احتساب قادیانیت جلد 32 · ڈاکٹر غلام جیلانی برق
Ahtasab-e-Qadyaniat · Vol. 32 · Dr Ghulam Jilani Barq
PDF 1

رَدِّ قادِیانِیَّت

رسائل

اِحتِسابِ قادِیانِیَّت

جلد ٣٢

عَالَمِی مَجْلِسِ تَحَفُّظِ خَتْمِ نُبُوَّۃ

حضوری باغ روڈ ، ملتان - فون : 4783486-061

PDF 2

رد قادیانیت

رسائل

احتساب قادیانیت

٣٢

• جناب ڈاکٹر غلام جیلانی برق

• جناب ملک محمد جعفر خان

• جناب غلام احمد پرویز

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

صفحہ ٢

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

نام کتاب : احتساب قادیانیت جلد بتیس (٣٢) مصنفین : جناب ڈاکٹر غلام جیلانی برق جناب ملک محمد جعفر خان جناب غلام احمد پرویز صفحات : ٥٩٢ قیمت : ٣٠٠ روپے مطبع : ناصر زین پریس لاہور طبع اوّل : مارچ ٢٠١٠ء ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان Ph: 061-4514122

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

فہرست رسائل مشمولہ ...... احتساب قادیانیت جلد ٣٢

عرض مرتب ٣

صفحہ ٣

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

عرض مرتب

الحمدللہ وکفی وسلام علی سید الرسل وخاتم الانبیاء، امابعد!

لیجئے! اللہ رب العزت کے فضل وکرم سے احتساب قادیانیت کی بتیسویں (٣٢) جلد حاضر خدمت ہے۔ اس میں تین حضرات کی تین کتابیں شامل اشاعت ہیں۔

جولائی ١٩٥٣ء میں تحریر فرمائی۔ دنیا جانتی ہے کہ جناب ڈاکٹر غلام جیلانی برق پر ایک زمانہ میں ”انکار حدیث“ کا رجحان غالب تھا۔ آپ کی یہ تصنیف بھی اسی زمانہ کی ہے۔ جگہ جگہ حدیث شریف کے انکار پر ان کا قلم زور آور طوفان کی طرح موجیں مارتا نظر آتا ہے۔ علماء کرام کی مخالفت میں جی بھر کر منہمک نظر آتے ہیں۔

ان تمام تر نقائص کے باوجود قادیانیت کے لٹریچر پر ان کی بھر پور گرفت ہے۔ مرزا قادیانی پر جس سمت سے حملہ آور ہوتے ہیں۔ اس کے بال و پر نوچ لیتے ہیں۔ دلائل گرم الفاظ نرم کا یہ مصداق کتاب ہے۔ اے کاش کوئی متلاشی حق قادیانی اس کتاب کو پڑھ لے۔ چاہے اسے ایمان نصیب نہ ہو۔ لیکن اتمام حجت تو یقینی امر ہے۔ اس لئے ہی اس جلد میں اس کو شامل کیا ہے۔

نومبر ١٩٥٧ء میں انہوں نے یہ کتاب تحریر کی۔ پہلے اس کی کچھ اقساط ماہنامہ طلوع اسلام لاہور میں شائع ہوئیں۔ پھر ان کو کتابی شکل میں شائع کیا گیا۔ جناب ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی طرح ملک محمد جعفر خان بھی اٹک کے رہائشی تھے۔ ملک محمد جعفر خان پہلے قادیانی تھے۔ بلکہ ان کی پوری فیملی قادیانی تھی۔ خوب پڑھے لکھے اور مضبوط قسم کے قلمکار تھے۔ قادیانیت کو ترک کیا۔

گویا مرزا غلام احمد قادیانی کو چھوڑا تو جناب غلام احمد پرویز کے گرویدہ ہو گئے۔ ملک محمد جعفر خان صاحب کا خاندان قادیانی تھا تو اپنے قادیانی عزیزوں کو قادیانیت سمجھانے کے لئے انہوں نے پوری قوت صرف کی۔ بہت ساری باتیں رد قادیانیت کے سلسلہ کی نہایت ہی بلیغ اور اچھوتے انداز میں اس کتاب میں آگئی ہیں اور یہ تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں کہ ملک صاحب نے خوب دل سوزی کے ساتھ اپنے قادیانی عزیزوں کو قادیانیت کے دلدل یا چنگل سے نکالنے کی سعی

صفحہ ٤

مشکور کی ہے۔ ملک صاحب نے ١٩٧٠ء کا الیکشن پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر لڑا۔ یہ یاد نہیں کہ کامیاب بھی ہو گئے تھے یا نہیں۔ وکالت کرتے تھے۔ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ قادیانیت ترک کرنے کے بعد انہوں نے پرویز صاحب کے نظریات اپنا لئے تھے۔ اس لئے قارئین ملاحظہ کریں گے کہ وہ جگہ جگہ ردقادیانیت کے ساتھ ساتھ پرویزی خیالات کی ترجمانی میں کسر نہیں چھوڑتے۔ ان خامیوں کے باوجود قادیانیت زدہ افراد کو قادیانیت سمجھانے کے لئے یہ کتاب بہت مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ بس یہی غرض ہے اس کتاب کو اس جلد میں شامل کرنے کی۔

ہیں۔ پرویز صاحب جولائی ١٩٠٣ء میں بٹالہ ضلع گورداسپور میں پیدا ہوئے۔ فروری ١٩٨٥ء کو لاہور میں فوت ہوئے۔ یہ وہی پرویز صاحب ہیں جو خود کو اہل قرآن کہتے ہیں اور علماء کرام ان کو منکر حدیث قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے یہ کتاب اضافوں کے ساتھ ١٩٧٤ء کے اواخر میں شائع کی۔ پرویز صاحب نے قادیانیت کا تجزیہ اپنے طور پر خوب سے خوب تر کیا ہے۔ قادیانیت و پرویزیت اس کتاب میں ایک دوسرے کے مد مقابل ہے۔ ایک غلام احمد نے دوسرے غلام احمد کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ اسے چت گرا کر اس کے سینے پر سوار ہو کر سینے پر مونگ دلنے کا جو انداز اختیار کیا ہے۔ اسی نے اس کتاب کو احتساب قادیانیت کی اس جلد میں شائع کرنے پر آمادہ کیا ہے۔ قارئین اس جلد میں تینوں حضرات کی تینوں کتابیں مرزا غلام احمد قادیانی کو جدید طرز پر سمجھنے کے لئے بہت مددگار ہوں گی۔

یہ جلد منکرین حدیث کی رد قادیانیت پر مشتمل تصنیفات کا مجموعہ ہے۔ قارئین! اللہ تعالیٰ نے مہلت دی ہے تو (١) رافضی۔ (٢) خارجی۔ (٣) مسیحی حضرات۔ (٤) اور خود قادیانی گروہ کے وہ حضرات جنہوں نے قادیانی کرتوتوں پر قلم اٹھایا۔ ان سب کو علیحدہ علیحدہ (گویا رافضی، خارجی، عیسائی، قادیانی باغی گروہ) کی رد قادیانیت پر مشتمل کتب کو ایک ایک جلد میں جمع کرنے کا ارادہ ہے۔ اگر اس میں خیر ہے تو اللہ تعالیٰ یہ کام کرادیں اور اگر اس میں کوئی شر کا پہلو ہے تو اللہ تعالیٰ توفیق ہی نہ دیں۔ آمین!

اسی پر اکتفاء کرتا ہوں۔ احتساب کی یہ جلد، منکرین حدیث، منکرین ختم نبوت کو کیا سمجھتے ہیں؟ کے سوال کا جواب ہے۔

والسلام!

محتاج دعاء: فقیر اللہ وسایا

١٧ ربیع الاول ١٤٣١ھ بمطابق ٢٠/مارچ ٢٠١٠ء

PDF 6

شفیع المذنبین خاتم النبیین لا نبی بعدی

سیدنا ومولانا محمد صلی الله علیہ وآلہ وسلم

حرف محرمانہ

جناب ڈاکٹر غلام جیلانی برق صاحب

صفحہ ٦

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

حرفِ اوّل

میرے احباب میں ایک خاصی تعداد احمدی حضرات کی ہے۔ جن سے میرے مراسم ہمیشہ برادرانہ رہے اور میں نے کبھی محسوس نہ کیا کہ ہم میں کوئی ذہنی اختلاف موجود ہے۔ جب گزشتہ مارچ ١٩٥٣ء میں احمدی حضرات کے خلاف ملک میں ایک طوفان اٹھا تو میری توجہ اس طرف منعطف ہوئی اور میں نے مرزا غلام احمد قادیانی کی تصانیف کا مطالعہ شروع کر دیا۔ یہ تحریر میرے تاثرات مطالعہ کی آئینہ دار ہے۔

میں اسلام کی بین الاقوامیت اور نسل آدم کی جمعیت کا مبلغ ہوں اور ہر قسم کی تفریق کا خواہ وہ قومی ہو یا ملّی، مخالف ہوں، اور اسلامی فرقہ بندی پہ کچھ لکھنا تضیع اوقات سمجھتا ہوں۔ لیکن جو سوال اس تحریر کا محرک بنا وہ یہ تھا کہ احمدی بھائیوں اور دیگر مسلمانوں میں مجھے، بظاہر کوئی اختلاف نظر نہیں آتا تھا۔ ان کا قبلہ ایک، طریق عبادت ایک، تمدن ایک، معاشرت ایک، قانون ایک، فقہ تو پھر یہ تصادم کیوں ہو۔ کیوں ایک دوسرے سے الجھ کر دنیا کو تماشہ دکھائیں اور پاکستان میں انتشار کی آگ بھڑکائیں؟

اس سلسلے میں میں نے علمبرداران تحریک کے ہر بیان، ہر تحریر اور دیگر لٹریچر کا غور سے مطالعہ کیا اور دوسری طرف مرزا قادیانی، میاں بشیر الدین محمود قادیانی نیز ان کے جریدہ موقرہ "الفضل" کی تحریرات و مقالات کو پڑھا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ احمدی حضرات اور دیگر مسلمان ایک دوسرے سے دور جارہے ہیں۔ ان کے درمیان چینی دیواریں حائل ہوچکی ہیں اور اس لئے ہر خیر خواہ ملک وملت کا فرض اولین ہے کہ وہ بھائی کو بھائی سے ملائے اور ان اختلافی خلیجوں کو پاٹ دے جو انہیں جدا کر رہی ہیں۔

طرفین میں مابہ النزاع ختم نبوت کا مسئلہ ہے۔ علمائے اسلام کا عقیدہ یہ ہے کہ حضورﷺ پر نبوت ختم ہو چکی ہے اور علمائے قادیان اجرائے نبوت کے قائل ہیں۔ اس مسئلے کا فیصلہ صرف اسی طرح ہو سکتا ہے کہ اگر علمائے احمدیت کی رائے صحیح ہو تو ہمیں سپر ڈال دینا چاہئے اور اگر غلط ہو تو وہ دیگر مسلمانوں کے ہم آہنگ ہو جائیں۔

مذہب ایک عمیق ترین تعصب اور محبوب ترین تعلق کا نام ہے۔ اس کی بنیاد ماں کی

آغوش میں ڈالی جاتی ہے اور ناخن کو جدا کرنا سہل ہے۔ لیکن وحکمت کا کوئی فلسفہ ہمارے احساس ہے۔ لیکن جب میں و ایران حلقہ بگوش اسلام بن گیا ڈالی تھیں اور نصارائے شام ڈھارس بندھ جاتی ہے۔ ایران جھٹکانا ہے۔ اس لئے میرا کام

دنیا میں کوئی شخص وصاحب قرآن کو وسیلہ نجات مرزا قادیانی کے دامن سے وا بدہن ) دعویٰ نبوت میں صادق اسی طرح اگر احمدی بھائیوں کو تھا تو وہ یقیناً اس راہ کو چھوڑ جا اور نہ آخرت۔ کون چاہتا ہے کہ خدائی عذاب کا، میرا اپنا وتیرا زمانہ تھا کہ میں ہر جدید تصور کا رہبانیت کا قائل تھا۔ حرز و احبار ورہبان کو اپنا رب سمجھتا میرے عقائد کی مضبوط چٹانیں شدہ عقائد کے کھنڈرات دور اق

لوگ کہتے ہیں کہ احم ہے۔ آخر اس جماعت میں بڑ معقول انسان سے اس غیر معقو بات میں کوئی معقولیت ہو۔ آج

صفحہ ٧

آغوش میں ڈالی جاتی ہے اور گھر کے عزیز ترین ماحول میں یہ پروان چڑھتا ہے۔ گوشت سے ناخن کو جدا کرنا سہل ہے۔ لیکن مذہبی تصورات سے جدا ہونا مشکل۔ دنیا کی کوئی منطق اور جہان علم وحکمت کا کوئی فلسفہ ہمارے مذہبی عقائد کو متزلزل نہیں کر سکتا۔ مجھے ان مشکلات کا پوری طرح احساس ہے۔ لیکن جب میں دیکھتا ہوں کہ سعد بن ابی وقاصؓ کے حملے کے اقل قلیل مدت میں سارا ایران حلقہ بگوش اسلام بن گیا تھا۔ زرتشتیوں نے اپنے ہاتھ سے اپنے آتش کدوں کی بنیادیں کھود ڈالی تھیں اور نصارائے شام نے بلا اکراہ اپنے کلیساؤں کو مسجدوں میں بدل دیا تھا۔ تو میری ڈھارس بندھ جاتی ہے۔ ایران وشام میں عقائد کی مکمل تعمیر کو ڈھانا تھا اور یہاں صرف ایک تصور کو جھٹکانا ہے۔ اس لئے میرا کام نسبتاً سہل ہے۔

دنیا میں کوئی شخص گمراہی کو پسند نہیں کرتا۔ ہم صرف اس لئے مسلمان ہیں کہ قرآن وصاحب قرآن کو وسیلۂ نجات سمجھتے ہیں۔ اسی طرح احمدی بھائی بھی نجات وسعادت ہی کی خاطر مرزا قادیانی کے دامن سے وابستہ ہیں۔ اگر آج ہمیں یقین دلایا جائے کہ حضورﷺ (خاکم بدہن) دعویٰ نبوت میں صادق نہیں تھے تو ہم سب لازماً کوئی اور ذریعہ نجات تلاش کریں گے۔ اسی طرح اگر احمدی بھائیوں کو بھی پورا یقین ہو جائے کہ مرزا قادیانی کا دعوائے نبوت درست نہیں تھا تو وہ یقیناً اس راہ کو چھوڑ جائیں گے۔ آخر گمراہ ہونا کوئی خوبی نہیں۔ اس سے نہ دنیا سنورتی ہے اور نہ آخرت۔ کون چاہتا ہے کہ گمراہ رہ کر یہاں کروڑوں بھائیوں کے عتاب کا شکار بنے اور وہاں خدائی عذاب کا، میرا اپنا وتیرہ ہمیشہ یہ رہا ہے کہ جہاں کوئی معقول بات سنی فوراً قبول کر لی۔ ایک زمانہ تھا کہ میں ہر جدید تصور کا دشمن اور ہر دقیانوسی رسم عقیدہ کا پرستار تھا۔ قبروں پہ ماتھے رگڑتا تھا۔ رہبانیت کا قائل تھا۔ حرز وافسوں پہ گزارہ تھا۔ انبیاء کو عالم الغیب، مردوں کو سمیع وبصیر اور احبار ورہبان کو اپنا رب سمجھتا تھا۔ بعد میں جب مفکرین اسلام کے فلسفیانہ دلائل کا مطالعہ کیا تو میرے عقائد کی مضبوط چٹانیں پاش پاش ہوتی گئیں۔ یہاں تک کہ آج میرے دل کی دنیا میں تباہ شدہ عقائد کے کھنڈرات دور افق تک پھیلے ہوئے ہیں۔

لوگ کہتے ہیں کہ احمدی حضرات بات نہیں سنتے۔ مجھے اس نظریے سے شدید اختلاف ہے۔ آخر اس جماعت میں بڑے بڑے وکلاء، پروفیسر، جج اور دیگر معقول لوگ موجود ہیں۔ ایک معقول انسان سے اس غیر معقولیت کی امید ہی نہیں ہو سکتی کہ وہ دوسرے کی بات نہ سنے۔ بشرطیکہ بات میں کوئی معقولیت ہو۔ آج تک احمدیت پر جس قدر لٹریچر علمائے اسلام نے پیش کیا ہے اس

صفحہ ٨

میں دلائل کم تھے اور گالیاں زیادہ ١؎ ایسے دشنام آلود لٹریچر کو کون پڑھے اور مغلظات کون سنے؟ میٹھے انداز اور ہمدردانہ رنگ میں کہی ہوئی بات پر ہر شخص غور کرتا ہے۔ لیکن گالیاں کوئی نہیں سنتا۔

مسئلہ ختم نبوت پر میں نے مرزا قادیانی کی تقریباً چالیس ضخیم تصانیف پڑھیں۔ ساتھ ہی ان کے صاحبزادہ کی تحریرات کو دیکھا۔ اجرائے نبوت پر جس قدر دلائل ان کتابوں میں موجود تھے۔ ان کو قرآن وعقل کی میزان میں تولا اور بالآخر ان نتائج پر پہنچا جو صفحات آئندہ میں درج ہیں۔ یہاں یہ عرض کر دینا بے جا نہ ہوگا کہ اس کتاب کے تمام حوالوں میں انتہائی دیانت سے کام لیا گیا ہے۔ اقتباسات کو نہ تو مسخ کیا گیا ہے اور نہ قطع وبرید سے حسب منشاء بنایا گیا ہے۔ بلکہ ہر حوالے میں صاحب کتاب کی منشاء کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ یہ اس لئے تا کہ مسئلہ کے تمام پہلو ہو بہو سامنے آ جائیں اور احمدی و غیر احمدی حضرات کو صحیح نتیجہ اخذ کرنے میں کوئی دقت پیش نہ آئے۔

اس کتاب میں دلائل کی بنیاد صرف دو چیزوں پر رکھی گئی ہے۔

احادیث من حیث المجموع نہ میرے ہاں سند ہیں نہ احمدی حضرات کے ہاں ٢؎ ۔ مرزا قادیانی صرف ایسی احادیث کو قابل اعتناء سمجھتے ہیں جو قرآن کے خلاف نہ ہوں اور جن کی تائید دیگر احادیث سے بھی ہوتی ہو اور یہی مسلک میرا ہے۔ میرے ہاں کوئی حدیث قرآن پر حکم نہیں بن سکتی۔ البتہ تفسیر کر سکتی ہے اور یہ تفسیر بعض مسائل کو سمجھنے میں بڑی مدد دیتی ہے۔ حدیث میں یا تو حضورﷺ کے اقوال ہیں اور یا صحابہ کرام کے، قرآن حکیم ان حضرات پر انہی کی زبان میں نازل ہوا تھا۔ اس لئے وہ آیات کو ہم سے بہتر سمجھ سکتے تھے۔ ان لوگوں نے جو کچھ کسی آیت کے متعلق حضورﷺ سے سنا، یا خود سمجھ کر پیش کر دیا۔ امام بخاری (وفات ٢٥٦ھ، بمطابق ٨٧٠ء) کے عہد میں صرف تفسیری احادیث کی تعداد ایک لاکھ چالیس ہزار تھی۔ ہمارے مفسرین نے گذشتہ تیرہ سو برس میں ہزار ہا تفاسیر لکھیں۔ جن کی بنیاد ان احادیث پر رکھی۔ میں نے بھی اس کتاب میں چند احادیث سے تفسیر کا کام لیا ہے۔ (سند کا نہیں صرف تفسیر کا) تا کہ قارئین کرام فیصلہ کر سکیں کہ حضورﷺ اور آپ کے صحابہ کرامؓ نے کسی خاص آیت کا مطلب کیا سمجھا تھا۔

١؎ مصنف کا یہ خیال اس کے اپنے پنہاں خیالات کا آئینہ دار ہے۔ حقیقت سے کوسوں دور۔ (مرتب)

٢؎ خوب گذرے گی جو مل بیٹھیں گے۔ منکرین حدیث دو۔ (مرتب)

صفحہ ٩

جماعت احمدیہ کے موجودہ امام میاں محمود احمد قادیانی غیر معمولی فہم وفراست اور علم وتدبر کے مالک ہیں۔ نزاکت وقت کو محسوس کرتے ہوئے آج سے ایک ہفتہ پہلے (جون ١٩٥٣ء کے آخر میں) آپ نے ایک طویل بیان اخبارات کے حوالے کیا۔ جس میں اعلان فرمایا:

اول...... کہ ہم مسلمان ہیں۔ دیگر مسلمانوں سے ہمارا کوئی اختلاف نہیں۔ ہمارا رسول ایک، کتاب ایک ،قبلہ ایک، تمدن ایک ، روایات ایک اور سب کچھ ایک لے ۔

یہ ایک نہایت مبارک اقدام ہے۔ اللہ کرے کہ احمدی وغیر احمدی کے مصنوعی اختلافات ختم ہو جائیں اور ہم سب مل کر پاکستان کے استحکام اور قرآنی اقدار کے احیاء کے لئے کام کریں۔

گذشتہ ستر برس میں احمدی کو غیر احمدی سے جدا کرنے کے لئے کئی ہزار صفحات سپرد قلم ہوئے اور انہیں ملانے کے لئے شاید ایک لفظ بھی کسی زبان سے نہ نکلا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے جنازے اور نمازیں ایک دوسرے سے الگ ہوگئیں۔ رشتے کٹ گئے اور کفر واسلام کے پہاڑ درمیان میں حائل ہوگئے۔

میاں محمود احمد قادیانی کا یہ بیان اس لحاظ سے تاریخی اہمیت کا حامل ہے کہ مصالحت کی طرف یہ پہلا جرأت مندانہ قدم ہے۔ میں اس سلسلے میں امام جماعت سے مؤدبانہ التماس کروں گا کہ وہ اپنی جماعت کو یہ بھی ہدایت کریں کہ وہ دیگر مسلمانوں کے ساتھ ان کی مساجد میں نماز پڑھیں ۔ ان کے جنازوں میں شامل ہوں ۔ اسلامی تقریبات مل کر ادا کریں اور کفر واسلام کے مصنوعی وغیر فطری تصورات کو جھٹک دیں۔

والسلام! برق۔ کیمبل پور، مورخہ ٦؍ جولائی ١٩٥٣ء

پہلا باب ...... مسئلہ ختم نبوت قرآن کی روشنی میں

قبل اس کے کہ ہم آیہ خاتم النبیین پر بحث کریں یہ واضح کر دینا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ کوئی نبی نئی شریعت لے کر نہیں آیا تھا۔ بلکہ تمام انبیاء ایک ہی پیغام کو مختلف زبانوں اور زمانوں میں دہراتے رہے۔ اس موضوع پر مفصل بحث تو میری کتاب ”ایک اسلام“ میں ملے گی۔ یہاں مختصراً اتنا بتانا کافی ہوگا کہ حقیقت ہر زمانے میں ایک رہی ہے۔ دو اور دو ہر دور میں چار تھے۔ لوہا ہمیشہ پانی سے بھاری رہا اور پانی سدا ڈھلان کی طرف بہتا رہا۔ اگر مذہب بھی کسی سچائی کا نام ہے

لے ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور۔ (مرتب)

صفحہ ١١

تو اسے لازماً ہر زمانے میں ایک ہونا چاہئے۔ ایک خدا کا پیغام ایک نسل انسانی کی طرف اس کی ایک فطرت کی اصلاح کے لئے ایک ہی ہو سکتا تھا۔ دس بائیس نہیں ہو سکتے تھے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے بار بار قرآن میں فرمایا: ”ان ھذا لفی الصحف الاولى (الاعلی:١٨)“ ﴿یہ قرآن پہلے صحیفوں میں بھی موجود ہے۔﴾

”مايقال لك الا ماقد قيل للرسل من قبلك (حم السجده:٤٣)“ ﴿ہم تمہیں وہی پیغام دے رہے ہیں جو تم سے پہلے تمام انبیاء کو دیا گیا تھا۔﴾

”للرسل“ کا الف لام استغراقی ہے۔ یعنی تمام انبیاء کو یہی پیغام دیا گیا تھا۔ اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہو گئی کہ ہر نبی کوئی نہ کوئی پیغام لے کر آیا تھا۔ اسی پیغام کا نام شریعت تھا۔ یہ فرض کر لینا کہ بعض انبیاء شریعت کے بغیر آئے تھے۔ ایک مضحکہ خیز تصور ہے۔ اگر ان انبیاء کے پاس کوئی پیغام یا شریعت یا ضابطہ اخلاق موجود نہیں تھا تو ان کی تشریف آوری کا مقصد کیا تھا؟ کیا وہ بھیڑیں چرانے آئے تھے۔ یا ایران و عرب میں تجارتی تعلقات قائم کرنے آئے تھے؟ جب وہ نبی تھے تو اللہ تعالیٰ نے لازماً وحی سے ان کی مدد کی ہوگی۔ خیر و شر کے تمام ضوابط سمجھائے ہوں گے اور ان انبیاء نے نسل انسانی سے کہا ہوگا کہ چوری، زنا، جھوٹ، بددیانتی وغیرہ سے بچو اور سچائی کو اختیار کرو۔ نیز ان کے معاشرتی روابط میں اعتدال پیدا کرنے کے لئے نکاح، وراثت وغیرہ پر مفصل ہدایات دی ہوں گی۔ کیا شریعت ان اخلاقی و معاشرتی ضوابط سے الگ کوئی چیز ہے؟ پس ہم کسی نبی کو غیر شرعی فرض ہی نہیں کر سکتے۔ ہر نبی کے ساتھ وحی تھی۔ وہ نبی وحی سے درس خیر و شر لے کر امت تک پہنچاتا تھا۔ اسی وحی کا نام خواہ وہ دس صفحات میں پھیلی ہوئی تھی یا ہزار میں، شریعت ہے۔ جو زمانے میں ایک تھی۔ ”شرع لکم من الدین ما وصیٰ به نوحاً والذی اوحینا الیک وما وصینا به ابراهیم وموسى وعیسى (الشورى:١٣)“ ﴿اے محمدؐ ہم تمہیں وہی دین اور وہی شریعت دے رہے ہیں۔ جو نوح، ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کو دی گئی تھی۔﴾

ان تمہیدی گذارشات کے بعد آئیے اس آیت پر بحث کریں جس کی مختلف تفسیروں نے ہمارے کئی ہزار بھائیوں کو ہم سے الگ کر دیا ہے ۔ ”ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول الله وخاتم النبيين (الاحزاب:٤٠)“ ﴿محمدؐ تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں۔ (بلکہ اس کی محبت و رحمت کا دامن وسیع تر ہے) یعنی وہ اللہ کا رسول اور خاتم الانبیاء ہے۔﴾

اس آیت کا صرف ایک لفظ خاتم وجہ نزاع کرتے ہیں۔ ”محمد علیہ السلام انبیاء کی مہر ہیں“ یعنی شدہ فرمان سے آئیں گے اور حضور کی تصدیق کے خاتم کے معنی آخری کرتے ہیں۔ دونوں تفسیروں میں جاری رہتا ہے اور دوسرے سے بند ہو جاتا ہے۔ سو لے جائیں۔ مجھے صرف تین ایسی عدالتیں نظر آتی اول علمائے لغت یعنی عربی زبان کے ماہرین، دوم قـ

لغت کی روشنی میں

”المنجد: الخاتم والخاتم عـ کہتے ہیں۔﴾

منتهی الارب: خاتم= مـ خاتم= آ مفردات القرآن۔ صراح۔ قاموس۔ مـ تاج العروس۔ مجمع البحار۔ صحاح العرـ تقریباً ایک جیسے دیئے ہوئے ہیں۔ یعنی:

اب دیکھنا یہ ہے کہ آیۂ زیر بحث میں کا مفہوم تو بالکل صاف ہے۔ لیکن ”نبیوں کی مہر“ ان فقروں کو پڑھئے۔

صفحہ ١١

اس آیت کا صرف ایک لفظ خاتم وجہ نزاع بنا ہوا ہے۔ احمدی بھائی اس کا ترجمہ مہر کرتے ہیں۔ ”محمد علیہ السلام انبیاء کی مہر ہیں“ یعنی امت محمدیہ کے انبیاء حضور علیہ السلام کے مہر شدہ فرمان سے آئیں گے اور حضور کی تصدیق کے بغیر آئندہ کوئی نبی نہیں آسکے گا۔ باقی مسلمان خاتم کے معنی آخری کرتے ہیں۔ دونوں تفسیروں میں انتہائی تضاد ہے۔ ایک تفسیر سے سلسلہ انبیاء جاری رہتا ہے اور دوسرے سے بند ہو جاتا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ جھگڑا فیصلے کے لئے کہاں لے جائیں۔ مجھے صرف تین ایسی عدالتیں نظر آتی ہیں جو اس نزاع پر فیصلہ دینے کی مجاز ہیں۔ اوّل علمائے لغت یعنی عربی زبان کے ماہرین، دوم قرآن اور سوم حدیث۔

لغت کی روشنی میں

”المنجد: الخاتم والخاتم عاقبة كل شئ“ ﴿ہر چیز کے آخر کو خاتم و خاتَم کہتے ہیں۔﴾

منتہی الارب: خاتَم= مہر، انگوٹھی، پایان کار۔ خاتِم= آخر ہر چیز۔ پایان آں و آخر قوم۔

مفردات القرآن۔ صراح۔ قاموس۔ تہذیب (ازہری) لسان العرب۔ تاج العروس۔ مجمع البحار۔ صحاح العربیہ اور کلیات ابی البقاء میں خاتم وخاتم کے معانی تقریباً ایک جیسے دیئے ہوئے ہیں۔ یعنی:

اب دیکھنا یہ ہے کہ آیۂ زیر بحث میں کون سے معنی چسپاں ہوتے ہیں۔ ”آخری نبی“ کا مفہوم تو بالکل صاف ہے۔ لیکن ”نبیوں کی مہر یا انگوٹھی“ کا کوئی مطلب سمجھ میں نہیں آتا۔ پہلے ان فقروں کو پڑھئے۔

صفحہ ١٢

کیا آخری فقرہ کا مطلب یہ ہے کہ اس مہر سے مجسٹریٹ بنتے ہیں؟ کیا دوسرے جملے کا مطلب یہ ہے کہ اس مہر سے عدالتیں تیار ہوتی ہیں۔ اگر یہ مفہوم صریحاً غلط ہے تو پھر خاتم الانبیاء، خاتم الانبیاء (نبیوں کی مہر) کی یہ تفسیر کیسے درست ہو سکتی ہے کہ ”ایسی مہر جس سے نبی بنتے ہیں“ نحو کی رو سے خاتم مضاف ہے اور الانبیاء مضاف الیہ ہے۔

دنیا کی کسی بھی زبان میں ایک بھی ایسا مضاف موجود نہیں جو مضاف الیہ کا خالق و موجد ہو۔ اس لئے خاتم الانبیاء سے ایسی مہر مراد لینا جو انبیاء تیار کرتی ہو نہ صرف عربی لغات کی رو سے غلط بلکہ ہر زبان کے قواعد کے خلاف ہے۔ مضاف اور مضاف الیہ میں صرف نو قسم کے تعلقات ہو سکتے ہیں۔

لیکن خاتم الانبیاء کی احمدی تفسیر سے ایک ایسا مرکب اضافی وجود میں آجاتا ہے جس کی کوئی نظیر دنیا کی کسی زبان میں نہیں مل سکتی۔ علاوہ ازیں جب خاتم کا لفظ کسی جماعت یا کسی گروہ کی طرف مضاف ہو تو وہ لازماً ”آخری“ کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً خاتم المہاجرین (آخری مہاجر) خاتم النبیین (آخری نبی) خاتم الخلفاء (آخری خلیفہ) اور خاتم الانبیاء (آخری نبی) عربوں کے وسیع لٹریچر میں اس کی لاکھوں مثالیں موجود ہیں۔ لیکن اس قاعدہ کے خلاف ایک بھی مثال موجود نہیں۔

بہر حال لغت، نحو اور کلام عرب کی روشنی میں خاتم الانبیاء کے معنی صرف آخری نبی ہیں۔ آئیے اب یہ دیکھیں کہ خود قرآن نے ”خاتم“ کی تفسیر کیا پیش کی ہے۔

مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ”قرآن شریف کی ایک معنی کا التزام رکھتا ہے یا متفرق معنی لیتا ہے اور ان کے اختلاف کی حالت میں وہ گروہ حق

”غرض بر خلاف اس متبادر اور شروع سے آخر تک سمجھے جاتے ہیں۔ ایک نئے معنی ا

”کسی قرآنی آیت کے معنی اگر دوسری آیتیں ان معنوں کی مؤید اور مفسر ہوں۔ قرآن کی بعض آیتیں بعض کے لئے بطور تفسیر کے ہیں ۔“

(آریہ دھرم (نوٹس

پس مرزا قادیانی کے ان ارشادات کی روشنی میں اگر قرآن کے دیگر مقامات پر ایک نظر ڈالیں تو ہمیں جابجا آنے والے انبیاء کے حق میں ایک رسول کے ظہور کی دعاء مانگ رہے ہ (البقرہ: ١٢٩) ”اے اللہ تو اہل مکہ کی طر اس نبی کی بشارت سنا رہے ہیں۔ ”خداوند تیرا خد تیرے بھائیوں میں سے میری مانند ایک نبی برپا کر حضرت یسعیاہ نے ایک امی نبی کی خبر دیتے ہوئے کہا کہ پڑھ اور وہ کہے میں تو نا خواندہ ہوں تورات میں ہے خداوند سینا سے آیا اور سعیر سے ان پر طلوع ہوا۔ فاران کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر ہوا اور اس کے داہنے ہاتھ میں ان کے لئے ایک آ حضرت زکریا علیہ السلام نے اے صیہون کی بیٹی خوشی سے للکار کہ تیرا بادشاہ تیرے پاس آتا ہے۔

صفحہ ١٣

مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ”قرآن شریف کی قرآن شریف ہی سے تفسیر کرو اور دیکھو کہ وہ ایک ہی معنی کا التزام رکھتا ہے یا متفرق معنی لیتا ہے اور اقوال سلف وخلف درحقیقت کوئی مستقل حجت نہیں اور ان کے اختلاف کی حالت میں وہ گروہ حق پر ہوگا۔ جن کی رائے قرآن کریم کے مطابق ہے۔“

(ازالہ اوہام ج ٢ ص ٥٤٨، خزائن ج ٣ ص ٤٨٩)

”غرض برخلاف اس متبادر اور مسلسل معنوں کے سوا جو قرآن شریف سے ..... اوّل سے آخر تک سمجھے جاتے ہیں۔ ایک نئے معنی اپنی طرف سے گھڑ لینا یہی تو الحاد اور تحریف ہے۔“

(ازالہ اوہام ج ٢ ص ٥٨٥، خزائن ج ٣ ص ٥٠١)

”کسی قرآنی آیت کے معنی اگر کریں تو اس طور سے کرنے چاہئے کہ دوسری قرآنی آیتیں ان معنوں کی مؤید اور مفسر ہوں۔ اختلاف اور تناقض نہ ہو۔ کیونکہ قرآن کی بعض آیات بعض کے لئے بطور تفسیر کے ہیں۔“

(آریہ دھرم (نوٹس بنام آریہ صاحبان و پادری صاحبان) ص ٢، خزائن ج ١٠ ص ٨٠)

مرزا قادیانی کے ان ارشادات سے ہمیں سو فیصدی اتفاق ہے۔ آئیے! اب یہ دیکھیں کہ قرآن کے دیگر مقامات سے خاتم کی کون سی تفسیر مستنبط ہوتی ہے۔ اگر ہم صحائف اولیٰ پر نظر ڈالیں تو ہمیں جابجا آنے والے انبیاء کے متعلق بشارات ملتی ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام مکہ میں ایک رسول کے ظہور کی دعاء مانگ رہے ہیں۔ ”ربنا وابعث فیھم رسولا (البقرہ:١٢٩)“ ”اے اللہ تو اہل مکہ کی طرف رسول بھیج۔“ حضرت موسیٰ علیہ السلام مسلسل کسی نبی کی بشارت سنا رہے ہیں۔ ”خداوند تیرا خدا وند تیرے لئے تیرے ہی درمیان سے تیرے ہی بھائیوں میں سے میری مانند ایک نبی برپا کرے گا۔“

(استثناء باب ١٨ آیت ١٥)

حضرت یسعیاہ ایک امی نبی کی خبر دے رہے ہیں۔ ”وہ کتاب ایک ان پڑھ کو دیں اور کہیں کہ پڑھ اور وہ کہے میں تو نا خواندہ ہوں۔“

(یسعیاہ باب ٢٩ آیت ١٢)

تورات مقدس خداوند کا جلال پھر وادی فاران میں دیکھ رہی ہے۔ ”خداوند سینا سے آیا۔ شعیر سے ان پر طلوع ہوا۔ فاران ہی کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر ہوا۔ دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آیا اور اس کے داہنے ہاتھ میں ان کے لئے ایک آتشیں شریعت تھی۔“

(استثناء باب ٣٣ آیت ٢)

حضرت زکریا علیہ السلام ایک نجات دہندہ کا ذکر فرما رہے ہیں۔ ”اے یروشلم کی بیٹی تو خوب للکار کہ تیرا بادشاہ تیرے پاس آتا ہے۔ وہ صادق ہے اور نجات دینا اس کے ذمے ہے۔“

(زکریا باب ٩ آیت ٩)

صفحہ ١٤

حضرت مسیح علیہ السلام بیسیوں پیرایوں میں ایک پرجلال رسول کی آمد کا اعلان کر رہے ہیں ۔ ”اس کے بعد میں تم سے بہت سی باتیں نہ کروں گا۔ کیونکہ دنیا کا سردار آتا ہے ۔“

(یوحنا باب ١٤ آیت ٣٠)

لیکن قرآن حکیم میں کسی آنے والے نبی کا اشارہ تک موجود نہیں ۔ بلکہ حضورﷺ کو خاتم الانبیاء قرار دینے کے بعد تقریباً ایک سو آیات میں اس حقیقت کو بار بار دہرایا ہے کہ اب قیامت تک کوئی اور وحی نازل نہیں ہوگی ۔ تمام آیات کو یہاں درج کرنا دشوار ہے۔ اس لئے چند ایک ملاحظہ فرمائیے ۔

غیب پر ایمان لانے کے بعد صلوٰۃ و زکوٰۃ پر کاربند ہوتے ہیں اور ”والذین یؤمنون بما انزل الیک وما انزل من قبلک وبالآخرۃ ھم یوقنون (البقرہ:٤)“ وہ اس وحی پر ایمان لاتے ہیں جو تم پر نازل ہوئی ۔ جو تم سے پہلے انبیاء کو دی گئی اور پھر قیامت پر ایمان لاتے ہیں ۔ غور کرو کہ حضورﷺ اور قیامت کے درمیان کسی وحی کا ذکر موجود نہیں ۔ مسلمان کی تعریف صرف اتنی ہی بتائی ہے کہ وہ حضورﷺ اور سابق انبیاء کی وحی پر ایمان لانے کے بعد قیامت پر یقین رکھتا ہو ۔ اگر حضورﷺ کے بعد کسی نبی کی آمد مقرر ہوتی تو جس اللہ نے صلوٰۃ وزکوٰۃ پر اندازہ ڈیڑھ سو اور مطالعہ کائنات پر ساڑھے سات سو آیات نازل کیں ۔ جس نے زمین پر چلنے، گفتگو کرنے، نکاح، طلاق، وضو، قربانی، تجارت اور قرض جیسے چھوٹے چھوٹے مسائل کو کھول کھول کر بیان کیا ۔ کیا یہ ممکن تھا کہ وہ امت مسلمہ کو ایک نبی کی آمد سے غافل رکھتا ؟ اور حضورﷺ کے بعد صرف قیامت پر ایمان لانے کا حکم دیتا؟ جس اللہ نے پہلے انبیاء کو بار بار تاکید کی تھی کہ بعد میں آنے والے انبیاء پر بھی ایمان لانا اور جن کے صحائف اس قسم کی پیش گوئیوں سے لبریز ہیں ۔ وہ اللہ مسلمانوں پر یہ ظلم نہیں کر سکتا تھا کہ پہلے تو حضورﷺ کو خاتم النبیین قرار دیتا۔ پھر ایک سو آیات میں انہیں حضورﷺ اور پہلے انبیاء کی وحی پر ایمان لانے کے بعد قیامت پر یقین رکھنے کی ہدایت کرتا ۔ ایسے لوگوں کو ”اولئک علی ھدی من ربھم واولئک ھم المفلحون (البقرہ:٥) “ہدایت یافتہ و ناجی قرار دیتا ہے اور پھر چپکے سے ایک رسول بھی بھیج دیتا ۔

حریص علیکم بالمؤمنین رؤف رحیم (التوبہ:١٢٨)“ محمد کو تمہاری تکلیف سخت

صفحہ ١٥

میں ایک پر جلال رسول کی آمد کا اعلان کر رہے کروں گا۔ کیونکہ دنیا کا سردار آتا ہے۔“

(یوحنا باب ١٤ آیت ٣٠)

نبی کا اشارہ تک موجود نہیں۔ بلکہ حضور ﷺ کو ات میں اس حقیقت کو بار بار دہرایا ہے کہ اب ات کو یہاں درج کرنا دشوار ہے۔ اس لئے چند

ت میں مؤمنوں کی تعریف یہ بتائی گئی ہے کہ وہ ہوتے ہیں اور ” والذين يؤمنون بما انزل يوقنون (البقره: ٤) ”وہ اس وحی پر ایمان دی گئی اور پھر قیامت پر ایمان لاتے ہیں۔﴾ درمیان کسی وحی کا ذکر موجود نہیں۔ مسلمان کی اور سابق انبیاء کی وحی پر ایمان لانے کے بعد کسی نبی کی آمد مقرر ہوتی تو جس اللہ نے صلوٰۃ ھے سات سو آیات نازل کیں۔ جس نے زمین تجارت اور قرض جیسے چھوٹے چھوٹے مسائل کو ی مسئلہ کو ایک نبی کی آمد سے غافل رکھتا؟ اور حکم دیتا؟ جس اللہ نے پہلے انبیاء کو بار بار تاکید اور جن کے صحائف اس قسم کی پیش گوئیوں سے ا پہلے تو حضور ﷺ کو خاتم النبیین قرار دیتا۔ پھر اء وحی پر ایمان لانے کے بعد قیامت پر یقین هدى من ربهم واولئک هم المفلحون سکے سے ایک رسول بھی بھیج دیتا۔ سے شق تھا۔ ”عزیز علیہ ماعنتم التوبہ : ١٢٨) ” محمد کو تمہاری تکلیف سخت

شاق گزرتی ہے۔ وہ تمہیں سربلند دیکھنے کے لئے مضطرب ہے اور وہ تم پر بے حد مہربان اور شفیق ہے۔﴾ تو جس رسول کو اپنی امت سے یہ عشق تھا کیا وہ برداشت کر سکتا تھا کہ ساری امت آنے والے نبی سے غافل رہ کر جہنم کا ایندھن بن جائے۔ یقیناً کسی نبی کی بعثت مقدر ہی نہیں تھی۔ ورنہ حضور ﷺ کی وحی میں لازماً اس کا ذکر ہوگا۔

”اطيعوا الله واطيعوا الرسول واولى الامر منكم (النساء: ٥٩) ”اے مسلمانو! خدا، رسول عربی اور اپنے فرماں روا کی جو تم میں سے ہو۔ اطاعت کرو۔﴾ اگر رسول عربی ﷺ کے بعد کسی نبی کو بھی آنا ہوتا تو اللہ اس کی اطاعت کی بھی ہدایت نافذ کرتا۔ اولیٰ الامر کی اطاعت کا حکم دینا اور کسی نبی کا ذکر تک نہ کرنا۔ صاف اعلان ہے۔ اس حقیقت کا کہ حضور ﷺ آخری نبی تھے۔

”آمنوا امنوا بالله ورسوله والكتاب الذي نزل على رسوله والكتب الذى انزل من قبل (النساء : ١٣٦) ”اے لوگو! خدا ورسول عربیؐ پر ایمان لانے کے بعد اس کتاب کو جو رسول عربیؐ پہ اتری ہے اور ان کتابوں کو جو پہلے اتر چکی ہیں مانو۔﴾ یہاں پہلی کتابوں پر ایمان لانے کا حکم تو موجود ہے۔ لیکن بعد میں آنے والی کسی وحی کا ذکر موجود نہیں۔

”والمؤمنون يؤمنون بما انزل اليك وما انزل من قبلك (النساء: ١٦٢) ”مؤمن وہ ہے جو اے رسول تیری وحی اور تجھ سے پہلے انبیاء کی وحی پر ایمان لائے ۔﴾

غور کا مقام ہے کہ جس اللہ نے حضور ﷺ اور گذشتہ انبیاء کی وحی پر ایمان لانے کا سو مرتبہ حکم دیا۔ کیا وہ صرف ایک مرتبہ یہ نہیں کہہ سکتا تھا۔ ”وما ينزل من بعدك“ کہ مؤمن آنے والے انبیاء پہ بھی ایمان لائے گا؟ کیوں نہیں کہا؟ کیا اللہ تعالیٰ کو ہماری گمراہی مقصود تھی؟ کیا کسی نبی پہ ایمان لانا اس قدر مشکل فرض تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے صیغہ راز ہی میں رکھنا مناسب سمجھا۔ تاکہ لوگ اسلام سے منحرف نہ ہو جائیں؟ جو مسلمان پہلے ہی ڈیڑھ لاکھ انبیاء پہ ایمان رکھتا ہے۔ اسے صرف ایک اور نبی کو تسلیم کرنے میں کیا تکلیف ہو سکتی تھی؟ صاف معلوم ہوتا ہے کہ کسی نبی کی آمد مقدر ہی نہیں تھی۔ ورنہ ساڑھے چھ ہزار آیات نازل کرنے والا خدا کم از کم ایک آیت تو اس موضوع پہ بھی نازل کرتا۔

صفحہ ١٦

خاتم النبیین کی تفسیر حدیث میں

مسئلہ ”حدیث“ پر میں ایک پوری کتاب ”دو اسلام“ کے نام سے لکھ چکا ہوں۔ میرے ہاں صرف وہی حدیث قابل استناد ہے جو قرآن کی مفسر اور قرآن کے مطابق ہو۔ کسی حدیث کو وحی کا درجہ حاصل نہیں۔ ہمارے پاس جو کتاب بذریعہ وحی پہنچی وہ قرآن حکیم ہے۔ جس طرح ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ قرآن کی تفسیر پیش کریں۔ اسی طرح صحابہ کرام کو بھی تفسیر الوحی کا حق حاصل تھا۔ حدیث کیا ہے؟ حضور علیہ السلام اور صحابہؓ کے اقوال واعمال کا مجموعہ۔ قرآن انہی پہ انہی کی زبان میں نازل ہوا تھا۔ یہ بزرگ قرآن کو ہم سے بہتر سمجھتے تھے۔ اس لئے نامناسب نہ ہوگا۔ اگر ہم خاتم النبیین کی تفسیر سمجھنے کے لئے حدیث سے بھی مدد لیں۔

مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ”دوسری کتابیں جو ہماری مسلم کتابیں ہیں۔ ان میں سے اوّل درجہ پر صحیح بخاری ہے اور اس کی تمام وہ احادیث ہمارے ہاں حجت ہیں۔ جو قرآن شریف سے مخالف نہیں اور ان میں سے دوسری کتاب صحیح مسلم ہے اور اس کو ہم اس شرط سے مانتے ہیں کہ قرآن اور صحیح بخاری سے مخالف نہ ہو اور تیسرے درجہ پر صحیح ترمذی، ابن ماجہ، موطا، نسائی، ابن داؤد، دارقطنی کتب حدیث ہیں۔ جن کی حدیثوں کو اس شرط سے صحیح مانتے ہیں کہ قرآن اور صحیحین سے مخالف نہ ہوں ۔“

(آریہ دھرم ص ٨، خزائن ج ١٠ص ٨٦)

یوں تو احادیث کے وسیع دفتر میں ختم نبوت پر بہت زیادہ احادیث ہوں گی۔ لیکن اس وقت میرے سامنے دوسو دس احادیث ہیں۔ جن میں سے صرف چند ایک درج ہیں۔

اوّل...... ”مثلى ومثل الانبياء كمثل قصر احسن بنيانه ترك منه موضع لبنة فطاف به النظار يتعجبون من حسن بنيانه الا موضع تلك اللبنة فكنت انا موضع اللبنة ختم بى البنيان وختم بى الرسل (شرح السنه ج ٧ ص ٨، مشكوة ص ٥١١، باب فضائل سيد المرسلين) ”میرا تعلق گذشتہ انبیاء سے اس عمارت کی طرح ہے جو مکمل ہوگئی۔ لیکن اس میں ایک اینٹ کی جگہ خالی رہ گئی۔ لوگ اس عمارت کا چکر کاٹتے اس کی استواری وحسن تعمیر کی تعریف کرتے اور اس خالی جگہ پہ حیرت کا اظہار کرتے۔ اس خالی جگہ کی اینٹ میں ہوں۔ میری وجہ سے نبوت کی عمارت مکمل ہوگئی اور مجھ پر انبیاء کا خاتمہ ہوگیا ہے۔“ خاتم النبیین کی کس قدر صاف تفسیر ہے۔

صفحہ ١٧

خلفه نبى وانه لا نبي بعدي سيكون خلفاء يكثرون (بخاری ج ١ ص ٤٩١، باب ذكر عن بنى اسرائيل، مسلم ج ٢ ص ١٢٦ باب وجوب الوفا ببيعة الخليفة الاول، احمد، ابن ماجہ) ”بنی اسرائیل کے سردار انبیاء ہوا کرتے تھے۔ ایک نبی کے بعد دوسرا آ جاتا تھا۔ لیکن اے مسلمانو ! تم میں میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ صحابہؓ نے پوچھا تو پھر ہمارے حاکم کون ہوں گے؟ فرمایا خلفاء۔ ﴾

ص ١٩٩، كتاب المساجد وموضع الصلوة، ترمذی) ”میں تمام نسل انسانی کی طرف مبعوث ہوا ہوں اور مجھ پر انبیاء کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے۔ ﴾

اس حدیث کا پہلا ٹکڑہ: ”انی رسول الله اليكم جميعا“ (القرآن) میں تمام انسانوں کی طرف مبعوث ہوا ہوں۔ اور دوسرا خاتم النبیین کی تفسیر ہے۔

وانا خاتم النبيين لانبى بعدى (مسلم ج ١ ص ٣٩٧، كتاب الفتن واشراط الساعة، دارمی، ترمذی، ج ٢ ص ٤٥، واللفظ له باب ماجاء لا تقوم الساعة حتى يخرج كذابون، ابن ماجہ ج ٢ ص ٧٥، باب ماجاء لا تقوم الساعة حتى يخرج كذابون) ”میری امت میں تیس ایسے جھوٹے آئیں گے جو نبوت کا دعویٰ کریں گے۔ یاد رکھو کہ میں خاتم الانبیاء ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ ﴾

ص ٢٩٧، باب فتنة الدجال وخروج عيسى بن مريم) ”میں آخری نبی اور تم آخری امت ہو۔ ﴾

ملاحظہ فرمایا آپ نے کہ حضور ﷺ نے خاتم النبیین کی کتنی واضح تفسیر فرمائی ہے۔ یعنی آخری نبی۔

ج ١١ ص ٤٥٥، حدیث نمبر ٣٢١٣٩) ”آدم علیہ السلام نے اللہ سے پوچھا کہ محمد کون ہے؟ فرمایا سلسلۂ انبیاء میں تیرا آخری بیٹا۔ ﴾

صفحہ ١٨

عساکر، کنزالعمال ج١ حدیث ٣٢٦٩)“ اے ابوذر! پہلا رسول آدم (علیہ السلام) تھا اور آخری محمد ہے۔

الرؤيا الصالحة (بخاری واللفظ له ج١ ص ١٠٣٥، باب مبشرات، مسلم ج١ ص ١٩١، باب النهى عن قرآة القرآن فی الرکوع والسجود، طبرانی، احمد)“ نبوت ختم ہوچکی ہے، میرے بعد نبوت نہیں ہوگی۔ صرف بشارات ہوں گی۔ کسی نے پوچھا کہ یہ بشارات کیا ہیں؟ فرمایا سچا خواب۔

اگر حضور ﷺ کے بعد ظلی، بروزی، کشفی، جزوی یا تشریعی نبوت کا وجود بھی ہوتا تو آپ ضرور ذکر فرماتے۔ لیکن آپ نے سچے خواب کے بغیر باقی ہر قسم کی نبوت کا انکار کر دیا۔ اس سے یہ بات عیاں ہوگئی کہ حضور ﷺ پر سلسلۂ نبوت ختم ہوچکا۔

طلب کی تو آپ نے جواب میں لکھا۔ ”ياعم اقم بمكانك الذي انت به فان الله قد ختم بك الهجرة كما ختم بى النبوة (طبرانی، ابن عساکر)“ اے میرے چچا! وہیں رہو۔ اللہ نے تم پر ہجرت کو یوں ختم کردیا ہے جس طرح مجھ پر نبوت کو۔

ص ٥٠١، باب ماجاء فی اسماء رسول الله، مسلم واللفظ له ج٢ ص ٢٦١، باب فی اسمائہ ﷺ، موطا، ترمذی)“ میں عاقب (آخری) ہوں اور عاقب وہ ہوتا ہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔

یہ تھیں چند احادیث.. مشتے از خروارے۔ جن میں لفظ خاتم کی تشریح مختلف اسلوبوں، پیرایوں اور عبارتوں میں پیش کی گئی ہے۔ کہیں حضور ﷺ نے فرمایا: ”میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔“ کہیں اپنے آپ کو عاقب، کہیں آخرالانبیاء، اور کہیں قصر نبوت کی آخری اینٹ قرار دیا۔ تاکہ لفظ خاتم کا مفہوم سمجھنے میں کوئی دقت باقی نہ رہے۔ نیز خاتم النبیین میں لفظ ”النبیین“ پہ استغراقی ال لگا کر ہر قسم کی نبوت کا امکان ختم کردیا۔ الف لام کی چار قسمیں ہوتی ہیں۔ ان میں سے ایک استغراقی ہوتا ہے۔ جس کا مفہوم ہوتا ہے ”تمام کل“ یہ جب جمع پر داخل ہو تو عموماً استغراقی ہوتا ہے۔

١٩

علامہ ابوالبقاء اپنی کلیات میں لکھتے ہیں:۔ الفردا وعلى الجمع تفيد الاستغراق الا ان ہو یا جمع پر۔ استغراقی ہوگا۔ ہاں اگر تعیین کر لی جائے تو مثلاً ”هدى للمتقين“ ”قرآن محيط بالكافرين“ ”اللہ تمام کفار کا محاصرہ کر کائنات کا رب ہے۔“ وغیرہ وغیرہ۔

تو خاتم النبیین کے معنی ہوں گے۔ تمام والا۔ اگر خاتم کے معنی یہ کئے جائیں کہ صرف تشریعی ہوگا۔ خاتم بعض النبیین یعنی حضور شرعی انبیاء کے خاتم انتہاء کا دوسرا نام ہے۔ وہ انتہاء کیسی جس کے بعد بھی جس کے بعد بھی گاڑیاں آتی رہیں اور وہ جیب میں دوسو روپے باقی ہوں۔

چودہ لاکھ احادیث کے دفتر بے پایاں م حلال کو حرام اور حرام کو حلال بنادیا ہے۔ صرف ایک امکان نکلتا ہے اور وہ یہ ہے جب حضور ﷺ کا فرما نے فرمایا: ”لو عاش لكان صديقاً نبياً“ (ا یہ روایت محض غلط ہے۔ اس لئے کہ قرآ کے خلاف ہے اور اس کی وہی تفسیر قابل قبول ہے جو فرماتے ہیں۔ ”ولو قضى بعده بعده“ اگر حضور ﷺ کے بعد کسی نبی کا آنا مقد ہوتا.. لیکن حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اس اور تقریباً یہی مضمون ہے حدیث ذیل

”لوكان بعدی نبيا لكان عمر“ اگر میرے لفظ خاتم کا استعمال مرزا قادیانی کے ہاں مرزا قادیانی نے سینکڑوں مرتبہ لفظ خاتم

صفحہ ١٩

صل آدم وآخرهم محمد (ترمذی، ابن ے ابوذر! پہلا رسول آدم (علیہ السلام) تھا اور

الا المبشرات قالوا وما المبشرات قال ١٠، باب مبشرات، مسلم ج ١ ص ١٩١، ماجه، طبرانی، احمد) ” نبوت ختم ہو چکی ہوں گی۔ کسی نے پوچھا کہ یہ بشارات کیا ہیں؟

ہ جزوی یا نسبی نبوت کا وجود بھی ہوتا تو آپ تنافی ہر قسم کی نبوت کا انکار کر دیا۔ اس سے یہ

عباس نے حضور ﷺ سے ہجرت کی اجازت مكانك الذي أنت به فأن الله قد ختم ن عساكر) ”اے میرے چچا! وہیں رہو۔ ر ہجرت کو ۔

الذي ليس بعده نبی (بخاری ج ١ ومسلم واللفظ له ج ٢ ص ٢٦١ ، باب فی آخری ) ہوں اور عاقب وہ ہوتا ہے جس کے

جن میں لفظ خاتم کی تشریح مختلف اسلوبوں، نے فرمایا: ” میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے تعمیر نبوت کی آخری اینٹ قرار دیا۔ تاکہ تم النبیین میں لفظ ”النبیین“ پر استغراقی ال نہیں ہوتی ہیں۔ ان میں سے ایک استغراقی داخل ہو تو عموماً استغراقی ہوتا ہے۔

علامہ ابو البقاء اپنی کلیات میں لکھتے ہیں: ”لام التعريف سواء دخلت على الفرد او على الجمع تفيد الاستغراق الا اذا كان معهودا“ (الف، لام، مفرد پر داخل ہو یا جمع پر۔ استغراقی ہوگا۔ ہاں اگر تعیین کر لی جائے تو اور بات ہے)

مثلاً ”هدى للمتقين“ ﴿قرآن تمام متقین کے لئے ہدایت ہے۔﴾ ”والله محيط بالكافرين“ ﴿اللہ تمام کفار کا محاصرہ کر رہا ہے۔﴾ ”رب العالمین“ ﴿اللہ تمام کائنات کا رب ہے۔﴾ وغیرہ وغیرہ۔

تو خاتم النبیین کے معنی ہوں گے۔ تمام نبیوں کا، خواہ وہ ظلی ہوں، یا امتی۔ ختم کرنے والا۔ اگر خاتم کے معنی یہ کئے جائیں کہ صرف تشریعی انبیاء ختم ہوئے ہیں تو پھر خاتم النبیین کا مفہوم ہوگا۔ خاتم بعض النبیین یعنی حضور شرعی انبیاء کے خاتم ہیں اور غیر شرعی آتے رہیں گے۔ ختم یا خاتمہ انتہاء کا دوسرا نام ہے۔ وہ انتہاء کیسی جس کے بعد بھی کوئی چیز موجود رہے۔ وہ آخری گاڑی کیسی۔ جس کے بعد بھی گاڑیاں آتی رہیں اور وہ جیب میں آخری پیسہ کیسا جس کے بعد بھی جیب میں دو سو روپے باقی ہوں۔

چودہ لاکھ احادیث کے دفتر بے پایاں میں جہاں وضاعین نے سینکڑوں مقامات پر حلال کو حرام اور حرام کو حلال بنا دیا ہے۔ صرف ایک حدیث ایسی ملتی ہے جس سے اجرائے نبوت کا امکان نکلتا ہے اور وہ یہ ہے جب حضور ﷺ کا فرزند ابراہیم فوت ہو گیا تو بروایت ابن ماجہ آپ نے فرمایا: ”لو عاش لكان صديقاً نبياً“ ﴿اگر ابراہیم زندہ رہتا تو نبی ہوتا۔﴾

یہ روایت محض غلط ہے۔ اس لئے کہ قرآن حکیم کی ایک سو آیات اور دوسو دس احادیث کے خلاف ہے اور اس کی وہی تفسیر قابل قبول ہے جو امام بخاری، ابو نعیم اور احمد نے پیش کی۔ فرماتے ہیں: ” ولو قضى بعد محمد ﷺ نبی عاش ابنه ولكن لا نبی بعده“ ﴿اگر حضور ﷺ کے بعد کسی نبی کا آنا مقدر ہوتا تو ابراہیم زندہ رہتا اور آپ کے بعد نبی بنتا۔ لیکن حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔﴾

اور تقریباً یہی مضمون ہے حدیث ذیل کا۔ احادیث کے تمام مجموعوں میں موجود ہے۔ ”لوكان بعدی نبیاً لكان عمر“ ﴿اگر میرے بعد نبی ہو سکتا تو عمر ہوتا ۔﴾

لفظ خاتم کا استعمال مرزا قادیانی کے ہاں

مرزا قادیانی نے سینکڑوں مرتبہ لفظ خاتم استعمال کیا اور ان مقامات کے بغیر جہاں خاتم

صفحہ ٢٠

النبیین کی تفسیر نبی ساز فرماتے ہیں۔ باقی ہر مقام پر اس لفظ کو آخری کے معنوں میں استعمال کیا۔

مثلاً: ”خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں بارہ موسوی خلیفوں کا ذکر فرمایا۔ جن میں سے ہر ایک حضرت موسیٰ کی قوم میں سے تھا اور تیرھواں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر فرمایا جو موسیٰ کی قوم کا خاتم الانبیاء تھا۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٤٢، خزائن ج ١٧ ص ١٣٢)

”یہ ماننا ضروری ہے کہ وہ (مسیح موعود یعنی خود مرزا قادیانی) اس امت کا خاتم الاولیاء ہے۔ جیسا کہ سلسلہ موسویہ کے خلیفوں میں حضرت عیسیٰ خاتم الانبیاء ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٤٩، خزائن ج ١٧ ص ١٢٧)

”مسیح موعود خاتم خلفائے محمدیہ ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٩١، خزائن ج ١٧ ص ٢٤٤)

”ہمارے نبیؐ خاتم الانبیاء ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ نہ کوئی نیا نہ پرانا۔“

(انجام آتھم ص ٢٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٧)

”اللہ نے حضرت مسیح کو امت موسویہ کا خاتم الانبیاء بنایا۔“

(ترجمہ خطبہ الہامیہ ص ٤٤، خزائن ج ١٦ ص ٧٩)

”انا خاتم الاولیاء لا ولی بعدی“ میں خاتم الاولیاء ہوں۔ میرے بعد کوئی ولی نہیں آئے گا۔

(خطبہ الہامیہ ص ٣٥، خزائن ج ١٦ ص ٧٠)

”اہل کشف نے مسیح موعود کو جو آخری خلیفہ اور خاتم الخلفاء ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٢٠١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٩)

”اور میں جانتا ہوں کہ تمام نبوتیں اس (حضور علیہ السلام) پر ختم ہیں اور اس کی شریعت خاتم الشرائع ہے۔“

(چشمہ معرفت ص ٣٢٤، خزائن ج ٢٣ ص ٣٤٠)

کیا یہ عجیب بات نہیں کہ مرزا قادیانی نے لفظ خاتم کو باقی ہر مقام پر آخری کے معنوں میں استعمال کیا ہے۔ لیکن جب خاتم النبیین کی تفسیر کرنے لگے تو فرمایا۔ ”اسی وجہ سے آپ کا نام خاتم النبیین ٹھہرا۔ یعنی آپ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے اور آپ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٩٧، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٠)

اور اس سے عجیب تر یہ ہے کہ جب اپنے آپ کو خاتم الخلفاء والانبیاء قرار دیتے ہیں تو لفظ خاتم کو پھر ”آخری“ کے مفہوم میں استعمال کرتے ہیں۔ خطبہ الہامیہ میں اپنی نبوت پر بحث کرتے ہوئے حدیث کی اینٹ اور عمارت والی تمثیل کا ذکر یوں فرماتے ہیں۔ ”فاراد اللہ ان

صفحہ ٢١

باقی ہر مقام پر اس لفظ کو آخری کے معنوں میں استعمال کیا۔ میں بارہ موسوی خلیفوں کا ذکر فرمایا۔ جن میں سے ہر ایک کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر فرمایا جو موسیٰ کی قوم کا

(تحفہ گولڑویہ ص ٤٧، خزائن ج ١٧ ص ١٣٣)

کہ مسیح موعود یعنی خود مرزا قادیانی ) اس امت کا خاتم الاولیاء ہیں حضرت عیسیٰ خاتم الانبیاء ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٤٩، خزائن ج ١٧ ص ١٢٧)

ریہ ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٩١، خزائن ج ١٧ ص ٢٤٤)

ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ نہ کوئی نیا نہ

(انجام آتھم ص ٢٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٧)

یعت موسویہ کا خاتم الانبیاء بنایا۔“

(ترجمہ خطبہ الہامیہ ص ٣٣، خزائن ج ١٦ ص ٧٩)

ولی بعدی ”میں خاتم الاولیاء ہوں۔ میرے بعد کوئی ولی

(خطبہ الہامیہ ص ٣٥، خزائن ج ١٦ ص ٧٠)

ود کو جو آخری خلیفہ اور خاتم الخلفاء ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٢٠١، خزائن ج ١٧ ص ٢٠٩)

ہم نے تمہیں اس (حضور علیہ السلام) پر ختم ہیں اور اس کی شریعت

(چشمہ معرفت ص ٣٢٤، خزائن ج ٢٣ ص ٣٤٠)

مرزا قادیانی نے لفظ خاتم کو باقی ہر مقام پر آخری کے معنوں ان کی تفسیر کرنے لگے تو فرمایا۔ ”اسی وجہ سے آپ کا نام کی کمالات نبوت بخشتی ہے اور آپ کی توجہ روحانی نبی تراش

(حقیقت الوحی ص ٩٦، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٠)

ہے کہ جب اپنے آپ کو خاتم الخلفاء والانبیاء قرار دیتے ہیں تو میں استعمال کرتے ہیں۔ خطبہ الہامیہ میں اپنی نبوت یہ بحث حضرت والی تمثیل کا ذکر یوں فرماتے ہیں۔ ”فـــــاراد الله ان

يتم البناء ويكمل البناء باللبنة الاخيرة فانا تلك اللبنة ”پھر اللہ نے چاہا کہ نبوت کی عمارت کو آخری اینٹ سے مکمل کرے وہ آخری اینٹ میں ہوں۔“

(خطبہ الہامیہ ص ١١٢، خزائن ج ١٦ ص ١٧٨)

اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ مرزا قادیانی آخری نبی ہیں اور آئندہ کوئی نبی نہیں آئے گا۔ ”اس امت میں نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں اور ضرور تھا کہ ایسا ہوتا تا جیسا کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ ایسا شخص ایک ہی ہوگا وہ پیش گوئی پوری ہو جائے۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦، ٤٠٧)

”ولكن رسول الله وخاتم النبيين ! اس آیت میں ایک پیش گوئی مخفی ہے اور یہ ہے کہ اب نبوت پر قیامت تک مہر لگ گئی ہے۔ بجز بروزی وجود کے جو خود آنحضرتﷺ کا وجود ہے۔ ایک بروز محمدی جمیع کمالات محمدی کے ساتھ آخری زمانہ کے لئے مقدر تھا۔ سو وہ ظاہر ہو گیا۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢١٥)

اس اقتباس میں ایک بروز محمدی کا جملہ زیر نظر رکھئے اور ان تمام اقتباسات کا ملخص عبارات ذیل میں ملاحظہ فرمائیے۔

”امت محمدیہ میں ایک سے زیادہ نبی کسی صورت میں بھی نہیں آسکتے۔ چنانچہ نبی کریمﷺ نے اپنی امت سے صرف ایک نبی اللہ کے آنے کی خبر دی ہے۔ جو مسیح موعود ہے اور اس کے سوا قطعاً کسی کا نام نبی اللہ یا رسول اللہ نہیں رکھا جائے گا اور کسی اور نبی کے آنے کی خبر آپ نے دی ہے۔ بلکہ لانبی بعدی فرما کر اوروں کی نفی کر دی اور کھول کر بیان فرما دیا کہ مسیح موعود کے سوا میرے بعد قطعاً کوئی نبی یا رسول نہیں آئے گا۔“

(رسالہ تشحیذ الاذہان قادیان ماہ مارچ ١٩١٤ء)

ان اقتباسات کا ماحصل یہ ہے کہ مرزا قادیانی اپنے آپ کو آخری نبی سمجھتے ہیں اور یہی عقیدہ اکابر احمدیت کا ہے۔ ساتھ ہی خاتم الانبیاء کے معنی یہ کرتے ہیں کہ حضور علیہ السلام کی ”روحانی توجہ نبی تراش ہے“ اس تشریح پر دو اعتراض وارد ہوتے ہیں۔

١؎ لا نبی بعدی کی عجیب تفسیر ہے۔ لا (نہیں) نبی (کوئی نبی) بعدی (میرے بعد) یعنی حضورﷺ فرما رہے ہیں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور ایڈیٹر صاحب ”سوائے مسیح موعود کے“ کا اضافہ فرما رہے ہیں۔ آخر یہ ”سوائے مسیح موعود“ کس عبارت کا ترجمہ ہے۔ (برق)

صفحہ ٢٢

اول ...... جب حضور ﷺ کی توجہ سے نبی پیدا ہو سکتے ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ آپؐ کے صحابہ کرامؓ میں سے کوئی شخص مثلاً ابوبکرؓ، عمرؓ، علیؓ، ابن عوفؓ، ابن عباسؓ، ابن مسعودؓ منصب نبوت پر فائز نہ ہو سکا۔ یہ حضرات اطاعت و متابعت کے اس مقام اعلیٰ پر فائز تھے کہ بقول حضور ﷺ ’’ان أصحابي كالنجوم بأيهم اقتديتم اهتديتم‘‘ میرے صحابہؓ روشن ستارے ہیں۔ تم جس کی بھی پیروی کرو گے منزل کو پاؤ گے۔﴾

یہ حضرات اس درجہ کے عابد تھے کہ نماز میں کھڑے کھڑے ان کے پاؤں سوج جاتے تھے۔ اس بلا کے فدا کار تھے کہ جب ابروئے رسالت کا اشارہ پاتے تھے تو گھر میں صرف خدا و رسول کا نام چھوڑ آتے تھے۔ اس غضب کے مجاہد تھے کہ ان کی شمشیر خارا شگاف سے ہفت اقلیم کی طاغوتی طاقتیں لرزہ براندام تھیں۔ اس کمال کے عادل تھے کہ جب خیبر کے یہودیوں نے ایک صحابیؓ کو سیم و زر کی رشوت دے کر کوئی بے انصافی کرانا چاہی اور اس نے انکار کر دیا تو اکابر خیبر بول اٹھے۔ ’’خدا کی قسم ارض و سماء اسی انصاف کے بل پر قائم ہیں۔‘‘

ان حضرات کی استقامت، تقویٰ، اطاعت رسول، اتفاق، ایثار، جانبازی اور عبادت گذاری پر بیسیوں آیات شاہد ہیں۔ صرف ایک ملاحظہ ہو ۔’’محمد رسول الله والذين معه أشداء على الكفار رحماء بينهم ، تراهم ركعا سجدا يبتغون فضلاً من الله ورضوانا ، سيماهم في وجوههم من أثر السجود ذالك مثلهم في التوراة ومثلهم في الانجيل كزرع ...... واجرا عظيماً (الفتح:٢٩)‘‘ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ ان کے ساتھی کفار کے مقابلہ میں سخت اور آپس میں نرم ہیں۔ تم انہیں عموماً رکوع وسجود کی حالت میں خدائی فضل و کرم کا طالب پاؤ گے۔ عبادت کی وجہ سے ان کے چہرے روشن ہیں۔ ان کے حالات تورات وانجیل میں بھی مرقوم ہیں۔ ان کی حالت اس شاخ کی سی ہے جو محکم و استوار بنتے بنتے ایک مضبوط تنہ بن جائے۔ کفار انہیں دیکھ کر آتش بغض و رقابت میں جلتے ہیں۔ اللہ نے ان سے مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ کر رکھا ہے۔﴾

سوال پیدا ہوتا ہے کہ جن لوگوں کا مداح خود رب العرش تھا اور جن کی اطاعت و فدا کاری کی داستانوں سے ابھی تک ارض و سما گونج رہے ہیں۔ ان میں سے کیوں کوئی صحابی منصب نبوت پر فائز نہیں ہوا ؟

دوم ...... ’’خاتم النبی جمع ہے نبی کی۔ عربی میں جمع کا اطلاق ا از کم تین پر ہوتا ہے۔ اگر خاتم سے مراد نبی نبی بنانے والی مہر۔ لیکن مرزا قادیانی ا پہلا اور آخری نبی ہوں اور میرے بعد ک درست سمجھا جائے تو قرآن کی آیت ق خاتم النبیین کی تفسیر مرزا قادیان صفحات گذشتہ میں ہم بے اب یہ دیکھنا ہے کہ وہ پورے مرکب یعنی میں ارشاد ہوتا ہے۔ ’’ماکان محم النبیین !یعنی محمدؐ تم میں سے کسی مرد کا۔‘‘ ازالہ اوہام ستمبر ١٨٩١ء کی پہلے کا تھا۔ (تفصیل آگے آئے گی) (انبیاء) کی تبلیغ میں منجانب اللہ بڑا ح نیز بار بار فرماتے ہیں کہ پاک مکالمہ سے قریباً ہر روز میں مشر ’’میں اپنے خدائے پا مشرف ہوتا ہوں۔‘‘ عجیب بات ہے کہ مرزا نہیں۔ حضور ﷺ پر سلسلۂ نبوت خ نے انہیں کبھی بھی نہ ٹوکا۔ حالانکہ ی آگئی۔ جب حضور ﷺ نے نابین ہوئی۔ لیکن مرزا قادیانی پورے چ رہے اور جو جبریل دن میں کئی بار

صفحہ ٢٣

دوم....... ”خاتم النبیین“ دو الفاظ سے مرکب ہے۔ خاتم اور النبیین۔ النبیین جمع ہے نبی کی۔ عربی میں جمع کا اطلاق کم از کم تین پر ہوتا ہے۔ کتب، کم از کم تین کتابیں، مساجد کم از کم تین مسجدیں۔ اگر خاتم سے مراد نبی تراش مہر لی جائے تو خاتم النبیین کی تفسیر ہو گی۔ کم از کم تین نبی بنانے والی مہر۔ لیکن مرزا قادیانی اپنی آخری کتابوں میں اعلان کر چکے ہیں کہ میں اس امت کا پہلا اور آخری نبی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی، ولی یا خلیفہ نہیں آئے گا۔ اگر مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ درست سمجھا جائے تو قرآن کی آیت غلط ٹھہرتی ہے۔ ہے کوئی حل اس مشکل کا؟

خاتم النبیین کی تفسیر مرزا قادیانی کی تحریرات میں

صفحات گذشتہ میں ہم نے مرزا قادیانی کی تحریرات سے لفظ خاتم کی تفسیر پیش کی تھی۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ وہ پورے مرکب یعنی ”خاتم النبیین“ کی تفسیر کیا فرماتے ہیں۔ ازالہ اوہام میں ارشاد ہوتا ہے۔ ”ماكان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبیین! یعنی محمدؐ تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں ہے۔ مگر وہ رسول اللہ ہے اور ختم کرنے والا نبیوں کا۔“

(ازالہ اوہام ج ٢ ص ٦١٤، خزائن ج ٣ ص ٤٣١)

ازالہ اوہام ستمبر ١٨٩١ء کی تصنیف ہے اور مرزا قادیانی کا دعویٰ رسالت کم از کم بیس برس پہلے کا تھا۔ (تفصیل آگے آئے گی) ”اور امور دینیہ میں اس خطا کی گنجائش نہیں ہوتی۔ کیونکہ ان (انبیاء) کی تبلیغ میں منجانب اللہ بڑا اہتمام ہوتا ہے۔“

(ازالہ اوہام ج ٢ ص ٦٩٠، خزائن ج ٣ ص ٤٧٢)

نیز بار بار فرماتے ہیں کہ: ”وحی الٰہی مجھ پر بارش کی طرح برستی ہے اور خدا تعالیٰ کے پاک مکالمہ سے قریباً ہر روز میں مشرف ہوتا ہوں۔“

(چشمہ مسیحی ص ١٩، خزائن ج ٢٠ ص ٣٥١)

”میں اپنے خدائے پاک کے یقینی اور قطعی مکالمہ سے مشرف ہوں اور قریباً ہر روز مشرف ہوتا ہوں۔“

(چشمہ مسیحی ص ٢٣، خزائن ج ٢٠ ص ٣٥٣)

عجیب بات ہے کہ مرزا قادیانی بیس نہیں بلکہ تیس سال تک مسلسل لکھتے رہے کہ میں نبی نہیں۔ حضورﷺ پر سلسلۂ نبوت ختم ہو چکا ہے۔ اب کوئی نیا یا پرانا رسول نہیں آئے گا۔ لیکن وحی نے انہیں کبھی بھی نہ ٹوکا۔ حالانکہ پہلے انبیاء کا یہ عالم تھا کہ غلطی ہوئی اور فوراً آسمان سے وعید و تنبیہ آگئی۔ جب حضورﷺ نے نابینا شخص سے ذرا بے اعتنائی برتی تو جھٹ ”سورہ عبس“ نازل ہوئی۔ لیکن مرزا قادیانی پورے تیس برس تک ختم نبوت کے قائل رہے۔ مدعی نبوت کو کافر کہتے رہے اور جو جبریل دن میں کئی بار آپ کے ہاں آتا تھا اس نے ایک مرتبہ بھی آپ سے نہ کہا کہ

صفحہ ٢٤

حسرت کہ آپ غلطی کر رہے ہیں۔ اللہ نے آپ کو نبی بنایا ہے۔ نبوت کا دروازہ کھلا ہے۔ اسے بند کر کے اپنے لئے دشواریاں پیدا نہ کیجئے۔

بہر حال آپ نے ملاحظہ فرمالیا کہ مرزا قادیانی نے خاتم النبیین کا ترجمہ نبیوں کو ختم کرنے والا کیا ہے۔ نبیوں کو پیدا کرنے والا نہیں کیا۔ اس تفسیر کی مزید تشریح ملاحظہ ہو۔ ”اے بھائیو! ہم مسلمانوں کے لئے بجز قرآن شریف اور کوئی دوسری کتاب نہیں۔ ......اور بجز خاتم المرسلین کے اور کوئی ہمارے لئے ہادی اور مقتدا نہیں۔“

(ازالۃ اوہام ص ١٨٣، خزائن ج ٣ ص ١٨٧، ١٨٨)

نزول مسیح کے مشہور عقیدے پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ”مسیح کیونکر آسکتا۔ وہ رسول تھا اور خاتم النبیین کی دیواریں اس کو آنے سے روکتی ہیں۔“

(ازالہ اوہام ج ٢ ص ٥٢٢، خزائن ج ٣ ص ٣٨٠)

ظاہر ہے کہ جو دیوار مسیح کی راہ میں حائل تھی وہ مسیح موعود کو بھی آنے سے روک سکتی تھی۔ یہ تو نہیں ہو سکتا کہ ایک دیوار ایک پرانے رسول کو تو روک دے اور نئے رسول کے آنے پر اس میں شگاف پڑجائیں۔

”سو یہ بات اس (اللہ) کے سچے وعدے کے برخلاف ہے کہ مردوں (مسیح علیہ السلام) کو پھر دنیا میں بھیجنا شروع کر دے۔ کیا یہ ضروری نہیں کہ ایسے نبی کی نبوت تامہ کے لوازم جو وحی اور نزول جبریل ہے۔ اس (مسیح علیہ السلام) کے وجود کے ساتھ، لازم ہونی چاہئے۔ کیونکہ حسب تصریح قرآن رسول اسی کو کہتے ہیں۔ جس نے احکام وعقائد دین جبریل کے ذریعہ سے حاصل کئے ہوں۔ لیکن وحی نبوت پر تو تیرہ سو برس سے مہر لگ گئی ہے۔ کیا یہ مہر اس وقت ٹوٹ جائے گی۔“

(ازالہ اوہام ج ٢ ص ٥٣٣، خزائن ج ٣ ص ٣٨٦)

”اور یہ بات ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں کہ خاتم النبیین کے بعد مسیح ابن مریم کا آنا فساد عظیم کا موجب ہے۔ اس سے یا تو یہ ماننا پڑے گا کہ وحی نبوت کا سلسلہ پھر جاری ہو جائے گا اور یا یہ قبول کرنا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ مسیح بن مریم کو لوازم نبوت سے الگ کر کے اور محض ایک امتی بنا کر بھیجے گا اور یہ دونوں صورتیں ممتنع ہیں۔“

(ازالہ اوہام ج ٢ ص ٥٣٤، خزائن ج ٣ ص ٣٩٣)

”ظاہر ہے کہ اگرچہ ایک ہی دفعہ (مسیح علیہ السلام پر) وحی کا نزول فرض کیا جائے اور صرف ایک ہی فقرہ حضرت جبریل علیہ السلام لاویں اور پھر چپ ہو جائیں۔ یہ امر بھی ختم نبوت کے منافی ہے۔ کیونکہ جب ختمیت کی مہر ہی ٹوٹ گئی اور وحی رسالت پھر نازل ہونی شروع ہو گئی تو پھر تھوڑا یا بہت نازل ہونا برابر ہے۔“

(ازالہ اوہام ج ٢ ص ٥٧٧، خزائن ج ٣ ص ٤١١، ٤١٢)

صفحہ ٢٥

اپنے کو نبی بنایا ہے۔ نبوت کا دروازہ کھلا ہے۔ اسے بند

مرزا قادیانی نے خاتم النبیین کا ترجمہ نبیوں کو ختم نہیں کیا۔ اس تفسیر کی مزید تشریح ملاحظہ ہو ۔ ”اے اور کوئی دوسری کتاب نہیں ...... اور بجز خاتم المرسلین

(ازالۃ الاوہام ج ٢ ص ١٨٣، خزائن ج ٣ ص ١٨٧، ١٨٨)

کرتے ہوئے لکھتے ہیں ۔ ”مسیح کیونکر آ سکتا۔ وہ سے روکتی ہیں ۔“

(ازالۃ الاوہام ج ٢ ص ٥٤٢، خزائن ج ٣ ص ٣٨٠)

محال تھی وہ مسیح موعود کو بھی آنے سے روک سکتی تھی۔ کو روک دے اور نئے رسول کے آنے پر اس میں سچے وعدے کے برخلاف ہے کہ مردوں (مسیح علیہ کا یہ ضروری نہیں کہ ایسے نبی کی نبوت تامہ کے لوازم السلام) کے وجود کے ساتھ، لازم ہونی چاہئے۔ ہیں۔ جس نے احکام وعقائد دین جبریل کے ذریعہ امور میں سے مہر لگ گئی ہے۔ کیا یہ مہر اس وقت ٹوٹ

(ازالۃ الاوہام ج ٢ ص ٥٣٣، خزائن ج ٣ ص ٣٨٦)

ہیں کہ خاتم النبیین کے بعد مسیح ابن مریم کا آنا فساد گے کہ وحی نبوت کا سلسلہ پھر جاری ہو جائے گا اور یا لوازم نبوت سے الگ کر کے اور محض ایک امتی بنا کر

(ازالۃ الاوہام ج ٢ ص ٥٤٤، خزائن ج ٣ ص ٣٩٣)

(مسیح علیہ السلام پر) وحی کا نزول فرض کیا جائے اور لاویں اور پھر چپ ہو جائیں۔ یہ امر بھی ختم نبوت کھل گئی اور وحی رسالت پھر نازل ہونی شروع ہو گئی تو

(ازالۃ الاوہام ج ٢ ص ٥٧٧، خزائن ج ٣ ص ٤١١، ٤١٢)

”یہ بات مستلزم محال ہے کہ خاتم النبیین کے بعد پھر جبریل علیہ السلام کی وحی رسالت کے ساتھ زمین پر آمدورفت شروع ہو جائے ۔“

(ازالۃ الاوہام ج ٢ ص ٥٨٣، خزائن ج ٣ ص ٤١٤)

”وہ وعدہ کر چکا ہے کہ بعد آنحضرت ﷺ کے کوئی رسول نہیں بھیجا جائے گا۔“

(ازالۃ الاوہام ج ٢ ص ٥٨٦، خزائن ج ٣ ص ٤١٦)

”خاتم الانبیاء کی عظمت دکھانے کے لئے اگر کوئی نبی آتا تو پھر خاتم الانبیاء کی شان عظیم میں رخنہ پڑتا ۔“

(ازالۃ الاوہام ج ٢ ص ٦٤٧، ٦٤٨، خزائن ج ٣ ص ٤٤٩، ٤٥٠)

یہ تو تھیں وہ تحریرات جو ستمبر ١٨٩١ء تک مرزا قادیانی کے قلم سے نکلی تھیں۔ دسمبر ١٨٩١ء میں آپ نے ”آسمانی فیصلہ“ کے نام سے ایک کتاب لکھی ۔ جس میں فرماتے ہیں ۔ ”میں نبوت کا مدعی نہیں ۔ بلکہ ایسے مدعی کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں ۔“

(آسمانی فیصلہ ص ٣، خزائن ج ٤ ص ٣١٣)

”اے لوگو! اے مسلمانوں کی ذریت کہلانے والو! دشمن قرآن نہ بنو اور خاتم النبیین کے بعد وحی نبوت کا سلسلہ جاری نہ کرو اور اس خدا سے شرم کرو۔ جس کے سامنے حاضر کئے جاؤ گے۔“

(آسمانی فیصلہ ص ٢٥، خزائن ج ٤ ص ٣٣٥)

١٨٩٢ء میں ارشاد ہوتا ہے ۔ ”اور اس بات پر محکم ایمان رکھتا ہوں کہ ہمارے نبی ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور آنجناب کے بعد اس امت کے لئے کوئی نبی نہیں آئے گا۔ نیا ہو یا پرانا ۔“

(نشان آسمانی ص ٣٠، خزائن ج ٤ ص ٣٩٠)

١٨٩٣ء میں لکھتے ہیں ۔ ”ہمارے سید رسول خاتم الانبیاء ہیں اور بعد آنحضرت ﷺ کے کوئی نبی نہیں آ سکتا ۔“

(شہادۃ القرآن ص ٢٧، ٢٨، خزائن ج ٦ ص ٣٢٣، ٣٢٤)

”نبی تو اس امت میں آنے سے رہے۔ اب اگر خلفاء بھی نہ آویں اور وقتاً فوقتاً روحانی زندگی کے کرشمے نہ دکھلاویں تو پھر اسلام کی زندگی کا خاتمہ ہے۔“

(شہادۃ القرآن ص ٥٩، خزائن ج ٦ ص ٣٥٥)

١٨٩٥ء میں کہتے ہیں ۔ ”(ہم) اس کو خاتم الانبیاء جانتے ہیں۔ کیونکہ اس پر تمام نبوتیں اور تمام پاکیزگیاں اور تمام کمالات ختم ہو گئے ۔“

(آریہ دھرم ص ٦، خزائن ج ١٠ ص ٨٤)

١٨٩٧ء میں ارشاد ہوتا ہے۔ ”اور کیا ایسا وہ شخص جو قرآن پر ایمان رکھتا ہے اور آیت ”ولکن رسول الله وخاتم النبيين“ کو خدا کا کلام یقین رکھتا ہے۔ وہ کہہ سکتا ہے کہ میں

صفحہ ٢٦

بھی آنحضرتﷺ کے بعد رسول اور نبی ہوں؟....... اصل حقیقت جس کی میں علیٰ رؤس الاشہاد گواہی دیتا ہوں۔ یہی ہے کہ ہمارے نبیﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ نہ پرانا نہ کوئی نیا۔ اس کے بعد عربی عبارت ہے۔ جس کا ملخص یہ ہے کہ حضورﷺ کے بعد ہر مدعی نبوت کافر ہے۔“

(انجام آتھم ص ٢٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٧)

١٩٠١ء میں فرماتے ہیں۔ ”ایسا ہی پھر ان (عیسیٰ علیہ السلام) کو نبوت اور وحی نبوت کے ساتھ زمین پر اتارنا یہ بھی صریح منطوق کلام الٰہی کے مخالف ہے۔ کیونکہ موجب ابطال ختم نبوت ہے۔ اگر حضرت مسیح سچ مچ زمین پر اتریں گے اور پینتالیس سال تک جبریل وحی نبوت لے کر ان پر نازل ہوتا رہے گا۔ تو کیا ایسے عقیدے سے دین اسلام باقی رہ جائے گا اور آنحضرتﷺ کی ختم نبوت اور قرآن کی ختم وحی پر کوئی داغ نہیں لگے گا۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٥٢، خزائن ج ١٧ ص ١٧٥)

اپریل ١٩٠٢ء میں لکھتے ہیں۔ ”اس جگہ مولوی احمد حسن امروہی کو ہمارے مقابلہ کے لئے خوب موقع ملا ہے۔ ہم نے سنا ہے کہ وہ بھی دوسرے مولویوں کی طرح اپنے مشرکانہ عقائد کی حمایت میں کہ تا کسی طرح حضرت مسیح ابن مریم کو موت سے بچا کر اور دوبارہ اتار کر خاتم الانبیاء بنا دیں۔ بڑی جان کاہی سے کوشش کر رہے ہیں۔“

(دافع البلاء ص ١٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٥)

اقتباس بالا سے ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی حضورﷺ کی شان ختم المرسلین کو ہر رنگ میں قائم رکھنا چاہتے ہیں اور کسی صورت میں برداشت نہیں کر سکتے کہ کوئی نیا یا پرانا نبی مہر نبوت کو توڑے۔

اکتوبر ١٩٠٢ء میں اعلان کرتے ہیں۔ ”نوع انسانی کے لئے روئے زمین پر اب کوئی کتاب نہیں۔ مگر قرآن اور تمام آدم زادوں کے لئے کوئی رسول اور شفیع نہیں مگر محمدﷺ“

(کشتی نوح ص ١٣، خزائن ج ١٩ ص ١٣)

جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ حضورﷺ کے بغیر کوئی اور رسول نسل انسانی کے لئے مقدر نہیں۔ اسی کتاب میں آگے چل کر ارشاد ہوتا ہے : ”یہ عیسیٰ، مسیح اور مہدی صاحب کیسے ہوں گے جو آتے ہی لوگوں کو قتل کرنا شروع کر دیں گے۔ یہاں تک کہ کسی اہل کتاب سے بھی جزیہ قبول نہیں کریں گے اور اس قدر انقلاب سے بھی پھر بھی ختم نبوت میں حرج نہیں آئے گا۔“

(کشتی نوح ص ٦٨، خزائن ج ١٩ ص ٧٤، ٧٥)

صفحہ ٢٧

ہوں؟...... اصل حقیقت جس کی میں علی رؤس الاشہاد کہ خاتم الانبیاء ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے لعنت ہے۔ جس کا ملخص یہ ہے کہ حضور ﷺ کے بعد ہر

(انجام آتھم ص ٢٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٧)

نبی مگر ان (عیسیٰ علیہ السلام) کو نبوت اور وحی نبوت کلام الٰہی کے مخالف ہے۔ کیونکہ موجب ابطال ختم آئیں گے اور پینتالیس سال تک جبریل وحی نبوت لے عقیدے سے دین اسلام باقی رہ جائے گا اور اس پر کوئی داغ نہیں لگے گا۔"

(تحفہ گولڑویہ ص ٥٢، خزائن ج ١٧ ص ١٧٥)

اس جگہ مولوی احمد حسن امروہی کو ہمارے مقابلہ کے لئے دوسرے مولویوں کی طرح اپنے مشرکانہ عقائد کی مریم کو موت سے بچا کر اور دوبارہ اتار کر خاتم الانبیاء ہیں۔"

(دافع البلا ص ١٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٥)

قادیانی حضور ﷺ کی شانِ ختم المرسلین کو ہر رنگ میں برداشت نہیں کر سکتے کہ کوئی نیا یا پرانا نبی مہر نبوت کو فرمایا: "نوع انسانی کے لئے روئے زمین پر اب کوئی کے لئے کوئی رسول اور شفیع نہیں مگر محمد ﷺ"

(کشتی نوح ص ١٣، خزائن ج ١٩ ص ١٣)

کے بعد کوئی اور رسول نہیں انسانی نجات کے لئے ہے۔

ندے ہوں گے جو آتے ہی لوگوں کو قتل کرنا شروع کر دیں گے جو یہ قبول نہیں کریں گے اور اس قدر انقلاب سے

(کشتی نوح ص ٦٨، خزائن ج ١٩ ص ٧٤ ، ٧٥)

اقتباسات بالا کا ملخص یہ ہے کہ حضور ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ آپ کے بعد کوئی نیا یا پرانا نبی نہیں آسکتا اور ہر کہ مدعی نبوت (بعد از حضور) کاذب و کافر ہے۔

یہ تو تھا تصویر کا ایک رخ ، اب دوسرا رخ ملاحظہ فرمائیے۔ ”یہ بات بالکل روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ کھلا ہے۔“

(حقیقت النبوۃ ص ٢٢٨ مصنفہ میاں محمود احمد ، امام جماعت احمدیہ)

اس دعویٰ کی مزید تشریح ملاحظہ ہو۔ ”یہ بات بالکل صحیح ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پا سکتا ہے۔ حتیٰ کہ محمد ﷺ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔“

(ارشاد میاں محمود احمد، اخبار الفضل ١٧ جولائی ١٩٢٢ء)

خلیفہ صاحب کے یہ ارشادات بے اصل نہیں۔ بلکہ ان کی بنیاد مرزا قادیانی کی مختلف تحریرات پر ڈالی گئی تھی۔ مثلاً: ” یہ کس قدر لغو اور باطل عقیدہ ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ بعد آنحضرت ﷺ کے وحی الٰہی کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا ہے اور آئندہ کو قیامت تک اس کی کوئی بھی امید نہیں۔...... کیا ایسا مذہب کچھ مذہب ہو سکتا ہے؟“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٨٣، خزائن ج ٢١ ص ٣٥٤)

(آسمانی فیصلہ ص ٢٥، خزائن ج ٤ ص ٣٣٥) کا اقتباس پھر پڑھیئے ۔ ”اے مسلمانوں کی ذریت کہلانے والو! دشمن قرآن نہ بنو اور خاتم النبیین کے بعد وحی نبوت کا سلسلہ جاری نہ کرو۔“ اور دیکھئے: ”کیا ضروری نہیں کہ اس اُمت میں بھی کوئی نبیوں اور رسولوں کے رنگ میں نظر آوے جو بنی اسرائیل کے تمام نبیوں کا وارث اور ان کا ظل ہو۔“

(کشتی نوح ص ٤٤، خزائن ج ١٩ ص ٤٧)

ختم نبوت کی نئی تشریح

”اور بالآخر یاد رہے کہ اگر ایک اُمتی کو جو محض پیروی آنحضرت ﷺ سے درجہ وحی اور الہام اور نبوت کا پاتا ہے۔ نبی کے نام کا اعزاز دیا جائے تو اس سے مہر نبوت نہیں ٹوٹتی۔ کیونکہ وہ اُمتی ہے۔ مگر کسی ایسے نبی کا دوبارہ آنا جو اُمتی نہیں ہے۔ ختم نبوت کے منافی ہے۔“

(چشمہ مسیحی ص ٥٠، خزائن ج ٢٠ ص ٣٨٣)

مجھے اس قول سے اختلاف ہے۔ میں جب انبیاء کی طویل فہرست پر نگاہ ڈالتا ہوں تو اس میں سے مجھے ہر ایک (آدم علیہ السلام کے سوا) اُمتی نظر آتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام

صفحہ ٢٨

اسرائیلی و اسماعیلی انبیاء کے جدامجد تھے۔ بنی اسرائیل کے سینکڑوں انبیاء بائبل میں حضرت ابراہیم کی اطاعت و اتباع کا دم بھرتے ہیں۔ پھر یہی انبیاء حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اتباع پر ناز کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ انجیل میں حضرت مسیح علیہ السلام بار بار فرماتے ہیں کہ میں تورات کو منسوخ کرنے نہیں آیا۔ بلکہ اسے پورا کرنے آیا ہوں۔ حضورﷺ کو حکم ہوتا ہے کہ: ”واتبع ملۃ ابراہیم حنیفا (النساء: ١٢٥)“ ﴿اے رسول، دین ابراہیمی کی پیروی کر۔﴾ نیز ارشاد ہوتا ہے: ”یرید اللہ لیبین لکم ویھدیکم سنن الذین من قبلکم (النساء: ٢٦)“ ﴿اللہ کا ارادہ ہے کہ وہ صداقت کو کھول کر بیان کر دے اور تمہیں اسلاف کی مقدس راہوں پر ڈال دے۔﴾

شروع میں ہم اس حقیقت کو واضح کر چکے ہیں کہ اسلام کسی نئے مذہب کا نام نہیں۔ بلکہ یہ اسی ازلی وابدی حقیقت کا اعادہ تھا۔ جو سب سے پہلے آدم علیہ السلام اور اس کے بعد دیگر انبیاء کو نوبت بہ نوبت ملتی رہی۔ اس لئے صداقت کا متلاشی اسلاف کی راہوں پر چلنے کے لئے مجبور ہے۔ ہر نبی اپنی امت کے لئے مطاع تھا: ”وما ارسلنا من رسول الا لیطاع (النساء: ٦٤)“ ﴿ہر نبی اس لئے بھیجا جاتا ہے کہ دنیائے انسانی اس کی اطاعت کرے۔﴾

اور اسلاف کا مطیع یعنی امتی۔ اس لئے ہر نبی رسول بھی ہوتا ہے اور امتی بھی۔ چونکہ حضرت آدم کے بغیر کوئی اور رسول غیر امتی ہے تو نہیں۔ اور چونکہ آنحضرتﷺ کے بعد وحی رسالت کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے۔ اس لئے یہ کہنا کہ حضور علیہ السلام کے بعد امتی انبیاء آسکتے ہیں تو پھر نبوت کا سلسلہ ختم کیسے ہوا۔ غیر امتی نبی تو ہوتا ہی کوئی نہیں۔ اس کی مثال یوں ہے کہ حکومت اعلان کے رو سے فوج میں سپاہیوں کی بھرتی بند کر دے۔ اس کے باوجود ایک ریکروٹنگ آفیسر دھڑا دھڑ بھرتی کرتا جائے اور جواب طلبی پر کہے کہ حکومت نے صرف ایسے سپاہیوں کی بھرتی سے منع کیا تھا۔ جن کی تین ٹانگیں اور چار کان ہوں اور اپنے جواب کی تائید میں نہ تو حکومت کی کوئی چٹھی پیش کر سکے اور نہ تین ٹنگے سپاہیوں کا وجود ثابت کر سکے۔

”اگر میری گردن کے دونوں طرف تلوار رکھ دی جائے اور مجھے کہا جائے کہ تم یہ کہو کہ آنحضرتﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو میں کہوں گا کہ تو جھوٹا ہے۔ کذاب ہے۔ آپ کے بعد نبی آسکتے ہیں اور ضرور آسکتے ہیں۔“

(انوار خلافت ص ٦٥، مصنفہ میاں محمود احمد قادیانی)

صفحہ ٢٩

اسرائیل کے سینکڑوں انبیاء بائبل میں حضرت ابراہیم انبیاء حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اتباع پر ناز کرتے علیہ السلام بار بار فرماتے ہیں کہ میں تورات کو منسوخ آیا۔ حضورﷺ کو حکم ہوتا ہے کہ: ”واتبع ملۃ اے رسول، دین ابراہیمی کی پیروی کر۔ ﴿ اللہ لیبین لکم ویهدیکم سنن الذین من قبلکم کہ وہ صداقت کو کھول کر بیان کر دے اور تمہیں اسلاف کی

واضح کر چکے ہیں کہ اسلام کسی نئے مذہب کا نام نہیں۔ سب سے پہلے آدم علیہ السلام اور اس کے بعد دیگر حق کا متلاشی اسلاف کی راہوں پہ چلنے کے لئے مجبور وما ارسلنا من رسول الا ليطاع کہ دنیائے انسانی اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ کے لئے ہر نبی رسول بھی ہوتا ہے اور امتی بھی۔ چونکہ رہتے ہی نہیں اور چونکہ آنحضرتﷺ کے بعد وحی ہیں،کہ حضور علیہ السلام کے بعد امتی انبیاء آسکتے ہیں باقی کوئی نہیں۔ اس کی مثال یوں ہے کہ حکومت کر دے۔ اس کے باوجود ایک ریکروٹنگ آفیسر حکومت نے صرف ایسے سپاہیوں کی بھرتی سے اس میں اپنے جواب کی تائید میں نہ تو حکومت کی کوئی سکے۔ کہہ دی جائے اور مجھے کہا جائے کہ تم یہ کہو کہ کہوں گا کہ تو جھوٹا ہے۔ کذاب ہے۔ آپ کے

(انوار خلافت ص ٦٥، مصنفہ میاں محمود احمد قادیانی)

(نشان آسمانی ص ٣٠، خزائن ج ٤ ص ٣٩٠) کا اقتباس دوبارہ پڑھئے۔ جس میں مرزا قادیانی فرماتے ہیں ”میں اس بات پر محکم ایمان رکھتا ہوں کہ آنجناب کے بعد اس امت کے لئے کوئی نبی نہیں آئے گا نیا ہو یا پرانا۔“

الفضل ١٢/ جون ١٩٢٨ء میں ایک احمدی بزرگ لکھتے ہیں۔ ”خاتم النبیین آنے والے نبیوں کے لئے روک نہیں، انبیائے عظام حضرت مسیح موعود کے خادموں میں پیدا ہوں گے۔“

یہ اقتباس کوئی نیا نہیں ۔ بلکہ مرزا قادیانی کے الہام ذیل کا ترجمہ ہے ۔ ”ینصرک رجال نوحی الیھم من السماء“ (تذکرہ ص ٥٠) تمہاری مدد ایسے لوگ کریں گے جن پر آسمان سے وحی نازل ہوگی ؟

مرزا قادیانی کے مزید ارشادات سنئے : ”میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اسی نے مجھے بھیجا۔ اسی نے میرا نام نبی رکھا اور اسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے۔“

(تحفہ حقیقت الوحی ص ٦٨ ، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)

”اور خدا تعالیٰ نے اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں۔ اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہوسکتی ہے۔“

(چشمہ معرفت ص ٣١٧، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢)

”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے زمانے میں میں نے اپنی کتاب انوار اللہ میں ایک سوال کے جواب میں لکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود بموجب حدیث صحیحہ حقیقی نبی ہیں اور ایسے ہی نبی ہیں جیسے حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ و آنحضرتﷺ ...... یہ کتاب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پڑھ کر فرمایا۔ آپ نے ہماری طرف سے حیدر آباد دکن میں حق تبلیغ ادا کر دیا ہے۔“

(الفضل ١٩/ ستمبر ١٩١٥ء)

”اب بجز محمدی نبوت کے سب نبوتیں بند ہیں۔ شریعت والا کوئی نبی نہیں آسکتا اور بغیر شریعت کے نبی ہو سکتا ہے۔ مگر وہی جو پہلے امتی ہو۔ پس اس بناء پر میں امتی بھی ہوں اور نبی بھی۔“

(تجلیات الہیہ ص ٢٥، خزائن ج ٢٠ ص ٤١٢)

”نیز مسیح موعود کو احمد نبی اللہ تسلیم نہ کرنا اور آپ کو امتی قرار دینا یا امتی گروہ میں سمجھنا گویا آنحضرتﷺ کو جو سید المرسلین اور خاتم النبیین ہیں۔ امتی قرار دینا اور امتیوں میں داخل کرنا ہے جو کفر عظیم اور کفر بعد کفر ہے۔“

(الفضل ٢٩/ جون ١٩١٥ء)

صفحہ ٣٠

یہ اقتباس مرزا قادیانی کے ارشاد ذیل کی تفسیر ہے۔ ”پس چونکہ میں اس کا رسول یعنی فرستادہ ہوں ۔ مگر بغیر کسی نئی شریعت اور نئے دعویٰ اور نئے نام کے ۔ بلکہ اسی نبی کریم خاتم الانبیاء کا نام پا کر اور اسی میں ہو کر اور اسی کا مظہر بن کر آیا ہوں ۔“ (نزول المسیح ص ٢، خزائن ج ١٨ ص ٣٨٠، ٣٨١)

ظاہر ہے کہ اصل اور مظہر میں کوئی فرق نہیں ہوا کرتا۔ اگر مرزا قادیانی اسی مظہر ہونے کی بناء پر خاتم الانبیاء بن سکتے ہیں تو انہیں لازماً شرعی حقیقی اور غیر امتی نبی بھی ہونا چاہئے ۔ اس لئے ”الفضل“ کی ترجمانی صحیح ہے۔

”میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں ۔ اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوا ہے خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔“

(حقیقۃ الوحی ص ٢١١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢٠)

”مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے جیسا کہ تورات اور انجیل اور قرآن کریم پر۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ١٩ ، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٤)

”سچا خدا وہ ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“

(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)

”مَا كَانَ لِي اَن اَدَّعِیَ النُّبُوَّةَ وَاَخْرُجَ عَنِ الْاِسْلَامِ وَاَلْحَقَ بِقَوْمِ الْكَافِرِیْنَ“ ”میرے لئے یہ کہاں مناسب ہے کہ میں نبوت کا دعویٰ کر کے ، اسلام سے خارج ہو جاؤں اور کافر بن جاؤں۔

(حمامۃ البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)

”میں پبلک اور حکام کی اطلاع کے لئے یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا مقدس نبی ...... اور بنی نوع انسان کا نجات دہندہ سمجھتے ہیں ۔“

