چراغِ مصطفوی اور طوفانِ قادیان · محمد طاہر عبدالرزاق
Charag Mustafvi aur Tofan Qad · Tahir Abdul Razzaq
PDF 1

صلی اللہ علیہ وسلم

چراغِ مصطفوی

اور

طوفانِ قادیان

تحقیق وتدوین

محمد طاہر عبدالرزاق

PDF 2

چراغِ

مصطفوی

اور

طوفانِ

قادیان

تحقیق و تدوین

محمد طاہر عبدالرزاق

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان

PDF 3

تحفظ رد

PDF 4

ب کو شائع کر سکتا ہے لیکن اگر مصنف کو اس سے باخبر کر دیا جائے تو یہ ان کی مہربانی ہوگی۔

*

چراغ مصطفوی اور طوفان قادیان محمد طاہر عبدالرزاق گیارہ سو فراز کمپوزنگ سنٹر، اردو بازار، لاہور عنایت اللہ رشیدی 100 روپے جنوری 2006ء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ، ملتان شرکت پرنٹنگ پریس نسبت روڈ، لاہور

ملنے کا پتہ

ن پبلشرز 34- اردو بازار، لاہور 7352332 یقات ختم نبوت کتاب مارکیٹ، غزنی سٹریٹ اردو بازار، لاہور فون: 7232926

انتساب

مولانا اللہ وسایا مدظلہ کے نام

PDF 5

سلیقہ

جب مرزا قادیانی عقیدہ ختم نبوت پر ایمان رکھتا تھا محمد طاہر عبدالرزاق من کی بات مولانا منظور احمد چنیوٹی چراغ مصطفوی ﷺ اور طوفان قادیان مولانا مجاہد الحسینی قبلہ نما پروفیسر محمد بشیر متین فطرت رسول خاتم ﷺ علامہ محمود احمد رضویؒ 34 انسانیت کو نئی نبوت کی ضرورت کیوں نہیں؟ مولانا علاؤ الدین ندوی 48 اسلام اور ...... کفر و ارتداد مفتی محمد شفیعؒ 58 مرزا قادیانی اور غیر تشریعی نبی حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ 63 مرزا قادیانی اور اس کے چیلے قیصر مصطفےٰ 66 خاتم النبیین ﷺ ...... کامل نمونہ سید سلیمان ندویؒ 69 معراج النبی ﷺ اور مرزا غلام احمد قادیانی مولانا سرفراز خان صفدر 73 مرزائی اپنے کو مسلمان کہتے ہیں ...... پھر کافر کیوں ہیں؟ مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ 91 مسیح موعود اور قادیانیت علامہ خالد محمود 92

PDF 6

قرآن کریم کے لفظ ”ربوہ“ کا تحقیقی مطالعہ ڈاکٹر سید محمد اعزاز 105 مسیح اور مہدی.......دو شخصیتیں جمیل احمد نذیری 115 مسلمانوں کے قبرستان میں قادیانی کی تدفین؟ مولانا مفتی محمد فرید 133 مولانا عبید اللہ سندھی اور مسئلہ نزول مسیح علیہ السلام سید عطاء الحسن شاہ بخاریؒ 136 مرزا جی کا بڑھاپا ...... اور ظالم عشق کا سیاپا مولانا عنایت اللہ چشتیؒ 140 مرزا غلام احمد قادیانی کی کھلی بد دیانتی مولانا اللہ وسایا 148 عقیدہ نبوت امداد حسین پیرزادہ 151 مرتد کے لغوی و اصطلاحی معانی اور اس کی شرائط و سزا مفتی عبدالقیوم خان ہزاروی 163 مرزائیوں کے اعتراضات اور ان کے جوابات مولانا محمد ابراہیم 167 گستاخ رسول اور مرتد ...... اسلام میں دونوں کی سزا قتل ہے مولانا ڈاکٹر احمد علی سراج 169 لاہوری مرزائی کافر کیوں ہیں؟ مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ 173 انسانی حقوق اور قادیانی جماعت پروفیسر منور احمد ملک 183 فضائل مدینہ و آداب زیارت! مولانا عبدالشکور لکھنویؒ 188

جب مرزا قادیانی عقید

ابھی اُس نے اپنا ایمان انگریز کر مرتد نہیں ہوا تھا۔ ابھی اُس نے اسلا کھولی نہیں تھی۔ وہ حضور اکرمﷺ کو آخر ہو گیا ہے۔ اُس کا یقین تھا کہ نبوت کا در حضرت خاتم النبیین محمد عربیﷺ پر ختم ہو نبوت محمدیؐ کے فیضان کو قیامت تک کے ایقان تھا کہ عقیدہ ختم نبوت سے ”وحدت کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہونے کا قا اگر آپ کو یقین نہ آئے تو اُم

بند ہو جانے کے بعد اس کا ک پر ظاہر ہے اور ہمارے رسو آپ کی وفات کے بعد وحی دیا۔“ (حمامتہ البشریٰ، ص 4 کاش تو اس عقیدے پر قائم ر

حدیث لا نبی بعدی ایک شریف جس کا لفظ لفظ قطع النبیین سے بھی اس بات نبوت ختم ہو چکی ہے۔“

صفحہ ٧

”ربوہ“ کا تحقیقی مطالعہ ڈاکٹر سید محمد اعجاز 105 شخصیتیں جمیل احمد نذیری 115 میں قادیانی کی تدفین؟ مولانا مفتی محمد فرید 133 ور مسئلہ نزول مسیح علیہ السلام سید عطاء الحسن شاہ بخاریؒ 136 ور ظالم عشق کا سیاپا مولانا عنایت اللہ چشتی 140 کی کھلی بددیانتی مولانا اللہ وسایا 148 نا معافی اور امداد حسین پیرزادہ 151 ست اور ان کے جوابات مفتی عبدالقیوم خان ہزاروی 163 ...... مولانا محمد ابراہیم 167 اطل ہے مولانا ڈاکٹر احمد علی سراج 169 ا ہیں؟ مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ 173 جماعت پروفیسر منور احمد ملک 183 ت! مولانا عبدالشکور لکھنویؒ 188 ❁ ❁ ❁

جب مرزا قادیانی عقیدہ ختم نبوت پر ایمان رکھتا تھا

تحریر: محمد طاہر عبدالرزاق

ابھی اُس نے اپنا ایمان انگریز کے ہاتھوں بیچا نہیں تھا۔ ابھی وہ ارتداد کا پیالہ پی کر مرتد نہیں ہوا تھا۔ ابھی اُس نے اسلام کے خلاف اپنا پھٹا ہوا منہ اور زہر ناک کالی زبان کھولی نہیں تھی۔ وہ حضور اکرم ﷺ کو آخری نبی مانتا تھا۔ وہ ایمان رکھتا تھا کہ سلسلہ وحی منقطع ہو گیا ہے۔ اُس کا یقین تھا کہ نبوت کا روشن سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا اور حضرت خاتم النبیین محمد عربی ﷺ پر ختم ہو گیا۔ وہ قرآن مجید کو آخری آسمانی کتاب مانتا تھا۔ وہ نبوت محمدیؐ کے فیضان کو قیامت تک کے لیے جاری وساری ہونے کا یقین رکھتا تھا۔ اُس کا ایقان تھا کہ عقیدہ ختم نبوت سے ”وحدت امت“ قائم ہے۔ وہ مدعی نبوت کو کذاب، دجال، کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہونے کا یقین رکھتا تھا۔

اگر آپ کو یقین نہ آئے تو اُس کی تحریروں کے حوالہ جات پیش خدمت ہیں۔

بند ہو جانے کے بعد اس کا کھلنا جائز قرار دیں گے اور یہ صحیح نہیں جیسا کہ مسلمانوں پر ظاہر ہے اور ہمارے رسولؐ کے بعد نبی کیوں کر آ سکتا ہے۔ درآں حالے کہ آپ کی وفات کے بعد وحی منقطع ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر نبیوں کا خاتمہ فرما دیا۔“

(حمامتہ البشریٰ، ص 24 ”روحانی خزائن“ ص 200، ج 7 مرزا غلام قادیانی)

کاش تو اس عقیدے پر قائم رہتا اور لاکھوں لوگ مرتد ہونے سے بچ جاتے۔ (مؤلف)

حدیث لا نبی بعدی ایسی مشہور تھی کہ کس کو اس کی صحت میں کلام نہ تھا اور قرآن شریف جس کا لفظ لفظ قطعی ہے۔ اپنی آیۃ کریمہ ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین سے بھی اس بات کی تصدیق کرتا تھا کہ فی الحقیقت ہمارے نبی ﷺ پر نبوت ختم ہو چکی ہے۔“

(کتاب البریہ، 184، حاشیہ ”روحانی خزائن“ ص

صفحہ ٨

217-218، ج 13، مصنفہ مرزا غلام قادیانی)

نبوت تو ختم ہو گئی لیکن تو کہاں سے آ گیا؟ (مؤلف)

گیا ہے۔ یہ تمام باتیں سچ اور صحیح ہیں تو پھر کوئی شخص بہ حیثیت رسالت ہمارے نبی ﷺ کے بعد ہرگز نہیں آسکتا۔“ (”ازالہ اوہام“ ص 577 ”روحانی خزائن“ ص 412، ج 3، مصنفہ مرزا غلام قادیانی)

جبرائیل کی آمد تو بند ہو گئی لیکن تیرا فرشتہ ٹیچی ٹیچی کس بغل سے نکل آیا؟ (مؤلف)

ہو یا پرانا ہو۔ کیونکہ رسول کو علم دین بتوسط جبرئیل ملتا ہے اور باب نزول جبرئیل بہ پیرایہ وحی رسالت مسدود ہے اور یہ بات خود ممتنع ہے کہ رسول تو آوے مگر سلسلہ وحی رسالت نہ ہو۔“ (”ازالہ اوہام“ ص 761 ”روحانی خزائن“ ص 511، ج 3، مصنفہ مرزا غلام قادیانی)

تیرے قول سے ہی ثابت ہوا کہ تیرا آنا نا جائز ہے (مؤلف)

ص 614، ”روحانی خزائن“ ص 432، ج 3، مصنفہ مرزا غلام قادیانی)

پھر تجھ پر کون سی وحی آتی رہی؟ (مؤلف)

”حسب تصریح قرآن کریم رسول اسی کو کہتے ہیں جس نے احکام و عقائد دین جبرئیل کے ذریعے سے حاصل کیے ہوں لیکن وحی نبوت پر تو تیرہ سو برس سے مہر لگ گئی ہے۔ کیا یہ مہر اس وقت ٹوٹ جائے گی؟“ (”ازالہ اوہام“ ص 534، ”روحانی خزائن“ ص 387، ج 3، مصنفہ مرزا غلام قادیانی)

لیکن تو نے خود ہی اس مہر کو توڑنے کی ناپاک جسارت کی (مؤلف)

کو دوبارہ از سر نو شروع کر دے۔ بعد اس کے کہ اسے قطع کر چکا ہو اور بعض احکام قرآن کریم کے منسوخ کر دے اور ان پر بڑھا دے۔“ (ترجمہ) (”آئینہ کمالات اسلام“ ص 377، ”روحانی خزائن“ ص 377، ج 5، مصنفہ مرزا غلام قادیانی)

صفحہ ٩

لیکن تو نے یہ سلسلہ اپنی ذات سے دوبارہ شروع کر دیا (مؤلف)

محیط اور آپ کے فیض اولیاء اور اقطاب اور محدثین کے قلوب پر بلکہ کل مخلوقات پر وارد ہیں۔ خواہ ان کو اس کا علم بھی نہ ہو کہ انہیں آنحضرتﷺ کی ذات پاک سے فیض پہنچ رہا ہے۔ پس اس کا احسان تمام لوگوں پر ہے۔" (ترجمہ) ("حمامتہ البشریٰ" ص 49، طبع اول، ص 60، طبع دوم "روحانی خزائن" ص 243-244، ج 7، مصنفہ مرزا غلام قادیانی)

کتاب قرآن کریم ہدایت کا وسیلہ ہے...... اور میں ایمان لاتا ہوں اس بات پر کہ ہمارے رسول آدم کے فرزندوں کے سردار اور رسولوں کے سردار ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ نبیوں کو ختم کر دیا۔" (ترجمہ) ("آئینہ کمالات اسلام" ص 21، "روحانی خزائن" ص 21، ج 5، مصنفہ مرزا غلام قادیانی)

لیکن تو اور تیرے ساتھی تجھے رسول اکرمؐ سے بہتر کہتے رہے اور تجھے شرم نہ آئی؟

(مؤلف)

سیدنا و مولانا حضرت محمدﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت و رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ محمد مصطفیٰﷺ پر ختم ہو گئی۔" (مرزا غلام قادیانی کا اشتہار، مجموعہ اشتہارات، ص 230، ج 1، مورخہ 2 اکتوبر 1891ء، مندرجہ تبلیغ رسالت، جلد دوم، ص 2)

اسی لیے ہم بھی تجھے کاذب اور کافر مانتے ہیں (مؤلف)

ہے۔...... اب میں مفصلہ ذیل امور کا مسلمانوں کے سامنے صاف صاف اقرار اس خانہ خدا مسجد (جامع مسجد دہلی) میں کرتا ہوں کہ میں جناب خاتم الانبیاءﷺ کی ختم

صفحہ ١٠

نبوت کا قائل ہوں اور جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو اس کو بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔“ (مرزا غلام قادیانی کا تحریری بیان جو بتاریخ 23 اکتوبر 1891ء جامع مسجد دہلی کے جلسے میں دیا گیا۔ مجموعہ اشتہارات، ص 255، ج 1، مندرجہ تبلیغ رسالت، جلد دوم، ص 44) تیرے اپنے فیصلے کے مطابق ہی تو بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

(مؤلف)

ایمان رکھ سکتا ہے اور کیا ایسا وہ شخص جو قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہے اور آیت ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین کو خدا کا کلام یقین کرتا ہے وہ کہہ سکتا ہے کہ میں بھی آنحضرت ﷺ کے بعد رسول اور نبی ہوں۔“ (”انجام آتھم“ ص 27، ”روحانی خزائن“ حاشیہ ص 27، ج 11، مصنفہ مرزا غلام قادیانی) قادیانیو! ہوش کرو اور مرزا قادیانی کی باتوں پر غور کرو (مؤلف)

ہے۔ پھر میں کس طرح نبوت کا دعویٰ کروں جب کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں۔“ (”حمامة البشریٰ“ ص 96، ”روحانی خزائن“ ص 297، ج 7، مصنفہ مرزا قادیانی)

منکر...... اور سیدنا و مولانا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ خاتم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔“ (”تبلیغ رسالت“ جلد دوم، ص 22، مجموعہ اشتہارات، ص 230، ج 1، مورخہ 2 اکتوبر 1891ء) اللہ پاک نے تیرے منہ سے ہی تجھے کاذب اور کافر کہلوا دیا (مؤلف)

کافروں کی جماعت سے جاملوں۔“ (ترجمہ) (”حمامة البشریٰ“ ص 96، ”روحانی خزائن“ ص 297، ج 7، مصنفہ مرزا غلام قادیانی)

جاری نہ کرو۔ اس خدا سے شر (”آسمانی فیصلہ“ ص 25، ”روح قادیانی) لیکن تجھے خدا سے شرم نہ آئی اور ت کرتا رہا (مؤلف)

فقرہ حضرت جبرئیل لاویں اور پھر کیونکہ جب ختمیت کی مہر ہی ٹوٹ پھر تھوڑا یا بہت نازل ہونا برابر صادق الوعد ہے اور جو آیت خاتم بتصریح بیان کیا گیا ہے کہ اب ب وحی نبوت کے لانے سے منع کیا شخص بحیثیت رسالت ہمارے اوہام“ ص 577، ”روحانی خزا قادیانی)

(ایک منہ...... ستر زبانیں (مؤلف

پھر اُس نے ایک اُلٹی زقند لگائی ناطقہ توڑ لیا۔ اُسے سیم و زر کے انبار دکھائے گ پیش کی گئی تھی۔ اُسے انگریز کے وفاداروں م جائیدادیں پیش کی گئی تھیں۔ اُسے شراب و ک کر اُس کی آنکھیں اندھی ہو گئیں۔ اُس کی اُس کے دل میں ایمان کا چراغ بجھ گیا اور ا نبوت کر دیا۔ آپ سوچیں گے کہ یہ کیسے ہو فرعون جانتا تھا کہ وہ رب نہیں خدا نہیں۔ لیکن اپنے مفادات کے لیے وہ

صفحہ ١١

جاری نہ کرو۔ اس خدا سے شرم کرو جس کے سامنے حاضر کیے جاؤ گے۔‘‘ (”آسمانی فیصلہ“ ص 25، ”روحانی خزائن“ ص 335، ج 4، مصنفہ مرزا غلام قادیانی)

لیکن مجھے خدا سے شرم نہ آئی اور تو بڑے دھڑلے سے نبوت ورسالت کے دعوے کرتا رہا

(مؤلف)

☆....... ”ظاہر ہے کہ اگرچہ ایک ہی دفعہ وحی کا نزول فرض کیا جائے اور صرف ایک ہی فقرہ حضرت جبرئیل لاویں اور پھر چپ ہو جاویں یہ امر بھی ختم نبوت کا منافی ہے۔ کیونکہ جب ختمیت کی مہر ہی ٹوٹ گئی اور وحی رسالت پھر نازل ہونی شروع ہو گئی تو پھر تھوڑا یا بہت نازل ہونا برابر ہے۔ ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ صادق الوعد ہے اور جو آیت خاتم النبیین میں وعدہ دیا گیا ہے اور جو حدیثوں میں بتصریح بیان کیا گیا ہے کہ اب جبرائیل بعد وفات رسول اللہ ﷺ ہمیشہ کے لیے وحی نبوت کے لانے سے منع کیا گیا ہے۔ یہ تمام باتیں سچ اور صحیح ہیں تو پھر کوئی شخص بحیثیت رسالت ہمارے نبی ﷺ کے بعد ہرگز نہیں آسکتا۔‘‘ (”ازالہ اوہام“ ص 577، ”روحانی خزائن“ ص 411۔ 412، ج 3، مصنفہ مرزا غلام قادیانی)

ایک منہ ...... ستر زبانیں

(مؤلف)

پھر اُس نے ایک اُلٹی زقند لگائی اور اپنے پرانے سارے عقائد سے منہ موڑ لیا۔ ناطہ توڑ لیا۔ اُسے سیم و زر کے انبار دکھائے گئے تھے۔ اُسے فرنگی دربار میں ایک عالی شان کرسی پیش کی گئی تھی۔ اُسے انگریز کے وفاداروں کی فہرست میں ایک نمایاں مقام ملا تھا۔ اُسے وسیع جائیدادیں پیش کی گئی تھیں۔ اُسے شراب و شباب سے نوازا گیا تھا۔ ان ساری نوازشات کو دیکھ کر اُس کی آنکھیں اندھی ہو گئیں۔ اُس کی کھوپڑی گھوم گئی۔ اُس کا ضمیر سوختہ لاش بن گیا۔ اُس کے دل میں ایمان کا چراغ بجھ گیا اور اُس کا دل کافر کی کالی قبر بن گیا اور اُس نے دعویٰ نبوت کر دیا۔ آپ سوچیں گے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟

فرعون جانتا تھا کہ وہ رب نہیں۔ نمرود جانتا تھا کہ وہ خدا نہیں۔ شداد جانتا تھا کہ وہ خدا نہیں۔ لیکن اپنے مفادات کے لیے وہ ربوبیت کا دعویٰ کرتے تھے۔ ابو جہل جانتا تھا کہ وہ

صفحہ ١٢

جھوٹا ہے۔ ابولہب جانتا تھا کہ وہ جھوٹا ہے۔ ولید بن مغیرہ جانتا تھا کہ وہ کذاب ہے۔ امیہ بن خلف کو معلوم تھا کہ وہ دجال ہے۔ عبداللہ ابن ابی جانتا تھا کہ وہ منافق اور مکار ہے۔ اسود عنسی کو معلوم تھا کہ وہ اللہ کا نبی نہیں ہے۔ مسیلمہ کذاب کو پتہ تھا کہ وہ اللہ کا رسول نہیں ہے۔ لیکن یہ سارے جھوٹے، اپنے سچے ہونے کا اعلان کرتے تھے۔ کیونکہ ان کے دنیاوی مفادات ان ہی اعلانات میں تھے۔ دنیا کی محبت میں تڑپتے ہوئے ایک انسان کے ہمیشہ دو بڑے مفادات ہوتے ہیں۔ (1) حب جاہ (2) حب مال۔ ان سب لوگوں کی قلابازیاں اور دغا بازیاں ان دونوں کا حصول تھا۔

ایک کرائے کا قاتل جانتا ہے کہ وہ جس شخص کو قتل کرنے جا رہا ہے، وہ مظلوم ہے۔ ماں باپ کا اکلوتا بیٹا ہے۔ سات بہنوں کا واحد بھائی ہے۔ بوڑھے والدین کی آنکھوں کا چراغ ہے۔ اُس کی شادی کو صرف تین ماہ ہوئے ہیں۔ عروسہ کے ہاتھوں کی حنا ابھی نہیں اُتری۔ ابھی اُس نے اپنے جیون ساتھی کو جی بھر کر دیکھا بھی نہیں۔ وہ سفاک قاتل یہ سب کچھ جانتا ہے کہ اُس کے اس قتل سے کہاں کہاں بجلی گرے گی۔ اور کتنے لوگوں پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ لیکن اُسے اس کام کا پچاس ہزار روپیہ ملتا ہے۔ وہ اپنے شیطانی مفاد کے لیے اُس خوبرو نوجوان کو قتل کر دیتا ہے۔ اور اُس کا خاندان ذبح ہوتے پرندوں کی طرح تڑپ رہا ہوتا ہے۔ لیکن بدطینت سفاک قاتل اپنی جیب میں پچاس ہزار ڈالے مسکرا رہا ہوتا ہے۔

اے مرزا قادیانی! تو نے بھی جھوٹی نبوت کا سارا ڈرامہ جاہ و منصب اور حصول دولت کے لیے رچایا تھا۔ بتا! فرنگی سے حاصل کی گئی وہ دولت کتنے دن تیرے کام آئی؟ کیا اُس دولت سے تیری ذہنی اذیتوں کا علاج ہو سکا؟ کیا اُس دولت سے تو اپنی کانی آنکھ ٹھیک کروا سکا؟ کیا اُس دولت سے تو اپنی ٹیڑھی اور اُونچی نیچی آنکھیں سیدھی کروا سکا؟ کیا اُس دولت سے تو اپنا بھونڈا چہرہ خوبصورت بنوا سکا؟ کیا اُس دولت سے تیری سینکڑوں بیماریاں ٹھیک ہو سکیں؟ کیا تیرا جاہ و منصب تجھے لیٹرین میں مرنے سے بچا سکا؟ کیا ساری دنیا کے انگریز ڈاکٹر تجھے ڈبل ہیضے کی موت سے بچا سکے؟ کیا وہ تیرے مرنے کے بعد بھی تیرے منہ سے بہتی ہوئی غلاظت بند کر سکے؟ ہائے مرزا قادیانی! تو نے کتنے گھاٹے کا سودا کیا۔ تو نے کس نبی ﷺ کے منصب پر ڈاکہ ڈالا۔ جس نے گالیاں سن کر دعائیں دیں۔ جس نے پتھر مارنے والوں کو محبت کے پھولوں سے نوازا۔ جس نے ساری زندگی کسی کا دل نہیں دکھایا۔ جو رات کے پچھلے پہر مصلے پر بیٹھ کر جانی دشمنوں کے ایمان کے لیے بھی روتا رہا۔ جس نے

صفحہ ١٣

یہودی عورت کے جنازے کو گزرتے ہوئے دیکھا تو آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے کہ وہ عورت دنیا سے ایمان کے بغیر جا رہی تھی۔ جس نے چہرہ انور پر تھوکنے والے سے کہا کہ اب تو تو نے اپنا غصہ نکال لیا۔ اب تو کلمہ پڑھ لے۔ محمد ﷺ تجھے جہنم میں جاتا ہوا نہیں دیکھ سکتا۔ مرزا قادیانی! تو تو جہنم میں اپنے بدترین ٹھکانہ پر پہنچ گیا۔ لیکن افسوس کہ تو اپنے ساتھ گمراہ انسانوں کا ایک بہت بڑا ریوڑ بھی اپنے ساتھ لے گیا۔ اور آج بھی لاکھوں عقل کے اندھے تیری تیار کردہ ”جہنمی موٹروے“ پر سرپٹ بھاگتے ہوئے اوندھے منہ جہنم میں گر رہے ہیں۔ میں نے تیرے باقی ماندہ پیروکاروں کو بچانے کے لیے تمہاری ہی کتابوں سے حوالے نکال کر اُن کے سامنے رکھ دیئے ہیں تا کہ وہ انہیں پڑھ کر حقیقت سے آگاہ ہوسکیں اور قادیانیت کے زنداں سے نکل کر اسلام کے چمنستان میں آجائیں۔ (آمین ثم آمین)

اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
ہم نے تو دل جلا کے سر عام رکھ دیا

خاک پائے ۔ جرنیل تحفظ ختم نبوت ۔ جناب سیدنا صدیق اکبرؓ محمد طاہر عبدالرزاق بی ایس سی ۔ ایم اے (تاریخ)

صفحہ ١٤

من کی بات

دین اسلام اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ آخری دین ہے جو حبیب کبریا محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ شفیع المذنبین رحمت اللعالمین حضور خاتم النبیین ﷺ کے ذریعہ اس امت کو جسے خیر الامت کے لقب سے نوازا گیا ہے ملا، اور تمام بنی نوع انسان کی ہدایت کے لیے آپ پر اپنی کتاب قرآن مجید کو نازل فرمایا اور اس کی تا قیام قیامت حفاظت اپنے ذمہ لے لی اور اللہ تعالیٰ حسب اعلان اس کی حفاظت فرما رہے ہیں۔ حضور ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب اور امت مسلمہ آخری امت ہے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ”انا آخر الانبیاء وانتم آخر الامم“ آپ ﷺ نے قیامت تک آنے والے فتنوں کی خبر دی ہے ان فتنوں میں سب سے بڑا فتنہ جھوٹی نبوت کا ہے جو حضور اکرم ﷺ کی حیات مبارکہ کے آخری ایام میں ظاہر ہو گیا تھا اور جسے خلیفہ اول حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی قوتِ ایمانی سے تلوار کے ذریعہ ختم کیا جس میں بارہ صد کے قریب جلیل القدر صحابہ کرام جن میں قرآن کریم کے حافظ و قاری اور بدری صحابہ بھی تھے اپنی قیمتی جانوں کے نذرانے پیش کیے اور بائیس ہزار کے قریب مرتد قتل کرا کر آنے والی امت مسلمہ کے لیے ایک روشن مثال قائم کر کے عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت کو واضح کیا اور ہر دور میں مسلمان حکمرانوں نے اس سنت صدیقی پر عمل کیا۔ لیکن انیسویں صدی میں جب دشمن اسلام انگریز نے برصغیر ہندوستان پر اپنا غاصبانہ تسلط جمایا تو وہ مسلمانوں کے جذبہ جہاد سے بڑا خائف تھا کہ مسلمانوں کا جذبہ جہاد جب بیدار ہوتا ہے تو وہ بڑی سے بڑی طاقت کو پاش پاش کر دیتا ہے۔ پہاڑوں سے ٹکرا جاتا ہے۔ سمندروں کو عبور کر لیتا ہے۔ آگ میں کود جاتا ہے اور پھر فزت برب الکعبہ کا نعرہ لگاتا ہے کہ رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہو گیا اس لیے اس نے ضرورت محسوس کی کہ مسلمانوں سے جذبہ جہاد کو ختم کیا جائے اس کے لیے اس نے کئی تدابیر اختیار کیں۔ ان میں ایک تدبیر یہ سوچی کہ ایک جھوٹا نبی پیدا کیا جائے جس سے جہاد کے فریضہ کو حرام قرار دلوایا جائے چنانچہ اس کام کے لیے

صفحہ ١٥

من کی بات

تعالیٰ کا پسندیدہ آخری دین ہے جو حبیب کبریا محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ امین حضور خاتم النبیین ﷺ کے ذریعہ اس امت کو جسے خیر ا گیا ہے ملا، اور تمام بنی نوع انسان کی ہدایت کے لیے آپ پر زل فرمایا اور اس کی تا قیامت حفاظت اپنے ذمہ لے لی اور کی حفاظت فرما رہے ہیں۔ حضور ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی کی آخری کتاب اور امت مسلمہ آخری امت ہے۔ آپ ﷺ الانبیاء وانتم آخر لامم“ آپ ﷺ نے قیامت تک آنے ان فتنوں میں سب سے بڑا فتنہ جھوٹی نبوت کا ہے جو حضور اکرم کے آخری ایام میں ظاہر ہو گیا تھا اور جسے خلیفہ اول حضرت صدیق نے اپنی قوت ایمانی سے تلوار کے ذریعہ ختم کیا جس میں بارہ صد بہ کرام جن میں قرآن کریم کے حافظ و قاری اور بدری صحابہ بھی نذرانے پیش کیے اور بائیس ہزار کے قریب مرتد قتل کرا کر آنے ایک روشن مثال قائم کر کے عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت کو واضح کیا مرانوں نے اس سنت صدیقی پر عمل کیا۔ لیکن انیسویں صدی میں نے برصغیر ہندوستان پر اپنا غاصبانہ تسلط جمایا تو وہ مسلمانوں کے تھا کہ مسلمانوں کا جذبہ جہاد جب بیدار ہوتا ہے تو وہ بڑی سے کر دیتا ہے۔ پہاڑوں سے ٹکرا جاتا ہے۔ سمندروں کو عبور کر لیتا ہے اور پھر فزت برب الکعبہ کا نعرہ لگاتا ہے کہ رب کعبہ کی قسم میں اس نے ضرورت محسوس کی کہ مسلمانوں سے جذبہ جہاد کو ختم کیا نے کئی تدابیر اختیار کیں۔ ان میں ایک تدبیر یہ سوچی کہ ایک جھوٹا سے جہاد کے فریضہ کو حرام قرار دلوایا جائے چنانچہ اس کام کے لیے

ان کی نظر انتخاب مرزا غلام احمد قادیانی پر پڑی کیونکہ یہ خاندان پہلے سے انگریز کا وفادار اور جانثار تھا۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے بڑے فخر سے لکھا ہے کہ 1857ء کے غدر (جنگ آزادی) میں میرے والد نے پچاس گھوڑے اور پچاس سوار ایک دفعہ بہم پہنچائے اور چودہ گھوڑے اور چودہ سوار پھر مہیا کر کے انگریز کی مدد کی اگر یہ نعرہ (جہاد) اور طول پکڑتا تو میرا والد سو گھوڑے اور سو سوار مزید بھی دینے کو تیار تھا اور اپنی خدمات (غداری) کے صلہ میں اسے گورنر کے دربار میں عزت سے کرسی ملتی تھی۔ (”لعنت بر پدر فرنگ)

علماء اسلام مشائخ عظام نے اسی وقت اس فتنہ کی سرکوبی زبان اور قلم سے شروع کی، مناظرہ و مباہلہ کے میدان میں اسے للکارا اور ہر میدان میں اسے چاروں شانوں چت کیا۔ لیکن انگریز جس نے اس پودا کو خود کاشت کیا تھا وہ اس کی آبیاری اور ہر طرح سے پشت پناہی کرتا رہا اور ابھی تک کر رہا ہے آج یہی برطانیہ اور امریکہ جیسی سپر طاقتیں اس کی حفاظت اور پشت پناہی کر رہی ہیں۔ اسلام کے بدترین دشمن اسرائیل سے ان کے تعلقات چھپے ڈھکے نہیں ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ اب دین کی حفاظت کر رہا ہے اللہ تعالیٰ نے وقت کے بڑے بڑے علماء و مشائخ سے بھی کام لیا اور ان کے اپنے تیار کردہ مبلغین اور مناظرین کو ہدایت نصیب فرمائی جیسا کہ مولانا لال حسین اختر، مولانا عتیق الرحمان، ڈاکٹر عبداللہ جتوئی وغیرہ جنہوں نے ان کو ناکوں چنے چبوائے اور گھر کے بھیدی ملک راحت مظہر الدین ملتانی، پروفیسر منور احمد، قاضی خلیل احمد، حسن محمد فلسطینی جیسوں کو ہدایت عطا فرمائی جنہوں نے اندرون خانہ راز ہائے سربستہ کو آشکار کر کے ان کو ذلیل و خوار کر دیا۔

اللہ تعالیٰ ہر دور میں اپنے دین کی خدمت کے لیے انسانوں کو چنتا رہتا ہے۔ بابو حبیب اللہ محکمہ نہر کے کلرک تھے۔ الہی بخش اکاؤنٹنٹ تھے۔ پروفیسر الیاس برنی کوئی رسمی اور اسمی عالم نہ تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس جھوٹی نبوت کے استیصال کے لیے ان سے بڑا کام لیا ان کی خدمات رہتی دنیا تک یاد رہیں گی۔ اس دور میں اللہ تعالیٰ ایک ایسے نوجوان سے کام لے رہے ہیں جو رسمی طور پر عالم نہیں بلکہ بی ایس سی تک اس کی تعلیم ہے اور تاریخ میں ایم اے ہے۔ سرکاری آفیسر بنے لیکن حضور اکرم خاتم النبیین ﷺ کے عشق ومحبت سے سرشار ختم نبوت کا فدا کار و جانثار، جس کا نام محمد طاہر عبدالرزاق ہے۔ قادیانیوں کے لیے پیام موت ہے۔ ان کا قلم نیزے اور تلوار سے زیادہ کاٹ کرتا ہے اس کے مضمون دل کو تڑپا اور گرما دینے والے ہوتے ہیں۔ قادیانی فتنہ کے خلاف ان کی ٢٢ مختلف عنوانوں پر کتابیں

صفحہ ١٦

چھپ چکی ہیں۔ ان کی خوبی یہ ہے کہ اپنے مضامین کے علاوہ مختلف اہل قلم اور محققین کے قیمتی مضامین کو جو تاریخ کے اوراق میں گم ہو رہے ہیں ان کو تلاش کر کے ایک کتاب میں جمع کر کے زندہ جاوید بنا دیتے ہیں۔ ان کی تازہ تصنیف ”چراغ مصطفیٰ اور طوفان قادیان“ جو اس وقت آپ کے ہاتھوں میں ہے اسی لڑی کی ایک کڑی ہے اور یہ ساتویں جلد ہے اور نامعلوم اس کے بعد کتنی اور جلدیں آئیں گی۔ اس میں انہوں نے مورخ اسلام سید سلیمان ندویؒ، پیر طریقت حضرت مہر علی شاہ صاحب گولڑویؒ، مفتی اعظم مفتی محمد شفیعؒ، شیخ التفسیر والحدیث حضرت مولانا سرفراز صفدر، مناظر اسلام مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوری جیسی عظیم نابغہ روزگار اور قدآور شخصیات کے نادر علمی مضامین ایک جگہ کتاب کی شکل میں جمع کر دیئے ہیں جیسے کوئی قیمتی موتی مختلف مقامات سے تلاش کر کے ایک قیمتی ہار تیار کر دیا ہے یا مختلف چمنستانوں سے اعلیٰ سے اعلیٰ قیمتی پھول چن کر ایک خوبصورت گلدستہ تیار کر دیا ہے اس کے مطالعہ کرنے سے آپ کو اندازہ ہو گا کہ کس محنت سے کہاں کہاں سے یہ قیمتی مضامین چن کر ایک دیدہ زیب کتاب کی شکل میں آپ کے سامنے رکھ رہے ہیں۔ اس میں شان خاتم النبیینؐ، عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت وعظمت، نزول عیسیٰ علیہ السلام کا اجماعی عقیدہ، مہدی اور عیسیٰ کی بحث، قادیانیوں اور خصوصاً لاہوری جماعت کے وجوہ تکفیر، معراج جسمانی کا ثبوت، منکرین کے شبہات کا ازالہ، ربوہ کی تاریخی اور تحقیقی حقیقت، گستاخ رسول اور مرتد کی سزا، مرزائیوں کے بعض اعتراضات اور ان کے جوابات، بیس کے قریب مختلف اہم عنوانات پر محققین، اہل قلم، مناظرین اسلام، مشائخ عظام کے قیمتی مقالات ہیں، پڑھیے اور عزیز محمد طاہر عبدالرزاق کی جستجو، انتخاب اور محنت کی داد دیجئے، کتنا قیمتی سرمایہ انہوں نے یکجا جمع کر دیا ہے اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی اس محنت شاقہ کو قبول فرماویں اہل اسلام کے لیے باعث اطمینان اور قادیانیوں کے لیے ذریعہ ایمان بنائے۔ یہ اس سلسلہ کا نقش اول ہے۔ امید ہے کہ یہ سلسلہ کئی مجلدات تک مزید جاری رہے گا، اللہ تعالیٰ عزیز موصوف کی عمر اور علم میں برکت نصیب فرمائیں۔ (آمین)

مولانا منظور احمد چنیوٹی سیکرٹری جنرل انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ سابق ایم۔ پی۔ اے

صفحہ ١٧

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ الحمد للہ وحدہ والصلوۃ والسلام علیٰ من لا نبی بعدہ

چراغ مصطفویٰؐ اور طوفان قادیان

اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی اور رسول حضرت محسن انسانیت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کو مبشر، خاتم النبیینؐ، رحمۃ للعالمینؐ، اور دوسرے عظیم الشان القاب سے سرفراز کر کے داعی الی اللہ اور ”سراج منیر“ کے اعزاز سے بھی مشرف کیا ہے، ایک ایسی روشنی جو ساری کائنات کو محیط ہے ایک ایسا درخشاں اور تابناک چراغ جس کی ضوفشانی سے عالمین منور ہیں۔ انسانوں کی فکری ونظری ظلمت کدہ ہی نہیں بلکہ ان کے دلوں کی اتھاہ گہرائیوں میں بھی خورشید جہاں تاب بن کر چمکے ہیں اور چمکتے رہیں گے۔

اللہ نے حضور خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کو وَمَا اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَافَّةً لِّلنَّاسِ o (ہم نے آپ کو ساری کائنات انسانی کے لیے رسول کی حیثیت سے مبعوث کیا ہے) کے ارشاد گرامی سے ایسی عظمتوں اور سربلندیوں سے ممتاز کیا ہے جو قبل ازیں کسی بھی نبیؑ اور رسول کو عطا نہیں ہوا کیونکہ تمام انبیاء ورسل علیہم السلام اپنے خاص علاقے میں خاص زبان کے ساتھ اور خاص قوم کی جانب مبعوث ہوئے تھے، لیکن حضور خاتم النبیین والمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کا دائرہ نبوت ورسالت چونکہ پوری کائنات انسانی ہے، انسان اس کرۂ ارض پر، خلاء میں یا کسی بھی سیارے میں آباد ہیں اور انسان کا جہاں کہیں بھی وجود موجود ہے اس کے نبی اور رسول حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ذات اقدس ہے،

ختم نبوت و رسالت کے اس خورشید درخشاں کو گہنانے اور ”چراغ مصطفویٰؐ“ گل کرنے کے لیے چند مسیلمہ کذابوں اور اسود عنسیوں نے اسلام دشمن طاقتوں کے ساتھ ساز باز کر کے کئی حربے استعمال کئے اور کئی سازشیں کیں مگر

صفحہ ١٨
نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

”چراغ مصطفوی“ بجھانے کے لیے فرنگی سامراج کی سازش سے مسیلمہ پنجاب مرزا غلام قادیانی نے بھی ناپاک کوشش کی تھی، مگر اللہ بہت ہی جزاء خیر عطا کرے ان عاشقانِ حضور خاتم النبیینؐ اور محافظین عقیدہ ختم نبوت کو جنہوں نے کمال جرأت و بے باکی، اور حکمت و دانائی کے ساتھ اس قادیانی فتنے کے تارِ عنکبوت ناپید کر دیئے اور چراغ مصطفویٰ کی لو تیز تر کرنے کی خاطر لائقِ صد تحسین و آفریں اور تاریخ ساز کارنامہ انجام دیا ہے، اس سلسلے میں علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ، پیر سید مہر علی شاہ گولڑہ شریف، مولانا کرم دین بھیںؒ جہلم، امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، مولانا احمد رضا خاںؒ بریلوی، مولانا قاضی احسان احمد شجاعؒ آبادی، مولانا محمد عبداللہؒ لدھیانوی، علامہ شبیر احمد عثمانیؒ، علامہ محمد اقبال ؒ، مولانا ابوالحسنات سید محمد احمد قادریؒ، مفتی محمد شفیعؒ، مولانا عبدالحامدؒ بدایونی، شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوریؒ، مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ، علامہ راغب احسنؒ، مولانا سید محمد داؤد غزنویؒ، مولانا محمد الیاسؒ برنی، مولانا محمد حیات فاتح قادیان، مولانا لال حسین اختر، مولانا سید ابو الحسن ندویؒ اور دیگر عظیم مرتبے کی شخصیات کے اسماء گرامی قابل ذکر ہیں۔

ان تمام جلیل القدر ہستیوں کی مساعی حسنہ اور جہد مسلسل کو عملی پیکر میں ڈھالنے اور علامہ اقبال کے مطالبے کے مطابق منکرین عقیدہ ختم نبوت کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دے کر غیر مسلم اقلیت کے زمرے میں شامل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے قائد عوام جناب ذوالفقار علی بھٹو کو اس توفیق و سعادت سے سرفراز کیا کہ ٧ ستمبر ١٩٧٤ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی میں باقاعدہ بحث و تمحیص کے بعد قادیانی گروہ کے سربراہ کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دینے کے بعد قادیانیوں کو عقیدۂ ختم نبوت سے انکار اور حضور خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی اور رسول ماننے کی بناء پر غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا تاریخی فیصلہ صادر فرمایا تھا۔

بہرنوع قادیانی فتنے سے اُمت مسلمہ کو خبر دار کرنے کے سلسلے میں اگرچہ مختلف شخصیات اور جماعتیں اپنے اپنے انداز میں لائقِ تحسین خدمات انجام دے رہی ہیں لیکن جس انداز اور جدید عصری تقاضے کے مطابق عزیزم محمد طاہر عبدالرزاق صاحب نے اس

صفحہ ١٩

موضوع سے متعلق بہت سی گرانقدر کتب اور پمفلٹ شائع کیے ہیں وہ ایک ایسا کارنامہ ہے جسے مورخ ہرگز نظر انداز نہیں کر سکتا، ” چراغ مصطفویٰ اور طوفان قادیان“ کے زیر عنوان یہ کتاب بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے اس میں جن عظیم شخصیات کے گرانقدر مضامین شریک اشاعت ہیں ان میں شیخ المشائخ پیر سید مہر علی گولڑویؒ، علامہ سید محمد سلیمان ندویؒ، مولانا مفتی محمد شفیعؒ، مولانا علاؤ الدین ندویؒ، مولانا سرفراز خان صفدرؒ، مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ، علامہ خالد محمود (مانچسٹر) علامہ محمود احمد رضویؒ، شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد فرید (اکوڑہ خٹک) مولانا عنایت اللہ چشتیؒ سابق خطیب مسجد ختم نبوت قادیان، ابن امیر شریعت مولانا سید عطاء المحسن شاہ بخاریؒ، اور مولانا احمد علی سراج کے علاوہ چند دیگر اہم شخصیات شامل ہیں۔

یہ ایک مستحسن پیشکش ہے۔ فکر و نظر کی بالیدگی اور ”فتنہ قادیانیت“ سے آگاہ ہونے کے لیے اس کا مطالعہ ہر فرزند اسلام کے لیے ضروری ہے دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ عزیزم محمد طاہر عبدالرزاق کی اس گرانقدر کاوش اور پیشکش کو مقبول خلائق بنا کر اجر عظیم سے نوازے۔ آمین

متمنی شفاعت رسولؐ مولانا مجاہد الحسینی فیصل آباد

صفحہ ٢٠

قبلہ نما

خالق کائنات، اللہ رب العزت، اپنی مخلوق پر اس قدر مہربان و کرم فرما ہے کہ اس کے احسانات و انعامات کا شمار بھی ممکن نہیں، کلام الٰہی کے الفاظ، وان تعدوا نعمة الله لا تحصوها اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

نبوت و رسالت، اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی مخلوق کو ملنے والا سب سے اعلیٰ اور بے مثال و بے بہا انعام ہے۔ یہ لازوال اعزاز، سراسر وہبی ہے کسبی نہیں، یعنی انسانی کوشش و کمال کا اس اعزاز کے حصول سے کوئی سروکار نہیں۔ عبادتوں اور ریاضتوں سے انسان نیک نفس، عابد و زاہد اور خدا رسیدہ و متقی تو کہلا سکتا ہے، لیکن یہ عبادتیں اور ریاضتیں اس کے لیے عطائے نبوت و رسالت کی بنائے استحقاق نہیں بن سکتیں کیونکہ یہ اعلیٰ اعزاز بالکلیہ، اللہ قادرِ مطلق کی خصوصی نوازش ہے لہٰذا انسانی کد و کاوش اور ہر کمندِ ہوس کی رسائی سے باہر ہے۔

ایں سعادت بزورِ بازو نیست
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ

خالق کائنات نے ابتدائے آفرینش ہی سے اپنی مخلوق کی بھلائی اور رہنمائی کے لیے بعثتِ انبیاء کا آغاز فرمایا تا کہ وہ لوگوں کو اللہ کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرنے کی تعلیم و تربیت سے آراستہ کریں۔ سلسلۂ نبوت میں سب سے پہلے نبی حضرت آدم علیہ السلام اور سب سے آخری نبی حضرت محمد عربی ﷺ ہیں۔ ان کی بعثت، سلسلۂ انبیاء و رسل کی آخری کڑی اور ایوانِ رسالت میں نصب ہونے والی آخری اینٹ ہے جس کی تنصیب کے ساتھ ہی سلسلۂ بعثت بتمام و کمال اختتام کو پہنچا۔

صفحہ ٢١
بعثتِ پیغمبراں ہے مثلِ تعمیرِ بنا
باعث و معمار جس کا خالقِ ارض و سما
خشتِ اول اس محل کی حضرت آدمؑ ہوئے
اور خشتِ آخری لاریب امام الانبیاءؐ

کتاب وسنت کے مطالعے سے یہ حقیقت اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کہ حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کے بعد نبوت و رسالت کا ہر دعویٰ بے بنیاد و باطل ہے۔ رسول اکرم خیر البشر ہیں اور آپ کی امت خیر الامم، آپ خاتم الانبیاء ہیں اور آپ کی امت خاتم الامم، اسی طرح آپؐ پر نازل ہونے والی کتاب الہٰی (قرآن مجید) خاتم الکتب ٹھہری۔ قرآن مجید میں خیرالامم سے خطاب کرتے ہوئے واضح الفاظ میں اعلان کیا گیا ہے:

کنتم خیر امة اخرجت للناس تأمرون بالمعروف و تنهون عن المنکر و تؤمنون بالله

تم لوگ (خیر الامم) بہترین امت ہو جنہیں عامة الناس (کے فائدے) کے لیے نکالا گیا ہے۔ تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔

وہ خوش نصیب افراد (مرد، عورت، بچے) جو اسلام قبول کرنے کی حالت میں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی صحبت کیمیا اثر سے مستفید ہوئے اور ایمان و اسلام ہی پر ان کی وفات یا شہادت ہوئی، اصطلاح شریعت میں صحابی کہلاتے ہیں۔ صحابی ہونے کے لیے رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضری ضروری ہے، جسے اصطلاحاً صحبت کہا جاتا ہے۔ صحابی کا لفظ، اسی صحبت سے بنا ہے۔ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولِ مکرم ﷺ کے سچے اطاعت گزار، دین کے مددگار و جان نثار، مہاجرین و انصار اور مخلص و عادل تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلامِ پاک میں اور حضرت رسالت مآب ﷺ نے اپنے فرمودات میں صحابہ کرامؓ کی بہت تعریف و توصیف فرمائی ہے۔ اس لیے کوئی بڑے سے بڑا بزرگ امتی بھی کسی صحابی کے مرتبے کو نہیں پہنچ سکتا۔ صحبت نبویؐ کی تاثیر قدسی صفات سے صحابہ کرامؓ ایسا پارس بن گئے کہ ان کی نسبت صحبت سے مشرف ہونے والے خوش بخت اہل ایمان، تابعی کہلائے، ان تابعین میں بھی صحابہ کرامؓ کی ایمان آفریں توجہ سے ایمان کی وہ مقناطیسی خصوصیات پیدا ہوگئیں کہ ان کی زیارت (بحالت ایمان) سے فیضیاب ہونے والے

صفحہ ٢٢

’’تبع تابعین‘‘ کہلائے، پھر اس کے بعد تا قیامِ قیامت آنے والے اہل ایمان، عامۃ المسلمین میں شمار ہوتے ہیں۔

ان حقائق کی روشنی میں یہ امر، آفتاب نصف النہار کی طرح روشن ہو جاتا ہے کہ ایوانِ نبوت و رسالت کی تکمیل کے بعد، جس طرح کسی نبی یا رسول کی بعثت کی گنجائش نہیں رہی بعینہٖ اب کسی شخص کا صحابی، تابعی بلکہ تبع تابعی ہونا بھی ممکن نہیں رہا۔ صحابی، کوئی تب کہلائے گا جب حضرت رسالت مآب ﷺ کی صحبت سے مستفید ہوگا، تابعی تب کہلائے گا جب کسی صحابی کو بحالت ایمان دیکھے گا، تبع تابعی تب کہلائے گا جب کسی تابعی کی زیارت بحالت ایمان کرے گا، یہ تمام ابواب فضیلت صدیوں پیشتر بند ہو چکے، یہ بساط مراتب سمیٹی جا چکی اور یہ سلسلۃ الذہب اختتام پذیر ہو چکا۔

یہ رتبہ بلند ملا جن کو مل گیا

بایں ہمہ، ابلیس کے بہکاوے میں آ کر، ہوس پرستوں نے نبوت و رسالت کو بھی مالِ یغما سمجھ لیا، اور کبھی زور و زر کے بل پر، کبھی کہانت و ذہانت کے برتے پر اور کبھی کسی علم و فن میں امتیاز و مہارت کی بنا پر، انہوں نے ایسے ایسے دعوے کیے کہ دُنیا ان کی جسارت و جرأت پر انگشت بدنداں رہ گئی! اور یہ حقیقت اس سے بھی حیرت انگیز ہے کہ نبوت و رسالت کے ان شعبدہ بازوں میں سے کسی کو بھی یہ گلہ نہیں رہا کہ اُسے پیروکار نہیں ملے! عقل سے بے نیاز اور ہر چمکتی چیز کو سونا سمجھنے والے، شیطانی ڈُگڈُگی کی آواز پر جب بھی دیوانہ وار لپکے تو شیطان کے چیلوں نے انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا۔ تاریخ فتن و آشوب کے اوراق ایسے آثار و شواہد سے رنگین ہیں۔ انہی ایمان سوز فتنوں میں سے ایک فتنۂ مرزائیت ہے۔ جو برعظیم پاک و ہند میں برطانوی استعمار کے دست کرشمہ ساز کا شرانگیز و افتراق پرور شاہکار ہے۔

١٩ویں صدی عیسوی کے نصف آخر کا ہندوستان مسلمانوں کے سیاسی، مذہبی، معاشی اور معاشرتی ادبار و تنزل کی تصویر پیش کرتا ہے، ملی نشاۃِ نویٰ تحریکوں کی ناکامی اس تصویر کو اور بھی بھیانک بنا دیتی ہے۔ ان حالات میں مذہبی و معاشرتی مناقشات ابھرنے لگتے ہیں عیسائی مشنری اور آریہ سماجی مسلمانوں پر فکری و نظری یلغار کر دیتے ہیں، مسلمان علما ہر محاذ پر دین اسلام کا دفاع کرتے ہیں، لیکن عامۃ المسلمین، ادبار مسلسل کے باعث سیاسی بے چارگی، معاشرتی بے راہروی اور مذہبی توہم پرستی کا بھی شکار نظر آتے ہیں۔ فکری و نظری انتشار مسلم

صفحہ ٢٣

معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ ادھر انگریز اپنے تمام تر جور و استبداد کے باوجود مسلمانوں کی بیداری اور ان میں ابھرنے والی کسی بھی تحریک بالخصوص جہاد سے لرزاں و ترساں ہیں، انہیں ہر آن یہ خطرہ دغدغہ دامن گیر ہے کہ مسلمانوں میں پھر سے تحریک جہاد کا کوئی داعی پیدا نہ ہو جائے۔ سید احمد شہیدؒ اور شاہ اسمٰعیل شہیدؒ کی تحریک جہاد کے اثرات اب بھی ان کے اعصاب پر موت کی طرح سوار ہیں، حالانکہ انہوں نے مسلمان مجاہدین کو ”وہابی“ کہہ کر بدنام کیا، ان سے کالے پانی کی ویران جیلیں آباد کیں، ہر شجر و ستون کو ان کے لیے پھانسی گھاٹ بنا دیا۔ ان کی فرہنگ میں لفظ ”وہابی“ خوفناک باغی اور مذہبی دیوانے کا مترادف سمجھا جاتا ہے۔ جیسے آج کل امریکہ اور اس کے حواریوں کی ڈکشنری میں ”طالبان“ ”القاعدہ“ ”اُسامہ“ ”ملا عمر“ یا دیگر مجاہدین ”دہشت گرد“ قرار دیئے گئے ہیں۔ سوڈان میں وہ مہدی سوڈانی کے ہاتھوں بار بار زک اُٹھا چکے تھے، ان حالات میں انہیں ہر آن یہ خطرہ لاحق تھا کہ مہدی سوڈانی کی طرح اگر کسی ہندی مہدی نے بھی ”ہندوکش کی بلندیوں سے اُتر کر جہاد کا پرچم بلند کر دیا تو ہم کیا کریں گے؟ روس یقیناً اس موقع سے فائدہ اٹھائے گا، افغانستان قابل اعتماد نہیں، باقی رہے ہندوستان کے مسلمان، تو جہاد کے نفیر عام کے بعد شاید وہ بھی بغاوت پر آمادہ ہو جائیں۔ اس وقت ہر شخص کی زبان پر یہ چار الفاظ تھے۔ ”مہدی، جہاد، روس اور امیر کابل“ اور ہندوستان کے نائب السلطنت کی زبان بھی انہی الفاظ کے اعادہ و تکرار کے لیے وقف ہو چکی تھی۔“

(چراغ حسن حسرت، مقدمہ ارمغان قادیان ص ٨)

اس لیے انگریز، جہاد کو ختم کرنے اور مسلمانوں کو متفرق و منتشر کرنے کی سازشوں میں دن رات مصروف رہے، انہوں نے ہندوستان بھر میں اپنے ایجنٹوں اور گماشتوں کے ذریعے اپنے مفید مطلب افراد کی تلاش جاری رکھی بالآخر وہ اپنے ڈھب کے آدمی تلاش کرنے میں کامیاب ہو گئے جن میں سے ایک میرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ میرزا نے آنجہانی انگریزوں ہی کے زیر احسان ایک خانوادہ کا فرد ہونے کی بنا پر ان کے لیے ہر طرح باعث اطمینان اور قابل اعتماد تھا چنانچہ ؎

آبائی سرپرست کے ایمائے خاص پر
کم بخت بن کے صاحب الہام آ گیا

جہاد سے خائف، انگریزی استعمار نے برصغیر پاک و ہند کی ملت اسلامیہ کے حصار

صفحہ ٢٥

میں رخنہ گری کے لیے منجملہ دیگر حربوں کے جھوٹی نبوت کا بھی ڈول ڈالا اور اپنے ایک وفادار و نمک خوار خاندان کے ایک فرد، مختاری کے امتحان میں ناکام ہونے والے، سیالکوٹ کچہری کے منشی مرزا غلام احمد قادیانی کو اس بساطِ شطرنج کے مہرے کے طور پر ایک خاص نہج سے بتدریج آگے بڑھایا۔ اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کسی نے کہا تھا ؎

عجب رنگ زمانہ ہے عجب اس کی روانی ہے
کہ معمولی کلرکوں نے نبی بننے کی ٹھانی ہے
خبر تھی احمدِ مرسلؐ کی جھوٹے امت میں آئیں گے
اسی زمرے میں واللہ ایک مرزا قادیانی ہے

فرنگی کی عطا کردہ اس نبوت کے آغازِ سفر میں مرزا قادیانی ایک مناظر اور قلمکار کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ وہ عیسائی پادریوں اور آریہ سماجیوں سے مناظرے کرتا ہے۔ اسلام کی حقانیت پر ”براہین احمدیہ“ کے نام سے پچاس جلدوں پر مشتمل کتاب لکھنے کا اشتہاری وعدہ و دعویٰ کرتا ہے اور لوگوں سے پچاس جلدوں کی قیمت پیشگی وصول کر کے انہیں صرف پانچ جلدوں پر ٹرخا دیتا ہے۔ جب اس بدعہدی پر وہ اعتراضات کی زد میں آتا ہے تو مکر آمیز سادگی سے جواب دیتا ہے۔

”پہلے پچاس حصے لکھنے کا ارادہ تھا مگر پانچ پر اکتفا کیا گیا اور چونکہ پچاس اور پانچ کے عدد میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے اس لیے پانچ حصوں سے وہ وعدہ پورا ہو گیا۔“

بسیار نویسی کے باعث وہ ”سلطان القلم“ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور قدیم اہل علم کے ذخیرۂ علم و معارف کے اقتباسات حوالہ دیئے بغیر اپنی تحریروں میں شامل کرتا ہے اس پر بھی ادبی نقطۂ نظر سے اس کی تحریریں ”غلطی ہائے مضامین مت پوچھ“ کا مصداق ہیں۔ شاعری سے شغف کی بنا پر ایک مجموعۂ کلام ”درِثمین“ کے نام سے پیش کرتا ہے۔ اس میں سے دو شعر دیکھئے۔

١۔ اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال
دیں کے لیے حرام ہے اب جنگ اور قتال
٢۔ کرمِ خاکی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد ہوں
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار

اس کی فارسی شاعری کا نمونہ بھی دیکھ لیجئے

انبیاء گرچہ بودہ اند بسے
من بعرفاں نہ کمترم زکسے

(نبی تو اگرچہ بہت سے ہوئے ہیں، میں عرفان میں کسی سے کم نہیں ہوں)

لاحول ولاقوۃ الا باللہ۔ اس کے نظریہ تنسیخ جہاد پر تو ملت اسلامیہ کے مجاہدین نے بہت جلد گرفت کی ہے۔ جب رفتہ رفتہ مختلف ذرائع سے مراعات اور دولت کی ریل پیل ہوئی تو اس نے پھر بتدریج مہدی، کرشن، مریم، مسیح موعود اور ظلی و بروزی نبی ہونے کے دعوے کیے۔ اس کی اس ”ہمہ منصبی“ اور ”ہرفن مولا“ بننے کی تمنائے بے تاب پر کسی نے کیا خوب تبصرہ کیا ہے ؎

کبھی احمد، کبھی عیسیٰ، کبھی موسیٰ، کبھی کرشن
جو سچ پوچھو تو جھوٹوں کی کوئی منزل نہیں ہوتی

”ٹیچی ٹیچی“ اس پر وحی و الہام کی موسلادھار بارش ہونے لگی اور وہ بھی انگریزی، ہندی، پنجابی، فارسی، عربی اور سنسکرت ایسے کثیر اللسانی ملغوبے میں۔ شاید یہ مشکلاتِ وحی کی تسہیل و ترجمانی کے لیے ایک ہندو اور ایک انگریز فرشتے کی تقرری اور اس کی ذات پر نازل ہونے والی وحی کے مفہوم کی تفہیم نہ ہو سکنے کی وجہ سے تھی۔ اس وحی پر، بقول شخصے، مرزا اسی کا پابند ہے۔ کیا خوب ؎

ملہم علیہ پر ہی نہ کھلا رازِ وحی
تعبیر کون جانے پھر اس کے الہام کی

ظلی نبوت کا سودا و خمار خام جب سنبھالے نہ سنبھلا تو اس نے براہِ راست اللہ ہونے کا بہروپ بھرتا ہے لیکن ہوا و ہوس کی آندھیوں میں اس کا یہ دعویٰ بھی گم ہو جاتا ہے اور وہ بے حیائی سے (نقل کفر، کفر نباشد) نہ صرف ”خدا“ بننے کا دعویٰ کرتا ہے بلکہ اپنی ”وحی الہامیہ“ میں نعوذ باللہ، فضل و کمال میں اس سے بھی آگے بڑھ جاتا ہے۔ اس کی ان لایعنی خرافات۔ مرزا کی چلبلی طبیعت اور بے چین روح مختلف مدارج سے گزرتی ہوئی جب کسی ایسے ناگفتنی دعوے کرتا چلا جاتا ہے کہ ہوش و خرد قادیانی نبوت کے ان کرشموں پر محوِ حیرت ہیں

بسوخت عقل زحیرت کہ ایں چہ بوالعجبیست

مرزا کے اسی نوع کے بے شمار الہامات اور متضاد دعاوی کی بنیاد پر ہی تو

صفحہ ٢٥

اس کی فارسی شاعری کا نمونہ بھی دیکھ لیجئے کہتا ہے ۔

انبیاء گرچہ بودہ اند بسے
من بعرفاں نہ کمتر ز کسے

(نبی تو اگر چہ بہت سے ہوئے ہیں، میں خدا شناسی میں کسی سے بھی کم نہیں ہوں)

لاحول ولاقوۃ الا باللہ۔ اس کے نظریہ تنسیخ جہاد پر ڈاکٹر سر اقبال نے ”ضرب کلیم“ میں خوب گرفت کی ہے۔ جب رفتہ رفتہ مختلف ذرائع سے حکومت کے زیر سایہ کچھ شہرت ہو جاتی ہے تو پھر بتدریج مہدی، کرشن، مریم، مسیح موعود اور ظلی و بروزی نبی وغیرہ کا روپ دھارتا ہے اس کی اس ”ہمہ منصبی“ اور ”ہرفن مولا“ بننے کی تمنائے بے تاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کسی نے کہا ہے ۔

کبھی احمد، کبھی عیسیٰ، کبھی کرشن کبھی مریم!
جو سچ پوچھو تو جھوٹوں کی تلون ہی نشانی ہے

”ٹیچی ٹیچی“ اس پر وحی و الہام کی موسلا دھار بارش برساتا ہے اور یہ وحی اردو، انگریزی، ہندی، پنجابی، فارسی، عربی اور سنسکرت وغیرہ متعدد زبانوں میں نازل ہوتی ہے۔ مشکلات وحی کی تسہیل و ترجمانی کے لیے ایک ہندو لڑکے شیام لال کو ملازم رکھتا ہے، گویا وہ اپنی ذات پر نازل ہونے والی وحی کے مفہوم کی تفہیم سے بھی قاصر و عاجز ہے۔ مترجم ٹھیک یا غلط جو بتلائے، مرزا اسی کا پابند ہے۔ کیا خوب ۔

ملہم علیہ پر ہی نہ مفہوم، جب کھلا
تعبیر کون جانے پھر ان مہملات کی؟

طفیلی نبوت کا سودا و خمار خام جب سنبھالے نہیں سنبھلتا تو ہوس کی مسلسل مہمیز پر مکمل نبی ہونے کا بہروپ بھرتا ہے لیکن ہوا و ہوس کی آندھی اس پر بھی جب رکنے کا نام نہیں لیتی تو نہایت بے حیائی سے (نقل کفر، کفر نباشد) نہ صرف ”محمد“ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے بلکہ اپنے ”خطبہ الہامیہ“ میں نعوذ باللہ، فضل و کمال میں انؐ سے بھی آگے ہونے کا مدعی ہے! العیاذ باللہ من تلک الخرافات۔ مرزا کی چلبلی طبیعت اور بے چین روح کو سکون راس نہیں آتا لہٰذا وہ پے در پے ایسے ایسے ناگفتنی دعوے کرتا چلا جاتا ہے کہ ہوش و خرد فرط حیرت سے منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں ۔

بسوخت عقل ز حیرت کہ ایں چہ بوالعجبی است!

مرزا کے اسی نوع کے بے شمار الہامات و مزعومات کے گمبھیر تناظر میں اس کی

صفحہ ٢٦

شخصیت چوں چوں کا مربہ دکھائی دیتی ہے یا پھر ہر آن رنگ بدلتا گرگٹ! مرزا نے ایسے ایسے حیاسوز و متضاد الہامات ودعاوی کے انبار لگائے ہیں کہ قلم انہیں نقل کرنے سے گریزاں ہے۔

وہ گل کھلائے ہیں مرزائے قادیانی نے
کہ تذکرے سے بھی ان کے قلم گریزاں ہے

مختصراً یہ جان لیجئے ۔

مرزا کی موشگافیاں سنتے ہی دوستو!
سکتے میں ایک بار تو الحاد آ گیا
سن کر دعاوی اس کے یہ شیطان بول اٹھا
میں کیا ہوں؟ یہ تو میرا بھی اُستاد آ گیا!

نامور مصنف اور صحافی چراغ حسن، حسرت قادیانیت کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”مرزا غلام احمد کے عقائد پر غور کیجئے تو معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں جتنے باطل تصورات پیدا ہوئے ہیں وہ سب اپنی ترقی یافتہ صورت میں مرزا صاحب کے ہاں موجود ہیں۔ ان میں وہابیت کا ظاہر تو ہے لیکن اس کے باطن یعنی ذوق جہاد سے سروکار نہیں، وہ سرے سے جہاد بالسیف کے منکر ہیں اور انگریزی حکومت کو واجب الاطاعت سمجھتے ہیں۔ وہ صوفی بھی ہیں لیکن ان میں نہ تو صوفیوں کی سی فراخ دلی اور وسعت نظر ہے نہ بے نیازی اور قناعت۔ وہ اپنے منکروں کو کافر کہتے ہیں اور اپنے مخالفوں کو بے دریغ گالیاں دینے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتے۔ انہوں نے تصوف کے صرف عقائد کو قبول کر لیا جو مجوسی عقائد کی بازگشت معلوم ہوتے ہیں اور جنہیں اسلامی تصوف سے کوئی تعلق نہیں، یعنی ظل و بروز، تشبہ و تجسم اور وحدت وجود، ان پر بابی تحریک کا بھی کافی اثر پڑا، چنانچہ چند مسائل کو مستثنیٰ کر دیجئے تو ان کے اور محمد علی باب کے دعوے میں کوئی فرق نہیں رہتا۔ وفات مسیح کا عقیدہ جس پر ان کے دعوے کی عمارت استوار ہے انہوں نے سرسید سے لیا ہے۔ اسلامی عقائد کی نئی تعبیر وتفسیر اور علوم جدیدہ سے ان کی تطبیق کے

صفحہ ٢٧

باب میں بھی وہ سرسید کے متبع ہیں۔ لیکن ان کی تحریک میں جو چیز سب سے نمایاں نظر آتی ہے وہ تنسیخ جہاد اور انگریزوں کی خلافت الہیہ کے مسائل ہیں۔ ان کی کتابوں میں کوئی دوسرا مسئلہ ایسا نہیں جس کا ذکر انہوں نے اس جوش و خروش کے ساتھ بار بار کیا ہو۔ ان کے خیالات میں تضاد و تباین بے حد ہے وہ خود اپنے دعاوی کے متعلق ایسی متضاد باتیں کہتے ہیں کہ پڑھنے والا پریشان ہو جاتا ہے۔ لیکن تنسیخ جہاد اور حکومت انگریزی کی اطاعت کے متعلق انہوں نے جو کچھ لکھا ہے وہ ہر قسم کے ابہام و تضاد سے پاک ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان مسائل کو اصل کی حیثیت حاصل ہے اور دوسرے تمام مسائل حتیٰ کہ ان کا دعویٰ مہدویت بھی فرع کی حیثیت رکھتا ہے۔“ (چراغ حسن حسرت، مقدمہ

ارمغان قادیاں ص ١١،١٢)

مرزا کی اسی مکروہ روش پر تبصرہ کرتے ہوئے مولانا ظفر علی خاں مرحوم نے کہا تھا:

نصاریٰ کی رضا جوئی ہے مقصد اس نبوت کا
اور ابطال جہاد انجاح مقصد کا وسیلہ ہے

اب ہم ایک ایسی پیش گوئی کا کچھ احوال بیان کرنا چاہتے ہیں جسے متنبی قادیان نے اپنی نبوت کی ”تقدیر مبرم“ یعنی دلیل محکم قرار دیا، لیکن وہی اس کی رسوائی اور جگ ہنسائی کا پیش خیمہ بن گئی۔

١٨٨٨ء میں جبکہ مرزا قادیانی کی عمر پچاس سال تھی، اس نے اپنے ایک رشتہ دار مرزا احمد بیگ کی جواں سال بیٹی محمدی بیگم کے نکاح کا پیغام دیا اور اس ضمن میں بڑی شد و مد کے ساتھ الہامی اشتہار بازی بھی شروع کر دی۔ لڑکی والوں کو ڈرانے، دھمکانے، لالچ دینے، مختلف رشتہ داروں کے ذریعے مرعوب و ہراساں کرنے اور عدم تعمیل کی صورت میں ان کی بعض رشتہ دار خواتین کو طلاق دلوانے وغیرہ کے متعدد حربے اختیار کیے اور بار بار یہ الہامی دعویٰ بھی کیا کہ اللہ تعالیٰ نے خود اس کا عقد نکاح مجھ سے آسمان پر باندھ دیا ہے۔ اگر لڑکی والوں نے اس ”نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہوگا اور جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی وہ روز نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس دختر کا تین سال تک

صفحہ ٢٨

فوت ہو جائے گا اور ان کے گھر پر تفرقہ اور تنگی پڑے گی اور درمیانی زمانہ میں بھی اس دختر کے لیے کئی کراہت اور غم کے امر پیش آئیں گے۔‘‘

آسمانی نکاح کی اس پیش گوئی کو متنبّی قادیاں نے اپنے صدق و کذب کی جانچ کے لیے نشانِ آسمانی، فیصلہ آسمانی اور ’’تقدیر مبرم‘‘ قرار دیا۔ ایک دوسرے الہامی اشتہار میں اس نے دعویٰ کیا:

’’……اور فرمایا کہ خدائے تعالیٰ ہر طرح سے اس کو تمہاری طرف لائے گا باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے اور ہر ایک روک درمیان سے اٹھا دے گا اور اس کام کو ضرور پورا کرے گا کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔‘‘

مگر امر واقعہ یہ ہے کہ مرزا کی ہر طرح کی دوڑ دھوپ اور تگ و دو کے باوجود ٧۔ اپریل ١٨٩٢ء کو محمدی بیگم کا نکاح مرزا سلطان محمد ساکن پٹی ضلع لاہور سے ہو گیا، متنبّی قادیان، اس نکاح کے بعد بھی بمصداق ’’کھسیانی بلی کھمبا نوچے‘‘ اپنی الہامی پیش گوئی کی تکمیل کا آرزو مند اور منتظر رہا، چنانچہ ١٩٠١ء میں ضلع گورداسپور کی عدالت میں اس نے اپنے حلفیہ بیان میں کہا:

’’سچ ہے وہ عورت میرے ساتھ بیاہی نہیں گئی مگر میرے ساتھ اس کا بیاہ ضرور ہوگا جیسا کہ پیش گوئی میں درج ہے وہ سلطان محمد سے بیاہی گئی…… عورت اب تک زندہ ہے میرے نکاح میں وہ عورت ضرور آئے گی۔‘‘

لیکن کوشش بسیار کے باوجود مرزا وصل دلبر کی حسرت دل میں لیے سوز غم فراق میں شب و روز سلگتا اور اندر ہی اندر گھلتا رہا، اور اس کی ’’الہامی پیش گوئی‘‘ کا مضحکہ اڑتا رہا۔ وہ جگ ہنسائی ہوئی کہ الامان والحفیظ! اسی موقع کی مناسب سے کسی نے کہا تھا ؎

عدو کے گھر میں ہے آباد جس کی پیش گوئی تھی
بتاؤ کیا یہی شانِ نکاحِ آسمانی ہے؟

متنبّی قادیان نے جب دیکھا کہ مرزا سلطان محمد سے محمدی بیگم کی شادی ہوئے اڑھائی سال سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود میری الہامی پیش گوئی کے مطابق کوئی ناگہانی آفت و اُفتاد ان پر نہیں آئی، بلکہ وہ دونوں خوش و خرم ہیں اور خوش گوار ازدواجی زندگی گزار رہے ہیں تو اس نے اپنی خفت مٹانے کے لیے، اس ’’الہامی پیش گوئی‘‘ کی میعاد میں

صفحہ ٢٩

اپنی طرف سے توسیع کر دی۔ لیکن ؎

اے بسا آرزو کہ خاک شدہ!

آخر کار، مکہ یا مدینہ میں اپنے مرنے کی الہامی پیش گوئی کا دعویدار یہ متنبّی قادیاں

”مرزا ١٤ اگست ١٩٠٨ء تک مر جائے گا۔“

پاداش میں ہیضہ جیسی منہ مانگی موذی و مہلک بیماریوں میں مبتلا ہو کر بتاریخ ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو بروز منگل بمقام برانڈرتھ روڈ لاہور، عبرتناک موت کا شکار ہو گیا۔ مرگِ مرزا کی اس منفرد کیفیت پر کسی شاعر نے خوب تبصرہ کیا ہے ؎

اس کے بیماروں کا ہوگا کیا علاج؟
”کالرا“ سے خود مسیحا مر گیا!

(”کالرا“ انگریزی زبان میں ہیضہ کو کہتے ہیں)

مرزا کی موت واقع ہوگئی، لیکن اس کا وہ نکاح جو بقول اس کے خدا نے خود، آسمان پر محمدی بیگم سے پڑھایا تھا، زمین پر، ہزار جتن کرنے کے باوجود عملی صورت اختیار نہ کر سکا، بالفاظ دیگر متنبّی قادیان کی ”تقدیر مبرم“ (نہ ٹلنے والی حقیقت) بری طرح درہم برہم ہوگئی! معلوم ہوتا ہے کہ یہ مراقی، شیخ چلی کی طرح، محض خیالوں ہی خیالوں میں زمین و آسمان کے قلابے ملانے میں سرگرداں رہا، لیکن وہ نہ ملے پر ملے! کسی شاعر نے حسب موقع کیا خوب کہا ہے ؎

کوئی بھی کام مسیحا ترا پورا نہ ہوا
نامرادی میں ہوا ہے ترا آنا جانا

مرزا اور اس کے وکلاء نے علماءِ اسلام سے زبانی و تحریری مناظرے بھی کیے جن میں شکست و پسپائی ان کا مقدر بنی، مقدمہ بازی بھی ہوئی، عدالتوں میں معافی کی درخواستیں بھی مرزا نے لکھیں۔ وہ ملکہ وکٹوریہ کی شان میں قصیدہ خوانی بھی کرتا رہا۔ اور انہی قصیدوں میں در پردہ، یک طرفہ ”عشق“ کا اظہار بھی کرتا رہا۔ اس نے شاہ نعمت اللہ ولی سے منسوب فارسی زبان میں منظوم پیش گوئیوں میں رد و بدل کر کے انہیں اپنی ذات پر منطبق کرنے کی ناروا کوشش بھی کی۔ مباہلوں کی تیاریاں بھی ہوئیں لیکن نجرانی عیسائیوں کی طرح، اس گرفتارِ مراق کو کبھی

صفحہ ٣٠

میدان مباہلہ میں آنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ مولانا ظفر علی خاں مرحوم نے کیا خوب کہا ہے ۔

وہ بھاگتے ہیں اس طرح مباہلے کے نام سے
فرار کفر جس طرح ہو مسجد حرام سے

متنبی قادیان شراب و خمریات کا بھی رسیا تھا اور مال روڈ لاہور کے ای ۔ پلومر کی تیار کردہ ”ٹانک وائن“ اسے بطور خاص مرغوب تھی۔ اس کی شراب خوری کا معاملہ عدالت تک بھی جا پہنچا۔ کسی نے اس حوالے کو بھی شعری صورت دے کر یادگار بنا دیا ہے ۔

دوائی کے لیے مرزا جی ”ٹانک وائن“ کہتے تھے
عدالت میں یہی ”الفضل“ والے کی زبانی ہے

ذہنی اور جسمانی لحاظ سے متنبی قادیان گونا گوں امراض پیچیدہ کی آماجگاہ تھا۔ اور ان امراض خبیثہ کا تذکرہ، اس نے خود اپنی کتابوں میں جابجا کیا ہے۔ جسمانی آرام واستراحت کے حوالے سے ”بھانو“ وغیرہا غیر محرم عورتیں اس کے لیے سامان تسکین وسرور تھیں۔

قیام پاکستان سے پہلے غیر منقسم ہندوستان میں خود انگریزوں کے زیر انصرام عدالتوں اور بالخصوص عدالت عالیہ بہاولپور نے پورے برعظیم پاک وہند کے معروف ومقتدر علمائے اسلام اور مرزائیت کے ممتاز و چیدہ نمائندوں کے موقف کا بالاستیعاب مطالعہ و تجزیہ کرنے کے بعد مرزائیت کو دین اسلام کے مقابلے میں سراسر کفر و ارتداد قرار دیا۔ وطن عزیز پاکستان کی سول کورٹس ، ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ کے علاوہ خود ایوان حکومت (قومی اسمبلی ، غرض ہر مجاز و مختار ادارے نے مرزا قادیانی کے جملہ دعاوی و اشتہارات اور ذخیرۂ وحی والہامات کا بنظر غائر جائزہ لینے بلکہ مرزائیت کے وکلاء و معاونین اور ان کے سربراہ وقت مرزا طاہر احمد کو ان کے اپنے موقف کی ترجمانی و دفاع کا مکمل باضابطہ اور منصفانہ موقع دینے اور ان کے دلائل و مزعومات کی طویل اور صبر آزما سماعت کے بعد متنبی قادیانی مرزا غلام احمد آنجہانی اور اس کی امت مرزائیہ کے دونوں دھڑوں (قادیانی اور لاہوری ) کو کافر قرار دے کر ان کے غیر مسلم اقلیت ہونے کا واشگاف اعلان کیا۔ اس کے علاوہ عالم اسلام اور دنیا کی دیگر مختلف عدالتیں بھی مرزا قادیانی کی نبوت کے رگ وریشہ کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد اسے خلاف اسلام بغاوت اور مرزائیوں کو کافر قرار دے چکی ہیں۔

خلاصۂ کلام کے طور پر بلاخوف تردید یہ کہا جا سکتا ہے کہ مرزا کی زندگی کے نشیب و فراز کا احوال، اسے ایک معقول، معتدل اور معتبر انسان بھی ثابت نہیں کرتا۔ بنابریں ایسے شخص

صفحہ ٣١

کی طرف سے کسی برتر حیثیت کا دعویٰ تو محض دیوانے کا خواب ہے ۔

ہم خدا خواہی و ہم دنیائے دوں
ایں خیال است و محال است و جنوں

یاد رہے کہ متنبی قادیان منگل کے دن کو منحوس جانتا تھا لیکن قضائے الٰہی سے منگل ہی دن اس کی موت واقع ہوئی۔ مرزا، ریل گاڑی کو ”دجال کا گدھا“ کہا کرتا تھا لیکن انجام مرزا کی ستم ظریفی دیکھئے کہ خود مرزا کی لاش اسی ”خر دجال“ پر لاد کر لاہور سے قادیان لے جائی گئی۔ ”حق، بحق دار رسید“ کی یہ کیسی منہ بولتی تفسیر ہے ۔

ریل گاڑی کو ”خر دجال“ مرزا نے کہا
لاش مرزا بر خرآں دُود دَم ہے دیدنی!