(ارشاد میاں محمود احمد ، الفضل ١٢ / جولائی ١٩٣٥ء)

”میں مسلمانوں کے سامنے صاف صاف ...... اقرار کرتا ہوں کہ جناب خاتم الانبیاءﷺ کی ختم نبوت کا قائل ہوں اور جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو اسے بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں ۔“ (مرزا قادیانی کا بیان مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٢ ص ٤٤ ، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٥٥)

جب پنجاب میں طاعون شروع ہوا تو مرزا قادیانی نے قادیان کے متعلق فرمایا: ”قادیان اسی لئے محفوظ رکھی گئی کہ وہ خدا کا رسول اور فرستادہ قادیان میں تھا۔“

(دافع البلاء ص ١٥ ، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٦)

صفحہ ٣١

ان تحریرات کو پڑھ کر آپ حیران ہوں گے کہ آخر مرزا قادیانی کی کس بات کو تسلیم کیا جائے۔

”ظاہر ہے کہ ایک دل سے دو متناقض باتیں نکل نہیں سکتیں۔ کیونکہ ایسے طریق سے یا انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق ۔“

(ست بچن ص ٣١، خزائن ج ١٠ ص ١٤٢)

”اس شخص کی حالت ایک مخبوط الحواس انسان کی ہے کہ ایک کھلا تناقض اپنے کلام میں رکھتا ہے۔“

(حقیقۃ الوحی ص ١٨٤، خزائن ج ٢٢ ص ١٩١)

”جھوٹے کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١١١، خزائن ج ٢١ ص ٢٧٥)

اس تضاد کو رفع کرنے کے لئے مختلف توجیہات سے کام لیا گیا۔

اوّل ...... مرزا قادیانی حضور ﷺ کا بروز و مظہر تھے

آپ کی ہستی حضور ﷺ سے جدا نہیں تھی۔ آپ کی صورت میں خود حضور علیہ السلام دوبارہ تشریف لائے تھے اور آپ کا دعویٰ ختم نبوت کے منافی نہیں تھا۔

”مسیح موعود کا آنا بعینہ محمد رسول اللہ کا دوبارہ آنا ہے۔ یہ بات قرآن سے صراحۃً ثابت ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ دوبارہ مسیح موعود کی بروزی صورت اختیار کر کے آئیں گے۔“

(الفضل قادیان ٧ اگست ١٩١٥ء)

”اور آپ (مرزا قادیانی) کو چونکہ آنحضرت ﷺ کا بروزی وجود عطا کیا گیا تھا اس لئے آپ عین محمد تھے۔“

(الفضل ١٦ ستمبر ١٩١٥ء)

”آنحضرت ﷺ کے لئے دو بعث مقدر تھے۔ ایک بعث تکمیل ہدایت کے لئے۔ دوسرا بعث تکمیل اشاعت ہدایت کے لئے۔“

(الفضل ١٤ جنوری ١٩٣١ء)

”پھر مثیل اور بروز میں بھی فرق ہے۔ بروز میں وجود بروزی اپنے اصل کی پوری تصویر ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ نام بھی ایک ہو جاتا ہے ...... پس فنا فی الرسول اور مثیل ہونا بروز سے علیحدہ چیزیں ہیں۔ بروز اور اوتار ہم معنی ہیں۔“

(الفضل ٢٠ اکتوبر ١٩٣١ء)

”میں ابھی احمدیت میں بطور بچہ ہی کے تھا۔ جو میرے کانوں میں یہ آواز پڑی۔ مسیح موعود محمد است و عین محمد است۔“

(الفضل قادیان ١٧ اگست ١٩١٥ء)

مطلب یہ ہے کہ مرزا قادیانی اور حضور علیہ السلام ہر لحاظ سے ایک ہیں۔ لیکن دریافت طلب یہ امر ہے کہ آیا یہ دونوں جسم و روح ہر دو لحاظ سے ایک تھے۔ یا حضور ﷺ کی صرف روح

صفحہ ٣٢

مرزا قادیانی میں داخل ہوئی تھی؟ پہلی صورت بداہتہ غلط ہے۔ اس لئے کہ حضور علیہ السلام کا جسد مطہر گنبد خضرا میں مدفون ہے اور دوسری صورت میں تناسخ کا قائل ہونا پڑے گا۔ جو عقائد اسلام کے خلاف ہے۔ علاوہ ازیں قرآن حکیم شہداء کی حیات کا قائل ہے۔ انبیاء کا درجہ شہداء سے بہت بلند ہوتا ہے۔ لازماً انبیاء بھی حیات کی نعمت سے بہرہ ور ہوں گے۔ احادیث میں مذکور ہے کہ شب معراج کو حضور ﷺ کی ملاقات کئی انبیاء سے ہوئی تھی۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ حضرات عالم برزخ میں بقید حیات ہیں۔ زندگی روح کا کرشمہ ہے۔ اگر انبیائے کرام کی روح خود ان کے برزخی اجسام میں موجود ہے تو پھر مرزا قادیانی میں حضور ﷺ کی روح کہاں سے آگئی تھی۔ کیا ایک انسان میں کئی ارواح ہوتی ہیں کہ ایک اپنے پاس رکھ لی اور باقی بانٹ دیں۔ آریائی فلسفے کے رو سے تو بروز اوتار کا مسئلہ سمجھ میں آسکتا ہے کہ یہ لوگ تناسخ کے قائل ہیں۔ لیکن اسلام کی سیدھی سادی تعلیم ان پیچیدگیوں کی متحمل نہیں ہوسکتی۔

اور اگر عینیت سے مراد وحدت اوصاف و کمالات ہو۔ تب بھی بات نہیں بنتی۔ اس لئے کہ:

مرزا قادیانی جہاد فتوحات کے قائل ہی نہ تھے۔

تسلط کو قائم رکھنے کے منصوبے۔

کا انتظار فرمائیے)

الغرض نہ وحدت جسم و روح کا دعویٰ درست ہے، نہ وحدت اوصاف و کمالات کا۔ تو پھر ہم یہ کیسے باور کر لیں کہ محمد ﷺ عین غلام احمد تھے۔

دوم ...... نبوت تشریعی و غیر تشریعی

دوسری توجیہہ یہ کی جاتی ہے کہ نبوت دو قسم کی ہے۔ تشریعی و غیر تشریعی۔ جہاں

مرزا قادیانی نے نبوت کا انکار فرمایا ہے وہاں غیر تشریعی۔ ”وہ (حضور علیہ السلام) ان مع ان پر ختم ہیں اور دوسرے یہ کہ ان کے بعد کو ہم صفحات گذشتہ میں یہ ثابت اس کی شریعت اور کتاب ہوتی ہے۔ ”بلاشبہ (مسیح علیہ السلام) کو معلوم ہوں گی وہ بوجہ ”خدا کا کلام اس قدر مجھ پر نہیں ہوگا۔“ ”اب کے سالانہ جلسہ پر میا جتاتے ہوئے خود قادیان میں حضرت اق مریدوں کو اس کی تلاوت کے لئے بھی الہ (پیغام ”آپ (مرزا قادیانی) کی وحی ہے۔“ ”الحمد للہ کہ آپ کا (مرزا ہو گیا۔“ ”اور میں عیسیٰ مسیح کو ہرگز ا خدا کا کلام نازل ہوا ایسا ہی مجھ پر بھی ہو اگر بالفرض نبوت کی دو قسم حقیقت سب کے ہاں مسلمہ ہے کہ حق مرزا قادیانی کے الہامات انجیل کے الہ یعنی انجیل کی بناء پر حضرت عیسیٰ علیہ ال

صفحہ ٣٤

مرزا قادیانی نے نبوت کا انکار فرمایا ہے وہاں تشریعی نبوت مراد ہے اور جہاں دعویٰ کیا ہے۔ وہاں غیر تشریعی ۔

”وہ (حضور علیہ السلام) ان معنوں سے خاتم الانبیاء ہیں کہ ایک تو تمام کمالات نبوت ان پر ختم ہیں اور دوسرے یہ کہ ان کے بعد کوئی نئی شریعت لانے والا رسول نہیں ۔“

(چشمہ معرفت ص ٩، خزائن ج ٢٣ ص ٣٨٠)

ہم صفحات گذشتہ میں یہ ثابت کر چکے ہیں کہ ہر نبی وحی کے ہمراہ آتا ہے۔ اور یہی وحی اس کی شریعت اور کتاب ہوتی ہے۔ ”بلاشبہ جس کلام (الہام) کے ذریعہ سے یہ تمام تفصیلات ان (مسیح علیہ السلام) کو معلوم ہوں گی وہ بوجہ وحی رسالت ہونے کے کتاب اللہ کہلائے گی۔“

(ازالہ اوہام ج ٢ ص ٥٧٩، خزائن ج ٣ ص ٤١٢)

”خدا کا کلام اس قدر مجھ پر نازل ہوا ہے کہ اگر وہ تمام لکھا جائے تو بیس جزو سے کم نہیں ہوگا۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٧)

”اب کے سالانہ جلسہ پر میاں محمود احمد قادیانی خلیفہ قادیان نے کتاب کی اہمیت کو جتاتے ہوئے خود قادیان میں حضرت مسیح موعود کے الہامات کو جمع کرنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی مریدوں کو اس کی تلاوت کے لئے بھی ارشاد فرمایا۔“

(پیغام صلح مورخہ ١١ جون ١٩٣٢ء، مضمون ڈاکٹر بشارت احمد لاہوری احمدی)

”آپ (مرزا قادیانی) کی وحی بھی جدا جدا آیت ہے اور مجموعہ الہامات الکتاب المبین ہے۔“

(رسالہ احمدی از قاضی محمد یوسف ص ٢٤)

”الحمد للہ کہ آپ کا (مرزا قادیانی کا) ایک لحاظ سے صاحب کتاب ہونا ثابت ہو گیا۔“

(الفضل ١٥؍ فروری ١٩١٩ء)

”اور میں عیسیٰ مسیح کو ہرگز ان امور میں اپنے پر کوئی زیادت نہیں دیکھتا یعنی جیسے اس پر خدا کا کلام نازل ہوا ایسا ہی مجھ پر بھی ہوا۔“

(چشمہ مسیحی ص ٢٣، خزائن ج ٢٠ ص ٣٥٤)

اگر بالفرض نبوت کی دو قسمیں یعنی تشریعی وغیر تشریعی مان بھی لی جائیں تب بھی یہ حقیقت سب کے ہاں مسلمہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صاحب کتاب و شریعت نبی تھے۔ اگر مرزا قادیانی کے الہامات انجیل کے ہم پایہ تھے تو پھر کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ ایک چھوٹی سی کتاب یعنی انجیل کی بناء پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تو صاحب کتاب و شریعت رسول تسلیم کیا جائے اور

صفحہ ٣٤

مرزا قادیانی کی وحی کو جو بیس اجزاء پر مشتمل ہے۔ نظر انداز کر دیا جائے۔ بات یہ ہے کہ نبی وحی کے بغیر ہو ہی نہیں سکتا اور یہی وحی اس کی شریعت ہوتی ہے۔ انبیاء کو شرعی و غیر شرعی میں تقسیم کرنا درست نہیں۔ اس مسئلہ پر مرزا قادیانی کا ارشاد ذیل کتنا فیصلہ کن ہے۔

”ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب الشریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کے رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔ مثلاً یہ الہام .......... یہ براہین احمدیہ میں درج ہے۔ اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی اور اگر کہو کہ شریعت سے وہ شریعت مراد ہے۔ جس میں نئے احکام ہوں تو یہ باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ’’ان ھذا لفی الصحف الاولى صحف ابراهیم و موسیٰ‘‘ یعنی قرآنی تعلیم تورات میں بھی موجود ہے اور اگر یہ کہو کہ شریعت وہ ہے جس میں باستیفاء (مکمل طور پر) امر و نہی کا ذکر ہو تو یہ بھی باطل ہے۔ کیونکہ اگر تورات یا قرآن شریف میں باستیفاء احکام شریعت کا ذکر ہوتا تو پھر اجتہاد کی گنجائش نہ رہتی۔ غرض یہ سب خیالات فضول اور کوتہ اندیشیاں ہیں۔ ہمارا ایمان ہے کہ آنحضرت ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور قرآن ربانی کتابوں کا خاتم ہے۔ تاہم خدا تعالیٰ نے اپنے نفس پر حرام نہیں کیا کہ تجدید کے طور پر کسی اور مامور کے ذریعہ سے یہ احکام صادر کرے کہ جھوٹ نہ بولو، جھوٹی گواہی نہ دو، زنا نہ کرو، خون نہ کرو، اور ظاہر ہے کہ ایسا بیان کرنا بیان شریعت ہے جو مسیح موعود کا بھی کام ہے۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ٧، ٨، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥، ٤٣٦)

سوم...... حوالے منسوخ

اس الجھن کا ایک حل جماعت احمدیہ کے امام میاں محمود احمد قادیانی نے پیش کیا ہے اور وہ یہ ’’١٩٠١ء سے پہلے کے وہ حوالے جن میں آپ (مرزا قادیانی) نے نبی ہونے سے انکار کیا ہے اب منسوخ ہیں اور ان سے حجت پکڑنی غلط ہے۔“

(حقیقت النبوۃ ص ١٢١)

میاں صاحب کا یہ فیصلہ کئی لحاظ سے محل نظر ہے۔

اول...... مرزا قادیانی آپ کے عقیدہ کے مطابق ملہم من اللہ اور رسول تھے۔ وہ کوئی بات اپنی طرف سے نہیں کہتے تھے ان کے الہامات خدائی تھے۔ ملہم سے زیادہ الہامات کی حقیقت کو دوسرا نہیں سمجھ سکتا۔ ان کی تحریرات کو منسوخ کرنا ایک امتی کا کام نہیں ہو سکتا۔ ایک تحصیلدار کو یہ اختیار کہاں حاصل کہ وہ گورنر کے احکام کو منسوخ کرتا پھرے۔

صفحہ ٣٥

دوم....... مرزا قادیانی پر پہلی وحی ١٨٦٥ء میں نازل ہوئی تھی۔ (تفصیل کا انتظار فرمائیے) ١٩٠١ء تک پورے چھتیس برس بنتے ہیں۔ ایک رسول کے ثلث صدی کے الہامات کو یک کشش قلم منسوخ کر دینا ایک ایسا اقدام ہے جس کے لئے سند کی ضرورت ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کی بہتر (٧٢) تصانیف میں ایک لفظ تک ایسا نہیں ملتا جس سے اشارۃً بھی یہ مترشح ہو تو ہو کہ میاں صاحب کو ایک رسول کا کلام منسوخ کرنے کا اختیار حاصل ہیں۔

سوم....... مرزا قادیانی کا انتقال مئی ١٩٠٨ء میں ہوا۔ ان پر پورے بیالیس سال تک وحی آتی رہی۔ اگر کوئی صاحب چونتیس برس کی وحی کو یہ کہہ کر مسترد کر دے کہ وہ آخری آٹھ برس کی وحی سے متصادم ہوتی ہے تو ایک غیر احمدی لازماً اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ یا تو پہلی وحی غیر خدائی تھی اور یا آخری۔ اس لئے کہ خدا کی وحی میں تضاد و تصادم نہیں ہوا کرتا۔

چہارم....... ہم صفحات گذشتہ میں ”دافع البلاء“ اور ”کشتی نوح“ کے چند اقتباسات درج کر چکے ہیں۔ جن میں مرزا قادیانی خاتمہ نبوت کے صریحاً قائل ہیں۔ یہ دونوں کتابیں ١٩٠٢ء میں لکھی گئی تھیں اور اگر صرف ١٩٠١ء کی تحریرات منسوخ ہیں تو پھر ان اقتباسات کا تطابق آخری تحریرات سے کیسے ہوگا؟

پنجم....... مرزا قادیانی کی اہم تصانیف بہتر (٧٢) ہیں۔ جن میں سے اڑتالیس ١٩٠١ء سے پہلے کی ہیں اور چوبیس بعد کی۔ اگر ١٩٠١ء سے پہلے کی تحریرات منسوخ کر دی جائیں تو مرزا قادیانی کی دو تہائی تحریرات سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔ اگر ایک رسول دو تہائی تحریرات کو ناقابل اعتماد قرار دیا جائے تو باقیماندہ ایک تہائی پر سے بھی اعتماد اٹھ جائے گا۔

دوسرا باب....... مسیح موعود ہونے کا دعویٰ

جماعت احمدیہ کا عقیدہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی مسیح موعود تھے اور آپ کا منکر کافر ہے۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ”جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔ اب جو شخص خدا اور رسول کے بیان کو نہیں مانتا اور قرآن کی تکذیب کرتا ہے اور عمداً خدا کے نشانوں کو رد کرتا ہے۔ وہ مؤمن کیونکر ہوسکتا ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ١٦٣، ١٦٤، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٨)

”کفر دو قسم پر ہے۔ اوّل یہ کفر کہ ایک شخص اسلام ہی سے انکار کرتا ہے اور آنحضرت ﷺ کو نہیں مانتا۔ دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا۔ یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔“

(حقیقت الوحی ص ١٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥)

صفحہ ٣٦

میاں محمود احمد قادیانی ایک قدم آگے بڑھ کر کہتے ہیں۔ ”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے۔ خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا۔ وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“

(آئینہ صداقت ص ٣٥)

اس فتویٰ پر مرزا قادیانی کا اپنا ارشاد ملاحظہ ہو۔ ”ڈاکٹر عبدالحکیم ..... میرے پر یہ الزام لگاتا ہے کہ گویا میں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ جو شخص میرے پر ایمان نہیں لائے گا گو وہ میرے نام سے بھی بے خبر ہوگا۔ تب بھی وہ کافر ہو جائے گا۔ یہ ڈاکٹر مذکور کا سراسر افتراء ہے۔ یہ تو ایسا امر ہے کہ بداہت اس کو کوئی عقل قبول نہیں کر سکتی۔“

(حقیقت الوحی ص ١٧٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٢)

سوال یہ ہے کہ کیا قرآن نے کسی آنے والے مسیح کی خبر دی تھی۔ اس کا جواب ہم دیں گے تو آپ اعتبار نہیں کریں گے۔ خود مرزا قادیانی کی زبانی سنئے۔ ”قرآن شریف میں مسیح ابن مریم کے دوبارہ آنے کا تو کہیں بھی ذکر نہیں۔“

(ایام الصلح ص ١٤٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٩٢)

”جس حالت میں قرآن شریف کھلے کھلے طور پر حضرت مسیح کے وفات پا جانے کا قائل ہے تو پھر کیونکر ان کا وہ جسم جو بموجب نص قرآنی کے زمین میں دفن ہو چکا ہے۔ آسمان سے اتر آئے گا۔“

(ازالۃ الاوہام ص ٩٤، ٩٥، خزائن ج ٣ ص ١٥٢)

”قرآن میں ایک دفعہ بھی ان کی خارق زندگی اور دوبارہ آنے کا ذکر نہیں۔“

(آسمانی فیصلہ ص ٥، خزائن ج ٤ ص ٣١٥)

”ایسا ہی قرآن کریم میں آنے والے مجدد کا بہ لفظ مسیح موعود کہیں ذکر نہیں۔“

(شہادۃ القرآن ص ٦٢، خزائن ج ٦ ص ٣٦٠)

جب کسی مجدد مسیح بن مریم یا مسیح موعود کے آنے کا ذکر قرآن میں موجود نہیں۔ بعض احادیث میں صرف مسیح ابن مریم (مسیح موعود نہیں) کے نزول کا ذکر ملتا ہے تو کیا ایسے مسیح پر اگر وہ آ بھی جائے ایمان لانا ضروری ہے؟ اس کا جواب خود مرزا قادیانی یوں دیتے ہیں۔ ”مسیح کے نزول کا عقیدہ کوئی ایسا عقیدہ نہیں ہے جو ہمارے ایمانیات کی کوئی جزو یا ہمارے دین کے رکنوں میں سے کوئی رکن ہو۔ بلکہ صدہا پیش گوئیوں میں سے یہ ایک پیشین گوئی ہے۔ جس کو حقیقت اسلام سے کچھ بھی تعلق نہیں۔“

(ازالۃ الاوہام ج ١ ص ١٤٠، خزائن ج ٣ ص ١٧١)

”میرے دعویٰ کے انکار کی وجہ سے کوئی شخص کافر یا دجال نہیں ہو سکتا۔“

(تریاق القلوب ص ١٣٠، خزائن ج ١٥ ص ٤٣٢)

”اگر مسٹر ڈوئی ڈ... کیا ہے کہ میں مولوی محمد حسین... کہوں گا۔ تو واقعی میرا یہی مذہ...

”ابتداء سے میر... دجال نہیں ہو سکتا۔“

”اب مگر میاں م... میں انہیں کاذب نہیں کہتا۔ بلک...

احادیث از بس ک... امام بخاری نے اپنی صحیح میں ت... مسترد کر دیا۔ اس ذخیرے م... حضور ﷺ پر جو کتاب نازل... حدیث پر۔ اس لئے اگر کوئی ... ”احادیث تو انسانوں کے ذ... ”ہم مسلمانوں ک... ہے۔ اکثر احادیث اگر صحیح بھ...

”خدا نے مجھے ا... لفظی میں آلودہ ہیں اور یا مر... ”تمہارے ہاتھ... بوٹی کر کے باہم تقسیم کر دی... قرآن میں کسی ... احمدی بھائیو! انصافاً کہو کہ ان...

١ے یہاں پر مصن...

صفحہ ٣٧

”اگر مسٹر ڈوئی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپور کے روبرو میں نے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ میں مولوی محمد حسین بٹالوی (مرزا قادیانی کا سب سے بڑا دشمن اور منکر ) کو کافر نہیں کہوں گا۔ تو واقعی میرا یہی مذہب ہے کہ میں کسی مسلمان کو کافر نہیں جانتا۔“

(تریاق القلوب ص ١٣١، خزائن ج ١٥ ص ٤٣٣، ٤٣٤)

”ابتداء سے میرا یہی مذہب ہے کہ میرے دعوے کے انکار کی وجہ سے کوئی شخص کافر یا دجال نہیں ہوسکتا۔“

(تریاق القلوب ص ١٣٠، خزائن ج ١٥ ص ٤٣٢)

”اب مگر میاں عبدالحق اپنے قصور فہم کی وجہ سے مجھے کاذب خیال کرتے ہیں۔ لیکن میں انہیں کاذب نہیں کہتا۔ بلکہ مخطی (خطا کار ) جانتا ہوں۔“

(ازالہ اوہام ج ٢ ص ٦٢٧، خزائن ج ٣ ص ٤٣٤)

احادیث از بس ناقابل اعتماد ہیں۔ امام بخاری کے عہد میں ان کا تعداد چودہ لاکھ تھی۔ امام بخاری نے اپنی صحیح میں مکررات کو چھوڑ کر صرف چار ہزار احادیث درج کیں اور باقی سب کو مسترد کر دیا۔ اس ذخیرے میں بے شمار تضاد اوہام کی بہتات اور غلط سلط باتوں کی بھر مار ہے۔ حضور ﷺ پر جو کتاب نازل ہوئی۔ وہ قرآن تھا۔ حدیث نہیں تھی۔ ہمارا ایمان قرآن پر ہے نہ کہ حدیث پر۔ اس لئے اگر کوئی شخص کسی حدیث کی بناء پر کوئی دعویٰ کرے۔ تو وہ قابل توجہ نہیں ؎١۔

”احادیث تو انسانوں کے دخل سے بھری ہوئی ہیں۔“ (ازالہ اوہام ج ٢ ص ٥٢٩، خزائن ج ٣ ص ٣٨٤)

”ہم مسلمانوں کے پاس وہ نص جو اوّل درجہ پر قطعی اور یقینی ہے۔ قرآن کریم ہی ہے۔ اکثر احادیث اگر صحیح بھی ہوں تو مفید ظن ہیں اور ظن حق کے لئے کچھ بھی مفید نہیں۔“

(ازالہ اوہام ج ٢ ص ٦٥٤، خزائن ج ٣ ص ٤٥٣)

”خدا نے مجھے اطلاع دی ہے کہ یہ تمام حدیثیں جو یہ پیش کرتے ہیں۔ تحریف معنوی یا لفظی میں آلودہ ہیں اور یا سرے سے موضوع ہیں۔“ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٠ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٥١)

”تمہارے ہاتھ میں کیا ہے۔ بجز ان چند حدیثوں کے جو تہتر (٧٣) فرقوں نے بوٹی بوٹی کر کے باہم تقسیم کر رکھی ہیں۔“ (اربعین نمبر ٣ ص ٢١، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٦)

قرآن میں کسی مسیح کے آنے کا ذکر نہیں۔ حدیثوں کی حالت آپ کے سامنے ہے۔ احمدی بھائیو! انصافاً کہو کہ اب اگر کوئی شخص کسی ظنی حدیث کی بنیاد پر رسول بن کر آ جائے تو کیا اُس

؎١ یہاں پر مصنف کا عقیدہ انکار حدیث عروج پر ہے۔ معاذ اللہ ! (مرتب)

صفحہ ٣٨

کا دعویٰ قابل قبول ہو سکتا ہے؟ قرآن کی پوری ایک سو آیات ختم رسالت کا اعلان کر چکی ہیں۔ پوری دوسو دس احادیث تائید کے لئے موجود ہیں۔ خود مرزا قادیانی کے کئی سو اقوال مدعی نبوت کو کافر و کذاب قرار دیتے ہیں۔ ذرا سوچئے کہ ان حالات میں ہم کسی صاحب کو نبی تسلیم کریں تو کسی بنیاد پر؟

پھر جس حدیث کی بناء پر مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت کیا ہے۔ اس میں مسیح موعود کے آنے کا ذکر نہیں۔ بلکہ مسیح بن مریم کے نزول کا ذکر ہے۔ اگر آپ کو یقین ہے کہ قرآن کی رو سے حضرت مسیح وفات پا چکے ہیں۔ تو لازماً اس حدیث کو غلط قرار دینا ہوگا۔ ایسی غلط حدیث کو لے کر پہلے بصد تکلف مثیل مسیح بنا۔ پھر مسیح بن مریم ہونے کا اعلان کرنا۔ اس کے بعد اپنے آپ کو مسیح موعود سمجھنا اور آخر میں ایک مستقل رسول بن کر مسلمانوں کے سامنے آجانا کہاں تک جائز ہے؟

مرزا قادیانی درست فرماتے ہیں کہ تمام حدیثیں تحریف معنوی و لفظی سے آلودہ یا سرے سے موضوع ہیں اور ساتھ ہی ارشاد ہوتا ہے۔ ”جب قرآن مسیح ابن مریم کو مارتا ہے اور حدیثیں مثیل (حدیث میں مثیل کا لفظ کہیں موجود نہیں۔ برق) ابن مریم کے آنے کا وعدہ کرتی ہیں تو اس صورت میں کیا اشکال باقی رہا۔“

(ازالہ اوہام ج ٢ ص ٥٣٦، خزائن ج ٣ ص ٣٨٨)

مطلب یہ کہ میں حدیثوں کی رو سے مثیل مسیح بن کر آیا ہوں اور جس حدیث میں مسیح بن مریم کے آنے کا ذکر ہے اس سے مراد مثیل مسیح ہے اور ہر ایسی حدیث جو مسیح بن مریم کے آنے کی خبر دیتی ہے وہ اوّل درجہ کی قابل اعتبار ہے۔ ”یہ کمال درجہ کی بد نصیبی اور بھاری غلطی ہے کہ یک لخت تمام حدیثوں کو ساقط الاعتبار سمجھ لیں۔...... یہ بات پوشیدہ نہیں کہ مسیح ابن مریم کے آنے کی پیش گوئی ایک اوّل درجہ کی پیش گوئی ہے۔ جس کو سب نے بالاتفاق قبول کر لیا ہے۔“

(ازالہ اوہام ج ٢ ص ٥٥٧، خزائن ج ٣ ص ٤٠٠)

اور یہ بھی ملاحظہ ہو: ”اس زمانے کے بعض نادان کئی دفعہ شکست کھا کر پھر مجھ سے حدیثوں کی رو سے بحث کرنا چاہتے ہیں۔...... وہ اپنی چند ایسی حدیثوں کو چھوڑنا نہیں چاہتے جو محض ظنیات کا ذخیرہ اور مجروح ومخدوش ہیں۔...... خدا نے مجھے اطلاع دی ہے کہ یہ تمام حدیثیں جو پیش کرتے ہیں۔ تحریف لفظی یا معنوی میں آلودہ ہیں۔“

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٠، حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٥١)

علمائے اسلام جو احادیث مرزا قادیانی کے سامنے پیش کرتے تھے۔ ان تمام کا تعلق مسیح ابن مریم اور دجال وغیرہ سے تھا۔ ملاحظہ ہو۔ پیر صاحب گولڑہ کی ”سیف چشتیائی“ جن کی تردید

صفحہ ٣٩

میں ”تحفہ گولڑویہ“ لکھی گئی تھی۔ اس کتاب میں تمام وہی احادیث پیش کی گئی ہیں۔ جن کا تعلق نزول مسیح سے ہے۔ اگر یہ تمام احادیث محرف اور موضوع ہیں تو پھر انہی کی بناء پر آپ کا دعویٰ مسیحیت ونبوت کیوں کر جائز ٹھہرا؟

احمدی بھائیو! بات بالکل سیدھی سی ہے۔ قرآن میں کسی مسیح کی آمد کا ذکر موجود نہیں۔ احادیث موضوع ومحرف ہیں۔

مرزا قادیانی انہی احادیث کا سہارا لے کر مسیح موعود ورسول بنے ہیں۔ انصافاً کہو کہ کیا حدیث کی سند قابل اعتماد ہے؟ اگر نہیں تو پھر مرزا قادیانی کا دعوائے رسالت کیونکر صحیح ہوا؟ اگر میں غلطی پر ہوں تو مجھے سمجھائیے اور اگر میری دلیل میں کوئی وزن موجود ہے تو خود مان جائیے۔ ہمارا قبلہ ایک، کتاب ایک، تمدن ایک، فلسفہ ایک، تہذیب ایک، لباس ایک، صورت شکل، سوچنے کا ڈھنگ ایک، روایات ایک، اسلاف ایک، سب کچھ تو پھر ہم ایک دوسرے سے الگ کیوں کر رہیں۔

اب اور نہ ترساؤ
یا ہم کو بلا بھیجو یا آپ چلے آؤ

ایک اور الجھن

مسیح موعود اور مثیل مسیح میں بڑا فرق ہے۔ مسیح موعود سے مراد بعینہ وہ مسیح ہے جس کے آنے کی بشارت احادیث میں موجود ہے اور مثیل سے مراد ایسا شخص ہے جو مسیح موعود سے بعض صفات میں ملتا جلتا ہو۔

رستم ایک ہی تھا۔ لیکن رستم جیسے (مثیل رستم) پہلوان بہتیرے ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح مسیح موعود ایک معین شخصیت ہے۔ جس کے مثیل بے شمار ہو سکتے ہیں۔ سارا ہندوستان حکیم اجمل خاں کو مسیح الملک کہتا تھا۔ اس لئے کہ بیماروں کو شفا دینے میں انہیں حضرت مسیح کی طرح ید طولیٰ حاصل تھا۔ مرزا قادیانی کا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا ہے۔ ”مجھے اس خدا کی قسم جس نے مجھے بھیجا ہے اور جس پر افتراء کرنا لعنتیوں کا کام ہے کہ اس نے مسیح موعود بنا کر مجھے بھیجا ہے۔“

(اشتہار ایک غلطی کا ازالہ مندرجہ تبلیغ رسالت ج ١٠، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٣٥)

”میرا دعویٰ یہ ہے کہ میں وہ مسیح موعود ہوں جس کے بارے میں خدا تعالیٰ کی تمام کتابوں میں پیش گوئیاں ہیں۔“

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٨، خزائن ج ١٧ ص ٢٩٥)

صفحہ ٤٠

چونکہ احادیث میں مسیح موعود کا لفظ موجود نہیں۔ بلکہ مسیح ابن مریم کا ہے۔ اس لئے مسیح ابن مریم بننے کے لئے اس راہ پہ چلتے ہیں۔

”اس (اللہ) نے براہین احمدیہ کے تیسرے حصے میں میرا نام مریم رکھا ..... میں نے دو برس تک صفت مریمیت میں میں نے پرورش پائی۔ پھر مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینے کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔“

(کشتی نوح ص ٤٦، خزائن ج ١٩ ص ٥٠)

اور پھر فرماتے ہیں: ”سو یقیناً سمجھو کہ نازل ہونے والا ابن مریم یہی ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٦٥٩، خزائن ج ٣ ص ٤٥٦)

اور اس طرح مرزا قادیانی مکمل مسیح موعود بن گئے۔ ”اس وقت جو ظہور مسیح موعود کا وقت ہے کسی نے بجز اس عاجز کے دعویٰ نہیں کیا کہ میں مسیح موعود ہوں۔“

(ازالہ اوہام ص ٦٨٣، خزائن ج ٣ ص ٤٦٨)

یہ تو تھا آپ کا دعویٰ۔ اب ذرا یہ اقتباسات بھی پڑھیئے ۔ ”میں نے صرف مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور میرا یہ دعویٰ نہیں کہ صرف مثیل ہونا میرے پر ہی ختم ہو گیا ہے۔ بلکہ ممکن ہے کہ آئندہ زمانوں میں میرے جیسے دس ہزار مثیل مسیح آ جائیں۔“

(ازالہ اوہام ص ١٩٩، خزائن ج ٣ ص ١٩٧)

”مجھے مسیح ابن مریم ہونے کا دعویٰ نہیں ..... بلکہ مجھے تو فقط مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ ہے۔“

(اشتہار مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٢ ص ٢١، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣١)

”یہ بات سچ ہے کہ اللہ جل شانہ کی وحی اور الہام سے میں نے مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے ..... میں اسی الہام کی بناء پر اپنے تئیں وہ موعود مثیل (مسیح موعود نہیں ۔ بلکہ مثیل موعود) سمجھتا ہوں۔ جس کو دوسرے لوگ غلط فہمی سے مسیح موعود کہتے ہیں۔“ (ایک غلطی کا ازالہ ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢١٠) والا اقتباس پھر پڑھیئے ۔ ”مجھے اس خدا کی قسم جس نے مجھے بھیجا ہے ..... کہ اس نے مسیح موعود بنا کر مجھے بھیجا ہے۔“

اقتباس ذیل کے ہر ہر لفظ پر غور فرمائیے ۔ ”اس عاجز نے جو مثیل موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں۔ یہ کوئی نیا دعویٰ نہیں۔ میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ میں مسیح بن مریم ہوں۔ جو شخص یہ الزام مجھ پر لگاوے وہ سراسر مفتری اور کذاب ہے۔

بلکہ میری طرف سے عرصہ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے میری فطرت میں بھی اور لطف یہ کہ کہ خدا تعالیٰ نے میرے

اور جلد دوم وقف فرمائے ہیں اور ہیں۔ فرمایئے ہم ان دلچسپ جواب

مرزا قادیانی آخری زمانے میں آسمان پیش کیں۔ جب کسی نے نظر کو پھیر دیا۔ میں براہین میری سچائی پر ایک عظیم الش براہین احمدیہ میں مسیح موعود کی وحی کے مخالف لکھ دیا۔

یعنی تضاد تو پیدا دلچسپ منطق ہے؟ اس کی تیرھویں سال دو اور دو کو ا جواب تمہارے ذمہ ہے۔

یہاں یہ سوال نے پورے بارہ برس تک آ اللہ تعالیٰ کی دانش و حکمت حقیقت لکھتا اور کہتا رہے اور

صفحہ ٤١

بلکہ میری طرف سے عرصہ سات آٹھ سال سے برابر یہی شائع ہو رہا ہے کہ میں مثیل مسیح ہوں۔ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعض روحانی خواص طبع اور عادات اور اخلاق وغیرہ کے خدا تعالیٰ نے میری فطرت میں بھی رکھے ہیں۔“

(ازالہ اوہام ج١ص١٩٠، ١٩١، خزائن ج ٣ ص١٩٢)

اور لطف یہ کہ اسی کتاب (ازالہ اوہام) میں چند صفحات پہلے فرماتے ہیں ۔ ”اب جو امر کہ خدا تعالیٰ نے میرے پر منکشف کیا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ وہ مسیح موعود میں ہی ہوں۔“

(ازالہ اوہام ج١، طبع دوم ص٣٨، ٣٩، خزائن ج٣ ص١٢٢)

اور جلد دوم میں اپنے آپ کو مسیح موعود ثابت کرنے کے لئے ایک سو اکانوے صفحات وقف فرمائے ہیں اور ساتھ ہی ارشاد ہوتا ہے کہ میرے دعویٰ کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں۔ فرمائیے ہم ان بیانات سے کیا نتیجہ اخذ کریں؟

دلچسپ جواب

مرزا قادیانی براہین احمدیہ میں لکھ چکے تھے کہ حضرت مسیح بن مریم زندہ ہیں اور وہ آخری زمانے میں آسمان سے نازل ہوں گے۔ پھر ازالہ اوہام میں عیسیٰ کی وفات پر تیس دلائل پیش کیں۔ جب کسی نے اس تضاد پر اعتراض کیا تو آپ نے جواب میں لکھا: ”مگر خدا نے میری نظر کو پھیر دیا۔ میں براہین کی وحی کو نہ سمجھ سکا کہ وہ مجھے مسیح موعود بناتی ہے۔ یہ میری سادگی تھی جو میری سچائی پر ایک عظیم الشان دلیل تھی۔ ورنہ میرے مخالف مجھے بتلادیں کہ میں نے باوجودیکہ براہین احمدیہ میں مسیح موعود بنایا گیا تھا۔ بارہ برس تک یہ دعویٰ کیوں نہ کیا اور کیوں براہین میں خدا کی وحی کے مخالف لکھ دیا۔“

(اعجاز احمدی ص٧، خزائن ج ١٩ص١١٣)

یعنی تضاد تو پیدا ہوا مرزا قادیانی کے کلام میں اور اس کا جواب دیں آپ کے مخالفین کیا دلچسپ منطق ہے؟ اس کی مثال یوں ہے کہ ایک شخص بارہ برس تک دو اور دو چار کہتا رہے اور تیرہویں سال دو اور دو کو اٹھارہ بتا دے اور جب کوئی اعتراض کرے تو وہ کہے کہ اس بوالعجبی کا جواب تمہارے ذمہ ہے۔

یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ جو وحی ہر روز آپ پر بارش کی طرح برستی تھی۔ اس نے پورے بارہ برس تک آپ کو یہ کیوں نہ سمجھایا کہ آپ کی فلاں بات خلاف حقیقت ہے۔ کیا اللہ تعالیٰ کی دانش و حکمت کا تقاضا یہی تھا کہ اس کا ایک جلیل القدر رسول بارہ برس تک خلاف حقیقت لکھتا اور کہتا رہے اور خدا عرش پر خاموش بیٹھا رہے؟

صفحہ ٤٢

بہر حال اس عقدہ کو حل کرنے کی ذمہ داری مخالفین پر نہیں۔ بلکہ خود صاحب الہام پر عائد ہوتی ہے۔ ”اعجاز احمدی“ ١٩٠٢ء کی تصنیف ہے اور پورے دو برس پہلے وہ اس مشکل کا حل فرما چکے تھے۔ فرماتے ہیں۔ ”میرے دعویٰ مسیح موعود کی بنیاد انہی الہامات (براہین احمدیہ والے) سے پڑی۔ انہیں میں میرا نام خدا نے عیسیٰ رکھا اور جو آیتیں مسیح موعود کے حق میں تھیں۔ وہ میرے حق میں بیان کر دیں۔ اگر علماء کو خبر ہوتی کہ ان الہامات سے تو اس شخص کا مسیح ہونا ثابت ہوتا ہے تو وہ کبھی ان کو قبول نہ کرتے۔ یہ خدائی قدرت ہے کہ انہوں نے قبول کر لیا اور اس پیچ میں پھنس گئے۔“

(اربعین نمبر ٢ ص ٢١، خزائن ج ١٧ ص ٣٦٩)

یہ جواب صحیح معلوم ہوتا ہے۔ ورنہ یہ بات نا قابل تسلیم ہے کہ ایک رسول پر ایک وحی نازل ہو۔ جبریل ہر روز مسلسل آتا رہے اور رسول کو بارہ برس تک اس وحی کا مطلب ہی معلوم نہ ہو سکے۔ ہر رسول کا یہ فرض منصبی ہوتا ہے کہ وہ اپنی وحی کی تبلیغ کرے۔ ”بلغ ما انزل الیک (المائدہ:٦٧)“ ﴿ہمارے پیغام کی تبلیغ کرو۔﴾

لیکن اگر کسی رسول کو بارہ برس تک اس پیغام کا مفہوم ہی معلوم نہ ہو سکے تو وہ تبلیغ کیا کرے گا؟ رسالت کی طویل تاریخ میں یہ آج تک نہیں ہوا اور نہ ایسا ہونا ممکن ہے کہ ایک رسول بارہ برس تک اپنے الہام کو نہ سمجھے۔ حامل الوحی (جبریل) مسلسل آتا رہے اور سمجھائے بغیر واپس جاتا رہے۔ وہ رسول خدا کے الہام و منشاء کے خلاف پیہم لکھتا رہے اور اللہ تعالیٰ چپ چاپ تماشہ دیکھتا رہے۔ اس صورتحال کو عقل قبول نہیں کر سکتی۔

تیسرا باب ...... مسیح و مثیل مسیح

مرزا قادیانی بار ہا فرما چکے ہیں کہ : ”میں مثیل مسیح ہوں۔ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعض روحانی خواص طبع اور عادات اور اخلاق وغیرہ کے خدا تعالیٰ نے میری فطرت میں بھی رکھے ہیں۔“

(ازالہ ج ١ ص ١٩٠، خزائن ج ٣ ص ١٩٢)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اخلاق، عادات اور خواص کیا تھے۔ ان کی تفصیل سے مرزا قادیانی کی تصانیف لبریز ہیں۔ مشتے نمونہ از خروارے ملاحظہ ہوں۔ ”اس مسیح (مرزا قادیانی) کو اسرائیلی مسیح پر ایک جزئی فضیلت حاصل ہے۔۔۔۔ اس کو۔۔۔ وہ حکمت اور معرفت سکھائی گئی جو مسیح ابن مریم کو نہیں سکھلائی گئی۔“

(ازالہ اوہام ج ٢ ص ٦٤٨، خزائن ج ٣ ص ٤٥٠)

صفحہ ٤٣

”اگر تجربہ کے رو سے خدا کی تائید مسیح بن مریم سے بڑھ کر میرے ساتھ نہ ہو تو میں جھوٹا ہوں۔“

(دافع البلاء ص ٢٠، ٢١، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠، ٢٤١)

”خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔“

(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)

”یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے۔ اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔“

(کشتی نوح ص ٦٥ حاشیہ، خزائن ج ١٩ ص ٧١)

”پھر تعجب ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے خود اخلاقی تعلیم پر عمل نہیں کیا۔ انجیر کے درخت کو بغیر پھل کے دیکھ کر اس پر بددعا کی اور دوسروں کو دعاء کرنا سکھایا اور دوسروں کو یہ بھی حکم دیا کہ تم کسی کو احمق مت کہو۔ مگر خود اس قدر بدزبانی میں بڑھ گئے کہ یہودی بزرگوں کو ولد الحرام تک کہہ دیا۔“

(چشمہ مسیحی ص ١١، خزائن ج ٢٠ ص ٣٤٦)

”اس جگہ حضرت مسیح کی تہذیب اور اخلاق پر ایک سخت اعتراض وارد ہوتا ہے کہ فقیہوں اور فریسیوں کو مخاطب کرتے ہوئے حضرت مسیح نے نہایت غیر مہذب الفاظ استعمال کئے۔“

(ازالۃ اوہام ج ١ طبع دوم حاشیہ ص ١٠، خزائن ج ٣ ص ١٠٧)

”یہ بات قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ حضرت مسیح بن مریم باذن وحکم الٰہی الیسع نبی کی طرح اس عمل الترب (مسمریزم، شعبدہ بازی) میں کمال رکھتے تھے...... اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو حضرت مسیح سے کم نہ رہتا۔“

(ازالۃ اوہام ج ١ ص ٣٠٨، ٣٠٩ طبع دوم، خزائن ج ٣ ص ٢٥٧، ٢٥٨)

”واضح ہو کہ اس عمل جسمانی (مسمریزم) کا ایک نہایت برا خاصہ یہ ہے کہ جو شخص اپنے تئیں اس مشغولی میں ڈالے...... وہ...... روحانی تاثیروں...... میں بہت ضعیف اور نکما ہو جاتا ہے...... یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح...... ہدایت اور توحید...... کے بارے میں ان کی کارروائیوں کا نمبر ایسا کم درجہ کا رہا کہ قریب قریب ناکام کے رہے۔“

(ازالۃ اوہام ١ ص ٣١٠، ٣١١، خزائن ج ٣ ص ٢٥٨)

١؎ اقتباس میں نقطوں کا مطلب یہ نہیں کہ ہم نے بعض حصے حذف کر کے عبارت کو حسب منشاء ڈھال لیا ہے۔ حاشا وکلا، بددیانتی کا کوئی ارادہ نہیں۔ بلکہ یہ ہے کہ بعض زائد الفاظ کو بفرض اختصار حذف کر دیا گیا ہے۔ (برق)

صفحہ ٤٤

”اس درماندہ انسان (مسیح علیہ السلام) کی پیش گوئیاں کیا تھیں۔ صرف یہی کہ زلزلے آئیں گے۔ قحط پڑیں گے۔ لڑائیاں ہوں گی۔ پس ان دلوں پر خدا کی لعنت جنہوں نے ایسی ایسی پیش گوئیاں اس کی خدائی پر دلیل ٹھہرائیں اور ایک مردہ کو اپنا خدا بنالیا۔ کیا ہمیشہ زلزلے نہیں آتے۔ کیا ہمیشہ قحط نہیں پڑتے۔ کیا کہیں نہ کہیں لڑائی کا سلسلہ شروع نہیں رہتا۔ پس ان نادان اسرائیلیوں نے اس معمولی باتوں کا پیش گوئی کیوں نام رکھا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٨٨)

قارئین اس حقیقت سے یقیناً آگاہ ہوں گے کہ مرزا قادیانی نے پنجاب میں طاعون اور کئی زلزلوں کی پیش گوئیاں کی تھیں۔ خیر اس قصے کو جانے دیجئے اور حضرت مسیح علیہ السلام کے اخلاق و خواص کی تفصیل سنئے۔

”بغیر اس کے کہ یہ کہہ دیں کہ ضرور عیسیٰ نبی ہے۔ کیونکہ قرآن نے اس کو نبی قرار دیا ہے اور کوئی دلیل اس کی نبوت پر قائم نہیں ہو سکتی۔ بلکہ ابطال نبوت پر کئی دلائل قائم ہیں۔ یہ احسان قرآن کا ان پر ہے کہ ان کو بھی نبیوں کی فہرست میں لکھ دیا۔“

(اعجاز احمدی ص ١٣، خزائن ج ١٩ ص ١٢٠)

”آپ کو گالیاں دینے اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی۔ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)

”جس حالت میں برسہا برس کے دنوں میں ہزار ہا کیڑے مکوڑے خود بخود پیدا ہو جاتے ہیں۔۔۔۔ عیسیٰ کی اس (معجزانہ) پیدائش سے کوئی بزرگی ان کی ثابت نہیں ہوتی۔“

(چشمہ مسیحی ص ١٧، خزائن ج ٢٠ ص ٣٥٦)

”مردی اور رجولیت انسان کے صفات محمودہ میں سے ہے۔ ہجڑہ ہونا کوئی صفت نہیں۔۔۔۔ حضرت مسیح مردانہ صفت (رجولیت) کی اعلیٰ ترین صفت سے محروم ہونے کے باعث ازواج سے تہی اور کامل حسن معاشرت کا کوئی عملی نمونہ نہ دے سکے۔“

(مکتوبات احمدیہ ج ٣ ص ٢٨)

”حق بات یہ ہے کہ آپ (عیسیٰ علیہ السلام) سے کوئی معجزہ ظاہر نہیں ہوا اور اس دن سے کہ آپ نے معجزہ مانگنے والوں کو گندی گالیاں دیں اور ان کو حرام کار اور حرام کی اولاد ٹھہرایا۔ اسی روز سے شریفوں نے آپ سے کنارہ کر لیا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)

”آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)

صفحہ ٤٥

اور یہ بھی ملاحظہ فرمائیے: ”اور مفسد اور مفتری ہے وہ شخص جو مجھے کہتا ہے کہ میں مسیح بن مریم کی عزت نہیں کرتا۔ بلکہ مسیح تو مسیح میں تو اس کے چاروں بھائیوں کی بھی عزت کرتا ہوں۔“

(کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٧،١٨)

”خبیث ہے وہ انسان جو اپنے نفس سے کاملوں اور راست بازوں پر زبان درازی کرتا ہے۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ کوئی شخص حسین جیسے یا حضرت عیسیٰ جیسے راست باز پر بدزبانی کر کے ایک رات بھی زندہ نہیں رہ سکتا۔“

(ضمیمہ نزول المسیح ص ٤٨، خزائن ج ١٩ ص ١٤٦، ملحق اعجاز احمدی)

حضرت مسیح کے متعلق اس تلخ زبانی کی ایک وجہ مرزا قادیانی نے یہ بیان فرمائی ہے کہ میرا روئے سخن قرآن والے عیسیٰ کی طرف نہیں۔ بلکہ انجیل والے یسوع کی طرف ہے۔ بات کچھ سمجھ میں نہیں آئی۔ آخر قرآن میں بھی تو انجیل والے مسیح یا عیسیٰ کا ذکر ہے۔ ”وَآتَيْنَاهُ الْإِنجِيلَ فِيهِ هُدًى وَنُورٌ (المائدہ:٤٦)“ ﴿ہم نے حضرت مسیح کو انجیل دی۔ جس میں ہدایت اور روشنی ہے۔﴾

یہ دونوں الگ الگ کیسے ہوئے؟ کیا انجیل میں کہیں لکھا ہے کہ مسیح شراب پیتے، جھوٹ بولتے، مداریوں کے کھیل دکھاتے اور فاحشہ عورتوں کی نسل سے تھے؟ کہیں نہیں تو پھر آپ نے حضرت مسیح کی یہ انوکھی سیرت کہاں سے حاصل کی ہے؟ جب قرآن و انجیل ہر دو میں حضرت مسیح کی نہایت بلند، مطہر اور مقدس تصویر ملتی ہے تو پھر انجیل والے مسیح کو شرابی اور جھوٹا کہنا کیا معنی؟ قرآن کا عیسیٰ انجیل کے یسوع سے کوئی الگ ہستی نہیں تھا۔ ”ایک دو ماہ بعد مریم کو بیٹا پیدا ہوا۔ وہی عیسیٰ یا یسوع کے نام سے موسوم ہوا۔“

(چشمہ مسیحی ص ٢٧، خزائن ج ٢٠ ص ٣٥٦)

بلکہ ایک قدم اور آگے بڑھ کر فرمایا: ”آپ (حضور ﷺ) کا نام احمد تھا۔ یعنی خدا کا سچا پرستار اور اس کے فضل و رحم کا شکر گزار اور یہ نام اپنی حقیقت کے رو سے یسوع کا مترادف ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٩٧، خزائن ج ١٧ ص ٢٥٦)

مرزا قادیانی اپنے تمام دور نبوت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف لکھتے رہے۔ لیکن کبھی کبھی یہ بھی فرماتے رہے کہ میرا روئے سخن انجیل والے عیسیٰ کی طرف ہے۔ آخر ١٩٠٥ء میں اس راز سے یوں پردہ اٹھایا۔ ”ہماری قلم سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت جو کچھ خلاف شان ان کے نکلا ہے وہ الزامی جواب کے رنگ میں ہے اور وہ دراصل یہودیوں کے الفاظ ہم نے نقل کئے ہیں۔“

(مقدمہ چشمہ مسیحی ص ب حاشیہ، خزائن ج ٢٠ ص ٣٣٦)

صفحہ ٤٦

لیکن مرزا قادیانی فراموش کر گئے کہ یہودیوں کے ہاں حضرت مسیح علیہ السلام گردن زدنی تھے اور ہمارے ہاں وہ ایک اولوالعزم رسول ہیں۔ کیا ایک مسلمان کے لئے مناسب ہے کہ وہ یہودیوں کا ہم آہنگ ہو کر ایک جلیل المرتبت پیغمبر کے خلاف زبان کھولے۔ یہودی تو ہمارے حضور پرنور ﷺ کو بھی گالیاں دیتے ہیں۔ کیا ہم اس معاملے میں بھی ان کی تقلید کریں؟

”جس طرح یہود محض تعصب سے حضرت عیسیٰ اور ان کی انجیل پہ حملے کرتے ہیں۔ اسی رنگ کے حملے عیسائی قرآن شریف اور آنحضرت ﷺ پہ کرتے ہیں۔ عیسائیوں کو مناسب نہ تھا کہ اس طریق بد میں یہودیوں کی پیروی کرتے۔“ (مقدمہ چشمہ مسیحی ص ج خزائن ج ٢٠ ص ٣٣٧)

اگر عیسائیوں کے لئے یہود کے طریق بد کی پیروی نامناسب تھی تو مرزا قادیانی کے لئے اسی پیروی کا جواز کہاں سے نکل آیا؟ ہاں تو ہم مرزا قادیانی کی تحریرات کی روشنی میں حضرت مسیح کے اخلاق و خواص کا جائزہ لے رہے تھے۔ اقتباسات بالا کا ملخص یہ نکلا۔

صفحہ ٤٧

حضرت مسیح علیہ السلام کی اس ”سیرت“ کو پیش نظر رکھ کر مرزا قادیانی کا یہ ارشاد بغور مطالعہ فرمائیے ۔ ”میں مثیل مسیح ہوں ۔ یعنی حضرت مسیح کے بعض روحانی خواص طبع اور عادات اور اخلاق وغیرہ کے خدا تعالیٰ نے میری فطرت میں بھی رکھے ہیں ۔“

(ازالۃ اوہام ص ١٩٠، خزائن ج ٣ ص ١٩٢)

چوتھا باب ...... تاریخ بعثت

حضور ﷺ کی تاریخ بعثت سب کو معلوم ہے کہ ٦١٠ء میں حضرت جبریل علیہ السلام بالکل پہلی مرتبہ غار حرا میں آئے تھے اور حضور ﷺ سے کہا تھا۔ ”اقراء ، باسم ربك الذی خلق ، خلق الانسان من علق ، اقراء وربك الاكرم ، الذى علم بالقلم (العلق: ١ تا ٤)“ ﴿اے محمد پڑھ اور اس اللہ کا نام لے کر پڑھ۔ جس نے انسان کو ارتقائی منازل میں جونک سے پیدا کیا۔ اس عظیم رب کا نام لے کر پڑھ۔ جس نے قلم سے علم دیا۔﴾

لیکن مرزا قادیانی کی تاریخ وحی کون سی ہے۔ یہ معلوم کرنا کارے دارد، مرزا قادیانی کی علمی تصانیف بہتر (٧٢) ہیں۔ جن میں سے ہر کتاب آپ کے نشانات دلائل نبوت، زمانہ رسالت اور الہامات سے لبریز ہے اور تقریباً ہر کتاب میں کئی کئی مرتبہ آپ نے اپنے دعوائے رسالت کی تاریخ بیان کی ہے۔ ہم باقی کتابوں کو چھوڑتے ہیں اور صرف دس کتابیں کھول کر آپ کی تاریخ رسالت معلوم کرنا چاہتے ہیں۔ ہم اوراق گذشتہ میں واضح کرچکے ہیں کہ مرزا قادیانی کی وحی قرآن و تورات کی ہم پایہ تھی۔ اس سلسلے کا پیغام کب نازل ہوا۔ اقتباسات ذیل کو دیکھئے ۔

اس کتاب میں ایک مقام پر ١٨٦٩ء کا ایک الہام درج کرتے ہیں۔ جسے وہ آخر تک اپنی دیگر تصانیف میں دہراتے چلے جاتے ہیں اور وہ یہ ہے۔ ”وہ تجھے بہت برکت دے گا۔ یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے ۔“

(براہین احمدیہ ص ٥٢١ حاشیہ در حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٦٢٢)

”وہ آدم اور ابن مریم یہی عاجز ہے اور اس عاجز کا یہ دعویٰ دس برس سے شائع ہورہا ہے۔“

(ازالۃ اوہام حصہ دوم ص ٦٩٥، خزائن ج ٣ ص ٤٧٥)

ازالہ ١٨٩١ء کی تصنیف ہے۔ اس سے دس برس کم کیجئے۔ باقی ١٨٨١ء ۔

صفحہ ٤٨

”یہ عاجز اپنی عمر کے چالیسویں برس میں دعوت حق کے لئے بالہام خاص مامور کیا گیا اور بشارت دی گئی کہ اسی (٨٠) برس تک یا اس کے قریب تیری عمر ہے۔ سو اس الہام سے چالیس برس تک دعوت ثابت ہوتی ہے۔ جن میں سے دس برس کامل گزر بھی گئے ہیں۔“

(نشان آسمانی ص ١٤، خزائن ج ٤ ص ٣٧٤)

١٨٩٢ء میں سے دس کم کیجئے۔ باقی ١٨٨٢ء

”مسیح موعود نے بھی چودھویں صدی کے سر پر ظہور کیا۔“

(شہادت القرآن ص ٢٧، خزائن ج ٦ ص ٣٢٣)

یہ نہیں کہا کہ ”تیرھویں صدی کے آخر“ میں بلکہ ”چودھویں صدی کے سر“ یعنی آغاز میں ظہور کیا۔ اگر آغاز سے مراد ١٣٠٠ھ لی جائے تو یہ مساوی بنتی ہے۔ ١٨٨٣ء عیسوی کے۔

”تیرھویں صدی کے ختم ہونے پر یہ مجدد آیا۔“

(تریاق القلوب ص ٣٠، خزائن ج ١٥ ص ١٥٨)

یہ بالکل اقتباس بالا کی تائید ہے۔

”یہ دعویٰ منجانب اللہ ہونا اور مکالمات الہیہ کا قریباً تیس برس ہے۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٣٩١)

١٩٠٠ء سے تیس گھٹائیے۔ باقی ١٨٧٠ء۔

”میرے وحی اللہ پانے کے دن سیدنا محمد مصطفیٰ ﷺ کے دنوں سے برابر کئے۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٢٢، خزائن ج ١٧ ص ٤٠٩)

حضور ﷺ کے ایام وحی تقریباً ٢٢ شمسی سال تھے۔ ١٩٠٠ء سے بائیس کم کر دو۔ باقی ١٨٧٨ء ”تیری عمر اسی (٨٠) برس کی ہوگی ...... اور یہ الہام قریباً پینتیس برس سے ہو چکا ہے۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٣٠، خزائن ج ١٧ ص ٤١٩)

صفحہ ٤٩

اس اقتباس کے رو سے پہلا الہام آپ پر ١٨٦٥ء میں نازل ہوا تھا۔ اس لئے کہ اربعین ١٩٠٠ء کی تصنیف ہے۔

’’میرے دعویٰ کے وقت رمضان کے مہینے میں اسی صدی یعنی چودھویں صدی ١٣١١ھ میں خسوف کسوف ہو گیا۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص ٢٧، خزائن ج ١٧ ص ١٣٢)

اس اقتباس میں دعویٰ کا وقت ١٣١١ھ بتایا گیا ہے۔ جو ١٨٩٣ء کے مطابق ہے۔

’’دانیال نبی بتاتا ہے کہ اس نبی آخرالزمان کے ظہور سے جب بارہ سونوے برس گزر جائیں گے تو وہ مسیح موعود ظاہر ہوگا اور ١٣٣٥ھ تک اپنا کام چلائے گا۔‘‘ (تحفہ گولڑویہ ص ١١٧، خزائن ج ١٧ ص ٢٩٢)

حضور ﷺ کی ولادت ٥٧٠ء ظہور (بعثت) ٦١٠ء اور رحلت ٦٣٢ء میں ہوئی تھی۔

سال ظہور یعنی ٦١٠ء میں اگر ١٢٩٠ برس اور جمع کر دیئے جائیں تو یہ ١٩٠٠ء بنتا ہے۔ کیا مرزا قادیانی ١٩٠٠ء میں مبعوث ہوئے تھے؟ اگر ظہور سے مراد ولادت لی جائے تو تاریخ بعثت ٥٧٠ جمع ١٢٩٠ مطابق ١٨٦٠ء بنتی ہے۔

اور آخری فقرہ بھی قابل غور ہے اور ١٣٣٥ھ تک اپنا کام چلائے گا۔ لیکن مرزا قادیانی کا انتقال ١٣٢٦ھ میں ہو گیا تھا۔

’’یہ دعویٰ منجانب اللہ ہونے اور مکالمات الہیہ کا قریباً تیس برس سے ہے۔‘‘

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٢)

١٩٠٢ء سے تیس برس کم کیجئے۔ باقی ١٨٧٢ء۔ تیری عمر اسی برس ہوگی ...... اور یہ الہام قریباً پینتیس برس سے ہو چکا ہے۔ (یعنی ١٨٦٧ء میں) (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢١، خزائن ج ١٧ ص ٦٦)

’’ٹھیک بارہ سونوے (١٢٩٠ھ) میں خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ عاجز شرف مکالمہ و مخاطبہ پا چکا تھا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص ١٩٩، ٢٠٠، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٨)

١٢٩٠ھ مطابق ١٨٧٣ء

سے صرف دو روز پہلے لکھی گئی تھی۔

صفحہ ٥٠

”میں تقریباً تیس برس سے خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں ۔“

(پیغام صلح ص ١٣، خزائن ج ٢٣ ص ٤٣٧)

١٩٠٨ء سے تیس کم کئے جائیں تو باقی ١٨٧٨ء رہتا ہے۔ ان اقتباسات کا خلاصہ یہ ہے۔

احمدی بھائیو! آپ ہی فرمائیں کہ ہم مرزا قادیانی کے کس قول کو مانیں ۔ یہ گیارہ اقوال ہیں ۔ ان میں سے جس ایک پر ایمان لائیں ۔ باقی دس کی تکذیب ہوتی ہے۔

پانچواں باب ...... دلائل بر نبوت

مرزا قادیانی نے اپنی نبوت پر مندرجہ ذیل دلائل پیش کی ہیں۔

اولئك مع الذين

اس آیہ کا مطلب یہ ہے کہ خدا اور رسول کے پیرو ”فاولئك مع الذين انعم الله

صفحہ ٥١

ے مشرف ہوں۔“

(پیغام صلح ص ١٣ خزائن ج ٢٣ ص ٤٣٧)

ہے

وتی ہے۔

ہے

ں کو مانیں۔ یہ گیارہ اقوال ہے۔

مزمل: ١٠)“ لئك مع الذين انعم الله

عليهم من النبيين والصديقين والشهداء والصالحين (النساء: ٦٩) ”ان لوگوں کی رفاقت میں ہوں گے۔ جن پر اللہ کے انعامات نازل ہوئے۔ مثلاً انبیاء، اصدقاء، شہداء اور صلحاء۔ ﴾

جس طرح دنیا میں بے شمار مقامات، مناصب اور اکرامات موجود ہیں۔ اسی طرح اخروی زندگی میں بھی زندگی کے مدارج ہوں گے۔ یہ ناقابل یقین ہے کہ وہاں امام غزالی اور بھنگو کمہار کا درجہ حیات ایک ہو۔ اگر بھنگو کمہار خدا اور رسول کا کامل پیرو ہے تو اسے منعم علیہم کی رفاقت نصیب ہوسکتی ہے۔ لیکن ان کی شان نہیں مل سکتی۔ ملکہ انگلستان (الزبتھ ) بکنگھم پیلس میں رہتی ہے۔ جہاں کئی سو ملازموں کو اس کی رفاقت کا فخر حاصل ہے۔ کوئی کھانا پکا رہا ہے۔ کوئی بچوں کو بہلا رہا ہے۔ کوئی موٹر چلا رہا ہے۔ کوئی صفائی پہ متعین ہے۔ کوئی فرض حفاظت سرانجام دے رہا ہے۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی اس کی شان ملوکیت میں شریک نہیں۔

اس آیت سے جو استدلال مرزا قادیانی نے قائم کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ جب خدا اور رسول کے پیرو اس زندگی میں صدیق، شہید اور صالح بن سکتے ہیں تو وہ نبی بھی ہو سکتے ہیں۔ اس استدلال کے متعلق عرض ہے کہ آیت میں مع (ساتھ، رفاقت، ہمراہ ہونا) کا لفظ ہے۔ یعنی وہ لوگ انبیاء کی رفاقت میں ہوں گے۔ نہ کہ خود نبی بن جائیں گے۔ گورنر کے ساتھ ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ساتھی بھی گورنر ہیں۔ انگلستان کے آئین کے مطابق بادشاہ کا صرف بڑا لڑکا یا لڑکی ولی عہد ہوا کرتی ہے۔ لیکن اس کی رفاقت کا فخر ایک دن میں کئی سو ملازموں، افسروں اور ملاقاتیوں کو نصیب ہوتا ہے۔ جن سے کسی ایک کے بھی بادشاہ بننے کا امکان نہیں۔ اس لئے کہ آئین مانع ہے۔ اسی طرح انبیاء کی رفاقت کی عزت لاکھوں انسانوں کو حاصل ہو سکتی ہے۔ لیکن حضور علیہ السلام کے بعد کوئی فرد نبی نہیں بن سکتا۔ اس لئے کہ آئین قرآن مانع ہے۔

مرزا قادیانی نے آیہ زیر بحث کو ہر جگہ نامکمل لکھا ہے۔ یا کم از کم میری نظر سے جس قدر کتابیں گزری ہیں۔ ان میں یہ آیت نامکمل لکھی ہوئی تھی اور آخری حصہ کہیں بھی مذکور نہیں تھا اور وہ یہ ہے۔ ”وحسن اولئك رفيقاً (النساء: ٦٩) ”اور یہ لوگ (انبیاء وغیرہ) کتنے عمدہ رفیق ہیں۔ ﴾

دیکھا آپ نے کہ اللہ نے لفظ مع کی کتنی عمدہ تفسیر پیش کی ہے۔ اب اس آخری ٹکڑے کو ساری آیت کے ساتھ ملا کر پڑھیے ۔ ” خدا اور رسول کے پیرو منعم علیہ گروہ یعنی انبیاء، اصدقاء، شہداء اور صلحاء کے ساتھ ہوں گے اور یہ کتنی اچھی رفاقت ہے۔“

صفحہ ٥٢

ہے کوئی پیچیدگی اس تفسیر میں؟ اور ہے کوئی امکان اس آیت میں نبی بننے کا؟ اگر ہم سیدھی سی بات کو موڑنا اور کھینچنا شروع کر دیں تو رسول کو خدا اور خدا کو عبد بنا سکتے ہیں۔ مثلاً ہم کہہ سکتے ہیں کہ سورۂ فاتحہ میں خدا رسول سے کہہ رہا ہے۔ ”ایاک نعبد“ اے رسول ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں۔

کیا سورۂ فاتحہ میں کوئی ایسی رکاوٹ موجود ہے جو ہمیں اس تفسیر سے روک سکے؟ تاویل وہ حربہ ہے جس سے ہم خود خدا بن سکتے ہیں۔ کیسے؟ منصور سے پوچھو! ابن العربی کے نظریہ وحدت الوجود کا مطالعہ کرو۔ بدھ کے نرواں اور آریوں کے ویدانت کو دیکھو۔ اگر ان قدیم نظریوں پر کوئی کتاب نہ مل سکے تو کسی پادری کے پاس جاؤ۔ وہ باپ بیٹے اور روح القدس کی خدائی پہ وہ وہ دلائل دے گا کہ آپ سر پیٹ کر رہ جائیں گے۔ تاویل کے زور سے آپ ایک فاسق کو جنتی اور اولیاء کو جہنمی بنا سکتے ہیں۔ تاویل وہ آگ ہے جو دیر و حرم سب کو پھونک سکتی ہے۔ اس لئے تاویل کو تو رکھئے ایک طرف، اور ایک سادہ لوح طالب علم یا ایک دیانت دار محقق کی طرح آیۂ بالا پہ نظر ڈالئے اور انصافاً کہئے کہ کیا اس آیت میں کہیں کوئی نبی بننے کا نسخہ موجود ہے؟ نہیں اور قطعاً نہیں۔

دلیل افتراء

مرزا قادیانی پورے بیس برس تک اس آیت سے استدلال فرماتے رہے۔ اس استدلال کو ہر تصنیف میں بار بار دہراتے رہے اور لطف یہ کہ آپ کے مخالفین یعنی مولوی محمد حسین بٹالوی، مولانا ثناء اللہ امرتسری، مولوی عبدالحق غزنوی و دیگر سینکڑوں علماء میں سے کوئی ایک بھی اس استدلال کا جواب نہ دے سکا۔ ١؎

پہلے آیت ملاحظہ کیجئے ۔ ”اِنّہ لقول رسول کریم ٠ وما ھو بقول شاعر قلیلاً ما تؤمنون ٠ ولا بقول کاہن قلیلاً ما تذکرون ٠ تنزیل من رب العالمین ٠ ولو تقول علینا بعض الاقاویل ٠ لاخذنا منہ بالیمین ٠ ثم لقطعنا منہ الوتین (الحاقہ: ٤٠ تا ٤٦)“ ”یہ قرآن رسول کریم کا قول ہے۔ شاعر کا قول نہیں۔ تم کیوں نہیں مانتے نہ کسی کاہن کا قول ہے۔ پھر کیوں درس ہدایت نہیں لیتے۔ اس کے اتارنے کا سامان اللہ نے کیا۔ اگر یہ رسول کریم ہماری طرف غلط باتیں منسوب کرے تو ہم اس کا دایاں ہاتھ پکڑ کر اس کی رگ گردن کاٹ ڈالیں۔﴾

١؎ مصنف کی اپنے متعلق خوش فہمی ہے اور بس۔ (مرتب)

صفحہ ٥٣

اس آیہ سے مرزا قادیانی نے مندرجہ ذیل استدلال قائم کیا۔ ”خدا تعالیٰ قرآن کریم میں صاف فرماتا ہے کہ جو میرے پر افتراء کرے اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں اور میں جلد مفتری کو پکڑتا ہوں اور اس کو مہلت نہیں دیتا۔ لیکن اس عاجز کے دعوائے مجدد و مثیل مسیح ہونے اور دعوائے ہم کلام الہی ہونے پر اب بفضلہ تعالیٰ گیارھواں برس جاتا ہے۔ کیا یہ نشان نہیں ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ کاروبار نہ ہوتا تو کیونکر عشرہ کاملہ تک جو ایک حصہ عمر کا ہے ٹھہر سکتا تھا۔“

(نشان آسمانی ص ٤٧، خزائن ج ٤ ص ٣٩٧)

”پھر تعجب پر تعجب یہ کہ خدا تعالیٰ نے ایسے ظالم مفتری کو اتنی لمبی مہلت بھی دے دی۔ جسے آج تک بارہ برس گزر چکے ہیں اور مفتری ایسا اپنے افتراء میں بے باک ہو۔“

(شہادۃ القرآن ص ٧٥، خزائن ج ٦ ص ٣٧١)

”خدا تعالیٰ کی تمام پاک کتابیں اس بات پر متفق ہیں کہ جھوٹا نبی ہلاک کیا جاتا ہے۔“

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص ١١، خزائن ج ١٧ ص ٤٧٧)

”خدا تعالیٰ مفتری علی اللہ کو ہرگز سلامت نہیں چھوڑتا اور اسی دنیا میں اس کو سزا دیتا ہے اور ہلاک کرتا ہے۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٣)

”خدا تعالیٰ قرآن شریف میں بار بار فرماتا ہے کہ مفتری اسی دنیا میں ہلاک ہوگا۔ بلکہ خدا کے سچے نبیوں اور مامورین کے لئے سب سے بڑی یہی دلیل ہے کہ وہ اپنے کام کی تکمیل کر کے مرتے ہیں اور ان کو اشاعت دین کی مہلت دی جاتی ہے اور انسان کو اس مختصر زندگی میں بڑی سے بڑی مہلت تئیس برس ہے۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ٥، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٤)

”پھر تورات میں یہ عبارت ہے...... اس آیت میں خدا تعالیٰ نے صاف فرما دیا کہ افتراء کی سزا خدا کے نزدیک قتل ہے۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ٨، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٨)

ان اقتباسات کا ملخص یہ ہے کہ ہر جھوٹا نبی (مفتری) ہلاک کر دیا جاتا ہے۔ چونکہ میں دعوائے نبوت کے بعد اتنے برس سے زندہ ہوں۔ اس لئے میں سچا رسول ہوں۔ اس استدلال کے سلسلے میں مرزا قادیانی نے مخالف علماء کو بار بار چیلنج دیا کہ اگر اسلام کی طویل تاریخ میں کوئی جھوٹا نبی ہلاک نہ ہوا ہو تو اس کا نام بتاؤ۔ لیکن کوئی عالم گذشتہ ستر برس میں ایک مثال بھی پیش نہ کر سکا۔

١ صریح خلاف واقعہ امر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ائمہ تلبیس اور الفرق بین الفرق میں کئی مفتریوں کے سینکڑوں سال خود یا ان کی اولاد کے صرف زندہ نہیں بلکہ حکمران رہنے کے حوالہ جات ملاحظہ کئے جا سکتے ہیں۔ (مرتب)

صفحہ ٥٤

ہم اس استدلال کے سلسلے میں صرف دو معروضات پیش کرتے ہیں۔

اول ...... مسلمان ہر زمانے میں ختم نبوت کے قائل اور مدعی نبوت کو واجب القتل سمجھتے رہے ہیں۔ ایشیائے صغیر، عراق، ایران، شام، مصر، ٹیونس، افغانستان اور بخارا میں صدیوں سے اسلامی حکومت قائم ہے۔ جہاں کسی مدعی نبوت نے سر اٹھایا فوراً یا تو مسیلمہ و مقنع کی طرح قتل ہو گیا یا المتنبی کی طرح تائب ہو گیا۔ فرمائیے ان حالات میں کسی جھوٹے نبی کی دس بیس سالہ نبوت کی کارگزاری لائیں تو کہاں سے۔ اسلامی تاریخ میں سے کوئی ایسی مثال ڈھونڈنا کہ مدعی نبوت ایک طویل مدت تک زندہ رہا ہو۔ بے حد مشکل بلکہ ناممکن ہے۔ ہاں اگر کسی اور قوم (ہندو، انگریز وغیرہ) کی حکومت ہو اور وہاں ایک نہیں بلکہ ایک ہزار جھوٹے نبی بھی پیدا ہو جائیں۔ تب بھی ان کا بال بیکا تک نہیں ہوگا۔

انگریز دوسروں کے غیر سیاسی عقائد میں بہت کم دخل دیتا تھا۔ کوئی نبی ہو یا غیر نبی اس کی بلا سے۔ مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کے بعد احمدیوں اور غیر احمدیوں (احمدیوں سے زیادہ) سے تقریباً بیس رسول اٹھے۔ مثلاً چراغ دین (جموں)، الٰہی بخش اکاونٹنٹ لاہور، ڈاکٹر عبدالحکیم (پٹیالہ)، فقیر مرزا عبداللطیف گناچوری، یار محمد قادیانی، غلام محمد لاہوری، عبداللہ جیاپوری، صدیق دیندار وغیرہ وغیرہ۔ ایک دو کے بغیر جو طاعون سے ہلاک ہوئے باقی سب کے سب طبعی موت مرے۔ غلام محمد لاہوری (احمدیہ بلڈنگس) نے ١٩٣١ء میں دعوائے نبوت کیا تھا اور ١٩٥٢ء تک وہ اپنے الہامات و معجزات نیز دعاوی و دلائل کے مجموعے (مطبوعہ و غیر مطبوعہ) مجھے بھیجتے رہے۔ میں ان تمام کو ردی کی ٹوکری کے حوالے کرتا رہا۔ البتہ میں نے ان کا ایک طویل خط محررہ ١٤؍مارچ ١٩٥٠ء محفوظ کر لیا ہے۔ اس خط میں مجھے لکھتے ہیں کہ تم نے اپنی تصانیف میں مطالعہ کائنات پہ بھی بحث کی۔ قوم کو ایثار جانی و مالی کا بھی درس دیا۔ نظامِ شریعت پہ بھی روشنی ڈالی۔ لیکن ”الامـــــام المہدی آخر الزمان“ کے وجود کو آپ نے اپنی تصانیف میں فراموش کر کے کتمانِ حق کا بھاری جرم کیا ہے۔

الامام المہدی سے مراد ان کی اپنی ذات ہے۔ اسی طرح تحصیل گڑھ شنکر کے ایک موضع گناچور میں مولوی عبداللطیف نے ١٩٢١ء میں لوائے نبوت بلند کیا تھا۔ دسمبر ١٩٢٢ء کا ذکر ہے کہ میں راہوں ضلع جالندھر سے جالندھر کو جا رہا تھا کہ دوسرے سٹیشن (نام بھولتا ہوں شاید بنگہ) پر لوگ کہہ رہے تھے کہ اس گاؤں میں ایک پیغمبر آیا ہوا ہے اور ظہر کے بعد وہ تقریر کرے گا۔ میں وہیں اتر گیا۔ ”پیغمبر صاحب“ کی تقریر سنی۔ ج اقوال کی وجہ سے میں پیغمبر ہوں۔ اس کی تقریر کے بعد میں نے اٹھ کر کچھ پوچھنا چاہا۔ تو پیغمب تشریف لے گئے۔ انہوں نے بعد میں ایک ک اپنی نبوت کے متعلق نکالے۔ اس وقت ٢؍ ما کے۔ نیچے صوبیدار نیاز احمد خاں، رائے بھید خاں سعادت علی خاں، چوہدری مہدی خاں، چوہد چوہدری احمد خاں اور گڑھ شنکر کے چند دیگر رئی عبداللطیف سکنہ گناچور ضلع جالندھر جو ہماری م سے نبی ہونے امام مہدی، اور مجدد وقت ہون اپنی سچائی پر ذیل کے الفاظ میں حلف اٹھاتے ہ وحی ١٦؍دسمبر ١٩٢٥ء خدا کی قسم ا بات میں میں سچا نہ ہوں تو خدا کی لعنت مجھ پر یقین نہ کرے وہ بھی خدا کی طرف سے سزا کا

اس کے مقابل میاں محمود احمد خلی کے الفاظ میں قسم کھائیں۔

میں محمود احمد اور مولوی شیر علی جو اعلان کرتے ہیں کہ مولوی عبداللطیف کا دعو لعنت مجھ پر۔ مولوی شیر علی پر اور ہماری اولاد

مرزا قادیانی کو نبی ماننے سے ج ان کے ساتھ نماز پڑھنی ان کا نماز جنازہ پ ہے۔ میں بحیثیت نبی مرزا قادیانی کے اس

مولوی عبداللطیف کب تک ز مہاجرین کہتے ہیں کہ وہ ١٩٤٥ء تک زند

وفات چالیس ہو یا پینتالیس۔ سوال یہ

صفحہ ٥٥

وہیں اتر گیا۔ ”پیغمبر صاحب“ کی تقریر سنی۔ جس کا ملخص یہ تھا کہ مرزا قادیانی کے فلاں فلاں اقوال کی وجہ سے میں پیغمبر ہوں۔ اس کی تقریر کا رخ تمام تر جماعت قادیان کی طرف تھا۔ تقریر کے بعد میں نے اٹھ کر کچھ پوچھنا چاہا۔ تو پیغمبر صاحب نے انکار کر دیا اور اپنی جماعت کے ہمراہ تشریف لے گئے۔ انہوں نے بعد میں ایک کتاب ”چشمۂ نبوت“ لکھی۔ نیز بڑے بڑے پوسٹر اپنی نبوت کے متعلق نکالے۔ اس وقت ٤؍ مارچ ١٩٣٣ء کا ایک پوسٹر میرے سامنے ہے۔ اس کے نیچے صوبیدار نیاز احمد خاں، رائے بھجو خاں ذیلدار، چوہدری نذیر احمد خان بی اے، چوہدری سعادت علی خاں، چوہدری مہدی خاں، چوہدری کرامت علی خاں، چوہدری مشتاق احمد خاں، چوہدری احمد خاں اور گڑھ شنکر کے چند دیگر راجپوتوں کے دستخط ہیں۔ اس میں درج ہے: ”مولوی عبداللطیف سکنہ گناچور ضلع جالندھر جو ہماری معزز قوم راجپوت کے ایک فرد ہیں۔ تقریباً بارہ سال سے نبی ہونے امام مہدی، اور مجدد وقت ہونے کا دعویٰ کئے ہوئے ہیں۔ مولوی صاحب موصوف اپنی سچائی پر ذیل کے الفاظ میں حلف اٹھاتے ہیں۔

وحی ١٦؍ دسمبر ١٩٢٥ء خدا کی قسم اس زمانے کا زندہ اولوالعزم رسول ہوں اور اگر اس بات میں میں سچا نہ ہوں تو خدا کی لعنت مجھ پر اور میرے اہل پر ابدالآباد تک ہو اور جو میری اس قسم کا یقین نہ کرے وہ بھی خدا کی طرف سے سزا کا مستحق ہے“

(عبداللطیف بقلم خود)

اس کے مقابل میاں محمود احمد قادیانی خلیفۃ المسیح الثانی اور مولوی شیر علی صاحب ذیل کے الفاظ میں قسم کھائیں۔

میں محمود احمد اور مولوی شیر علی جو میری جماعت کے ملہم ہیں۔ خدا کی قسم کھا کر اس امر کا اعلان کرتے ہیں کہ مولوی عبداللطیف کا دعویٰ جھوٹا ہے۔ اگر ہم اس قسم میں جھوٹے ہیں تو خدا کی لعنت مجھ پر۔ مولوی شیر علی پر اور ہماری اولاد پر ابدالآباد تک ہو۔

مرزا قادیانی کو نبی ماننے سے ہمیں چالیس کروڑ امت محمدیہ کو کافر قرار دینا پڑتا ہے۔ ان کے ساتھ نماز پڑھنی ان کا نماز جنازہ پڑھنا یا ان کے ساتھ رشتہ داری کرنا حرام قرار دینا پڑتا ہے۔ میں بحیثیت نبی مرزا قادیانی کے اس فتویٰ کو منسوخ قرار دیتا ہوں“۔

(اشتہار ٤؍ مارچ ١٩٣٣ء)

مولوی عبداللطیف کب تک زندہ رہے۔ یقینی طور پر معلوم نہیں، گڑھ شنکر کے بعض مہاجرین کہتے ہیں کہ وہ ١٩٤٥ء تک زندہ رہے۔ بعض ان کا سال وفات ١٩٤٣ء بتاتے ہیں سن وفات چالیس ہو یا پینتالیس۔ سوال یہ ہے کہ ان دونوں مفتریوں (غلام محمد، عبداللطیف) کو اللہ

صفحہ ٥٦

نے کیوں ہلاک نہ کیا اور کیوں نہیں۔ بیس بیس برس تک افتراء واضلال کے لئے باقی رکھا؟ کیا ان کی رگ گردن اللہ کی رسائی سے باہر تھی۔ یا نعوذ باللہ اللہ کو وہ اپنی بات بھول گئی تھی؟ ”کہ اگر یہ رسول ہم پر افتراء باندھتا تو ہم اس کا دایاں ہاتھ پکڑ کر اس کی رگ جان کاٹ ڈالتے ۔“

اگر یہ لوگ جھوٹے تھے اور یقیناً تھے تو پھر ان کے ہلاک نہ ہونے کی کوئی وجہ تو ہونی چاہئے؟

آئیے وجہ ہم بتاتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ آیۂ زیر بحث کا مفہوم ہمارے علماء سے آج تک مخفی رہا۔ قرآن مفسر قرآن ہے۔ اس آیہ کی تفسیر ایک اور آیت میں موجود ہے۔ یہاں قابل حل صرف یہ سوال ہے کہ رسول کریم کون ہے۔ اگر اس سے مراد حضور ﷺ ہوں تو مرزا قادیانی کا استدلال درست ہے اور اگر کوئی اور ہو تو درست نہیں۔ رسول کریم کی تفسیر آیۂ ذیل میں ملاحظہ ہو۔ ”انه لقول رسول كريم ٠ ذی قوة عند ذی العرش مكين ٠ مطاع ثم امين ٠ وما صاحبكم بمجنون ٠ ولقد راہ بالافق المبين ٠ وما هو على الغيب بضنين ٠ وما هو بقول شيطان رجيم (التكویر: ١٩ تا ٢٥) “

سارے قرآن میں صرف یہ دو ہی آیات ہیں جن میں قرآن کو رسول کریم کا قول کہا گیا ہے۔ پہلی آیت میں کہا گیا تھا کہ اگر یہ رسول کریم ہماری طرف غلط باتیں منسوب کرے تو ہم اس کی رگ جان کاٹ ڈالیں اور اس آیہ میں اسی رسول کریم کی وضاحت کی گئی ہے۔ اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح مختلف مظاہر کونی کا انتظام مختلف فرشتوں کے سپرد ہے۔ روشنی کا فرشتہ سمندروں کا پانی بخارات میں بدل رہا ہے۔ برفستانوں کا فرشتہ ہواؤں کو بادلوں میں تبدیل کر رہا ہے۔ اسی طرح ایک فرشتہ وحی کے کام پر مامور ہے۔ وہ منشائے ایزدی سے اطلاع پا کر اور اس منشاء کو اپنے الفاظ میں ڈھال کر کسی رسول کی طرف بھیج دیتا ہے ١؎ تنزیل (ترسیل، اتارنا) کا انتظام اللہ کرتا ہے اور مشیت کی ترجمانی وہ فرشتہ جسے قرآن میں دو مرتبہ رسول کریم کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ قرآن حکیم کو از اول تا آخر پڑھ جائیے۔ یہی نظر آئے گا کہ تنزیل کا کام تو اللہ کر رہا ہے۔ لیکن یہ کتاب رسول کریم کا قول ہے۔ امور یزداں کو معاملات انسان پر قیاس کرنا درست نہیں۔ تاہم تفہیم کی خاطر ہم ایک مثال سے اس مسئلہ کو واضح کرتے ہیں۔

١؎ مصنف کا اپنا وضع کردہ نظریہ ہے۔ (مرتب)

آج کل آپ دیکھـ گورنر کی طرف سے ہوتے ہیں ڈرافٹ (مضمون حکم ) تیار کرتا یہی حال صحائف الہامیہ کا ہے حضرت اقبالؒ کے اس شعر میں

محمد

اب آیت کا ترجمہ اور رب العرش کے پاس مقیم دیانتدار ہے۔ آپ کا نبی (مُحَمَّد افق پر دیکھا تھا۔ یہ رسول کریم امـ شیطان کا کلام نہیں۔

اس آیت سے ظاہـ نے اس رسول کریم کو روشن افق پر دار ہے کہ خدائی مشیت کو کسی کی بـ ”اگر یہ رسول کریم کوئی غلط بات رگ جان کاٹ ڈالیں ۔“

دیکھ لیا آپ نے کہ قـ علیہ السلام سے۔ جب بنیاد ہی غلـ نے صرف اسی بنیاد پر اٹھایا تھا کہ نیز یہ بات ناقابل تسلیـ اور باقی دو درجن آیات میں جہاں صرف لعنت۔ مثلاً :”قَد خَابَ مَن قتل۔ ”انما يفتری الکذب (النحل: ١٠٥) ”اللہ کی مـ رکھتے ۔ یہ لوگ جھوٹے ہیں ۔

صفحہ ٥٧

آج کل آپ دیکھتے ہیں کہ حکومت لمبے لمبے احکام جاری کرتی ہے۔ یہ سب کے سب گورنر کی طرف سے ہوتے ہیں۔ لیکن ان احکام کے الفاظ گورنر کے نہیں ہوتے بلکہ کوئی سیکرٹری ڈرافٹ (مضمون حکم) تیار کرتا ہے۔ جو گورنر کی مشیت یا منشاء کا پوری طرح ترجمان ہوتا ہے۔ بس یہی حال صحائف الہامیہ کا ہے کہ الفاظ رسول کریم کے اور ترجمانی خدائی مشیت کی ہوتی ہے۔ حضرت اقبالؒ کے اس شعر میں بھی اس حقیقت پہ کچھ روشنی پڑتی ہے۔

محمد بھی ترا جبریل بھی قرآن بھی تیرا
مگر یہ حرف شیریں ترجمان تیرا ہے یا میرا

اب آیت کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیے۔ یہ قرآن رسول کریم کا قول ہے۔ جو بڑا طاقت ور اور رب العرش کے پاس مقیم ہے۔ جس کی (آسمانوں میں) اطاعت کی جاتی ہے۔ جو بے حد دیانتدار ہے۔ آپ کا نبی (صاحبکم) دیوانہ نہیں۔ آپ کے نبی نے اس رسول کریم کو ایک روشن افق پر دیکھا تھا۔ یہ رسول کریم امور غیب کے ابلاغ میں بخل سے کام نہیں لیتا اور یہ قرآن کسی مردود شیطان کا کلام نہیں۔

اس آیت سے ظاہر ہے کہ رسول کریم اور محمدﷺ دو جدا جدا ہستیاں ہیں۔ حضورﷺ نے اس رسول کریم کو روشن افق پر بھی دیکھا تھا۔ یہ رب العرش کے ہاں مقیم ہے اور اس قدر دیانت دار ہے کہ خدائی مشیت کو کسی کمی بیشی کے بغیر انبیاء تک منتقل کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ: ”اگر یہ رسول کریم کوئی غلط بات ہماری طرف منسوب کرے تو ہم اس کا دایاں ہاتھ پکڑ کر اس کی رگ جان کاٹ ڈالیں۔“

دیکھ لیا آپ نے کہ رگ جان کاٹنے کی وعید اس فرشتے سے تعلق رکھتی ہے نہ کہ حضور علیہ السلام سے۔ جب بنیاد ہی نہ رہی تو پھر وہ قصر استدلال کیسے قائم رہ سکتا ہے۔ جو مرزا قادیانی نے صرف اسی بنیاد پہ اٹھایا تھا کہ رگ جان والی وعید کا تعلق حضورﷺ سے ہے۔

نیز یہ بات نا قابل تسلیم ہے کہ اس آیت میں تو خدا افتراء علی اللہ کی سزا قتل تجویز کرے اور باقی دو درجن آیات میں جہاں اسی جرم کا ذکر ہے سزا یا تو ناکامی ہو یا اگلی دنیا میں جہنم اور یا صرف لعنت۔ مثلاً: ”قدخاب من افتریٰ (طہ: ٦١) ”مفتری ناکام ہو جاتا ہے۔“ نہ کہ قتل۔ ”انما یفتری الکذب الذین لا یؤمنون بآیات اللہ واولئک ھم الکاذبون (النحل: ١٠٥) ”اللہ کی طرف جھوٹ وہی منسوب کرتے ہیں جو الٰہی آیات پر ایمان نہیں رکھتے۔ یہ لوگ جھوٹے ہیں۔“ ﴾

صفحہ ٥٨

یہ نہیں فرمایا کہ یہ قتل ہو جائیں گے۔ بلکہ آیۃ ذیل سے صاف صاف معلوم ہوتا ہے کہ جھوٹا نبی اپنی موت تک مہلت پاتا ہے اور اس کی سزا کا سلسلہ بعد از موت شروع ہوتا ہے۔ ”ومن أظلم ممن افترى على الله كذبا اوقال اوحى الى ولم يوح اليه شئ ومن قال سانزل مثل ما انزل الله ولوترى اذ الظالمون فى غمرات الموت والملئكة باسطوا ايديهم اخرجوا انفسكم اليوم تجزون عذاب الهون بما كنتم تقولون على الله غير الحق وكنتم عن آياته تستكبرون (الانعام: ٩٣) ”اس سے بڑا ظالم کون ہے۔ جس نے اللہ کی طرف جھوٹ منسوب کیا اور کہا کہ میری طرف وحی آتی ہے۔ حالانکہ نہیں آتی اور جس نے کہا کہ میں بھی اللہ کی طرح وحی نازل کر سکتا ہوں۔ کاش! ان ظالموں کی حالت تم اس وقت دیکھ سکو جب موت کی شدتوں میں فرشتے ان سے کہہ رہے ہوں کہ لاؤ اپنی ارواح۔ آج سے تمہیں رسوا کن عذاب دیا جائے گا۔ اس لئے کہ تم اللہ کی طرف غلط باتیں منسوب کرتے تھے اور اس کے احکام کے مقابلے میں اکڑتے تھے۔﴾

دلیل مماثلت

مرزا قادیانی نے آیۃ ذیل کو نہایت شدومد سے تقریباً اپنی تمام تصانیف میں پیش فرمایا ہے۔ آیت یہ ہے۔ ”انا ارسلنا اليكم رسولاً شاهداً عليكم كما ارسلنا الى فرعون رسولاً (المزمل: ١٥) ”اے اہل عرب! ہم نے تمہاری طرف سچائی کو واضح کرنے والا (شاہد) رسول بھیجا ہے۔ جس طرح کہ فرعون کی طرف بھی ایک رسول بھیجا تھا۔﴾

اور استدلال یوں قائم کیا ہے۔ ”کما (جس طرح) کے لفظ سے یہ اشارہ ہے کہ ہمارے نبی ﷺ مثیل موسیٰ ہیں۔۔۔۔۔ اور ظاہر ہے کہ مماثلت سے مراد مماثلت تامہ ہے نہ کہ مماثلت ناقصہ ۔۔۔۔۔ اور مماثلت تامہ کی عظیم الشان جزوں میں سے ایک یہ بھی جز ہے کہ اللہ جل شانہ نے حضرت موسیٰ کو اپنی رسالت سے مشرف کر کے پھر بطور اکرام وانعام خلافت ظاہری وباطنی کا ایک لمبا سلسلہ ان کی شریعت میں رکھ دیا۔ جو تقریباً چودہ سو برس ممتد ہو کر آخر حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ان کا خاتمہ ہوا۔۔۔۔۔ اور جس طرح حضرت مسیح علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام سے قریباً چودہ سو برس بعد آئے تھے۔ اس مسیح موعود نے بھی چودہویں صدی کے سر پر ظہور کیا اور محمدی سلسلہ موسوی سلسلہ سے انطباق کلی پا گیا اور اگر یہ کہا جائے کہ موسوی سلسلہ میں تو حمایت دین کے لئے نبی آتے رہے اور حضرت مسیح بھی نبی تھے تو اس کا جواب یہ ہے کہ مرسل ہونے میں نبی اور محدث ایک ہی منصب رکھتے ہیں اور جیسا کہ خدا تعالیٰ نے نبیوں کا نام مرسل رکھا ہے۔ ایسا ہی

صفحہ ٥٩

محدث کا نام بھی مرسل رکھا۔ چونکہ ہمارے سید ورسول ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور بعد آنحضرت ﷺ کوئی نبی نہیں آ سکتا۔ اس لئے اس شریعت میں نبی کے قائممقام محدث رکھے گئے۔ اس امت کے محدث اپنی تعداد میں اور اپنے طولانی سلسلے میں موسوی امت کے مرسلوں کے برابر ہیں۔“

(شہادۃ القرآن ص٢٨، ٢٩، خزائن ج٦ ص٣٢٢ تا ٣٢٣)

”قرآنی آیات پرغور کے ساتھ نظر کرنے سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ محمدی استخلاف کا سلسلہ موسوی استخلاف سے بالکل مطابق ہونا چاہئے۔“ (شہادۃ القرآن ص٦٨، خزائن ج٦ ص٣٦٢)

”یعنی اسی (موسوی سلسلہ) طرز اور طریق کے موافق اور نیز اسی مدت اور زمانہ کے مشابہ اور اسی صورت جلالی اور جمالی کے مانند اس امت میں بھی خلیفے بنائے جائیں گے اور ان کا سلسلہ خلافت اس سلسلے سے کم نہیں ہوگا۔ جو بنی اسرائیل کے خلفاء کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔“

(ازالہ ص٦٦٨، خزائن ج٣ ص٤٦٠)

”اس امت کے لئے وعدہ تھا کہ بنی اسرائیل کی طرز پر ان میں بھی خلیفے پیدا ہوں گے۔“

(ازالہ اوہام ص٦٧١، خزائن ج٣ ص٤٦٢)

”اور یہ زمانہ (مسیح موعود اور حضور ﷺ کا درمیانی زمانہ) بھی حضرت مثیل موسیٰ (حضور ﷺ) سے اسی زمانہ کے قریب قریب گذر چکا تھا۔ جو حضرت موسیٰ اور عیسیٰ کے درمیان میں زمانہ تھا۔“

(ازالہ ص٦٩٢، ٦٩٣، خزائن ج٣ ص٤٧٣)

”قرآن شریف اپنی نصوص قطعیہ سے اس بات کو واجب کرتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مقابل پر جو موسوی خلیفوں کے خاتم الانبیاء ہیں۔ اس امت میں سے بھی ایک آخری خلیفہ پیدا ہوگا۔“

(تحفہ گولڑویہ ص٥٦، خزائن ج١٧ ص١٨٢)

”خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں بارہ موسوی خلیفوں کا ذکر فرمایا جن میں سے ہر ایک حضرت موسیٰ کی قوم میں سے تھا اور تیرہواں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر فرمایا جو..... موسیٰ کی قوم میں سے نہیں تھا۔ یہی بات سلسلہ خلافت محمدیہ میں بھی پائی جاتی ہے۔ یعنی حدیث سے ثابت ہے کہ اس سلسلے میں بھی درمیانی خلیفے بارہ ہیں اور تیرہواں جو خاتم ولایت محمدیہ ہے۔ وہ محمدی قوم (قریش) میں سے نہیں اور یہی چاہئے تھا۔“ (تحفہ گولڑویہ ص٢٣، خزائن ج١٧ ص١٢٣، ١٢٤)

”سید احمد صاحب (بریلوی) سلسلہ خلافت محمدیہ کے بارھویں خلیفہ ہیں۔ جو حضرت یحیٰ کے مثیل اور سید ہیں۔“

(تحفہ گولڑویہ ص٦٣، خزائن ج١٧ ص١٩٤)

صفحہ ٦٠

”وقد جاء علیٰ اجل بعد نبینا المصطفیٰ کمثل اجل بعث المسیح فیہ بعد موسیٰ ! مسیح موعود اور حضور علیہ السلام کے درمیان اتنا ہی زمانہ حائل ہے۔ جتنا حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت مسیح علیہ السلام میں تھا ۔“

(خطبہ الہامیہ ص ٧٣ ، خزائن ج ١٦ ص ١٣٣ ، ١٢٤)

ان اقتباسات سے استدلال کے تمام پہلو سامنے آگئے۔

خلفا تعداد میں برابر تھے اور مسیح وموسیٰ علیہ السلام کے درمیان اتنا ہی زمانہ حائل تھا۔ جتنا مسیح موعود اور حضور ﷺ پرنور میں، نیز موسوی سلسلے میں بارہ خلفاء تھے اور تیرہواں مسیح تھا۔

تھے۔

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس استدلال کے تمام اجزاء پر جداگانہ نظر ڈالی جائے۔

جزواوّل

- کما حرف تشبیہ ہے۔ تشبیہ کے لئے مکمل مشابہت (مماثلت تامہ) ضروری نہیں۔ ہم ہر روز سینکڑوں تشبیہات خود استعمال کرتے اور کتب ورسائل میں پڑھتے ہیں۔ کہیں بھی مکمل مشابہت مراد نہیں ہوتی ۔ مثلاً:

ان جملوں میں مکمل مشابہت ہو ہی نہیں سکتی۔ زید کے شیر ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس کی چار ٹانگیں اور ایک پونچھ ہے اور وہ جنگلی گدھے کھاتا ہے۔ نہ کسی کے چاند ہونے کا یہ مطلب ہے کہ وہ ہر مہینے کے پہلے چند روز نامکمل ہوتا ہے اور چودھویں کے بعد پھر روبزوال ہو جاتا ہے۔ ایلخانی دور کے ایرانی مصنفین کی تحریرات، تشبیہات واستعارات سے لبریز ہیں۔ وہ کسی شاعر کا ذکر کرتے ہیں تو اسے نہنگ قلزم اندیشہ بنا دیتے ہیں۔ قاصد کو ہدہد، سلطان کو عقل کل جمشید

صفحہ ٦١

كمثل اجل بعث المسيح ان زمانہ حائل ہے۔ جتنا حضرت

(ص ٧٢۔ خزائن ج ٢٦ ص ١٢٣ ، ١٢٤)

ن ثابت کرتا ہے۔ سلسلوں (موسوی، محمدی) کے درمیان اتنا ہی زمانہ حائل تھا۔ میں بارہ خلفاء تھے اور تیرہواں

ارج مرزا قادیانی بھی قریشی نہیں

سز احمد بریلوی تھا۔ د کا کلمہ کفر ڈالی جائے۔

بہت تامہ) ضروری نہیں۔ ہم ں پڑھتے ہیں۔ کہیں بھی مکمل

ہونے کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے۔ نہ کسی کے چاند ہونے کا یہ وں کے بعد پھر روبزوال ہو جاتا استعارات سے لبریز ہیں۔ وہ کسی اصد کو ہدہد، سلطان کو عقل کل جمشید

اور سلیمان کہہ دیتے ہیں۔ اس کی فیاض ہتھیلی کو سحاب سے تشبیہ دیتے ہیں۔ خود قرآن میں کئی تشبیہات موجود ہیں۔ مثلاً امواج بحر کو پہاڑوں سے اور کفار کو مردوں سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اگر آپ ہر جگہ مکمل مشابہت مراد لیں تو جس شاعر کو آپ نہنگ کہیں گے وہ آپ پر توہین کا مقدمہ بنادے گا۔ سمندر کی لہروں کو خاک وسنگ کے ٹیلے سمجھنا پڑے گا اور زندہ کافروں کی زندگی سے انکار کرنا پڑے گا۔ (دنیا میں چار ہزار زبانیں ہیں۔ ان میں کروڑوں کتابیں موجود ہیں) ان تمام کتب کو اچھی طرح پڑھئے۔ آپ کو ایک بھی ایسی تشبیہ نہیں ملے گی جس میں مشبہ اور مشبہ بہ میں مکمل مشابہت ہو۔ آپ خود بھی اپنی زبان میں تشبیہات استعمال کرتے ہوں گے۔ کتابوں کو جانے دیجئے کوئی اپنا ہی ایسا تشبیہی جملہ پیش کر دیجئے جس میں مشابہت تامہ موجود ہو۔

اگر تشبیہ ہر جگہ جزوی ہوتی تو پھر قرآن کی آیہ زیر بحث میں کما سے مکمل تشبیہ مراد لے کر اس پر سلسلہ خلافت ومسیحیت کا محل تعمیر کرنا ایک ایسا اقدام ہے جس کی تائید کہیں سے نہیں مل سکتی۔ آیہ زیر بحث میں اللہ نے ایک سیدھی سی بات کہی ہے کہ ہم نے اے اہل عرب ! تمہاری اصلاح کے لئے اسی طرح ایک رسول بھیجا ہے۔ جیسا کہ پہلے فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا۔ یہاں کئی وجوہات تشبیہ موجود ہیں۔

آتشین شریعت ملنا، دونوں کا صاحب السیف والکتاب ہونا، موسیٰ علیہ السلام کا فرعون کے ہاں پل کر فرعون کے خلاف اٹھنا اور حضور ﷺ کا عربوں میں پل کر ان کے خداؤں کے خلاف لوائے بغاوت بلند کرنا وغیرہ وغیرہ۔

تشبیہ کے لئے صرف ایک پہلو میں مشابہت یعنی ایک وجہ شبہ کافی ہوتی ہے۔ زید کو شیر سے تشبیہ دینے کے لئے صرف شجاعت کافی ہے۔ ضروری نہیں کہ زید پہلے بیس برس جنگل میں رہے۔ وہاں ہرنوں کا گیدڑوں کا کچا گوشت کھانا سیکھے، دھاڑنے کی مشق کرے۔ کہیں سے چار ٹانگیں اور ایک پونچھ لائے اور پھر ہم اسے شیر کہیں۔

اگر بالفرض کما (حرف تشبیہ) سے مکمل مماثلت ہی مراد ہو سکتی ہے تو پھر لیجئے بارہ اور مکمل مماثلتیں۔ ”انا اوحينا اليك كما اوحينا الى نوح والنبيين من بعده واوحينا الى ابراهيم واسحاق ويعقوب والاسباط وعيسى وايوب ويونس وهارون وسليمان وآتينا داؤد زبورا (النساء:١٦٣)“ ﴿اے محمد ! ہم نے تم پر اسی

صفحہ ٦٢

طرح وحی نازل کی جس طرح (کما) نوح اور انبیاء مابعد مثلاً ابراہیم، اسحاق، یعقوب۔ ان کی اولاد عیسیٰ، ایوب، یونس اور سلیمان پہ نازل کی تھی اور ہم نے داؤد کو کتاب زبور دی تھی۔ اس آیہ میں وحی کما کا لفظ استعمال ہوا ہے اور مضمون بھی وہی کہ ہم نے تمہیں اسی طرح رسول بنا کر بھیجا ہے۔ جس طرح ابراہیم و اسحاق وغیرہ کو بھیجا تھا۔ وحی اتارنے کا مطلب رسول بنانا ہی ہے ناں تو اس آیہ کے رو سے حضور علیہ السلام اور بارہ دیگر انبیاء یعنی نوح، ابراہیم وغیرہ میں بھی مکمل مماثلت ثابت ہو گئی۔ حضرت ابراہیم کا سلسلہ انبیاء حضرت موسیٰ کے عہد تک پھیلا ہوا ہے۔ جن میں اسحق و یعقوب بھی ہیں اور اسماعیل و یوسف علیہ السلام بھی۔ امت محمدیہ میں اسحق و یعقوب کے مثیل کہاں سے لاؤ گے؟ اور اگر حضورﷺ کو مثیل نوح قرار دیا تو طوفان کہاں سے آئے گا؟

بات بالکل سیدھی سی ہے کہ گذشتہ انبیاء کی طرح حضور علیہ السلام کو بھی فرض اصلاح وابلاغ پہ مامور کیا گیا اور آپ کو وہی پیغام دیا گیا ہے جو نوح ابراہیم اور موسیٰ کو دیا جا چکا تھا۔ ان دونوں آیات کی تفسیر ایک تیسری آیت میں ملاحظہ ہو۔ ”شرع لکم من الدین ماوصى به نوحاً والذي اوحينا اليك وما وصينا به ابراهيم وموسى وعيسى (الشوری: ١٣) ”اے محمد! ہم نے تمہیں وہی دین عطاء کیا ہے جو پہلے حضرت نوح کو دیا تھا اور آج تم پہ نازل ہو رہا ہے اور جو ہم نے ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ کو بھی دیا تھا۔

جزو دوم

اس جزو کا ملخص یہ ہے۔

شریعت موسوی میں چودہ سو برس تک خلافت کا سلسلہ ممتد رہا۔

(شهادة القرآن ص ٢٨، خزائن ج ٦ ص ٣٢٤)

خلیفہ مسیح موعود ہے۔

آگاہ ہے کہ بنی اسرائیل میں سینکڑوں انبیاء ایک ایک وقت میں موجود تھے اور بائبل کے صفحات ایسی شہادتوں سے لبریز ہیں۔ خود مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ”حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنی

رسالت سے مشرف کر کے پھر بطور ا شریعت میں رکھ دیا۔ جو قریباً چودہ سو سا ہوا۔ اس عرصہ میں صدہا بادشاہ اور صا

یعنی موسوی سلسلے میں صدف روحانی اور ظاہری طور پر ہوئے۔“ ”چنانچہ تورات کی تائید ک آنے پر اب تک بائبل شہادت دے ر ”حضرت موسیٰ سے حضر

ان حوالوں سے ظاہر ہے ہزارہا انبیاء مبعوث ہوئے تھے۔ جن نہیں۔ ”ورسلا لم نقصصهم قرآن میں نہیں کیا۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ خلیفے تھے یا نہیں۔ اگر تھے اور ظاہر ہ ہوئی؟ وہاں ہزارہا خلیفے، سارے انبی اور باقی سب امتی؟ پھر میری سمجھ سے یہ چیز بھ کہ اسرائیلی انبیاء کی تعداد ہزاروں ۔ بتاتے ہیں۔ کیا محض اس لئے کہ ان ک نہیں۔ کیا جس چیز کا ذکر قرآن میں نہ موجود ہے؟ اگر نہیں تو کیا یہ شہر باغ ن آپ خود بھی تسلیم فرماتے ہیں کہ اسرا کے ظاہری یا روحانی خلفاء تھے تو پھر ان

صفحہ ٦٣

رسالت سے مشرف کر کے پھر بطور انعام واکرام، خلافت ظاہری و باطنی کا ایک لمبا سلسلہ ان کی شریعت میں رکھ دیا۔ جو قریباً چودہ سو برس تک ممتد ہو کر آخر حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اس کا خاتمہ ہوا۔ اس عرصہ میں صد ہا بادشاہ اور صاحب وحی اور الہام شریعت موسوی میں پیدا ہوئے۔“

(شہادۃ القرآن ص٢٨، خزائن ج٦ ص٣٢٢)

یعنی موسوی سلسلے میں صد ہا انبیاء اور بادشاہ تھے۔ ”اور (موسوی سلسلے میں) صد ہا خلیفے روحانی اور ظاہری طور پر ہوئے۔“

(شہادۃ القرآن ص٢٨، خزائن ج٦ ص٣٢٣)

”چنانچہ تورات کی تائید کے لئے ایک ایک وقت میں چار چار سو نبی بھی آیا۔ جن کے آنے پر اب تک بائبل شہادت دے رہی ہے۔“

(شہادۃ القرآن ص٢٥، خزائن ج٦ ص٣٢٤)

”حضرت موسیٰ سے حضرت مسیح تک ہزار ہا نبی اور محدث ان میں پیدا ہوئے۔“

(شہادۃ القرآن ص٢٦، خزائن ج٦ ص٣٢٤)

ان حوالوں سے ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ وعیسیٰ علیہ السلام کے درمیانی زمانے میں ہزار ہا انبیاء مبعوث ہوئے تھے۔ جن میں سے بعض کا ذکر قرآن میں موجود ہے اور بعض کا نہیں۔ ” ورسلا لم نقصصهم عليك (النساء : ١٦٤) ﴿ ”ہم نے بعض انبیاء کا ذکر قرآن میں نہیں کیا۔﴾

سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ ہزار ہا انبیاء حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ظاہری و روحانی خلیفے تھے یا نہیں۔ اگر تھے اور ظاہر ہے کہ تھے تو پھر سلسلہ موسوی ومحمدی میں مماثلت تامہ کیسے ہوئی؟ وہاں ہزار ہا خلیفے ، سارے انبیاء اور یہاں کل تیرہ خلیفے جن میں سے صرف آخری نبی اور باقی سب امتی؟

پھر میری سمجھ سے یہ چیز بھی باہر ہو رہی ہے کہ جب مرزا قادیانی خود تسلیم فرماتے ہیں کہ اسرائیلی انبیاء کی تعداد ہزاروں سے متجاوز تھی تو پھر وہ اسرائیلی خلفاء کی تعداد صرف بارہ کیوں بتاتے ہیں۔ کیا محض اس لئے کہ ان میں سے صرف بارہ کا ذکر قرآن میں موجود ہے اور باقی کا نہیں۔ کیا جس چیز کا ذکر قرآن میں نہ ہو تو وہ ہوتی ہی نہیں۔ کیا قرآن میں لنڈن اور پیرس کا ذکر موجود ہے؟ اگر نہیں تو کیا یہ شہر سطح زمین پر موجود ہی نہیں؟ جب یہ حقیقت تاریخ سے ثابت ہے اور آپ خود بھی تسلیم فرماتے ہیں کہ اسرائیلی انبیاء کئی ہزار کی تعداد میں تھے اور وہ لازماً سلسلہ موسوی کے ظاہری یا روحانی خلفاء تھے تو پھر ان کی تعداد کو تیرہ تک محدود کرنے کا کیا مطلب؟

صفحہ ٦٤

دوم...... آپ تسلیم کر چکے ہیں کہ حضرت موسیٰ وعیسیٰ علیہم السلام کے درمیان چودہ سو برس کا زمانہ حائل تھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حضور ﷺ اور مرزا قادیانی کا درمیانی زمانہ کتنا ہے۔ حضور ﷺ کی وفات ٦٣٢ء (١١ھ) میں ہوئی تھی اور مرزا قادیانی کی ولادت ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء (١٢٥٥ھ یا ١٢٥٦ھ) میں ہوئی۔ حضور ﷺ کی رحلت اور مرزا قادیانی کی ولادت کے درمیان شمسی سال صرف ١٢٠٧ اور قمری ١٢٤٤ بنتے ہیں۔ اگر ہم حضور ﷺ کی رحلت اور مرزا قادیانی کی بعثت کا درمیانی زمانہ شمار کریں تو وہ ١٢٣٢ برس (شمسی) بنتے ہیں۔ اس لئے کہ آپ کو پہلی مرتبہ ١٨٦٥ء میں الہام ہوا تھا۔

یہ مماثلت تامہ کس قسم کی ہے کہ ایک حساب سے حضور ﷺ وموعود کا زمانہ موسیٰ و مسیح کے زمانہ سے ایک سو ترانوے اور دوسرے حساب سے ایک سو اڑسٹھ برس کم بنتا ہے۔ اگر ہم دلیل مماثلت کو تسلیم کرلیں تو آئندہ اڑھائی سو برس تک جتنے مدعی بھی مسیح موعود بن کر آئیں گے۔ انہیں ماننا پڑے گا۔ ورنہ وہ کہیں گے کہ جب مرزا قادیانی وقت مقررہ سے پونے دوسو برس پہلے تشریف لے آئے تھے اور آپ لوگوں نے انہیں مان لیا تھا۔ تو پھر پونے دو سو برس بعد از وقت آنے والے کو آپ کیوں تسلیم نہیں کرتے۔

شق سوم کے متعلق جو کچھ کہنا تھا وہ شق اوّل کے ضمن میں ہو چکا ہے۔

جزو سوم مرزا قادیانی نے مماثلت تامہ کی بناء پر اپنے آپ کو سلسلۂ محمدی کا خاتم قرار دیا ہے۔ لیکن ساتھ ہی فرماتے ہیں۔ ”میں اس بات کو تو مانتا ہوں کہ ممکن ہے کہ میرے بعد کوئی اور مسیح ابن مریم بھی آوے ۔“

(ازالہ اوہام ص ٢٨٨، خزائن ج ٣ ص ٣١٦)

”مجھے اس بات سے انکار نہیں کہ میرے سوا کوئی اور مثیل مسیح بھی آنے والا ہو۔“

(اشتہار ١١ فروری ١٨٩١ء مندرجہ تبلیغ رسالت ج ١ ص ١٦٢، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٠٧)

”میں اس سے ہرگز انکار نہیں کر سکتا اور نہ کروں گا کہ شاید مسیح موعود کوئی اور بھی ہو اور شاید یہ پیش گوئیاں جو میرے حق میں روحانی طور پر ہیں۔ ظاہری طور پر اس پر جمتی ہوں اور سچ مچ دمشق میں کوئی مثیل مسیح نازل ہو۔“

(مرزا قادیانی کا خط بنام مولوی عبدالجبار مندرجہ تبلیغ رسالت ج ١ ص ١٥٩، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٩٨)

”اس عاجز کی طرف سے یہ دعویٰ نہیں ہے کہ مسیحیت کا میرے وجود پر خاتمہ ہے اور آئندہ کوئی مسیح نہیں آئے گا۔ بلکہ میں تو مانتا ہوں اور بار بار کہتا ہوں کہ ایک کیا دس ہزار سے بھی

صفحہ ٦٥

زیادہ مسیح آسکتا ہے اور ممکن ہے کہ ظاہری جلال و اقبال کے ساتھ آوے اور ممکن ہے کہ اوّل دمشق میں ہی نازل ہو۔"

(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص ٢٩٤، خزائن ج ٣ ص ٢٥١)

"میرا یہ دعویٰ نہیں کہ صرف مثیل ہونا میرے ہی پر ختم ہو گیا ہے۔ بلکہ میرے نزدیک ممکن ہے۔ آئندہ زمانوں میں میرے جیسے دس ہزار مثیل مسیح آجائیں۔"

(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص ١٩٩، خزائن ج ٣ ص ١٩٧)

"لہٰذا ضروری ہوا کہ تمہیں یقین اور محبت کے مرتبے پر پہنچانے کے لئے خدا کے انبیاء وقتاً بعد وقت آتے رہیں۔ جن میں سے تم وہ نعمتیں پاؤ۔"

(لیکچر سیالکوٹ ص ٣٢، خزائن ج ٢٠ ص ٢٢٧)

"در حقیقت امت محمدیہ کی شان بھی اسی میں ہے کہ اس میں جہاں صلحاء، اولیاء، شہداء اور اصفیاء پیدا ہوں۔ وہاں ایسے بھی انسان ہوں جو خدا سے شرف مکالمہ ومخاطبہ حاصل کر کے نبی بن جائیں۔"

(الفضل ٢٥؍ اکتوبر ١٩٣١ء)

دوسرا پہلو

"ہم اس امت میں صرف ایک ہی نبی کے قائل ہیں۔"

(حقیقت النبوۃ ص ١٣٨)

"اس امت میں نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا۔ دوسرے لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔"

(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦، ٤٠٧)

"مسیح (موعود) خاتم خلفائے محمدی ہے۔"

(تحفہ گولڑویہ ص ٩١، خزائن ج ١٧ ص ٢٤٤ ملخص)

ان اقتباسات کو پڑھنے کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا مرزا قادیانی واقعی سلسلہ محمدی کے آخری خلیفہ تھے؟ اگر جواب اثبات میں ہے تو پھر اس ارشاد کا کیا مطلب؟ "اس عاجز کی طرف سے یہ دعویٰ نہیں کہ مسیحیت کا میرے وجود پر خاتمہ ہے۔" اور اگر نفی میں ہے تو پھر مسیح موعود خاتم خلفائے محمدی کیسے بن گیا اور وہ مماثلت تامہ کہاں گئی؟

جزو چہارم

اس جزو کا نقص یہ کہ موسوی سلسلے کا آخری خلیفہ حضرت مسیح اسرائیلی نہیں تھا۔ اسی طرح محمدی سلسلے کا آخری خلیفہ (مسیح موعود) بھی قریش سے نہیں۔ اگر حضرت مسیح علیہ السلام اسرائیلی نہیں تھے تو پھر اسرائیلی سلسلے کے آخری خلیفہ کس بناء پر قرار پائے۔ نیز یہ بھی فرمایا ہوتا کہ نسب کے لحاظ سے وہ حضرت اسحق علیہ السلام کے فرزند تھے۔ یا حضرت اسماعیل علیہ السلام کے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد تمام انبیاء کا سلسلہ اولاد ابراہیم میں ہی محدود رہا۔ اگر وہ اسحق علیہ السلام

صفحہ ٦٦

کی پشت سے تھے تو اسرائیلی تھے۔ ورنہ اسماعیلی ہوں گے اور یہ صریحاً غلط ہے۔ اس لئے کہ مشرق ومغرب کے تمام مؤرخین اس بات پر متفق ہیں کہ اسماعیل کی پشت سے صرف ایک رسول پیدا ہوا تھا۔ یعنی حضورﷺ۔

اگر مسیح کی ولادت معجزانہ تھی اور ان کے والد کوئی نہیں تھے تو کیا ان کی والدہ (مریم علیہا السلام) کا بھی کوئی سلسلۂ نسب نہیں تھا؟ قرآن حکیم نے حضرت مریم علیہا السلام کو اخت ہارون یعنی ہارون کی بہن کہا ہے اور حضرت ہارون علیہ السلام اسرائیلی تھے۔ انجیل میں درج ہے۔ ”تو (اے مریم علیہا السلام) حاملہ ہوگی اور بیٹا جنے گی۔ اس کا نام یسوع رکھنا۔ وہ بزرگ ہوگا اور خدا تعالیٰ کا بیٹا کہلائے گا اور خداوند خدا اس کے باپ داؤد کا تخت اسے دے گا۔“

(لوقا، ١:٣٢)

حضرت داؤد علیہ السلام کو حضرت مسیح کا باپ کہا گیا ہے اور داؤد علیہ السلام اسرائیلی تھے۔

انجیل متی کا پہلا فقرہ یہ ہے۔ ”یسوع مسیح بن داؤد بن ابراہیم کا نسب نامہ۔“

خود مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام پورے طور پر بنی اسرائیل میں سے نہ تھے۔ بلکہ صرف ماں کی وجہ سے اسرائیلی کہلاتے تھے۔“

(لیکچر سیالکوٹ ص ١٧، خزائن ج ٢٠ ص ٢١٥)

والد تو تھا نہیں اور ماں اسرائیلی تھی تو پھر وہ غیر اسرائیلی کیسے بن گئے اور اگر اسرائیلی نہیں تھے تو کیا اسماعیلی تھے؟ راجپوت تھے؟ گورکھے تھے؟ پانڈو تھے؟ آخر کیا تھے؟ اور پھر یہ پورے طور پر بنی اسرائیل سے نہ ہونے کا مفہوم کیا ہے؟ کیا وہ بیس یا تیس فیصدی اسرائیلی تھے اور باقی ستر فیصدی کچھ اور؟

بہر حال اس حقیقت سے کوئی مؤرخ انکار کر ہی نہیں سکتا کہ حضرت مسیح ، نسب کے لحاظ سے سو فیصدی اسرائیلی تھے۔ اس لئے سلسلۂ مماثلت کی یہ کڑی بھی ٹوٹ گئی۔ مرزا قادیانی خود تسلیم فرماتے ہیں کہ حضورﷺ قریش میں سے تھے اور مشہور حدیث ”الائمۃ من قریش“ ﴿میری امت کے خلفاء قریش سے ہوں گے۔﴾ کے مطابق سلسلۂ محمدی کے خلفاء کا بھی قریشی ہونا ضروری ہے۔

”ان (مسیح علیہ السلام) کے دوبارہ آنے میں کس قدر خرابیاں اور کس قدر مشکلات ہیں۔ منجملہ ان کے یہ بھی کہ وہ بوجہ اس کے کہ وہ قوم کے قریشی نہیں ہیں۔ کسی حالت میں امیر نہیں ہو سکتے۔“

(ازالہ اوہام ص ٥٧٩، خزائن ج ٣ ص ٤١٢)

صفحہ ٦٧

تو پھر فارسی النسل مرزا قادیانی ائمہ قریش کے سلسلے کی آخری کڑی کیسے بن سکتے ہیں؟

جزو پنجم

مرزا قادیانی نے سلسلہ محمدیہ کے صرف دو خلفاء کے نام بتائے ہیں۔ خلیفہ اوّل یعنی حضرت ابوبکر اور خلیفہ دوازدہم حضرت سید احمد بریلوی کا، درمیانی خلفاء کون تھے؟ مرزا قادیانی نے ذکر نہیں فرمایا اور نہ ہمیں علم ہے۔ اس لئے ان پر بحث ممکن ہی نہیں۔ البتہ ان دو خلفاء کے سلسلے میں ہم یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ:

لئے؟

کے استحکام کے لئے۔ یہ خلافت کیسی؟

ماحصل یہ کہ استدلال مماثلت کی کوئی کڑی صحیح و سالم نہیں رہی۔

احمدی بھائیو! میرا مقصد مرزا قادیانی کے دعاوی و تحریرات کی کورانہ و متعصبانہ تردید نہیں۔ بلکہ محض تلاش حقیقت ہے۔ اگر مرزا قادیانی واقعی رسول تھے اور باب رسالت وا ہے تو مجھے سمجھائیے۔ میں بانگ دہل مرزا قادیانی کی رسالت کا اعلان کردوں گا۔ میری کتاب ”ایک اسلام“ میں آپ نے ملاحظہ فرمالیا ہوگا کہ میں حضرت بدھ، حضرت کرشن، حضرت رامچندر اور حضرت زرتشت علیہم الصلوٰۃ والسلام کی نبوت ورسالت کا بھی قائل ہوں۔ اس لئے کہ ان حضرات کے زمانے میں سلسلہ نبوت جاری تھا اور مجھے ان کی نبوت پہ کچھ دلائل بھی مل گئے ہیں۔ اسی طرح اگر مجھے مطمئن کردیا جائے کہ سلسلہ نبوت جاری ہے اور مرزا قادیانی میں انبیاء علیہم السلام کا جلال و جمال موجود تھا تو مجھے اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں قطعاً کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوگی۔ دوسری طرف اے برادران کرام! اگر آپ کو کسی طرح یہ معلوم ہوجائے کہ مرزا قادیانی نبی نہیں تھے تو پھر میں آپ سے مؤدبانہ التماس کروں گا کہ خدا کے لئے یہ کفر و اسلام کی مصنوعی دیواریں گرا دیجئے۔ ان خلیجوں کو پاٹ دیجئے۔ جو آپ میں اور سواد اعظم میں حائل ہوچکی ہیں اور بظاہر تو ہم ایک ہی ہیں۔ یعنی تمدن، نام، لباس، صورت فقہ شریعت، عبادات ،مساجد قبلہ سب ایک تو رہنما بھی ایک ہو جائیں۔

تا کَس نگوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری
صفحہ ٦٨

چھٹا باب ...... مسیح و دجال

مسیح و دجال کے مسئلے کو سمجھنے کے لئے یہ بتانا ضروری ہے کہ گذشتہ ڈیڑھ سو برس میں انگریز کی پالیسی دنیائے اسلام کے متعلق کیا رہی۔ چونکہ مسلمان ہندوستان سے قسطنطنیہ اور مراکش تک پھیلے ہوئے ہیں۔ اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مختلف اسلامی ممالک پر جدا گانہ بحث کی جائے۔

ترک

انیسویں صدی کے اواخر میں ترکی سلطنت طرابلس کی آخری حدود تک پھیلی ہوئی تھی۔ مراکش اور الجزائر آزاد اسلامی سلطنتیں تھیں۔ مراکش کو کئی طرح اہمیت حاصل تھی۔

روم اور اوقیانوس کی گذرگاہوں کے لئے مستقل خطرہ بن سکتی تھی۔

میں پانی بھر آیا۔ لیکن انگریز درمیان میں آ کودا۔ بڑی لے دے کے بعد ان دونوں اقوام میں ایک خفیہ معاہدہ ہوا۔ جس کے رو سے فرانس کو مراکش پر اور انگریز کو مصر پر قبضہ کرنے کی اجازت مل گئی۔ چنانچہ انگریزوں نے ١٨٨٢ء میں بلاوجہ اسکندریہ پر بمباری شروع کر دی۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ ترکی کا مرد بیمار کافی نحیف ہو چکا تھا اور اس میں ان خونریز آلات جدیدہ سے مسلح اور فتنہ جو اقوام سے طاقت مقابلہ باقی نہیں رہی تھی۔ چنانچہ ترکوں کو رسوا کن شرائط پر صلح کرنا پڑی اور انگریز نے مصر کے ایک حصے پر تسلط جمالیا۔ چھ برس بعد مصر کے تمام مالیے پر قبضہ کرلیا اور عثمانیوں کا تسلط محض برائے نام باقی رہ گیا۔ ١٨٩٦ء میں انگریزی فوجوں نے لارڈ کچنر کی کمان میں سوڈان پر حملہ کردیا اور دوسال بعد اس پر قبضہ کرلیا۔ سوڈان میں انگریزی فوجیں اس انداز سے داخل ہوئیں کہ شہیدان وطن کی قبریں کھود کر ہڈیاں باہر پھینک دیں اور مہدی سوڈانی کی لاش سے تو وہ ذلت آمیز سلوک کیا کہ خدا کی پناہ۔ ١٨٩٩ء میں انگریزوں نے تمام معاہدات کو بالائے طاق رکھ کر مصر پر مکمل قبضہ کرلیا اور لارڈ کچنر پہلے گورنر جنرل مقرر ہوئے۔

صفحہ ٦٩

اہل مصر کے ساتھ انگریزوں کا سلوک کیا تھا۔ اس سلسلے میں صرف ایک کہانی سنئے: ١٣ جون ١٩٠٦ء کا واقعہ ہے کہ چند انگریز افسر شکاری بندوقیں اٹھائے ایک گاؤں میں جا نکلے اور وہاں قریب کے کھیتوں میں خانگی کبوتروں کا شکار کھیلنے لگے۔ چند دیہاتی ان کے پاس گئے اور کہا کہ یہ ہمارے پالتو کبوتر ہیں۔ انہیں مت ماریئے۔ اس پر انگریز بہادر نے بگڑ کر کہا: ”ویل تم بھاگنا مانگتا۔ ورنہ ہم تم کو گولی مارنا مانگتا۔“

دیہاتیوں نے اپنی التماس پر اصرار کیا تو ان ٹامیوں نے بندوقوں کا منہ ان کی طرف پھیر دیا۔ یہ غریب بھاگ نکلے۔ انہوں نے ان پر اندھا دھند فائر کئے۔ جن سے ایک نوجوان لڑکی جو کھیت میں سے گزر رہی تھی ہلاک ہو گئی۔ اس پر چند مشتعل دیہاتیوں نے ان ٹامیوں پر پتھر برسائے۔ ٹامیوں نے اپنے افسر اعلیٰ لارڈ کرومر کو اطلاع دی۔ سارا گاؤں گرفتار کر لیا گیا اور مندرجہ ذیل سزائیں فوراً نافذ ہوئیں۔

اس واقعہ کے بعد لارڈ کرومر نے جو رپورٹ حکومت برطانیہ کو بھیجی اس میں درج تھا۔ ”سزاؤں کے نافذ کرنے میں انسانیت کے پورے احساسات کو ملحوظ رکھا گیا ۔“

(تاریخ انقلابات عالم، ابوسعید بزمی ص ٣٥٥)

جب اس واقعہ کا ذکر پارلیمنٹ میں آیا تو وزیر خارجہ نے کہا کہ : ”اس شورش کے ذمہ دار عبدالنبی اور حسن تھے۔ انہوں نے محمد کے نام پر عیسائیت کے خلاف ایک سازش شروع کر رکھی تھی۔ جسے ختم کرنا ضروری تھا اور میں ہاؤس کو اطلاع دینا چاہتا ہوں کہ چھ مصلوبوں میں یہ دو شورش پسند بھی شامل تھے۔“

دیکھا آپ نے کہ دو آدمیوں کو سولی دینے کے لئے کیا راستہ اختیار کیا گیا کہ پہلے ٹامیوں کو اس گاؤں میں بھیجا۔ انہوں نے پالتو کبوتروں پر فائر کر کے لوگوں کو مشتعل کیا۔ جب لوگوں نے احتجاج کیا تو انہوں نے بے دھڑک گولیاں برسائیں اور پھر مظلوم بن کر لارڈ کرومر کے پاس پہنچے۔ اس نے اس واقعہ کو بغاوت کی صورت دے کر عبدالنبی اور حسن کو چار ساتھیوں سمیت سولی پر لٹکا دیا۔ اسے کہتے ہیں انصاف، تہذیب اخلاق اور رعایا پروری۔

صفحہ ٧٠

١٩١١ء میں برطانیہ و اٹلی میں بھی ایک خفیہ معاہدہ ہوا۔ جس کے رو سے اٹلی نے طرابلس پر حملہ کر دیا۔ وہاں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں نہتے مرد و زن قتل کر ڈالے۔ شہر کے شہر جلا دیئے۔ بلکہ بعض شہروں کی ساری آبادی کو شیر خوار بچوں سمیت موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ہزاروں کو آگ میں زندہ پھینک دیا۔ عورتوں کو برہنہ کر کے پھانسی پر لٹکا دیا۔ ایک بہت بڑی تعداد کو زنجیروں میں جکڑ کر تپتے ہوئے صحراؤں میں ڈال دیا۔ ہزار ہا کو بلند چٹانوں سے دھکیل دیا۔ سینکڑوں کو ہوائی جہازوں سے زمین پر پھینک دیا اور لاکھوں بچوں کو آغوش مادر سے الگ کر کے اٹلی میں بھیج دیا۔ تاکہ انہیں عیسائی بنایا جائے۔ ان مظالم سے ”لنڈن ٹائمز“ جیسا سنگدل اخبار بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ اس نے کہا : ”یہ مظالم اس سمجھوتہ کا نتیجہ ہیں۔ جو اٹلی اور برطانیہ میں ہوا تھا اور جس کے رو سے اٹلی کو اس ملک پر حملہ کرنے کی اجازت مل گئی تھی ۔“

یہ تو تھا حال طرابلس کا۔ مصر میں انگریز دونوں ہاتھوں سے مصر کو لوٹ رہا تھا۔ خام اجناس سستے داموں خرید کر کسانوں کو کمزور کر رہا تھا۔ رفتہ رفتہ قحط و گرانی کی وجہ سے ملک کی یہ حالت ہو گئی کہ طول و عرض مصر میں انگریزی مظالم پہ گیت تیار ہو گئے۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ ایک دور افتادہ دہقانی کو گیت گاتے ہوئے سنا گیا۔

وائے بر فرنگ جو ہمارا غلہ لے گیا
تمام مویشی لے گیا سارے بچے لے گیا
اب ہمارے پاس صرف جانیں رہ گئیں
اے رب تو ہمیں جلد نجات دلا

نجد و حجاز

اٹھارویں صدی کے ربع اول میں محمد بن عبد الوہاب (ایک مصلح) نجد سے اٹھا۔ اس کا مقصد قبر پرستی اور دیگر بیجا رسوم و عقائد کی بیخ کنی تھا۔ نجد کا سردار محمد بن سعود اس کا پیرو بن گیا۔ محمد بن عبد الوہاب ترکوں کے خلاف تھا۔ اس کے تمام مرید سردار نجد کے جھنڈے تلے جمع ہو گئے اور ترکوں کے خلاف ایک زبردست محاذ قائم ہو گیا۔ ١٨٨٥ء میں ترکی سپاہ نے سردار نجد عبد العزیز کو قتل کر ڈالا اور اس کی جمعیت کو پریشان کر دیا۔ اس کا ایک پنجسالہ بیٹا عمر نامی عمان میں پہنچا دیا گیا۔ اس نے بڑے ہو کر چند قبائل کو ساتھ ملا لیا اور ریاض پر حملہ کر کے اسے فتح کر لیا۔ (یہ ١٩١٢ء کا واقعہ ہے) ترکوں کے گورنر شریف مکہ نے اس پر حملہ کر دیا اور اسے ایک زبردست شکست دی۔ لیکن سرداری نجد سے اسے محروم نہ کیا۔

صفحہ ٧١

جب ١٩١٤ء کی جنگ عظیم میں انگریزوں نے شریف مکہ سے بغاوت کرائی تو عمر بن عبدالعزیز (سردار نجد) کو بھی ساتھ ملانا چاہا۔ ہر چند کہ عمر دو مرتبہ ترکوں سے مار کھا چکا تھا اور اب انتقام لینے کا موقعہ تھا۔ لیکن اس کی اسلامی غیرت آڑے آئی اور اس نے برطانیہ کی تمام ترغیبات کو جھٹک دیا۔ دوسری طرف ترکوں کے ایک نمک خوار ہاشمی نے محافظین حرم کی وہ خبر لی کہ انہیں پہلے جزیرۃ العرب سے پھر شام اور پھر عراق سے نکلنا پڑا۔

جنگ کے بعد شریف مکہ کو غداری کے صلے میں صرف حجاز کا امیر بنا دیا گیا اور شرق اردن، فلسطین، شام اور عراق اس کی سلطنت سے کاٹ دیئے گئے۔ شریف مکہ نے بہتیرا شور مچایا کہ او میرے آقاؤ! میں اس لولی لنگڑی اور کان کٹی سلطنت کو کیسے چلاؤں گا۔ خدا کے لئے عراق، شام اور دوسرے علاقے ساتھ رہنے دو۔ لیکن سنتا کون تھا؟ نتیجہ یہ ہوا کہ یہ مفلس سلطنت اپنے بوجھ کے نیچے خود ہی دبتی گئی۔ ہر سو قحط و افلاس اور بد نظمی کی وجہ سے اضطراب ہو گیا۔ جس سے ابن سعود نے فائدہ اٹھایا اور ١٩٢١ء میں شریف پر حملہ کر دیا۔ شریف بھاگ گیا اور چھ برس بعد انگریز نے ابن سعود کی سلطنت کو بادل ناخواستہ منظور کر لیا۔ زخم لگائے بغیر؟ نہیں بلکہ مندرجہ ذیل کام کے علاقے اپنے قبضے میں کرلئے۔

اور یہی وہ علاقے تھے جن میں تیل کے بے اندازہ ذخائر لوہے اور سونے کی معادن اور لولو و مرجان کے چشمے تھے۔ یہ علاقے تو لے لئے انگریز نے، اور باقی ساری ریت سلطان ابن سعود کے حوالے کر کے کہا کہ لو اور جتنی چاہو پھانکو۔

شام

بعد از جنگ شام فرانس کے حوالے ہوا۔ اس پر شامیوں نے سخت احتجاج کیا کہ دوران جنگ میں تو تم نے ہم سے آزادی کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن ؎

دل شاہین نمی سوزد براں مرغے کہ در چنگ است

نتیجتاً تمام لیڈروں کو جیل میں ڈال دیا گیا۔ دمشق پر مسلسل اڑتالیس گھنٹے بمباری کی

صفحہ ٧٢

گئی۔ ظالم فرانسیسیوں کے ٹینک دمشق کے حسین بازاروں میں داخل ہو گئے اور اس قدر گولہ باری کی کہ بازار اینٹوں کا ڈھیر بن گئے اور ہزاروں متمول خاندان بھکاری بن کر رہ گئے۔ یہ سب کچھ ہوتا رہا۔ لیکن برطانیہ ٹس سے مس نہ ہوا۔

عراق

جنگ عظیم (١٨۔١٩١٤ء) میں عراقیوں کو بھی آزادی کا چکمہ دے کر انگریزوں نے ساتھ ملا لیا۔ لیکن جنگ کے بعد انگریز عراق کے سینے پر چڑھ کر بیٹھ گیا۔ ترکوں کی حکومت میں تمام افسر عراقی تھے۔ لیکن انگریز کے زمانے میں ساڑھے چار سو افسروں میں سے ایک بھی عراقی نہ تھا۔ جب قحط و گرانی اور انگریز کی شہرۂ آفاق لوٹ کھسوٹ کی وجہ سے سارا عراق قلیوں اور گھسیاروں کی بستی بن کر رہ گیا تو اس پر مظاہرے ہوئے۔ پکڑ دھکڑ اور دارو گیر کے بعد مظاہرے بغاوت میں تبدیل ہو گئے۔ ١٩٢٠ء کی بغاوت کا اندازہ صرف اس ایک بات سے لگا لیجئے کہ اس میں برطانوی فوج کے دس ہزار سپاہی (آٹھ ہزار ہندوستانی اور دو ہزار انگریز) ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے بالمقابل نہتے عراقیوں کی کیا درگت بنی ہوگی۔ خود ہی اندازہ کر لیجئے۔ آخر برطانیہ کو عراق کے مطالبہ نیم آزادی کے سامنے جھکنا پڑا۔

شریف مکہ کے دو بیٹوں میں سے ایک کو فلسطین اور دوسرے کو شام کا سلطان بنایا گیا تھا۔ لیکن شام نے کوئی بہانہ سامنے رکھ کر فیصل کو شام سے نکال دیا۔ بعدازاں جب عراق میں انتخاب شاہ کا مسئلہ سامنے آیا تو عراقیوں نے ایک محب وطن کو امیدوار نامزد کیا۔ لیکن برطانیہ مصر تھا کہ شام سے نکالے ہوئے امیر فیصل کو چنا جائے۔ جب عراقی نہ مانے تو برطانیہ نے ان کے امیدوار کو پکڑ کر جلا وطن کر دیا اور زبردستی امیر فیصل کو شاہ عراق بنا دیا۔

یہ تھی حقیقت آزادی عراق کی۔ آزادی تو دے دی۔ لیکن صیغے ہائے ذیل برطانیہ کے قبضے میں رہے اور شاید اب تک ہیں۔

صفحہ ٧٣

اور باقی رہ گئی ریت، تو کہا کہ جتنی چاہو پھانکو ہم قطعاً دخل نہیں دیں گے۔

فلسطین

فلسطین عرب کا جزو لاینفک تھا اور برطانیہ نے شریف مکہ سے وعدہ بھی کیا تھا کہ سارا عرب اس کے تسلط میں دے دیا جائے گا۔ لیکن ہوا یہ کہ جب فتح کے آثار نظر آنے لگے۔ عراق و عرب سے ترکوں کو دیس نکالا مل چکا تو ١٩١٧ء میں برطانیہ کے وزیر خارجہ مسٹر بالفور نے اعلان کر دیا کہ فلسطین کو یہود کا وطن بنایا جائے گا۔ اس اعلان پر ساری دنیائے اسلام میں اضطراب کی ایک لہر دوڑ گئی۔ مسلمانان عالم نے برطانیہ کو اپنے مواعید یاد دلائے۔ لیکن یہاں کون سنتا تھا۔ چنانچہ ١٩١٨ء میں یہود کی آمد شروع ہوگئی۔ ارض پاک میں ہنگامے ہوئے اور قتل وغارت کا بازار گرم ہو گیا۔ انگریز کی سنگین بے دھڑک عربوں کے سینے چیرنے لگیں اور اس مقصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے برطانیہ نے ١٩٢٠ء میں ایک یہودی، سر ہربرٹ سموئیل کو فلسطین کا ہائی کمشنر بنا کر بھیج دیا۔ اس شخص نے عربوں کی وہ خبر لی اور میثاق شریف و برطانیہ کی وہ مٹی پلید کی کہ توبہ ہی بھلی۔ نتیجتاً سات لاکھ عرب گھروں سے نکال دیئے گئے۔ ان میں سے لاکھوں بھوک سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر چکے ہیں اور باقی صحرا میں ادھر ادھر تباہ ہو رہے ہیں۔

دیکھا! آپ نے برطانیہ کے انصاف، مواعید پروری اور مسلم دوستی کا عالم۔

شرق اردن

اس علاقہ کی کل آبادی چار لاکھ، بجٹ صرف پانچ لاکھ پونڈ سالانہ؛ دارالخلافہ عمان کی آبادی بارہ ہزار۔ ہر طرف ریت، جھکڑ، کیکر اور خانہ بدوش قبائل یہ ہے۔ نقشہ اس سلطنت عظمیٰ کا جس پر شریف مکہ کے ایک بیٹے عبداللہ کو مسلط کیا گیا تھا۔ پھر لطف یہ کہ سارے اختیارات انگریز ریذیڈنٹ کے قبضۂ قدرت میں دے دیئے گئے۔

اس سلطنت کی تخلیق کا مقصد صرف تقسیم عرب اور عربوں کی قوت و مرکزیت کا خاتمہ تھا۔ ورنہ ایسے ریگستان میں جس میں مزروعہ زمین کا رقبہ صرف تیس مربعہ میل ہے۔ سلطنت کون قائم کرتا ہے؟ امیر عبداللہ تادم زندگی انگریز کا وظیفہ خوار رہا۔ انگریزوں کے اشارے پہ پتلی کا ناچ دکھاتا رہا اور قوت و مرکزیت کی ہر تجویز کا ہمیشہ مخالف رہا۔

ایران

١٩٠٧ء میں برطانیہ و روس میں ایک خفیہ معاہدہ ہوا۔ جس کی رو سے شمالی ایران کی دولت پر روس اور باقی پر برطانیہ قابض ہو گیا۔ جب اس ناانصافی پر عوام اور ان کے نمائندوں نے

صفحہ ٧٤

سخت احتجاج کیا تو شاہ ایران نے برطانیہ کا اشارہ پا کر تمام ممبران پارلیمان کو سولی پر لٹکا دیا۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد لارڈ کرزن نے احمد شاہ قاجاری (شاہ ایران، برائے نام) سے ایک سمجھوتے پر دستخط کرا لئے۔ جس کے رو سے روس کا اثر ایران میں ختم ہو گیا اور ایران کے تمام وسائل دولت نیز امور داخلہ و خارجہ پر انگریز قابض ہو گیا۔ ١٩٢١ء میں رضا شاہ پہلوی نے بعد از انقلاب صورتحال میں کچھ تبدیلی پیدا کی۔ لیکن ١٩٤١ء میں برطانیہ نے رضا شاہ پہلوی کو گرفتار کر کے جلاوطن کر دیا اور سات برس تک ایران پر بلا شرکت غیرے حکومت کی دوسری جنگ کے بعد ایران کی سیاست میں تبدیلیاں ہوتی رہیں۔ یہاں تک کہ ١٩٥٢ء میں ایران کے وزیراعظم ڈاکٹر مصدق نے انگریز کو ایران سے نکال باہر کیا اور تمام وسائل دولت اپنے قبضے میں لے لئے۔ لیکن تا بکے۔ انگریز ریشہ دوانیوں میں مسلسل مصروف رہا۔ یہاں تک کہ ڈاکٹر مصدق کو گرفتار کر لیا گیا اور آج کل (دسمبر ١٩٥٣ء) میں ان پر مقدمہ چل رہا ہے۔

انگریز ہندوستان میں

یہ تو تھی برطانیہ کی پالیسی بیرون ہند آئیے اب یہ دیکھیں کہ انہوں نے ہندوستان میں مسلمانوں سے کیا سلوک کیا۔

١٦٠٨ء میں ایک برطانوی جہاز سورت کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہوا۔ یہاں ان لوگوں نے ایک تجارتی ادارہ بنالیا اور شہنشاہ مغلیہ سے تجارتی حقوق حاصل کر لئے۔ اپنی حفاظت کے لئے کچھ فوج بھی رکھ لی۔ جب ملک کے حالات سے اچھی طرح واقف ہو گئے تو انہوں نے سیاسی جوڑ توڑ شروع کر دیئے اور چار سو فتنہ و سازش کا ایک جال پھیلا دیا۔

لیکن سخت شکست کھائی اور تمام تجارتی حقوق سے محروم ہو گئے۔ حالات کو دیکھ کر انگریز خوشامد اور چاپلوسی پر اتر آیا اور چند برس بعد دوبارہ تجارتی حقوق حاصل کر لئے۔ ساتھ ہی اپنی عسکری قوت کو چپکے چپکے کافی بڑھالیا اور شہنشاہ سے ٹکر لینے کی جگہ چھوٹے بڑے نوابوں اور راجوں کی طرف توجہ پھیر دی۔

حملہ کر دیا۔ انگریزوں نے کلکتہ کو آگ لگا کر ہزار ہا انسانوں کو زندہ جلا دیا اور ہزار ہا کو مفلس و بے نوا بنا دیا۔ بازاروں کو جلا کر لوگوں کی اقتصادی قوت کو توڑ دینا اہل فرنگ کا پرانا حربہ تھا۔ جسے یہ لوگ نہایت کامیابی سے مراکش، طرابلس اور دمشق میں استعمال کر چکے تھے۔ امی چند انگریزوں کا

وفادار اور سراج الدولہ کا غدار تھا داخل ہو گئے۔ اس کی دیواروں کی ص اور تمام بیگمات کو اپنے سمیت بھگا اس جنگ میں سراج ال کام لے کر معاف کر دیا۔ انگریز ہو گئے۔ کلائیو نے ٢ /جنوری ١٧ کرنے پر مجبور کر دیا اور اس کے ب دیا۔ تین سال بعد ایک اور امیدوار کمپنی نے منظور کر لیا اور جعفر کو میں کر لئے۔ نیز بیس لاکھ روپیہ وغرباء دونوں پہ بھاری ٹیکس عائد ک اس پر کمپنی کے تیور بدل گئے اور م بیچارہ میر قاسم ادھر ادھر بھٹکنے کے ب الدولہ کو پینتیس لاکھ روپیہ کے عوض اس سیاسی جوڑ توڑ سے جو رقم بطور

خونریزی سے کام لیا۔

ہوئی۔ ہیسٹنگز چونکہ کمپنی کا ملازم تھا چھبیس لاکھ روپیہ لے کر الہ آباد اس

و خود مختاری کی ذرا سی خواہش بھی روپیے ہیسٹنگز کی آنکھوں میں کھٹک بستیاں جلا دیں۔ بچے تک ذبح کر کے متعلق لارڈ میکالے لکھتا ہے س حالت میں ان لوگوں نے بعض اوق

صفحہ ٧٥

وفادار اور سراج الدولہ کا غدار تھا۔ لیکن اس جنگ میں وہ بھی نہ بچ سکا۔ فوجی گورے اس کے گھر میں داخل ہو گئے ۔اس کی بیویوں کی عصمت دری کی ۔ غیرت میں آ کر محافظ حرم نے حرم کو آگ لگا دی اور تمام بیگمات کو اپنے سمیت بھون ڈالا ۔

اس جنگ میں سراج الدولہ نے انگریز کو شکست فاش دی۔ لیکن اسلامی رواداری سے کام لے کر معاف کر دیا ۔ انگریز نے اس مہلت سے فائدہ اٹھایا اور جنگی تیاریوں میں مصروف ہو گئے ۔ کلائیو نے ٢ /جنوری ١٧٥٧ء کو اچانک سراج الدولہ پر حملہ کر کے اسے راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور کر دیا اور اس کے غدار وزیر جعفر کو مسند بنگال پہ سوا دو لاکھ پونڈ رشوت دے کر بٹھا دیا ۔ تین سال بعد ایک اور امیدوار میر قاسم نے پچیس لاکھ روپیہ مسند بنگال کی قیمت پیش کی ۔ جسے کمپنی نے منظور کر لیا اور جعفر کی گدی میر قاسم کو دے دی۔ اس سے تین اضلاع لے کر اپنے قبضے میں کر لئے ۔ نیز بیس لاکھ روپیہ مزید طلب کیا ۔ میر قاسم نے یہ رقم وصول کرنے کے لئے امراء وغرباء دونوں پہ بھاری ٹیکس عائد کئے۔ بیگمات کا زیور فروخت کیا ۔ لیکن رقم پھر بھی پوری نہ ہوسکی ۔ اس پر کمپنی کے تیور بدل گئے اور میر جعفر سے ٧٥ لاکھ روپیہ لے کر اسے دوبارہ نواب بنا دیا اور بیچارہ میر قاسم ادھر ادھر بھٹکنے کے لئے چھوڑ دیا گیا ۔ جعفر جلد فوت ہو گیا اور کمپنی نے اس کے بیٹے نجم الدولہ کو پینتیس لاکھ روپیہ کے عوض مسند نشین بنا دیا۔ خلاصہ یہ کہ نو برس کی قلیل مدت میں کمپنی نے اس سیاسی جوڑ توڑ سے جو رقوم بطور رشوت وصول کیں ان کی میزان تین کروڑ روپیہ سے متجاوز تھی۔

خونریزی سے کام لیا ۔

ہوئی ۔ ہیسٹنگو چونکہ کمپنی کا ملازم تھا اور کمپنی کے مقاصد تجارتی تھے۔ اس لئے اس نے شاہ اودھ سے چھبیس لاکھ روپیہ لے کر الہ آباد اس کے ہاتھ بیچ ڈالا ۔

و خود مختاری کی ذراسی خواہش بھی موجود تھی ۔ اس سلسلے میں روہیلکھنڈ کے ساٹھ لاکھ بہادر اور غیور روہیلے ہیسٹنگو کی آنکھوں میں کھٹک رہے تھے ۔ چنانچہ اس نے اس بہادر قوم پر حملہ کر کے ان کی بستیاں جلا دیں۔ بچے تک ذبح کر دیئے اور جوان عورتوں کی عصمت کو دل کھول کر لوٹا ۔ اس واقعہ کے متعلق لارڈ میکالے لکھتا ہے ۔ ” ایک لاکھ روہیلہ وطن چھوڑ کر خانہ بدوش بن گیا اور بے وطنی کی حالت میں ان لوگوں نے بعض اوقات اپنی عورتوں کی عصمت بیچ کر ایک وقت کی روٹی حاصل کی ۔

PDF 77

ان کے بچے ذبح کر دیئے گئے اور دیہات کو آگ لگا دی گئی۔ (کمپنی کی حکومت ص ١١٤ باری) اور پھر لطف یہ کہ اس حملے کا خرچ (چالیس لاکھ روپیہ) نواب اودھ سے زبردستی وصول کیا گیا۔

تھا۔ جب ہیسٹنگز کروڑوں روپے لے چکا اور اسے افشائے راز کا خطرہ پیدا ہو گیا تو اس نے نند کمار کو کوئی بہانہ بنا کر سولی پر لٹکا دیا۔

لیکن جلد ہی انگریز نے اس معاہدے کی دھجیاں ہوا میں بکھیر دیں اور بلا اشتعال دوبارہ حملہ کر کے بہت کچھ کما لیا۔

اچانک ہلہ بول دیا۔ جس میں سخت شکست کھائی اور جھک کر صلح کر لی۔ اس معاہدہ کی پہلی اور بنیادی شرط یہ تھی کہ اگر ہم میں سے کسی ایک پر حملہ ہوا تو ہم ایک دوسرے کی مدد کریں گے۔ دو برس بعد مرہٹوں نے میسور پر حملہ کر دیا۔ حیدرعلی نے انگریز کو بار بار اس کا معاہدہ یاد دلایا۔ لیکن صاحب بہادر نے سنی ان سنی ایک کر دی۔

کرتا تھا۔ کیوں؟ اس سوال کا جواب مؤرخ نہیں دے سکتا تھا۔ ١٧٧٨ء میں ہیسٹنگز نے راجہ سے پانچ لاکھ مزید رقم طلب کی اور دوسرے سال پھر اسی رقم کا مطالبہ ہوا۔ راجہ نے رقم تو ادا کر دی۔ لیکن ساتھ ہی لاٹ صاحب کو مل کر دو لاکھ روپیہ کا چڑھاوا بھی چڑھایا؛ اور درخواست کی کہ آئندہ اس بوجھ سے مجھے معاف کیا جائے۔ کچھ عرصہ بعد لاٹ صاحب کو کسی علاقے پر چڑھائی کی ضرورت پیش آئی اس سلسلے میں راجہ چیت سنگھ کو لکھا کہ اس مقدس کام کے لئے دو ہزار سپاہی تم بھی پیش کرو اور ایسا احمق سپاہی کہاں سے ملے جو دوسروں کی خاطر خون بہاتا پھرے۔ چنانچہ بڑی مشکل سے راجہ صاحب ایک ہزار سپاہی بھیج سکے۔ اس گستاخی پر لاٹ صاحب کی چتون پر بل پڑ گئے۔ فوراً راجہ صاحب پر پچاس لاکھ روپیہ جرمانہ کر دیا اور اس رقم کو وصول کرنے کے لئے فوج بھی بھیج دی۔ بے بس راجہ شاہی چھوڑ کر بھاگ نکلا اور لاٹ صاحب نے اس کے ایک خورد سال بھتیجے کو چالیس لاکھ روپیہ لے کر گدی پر بٹھا دیا اور ساتھ ہی ہدایت کی کہ یہ رقم ہر سال ہماری خدمت میں پہنچتی رہے۔

لئے شاہ اودھ سے پچھتر لاکھ روپیہ کا مطا دی۔ اس فوج نے حرم میں داخل ہو کر بیگما گداز داستان ہے۔

پر حملہ کر دیا اور بنگلور ہتھیا لیا۔ آخر نواب آدھی ریاست کمپنی کو چلی گئی اور ساتھ ہ مقابلہ کیوں کیا) تیس کروڑ تیس ہزار روپ

مفاد کو پھر ایک وہمی خطرہ پیدا ہو گیا لہٰذا کے لئے دوبارہ قدم رنجہ فرمایا اور بقدر طما

جائز وارث وزیرعلی (ابن آصف الدو سر جان شور کی خدمت میں پہنچا۔ دس ل معزول ہو گیا اور سعادت علی شاہ اودھ

تھیں۔ یہ واحد فرمانروا تھا جو انگریز کی ویلزلی ١٧٩٨ء میں گورنر جنرل بن کر کے لئے زبردست جنگی تیاری شروع ایک روز اچانک اس پہ ہلہ بول دیا او شہید ہو گیا۔ انگریز کے نوشیروانی ع چنانچہ سہولت کار کے لئے ریاس سنبھال لیں اور شہید ٹیپو کے پنجسالہ ریاست کا نظم و نسق اپنے دست انصا

صفحہ ٧٧

لئے شاہ اودھ سے پچھہتر لاکھ روپیہ کا مطالبہ کر دیا اور ساتھ ہی یہ رقم وصول کرنے کے لئے فوج بھیج دی۔ اس فوج نے حرم میں داخل ہو کر بیگمات کے زیور جس وحشیانہ طریقے سے نوچے یہ ایک زہرہ گداز داستان ہے۔

پر حملہ کر دیا اور بنگلور ہتھیا لیا۔ آخر نواب اور کمپنی کے درمیان ایک معاہدہ ہوا۔ جس کے رو سے آدھی ریاست کمپنی کو چلی گئی اور ساتھ ہی لاٹ صاحب نے نواب صاحب سے (کہ انہوں نے مقابلہ کیوں کیا) تین کروڑ تیس لاکھ روپیہ بطور تاوان لے لیا۔

مفاد کو پھر ایک دفعہ خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔ چنانچہ ١٧٩٤ء میں سر جان شور نے انہیں تباہ و برباد کرنے کے لئے دوبارہ قدم رنجہ فرمایا اور بقدر ظرف خوں ریزی کی۔

جائز وارث وزیر علی (ابن آصف الدولہ) نے مسند سنبھال لی۔ آصف الدولہ کا بھائی سعادت علی سر جان شور کی خدمت میں پہنچا۔ دس لاکھ نقد کا نذرانہ اور الہ آباد کا قلعہ پیش کیا۔ چنانچہ وزیر علی معزول ہو گیا اور سعادت علی شاہ اودھ بن گیا۔

تھیں۔ یہ واحد فرمانروا تھا جو انگریز کی مکاریوں سے آشنا اور ان کے دام سے گریزاں تھا۔ جب ویلزلی ١٧٩٨ء میں گورنر جنرل بن کر ہند میں وارد ہوئے تو انہوں نے آتے ہی ٹیپو کے استیصال کے لئے زبردست جنگی تیاری شروع کر دی۔ ٹیپو صاحب بہادر کے ارادوں سے بے خبر تھا۔ چنانچہ ایک روز اچانک اس پر ہلہ بول دیا۔ ٹیپو نہایت بے جگری سے لڑا۔ لیکن کہاں تک آخر مدافعت میں شہید ہو گیا۔ انگریز کے نوشیروانی انصاف نے اس خاندان کو سیادت سے محروم کرنا پسند نہ کیا۔ چنانچہ سہولت کار کے لئے ریاست کے کچھ اضلاع نظام پر فروخت کر ڈالے۔ بندر گاہیں خود سنبھال لیں اور شہید ٹیپو کے پنجسالہ بچے کو وارث سلطنت قرار دے دیا۔ لیکن پبلک کے اصرار پر ریاست کا نظم و نسق اپنے دست انصاف پسند ہی میں رکھا۔

صفحہ ٧٨

١٣مئی ١٧٩٩ء کو کرناٹک کے نواب کو اسی کے جرائم سے آگاہ کیا اور پھر اس کی ریاست پر قبضہ کر لیا۔ پانچ ماہ پیشتر اسی بناء پر وہ سورت کے نواب کو معزول اور اس کی ریاست پر قبضہ کر چکے تھے۔

رنگون پر قبضہ کر لیا۔ ہندوستانی سپاہی مذہباً بحری سفر کے قائل نہ تھے۔ جب برما کی جنگ میں ایک ہندوستانی کمپنی کو برما جانے کا حکم ملا اور اس کمپنی نے مذہبی رکاوٹ کا ذکر کیا تو صاحب بہادر نے ساری کمپنی کو فوراً گولی مروا دی۔

موقع خالصہ دربار کی شان میں قصائد مدحیہ بھی پڑھتے رہے۔ لیکن جب وہ باقی ریاستوں اور دربار دہلی کا قضیہ نپٹا چکے تو پنجاب کی طرف متوجہ ہوئے۔ چنانچہ سکھوں پر پہلا حملہ ١٨٠٨ء میں کیا لیکن قیام امن کے لئے جھٹ صلح کر لی اور ستلج پار کی تمام سکھ ریاستوں پر قبضہ کر لیا۔ یہ چھیڑ چھاڑ جاری رہی۔ یہاں تک کہ ١٨٥٣ء میں سارا پنجاب انگریز کے قبضے میں چلا گیا اور سر جان لارنس پنجاب کا پہلا گورنر مقرر ہوا۔

خطرہ تھا کہ کہیں ان کہساروں سے پھر کوئی غزنوی، غوری یا ابدالی نہ اٹھ پڑے۔ چنانچہ انہوں نے انیسویں صدی کے آغاز میں سر میلکم کو سفیر ایران بنا کر بھیجا۔ بایں ہدایت کہ وہ ایران وکابل کو لڑانے کی انتہائی کوشش کرے۔ یہ دونوں ممالک تو آپس میں نہ لڑے۔ لیکن وہ افغانستان کے شاہی خاندان میں رقابت کی آگ بھڑکانے میں کامیاب ہو گیا۔ اس آگ کو مزید ہوا دینے کے لئے ١٨٠٩ء میں الفنسٹن کو سفیر کابل بنا کر روانہ کیا گیا۔ حالات بد سے بدتر ہوتے گئے۔ یہاں تک کہ ١٨٣٧ء میں انگریز نے افغانستان پر حملہ کر کے اپنے ایک پٹھو یعنی معزول شجاع کو تخت پر بٹھا دیا۔ نظم و نسق پر خود قبضہ کر لیا اور انگریزی افواج، غزنی، قندھار، جلال آباد اور کابل میں متعین کر دیں۔ اس حملے میں انگریزوں نے حسب معمول کابل کے بازار جلائے۔ نہتوں پر بے دریغ تلوار چلائی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ شاہی حرم کی آبروریزی کی اس پر غیور افغانیوں میں انتقام کی آگ بھڑک اٹھی۔ انہوں نے موقعہ پا کر انگریزی امیر

صفحہ ٧٩

الافواج مسٹر میکناٹن اور سولہ ہزار گورا سپاہیوں کو قتل کر دیا اور صرف ایک گورا یہ کہانی سنانے کے لئے پشاور میں زندہ واپس آیا ۔ ١٨٤٢ء میں انگریز پھر کابل پر چڑھ دوڑے ۔ پھر بازار جلائے اور اس مہم کا تمام خرچ نوابان سندھ سے زبردستی وصول کیا ۔

حملوں کے بعد سارا صوبہ زیر نگین کر لیا ۔ نوابوں کو جلاوطن کر دیا اور بعض حرم سراؤں میں گھس کر بیگمات سے نہ صرف زیور چھین لئے ۔ بلکہ ان کے بدن سے کپڑے بھی نوچ لئے اور انہیں برہنہ کر کے بے حد رسوا کیا ۔

کرتے ہیں کہ آغاز میں انگریز ہندوستانی بچے چرا کر ادھر ادھر بیچ آتے تھے ۔ ١٧٦٣ء میں صرف ایک انگریز نے دو ہزار بچے بیچے ۔ یہ لوگ تاجر تھے اور تجارت کے لئے نہایت الٹے طریقے استعمال کرتے تھے ۔ یعنی جب خام اجناس کے ذخائر منڈی میں آتے تھے تو حکم ہوتا تھا کہ دیسی سوداگر اس وقت تک منڈیوں میں قدم نہ رکھیں جب تک کمپنی کے سودے ختم نہ ہو لیں ۔ نیز جب تک کمپنی کی اجناس بک نہ جائیں تمام دیگر دکاندار اپنی دکانیں بند رکھیں ۔ اس طریقے سے کمپنی روپے کی چیز پیسے میں خریدتی اور دس روپے پہ فروخت کرتی تھی ۔ کمپنی کا یہ قاعدہ تھا کہ جس ریاست میں نواب یا راجہ کے مرنے کے بعد جائز وارث (بیٹا) موجود نہ ہوتا اس پر خود قبضہ کر لیتی ۔ اس طرح کمپنی نے تھوڑے سے عرصے میں پندرہ ریاستیں ہتھیا لیں ۔ ان ریاستوں کے ورثاء مر کھپ گئے ۔ ہنوز ایک راز ہے ۔

پوری توجہ صرف کر رہا تھا ۔ کمپنی کے ایک ڈائریکٹر مسٹر چارلس گرانٹ نے ١٧٩٣ء میں ایک کتاب لکھی ۔ جس میں کھلم کھلا اقرار کیا کہ لوگوں کو تعلیم دینے سے ہمارا مقصد تبلیغ عیسائیت ہے ۔ ١٨٤٦ء میں مدراس کے گورنر اور ڈائریکٹر سر رشتہ تعلیم نے کمپنی کو لکھا کہ سکولوں میں انجیل پڑھائی جائے ۔ جن مقامات پر عیسائی سکول موجود تھے وہاں کوئی اور سکول کھولنے کی اجازت نہ تھی ۔ سر چارلس ٹریویلین آئی سی ایس نے ٢٨ جنوری ١٨٥٣ء کو دارالامراء کے سامنے ہندوستان کے واقعات بیان کرتے ہوئے فخر سے کہا۔ ہماری پالیسی کے نتائج یہ ہیں کہ گورنمنٹ درسگاہوں سے بھی اتنے ہی عیسائی پیدا ہوئے جتنے مشنری درسگاہوں سے ۔

صفحہ ٨٠

میں جہاں دیسیوں کو بھرتی کرنے کی ضرورت پیش آئے وہاں صرف ہندوؤں کو مقرر کیا جائے۔

١٨٥٦،٥٧ء میں لکھا کہ پنجاب کے دیہاتی مدارس میں مدرس عموماً مسلمان ہیں۔ اس رجحان کو فوراً روکنے کی ضرورت ہے۔ اس پالیسی کا نتیجہ یہ ہوا کہ ١٨٩٠ء کی فہرست اساتذہ میں کسی مسلمان ٹیچر کا نام تک موجود نہیں تھا۔

”ہمارے ہندوستانی مسلمان“ میں ایک باب بایں عنوان باندھتے ہیں۔

باب چہارم....... انگریزی حکومت کے ماتحت مسلمانوں سے نا انصافیاں

”یہ باب بے انصافیوں کی ایک طویل داستان ہے۔ مثلاً مسلمانوں کو یہ شکایت ہے کہ ہم نے ان پر باعزت زندگی کا دروازہ بند کردیا۔ ہم نے قاضیوں کی برطرفی سے ہزارہا خاندانوں کو مبتلائے آفات کردیا۔ ہم نے مسلمانوں سے مذہبی فرائض پورے کرنے کے ذرائع چھین لئے۔ ہم نے ان کے مذہبی اوقاف میں بددیانتی سے کام لیتے ہوئے ان کے سب سے بڑے تعلیمی سرمائے کا غلط استعمال کیا۔ ہم نے بنگال میں قدم رکھا تو مسلمانوں کے ملازموں کی حیثیت سے لیکن اپنی فتح ونصرت کے وقت ان کی مطلق پروا نہیں کی۔ بلکہ اپنے سابق آقاؤں کو پاؤں تلے روندا۔“ (ص٢١٤،٢١٣)

آگے لکھتے ہیں۔ ”جو لوگ کل تک اس ملک کے حکمران تھے۔ آج نان جویں کے روکھے سوکھے ٹکڑوں کو بھی ترس رہے ہیں۔ یہ وہ قوم ہے جسے برطانوی حکومت کے ماتحت تباہ وبرباد کر دیا گیا ہے۔“ (ص٢١٨،٢١٧)

”ہر ضلع میں کسی نہ کسی شہزادہ کی اولاد بے بام محلات اور پراز خار تالابوں کے درمیان خون جگر پیتی نظر آتی ہے۔ وہ غلیظ برآمدوں اور ٹپکتے ہوئے مکانوں میں اداس زندگیاں بسر کر رہے ہیں اور روز بروز قرض کے تباہ کن گڑھوں میں گرتے چلے جاتے ہیں۔ ان کے رنگارنگ مچھلیوں والے تالاب گندے اور سڑے جوہڑوں کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ بارہ دریوں کی جگہ اب اینٹوں کا ملبہ ہے۔ وہ بد نصیب خواتین جو کبھی رانیاں کہلاتی تھیں۔ ان کے زنانخانوں پر چھت تک باقی نہیں۔ ناگر خاندان کی عظمتوں کی یادگار صرف ایک نہری باقی ہے۔ جو اب باغوں اور محلوں کی جگہ دلدلوں کے بیچ میں سے گذرتی ہے۔“ (ص٢٢٣،٢٢٢)

صفحہ ٨١

’’١٧٦٣ء کے دوامی بندوبست میں مسلمانوں سے زمینیں چھین کر ان ہندوؤں کو دے دی گئیں جو مسلمانوں کی طرف سے مالیہ وصول کرنے پر متعین تھے اور اس طرح لاکھوں گھرانوں کو حصول رزق کے تمام ذرائع سے محروم کر دیا۔‘‘ (ص ٢٣٣)

’’انگریزی حکومت سے پہلے فوج، مالداری اور دیوانی ملازمتوں پر مسلمانوں کا قبضہ تھا۔ جن سے انہیں ایک ایک کر کے نکال دیا گیا۔ جتنے ہندوستانی سول سروس میں داخل ہوتے یا ہائی کورٹ کے جج بنتے ہیں۔ ان میں ایک بھی مسلمان نہیں۔‘‘ (ص ٢٣٧)

’’اب جیل خانے کی ایک دو غیر اہم آسامیوں کے بغیر ہندوستان کے یہ سابق فاتح اور کسی ملازمت کی امید نہیں رکھ سکتے۔ ١٨٧١ء میں بنگال کی سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کا تناسب کیا تھا جدول ذیل ملاحظہ ہو۔

نمبر شمار آسامی مسلم غیر مسلم ١ اکاؤنٹس سول سروس ...... ٢٦٠ ٢ دیوانی آفسر ...... ٤٧ ٣ ای اے سی ...... ٣٣ ٤ ڈپٹی کلکٹر و ڈپٹی مجسٹریٹ ٣٠ ١٦٦ ٥ سب جج ٨ ٣٩ ٦ منصف ٢٧ ١٨٩ ٧ پولیس آفسر ...... ١٠٩ ٨ انجینئر ...... ٧٣ ٩ پی۔ ڈبلیو۔ ڈی اکاؤنٹس ...... ٧٦ ١٠ ڈاکٹر ٤ ١٥٤ ١١ محکمہ تعلیم سروے اور کسٹم آفیسرز ...... ٤١٤ میزان ٦٩ ١٦٦٠

(ص ٢٤٢)

’’١٨٥١ء سے پہلے پیشہ وکالت پر مسلمان قابض تھے۔ رفتہ رفتہ انگریز نے یہ حالت کر

صفحہ ٨٢

دی کہ ١٨٥١ء میں جب لاہور کالج کا داخلہ شروع ہوا تو کالج میں دو سو انتالیس ہندو اور صرف ایک مسلمان داخل کیا گیا۔‘‘ (ص ٤٤٧)

کہاں تک سناؤں یہ ایک نہایت درد ناک اور طویل کہانی ہے۔ چونکہ انگریز نے ہندوستان کی سلطنت مسلمان سے چھینی تھی۔ اس لئے اس کی کوشش ہمیشہ یہ رہی کہ مسلمانوں کو بھوکا مار کر ذلیل و رسوا کر دیا جائے۔ تاکہ ان میں تخت ہند واپس لینے کا جذبہ تک باقی نہ رہے اور سب بہرے، قلی اور خانسامے بن کر آزادی و حریت کے جذبات عالیہ سے یکسر خالی ہو جائیں۔ انگریز کے یہی وہ اقدامات تھے جن کا نتیجہ ١٨٥٧ء کے انقلاب کی صورت میں برآمد ہوا۔ اس انقلاب میں ہندو و مسلم سب نے یکساں حصہ لیا تھا۔

جب حکومت نے ایکٹ نمبر ١٣ مجریہ ١٨٨٩ء کے رو سے بڑے بڑے شہروں اور چھاؤنیوں میں گورے سپاہیوں کی خاطر طوائف خانے قائم کئے تو مرزا قادیانی نے اس بداخلاقی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے لکھا۔ ”آخر یہ قبول کیا گیا کہ گوروں کا بازاری عورتوں سے ناجائز تعلق ہو۔ کاش اگر اس کی جگہ متعہ ہوتا تو لاکھوں بندگان خدا زنا سے بچ جاتے۔‘‘

(آریہ دھرم ص ٢، حاشیہ متعلق ص ٣٣، خزائن ج ١٠ ص ٧١)

نیز مشورہ دیا۔ ”کمانڈر انچیف افواج ہند کو یہ بھی انتظام کرنا چاہئے کہ بجائے ہندوستانی عورتوں کے یورپین عورتیں ملازم رکھی جائیں۔‘‘ مخالفین کا سب سے بڑا اعتراض یہی تھا کہ ہندوستان کی غریب عورتوں کو دلالہ عورتوں کے ذریعہ سے اس فحش ملازمت کی ترغیب دی جاتی ہے۔

(آریہ دھرم ص ٤ خزائن ج ١٠ ص ٧٣)

مرزا قادیانی ان اقدامات کو کیسے پسند کر سکتا تھا۔ چنانچہ آپ نے انگریزی اخلاق کی تصویر ان الفاظ میں پیش فرمائی۔

”غیر قوموں کی تقلید نہ کرو۔ جو سفلی اسباب پر گر گئی ہیں اور جیسے سانپ مٹی کھاتا ہے۔ انہوں نے سفلی اسباب کی مٹی کھائی اور جیسے گدھ اور کتے مردار کھاتے ہیں۔ انہوں نے مردار پر دانت مارے وہ خدا سے بہت دور جا پڑے۔ انسانوں (حضرت مسیح وغیرہ) کی پرستش کی۔ خنزیر کھایا اور شراب کو پانی کی طرح استعمال کیا۔‘‘

(کشتی نوح ص ٢٠، خزائن ج ١٩ ص ٢٢)

یہی نہیں بلکہ انہیں دجال اور یاجوج ماجوج قرار دیتے ہوئے قوم کو ان کے فتنے سے خبردار کیا۔

صفحہ ٨٣

ان کا اور تو کالج میں دوسوانتالیس ہندو اور صرف ایک

دردناک اور طویل کہانی ہے۔ چونکہ انگریز نے لئے اس کی کوشش ہمیشہ یہ رہی کہ مسلمانوں کو بھوکا واپس لینے کا جذبہ تک باقی نہ رہے اور سب جذبات عالیہ سے یکسر خالی ہو جائیں۔ انگریز بے کی صورت میں برآمد ہوا۔ اس انقلاب

١٨٥٧ء کے رو سے بڑے بڑے شہروں اور لئے کم گئے تو مرزا قادیانی نے اس بداخلاقی تاکہ گوروں کا بازاری عورتوں سے ناجائز بنائے جاتے۔“

یہ حقانی ص ٢٤، خزائن ج ١٠ ص ٧١)

کا انتظام کرنا چاہئے کہ بجائے صاحب سے بڑا اعتراض یہی تھا کو ملازمت کی ترغیب دی جاتی

م ص ٧، خزائن ج ١٠ ص ٧٣)

تاکہ آپ نے انگریزی اخلاق کی

انڈے سانپ مٹی کھاتا ہے۔ رہتے ہیں۔ انہوں نے مردار پر مسیحوں کی پرستش کی۔ خنزیر

(نور الحق ص ٤٠، خزائن ج ١٩ ص ٢٢)

رہتے ہوئے قوم کو ان کے فتنے

”سو بہت ہی خوب ہوا کہ عیسائیوں کا خدا فوت ہو گیا اور یہ حملہ ایک برہمن کے حملے سے کم نہیں جو اس عاجز نے خدا کی طرف سے مسیح بن مریم کے رنگ میں ہو کر ان دجال سیرت لوگوں پر کیا ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٤٨٧ حصہ دوم، خزائن ج ٣ ص ٣٦١، ٣٦٢)

”مسیح بن مریم نے خدائی کا دعویٰ ہرگز نہیں کیا۔ یہ لوگ (عیسائی) خود اس کی طرف سے وکیل بن کر خدائی کا دعویٰ کر رہے ہیں اور اس دعویٰ کو سر سبز کرنے کے لئے کیا کچھ انہوں نے تحریفیں نہیں کیں اور کیا کچھ تلبیس کے کام استعمال میں نہیں لائے اور مکہ و مدینہ چھوڑ کر اور کون سی جگہ ہے۔ جہاں یہ لوگ نہیں پہنچے۔ (حدیث میں وارد ہے کہ دجال مکہ و مدینہ میں داخل نہیں ہوگا۔ برق) کیا کوئی دھوکہ دینے کا کام یا گمراہ کرنے کا منصوبہ یا بہکانے کا کوئی طریقہ ایسا بھی ہے جو ان سے ظہور میں نہیں آیا۔ (بالکل درست۔ برق) کیا یہ سچ نہیں کہ یہ لوگ اپنے دجالانہ منصوبوں کی وجہ سے ایک عالم پر دائرہ کی طرح محیط ہو گئے۔“

(ازالہ اوہام ص ٤٨٩ حصہ دوم، خزائن ج ٣ ص ٣٦٣)

”اور جس قدر اسلام کو ان لوگوں (عیسائیوں) کے ہاتھ سے ضرر پہنچا ہے اور جس قدر انہوں نے انصاف اور سچائی کا خون کیا ہے ان تمام خرابیوں کا اندازہ کون کر سکتا ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٤٩١ حصہ دوم، خزائن ج ٣ ص ٣٦٤)

”اللہ اکبر اگر اب بھی ہماری قوم کی نظر میں یہ لوگ اوّل درجہ کے دجال نہیں اور ان کے الزام کے لئے ایک سچے مسیح کی ضرورت نہیں تو اس قوم کا کیا حال ہوگا۔“

(ازالہ اوہام ص ٤٩٤ حصہ دوم، خزائن ج ٣ ص ٣٦٥)

”دجال میں دینی عقل نہیں ہوگی اور ..... دنیا کی عقل اس میں تیز ہوگی اور ایسی حکمتیں (ریل، موٹر، طیارہ، ریڈیو وغیرہ) ایجاد کرے گا اور ایسے عجیب کام دکھائے گا کہ گویا خدائی کا دعویٰ کر رہا ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٥٠١، خزائن ج ٣ ص ٣٦٩)

”دجال اس گروہ کو کہتے ہیں جو کذاب ہو اور زمین کو نجس کرے اور حق کے ساتھ باطل کو ملا دے۔ سو یہ صفت حضرت مسیح کے وقت میں یہودیوں میں کمال درجے پر تھی۔ پھر نصارٰی نے ان سے لے لی۔ سو مسیح ایسی دجالی صفت کے معدوم کرنے کے لئے آسمانی حربہ لے کر اترا ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٤٧٤ حصہ دوم، خزائن ج ٣ ص ٣٤٩)

”مدت ہوئی کہ گروہ دجال ظاہر ہو گیا ..... اور اس کا گدھا (ریل) جو درحقیقت اس کا بنایا ہوا ہے ..... مشرق و مغرب کا سیر کر رہا ہے ..... احادیث صحیحہ کا اشارہ اسی بات کی طرف ہے کہ

صفحہ ٨٤

وہ گدھا دجال کا اپنا ہی بنایا ہوا ہوگا۔ پھر اگر وہ ریل نہیں تو اور کیا ہے۔“

(ازالہ اوہام حصہ دوم ص ٦٨٥، خزائن ج ٣ ص ٤٦٩، ٤٧٠)

”دجال کے ساتھ بعض اسباب تنعم و آسائش جنت کی طرح ہوں گے اور بعض اسباب محنت و بلا آگ یعنی دوزخ کی طرح ہوں گے۔ (بخاری ومسلم) جس قدر عیسائی قوم نے تنعم کے اسباب نئے سے نئے ایجاد کئے ہیں اور جو دوسری راہوں سے محنت اور بلا فقر اور فاقہ بھی ان کے بعض انتظامات کی وجہ سے دیس کے لوگوں کو پکڑتا جاتا ہے۔ اگر یہ دونوں حالتیں بہشت اور دوزخ کے نمونے نہیں ہیں تو اور کیا ہیں؟“

(ازالہ اوہام ص ٢٨، حصہ دوم، خزائن ج ٣ ص ٤٩١)

”ان دس علامتوں میں سے ایک بھاری علامت دجال معہود کی یہ لکھی ہے کہ اس کا فتنہ تمام ان فتنوں سے بڑھ کر ہوگا کہ جو ربانی دین کے مٹانے کے لئے ابتداء سے لوگ کرتے آئے ہیں...... ہمارے نبیﷺ نے کھلے کھلے طور پر ریل گاڑی کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ چونکہ یہ عیسائی قوم کا ایجاد ہے جن کا امام اور مقتداء یہی دجالی گروہ (پادری) ہے۔“

(ازالہ اوہام حصہ دوم ص ٧٣٠، ٧٣١، خزائن ج ٣ ص ٤٩٣)

”اور اس زمانہ (ظہور مسیح موعود) میں صلیبی مذہب کا بہت غلبہ ہوگا اور صلیبی مذاہب کی حکومت اور سلطنت تقریباً تمام دنیا میں پھیل جائے گی۔“ (شہادۃ القرآن ص ٩، خزائن ج ٦ ص ٣٠٥)

”یہی قوم (عیسائی) وہ آخری قوم ہے جس کے ہاتھ سے طرح طرح کے فتنوں کا پھیلنا مقدر تھا۔ جس نے دنیا میں طرح طرح کے ساحرانہ کام دکھائے اور جیسا کہ لکھا ہے کہ دجال نبوت کا دعویٰ کرے گا۔ نیز خدائی کا دعویٰ بھی اس سے ظہور میں آئے گا۔ یہ دونوں باتیں اس قوم سے ظہور میں آ گئیں۔ نبوت کا دعویٰ اس طرح پر کہ اس قوم کے پادریوں نے بڑی گستاخی سے نبیوں کی کتابوں میں دخل بے جا کیا اور ایسی بے باکانہ مداخلت کی گویا وہ آپ ہی نبی ہیں...... اور خدائی کا اس طرح پر دعویٰ کیا کہ خدائی کاموں میں حد سے زیادہ دخل دیا اور چاہا کہ زمین و آسمان میں کوئی بھی ایسا بھید مخفی نہ رہے جو وہ اس کی تہ تک نہ پہنچ جائیں اور ارادہ کیا کہ خدا تعالیٰ کے سارے کاموں کو اپنی مٹھی میں لے لیں اور ایسے طور سے خدائی کی کل ان کے ہاتھ میں آجائے کہ اگر ممکن ہو تو سورج کا غروب اور طلوع...... اور بارش کا ہونا نہ ہونا بھی ان کے ہاتھ کی کارستانی پر موقوف ہو۔“ (شہادۃ القرآن ص ٢٥، خزائن ج ٦ ص ٣١٦)

”اس قوم کے علماء حکماء نے دین کے متعلق وہ فتنے ظاہر کئے جس کی نظیر حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر تا ایں دم پائی نہیں جاتی...... یہ آیت صاف بتا رہی ہے کہ وہ (دجال) قوم

صفحہ ٨٥

ارضی علوم میں کہاں تک ترقی کرے گی۔“

(شہادۃ القرآن ص ٢١، خزائن ج ٦ ص ٣١٧)

”گروہ دجال شرالناس ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٣٥، خزائن ج ١٧ ص ١٢١)

”فتنہ نصاریٰ ایک سیل عظیم ہوگا۔ اس سے بڑھ کر کوئی فتنہ نہیں۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ١٢٦، خزائن ج ١٧ ص ٢١٢)

”یہ حدیث (دجال والی) ایک ایسی قوم کی طرف اشارہ کرتی ہے جو اپنے افعال سے دکھلا دیں کہ انہوں نے نبوت کا دعویٰ بھی کیا ہے اور خدائی کا بھی نبوت کا دعویٰ اس طرح پر کہ یہ لوگ خدا تعالیٰ کی کتابوں میں اپنی تحریف کریں گے۔ اب خدائی دعویٰ کی بھی تشریح سنئے اور وہ یوں ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ وہ لوگ ایجاد اور صنعت اور خدائی کے کاموں کی کنہ معلوم کرنے میں اس قدر حریص ہوں گے کہ گویا خدائی کا دعویٰ کر رہے ہوں۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ١٢٧، خزائن ج ١٧ ص ٢٣٣)

”ہم یقین رکھتے ہیں کہ اس عیسائی قوم میں سخت بدذات اور شریر پیدا ہوتے ہیں اور بھیڑوں کے لباس میں اپنے تئیں ظاہر کرتے ہیں اور اصل میں شریر بھیڑیے ہوتے ہیں اور ایسی بدذاتی سے بھرے ہوئے جھوٹ بولتے ہیں اور افتراء کرتے ہیں جن کی کچھ اصلیت نہیں ہوتی۔“

(انجام آتھم ص ١٠٩، خزائن ج ١١ ص ١٠٩)

”دجال بہت گذرے ہیں اور شاید آگے بھی ہوں۔ مگر وہ دجال اکبر جن کا دجل خدا کے نزدیک ایسا مکروہ ہے کہ قریب ہے جو اس سے آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں۔ یہی گروہ مشت خاک (مسیح) کو خدا بنانے والا ہے۔“

(انجام آتھم ص ٤٦، خزائن ج ١١ ص ٤٦)

”اور اس آیت میں کہ ”هم من کل حدب ینسلون“ ان کے غلبہ کی طرف اشارہ ہے کہ تمام زمین پر ان کا غلبہ ہو جائے گا۔ بائبل سے یقینی طور پر یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ یاجوج ماجوج کا فتنہ بھی دراصل عیسائیت کا فتنہ ہے۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٤ ،٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ٤٩٨)

ان اقتباسات سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ دجال سے مراد عیسائی ہیں۔ گو بعض مقامات پر مرزا قادیانی نے صرف پادریوں کو محض اس بناء پر دجال قرار دیا ہے کہ وہ اسلام پر اعتراض کرتے ہیں۔ لیکن اگر ان کی تمام تحریروں کو سامنے رکھا جائے تو اس میں قطعاً کوئی شبہ نہیں رہتا کہ آپ تمام عیسائیوں کو دجال سمجھتے ہیں۔

آپ گذشتہ صفحات میں پڑھ چکے ہیں کہ انگریز ہندوستانیوں کو عیسائی بنانے میں کس قدر کوشاں تھے۔ پادریوں کو تنخواہ سرکاری خزانے سے ملتی تھی۔ ظہور پاکستان سے پہلے کے سرکاری

صفحہ ٨٦

گزٹ دیکھے۔ وہاں آپ کو مجسٹریٹوں کی طرح پادریوں کی تبدیلیاں اور تقرریاں بھی ملیں گی۔ شاہ انگلستان جب تاج پوشی کے وقت حلف اٹھاتا ہے تو وہ یوں شروع کرتا ہے۔ ”میں شاہ انگلستان شہنشاہ ہند، آسٹریلیا وغیرہ محافظ دین مسیحی قسم کھاتا ہوں۔“

انگریز گورنروں نے ہر زمانے میں نہ صرف تبلیغ عیسائیت کے لئے آسانیاں فراہم کیں۔ بلکہ دعوائے غیر جانبداری کے باوجود عیسائیت کی ہر طرح سے سرپرستی کی۔ مسیحیت قبول کرنے والوں کو مختلف اعزازات سے نوازا۔ انہیں نوکریاں، زمینیں اور کرسیاں عطاء کیں اور باقیوں کو استحقاق کے باوجود بار ہا نظر انداز کر دیا۔

اس حقیقت سے ہر شخص آگاہ ہے کہ جس تبلیغ کے پیچھے شاہی جلال نہ ہو وہ تبلیغ بہت کم کامیاب ہوتی ہے۔ آدھا کام مشنری کرتے ہیں اور آدھا حکومت۔ یہی وجہ ہے کہ مرزا قادیانی نے دجال کے دعوائے نبوت میں پادریوں کو اور دعوائے خدائی میں ان کے فرمانرواؤں کو شامل کر کے دجال کو مکمل کر دیا ہے۔ دجال مکمل ہو ہی نہیں سکتا۔ جب تک کارپردازان سلطنت کو دجال کا اہم جزو نہ سمجھا جائے اور خصوصاً ایسے کار پرداز جن کا مقصد توسیع سلطنت کے ساتھ ساتھ توسیع عیسائیت بھی تھا۔

اس سلسلے میں خود مرزا قادیانی ایک واقعہ لکھتے ہیں۔ ”ہمارے ملک کے نواب لیفٹیننٹ گورنر پنجاب سر چارلس ایچی سن صاحب بہادر بٹالہ ضلع گورداسپور میں تشریف لائے تو انہوں نے گرجا کی بنیاد رکھتے وقت ...... عیسائی مذہب سے اپنی ہمدردی ظاہر کر کے فرمایا۔ مجھ کو امید تھی کہ چند روز میں یہ ملک دینداری اور راست بازی میں بخوبی ترقی پائے گا۔ لیکن تجربہ اور مشاہدہ سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بہت ہی کم ترقی ہوئی۔ یعنی ابھی لوگ بکثرت عیسائی نہیں ہوئے اور پاک گروہ کرسچنوں کا ہنوز قلیل المقدار ہے۔...... ایک مہینہ سے کم گزرا ہو گا کہ ایک معزز رئیس میرے (گورنر) پاس آیا اور مجھ سے ایک گھنٹہ تک دینی گفتگو کی ...... میں نے اس کو اس لہو کی بابت سمجھایا جو سارے گناہوں سے پاک و صاف کرتا ہے اور اس راست بازی کی بابت سمجھایا ...... جو مفت ملتی ہے۔...... بمبئی کے سابق گورنر سر رچرڈ ٹمپل نے مسلمانوں کی نسبت ایک مضمون لکھا ہے جو ولایت کے ایک اخبار ایوننگ سٹینڈرڈ میں چھپ کر اردو اخباروں میں بھی شائع ہو گیا ہے۔ صاحب موصوف لکھتے ہیں۔ ”افسوس ہے کہ مسلمان لوگ عیسائی نہیں ہوتے اور وجہ یہ کہ ان کا مذہب ان ناممکن باتوں سے لبریز نہیں۔ جن میں ہندو مذہب ڈوبا ہوا ہے۔“

(اشتہار مندرجہ براہین احمدیہ ص ٢، روح خزائن ج ١ ص ٣٢١، ٣٢٢ بنام مسلمانوں کی نازک حالت)

صفحہ ٨٧

نتیجہ

تو یہ تھا اس دجال اکبر کا وہ فتنہ عظیمہ جس کے استیصال کے لئے ”مسیح موعود“ مبعوث ہوئے۔ ”مسیح دنیا میں آکر صلیبی مذہب کی شان وشوکت کو اپنے پیروں کے نیچے کچل ڈالے گا اور ان لوگوں کو جن میں خنزیروں کی بے شرمی اور خوکوں کی بے حیائی و نجاست بھری ہے۔ ان پر دلائل قاطعہ کا ہتھیار چلا کر ان سب کا کام تمام کرے گا۔“

(ازالہ اوہام ج دوم ص ٨٠ ، خزائن ج ٣ ص ١٤٢)

”مسیح کا خاص کام کسر صلیب اور قتل دجال اکبر ہے۔“

(انجام آتھم ص ٤٧، خزائن ج ١١ ص ٤٧)

اب دیکھنا یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے اس دجال اکبر کو جس کا فتنہ کائنات کا سب سے بڑا فتنہ تھا جس نے گذشتہ ڈیڑھ سو برس سے ہندوستان میں لوٹ مار، دھوکہ، فریب، بدعہدی، سازش، عیاشی اور فتنہ کا طوفان اٹھا رکھا تھا۔ جس نے مسلمانوں کی سلطنت چھین کر ان سے رزق کے تمام وسائل بھی چھین لئے تھے۔ جس نے درباروں اور دفتروں سے مسلمانوں کو بیک بینی و دو گوش باہر نکال دیا تھا۔ جس نے لاکھوں ہندوستانیوں کو عیسائیت کی گود میں دھکیل دیا تھا۔ جس نے ہمارے بیسیوں حرم خانوں میں داخل ہو کر بیگمات کے کپڑے تک نوچ لئے تھے اور جس میں خنزیروں کی بے شرمی اور خوکوں کی نجاست و بے حیائی پائی جاتی تھی۔ کس طرح قتل کیا۔ ١٨٥٧ء کے انقلاب (یا غدر دہلی) کے متعلق فرماتے ہیں ۔ ”ان لوگوں (مسلمانوں) نے چوروں، قزاقوں اور حرامیوں کی طرح اپنی محسن گورنمنٹ پر حملہ کرنا شروع کیا اور اس کا نام جہاد رکھا۔“

(ازالہ اوہام ص ٧٢٢ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٤٩٠)

سمجھ میں نہیں آیا کہ اگر کوئی گروہ دجال اکبر کے خلاف لوائے انقلاب بلند کرتا ہے تو مسیح موعود جن کا کام ہی قتل دجال ہے۔ اسے حرامی، چور اور قزاق کیوں کہتے ہیں اور یہ بھی سمجھ میں نہیں آیا کہ جب ١٨٩١ء میں ہمارا دجال روس سے ایک جنگ میں الجھنے لگا تو مسیح موعود نے مسلمانوں سے یہ کیوں اپیل کی کہ: ”ہر ایک سعادت مند مسلمان کو دعاء کرنی چاہئے کہ اس وقت انگریزوں کی فتح ہو۔ کیونکہ یہ لوگ ہمارے محسن ہیں ۔“

(ازالہ اوہام ص ٥٠٩، خزائن ج ٣ ص ٣٧٣)

دجال اور مسیح موعود کا محسن؟ کیا مطلب؟

”میرے رگ و ریشہ میں شکر گذاری اس معزز گورنمنٹ کی سمائی ہوئی ہے۔“

(شہادۃ القرآن ص ٨٢، خزائن ج ٦ ص ٣٧٨، گورنمنٹ کی توجہ کے لائق)

”انگریز ایک ایسی قوم ہے جن کو خدا تعالیٰ دن بدن اقبال اور دولت اور عقل اور دانش

صفحہ ٨٨

کی طرف کھینچنا چاہتا ہے اور جو سچائی، راست بازی اور انصاف میں ترقی کرتے جاتے ہیں سو ہم دعا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اس گورنمنٹ کو ہر ایک شر سے محفوظ رکھے اور اس کے دشمن کو ذلت کے ساتھ پسپا کرے۔ میں سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بدخواہی کرنا ایک حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے۔ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں۔ دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے۔ سو اگر ہم گورنمنٹ برطانیہ سے سرکشی کریں تو گویا اسلام، خدا اور رسول سے سرکشی کرتے ہیں۔ (یہ عجیب دجال ہے جس کی اطاعت خدا اور رسول کی اطاعت ہے۔ برق) جب ہم ایسے بادشاہ کی صدق دل سے اطاعت کرتے ہیں تو گویا اس وقت عبادت کر رہے ہیں۔“

(شہادۃ القرآن ص ٢ تا ٤، خزائن ج ٦ ص ٣٧٨ تا ٣٨١)

”گورنمنٹ انگلشیہ (یعنی دجال) خدا کی نعمتوں سے ایک نعمت ہے یہ ایک عظیم الشان رحمت ہے۔ یہ سلطنت مسلمانوں کے لئے آسمانی برکت کا حکم رکھتی ہے۔“

(شہادۃ القرآن ص ١١، خزائن ج ٦ ص ٣٨٨)

”ہمارا جان و مال گورنمنٹ انگریزی کی خیر خواہی میں فدا ہے اور ہوگا اور ہم غائبانہ اس کے اقبال کے لئے دعا گو ہیں۔“

(آریہ دھرم ص ٣، خزائن ج ١٠ ص ٨١، نوٹس بنام آریہ صاحبان و پادری)

آپ پڑھ چکے ہیں کہ دجال کے علماء و حکماء نے وہ فتنے ظاہر کئے جن کی نظیر حضرت آدم سے لے کر تا ایں دم نہیں پائی جاتی اور اب یہ بھی ملاحظہ ہو۔

”یہ گورنمنٹ کس قدر دانا اور دور اندیش اور اپنے تمام کاموں میں با احتیاط ہے اور کیسی کیسی عمدہ تدابیر رفاہ عام کے لئے اس کے ہاتھ سے نکلتی ہیں اور کیسے کیسے حکماء اور فلاسفر یورپ میں اس کے زیر سایہ رہتے ہیں۔“

(آریہ دھرم ص ٩ حاشیہ، خزائن ج ١٠ ص ٧١)

احادیث میں مذکور ہے کہ آنے والے مہدی کے پاس تلوار ہوگی۔ اس تلوار کی تشریح مرزا قادیانی یوں فرماتے ہیں۔ ”مطلب یہ ہے کہ اگر (لوگوں کو) گورنمنٹ برطانیہ کی تلوار سے خوف نہ ہوتا تو (وہ لوگ) اس (مسیح موعود) کو قتل کر ڈالتے۔“

(نشان آسمانی ص ١٨، ١٩، خزائن ج ٤ ص ٣٧٩)

یعنی بجائے اس کے کہ مسیح موعود دجال کو قتل فرماتے الٹا اس کی تلوار کو اپنا محافظ سمجھ رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ اگر دجال کی تلوار نہ ہوتی تو مولوی لوگ آپ کو قتل کر ڈالتے۔ اس کی مزید تشریح اس وحی میں ملاحظہ ہو۔ ”(اے مسیح موعود) آپ کے ساتھ انگریزوں کا نرمی کے ساتھ ہاتھ

صفحہ ٨٩

(یعنی دست شفقت) تھا۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٣٧، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٨)

اس حقیقت سے کون آگاہ نہیں کہ محکومی دنیا کی سب سے بڑی ذلت ہے اور یہ ذلت کسی قوم کی سالہا سال کی بدکاری کی سزا ہوتی ہے۔ قرآن میں بار بار درج ہے کہ اللہ کے بندے ہمیشہ زمین کے وارث اور فرمانروا رہے ہیں اور دوسری طرف بدکار و سیہ کار لوگ ذلیل و محکوم ۔

”ہمیشہ کی محکومی جیسی کوئی ذلت نہیں اور دائمی ذلت کے ساتھ دائمی عذاب لازم پڑا ہوا ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٦٦، خزائن ج ١٧ ص ١٩٨)

دنیا میں ہر رسول اپنے پیروؤں کو زمینی بادشاہت اور اخروی جنت کی بشارت سنانے آتا ہے۔ یہ آج تک نہیں ہوا کہ کسی رسول نے آزادی پہ غلامی کو ترجیح دی ہو۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کو نمرود کی غلامی کی کہیں تعلیم نہیں دی تھی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ساری زندگی فرعون کے خلاف جہاد میں بسر ہوئی تھی۔ ہمارے حضورﷺ بارہ چھوٹی بڑی جنگوں میں بنفس نفیس شامل ہوئے تھے اور آپ کے صحابہ کرامؓ نے قیصر و کسریٰ کے ایوانِ استبداد کو بنیادوں تک کھود ڈالا تھا۔ خود مرزا قادیانی کو بھی مسلمانوں کی محکومی کا بے حد رنج تھا۔ خطبہ الہامیہ میں انگریز کی دراز دستیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ ”الا ترون فتنة القوم الذين هم من كل حدب ينسلون وقد جعلتم تحت اقدامهم نكالاً من الله ثم انتم لا ترجعون“ کیا تم ان انگریزوں کا فتنہ نہیں دیکھتے جو ہر راستے سے بھاگے آ رہے ہیں۔ ان لوگوں نے تمہیں اپنے پاؤں کے نیچے داب لیا ہے۔ یہ غلامی کتنا بڑا عذاب ہے۔ تم کیوں اللہ کی طرف واپس نہیں آتے۔“

(خطبہ الہامیہ ص ٧٩، ٨٠، خزائن ج ١٦ ص ٢٣٣)

پھر پڑھئے: ”ان لوگوں نے تمہیں اپنے پاؤں کے نیچے داب لیا ہے۔ یہ غلامی کتنا بڑا عذاب ہے۔“ اور ساتھ ہی یہ بھی دیکھئے: ”ہم پر اور ہماری ذات پر فرض ہو گیا کہ اس مبارک گورنمنٹ برطانیہ کے ہمیشہ شکر گزار رہیں۔“ (ازالہ اوہام حصہ اوّل طبع دوم ص ١٤٢، خزائن ج ٣ ص ١٦٦)

اگر مسلمان ہمیشہ اس فرض کو پورا کرتے رہیں تو پھر وہ انگریز کے بوٹ کے نیچے سے کیسے نکلیں گے اور وہ غلامی کا عذاب کیسے ٹلے گا؟

تاریخ کا ادنیٰ سا طالب العلم اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ انگریز نے ہندوستان میں آ کر ہم سے سولہ لاکھ مربع میل پر پھیلی ہوئی سلطنت چھینی۔ اس کے بعد ہم سے زمینیں لیں پھر تمام سرکاری ملازمتوں اور درسگاہوں کے دروازے ہم پر بند کئے۔ ہمارے ہزار ہا قضاۃ کو معزول کر کے شرعی فیصلوں سے ہمیں محروم کیا۔ خود مرزا قادیانی کی تصریح کے مطابق یہاں زنا خانے

صفحہ ٩٠

کھولے۔ جگہ جگہ شراب خانے جاری کئے۔ ہر طرف خنزیروں کی بے حیائی اور سوروں کی بے شرمی ونجاست خوری کا منظر تھا اور تعجب یہ کہ اللہ کا ایک رسول اس صورتحال پہ نہ صرف اظہار اطمینان کرتا ہے بلکہ اسے اسلام کے احیائے ثانی کے لئے ضروری قرار دیتا ہے۔ ”اسلام کی دوبارہ زندگی انگریزی سلطنت کے امن بخش سائے سے پیدا ہوئی ہے۔“

(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٦)

وہ کس قسم کا اسلام تھا جو ان بے حیا خنزیروں اور نجاست خور خوکوں کے ظل عاطفت میں پروان چڑھتا رہا؟

انبیاء کی طویل تاریخ میں مرزا قادیانی پہلے رسول ہیں۔ جنہوں نے قوم کو غلامی کا درس دیا اور غلامی بھی دجال اکبر کی انبیاء تو رہے ایک طرف مجھے کسی قسم کا کوئی ایک ادیب، فلسفی، سیاسی رہنما یا عالم دکھائیے۔ جس نے غلامی پہ ناز کیا ہو۔ میرا یہ دعویٰ ہے کہ آدم علیہ السلام سے لے کر اب تک کسی قوم میں ایک بھی ایسا عالم یا ادیب پیدا نہیں ہوا اور نہ اب کرۂ ارض پہ کہیں موجود ہے جو آزادی پے غلامی کو ترجیح دیتا ہو جو لٹیروں کی سلطنت کو رحمت ایزدی سمجھتا ہو اور جو آزادی کے نام تک سے لرزاں ہو۔ کسی انگریز کی ایک تقریر کہیں پڑھی تھی۔ اپنی غیور اور وطن دوست قوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے:

"We fight not for glory, nor for wealth, nor for Honour, but only and alone for freedom which no good man Surrenders but with his life."