حقیقی انبیاء و رسل کی ایک امتیازی شان یہ بھی ہے کہ ان کا مقام وفات ہی ان کا مدفن بھی ہوتا ہے۔ متنبی قادیان کو اس کی مکروہ البیان جائے وفات سے اس کے اپنے تعمیر کردہ ”بہشتی مقبرے“ میں دفن کرنے کے لیے مال گاڑی پر لاد کر لاہور سے قادیان لے جایا گیا۔

حیرت ہے کہ قدرت کی طرف سے قدم قدم پر اظہار حق کی عبرت آموز نشانیوں کو دیکھ کر بھی لوگ قبول حق سے اعراض کی روش کو اپنا شعار بنائے ہوئے ہیں! کسی صاحب دل نے ایسے ہی افراد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے ۔

اگر ہے قلب و چشم و گوش پر مہر خداوندی
نہ مانو گے نہ حق کی بات تم نے کوئی مانی ہے

دنیا میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات و حوادث اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی مخلوق بالخصوص انسان کے لیے عبرت و موعظت کے گوناگوں پہلوؤں کا مظہر ہوتے ہیں۔ تقدیس و تنزیہ کا دعویٰ کرنے والے اگر اپنی عملی زندگی اور انجام کے لحاظ سے عام لوگوں سے بھی رسوا و بدتر ہوں تو یہ امر قدرت کی طرف سے اہل دنیا کے لیے درس عبرت اور اظہار حق کا اعلان بن جاتا ہے۔ کسی اللہ والے نے کیا خوب کہا ہے ۔

انقلابات جہاں، واعظ رب ہیں، دیکھو
ہر تغیر سے صدا آتی ہے فَافْہَمْ فَافْہَمْ

قادیانیت کے خلاف قلمی جہاد کی سرگزشت ایک ایسے طویل اور ہمہ جہت علمی سفر کا نام ہے جس میں بیک وقت مذہبی، سیاسی، معاشی اور معاشرتی اطراف و مناظر کی جلوہ آرائی

صفحہ ٣٢

ہے۔ اہل نظر اصحاب قرطاس و قلم نے اس فتنہ حشر آثار کے آغاز ہی سے ٹھوس علمی بنیادوں پر اس کا تنقیدی و تحقیقی اور تجزیاتی محاکمہ و محاسبہ شروع کر دیا تھا۔ اس وقت سے لے کر آج تک ہزاروں کتب اور کتابچے منظر عام پر آ چکے ہیں۔ رسائل و جرائد میں شائع ہونے والے مضامین و مقالات اور فتاویٰ بھی اسی سلسلۂ زرتاب کی شاخہائے گہر بار ہیں۔ زیر نظر تالیف ”چراغ محمدیؐ اور طوفان قادیان“ ایسے ہی بصیرت افروز مقالات کا ایک حسین انتخاب ہے۔ یہ کاوش جمیل محترم محمد طاہر عبدالرزاق کی مساعی حسنہ کا مظہر ہے۔ مرتب موصوف ایک کثیر المطالعہ شخصیت اور جانے پہچانے مصنف و مؤلف ہیں۔ انہوں نے اپنی تمام تر توجہات اور جملہ علمی مصروفیات کو مرزائیت کی تحقیق و تنقید پر مرکوز کر لیا ہے۔ اب شب و روز یہی ان کا اوڑھنا بچھونا اور دمِ گفتگو یہی ان کا طرۂ کلام ہے۔ ان کی دلی خواہش ہے کہ مسلمان فتنہ مرزائیت کو اچھی طرح پہچان لیں۔ مرزائیوں کی بین الملی اور بین الاقوامی سرگرمیوں اور دسیسہ کاریوں کے پیش نظر مرزائیت شناسی کا شعور ملت اسلامیہ کے لیے مذہبی، سیاسی، معاشی اور معاشرتی نقطہ نظر سے انتہائی اہم ہے۔

”چراغ مصطفویؐ اور طوفان قادیان“ معروف علماء کرام اور نامور اہل علم و دانش کے منتخب علمی و تحقیقی مقالات کا چشم کشا و بصیرت افروز مجموعہ ہے اور مرزائیت شناسی کے حوالے سے نہایت اہم ہے۔ جس میں مرزا قادیانی کی شخصیت، اس کی ملحدانہ سرگرمیوں کا احوال، مرزائیوں کے پیدا کردہ شبہات و مغالطات مثلاً کیا مہدی اور مسیح موعود ایک ہی شخصیت کے دو مختلف روپ ہیں یا دو مختلف الوجود ہستیاں ہیں، تشریعی اور غیر تشریعی نبی کی بحث، مولانا عبیداللہ سندھی اور مسئلہ نزول مسیح، اور انسانی حقوق کے حوالے سے عالمی سطح پر مرزائیوں کی مظلومی کے خانہ ساز افسانوں کا جائزہ اور محاکمہ شامل ہے۔ علاوہ ازیں قرآن کریم کے لفظ ”ربوہ“ کا تحقیقی مطالعہ، اسلام اور کفر و ارتداد، مرتد کے لغوی و اصطلاحی معانی، خاتم النبیین...... کامل نمونہ، اور لاہوری مرزائی کافر کیوں؟ جیسے قابلِ قدر اور علم افروز مضامین اس کتاب کی زینت ہیں۔ مثال کے طور پر مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ کا مقالہ ”لاہوری مرزائی کافر کیوں؟“ اس لحاظ سے بطور خاص اہم اور منفرد شان کا حامل ہے کہ مرزائی مکر وفن اور چرب زبانی کے باعث بعض حلقوں میں لاہوری مرزائیوں کے لیے نسبتاً نرم گوشہ پایا جاتا ہے مولانا چاند پوری موصوف نے براہین و شواہد کی روشنی میں ایسی ہر ظلمت کو اس خوبی سے تحلیل کیا ہے کہ لاہوری مرزائیوں (پیغامیوں) کو بے ضرر خیال کرنے والوں کے خیال خام کی از خود نفی ہو

صفحہ ٣٣

قرطاس و قلم نے اس فتنہ حشر آثار کے آغاز ہی سے ٹھوس علمی بنیادوں پر قادیانی محاکمہ و محاسبہ شروع کر دیا تھا۔ اس وقت سے لے کر آج تک بے شمار منظر عام پر آچکے ہیں۔ رسائل و جرائد میں شائع ہونے والے فتاویٰ بھی اسی سلسلۂ زرتاب کی شاخہائے گہر بار ہیں۔ زیر نظر تالیف طوفانِ قادیان‘ ایسے ہی بصیرت افروز مقالات کا ایک حسین انتخاب ہے۔ محمد عبدالرزاق کی مساعی حسنہ کا مظہر ہے۔ مرتب موصوف ایک کثیر جانے پہچانے مصنف و مؤلف ہیں۔ انہوں نے اپنی تمام تر توجہات اور قادیانیت کی تحقیق و تنقید پر مرکوز کر لیا ہے۔ اب شب و روز یہی ان کا اور یہی ان کا طرۂ کلام ہے۔ ان کی دلی خواہش ہے کہ مسلمان فتنہ پہچان لیں۔ مرزائیوں کی بین الملی اور بین الاقوامی سرگرمیوں اور نیز مرزائیت شناسی کا شعور ملت اسلامیہ کے لیے مذہبی، سیاسی، معاشی انتہائی اہم ہے۔

فتویٰ اور طوفانِ قادیان‘ معروف علماء کرام اور نامور اہل علم و دانش مقالات کا چشم کشا و بصیرت افروز مجموعہ ہے اور مرزائیت شناسی کے ہے۔ جس میں مرزا قادیانی کی شخصیت، اس کی ملحدانہ سرگرمیوں کا پراگندہ شبہات و مغالطات مثلاً کیا مہدی اور مسیح موعود ایک ہی شخصیت دو مختلف الوجود ہستیاں ہیں، تشریعی اور غیر تشریعی نبی کی بحث، مولانا نزول مسیح، اور انسانی حقوق کے حوالے سے عالمی سطح پر مرزائیوں کی حرکتوں کا جائزہ اور محاکمہ شامل ہے۔ علاوہ ازیں قرآن کریم کے لفظ اسلام اور کفر و ارتداد، مرتد کے لغوی و اصطلاحی معانی، خاتم النبیین ....... مرزائی کافر کیوں؟ جیسے قابل قدر اور علم افروز مضامین اس کتاب کی خاص طور پر مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ کا مقالہ ”لاہوری مرزائی کافر باوجود خاص اہم اور منفرد شان کا حامل ہے کہ مرزائی مکر و فن اور چرب بیانیوں میں لاہوری مرزائیوں کے لیے نسبتاً نرم گوشہ پایا جاتا ہے مولانا براہین و شواہد کی روشنی میں ایسی ہر ظلمت کو اس خوبی سے تحلیل کیا ہے قادیانیوں) کو بے ضرر خیال کرنے والوں کے خیال خام کی از خود نفی ہو

جاتی ہے۔ ”انسانی حقوق اور قادیانی جماعت“ یہ مقالہ ایک ایسے صاحب قلم کا ہے جو زمانہ ماضی میں خود قادیانی رہے ہیں چنانچہ گھر کا بھیدی ہوتے ہوئے پروفیسر منور احمد ملک نے اس موضوع کو اس خوبصورتی سے دامن قرطاس پر پھیلایا ہے کہ دعوائے مظلومی کے پردے میں چھپے مرزائیوں کی نہ صرف اصل شکل دنیا کے سامنے آجاتی ہے بلکہ اس نقاب کشائی کے بعد، مظلومیت کا بہروپ بھرنے والے خود ستم گر وستم ایجاد نظر آتے ہیں۔ اسی طرح ”قرآن کریم کے لفظ ”ربوہ“ کا تحقیقی مطالعہ“، اپنی نوعیت و ندرت کے اعتبار سے نہ صرف دلچسپ اور جاذب التفات ہے بلکہ اپنے مضمرات کے حوالے سے مرزائیوں کی تحریفی سرشت اور علمی بددیانتی کو بھی طشت از بام کرتا ہے۔ الغرض، اس تالیف میں شامل ہر مقالہ، اپنے قلم کار کے ذوق تحقیق اور علمی وجدان کا آئینہ دار ہے۔

ہمیں یقین کامل ہے کہ اس کتاب کا مطالعہ، عامۃ المسلمین اور علم دوست احباب کے علاوہ اسلام اور مرزائیت کے محاذ پر کام کرنے والوں کے لیے بھی نہ صرف علمی و فقہی مسائل کی گرہ کشائی کا موجب ہوگا بلکہ خود مرزائیوں کے لیے بھی انشاء اللہ العزیز سرمۂ بصیرت ثابت ہوگا۔ فاضل مرتب کی یہ حسین کاوش فی الواقعی لائق ستائش و مبارکباد ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر سے نوازے اور ان کا یہ جذبہ تحقیق مرزائیت، روز بروز نت نئے پہلوؤں سے مرزائیت شناسی کے فروغ کا باعث ہو:

ایں دعا از من و از جملہ جہاں آمین باد

یہ چند سطور، حسب ارشادِ مؤلف محترم اور بتقاضائے محاسن کتاب، بطور دیباچہ، اس خاکسار نے تحریر کر دی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اُمید ہے کہ یہ کاوش ناچیز، قارئین کے لیے انشاء اللہ العزیز ”قبلہ نما“ ہوگی۔

خاکسار محمد بشیر متین فطرت استاذ شعبۂ تاریخ گورنمنٹ اسلامیہ کالج سول لائنز، لاہور

صفحہ ٣٤

رسول خاتم ﷺ

علامہ سید محمود احمد رضوی

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّيْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ

”هُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وہی اول وہی آخر وہی ظاہر وہی باطن۔ وہی وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ ؂١ سب کچھ جانتا ہے۔

سورۂ حدید کی اس آیت مبارکہ میں اللہ رب العزت جل مجدہٗ کی صفات عالیہ کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ اول ہے ہر شے سے پہلے بے ابتداء ہے کہ وہ تھا اور کچھ نہ تھا۔ یہ تھا بھی کبھی نہ تھا اور وہ تھا۔ وہ آخر ہے ہر شے کے فنا ہو جانے کے بعد باقی رہنے والا ہر شئے فانی ہے باقی تو صرف اسی کی ذات ہے۔

”كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَّيَبْقٰی وَجْهُ رَبِّكَ کائنات میں جو کچھ ہے فنا ہونے والا ہے ذُو الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ“ ؂٢ اور باقی تمہارے رب کی ذات ہے عظمت و بزرگی والی۔

جن۔ فرشتے۔ انبیاء۔ اولیاء اصفیاء غرضیکہ کل جہان اس کے فضل و کرم کا محتاج ہے کوئی بھی اس سے بے نیاز نہیں ہے۔ عالم کا ذرہ ذرہ اس کے حضور سجدہ ریز ہے کیونکہ وہ آخر ہے باقی ہے سارے جہانوں کی بادشاہی اسی کے لئے ہے۔۔۔۔۔۔ وہ ظاہر بھی ہے دلائل و براہین سے اس کا وجود ثابت ہے۔ ہر شے پر غالب ہے۔ جو چاہتا ہے جیسے چاہتا ہے کرتا ہے۔ اس کے چاہنے میں کوئی رکاوٹ نہیں بن سکتا کیونکہ وہ ”مالک الملک“ ہے۔ ”فعال لما یرید“ ہے اور ”علی کل شی قدیر“ اسی کی شان ہے وہ باطن ہے۔ سننے سمجھنے دیکھنے سوچنے اور پرکھنے کی قوتیں اس کے ادراک سے اور وہم قیاس گمان اس کے حقیقی عرفان سے عاجز و درماندہ ہیں۔

؂١ الحدید : ٣

؂٢ رحمٰن : ٢٦

صفحہ ٣٥

وہ ”بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْم“ ہے۔ اس کے علم کی نہ ابتداء ہے نہ انتہا۔ عالم الغیب والشہادہ صرف اور صرف اسی کی ذات ہے۔ اس کی صفت علم ازلی۔ ابدی۔ دائمی۔ ذاتی اور سرمدی ہے۔ حسن و جمال فضل و کمال۔ قدرت و اختیار غرضیکہ ہر شے اور ہر چیز کا وہی تنہا حقیقی مالک و مختار ہے۔ مخلوقات میں جس کسی کو جو بھی فضل و کمال اور قدرت و تصرف حاصل ہے، وہ اس کی عطا ہی سے ہے۔ اس کی مشیت کے خلاف بڑی سے بڑی شخصیت بھی ایک تنکا ادھر سے ادھر نہیں کرسکتی۔

ماسہ گھٹے نہ تل بڑھے بن سائیں کے چاہ
لَاتَتَحَرَّکُ ذَرَّة اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ

تمام عظمتیں اور تعریفیں اسی کو سزاوار ہیں۔ یہ جہاں اسی کی جلوہ گاہ ہے۔ تصویر کی تعریف مصور کی تعریف ہے، عالم امکان کی کسی بھی چیز کی تعریف کیجئے، تعریف تو خالق دو جہاں ہی کی قرار پائے گی۔ مگر اس خصوص میں بھی ہمارے رسول محترم نبی مکرم آسمان نبوت کے نیر اعظم ذات و صفات خداوندی کے مظہر اتم۔ محبوب ربِّ دو جہاں۔ قاسم علم و عرفان۔ ماحی ظلم و طغیاں راحت قلوب عاشقاں۔ سرور کشور رسالت۔ رونق منبر نبوت۔ چشمہ علم و حکمت۔ نازش مسند امامت غنچۂ راز وحدت۔ جوہر فرد عزت۔ شمع بزم ہدایت۔ مخزن اسرار ربانی۔ مرکز انوار رحمانی۔ مصور فیوض یزدانی اسم برکات صمدانی۔ سید المرسلین۔ خاتم النبیین۔ رحمۃ للعالمین شفیع المذنبین۔ سید عالم۔ نور مجسم۔ ہادی سُبُل ختم الرسل محمد مصطفیٰ۔ احمد مجتبیٰ علیہ التحیۃ والثناء کی عظمت و شان کی کیفیت یہ ہے کہ:

جس کے ہاتھوں کے بنائے ہوئے ہیں حسن و جمال
اے حسین تیری ادا اس کو پسند آئی ہے

سیّد المحدّثین حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ العزیز ”مدارج النبوۃ“ کے دیباچہ میں لکھتے ہیں کہ سورہ حدید کی آیت حمد الٰہی بھی ہے اور نعت نبی بھی۔ جن صفات خداوندی کا اس آیت میں ذکر ہے حضور سرور کائنات ﷺ اس کے مظہر ہیں۔ یعنی بقول علامہ اقبالؒ۔

نگاہِ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر
وہی قرآں، وہی فرقاں، وہی یٰس، وہی طٰہٰ
صفحہ ٣٦

پاک کو پیدا فرمایا۔ حضور فرماتے ہیں: "أَوَّلُ مَا خَلَقَ اللَّهُ نُوْرِى أَنَا مِنْ نُّوْرِ اللَّهِ تمام مخلوقات سے پہلے اللہ تعالیٰ نے میرے وَالْخَلْقُ كُلُّهُمْ مِنْ نُوْرِی." ١ نور کو پیدا فرمایا۔ میں اللہ کے نور سے ہوں اور ساری مخلوق میرے نور سے ہے۔

کائنات کا افتتاح حضور ہی کے نور پاک سے ہوا۔ یہ نور نہ ہوتا تو چمن دہر میں مہر و انجم کی ضیاء ہوتی نہ بہاروں کی شمیم جانفزا۔ نہ کلیوں کا تبسم ہوتا نہ غنچوں کی چٹک نہ پھولوں کی مہک نہ ہواؤں کی دل افروزی نہ بلبل کا ترنم نہ گل خنداں کی بہارِ دلکشا..... مختصر یہ کہ اگر حضور نہ ہوتے تو نہ ہم ہوتے نہ آپ اور نہ یہ خطہ پاک ۔

نہ شمع جلتی نہ پھول کھلتے نہ دن نکلتا نہ رات ہوتی
جو یہ نہ ہوتے تو کچھ نہ ہوتا وجود کون و مکاں نہ ہوتا

حضور ہی کی ذات اقدس نور الٰہی، نورِ اوّل، نور الانوار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والے طیب و طاہر، روشن و منور نور ہیں۔ "قَدْ جَاءَ كُمْ مِنَ اللَّهِ نُوْرٌ. ٢ بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور آیا۔ ٣

اللہ تعالیٰ نے اعلان فرمایا کہ کفار نورِ محمدی کو بجھانے کی کوشش کریں گے لیکن اللہ تعالیٰ اس نور کی روشنی کو بجھنے سے محفوظ رکھے گا۔ اس نور کی روشنی بڑھتی ہی رہے گی ظلمتیں بڑھ بڑھ کر پھونکیں مارتی رہیں گی لیکن چراغ محمدی ﷺ میں ذرا بھی تھرتھراہٹ پیدا نہ کر سکیں گی۔

"يريدون ليطفئوا نور الله بافواههم ط وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کا نور اپنے مونہوں سے والله متم نوره ولو كره الكفرون."٤ بجھا دیں اور اللہ اپنے نور کو پورا کرنے والا ہے خواہ کافر برا ہی مانیں۔ (پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا۔)

١ مدارج النبوۃ ٢ المائدہ: ١٥ ٣ مفسرین کرام نے نور سے حضور کی ذات کو مراد لیا ہے۔ دیکھیے تفسیر کبیر ج ٣ ص ٣٩٥، خازن ج ١ ص ٤٧١، مدارک ج ١ ص ٤٧٠، روح المعانی ج ٦ ص ٨٧، روح البیان ج ١ ص ٥٤٨۔ معالم التنزیل ج ٢ ص ٢٣، در منثور ج ٣ ص ٢٣١۔ مدارج النبوۃ، مواہب لدنیہ، زرقانی، شفا ج ١ ص ١٠، تفسیر جلالین، تفسیر ابن جریر، امداد السلوک ص ١٨٥ از مولانا رشید احمد گنگوہی، نشر الطیب ص ٧ مصنفہ مولانا اشرف علی تھانویؒ۔ ٤ سورۃ الصف: ٨

صفحہ ٣٧

اللہ تعالیٰ نے جہاں کا افتتاح اور بشریت کی ابتداء اور سلسلۂ نبوت و رسالت کا آغاز صبح ازل کے نورِ یقین۔ اور شامِ ابد کے ماہِ مبین خاتم الانبیاء علیہ التحیۃ والثناء ہی کی ذاتِ ستودہ صفات سے فرمایا:

یہ عالم ہست و بود ہوتا نہ زندگی کا وجود ہوتا
جہاں کی تخلیق ہی نہ ہوتی جو حاصل دو جہاں نہ ہوتا

عظمت وجود سید سرور کی معراج یہ ہے کہ آپ کو پیدا فرمانا مقصود نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ اپنا رب ہونا بھی ظاہر نہ فرماتا۔ چنانچہ حضرت مجدد الف ثانی قیوم ربانی شیخ سرہندی قدس سرہ الربانی نے مکتوبات میں حدیث قدسی درج کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب رسول سے فرمایا: "لولاك لما أظهرتُ الرّبُوبية." ١؎ کہ اگر تمہیں پیدا فرمانا منظور نہ ہوتا تو ہم اپنا رب ہونا بھی ظاہر نہ فرماتے۔

یعنی ۔

تیرے سر کے سوا سجتا بھی کہاں لولاک لما کا تاج بھلا
اے صلِ علیٰ یہ شان تیری اے صاحب تخت و تاج نبی

رسولِ اوّل و آخر ہونا حضور سرورِ عالم ﷺ کے اعظم خصائص سے ہے۔ اور آپؐ کے ان دونوں مناصب پر ایمان لانا ضروری ہے۔ دنیا میں جس قدر انبیاء و مرسلین از آدمؑ تا عیسیٰ علیہ السلام آئے وہ نبی و رسول ہی ہیں۔ مگر کسی نے اوّل النبیین اور آخر النبیین ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ انبیاء سابقین پر اجمالی طور پر ایمان لانے کا مفہوم یہ ہی تھا کہ وہ اللہ کے رسول ہیں لیکن حضور ﷺ پر ایمان لانے کے لئے آپ کو صرف رسول ماننا ہی کافی نہیں ہے بلکہ آپ کی رسالت و نبوت پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ آپ کے اس وصفِ خاص پر ایمان لانا بھی ضروری ہے کہ آپ رسولِ اول بھی ہیں اور رسولِ آخر بھی۔ چنانچہ حدیث قدسی میں ارشاد ہے:

"قَالَ تَبَارَكَ تعالیٰ جَعَلْتُكَ اَوَّلَ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے محمد ﷺ پیدائش کے النَّبِيّيْن خَلْقًا وَّ اٰخِرَ هُمْ بَعْثًا وَّ جَعَلْتُكَ لحاظ سے تم کو سب نبیوں سے پہلے اور بلحاظ فَاتِحًا وَّ خَاتِمًا" ٢؎ بعثت سب سے آخر بھیجا۔ نبوت کی ابتداء کرنے والا اور ختم کرنے والا تم ہی کو بنایا۔

١؎ مکتوبات‘ ج ٢ ص ٢٣٢ ٢؎ بروایت ابو نعیم‘ خصائصِ کبریٰ ج ٢ ص ٤٩٧

صفحہ ٣٨

آیۂ مبارکہ: ”واذ اخذنا من النبیین میثاقہم ومنک ومن نوح“ (سورہ احزاب:٧) کی تفسیر میں حضور علیہ السلام نے فرمایا:

”کنت اول النبیین فی الخلق و آخر ہم میں پیدائش کے اعتبار سے سب سے پہلے فی البعث۔ ١ اور باعتبار بعثت سب سے آخری نبی ہوں۔

”کنت اول الناس فی الخلق و آخر ہم میں سب انسانوں میں بلحاظ پیدائش پہلا ہوں فی البعث“ ٢ اور سب انبیاء میں باعتبار بعثت آخری ہوں۔

پس اولاً بالذات سب سے پہلے نبی حضور ہی ہیں مگر چونکہ اس عالم کے لحاظ سے آپؐ کا ظہور آخر میں ہوا‘ اس لئے آپ آخر الانبیاء بھی قرار پائے۔ مگر اس معنیٰ سے نہیں کہ آپؐ کو نبوت سب سے آخر میں ملی بلکہ اس معنیٰ سے آپؐ کا ظہور سب سے آخر میں ہوا ...... ورنہ منصب نبوت کے لحاظ سے آپؐ کی ولادت سے قبل اور ولادت کے بعد چالیس سال کی عمر مبارک سے پہلے اور اس کے بعد کے زمانہ میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اور آپؐ ہر دور اور ہر حال میں نبوت و رسالت سے متصف رہے ہیں اور ہیں۔ چنانچہ شب معراج معنیٰ اول و آخر کا ظہور ہوا حضور امام ہوئے اور تمام انبیاء کرام از آدم تا عیسیٰ علیہم السلام مقتدی۔

نماز اقصیٰ میں تھا یہ ہی سر عیاں میں ہوں معنی اول و آخر
کہ دست بستہ ہیں پیچھے حاضر جو سلطنت پہلے کر گئے تھے

الغرض سب سے پہلے خلعت وجود سے مشرف ہونے والے اور سب سے پہلے وصف نبوت سے متصف ہونے والے یوم میثاق سب سے پہلے بلیٰ کہنے والے‘ قبر مبارک سے سب سے پہلے اٹھنے والے جنت میں سب سے پہلے جانے والے سب سے پہلے جنت کا دروازہ کھلوانے والے۔ عرصات محشر میں بحضور رب سب سے پہلے سجدہ فرمانے والے اور امت کی سب سے پہلے شفاعت فرمانے والے بھی حضور ہی ہیں غرضیکہ ہر موقع پر اول ہونے کا سہرا بھی حضور سرور عالم ﷺ ہی کے سر پر ہے۔ علامہ اقبال عرض کرتے ہیں:

خیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہے
نبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے

اگرچہ وجود عنصری کے لحاظ سے بظاہر سب سے پہلے ہونے والے رسول حضرت آدم

١۔ ابونعیم و ابن جریر۔ کنز العمال‘ ج ٦‘ ص ١١٣ ٢۔ کنز العمال‘ ج ٦ ص ١٠٦

صفحہ ٣٩

علیہ السلام کی ذاتِ اقدس ہے لیکن اولاً بالذات باعتبار خلق و اتصاف نبوت اولیت کا سہرا ہمارے ہی طیب و طاہر مقدس رسول ﷺ کو حاصل ہے جس میں آپ کا کوئی سہیم و شریک نہیں ہے۔ حتیٰ کہ آپ کو اس وقت وصفِ نبوت سے متصف کر دیا گیا تھا جب کہ حضرت آدم علیہ السلام میں نفخ روح بھی نہ ہوا تھا۔ صحیح ترمذی میں فرمایا:

"کنت نبیا و ادم بین الروح والجسد" ١ مجھے اس وقت نبوت مل گئی تھی جبکہ آدم روح وجسم کے درمیان تھے۔

"کنت نبیا و ادم بین الماء والطین" ٢۔

میں اس وقت نبوت سے سرفراز ہو گیا تھا جب کہ آدم پانی اور مٹی کے درمیان تھے۔

حدیث بالا کا یہ مطلب لینا درست نہیں ہے کہ حضور علیہ السلام علم الٰہی میں نبی تھے۔ کیونکہ نبوت ایک وصف ہے اور اس کے لئے ذات کا ہونا ضروری ہے۔ اب اگر ذاتِ نبوت کا ظہور ہی نہیں ہوا تھا تو وصفِ نبوت سے کیسے سرفراز کیا گیا؟

تخصیص؟

کے حقیقی معنی ترک کرنے کے لئے نہ کوئی قرینہ ہے اور نہ ہی کوئی مانع۔

سب انسانوں میں بلحاظ پیدائش اول ہوں اس لئے حدیث بالا کا حقیقی معنی ہی لیا جانا اور ماننا ضروری ہے لہٰذا حدیث بالا کا مفہوم صحیح یہ ہی ہے کہ حضور سرور کائنات ﷺ اس وقت نبوت سے نواز دیئے گئے تھے جبکہ آدمؑ میں نفخ روح بھی نہ ہوا تھا۔ یعنی خلعتِ نبوت حضور کو اس وقت پہنایا جا چکا تھا جبکہ ابو البشر آدم علیہ السلام نے ابھی خلعت وجود بھی نہیں پہنا تھا۔ چنانچہ علامہ حافظ خفاجی علیہ الرحمۃ شرح شفا میں فرماتے ہیں: حدیث "کنت نبیا و ادم بین الماء والطین" سے واضح ہوا کہ نبی علیہ السلام کو پیدائشِ آدمؑ سے پہلے ہی نبوت و رسالت سے حقیقتاً سرفراز فرما دیا گیا تھا اور جیسے صفت وجود میں آپ سب سے مقدم ہیں ایسے ہی صفت نبوت میں

١ جامع ترمذی ٢ ابو نعیم حلیۃ الاولیاء

صفحہ ٤٠

بھی آپ سب سے مقدم و اولیٰ ہیں۔

آپؐ کی ذات اقدس پر دین کی تکمیل ہوئی۔ آپؐ کا دینِ اسلام بھی آخری دین ہے اور آپؐ پر نازل شدہ وحی (قرآن) بھی آخری ضابطہ حیات ہے۔ قیامت تک آپؐ کے ہی دین کو بقاء ہے۔

”اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ۔“ ١؎ آج ہم نے تمہارا دین مکمل کر دیا اور وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْناً ١؎ تمہارے لئے اسلام کو بطور دین پسند کیا۔

اب نہ کسی اور دین کی ضرورت ہے اور نہ شریعت کی حضور علیہ السلام نے فرمایا مجھے اس کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر آج جناب موسیٰ علیہ السلام بھی دنیا میں ہوتے تو میری پیروی کے سوا ان کو گنجائش نہ ہوتی۔ (مَا وَسِعَہُ اِلَّا اَنْ یَّتْبَعَنِیْ)۔

شبِ معراج جب حریمِ حق میں آپ کی رسائی ہوئی اور مقام ..... ”قاب قوسین او ادنیٰ“ میں آپ کی باریابی ہوئی تو اللہ عزوجل نے بکمال لطف و کرم فرمایا:

”حَبِیْبِیْ یَا مُحَمَّدُ قُلْتُ لَبَّیْکَ یَا رَبِّ اے میرے حبیب! میں نے عرض کی حاضر قَالَ ہَلْ غَمَّکَ اِنْ جَعَلْتُکَ اٰخِرَ ہوں اے میرے رب۔ ارشاد ہوا اگر ہم النَّبِیِّیْنَ قُلْتُ لَا یَارَبِّ قَالَ حَبِیْبِیْ ہَلْ غَمَّ تمہیں آخری نبی بنا دیں تو تم ناخوش تو نہ ہو اُمَّتَکَ اِنْ جَعَلْتُہُمْ اٰخِراً لَّا ہُمْ قُلْتُ گے۔ میں نے عرض کی اے میرے رب لَایَارَبِّ قَالَ اَبْلِغْ عَنِّی السَّلَامَ وَاَخْبِرْ ہُمْ نہیں۔ فرمایا اگر تمہاری امت کو آخری امت اِنِّی جَعَلْتُہُمْ اٰخِرَ الْاُمَمِ“ ٢؎ بنا دیں تو وہ ناخوش تو نہ ہو گی۔ میں نے عرض کیا نہیں اے پروردگار فرمایا کہ اچھا تم اپنی امت کو میرا سلام کہنا۔ اور انہیں بتا دینا کہ میں نے انہیں آخری امت بنا دیا ہے۔

پیچھے آنا ہے تیرا ختمِ نبوت کی دلیل
اور سایہ کا نہ ہونا تری یکتائی ہے

سورۂ احزاب میں فرمایا:

١؎ المائدہ: ٣ ٢؎ کنزل العمال ج ٦ ص ١١٢

صفحہ ٤١

"وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ" ؎١ محمد ﷺ اللہ کے رسول اور تمام نبیوں کے خاتم ہیں۔

خاتم کے معنی آخری رسول کے ہیں۔ حضور نے فرمایا "میں عاقب ہوں۔"

"اَلَّذِیْ لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِیٌّ اَنَا خَاتِمُ النَّبِيّٖنَ لَا جس کے بعد کوئی نبی نہیں میں انبیاء کا خاتم نَبِیَّ بَعْدِیْ" ؎٢ ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

حضرت جابر ابن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ:

"بَيْنَ كَتِفَیْ آدَمَ مَكْتُوْبٌ مُّحَمَّدٌ رَّسُوْلُ حضرت آدم علیہ السلام کے دونوں شانوں اللّٰهِ خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ" ؎٣ کے درمیان لکھا تھا محمد رسول اللہ خاتم النبیین

"ذَهَبَتِ النُّبُوَّةُ وَ بَقِيَتِ الْمُبَشِّرَاتُ اِنَّ نبوت تو ختم ہوئی البتہ مبشرات باقی ہیں۔ الرِّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدْ اِنْقَطَعَتْ فَلَا نَبِیَّ وَلَا رسالت اور نبوت دونوں ختم ہو گئیں۔ اب رَسُوْلَ بَعْدِیْ" ؎٤ میرے بعد نہ کوئی نبی ہو گا نہ رسول۔

حدیث مسلم میں حضور کا ارشاد ہے میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد آخری مسجد ہے

مطلب حدیث یہ ہے کہ جیسے حضور آخری رسول ہیں، حضور کے بعد کوئی رسول نہیں۔ ایسے ہی انبیاء کرام کی تعمیر کردہ مساجد میں مسجد نبوی آخری مسجد ہے۔ چنانچہ دیلمی و بزار کی حدیث سے اس امر کی تائید ہوتی ہے۔ نبی علیہ السلام فرماتے ہیں:

"اَنَا خَاتِمُ الْاَنْبِيَاءِ وَ مَسْجِدِیْ خَاتِمُ میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد انبیاء کی الْمَسَاجِدِ" (بزار) ؎٥ بنائی ہوئی مسجدوں میں آخری مسجد ہے۔

عبادت کے لئے انبیاء کرام کی بنائی ہوئی مسجدوں میں مسجد نبوت خاتم المساجد ہے۔ اگر علم ازلی میں کچھ اور افراد کے لئے نبوت مقرر ہوتی تو حضورؐ کی تشریف آوری کا زمانہ اور مؤخر ہو جاتا۔ لیکن چونکہ آپؐ سلسلۂ انبیاء میں آخری رسول ہیں، اس لئے آپؐ کی آمد ہی اس وقت ہوئی جب کہ جس قدر انبیاء کا آنا مقدر تھا اس کا ایک ایک فرد آچکا۔ اب اگر آپ کے بعد بھی کسی کے لئے نبوت سے سرفرازی مان لی جائے تو پھر آپؐ کو آخری کہنا ایسا ہی ہو گا جیسے درمیانی اولاد کو آخری اولاد کہنا۔ اس لئے حضور خاتم النبیین علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کے ظہور کے بعد کسی کو نبی تسلیم کرنا آیت خاتم النبیین کا انکار اور کفر جلی ہے۔...... کتاب وسنت سے یہ امر بھی

؎١ سورۂ احزاب: ٤٠ ؎٢ خصائص کبریٰ ج ٢ ص ١٩٣ ؎٣ خصائص کبریٰ ج ١ ص ٧ ؎٤ ابو یعلیٰ ۔ ابن خزیمہ

صفحہ ٤٢

واضح ہے کہ انبیاء سابقین علیہم الصلوٰۃ والتسلیم میں سے کسی نے بھی خاتم النبیین ہونے کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ ہی اللہ تعالیٰ نے ان انبیاء پر نازل شدہ کتاب اور صحیفوں میں ان انبیاء کو آخری رسول یا آخری نبی قرار دیا بلکہ انبیاء سابقین کی سنت تو یہ رہی کہ وہ اپنے بعد دیگر انبیاء کرام خصوصاً حضور سرور عالم ﷺ کی تشریف آوری کا مژدہ سناتے رہے اور آپ کے فضائل و مناقب اور خصائص اور آپ کے مرتبہ کی عظمت و رفعت کا ذکر کرتے رہے۔ چنانچہ شیخ انبیاء حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے حضور کی بعثت کی دعا فرمائی اور حضرت مسیح کلمۃ اللہ عیسیٰ علیہ السلام کے فرائض نبوت کا تو ایک فرض ہی یہ قرار پایا کہ وہ یہ اعلان کر دیں کہ میں رسول محترم ومکرم کی تشریف آوری کی بشارت دینے آیا ہوں۔ جن کا نام نامی اسم گرامی احمد ﷺ ہے۔

ہوئی پہلوئے آمنہ سے ہویدا
دعائے خلیل و نوید مسیحا

انبیاء سابقین کا اپنے بعد خصوصاً حضور سرور عالم ﷺ کی تشریف آوری کی بشارت دینا اس امر کی واضح دلیل ہے کہ انبیاء سابقین میں کوئی بھی حضور کے سوا خاتم النبیین نہ تھا۔ ان انبیاء میں اگر کوئی خاتم النبیین ہوتا تو شیخ انبیاء حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی بعثت کی دعا اور آخری مژدہ رساں حضرت مسیح کلمۃ اللہ اپنے بعد حضور کی آمد کی بشارت کبھی نہ دیتے۔ غرضیکہ حضور خاتم النبیین علیہ السلام کی تشریف آوری ہوئی ہے اس وقت جبکہ جس قدر انبیاء کرام مقدر تھے ان کا ایک ایک فرد آچکا۔ اللہ تعالیٰ نے حضور کو خاتم النبیین کے منصب پر فائز کر کے سلسلہ نبوت ہی ختم فرما دیا اور حضور ہی کی شریعت کو آخری شریعت قرار دے دیا لہٰذا اب قیامت تک فلاح وفوز کا ذریعہ اور وسیلہ صرف اور صرف ہمارے ہی مقدس رسول حضور خاتم النبیین علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذات ہے۔

کتاب و سنت کی ان تصریحات جلیلہ سے واضح ہوا کہ حضور قصر نبوت کی آخری کڑی ہیں۔ قصر نبوت اپنے جملہ محاسن اور خوبیوں کے ساتھ مکمل ہو گیا۔ اس لئے ضروری ہوا کہ عالم کی ابتداء میں انبیاء کرام کی بعثت کی جو اطلاع دی گئی تھی اس کی انتہا پر سلسلہ نبوت کے خاتمہ کا بھی اعلان کر دیا جائے۔ لہٰذا نعمتوں کا اتمام دین کا اکمال اور نبوت و رسالت کا اختتام ہوا اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کو ختم فرماتا ہے تو کامل ہی ختم کرتا ہے ناقص نہیں کرتا۔ نبوت اپنے کمال کو پہنچ گئی۔ اس لئے یہ منصب ہی ختم کر دیا گیا۔ اب نہ کوئی رسول پیدا ہو گا نہ نبی نہ

صفحہ ٤٣

تشریعی اور نہ غیر تشریعی اور ظلی و بروزی کی لایعنی اصطلاح کا تو دین میں تصور ہی نہیں ہے۔ غرضیکہ نبوت کا ختم ہونا خدائی نعمت ہے خدائی نعمت کا اتمام اور دین کا انتہائی عروج و ارتقاء ہے۔ جو بجائے خود اللہ تعالیٰ کی عظیم وجلیل نعمت ہے۔ سلسلۂ انبیاء میں حضور آخری نبی ہیں یعنی آپؐ کی آمد ہی اس وقت ہوئی جبکہ جس قدر انبیاء کا آنا مقدر تھا ان کا ایک ایک فرد آچکا۔ اب جبکہ نبوت ختم ہو گئی تو آپؐ اس کی دلیل بن کر آئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خاتم النبیین ہونے کے ساتھ ساتھ رحمۃ للعالمین بھی بنایا۔ جس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ رسول خاتم بذات خود تمام جہانوں کے لئے رحمت و برکت ہیں۔ اس لئے ختم نبوت سے رحمت الٰہی کا دروازہ بند نہیں ہوا بلکہ نبی رحمت کے ذریعہ نزول رحمت باری کو حیات سرمدی ملی ہے اب قیامت تک رحمت باری و انوار و برکات صمدی کا نزول ہوتا رہے گا توحید کی شمع جلتی رہے گی۔ ایمان کے پھول کھلتے رہیں گے انوار کی بارش ہوتی رہے گی۔ ایقان کا دریا بہتا رہے گا۔ حق و صداقت کے چراغ چمکتے رہیں گے۔ رشد و ہدایت کے تارے دمکتے رہیں گے۔ فکر کی تطہیر‘ دماغ کی تنویر‘ نفس کا تزکیہ اور روح کی آسودگی کے سامان مہیا ہوتے رہیں گے۔ خاتم النبیین و رحمۃ للعالمین کے صدقہ اور طفیل بنی نوع انسانیت قیامت تک فیوض و برکات الٰہیہ سے مستفید و مستنیر ہوتی رہے گی۔

الغرض ہمارے آقا و مولا آئے‘ نبیوں کے امام اور رسولوں کے خطیب آئے‘ وہ آئے جو ہدایت کی ایسی شمع ہیں جس میں دھواں نہیں۔ رسالت کا ایسا پھول ہیں جس میں خار نہیں‘ ان کی تابشِ خاک پا غازۂ روئے قدسیاں ہے‘ اور ان کی صورت حق نما آئینہ جمال کبریا ہے۔ وہ آئے اور تمام تر زیبائیوں اور رعنائیوں کے ساتھ آئے۔ نیابت بھی آپؐ پر ختم ہوئی اور نبوت بھی۔ معرفت بھی آپؐ پر ختم ہوئی اور حکمت بھی۔

حضور آئے تو مخلوق الٰہی کو حیات سرمدی ملی‘ قلب و نگاہ کی تطہیر ہوئی۔ عظمت انسانیت کی تکمیل اور سرزمین بے آئین میں حکومت الٰہیہ کی تشکیل ہوئی ۔

آئے جو یہاں حبیب رحمان پیچھے
یعنی شہ مرسلان ذیشاں پیچھے
کیا منکروں کو اس میں جائے حجت
فوج آگے رہا کرتی ہے سلطان پیچھے

فرمایا کہ قرآن نے کہا کہ حضور کی دنیا میں تشریف آوری سے قبل حضور کے وسیلہ سے فتح کی دعا

صفحہ ٤٤

کیا کرتے تھے اور کفار مکہ کی تو کیفیت یہ تھی:

"يَعْرِفُوْنَهُ كَمَا يَعْرِفُوْنَ اَبْنَاءَ هُمْ." ١ وہ پہچانتے ہیں نبی کریم کو جیسے پہچانتے ہیں اپنے بیٹوں کو۔

وجود محمدی ﷺ کے ظہور کا یہ عالم تھا کہ چاند اشارہ سے دو ٹکڑے ہوا، ڈوبا ہوا سورج پلٹ آیا۔ درختوں، جانوروں اور پتھروں نے آپ کو سجدہ کیا اور بزبانِ فصیح آپؐ کا کلمہ پڑھا۔

حضور فرماتے ہیں:

"إِنِّيْ لَاَعْرِفُ حَجَراً بِمَكَّةَ كَانَ يُسَلِّمُ میں مکہ کے اس پتھر کو آج بھی پہچانتا ہوں جو عَلَىَّ قَبْلَ اَنْ اُبْعَثَ اِنِّىْ لَاَعْرِفُهُ الْآنَ." بعثت سے قبل بھی مجھے سلام کہتا تھا۔

علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ نے مسلم خصائصِ کبریٰ میں اس مضمون کی حدیثیں ذکر کی ہیں۔ جنت کی ہر چیز پر حوروں کی پیشانیوں پر، جنت کے درختوں پر اور ان کے پتوں پر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے الفاظ مسطور ہیں۔ جناب آدم علیہ السلام آنکھ کھولتے ہیں تو عرشِ اعظم پر اللہ کے نام کے ساتھ حضور کا نام لکھا ہوا پاتے ہیں۔ غرضیکہ خطبات میں، کلمہ میں، اذان و اقامت میں، عبادات میں، تمام اعمالِ خیر میں اور قلبِ مسلم میں آپ کا ہی ظہور ہے علامہ اقبالؒ عرض کرتے ہیں:

در دلِ مسلم مقامِ مصطفیٰ آبروئے ما ز نامِ مصطفیٰ

کے فضل و کمال کے اظہار و بیان سے عاجز ہے۔ قرآن نے جہان کی نعمتوں اور اس کے ساز و سامان کو قلیل قرار دیا ہے۔ لیکن حضور کے خلقِ جمیل کو اور آپ کی ذات پر اللہ کے فضل و کرم کو عظیم بتایا ہے۔

"اِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيْم" ٢ بے شک آپ خلقِ عظیم سے برتری والے ہیں۔

"وَكَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكَ عَظِيْما" ٣ اور اللہ کا آپ پر بڑا فضل ہے۔

جس سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ پیشگاہِ الٰہی سے حضور کو وہ فضل و کمال اور مرتبہ و مقام عطا ہوا ہے جو انسانی سرحدِ عقل سے ماورائی ہے خود ان کا رب کریم انہیں مخاطب بنا کر فرماتا ہے کہ میں نے آدم کو صفی کے مرتبہ پر فائز فرمایا تو آپ کو خاتم النبیین کا اعزاز بخشا۔

١ البقره : ١٤٦ ٢ القلم : ٤ ٣ النساء : ١١٣

صفحہ ٤٥

لی تو کیفیت یہ تھی:

بْنَاءَ هُمْ“ ١؎ وہ پہچانتے ہیں نبی کریم کو جیسے پہچانتے ہیں اپنے بیٹوں کو۔

کے ظہور کا یہ عالم تھا کہ چاند اشارہ سے دو ٹکڑے ہوا‘ ڈوبا ہوا سورج ا اور پتھروں نے آپ کو سجدہ کیا اور بزبانِ فصیح آپ کا کلمہ پڑھا۔

مَكَّةَ كَانَ يُسَلِّمُ میں مکہ کے اس پتھر کو آج بھی پہچانتا ہوں جو عْرِفُهُ الْآنَ.“ بعثت سے قبل بھی مجھے سلام کہتا تھا۔

ما سیوطی علیہ الرحمۃ نے مسلم خصائص کبریٰ میں اس مضمون کی حدیثیں پر حوروں کی پیشانیوں پر‘ جنت کے درختوں پر اور ان کے پتوں پر لا الفاظ مسطور ہیں۔ جناب آدم علیہ السلام آنکھ کھولتے ہیں تو عرش حضور کا نام لکھا ہوا پاتے ہیں۔ غرضیکہ خطبات‘ میں کلمہ میں‘ اذان و ام اعمالِ خیر میں اور قلبِ مسلم میں آپ کا ہی ظہور ہے علامہ اقبالؒ

قامِ مصطفیٰ آبروئے مازنامِ مصطفیٰ

تی ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ فکر انسانی حضور کے مرتبہ و مقام اور آپ ا سے عاجز ہے۔ قرآن نے جہان کی نعمتوں اور اس کے ساز و سامان کو خلقِ جمیل کو اور آپ کی ذات پر اللہ کے فضل و کرم کو عظیم بتایا ہے۔ ے بے شک آپ خلقِ عظیم سے برتری والے ہیں۔ عَظِيماً“ ٣؎ اور اللہ کا آپ پر بڑا فضل ہے۔

کی نشاندہی ہوتی ہے کہ پیشگاہِ الٰہی سے حضور کو وہ فضل و کمال جو انسانی سرحدِ عقل سے ماوریٰ ہے خود ان کا رب کریم انہیں نے آدم کو صفی کے مرتبہ پر فائز فرمایا تو آپ کو خاتم النبیین کا

٣؎ النساء : ٤

”مَا خَلَقْتُ خَلْقًا اَكْرَمَ مِنْكَ عَلَیَّ“ ١؎ اور میں نے کوئی مخلوق ایسی پیدا نہیں کی جو مجھے آپؐ سے زیادہ عزت و کرامت والی ہو۔

رسل ملائکہ کے سرخیل اور نوریوں کے شہنشاہ حضرت جبرائیل امین علیہ السلام بحضور نبویؐ عرض کرتے ہیں:

”قَلَّبْتُ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَمَغَارِبَهَا فَلَمْ میں نے زمین کے مشرقوں اور مغربوں کو اَجِدْ رَجُلًا اَفْضَلَ مِنْ محمدٍ صَلَّی اللهُ کھنگال ڈالا‘ مگر حضور ﷺ سے افضل کسی کو عَلَيْهِ وَسَلَّمَ“ نہ پایا۔

اس لئے غالبؔ کو عرض کرنا پڑا کہ:

غالب ثنائے خواجہ بہ یزداں گزاشتیم
کاں ذاتِ پاک مرتبہ دانِ محمد است (ﷺ)

اور حکیم الامت علامہ اقبالؒ عرض کرتے ہیں:

کس ز سِرّ عبده آگاه نیست عبده جز سِرّ اِلَّا الله نیست
عبده از فہم تو بالا تر است زانکہ اوہم آدم وہم جوہر است

یہ امر قابل ذکر ہے کہ علامہ اقبالؒ کے یہ اشعار محض شاعرانہ تخیل پر مبنی نہیں ہیں بلکہ ایک حقیقتِ ثابتہ ہیں جیسے خاتم النبیین ہونا حضور کا ایک خصوصی وصف ہے ایسے ہی صفتِ انبیاء میں آپ کا عبداللہ ہونا بھی ایک مقام ہے۔ یعنی آپؐ صرف معنیٰ ترکیبی کے لحاظ سے عبداللہ نہیں ہیں۔ بلکہ انبیاء میں آپؐ کا عبداللہ ہونا بھی خاتم النبیین ہونے کی طرح ہے۔ بموجب حدیث مشکوٰۃ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی ہدایت کے لئے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر مبعوث فرمائے ہیں۔ جو اگرچہ سب کے سب عبد الٰہی ہیں مگر قرآن مجید میں بطور لقب صرف حضور ہی کی ذات اقدس پر لفظ ”عبداللہ“ کا اطلاق ہوا ہے۔ ارشادِ باری ہے:۔

”فَلَمَّا قَامَ عَبْدُاللّٰهِ“۔ اور حضور کا ارشاد ہے: اِنّی عبداللہ و خاتم النبیین ۔“ (میں عبداللہ ہوں اور خاتم النبیین) اس لئے آپؐ کے عبداللہ ہونے کی عظمت کا ادراک بھی فکرِ انسانی سے بالاتر ہے۔ اور لفظ عبداللہ کی عظمت و رفعت کا اندازہ شیخ اکبر محی الدین ابن عربی قدس سرہ العزیز کے اس مکاشفہ سے لگایا جا سکتا ہے جس میں آپ فرماتے ہیں...... ایک مرتبہ مجھ پر مقامِ

١؎ خصائصِ کبریٰ‘ ج ٢‘ ص ١٩٣

صفحہ ٤٦

عبدیت سوئی کے ناکے کے برابر منکشف ہوا تو اس کی تاب نہ لا سکا۔ قریب تھا کہ جل جاتا۔

٥۔ بارگاہِ الٰہی سے حضور سرورِ کائنات ﷺ کو علم و معرفت کی دولت بھی عطا ہوئی ہے۔ اس لئے آپ علیم بھی ہیں۔ علوم اولین و آخرین سے آگاہ اور ذات وصفات الٰہی کے سب سے زیادہ عارف۔ سورۂ نساء میں حضور کو مخاطب بنا کر فرمایا گیا۔

وَعَلَّمَکَ مَا لَمْ تَکُنْ تَعْلَمُ ١؂ اور سکھا دیا آپ کو جو کچھ آپ نہ جانتے تھے۔ تو حضور تلمیذ رب العالمین ہیں۔ شاگرد استاد کی قابلیت کا نمونہ ہوتا ہے استاد کامل ہو تو شاگرد میں استاد کے علم وفضل کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ حضور فرماتے ہیں:

”عَلَّمَنِیْ رَبِّیْ فَاَحْسَنَ تَعْلِيْمِیْ وَ اَدَّبَنِیْ مجھے میرے رب نے پڑھایا اور بہترین تعلیم رَبِّیْ فَاَحْسَنَ تَأْدِيْبِیْ۔“ دی مجھے میرے رب نے ادب سکھایا اور بہترین ادب سکھایا۔

حضور سرورِ عالم ﷺ کے اعزاز علمی کی کیفیت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ”الم نشرح لک صدرک“ فرما کر آپ کو بے مانگے شرح صدر کی دولت عطا فرمائی۔ اور ”انزل اللہ عَلَیْکَ الکتب والحکمة“ فرما کر کتاب وحکمت سے آپ کے سینہ اقدس کو ممتاز و مشرف فرمایا۔ آپ کے سینہ مبارک کو چاک کیا گیا اور قلب مبارک کو سنہری طشت میں غسل دے کر ایمان وحکمت سے بھر کر سینہ اقدس میں رکھ دیا گیا۔

”ثُمَّ مُلِیَٔ اِیْمَاناً وَحِكْمَةً ثُمَّ اُعِيْدُ مَكَانَهُ “ ٢؂ یہ شق صدر بھی عجیب دلنواز انداز سے ہوا نہ کوئی نشتر استعمال ہوا اور نہ کوئی تکلیف ہوئی اور نہ خون نکلا حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ میں نے آپ کے سینہ مبارک میں شگاف کے سیئے ہوئے نشان دیکھے۔ ”كُنْتُ اَرٰی اَثَرَ الْمِخْيَطِ فِیْ صَدْرِهِ“ ٣؂ شرح صدر کی اسی کیفیت کو حضور سرورِ عالم نور مجسم ﷺ نے یوں بیان فرمایا کہ میں نے اپنے رب کریم کو بہترین صورت (تجلی) میں دیکھا پھر اللہ نے اپنا ہاتھ (ید قدرت) میرے سینے کے درمیان رکھا اور اس کی انگلیوں کی ٹھنڈک میرے قلب نے محسوس کی۔

١؂ النساء : ١١٣ ٢؂ خصائص کبریٰ ج ٢ ص ٦٣ ٣؂ خصائص کبریٰ ج ٢ ص ٦٤

صفحہ ٤٧

’فَعَلِمْتُ مَا فِی السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ‘ ١؎ (تو میں نے اشیاء زمین و آسمان کو جان لیا)۔ الغرض یہ شان و عظمت ہے ہمارے طیب و طاہر سید و رہبر رسول کی ، کہ آپ رسول اول بھی ہیں اور سول آخر بھی۔ آپ کی رسالت عالمگیر اور آپ کی نبوت جہانگیر ہے اور اب آپ کی اطاعت و اتباع کے بغیر نجات ناممکن ہے۔ اور پاکستان کی حفظ و بقاء اور استحکام حضور ہی کے لائے ہوئے ضابطہ حیات دینِ اسلام کو دل و جان سے قبول کرنے اور عملی طور پر اسے نافذ و جاری کرنے میں ہے۔

اگر فیصلہ خلاف ہوا تو.....! جس خوش قسمت انسان نے ١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت کا آغاز کیا وہ مولانا تاج محمودؒ تھے۔ قادیانی غنڈوں کے ہاتھوں زخموں سے چور طلبہ کی گاڑی جب ربوہ سے فیصل آباد ریلوے اسٹیشن پر پہنچی تو مولانا تاج محمودؒ اسلام کے ان فرزندوں کے لئے چشم براہ تھے ہزاروں کا مجمع تھا۔ پورا شہر امڈ آیا تھا۔ پلیٹ فارم کی دیوار پر چڑھ کر مولانا نے خون میں نہائے ہوئے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے پرجوش انداز میں کہا ”میرے بچو! جب تک تمہارے جسم میں سے بہے ہوئے خون کے ایک ایک قطرہ کا حساب نہیں لیں گے اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے“۔ تحریک طوفان کی صورت پورے ملک میں پھیل گئی ، مولانا نے تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کیلئے رات دن ایک کر دیا۔ آخر ٧؍ستمبر (فیصلے کا دن) آگیا مولانا اکابرین کے ساتھ راولپنڈی میں موجود تھے اور ماہی بے آب کی طرح تڑپ رہے تھے۔ مولانا محمد رمضان علوی راولپنڈی بیان کرتے ہیں کہ اسی دن مولانا میرے مکان پر تشریف لائے بڑے مضطرب تھے کہنے لگے مجھے ایک وصیت کرنے آیا ہوں میری وصیت سن لو آج اگر فیصلہ ہمارے خلاف ہوا تو میری روح قفس عنصری سے یقیناً پرواز کر جائے گی۔ اکابرین راولپنڈی میں جمع ہیں انہیں اطلاع نہ ہونے دینا۔ میرا جنازہ راتوں رات فیصل آباد پہنچانے کی کوشش کرنا میرے اکلوتے بیٹے طارق محمود کو پہلے فون کر دینا کہ تمہارے باپ کو لا رہے ہیں میرے لخت جگر کو ہر طرح سے تسلی دینا اور میری بچیوں کو تلقین کرنا۔ متواتر بولے جا رہے تھے میں نے بمشکل چپ کرایا۔ حوصلہ دیا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ ضرور مدد فرمائیں گے۔ ابھی آپ کی بہت ضرورت ہے پھر فرمایا ”جہاں میرے آقا کی ناموس کا تحفظ نہ ہو وہاں زندہ رہ کر کیا کرنا؟.....“ نماز مغرب بمشکل نیچے اتر کر مرحوم نے ادا کی۔ میں نے فکر کی وجہ سے کچھ مقوی اشیاء منگوا لیں نماز کے بعد پیش خدمت کیں لیکن کچھ نہ کھایا۔ پھر فرمایا ریڈیو اوپر منگواؤ۔ خبروں کا وقت قریب ہے۔ سوئچ آن کیا سکوت طاری تھا جیسے ہی مرزائیوں مرتدوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے الفاظ کان میں پڑے شیر کی طرح اٹھ کر بیٹھ گئے اور رات کو مرکزی جلسہ سے پرجوش خطاب فرمایا۔

١؎ مشکوٰۃ المصابیح، باب المساجد۔

صفحہ ٤٨

انسانیت کو نئی نبوت کی ضرورت کیوں نہیں؟

مولانا علاؤ الدین ندوی

احمد مجتبیٰ، محمد مصطفےٰ، ختم الرسل، دانائے سبل، مولائے کل، سلسلۂ نبوت کی آخری کڑی اور مسک ختام ہیں۔ ختم نبوت کا عقیدہ ایسا متفق علیہ اور اساسی مسئلہ ہے جو کبھی بھی نزاعی اور مختلف فیہ نہیں رہا۔ اس کے بیّن و قطعی دلائل و شواہد قرآن کریم کی آیات، احادیث صحیحہ اور علمائے جمہور امت کے اقوال و ارشادات میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ ان میں کوئی غموض ہے نہ نزاع

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

"محمدؐ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔ لیکن اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے ختم پر ہیں۔

(الاحزاب ۔ ٤٠)

نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا

پا جاتے تھے تو اس کی جگہ دوسرے نبی آ جاتے تھے۔ مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ البتہ میرے خلفاء (ورثاء) ہوں گے۔

(بخاری)

میری اور مجھ سے قبل انبیاء کی مثال اُس شخص کی سی ہے جس نے ایک گھر بنایا اور خوب حسن و جمال سے اسے آراستہ کیا۔ سوائے ایک گوشہ میں، ایک اینٹ کی جگہ کے، پھر لوگ اس کا معائنہ کرنے لگے۔ اور اس پر فریفتہ ہونے لگے۔ اور کہنے لگے کیوں نا یہاں (بھی) اینٹ رکھ دی گئی۔ سو میں وہ اینٹ ہوں، اور میں خاتم النبیین ہوں۔

(بخاری)

مجھے (دوسرے) انبیاء پر چھ چیزوں سے فضیلت و برتری حاصل ہے۔ مجھے جامع (و مانع) کلام دیا گیا، میری مدد رعب و دبدبہ سے کی گئی۔ میرے لئے مال غنیمت حلال کیا گیا۔ میرے لئے زمین جائے نماز و پاکیزہ بنائی گئی۔ میں پوری نوع انسانی کے لئے رسول بنا کر بھیجا گیا۔ اور مجھ پر نبیوں کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے۔

(مسلم۔ ترمذی۔ ابن ماجہ)

صفحہ ٤٩

رسالت و نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے اب نہ میرے بعد کوئی رسول ہو گا نہ کوئی نبی۔ (ترمذی)

میرا نام محمدؐ ہے۔ میرا نام احمدؐ ہے۔ میں ماحی (مٹانے والا) ہوں۔ جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کفر کو مٹائے گا۔ میں وہ حاشر (اکٹھا کرنے والا) ہوں کہ میرے قدموں پر لوگوں کو اکٹھا کرے گا۔ میں وہ عاقب (بعد میں آنے والا) ہوں جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔

میری امت میں عنقریب تیس کذاب پیدا ہوں گے۔ ان میں ہر ایک یہ دعویٰ کریگا کہ میں نبی ہوں۔ جب کہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ (ترمذی ابوداؤد)

ان قطعی اور واضح دلائل و براہین کے بعد ہمیں کسی بھی دلیل و تشفی کی ضرورت نہیں۔

لیکن جب ہم مسئلہ مفروضہ پر (کہ نوع انسانیت کے لئے خاتم الانبیاء سید المرسلین جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نئی نبوت کی ضرورت کیوں نہیں؟‘‘) غائرانہ نگاہ ڈالتے ہیں اور خالص عقلی انداز اور فکری نہج پر جائزہ لیتے ہیں تو مندرجہ ذیل نتائج و اسباب ایسے سامنے آتے ہیں جو عقلیت پرست ذہنیتوں کو ’’عقیدہ ختم نبوت‘‘ کے سمجھنے میں اپیل کر سکتے ہیں۔ تفصیل کی بجائے اختصار و ایجاز کی صورت میں حاصل مطالعہ پیش خدمت ہے۔

اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے کامل و مکمل ہو گیا اب کمال کے نقطہ انتہاء تک پہنچ جانے کے بعد کسی اضافہ و زیادتی کی گنجائش نہیں رہ جاتی۔

چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:-

’’آج کے دن تمہارے لئے تمہارا دین میں نے کامل کر دیا۔ اور میں نے تم پر اپنا انعام تمام کر دیا۔ اور میں نے اسلام کو تمہارے لئے دین پسند کر لیا‘‘

(المائدہ۔٣)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب اس دنیا سے تشریف لے گئے تو اپنے پیچھے ایک ایسی صالح جماعت چھوڑ گئے جنہوں نے دین اسلام کی ذمہ داریوں کو سنبھال لیا۔ جنہوں نے

صفحہ ٥٠

کارہائے عظیم کو سہار لیا۔ جنہوں نے دعوت و تبلیغ کو اپنا مقصد زندگی بنا لیا۔ جنہوں نے عدالت و شہادت علی الناس کی خاطر اپنی متاع زندگی لٹا دی۔ جنہوں نے دنیا کی رہنمائی و خبر گیری کی جو انسانیت کے نقیب و نگران بن گئے۔ یہ کام وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی منہاج رسالت و نبوت کے آئینہ میں انجام دیتے رہے انہوں نے کبھی بھی اپنے ذہنوں میں نئی نبوت و نئی وحی و الہام کے تانے بانے نہیں بنے۔ وہ ٹھیک ٹھیک مومنین کاملین کی ایک برگزیدہ جماعت کی طرح بعثت ختم المرسلین کے عظیم مقصد کو دنیا کے گوشہ گوشہ میں پہنچا دینے میں جان سے لگ گئے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:- ”تم لوگ بہتر جماعت ہو امتوں میں جو لوگوں کے لئے ظاہر کی گئیں، تم لوگ نیک کاموں کا حکم دیتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہو، اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہو“

(آل عمران ١١٠)

نیز ارشاد فرمایا:- اور تم میں ایک ایسی جماعت ہونا ضروری ہے کہ خیر کی طرف بلایا کریں اور نیک کام کرنے کو کہا کریں اور برے کاموں سے روکا کریں۔ اور ایسے لوگ پورے کامیاب ہوں گے۔

(آل عمران ١٠٤)

نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ”کہ میری امت میں ہمیشہ ایک جماعت حق کا بول بالا کرتی رہے گی۔ ان کو ناکام و بے مراد بنانے والے ان کا کچھ بگاڑ نہ سکیں گے۔ تاآنکہ حکم الہی آ پہنچے گا۔ اور وہ اسی حال میں ہوں گے

(مسلم)

لئے بند کر دیا گیا اس لئے کہ آپ ہر دور کی نسلِ انسانی کے لئے رسول بن کر مبعوث ہوئے۔ آپ سارے جہاں والوں کے لئے رحمت و کرم کا پیغام لے کر آئے۔ اس صفتِ عمومیت میں کسی زمانے کی قید ہے نہ کسی علاقے کی۔ اس میں ملک و وطن کی تخصیص ہے۔ نہ جنس و قومیت کی۔ نتیجۃً آپؐ کی رسالت و دعوت کو دائمی طور پر قیامت تک کے لئے باقی رہنا ہے۔ آپ ﷺ کی سیرت و اسوۂ حسنہ کو ہر دور میں ہر نسل و طبقہ کے لئے قابل تقلید و اتباع بننا ہے آپؐ کے ذریعہ سے جو کتاب زندگی (قرآن کریم) انسان کو دی گئی۔ وہ ایک کھلی کتاب اور مشترکہ

صفحہ ٥١

خزانہ و ورثہ ہے۔ جس میں کسی قوم کی اجارہ داری نہیں۔ (جیسا کہ ہمیں یہودیت و مسیحیت میں نظر آتا ہے۔)

اسلام کا دروازہ ہر فرد و بشر کیلئے کھلا ہوا ہے اس میں کسی خاص نسل و خاندان، خاص جماعت و گروہ یا مخصوص وطن و قوم کا ٹھیکہ و قبضہ نہیں۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:-

اور ہم نے (ایسے مضامین نافعہ دے کر) آپ کو اور کسی کے واسطے نہیں بھیجا۔ مگر دنیا جہاں کے لوگوں (یعنی مکلفین) پر مہربانی کرنے کے لئے۔

(الانبیاء ١٠٧)

نیز ارشاد فرمایا:-

تم لوگوں کے لئے (یعنی ایسے شخص کے لئے جو اللہ سے اور روز آخرت سے ڈرتا ہو اور کثرت سے ذکر الٰہی کرتا ہو) رسول اللہ میں ایک عمدہ نمونہ موجود ہے“

(الاحزاب ٢١)

نیز فرمایا:-

اے لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور تم کو مختلف قومیں اور مختلف خاندان بنایا تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کر سکو۔ اللہ کے نزدیک تم سب میں بڑا شریف وہی ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو۔

(الحجرات ١٣)

اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ انسانیت کی ہدایت کا سرچشمہ قرار دیا گیا۔ اور اس میں اس کی سعادت و کرامت اور فلاح و کامرانی کا راز مضمر کیا گیا۔ (اللہ کا فرمان ہے بلاشبہ دین (حق اور مقبول) اللہ کے نزدیک صرف اسلام ہے)..........لہٰذا اس کا لازمی و منطقی تقاضا تھا کہ رہتی دنیا تک اس کی حفاظت و کفالت کی ضمانت دی جاتی۔ اور مذہب کی آڑ لے کر اس کے محفوظ و مضبوط آشیانے پر تیشہ زنی کرنے والوں، نئے نئے باطل عقائد کے چور دروازے نکالنے والوں کی بیخ کنی کی جاتی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس دین متین کی حفاظت و کفالت کی ضمانت دی۔ ارشاد فرمایا

”بے شک ہم نے اس قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ (و نگہبان) ہیں۔

(الحجر۔٩)

نیز ارشاد ہوا:-

”اور یہ (قرآن) بڑی باوقعت کتاب ہے جس میں غیر واقعی بات نہ اس کے آگے

صفحہ ٥٢

کی طرف سے آ سکتی ہے اور نہ اس کے پیچھے کی طرف سے۔ یہ خدائے حکیم حمید کی طرف سے نازل کیا گیا ہے

(حم السجدہ ٤١۔٤٢)

کر رہ گئے تھے۔ انہوں نے اپنی ذات کو دین و مذہب کا پابند بنانے کی بجائے خود مذہب کو خواہشات نفس کا غلام بنا رکھا تھا۔ پھر تحریف و تاویلات فاسدہ اور کمی و زیادتی کا دروازہ کھول کر خود ساختہ قوانین تک کو درآمد ہونے کا موقع دے جزو مذہب بنا لیا تھا۔ اس سے دین کی حقیقی روح و مزاج پامال ہو کر اپنی اثر آفرینی کھو بیٹھا تھا بلکہ وہ ایسا چیستان بن گیا تھا جس کے اسرار و رموز کی کلید صرف ”مذہب کے پروہتوں“ کے پاس تھی اللہ تعالیٰ نے ان کی روش کا اس انداز میں تذکرہ فرمایا ہے:-

” تو بڑی خرابی ان کی ہوگی جو لکھتے ہیں (بدل سدل کر) کتاب (توریت) کو اپنے ہاتھوں سے پھر کہہ دیتے ہیں کہ یہ حکم خدا کی طرف سے ہے۔ غرض (صرف) یہ ہوتی ہے کہ اس ذریعہ سے کچھ نقد قدرے وصول کر لیں“

(البقرہ ٧٩)

نیز ارشاد باری ہوا:-

”اور بے شک ان میں سے بعضے ایسے ہیں کہ کج کرتے ہیں اپنی زبانوں کو کتاب (پڑھنے) میں تاکہ تم لوگ اس (ملائی ہوئی چیز) کو (بھی) کتاب کا جزو سمجھو حالانکہ وہ کتاب کا جزو نہیں۔ اور کہتے ہیں کہ (یہ لفظ یا مطلب) خدا کے پاس سے ہے۔ حالانکہ وہ کسی طرح خدا کے پاس سے نہیں اور اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولتے ہیں اور وہ جانتے ہیں

(آل عمران ٧٨)

نیز ارشاد فرمایا:-

”تو صرف ان کی عہد شکنی کی وجہ سے ہم نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔ اور ہم نے ان کے قلوب کو سخت کر دیا۔ وہ لوگ کلام کو اس کے مواقع سے بدلتے ہیں۔ اور وہ لوگ جو کچھ ان کو نصیحت کی گئی تھی اس میں سے ایک بڑا حصہ فوت کر بیٹھے۔“

(المائدہ ١٣)

دین و مذہب کی اس کسمپرسی کی حالت میں نبی آخر الزمان خدا کا آخری و مکمل پیغام لے کر دنیا میں تشریف لائے۔ یہ آخری و مکمل دین خالص توحید پرستی و شرک بے زاری اور رسالت و آخرت کی اساس پر استوار کیا گیا۔ جس میں بنی اسرائیل کی سی شدت و حدت اور بے جا قیود و پابندیاں نہیں رکھی گئیں۔ بلکہ جو ملت ابراہیم کی امین و پاسباں فطرت انسانی کی ترجمان اور عقل سلیم کو اپیل کرنے والا بنایا گیا۔ اس نے انسانیت کے گلو سے وہ سارے طوق و سلاسل

صفحہ ٥٣

اتار پھینکے جو غلو پسند زاہدوں اور راہبوں نے خدا کے بندوں پر ڈال رکھے تھے۔ اور وہ اصول و قوانین پاش پاش کر ڈالے جنہیں خواہش نفس کے غلاموں نے اور ظالم رہنماؤں نے اپنا رکھا تھا۔ اور ایک سیدھا‘ سہل‘ عام فہم اور عملی نظام عطا کیا۔ جس میں انسانی توانائیوں اور کمزوریوں کا بھر پور خیال رکھا گیا۔ اس نظام فکر وعمل کی بنیاد خدا پرستی‘ خدا ترسی‘ زہد و تقویٰ‘ طہارت و پاکیزگی‘ حسن معاملات وحسن اخلاق‘ عدل و مساوات انسانی‘ مالداروں کی طرف سے فیاضی کا مطالبہ اور غریبوں کی خبر گیری کا تقاضا۔ صدق و راستبازی‘ عہد و پیمان کی پاسداری‘ محبت و الفت‘ ایمان باللہ و جہاد فی سبیل اللہ جیسے اوصاف حمیدہ پر رکھی گئی۔ اللہ تعالیٰ نبی برحق‘ رسول امین وخاتم المرسلین کی شان وصفت میں فرماتا ہے:-

”جو لوگ ایسے نبی امی کا اتباع کرتے ہیں جن کو وہ لوگ اپنے پاس توریت وانجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ (جن کی صفت یہ بھی ہے کہ) وہ ان کو نیک باتوں کا حکم فرماتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے ہیں۔ اور پاکیزہ چیزوں کو ان کے لئے حلال کرتے ہیں۔ اور گندی چیزوں کو (بدستور) ان پر حرام فرماتے ہیں۔ اور ان لوگوں پر جو بوجھ اور طوق تھے ان کو دور کرتے ہیں۔

(الاعراف ١٥٧)

نیز امت مسلمہ کے متعلق ارشاد فرمایا:-

”اس نے تم کو (اور امتوں سے) ممتاز فرمایا۔ اور (اس نے) تم پر دین (کے احکام) میں کسی قسم کی تنگی نہیں کی۔ تم اپنے باپ ابراہیم اور اس کی ملت پر (ہمیشہ) قائم رہو۔ اس (اللہ) نے تمہارا لقب مسلمان رکھا ہے“

(الحج ٧٨)

نیز فرمایا:-

وہ اللہ تعالیٰ کو تمہارے ساتھ (احکام میں) آسانی کرنا منظور ہے۔ اور تمہارے ساتھ (احکام وقوانین مقرر کرنے میں) دشواری منظور نہیں“

(البقرہ ١٨٥)

رجولیت و پختگی کے مقام پر فائز ہوئی صدیوں کے محدود تنگ دائرہ سے نکل کر آفاقیت سے روشناس ہوئی۔ اس نے کائنات کی وسعتوں کا مطالعہ کیا۔ اور اس کی نعمتوں سے خوشہ چینی کی۔ تمدن وعلم کا خزینہ وغیرہ لے کر انسانی تاریخ کو ترقی و بام عروج کی راہ دکھائی۔ اور پہلی بار اقبالؔ کے الفاظ میں ”جہانگیری‘ جہاں داری‘ جہاں بانی‘ جہاں آرائی“ کا صحیح سبق سیکھا۔ اساسی ذہنی و فکری پختگی و توانائی (جو صرف ختم نبوت کی رہین منت ہے) کے بعد نئی نبوت یا ظلی

صفحہ ٥٤

و بروزی نبوت کا دروازہ وا کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ ......... یہی نہیں کہ ”عقیدہ ختم نبوت“ سے انسانی کمالات اور اس کی مخفی صلاحیتوں کو چار چاند لگ گئے بلکہ نبوت و نئی شریعت کے سارے چور دروازوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کر دینے میں یہ حکمت و مصلحت بھی پوشیدہ ہے کہ انسان کی ساری قابلیتوں کے اسباب مہیا کر کے اس کی لیاقت و صلاحیت اس کی ذہانت و ذکاوت اور اس کی خود اعتمادی و خود ارادی پر اعتماد بھی کیا گیا۔ اور اس کے لئے کائنات کو مسخر کر کے اس کے وسائل و ذرائع مہیا کر کے اسے وہ مقام اور اعزاز بخشا گیا جس سے گذشتہ انبیاء کی امتیں محروم رہیں۔ ارشاد خداوندی ہے ۔