(ہم حصول شان کسب دولت اور فراہمی اعزازات کے لئے نہیں لڑتے۔ بلکہ صرف قوم و وطن کی آزادی کے لئے لڑتے ہیں اور آزادی وہ نعمت عظمیٰ ہے جس سے کوئی شریف انسان اپنی زندگی میں جدا نہیں ہوسکتا)

اور دوسری طرف جب میں مرزا قادیانی کی کتابوں میں انگریز کی تعریف اور قوم کو سدا غلام رہنے کی تلقین دیکھتا ہوں تو حیرت میں کھو جاتا ہوں کہ وہ ”انتم الاعلون“ والا رب یہ کیا کر رہا ہے۔ قرآن میں ہمیں سلطنت و وراثت کا درس دیتا رہا اور پھر ایک رسول بھیج کر غلامی و ذلت کا وعظ شروع کر دیا۔ آخر یہ معاملہ کیا ہے۔ خدا بدل گیا ہے اس کی سنت بدل گئی ہے یا غلامی کا مفہوم بدل گیا ہے؟

احمدی بھائیو! کیا آپ میں سے کوئی شخص سدا غلام رہنا پسند کرے گا۔ کوئی ایسا ہے جسے

صفحہ ٩١

اپنے وطن سے محبت نہ ہو، کوئی ہے جو اپنے وسائل معاش اپنی ملازمتوں اپنی زمینوں یہاں تک کہ اپنے ضمیروں پر بھی دوسروں کا قبضہ دیکھنا چاہتا ہو؟ اگر کوئی ہے تو اسے یہ معلوم ہونا چاہئے کہ وہ ساری کائنات میں تنہا ہے اور اس کا کہیں کوئی ہم نوا موجود نہیں۔

مرزا قادیانی کی تقریباً ایک چوتھائی تحریرات اطاعت فرنگ کے درس پہ مشتمل ہیں۔ چند اور اقوال ملاحظہ ہوں۔ ”میری نصیحت اپنی جماعت کو یہی ہے کہ وہ انگریزوں کی بادشاہت کو اپنے اولی الامر میں داخل کریں اور دل کی سچائی سے ان کے مطیع رہیں ۔“

(ضرورۃ الامام ص ٢٣، خزائن ج ١٣ص٤٩٣)

”میں اپنے کام کو نہ مکہ میں اچھی طرح چلا سکتا ہوں نہ مدینہ میں نہ روم میں۔ نہ شام میں نہ ایران نہ کابل میں۔ مگر اس گورنمنٹ میں جس کے اقبال کے لئے دعاء کرتا ہوں۔“

(اشتہار مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٦ ص ٦٩، مجموعہ اشتہارات ج ٢ص ٣٧٠)

مرزا قادیانی نے ملکہ انگلستان کے جشن جوبلی (جون ١٨٩٧ء) کے موقع پر قادیان میں ایک عظیم الشان جلسہ کیا۔ جماعت کو وفاداری کی تلقین فرمائی اور ساتھ ہی ”تحفہ قیصریہ“ کے نام سے ایک کتاب ڈپٹی کمشنر کے توسط سے ملکہ کو بھیجی۔ ڈپٹی کمشنر یا ملکہ نے کتاب کی رسید تک نہ بھیجی۔ تو مرزا قادیانی نے لکھا۔ ”تحفہ قیصریہ حضرت قیصرۂ ہند دام اقبالہا کی خدمت میں بطور درویشانہ تحفہ کے ارسال کیا تھا اور مجھے یقین تھا کہ اس کے جواب سے مجھے عزت دی جائے گی اور امید سے بڑھ کر میری سرفرازی کا موجب ہوگا۔ مگر مجھے نہایت تعجب ہے کہ ایک کلمہ شاہانہ سے بھی ممنون نہیں کیا گیا۔ لہٰذا اس حسن ظن نے جو میں حضور ملکہ معظمہ دام اقبالہا کی خدمت میں رکھتا ہوں۔ دوبارہ مجھے مجبور کیا کہ اس تحفہ قیصریہ کی طرف جناب ممدوحہ کی توجہ دلاؤں اور شاہانہ منظوری کے چند الفاظ سے خوشی حاصل کروں ۔“

(ستارہ قیصریہ ص ٢، خزائن ج ١٥ص ١١٦)

تعجب ہے کہ جس فقر نے اسکندر اعظم سے کہا تھا کہ آگے سے ہٹو اور دھوپ آنے دو۔ جس نے ہارون الرشید کو جواب دیا تھا کہ اگر قرآن سیکھنا چاہتے ہو تو۔

خیز و اندر حلقۂ درس نشیں

جس فقر نے شاہوں کی طرف نگاہ تک اٹھانا توہین نگاہ سمجھا تھا۔ آج اس فقر کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ آستان شاہی پہ ”پیسے ٹکے“ کی بھیک مانگ رہا ہے۔ جب مذکورہ بالا یاددہانی کے باوجود سفید فام آقاؤں کی طرف سے کوئی جواب نہ ملا تو جبریل آیا اور کہا: ”قیصرۂ ہند کی طرف سے شکریہ گورنر جنرل کی پیش گوئیوں کے پورا ہونے کا وقت آ گیا۔“

(البشریٰ ج ٢ ص ٥٧)

صفحہ ٩٢

اس قسم کی تحریرات پر جناب ”خلیفہ المسیح الثانی“ نے مندرجہ ذیل تبصرہ فرمایا ہے۔ ”مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے فخریہ لکھا ہے کہ میری کوئی کتاب ایسی نہیں جس میں میں نے گورنمنٹ کی تائید نہ کی ہو۔ مگر مجھے افسوس ہے کہ میں نے غیروں کو نہیں بلکہ احمدیوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ ہمیں مسیح موعود علیہ السلام کی ایسی تحریریں پڑھ کر شرم آتی ہے۔“

(الفضل مورخہ ٧ جولائی ١٩٣٢ء)

”اگر ہم دوسرے ممالک میں تبلیغ کے لئے جائیں تو وہاں بھی برٹش گورنمنٹ ہماری مدد کرتی ہے۔“

(برکات خلافت از میاں محمود احمد قادیانی ص ٢٥)

مرزا قادیانی نے اپنی جماعت کی مدد سے ایسے علماء وعوام کی فہرست تیار کی جو ذہناً حکومت برطانیہ کو پسند نہیں کرتے تھے۔ پھر یہ فہرست حکومت کو بھیج کر لکھا۔ ”قرین مصلحت ہے کہ سرکار انگریزی کی خیر خواہی کے لئے ایسے نافہم مسلمانوں کے نام بھی نقشہ جات میں درج کئے جائیں جو در پردہ اپنے دلوں میں برٹش انڈیا کو دارالحرب قرار دیتے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہماری گورنمنٹ حکیم مزاج بھی ان نقشوں کو ملکی راز کی طرح اپنے کسی دفتر میں محفوظ رکھے گی۔ ایسے لوگوں کے نام مع پتہ ونشان یہ ہیں۔“

(تبلیغ رسالت ج ٦ ص ١١، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٢٧، ٢٢٨)

ذرا یہ واقعہ بھی ملاحظہ ہو۔ ”ایک شخص جو کچھ مدت سے ایک احمدی کے پاس رہتا تھا۔ ملازمت کے لئے ایک برطانوی افسر کے پاس گیا۔ افسر مذکور نے پوچھا کہ کہاں رہتے ہو۔ اس نے جواب دیا کہ فلاں احمدی کے پاس اس پر ذیل کا مکالمہ ہوا۔

صاحب: کیا تم بھی احمدی ہو؟

امیدوار: نہیں صاحب۔

صاحب: افسوس! تم اتنی دیر احمدی کے پاس رہا۔ مگر سچائی کو اختیار نہیں کیا۔ پہلے احمدی بنو پھر فلاں تاریخ کو آؤ۔“

(الفضل مورخہ ٧ جون ١٩١٩ء)

انگریز کا یہ رویہ مرزا قادیانی کی التجائے ذیل کا نتیجہ تھا۔ ”میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ میں تمام مسلمانوں میں سے اوّل درجہ کا خیر خواہ گورنمنٹ انگریزی کا ہوں۔ کیونکہ مجھے تین باتوں نے خیر خواہی میں اوّل درجہ کا بنا دیا ہے۔ اوّل: والد مرحوم کے اثر نے۔ دوم: گورنمنٹ عالیہ کے احسانوں نے۔ تیسرے خدا تعالیٰ کے الہام نے۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ یہ گورنمنٹِ محسنہ میرے مخالفوں کو نرمی سے ہدایت کرے کہ اس نظارۂ قدرت (یعنی نشانات نبوت وغیرہ) کے بعد شرم وحیا سے کام لیں اور تمام مردی بہادری سچائی کے قبول کرنے میں ہے۔“

(ضمیمہ نمبر ٣ تریاق القلوب ص ١٥٢، خزائن ج ١٥ ص ٤٩١، ٤٩٥)

صفحہ ٩٣

جب حکومت کابل نے دو احمدیوں ملا عبدالحلیم چہار آسیائی اور ملا انور علی کو موت کی سزا دی تو وہاں کی وزارت خارجہ نے اعلان ذیل جاری کیا۔ ”مملکت افغانیہ کے مصالح کے خلاف غیر ملکی لوگوں کے سازشی خطوط ان کے قبضے سے پائے گئے۔ جن سے پایا جاتا ہے کہ یہ افغانستان کے دشمنوں کے ہاتھ بک چکے تھے۔“

(اخبار امان و افغان کابل ماخوذ از الفضل مورخہ ٣ مارچ ١٩٢٥ء)

١٩١٨ء کی جنگ عظیم میں ترکوں کو متواتر شکستیں ہوئیں۔ اس پر جو کچھ الفضل نے لکھا اور میاں محمود احمد قادیانی نے کہا اس کی ایک جھلک ملاحظہ ہو۔ ”حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ گورنمنٹ برطانیہ میری تلوار ہے۔ پھر ہم احمدیوں کو اس فتح (فتح بغداد) پر کیوں خوشی نہ ہو۔ عراق عرب ہو یا شام، ہم ہر جگہ اپنی تلوار کی چمک دیکھنا چاہتے ہیں۔ دراصل اس کے محرک خدا تعالیٰ کے دو فرشتے تھے۔ جن کو گورنمنٹ کی مدد کے لئے خدا نے اتارا تھا۔“

(الفضل مورخہ ٧ ستمبر ١٩١٨ء)

دیکھا آپ نے کہ اللہ تعالیٰ ”دجال اکبر“ کی امداد کے لئے فرشتے بھی اتارتا رہا؟ ”تازہ خبروں سے معلوم ہوتا ہے کہ روسی برابر ترکی علاقے میں گھستے چلے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ظالم نہیں اس کا فیصلہ درست اور راست ہے اور ہم اس کے فیصلہ پر رضامند ہیں۔“

(الفضل ٧ نومبر ١٩١٤ء)

”٢٧ نومبر ١٩١٨ء کو ترکوں کی مکمل شکست پر قادیان میں زبردست چراغاں کیا گیا۔ جشن ہوئے اور یہ پر لطف اور مسرت انگیز نظارہ بہت مؤثر اور خوشنما تھا اور اس سے احمدیہ پبلک کی اس عقیدت پر خوب روشنی پڑتی ہے۔ جو اسے گورنمنٹ برطانیہ سے ہے۔“

(الفضل مورخہ ٣ دسمبر ١٩١٨ء)

لیکن جب مصطفیٰ کمال کی شمشیر خارا شگاف نے انگریزوں کو بیک بینی و دوگوش ترکی سے نکال باہر کیا اور تمام دنیائے اسلام نے زبردست جشن منائے اور اس موقعہ پر کسی احمدی بھائی نے خلیفہ المسیح سے دریافت کیا کہ: ”ترکوں کی فتح کی خوشی میں روشنی وغیرہ کے لئے چندہ دینے کا کیا حکم ہے۔ تو آپ نے فرمایا۔ روشنی وغیرہ کی کوئی ضرورت نہیں۔“

(الفضل مورخہ ٧ دسمبر ١٩٢٢ء)

جب خلیفہ المسیح نے مولوی محمد امین کو روس میں مبلغ بنا کر بھیجا تو وہ وہاں گرفتار ہو گیا۔ کیوں؟ خود مبلغ کی زبانی سنئے: ”چونکہ سلسلہ احمدیہ اور برٹش گورنمنٹ کے باہمی مفاد ایک دوسرے سے وابستہ ہیں اس لئے جہاں میں اپنے سلسلے کی تبلیغ کرتا تھا۔ وہاں لازماً مجھے انگریزی گورنمنٹ کی خدمت گزاری کرنی پڑتی تھی۔“

(الفضل مورخہ ٢٨ ستمبر ١٩٢٣ء)

صفحہ ٩٤

یہ اقتباسات تو آپ نے پڑھ لئے۔ لیکن وہ بنیادی سوال ہنوز حل طلب ہے کہ مسیح موعود نے دجال کو کس طرح قتل کیا؟

دیا؟ جواب زبردست نفی میں ہے۔ اس لئے کہ عیسائیت سیلاب کے دھارے کی طرح اس سرزمین میں پھیلتی اور بڑھتی رہی۔

آریہ سماج کی تعداد

مرزا قادیانی کا قلم عموماً عیسائیوں آریوں اور اہل حدیث (مولوی ثناء اللہ امرتسری اور غزنوی خاندان) کے خلاف چلتا رہا۔ آئیے مردم شماری کے رجسٹرات میں دیکھیں کہ مرزا قادیانی ان دجالوں کے قتل کرنے میں کہاں تک کامیاب ہوئے۔

سوامی دیانند نے آریہ سماج کی بنیاد ١٨٧٥ء میں ڈالی تھی۔ سوامی صاحب صرف آٹھ برس تبلیغ کرنے پائے تھے کہ ١٨٨٣ء میں فوت ہو گئے۔ پہلی مردم شماری ١٨٨١ء میں ہوئی تھی۔ ١٨٨١ء میں کسی ہندو نے اپنے آپ کو آریہ درج نہ کرایا۔ بعد کے اعداد اس جدول میں دیکھئے۔

آریوں کی تعداد پنجاب میں

سال تعداد ١٨٩١ء ١٤٠٣٠ ١٩٠١ء ١٣٠٠٠ اس دہاکے میں ٨٧ ہزار ١٩١١ء ١٠٠٨٤٦ کا اضافہ ہوا۔

پنجاب میں اہل حدیث کی تعداد

سال تعداد ١٨٨١ء ٢٢٥٣ ١٨٩١ء ٣٦٠٤ ١٩٠١ء نامعلوم بیس برس میں ٨٦ ہزار کا ١٩١١ء ٨٩٠٨٣ اضافہ ہوا۔

صفحہ ٩٥

پنجاب میں عیسائیوں کی تعداد

تعداد سال ٢٨٠٥٣ ١٨٨١ء تیس برس میں تقریباً پونے دو ٤٨٤٧٢ ١٨٩١ء لاکھ کا اضافہ صرف پنجاب میں ٦٦٥٩١ ١٩٠١ء ہوا۔ ١٩٩٧٥١ ١٩١١ء

مت بھولئے کہ مرزا قادیانی کی نبوت کا زمانہ بھی یہی تھا۔ ١٩١١ء میں ہندوستانی عیسائیوں کی تعداد ایک لاکھ چونسٹھ ہزار تھی۔ باقی انگریز تھے۔ پورے ملک (ہند) میں اشاعت عیسائیت کی رفتار یہ تھی۔

ہندوستان میں عیسائیوں کی تعداد

تعداد سال ١٨٦٢٦٣٤ ١٨٨١ء تیس سال میں بیس لاکھ چودہ ٢٢٨٤٣٨٠ ١٨٩١ء ہزار کا اضافہ۔ ٢٩٢٣٢٤١ ١٩٠١ء ٣٨٧٦٢٠٣ ١٩١١ء

یہ اعداد و شمار مردم شماری کے رجسٹرات برائے ١٩٠١ء، ١٩١١ء سے حاصل کئے گئے ہیں۔ ان اعداد سے یہ حقیقت عیاں ہے کہ مرزا قادیانی کے زمانہ رسالت میں دجال نہ صرف دنیوی شان وشوکت میں بہت بڑھ گیا تھا۔ بلکہ اس کے پیروں کی تعداد بھی اٹھارہ لاکھ سے اٹھتیس لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔ مطلب یہ کہ اس عرصے میں ٢٠ لاکھ ہندوستانی دجال کے مذہب میں شامل ہو گئے۔ لیکن مسیح موعود کے دلائل قاطعہ و براہین ساطعہ کے زور سے ایک بھی عیسائی مسلمان نہ ہوا۔ قدرتاً سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسیح موعود نے دجال اکبر کو کہاں چوٹیں لگائیں اور آیا دجال ان ضربہائے عیسوی سے فوت ہو گیا تھا۔ یا بچ نکلا تھا۔ اگر بچ نکلا تھا؟ تو وہ قتل دجال کا سلسلہ کہاں گیا؟ اور اگر فوت ہو گیا تھا تو پھر آج یہ ساری کائنات پر کن کی سلطنت ہے؟ کیا یہ روس یہ انگریز، یہ امریکی، یہ فرانسیسی وغیرہ سب مر چکے ہیں؟ اور یہ ستر کروڑ عیسائی ان فوت شدہ بزرگوں کے صرف بروز ہیں؟

صفحہ ٩٦

دجال سے مباحثہ کی وجہ

ہماری حیرت میں اور اضافہ ہو جاتا ہے۔ جب ہم مرزا قادیانی کی تحریر ذیل پڑھتے ہیں۔ ”حضور گورنمنٹ عالیہ میں ایک عاجزانہ درخواست، میں نیک نیتی سے پادریوں کے مقابل پر بھی مباحثات کی کتابیں شائع کرتا رہتا ہوں۔ جب پرچہ نور افشاں (لدھیانہ کا عیسائی اخبار) میں نہایت گندی تحریریں شائع ہوئیں اور ان مؤلفین نے ہمارے نبی ﷺ کی نسبت ایسے الفاظ استعمال کئے کہ یہ شخص ڈاکو تھا چور تھا۔ زنا کار تھا۔ تو مجھے اندیشہ پیدا ہوا کہ مبادا مسلمانوں کے دلوں پر کوئی سخت اشتعال دینے والا اثر پیدا ہو۔ تب میں نے یہی مناسب سمجھا کہ اس عام جوش کے دباؤ کے لئے حکمت عملی یہی ہے کہ ان تحریرات کا کسی قدر سختی سے جواب دیا جائے۔ تا کہ سریع الغضب مسلمانوں کے جوش فرو ہو جائیں اور ملک میں کوئی بدامنی پیدا نہ ہو....... سو میری یہ پیش بینی کی تدبیر صحیح نکلی اور ان کتابوں کا یہ اثر ہوا کہ ہزارہا مسلمان جو پادری عمادالدین کی تیز اور گندی تحریروں سے اشتعال میں آچکے تھے۔ یک دفعہ ان کے اشتعال فرو ہو گئے...... سو مجھ سے پادریوں کے مقابل جو کچھ وقوع میں آیا یہی ہے کہ حکمت عملی سے بعض وحشی مسلمانوں کو خوش کیا گیا اور میں دعوٰی سے کہتا ہوں کہ میں تمام مسلمانوں میں اوّل درجہ کا خیر خواہ گورنمنٹ انگریزی کا ہوں۔“

(ضمیمہ تریاق القلوب ص ١٥٧، خزائن ج ١٥ ص ٤٩٠، ٤٩١)

دیکھا آپ نے کہ پادریوں سے مباحثہ کرنے میں حکمت عملی کیا تھی۔ یہی کہ وحشی مسلمانوں میں اشتعال پیدا نہ ہو اور حکومت کسی پریشانی کا شکار نہ ہو۔ اب بتائیے کہ مسیح موعود نے دجال کو کہاں اور کس طرح قتل کیا؟

احمدی بھائیو! میرا مقصد متعصبانہ تردید نہیں۔ بلکہ تحقیق حق اور اس مسئلہ کو صرف اس روشنی میں دیکھنا ہے جو خود مرزا قادیانی نے فراہم فرمائی ہے۔ میں کوئی بات اپنی طرف سے گھڑ نہیں رہا۔ کوئی جعلسازی نہیں کر رہا۔ بلکہ ہر بات کو من و عن پیش کر رہا ہوں۔ بایں امید کہ اگر میں غلطی پر ہوں تو اصلاح فرمائیے اور اگر آپ کے تصورات میں کوئی خامی ہو تو دور کر کے گلے مل جائیے۔ میرا مقصد خلیج اختلاف کو پاٹنا اور آپ سے ملنا ہے۔ میں غلط ہوں تو مجھے بلا لیجئے۔ ورنہ تشریف لے آئیے۔

اے خوش آں روز کہ آئی و بہ صد ناز آئی
صفحہ ٩٧

ساتواں باب ...... مسئلہ جہاد

آپ اس حقیقت سے آشنا ہیں کہ تقریباً نصف قرآن تعلیم جہاد پر مشتمل ہے۔ جہاد کے بغیر کوئی قوم ایک گھنٹے کے لئے بھی زندہ نہیں رہ سکتی۔ یہ دنیا اشرار و فجار سے لبریز ہے۔ یہاں بیسیوں اقوام ایسی موجود ہیں جو دوسروں کی کمزوری سے فائدہ اٹھانے میں کبھی پس و پیش نہیں کرتیں۔ گذشتہ ساٹھ برس سے فرانس برابر مراکش کے سینے پر سوار ہے۔ بعض اقوام مغرب مدت سے چین اور جزائر شرق الہند کی دولت کو سمیٹ رہی ہیں۔ انگریز مدت سے عراق، ایران اور مصر کے وسائل دولت پر قابض ہے اور یہ محض اس لئے کہ یہ کمزور اقوام دانت کے بدلے دانت توڑنے کی طاقت نہیں رکھتیں۔

مہاتما گاندھی کا فلسفۂ عدم تشدد اور مرزا قادیانی کا اصول عدم جہاد۔ اسی صورت میں کامیاب ہو سکتا ہے کہ اقوام عالم کا ہر فرد بے حد بھلے مانس مرنجان مرنج، صابر وقانع اور انصاف پسند بن جائے۔ چونکہ دنیا کے اڑھائی ارب انسان کو اس قسم کے سانچے میں ڈھالنا ناممکن ہے اور چونکہ قدم قدم پر ہمارا واسطہ بدکاروں، جفا کاروں اور ظالموں سے پڑتا ہے۔ اس لئے بچاؤ کے لئے کم از کم اتنا سامان اپنے پاس رکھنا ضروری ہے کہ جس سے دشمن مسلح ہو۔ اگر دشمن کے پاس برین گن ہو تو آپ صرف لاٹھی سے اپنی حفاظت نہیں کر سکتے۔ اسی حفاظت کا دوسرا نام جہاد ہے۔

اسلام نے مندرجہ ذیل صورتوں میں جہاد کی اجازت دی ہے۔

ظلموا (الحج: ٣٩) " ﴿مظلوموں کو جہاد کی اجازت دی جاتی ہے۔﴾

تعتدوا (البقره: ١٩٠) " ﴿حملہ آوروں سے لڑو۔ لیکن حد سے مت بڑھو۔﴾

فی سبیل الله والمستضعفین من الرجال والنساء والولدان الذین یقولون ربنا اخرجنا من هذه القریة الظالم اهلها (النساء: ٧٥) " ﴿تم کیوں ان کمزور مردوں، عورتوں اور بچوں کے لئے جنگ نہیں کرتے۔ جو تنگ آ کر دہائی دیتے ہیں کہ اے رب ہمیں اس بستی سے نجات دے۔ جہاں کے باشندے بڑے ظالم واقع ہوئے ہیں۔﴾

صفحہ ٩٨

چہارم ...... قیام امن کے لئے ہر سلطنت میں آئے دن چند شورش پسند اٹھ کر امن وامان کو تہ و بالا کر دیتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے لڑنا بھی فرض ہے۔ ”وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة (البقرہ: ١٩٣) ”تم اس وقت لڑو کہ ملک سے بدامنی دور ہو جائے۔“

ان چار صورتوں کے علاوہ اسلام نے کسی اور تنازعہ میں جہاد کی اجازت نہیں دی۔ مرزا قادیانی کا یہ ارشاد تو درست ہے کہ تبلیغ مذہب کے لئے تلوار کا استعمال ناجائز ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ جہاد کو مطلقاً حرام کر دیا جائے۔ مرزا قادیانی بار بار فرما چکے ہیں کہ قیامت تک قرآن کا ایک شوشہ بھی منسوخ نہیں ہوگا۔ ”ہم پختہ یقین کے ساتھ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن شریف خاتم کتب سماویہ ہے اور ایک شوشہ یا نقطہ اس کی شرائع ...... سے زیادہ نہیں ہو سکتا اور نہ کم ہو سکتا ہے۔“

(ازالہ حصہ اول ص ١٣٧، خزائن ج ٣ ص ١٧٠)

تو پھر جہاد کو حرام کرنے کا جواز کہاں سے نکلتا ہے اور وہ بھی انگریز کے خلاف جس نے تمام ممالک اسلامی کو یکے بعد دیگرے تباہ کیا۔ پچاس کھرب روپیہ سے زیادہ کی دولت زبردستی چھین لی۔ پچاس سے زیادہ تخت لے چکا۔ لاکھوں عصمتوں کا دامن چاک کیا۔ کروڑوں انسانوں کو شراب وعیاشی کا خوگر بنایا۔ فرمائیے کیا ایسی قوم کے خلاف تلوار اٹھانا ناجائز نہیں۔ کیا انہیں اجازت ہے کہ یہ ایران کو لوٹیں۔ عراق کی دولت گھسیٹ کر گھر لے جائیں۔ سات لاکھ عربوں کو فلسطین سے باہر دھکیل دیں۔ مصر کے لئے مستقل خطرہ بنے رہیں اور ان کے ریڈکلف اور مونٹ بیٹن پاکستان کو ہمیشہ مصائب میں مبتلا رکھیں؟ اور مظلوم کو یہ بھی اجازت نہیں کہ وہ اپنا بچاؤ تک کر سکے؟

جہاد حرام؟

یہ درست کہ انگریز کے زمانے میں ان کے خلاف اعلان جہاد خلاف مصلحت تھا۔ اس لئے کہ ہمارے پاس ٹوٹی ہوئی لاٹھی بھی نہیں تھی۔ لیکن اس کا یہ مطلب تھوڑا ہی ہے کہ جو بات عارضی طور پر خلاف مصلحت ہو وہ حرام ہو جاتی ہے۔ حضور ﷺ کے لئے مکی زندگی میں جہاد خلاف مصلحت تھا، حرام نہیں تھا۔ لیکن مرزا قادیانی کی بعض تحریروں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ جہاد کو مطلقاً حرام سمجھتے تھے۔ مثلاً: ”میں نے مخالفت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابیں تمام ممالک عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچادی ہیں۔ میری ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیر خواہ ہو جائیں ...... اور جہاد

صفحہ ٩٩

کے جوش دینے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔“

(تریاق القلوب ص ٢٧، ٢٨، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥، ١٥٦)

اقتباس بالا میں ممانعت جہاد اور اطاعت انگریزی کو یوں جوڑ دیا گیا ہے۔ گویا جہاد صرف انگریز کی خاطر حرام کیا گیا تھا۔ یہاں یہ بات بھی فہم سے بالاتر ہے کہ انگریزی حکومت نے امن تو ہندوستان میں قائم کیا تھا۔ اس کے خلاف جہاد یہاں حرام تھا۔ بھلا عراق و ایران کے مسلمانوں کو ممانعت جہاد اور اطاعت انگریز کا درس دینے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی تھی؟ عراق و شام پر ترکوں کی حکومت تھی۔ پھر انہیں ترک جہاد کا مشورہ کیوں دیا گیا۔ اگر آپ یہ جواب دیں کہ مسیح موعود ساری دنیا کے لئے تھے۔ اس لئے وہ ترکوں کو ترک جہاد کا مشورہ دینے میں حق بجانب تھے۔ تو پھر یہ سوال ہوگا کہ ساری دنیا میں انگریز بھی شامل تھے۔ آپ نے انگریز کو کیوں یہ مشورہ نہ دیا۔ مرزا قادیانی کی آنکھوں کے سامنے انگریز نے شہنشاہ دہلی کے دو شہزادوں کو بازار میں گولی سے ہلاک کیا۔ شہنشاہ کو برما میں محبوس کیا۔ کابل کی آزادی چھینی، مصر کو تاخت و تاراج کیا۔ سوڈان میں قیامت بپا کی اور مرزا قادیانی نے اپنی بہتر (٧٢) ضخیم کتابوں میں اس کے متعلق ایک احتجاجی سطر تک نہ لکھی اور نہ اسے ترک جہاد کا وعظ سنایا۔ یہ ایک نہایت اہم سوال ہے کہ مسیح موعود نے ترک جہاد کی تلقین صرف مسلمانوں کو کیوں کی اور جب روس و انگریز کی جنگ ہونے لگی تو ان دونوں کو جہاد سے نہ روکا، ہے کوئی جواب؟

سوال....... کیا واقعی انگریز کی خاطر جہاد حرام کیا گیا تھا؟

جواب ...... ”گورنمنٹ انگلیشیہ خدائی نعمتوں سے ایک نعمت ہے۔ یہ ایک عظیم الشان رحمت ہے۔ یہ سلطنت مسلمانوں کے لئے آسمانی برکت کا حکم رکھتی ہے۔ خداوند رحیم نے اس سلطنت کو مسلمانوں کے لئے باران رحمت بھیجا۔ ایسی سلطنت سے لڑائی اور جہاد کرنا قطعی حرام ہے۔“

(شہادۃ القرآن ص ٩٢، ٩٣، خزائن ج ٦ ص ٣٨٨، ٣٨٩)

”جہاد یعنی دینی لڑائیوں کی شدت کو خدا تعالیٰ آہستہ آہستہ کم کرتا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں اس قدر شدت تھی کہ ایمان لانا بھی قتل سے بچا نہیں سکتا تھا اور شیر خوار بچے بھی قتل کئے جاتے تھے۔ پھر ہمارے نبی ﷺ کے وقت میں بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کو قتل کرنا حرام کیا گیا اور پھر بعض قوموں کے لئے بجائے ایمان کے صرف جزیہ قبول کیا گیا اور پھر مسیح موعود کے وقت قطعاً جہاد کا حکم موقوف کر دیا گیا۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ١٣، خزائن ج ١٧ ص ٤٤٣)

اگر جہاد قطعی موقوف ہو چکا ہے تو پھر آدھا قرآن منسوخ ہو گیا۔ اگر آپ یہ فرمائیں کہ

صفحہ ١٠٠

اشاعت اسلام کے لئے جہاد حرام ہے تو میں پوچھتا ہوں کہ یہ جائز کب تھا۔ کیا حضورﷺ یا آپ کے صحابہ کرام یا بعد کے روشن خیال سلاطین نے کوئی ایک آدمی بھی بزور شمشیر مسلمان بنایا تھا؟ اگر نہیں تو پھر آپ نے وہ کون سی چیز حرام کی جو پہلے جائز تھی؟ جواز جہاد کی صرف چار صورتیں ہیں۔

یہ چاروں صورتیں مذہبی و دینی ہیں۔ ہر صورت کو اللہ نے اپنی راہ (فی سبیل اللہ) کہا ہے۔ جو کوئی بھی ان چار صورتوں میں تلوار اٹھائے گا وہ گویا مذہب کے چند اہم اصولوں یعنی قیام امن، حمایت مظلوم وغیرہ کی حفاظت کر رہا ہوگا۔ ہر ایسا جہاد دینی، مذہبی، روحانی اور فی سبیل اللہ کہلائے گا۔ اسلام میں کوئی ایسا جہاد موجود ہی نہیں۔ جس کا مقصد ملک گیری، نو آبادیات کا حصول یا معدنی و زرعی دولت پہ قابض ہونا ہو۔ جب قرآن کی تلوار ہے ہی دینی، روحانی اور اخلاقی، تو پھر اس شعر کا کیا مطلب۔

اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال
دین کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٦، خزائن ج ١٧ ص ٧٧)

دین کے لئے حرام ہے تو کیا بے دینی کے لئے جائز ہے۔ ایران اور جزائر شرق الہند کے روغنی چشموں کے لئے حلال ہے؟ دوسروں کو غلام بنا کر ان کی بیگمات کے کپڑے نوچنے کے لئے روا ہے؟ اگر نہیں تو پھر مسیح موعود نے انگریزوں کو اس دھاندلی سے کیوں نہ روکا؟ حیرت ہے کہ انگریز کا جہاد تجوریاں بھرنے کے لئے جائز اور ہمارا جہاد اپنی مدافعت یا کسی مظلوم کی حمایت کے لئے حرام ہے؟

بہت اچھا صاحب! جہاد حرام سہی۔ لیکن یہ کیا بات ہے کہ حضرت مرزا قادیانی انگریز کی راہ میں جان چھڑکنے اور خون تک بہانے کے لئے تیار نظر آتے ہیں۔ جہاد تو ہو گیا حرام۔ پھر خون کس کھاتے میں جائے گا کہ اللہ تعالیٰ مسیح موعود سے مواخذہ نہیں کرے گا کہ تم نے جہاد کو حرام قرار دینے کے بعد انگریز کی خاطر کیوں جہاد کیا؟ اپنا خون کیوں بہایا؟ اور ہماری وحی کی مخالفت کیوں کی؟

مرزا قادیانی نے مورخہ ٢٤؍فروری ١٨٩٨ء کو گورنر پنجاب کی خدمت میں ایک عرضی بھیجی۔ جس کا مضمون یہ تھا۔ ”جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے۔ ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد

صفحہ ١٠١

کم ہوتے جائیں گے۔ کیونکہ مجھے مسیح و مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔... غرض یہ ایک ایسی جماعت جو سرکار انگریزی کی نمک پروردہ ہے۔... صرف یہ التماس ہے کہ سرکار دولت مدار...... اس خود کاشتۂ پودہ کی نہایت احترام اور احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ کرے کہ وہ بھی اس خاندان (مرزا قادیانی کا اپنا خاندان) کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو خاص عنایت کی نظر سے دیکھیں۔ ہمارے خاندان نے سرکار انگریزی کی راہ میں اپنا خون بہانے اور جان دینے سے دریغ نہیں کیا اور نہ اب دریغ ہے۔“

(تبلیغ رسالت ج ہفتم ص ١٨، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٩ تا ٢١)

”جب کابل کے ساتھ ١٩١٩ء میں (انگریز کی) لڑائی (امان اللہ خان کے خلاف) ہوئی۔ تب بھی ہماری جماعت نے علاوہ اور کئی قسم کی خدمات کے ایک ڈبل کمپنی پیش کی... خود ہمارے سلسلہ کے بانی کے چھوٹے صاحبزادہ نے اپنی خدمات پیش کیں اور چھ ماہ تک ٹرانسپورٹ کور میں آنریری طور پر کام کرتے رہے۔“

(جماعت احمدیہ کا سپاسنامہ بخدمت لارڈ ریڈنگ وائسرائے ہند مورخہ ٢٣ جون ١٩٢١ء)

جہاد تو ٹھہرا حرام۔ پھر یہ ڈبل کمپنی اور صاحبزادہ صاحب کی جنگی خدمات کا جواز کیسے ثابت ہوگا؟ اور سنئے: ”خلیفہ المسیح“ فرماتے ہیں: ”عراق کو فتح کرنے میں احمدیوں نے خون بہایا اور میری تحریک پر سینکڑوں آدمی بھرتی ہو کر چلے گئے۔“

(الفضل مورخہ ٣ ستمبر ١٩٣٥ء)

کس لئے؟ جہاد کے لئے؟ جہاد تو حرام تھا؟ خوشنودیٔ انگریز کے لئے؟ خواہ اللہ ناراض ہی رہے؟ ظاہر ہے کہ جب آپ اللہ کی وحی یعنی ممانعت جہاد کی خلاف ورزی کریں گے تو خدا کا غضب بھڑکے گا۔ کیا انگریز کی رضا اتنی بڑی چیز تھی کہ خدائی غضب بھی یاد نہ رہا؟

جب ١٩٢٩ء میں لاہور کے ایک آریہ راجپال نے حضورﷺ کے خلاف ایک کتاب رنگیلا رسول کے نام سے لکھی اور لاہور کے ایک نوجوان علم الدین نے اس کا کام تمام کر دیا تو حضرت خلیفہ المسیح نے فرمایا۔ ”وہ نبی بھی کیسا نبی ہے۔ جس کی عزت کو بچانے کے لئے خون سے ہاتھ رنگنے پڑیں... وہ لوگ جو قانون کو ہاتھ میں لیتے ہیں۔ وہ مجرم ہیں اور اپنی قوم کے دشمن ہیں اور جو ان کی پیٹھ ٹھونکتا ہے۔ وہ بھی قوم کا دشمن ہے۔“

(الفضل مورخہ ١٩؍ اپریل ١٩٢٩ء)

بہت عمدہ مشورہ ہے۔ لیکن جب اپریل ١٩٣٠ء میں اخبار مباہلہ (قادیان) کے مدیر مولوی عبدالکریم احمدیت سے الگ ہو کر مرزا قادیانی اور ان کے صاحبزادہ پر تنقید کرنے لگے تو میاں محمود احمد صاحب نے کہا۔ ”اپنے دینی اور روحانی پیشوا کی معمولی ہتک بھی کوئی برداشت نہیں

مگر یہ جائز کب تھا۔ کیا حضورﷺ یا آپ کی آل نے بھی بزور شمشیر مسلمان بنایا تھا؟ اگر نہیں تو جواز جہاد کی صرف چار صورتیں ہیں۔ مدافعت۔ حمایت مظلوم۔

جبکہ اللہ نے اپنی راہ (فی سبیل اللہ) کہا تو اس مذہب کے چند اہم اصولوں یعنی قیام امن، اخلاقی، مذہبی، روحانی اور فی سبیل اللہ میں کسی بند ملک گیری، نو آبادیات کا حصول وغیرہ نہیں بلکہ دینی، روحانی اور اخلاقی، تو پھر جہاد اور قتال

(نور الحق ص ٢٦، خزائن ج ٧ ص ٧٧)

ہے۔ ایران اور جزائر شرق الہند میں مسلمات کے کپڑے نوچنے کے واقعات سے کیوں نہ روکا؟ حیرت ہے کہ مدافعت یا کسی مظلوم کی حمایت کے وقت مرزا قادیانی انگریز کی راہ میں تو ہو گیا حرام۔ پھر کیا قرآن کریم نے جہاد کو حرام نہیں کہا؟ جاری وحی کی مخالفت نہیں کی؟

ان کی خدمت میں ایک عرضی ہے، ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد

صفحہ ١٠٢

کر سکتا ...... اس قسم کی شرارتوں کا نتیجہ لڑائی جھگڑا حتیٰ کہ قتل وخونریزی بھی معمولی بات ہے۔ اگر (اس سلسلے میں) کسی کو پھانسی بھی دی جائے اور وہ بزدلی دکھائے تو ہم ہرگز اسے منہ نہیں لگائیں گے۔ بلکہ میں تو اس کا جنازہ بھی نہیں پڑھوں گا۔“

(الفضل مورخہ ١١؍ اپریل ١٩٣٠ء)

مزید فرمایا: ”جب تک ہمارے جسم میں جان اور بدن میں توانائی ہے اور دنیا میں ایک احمدی بھی زندہ ہے۔ اس نیت کو لے کر کھڑے ہونے والے کو پہلے ہماری لاشوں پر سے گزرنا ہوگا اور ہمارے خون میں تیرنا ہوگا۔“

(الفضل ١٥؍ اپریل ١٩٣٠ء)

لیکن قبلہ! رسول سے محبت کرنا تو عین دین ہے اور مسیح موعود کا ارشاد ہے کہ ؎

دین کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال

کیا آپ خون بہاتے وقت مسیح موعود کی ساری تعلیم کو روند جائیں گے؟ بہرحال یہ جذبہ بڑا جواں مردانہ ہے۔ یہ مذہبی عزت وحمیت ہر شریف انسان میں ہونی چاہئے اور ضرور ہونی چاہئے۔ اس لئے میرا یہ عاجزانہ مشورہ ہے کہ آپ اپنے اس مشورے پر جو آپ نے علم الدین کے سلسلے میں دیا تھا نظر ثانی فرمائیں۔ وہ مشورہ دوبارہ درج ہے۔ ”وہ نبی بھی کیسا نبی ہے جس کی عزت کو بچانے کے لئے خون سے ہاتھ رنگنے پڑیں ...... اور جو ان کی پیٹھ ٹھونکتا ہے وہ بھی قوم کا دشمن ہے۔“

باقی کہانی آپ کو معلوم ہوگی کہ ان آتشیں خطبات سے متاثر ہو کر ٢٣؍ اپریل ١٩٣٠ء کو ایک نوجوان احمدی محمد علی نے مولوی عبدالکریم اور ان کے ساتھی محمد حسین پر قاتلانہ حملہ کر دیا۔ عبدالکریم گھائل ہوئے اور محمد حسین ہلاک۔ ملزم ١٦؍ مئی ١٩٣١ء کو سپرد دار ہوا۔ اس کے جنازہ کو خود خلیفہ مسیح نے کندھا دیا اور وہ نوجوان نہایت احترام سے بہشتی مقبرہ میں مدفون ہوا۔ قرآن کی فطری تعلیم کے خلاف چلنا بہت مشکل ہے۔

اور درست فرمایا تھا میاں محمود احمد قادیانی نے۔ ”ہمیں تو حضرت مسیح موعود نے خصی کر دیا ہے۔ مگر ساری دنیا تو خصی نہیں۔“

(الفضل مورخہ ٢٠؍ جنوری ١٩٣٥ء)

آٹھواں باب ...... صداقت کے چار معیار

مرزا قادیانی نے اپنی صداقت کے چار معیار مقرر فرمائے ہیں۔ ان کی تفصیل آپ ہی کی زبان سے سنئے۔ ”خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں چار عظیم الشان آسمانی تائیدوں کا کامل مومنوں کے لئے وعدہ دیا ہے اور وہی کامل مومن کی شناخت کے لئے کامل علامتیں ہیں اور یہ ہیں۔

صفحہ ١٠٣

کے واسطے داروں سے متعلق ہوں۔ بلکہ جو کچھ دنیا میں قضا و قدر نازل ہونے والی ہے یا بعض دنیا کے افراد مشہورہ پر جو کچھ تغیرات آنے والے ہیں۔ ان سے برگزیدہ مؤمن کو اکثر اوقات خبر دی جاتی ہے۔

عجیبہ سب سے زیادہ کھولے جاتے ہیں۔“

(آسمانی فیصلہ ص ١٣، خزائن ج ٣ ص ٣٢٣)

”خدا نے مجھے قرآنی معارف بخشے ہیں۔ خدا نے مجھے قرآن کی زبان میں اعجاز عطاء فرمایا ہے۔ خدا نے میری دعاؤں میں سب سے بڑھ کر مقبولیت رکھی ہے ...... خدا نے مجھے وعدہ دے رکھا ہے کہ مجھ سے ہر ایک مقابلہ کرنے والا مغلوب ہوگا۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٥٥، خزائن ج ١٧ ص ١٨١)

صداقت کے یہ چار معیار معین کرنے کے بعد مرزا قادیانی نے (آسمانی فیصلہ ص ١٤) میں علمائے اسلام کو چیلنج دیا ہے کہ وہ آئیں اور ان چار باتوں میں ان کا مقابلہ کریں۔ امر اوّل و دوم پیش گوئیوں کے ضمن میں آتے ہیں۔ اس لئے ان کے متعلق پیش گوئیوں کے باب میں بحث کی جائے گی۔ یہاں صرف امر سوم و چہارم کے متعلق عرض کیا جائے گا۔

قبولیتِ دعاء

حقیقت الوحی اور چند دیگر تصانیف میں مرزا قادیانی نے چند ایسی دعاؤں کا ذکر فرمایا ہے جو قبول ہوئی تھیں۔ لیکن ایک غیر جانبدار محقق کے پاس ایسے وسائل موجود نہیں جن سے کام لے کر وہ پتہ چلا سکے کہ آیا حقیقتاً وہ دعائیں قبول ہوئی تھی یا نہیں۔ ایسی دعاؤں کا تعلق ایسے مقامی یا غیر مقامی لوگوں سے تھا۔ جو آج دنیا میں موجود نہیں اور نہ وہ کوئی ایسی شہادت (تحریر وغیرہ) چھوڑ گئے ہیں جس سے ہم کسی صحیح نتیجہ پر پہنچ سکیں۔ اس میں شبہ نہیں کہ احمدی بھائیوں میں ایسے لوگ مل جائیں گے۔ جنہوں نے مرزا قادیانی کو دیکھا اور ان کی دعاؤں سے بھی فائدہ اٹھایا۔ لیکن دنیا کی کوئی عدالت ان کی شہادت کو غیر جانبدارانہ قرار نہیں دے سکتی۔ اس لئے یہ شہادتیں ایک یقین انگیز فیصلہ پر پہنچنے کے لئے مفید نہیں۔

صفحہ ١٠٤

مرزا قادیانی کی کتابوں میں صرف دو ایسے واقعات ملتے ہیں۔ جو دعا کے سلسلہ میں معرض بحث بن سکتے ہیں۔ ایک کا تعلق مولانا ثناء اللہ امرتسری سے ہے اور دوسرے کا ڈاکٹر عبدالحکیم سے۔ مولوی ثناء اللہ مرزا قادیانی کے سرگرم مخالفین میں سے تھے اور ڈاکٹر صاحب مدتوں مرزا قادیانی کے حلقہ ارادت سے وابستہ رہے اور آخر میں منحرف ہوگئے۔

مولوی ثناء اللہ

مرزا قادیانی نے بشارات فہم قرآن وقبول دعا کے سلسلے میں علماء کو چیلنج دیا تھا کہ وہ آئیں اور مقابلہ کریں اس چیلنج کو وہ بار بار دہراتے رہے۔ یہاں تک کہ ١٩٠٢ء میں مولوی ثناء اللہ مقابلہ میں اتر آئے۔ ممکن ہے کہ اس عرصہ میں کوئی اور صاحب بھی مد مقابل ہوئے ہوں۔ لیکن قلت معلومات کی وجہ سے ہم کوئی اور مثال پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ مولوی صاحب نے یہ چیلنج کس طرح قبول کیا۔ اس کی تفصیل خود مرزا قادیانی سے سنئے ۔ ”میں نے سنا ہے بلکہ مولوی ثناء اللہ امرتسری کی دستخطی تحریر میں نے دیکھی ہے جس میں وہ درخواست کرتا ہے کہ میں (ثناء اللہ ) اس طور کے فیصلے کے لئے بدل خواہشمند ہوں کہ فریقین یعنی میں اور وہ یہ دعاء کریں کہ جو شخص ہم دونوں میں سے جھوٹا ہے وہ سچے کی زندگی میں ہی مر جائے...... پس ہمیں کوئی انکار نہیں کہ وہ ایسا چیلنج دیں۔ بلکہ ہماری طرف سے ان کو اجازت ہے۔ کیونکہ ان کا چیلنج ہی فیصلہ کے لئے کافی ہے۔ مگر شرط یہ ہوگی کہ کوئی موت قتل کے رو سے واقع نہ ہو۔ بلکہ محض بیماری کے ذریعہ سے ہو۔ مثلاً طاعون سے یا ہیضہ سے یا اور کسی بیماری سے یا ایسی کارروائی حکام کے لئے تشویش کا موجب نہ ٹھہرے اور ہم یہ بھی دعاء کرتے رہیں گے کہ ایسی موتوں سے فریقین محفوظ رہیں۔ صرف وہ موت کاذب کو آوے جو بیماری کی موت ہوتی ہے۔“

(اعجاز احمدی ص ١٣، ١٥، خزائن ج ١٩ ص ١٢١، ١٢٢)

چیلنج منظور ہوگیا۔ مرزا قادیانی نے موت کی صورت متعین فرمادی۔ ساتھ ہی ان الفاظ میں چیلنج کو منظور کرلیا۔ ”ان کا چیلنج ہی فیصلہ کے لئے کافی ہے۔“

پھر سلسلہ دعاء کا بھی آغاز ہو گیا۔ ”ہم دعاء کرتے رہیں گے...... کہ وہ موت کاذب کو آوے جو بیماری کی موت ہوتی ہے۔“

نیز یہ شرط عائد کردی کہ چیلنج ایک پوسٹر کی صورت میں ہونا چاہئے۔ جس کے نیچے پچاس آدمیوں کے دستخط ہوں۔ آیا ایسا کوئی پوسٹر مولوی ثناء اللہ کی طرف سے شائع ہوا تھا یا نہیں۔ ہمیں علم نہیں، صرف اتنا معلوم ہے کہ مرزا قادیانی نے مولوی صاحب کے اس ارادے ہی کو کافی سمجھا اور فرمایا۔ ”مجھے کچھ ضرورت نہیں کہ میں انہیں مباہلہ کے لئے چیلنج کروں یا ان کے بالمقابل

صفحہ ١٠٥

مباہلہ کروں۔ ان کا اپنا مباہلہ جس کے لئے انہوں نے مستعدی ظاہر کی ہے۔ میری صداقت کے لئے کافی ہے۔ ...... میں اقرار کرتا ہوں کہ اگر میں اس مقابلہ میں مغلوب رہا تو میری جماعت کو چاہئے جو ایک لاکھ سے بھی زیادہ ہے کہ سب مجھ سے بیزار ہو کر الگ ہو جائیں۔ کیونکہ جب خدا نے مجھے جھوٹا قرار دے کر ہلاک کیا۔ تو میں جھوٹے ہونے کی حالت میں کسی پیشوائی اور امامت کو نہیں چاہتا۔ بلکہ اس حالت میں ایک یہودی سے بھی بدتر ہوں اور ہر ایک کے لئے جائے ننگ۔

اور جو شخص ایسے چیلنج سے فتنہ کو فرو کرے گا بشرطیکہ وہ صادق نکلے ۔ صفحہ روزگار میں بڑی عزت کے ساتھ اس کا نام منقوش رہے گا اور جو شخص دجال بے ایمان مفتری ہوگا اس کی ہلاکت سے دنیا کو راحت حاصل ہوگی ۔“

(اعجاز احمدی ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٢٣)

اسی سلسلے میں رب العرش کو یوں مخاطب فرماتے ہیں ۔ ”یا الہی! تو ہمارے کاروبار کو دیکھ رہا ہے اور ہمارے دلوں پر تیری نظر ہے۔ تیری عمیق نگاہوں سے ہمارے اسرار پوشیدہ نہیں۔ تو ہم میں اور مخالفوں میں فیصلہ کر دے اور وہ جو تیری نظر میں صادق ہے اس کو ضائع مت کر کہ صادق کے ضائع ہونے سے ایک جہان ضائع ہوگا۔ اے میرے قادر خدا تو نزدیک آجا اور اپنی عدالت کی کرسی پر بیٹھ اور یہ روز کے جھگڑے قطع کر ...... کیونکر میرا دل قبول کرے کہ تو صادق کو ذلت کے ساتھ قبر میں اتارے گا اور باطل پر زندگی والے کیونکر فتح پائیں گے۔ تیری ذات کی مجھے قسم ہے کہ تو ہرگز ایسا نہیں کرے گا۔“

(اعجاز احمدی ص ١٦ ، ١٧، خزائن ج ١٩ ص ١٢٤ ، ١٢٥)

پوسٹر نکالا یا نہیں علم نہیں ۔ لیکن مسیح موعود کی دعاء کا تیر نکل چکا تھا ۔ ١٩٠٢ء اور ١٩٠٧ء کے درمیانی عرصے میں مولوی صاحب اور مرزا قادیانی نے اس مقابلہ کے سلسلے میں کیا کچھ کہا اور لکھا۔ حجاب خفا میں ہے۔ البتہ اس موضوع پر ہمیں ١٩٠٧ء میں مرزا قادیانی کا ایک فیصلہ کن اشتہار ملتا ہے۔ یہ اشتہار مولوی صاحب کی طرف ایک کھلا خط ہے۔ مضمون یہ ہے۔

” بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب۔ ”السلام علیٰ من اتبع الهدى“ مدت سے آپ کے پرچہ اہل حدیث میں میری تکذیب و تفسیق کا سلسلہ جاری ہے۔ آپ مجھے ہمیشہ اپنے پرچہ میں مردود و کذاب و دجال و مفسد کے نام سے منسوب کرتے ہیں ...... میں نے آپ سے بہت دکھ اُٹھایا اور صبر کرتا رہا ..... اے میرے پیارے مالک! اگر یہ دعویٰ مسیح ہونے کا محض میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں۔ تو اے میرے پیارے مالک! میں عاجزی سے تیری جناب میں دعاء کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے۔ آمین۔ مگر اے میرے

صفحہ ١٠٦

کامل اور صادق خدا اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے حق پر نہیں تو میں عاجزی سے تیری جناب میں دعاء کرتا ہوں کہ میری زندگی میں ان کو نابود کر۔ مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون ہیضہ وغیرہ امراض مہلکہ سے...... میں دیکھتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ ...... اس عمارت کو منہدم کرنا چاہتا ہے جو تو نے اے میرے آقا اور تیرے بھیجنے والے اپنے ہاتھ سے بنائی ہے۔ اس لئے اب میں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں مولوی ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور جو درحقیقت تیری نگاہ میں مفسد اور کذاب ہے۔ اس کو صادق کی زندگی میں دنیا سے اٹھالے۔“

(اشتہار محررہ مورخہ ١٥؍اپریل ١٩٠٧ء، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص ٥٧٨، ٥٧٩)

قادیان کے ایک اخبار بدر میں مرزا قادیانی کی روزانہ ڈائری شائع ہوا کرتی تھی۔ اسی تاریخ کی ڈائری میں یہ فقرہ بھی تھا۔ ”ثناء اللہ کے متعلق جو کچھ لکھا گیا یہ دراصل ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا کی طرف سے اس کی بنیاد رکھی گئی۔“

(اخبار بدر قادیان مورخہ ٢٥؍اپریل ١٩٠٧ء)

اس اشتہار میں کسی قسم کی شرط نہیں تھی۔ بلکہ مرزا قادیانی نے اپنی صداقت کے لئے غیر مشروط طور پر ”صادق کی زندگی میں جھوٹے کی موت“ کو بطور معیار پیش کر دیا تھا۔ اس اشتہار میں جس خضوع و خشوع سے دعاء کی گئی ہے۔ وہ محتاج تبصرہ نہیں۔ اس اشتہار میں صرف ایک شرط ملتی ہے اور وہ یہ کہ جھوٹا انسانی ہاتھ سے ہلاک نہ ہو۔ بلکہ طاعون اور ہیضہ وغیرہ سے مرے۔ پھر کیا ہوا؟

ایک سال اکیس دن بعد ”حضرت مسیح موعود کو پہلا دست کھانا کھانے کے وقت آیا تھا...... کچھ دیر کے بعد آپ کو پھر حاجت محسوس ہوئی اور غالباً ایک دو دفعہ پاخانہ تشریف لے گئے...... اتنے میں آپ ایک اور دست آیا۔ مگر اب اس قدر ضعف تھا کہ آپ پاخانے نہ جاسکتے تھے...... اس لئے چارپائی کے پاس ہی بیٹھ کر آپ فارغ ہوئے...... اس کے بعد ایک اور دست آیا۔ پھر آپ کو ایک قے آئی۔ جب آپ قے سے فارغ ہو کر لیٹنے لگے تو اتنا ضعف تھا کہ آپ پشت کے بل چارپائی پر گر گئے اور آپ کا سر چارپائی کی لکڑی سے ٹکرایا اور حالت دگرگوں ہو گئی۔“

(سیرۃ المہدی ج١ ص ١١، ١٢، روایت نمبر ١٢، مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد قادیانی)

یہ ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء کا واقعہ ہے۔ ”حضرت مسیح موعود ٢٥؍ مئی ١٩٠٨ء یعنی پیر کی شام کو بالکل اچھے تھے۔ رات کو عشاء کی نماز کے بعد خاکسار باہر سے مکان میں آیا۔ تو میں نے دیکھا کہ آپ والدہ صاحبہ کے ساتھ پلنگ پر بیٹھے کھانا کھا رہے ہیں...... رات کے پچھلے پہر یعنی صبح کے قریب مجھے جگایا گیا...... تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود اسہال کی بیماری سے سخت بیمار ہیں اور حالت نازک ہے۔“

(سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص ٩، روایت نمبر ١٢)

صفحہ ١٠٧

کیا یہ ہیضہ تھا؟ ”حضور مرزا قادیانی کے وصال کا باعث ہیضہ قرار دینا صریح جھوٹ بلکہ قانونی جرم ہے۔“

(تصدیق احمدیت مصنفہ سید بشارت احمد صاحب احمدی)

لیکن مرزا قادیانی کے خسر نواب میر ناصر صاحب اپنے خود نوشتہ حالات زندگی میں فرماتے ہیں۔ ”حضرت صاحب جس رات کو بیمار ہوئے۔ اس رات کو میں اپنے مقام پر جا کر سوچکا تھا۔ جب آپ کو بہت تکلیف ہوئی تو مجھے جگایا گیا۔ جب میں حضرت صاحب کے پاس پہنچا اور آپ کا حال دیکھا تو آپ (مرزا قادیانی) نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا۔ میر صاحب مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے۔ ...... دس بجے (صبح منگل) کے بعد آپ کا انتقال ہو گیا۔“

(حیات ناصر ص ١٤، مرتبہ شیخ یعقوب علی عرفانی)

ہیضہ تھا یا نہیں۔ اس کا فیصلہ اطباء پہ چھوڑتا ہوں۔ یہاں تو یہ دیکھا ہے کہ آیا مرزا قادیانی کی دعاء: ”اور وہ جو تیری نگاہ میں درحقیقت مفسد اور کذاب ہے۔ اس کو صادق کی زندگی میں دنیا سے اٹھالے۔“ قبول ہوئی یا نہیں؟ اگر ہوئی ہے تو پھر سچا کون ہوا؟ (مولانا ثناء اللہ صاحب کی وفات ١٩٤٨ء میں ہوئی)

احمدی بھائیو! یہ ٹھوس واقعات ہیں۔ جنہیں تاریخ کے اوراق سے مٹایا نہیں جاسکتا۔ تاویلوں سے نفس کو بہلایا جا سکتا ہے۔ لیکن حقیقت تبدیل نہیں ہو سکتی۔ آپ حضرات میں ایک خاصی تعداد وکیلوں ، پروفیسروں ، مجسٹریٹوں اور ججوں کی ہے۔ پروفیسر اور جج کا کام ہی تلاش حقیقت ہے۔ سوچئے اور ڈھونڈیئے ۔ شاید حقیقت وہ نہ ہو جو آپ سمجھے بیٹھے ہیں۔ اللہ آپ کے ساتھ ہو۔

مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ”مولوی غلام دستگیر قصوری نے اپنی کتاب اور مولوی اسماعیل علی گڑھ والے نے میری نسبت قطعی حکم لگایا کہ اگر وہ کاذب ہے تو ہم سے پہلے مرے گا اور ضرور ہم سے پہلے مرے گا۔ کیونکہ کاذب ہے مگر جب ان تالیفات کو دنیا میں شائع کر چکے تو پھر بہت جلد آپ ہی مر گئے اور اس طرح پر ان کی موت نے فیصلہ کر دیا کہ کاذب کون تھا۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٩، خزائن ج ١٧ ص ٣٩٤)

”میں نے ڈپٹی آتھم کے مباحثہ میں قریبا ساٹھ آدمی کے روبرو یہ کہا تھا کہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ پہلے مرے گا۔ سو آتھم بھی اپنی موت سے میری سچائی کی گواہی دے گیا۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ١١، خزائن ج ١٧ ص ٣٩٧)

صفحہ ١٠٨

اب ذرا یہ اقتباس پھر پڑھئے۔ ”اے میرے پیارے مالک...... اگر یہ دعوٰی مسیح ہونے کا محض میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں...... تو میں عاجزی سے تیری جناب میں دعاء کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ کی زندگی میں مجھے ہلاک کر۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٨، ٥٧٩)

ڈاکٹر عبدالحکیم

ڈاکٹر عبدالحکیم پورے بیس برس تک مرزا قادیانی کے حلقۂ عقیدت سے وابستہ رہا۔ پھر منحرف ہو کر ”المسیح الدجال“ اور ”کانا مسیح“ وغیرہ کے نام سے کتابیں لکھیں۔ اسی پر بس نہ کی۔ بلکہ ١٢؍ جولائی ١٩٠٦ء کو ایک الہام شائع کر دیا کہ آج کی تاریخ سے تین برس تک مرزا قادیانی فوت ہو جائیں گے۔ اس پر مرزا قادیانی نے ایک اشتہار نکالا۔ مضمون یہ ہے:

”اس (ڈاکٹر) نے میرا نام کذاب، مکار، شیطان، دجال، شریر اور حرام خور رکھا ہے اور مجھے خائن، شکم پرست، نفس پرست، مفسد اور مفتری قرار دیا ہے۔...... اس پر بس نہیں۔ بلکہ یہ پیش گوئی بھی صد ہا آدمیوں میں شائع کی یہ شخص تین سال کے عرصے میں فنا ہو جائے گا...... آج ٤؍ اگست ١٩٠٦ء کو پھر اس کا ایک خط مولوی نور الدین صاحب کے نام آیا۔ اس میں لکھا ہے۔ ١٢؍ جولائی ١٩٠٦ء کو خدا تعالیٰ نے مجھے خبر دی کہ یہ شخص اس تاریخ سے تین برس تک ہلاک ہو جائے گا...... اس کے مقابل وہ پیش گوئی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے میاں عبدالحکیم صاحب کی نسبت مجھے معلوم ہوئی۔ جس کے الفاظ یہ ہیں۔ خدا کے مقبولوں میں قبولیت کے نمونے اور علامتیں ہوتی ہیں۔ وہ سلامتی کے شہزادے کہلاتے ہیں۔ ان پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ فرشتوں کی کھنچی ہوئی تلوار تیرے آگے ہے پر تو نے وقت کو نہ پہچانا نہ دیکھا نہ جانا۔ ”رب فرق بین صادق وکاذب“ اے میرے خدا صادق و کاذب میں فرق کر کے دکھلا تو جانتا ہے کہ صادق و مصلح کون ہے۔“

(اشتہار ١٦؍ اگست ١٩٠٦ء تبلیغ رسالت ج ١٠ ص ١١، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٥٩، ٥٦٠)

یعنی دو خداؤں میں ٹھن گئی۔ ڈاکٹر کے خدا نے کہا کہ مرزا قادیانی ١٢؍ جولائی ١٩٠٩ء سے پہلے فوت ہو جائیں گے اور مرزا قادیانی کے اللہ نے اطلاع دی کہ: ”خدا کے مقبولوں پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔“

نیز ڈاکٹر کو ایک مہیب خطرہ سے ان الفاظ میں خبردار کیا: ”فرشتوں کی کھنچی ہوئی تلوار تیرے آگے ہے پر تو نے وقت کو نہ پہچانا۔ نہ دیکھا نہ جانا۔“ اور پھر مرزا قادیانی نے دعاء کی۔

”اے میرے خدا صادق و کاذب میں فرق کر کے دکھا۔“

صفحہ ١٠٩

اس پیش گوئی میں جس خطرے کا ذکر تھا۔ چند ماہ بعد اس کی تفصیل یوں پیش فرمائی۔ ”بعد اس کے ایک اور چراغ دین (جموں والے چراغ دین جو مرزا قادیانی کا مرید تھا۔ پھر اس نے مرزا قادیانی کی بے حد مخالفت کی تھی اور آخر طاعون کا شکار ہو گیا تھا۔ برق) پیدا ہوا۔ یعنی ڈاکٹر عبدالحکیم خان یہ شخص بھی مجھے دجال ٹھہراتا ہے اور پہلے چراغ دین کی طرح اپنے تئیں مرسلین میں شمار کرتا ہے۔ تکبر اور غرور میں تو پہلے چراغ دین سے بھی بڑھ کر ہے اور گالیاں دینے میں اس سے زیادہ مشاق ہے...... اس کی پیش گوئی نے جیسا کہ پہلے چراغ دین کے انجام سے خبر دی ہے۔ اسی طرح اس علیم خبیر نے اس دوسرے چراغ دین یعنی عبدالحکیم کے انجام سے خبر دی ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ١٢٣، ١٢٤، خزائن ج ٢٢ ص ١٢٦، ١٢٧)

مطلب یہ کہ ڈاکٹر کا انجام بھی چراغ دین کی طرح بھیانک ہوگا۔ یہ الہام پڑھ کر ڈاکٹر نے اپنے پہلے الہام میں یوں ترمیم کی۔ ”اللہ نے مرزا قادیانی کی شوخیوں اور نافرمانیوں کی وجہ سے سہ سالہ میعاد میں سے جو ١١؍ جولائی ١٩٠٩ء کو پوری ہوتی ہے۔ دس مہینے اور گیارہ دن اور گھٹا دیئے اور مجھے یکم جولائی ١٩٠٧ء کو الہاماً فرمایا کہ مرزا آج سے چودہ ماہ تک بسزائے موت ہاویہ میں گرایا جائے گا۔“

اس کے جواب میں مرزا قادیانی نے ٥ نومبر ١٩٠٧ء کو ایک اشتہار بعنوان تبصرہ شائع کیا۔ جس میں یہ الہام بھی درج تھا۔ ”اپنے دشمن سے کہہ دے۔ خدا تجھ سے مواخذہ کرے گا اور تیری عمر کو بڑھاؤں گا۔ یعنی دشمن جو کہتا ہے کہ جولائی ١٩٠٧ء سے صرف چودہ مہینے تیری عمر کے دن رہ گئے ہیں۔ یا ایسا ہی دوسرے دشمن جو پیش گوئی کرتے ہیں۔ ان سب کو جھوٹا کروں گا۔“

(اشتہار مندرجہ تبلیغ رسالت ج دہم ص ١٣١، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٩١)

وفات سے چند روز پیش تر مرزا قادیانی نے لکھا۔ ”آخری دشمن اب ایک اور پیدا ہوا ہے۔ جس کا نام عبدالحکیم خان ہے۔ وہ ڈاکٹر ہے اور ریاست پٹیالہ کا رہنے والا ہے۔ جس کا دعویٰ ہے کہ میں اس کی زندگی میں ٤ اگست ١٩٠٨ء تک ہلاک ہو جاؤں گا اور یہ اس کی سچائی کے لئے ایک نشان ہوگا۔ یہ شخص الہام کا دعویٰ کرتا ہے۔ مجھے دجال کافر اور کذاب قرار دیتا ہے۔ پہلے اس نے بیعت کی اور برابر بیس برس تک میرے مریدوں...... میں داخل رہا۔ اس کی پیش گوئی کے مقابل پر مجھے خدا نے خبر دی ہے کہ وہ خود عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اور خدا اس کو ہلاک کرے گا اور میں اس کے شر سے محفوظ رہوں گا۔ سو یہ وہ مقدمہ ہے جس کا فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔ بلاشبہ یہ سچ بات ہے کہ جو شخص خدا کی نظر میں صادق ہے خدا اس کی مدد کرے گا۔“

(چشمہ معرفت ص ٣٢١، ٣٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٦، ٣٣٧)

صفحہ ١١٠

اور چند سال پیشتر مرزا قادیانی نے ایک ایسے ہی پیش گوئی کے متعلق فرمایا تھا۔ ”اگر تمہارے مرد اور عورتیں تمہارے جوان اور بوڑھے، تمہارے چھوٹے اور بڑے سب مل کر میرے ہلاک کرنے کے لئے دعائیں کریں۔ یہاں تک کہ سجدے کرتے کرتے ناک گل جائیں اور ہاتھ شل ہو جائیں۔ تب بھی خدا ہرگز تمہاری دعا نہیں سنے گا۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ١٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٠٠)

مقابلہ کی صورت بالکل صاف ہو گئی کہ ڈاکٹر نے کہا مرزا قادیانی کی وفات ٤؍اگست ١٩٠٨ء سے پہلے ہوگی۔ مرزا قادیانی نے فرمایا کہ اللہ نے مجھے لمبی عمر کی بشارت دی ہے۔ نیز کہا ہے کہ: ”میں ان سب کو جھوٹا کروں گا۔ خدا صادق کی مدد کرے گا۔“

لیکن ہوا کیا؟ یہی کہ صرف چند روز بعد مرزا قادیانی کا انتقال ہو گیا اور ڈاکٹر برسوں بعد زندہ رہا۔ قدرتاً سوال پیدا ہوتا ہے کہ خدا کا وہ وعدہ کیا ہوا ۔ ”اپنے دشمن سے کہہ دے۔ خدا تجھ سے مواخذہ کرے گا اور تیری عمر کو بڑھاؤں گا۔ ان سب کو جھوٹا کروں گا۔“

برا منانے کی بات نہیں۔ مؤرخ اور محقق کی تنقید ہمیشہ بے لاگ ہوتی ہے۔ وہ صرف حقائق سے نتائج اخذ کرتا ہے۔ وہ یہ نہیں دیکھتا کہ اس کے شخصی عقائد اور قاری کے تصورات کیا ہیں۔ مبارک ہیں وہ لوگ جو صرف حقیقت کے متلاشی اور حقیقت کے پرستار ہیں۔ احمدیوں میں میرے دوستوں کی ایک خاصی تعداد موجود ہے۔ ایسے دوست جن سے میں محبت کرتا ہوں۔ میری یہ دلی تمنا ہے کہ ان میں اور مجھ میں کوئی ذہنی اختلاف بھی باقی نہ رہے اور اس کی صورت صرف یہی ہے کہ وہ میرے پیش کردہ حقائق پر غور کرنے کے بعد صحیح نتائج اخذ کریں۔ اگر میرے پیش کردہ حقائق حقائق نہیں ہیں تو میری لغزش کو واضح فرمائیں۔ مجھے سچائی سے فطری محبت ہے۔ جہاں ملے گی فوراً اپنالوں گا۔ خواہ اس راہ میں مجھے کتنی ہی دشواریاں پیش آئیں۔

انسان اسی وقت تک انسان ہے جب تک اس کا رشتہ حقیقت سے قائم ہے۔ اگر یہ رشتہ ٹوٹ جائے تو انسانیت بہیمیت میں بدل جاتی ہے۔ کون ہے جو حقیقت سے گریزاں اور باطل کا پرستار ہو۔ اگر کوئی ہے تو اسے کہہ دو کہ وہ دنیا میں تنہا ہے اور اس کا کوئی ہم خیال موجود نہیں۔

”قبول دعاء“ کے دو واقعات آپ نے پڑھ لئے۔ اب چلئے نئے موضوع کی طرف۔

فہم قرآن

قرآن حکیم تمام زمانوں اور تمام قوموں کے لئے جو قیامت تک پیدا ہوں گی مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اس کے الفاظ میں لچک ہے اور ہونی بھی چاہئے۔ تاکہ ہر زمانے کا انسان خواہ

صفحہ ١١١

وہ ماڈرن ہو یا الٹرا ماڈرن۔ اپنے ماحول کا عکس اس میں دیکھ سکے۔ ایک زمانہ تھا کہ ہمارے تصورات پر یونانی فلسفہ چھا گیا تھا۔ اس فلسفہ نے خدا کو عضو معطل بنا کر عرش پہ بٹھا دیا تھا۔ امام غزالی اور آپ کے ہمنوا علماء نے قرآن سے وہ دلائل استنباط کیں کہ افلاطونی فلسفہ کی ظلمتیں جلوۂ الہام کی تاب نہ لا سکیں۔ اسی طرح ابن العربی کے نظریہ وحدت الوجود اور دیگر بیسیوں فرقوں کے عجمی افکار کی شکست و ریخت کے لئے مفسرین میدان میں اترتے رہے اور غیر اسلامی تصورات کے استیصال میں کامیاب ہوتے رہے۔ قرآن نے ہر ملک اور ہر قوم کے سامنے ایک ایسا نظام زیست پیش کیا جو ان کے فرسودہ و بوسیدہ نظاموں سے پائندہ تابندہ تر تھا اور یہی وجہ ہے کہ مسلمان جہاں بھی پہنچے۔ ان کے جدید و غریب افکار براہ راست دل و دماغ پر حملہ آور ہو گئے اور ان مضبوط قلعوں کو انہوں نے فوراً فتح کر لیا۔

کائنات میں حقائق ازل سے موجود ہیں۔ جب یہ حقائق اوہام و اباطیل کے حجابات میں مستور ہو جاتی ہیں تو کوئی دست غیب ان پردوں کو ہٹا کر حقیقت کو پھر بے نقاب کر دیتا ہے اور اسی کا نام تجدید ہے۔ حقیقت نہیں بدلتی۔ دو اور دو ہر زمانے میں چار رہے ہیں۔ پانی ہمیشہ ڈھلان کی طرف بہتا رہا اور نور ہمیشہ بلندیوں کی طرف مائل پرواز رہا۔ البتہ حقائق کی تفسیر سدا بدلتی رہی۔ ایک ہی بات کو پیش کرنے کے مختلف اسالیب ہو سکتے ہیں۔ کوئی ہمت شکن اور کوئی ہمت افزاء مثلاً شاعر نے کہا۔ ”افسوس کہ پھول کے پہلو میں کانٹے ہیں۔“ کس قدر ہمت شکن پیغام ہے۔ فلسفی نے اسی حقیقت کو یوں پیش کیا۔ ”خوش ہو جا کہ کانٹوں کے پہلو میں پھول ہیں۔“

اور فضائے یاس میں امیدوں کے بیسیوں دیپ جل اٹھے۔ مولانا حالی نے قوم کی حالت کا یوں نقشہ کھینچا تھا۔

فلاکت پس و پیش منڈلا رہی ہے
نحوست سماں اپنا دکھلا رہی ہے

لیکن رجائی اقبالؒ نے حالی کا ساتھ نہ دیا اور رنگ بدل بدل کر فرمایا۔ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی، بعض مفکرین عالم نے اعلان کیا کہ نسل انسانی مائل بہ زوال و روبہ فنا ہے۔ حکیم مشرق نے فرمایا۔

عروج آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں
کہ یہ ٹوٹا ہوا تارا مہ کامل نہ بن جائے
صفحہ ١١٢

آئے دن کی لڑائیوں سے اکتائے ہوئے مغربی فلسفیوں نے جمعیت اقوام کا نظریہ پیش کیا اور مولانا ابوالکلام آزاد نے سورۃ فاتحہ کی تفسیر میں جمعیت آدم کا پورا نظام سامنے رکھ دیا۔ جب دور حاضر میں سرمایہ واشتراکیت کے پہاڑ آپس میں متصادم ہونے لگے تو قرآن حکیم نے آواز دی۔ لڑو مت آؤ میں تم کو راہ مصالحت بتاؤں۔ شخصی ملکیت جائز۔ لیکن جمع مال ناجائز۔ حصول دولت جائز۔ لیکن ضروریات سے وافر ”قل العفو“ پاس رکھنا ناجائز۔

جب عہد حاضر کا انسان مطالعہ کائنات کی طرف متوجہ ہوا تو قرآن نے اسے تھپکی دی اور کہا۔ اس راہ پر بڑھے چل کہ قوۃ وہبیت کے خزائن اور علم و عرفان کے دفائن یہیں ملیں گے۔

ماحصل یہ کہ اسلام میں ہمیشہ ایسے مفسر پیدا ہوتے رہے جن کی تفسیری جدتوں نے کاروان حیات کو سست خرام نہ ہونے دیا اور ایسے مفکر تاقیامت آتے رہیں گے۔ جو ہر نئی تصویر میں قرآن کا رنگ بھرتے رہیں گے۔ ان پیہم تجارب کے بعد نسل انسانی قیادت الہام کے سامنے جھکنے پر مجبور ہوجائے گی اور یہ زمانہ بہت دور نہیں۔ آج تک حقیقت کی جس قدر تفاسیر پیش ہوئیں ان میں سب سے زیادہ خواب آور، جمود انگیز اور حیات کش وہ ہے جس کا دوسرا نام تصوف یا رہبانیت ہے۔ قرآن زندگی کی تلخیوں سے الجھنے کی تعلیم دیتا ہے اور تصوف گریز کی۔ قرآن اپنے پیرووں کو عقاب و ضیغم بنانا چاہتا ہے اور تصوف حمام و گوسفند۔ قرآن تسخیر کائنات و آفاق افلاک کا درس دیتا ہے اور تصوف تسلیم و انقیاد کا۔ اسلام سراپا عمل ہے اور تصوف سراپا جمود۔ وہ رفتار ہے اور یہ گفتار۔ یہ ثابت ہے اور وہ سیار۔ وہ شمشیر حیدر ہے اور یہ گلیم بوذر۔ وہ برق جہاں تاب ہے اور یہ آتش تہ آب۔ اسلام حرکت و عمل کا دوسرا نام ہے۔ اس نے رہبانیت کی طرف دست مصالحت آج تک نہیں بڑھایا اور حامل قرآن ہمیشہ اپنے خالد و طارق اور حیدر و فاروق پر نازاں رہا۔ یہ صاحبان شمشیر ایک لحاظ سے فقیر بھی تھے کہ شان سکندری و سطوت قیصری کی پرواہ تک نہیں کرتے تھے۔ وہ اللہ کے سپاہی تھے۔ اللہ کے بغیر ہر چیز سے بے نیاز تھے اور صرف اللہ کی مشیت کو سطح ارضی پر نافذ دیکھنا چاہتے تھے۔ ان کے فقر میں تجلیات طور کے ساتھ ساتھ جلال کلیمی بھی تھا۔ وہ جمال جو جلال سے خالی ہو بیکار محض ہے اور اسی کا نام میرے ہاں تصوف ہے۔ (یہ مصنف کا اپنا وضع کردہ منفی نظریہ ہے۔ مرتب)

مجھے مرزا قادیانی کی چالیس پچاس تصانیف پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ چالیس حرفا حرفا اور آٹھ دس جزواً جزواً۔ ان تمام کا موضوع تقریباً ایک ہی تھا۔ یعنی:

صفحہ ١١٣

مرزا قادیانی کی بہتر (٧٢) تصانیف میں ان تین چار آیات نبوت کے بغیر قرآن کا کوئی نظریہ یا کوئی اور آیت زیر بحث نہیں آئی۔ جس سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آپ کا علم قرآن کے متعلق کیا اور کتنا ہے۔ ہاں ضمناً دو چار آیات ضرور آئیں۔ لیکن وہ کسی فیصلہ تک پہنچانے کے لئے ناکافی تھیں۔ اس سلسلہ میں آپ کی جو تصنیف بڑے شدومد سے پیش کی جاتی ہے وہ براہین احمدیہ ہے۔ یہ کتاب اندازاً ساڑھے پانچ سو صفحات پر مشتمل ہے۔ جس میں تین چوتھائی حواشی اور ایک چوتھائی متن ہے۔ حواشی میں متفرق مضامین ہیں۔ مثلاً ضرورت الہام، مجدد کی ضرورت وغیرہ۔ پھر اپنے الہامات اور متن میں دیگر مذاہب پر تنقید۔ ترتیب کتاب یہ ہے:

اس کے بعد علمی حصہ آتا ہے۔ جس کی زبان اس قدر الجھی ہوئی ہے کہ بار بار پڑھنے پہ بھی کچھ پلے نہیں پڑتا۔ تصوف و منطق کی اصطلاحات کا استعمال کچھ اس طریق سے ہوا ہے کہ ان اصطلاحات کا عالم بھی گھبرا جائے۔ نمونہ ملاحظہ فرمائیے۔ ”اور یہ اصول عام جو ہر ایک صادر من اللہ سے متعلق ہے۔ دو طور سے ثابت ہوتا ہے۔ اوّل قیاس سے کیونکہ از روئے قیاس صحیح و محکم کے خدا

صفحہ ١١٤

کا اپنی ذات اور صفات اور افعال میں واحد لاشریک ہونا ضروری ہے اور اس کی کسی صنعت یا قول یا فعل میں شراکت مخلوق کی جائز نہیں۔“

(براہین احمدیہ ص ١٤٦، خزائن ج ١ ص ١٤٩، ١٥٠)

”اور ذات اس کی ان تمام نالائق امور سے منزہ ہے۔ جو شریک الباری پیدا ہونے کی طرف منجر ہوں۔ دوسرے ثبوت اس دعویٰ کا استقرا تام سے ہوتا ہے۔ ان سب چیزوں پر جو صادر من اللہ میں نظر تدبر کر کے بہ پایہ ثبوت پہنچ گیا ہے۔“

(براہین احمدیہ ص ١٤٩، ١٥٠، خزائن ج ١ ص ١٥٣، ١٥٤)

”عیسائیوں کا قول کہ صرف مسیح کو خدا ماننے سے انسان کی فطرت مغلوب ہو جاتی ہے اور گو کیسا ہی کوئی من حیث الخلقت قویٰ سبعیہ یا قوائے شہویہ کا مغلوب ہو یا قوت عقلیہ میں ضعیف ہو وہ فقط حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا تعالیٰ کا اکلوتا بیٹا کہنے سے اپنی جبلی حالت چھوڑ جاتا ہے۔“

(براہین احمدیہ ص ١٧١ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ١٨٣)

اسی کتاب میں سورۂ فاتحہ کی تفسیر بھی درج ہے۔ جس پر متصوفانہ رنگ چڑھا ہوا ہے اور تصوف کے متعلق میں اپنی رائے پیش کر چکا ہوں۔ ہر فرد کا زاویہ نگاہ دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ مسلمانوں میں ایسے لوگ موجود ہوں گے۔ جنہیں یہ تفسیر پسند آئی ہوگی۔ لیکن میرے لئے یہ جاذب توجہ نہ بن سکی۔ اس لئے کہ میں اسلام کو حرکت وعمل ، قوت و ہیبت ، جمال وجلال، تسخیر کائنات و آفاق، ارض و افلاک کا مترادف سمجھتا ہوں اور جس تفسیر کے آئینہ میں مجھے اسلام کا یہ چہرہ نظر نہ آئے وہ میرے لئے کوئی دلکشی نہیں رکھتی۔ بہرحال یہ میرا ذاتی نظریہ ہے اور اس سے اختلاف کی بڑی گنجائش موجود ہے۔ اگر حقیقتاً مرزا قادیانی کی تفسیر میں کچھ رموز و معارف موجود ہیں تو احمدی اہل قلم کا فرض ہے کہ وہ ان معارف کو سلیس و برجستہ زبان میں پیش کریں۔ تاکہ مجھ جیسے کم علم بھی فائدہ اٹھا سکیں۔

سورۂ فاتحہ کے علاوہ مرزا قادیانی نے چند اور آیات کی تفسیر بھی فرمائی ہے۔ جن میں سے آیہ ”خاتم النبیین“ آیہ ”كما ارسلنا الی فرعون رسولا . ولو تقول“ پر بحث ہوچکی ہے اور باقی ماندہ میں سے چند یہ ہیں۔

اول...... قرآن میں بار بار ارشاد ہوا ہے کہ اللہ کسی ایک جہت میں مقید نہیں بلکہ ”فاينما تولوا فثم وجه الله (البقرہ: ١١٥)“ ﴿تم جدھر بھی منہ پھیرو گے اللہ کو سامنے پاؤ گے۔﴾

صفحہ ١١٥

لیکن مرزا قادیانی اس آیت کا ترجمہ یوں فرماتے ہیں۔ ”جدھر تیرا منہ خدا کا اسی طرف منہ ہے۔“

(تبلیغ رسالت جلد ششم ص ٦٩، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٣٧٠)

دونوں ترجموں میں بڑا فرق ہے۔ پہلے کا مفہوم یہ کہ اللہ ہر طرف موجود ہے اور دوسرے کا یہ کہ خدا تیرے منہ کی طرف دیکھتا رہتا ہے۔ تو جدھر منہ پھیرے خدا بھی اسی طرف پھیر لیتا ہے۔ اس ترجمہ سے خدائی توہین کا پہلو نکلتا ہے۔ نیز آیت کے الفاظ بھی اس تفسیر کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اس لئے کہ (تولوا) صیغہ جمع ہے۔ معنی جدھر تم سب منہ پھیرو۔ اور مرزا قادیانی اسے واحد بنا کر معنی کرتے ہیں۔ ”جدھر تیرا منہ“ یہ ”تیرا“ کہاں سے آگیا۔

دوم ...... قرآن حکیم میں حضور ﷺ کے کئی غزوات کا ذکر موجود ہے۔ ”ولقد نصرکم اللہ ببدر وانتم اذلة (آل عمران: ١٢٣) ”اللہ نے تمہیں بدر میں فتح دی۔ حالانکہ تم کمزور تھے۔“

”لقد نصرکم اللہ فی مواطن کثيرة ويوم حنين اذ اعجبتکم کثرتکم فلم تغن عنکم شيئًا (التوبہ: ٢٥) ”اللہ نے کئی میدانوں میں تمہاری مدد کی۔ خصوصاً جنگ حنین کے دن جب تم اپنی کثرت پر مغرور ہو گئے تھے۔ وہاں دنیا کی کوئی طاقت تمہیں شکست سے نہ بچا سکی۔“

جنگ احزاب کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے۔ ”اذجاؤکم من فوقکم ومن اسفل منکم واذزاغت الابصار وبلغت القلوب الحناجر (الاحزاب: ١٠) ”یاد کرو وہ دن جب کفار ہر بلندی و پستی سے تم پر ٹوٹ پڑے تھے۔ جب تمہاری آنکھیں فرط خوف سے پتھرا گئیں تھیں اور کلیجے منہ کو آ گئے تھے۔“

اسی طرح باقی جنگوں کی تفصیل بھی قرآن میں درج ہے۔ لیکن ہماری حیرت کی انتہاء نہیں رہتی۔ جب مرزا قادیانی کا یہ قول پڑھتے ہیں۔ ”آنحضرت ﷺ کا بعد بعثت دس سال تک مکہ میں رہنا اور پھر وہ تمام لڑائیاں ہونا جن کا قرآن کریم میں نام و نشان نہیں۔“

(شہادۃ القرآن ص ٤٣، خزائن ج ٦ ص ٣٠٠، ٢٩٩)

قرآن حکیم میں زلزلۂ آخرت کا منظر کئی مقامات پر پیش کیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک مقام یہ ہے۔ ”انما توعدون لواقع ٭ فاذا النجوم طمست ٭ واذا السماء فرجت ٭ واذالجبال نسفت ٭ واذاالرسل اقتت ٭ لای یوم اجلت ٭ لیوم الفصل (المرسلات: ٧ تا ١٣) ”جس قیامت کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ آ کر رہے گی۔ اس روز

صفحہ ١١٦

ستارے بے نور ہو جائیں گے۔ آسمان پھٹ جائے گا۔ پہاڑ اڑ جائیں گے اور رسول وقت معین پہ جمع کئے جائیں گے۔ انبیاء کا معاملہ کس روز کے لئے ملتوی ہوتا رہا۔ اسی روز کے لئے جو یوم الفصل یعنی فیصلے کا دن ہے۔ ﴾

یہ آیات قیامت کے ذکر سے شروع ہو کر قیامت ہی پر ختم ہوتی ہیں۔ درمیان میں علامات قیامت کا ذکر ہے۔ جن میں سے ایک یہ ہے کہ اس روز انبیاء ایک خاص وقت پر میدان محشر میں حاضر ہوں گے اور ان کے مقدمات پر غور ہوگا۔

لیکن مرزا قادیانی ”واذ الرسل اقتت“ کا ترجمہ یہ فرماتے ہیں۔ ”اور جب رسول وقت مقرر پر لائے جائیں گے اور یہ اشارہ درحقیقت مسیح موعود کے آنے کی طرف ہے۔“

(شہادۃ القرآن ص ٢٣، خزائن ج ٦ ص ٣١٩)

مسیح موعود کی طرف اشارہ کیسے ہو سکتا ہے۔ جب کہ الرسل جمع ہے اور مسیح موعود کا دعویٰ یہ ہے کہ امت محمدیہ میں صرف ایک رسول پیدا ہوا یعنی مسیح موعود اور وہ خاتم الخلفاء بھی ہے۔ جب اس امت میں کسی اور رسول کی بعثت مقدر ہی نہیں تو پھر الرسل (بہت سے انبیاء) سے ایک مسیح موعود کیسے مراد لیا جا سکتا ہے۔ قواعد زبان اس تفسیر کی اجازت نہیں دیتے۔

سوم....... علامات قیامت میں سے ایک علامت نفخ فی الصور ہے۔ ”ونفخ فی الصور فصعق من فی السمٰوت ومن فی الارض الا ماشاء اللہ ثم نفخ فیہ اخرٰی فاذا ھم قیام ینظرون (الزمر:٦٨)“ ﴿جب وہ کرنا پھونکی جائے گی تو ساکنان ارض و سما کی چیخیں نکل جائیں گی اور جب دوسرے مرتبہ پھونکی جائے گی تو لوگ قبروں سے نکل کر ادھر ادھر دیکھنے لگیں گے۔ ﴾ اس آیت کے متعلق مرزا قادیانی کا ارشاد یہ ہے کہ: ”کرنا سے مراد مسیح موعود کا پیدا ہونا ہے۔“

(شہادۃ القرآن ص ٢٥، خزائن ج ٦ ص ٣٢١)

بہت اچھا مسیح موعود سہی۔ لیکن پہلی پھونک پر اہل زمین و آسمان کے چیخ اٹھنے اور دوسرے پر مردوں کے جی اٹھنے سے کیا مراد ہے؟ اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ”آخری دنوں میں دو زمانے آئیں گے۔ ایک ضلالت کا زمانہ اور اس زمانہ میں ہر ایک زمینی اور آسمانی یعنی شقی اور سعید پر غفلت سی طاری ہو جائے گی.......(لیکن قرآن کے الفاظ یہ ہیں کہ پہلی پھونک پر اہل زمین و آسمان کی فریادیں نکل جائیں گی اور آپ فرماتے ہیں کہ غفلت سی طاری ہوگی۔ یہ غفلت اور چیخ کا آپس میں کیا تعلق؟ غفلت میں تو نیند آتی ہے نہ کہ چیخیں نکلتی ہیں۔ برق) اور پھر دوسرا زمانہ ہدایت کا آئے گا۔ پس ناگاہ لوگ کھڑے ہو جائیں گے۔“

(شہادۃ القرآن ص ٢٥، خزائن ج ٦ ص ٣٢١)

صفحہ ١١٧

ملاحظہ فرمالیا آپ نے مرزا قادیانی کا انداز تفسیر؟ چہارم ...... (ازالہ اوہام جلد اول ص ٢٩ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١١٧) پر قرآن کی آیہ ذیل نقل کرنے کے بعد ایک عجیب ترجمہ کرتے ہیں۔ ”مناع للخير معتد اثيم ، عتل بعد ذلك زنيم (القلم: ١٢، ١٣)“ ﴿نیکی کی راہوں سے روکنے والا زنا کار اور بائیں ہمہ نہایت درجہ کا بدخلق اور ان سب عیبوں کے بعد ولدالزنا بھی ہے۔﴾

آپ نے اثیم کے معنی زنا کار اور زنیم کے معنی ولدالزنا کئے ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا قرآن کا مصنف یعنی اللہ اس طرح کی شستہ زبان استعمال کیا کرتا تھا اور کیا کوئی مہذب انسان اس انداز گفتگو کی برداشت کر سکتا ہے؟ آئیے دیکھیں کہ اہل زبان نے ان الفاظ کے کیا معنی بتائے ہیں۔ اثیم کا ماخذ ہے۔ اثم بمعنی گنہگار۔ (قاموس و منجد )

قرآن میں اثیم کا لفظ بیسیوں جگہ استعمال ہوا ہے۔ کہیں بھی زنا کے معنوں میں استعمال نہیں ہوا۔ مثلاً ”ان بعض الظن اثم“ یہ قرآن کی آیت ہے کیا آپ اس کی تفسیر یہ کریں گے کہ بعض ظن زنا ہیں؟ حضور ﷺ کا خط شاہ ایران کے نام پڑھئے۔ اس کا آخری حصہ یہ ہے۔ (اگر تم اسلام نہ لائے تو مجوس کا گناہ تیری گردن پر رہے گا )

کیا یہاں بھی گناہ سے مراد زنا ہے؟ اثیم کے معنی ہیں گنہگار و بس گناہ سینکڑوں ہو سکتے ہیں۔ ان تمام کو چھوڑ کر زنا مراد لینا کسی طرح بھی روا نہیں۔ اسی طرح زنیم کا ترجمہ ولدالزنا بھی درست نہیں۔ المنجد میں درج ہے۔ ”الزنيم ، اللئيم“ بخیل، بدبخت۔ ”الداعى“ متمنی۔ ”اللاحق بقوم ليس منهم ولاهم يحتاجون اليه“ قوم میں کسی ایسے آدمی کی شمولیت جو اس قوم میں سے نہ ہو اور نہ قوم کو اس کی ضرورت ہو۔

منتہی الارب میں مذکور ہے۔ زنیم۔ کامیر۔ مردے از قومے چسیدہ کہ نہ از ۔ ایشان بود و پسر خوانده (منتہی ) و ناکس۔ و سخت فرومایہ و بدخو کہ در ناکسی معروف باشد۔

پس یہ ہیں زنیم واثیم کے معانی لغات عرب میں۔ نہ جانے یہ زنا کار و ولدالزنا کے مفاہیم آپ نے کہاں سے لئے۔

پنجم ....... قرآن حکیم میں ایک مقام پر پیروان رسول کو خیر الامم کہا گیا ہے۔ ”کنتم خیر امة اخرجت للناس (آل عمران: ١١٠) “ ﴿ تم ایک بہترین قوم ہو۔ جو دنیا کی اصلاح کے لئے اٹھی۔ ﴾

صفحہ ١١٨

اخرجت: نکالی گئی۔ پیدا کی گئی۔

للناس: ل: لئے۔ ناس: انسانوں، یعنی انسانوں کے لئے۔

مطلب یہ کہ تمہارا مقصد نوع انسانی کی اصلاح وفلاح ہے۔ بات سیدھی سی تھی۔ لیکن مرزا قادیانی نے اس کی وہ تفسیر پیش کی کہ یہ آیہ معما بن کر رہ گئی۔ فرماتے ہیں: ’’الناس کے لفظ سے دجال ہی مراد ہے۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص ٢١، خزائن ج ١٧ ص ١٤١)

یعنی اے مسلمانو! تم دجال کے لئے پیدا کئے گئے ہو۔ کیا مطلب؟ کیا مسلمانوں نے صرف دجال کی اصلاح کرنا ہے؟ یا یہ مطلب ہے کہ ہم سب دجال کے لئے پیدا ہوئے ہیں۔ وہ جس طرح چاہے ہمیں استعمال کرے؟ آخر للناس کا لام برائے انتفاع ہے۔ پھر الناس جمع ہے اور دجال مفرد۔ جمع سے مفرد کیسے مراد ہوا؟

ششم...... ’’خطبہ الہامیہ میں ارشاد ہوتا ہے کہ: ’’صراط الذین انعمت علیہم‘‘ سے مراد وہ ابدال واولیاء ہیں جو مسیح موعود پر ایمان لائے۔‘‘ اور مغضوب وضالین سے مراد میرے منکر ہیں۔ تعجب ہے کہ آپ لوگ نماز پڑھنے کے باوجود مجھ پر ایمان نہیں لاتے اور مجھ سے بیعت نہیں کرتے۔

(ملخص خطبہ الہامیہ ص ١٢٤، ١٢٧، خزائن ج ١٦ ص ١٩٥)

یہ تفسیر محتاج تبصرہ نہیں۔

ہفتم...... قرآن میں حضرت آدم علیہ السلام کو مخاطب کر کے کہا گیا۔ ’’یــــــا آدم اسکن انت وزوجك الجنة (البقرہ: ٣٥)‘‘ ﴿اے آدم تو اپنی بیوی کے ساتھ جنت میں مقیم ہوجا۔﴾

مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ یہی آیت دو پیرایوں میں مجھ پر دوبارہ نازل ہوئی۔ ایک الفاظ یہی تھے اور دوسرے میں آدم کی جگہ لفظ مریم تھا۔ بہر حال مخاطب آدم ہو یا مریم۔ معنوں کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مرزا قادیانی اس کی تفسیر یوں فرماتے ہیں۔

اوّل...... ’’اے آدم تو اور جو شخص تیرا تابع اور رفیق ہے۔ جنت میں یعنی نجات حقیقی کے وسائل میں داخل ہو جاؤ۔‘‘

(براہین حاشیہ در حاشیہ ج ٣ ص ٤٩٦، خزائن ج ٢١ ص ٥٩١)

دوم...... ’’اے آدم تو اور تیرے دوست اور تیری بیوی بہشت میں داخل ہو ۔‘‘

(اربعین نمبر ٣ ص ٢٥، خزائن ج ١٧ ص ٤١٢، ٤١٣)

پہلی تفسیر میں صرف دوست جنت میں گیا تھا۔ اس میں بیوی بھی شامل ہوگئی ہے اور آیت وہی ہے۔

صفحہ ١١٩

سوم...... ”اے مریم (آدم کی جگہ مریم) تو مع اپنی دوستوں کے بہشت میں داخل ہو۔“

(کشتی نوح ص ٤٨، خزائن ج ١٩ ص ٤٨)

بیوی پھر رہ گئی۔

چہارم...... ”اے مریم! تو اور تیرے دوست اور تیری بیوی بہشت میں داخل ہو ۔“

(اربعین نمبر ٢ ص ١٧، خزائن ج ١٧ ص ٣٦٤)

بیوی پھر آ گئی۔ لیکن یہ عجیب قسم کی مریم ہے۔ جس کی بیوی بھی ہے؟

پنجم...... ”میں توام (جوڑا) پیدا ہوا تھا۔ میرے ساتھ ایک لڑکی تھی۔ جس کا نام جنت تھا اور یہ الہام کہ یا آدم اسکن...... جو آج سے بیس برس پہلے براہین کے صفحہ ٤٩٦ میں درج ہے۔ اس میں جو جنت کا لفظ ہے۔ اس میں ایک لطیف اشارہ ہے کہ وہ لڑکی جو میرے ساتھ پیدا ہوئی اس کا نام جنت تھا۔“

(تریاق القلوب ص ١٥٦، خزائن ج ١٥ ص ٤٧٩)

ششم...... ”یا آدم اسکن انت وزوجک الجنۃ یا مریم اسکن یا احمد اسکن“ اس جگہ تین جگہ زوج کا لفظ آیا ہے اور تین نام اس عاجز کے رکھے گئے ہیں۔ پہلا نام آدم یہ وہ ابتدائی ہے جب کہ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے اس عاجز کو روحانی وجود بخشا۔ اس وقت پہلی زوجہ کا ذکر فرمایا۔ پھر دوسری زوجہ کے وقت میں مریم نام رکھا۔ کیونکہ اس وقت مبارک اولاد دی گئی۔ جس کو مسیح سے مشابہت ملی اور تیسری زوجہ جس کی انتظار ہے۔ اس کے ساتھ احمد کا لفظ شامل کیا گیا۔

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٨)

لیکن تیسری زوجہ کا انتظار آخر تک انتظار ہی رہا تو ملاحظہ فرمالیا۔ آپ نے کہ مرزا قادیانی کے ہاں قرآنی معارف کا ذخیرہ کس قسم کا تھا؟

نشانات

نشانات سے مراد مرزا قادیانی کی پیش گوئیاں قبول شدہ دعائیں اور آپ کی بعثت کے متعلق دوسروں کے کشف وغیرہ ہیں۔ آپ کو خدائی تائید کے متعلق اس قدر یقین تھا کہ بارہا مخالفین سے کہا۔ ”اے میرے مخالف الرائے مولویو...... مجھے یقین دلایا گیا ہے کہ اگر آپ لوگ مل جل کر یا ایک ایک آپ میں سے ان آسمانی نشانوں میں میرا مقابلہ کرنا چاہیں جو اولیاء الرحمن کے لازم حال ہوا کرتے ہیں تو خدا تمہیں شرمندہ کرے گا اور تمہارے پردوں کو پھاڑے گا اور اس وقت تم دیکھو گے کہ وہ میرے ساتھ ہے۔ یاد رکھو کہ خدا صادقوں کا مددگار ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٤٧٢ ، خزائن ج ٣ ص ٣٥٣)

صفحہ ١٢٠

”کیا یہ ہیبت اور رعب باطل میں ہوا کرتا ہے کہ تمام دنیا کو مقابلہ کے لئے کہا جائے اور کوئی سامنے نہ آسکے۔ انہیں میرے مقابلہ پر روحانی امور کے موازنہ کے لئے کھڑا کریں۔ پھر دیکھیں کہ خدا تعالیٰ میری حمایت کرتا ہے یا نہیں۔“

(ازالہ اوہام حصہ اول ص ١١٦ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٥٧)

ان نشانات پر بحث کرنے سے پہلے یہ معلوم کرنا مناسب ہے کہ ان کی تعداد کیا تھی۔

نشانوں کی تعداد

ہیں۔ کیا ان دیندار مولویوں نے کبھی ان نشانوں کا بھی نام لیا۔“

(آسمانی فیصلہ ص ٣٢، خزائن ج ٤ ص ٣٤٢)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ١٨٩١ء میں نشانوں کی تعداد سینکڑوں تک پہنچی تھی۔ ممکن ہے چار سو، سات سو یا نو سو ہو۔ بہر حال ہزار سے کم تھی۔

الاول ١٣١١ھ مطابق ٢٢ ستمبر ١٨٩٣ء اور نیز مطابق ٨ اسوج ١٩٥٠ اور روز جمعہ ہے۔ اس عاجز سے تین ہزار سے کچھ زیادہ ایسے نشان ظاہر ہوچکے ہیں۔“

(شہادت القرآن ص ٧٣، خزائن ج ٦ ص ٣٦٩)

اور تین ہزار سے زیادہ نشان ظاہر ہوچکا ہے۔“

(تریاق القلوب ص ١٢، خزائن ج ١٥ ص ١٤٠)

نے میرے ہاتھ پر ظاہر فرمائے وہ سو سے بھی زیادہ ہیں۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٢٤ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤٦٠)

خدا تعالیٰ کا نشان ظاہر ہوا۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٩٤، خزائن ج ١٧ ص ١٨٠)

ذرا ١٨٩٣ء کی تحریر دوبارہ پڑھ لیجئے۔ آج کی تاریخ تک تین ہزار سے کچھ زیادہ نشان ظاہر ہوچکے ہیں۔ یعنی آٹھ برس پہلے تین ہزار اور اب صرف سو۔

مجھے بتلائی ہیں اور پھر اپنے وقت پر پوری ہوئیں وہ دس ہزار سے کم نہیں۔“

(کشتی نوح ص ٦، خزائن ج ١٩ ص ٦)

صفحہ ١٢١

سال میں دس ہزار مہینے میں آٹھ سو تینتیس، ہفتے میں دوسو اسی اور ایک دن میں چالیس معجزات سرزد ہوئے۔

٧...... ١٩٠٥ء میں بھی تعداد ہزار ہا تھی۔ ”اب تک میرے ہاتھ پر ہزار ہا نشان تصدیق رسول اللہ اور کتاب اللہ کے بارہ میں ظاہر ہو چکے ہیں۔“

(چشمہ مسیحی ص ١٨، خزائن ج ٢٠ ص ٣٥١)

٨...... صرف ایک سال بعد١؎ ۔ ”اگر خدا تعالیٰ کے نشانوں کو جو میری تائید میں ظہور میں آ چکے ہیں۔ آج کے دن تک شمار کیا جائے تو وہ تین لاکھ سے بھی زیادہ ہوں گے۔“

(حقیقۃ الوحی ص ٦٧، خزائن ج ٢٢ ص ٦٨)

حساب یوں ہوا۔ سال میں تین لاکھ، مہینے میں پچیس ہزار اور دن میں آٹھ سو تینتیس۔ اگر خواب کے لئے آٹھ گھنٹے، عبادت کے لئے چار گھنٹے۔ خوردونوش کے لئے تین گھنٹے، ملاقاتیوں کے لئے دو گھنٹے۔ تصنیف وتالیف وعظ وپند اور دیگر حوائج ضروریہ کے لئے چار گھنٹے نکال لئے جائیں تو باقی ہر روز صرف تین گھنٹے (شب وروز میں سے) بچتے ہیں۔ چلو چھ سہی۔ اگر آٹھ سو تینتیس نشانات کو چھ گھنٹوں میں پھیلایا جائے تو ایک گھنٹے میں ان کی تعداد ایک سو انتالیس اور ایک منٹ میں اندازاً اڑھائی بنتی ہے۔ ایک منٹ میں اڑھائی معجزے۔ کیا یہ نشانات اسی رفتار سے سرزد ہوتے تھے؟ خود فرماتے ہیں۔ ”اور کوئی مہینہ شاذ ونادر ایسا گزرتا ہو گا جس میں کوئی نشان ظاہر نہ ہو۔“

(حقیقۃ الوحی ص ١٩١، خزائن ج ٢٢ ص ١٩٩)

٩...... صرف چند روز بعد یہی تعداد گھٹ کر سینکڑوں تک رہ جاتی ہے۔ ”جو شخص ...... مجھ کو باوجود صدہا نشانوں کے مفتری ٹھہراتا ہے وہ مؤمن کیونکر ہو سکتا ہے۔“

(حقیقۃ الوحی ص ١٦٤، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٨)

١٠...... اور دسمبر ١٩٠٧ء میں پھر ایک لاکھ تک پہنچ جاتی ہے۔ ”خدا مجھ سے ہم کلام ہوتا ہے اور ایک لاکھ سے بھی زیادہ اس نے میرے ہاتھ پر نشان دکھلائے ہیں۔“

(مضمون محررہ ١٢؍دسمبر ١٩٠٧ء، مندرجہ چشمہ معرفت ص ٦٠، خزائن ج ٢٣ ص ٣٧٨)

١؎ حقیقت الوحی کافی ضخیم کتاب ہے۔ جسے مرزا قادیانی نے مارچ ١٩٠٦ء میں لکھنا شروع کیا تھا اور ١٥ مئی ١٩٠٧ء کو ختم فرمایا۔ یہ اقتباس آغاز کتاب کا ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ١٩٠٦ء کے مارچ تک آپ سے تین لاکھ سے زیادہ نشانات ظاہر ہو چکے تھے۔

صفحہ ١٢٢

دو روز پہلے مکمل فرمائی تھی۔ اس میں فرماتے ہیں۔ ”میرے ہاتھ پر اس نے صد ہا نشان دکھائے ہیں جو ہزارہا گواہوں کے مشاہدہ میں آ چکے ہیں ۔“

(پیغام صلح ص ١٣، خزائن ج ٢٣ ص ٤٤٧)

ان اقتباسات کا ملخص یہ ہوا کہ آپ کے نشانات :

نشانات ایک سو ہوں ، دس ہزار ہوں یا تین لاکھ۔ ان تمام کو آج پچاس برس کے بعد پرکھنا مشکل ہے۔ اس لئے ہم سطور ذیل میں صرف دس نشانات پہ بحث کریں گے۔

احمد بیگ ہوشیار پوری مرزا قادیانی کے اقرباء میں سے تھے۔ وہ ایک مرتبہ مرزا قادیانی کے ہاں گئے ۔ کیوں؟

”تفصیل اس کی یہ ہے کہ نامبردہ (احمد بیگ) کی ایک ہمشیرہ ہمارے ایک چچا زاد بھائی غلام حسین کو بیاہی گئی تھی۔ غلام حسین عرصہ پچیس سال سے مفقود الخبر ہے۔ اس کی زمین جس کا حق ہمیں پہنچتا ہے۔ نامبردہ کی ہمشیرہ کے نام کاغذات سرکاری میں درج کرا دی گئی تھی۔ اب حال کے بندوبست میں نامبردہ نے اپنی ہمشیرہ کی اجازت سے یہ چاہا کہ وہ زمین اپنے بیٹے محمد بیگ کے نام بطور ہبہ منتقل کرا دیں۔ چونکہ وہ ہبہ نامہ بجز ہماری رضا مندی کے بیکار تھا۔ اس لئے مکتوب الیہ (احمد بیگ) نے بہ تمام تر عجز و انکساری ہماری طرف رجوع کیا۔ تاہم اس ہبہ پر دستخط

کر دیں اور قریب تھا کہ دستخط کر جناب الٰہی میں استخارہ کر لینا چا کہ اس شخص کی دختر کلاں (محم نکاح تمہارے لئے موجب بر اس لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہو اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اور تنگی اور مصیبت پڑے گی اور پیش آئیں گے۔ پھر ان دنوں کہ خدا تعالیٰ نے یہ مقرر کر رکھا تھی۔ ہر ایک روک دور کرنے

اس پیش گوئی کے ا

ہوں گے۔

یہ پیش گوئی الہامی خاموش بیٹھے رہتے۔ لیکن خدا

بات کو لغو سمجھتے ہیں۔ میں یہ عہد میں اپنی زمین اور باغ، میں آ زمین اور مملوکات کا ایک تہائی دوں گا۔ آپ مجھے مصیبتوں میں

صفحہ ١٢٣

کردیں اور قریب تھا کہ دستخط کردیتے۔ لیکن یہ خیال آیا کہ ایک مدت سے ہماری عادت ہے۔ جناب الٰہی میں استخارہ کر لینا چاہئے۔ پھر استخارہ کیا۔ اس خدائے قادر و حکیم مطلق نے مجھے فرمایا کہ اس شخص کی دختر کلاں (محمدی بیگم) کے نکاح کے لئے سلسلۂ جنبانی کر اور ان کو کہہ دے کہ یہ نکاح تمہارے لئے موجب برکت اور ایک رحمت کا نشان ہوگا۔ لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہوگا اور جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی وہ روز نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس دختر کا تین سال تک فوت ہو جائے گا اور اس کے گھر پر تفرقہ اور تنگی اور مصیبت پڑے گی اور درمیانی زمانہ میں بھی اس دختر کے لئے کئی کراہت اور غم کے امر پیش آئیں گے۔ پھر ان دنوں میں جو زیادہ تصریح اور تفصیل کے لئے بار بار توجہ کی گئی تو معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے یہ مقرر کر رکھا ہے کہ وہ مکتوب الیہ کی دختر کلاں کو جس کی نسبت درخواست کی گئی تھی۔ ہر ایک روک دور کرنے کے بعد انجام کار اسی عاجز کے نکاح میں لاوے گا۔“

(اشتہار مورخہ ١٠ جولائی ١٨٨٨ء، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٧، ١٥٨)

اس پیش گوئی کے اجزاء یہ ہیں۔

ہوں گے۔

یہ پیش گوئی الہامی تھی۔ یہ اللہ کا فرض تھا کہ وہ اس نکاح کا انتظام کرتا اور مسیح موعود خاموش بیٹھے رہتے۔ لیکن خدائی وعدہ کے باوجود مرزا قادیانی نے بھی ہر ممکن کوشش فرمائی۔ مثلاً:

١....... ”احمد بیگ کا لکھا اے عزیز سنئے: آپ کو کیا ہو گیا ہے کہ آپ میری سنجیدہ بات کو لغو سمجھتے ہیں۔ میں یہ عہد استوار کے ساتھ لکھ رہا ہوں کہ اگر آپ نے میری بات کو مان لیا تو میں اپنی زمین اور باغ، میں آپ کو حصہ دوں گا اور آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ آپ کی لڑکی کو اپنی زمین اور مملوکات کا ایک تہائی دوں گا اور میں سچ کہتا ہوں کہ اس میں سے جو کچھ مانگیں گے آپ کو دوں گا۔ آپ مجھے مصیبتوں میں اپنا دستگیر اور بار اٹھانے والا پائیں گے۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٧٣، خزائن ج ٥ ص ٥٧٤)

صفحہ ١٢٣

٢....... دوبارہ لکھا۔ ”ہزاروں پادری شرارت سے منتظر ہیں کہ یہ پیش گوئی جھوٹی نکلے تو ہمارا پلہ بھاری ہو۔ یہ عاجز آپ سے ملتمس ہے کہ آپ اپنے ہاتھ سے اس پیش گوئی کے پورا ہونے کے لئے معاون ہیں۔ تاکہ خدا تعالیٰ کی برکتیں آپ پر نازل ہوں۔“

(منقول از کلمہ فضل رحمانی، مؤلفہ قاضی فضل احمد)

٣....... پھر دھمکی دی۔ پہلی بیگم سے مرزا قادیانی کے دو بیٹے تھے۔ فضل احمد اور سلطان احمد۔ فضل احمد کی شادی مرزا علی شیر بیگ کے ہاں ہوئی تھی۔ احمد بیگ مرزا علی شیر کا سالا تھا۔ آپ نے ایک خط مرزاعلی شیر کی زوجہ کو اور دوسرا خود علی شیر کو لکھا۔ مضمون یہ تھا۔

مشفقی مرزا علی شیر بیگ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ!

السلام علیکم!

میں نے سنا ہے کہ: ”عید کی دوسری یا تیسری تاریخ کو اس لڑکی (محمدی بیگم) کا نکاح ہونے والا ہے اور آپ کے گھر کے لوگ (بیوی) اس مشورے میں ساتھ ہیں۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اس نکاح کے شریک میرے سخت دشمن ہیں۔ عیسائیوں کو ہنسانا، ہندوؤں کو خوش کرنا چاہتے ہیں...... ان لوگوں نے پختہ ارادہ کر لیا ہے کہ اس کو خوار و ذلیل کیا جاوے اور روسیاہ کیا جاوے۔ میں نے آپ کی خدمت میں لکھ دیا ہے کہ اگر آپ اپنے ارادے سے باز نہ آئیں اور اپنے بھائی (احمد بیگ) کو اس نکاح سے روک نہ دیں تو پھر ایک طرف جب محمدی کا کسی شخص سے نکاح ہوگا تو دوسری طرف سے فضل احمد آپ کی لڑکی کو طلاق دے گا۔ اگر نہیں دے گا تو میں اس کو عاق اور لاوارث کردوں گا۔“

(مکتوب مرزا قادیانی محررہ ٢٥؍مئی ١٨٩١ء،نوشتہ غیب ١٢٤، ١٢٥)

سوچنے کا مقام ہے کہ نکاح کی بشارت اللہ نے دی۔ تشہیر مسیح موعود نے کی۔ اڑ بیٹھے لڑکی کے والدین اور پٹ گیا غریب فضل احمد۔ جسے بیوی کو چھوڑنے اور محروم الارث ہونے کا نوٹس مل گیا۔ کوئی پوچھے کہ اس کا کیا قصور؟ اگر قصور تھا تو صرف خدا تعالیٰ کا۔ جس نے اپنی بجلیوں، وباؤں اور تازیانوں سے کام نہ لیا۔ بات کہہ ڈالی اور اسے منوانے کا کوئی انتظام نہ کیا۔ دوسرے بیٹے سلطان احمد (نائب تحصیلدار لاہور) کے متعلق ایک اشتہار نکالا جس میں درج تھا ”میرا بیٹا سلطان احمد اور اس کی تائی اس تجویز میں ہیں کہ عید کے دن یا اس کے بعد اس لڑکی کا کسی سے نکاح کیا جائے۔ لہٰذا میں آج کی تاریخ سے کہ ٢؍مئی ١٨٩١ء ہے۔ عوام اور خواص پر بذریعہ اشتہار ہذا ظاہر کرتا ہوں کہ اگر یہ لوگ اس ارادہ سے باز نہ آئے تو اسی نکاح کے دن سے سلطان احمد عاق اور محروم الارث ہوگا اور اسی روز سے اس کی والدہ پر میری طرف سے طلاق ہے۔“

(اشتہار مندرجہ تبلیغ رسالت ج٣ ص٩، مجموعہ اشتہارات ج١ ص٢١٦،٢١٧)

صفحہ ١٢٥

کتنے گھر برباد ہوئے۔

اصل پیش گوئی کی عبارت پھر پڑھئے۔ ان کے گھر پر تفرقہ اور تنگی پڑے گی اور دیکھئے کہ تفرقہ کی مصیبت کہاں جا ٹوٹی۔

پھر کیا ہوا۔ یہی کہ عید کے معاً بعد (مئی ١٨٩١ء) محمدی بیگم کا نکاح سلطان احمد سے ہو گیا۔ نکاح کے بعد بھی مرزا قادیانی کو اپنی وحی پہ ایمان کامل رہا۔

١٨٩٣ء میں اس پیش گوئی کی عظمت پہ بحث کرتے ہوئے فرمایا کہ پیش گوئی بہت ہی عظیم الشان ہے۔ کیونکہ اس کے اجزاء یہ ہیں۔

١٨٩٤ء میں ارشاد ہوا۔ ’’اے خدائے قادر وعلیم اگر آتھم کا عذاب مہلک میں گرفتار ہونا اور احمد بیگ کی دختر کلاں کا آخر اس عاجز کے نکاح میں آنا۔ یہ پیش گوئیاں تیری طرف سے نہیں تو مجھے نامرادی اور ذلت کے ساتھ ہلاک کر۔‘‘

(اشتہار مورخہ ٢٧؍اکتوبر ١٨٩٤ء، تبلیغ رسالت ج٣ ص١٨٦، مجموعہ اشتہارات ج٢ ص١١٥، ١١٦)

١٨٩٦ء میں کہا۔ ’’اس عورت کا اس عاجز کے نکاح میں آجانا یہ تقدیر مبرم ہے۔ جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی۔ کیونکہ اس کے لئے الہام الٰہی میں یہ کلمہ موجود ہے کہ ’’لا تبديل لکلمات اللہ‘‘ (اللہ کی بات بدل نہیں سکتی) یعنی میری یہ بات ہرگز نہیں ٹلے گی۔ پس اگر ٹل جائے تو خدا کا کلام باطل ہوتا ہے۔‘‘

(اعلان ٦؍ستمبر ١٨٩٦ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج٣ ص١١٥، مجموعہ اشتہارات ج٢ ص٤٤)

صفحہ ١٢٦

١٩٠١ء میں فرمایا۔ ”اور ایک حصہ پیش گوئی کا یعنی احمد بیگ کا میعاد کے اندر فوت ہو جانا حسب منشائے پیش گوئی صفائی سے پورا ہو گیا اور دوسرے کی انتظار ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٢٨، خزائن ج ١٧ ص ١٥٢)

١٩٠٢ء میں اعلان کیا۔ ”یاد رکھو کہ اس (محمدی بیگم والی) کی دوسری جز پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ اے احمقو! یہ (پیش گوئی) انسان کا افتراء نہیں۔ یہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار نہیں۔ یقیناً سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٨)

اور ایک صفحہ پہلے اسی پیش گوئی کے متعلق لکھا۔ ”جس وقت یہ سب باتیں پوری ہو جائیں گی۔ اس دن...... نہایت صفائی سے (مخالفین کی) ناک کٹ جائے گی اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سوروں کی طرح کر دیں گے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)

مئی ١٨٩١ء میں نکاح ہوا۔ حسب پیش گوئی سلطان احمد (شوہر محمدی بیگم) کو دسمبر ١٨٩٣ء سے پہلے فوت ہو جانا چاہئے تھا۔ لیکن وہ اس کے بعد بھی تقریباً چالیس برس تک زندہ رہا۔ اس کے متعلق ١٩٠٢ء میں فرماتے ہیں۔ ”شاتان تذبحان۔ دو بکریاں ذبح کی جائیں گی۔ پہلی بکری سے مراد احمد بیگ ہوشیار پوری ہے اور دوسری بکری سے مراد اس کا داماد...... اور پھر (اللہ نے) فرمایا کہ غم مت کر۔ کیونکہ ایسا ہی ظہور میں آئے گا۔ کیا دنیا میں کوئی اور شخص موجود ہے جس کی تحریروں میں یہ عظیم الشان سلسلہ پیش گوئی کا پایا جائے۔ یقیناً کوئی سخت بے حیا ہوگا۔ جو اس فوق العادت سلسلے سے انکار کرے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٧، خزائن ج ١١ ص ٣٤١)

یہ سلسلہ امید جاری رہا اور ١٩٠٥ء میں ارشاد ہوا۔ ”وحی الہی میں یہ نہیں تھا کہ دوسری جگہ بیاہی نہیں جائے گی۔ یہ تھا کہ ضرور ہے کہ اوّل دوسری جگہ بیاہی جائے...... خدا پھر اس کو تیری طرف لائے گا۔“

(الحکم مورخہ ٣٠؍ جون ١٩٠٥ء ص ٢)

جب ١٨٨٨ء کی پیش گوئی تقریباً بیس برس تک پوری نہ ہوئی اور مرزا قادیانی پوری طرح مایوس ہو گئے تو آپ نے ١٩٠٧ء میں لکھا۔ ”خدا کی طرف سے ایک شرط بھی تھی جو اسی وقت شائع کی گئی تھی اور وہ کہ ”أيتها المرأة توبى توبى فان البلاء على عقبك“ (اے عورت توبہ کر کہ مصائب تیرا پیچھا کر رہے ہیں) پس جب ان لوگوں نے اس شرط کو پورا کر دیا یا تو نکاح فسخ ہو گیا یا تاخیر میں پڑ گیا۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٢، ١٣٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٠)

صفحہ ١٢٧

پیش گوئی کو دوبارہ غور سے پڑھئے۔ یہ نئی شرط وہاں نہیں ملے گی۔ اچھا مان لیا کہ تھی اور ان لوگوں نے اس شرط کو پورا کر دیا تھا۔ نتیجتاً نکاح فسخ یا مؤخر ہو گیا تھا تو پھر ١٨٩١ء سے ١٩٠٥ء تک پورے چودہ برس مسلسل یہ کیوں کہتے رہے کہ خدا پھر اس کو تیری طرف لائے گا؟ کیا فسخ نکاح کی اطلاع اللہ نے آپ کو نہیں دی تھی؟ پھر یہ بات بھی میری ناقص سمجھ سے بالاتر ہے کہ عورت کے توبہ کرنے سے نکاح کا رشتہ کیسے ٹوٹ گیا۔ ”اس عورت کا نکاح آسمان پر میرے ساتھ پڑھا گیا ۔“

(تتمۃ حقیقۃ الوحی ص ١٣٢، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٠)

اگر کوئی بیوی کسی گناہ سے توبہ کرے تو کیا اس کا نکاح فسخ ہو جاتا ہے۔ پھر یہ بھی سمجھ میں نہیں آیا کہ نکاح پڑھا اللہ نے ، زبردستی کی اس کے اقرباء نے، کہ سلطان احمد کے حوالے کردی۔ فضل احمد اور سلطان احمد کی والدہ کو طلاق دی مرزا قادیانی نے، اور توبہ کرے۔ محمدی بیگم؟ کس بات پر؟ مان لیا کہ محمدی بیگم نے قصور کیا اور اس نے توبہ کر لی تو پھر وہ اللہ کا باندھا ہوا رشتہ نکاح کیسے ٹوٹ گیا؟ کھولئے فقہ کی کوئی کتاب اور پڑھئے باب النکاح کیا وہاں کوئی ایسی دفعہ موجود ہے کہ اگر بیوی گناہوں سے تائب ہو جائے تو وہ شوہر پہ حرام ہو جاتی ہے۔ اس تاویل میں ایک اور معمہ بھی حل طلب ہے۔

خدا کی طرف سے ایک شرط بھی تھی کہ اے عورت توبہ کر۔ جب ان لوگوں نے اس شرط کو پورا کر دیا تو نکاح یا فسخ ہو گیا یا تاخیر میں پڑ گیا۔

شرط کا تعلق صرف عورت سے تھا۔ لیکن اسے پورا کیا۔ ان لوگوں نے، کن لوگوں نے؟ عورت کے اقرباء نے؟ کس طرح؟ کیا وہ تائب ہو کر معافی مانگنے آئے تھے؟ کیا انہوں نے سلطان احمد کو مجبور کیا تھا کہ وہ محمدی بیگم کو طلاق دے دے؟ کیا وہ حلقہ بیعت میں شامل ہوگئے تھے؟ اگر ان میں سے کوئی بات ہی واقع نہیں ہوئی تو پھر ان لوگوں نے اس شرط کو پورا کیسے کیا؟

یہ جملہ بھی خوب ہے۔ ”نکاح یا تو فسخ ہو گیا۔ یا تاخیر میں پڑ گیا۔“

آپ تسلیم فرماتے ہیں کہ نکاح آسمان پہ پڑھا جا چکا تھا۔ تو پھر تاخیر میں کیسے پڑ گیا اور اگر فسخ ہو گیا تھا تو اللہ کا فرض تھا کہ اپنے رسول کو مطلع کرتا۔ پورے انیس برس تک آپ اس عورت کی واپسی کے منتظر رہے اور اللہ نے ایک مرتبہ بھی یہ نہ فرمایا کہ انتظار نہ کیجئے۔ ہم نکاح فسخ کر چکے ہیں۔ یہ جملہ صاف بتاتا ہے کہ مرزا قادیانی کو اللہ کی طرف سے قطعاً کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی تھی۔ ورنہ وہ مترددانہ انداز میں یہ نہ کہتے ۔ فسخ ہو گیا ہے یا تاخیر میں پڑ گیا ہے۔ نکاح فسخ ہوا تھا یا مؤخر؟ اللہ کو تو معلوم تھا۔ اگر اللہ اپنے رسول کو بھی حقیقت حال سے مطلع کر دیتا تو وہ فسخ یا تاخیر میں سے صرف ایک صورت کا ذکر کرتے۔ پھر پڑھیئے:

صفحہ ١٢٨

”اے احمقو! یہ پیش گوئی کسی خبیث مفتری کا کاروبار نہیں۔ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ وہی خدا جس کی باتیں ٹل نہیں سکتیں ۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج١١ ص٣٣٨)

”اور بد خیال لوگوں کو واضح ہو کہ ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیش گوئیوں سے بڑھ کر کوئی محک امتحان نہیں ہو سکتا۔“

(تبلیغ رسالت ج١ ص١١٨، مجموعہ اشتہارات ج١ ص١٥٩)

٢......ڈپٹی آتھم

جون ١٨٩٣ء کا واقعہ ہے کہ امرتسر کے مقام پر ایک زبردست مباحثہ ہوا۔ عیسائیوں کی طرف سے عبداللہ آتھم تھے اور دوسری طرف مرزا قادیانی۔ پندرہ دن تک یہ مباحثہ جاری رہا۔ مباحثہ کا موضوع تثلیث تھا۔ آخری دن مرزا قادیانی نے ایک اہم اعلان فرمایا۔ جس کے الفاظ یہ تھے۔ ”آج رات جو مجھ پر کھلا ہے وہ یہ ہے کہ جب میں نے بہت تضرع اور ابتہال سے جناب الٰہی میں دعاء کی کہ تو اس امر میں فیصلہ کر اور ہم عاجز بندے ہیں۔ تیرے فیصلے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔ تو اس نے مجھے یہ نشان بشارت کے طور پر دیا ہے کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور سچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے۔ وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا ۔ اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی ۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے۔ اس کی اس سے عزت ظاہر ہوگی اور اس وقت جب یہ پیش گوئی ظہور میں آئے گی۔ بعض اندھے سوجاکھے کئے جائیں گے اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے اور بعض بہرے سننے لگیں گے۔“

(پیش گوئی ٥؍جون ١٨٩٣ء، مندرجہ جنگ مقدس ص٢١٠، خزائن ج٦ ص٢٩٢)

پیش گوئی کا خلاصہ یہ نکلا کہ جو فریق عاجز انسان (مسیح) کو خدا بنا رہا ہے وہ پندرہ ماہ (یعنی ٥؍ستمبر ١٨٩٤ء) تک ہاویہ میں گرایا جائے گا۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔ اس پیش گوئی میں دو لفظ تشریح طلب ہیں۔ ہاویہ اور حق، ہاویہ کی تشریح خود مرزا قادیانی یوں فرماتے ہیں۔ ”بشرنی ربی بعد دعوتی بموته الی خمسة عشر شهرا من یوم خاتمة البحث “ میری دعاء کے بعد اللہ نے مجھے بتایا کہ آتھم خاتمہ بحث کے بعد پندرہ ماہ کے اندر مر جائے گا۔

(کرامات الصادقین، اتمام الحجۃ علی المکفرین ص٣، خزائن ج٧ ص١٦٣)

یاد رکھئے کہ ہاویہ کی تشریح خدائی ہے۔ بشرنی ربی جو اللہ نے بتائی ہے۔ باقی رہا لفظ حق تو پیش گوئی کے یہ الفاظ پھر پڑھئے ۔ ”جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا

صفحہ ١٢٩

بتا رہا ہے۔ یعنی جھوٹ سے مراد عاجز انسان کو خدا بنانا ہے اور سچ کیا ہے؟ ” اور جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے۔“

ایک خدا کو ماننا اس پیش گوئی کے رو سے رجوع الی الحق کا مفہوم ایک ہی ہو سکتا ہے۔ یعنی تثلیث سے تائب ہو کر توحید قبول کرنا۔

اس پیش گوئی کے پورا ہونے پر آپ کو کتنا یقین تھا۔ الفاظ ذیل میں دیکھئے ۔ ” اگر یہ پیش گوئی جھوٹی نکلی تو میں ہر ایک سزا اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جاوے، روسیاہ کیا جاوے۔ میرے گلے میں رسا ڈال دیا جاوے۔ مجھ کو پھانسی دیا جاوے۔ ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں اور میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ زمین آسمان ٹل جائیں پر اس کی بات نہ ٹلے گی ۔“

(مندرجہ جنگ مقدس ص ٢١١، خزائن ج ٦ ص ٢٩٣)

دن گزرتے گئے اور احمدی حلقوں میں اضطراب بڑھتا گیا۔ خود مرزا قادیانی بے حد پریشان تھے کہ میعاد میں صرف چودہ دن رہ گئے ہیں اور آتھم ہر طرح بخیر و عافیت ہے۔ چنانچہ ایک خط میں لکھتے ہیں ۔ ” مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ عنایت نامہ معہ کارڈ پہنچا۔ اب تو صرف چند روز (چودہ روز ) پیش گوئی میں رہ گئے ہیں۔ دعاء کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو امتحان سے بچاوے۔ شخص معلوم ( آتھم ) فیروز پور میں ہے۔ تندرست و فربہ ہے۔ خدا تعالیٰ اپنے ضعیف بندوں کو ابتلاء سے بچاوے۔ آمین ثم آمین! مولوی صاحب کو بھی لکھیں کہ اس دعاء میں شریک رہیں ۔ والسلام! خاکسار: غلام احمد از قادیان !

(٢٢ اگست ١٨٩٤ء، مکتوبات احمدیہ ج ٥ نمبر ٤ ص ١١٨)

یہاں تک کہ آخری دن آگیا۔ ” بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ سنوری نے کہ جب آتھم کی میعاد میں صرف ایک دن باقی رہ گیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھ سے اور میاں حامد علی صاحب مرحوم سے فرمایا کہ اتنے چنے (تعداد یاد نہیں رہی ) لے لو اور ان پر فلاں سورت کا وظیفہ اتنی تعداد میں پڑھو۔ (وظیفے کی تعداد بھی یاد نہیں ) میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ مجھے وہ سورت بھی یاد نہیں رہی ۔ مگر اتنا یاد ہے کہ وہ چھوٹی سی سورت تھی۔ ہم نے یہ وظیفہ ساری رات صرف کر کے ختم کیا۔ وظیفہ ختم کرنے پر ہم وہ دانے حضرت صاحب کے پاس لے گئے۔ اس کے بعد حضرت صاحب ہم دونوں کو قادیان سے باہر غالباً شمال کی طرف لے گئے اور فرمایا یہ دانے کسی غیر آباد کنوئیں میں ڈالے جائیں گے اور فرمایا کہ جب میں دانے کنوئیں میں پھینک دوں تو ہم سب کو سرعت کے ساتھ منہ پھیر کر واپس لوٹ آنا چاہئے اور مڑ کر نہیں دیکھنا چاہئے۔ چنانچہ حضرت صاحب نے ایک غیر آباد کنوئیں میں ان دانوں کو پھینک دیا اور پھر جلدی سے منہ پھیر کر

صفحہ ١٣٠

سرعت کے ساتھ واپس لوٹ آئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ جلدی جلدی واپس چلے آئے اور کسی نے منہ پھیر کر پیچھے کی طرف نہ دیکھا۔“

(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ١٧٨، روایت نمبر ١٦٠)

ان تمام حیلوں، دعاؤں اور وظیفوں کے باوجود آتھم صحیح و سالم باقی رہا۔ ٦ ستمبر ١٨٩٣ء کی صبح کو عیسائیوں اور دیگر فرقوں نے امرتسر، لدھیانہ اور بعض دیگر شہروں میں وہ جلوس نکالے۔ وہ نعرے کسے۔ اس قدر گالیاں دیں۔ ایسے ایسے پوسٹر چسپاں کئے کہ خدا کی پناہ۔ عیسائی تو رہے ایک طرف خود مسلمانوں نے بڑا ہلڑ مچایا۔ جابجا منظوم منثور اشتہارات چسپاں کئے۔ چند اشتہارات کے اقتباسات ملاحظہ ہوں۔

خواجہ صاحب لاہوری کہاں ہیں؟ سچ ہے۔ ”ولو تقول علینا“

(امرتسر کے مسلمانوں کا اشتہار، مورخہ ٦ ستمبر ١٨٩٣ء)

ہوا بحث نصاریٰ میں بہ آخر
مسیحائی کا یہ انجام مرزا
زمین و آسمان قائم ہیں لیکن
ترے وہ ٹل گئے الہام مرزا
غضب تھی تجھ پہ ستمگر چھٹی ستمبر کی
نہ دیکھی تو نے سحر چھٹی ستمبر کی
ذلیل و خوار ندامت سے منہ چھپاتے تھے
ترے مریدوں پہ محشر چھٹی ستمبر کی

عیسائیوں کی طرف سے بھی بڑی تعداد میں دل آزار پوسٹر شائع ہوئے۔ مثلاً:

ایسی مرزا کی گت بنائیں گے
سارے الہام بھول جائیں گے
خاتمہ ہووے گا نبوت کا
پھر فرشتے کبھی نہ آئیں گے
صفحہ ١٣١

ں آپ کے ساتھ جلدی جلدی واپس چلے آئے اور کسی

(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ١٧٨، روایت نمبر ١٦٠)

یوں کے باوجود آتھم صحیح وسالم باقی رہا۔ ٦ ستمبر ١٨٩٤ء لودھیانہ اور بعض دیگر شہروں میں وہ جلوس نکالے۔ وہ تھے ایسے پوسٹر چسپاں کئے کہ خدا کی پناہ۔ عیسائی تو رہے تہ جابجا منظوم منشور اشتہارات چسپاں کئے۔ چند

خلق کی نظروں میں رسوا ہوا۔ حکیم نورالدین کہاں ہیں؟ ولو تقول علينا“

(امرتسر کے مسلمانوں کا اشتہار ، مورخہ ٦ ستمبر ١٨٩٣ء)

ٹائی میں یہ آخر
یہ انجام مرزا
قائم ہیں لیکن
گئے غلام مرزا
ستمبر چھٹی ستمبر کی
ل کر چھٹی ستمبر کی
سے منہ چھپاتے تھے
صفر چھٹی ستمبر کی

د میں دل آزار پوسٹر شائع ہوئے۔ مثلاً:

بنائیں گے
جائیں گے
نبوت کا
آئیں گے

دوم ......

پنجۂ آتھم سے مشکل ہے رہائی آپ کی
توڑ ہی ڈالیں گے وہ نازک کلائی آپ کی
جھوٹ ہیں باطل ہیں دعوے قادیانی کے سبھی
بات سچی ایک بھی ہم نے نہ پائی آپ کی
خوب ہے جبریل اور الہام والا وہ خدا
آبرو سب خاک میں کیسی ملائی آپ کی

سوم ......

اب دام مکر اور کسی جا بچھائیے
بس ہو چکی نماز مصلےٰ اٹھائیے

ہم نے ان اشتہارات میں سے نسبتاً مہذب اقوال انتخاب کئے ہیں ورنہ ان میں مغلظات کا وہ ہجوم ہے کہ نقل کرتے بھی حجاب آتا ہے۔ ان اشتہارات سے صرف یہ دکھانا مقصود تھا کہ آتھم اور اس کے فریق نے پیش گوئی کی شرط رجوع الی الحق کو پورا نہیں کیا تھا۔ بلکہ وہ اپنے طغیان وتمرد پر ڈٹے ہوئے تھے اور انہوں نے ٦ ستمبر ١٨٩٤ء کو مرزا قادیانی اور خدا و جبریل کی انتہائی توہین کی۔ نہ صرف ٦ ستمبر کو بلکہ عبداللہ آتھم اسلام اور مرزا قادیانی کے خلاف مسلسل لکھتا رہا۔ اس کی ایک نہایت زہریلی کتاب ”خلاصہ مباحثہ“ جس میں تثلیث پر پرزور دلائل ہیں۔ توحید کا مضحکہ اڑایا گیا ہے اور مرزا قادیانی پر بے پناہ پھبتیاں کسی گئی ہیں۔ اسی زمانے (پندرہ ماہ) کی تصنیف ہے۔ ان واقعات کی روشنی میں کون کہہ سکتا ہے کہ آتھم نے رجوع الی الحق کر لیا تھا اور عاجز انسان کو خدا بنانے سے باز آ گیا تھا؟ اگر نہیں کیا تھا اور یقیناً نہیں کیا تھا تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ بسزائے موت ہاویہ میں کیوں نہیں گرا؟ آخر یہ پیش گوئی اللہ کی طرف سے تھی یہ کسی انسان کا افتراء نہیں تھا اور مرزا قادیانی نے اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر فرمایا تھا۔ ”وہ ضرور ایسا کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ زمین آسمان ٹل جائیں۔ پر اس کی بات نہ ٹلے گی۔“

مرزا قادیانی نے اس سوال کے مختلف جوابات ارشاد فرمائے ہیں۔ مثلاً: اول ...... ”کہ خدا اپنے وعدے کو توڑ سکتا ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں۔ چونکہ سزا دینا سزا کا وعدہ کرنا خدا تعالیٰ کی ان صفات میں داخل نہیں۔ جو ام الصفات ہیں۔ کیونکہ دراصل اس نے انسان کے لئے نیکی کا ارادہ کیا ہے۔ اس لئے خدا کا وعید بھی جب تک انسان زندہ ہے اور

صفحہ ١٣٢

اپنی تبدیلی کرنے پر قادر ہے۔ فیصلہ ناطقہ نہیں ہے۔ لہٰذا اس کے برخلاف کرنا کذب یا عہد شکنی میں داخل نہیں ہے۔‘‘

(انجام آتھم ص١٠ حاشیہ، خزائن ج١١ ص١٠)

دوم.......کہ ”گو آتھم بظاہر زندہ تھا لیکن دراصل مرچکا تھا۔ آتھم نے اپنی کمال سراسیمگی سے پیش گوئی کی میعاد میں دنیا پر ظاہر کردیا کہ وہ پیش گوئی کی عظمت سے سخت خوف میں پڑ گیا اور اس کے دل کا آرام جاتا رہا۔ اکثر وہ روتا تھا۔ وغیرہ وغیرہ۔ آتھم صاحب موت سے پہلے ہی مرگئے اور ہماری سچائی کے پوشیدہ ہاتھ نے ایسا انہیں دبایا کہ گویا وہ زندہ ہی قبر میں داخل ہوگئے۔‘‘

(انجام آتھم ص١٠،١١، خزائن ج١١ ص١٠،١١)

سوم.......”کہ خدا تعالیٰ نے ایک نئے الہام کے رو سے آتھم کو مہلت دے دی تھی۔‘‘ (نورالاسلام ص٢، خزائن ج٩ ص٢) میں اس الہام ”اطلع اللہ علی ھمہ وغمه“ کا ترجمہ یہ لکھا ہے کہ ”خدا تعالیٰ نے اس کے ہم وغم پر اطلاع پائی اور اس کو مہلت دی۔‘‘

(انجام آتھم ص٢٢ حاشیہ، خزائن ج١١ ص٢٢)

لیکن ”انوار الاسلام“ ٢٧؍اکتوبر ١٨٩٤ء کی تصنیف ہے اور پیش گوئی کی میعاد ٥؍ستمبر ١٨٩٤ء تک تھی۔ ایک ماہ بائیس دن گزر جانے کے بعد مہلت دینے کا مطلب؟ مزہ تو تب تھا کہ میعاد سے پہلے الہام مہلت نازل ہوتا۔ تا کہ ٦؍ستمبر والے طوفان بدتمیزی سے تو نجات ملتی۔

چہارم....... ”سبب اس پیش گوئی کرنے کا یہی تھا کہ اس (آتھم) نے اپنی کتاب اندرونہ بائبل میں آنحضرت صلعم کا نام دجال رکھا تھا۔ سو اس کو پیش گوئی کرنے کے وقت قریباً ستر آدمیوں کے روبرو سنادیا گیا تھا کہ سبب اس پیش گوئی کا یہی ہے کہ تم نے ہمارے نبی کو دجال کہا تھا۔ سو تم اگر اس لفظ سے رجوع نہیں کرو گے تو پندرہ ماہ میں ہلاک کئے جاؤ گے۔ سو آتھم نے اسی مجلس میں رجوع کیا اور کہا کہ معاذاللہ میں نے آنجناب کی شان میں ایسا لفظ کوئی نہیں کہا اور دونوں ہاتھ اٹھائے اور زبان منہ سے نکالی اور لرزتی ہوئی زبان سے انکار کیا۔ جس کے نہ صرف مسلمان گواہ بلکہ چالیس سے زیادہ عیسائی بھی گواہ ہوں گے۔ پس کیا یہ رجوع نہ تھا۔‘‘

(اعجاز احمدی ص٣٢، خزائن ج١٩ ص١٠٨،١٠٩)

یہ جواب بوجوہ محل نظر ہے۔

اول.......اگر آتھم نے واقعی اس جلسے ہی میں (جہاں پیش گوئی سنائی گئی تھی) رجوع کرلیا تھا تو پھر آپ پندرہ ماہ تک مضطرب کیوں رہے؟ منشی رستم علی کے خط میں اظہار پریشانی کیوں کیا؟ آخری دن وہ چنے قادیان کے اندھے کنوئیں میں کیوں پھینکے۔ آتھم کو دراصل مردہ

صفحہ ١٣٣

کیوں قرار دیا اور ٢٢؍ ستمبر ١٨٩٣ء کو یہ کیوں اعلان کیا۔ ”ماسوا اس کے بعض اور عظیم الشان نشان اس عاجز کی طرف سے معرض امتحان میں ہیں۔ جیسا کہ منشی عبداللہ آتھم امرتسری کی نسبت پیش گوئی جس کی میعاد ٥؍ جون ١٨٩٣ء سے پندرہ مہینہ تک ہے۔“

(شہادت القرآن ص ٧٩، خزائن ج ٦ ص ٣٧٥)

جب رجوع ہو گیا تو پیش گوئی وہیں ختم ہوگئی۔

دوم....... اگر رجوع سے مراد صرف لفظ دجال سے رجوع تھا تو پیش گوئی میں بھی اس کی وضاحت فرمائی ہوتی۔ ”حق کا لفظ اس قدر وسیع ہے کہ کائنات کی کروڑوں سچائیاں اس کے دامن میں سمائی ہوئی ہیں۔ اتنے وسیع لفظ سے صرف ایک سچائی مراد لینا ایک ایسا تکلف ہے جس کا جواز ایک زبردست قرینہ کے بغیر نکل ہی نہیں سکتا۔ پیش گوئی میں جو فریق عمداً عاجز انسان کو خدا بنارہا ہے ہاویہ میں گرایا جائے گا۔“

(جنگ مقدس ص ٢١٠، خزائن ج ٦ ص ٢٩٢)

کے الفاظ صریحاً تثلیث وتوحید کا مفہوم دے رہے ہیں۔ دجال کا نہ تو یہاں ذکر ہے اور نہ کسی لفظ سے یہ اشارہ بھی سمجھا جاتا ہے۔ پھر ہم اس تاویل کو کیسے قبول کریں۔

پنجم....... کہ پیش گوئی میں پندرہ ماہ کی میعاد تھی ہی نہیں۔ ”میں نے ڈپٹی آتھم کے مباحثہ میں قریباً ساٹھ آدمیوں کے روبرو یہ کہا تھا کہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ پہلے مرے گا۔ سو آتھم بھی اپنی موت سے میری سچائی کی گواہی دے گیا۔“

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١١، خزائن ج ١٧ ص ٤٧)

پیش گوئی میں پہلے اور پیچھے کا کوئی ذکر نہیں۔ وہاں تو صرف اتنا ہی ہے کہ جھوٹا (پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا)

ششم....... کہ ہاویہ سے مراد موت نہیں بلکہ دماغی بے چینی تھی۔ جس میں آتھم پورے پندرہ ماہ گرفتار رہا اور اس طرح پیش گوئی پوری ہوگئی۔ ”اور توجہ سے یاد رکھنا چاہئے کہ ہاویہ میں گرائے جانا جو اصل الفاظ الہام ہیں وہ عبداللہ آتھم نے اپنے ہاتھ سے پورے کئے اور جن مصائب میں اس نے اپنے تئیں ڈال لیا اور جس طرز سے مسلسل گھبراہٹوں کا سلسلہ ان کے دامن گیر ہو گیا اور ہول اور خوف نے اس کے دل کو پکڑ لیا۔ یہی اصل ہاویہ تھا۔“

(انوار الاسلام ص ٥، ٦، خزائن ج ٩ ص ٥، ٦)

پیش گوئی کے الفاظ ذرا سامنے رکھئے۔ ”ہاویہ میں گرایا جائے گا۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔“ تو گویا آتھم اصل ہاویہ میں گرادیا گیا تھا۔ اس لئے کہ اس نے حق کی طرف

صفحہ ١٣٤

رجوع نہیں کیا تھا۔ لیکن آپ (اعجاز احمدی ص ٢، خزائن ج ١٩ص ١٠٩) میں فرماتے ہیں۔ ”سو آتھم نے اسی مجلس میں رجوع کیا ۔“ اگر وہ حق کی طرف رجوع کر چکا تھا تو پھر اسے اصل ہاویہ میں کیوں گرا دیا گیا اور اگر نہیں کیا تھا تو زندہ کیوں رہا؟

مرزا قادیانی کا ارشاد ہے۔ ” کیا اس کے سوا کسی اور چیز کا نام ذلت ہے کہ جو کچھ اس نے کہا وہ پورا نہ ہوا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ص ٣١١)

٣....... پسر موعود

٢٠؍ فروری ١٨٨٦ء کو مرزا قادیانی نے الہام ذیل شائع فرمایا۔ ”خدائے رحیم و کریم نے مجھ کو اپنے الہام سے مخاطب کر کے فرمایا۔ تجھے بشارت ہو کہ ایک وجیہہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا۔ ایک زکی غلام (لڑکا) تجھے ملے گا۔ اس کا نام عمانوایل اور بشیر بھی ہے۔ اس کو مقدس روح دی گئی ہے وہ رجس سے پاک ہے اور وہ نور اللہ ہے۔ وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہوگا۔ اپنے مسیحی نفس سے بہتوں کی بیماری کو صاف کرے گا۔ علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا۔ وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا۔ دوشنبہ ہے مبارک دوشنبہ فرزند دلبند گرامی ارجمند ۔ ”مظہر الاوّل والاخر مظہر الحق والعلاء کان اللہ نزل من السماء“ زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قومیں اس سے برکت حاصل کریں گی۔“

(تبلیغ رسالت ج اوّل ص ٥٨، مجموعہ اشتہارات ج ١ص ١٠٠ تا ١٠٢)

پسر موعود کب پیدا ہوگا؟ فرمایا: ”ایسا لڑکا بموجب وعدہ الٰہی نو برس کے عرصہ تک (یعنی ٢٠؍ فروری ١٨٩٥ء تک) ضرور پیدا ہوگا۔“

(اشتہار ٢٢؍ مارچ ١٨٨٦ء، تبلیغ رسالت ج ١ص ٧٢، مجموعہ اشتہارات ج ١ص ١١٣)

تاریخ اور ضرور کا لفظ نوٹ فرما لیجئے۔ ٨؍ اپریل ١٨٨٦ء کو ایک اور اشتہار کے ذریعہ اعلان فرمایا۔ ”جناب الٰہی میں توجہ کی گئی تو آج ٨؍ اپریل ١٨٨٦ء میں اللہ جل شانہ کی طرف سے اس عاجز پر اس قدر کھل گیا کہ ایک لڑکا بہت ہی قریب ہونے والا ہے جو ایک مدت حمل سے تجاوز نہیں کر سکتا۔ لیکن یہ ظاہر نہیں کیا گیا کہ جو اب ہوگا یہ وہی لڑکا ہے یا وہ کسی اور وقت میں نو برس کے عرصہ میں پیدا ہوگا۔ اس کے بعد یہ الہام ہوا۔ انہوں نے کہا۔ آنے والا یہی ہے یا ہم دوسرے کی راہ تکیں؟ چونکہ یہ عاجز ایک بندہ ضعیف ہے۔ اس لئے اسی قدر ظاہر کرتا ہے جو منجانب اللہ ظاہر کیا گیا ہے۔“

(تبلیغ رسالت ج اوّل ص ٧٥، مجموعہ اشتہارات ج ١ص ١١٧)

اس اشتہار میں ایک مدت حمل (یعنی نو ماہ کے اندر) تک ایک لڑکا (خواہ وہ پسر

صفحہ ١٣٥

موعود ہو یا کوئی اور ) پیدا ہونے کی بشارت درج تھی۔ لیکن مئی ١٨٨٦ء میں ایک لڑکی پیدا ہوگئی۔ جب ٧؍اگست ١٨٨٧ء کو ایک لڑکا پیدا ہوا تو آپ نے اسے پسر موعود سمجھ کر اس کا نام بشیر احمد رکھا اور اعلان کیا۔

”اے ناظرین! میں آپ کو بشارت دیتا ہوں کہ وہ لڑکا جس کے تولد کے لئے میں نے اشتہار ٨؍اپریل ١٨٨٦ء میں پیش گوئی کی تھی اور خدا تعالیٰ سے اطلاع پا کر اپنے کھلے کھلے بیان میں لکھا تھا کہ اگر وہ حمل موجودہ میں پیدا نہ ہوا تو دوسرے حمل میں جو اس کے قریب ہے۔ ضرور پیدا ہو جائے گا۔ آج ١٦؍ ذیقعدہ ١٣٠٤ھ مطابق ٧؍ اگست ١٨٨٧ء میں بارہ بجے رات کے بعد ڈیڑھ بجے کے قریب وہ مولود مسعود پیدا ہو گیا۔ فالحمدلله علىٰ ذلك! اس لڑکے کا نام بشیر احمد رکھا گیا۔“

(تبلیغ رسالت ج اوّل ص ٩٩، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٤١)

اس اشتہار کو دیکھئے اور پھر ٨؍ اپریل کے اشتہار کو پڑھئے۔ وہاں دوسرے حمل میں جو اس کے قریب ہے کا اشارہ تک نہیں ملے گا۔ بہر حال یہ لڑکا ٤؍ نومبر ١٨٨٨ء کو فوت ہوگیا اور مرزا قادیانی نے مولوی نور الدین صاحب کو لکھا۔

مخدومی ومکرمی مولوی نورالدین سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ! ”میرا لڑکا بشیر احمد تیس روز بیمار رہ کر آج بقضائے رب عزوجل انتقال کر گیا۔ انا للہ! اس واقعہ سے جس قدر مخالفین کی زبانیں دراز ہوں گی اور موافقین کے دلوں میں شبہات پیدا ہوں گے اس کا اندازہ نہیں ہو سکتا۔“

(مکتوبات احمدیہ ج ٥ نمبر ٢ ص ١٢٨)

”اس واقعہ پر ملک میں ایک سخت شور اٹھا اور کئی خوش اعتقادوں کا ایسا دھکا لگا کہ وہ پھر نہ سنبھل سکے۔...... حضرت صاحب نے لوگوں کو سنبھالنے کے لئے اشتہاروں اور خطوط کی بھر مار کردی اور لوگوں کو سمجھایا کہ میں نے کبھی یہ یقین ظاہر نہیں کیا کہ یہی وہ لڑکا ہے۔ میرا یہ خیال تھا کہ شاید یہی وہ موعود لڑکا ہو۔“

(سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص ١٠٦، روایت نمبر ١١٦)

”جس قدر خدا نے مجھ سے مکالمہ و مخاطبہ کیا ہے۔ تیرہ سو برس ہجری میں کسی شخص کو بجز میرے آج تک یہ نعمت عطاء نہیں کی گئی۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)

اور بار بار فرمایا کہ مجھ پر وحی بارش کی طرح برستی ہے۔ حیرت ہے کہ اس وحی نے پندرہ ماہ میں آپ کو یہ بھی نہ بتایا کہ بشیر احمد عنقریب فوت ہو جائے گا۔ اس لئے یہ پسر موعود نہیں۔ آخر وہ بارش کی طرح برسنے والی وحی کیا کرتی رہتی تھی؟

صفحہ ١٣٦

٤ نومبر ١٨٨٨ء کو پھر فرمایا۔ ”٢٠ فروری ١٨٨٦ء کے اشتہار میں جو بظاہر ایک لڑکے کی بابت پیش گوئی کی گئی تھی۔ درحقیقت دو لڑکوں کی بابت پیش گوئی تھی۔ ایک وہ جو فوت ہو چکا ہے ایک وہ جو آئندہ تولد ہوگا۔“

(رسالہ تجدید الاذہان نمبر ١٠ ج ٢ ص ٤١)

١٢ جنوری ١٨٨٩ء کو شنبہ کے روز آپ کے ہاں ایک اور لڑکا پیدا ہوا۔ جس کا نام بشیر محمود رکھا گیا۔ لیکن یہ فیصلہ نہ کر سکے کہ یہ پسر موعود ہے یا کوئی اور۔ فرماتے ہیں: ”تعجب نہیں کہ یہی لڑکا موعود لڑکا ہو۔ ورنہ وہ بفضلہ تعالیٰ دوسرے وقت پر آئے گا۔“

(ریویو آف ریلیجنز ج ١٣ نمبر ٥ ص ١٧٦)

کیونکر فیصلہ نہ کر سکے۔ اس لئے کہ اصل پیش گوئی میں ایک فقرہ یہ بھی تھا۔ وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا۔ یعنی تین بھائیوں کے بعد آئے گا۔ میعاد الہام (٢٠ فروری ١٨٩٥ء) گزر گئی۔ لیکن آپ بدستور منتظر رہے۔ ١٨٩٧ء میں ارشاد ہوا۔ ”ایک اور الہام جو ٢٠ فروری ١٨٨٦ء میں شائع ہوا تھا۔ وہ یہ ہے کہ خدا تین کو چار کرے گا۔ اس وقت ان تین لڑکوں کا جو اب موجود ہیں۔ نام ونشان نہ تھا۔ صرف ایک کی انتظار ہے۔ جو تین کو چار کرنے والا ہوگا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٤، ١٥، خزائن ج ١١ ص ٢٩٨، ٢٩٩)

پیش گوئی سے پورے سوا تیرہ برس بعد ١٤ جون ١٨٩٩ء کو آپ کے ہاں ایک اور فرزند کی ولادت ہوئی۔ جس پر بے حد مسرتیں منائی گئیں اور آپ نے پورے وثوق سے اعلان فرمایا۔ ”میرا چوتھا لڑکا جس کا نام مبارک احمد ہے۔ اس کی نسبت پیش گوئی ٢٠ فروری ١٨٨٦ء میں کی گئی تھی۔ سو خدا نے میری تصدیق اور تمام مخالفین کی تکذیب کے لئے..... اسی پسر چہارم کی پیش گوئی کو ١٤ جون ١٨٩٩ء میں جو مطابق ٤ صفر ١٣١٧ھ تھی۔ بروز چہار شنبہ (پیش گوئی میں درج تھا۔ دو شنبہ مبارک دوشنبہ۔ برق) پورا کر دیا۔“

(تریاق القلوب ص ٤٣، خزائن ج ١٥ ص ٢٢١)

پیش گوئی میں دوشنبہ کا دن درج تھا۔ اس کی تشریح یوں فرمائی۔ ”چوتھے لڑکے (مبارک احمد ) کا عقیقہ پیر کے دن ہوا۔ تا وہ پیش گوئی پوری ہو کہ دوشنبہ ہے۔ مبارک دوشنبہ۔“

(تریاق القلوب ص ١٨، خزائن ج ١٥ ص ١٤٩)

مبارک احمد کی صفات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ”اور اس لڑکے نے اس طرح پیدائش سے پہلے یکم جنوری ١٨٩٧ء (ساڑھے انتیس مہینے پہلے ) میں بطور الہام یہ کلام مجھ سے کیا۔ مجھ میں اور تم میں ایک دن کی میعاد ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ حضرت مسیح نے تو صرف مہد میں ہی باتیں کیں۔ لیکن اس لڑکے نے پیٹ میں ہی دو مرتبہ باتیں کیں اور پھر بعد اس کے ١٤ جون ١٨٩٩ء کو وہ پیدا ہوا۔“

(تریاق القلوب ص ٤١، خزائن ج ١٥ ص ٢١٧)

صفحہ ١٣٧

یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ جب ولادت سے ساڑھے انتیس ماہ پہلے وہ لڑکا پیٹ میں تھا ہی نہیں تو اس نے پیٹ سے باتیں کیسے کیں؟

آٹھ سال بعد

اگست ١٩٠٧ء میں مبارک احمد تپ میں گرفتار ہو گئے۔ بیماری بڑھ گئی تو نو دن کے بعد مرزا قادیانی پر وحی نازل ہوئی۔ ”قبول ہو گئی۔ نو دن کا بخار ٹوٹ گیا۔“ (اخبار بدر ٢٩ اگست ١٩٠٧ء)

لیکن: ”حکیم نور الدین صاحب نے نبض پر ہاتھ رکھا تو چھوٹ چکی تھی۔ انہوں نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا۔ حضور کستوری لائیے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام چابی لے کر قفل کھول ہی رہے تھے کہ مبارک احمد فوت ہو گیا ۔“ (خطبہ میاں محمود احمد قادیانی، الفضل ١٨؍ اکتوبر ١٩٣٢ء)

ابھی قادیان ماتم کدہ بنا ہوا تھا کہ جبریل پھر ایک بشارت لے کر آ گیا۔ ”جب مبارک احمد فوت ہوا۔ ساتھ ہی خدا تعالیٰ نے یہ الہام کیا ۔ ”انا نبشرک بغلام حلیم ینزل منزل المبارک “ یعنی ایک حلیم لڑکے کی ہم تجھے بشارت دیتے ہیں۔ جو بمنزلہ مبارک احمد کے ہوگا اور اس کا قائم مقام اور اس کا شبیہ ہوگا۔ پس خدا نے نہ چاہا کہ دشمن خوش ہو اس لئے اس نے مجرد وفات مبارک احمد کے ایک دوسرے لڑکے کی بشارت دی۔ تا یہ سمجھا جائے کہ مبارک احمد فوت نہیں ہوا۔ بلکہ زندہ ہے۔“

(اشتہار مورخہ ٥؍ نومبر ١٩٠٧ء، تبلیغ رسالت ج ١٠ ص ١٣٢، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٨٧)

لیکن ساڑھے پانچ ماہ بعد مرزا قادیانی کا انتقال ہو گیا۔ اور ١٩٠٤ء (ولادت دختر) کے بعد آپ کی کوئی اولاد نہ ہوئی۔

آپ نے دیکھ لیا کہ اس پیش گوئی کے ساتھ تین ضمنی پیش گوئیاں بھی تھیں۔

بڑی پیش گوئی ...... ١ ضمنی ...... ٢

پسر موعود کے متعلق

بشارت لیکن لڑکی کا پیدا ہونا۔

ہو گئی۔ بخار ٹوٹ گیا۔

کیا یہ چاروں پیش گوئیاں پوری ہو گئیں؟ مرزا قادیانی فرماتے ہیں ۔ ”جو شخص تحدی کے طور پر پیش گوئی اپنے دعویٰ کی تائید میں شائع کرتا ہے۔ اگر وہ جھوٹا ہے تو خدا کی غیرت کا ضرور

صفحہ ١٣٨

یہ تقاضا ہونا چاہئے کہ ابداً ایسی مرادوں سے اس کو محروم رکھے۔‘‘

(ضمیمہ تریاق القلوب نمبر ٢ ص ٩٠، خزائن ج ١٥ ص ٤٢٠ ملخص)

٤...... طاعون اور قادیان

جب اس صدی کے آغاز میں طاعون نے ملک کو اپنی گرفت میں لے لیا تو مرزا قادیانی نے مختلف پیش گوئیاں شائع کیں۔ مثلاً:

نہیں ہوگی۔‘‘

(دافع البلاء ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٥)

لئے محفوظ رکھی گئی کہ وہ خدا کا رسول اور فرستادہ قادیان میں تھا۔‘‘

(دافع البلاء ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٥، ٢٢٦)

’’طاعون دنیا میں اس لئے آئی ہے کہ خدا کے مسیح موعود سے نہ صرف انکار کیا گیا۔ بلکہ اس کو دکھ دیا گیا۔ یہ طاعون اس حالت میں فرو ہوگی۔ جب لوگ خدا کے فرستادہ کو قبول کر لیں گے۔‘‘

(دافع البلاء ص ٨، ٩، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٩)

’’طاعون دنیا میں گو ستر برس تک رہے۔ قادیان اس کو خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے۔‘‘

(دافع البلاء ص ١٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠)

رہا ہے اور کوئی بچنے کا سامان اس کے پاس نہیں۔ سچا شفیع میں ہوں۔‘‘

(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)

پر چلنے والے ہیں۔ عذاب طاعون سے بچنے کے لئے خوشخبری پائی ہے۔‘‘

(کشتی نوح ص ٩، خزائن ج ١٩ ص ٩)

نہیں۔ اس نے مجھ پر وحی نازل کی کہ میں ہر ایسے شخص کو طاعون کی موت سے بچاؤں گا۔ جو اس گھر کی چاردیواری میں ہوگا۔ بشرطیکہ سلسلۂ بیعت میں داخل ہو۔‘‘

(کشتی نوح ص ٢، خزائن ج ١٩ ص ٢)

اس پیش گوئی کے اجزاء یہ ہیں۔

صفحہ ١٣٩

لیں۔

یہ ہیں پیش گوئی کے اجزائے خمسہ۔ جس کو آپ نے بار بار مختلف پیرایوں میں پیش فرمایا۔ آئیے ذرا دیکھیں کہ یہ پانچ پیش گوئیاں کس حد تک پوری ہوئیں۔

ہیں۔ ”آج کل ہر جگہ مرض طاعون زور پر ہے۔ اس لئے اگرچہ قادیان میں نسبتاً آرام ہے۔“

(اخبار البدر قادیان مورخہ ١٩ دسمبر ١٩٠٢ء)

نسبتاً سے معلوم ہوتا ہے کہ قادیان محفوظ نہیں تھا۔ اس اعلان سے آٹھ ماہ پہلے البدر کے مدیر نے لکھا تھا۔ ”قادیان میں جو طاعون کی چند وارداتیں ہوئی ہیں۔ ہم افسوس سے بیان کرتے ہیں کہ بجائے اس کے کہ اس نشان سے ہمارے منکر اور مکذب کوئی فائدہ اٹھاتے اور خدا کے کلام کی قدر اور عظمت اور جلال ان پر کھلتی۔ انہوں نے پھر سخت ٹھوکر کھائی۔“

(البدر مورخہ ٢٤ اپریل ١٩٠٢ء)

البدر کا مدیر دنیا میں صرف ایسے احمق انسان دیکھنا چاہتا ہے کہ جب کوئی الہامی پیش گوئی غلط ثابت ہو تو ان کا ایمان خدائی کلام کی عظمت و جلال پر اور بڑھ جائے۔

اسی مدیر نے تین ہفتے بعد لکھا۔ ”قادیان میں طاعون حضرت مسیح علیہ السلام کے الہام کے ماتحت اپنا کام برابر کر رہی ہے۔“

(البدر مورخہ ١٦ مئی ١٩٠٣ء)

اپریل ١٩٠٤ء میں قادیان کا سکول طاعون کی وجہ سے بند کر دیا گیا اور سرکاری روزنامچے میں ملاحظہ ہو اخبار اہل حدیث امرتسر مورخہ ٢٧ مئی ١٩٠٤ء صرف مارچ اور اپریل ١٩٠٤ء میں ٣١٣۔ اموات درج ہوئیں جو قادیان میں طاعون سے واقع ہوئی تھیں۔ قادیان کی آبادی ان دنوں اٹھائیس سو نفوس پر مشتمل تھی۔ لوگ گھبرا کر گاؤں چھوڑ گئے تھے اور تمام قصبہ سنسان ہو گیا تھا۔ خود مرزا قادیانی اس حقیقت کو یوں اعتراف فرماتے ہیں۔

”طاعون کے دنوں میں جب کہ قادیان میں طاعون کا زور تھا۔ میرا لڑکا شریف احمد بہت بیمار ہو گیا۔“

(حقیقت الوحی ص ٨٣، خزائن ج ٢٢ ص ٨٧)

صفحہ ١٤٠

دوم ....... کیا آپ کے گھر کی چار دیواری محفوظ رہی؟ ”بڑی غوتاں (شاید ملازمہ) کو تپ ہو گیا تھا۔ اس کو گھر سے نکال دیا ہے۔ لیکن میری دانست میں اس کو طاعون نہیں ہے۔ احتیاطاً نکال دیا ہے۔ ماسٹر محمد دین کو تپ ہو گیا اور گلٹی بھی نکل آئی۔ اس کو بھی باہر نکال دیا ہے۔ میں تو دن رات دعاء کر رہا ہوں اور اس قدر زور اور توجہ سے دعائیں کی ہیں کہ بعض اوقات میں ایسا بیمار ہو گیا کہ یہ وہم گزرا کہ شاید دو تین منٹ جان باقی ہے اور خطرناک آثار ظاہر ہو گئے ۔“

(مکتوبات احمدیہ ج پنجم نمبر ٤ ص ١١٥، ١١٦)

تو گویا چار دیواری بھی محفوظ نہ رہی اور مرزا قادیانی بعالم پریشانی پورے زور اور توجہ سے دعاؤں میں مصروف ہو گئے ۔ کس مقصد کے لئے؟ طاعون کے بڑھنے یا گھٹنے کے لئے؟ سیاق و سباق سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ خاتمہ طاعون کے لئے دعائیں کر رہے تھے۔ لیکن ” میں نے طاعون پھیلنے کی دعاء کی ہے۔ سو وہ دعاء قبول ہو کر ملک میں طاعون پھیل گئی ہے۔“

(حقیقۃ الوحی ص ٢٢٤، خزائن ج ٢٢ ص ٢٣٥)

” مبارک وہ خدا ہے۔ جس نے دنیا میں طاعون کو بھیجا۔ تاکہ اس کے ذریعہ سے ہم بڑھیں اور پھولیں۔ (یعنی لوگ طاعون سے بچنے کے لئے آپ کی بیعت میں داخل ہوں) اور ہمارے دشمن نیست و نابود ہوں ۔“

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٣١ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٠)

ان اقتباسات سے معلوم ہوتا ہے کہ طاعون آپ کی دعاؤں کا نتیجہ تھا اور آپ دنیا کی تباہی و بربادی پر بہت خوش تھے۔ اس لئے کہ طاعون آپ کے عظیم الشان نشانات میں سے ایک نشان تھا۔ ”دنیا میں ایک نذیر آیا اور دنیا نے اسے قبول نہ کیا۔ پس خدا اس کو قبول کرے گا اور زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کرے گا۔ زَور آور حملوں سے مراد طاعون ہے۔“

(ملفوظات احمدیہ حصہ پنجم ص ٥٢٢، مورخہ ٣٠؍ نومبر ١٩٠٢ء، بروز یکشنبہ)

یہ طاعون آپ کی دعاء کا نتیجہ، مبارک خدا کی طرف سے اشاعت اسلام کے لئے ایک وسیلہ اور صداقت رسول کو ظاہر کرنے کے لئے ایک زور آور حملہ تھا۔ اس لئے ہر خیر خواہ اسلام کا یہ فرض تھا کہ وہ اس عظیم الشان نشان کو قائم و دائم رکھنے کے لئے پوری قوت صرف کرتا اور اگر کوئی شخص رفع طاعون کے وسائل اختیار کرتا تو اُس کے خلاف جہاد کرتا۔ لیکن نہ جانے یک بیک کیا ہوا کہ مرزا قادیانی انگریزی حکومت (دجال) کی خدمت میں ہدیہائے تشکر پیش کرنے لگے۔

” شکر کا مقام ہے کہ گورنمنٹ عالیہ انگریزی نے اپنی رعایا پر رحم کر کے دوبارہ طاعون سے بچانے کے لئے ٹیکہ کی تجویز کی اور بندگان خدا کی بہبودی کے لئے کئی لاکھ روپیہ کا بوجھ اپنے

صفحہ ١٤١

سر پر ڈال لیا۔ درحقیقت یہ وہ کام ہے جس کا شکر گزاری سے استقبال کرنا دانشمند رعایا کا فرض ہے ۔“

(کشتی نوح ص ١١ خزائن ج ١٩ ص ١١)

جناب دانشمند رعایا کا فرض تو بتا دیا کہ وہ ٹیکہ کی تجویز اور بندگانِ خدا کی بہبودی پر گورنمنٹ عالیہ کا شکریہ ادا کرے۔ لیکن یہ نہ فرمایا کہ اس کا رویہ آپ کی ہستی گرامی کے متعلق کیا ہو کہ جن کی دعا سے ملک میں طاعون پھیلا۔ ”تاکہ میرے دشمن نیست و نابود ہوں ۔“

سنا ہے کہ انبیاء علیہم السلام تمام کائنات کے لئے رحمت بن کر آتے ہیں۔ ان کا کوئی دشمن نہیں ہوا کرتا۔ وہ سب کا بھلا چاہتے ہیں۔ وہ سب سے محبت کرتے ہیں۔ وہ سب کو گلے لگاتے ہیں۔ ”میں تمام مسلمانوں اور عیسائیوں اور ہندوؤں اور آریوں پر یہ بات ظاہر کرتا ہوں کہ دنیا میں کوئی میرا دشمن نہیں ہے میں بنی نوع سے ایسی محبت کرتا ہوں کہ جیسے والدہ مہربان اپنے بچوں سے بلکہ اس سے بڑھ کر ۔“

(اربعین نمبر ١ ص ٢، خزائن ج ١٧ ص ٣٤٤)

کیا مہربان والدہ اپنے بچوں کو طاعون میں پھنسانے کے لئے دعائیں کیا کرتی ہیں؟ اور ان کے نیست و نابود ہونے پہ خوش ہوتی ہے؟ اگر آپ حقیقتاً دنیائے انسانی پر والدہ سے زیادہ مہربان تھے تو پھر یہ کیوں کہا۔ ”مبارک ہے وہ خدا جس نے دنیا میں طاعون بھیجا۔ تا کہ ہم بڑھیں اور پھولیں اور ہمارے دشمن نیست و نابود ہوں ۔“

سوم ...... کیا آپ کے پیرو محفوظ رہے؟ نہیں۔

ہماری جماعت میں سے بعض لوگوں کو طاعون سے فوت ہو جانا بھی ایسا ہی ہے جیسا کہ آنحضرت ﷺ کے بعض صحابہ لڑائی میں شہید ہوئے تھے۔

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣١ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٥٦٨)

”اگر ایک آدمی ہماری جماعت میں مرتا ہے تو بجائے اس کے سو یا زیادہ آدمی ہماری جماعت میں داخل ہوتا ہے ۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣١ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٥٦٨)

کیوں داخل ہوتا ہے؟ اس کی وجہ حکومت ہند کی زبانی سنئے۔

"One Great Stimulus for Conversion has been the assertion of the founder that all those owing allegiance to him would escape the scourge of

صفحہ ١٤٢

plague. But after a certain period of immunity, the ahmadies began to succumb to the disease like others & the faith in the efficancy of the Prophet's declaration was some what Shaken."

”قبول احمدیت کی بڑی وجہ بانی احمدیت کا یہ دعویٰ تھا کہ اس کے پیرو طاعون سے محفوظ رہیں گے۔ حفاظت کے ایک عارضی وقفہ کے بعد احمدی بھی باقی آبادی کی طرح طاعون کا شکار ہونے لگے اور لوگوں کا اعتقاد رسول، قادیان کے اعلان کے متعلق متزلزل ہو گیا۔

(کتاب مردم شماری برائے سال ١٩١١ء ص ١٦٩)

چہارم...... کیا آپ کو نہ ماننے والے طاعون کا شکار ہوگئے؟ دعویٰ تو یہی تھا۔

”سوائے عزیزو! اس (طاعون) کا بجز اس کے کوئی علاج نہیں کہ اس مسیح کو سچے دل اور اخلاص سے قبول کر لیا جائے۔“

(دافع البلاء ص ١٢، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٢)

اس وقت تقریباً چالیس ہزار انگریز افسر ہندوستان میں موجود تھے۔ وہ سب کے سب مسیح موعود کے منکر تھے۔ کیا وہ تمام طاعون سے ہلاک ہوگئے تھے؟ کیا ہندوستان میں احمدیوں کے بغیر کوئی اور متنفس باقی نہیں رہا تھا۔ اگر نہیں رہا تھا تو ١٩١١ء کی کتاب مردم شماری میں چھ کروڑ چھیاسٹھ لاکھ مسلمان اور ٢٨ کروڑ دیگر اقوام کیسے درج ہو گئی ہیں۔

پنجم...... کیا واقعی طاعون اس وقت تک دور نہیں ہوا تھا۔ جب تک لوگوں نے خدا کے فرستادہ کو مان نہ لیا؟

اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لئے ہمیں کتاب مردم شماری کی پھر ورق گردانی کرنی پڑے گی۔

احمدیوں کی تعداد

جب ١٩٠١ء کی مردم شماری قریب آئی تو مرزا قادیانی نے اعلان کے ذریعے اپنی جماعت کو ہدایت کی کہ وہ کتاب مردم شماری میں اپنے آپ کو احمدی درج کرائے اور ساتھ ہی حکومت سے درخواست کی۔ ”ہم ادب سے اپنی معزز گورنمنٹ میں درخواست کرتے ہیں کہ اسی نام (احمدی) سے اپنے کاغذات اور مخاطبات میں اس فرقہ کو موسوم کرے۔ یعنی مسلمان فرقہ احمدیہ۔“

(اشتہار مجریہ مورخہ ٤؍ نومبر ١٩٠٠ء مندرجہ تریاق القلوب ص ٣٩٨، خزائن ج ١٥ ص ٥٢٦)

صفحہ ١٤٣

کتاب مردم شماری کے اوراق الٹنے سے پہلے یہ دیکھ لینا نامناسب نہ ہوگا کہ خود مرزا قادیانی کا اندازہ تعداد جماعت کے متعلق کیا تھا۔

اور فئة قلیلہ ہے اور شاید اس وقت چار پانچ ہزار سے زیادہ نہ ہوگی۔“

(انجام آتھم ص ٦٤، خزائن ج ١١ ص ٦٤)

سے پہلے میرے ساتھ شاید تین چار سو آدمی ہوں گے اور اب آٹھ ہزار سے کچھ زیادہ وہ لوگ ہیں جو اس راہ میں جانفشاں ہیں۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٦ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣١٠)

ہماری جماعت کو ہزار ہا تک پہنچایا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٨، خزائن ج ١١ ص ٣٣٢)

تو کیا ١٨٩٧ء میں احمدیوں کی تعداد پہلے چار پانچ ہزار۔ پھر آٹھ ہزار سے کچھ زیادہ اور اس کے بعد صرف ہزار ہا تھی۔

ہوں گے۔“

(تریاق القلوب ص ٣٦٥ حاشیہ، خزائن ج ١٥ ص ٤٩٣)

سے بھی کچھ زیادہ ہے۔“

(کشتی نوح ص ٧٠، خزائن ج ١٩ ص ٧٩)

آج خدا کے فضل سے تین لاکھ سے بھی زیادہ ہیں۔“

(حقیقت الوحی ص ١٢٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٢٣)

ہوں گے۔“

(تتمہ چشمہ معرفت ص ٣٦، خزائن ج ٢٣ ص ٤٠٦)

جماعت چار لاکھ سے کم نہیں ہے۔“

(پیغام صلح ص ٢٦، خزائن ج ٢٣ ص ٤٥٥)

لیکن کتاب مردم شماری برائے سال ١٩١١ء ص ١٦٩ بتاتی ہے کہ طاعون کے بعد ١٩١١ء میں احمدیوں کی تعداد صرف اٹھارہ ہزار چھ سو پچانوے (١٨٦٩٥) تھی اور کل پنجاب کی آبادی ایک کروڑ پچانوے لاکھ اناسی ہزار چھیالیس (١٩٥٧٩٠٤٦) یعنی طاعون کے بعد بھی صرف پنجاب میں مسیح موعود کے منکر ایک کروڑ پچانوے لاکھ ساٹھ ہزار باقی تھے اور طاعون ختم ہو گیا۔

صفحہ ١٤٤

حالانکہ خدا نے صریحاً فرمایا تھا۔ ”یہ طاعون اس حالت میں فرو ہوگی۔ جب کہ لوگ خدا کے فرستادہ کو قبول کرلیں گے۔“

(دافع البلاء ص ٩، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٩)

٥...... الہام عمر

مرزا قادیانی نے الہام عمر کو اپنی تصانیف میں سو مرتبہ سے زیادہ دہرایا ہے۔ ”ثمانین حولاً او قريباً من ذالك او تزيد عليه “ اور اس کا ترجمہ یوں فرمایا ہے۔ ”تیری عمر اسی برس کی ہوگی یا دو چار کم یا چند سال زیادہ۔“

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٠، خزائن ج ١٧ ص ٦٦)

اس کی مزید تشریح یوں فرمائی ہے۔ ”فبشرنا ربنا بثمانين سنة اوہوا کثر عدداً“ اللہ نے مجھے بشارت دی ہے کہ تیری عمر اسی برس یا کچھ زیادہ ہوگی۔

(مواہب الرحمان ص ٢١، خزائن ج ١٩ ص ٢٣٩)

اول تو یہ الہام ہی عجیب ہے۔ اسی برس ، دو چار کم یا چند سال زیادہ۔ کیا اللہ مستقبل کے واقعات سے بے خبر ہے؟ کیا الہام نازل کرتے وقت اسے معلوم نہیں تھا کہ آپ کی وفات ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو ہوگی۔ کیا اللہ کو آپ کی تاریخ ولادت بھول گئی تھی؟ اگر یاد تھی اور تاریخ وفات بھی معلوم تھی تو پھر الہام میں یہ اظہار تجاہل دو چار سال کم یا چند سال زیادہ کیوں؟ جس شخص کو اپنے مرحوم بیٹے کی تاریخ ولادت و وفات ہر دو معلوم ہوں اور جمع و تفریق کا قاعدہ بھی جانتا ہو۔ وہ کبھی نہیں کہے گا کہ میرے بیٹے کی عمر بیس برس یا دو چار کم یا چند سال زیادہ تھی۔ یہ اشتباہ و تجاہل اسی شخص کے بیان میں ہوسکتا ہے جو تاریخ ولادت و وفات ہر دو سے ناواقف ہو اور یا اس قدر ان پڑھ ہو کہ سال وفات میں سے سنین حیات تفریق کر کے حاصل نہ بتا سکتا ہو۔ پھر عجیب تر یہ کہ تشریح الہام ”اسی برس یا کچھ زیادہ“ کا تو ذکر ہے۔ لیکن ”دو چار کم“ کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ اس بیش و کم کو چھوڑیئے اور اسی کو پیش نظر رکھئے کہ الہام کا مرکزی عدد یہی ہے۔

مرزا قادیانی نے اپنی تصانیف میں تاریخ ولادت کہیں ذکر نہیں فرمائی۔ صرف اتنا بار بار فرماتے ہیں کہ میں ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء کو پیدا ہوا تھا اور نہ آپ کے سوانح نگاروں نے یہ تکلیف کی کہ سول سرجن گورداسپور کے دفتر سے آپ کی تاریخ ولادت معلوم کر لیتے۔ اتنے بڑے روحانی رہنما کے مریدوں کا یہ تساہل قابل افسوس ہے۔

”میری پیدائش ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی اور ١٨٥٧ء میں سولہ برس کا یا سترھویں برس میں تھا۔“

(کتاب البریہ ص ١٥٩ حاشیہ، خزائن ج ١٣ ص ١٧٧)

صفحہ ١٤٥

کیا کوئی حساب دان یہ بتا سکتا ہے کہ آپ ١٨٥٧ء میں کس حساب سے سولہ برس کے تھے؟ خیر اسے چھوڑیئے۔ صرف سال ولادت یاد رکھئے اور سال وفات یعنی ١٩٠٨ء سے اسے منہا کر دیجئے۔ ١٩٠٨ - ١٨٤٠ = ٦٨ ...... ١٩٠٨ - ١٨٣٩ = ٦٩

باقی بچے ٦٨ یا ٦٩۔ اب دیکھئے اس الہام کو تیری عمر اسی سال ہوگی۔ یا دو چار کم یا چند سال زیادہ۔ لیکن یہاں تو پورے ١١، ١٢ برس کم ہیں۔

”پھر اگر ثابت ہو کہ میری سو پیش گوئی میں سے ایک بھی جھوٹی نکلی ہو۔ تو میں اقرار کروں گا کہ میں کاذب ہوں۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٤٣، خزائن ج ١٧ ص ٤٦١ حاشیہ)

٦...... امراض خبیثہ سے حفاظت کا وعدہ

”اس (خدا) نے مجھے براہین میں بشارت دی کہ ہر ایک خبیث عارضہ سے تجھے محفوظ رکھوں گا۔“

(ضمیمہ گولڑویہ ص ٣٠ حاشیہ خزائن ج ١٧ ص ٦٧)

”خبیث عارضہ“ سے مراد کوئی مزمن یا مہلک بیماری ہی ہو سکتی ہے۔ مثلاً دائمی دل دھڑکن، دق، خون کا دباؤ، ذیابیطس، امراض طوائف خانہ، جنون، مرگی، طاعون، ہیضہ، برص، دائمی خارش وغیرہ۔

”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود کو پہلی دفعہ دورانِ سر اور ہسٹریا کا دورہ بشیر اوّل کی وفات کے چند دن بعد ہوا تھا...... اس کے بعد آپ کو باقاعدہ دورے پڑنے شروع ہو گئے۔“

(سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص ١٣)

”مراق کا مرض مرزا قادیانی کو موروثی نہ تھا۔ بلکہ یہ خارجی اثرات کے ماتحت پیدا ہوا تھا۔“

(رسالہ ریویو قادیان بابت اگست ١٩٢٦ء)

”حضرت اقدس (مرزا قادیانی) نے اپنی بیماری دق کا بھی ذکر کیا ہے۔ یہ بیماری آپ کو حضرت مرزا غلام مرتضیٰ مرحوم کی زندگی میں ہو گئی تھی...... اس بیماری میں آپ کی حالت بہت نازک ہو گئی تھی۔“

(حیات احمد جلد دوم نمبر اوّل ص ٧٩، مؤلفہ یعقوب علی)

”میں ایک دائم المرض آدمی ہوں۔ ہمیشہ سر درد اور دوران سر اور کمی خواب اور تشنج دل کی بیماری دورہ کے ساتھ آتی ہے اور دوسری بیماری ذیابیطس ہے کہ ایک مدت سے دامن گیر ہے اور بسا اوقات سو سو دفعہ رات کو یا دن کو پیشاب آتا ہے۔ بسا اوقات میرا یہ حال ہوتا ہے کہ نماز کے لئے جب زینہ چڑھ کر اوپر جاتا ہوں تو مجھے اپنی ظاہری حالت پر امید نہیں ہوتی کہ...... میں زندہ رہوں گا۔“

(ضمیمہ اربعین نمبر ٤ ص ٤، ٥، خزائن ج ١٧ ص ٤٧٠، ٤٧١)

صفحہ ١٤٦

٧...... الہام ثلج

ثلج عربی زبان میں برف کو کہتے ہیں۔ جب مرزا قادیانی کے الہامات زلزلہ کی وجہ سے بعض لوگوں میں بے چینی سی پھیل گئی تو اللہ نے یہ الہام نازل کیا۔ ”پھر بہار آئی تو آئے ثلج کے آنے کے دن۔“ اور اس کی تشریح یوں فرمائی:

”دوسرے معنی اس کے عربی میں اطمینان قلب حاصل کرنا ہے۔ گذشتہ دنوں میں زلزلوں کی نسبت کج طبع لوگوں نے شبہات بھی پیدا کئے تھے اور ثلج قلب یعنی کلی اطمینان سے محروم ہو گئے تھے۔ اس لئے بہار کے موسم میں ایک ایسا نشان ظاہر ہوگا۔ جس سے ثلج قلب ہو جائے گا۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٣٨، خزائن ج ٢٢ ص ٤٧١،٤٧٢)

کون سا موسم بہار؟

حقیقت الوحی کا تتمہ جس سے یہ اقتباس لیا گیا ہے۔ ١٩٠٧ء کے اوائل میں لکھا جارہا تھا۔ بظاہر موسم بہار سے ١٩٠٧ء ہی کا موسم ہو سکتا ہے۔ لیکن نہیں۔ آپ اس کتاب میں آگے چل کر لکھتے ہیں۔ ”بہار جب دوبارہ (یعنی ١٩٠٨ء میں) آئے گی تو ایک اور زلزلہ آئے گا۔“

(حقیقت الوحی ص ١٠٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٣)

اور چند سطور کے بعد فرماتے ہیں۔ ”پھر بہار جب بار سوم (یعنی ١٩٠٩ء میں) آئے گی تو اس وقت اطمینان کے دن آ جائیں گے اور اس وقت تک خدا کئی نشان ظاہر کرے گا۔“

(حقیقت الوحی ص ١٠٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٣)

تو واضح ہو گیا کہ الہام ثلج کا تعلق ١٩٠٩ء کے موسم بہار سے تھا۔ لیکن آپ کا انتقال مئی ١٩٠٨ء میں ہو گیا۔ تو کیا ١٩٠٩ء کی بہار میں کوئی ایسا نشان نازل ہوا تھا۔ جو اطمینان قلب کا موجب بنا ہو؟ اس سوال کا جواب کہیں سے نہیں مل سکتا۔ گھبرانے کی بات نہیں۔ مرزا قادیانی اس پیشین گوئی کو بھی فروری ١٩٠٧ء میں پورا کر گئے تھے۔ وہ کس طرح؟ فرماتے ہیں۔ ”یہ پیشین گوئی (ثلج والی) صفائی سے پوری ہوگئی۔ یعنی جب عین بہار کا موسم آیا اور باغ پھولوں اور شگوفوں سے بھر گئے تب کشمیر اور یورپ کے ملکوں میں برف باری (ثلج، برف) حد سے زیادہ ہوئی۔ چنانچہ آج ہی ٢٥؍ فروری ١٩٠٧ء کو خط کشمیر سے آیا ہے کہ ان دنوں برف تین گز تک زمین پر چڑھ گئی ہے۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٣٩، خزائن ج ٢٢ ص ٤٧٢)

یہ خط کشمیر سے چار پانچ روز پہلے یعنی ٢٠؍ فروری کو چلا ہوگا۔ کیا ٢٠؍ فروری کو عین بہار کا موسم ہوتا ہے اور باغ پھولوں اور شگوفوں سے بھر جاتے ہیں۔ قارئین کرام! آپ بیسیوں موسم بہار

صفحہ ١٤٧

دیکھ چکے ہیں۔ کیا آپ نے آج تک ٢٠؍فروری کو بھی کوئی بہار دیکھی ہے؟ حافظے پر زور ڈالئے۔ اگر یاد نہیں رہا تو اگلی ٢٠؍فروری کا انتظار فرمائیے اور اچھی طرح گھوم کر دیکھئے کہ کیا ٢٠؍فروری کو پنجاب میں کہیں بہار ہوتی ہے؟ اور وہ معمہ تو بدستور حل طلب رہا کہ جس الہام کا تعلق تیسری بہار ١٩٠٩ء سے تھا وہ پہلی بار میں کیسے پورا ہو گیا؟

٨...... میاں منظور محمد کے گھر لڑکا

نوٹ: از حضرت مسیح موعود۔ ”بذریعہ الہام الٰہی معلوم ہوا کہ میاں منظور محمد کے گھر میں یعنی محمدی بیگم (زوجہ منظور محمد) کا ایک لڑکا پیدا ہوگا۔ جس کے نام یہ ہوں گے۔ بشیر الدولہ، عالم کباب، شادی خان، کلمۃ اللہ خان۔“

(البشریٰ از بابو منظور الٰہی ج دوم ص ١١٦)

لیکن ہوا یہ کہ لڑکے کی جگہ ١٧؍ جولائی ١٩٠٦ء کو ایک لڑکی پیدا ہوگئی۔ اس پر مرزا قادیانی نے لکھا۔ ”وحی الٰہی ہوئی تھی کہ وہ زلزلہ جو نمونہ قیامت ہوگا بہت جلد آنے والا ہے۔ اس کے لئے یہ نشان دیا گیا تھا کہ پیر منظور محمد لدھیانوی کی بیوی محمدی بیگم کو لڑکا پیدا ہوگا، مگر بعد اس کے میں نے دعاء کی کہ اس زلزلہ نمونہ قیامت میں کچھ تاخیر ڈال دی جائے۔ خدا نے دعاء قبول کر کے زلزلہ کسی اور وقت پر ڈال دیا ہے۔..... اس لئے ضرور تھا کہ لڑکا پیدا ہونے میں بھی تاخیر ہوتی۔ چنانچہ پیر منظور محمد کے گھر میں ١٧؍جولائی ١٩٠٦ء کو بروز سہ شنبہ لڑکی پیدا ہوئی۔“

(حقیقت الوحی ص ١٠٠ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٣)

یاد رکھئے کہ لڑکا پیدا ہونے میں تاخیر ہوئی تھی۔ پیدائش منسوخ نہیں ہوئی تھی۔ لیکن کچھ عرصہ بعد محمدی بیگم کا انتقال ہو گیا اور اس ”عالم کباب“ کے عالم وجود میں آنے کے تمام امکانات ہی ختم ہو گئے۔ اس ”حادثہ“ پر البشریٰ کا مصنف لکھتا ہے۔ ”اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ یہ پیش گوئی کب اور کس رنگ میں پوری ہوگی۔ گو حضرت اقدس نے اس کا وقوعہ محمدی بیگم کے ذریعہ سے فرمایا تھا۔ مگر چونکہ وہ فوت ہو چکی ہے۔ اس لئے اب تخصیص نام نہ رہی۔ بہر صورت یہ پیش گوئی متشابہات میں سے ہے۔“

(البشریٰ از بابو منظور الٰہی ج دوم ص ١١٦)

مرزا قادیانی کا ارشاد ہے۔ ”بد خیال لوگوں کو واضح ہو کہ ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیش گوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہو سکتا۔“

(اشتہار تبلیغ رسالت ج ١ ص ١١٨، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٩)

٩...... کنواری اور بیوہ

مرزا قادیانی پر ایک الہام نازل ہوا تھا۔ ”بکر و ثیب (کنواری بیوہ)“

صفحہ ١٤٨

الہام کے معنی ملہم ہی سمجھ سکتا ہے۔ ”ملہم سے زیادہ کوئی الہام کے معنی نہیں سمجھ سکتا اور نہ کسی کا حق ہے جو اس کے مخالف کہے۔“

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ٧، خزائن ج ٢٢ ص ٤٣٨)

١٨٩٩ء کے اواخر میں آپ نے اس الہام کی تشریح یوں فرمائی۔ ”خدا کا ارادہ ہے کہ وہ دو عورتیں میرے نکاح میں لائے گا۔ ایک بکر (کنواری) ہوگی اور دوسری بیوہ۔ چنانچہ یہ الہام جو بکر کے متعلق تھا۔ پورا ہو گیا اور اس وقت بفضلہ چار پسر اس بیوی سے ہیں اور بیوہ کے الہام کا انتظار ہے۔“

(تریاق القلوب ص ٤٤، خزائن ج ١٥ ص ٢٠١)

یہ انتظار تادم واپسیں جاری رہا اور کوئی بیوہ آپ کے نکاح میں نہ آئی۔ اس پر بابو منظور الٰہی نے لکھا۔ ”یہ الہام اپنے دونوں پہلوؤں سے حضرت ام المومنین (نصرت جہاں بیگم) کی ذات میں پورا ہوا۔ جو بکر آئیں اور ثیب (بیوہ) رہ گئیں۔“

(تذکرہ مجموعہ الہامات ص ٣٩ طبع سوم)

بابو صاحب کی خدمت میں صرف اتنی ہی گذارش ہے کہ : ”ملہم سے زیادہ کوئی الہام کے معنی نہیں سمجھ سکتا اور نہ کسی کا حق ہے جو اس کے مخالف کہے۔“

١٠...... بعض بابرکت عورتیں

مرزا قادیانی نے ٢٠ فروری ١٨٨٦ء کو ایک اشتہار نکالا تھا۔ اس کے متعلق بعد میں فرماتے ہیں۔ ”اس عاجز نے ٢٠ فروری ١٨٨٦ء کے ایک اشتہار میں یہ پیش گوئی خدا تعالیٰ کی طرف سے بیان کی تھی کہ اس نے مجھے بشارت دی ہے کہ بعض بابرکت عورتیں اس اشتہار کے بعد تیرے نکاح میں آئیں گی اور ان سے اولاد پیدا ہوگی۔“

(تبلیغ رسالت ج ١ ص ٨٩، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٣٠)

اس اشتہار کے وقت آپ کے ہاں دو بیویاں موجود تھیں۔ فضل و سلطان کی والدہ جسے بعد میں طلاق ہوگئی اور نصرت جہاں بیگم جو موجودہ امام جماعت میاں محمود احمد قادیانی کی والدہ تھیں۔ نصرت بیگم کے بعد کسی اور عورت سے آپ کا نکاح نہیں ہوا۔

مرزا قادیانی کہتے ہیں۔ ”میری تائید میں خدا کے کامل اور پاک نشان بارش کی طرح برس رہے ہیں اور اگر ان پیش گوئیوں کے پورا ہونے کے تمام گواہ اکٹھے کئے جائیں تو میں خیال کرتا ہوں کہ وہ ساٹھ لاکھ سے بھی زیادہ ہوں گے۔“

(اعجاز احمدی ص ١، خزائن ج ١٩ ص ١٠٧)

آپ کی بعض پیش گوئیاں پوری ہوئیں۔ جن میں سے اہم لیکھرام اور احمد بیگ کی وفات میعاد معینہ میں ہے۔ بعض مناظرین نے انہیں بھی جھٹلانے کی کوشش کی۔ لیکن ان کے دلائل اطمینان بخش نہیں اور ہمیں ان سے اتفاق نہیں۔ (مصنف کی ذاتی رائے ہے جو حقیقت سے میل نہیں رکھتی۔ مرتب) گو اس حقیقت سے یقیناً اتفاق ہے کہ صرف پیش گوئی دلیل نبوت نہیں بن

صفحہ ١٤٩

ملہم سے زیادہ کوئی الہام کے معنی نہیں سمجھ سکتا اور نہ

(تحفہ حقیقت الوحی ص ٧، خزائن ج ٢٢ ص ٤٣٨)

کی تصریح یوں فرمائی۔ ”خدا کا ارادہ ہے کہ وہ ایک باکرہ ہو گی اور دوسری بیوہ۔ چنانچہ یہ الہام جو باکرہ بیوی سے ہے اور بیوہ کے الہام کا

(تریاق القلوب ص ٣٤، خزائن ج ١٥ ص ٢٠١)

مصداق ان کے نکاح میں نہ آئی۔ اس پر بابو منظور محمد نے ام المومنین (نصرت جہاں بیگم) کی

(تذکرہ مجموعہ الہامات ص ٣٩ طبع سوم)

روایت پیش کی ہے کہ: ”ملہم سے زیادہ کوئی الہام کے معنی نہیں سمجھ سکتا تھا۔“ اس کے متعلق بعد میں ایک اشتہار میں یہ پیش گوئی خدا تعالیٰ کی طرف سے تھی کہ عورتیں اس اشتہار کے بعد تیرے

(ضمیمہ اشتہار ص ٨٩، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٣٠)

نکاح میں آئیں گی۔ فضل وسلطان کی والدہ جسے آج کل جماعت میاں محمود احمد قادیانی کی والدہ کہتی ہے، وہ بالکل باطل ہوا۔ وہ کامل اور پاک نشان بارش کی طرح سب گواہ اکٹھے کئے جائیں تو میں خیال

(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٠٧)

کرتا ہوں کہ اس سے اہم آتھم اور احمد بیگ کی نشان کو مٹانے کی کوشش کی۔ لیکن ان کے پاس صرف ذاتی رائے ہے جو حقیقت سے خالی ہے۔ صرف پیش گوئی دلیل نبوت نہیں بن

سکتی۔ مرزا قادیانی نے نعمت اللہ کی پیش گوئی کا بار بار ذکر فرمایا ہے۔ نیز عبدالحکیم کی پیش گوئی آپ کی وفات کے متعلق پوری ہوئی اور یورپ کے مشہور منجم شیرو کی تو تمام پیش گوئیاں پوری تھیں۔ ملاحظہ ہو اس کی مشہور کتاب ”بشارات عالم“ لیکن ان میں سے کوئی بھی نبی نہیں تھا۔

نواں باب ...... الہامات

میں جب آپ کے الہامات پر نظر ڈالتا ہوں تو مختلف قسم کی حیرانیاں مجھے گھیر لیتی ہیں۔ اوّل ...... اللہ کی ازل سے یہ سنت رہی ہے کہ وہ انبیاء پر ان کی اقوام کی زبان میں وحی نازل کرتا رہا۔ ”وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومه (ابراہیم:٤)“ ہم نے ہر رسول پر صرف اس کی قوم کی زبان میں وحی نازل کی تھی۔

یہاں حصر ہے۔ ”صرف قوم کی زبان میں“ اور رسالت کی طویل تاریخ میں ایک بھی استثناء موجود نہیں۔ اگر کوئی ہے تو بتائیے؟ لیکن چودھویں صدی میں اللہ نے اپنی یہ عادت فوراً بدل ڈالی اور مرزا قادیانی پر جو پنجابی نژاد تھے۔ عموماً عربی الہامات اتارنا شروع کر دیئے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیوں؟ قوم کی زبان پنجابی تھی۔ عربی سمجھنے والے لاکھ میں دو بھی نہیں تھے اور اللہ تعالیٰ دھڑا دھڑ عربی میں الہامات نازل کر رہا تھا۔

اس کی وجہ مرزا قادیانی یوں بیان فرماتے ہیں۔ ”یہی (عربی) ایک پاک زبان ہے جو پاک اور کامل اور علوم عالیہ کا ذخیرہ اپنے مفردات میں رکھتی ہے اور دوسری زبانیں ایک کثافت اور تاریکی کے گڑھے میں پڑی ہوئی ہیں۔ اس لئے وہ اس قابل ہرگز نہیں ہوسکتیں کہ خدا تعالیٰ کا کامل

(آریہ دھرم ص ٨ حاشیہ، خزائن ج١٠ ص٨)

اور محیط کلام ان میں نازل ہو۔“

تسلیم کر لیا کہ عربی ایک پاک اور کامل زبان تھی اور دوسری زبانیں کثیف و تاریک ہونے کی وجہ سے ہرگز اس قابل نہیں تھیں کہ خدا تعالیٰ کا کامل و محیط کلام ان میں نازل ہوتا۔ لیکن پھر یہ کیا بات ہے کہ اسی خدا نے دیگر کثیف و تاریک زبانوں میں بھی سینکڑوں الہامات آپ پر نازل کئے۔ جن سے آپ کی تصانیف لبریز ہیں۔ سمجھ میں نہ آیا کہ اللہ کو کون سی مجبوری پیش آئی تھی کہ اس نے ایک کامل اور پاک زبان کو چھوڑ کر تاریک و کثیف زبانوں میں بھی بولنا شروع کر دیا؟ اگر حقیقتاً باقی تمام زبانیں کثیف و تاریک تھیں تو پھر آپ نے پوری بہتر (٧٢) کتابیں کثیف اردو میں کیوں لکھیں؟ ہزار ہا اشعار کثیف فارسی میں کیوں تصنیف فرمائے اور زندگی بھر پنجابی جیسی تاریک زبان کیوں بولتے رہے؟

صفحہ ١٥٠

دوم....... مزید حیرت اس امر پر ہے کہ آپ کے الہامات میں عموماً قرآنی آیات ہیں ۔ جن میں کہیں کہیں کوئی نیا پیوند لگا ہوا ہے۔ یہ قرآنی آیات دوبارہ کیوں اتاریں۔ کیا یہ قرآن سے غائب ہو چکی تھیں یا اللہ کے پاس عربی الفاظ کا ذخیرہ ختم ہو چکا تھا؟

سوم....... پھر یہ کیا بات ہے کہ یہ پیوند فصاحت کے لحاظ سے قرآنی آیات کے ہم سطح نہیں ۔ مثلاً : ”ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق وتھذیب الاخلاق“ یہ تہذیب الاخلاق کا جوڑ کس قدر غیر قرآنی و اجنبی ہے؟

”انت منی بمنزلۃ ولدی“ ﴿تو میرے بیٹے کی جا بجا ہے۔﴾

یہ منزلت کا استعمال خالص پنجاب قسم کا ہے۔ اس الہام سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اولاد بھی ہے۔ اسے اپنی اولاد سے گہری محبت ہے اور وہ مسیح موعود سے کہہ رہا ہے کہ مجھ کو تجھ سے اتنی ہی محبت ہے جتنی اپنے بیٹے سے ۔ اللہ کی کوئی اولاد نہیں ۔ جب مشبہ بہ ہی مفقود ہے تو پھر یہ تشبیہ کیسے صحیح ہوئی؟ اس کی مثال یوں ہے کہ زید عمر سے کہے۔ ” میں تجھے اتنا ہی پسند کرتا ہوں جتنا اپنی تیسری آنکھ کو۔ تیسری آنکھ ہوتی ہی نہیں ۔ اس لئے یہ تشبیہ غلط ہے۔“

عربی زبان میں مؤنث و مذکر کے لئے جدا جدا افعال ہیں۔ اگر مخاطب مرد ہو تو کہیں گے قل ( کہہ ) مونث ہو تو (قولی ) افعل (تو مرد یہ کام کر ) افعلی (تو عورت یہ کام کر )

لیکن ایک الہام میں یہ تمیز قائم نہیں رکھی گئی ۔ قرآن کی ایک آیت تھی۔ ”یـــــــا آدم اسکن“ آدم مرد تھا۔ اس کے لئے اسکن ہی صحیح تھا۔ لیکن مرزا قادیانی کے ایک الہام میں مخاطب عورت ہے۔ اور فعل مذکر۔

”یا مریم اسکن“ مریم مؤنث ہے۔ اس لئے اسکنی چاہئے تھا۔ اگر یہ دو فقرے

غلط ہیں تو پھر ”یا مریم اسکن “ کیونکر صحیح ہوا؟ میرے سامنے اس وقت اس طرح کی بے قاعدگیوں اور بوالعجبیوں کی ستر سے زیادہ مثالیں پڑی ہیں۔ جنہیں میں خوف طوالت سے نظر انداز کرتا ہوں۔

چہارم....... جب کفار نے حضور ﷺ سے معجزات طلب کئے تو آپؐ نے فرمایا۔ ”ھل کنت الا بشرا رسولا (بنی اسرائیل:٩٣) “ کہ میں تو صرف انسان ہوں اور رسول بھی ۔ ؎ مطلب یہ کہ میرا کام ابلاغ وحی ہے۔ کرامات و معجزات دکھانا نہیں۔ سارے قرآن کو الحمد

صفحہ ١٥١

سے والناس تک پڑھ جائیے ۔ حضور ﷺ نے کہیں بھی اپنی رسالت کے ثبوت میں کوئی معجزہ نہیں دکھایا اور نہ کوئی تحدی کی۔ اگر کہا تو صرف اتنا ہی کہ: ”میں ولادت سے تمہارے درمیان رہ رہا ہوں ۔ میری زندگی پہ نظر ڈالو۔“

یا یہ کہ: ”اگر اس قرآن کے منجانب اللہ ہونے میں کوئی شک ہے تو ایک سورۃ ہی بنالاؤ۔“

لیکن دوسری طرف مرزا قادیانی کی بہتر (٧٢) تصانیف

سے لبریز ہیں۔ رسول کا کام ابلاغ رسالت ہے نہ کہ بشارات و تاویلات میں الجھ کر رہ جانا ۔

کرشن اور سقراط کی تعلیمات بھی دنیا میں موجود ہیں۔ ان سب کا مطالعہ فرمائیے ۔ آپ کو ان میں از ابتداء تا انتہاء بلند اخلاقی ہدایات ۔ سیاسی ضوابط اور معاشی فلاح کے لئے بے بہا گر ملیں گے۔ یہی حال قرآن حکیم کا ہے۔ آپ اس میں عبادات، اقتصادیات، سیاسیات اور مطالعہ کائنات پر مکمل، روشن اور لافانی ہدایات پائیں گے۔ یہاں پیش گوئیوں کا جھگڑا نہیں ۔ تاویلات کا خبط نہیں ۔ انعامی اشتہارات کا چرچا نہیں ۔ قیصر و کسریٰ کی خوشامد نہیں۔ کچھ بھی نہیں ۔ صرف انسانی اصلاح سے کام ہے وبس ، اور دوسری طرف مرزا قادیانی کے الہامات میں جو بیس اجزاء پر مشتمل ہیں ۔ حیات انسانی کا کوئی لائحہ عمل نہیں ملتا۔ ان میں نہ صوم وصلوٰۃ کا ذکر ہے نہ حج و زکوٰۃ کا نہ مسائل نکاح و طلاق کا نہ وراثت ارضی و تمکن فی الارض کا ۔ نہ جہاد وصدقات کا ۔ نہ حلال وحرام کا۔ ”الا ماشاء اللہ “ ان میں ہے کیا؟ نری مدعی مسیح موعود کی تعریف۔

تو میرا بیٹا ہے ۔ تیری نسل مجھ سے شروع ہوگی ۔ تیری عمر اسی کے قریب ہوگی ۔ میں اپنی نعمتیں تم پر مکمل کر دوں گا ۔ فتح قریب ہے ۔ تم کامیاب رہو گے اور اعداء ذلیل ہوں گے ۔ تم ہمارے ہاں بہت بلند ہو ۔ تم مسیح ابن مریم ہو ۔ تم جیسا موتی ضائع نہیں ہو سکتا ۔ خدا تجھے بچائے گا۔ ہم نے تجھے کوثر دیا۔ تم پر ہماری برکات نازل ہوں گی۔ تم الخلیفۃ السلطان ہو۔ تمہیں ملک عظیم دوں گا۔

صفحہ ١٥٢

اور باقی بشارات وغیرہ تاریخ انسانی کا یہ پہلا واقعہ ہے کہ اللہ نے ایک رسول بھیج کر الہام کی ساری مشینری اس کے اوصاف تراشنے پر لگادی اور مخلوق کو وہ بالکل بھول گیا۔

یہ تو مرزا قادیانی کی نوازش خاص سمجھئے کہ آپ نے اپنے کچھ اوقات اصلاح اخلاق کے لئے بھی وقف فرمائے اور چند صفحات تطہیر اخلاق پر بھی لکھ ڈالے۔ ورنہ خدا نے تو ١٨٦٥ء سے لے کر ١٩٠٨ء تک شاید ہی کوئی الہام اصلاح خلق کے لئے نازل کیا ہو۔

ششم...... مرزا قادیانی کا اردو اسلوب تحریر مولویانہ تھا۔ ان معنوں میں کہ روانی وسلاست کا خیال قطعاً نہیں رکھتے تھے۔ علمائے مکاتب کی طرح بھاری بھاری الفاظ توالی اضافات کے ساتھ استعمال فرماتے تھے۔ حشووزوائد سے اجتناب نہیں کرتے تھے۔ (تفصیل آگے ) حروف عطف کی بھرمار سے جملے کا حلیہ بگاڑ دیتے تھے۔ اجزائے جملہ کو شاذ و نادر ہی صحیح مقامات پر رہنے دیتے تھے اور سب سے بڑی بات یہ کہ بعض اوقات ناکافی الفاظ کی وجہ سے بات مہمل سی ہو جاتی تھی۔

حیرت ہے کہ یہی تمام اوصاف ان الہامات میں بھی پائے جاتے ہیں جو اردو، فارسی یا انگریزی میں آپ پر نازل ہوئے۔ ایک دو مثالیں ملاحظہ ہوں۔

(حقیقت الوحی ص ١٠٢، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٥)

یہ مضمون بہتر صورت میں بھی ادا ہو سکتا تھا۔ مثلاً : ”تجھ پہ لاکھوں سلام..... تجھ پہ میرا سلام“ وغیرہ۔

فقرے کی موجودہ بناوٹ کافی مضحکہ خیز ہے۔ ”بہت سے“ یہاں ”سے“ کا کون سا موقعہ ہے؟ ”میرے سلام“ کی جگہ ”سلام میرے“ کیوں؟ تقدیم مضاف الیہ کی کوئی وجہ ہونی چاہئے۔ ”تجھ پر“ کی جگہ ”تیرے پر“ مہمل ہے۔ ”تیرا“ ضمیر اضافت ہے اس کے ساتھ مضاف الیہ کا ہونا ضروری ہے۔ مثلاً تیرا کمرہ، تیری کتاب، تیرے بھائی وغیرہ۔ اہل زبان نے ”تیرے نفس“ اور ”میرے نفس“ کے لئے ”تجھ“ اور ”مجھ“ کے الفاظ رائج کر رکھے ہیں۔ اس لئے :

یہ غلط ہیں اور یہ صحیح ہیں

صفحہ ١٥٣

انسانی کا یہ پہلا واقعہ ہے کہ اللہ نے ایک رسول بھیج کر اپنے پہ لگا دی اور مخلوق کو وہ بالکل بھول گیا۔ یوں لیجئے کہ آپ نے اپنے کچھ اوقات اصلاح اخلاق اخلاق پر بھی لکھ ڈالے۔ ورنہ خدا نے تو ١٨٦٥ء سے کوشش کے لئے نازل کیا ہو۔ اسلوب تحریر مولویانہ تھا۔ ان معنوں میں کہ روانی نہ مکاتب کی طرح بھاری بھاری الفاظ تو والی اضافات کا انتخاب نہیں کرتے تھے۔ (تفصیل آگے ) حروف تھے۔ اجزائے جملہ کو شاذ و نادر ہی صحیح مقامات پر رہنے نا کافی الفاظ کی وجہ سے بات مہمل سی ہو جاتی تھی۔ الہامات میں بھی پائے جاتے ہیں جو اردو، فارسی یا میں ملاحظہ ہوں۔ فدا تیرے پر ہوں۔“

(حقیقت الوحی ص ١٠٢، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٥)

ہو سکتا تھا۔ مثلاً : ”تجھ پر لاکھوں سلام ....... تجھ پہ

ترجمہ ہے۔ ”بہت سے“ یہاں ”سے“ کا کون سا ہے۔ ”کیوں؟ تقدیم مضاف الیہ کی کوئی وجہ ہونی "تیرا" ضمیر اضافت ہے اس کے ساتھ مضاف میرے بھائی وغیرہ۔ اہل زبان نے ”تیرے الفاظ رائج کر رکھے ہیں۔ اس لئے : اور یہ صحیح ہیں ........ وہ مجھ کو کہتا تھا۔ ........ وہ تجھ کو بلاتا ہے۔ ........ میں نے قلم تجھ کو دے دیا تھا۔ ........ تجھ پہ سلام۔

مان لیا کہ مرزا قادیانی اچھی اردو نہیں جانتے تھے۔ لیکن اللہ کو کیا ہو گیا تھا کہ اس نے بھی غلط زبان کا استعمال شروع کر دیا تھا۔ نہ صرف غلط بلکہ بعض اوقات مہمل بھی۔

الہامات غلط زبان میں

(براہین احمدیہ ص ٣٨١، خزائن ج ١ ص ٥٧٢)

you. He shall help you. Words of God not can exchange. آخری فقرے کا ترجمہ یوں کیا ہے۔ ”خدا کے کام (Words) بدل نہیں سکتے۔“ You have to go amritsar. He halts in Pehsawar.

(مکتوبات احمدیہ ج ١ اول ص ٦٨، ٦٩)

(حقیقت الوحی ص ٣٠٣، خزائن ج ٢٢ ص ٣١٦)

(براہین احمدیہ نمبر ٣ ص ٥٥٧، خزائن ج ١ ص ٦٦٤)

(براہین نمبر ٣ حاشیہ در حاشیہ ص ٤٧٩)

(براہین نمبر ٣ حاشیہ در حاشیہ ص ٤٨٤، خزائن ج ١ ص ٥٧٦)

ہے کوئی فقرہ درست ان الہامات میں؟ یہ خدا کا کلام ہے اور کس قدر مقام حیرت ہے کہ خدا انگریزی نہیں جانتا۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ پانچویں جماعت کے کسی بچے کی انگریزی ہے۔ ”سیرۃ المہدی“ میں درج ہے۔ مرزا قادیانی نے سیالکوٹ کی محرری کے زمانے میں ایک نائٹ سکول میں انگریزی کی صرف ایک دو ابتدائی کتابیں پڑھیں۔ (ملخص حصہ اول ص ١٥٤، ١٥٥) مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ”یہ بالکل غیر معقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی اور ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو۔“ (چشمہ معرفت ص ٢٠٩، خزائن ج ٢٣ ص ٢١٨)

صفحہ ١٥٤

عجیب الہامات

(البشریٰ ج ٢ ص ٧٩)

(انجام آتھم ص ٥٥، ٥٦ خزائن ج ١١ ص ٥٥، ٥٦)

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١)

حالت اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی قوت کا اظہار فرمایا۔“

(اسلامی قربانی ص ١٢، مصنفہ قاضی یار محمد)

(براہین احمدیہ ص ٤٨٠، خزائن ج ١ ص ٥٧١)

(براہین نمبر ٣ ص ٥٥١ حاشیہ در حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٦٥٩)

(حقیقت الوحی ص ١٠٤، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٧)

(حقیقت الوحی ص ١٠٤، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٧)

من می بوسید و من میگفتم کہ حجر اسود منم (ایک آدمی میرے پاؤں چوم رہا تھا اور میں کہہ رہا تھا کہ میں حجر اسود ہوں)“

(اربعین نمبر ٣ ص ١٦ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)

میرا نام ہے۔ ٹیچی ٹیچی۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٣٢، خزائن ج ٢٢ ص ٣٤٦)

”اتنے میں تین فرشتے آسمان سے آئے۔ ایک کا نام خیراتی تھا۔“

(حیات النبی ج اوّل ص ٩٥)

”٢٤؍ فروری ١٩٠٥ء کو حالت کشفی میں جب کہ حضور کی طبیعت ناساز تھی۔ ایک شیشی دکھائی گئی۔ جس پر لکھا تھا۔ خاکسار پیپر منٹ۔“

(مجموعہ الہامات و مکاشفات ص ٥١)

صفحہ ١٥٥

میں نماز پڑھوں گا اور روزہ رکھوں گا۔“

(البشریٰ ج ٢ ص ٧٩)

ہے اور وہ بزدلی سے ہیں۔“

(انجام آتھم ص ٥٥، ٥٦، خزائن ج ١١ ص ٥٥، ٥٦)

کر تیرا حیض دیکھے ۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١)

ایک موقعہ پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی کہ کشف کی میں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی قوت کا اظہار

(اسلامی قربانی ص ١٢، مصنفہ قاضی یار محمد)

(براہین احمدیہ ص ٢٨٠، خزائن ج ١ ص ٥٧١)

ن ہے۔“

(براہین نمبر ٣ ص ٥٥١ حاشیہ در حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٦٥٩)

چوڑیوں کو پکڑ کے آ ۔“

(حقیقت الوحی ص ١٠٤، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٧)

ہو جا پڑے ہیں۔“

(حقیقت الوحی ص ١٠٤، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٧)

کہا میرا نام بیت اللہ بھی رکھا ہے ۔ یکے پائے میرے پاؤں چوم رہا تھا اور میں کہہ رہا تھا کہ میں

(براہین نمبر ٣ ص ٦١ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٤٣٥)

مجھ پر ایک شخص جو فرشتہ معلوم ہوتا تھا ......