”وہ پاک ذات ہے جو اپنے بندہ (محمدؐ) کو شب کے وقت مسجد حرام (یعنی مسجد کعبہ) سے مسجد اقصیٰ (یعنی بیت المقدس) جس کے گردا گرد ہم نے برکتیں کر رکھی ہیں لے گیا۔ تا کہ ہم ان کو اپنے عجائب قدرت دکھلا دیں ۔“

بنی اسرائیل: ١)

نیز فرمایا:-

ہم عنقریب ان کو اپنی (قدرت کی) نشانیاں ان کے گرد و نواح میں بھی دکھلا دیں گے۔ اور خود ان کی ذات میں بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائیگا کہ وہ قرآن حق ہے“

(فصلت ٥٣)

ششم :- سابقہ امتوں میں جھوٹے مدعیان نبوت کی کثرت عقیدہ و ایمان اور دینی وحدت و شیرازہ بندی کے لئے زبردست خطرہ بنی رہی اسی طرح کی جسارت و ذہنی طبع آزمائی نے ان میں تحریف و انحراف و کج روی کے میلانات اور رجحانات پیدا کیے۔

......... یہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت ہوئی کہ اس نے سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کو ختم نبوت کی خلعتِ فاخرہ سے سرفراز فرمایا۔ جو صرف آپ ہی کے لئے مخصوص تھی۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹے نبیوں کے طرز عمل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا۔

”تم سے پہلے قوم بنی اسرائیل میں ایسے لوگ ہو گزرے ہیں جو ”مکالمہ خداوندی“ کا دعویٰ کرتے تھے باوجود یکہ وہ نبی نہیں تھے“

(بخاری)

ہفتم :- اس دین کی روح اور اس کا مزاج اس بات کے متقاضی ہوئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامیؐ کے بعد بساط نبوت کو ہمیشہ ہی کے لئے لپیٹ دینا چاہئے کیونکہ اس دین کی خصوصیات ہی میں خدا پرستی و خدا ترسی، ختم نبوت کی مہر صداقت جامعیت و کاملیت،

صفحہ ٥٥

کی کیا ضرورت ہے؟ ......... یہی نہیں کہ ”عقیدہ ختم نبوت“ صلاحیتوں کو چار چاند لگ گئے بلکہ نبوت پر مبنی شریعت کے کے لئے بند کر دینے میں یہ حکمت و مصلحت بھی پوشیدہ ہے اسباب مہیا کر کے اس کی لیاقت و صلاحیت اس کی ذہانت و ارادی پر اعتماد بھی کیا گیا۔ اور اس کے لئے کائنات کو مسخر کر کے اسے وہ مقام اور اعزاز بخشا گیا جس سے گذشتہ انبیاء کی

اپنے بندہ (محمدؐ) کو شب کے وقت مسجد حرام (یعنی مسجد کعبہ) جس کے گردوگرد ہم نے برکتیں کر رکھی ہیں لے گیا۔ تاکہ

(بنی اسرائیل : ١)

(قدرت کی) نشانیاں ان کے گرد و نواح میں بھی دکھلا ں بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائیگا کہ وہ قرآن

دعیان نبوت کی کثرت عقیدہ و ایمان اور دینی وحدت و بنی رہی اسی طرح کی جسارت و ذہنی طبع آزمائی نے ان انات اور رجحانات پیدا کئے۔ ہوئی کہ اس نے سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کو ختم نبوت صرف آپ ہی کے لئے مخصوص تھی۔ جناب رسول اللہ صلی عمل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا۔

شکل میں ایسے لوگ ہو گزرے ہیں جو ”مکالمہ خداوندی“ کا تھے“

(بخاری)

ا مزاج اس بات کے متقاضی ہوئے کہ رسول اللہ صلی اللہ ط نبوت کو ہمیشہ ہی کے لئے لپیٹ دینا چاہئے کیونکہ اس خدا ترسی‘ ختم نبوت کی مہر صداقت جامعیت و کاملیت‘

وسعت و ہمہ گیری‘ حقائق پسندی و ثابت قدمی‘ استقلال و اعتدال کے اوصاف شامل ہیں۔ یہ دین ایک ایسا جامع نظام فکر و عمل ہے جو عقائد و ایمانیات‘ شریعت و قوانین‘ اخلاق و آداب معاشرہ و اقتصادیات تمدن و سیاسیات کے تمام شعبوں کو محیط ہے۔ جو بذات خود ایک لافانی طاقت ہے۔ جو کسی اور (جاہلی) قوت پر انحصار نہیں کر سکتا ...... جس میں کوئی شے زائد ہے نہ فاضل۔ جس میں کسی قسم کا نقص ہے نہ خامی‘ جو رجعت پسندی کا قائل ہے نہ ہی شتر بے مہار ہونا جانتا ہے جو نہ تو افراط و تفریط کا خوگر ہے۔ نہ محدود انسانی (طفلانہ) تصورات سے آشنا۔ جو جاہلیت کے ساتھ مداہنت و مفاہمت کر سکتا ہے۔ نہ باطل قوت کے سامنے گھٹنے ٹیک سکتا ہے۔...... بلکہ جس کی سرشت میں فولاد کی قوت اور پہاڑ کی صلابت ہے جس میں ریشم کی لطافت اور موجوں کی تند جولانیاں ہیں۔ جس میں اعتدال و توازن بھی ہے اور فکر انگیزی و خیال افروزی بھی‘ جس کے رگ و پے میں جذبہ و شوق بھی ہے اور مستی کردار بھی۔ جو زندگی کے رواں دواں قافلے کے ساتھ بھی ہے۔ اور اس کا نقیب و علمبردار بھی۔ جس میں لچک بھی ہے اور زور و قوت بھی جس کی فطرت میں صالح تغیر پذیری بھی ہے اور نا قابل تسخیر قوت بھی۔ اور جو ایک زندہ و جاوید لافانی و حیات بخش دین ہے جس کی دائمی تکمیل سید الانبیاء خاتم الادیان صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ کر دی گئی۔ ......... اس کے بعد کسی باطل کی یہ جرات کہ اس میں رخنہ پیدا کرے جنون و ہوس نہیں تو اور کیا ہے۔؟

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔

”سو تم یکسو ہو کر اپنا رُخ اس دین کی طرف رکھو اللہ کی دی ہوئی فطرت کا اتباع کرو۔ جس پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اس پیدا کی ہوئی چیز کو جس پر اس نے تمام آدمیوں کو پیدا کیا ہے۔ بدلنا نہ چاہیے۔ پس سیدھا دین یہی ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔“

(الروم ٣٠)

نیز فرمایا:-

”تمہارا (سب کا) وہ رب ہے جس نے ہر چیز کو اس کے مناسب بناوٹ عطا فرمائی۔ پھر رہنمائی فرمائی۔“

(طہٰ ٥٠)

نیز فرمایا:-

”اور اللہ کے نزدیک ہر شے ایک خاص انداز سے مقرر ہے“

(الرعد ٨)

نیز فرمایا:-

صفحہ ٥٦

”اور ہم نے آپ پر قرآن اتارا ہے کہ تمام (دین کی) باتوں کا بیان کرنے والا ہے۔ اور (خاص) مسلمانوں کے واسطے بڑی ہدایت اور بڑی رحمت اور خوشخبری سنانے والا ہے۔ (النحل ٨٩)

ہشتم :- اسلام اپنے ماننے والوں کو نماز اور قرآن کی دو ایسی نعمتیں دے دیتا ہے جو خلوت و جلوت میں خدا سے ہمکلام ہونے کا ذریعہ ہیں بلکہ ان کے لئے ”مکالمات الٰہیہ“ کی اصطلاح زیادہ موزوں ہے۔ نماز و قرآن مخلوق کو خالق سے عبد کو معبود سے محبت و خوف و رجاء کے جذبہ سے ملاتے‘ گہرے ربط پیدا کرتے‘ اور اس کی قربت و ولایت سے سرفراز کرتے ہیں‘ عبادت و استقامت کا قوی جذبہ پیدا کرتے اور حیات افروزی و خیر پسندی کی فضاء مہیا کرتے ہیں۔

ان دونوں نعمتوں کا وجود و بقاء خود امت مسلمہ کو ہر طرح کی نئی نبوت و وحی سے بے نیاز کر دینے والی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:-

”اللہ تعالیٰ تمہیں نماز کا حکم دیتا ہے۔ لہٰذا جس وقت تم نماز پڑھ رہے ہو تو ادھر اُدھر متوجہ نہ ہو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنا رخ نماز میں بندے کے چہرے پر نصب کر دیتا ہے‘ جب تک وہ ادھر ادھر متوجہ نہ ہو“ (احمد‘ ترمذی)

نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:-

”اور جب قرآن پڑھا جایا کرے تو اس کی طرف کان لگا لیا کرو اور خاموش رہا کرو‘ امید ہے کہ تم پر رحمت ہو“ (الاعراف ٢٠٤)

نہم :- اصلاح و تجدید کی کوششوں اور دعوت و عزیمت کی راہ میں قربانیوں کی تاریخ اس امت کی کتاب زیست میں ایسا درخشاں باب ہے جہاں مجددین و مصلحین‘ دعاۃ الی اللہ اور مجاہدین فی سبیل اللہ کے کارنامے اس تاریخ کی امانت ہیں جنہوں نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ہر دور میں انجام دیا۔ جو اللہ کے راستے میں ڈٹ گئے تو کوئی طاقت انہیں ہٹا نہ سکی۔ جنہوں نے کوئی وقفہ۔ کوئی رخنہ‘ کوئی فساد‘ کوئی شگاف ایسا نہیں چھوڑا۔ جس کو پاٹنے کے لئے وہ اٹھ نہ کھڑے ہوئے ہوں‘ باطل کا ہر وار ان کے مقابلہ میں بے کار گیا۔ ہر زمانہ میں انہوں نے طاغوتی طاقتوں سے پنجہ آزمائی کی۔ ان کی کلائی مروڑ دی بلکہ ضرورت پڑی تو توڑ بھی دی۔ اور تاریخ کو صحیح سمت عطا کی۔ علامہ اقبال کہتے ہیں؎

اس دریا سے اٹھتی ہے وہ موج تند جولاں بھی
نہنگوں کے نشیمن جس سے ہوتے ہیں تہہ و بالا
صفحہ ٥٧

ان اصلاحی کوششوں کے نتیجہ میں ہمیشہ ہدایت کی قندیلیں فروزاں رہیں۔ کوئی آندھی اور طوفان انہیں بجھا نہ سکا۔ اسلامی روح و تڑپ دلوں میں بیدار رہی۔ کبھی بھی عالم اسلام کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک تاریکی کا دور دورہ نہ ہو سکا۔

ان مجددین کی اولو العزمانہ قربانیوں و پیش قدمیوں نے کبھی بھی اسلامی عقیدہ پر غبار نہ پڑنے دیا۔ یہ ہر طرح کی اندرونی و بیرونی سازشوں کے لئے پہاڑ بن گئے ہر طرح کی فکری یلغار کو خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے گئے۔ اور امت کی کشتی کو ہمیشہ منجدھار سے نکال کر ساحل مراد تک پہنچاتے رہے۔ اور ان میں نیا جوش و جذبہ نئی حرارت و قوت کی چنگاری کو ہوا دیتے رہے۔ زبان رسالت و ختم نبوت گہر بار ہوئی۔ فرمایا۔

”اللہ تعالیٰ اس امت میں ہر سو سال کے سرے پر ایک ایسے شخص کو بھیجتا رہیگا جو دین کی تجدید کا کارنامہ انجام دے گا“

(ابوداؤد)

نیز اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:-

”ان مؤمنین میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ انہوں نے جس بات کا اللہ سے عہد کیا تھا۔ اس میں سچے اترے۔ پھر بعضے تو ان میں وہ ہیں جو اپنی نذر پوری کر چکے۔ اور بعضے ان میں مشتاق ہیں۔ اور انہوں نے ذرا تغیر وتبدل نہیں کیا۔

(الاحزاب ٢٣)

عظیم مرجع و مصدر ہے جس سے ہر طرح کا جائز خلا پر ہو سکتا ہے اور اسے تشریع و قانون سازی کے مقصد و ضرورت کے میدان میں قطعیت کا درجہ حاصل ہو سکتا ہے۔...... لیکن یہ ان علماء کی ذمہ داری ہے جنہیں علم و عرفان سے حصہ وافر ملا ہو جو حق و ہدایت کے رہبر ہوں، جو حکمت شناس مصلحت بین، حقیقت پسند اور قیاس و استخراج و استنباط کے اصولوں پر حاوی ہوں۔ جو خوف و خشیت وللہیت کی نعمت سے بہرہ مند ہوں۔ جو اصحاب حل وعقد واولی الامر کی فہرست میں آتے ہوں اور جن کے ایک ایک فرد کے بارے میں گمان تک نہ ہو کہ وہ جھوٹ، سازش، غلط بیانی پر اتفاق کر لیں گے یہ ”اجماع امت“ اسلام اور مسلمانوں کی ضروریات و مصالح پر مبنی ہو گا۔ اور منجملہ شریعت اسلامیہ کے ماخذ میں سمجھا جائے گا۔ جناب رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:-

”میری امت کذب بیانی پر متفق نہیں ہو سکتی“ ”میری امت ضلالت و گمراہی پر اتفاق نہیں کر سکتی“

صفحہ ٥٨

اسلام اور...... کفر و ارتداد

مفتی محمد شفیعؒ ”

ارتداد کے معنی لغت میں پھر جانے اور لوٹ جانے کے ہیں اور اصطلاح شریعت میں ایمان و اسلام پھر جانے کو ارتداد اور پھرنے والے کو مرتد کہتے ہیں اور ارتداد کی صورتیں دو ہیں۔ ایک تو یہ کہ کوئی کم بخت صاف طور پر تبدیل مذہب کر کے اسلام پھر جائے‘ جیسے عیسائی‘ یہودی‘ آریہ سماجی وغیرہ مذہب اختیار کرے یا خداوند عالم کے وجود یا توحید کا منکر ہو جائے‘ یا آنحضرت ﷺ کی رسالت کا انکار کرے۔

دوسرے یہ کہ اس طرح صاف طور پر تبدیل مذہب اور توحید و رسالت سے انکار نہ کرے۔ لیکن کچھ اعمال یا اقوال یا عقائد ایسے اختیار کرے جو انکار قرآن مجید یا انکار رسالت کے مرادف و ہم معنی ہوں۔ مثلاً اسلام کے کسی ایسے ضروری و قطعی حکم کا انکار کر بیٹھے جس کا ثبوت قرآن مجید کی نص صریح سے ہو یا آنحضرت ﷺ سے بطریق تواتر ثابت ہوا ہو۔ یہ صورت بھی باجماع امت ارتداد میں داخل ہے اگرچہ اس ایک حکم کے سوا تمام احکامِ اسلامیہ پر شدت کے ساتھ پابند ہو۔

ایمان کی تعریف مشہور و معروف ہے جس کے اہم جزو دو ہیں۔ ایک حق سبحانہ و تعالیٰ پر ایمان لانا۔ دوسرے اس کے رسول ﷺ پر لیکن جس طرح اللہ تعالیٰ تبارک و تعالیٰ پر ایمان کے یہ معنی نہیں کہ صرف اس کے وجود کا قائل ہو جائے بلکہ اس کی تمام صفات کاملہ علم‘ سمع‘ بصر‘ قدرت وغیرہ کو اسی شان کے ساتھ ماننا ضروری ہے جو قرآن و حدیث میں بتلائی ہیں۔ ورنہ یوں تو ہر مذہب و ملت کا آدمی خدا کے وجود و صفات کو مانتا ہے۔ یہودی‘ نصرانی‘ مجوسی‘ ہندو سب ہی اس پر متفق ہیں۔

اسی طرح رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کا بھی یہ مطلب نہیں ہو سکتا کہ آپ کے

صفحہ ٥٩

وجود کو مان لے کہ آپ مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے اور مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کی۔ تریسٹھ ٦٣ سال عمر ہوئی فلاں فلاں کام کئے۔ بلکہ رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کی حقیقت وہ ہے جو قرآن مجید نے بالفاظ ذیل میں بتلائی ہے۔

فلا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم ثم لا يجدوا فى انفسهم حرجاً مما قضيت ويسلموا تسليماً.

(سورہ نساء۔ ٦ ع)

”قسم ہے آپ کے رب کی یہ لوگ اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتے جب تک کہ وہ آپ کو اپنے تمام نزاعات و اختلافات میں حکم نہ بناویں اور پھر جو فیصلہ آپ فرماویں اس سے اپنے دلوں میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں اور اس کو پوری طرح تسلیم کر لیں۔

روح المعانی میں اس آیت کی تفسیر سلف سے اس طرح نقل فرمائی ہے:

فقد روى عن الصّادق رضی الله عنه انه قال لو ان قوماً عبدوا الله واقاموا الصلوة واتوا الزكوة وصاموا رمضان و حجوا البيت ثم قالوا لشيء صنعه رسول الله صلى الله عليه وسلم لم صنع او وجدوا فى انفسهم حرجا لكانوا مشركين ثم تلا هذه الاية. (روح المعانی ج ٦ ص ٦٥)

”حضرت جعفر صادقؒ سے منقول ہے کہ اگر کوئی قوم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے اور نماز کی پابندی کرے اور زکوٰۃ ادا کرے اور رمضان کے روزے رکھے اور بیت اللہ کا حج کرے مگر پھر کسی ایسے فعل کو جس کا کرنا حضورؐ سے ثابت ہو یوں کہے کہ آپ نے ایسا کیوں کیا اس کے خلاف کیوں نہ کیا اور اس کے ماننے سے اپنے دل میں تنگی محسوس کرے تو یہ قوم مشرکین میں سے ہے۔“

آیت مذکورہ اور اس کی تفسیر سے واضح ہو گیا کہ رسالت پر ایمان لانے کی حقیقت یہ ہے کہ رسول کے تمام احکام کو ٹھنڈے دل سے تسلیم کیا جائے اور اس میں کسی قسم

صفحہ ٦٠

کا پس و پیش یا تردد نہ کیا جائے۔ اور جب ایمان کی حقیقت معلوم ہو گئی تو کفر و ارتداد کی صورت واضح ہو گئی۔ کیونکہ جس چیز کے ماننے اور تسلیم کرنے کا نام ایمان ہے۔ اسی کے نہ ماننے اور انکار کرنے کا نام کفر و ارتداد ہے (صرح بہ فی شرح المقاصد) اور ایمان و کفر کی مذکورہ تعریف سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ کفر صرف اسی کا نام نہیں کہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ یا رسول اللہ ﷺ کو سرے سے نہ مانے بلکہ یہ بھی اسی درجہ کا کفر اور نہ ماننے کا ایک شعبہ ہے کہ آنحضرت ﷺ سے جو احکام قطعی و یقینی طور پر ثابت ہیں ان میں سے کسی ایک حکم کے تسلیم کرنے سے (یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ حضور ﷺ کا حکم ہے) انکار کر دیا جائے اگرچہ باقی سب احکام کو تسلیم کرے اور پورے اہتمام سے سب پر عامل بھی ہو۔

تنبیہ:

ہاں اس جگہ دو باتیں قابل لحاظ ہیں اول تو یہ کہ کفر و ارتداد اس صورت میں عائد ہوتا ہے۔ جبکہ حکم قطعی کے تسلیم کرنے سے انکار اور گردن کشی کرے اور اس حکم کے واجب التعمیل ہونے کا عقیدہ نہ رکھے لیکن اگر کوئی شخص حکم کو تو واجب التعمیل سمجھتا ہے مگر غفلت یا شرارت کی وجہ سے اس پر عمل نہیں کرتا تو اس کو کفر و ارتداد نہ کہا جائے گا اگرچہ ساری عمر ایک دفعہ بھی اس حکم پر عمل کرنے کی نوبت نہ آئے مگر اس شخص کو مسلمان ہی سمجھا جائے گا اور پہلی صورت میں کہ کسی حکم قطعی کو واجب التعمیل ہی نہیں جانتا ہے اگرچہ کسی وجہ سے وہ ساری عمر اس پر عمل بھی کرتا رہے جب بھی کافر مرتد قرار دیا جائے گا۔ مثلاً ایک شخص پانچوں وقت کی نماز کا شدت کے ساتھ پابند ہے مگر فرض اور واجب التعمیل نہیں جانتا یہ کافر ہے اور دوسرا شخص جو فرض جانتا ہے مگر کبھی نہیں پڑھتا اگرچہ فاسق و فاجر اور سخت گنہگار ہے مگر کافر نہیں۔

دوسری بات قابل غور یہ ہے کہ ثبوت کے اعتبار سے احکام اسلامیہ کی مختلف قسمیں ہو گئی ہیں۔ تمام اقسام کا اس بارہ میں ایک حکم نہیں۔ کفر و ارتداد صرف ان احکام کے انکار سے عائد ہوتا ہے۔ جو قطعی الثبوت بھی ہوں اور قطعی الدلالت بھی۔ قطعی الثبوت ہونے کا مطلب تو یہ ہے کہ ان کا ثبوت قرآن مجید یا ایسی احادیث سے جن کے روایت کرنے

صفحہ ٦١

ئے۔ کی حقیقت معلوم ہو گئی تو کفر و ارتداد کی صورت واضح ہو گئی۔ ور تسلیم کرنے کا نام ایمان ہے۔ اسی کے نہ ماننے اور انکار کرنے رح بہ فی شرح المقاصد) اور ایمان و کفر کی مذکورہ تعریف سے یہ ۔ اس کا نام نہیں کہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ یا رسول اللہ ﷺ کو سرے درجہ کا کفر اور نہ ماننے کا ایک شعبہ ہے کہ آنحضرت ﷺ سے ابت ہیں ان میں سے کسی ایک حکم کے تسلیم کرنے سے (یہ سمجھتے حکم ہے) انکار کر دیا جائے اگرچہ باقی سب احکام کو تسلیم کرے پر عامل بھی ہو۔

باتیں قابل خیال ہیں اول تو یہ کہ کفر و ارتداد اس صورت میں کے تسلیم کرنے سے انکار اور گردن کشی کرے اور اس حکم کے یدہ نہ رکھے لیکن اگر کوئی شخص حکم کو تو واجب التعمیل سمجھتا ہے مگر ے اس پر عمل نہیں کرتا تو اس کو کفر و ارتداد نہ کہا جائے گا اگرچہ حکم پر عمل کرنے کی نوبت نہ آئے مگر اس شخص کو مسلمان ہی سمجھا ں کہ کسی حکم قطعی کو واجب التعمیل ہی نہیں جانتا ہے اگرچہ کسی وجہ بھی کرتا رہے جب بھی کافر مرتد قرار دیا جائے گا۔ مثلاً ایک کا شدت کے ساتھ پابند ہے مگر فرض اور واجب التعمیل نہیں جانتا جو فرض جانتا ہے مگر کبھی نہیں پڑھتا اگرچہ فاسق و فاجر اور سخت

مل غور یہ ہے کہ ثبوت کے اعتبار سے احکام اسلامیہ کی مختلف حکام کا اس بارہ میں ایک حکم نہیں۔ کفر و ارتداد صرف ان احکام کے قطعی الثبوت بھی ہوں اور قطعی الدلالت بھی۔ قطعی الثبوت ہونے کا ثبوت قرآن مجید یا ایسی احادیث سے جن کے روایت کرنے

والے آنحضرت ﷺ کے عہد مبارک سے لے کر آج تک ہر زمانہ اور ہر قرن میں مختلف طبقات اور مختلف شہروں کے لوگ اس کثرت سے رہے ہوں کہ ان سب کا جھوٹی بات پر اتفاق کر لینا محال سمجھا جائے اس کو اصطلاح میں تواتر اور ایسی احادیث کو احادیث متواترہ کہتے ہیں۔

اور قطعی الدلالت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جو عبارت قرآن مجید میں اس حکم کے متعلق واقع ہوئی ہے یا حدیث متواتر سے ثابت ہوئی ہے وہ اپنے مفہوم یا مراد کو صاف صاف ظاہر کرتی ہو اس میں کسی قسم کی الجھن یا ابہام نہ ہو کہ جس میں کسی کی تاویل چل سکے۔

پھر اس قسم کے احکام قطعیہ اگر مسلمانوں کے ہر طبقہ خاص و عام میں اس طرح مشہور و معروف ہو جائیں کہ ان کا حاصل کرنا خاص اہتمام اور تعلیم و تعلم پر موقوف نہ رہے بلکہ عام طور پر مسلمانوں کو وراثتاً وہ باتیں معلوم ہو جاتی ہوں جیسے نماز‘ روزہ‘ حج‘ زکوٰۃ کا فرض ہونا‘ چوری‘ شراب خوری کا گناہ ہونا۔ آنحضرت ﷺ کا خاتم الانبیاء ہونا وغیرہ۔ تو ایسے احکام قطعیہ کو ضروریات دین کے نام سے تعبیر کرتے ہیں اور جو اس درجہ مشہور نہ ہوں وہ صرف قطعیات کہلاتے ہیں ضروریات نہیں۔

اور ضروریات اور قطعیات کے حکم میں یہ فرق ہے کہ ضروریات دین کا انکار باجماع امت مطلقاً کفر ہے ناواقفیت و جہالت کو اس میں عذر نہ قرار دیا جائے گا اور نہ کسی قسم کی تاویل سنی جائے گی۔

اور قطعیات محضہ جو شہرت میں اس درجہ کو نہیں پہنچیں تو حنفیہ کے نزدیک اس میں تفصیل ہے کہ اگر کوئی عام آدمی بوجہ ناواقفیت و جہالت ان کا انکار کر بیٹھے تو ابھی اس کے کفر و ارتداد کا حکم نہ کیا جائے گا۔ بلکہ پہلے اس کو تبلیغ کی جائے گی کہ یہ حکم اسلام کے قطعی الثبوت اور قطعی الدلالت احکام میں سے ہے اس کا انکار کفر ہے۔ اس کے بعد اگر وہ اپنے انکار پر قائم رہے تب کفر کا حکم کیا جائے گا۔

كما في المسايرة والمسامرة لابن الهمام ولفظه واما ما ثبت قطعاً ولم يبلغ حد الضرورة كاستحقاق بنت الابن السدس مع البنت الصلبيه باجماع المسلمين فظاهر كلام

صفحہ ٦٢

الحنفیہ الاکفار مجحدہ بانہم لم یشترطوا فی الاکفار سوی القطع فی الثبوت (الیٰ قولہ) ویجب حملہ علیٰ ما اذا علم المنکر ثبوتہ قطعاً۔ (مسامرہ ص ١٤٩)

”اور جو حکم قطعی الثبوت تو ہو مگر ضرورت کی حد کو نہ پہنچا ہو جیسے (میراث میں) اگر پوتی اور بیٹی حقیقی جمع ہوں تو پوتی کو چھٹا حصہ ملنے کا حکم اجماعِ امت سے ثابت ہے سو ظاہر کلام حنفیہ کا یہ ہے کہ اس کے انکار کی وجہ سے کفر کا حکم کیا جائے کیونکہ انہوں نے قطعی الثبوت ہونے کے سوا اور کوئی شرط نہیں لگائی (الیٰ قولہ) مگر واجب ہے کہ حنفیہ کے اس کلام کو اس صورت پر محمول کیا جائے کہ جب کہ منکر کو اس کا علم ہو کہ یہ حکم قطعی الثبوت ہے۔“

خلاصہ کلام یہ ہے کہ جس طرح کفر و ارتداد کی ایک قسم تبدیل مذہب ہے اسی طرح دوسری قسم یہ بھی ہے کہ ضروریات دین اور قطعیات اسلام میں کسی چیز کا انکار کر دیا جائے یا ضرورت دین میں کوئی ایسی تاویل کی جائے جس سے ان کے معروف معانی کے خلاف معنی پیدا ہو جائیں۔ اور غرض معروف بدل جائے۔

ضابطہ تکفیر:

اس لئے تکفیر مسلم کے بارہ میں ضابطہ شرعیہ یہ ہو گیا کہ جب تک کسی شخص کے کلام میں تاویل صحیح کی گنجائش ہو اور اس کے خلاف کی تصریح متکلم کے کلام میں نہ ہو۔ یا اس عقیدہ کے کفر ہونے میں ادنیٰ سے ادنیٰ اختلاف ائمہ اجتہاد میں واقع ہو اس وقت تک اس کے کہنے والے کو کافر نہ کہا جائے۔ لیکن اگر کوئی شخص ضروریات دین میں سے کسی چیز کا انکار کرے یا کوئی ایسی ہی تاویل و تحریف کرے جو اس کے اجماعی معانی کے خلاف معنی پیدا کر دے تو اس شخص کے کفر میں کوئی تامل نہ کیا جائے۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔

۞.......۞.......۞

صفحہ ٦٣

مرزا قادیانی اور غیر تشریعی نبی

حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ

سوال بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کوئی نبی یا رسول صاحب شرع جدید نہیں ہو سکتا۔ کما قال الشيخ الاکبر فی الباب الثالث والسبعين وهذا معنى قوله صلى الله عليه وآله وسلم ان الرسالة والنبوة قد انقطعت فلا رسول بعدى ولا نبى اى لانبی بعدى يكون على شرع يخالف شرع الخ اور مرزا قادیانی نبوت اور رسالت غیر تشریعیہ کا مدعی ہے۔

جواب پہلے گزر چکا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علی کرم اللہ وجہہ کو ہارون علیہ السلام سے تشبیہ دے کر (الا انه لا نبوة بعدی) کے ساتھ نبوت کی نفی کر دی مع آں کہ ہارون کی نبوت غیر تشریعی تھی یعنی موسوی شریعت سے الگ کوئی شرع ان کے پاس نہیں تھی۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کوئی نبی غیر تشریعی بھی نہیں ہو سکتا۔ رہا شیخ اکبر کا حوالہ سو وہ قادیانی کو مضر ہے مفید نہیں کیونکہ وہ اسی باب میں عیسیٰ بن مریم کو بعینہ بغیر کسی مثیل کے زندہ بجسدہ العنصری زمین پر اتارتے ہیں۔ دیکھو اسی باب کا صفحہ ٦ جس میں لکھتے ہیں۔ ابقى الله بعد رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم من الرسل الاحياء باجساد هم فى هذه الدار الدنيا ثلثة الى ان قال وابقى فى الارض ايضاً الياس و عيسى و كلاهما من المرسلين. اور نیز حضرت شیخ گو کہ بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقام نبوت کے تحقق کا قول فرماتے ہیں۔ مگر نبی کہلوانے اور کہنے کو جائز نہیں رکھتے۔ چنانچہ اسی باب کے صفحہ ٤ پر لکھتے ہیں۔ فسددنا باب اطلاق النبوة على هذا المقام اور نیز فتوحات کے فصل تشہد میں فرماتے ہیں۔ (فانه لو عطف عليه لسلم على نفسه من جهة النبوة وهو باب قد سده الله كما سد باب الرسالة

صفحہ ٦٤

عن كل مخلوق بعد رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم الى يوم القيامة) یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد نبوت اور رسالت کا دروازہ سب مخلوق پر بند کیا گیا۔

سوال

مرزا قادیانی کی اس قدر مغلظ قسمیں کس طرح جھوٹی سمجھی جائیں۔

جواب

پہلے ملہمین ومحدثین لکھ گئے ہیں کہ کبھی شیطان انسان کے قلب پر بہکانے کے لیے کوئی مضمون خاص ڈالتا ہے اور کبھی اوہام۔ جس سے نتائج عجیبہ وغریبہ نکلواتا ہے جیسا کہ مانحن فيه میں قادیانی صاحب نتائج نکال رہے ہیں۔ قال الشيخ الاكبر في الخمس والخمسين و حدث فيما ينبعث فى الانسان شیطان معنوی، كما مر فی متن ھذا الكتاب یعنی شیاطین بعض آدمی کو ایسا مضمون پکڑا دیتے ہیں جس سے وہ نتائج مہلکہ نکالتا ہے اور اس اغواء شیطانی کی تردید نہیں کر سکتا اور پھر ایسا مشاق ہو جاتا ہے کہ شیطان کو بھی شاگرد بنا لیتا ہے۔ كما قال الشيخ في هذا الباب وما علموا ان الشياطين في تلک المسائل تلميذ لهم يتعلم منهم. ناظرین کو معلوم ہو کہ سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہ لولاک و مالک اعطیت علم الاولین والآخرین نے تمام امور کو جو قیامت تک ہونے والے ہیں بطور پیشین گوئی کے بیان فرمایا ہے۔ حذیفۃ بن الیمان رضی اللہ عنہ کی حدیث صحیحین میں ملحوظ ہو۔ چنانچہ اس مدت تیرہ سو برس تک صدہا امور جو احادیث میں مندرج تھے۔ مطابق ارشاد نبوی علی صاحبہ الصلوٰۃ والسلام ظہور میں آکر حجت علی المنکرین ہوئے۔ من جملہ ان کے ایک پیشین گوئی یہ بھی ہے جو بروایت مقدام بن معدی کرب ابن ماجہ اور دارمی وابوداؤد رحم اللہ علیہم میں مذکور ہے۔

ترجمہ حدیث

فرمایا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے قرآن بھی دیا گیا ہے اور قرآن کے ساتھ اس کی مثل بھی۔ خبردار رہو۔ قریب ہے کہ ایک پیٹ بھرا (کھاتا پیتا مغرور) شخص اپنے چھپر کھٹ پر بیٹھا یہ کہے گا کہ تم صرف قرآن ہی کو لو اور جو اس میں حلال ہو اس کو حلال سمجھو اور جو حرام ہو اس کو حرام خیال کرو۔

تحقیق یہ ہے کہ جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حرام فرماتے ہیں وہ بھی ایسا

صفحہ ٦٥

ہی ہے جیسا کہ خدا نے اسے حرام کیا ہے۔ یہ پیشین گوئی ١٣٠٨ھ میں ظاہر ہوئی۔ یعنی مرزا غلام احمد قادیانی نے احادیث کی صحت کا مدار قرآن مجید کو مطابق اجتہاد و استنباط اپنی کے ٹھہرایا۔ یعنی پہلے قرآن کریم کا مطلب حسب مدعی اپنے کے ٹھہرایا جائے۔ گو کہ نصوص کا انکار و تحریف ہی ہو۔ اور بعد ازاں احادیث کو اگر چہ بحد تواتر شہرت بھی رکھتی ہوں پھینک دیا جائے۔ ہاں اگر حدیث کو بھی پیرایہ تحریف پہنایا جائے، گو کہ صحت ہم ندارد تو البتہ مقبول ہو سکتی ہے۔ قادیانی اور اس کے تابعین کے بارہ میں عمر رضی اللہ عنہ نے بھی پیشین گوئی فرمائی ہے جو ترجمان غیب تھے۔ عن ابن عباس رضی اللہ عنھما قال خطبنا عمر فقال یا ایھا الناس سیکون قوم من ھذہ الامۃ یکذبون بالرجم و یکذبون بالدجال و یکذبون بطلوع الشمس من مغربھا الخ ترجمہ:۔ کہا ابن عباسؓ نے عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں پیشین گوئی فرمائی کہ اے لوگو اس امت میں سے ایک قوم پیدا ہونے والی ہے جو رجم کی تکذیب کرے گی اور دجال معہود کا انکار کرے گی اور مغرب کی طرف سے آفتاب کے طلوع ہونے کو باطل کہے گی۔ الخ ازالۃ الخفاء صفحہ ١٨۔

نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان تیس کذابوں کے وجود سے اطلاع دی جو کہ اپنے کو خدا کا نبی زعم کریں گے۔ سیکون فی امتی کذابون ثلثون کلھم یزعم انہ نبی اللہ۔ راوی ثوبان، ابو داؤد، ترمذی، مشکوٰۃ اور نیز ان تیس دجالوں کے حدوث سے آگاہ فرمایا جو اپنے کو خدا کا رسول ہونا زعم کریں گے۔ لا تقوم الساعۃ حتی یبعث دجالون کذابون قریب من ثلثین کلھم یزعم انہ رسول اللہ۔ (ابو ہریرۃ، صحیح بخاری، صحیح مسلم)

پس اگر ان پیش گوئیوں کو خارج میں مطابق کر کے دیکھا جائے تو مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی اور حمدان بن قرمط وغیرہ کے بعد یہی قادیانی صاحب ہیں جنھوں نے اپنے کو نبی سمجھا اور ازالۃ اوہام کے صفحہ ٦٧٣ میں آیہ مُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ یَّأْتِیْ مِنْ بَعْدِی اسْمُہٗ اَحْمَدُ کے تحت لکھا کہ آنے والے کا نام جو احمد کہا گیا ہے وہ بھی اسی مثیل کی طرف اشارہ ہے اور اشتہار معیار الاخبار میں شائع کیا کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ قل یا ایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا فھل انتم مسلمون یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے مرزا قادیانی لوگوں سے یہ کہہ دے کہ میں تم سب کی طرف خدا کا رسول ہو کر آیا ہوں۔ وغیرہ وغیرہ۔

صفحہ ٦٦

مرزا قادیانی اور اس کے چیلے

قیصر مصطفیٰ (سیالکوٹ)

فارسی کی مشہور مثال ہے کہ دروغ گو را حافظہ نہ باشد کہ جھوٹے کا حافظہ نہیں ہوتا مرزا قادیانی کی زندگی اور اس کی تمام تصانیف تضادات کا ایسا مجموعہ ہیں کہ ان کتابوں کا مطالعہ کرنے والے کو خاصے صبر و ضبط سے کام لینا پڑتا ہے اور بقول مرزا قادیانی کہ

”جھوٹے کے کلام میں تناقض ہوتا ہے۔“ (براہین احمدیہ ج ٥ ص ٢١٨)

مرزا قادیانی کی اپنی تحریریں جو کہ باہم متضاد ہیں ان کا تذکرہ ہم اپنے اگلے کسی مضمون میں کریں گے۔ آج ہم مرزا اور اس کے چیلوں کے چند باہمی تضاد بیان کر رہے ہیں اور چیلے بھی کوئی معمولی لوگ نہیں خود مرزا کے اپنے بیٹے ہیں۔ ہم پورے خلوص کے ساتھ تمام قادیانیوں کو غور وفکر کی دعوت دیتے ہیں کہ یہ زندگی بار بار نہیں ملتی اس لیے مرزا قادیانی جیسے مخبوط الحواس انسان کے پیچھے چل کر اپنی عاقبت برباد نہ کرو۔

الدین محمود جو مرزا کا بیٹا اور قادیانیوں کا دوسرا خلیفہ تھا اس پٹھان کے انداز گفتگو پر اعتراض کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ

”اس احمق کو اتنی بھی سمجھ نہیں کہ ایک شخص جو لاکھوں انسانوں کا پیشوا ہے اور ایک بڑی جماعت کا امام ہے بڑے بڑے لوگ جو اس کی غلامی میں ہیں اور اس کی جوتیاں اٹھانا فخر محسوس کرتے ہیں اس کے سامنے گفتگو کس طرح کرنی چاہیے۔“ (حقیقت النبوۃ ص ٢٨٢)

بشیر الدین محمود کی عبارت کا مطلب ہے کہ دوران گفتگو ادب کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔ اب ہم مرزا کی سینکڑوں گالیوں بھری عبارات میں سے ایک بہت ہلکی عبارت لکھ رہے ہیں اور انصاف پسند لوگوں سے فیصلہ چاہتے ہیں۔ مرزا کے مخالف علماء میں ایک مولانا محمد حسین بٹالوی بھی تھے ان کے بارے میں مرزا کی خوش بیانی ملاحظہ فرمائیں۔

میں دیکھتا ہوں کہ میاں بٹالوی کی جڑ میں جھوٹ رچا ہوا ہے اور تکبر کی پلید سرشت نے اور بھی اس جھوٹ کو زہریلا مادہ بنا دیا ہے اس لیے ایک زور کے ساتھ دروغگوئی کی نجاست ان کے منہ سے بہہ رہی ہے۔“ (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٩٩)

صفحہ ٦٧

قادیانیو! اگر اس قسم کی عبارت مرزا کے بارے میں لکھی جائے تو وہ آداب گفتگو کے منافی تو نہ ہوگی؟ قارئین کرام! مرزا قادیانی کی غیر مہذب گفتگو خود مرزا کے لیے بھی رسوائی کا سبب بنی چنانچہ ڈپٹی کمشنر کی عدالت میں مرزا کو کہنا پڑا کہ

”ہم نے صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر کے سامنے یہ عہد کر لیا ہے کہ ہم آئندہ سخت الفاظ سے کام نہ لیں گے۔“ (کتاب البریہ ص ١٣)

نمبر ٢ مرزا نے اپنی تصدیق میں ایک بہت بڑے زلزلے کی پیش گوئی کی اور لکھا

کہ ”زلزلہ کی وہ پیشگوئی میری زندگی میں اور میرے ہی ملک میں اور میرے ہی فائدہ کے لیے ظہور میں آئے گی۔“ (ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ٩٧)

مرزا کی دوسری پیشگوئیوں کی طرح یہ بھی جب جھوٹی ثابت ہوئی تو مرزا کے مرنے کے بعد اس کے بیٹے نے لکھا کہ

”زلزلہ کی پیشگوئی سے مراد دوسری جنگ عظیم ہے“ (دعوة الامیر مصنفہ بشیر الدین محمود ص ٢٣١)

باپ کہتا ہے کہ یہ پیشگوئی میری تصدیق میری زندگی میں میرے ہی ملک میں میرے ہی فائدے کے لیے ظہور میں آئے گی اور بیٹا کہتا ہے اس سے مراد جنگ عظیم دوم ہے جو نہ ہی مرزا کی زندگی میں ہوئی نہ ہی مرزا کی تصدیق میں ہوئی نہ ہی مرزا کے فائدے کے لیے ہوئی اور نہ ہی صرف مرزا کے ملک میں ہوئی۔

نمبر ٣ مرزا نے لکھا ہے کہ

”نزول عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ کسی مراقی عورت کا وہم ہے“ (کتاب البریہ ص ٢٣٩) اور بیٹا لکھتا ہے کہ

”پچھلی صدیوں میں قریباً سب دنیا کے مسلمانوں میں مسیح کے زندہ ہونے پر ایمان رکھا جاتا تھا اور بڑے بڑے بزرگ اس عقیدہ پر فوت ہوئے“ (حقیقت النبوۃ ج ١ ص ١٤٧)

مراق کی بیماری جو اطباء کے نزدیک مانخولیا کی ایک قسم ہے پچھلی صدیوں کے سب مسلمانوں کو تو لاحق نہ تھی معاذ اللہ

لیکن اللہ رب العزت نے مرزا کو اس بیماری میں مبتلا کر دیا تھا اور خود دنیا ہی میں مرزا کی زبان سے اعتراف بھی کروا دیا۔ چنانچہ مرزا کا دوسرا بیٹا بشیر احمد کہتا ہے کہ

”کئی دفعہ حضرت مسیح موعود سے سنا کہ مجھے ہسٹریا ہے اور بعض اوقات آپ مراق بھی فرمایا کرتے تھے۔“ (سیرت المہدی حصہ دوم ص ٥٥)

ہم نے اختصار کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ چند نمونے پیش کیے ہیں اللہ کرے یہ کسی کی

صفحہ ٦٨

اصلاح کا سبب بن جائیں۔ گفتگو کو سمیٹتے ہوئے ہم اپنا ایک ذاتی واقعہ بیان کرتے ہیں جو قارئین کے لیے دلچسپی کا باعث ہو گا۔ کافی عرصہ کی بات ہے کہ میرے ایک عزیز دوست جناب امجد صاحب جو جماعت احرار پاکستان کے سرگرم رکن ہیں اور دوسرے حاجی بشیر صاحب انھوں نے قادیانیوں سے گفتگو کے لیے وقت طے کیا چنانچہ میں اپنے ان دونوں دوستوں سمیت ان کی عبادت گاہ پر پہنچا (جو کبوتروں والی عبادت گاہ کہلاتی ہے اور ہمارے شہر میں قادیانیوں کا مرکز ہے) وہاں پر ان کے تین مربی بیٹھے ہوئے تھے جن میں ایک کا نام نصیر احمد تھا دوسرے دونوں کے نام یاد نہیں رہے ان سے گفتگو شروع ہوئی تو میں نے ان سے کہا کہ جو کچھ تم مرزا کو مانتے ہو وہ بیان کرو اس کے جواب میں ایک مربی نے اکتا دینے والی گفتگو کی جس کا خلاصہ یہ تھا کہ جس مسیح کے آنے کا وعدہ ہے وہ مرزا قادیانی کے روپ میں آ چکا ہے میں نے پوچھا اب اور تو کوئی نہیں آئے گا۔ کہنے لگا بالکل کوئی نہیں آئے گا۔ میں نے کہا کہ تمھیں شک بھی نہیں کہ شاید کوئی اور بھی آ جائے۔ کہنے لگا مجھے قطعی طور پر کوئی شک نہیں تو میں نے کہا کہ تمھیں کوئی شک نہیں لیکن تمھارے مرزا قادیانی کو شک ہے کہ شاید کوئی اور بھی آ جائے اس پر اس کا رنگ فق ہو گیا کہنے لگا کہ ثبوت پیش کرو۔ میں نے اپنے گھر سے مرزا کی کتاب ازالہ اوہام منگوائی اور اس کا حوالہ پڑھا مرزا لکھتا ہے کہ:

"بالکل ممکن ہے کہ کسی زمانہ میں کوئی ایسا مسیح بھی آ جائے جس پر حدیثوں کے بعض ظاہری الفاظ صادق آ سکیں کیونکہ یہ عاجز اس دنیا کی حکومت اور بادشاہت کے ساتھ نہیں آیا" (ازالہ اوہام ج ١ ص ٧٤)

پھر ان بے چارے مربیوں کی حالت دیکھنے والی تھی انھوں نے بہت کوشش کی کہ تاویلوں کا سہارا لے کر اس حوالے سے جان چھڑائیں لیکن میں نے پھر ان کو باہر نہیں جانے دیا اور بار بار زور دے کر کہتا رہا کہ تمھیں کوئی شک نہیں تو پھر تمھارے گرو کو کیوں شک ہے۔ میں کہتا ہوں جہاں شک آ جائے وہاں ایمان نہیں رہتا تو مرزا کی جھوٹی نبوت کیسے قائم رہ سکتی ہے آخر تنگ آ کر کہنے لگے کہ ہم مرزا کی صداقت پر حلف اٹھاتے ہیں آپ اس کے جھوٹے ہونے پر حلف اٹھائیں اگرچہ مرزا قادیانی کے جھوٹا ہونے پر کوئی حلف نہ بھی اٹھائے وہ تب بھی جھوٹا ہے بہر حال ہم حلف اٹھا کر واپس لوٹ آئے یہ تھی ہماری گفتگو کی مختصر روداد جو ہم نے بیان کر دی اور ثابت کر دیا کہ مرزا قادیانی اور اس کے چیلے باہم بھی متضاد ہیں۔

گرو جنا دے ٹپنے تے چیلے جان چھڑپ
صفحہ ٦٩

خاتم النبیینؐ ...... کامل نمونہ

سید سلیمان ندویؒ

اٹھنا بیٹھنا‘ سونا جاگنا‘ شادی بیاہ‘ بال بچے‘ دوست احباب‘ نماز روزہ‘ دن کی عبادت‘ صلح و جنگ‘ آمد و رفت‘ سفر و حضر‘ نہانا دھونا‘ کھانا پینا‘ ہنسنا رونا‘ پہننا اوڑھنا‘ چلنا پھرنا‘ ہنسی مذاق‘ بولنا چالنا‘ خلوت جلوت‘ ملنا جلنا‘ طور و طریق‘ رنگ و بو‘ خدوخال‘ قد و قامت یہاں تک کہ میاں بیوی کے خانگی تعلقات اور ہم خوابی و طہارت کے واقعات ہر چیز پوری روشنی میں مذکور معلوم اور محفوظ ہے۔ میں یہاں پر آپ کو شمائل نبوی ﷺ کی صرف ایک قدیم ترین کتاب ”شمائل ترمذی“ کے ابواب کو پڑھ کر سناتا ہوں جس سے آپ کو اندازہ ہو گا کہ ہمارے پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام کے جزئی جزئی واقعات بھی کس طرح قلمبند ہو گئے ہیں۔

صفحہ ٧٠

میں ۔

صفحہ ٧١

کی موزوں کے بیان میں۔ کی پاپوش کے بیان میں۔ کے خاتم (انگوٹھی) کے بیان میں۔ کے خاتم تلوار کے بیان میں۔ کے خاتم زرہ کے بیان میں۔ کے خاتم خود کے بیان میں۔ کے خاتم عمامہ کے بیان میں۔ کے خاتم پائجامہ کے بیان میں۔ کے خاتم رفتار کے بیان میں۔ کے خاتم منہ پر کپڑا ڈالنے کے بیان میں۔ کے خاتم نشست کے بیان میں۔ کے خاتم تکیہ و بستر کے بیان میں۔ کے خاتم تکیہ لگانے کے بیان میں۔ کے خاتم کھانے کے بیان میں۔ کے خاتم روٹی کے بیان میں۔ کے خاتم گوشت اور سالن کرنے کے بیان میں۔ کے خاتم وضو کرنے کے بیان میں۔ کے خاتم کھانے کے پہلے اور پیچھے دعا پڑھنے کے بیان

کے میوہ کے بیان میں۔ کیا کیا پیتے تھے؟

صفحہ ٧٢

یہ آپ ﷺ کے تمام ذاتی حالات ہیں۔ ان میں سے ہر ایک عنوان کے متعلق کہیں چند کہیں بکثرت واقعات ہیں اور ان میں سے ہر پہلو صاف اور روشن ہے۔ آنحضرت ﷺ کی زندگی کا کوئی لمحہ پردہ میں نہ تھا۔ اندر آپ ﷺ بیویوں اور بال بچوں کے مجمع میں ہوتے تھے۔ باہر معتقدوں اور دوستوں کی محفل میں۔

یہ انداز محبت

قطب عالم حضرت میاں عبد الہادی صاحب رحمتہ اللہ علیہ سجادہ نشین دین پور شریف اپنے بڑھاپے اور بیماری کے باعث چلنے پھرنے سے معذور تھے مگر اس تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء سے آپ کی قلبی وابستگی کا یہ عالم تھا کہ آپ کے حکم کی تعمیل میں آپ کی چارپائی کو خان پور جلوس میں لایا گیا۔ ویگن پر چارپائی رکھی گئی۔ ان حالات میں آپ نے جلوس کی قیادت کی۔ خان پور کے اس جلوس میں حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی دیوبندی اور حضرت حافظ سراج احمد صاحب بریلوی آپ کے دائیں بائیں ہمراہ تھے۔ شرکاء جب ختم نبوت کا نعرہ لگاتے تو حضرت میاں عبد الہادی صاحب رحمتہ اللہ علیہ اپنی تمام تر توانائیوں کو جمع کر کے ”زندہ باد“ سے جواب دیتے۔ مرزائیت مردہ باد کہتے تو آپ پر جلال کی کیفیت طاری ہوتی۔ رفقاء کو اشارہ سے بلا کر فرماتے کہ میاں دیکھو! گواہ رہنا۔ کل قیامت کے دن رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ شفاعت میں گواہی دینا کہ یہ عاجز (آگے جو اپنی انکساری کے جملے ارشاد فرمائے، فقیر لکھ نہیں سکتا) عبد الہادی محض اس عمل کے صدقہ سے نجات و شفاعت کی بھیک مانگے گا۔ گواہی دینا کہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ ہی سے نجات ہوگی۔ نجات اور شفاعت حاصل کرنے کا یہ ”شارٹ کٹ“ راستہ ہے۔ انہیں حضرات کی ان اخلاص بھری دعاؤں اور جدوجہد کا نتیجہ ہے کہ یہ تحریک کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ دشمن اپنے کیے کی پا رہا ہے اور اپنے زخم چاٹ رہا ہے۔

(”تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء“ ص ١١٠ از مولانا اللہ وسایا)

صفحہ ٧٣

معراج النبیؐ اور مرزا غلام احمد قادیانی

مولانا سرفراز خان صفدر

وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِیْ اَرَيْنٰکَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ

(پ ١٥ بنی اسرائیل رکوع ٦)

اور نہیں بنایا ہم نے وہ دکھلاوا جو ہم نے تجھ کو دکھایا۔ مگر لوگوں کے لئے آزمائش۔

یہ آیت بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج کے ساتھ تعلق رکھتی ہے اگر آپ کو جسم اور روح دونوں کے ساتھ معراج نہ کرائی گئی ہوتی، تو اس میں لوگوں کے لئے کیا فتنہ اور کیا آزمائش تھی، خواب کا معاملہ نہ فتنہ ہوتا ہے اور نہ آزمائش بلکہ ایک تعبیر طلب امر ہوتا ہے، اس سے معلوم ہوا، کہ جو چیز سب لوگوں کے لئے فتنہ اور آزمائش تھی۔ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج جسمانی ہی تھی۔

حضرت عبداللہ بن عباسؓ جن کو مرزا صاحب کے نزدیک بھی قرآن کریم کی بڑی سمجھ اور مہارت حاصل تھی۔ وہ فرماتے ہیں کہ:-

ہِيَ رُؤْيَا عَيْنٍ اُرِيَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ اُسْرِیَ

(بخاری ج ٢ ص ٦٨٦ ، ترمذی ج ٢ ص ١٤١)

ترجمہ :- رویا سے آنکھوں کا دکھاوا مراد ہے، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کی رات دکھایا گیا تھا۔ بلکہ ساتھ ہی وہ خواب کی نفی کرتے ہیں، کہ لا رؤیا مناما (شفا ص ٨٧ و ہدایہ و نہایہ ص ١١٣) اس دکھلاوا سے خواب کا دکھلاوا مراد نہیں۔

الغرض قرآن کریم کا اسلوب بیان اور حضرت ابن عباسؓ کی روایت اس چیز کو متعین کرتی ہے، کہ رویا سے آنکھوں کے ساتھ دکھلاوا مراد ہے خواب اور کشف ہرگز مراد نہیں۔

سوال:- لفظ رؤیا کا عربی زبان میں خواب پر اطلاق ہوتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ معراج خواب کا ایک قصہ تھا۔ ایک کشفی امر تھا، جو خواب سے قریب تر ہوتا ہے ۔

جواب :- لغت عربی میں رویا کا معنی دکھلاوا ہوتا ہے، آنکھوں کے ساتھ ہو۔ یا خواب

صفحہ ٧٤

میں ہو پھر جہاں کہیں یہ لفظ خواب پر بولا گیا ہے۔ وہاں ایسے دلائل اور قرائن موجود ہیں کہ اس جگہ دکھلاوا سے خواب کا دکھلاوا مراد ہے اور جہاں ایسے قرائن موجود نہ ہوں یا وہاں آنکھوں کے ساتھ دیکھنے کے قرائن موجود ہوں تو اس سے آنکھوں کا دکھلاوا مراد ہے اور قصۂ معراج میں لفظ سبحان عبدہ اسرا اور فتنہ للناس اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور دیگر جمہور صحابہ کرام کی روایات آنکھوں کے ساتھ دکھلاوا کو متعین کرتی ہیں۔ لہٰذا رؤیا سے آنکھوں کا دکھلاوا ہی مراد ہوگا‘ خواب اور کشف مراد نہ ہوگا۔

البتہ یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے‘ کہ کیا رویا کا اطلاق بیداری میں آنکھوں کے ساتھ دیکھنے پر بھی لسان عربی میں وارد ہوا ہے یا نہیں‘ سو اس کا جواب یہ ہے‘ کہ زبان اہل عرب میں رویا کا اطلاق بیداری میں‘ آنکھوں سے دیکھنے پر ہوتا ہے۔ چنانچہ ایک راعی کہتا ہے‘

وكبر للرؤيا وهش فؤاده
وبشر قلبا كان جمّا بلاله

(روح المعانی ١٥ ص ٧)

ترجمہ:- شکاری نے شکار دیکھتے ہی خوشی کے مارے تکبیر کہی اور اس نے اپنے غمگین دل کو جس میں غم جمع ہو چکا تھا۔ خوشخبری سنائی۔

اس شعر میں رؤیا کا اطلاق بیداری میں آنکھوں کے ساتھ دیکھنے پر ہوا ہے۔ متنبی بدر بن عمار کی تعریف کرتے ہوئے کہتا ہے۔

مَضَى اللّيلُ والفضلُ الَّذِى لَكَ لا يَمْضِى
ورؤياكَ احلى فى العيون من الغمض

(دیوان ص ١٥٠)

ترجمہ:- رات ختم ہو چکی ہے اور تیری تعریف ابھی ختم نہ ہوئی۔ اور آنکھوں کے ساتھ تجھے دیکھنا نیند سے بھی زیادہ میٹھا اور لذیذ ہوتا ہے۔

اس شعر میں بھی لفظ رویا کا اطلاق آنکھوں کے ساتھ دیکھنے پر ہوا ہے۔ دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:-

ثُمَّ دَنَى فَتَدَلَّى o فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى o فَاَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا اَوْحَى مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاَى اَفَتُمَارُوْنَهُ عَلَى مَا يَرَى o وَلَقَدْ رَاَهُ نَزْلَةً اُخْرَى o عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى o عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَى o إِذْ

صفحہ ٧٥

يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى O مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى O لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى O

(پ ٢٧ نجم رکوع ١)

ترجمہ:- پھر نزدیک ہوا پس اور نزدیک ہوا پھر رہ گیا فرق دو کمان کے برابر یا اس سے بھی نزدیک پھر حکم بھیجا اللہ نے اپنے بندہ پر جو بھیجا، غلطی نہیں کھائی، رسول کے دل نے جو دیکھا۔ اب کیا تم اس سے جھگڑتے ہو۔ اس پر جو اس نے دیکھا اور اس نے اس کو دیکھا ہے۔ اترتے ہوئے ایک بار اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس، اس کے پاس ہے۔ بہشت آرام سے رہنے کی، جب چھا رہا تھا اس بیری پر جو کچھ بھی چھا رہا تھا، بہکی نہیں نگاہ اور نہ حد سے بڑھی، بیشک دیکھے اس نے اپنے رب کے بڑے نمونے اور نشانیاں۔

ان آیات میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر کا ذکر ہے جو بیت المقدس سے سدرۃ المنتہیٰ تک واقع ہوا ہے۔ جس میں آنکھ اور دل نے بیداری میں سب کچھ دیکھا ہے، اور دل اور آنکھوں کو غلطی اور لغزش بھی نہیں ہوئی، اور لوگ اس عجیب سفر پر آپ سے جھگڑا بھی کرتے تھے، اس سفر میں آپ نے اللہ تعالیٰ کی عجیب وغریب نشانیاں دیکھیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں۔

ثُمَّ ذُهِبَ بِي إِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهى فَإِذَا وَرَقُهَا كَآذَانِ الفِيَلَةِ وَإِذَا ثَمَرُهَا مِثْلُ قِلَالِ هَجَرَ قَالَ هَذِهِ سِدْرَةُ الْمُنْتَهى

(بخاری ١ص ٥٤٩ و مسلم ١ص ٩١ ابوعوانہ ج ١ص ١٢١)

ترجمہ:- پھر مجھے سدرۃ المنتہیٰ تک لے جایا گیا۔ میں نے دیکھا کہ بیری کے پتے ہاتھی کے کان کی طرح بڑے بڑے ہیں اور قبیلہ ہجر کے مٹکوں کی مانند اس کا پھل ہے۔ حضرت جبرئیل نے کہا یہ سدرۃ المنتہیٰ ہے۔ اور پھر وہاں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جو کچھ اس کو منظور تھا اپنا حکم بھیجا، حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت میں آتا ہے کہ:-

لَمَّا اُسْرِىَ بِرَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم اِنْتَهَى بِهِ إِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهى إِلَى أَنْ قَالَ فَرَاشٌ مِنْ ذَهَبٍ

(مسلم ١ص ٩٧‘ نسائی ١ص ٥٢‘ ترمذی ٢ص ١٦٠)

صفحہ ٧٦

ترجمہ :- جب سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی اسراء اور معراج کرائی گئی تو آپ کو سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچایا گیا۔ جہاں سونے کے پروانے اس کو گھیرے ہوئے تھے۔

صحابہ کرام کا وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً اُخْرَىٰ کی ضمیر مفعول میں اختلاف ہے کہ اس کا مرجع کون ہے۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام ہیں یا خدا تعالیٰ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم وغیرہ فرماتے ہیں کہ ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے، یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ کو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا اور حضرت عبداللہ بن مسعودؓ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور دیگر اکابر یہ فرماتے ہیں کہ مفعول کی ضمیر حضرت جبرئیلؑ کی طرف راجع ہے، یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرئیل علیہ السلام کو اصل شکل میں صرف دو مرتبہ دیکھا تھا، ان میں سے ایک مرتبہ جب حضرت جبرئیل علیہ السلام سدرۃ المنتہیٰ کے پاس نیچے اتر رہے تھے۔ چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی یہ روایت مسلم ص 98 وغیرہ میں موجود ہے اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام کا اس میں تو اختلاف تھا کہ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جسمانی آنکھوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو دیکھا تھا یا نہیں، ایک گروہ قائل تھا اور دوسرا منکر، لیکن معراج جسمانی میں کسی صحابی کو اختلاف نہ تھا، حتیٰ کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو بھی۔ کیونکہ وہ رؤیت خداوندی کا تو بڑی شدومد سے انکار فرماتی ہیں لیکن معراج جسمانی کا انکار نہیں کرتیں، بلکہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس آسمان سے نیچے اترتے ہوئے اصل شکل میں، حضرت جبرئیل علیہ السلام کی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے رؤیت پر زور الفاظ میں ثابت کرتی ہیں اور اپنے اس دعوے پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پیش کرتی ہیں (دیکھئے مسلم ص 98 وغیرہ) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا یہ ارشاد یاد رکھنا آگے کام آئے گا، کیونکہ داشتہ بکار آید۔

الحاصل سورۃ النجم کی مذکورہ آیات اور ان کی تفسیر میں پیش کردہ احادیث اور عقائد صحابہ کرامؓ سے یہ بات پوری طرح واضح اور ثابت ہو چکی ہے، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سفر جسمانی اور بیداری میں تھا، اور اسی واسطے مخالف آپؐ سے اس پر جھگڑا بھی کرتے تھے، اب آپ واقعہ معراج کا خلاصہ سن لیجئے جو متعدد احادیث کو سامنے رکھ کر انتخاب کیا گیا ہے۔

صفحہ ٧٧

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں حطیم میں لیٹا ہوا تھا کہ تین فرشتے آئے اور مجھے بیدار کر کے میرا پیٹ چاک کیا گیا اور میرا دل سونے کی تھالی میں رکھ کر زمزم کے پانی سے خوب دھو کر ایمان و حکمت سے پر کر کے سی دیا گیا، خچر سے چھوٹا اور گدھے سے بڑا ایک جانور جسے براق کہتے ہیں میری سواری کے لئے پیش کیا گیا۔ جہاں تک انسان کی نگاہ پہنچتی ہے وہاں تک اس کا ایک قدم ہوتا ہے، پھر مجھے بیت المقدس لے جایا گیا، براق اس حلقہ کے ساتھ باندھا گیا، جہاں دوسرے انبیاء عظام اپنی سواریوں کو باندھا کرتے تھے۔ پھر میں مسجد میں داخل ہوا۔ اور تمام پیغمبروں کو خدا تعالیٰ نے وہاں میرے لئے جمع کر دیا تھا، حضرت جبرئیل نے دروازہ کھولنے کے لئے کہا، دربان نے پوچھا کون ہے؟ کہا جبرئیل ہے، دربان نے کہا ساتھ میں کون ہے، کہا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، پوچھا گیا۔ کیا اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق ان کو بلایا گیا ہے؟ حضرت جبرئیل علیہ السلام سے علیک سلیک اور ملاقات ہوئی، انہوں نے صالح نبی اور نیک بیٹے کے ساتھ تعبیر کرتے ہوئے آپ کی آؤ بھگت کی وہاں سے دوسرے آسمان کے دروازے سے سابق طریق سے اجازت طلب کرنے کے بعد پہنچے وہاں حضرت عیسیٰ اور حضرت یحییٰ علیہما السلام سے سلام کیا۔ انہوں نے نبی صالح اور الاخ الصالح سے خطاب کرتے ہوئے مرحبا کہی۔ پھر تیسرے آسمان کے دروازے سے طریق مذکور کے ساتھ استیذان کیا گیا، وہاں یوسف علیہ السلام کو بطریق مذکور سلام کیا، اور ان کی حسین ترین صورت دیکھنے میں آئی۔ انہوں نے بھی بھائی صالح اور نبی صالح کو خوش آمدید کہی۔ پھر چوتھے آسمان پر اسی طرح اجازت کے بعد گئے وہاں حضرت ادریس علیہ السلام تھے۔ جبرئیل علیہ السلام نے کہا ان کو سلام کریں۔ میں نے سلام کیا، انہوں نے بھی دوسرے بزرگوں کی طرح مجھے مبارک باد دی، پھر وہاں سے پہلے کی طرح پانچویں آسمان پر اذن طلب کرنے کے بعد پہنچے، وہاں حضرت ہارون علیہ السلام کو سلام کیا گیا، انہوں نے بھی مرحبا سے یاد کیا پھر چھٹے آسمان پر گئے، وہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات اور آؤ بھگت ہوئی، جب ہم ان سے رخصت ہی ہوئے تو ان کے رونے کی آواز آئی، پوچھا گیا، اے موسیٰ ؑ کیوں روتے ہو، فرمایا کہ یہ نوجوان نبی، میرے بعد دنیا میں آیا اور اس کی اُمت میری امت سے کہیں زیادہ تعداد میں جنت میں داخل ہو گی، پھر ہم ساتویں آسمان پر گئے، وہاں حضرت ابراہیم ؑ سے ملاقات ہوئی میں نے ان

صفحہ ٧٨

سے سلام عرض کیا، انہوں نے ابنِ صالح اور نبیِ صالح کے الفاظ سے یاد کرتے ہوئے خوش آمدید کہی، پھر ان سے رخصت ہو کر سدرۃ المنتہیٰ مجھے لے جایا گیا، وہاں بیری کے پتے جو دیکھے تو وہ ہاتھی کے کان کی مانند تھے اور اس کا پھل قبیلہ ہجر کے مٹکوں کی طرح تھا، وہ مقام احکام خداوندی کے لئے ہیڈ کوارٹر کی مانند ہے، وہاں سے احکام اُترتے اور چڑھتے ہیں، وہاں سونے کے پروانوں نے اس کو گھیرے میں لے رکھا تھا، وہاں سے چار نہریں پھوٹتی ہیں۔ دو باطنی جو جنت میں جاتی ہیں اور دو ظاہری نیل اور فرات وہاں سے مجھے بیت المعمور کے پاس لے جایا گیا۔ جہاں ہر روز ستر ہزار فرشتے عبادت کے لئے آتے ہیں۔ پھر ان کو مدت العمر دوبارہ وہاں آنے کا موقع نہیں ملتا، مجھے وہاں تین پیالے پیش کئے گئے۔ ایک دودھ کا، دوسرا شراب کا تیسرا شہد کا۔ میں نے دودھ کے پیالے کو قبول کر لیا۔ مجھے ارشاد ہوا کہ آپؐ نے حسنِ انتخاب میں کمال کر دیا۔ دودھ سے دینِ فطرت مراد ہے۔ اگر آپؐ خمر وغیرہ لے لیتے تو آپؐ کی امت بہک جاتی پھر مجھ پر پچاس نمازیں فرض کی گئیں۔ میں آمنا و صدقنا کہتے ہوئے خوشی خوشی واپس آیا۔ جب موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے سوال کیا، کیا کچھ انعام لائے، میں نے کہا پچاس نمازیں انہوں نے فرمایا، میں بنی اسرائیل پر پانچ سے کم نمازوں میں تجربہ کر چکا ہوں۔ آپؐ کی امت ان سے بھی خلقت میں ضعیف اور کمزور ہے۔ آپؐ اپنے رب سے تخفیف کا مطالبہ کریں۔ آپؐ فرماتے ہیں میں پھر واپس آ گیا، اللہ تعالیٰ پانچ پانچ نمازیں، میرے بار بار آنے جانے سے معاف کرتا رہا۔ حتیٰ کہ صرف پانچ رہ گئیں۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پھر بھی تخفیف کا مطالبہ پیش کرنے کا کہا۔ لیکن میں نے کہا مجھے اب شرم آتی ہے۔ اس لئے میں ان کو بطیبِ خاطر قبول کرتا ہوں۔ اتنے میں آواز آئی کہ ہمارے ہاں پہلے سے ہی یہی پانچ نمازیں طے ہو چکی تھیں۔ باقی پچاس باعتبارِ اجر اور ثواب کے تھیں کیونکہ ہر نیکی کا ادنیٰ بدلہ دس گنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملتا ہے، اور مجھے وہاں تحفتاً پانچ نمازیں ملیں، دوسرے سورۃ بقرہ کی آخری آیات اور تیسرے یہ کہ آپؐ کی امت میں سے جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرے گا۔ اس کی بخشش ہو گی۔ میں یہ نعمتیں اور خوشخبریاں لے کر صبح سے پہلے مکہ مکرمہ پہنچ گیا۔ جب یہ واقعہ مشرکین نے سنا تو اودھم مچا دیا۔

ہم نے متعدد روایات کو سامنے رکھ کر معراج کے اہم واقعات اور جزئیات کا ترجمہ پیش کر دیا ہے۔ بعض ضروری اور قابلِ ذکر جزئیـ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم ان صحابہ بحوالہ پیش کر دیں۔ اگرچہ ان کی روایات میں حذف و اضافہ کا ضرور فرق ہے، لیکن ایسی کمی سے اصل واقعہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا، اب آپ صـ

ترمذی ٣ ص ١٤١، ابوداؤد ص ٢/ ٢٦٣

٣٠٩، مستدرک ٤ ص ٢٨٨

ص ١٤١ ابن ماجہ ص ١٦٥، مشکوۃ مـ

مستدرک ٢ ص ٣٦٢

خصائص الکبریٰ ١ ص ١٤٧

فائدہ:- حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک ر

صفحہ ٧٩

پیش کر دیا ہے۔ بعض ضروری اور قابل ذکر جزئیات کا ذکر عنقریب کر دیا جائے گا۔

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم ان صحابہ کرامؓ کے اسماء جن سے واقعہ معراج منقول ہے‘ بحوالہ پیش کر دیں۔ اگر چہ ان کی روایات میں‘ اجمالی تفصیل‘ تقدیم‘ تاخیر اور بعض اجزاء کے حذف و اضافہ کا ضرور فرق ہے‘ لیکن ایسی لمبی روایت میں ایسا ہو جانا ناگزیر امر ہے اور اس سے اصل واقعہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا‘ اب آپ صحابہ کرامؓ کے اسماء مع حوالہ جات سن لیجئے۔

ترمذی ص ١٤١ ابو داؤد ص ٣١٣/٢ مسند طیالسی ص ٢٧٤

٣٠٩‘ مستدرک ج ٢ ص ٤٨٨

ص ١٤١ ابن ماجہ ص ١٦٥‘ مشکوۃ ص ٥٢٩

مستدرک ج ٢ ص ٣٦٢

خصائص الکبریٰ ص ١٢٧

فائدہ:۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک حدیث بحوالہ مسلم پہلے بھی عرض ہو چکی ہے۔

صفحہ ٨٠

خصائص الکبریٰ ١ ص ١٥٨ (قال الہیثمی ”اسنادہ صحیح) (١٤) حضرت سعد بن ابی وقاصؓ مستدرک ٣ ص ١٥٦ (١٥) حضرت ابی بن کعبؓ (١٦) حضرت سمرۃ بن جندبؓ (١٧) حضرت صہیب بن سنانؓ (١٨) حضرت عبداللہ بن عمرؓ (١٩) حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ (٢٠) حضرت عبداللہ بن اسعد بن زرارۃؓ (٢١) حضرت عبدالرحمن بن قرط الثمالیؓ (٢٢) حضرت عمر بن الخطابؓ (٢٣) حضرت ابوایوب انصاریؓ (٢٤) حضرت ابوالحمراءؓ (٢٥) حضرت ابوحبہ انصاریؓ (٢٦) حضرت ابوسفیان بن حربؓ (٢٧) حضرت ابولیلیٰ انصاریؓ (٢٨) حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ (٢٩) حضرت ام ہانیؓ (٣٠) حضرت علیؓ (٣١) حضرت ابو امامہؓ (٣٢) حضرت سہیل بن سعدؓ (٣٣) حضرت ام سلمہؓ ان تمام اکابر کی روایات خصائص الکبریٰ ١ ص ١٦٥ تا ص ١٧٩ وغیرہ میں ملاحظہ فرمائیں۔ علامہ زرقانی لکھتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج کی حدیثیں پینتالیس صحابہ کرامؓ سے مروی ہیں (زرقانی شرح مواہب ص ١/ ٣٥٥

ہر صدی پر مجدد آنے کی حدیث صرف حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور پھر فقط ابوداؤد میں آتی ہے۔ صحاح ستہ کی اور کسی کتاب میں نہیں ہے۔ جس پر مرزا صاحب نے اپنی مجددیت کی تعمیر کی ہے۔ اور معراج کی حدیث مختلف طریق سے کم از کم ٤٥ صحابہ کرامؓ سے مروی ہے اور پھر خاص کر حدیث کے طبقہ اولیٰ بخاری و مسلم وغیرہ ہیں جن کے متعلق مرزا صاحب نے اقرار کیا ہے کہ:۔

”اگر میں بخاری و مسلم کی صحت کا قائل نہ ہوتا‘ تو میں اپنی تائید دعویٰ میں کیوں بار بار ان کو پیش کرتا۔“ (ازالہ اوہام ص ٨٨٢)

آپ نے ہمارے استدلال کا معیار تو دیکھ لیا۔ اب ذرا مرزا صاحب کا معیار بھی ملاحظہ فرمائیے‘ مرزا صاحب اپنے مسیح موعود ہونے پر یوں استدلال کرتے ہیں‘ کہ کریم بخش روایت کرتے ہیں کہ گلاب شاہ مجذوب نے بیس برس پہلے مجھ کو یہ کہا تھا کہ عیسیٰ اب جوان ہو گیا ہے۔ اور لدھیانہ میں آکر قرآن کی غلطیاں نکالے گا۔ (ازالہ اوہام ص ٧٠٨)

گویا کریم بخش اور مجذوب شاہ کی بات تو مرزا صاحب کے لئے قابل حجت‘ مگر صحابہ کرامؓ کی ایک کثیر تعداد کی روایت قابل قبول نہیں۔ پھر مزید لطف یہ ہے کہ کریم بخش کی

صفحہ ٨١

تعدیل بہت سے گواہوں سے کی گئی ہے۔ جن میں خیراتی‘ بوٹا‘ کنہیا لال۔ مراری لال۔ روشن لال اور کھتیامل وغیرہ ہیں اور ان کی گواہی یہ ہے کہ کریم بخش کا کوئی جھوٹ کبھی ثابت نہ ہوا۔

آپ پڑھ چکے ہیں‘ کہ حدیث معراج بہت سے صحابہ کرامؓ سے مروی ہے‘ اس کے تواتر معنوی کا انکار تو شاید کوئی مسلوب العقل اور اندھا ہی کرے گا۔ علاوہ ازیں مرزا صاحب لکھتے ہیں۔

النصوص يحمل على ظواهر (ازالہ اوہام) ص ٥٤٠

کہ نصوص کو ظاہر معنی پر ہی حمل کیا جائے گا۔

یعنی بلاوجہ تاویل وغیرہ سے کام نہ لیا جائے گا‘ اور حدیث معراج کا ایک ایک لفظ معراج جسمانی ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ مرزا صاحب لکھتے ہیں

کیوں چھوڑتے ہو لوگو! نبیؐ کی حدیث کو
جو چھوڑتا ہے چھوڑ دو تم اس خبیث کو (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٧) اور یہ مضمون مرزا

صاحب نے اپنی طرف سے نہیں کہا۔ کیونکہ وہ فرماتے ہیں۔

"میں بغیر خدا کے بلائے بول نہیں سکتا" (حقیقۃ الوحی ص ٢٧٨)

تو لا بدی ہے کہ یہ بھی الہام خداوندی ہوگا۔ اب دیکھئے مرزا صاحب کے امتی قرآن کریم حدیث شریف پر اگر یقین نہیں رکھتے تو کیا مرزا صاحب کی بات مانتے ہیں یا نہیں

ع نبی اپنا اپنا امام اپنا اپنا

تو فبھا ورنہ وہ جائیں اور ان کا عقیدہ اور نظریہ‘ ہم تو پروردگار عالم اور آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم صریح پر اعتقاد اور ایمان رکھتے ہیں اور کسی مومن کو بھلا زیبا بھی کب ہے کہ کلمہ پڑھنے کے بعد اپنی مرضی سے زندگی بسر کرے یا من مانے عقیدوں پر یقین رکھ کر فلاح اخروی کا مستحق ہو۔ اور سب سے اہم بات فلاح اخروی ہے مگر افسوس کہ وہ اب ہے کہاں الا ماشاء اللہ۔

معلوم یہ ہوتا ہے وہی زیست تھی اپنی
جو چیز کہ اب تیری نگاہوں میں نہیں ہے
صفحہ ٨٢

قرآن کریم اور صحیح احادیث سے معراج جسمانی کا ثبوت پہلے گذر چکا ہے اب معراج جسمانی کے متعلق جمہور اہل اسلام کا عقیدہ سن لیجئے۔ حافظ ابن کثیرؒ لکھتے ہیں۔ کہ اکثر علماء کرام اور جمہور سلف و خلف کا اس بات پر اتفاق ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حالت بیداری میں جسم عنصری کے ساتھ معراج کرائی گئی (تفسیر ٥ ص ١٢١ اور بدایہ و نہایہ ٣ ص ١١٣)

ملا بغویؒ لکھتے ہیں کہ اکثر کا مذہب یہی ہے:- کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حالت بیداری میں اپنے جسم اطہر کے ساتھ معراج کرایا گیا اس پر بے شمار صحیح حدیثیں موجود ہیں۔ (معالم ٥ ص ١٠٧)

علامہ عینیؒ اور حافظ ابن حجرؒ لکھتے ہیں کہ:- کہ اسراء اور معراج ایک ہی رات میں بیداری کی حالت میں جسم اطہر کے ساتھ واقع ہوئی جب کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت اور رسالت مل چکی تھی یہی جمہور محدثین اور فقہاء و متکلمین کا مذہب ہے۔ اور اس عقیدہ کی دلیل میں متعدد صحیح اور ظاہر المعنی حدیثیں موجود ہیں۔

(عمدۃ القاری ٨ ص ٧٩ اور فتح الباری ٧ ص ١٧٠)

علامہ سید محمود آلوسیؒ لکھتے ہیں۔ کہ اکثر علماء اس کے قائل ہیں کہ اسراء اور معراج دونوں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حالت بیداری میں جسم عنصری کے ساتھ کرائی گئی تھیں۔ (روح المعانی ١٥ ص ٨)

امام نوویؒ لکھتے ہیں:- کہ حق بات تو یہ ہے کہ جس پر جمہور خلف و سلف اور متاخرین فقہاء و

صفحہ ٨٣

محدثین اور متکلمین ہیں، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حالت بیداری میں جسم مبارک کے ساتھ معراج کرائی گئی اور یہ واقعہ نبوت کے بعد کا ہے کیونکہ اس پر اجماع ہے، کہ نمازیں معراج کی رات فرض کی گئی ہیں، اور نماز کی فرضیت نبوت کے بعد ہوئی ہے۔ (نووی شرح مسلم ١ ص ٩١)

علامہ زرقانی لکھتے ہیں :-

کہ یہی جمہور محدثین، متکلمین اور فقہاء کرام کا مذہب اور عقیدہ ہے۔

(زرقانی شرح مواہب ١ ص ٣٥٥)

قاضی عیاضؒ جمہور کا مذہب بتلاتے ہوئے بعض کا نام بھی لکھتے ہیں:-

کہ یہی عقیدہ حضرت ابن عباسؓ ، حضرت جابرؓ ، حضرت انسؓ ، حضرت حذیفہؓ ، حضرت عمرؓ ، حضرت ابو ہریرہؓ ، حضرت مالک بن صعصعہؓ ، حضرت ابو حیہ بدریؓ ، حضرت ابن مسعودؓ ، اور حضرت عائشہؓ کا مختار مذہب ہے اور یہی ضحاکؒ ، سعید بن جبیرؒ ، قتادہؒ ، سعید بن المسیبؒ اور ابن شہابؒ ، ابن زیدؒ ، حسن بصریؒ ، ابراہیم نخعیؒ مسروقؒ ، مجاہدؒ ، عکرمہؒ ، ابن جریجؒ ، امام طبریؒ ، امام احمد بن حنبلؒ اور جمہور محدثینؒ ، متکلمین اور مفسرین کا عقیدہ اور مذہب ہے۔ (شفا قاضی عیاضؒ ص ٨٦)

راقم کہتا ہے، کہ کسی صحابی اور تابعی بلکہ کسی معتبر امام اور محدث سے صحیح سند اور صریح الفاظ کے ساتھ معراج جسمانی کا انکار ثابت نہیں ہو سکتا۔ ایڑی چوٹی کا بھی زور لگا کر اگر ثابت کیا جائے تو محال ہے، مگر کسی میں ہمت ہے تو آئے میدان میں فھل من مبارز جن اکابر سے اس کے خلاف منقول ہے۔ اس کا جواب عنقریب آتا ہے۔

جب یہ ثابت ہو گیا، کہ جمہور سلف و خلف کا یہی مذہب ہے، تو مرزا صاحب کی بھی سنئے کہ سلف و خلف ان کے لئے بطور وکیل کے ہیں، اور ان کی شہادت آنے والی ذریت کو ماننا پڑتی ہے۔ (ازالہ اوہام ص ٣٧٤)

اب ہم مرزا صاحب کی اپنی تحریرات پیش کرتے ہیں، شاید کہ ان کے ماننے والوں

صفحہ ٨٤

کے لئے یہ عبارات سوہان روح ثابت ہوسکیں ملاحظہ کریں مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ:-

الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ۔ الآ یہ معراج زمانی اور مکانی دونوں پر مشتمل ہے اور بغیر اس کے معراج ناقص رہتا ہے جیسا کہ سیر مکانی کے لحاظ سے خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد حرام سے بیت المقدس تک پہونچایا تھا ایسا ہی سیر زمانی کے لحاظ سے (اشتہار چندہ منارۃ المسیح ص ج)

ان معراج نبيّنا لما كان مكانيا كذالك كان زمانيّا ولا ينكره الا الذى فقد بصره وصار من العين (خطبہ الہامیہ ص 199) ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج جس طرح مکانی تھی۔ اسی طرح زمانی بھی تھی، اور اس کا انکار صرف وہی کرسکتا ہے جو دیدۂ بصیرت سے محروم ہو۔

فقد عرج رسول الله صلى الله عليه وسلم بجسمه في السماء وهو يقظان لاشَكّ فيه ولا ريب (حمامۃ البشری ص ٣٤) جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے حالت بیداری میں جسم عنصری کے ساتھ معراج واقع ہوئی۔ اس میں کوئی شک اور شبہ نہیں ہے۔ اس عبارت کے آگے حضرت عائشہؓ وغیرہ کا حوالہ اس کے خلاف بھی دیتے ہیں، ہم اس کی بحث آئندہ عرض کریں گے۔

مگر باوجودیکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رفع جسمی کے بارے میں یعنی اس بارہ میں کہ وہ جسم کے ساتھ شب معراج میں آسمان کی طرف اٹھائے گئے تھے۔ تقریباً تمام صحابہ کرام کا یہی اعتقاد تھا۔ جیسا کہ مسیح کے اٹھائے جانے کی نسبت اس زمانے کے لوگ اعتقاد رکھتے ہیں۔ یعنی جسم کے ساتھ اٹھائے جانا، اور پھر جسم کے ساتھ اترنا لیکن پھر بھی حضرت عائشہ

صفحہ ٨٥

رضی اللہ عنہا اس بات کو تسلیم نہیں کرتیں اور کہتی ہیں کہ وہ ایک رویا صالحہ تھا اور کسی نے حضرت عائشہ صدیقہ کا نام نعوذ باللہ ملحدہ یا ضالہ نہیں رکھا اور نہ اجماع کے خلاف بات کرنے سے ان میں ٹوٹ کر پڑ گئے۔ اب اے منصفو ! اور حق کے طالبو ! اے خدا تعالیٰ سے ڈرنے والے بندو ! اس مقام میں ذرا ٹھہر جاؤ اور آہستگی اور تدبر سے خوب غور کرو کہ کیا ہمارے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا آسمان پر جسم کے ساتھ چڑھ جانا اور پھر جسم کے ساتھ اترنا ایسا عقیدہ نہیں جس پر صدر اول کا اجماع تھا

(ازالۃ اوہام ص ١٠٠٦)

اب یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ جماعت صحابہ رضی اللہ عنہم کا اجماع کس پوزیشن کا ہوتا ہے، سو اس کا جواب خود مرزا صاحب ہی سے سن لیجئے۔

(تریاق القلوب ص ٤٧)

اجماع سے تو صحابہ کرام کا اجماع ہی مراد ہے۔

صرف اجماع صحابہ ہے (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٢٣٠) (العیاذ باللہ)

مرزا صاحب کی ان تحریرات سے یہ معلوم ہوا ہے کہ صحابہ کرام کا اجماع حجت شرعی ہے کیونکہ ان کا اجماع کبھی بھی گمراہی پر نہیں ہو سکتا البتہ رائے صحابی حجت نہیں

ممکن ہے، کوئی صاحب کہہ دے کہ اگرچہ صحابہ کرام کا اپنی تحقیقات اور معلومات کی بنا پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معراج جسمانی پر اجماع ہو چکا تھا۔ لیکن اگر کسی وقت سائنس کی جدید تحقیقات اور نئے فلسفے کے زور میں آ کر اس کے خلاف اجماع ہو جائے تو کیا خرابی ہے؟ اور ایسا کیوں نہیں ہو سکتا؟ لیکن کیا کیا جائے کہ خود مرزا صاحب ہی اس کی بھی ناکہ بندی کر چکے ہیں چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ جو شخص بعد صحابہ کرام کے کسی مسئلہ میں اجماع کا دعویٰ کرے وہ کذاب ہے (حقیقۃ الوحی ص ٤١)

اب کسی کو کیا مصیبت پڑی ہے کہ قرآن کریم حدیث شریف اور اجماع صحابہ کرام کی

صفحہ ٨٦

خلاف ورزی کرتے ہوئے کذاب بنے اور سلف سے روگردانی کرے۔ جو سلف کے لئے بطور وکیل کے تھے۔ قد یصدق الکذوب کے قاعدہ کے پیش نظر مرزا صاحب کا یہ ارشاد بالکل بجا اور صحیح ہے کہ صحابہ کرامؓ کے بعد اجماع کا دعویٰ کرنے والا کذاب ہے۔ اس کا مطلب اس کے بغیر اور کیا ہو سکتا ہے کہ جس مسئلہ پر قرآن کریم کی نصوص قطعیہ موجود ہوں اور متواتر حدیثیں بھی موجود ہوں اور لطف یہ ہے کہ اس پر صحابہ کرامؓ کا اتفاق اور اجماع بھی قائم ہو چکا ہو، اب اس کے خلاف کوئی اور متوازی اور متصادم عقیدہ اور نظریہ قائم کرنا کونسا ایمان ہے اور اس میں فوز و فلاح کی کونسی صورت مضمر ہو سکتی ہے۔ ممکن ہے اس نظریہ کے بعد وہ اس نتیجہ پر پہنچیں۔ کہ ع:- نگاہ شوخ اب کچھ شرمگیں معلوم ہوتی ہے۔

ہم نے معراج جسمانی کے اثبات پر جو دلائل ہدیہ ناظرین کئے ان کی موجودگی میں کسی اور دلیل کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ ہم چاہتے ہیں کہ مسئلہ کا ہر پہلو واضح سے واضح تر ہو جائے، اس لئے چند احادیث پیش کرنا قرین قیاس معلوم ہوتا ہے، ملاحظہ فرمائیے:-

معراج جسمانی کا واقعہ سن کر مشرکین ہر طرف سے امنڈ آئے۔ اور انہوں نے مجھ سے بیت المقدس کی کچھ نشانیاں اور علامتیں پوچھیں، مجھے وہ نشانیاں معلوم نہ تھیں، مجھے اس وقت اتنی پریشانی لاحق ہوئی کہ زندگی بھر ایسی پریشانی لاحق نہ ہوئی تھی۔ اتنے میں حق تعالیٰ نے اپنے خاص فضل و کرم سے بیت المقدس کا نقشہ میرے سامنے پیش کر دیا، مخالف مجھ سے جو علامت پوچھتے جاتے میں دیکھ کر بتلاتا جاتا۔

(بخاری ١ ص ٥٤٨ مسلم ١ ص ٩٦ صحیح ابو عوانہ ١ ص ١٢١)

اس روایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مشرکین کو بھی یہ بات ذہن نشین کرائی گئی تھی کہ آپؐ کو حالت بیداری میں معراج کرائی گئی ہے اور اس پر تعجب کرتے ہوئے مشرکین نے سوالات کی بوچھاڑ شروع کر دی، اگر یہ معاملہ خواب یا کشف کا ہوتا، تو مشرکین کو امتحان لینے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوتی، بلکہ جو کچھ سنا تھا اس پر صاد کرتے اور اسی کو غنیمت سمجھ لیتے۔

صفحہ ٨٧

المقدس جا کر واپس تشریف لائے۔ اسی صبح آپؐ نے وہ واقعہ لوگوں سے بیان فرمایا جس سے بہت سے لوگ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا کر ہر طرح کی تصدیق کر چکے تھے مرتد ہو گئے، پھر کفار ابوبکرؓ کے پاس گئے اور کہنے لگے کیا اب بھی آپ اپنے رفیق یعنی جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرو گے؟ لیجئے وہ تو یہ کہہ رہے ہیں کہ آج رات وہ بیت المقدس جا کر واپس بھی آ گئے ہیں۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا کیا واقعی حضرتؐ نے ایسے فرمایا ہے، وہ کہنے لگے ہاں، حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا تو میں اس کو مانتا ہوں، لوگوں نے کہا اے ابوبکرؓ کیا تم اس کی تصدیق کرتے ہو کہ وہ ایک ہی رات میں، بیت المقدس وغیرہ تک گئے اور صبح سے پہلے پھر واپس بھی آ گئے۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا ہاں! میں تو بیت المقدس سے دُور کی باتوں کی تصدیق کرتا ہوں، یعنی جو صبح و شام آسمان کی خبریں بیان فرماتے ہیں، ان کو میں صحیح اور حق جانتا ہوں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، کہ اسی وجہ سے حضرت ابوبکر رضی اللہ کا نام صدیق رکھا گیا۔ (مستدرک ٣ ص ٦٢ قال الحاکمؒ والذہبیؒ صحیح) اس روایت سے ایک تو یہ بات معلوم ہوئی، کہ مشرکین کے ذہن نشین یہی کرایا گیا تھا، کہ حضرتؐ حالت بیداری میں بیت المقدس جا کر واپس تشریف لائے ہیں، جن کی قسمت میں ایمان نہ تھا۔ وہ کلمہ پڑھنے کے بعد بھی شکوک و شبہات میں مبتلا ہو کر مرتد ہو گئے۔ اور حضرت ابوبکرؓ کو صدیق کا لقب عطا ہوا، اگر یہ معاملہ خواب کا ہوتا۔ تو لوگوں کے مرتد ہونے کی کوئی وجہ نہ تھی؟ اور خواب کا معاملہ کون سا بڑا کارنامہ تھا، کہ حضرت ابوبکر صدیق کہلائے؟

اور دُوسری یہ بات ثابت ہوئی، کہ حضرت عائشہؓ بھی معراج جسمانی کی قائل تھیں، ورنہ اس کی تصریح فرما دیتیں، کہ یہ کفار نے بہتان باندھا ہے وہ ایک خواب تھا، حضرت عائشہؓ کی ایک روایت ہم پہلے عرض کر چکے ہیں اور دوسری روایت یہ ہے اور یہ دونوں اپنے مفہوم میں بالکل واضح ہیں۔

واقعہ معراج جب اہل مکہ کو سنایا۔ تو مطعم نے کہا کہ اب تک آپ کا معاملہ ٹھیک تھا، سوائے اس بات کے جو اب کہہ رہے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ تم جھوٹے ہو۔ (العیاذ باللہ) ہم تو اگر بڑی تیزی سے بھی اونٹوں کو چلائیں تو کہیں دو مہینوں کے بعد بیت المقدس سے واپس آ سکتے

صفحہ ٨٨

ہیں۔ اور تم کہتے ہو کہ میں ایک رات میں جا کر واپس آ گیا‘ لات اور عزیٰ کی قسم ہے‘ کہ میں تو ہرگز نہ مانوں گا۔

(تفسیر ابن کثیر ٥ ص ١٤٩‘ فتح الباری ٧ ص ١٥١‘ البدایہ والنہایہ ٣ ص ١١‘

خصائص الکبریٰ ص ١٧٨)

اس روایت سے بھی معلوم ہوا کہ مطعم وغیرہ کو یہی سمجھایا گیا تھا۔ کہ آپ کو حالت بیداری میں معراج کرائی گئی ہے‘ اور یہ چیز اس کی سمجھ میں نہیں آ سکتی تھی‘ اس لئے انہوں نے آپ کو معاذ اللہ جھوٹا بھی کہا اور قسم کھا کر پر زور الفاظ میں مخالفت بھی کی۔

بیت المقدس وغیرہ سے واپس تشریف لائے تو۔ ام ہانیؓ کو فرمانے لگے‘ مجھے یقین ہوا کہ اس واقعہ میں لوگ میری ضرور تکذیب کریں گے اس خیال سے غمگین ہو کر بیٹھ گئے‘ ابو جہل نے جب یہ واقعہ سنا تو آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا۔ کیا آپ رات بیت المقدس میں جا کر صبح پھر ہم لوگوں میں واپس آ گئے‘ آپ نے فرمایا ہاں‘ ابو جہل نے لوگوں کو بلایا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا۔ ذرا ان کو بھی وہ واقعہ سنا دیں جو مجھ کو سنا رہے تھے۔ آپ نے وہ واقعہ سنایا لوگوں نے کہا کیا بیت المقدس سے آپ کی مراد ایلیا ہے؟ فرمایا‘ ہاں‘ یہ سنتے ہی لوگوں کی یہ کیفیت ہو گئی‘ کہ کوئی تالیاں بجانے لگا اور کسی نے تعجب سے سر پر ہاتھ رکھ لیا

(تفسیر ابن کثیر ٥ ص ١٢٨ مسند احمد ١ ص ٢٨١ خصائص الکبریٰ ص ١٦٠ بسند صحیح)

اس روایت کا ایک ایک لفظ پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ یہ واقعہ جسم عنصری اور بیداری کا تھا۔ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس واقعہ کے بیان کرنے پر مامور نہ ہوتے۔ تو شاید آپؐ کفار کی تکذیب کے ڈر سے (معاذ اللہ) اس کو بیان بھی نہ فرماتے اور اگر یہ واقعہ خواب کا ہوتا‘ تو ابو جہل وغیرہ کو مجمع اکٹھا کرنے اور واقعہ سن کر تعجب کرنے‘ تالیاں بجانے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ کیونکہ خواب کے بارے میں اتنا ہنگامہ برپا کرنے کا کوئی مطلب ہی نہیں ہو سکتا۔‘‘

تجارت شام کو گیا تھا اور واپس آ رہا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے براق پر سوار ہو کر جاتے وقت ان کو سلام کیا۔ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پہچان لی اور جب واپس مکہ آئے تو اس بات کی گواہی بھی دی۔ نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ واپس

ہو کر اس قافلہ کی ایک ایک علامت تائید بھی کی تھی‘ اسی حدیث میں رسول اللہ این كنت اللیلة قـ ١٢٦ و خصا الکبریٰ ١ ص ١٥٨) کہ کہنے لگے‘ حضرت آپ رات کہاں اس کے بعد آپؐ نے هذا اسناد صحیح کہ اس کی سـ اس حدیث سے معلوم کی آواز کو پہچاننا اور پھر مکہ مکرمہ شہادت دینا۔ نیز حضرت ابو بکر صـ کرتا اور آپ کا وہاں موجود نہ رہـ واقعہ خواب یا کشف کا ہرگز نہ تھا‘

خلاصہ کلام یہ ہے کہ احادیث اور اجماع صحابہ کرامؓ اور پر شاہد عدل ہیں۔ کہ آنحضرت صـ بلکہ حالت بیداری میں جسم مبارک جس پر نسلاً بعد نسلٍ اکابر تمام صـ ذہن سے اس کو نہیں نکال سکا لیـ نے اپنی عادت کے مطابق معراج ص ٩٣٢ ) پر بحث کرتے ہوئے حدیث میں ہے کہ چھت کو کھول کـ لایا گیا۔ جس میں حکمت اور ایما آسمان کی طرف لے جایا گیا‘ مگـ تھا۔ کیا ہوا اور کس کے حوالہ کیا گـ

صفحہ ٨٩

ہو کر اس قافلہ کی ایک ایک علامت بھی لوگوں کو بتلائی تھی اور جب قافلہ آیا تو انہوں نے اس کی تائید بھی کی تھی، اس حدیث میں یہ ناقابل فراموش مضمون بھی ہے۔ فاتانی ابو بکر فقال یا رسول الله این کنت اللیلة قد التمستک فی مکانک (شفا ص ١٨٧ تفسیر ابن کثیر ٥ ص ١٢٦ و خصائص الکبریٰ ١ ص ١٥٨) کہ صبح کے وقت حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور کہنے لگے حضرت آپؐ رات کہاں تھے، میں نے آپؐ کو آپؐ کے مکان پر تلاش بھی کیا۔

اس کے بعد آپؐ نے معراج کا مفصل واقعہ بیان فرمایا، امام بیہقیؒ فرماتے ہیں، کہ ھذا اسناد صحیح کہ اس کی سند صحیح ہے۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قافلہ والوں کو پہچان کر آپؐ کا سلام کہنا، اور ان کا آپؐ کی آواز کو پہچاننا اور پھر مکہ مکرمہ واپس ہو کر قافلہ کی علامتیں بتلانا اور ان کا اہل مکہ سے اس کی شہادت دینا۔ نیز حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا رات کے وقت آپؐ کو مکان پر تلاش کرنا اور آپؐ کا وہاں موجود نہ رہنا، ان میں سے ایک ایک بات اس کو متعین کر رہی ہے کہ یہ واقعہ خواب یا کشف کا ہرگز نہ تھا، بلکہ جسم عنصری کے ساتھ حالت بیداری کا تھا۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ قرآن کریم کی پیش کردہ آیات اور مذکورۃ الصدر صحیح اور متواتر احادیث اور اجماع صحابہ کرامؓ اور سلف وخلف کا اتفاق اور خود مرزا صاحب کی تحریرات اس بات پر شاہد عدل ہیں۔ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج کا واقعہ کوئی روحانی اور کشفی امر نہ تھا بلکہ حالت بیداری میں جسم مبارک کا ایک بین اور روشن واقعہ تھا اور یہی مسلمانوں کا عقیدہ ہے۔ جس پر نسلاً بعد نسلٍ اکابر تمام مسلمان متفق رہے ہیں اور کوئی فرسودہ نیا اور پرانا فلسفہ ان کے ذہن سے اس کو نہیں نکال سکا لیکن ایک حقیقت کو تسلیم کرنے کے بعد مرزا غلام احمد آنجہانی نے اپنی عادت کے مطابق معراج جسمانی پر کئی اعتراضات بھی کئے ہیں (حاشیہ ازالۂ اوہام ص ٩٣٢ ) پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔ معراج کی حدیثوں میں سخت تعارض ہے۔ کسی حدیث میں ہے کہ چھت کو کھول کر جبرئیل آئے۔ اور میرے سینے کو کھولا، پھر ایک سونے کا طشت لایا گیا۔ جس میں حکمت اور ایمان بھرا ہوا تھا، سو وہ میرے سینے میں ڈالا گیا، پھر میرا ہاتھ پکڑ کر آسمان کی طرف لے جایا گیا، مگر اس میں یہ نہیں لکھا، کہ وہ طشت طلائی جو عین بیداری میں ملا تھا۔ کیا ہوا اور کس کے حوالہ کیا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ٩٠

اور کسی حدیث میں آیا ہے کہ میں بیت اللہ کے پاس خواب اور بیداری کے درمیان میں تھا۔ اور تین فرشتے آئے اور ایک جانور بھی لایا گیا‘ اور کسی میں براق کا کوئی ذکر نہیں‘ اور کسی میں ہے کہ میں حطیم میں تھا یا حجرہ میں لیٹا ہوا تھا‘ اور کسی میں ہے کہ بعثت کے پہلے یہ واقعہ ہوا‘ اور بغیر براق کے آسمان پر گئے اور آخر میں آنکھ کھل گئی اور ان پانچ واقعات میں لکھا ہے کہ معراج کے وقت پہلے پچاس نمازیں مقرر ہوئیں اور بعد تخفیف پانچ منظور کرائی گئیں اور ترتیب روئیت انبیا میں بڑا اختلاف ہے۔“

ہم نے مرزا صاحب کے ان تمام اعتراضات کا جواب آغاز مضمون میں تفصیل کے ساتھ دے دیا ہے اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ آنحضرت صلعم کو جسمانی طور پر معراج نصیب ہوا۔ جس سے کوئی صاحب فہم و ادراک مسلمان انکار نہیں کر سکتا۔ خود مرزا صاحب اپنی کتاب میں اس حقیقت کو تسلیم کر چکے ہیں لیکن مراقی ہونے کی وجہ سے بعد میں وہ اپنے لکھے کو بھی چاٹ گئے اور معراج النبیؐ کے سلسلے میں ایسے عقائد کا اظہار کرنے لگے جو مشرکین مکہ کے عقائد تھے۔ ان کے اعتراضات بھی ایسے ہی تھے۔ جیسے مشرکین مکہ کے تھے۔ لیکن ہم نے مرزا آنجہانی کے ان عقائد اور اعتراضات کا جواب نہایت مسکت طریقہ پر احادیث و قرآن کی آیات مقدسہ سے دے دیا ہے۔ تاکہ عوام میں مرزا آنجہانی کی تحریروں سے کوئی غلط فہمی پیدا نہ ہو۔

───◯───

حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی باتیں

خان غلام محمد خان لونڈ خوار مرحوم نے بیان کیا کہ میں نے نہ شاہ جیؒ کو پہلے کبھی دیکھا تھا اور نہ میں ان کا خاص معتقد تھا۔ میرا سیاسی مسلک بھی ان سے جدا تھا ایک دفعہ عشاء کے وقت دلی دروازہ (لاہور) کے باہر سے گزرا تو شاہ جی تقریر فرما رہے تھے میں بڑے ضروری کام سے جا رہا تھا۔ اس خیال سے رک گیا کہ جس مقرر کی اتنی شہرت ہے اسے پانچ منٹ سن لوں۔ میری عادت ہے کہ میں جلسہ میں ایک جگہ بیٹھ نہیں سکتا۔ خود اپنے جلسے میں بھی گھومتا پھرتا رہتا ہوں میں پانچ منٹ تک شاہ جی کی تقریر سنتا رہا۔ سوچا تھوڑی دیر اور سن لوں‘ ان کا سحر تھا کہ کھڑے کھڑے بیٹھ گیا۔ بیٹھے بیٹھے تھک گیا تو لیٹ گیا اور لیٹے لیٹے ساری رات تقریر سنتا رہا اور ایسے حواس گم ہو گئے کہ اپنا کام بھی بھول گیا۔ یہاں تک کہ صبح کی اذان بلند ہوئی شاہ جی نے تقریر کے خاتمے کا اعلان کیا تو مجھے خیال آیا کہ اوہو ساری رات ختم ہو گئی یہ شخص تقریر نہیں کر رہا تھا بلکہ جادو کر رہا تھا۔

صفحہ ٩١

مرزائی اپنے کو مسلمان کہتے ہیں پھر کیوں کافر ہیں؟

مولانا سید مرتضےٰ حسن چاند پوریؒ

اگر یہ کہا جائے کہ یہود و نصاریٰ میں اگرچہ اسلام کے بہت عقائد اور شعائر پائے جاتے ہیں اور آریہ سماج سناتن دھرم وغیرہ جملہ مذاہب بھی اسلامی احکام سے بالکلیہ بیگانہ نہیں۔ بہت سی باتیں دونوں میں مشترک ہیں مگر چونکہ وہ خود اپنے کو مسلمان نہیں کہتے بلکہ عقائد اسلام کے باطل ہونے کے قائل ہیں لہٰذا وہ مسلمان نہیں بخلاف مرزا صاحب اور مرزائیوں کے کہ وہ اسلام کی حقانیت کے قائل خود اس کے اتباع کے مدعی لوگوں کو اس کی طرف دعوت دیتے ہیں لندن اور برلن میں مسجدیں بنواتے ہیں جو آج کل کے کسی مولوی سے تو کیا آٹھ سو برس سے ترک بھی باوجود اس خلافت اور سلطنت کے نہ کر سکے نہ انھوں نے تبلیغ کے لیے ایسی مشنریاں اور اشاعت اسلام کے لیے ایسے اخبار اور اشتہارات جاری کیے جو مرزا صاحب اور مرزائیوں نے کر کے دکھلا دیا۔ تو یہ مرزا صاحب اور مرزائی کیسے کافر اور مرتد ہو سکتے ہیں اور ان کا قیاس یہودی و نصاریٰ آریہ سماج سناتن دھرم وغیرہ پر کیونکر صحیح ہوگا؟

اس کا جواب اوّل تو یہ ہے کہ مرزا صاحب اور مرزائی اگر ہمارے سامنے دعوائے اسلام کرتے ہیں تو منافقین جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مدعی اسلام تھے۔ انہوں نے اگر لندن اور برلن میں مسجد بنائی ہے تو انہوں نے مدینہ طیبہ میں مسجد ضرار بنوائی تھی۔ ان کی مساجد کا اگر پیغام صلح الفضل چند انگریزی اور دیسی اخباروں میں ذکر ہے تو مسجد ضرار کا ذکر خود خدائے قرآن شریف میں فرمایا ہے نیز یہ کہ مسیلمہ کذاب وغیرہ مدعیان نبوت سب اسلام ہی کا دعویٰ کرتے تھے اور تبلیغ اسلام بھی بعض نے ایسی کی کہ ملک کے ملک ان کے مذہب میں داخل ہو گئے اور پشتوں تک سلاطین رہے۔ کیا کوئی مسلمان یا خود مرزائی ان لوگوں کو مسلمان کہہ سکتے ہیں؟ اگر نہیں تو پھر مرزائیوں کا دعوائے اسلام ان کے لیے کیسے مفید ہو سکتا ہے۔ اگر مدعی کا دعویٰ ہی قابل قبول ہوتا تو گواہ اور شاہد کی ضرورت ہی نہ پڑتی اور ہر مدعی فتحیاب ہی ہوا کرتا۔

١؎ یہ اس مسجد کا نام ہے جس کو منافقوں نے بنایا تھا۔ جو بظاہر پختہ عقلمند سرگرم مسلمان تھے مگر اندرونی طور پر اسلام کو ہر قسم کی مضرت پہنچانے کے درپے تھے جیسے مرزائیوں کے متعلق جرمن کی ڈاک سے سننے میں آیا کہ اسلام کی تبلیغ کی صورت میں وہ کچھ اور ہی کام کرتے ہیں ١٢۔

صفحہ ٩٢

مسیح موعود اور قادیانیت

تقریر حضرت علامہ خالد محمود صاحب (مانچسٹر)

الحمد لله والسلام على عباده الذين اصطفى خصوصاً على سيد الرسل و خاتم الانبياء وعلى اله الاتقياء واصحابه الاصفياء اما بعد فاعوذ بالله من الشیطن الرجیم بسم الله الرحمن الرحيم. وانه لعلم للساعة فلا تمترن بها قال النبی صلی الله علیه وسلم والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ينزل فیکم ابن مریم حکماً عدلاً فیکسر الصلب ويقتل الخنزیر ويضع الحرب رواه البخاری (صحیح بخاری جلد ١ ص ٤٩٠)

صاحب صدر گرامی قدر واجب الاحترام علمائے کرام بزرگان قوم سامعین عزیز ..... دوستو اور بھائیو!

کافی سالوں سے جیسا کہ ابھی صدر محترم نے آپ کے سامنے بیان کیا ہے مجھے پاکستان آنا ہوتا رہا، لیکن وہ دورے اس قدر مختصر سے رہے کہ اس علاقہ میں آنے کا موقعہ نہ مل سکا۔ الحمد للہ اس دفعہ یہاں قیام کچھ طویل ہوا اور یہ موقعہ اس سال میسر آیا ہے اور اتفاق یہ کہ اس سال پاکستان میں دوسری حاضری ہے۔ اللہ تعالیٰ اس حاضری کو یہاں سب دوستوں کے مل بیٹھنے اور اور حق کی بات سننے سنانے کا موجب فرمائے۔

پہلے پہل مجھے انگلینڈ جانے کا موقع ملا تو مشرق و مغرب کا تقابل یک نظر سامنے آیا سوچتا رہا کہ مشرقی ممالک میں اسلام اس کثرت تعداد اور عظمت شان سے پھیلا ہوا ہے مشرق وسطیٰ اور مشرق اقصیٰ میں بھی مسلمانوں کی تعداد بہت وسیع ہے اور ان کی اکثریت غالب ہے کہ ہر جگہ مسلمان ہی مسلمان نظر آتے ہیں لیکن یا اللہ یہ یورپ کے ایوانوں میں عیسائیت کے نغمے کب تک گونجتے رہیں گے؟

یورپ میں اکثریت عیسائیوں کی ہے کچھ تعداد یہودیوں کی ہے اور کچھ مسلمانوں کی لیکن ان دو قوموں کی تعداد دیکھ کر بارہا دل میں خیال گزرتا ہے کہ یا اللہ ان کی یہ کثرت کب

صفحہ ٩٣

ٹوٹے گی؟ اور یہود و نصارٰی ان دو ملتوں کا خاتمہ ہوگا؟ تیرا یہ دین برحق ہے یہ کب ان ملتوں پر غالب آئے گا، اور ان کی سیاسی شوکت اور ان کا وجود ہی کب ختم ہوں گے؟

اے اللہ ! تیرا وعدہ ہمارے پیغمبر کے ساتھ یہ تھا کہ تو آپؐ کے دین کو سب دینوں پر غالب کرے گا۔ ہمارے یہ پیغمبر صداقت دے کر بھیجے گئے۔ لیظہرہ علی الدین کلہ و کفیٰ باللہ شہیداً کا ان سے وعدہ تھا۔ آپ اس لئے بھیجے گئے ہیں کہ دین اسلام کو تمام دینوں پر غالب کر دیں۔ دنیا میں جتنے دین ہیں ان پر اس دین کو غالب آنا ہے علم و استدلال کا غلبہ تو حضورؐ کے سامنے ہی ہو گیا تھا لیکن سیاسی شوکت کے لحاظ اور ملکی استحکام کے لحاظ سے بھی تو یہ دین تمام ملتوں کو کاٹتا ہوا سب کے اوپر آئے گا علی وجہ النہار چڑھتے سورج کی طرح نمایاں ہوگا۔ ہاں سوچ اس وقت یہ ہے کہ یہ وقت کب آئے گا؟ اور کب اسلام کو عالمی شوکت حاصل ہوگی؟

مجھے عیسائی آبادیوں کی اکثریت میں گزرنا ہوتا لندن کے ایوانوں ان کے پارلیمنٹ ہال اور انکی بڑی بڑی بلڈنگوں کے سامنے سے گزرنا ہوتا تو جی میں یہ خیال بار بار آتا کہ یا اللہ اس کثرت ملل کا خاتمہ کب ہو گا؟ اور کب وہ وقت آئے گا کہ پوری دنیا اسلام کے نور سے جگمگا اٹھے گی۔ -

میں غور سے پڑھتا جاتا تھا تقدیر اجارہ داروں کی
پہلو سے گزرتی جاتی تھیں مغرور قطاریں کاروں کی

بار بار دل میں خیال پیدا ہوا کہ دیگر مذاہب و ملل پر ملت اسلامیہ کا غلبہ کب ہوگا؟ اللہ نے قرآن مجید کی طرف رجوع کرنے کی توفیق عطا فرمائی اور مسئلے کا حل مل گیا کہ یہ دو قومیں یہود و نصارٰی جس نام پر گمراہ ہوئیں ہیں اسی نام اور عنوان سے یہ ہدایت پائیں گی۔

آپ سوچیں وہ کس نام پر اور کس عنوان سے راہ راست سے بھٹکیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ یہ دونوں قومیں گمراہ ہوئی ہیں حضرت عیسیٰؑ کے نام پر یہودی حضرت عیسیٰؑ کی دشمنی میں مارے گئے اور انہوں نے آپ کی والدہ پر بڑے بڑے بہتان باندھے عیسائی غلط عقیدت اور فرط محبت میں مارے گئے اور آپ کو خدا کا بیٹا سمجھنے لگے۔

تاریخ بتلاتی ہے کہ دونوں قومیں گمراہ ہوئیں حضرت عیسیٰؑ کے نام پر اور اسی نام سے انہوں نے غلط فہمیوں کو جگہ دی تو اللہ کو منظور ہوا کہ عیسیٰؑ کو آسمانوں پر زندہ رکھے۔ آپؑ قیامت سے پہلے آئیں اور جن کے نام پر یہ دونوں قومیں گمراہ ہوئیں ان کے سامنے آپ اسلام

صفحہ ٩٤

کی صداقت کے ساتھ جلوہ گر ہوں۔ یہ دونوں قومیں اس وقت ان پر ایمان لائیں اور اس طرح ان دونوں قوموں کا خاتمہ ہو اور دنیا میں ایک ہی دین اور ایک ہی ملت رہ جائے یہود و نصاریٰ دونوں مسلمان ہو جائیں۔

حضرت عیسیٰ قیامت سے پہلے آئیں گے یہودیوں سے کہیں گے کہ مجھے اور میری والدہ پر عیب لگانے والو اعتراض کرنے والو! میں خدا کا نشان ہو کر پھر آیا ہوں، سارے یہودی اس پر مسلمان ہو جائیں گے، عیسائیوں کو کہیں گے کہ تم مجھے خدا کا بیٹا کہتے تھے۔ نہیں! میں خدا کا بندہ ہوں اور ان تمام معجزات کی شان کے باوجود خدا کا بندہ ہوں، خدا کا بیٹا نہیں۔ حضرت عیسیٰ کے آنے پر یہودیوں اور عیسائیوں دونوں کا خاتمہ ہو گا پھر یہ ساری ملتیں ایک ہو جائیں گی۔ اور وہ ملت اسلام ہو گی۔

اسی وقت تک مختلف ملتوں کا وجود ہے جب تک عیسیٰ ؑ نہیں آتے۔ اختلاف ملل صرف اسی وقت تک رہے گا حکمت خداوندی میں یہ طے ہو چکا ہے کہ ایک وقت ساری دنیا کے مذاہب ایک ہو جائیں گے۔ ساری ملتیں ایک ہو جائیں گی اور یہ قیامت سے پہلے ایک دور ہو گا۔ حضور فرماتے ہیں۔ یھلک اللہ فی زمانہ الملل کلھا الا ملۃ الاسلام۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا:-

وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ۔

(پ ٦ النساء ع ٢٢)

”اہل کتاب میں سے کوئی نہ ہو گا مگر یہ کہ ایمان لے آئے گا عیسیٰ کی وفات سے پہلے“

حضرت عیسیٰ کی وفات سے پہلے ساری ملتیں اپنے اپنے موقف سے ہٹ ہٹا کر ایک لائن پر آ جائیں گی اور جب سب ایک لائن پر آ جائیں گے تو دنیا میں پھر ایک (ملت) ہو گی جس کا نام ہو گا ملت اسلامی قرآن کریم نے اسے بیان کیا اور احادیث نے اس پر گواہی دی حدیثوں میں یہ خبر چلی آ رہی تھی۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا:-

لا یبقیٰ علیٰ ظھر الارض بیت مدر ولا وبر الا ادخلہ اللہ کلمۃ الاسلام.

”کوئی کچا اور پکا گھر ایسا نہیں رہے گا مگر یہ کہ اسلام کا کلمہ اس میں ضرور داخل ہو گا۔ پوری دنیا کی وسعتوں میں صحراؤں اور میدانوں میں گھروں اور آبادیوں میں۔ شہروں اور دیہاتوں میں ہر جگہ ہر کچے پکے گھر میں

صفحہ ٩٥

ہوں۔ یہ دونوں قومیں اس وقت ان پر ایمان لائیں اور اس طرح اور دنیا میں ایک ہی دین اور ایک ہی ملت رہ جائے یہود و نصاریٰ

ت سے پہلے آئیں گے یہودیوں سے کہیں گے کہ مجھے اور میری اعتراض کرنے والو! میں خدا کا نشان ہو کر پھر آیا ہوں سارے یں گے عیسائیوں کو کہیں گے کہ تم مجھے خدا کا بیٹا کہتے تھے۔ نہیں! م معجزات کی شان کے باوجود خدا کا بندہ ہوں۔ خدا کا بیٹا نہیں۔ ہوئیوں اور عیسائیوں دونوں کا خاتمہ ہو گا پھر یہ ساری ملتیں ایک ہو ہوگی۔

ملتوں کا وجود ہے جب تک عیسیٰ آ نہیں جاتے۔ اختلاف ملل حکمت خداوندی میں یہ طے ہو چکا ہے کہ ایک وقت ساری دنیا کے ساری ملتیں ایک ہو جائیں گی اور یہ قیامت سے پہلے ایک دور ہو ک الله فی زمانه الملل کلها الا ملة الاسلام۔ اللہ تعالیٰ نے

حاب الا ليؤمنن به قبل موته. (پ ٦ النساء ع ٢٢)

سے کوئی نہ ہو گا مگر یہ کہ ایمان لے آئے گا عیسیٰ کی

ات سے پہلے ساری ملتیں اپنے اپنے موقف سے ہٹ ہٹا کر ایک سب ایک لائن پر آجائیں گے تو دنیا میں پھر ایک (ملت) ہو گی قرآن کریم نے اسے بیان کیا اور احادیث نے اس پر گواہی دی ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا:۔ ر الارض بيت مدر ولا وبر الا ادخله الله كلمة الاسلام. گھر ایسا نہیں رہے گا مگر یہ کہ اسلام کا کلمہ اس میں ضرور دنیا کی وسعتوں میں صحراؤں اور میدانوں میں گھروں شہروں اور دیہاتوں میں ہر جگہ ہر کچے پکے گھر میں

حضور کا کلمہ داخل ہوگا۔“ لیکن اس کے انداز مختلف ہوں گے یعز عزیز۔ کئیوں کو عزت دیتا ہوا۔ اور ذل ذلیل۔ کئیوں کو ذلیل کرتا ہوا۔ یہ وہ وقت ہو گا جب تمام قوموں کو اپنے دروازے اسلام کے لئے کھول دینے پڑیں گے۔

اسلام ایک اجنبی مسافر کی شکل میں آیا تھا۔ لوگوں نے اپنے دروازے بند کر لئے تھے لیکن ایک وقت ایسا آئے گا ہر کسی کو اپنے دروازے اس کے سامنے کھولنے پڑیں گے اور اسلام ہر گھر میں داخل ہو گا...... سبحان اللہ...... دیکھئے اس حدیث میں حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ انجام کار دنیا میں ایک ہی دین رہ جائے گا اور وہ وقت تب ہو گا جب حضرت عیسیٰ نزول فرمائیں گے۔

نکل کے صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کو الٹ دیا تھا
سنا ہے یہ میں نے قدسیوں سے وہ شیر پھر ہوشیار ہو گا

اسلام صحرائے عرب سے نکلا اور روما جو دنیا کی سب سے بڑی سلطنت تھی اسے زیر و زبر کر دیا قیامت سے پہلے ایک دفعہ اسلام کی صداقت کا شیر پھر اپنی کچھار سے نکلے گا۔

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی
جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا نا پائیدار ہو گا

اس وقت یورپی تہذیب دنیا پر چھائی ہوئی ہے۔ اس وقت اس تہذیب کے اپنے فرزند ہی اسے اپنی گود سے نکال پھینکیں گے جب وہ وقت آئے گا تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی اور جو آشیانے اس شاخ نازک پر بنے ہوئے ہیں سب کے سب پیوست زمین ہو جائیں گے..... نعرہ تکبیر ..... اللہ اکبر..... نعرہ رسالت ..... محمد رسول اللہ سو یاد رکھئے! وقت آنے والا ہے اور یقیناً آنے والا ہے اور وہ وقت کون سا ہو گا؟ حضرت عیسیٰ کے نازل ہونے کے بعد کا۔

اب میں چند سوالوں کے جوابات عرض کرتا ہوں:۔ ہمارا اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم کی فرمائی ہوئی باتوں پر ایمان ہے اور ہم اللہ کے رسول کی تصدیق کرتے ہوئے ہر اس بات کو مانتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول نے فرمائی۔ ہماری سمجھ میں نہ بھی آئے تو بھی مانتے ہیں۔ ایمان میں یہ شرط تو نہیں؟ کہ ہماری سمجھ میں آئے اللہ

صفحہ ٩٦

تعالیٰ نے دین حق کو دلوں میں اتارنے کے لئے عجیب وغریب مثالیں دیں بعض لوگوں نے یہ سوال کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ آسمانوں پر زندہ ہیں اور ہزار ہا سال سے زندہ ہیں وہ وہاں رہ رہے ہیں تو کھاتے پیتے کیا ہوں گے؟ کھانے پینے کے بغیر یہ حیات ناسوتی کیسے قائم رہی ہوگی؟ زندگی دنیا کی ہمیشہ قائم نہیں رہتی حضرت عیسیٰ اگر زندہ ہیں آسمانوں پر کھاتے کیا ہیں؟ سوال سمجھ آ گیا کہ نہیں؟ ....... ہاں جی سمجھ گئے .......

کیا ہے سوال ....... کہ حضرت عیسیٰ نے اتنی لمبی عمر کھانے کے بغیر پائی؟

اللہ تعالیٰ نے اس کی عجیب حکمت بیان فرمائی ہے۔ آپ نے علماء سے اصحاب کہف کا قصہ بارہا سنا ہوگا۔

کئی سو سال گزر گئے اور وہ سوئے رہے پھر جب اٹھے تو وہی سکے جیب میں تھے ان کو پتہ نہ تھا کہ اتنا دور گزر گیا وہ اسی سکے کے ساتھ بازار میں سودا لینے گئے دوکانوں کے حلیے بدل چکے تھے انسان پہچانے نہ جاتے تھے سکہ متعارف نہ تھا۔ دنیا عجیب تھی جب دکان سے کھانا لینے گئے تو پولیس نے پکڑ لیا کہ تم کہاں سے آئے ہو اور یہ پرانے سکے تمہارے پاس کہاں سے آئے؟ یہ قصہ آپ نے سنا ہے کہ نہیں؟

اس قصہ میں منجملہ اور حکمتوں کے ایک راز یہ بھی تھا کہ دنیا کو بتایا جائے کہ اگر اصحاب کہف جو کئی سو سال سوئے رہے بغیر کھائے پیئے ....... بغیر کھائے پیئے ....... ایک ہی دفعہ اٹھے نا ....... جب کھانا لینے گئے؟ کیا اس وقت تک سالہا سال وہ بغیر کھائے پیئے زندہ رہے یا نہ؟ ....... اس زمین پر سوئے رہے یا نہ؟ ....... جو خدا سالہا سال تک بغیر کھانے پینے کے اصحاب کہف کو زمین پر زندہ رکھ سکتا ہے کیا وہ حضرت عیسیٰ کو بغیر کھائے پیئے آسمانوں پر زندہ نہیں رکھ سکتا؟ ....... بے شک زندہ رکھ سکتا ہے ....... اللہ کی قدرتوں کو پہچانو! ....... اللہ کی شانوں کو جانو!

اصحاب کہف کی زندگی اس دنیا کی مادی خوراک کے بغیر سالہا سال قائم رہی خدا کی قدرت سے یا مادی خوراک پر؟

جواب یہ ہے ....... خدا کی قدرت ....... خدا کی قدرت سے یہ سب کچھ ایسا رہا مادی خوراک سے نہیں جب کچھ انسان زمین پر مادی قدرت کے بغیر زندہ رہ گئے تو آسمان پر تو مادی مخلوق نہیں وہاں کے باسیوں کی تو خوراک ہی اللہ کا ذکر ہے وہاں حضرت عیسیٰ کا تادیر زندہ رہنا کون سے تعجب کا موجب ہے؟ کچھ تو غور کرو۔

صفحہ ٩٧

آسمانی مخلوق کی غذا تسبیح و تہلیل ہے ایک حدیث میں ہے:۔

یجزیہم ما یجزی اھل السماء من التسبیح والتقدیس او کما قال النبیؐ۔

سو یہ بات کہ جب آپ آسمان پر ہیں تو کھاتے پیتے ہوں گے۔ یہ ایک مغالطہ اور دھوکہ ہے۔ اصحاب کہف کا واقعہ صاف بتلا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ جو چاہے ویسے ہی عمل میں آتا ہے۔ وہ جب دینا چاہے تو کوئی اس کے ہاتھ کو روکنے والا نہیں اور نہ دے تو کوئی اس سے بزور لے نہیں سکتا۔

آج کل کے جدید پڑھے لکھے لوگ اور سائنسدان کہتے ہیں کہ جب ہم خلا (ہوا کے اوپر) میں جائیں اور فضا میں اور اوپر جائیں تو ایک ایسا کرہ آتا ہے جسے کہتے ہیں کرہ نار (آگ ہی آگ) پھر آگے ایک حصہ فضا آتا ہے جسے کرہ زمہریر (ٹھنڈک ہی ٹھنڈک) کہتے ہیں۔ کوئی ذی روح ان کروں کو پار کرتا ہوا نہیں جا سکتا۔ سائنس کا طالب علم پوچھتا ہے کہ تم حضرت عیسیٰؑ کے بارے کیا عقیدہ رکھتے ہو کہ وہ گئے! کیسے جا سکتے تھے۔ جب کہ یہ کُرے رستے میں حائل ہیں؟

اللہ تعالیٰ نے ابھی دنیا انسانوں سے آباد نہیں کی تھی اور حضرت آدمؑ کی اولاد سے دنیا کی صف نہ بچھی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب پہلے دے دیا تھا۔

’’اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ کو پیدا کیا آسمانوں پر جنت میں وہاں انہوں نے درخت کا پھل کھایا پھر وہ دنیا میں بھیجے گئے۔‘‘

آدمؑ آسمانوں سے دنیا کی طرف ان کروں کو پار کرتے ہوئے آئے یا نہ؟ ہاں آئے یقیناً آئے۔ اگر حضرت آدمؑ کرہ نار اور کرہ زمہریر کو پار کرتے ہوئے اوپر سے نیچے آسکتے ہیں تو عیسیٰ بن مریمؑ کیا انہیں عبور کرتے ہوئے نیچے سے اوپر نہیں جا سکتے؟ بھائی! حضرت آدمؑ بھی آئے تھے یا نہیں؟ اور کرّوں کو پار کرتے ہوئے آئے تھے یا نہیں؟ اگر وہ آسکتے ہیں! تو کیا حضرت عیسیٰؑ اوپر آسمان کی بلندیوں پر نہیں جاسکتے۔ قرآن کریم نے بجا فرمایا۔

ان مثل عیسیٰ عنداللہ کمثل ادم۔ (پ٣ آل عمران ع٦)

’’اگر مسیحؑ کا جانا سمجھ میں نہ آئے تو حضرت آدمؑ کا قصہ سامنے رکھ لینا۔‘‘

پس حضرت آدمؑ کا آنا برحق ....................... اور ....................... حضرت مسیحؑ کا جانا برحق، اللہ تعالیٰ

صفحہ ٩٨

کی حکمت سمجھئے اور قدرت دیکھئے ادھر اصحاب کہف کا قصہ سنا دیا تا کہ بات سمجھنی آسان ہو جائے ادھر آدم کا اتارنا بتلا دیا تا کہ بات جلدی سمجھ میں اترے۔

برادران اسلام!

حضرت عیسیٰ کا آسمان پر ماننا کوئی امر مستبعد نہیں کوئی ایسی چیز نہیں جو ناممکن ہو پھر قادیانی مذہب کے لوگ جو حضرت عیسیٰ کا آسمان پر جانا نہیں مانتے وہ مغالطہ دینے کے لئے عجیب و غریب باتیں کرتے ہیں عام مسلمانوں کو یوں مغالطہ بھی دیتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ اوپر ہوں اور خاتم النبیین مدینہ میں نیچے زمین پر سوئے ہوئے ہیں حضور کے مقام کے خلاف ہے کہ ان کا روضہ مبارک نیچے ہو اور حضرت عیسیٰ اوپر جلوہ افروز ہوں؟ کہتے ہیں یہ تو بے ادبی ہے۔

مرزا بشیر الدین محمود نے اسی مغالطہ آرائی کے لئے کہا تھا کہ۔؎

غیرت کی جا ہے عیسیٰ زندہ ہو آسماں پر
مدفون ہو زمین پہ شاہِ جہاں ہمارا

میں نے انہیں جواباً کہا تھا۔

عزت کی جا ہے عیسیٰ اس سر زمین پہ اتریں
مدفون ہے جہاں پہ شاہِ جہاں ہمارا

......نعرۂ تکبیر......اللہ اکبر......غیرت کی جا نہیں......یہ عزت کی جا ہے مرزا کی اس قسم کے عجیب و غریب مغالطے دیتے ہیں۔

مثال سے سمجھئے :۔

سمندروں اور دریاؤں میں موتی اوپر ہوتے ہیں یا بلبلے؟

ہر فرد جانتا ہے کہ بلبلا اوپر ہوتا ہے۔ ہاں ہاں بلبلا اوپر ہوتا ہے اور موتی نیچے ہوتے ہیں۔ آئندہ یہ کبھی نہ کہئے کہ عیسیٰ ابن مریم اوپر اور خاتم النبیین نیچے۔ اس سے حضور کی توہین ہوتی ہے۔ (معاذ اللہ)

......نعرۂ تکبیر......اللہ اکبر......تاجدار ختم نبوت......زندہ باد......

مجھے اس وقت آپ کو یہ بات کہنی اور سمجھانی ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم کا آسمانوں پر ہونا اور قرب قیامت میں آنا، یہ نہ حالات جدیدہ کے خلاف ہے نہ علوم جدیدہ کے

صفحہ ٩٩

دیکھئے ادھر اصحاب کہف کا قصہ سنا دیا تا کہ بات سمجھنی آسان ہو جائے کہ بات جلدی سمجھ میں اترے۔

آسمان پر ماننا کوئی امر مستبعد نہیں کوئی ایسی چیز نہیں جو ناممکن ہو پھر حضرت عیسیٰ کا آسمان پر جانا نہیں مانتے وہ مغالطہ دینے کے لئے تے ہیں عام مسلمانوں کو یوں مغالطہ بھی دیتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ اوپر میں نیچے زمین پر سوئے ہوئے ہیں حضور کے مقام کے خلاف ہے کہ اور حضرت عیسیٰ اوپر جلوہ افروز ہوں؟ بے ادبی ہے۔ محمود نے اسی مغالطہ آرائی کے لئے کہا تھا کہ ۔ ۔

کی جا ہے عیسیٰ زندہ ہو آسماں پر
ہو زمین پہ شاہِ جہاں ہمارا

جواباً کہا تھا:۔

کی جا ہے عیسیٰ اس سر زمین پہ اتریں
ہے جہاں پہ شاہِ جہاں ہمارا

۔۔۔اللہ اکبر ۔۔۔ غیرت کی باتیں ۔۔۔ یہ عزت کی جا ہے مرزا کی اس لطے دیتے ہیں۔

یائوں میں موتی اوپر ہوتے ہیں یا بلبلے؟ کہ بلبلا اوپر ہوتا ہے۔ ہاں ہاں بلبلا اوپر ہوتا ہے اور موتی نیچے ہوتے کہ عیسیٰ ابن مریم اوپر اور خاتم النبیین نیچے ۔ اس سے حضور کی توہین

۔۔۔اللہ اکبر ۔۔۔ تاجدار ختم نبوت ۔۔۔ زندہ باد ۔۔۔

آپ کو یہ بات کہنی اور سمجھانی ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم کا مت میں آنا، یہ نہ حالات جدیدہ کے خلاف ہے، نہ علوم جدیدہ کے

خلاف اور نہ سائنس کے خلاف ہے ان لوگوں نے یوں ہی پروپیگنڈہ کیا ہوا ہے قادیانیوں کی اس سے غرض یہ تھی کہ حضرت عیسیٰ کے بارے میں یہ عقیدہ کہ وہ زندہ ہیں آسمانوں پر اور یہ کہ وہ قرب قیامت میں تشریف لائیں گے اس عقیدہ کو مسلمانوں کے دلوں سے اٹھا لیا جاوے جب یہ عقیدہ اٹھا لیا گیا تو حضرت عیسیٰ کی سیٹ خالی ہو جائے گی۔

حدیث شریف میں آیا ہے کہ قیامت سے پہلے عیسیٰ بن مریم آئیں گے آئیں گے آئیں گے اور یہ حدیثیں متواتر درجے کو پہنچ گئی ہیں محدثین کے نزدیک یہ حدیث تواتر کا درجہ اختیار کر گئی ہے۔

مرزا غلام احمد قادیانی نے سوال اٹھایا کہ اچھا عیسیٰ ابن مریم تو فوت ہو گئے۔ لیکن یہ جو حدیثوں میں آیا ہے کہ عیسیٰ بن مریم آئیں گے آئیں گے تو اس کا مطلب کیا؟ پہلا مسیح تو ہے نہیں۔ اور یہ آئیں گے آئیں گے اس کا مطلب آخر کیا ہے؟

مرزا صاحب نے پھر خود ہی جواب دیا:۔

اس کا مطلب یہ کہ کوئی شخص ایسی صفتوں کے ساتھ پیدا ہو گا جو عیسیٰ بن مریم کی تھیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے لئے میدان بنانے کے لئے اپنے لئے سیٹ خالی کرانی چاہی اور یہ سارا قصہ بنایا کہ حضرت عیسیٰ آسمانوں پر نہیں گئے وہ زندہ نہیں فوت ہو گئے...... قصہ ختم......

”اور جو آنے والا تھا۔ وہ میں ہوں“

حدیث میں حضرت عیسیٰ کی آمد یقینی طور پر مذکور ہے لہٰذا اس آمد کا مصداق میں ہوں۔

مرزا غلام احمد قادیانی نے اس منزل تک پہنچنے کے لئے کتنی کروٹیں بدلیں؟ خود اندازہ کیجئے پہلے حضرت مسیح کی وفات کا دعویٰ، پھر نزول مسیح کی حدیثوں کی تصدیق اور پھر خود مثیل مسیح کا دعویٰ...... یہ سب کچھ کیا ہے اپنی خاطر، اور کہا کہ جس نے آنا تھا وہ میں ہوں میں مسیح موعود ہوں، میں مثیل مسیح ہوں۔

میں اس مجلس میں اس پر تو بحث نہیں کرتا مجھے اس مختصر مجلس میں مختصر سی بات کرنی ہے لیکن ایک بات ضرور کہوں گا کہ مسیح کے آنے کا نشان کیا ہے؟

”پہلا نشان یہ کہ اس کے آنے پر لڑائیوں کا خاتمہ ہو گا حضور اکرم ﷺ

صفحہ ١٠٠

نے فرمایا کہ جب مسیح آئے گا لڑائیوں کا خاتمہ ہو گا۔“ میں پڑھے لکھے بھائیوں دوستوں سے پوچھتا ہوں کہ کیا دنیا میں لڑائیاں ختم ہو چکی ہیں؟ کیا حضور کے فرمان یضع الحرب کی تصدیق عمل میں آچکی؟ دنیا کی سب سے بڑی جنگ جسے جنگ عظیم کہتے ہیں وہ کب ہوئی؟...... جواب دو......؟ وہ ١٩١٤ء میں لڑی گئی اور مرزا غلام احمد قادیانی کی موت ١٩٠٨ء میں ہوئی تھی۔ اس کے چھ سال بعد یہ جنگ شروع ہوئی۔ پھر ١٩٣٩ء میں دوسری جنگ لڑی گئی۔ جس کو جنگ عظیم ثانی کہتے ہیں میں سوال کرتا ہوں۔ کہ دو بڑی جنگیں کب لڑی گئیں؟ مرزا غلام احمد قادیانی کے جانے کے بعد یا پہلے...... دونوں جنگیں مرزا غلام احمد قادیانی کے بعد لڑی گئیں معلوم ہوا کہ اس وقت تک مسیح موعود نہیں آیا تھا۔

مسیح کے آنے پر تو جنگوں کا خاتمہ ہو جائے گا اور دنیا امن کا گہوارہ بن چکی ہوگی۔ اچھا بھائی اگر مرزا غلام احمد مسیح موعود ہوتا تو جنگوں کا خاتمہ ہو چکا ہوتا یا نہ؟ مسیح کا کام جنگوں کو ختم کرنا ہے یا جنگیں لڑانا ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ مرزا غلام احمد سے پہلے اتنی لڑائیاں نہیں تھیں۔ نہ ایٹم بم تھے، اور نہ ہائیڈروجن بم تھے نہ اور کوئی ایسی چیز تھی لیکن اس کے آنے پر جو لڑائیاں شروع ہوئیں، وہ بالکل مسیح موعود کے خلاف ایک غیبی نقشہ بنا مسیح موعود کی علامت یہ ہے کہ اس کے آنے سے لڑائیوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔ مگر مرزا غلام احمد کے آنے سے بڑی بڑی لڑائیوں کا آغاز ہوا یہ تو بالکل الٹ ہوا...... یہ کیا یہ شخص تو مسیح موعود کی پوری نقیض نکلا۔

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب تحفہ گولڑویہ میں خود کہتا ہے:۔

کیوں بھولتے ہو تم یضع الحرب کی خبر؟
کیا یہ نہیں بخاری میں دیکھ تو کھول کر
فرما چکا ہے سید الکونین مصطفیٰ
عیسیٰ مسیح جنگوں کا کر دے گا التواء

غلام احمد خود کہنے لگا کہ اب میں آیا ہوں اب میرے بعد جنگیں نہ ہوں گی۔ اگر جنگیں ہوئیں تو میں جھوٹا اور جنگیں نہ ہوئیں تو میں سچا۔

خود مرزا لکھتا ہے:۔ ؎

صفحہ ١٠١
یعنی وہ وقت امن کا ہو گا نہ جنگ کا
بھولیں گے لوگ مشغلہ تیر و تفنگ کا

یہ وقت امن کا وقت ہے یا بدامنی کا؟ حاضرین! میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ موجودہ وقت میں بین الاقوامی طور پر دنیا کی بڑی طاقتیں آپس میں ٹکرانے کو ہیں یا نہیں؟ اسرائیل اور مصر کی جنگیں، پاکستان اور ہندوستان کی جنگیں، عالمی جنگیں، چائنا اور رشیا کی جنگیں...... میں کہتا ہوں کہ اتنا وقت بدامنی کا تاریخ عالم میں شائد کبھی نہ آیا ہو جتنا مرزا غلام احمد قادیانی کے آنے کے بعد آیا ہے۔..... کیا یہی مسیح موعود ہونے کی علامت ہے؟

دنیا کی دو بڑی جنگیں کب لڑی گئیں؟ ..... کہو وہ مرزا غلام احمد قادیانی کے بعد اگر یہ مسیح موعود ہوتا تو لڑائیاں ختم ہوتیں یا چلیں؟ معلوم ہوا کہ یہ مسیح موعود نہیں اس کا نام ایک دجال ہے اور وہ اپنے دعوے میں پورا کذاب ہے۔

حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جب مسیح آئے گا تو بچے سانپوں سے کھیلیں گے۔ تلعب الصبیان بالحیات۔ لیکن سانپ انہیں کاٹیں گے نہیں؟ میں پوچھتا ہوں اور کہتا ہوں مرزائیوں کو کہ اپنے بچوں کو ہاتھوں میں سانپ پکڑا کر میدان لاؤ تا کہ دنیا دیکھے مسیح موعود آیا ہے یا نہیں؟

ہمارے حضور اقدسؐ نے کیا یہ پہچان نہ بتائی تھی کہ مسیح موعود کے آنے پر بچے سانپوں سے کھیلیں گے اور سانپ کاٹیں گے نہیں؟

ابوداؤد شریف کی حدیث ہے کہ گائیں اور چیتے اکٹھے چلیں گے اور شیر اور بکری ایک گھاٹ پانی پئیں گے اور دنیا میں کوئی شخص غریب نہیں ہو گا امن کی ایسی ہوا چلے گی کہ ساری ملتیں اور مذہب ختم ہو جائیں گے، سوائے اسلام کے یعنی وہ وقت امن کا ہو گا نہ کہ جنگ کا اور فرمایا دنیا پوری امن کا گہوارہ بنے گی جس طرح آج ظلمت سے بھری پڑی ہے۔ (یہ مسلم اور ابوداؤد کی متفقہ احادیث ہیں) ہمارے اور قادیانیوں کے درمیان اس پر اتفاق ہے کہ مسیح کے آنے کا نشان یہ ہے کہ وہ وقت امن کا ہو گا جنگوں کا نہیں۔ مرزا قادیانی نے یہ جو کہا ہے کہ میں مسیح ہوں تو کیا اس کے وقت میں یہ علامتیں پوری ہوئیں؟ حالات کو دیکھتے ہوئے ہم یقین کرنے پر مجبور ہیں کہ یہ مسیح نہیں! جب یہ مسیح نہیں اور مسیح ہونے کا مدعی ہے تو یہ دجال ہے اور کذاب ہے۔

صفحہ ١٠٢

برادرانِ اسلام! یاد رکھو جس مسیح نے آنا ہے؟ وہ مسیح بن مریم ہے (مریم کے بیٹے نے آنا ہے) چراغ بی بی کے بیٹے نے نہیں۔ مرزا کس کا بیٹا ہے؟ یہ تو چراغ بی بی کا بیٹا تھا۔ اس کی والدہ کا نام چراغ بی بی ہے‘ مریم نہیں۔ حضور اکرمؐ نے فرمایا کہ مریم کے بیٹے نے آنا ہے اور مرزا کہتا ہے کہ چراغ بی بی کے بیٹے نے۔

یہ کیا استدلال ہے کہ نام تو مریم کا ہو اور مراد چراغ بی بی لی جائے۔ حدیث میں نام ہو مسیح کا اور مراد ہو غلام احمد قادیانی جب الفاظ کی مرادیں بدل جائیں لفظ کچھ ہوں اور معنی کچھ۔ اس کو کہتے ہیں تاویل مرزا غلام احمد کبھی کہتا ہے تاویل استعارہ اور کبھی کہتا ہے تاویل تشبیہ۔ بہر حال یہ تاویل ہے کہ لفظ کچھ اور ہو اور معنی کچھ اور۔

جب قادیانیوں کو کہا جاتا ہے کہ آنا تو مسیح نے ہے‘ غلام احمد قادیانی کیسے آ گیا؟ کہتے ہیں مسیح سے مراد غلام احمد ہے جس طرح کہتے ہیں کہ مولوی صاحب بڑے بہادر ہیں کوئی کہہ دے کہ یہ شیر ہیں۔ اب ”شیر“ کا لفظ ان کے لئے تو نہیں بنا تھا۔ وہ تو جنگل کے ایک جانور کے لئے وضع ہوا تھا لیکن جب ہم نے کہا شیر ہے تو یہ استعارہ کے طور پر کہا ہے جب استعارہ کے طور پر شیر کہا تو اب کوئی اس کی دم تلاش نہ کرے گا کہ اس شیر کی دم کہاں ہے کیوں کہ یہ استعارہ کے طور پر کہا گیا تھا۔

اہل علم یاد رکھیں۔ لا استعارة فی الاعلام۔ کہ جو نام ہیں ان میں استعارہ نہیں ہوتا۔ اب جو شیر ہے یہ اسم علم نہیں‘ اسم جنس ہے‘ اعلام میں استعارہ نہیں ہوتا۔ مثلاً سٹیج سیکرٹری نے آج اعلان کیا کہ آج مولانا خالد محمود یہاں تقریر کریں گے۔ آپ نے اعلان کیا خالد محمود کی تقریر ہوئی۔ جب آپ آئیں تو تقریر کوئی دوسرا کر رہا ہو۔ تو کوئی پوچھے یہ تو علامہ خالد محمود نہیں۔ وہ سیکرٹری کہے کہ اس نام سے مراد یہی شخص تھا جو اب تقریر کر رہا ہے مراد وہی ہے تو قانون یاد رکھو کہ اسم علم میں استعارہ نہیں ہوتا‘ اگر آپ نے خالد محمود کہا اور دوسرے کو کھڑا کر دیا۔ تو یہ فریب سمجھا جائے گا کیونکہ کہ ناموں میں استعارہ نہیں چلتا۔

حضور اکرمؐ نے فرمایا کہ عیسیٰ بن مریم آئے گا۔ قادیانی مبلغ کہتا ہے کہ غلام احمد آئے گا۔ اس نے استعارہ کس بحث میں داخل کیا؟ اعلام میں ...... ناموں میں! یہ دجل و فریب ہے‘ کھلا دھوکا ہے۔

حدیث میں آیا ہے کہ آ پر جائے گا۔ غلام احمد قادیانی کہتا لدھیانہ گیا تھا (لدھیانہ پنجاب میں حدیث میں آیا ہے کہ دمشق میں ب آ گیا ہوں مرزا قادیانی سے کہا گی اس کے اوپر دو زرد رنگ کی چادر مجھے بھی ہیں۔

بھائی! بیمار آدمی کا رنگ گئیں۔ ایک اوپر کی اور ایک نیچ ہے اور نیچے کی بیماری یہ ہے کہ دیکھئے غلام احمد نے کس صفائی سے معنی چراغ بی بی۔ لہٰذا میں لدھیا حضرت مولانا مفتی مح سارے کا سارا نقشہ بدلا ہر چیز کو واقعی مٹی سے بنایا اور اسے کہا خیا رجل تنبأ بعد خ حمل النصوص علیٰ اعم اس کو دجل اور فریب کیوں کہ نبیوں اور پیغمبروں کے الیاس‘ سلیمان‘ ایوب‘ یوسف‘ یو مرکب ہے تو جب تمام پیغمبروں یہ کہا تو کہنے لگا کہ میں غلام کا ل احمدی بن جائیں گے۔

اللہ تعالیٰ کروڑوں ت آمین......... آپ نے فرمایا

صفحہ ١٠٣

حدیث میں آیا ہے کہ مسیح بن مریم جب آئے گا تو باب لد (دمشق میں دروازہ ہے) پر جائے گا۔ غلام احمد قادیانی کہتا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ لدھیانہ جائے گا اور میں لدھیانہ گیا تھا (لدھیانہ پنجاب میں ایک شہر ہے۔ غلام احمد واقعی وہاں گیا تھا) کہنے لگا وہ جو حدیث میں آیا ہے کہ دمشق میں باب لد پر جائے گا۔ اس سے مراد لدھیانہ تھی تو میں لدھیانہ آگیا ہوں مرزا قادیانی سے کہا گیا کہ احادیث کے الفاظ ہیں۔ کہ مسیح بن مریم جب آئے گا تو اس کے اوپر دو زرد رنگ کی چادریں ہوں گی۔ وہ کہنے لگا زرد رنگ سے مراد دو بیماریاں ہیں وہ مجھے بھی ہیں۔

بھائی! بیمار آدمی کا رنگ زرد و پیلا ہوتا ہے یا نہیں؟ اس سے مراد دو بیماریاں ہو گئیں۔ ایک اوپر کی اور ایک نیچے کی۔ اوپر کی بیماری یہ ہے کہ میرے دماغ میں مراق کا مرض ہے اور نیچے کی بیماری یہ ہے کہ پیشاب زیادہ آتا ہے بعض دفعہ رات میں سو سو دفعہ آتا ہے دیکھئے غلام احمد نے کس صفائی سے ہر چیز کے معنی بدل دیئے کہ مسیح کا معنی غلام احمد اور مریم کا معنی چراغ بی بی۔ لد کا معنی لدھیانہ دو زرد چادروں کا معنی دو بیماریاں۔

حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ کہا کرتے تھے کہ غلام احمد نے سارے کا سارا نقشہ بدلا ہر چیز کو مجاز کا لباس پہنا دیا۔ لفظ کچھ اور معنی کچھ مگر ایک مینارہ اس نے واقعی مٹی سے بنایا اور اسے کہا منارۃ المسیح، وہ اس نے مٹی کا بنایا اور اسے مجاز کا لباس نہ پہنایا۔۔

رجل تنبا بعد ختم نبوۃ فاتی بکفر واضح وصریح
حمل النصوص علی اعجاز باسرھا الا المنارۃ اذبنی بصفیح

اس کو دجل اور فریب کہتے ہیں میں تو کہا کرتا ہوں کہ اس کا نام بھی نبیوں والا نہیں کیوں کہ نبیوں اور پیغمبروں کے نام مفرد ہوتے ہیں۔ ایک جیسے آدم، نوح، موسیٰ، عیسیٰ، یحییٰ، الیاس، سلیمان، ایوب، یوسف، یونس، یعقوب یہ سب ایک نام ہیں اور غلام احمد یہ دو نام ہیں یہ مرکب ہے تو جب تمام پیغمبروں کا نام ایک ایک رہا۔ تو یہ دو نام والا کہاں سے یہاں آگیا جب یہ کہا تو کہنے لگا کہ میں غلام کا لفظ ہٹا دیتا ہوں اور باقی رہ جائے گا احمد۔ اور میرے ماننے والے احمدی بن جائیں گے۔

اللہ تعالیٰ کروڑوں رحمتیں فرمائے امیر شریعت حضرت مولانا عطاء اللہ شاہ بخاریؒ پر آمین ......... آپ نے فرمایا کہ اگر آپ نے اپنا پہلا نام ہٹایا۔ غلام کو ہٹا دیا۔ تو میں بھی اپنے

صفحہ ١٠٤

نام سے پہلا حرف ہٹا دوں گا۔ میرا نام ہے عطاء اللہ۔ اگر تو نے غلام کو ہٹایا اور باقی احمد رہ گیا تو میں عطا کو ہٹا کر کیا اللہ نہ رہ جاؤں گا۔

میں عطاء اللہ ہوں، پہلا نام عطا ہٹادوں گا تو باقی اللہ رہ جائے گا، تو میں کہتا ہوں کہ میں نے تجھے نہیں بھیجا (یعنی خدا نے تجھے نہیں بھیجا) تو کہتا ہے کہ مجھے اللہ نے بھیجا ہے۔ میں کہتا ہوں، میں نے تجھے نہیں بھیجا ہے۔

وہ کہتا ہے تم اپنا آدھا نام کیوں ہٹاتے ہو میں کہتا ہوں تم ایسا کیوں کرتے ہو۔ صاف کہو کہ تم غلام احمد ہو احمد نہیں۔ شاہ صاحب نے کہا کہ تم آدھا نام کیوں ہٹاتے ہو۔ اگر تم ہٹاؤ گے تو میں بھی ہٹاؤں گا۔ اور لوگوں کو بتاؤں گا کہ میں نے اسے نہیں بھیجا۔

حضرت شاہ صاحب کی یہ باتیں قادیان میں مرزا بشیر الدین محمود سے ہوئی تھیں۔

الغرض: ....... نام اور عنوان بتا رہے ہیں۔ کہ وہ مسیح نہیں ہے مسیح کیا وہ تو مسلمان بھی نہیں مسیح کی پہچان حضورؐ نے فرمائی جیسا کہ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ وہ حج کرے گا۔

تو کسی نے غلام احمد سے پوچھا تو حج کرنے کیوں نہیں جاتا؟

اس نے جواب دیا تم مجھے مرواتے ہو، ادھر وہ مجھے مار ڈالیں گے۔ کہ تو نے دعوٰی نبوت کیا میں حج کرنے کیوں جاؤں؟

ــــ

کفن بدوش قائد.... جب ١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت چلی تو حضرت مولانا سید بنوریؒ تحریک کے امیر اور مولانا محمود احمد رضوی سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے۔ مولانا یوسف بنوریؒ کے فولادی عزم اور ولولہ انگیز قیادت نے پوری قوم میں جہاد کی روح پھونک دی۔ آپ نے پورے ملک کا طوفانی اور ایمانی دورہ کیا اور مسلمانوں کی رگوں میں خون کی بجائے بجلی دوڑا دی، اور لوگ آپ کے نعرہ جہاد پر لبیک کہتے ہوئے میدان میں کود پڑے۔ جب گھر سے نکلے تو اپنے مدرسہ کے مفتی صاحب کے پاس گئے اور فرمایا کہ حضرت مفتی صاحب! میں تحریک کی راہنمائی کے لئے جا رہا ہوں اور اپنا کفن بھی ساتھ لے کر جا رہا ہوں پھر کفن نکال کر دکھایا۔ مزید فرمایا کہ مرزائیوں کو اس ملک میں آئین کی رو سے کافر ٹھہراؤں گا یا اپنی جان کا نذرانہ پیش کروں گا۔ واپس گھر جانے کا ارادہ نہیں۔ یہ مدرسہ تمہارے ہاتھ میں اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ اس کی حفاظت کرتے رہنا۔ (اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقے پوری ملت اسلامیہ کی لاج رکھ لی اور قادیانیوں کو آئین کی رو سے کافر قرار دے دیا گیا)

صفحہ ١٠٥

قرآن کریم کے لفظ ”ربوہ“ کا تحقیقی مطالعہ

ڈاکٹر محمد سید اعزاز الحسن شاہ

نحمدہ ونصلی وسلم علی رسولہ الکریم . بسم اللہ الرحمن الرحیم وبعد

لفظی ترجمہ قرآن مجید میں ربوہ لفظ کا دو دفعہ استعمال ہوا ہے:

پہلی آیت میں جو سطح زمین سے بلند جگہ پر ہو اور دوسری آیت میں ”عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ کو ایک ٹیلہ پر ٹھکانہ دیا۔ اس لفظ کا اصل مادہ ”رب و“ ہے۔ جو کہ قرآن مجید میں مختلف جگہوں میں مختلف شکلوں کے ساتھ وارد ہوا ہے۔ ان تین حروف کو جب یکجا کریں تو یہ لفظ ”ربوا“ کی شکل اختیار کر جاتا ہے، جس کا قرآن مجید میں اس طرح ذکر ہوا ہے

"احل الله البيع وحرم الربوا (البقرہ ‘ ٢٧٥)