(حقیقت الوحی ص ٣٣٢، خزائن ج ٢٢ ص ٣٤٦)

ایک کا نام خیراتی تھا ۔“

(حیات النبی جزء اول ص ٩٥)

کہ حضور کی طبیعت ناساز تھی ۔ ایک شیشی

(مجموعہ الہامات و مکاشفات ص ٤٥)

(براہین نمبر ٣ حاشیہ در حاشیہ ص ٤٦٩، خزائن ج ١ ص ٥٥٩)

مہمل الہامات

(حقیقت الوحی ص ٩٦، خزائن ج ٢٢ ص ٩٩)

اداسی چھا جائے گی۔ یہ ہوگا، یہ ہوگا، یہ ہوگا۔ پھر تیرا واقعہ ہوگا۔ تمام عجائبات قدرت دکھلانے کے بعد تمہارا حادثہ آئے گا ۔“

(حقیقت الوحی ص ١٠٧، ١٠٨، خزائن ج ٢٢ ص ١١٠، ١١١)

(حقیقت الوحی ص ٢٨٠، خزائن ج ٢٢ ص ٢٩٢)

(براہین نمبر ٣ ص ٥١٣ حاشیہ در حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٧١٢)

(براہین احمدیہ نمبر ٣ ص ٥٥٥ حاشیہ در حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٦٦٢)

میری خدیجہ کو دیکھ لیا ۔

(براہین نمبر ٣ ص ٥٥٨ حاشیہ در حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٦٦٦)

(براہین نمبر ٣ ص ٥٥٦، خزائن ج ١ ص ٦٦٤)

(مکتوبات احمدیہ ج ١ ص ٦٨)

مرزا قادیانی کا ارشاد ہے ۔ ”خدا تعالیٰ کا کلام لغو باتوں سے منزہ ہونا چاہئے ۔“

(ازالۃ اوہام ج ١ ص ٣٧٦، خزائن ج ٣ ص ٢٩٣)

دسواں باب ...... وسعت علم

مرزا قادیانی بار بار فرماتے ہیں کہ میری معلومات خدائی ہیں اور میں نے علم براہِ راست اللہ سے حاصل کیا ہے۔ ”سَمِيتكَ المتوكل وعلمناه مِنْ لَدُنا علما “ اے احمد! میں نے تیرا نام متوکل رکھا اور تجھے اپنی طرف سے علم سکھایا ۔

(ازالۃ اوہام ص ٦٩٧، خزائن ج ٣ ص ٤٧٦)

صفحہ ١٥٦

”وعلمنی من لدنه واکرم“ اللہ نے مجھے اپنی طرف سے علم سکھایا اور عزت دی۔

(خطبہ الہامیہ ص ١٦٣، خزائن ج ١٦ ص ٢٤٩)

”وهب لی علوماً مقدسة نقية ومعارف صافية جلية وعلمني مالم يعلم غيرى من المعاصرين“ اللہ نے مجھے پاک ومقدس علوم نیز صاف و روشن معارف عطاء کئے اور وہ کچھ سکھایا جو میرے سوا کسی اور انسان کو اس زمانے میں معلوم نہ تھا۔

(انجام آتھم ص ٧٥، خزائن ج ١١ ص ٧٥)

آیئے ذرا ان صاف و روشن معارف کا جائزہ لیں۔

والد محترم آپ کی ولادت سے چند ماہ پہلے ایک تجارتی سفر میں فوت ہو گئے تھے اور آپ کی والدہ ماجدہ کا انتقال پورے چھ برس بعد ہوا تھا۔ لیکن مرزا قادیانی اپنی آخری تحریر میں فرماتے ہیں۔ ”تاریخ کو دیکھو کہ آنحضرت ﷺ وہی ایک یتیم لڑکا تھا۔ جس کا باپ پیدائش سے چند دن بعد ہی فوت ہو گیا اور ماں صرف چند ماہ کا بچہ چھوڑ کر مر گئی تھی ۔“

(پیغام صلح ص ٣٨، خزائن ج ٢٣ ص ٤٦٥)

مت بھولئے کہ یہ مرزا قادیانی کی آخری تحریر تھی۔ جو اکہتر برس کے علمی مطالعہ کا نچوڑ تھی۔ پھر تحریر بھی اس ہستی کے متعلق جن کا ذکر ہر زبان پر اور چرچا ہر گھر میں ہے اور واقعہ بھی ایسا جسے ہمارے لاکھوں واعظین تیرہ سو برس سے لگاتار سنا رہے ہیں اور جس سے ہمارے چھوٹے چھوٹے بچے بھی آگاہ ہیں۔ حیرت ہے کہ مرزا قادیانی تاریخ نبوی کے اس مشہور ترین واقعہ سے بھی بے خبر نکلے۔

تھا۔ ٤٧٠ھ (١٠٧٧ء) میں برسر اقتدار آیا اور ٦٢٨ھ (١٢٣١ء) تک زندہ رہا۔ یہ کل آٹھ بادشاہ تھے۔ پہلا انوشتگین اور آخری جلال الدین منکبرنی۔

(طبقات سلاطین اسلام از لین پول، مترجمہ عباس اقبال ایرانی ص ١٦١)

اسلام کا مشہور حکیم بوعلی بن سینا ٣٧٠ھ (٩٨٠ء) میں پیدا ہوا اور ٤٢٨ھ (١٠٣٧ء) میں خوارزم شاہیوں کے ظہور سے بیالیس برس (قمری) پہلے فوت ہو گیا تھا۔

(تاریخ الحکماء القفطی باب الکنی)

لیکن مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ”اور پھر دیکھا کہ خوارزم بادشاہ جو بوعلی سینا کے وقت

(مجموعہ الہامات و مکاشفات از منظور الہی ص ٤٤٩)

صفحہ ١٥٧

مرزا محمود احمد قادیانی کہتے ہیں۔ ”حضرت مرزا صاحب کی کتب بھی جبریل کی تائید سے لکھی گئیں۔“

(الفضل ١٠؍جنوری ١٩٢١ء)

یعنی جبرائیل علیہ السلام بھی تاریخ کے معمولی معمولی واقعات سے بے خبر تھے۔

گئی ہے۔ خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کی نسبت آواز آئے گی کہ ’هذا خليفة الله المهدى‘ اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے جو ایسی کتاب میں درج ہے۔ جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے۔“

(شہادۃ القرآن ص ٤١، خزائن ج ٦ ص ٣٣٧)

اٹھائیے بخاری اور از اوّل تا آخر ہر سطر پڑھ جائیے۔ یہ حدیث نہیں ملے گی۔

”میرے اندر ایک آسمانی روح بول رہی ہے جو میرے لفظ لفظ اور حرف حرف کو زندگی بخشتی ہے۔“

(ازالۃ اوہام ص ٥٢٣، خزائن ج ٣ ص ٤٠٣)

ہو جائے تو اسے قتل کر دو۔ ”لیکن وہ نبی جو ایسی گستاخی کرے کہ کوئی بات میرے نام سے کہے۔ جس کے کہنے کا میں نے اسے حکم نہیں دیا اور معبودوں کے نام سے کہے تو وہ نبی قتل کیا جائے۔“

(استثناء باب ١٨، آیت ٢٠)

لیکن مرزا قادیانی دلیل افتراء کے سلسلے میں آیت کا ترجمہ یوں کرتے ہیں۔ ”لیکن وہ نبی جو ایسی شرارت کرے کہ کوئی کلام میرے نام سے کہے جو کہ میں نے اسے حکم نہیں دیا کہ لوگوں کو سنائے اور وہ جو کلام کرے دوسرے معبودوں کے نام پر وہ نبی مرجائے گا۔“

(ضمیمہ اربعین نمبر ٣، ٤، ص ٨، ٩، خزائن ج ١٧ ص ٤٧٤، ٤٧٥)

کجا یہ حکم کہ ”قتل کیا جائے“ اور کجا یہ خبر کہ ”مر جائے گا“ بائبل کے تمام تراجم جو آج تک دنیا میں ہو چکے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیے۔ یہ ترجمہ کہیں نہیں ملے گا۔ مرزا قادیانی عبرانی زبان سے نا آشنا تھے اور بائبل کے تراجم افراد نے نہیں بلکہ عبرانی علماء کی پوری جماعتوں نے برسوں میں کئے تھے۔ ان لوگوں نے ہر ہر لفظ کی پوری چھان بین کی تھی۔ ان کے ترجمہ کو مسترد کرنے کے لئے زبردست لغوی دلائل کی ضرورت ہے جو مرزا قادیانی نے پیش نہیں فرمائے اور بغیر از سند نیا ترجمہ پیش کر دیا۔ ظاہر ہے کہ ایسا ترجمہ قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ ”وما ينطق عن الهوى ٭ ان هو الا وحي يوحى“ مسیح موعود کوئی بات اپنے پاس سے نہیں کہتا۔ بلکہ اس کا کلام خدائی وحی ہے۔

(اربعین نمبر ٣ ص ٣٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٥)

صفحہ ١٥٨

......٦ ”جب اسلام کا آفتاب نصف النہار پر تھا اور اس کی بیرونی حالت گویا حسن میں رشک یوسف تھی اور اس کی بیرونی حالت اپنی شوکت سے اسکندریہ رومی کو شرمندہ کرتی تھی۔“

(شہادت القرآن ص ١٢، خزائن ج ٦ ص ٣٠٨)

یونان کے مشہور فاتح کا نام اسکندر تھا۔ اسکندریہ نہیں تھا۔ اسکندریہ مصر کا مشہور شہر ہے۔ بحیرہ روم کے ساحل پر جس کی بناء اسکندر اعظم نے ڈالی تھی۔

”میں زمین کی باتیں نہیں کہتا۔ کیونکہ میں زمین سے نہیں ہوں۔ بلکہ میں وہی کہتا ہوں جو خدا نے میرے منہ میں ڈالا ہے۔“

(پیغام صلح ص ٤٧، خزائن ج ٢٣ ص ٤٨٥)

......٧ حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق ارشاد ہوتا ہے۔ ”سارے قرآن میں ایک دفعہ بھی ان کی خارق عادت زندگی اور ان کے دوبارہ آنے کا ذکر نہیں۔“

(آسمانی فیصلہ ص ٥، خزائن ج ٤ ص ٣١٥)

”قرآن مجید میں آنے والے مجدد کا بلفظ مسیح موعود کہیں ذکر نہیں۔“

(شہادت القرآن ص ٦٤، خزائن ج ٦ ص ٣٦٠)

اور پھر فرماتے ہیں۔ ”لیکن ضرور تھا کہ قرآن شریف اور احادیث کی وہ پیش گوئیاں پوری ہوتیں۔ جن میں لکھا تھا کہ مسیح موعود جب ظاہر ہوگا تو اسلامی علماء کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا۔ وہ اس کو کافر قرار دیں گے اور اس کے قتل کے لئے فتوے دیئے جائیں گے۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ١٧، خزائن ج ١٧ ص ٤٠٤)

قرآن میں ایسی پیش گوئی کہاں ہے؟ دو سو سے زیادہ مرتبہ پڑھ چکا ہوں ایک لفظ تک مسیح و علماء کے تصادم کے متعلق میری نظر سے نہیں گزرا۔ کیا کوئی احمدی عالم کوئی ایسی پیش گوئی دکھا کر میری جہالت کو رفع فرمائیں گے؟

......٨ علمائے تولید اس حقیقت کو واضح کر چکے ہیں کہ حمل سے پہلے رحم کے سامنے ایک انڈا (انگریزی میں اووم کہلاتا ہے) منتظر رہتا ہے۔ جونہی مخالطت کے وقت ماء الحیات کا کوئی ذرہ (جسے انگریزی میں سپرم کہتے ہیں) اس انڈے سے مل جاتا ہے تو دونوں ایک دوسرے کو مضبوط پکڑ لیتے ہیں۔ پھر سرک کر رحم میں چلے جاتے ہیں۔ رحم کا منہ بند ہو جاتا ہے اور اس کے بعد ولادت تک کوئی سپرم قطعا رحم میں داخل نہیں ہو سکتا۔ یہ ایک ٹھوس حقیقت ہے۔ لیکن مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔

صفحہ ١٥٩

آفتاب نصف النہار پر تھا اور اس کی بیرونی حالت گویا اپنی حالت اپنی شوکت سے اسکندریہ رومی کو شرمندہ کرتی

(شہادت القرآن ص ١٢، خزائن ج ٦ ص ٣٠٨)

سکندر تھا۔ اسکندریہ نہیں تھا۔ اسکندریہ مصر کا مشہور شہر سکندر اعظم نے ڈالی تھی۔

بلکہ میں زمین سے نہیں ہوں۔ بلکہ میں وہی کہتا ہوں

(پیغام صلح ص ٤٧، خزائن ج ٢٣ ص ٤٨٥)

کلام کے متعلق ارشاد ہوتا ہے۔ ”سارے قرآن میں آگے دوبارہ آنے کا ذکر نہیں۔“

(آسمانی فیصلہ ص ٥، خزائن ج ٤ ص ٣١٥)

انا بلفظ مسیح موعود کہیں ذکر نہیں۔“

(شہادت القرآن ص ١٤، خزائن ج ٦ ص ٣٦٠)

کہ قرآن شریف اور احادیث کی وہ پیش گوئیاں ظاہر ہوگا تو اسلامی علماء کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے لئے فتوے دیئے جائیں گے۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ١٧، خزائن ج ١٧ ص ٤٠٤)

سو سے زیادہ مرتبہ پڑھ چکا ہوں ایک لفظ تک پیش کیا کوئی احمدی عالم کوئی ایسی پیش گوئی دکھا

بیان کر چکے ہیں کہ حمل سے پہلے رحم کے ہوتا ہے۔ جونہی مخالطت کے وقت ماء نطفے سے مل جاتا ہے تو دونوں ایک جاتے ہیں۔ رحم کا منہ بند ہو جاتا ہے اور سکتا۔ یہ ایک ٹھوس حقیقت ہے۔ لیکن

”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ’’واولات الاحمال ....... یعنی حمل والی عورتوں کی طلاق کی عدت یہ ہے کہ وہ وضع (حمل) تک بعد طلاق کے دوسرا نکاح کرنے سے دست کش رہیں۔ اس میں یہی حکمت ہے۔ اگر حمل میں ہی نکاح ہو جائے تو ممکن ہے کہ دوسرے کا بھی نطفہ ٹھہر جائے۔ اس صورت میں نسب ضائع ہوگی اور یہ پتہ نہیں لگے گا کہ وہ دونوں لڑکے کس کس باپ کے ہیں۔“

(آریہ دھرم ص ٢١، خزائن ج ١٠ ص ٢١)

اگر بالفرض حمل کی حالت میں بھی ”نطفہ ٹھہر جائے“ اور پہلے حمل پر چار ماہ گزر چکے ہوں دو ماہ کے بعد تیسرا حمل ٹھہر جائے پھر ایک ماہ کے بعد چوتھا اور ہر بچہ نو ماہ کے بعد پیدا ہو تو غریب بیٹی سارا سال بچے جنتی رہے۔

ہے اور بہت نرم ہوتا ہے اور لوگ اس کو کھاتے ہیں۔“

(چشمہ معرفت ص ٣٢٧، خزائن ج ٢٣ ص ٣٤٢)

ہے کوئی گوہر شناس جو اس نکتہ کی تائید کرے؟

افزا ہوتا ہے۔ لیکن آپ فرماتے ہیں۔ ”بٹیر کے گوشت میں طاعون پیدا کرنے کی خاصیت ہے۔“

(سیرۃ المہدی حصہ دوم ص ١٣٢)

کیا کوئی ماہر طب اس پر روشنی ڈالیں گے؟

اس کی پیدائش پہ فرماتے ہیں۔ ”اور جیسا کہ وہ چوتھا لڑکا تھا۔ اس حساب سے اس نے اسلامی مہینوں میں سے چوتھا یعنی صفر اور ہفتہ کے دنوں میں چوتھا دن یعنی چار شنبہ اور دن کے گھنٹوں میں سے بعد از دو پہر چوتھا گھنٹہ لیا۔“

(تریاق القلوب ص ٤١، خزائن ج ١٥ ص ٢١٧، ٢١٨)

اسلامی سال محرم سے شروع ہوتا ہے۔ جس کا دوسرا مہینہ ہے صفر۔ لیکن آپ اسے چوتھا قرار دیتے ہیں۔ پھر اسلامی ہفتہ شنبہ سے شروع ہو کر جمعہ پہ ختم ہوتا ہے۔ شنبہ، یک شنبہ، دوشنبہ، سہ شنبہ، چہار شنبہ، پنج شنبہ، جمعہ اور چہار شنبہ پانچواں دن ہے۔ لیکن آپ اسے چوتھا کہتے ہیں۔

”میں زمین کی باتیں نہیں کہتا ....... بلکہ وہی کہتا ہوں جو خدا نے میرے منہ میں ڈالا ہے۔“

(پیغام صلح ص ٤٧، خزائن ج ٢٣ ص ٤٨٥)

صفحہ ١٦٠

(آریہ دھرم ص٢٣، خزائن ج١٠ ص٢٣)

اور یہ بھی کہ: ”میں بغیر خدا کے بلائے بول نہیں سکتا اور بغیر اس کے دکھانے کے کچھ دیکھ نہیں سکتا۔“

(حقیقت الوحی ص٢٧٨، خزائن ج٢٢ ص٢٩١)

(چشمہ معرفت ص٢٨٦، خزائن ج٢٣ ص٢٩٩)

گیارھواں باب ....... نبی فصیح البیان ہوتا ہے

تجربہ شاہد ہے کہ وہی فلسفی، حکیم، ادیب یا شاعر قبولیت عامہ حاصل کرتا ہے۔ جس کا اندازِ بیان بہت شستہ، برجستہ، سلیس اور بلند ہو۔ مولانا آزاد کی ”آب حیات“ سعدی کی گلستاں اور حریری کی مقامات اسی لئے مقبول ہوئیں کہ یہ کتابیں فصاحت و بلاغت کا شاہکار تھیں۔

خود اپنے زمانے میں دیکھئے۔ مولانا ابوالکلام آزاد، علامہ نیاز فتح پوری، ڈاکٹر احتشام حسین، ندیم قاسمی، قتیل شفائی، علامہ مشرقی، جگر مراد آبادی، جوش ملیح آبادی، مولانا ظفر علی خاں، امتیاز علی تاج وغیرہم کو دنیائے علم و ادب میں اسی لئے مقامِ بلند حاصل ہے کہ ان کی انشاء، ادب، ترنم اور برجستگی کا دلنواز امتزاج ہے۔ انسان فطرتاً حسن پسند واقع ہوا ہے۔ حسن کے مظاہر بے شمار ہیں۔ یہ فضائیں، یہ گھٹائیں، یہ دریا، یہ چشمے، یہ نغمے، یہ زمزمے، یہ رنگین پھول، یہ ملیح چہرے، یہ گنگناتے ہوئے شعر، یہ لہراتے ہوئے جملے سب حسن کے دشمن ہیں۔ تاریخ کو دیکھئے کہ وہی خطیب و رہنما کامیاب ہوا جس کی تقریر میں آہنگ اور تحریر میں موسیقی تھی۔ جون آف آرک کی آتش بیانی نے سارے فرانس میں آگ لگا دی تھی۔ ہٹلر کی بلند تقریروں نے جرمنی کو فولادی چٹان بنا دیا تھا۔ چرچل کے حیات انگیز خطبوں نے جنگ عظیم (١٩٣٩ء، ١٩٤٥ء) کا پانسہ پلٹ دیا تھا۔ علامہ اقبال کی اعجاز سرائی نے دس کروڑ مسلمانوں میں آزادی کی آگ بھڑکا دی تھی اور قائد اعظم کی آتش نوائی نے دنیا کی سب سے بڑی اسلامی سلطنت کو جنم دیا تھا۔ بات میں روانی و برجستگی نہ ہو تو قطعاً کوئی نہیں سنتا۔ خواہ آپ قرآن کا ترجمہ ہی کیوں نہ سنا رہے ہوں۔

١؎ عربی زبان میں فصاحت و بلاغت الگ الگ وصف ہیں۔ ہم نے اس بحث میں اس امتیاز کو نظر انداز کر دیا ہے۔ (مصنف)

صفحہ ١٦١

لکھوئے۔ ”روزہ رکھو کہ وہ خصی کر دیتا ہے۔“

(آریہ دھرم ص٢٢، خزائن ج١٠ ص٢٢)

دکھائے بلائے بول نہیں سکتا اور بغیر اس کے دکھانے کے کچھ

(حقیقت الوحی ص٢٧٨، خزائن ج٢٢ ص٢٩١)

دنیا والے جانتے ہیں کہ حضور ﷺ کے گیارہ لڑکے تھے۔“

(چشمہ معرفت ص٢٨٦، خزائن ج٢٣ ص٢٩٩)

...... نبی فصیح البیان ہوتا ہے

کوئی عالم ادیب یا شاعر قبولیت عامہ حاصل کرتا ہے۔ جس کا ذوق بلند ہو۔ مولانا آزاد کی ”آب حیات“ سعدی کی گلستاں جائیں گے یہ کتابیں فصاحت و بلاغت کا شاہکار تھیں۔

مولانا ابوالکلام آزاد، علامہ نیاز فتح پوری، ڈاکٹر احتشام ندوی، جگر مراد آبادی، جوش ملیح آبادی، مولانا ظفر علی خاں، کو بھی اسی لئے مقام بلند حاصل ہے کہ ان کی انشاء ادب، فطرۃً حسن پسند واقع ہوا ہے۔ حسن کے مظاہر بے شمار یہ غنچے، یہ زمزمے، یہ رنگین پھول، یہ ملیح چہرے، یہ پہلو، سب حسن کے امین ہیں۔ تاریخ کو دیکھئے کہ وہی میں آہنگ اور تحریر میں موسیقی تھی۔ جون آف آرک کی کامل تھی۔ ہٹلر کی بلند تقریروں نے جرمنی کو فولادی چٹان جنگ عظیم (١٩٣٩ء، ١٩٤٥ء) کا پانسہ پلٹ دیا تھا۔ دلوں میں آزادی کی آگ بھڑکا دی تھی اور قائد اعظم سلطنت کو جنم دیا تھا۔ بات میں روانی و برجستگی نہ کیا بول رہے ہوں۔

الگ الگ وصف ہیں۔ ہم نے اس بحث میں اس

فصاحت ایک نہایت کمیاب جوہر ہے جو کروڑوں میں سے ایک کو ملتا ہے۔ ہندو پاک کے پچاس کروڑ نفوس پہ نظر ڈالئے اور فرمائے کہ ان میں فصیح البیان ادیب و خطیب کتنے ہیں۔ شاید آپ پچاس نام بھی نہ بتا سکیں۔ یہی حال دیگر ممالک کا ہے۔

فصاحت ایک ایسی طاقت ہے جس نے دنیا میں ہزارہا انقلاب بپا کئے۔ آج سے ساڑھے تیرہ سو برس پہلے کے اسلامی انقلاب پہ نگاہ ڈالئے یہ کس کا اعجاز تھا کہ شتربان جہاں باں بن گئے تھے اور ان منتشر قطروں میں سمندروں کا جلال پیدا ہو گیا تھا۔ صرف فصیح و بلیغ قرآن کا، جس کا ہر لفظ بجتا ہوا ساز تھا اور ہر حرف دنیائے گداز، بات حضور ﷺ کے منہ سے نکل کر سیدھی دلوں میں جا بیٹھی تھی، اور روح میں ایک آگ بھڑکا دیتی تھی۔ اگر قرآن جوہر فصاحت سے عاری ہوتا تو شاید کوئی کان اس کی طرف متوجہ نہ ہوتا۔ یہ قرآن کی روح افروز موسیقی کا اثر تھا کہ چند آیات سن کر نجاشی کے رخسار آنسوؤں سے بھیگ گئے تھے۔ فاروقؓ کی تیغ خوں آشام دفاع اسلام کے لئے بے نیام ہو گئی تھی اور قیصر روم نے مایوس ہو کر کہا تھا ۔ ”اگر عربوں کی حالت وہی ہے جو اے قاصد تم نے بیان کی ہے تو سن لو کہ وہ بہت جلد اس زمین کے مالک بن جائیں گے۔ جو آج میرے قدموں کے نیچے ہے۔“

داناؤں سے سنا ہے کہ قلم تلوار سے بڑی طاقت ہے۔ لیکن کون سا قلم وہ قلم جو پھول برسانے پہ آ جائے تو صحراؤں کو رشک ارم بنا دے اور شعلے برسانے لگے تو فضاؤں میں چنگاریاں دہکنے لگیں۔ نہ وہ قلم جو بلند سے بلند تخیل کے پیٹ میں چھرا بن کر پیوست ہو جائے۔

فصاحت کیا ہے یہ ایک طویل بحث ہے۔ مختصراً یہ کہ الفاظ میں ترنم ہو۔ بندشوں میں چستی ہو۔ تحریر میں روانی ہو۔ کلام حشو و زائد سے پاک ہو۔ خلاف محاورہ نہ ہو۔ الفاظ موضوع کے مطابق ہوں۔ اگر خطیب کسی مجمع کو جانبازی کا سبق دے رہا ہے تو اس کے کلام میں زور، تسلسل، ہیبت اور جلال ہو۔ اگر کربلا کا منظر کھینچ رہا ہے تو رقت، سوز اور گداز ہو۔ ڈھیلی بندشیں اور سست ترکیبیں بات کو نیم جان بنا دیتی ہیں اور مخاطب کو مضمحل، ذوق و غالب نے بارہا ایک ہی مضمون پر قلم اٹھایا۔ چونکہ ذوق بے حد بد ذوق تھا۔ اس لئے اس کا ہر تخیل منہ کے بل گرا اور غالب اپنے حسن مذاق، حسن تخیل اور حسن بیان کی بدولت ادب پرستوں کا معبود بن گیا۔ فلسفہ زندگی پہ دونوں طبع آزمائی کرتے ہیں۔ ذوق کہتا ہے ۔

ذوق اس بحث فنا میں کشتی عمر رواں
جس جگہ جا کر لگی وہی کنارہ ہو گیا
صفحہ ١٦٢

بحر زندگی کو ”بحر فنا“ کہنا ”جس جگہ جاکر“ میں تین جیم جمع کر دینا۔ ”وہی“ کو ”ووہی“ باندھنا۔ ”بن گیا“ کی جگہ ”ہو گیا“ لانا اور صرف ایک شعر میں ”اس“ ”رواں“ اور ”جاکر“ جیسے تین زوائد (فالتو الفاظ) بھردینا بد مذاقی کی انتہاء ہے۔

دوسری طرف غالب زندگی کو ایک ایسے ”رخش سرکش“ سے تشبیہ دیتا ہے جو سرپٹ بھاگا جا رہا ہے۔ دہشت زدہ سوار کے ہاتھ باگ پر نہیں اور نہ پاؤں رکاب میں ہیں۔ کون کہہ سکتا ہے کہ اس سوار کی منزل کہاں ہوگی اور انجام کیا؟

رو میں ہے رخش عمر کہاں دیکھیے تھمے
نے ہاتھ باگ پر ہیں نہ پا ہیں رکاب میں

کسی فلسفی سے پوچھئے کہ زندگی کی کتنی صحیح تصویر کھینچی ہے اور کسی ادیب سے پوچھئے کہ زور بیان اور رفعت تخیل کے لحاظ سے یہ کتنا فصیح شعر ہے۔ تو ہم کہہ یہ رہے تھے کہ دنیا میں وہی ادیب و خطیب کامیاب رہتا ہے جو وصف فصاحت کا حامل ہو اور یہی وجہ ہے کہ اللہ نے ہر نبی کو اعجاز فصاحت عطاء کیا تھا۔ مرزا قادیانی بھی فصاحت و بلاغت کی انقلابی طاقت سے آگاہ تھے اور اسی لئے بار بار فرماتے ہیں۔ ”فصار تمونی فی فصاحة البیان“ اللہ نے اپنے فضل سے مجھے فصیح البیان بنایا۔

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٤٩، خزائن ج ١٧ ص ٨٥)

”انما اوتيت بالایات والقوة القدسية وحسن البیان“ اللہ نے مجھے نشانات دیئے۔ نیز قوت قدسیہ اور حسن بیان کی نعمت عطاء کی۔

(خطبہ الہامیہ ص ٢٣، خزائن ج ١٦ ص ٥٦ حاشیہ)

”کلام افصحت من لدن رب کریم“ میرے کلام کو رب حکیم نے فصیح بنایا۔

(حقیقت الوحی ص ١٠٢، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٥، ١٠٦)

مرزا قادیانی کے ارشادات پانچ زبانوں میں ملتے ہیں۔ عربی، فارسی، اردو، انگریزی اور پنجابی۔ پنجابی میں صرف ایک آدھ الہام ہے۔ انگریزی اقوال صفحاتِ گذشتہ میں درج ہوچکے ہیں۔ عربی زبان میں آپ نے بہت کچھ لکھا ہے۔ خطبہ الہامیہ، سورۂ فاتحہ کی تفسیر، اعجاز المسیح اور چند دیگر قصائد و مقالات۔ آپ عربی زبان میں مہارت رکھتے ہیں۔ قلم برداشتہ لکھتے ہیں اور خوب لکھتے ہیں۔ چونکہ کسی غیر زبان پر پوری قدرت حاصل کرنا دشوار ہے۔ اس لئے یہاں بھی لغزش پائی جاتی ہے۔ کہیں فعل و فاعل میں تطابق نہیں۔ کہیں ضمیر و مرجع میں ہم آہنگی نہیں اور کہیں پنجابی محاورات کو عربی میں منتقل کر دیا ہے۔ یہ اغلاط کم سہی۔ لیکن موجود ضرور ہیں۔ تفصیل کا انتظار فرمائیے۔

صفحہ ١٦٣

جا کر“ میں تین جیم جمع کر دینا۔ ”وہی“ کو ”ووہی“ ایک شعر میں ”اس“ ”رواں“ اور ”جاکر“ جیسے ہے۔ اپنے ”رخش سرکش“ سے تشبیہ دیتا ہے جو سرپٹ پر نہیں اور نہ پاؤں رکاب میں ہیں۔ کون کہہ سکتا

کہاں دیکھے تھے
نہ پائیں رکاب میں

تصویر کھینچی ہے اور کسی ادیب سے پوچھئے کہ شعر ہے۔ تو ہم کہہ یہ رہے تھے کہ دنیا میں وہی کا حامل ہو اور یہی وجہ ہے کہ اللہ نے ہر نبی کو وہ بلاغت کی انقلابی طاقت سے آگاہ تھے اور فصاحة البیان “ اللہ نے اپنے فضل سے

( ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٤٩، خزائن ج ١٧ ص ٨٥)

القدسية وحسن البيان “ اللہ نے مجھے عطا کی۔

(خطبۃ الہامیہ ص ٢٣، خزائن ج ١٦ ص ٥٦ حاشیہ)

”میرے کلام کو رب حکیم نے فصیح بنایا۔

(لجتہ النور ص ١٠٢، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٥، ١٠٦)

بولتے ہیں۔ عربی، فارسی، اردو، انگریزی کے اقوال صفحات گذشتہ میں درج ہو چکے سورہ فاتحہ کی تفسیر، اعجاز المسیح اور چند قلم برداشتہ لکھتے ہیں اور خوب لکھتے اس لئے یہاں بھی لغزش پائی جاتی آتی نہیں اور کہیں پنجابی محاورات کو تعمیل کا انتظار فرمائیے۔

آپ کا فارسی کلام عموماً اشعار پر مشتمل ہے۔ رنگ استادانہ ہے۔ مشکل زمینوں میں کامیابی سے اشعار کہتے ہیں۔ مضمون تصوف یا عشق رسول ہے اور کہیں کہیں ایسے اشعار بھی آ جاتے ہیں کہ بے ساختہ داد دینا پڑتی ہے۔ بعض اشعار میں اقبال کا رنگ اور فلسفہ جھلکتا ہے۔ مثلاً:

از یقین ہا می نماید عالمے
کآں نہ بیند کس بصد عالم ہے

(براہین حصہ سوم ص ١٥٥ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ١٦٠)

یقین سے وہ عالم پیدا ہو جاتا ہے جس کی مثال سو دنیاؤں میں نہیں مل سکتی۔ یا

چو شام پر غبار و تیرہ حال عالمے بینم
خدا بروئے فرود آرد دعا ہائے سحر گا ہم

(براہین حصہ دوم ص ٨٦، خزائن ج ١ ص ٧٤)

غبار آلود شام کی طرح دنیا تاریک ہو رہی ہے۔ خدا ان ظلمتوں پر میری دعا ہائے سحر نازل کرے۔

زبان وتخیل کے لحاظ سے خوب شعر ہے۔ ہم کہہ چکے ہیں کہ غیر زبان میں لکھتے وقت اغلاط سے بچنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ آپ کا فارسی کلام بھی لغزشوں سے خالی نہیں۔ باقی رہا آپ کا اردو کلام۔ تو اس پر ہم قدرے بسط کے ساتھ نظر ڈالنا چاہتے ہیں۔

١...... محل الفاظ

دائرہ ذیل میں چند الفاظ بے ترتیبی سے بھرے ہوئے ہیں۔

☆....... محمود۔ ☆....... خالد لاہور۔ ☆....... گیا ہے۔ ☆....... ملنے۔

ان الفاظ کو کئی طرح ترتیب دیا جاسکتا ہے۔ مثلاً:

قس علیٰ ہذا! اور یہ سب صورتیں غیر فصیح کہلائیں گی۔ اس لئے کہ اجزائے جملہ اپنے محل پر نہیں۔ اردو میں فعل آخر میں ہوتا ہے۔ فاعل پہلے اور دیگر متعلقات بعد میں ۔ چونکہ ملنا۔ لاہور میں پہنچنے کے بعد ہی ہو سکتا ہے۔ اس لئے لاہور کا ذکر پہلے آنا چاہئے۔ تو ان الفاظ کی صحیح ترتیب یہ ہوگی۔ ”محمود خالد سے لاہور ملنے گیا۔“

صفحہ ١٦٤

لاہور کے بعد میں اور ملنے کے بعد کے لئے ایجاز (اختصار) کی خاطر حذف کر دیئے گئے کہ ایجاز جان فصاحت ہے۔

دوسری مثال: ”مارا محمود کو میں نے۔“ اس جملے میں مارا فعل ہے۔ جس کا صحیح مقام آخر میں ہے۔ میں فاعل ہے اور محمود مفعول، فاعل سے پہلے ہونا چاہئے۔ اس لئے جملے کی صحیح صورت یہ ہے۔ ”میں نے محمود کو مارا۔“ صحت فصاحت کی بنیاد ہے۔ اگر کسی فقرے میں قواعد کی اغلاط موجود ہوں تو وہ فصیح ہو ہی نہیں سکتا۔ ان الفاظ پر غور فرمائیے: فلاسفہ، فلاطونی گروہ، خیر محض، علم۔ صرف۔ سب کے سب فصیح الفاظ ہیں۔ ان کی ترتیب اس طرح بھی ہو سکتی ہے۔ ”فلاسفہ کا فلاطونی گروہ صرف علم کو خیر محض سمجھتا ہے۔“ اور اس طرح بھی: ”فلاسفہ کی فلاطونی گروہ صرف علم کو خیر محض سمجھتے ہیں۔“ پہلا جملہ فصیح اور دوسرا غیر فصیح۔ اس لئے کہ دوسرے میں جمع و مفرد اور مؤنث و مذکر کی تمیز قائم نہیں رکھی گئی۔

تو گویا فصاحت کے لئے ضروری ہے کہ کلام اغلاط سے مبرا ہو اور ہر لفظ اپنے صحیح مقام پر ہو۔ جب ہم مرزا قادیانی کی تحریرات کو اس نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں تو اندازاً پچاس فیصد ایسے جملے ملتے ہیں جن کی ترتیب فطری نہیں۔ چند امثلہ ملاحظہ ہوں۔

ہے۔“

(ازالہ حصہ دوم ص ٤٤٦، خزائن ج ٣ ص ٣٢٥)

اردو میں مضاف الیہ ہمیشہ پہلے آتا ہے۔ لیکن یہاں مضاف ایک جماعت پہلے ہے۔ اسی طرح ”یہی معنی“ (مضاف) آیت موصوفہ (مضاف الیہ) سے پہلے مذکور ہوا۔ موصوفہ میں بالا کا مفہوم موجود ہے۔ اس لئے بالا زائد ہے۔ جملہ یوں ہونا چاہئے تھا۔ ”اور محققین کی ایک جماعت بھی آیت موصوفہ کے یہی معنی لیتی ہے۔“

ہے۔“

(ازالہ اوہام حصہ دوم ص ٤٤٦، خزائن ج ٣ ص ٣٢٧)

”کو“ علامت مفعول ہے نہ کہ نشان اضافت۔ اس لئے یہاں ”کا“ چاہئے ”کے ساتھ“ کی جگہ ”سے“ کافی ہے۔

صفحہ ١٦٥

٣...... ”اصل بات یہ ہے کہ شیعہ کی روایات کے بعض سادات کرام کے کشف لطیف پر بنیاد معلوم ہوتی ہے۔“

(ازالہ اوہام حصہ دوم ص ٤٥٧، خزائن ج ٣ ص ٣٤٤)

”اصل بات“ کے ساتھ ”معلوم ہوتی ہے“ بے معنی ہے۔ کیونکہ وہ مظہر یقین ہے اور یہ مخبر اشتباہ باقی فقرہ مہمل ہے۔ بنیاد مضاف ہے اور روایات مضاف الیہ ۔ دونوں میں سات الفاظ حائل ہیں۔ یہ انفصال علمائے فصاحت کے ہاں ناروا ہے۔ جملے میں ”کے“ کی تکرار ذوق خراش ہے۔ فقرہ یوں ہونا چاہئے تھا۔ ”اصل بات یہ ہے کہ شیعی روایات کی بنیاد بعض سادات کرام کے کشف لطیف پر رکھی گئی ہے۔“

٤...... ”کہ میری اس تجویز کے موافق جو میں نے دینے چندہ کے لئے رسالہ مذکورہ میں لکھی ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٧٧٤، خزائن ج ٣ ص ٥١٨)

ملاحظہ کی یہ ترکیب ” دینے چندہ کے لئے“؟ گومرزا قادیانی کی تحریرات میں اس طرح کی ہزار ہا مثالیں موجود ہیں۔ لیکن ہم صرف انہی امثلہ پر اکتفاء کرتے ہیں۔

٢...... ثقیل الفاظ

جس طرح ایک ساز سے دو قسم کے سر نکلتے ہیں۔ لطیف وثقیل اسی طرح الفاظ بھی دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ہلکے اور بھاری۔ یا یوں سمجھئے کہ بعض الفاظ مترنم ہوتے ہیں۔ جیسے تبسم، رواں، عیاں، نہاں، قائم دائم وغیرہ اور بعض غیر مترنم مثلاً کچھوا، بدھو، اگاڑی، پچھاڑی، پنگڑ، بھوت، بھبوکا، لگڑ بگڑ وغیرہ۔ دیدہ سے نین ۔ محبت سے پریم، کشتی سے نیا، سمندر سے ساگر، پہاڑ سے کوہ ۔ قطرے سے بوندی ۔ عشق سے پریت اور معشوق سے پریتم ۔ ہلکے اور سریلے الفاظ ہیں۔ ادیب کا فرض ہے کہ وہ تحریر میں ہلکے پھلکے الفاظ استعمال کرے۔ اور ثقیل و کثیف الفاظ سے بچے۔ ”علماء وحکماء اس حقیقت سے آگاہ ہیں۔“ اسی مضمون کو ایک مولانا صاحب یوں ادا فرماتے ہیں۔ ”علمائے محققین وحکمائے مدققین وحاملین علم المعرفت والیقین و دانایان اسرار شرع متین پر یہ حقیقت غامضہ کالشمس واضح ومبرہن ہے۔“ یہ تو خیر گزری کہ مولانا نے الفاظ کو اپنے صحیح مقامات پر رہنے دیا۔ ورنہ وہ ملغوبہ تیار ہوتا کہ عمر بھر سمجھ میں نہ آتا۔

صفحہ ١٦٦

لطیف و مترنم الفاظ کا انتخاب ذوقِ سلیم کا کام ہے۔ ادبی مذاق، جتنا بلند ہوگا۔ انتخاب اتنا ہی اچھا ہو گا۔ اس سلسلے میں مولانا ابوالکلام آزاد کو یدطولیٰ حاصل ہے۔ ایسے ہلکے پھلکے، شیریں اور متبسم الفاظ چنتے ہیں کہ صفحہ قرطاس دامانِ گل فروش بن جاتا ہے۔ یہی حال ندیم واختر شیرانی کا ہے۔ میں ان کی نظمیں پڑھتا ہوں تو یوں محسوس کرتا ہوں۔ گویا غم کی دیوی ستار بجا رہی ہے اور فضائیں ترانے انڈیل رہی ہیں۔ کیا یہی کیف و سرور مرزا قادیانی کے ہاں بھی موجود ہے؟ نہیں۔ وہاں ادبی رنگینیاں نام کو نہیں۔ وہی علمائے مکاتب کا کھر درا سٹائل۔ لمبے لمبے غیر مربوط جملے اور ثقیل الفاظ ۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں۔

”جب ہم اپنے نفس سے بکلی فنا ہو کر دردمند دل کے ساتھ لائیڈرک وجود میں ایک گہرا غوطہ مارتے ہیں تو ہماری بشریت الوہیت کے دربار میں پڑنے سے عندالعود کچھ آثار وانوار اس عالم کے ساتھ لے آتی ہے۔“

(ازالہ اوہام حصہ دوم ص ٤٣١، خزائن ج ٣ ص ٣٢٨)

”ان کی اخلاقی حالت ایک ایسے اعلیٰ درجہ کی جاتی ہے جو تکبر اور نحوست اور کمینگی اور خود پسندی اور ریا کاری اور حسد اور بخل اور تنگ دلی سب دور کی جاتی ہے اور انشراح صدر اور بشاشت عطا کی جاتی ہے۔“

(ازالہ اوہام حصہ دوم ص ٤٤٥، خزائن ج ٣ ص ٣٣٦)

”اور نیز مباحث ہمیشہ کے سوچ بچار اور مشق اور مغز زنی اور استعمال قواعد مقررۂ صناعت منطق کے بہت سے حقائق علمیہ اور دلائل یقینیہ اس کو مستحضر ہو گئے ہیں۔“

(براہین احمدیہ حصہ سوم ص ١٤١، خزائن ج ١ ص ١٤٦)

آپ کا اسلوب بیان از سر تا پا سست بندشوں ، غیر مربوط جملوں اور ثقیل ترکیبوں کا ایک غیر مختتم سلسلہ ہے۔

٣...... تکرار الفاظ

علمائے فصاحت کا یہ فیصلہ ہے کہ ایک ہی لفظ کا بار بار اعادہ کلام کو پایۂ فصاحت سے گرا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لطیف المذاق شعراء ایک غزل میں کسی قافیہ کو دوبارہ نہیں باندھتے اور جہاں تک ممکن ہو کسی جملے میں ایک ہی لفظ کے اعادہ سے بھی اجتناب کرتے ہیں۔ ہاں بعض مقامات پر ترنم یا زور پیدا کرنے کے لئے ایک لفظ کو دہرایا جاتا ہے۔ مثلاً:

جہاں تیرا نقش قدم دیکھتے ہیں
خیاباں خیاباں ارم دیکھتے ہیں (غالب)
صفحہ ١٦٧

تسلیم کا کام ہے۔ ادبی مذاق، جتنا بلند ہوگا۔ انتخاب میں آزاد کو یدطولیٰ حاصل ہے۔ ایسے ہلکے پھلکے، شیریں عطر فروش بن جاتا ہے۔ یہی حال ندیم و اختر شیرانی کا میں کرتا ہوں۔ گویا غم کی دیوی ستار بجارہی ہے اور کا اور مرزا قادیانی کے ہاں بھی موجود ہے؟ نہیں۔ انتخاب کا کھردرا سٹائل۔ لمبے لمبے غیر مربوط جملے اور

کا دردمند دل کے ساتھ لایدرک وجود میں ایک کھلے دربار میں پڑنے سے عندالعود کچھ آثار وانوار

(ازالۃ الاوہام حصہ دوم ص ٤٣١، خزائن ج ٣ ص ٣٢٨)

ادنیٰ درجہ کی جاتی ہے جو تکبر اور نخوت اور کمینگی اور جلاوطنی سب دور کی جاتی ہے اور انشراح صدر اور

(ازالۃ الاوہام حصہ دوم ص ٣٢٥، خزائن ج ٣ ص ٣٣٦)

تکرار اور مشق اور مغز زنی اور استعمال قواعد مقررۂ مقاصد اس کو مستحضر ہوگئے ہیں۔“

(براہین احمدیہ حصہ سوم ص ١٤١، خزائن ج ١ ص ١٤٦)

نہیں، غیر مربوط جملوں اور ثقیل ترکیبوں کا ایک

الفاظ کا بار بار اعادہ کلام کو پایہ فصاحت سے غزل میں کسی قافیہ کو دوبارہ نہیں باندھتے اور اس سے بھی اجتناب کرتے ہیں۔ ہاں بعض جائز مانا ہے۔ مثلاً:

کیا دیکھتے ہیں
دیکھتے ہیں

(غالب)

برسات کا ایک منظر ملاحظہ ہو ۔

مستی سیمین ہر سو لرزاں پتی پتی کیف بداماں
ہلکی ہلکی بوندیں برسیں گلشن گلشن نغمے رقصاں
سبزہ ابھرا دھانی دھانی دنیا ہے رنگین کہانی
مہکی مہکی آئی ہوائیں بھینی بھینی چھائی گھٹائیں
دہکا دہکا رنگ گلستان بھیگی بھیگی مست فضائیں
ذرہ ذرہ محو تبسم فطرت میں نغموں کا تلاطم

(مصنف کے دور شاعری کی یادگار)

رخت بہ کاشمر کشا کوہ و تل و دمن نگر
سبزہ جہاں جہاں بیں لالہ چمن چمن نگر

(اقبال)

یوں کہہ لیجئے کہ تکرار کی دو صورتیں ہیں۔ ملیح و قبیح۔ اقتباسات ذیل میں تکرار کی کون سی قسم ہے۔ فیصلہ آپ پہ چھوڑتا ہوں۔ ”بوڑھے ہو کر پیرانہ سالی کے وقت میں ۔“

(دیباچہ براہین حصہ دوم ص ب، خزائن ج ١ ص ٦١، ٦٢)

بڑھاپا اور پیرانہ سالی مترادف ہیں۔ اردو میں ”وقت“ کے ساتھ ”میں“ مقدر ہوتا ہے۔

”’دوپہر کے وقت‘، ’شام کے وقت‘ صحیح ہے اور ’دوپہر کے وقت میں‘ غلط ہے۔ ”ائمہ اربعہ کی شہادت گواہی دے رہی ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٩، خزائن ج ١٧ ص ٩٥)

شہادت کے معنی بھی گواہی ہیں۔

چنیں زمانہ چنیں و دریں چنیں برکات
تو بے نصیب روی وائے چہ ایں شقا باشد

(تریاق ص ٧، خزائن ج ١٥ ص ١٣٥)

چنیں کی گردان ملاحظہ ہو۔ ”در حقیقت تمام ارواح کلمات اللہ ہی ہیں۔ جو ایک لایدرک بھید کے طور پر جس کی تہ تک انسان کی عقل نہیں پہنچ سکتی۔“

(ازالۃ الاوہام ص ٢٤٠، خزائن ج ٣ ص ٢٣٤)

صفحہ ١٦٨

”لا يدرك بھيڈ“ کے معنی ہی ہیں۔ ”وہ راز جس کی تہ تک انسانی عقل نہ پہنچ سکے۔“ تو پھر ”جس کی تہ تک انسان ..... کی عقل کی ضرورت“؟

اگر کوئی مرکبات عطفی ایک جگہ جمع ہو جائیں تو صرف آخری معطوف سے پہلے واؤ لاتے ہیں۔ مثلاً: ”میں نے بازار سے کتاب، قلم، پنسل، چاقو اور دوات خریدی۔“

لیکن مرزا قادیانی اس ”سنت حسنہ“ کو خاطر میں نہیں لاتے۔ براہین کا وہ جملہ پھر پڑھئے اور گنئے کہ ایک فقرے میں اور کا کتنی مرتبہ اعادہ ہوا۔ ”اور نیز باعث ہمیشہ کے سوچ اور بچار اور مشق اور مغز زنی اور استعمال قواعد مقررہ صناعت منطق کے بہت سے حقائق علمیہ اور دلائل نقلیہ اس کو مستحضر ہو گئے ہیں۔“

٤....... توالی اضافت وتوصیف

یہ ایک فنی اصطلاح ہے۔ توالی کے معنی ہیں تسلسل وتواتر۔ ادب اردو میں یہ سنت قائم ہو چکی ہے کہ نثر میں ایک سے زیادہ اضافت یا توصیف روا نہیں۔ ”اوراق تاریخ“، فضائے گردوں اور ”لالہ صحرا“ تو درست ہیں۔ لیکن اوراق تاریخ ، عصر کہن۔ فضائے نیلگام گردوں اور لالہ تنہائے صحرا درست نہیں۔ وجہ یہ کہ دوہری اضافت ثقیل ہو جاتی ہے اور مذاق سلیم پہ گراں گذرتی ہے۔ مرزا قادیانی اس پابندی سے بھی آزاد ہیں۔ ان کے کلام میں توالی اضافات کا عیب از اول تا آخر پایا جاتا ہے۔ صرف چند مثالیں حاضر ہیں۔

مستغنی سمجھتے ہیں۔“

(ازالہ ص ٤٣٠ حصہ دوم، خزائن ج ٣ ص ٣٢٨)

(براہین اشتہار مندرجہ بنام مسلمانوں کی حالت اور اسلام کی غربت، خزائن ج ١ ص ١٣٥)

عزت ہونے کے پوری پوری مماثلت ثابت ہو جائے۔“

(ازالہ اوہام ص ٦٤٩، خزائن ج ٣ ص ٤٤٨، ٤٤٩)

٥....... حشو وزوائد

ہر شخص جانتا ہے کہ کھانا منہ کا فعل ہے۔ چلنا پاؤں کا۔ سننا کان کا اور دیکھنا آنکھ کا۔ اس لئے یہ کہنا کہ:

صفحہ ١٦٩

درست نہیں۔ ان جملوں میں ”منہ سے کانوں سے اور پاؤں سے“ فالتو الفاظ ہیں۔ اسی طرح اس جملے میں ۔ ”اس کے پاؤں میں تو بس خدا جانتا ہے کہ ایک چکر سا ہے۔ تو بس خدا جانتا ہے کہ ایک چکر سا ہے۔“ سب بیکار اور زائد الفاظ ہیں۔ ذوق کے اس شعر میں۔

اے شمع تیری عمر طبیعی ہے ایک رات
ہنس کر گزار یا اسے رو کر گزار دے

”طبیعی“ اور ایک ”گزار“ فالتو ہیں۔

مرزا قادیانی کے کلام میں حشو و زوائد کی وہ بھر مار ہے کہ اگر ایسے تمام جملے جمع کر دیئے جائیں تو دس ضخیم مجلدات تیار ہو جائیں۔ یہاں صرف چند مثالیں حاضر ہیں۔

تاثیرات احیائے موتی سے دلیل محکم قائم کر رہا ہے۔“

(ازالہ حصہ دوم ص ٤٢٧، خزائن ج ٣ ص ٣٢٦)

اس میں فالتو الفاظ یہ ہیں۔

احیائے موتی۔ احیائے موتی۔ مہمل و بے ربط ہونے کے علاوہ توالی اضافات سے بھی داغدار ہیں۔

دریافت کی گئی اور شارع علیہ السلام نے ان کے تمام جزئیات سمجھا دیئے۔ دکھا دیئے۔ سکھلا دیئے۔“

(ازالہ حصہ دوم ص ٤٢٧، خزائن ج ٣ ص ٣٢٦)

جملے بیکار ہیں۔ ان کے تمام جزئیات ”جزئیات“ مونث ہے۔ اس لئے کی چاہئے۔ یہ جزئیات دکھانا اور سکھلانا مہمل ہے۔

فرماتا ہے۔“

(ازالہ حصہ دوم ص ٤٣٧، خزائن ج ٣ ص ٣٣٢)

کیا کوئی آیت ایسی بھی ہے جو قرآن میں نہ ہو تو پھر ”کہ جو اللہ جل شانہ قرآن میں فرماتا ہے“ کی ضرورت؟

صفحہ ١٧٠

یہ ابتداء میں ”پھر“ کی کیا حاجت تھی اور یہ ”کہ جو“ کا ”گٹھ جوڑ“ کیا خوب ہے۔ اسم موصول (جو آدمی جس کتاب وغیرہ) سے پہلے کہ کا استعمال معیوب ہوتا ہے۔ ”ڈالیں“ کی جگہ ”ڈالتے ہیں“ چاہئے۔ یہ مضمون ان الفاظ میں ادا ہو سکتا تھا۔ ”ہم جب اس آیت پر نظر ڈالتے ہیں تو: ”اگر کشتی دین کی ان کی نظر کے سامنے ساری کی ساری ڈوب جائے۔“

(براہین اشتہار عرض ضروری بحالت مجبوری ص ب، خزائن ج ١ ص ٦٢)

اغلاط کی تفصیل۔

چیز پانی میں چھپ جائے۔

٦...... محاورہ

محاورہ اہل زبان کی بول چال اور اسلوب بیان کا نام ہے۔ جس کی پابندی لازمی ہے۔ اہل زبان ”غم کھانا“ کہتے ہیں۔ ”غم پینا“ نہیں کہتے۔ اسی طرح:

مرزا قادیانی محاورہ کے بھی پابند نہیں ہیں۔ مثلاً:

رہتی ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٤٣٢، خزائن ج ٣ ص ٣٢٩)

صفحہ ١٧١

محاورہ ہے۔ ”کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا“ یعنی سوال کرنا، ہاتھ پھیلا پھیلا کر مفلسی ظاہر کرنا بے معنی ہے۔

”جھوٹ گھڑنا“ ”جھوٹ بنانا“ یا ”جھوٹ کے پل باندھنا“ لیکن مرزا قادیانی ایک نیا محاورہ پیش کرتے ہیں۔ ”یہ دروغ بے فروغ اسی حد تک بنا گیا تھا۔“

(ازالۃ اوہام حصہ دوم ص ٥٢٦، خزائن ج ٣ ص ٣٨٢)

دروغ بننا کوئی محاورہ نہیں۔

ذرا = تھوڑا، کم، ایک لمحہ۔ ذرا ٹھہرو تو سہی۔ ذرا ہوش میں آؤ۔ ذرا عقل کے ناخن لو۔ ذرہ = جمع ذرات، اجزائے غبار۔ ذرہ بے مایہ، ذرۂ خاک۔ ذرہ بھر۔

اس فرق کو سمجھنے کے بعد اب یہ فقرہ دیکھئے۔ ”قرآن کریم نے حضرت مسیح کے وفات کے منکروں کو ایسی زجر دی ہے کہ اب وہ ذرہ نہیں ٹھہر سکتے ۔“

”وفات“ مذکر ہے یا مؤنث۔ اسے جانے دیجئے۔ صرف یہ دیکھئے کہ آخری جملے میں ”ذرہ“ کا مفہوم کیا ہے اور اس کا یہ استعمال کہاں تک صحیح ہے؟

مثلاً نظر لگ جانا۔ بیماری لگ جانا۔ کپڑے کو مٹی لگ جانا۔ کیچڑ لگ جانا۔ یہ محاورات اردو اور پنجابی دونوں میں استعمال ہوتے ہیں اور انہیں سمجھنے میں کوئی دقت پیش نہیں آتی۔ لیکن مرزا قادیانی کی ایک وحی میں اس لفظ کا استعمال کچھ اس طرح ہوا ہے کہ کچھ بھی پلے نہیں پڑتا۔ اللہ فرماتا ہے۔ ”میری رحمت تجھ کو لگ جائے گی۔ اللہ رحم کرے گا ۔“ (تتمہ حقیقت الوحی ص ١٧٠، خزائن ج ٢٢ ص ٦١٠)

کیا رحمت کوئی بیماری ہے۔ جس سے محفوظ رہنے کی بشارت دی جارہی ہے یا دھمکایا جا رہا ہے کہ اے میرے نبی؟ تو اس وقت میری رحمت سے بچ نہیں سکتا۔ البتہ! آخر میں تم پر رحم کیا جائے گا۔

صفحہ ١٧٢

اس طرح کے کئی اور الہام بھی ہیں۔ جن کی زبان غلط ہے۔ مثلاً: ”پھر بہار آئی تو آئے ثلج کے آنے کے دن ۔“

(تذکرہ ص ٦١٣)

لفظ ”ثلج“ اردو میں قطعاً استعمال نہیں ہوتا۔ پھر ثلج یعنی برف آتی نہیں بلکہ برستی ہے۔ مزید یہ کہ برف باری سردیوں میں ہوتی ہے۔ نہ کہ بہار میں، ایام بہار میں برف پگھلنے لگ جاتی ہے۔ ممکن ہے کہ کسی وجہ سے فضائیں سرد ہو جائیں اور بہار میں بھی ایک آدھ دن برف برسنے لگے۔ لیکن بہار کے دن برف باری نہیں۔ بلکہ برف گدازی کے دن ہوتے ہیں۔ اس لئے اس الہام کی زبان خلاف محاورہ اور مضمون خلاف حقیقت ہے۔ یا یہ الہام ؎

تو در منزل ماچور بار بار آئی
خدا ابر رحمت ببارید یائے

(حقیقت الوحی ص ٢٧٧، خزائن ج ٢٢ ص ٢٩٠)

پہلا مصرعہ بے وزن ہے۔ وزن قائم رکھنے کے لئے ”بار بار“ کو ”بر بار“ پڑھنا ہوگا۔ جو صریحاً غلط ہے۔

جس طرح خود مرزا قادیانی کی زبان ڈھیلی ڈھیلی۔ خلاف محاورہ، عموماً غلط اور کہیں کہیں مہمل بھی ہے۔ یہی حال آپ کے الہامات کا ہے۔ اس سے ایک غیر جانبدار نقاد صرف ایک ہی نتیجہ نکال سکتا ہے کہ یہ الہامات ومقالات سب ایک ہی دماغ کی پیداوار ہیں۔

٧...... فارسی توصیف واضافت وحروف فارسی

فارسی مرکب توصیفی میں موصوف پہلے ہوتا ہے۔ مثلاً: باد خنک، گل سرخ، زلف دراز، آب شیریں اور مرکب اضافی میں مضاف پہلے۔ مثلاً: گل لالہ، سرو چمن، شاخ گل، نوائے عنادل۔

قاعدہ: فارسی توصیف واضافت صرف فارسی یا عربی الفاظ میں ہو سکتی ہے۔ اگر ایک لفظ ہندی ہو یا دونوں۔ تو اس صورت میں ہندی توصیف واضافت سے کام لینا پڑے گا۔ اردو میں صفت پہلے ہوتی ہے۔ مثلاً: ٹھنڈا پانی، اونچا پیڑ، رسیلی آنکھیں، اور مرکب اضافی میں مضاف الیہ پہلے۔ مثلاً: رام کا بن، تاج کا ہیرا، مور کی کلغی۔

اگر مرکب کا ایک جزو یا دونوں اجزاء ہندی ہوں تو ان میں فارسی توصیف واضافت جائز نہیں۔ اس لئے:

صفحہ ١٧٣

ہے جن کی زبان غلط ہے۔ مثلاً : ” پھر بہار آئی تو

(تذکرہ ص ٦١٣)

ہوتا۔ پھر ثلج یعنی برف آتی نہیں بلکہ برستی ہے۔ کہ بہار میں، ایام بہار میں برف پگھلنے لگ جاتی ہے اور بہار میں بھی ایک آدھ دن برف برسنے برف گدازی کے دن ہوتے ہیں۔ اس لئے اس ہے ۔ یا یہ الہام ۔

بہار بار آئی
بہار یہ یائے

(حقیقت الوحی ص ٢٧٧، خزائن ج ٢٢ ص ٢٩٠)

سمجھنے کے لئے ”بار بار“ کو ”بر بار“ پڑھنا ہوگا۔

ی و مہمل ۔ خلاف محاورہ، عموماً غلط اور کہیں کہیں س سے ایک غیر جانبدار نقاد صرف ایک ہی دماغ کی پیداوار ہیں۔

ہیں

ہے۔ مثلاً : باد خنک، گل سرخ ، زلف

ہے مثلاً : گل لالہ، سرد چمن، شاخ گل،

رابطہ عربی الفاظ میں ہو سکتی ہے۔ اگر ایک اضافت سے کام لینا پڑے گا۔ اردو میں میں اور مرکب اضافی میں مضاف الیہ

تو ان میں فارسی توصیف واضافت

غلط ہے

یہی حال فارسی حروف کا ہے کہ وہ بھی فارسی الفاظ پر داخل ہوتے ہیں۔ مثلاً :

ان مقدمات کے بعد مرزا قادیانی کے اقوال ذیل میں ملاحظہ فرمائیے۔

(ازالہ اوہام حصہ دوم ص ٨٧٠، خزائن ج ٣ ص ٥٧٥)

قابل عربی ہے اور ہنسی ہندی ۔

(تحفہ گولڑویہ ص ٦٨، خزائن ج ١٧ ص ١٥٤)

مہینہ ہندی ہے اور رمضان عربی ۔

مسیح کو مشابہت دی ۔"

(تحفہ گولڑویہ ص ١٢٢، خزائن ج ١٧ ص ٢٠٨)

(ضمیمہ تریاق القلوب نمبر ٢ ص ١٤٣، خزائن ج ١٥ ص ٤٥٤)

گورنمنٹ انگریزی محسنہ عربی ۔

صفحہ ١٧٤

مسجدوں اور کتاب سے کتابوں ۔ تو ایسی جمع اردو کا لفظ تصور ہوگی اور فارسی توصیف واضافت یہاں بھی ناجائز ہوگی۔ اس لئے محراب مساجد درست ہے اور محراب مسجدوں غلط۔ لیکن مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ” قلت بارشوں سے تو صرف غیر نہری فصلوں کا نقصان متصور ہے۔“

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص٤٠، خزائن ج٢٢ ص٤٧٣)

”یہ حصہ تو کثرت بارشوں کے متعلق ہے۔“

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص٤٤، خزائن ج٢٢ ص٤٧٧)

ہر زبان میں بعض اشیاء مذکر ہوتی ہیں اور بعض مونث اور تحریر و تقریر میں اس امتیاز کو قائم رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ چند سال ہوئے مجھے ایک پٹھان لیڈر کی تقریر سننے کا اتفاق ہوا۔ اس کی زبان کچھ اس قسم کی تھی۔ ”خوچہ قائد اعظم کہتی ہے کہ وہ کشمیر کی خاطر لڑے گی۔ ہمارا یہ بادشاہی خو اپنا ہے۔ ہم اس پر خون پٹہ کر سوچھے گی۔ وغیرہ وغیرہ۔“

فہمیدہ لوگ اس تقریر پر ہنس رہے تھے۔ کیوں؟ صرف اس لئے کہ فاضل مقرر نر و مادہ میں تمیز کرنا نہیں جانتا تھا۔ مرزا قادیانی کی تصانیف میں بھی یہ امتیاز بہت کم قائم رکھا گیا ہے۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں۔

(ازالہ اوہام حصہ دوم ص ٥٤١، خزائن ج٣ ص٣٩١)

سبیل مونث ہے۔

(ازالہ اوہام حصہ دوم ص ٥٦٠، خزائن ج٣ ص٤٠٢)

بینات مونث ہے اور خدا جانے یہ دلالات کیا چیز ہے؟

(ازالہ اوہام حصہ دوم ص ٥٦٨، خزائن ج٣ ص٤٠٦)

ظہور مذکر ہے۔

(ازالہ اوہام حصہ دوم ص ٦٤٨، خزائن ج٣ ص٤٥٠)

صفحہ ١٧٥

جیسے چاہئے، ابتداء مونث ہے۔

شروع ہوگئی تھیں۔“

(ازالہ اوہام حصہ دوم ص ٦٨٣، خزائن ج ٣ ص ٤٦٨)

آیات مؤنث ہے۔ لیکن فعل آدھا مذکر ہے اور آدھا مؤنث۔

(دیباچہ براہین حصہ سوم ص ج، خزائن ج ١ ص ٦٣)

قیمت مؤنث ہے۔

(براہین حصہ سوم ص ٢٢٧، خزائن ج ١ ص ٢٥٢)

مرض مذکر ہے۔

ہے اس آلہ کو یعنی زبان کو پھیر دیتا ہے اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ الفاظ زور کے ساتھ اور ایک جلدی نکلتے ہیں۔“

(براہین حصہ چہارم ص ٤٧٩، خزائن ج ١ ص ٥٧١)

زبان مؤنث ہے۔ الفاظ سے آخر جملہ تک کا مفہوم میری سمجھ سے بالاتر ہے۔

(ازالہ اوہام ص ٢٦٠، خزائن ج ٣ ص ٢٣١)

حد مؤنث ہے۔

(ضمیمہ تریاق القلوب نمبر ٢ ص ٩٤، ٩٥، خزائن ج ١٥ ص ٢٢٢، ٢٢٣)

انتظار مذکر ہے۔

(حقیقت الوحی ص ١٠٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨)

چرا گاہ مؤنث ہے۔

(حقیقت الوحی ص ٣٤٥، خزائن ج ٢٢ ص ٣٥٨)

درد مذکر ہے۔

(چشمہ معرفت ص ٩، خزائن ج ٢٣ ص ١٧)

قرار داد مؤنث ہے۔

صفحہ ١٧٦

١٤....... ”جس قدر انسانی روح اپنے کمالات ظاہر کر سکتا ہے۔“

(چشمہ معرفت ص ١٠، خزائن ج ٢٣ ص ١٨)

روح مونث ہے۔

١٥....... ”اگر ان میں ایک ذرہ تقویٰ ہوتی ۔“ (آسمانی فیصلہ ص ٤، خزائن ج ٤ ص ٣١٤)

تقویٰ مذکر ہے۔

١٦....... ”بہشت ایسا ہے۔“

(شہادت القرآن ص ٥٣، خزائن ج ٦ ص ٣٢٩)

بہشت مونث ہے۔

٩....... جمع و مفرد

اگر فاعل جمع ہو تو فعل کا جمع ہونا ضروری ہے۔ لیکن مرزا قادیانی اس پابندی کے بھی قائل نہیں تھے۔ بطور نمونہ کے امثلہ ذیل میں خط کشیدہ حصص کو دیکھئے۔

١....... ”اب جس قدر میں نے پیش گوئیاں بیان کی ہیں۔ صدق یا کذب کے آزمانے کے لئے یہی کافی ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٦٣٥، خزائن ج ٣ ص ٤٤٤)

٢....... ”ایک مکھی کے خواص اور عجائبات کی قیامت تک تفتیش کرتے جائیں تو وہ کبھی ختم نہیں ہو سکتی۔“

(ازالہ اوہام ص ٦٧٧، خزائن ج ٣ ص ٤٦٥)

٣....... ”خدا کے مامورین کے آنے کے بھی ایک موسم ہوتے ہیں۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ١٥، خزائن ج ١٧ ص ٤٣١)

١٠....... الفاظ کا غلط استعمال

مرزا قادیانی نے بعض مقامات پر الفاظ کا غلط استعمال فرمایا ہے۔ مثلاً:

١....... ”صرف کوے کی طرح یا بھیڑی کی مانند ایک نجاست کو ہم حلوا سمجھتے رہیں گے...... صرف لومبڑی کی طرح داؤ پیچ بہت یاد ہوں گے۔“

(ازالہ اوہام ص ٣٤١، خزائن ج ٣ ص ٢٧٨)

اردو میں بھیڑی اور لومبڑی کی جگہ بھیڑیا اور لومڑی استعمال ہوتے ہیں۔ بھیڑی تو کوئی لفظ ہی نہیں۔ ہاں لومبڑ ایک لفظ ہے جس کے معنی فیروز اللغات میں لومڑ یعنی دراز قد دیئے ہوئے ہیں۔

٢....... ”ان کو ان اعمال صالحہ کے بجالانے کی قوت دی جاتی ہے جو دوسرے ان میں کمزور ہوتے ہیں۔“

(ازالہ اوہام ص ٣٢٥، خزائن ج ٣ ص ٢٦٦)

صفحہ ١٧٧

یہاں ”جو“ بے محل ہے۔

ان کے ساتھ ہوتا ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٤٣٧، خزائن ج ٣ ص ٣٣٧)

”ایک خاص طور پر“ مطلب؟

آفتاب نکلتا ہے ۔ جس کی کم و بیش دور دور تک روشنی پہنچتی ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٤٤٩، خزائن ج ٣ ص ٣٣٩)

خط کشیدہ حصص بے معنی ہیں۔

مثلاً چھوٹی کتاب، چھوٹی کتابیں، سبز ٹہنی، سبز ٹہنیاں، جنگلی لڑکی، جنگلی لڑکیاں۔ لیکن مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ”(یہ پادری) کافرستان کے وحشی لوگوں اور افریقہ کے جنگلیوں آدمیوں کے پاس جاتے ہیں۔“

(ازالہ اوہام ص ٤٩٧، خزائن ج ٣ ص ٣٦٧)

(ازالہ اوہام ص ٥٣١، خزائن ج ٣ ص ٣٩١)

چاہتا۔“

(ازالہ اوہام ص ٥٣٣، خزائن ج ٣ ص ٣٩٢)

خدا جانے یہ موہومی کیا چیز ہے اور یہ موہومی بزرگ کون ہوتے ہیں؟

(ازالہ اوہام ص ٥٩٥، خزائن ج ٣ ص ٤٢١)

جوشوں کی جگہ جوش چاہئے۔

مشرکانہ خیالات میں بہت سے کامیابی ہوئی ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٦٥٠، خزائن ج ٣ ص ٥٣١)

اردو میں لفظ صفت عموماً مدح، خیر اور خوبی کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اس لئے یہاں ستائش چاہئے۔ نیز وباء، کامیابی، مؤنث ہیں۔

ہے جو فارسی واردو دونوں میں واردو میں(Wait, the prompt requires me to restart the thought if I make a mistake. The output should not have commentary. I will just output the clean text.)

صفحہ ١٧٨

استعمال ہوتا ہے۔ ایسے مرکبات کی ہیئت میں کسی قسم کی تبدیلی ناروا ہے۔ مثلاً: ہم لاطائل کو بغیر طائل یا سوائے طائل میں نہیں بدل سکتے۔ اس طرح قالوا بلی کی جگہ ”قالوا نعم الست بربکم“ کی جگہ ”الست بخالقکم“ نہیں کہہ سکتے۔ یہ مرکبات اپنی عربی ہیئت کے ساتھ اردو میں استعمال ہو رہے ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ”کا مفصل حال معلوم کرنا طول بلا طائل ہے۔“

(ازالہ ص ٦٧٢ خزائن ج ٣ ص ٤٦٣)

(ازالہ اوہام ص ٦٧٩ خزائن ج ٣ ص ٤٦٦)

تحقیق کی جمع تحقیقات ہے۔ جمع الجمع بنانے کی ضرورت؟

(ازالہ اوہام ص ٦٨٤ خزائن ج ٣ ص ٤٦٩)

کیا سمجھے؟

کا اندازہ کر لیا کرنا۔“

(ازالہ ص ٦٨٧ خزائن ج ٣ ص ٤٧١)

بے شمار روپیہ بنام نہاد خیرات وصدقات کے نکل جاتا ہے۔“

(دیباچہ براہین ص ب، خزائن ج ١ ص ٦١)

جو اور میں کا استعمال غلط ہے اور بنام نہاد مہمل ہے۔

سکے۔“

(براہین احمدیہ بقیہ حاشیہ نمبر ١١ ص ١٩٥، خزائن ج ١ ص ٢١٣)

اب سال سترہ بھی صدی سے گزر گئے
تم میں سے ہائے سوچنے والے کدھر گئے

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٤، خزائن ج ١٧ ص ٨٠)

سترہ تشدید کے بغیر ہے۔

”چھوڑتے ہو دیں کو اور دنیا سے کرتے ہو پیار“

(زلزلہ کی پیش گوئی ، حقیقت الوحی ، خزائن ج ٢٢ ص ٧٢٧)

صفحہ ١٧٩

دین میں اعلان نون ضروری ہے۔ پیار کی ’’یا‘‘ غیر ملفوظ ہوتی ہے اور تقطیع کے وقت پیار صرف پار رہ جاتا ہے۔ لیکن یہاں ملفوظ ہے۔ ایک شعر ملاحظہ ہو۔

ان کو آتا ہے مجھ پر غصہ
مجھ کو غصے پہ پیار آتا ہے

تقطیع: ان ک آ تا ہ مجھ پ غص صہ فاع لاتن مفاعلن فعلن مجھ ک غص صے پ پار آ تا ہے فا ۔ ع لاتن مفاعلن فعلن

دیکھا آپ نے کہ یا ہر دو مصرعوں میں غیر ملفوظ ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کے مصرعہ میں ملفوظ ہے۔

(براہین احمدیہ نمبر ٢ ص ٢٧٠، خزائن ج ١ ص ٣٠٠)

یہ صاحب راقم کیا چیز ہے؟

١١...... مہمل

مرزا قادیانی کے ہاں مہمل جملوں کی بھی کمی نہیں۔ اقتباسات ذیل میں خط کشیدہ سطور ملاحظہ فرمائیے۔

نے اگر کچھ شرح بھی بیان کی تو ایسی کہ جو استعارہ کی طرف توجہ دلاتی ہے۔“

(ازالہ حصہ دوم ص ٣٤٧، خزائن ج ٣ ص ٤٢٦)

وفاداری کا ایک راز ہوتا ہے ۔“

(ازالہ اوہام ص ٤٤٦، خزائن ج ٣ ص ٣٣٧)

ابتداء قرار دیا جائے گا ۔“

(ازالہ ص ٩٣٤، خزائن ج ٣ ص ٤٣٢)

(ازالہ ص ٧٩٧، خزائن ج ٣ ص ٥١٤)

صفحہ ١٨٠

سمجھتا ہوں کہ اگرچہ گورنمنٹ کی رحیمانہ نظر مسلمانوں کی شکستہ حالت بہرحال قابل رحم ٹھہرے گی۔“

(براہین احمدیہ حصہ سوم، خزائن ج١ ص ١٣٧)

آئی...... کہ ان سب میں سے صرف اس شخص مقدم الذکر کا پاس ہوگا اور دوسرے سب امیدوار فیل ہو جائیں گے۔“

(براہین نمبر ١ ص ٢٥٦، خزائن ج ١ ص ٢٨٦)

دجال معہود کی طبائع کی بناوٹ اس کے برابر نہیں ۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٣٤، خزائن ج ١٧ ص ١٢٠)

کیوں غضب بھڑکا خدا کا مجھ سے پوچھو غافلو؟
ہو گئے ہیں اس کا موجب میرے جھٹلانے کے دن
جب سے میرے ہوش غم سے دیں کے ہیں جاتے رہے
طور دنیا کے بھی بدلے ایسے دیوانے کے دن

(نظم آغاز، حقیقت الوحی، خزائن ج ٢٢ ص ٧٤٨، ٧٤٩)

یہ تھیں چند مثالیں اس کلام کی جس کے متعلق مرزا قادیانی نے فرمایا تھا۔ ”کلام افصحت من لدن رب حکیم “ میرے کلام میں اللہ نے فصاحت بھر دی ہے۔ یہ دعویٰ کہاں تک درست ہے؟ اس کا فیصلہ میں قارئین کرام کے ادبی ذوق پر چھوڑتا ہوں۔

عربی اغلاط

ہم پہلے عرض کر چکے ہیں کہ مرزا قادیانی کو عربی لکھنے میں بڑی قدرت حاصل تھی۔ تاہم ان کا عربی کلام لغزشوں سے پاک نہیں تھا۔ آپ کی عربی تحریرات دو قسم کی ہیں۔ الہامی وغیر الہامی۔ الہامی تحریرات میں سے اہم یہ ہیں۔

الہامات براہ راست اللہ کی طرف سے نازل ہوئے تھے اور باقی تین کے متعلق آپ کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ خدائی نشان ہیں جو روح القدس کی مدد سے ظہور پذیر ہوئے۔

صفحہ ١٨١

چونکہ ہمارے قارئین کو عربی صرف ونحو سے کوئی دلچسپی نہیں ہو سکتی۔ اس لئے ہم اختصار سے کام لیں گے اور صرف چند اغلاط پہ مجملاً بحث کریں گے۔

ا...... الہامات

ضمیریں یہ ہیں۔

مذکر: هو هما هم وہ ایک مرد وہ دو مرد وہ سب مرد

مؤنث: هی هما هن وہ ایک عورت وہ دو عورتیں وہ سب عورتیں

جس طرح اردو میں بعض بے جان اشیاء مذکر ہیں اور بعض مؤنث۔ مثلاً پہاڑ مذکر ہے اور ندی مؤنث۔ یہی حال عربی زبان کا ہے۔ عربی میں ارض وسماء مؤنث ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان کے لئے ضمیر مؤنث استعمال ہوگی۔ لیکن مرزا قادیانی کے ایک الہام میں ان دونوں کے لئے ضمیر مذکر استعمال ہوئی ہے۔ جو صریحاً غلط ہے۔ ”الارض والسماء معک کما ھو معی“ اے احمد! آسمان و زمین تیرے ساتھ ہیں۔ جس طرح کہ وہ میرے ساتھ ہیں۔

(تذکرہ ص ٢٧٤)

دوسرا کمال یہ کیا کہ دو اشیاء کی طرف ضمیر مفرد راجع کر دی۔ حسب قواعد ھما چاہئے ۔

(تذکرہ ص ٣٦٦)

چونکہ یہاں ایک خدائی نعمت وعطاء کا ذکر ہے۔ اس لئے ”اعطیناک“ زیادہ مناسب تھا۔ گو قواعد کے لحاظ سے آتیناک بھی صحیح ہے۔

دیکھنا یہ ہے کہ الہام کا مطلب کیا ہے؟ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے ساری دنیا مرزا قادیانی کے حوالے کر دی تھی؟ آپ کو علم ہے کہ مرزا قادیانی چند ایکڑ زمین کے مالک تھے۔ وبس جہاں تک روحانی تسخیر کا تعلق ہے گذشتہ اٹھاسی برس میں صرف چند ہزار افراد آپ پر ایمان لائے۔ اگر یہ مطلب ہو کہ آگے چل کر تمام دنیا احمدیت قبول کر لے گی تو میرا اندازہ یہ ہے کہ اضافہ کے امکانات بہت کم ہیں۔ وجہ یہ کہ عصر حاضر میں اقدار حیات بدل گئی ہیں۔ آج وہی پیغام اور وہی فلسفہ کامیاب ہو سکتا ہے جو آدم جدید کو تازہ الجھنوں مثلاً سرمایہ و مزدور، آمریت، جمہوریت، اشتراکیت، ملوکیت، روابط بین الملکی، جمعیت اقوام یا جمعیت آدم، قیام امن، ورلڈ فیڈریشن وغیرہ سے نکال کر ہر مشکل کا ایک قابل قبول حل پیش کر

صفحہ ١٨٢

سکے۔ لیکن مرزا قادیانی کی تحریرات میں نہ کوئی فلسفہ ہے اور نہ انسان جدید کے لئے کوئی پیغام۔ آپ کی بہتر (٧٢) تصانیف میں:

اور انہی مضامین کا بار بار اعادہ ہے۔ آپ پر ”بیس اجزاء“ الہامات بھی نازل ہوئے تھے۔ لیکن ان میں کوئی پیغام موجود نہیں۔ صرف مسیح موعود کے مناقب ہیں وبس۔ اس کائنات میں بقائے اصلح کا آئین نہایت باقاعدگی سے کارفرما ہے۔ یہاں وہی فلسفہ زندہ رہ سکتا ہے جو دوسرے فلسفوں سے زیادہ طاقتور اور ابن آدم کے لئے زیادہ مفید ہو۔ ایک وقت تھا کہ ابن العربی، غزالی، اور ابن الرشید کا فلسفہ دل و دماغ پہ قابض تھا۔ وہ زمانہ گزر چکا۔ اگر آج ابن الرشید پھر پیدا ہو جائے اور چلا چلا کر اپنا فلسفہ پیش کرے تو امید نہیں کہ ایک کان بھی اس کی طرف متوجہ ہو۔ بحر زندگی میں افکار نو کی لہریں ہر دم اٹھتی رہتی ہیں۔ جس طرح مظاہر کونی میں زندگی ، طفولیت و شباب کی منازل طے کرنے کے بعد ختم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح افکار بھی کچھ مدت تک بہار شباب دکھانے کے بعد مر جاتے ہیں اور نئے افکار ان کی جگہ لے لیتے ہیں۔ آج تصوف کا دور نہیں۔ مناظروں کا زمانہ نہیں۔ مذہبی فرقہ بازی کا عہد گزر چکا اور کلام واعتزال کے چرچے ختم ہو گئے۔ آج اگر کوئی شخص ان لاشوں میں پھر جان ڈالنا چاہے تو کامیاب نہیں ہوگا۔ مرزا قادیانی کا تمام زور قلم یا تو اثبات نبوت پہ صرف ہوا۔ یا دیگر مذاہب کی تردید پر اور یا ایک ایسے اسلام کی ترویج میں۔ جس پر تصوف و خانقاہیت کا رنگ غالب تھا۔ ظاہر ہے کہ اس متاع کے خریدار آج تقریباً نایاب ہو چکے ہیں۔ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ احمدیت میں نہ وہ جاذبیت موجود ہے جو دل و دماغ پہ قابض ہو سکے۔ نہ وہ توانائی جو غیر اسلامی افکار کو شکست دے سکے۔ نہ وہ حرارت جو عروق مردہ میں خونِ حیات دوڑا سکے۔ نہ وہ قوت جو حمام و کبوتر کو شاہین بنا سکے اور نہ وہ ہمت جو دارا و قیصر کو دعوت مبارزہ دے سکے۔

جرمنی کے نازیوں کا امتیازی وصف ایک عظیم ترین قوم بننا تھا۔ لینن کے پیرو خونی انقلاب بپا کرنے پر ادھار کھائے ہوئے تھے اور خاکساروں کا مقصد نظام کہن کو الٹنا تھا۔ یہ تمام

صفحہ ١٨٣

گروہ جذبہ جانفروشی سے سرشار ہونے کے علاوہ بڑے منظم، بلند ہمت اور جفاکش تھے۔ ان گروہوں کے امتیازی اوصاف تنظیم و جانبازی تھے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ احمدیوں کے امتیازی اوصاف کیا ہیں؟ کیا ان میں علم زیادہ ہے؟ کیا ان کی اخلاقی سطح زیادہ بلند ہے؟ کیا بوہریوں کی طرح ان کے پاس دولت زیادہ ہے؟ کیا اس جماعت میں محققین وموجدین کی تعداد زیادہ ہے؟ اگر ان میں سے کوئی بات نہیں اور دیگر مسلمانوں سے وہ کسی طرح بھی ممتاز نہیں تو پھر لوگ کیوں اس جماعت میں داخل اور مرزا قادیانی کو کس مقصد کے لئے نبی تسلیم کریں؟

آخرت سنوارنے کے لئے؟ خود مرزا قادیانی سو سے زیادہ مرتبہ لکھ چکے ہیں کہ نزول مسیح کی پیش گوئی کا کفر واسلام سے کوئی تعلق نہیں اور میرا منکر خطا کار ہے۔ کافر نہیں۔

خلافت ارضی حاصل کرنے کے لئے؟ آپ جہاد ہی کے قائل نہیں۔ خلافت کیسے ملے گی۔

وحدت فکر ونظر کے لئے؟ خود آپ کی تحریروں میں یہ چیز موجود نہیں۔ آپ ١٩٠٢ء تک اپنی نبوت کا انکار کرتے رہے اور پھر ختم نبوت کا انکار آپ انگریز کو بیک وقت دجال بھی کہتے رہے اور ساتھ ہی اپنی جماعت کو اطاعت دجال کی تعلیم بھی دیتے رہے۔ اسی تصادم سے تنگ آکر میاں محمود احمد قادیانی نے فرمایا تھا کہ ١٩٠١ء سے پہلے کی تمام تحریرات منسوخ ہیں اور انہی متصادم اقوال کا نتیجہ وہ تصادم تھا۔ جو احمدی جماعت میں پیدا ہوا اور لاہوری احمدی قادیانی بھائیوں سے الگ ہوگئے تو پھر یہ فکری توحید آپ کے پیرووں میں کیسے پیدا ہوسکتی ہے۔

ترک ماسوی اللہ کے لئے؟ میری ناقص رائے میں یہ مقصد بھی حاصل نہیں ہوسکتا۔ اس لئے کہ آپ کے ٣٥ سالہ الہامات اور تیس سالہ تحریرات کا مرکزی خیال، اللہ نہیں بلکہ آپ کی ذات ہے۔ اس میں کلام نہیں کہ آپ نے چند صفحات اخلاقیات کے لئے بھی وقف کئے تھے۔ لیکن ان کا تناسب سمندر میں قطرے سے زیادہ نہیں۔ آپ کی تمام تصانیف صرف اثبات نبوت، ذکر نشانات، تاویلات، بشارات اور قدح اعداء سے مملو ہیں۔ خدا کا ذکر بھی ہے۔ لیکن اس خدا کا جس نے قادیان میں رسول بھیجا۔ جس نے اپنے رسول کو تین لاکھ نشانات سے نوازا۔ جس نے احمد بیگ، لیکھرام اور چراغ دین کو موت کی گھاٹ اتارا۔ جس نے صداقت رسول کے لئے زلزلے اور وبائیں بھیجیں۔ جس نے جہانگیر و عالمگیر کے شکوہ و جلال کا وارث گورنمنٹ محسنہ انگریزی کو بنایا اور جس نے وفات مسیح و مثیل مسیح کے اسرار اپنے رسول پر منکشف کئے۔ اس خدا کا کہیں ذکر نہیں۔ جس نے اہل ایمان کو ”يستخلفنهم“ اور ”انتم الاعلون“ کی بشارات سنائی تھیں۔ جس نے جنات ارضی و سماوی کے وعدے کئے تھے۔ جس نے قوت و ہیبت کے سامان

صفحہ ١٨٤

فراہم کرنے کا حکم دیا تھا۔ جس نے جنت شمشیر کے سائے میں رکھ دی تھی اور جس کے قرآن میں محکوم مسلمان کا تصور تک موجود نہیں۔

ماحصل یہ کہ یہ الہام آتیناک الدنیا (ہم نے تمہیں دنیا دے دی ) مادی لحاظ سے غلط ہے اور روحانی لحاظ سے ابھی پورا نہیں ہوا اور نہ آئندہ اس کی تکمیل کا کوئی امکان نظر آتا ہے۔

الاکرام لھلک المقام“ اگر تیری عزت منظور نہ ہوتی تو یہ مقام قادیان تباہ ہو جاتا۔

(تذکرہ ص ٤٦)

اکرام کے معنی ہیں۔ عزت کرنا۔ تیری عزت قطعاً نہیں۔ تیری کے لئے عربی میں ک ہے۔ اگر ہم یہاں ک محذوف تصور کر لیں تو پھر عبارت یوں ہوگی ۔ ”لولا الاکرامک“ جو صریحاً غلط ہے۔ اس لئے کہ اکرام مضاف ہے اور مضاف پر ال داخل نہیں ہوسکتا۔ اگر ہم ال کو بھی حذف کر دیں تو فقرہ بنے گا۔ ”لولا اکرامک“ جس کے معنی ہوں گے۔ اگر تیرا عزت کرنا نہ ہوتا ظاہر ہے کہ اس فقرے میں بھی کوئی مفہوم موجود نہیں۔

علاوہ ازیں مقام کے لفظی معنی ہیں۔ وہ جگہ جو دو پاؤں کے نیچے ہو یا وہ جگہ جہاں آپ دوران سفر میں قیام کریں۔ مستقل جائے قیام کو بیت یا دار کہتے ہیں۔ لغت کے لحاظ سے ہر جگہ مقام کہلاتی ہے۔ لیکن اصطلاحاً عرب کسی بستی کو مقام نہیں کہتے۔ اس کے لئے قریہ کا لفظ ہے۔ پھر اہل عرب کی لغت میں ہلاکت کا لفظ جاندار اشیاء کے لئے مخصوص ہے۔ انسان، جانور اور پرندے ہلاک ہوتے ہیں نہ کہ پتھر، دریا، صحراء اور درخت۔ جب عرب یہ کہتے ہیں کہ فلاں بستی ہلاک ہوگئی تو ان کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اس گاؤں کی اینٹیں اور مکان فوت ہو گئے ہیں۔ بلکہ یہ کہ بسنے والے تباہ ہو گئے ہیں۔ عربی ادب میں ”ھلک القریٰ“ (بستیاں ہلاک ہو گئیں) تو ملے گا۔ لیکن ”ھلک المقام“ کہیں نظر نہیں آئے گا۔ مقام کا یہ استعمال خالص ہندی ہے۔ تو گویا اس الہام میں مندرجہ ذیل خامیاں پائی جاتی ہیں۔

یا تَرَب، تِرب کے معنی ہیں ۔ توام ، ہمزاد اور تَرَب کے معنی ہیں خاک مٹی ۔

صفحہ ١٨٥

اب الہام کا ترجمہ سنئے۔ ”یہ وہ ہمزاد یا مٹی ہے جسے لوگ نہیں جانتے۔“ مطلب؟ خود مرزا قادیانی اس کا ترجمہ یوں فرماتے ہیں۔ ”یہ وہ عمل الترب (یعنی مسمریزم) ہے جس کی اصل حقیقت کی زمانہ حال کے لوگوں کو خبر نہیں۔“

(ازالہ ص٣١٦، خزائن ج٣ ص٢٥٩)

ترجمہ میں ترب کو عمل الترب بنادینا لغوی دراز دستی کی انتہاء ہے۔

بزدلی۔ ترجمہ یہ ہے۔ اے احمد! تم ہمارے پانی سے ہو اور باقی لوگ بزدلی سے ہیں۔ کیا سمجھے؟

(انجام آتھم ص٦٢، خزائن ج١١ ص٦٢)

تذکرۃ مونث ہے اس لئے ہذا کی جگہ ہذہ چاہئے۔

(حقیقت الوحی ص١٠٣، خزائن ج٢٢ ص١٠٦)

اللہ فرماتا ہے۔ ”میں خطا بھی کروں گا اور صواب بھی۔“ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اللہ خطا کیسے کرتا ہے۔ اس کی تشریح ملاحظہ ہو۔ ”کبھی میرا ارادہ پورا ہوگا اور کبھی نہیں۔“

(حقیقت الوحی ص١٠٣، خزائن ج٢٢ ص١٠٦)

عجیب بے بس خدا ہے جس کے ارادے کبھی پورے نہیں بھی ہوتے۔ قرآن میں فرمایا۔ ”فعال لما یرید“ ﴿اس کے ارادے نہایت جاہ و جلال سے پورے ہوتے ہیں۔﴾ اور یہاں یہ ضعف و بے چارگی۔

(حقیقت الوحی ص٢٣٢، خزائن ج٢٢ ص٢٤٣)

اور کچھ دیر کے بعد ایک ایسا بیمار آپ کے ہاں لایا گیا جس کی ران میں درد تھا۔ عربی میں الیم اس چیز کو کہتے ہیں جو دوسرے کو دکھ دے۔ مثلاً عذاب الیم۔ ایسا عذاب جو دوسروں کے لئے تکلیف دہ ہو۔ المنجد میں درج ہے۔

الاليم = الموجع

موجع اسم فاعل ہے اور اوجع یوجع سے اور متعدی ہے۔ فعل متعدی کا اثر ہمیشہ فاعل سے مفعول تک جاتا ہے۔ زید نے عمر کو مارا، مار عمر پر واقع ہوئی ہے۔ خالد نے مسافر کو پانی پلایا، پینے سے فائدہ مسافر نے اٹھایا۔

صفحہ ١٨٦

تو الیم کے معنی ہوں گے۔ ”درد رساں“ دوسرے کو دکھ دینے والی۔ اس تحقیق کے رو سے اس الہام کے معنی یوں ہوں گے۔ ”تو ایک درد رساں ران دیکھے گا۔“ یعنی ایسی ران دیکھے گا جو کسی اور کو تکلیف دے رہی ہوگی۔ حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ یورک ایسڈ یا بادی کی وجہ سے خود ران میں تکلیف ہو رہی تھی نہ یہ کہ ران یورک ایسڈ کو کسی دکھ میں مبتلا کر رکھا تھا۔ بہر حال ”الیم“ کا یہ استعمال صحیح نہیں۔

ہوا۔ ”ان کنتم فی ریب مما نزلنا علی عبدنا فاتوا بشفاء مثله“ اگر تمہیں اس وحی کے متعلق کچھ شک ہے جو ہم نے اپنے بندے پر نازل کی ہے تو ذرا ایسی شفا تو دکھاؤ۔

(حقیقت الوحی ص ٢٣٥، خزائن ج ٢٢ ص ٢٤٦)

لفظ شفاء کے بغیر باقی ساری آیت قرآن سے لی گئی ہے۔ اللہ نے عرب کے فصحاء و بلغاء کو چیلنج دیا تھا کہ اگر تمہیں قرآن کے الہامی ہونے میں کوئی شک ہے تو ذرا چند ایسی آیات تو بنا لاؤ۔ تیرہ سو برس کے بعد اللہ نے وہی چیلنج ان الفاظ میں دہرایا۔

اگر مرزا قادیانی کی وحی میں شک ہے تو ایسی شفاء لے آؤ۔ وحی سے شفاء کا تعلق؟ اچھا تعلق سہی۔ سوال یہ ہے کہ کیا آج تک کسی غیر رسول کو قولنج سے شفاء نہیں ہوئی۔ اگر ہوئی ہے اور بیسیوں ایسے مریض آپ نے بھی دیکھے ہوں گے تو پھر اس چیلنج کا مطلب؟ آج سے ساڑھے تیرہ سو برس پہلے حضور علیہ السلام نے تمام دنیا کو چیلنج دیا تھا کہ قرآن جیسی ایک آیت ہی بنا لاؤ۔ تیرہ سو بہتر (٧٢) برس گزر گئے اور کوئی ماں کا لال مقابلے میں نہ اترا۔ لیکن دوسری طرف دنیا میں ہر روز قولنج کے سینکڑوں مریض شفایاب ہوتے ہیں۔ یہ عجیب چیلنج ہے۔ جس کی دھجیاں دن میں بیس مرتبہ اڑائی جاتی ہیں۔ فاتوا (لاؤ)

اس فعل اتا۔ اتیانا کا تعلق محسوسات و مشہودات سے ہوتا ہے اور شفاء کا تعلق محسوسات سے نہیں۔ شفا اعتدال مزاج کا نام ہے اور اعتدال کو محسوس نہیں کیا جاسکتا۔ جسم کا گرم و سرد ہونا علامات مرض و شفا ہیں۔ خود مرض و شفا نہیں۔ اس لئے اس فعل کا استعمال اس الہام میں صحیح نہیں۔

پہلے ان جملوں کو پڑھئے۔

صفحہ ١٨٧

”دردرساں“ دوسرے کو دکھ دینے والی۔ اس تحقیق کے رو سے ”ایک دردرساں ران دیکھے گا۔“ اور کو تکلیف دے رہی ہوگی۔ حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ تکلیف ہو رہی تھی نہ یہ کہ ران یورک ایسڈ کو کسی دکھ میں مبتلا کر رہی تھی۔

جسمانی درد و رنج سے شفا یاب ہوئے تو فوراً یہ الہام نازل ہوا ”علی عبدنا فاتوا بشفاء مثله“ اگر تمہیں اس وحی میں شک ہے جو ہم نازل کر رہے ہیں تو ذرا ایسی شفا تو دکھاؤ۔

(حقیقت الوحی ص ٢٣٥، خزائن ج ٢٢ ص ٢٤٦)

یہ آیت قرآن سے لی گئی ہے۔ اللہ نے عرب کے فصحاء امی ہونے میں کوئی شک ہے تو ذرا چند ایسی آیات تو بنا لاؤ۔ مرزا قادیانی نے ان الفاظ میں دہرایا۔ ہے تو ایسی شفا والے آؤ۔ وحی سے شفا کا کیا تعلق؟ اچھا اگر اس سے مراد قرآن ہے تو وہ تو رسول کو قولنج سے شفا نہیں ہوئی۔ اگر ہوئی ہے اور بواسیر سے بھی شفاء ہوئی ہے تو پھر اس چیلنج کا مطلب؟ آج سے ساڑھے تیرہ سو سال پہلے اللہ نے چیلنج دیا تھا کہ قرآن جیسی ایک آیت ہی بنالاؤ۔ تیرہ سو سال میں کوئی ایک آیت بنانے پر قادر نہ ہوا۔ لیکن دوسری طرف دنیا میں ہر روز لوگوں کو شفا ہوتی ہے۔ یہ عجیب چیلنج ہے۔ جس کی دھجیاں دن میں بیسیوں مرتبہ اڑتی ہیں۔

شفا ادویات سے ہوتا ہے اور شفاء کا تعلق محسوسات سے ہے۔ محسوس چیز کا مقابلہ بھی محسوس چیز سے کیا جاسکتا۔ جسم کا گرم و سرد ہونا بھی محسوسات سے تعلق رکھتا ہے۔ اس لئے اس فعل کا استعمال اس الہام میں صحیح نہیں۔

کوئی مطلب سمجھ میں آیا؟ اگر آیا ہے تو سمجھائیے۔ اگر نہیں آیا اور یقیناً نہیں آیا ہوگا۔ تو مت بھولئے کہ آخری فقرہ ایک الہام کا لفظی ترجمہ ہے جو مرزا قادیانی پر نازل ہوا تھا۔ ”اردت زمان الزلزلة“ میں نے زلزلوں کے زمانے کا ارادہ کیا۔

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٥٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٩٧)

کیا آپ کا مطلب یہ ہے کہ آپ زلزلوں کے زمانے میں جانا چاہتے ہیں؟ یا اس زمانے کو کچھ لمبا کرنا چاہتے ہیں یا اس کو سزا دینا چاہتے ہیں؟ آخر جو کچھ کرنا تھا۔ اس کا ذکر اس الہام میں آنا چاہئے تھا۔ تا کہ ابہام نہ پیدا ہوتا۔

اسی طرح کے بیسیوں الہامات اور ہیں۔ جن میں سے بعض کی زبان غلط ہے اور بعض مفہوم کے لحاظ سے مہمل ہیں۔ ہم بخوف طوالت انہیں نظر انداز کرتے ہیں۔

تاریخ رسالت میں پہلی مرتبہ

الہام کی طویل تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہوا۔

اور اپنی قدیم سنت (قوم رسول کی زبان میں وحی نازل کرنا) کو ترک کر دیا۔

رکھے اور کوئی اخلاقی ، سیاسی یا عمرانی ضابطہ نازل نہ فرمایا۔

کام چلایا۔ کہیں مقامات حریری سے مدد لی۔ (دیکھو سورۃ فاتحہ کی الہامی تفسیر جس میں مقامات حریری و بدیع کے بیسیوں جملے بالفاظہا موجود ہیں) کہیں شعرائے جاہلیت کے مصرعے اڑا لیے۔ ”عفت الدیار محلها ومقامها“ آپ کا ایک الہام ہے اور یہ سبع معلقات کے ایک قصیدہ کا پہلا مصرعہ ہے اور کہیں ادھر ادھر سے انسانی اقوال لے لئے۔ مثلاً شکر اللہ سعیہ

(تذکرہ ص ٧٢)

(آپ کا الہام) منتہی الارب میں شکر کے تحت درج ہے۔

صفحہ ١٨٨

ورق الٹ کر باب الہامات میں وہ انگریزی الہامات پھر پڑھئے۔ نیز ان اردو الہامات کی زبان بھی ملاحظہ کیجئے۔

میری رحمت تجھ کو لگ جائے گی۔

(تذکرہ ص ٧٢٠)

خاکسار پیپرمنٹ۔

(تذکرہ ص ٥٢٧)

عالم کباب، کلمتہ اللہ خان۔

(تذکرہ ص ٦٦٣)

میں موج دکھاتا ہوں۔ خدا کی فیلنگ نے بڑا کام کیا۔

(تذکرہ ص ٦٢١)

ڈگری ہوگئی۔

(تذکرہ ص ٧٧)

شعتانصا۔

(تذکرہ ص ١٠٢)

پریشن،عمر، پراطوس یعنی بڑا طوس یعنی پلاطوس۔

(تذکرہ ص ١١٥)

کیا یہ خدائی زبان ہے؟ ایک زمانہ تھا کہ اللہ کا کلام سن کر دلوں میں زلزلے اٹھتے تھے۔ آنکھوں سے آنسوؤں کی ندیاں پھوٹ نکلتی تھیں۔ فصحائے عالم، اللہ کی اعجاز بیانی پہ دنگ رہ جاتے تھے اور بڑے بڑے سرکش اور اکھڑ کافر بے ساختہ پکار اٹھتے تھے۔

”ما ھذا قول البشر“ اور ایک یہ زمانہ ہے کہ اللہ کی زبان سن کر ہنسی آنے لگتی ہے اور ایک مڈل فیل بچہ بھی پورے اعتماد سے کہہ سکتا ہے کہ میں اس خدا سے اردو اور انگریزی دونوں بہتر جانتا ہوں۔

اگر اعتماد نہ آئے تو کسی طالب العلم کی انگریزی و اردو تحریر اور یہ اردو و انگریزی الہامات نام بتائے بغیر ماہرین کے پاس بھیج دیجئے اور دیکھئے کہ نمبر کسے زیادہ ملتے ہیں؟

١؎ مشہور تاریخی واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ حضور ﷺ کی بعثت سے پہلے کعبہ کے قریب ایک گاؤں عکاظ میں ہر سال حج کے دنوں میں ایک میلہ لگتا تھا۔ جس میں شعرائے عرب نظمیں بھی سناتے تھے۔ جو نظم فصاحت و بلاغت اور تخیل کے لحاظ سے بہترین سمجھی جاتی تھی اسے مصری جھلی پہ سونے کے حروف سے لکھوا کر کعبہ میں لٹکا دیا جاتا تھا۔ حضور ﷺ کی بعثت تک ایسی سات نظمیں آویزاں کی جاچکی تھیں۔ ایک دن حضور ﷺ حضرت علیؓ کے ہمراہ کعبہ میں داخل ہوئے۔ حضرت علیؓ نے ان نظموں کے متعلق سارا ماجرا سنایا تو آپؐ نے ان نظموں کے نیچے سورۂ کوثر لکھوادی۔ جب وہ میلہ پھر منعقد ہوا اور مشاعرہ کے جج کعبہ میں داخل ہوئے اور ان کی نظر ان آیات پر پڑی تو دنگ رہ گئے۔ وہ قصائد اتار لئے اور آیات کے نیچے لکھ دیا کہ یہ انسانی کلام نہیں۔

صفحہ ١٨٩

انگریزی الہامات پھر پڑھئے۔ نیز ان اردو الہامات کی زبان دیکھئے گی۔

(تذکرہ ص ٧٢٠)

(تذکرہ ص ٥٢٧)

(تذکرہ ص ٦٦٣)

کیا۔

(تذکرہ ص ٦٢١)

(تذکرہ ص ٧)

(تذکرہ ص ١٠٢)

افلاطوس یعنی پلاطوس۔

(تذکرہ ص ١١٥)

اندازہ تھا کہ اللہ کا کلام سن کر دلوں میں زلزلے اٹھتے تھے۔ نکلتی تھیں۔ فصحائے عالم، اللہ کی اعجاز بیانی پر دنگ رہ جاتے بے ساختہ پکار اٹھتے تھے۔ اور ایک یہ زمانہ ہے کہ اللہ کی زبان سن کر ہنسی آنے لگتی ہے کیسے کہہ سکتا ہے کہ میں اس خدا سے اردو اور انگریزی دونوں

العلیم کی انگریزی واردو تحریر اور یہ اردو و انگریزی الہامات موازنہ کیجئے کہ نمبر کسے زیادہ ملتے ہیں؟

اشارہ ہے۔ حضورﷺ کی بعثت سے پہلے کعبہ کے قریب میں ایک میلہ لگتا تھا۔ جس میں شعرائے عرب نظمیں بھی کے لحاظ سے بہترین سمجھی جاتی تھی اسے مصری جھلی پہ دیا جاتا تھا۔ حضورﷺ کی بعثت تک ایسی سات نظمیں حضرت علیؓ کے ہمراہ کعبہ میں داخل ہوئے۔ حضرت تو آپ نے ان نظموں کے نیچے سورۃ کوثر لکھوا دی۔ کعبہ میں داخل ہوئے اور ان کی نظر ان آیات پر پڑی تو کے نیچے لکھ دیا کہ یہ انسانی کلام نہیں۔

میرا مطلب تنقیص نہیں بلکہ اظہار حیرت ہے کہ اس خدا کو جس کی حیرت انگیز صناعی پر ارض و سماء شہادت دے رہے ہیں۔ جس کے موقلم سے طرفتہ العین میں لاکھوں بہاریں اور جس کے ساز سے بے شمار نغمے برس پڑے ہیں۔ یہ کیا ہو گیا کہ اس کے منہ سے فصیح تو رہا ایک طرف، کوئی صحیح لفظ بھی مشکل ہی سے نکلتا ہے۔

خطبہ الہامیہ

"الذی اکلوا اعمارهم فی ابتغاء الدنیا" جو تلاش دنیا میں اپنی عمر کو کھا گئے۔ ”عمر کھانا“ پنجابی محاورہ ہے۔ عربی میں استعمال نہیں ہوتا۔

(خطبہ الہامیہ ص ٢٧، خزائن ج ١٦ ص ٧٢)

نزول مسیح کے مشہور عقیدہ کے متعلق فرماتے ہیں: "وهل هو الا خروج من القرآن" کہ یہ عقیدہ قرآن کے خلاف بغاوت ہے۔ خروج جب بغاوت کے معنوں میں استعمال ہو تو اس کے بعد ہمیشہ علیٰ آتا ہے۔ اس لئے من القرآن صحیح نہیں۔

(خطبہ الہامیہ ص ٥٨، خزائن ج ١٦ ص ١٠٢)

عربی میں سازش اور مکر کے لئے ایک لفظ کید بھی ہے جس کی جمع ہے مکائد۔ ظاہر ہے کہ مکر و سازش انسان کا کام ہے یا شیطان کا۔ زمین، پہاڑ یا تارے کوئی شرارت نہیں کر سکتے۔ لیکن آپ زمین کو بھی مکار سمجھتے ہیں: "ففریق علموا مکائد الارض وفریق اعطوا ما اعطی الرسل من الهدى" ایک فریق کو زمین کی مکر ملے اور دوسرے کو ہدایت نصیب ہوئی۔

(خطبہ الہامیہ ص ٧٦، خزائن ج ١٦ ص ١٢٨)

"وتنزل السکینة فی قلوبهم" تنزل کے بعد علیٰ چاہئے۔

(خطبہ الہامیہ ص ٨٣، خزائن ج ١٦ ص ١٣٨)

"فخرج النصادیٰ من دیرهم" نصاریٰ اپنے گر جاؤں سے نکلے۔ گر جاؤں کا ترجمہ دِیر نہیں بلکہ ادِیار۔ ادیرہ یا دیورہ ہے۔

(خطبہ الہامیہ ص ١٠٠، خزائن ج ١٦ ص ١٦٢)

"وار تدوا من الاسلام" عن چاہئے۔ من غلط ہے۔

(خطبہ الہامیہ ص ١٠٨، خزائن ج ١٦ ص ١٧٣)

"ویریدون ان يدسوا الحق فی تراب ویمزقوا اذیاله کلاب" التراب اور الکلاب چاہئے۔

(خطبہ الہامیہ ص ١٠٩، خزائن ج ١٦ ص ١٧٥، ١٧٤)

صفحہ ١٩٠

قیامت کی باز پرس سے نہیں ڈرتے۔

(خطبہ الہامیہ ص ١٠٩، خزائن ج ١٦ ص ١٧٥)

یہاں فکر کا یہ استعمال خالص پنجابی ہے۔ ڈر کے لئے خوف وخشیہ کی مصادر موجود ہیں۔ اس لئے لا یخفون کہئے۔ قرآن میں ہر جگہ فکر غور وخوض اور تدبر کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ لقوم یتفکرون . یتفکرون فی خلق السماوات ۔ وغیرہ

لئے بھی مجھ سے جدا نہیں ہوتی۔

(خطبہ الہامیہ ص ١١٠، خزائن ج ١٦ ص ١٧٦، ١٧٧)