یعنی اللہ نے خرید و فروخت کو جائز کیا ہے جبکہ سود کو حرام کیا ہے۔ یہ اصل ہر زیادتی کا نام ہے۔ پھر اس زیادتی پر جب مزید زیادتی ہوتی ہے تو اس میں سختی کا عنصر پیدا ہوتا ہے۔ اس پیرائے کی تعبیر کے لئے قرآن مجید نے لفظ رابیہ استعمال کیا ہے۔ فَاَخَذَهُمُ اَخْذَةً رَّابِيَةً (الحاقہ : ١٠)

ہم نے انہیں انتہائی سخت طرح پکڑ لیا۔ یہ رابیہ بھی رب و سے ہی ماخوذ ہے۔ اس کے مصدر کا فعل مضارع یربو اور یربی دونوں طرح قرآن مجید میں مستعمل ہیں۔

ربوۃ لفظ کی قرآت تین طرح کی جاتی ہے۔ عام مشہور قرآت ”رَبْوَة“ ہے جبکہ ”رُبْوَة“ اور ”رِبْوَة“ بھی ہے۔ پہلی دو قرأتوں کا ذکر لسان العرب نے کیا ہے۔ (لسان العرب‘ مادہ ربا) جبکہ تیسری قرآت کا ذکر امام راغب اصفہانی نے مفردات القرآن میں (مفردات القرآن مادہ رب و) امام راغب نے اس کا تلفظ ”رباوۃ“ بھی پڑھا جانا ذکر کیا ہے جبکہ لسان العرب نے ”ربوۃ“ پڑھنے کو ترجیح دی ہے۔ اور ربوہ پڑھنا بنو تمیم کی لغت قرار دیا ہے۔ اور اس کی جمع رُب ی اور ربی بتائی ہے۔ لسان العرب نے ”ربوہ“ پڑھنے کو شاید اس لئے رائج قرار دیا ہے۔ کہ اہل عرب اپنی عام محاوراتی زبان میں کہتے ہیں۔ مرت بنا ربوہ من الناس (وھی

صفحہ ١٠٦

الجماعۃ العظیم نحو عشرہ آلاف) یعنی لوگوں کی ایک بڑی جماعت کا ہم سے گذر ہوا (جس سے مراد تقریباً دس ہزار اور اسی طرح ”ربوۃ“ کا استعمال بھی اہل عرب زبان و) لسان العرب میں مزید اس مادہ کا ماضی فعل مضارع اور مصدر اور اس کی توضیح اس طرح کی گئی ۔

ربا الشئى يربو ربوا ورباء

بمعنی زاد و نما یعنی کسی چیز کا بڑھنا اس کا مضارع یربوا اور مصدر ربواً اور رباء بمعنى زیادہ ہونا اور بڑھنا اور اس سے ثلاثی مزید فیہ اربیتہ غذیتہ کہ میں نے اس کو زیادہ کیا اور بڑھایا قرآن مجید میں وارد ہوا ہے۔ يُرْبِي الصَّدَقَاتِ یعنی صدقات میں اضافہ کرتے ہیں اور حدیث صدقہ میں یوں مذکور ہے۔ تَرْبُوا فِی كَفِّ الرَّحْمٰنِ حَتّٰی تَكُونَ اَعْظَمَ مِنَ الْجَبَلِ۔ کہ صدقہ رحمٰن کے ہاتھوں میں بڑھ بڑھ کر پہاڑ سے بھی بڑا ہو جاتا ہے۔ اور عام محاورہ میں کہتے ہیں ربا السویق یعنی ستو میں جب پانی ڈالا جاتا ہے تو وہ پھول جاتا ہے اس کے لئے یہ محاورہ بولا جاتا ہے اسی طرح قرآن مجید میں زمین کی جو صفت بیان ہوئی ہے۔ مَثَلاً اِهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ اَىْ عَظُمَتْ وَانْتَفَخَتْ یعنی زمین پھول کر پھٹ پڑی۔ حدیث شریف میں یہ لفظ اس طرح وارد ہے۔

الْفِرْدَوْسُ رَبْوَةُ الْجَنَّةِ اَىْ اَرْفَعُهَا یعنی فردوس جنت کی اونچی جگہ ہے۔ باقی جنتوں کے مقابلہ میں (لسان العرب مادہ ر ب و) ربوہ اور رَبوہ کے فرق اکثر لغات نے تو واضح نہیں کیا۔ جبکہ ابن کثیر نے اپنی کتاب النہایہ فی غریب الحدیث والاثر میں یہ فرق کیا ہے۔ الربوہ بالضم والفتح والضم ما ارتفع من الارض ۔ یعنی ربوہ مضموم اور مفتوح دونوں طرح مگر اگر مضموم ہو تو اس کا معنی سطح زمین سے اونچی زمین ۔ باقی اگر بالفتح تو یہ زیادتی کے معنی میں ہو گا۔ جیسا حدیث صدقہ کے حوالے سے مذکور ہے ”مَنْ اَبٰی فَعَلَيْهِ الرَّبْوَةُ “ یعنی جو زکوٰۃ کے انکاری ہو تو اس سے اصل زکواۃ کی رقم سے زائد وصول کیا جائے گا۔ اور اس طرح مَنْ اَقَرَّ بِهَا لِجِزْيَةٍ فعليه الرَّبْوَة یعنی جو اسلام اس لئے قبول نہیں کرتا اس میں آ کر زکواة دینی پڑے گی تو اس سے اصل جزیہ کی رقم سے زائد جزیہ لیا جائے گا۔ (النہایہ فی غریب الحدیث والاثر ج ٢ ص ١٩٢) اس فرق سے تو یہ قول راجح ٹھہرا کہ قرآن مجید نے جن دو جگہوں میں اس لفظ کا استعمال کیا ہے۔ اسے ”ربوۃ“ پڑھنا اَوْلٰی ہے۔ جیسا کہ صاحب لسان العرب کی ترجیح ہے۔ المعجم المفهرس للالفاظ الحدیث کے حوالہ سے ترمذی میں سورۃ المؤمنون کی تفسیر میں اس لفظ کے ذیل میں لکھا ہے۔ ” الفردوس ربوة الجنۃ واوسطہا وافضلہا یعنی فردوس یہ جنت کا ربوہ (اونچی جگہ) اور جنت کا بہترین مقام ہے۔ اور

مسند احمد میں منقول ہے۔ الا ان عمل الجنة

(٢) روایاتی تجزیہ

اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علی دیا اس کو رَبوہ سے تعبیر فرمایا ہے۔ چن ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب ماں سنا کہ بنی اسرائیل کا بادشاہ پیدا ہوا ہے ملک سے نکل جاؤ، نکل کر مصر کے ملک عبدالقادر۔ ترجمہ قرآن مجید ص ٥٧١ تار

ذكر في سبب هذا الايوا عیسیٰ یعنی ان کے ٹھہراؤ کے سبب کو قتل کرنا چاہا۔ (تفسیر جلالین کلاں حا

قتل کے در پے ہو گیا تھا تو حضرت مریم

والدہ کو گلیل کے شہر ناصرہ میں پناہ لینی

کے حوالہ سے نقل کیا ہے۔ کہ حضرت ا ہے جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ا رملہ اس کا واحد الرمل ہے چھاؤنی رہ چکی ہے۔ (معجم البلدان ج

ارض مرتفع وہی بیت المقدس او دمشق اوا یا تو بیت المقدس یا دمشق یا ایلیا فلسطین

صفحہ ١٠٧

مسند احمد میں منقول ہے۔ الا ان عمل الجنۃ حزن بربوہ (مسند احمد ج ٥ ص ٣٢٧ و ج ٣ ص ٣٦٠)

(٢) روایاتی تجزیہ

اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ مریم علیہ السلام کو جس جگہ ٹھکانہ دیا اس کو ربوہ سے تعبیر فرمایا ہے۔ چنانچہ شاہ عبدالقادر موضح القرآن حاشیہ میں نقل فرماتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب ماں سے پیدا ہوئے تو اس وقت کے بادشاہ نے نجومیوں سے سنا کہ بنی اسرائیل کا بادشاہ پیدا ہوا ہے۔ وہ ان کی تلاش میں نکل پڑا، ان کو بشارت ہوئی کہ اس کے ملک سے نکل جاؤ، نکل کر مصر کے ملک گئے۔ وہ گاؤں تھا ٹیلے پر اور پانی وہاں کا خوب تھا (شاہ عبدالقادر ۔ ترجمہ قرآن مجید ص ٥٧١ تاج کمپنی

ذکر فی سبب ہذا الایواء ان ملک ذلک الزمان عزم علی قتل عیسیٰ یعنی ان کے ٹھہراؤ کے سبب کے بیان میں کہ اس زمانے کے بادشاہ نے حضرت عیسیٰ کو قتل کرنا چاہا۔ (تفسیر جلالین کلاں حاشیہ ص ٣٩٠ مطبوعہ نور محمد کراچی)

قتل کے درپے ہو گیا تھا تو حضرت مریم بچہ کو لے کر مصر چلی گئی تھیں۔ (تفسیر مظہری ج ٨ ص ١٩١)

والدہ کو گلیل کے شہر ناصرہ میں پناہ لینی پڑی (بحوالہ متی ٢ تا ٢٢) تفہیم القرآن ج ٣ ص ٢٨١)

کے حوالہ سے نقل کیا ہے۔ کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رملہ فلسطین وہ ربوہ ہے جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ ٹھہرے۔ (قلمی نسخہ تفسیر حسینی ص ٦٦ ج ٣) رملہ اس کا واحد الرمل ہے۔ فلسطین کا بہت بڑا شہر ہے۔ اور یہ مسلمانوں کی فوجی چھاؤنی رہ چکی ہے۔ (معجم البلدان ج ٣ ص ٦٩)

(ارض مرتفع وہی بیت المقدس او دمشق او ایلیاء فلسطین او مصر) یعنی ربوہ یہ اونچی زمین کو کہتے ہیں۔ یہ یا تو بیت المقدس یا دمشق یا ایلیا فلسطین یا مصر ہے۔ (تفسیر مذکور کا ص ٤٤٣) ایلیاء کے متعلق معجم

صفحہ ١٠٨

البلدان میں مذکور ہے کہ اسم مدینہ بیت المقدس کو یہ کہ کسی شہر کا نام ہے۔ (معجم البلدان ص ٢٩٣ ج ١) دمشق کے وضاحتی نوٹ میں صاحب معجم البلدان آیت۔ ”و آویناہما“ نقل کر کے لکھتے ہیں کہ وہی دمشق ذات قرار و معین و ذات رضاء من العیش یعنی یہ دمشق ہے کہ جو زندگی کی نعمتوں سے مالا مال ہے پھر آگے چل کر لکھتے ہیں کہ ان عیسیٰ ینزل عند المنارۃ البیضاء من شرقی دمشق کہ عیسیٰ علیہ السلام کہ دمشق کے شرقی سفید مینار پر نزول فرمائیں گے۔ اور والمغارۃ التی فی جبل النیرب یقال انہا کانت ماوٰی عیسٰی علیہ السلام اور جبل یثرب کی جو غار ہے اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ حضرت عیسیٰ کی جائے پناہ تھی۔ (معجم البلدان ج ٣ ص ٤٦٤) اسی طرح اردو دائرہ معارف اسلامیہ میں دمشق کے وضاحتی نوٹ کے سلسلہ میں مذکور ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ (یہاں) ایک پرسکون ٹیلہ (ربوہ) پر قیام فرمائے ہوئے تھے۔ (الی ربوہ ذات قرار ٢٣: المومنون ٥٠) اور دنیا کے خاتمے کے قریب دجال سے لڑنے کے لئے سفید مینار پر جسے کبھی تو مشرق مینار قرار دیا جاتا تھا۔ اور کبھی مسجد جامع کا شرقی مینار نزول اجلال فرمائیں گے۔ اردو دائرہ معارف اسلامیہ ج ٩ ص ٣٧٣ مادہ (دمشق)

نے انہیں ایک مرتفع مقام پر پناہ دی جو بسنے کے قابل اور شاداب تھا۔ غالباً اس سے مقصود وادی نیل کی بالائی سطح ہے یعنی مصر کا بالائی حصہ۔ اناجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح کی پیدائش کے بعد مریم اسی مقام پر قیام پذیر ہوئیں۔ (ترجمان القرآن ج ٢ ص ٥٣ مطبوعہ اسلامی اکادمی)

بموجب فلسطین اور رملہ ہے اور نبی علیہ السلام سے بھی مروی ہے۔ نیز ابن عباسؓ، ابن المسیب اور ابن سلام کے نزدیک یہ دمشق ہے۔ کعب اور قتادہ کے نزدیک بیت المقدس اور ابن زید کے نزدیک مصر (الجامع الاحکام القرآن ج ١٢ ص ١٦٢ مطبوعہ ایران)

اللہ تعالیٰ نے آپ کی والدہ کی طرف وحی کی کہ انہیں مصر کی طرف لیکر چلی جائے۔ اور قرآن مجید میں وجعلنا ابن مریم وامہ ...... میں اس طرف اشارہ کیا ہے۔ (البدایہ ج ٢ ص ٧)

و پسر عم خود یوسف آیت ”الی ربوہ ذات قرار و معین“ ذکر ہے۔ (دائرہ معارف بستانی ج ٨ ص

صفحہ ١٠٩

٥٤٨ مادہ ربوہ دار المعرفہ بیروت) نیز صاحب معجم البلدان یاقوت بن عبداللہ الحموی جس کا حوالہ بھی گزرا ہے۔ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد دمشق ہے دمشق کے پہاڑ کے دامن میں دنیا کی جنت نظیر جگہ ہے۔ اس کے نیچے دریا بردی ہے۔ یہ دریا ثوری پر ایک خوبصورت تاریخی مسجد کی شکل میں تعمیر شدہ ہے۔ اس کے اوپر دریا یزید بہتا ہے۔ جس کا پانی اس مسجد کے حوض میں گرتا ہے۔ اس مسجد کے ایک پہلو میں ایک گھاٹی سی غار نما جگہ ہے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ یہاں حضرت عیسیٰ کی پیدائش ہوئی ہے۔ جس کا قرآن مجید میں اس آیت کے ضمن میں ذکر کیا ہے۔ (معجم البلدان ج ٣ ص ٢٦ دار صادر بیروت)

نہر بردی یا دریا بردی یہ دمشق کا سب سے بڑا مشہور دریا ہے۔ یہ دمشق سے کوئی پانچ میل دور قنوانا نامی جگہ سے بعلبک کے نزدیک چشموں کے پانیوں سے بنتا ہے۔ اس کا کچھ پانی نہر یزید یا دریا یزید میں چلا جاتا ہے اسی طرح جب یہ دریا دمر نامی بستی کے پاس پہنچتا ہے تو اس کا پانی پھر تین حصوں میں بٹ جاتا ہے۔ یعنی دریا بردی کے شمال میں شمالی ثوری نامی دریا اور مغربی جانب باناس نامی دریا میں (معجم البلدان ج ١ ص ٣٧٨) دریاؤں آبشاروں چشموں سرسبز شاداب مقامات کی بہتات یہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی جنم بھومی قرار پاتی ہے۔

ربوہ کا تحریفی پہلو:

ربوہ کا لفظ ہمیں دمشق سے پاکستان کے ضلع جھنگ تحصیل چنیوٹ کے قدیمی گاؤں ”چک ڈھکیاں“ جو کہ دریائے چناب کے شمالی کنارہ پر فیصل آباد سرگودھا روڈ پر واقع مل جاتا ہے۔ اس گاؤں کو آج ”ربوہ“ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ جبکہ اس کا اصلی نام کاغذات مال میں بدستور ”ڈھکیاں“ (چک ڈھکیاں) چلا آ رہا ہے۔ اصلی نام کی جگہ جعلی نام کی تبدیلی پاکستان بننے کے بعد ظہور پذیر ہوئی۔ جب گورنر موڈی نے اس چک کی زمین ٩٠ سالہ ٹھیکہ پر انجمن احمدیہ کو دی۔ تو قادیانی جماعت کے وڈیروں نے اس چک کا نام اپنی مذہبی مناسبت سے ”ربوہ“ رکھا۔ قرآنی لفظ کا بے جا استعمال تحریف قرآن کے زمرہ میں آتا ہے جو کہ کفر کی ناپاک سازش ہے جو کہ کفر کا وطیرہ چلا آتا ہے حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ نے اپنی تفسیر میں (جس کا پہلے ذکر ہو چکا ہے۔) آیت ”الی ربوہ ذات قرار معین کے عین قادیانی نظریہ کشمیر کی تردید کی ہے۔ کہ ربوہ سے مراد کشمیر ہے۔ وہ اس ربوہ کی بھی تردید کرتے چونکہ یہ ربوہ بعد میں بنا جب وہ دنیا سے جا چکے تھے۔ لہٰذا انہیں تردید کا موقعہ نہ ملا۔

صفحہ ١١٠

(ب) ربوہ سے مراد کشمیر :

مرزا بشیر الدین محمود اپنے قرآنی ترجمہ بعنوان تفسیر صغیر میں آیت و آوینا ھا کے تحت کیا ہے۔ کہ تاریخ سے ثابت ہے کہ یہ اونچی جگہ کشمیر تھی بائبل یہودیوں اور ہندوؤں کی تاریخ سے بہت حوالے اس کی تائید میں ملتے ہیں۔ قادیانی وڈیرے مرزا بشیر الدین کو مسلمانوں کی تاریخ سے کوئی حوالہ تو نہ مل سکا البتہ کند ہم جنس با ہم جنس پرواز کے مصداق اپنی کفار برادری سے اس کے تائیدی حوالے ملے۔ پھر دیانت داری یہ کہ ایک حوالہ بھی تحریر میں نہ لا سکے۔ اس طرح قرآنی ترجمہ نگار مولوی محمد علی نے بھی اس آیت کے ذیل میں اپنی کتاب ”بیان القرآن“ میں مسلم مؤرخین مفسرین اور ترجمہ اور تفسیر نگاروں کی جملہ آراء کو جھٹک کر رکھ دیا۔ اور اپنے کشمیر کے نظریے کو پیش کرنے میں سعی لاحاصل کی۔ چنانچہ ملاحظہ ہو کتاب مذکورہ پر اس کا وضاحتی نوٹ (بیان القرآن ص ٩٤٥) کشمیر تو پرانی تحقیق ہے۔ اب ربوہ نام کی بستی پاکستان ضلع جھنگ کے نقشہ میں موجود ہے۔ تو اس کا مصداق قادیانیت کی نگاہ میں یہی وہ ربوہ ہے جو آیت میں مذکور ہے۔ اگر قادیانیت کو غیر مسلم قرار دینا ضروری تھا تو اس قرآنی اصطلاح اور لفظ کا تقدس اس بات کا متقاضی ہے کہ اس کو بھی تبدیل ہونا چاہیے۔ اور اس کی جگہ چک ڈھکیاں اصل نام زبان خلق ہونا چاہیے۔ کفر اور مشعر بالکفر دونوں کا خاتمہ ضروری ہے۔ مسلمان علماء میں سے حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی دامت برکاتہم نے اس سلسلہ میں کافی کوشش کی ہے کہ اس (ربوہ) نام کو تبدیل کیا جائے۔ اور بلدیہ ربوہ نے اپنے ایک بل کے ذریعے اس تبدیلی کو پاس کر لیا ہے۔ مگر ہنوز عمل درآمد نہیں ہوا۔ یہ نکتہ ہمارے مطالعہ کا ایک حصہ تھا۔ جس کا ہم نے ذکر کر دیا ہے۔

حاصل بحث :

بحث کا ماحصل یہ ہوا کہ واقعات اور حقائق کے تناظر میں حضرت عیسیٰ کی پیدائش کی جگہ ”بیت اللحم“ ہے اور یہ جگہ ایک ٹیلہ ہے جیسا کہ الموسوعة الذھبیہ میں مذکور ہے۔ وَهِيَ تَقَعُ عَلَى تِلالٍ تُغَطِّيْهَا مَزَارِعُ الْكُرُوْمِ وَالزَّيْتُوْنِ. یعنی یہ ٹیلہ ہے جس کے گردا گرد زیتون اور انگور کے کھیت ہیں اور اس کتاب میں بیت اللحم کی تعریف میں ذکر کیا ہے۔ وَهِيَ لَيْسَتْ بِبَعِيْدَةٍ عَنْ مَدِيْنَةِ الْقُدُسِ لَيْسَ فِيْ بَيْتِ اللَّحْمِ سِوَى شَارِعٍ وَاحِدٍ طَوِيْلٍ يَقُوْدُ إِلَى كَنِيْسَةِ الْمِيْلَادِ الَّتِي شُيِّدَتْ فِي الْمَكَانِ الَّذِي يُعْتَقَدُ أَنَّ الْمَسِيْحَ وُلِدَ فِيْهِ. یعنی بیت اللحم Bythlehem قدس شہر سے زیادہ دور نہیں اور اس

صفحہ ١١١

میں صرف ایک لمبی سڑک ہے۔ جو کہ میلاد نامی گرجا کی طرف جاتی تھی۔ جو اس جگہ تعمیر شدہ ہے جہاں عقیدہ کے مطابق حضرت عیسیٰ کی پیدائش ہوئی۔ (الموسوعة الذهبية ج ٣ ص ٢٤٢) اسی طرح مفسرین نے آیت فَحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهِ مَكَاناً قَصِيّاً (مریم : ٢٢) یعنی حضرت عیسیٰ کی والدہ انہیں بوقت پیدائش ایک دور جگہ لے گئیں۔ کی نشان دہی بیت اللحم کی طرف کی ہے۔ جیسا کہ علامہ طنطاوی کا قول ہے بَعِيداً عَنْ اَهْلِهَا اَىْ اَقْصَى الْوَادِى و ہو بیت اللحم یعنی اپنے گھر والوں سے دور وادی کے آخر یعنی بیت اللحم میں (الجواہر فی تفسیر القرآن الکریم للطنطاوی ج ١٠ ص ٨) بیت اللحم کی تفسیر پہلے ہم معجم البلدان کے حوالہ سے لکھ چکے ہیں کہ یہ دمشق اور بعلبک کے درمیان ہے یا بیت المقدس سے جبرین کی طرف ہے۔ یہ علاقہ فلسطین کا ہے۔ جیسا کہ مقبوضہ فلسطین کے اس جغرافیائی نقشہ سے واضح ہے۔ ذرا نقشہ ملاحظہ ہو۔ اس نقشہ کی رو سے جہاں مفسرین نے فلسطین رملہ فلسطین بیت المقدس اور مصر کے اقوال درج کیے ہیں وہ سب اپنی اپنی جگہ درست ہیں یعنی اس سارے علاقہ پر فلسطین کی چھاپ ہے اور اس کے اندر یہ سب علاقے آ جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ دمشق بھی اس نقشہ میں شامل ہے۔ اور حضرت عیسیٰ کی رہائش شہر ناصرہ بھی اس میں ہے۔ جس کی وجہ سے آپ کو مسیح الناصری کہا جاتا ہے۔ لہٰذا اب تمام احتمالات اپنی اپنی جگہ پر درست ہیں باقی غیر مسلم قرآنی ترجمہ نگاروں نے جو ”ربوہ“ اس صفاتی نام سے کشمیر کا قول کیا ہے۔ حقائق اس کی نفی کرتے ہیں۔ اور اس صفاتی نام سے کسی شہر کا حقیقی نام رکھنا یہ تحریف قرآنی کا ایک عملی ثبوت ہے۔ جو کہ غیر مسلم کا داؤ پیچ ہے۔ جو متشابہ آیات سے اپنی تاویل باطل کی راہ ہموار کرتا ہے۔ جیسا کہ عیسائیوں نے و کلمتہ القاھا الی مریم و روح منہ سے حضرت عیسیٰؑ کے ابن اللہ (اللہ کا بیٹا) ہونے کا دعویٰ کیا اور ان کی خدائیت کا قائل رہا۔ اور محکم آیت ان ہوالا عبد انعمنا علیہ کہ وہ اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ ہیں اور رسولوں میں سے ایک رسول ہیں۔ اسی طرح غیر مسلم قادیانی فرقہ نے بن ماٹان دوازدہ سال درآن موضع بسر کردند۔ ”یعنی حضرت مریم اپنے لڑکے اور یوسف بن ماٹان اپنے چچا کے صاحبزادہ کے ہمراہ ١٢ سال اس جگہ پر رہے۔ (تفسیر حسینی قلمی ص ٦٦٠ محفوظ کتب خانہ جامعہ عربیہ چنیوٹ ضلع جھنگ)

پر لے گئیں اور یہاں ١٢ سال رہیں اتنے میں وہ بادشاہ مرگیا۔ (جلالین کلاں حاشیہ ص: ٢٩٠)

صفحہ ١١٢

حالات و واقعات پر تبصرہ فرماتے ہیں۔ انہوں نے حضرت عیسیٰ کی جائے ولادت کی جگہ کو ٹیلہ (ربوہ) سے تعبیر کیا ہے۔ اور یہ وہ جگہ ہے کہ آپ کی والدہ پیدائش کے قریب بیت المقدس سے دور تقریباً 9 میل کوہ سراۃ (ساعیر) کے ایک ٹیلہ پر چلی گئیں جو اب بیت اللحم کے نام سے مشہور ہے (قصص القرآن ج ٤ ص ٤٢) بیت اللحم کے متعلق صاحب معجم البلدان نے یوں توضیح کی ہے۔ بیت المقدس کے آس پاس ایک پر رونق جگہ ہے۔ یہاں ایک جگہ مہد عیسیٰ کے نام سے مشہور ہے۔ اور اس کا محل وقوع بیت المقدس سے جبرین کی طرف ہے۔ جبرین بیت المقدس اور عسقلان کے درمیان ایک قلعہ ہے۔ اس کو عمرو بن العاص نے فتح کیا تھا اور اس کو اپنی جاگیر میں شامل فرما لیا۔ اس کا نام غلام کے نام پر عجلان رکھا۔ اور ایک روایت کے مطابق بیت اللحم دمشق اور بعلبک کے درمیان ایک بستی کا نام ہے۔ (معجم البلدان ص ١٠٢ ج ٢) اسی ساعیر سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کے ظہور کی پیش گوئی سابقہ آسمانی کتابوں میں ہوئی۔ چنانچہ قصص القرآن میں مذکور ہے۔ توراۃ انجیل اپنی لفظی و معنوی تحریفات کے باوجود آج بھی چند بشارات کو اپنے سینہ میں محفوظ رکھتی ہے۔ جو مسیح علیہ السلام کی آمد سے تعلق رکھتی ہیں۔ توراۃ استثناء میں ہے اور اس موسیٰ نے کہا کہ خداوند سینا سے آیا اور شعیر (ساعیر) سے ان پر طلوع ہوا اور فاران کے پہاڑوں سے جلوہ گر ہوا۔ (باب ٣٣ آیت ٢) اس بشارت میں سینا سے خدا کی آمد حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نبوت کی جانب اشارہ ہے اور ساعیر سے طلوع ہونا نبوت عیسیٰ علیہ السلام مراد ہے۔ کیونکہ ان کی ولادت با سعادت اسی پہاڑ کے ایک مقام بیت اللحم میں ہوئی۔ اور متی کی انجیل میں ہے۔ جب یسوع ہیرودس بادشاہ کے زمانہ میں یہودیہ کے بیت اللحم میں پیدا ہوا۔ (باب ٢ آیات ١۔٦) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بیت المقدس کی سرزمین ہے جسے الی ربوۃ ذات قرار و معین کہا گیا ہے۔

یہ اس نہر کا ذکر ہے جس کو آیت قد جعل ربک تحتک سریا میں بیان کیا گیا ہے۔ اور ضحاک اور قتادہ کا بھی یہی قول ہے۔ کہ الی ربوۃ ذات قرار و معین سے بیت المقدس کی سرزمین مراد ہے اور یہی قول زیادہ ظاہر ہے۔ (قصص القرآن ص ٤٦ ج ٤)

صفحہ ١١٣

التفاسیر میں آیت و آویناھما کے تحت ابن کثیر سے موقف نقل کیا ہے وہ کہتے ہیں ای وجعلنا منزلہما و ماواہما الی مکان مرتفع من ارض بیت المقدس (صفوۃ التفاسیر ص ٣١٠ ج ٢) یعنی ان دونوں کی جائے رہائش اور ان کا ٹھکانہ بیت المقدس کی اونچی زمین پر بتائی۔ اور ذات قرار و معین ای مستویۃ یستقر علیہا و ماء جار ظاہر للعیون قال الرازی: القرار: المستقر کل ارض مستویۃ مبسوطۃ والمعین، الظاہر الجاری علی الارض و عن قتادہ ذات ثمار و ماء یعنی انه لاجل الثمار یستقر فیھا ساکنوہ۔ یعنی ذات قرار و معین سے مراد ہموار زمین اور پانی کا چل چلاؤ آنکھوں سے دکھائی دے رہا ہو۔ امام رازی کے حوالہ سے قرار سے مراد ہموار زمین ہے۔ اور معین سے مراد زمین پر چلتا ہوا پانی اور قتادہ کے نزدیک پانی کے ساتھ پھل والی ہوئی۔ کیونکہ پانی اور پھلوں کی وجہ سے لوگوں کا وہاں رہائش پذیر رہنا ممکن ہوگا۔ (صفوۃ التفاسیر سابقہ حوالہ)

روایت تطبیق :

اس توضیح نے تو ماں بیٹے (یعنی عیسیٰ اور ان کی والدہ) کی رہائش گاہ اور ٹھکانے کو ایک سبز و شاداب جگہ کو قرار دیا ہے۔ جہاں زندگی کی ضروریات خوب ہوں اور جنت نظیر جگہ ہو۔ صاحب معجم البلدان اس کو دمشق قرار دیتے ہیں (جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے) بیت اللحم دمشق اور بعلبک کے درمیان واقع ہے۔ اگر آپ کی پیدائش بیت اللحم میں ہوئی ہو تو دمشق سے ملحقہ ہونے کی وجہ سے اس کو دمشق کہہ دیا جائے تو عین ممکن ہے پھر صاحب معجم البلدان کے بقول کہ بیت المقدس کے آس پاس ایک جگہ ”مہد عیسیٰ“ کے نام مشہور ہے۔ اس جگہ کو اگر دمشق میں شامل کر لیا جائے تو یہ عین ممکن ہے۔ اور چونکہ عیسیٰ کو دمشق سے خاصی مناسبت ہے۔ کہ قرب قیامت وہ دمشق کی جامع مسجد کے شرقی مینارہ پر نزول فرمائیں گے۔ تو اس مناسبت سے آپ کی پیدائش جو کہ بیت المقدس کے قریب کوہِ ساعیر پر دمشق کا اطلاق کر دیا جائے تو یہ بھی خلاف قیاس نہیں۔ چونکہ قرآن پاک نے خود اس کو مطلق چھوڑا ہے مقید نہیں کیا اس لئے اس کو ایک جگہ سے مقید تو نہیں کیا جاسکتا۔ اب ربوہ سے مراد روایات کی روشنی میں حضرت عیسیٰ کی جائے پیدائش کو لینا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ اگلے زمانہ کے تغیرات کے بموجب آپ نے جو مختلف جگہوں پر سکونت اختیار کی ہو تو یہ ہجراتی رنگت اختیار نہیں کرسکتی۔ اللہ تعالیٰ نے جس خصوصیت سے بطور انعام جس جگہ کا آیت شریفہ میں بیان کیا وہ حضرت عیسیٰ کے زمانہ حمل سے

صفحہ ١١٤

لیکر زمانہ ولادت تک کے واقعات کا احاطہ اور بحفاظت دنیا پر ظہور پذیر ہونا ہے۔ اس مذکور بالا قول کی تائید مفسر قرآن علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کے تفسیری وضاحتی نوٹ سے ہوتی ہے۔ جو انہوں نے آیت الی ربوہ ذات قرار ومعین کے زیر فائدہ نمبر ١٢ تفسیر ۔ کے حاشیہ میں تحریر کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں شاید یہ وہی ٹیلہ یا اونچی زمین ہو جہاں وضع حمل کے وقت حضرت مریم تشریف رکھتی تھیں۔ چنانچہ سورۃ مریم کی آیت ”فناداہا من تحتہا“ دلالت کرتی ہے کہ وہ بلند جگہ تھی نیچے چشمہ یا نہر بہہ رہی تھی۔ اور کھجور کا درخت نزدیک تھا لیکن عموماً مفسرین لکھتے ہیں کہ یہ حضرت مسیح کے بچپن کا (پھر ہیردوس وغیرہ کا واقعہ نقل کیا) مزید آگے لکھتے ہیں بعض نے ربوہ (اونچی جگہ) سے مراد شام یا فلسطین لیا ہے اور کچھ بعید نہیں کہ جس ٹیلہ پر ولادت کے وقت موجود تھیں وہیں اس خطرہ کے وقت بھی پناہ دی گئی ہو۔ (تفسیر عثمانی ص ٤٤٥٩ حاشیہ فائدہ نمبر ١٢)

اس جائے ولادت کی تصویر کشی کرتے ہوئے ابن بطوطہ کے حوالہ سے دائرہ معارف بستانی نے ربوہ Rabwah عنوان کے تحت یہ عندیہ دیا ہے ”جبل قاس کے آخر پر حضرت مسیح علیہ السلام اور آپ کی والدہ کی رہائش گاہ کی جگہ ہے۔ اور یہ جگہ دنیا کی تمام حسین جگہوں سے زیادہ حسین سیرگاہ ہے۔ اس میں خوب صورت پختہ محلات عمارتیں اور عجیب وغریب باغات ہیں اور حضرت عیسیٰ کی رہائش گاہ کی جگہ اس میں ایک چھوٹی غار نما جگہ ہے۔ اس کے سامنے حضرت خضر کا مصلیٰ ہے پھر مزید یاقوت حموی کے حوالہ سے آبی گزرگاہوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ کہ یہ جگہ شمالی دمشق جبل قاس کے پہلو میں ہے۔ اس کے نیچے بردی دریا بہتا ہے۔ اور یہ جگہ ایک اونچی مسجد کی شکل میں دریا ثوری پر ہے۔ اس جگہ سے اوپر دریاء یزید گزرتا ہے۔ اس کا پانی مسجد کے حوض میں گرتا ہے اس مسجد کے ایک کونہ میں ایک چھوٹی غار نما جگہ ہے جس کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ یہی وہ جگہ ہے جس کا ربوہ کے محکم معانی میں تشابہ پیدا کرنے کے لئے اس صفاتی نام کا اپنی بستی پر اطلاق کر دیا اس کو محض حادثاتی واقعہ یا تکاتی نام قرار نہیں دیا جاسکتا۔ بلکہ عمداً قصداً انہوں نے ایسا کیا ہے تا کہ اس جھوٹے مسیح موعود (غلام احمد قادیانی) کو اس سچے مسیح موعود کے بالمقابل لایا جائے۔ پس قرآن مجید کا یہ دعویٰ ”فاما الذین فی قلوبھم زیغ فیتبعون ماتشابہ منہ ابتغاء الفتنۃ وابتغاء تاویلہ (آل عمران : ٧) کیسے فٹ نظر آتا ہے۔ کہ جن دلوں میں کجی ہے وہ متشابہ کی من پسند تاویل سے پیوستہ رہتے ہیں۔ تاکہ لوگ شک وشبہ کا شکار ہوں اور ان کی باطل تاویل کا راستہ ہموار ہو جائے۔

صفحہ ١١٥

مسیح اور مہدی‘ دو شخصیتیں

جمیل احمد نذیری

قادیانی عقیدہ کے مطابق ”مسیح موعود“ اور ”مہدی موعود“ دونوں دو شخصیتیں نہیں بلکہ دونوں ایک ہی شخصیت کے دو لقب ہیں۔ یہ عقیدہ ”مرزا غلام احمد قادیانی کی اُن تحریروں سے وجود میں آیا جو ”حقیقۃ المہدی“ ”حقیقۃ الوحی“ ”نزول المسیح“ ”اعجاز احمدی“ ”ازالۃ اوہام“ اور ضرورۃ الامام“ وغیرہ کی شکل میں موجود ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مرزا صاحب کا دعویٰ ہے کہ مسیح موعود اور مہدی موعود دونوں کے مصداق وہ خود ہیں۔

ایہالناس انی انا المسیح المحمدی اے لوگو! میں ہی مسیح محمدی اور میں ہی احمد واحمد المہدی مہدی ہوں۔

(خطبات الہامیہ مطبوعہ ١٩٠٢ء)

”ضرورۃ الامام“ میں لکھتے ہیں۔

”اب بالآخر یہ سوال باقی رہا کہ اس زمانہ میں امام الزماں کون ہے جس کی پیروی تمام عام مسلمانوں اور زاہدوں اور خواب بینوں اور ملہموں کو کرنی خدائے تعالیٰ کی طرف سے فرض قرار دیا گیا ہے سو میں اس وقت بے دھڑک کہتا ہوں کہ خدائے تعالیٰ کے فضل اور عنایت سے وہ امام الزماں میں ہوں اور مجھ میں خدائے تعالیٰ نے وہ تمام علامتیں شرطیں جمع کی ہیں۔“ (ص ٤٢)

چند سطروں کے بعد لکھتے ہیں۔

”پس یہ تمام مختلف رائیں اور مختلف قول ایک فیصلہ کرنے والے حَکَم کو چاہتے تھے، سو وہ حَکَم میں ہوں، میں روحانی طور پر کسر صلیب کے لئے اور نیز اختلافات کے دور کرنے کے لئے بھیجا گیا ہوں، انہیں دونوں امروں نے تقاضا کیا کہ میں بھیجا جاؤں.. (ص ٤٤)

صفحہ ١١٦

مرزا صاحب کے ایک امتی قاضی محمد نذیر لکھتے ہیں۔ ”پس یہ ایک حقیقت ہے کہ حضرت بانی سلسلۂ احمدیہ کے ذریعہ مسیح موعود اور مہدی معہود کا بنیادی کام ہو چکا ہے۔“

(امام مہدی کا ظہور ص ٣٩)

یہی صاحب ان سطور سے پہلے ص ١٦ پر اپنی جماعت کی تحقیق ان الفاظ میں پیش کر چکے ہیں۔ ”امام مہدی اور مسیح موعود ایک ہی شخص ہے۔“

(کتاب مذکور ص ١٦)

قادیانی دعوے کا جائزہ

لیکن مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی جماعت کا یہ دعویٰ صحیح نہیں، احادیث کریمہ میں مسیح موعود (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) اور امام مہدی کے بارے میں جو تفصیلات موجود ہیں۔ ان سے پتہ چلتا ہے کہ دونوں دو شخصیتیں ہیں، سب سے پہلے وہ احادیث ملاحظہ کیجئے جن میں مسیح موعود کے نزول کا تذکرہ ہے۔

عن ابى هريرة ، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم، والذي نفسي بيده ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم حكماً عدلاً فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويفيض المال حتى لايقبله احد حتى تكون السجدة الواحدة خيراً من الدنيا وما فيها ثم يقول ابوهريرة فاقرأو اِنْ شِئْتُمْ وَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْ مِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ

(بخاری ج ١ ص ٤٩٠، مسلم ج ١ ص ٨٧)

حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ قریب ہے کہ تم میں ابن مریم ؑ نازل ہوں، حاکم عادل کی حیثیت سے، پس وہ صلیب کو توڑ دیں گے۔ خنزیر کو قتل کریں گے جزیہ کو ختم کر دیں گے، مال (پانی کی طرح) بہے گا۔ لیکن اُسے کوئی لینے والا نہ ہو گا یہاں تک کہ سجدۂ واحد دُنیا و مافیہا سے بہتر ہو گا۔ پھر حضرت ابو ہریرہؓ نے فرمایا اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھو (کیونکہ اس میں اس زمانہ کی طرف اشارہ ہے) وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتَابِ الخ بیشک اہل کتاب ضرور بالضرور ایمان لائیں گے۔ حضرت عیسیٰ ؑ علیہ السلام پر ان کی وفات سے پہلے۔

صفحہ ١١٧

دوسری روایت میں ہے واللہ یَنزِلَنَّ ابن مریم حكما عادلا خدا کی قسم! ابن مریم ضرور بالضرور نازل (مسلم جلد ١ ص ٨٧) ہوں گے حاکم عادل بن کر۔

ابن عباسؓ کی روایت میں ہے۔ ینزلُ أخی عیسیٰ بن مریم من السماء میرے بھائی عیسیٰ ابن مریمؑ آسمان سے (کنزالعمال ج ٧ ص ٢٦٨ و ص ٢٥٩) اتریں گے۔

نواس بن سمعانؓ سے مروی ہے۔ فیبعث الله المسیح بن مریم فینزل پس اللہ تعالیٰ مسیح ابن مریم کو بھیجے گا پس وہ عندالمنارة البيضاء الشرقي دمشق بین دمشق کے مشرقی سفید منارہ کے پاس مہرودتین واضعا یدیہ علی أجنِحَةِ ملكین۔ دو چادریں اوڑھے ہوئے دو فرشتوں کے (مسلم ج ٢ ص ٤٠١ ترمذی ج ٢ ص ٤٧ بازوؤں پر اپنے دونوں ہاتھ رکھے ہوئے ابوداؤد ج ٢ ص ٢٤٥ ابن ماجہ ص ٣٠٦ اتریں گے۔

مراسیل حسن بصریؒ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود سے فرمایا تھا۔ ان عیسی لم یمت وانه راجع الیکم قبل حضرت عیسیٰ ؑ کی وفات نہیں ہوئی وہ یوم القيامة تمہاری جانب قیامت سے پہلے اتریں گے۔

(تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٢٣٠)

نجران کے عیسائی وفد سے حضورؐ نے فرمایا تھا۔ الستم تعلمون ان ربنا حی لایموت و کیا تم جانتے نہیں کہ ہمارا پروردگار زندہ ہے ان عیسىٰ یاتی علیہ الفناء مرے گا نہیں اور حضرت عیسیٰ ؑ پر فنا آئیگی

(تفسیر کبیر ج ٢ ص ٤٨٨ درمنثور ج ص ٢٠٣)

ان احادیث سے صاف ظاہر ہے کہ مسیح موعود حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ آسمان پر اٹھا لیا تھا قیامت کے قریب انہیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے گا۔ وہ آسمان سے دو فرشتوں کے سہارے دمشق کے مشرقی سفید منارہ کے پاس اتریں گے۔

ان احادیث یا جتنی بھی حدیثیں نزول مسیح سے متعلق ہیں کسی میں مثیل مسیح کا ذکر نہیں ہے بلکہ صاف صاف بغیر کسی ابہام و استعارہ کے مسیح ابن مریمؑ عیسیٰ ابن مریم یا صرف .

صفحہ ١١٨

ابن مریم کے الفاظ مذکور ہیں، دوسری قابل غور بات یہ ہے کہ تمام حدیثوں میں ”نزول“ یعنی اترنے کا تذکرہ ہے۔ جس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ حضرت عیسیٰ کہیں سے اتریں گے، بعض میں تو آسمان کی بھی صراحت ہے۔ اور ظاہر بات ہے کہ جب آسمان پر اٹھائے گئے ہیں تو نزول بھی وہیں سے ہوگا۔

نزول کا وقت کیا ہوگا؟ اس کے متعلق یہ احادیث ملاحظہ کیجئے۔

وامامهم رجل صالح فبينما امامهم قدتقدم يصلى بهم الصبح اذا نزل عليهم عيسى بن مريم الصبح فرجع ذالك الامام ينكص مشى القهقرى ليقدم عيسى يصلى فيضع عيسى يده بين كتفيه ـ ثم يقول له تقدم فصل فانها لك اقيمت فيصلى بهم امامهم ـ ابن ماجہ ص ٣٠٨

ان کا امام ایک صالح مرد ہو گا‘ پس جس درمیان کہ وہ امام انہیں نماز فجر پڑھانے کے لئے بڑھے گا‘ اچانک حضرت عیسیٰ ابن مریم اتر آئیں گے۔ پس وہ امام پیچھے ہٹے گا تا کہ حضرت عیسیٰ کو آگے بڑھائے کہ وہ نماز پڑھائیں۔ حضرت عیسیٰ اپنا ہاتھ اس کے کندھے پر رکھیں گے اور کہیں گے‘ آگے بڑھئے اور نماز پڑھئے‘ کیونکہ آپ ہی کے لئے اقامت کہی گئی ہے۔ چنانچہ ان کا امام انہیں نماز پڑھائے گا۔

دوسری حدیث میں ہے۔

فينزل عيسى ابن مريم فيقول اميرهم تَعَالَ صَلِّ لنا فيقول لا ان بعضكم على بعض امراء تكرمة الله تعالى لهذه الامة۔

(مسلم ج ١ ص ٨٧)

پس حضرت عیسیٰ ابن مریم اتریں گے تو ان کا امیر کہے گا !ہمیں نماز پڑھائیے۔ وہ کہیں گے نہیں‘ تم میں سے بعض‘ بعض پر امیر ہے اس بزرگی کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ نے اس امت کو عطاء کی ہے۔

ایک اور حدیث میں ہے۔

كيف انتم اذا نزل ابن مريم فيكم وامامكم منكم ـ

(بخاری ج ١ ص ٤٩٠‘ مسلم ج ١ ص ٨٧)

تمہارا کیا حال ہوگا؟ جب تم میں ابن مریم اتریں گے اور تمہارا امام تمہیں میں سے ہوگا۔

حضرت عیسیٰ ہوگئی‘ وفات کے بعد حض مسند احمد ج ٢ ص ٢٩‘ عو

امام مہدی کا نام او

اب امام مہد

عن عبداللہ بن مسعو اللہ صلی اللہ علیہ الدنیا حتی یملک الـ یواطیُ اسمُہُ اسمی۔

(ترمذی ج ٢ ص ٤٦)

یعنی اس کا نا عبداللہ ہوگا۔

لو یبق من الدنیا الایو اللہ ذالک الیوم حـ رجلاً منی او من اھل اسمی واسمُ ابیہ اسم قسطاً وعدلاً کما مُلِئَ

(ابوداؤد ج ٢ ص ٢٤٧)

اس حدیث ۔ ام سلمہؓ کی رو المہدی من عترتی مـ

(کتاب مذکور ص ٢٤٨)

صفحہ ١١٩

حضرت عیسیٰ دجال کو قتل کریں گے۔ حج بھی کریں گے۔ شادی بھی ہو گی، اولاد بھی ہو گی، وفات کے بعد حضور کے پاس دفن ہوں گے۔ (دیکھئے مسلم ج ١ ص ٤٠٨ و ج ٢ ص ٤٠١ مسند احمد ج ٢ ص ٢٩، عون المعبود شرح ابی داؤد ج ٤ ص ٤٠٥، مشکوٰۃ ج ٢ ص ٤٨٠ وغیرہ

امام مہدی کا نام اور خاندان

اب امام مہدی کے نام، خاندان اور کام کے متعلق احادیث ملاحظہ کیجئے۔

عن عبدالله بن مسعود قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لاتذهب الدنيا حتى يملك العرب من اهل بیتی يواطئ اسمه اسمی۔

(ترمذی ج ٢ ص ٤٦)

عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ دنیا ختم نہیں ہو سکتی یہاں تک کہ (اس) دنیا کا مالک میرے اہل بیت میں سے ایک عرب نہ ہو جائے جس کا نام میرے ہی نام جیسا ہو گا۔

یعنی اس کا نام محمد ہو گا، دوسری حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ امام مہدی کے باپ کا نام عبداللہ ہو گا۔

لو يبق من الدنيا الا يوم قال زائدة لَطَوَّلَ الله ذلك اليوم حتى يبعث الله فيه رجلاً منی او من اهل بیتی يُوَاطِئُ اِسْمُهُ اسمی واسمُ ابيه اسم أبى يملأ الارض قسطاً وعدلاً كما مُلِئَتْ ظلماً وجورًا

(ابو داؤد ج ٢ ص ٢٢٨)

اگر دنیا کا ایک ہی دن رہ جائے تو بھی اللہ تعالیٰ اس کو لمبا کر دے گا۔ یہاں تک کہ اس میں ایک ایسے شخص کو بھیجے گا جو مجھ سے ہو گا۔ یا حضور نے یوں فرمایا کہ میرے اہل بیت میں سے ہو گا۔ اس کا نام میرے نام اور اس کے باپ کا نام میرے باپ کے نام جیسا ہو گا۔ وہ زمین کو عدل وانصاف سے بھر دے گا۔ جبکہ وہ ظلم وجور سے بھر چکی ہو گی۔

اس حدیث سے یہ بھی پتہ چلا کہ مہدی کا آنا بالکل یقینی اور شک وشبہ سے بالاتر ہے ام سلمہ کی روایت میں ہے۔

المهدى من عترتى من ولد فاطمة

(کتاب مذکور ص ٢٤٨)

مہدی میرے خاندان سے اولاد فاطمہ سے ہو گا

صفحہ ١٢٠

امام مہدی کی یہ خصوصیت بکثرت احادیث میں وارد ہوئی ہے کہ وہ دنیا کو۔ جب کہ دنیا ظلم وجور سے بھر چکی ....... ہوگی۔ عدل وانصاف سے بھر دیں گے۔ بخشش وسخاوت کے دریا بہائیں گے‘ ان کے زمانہ میں مال و دولت کی فراوانی ہو گی‘ بارش بھی خوب ہو گی‘ پیداوار بھی خوب ہو گی‘ لوگ آرام و راحت اور چین وسکون سے گزر بسر کریں گے۔ (دیکھئے مشکوٰۃ ج ٢ ص ٤٧٠‘ ص ٤٧١‘ باب اشراط الساعۃ)

صحیح مسلم میں اگر چہ ”مہدی“ کے لفظ کی صراحت نہیں‘ مگر جو خصوصیات بیان کی گئی ہیں ۔ اور جو وقت بتایا گیا ہے‘ وہ مہدی کے علاوہ کسی پر صادق نہیں آتا۔

عن جابر بن عبدالله قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يكون في اخر امتى خليفة يحثى المال حثياً ولا يَعُدُّهُ عداً (مسلم ج ٢ ص ٣٩٥)

حضرت جابر بن عبداللہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت کے آخری زمانہ میں ایک خلیفہ ہوگا جو مال عطا کرے گا۔ لیکن اُسے شمار نہیں کرے گا۔

عن ابى سعيد الخدرى قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من خلفاء كم خليفة يحثوا المال حثياً ولا يعدّهُ عددًا (حوالہ مذکورہ)

حضرت ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے خلفاء میں سے ایک خلیفہ مال لٹائے گا مگر اُسے شمار نہیں کرے گا۔

ایک اور حدیث میں ہے۔ يكون فى اخر الزمان خليفة يَقْسِمُ المال ولا يعدّه (حوالہ مذکورہ)

آخر زمانہ میں ایک خلیفہ ہوگا جو مال تقسیم کریگا اور اُسے شمار نہیں کریگا۔

امام مہدی کی یہی خصوصیت‘ بغیر کسی ابہام واجمال کے لفظ ”مہدی“ کی صراحت کے ساتھ ترمذی میں یوں موجود ہے۔

قال فيجئ اليه الرجل فيقول يا مهدى أَعْطِنِيْ أَعْطِنِي قال فيحثى له فى ثوبه ما استطاع ان يحمله (ج ٢ ص ٤٦)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا‘ ایک آدمی اس کے پاس آ کر کہے گا اے مہدی! مجھے دو‘ مجھے دو‘ پس وہ اس کے کپڑے میں دیتا جائے گا یہاں تک کہ وہ اُسے اٹھانے کی استطاعت نہیں رکھے گا۔

حاکمؒ نے مستدرک میں شـ صراحت ہے۔ اور وقت اور صفات ابن خلدون ص ٣١٩) ان تمام احادیث پر جو محتـ تردد نہ ہو گا کہ مسیح موعود اور مہدی سے اترے گی‘ دوسری رسول اللہ صلی ابن مریم ” ہے۔ دوسرے کا نام مـ خصوصیات ہیں۔ پھر اس حدیث جس کی سـ کہ مسیح اور مہدی دو شخصیتیں ہیں۔ عن جعفر عن ابيه عن جده قـ رسول الله صلى الله عليه وسلـ تَهْلِكُ امّة انا اوّلُها والمهدى والمسيحُ اخِرُها ولكن بين ذلـ الْعَوَجُ ليسو امتى ولا انا منهم ‘ رو (مشکوٰۃ ج ٢ ص ٥٨٣)

حدیث لامہدی الا“ موضوع

ابن ماجہ میں انس بن مالک ولا المهدى الا عيسى بن مريم (ص ٣٠٢ باب شدّة الزمان) اس حدیث کے متعلق قا

صفحہ ١٢١

حاکمؒ نے مستدرک میں شرط شیخین پر کئی روایات نقل کی ہیں جن میں لفظ ”مہدی“ کی صراحت ہے۔ اور وقت اور صفات بھی وہی بیان کی گئی ہیں جو احادیث بالا میں ہیں (مقدمہ ابن خلدون ص ٣١٩)

ان تمام احادیث پر جو شخص انصاف کی نظر ڈالے گا‘ اُسے یہ فیصلہ کرنے میں ذرا بھی تردد نہ ہو گا کہ مسیح موعود اور مہدیؑ معہود دو الگ الگ شخصیتیں ہیں۔ ایک باحیات ہے‘ آسمان سے اترے گی‘ دوسری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان میں پیدا ہو گی۔ ایک کا نام عیسیٰ ابن مریمؑ ہے۔ دوسرے کا نام محمد بن عبداللہ ۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت سی الگ الگ خصوصیات ہیں۔

پھر اس حدیث جس کی سند کو سلسلۃ الذہب کہا جاتا ہے۔ نے بالکل ہی فیصلہ کر دیا کہ مسیح اور مہدیؑ دو شخصیتیں ہیں۔

عن جعفر عن ابیه عن جده قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیف تَهْلِکُ امَّةٌ انا اوَّلُها والمهدی وسطُها والمَسیحُ اخِرُها ولكن بین ذلک فِیجٌ اَعْوَجُ ليسوا منی ولا انا منهم ‘ رواه رزین (مشکوٰۃ ج ٢ ص ٥٨٣)

جعفر صادق نے اپنے باپ محمد باقر سے انہوں نے زین العابدین علی بن حسین بن علیؓ بن ابی طالب سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ امت کیسے ہلاک ہو سکتی ہے جس کے اول میں میں ہوں۔ درمیان میں مہدی اور آخر میں مسیحؑ لیکن درمیان میں کچھ کج رو گروہ ہونگے جو مجھ سے نہ ہوں گے۔ اور نہ میں اُن سے ہوں گا۔

حدیث ”لا مہدی الاّ“ موضوع و منکر ہے

ابن ماجہ میں انس بن مالکؓ سے مروی ہے۔

ولا المہدی الا عیسیٰ بن مریم (ص ٣٠٢ باب شدۃ الزمان)

عیسیٰ ابن مریمؑ ہی مہدی ہیں اس حدیث کے متعلق قاضی محمد نذیر لکھتے ہیں۔

صفحہ ١٢٢

”اس حدیث نے ناطق فیصلہ دیدیا ہے کہ عیسیٰ ابن مریم ہی ”المہدی“ ہے اور اس کے علاوہ کوئی ”المہدی“ نہیں ہے۔“ (امام مہدی کا ظہور ص ٢٠) لیکن یہ حدیث ”ناطق فیصلہ“ تو کیا ہوتی، سرے سے لائق اعتنا ہی نہیں۔ وہ بھی اُن احادیث کی موجودگی میں جن میں صراحۃً عیسیٰ ابن مریم“ اور ”مہدی“ کو الگ الگ شخصیت قرار دیا گیا ہے۔

اگر قادیانی حضرات اس حدیث کا حوالہ دینے سے پہلے ابن ماجہ کا حاشیہ ہی دیکھ لیتے تو بھی انہیں پتہ چل جاتا کہ یہ حدیث سند کے اعتبار سے کیسی ہے؟ اور اس لائق ہے یا نہیں کہ اُسے مشہور و مستفیض احادیث کے مقابلے میں پیش کیا جائے۔ ابن ماجہ کے حاشیہ پر صاف لکھا ہوا ہے کہ علامہ ذہبیؒ نے میزان الاعتدال میں لکھا ہے کہ ھٰذا خبر منکر (یہ حدیث منکر ہے) پھر آگے چل کر اُسے منقطع بھی کہا ہے۔ سلسلۂ سند میں ایک راوی محمد بن خالد ہے جس کے متعلق حاکمؒ کہتے ہیں کہ مجهول (وہ مجہول ہے) اسی طرح حافظ نے بھی اُسے ”رجل مجہول“ قرار دیا ہے۔

(ابن ماجہ ص ٣٠٢ حاشیہ نمبر ٣)

مقدمۂ ابن خلدون میں ہے۔ وبالجمله فالحديث ضعيف مضطرب (ص ٣٢٢) خلاصۂ کلام حدیث ضعیف و مضطرب ہے۔

مرقات شرح مشکوٰۃ میں ہے۔ حديث لا مهدي الا عيسى بن مريم حديث ”لا مهدي الا عيسى بن مريم“ ضعيف باتفاق المحدثين كما صرح به باتفاق محدثین ضعیف ہے۔ جیسا کہ ابن الجزري على انه من باب لا فتى الا على جزریؒ نے اس کی صراحت کی ہے کہ یہ (ج ٥ ص ١٨٠) لا فتى الا علی کے باب میں ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانیؒ لکھتے ہیں۔

صفحہ ١٢٣

قال ابو الحسن الخسعی الابدی فی مناقب الشافعی تواترت الأخبار بأن المهدی من هذه الامة وأن عیسیٰ یصلی خلفه ذکره ذلک ردا للحدیث الذی أخرجه ابن ماجه عن انسؓ و فیه ولا مهدی الا عیسیٰ‘

(فتح الباری ج 6 ص 493)

ابو الحسن خسعی ابدی ”مناقب شافعی“ میں کہتے ہیں کہ مہدی کے اسی امت میں سے ہونے کے متعلق احادیث متواتر ہیں اور یہ کہ حضرت عیسیٰ ؑ مہدی کے پیچھے نماز پڑھیں گے ابو الحسن خسعیؒ نے یہ بات اس حدیث پر رد کرتے ہوئے لکھی ہے۔ جسے ابن ماجہ نے انسؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ ہی مہدی ہیں۔

علامہ طیبیؒ کہتے ہیں کہ مہدی کے اولادِ فاطمہ میں سے ہونے کی احادیث میں تصریح ہے۔ لہٰذا حدیث ”لا مہدی الا عیسیٰ بن مریم“ ظاہری معنیٰ میں قبول نہیں کی جاسکتی جب کہ وہ سنداً ضعیف بھی ہے۔

(مرقات المفاتیح ج 5 ص 180)

چنانچہ بعض حضرات نے تاویلات بھی کی ہیں اور وہ بھی انہیں آراء کے دوش بدوش موجود ہیں۔ جہاں اُسے ضعیف و منکر کہا گیا ہے۔ مگر جب اس حدیث کا با تفاق محدثین ضعیف و منکر ہونا ثابت ہو چکا ہے۔ تو میرے خیال میں تاویلات کے نقل کرنے کی چنداں ضرورت نہیں رہ جاتی۔

ایک قابلِ غور بات یہ ہے کہ اس حدیث کو ابن ماجہ نے ص 302 باب شدۃ الزمان کے تحت نقل کیا ہے۔ جب کہ آگے چل کر ص 309 پر خود ہی باب خروج المہدی (مہدی کے خروج کا باب) باندھا ہے۔ وہاں اس حدیث کو نہیں لائے‘ وہاں صرف وہی حدیثیں نقل کی ہیں جو مہدی کے‘ امتِ محمدیہ یا اولاد فاطمہ میں سے ہونے کے متعلق ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ ابن ماجہ خود بھی اس حدیث کو ظاہری معنیٰ پر محمول نہیں کرتے تھے۔ ورنہ باب خروج المہدی میں اُسے ضرور نقل کرتے۔

جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ کنز العمال میں بھی یہ حدیث موجود ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہاں پر اس سند کے ساتھ ہے جو ابن ماجہ میں ہے‘ لہٰذا اس کے بھی وجوہِ ضعف وہی ہوں گے۔ جو ابن ماجہ کی روایت کے ہیں۔

صفحہ ١٢٤

يُوشِكَ مَنْ عَاشَ مِنْكُمْ أَنْ تَلْقَى عِيسَى قریب ہے کہ تم میں سے جو زندہ رہے وہ عیسیٰ ابن مریم اماماً مهديًّا حَكَمًا عَدْلًا الخ- ابن مریمؑ سے ملاقات کرئے درآنحالیکہ وہ امام مہدی اور حاکم عادل ہوں گے۔

اس روایت کے متعلق قاضی محمد نذیر لکھتے ہیں۔ اس میں صاف الفاظ میں موعود عیسیٰ ابن مریم کو امام مہدی قرار دیا گیا ہے۔ (امام

مہدی کا ظہور ص ١٩)

مگر قاضی صاحب کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہاں پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ”امام مہدی“ لغوی معنی میں کہا گیا ہے نہ کہ اصطلاحی معنی میں۔ ”مہدی“ کے لغوی معنی ہیں ”ہدایت یافتہ“ ظاہر ہے کہ پیغمبر ہدایت یافتہ نہ ہو گا تو کون ہو گا؟ اور امام کے معنی ہیں پیشوا اور مقتدی۔ ظاہر ہے کہ پیغمبر پیشوا اور مقتدی ہوتا ہی ہے۔

یہاں پر ”مہدی“ کو لغوی معنی پر محمول کرنے کی خاص اور بنیادی وجہ یہ ہے کہ جن جن احادیث میں ”مہدی“ کو اصطلاحی معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ وہاں مہدی کے ساتھ کوئی صفت نہیں لائی گئی۔ بلکہ مطلقاً لفظ ”مہدی“ لایا گیا ہے۔ (اس سلسلے میں قارئین کرام پچھلے صفحات میں مہدی کے متعلق احادیث کو ایک بار پھر دیکھ لیں۔

اس کے علاوہ ان احادیث میں ”مہدی“ کو مسند الیہ یا متبوع کی حیثیت سے لایا گیا ہے نہ کہ بطور صفت۔ اور یہاں پر ”مہدی“ عیسیٰ بن مریم کی صفت واقع ہے۔ اور یہی ایک صفت نہیں ہے بلکہ اس کے علاوہ بھی اس لفظ سے پہلے امام اور بعد میں ”حکم“ اور ”عدل“ کل تین تین صفات اور بھی موجود ہیں۔

بحث اصطلاحی مہدی سے ہے نہ کہ لغوی مہدی سے۔ لغوی اعتبار سے تو مسلمانوں کے ہر امیر خلیفہ کو جو کہ صحیح راہ پر گامزن ہو ”امام مہدی“ کہا جا سکتا ہے‘ لیکن اس لغوی اطلاق سے وہ اصطلاحی مہدی نہیں بن سکتا۔

اِمَامُكُمْ مِنْكُمْ “ کا مطلب :-

قادیانی حضرات نے عیسیٰ ابن مریم اور امام مہدی کے ایک ہونے کو اس حدیث سے بھی ثابت کیا ہے۔

صفحہ ١٢٥

كيف انتم اذا نزل ابن مريم فيكم تم کیسے ہو گئے جبکہ تم میں ابن مریم اتریں وامامكم منكم گے اور تمہارا امام تمہیں میں سے ہوگا۔

(بخاری ج ١ ص ٤٩٠، مسلم ج ١ ص ٨٧)

حدیث کے الفاظ ”وامامکم منکم“ کا ترجمہ قادیانی حضرات یوں کرتے ہیں۔ ”اور وہ تم میں سے تمہارا امام ہوگا۔ یعنی یہ امام باہر سے نہیں آئے گا‘ امت محمدیہ میں سے قائم ہوگا۔“

(امام مہدی کا ظہور ص ١١)

قارئین اس بنیادی نکتہ کو یاد رکھیں کہ اس حدیث کے متعلق اصل بحث یہ ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے۔ تو نماز کی امامت کون کرے گا؟ حضرت عیسیٰؑ یا امام مہدی؟ اس بات کے صاف ہونے کے بعد ہی ثابت ہو سکے گا کہ قادیانی حضرات کا مذکورہ ترجمہ صحیح ہے یا غلط اور ان کا مقصود اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے یا نہیں۔

اس سلسلے میں یہ احادیث ملاحظہ کیجئے۔

فينزل عيسىٰ بن مريم فيقول اميرهم پس عیسیٰ ابن مریمؑ اتریں گے، مسلمانوں کا تَعَالَ صَلِّ لنا فيقول لا ان بعضكم امیر کہے گا، آئیے ! ہمیں نماز پڑھائیے۔ وہ على بعض امراء تكرمةُ الله تعالىٰ فرمائیں گے۔ نہیں۔ تم میں سے بعض، بعض لهذه الامة۔ پر امیر ہیں، اس تعظیم کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ

(مسلم ج ١ ص ٨٧)

نے امت محمدیہ کو عطا فرمائی۔

ابن حجر عسقلانیؒ ” مسند احمد کے حوالہ سے حضرت جابرؓ کی روایت نقل کرتے ہیں۔

واذا هم بعيسىٰ فيقال تقدم يا روح الله اچانک ان کے سامنے حضرت عیسیٰؑ ہونگے فيقول ليتقدم امامكم فليصل بكم پس کہا جائے گا۔ اے روح اللہ ! آگے

(فتح الباری ج ٦ ص ٤٩٣)

بڑھئے، وہ کہیں گئے چاہئے کہ تمہارا ہی امام آگے بڑھے۔ اور نماز پڑھائے۔

ابن ماجہ میں اس سے بھی زیادہ صراحت ہو گئی ہے کہ امام حضرت عیسیٰؑ نہ ہوں گے بلکہ امام مہدی ہوں گے۔

صفحہ ١٢٦

وامامهم رجل صالح فبينما امامهم قد تقدم فصلى بهم الصبح اذا نزل عليهم عيسى بن مريم الصبح فرجع ذالك الامام ينكص يمشى القهقرى ليُقَدِّم عيسى يصلى فيضع عيسى يده بين كتفيه ثم يقول له تقدم فَصَلِّ فانها لك اقيمت فيصلى بهم امامهم

(ابن ماجہ ص ٣٠٨)

مسلمانوں کا امام ایک مرد صالح ہوگا۔ پس جس درمیان کہ وہ امام انہیں نماز فجر پڑھانے کے لئے آگے بڑھے گا۔ اچانک حضرت عیسیٰ ابن مریم اُتر آئیں گے، پس وہ امام پیچھے ہٹے گا تا کہ حضرت عیسیٰ کو آگے بڑھائے کہ وہ نماز پڑھائیں۔ حضرت عیسیٰ اپنا ہاتھ اس کے کندھے پر رکھیں گے۔ اور کہیں گے۔ آگے بڑھئے اور نماز پڑھائیے کیونکہ آپ ہی کے لئے اقامت کہی گئی ہے۔ چنانچہ ان کا امام انہیں نماز پڑھائے گا۔

اب شارحین کی آراء ملاحظہ کیجئے۔

فتح الباری میں ہے

قال ابو الحسن الخسعی الابدی فی مناقب الشافعی تواترت الاخبار بأن المهدی من هذه الامة وأن عیسی یصلی خلفه

(ج ٤ ص ٤٩٣)

ابو الحسن خسعی ابدی ”مناقب شافعی“ میں کہتے ہیں کہ اس معاملہ میں احادیث تواتر کو پہونچ گئی ہیں کہ مہدی اس امت کے فرد ہوں گے اور حضرت عیسیٰ اُن کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔

عمدۃ القاری میں ہے

معناه یصلی معکم بالجماعة والامام من هذه الامة

(ج ١٦ ص ٤٠)

”امامکم منکم“ کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ تمہارے ساتھ باجماعت نماز پڑھیں گے۔ اور امام اسی امت میں سے ہوگا۔

مرقات المفاتیح میں ہے۔

والحاصل ان امامکم واحد منکم دون عیسی

(ج ٥ ص ٢٢٢)

حاصل یہ کہ امام تمہیں میں سے ایک شخص ہو گا نہ حضرت عیسیٰ ”۔

ان احادیث و عبارات کریں گے۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ گے۔ ان احادیث سے یہ بات بھ پہلے سے موجود ہوں گے۔ لہٰذا ”امامکم منکم“ کا تر صحیح نہیں، بلکہ ترجمہ یوں ہونا چاہ پہلے سے موجود ہوگا۔ اور حضرت عی

ایک اشکال اور اس کا جواب

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہوں گے۔ پھر اشکال یہ ہے کہ آ کریں گے۔ اور خود حضرت عیسیٰ علی جبکہ افضل طریقہ یہی ہے کہ امام افضل طریقہ چھوڑ کر غیر افضل کیوں اس اشکال کا جواب بھی چنانچہ ابن جوزیؒ کہتے جائیں گے تو یہ شبہ پیدا ہونے لگے علیہ وسلم کے خلیفہ اور نائب کی حیثی عیسیٰ علیہ السلام اسی شبہ کو دور کرنے کہ یہ بات صاف ہو جائے کہ ان کے ایک متبع کے ہے یہاں تک کہ ’ پیچھے نماز پڑھ لی۔ اس سے رسول ا کوئی نبی نہیں مبعوث ہوسکتا) کی عملی مرقات المفاتیح میں ہے۔

صفحہ ١٢٧

ان احادیث و عبارات سے صاف ظاہر ہے کہ نزول کے وقت امامت، امام مہدی ہی کریں گے۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس وقت کی نماز امام مہدی ہی کی اقتداء میں ادا کریں گے۔ ان احادیث سے یہ بات بھی صاف طور پر معلوم ہو گئی کہ نزولِ مسیح کے وقت، امام مہدی پہلے سے موجود ہوں گے۔

لہٰذا ”امامکم منکم“ کا ترجمہ ..... ”درآنحالیکہ وہ ابن مریم تم میں سے تمہارا امام ہو گا۔“ صحیح نہیں، بلکہ ترجمہ یوں ہونا چاہئے ..... ”درآنحالیکہ تمہارا امام تمہیں میں سے ہو گا، یعنی وہ امام پہلے سے موجود ہو گا۔ اور حضرت عیسیٰؑ اسی امام کی اقتداء کریں گے۔

ایک اشکال اور اس کا جواب :-

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا و علیہ السلام، امام مہدی سے افضل و برتر ہوں گے۔ پھر اشکال یہ ہے کہ آخر حضرت عیسیٰؑ کے ہوتے ہوئے امامت، کیوں امام مہدی کریں گے۔ اور خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی انہی کو آگے بڑھانے پر کیوں اصرار کریں گے۔ جبکہ افضل طریقہ یہی ہے کہ امامت افضل شخص ہی کرے۔ پھر حضرت عیسیٰؑ اور امام مہدیؑ افضل طریقہ چھوڑ کر غیر افضل کیوں اختیار کریں گے؟

اس اشکال کا جواب بھی شارحین حدیث نے دیا ہے۔

چنانچہ ابن جوزیؒ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام امامت کے لئے آگے بڑھ جائیں گے تو یہ شبہ پیدا ہونے لگے کہ پتہ نہیں حضرت عیسیٰؑ کا آگے بڑھنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ اور نائب کی حیثیت سے ہے۔ یا مستقل شارع کی حیثیت سے۔ لہٰذا حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسی شبہ کو دور کرنے کیلئے امام مہدی کے پیچھے مقتدی بن کر نماز پڑھیں گے۔ تا کہ یہ بات صاف ہو جائے کہ ان کا نزول بحیثیت شارع کے نہیں بلکہ بحیثیت شریعت مصطفویہ کے ایک متبع کے ہے یہاں تک کہ نبی ہونے کے باوجود انہوں نے امت محمدیہ کے ایک فرد کے پیچھے نماز پڑھ لی۔ اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان لا نبی بعدی (میرے بعد کوئی نبی نہیں مبعوث ہو سکتا) کی عملی تصدیق ہو گئی۔ (فتح الباری ج ٦ ص ٤٩٣)

مرقات المفاتیح میں ہے۔

صفحہ ١٢٨

(فيقول لا ) اى الامير اماما لكم لئلا حضرت عیسیٰ ؑ فرمائیں گے میں تمہارا امام يتوهم با مامتی لكم نسخ دينكم نہیں بنوں گا۔ یہ اس لئے تاکہ میری امامت (ج ٥ ص ٢٢٢) میرے ذریعہ تمہارے دین کے نسخ کا وہم نہ پیدا کرے۔

لیکن امام مہدی کی ہی امامت مستقل امامت نہ ہو گی۔ بلکہ صرف اسی وقت ہو گی جب حضرت عیسیٰ ؑ کا نزول ہو گا۔ اس کے بعد جب تک حضرت عیسیٰ ؑ زندہ رہیں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی امامت فرمائیں گے۔ یعنی جو افضل ہو گا۔ وہی امامت کرے گا۔ البتہ پہلے دن امامت سے گریز اس لیے ہو گا تاکہ جو شبہ پیدا ہونے والا ہو۔ وہ زائل ہو جائے۔ اب جب ایک وقت (وہ بھی آتے ہی) امام مہدی کی اقتداء میں نماز پڑھ لی‘ وہ احتمال رفع ہو گیا اور شریعت محمدیہ ﷺ کا استقلال و دوام ثابت ہو گیا تو بعد میں حضرت عیسیٰ ؑ ہی امامت فرمائیں گے۔ عیسیٰ علیہ السلام کی امامت سے کسی قسم کا اشکال پیدا ہونے کا سوال ہی نہ ہو گا اس لیے مستقلاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی امامت فرمائیں گے۔ (دیکھئے تفصیلات کے لیے فتح الملہم ج ٢ ص ٣٠٣‘ مرقات المفاتیح ج ٥ ص ٢٢٢)

کوئی شبہ کر سکتا ہے کہ

مسلم شریف کی بعض روایات میں ”وامکم منکم“ اور ”فامکم منکم“ کے الفاظ آئے ہیں۔ جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ امامت حضرت عیسیٰ ؑ ہی فرمائیں گے اور امام مہدی مقتدی ہوں گے۔ مگر ہم کہتے ہیں کہ اس سے بھی قادیانی حضرات کا مدعا ثابت نہیں ہو سکتا کیونکہ ہمارے مذکورہ بالا جواب سے صاف ظاہر ہے کہ امام مہدی کے مقابلے میں اصل اور واقعی امام (افضلیت کے اعتبار سے ) حضرت عیسیٰ ؑ ہی ہوں گے اور صرف ایک وقت امام مہدی کا امامت کرنا اسی شبہ کو زائل کرنے کے لیے ہو گا۔ جو اوپر بیان کیا گیا اور اس وقت کی امامت بھی حضرت عیسیٰ ؑ کے ہی حکم اور مرضی سے ہو گی۔ اس کے ساتھ ہی مسلم شریف کی اس روایت نے قادیانی حضرات کے ایک اعتراض کا جواب بھی فراہم کر دیا جو ان کے خیال میں نہایت ہی معرکۃ الآراء اعتراض ہے اور غالباً وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے پاس اس کا جواب نہیں ہے۔

اعتراض یہ ہے

عالم کی طرف‘ اب اگر آئیں گے؟ اور کیا یہ ہونا) کو نہیں توڑتا؟

آنا کیا ختم نبوت کے منا

نہ آئے گا حضور صلی اللہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آ

اس اعتراض کا بہت ع شقوں کو شامل ہے، جواب یہ ہے کہ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی نبی عیسیٰ ؑ کی بعثت نہ ہوگی کیونکہ حضرت مبعوث ہوچکے تھے۔ اور جب بعثت السلام صرف بنی اسرائیل کے لیے ن عالم کے لیے۔ بعثت پر ہی دار ومدار عیسیٰ ؑ کا نزول ختم نبوت کے منافی نہ رہے نہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وآلہ وسلم کے بعد کوئی نبی مبعوث نہ ہ

رہا یہ سوال کہ کیا ثبوت جواب مسلم شریف کی اسی زیر بحث نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ”وامکم منکم“ اور وہ امامت کریں گے

صفحہ ١٢٩

اعتراض یہ ہے

عالم کی طرف‘ اب اگر یہ عقیدہ رکھا جائے کہ حضرت عیسیٰ ہی مسیح موعود بن کر آئیں گے؟ اور کیا یہ عقیدہ حضورؐ کی اس خصوصیت (سارے عالم کے لیے نبی ہونا) کو نہیں توڑتا؟

آنا کیا ختم نبوت کے منافی نہ ہو گا؟

نہ آئے گا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاتم النبیین نہ ہوں گے کیونکہ ان کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے۔ (دیکھئے نزول المسیح ص ٥٣ از قاضی محمد نذیر)

اس اعتراض کا بہت ہی آسان اور سیدھا و سادہ جواب ہے جو اعتراض کی تینوں شقوں کو شامل ہے، جواب یہ ہے کہ حضورؐ کے بعد کوئی نبی نہ آنے کا مطلب یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی نبی مبعوث نہ ہو گا۔ ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ کا نزول حضرت عیسیٰ کی بعثت نہ ہو گی کیونکہ حضرت عیسیٰ تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کئی سو سال پہلے مبعوث ہو چکے تھے۔ اور جب بعثت نہ ہوئی تو یہ سوال ہی ختم ہو جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صرف بنی اسرائیل کے لیے نبی ہوں گے یا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرح سارے عالم کے لیے۔ بعثت پر ہی دار و مدار تھا۔ عقیدہ ختم نبوت کا بھی جب بعثت نہ ہوئی تو حضرت عیسیٰ کا نزول ختم نبوت کے منافی نہ ہوا۔ اس طرح خاتم النبیین حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی رہے نہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کیونکہ خاتم النبیین کا مطلب ہی یہی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی نبی مبعوث نہ ہو اور ظاہر ہے کہ حضورؐ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہ ہو گا۔

رہا یہ سوال کہ کیا ثبوت ہے کہ حضرت عیسیٰ کا نزول بحیثیت بعثت نہ ہو گا۔ اس کا جواب مسلم شریف کی اسی زیر بحث روایت میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ارشاد فرمایا تھا۔

”وامکم منکم“ اور وہ امامت کریں گے تمہاری‘ تمہیں میں سے۔

صفحہ ١٣٠

یعنی تمہاری شریعت کے مطابق نماز پڑھائیں گے (نہ کہ اپنی شریعت کے مطابق)

اس روایت کے ایک راوی ابن ابی ذئب ہیں اور ان سے روایت کرنے والے ولید بن مسلم ہیں‘ ولید بن مسلم کہتے ہیں کہ ابن ابی ذئب نے مجھ سے کہا۔ اتدری ما امکم منکم (کیا تم جانتے ہو کہ حضرت عیسیٰ تمہاری کیا امامت کریں گے۔ تمھیں میں سے؟) ولید بن مسلم نے کہا اخبرنی (آپ ہی بتائیے) انھوں نے کہا۔ فامکم بکتاب ربکم عز و جل۔ "وسنة نبيكم صلى الله عليه وآله وسلم" یعنی وہ تمہاری امامت کریں گے تمھارے رب عزوجل کی کتاب (قرآن) (مسلم ج ١ ص ٨٧‘ فتح الباری ج ٦ ص ٤٩٣‘ فتح الملہم ج ٢ ص ٣٠٢)

نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کے مطابق

طبرانی میں عبداللہ بن مغفلؓ کی روایت میں ہے۔

”ینزل عیسٰی بن مریم مصدقا بمحمد علی ملته“ (فتح الباری ج ٦ ص ٤٩١) عیسیٰ ابن مریم اتریں گے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کرتے ہوئے ان کے مذہب پر

نووی میں ہے۔

”ای ینزل حاکما بهذه الشريعة لا ينزل نبيا برسالة مستقلة و شريعة ناسخة بل هو حاكم من حكام هذه الامة.

(نووی علی المسلم ج ١ ص ٨٧)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے اسی شریعت کے مطابق مستقل رسالت وشریعت لے کر نہیں آئیں گے کہ وہ ادیان باقیہ کے لیے ناسخ بن جائے بلکہ وہ اسی امت کے حکام میں سے ایک حاکم ہوں گے۔

فتح الملہم میں ہے۔

طیبیؒ فرماتے ہیں یؤمکم کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ تمہاری امامت کریں گے۔ ان کے ہونے کی حالت میں تمھارے دین پر۔

مرقات المفاتیح میں ہے۔

”ای یؤمکم عیسٰی حال کونه من دينکم“ (ج ٥ ص ٢٢)

صفحہ ١٣١

امامت کریں گے عیسیٰ ان کے ہونے کی حالت میں تمھارے دین پر۔

ایک نکتہ!

ایک قابل غور نکتہ یہ بھی ہے کہ زیر بحث حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امت محمدیہ کی خوش قسمتی اور نصیبہ وری کو بیان فرمایا ہے۔ کیف انتم اذا نزل ابن مریم فیکم و امامکم منکم“ (تم کتنے اچھے اور خوش قسمت ہو گے۔ جب تم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے حال یہ کہ تمہارا امام تمھیں میں سے ہوگا۔ اس خوش قسمتی کی دو ہی شکل ہو سکتی ہیں، تیسری نہیں۔

امت کا ہی کوئی فرد کرے۔

ملا علی قاریؒ لکھتے ہیں۔ ”کیف حالکم وانتم مکرمون عند اللہ تعالیٰ والحال ان عیسیٰ ینزل فیکم و امامکم منکم و عیسیٰ یقتدی بامامکم تکرمۃ لدینکم و یشہد لہ الحدیث الاتی الخ“

(مرقات المفاتیح ج ٥ ص ٢٢٢)

کیا حال ہو گا تمہارا (یعنی تم کتنے خوش قسمت ہو گے کہ) اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابل اعزاز و اکرام ٹھہرو گے حال یہ کہ عیسیٰ ابن مریم تم میں اتریں گے اور تمہارا امام تمھیں میں سے ہوگا اور عیسیٰ تمھارے امام کی اقتداء کریں گے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــ تمھارے دین کے اعزاز کو ظاہر کرتے ہوئے اور اس کی تائید آنے والی حدیث (روایت جابرؓ) بھی کرتی ہے۔

امامت حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا و علیہ السلام ہی کریں، لیکن اپنی شریعت کے مطابق نہیں بلکہ امت محمدیہ کو عطا کردہ شریعت کے مطابق جیسا کہ ابن ابی ذئب کی روایت سے پتہ چلا۔

دونوں میں سے جو مفہوم بھی لیا جائے قادیانی حضرات کا یہ دعویٰ ثابت نہیں ہو سکتا کہ ”امامت کرنے والے عیسیٰ امت محمدیہ میں سے ہوں گے وہ عیسیٰ ابن مریم نہ ہوں

صفحہ ١٣٢

گے۔ جن کے متعلق رفع الی السماء کا عقیدہ ہے۔ مذکورہ بالا مباحث سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ وہی حضرت عیسیٰ علی نبینا و علیہ السلام ہوں گے۔ جو زندہ آسمان پر اٹھا لیے گئے اور مہدی امت محمدیہ کے ایک فرد ہوں گے جو نزول مسیح کے وقت موجود ہوں گے لہٰذا دونوں ایک شخصیت نہیں دو شخصیتیں ہیں۔ (وما علینا الا البلاغ)

زہے نصیب

استاذی المکرم حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب درخواستی دامت برکاتہم حج کے لیے حجاز مقدس تشریف لے گئے۔ آپ کا ارادہ تھا کہ اب واپس پاکستان نہیں جاؤں گا۔ مدینہ طیبہ قیام کے دوران آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی خواب میں زیارت ہوئی۔ آپ نے فرمایا کہ یہاں دین کا کام ہو رہا ہے۔ پاکستان میں آپ کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں جاکر میرے بیٹے عطاء اللہ شاہ بخاری کو میرا سلام کہنا اور کہنا کہ ختم نبوت کے محاذ پر تمہارے کام میں گنبد خضراء میں خوش ہوں ڈٹے رہو اس کام کو خوب کرو میں تمہارے لیے دعا کرتا ہوں۔

حضرت درخواستی حج سے واپسی پر سیدھے ملتان آئے۔ شاہ جی چارپائی پر تھے۔ خواب سنایا۔ شاہ جی تڑپ کر نیچے گر گئے۔ کافی دیر بعد ہوش آیا۔ بار بار پوچھتے درخواستی صاحب میرے آقا، مولیٰ نے میرا نام بھی لیا تھا۔ حضرت درخواستی صاحب کے اثبات میں جواب دینے پر پھر وجد کی کیفیت طاری ہو جاتی۔

اس طرح دل کے زرد آنگن میں
تیری یادوں کے چراغ جلتے ہیں
جیسے آندھی میں ٹوٹی قبروں پر
سہمے سہمے چراغ جلتے ہیں

صدائے قبر

ایک بار آپ نے وجد میں فرمایا کہ اگر میری قبر پر کان لگا کر سننے کی قدرت تمہیں طاقت بخشے تو سن لینا کہ میری قبر کا ذرہ ذرہ پکار رہا ہو گا کہ ”مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والے کافر ہیں“۔

مسلمانوں کے

گزشتہ دنوں قبرستان سے نکالنے کامیابی حاصل کی۔ ہر جگہ مسلمانوں میں

اِسْتَفْتَاء: کیا فرما مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر کو نکالا جائے تو کیا قادیانی کا م اس طرزِ عمل کا کیا جواز ہے؟ (سائ الجواب: قادیانی کا ن اسلام سے انکار کر رہے ہیں اور ا دفن کرنا جائز نہیں ہے (ہندیہ ج گا۔ مگر کافر کی تدفین، مسلمانوں کی میں دفنایا جائے گا۔ (البحر ج ٢ ا زمین دینا ممنوع ہے بلکہ بغیر غسل

صفحہ ١٣٣

مسلمانوں کے قبرستان میں قادیانی کی تدفین؟

مولانا مفتی محمد فرید مدظلہ

(شیخ الحدیث وصدر دارالافتاء دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک)

گزشتہ دنوں چیچہ وطنی کے نواح میں ایک قادیانی مردے کو مسلم قبرستان سے نکالنے کے لیے احرار کی قیادت میں مسلمانوں نے تاریخی کامیابی حاصل کی۔ اس مناسبت سے یہ فتویٰ شائع کیا جارہا ہے تاکہ ہر جگہ مسلمانوں میں بیداری پیدا ہو۔ (ادارہ)

اِسْتِفْتَاء: کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ میں کہ بعض قادیانی اپنے مردے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دیتے ہیں اور پھر مسلمانوں کی طرف سے مطالبہ ہوتا ہے کہ ان کو نکالا جائے تو کیا قادیانی کا مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں اور مسلمانوں کے اس طرز عمل کا کیا جواز ہے؟ (سائل جاوید اقبال ۔ بنوں)

الجواب: قادیانی کافر اور مرتد ہیں کیونکہ قادیانی دعویٰ اسلام کے باوجود ضروریات اسلام سے انکار کر رہے ہیں اور اسی کو ارتداد کہا جاتا ہے۔ کسی کافر کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں ہے (ہندیہ ج١ ص ١٥٩) بلکہ کفار اور مشرکین کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا۔ مگر کافر کی تدفین مسلمانوں کی تدفین سے متغائر ہے۔ کافر کو بغیر مراعات سنۃ لحد کے زمین میں دفنایا جائے گا۔ (البحر ج ٢ ١٩١) اور مرتد کا تو کفار کے قبرستان میں بھی دفن کرنے کے لیے زمین دینا ممنوع ہے بلکہ بغیر غسل و کفن کے کتے کی طرح کسی گڑھے میں گاڑا جائے گا۔ علامہ

صفحہ ١٣٤

ابن نجیمؒ فرماتے ہیں:

أَمَّا الْمُرْتَدُّ فَلَا يُغْسَلُ وَلَا يُكَفَّنُ وَإِنَّمَا يُلْقَى فِي حُفَيْرَةٍ كَالْكَلْبِ وَلَا يُدْفَعُ إِلَى مَنِ انْتَقَلَ إِلَى دِيْنِهِمْ كَمَا فِي فَتْحِ الْقَدِيْرِ (البحر الرائق ج ٢، ص ١٩١ و هكذا في الدر المختار)

لہٰذا کسی قادیانی کا مسلمانوں کے قبرستان میں دفنانا شرعاً جائز نہیں ہے اور اگر کسی جگہ مسلمانوں کے قبرستان میں قادیانیوں نے قادیانی کو دفن کر دیا تو چونکہ مسلمانوں کا قبرستان صرف مسلمانوں کے لیے ہی وقف ہوتا ہے‘ کسی غیر کے لیے نہیں۔ لہٰذا اس صورت میں قادیانی غاصب متصور ہوں گے تو اس طریقے سے کافر کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے کے جرم کے ساتھ جرم غصب بھی لازم آ گیا اور اس کے ساتھ ذمی کے میت کو اگرچہ اسلام نے محترم ٹھہرایا ہے مگر کافر اور مرتد کو نہیں (درمختار و بحر حوالہ بالا) اور اسی طرح درالمختار میں ہے عظم الذمی محترم الخ اور ردالمختار میں ہے:

قَوْلُهُ عُظْمُ الذِّمِّى مُحْتَرَمُ الخ فَلَا يُكْسَرَ إِذَا وُجِدَ فِى قَبْرِهِ لِأَنَّهُ كَمَا حُرِّمَ إِيذَائُهُ فِى حَيَاتِهِ إِلَى قَوْلِهِ وَاَمَّا أَهْلُ الْحَرْبِ فَإِنْ اُحْتِيْجَ إِلَى نَبْشِهِمْ الخ (ج١‘ ص ٦٦٨)

اور مرتد کالحربی ہے۔ چنانچہ جس طرح کہ حربی کے قتل سے قصاص واجب نہیں‘ اسی طرح مرتد کے قتل سے بھی واجب نہیں۔ (ہندیہ) اور مسلمانوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ مسلمانوں کی کسی چیز بالخصوص کسی موقوفہ چیز پر کسی کافر کا غاصبانہ قبضہ بشرطیکہ قدرت توڑ نہ ڈالے۔ (ہندیہ ج٢‘ ص٤٤٧)

وَفِي الْحَدِيْثِ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ.

(مشکوٰۃ‘ ج ٢‘ ص٤٢٢)

لہٰذا صورتِ مذکورہ میں علاقہ کے لوگوں پر لازم ہے کہ وہ اس قادیانی میت کو مسلمانوں کے قبرستان سے نکال کر کسی گڑھے میں دفن کر دیں تاکہ ان جرائم کا ازالہ ہو جائے اور یہ صورت نبش حرام کی صورت نہ ہوگی کیونکہ غصب کی صورت میں مسلمان میت کا نبش بھی جائز ہے اور کافر و مرتد کا تو بطریقِ اولیٰ جائز ہوگا۔ ہندیہ میں ہے۔ النَّبْشُ بَعْدَ مَا دُفِنَ بِمُدَّةٍ طَوِيْلَةٍ أَوْ قَلِيْلَةٍ لَا يَسَعُ إِخْرَاجُهُ من غير عذر والعذر ان يظهر ان الارض مغصوبہ (ج٢‘ ص٤٧٠)

صفحہ ١٣٥

اور اگر بالفرض یہ تدفین وہاں کے کسی مسلمان کی اجازت سے ہوئی ہو تو اس کا بھی شرعاً کوئی اعتبار نہیں ہے کیونکہ یہ حق کسی کو حاصل نہیں کہ بقعہ موقوفہ علیہا میں تغیر اور تبدل کر لیں۔

ردالمحتار میں ہے: فَإِنَّ شَرَائِطَ الْوَاقِفِ مُعْتَبَرَةٌ إِذَا لَمْ تُخَالِفِ الشَّرْعَ وَهُوَ مَالِکٌ فَلَهُ اَنْ يَجْعَلَ مَالَهُ حَيْثُ يَشَاءُ ..... الخ ، ج ٣ ص ٣٩٥ فِيهِ / شَرْطُ الْوَاقِفِ كَنَصِ الشَّارِعِ أَى فِي الْمَفْهُومِ وَالدَّلَالَةِ وَوُجُوْبِ الْعَمَلِ ...... الخ اور اسی طرح یہ ظاہر ہے کہ کوئی مسلمان کسی کافر کو مسلمانوں کے حق دبانے کی اجازت دینے کا مجاز نہیں ہے۔ یہ بھی ملحوظ ہو کہ چونکہ قادیانی صورت مذکورہ میں مسلمانوں کے وقف کے غاصب ٹھہر گئے ہیں اور اس میں تصرف کر کے اپنی میت اس میں دفن کر دی ہے اور اس غصب کی صورت میں ایسے وقف مغصوبہ کا استرداد ضروری ہے۔ لہٰذا مسلمانوں پر لازم ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو اپنے مغصوب وقف کا استرداد کر لیں۔ ہندیہ میں ہے ۔

وَلَوْ غَصَبَهَا مِنَ الْوَاقِفِ أَوْ مِنْ وَالِيْهَا غَاصِبٌ إِلَى قَوْلِهِ فَإِنْ كَانَ الْغَاصِبُ زَادَ فِى الْأَرْضِ مِنْ عِنْدِهِ إِنْ لَمْ تَكُنْ الزِّيَادَةُ إِلَى قَوْلِهِ فَإِنْ يسترد الارض من الغاصب بغیر شئ ( ج ٢ ص ٤٤٧)

تنبیہ : اور جس طرح کہ ابتداء کافر اور مرتد کی تدفین مسلمانوں کے قبرستان میں ممنوع ہے، اسی طرح بقاء بھی ممنوع ہے۔

يَدُلُّ عَلَى ذَلِكَ مَا فِي هِنْدِيَّةٍ نصه هذا مقبره كانت من المشركين ارادو أَنْ يَجْعَلُوهَا لِلْمُسْلِمِينَ فَإِنْ كَانَتْ اثارهم قَدِانْدَرَسَتْ فَلَا بَأْسَ بِذلِكَ وَإِنْ بَقِيَتْ اثَارُهُمْ بِاَنْ بَقِيَ مِنْ عِظَامِهِمْ شَيْ يُنْبَشُ وَيُقْبَرُ ثُمَّ يَجْعَلُ مَقْبَرَةً لِلْمُسْلِمِيْنَ ...... الخ ( ج ٢ ص ٤٦٩)

فليتأمل : اور مسلم شریف کی حدیث میں ہے من رای منکم منکرا فلیغیره بیده ( ج ١ ص ٥١) اس لیے مسلمانوں پر اس منکر کا ازالہ ضروری ہے۔ .... یہ تحقیق باصواب ہے، حکومت اور واقفین اور مقامی بااثر اشخاص پر ضروری ہے کہ وہ اس میت کو نکلوائیں یا نکالیں۔‘‘ (ماہنامہ ”الحق“ اکوڑہ خٹک)

صفحہ ١٣٦

مولانا عبید اللہ سندھیؒ اور مسئلہ نزول مسیح علیہ السلام

سیّد عطاء الحسن بخاری

مرزا غلام احمد قادیانی علیہ ما علیہ نے اپنی زندگی اور اپنے خود ساختہ مناصب کے لیے جہاں قرآن و حدیث میں تحریف‘ تغییر و تبدل کیا وہاں ہم عصر علماء یا اسلاف کی عبارتوں کو بھی اپنے حق میں اسی ”فن تحریف“ سے خوب استعمال کیا مرزا جی کی جسمانی اور روحانی نسل نے بھی حق رفاقت ادا کرتے ہوئے یہی وطیرہ اختیار کیا ہوا ہے اور ہمارے اسلاف کی عبارتوں کو حذف و مسخ کر کے لوگوں کو قائل کرتے رہتے تھے کہ جناب فلاں نے ایسے لکھا ہے‘ تو اگر مرزا صاحب نے اس طرح لکھ دیا تو کیا عذاب آ گیا اور مسلمانوں کو یہ باور کرانے کی مذموم کوششیں کرتے رہتے ہیں کہ مرزا صاحب بھی امت کے دیگر علماء کی طرح ایک مصلح ہے اور ان کا یہ وطیرہ خصوصاً حضرت عیسیٰ روح اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حیات ممات اور نزول کے بارے میں بہت اذیت ناک ہے لطف کی بات یہ ہے کہ مرزائی اس کاروائی کے لیے دین نہ جاننے والوں پر شبخون مارتے ہیں اور وہ نادان جھٹ سجدے میں گر جاتے ہیں پھر احرار کے پاس بھاگے بھاگے آتے ہیں کہ مارے گئے جی ایک مرزائی نے ہمیں بہت تنگ کر رکھا ہے‘ کوئی آدمی دیں۔ میں نے بہت سے آنے والوں کو جواب دیا کہ جس آدمی کی آپ کو تلاش اور ضرورت ہے یہ آدمی آپ کے اندر ہے اسے جگا لیں بیدار و ہوشیار کریں مرزائی بھاگ جائے گا اس دور کے معاشی حیوانوں کو یہ بات سمجھ ہی نہیں آتی وہ دنیا کے پیچھے یوں بھاگ رہے ہیں کسی اور کی تو کیا انھیں اپنی بھی ہوش نہیں ہوتی بس انھیں تو بارہ پندرہ (گھنٹے کام کرنے کے بعد شام کو تجوری بھری ہوئی ملنی چاہیے اس کے

صفحہ ١٣٧

لیے وہ کبھی ہمارے پاس نہیں آتے اپنے آپ میں مگن رہتے ہیں باقی کائنات سے بری طرح غافل ہیں۔ گزشتہ کئی برس سے مجھے مرزائیوں کے بعض گروہوں سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ گفتگو بھی ہوئی ان میں سے بعض نے کہا کہ مولانا عبید اللہ سندھی نے حیات عیسیٰ علیہ السلام کا انکار کیا ہے میں نے کہا ایسا ہرگز نہیں مولانا تو عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے قائل ہیں اور جو شخص نزول کا قائل ہے وہ لازماً اس بات کا بھی قائل ہے کہ سیدنا مسیح مقدس علیہ السلام آسمانوں میں زندہ ہیں قیامت کے قریب نازل ہوں گے یہ تو ہو نہیں سکتا کہ مولانا عبید اللہ سندھی رحمتہ اللہ قرآن کی تفسیر لکھیں اور ان کی نگاہ سے قیامت و علامات قیامت کی آیات اوجھل رہ گئی ہوں۔ مولانا کی تفسیر میں

وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُونِ ط هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ O (پ ٢٥ سورۃ زخرف) اور وہ قیامت کی (علامت) ہے اس میں مت شک کرو اور میرا کہا مانو یہ ایک سیدھی راہ ہے۔

والا مقام پڑھے بغیر مولانا کے ذمہ انکار حیات عیسیٰ تہمت کے سوا کچھ نہیں کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام کے زمین پر نزول کا عقیدہ انھیں آسمانوں میں زندہ مانے بغیر درست ہی نہیں جو اوپر نہیں ہے وہ نیچے کیسے آئے گا۔ میں چاہتا تھا کہ جن لوگوں کے پاس مولانا کی تفسیر قلمی موجود ہے ان سے مل کر اس مقام کو دیکھا جائے مگر اپنی مصروفیت اور غفلت نے اس چشمہ صافی تک نہ پہنچنے دیا۔ اپریل کے اوائل میں مولانا محمد صدیق ولی اللّٰہی جو مولانا عبید اللہ سندھی رحمتہ اللہ کے تلمیذ ہیں اور ہمارے دیرینہ کرم فرما وہ تشریف لائے تو میں نے ان سے اس مسئلہ پر بڑی تفصیل سے گفتگو کی تو مولانا نے شفقت کی اور مولانا سندھی کی شرح سطعات کا جو قلمی نسخہ مولانا محمد صدیق کی لائبریری کی جان ہے۔ اس کا فوٹوسٹیٹ عنایت کیا اور ساتھ ہی مولانا کا رسالہ محمودیہ بھی عنایت کیا۔ نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر مولانا کی دونوں کتابوں کی عبارتیں نقل کرتا ہوں۔ قارئین پڑھ کر فیصلہ فرمائیں کہ مولانا سندھی حیات عیسیٰ کے قائل ہیں یا منکر؟

مرزائی اور مرزائی نواز دونوں پڑھیں شاید عقل بینا ہو جائے مولانا عبید اللہ سندھی رحمتہ اللہ نے امام ولی اللہ دہلوی رحمتہ اللہ کی دعوت و ارشاد اور دینی انقلاب کی تعیین کے لیے

صفحہ ١٣٨

امام کی کتابوں اور عبارتوں کو منتخب کیا اور انہی میں سے منتخب عبارتوں کو جمع کر کے رسالہ مرتب کیا۔ جس کا نام ”محمودیہ“ رکھا ان کے شاگرد شیخ بشیر احمد لدھیانوی مرحوم نے اس کا اردو ترجمہ ”عبیدیہ“ کے نام سے کیا محمودیہ صفحہ نمبر ٢٤، ٢٦ عبیدیہ صفحہ نمبر ٢٥، ٢٧ پر یوں رقم طراز ہیں کہ:۔

قال الامام ولی اللہ فی التفہیمات الالہیۃ فالھمنی ربی جل جلالہ انک انعکس فیک نور الاسمین الجامعین نور الاسم المصطفوی والاسم العیسوی علیہما الصلوت والتسلیمات فعسی ان تکون سادۃً لافق الکمال غاشیا لاقلیم القرب فلن یوجد بعدک الاولک دخل فی تربیتہ ظاهراً و باطناً حتی ینزل عیسی علیہ السلام۔

امام ولی اللہ دہلوی تفہیمات الہیہ ج ٢ صفحہ ١٢ میں فرماتے ہیں کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے بذریعہ الہام سمجھایا ہے کہ تجھ پر دو جامع اسموں کا نور منعکس ہوا ہے اسم مصطفوی اور اسم عیسوی علیہما الصلوۃ والسلام ط ۔ عنقریب کمال کے افق کا سردار بن جائے گا اور قرب الہی کی اقلیم پر حاوی ہو جائے گا تیرے بعد کوئی مقرب الہی ایسا نہیں ہو سکتا جس کی ظاہری اور باطنی تربیت میں تیرا ہاتھ نہ ہو۔ یہاں تک کہ عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں۔

شرح سطعات کی عبارت

رہنا احمقوں کا کام ہے اور محض مستقبل میں کسی بڑے مصلح کا منتظر رہنا اس سے بھی زیادہ حماقت ہے۔ اوّل تو اس کا یقین نہیں کہ وہ مصلح ہمارے زمانہ میں آئے گا؟ فرض کیجئے وہ ہمارے زمانہ میں آتا ہے تو ہم یقین کر سکتے ہیں کہ وہ صرف فعال طاقتوں کو اپنے ساتھ لے گا۔ لولے لنگڑے قاعدین کو تو وہ اپنے پاس تک نہیں آنے دے گا اس قسم کا فکر رکھنے کے ہم دشمن نہیں ہیں کہ ایک مصلح آئے گا۔ اس لیے کہ سنی و شیعہ اس میں مبتلاء ہیں اور حدیث میں اس کی

صفحہ ١٣٩

وضاحت آ چکی ہے اس موضوع پر ہم کسی سے جھگڑنا نہیں چاہتے لیکن یہ بات ہم دونوں طاقتوں کو دکھا سکتے ہیں کہ ان کا فرض یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو فعالیت کے ایسے بلند مقام پر پہنچا دیں کہ یہ لوگ اس آنیوالے مصلح کے باڈی گارڈ اور وزیر اعظم ہو کر کام کریں ایک مذہبی جماعت کے لیے اس کا ماننا ضروری ہے۔ اس لیے ہم اس کی رد کی طرف متوجہ نہیں ہوتے قوموں میں بلند تخیل پیدا کرنا ایک دن کا کام نہیں ہے اگر کسی قوم میں بلند تخیل پیدا ہو گیا ہے تو اس میں جو غلطیاں ہوں نکال دینی چاہیں ”شرح سطحات قلمی صفحہ ٢٣‘ ٢٤ مولانا مرحوم و مغفور نے بڑی وضاحت سے یہ بات فرمائی ہے کہ نہ تو وہ کسی کی حیات کے منکر ہیں نہ کسی کے نزول کے بلکہ بات تو صرف یہ ہے جب تک کوئی آنے والا نہ آئے تم ہاتھ پہ ہاتھ رکھے بیٹھے رہو اور دعوت و انقلاب کا عمل نبوت چھوڑنے کا گناہ عظیم کرتے رہو زندہ رہنے والی قومیں ایسے مکروہ رویے کو دینی عمل کہیں تو بہت ہی ذلت کی بات ہے مولانا کے ہاں امت محمدیہ کی زبوں حالی کی بنیادی وجہ عمل انقلاب کا ترک ہے اور آنے والے انتظار، جبکہ حدیث مبارکہ اور قرآن حکیم کے واضح احکام ہیں کہ کامیابی اور فلاح ان لوگوں کے لیے ہے جو جدوجہد میں مصروف رہتے ہیں۔ کنج عافیت میں بیٹھ کر خیرہ چشمی سے تماشا کرنے والوں کے لیے نہیں۔“

والذین جاہدوا فینا لنہدینہم سبلنا۔ زندگی کی کشادہ راہیں انہی لوگوں کے لیے ہیں جو جہاد زندگی کے عاملین ہیں۔

مولانا نے اگر خدانخواستہ کہیں ان غافلین کو جھنجھوڑنے کے لیے کوئی جملہ کہہ دیا تو اس سے مقصد انکار نہیں بلکہ ایقاظ ہے وہ مولوی جو غفلت شعار ہیں اور کسی آنے والے کے لیے محو انتظار ان کا علاج وہی الفاظ ہیں جو مولانا نے کہیں کہہ دیے ہوں گے۔ واللہ اعلم

صفحہ ١٤٠

مرزا جی کا بڑھاپا اور ظالم عشق کا سیاپا

مولانا عنایت اللہ چشتی

سابق خطیب مسجد ختم نبوت قادیان

مولانا عنایت اللہ چشتی مجاہدین احرار کی باقیات میں سے ہیں۔ آپ قادیان میں مجلس احرار اسلام کے مرکز جامع مسجد ختم نبوت میں بحیثیت خطیب و منظم خدمات سرانجام دیتے رہے۔ آپ نے اپنی یادداشتوں پر مشتمل کتاب مشاہدات قادیان بھی تحریر فرمائی۔ زیر نظر مضمون ١٩٤٢ء سے بھی پہلے کا تحریر کردہ ہے لیکن اپنی افادیت و نوعیت اور جدت و تنوع کے اعتبار سے آج بھی تروتازہ ہے۔ ہمارے رفیق فکر جناب محمد عمر فاروق نے نقیب ختم نبوت کے قارئین کے لیے ارسال کیا ہے۔ مضمون میں آنجہانی مرزا غلام قادیانی کے ”سوز دروں“ کو موضوع بنایا گیا ہے اور مولانا نے کہیں کہیں بریکٹ میں تیز و طرار اور شوخ فقرے بھی اس فرنگی نبی کی ذات بے برکات پر چست کیے ہیں لیکن ایسے فقروں کا نوک قلم پر آ جانا کوئی فکر و اندیشہ کی بات نہیں، چونکہ وقت تحریر خود مولانا بھی شباب کے نقطۂ عروج پر تھے اور جوانی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اَلشَّبَابُ شُعْبَةُ الْجُنُونِ کہ جوانی دیوانی ہوتی ہے

اگر کاروان حیات کے ایسے ہنگامہ خیز دور میں مرزا ایسا ”مریض مراق و فراق“ ان دیوانوں کے ہتھے چڑھ جائے تو پھر بنتی نہیں بادہ و ساغر کہے بغیر

رہا مرزا جی کا عشق؟ تو اس بارے میں جوش ملیح آبادی پہلے ہی کہہ گئے ہیں کہ

فطرت میں اس کی سوز اگر شیطان کے قدم لے آنکھوں پر
بیگانہ ہو رسم عشق سے گر جبریل کی بھی تعظیم نہ کر

لیجیے مضمون پڑھیے اور سر دھنیے۔ (ادارہ)

مرزا جی کے سوانح حیات پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ جناب ابتداءً مفلس و

صفحہ ١٤١

نادار تھے مگر دماغ عیاش و شاہانہ رکھتے تھے۔ ساتھ ہی عشق مجازی کے دل جلے۔ حسن بتاں کے دلدادہ اور بھلے مانس آدمی تھے۔ عیاشی کے اسباب مہیا نہ ہونے کی وجہ سے ہمیشہ منغض ومغموم رہا کرتے تھے۔ قسما قسم کی عیاریاں وحیلہ سازیاں کیں لیکن نامراد رہے۔ پندرہ روپے کی ملازمت کی۔ حد سے زیادہ کند طبع وغباوۃ کی وجہ سے امتحان مختاری میں بری طرح ناکام رہے۔ آخر تنگ آ کر مجددیت، مسیحیت و مہدویت کا ڈھونگ رچایا۔ جو کمپنی کے بعض سمجھ دار ممبروں کی وجہ سے ایک حد تک کامیاب رہا۔ اب مرزا جی تھے اور عیش و رنگ رلیاں لیکن جونہی عمر نے پلٹا کھایا۔ سن شریف پچاس سے گزرا۔ مسیحیت و مجددیت نے ڈاڑھی کو بڑھایا تو اس کم بخت قوم صنف نازک نے کنارہ کر لیا بس وہی مرزا اور وہی غم و الم ؎

شب وعدہ کسی کی انتظاری کیا قیامت ہے
کھٹکتی خار بن کر ہے مہک پھولوں کے بستر کی

الہاموں سے ڈرایا‘ بہشت کے وعدے دیے۔ روپے سے ملاقات چاہی لیکن کیا کہوں۔ ڈاڑھی اور بڑھاپے سے اس ذات کو کچھ ایسی نفرت ہے کہ نہ ملی اور نہ ہی ملی۔

پہلا الہام

اللہ نے میری طرف وحی کی ہے کہ تیری (احمد بیگ) بڑی لڑکی کا رشتہ اپنے لیے طلب کروں۔ اگر تو راضی ہے تو تجھے وہ زمین جو تو چاہتا ہے اور اس کے ساتھ دوسری زمین بھی تجھے دوں اور تیرے لیے برکت ہو۔ ورنہ تو بھی دو برس میں مر جائے گا اور تیری لڑکی کا خاوند بھی تین برس میں مر جائے گا۔ انتہی ملخصاً آئینہ کمالات اسلام ص ٥٧٢‘ ٥٧٣ مگر مرزا احمد بیگ نے انکار کیا اور قادیانی کی آرزو کو بری طرح ٹھکرا دیا۔ اس کے بعد مرزا جی نے متعدد اشتہار ڈراوے اور دلاسے کے شائع کیے۔ مگر مرزا احمد بیگ کچھ ایسا مستقل ایمان رکھتے تھے کہ کسی کی پروا نہ کی اور جہاں چاہا لڑکی کو بیاہ دیا۔ اب میں ان خطوط کے چند اقتباسات ناظرین کے سامنے رکھتا ہوں جس میں مرزا جی نے احمد بیگ کو گوناگوں لالچوں میں پھانسنا چاہا مگر وہ نہ پھنسا‘ قسم قسم کے ڈراووں سے ڈرایا مگر خدا نے اس کے دل کو مضبوط رکھا اور وہ خداداد بصیرت سے مکر وفریب کو تاڑ گیا۔

اقتباس خط مرزا بنام احمد بیگ والد محمدی بیگم مورخہ ١٧ جولائی ١٨٩٠ء مشفقی مکرمی اخویم مرزا احمد بیگ سلمہ اللہ تعالیٰ

صفحہ ١٤٢

میں نہایت عاجزی اور ادب سے آپ کی خدمت میں ملتمس ہوں کہ اس رشتہ سے آپ انحراف نہ فرماویں۔ میں نے لاہور میں جا کر معلوم کیا کہ ہزاروں مسلمان مساجد میں نماز کے بعد اس پیش گوئی کے ظہور کے لیے بصدق دل دعا کرتے ہیں (صاف جھوٹ۔ اس وقت لاہور میں ہزاروں مرزائی کہاں تھے اور غیر مرزائی تمھارے خیال میں مسلمان کیسے اور ان کی دعائیں کیسی۔ مولف) خدائے تعالیٰ اب آپ کے دل میں وہ بات ڈالے جس کا اس نے آسمان پر سے مجھے الہام کیا ہے۔ خاکسار عباداللہ غلام احمد۔

خط بنام علی شیر بیگ پھپھو محمدی بیگم مورخہ مئی ١٨٩١ء

مشفقی مرزا علی شیر بیگ سلمہ تعالیٰ

السلام علیکم! میں آپ کو نیک خیال آدمی اور اسلام پر قائم سمجھتا ہوں (اس سے مرزائیوں کی باطل تاویل اڑ گئی کہ محمدی بیگم کے رشتہ دار بے دین و بد مذہب تھے۔ اس لیے مرزا صاحب نے ان کو مسلمان بنانے کے لیے سلسلہ جنبانی کی۔ مولف) مگر آپ کو معلوم ہے کہ مرزا احمد بیگ کی لڑکی کے بارے میں ان کے ساتھ کس قدر میری عداوت ہو رہی ہے۔ اب سنا ہے کہ عید کی دوسری یا تیسری تاریخ کو اس لڑکی کا نکاح ہونے والا ہے اور اللہ رسول کے دین کی کچھ پروا نہیں رکھتے (خوب جو مرزا کی رنگ رلیوں میں بھنگ ڈالے وہ خدا رسول کی کوئی پروا نہیں رکھتا، حاشا وکلا وہ صحیح معنوں میں مسلمان تھے۔ ایک بوڑھے پھپھو، مفتری علی اللہ کے حوالے معصوم لڑکی کا کرنا جس کی وجہ دنیاوی لالچ ہو، گناہ کبیرہ ہے۔ مولف) اگر آپ کے گھر کے لوگ سخت مقابلہ کر کے اپنے بھائی کو سمجھاتے تو کیوں نہ سمجھ سکتا۔ کیا میں چوہڑا یا چمار تھا۔ یوں تو مجھے کسی کی لڑکی سے کیا غرض۔ کہیں جائے۔ مگر یہ تو آزمایا گیا کہ جن کو میں خویش سمجھتا تھا (معلوم ہوا کہ اس سے پہلے کوئی دینی یا دنیوی رنجش اور مخالفت نہ تھی۔ مولف) اور ان کی لڑکی کے لیے چاہتا تھا کہ اس کی اولاد ہو اور وہ میری وارث ہو۔ وہی میرے خون کے پیاسے ہیں۔ (خوب۔ جو غریب بوڑھے آدمی کو بلحاظ شفقت پدری نوجوان لڑکی نہ دے۔ وہ خون کا پیاسا ہوتا ہے۔ یہ کہاں کی منطق اور کلام میں صریح تناقض۔ اوپر لکھتے ہیں لڑکی کی وجہ سے عداوت ہو رہی ہے اور یہاں لڑکی کی ضرورت نہیں۔ واہ جی واہ اور چاہتے ہیں خوار ہو، رُوسیاہ ہو۔ خدا بے نیاز ہے جس کو چاہے رُوسیاہ کرے۔ مگر اب تو وہ مجھے آگ میں ڈالنا چاہتے ہیں (جب تجھے بذریعہ الہام معلوم ہوا تھا کہ ضرور حسرت پوری ہو گی تو پریشانی کیسی۔ مؤلف) میں نے خط لکھے کہ پرانا رشتہ

صفحہ ١٤٣

مت توڑو (معلوم ہوا کہ پہلے رشتہ تعلق پیار محبت موجود تھی۔ مرزائیوں کی تاویل تار عنکبوت ہو کر اڑ گئی اور ان کا یہ کہنا سراسر دھوکا ثابت ہوا کہ مرزا صاحب کو شادی کی ضرورت نہیں تھی بلکہ ان لوگوں کو مسلمان بنانا چاہتے تھے۔ مؤلف) بلکہ میں نے سنا ہے کہ آپ کی بیوی نے جوش میں آ کر کہا کہ ہمارا کیا رشتہ ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ یہ شخص کیا بلا ہے۔ کہیں مرتا بھی نہیں۔ مرتا مرتا رہ گیا۔ ابھی مرا بھی ہوتا۔ بے شک میں ناچیز ہوں۔ ذلیل ہوں خوار ہوں (ہائے حسن کی کٹھن ایک گردن اکڑ مغل کو کیسا کمزور کر دیا۔ دوسری جگہ تو ڈینگ اچھالتے ہیں کہ زمین و آسمان میرے حکم میں ہے۔ موت و حیات کا اختیار مجھے مل چکا ہے اور یہاں عشقش چناں گرفت کہ غلام غلام شد کا پورا مصداق بن گئے۔ مؤلف) آپ اپنے گھر کے آدمی کو تاکید کریں تا کہ بھائی سے لڑائی کر کے ان کے ارادے کو روک دے۔ (کیا کہنے مسیح و مجدد و نبی کے کہ لڑائی کی تعلیم دی جا رہی ہے۔ مؤلف) ورنہ مجھے خدائے تعالیٰ کی قسم ہے کہ اب ہمیشہ کے لیے رشتے ناطے توڑ دوں گا (یہ شہوت کا بخار ہے یا مجددیت کا اثر؟ مؤلف) (خاکسار غلام احمد از لودھیانہ ۔ اقبال گنج ۔ ٤ مئی ١٨٩١)

مرزا نے اپنے بڑے لڑکے کی ساس کو دھمکی آمیز خط۔

والدہ عزت بی بی (فضل احمد کی بیوی) کو معلوم ہو کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ چند روز تک محمدی بیگم مرزا احمد بیگ کی لڑکی کا نکاح ہونے والا ہے اور میں خدائے تعالیٰ کی قسم کھا چکا ہوں کہ اس نکاح سے سارے رشتے ناطے توڑ دوں گا اور کوئی تعلق نہیں رہے گا۔ (کرشن جی مہاراج کا جوش؟ مؤلف) آج میں نے مولوی نور دین اور فضل احمد (فرزند مرزا) کو خط لکھ دیا ہے کہ فضل احمد عزت بی بی کے لیے طلاق نامہ لکھ کر بھیج دیوے اور اگر فضل احمد طلاق لکھنے میں عذر کرے تو اس کو عاق کیا جاوے گا اور اپنے بعد اس کو اپنا وارث نہ سمجھا جائے گا اور ایک پیسہ وراثت کا اس کو نہ ملے گا۔ (شہوت بے شک اندھا کر دیتی ہے۔ لیکن بڑھاپے میں اس قدر غلبہ کہ اپنے فرزند کی بھی پرواہ نہیں اور بلا قصور طلاق پر مجبور کرتے ہیں مؤلف)

غلام احمد از لدھیانہ ۔ اقبال گنج ۔ مورخہ ٤ مئی ١٨٩١ء

جب مرزا احمد بیگ نے کچھ پروا نہ کرتے ہوئے نکاح کر دیا تو مرزا صاحب نے

صفحہ ١٤٤

بھی رُخ بدل کر اپنی رسوائی پر یوں پردہ ڈالا کہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے یہی مقدر اور یہی قرار یافتہ ہے کہ وہ لڑکی اس عاجز کے نکاح میں آئے گی۔ خواہ پہلے ہی باکرہ ہونے کی حالت میں آ جائے۔ خواہ خدائے تعالیٰ بیوہ کر کے اس کو میری طرف لے آئے۔

(دیکھو اشتہار ٢ مئی ١٨٩١ء مطبوعہ حقانی پریس لدھیانہ)

اور ابوالسعید مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے جواب میں اپنے زخمی دل کو یوں تسلی دیتے ہیں میری اس پیشین گوئی میں نہ ایک بلکہ چھ دعوے ہیں:۔

اقارب کے میرے نکاح میں آ جانا (افسوس کہ نہ آئی اور نہ ہی آئی)

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٢٥)

مرزا پر یہ زمانہ ایک خاص کیفیت سے گزر رہا تھا۔ دل زخمی پر دشمنوں کے طعنے نمک پاشی کا کام کر رہے تھے۔ دل بیمار تھا۔ طبیب لہو کا پیاسا، پریشان دماغ پر تخیلات فاسدہ کا ہجوم، دل کو تسلی دیتے دیتے ذرا آنکھ لگ جاتی تو عالم خواب میں بھی وہ ظالم پیچھا نہ چھوڑتے۔ مرزا جی انھیں الہام سمجھ جھٹ شائع کر کے ذریت کو مطمئن کرتے، مجددیت و مسیحیت کا جال تار عنکبوت ہو رہا تھا۔ غرض اس حالت کو دیکھ کر ایک سخت سے سخت دشمن کا دل بھی موم ہوتا تھا لیکن ساتھ ہی مرزا جی کی مستقل مزاجی بردباری کی تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اللہ اللہ ١٨٨٨ء سے لے کر ١٩٠٧ء تک کا طویل عرصہ جس صبر اور استقلال سے گزرا۔ کوئی عاقل اسے نظر انداز نہیں کر سکتا۔ ان ایام میں مرزا جی جن تصورات و تخیلات سے مجروح دل کی مرہم پٹی کرتے رہے۔ اس کا کچھ نمونہ بھی ہدیہ ناظرین کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔

الہام

اس عورت کو جو احمد بیگ کی عورت کی بیٹی ہے۔ پھر تیری طرف لاؤں گا...... پھر

صفحہ ١٤٥

ڈالا کہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے یہی مقدر اور یہی نکاح میں آئے گی۔ خواہ پہلے ہی باکرہ ہونے کی بیوہ کر کے اس کو میری طرف لے آئے۔

(دیکھو اشتہار ٢ مئی ١٨٩١ء مطبوعہ حقانی پریس لدھیانہ)

صاحب بٹالوی کے جواب میں اپنے زخمی دل کو یوں نہ ایک بلکہ چھ دعوے ہیں :۔

ا رہنا کے باپ کا ضرور زندہ رہنا کے باپ کا جلدی مر جانا جو تین برس تک نہیں پہنچے گا۔ کے عرصہ تک مر جانا سے نکاح کر لوں۔ اس لڑکی کا زندہ رہنا کی تمام رسموں کو توڑ کر باوجود سخت مخالفت اس کے آجانا (افسوس کہ نہ آئی اور نہ ہی آئی)

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٢٥)

کیفیت سے گزر رہا تھا۔ دل زخمی پر دشمنوں کے طعنے بیمار تھا۔ رقیب لہو کا پیاسا، پریشان دماغ پر تخیلات آنکھ لگ جاتی تو عالم خواب میں بھی وہ ظالم پیچھا نہ ت شائع کر کے ذریت کو مطمئن کرتے، مجددیت و غرض اس حالت کو دیکھ کر ایک سخت سے سخت دشمن کا جی کی مستقل مزاجی بردباری کی تعریف کیے بغیر نہیں ١٩٠٧ء تک کا طویل عرصہ جس صبر اور استقلال سے ر سکتا۔ ان ایام میں مرزا جی جن تصورات و تخیلات ہے۔ اس کا کچھ نمونہ بھی ہدیہ ناظرین کرنا مناسب

عورت کی بیٹی ہے۔ پھر تیری طرف لاؤں گا...... پھر

تیرے نکاح کے ذریعے سے قبیلہ میں داخل کی جائے گی...... ممکن نہیں کہ معرض التواء میں رہے۔

(انجام آتھم ص ٢١٦)

نفس پیشینگوئی اس عورت (محمدی بیگم) کا اس عاجز کے نکاح میں آنا تقدیر مبرم ہے جو کسی طرح ١ ٹل نہیں سکتی۔

(اشتہار مندرجہ تبلیغ رسالت جلد ٣ ص ١١٥)

غرض اس قسم کے سینکڑوں تخیلات سادہ لوحوں کو سنا سنا کر سینہ تھامتے رہے۔

لیکن جب مرزا سلطان محمد صاحب شوہر محمدی بیگم مرزا کی بیان کردہ موت کے اندر نہ مرا بلکہ پھلتا پھولتا گیا تو مرزا جی نے بھی تصویر کا رخ بدل دیا۔ یعنی ٧ اپریل ١٨٩٢ء کو محمدی بیگم کا دوسری جگہ نکاح ہو گیا۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٩٠)

اس تاریخ کو دیکھ کر حساب کرنے سے پتہ چلتا ہے۔ مرزا سلطان محمد کی زندگی کا آخری دن ١٨ اکتوبر ١٨٩٤ء تھا۔ چونکہ خدا کو منظور تھا کہ اس مفتری کو پوری طرح ذلیل کیا جائے۔ اس لیے بجائے زندہ رکھنے کے خدا نے مرزا سلطان محمد کو اس قدر عزت بخشی کہ اولاد عطا ہوئی اور دنیاوی لحاظ سے سنا ہے کہ محمدی بیگم مرحومہ کا بڑا لڑکا میونسپل کمشنر ہے اس ذلت کو دیکھ کر مرزا جی یوں ہانپنے لگے۔

اس پیشین گوئی کا دوسرا حصہ جو اس کے داماد کی موت ہے وہ الہامی شرط کی وجہ سے دوسرے وقت پر جا پڑا اور داماد اس کا الہامی شرط سے اسی طرح متمتع ہوا جیسا کہ آتھم ہوا کیونکہ احمد بیگ کی موت کے بعد اس کے وارثوں میں سخت مصیبت برپا ہوئی۔ سو ضرور تھا کہ وہ الہامی شرط سے فائدہ اٹھاتے۔ اور اگر کوئی بھی شرط نہ ہوتی تاہم وعید میں سنت اللہ یہی تھی جیسا کہ یونس کے دنوں میں ہوا۔ پس اس کا داماد تمام کنبہ کے خوف کی وجہ سے اور ان کے توبہ اور رجوع کے باعث سے اس وقت فوت نہ ہوا۔ مگر یاد رکھو کہ خدا کے فرمودہ میں تخلف نہیں اور انجام وہی ہے جو ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں۔ خدا کا وعدہ ہرگز ٹل نہیں سکتا۔

(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٣)

(سبحان اللہ نبی کی کلام تناقض صریح۔ اوپر وعید بتاتے ہیں اور نیچے شوق وصال میں فوت مرزا سلطان محمد کو وعدہ الہی قرار دے کر اپنی دیرینہ امید کو نہیں توڑتے۔ مولف) سنیے صاحب اس سے بھی زیادہ واضح تسلی بخش تصور مرزا صاحب کا پیش کرتا ہوں۔ تصور کیا ہے۔ دل جلی چھاتی کا بخار ہے۔ اب بھی ان الفاظ سے گرمی عشق محسوس ہوتی ہے۔ (مولف)

١ مرزائیوں کا جواب کہ ٹلنی تھی (کسی طرح) کے لفظ سے اس کی بیخ کنی ہو گئی ١٢ مولف

صفحہ ١٤٦

اس لڑکی کے باپ کے مرنے اور خاوند کے مرنے کی پیش گوئی شرطی تھی اور شرط توبہ اور رجوع الی اللہ تھی۔ لڑکی کے باپ نے توبہ نہ کی اس لیے وہ بیاہ کے چھ ماہ بعد مر گیا اور پیشین گوئی کی دوسری جزو پوری ہو گئی۔ اس کا خوف اس کے خاندان پر پڑا اور خصوصاً شوہر پر پڑا جو پیشین گوئی کا ایک جزو تھا انھوں نے توبہ کی۔ چنانچہ اس کے رشتہ داروں اور عزیزوں کے خط بھی آئے اس لیے خدا نے اس کو مہلت دی۔ عورت اب تک زندہ ہے۔ میرے نکاح میں وہ عورت ضرور آئے گی (ہائے گندم بخار ایک بوڑھے فرتوت کو کس طرح نچا رہا ہے۔ مولف) امید کیسی یقین کامل ہے (داد دینے کے قابل ہے عاشق ہو تو ایسا جو کبھی ناامید نہ ہو۔ شاباش۔ مولف) یہ خدا کی باتیں ہیں ٹلتی نہیں ہو کر رہیں گی۔

(اخبار الحکم ١٠ اگست ١٩٠١ء مرزا صاحب کا حلفیہ بیان عدالت ضلع گورداسپور)

حضرات: اوّل تو یہ سب پکھنڈ طفل تسلیوں سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا کیونکہ مرزا سلطان محمد آج تک زندہ ہے۔ دنیا کے ہر قسم کے اسباب سے بہرہ ور ہے۔ محمدی بیگم مرحومہ اپنی زندگی پوری کر کے اپنی خداداد عصمت کو لے کر واصل باللہ ہوئی۔ خداوند کریم اسے اپنے جوار رحمت میں جگہ دے۔ مرزا سلطان محمد کاذب کے خوف و ہراس سے ہرگز متاثر نہیں ہوا کیونکہ اگر اسے خوف و ہراس لاحق ہوتا تو اس کا لازمی نتیجہ یہی ہونا چاہیے تھا کہ اسلام کو خیر باد کہہ کر مرزائی ہو جاتا لیکن دنیا جانتی ہے کہ مرزا سلطان محمد صحیح مضبوط انسان ہے یہ کس قدر دجل ہے۔ دیکھتے بھالتے دنیا کو اندھا کرنا چاہتے ہیں۔ جھوٹ سے نہیں شرماتے کہ مرزا سلطان محمد ڈر گیا۔ ہراساں ہو گیا۔ وغیرہ وغیرہ خرافات واہیہ۔

لیکن اگر تسلیم بھی کر لیا جائے کہ وہ ڈر گیا تو مرزا جی اپنے معشوق سے بکلی ناامید ہونے کے خوف سے کچھ مہلت دے رہے ہیں اور یقین کامل رکھتے ہیں کہ رقیب کے مرنے سے وصال ہوگا۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ تمام رسوائی مرزا جی کو اس کے خدا کی طرف سے ہوئی کیونکہ اوّل تو فرشتہ بھیج کر ایک دوا کے ذریعے سے مرزا جی کے اندر پچاس مردوں کی قوت باہ جمع کر دی۔ اس کے بعد خود ہی بذریعہ الہام ایک دوشیزہ کے متعلق سلسلہ جنبانی کی تلقین کی۔ کئی قسم کی تسلیاں دیں کہ ضرور تجھے ملے گی۔ اس کو وعدہ سے تعبیر کیا لیکن شاید بعد میں رحم آ گیا کہ پچاس مردوں کے حوالہ ایک لڑکی کو کرنا شاید ظلم نہ ہو اس لیے وعدہ کو پورا نہ کیا۔ کیا کہنے نبی کے اور ساتھ اس کے خدا کے دنیا سمجھ لے گی کہ ایسے

صفحہ ١٤٧

نبیوں کا خدا کون ہے۔ ابوجہل کو بھی اپنے خدا نے کہا تھا۔ لاغالب لكم اليوم من الناس وانى جار لكم فلما ترأت الفئتن نكص على عقبيه و قال انى برى منكم الخ

(سوره انفال پاره نمبر ١٠)

(بدر کے موقع پر ابوجہل کو اس کے خدا نے کہا) لوگوں میں سے آج کوئی تم پر غالب نہیں ہوسکتا کیونکہ میں تمھارے ساتھ ہوں۔ جب دونوں لشکروں کو مقابل ہوتے دیکھا تو پیچھے کھسک کر کہنے لگا میں تم سے بیزار ہوں۔

مرزا جی کو بھی اس کا خدا بارش کی طرح الہامات برسا کر تسلی دیتا رہا کہ ضرور تجھے ملے گی اور پچاس مردوں کی قوت مردمی 1؎ عطا ہوگی لیکن جب پوری شہرت و رسوائی ہو چکی تو ایک وعدہ بھی پورا نہ کیا بلکہ مرزا جی پورے اٹھارہ برس چیختے پکارتے جلتے سڑتے بے نیل و مرام اگلے جہان کی طرف لڑھک گئے اور رسوائی کا ڈھنڈورہ آج تک اس کی ذریت سن رہی ہے۔ شرم شرم۔ غرض ١٩٠٧ء تک تو مردانہ وار عاشقی میں ثابت قدمی کا خراج تحسین حاصل کرتے رہے لیکن ١٩٠٧ء میں کچھ مایوسانہ شکل میں کہنے لگے ”کہ اس عورت کا نکاح آسمان پر میرے ساتھ پڑھا گیا تھا لیکن بعض ضروری وجوہ کی بناء پر فسخ ہو گیا یا تاخیر میں پڑ گیا۔“ (انتہی ملخصاً۔ تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٢‘ ١٣٣)

ثابت قدمی کو دیکھیے پوری ناامیدی مرتے دم تک ظاہر نہ کی۔ تقریباً تقریباً یہ آخری آرزو تھی اس کے بعد جلدی ١٩٠٨ء میں تو راہی عدم ہوئے۔ یہ ہے داستان ایک پنجابی بوڑھے فرنگی نبی کے عشق کی جو ایک حد تک اس شعر کی مصداق ہے؎

تیرے عشق کا جس کو آزار ہو گا
سنا ہے قیامت میں دیدار ہو گا

1؎ مرزا جی لکھتے ہیں۔ میں نے کشفی طور پر دیکھا کہ ایک فرشتہ میرے منہ میں دوائی ڈال رہا ہے چنانچہ وہ دوائیں میں نے پی لیں اور پھر اپنے تئیں خداداد طاقت میں پچاس مرد کے قائم مقام دیکھا۔

(تریاق القلوب ص ٧٨ نشان نمبر ١١)

صفحہ ١٤٨

مرزا غلام احمد قادیانی کی کھلی بددیانتی

ایک خط کا جواب

مکرمی جناب مولانا عزیز الرحمن صاحب السلام علیکم مزاج شریف میرے مطالعہ سے گزر چکا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کسی کتاب میں مکتوبات امام ربانی مجدد الف ثانی کا حوالہ دیتے ہوئے اس میں تحریف کی ہے۔ مجھے اس حوالہ کی ضرورت پیش آ گئی ہے۔ براہ کرم! اس حوالہ کی فوٹو کاپی مہیا فرما دیں۔ شکر گزار ہوں گا۔ یہ بھی نشان زد کر دیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اس میں کیا تحریف کی ہے۔

والسلام احقر العباد نور محمد قریشی ١١ اگست ٢٠٠٠ء

جواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم مکرمی و محترمی جناب نور محمد قریشی مدظلہ ایڈووکیٹ لاہور علیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ مزاج گرامی! ہمارے مخدوم محترم حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری دامت برکاتہم کے نام آپ کا خط موصول ہوا۔ حضرت مولانا دامت برکاتہم بیرون ملک کے سفر پر ہیں۔ دعا فرمائیں کہ اللہ رب العزت صح آمین! آپ کے خط کا جواب ب

جس میں آپ ۔ متابعين بالتبعية واحد منهم سمی ترجمہ فارسی : و گاه نیز به تبعیت و و ایشان هر گاه ب تشدید آن) نامید

٦٥٢ ج ١‘ پر اس ک کی جلد ثانی میں ج مکالمات و مخاطبات کے نام سے موسوم

حضرت مجدد کا خط

نبوت کا دعویٰ کیا تو ”مجدد صاحبؒ سر بعض افراد مکالمہ و مخاطبہ الہیہ شخص کو بکثرت اس مکالمہ و مخا جائیں وہ ”نبی“ کہلاتا ہے۔“

صفحہ ١٤٩

فرمائیں کہ اللہ رب العزت صحت و سلامتی خیر و برکت سے ان کی واپسی فرمائیں۔ آمین ثم آمین! آپ کے خط کا جواب یہ ہے:۔

جس میں آپ نے تحریر فرمایا: ”وقد یکون ذالک لبعض الکمل من متابعیہم بالتبعیۃ والوراثۃ ایضاً واذا کثر ھذا القسم من الکلام مع واحد منھم سمی محدثا۔“ ترجمہ فارسی: و گاھے ایں نعمت عظمیٰ بعضے را از کمل متابعان ایشاں نیز بہ تبعیت و وراثت میسر میگردد و ایں قسم از کلام با یکے از ایشان ہر گاہ بکثرت واقع گردد آنکس محدث (بفتح دال و تشدید آں) نامیدہ میشود

(مکتوبات مجدد الف ثانیؒ دفتر دوم ص ١٤٢)

٦٥٢ ج١‘ پر اس کا حوالہ یوں نقل کیا ہے: ”بلکہ امام ربانی صاحب اپنے مکتوبات کی جلد ثانی میں جو مکتوب پنجاہ و یکم ہے اس میں صاف لکھتے ہیں کہ غیر نبی بھی مکالمات و مخاطبات حضرت احدیت سے مشرف ہو جاتا ہے اور ایسا شخص محدث کے نام سے موسوم ہے۔“

حضرت مجدد کا خط نقل کرتے ہوئے کثرت مکالمہ والے کو ”محدث“ لکھا ہے۔

نبوت کا دعویٰ کیا تو مجدد الف ثانیؒ کے مکتوبات میں تحریف کرتے ہوئے لکھا کہ:۔ ”مجدد صاحبؒ سرہندی نے اپنے مکتوبات میں لکھا ہے کہ اگرچہ اس امت کے بعض افراد مکالمہ و مخاطبہ الٰہیہ سے مخصوص ہیں اور قیامت تک مخصوص رہیں گے لیکن جس شخص کو بکثرت اس مکالمہ و مخاطبہ سے مشرف کیا جائے اور بکثرت امور غیبیہ اس پر ظاہر کیے جائیں وہ ”نبی“ کہلاتا ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٩‘ خزائن ص ٤٠٦ ج ٢٢)

صفحہ ١٥٠

نتیجہ

دیکھئے مجدد الف ثانیؒ تحریر فرماتے ہیں کہ جسے کثرت مکالمہ ہو وہ ”محدث“ ہوتا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے براہین احمدیہ اور تحفہ بغداد میں مجدد صاحبؒ کے حوالہ سے بھی یہی تحریر کیا کہ کثرت ...... والا ”محدث“ کہلاتا ہے لیکن جب خود دعویٰ نبوت کیا تو حقیقت الوحی میں مجدد صاحبؒ کے حوالہ سے کثرت مکالمہ والا ”نبی“ کہلاتا ہے لکھ دیا۔

اب آپ خود فیصلہ فرمائیں کہ ایک ہی حوالہ کو مرزا غلام احمد قادیانی تین جگہ لکھتا ہے۔ براہین احمدیہ، تحفہ بغداد، اس میں ”محدث“ لکھتا ہے اور اسی حوالہ کو مرزا غلام احمد قادیانی حقیقت الوحی میں نبی لکھتا ہے۔ ”محدث“ کو ”نبی“ کرنا محض غلطی نہیں بلکہ صریح اور کھلی بددیانتی ہے۔

اپنی کتاب ”کفریات مرزا“ ص ٢١ مطبوعہ خواجہ برقی پریس دہلی مئی ١٩٢٣ء میں یہ حوالہ نقل کر کے یہ چیلنج نقل کیا تھا:۔ ”حضرت مجدد صاحبؒ کی عبارت مذکورہ میں مرزا غلام احمد قادیانی نے جس خیانت مجرمانہ و بے شرمانہ جرات سے کام لیا ہے اس پر قیامت تک علمی دنیا لعنت و نفرت کا وظیفہ پڑھ کر مرزا غلام احمد قادیانی کی روح کو ایصال ثواب کرے گی۔ کیا کوئی غلمدی جرات کر سکتا ہے کہ خط کشیدہ عبارت مکتوبات امام ربانیؒ میں دکھلا کر اپنے پیشوا کو کذابوں کی قطار سے علیحدہ کر دے۔“

آج سے چھیالیس سال قبل قادیانیوں کو جو چیلنج دیا گیا تھا وہ جوں کا توں برقرار ہے قادیانی امت مرزا غلام احمد قادیانی سے اس خیانت و بددیانتی کے الزام کو دور نہیں کر سکی اور نہ قیامت تک کر سکتی ہے، جھوٹا بددیانت نبی ہو سکتا ہے؟ یہ قادیانی امت کے لیے سوچنے کا مقام ہے۔ پانچوں حوالہ جات کے فوٹو ارسال خدمت ہیں!

والسلام فقیر اللہ وسایا ١٦-٨-٢٠٠٠ء حال مقیم دفتر مرکزیہ ملتان (ماہنامہ لولاک ملتان۔ ستمبر ٢٠٠٠ء)

صفحہ ١٥١

عقیدۂ نبوت

امداد حسین پیرزادہ

اسلام کے لیے پہلی شرط توحید کا اقرار اور دوسری شرط نبوت کا اعتراف ہے۔ یہ دونوں شرطیں ایسی لازم وملزوم ہیں کہ ہر ایک کا اعتراف دوسرے کے اعتراف کو مستلزم ہے اور کسی حال میں بھی ایک کا اقرار اور دوسرے کا انکار قابل قبول نہیں۔ گویا نبوت اسلام کے ان بنیادی عقائد میں سے ہے، جن کے ماننے یا نہ ماننے پر آدمی کے کفر و ایمان کا انحصار ہے۔ لہٰذا نبوت اور اس کے جملہ متعلقات کا علم نہایت ضروری ہے تاکہ انسان کسی گستاخی کا شکار ہو کر ایمان سے محروم نہ ہو جائے۔

نبی کے تراجم

المخبر عن الغيب او المستقبل بالهام من الله. ترجمہ: اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام کے ذریعہ مستقبل اور غیب کی خبر دینے والا۔

سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ترجمہ: اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دینے والا۔

ہے یعنی نبی غیب دان کو کہتے ہیں۔

صفحہ ١٥٢

انگریزی میں نبی کے لیے پرافٹ (Prophet) کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ انگلش مفکرین سے اس کا مفہوم بھی ہدیہ ناظرین ہے۔

ترجمہ: نبی وہ مقدس انسان ہے جسے یہ یقین کامل ہو کہ وہ اپنے خدا کی طرف سے پیغامبر اور پیغام رساں بنا کر بھیجا گیا ہے۔ اس اعتبار سے نبی اپنے خدا کا ترجمان قرار پاتا ہے۔

ترجمہ: نبی ایک مخصوص اسم ہے جس سے مراد مقدس ہاتف غیب کا ترجمان ہے۔

ترجمہ: اللہ تعالیٰ یا کسی بھی خدا کے مقدس ترجمان کو نبی کہا جاتا ہے۔

نبوت سے مراد

اسلام میں نبوت سے مراد وہ واسطہ ہے جس کے ذریعہ خداوند قدوس مخلوق کو اپنی مرضی سے آگاہ فرماتا ہے اور قدرت کی نگاہ انتخاب جس سے انسان کامل کو یہ منصب عطا فرماتی ہے اسے نبی کے اسم گرامی سے نوازا جاتا ہے۔ نبی خدا کا ترجمان اور نمائندہ ہوتا ہے جو وحی کے ذریعہ احکام الٰہی کو بندوں تک پہنچاتا ہے اور خود ان پر عمل کر کے دکھاتا ہے تا کہ لوگوں کو بھی ان پر عامل ہونے کی ترغیب ہو۔

نبوت سے متعلق چند ضروری معلومات

اس بلندی پر فائز ہوتا ہے کہ اس کی اطاعت و غلامی انسان کو خدا کے قرب کا مستحق بنا دیتی ہے اور اس کی نافرمانی خدا کے غضب کا باعث ہوتی ہے۔ غالباً اسی لیے اہل عشق فرماتے ہیں کہ نبی کے غیض و غضب کا نام دوزخ اور نبی کی عقیدت و محبت کا نام جنت ہے۔

تکذیب کفر ہے۔

(بہار شریعت)

جو نبی نہیں اسے نبی کے برابر یا نبی سے افضل سمجھنے سے انسان کافر ہو جاتا ہے۔

صفحہ ١٥٣

(بہار شریعت)

عصمت انبیاء کے یہ معنی ہیں کہ ان کے لیے حفظ الٰہی کا وعدہ ہو گیا جس کے سبب ان سے صدور گناہ شرعاً محال ہے۔ (بہار شریعت)

نے وہ سب پہنچا دیئے کسی نبی کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا کہ اس نے کسی حکم کو تقیہ یعنی خوف کی وجہ سے چھپائے رکھا اور نہ پہنچایا کفر ہے۔ (بہار شریعت)

حصہ تک بھی نہیں پہنچ سکتی۔ (بہار شریعت)

ہوتی اور اسی کو غیب کہتے ہیں۔ مثلاً جنت و نار، حشر و نشر، عذاب و ثواب غیب نہیں تو اور کیا ہیں۔

بلاواسطہ نبی کا خواب بھی وحی ہی ہوتا ہے۔ (بہار شریعت)

چار کتابیں بہت مشہور ہیں۔ تورات، حضرت موسیٰ علیہ السلام پر، زبور، حضرت داؤد علیہ السلام پر۔ انجیل، حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اور قرآن حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلم پر۔

ہمیں یہی عقیدہ رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے جتنے پیغمبر ہیں ہم ان سب پر ایمان رکھتے ہیں کیونکہ کسی ایک کا انکار بھی کفر کو مستلزم ہے اور خصوصاً ذات پاک مصطفےٰ علیہ التحیۃ والثناء کی نبوت کا انکار کرنا (جن کی آمد کی بشارت اور ان پر ایمان لانے کی تاکید گزشتہ انبیائے کرام نے فرمائی) صرف آپ کا انکار نہیں بلکہ تمام سابقہ انبیاء و مرسلین کی تکذیب ہے۔

صفحہ ١٥٤

یوم النشور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔

نہیں۔ عبادت و ریاضت کے ذریعہ حاصل نہیں ہو سکتی بلکہ جس طرح جسمانی ربوبیت کے لیے سورج۔ چاند‘ ہوا‘ پانی‘ زمین وغیرہ اللہ تعالیٰ کی صفت رحمانیت کا پرتو ہیں۔ کوئی شخص یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ یہ اشیاء اس کے کسی عمل کے نتیجہ میں پیدا کی گئی ہیں۔ اسی طرح نبوت بھی اس کا بے بدل انعام ہے جو کسی کے عمل کے نتیجہ میں نہیں ملتا‘ بلکہ یہ محض عطائے الٰہی ہے جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے دے دیتا ہے۔ الله اعلم حيث يجعل رسالته (الانعام: ١٢٤) اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ منصب رسالت کس کو بخشے۔

باتیں ظاہر کیں جو اور لوگ نہیں کر سکتے۔ ایسی باتوں کو معجزہ کہتے ہیں۔

مفہوم معجزہ

نبی دنیا کو جس پیغام کی دعوت دیتا ہے‘ اس کی سچائی کا واضح ترین ثبوت اگرچہ خود یہ پیغام اور اس کے داعی کا مجسم وجود ہوتا ہے۔ تاہم اطمینان قلب اور اتمام حجت کے لیے اس داعی حق کی نسبت سے کچھ ایسے واقعات رو پذیر ہوتے ہیں۔ جو عام حالات میں انسانی دسترس سے باہر ہوتے ہیں اور ان کی توجیہہ وتعلیل سے انسانی عقل اپنے کو درماندہ پاتی ہے۔ مثال کے طور پر حضرت ابراہیم علیہ السلام پر آگ سرد ہو گئی حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا اژدہا بن گیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بے باپ کے پیدا ہوئے۔ آنحضرت نے چشم زدن میں مسجد حرام سے لے کر مسجد اقصیٰ وسدرۃ المنتہیٰ تک سیر کی۔ ان واقعات کی توجیہہ سے چونکہ عقل انسانی عاجز ہے اس لیے ان میں ایک طرح کا غیب نظر آتا ہے اور جس شخص کے تعلق سے ان کا ظہور ہوتا ہے۔ عالم غیب کے ساتھ اس کے روابط کی علامت ہے۔ قرآن مجید کی زبان میں اس قسم کے واقعات کا نام بینات‘ براہین یا آیات ہے۔ محدثین ان کو دلائل نبوت سے تعبیر کرتے ہیں اور حکما ومتکلمین کی اصطلاح میں انہی کو معجزات کہا جاتا ہے۔

صفحہ ١٥٥

مقصد نبوت

نبوت ایک حقیقت ہے جو حق کی طرف سے حق لے کر حق کی تبلیغ کرنے آتی ہے۔ انسانیت کی فوز و فلاح اور خدا کی رضا نبوت کے دامن اطاعت سے وابستہ ہے کیونکہ نبی کا کوئی قدم خدا کے حکم کے بغیر نہیں اٹھتا۔ نبی کا ہر قول اور فعل بلکہ اس کی زندگی کا ہر لمحہ اس مرکز کے گرد گھومتا رہتا ہے کہ انسان حق شناس اور حق کا پرستار بن جائے۔

ضرورت نبوت کے چند پہلو

ہے ۔ اگر بشر کی عقل کامل ہوتی تو وہ کبھی غلطی کا مرتکب نہ ہوتا، لیکن زیرک ترین اشخاص بھی لغزش کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت انسان آج تک اپنے لیے مکمل ضابطہ حیات نہیں بنا سکا۔ بارہا اس نے زندگی کے میدان میں طبع آزمائی کی مگر منزل مراد تک نہ پہنچ سکا بلکہ اسی جدوجہد میں بعض قومیں اپنے ہاتھوں یوں تباہ ہوئیں کہ ان کا نام و نشان تک مٹ گیا۔

انسان کی اس بنیادی کمزوری کے پیش نظر خالق کائنات نے اقوام عالم کی فلاح و بہبود اور رشد و ہدایت کے لیے نبوت کا سلسلہ پہلے دن سے ہی شروع کر دیا تھا جس نے حق و باطل کی راہیں روزِ روشن کی طرح نکھار کے رکھ دیں اور بتا دیا کہ حق و صداقت کا صراط مستقیم نجات کا ضامن ہے اور باطل و فریب کا راستہ ہلاکت کا موجب ہے۔

سے متاثر ہوتا ہے۔ اگر انسانی رہنمائی کے لیے تنہا حروف اور الفاظ کافی ہوتے تو خدا تعالیٰ کے لیے کیا مشکل تھا کہ آسمان سے ایک لکھی لکھائی کتاب نازل کر دیتا یا اپنے احکام پہاڑ کی کسی چٹان پر رکھ دیتا۔ انسان ان تحریروں کو پڑھ لیتے اور صحیح راستہ پر گامزن ہو جاتے، لیکن انسانی رہنمائی صرف الفاظ و تحریر سے ممکن نہیں، اس کے لیے ضروری ہے کہ کوئی شخص ان احکام پر عمل کر کے دکھائے اور اس کی یہ مثال دوسروں کے لیے نمونہ بنے ۔ رہنمائی کی یہی وہ بنیادی ضرورت تھی ۔ جس کے لیے خداوند قدوس نے اپنی کتابوں کے ساتھ انبیاء کرام بھی مبعوث فرمائے۔

صفحہ ١٥٦

ہمارے پاس عقل ہے۔ ادراک انسانی کی تگ و دو حواس وعقل سے آگے نہ تھی مگر اس کی ضروریات کا تعلق ان دونوں سے آگے تھا جسے عالم غیب کہا جاتا ہے۔ جب تک اس عالم تک کسی کی رسائی نہ ہو۔ اس مقام سے متعلقہ انسانی ضرورتیں پوری نہیں ہوسکتیں۔ چونکہ نبوت کا ایک شعبہ غیب دانی بھی ہے۔ لہٰذا انسانی ضرورتوں کے پورا ہونے کے لیے نبوت کا ہونا ضروری ہے۔

کے ازالہ کے لیے عقل کا ان پر حاکم ہونا ضروری تھا‘ مگر جب عقل بھی ٹھوکر کھائے تو اس کا ازالہ نہ عقل کرسکتی ہے نہ حواس‘ لہٰذا ضروری ہوا کہ عقل پر ایسی چیز کو حاکم تسلیم کیا جائے۔ جو غلطی سے پاک ہو‘ اور وہ نبوت ہے کیونکہ نبوت ہی غلطی سے مبرا ہے۔ لہٰذا اختلاف عقل کی مضرتوں سے بچنے کے لیے نبوت کو ماننا ضروری ہوا۔

تقدس میں ہیں یعنی رب العزت جل جلالہ ایسی ہستی ہے جو کمال کے انتہائی درجہ پر ہے اور انسان نقصان کے انتہائی درجہ پر‘ اس لیے انسان میں یہ طاقت نہیں ہے کہ وہ بغیر کسی واسطہ کے اللہ تعالیٰ سے فیض حاصل کرسکے۔ لہٰذا خداوند قدوس سے فیض حاصل کرنے کے لیے واسطہ کی ضرورت پڑی مگر وہ واسطہ کیسا ہو۔ لکھتے ہیں: له وجه تجرد و نوع تعلق جس میں ایک وجہ تجرد کی اور دوسری وجہ تعلق کی ہو۔ یعنی تجرد کی جہت سے وہ خدا تعالیٰ سے فیض حاصل کرے اور تعلق کی جہت سے وہ فیض الٰہی کو انسانوں تک پہنچائے۔ پس ایسا واسطہ انبیائے کرام ہیں اور ان میں سب سے بڑا اور سب سے ارفع واسطہ حضور نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ علامہ شوکانی کے الفاظ ملاحظہ ہوں۔ وهذا الواسطة هم الانبياء واعظمهم رتبة و ارفعهم منزلة نبينا صلى الله عليه وسلم. یہ واسطہ انبیائے کرام ہیں اور ان میں سب سے بڑا رتبہ اور سب

سے اونچی شان ہما

ناممکن ہے

ناممکن ہے۔

ناممکن ہے۔

نبوت کے بغیر ناممکن

کے بغیر ناممکن ہے۔

نبوت کے بغیر ناممکن

کی طرف رجوع کیا حتیٰ کہ جب کوئی مری طرف دوائیوں کے ا کے درد کے لیے تریا لیے موت کا موجب کا روگ نہیں اسے کیا چینی کے دانے بھی دک میں ایسے اجزاء ہوں امتیاز وہ ڈاکٹر کرے گ جانتا ہے۔

صفحہ ١٥٧

سے اونچی شان ہمارے نبی کریم رؤف رحیم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے۔

ناممکن ہے

ناممکن ہے۔

ناممکن ہے۔

نبوت کے بغیر ناممکن ہے۔

کے بغیر ناممکن ہے۔

نبوت کے بغیر ناممکن ہے۔

کی طرف رجوع کیا جاتا ہے تاکہ اس کے فوائد اور نقصانات معلوم ہو جائیں۔

حتیٰ کہ جب کوئی مریض درد سے کراہتا ہوا ڈسپنسری میں داخل ہوتا ہے۔ چاروں طرف دوائیوں کے انبار نظر آتے ہیں انہی میں وہ دوائی بھی پڑی ہے جو اس کے درد کے لیے تریاق کی حیثیت رکھتی ہے اور وہ دوائیاں بھی ہیں جو اس کے لیے موت کا موجب بن سکیں۔ مگر یہ امتیاز کون کرے گا۔ یہ اس مریض کے بس کا روگ نہیں اسے کیا خبر کہ یہ گولی جو بظاہر خوبصورت نظر آ رہی ہے اس کے اوپر چینی کے دانے بھی دکھائی دے رہے ہیں ہو سکتا ہے اس کے اندر زہر ہو یا اس میں ایسے اجزاء ہوں جو اس کے لیے سم قاتل کی حیثیت رکھتے ہوں۔ بالآخر امتیاز وہ ڈاکٹر کرے گا جو ان دوائیوں کے اجزائے ترکیبی اور مرض کی حقیقت کو جانتا ہے۔