طرفة العین کسی کام کی رفتار وسرعت ظاہر کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً "راکٹ آنکھ جھپکنے کی دیر میں سو میل نکل گیا۔" قرآن میں درج ہے کہ ایک جن ملکہ سبا کا تخت چشم زدن میں حضرت سلیمان کے پاس لے آیا۔ اس لئے یہاں اس کا استعمال غلط ہے۔

برکات للذین ............ یومنون" میرا انکار کفار کے لئے حسرتیں ہیں اور میرا اقرار مومنوں کے لئے برکتیں ہیں۔

(خطبہ الہامیہ ص ١١٣، خزائن ج ١٦ ص ١٧٩)

میرا انکار اور میرا اقرار پنجابی عربی ہے۔ میرے اقرار و انکار کا مفہوم یہ ہے کہ جناب مرزا قادیانی کسی چیز کا اقرار اور کسی کا انکار کر بیٹھے ہیں اور اب فرما رہے ہیں کہ میرا اقرار وانکار..... علاوہ ازیں انکار مفرد ہے اور حسرات جمع۔ اسی طرح اقرار مفرد ہے اور برکات جمع۔ اسم و خبر میں تطابق ضروری ہے۔ اس لئے حسرة و برکة صحیح ہے اور حسرات و برکات غلط ۔

الله چاہئے۔

(خطبہ الہامیہ ص ١٠٦، خزائن ج ١٦ ص ١٨٢)

ہو تو میرا امتحان لو۔

(خطبہ الہامیہ ص ١٢٨، خزائن ج ١٦ ص ٢٠٠)

یہ امتحان کا استعمال خالص پنجابی وغیر قرآنی ہے۔ قرآن اس مفہوم کو ادا کرنے کے لئے ابتلاء سے کام لیتا رہا۔

تکلیف گوارا نہ کریں۔" اس خالص ہندی محاورہ کو آپ عربی میں یوں منتقل کرتے ہیں: "فار

صفحہ ١٩١

نا في ليلهم ولانهارهم انهم يسئلون“ اور وہ لوگ

(خطبہ الہامیہ ص ١٠٩، خزائن ج ١٦ ص ١٧٥)

میں پنجابی ہے۔ ڈر کے لئے خوف وخشیہ کی مصادر موجود ہیں ہر جگہ فخر وغرور و خوض اور تدبر کے معنوں میں استعمال ہوا فی خلق السماوات۔ وغیرہ ”فی طرفة عین رحمتہ“ اللہ کی رحمت چشم زدن کے

(خطبہ الہامیہ ص ١١٠، خزائن ج ١٦ ص ١٧٦، ١٧٥)

یہ رحمت ظاہر کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً ہوگا۔” قرآن میں درج ہے کہ ایک جن ملکہ سبا کا تخت چشم میں اس لئے یہاں اس کا استعمال غلط ہے۔ ”حسرات علی الذین کفرو ابی وان اقراری میرا انکار کفار کے لئے حسرتیں ہیں اور میرا اقرار مومنوں

(خطبہ الہامیہ ص ١١٣، خزائن ج ١٦ ص ١٧٩)

کرلیا ہے۔ میرے اقرار وانکار کا مفہوم یہ ہے کہ جناب اقرار کر بیٹھے ہیں اور اب فرما رہے ہیں کہ میرا اقرار لغات جمع۔ اسی طرح اقرار مفرد ہے اور برکات جمع۔ اسم اوپر کا صیغہ جمع ہے اور حسرات و برکات غلط۔ ”یدی الله “ میں کا استعمال خالص پنجابی ہے۔ بایدی

(خطبہ الہامیہ ص ١٠٦، خزائن ج ١٦ ص ١٨٤)

”من امری فامتحونی“ اگر میرے متعلق شک

(خطبہ الہامیہ ص ١١٨، خزائن ج ١٦ ص ٢٠٠)

تعلیم قرآنی ہے۔ قرآن اس مفہوم کو ادا کرنے سے

کہتے ہیں:”آپ قرآن پر رحم فرمائیں۔ اور تفسیر کی جو آپ عربی میں یوں منتقل کرتے ہیں:”فار

حموا مسيحاً آخروا قيلوه من هذه العزة “ تم مسیح پر رحم کرو اور اسے نزول کی عزت سے معافی دو۔

(خطبہ الہامیہ ص ١٤٠، خزائن ج ١٦ ص ٢١٧)

صورھم“ وہ انتظار کریں۔ جب خدا کے ہاں جائیں گے تو وہاں شیشے میں اپنا منہ دیکھ لیں گے۔

(خطبہ الہامیہ ص ١٥٦، خزائن ج ١٦ ص ٢٣٠، ٢٢٩)

شیشہ میں منہ دیکھنا اردو کا محاورہ ہے۔ عربوں کے ہاں اس کا استعمال نہیں ہوتا۔

ارىٰ سيل افات قضاها المقدرونی
الخلق سیات تذاع وتنتشرہ

(خطبہ الہامیہ ص ٢٠٣، خزائن ج ١٦ ص ٣٠٣)

لفظ سیات ہے۔ (یا مکسورہ مشدد اور مابعد الف ممدودہ) لیکن اس شعر میں سیات الف ممدودہ غائب اور یا کو مفتوح باندھا گیا۔ جو غلط ہے۔

وللدین اطلال اداها کلا هف و
دمعی بذکر قصورہ یتحدر

(خطبہ الہامیہ ص ٢٠٣، خزائن ج ١٦ ص ٣٠٣)

دوسرا مصرع خارج از وزن ہے۔ ”الا انما الایام رجعت الی الهدیٰ“ لفظ رجعت (بفتح جیم ہے) نہ کہ رجعت بہ سکون جیم۔

(خطبہ الہامیہ ص ٢٠٤، خزائن ج ١٦ ص ٣٠٦)

”فمت ایھا الناری بنار تسعّر “ ناری غلط ہے۔ ناری بہ تشدید یا ہونا چاہئے۔

(خطبہ الہامیہ ص ٢٠٤، خزائن ج ١٦ ص ٣٠٦)

قصیدہ اعجازیہ

یہ ایک الہامی قصیدہ ہے جس کے ساتھ دس ہزار روپیہ کا اشتہار بھی ہے کہ جو شخص اتنی مدت میں ایسا قصیدہ تیار کرے گا اسے یہ رقم بطور انعام دی جائے گی۔ لیکن یہ شرط تھی کہ قصیدہ ساڑھے پانچ سو اشعار کا ہو اور صرف بارہ دن میں مطبوعہ کتاب کی صورت میں پیش کیا جائے۔ چونکہ ان شرائط کو پورا کرنا انسانی قدرت سے باہر تھا۔ اس لئے کوئی شخص مقابلے میں نہ اترا۔ ہاں

صفحہ ١٩٢

بعض شعراء نے اس قصیدے کا جواب ضرور لکھا۔ جن میں سے ایک قاضی ظفرالدین پروفیسر اورئینٹل کالج لاہور تھے۔ ان کا طویل قصیدہ فصیح عربی زبان میں ہے اور عروض ونحو کی لغزشوں سے مبرا ہے۔ لیکن قصیدہ اعجازیہ کے تقریباً تین درجن اشعار عروضی ونحوی اغلاط سے آلودہ ہیں۔ بطور نمونہ ہم چند اشعار پیش کرتے ہیں: اس قصیدہ کا آخری حرف مجری مرفوع ہے۔ یخبر، یذکر، یظھر وغیرہ

اس لئے منصوب جولرا چاہئے۔

کان کی خبر ہے۔ اظہرا چاہئے۔

لئے موثرا چاہئے۔

اسرارھا کی ضمیر اللہ کی طرف راجع ہے۔ اللہ مذکر اور ضمیر مونث ہے۔

تدمر“ ارض مونث ہے اور تدمر واحد مذکر مخاطب۔ گویا مونث کے لئے مذکر کا صیغہ استعمال کردیا جو صریحاً غلط ہے۔

یہ بحث خالص فنی قسم کی ہے۔ جس سے قارئین کو کوئی دلچسپی نہیں ہوسکتی۔ اس لئے ہم اسے یہیں ختم کرتے ہیں۔

الہامی تفسیر فاتحہ

ص ١، روحانی خزائن ج ١٨ ص ٩٣) یہ کیسا رمضان ہے جس کے ستر دن ہوتے ہیں۔

استعمال خالص پنجابی ہے۔ حسد چاہئے۔

ج ١٨ ص ١٠) لجنانہم پہ لام غلط ہے۔ اس لئے کہ اتخذ دو مفعول چاہتا ہے۔ جنان پہلا مفعول ہے۔ مفعول پہ لام لانا درست نہیں۔

صفحہ ١٩٣

ضرور لکھا۔ جن میں سے ایک قاضی ظفر الدین یں قصیدہ فصیح عربی زبان میں ہے اور عروض و نحو کی کے تقریباً تین درجن اشعار عروضی و نحوی اغلاط سے تے ہیں: خارج ہے۔ بحر رمل، بحر طویل وغیرہ عنت من شان جولد“ جولر شان کا مفعول بہ ہے۔

ر من الشمس اظھر“ اظھر غلط ہے۔ اس لئے کہ

مہیا و موثر“ موثر موثر یطلع پہ معطوف ہے۔ اس

الحليم معلم ويهدى الى اسرارها ويفسر“ اور ضمیر مؤنث ہے۔

حملات يا ارض جولرا لعنت بملعون فانت ب۔ گویا مونث کے لئے مذکر کا صیغہ استعمال کردیا

سے قارئین کو کوئی دلچسپی نہیں ہو سکتی۔ اس لئے ہم

ا من شهر الصيام ، سبعین بہتر ۔ (اعجاز المسیح اس کے ستر دن ہوتے ہیں۔

نخل “ (اعجاز المسیح ص ٨ ، خزائن ج ١٨ ص ١٠) بخل کا

ن وقرأ الجنانهم “ (اعجاز المسیح ص ٨، خزائن کا مفعول چاہتا ہے۔ جنان پہلا مفعول ہے۔

سفک کے معنی ہیں بہانا، گرانا۔ وہ چاہتے ہیں کہ قائل کا بہائیں۔ کیا خون؟۔ تو پھر قائلہ سے پہلے دم (خون) کا اضافہ فرمائیے۔

ج ١٨ ص ٢٢) مبنع غلط ہے۔ منابع چاہئے۔

ركب عليه“ (اعجاز المسیح ص ٧٧، خزائن ج ١٨ ص ٧٩) ناقہ مونث ہے اور علیہ کی ضمیر مذکر علیہا چاہئے۔

عربی میں کافہ مضاف نہیں ہو سکتا۔ اس لئے یہ فقرہ غلط ہے۔

متحاربان غلط ہے۔ تتحاربان صحیح ہے۔

سعی غلط ہے اس لئے کہ نفس مؤنث ہے۔ سعت چاہئے۔

(اعجاز المسیح ص ١٥٩، خزائن ج ١٨ ص ١٦٣)

یہاں موصوف نکرہ ہے اور صفت معرفہ جو صحیح نہیں۔

اخیک غلط ہے مفعول ہونے کی وجہ سے اخاک چاہئے۔

(اعجاز المسیح ص ١٧٠، خزائن ج ١٨ ص ١٧٤)

ترکھم غلط ہے۔ ثمرات جمع مکسر ہونے کی وجہ سے مؤنث ہے۔ اس لئے ترکھا صحیح ہے۔

غیر پر الف لام نہیں آسکتا۔

صفحہ ١٩٤

اس تفسیر میں اس قسم کی کم و بیش ایک سو اغلاط موجود ہیں۔ حقیقتاً تاریخ رسالت کا یہ پہلا واقعہ ہے کہ اللہ کے مسیح موعود پر چار زبانوں میں الہامات اتارے اور ہر زبان میں درجنوں غلطیاں کیں۔ یہ دیکھتے ہوئے بھی کہ دشمن اس کی غلطیوں پر ہنس رہے ہیں۔ وہ آخر تک اپنی ہٹ پہ قائم رہا اور وقتاً فوقتاً غلط الہامات نازل کرتا رہا۔

بارھواں باب ...... مخالفین نبوت سے سلوک

قرآن حکیم میں بار بار حضورﷺ کو ہدایت کی گئی ہے کہ: ”ادفع بالتی ھی احسن ٠ فاذا الذی بینک وبینہ عداوة کانہ ولی حمیم (حم السجده:٣٤)“ ﴿اے رسول تم مخالفین کے مقابلے میں ایسے اخلاق کا مظاہرہ کرو کہ تمہارا دشمن بھی تمہارا مخلص دوست بن جائے۔﴾

دشمن کو مخلص دوست بنا لینا بڑی مشکل اور کٹھن منزل ہے اور اس منزل کا حصول اسی صورت میں ممکن ہے کہ انسان دشمن کے اشتعال، سب وشتم ، دل آزار اقدامات اور فتنہ وسازش کو قطعاً خاطر میں نہ لائے۔ رفق و ملاطفت کو نہ چھوڑے۔ گالیاں سن کر دعائیں دے اور وقتِ مصیبت آگے بڑھ کر دشمن کے کام آئے۔ حضورﷺ زندگی بھر اس ہدایت پر عمل پیرا رہے۔ جب اہل طائف کی سنگ باری سے سرور دو عالمﷺ کے جوتے لہو سے بھر گئے تو آپؐ کی زبان مبارک پر از طائف تا مکہ (دس میل) یہی دعاء جاری رہی : ”رب اھد قومی فانھم لا یعلمون“ ﴿اے رب! میری قوم کی آنکھیں کھول اور انہیں سیدھی راہ دکھا کہ یہ غریب سچائی سے نا آشنا ہیں۔﴾

جنگ حنین میں جب صحابہؓ کے پاؤں اکھڑ گئے اور کفار کی بے پناہ تیر اندازی نے قیامت کا سماں باندھ دیا تو رحمۃ اللعالمینﷺ نے ہجوم مصائب میں دعاء کے لئے ہاتھ اٹھائے۔ لوگ یہ سمجھے کہ کفار کے لئے کسی فوری عذاب کی دعا مانگیں گے۔ لیکن اس رحمت مجسم کی زبان مبارک سے جو الفاظ نکلے وہ یہ تھے: ”اللھم اھد قومی فانھم لا یعلمون“

عہد خلافت میں حضرت علیؓ کہیں جارہے تھے کہ دور سے ایک خارجی نے دیکھ لیا اور اناپ شناپ بکے۔ جب ساتھیوں نے توجہ دلائی تو مدینۃ العلم نے فرمایا: ”عرب میں علی نام کے کئی آدمی ہیں۔ کسی اور کو کوس رہا ہوگا۔“

صفحہ ١٩٥

مظالم موجود ہیں۔ حقیقتاً تاریخ رسالت کا یہ پہلا دفعہ اتارے اور ہر زبان میں درجنوں غلطیاں مفسر رہے ہیں۔ وہ آخر تک اپنی ہٹ پہ قائم

ان نبوت سے سلوک

سکھائی ہے کہ: ”ادفع بالتي هي كأنه ولى حميم (حم السجده : ٣٤)“ کا مظاہرہ کرو کہ تمہارا دشمن بھی تمہارا مخلص

کٹھن منزل ہے اور اس منزل کا حصول اسی سب و شتم، دل آزار اقدامات اور فتنہ چھوڑے۔ گالیاں سن کر دعائیں دے اور حضور ﷺ نے زندگی بھر اس ہدایت پر عمل پیرا آپ کے جوتے لہو سے بھر گئے تو آپ دعاء جاری رہی: ”رب اهد قومى آنکھیں کھول اور انہیں سیدھی راہ دکھا کہ یہ

گئے اور کفار کی بے پناہ تیر اندازی نے طائف میں دعاء کے لئے ہاتھ اٹھائیے۔ ملے گا۔ لیکن اس رحمت مجسم کی زبان فانهم لا يعلمون“ بہت دور سے ایک خارجی نے دیکھ لیا اور آپ نے فرمایا: ”عرب میں علی نام کے

آپ جانتے ہیں کہ اہل مکہ نے حضور ﷺ پر انتہائی مظالم توڑے تھے۔ آپ کے پیروؤں کو گرم ریت پر گھسیٹا تھا۔ آپ کو تین برس کے لئے پہاڑوں میں قید کر دیا تھا۔ آپ کو گھر بار سے نکال دیا تھا اور مدینہ پر کئی مرتبہ چڑھائی کی تھی۔ لیکن جب فتح مکہ کے بعد اہل مکہ کو سزا دینے کا وقت آیا تو آپ نے اعلان فرمایا: 'لا تثريب عليكم اليوم ' ﴿ جاؤ میں نے تمہیں معاف کیا ۔ ﴾

حضور ﷺ کا یہی وہ خلق عظیم تھا۔ جس نے لاکھوں دلوں پر قبضہ کر لیا تھا اور صحابہ کی یہی وہ تلوار تھی جس نے چالیس ہزار بستیوں اور قلعوں کے ہمراہ چار کروڑ دلوں کو بھی فتح کر لیا تھا۔ صحابہؓ کو ہدایت تھی کہ جاؤ ۔ اس قوم کے انبیاء وصحائف کی صداقت کا اعلان کرو۔ ان کے معابد کو مت چھیڑو۔ ان کے معبودوں کو برا نہ کہو۔ انہیں مکمل مذہبی و مجلسی آزادی دو۔ ان سے ایسا عادلانہ بلکہ محسنانہ سلوک کرو کہ وہ لوگ تمہیں رحمت مجسم سمجھنے لگیں ۔

قرآن وحدیث میں از اوّل تا آخر کہیں کوئی بدکلامی یا بیہودہ گوئی موجود نہیں۔ حضور ﷺ نے زندگی بھر کسی فرد کی توہین و تحقیر نہیں کی۔ کسی کا مضحکہ نہیں اڑایا۔ کسی کو دجال یا سور نہیں کہا۔ اس میں کلام نہیں کہ قرآن عظیم نے بدکاروں کا فاسق و کافر قرار دیا تھا۔ لیکن یہ گالی نہیں تھی۔ بلکہ خالص حقیقت بیانی تھی۔ فاسق کے معنی ہیں۔ بدچلن اور کافر کے معنی ہیں ۔ قانون شکن، اگر ایک شرابی، زانی، مفسد ، چور، خائن اور منافق کو فاسق و کافر نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جائے؟ گدھے کو گدھا کہنے سے اس کی توہین نہیں ہوتی۔ حضور ﷺ کے اقوال میں نہ طعنے ہیں نہ گالیاں۔ نہ بازاری قسم کی تضحیک ہے اور نہ مبتذل قسم کی پھبتیاں۔ از اوّل تا آخر ایک پر عظمت متانت اور روح افزاء سنجیدگی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک ایک اخلاقی معلم کا اپنا اخلاق قابل رشک نہ ہو۔ دنیا اس سے مستفیض نہیں ہوسکتی۔ درست فرمایا تھا۔ مرزا قادیانی نے ۔ ”اخلاقی معلم کا یہ فرض ہے کہ پہلے اپنے اخلاق کریمہ دکھلاوے۔“

(چشمہ مسیحی ص ١١، خزائن ج ٢٠ ص ٣٤٦)

”لعنت بازی صدیقوں کا کام نہیں۔ مؤمن لعان (لعنت بھیجنے والا ) نہیں ہوتا ۔“

(ازالہ ص ٦٦٠ ، خزائن ج ٣ ص ٤٥٦)

تحریر میں سخت گالیاں دینا ...... اور بدزبانی کرنا اور اپنے مخالفانہ جوش کو انتہاء تک پہنچانا کیا اس عادت کو خدا پسند کرتا ہے یا اس کو شیوہ شرفا کہہ سکتے ہیں؟

(آسمانی فیصلہ ص ٩ ، خزائن ج ٤ ص ٣١٩)

”میری فطرت اس سے دور ہے کہ کوئی تلخ بات منہ پر لاؤں۔“

(آسمانی فیصلہ ص ١٠، خزائن ج ٤ ص ٣٢٠)

صفحہ ١٩٦

سو فیصدی درست! بھلا ایک رسول کو تلخ نوائی و بدزبانی سے کیا تعلق؟

لیکن جب مولوی محمد حسین بٹالوی نے ایک اشتہار میں مرزا قادیانی کے متعلق یہ لکھا کہ:

”یہ میرا شکار ہے۔ جو میرے قبضے میں آ گیا ہے۔“ تو آپ نے جواباً ارشاد فرمایا۔ ”اس زمانہ کے مہذب ڈوم اور نقال بھی تھوڑا بہت حیا کو کام میں لاتے ہیں اور پشتوں کے سفلے بھی ایسی کمینگی اور شیخی سے بھرا ہوا تکبر زبان پر نہیں لاتے۔“

(آسمانی فیصلہ ص ١٠، خزائن ج ٤ ص ٣٢٠)

١٨٥٧ء کی جنگ آزادی میں حصہ لینے والے ہندوستانیوں کے متعلق فرماتے ہیں۔

”ان لوگوں نے چوروں، قزاقوں اور حرامیوں کی طرح اپنی محسن گورنمنٹ پر حملہ شروع کر دیا۔“

(ازالہ اوہام ص ٢٢، خزائن ج ٣ ص ٣٩٠)

”اور بٹالوی کو ایک مجنون درندہ کی طرح تکفیر اور لعنت کی جھاگ منہ سے نکالنے کے لئے چھوڑ دیا۔“

(آسمانی فیصلہ ص ١٤، خزائن ج ٤ ص ٣٢٤)

”جھوٹ بولنا اور نجاست کھانا ایک برابر ہے۔ تعجب ہے کہ ان لوگوں کو نجاست خوری کا کیوں شوق ہو گیا۔“

(آسمانی فیصلہ ص ٣١، خزائن ج ٤ ص ٣٤١)

مباحثہ مد (ضلع امرتسر کا ایک گاؤں جہاں ١٩٠٢ء میں احمدیوں اور مولوی ثناء اللہ کے درمیان مباحثہ ہوا تھا) کے سلسلے میں مولوی ثناء اللہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ ”موضع مد میں ...... سخت بے حیائی سے جھوٹ بولا ...... وہ انسان کتوں سے بدتر ہوتا ہے کہ جو بے وجہ بھونکتا ہے۔“

(اعجاز احمدی ص ٣٣، خزائن ج ١٩ ص ١٣١، ١٣٢)

”یہ بزدل علماء جیفہ خوار۔“

(نشان آسمانی ص ١٩، خزائن ج ٤ ص ٣٧٩)

”اگر کوئی ...... خواب یا کوئی الہام یا کشف میرے خوش کرنے کے لئے مشہور کر دے گا۔ تو میں اس کو کتوں سے بدتر اور سوروں سے ناپاک تر سمجھتا ہوں۔“

(نشان آسمانی ص ٢، خزائن ج ٤ ص ٣٦٢)

”پھر فرمایا کہ اس امت پر ایک آخری زمانہ آئے گا کہ علماء اس امت کے یہود کے مشابہ ہو جائیں گے ...... یہاں تک کہ اگر کسی یہود نے اپنی ماں سے زنا کیا ہے تو وہ بھی کریں گے۔“

(شہادت القرآن ص ١٠، ١١، خزائن ج ٦ ص ٣٠٦، ٣٠٧)

یہ بھی ملاحظہ فرمائیے : ”خداوند قادر و قدوس میری پناہ ہے اور میں تمام کام اپنا اسی کو سونپتا ہوں اور گالیوں کے عوض میں گالیاں دینا نہیں چاہتا اور نہ کچھ کہنا چاہتا ہوں۔“

(آسمانی فیصلہ ص ٢٥، خزائن ج ٤ ص ٣٣٥)

صفحہ ١٩٧

اور یہ بھی: ''کس درجہ کے خبیث طبع یہ لوگ ہیں کہ ......''

(چشمہ مسیحی ص ٢٦، خزائن ج ٢٠ ص ٣٥٥)

''منشی الٰہی بخش نے جھوٹے الزاموں ...... کی نجاست سے اپنی کتاب عصائے موسیٰ کو ایسا بھر دیا ہے جیسا کہ ایک نالی اور بدر رو گندے کیچڑ سے بھری جاتی ہے یا جیسا کہ سنڈاس پاخانہ سے۔''

(اربعین نمبر ٣ ص ٢١، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٦، ٤٥٧ حاشیہ)

١٩٠٢ء میں مرزا قادیانی نے مولوی ثناء اللہ کو دعوت دی کہ اگر وہ سچے ہیں تو قادیان میں آکر پیش گوئیوں کی پڑتال کریں۔ اگر کوئی پیش گوئی جھوٹی نکلے تو ہر ایسی پیش گوئی پر سو روپیہ انعام حاصل کریں۔ اس دعوت کے ساتھ ہی یہ پیش گوئی بھی کر دی۔ ''وہ قادیان میں تمام پیش گوئیوں کی پڑتال کے لئے میرے پاس ہرگز نہیں آئیں گے۔''

(اعجاز احمدی ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ١٤٨)

''اور اس پیش گوئی کو ایک نشان قرار دیا۔'' (اعجاز احمدی ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ١٤٨)

لیکن مولوی ثناء اللہ قادیان جا دھمکے اور مرزا قادیانی کو بموجب مکتوب محررہ ١٠؍ جنوری ١٩٠٣ء اطلاع دی۔ حاملین رقعہ بیان کرتے ہیں کہ: مرزا قادیانی ایک ایک فقرہ (مکتوب کا) سنتے جاتے تھے اور بڑے غصہ سے بدن پر رعشہ تھا اور دہان مبارک سے خوب گالیاں دیتے تھے۔ چند الفاظ یہ ہیں: ''خبیث، سور، کتا، بدذات، گوں خور، ہم اس (ثناء اللہ) کو کبھی (جلسہ عام) میں نہ بولنے دیں گے۔ گدھے کی طرح لگام دے کر بٹھائیں گے اور گندگی اس کے منہ میں ڈالیں گے۔''

(الہامات مرزا از ثناء اللہ ص ١٢٦)

پھر پڑھئے: ''میری فطرت اس سے دور ہے کہ کوئی تلخ بات منہ پر لاؤں۔''

(آسمانی فیصلہ ص ١٠، خزائن ج ٤ ص ٣٢٠)

سچا خواب ایک گنہگار کو بھی آسکتا ہے۔ اس مضمون کو آپ یوں ادا فرماتے ہیں۔ ''بعض اوقات بعض فاسق اور فاجر اور تارک صلوٰۃ بلکہ بدکار اور حرام کار بلکہ کافر اور اللہ اور اس کے رسول سے سخت بغض رکھنے والے اور سخت توہین کرنے والے اور سچ مچ اخوان الشیاطین شاذ و نادر طور پر سچی خوابیں دیکھ لیتے ہیں۔''

(تحفہ گولڑویہ ص ٤٨، خزائن ج ١٧ ص ١٦٧، ١٦٨)

''کبھی ایک نیک بخت کوئی پیچیدہ خواب دیکھتا ہے۔ مگر اسی رات ایک فاسق، بدمعاش، نجاست خوار کو صاف اور کھلی کھلی خواب دکھائی دیتی ہے۔''

(تحفہ گولڑویہ ص ٤٨، خزائن ج ١٧ ص ١٦٨)

صفحہ ١٩٨

مولوی محمد حسین بٹالوی کے متعلق فرماتے ہیں۔ ”مگر افسوس کہ بٹالوی نے اس اعتراض میں بھی شیطان ملعون کی طرح دانستہ لوگوں کو دھوکا دینا چاہا۔“

(انجام آتھم ص٢٠،خزائن ج١١ص٢٠)

علماء کو یوں مخاطب فرماتے ہیں۔ ”اے بدذات فرقہ مولویان! تم کب تک حق کو چھپاؤ گے۔ کب وہ وقت آئے گا کہ تم یہودیانہ خصلت کو چھوڑو گے۔ اے ظالم مولویو! تم پر افسوس کہ تم نے جس بے ایمانی کا پیالہ پیا۔ وہی عوام کالانعام کو پلایا۔“

(انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٢١)

”بعض خبیث طبع مولوی جو یہودیت کا خمیر اپنے اندر رکھتے ہیں....... یہ دل کے مجذوم اور اسلام کے دشمن دنیا میں سب جانداروں سے زیادہ پلید اور کراہت کے لائق خنزیر ہے۔ مگر خنزیر سے زیادہ پلید وہ لوگ ہیں جو اپنے نفسانی جوش کے لئے حق اور دیانت کی گواہی چھپاتے ہیں۔ اے مردار خوار مولویو! اور گندی روحو!“ ”اے اندھیرے کے کیڑو۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٣٠٥)

”پلید، ذریت، شیطان۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٤، خزائن ج ١١ ص ٣٠٨)

”یہ (مولوی) بھونکتے ہیں اور کتوں کی طرح جھوٹ کا مردار کھاتے ہیں۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٥)

ذرا یہ بھی ملاحظہ ہو۔ ”میں سچ سچ کہتا ہوں۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے۔ میں نے (اپنی تالیفات میں) ایک لفظ بھی ایسا استعمال نہیں کیا۔ جس کو دشنام دہی کہا جائے۔“

(ازالہ اوہام ج١ ص ١٣، خزائن ج ٣ ص ١٠٩)

اور یہ بھی: ”جس وقت یہ سب باتیں (محمدی بیگم کی پیش گوئی میں درج شدہ) پوری ہو جائیں گی۔ اس دن نہایت صفائی سے (ان کی) ناک کٹ جائے گی اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سوروں کی طرح کر دیں گے۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)

عبدالحق غزنوی بار بار لکھتا ہے کہ: ”(آتھم والی پیش گوئی میں) پادریوں کی فتح ہوئی۔ ہم اس کے جواب میں بجز اس کے کیا کہیں اور کیا لکھیں کہ اے بدذات، یہودی صفت، پادریوں کا اُس میں منہ کالا ہوا اور ساتھ ہی تیرا بھی...... اے خبیث کب تک تو جئے گا۔ خاص کر رئیس الدجالین عبدالحق غزنوی اور اس کا تمام گروہ ”علیہم نعال لعن اللّٰہ الف الف مرۃ“ (ان پر خدا کی لعنت کے دس لاکھ جوتے برسیں) اے پلید دجال...... تعصب کے غبار نے تجھ کو اندھا کر دیا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٥، ٤٦، خزائن ج ١١ ص ٣٢٩، ٣٣٠)

صفحہ ١٩٩

پھر پڑھئے: ”لعنت بازی صدیقوں کا کام نہیں۔ مومن لعان (لعنت بھیجنے والا) نہیں ہوتا۔“

(ازالۃ اوہام ص ٦٦٠، خزائن ج ٣ ص ٤٥٦)

اور یہ بھی: (مولوی عبدالحق غزنوی کو خطاب کیا جارہا ہے) ”اے کسی جنگل کے وحشی۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٩، خزائن ج ١١ ص ٣٣٣)

خطاب جاری ہے۔ ”تم نے حق کو چھپانے کے لئے یہ جھوٹ کا گوہ کھایا۔ اے بدذات، خبیث، دشمن اللہ اور رسول کے تو نے یہ یہودیا نہ تحریف کی۔۔۔۔ مگر تیرا جھوٹ اے نابکار پکڑا گیا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٠، خزائن ج ١١ ص ٣٣٤)

اور ساتھ ہی ارشاد ہوتا ہے: ”میں محض نصحاً للہ مخالف علماء اور ان کے ہم خیال لوگوں کو کہتا ہوں کہ گالیاں دینا اور بدزبانی کرنا طریق شرافت نہیں۔“

(ضمیمہ اربعین نمبر ٣، ٤ ص ٥، خزائن ج ١٧ ص ٤٧١)

لیکن ”يُقبلنى ويصدق دعوتى الا ذرية البغايا الذين ختم الله على قلوبهم“ ”کنجریوں کے بچوں کے بغیر جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگادی ہے باقی سب میری نبوت پر ایمان لاچکے ہیں۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧، ٥٤٨، خزائن ج ٥ ص ٥٤٧، ٥٤٨)

”دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہوگئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئیں۔“

(نجم الہدیٰ ص ١٠، خزائن ج ١٤ ص ٥٣)

”اب جو شخص ۔۔۔۔ بار بار کہے گا کہ عیسائیوں کی فتح ہوئی۔ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور وہ حلال زادہ نہیں ہے۔“

(انوار الاسلام ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣١)

کیا حضور علیہ السلام کی زبان مبارک سے کبھی زندگی بھر کوئی ایسا لفظ نکلا تھا؟ اگر نہیں اور ہرگز نہیں تو پھر ارشاد ذیل کا مطلب؟

”میں بروزی طور پر آنحضرتﷺ ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدیہ مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں۔“

(ایک غلطی کا ازالہ)

”میں وہ آئینہ ہوں جس میں محمدی شکل اور محمدی نبوت کا کامل انعکاس ہے۔“

(نزول المسیح ص ٢، خزائن ج ١٨ ص ٣٨١)

حضورﷺ کا کمال صبر وضبط اور جنگ کے گھمسان میں دشمنوں کے لئے دعائیں مانگنا تھا۔ نہ کہ انہیں مردار خور، سور، ولد الحرام، گوہ خور اور کنجریوں کی اولاد کہنا۔ مخالفین پر ایسے الفاظ کا کبھی اچھا اثر نہیں ہوسکتا۔

صفحہ ٢٠٠

”یہ بات نہایت قابل شرم ہے کہ ایک شخص خدا کا دوست کہلا کر پھر اخلاق رذیلہ میں گرفتار ہو اور درشت بات کا ذرا بھی متحمل نہ ہو سکے اور جو امام زماں کہلا کر ایسی کچی طبیعت کا آدمی ہو کہ ادنیٰ ادنیٰ بات میں منہ میں جھاگ آتا ہے۔ آنکھیں نیلی پیلی ہوتی ہیں۔ وہ کسی طرح امام زماں نہیں ہو سکتا۔“

(ضرورت الامام ص ٨، خزائن ج ١٣ ص ٤٧٨)

مرزا قادیانی اپنے مخالفین کے متعلق نہایت سخت کلامی سے کام لیتے تھے۔ یہ مرض آپ کے پیروؤں میں بھی موجود تھا۔ یہاں کئی سو مثالوں میں سے صرف دو پر اکتفا کی جاتی ہے۔ ١٩٣٥ء میں قادیان کے ایک اخبار فاروق میں لاہوری احمدیوں کے متعلق ایک سلسلہ مضامین شائع ہوا۔ صرف ایک مضمون میں مندرجہ ذیل الفاظ استعمال ہوئے ۔ ”یہودیانہ قلابازیاں، ظلمت کے فرزند، زہر یلے سانپ، خباثت، شرارت اور رذالت کے مظہر، عباد الدنیا، وقود النار، کمینے، رذیل، احمق، دوغلے، مچے دروں بھجے برون، بد لگام، غدار، نمک حرام، دورخے، کھجلی اٹھی، کبوتر نما جانور، سترے بہترے، کھوسٹ، جھوٹے دھوکے باز فریب کار، اڑھائی ٹوٹرُو، بھیگی بلی، دجال، علی بابا چالیس چور لعنت کا سیاہ داغ ماتھے پر ..... وغیرہ وغیرہ۔“

(فاروق ٢٨ فروری ١٩٣٥ء)

جناب خلیفۃ المسیح ثانی نے ایک تقریر میں مولوی محمد حسین بٹالوی کے متعلق فرمایا کہ: ”اگر محمد حسین بٹالوی کے والد کو معلوم ہوتا کہ اس کے نطفہ سے ایسا بو جہل پیدا ہو گا تو وہ اپنے آلۂ تناسل کو کاٹ دیتا اور اپنی بیوی کے پاس نہ جاتا۔“

(الفضل ٢ نومبر ١٩٢٢ء)

مرزا قادیانی کہتے ہیں۔ ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے خود اخلاقی تعلیم پر عمل نہیں کیا۔ انجیر کے درخت کو بغیر پھل کے دیکھ کر اس پر بددعا کی اور دوسروں کو دعاء کرنا سکھایا ...... بھی حکم دیا کہ تم کسی کو احمق مت کہو۔ مگر خود اس قدر بد زبانی میں بڑھ گئے کہ یہودی بزرگوں کو ولد الحرام تک کہہ دیا ..... اخلاقی معلم کا یہ فرض ہے کہ پہلے اپنے اخلاق کریمہ دکھلا دے۔ پس کیا ایسی ناقص تعلیم جس پر انہوں نے آپ بھی عمل نہ کیا۔ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو سکتی ہے؟“

(چشمہ مسیحی ص ١١، خزائن ج ٢٠ ص ٣٣٦)

خاتمہ

ہم مرزا قادیانی کے اقوال، دلائل، بشارات، الہامات اور نشانات کا جائزہ لیتے ہوئے خاتمہ کتاب تک آ پہنچے۔ ہمارا آغاز سے ارادہ تھا کہ ہم اس مسئلہ کے تمام پہلوؤں پر

صفحہ ٢٠١

منصفانہ و غیر جانبدارانہ نگاہ ڈالیں۔ کہیں تحریف نہ کریں۔ کسی عبارت کو مصنف کی منشا کے خلاف مسخ نہ کریں اور کوئی دلآزار لفظ ساری کتاب میں داخل نہ ہونے دیں۔ الحمد للہ ! کہ ہم ان ارادوں میں کامیاب رہے۔

قارئین کرام! اب اس مسئلہ کی پوری تصویر آپ کے سامنے ہے۔ ہم واضح کر چکے ہیں۔

ظنی وساقط الاعتبار ہیں۔

اسلام قرار دیتے رہے۔

ذریت اور جماعت پر فرض کر دی۔

اخلاقی، سیاسی یا عمرانی ضابطہ نازل نہ ہوا۔

تھیں۔

نہ تھی۔

احمدی بھائیو! ان تفاصیل سے صحیح نتیجہ اخذ کرنا دشوار نہیں۔ لیجئے! ہم اس مسئلہ کو ایک اور رنگ میں پیش کرتے ہیں۔

مرزا قادیانی کی عمر تہتر برس تھی۔ ان پر پہلا الہام ١٨٦٥ء میں نازل ہوا تھا۔ آپ اکتوبر ١٩٠٢ء تک یہی فرماتے رہے کہ میں نبی نہیں اور آپ کے آخری ساڑھے پانچ برس اثبات نبوت میں بسر ہوئے تو گویا آپ کی زندگی کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔

صفحہ ٢٠٢

سوال پوچھتا ہوں کہ آپ مرزا قادیانی کے کس حصہ زندگی کو قابل تقلید وعمل سمجھتے ہیں؟ صرف آخری پانچ برس کو؟ ایک رسول کی یہ توہین کہ آپ ان کی چونسٹھ برس کی طویل زندگی کو ناقابل تقلید قرار دیں اور ان کی اڑتالیس ضخیم تصانیف پر خط تنسیخ کھینچ ڈالیں۔ کیوں؟ کوئی سند؟ کوئی دلیل؟ اگر آپ کسی معقول انسان کے سامنے مرزا قادیانی کو بایں صورت پیش کریں کہ ان کی حیات مرسلانہ کے پہلے سینتیس برس ناقابل تقلید وعمل اور صرف آخری پانچ سال قابل اطاعت تھے تو وہ آپ کی اس بات پر کبھی بھی کان نہیں دھرے گا اور اسے یہ پوچھنے کا حق ہوگا۔

کہنے کا مطلب؟

آخری پانچ سال اجرائے نبوت کی کون سی وحی صحیح تھی؟

ایک قابل قبول تصفیہ

احمدی وغیر احمدی میں متنازعہ فیہ امور دو ہیں۔

امر اوّل کے متعلق پھر اختلاف ہے۔ احمدی اکابر آپ کی آخری پنجسالہ زندگی کو مانتے ہیں اور میرے ہاں اس تنازعہ کا معقول اور قابل قبول حل یہ ہے کہ ان کی چونسٹھ سالہ زندگی کو مشعل راہ بنایا جائے۔ مسئلہ ختم نبوت خود بخود حل ہو جائے گا۔ احمدی دوستو! میرے موقف کو پھر سمجھ لیجئے۔ میں آپ سے یہ نہیں کہہ رہا کہ مرزا قادیانی کی پیروی چھوڑ دیجئے۔ بلکہ یہ کہہ رہا ہوں کہ پانچ سے چونسٹھ زیادہ ہوتے ہیں۔ ان کی چونسٹھ سالہ زندگی کی تقلید کیجئے۔ احمدی وغیر احمدی کا امتیاز مٹ جائے گا۔ ملی انتشار ختم ہو جائے گا۔ آپ سواد اعظم میں شامل ہو کر عظیم بن جائیں گے اور وطن عزیز کو آئے دن کے مظاہروں اور جھگڑوں سے نجات مل جائے گی۔ خدا آپ کے ساتھ ہو۔

والسلام ! برق

آغاز کتاب۔ ٥ / جون ١٩٥٣ء تکمیل کتاب۔ ٧ / جولائی ١٩٥٣ء

صفحہ ٢٠٣

اب جھوٹ کھول دیا۔ میں آپ سے سیدھا سا کس حصہ زندگی کو قابل تقلید و عمل سمجھتے ہیں؟ یہ توہین کہ آپ ان کی چونسٹھ برس کی طویل تصانیف پہ خط تنسیخ کھینچ ڈالیں۔ کیوں؟ کوئی مجھے مرزا قادیانی کو بایں صورت پیش کریں کہ عقیدہ و عمل اور صرف آخری پانچ سال قابل مرے گا اور اسے یہ پوچھنے کا حق ہوگا۔ برائی تھی کہ اب وہ قابل تقلید نہیں رہے؟ عمل تھے۔ اگر تھے تو پھر انہیں ناقابل تقلید

یہاں تک آپ کو ختم نبوت کی تعلیم دی اور بتائی گئی تھی؟

غلام! آپ کی آخری پنچسالہ زندگی کو مانتے ماننا یہ ہے کہ ان کی چونسٹھ سالہ زندگی کو مشعل احمدی دوستو! میرے موقف کو پھر سمجھ لیجئے۔ چھوڑ دیجئے۔ بلکہ یہ کہہ رہا ہوں کہ پانچ سے سمجھ لیجئے۔ احمدی و غیر احمدی کا امتیاز مٹ بھائی ہو کر مقیم بن جائیں گے اور وطن عزیز ہوگی۔ خدا آپ کے ساتھ ہو۔ والسلام! برق آغاز کتاب۔ ٥؍جون ١٩٥٣ء تکمیل کتاب۔ ٧؍جولائی ١٩٥٣ء

مآخذ...... الہامی صحائف

احادیث

تاریخ

لغت

صفحہ ٢٠٤

٢٢...... تاج العروس ٢٣...... مجمع البحار ٢٤...... تہذیب (ازہری) ٢٥...... صحاح اللغۃ ٢٦...... کلیات ابی البقاء

متفرق

٢٧...... تبلیغ رسالت میر قاسم علی قادیانی ٢٨...... سیرۃ المہدی صاحبزادہ بشیر احمد ٢٩...... حقیقت النبوۃ میاں محمود احمد قادیانی امام جماعت احمدیہ ٣٠...... انوار خلافت میاں محمود احمد قادیانی امام جماعت احمدیہ ٣١...... رسالہ احمدی، النبوۃ فی الاسلام قاضی محمد یوسف پشاوری ٣٢...... حیات احمد یعقوب علی عرفانی قادیانی ٣٣...... حیات النبی یعقوب علی عرفانی قادیانی ٣٤...... مکتوبات احمدیہ یعقوب علی عرفانی قادیانی ٣٥...... حیات ناصر یعقوب علی عرفانی قادیانی ٣٦...... ملفوظات احمدیہ احمدیہ انجمن اشاعت اسلام، لاہور ٣٧...... البشریٰ بابو منظور الٰہی قادیانی ٣٨...... اسلامی قربانی قاضی یار محمد قادیانی ٣٩...... کلمۃ فضل ربانی قاضی فضل احمد ٤٠...... برکات خلافت امام جماعت میاں محمود احمد قادیانی ٤١...... تذکرہ یعنی وحی مقدس، مجموعہ الہامات مرزا غلام احمد قادیانی ومکاشفات ٤٢...... کتاب مردم شماری برائے سال مرتبہ حکومت ہند ١٩٠١ء، ١٩١١ء ٤٣...... الہامات مرزا مولانا ثناء اللہ امرتسری

اخبارات ورسائل

٤٤...... الفضل ٤٥...... فاروق ٤٦...... بدر ٤٧...... الحکم ٤٨...... پیغام صلح ٤٩...... رسالہ ریویو آف ٥٠...... رسالہ تشحیذ الاذ ٥١...... امان افغان ٥٢...... اہل حدیث ٥٣...... لنڈن ٹائمز

مرزا غلام احمد قادیانی

٥٤...... براہین احمدیہ ٥٥...... براہین احمدیہ ٥٦...... براہین احمدیہ ٥٧...... براہین احمدیہ ٥٨...... ازالۃ او ٥٩...... آسمانی ٦٠...... نشان آس ٦١...... آئینہ کما ٦٢...... جنگ مقد ٦٣...... کرامات ٦٤...... شہادۃ الق ٦٥...... حمامۃ البشریٰ

صفحہ ٢٠٥

میر قاسم علی قادیانی صاحبزادہ بشیر احمد میاں محمود احمد قادیانی امام جماعت احمدیہ میاں محمود احمد قادیانی امام جماعت احمدیہ قاضی محمد یوسف پشاوری یعقوب علی عرفانی قادیانی یعقوب علی عرفانی قادیانی یعقوب علی عرفانی قادیانی یعقوب علی عرفانی قادیانی احمدیہ انجمن اشاعت اسلام، لاہور بابو منظور الٰہی قادیانی قاضی یار محمد قادیانی قاضی فضل احمد امام جماعت میاں محمود احمد قادیانی مؤلف مرزا غلام احمد قادیانی

پمفلٹ مرتبہ حکومت ہند

مولانا ثناء اللہ امرتسری

اخبارات و رسائل

مرزا غلام احمد قادیانی کی وہ تصانیف جن سے اقتباسات لئے گئے

صفحہ ٢٠٦

٦٦...... انوار الاسلام سال تصنیف اکتوبر ١٨٩٤ء ٦٧...... ست بچن سال تصنیف یکم دسمبر ١٨٩٥ء ٦٨...... آریہ دھرم سال تصنیف آخر دسمبر ١٨٩٥ء ٦٩...... انجام آتھم سال تصنیف جنوری ١٨٩٧ء ٧٠...... ضمیمہ انجام آتھم سال تصنیف ١٢؍ مئی ١٨٩٧ء ٧١...... تحفہ قیصریہ سال تصنیف ٢٥؍ مئی ١٨٩٧ء ٧٢...... کتاب البریہ سال تصنیف جنوری ١٨٩٨ء ٧٣...... ضرورۃ الامام سال تصنیف ٢٠؍ اکتوبر ١٨٩٨ء ٧٤...... ایام الصلح سال تصنیف ١؍ جنوری ١٨٩٩ء ٧٥...... ستارۂ قیصریہ سال تصنیف ٢٠؍ اگست ١٨٩٩ء ٧٦...... تریاق القلوب سال تصنیف دسمبر ١٨٩٩ء ٧٧...... اربعین کامل سال تصنیف ٢٧؍ اکتوبر ١٩٠٠ء ٧٨...... تحفہ گولڑویہ سال تصنیف اوائل ١٩٠١ء ٧٩...... خطبہ الہامیہ سال تصنیف اگست ١٩٠١ء ٨٠...... دافع البلاء سال تصنیف ٢٣؍ اپریل ١٩٠٢ء ٨١...... نزول المسیح سال تصنیف اگست ١٩٠٢ء ٨٢...... کشتی نوح سال تصنیف ٥؍ اکتوبر ١٩٠٢ء ٨٣...... اعجاز احمدی سال تصنیف ١٥؍ اکتوبر ١٩٠٢ء ٨٤...... مواہب الرحمٰن سال تصنیف جنوری ١٩٠٣ء ٨٥...... لیکچر سیالکوٹ سال تصنیف ٢؍ نومبر ١٩٠٤ء ٨٦...... براہین احمدیہ حصہ پنجم سال تصنیف اپریل، مئی ١٩٠٥ء ٨٧...... چشمہ مسیحی سال تصنیف ٩؍ مارچ ١٩٠٦ء ٨٨...... حقیقت الوحی سال تصنیف ١٥؍ مئی ١٩٠٧ء ٨٩...... چشمہ معرفت سال تصنیف ٢٠؍ مئی ١٩٠٧ء ٩٠...... پیغام صلح سال تصنیف ٢٣؍ مئی ١٩٠٨ء

۞ ..... ۞ ..... ۞

صفحہ ٢٠٧

سال تصنیف اکتوبر ١٨٩٤ء سال تصنیف یکم دسمبر ١٨٩٥ء سال تصنیف آخر دسمبر ١٨٩٥ء سال تصنیف جنوری ١٨٩٧ء سال تصنیف ١٢ مئی ١٨٩٧ء سال تصنیف ٢٥ مئی ١٨٩٧ء سال تصنیف جنوری ١٨٩٨ء سال تصنیف ٢٠ اکتوبر ١٨٩٨ء سال تصنیف ١ جنوری ١٨٩٩ء سال تصنیف ٢٠ اگست ١٨٩٩ء سال تصنیف دسمبر ١٨٩٩ء سال تصنیف ٢٧ اکتوبر ١٩٠٠ء سال تصنیف اوائل ١٩٠١ء سال تصنیف اگست ١٩٠١ء سال تصنیف ٢٣ اپریل ١٩٠٢ء سال تصنیف اگست ١٩٠٢ء سال تصنیف ٥ اکتوبر ١٩٠٢ء سال تصنیف ١٥ اکتوبر ١٩٠٢ء سال تصنیف جنوری ١٩٠٣ء سال تصنیف ٢ نومبر ١٩٠٤ء سال تصنیف اپریل، مئی ١٩٠٥ء سال تصنیف ٩ مارچ ١٩٠٦ء سال تصنیف ١٥ مئی ١٩٠٧ء سال تصنیف ٢٠ مئی ١٩٠٧ء سال تصنیف ٢٤ مئی ١٩٠٨ء

انتساب !

ان احمدی بھائیوں کے نام جنہیں حق وصداقت سے محبت ہے اور جو تلاش حقیقت کے لئے بیتاب ہیں۔ برق!

فہرست مضامین !

حرف اوّل ٦

پہلا باب

مسئلہ ختم نبوت قرآن کی روشنی میں ٩ خاتم النبیین کی تفسیر حدیث میں ١٦ لفظ خاتم کا استعمال مرزا قادیانی کے ہاں ١٩ خاتم النبیین کی تفسیر مرزا قادیانی کی تحریرات میں ٢٣ ختم نبوت کی نئی تشریح ٢٧

دوسرا باب

مسیح موعود ہونے کا دعویٰ ٣٥

تیسرا باب

مسیح و مثیل مسیح ٤٢

چوتھا باب

تاریخ بعثت ٤٧

صفحہ ٢٠٨

پانچواں باب

دلائل بر نبوت ٥٠

اولئك مع الذين ٥٠

دلیل افتراء ٥٢

دلیل مماثلت ٥٨

چھٹا باب

مسیح و دجال ٦٨

ساتواں باب

مسئلہ جہاد ٩٧

آٹھواں باب

صداقت کے چار معیار ١٠٢

قبولیت دعاء ١٠٣

فہم قرآن ١١٠

نشانات ١١٩

صفحہ ٢٠٩

احمدیوں کی تعداد ١٤٢

نواں باب

الہامات ١٤٩ الہامات غلط زبان میں ١٥٣ عجیب الہامات ١٥٤ مہمل الہامات ١٥٥

دسواں باب

وسعت علم ١٥٥

گیارھواں باب

نبی فصیح البیان ہوتا ہے ١٦٠

صفحہ ٢١٠

عربی اغلاط ١٨٠

الہامات ١٨١

تاریخ رسالت میں پہلی مرتبہ ١٨٧

خطبۂ الہامیہ ١٨٩

قصیدۂ اعجازیہ ١٩١

الہامی تفسیر فاتحہ ١٩٢

بارھواں باب

مخالفین نبوت سے سلوک ١٩٤

PDF 212

انا خاتم النبيين لا نبي بعدي

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

احمدیہ تحریک

جناب ملک محمد جعفر خان صاحب

صفحہ ٢١٢

بسم اللہ الرحمن الرحیم

پیش لفظ ...... (ایک خط)

میرے عزیز بھائی!

یہ تو تم جانتے ہو کہ میں کچھ عرصے سے احمدیت پر ایک کتاب لکھ رہا تھا۔ پیچھے گزرے ہوئے زمانے کی طرف دیکھنے سے حیرت ہوتی ہے کہ میں اتنا لمبا عرصہ کتاب مکمل کرنے کا ارادہ کرتا رہا۔ لیکن اسے مکمل نہ کر سکا۔ اس کتاب کے دو باب جولائی اور اکتوبر ١٩٥٣ء میں ماہنامہ ”طلوع اسلام“ میں چھپے تھے۔ اس وقت تک گو میں نے تقریباً انہی دو موضوعوں پر کچھ لکھا تھا۔ لیکن بہر حال اپنے ذہن میں فیصلہ کر لیا تھا کہ مجھے اور کیا کیا لکھنا ہے۔ اس وجہ سے میں نے خیال کر لیا کہ چند ماہ میں کتاب مکمل ہو جائے گی۔ اب سوچتا ہوں تو اس بات پر تعجب ہوتا ہے کہ میں نے اس کام کو اتنا سہل سمجھ لیا۔ یہ مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ احمدیت کے متعلق کوئی چیز کتاب کی شکل میں پیش کرنے کے لئے مجھے ابھی بہت کچھ معلوم کرنا ہے۔ بے شک اس وقت بھی کئی باتیں مزید تحقیق چاہتی ہیں۔ لیکن اب خدشہ یہ ہے کہ اگر تحقیق کا سلسلہ یونہی جاری رہا تو تبلیغ کا مرحلہ کبھی نہ آئے گا۔ اس لئے میں نے اپنی سعی ناتمام کا نتیجہ پیش کر دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

میرا خیال ہے کہ یہاں مجھے یہ بھی بتانا چاہئے کہ کتاب کا دیباچہ غیر روایتی طریق پر تمہارے نام ایک ذاتی خط کی صورت میں کیوں لکھا گیا ہے۔ اس کتاب کے اولین مخاطب احمدیہ جماعت کے نوجوان ہیں۔ (صرف نوجوان ہی کیوں ہیں۔ اس کی وضاحت میں ذرا آگے چل کر کروں گا) اور بالخصوص اپنے چند رشتہ دار اور دوست ہیں۔ جن کی خاطر یہ کتاب لکھی گئی ہے اور ان عزیزوں میں سے میں تمہیں سب سے قریب پاتا ہوں۔ مجھے ”پیش لفظ“ میں چند باتیں کچھ غیر رسمی انداز میں کہنی ہیں۔ اس کے لئے تم ہی موزوں ہو۔ اس خط کے مخاطب اوّل تم خود ہو اور پھر تمہارے ذریعہ دوسرے تمام احمدی دوست ہیں۔

میرا خیال ہے کہ تم سب سے پہلے یہ پوچھو گے کہ احمدیت کے متعلق کوئی نئی کتاب لکھنے کی کیا ضرورت تھی اور اگر لکھی گئی ہے تو پڑھی کیوں جائے اور یہ سوال تمہارے ذہن میں اس لئے نہیں آئے گا کہ پہلے ہی احمدیت کے حق میں اور اس کے خلاف کثرت سے لٹریچر شائع ہو چکا ہے۔ گو یہ بات اپنی جگہ درست ہے۔ لیکن میں جانتا ہوں تم نے وہ لٹریچر نہیں پڑھا۔ اگر تم نے پڑھا ہوتا تو میرے لئے اپنی اس کتاب کی ضرورت ثابت کرنا آسان ہو جاتا۔ لیکن تمہارا اعتراض

٢

صفحہ ٢١٣

اس سے مختلف ہے۔ تم کہتے ہو کہ احمدیت یا کسی بھی مذہب کے بارے میں لکھنے اور پڑھنے کی کیا ضرورت ہے۔ آخر دوسرے موضوع کیا کم ہیں؟ میں بہت حد تک اس معاملے میں تمہارے ساتھ متفق ہوں۔ لیکن بات یہ ہے کہ میں یہ کتاب کئی امور سے مجبور ہو کر لکھ رہا ہوں۔ میں خود ایک احمدی خاندان سے تعلق رکھتا ہوں اور چند سال پہلے تک احمدیہ جماعت میں شامل تھا۔ تم اور میرے دوست تمام قریبی رشتہ دار ابھی تک احمدی ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ اس وقت احمدیہ تحریک ایک خالص مذہبی مسئلہ نہیں ہے۔ بلکہ اصل میں یہ ایک سیاسی اور معاشرتی سوال ہے۔ جس کی اہمیت ١٩٥٣ء کے فسادات کے بعد خاص طور سے نظر انداز نہیں کی جاسکتی۔

اس سیاسی اور معاشرتی سوال نے پچھلے دنوں جو شدت اختیار کی۔ اسی نے مجھے اس بات پر آمادہ کیا کہ احمدیہ جماعت کے نظریہ کی نسبت تحقیق کی جائے۔ مجھے یہ اعتراف کرنے میں بھی کوئی عار نہیں کہ پنجاب کے فسادات میرے اس ارادے کا براہ راست اور فوری سبب بن گئے۔ اگر یہ حالات پیش نہ آئے ہوتے تو شاید میں ان اختلافی امور کا مطالعہ ضروری خیال نہ کرتا۔ اکثر لوگ مذہب کے معاملے میں دین آباء کی پیروی کرنا ایک فطری امر تصور کرتے ہیں اور مختلف مذاہب کی نسبت تحقیق اور باہم موازنہ کرنا ضروری نہیں سمجھتے۔ عادتاً میں بھی اس اکثریت سے مختلف نہیں ہوں۔ لیکن پاکستان اور بالخصوص پنجاب کے حالات نے مجھے احمدیت کے بارے میں تحقیقی مطالعہ کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس مطالعہ کے بعد جماعت احمدیہ کے نظریہ نبوت اور دیگر متعلقہ امور کے بارے میں جو نتائج میں نے اخذ کئے ہیں وہ اس کتاب کے چند ابواب میں پیش کر رہا ہوں۔

میں نے ابھی کہا ہے کہ پنجاب کے مخصوص حالات سے متاثر ہو کر میں نے احمدیت کا مطالعہ شروع کیا تھا۔ لیکن مجھے اطمینان ہے کہ جو رائے میں نے قائم کی ہے۔ اس میں ان حالات کا کوئی دخل نہیں ہے۔ اگر میرے دوستوں کو اس بارے میں کوئی شبہ ہو تو غالباً کتاب کے مطالعہ سے دور ہو جائے گا۔

اس ضمن میں جو کام میں نے اپنے ذمے لیا ہے۔ اس کے لئے جس قدر علمی قابلیت اور استعداد ضروری ہے اس کے بارے میں میں کسی خود فریبی یا خوش فہمی میں مبتلا نہیں ہوں۔ روایتی کسر نفسی نہیں بلکہ امر واقعہ ہے کہ مجھ میں اس مضمون سے کما حقہ عہدہ برآ ہونے کے لئے مناسب اہلیت موجود نہیں ہے۔ لیکن پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ میں نے اس کام میں پڑنے کی ضرورت کیوں محسوس کی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ احمدیت کے مخالفین کی چند مشہور تصانیف پڑھنے سے میں اس

٣

صفحہ ٢١٤

نتیجے پر پہنچا ہوں کہ جو اصحاب اس کام کے لئے سب سے زیادہ اہل تھے۔ انہوں نے اس ضمن میں اپنا فرض ادا نہیں کیا۔ اکثر کتب معاندانہ جذبے کے تحت لکھی گئی ہیں۔ جن کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مصنف نے کتاب لکھنے سے پہلے ہی قطعی طور پر فیصلہ کر لیا ہے کہ احمدیہ جماعت کے افراد کو قائل کرنا ناممکن ہے اور یہ کہ وہ ایک مستقل دشمنوں کا گروہ ہے۔ اس سلسلے میں وہ یہ بھول گئے ہیں کہ یہ ہمارے ہی بچھڑے ہوئے بھائی ہیں اور ان کو جدا ہوئے ابھی زیادہ عرصہ نہیں گذرا۔ ان میں سے کوئی یہ سوچتا ہی نہیں کہ اس جدائی کے لئے کہاں تک غیر احمدی مولویوں کے غلط اعتقادات ذمہ دار ہیں۔ لیکن اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں۔ کیونکہ ان مصنفین کا ایک بڑا حصہ خود مولویوں کے اسی طبقے میں شامل ہے۔

اس سلسلے میں مجھے سب سے زیادہ مایوسی پروفیسر الیاس برنی کی کتاب ”قادیانی مذہب“ کے مطالعہ سے ہوئی۔ کئی لوگوں سے میں نے اس کتاب کی تعریف سنی تھی۔ پھر مصنف کی نسبت معلوم ہوا کہ وہ مولوی نہیں ہیں۔ بلکہ کالج کے پروفیسر ہیں اور وہ بھی اقتصادیات کے۔ اس سے مجھے خیال پیدا ہوا کہ انہوں نے مولویوں کے طرز تحریر سے مختلف انداز اختیار کیا ہو گا اور متنازعہ امور پر مدلل اور سائنٹیفک طریق پر بحث کی ہو گی۔ لیکن کتاب پڑھنے سے یہ خیال غلط نکلا۔ یہ ایک ضخیم کتاب ہے اور مصنف کی محنت واقعی قابل داد ہے۔ انہوں نے مرزا قادیانی اور جماعت احمدیہ کے دیگر زعماء کی تحریروں کا وسیع مطالعہ کیا ہے اور ہر موضوع پر احمدیوں کی کتب کے اقتباسات پر ہی انحصار کیا ہے۔ کتاب کے محاسن میں سب سے بڑی بات یہ بیان کی گئی ہے کہ مصنف نے اپنی طرف سے بہت کم لکھا ہے۔ بیشک یہ دعویٰ درست ہے۔ پروفیسر صاحب نے صرف کہیں کہیں مختصر سی تنقید کی ہے۔ جیسے عام طور پر پرانی کتابوں کے نئے ایڈیشن شائع کرتے وقت مرتب حضرات حاشیوں پر چند تنقیدی فقرات لکھ دیتے ہیں۔ لیکن مصنف کے یہ چند جملے اور ابواب اور پیروؤں کے عنوان دل آزاری کے کامیاب نمونے ہیں۔ بحیثیت مجموعی یہ کتاب کسی قابل تعریف مقصد کو حاصل نہیں کرتی اور نہ یہ کسی ایسے مقصد کے لئے لکھی گئی معلوم ہوتی ہے۔ چنانچہ کتاب ہمیں یہ نہیں بتاتی کہ بنیادی متنازعہ امور کی نسبت درست فیصلہ کیا ہے یا کم از کم اس تک پہنچنے کے لئے صحیح انداز فکر اور طرز استدلال کیا ہے۔ اس کتاب سے تو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ختم نبوت، حیات و ممات مسیح، ظہور مہدی، نزول مسیح، فتنہ دجال وغیرہ مسائل کے متعلق مصنف کے خیالات کیا ہیں؟ اور شبہ یہ گذرتا ہے کہ اہم معاملات میں مصنف کے اپنے خیالات اور رجحانات اصولی طور پر مرزا قادیانی سے مختلف نہیں ہیں۔

٤

اس ضمن میں دوسری کتب کا صاحب کی کتاب سے کم ہی ہے۔ عام اچھی توقعات ہی نہیں ہیں اور مجھے افسوس ہوئے لٹریچر کا زیادہ حصہ مطالعہ نہیں کر کیونکہ خطرہ یہ ہے کہ تم کہیں احمدیت سے

میرے خیال میں سب سے کے وہ مضامین اور خطوط ہیں جو احمدی بحث کے دوران میں لکھے تھے۔ ان مضا ہے۔ اس کے علاوہ رسالہ ”طلوع اسلا چند اہم پہلوؤں پر بڑے متین، عالمانہ سب سے اہم مسئلہ ختم نبوت کا ہے ”معارف قرآن“ ( مصنفہ غلام احمد میں بحث کی گئی ہے۔ لیکن مجھے افسوس آپ کو پرویز سے متفق نہیں پاتا۔ اس ویسے میں پرویز کی غیر مقلدانہ روش

بے شک اس موضوع ہے۔ لیکن ان میں صرف اصولی بحث خیال میں ایک ایسی کتاب کی ضرو جماعت کے نظریات پر ذرا تفصیل

میں نے ابھی ابھی کتا کہ یہ کتاب ایک مقصد کو سامنے رکھ نہیں ہے۔ غیر احمدیوں کو احمدیت کی نہیں ہے۔ یہ کام جماعت کے لئے مکمل کر دیا ہے۔ اس لئے اب اور انہیں احمدیہ جماعت چھوڑنے

صفحہ ٢١٥

اس ضمن میں دوسری کتب کا ذکر میں ضروری خیال نہیں کرتا۔ ان کا درجہ بہر حال برنی صاحب کی کتاب سے کم ہی ہے۔ عام مولویوں کو جانتے ہوئے مجھے انکی کتابوں کی نسبت کوئی اچھی توقعات ہی نہیں ہیں اور مجھے اعتراف ہے کہ میں نے احمدیت کے خلاف ان علماء کے لکھے ہوئے لٹریچر کا زیادہ حصہ مطالعہ نہیں کیا اور نہ میں تمہیں اس کے پڑھنے کا مشورہ دے سکتا ہوں۔ کیونکہ خطرہ یہ ہے کہ تم کہیں احمدیت سے نکل کر کسی ایسی ہی دوسری گمراہی میں شامل نہ ہو جاؤ۔

میرے خیال میں سب سے معقول چیز جو احمدیت کی نسبت لکھی گئی ہے وہ علامہ اقبال کے وہ مضامین اور خطوط ہیں جو انہوں نے عرصہ ہوا پنڈت نہرو کے ساتھ ایک سیاسی نوعیت کی بحث کے دوران میں لکھے تھے۔ ان مضامین کا اردو ترجمہ ایک مختصر رسالہ کی صورت میں شائع ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ رسالہ ”طلوع اسلام“ میں چند مضامین چھپے ہیں۔ جن میں مسئلہ زیر بحث کے چند اہم پہلوؤں پر بڑے متین، عالمانہ اور مفید رنگ میں بحث کی گئی ہے۔ احمدیت کے ضمن میں سب سے اہم مسئلہ ختم نبوت کا ہے۔ اس مسئلہ پر ادارہ ”طلوع اسلام“ کی شائع کردہ تفسیر ”معارف قرآن“ (مصنفہ غلام احمد پرویز) میں بھی ایک نئے اور عقلی لحاظ سے قابل قبول اسلوب میں بحث کی گئی ہے۔ لیکن مجھے افسوس ہے کہ ختم نبوت کے بارے میں آخری نتائج پر میں اپنے آپ کو پرویز سے متفق نہیں پاتا۔ اس اختلاف کا ذکر کتاب میں اپنے مناسب مقام پر آئے گا۔ ویسے میں پرویز کی غیر مقلدانہ روش اور انداز بیان سے ایک حد تک متاثر ضرور ہوں۔

بے شک اس موضوع پر ان کتابوں اور مضامین کا پڑھنا تمہارے لئے مفید ہو سکتا ہے۔ لیکن ان میں صرف اصولی بحث ہے اور وہ بھی مسئلہ کے صرف ایک پہلو کے متعلق، میرے خیال میں ایک ایسی کتاب کی ضرورت باقی ہے جس میں مرزا قادیانی کے دعاوی اور احمدیہ جماعت کے نظریات پر ذرا تفصیل سے تنقید کی جائے اور یہ تنقید ہمدردانہ ہو۔ معاندانہ نہ ہو۔

میں نے ابھی ابھی کہا ہے کہ کتاب کے اولین مخاطب احمدی نوجوان ہیں یہ اس لئے کہ یہ کتاب ایک مقصد کو سامنے رکھ کر لکھی جا رہی ہے۔ وہ مقصد غیر احمدیوں کو احمدیت سے متنفر کرنا نہیں ہے۔ غیر احمدیوں کو احمدیت قبول کرنے سے باز رکھنے کے لئے اب کسی جدوجہد کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ کام جماعت کے موجودہ امام صاحب (مرزا محمود) نے اپنی علیحدگی پسند پالیسی سے مکمل کر دیا ہے۔ اس لئے اب یہ مقصد تحصیل حاصل ہے۔ میرا مقصد دراصل احمدیوں کو قائل کرنا اور انہیں احمدیہ جماعت چھوڑنے پر آمادہ کرنا ہے۔ اسی مقصد کے پیش نظر میں خاص طور پر

٥

صفحہ ٢١٦

نوجوانوں سے مخاطب ہوں۔ اس لئے کہ جن بزرگوں کی زندگیاں جماعت میں گزر چکی ہیں اور جن کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے مرزا قادیانی کی سچائی کے زندہ نشانات دیکھے ہیں۔ ان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ اس عمر میں اپنے عقائد پر نظر ثانی کریں گے۔ ایک موہوم خیال ہے۔ (ویسے عقلی لحاظ سے ان تمام زندہ نشانات کی توجیہہ ہو سکتی ہے اور ان سے مرزا قادیانی کی صداقت ثابت نہیں ہوتی ) ان بزرگوں کے لئے شاید ”وفاداری“ بشرط استواری کے اصول پر عمل کرنا ہی درست ہوا۔ البتہ ان سے میں یہ گذارش ضرور کروں گا کہ وہ نوجوان طبقے کو آزادانہ تحقیق کرنے کی اجازت دیں اور اگر اس تحقیق کے بعد کوئی ان سے مختلف نتیجہ پر پہنچے تو اس کی دیانت داری پر شبہ نہ کریں اور خفا نہ ہوں۔ ان بزرگوں میں سے کئی ایک نے خود اپنے باپ دادا کا مذہب چھوڑ کر احمدیت اختیار کی ہے۔ ان سے زیادہ کون اس حقیقت کو جانتا ہے کہ دین آباء ہمیشہ درست نہیں ہوتا۔ پھر یہ خود اس دور سے گزرے ہیں۔ جب کہ انہوں نے شروع شروع میں اپنا عقیدہ تبدیل کیا اور ان کے غیر احمدی رشتہ دار ان کے خلاف کفر کے فتوے حاصل کرتے تھے۔ ان کا مقاطعہ کرتے تھے اور طرح طرح کی اذیتیں پہنچا کر انہیں ”راہ راست“ پر لانے کی کوشش کرتے تھے۔ امید ہے کہ احمدی بزرگ اپنے اس وقت کے احساسات کو نہ بھولے ہوں گے اور اپنی اولاد اور نوجوان رشتہ داروں کے معاملے میں ان کی مذہبی تحقیق کے بارے میں غیر احمدیوں سے زیادہ روشن خیالی اور معقولیت پر مبنی رویے کا اظہار کریں گے۔

بزرگوں کے علاوہ احمدیہ جماعت کے دو طبقے ہیں جو مختلف وجوہ کی بناء پر میری دعوت سے عملاً خارج ہیں۔ ایک گروہ تو مرزا قادیانی کا خاندان ہے۔ ظاہر ہے ان کو احمدیت کے خلاف قائل کرنا ذرا مشکل کام ہے۔ ان کے تمام مفاد احمدیت کے ساتھ وابستہ ہیں۔ علاوہ ازیں مرزا قادیانی کے خاندان کا سوال بجائے خود ایک اہم مسئلہ ہے اور ساتھ ہی نازک مسئلہ بھی ہے۔ میں سب سے زیادہ اس سوال پر بحث کرنے سے ڈرتا ہوں۔ مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شاید مرزا غلام احمد قادیانی کے خلاف تنقید اتنی ناقابل برداشت نہ ہو جتنی مرزا محمود احمد قادیانی اور ان کے خاندان کے موجودہ افراد کی نسبت۔ تاہم مجھے مرزا قادیانی کے دعویٰ کے ”خاندانی پہلو“ پر ایک اصولی ضرورت کی وجہ سے کچھ تنقید کرنا ہو گی۔ لیکن فی الحال اس کو ملتوی رکھتے ہوئے یہاں مجھے صرف یہ کہنا ہے کہ میری یہ مساعی مرزا قادیانی کے خاندان میں یقیناً مقبول نہ ہوں گی۔ اس میں شک نہیں کہ احمدیت چھوڑ کر بھی مرزا قادیانی کے رشتہ دار دوسرے شہریوں کی طرح زندہ رہ سکتے

٦

صفحہ ٢١٧

ہیں ۔ لیکن اس طرح پھر وہ خاندان نبوت کے فرد نہ ہوں گے اور اس میں بڑا فرق ہے۔ مجھے یاد ہے کہ جماعت کے موجودہ امام بڑے فخر سے بیان کرتے تھے کہ جب حضرت مسیح موعود کا انتقال ہوا تو میں ان کی قبر پر گیا اور وہاں جا کر میں نے اپنے خدا سے عہد کیا کہ اگر سب لوگ مرزا قادیانی کے منکر ہو جائیں تو بھی میں آخر دم تک احمدیت پر قائم رہوں گا۔ مجھے یقین ہے کہ مرزا محمود احمد قادیانی نے یہ عہد ضرور کیا ہوگا اور مجھے یہ بھی یقین ہے کہ مرزا قادیانی کے خاندان کے دیگر افراد بھی اسی طرح کے پختہ ارادے پر قائم ہیں۔ (یہ مرزا محمود احمد قادیانی کی خوش قسمتی ہے کہ مریدوں نے ان کے عزم کے لئے عملی امتحان کا موقعہ پیدا نہیں ہونے دیا )

دوسرا طبقہ جس کے بارے میں میں زیادہ پرامید نہیں وہ احمدی مولویوں کا طبقہ ہے۔ ان کا مسئلہ تقریباً وہی ہے جو بہت سے غیر احمدی مولویوں کا ہے۔ یعنی معاشی مجبوری ۔ جن بہت سی وجوہ نے مجھے یہ کتاب لکھنے پر مجبور کیا ہے ان میں سے ایک احمدیہ جماعت کے مولویوں کی قابل رحم حالت ہے۔ مولویوں سے مراد یہاں میری مراد جماعت کے تنخواہ دار مبلغ اور کارکن ہیں۔ میں یہ جانتا ہوں کہ میرے اس دعویٰ کی خود مولویوں کی طرف سے نہایت شدت سے تردید کی جائے گی۔ لیکن میں اپنے ذاتی علم اور ان ذرائع کی بناء پر جنہیں باور نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں، کہتا ہوں کہ اس وقت جماعت احمدیہ کے تنخواہ دار مبلغوں اور کارکنوں کی اکثریت منافقت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے اور یہ ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔ منافقت سے میری مراد مرزا غلام احمد قادیانی کے دعاوی کی نسبت ان لوگوں کے اعتقاد کی کیفیت نہیں ہے۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ اس بارے میں ان کے خیالات میں کوئی تبدیلی آئی ہے یا نہیں۔ میری مراد یہ ہے کہ ان میں سے بیشتر اس وقت موجودہ امام اور جماعت کی تنظیم سے متنفر ہیں۔ لیکن معاشی احتیاج اور بے بسی کی وجہ سے جماعت میں شامل رہنے پر مجبور ہیں۔ معاش کے لحاظ سے بھی ان کا حال حد درجہ زبون ہے۔ تنخواہیں بہت تھوڑی ہیں۔ ان میں سے بھی کئی قسم کے چندوں کی کٹوتی ہو جاتی ہے اور آخر میں صرف اتنا دیا جاتا ہے جس سے جسم و جان کا رشتہ بہ مشکل قائم رکھا جا سکے۔ (نظارتوں کے چند اعلیٰ عہدیدار اس صورت سے مستثنیٰ ہیں۔ لیکن یہ خوش بخت لوگ زیادہ تر مرزا قادیانی کے خاندان سے متعلق ہیں) لیکن معاشی بد حالی کے باوجود جماعت کے یہ کارکن سلسلہ سے بغاوت نہیں کر سکتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے سامنے کوئی متبادل ذریعہ معاش نہیں۔ میں خود بھی ان کی احمدیت چھوڑ دینے کے خیال سے پریشان ہوتا ہوں کہ ان کی گزر اوقات کیسے ہوگی۔

٧

صفحہ ٢١٨

شاید تم کہو کہ مبلغین کے پاس دینی علم ہے۔ یہ اس کی مدد سے احمدیت سے باہر بھی روزی پیدا کر سکتے ہیں۔ لیکن اس ضمن میں دو باتیں ہیں۔ اوّل تو جیسا کہ میں نے ابھی کہا ہے ہم نہیں جانتے کہ کس حد تک احمدیت کی نسبت ان کا ایمان قائم نہیں رہا ہے۔ ابھی تو اتنا معلوم ہے کہ موجودہ خلیفہ اور جماعتی نظام سے وہ بددل ہوگئے ہیں۔ اس صورت میں جماعت سے باہر ان کے لئے کوئی ذریعہ معاش موجود نہیں ہے۔ دوسرے اپنے پیشے کی مخصوص ٹریننگ کی وجہ سے احمدیت سے باہر ان لوگوں کے لئے اپنے علم کو بروئے کار لانا بھی مشکل ہے۔ غالباً یہ حکایت تو تم ہی نے مجھے سنائی تھی کہ ایک سپاہی ملازمت کا عرصہ ختم ہونے پر فوج سے ڈسچارج ہوا اور کمانڈنگ افسر کو آخری سلام کرنے کے لئے دفتر میں حاضر ہوا۔ کمانڈنگ افسر نے پوچھا ”ویل! تم گھر جاکر کیا کام کرے گا؟“ سپاہی نے جواب دیا۔ ”جناب! ارادہ ہے کہ ایک توپ خرید لوں اور اسے صاف کیا کروں۔“ اب تم ہی بتاؤ ایک مولوی جس نے ساری عمر وفات مسیح اور پیش گوئیوں اور الہاموں کی تاویلات پر بحث کرنے میں گزاری ہے وہ اور کیا کام کر سکتا ہے؟ میرے علم میں ملک میں کوئی ایسا ادارہ نہیں ہے جو مسیح کی وفات یا حیات ثابت کرنے کے لئے تنخواہ دینے پر تیار ہو۔

لیکن احمدی مولویوں کے طبقے سے باہر بھی احمدی نوجوانوں کو اپنے مذہب پر آزادی سے غور کرنے پر مائل کرنا آسان کام نہیں۔ اس وقت احمدیہ جماعت کی بنیاد مذہبی عقائد کے بجائے ایک خاص تنظیم پر ہے۔ اس تنظیم کے بندھن اس قدر سخت اور پیچ در پیچ ہیں کہ ان کو توڑنا ایک بہت بڑی جرأت چاہتا ہے۔ جس کا اہل ہر شخص نہیں ہو سکتا۔ جماعت کی تنظیمی صورت موجودہ حالت تک کس طرح پہنچی۔ یہ ایک لمبی کہانی ہے۔ مختصر یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی میں باوجود ان کے دعویٰ نبوت کے احمدی مسلمانوں کے دیگر فرقوں کی طرح کا ایک فرقہ تھے۔ ان کے بعد مولوی نورالدین صاحب کے زمانے میں بھی حالات اس سے زیادہ مختلف نہ تھے۔ جماعت کی موجودہ تنظیم زیادہ تر موجودہ امام صاحب (مرزا محمود) کی مساعی کا نتیجہ ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خلیفۂ اوّل کے وقت میں ہی دو مختلف رجحانات کے گروہ پیدا ہوگئے تھے۔ ایک وہ جو مرزا قادیانی کے مشن کے علمی پہلو سے متاثر تھے۔ لیکن ان کی ذات اور خاندان سے وہ والہانہ عقیدت نہ رکھتے تھے۔ جو عام طور پر مریدوں کو روحانی پیشواؤں سے ہوتی ہے۔ ان کے مقابلے میں دوسرا گروہ پیر پرست قسم کے لوگوں کا تھا۔ مولوی نورالدین کی وفات پر مؤخر الذکر گروہ کی امامت موجودہ خلیفہ نے سنبھالی۔ مرزا محمود احمد قادیانی ایک خاصے زیرک اور دور اندیش آدمی ہیں۔ جو سبق انہوں

٨

صفحہ ٢١٩

نے پیغامیوں کی علیحدگی سے اخذ کیا وہ یہ تھا کہ اب جماعت کو ایسے خطوط پر منظم کیا جائے کہ مزید انتشار اور بغاوت کے امکانات کم سے کم رہ جائیں۔ شاید تمہیں یہ سن کر حیرت ہو۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ اپنی خلافت سنبھالتے ہی مرزا محمود احمد قادیانی نے وہ کام شروع کر دیا۔ جس کا آخری نتیجہ ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت کی صورت میں ظاہر ہوا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی تعلیمات میں دونوں طرح کا مواد موجود تھا۔ اس کا ایک حصہ وہ تھا جس سے مرزا قادیانی کی حیثیت محض ایک مجدد اور مصلح کی ثابت ہوتی تھی اور دوسرا وہ جس میں انہوں نے اپنے آپ کو ایک حقیقی نبی کے طور پر پیش کیا تھا۔ جماعت کے دو گروہوں نے اپنی اپنی مصلحتوں کی بناء پر ان تعلیمات کو آپس میں تقسیم کر لیا۔ مرزا محمود احمد قادیانی کے مقصد کے لئے دوسرا حصہ مفید تھا۔ اس لئے انہوں نے اسی پر زور دیا اور مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ نبوت کی بنیاد پر موجودہ خلیفہ نے ایسے احکام جاری کئے۔ جن پر عمل کرنے کی وجہ سے اس وقت معاشرتی لحاظ سے جماعت احمدیہ کا دیگر مسلمانوں سے بہت کم اشتراک رہ گیا ہے۔ اس ضمن میں سب سے اہم معاملہ نکاح کا ہے۔ مشترکہ قومیت کے قیام کے لئے یہ امر از حد ضروری ہے کہ قوم کے افراد میں عقیدہ یا ذات وغیرہ کی بناء پر نکاح کے معاملے میں کوئی پابندی نہ ہو۔ دو قوموں میں باہم ازدواجی تعلقات کا رواج ان کو ایک دوسرے میں مدغم کر کے ایک قوم بنانے کا موجب ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر کسی قوم کے مختلف گروہوں میں آپس میں شادی بیاہ کرنے پر پابندی لگا دی جائے اور اس پابندی پر سختی سے عمل کیا جائے تو چند نسلوں کے بعد یہ گروہ الگ الگ قوموں کی شکل اختیار کر لیں گے۔

مسلمان اپنے مذہب کی بناء پر ایک برادری میں شامل ہیں۔ ان کے اندر یہ تصور بھی نہیں ہو سکتا کہ فرقہ وارانہ اختلاف کی وجہ سے باہم نکاح کرنے پر پابندی عائد کی جائے۔ اس میں شبہ نہیں کہ ہندو پاکستان میں یہ رواج عام ہے کہ اپنی ذات کے اندر ہی شادی کی جائے۔ لیکن یہ رواج مسلمانوں پر اس ہندو تہذیب کے اثر کا نتیجہ ہے۔ جس کا بنیادی نقطہ ہی ذات پات کی تفریق ہے۔ وگرنہ عرب ممالک میں اس طرح کی پابندی نہ ہونے کے برابر ہے اور خود ہمارے یہاں بھی اب یہ کم ہو رہی ہے۔ لیکن جہاں تک مذہبی احکام کا تعلق ہے۔ مسلمانوں کے لئے صرف مشرکین سے نکاح کرنا ممنوع ہے۔

لیکن اس کے برعکس احمدیوں کے لئے ضروری قرار دیا گیا ہے کہ وہ ازدواجی تعلقات صرف اپنی جماعت کے اندر ہی محدود رکھیں۔ چنانچہ اس کی ابتداء اس حکم سے کی گئی کہ احمدی عورتیں غیر احمدی مردوں سے نکاح نہ کریں۔ لیکن مرد غیر احمدی عورتوں کو اپنے نکاح میں لا سکتے

٩

صفحہ ٢٢٠

ہیں ۔ یہ تخصیص عورت کی نسبت ہمارے ملک سے اس رجعت پسند نظریے کے عین مطابق تھی۔ جس کی رو سے مذہب اور قوم کے بارے میں عورت کی جداگانہ حیثیت تسلیم ہی نہیں کی جاتی ۔ ممکن ہے اس میں خلیفہ صاحب کے پیش نظر یہ مصلحت بھی ہو کہ احمدیوں کو اپنی غیر احمدی برادریوں سے جدا کرنے کا عمل تدریجی طور پر مکمل کرنا چاہئے ۔ چنانچہ کچھ عرصہ یہ صورت جاری رہی ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایسی قابل نکاح عورتوں کی تعداد زیادہ ہوگئی ۔ جن کے لئے جماعت کے اندر رشتہ ملنا مشکل تھا۔ اس پر یہ حکم دیا گیا کہ اب غیر احمدی عورتوں سے نکاح کرنا بھی منع ہے ۔ الغرض بہت عرصے سے ان دونوں احکام پر بڑی سختی سے عمل ہورہا ہے اور خلاف ورزی کی صورت میں مقاطعہ اور اخراج کی سزائیں دی جاتی ہیں ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جماعت کی بنیاد بتدریج عقیدہ کی بجائے نسل پر قائم ہورہی ہے ۔

اب نماز اور جنازہ کے سوال کو لو۔ احمدی کسی غیر احمدی امام الصلوٰۃ کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں سمجھتے ۔ اس پابندی پر بھی انتہائی شدت سے عمل ہے ۔ کسی احمدی کے لئے یہ خیال بھی نہیں کیا جاسکتا کہ وہ اس حکم کی خلاف ورزی کرے ۔ تم جانتے ہو کہ بہت سے احمدی نوجوان باقاعدہ نماز نہیں پڑھتے ۔ بعض ایسے بھی ہیں جو بالکل نہیں پڑھتے ۔ یہ سب لوگ جماعت کے لئے قابل برداشت ہیں ۔ کم از کم میرے علم میں کوئی ایسا واقعہ نہیں کہ کسی شخص کو نماز ترک کرنے کی وجہ سے جماعت سے نکال دیا گیا ہو۔ لیکن اگر کسی کے متعلق یہ اطلاع آجائے کہ اس نے غیر احمدیوں کے ساتھ نماز پڑھی ہے تو اس شخص کو فوراً جماعت سے خارج قرار دیا جائے گا ۔ یہ ایک ایسا بدیہی معاملہ ہے کہ اس کے لئے کسی باقاعدہ اعلان کی ضرورت ہی نہ ہوگی ۔ اس شخص کا یہ فعل ہی جماعت سے قطع تعلق کرنے کے لئے کافی ہوگا ۔ یہی صورت جنازہ کی ہے ۔ احمدیوں کے لئے دوسرے مسلمانوں کی نماز جنازہ پڑھنا منع ہے ۔ اس ممانعت میں نیک، بد، موافق ، مخالف سب شامل ہیں ۔

جہاں تک میں نے غور کیا ہے اسلامی عبادات کے دو بڑے مقصد معلوم ہوتے ہیں ۔ ایک انسان کا تزکیہ نفس اور دوسرا مسلمانوں میں جذبات اخوت کو ترقی دینا اور اس ذریعہ سے ان میں فکر و عمل کی یک جہتی پیدا کرنا ۔ اکثر عبادات میں اجتماعی صورت پر جو زور دیا گیا ہے وہ دوسرے مقصد کے حصول کے لئے ہے اور یہی پہلو مرزا محمود احمد قادیانی کے لئے خطرہ کا باعث تھا۔ انہوں نے اپنی خلافت کے شروع میں ہی اس خطرہ کو محسوس کر لیا اور اس سے بچنے کے لئے ہی انہوں نے نماز اور جنازہ کے لئے علیحدگی کے احکام جاری کئے ۔

١٠

ہو گئی تھی اور اس

صفحہ ٢٢١

ان احکام پر گذشتہ تقریباً نصف صدی سے عمل ہو رہا ہے اور نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اس وقت احمدیت مذہب کم ہے اور جماعت زیادہ ہے اور دوسرے کام میں جو اس وقت پیش نظر ہے۔ یہی سب سے بڑی دشواری ہے۔ اس وقت ایک احمدی کے لئے اپنے عقائد چھوڑ دینا آسان ہے۔ لیکن جماعت چھوڑنا بہت مشکل ہے۔ جماعت چھوڑنے کے معنی خاندان، برادری اور قوم کو چھوڑنا ہے۔ اپنی مثال ہی لے لو۔ تمہارے والد صاحب احمدی ہیں۔ بھائی احمدی ہیں، بیوی احمدی ہے، بیوی کے رشتہ دار احمدی ہیں۔ (شکر ہے خلیفہ صاحب کی پالیسی کے باوجود دوست احمدیوں سے باہر بھی ہیں) اور آگے ان رشتہ داروں کے رشتہ دار احمدی ہیں۔ اگر تم احمدیت کو چھوڑ دو تو ان کا رد عمل کیا ہو گا؟ یہ میں بتا سکتا ہوں۔ بعض کو تو تم سے فوراً نفرت ہو جائے گی اور تعلق منقطع کر لیں گے اور دوسرے قطع تعلق پر مجبور کئے جائیں گے یا مجبور ہو جائیں گے۔ ان میں سے اگر کوئی تمہیں ملنا بھی چاہے گا تو جرات نہ کرے گا اس خوف سے کہ کہیں دوسرا احمدی دیکھ نہ لے اور اس طرح اس کا اخلاص مشتبہ نہ ہو جائے۔

یہ تو تمہارے حالات ہیں۔ کئی دوسرے لوگ ہیں جن کی مجبوریاں اس سے بھی زیادہ ہیں۔ مثلاً بہت سے ہیں جن کے ربوہ (چناب نگر) میں مکانات ہیں۔ کئی ایسے ہیں جن کے رشتہ دار انجمن کے ملازم ہیں۔ حقیقت میں یہ مرکز میں مکان بنانے کی تحریک بھی خلیفہ نے جماعت پر اپنی گرفت قائم رکھنے کے لئے جاری کی تھی۔ قادیان میں مکان بنانے کی خاص طور پر ترغیب دی جاتی تھی۔ اس ترغیب کا کامیاب ہونا آسان بھی تھا۔ مرزا محمود احمد قادیانی کی علیحدگی پسند پالیسی نے احمدیوں کے لئے دیہاتی برادری کے قدیم رشتے کمزور کر دیئے تھے اور وہ اپنے ہی وطن میں اجنبی ہو کر رہ گئے تھے۔ اس لئے طبعی طور پر بھی یہ چاہتے تھے کہ اپنی نئی برادری میں جا کر آباد ہوں۔ پھر مرزا قادیانی کی پیش گوئی تھی کہ قادیان کا شہر پھیل کر بیاس تک پہنچے گا۔ اس پیش گوئی کو بھی پورا کرنا تھا۔ اس لئے احمدیوں کی عام خواہش یہ ہوتی تھی کہ کاروبار کی مصیبتوں سے فارغ ہونے کے بعد ”دیار مسیح“ میں جا کر آباد ہوں۔ (شکر ہے ہمارے بزرگوار کی یہ خواہش پوری نہ ہوسکی تھی۔ وگرنہ ہمیں دو دفعہ ہجرت سے دوچار ہونا پڑتا)

بہر حال ابھی قادیان بیاس سے کچھ ادھر ہی تھا کہ ملک تقسیم ہو گیا اور قادیان کی احمدی آبادی سمٹ کر مرزا قادیانی کے آبائی محلے تک رہ گئی۔ مرزا محمود احمد قادیانی، صاحب کشف ورؤیا بزرگ ہیں۔ لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کے کشف کی رسائی ملک کی تقسیم کے واقعات تک نہ ہوسکی تھی اور انہوں نے ابھی قادیان چھوڑنے کے لئے اپنے آپ کو تیار نہ کیا تھا کہ چھوڑنا پڑ گیا۔

١١

صفحہ ٢٢٢

مرکز کا ہاتھ سے چلا جانا احمدیہ تحریک کے لئے ایک بہت خطرناک بات تھی۔ شروع میں انجمن کے دفاتر اور تعلیمی ادارے لاہور میں قائم کئے گئے۔ جہاں تک مکانات وغیرہ کی نسبت انجمن کی ضروریات تھیں۔ وہ غالباً لاہور اور اس کے مضافات میں پوری ہو سکتی تھیں۔ لیکن جیسا کہ کہا گیا ہے لاہور روشنیوں کا شہر ہے اور یہاں خلافتی ماحول پیدا نہ کیا جاسکتا تھا۔ اس کے لئے ایک الگ تھلگ مقام کی ضرورت تھی۔ چنانچہ جھنگ کے ضلع میں ایک نئی آبادی قائم کر لی گئی۔ جس کا نام عیسیٰ علیہ السلام کے حالات سے متعلق ایک قرآنی آیت کی مناسبت سے ربوہ رکھا گیا ہے۔ اب اس نئے قصبے کی وسعت اور آبادی کی نسبت پیش گوئیاں شروع ہو گئیں اور مخلصین کا فرض ہو گیا کہ ان پیش گوئیوں کو پورا کریں اور وہاں مکان بنائیں۔ بیان کیا جاتا ہے کہ اب ربوہ ایک خاصہ آباد شہر ہے اور ظاہر ہے آبادی سب احمدیوں کی ہے۔ اب جن لوگوں نے یہاں مکان بنا لئے ہیں۔ ان کے لئے یہ ایک زائد مشکل ہے۔ جو ان کی آزادی سے مذہب کے بارے میں سوچنے میں حائل ہیں۔

لیکن ان تمام دقتوں کو جانتے ہوئے بھی میں مایوس نہیں ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ جس تحریک کی بنیاد غلط نظریات پر رکھی گئی ہو۔ اس کو عارضی طور پر تنظیمی پابندیوں سے قائم رکھا جا سکتا ہے۔ لیکن بالآخر اس کا ختم ہو جانا مقدر ہے۔ ایک لحاظ سے یہ وقت میرے کام کے لئے سازگار ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت جماعت کے نوجوان کا ایک خاصہ طبقہ بغاوت کے لئے تیار ہو رہا ہے۔ کئی ماہ سے جماعت کے سرکاری آرگن الفضل نے اپنے کالم منافقین کے خلاف جہاد پر وقف کر رکھے ہیں اور جس جوش اور شدت سے یہ جہاد جاری ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا محمود احمد قادیانی کے لئے حالات کافی تشویش ناک ہو گئے ہیں۔ جو لوگ اس وقت براہ راست زیر عتاب ہیں۔ ان کے نام اخبار میں چھپے ہیں۔ ان کی تعداد کوئی زیادہ نہیں ہے۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اور بہت سے لوگ ہیں جن کی وفاداری پر شبہ کیا جاتا ہے۔ میں ان منافقین کے موجودہ رویہ سے چنداں پرامید نہیں ہوں (احمدیہ قیادت کی طرف سے ان اصحاب کے لئے منافق کی اصطلاح کا استعمال بھی ایک عجیب معاملہ ہے۔ یعنی جب تک کوئی شخص خلیفہ قادیان کے ہاتھ چومتا رہے۔ خواہ دل سے اسے برا ہی سمجھے وہ مخلص اور مؤمن ہے۔ لیکن اگر اعتراض کا کلمہ زبان پر لے آئے تو بس منافق ہو گیا) ان لوگوں میں چند جماعت کے سابق مبلغ اور کارکن ہیں اور مولوی نورالدین کے دو بیٹے نمایاں حصہ لے رہے ہیں۔ یہ لوگ زیادہ تر اس بات پر خفا ہیں کہ موجودہ خلیفہ قادیان اپنی ذات اور خاندان کے اخراجات کے بارے میں (اگر اس کے لئے

١٢

صفحہ ٢٢٣

نرم سے نرم الفاظ استعمال کئے جائیں) اسراف سے کام لیتے ہیں اور دوسرا الزام یہ ہے کہ خلیفہ قادیان اس کوشش میں ہیں کہ ان کے بعد ان کا بڑا بیٹا خلیفہ بنے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ خلیفہ اول کی اولاد کو خاص طور پر اس دوسرے الزام کی وجہ سے شکایت ہے۔ شاید ان کو خیال ہے کہ اب پھر ہمارے خاندان کو موقع ملنا چاہئے۔ لیکن میرے نزدیک ان لوگوں کے اعتراضات معقولیت پر مبنی نہیں۔ مرزا محمود احمد قادیانی کی مسرفانہ زندگی اور ان کے خاندان کا اقتدار بلاشبہ قابل اعتراض باتیں ہیں۔ لیکن دیکھنا یہ چاہئے کہ یہ صورتحال مرزا غلام احمد قادیانی کی تعلیم کے خلاف پیدا ہوئی ہے یا اس پر عمل کرنے سے۔ میری رائے میں خاندانی اقتدار اور وجاہت قائم کرنا مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کا ایک لازمی جزو تھا۔ اس موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار میں نے اس کتاب کے ایک باب میں کیا ہے۔ شاید اس سے منافقین کو کچھ سمجھ آجائے کہ تمام خرابی کی جڑ کہاں ہے؟

تنظیمی پابندی کے بعد میرے لئے ایک بڑی دقت تمہارے لئے احمدیہ عقائد کو غلط ثابت کرنا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تم جانتے ہی نہیں کہ تمہارے عقائد کیا ہیں؟ اب جو چیز تمہیں معلوم ہی نہیں اس کا غلط ہونا کیسے ثابت کیا جائے؟ ایک زمانے میں احمدیوں کے متعلق مشہور تھا کہ یہ لوگ دوسرے مسلمانوں کی نسبت مذہبی علوم میں زیادہ دسترس رکھتے ہیں۔ اس وقت یہ بات ایک حد تک درست تھی۔ چونکہ یہ ایک نیا فرقہ تھا اور انہیں اکثر دوسرے فرقوں سے بحث کرنا پڑتی تھی۔ اس لئے مجبوراً کم از کم چند نزاعی امور سے انہیں واقفیت رکھنی ہوتی تھی۔ لیکن کچھ عرصہ بعد بحث کرنے کا کام تنخواہ دار مبلغین کے سپرد ہو گیا اور دوسرے احمدی اس ضرورت سے بے نیاز ہو گئے اور اب تو اس طرح کی مذہبی بحث کا طریقہ ہی متروک ہو رہا ہے۔ اس لئے اب صورت پہلے سے بالکل برعکس ہے۔ اب مولویوں کے طبقے سے باہر مذہب کے بارے میں احمدی نوجوان دوسرے مسلمانوں سے زیادہ بے علم ہیں۔ اس کی کئی وجوہ ہیں۔ علم کی جستجو، شک سے پیدا ہوتی ہے۔ شک کو وجود میں لانے کے لئے ایک طرح کی آزادی فکر کی ضرورت ہوتی ہے۔ احمدیت نے مذہبی معاملات میں اپنے پیروؤں کی آزادی فکر سلب کر لی ہے۔ یہ بات احمدیت سے خاص نہیں۔ جہاں بھی پیر پرستی ہوگی۔ وہاں یہی حال ہوگا اور احمدیت پیر پرستی کی معراج ہے۔ دیگر اسباب کا یہاں ذکر کرنا ضروری نہیں ہے۔ بہر حال امر واقعہ یہ ہے کہ احمدیوں کے جس طبقہ سے میں خاص طور سے مخاطب ہوں وہ اسلام اور احمدیت کے مبادیات تک سے ناواقف ہے۔ اس لئے جب میں نے کتاب لکھنے کا فیصلہ کیا تو سب سے پہلے یہ سوال پیش آیا کہ بحث کس مقام سے شروع کی جائے اور کیا کچھ لکھا جائے۔

١٣

صفحہ ٢٢٤

اس بارے میں میں نے یہ طریق اختیار کیا ہے کہ سب سے پہلے باب میں نزول مسیح اور اس سے متعلقہ دیگر واقعات کی نسبت احادیث کا ایک اہم حصہ نقل کر دیا ہے۔ یہ احادیث احمدیت کی بنیاد ہیں۔ اس لئے ان کا اپنی اصل صورت میں جاننا ازحد ضروری ہے۔ (ہو سکتا ہے تمہارے لئے ان روایات کا مطالعہ ہی مرزا قادیانی کے دعویٰ کو رد کرنے کے لئے کافی ہو جائے) اس کے بعد بجائے احمدیت کے تمام پہلوؤں پر بحث کرنے کے چند موضوع منتخب کر لیے ہیں اور ان کے بارے میں اپنے خیالات پیش کر دیئے ہیں۔ اس سے دیگر مسائل کی نسبت بھی میرا انداز فکر معلوم ہو سکتا ہے۔ بہر حال یہ کتاب صرف ایک تعارف کا درجہ رکھتی ہے۔ مذہب کی نسبت تحقیق کا کام ہر آدمی کو اپنے لئے خود کرنا ہوتا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ صرف اپنی تحقیق سے پختہ ایمان اور ذہنی اطمینان حاصل ہوتا ہے۔

لیکن اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ ہم دوسروں کے مطالعہ اور تحقیق سے فائدہ اٹھانے سے انکار کر دیں۔ میں اس کتاب کے ذریعے تمہیں اور دوسرے احمدی بھائیوں کو اپنی تحقیق مطالعہ میں شریک کرنا چاہتا ہوں اور پھر دعوت دیتا ہوں کہ مکمل طور پر خالی الذہن ہو کر ان مسائل پر غور کریں۔ جو اس کتاب میں پیش کئے گئے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ احمدیت کو پرکھنے کا معیار کیا ہونا چاہئے اور کن ذرائع سے استفادہ کرنا چاہئے؟ معیار کے متعلق درست فیصلہ کرنا ایک بنیادی ضرورت ہے اور اس کی اہمیت اصل تحقیق سے کہیں زیادہ ہے۔ اگر ہم اس کے بارے میں متفق نہیں ہیں تو تمام بحث ہی بے سود ہے۔ اس کتاب میں نقلی دلائل بھی پیش کئے گئے ہیں۔ لیکن اصل انحصار صرف ایک معیار پر ہے اور وہ عقلی معیار ہے اور یہاں سے ہی میرا احمدی علماء اور بیشتر غیر احمدی علماء سے اختلاف شروع ہو جاتا ہے۔ اکثر علماء باہم شدید اختلاف کے باوجود ایک بات پر متفق معلوم ہوتے ہیں اور وہ بات یہ عقیدہ ہے کہ مذہبی تحقیق میں عقل پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے بارے میں کئی دلائل دیئے جاتے ہیں۔ میرے لئے تو علماء کے یہ دلائل ہمیشہ حیران کن رہے ہیں۔ اوّل تو ان لوگوں کی طرف سے کسی دلیل کا پیش کیا جانا ہی ان کے نظریے کی تردید کرتا ہے۔ ان کا طریقہ یہ ہے کہ عقل کو رد کرنے کے لئے عقل سے ہی اپیل کرتے ہیں۔ دوسرے اگر عقلی معیار کو فی الواقع خارج کر دیا جائے تو کوئی ایسا ذریعہ نہیں رہ جاتا جس کی مدد سے باہم افہام و تفہیم کی گنجائش پیدا کی جاسکے۔ اس صورت میں جو جس عقیدہ پر قائم ہے۔ بس درست ہے کہ کسی نظریے کو صحیح ثابت کیا جاسکتا ہے یا غلط۔

١٤

احمدیت کی بحث میں اس موضوع کا عقل کی قطعیت سے ایک باب میں کسی قدر تفصیل سے خدارا احمدیت کے پرکھنے میں عقل دو۔ خواہ اس کی تائید میں کتنی ہی ہوں اور نہ کوئی ناجائز مطالبہ کرو استعمال کئے گئے ہیں۔ تم تدبر کرو مطالبہ سوائے اس یقین کے ممکن نہیں کے قابل ہے۔

اگر ہم اس ایک بات بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ جس طر اس صورت میں میرا مطالبہ صرف ذہن سے نکال دو کہ تم ایک احمدی کے دعاوی تمہارے سامنے پیش مرزا قادیانی کی صداقت کا فیصلہ کر سوچو تو ضرور درست نتیجے تک پہنچو

یہاں سے تمہیں اس صو ہے۔ میرے اکثر احمدی احباب جو جماعت میں اتنے بڑے بڑے جید ہے تو ان لوگوں کی سمجھ میں یہ بات معلوم ہوتا ہے کہ فی الواقع میرے یہ ہیں۔ اگر دینی امور کی صداقت پر بڑے دانشوروں، کا احمدیت قبول کر سے مراد یہ ہے کہ جب اتنے بڑے کیوں خواہ مخواہ اس ذریعے کے وہ میرے لئے یہ لوگ باوجود اپنی علمی اور

صفحہ ٢٢٥

احمدیت کی بحث میں سب سے اہم موضوع ختم نبوت سمجھا جاتا ہے۔ میرے نزدیک اس موضوع کا عقل کی قطعیت کے نظریے سے گہرا تعلق ہے۔ اس کے متعلق میں نے کتاب کے ایک باب میں کسی قدر تفصیل سے اپنے خیالات بیان کئے ہیں۔ یہاں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ خدارا احمدیت کے پرکھنے میں عقل سے کام لو۔ جس دلیل کو تمہاری عقل قبول نہ کرے اسے رد کر دو۔ خواہ اس کی تائید میں کتنی ہی بڑی سند پیش کی جائے۔ یہ کہنے میں میں نہ کوئی نئی بات کہہ رہا ہوں اور نہ کوئی ناجائز مطالبہ کر رہا ہوں۔ قرآن میں تقریباً تمام حقیقتوں کے بیان میں یہ الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔ تم تدبر کیوں نہیں کرتے؟ تم عقل سے کام کیوں نہیں لیتے؟ ظاہر ہے کہ یہ مطالبہ سوائے اس یقین کے ممکن نہ تھا کہ عقل دینی اور دنیاوی تمام امور میں درست رہنمائی کرنے کے قابل ہے۔