صفحہ ١٥٨

اسی طرح اس کائنات میں حضرت انسان کے دائیں بائیں، اوپر نیچے اندر باہر ہر طرف اشیاء کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔ بے شمار روشیں ہیں مگر اس میں خیر و شر کا امتیاز کون کرے گا۔ انسانی عقل اتنی کامل نہیں کہ ہر چیز کے حسن و قبح کو اجاگر کر سکے۔ تجربات شاہد ہیں کہ انسان نے کئی چیزوں کو اچھا سمجھا، مگر وہ اس کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئیں۔

وعسى ان تكرهوا شيا وهو خير لكم وعسى ان تحبوا شيا
وهو شر لكم والله يعلم وانتم لا تعلمون

(پ ٢ رکوع ١٠)

اور ہو سکتا ہے کہ تم ناپسند کرو کسی چیز کو حالانکہ وہ تمھارے لیے بہتر ہو اور ہو سکتا ہے کہ تم پسند کرو کسی چیز کو حالانکہ وہ تمھارے حق میں بری ہو اور حقیقت حال اللہ ہی جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

خیر و شر کا صحیح امتیاز وہ حکیم و علیم خدا ہی کر سکتا ہے جو ان اشیاء کا خالق اور ان کے اسرار و رموز پر آگاہ ہے، مگر ان خدائی حقائق پر انسانی آگاہی نبوت کے بغیر ناممکن ہے۔

نبوت مصطفےٰ

حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں۔ خدا خود آپ کی نبوت کا شاہد اور پورا عرب معاشرہ آپ کی صداقت کا گواہ ہے بلکہ آپ کی نبوت انسانیت کے لیے احسان عظیم ہے جس نے انسان کو انسانیت کی حقیقی قدروں سے آشنا کیا۔ یوں تو قرآن کی ہر آیت حضور کی نبوت کا زندہ ثبوت ہے مگر میں مشت از خروارے کی حیثیت سے صرف دو عام فہم دلائل ذکر کرتا ہوں۔

١۔ کلام الٰہی

آج سے چودہ صدیاں پیشتر اگر خطہ عرب کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان بتوں کے سامنے سجدہ ریز تھا۔ درندوں کی طرح خونخوار اور تہذیب و مروت سے ناآشنا تھا۔ الغرض انسان تھا مگر انسانیت سے محروم تھا۔ بالآخر اللہ تعالیٰ کو انسانیت کی اس زبوں حالی پر رحم آیا اور اپنے محبوب حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اولادِ آدم کی رہنمائی کے لیے نبوت کا تاج پہنایا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیغامِ نبوت سنایا اور انسانوں کو انسانیت کی طرف بلایا مگر صدیوں کا ذہنی بگاڑ صرف ایک آواز سے کیسے زائل

صفحہ ١٥٩

ہو۔ پورا معاشرہ مخالف ہو گیا اور وجہ انحراف یہ بتائی کہ نہ آپ خدا کے نبی ہیں اور نہ یہ خدا کا پیغام ہے بلکہ خود ساختہ ہے۔ کفار کا یہ اعتراض تھا کہ غیرت خداوندی جوش میں آئی نبوت مصطفےٰ کی دلیل نازل فرمادی۔

وان کنتم فی ریب مما نزلنا علی عبدنا فاتوا بسورة من مثله (اور اگر تمھیں شک ہو اس میں جو ہم نے اپنے بندے نبی آخر الزمان پر نازل کیا، تو اس جیسی ایک سورۃ ہی لا کر دکھا دو)

یہ چیلنج صرف عرب کے شعراء اور بلغاء کے لیے نہیں بلکہ عرب و عجم کے سب منکرین کو دیا جا رہا ہے۔ اسلام کے دشمنوں کے لیے یہ کتنا آسان طریقہ تھا کہ تین آیات کی ایک سورۃ بنا کر وحی مصطفےٰ کے اس چیلنج کا جواب دے دیتے اور اس طرح آپ کی نبوت کا انکار ثابت کر دیتے لیکن چودہ صدیاں گزر چکی ہیں یہ چیلنج بدستور فضاؤں میں گونج رہا ہے کوئی بدخواہ آج تک جواب نہیں دے سکا اور نہ قیامت تک دے سکے گا۔ اس ایک آیت نے نبوت مصطفےٰ کا ایسا مسکت ثبوت فراہم کر دیا ہے کہ کسی بڑے سے بڑے سرکش مخالف کو بھی مجال انکار نہیں ہو سکتی۔

٢۔ دعوت مباہلہ

١٠ھ کا واقعہ ہے کہ بنی نجران کے ایک عیسائی وفد نے حضور نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عقیدہ توحید و تثلیث کے موضوع پر بحث کی۔ آپ نے تردید تثلیث کے لیے واضح اور روشن دلائل پیش فرمائے مگر وہ تثلیث کی رٹ لگاتے رہے چنانچہ ان مخالفین پر حجت قائم کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان سے مباہلہ کرنے کا حکم دیا۔ مباہلہ کی تعریف یہ ہے کہ فریقین نہایت عاجزی سے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ دعا کریں کہ ان میں سے جو جھوٹا ہو اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو چنانچہ نبی آخر الزماں حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اٹھائے ہوئے حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ خاتون جنت فاطمۃ الزھراء اور حیدر کرار رضی اللہ عنہ کو ساتھ لائے جب وفد نجران نے یہ نورانی چہرے دیکھے تو ان کے اسقف (لاٹ پادری) نے کہا کہ اگر تم نے ان سے مباہلہ کیا تو یاد رکھو تمہارا نام و نشان مٹ جائے گا۔ چنانچہ انھوں نے مباہلہ کرنے سے انکار کر دیا اور جزیہ ادا کرنے کے

صفحہ ١٦٠

لیے تیار ہو کر صلح کر لی۔

یہ حضور کی نبوت کا واضح ترین ثبوت ہے اگر حضور نبی آخر الزماں کو اپنی نبوت کے متعلق ادنیٰ سا بھی شک ہوتا تو بذات خود مباہلہ کے میدان میں تشریف نہ لاتے اور اگر نصرانیوں کو اپنے عقیدہ کی سچائی پر یقین ہوتا تو وہ کبھی مباہلہ سے انکار نہ کرتے۔

ختم نبوت

ختم نبوت سے مراد یہ ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں۔ آپ کے بعد کوئی شخص نبوت کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور یہ ایسا متفق علیہ عقیدہ ہے جس میں کسی مسلمان کو اختلاف نہیں ہے اس کی ضرورت کے چند پہلو ہدیہ ناظرین ہیں۔

خدا نے کسی کی حفاظت کا اعلان نہیں فرمایا۔ لہٰذا وہ کتب آئیں اور اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے بعد چلی گئیں۔ آج کوئی بھی اپنی اصلی صورت میں موجود نہیں بالآخر قرآن مجید آیا اور ایسا آیا کہ بس آ ہی گیا چونکہ وہ آخری تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے خود اس کی حفاظت کا ذمہ اٹھایا۔ اسے مستقبل کے ہر زماں و مکاں کے لیے ناقابل تغیر کامل ضابطہ حیات قرار دیا اور واضح اعلان فرما دیا۔

الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دینا۔

(المائدة)

ترجمہ: آج میں نے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت کو تم پر پورا کر دیا ہے تمہارا دین اسلام ٹھہرا کر راضی ہوا ہوں۔

اس آیت کے معنی بالکل صاف اور واضح ہیں کہ دین اسلام تدریجی مراحل طے کرتا ہوا آج پایہ تکمیل کو پہنچ گیا ہے جو ہر حیثیت سے مکمل ہے، اس کے بعد اب کسی مزید ہدایت یا پیغام کی حاجت باقی نہیں ہے۔ پس اگر پیغام اور ہدایت ختم ہو گئی تو پیغمبر اور ہادی کی ضرورت بھی ختم ہو گئی۔ جب قرآن مجید کامل مکمل اور آخری ہدایت ہے تو لامحالہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کامل مکمل اور آخری نبی ہیں۔

صفحہ ١٦١

لیے انبیاء کرام تشریف لاتے رہے ان کی تعلیم عالمگیر نہ تھی اور عالمگیر ہو بھی کیسے سکتی تھی جب کہ انسانیت کو ارتقائی منازل طے کرنے میں ابھی بہت وقت درکار تھا۔ بالآخر ہمارے ہادی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد اس وقت ہوئی جب دنیا ایک ایسی منزل پر پہنچ چکی تھی جہاں سے وہ حقائق کے تمام امور کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ چنانچہ اب اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزمان کو عالمگیر دین دے کر بھیجا اور فرمایا جا کر اعلان کر دو۔

قل یا ایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعاً (اعراف)

اے نبی فرما دیجیے میں تم سب لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔

وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین (الانبیا: ١٠٧)

اے محبوب! تمام عالمین کے لیے آپ کا وجود مسعود سراپا رحمت ہے۔

نبی آخر الزمان کا اپنا ارشاد بھی ملاحظہ فرمائیں۔ ارسلت الی الخلق کافة میں تمام مخلوق کی طرف بھیجا گیا ہوں۔

کان کل نبی یبعث الی قومہ خاصة و بعثت الی کل احمر و اسود۔ ہر ایک نبی اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا، لیکن میں تمام سرخ اور سیاہ اقوام کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ گزشتہ سطور اعلان کر رہی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام لوگوں، ہر عالم اور ہر مخلوق کے لیے رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ تو جب عالمگیر رسول عالمگیر پیغام ہدایت لے کر آ گیا تو مزید کسی پیغام کی ضرورت باقی نہ رہی...... لہٰذا سلسلۂ نبوت کو ختم ہونا چاہیے تھا جو کہ ہو گیا۔

جب اپنی پوری جوانی پہ آ گئی دنیا
جہاں کے واسطے اک آخری نظام آیا

منطقی اصول

انبیاء کی بعثت کا مقصد یہ تھا کہ حق و باطل کو واضح کر دیا جائے اور فلاح دارین کے لیے انسان کو کامل ہدایت پہنچا دی جائے۔ لہٰذا جب اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی شکل میں انسان کو کامل ہدایت عطا فرما دی تو جس مقصد کے لیے انبیاء کا سلسلہ جاری کیا گیا تھا وہ

صفحہ ١٦٢

لامحالہ ختم ہو گیا کیونکہ منطق کا یہ اصول ہے۔ اذا فات الشرط فات المشروط. (جب شرط پوری ہو جائے تو مشروط بھی فوت ہو جاتا ہے) چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وسیلہ سے وہ کامل ہدایت عطا کی گئی ہے۔ اس لیے منطقی طور پر آپ اس سلسلہ کے خاتم قرار پائے ہیں۔

آخری نمونہ

کسی بزرگ کا ارشاد ہے: ”آنے کو تو پیغمبر اور ہادی کہاں نہیں آئے۔ ہر قوم میں آئے‘ ہر نسل میں آئے اور ہر ملک میں آئے ہر زمانے میں آئے اللہ کا سلام ہو ان پر۔“ لیکن یہ سب جانے کو آئے‘ ایک مقررہ وقت اور معین زمانے کے لیے آئے۔ ان کے احکام ان کے نمونے وقتی تھے۔ قیامت تک رہنے کو ایک ہی دین آیا اور آیا تو آ گیا۔ اب اسے کون مٹائے۔ وہ آنے والا تو آخری آنے والا تھا۔ وہ چلا جائے اور اس کا نمونہ مٹ جائے تو قیامت آئے۔ اب تو کوئی آنے والا ہی نہیں۔ نمونہ تو یہی رہے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ازل میں ہی یہ فیصلہ کر دیا تھا کہ یہ آخری نمونہ ہے اور قیامت تک ہی رہے گا۔

ختم نبوت ایک نعمت ہے

ختم نبوت اللہ تعالیٰ کا خاص انعام ہے جس کی بدولت امت مسلمہ میں ایک عالمگیر برادری اور وحدت قائم ہے۔ اگر یہ عقیدہ نہ ہوتا تو امت مسلمہ کو یہ وحدت کبھی نصیب نہ ہوتی کیونکہ ہر نبی کے آنے پر یہ پارہ پارہ ہوتی رہتی اور یہ ایک امت ایسی مختلف اور متعدد امتوں میں تقسیم ہو جاتی جن میں سے ہر امت کا روحانی مرکز الگ ہوتا۔ تاریخ الگ‘ علمی و تہذیبی سرچشمہ الگ ہوتا بلکہ انسان ہمیشہ اپنے مستقبل کی طرف سے غیر مطمئن رہتا اور ہر نئے آنے والے نبی کا منتظر رہتا‘ لیکن عقیدہ ختم نبوت نے مسلمانوں کو ہر ایسے بنیادی اختلاف سے محفوظ کر دیا ہے جو ان کے اندر مستقل تفریق کا باعث بن سکتا ہے۔

مرتد کے لغوی

سوال: مرتد کی لغوی سزا کو واضح

جواب: محترم محمد ار

مرتد کا لغوی معنیٰ

مرتد کا لغوی مرتد اسلام سے پھر جانا کو چھوڑ کر کوئی اور دین

مرتد کا اصطلاحی معنیٰ

شرع کی اص کو چھوڑ کر کفر اختیار کر نے حقیقت میں ایسا کہ طرح اگر کوئی شخص حرا اور ڈاکہ وغیرہ۔

مرتد کا حکم

ولا يزالون يَرْتَدَّ منكم في الدنيا وا اور وہ ہمیشہ ا سے پھیر دیں پھر کافر ہو کر میں اور آخر

صفحہ ١٦٣

مرتد کے لغوی و اصطلاحی معانی اور اس کی شرائط و سزا

مفتی عبدالقیوم ہزاروی

سوال: مرتد کی لغوی اور اصطلاحی معانی بیان کریں نیز مرتد ہونے کی شرائط اور اس کی سزا کو واضح کریں۔ محمد ارسلان صدیقی فیصل آباد

جواب: محترم محمد ارسلان صدیقی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ!

مرتد کا لغوی معنیٰ

مرتد کا لغوی معنیٰ یہ ہے کہ کسی چیز کو دوسری چیز کی طرف لوٹا دینا۔ یہی وجہ ہے کہ مرتد اسلام سے پھر جاتا ہے اور حقیقت میں کسی کو مرتد اس وقت کہا جاتا ہے جب وہ اسلام کو چھوڑ کر کوئی اور دین اختیار کر لے۔ (تاج العروس‘ ٣٥١:٢)

مرتد کا اصطلاحی معنیٰ

شرع کی اصطلاح میں مرتد اس شخص کو کہتے ہیں جو دینِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چھوڑ کر کفر اختیار کرے۔ اب اس کے کسی قول، فعل پر اعتبار نہیں کیا جائے گا کہ آیا اس نے حقیقت میں ایسا کیا ہے یا نہیں۔ خواہ اس کا یہ کہنا عناداً ہو یا اعتقاداً ہو یا استہزاء اسی طرح اگر کوئی شخص حرام قطعی کو حلال جانے تو وہ مرتد ہے۔ مثلاً زنا، شراب نوشی، قتل، چوری اور ڈاکہ وغیرہ۔

مرتد کا حکم

ولا يزالون يقاتلونكم حتى يردوكم عن دينكم ان استطاعوا ومن يَرْتَدْ منكم عن دينه فَيَمُتْ وهو كافر فاولئک حبطت اعمالهم فى الدنيا والاخرة واولئک اصحب النار هم فيها خلدون.

اور وہ ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ تمھیں تمھارے دین سے پھیر دیں اگر پھیر سکیں اور تم میں جو کوئی اپنے دین سے پھر جائے پھر کافر ہو کر مرے تو ان لوگوں کے تمام (نیک) عمل ضائع ہو گئے دنیا میں اور آخرت میں اور وہ دوزخ والے ہیں۔ (البقرہ ٢١٧:٢)

صفحہ ١٦٤

ملعونين‘ اينما ثقفوا اخذوا وقتلوا تقتيلا. پھٹکارے ہوئے (لعنتی) جہاں کہیں ملیں پکڑے جائیں اور گن گن کر قتل کیے جائیں۔ (الاحزاب 61:33)

حدیث پاک سے

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے پاس ملحد مرتد لائے گئے آپ نے ان کو جلا دیا۔ یہ بات ابن عباس رضی اللہ عنہما کو پہنچی تو فرمایا میں ہوتا تو نہ جلاتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔

لا تعذبوا بعذاب الله ولقتلتهم لقول رسول الله صلى الله عليه وسلم من بدل دينه فاقتلوه.

اللہ کا عذاب (کسی کو) مت دو! میں ان کو قتل کر دیتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے جو اپنے دین کو بدلے اسے قتل کر دو۔ (مشکوٰۃ ص ٣٠٧ بحوالہ بخاری)

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ”آخری زمانہ میں کچھ نو عمر‘ کم عقل لوگ آئیں گے بہترین خلق (محمد) صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باتیں (حدیث) بیان کریں گے (یا مخلوق میں سب سے بہتر باتیں کریں گے) ان کا ایمان ان کے حلق سے آگے نہیں بڑھے گا‘ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے پار ہو جائے۔

فاينما لقيتموهم فاقتلوهم فان فى قتلهم اجراً لمن قتلهم يوم القيمة.

ان کو جہاں پاؤ قتل کر دو! کہ ان کے قتل کرنے میں‘ قتل کرنے والوں کے لیے قیامت کے دن ثواب ہوگا۔ (متفق علیہ۔ مشکوٰۃ ص ٣٠٧)

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔

ان يهودية كانت تشتم النبى صلى الله عليه وسلم و تقع فيه فخنقها رجل حتى ماتت فابطل النبى صلى الله عليه وسلم دمها.

ایک یہودی عورت نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو برا بھلا کہتی اور لعن و طعن کرتی‘ ایک مسلمان (عاشق رسول) نے اس کا گلا دبا دیا یہاں تک کہ مر گئی‘ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا خون رائیگاں قرار دے دیا۔ (ابو داؤد۔ بحوالہ مشکوٰۃ ص ٣٠٨)

صفحہ ١٦٥

احکام فقہ

فقہائے اسلام سے

واذا ارتد المسلم والعياذ بالله عرض عليه الاسلام فان كانت له شبهة كشفت عنه لانه عساه اعترته شبهة فتزاح وفيه دفع شره باحسن الا مرين الا ان العرض على ماقالوا غير واجب لان الدعوة بلغته و يحبس ثلاثة ايام فان اسلم والا قتل.

اگر مسلمان‘ اسلام سے پھر جائے۔ خدا کی پناہ۔ تو اس پر اسلام پیش کیا جائے گا‘ اگر اس کا کوئی شبہ ہے تو اس کو دور کیا جائے گا‘ اس لیے کہ ممکن ہے اسے شبہ ہو گیا تو اس کا ازالہ کر دیا جائے گا۔ اس صورت میں اس کی برائی کو دو میں سے بہتر طریقہ سے ختم کر دیا جائے گا۔ یعنی قتل یا اسلام۔ البتہ اس پر اسلام پیش کرنا جیسا کہ علماء نے فرمایا لازم نہیں۔ اس لیے کہ اسے دعوت اسلام پہنچ چکی ہے‘ اور اسے تین دن قید میں رکھا جائے گا اگر مسلمان ہو جائے تو بہتر‘ ورنہ قتل کر دیا جائے۔ (ہدایہ ص ٥٦٥ ج ٢۔ کتب السیر)

امام ابو حنیفہ اور ابو یوسف رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ تین دن کی مہلت دینا مستحب ہے خواہ وہ مطالبہ کرے یا نہ کرے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ نے فرمایا حاکم پر لازم ہے کہ اسے تین دن کی مہلت دے۔ اس سے پہلے اسے قتل کرنا جائز نہیں۔ (ہدایہ مع فتح القدیر ص ٣٠٨ ج ٥ طبع پاکستان)

تین دن کی مہلت

ایک شخص ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے ہاں سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ آپ نے پوچھا کوئی نئی خبر؟ بولا جی ہاں! ایک شخص اسلام سے مرتد ہوا ہم نے قتل کر دیا۔ آپ نے فرمایا اسے تین دن کسی مکان میں قید کیوں نہ رکھا؟ ہر دن ایک روٹی اسے کھلا دیتے۔ شاید توبہ کر لیتا۔ پھر فرمایا اے اللہ نہ میں موجود تھا۔ نہ میں نے حکم دیا اور نہ میں راضی تھا۔ (موطا امام مالک ص ٦٤٠)

صفحہ ١٦٦

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں۔ من غير دينه فاضربوا عنقه. جو اپنا دین بدلے اس کی گردن مار دو! (موطا مالک ص ٢٤٠)

کیا مرتد کو فی الفور قتل کیا جائے گا یا مہلت دی جائے گی

سوال: مرتد کے بارے میں کیا حکم ہے۔ کیا اس کو فی الفور قتل کر دیا جائے گا یا اس کو کتنی مہلت دی جائے گی؟

محمد شعیب ضلع شیخوپورہ

جواب: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من بدل دينه فاقتلوه. جو شخص اپنا دین تبدیل کرے اس کو قتل کر دو۔ (بخاری ١٠٣٣:٢)

تمام اہل علم کا اجماع ہے کہ مرتد کو قتل کرنا واجب ہے۔ حضرت ابو بکر صدیق ؓ حضرت عمرؓ حضرت عثمانؓ حضرت علیؓ حضرت معاذ ؓ حضرت ابن عباسؓ اور حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مرتد کو قتل کرنے کا حکم دیا۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مسلمان کا خون صرف تین اسباب میں سے کسی ایک سبب سے حلال ہے۔ (١) جان کا بدلہ جان ہو یا (٢) شادی شدہ زانی ہو (٣) وہ اپنے دین کو چھوڑ کر جماعت سے علیحدہ ہونے والا ہو۔ (مراد مرتد ہو)

(مشکوٰۃ ص ٢٩٩ بحوالہ صحیح بخاری وصحیح مسلم)

شمس الائمہ سرخسی حنفی لکھتے ہیں کہ جب کوئی مسلمان مرتد ہو جائے تو پھر اس پر اسلام پیش کیا جائے گا۔ اگر تو اس نے اسلام قبول کیا اور مسلمان ہو گیا تو ٹھیک ورنہ اسی جگہ اس کو قتل کر دیا جائے گا۔ ہاں اگر وہ مہلت طلب کرے تو اس کو تین دن تک مہلت دی جائے گی۔

ایک دوسری بات یہ بھی ہے کہ مرتدین کا جرم عرب کے مشرکین کی طرح ہے۔ مشرکین عرب نے حق کی پاسداری اور وفاداری نہیں کی۔ بس عرب لوگوں کے لیے جو مشرکین تھے دو راستے تھے۔ اسلام یا تلوار۔ اس طرح مرتدین کے لیے بھی دو ہی حکم ہیں یا تلوار یا اسلام۔

(منہاج الفتاویٰ۔ جلد چہارم۔ ص ٣٥٧ تا ٣٦١ از۔ مفتی عبدالقیوم خان ہزاروی)

مرزائیوں

وما جعلنا ہم علیہم السلام کھانا کھایا کرتے زندہ موجود ہیں تو کیا کھاتے

جواب

تھے۔ تو کیا کھا

کھاتے پیتے تھے

میں رہے تو کیا ک

ہی برتن میں کھان تھا اور کیا پیتا تھا۔

جس کے کھانے جس سے وہ مور

کہ حضرت عیسیٰ کہ وہ لکھتے ہیں۔ واللّٰہ حی فی الس و دیگر بل حیا

تھے۔ تو جب مرز

صفحہ ١٦٧

مرزائیوں کے اعتراض اور ان کے جوابات

از قلم: مولانا محمد ابراہیم

وما جعلنا هم جسدا لا ياكلون الطعام وما كانوا خالدين. یعنی تمام انبیاء علیہم السلام کھانا کھایا کرتے تھے اور پانی پیا کرتے تھے۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہیں تو کیا کھاتے ہیں اور کیا پیتے ہیں اور کہاں بول براز کرتے ہیں؟

جواب

تھے۔ تو کیا کھاتے پیتے تھے اور کہاں بول و براز کرتے تھے؟

کھاتے پیتے تھے اور کہاں بول و براز کرتے تھے۔

میں رہے تو کیا کھاتے پیتے تھے اور کہاں بول و براز کرتے تھے۔

ہی برتن میں کھانا کھایا ہے۔ اب تم بتلاؤ اور مرزا صاحب سے پوچھو کہ وہ کیا کھانا تھا اور کیا پینا تھا۔ (نور الحق حصہ اوّل ص ٥٧ مصنفہ مرزا قادیانی)

جس کے کھانے پر اس کی زندگی موقوف ہے اور مومن کا پانی بھی خدا ہوتا ہے۔ جس سے وہ موت سے بچ جاتا ہے۔ (براہین احمدیہ حصہ پنجم )

کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کیا کھاتے پیتے ہیں اور کہاں بول و براز کرتے ہیں جیسا کہ وہ لکھتے ہیں۔ وانّه حيّ في السماء ولم يمت وليس من الميتين. (نور الحق حصہ اوّل ص ٦٩) و دیگر بل حياة کلیم الله ثابت بنص القرآن الکریم. (حمامة البشریٰ ص ٤٨)

تھے۔ تو جب مرزا صاحب مر گئے تو آپ کے مرنے کے ساتھ ہی آپ کے اہل و

صفحہ ١٦٨

عیال بھی مر گئے؟

کہف کو اتنی مدت بغیر طعام کے زندہ رکھ سکتا ہے۔ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ نہیں رکھ سکتا؟

ہیں یعنی جو طعم اور غذا ہو کر مایہ حیات بنے۔ طعام کا معنی گیہوں یعنی حبوب وغیرہ نہیں بلکہ منجملہ افراد طعام میں سے ہیں۔ کیا آپ نے خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد مبارک نہیں سنا۔

یہ طعام ارضی کے علاوہ کسی دوسری اشیاء کے خورد و نوش کی خبر دی ہے۔ اسی طرح بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے سوال کے جواب میں ظہور دجال کے وقت بطور استدراج جب رزق کے خزانے دجال کے ہاتھ میں ہوں گے۔ فکیف بالمومنین یومئذٍ فقال یجزئ هم ما یجزئ اهل السماء من التسبیح والتقدیس (مشکوٰۃ شریف ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے راوی پوچھتا ہے کہ کیا حال ہوگا اہل ایمان لوگوں کا جب کہ طعام وغیرہ دجال کے ہاتھ میں ہوگا؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ جس طرح آسمان پر رہنے والوں کا مایہ حیات طعام ذکر الٰہی ہے۔ اسی طرح مومنین کا ذکر سبحان الملک القدوس کا ذکر کریں گے۔ یہی ذکر مومنین کا طعام ہوگا۔

حیات اور آپؐ کی خوراک کو درج فرمایا ہے جیسا کہ وهذا المسيح ابن مريم عليه السلام حيٌّ لَمْ يَمُتْ وغِذَاءُ هُ من جِنْسِ غِذَاءِ الملائكۃ.

(کتاب التبیان کلاں ص ١٣٩ خورد ص ٣٨٣ مطبوعہ مصر )

یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں ہرگز نہیں فوت ہوئے اور ان کی خوراک وہی ہے جو ملائکہ کی ہے چونکہ ملائکہ کی غذا اور خوراک بھی تسبیح و تہلیل ہے۔

چونکہ ان کی مادی اور ظاہری خوراک ہے ہی نہیں اس لیے ان کے بول و براز کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

صفحہ ١٦٩

گستاخ رسول اور مرتد

اسلام میں دونوں کی سزا قتل ہے

مولانا ڈاکٹر احمد علی سراج (کویت)

مرتد اس شخص کو کہتے ہیں جو پہلے مسلمان ہو اور پھر ضروریات دین اور اسلام کے بنیادی احکامات کا انکار کر دے تو ایسا شخص شرعی اصطلاح میں مرتد کہلاتا ہے۔ ایسا شخص جو اسلام سے پھر جائے یا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات ماننے سے انکار کر دے وہ مرتد کہلائے گا۔ فرمان نبوت کا انکار ہو یا ختم نبوت کا انکار دونوں ارتداد کے حکم میں آتے ہیں۔ اس لیے اس بات پر اجماع ہے کہ اگر کوئی شخص قرآن وسنت میں سے کسی ایک کی حجیت کا بھی منکر ہو وہ مرتد ہے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کچھ زندیق حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں لائے گئے تو انھوں نے ان کو جلا ڈالا۔ پھر جب اس بات کی خبر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو ہوئی تو انھوں نے فرمایا کہ ”رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اپنا دین بدل ڈالے اس کو قتل کر دو (بخاری) اسلامی حکومت میں حدود اسلامی کے نفاذ میں مرتد کی سزا قتل ہے۔ اس کا اجراء رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنی حیات مبارکہ میں فرمایا۔ بخاری ومسلم میں متفق علیہ حدیث ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں قبیلہ عکل کے کچھ لوگ آئے اور اسلام قبول کیا لیکن ان کو مدینہ کی آب و ہوا موافق نہیں آئی۔ جس کی وجہ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حکم دیا کہ وہ اونٹوں کے رہنے کی جگہ چلے جائیں ...... پھر وہ مرتد ہو گئے اور اونٹوں کے چرواہوں کو قتل

صفحہ ١٧٠

کر کے اونٹوں کو ہانک کر لے گئے جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو علم ہوا تو آپؐ نے ان کے پیچھے سواروں کو بھیج کر حکم دیا کہ ان کو پکڑ کر لایا جائے جب انھیں پکڑ کر لایا گیا تو ان کے جرم کی سزا پر ہاتھ پیر کاٹ دیے گئے اور ان کی آنکھیں پھوڑ دی گئیں۔ آخر کار وہ سب مر گئے۔ (بخاری و مسلم) دنیا میں ارتداد پر سزا پانے کے بعد آخرت میں اپنے کفر کی وجہ سے مرتد جہنم کی آگ کا ایندھن بھی بنے گا۔

یہ بات ذہن نشین کر لیں، اسلام میں سب سے بڑی عزت اور عظمت اللہ رب العزت اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے۔ اب اگر کوئی شخص اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتا ہے تو اس کی سزا قتل ہے۔ حاکم اسلامی پر لازم ہے کہ ایسے شخص کو تین دن کے لیے قید میں رکھ کر مہلت دے۔ اگر وہ ان تین دنوں میں توبہ کر کے دائرہ اسلام میں لوٹ آئے تو ٹھیک ورنہ اس کو قتل کر دیا جائے کیونکہ اسلام نے مرتد کی سزا قتل مقرر کی ہے اس حکم اسلامی پر تمام مکاتب فکر اور فقہاء ائمہ اربعہ کا اتفاق ہے۔ مرد اور عورت دونوں اس حکم میں برابر ہیں۔ مرتد کی سزا میں قتل کرنا کوئی ظلم نہیں بلکہ اسلامی معاشرہ کو ارتداد سے بچانے کے لیے یہ ایک عظیم قدم رحمت ہے تاکہ دوسرے لوگوں کو ارتداد سے بچایا جائے۔ جرائم پر سزا سے دوسرے لوگوں کے لیے عبرت کا درس ہوتا ہے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتی تھی تو ایک شخص نے اس کا گلہ گھونٹ ڈالا جس سے وہ مر گئی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا خون معاف کر دیا (ابو داؤد) یعنی ایسے شخص سے کوئی مواخذہ نہیں کیا گیا۔ ظاہر ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی ایک بہت بڑا جرم ہے جس کی سزا یہی ہے اور پھر آخرت میں ایسے شخص کے لیے جو ارتداد کا مرتکب ہوتا ہے سخت ترین عذاب ہے۔ وہ نار ہے، جحیم ہے، جہنم ہے اور دوزخ کی آگ ہے۔ جس میں سانپ اور بچھو ہیں۔ اگر کسی اسلامی حکومت میں اس کا نفاذ نہیں تو اللہ کی عدالت میں مرتد کو سزا سے نہیں بچایا جا سکتا کیونکہ جو کفر پر مرے اس کے لیے سخت عذاب ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتے ہیں۔ اس دن (قیامت کے دن) بہت سے منہ سفید (منور) ہوں گے اور بہت سے منہ کالے ہوں گے پس جن کے منہ کالے ہوں گے ان سے کہا جائے گا کہ تم ایمان لانے کے بعد پھر کافر ہو گئے تھے تو تم نے جو کفر کیا ہے

صفحہ ١٧١

اس کے بدلے میں عذاب چکھو (سورہ آل عمران۔ القرآن) مرتد کو کافر کہنا عین اسلامی حکم ہے کیونکہ ایسا شخص جو ضروریات دین میں کسی ایک کا انکار کرتا ہو یا اسلام کے بنیادی احکامات کا استہزا کرتا ہو یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا منکر ہو یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان یعنی سنت نبوی کی حجیت کا منکر ہو یا اللہ رب العزت اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتا ہو یا شعائر اسلامی کے خلاف بکتا ہو تو ایسا شخص کیسے مسلمان ہو سکتا ہے؟

اسلام نے دو ملی نظریے کا تصور دیا ہے۔ اس دنیا میں دو ملتیں ہیں ایک ملت مسلم ہے اور دوسری ملت کافر۔ ان دونوں اصطلاحوں کو قرآن پاک اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح کیا ہے۔ دنیا کے سارے انسان مومن نہیں بلکہ انسانوں میں دو گروہ ہیں جن کی تقسیم مسلمان اور کافر کے ساتھ ہے۔ دنیا کے تمام مسلمان ایک ملت ہیں اور کافر دوسری ملت ہیں اور پھر جب کوئی مسلمان اسلام سے پھر جائے تو وہ ملت کفر کا فرد بن کر مرتد کے حکم میں آتا ہے۔ پھر ایسے مرتد کو مسلمان سمجھنا بھی منع ہے بلکہ مرتد کو کافر سمجھنا عین اسلامی حکم ہے۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ رب ذوالجلال ہم سب مسلمانوں کو ایمان و اسلام میں استقامت و اخلاص سے قبول فرما کر خاتمہ بالخیر ایمان پر فرمائے اور اس دور پر فتن میں ارتداد سے بچائے اور ہماری حفاظت فرمائے (آمین) شرعی طور پر مرتد پر جو احکامات لاگو ہوتے ہیں وہ یہ ہیں۔

میں رکھے پھر اگر وہ اپنے ارتداد سے باز نہیں آتا اور توبہ نہیں کرتا تو حاکم وقت اس کو قتل کرا دے۔

ایسی صورت میں اگر وہ زندہ ہے اور حکومت کی سزا سے بچ گیا ہے تو فقہی طور پر ایسے مرتد کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔ اس کی بیوی عدت پوری کرنے کے بعد کسی دوسرے شخص سے شادی کر سکتی ہے کیونکہ ایک مسلم خاتون کسی کافر مرتد کی بیوی نہیں بن سکتی اور اس طرح کوئی مرتد شخص کسی مسلمان عورت سے شادی نہیں کر سکتا۔

صفحہ ١٧٢

حدیث کی روشنی میں کہ کافر مسلمان کا وارث نہیں ہو سکتا۔ کافر کے ساتھ تو معاشرتی اور تجارتی تعلقات رکھے جاسکتے ہیں مگر جو مرتد ہو اس سے سماجی تعلقات رکھنا بھی جائز نہیں کیونکہ ارتداد کے بعد وہ درخت سے ٹوٹا ہوا ایسا پتہ ہے یا ایسی شاخ ہے کہ اب اس قابل نہیں کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دشمن سے دوستی یا تعلقات رکھے جاسکیں۔

یاد رکھیں کہ ارتداد کا مرتکب کافر ہو جاتا ہے۔ ارتداد کی مختلف شکلیں ہیں۔ بعضوں کا تعلق ایمان اور اسلام کے ساتھ ہے۔ مثلاً اللہ کی ذات وصفات میں انکار سنت نبوی کی حجیت کا انکار فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قطعی انکار ختم نبوت کا منکر عبادات میں نماز روزہ حج اور زکوٰۃ کی فرضیت کا انکار اس طرح اللہ کی حلال چیزوں کو حرام یا حرام چیزوں کو حلال یا دونوں کے فرق کو ختم کر کے یہ کہنا کہ حلال وحرام کی تمیز یا فرق کو نہیں مانتا۔ ضرورت دین کا اور آخرت کا انکار یا جنت وجہنم کے وجود کا انکار ان سب امور میں کسی ایک کا انکار بھی ارتداد ہے جو موجبات کفر میں سے ہے۔ قرآن پاک کی ایک آیت کا انکار بھی موجب کفر میں سے ہے۔

ـــــ 〇 ـــــ

کفن بدوش قائد...... جب ١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت چلی تو حضرت مولانا سید یوسف بنوریؒ تحریک کے امیر اور مولانا محمود احمد رضوی سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے۔ مولانا یوسف بنوریؒ کے فولادی عزم اور ولولہ انگیز قیادت نے پوری قوم میں جہاد کی روح پھونک دی۔ آپ نے پورے ملک کا طوفانی اور ایمانی دورہ کیا اور مسلمانوں کی رگوں میں خون کی بجائے بجلی دوڑا دی اور لوگ آپ کے ہمراہ جہاد پر لبیک کہتے ہوئے میدان میں کود پڑے۔

جب گھر سے نکلے تو اپنے مدرسہ کے مفتی صاحب کے پاس گئے اور فرمایا کہ حضرت مفتی صاحب! میں تحریک کی راہنمائی کے لئے جا رہا ہوں اور اپنا کفن بھی ساتھ لے کر جا رہا ہوں پھر کفن نکال کر دکھایا۔ مزید فرمایا کہ مرزائیوں کو اس ملک میں آئین کی رو سے کافر ٹھہراؤں گا۔ اپنی جان کا نذرانہ پیش کروں گا۔ واپس گھر جانے کا ارادہ نہیں۔ یہ مدرسہ تمہارے ہاتھ میں اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ اس کی حفاظت کرتے رہنا۔ (اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے پوری ملت اسلامیہ کی لاج رکھ لی اور قادیانیوں کو آئین کی رو سے کافر قرار دے دیا گیا)

لاہوری

پیغامی لاہوریوں کا کفر و ارتداد

بعض لوگوں کو پیغامی لا ختم نبوت کے منکر اور نہ مرزا صاحب ہے کہ اول تو یہ تسلیم نہیں کہ پیغامی وا کے منکر نہ بھی ہوں تو بھی دوسرے ک بھی مرزا کی طرح لا تعداد و لا احصی کرتے ہیں۔

لاہوری مرزائیہ

(وجہ اول) مرزا قادیانی ۔

تشریح: مرزا قادیانی ۔ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دعوائے نبوت کے خلاف ہر قسم کا جہاد کرنا اہل ا قادیانی کذاب وغیرہ کی تکذیب کر تکذیب نہ کرنے سے معاذ اللہ نبی آخر النبیین اور لا نبی بعدی فرما گئے صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق شرط ۔ کی تصدیق کرتا ہے وہ نبی کریم صلی شخص نبوت کاذبہ کی تصدیق تو تسلیم

صفحہ ١٧٣

لاہوری مرزائی کافر کیوں ہیں؟

از مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوری

پیغامی لاہوریوں کا کفر و ارتداد

بعض لوگوں کو پیغامی لاہوریوں کے کفر و ارتداد کے متعلق یہ شک ہوتا ہے کہ پیغامی نہ ختم نبوت کے منکر اور نہ مرزا صاحب کو نبی مانتے ہیں تو پھر یہ کافر و مرتد کیوں ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اوّل تو یہ تسلیم نہیں کہ پیغامی واقعی ختم نبوت کے حقیقتاً منکر نہیں اور بالفرض اگر پیغامی ختم نبوت کے منکر نہ بھی ہوں تو بھی دوسرے کفریات سے کیونکر ان کو نجات ہو سکتی ہے۔ پیغامیوں کی کفریات بھی مرزا کی طرح لا تعداد و لاتحصیٰ ہیں جن میں سے ہم یہاں بطور نمونہ چند وجوہ ہدیہ ناظرین کرتے ہیں۔

لاہوری مرزائیوں (پیغامیوں) کے وجوہ تکفیر

(وجہ اوّل) مرزا قادیانی کے دعوائے نبوت کا انکار

تشریح: مرزا قادیانی نے قطعاً و یقیناً دعوائے نبوت کیا ہے اور حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دعوائے نبوت دروغ اور نبوت کاذبہ ہے اور نبوت کاذبہ کی تکذیب کرنا بلکہ اس کے خلاف ہر قسم کا جہاد کرنا اہل اسلام کا فرض مذہبی ہے لہٰذا ہر مسلمان پر مسیلمہ کذاب و مرزا قادیانی کذاب وغیرہ کی تکذیب کرنا فرض ہے ورنہ مسلمان رہنا ممکن نہ ہوگا کیونکہ ان کذابوں کی تکذیب نہ کرنے سے معاذ اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب لازم آتی ہے جو اپنے آپ کو آخر النبیین اور لا نبی بعدی فرما گئے ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ مسلمان بن جانے کے لیے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تصدیق شرط ہے جو تکذیب کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتی۔ پس جو شخص نبوت کاذبہ کی تصدیق کرتا ہے وہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی نبوت صادقہ کی تکذیب کرتا ہے اور اگر کوئی شخص نبوت کاذبہ کی تصدیق تو نہیں کرتا لیکن اس میں متردد ہے وہ گو نبوت کی کھلم کھلا تکذیب نہیں

صفحہ ١٧٤

کرتا ہے لیکن اس کی تصدیق میں متردد ہے اور ایمان کی تعریف میں تصدیق کے معنی یقین کامل اختیاری کے ہیں جو تردد کی صورت میں بالکل مفقود ہیں لہٰذا بحالت تردد بھی مومن نہیں ہو سکتا۔

حاصل یہ ہے کہ ایک مسلمان اس وقت نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر ایمان رکھنے والا مومن ہوگا جبکہ وہ مسیلمہ اور مرزا جیسے تمام کذابوں کی تکذیب بلا تردد تامل کرتا ہو ورنہ ہر حال میں بے ایمان اور خارج از اسلام ہوگا۔ پس جیسے نبوت صادقہ ایمان کا رکن ہے اسی طرح نبوت کاذبہ کی تکذیب بھی ایمان کی شرط ہے لہٰذا پیغامیوں کا مرزا کی نبوت کاذبہ کی تکذیب نہ کرنا اور صرف یہ کہنا کہ ”مرزا مدعی نبوت نہیں ہے“ ایک مستقل کفر ہے۔ فرض کرو کہ اگر آج کوئی یہ کہنے لگے کہ سرور کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے دعوائے نبوت کیا ہی نہیں تو جیسے وہ بدیں وجہ کافر ہوگا کہ تصدیق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محروم ہے اسی طرح کسی متنبی کاذب کے قطعی اور یقینی دعوے کا منکر بھی کافر ہی ہوگا جو اس تکذیب سے علیحدہ ہے جس کے بدون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق تک پہنچنا ممکن نہیں ہے۔

جس طرح نبی صادق کی تصدیق ضروری ہے اسی طرح متنبی کاذب کی تکذیب بھی ضروری ہے۔

وجہ دوم

تشریح: مرزا نے نبوت حقیقیہ شرعیہ بلکہ تشریعیہ کا دعویٰ ایسے کھلے لفظوں میں کیا ہے کہ ان میں تاویل کی کوئی گنجائش نہیں اور جن عبارتوں میں کیا ہے وہ اُردو زبان کی عبارتیں ہیں۔ ہر اعلیٰ و ادنیٰ اس کا مطلب یہی سمجھتا ہے کہ مرزا مدعی نبوت ہے اور اگر کچھ شرم و حیا ہوتی تو محمد علی صاحب اس بات کا احساس ضرور کر لیتے کہ انہوں نے مرزا کی اُردو عبارتوں پر جھوٹے معانی بیان کرتے ہوئے خاک ڈالنے کی کوشش میں اپنی ذات پر ایسا اخلاقی حملہ کیا ہے کہ ان کا کوئی سخت ترین دشمن بھی نہیں کر سکتا تھا کیونکہ دعوائے نبوت کی عبارتیں عموماً اُردو زبان میں ہیں اور بجز محمد علی صاحب کے سب اہل زبان ان کے معنی دعوائے نبوت ہی سمجھتے ہیں لہٰذا اب ذیل کی دو باتوں میں سے ایک بات ضرور ہوگی۔

یا تو تمام ہندوستان میں سے صرف محمد علی صاحب پنجابی ہی میں بلا شرکت غیرے اُردو زبان سمجھنے کی قابلیت ہے حالانکہ ان کی تحریر و تقریر شاہد ہے کہ اپنی زبان کو بامحاورہ بنانے کے لیے بھی ان کو سالہا سال درکار ہیں فصیح ہونا تو درکنار۔

دوسری صو خوش فہم نکلے جو سمجھتے ہے خلاف ہیں۔

ہم بنظر انص ہندوستانی کے لیے دوسر قدر مشکل نہیں ہو سکتا بلک حق یہ ہے کہ محمد علی صا از روئے عناد و مکر انکار ک صاحب دل میں تو ختم نبو ختم نبوت کا اقرار اور مرز

تیسری و چوتھی وجہ

پیغامی پارٹی نبوت تشریعیہ دونوں کو س ضروریات دین سے ہیں لاہوری اور اس کے ہم خیا نزدیک ختم نبوت حقیقیہ و دین سے ہیں مگر ضروریات ہے مگر پھر بھی کافر نہیں کہ بچ سکتی۔ ضروریات دین باوجود انکار ضروریات دی نہ جائے یا کافر نہ کہے تو وہ

پانچویں وجہ

نزول عیسیٰ علی اور اس وجہ سے ضروریات تاویل معتبر نہیں۔ (دیکھو ا

صفحہ ١٧٥

دوسری صورت یہ ہے کہ سارے اہل زبان نے مطلب صحیح سمجھا صرف محمد علی ہی ایسے خوش فہم نکلے جو سمجھنے سے قاصر و عاجز رہ کر ان کے وہ معنی بیان کرتے ہیں جو تمام اہل زبان کے خلاف ہیں۔

ہم بنظر انصاف و صداقت اسی دوسری صورت کو صحیح نہیں مانتے ہیں کیونکہ ایک ہندوستانی کے لیے دوسرے ہندوستانی ہی کی معمولی عبارتوں کا نفس مطلب سمجھنا کسی طرح بھی اس قدر مشکل نہیں ہو سکتا بلکہ جب لکھنے والا اور سمجھنے والا دونوں پنجابی ہونے میں بھی مشترک ہوں تو حق یہ ہے کہ محمد علی صاحب بھی مطلب وہ ہی سمجھے ہوئے ہیں جو دوسرے لوگوں نے سمجھا مگر از روئے عناد و مکر انکار کر کے خلق اللہ کو گمراہ بنانا چاہتے ہیں جس کا خلاصہ یہی نکلے گا کہ محمد علی صاحب دل میں تو ختم نبوت کے منکر اور مرزا کی نبوت کے قائل ہیں مگر ظاہر میں از روئے مصلحت ختم نبوت کا اقرار اور مرزا صاحب کی نبوت کا انکار ہے اور یہ کھلا ہوا نفاق ہے جو بدترین کفر ہے۔

تیسری و چوتھی وجہ

پیغامی پارٹی ختم نبوت کو ضروریات دین سے تسلیم کرتی ہے۔ نبوت حقیقیہ شرعیہ بلکہ نبوت تشریعیہ دونوں کو سرور عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر ختم مانتے ہیں اور واقعی یہ دونوں امر ضروریات دین سے ہیں مگر پھر بھی نہ مرزا محمود اور اس کی جماعت کو کافر کہتی ہے نہ ظہیر الدین اروپی اور اس کے ہم خیالوں کو تو بس اب صرف تین ہی صورتیں ہو سکتی ہیں کہ لاہوریوں کے نزدیک ختم نبوت حقیقیہ و ختم نبوت تشریعیہ ضروریات دین سے نہیں یا یہ کہ دونوں امر ضروریات دین سے ہیں مگر ضروریات دین کا انکار کفر نہیں یا ضروریات دین سے بھی ہیں اور ان کا انکار کفر بھی ہے مگر پھر بھی کافر نہیں کہتے اور ظاہر ہے کہ ان تینوں صورتوں میں لاہوری پارٹی کفر کی زد سے نہیں بچ سکتی۔ ضروریات دین کو ضروریات دین نہ جاننا یا ان کے انکار کو کفر نہ سمجھنا یا انکار کرنے والے کو باوجود انکار ضروریات دین کے کافر نہ جاننا یا کافر نہ کہنا بالاتفاق کفر ہے۔ (جیسے کوئی ابولہب کو کافر نہ جانے یا کافر نہ کہے تو وہ خود کافر ہے)

پانچویں وجہ

نزول عیسیٰ علیہ السلام کا انکار کرنا جو باقرار مرزا بھی متواترات میں اعلیٰ درجہ رکھتا ہے اور اس وجہ سے ضروریات دین سے ہے گو اس میں تاویل ہو مگر ضروریات دین کے انکار میں تاویل معتبر نہیں۔

(دیکھو اکفار الملحدین مصنفہ حضرت صدر المدرسین دارالعلوم دیوبند)

صفحہ ١٧٦

چھٹی وجہ

پیغامی پارٹی نزول عیسیٰ علیہ السلام کے مسئلہ میں مرزا سے کسی بات میں بھی جدا نہیں اور مرزا نزول عیسیٰ علیہ السلام کو شرکانہ اور بے ہودہ اور لغو عقیدہ کہتا ہے جس میں مرزا کے ساتھ پیغامی پارٹی بھی متفق ہے اور یہ امر مسلم ہے کہ نزول عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ متواتر ہونے کی وجہ سے ضروریاتِ دین میں سے ہے پس اس ضرورتِ دین کو شرکانہ خیال کہہ کر ایک اسلامی تعلیم کو مشرکانہ تعلیم کہنا صریح کفر ہے کیونکہ ضروریاتِ دین کا انکار کرنا یا تاویل یا استہزاء و استحقار یہ سب کفر صریح ہے جیسے معبودِ حق کے ایک ہونے کا یعنی توحید کا بلا تاویل یا بتاویل انکار کرنے لگے یا خود توحید کا ہی استہزاء و استخفاف کرے تو کیا یہ کفر نہ ہوگا، کسی ضرورتِ دین کو شرکانہ خیال کہنا کیا اسلام کو شرکانہ خیال کہنا نہیں؟ جو صریح کفر ہے۔

ساتویں وجہ

نزول عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدہ کو یہ فرقہ بتقلید مرزا مشرکانہ عقیدہ تو مان ہی چکا ہے اور یہ امر بھی مسلّم ہے کہ مرزا سے پہلے تیرہ سو برس تک تمام امّتِ محمدّیہ یہ ہی عقیدہ رکھتی تھی لہٰذا اس عقیدہ کے متعلق پیغامیوں کا یہ خیال رکھنا ہی اس بات کے لیئے مستلزم ہے کہ ساری اُمت کو مرزا سے قبل ایک شرکانہ عقیدہ پر قائم رہنے والی مانا جائے اور یہ قاعدہ مسلّمہ ہے کہ اگر کسی شخص سے ایسی بات سرزد ہو جائے جس سے صحابہ کی تکفیر یا ساری اُمت کی تضلیل لازم آ جاوے وہ شخص بلا تردد خود کافر ہے۔

(فتح الباری)

لہٰذا پیغامی بھی یقیناً کافر ہو گئے کیونکہ ان کے خیال کے مطابق صحابہ سے لے کر ساری اُمت کا ایک شرکیہ عقیدہ پر تیرہ سو سال تک قائم رہنا لازم آ جاتا ہے۔

آٹھویں وجہ

پیغامیوں کے عقیدہ کے موافق مرزا سے قبل ساری اُمت نزول عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدہ کی وجہ سے شرکانہ عقیدہ پر قائم تھی اور شرکانہ عقیدہ رکھنے والا یقیناً مشرک ہوتا ہے مگر پیغامی مرزا سے قبل ساری اُمت کو باوجود شرکیہ عقیدہ رکھنے کے بھی مسلمان ہی کہتے ہیں اور جیسے مسلمان کو کافر کہنا شرک ہے ایسے ہی کافر و مشرک کو مسلمان کہنا بھی کفر ہے۔ (جیسے کوئی آزر اور ابو جہل کو مسلمان کہنے لگے کیونکہ اس سے قرآن کی مخالفت بلکہ تکذیب لازم آتی ہے جو جا بجا مشرکوں اور

صفحہ ١٧٧

عقائد شرکیہ رکھنے والوں کو کافر قرار دیتا ہے) پس پیغامی اس وجہ سے بھی کافر و خارج از اسلام ہوئے۔

نویں وجہ

پیغامی مرزائی بتقلید مرزا نزول و حیات عیسیٰ علیہ السلام کو شرک عظیم مان چکے ہیں۔ نیز یہ کہ ساری اُمت اس عقیدہ میں قبل از مرزا مبتلا بھی تھی باوجود اس کے مرزا سے قبل ساری اُمت کے اس شرک عظیم کو معاف بھی قرار دیتے ہیں حالانکہ باعتراف مرزا قادیانی (معاذ اللہ ) یہ شرک عظیم کوئی غامض اور نظری بھی نہ تھا بلکہ بدیہیات اوّلیہ میں سے ہے جس کو آج مرزائیوں کا ایک بچہ اور ادنیٰ ادنیٰ مرزائی عورتیں بھی جانتی ہیں غرضیکہ ایک بدیہی مگر عظیم شرک کے متعلق بدون توبہ کے معاف ہونے کا حکم دینا نص قرآنی کے خلاف ہے۔

ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ و یغفر اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں کرتا اور شرک کے مادون ذلک لمن یشاء O سوا دوسرے گناہوں کو جس کے لیے چاہتا ہے (القرآن الحکیم) معاف فرما دیتا ہے۔

پس پیغامیوں کا بزعم خود ایک مشرک اُمت کے تیرہ سو سالہ شرک کو بدون توبہ صریح قابلِ معافی قرار دینا بھی ایک خالص اور صریح کفر ہے۔

دسویں وجہ

پیغامیوں کا بتقلید مرزا حیات ونزول عیسیٰ علیہ السلام کے بارہ میں یہ بھی عقیدہ ہے کہ احادیث نبویہ قرآن شریف اور عقل اس عقیدہ کو شرک ولغو اور بے ہودہ خیال قرار دیتے ہیں اور یہ بھی مسلّم ہے کہ ساری اُمت نے تیرہ سو سالہ مدت میں قرآن وحدیث سے ہی اس عقیدہ کو ثابت سمجھا۔ جس سے پیغامیوں اور مرزا کو بھی انکار نہیں ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ قرآن واحادیث کے الفاظ کے معنی واقعی ایسے معنی ہوتے ہیں جن کو مرزائیوں نے تیرہ سو سال کے بعد شرک عظیم سمجھا تو یہ لازم آتا ہے کہ قرآن واحادیث بھی (معاذ اللہ) سُناتن دھرمیوں کا وید بن جائیں جس میں کفر و شرک کی (معاذ اللہ ) اتنی کھپت ہو کہ تیرہ سو سال تک ساری اُمت محمدیہ اس کے نصوص سے ایک ایسے غلط عقیدہ کو سمجھتی رہی جو کفر خالص اور شرک محض شرک بدیہی ہے اور جب شرک بدیہی میں بھی ساری اُمت امتیاز نہ کرسکی تو اس کی کیا دلیل ہے کہ توحید ورسالت نماز روزہ زکوٰۃ حج کے معانی جو ساری اُمت نے آج تک سمجھ لیے

صفحہ ١٧٨

ہیں، معنی صحیح ہیں یا غلط جن کے ازالہ کے لیے کوئی نیا مدعی یا مرزا قادیانی درکار ہے۔ غرض کہ اس صورت میں قرآن کی تعلیم وید کی تعلیم سے (معاذ اللہ) بھی کچھ قدم آگے ہی بڑھ جاتی ہے اور دین محمدی کی تمام تعلیمات بھی نا قابل اعتبار ٹھہر جاتی ہیں جو کفر صریح ہے۔ رہی دوسری صورت یعنی یہ کہ قرآن و احادیث کا مطلب تو صاف تھا اس میں اس شرک کی کوئی کھپت نہ تھی مگر پھر بھی ساری اُمت نے مطلب غلط ہی سمجھا اور تیرہ سو سال تک ساری اُمت اس شرک عظیم میں مبتلا رہی تو اس میں بھی دو اعتبار سے کفر لازم آتا ہے۔ ایک یہ کہ ساری اُمت کی جہالت و تضلیل لازم آتی ہے جو کفر ہے۔ (دیکھو ساتویں وجہ ) دوم یہ کہ اس شرک عظیم میں مبتلا ہونے کے باوجود بھی قبل از مرزا ساری اُمت کا یہ شرک معاف بھی ہے اور ساری اُمت اس شرک جلی کے باوجود مسلمان بھی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اسلام نہ صرف شرک بلکہ شرک عظیم، شرک جلی کا تحمل کر سکتا ہے جو صریح کفر ہے۔

(نوٹ) نویں اور دسویں وجہ میں یہ فرق ہو گا کہ نویں وجہ میں شرک جلی کا بلا توبہ و رجوع بخشا جانا لازم آتا ہے جو خلاف اسلام و قرآن ہے اور دسویں وجہ میں کفر کی یہ وجہ ہے کہ دین میں شرک کا تحمل ہو سکتا ہے اور ایک مشرک بھی اعلیٰ درجہ کا مسلمان ہو سکے گا۔

گیارہویں وجہ

قلنا یانار کونی بردا وسلاما علیٰ ابراھیم۔ آیت قرآنی ہے اور تواتر و اجماع سے اس کے یہ ہی معنی ثابت ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈال دیا گیا مگر حکم خداوندی سے وہ آگ ٹھنڈی ہو گئی۔ پیغامی اس کا بھی انکار کرتے ہیں اور نار کے معنی حسد و عداوت کر کے نار حسد و عداوت کو مخاطب قرار دیتے ہیں جو صریح کفر اور کھلی ہوئی تحریف ہے کیونکہ بوجہ تواتر و اجماع کے آیت کے وہ معنی ہیں جو اُمت میں مستفیض و مشہور ہو کر ضروریات دین سے ہو چکی ہے اس لیے منکر بتاویل یا بلا تاویل سب کافر ہیں۔

بارہویں وجہ

پیغامی حشر اجساد کے انکار میں بھی مرزا کے ساتھ ہیں جو صریح کفر ہے۔ ائمہ دین نے جہاں یہ مسئلہ بیان کیا ہے کہ ضروریات دین کا مخالف (خواہ تاویل کے ساتھ ہو یا بدون تاویل) ہر حال میں مرتد و کافر ہے وہاں ضروریات دین کی مثالوں میں عموماً سب سے پہلے حشر اجساد ہی کو پیش کیا ہے اور اس ایک مسئلہ میں بہت سی ضروریات دین کا انکار کر کے متعدد وجوہ سے کافر

صفحہ ١٧٩

ہو گئے۔ (معاذ اللہ)

تیرہویں وجہ

مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خصوصیت کے ساتھ گالیاں دی ہیں جن میں پیغامی بھی مرزا کے ساتھ شریک ہیں اب اگر پیغامی ان گالیوں کو فی الحقیقت موافق واقعہ خیال کرتے ہیں تو یہ ہی ایک امر صد ہا وجوہ سے موجب کفر ہے اور اگر پیغامی ان گالیوں کو گالیاں ہی جانتے ہیں اور نبی کو گالیاں دینا کفر بھی سمجھتے ہیں تو مرزا قادیانی مذکورہ گالیوں کی وجہ سے خارج از اسلام ہو چکے ہیں اور ہر مسلمان پر ان کی تکفیر فرض تھی مگر پیغامی جماعت ان کو مسیح موعود مجدد امام الزماں اور تمام اقوال وعقائد میں سچے اور اپنا رہبر مانتے ہیں اور یہ صریح کفر ہے۔ جیسے آج کوئی ابولہب کو تمام افعال واقوال میں سچا جانے تو وہ بھی کافر ہی ہوگا کیونکہ سچا جاننے میں ابولہب کے ساتھ ان تمام بے ادبیوں میں متفق ہونا لازم آتا ہے جو اس نے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی نسبت کی تھیں۔

چودہویں وجہ

مرزا نے جو سرور عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے مساوات یا افضلیت کا دعویٰ کیا ہے یا (معاذ اللہ) آپ کی (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) توہین کی اس وجہ سے بوجوہ مرزا کافر ہے پھر اس کو کافر نہ کہنا صریح کفر ہے جس کا ارتکاب پیغامی کر رہے ہیں۔

پندرہویں وجہ

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مہد میں کلام کرنا بتواتر اور بنص قرآنی ثابت ہے۔ پیغامی اس معجزہ کا صاف انکار کرتے ہیں نہ صرف یہی بلکہ یکلم الناس فی المہد وکھلا کے معنی (لڑکا تندرست اور زندہ رہے گا) کہہ کر ایسی تحریف کرتے ہیں کہ یہود ونصاریٰ کو بھی شرم آتی ہوگی۔ غرض کہ یہاں بھی پیغامی بوجوہ عدیدہ کافر ومرتد ہوگئے۔

سولہویں وجہ

عیسیٰ علیہ السلام کے بارہ میں قرآن صاف فرماتا ہے کہ وما صلبوہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی پر نہیں چڑھایا مگر پیغامی یہ کہتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام سولی پر چڑھائے گئے مگر موت

صفحہ ١٨٠

سولی پر نہیں آئی جو وما صلبوہ کے نص قرآنی اور اس کے سباق و سیاق اور اجماع مسلمین کے خلاف ہے۔

سترہویں وجہ

عزیر علیہ السلام کے واقعہ کو سراسر خواب بنا کر قرآن عزیز کی تحریف کرتے ہیں کیونکہ قرآن تو او کالذی مر علی قریۃ میں اس واقعہ کو نہایت تصریح کے ساتھ ادا فرما رہا ہے مگر پیغامی یہاں بھی دست برد سے باز نہ آئے۔

(نوٹ) اس قسم کے وجوہ کفریہ پیغامیوں میں بہت موجود ہیں۔ یہاں تفصیل مقصود نہیں، محض نمونہ کے طور پر اطلاع مطلوب ہے تاکہ پیغامیوں کے مجموعۂ کفریات یعنی محمد علی کے اُردو و انگریزی قرآن سے اہل اسلام محترز رہیں اس سے زیادہ تفصیل مطلوب ہو تو رسالہ کشف الاسرار کا مطالعہ کریں۔

اٹھارہویں وجہ

رجم محصن زانی پر اجماع صحابہ ہے (ہدایہ وغیرہ کتب فقہ) اس کے بعد اُمت محمدیہ کا بھی اس پر اجماع ہو چکا ہے، پیغامیوں نے اس کا بھی صاف انکار کیا۔

انیسویں وجہ

اسراء یعنی معراج نبوی کا پہلا حصہ تو بالا تفاق ضروریات دین میں سے ہے اس کا منکر کافر ہو جاتا ہے جیسے علم کلام وغیرہ میں مصرح ہے کہ آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم کا جسد مقدس مکہ معظمہ سے شام تک کی مسافت بعیدہ کو بہت ہی قلیل وقت میں بطور اعجاز شب معراج میں طے کر لینا قطعیات سے ہے اگر کوئی اس کا انکار کرے تو اسلام سے خارج ہے۔ پیغامیوں کو اسراء سے بھی انکار ہے وہ اس سارے واقعہ کو خواب ہی مانتے ہیں۔

بیسویں وجہ

رجم محصن زانی، قتل مرتد وغیرہ قطعیات اسلام سے ہیں اور بلاشبہ ثابت ہے کہ عہد نبوی سے لے کر آج تک اُمت محمدیہ میں ان پر عمل رہا ہے۔ ان امور کا مذاق اڑانا شرع محمدی کی تعلیمات کا مذاق اُڑانا اور ان کی اہانت کرنا شرع محمدی کی تعلیمات اور اُمت مرحومہ کے اجماعیات کی اہانت کرنا ہے تعلیم پر نہ کسی عیسائی نے ان اہانت کرنے والا مرتد و کافر

اکیسویں وجہ

رفع عیسیٰ علیہ ا ”آسمان پر زندہ بجسم عنصر عقیدہ ہے اس لیے خود ر جس کا انکار کفر و ارتداد ہے دونوں کا حکم بھی ایک ہی ہو

بائیسویں وجہ

جو کفر صریح ہے۔ (فتاویٰ ح

تئیسویں و چوبیسویں و

حد خمر ایک اسلا خاص اور یورپین انداز می شیطان بھی شرمندہ ہوا ہو گ کے ساتھ حضور اکرم صلی اللہ کے مصداق بن کر پادریوں قارئین غور توہین شرع میں مرزا قادیا پرست بلکہ ایک پادری کو بھ انکار ہی فی نفسہ کفر ہے پھر ان کے کفر کی ہوگی۔ ملاحظ اوّل کالم 2 مطابق 19 اکتو

صفحہ ١٨١

اجماعیات کی اہانت کرنا ہے۔ پیغامیوں نے یہ سب کچھ کر لیا اور اتنا کر لیا کہ آج تک اسلام کی کسی تعلیم پر نہ کسی عیسائی نے اتنا کیا ہو گا اور نہ کسی آریہ نے۔ ائمہ دین کے اتفاق سے اسلامی تعلیم کی اہانت کرنے والا مرتد و کافر اور واجب القتل ہے۔

اکیسویں وجہ

رفع عیسیٰ علیہ السلام قرآن عزیز سے ثابت ہے اور رفع عیسیٰ علیہ السلام کے یہ معنی کہ ”آسمان پر زندہ بجسم عنصری اُٹھائے گئے“ اُمت میں متواتر بھی ہیں اور باقرار مرزا صحابہ کا اجماعی عقیدہ ہے اس لیے خود رفع اور اس کے یہ معنی دونوں کے دونوں ضروریات اسلام میں سے ہیں جس کا انکار کفر و ارتداد ہے۔ پیغامی اس میں بھی اپنے آقا مرزا قادیانی کے ساتھ ہیں اس لیے دونوں کا حکم بھی ایک ہی ہوگا۔

بائیسویں وجہ

قتل مرتد پر صحابہ واُمتِ محمدیہ کا اجماع ہے (میزان) پیغامیوں نے اس کا بھی انکار کیا جو کفر صریح ہے۔ (فتاویٰ حدیثیہ)

تئیسویں و چوبیسویں وجہ

حد خمر ایک اسلامی حکم ہے جو اجماع صحابہ سے ثابت ہے۔ (ہدایہ) پیغامیوں نے اپنے خاص اور یوروپین انداز میں اس کا نہ صرف انکار ہی کیا بلکہ اس پر ایسا مذاق اُڑایا کہ آریہ بلکہ شیطان بھی شرمندہ ہوا ہو گا اس لیے یہ بھی پیغامیوں کے ان کفریات میں رہے گا جس میں انکار کے ساتھ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ہجو و توہین کر کے ان الذین یؤذون الله ورسوله کے مصداق بن کر پادریوں اور آریہ سے بھی سبقت لے گئے۔

قارئین غور سے دیکھ لیں گے تو بشرط انصاف معلوم ہو جائے گا کہ حد خمر کی مخالفت اور توہین شرع میں مرزا قادیانی کے ان سپوتوں نے جانشینی کا ایسا حق ادا کیا ہے کہ ایک مجوسی و بت پرست بلکہ ایک پادری کو بھی باوجود عداوت کے ایسا مذاق اُڑانا خلاف انسانیت معلوم ہوگا۔ حد خمر کا انکار ہی فی نفسہ کفر ہے پھر جب اس کے ساتھ اہانت حدود اللہ بھی شامل ہو گئی تو یہ دوسری وجہ بھی ان کے کفر کی ہوگی۔ ملاحظہ ہو پیغام صلح نمبر 98 مورخہ 19 ربیع الاوّل 1343ھ جلد 12 صفحہ اوّل کالم 2 مطابق 19 اکتوبر 1924ء اس کالم کو مسٹر محمد علی صاحب ہی خود غور سے پڑھ کر فتویٰ دیں

صفحہ ١٨٢

کہ اس میں حد خمر کا انکار اور استہزاء ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو وہ خود اپنے اقرار سے کافر و مرتد ہوئے ورنہ اس کالم کا کوئی مطلب ایسا بیان کریں جس کی بناء پر کفر و ارتداد کی یہ دونوں وجہیں تو کم سے کم دُور ہو جائیں اگر چہ ان کے خرمن کفر میں ان دو دانوں کی کمی سے کچھ کمی محسوس نہ ہو گی۔

پچیسویں وجہ

اپنی شرعی باندی سے بغیر نکاح صحبت کرنا قرآن و حدیث و اجماع و تواتر سے ثابت اور اسلام کا وہ مسئلہ ہے جس کو مخالفین اسلام بھی اسلامی مسئلہ جانتے ہیں مگر لاہوری اس کا یورپ کی تقلید میں انکار کر کے مرتد اور کافر ہوئے۔ غالباً انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ آدمی جب ایک کفر سے بھی کافر ہو جاتا ہے چوں آب از سر گذشت چہ یک نیزہ چہ یک انگشت پھر اب پیٹ بھر کر ہی کفر کیوں نہ کریں پوری ہی نمک حلالی کرنا چاہیے۔

یہ چوتھائی صدی کفریات لاہوری پارٹی کے پیش کر دیئے ہیں، کیا اس کے بعد بھی کوئی مسلمان لاہوری پیغامیوں کے کافر اور مرتد ہونے میں شک کر سکتا ہے؟ نعوذ باللہ العظیم۔

(پیغام صلح نمبر ٤٢-٤٣)

برما رنگون میں مرزائیت کا احتساب

روزنامہ ”پرواز“ رنگون کی اطلاع کے مطابق سر این اے خان قادیانی کا رنگون میں انتقال ہوا۔ اس کی قبر مسلمانوں کے قبرستان میں کھودی گئی۔ مسلمانوں کی مسجد سے نہلانے کا تختہ دیا گیا۔ ایک مسلمان موذن نے اسے غسل دیا۔ جونہی مسلمانوں کو پتہ چلا قبر بند کر دی گئی۔ غسل کا تختہ جلا کر خاکستر کر دیا گیا۔ موذن کو مسجد سے فارغ کر دیا گیا اور بعد میں توبہ کرنے پر اس کا دوبارہ نکاح پڑھا گیا۔ جنازہ میں شریک ہونے والے مسلمانوں کا تجدید ایمان و تجدید نکاح کیا گیا۔ یہ منظر قابل دید تھا۔ این اے خان قادیانی کے ساتھ ہی قادیانیت کا جنازہ بھی نکل گیا۔ اس سلسلہ میں جمیعۃ علماء برما کی خدمات قابل تحسین ہیں۔ (تفصیلات از پرواز رنگون اشاعت ٩، ١٠ ستمبر ١٩٦٣)

(”تحریک ختم نبوت“ ص ١٦٧، ص ١٧٢، از مولانا اللہ وسایا)

جن کو نہ ہو کچھ پاس پیغمبر کے ادب کا
چن چن کر اس قوم کو میں مٹی میں ملا دوں
اسلام سے جس قوم کو ہے کچھ بھی محبت
میں اس کے لیے راہ میں آنکھیں بچھا دوں
صفحہ ١٨٣

انسانی حقوق اور قادیانی جماعت

پروفیسر منور احمد ملک

1974ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا اس فیصلے سے قبل قادیانی جماعت کے اس وقت کے سربراہ مرزا ناصر احمد کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا پورا پورا موقع دیا گیا کئی دن تک قادیانی جماعت نے تفصیل سے زبانی اور تحریری طور پر اپنا مؤقف پیش کیا اس کے بعد قومی اسمبلی کے ممبران نے فیصلہ کیا۔ 1984ء میں جنرل ضیاء الحق مرحوم نے اس فیصلہ کی روشنی میں اس کے تقاضے پورے کرتے ہوئے نیا آرڈیننس جاری کر دیا جس میں قادیانیوں کو اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے اپنی عبادت کے لیے مسلمانوں کی طرح اذان دینے اپنی عبادت گاہ کو مسجد کہنے مرزا غلام احمد قادیانی کے ساتھیوں کو صحابی کہنے مرزا غلام احمد قادیانی کے جانشینوں کو امیر المومنین کہنے اور مرزا قادیانی کی ازواج کو اُم المومنین کہنے سے روک دیا گیا۔

1974ء سے مسلسل اور 1984ء سے خصوصی طور پر قادیانی جماعت نے باضابطہ طور پر دنیا میں دہائی کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس میں دنیا کو یہ باور کروانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ پاکستان میں قادیانیوں پر ظلم ہو رہا ہے۔ انسانی حقوق کے حوالے سے سخت قسم کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، قادیانیوں کا جینا حرام کر دیا گیا ہے اور کسی قسم کا انصاف قادیانیوں کو میسر نہیں اس پروپیگنڈہ سے قادیانی جوق در جوق یورپ میں داخل ہو رہے ہیں مگر داخل ہونے کے آداب سے عاری ہیں۔ یعنی جعلی کاغذات کی بناء پر داخل ہونا پھر جعلی کاغذات تیار کر کے اپنے آپ کو مظلوم ظاہر کرنا اور پھر پناہ حاصل کرنا قادیانیوں نے مشغلہ بنا رکھا ہے۔ نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ یورپ کا قادیان پر اعتماد اُٹھ گیا ہے اب انہوں نے دھڑا دھڑ کیس مسترد کرنے شروع کر دیئے ہیں اس سے پاکستان بدنام ہو رہا ہے۔ 98 فیصد قادیانیوں کے کیس جھوٹے اور جعلی کاغذات پر مشتمل ہوتے ہیں۔ قادیانی تو ترستے ہیں کہ ان پر ظلم ہو اور وہ اس کا ثبوت دنیا کو دکھا سکیں مگر ظلم کی عدم دستیابی پر وہ پیسے دے دلا کر جعلی ایف آئی آر درج کروا کر اس کی نقل حاصل کر کے گزارا کرتے

صفحہ ١٨٤

ہیں۔ اس لحاظ سے بر ملا قادیانی مظلوم ہیں کہ ان کی ضرورت پوری کرنے کے لیے مقدور بھر ظلم بھی دستیاب نہیں۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ قادیانی جو دنیا میں اپنے مظلوم ہونے کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں خود کتنے منصف مزاج نرم دل صلح جو اور انسانی حقوق کا تحفظ یا خیال کرنے والے ہیں۔ یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر اتنا کچھ لکھا جا سکتا ہے کہ لکھاری لکھتے لکھتے تھک جائے اور قاری پڑھتے پڑھتے ”زچ“ جائے۔ سمجھ نہیں آتی کہ قادیانیوں کے کس کس ظلم کی تصویر پیش کروں۔ عدل جماعت کے عنوان پر ایک تفصیلی مضمون بعد میں آئے گا اس وقت انسانی حقوق کے حوالے سے چند گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔

پاکستانی عدالتیں اور قادیانی جماعت کا نظام

قادیانیوں کا سب سے بڑا اعتراض اور دنیا میں پاکستان کو ظالم ثابت کرنے کے حوالے سے سب سے بڑی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ پاکستان میں قادیانیوں کے ساتھ انصاف نہیں ہوتا، کوئی قادیانی چوری کے جرم میں سزا پائے یا بدعنوانی کی وجہ سے گرفت میں آئے قادیانی جماعت میں سب لوگ اس سے ہمدردی کرتے ہوئے کہیں گے کہ قادیانی جو ہوئے سزا تو ہونی ہی تھی۔ یہ سزا صرف قادیانی ہونے کی وجہ سے ملی ہے۔

قیام پاکستان سے لے کر آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا بلکہ ایک کیس بھی ایسا نہیں ہو گا کہ کسی قادیانی کے خلاف عدالت میں کیس گیا ہو اور جج قادیانی کو بتائے بغیر اس کو صفائی کا موقع دیئے بغیر براہ راست سزا سنا دے اور پھر وہ چیلنج بھی نہ ہو سکے۔ آج تک ایک کیس بھی ایسا نہیں گزرا اس حوالے سے قادیانی ایک مثال بھی پیش نہیں کر سکتے۔

ہوتا یوں ہے کہ کسی نے کسی قادیانی کے خلاف عدالت میں کیس کر دیا عدالت قادیانی کو بذریعہ نوٹس کیس کے بارے میں مطلع کرے گی اور اسے مقررہ تاریخ پر طلب کرے گی۔ وہ قادیانی عدالت میں پیش ہو گا اسے کیس (الزامات) کی پوری تفصیل بتائی جائے گی بلکہ کیس کی نقل دی جائے گی۔ اسے وکیل کرنے کا موقع دیا جائے گا اور اپنی صفائی میں جواب داخل کرنے کے لیے مناسب وقت (کچھ دن) دیا جائے گا وہ قادیانی وکیل کی مدد سے جواب تیار کرے گا اور مقررہ تاریخ کو جمع کروا دے گا۔

کچھ دنوں، ہفتوں بعد دونوں فریقوں کے وکیل آمنے سامنے اس کیس سے متعلق بحث کریں گے پھر جج دونوں فریقوں کو با قادیانی کو پورا اختیار ملے گا کہ وہ ن گواہوں پر خوب جرح کرے۔ اس طرح یہ کیس چلتے ب بحث و تکرار کے بعد اگر فیصلہ قادیانی کیونکہ قادیانی کو خوب صفائی کا موقع سیشن کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف قادیانی کو ایک بار پھر صفائی کا موقع م چلنے اور واقعات کو کھنگالنے کے بعد قا جانا چاہیے مگر قادیانی کو اختیار دیا گیا بار پھر کیس چلے گا قادیانی کو صفائی فیصلہ ہو جاتا ہے تو قادیانی کو پھر اختیا پھر کیس چلے گا اور کچھ عرصہ بعد اگر فیص لینا چاہیے مگر اس کے باوجود قادیانی درخواست دے کر ایک بار پھر انصاف

اب اگر لوئر کورٹ سے س قادیانی کو خوب صفائی کا موقع ملے تو موقع قادیانیوں کو ملتا رہا ہے اور ملتا ہ ہے اور انصاف نہیں ملتا۔ پاکستانی عدل بھی ایسا نہیں دیا جس میں قادیانی کو ص

قادیانیوں کا انصاف

اب ذرا قادیانیوں کا انص نہیں البتہ دھوکہ دہی کے لیے دارالقد نہیں کرتے۔ قادیانیوں میں یہ عام جماعت نے اس پر ایکشن لیتے ہوئ

صفحہ ١٨٥

کریں گے پھر جج دونوں فریقوں کو باری باری گواہ لانے اور دیگر ثبوت مہیا کرنے کا موقع دے گا۔ قادیانی کو پورا اختیار ملے گا کہ وہ نہ صرف اپنی صفائی بیان کرے بلکہ اپنے مخالف اور اس کے گواہوں پر خوب جرح کرے۔

اس طرح یہ کیس چلتے چلتے چھ ماہ ایک سال یا پانچ سال تک کا عرصہ لے گا۔ خوب بحث وتکرار کے بعد اگر فیصلہ قادیانی کے خلاف ہو جاتا ہے تو اس فیصلے کو درست سمجھا جانا چاہیے کیونکہ قادیانی کو خوب صفائی کا موقع ملا ہے مگر اس کے باوجود قادیانی کو یہ اختیار دیا جائے گا کہ سیشن کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف اپیل کرے اس اپیل پر (چیلنج پر) کیس دوبارہ شروع ہوگا۔ قادیانی کو ایک بار پھر صفائی کا موقع ملے گا وکلاء دوبارہ بحث کریں گے چار چھ ماہ تک دوبارہ کیس چلنے اور واقعات کو کھنگالنے کے بعد اگر قادیانی کے خلاف فیصلہ ہو جاتا ہے تو اب فیصلے کو درست سمجھا جانا چاہیے مگر قادیانی کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ہائی کورٹ میں چیلنج کردے۔ ہائی کورٹ میں ایک بار پھر کیس چلے گا قادیانی کو صفائی کا خوب موقع ملے گا اب اگر چار چھ ماہ بعد قادیانی کے خلاف فیصلہ ہو جاتا ہے تو قادیانی کو پھر اختیار دیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ بھی جا سکتا ہے۔ سپریم کورٹ میں پھر کیس چلے گا اور کچھ عرصہ بعد اگر فیصلہ قادیانی کے خلاف ہو جاتا ہے تو اب قادیانی کو فیصلہ تسلیم کر لینا چاہیے مگر اس کے باوجود قادیانی کو مزید چانس یہ ملے گا کہ وہ سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی درخواست دے کر ایک بار پھر انصاف کے لیے دستک دے سکے۔

اب اگر لوئر کورٹ سے سپریم کورٹ تک کیس چلنے میں چار یا چھ سال لگ جائیں اور قادیانی کو خوب صفائی کا موقع ملے تو اس فیصلے کو انصاف پر مبنی سمجھا جانا چاہیے اس طرح کی صفائی کا موقع قادیانیوں کو ملتا رہا ہے اور ملتا ہے مگر اس کے باوجود قادیانی یہ شکوہ کرتے ہیں کہ ہم پر ظلم ہورہا ہے اور انصاف نہیں ملتا۔ پاکستانی عدالتوں کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے آج تک ایک فیصلہ بھی ایسا نہیں دیا جس میں قادیانی کو صفائی کا موقع دیئے بغیر فیصلہ سنا دیا گیا ہو۔

قادیانیوں کا انصاف

اب ذرا قادیانیوں کا انصاف ملاحظہ کیجیے۔ قادیانی جماعت میں عدالت نام کی کوئی چیز نہیں البتہ دھوکہ دہی کے لیے دارالقضاء ایک ادارہ قائم ہے جس کے اختیارات امراء کو پریشان نہیں کرتے۔ قادیانیوں میں یہ عام بات ہے کہ امیر جماعت نے کسی کے خلاف لکھ دیا۔ قادیانی جماعت نے اس پر ایکشن لیتے ہوئے متعلقہ قادیانی کو سزا دے دینی ہے نہ کوئی انکوائری ہوگی اور

صفحہ ١٨٦

نہ ہی قادیانی کو جرم بتا کر صفائی کا موقع دیا جائے گا۔ بغیر جرم بتائے‘ بغیر انکوائری کے اور بغیر صفائی کا موقع دیئے سزا دینا اور پھر وہ سزا کسی طرح بھی چیلنج نہ کرے تو یہ کہاں کا انصاف ہے؟ کیا یہ انسانی حقوق کی پامالی نہیں ہے؟ دوسروں سے انصاف کی بھیک مانگنے والے خود کتنا ظالمانہ نظام رکھتے ہیں؟ ”اوروں کو نصیحت اور خود میاں فضیحت“ (اُردو دانوں سے درخواست ہے کہ قول وفعل میں اتنا ظالمانہ فرق رکھنے والوں کے لیے کوئی مناسب سا محاورہ ایجاد کریں‘ درج بالا محاورہ بہت نرم ہے) ذرا قادیانی جماعت کے امام اور سربراہ کا انصاف اور عدل کا معیار ملاحظہ کیجیے۔

قادیانی جماعت کے امام کا عدل

قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر احمد اپنے ایک ایسے عہدے دار کے بارے میں فیصلہ دیتے ہیں جس کے بارے میں قادیانی جماعت کے ادارے نظارت امور عامہ‘ نظارت مال‘ نظارت اصلاح وارشاد اور نظارت علیا کی طرف سے این اوسی (NOC) جاری ہونے کے بعد خود اسے مقرر کیا ہے۔ (واضح رہے کہ قادیانی جماعت کے درج بالا ادارے حکومت کی منسٹری کے برابر کے ہیں) پورے ضلع میں کل تین عہدے داروں کی تقرری درج بالا اداروں کی سفارش اور کلیئرنس کے بعد کی تھی‘ ان میں سے ایک عہدے دار کے بارے میں فیصلہ سنا رہے ہیں‘ کہتے ہیں کہ:

”جہاں تک میری معلومات ہیں‘ آپ خرابی پیدا کرنے والے گروہ کے سربراہ ہیں۔ خواہ آپ مانیں یا نہ مانیں مگر بتاتے سبھی یہی ہیں۔“

(نوٹ) مرزا طاہر احمد کے دستخطوں سے جاری ہونے والا اصل خط میرے پاس موجود ہے۔

قادیانی جماعت میں گھسا پٹا جو نظام چل رہا ہے (نظام جماعت پر الگ مضمون پیش کیا جائے گا) اس کے مطابق جس قادیانی کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنا ہو‘ اس کے خلاف لوکل جماعت کی مجلس عاملہ قرارداد پاس کرے گی یا سزا کی سفارش کرے گی پھر لوکل امیر جماعت اس سفارش کو امیر ضلع پھر ناظر امور عامہ اور ناظر اعلیٰ تک پہنچائے گا پھر ناظر اعلیٰ امام جماعت سے سزا کی سفارش کرے گا مگر درج بالا کیس میں مرزا طاہر احمد تمام حدود و قیود کو عبور کرتے ہوئے جو کہہ رہے ہیں نہ اس بارے میں کوئی انکوائری ہوتی ہے نہ ہی الزام علیہ کو جرم یا الزام کا پتہ ہے نہ ہی خرابی کی تفصیل بتائی ہے اور نہ ہی اس کی کسی درخواست یا کیس کے جواب میں بلکہ ”سوال گندم اور

صفحہ ١٨٧

جواب چنا‘‘ کے مصداق ایک علیحدہ مضمون کے خط کے جواب میں یہ فیصلہ فرما رہے ہیں۔

غور فرمائیے کہ فرماتے ہیں کہ جہاں تک میری معلومات ہیں اب ان کی معلومات کے ذرائع یا تو نظارتیں ہیں یا پھر امیر ضلع۔ مقامی صدر جماعت اور مجلس عاملہ ہے جبکہ درج بالا کیس میں ان میں سے کسی نے کچھ کہا نہ لکھا‘ ان کے علاوہ کسی ذریعہ کی قانونی یا اخلاقی حیثیت نہیں ہے۔

غور فرمائیے‘ فرماتے ہیں کہ خواہ آپ مانیں یا نہ مانیں گویا فیصلہ سنا دیا اب یہ فیصلہ چیلنج بھی نہیں ہو سکتا نہ صفائی کا موقع نہ چیلنج کے قابل اور نہ ہی جرم بتایا گیا ہے کہ کس جرم میں سزا دی جا رہی ہے پھر کہتے ہیں ”مگر بتاتے بھی یہی ہیں“ (کنوں کچا) گویا سنی سنائی بات پر ایسا فیصلہ دیا جا رہا ہے جو نہ صرف چیلنج نہیں ہو سکتا بلکہ بغیر انکوائری کے‘ بغیر جرم بتائے اور بغیر صفائی کا موقع دیئے سنی سنائی بات پر فیصلہ؟؟؟

یہ ہے قادیانی جماعت یا قادیانی جماعت کے امام کے عدل کی ہلکی سی جھلک۔ یہ جماعت کیسے دوسروں کو انسانی حقوق کا درس دے سکتی ہے۔ کیا یہاں انسانی حقوق پامال نہیں ہوئے کہ الزام علیہ کو پتہ ہی نہیں کہ اس نے کیا جرم کیا ہے نہ اس سے کوئی جواب طلب کیا گیا ہے نہ کوئی انکوائری ہوئی نہ مجلس عاملہ نے مداخلت کی نہ امیر جماعت نے نہ نظارتیں اثر انداز ہوئیں۔ یہ کیسا انصاف ہے؟ اور وہ بھی امام جماعت کی طرف سے جسے قادیانی ”خلیفہ وقت“ کہتے ہیں بلکہ ”خدا کا خلیفہ“ کہتے ہیں (اگر کسی قادیانی کو شک ہو تو اس مذکورہ خط کی فوٹو کاپی حاصل کر سکتا ہے)

قادیانی بتائیں کہ قیام پاکستان سے آج تک کسی جج یا عدالت بھی کبھی قادیانیوں کے خلاف ایسا فیصلہ دیا ہے؟ یقیناً نہیں تو پھر اپنے گھر کو سنبھالو‘ دوسروں کو عدل اور انسانی حقوق کا سبق نہ دو‘ انسانی حقوق کے حوالے سے شور اور واویلا بند کرو۔

صفحہ ١٨٨

فضائل مدینہ و آداب زیارت!

مولانا عبد الشکور لکھنویؒ

مدینہ منورہ کا تقدس اور اس کی عظمت و شان صرف اسی بات سے ظاہر ہے کہ وہ بہترین انبیاء ﷺ کا مسکن تھا اور اب ان کا مدفن ہے۔ یہ ایک ایسی بڑی فضیلت ہے جو کسی دوسرے مقام کو نصیب نہیں اور کوئی دوسری فضیلت کیسی ہی کیوں نہ ہو اس کی ہمسری کسی طرح نہیں کر سکتی۔

مدینہ منورہ کے نام احادیث میں بکثرت وارد ہوئے ہیں۔ یہ بھی ایک شعبہ اس کی فضیلت کا ہے۔ منجملہ ان کے چند نام میں یہاں لکھتا ہوں۔ طابہ‘ طیبہ‘ طیبہ‘ طائبہ! علماء نے لکھا ہے کہ ان ناموں کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ مدینہ منورہ نہایت پاک اور پاکیزہ مقام ہے۔ نجاست معنوی یعنی شرک و کفر سے بھی پاک ہے اور نجاسات ظاہری سے بھی بری ہے۔ وہاں کے در و دیوار اور ہر چیز میں حتیٰ کہ مٹی میں بھی نہایت لطیف خوشبو آتی ہے جو ہرگز کسی دوسری خوشبودار چیز میں پائی نہیں جاتی۔ اس خوشبو کا ادراک اکثر اہل ایمان کرتے ہیں۔ خاص کر وہ لوگ جن کے دل حضرت سیدالمرسلین ﷺ کی محبت سے لبریز ہیں۔ اس کی خوشبو کی دل ربا کیفیت سے خوب واقف ہیں۔ حضرت شیخ شبلیؒ فرماتے ہیں کہ مدینہ منورہ کی مٹی میں ایک عجیب خوشبو ہے جو مشک و عنبر میں ہرگز نہیں۔ شیخ ابو عبد اللہ عطار کا شعر ہے کہ:

بطيب رسول الله طاب نسیمها
فما المسك والكافور والصندل الرطب

امام مالکؒ فرماتے ہیں کہ جو شخص مدینہ منورہ کو بے خوشبو کہے یا وہاں کی ہوا کو خراب کہے وہ واجب التعزیر ہے۔ اسے قید کر دینا چاہئے یہاں تک کہ وہ صدق دل سے توبہ کرے۔ ارض اللہ دارالہجرة بیت رسول اللہ حرم رسول اللہ محبوبہ حسنہ اور بھی بہت سے نام ہیں جو علمائے کرام نے ذکر کئے ہیں۔ سب سے زیادہ مشہور نام مدینہ ہے۔ احادیث میں مدینہ منورہ کے فضائل بہت وارد ہوئے ہیں۔ اس مقام پر صرف چند حدیثیں صحیح صحیح لکھی جاتی ہیں:

مدینہ منورہ کے فضائل

وہاں کی آب و ہوا نہایت ناقص و خراب تھی۔ اکثر وبائی بیماریاں رہتی تھیں۔ چنانچہ حضرت ابو بکر صدیقؓ اور حضرت بلالؓ آتے ہی سخت بیمار ہو گئے تھے تو اس وقت رسول خدا ﷺ نے یہ دعا مانگی تھی کہ اے اللہ! مدینہ کی محبت ہمارے دلوں میں ڈال دے۔ جیسا کہ ہم کو میں برکت دے اور مدینہ کی آب ہو

وقت جب مدینہ منورہ قریب رہ جاتا میں تیز کر دیتے اور فرماتے کہ یہ طابہ فرماتے کہ یہ طیبہ کی ہوائیں ہیں۔ صحیح فرماتے کہ مدینہ کی خاک میں شفا ہے

سوراخ کی طرف لوٹ آتا ہے۔ (صحیح

گا۔ فرشتے ان کی محافظت کریں گے۔

بھٹی لوہے کے میل کو نکال دیتی ہے۔ ( یہ خاصیت مدینہ منورہ میں منورہ سے شام آنے لگے تو بہت خائف المدينة! یعنی ہم کو خوف آتا ہے کہ خاصیت کا ظہور قیامت کے قریب ہو لوگ اس وقت وہاں پناہ گزین ہوئے

مجھے اس شہر سے نکالتا ہے جو تمام مقاما زیادہ تجھے محبوب ہو۔

مدینہ میں مرے۔ کیونکہ جو شخص مدینہ کی گواہی دوں گا اور دوسری حدیث میں اہل مدینہ ہوں گے۔ بعد اس کے اہل

صفحہ ١٨٩

دلوں میں ڈال دے۔ جیسا کہ ہم لوگوں کو مکہ سے محبت ہے۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ ۔ اے اللہ ! ہمارے صاع اور مد میں برکت دے اور مدینہ کی آب ہوا کو درست کر دے اور اس کا بخار جحفہ کی طرف بھیج دے ۔

(صحیح بخاری )

وقت جب مدینہ منورہ قریب رہ جاتا اور اس کی عمارتیں دکھائی دینے لگتیں تو حضور اکرم ﷺ اپنی سواری کو کمال شوق میں تیز کر دیتے اور فرماتے کہ یہ طابہ آگیا ۔ (صحیح بخاری ) اور اپنی چادر مبارک اپنے شانہ اقدس سے گرا دیتے اور فرماتے کہ یہ طیبہ کی ہوائیں ہیں ۔ صحابہ کرامؓ میں سے جو کوئی بوجہ گردوغبار کے اپنا منہ بند کرتا تو آپ منع کرتے اور فرماتے کہ مدینہ کی خاک میں شفا ہے ۔

(جذب القلوب )

سوراخ کی طرف لوٹ آتا ہے ۔

(صحیح بخاری )

گا۔ فرشتے ان کی محافظت کریں گے ۔

(صحیح بخاری )

بھٹی لوہے کے میل کو نکال دیتی ہے ۔

(صحیح بخاری )

یہ خاصیت مدینہ منورہ میں ہر وقت موجود ہے ۔ چنانچہ منقول ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ جب مدینہ منورہ سے شام آنے لگے تو بہت خائف تھے ۔ اپنے ساتھیوں سے کہتے تھے کہ : نخشى ان نكون ممن نفته المدينة ! یعنی ہم کو خوف آتا ہے کہ کہیں ہم ان لوگوں میں سے تو نہیں ہیں جن کو مدینہ نکال دیتا ہے اور خاص کر اس خاصیت کا ظہور قیامت کے قریب بہت اچھے طور پر ہو گا۔ تین مرتبہ مدینہ منورہ میں زلزلہ آئے گا کہ جس قدر بد باطن لوگ اس وقت وہاں پناہ گزین ہوئے ہوں گے نکل جائیں گے ۔

مجھے اس شہر سے نکالتا ہے جو تمام مقامات سے مجھے زیادہ محبوب ہے تو اس مقام میں مجھے لے جا جو تمام شہروں سے زیادہ تجھے محبوب ہو ۔

مدینہ میں مرے ۔ کیونکہ جو شخص مدینہ میں مر جائے گا قیامت کے دن میں اس کی شفاعت کروں گا اور اس کے ایمان کی گواہی دوں گا اور دوسری حدیث میں آیا ہے کہ سب سے پہلے جن لوگوں کو میری شفاعت کی دولت نصیب ہوگی وہ اہل مدینہ ہوں گے ۔ بعد اس کے اہل مکہ ۔ بعد اس کے اہل طائف ۔ اسی وجہ سے اکثر حضرت عمرؓ دعا کیا کرتے تھے

صفحہ ١٩٠

جیسا کہ صحیح بخاری میں مروی ہے کہ اے اللہ! مجھے اپنی راہ میں شہادت نصیب کر اور میری موت اپنے رسول ﷺ کے شہر میں کر۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دونوں دعائیں قبول فرمائیں۔ خدا کی راہ میں شہید بھی ہوئے اور خاص مدینہ منورہ میں حضرت حبیب خدا ﷺ کے ہمراہ مدفون ہوئے۔ اسی وجہ سے امام مالکؒ حج کرنے کے لئے صرف ایک بار گئے اور حج کر کے فوراً مدینہ منورہ واپس آگئے۔ کبھی مدینہ منورہ سے باہر نہیں گئے کہ مبادا مدینہ سے باہر موت نہ آجائے۔ تمام عمر مدینہ منورہ میں رہے اور وہیں وفات پائی۔

وہیں سے میں قیامت کے دن اٹھوں گا۔ جو شخص میرے پڑوسیوں (یعنی اہل مدینہ) کے حقوق کی حفاظت کرے گا قیامت کے دن میں اس کی شفاعت کروں گا اور اس کے ایمان کی گواہی دوں گا۔ دوسری حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص اہل مدینہ کے ساتھ برائی کرے گا وہ ایسا گھل جائے گا جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔

ہے۔ جیسا کہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔ ایک مقام ہے وادی بطحان۔ وہاں کی مٹی سرور دوعالم ﷺ مرض تپ میں تجویز فرماتے تھے اور فوراً شفاء ہوتی تھی۔ اکثر علمائے کرام نے اس مٹی کے متعلق اپنا تجربہ بھی لکھا ہے۔ چنانچہ شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ بھی جذب القلوب میں لکھتے ہیں کہ جس زمانہ میں میں مدینہ منورہ میں مقیم تھا۔ میرے پیر میں ایک مرض سخت پیدا ہو گیا کہ تمام اطباء نے اس امر پر اتفاق کر لیا کہ اس مرض کا آخری نتیجہ موت ہے۔ صحت دشوار ہے۔ میں نے اس خاک پاک سے اپنا علاج کیا۔ تھوڑے ہی دنوں میں بہت آسانی سے صحت حاصل ہو گئی۔ اسی قسم کی خاصیتیں وہاں کی کھجور میں بھی مروی ہیں اور لوگوں نے تجربہ بھی کیا ہے۔ اگرچہ بعد ثابت ہو جانے اس امر کے کہ حضرت سرور دوعالم ﷺ نے یوں فرمایا ہے کسی کے تجربہ کی کچھ حاجت نہیں۔ یہ تو شفائے جسمانی ہے۔ اہل ایمان تو وہاں کی خاک پاک میں شفائے روحانی کا یقین رکھتے ہیں۔

دین اسلام میں سب سے پہلی مسجد ہے اور جس کی تعریف قرآن مجید میں وارد ہوئی ہے اور اس کو مسجد تقویٰ کا لقب دیا گیا ہے۔

مسجد نبوی کی فضیلت

مسجد نبوی کے فضائل بیان کرنے کی چنداں حاجت نہیں جس مسجد میں سرور انبیاء ﷺ نماز پڑھا کرتے تھے۔ اس کی تعمیر اپنے اہتمام سے فرمائی اور اس کو اپنی مسجد فرمایا۔ اس کی فضیلت اور بزرگی کوئی کیا بیان کر سکتا ہے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ایک نماز میری مسجد میں بہتر ہے ہزاروں نمازوں سے جو کسی اور مسجد

میں ہوں۔ سوا کعبہ مکرمہ کے کے۔ میری مسجد اور مسجد ا سرور دوعالم ﷺ ہفتہ میں ایک

مقدسہ) اور میرے منبر کے میرے حوض کے اوپر ہوگا۔

علمائے کرام نے اقدس اور منبر اطہر کے درمیا برباد ہو جائیں گے۔ اس مقا بہشت کے اور حضرت محمد ﷺ ہوگا۔ پھر وہ منبر آپ ﷺ کے

مقام تک حرم ہے۔ اس کے اس میں نئی بات کرے گا۔ اس مطلب میں اختلاف کیا ہے۔ طرح مکہ کے حرم میں جدال و اسی طرح مدینہ منورہ کے حرم کا قدیم قول ہے جدید قول میں کے حرم کی بھی ہر جانب سے عظمت کا اظہار مقصود ہے اور ی

تمام مقامات سے افضل ہے یا مدینہ۔ صحیح یہ ہے بطور زجر و انکار کے عہد خدا کا حرم ہے اور وہاں

صفحہ ١٩١

میں ہوں۔ سوا کعبہ مکرمہ کے اور نیز فرمایا کہ لوگوں کو کسی مسجد کی زیارت کے لئے سفر کرنا جائز نہیں سوا ان تین مسجدوں کے۔ میری مسجد اور مسجد حرام یعنی کعبہ اور مسجد اقصیٰ یعنی بیت المقدس ۔ مسجد قباء کے فضائل بھی بہت ہیں۔ حضرت سرور دو عالم ﷺ ہفتہ میں ایک بار ضرور وہاں تشریف لے جاتے تھے۔ کبھی سوار ہو کر کبھی پا پیادہ۔ (صحیح بخاری)

مقدسہ) اور میرے منبر کے درمیان میں ایک باغ ہے۔ بہشت کے باغوں میں سے اور میرا منبر (قیامت کے دن) میرے حوض کے اوپر ہوگا۔

علمائے کرام نے اس حدیث کے کئی مطالب بیان کئے ہیں۔ مگر صحیح مطلب یہ ہے کہ وہ خطہ پاک جو روضۂ اقدس اور منبر اطہر کے درمیان ہے بعینہ اٹھ کے جنت الفردوس میں چلا جائے گا۔ جس طرح کہ دنیا کے تمام مقامات برباد ہو جائیں گے۔ اس مقام مقدس پر کوئی آفت نہ آئے گی۔ یہی مطلب ہے اس کے باغ ہونے کا۔ منجملہ باغات بہشت کے اور حضرت محمد ﷺ کا منبر عالی قیامت میں از سر نو اعادہ کیا جائے گا جس طرح کہ آدمیوں کے بدنوں کا اعادہ ہوگا۔ پھر وہ منبر آپ ﷺ کے حوض پر نصب کر دیا جائے گا۔

مقام تک حرم ہے۔ اس کے درخت نہ کاٹے جائیں اور نہ اس میں کوئی بات (ظلم و معصیت کی) کی جائے جو شخص اس میں نئی بات کرے گا۔ اس پر اللہ کی اور فرشتوں کی اور سب آدمیوں کی لعنت۔ علمائے کرام نے اس حدیث کے مطلب میں اختلاف کیا ہے۔ حضرت امام شافعیؒ کے نزدیک مکہ معظمہ کی طرح مدینہ منورہ کے لئے بھی حرم ہے جس طرح مکہ کے حرم میں جدال قتال اور درخت کاٹنا شکار کرنا منع ہے اور ان افعال کے ارتکاب سے جزا لازم ہوتی ہے اسی طرح مدینہ منورہ کے حرم میں بھی یہ امور ممنوع ہیں اور ان کے ارتکاب سے جزا واجب ہوتی ہے۔ (یہ امام شافعیؒ کا قدیم قول ہے جدید قول میں وہ اس امر کے قائل ہو گئے ہیں کہ جزا واجب نہیں ہوتی۔ رد المحتار) انہوں نے مدینہ کے حرم کی بھی ہر جانب سے تحدید کی ہے۔ حضرت امام اعظم ابو حنیفہؒ کے نزدیک اس حدیث میں صرف مدینہ کی عظمت کا اظہار مقصود ہے اور وہاں ظلم و بدعت کا سدباب منظور ہے۔

تمام مقامات سے افضل ہے۔ یہاں تک کہ کعبہ بلکہ عرش عظیم سے بھی۔ اب اس کے بعد اختلاف ہے کہ آیا مکہ افضل ہے یا مدینہ ۔ صحیح یہ ہے کہ کعبہ کو چھوڑ کے باقی حصہ پر مدینہ کا باقی حصہ افضل ہے۔ امیر المومنین سیدنا حضرت عمرؓ نے بطور زجر و انکار کے عبداللہ بن عیاش مخزومی سے کہا کہ کیا تم یہ کہتے ہو کہ مکہ مدینہ سے افضل ہے۔ انہوں نے کہا کہ مکہ خدا کا حرم ہے اور وہاں اس کا گھر ہے (اس وجہ سے اس کو افضل کہتا ہوں) حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ میں خدا کے حرم

صفحہ ١٩٢

اور اس کے گھر کی نسبت کچھ نہیں کہتا۔ پھر فرمایا کہ کیا تم یہ کہتے ہو کہ مکہ مدینہ سے افضل ہے۔ انہوں نے پھر وہی کہا کہ مکہ خدا کا حرم ہے اور وہاں اس کا گھر ہے۔ (اس وجہ سے میں اس کو افضل کہتا ہوں ) حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ میں خدا کے حرم اور اس کے گھر کی نسبت کچھ نہیں کہتا۔ پھر فرمایا کہ کیا تم یہ کہتے ہو کہ مکہ مدینہ سے افضل ہے۔ کئی بار حضرت عمرؓ نے اس کلام کی تکرار فرمائی اور چلے گئے۔ معلوم ہوا کہ حضرت عمرؓ خانہ کعبہ کو مستثنیٰ کر کے مدینہ کو مکہ سے افضل کہتے تھے اور یہی حق ہے۔

زیارت روضہ مقدسہ کے فضائل اور اس کا حکم

حضرت سید المرسلین ﷺ کی زیارت سرمایہ سعادت دنیا و آخرت ہے اور اعلیٰ ایمان و محبت کا مقصد اصلی اور حقیقی غایت اس کے فضائل بیان کرنے کی چنداں حاجت نہیں۔ قسم ہے رب العرش کے عزت و جلال بے زوال کی کہ اگر اس زیارت میں کچھ بھی ثواب نہ رکھا جاتا اور اس کا معاوضہ آخرت میں کچھ بھی نہ دیا جاتا تب بھی مشتاقان بے دل کی یہی حالت ہوتی اور حضرت رحمۃ للعالمین ﷺ کا کلمہ پڑھنے والے اس وقت بھی اسی طرح مہینوں بلکہ برسوں کا سفر اختیار کر کے دشوار گزار راستوں سے عبور کر کے فوج کی فوج اس آستانہ عالی کی زیارت کے لئے آتے۔ ان کے مصائب سفر اور تمام تکالیف کا یہی معاوضہ بس ہے کہ روضہ محبوب کی زیارت نصیب ہو جائے اور سرور انبیاء کی مقدس چوکھٹ پر جبہ سائی کی دولت مل جائے۔

مگر اس بارگاہ رحمت و کرامت کی فیاضی کا مقتضیٰ ہے کہ جو لوگ اس آستانہ عالی کی زیارت کے لئے جاتے ہیں۔ ان کے لئے علاوہ اس دولت بے بہا یعنی دیدار جمال بے مثال روضہ سرور انبیاء کے اور بھی بڑے بڑے اعلیٰ مدارج کا وعدہ کیا گیا ہے۔ نمونہ کے طور پر دو چار حدیثیں لکھی جاتی ہیں:

شفاعت واجب ہو گئی ہے۔

سوا اس کو کوئی کام نہ ہو تو میرے اوپر ضروری ہے کہ میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں۔

زیارت کرے۔ وہ مثل اس شخص کے ہو گا جس نے میری زندگی میں میری زیارت کی۔

میرے پڑوس میں ہو گا اور جو شخص حرمین میں سے کسی مقام میں مر جائے گا اس کو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بے خوف لوگوں میں اٹھائے گا۔

میں میری زیارت کی اور جس نے می اور میری امت میں جس کسی کو مقدور احادیث مبارکہ کے علاو کی ترغیب دیتے ہیں۔ منجملہ ان کے ترجمہ: ...... ”اور اگر وہ لو سے استغفار کرتے اور رسول (یعنی تم اس آیت سے صاف ظا اور انبیاء علیہم السلام کے لیے ہے۔ لہٰذا یہ شبہ بھی نہیں ہو سکتا کہ یہ حافظ ابن کثیر محدث اپنی منورہ گیا اور روضہ شریف کی زیارت تعالیٰ فرماتا ہے کہ : ولو انهم ...... ہوں ۔ یہ کہہ کر وہ بہت رویا اور اس ف ف محمد بن حرب کہتے ہیں کہ دیکھا کہ آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ ا شفاعت سے بخش دئیے۔ اب باقی علمائے محققین اس کے وجوب کے قا ہوا ہے کہ جس شخص نے حج کیا اور می تمام علما کا سلف ہے کہ آج تک تاری ہے کہ وہ لوگ زیارت کو واجب سمج زیارت پر ان لوگوں نے کیا ہے جیم زیارت با سعادت کے لئے اہتمام

صفحہ ١٩٣

میں میری زیارت کی اور جس نے میری قبر کی زیارت کی اس کے لئے قیامت کے دن میری شفاعت واجب ہو گئی اور میری امت میں جس کسی کو مقدور ہو پھر وہ میری زیارت نہ کرے تو اس کا کوئی عذر نہیں ۔ (سنا جائے گا ۔)

احادیث مبارکہ کے علاوہ قرآن مجید میں بھی ایسے اشارات صریحہ موجود ہیں جو زیارت قبر اقدس و اطہر کی ترغیب دیتے ہیں۔ منجملہ ان کے ایک آیت یہ ہے :

ترجمہ :...... "اور اگر وہ لوگ جبکہ اپنی جانوں پر ظلم کر چکے تھے (اے نبی ) تمہارے پاس آتے ۔ پھر وہ اللہ سے استغفار کرتے اور رسول (یعنی تم بھی ) ان کے لئے استغفار کرتے تو بے شک وہ اللہ کو بخشنے والا مہربان پاتے ۔"

اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جانا اور ان سے استغفار کرنا باعث مغفرت ہے اور انبیاء علیہم السلام کے لئے حیات ابدی کا ثبوت تمام اہل اسلام کو مسلم اور قرآن و احادیث سے واضح طور پر ظاہر ہے۔ لہٰذا یہ شبہ بھی نہیں ہو سکتا کہ یہ فضیلت صرف اسی زمانہ کے لوگوں کو نصیب ہو سکتی تھی۔ اب اس کا وقت جاتا رہا۔

حافظ ابن کثیر محدث اپنی تفسیر میں اس آیت کے نیچے لکھتے ہیں کہ محمد بن حرب ہلالی کہتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ گیا اور روضہ شریف کی زیارت کر کے سامنے بیٹھا ہوا تھا کہ ایک اعرابی آیا اور اس نے عرض کیا رسول اللہ ﷺ حق تعالیٰ فرماتا ہے کہ: ولو انہم ...... لہٰذا میں اپنے گناہوں سے استغفار کرتا ہوا آپ ﷺ کو اپنا شفیع بنانے کے لئے آیا ہوں ۔ یہ کہہ کر وہ بہت رویا اور اس نے ولولہ شوق میں دو شعر عرض کئے۔ اس میں ایک یہ ہے کہ :

نفس الفداء لقبر انت ساكنه
فيه العفاف وفيه الجود والكرم

محمد بن حرب کہتے ہیں کہ اس اعرابی کے لوٹ جانے کے بعد میں نے حضرت سرور دو عالم ﷺ کو خواب میں دیکھا کہ آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ اس اعرابی سے جا کر ملو اور اس کو بشارت دو کہ اللہ تعالیٰ نے تیرے گناہ میری شفاعت سے بخش دیئے ۔ اب باقی رہا یہ مسئلہ کہ زیارت روضہ شریف کا کیا حکم ہے۔ یعنی یہ سنت ہے یا واجب ۔ علمائے محققین اس کے وجوب کے قائل ہیں اور احادیث سے ان ہی کی تائید ہوتی ہے۔ چنانچہ ایک حدیث میں وارد ہوا ہے کہ جس شخص نے حج کیا اور میری زیارت نہ کی ۔ اس نے مجھ پر ظلم کیا ۔ اسی مضمون کی اور بھی احادیث ہیں اور تمام علما کا سلف ہے کہ آج تک تارکین زیارت پر رد و قدح کرنا اور ترک زیارت کو معیوب سمجھنا بھی اسی امر کی دلیل ہے کہ وہ لوگ زیارت کو واجب سمجھتے تھے ۔ ورنہ سنت یا مستحب کے ترک پر ایسے سخت کلمات کا استعمال جیسے تارکین زیارت پر ان لوگوں نے کیا ہے نہیں ہوا ۔ علاوہ ان سب کے سلف صالحین کا صحابہ کرامؓ و تابعینؒ کے زمانہ میں اس زیارت با سعادت کے لئے اہتمام کرنا اور اس پر سخت التزام رکھنا اس کے وجوب کی طرف صریح اشارہ کر رہا ہے ۔

صفحہ ١٩٤

سیدنا حضرت بلالؓ موذن کا خاص زیارت روضہ اقدس کے لئے شام سے مدینہ منورہ آنا بہت مشہور واقعہ ہے اور صحیح روایت ہے۔ ابن عساکر نے روایت کی ہے کہ امیر المومنین حضرت عمرؓ کے عہد خلافت میں حضرت بلالؓ شام سے مدینہ منورہ آئے۔ انہوں نے خواب میں دیکھا تھا کہ حضرت سرور انبیا ﷺ فرماتے ہیں کہ اے بلالؓ یہ کیا ظلم ہے کہ تم کبھی ہماری زیارت کو نہیں آئے۔ یہ خواب دیکھتے ہی حضرت بلالؓ وہاں سے چل دیئے۔ جب روضہٴ مقدسہ پر پہنچے تو بہت روئے۔ پھر حسنینؓ کے کہنے سے انہوں نے اذان دی جس سے ایک قیامت برپا ہوگئی اور حضرت سید المرسلین ﷺ کی وفات کا غم از سر نو تازہ ہوگیا۔ اشھد ان محمدا......! پر پہنچ کر ان کی عجیب حالت ہوگئی اور بغیر اذان پوری کئے اتر آئے۔ امیر المومنین سیدنا حضرت عمرؓ جب بیت المقدس تشریف لے گئے اور کعب احبار مسلمان ہوئے تو حضرت عمرؓ نے ان سے فرمایا کہ اے کعب! کیا تمہارا جی چاہتا ہے کہ تم ہمارے ساتھ مدینہ چلو اور سرور انبیا ﷺ کی زیارت کرو۔ چنانچہ کعب احبار ان کے ہمراہ خاص زیارت کے لئے مدینہ منورہ آئے۔ پھر حضرت عمرؓ نے مدینہ پہنچ کر سب سے پہلے جو کام کیا وہ یہ تھا کہ روضہٴ مقدسہ پر حاضر ہوئے اور حضرت رحمۃ للعالمین ﷺ کی جناب میں بہ تمام ادب سلام عرض کیا۔

حضرت ابن عمرؓ کی عادت تھی کہ جب کسی سفر سے آتے تو سب سے پہلے روضہٴ مقدسہ پر حاضر ہوکر جناب نبوی ﷺ میں سلام عرض کرتے۔ حضرت امام مالکؒ اپنے موطا میں روایت کرتے ہیں کہ نافع سے کسی نے پوچھا کہ تم نے دیکھا ہے کہ حضرت ابن عمرؓ قبر شریف کے پاس کھڑے ہوکر سلام عرض کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہاں دیکھا ہے اور سو بار سے زیادہ دیکھا ہے۔ وہ قبر شریف پر کھڑے ہو کے یہ کہتے تھے کہ: السلام علی النبی السلام علی ابابکر السلام علی ابی!

حضرت عمر بن عبد العزیزؒ شام سے مدینہ منورہ قاصد بھیجا کرتے تھے۔ خاص اس لئے کہ وہ ان کا سلام بارگاہ رسالت ﷺ میں پہنچا دے اور یہ زمانہ جلیل القدر تابعینؒ کا تھا۔ اسی قسم کی اور بھی بہت سی روایات ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ اس زیارت پر کیسے دلدادہ تھے اور اس کے لئے کتنا اہتمام کرتے تھے اور درحقیقت مومن کے لئے حق سبحانہ کے دیدار کے بعد اس سے زیادہ اور کون سی دولت اور نعمت ہوسکتی ہے کہ وہ اپنی آنکھوں سے اس بقعہٴ نور کی زیارت کرے اور اس کس بیکساں تکیہ گاہ ہر دو جہاں کی خدمت میں سلام عرض کرے اور اس کے جواب سے مشرف ہو:

این سعادت بزور بازو نیست
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ

اس نعمت عظمیٰ کا لطف اس شخص سے پوچھئے جس کی قسمت نے یاری کی اور اس شربت کی چاشنی اس کو مل

صفحہ ١٩٥

چکی ہو اور خدا نے اس کو قلب سلیم اور ایمان کے ساتھ درد و محبت سے ممتاز فرمایا ہو۔ اس سے زیادہ بد نصیبی اور کیا ہو گی کہ بعض لوگ اس زیارت با سعادت کو یا اس کے لئے سفر کرنے کو ناجائز کہتے ہیں اور اپنی خوش فہمی سے اس پر نازاں ہیں۔ سنا ہے کہ بعض لوگ حج کر کے اپنے وطن لوٹ آئے اور مدینہ منورہ نہ گئے۔ ہائے افسوس اس سے زیادہ محرومی اور کیا ہو گی۔

زیارت کا طریقہ اور اس کے آداب

زیارت کے لئے جائے اور اگر حج نفلی ہو تو اختیار ہے۔ چاہے پہلے حج کر لے بعد اس کے زیارت کو جائے۔ یہ سب صورتیں اس حالت میں ہیں کہ جب حج کے لئے جانے کا راستہ مدینہ منورہ کی طرف سے نہ ہو۔ اگر مکہ جانے کے راستہ ہی میں مدینہ منورہ ملتا ہو۔ جیسے اہل شام کو وہ مکہ آنا چاہیں تو پہلے ان کو مدینہ منورہ ملے گا تو ایسی حالت میں خواہ مخواہ حج سے پہلے زیارت کرنا چاہئے۔ خواہ حج فرض ہو یا نفلی ۔ کیونکہ باوجود اس قدر قرب کے پھر زیارت کا ترک کر دینا نہایت بد بختی اور قساوت قلبی کی دلیل ہے۔ (رد المحتار )

انور حضرت خیر البشر ﷺ کی زیارت کے لئے سفر کرتا ہوں ۔ غرض یہ کہ اس سفر کے دو مقصود ہوں ۔ زیارت روضۂ شریف بھی اور زیارت مسجد شریف بھی۔ ( در مختار وغیرہ )

بشارت دے کہ انشاء اللہ ! اب عنقریب حضرت رحمۃ للعالمین ﷺ کی زیارت نصیب ہونے چاہتی ہے اور سوا ان خیالات کے اور کسی قسم کے خیالات اپنے دل میں نہ آنے دے اور راہ بھر درود شریف کی کثرت رکھے۔ سوا اوقات نماز کے اور قضائے حاجت کے اسی عبادت عظمیٰ میں مشغول رہے ۔ درود شریف سے بہتر کوئی ذریعہ بارگاہ رسالت ﷺ میں تقرب کا نہیں ہے اور درود شریف کی کثرت سے آنحضرت ﷺ کے جمال بے مثال کی زیارت نصیب ہوتی ہے۔ خصوصاً مدینہ منورہ کے قریب پہنچ کر درود شریف کی کثرت کرنا عجیب ہی ثمرہ دیتا ہے۔

حدیث مبارکہ میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چند فرشتوں کو اسی کام پر مقرر فرمایا ہے کہ جب کوئی زیارت کے لئے آنے والا درود شریف پڑھتا ہے تو وہ فرشتے حضور نبوی ﷺ میں جا کر عرض کرتے ہیں کہ فلاں شخص فلاں کا بیٹا حضرت محمد ﷺ کی زیارت کے لئے آتا ہے اور حضرت محمد ﷺ ! اپنے پہنچنے سے پہلے یہ تحفہ حضور ﷺ کے لئے بھیجا ہے ۔ خیال کرو کہ اس سے زیادہ اور کیا نعمت ہو گی کہ اس سردار دو عالم ﷺ کے سامنے تمہارا اور تمہارے باپ کا نام لیا جائے اور تمہارا تحفہ پیش کیا جائے :

صفحہ ١٩٦
جان میدہم در آرزو اے قاصد آخر بازگو
در مجلس آن نازنین حرفے کہ از مائی رود

نے نماز پڑھی یا اور اسی قسم کے مقامات ان سب کی زیارت سے مشرف ہو اور جب ذوالحلیفہ کی مسجد میں پہنچے تو وہاں دو رکعت نماز پڑھے۔

نہایت خشوع و خضوع اور مسرت اور فرحت کو اپنے دل میں جگہ دے اور اس امر کا تصور کرے کہ اب ہم سلطان عالم ﷺ کی بارگاہ میں پہنچنا چاہتے ہیں اور مقام مقدس کے عظمت و جلال کا خیال پیش از پیش رکھے اور کوئی بات خلاف ادب اپنے سے سرزد نہ ہونے دے۔ یہ وہ وقت ہے کہ جن کے دل نور ایمان سے منور ہوتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کی محبت ان کے سینوں میں مشتعل ہو جاتی ہے اور ایک عجیب وجد و سرور کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے کہ پھر ان کو اپنے تن بدن کا ہوش نہیں رہتا۔ اس بے خودی کی حالت میں کبھی کسی سے کوئی بات خلاف شرع بھی صادر ہو جاتی ہے کہ:

وقت آن آمد کہ من عریاں شوم
جسم بگذارم سرا سرجان شوم
بوئے یار مہربانم میرسد
بوئے جانان سوئے جانم میرسد
باز آمد آب ما در جوئے ما
باز آمد شاہ ما در کوئے ما

اور اگر کسی شخص کو یہ حالت نصیب نہ ہو تو اس کو چاہئے کہ بہ تکلف اپنے اوپر یہ حالت پیدا کرے اور ذوق و شوق والوں کی سی صورت بنائے۔ انشاء اللہ ! اگر کچھ دیر بہ تکلف یہ حالت اپنے اوپر قائم رکھے گا تو پھر خود بخود ایک اصلی کیفیت پیدا ہو جائے گی۔ پھر جب جبل مفرح کے قریب پہنچے تو اس پر چڑھ کر عمارات مدینہ منورہ کا مشاہدہ کرے اور اس شہر مقدس کی زیارت سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک دے۔ یہ بات ایک ذوق و شوق کی ہے۔ اس کو مسنون نہ سمجھنا چاہئے۔

پھر جب مدینہ منورہ بالکل سامنے آجائے تو بخیال ادب اور بمقتضائے شوق اپنی سواری سے اتر پڑے اور اگر ممکن ہو تو وہاں سے مسجد شریف تک پیادہ پا جائے۔ جب قبیلہ عبد القیس کے لوگ حضور نبوی ﷺ میں حاضر ہوئے تھے۔ جیسے ہی ان کی نظر اس جمال پاک پر پڑی بغیر اس کے کہ اونٹ کو بٹھلائیں۔ بے اختیار اپنی سواریوں سے نیچے

صفحہ ١٩٧

آئے اور حضرت محمد ﷺ نے انہیں منع نہیں فرمایا۔ پھر جب حرم شریف مدینہ منورہ کے اندر داخل ہونے لگیں تو پہلے حضرت خیر البشر ﷺ کی خدمت میں سلام با ادب تمام عرض کرے۔ بعد اس کے یہ دعا پڑھے۔

ترجمہ : ...... ”اے اللہ! یہ تیرے نبی کا حرم ہے اور تیری وحی اترنے کی جگہ ہے۔ پس مجھے اس میں داخل ہونے کی دولت عنایت کر اور اس کو میرے لئے دوزخ سے بچنے کا ذریعہ اور عذاب سے امان کا (باعث) بنا دے اور مجھے ان لوگوں میں سے کر جن کو قیامت کے دن حضرت محمد ﷺ کی شفاعت نصیب ہوگی ۔“

سامان حرم شریف سے باہر ممکن نہ ہو تو بعد داخل ہونے کے زیارت روضۂ اقدس کے لئے جانے سے پہلے غسل کرے اور خوشبو کا استعمال کرے اور عمدہ لباس (بعض لوگ مدینہ منورہ کے اندر داخل ہونے کے لئے احرام کا لباس پہنتے ہیں۔ یہ بالکل بے اصل ہے اور اس کا لباس مکہ معظمہ کے لئے خاص ہے۔ جذب القلوب ) جو اس کو میسر ہو پہنے۔ بہتر یہ ہے کہ سفید کپڑے ہوں۔ کیونکہ حضرت رسول خدا ﷺ کو سفید لباس سے زیادہ رغبت ہے اور نہایت ادب وحلم ووقار سے مدینہ منورہ کی زمین مقدس پر قدم رکھے اور اس بات کا خیال ہر وقت دل میں رکھے کہ یہ وہ پاکیزہ زمین ہے جس سے حبیب خدا ﷺ کے مبارک قدموں نے مس کیا ہے اور یہ وہی گلی کوچے ہیں جہاں سرور انبیاء ﷺ کے اصحابؓ چلتے پھرتے تھے۔ درحقیقت وہ زمین تو اس قابل ہے کہ وہاں آدمی سر کے بل چلے۔ کسی نے کیا اچھا کہا ہے کہ:

بر زمین کہ نشان کف پائے تو بود
سالہا سجدۂ ارباب نظر خواہد بود

کے جائے اور اس کو ہر کام اور ہر چیز پر مقدم رکھے۔ ہاں ! اگر یہ سمجھے کہ اسباب وغیرہ اچھے طور پر نہ رکھ لیا جائے گا تو تلف ہو جائے گا تو اپنا اسباب وغیرہ حفاظت سے رکھ کر باطمینان زیارت کے لئے آئے اور مسجد شریف میں داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھے:

ترجمہ : ...... ”میں (شیطان سے) خدا کی پناہ مانگتا ہوں اللہ کا نام لے کر (اس میں داخل ہوتا ہوں) رسول خدا پر سلام ہو اے نبی! آپ پر سلام ہو اور خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکتیں ۔“

اور مسجد شریف میں نہایت ادب اور تعظیم کے ساتھ داخل ہو۔ پہلے داہنا پاؤں مسجد میں رکھے اور یہ بات دل میں ہر وقت رہے کہ یہ مسجد حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کی مسجد ہے۔ یہ وہ مسجد ہے جہاں سرور انبیاء ﷺ نماز پڑھتے تھے۔ وعظ فرماتے تھے۔ اعتکاف کرتے تھے۔ یہاں وحی اترتی تھی۔ جبرائیل علیہ السلام آتے تھے اور مسجد شریف میں داخل ہونے سے پہلے مستحب ہے کہ کچھ صدقہ فقرائے مدینہ منورہ کو دے دے اور مسجد شریف میں پہنچ کر اعتکاف

صفحہ ١٩٨

کی نیت کرے۔ گو تھوڑی ہی دیر کے لئے ہو۔ کیونکہ یہ ایک بے مشقت عبادت ہے۔ جس کا ثواب بہت زیادہ ملتا ہے اور چاہئے کہ ہر مسجد میں داخل ہوتے وقت نیت اعتکاف کی کر لیا کرے۔ مفت بے مشقت ثواب ملتا ہے۔ اس کو ہاتھ سے نہ جانے دے۔ پھر مسجد شریف میں منبر اقدس کے قریب دو رکعت نماز بہ نیت تحیۃ المسجد پڑھے اور اس نماز میں زیادہ طول نہ دے۔ صرف سورۃ الکافرون اور سورۃ اخلاص پر اکتفا کرے۔ بعد تحیۃ المسجد کے دو رکعت نماز شکرانہ کی پڑھے کہ حق تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے اس کو یہ دولت نصیب کی اور اس بارگاہ عظمت و جاہ میں اس کو پہنچایا۔ جس کی آستاں بوسی کی تمنا میں بڑے بڑے فدوی جان دیتے ہیں۔

بارگاہ میں جاتا ہوں جس کے سامنے تمام دنیا کے پرجلال بادشاہوں کی بھی کچھ وقعت نہیں۔ جو خدا کے تمام نیک بندوں کا سردار اور سب سے زیادہ اس کا مقرب اور محبوب ہے اور خدا سے دعا کرے کہ اے اللہ! اس مقام مقدس کے لائق ادب اور تعظیم کی مجھے توفیق دے اور میرے دل اور اعضاء کو تمام خلاف ادب باتوں سے محفوظ رکھ۔ سچ یہ ہے کہ بغیر عنایت ایزدی کے اس درگاہ عرش اشتباہ کی شان کے لائق ادب و تعظیم کسی سے ممکن نہیں۔ ایک زائر دلدادہ کہتا ہے کہ:

ترجمہ:..... ”جب ہم احمد ﷺ کی قبر شریف پر پہنچے تو ان کے نور سے ایک ایسی روشنی نکلی جس نے آفتاب اور ماہتاب کو شرمندہ کر دیا اور ہم ایسے مقام میں کھڑے ہوئے کہ میں خدا کو گواہ بناتا ہوں کہ وہ مقام اپنی ہیبت سے حشر کو یاد دلاتا تھا۔“

غرض جس قدر اس کے امکان میں ہو ظاہر و باطن سے تعظیم و ادب اور خشوع و خضوع کا کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھے۔ شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ جذب القلوب میں لکھتے ہیں کہ جن باتوں کی شریعت میں ممانعت ہے مثل سجدہ کرنے‘ زمین پر منہ رکھنے اور کٹہرہ شریف کے بوسہ دینے وغیرہ کے ان امور سے پرہیز کرے اور یہ خوب سمجھ لے کہ ان باتوں میں کچھ بھی ادب نہیں۔ ادب تو فرمان برداری اور آنحضرت ﷺ کے حکم کی پیروی میں ہے۔ ہاں! اگر غلبہ شوق و بے خودی میں کسی سے کوئی بات صادر ہو جائے تو وہ معذور ہے۔ پھر نہایت ادب کے ساتھ نماز کی طرح داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھ کر سر مبارک کی طرف منہ کرلے اور قبلہ کی طرف پشت کر کے چار گز کے فاصلہ پر کھڑا ہو اور اس بات کا یقین کرلے کہ آنحضرت ﷺ اس کی حاضری سے واقف ہیں اور اس کو دیکھ رہے ہیں اور اس کے سلام کا جواب دیتے ہیں اور اس کی دعا پر آمین کہتے ہیں اور نہایت لطف و عنایت اس شخص کے حال پر فرما رہے ہیں۔ اس خیال کو خوب پختہ کر کے نہایت درد ناک اور با ادب آواز میں نہایت شوق و ذوق کے ساتھ معتدل آواز سے عرض کرے کہ:

ترجمہ:..... ”آپ پر سلام ہو اے میرے سردار‘ اے خدا کے رسول۔ آپ پر سلام ہو اے خدا کے نبی۔

آپ پر سلام ہو اے خدا کے پیار کرنے والے ۔ آپ پر سلام ہو اے مزمل۔ آپ پر سلام ہو ا جن سے اللہ نے نجاست کو دور ک سے بڑھ کر جو اس نے کسی نبی کو ا دیتا ہوں کہ آپ خدا کے رسول اور (دین حق کی) دلیل روشن ک موت آ گئی۔ اللہ آپ پر صلوٰۃ رب العالمین کی طرف سے ہمیش ہیں۔ ایسی صلوٰۃ کہ جس کی انتہ سامنے حاضری سے مشرف ہو ۔ کر کے آپ کے پاس آپ کی سے اور آپ کے وعدوں سے سامنے کامیاب ہوں ۔ کیونکہ خ اور آپ شافع مقبول الشفاعۃ ہیں فرمایا کہ اگر یہ لوگ جب اپنی جا بھی ان کے لئے استغفار کرتے کر کے اپنے گناہوں سے استغ دعا کیجئے۔ ہم کو آپ کے طریق پہنچائے اور آپ کے جام سے فرمایئے۔ شفاعت فرمایئے یا ر ایمان لا چکے اور ہمارے دلوں مہربان ہے۔“

زیارت کرنے وال دعائیں اس وقت پڑھاتے ہیں

صفحہ ١٩٩

آپ پر سلام ہو اے خدا کے پیارے۔ آپ پر سلام ہو اے نبی (سراپا رحمت) آپ پر سلام ہو اے امت کی شفاعت کرنے والے۔ آپ پر سلام ہو اے سب رسولوں کے سردار۔ آپ پر سلام ہو اے نبیوں کے مہر۔ آپ پر سلام ہو اے مزمل۔ آپ پر سلام ہو اے مدثر ۔ آپ پر سلام ہو اور آپ کے پاکیزہ باپ دادوں اور آپ کی اہلبیت پاک پر جن سے اللہ نے نجاست کو دور کر دیا اور ان کو خوب پاک کر دیا۔ اللہ آپ کو ہم سب کی طرف جزا دے۔ ان جزاؤں سے بڑھ کر جو اس نے کسی نبی کو اس کی قوم کی طرف سے اور کسی رسول کو اس کی امت کی طرف سے دی ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ خدا کے رسول ہیں۔ آپ نے خدا کے پیغام پہنچائے اور امانت ادا کر دی اور امت کی خیر خواہی کی اور (دین حق کی) دلیل روشن کر دی اور اللہ کی راہ میں خوب جہاد کیا اور دین کو مضبوط کر دیا۔ یہاں تک کہ آپ کو موت آگئی۔ اللہ آپ پر صلوٰۃ اور سلام بھیجے جو آپ کے جسم کریم کے حلول سے مشرف ہے۔ ایسے صلوٰۃ و سلام جو رب العالمین کی طرف سے ہمیشہ رہیں۔ ان چیزوں کی تعداد کے موافق جو ہو چکیں اور جو خدا کے علم میں ہونے والی ہیں۔ ایسی صلوٰۃ کہ جس کی انتہا نہ ہو۔ یا رسول اللہ ! ہم آپ کے مہمان اور آپ کے حرم کے زائر ہیں۔ آپ کے سامنے حاضری سے مشرف ہوئے ہیں اور بے شک ہم دور دراز شہروں اور بعید مقامات سے نرم اور سخت زمین کو قطع کر کے آپ کے پاس آپ کی زیارت کے ارادہ سے آئے ہیں۔ تا کہ ہم آپ کی شفاعت سے اور آپ کی بخششوں سے اور آپ کے وعدوں سے اور کسی قدر آپ کے حق ادا کرنے سے اور آپ کی شفاعت سے اپنے پروردگار کے سامنے کامیاب ہوں۔ کیونکہ خطاؤں نے ہماری پیٹھ کو توڑ ڈالا ہے اور گناہوں نے ہمارے شانوں کو بوجھل کر دیا ہے اور آپ شافع مقبول الشفاعۃ ہیں۔ جن سے بڑی شفاعت اور مقام محمود کا وعدہ کیا گیا ہے اور بے شک اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر یہ لوگ جب اپنی جانوں پر ظلم کر چکے تھے آپ کے پاس آتے۔ پھر وہ اللہ سے استغفار کرتے اور رسول بھی ان کے لئے استغفار کرتے تو بے شک وہ اللہ کو بخشنے والا مہربان پاتے اور ہم آپ کے پاس اپنی جانوں پر ظلم کر کے اپنے گناہوں سے استغفار کرنے آئے ہیں۔ پس آپ اپنے پروردگار سے ہماری شفاعت کیجئے اور اس سے دعا کیجئے۔ ہم کو آپ کے طریقہ پر موت دے اور ہمارا آپ کے گروہ میں حشر کرے اور ہمیں آپ کے حوض پر پہنچائے اور آپ کے جام سے ہمیں سیراب کرے اور ہم نہ رسوا ہوں نہ شرمندہ۔ شفاعت فرمائیے۔ شفاعت فرمائیے۔ شفاعت فرمائیے یا رسول اللہ ! اے پروردگار ! بخش دے ہم کو اور ہمارے ان بھائیوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے اور ہمارے دلوں میں مسلمانوں کا کینہ نہ رکھ۔ اے پروردگار ہمارے! بے شک تو شفقت کرنے والا مہربان ہے۔‘‘

زیارت کرنے والے کو چاہئے کہ جو دعا وہاں پڑھے اس کے معنی ضرور معلوم کرلے۔ معلمین زیارت جو دعائیں اس وقت پڑھاتے ہیں اگر ان کے معنی معلوم ہو سکیں تو پھر اپنی زبان میں بھی جس قدر جی چاہے عرض معروض

صفحہ ٢٠٠

کرے اور اپنے ذوق و شوق کو نہ روکے۔ مگر ادب کا خیال بیش از بیش رکھے۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ اس مقام مقدس میں زیادہ گوئی بھی خلاف ادب ہے۔ لہٰذا صرف صلوٰۃ و سلام پر اکتفا کرنا اولیٰ ہے۔ مگر یہ بات ٹھیک نہیں۔ کیونکہ جو مشتاق درد مند ہزار تمناؤں کے بعد اس قدر مصائب سفر برداشت کر کے اپنے حبیب ﷺ کی خدمت میں پہنچا ہو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ اپنے دل کی کیفیت بھی اچھی طرح عرض نہ کرے۔ یہ بڑا ظلم ہے کہ اس وقت اس سے کہا جائے کہ تو اپنے سوز و شکایت کو دل کے دل ہی میں رکھ۔ جب اپنے عرض نیاز سے فارغ ہو تو اپنے دوستوں سے جس شخص نے عرض وصیت کی ہو اس کا سلام حضرت سید المرسلین ﷺ کی خدمت اقدس میں عرض کر دے کہ یا رسول اللہ ﷺ فلاں ابن فلاں نے حضور کو سلام عرض کیا ہے۔ حضور اس کے لئے پروردگار بزرگ سے شفاعت کریں۔

ناظرین! جو اقبال مند خوش نصیب ہو اور اس کو یہ دولت نصیب ہو اور حضرت رحمۃ للعالمین ﷺ کی زیارت سے وہ مشرف ہو اس سے نہایت التجا کے ساتھ میری وصیت ہے کہ اس ذرہ بے مقدار کا سلام بھی اس کے آقائے نامدار کو پہنچا دے کہ یا رسول اللہ ! آپ کے ادنیٰ غلام عبدالشکور بن ناظر علی نے حضور کی جناب میں سلام عرض کیا ہے اور آپ کے لطف و کرم اور رحمت و شفاعت کا امیدوار ہے۔ یا رسول اللہ ! حق تعالیٰ نے آپ کو رحمۃ للعالمین اور رؤف و رحیم فرمایا ہے۔ یا رسول اللہ ! آپ کی رحمت و رافت تو خدا کی تمام مخلوق پر محیط ہے۔ یا رسول اللہ ! خدا کی مخلوق میں میں بھی ہوں ۔ بلکہ میں آپ پر ایمان لایا ہوں ۔ اگرچہ نیک بندوں میں نہیں۔ لیکن آپ کی امت کے گنہگاروں میں تو ہوں :

ترجمہ شعر:...... اے نسیم صبح! میرا سلام اس جناب کو پہنچا دے جن کی محبت میرے سینے میں جم گئی ہے۔ پس میرا بدن بظاہر ان سے دور ہے مگر میرا دل باطن کی آنکھ سے انہیں دیکھ رہا ہے۔

اللهم صلّى على سيدنا محمد النبى الامى وعلى آله وصحبه وبارك وسلم ! جو شخص میری اس وصیت کو پورا کرے حق جل شانہ اس کو بطفیل حضرت حبیب خدا ﷺ کے جزائے خیر دے اور صلاح دنیا و آخرت اس کو نصیب کرے اور ایمان پر اس کی زندگی پوری کرے۔ آمین !

جب حضرت سید المرسلین ﷺ کی جناب میں اس طریقہ سے سلام نیاز اپنا اور اپنے احباب کا عرض کر چکے تو حضرت امیر المومنین امام المتقین سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے سر مبارک کے سامنے نہایت ادب سے کھڑے ہو کر اس عبارت میں سلام عرض کرے:

ترجمہ:...... ”آپ پر سلام ہو اے رسول خدا ﷺ کے خلیفہ۔ آپ پر سلام ہو اے رسول خدا کے ہم نشین اور غار میں ان کے انیس اور سفروں میں ان کے رفیق اور ان کے رازوں میں امین۔ اللہ آپ کو ہماری طرف سے جزا دے تمام جزاؤں سے بڑھ کر جو اس نے کسی امام کو اس کے نبی کی امت کی طرف سے دی ہو۔ بے شک آپ نے

صفحہ ٢٠١

نبی کی خلافت بہت اچھی کی اور ان کے طریقہ اور روش پر چلے اور آپ نے مرتدوں اور بدعتیوں سے جنگ کی اور آپ نے اسلام کی بنیاد ڈالی اور اس کے ارکان بلند کر دیئے ۔ پس آپ بہت اچھے امام تھے اور آپ نے رسول خدا کی قرابت والوں کے ساتھ نیک سلوک کیا اور ہمیشہ حق پر اور دین اہل دین کے مددگار رہے۔ یہاں تک کہ آپ کو موت آگئی ۔ آپ اللہ سبحانہ سے ہمارے لئے اپنی محبت کے دوام اور اپنی جماعت میں محشور ہونے اور ہماری زیارت کے مقبول ہونے کی دعا کیجئے ۔ آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت اور برکتیں ۔“

پھر حضرت امیر المومنین سیدنا عمر فاروق کے سر مبارک کی محاذات میں اسی ادب کے ساتھ کھڑا ہو اور ان کو سلام کرے۔ اس عبارت سے :

ترجمہ : ” آپ پر سلام ہو اے امیر المومنین ۔ آپ پر سلام ہو اے اسلام کے غالب کرنے والے ۔ آپ پر سلام ہو اے بتوں کے توڑنے والے ۔ اللہ آپ کو ہماری طرف سے بڑی عمدہ جزا دے ۔ بے شک آپ نے اسلام کی اور مسلمانوں کی مدد کی اور بعد سید المرسلین کے اکثر شہر آپ نے فتح کئے اور آپ نے یتیموں کی کفالت کی اور رسول خدا کی قرابت والوں کے ساتھ نیک سلوک کیا اور اسلام آپ سے قوی ہو گیا اور آپ مسلمانوں کے لئے ایک پسندیدہ پیشوا اور ہدایت یافتہ رہنما تھے۔ آپ نے مسلمانوں کی تفریق کو جمع کیا اور ان کے فقر کی مدد کی اور ان کے شکستگی کا اندمال کیا ۔

پھر حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما دونوں سے مخاطب ہو کر عرض کرے کہ:

ترجمہ : ” آپ دونوں پر سلام ہو اے رسول خداﷺ کے پاس لیٹنے والو اور آپ کے رفیق اور آپ کے وزیر اور آپ کے مشیر اور دین پر قائم رہنے میں آپ کی مدد کرنے والو اور آپ کے بعد مسلمانوں کی مصلحت کو قائم رکھنے والو ۔ اللہ آپ دونوں کو عمدہ جزا دے ۔ ہم آپ کے پاس آئے ہیں۔ تاکہ آپ کو رسول خداﷺ سے تقرب کا ذریعہ بنائیں جس میں آپ ہماری شفاعت کریں اور ہمارے پروردگار سے دعا کریں کہ وہ ہماری کوشش کو قبول کرلے اور ہمیں آپ کے مذہب پر زندہ رکھے اور آپ کے گروہ میں ہمارا حشر کرے ۔“

پھر جس طرح پہلی بار حضرت سید المرسلینﷺ کے سر مبارک کے سامنے دست بستہ کھڑا ہوا تھا اسی طرح کھڑا ہو اور پھر تضرع و زاری شروع کرے اور جو جو خواہش رکھتا ہو حضرت محمدﷺ کے طفیل میں حق تعالیٰ سے مانگے اور بہت ذوق وشوق کے ساتھ حضرت حبیب خداﷺ کی خدمت میں سلام عرض کر کے وہاں سے ہٹے اور حضرت ابو لبابہ کے ستون کے پاس آکر توبہ کرے اور جس قدر ممکن ہو نوافل پڑھے۔ پھر بعد اس کے اور آثار نبویہ کی زیارت کرے جو معلمین زیارت بتا دیتے ہیں۔ پھر بعد اس کے جنت البقیع میں جائے اور وہاں کے مزارات مقدسہ کی زیارت کرے۔ خصوصاً حضرت عباس بن عبدالمطلب اور حضرت امام حسن اور بقیہ آئمہ اہل بیت اور حضرت

صفحہ ٢٠٢

امیر المومنین امام المتقین عثمان بن عفانؓ اور حضرت ابراہیم فرزند رسول خداﷺ اور ازواج مطہرات اور حضرت صفیہؓ اور باقی صحابہ کرامؓ کی۔ پھر شہدائے احد کی زیارت کرے۔ خصوصاً حضرت سید الشہداء حمزہؓ بن عبدالمطلب عم نبیﷺ اور جب وہاں پہنچے تو یہ کہے: سلام علیکم بما صبرتم فنعم عقبی الدار.....! اور ان تمام مشاہد ومزارات پر جاکر فاتحہ پڑھے۔ یعنی قرآن مجید کی سورتیں پڑھ کر ان کا ثواب ان حضرات کی ارواح مقدسہ کو پہنچادے۔ پھر ہفتہ کے دن یا جس دن ممکن ہو مسجد قباء کی زیارت کے لئے بھی جائے اور وہاں پہنچ کر کم از کم دو رکعت نماز بہ نیت تحیۃ المسجد پڑھے۔

جس قدر ہو سکے عبادت اور طاعت حق تعالیٰ کی کرے اور ہر روز اکثر حصہ اپنے وقت کا حضرت رحمۃ للعالمینﷺ کی زیارت میں صرف کیا کرے۔ پھر یہ دولت کہاں نصیب ہوگی۔ یہ روضۂ اقدس کہاں ملے گا جو وقت ہے غنیمت ہے۔

کی عبادت سے اپنے وقت کو آباد رکھے۔ نماز، روزہ، صدقہ۔ غرض جس قدر عبادتیں ممکن ہوں اس مسجد مقدس میں کرے اور جس قدر حصہ مسجد کا حضرت سید الرسلﷺ کے زمانہ میں تھا بے شک وہ حصہ اس سے افضل ہے جو آپ کے بعد میں اضافہ کیا گیا۔ پس اگر اس حصہ میں بیٹھنا ممکن ہو تو بہت بہتر ہے اور کم سے کم ایک شب اس مسجد مقدس میں شب بیداری کرے اور اس رات کو اپنی تمام عمر کا خلاصہ اور ماحصل سمجھے اور تمام رات عبادت میں کاٹ دے۔ بہتر ہے کہ اس رات میں اور کوئی عبادت نہ کرے۔ بلکہ صرف درود شریف کا ورد کرے: اللھم صلی علی محمد وعلیٰ آل محمد کماصلیت علیٰ ابرھیم وعلیٰ آل ابراھیم ٭ اللھم بارك علیٰ محمد وعلیٰ آل محمد کما بارکت علیٰ ابراھیم وعلیٰ آل ابراھیم انك حمید مجید ! اگر اس شب میں نیند کا غلبہ ہو تو اس کو دفع کرے۔ انشاء اللہ جس وقت اس امر کا خیال کرے گا کہ میں کس مسجد مقدس میں بیٹھا ہوں اور حضرت سرور انبیاءﷺ کی حضوری مجھے حاصل ہے۔ اس وقت نیند و غفلت کا اثر بالکل جاتا رہے گا۔

مسجد اقدس میں رات بھر رہنے کے لئے اگر کچھ حکام و خدام کی خوشامد کرنا پڑے۔ بے تامل خوشامد بھی کرے اور جو جو باتیں کرنا پڑیں سب کرے اور اس دولت کو اپنے ہاتھ سے نہ جانے دے۔ مسجد شریف میں جب تک رہے اپنے دل اور زبان اور تمام اعضاء کو لغو کلمات اور حرکات سے محفوظ رکھے اور سوا حضور اقدس نبویﷺ کے کسی طرف متوجہ نہ ہو۔ اگر نہایت ضرورت کسی سے کلام کی ہو تو مختصر کلام کرکے پھر اسی جناب مقدس کی طرف متوجہ ہو جائے۔ مسجد شریف کے ادب کا خیال خوب رکھے۔ تھوک وغیرہ وہاں نہ گرنے پائے۔ کوئی بال سر یا داڑھی کا وہاں نہ ڈالے اور اگر گرا پڑا ہوا دیکھے تو فوراً اٹھالے۔ بعض لوگ چھوہارے کھا کر مسجد شریف میں اس کی گٹھلی ڈال دیتے

تھے۔ یہ بھی خلاف ادب ہے۔ جب رہے۔ کم از کم ایک قرآن مجید کا ختم و فضائل میں ہو اس کو پڑھے یا کوئی مختصر

کوئی بات خلاف شریعت دیکھے پھر بالمعروف نہایت ادب کے ساتھ نرم

شریف کو رخصت کرے۔ یعنی وہاں کریمﷺ اور شیخینؓ کی زیارت حسب اسے مشرف فرمائے۔ علامت مقبولیت ہوں اور دل میں یاس وحسرت بھری حالت کو طاری کرے۔

لائے۔ مکہ معظمہ سے آب زمزم اور سے پہلے جو مسجد گھر کے قریب ہو اس عظمیٰ پر حق تعالیٰ نے اسے فائز کیا۔ ا اور اللہ تعالیٰ کے اس احسان عظیم کا وا تو یہ کرچکا ہوں اور تو یہ بھی کسی اور کے امر کا عزم قوی رکھے کہ میں اب کبھی ا کے دعا مانگا کرے کہ الٰہی مجھے اس تو ایمان پر میرا خاتمہ فرما۔

علمائے کرام نے لکھا ہے کہ لوٹے اور دل میں حضرت سید الرسل ہو جائے اور آخرت اور اہل دین کی ف

صفحہ ٢٠٣

تھے۔ یہ بھی خلاف ادب ہے۔ جب تک مسجد اقدس میں رہے حجرہ شریفہ کی طرف نہایت شوق کی نگاہوں سے نظر کرتا رہے۔ کم از کم ایک قرآن مجید کا ختم اس مسجد عالی میں کرے اگر ممکن ہو تو کوئی کتاب جو آنحضرت ﷺ کے حالات و فضائل میں ہو اس کو پڑھے یا کوئی شخص پڑھتا ہو تو اس سے سنے۔

کوئی بات خلاف شریعت دیکھے پھر بھی ان کی برائی نہ کرے اور ان سے بہ خشونت نہ پیش آئے۔ ہاں بخیال امر بالمعروف نہایت ادب کے ساتھ نرم و شیریں الفاظ میں ان کو اس فعل کی خرابی سے مطلع کر دے۔

شریف کو رخصت کرے۔ یعنی وہاں نماز پڑھ کے دعا مانگے اور حسرت کے ساتھ وہاں سے جدا ہو۔ پھر حضور نبی کریم ﷺ اور شیخینؓ کی زیارت حسب معمول کرے اور اللہ تعالیٰ سے دعا مانگے کہ پھر اس درگاہ اقدس کی زیارت سے اسے مشرف فرمائے۔ علامت قبولیت دعا اور زیارت کی یہ ہے کہ اس وقت بے اختیار آنکھوں سے آنسو بہ رہے ہوں اور دل میں یاس وحسرت بھری ہو اور اگر خدانخواستہ کسی شخص پر یہ حالت نہ پیدا ہو تو وہ بتکلف اپنے اوپر اس حالت کو طاری کرے۔

لائے۔ مکہ معظمہ سے آب زمزم اور مدینہ منورہ سے کھجوریں۔ پھر جب اپنے شہر میں پہنچ جائے تو چاہئے کہ گھر جانے سے پہلے جو مسجد گھر کے قریب ہو اس میں جائے۔ دو رکعت نماز پڑھے اور خدائے تعالیٰ کا شکر ادا کرے کہ اس نعمت عظمیٰ پر حق تعالیٰ نے اسے فائز کیا۔ بعد اس کے اپنے گھر جائے۔ پھر جب گھر میں پہنچ جائے تو دو رکعت نماز پڑھے اور اللہ تعالیٰ کے اس احسان عظیم کا دل سے شکریہ ادا کرے۔ اس مبارک سفر سے لوٹنے کے بعد یہ سمجھے کہ میں تجدید توبہ کر چکا ہوں اور توبہ بھی کسی اور کے سامنے نہیں ۔ بلکہ وہ توبہ جو حضرت سرور انبیا ﷺ کے حضور میں ہوئی ۔ لہذا اس امر کا عزم قوی رکھے کہ میں اب کبھی اس توبہ کو نہ توڑوں گا اور حق تعالیٰ جل شانہ سے ہر نماز کے بعد خصوصاً بعد نماز صبح کے دعا مانگا کرے کہ الٰہی مجھے اس توبہ پر قائم رکھ اور اپنی نافرمانیوں سے بچا اور اپنی فرماں برداری کی توفیق دے اور ایمان پر میرا خاتمہ فرما۔

علمائے کرام نے لکھا ہے کہ حج مبرور کی علامت یہ ہے کہ جس حالت میں گیا تھا اس سے بہتر حالت میں لوٹے اور دل میں حضرت سید الرسل ﷺ کے اتباع سنت کا شوق پیدا ہو جائے اور دنیا و اہل دنیا کی محبت سے دل سرد ہو جائے اور آخرت اور اہل دین کی محبت دل میں غالب ہو جائے۔

۞ ۞ ۞ ....... ۞ ۞ ۞

PDF 204

چراغ

مصطفوی

اور

طوفان

قادیان

تحقیق و تدوین

محمد طاہر عبدالرزاق

فہم ختم نبوت سیریز 7

عنوانات

رسول خاتم ﷺ علامہ محمود احمد رضویؒ انسانیت کو نئی نبوت کی ضرورت کیوں نہیں؟ مولانا علاؤ الدین ندوی اسلام اور ...... کفر و ارتداد مفتی محمد شفیعؒ مرزا قادیانی اور غیر تشریعی نبی حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ مرزا قادیانی اور اس کے چیلے قیصر مصطفےٰ خاتم النبیین ﷺ ...... کامل نمونہ سید سلیمان ندویؒ معراج النبی اور مرزا غلام احمد قادیانی مولانا سرفراز خان صفدر مرزائی اپنے کو مسلمان کہتے ہیں ...... پھر کافر کیوں ہیں؟ مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ مسیح موعود اور قادیانیت علامہ خالد محمود قرآن کریم کے لفظ ”ربوہ“ کا تحقیقی مطالعہ ڈاکٹر سید محمد اعزاز مسیح اور مہدی ...... دو شخصیتیں جمیل احمد نذیری مسلمانوں کے قبرستان میں قادیانی کی تدفین؟ مولانا مفتی محمد فرید مولانا عبید اللہ سندھی اور مسئلہ نزول مسیح علیہ السلام سید عطاء الحسن شاہ بخاریؒ مرزا جی کا بڑھاپا ...... اور ظالم عشق کا سیاپا مولانا عنایت اللہ چشتی مرزا غلام احمد قادیانی کی کھلی بددیانتی مولانا اللہ وسایا عقیدہ نبوت امداد حسین پیرزادہ مرتد کے لغوی و اصطلاحی معانی اور اس کی شرائط و سزا مفتی عبدالقیوم خان ہزاروی مرزائیوں کے اعتراضات اور ان کے جوابات مولانا محمد ابراہیم گستاخ رسول اور مرتد ...... اسلام میں دونوں کی سزا قتل ہے مولانا ڈاکٹر احمد علی سراج لاہوری مرزائی کافر کیوں ہیں؟ مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ انسانی حقوق اور قادیانی جماعت پروفیسر منور احمد ملک

بہترین کاغذ ، اعلیٰ پرنٹنگ ، چار رنگا خوبصورت ٹائٹل صفحات : 208 ، قیمت -/ 90 روپے ، مجاہدین ختم نبوت کے لیے خصوصی رعایت

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ، حضوری باغ روڈ ، ملتان