اگر ہم اس ایک بات پر متفق ہو جائیں کہ مذہبی نظریات میں عقلی استدلال اسی طرح بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ جس طرح کسی دیگر علمی شعبہ میں تو میرا کام نہایت سہل ہو جاتا ہے۔ اس صورت میں میرا مطالبہ صرف یہ رہ جاتا ہے کہ اپنے آپ کو محض مسلمان فرض کرو۔ اس حادثہ کو ذہن سے نکال دو کہ تم ایک احمدی گھرانے میں پیدا ہوئے ہو۔ یہ فرض کرو کہ پہلی بار مرزا قادیانی کے دعویٰ تمہارے سامنے پیش کئے گئے ہیں اور تمہیں بطور ایک باشعور آزاد انسان کے مرزا قادیانی کی صداقت کا فیصلہ کرنا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر تم اپنے آپ کو ان حالات میں رکھ کر سوچو تو ضرور درست نتیجے تک پہنچ جاؤ گے۔

یہاں سے تمہیں اس سوال کا جواب بھی ملتا ہے جو میرے سامنے بار بار پیش کیا گیا ہے۔ میرے اکثر احمدی احباب کہتے ہیں کہ کیا تم ہی اتنے بڑے افلاطون آگئے ہو۔ احمدیہ جماعت میں اتنے بڑے بڑے جج اور وکیل اور پروفیسر شامل ہیں۔ اگر احمدیت اتنی ہی بے بنیاد ہے تو ان لوگوں کی سمجھ میں یہ بات کیوں نہیں آتی۔ حقیقتاً یہ سوال بڑا دل چسپ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فی الواقع میرے یہ بزرگ عقلی ذرائع کی مخالفت میں بھی کسی پختہ بنیاد پر قائم نہیں ہیں۔ اگر دینی امور کی صداقت پرکھنے کے لئے عقل بے کار ذریعہ ہے تو ظاہر ہے کہ ان بڑے بڑے دانشوروں، کا احمدیت قبول کرنا ایک غیر متعلق بات ہے۔ میرے خیال میں غالباً اس دلیل سے مراد یہ ہے کہ جب اتنے بڑے بڑے عقل مند لوگ دینی تحقیق میں عقل سے کام نہیں لیتے تو تم کیوں خواہ مخواہ اس ذریعے کے استعمال پر مصر ہو، اور یہی بات حقیقت کے زیادہ قریب ہے۔ میرے لئے یہ لوگ باوجود اپنی علمی اور عقلی بزرگی کے کوئی سند نہیں ہیں۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ

١٥

صفحہ ٢٢٦

انہوں نے زندگی کو دو الگ الگ شعبوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ مثلاً اگر یہ جج ہیں تو گواہ کی صداقت اور جھوٹ میں تمیز کرنے کے لئے انہوں نے عقلی بنیادوں پر اصول قائم کئے ہوئے ہیں۔ جن سے وہ استفادہ کرتے ہیں۔ لیکن جب مرزا قادیانی کا معاملہ درپیش ہو تو ان سب اصولوں کو خیر باد کہہ دیتے ہیں اور خواب، رؤیا، استخارہ اور وجدان پر انحصار کرتے ہیں اور یہ ذرائع کسی قاعدے یا قانون کے پابند نہیں ہیں۔ نہیں کہا جا سکتا کہ کسی خاص شخص کو وہ کس نتیجے پر پہنچائیں گے۔ مذہبی حقائق کو سب سے زیادہ نقصان ان غیر عقلی ذرائع کے استعمال نے پہنچایا ہے۔ اس طریقے سے بنیادی حقیقتوں کو ہی مشتبہ بنا دیا گیا ہے۔ حیرت ہے کہ باطل تو اپنے ثبوت کے لئے حواس کی بیداری پر انحصار کرے اور حق خواب کا محتاج ہو۔

ویسے یہ بات بجائے خود درست نہیں ہے کہ کئی اصحاب علم نے احمدیت قبول کر لی ہے۔ جن معروف شخصیتوں کا اس ضمن میں ذکر کیا جاتا ہے۔ ان میں سے بیشتر پیدائشی احمدی ہیں۔ چنانچہ ان کے بارے میں تو صرف یہ سوال رہ جاتا ہے کہ وہ اب تک احمدیت پر کیوں قائم ہیں؟ اس کی وجوہ کی طرف میں ابھی اشارہ کر چکا ہوں۔ بہر حال یہ بات احمدیت قبول کرنے سے بالکل مختلف ہے۔

احمدیت کی تحقیق کے معاملے میں ہم خوش نصیب ہیں کہ اس دور میں پیدا ہوئے ہیں۔ اس وقت ہمارے سامنے سوال یہ نہیں کہ مرزا قادیانی نے ایک غلط دعویٰ کیوں کیا یا اس زمانے کے چند نیک اور عالم لوگ اس دعویٰ پر کیوں ایمان لے آئے؟ مجھے ان لوگوں کی دیانت پر ہرگز شبہ نہیں ہے۔ خود مرزا قادیانی کے متعلق بھی میں اس امر کو خارج از امکان نہیں سمجھتا کہ وہ نیک نیتی سے اپنی نسبت ایک غلط فہمی میں مبتلا ہوں۔ یہ بجائے خود ایک نازک اور پیچیدہ سوال ہے۔ میں نے اس پر کافی غور کیا ہے اور پہلے میرا ارادہ اس موضوع پر ایک علیحدہ باب میں کچھ لکھنے کا تھا۔ لیکن اس کے لئے جس وسیع اور گہرے مطالعہ کی ضرورت تھی وہ مجھ سے فی الحال نہیں ہوسکا۔ مرزا قادیانی کے حالات کی روشنی میں ان کے الہامات اور دعاویٰ کا نفسیاتی تجزیہ یقیناً ایک دلچسپ اور خیال آفرین مطالعہ ہوگا۔ آج سے کوئی پچیس سال پہلے علامہ اقبالؒ نے اس مطالعے کی اہمیت کی طرف ان الفاظ میں اشارہ کیا تھا۔

’’بانی احمدیت کے الہامات کی اگر دقیق النظری سے تحلیل کی جائے تو یہ ایک ایسا مؤثر طریقہ ہوگا جس کے ذریعہ سے ہم اس کی شخصیت اور اندرونی زندگی کا تجزیہ کرسکیں گے۔ اس سلسلے میں میں اس امر کو واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ مولوی منظور الٰہی نے بانی احمدیت کے الہامات کا جو ١٦ مجموعہ شائع کیا ہے۔ اس میں نفسیاتی تحقیق میں یہ کتاب بانی احمدیت کی سیرت اور جدید کا کوئی معلم اس کا سنجیدگی سے مطالعہ وجوہ سے اس کو ایسا کرنا ہی پڑے گا جن کی احمدیت اور ان کے ہم عصر غیر مسلم صوفیاء و تجربہ کی اصل ماہیت کے متعلق بڑی حیرت کیا۔‘‘

(حرف اقبال ص١٥٢)

ابھی تک کسی نفسیات کے معلم کرنے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ اوّل یہ مرزا قادیانی کی شخصیت اور ان کے دعاویٰ ہمارے لئے یہ کافی ہے۔ اسی طرح صوفیاء (ACADEMIC) حیثیت رکھتا ہے اور

ہم اس لئے خوش نصیب ہیں کہ مرزا قادیانی کی دعوت کے نتائج کے بارے کی بعثت پر تقریباً ٨٠ سال کا عرصہ گزر چکا اب اس کے انحطاط کا دور شروع ہو چکا معاشرے پر اس تحریک نے جو اثرات ڈالے مرزا قادیانی کی تحریک کا محاکمہ نسبتاً آسان میسر نہ تھیں۔ اس لئے ان لوگوں کا محاسبہ کر سے قیاس کرو کہ علامہ اقبال جیسی شخصیت ایک بات کی ناقابل تردید شہادت موجود نہ ہوتی اور نہ کرتا کہ ’’خطبات‘‘ کا مصنف ’’براہین احمدیہ کے دوران میں علامہ اقبالؒ کے احمدیت احمدیوں کے بعض لیڈروں نے عدالت میں معتقد تھے۔ علامہ کی شخصیت کی بجائے ان کے اس بیان کی پرزور تردید کریں اور اس طر

صفحہ ٢٢٧

مجموعہ شائع کیا ہے۔ اس میں نفسیاتی تحقیق کے لئے متنوع اور مختلف مواد موجود ہے۔ میری رائے میں یہ کتاب بانی احمدیت کی سیرت اور شخصیت کی کنجی ہے اور مجھے امید ہے کہ کسی دن نفسیات جدید کا کوئی متعلّم اس کا سنجیدگی سے مطالعہ کرے گا۔ اگر وہ قرآن کو اپنا معیار قرار دے (اور چند وجوہ سے اس کو ایسا کرنا ہی پڑے گا جن کی تشریح یہاں نہیں کی جاسکتی) اور اپنے مطالعہ کو بانی احمدیت اور ان کے ہم عصر غیر مسلم صوفیاء جیسے رام کرشنا بنگالی کے تجربوں تک پھیلائے تو اس کو اس تجربہ کی اصل ماہیت کے متعلق بڑی حیرت ہوگی۔ جس کی بناء پر بانی احمدیت نے نبوت کا دعویٰ کیا۔‘‘

(حرف اقبال ص ١٥٣)

ابھی تک کسی نفسیات کے متعلّم نے یہ کام نہیں کیا۔ لیکن احمدیت کی حقانیت کا فیصلہ کرنے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ اوّل یہ معلوم کیا جائے کہ کن خارجی اور داخلی مؤثرات کے تحت مرزا قادیانی کی شخصیت اور ان کے دعاویٰ نے جنم لیا ہے۔ اگر یہ دعاویٰ فی الواقع غلط ہیں تو ہمارے لئے یہ کافی ہے۔ اسی طرح مرزا قادیانی کے اوّلین پیروؤں کا معاملہ بھی محض علمی (ACADEMIC) حیثیت رکھتا ہے اور اس کا فیصلہ کرنا ہمارے لئے ضروری نہیں۔

ہم اس لئے خوش نصیب ہیں کہ احمدیت کا عملی نمونہ ہمارے سامنے آ گیا ہے۔ اب مرزا قادیانی کی دعوت کے نتائج کے بارے میں قیاس پر انحصار کرنا ضروری نہیں ہے۔ مرزا قادیانی کی بعثت پر تقریباً ٨٠ سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ تحریک اپنے اوائل سے گزر کر عروج پر پہنچی اور اب اس کے انحطاط کا دور شروع ہو چکا ہے۔ اس لمبے عرصے میں جو نتائج پیدا ہونے تھے اور معاشرے پر اس تحریک نے جو اثرات ڈالنے تھے۔ وہ عمل میں آ چکے ہیں۔ اس لئے ہمارے لئے مرزا قادیانی کی تحریک کا محاکمہ نسبتاً آسان ہے۔ مرزا قادیانی کے دور کے مسلمانوں کو یہ آسانیاں میسر نہ تھیں۔ اس لئے ان لوگوں کا محاسبہ کرنے میں ہمیں سختی سے کام نہ لینا چاہئے۔ ہم اس بات سے قیاس کرو کہ علامہ اقبالؒ جیسی شخصیت ایک وقت میں احمدیت سے متاثر رہ چکی ہے۔ اگر اس بات کی نا قابل تردید شہادت موجود نہ ہوتی اور خود علامہ اقبالؒ کا اپنا اعتراف نہ ہوتا تو میں کبھی باور نہ کرتا کہ ”خطبات“ کا مصنف ”براہین احمدیہ“ سے متاثر ہو سکتا ہے۔ فسادات پنجاب کی تحقیقات کے دوران میں علامہ اقبالؒ کے احمدیت سے تعلق کا معاملہ بھی زیر بحث لایا گیا تھا۔ لاہوری احمدیوں کے بعض لیڈروں نے عدالت میں بیان کیا کہ شروع میں علامہ اقبالؒ مرزا قادیانی کے معتقد تھے۔ علامہ کی شخصیت کی بجائے ان کے نام کے چند فدائیوں نے ضروری سمجھا کہ احمدیوں کے اس بیان کی پر زور تردید کریں اور اس طرح چند روز یہ بحث چلتی رہی۔

١٧

صفحہ ٢٢٨

اس ضمن میں احمدیوں سے میری گذارش ہے کہ اگر اقبال کی طرف سے احمدیت کی مخالفت آپ کے نزدیک کوئی سند نہیں تو ان کی اس جماعت کے متعلق اچھی رائے کیوں کر ایک دلیل ہو سکتی ہے؟ اور فدائیوں سے یہ عرض کرنا ہے کہ اقبال کی عظمت اس میں نہیں کہ وہ احمدیت سے کبھی متاثر نہ ہوئے تھے۔ بلکہ اس میں ہے کہ زیر اثر آنے کے بعد انہوں نے اس تحریک کا باطل ہونا معلوم کر لیا اور یہ بھی ان کی عظمت کا ایک پہلو ہے کہ برعکس کئی دیگر بزرگوں کے انہوں نے اپنے سابق رجحان سے انکار نہیں کیا۔ ١٩٣٥ء کے قریب جب علامہ کی توجہ ان کی ایک سابق تقریر کی طرف دلائی گئی۔ جس میں انہوں نے احمدیت کے بارے میں موافقانہ رائے کا اظہار کیا تھا۔ تو آپ نے اس کی توضیح میں فرمایا۔

”جہاں تک مجھے یاد ہے یہ تقریر میں نے ١٩١١ء میں یا اس سے قبل کی تھی اور مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی باک نہیں کہ اب سے ربع صدی پیشتر مجھے اس تحریک سے اچھے نتائج کی امید تھی۔ اس سے بہت پہلے مولوی چراغ علی مرحوم نے جو مسلمانوں میں کافی سر برآوردہ تھے اور انگریزی میں اسلام پر بہت سی کتابوں کے مصنف بھی تھے۔ بانی تحریک کے ساتھ تعاون کیا اور جہاں تک مجھے معلوم ہے کتاب موسومہ براہین احمدیہ میں انہوں نے بیش قیمت مدد بہم پہنچائی۔ لیکن کسی مذہبی تحریک کی اصل روح ایک دن میں نمایاں نہیں ہو جاتی۔ اسے اچھی طرح ظاہر ہونے کے لئے برسوں چاہئیں۔ تحریک کے دو گروہوں کے باہمی نزاعات اس امر پر شاہد ہیں کہ خود ان لوگوں کو جو بانی تحریک کے ساتھ ذاتی رابطہ رکھتے تھے۔ معلوم نہ تھا کہ تحریک کس راستے پر پڑ جائے گی.......... درخت جڑ سے نہیں۔ پھل سے پہچانا جاتا ہے۔ اگر میرے موجودہ رویہ میں کوئی تناقض ہے تو یہ بھی ایک زندہ اور سوچنے والے انسان کا حق ہے کہ وہ اپنی رائے بدل سکے۔ بقول ”ایمرسن“ صرف پتھر اپنے آپ کو نہیں جھٹلا سکتے۔“ (حرف اقبال ص ١٣٢، ١٣١)

میری مراد یہ ہے کہ جب ڈاکٹر اقبال جیسا عظیم مفکر اس غلط فہمی میں مبتلا ہو گیا تھا تو دوسرے لوگوں کا ایسا سمجھ لینا کوئی حیرت کی بات نہیں۔ علامہ اقبال نے مرزا قادیانی کے پیروؤں کے بارے میں اور خود مرزا قادیانی کی نسبت ہمدردانہ رویہ قائم رکھا۔ چنانچہ انہوں نے احمدیہ تحریک کے اسباب کی نسبت اپنا خیال ان الفاظ میں ظاہر کیا ہے۔

”اسلام کے رخساروں پر اس وقت احمدیت کی جو زردی نظر آ رہی ہے۔ وہ مسلمانان ہند کے مذہبی تفکر کی تاریخ میں کوئی ناگہانی واقعہ نہیں ہے۔ وہ خیالات جو بالآخر اس تحریک میں رونما ہوئے ہیں۔ بانی احمدیت کی ولادت سے پہلے دینیاتی مباحث میں نمایاں رہ چکے ہیں۔ میرا یہ

١٨

صفحہ ٢٢٩

مطلب نہیں کہ بانی احمدیت اور اس کے رفقاء نے سوچ سمجھ کر اپنا پروگرام تیار کیا ہے۔ میں یہ ضرور کہوں گا کہ بانی احمدیت نے ایک آواز سنی۔ لیکن اس امر کا تصفیہ کہ یہ آواز اس خدا کی طرف سے تھی۔ جس کے ہاتھ میں زندگی اور طاقت ہے۔ یا یہ لوگوں کے روحانی افلاس سے پیدا ہوئی۔ اس تحریک کی نوعیت پر منحصر ہونا چاہئے۔ جو اس آواز کی آفریدہ ہے اور ان افکار و جذبات پر بھی جو اس آواز نے اپنے سننے والوں میں پیدا کئے ہیں۔ میرے خیال میں وہ تمام ایکٹر جنہوں نے احمدیت کے ڈرامے میں حصہ لیا ہے۔ زوال اور انحطاط کے ہاتھوں میں محض سادہ لوح کٹھ پتلی بنے ہوئے تھے۔“

(حرف اقبال ص ١٥٧، ١٥٨)

ہندوستان کے جہالت و روایات زدہ ماحول میں تعجب اس بات پر نہیں کہ کیوں چند لوگوں نے مرزا قادیانی کو مان لیا۔ بلکہ اس بات پر ہے کہ کیوں صرف چند نے ہی مانا اور ایک بھاری اکثریت نے مرزا قادیانی کے دعویٰ کو رد کر دیا۔

اب اس دور سے لے کر اس وقت کی تاریخ پر غور کرو۔ ملک میں علمی، سیاسی، معاشرتی اور اقتصادی لحاظ سے اہم تبدیلیاں عمل میں آئی ہیں۔ بحیثیت مجموعہ ہم نے ہر لحاظ سے ترقی کی ہے۔ جہالت کی جگہ علم ہے۔ غلامی کی بجائے آزادی ہے اور معاشرے کی پہلے سے زیادہ مساوات اور انصاف کی بنیادوں پر تنظیم کی جارہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس ترقی میں احمدیہ تحریک کس طرح اثر انداز ہوئی ہے۔ اگر تم انصاف کی نظر سے دیکھو تو اس سے اتفاق کرو گے کہ ترقی احمدیت کے سبب نہیں بلکہ اس کے باوجود ہوئی ہے۔ ان تمام شعبوں میں احمدیت نے ایک رجعت پسند (REACTIONARY) جماعت کا کردار ادا کیا ہے۔ یہاں انفرادی طور پر احمدیوں کے کردار سے بحث نہیں ہے۔ بلکہ جماعت کی عمومی پالیسی اور مزاج زیر غور ہے۔ مثلاً سیاسی آزادی کو ہی لو۔ سب سے اہم بھی یہی ہے۔ کیونکہ غیر ملکی استبداد سے رہائی حاصل کئے بغیر زندگی کے دیگر شعبوں میں کوئی قابل لحاظ ترقی ممکن نہ تھی۔ اس بات کے ثبوت کے لئے کسی بھی دلیل کی ضرورت نہیں ہے کہ احمدیہ پالیسی ہمیشہ آزادی کے خلاف رہی ہے اور اس پالیسی کے لئے مرزا محمود احمد قادیانی ذمہ دار نہیں ہیں۔ بلکہ یہ مرزا غلام احمد قادیانی کی تعلیم کا لازمی اور براہ راست نتیجہ ہے۔ ایک مخلص احمدی لازمی طور پر غلامی پسند ہوگا۔ اگر کسی احمدی نے آزادی کی تحریک میں حصہ لیا ہے۔ (مجھے کسی ایسے صاحب کا علم نہیں) تو اس نے مرزا قادیانی کی تعلیم کے خلاف چلتے ہوئے ایسا کیا ہوگا۔

فرض کرو ہندوستان کی سب آبادی احمدیت اختیار کر لیتی۔ (ایسا سوچنے میں کوئی عیب

١٩

صفحہ ٢٣٠

نہیں، کیونکہ اگر احمدیت خدا کی طرف سے ہے تو یہ بات نہایت مناسب تھی کہ سب لوگ اس میں داخل ہوجاتے) آزادی حاصل کرنا تو رہا ایک طرف۔ کیا اس صورت میں آزادی کی تحریک شروع بھی کی جاسکتی تھی؟۔

چلئے! سیاسی آزادی کو چھوڑئیے۔ اس راہ میں تو مرزا غلام احمد قادیانی کے لئے کئی دقتیں تھیں۔ اگر خالص علمی اور وہ بھی اسلامی علوم کے شعبے کو لیا جائے تو تم دیکھو گے کہ مرزا قادیانی نے اسلامی علوم کے احیاء اور ترقی میں کوئی قابل ذکر حصہ نہیں لیا۔ ویسے کہنے کو مرزا قادیانی نے پوری ٨٤ کتابیں لکھ ڈالی ہیں۔ کم ہی مصنف اس تعداد کے نصف تک بھی پہنچے ہوں گے۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے ان کتب میں کون سا خیال یا پیغام پیش کیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ مرزا قادیانی پہلے نبی ہیں۔ جن کی پیغمبری پیغام سے خالی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ مرزا قادیانی نے کچھ نئی باتیں ضرور لکھی ہیں اور بعض مسائل کے بیان میں ایک ایسا انداز اختیار کیا ہے کہ ایک خاص ذہنی رجحان کے لوگوں کے لئے اس میں کچھ کشش پیدا ہو گئی۔ لیکن مجموعی طور پر اس دور کے دیگر مصنفین کے مقابلے میں مرزا قادیانی کا کوئی مقام نہیں۔ اس کی وجہ مرزا قادیانی کی علمی قابلیت کی نہیں۔ بلکہ مقصد کا فتور ہے۔ مرزا قادیانی کا سارا مشن اپنی ذات اور خاندان تک محدود تھا اور انہوں نے جو کچھ لکھا ہے اس مشن کو سامنے رکھ کر لکھا ہے۔ ویسے انہوں نے تفسیر، حدیث، فقہ، تاریخ، تقابل ادیان وغیرہ تقریباً ہر شعبے پر کچھ نہ کچھ (بلکہ بہت کچھ) لکھ دیا ہے۔ لیکن ہر جگہ ایک ہی مقصد سامنے رکھا ہے۔ یعنی اپنی نبوت اور مجددیت کو ثابت کرنا۔

یہ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ مرزا قادیانی کی تحریر ایک طرح کی فنکارانہ صفت سے خالی نہیں۔ مثلاً اکثر جگہ انہوں نے اپنے اصل مقصد کو عیاں نہیں ہونے دیا اور کسی قدر کامیابی سے یہ تاثر پیدا کیا ہے کہ گویا اصل مقصد اسلام کی برتری ثابت کرنا ہے۔ مثال کے طور پر وفات مسیح کے مسئلہ کو لو۔ غالباً مرزا قادیانی نے سب سے زیادہ اسی موضوع پر لکھا ہے۔ مرزا قادیانی کے دعویٰ کے ثبوت کے لئے مسیح ناصری کی وفات کا سوال ایک مرکزی اور بنیادی اہمیت رکھتا تھا۔ کیونکہ اگر مسیح آسمان پر زندہ موجود ہو تو زمین میں مسیح کی گنجائش ہی پیدا نہیں ہوتی۔ اس لئے مرزا قادیانی کے لئے حیات مسیح کے عقیدہ کی تردید از حد لازمی تھی۔ لیکن جب تک اس ذاتی ضرورت کو قومی ضرورت کی صورت میں پیش نہ کیا جاتا، کام نہ چل سکتا تھا۔ یہ کام مرزا قادیانی نے اس طرح کیا کہ نہایت شدت اور تکرار کے ساتھ مسلمانوں کو حیات مسیح کے عقیدہ سے پیدا ہونے والے خطرات سے آگاہ کیا۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ حیات مسیح کا عقیدہ عیسائیوں کے ہاتھ میں ایک

٢٠

صفحہ ٢٣١

زبردست حربہ ہے۔ کیونکہ اس سے عیسائی یہ ثابت کرتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام پیغمبر اسلام سے افضل ہیں۔ بلکہ ایک طرح سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی الوہیت اس سے ثابت ہوتی ہے۔ ممکن ہے بعض عیسائیوں کی طرف سے عامیانہ طور پر یہ دلیل پیش بھی کی جاتی ہو۔ لیکن فی الواقع حیات مسیح میں مسلمانوں کے لئے کوئی حقیقی خطرہ نہ تھا۔ اس کے لئے اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت اب بھی (عقیدتاً) حیات مسیح کی قائل ہے۔ لیکن اس وجہ سے اس نے اسلام چھوڑ کر عیسائیت اختیار نہیں کی۔

اسی طرح اپنے الہامات کا جواز پیدا کرنے کے لئے مرزا قادیانی نے یہ استدلال استعمال کیا کہ الہام کے اجراء سے انکار کی صورت میں خدائی صفات میں نقص واقع ہوتا ہے۔ اسلام کا خدا زندہ خدا ہے۔ وہ جیسے پہلے کلام کرتا تھا۔ اب بھی کلام کرتا ہے۔ (گو زیادہ تر مرزا قادیانی کے ساتھ کرتا ہے)

اس محدود مقصد کی موجودگی میں مرزا قادیانی کی تحریر میں کسی ارفع پیغام کی تلاش ہی عبث ہے۔ لیکن میری اس دلیل کو سمجھنے کے لئے مرزا قادیانی کی چند کتب کا مطالعہ ضروری ہے۔ اس لئے میں تم سے سفارش کرتا ہوں کہ تم کم از کم دو تین کتابیں ضرور پڑھ لو۔ بالخصوص حقیقت الوحی ضرور پڑھو۔ کیونکہ مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ ان کی طرف سے اتمام حجت کے لئے اس کتاب کا شروع سے آخر تک پڑھ لینا کافی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ میرے موقف کے اتمام حجت کے لئے بھی یہی کتاب کافی ہے۔ اس کے ساتھ تم مقابلے کی غرض سے مرزا قادیانی کے ہم عصر علماء مثلاً سرسید، ابوالکلام آزاد، شبلی، حالی وغیرہ کی کچھ تصانیف پڑھ لو۔ فرق اتنا نمایاں ہوگا کہ تم ایک ہی فیصلہ پر پہنچو گے کہ ان کے ہاں الہام کے بغیر وہ کام کیا گیا ہے۔ جو صاحب الہام سے نہیں ہوسکا۔ اگر یہ سب اکابر احمدی ہو گئے ہوتے تو قوم کتنے بڑے علمی سرمائے سے محروم ہو جاتی۔ احمدیت کی صورت میں وہ ندرت خیال کہاں ممکن تھی۔ جو آزادی سے سوچنے کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔

معاشرتی لحاظ سے احمدیت نے جو نتائج پیدا کئے ہیں۔ ان کی طرف میں توجہ دلا چکا ہوں۔ اب ملک کی آزادی کے بعد احمدیہ جماعت نے سیاسی لحاظ سے ایک نئے مسئلہ کی صورت اختیار کر لی ہے۔ یہاں میں پہلے یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ میری مراد اس مسئلہ سے نہیں جو تحریک ختم نبوت کا ایک حصہ تھا۔ پنجاب میں ختم نبوت کی ایجی ٹیشن میں سب سے بڑا مطالبہ یہ تھا کہ احمدیوں کو سیاسی لحاظ سے ایک اقلیت کا درجہ دے دیا جائے۔ اب یہ مطالبہ عملاً ختم ہو چکا ہے اور

٢١

صفحہ ٢٣٢

ایسا ہی ہونا چاہئے تھا۔ اس مطالبے کی تہہ میں کوئی قابل ستائش ملکی یا قومی مفاد نہ تھا۔ یہ سوال زیادہ تر انتخابات سے متعلق ہے۔ کیونکہ معاشرتی لحاظ سے تو احمدیوں کی جداگانہ حیثیت بغیر کسی قانونی اعلان کے نہایت شدت سے واضح ہے۔ جہاں تک انتخابات کا تعلق ہے میں تو شروع سے ہی مشترکہ پاکستانی قومیت کی بنیاد پر مخلوط طریقہ انتخاب کا حامی ہوں اور اس صورت میں احمدیوں کے لئے جداگانہ حلقہ (یا حلقے) مقرر کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لیکن اگر صورت اس کے برعکس ہو تو بھی یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ تقریباً ایک لاکھ کی احمدی آبادی کس طرح سات کروڑ مسلمانوں کی رائے پر اثر ڈال سکتی ہے اور یہ بات تو انسانی فہم سے ہی بالا ہے کہ احمدیوں کو اقلیت قرار دینے سے ختم نبوت کا کیا تعلق ہے۔ بہر حال تحریک جو کچھ تھی۔ چلی اور خوب چلی اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ مملکت کا وجود ہی خطرے میں پڑ گیا۔ اب جب کہ اس تحریک کو ختم ہوئے چند سال گزر چکے ہیں۔ اکثر لوگ سوچتے ہیں کہ یہ معاملہ کیا تھا؟ شاید ہی دنیا میں اتنی موہوم بنیادوں پر اتنی تیز ایجی ٹیشن کبھی چلائی گئی ہو۔

لیکن اس تحریک سے کئی فائدے ہوئے ہیں۔ میرے نزدیک عوام کو مذہبی پیشوائیت کی گرفت سے بچانے میں جو کام اس تحریک نے کیا ہے۔ وہ شاید کسی دوسرے ذریعہ سے ممکن نہ تھا۔ اصل تحریک سے زیادہ یہ مقصد تحقیقاتی عدالت کی کارروائی اور فیصلے سے حاصل ہوا ہے۔ اس تحقیقات نے احمدیت اور خود اسلام کے بارے میں علماء کی کم علمی اور پریشان خیالی کو آشکار کر دیا۔ ظاہر ہوا کہ یہ لوگ مطالبہ تو یہ کرتے ہیں کہ احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا جائے۔ لیکن لفظ مسلم کی کوئی قابل قبول یا متفق علیہ تعریف پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ اسی سے یہ خطرہ بھی سامنے آ گیا کہ اچھے بھلے غیر احمدی مسلمان بھی کسی نہ کسی تعریف کی رو سے غیر مسلم قرار دیے جا سکتے ہیں۔

جب میں کہتا ہوں کہ سیاسی لحاظ سے احمدی ملک کے لئے ایک (PROBLEM) ہیں تو میرے ذہن میں ان کو مسلم یا غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا سوال نہیں ہے جو بات مجھے پریشان کر رہی ہے اور جس کی طرف میں نہایت زور سے ملک کے ترقی پسند عناصر کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ملک کی احمدی آبادی اپنی جماعتی تنظیم کی وجہ سے جمہور کی آزادی میں شریک ہونے کے ناقابل ہے۔

بعض مبادیات ہیں۔ جن کے بغیر عملاً جمہوریت کا کسی ملک میں نافذ کرنا ممکن نہیں ہے۔ ان میں سے ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ قوم کے افراد اس بات میں آزاد ہیں کہ کسی سیاسی جماعت میں شامل ہوں۔ جب چاہیں اس کو چھوڑ دیں۔ کوئی نئی پارٹی بنائیں یا کسی پارٹی میں

٢٢

شریک ہی نہ ہوں۔ بلکہ اپنی انفرادی آزادی کی میں مختلف امیدواروں کی پالیسی اور کردار کو جانچ اس موقع پر میں جمہوری نظام میں پارٹی سسٹم مبحث سے یہ سوال غیر متعلق ہے۔ اس بارے طرز عمل جمہوریت کے اصول کے منافی ہے احمدی کسی سیاسی جماعت میں شا امور میں اپنے مرکز کی ہدایات کے پابند ہیں جماعت کے افراد نہ تو شخصی رائے پر عمل کر سک ہو کر رائے دے سکتے ہیں۔ بلکہ بحیثیت جما احمدیوں کے لئے اس پر عمل کرنا ضروری ہوت کرنے میں اپنی رائے کے اظہار کا اختیار دیا گیا جماعتوں کی رائے کا پابند نہیں ہے اور مرکز ۔ مراد خلیفہ کی ذات ہے۔ عقیدہ یہ ہے کہ خلیفہ ک اس کی پالیسی کا محاسبہ کرنے کا اختیار جماعت ک کی رائے کے خلاف رائے دینا ایک غیر معقول ب ہو سکتی۔ یہ حالات اس جماعت کو جمہوری طرز حک

زیادہ وضاحت کے لئے ایک مثا فرقے مذہبی بنیادوں پر اسی طرح منظم ہو جاتے فرقہ یہ فیصلہ کر لیتا ہے کہ اس کی طرف سے سیاسی کو حاصل ہو گا تو ظاہر ہے کہ اس ملک میں جمہو کے علاوہ بعض دوسرے لوگ بھی سیاسی امور میں پیروں کی ہدایت پر عمل پیرا ہیں۔ اس حد تک ان بہر حال ان کے متعلق اطمینان بخش صورت یہ ہے اور بتدریج ان کے پیرو آزاد ہو رہے ہیں۔ جماعتی نظام توڑنے کے ممکن نہیں ہے۔

یہ صورتحال کئی لحاظ سے پر خطر ہے اور

صفحہ ٢٣٣

شریک ہی نہ ہوں۔ بلکہ اپنی انفرادی آزادی کو مکمل طور پر قائم رکھیں اور نمائندہ اداروں کے انتخاب میں مختلف امیدواروں کی پالیسی اور کردار کو جانچ کر جس طرح چاہیں اپنی رائے کا استعمال کریں۔ اس موقع پر میں جمہوری نظام میں پارٹی سسٹم کے فوائد اور نقصانات میں نہیں جانا چاہتا۔ موجودہ بحث سے یہ سوال غیر متعلق ہے۔ اس بارے میں جو صورت بھی اختیار کی جائے جماعت احمدیہ کا طرز عمل جمہوریت کے اصول کے منافی ہے۔

احمدی کسی سیاسی جماعت میں شامل ہونے کے لئے آزاد نہیں ہیں۔ وہ تمام سیاسی امور میں اپنے مرکز کی ہدایات کے پابند ہیں۔ ملکی اداروں کے نمائندوں کے انتخاب میں احمدیہ جماعت کے افراد نہ تو شخصی رائے پر عمل کر سکتے ہیں اور نہ کسی سیاسی جماعت کی پالیسی سے متاثر ہو کر رائے دے سکتے ہیں۔ بلکہ بحیثیت جماعت ایک پالیسی کا فیصلہ کر لیا جاتا ہے اور سب احمدیوں کے لئے اس پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اندرونی طور پر افراد کو جماعتی پالیسی متعین کرنے میں اپنی رائے کے اظہار کا اختیار دیا گیا ہے۔ لیکن یہ ایک بے معنی تکلف ہے۔ مرکز مقامی جماعتوں کی رائے کا پابند نہیں ہے اور مرکز سے مراد کوئی منتخب شدہ ادارہ نہیں ہے۔ عملاً اس سے مراد خلیفہ کی ذات ہے۔ عقیدہ یہ ہے کہ خلیفہ کو خدا مقرر کرتا ہے۔ اس لئے اسے معزول کرنے یا اس کی پالیسی کا محاسبہ کرنے کا اختیار جماعت کو حاصل نہیں ہے۔ اس عقیدہ کی موجودگی میں خلیفہ کی رائے کے خلاف رائے دینا ایک غیر معقول بات ہے اور کسی مخلص احمدی سے اس کی توقع نہیں ہو سکتی۔ یہ حالات اس جماعت کو جمہوری طرز حکومت کے عمل سے خارج کر دیتے ہیں۔

زیادہ وضاحت کے لئے ایک مثال پیش کرتا ہوں۔ فرض کرو کہ پاکستان کے تمام فرقے مذہبی بنیادوں پر اسی طرح منظم ہو جاتے ہیں۔ جیسے کہ اس وقت جماعت احمدیہ ہے اور ہر فرقہ یہ فیصلہ کر لیتا ہے کہ اس کی طرف سے سیاسی امور میں فیصلے کا اختیار اس فرقے کے امیر یا امام کو حاصل ہوگا تو ظاہر ہے کہ اس ملک میں جمہوریت کا خاتمہ ہو جائے گا۔ مجھے علم ہے کہ احمدیوں کے علاوہ بعض دوسرے لوگ بھی سیاسی امور میں اپنی بصیرت سے زیادہ بعض مذہبی رہنماؤں اور پیروں کی ہدایت پر عمل پیرا ہیں۔ اس حد تک ان لوگوں کا رویہ بھی جمہوری نظام کے منافی ہے۔ بہر حال ان کے متعلق اطمینان بخش صورت یہ ہے کہ ان مذہبی رہنماؤں کی گرفت اتنی مضبوط نہیں ہے اور بتدریج ان کے پیرو آزاد ہو رہے ہیں۔ اس کے برعکس احمدیوں کے لئے یہ آزادی بغیر جماعتی نظام توڑنے کے ممکن نہیں ہے۔

یہ صورتحال کئی لحاظ سے پر خطر ہے اور ملک کے جمہوریت پسند عناصر اس کو ختم کرنے کی

٢٣

صفحہ ٢٣٤

کوشش میں حق بجانب ہوں گے۔ اوّل تو ملک کی آبادی کے ایک قابل لحاظ حصے کا اس طرح آزادی سے محروم رہنا اپنی ذات میں ایک معیوب بات ہے۔ محض انسانی ہمدردی کے جذبے سے بھی ان کی امداد کرنا ہمارا فرض ہے۔ دوسرے سیاسی غلامی ایک متعدی عارضہ ہے۔ احمدیوں کی تقلید میں یا ان کا مقابلہ کرنے کے لئے ایسی ہی دوسری جماعتیں قائم ہونا غیر اغلب نہیں۔ جماعت اسلامی کی صورت میں ایک مثال ہمارے سامنے ہے۔ اس لئے ملک کا آزادی خواہ طبقہ احمدیہ تحریک کو نظر انداز نہیں کرسکتا۔

یہ ہیں مقاصد جن کو سامنے رکھ کر یہ کتاب لکھی گئی ہے۔ علامہ اقبالؒ کی جس تحریر سے اوپر حوالے دیئے گئے ہیں۔ اسی میں ایک جگہ موصوف نے امید ظاہر کی ہے کہ جمہوریت کی نئی روح جو ہندستان میں پھیل رہی ہے۔ وہ یقیناً احمدیوں کی آنکھیں کھول دے گی اور انہیں یقین ہوجائے گا کہ ان کی دینیاتی ایجادات بالکل بےسود ہیں۔ یہی میری بھی خواہش اور امید ہے۔ دیکھئے احمدی نوجوان کب آنکھیں کھولتے ہیں۔ تاریخ نے احمدیت کو غلط ثابت کردیا ہے۔ علامہ اقبالؒ کے الفاظ میں ”اسلام جدید تفکر اور تجربے کی روشنی میں قدم رکھ چکا ہے اور کوئی ولی یا پیغمبر اس کو قرون وسطیٰ کے تصوف کی تاریکی میں پھر واپس نہیں لے جاسکتا۔“ (حرفِ اقبال ص ١٥٩) ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب اس تاریخی حقیقت کو قبول کرلیں۔

آخر میں صرف یہ कहना ہے کہ یہ کتاب تمہارے لئے تمہارے ایک بھائی نے انتہائی محبت اور خلوص کے جذبات سے لکھی ہے۔ اس کے لئے اتنا صلہ کافی ہے کہ تم کتاب کو تعصب اور بدگمانی کے جذبات سے خالی ہوکر پڑھو۔ محمد جعفر خان! کیمبل پور ٢٩؍نومبر ١٩٥٧ء

کتاب الفتن

مرزا غلام احمد قادیانی کے دعاوی کا ابتدائی مآخذ وہ روایات ہیں جو ”کتاب الفتن“ کے عنوان کے تحت احادیث کی کتب میں درج ہیں۔ بہت حد تک مرزا قادیانی کے دعاویٰ کی صداقت کا انحصار اس امر پر بھی ہے کہ آیا آخری زمانے کے جو حالات ان روایات میں بیان کئے گئے ہیں۔ وہ ہمارے دور پر صادق آتے ہیں اور آیا مسیح اور مہدی کے اوصاف اور کردار کا اطلاق مرزا قادیانی کی ذات پر ہوسکتا ہے۔

چونکہ قیامت کے قریب دجال کا فتنہ پیدا ہونے اور حضرت مسیح اور مہدی کے ظہور کے واقعات مستند احادیث کے سب مجموعوں میں کسی نہ کسی شکل میں مذکور ہیں۔ اس لئے عام مسلمانوں

٢٤

صفحہ ٢٣٥

نے ہمیشہ اعتقاداً ان روایات کو درست مانا ہے۔ لیکن عقیدہ کے مدارج ہیں۔ جس عقیدے کا عملی زندگی سے کوئی تعلق نہ ہو وہ خواہ کتنا ہی خلافِ عقل اور علمی لحاظ سے بے بنیاد ہو۔ اس پر قائم رہنا آسان ہوتا ہے۔ اس لئے اس بارے میں عوام یا علماء کا ”اجماع“ ان احادیث کے درست ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔

ہمارا موقف یہ ہے کہ دجال اور مسیح کے متعلق تمام روایات ضعیف اور ناقابل قبول ہیں۔ بلکہ ہم ان روایات کے موضوع ہونے پر یقین رکھتے ہیں۔ اس کے متعلق بحث آئندہ ابواب میں آئے گی۔

لیکن اگر احادیث کی کتاب الفتن میں مذکور روایات درست ہوں تو ان کا کوئی حصہ بھی مرزا قادیانی اور ان کے دور کے حالات پر صادق نہیں آتا۔ خود مرزا قادیانی کو بھی یہ تسلیم ہے کہ احادیث کے ظاہری معانی کے لحاظ سے وہ اپنے دعاوی کو درست ثابت نہیں کر سکتے۔ لیکن انہوں نے تمام الفاظ کو تاویل کے ذریعے اپنے حالات کے مطابق بنانے کی کوشش کی ہے اور احمدیہ جماعت کا دعویٰ ہے کہ ایسا کرنے میں مرزا قادیانی حق بجانب تھے۔ ہمیں اس کتاب کے ایک باب میں معاملہ کے اس پہلو پر بھی کچھ کہنا ہوگا۔

ان سب مباحث کو سمجھنے اور درست فیصلے تک پہنچنے کے لئے ضروری ہے کہ اوّل زیر بحث احادیث کا اصل مضمون معلوم ہو۔ ہم باور کرتے ہیں کہ قارئین میں سے بہت کم اس سے واقف ہیں۔ اس لئے سب سے پہلے ہم اپنی بحث کے متن کے طور پر متعلقہ احادیث کا ایک ملخص لکھنا چاہتے ہیں۔ یہ ملخص احادیث کی مستند کتب سے مرتب کیا گیا ہے۔ درمیانی راویوں کے نام چھوڑ دیئے گئے ہیں۔ کیونکہ یہ تفاصیل ہمارے مقصد سے غیر متعلق ہیں۔

گو ہمارا براہِ راست تعلق صرف مسیح کے نزول اور دجال کے خروج کے موضوع سے ہے۔ لیکن احادیث کی رو سے مسیح کے زمانے کا تعین اس طرح کیا گیا ہے کہ یہ قیامت سے معاً پہلے ہوگا۔ اس لئے پہلے قیامت کے قیام کے وقت اور اس کے حالات کی چند احادیث پیش کی جاتی ہیں۔

دجال کے خروج کا زمانہ

”معاذ بن جبل کہتے ہیں کہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا ہے۔ بیت المقدس کی آبادی جب کمال کو پہنچ جائے گی تو وہ مدینہ کی خرابی اور تباہی کا باعث ہوگی اور مدینہ کی خرابی فتنہ اور جنگ کے وقوع میں آنے کا سبب ہوگی اور فتنہ کا ظہور اور جنگ عظیم کا وقوع قسطنطنیہ کی فتح کا سبب ہوگا اور

٢٥

صفحہ ٢٣٦

قسطنطنیہ کی فتح دجال کے خروج کا سبب۔“

(ابوداؤد ج٢ ص١٣٢، باب امارات الملاحم)

”معاذ بن جبل سے ہی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ جنگ عظیم کا وقوع میں آنا، قسطنطنیہ کا فتح ہونا اور دجال کا خروج یہ سب سات مہینے میں ہوگا۔“

(ترمذی ج٢ ص٤٧، باب فی علامات خروج الدجال، ابوداؤد ج٢ ص١٣٢، باب فی امارات الملاحم)

”عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ جنگ عظیم اور فتح قسطنطنیہ کے درمیان چھ برس کا فاصلہ ہوگا اور ساتویں برس دجال نکلے گا۔“

قیامت کے آثار اور حالات

”انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کی علامتیں یہ ہیں کہ علم اٹھا لیا جائے گا۔ جہالت زیادہ ہوگی۔ زنا کثرت سے ہوگا۔ شراب پی جائے گی۔ مردوں کی تعداد کم ہو جائے گی اور عورتوں کی تعداد بڑھ جائے گی۔ یہاں تک کہ پچاس عورتوں کی خبر گیری کرنے والا ایک مرد ہوگا اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ علم کم ہوگا اور جہالت زیادہ ہوگی۔“

(بخاری ج٢ ص١٠٤٩، باب ظہور الفتن)

”ابی ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ قیامت نہیں آئے گی۔ یہاں تک کہ دو بڑے گروہ آپس میں لڑیں۔ ان کے درمیان بہت بڑی لڑائی ہوگی۔ دونوں کا دعویٰ ایک ہی ہوگا اور یہاں تک کہ تیس کے قریب دجال کذاب کھڑے ہوجائیں گے۔ ان میں سے ہر ایک کہے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے اور یہاں تک کہ علم لے لیا جائے گا اور زلزلے بہت آنے لگیں اور زمانہ قریب ہو جائے اور فتنے ظاہر ہوں اور ہرج یعنی قتل زیادہ ہو اور یہاں تک کہ تم میں مال بہت ہو جائے اور بہنے لگ جائے۔ یہاں تک کہ مال والے کو فکر لگ جائے کہ اس کا صدقہ کون قبول کرے گا اور یہاں تک کہ اسے پیش کرے۔ سو جس پر اسے پیش کرے گا وہ کہے گا مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے اور یہاں تک کہ لوگ عمارتوں کے بارے میں فخر کریں گے اور یہاں تک کہ ایک شخص دوسرے کی قبر پر سے گزرے گا اور کہے گا کاش میں اس کی جگہ ہوتا اور یہاں تک کہ سورج اپنے مغرب سے نکلے۔ پس جب وہ نکل پڑے اور لوگ اسے دیکھ لیں یعنی سب کے سب ایمان لے آئیں تو یہ ایسا وقت ہوگا کہ کسی شخص کو اس کا ایمان فائدہ نہ دے گا۔ جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا یا اپنے ایمان میں نیک کام نہ کیا اور ضرور قیامت قائم ہوگی۔ جو کہ دو آدمیوں نے آپس میں کپڑا پھیلایا ہوگا اور اس کی خرید وفروخت نہ کر چکے ہوں گے اور نہ اسے لپیٹ چکے ہوں گے اور ضرور قیامت قائم ہوگی۔ جب کہ ایک شخص اپنی اونٹنی کا دودھ لے کر واپس آیا ہوگا، مگر

٢٦

صفحہ ٢٣٧

ابھی اس نے پیا نہیں ہوگا اور ضرور قیامت قائم ہوگی ۔ جب کہ وہ اپنے حوض کو درست کر رہا ہوگا۔ لیکن وہ اس میں پلا نہ سکے گا اور ضرور قیامت قائم ہوگی جب کہ اس نے اپنے منہ کی طرف نوالہ اٹھایا ہوگا، لیکن اسے کھا نہ سکے گا۔“

(بخاری ج ٢ ص ١٠٥٤، باب تغیر الزمان حتی تعبد الاوثان )

”انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔ قیامت آنے کی پہلی علامت وہ آگ ہوگی جو لوگوں کو مشرق سے مغرب کی طرف لے جائے گی۔“

(بخاری ج ٢ ص ١٠٥٤، باب خروج النار )

”حذیفہ بن اسید غفاریؓ سے روایت ہے کہ ہم لوگ قیامت کا ذکر کر رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہماری طرف دیکھا اور فرمایا۔ قیامت اس وقت تک نہ آئے گی جب تک کہ دس نشانیوں کو نہ دیکھ لو گے۔ اس کے بعد آپ نے ان نشانیوں کا ذکر کیا اور فرمایا:

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی لاٹھی اور حضرت سلیمان کی انگوٹھی ہوگی۔ دوڑنے میں کوئی اس کا مقابلہ نہ کر سکے گا۔ وہ مؤمن کو عصائے موسیٰ سے مارے گا اور اس کے منہ پر مؤمن لکھ دے گا اور کافر کے منہ پر مہر لگا کر کافر لکھے گا۔

میں اور تیسرے جزیرہ عرب میں ۔

طرف لے جائے گی۔“

(مسلم ج ٢ ص ٣٩٣، کتاب الفتن واشراط الساعۃ )

”ابی ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ تین باتیں جب ظہور میں آجائیں گی تو پھر کسی کا ایمان لانا اور عمل کرنا مفید نہ ہوگا۔ جب تک کہ ان کے ظہور سے پہلے ایمان نہ لایا ہو اور عمل نہ کیا ہو اور وہ تین باتیں یہ ہیں۔ آفتاب کا مغرب سے طلوع ہونا۔ دجال اور دابۃ الارض کا نکلنا۔“

(بخاری ج ٢ ص ١٠٥٤، باب خروج النار )

٢٧

صفحہ ٢٣٨

دجال کے حالات، نزول مسیح و قیام قیامت

"نواس بن سمعان سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دجال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر دجال خروج کرے اور میں تمہارے درمیان موجود ہوں تو میں اس سے تمہارے سامنے بحث و گفتگو کروں گا اور اگر وہ اس وقت نکلے، جب کہ میں تم میں موجود نہ ہوں تو تم میں سے ہر شخص اپنی طرف سے اس سے بحث و گفتگو کرنے والا ہوگا اور خدا ہر مسلمان کا محافظ اور مددگار ہے۔ دجال جوان ہوگا۔ گھنگریالے بالوں والا اور اس کی آنکھ پھولی ہوئی ہوگی۔ گویا میں اس کو قطن کے بیٹے عبدالعزیٰ سے تشبیہ دے سکتا ہوں۔ تم میں سے جو شخص اس کو پائے۔ وہ اس کے سامنے سورۃ کہف کی ابتدائی آیتیں پڑھے۔ اس لئے کہ یہ آیتیں تم کو دجال کے فتنہ سے بچائیں گی۔ دجال اس راہ سے خروج کرے گا جو شام اور عراق کے درمیان واقع ہے اور دائیں بائیں فساد پھیلائے گا۔ اے اللہ کے بندو! ثابت قدم رہنا۔

ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! وہ کب تک زمین پر رہے گا؟ فرمایا چالیس دن۔ اس کا ایک دن ایک سال کے برابر ہوگا اور ایک دن ایک مہینے کے برابر ہوگا اور ایک دن ایک ہفتہ کے برابر اور باقی دن ہمارے دنوں کے برابر ہوں گے۔

ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! اس کا جو دن ایک سال کے برابر ہوگا کیا اس دن ہماری ایک روز کی نماز کافی ہوگی؟ فرمایا نہیں بلکہ اس روز ایک دن کا اندازہ کر کے نماز پڑھنی ہوگی۔

ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! وہ زمین پر کس قدر جلد چلے گا؟ فرمایا وہ اس ابر کی مانند تیز رفتار ہوگا۔ جس کے پیچھے ہوا ہو وہ ایک قوم کے پاس پہنچے گا اور اس کو اپنی دعوت دے گا۔ لوگ اس پر ایمان لے آئیں گے۔ پھر وہ آسمان کو بارش کا حکم دے گا۔ ابر آسمان سے زمین پر مینہ برسائے گا اور زمین کو حکم دے گا۔ زمین سبزہ اگائے گی۔ پھر شام کو اس کے مویشی چر کر آئیں گے۔ ان کے کوہان بڑے بڑے ہو جائیں گے اور ان کے پہلو خوب کھنچے اور تنے ہوئے ہوں گے۔

پھر دجال ایک اور قوم کے پاس پہنچے گا اور اس کو اپنی دعوت دے گا۔ وہ قوم اس کی دعوت کو رد کر دے گی اور وہ ان کو چھوڑ کر چلا جائے گا اور وہ قحط زدہ ہو جائیں گے۔ یعنی ان کے پاس کچھ نہ رہے گا۔

پھر دجال ایک ویرانہ پر سے گزرے گا اور اس کو حکم دے گا کہ وہ اپنے خزانوں کو نکال دے۔ چنانچہ وہ ویرانہ اس کے حکم کے مطابق خزانوں کو نکال دے گا اور وہ خزانے اس طرح ان کے پیچھے ہولیں گے جس طرح شہد کی مکھیوں کے سردار کے پیچھے مکھیاں ہو لیتی ہیں۔

٢٨

صفحہ ٢٣٩

پھر دجال ایک شخص کو جو شباب میں بھرا ہوگا۔ اپنی دعوت دے گا۔ وہ اس کی دعوت کا رد کردے گا۔ دجال غضب ناک ہو کر تلوار مارے گا اور اس جوان کے دو ٹکڑے ہو کر ایک دوسرے سے اتنی دور جا گریں گے کہ دونوں کے درمیان پھینکے ہوئے تیر کے برابر فاصلہ ہوگا۔ پھر دجال ان ٹکڑوں کو بلائے گا اور وہ جوان زندہ ہو کر آ جائے گا۔ اس وقت دجال کا چہرہ ہشاش ہوگا اور وہ اپنی الوہیت کے اس کارنامے پر مسکراتا ہوگا۔

غرض دجال اس طرح اپنے کاموں میں مشغول ہو گا کہ اچانک خداوند تعالیٰ مسیح ابن مریم کو بھیجے گا۔ جو دمشق کے مشرق میں سفید منارہ پر نازل ہوں گے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو فرشتوں کے پروں پر رکھے ہوں گے۔ وہ اپنا سر جھکائیں گے تو پسینہ ٹپکے گا اور سر اٹھائیں گے تو ان کے سر سے چاندی کے دانوں کی مانند جو موتیوں جیسے ہوں گے قطرے گریں گے۔ جو کافر آپ کے سانس کی ہوا پائے گا مرجائے گا اور آپ کے سانس کی ہوا حد نظر تک جائے گی۔

پھر حضرت مسیح علیہ السلام دجال کی تلاش کریں گے اور اس کو باب لد پر پائیں گے اور مار ڈالیں گے۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس ایک قوم آئے گی۔ جس کو خدا تعالیٰ نے دجال کے مکر وفریب اور فتنہ سے محفوظ رکھا ہوگا۔ مسیح علیہ السلام ان کے چہرے سے گردو غبار صاف کریں گے اور ان درجات کی خوشخبری دیں گے جو ان کو بہشت میں حاصل ہوں گے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسی حال میں ہوں گے کہ خدا ان کی طرف وحی بھیجے گا اور بتائے گا کہ میں نے اپنے بہت سے ایسے بندے پیدا کئے ہیں جن سے لڑنے کی طاقت کسی میں نہیں ہے۔ تم میرے بندوں کو کوہ طور کی طرف لے جاؤ اور وہاں ان کی حفاظت کرو۔

پھر خداوند تعالیٰ یاجوج ماجوج کو بھیجے گا۔ جو ہر بلند زمین سے اتریں گے اور دوڑیں گے۔ ان کی سب سے پہلی جماعت طبریہ کے تالاب پر پہنچے گی اور اس کا سارا پانی پی جائے گا۔ پھر یاجوج و ماجوج کی آخری جماعت اس طرف سے گزرے گی اور کہے گی اس میں کبھی پانی تھا۔

اس کے بعد یاجوج و ماجوج آگے بڑھیں گے اور جبل خمر پر پہنچیں گے اور یہاں ٹھہر کر کہیں گے کہ زمین پر جو لوگ تھے ان کو تو ہم نے مار ڈالا۔ آؤ اب آسمان والوں کو قتل کریں۔ پس وہ آسمان کی طرف تیر پھینکیں گے اور خدا ان کے تیروں کو خون آلود کر کے گرادے گا۔

اور خدا کا نبی مسیح اور ان کے ساتھی کوہ طور پر روکے جائیں گے۔ یہاں تک کہ ان کی حالت اس درجہ کو پہنچ جائے گی کہ ان میں سے ہر شخص کے نزدیک بیل کا سر سو دینار سے بہتر ہوگا۔ ان دیناروں سے جو آج تمہارے نزدیک نہایت قیمتی ہیں۔

٢٩

صفحہ ٢٤٠

خدا کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی دعاء مانگیں گے اور خدا یاجوج و ماجوج پر کیڑوں کا عذاب بھیجے گا۔ یعنی ان کی گردنوں میں کیڑے پڑ جائیں گے۔ وہ سب کے سب ان کیڑوں سے مرجائیں گے۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ہمراہی پہاڑ سے زمین پر آئیں گے اور زمین پر ایک بالشت ٹکڑہ بھی ایسا نہ پائیں گے جو یاجوج و ماجوج کی چربی اور بو سے محفوظ ہو۔ عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی پھر خدا سے دعاء کریں گے اور خدا ایسے پرندوں کو بھیجے گا جن کی گردنیں بختی اونٹ کی مانند ہوں گی۔ یہ پرندے یاجوج و ماجوج کی نعشوں کو اٹھائیں گے اور جہاں خدا کی مرضی ہوگی وہاں پھینک دیں گے اور مسلمان یاجوج و ماجوج کے تیروں، کمانوں اور ترکشوں کو سات برس تک جلاتے رہیں گے۔

پھر خدا ایک بڑی بارش برسائے گا۔ جس سے کوئی آبادی خالی نہ رہے گی۔ یہ بارش زمین کو دھو کر صاف کر دے گی اور وہ آئینہ کی مانند ہو جائے گی۔ پھر زمین سے کہا جائے گا کہ اپنے پھلوں کو نکال اور اپنی برکت کو واپس لا۔ چنانچہ ان ایام میں ایک جماعت انار کے ایک پھل سے سیر ہو جائے گی اور انار کے چھلکے سے لوگ سایہ حاصل کریں گے۔ دودھ میں برکت دی جائے گی۔ یہاں تک کہ ایک اونٹنی کا دودھ ایک چھوٹی سی جماعت کے لئے کفایت کرے گا۔

لوگ ایسی خوشحالی اور امن چین سے زندگی بسر کر رہے ہوں گے کہ خدا ایک خوشبودار ہوا بھیجے گا جو ہر مومن اور مسلم کی روح کو قبض کر لے گی اور صرف شریر بدکار لوگ دنیا میں باقی رہ جائیں گے جو آپس میں گدھوں کی طرح اختلاط پذیر ہو جائیں گے اور لڑیں گے اور انہی لوگوں پر قیامت قائم ہوگی۔"

(مسلم ج٢ ص٤٠١، ٤٠٢، باب ذکر الدجال)

"ام شریک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ لوگ دجال سے بھاگیں گے اور پہاڑوں میں جا چھپیں گے۔ ام شریک کہتی ہیں یہ سن کر میں نے پوچھا، یا رسول اللہ ! ان ایام میں عرب کہاں ہوں گے؟ آپ نے فرمایا عرب اس زمانہ میں بہت کم ہوں گے۔"

(سنن ابن ماجہ ص٢٩٨، باب فتنۃ الدجال وخروج عیسیٰ ابن مریم، مشکوٰۃ ص٤٧٥، ذکر الدجال)

"انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اصفہان کے ستر ہزار یہودی دجال کی پیروی اور اطاعت اختیار کریں گے۔ جن کے سروں پر چادریں پڑی ہوں گی۔"

(مسلم ج٢ ص٤٠٥، باب ذکر الدجال)

"ابی سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ میری امت میں سے ستر آدمی جن کے سروں پر سبز چادریں ہوں گی۔ دجال کی اطاعت قبول کر لیں گے۔"

(مشکوٰۃ ص٤٧٧، باب العلامات بین یدی الساعۃ وذکر الدجال)

٣٠

"ابی سعیدؓ سے روا... ہوگا۔ لیکن خدا کے حکم سے و... میں ہی ٹھہر جائے گا۔"

"ابی بکرہؓ سے روا... رعب و خوف داخل ہوگا۔ ان د... فرشتے مقرر ہوں گے۔"

"ابی ہریرہؓ سے روا... آئے گا اور مدینہ کا رخ کر... شام کی طرف پھیر دیں گے اور...

"عبداللہؓ سے روایت... نہیں ہے اور مسیح دجال کانا ہے... ہے۔"

"انسؓ سے روایت... اپنی امت کو جھوٹے کانے سے ڈ... اس کی (یعنی دجال کی) آنکھوں کے...

"ابی ہریرہؓ سے روایت... بتاؤں؟ کسی نبی نے آج تک اپنی قو... دوزخ و جنت کی مانند دو چیزیں لا... میں تم کو اس سے ڈراتا ہوں، جس طر...

"ابی ہریرہؓ سے روایت... ہو کر نکلے گا۔ جس کے دونوں کانوں کے...

صفحہ ٢٤١

”ابی سعیدؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ دجال مدینہ کی طرف متوجہ ہوگا۔ لیکن خدا کے حکم سے وہ مدینہ کے راستوں میں داخل نہ ہو سکے گا۔ آخر وہ مدینہ کی شور زمین میں ہی ٹھہر جائے گا۔“

(مسلم و بخاری ج ٢ ص ١٠٥٦، باب لایدخل الدجال المدینۃ)

”ابی بکرہؓ سے روایت ہے کہ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا۔ مدینہ میں دجال کا رعب و خوف داخل ہوگا۔ ان ایام میں مدینہ کے سات دروازے ہوں گے اور ہر دروازے پر دو فرشتے مقرر ہوں گے۔“

(بخاری ج ٢ ص ١٠٥٥، باب ذکر الدجال)

”ابی ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دجال مشرق کی جانب سے آئے گا اور مدینہ کا رخ کرے گا۔ یہاں تک کہ وہ احد کے پیچھے پہنچ جائے گا۔ پھر فرشتے اس کا منہ شام کی طرف پھیر دیں گے اور وہ شام میں ہلاک کر دیا جائے گا۔“

(مشکوٰۃ شریف ص ٤٧٥، باب ذکر الدجال)

”عبداللہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ خداوند تم پر مخفی نہیں ہے۔ وہ کانا نہیں ہے اور مسیح دجال کانا ہے۔ یعنی اس کی داہنی آنکھ کانی ہے اور گویا وہ انگور کا ایک پھولا ہوا دانہ ہے۔“

(بخاری ج ٢ ص ١٠٥٥، باب ذکر الدجال)

”انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی امت کو جھوٹے کانے سے نہ ڈرایا ہو۔ خبردار دجال کانا ہے اور تمہارا پروردگار کانا نہیں ہے اور اس کی (یعنی دجال کی) آنکھوں کے درمیان ”ک، ف، ر“ لکھا ہوا ہے۔“

(بخاری ج ٢ ص ١٠٥٦، باب ذکر الدجال)

”ابی ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ کیا میں تم کو دجال کا حال بتاؤں؟ کسی نبی نے آج تک اپنی قوم کو اس طرح کا حال نہیں بتایا ہے۔ وہ کانا ہوگا اور اپنے ساتھ دوزخ و جنت کی مانند دو چیزیں لائے گا۔ وہ جس چیز کو جنت بتائے گا وہ حقیقت میں آگ ہوگی۔ میں تم کو اس سے ڈراتا ہوں۔ جس طرح نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو اس سے ڈرایا تھا۔“

(بخاری و مسلم ج ٢ ص ٤٠٠، باب ذکر الدجال)

”ابی ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا۔ دجال ایک سفید گدھے پر سوار ہو کر نکلے گا۔ جس کے دونوں کانوں کے درمیان کا حصہ ستر باع چوڑا ہوگا۔“

(مشکوٰۃ ص ٤٧٧، باب ذکر الدجال الفصل الثالث)

٣١

صفحہ ٢٤٢

(نوٹ: ایک باع سے مراد وہ فاصلہ ہے جو انسان کے دونوں ہاتھ پھیلانے سے بنتا ہے ۔ یعنی قریباً اڑھائی گز۔)

”عبادہ بن صامتؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ میں نے تم سے دجال کا حال بار بار اس اندیشہ سے بیان کیا ہے کہ کہیں تم اس کو بھول نہ جاؤ۔ اس کی حقیقت سے نا آشنا نہ رہو۔ تم کو یاد رکھنا چاہئے کہ مسیح دجال پستہ قد ہے۔ چلتے وقت اس کے پاؤں قریب ہوتے ہیں اور ایڑیاں دور دور۔ اس کے بال مڑے ہوئے ہوں گے اور وہ ایک آنکھ سے کانا ہوگا۔ دوسری آنکھ ہموار ہوگی۔ پھر بھی اگر تم شبہ میں پڑ جاؤ۔ تو اتنی بات یاد رکھو کہ تمہارا پروردگار کانا نہیں ہے۔“

(ابوداؤد ج٢ ص ٤٣٢، باب خروج الدجال)

”ابی عبیدہ ابن الجراحؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ حضرت نوح علیہ السلام کے بعد کوئی نبی ایسا نہیں گزرا۔ جس نے اپنی قوم کو دجال سے نہ ڈرایا ہو اور میں بھی تم کو اس سے ڈراتا ہوں۔ اس کے بعد آپ نے دجال کی کیفیت بیان کی اور پھر فرمایا۔ شاید تم میں سے کوئی شخص جس نے مجھ کو دیکھا ہے یا میرا کلام سنا ہے اس کو پائے۔ صحابہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ! ان ایام میں ہمارے قلوب کی کیا حالت ہوگی۔ فرمایا ایسی ہی جیسی آج کل ہے یا اس سے بہتر۔“

(ترمذی ج٢ ص ٤٦، باب ما جاء فی الدجال)

”ابی سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ دجال نکلے گا اور ایک مرد مسلمان اس کی طرف متوجہ ہوگا اور چند ہتھیار بند اشخاص دجال سے جاملیں گے۔ جو اس کے محافظ ہوں گے۔ یہ محافظ اس مرد مسلمان سے پوچھیں گے۔ کہاں جانے کا ارادہ ہے وہ کہے گا میں اس کی طرف جا رہا ہوں۔ جس نے خروج کیا ہے۔ یہ سن کر دجال کے محافظ اس سے کہیں گے تو ہمارے رب پر ایمان کیوں نہیں لاتا؟ وہ شخص کہے گا۔ ہمارے پروردگار کی صفات کسی پر مخفی نہیں ہیں۔ دجال کے آدمی آپس میں کہیں گے۔ اس کو مار ڈالو۔ لیکن بعض لوگ ظاہر کریں گے کہ کیا ہمارے پروردگار نے ہم کو یہ حکم نہیں دیا ہے کہ ہم کسی کو اس کے حکم کے بغیر قتل نہ کریں۔ غرض وہ لوگ اس مرد مسلمان کو دجال کے پاس لے جائیں گے۔ وہ جب دجال کو دیکھے گا تو لوگوں کو مخاطب کر کے کہے گا۔ یہ وہی دجال ہے جس کا ذکر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا۔ دجال اس مرد مسلمان کو چت لٹانے کا حکم دے گا۔ چنانچہ اس کو چت لٹایا جائے گا۔ پھر دجال حکم دے گا۔ اس کو پکڑو اور اس کا سر کچلو۔ چنانچہ خوب مار کر اس کی پشت اور پیٹ کو نرم کر دیا جائے گا۔ اس کے بعد دجال اس سے پوچھے گا کہ تو مجھ پر ایمان نہیں لائے گا۔ وہ مرد مسلمان جواب میں کہے گا تو جھوٹا مسیح ہے۔ پھر

٣٢

دجال کے حکم سے اس شخص کو آرے دونوں ٹکڑوں کو علیحدہ علیحدہ رکھ کہے گا کہ کھڑا ہو جا۔ وہ مرد مسلم ایمان لاتا ہے؟ وہ شخص کہے گا کہ وہ مرد مسلمان لوگوں کو خطاب کر اب کسی دوسرے آدمی کے ساتھ پکڑے گا۔ لیکن اس کی گردن تانبے اس کے ہاتھ پاؤں پکڑ کر اس کو ا اس کو آگ میں ڈالا گیا ہے۔ اللہ ﷺ نے فرمایا یہ شخص خدا کی نظر

اس جگہ کے احوال جہاں و ”فاطمہ بنت قیس فرمایا۔ خدا کی قسم! میں نے تمہیں سناؤں اور نہ اس لئے جمع کیا ہے کہ سنانے کے لئے جمع کیا ہے۔ تمیم خوشخبری دی۔ جو ان خبروں سے م نے بیان کیا کہ میں تیس دیگر آدمیوں میں آ گئی۔ ایک ماہ تک یہ موجیں ہونے کے وقت ایک جزیرہ میں پنا وہاں ہم کو ایک چار پایہ ملا۔ جس کے کہ اس کا آ گا پیچھا معلوم نہ ہوتا تھا نے کہا میں جاسوس ہوں۔ تم اس شخص بہت مشتاق ہے۔ تمیم داری کا بیان ہے اور یہ خیال کیا کہ ممکن ہے وہ شیطان نے وہاں ایک بہت بڑا اور خوفناک

صفحہ ٢٤٤

دجال کے حکم سے اس شخص کو آرے سے چیرا جائے گا اور اس کے دو ٹکڑے کر دیئے جائیں گے اور دونوں ٹکڑوں کو علیحدہ علیحدہ رکھ دیا جائے گا۔ پھر دجال ان دونوں ٹکڑوں کے درمیان چلے گا اور کہے گا کہ کھڑا ہو جا۔ وہ مرد مسلمان سیدھا کھڑا ہو جائے گا۔ دجال پھر اس سے کہے گا کہ کیا تو مجھ پر ایمان لاتا ہے؟ وہ شخص کہے گا کہ اب تو میرا یقین اور میری بصیرت بہت بڑھ گئی ہے۔ اس کے بعد وہ مرد مسلمان لوگوں کو خطاب کرے گا اور کہے گا۔ لوگو! یہ دجال جو کچھ میرے ساتھ کر چکا ہے۔ اب کسی دوسرے آدمی کے ساتھ ایسا نہیں کر سکتا۔ اس کے بعد دجال اس شخص کو قتل کرنے کے لئے پکڑے گا۔ لیکن اس کی گردن تانبے کی بنادی جائے گی۔ دجال اس کو ذبح نہ کر سکے گا اور عاجز ہو کر اس کے ہاتھ پاؤں پکڑ کر اس کو اٹھائے گا اور آگ میں پھینک دے گا۔ لوگ یہ خیال کریں گے کہ اس کو آگ میں ڈالا گیا ہے۔ لیکن حقیقت میں وہ جنت میں پھینکا گیا ہو گا۔ یہ بیان کر کے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ شخص خدا کی نظر میں شہادت کے اعتبار سے بہت بڑے درجہ کا آدمی ہوگا۔“

(مسلم ج ٢ ص ٤٠٢ ، ٤٠٣ ، باب ذکر الدجال )

اس جگہ کے احوال جہاں دجال محبوس تھا

”فاطمہ بنت قیس سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے صحابہ کو مسجد میں جمع کر کے فرمایا۔ خدا کی قسم! میں نے تمہیں اس لئے جمع نہیں کیا ہے کہ میں تم کو کچھ دوں یا کوئی خوشخبری سناؤں اور نہ اس لئے جمع کیا ہے کہ تم کو کسی دشمن سے ڈراؤں۔ بلکہ میں نے تم کو تمیم داری کا واقعہ سنانے کے لئے جمع کیا ہے۔ تمیم داری ایک مسیحی شخص تھا۔ وہ آیا اور مسلمان ہوا اور مجھ کو ایک ایسی خوشخبری دی۔ جو ان خبروں سے مشابہ تھی۔ جو میں نے تم کو مسیح اور دجال کی بابت سنائی ہیں۔ اس نے بیان کیا کہ میں تیس دیگر آدمیوں کے ساتھ دریا کی بڑی کشتی میں سوار ہوا۔ کشتی دریا کی موجوں میں آگئی۔ ایک ماہ تک یہ موجیں کشتی کو ادھر ادھر لئے پھریں۔ آخر یہ موجیں کشتی کو آفتاب غروب ہونے کے وقت ایک جزیرہ میں لے گئیں۔ ہم چھوٹی کشتیوں میں سوار ہوئے اور جزیرہ میں پہنچے۔ وہاں ہم کو ایک چار پایہ ملا۔ جس کے بڑے بڑے بال تھے اور اتنے زیادہ بال اس کے جسم پر تھے کہ اس کا اگا پیچھا معلوم نہ ہوتا تھا۔ ہم لوگوں نے اس سے کہا تجھ پر افسوس ہے تو کون ہے؟ اس نے کہا میں جاسوس ہوں۔ تم اس شخص کے پاس چلو جو گرجے میں ہے۔ وہ تمہاری خبریں سننے کا بہت مشتاق ہے۔ تمیم داری کا بیان ہے کہ اس چار پایہ نے اس شخص کا ذکر کیا تو ہم اس سے ڈرے اور یہ خیال کیا کہ ممکن ہے وہ شیطان ہو۔ غرض ہم تیزی سے آگے بڑھے اور گرجے میں پہنچے۔ ہم نے وہاں ایک بہت بڑا اور خوفناک آدمی دیکھا کہ ایسا آدمی آج تک ہماری نظروں سے نہ گزرا

٣٣

صفحہ ٢٤٤

تھا۔ وہ نہایت مضبوط بندھا ہوا تھا۔ اس کے ہاتھ گردن تک اور گھٹنے ٹخنوں تک زنجیر میں جکڑے ہوئے تھے۔ ہم نے اس سے پوچھا تجھ پر افسوس ہے تو کون ہے؟ اس نے کہا تم نے مجھ کو پالیا۔ پہلے تم یہ بتاؤ کہ تم کون ہو؟ ہم نے کہا ہم عرب کے لوگ ہیں۔ دریا میں کشتی پر سوار ہوئے تھے کہ دریا کی موجوں نے ہمیں یہاں لا ڈالا۔ اس نے پوچھا کیا وہاں کی کھجوروں کے درخت پھل لاتے ہیں؟ ہم نے کہا ہاں پھل لاتے ہیں۔ اس نے کہا وہ زمانہ قریب آنے والا ہے جب یہ درخت پھل نہ لائیں گے۔ پھر اس نے پوچھا یہ بتاؤ۔ بحیرہ طبریہ میں پانی ہے یا نہیں؟ ہم نے کہا اس میں بہت پانی ہے۔ اس نے کہا عنقریب اس کا پانی خشک ہو جائے گا۔ پھر اس نے پوچھا امیوں کے نبی کی بابت بتاؤ کہ اس نے کیا کیا؟ ہم نے کہا وہ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آ گئے ہیں۔ اس نے پوچھا کیا عرب ان سے لڑے ہیں۔ ہم نے کہا ہاں۔ اس نے پوچھا انہوں نے عرب سے کیا معاملہ کیا؟ ہم نے تمام واقعات سے اس کو آگاہ کیا اور بتایا کہ عربوں میں سے جو لوگ اس کے قریبی عزیز ہیں۔ ان پر آپ نے غلبہ حاصل کر لیا اور انہوں نے آپ کی اطاعت قبول کر لی ہے۔ اس نے کہا تم کو معلوم ہونا چاہئے کہ ان کی اطاعت کرنا ہی ان کے لئے بہتر ہے۔ اچھا اب میں اپنا حال بتاتا ہوں۔ میں مسیح الدجال ہوں۔ عنقریب مجھ کو نکلنے کا حکم دیا جائے گا۔ میں باہر نکلوں گا اور زمین پر پھروں گا۔ یہاں تک کہ کوئی آبادی ایسی نہ چھوڑوں گا جس میں داخل نہ ہوں۔ چالیس راتیں برابر گشت میں رہوں گا۔ لیکن مکہ اور مدینہ میں نہ جاؤں گا کہ وہاں مجھ کو جانے کی ممانعت کی گئی ہے۔ میں جب ان شہروں میں سے کسی میں داخل ہونے کا ارادہ کروں گا تو ایک فرشتہ جس کے ہاتھ میں تلوار ہوگی مجھ کو داخل ہونے سے روکے گا اور ان شہروں میں سے ہر ایک کے راستے پر فرشتے مقرر ہوں گے۔ جو راستہ کی حفاظت کرتے ہوں گے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے اپنے عصاء کو منبر پر مارا اور فرمایا یہ ہے طیبہ۔ یہ ہے طیبہ۔ یہ ہے طیبہ۔ یعنی مدینہ پھر آپ نے فرمایا۔ خبردار! کیا یہی میں تم کو نہ بتلایا کرتا تھا؟ لوگوں نے عرض کیا۔ ہاں۔ آپ نے فرمایا۔ آگاہ رہو کہ دجال دریائے شام میں یا دریائے یمن میں نہیں بلکہ وہ مشرق کی جانب سے نکلے گا۔ یہ فرما کر آپ نے ہاتھ سے مشرق کی جانب اشارہ کیا۔“

(مسلم ج ٢ ص ٤٠٥، باب ذکر الدجال)

”فاطمہ بنت قیس تمیم داری کی حدیث کے سلسلے میں بیان کرتی ہیں کہ تمیم داری نے یہ بیان کیا کہ جزیرہ میں داخل ہو کر کہا تو کون ہے؟ عورت نے کہا میں جاسوسہ ہوں۔ تو اس محل کی طرف جا۔ تمیم کا بیان ہے کہ میں اس محل میں گیا تو وہاں ایک شخص کو دیکھا جو اپنے بالوں کو گھسیٹتا ہے۔ زنجیروں میں بندھا ہوا ہے اور طوق پڑے ہوئے ہیں اور آسمان و زمین کے درمیان اچھلتا

٣٤

کودتا ہے۔ میں نے پوچھا تو کیا

نزول مسیح کے مزید احوال

”ابی ہریرہ سے روای نازل ہوں گے۔ وہ ایک عادل جزیہ کو اٹھا دیں گے۔ جوان ان جاتا رہے گا اور حضرت عیسیٰ علی کثرت کے سبب کوئی اسے قبول

جابر سے روایت ہے جماعت ہمیشہ حق کے واسطے لڑ عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گے حضرت عیسیٰ کہیں گے کہ میں نہ ہیں اور خاص امت کو بزرگ و

”عبداللہ بن عمرو ب نازل ہوں گے۔ نکاح کریں گے وہ وفات پائیں گے اور میری قبر

امام مہدی

”عبداللہ بن مسع نہ ہوگی جب تک عرب پر ایک میرے نام پر ہوگا اور ایک دوسر میں صرف ایک دن باقی رہ جائے سے ایک شخص کو بھیجے گا۔ جس کا نا پر ہوگا۔ وہ زمین کو عدل وانصا سے معمور تھی ۔“

صفحہ ٢٤٥

کودتا ہے۔ میں نے پوچھا تو کون ہے۔ اس نے کہا میں دجال ہوں ۔“

(ابوداؤد ج ٢ ص ١٣٥، باب فی خبر الجساسہ )

نزول مسیح کے مزید احوال

”ابی ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا۔ خدا کی قسم البتہ ابن مریم نازل ہوں گے۔ وہ ایک عادل حاکم ہوں گے۔ وہ صلیب کو توڑیں گے۔ سور کو قتل کریں گے۔ جزیہ کو اٹھادیں گے۔ جوان اونٹنیوں کو چھوڑ دیا جائے گا۔ لوگوں کے دلوں سے کینہ، بغض اور حسد جاتا رہے گا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام لوگوں کو مال و دولت کی طرف بلائیں گے۔ لیکن مال کی کثرت کے سبب کوئی اسے قبول نہ کرے گا۔“

(ابوداؤد ج ٢ ص ١٣٤، باب امارات الساعۃ )

جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں سے ایک جماعت ہمیشہ حق کے واسطے لڑتی رہے گی اور قیامت کے دن دشمنوں پر غلبہ حاصل کرے گی۔ پھر عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گے اور (میری امت کا) امیر ان سے کہے گا آؤ ہم کو نماز پڑھاؤ۔ حضرت عیسیٰ کہیں گے کہ میں امامت نہیں کرتا۔ اس لئے کہ تم میں سے بعض لوگ بعض پر امیر و امام ہیں اور خدا اس امت کو بزرگ و برتر سمجھتا ہے۔

(مسلم ج ١ ص ٨٧ قولہﷺ لا تزال طائفۃ من امتی)

”عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا۔ عیسیٰ بن مریم زمین پر نازل ہوں گے۔ نکاح کریں گے اور ان کے اولاد ہوگی۔ وہ ٤٥ برس تک دنیا میں رہیں گے۔ پھر وہ وفات پائیں گے اور میری قبر میں دفن کئے جائیں گے۔“

(مشکوٰۃ ص ٤٨٠، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام )

امام مہدی

”عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا۔ دنیا اس وقت تک فنا نہ ہوگی جب تک عرب پر ایک شخص قبضہ نہ کرے گا۔ یہ شخص میرے خاندان سے ہوگا اور اس کا نام میرے نام پر ہوگا اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا۔ اگر دنیا کے فنا ہونے میں صرف ایک دن باقی رہ جائے گا تو خدا اس دن کو دراز کر دے گا۔ یہاں تک کہ میرے خاندان سے ایک شخص کو بھیجے گا۔ جس کا نام میرے نام پر ہوگا اور جس کے باپ کا نام میرے باپ کے نام پر ہوگا۔ وہ زمین کو عدل وانصاف سے معمور کر دے گا۔ جس طرح وہ اس وقت سے پہلے ظلم وستم سے معمور تھی۔“

(ابوداؤد ج ٢ ص ١٣١، اوّل کتاب المہدی )

٣٥

صفحہ ٢٤٦

”ام سلمہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ مہدی میرے اہل بیت (عترت) میں سے ہوگا۔ یعنی اولاد فاطمہ سے ہوگا۔ ابی سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ ”مہدی میری اولاد میں سے ہوگا۔ روشن پیشانی اور اونچی ناک والا ہوگا۔ وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔ جس طرح پہلے ظلم اور بے انصافی سے بھری ہوئی تھی۔ وہ سات سال تک حکومت کرے گا۔“

(ابو داؤد ج ٢ ص ١٣١، اول کتاب المہدیؓ)

”ایک روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ وہ قوم ہرگز ہلاک نہیں ہو سکتی۔ جس کے اوّل میں مَیں ہوں اور آخر میں عیسیٰ اور وسط میں مہدی۔“

(ابو داؤد ج ٢ ص ایضاً)

ابی سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت سے مہدی ظاہر ہوگا۔ اس کی عمر اگر کم ہوئی تو سات سال ہوگی اور اگر لمبی ہوئی تو نو سال ہوگی۔ میری امت اس کے زمانے میں ایسی دولت مند ہوگی۔ جیسی کہ پہلے کبھی نہ ہوئی تھی اور اس بارے میں فاجر اور نیکوکار کی کوئی تمیز نہیں ہے۔“

(ابو داؤد ج ٢ ص ایضاً)

”زمین ظلم سے بھر جائے گی۔ اس وقت میری اولاد (عترت) سے ایک شخص کھڑا ہوگا۔ پس وہ زمین کو عدل سے بھر دے گا۔ وہ سات سال یا نو سال خلافت کرے گا۔ رسول خدا ﷺ نے فاطمہؓ کو مخاطب کر کے فرمایا۔ مہدی تمہاری اولاد سے ہوگا۔“

(ابو داؤد ج ٢ ص ایضاً)

ابن صیاد

”عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ صحابہؓ کی جماعت میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ابن صیاد کی طرف گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کو یہودی قبیلہ بن مقالہ کے محل میں بچوں کے ساتھ کھیلتا ہوا پایا۔ اس وقت وہ بلوغ کے قریب پہنچ چکا تھا۔ ابن صیاد کو ہمارا آنا معلوم نہ ہوا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کے قریب پہنچ کر اس کی پشت پر ہاتھ مارا اور فرمایا کیا تو اس امر کی شہادت دیتا ہے کہ میں خدا کا رسول ہوں۔ ابن صیاد نے آپ کی طرف دیکھا اور کہا میں اس امر کی شہادت دیتا ہوں کہ تم ناخواندہ لوگوں کے رسول ہو۔ اس کے بعد ابن صیاد نے کہا۔ کیا تم اس کی گواہی دیتے ہو کہ میں خدا کا رسول ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کو پکڑ لیا اور خوب زور سے بھینچا اور دبایا۔ اس کے بعد ابن صیاد سے کہا تو امور غیب میں سے کیا دیکھتا ہے؟ اس نے کہا کبھی سچی خبر اور کبھی جھوٹی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ تجھ پر امور کو مشتبہ کیا گیا۔ عمرؓ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ ﷺ! آپ مجھ کو اجازت دیتے ہیں کہ میں اس کی گردن اڑا دوں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔

٣٦

اگر یہ وہی دجال ہے تو تم اس پر قابو نہ پا لئے کوئی بھلائی نہیں۔ ابن عمرؓ کہتے ہیں ک ہوئے۔ جن میں ابن صیاد تھا۔ وہ درختوں تاکہ وہ اس خیال سے کہ یہاں کوئی ن ہوئے بستر پر پڑا تھا اور اس کی چادر میں کی ماں نے رسول اللہ ﷺ کو کھجوروں ک نام تھا) یہ سامنے محمد کھڑے ہیں۔ یہ سن اس کی ماں اس کو اس کے حال پر چھوڑ د

”ابی بکرہؓ کہتے ہیں کہ رسو لاولد رہیں گے۔ پھر ان کے ہاں ایک ہوں گے اور اس سے بہت کم فائدہ ہو بعد رسول اللہ ﷺ نے اس کے ماں با ہوگا۔ اس کی ناک ایسی ہوگی گویا کہ ہوگی۔ ابی بکرہؓ کہتے ہیں کہ ہم نے مد اور زبیر بن عوام اس کے ماں باپ ک اللہ ﷺ نے ان کے متعلق فرمایا ت بیان کیا کہ تیس سال تک ہم لاولد پہنچا۔ اس کی آنکھیں سوتی ہیں۔ لیک آئے۔ ناگہاں ہم نے اس لڑکے (ا گنگنا رہا تھا۔ جو کچھ میں نہ آتا تھا۔ ا کہا جو کچھ ہم نے کہا کیا تو نے سنا؟ ا

”ابو سعید خدریؓ سے روا صیاد نے مجھ سے اس تکلیف کا حال جال خیال کرتے ہیں۔ کیا تم نے و

صفحہ ٢٤٧

اگر یہ وہی دجال ہے تو تم اس پر قابو نہ پاسکو گے اور اگر یہ وہ نہیں ہے تو اس کو قتل کرنے میں تمہارے لئے کوئی بھلائی نہیں ۔ ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ ان درختوں کی طرف روانہ ہوئے ۔ جن میں ابن صیاد تھا۔ وہ درختوں کی شاخوں میں چھپ کر اس کی باتیں سننا چاہتے تھے۔ تاکہ وہ اس خیال سے کہ یہاں کوئی نہیں ہے۔ آزادی سے باتیں کرے۔ ابن صیاد چادر لپیٹے ہوئے بستر پر پڑا تھا اور اس کی چادر میں سے ایسی آواز آتی تھی۔ جو سمجھ میں نہ آتی تھی ۔ ابن صیاد کی ماں نے رسول اللہ ﷺ کو کھجوروں کی شاخوں میں چھپا ہوا دیکھ لیا اور کہا صاف (یہ ابن صیاد کا نام تھا ) یہ سامنے محمد کھڑے ہیں۔ یہ سن کر ابن صیاد خاموش ہو گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اگر اس کی ماں اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیتی تو اس کا کچھ حال معلوم ہو جاتا ۔“

(مسلم ج٢ ص٣٩٧، باب ذکر ابن صیاد)

”ابی بکرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ دجال کے ماں باپ تیس سال تک لاولد رہیں گے ۔ پھر ان کے ہاں ایک کانا لڑکا پیدا کیا جائے گا۔ جس کے دانت بڑے بڑے ہوں گے اور اس سے بہت کم فائدہ ہوگا۔ اس کی آنکھیں سوئیں گی۔ لیکن دل نہ سوئے گا۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے اس کے ماں باپ کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا۔ اس کا باپ لمبا دبلا ہوگا ۔ اس کی ناک ایسی ہوگی گویا کہ چونچ ہے اور اس کی ماں موٹی چوڑی اور لمبے ہاتھوں والی ہوگی۔ ابی بکرہؓ کہتے ہیں کہ ہم نے مدینہ کے یہود میں ایک ایسے بچے کے پیدا ہونے کی خبر سنی ہے اور زبیر بن عوام اس کے ماں باپ کے پاس گئے۔ دیکھا تو وہ دونوں ایسے ہی تھے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے متعلق فرمایا تھا۔ ہم نے ان سے پوچھا کہ کیا تمہارا کوئی لڑکا ہے؟ انہوں نے بیان کیا کہ تیس سال تک ہم لاولد رہے۔ پھر ایک کانا لڑکا پیدا ہوا۔ جس سے ہم کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔ اس کی آنکھیں سوتی ہیں۔ لیکن دل نہیں سوتا۔ ابوبکر کہتے ہیں کہ ہم ان کے پاس سے چلے آئے۔ ناگہاں ہم نے اس لڑکے (ابن صیاد ) کو دیکھا جو دھوپ میں چادر اوڑھے لیٹا تھا اور کچھ گنگنا رہا تھا۔ جو سمجھ میں نہ آتا تھا۔ اس نے سر سے چادر کو ہٹایا اور ہم سے کہا تم نے کیا کہا؟ ہم نے کہا جو کچھ ہم نے کہا کیا تو نے سنا؟ اس نے کہا ہاں میری آنکھیں سوتی ہیں دل نہیں سوتا۔“

(ترمذی ج٢ ص٥٠، باب ماجاء فی ذکر ابن صیاد)

”ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ میرا اور ابن صیاد کا مکہ کے سفر میں ساتھ ہوا۔ ابن صیاد نے مجھ سے اس تکلیف کا حال بیان کیا جو لوگوں سے اس کو پہنچی تھی اور پھر کہا کہ لوگ مجھ کو دجال خیال کرتے ہیں۔ کیا تم نے رسول اللہ ﷺ سے یہ بات نہیں سنی کہ دجال لاولد ہوگا اور

٣٧

صفحہ ٢٤٨

میرے اولاد موجود ہے اور کہا کیا رسول اللہ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ دجال مکہ اور مدینہ میں داخل نہ ہوگا اور میں مدینہ سے آ رہا ہوں اور مکہ کی طرف جا رہا ہوں۔ ابوسعید خدریؓ کہتے ہیں کہ ابن صیاد نے آخری بات مجھ سے یہ کہی کہ تم آگاہ ہو جاؤ کہ خدا کی قسم میں دجال کی پیدائش کے وقت کو جانتا ہوں۔ اس کا مکان جانتا ہوں اور یہ بھی جانتا ہوں کہ وہ اس وقت کہاں ہے اور اس کے ماں باپ کا نام بھی جانتا ہوں۔ ہمراہیوں میں سے کسی شخص نے اس سے کہا کیا تجھ کو یہ اچھا معلوم ہوتا ہے کہ تم خود ہی دجال ہو؟ ابن صیاد نے کہا اگر مجھ کو وہ صفات دے دی جاتیں جو دجال میں ہیں تو میں برا نہ سمجھوں۔“

(مسلم ج٢ ص٣٩٧، باب ذکر ابن صیاد)

تاویل اور خواب کی دنیا

دجال، یاجوج ماجوج، دوبارہ آنے والے عیسیٰ ابن مریم اور مہدی کے حالات آپ نے گذشتہ باب میں پڑھ لئے ہیں۔ یہ حالات حدیث کی مستند کتب سے لئے گئے ہیں اور علماء کا دعویٰ ہے کہ یہ حالات رسول کریم ﷺ کی بیان کردہ پیش گوئیوں پر مبنی ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ ان کے درست ہونے پر ایمان لائیں۔

یہ بھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ عرصہ سے امت کا ان پیش گوئیوں کی صحت پر اجماع رہا ہے۔ اگر امت سے مراد مولوی ہی ہیں تو مجھے اس دعویٰ سے اتفاق ہے۔ مولوی حقائق سے دور اپنی ایک الگ دنیا میں رہتے ہیں۔ جہاں کسی امر کے عقل اور قیاس کے مطابق ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ صرف یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ یہ بات روایت کی کسی کتاب میں لکھی ہے اور محدثین نے اس کو صحیح بیان کیا ہے۔ لیکن مسلمانوں کے روشن خیال پڑھے لکھے طبقہ نے ان پیش گوئیوں والی احادیث کو کبھی اہمیت نہیں دی اور نہ شعوری طور پر کبھی ان پر یقین کیا ہے۔ یہ درست ہے کہ مذہب کی نسبت سہل انگاری کی پالیسی کے تحت یہ طبقہ مولویوں کے اعتقاد کی تردید بھی نہیں کرتا کہ کون خواہ مخواہ کا جھگڑا مول لے۔ عملاً اس جھمیلے میں پڑنے کی ضرورت ہی باقی نہیں رہی۔ طبعی علوم کی ترقی کے اس دور میں دجال اور اس سے متعلقہ کرداروں کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ خود دنیا کے مسائل نے ایسی پیچیدہ شکل اختیار کر لی ہے کہ اس طرح کے جناتی تصورات میں الجھنے کی کسی کو فرصت ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عرصہ سے مولویوں کے محدود دائرہ کے باہر مسلمانوں کے کسی طبقہ کو نہ ہی دجال اور جساسہ کا خوف ہے اور نہ ان فتنوں سے نجات دلانے کے لئے کسی عیسیٰ یا مہدی کے ظہور کا انتظار۔

٣٨

صفحہ ٢٤٩

یہ حالات تھے کہ جب مرزا غلام احمد قادیانی نے مسیح موعود اور مہدی ہونے کا دعویٰ کیا اور اپنے دعویٰ کی بنیاد حدیثوں میں لکھی ہوئی رسول کریم ﷺ کی پیش گوئیوں پر رکھی۔ یہ دور معجزات کا نہیں۔ لیکن مرزا قادیانی کے ایک اعجاز کا میں قائل ہوں کہ انہوں نے حدیث کی کتب کے کونوں کھدروں سے بھولی بسری روایات نکالیں اور اپنی مسیحیت کے زور قلم سے ایک مردہ مسئلے میں جان ڈال کر اسے ایک جیتی جاگتی تصویر کی شکل میں قوم کے سامنے لا کھڑا کیا۔

احادیث کے اس چیستان کو معقول صورت دینے اور اپنے آپ کو اس کا مصداق ثابت کرنے کے لئے مرزا قادیانی نے جو عمل کیا۔ تاویل اس کے لئے مناسب لفظ نہیں ہے۔ کوئی دیگر موزوں لفظ نہ ہونے کی وجہ سے یہ لفظ استعمال کیا جا رہا ہے۔ وگرنہ تاویل کے لئے بھی کوئی قاعدہ، کوئی حد اور کوئی قرینہ ہونا چاہئے۔ لیکن مرزا قادیانی کے متعلق یہ معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے مصمم ارادہ کر لیا تھا کہ اپنے حالات کو زیر بحث احادیث کے مطابق ضرور ثابت کریں گے۔ خواہ عبارت کا سیاق و سباق، صرف و نحو کے قواعد، عربی زبان کی لغت، تاریخ، جغرافیہ، ریاضی، قیاس اور قرینہ اس کی اجازت دیں یا نہ دیں اور ظاہر ہے کہ ان قیود سے آزاد ہو کر جس چیز سے جو چیز آپ کی مرضی ہو ثابت کر سکتے ہیں۔

جیسا کہ میں اس کتاب کے مقدمہ میں لکھ چکا ہوں میں نے حال ہی میں یہ پیش گوئیاں اور ان کی تاویلات کسی قدر تفصیل سے پڑھی ہیں اور میں اپنی ذاتی واقفیت کی بناء پر یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ احمدیوں کے نوجوان طبقہ میں سے بہت کم لوگوں نے مرزا قادیانی کی کتب کا وہ حصہ پڑھا ہے۔ جس میں کہ ان احادیث کی تشریح درج ہے۔ حیرت ان بزرگوں پر ہے کہ جن کے سامنے یہ تاویلیں پیش کی گئیں اور انہوں نے مان لیں اور پھر حیرت خود مرزا قادیانی کی جرأت اور خود اعتمادی پر ہے۔ جس کی مدد سے انہوں نے اس بارے میں اپنی بات ایسے وثوق اور تحدی سے پیش کی کہ گویا یہ ایسا اظہر من الشمس امر ہے کہ اس کے ماننے کے سوا چارہ ہی نہیں۔

اس صورتحال کی ذمہ داری بہت حد تک مولویوں پر ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو مذہبی معاملات میں آزادیٔ فکر سے اس حد تک محروم کر دیا تھا کہ کسی کو جرأت نہ ہوتی تھی کہ کھلم کھلا دجال اور ظہور مسیح کی پیش گوئیوں سے ہی انکار کر دے۔ اس سے مرزا قادیانی کا کام سہل ہو گیا۔ انہوں نے اوّل ان احادیث کے ظاہری معانی مسلمانوں کے سامنے رکھے اور ان کی بعید از قیاس اور خلاف عقل تفصیلات کو ایک ایک کر کے پیش کیا اور ان سے تضحیک اور استہزاء کیا۔ اس سے مقصد یہ

٣٩

صفحہ ٢٥٠

تھا کہ غیر مولوی اور مولویوں میں سے نسبتاً آزاد خیال طبقہ اس بات کا قائل ہو جائے کہ ان پیش گوئیوں کے الفاظ کو ظاہر پر محمول کرنا درست نہیں ہے۔ اس طرز استدلال کی وضاحت کے لئے میں مرزا قادیانی کی کتاب (ازالہ اوہام ص ١٤٠، ١٤١ خزائن ج ٣ ص ١٢٢، ١٢٣) سے ایک اقتباس پیش کرتا ہوں۔ فرماتے ہیں: ”مسلمانوں کا پرانے خیالات کے موافق جو ان کے دلوں میں جمے ہوئے چلے آتے ہیں۔ یہ دعویٰ ہے کہ مسیح بن مریم سچ مچ دو فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ دھرے ہوئے آسمان سے اترے گا اور منارۂ مشرقی دمشق کے پاس آ ٹھہرے گا اور بعض کہتے ہیں کہ منارہ پر اترے گا اور وہاں سے مسلمان لوگ زینہ کے ذریعے سے اس کو نیچے اتاریں گے اور فرشتے اسی جگہ سے رخصت ہو جائیں گے اور عمدہ پوشاک پہنے ہوئے اترے گا۔ یہ نہیں کہ ننگا ہو اور پھر مہدی کے ساتھ ملاقات اور مزاج پرسی ہوگی اور باوجود اس قدر مدت گزرنے کے وہی پہلی عمر بتیس یا تینتیس برس کی ہوگی۔ اس قدر گردش ماہ وسال نے اس کے جسم وعمر پر کچھ اثر نہ کیا ہوگا۔ اس کے ناخن اور بال وغیرہ اس قدر سے نہ بڑھے ہوں گے جو آسمان پر اٹھائے جانے کے وقت موجود تھے اور کسی قدر تغیر اس کے وجود میں نہ آیا ہوگا۔ لیکن زمین پر اتر کر پھر سلسلۂ تغیرات کا شروع ہوگا۔ وہ کسی قسم کا جنگ وجدل نہیں کرے گا۔ بلکہ اس کے منہ کی ہوا میں ایسی تاثیر ہوگی کہ جہاں تک اس کی نظر پہنچے گی۔ کافر مرتے جائیں گے۔ یعنی اس کے دم میں ہی یہ خاصیت ہوگی کہ زندوں کو مارے۔ جیسے پہلے یہ خاصیت تھی کہ مردوں کو زندہ کرے۔ پھر ہمارے علماء اپنے اس پہلے قول کو فراموش کر کے یہ دوسرا قول جو اس کا نقیض ہے۔ پیش کرتے ہیں کہ وہ جنگ وجدل بھی کرے گا اور دجال یک چشم اس کے ہاتھ سے قتل ہوگا۔ یہودی بھی اس کے حکم سے مارے جائیں گے۔ پھر ایک طرف تو یہ اقرار ہے کہ مسیح موعود ہی مسیح ابن مریم نبی اللہ ہے۔ جس پر انجیل نازل ہوئی تھی۔ جس پر حضرت جبرائیل اترا کرتا تھا۔ جو خدا تعالیٰ کے بزرگ پیغمبروں میں سے ایک پیغمبر ہے اور دوسری طرف یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ دوبارہ زمین پر آ کر اپنی نبوت کا نام بھی نہیں لے گا۔ بلکہ منصب نبوت سے معزول ہو کر آئے گا اور ہمارے نبی ﷺ کی امت میں داخل ہو کر عام مسلمانوں کی طرح شریعت قرآنی کا پابند ہوگا۔ نماز اوروں کے پیچھے پڑھے گا۔ جیسے عام مسلمان پڑھا کرتے ہیں۔ بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ حنفی ہوگا۔ امام اعظم کو اپنا امام سمجھے گا۔ مگر اب تک اس بارہ میں تصریح سے بیان نہیں کیا گیا کہ چار سلسلوں میں سے کس سلسلہ میں داخل ہوگا۔ آیا وہ قادری ہوگا یا چشتی یا سہروردی یا حضرت مجدد سرہندی کی طرح نقشبندی، غرض ان لوگوں نے عیسیٰ کو نبوت کا خطاب دے کر جس درجہ پر پھر اس کا تنزل کیا ہے۔ کوئی قائم الحواس ایسا کام کبھی نہیں کر سکتا۔“

٤٠

صفحہ ٢٥١

”پھر بعد اس کے اس کے خاص کام استعارات کو حقیقت پر حمل کر کے یہ بیان کئے گئے ہیں کہ وہ صلیب کو توڑے گا۔ خنزیروں کو قتل کرے گا۔ اب جائے تعجب ہے کہ صلیب کو توڑنے سے اس کا کون سا فائدہ ہے اور اگر اس نے مثلاً دس بیس لاکھ صلیب توڑ بھی دی تو کیا عیسائی لوگ جن کو صلیب پرستی کی دھن لگی ہوئی ہے اور صلیبیں بنوا نہیں سکتے اور دوسرا فقرہ جو کہا گیا ہے کہ خنزیروں کو قتل کرے گا۔ یہ بھی اگر حقیقت پر محمول ہے تو عجیب فقرہ ہے۔ کیا حضرت مسیح کا زمین پر اترنے کے بعد عمدہ کام یہی ہوگا کہ وہ خنزیروں کا شکار کھیلتے پھریں گے اور بہت سے کتے ساتھ ہوں گے۔ اگر یہی سچ ہے تو پھر سکھوں اور چماروں اور سانسیوں اور گدھیوں وغیرہ جو جو خنزیر کے شکار کو دوست رکھتے ہیں۔ خوش خبری کی جگہ ہے کہ ان کی خوب بن آئے گی۔“

(ازالہ ص ٤٧٣، خزائن ج ٣ ص ٣٥٣)

”کیا نبی اللہ کی یہی شان ہونی چاہئے کہ وہ دنیا میں اصلاح خلق کے لئے آئے۔ مگر پھر اپنی اوقات عزیز ایک مکروہ جانور خنزیر کے شکار میں ضائع کرے۔...... اوّل تو شکار کھیلنا ہی کار بیکاراں ہے اور اگر حضرت مسیح کو شکار ہی کی طرف رغبت ہوگی ..... تو پھر کیا یہ پاک جانور جیسے ہرن، گورخر اور خرگوش دنیا میں کیا کچھ کم ہیں۔ تا ایک ناپاک جانور کے خون سے ہاتھ آلودہ کریں۔“

(ازالہ ص ٤٧٣، خزائن ج ٣ ص ٣٥٤)

”اب میں نے وہ تمام خاکہ جو میری قوم نے مسیح کے ان سوانح کا کھینچ رکھا ہے جو دوبارہ زمین پر اترنے کے بعد ان پر گزریں گے۔ پیش کر دیا ہے۔ عقلمند اس پر غور کریں کہ کہاں تک اس میں خلاف قانون قدرت باتیں ہیں۔ کہاں تک اس میں اجتماع نقیضین موجود ہے۔ کہاں تک یہ شان نبوت سے بعید ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٤٧٣، ٤٧٤، خزائن ج ٣ ص ٣٥٤)

اس اقتباس کے آخری حصہ میں مرزا قادیانی کی رائے سے مجھے کامل اتفاق ہے۔ احادیث میں بیان کردہ تصور نزول مسیح عقل اور قانون فطرت کے واقعی خلاف ہے۔ لیکن اس رائے کا منطقی نتیجہ یہ ہونا چاہئے تھا کہ مرزا قادیانی اپنی قوم کو مشورہ دیتے کہ یہ احادیث موضوع ہیں اور رد کرنے کے لائق ہیں۔ ایسی باتوں کو خبر رسول ﷺ کا درجہ کیونکر دیا جاسکتا ہے۔ آؤ ہم ان فرسودہ قصوں کو چھوڑیں اور اس کتاب کو مضبوطی سے پکڑیں جو یقینی طور پر خدا نے بھیجی ہے۔ جس کی حفاظت کا وہ خود ضامن ہے۔ جس میں تمام ہدایت آگئی ہے اور جس کی کسی بات میں شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے۔

٤١

صفحہ ٢٥٢

اگر مرزا قادیانی ایسا کرتے اور اس تبلیغ پر اپنا زور بیان صرف کرتے تو خواہ وہ اپنی الگ جماعت بنانے میں کامیاب ہوتے یا نہ۔ میں انہیں دور حاضر کا بہت بڑا مصلح اور مجدد دین مان لیتا۔ لیکن ان کی غرض فاسد عقائد کی اصلاح نہ تھی۔ بلکہ یہ تھی کہ کسی طرح اپنے دعویٰ نبوت ومجددیت کی تائید رسول کریم کی پیش گوئیوں سے کی جائے۔ ظاہر ہے کہ اس مقصد کے پیش نظر وہ ان احادیث کو رد نہ کر سکتے تھے۔ اس لئے احادیث کے مضمون پر مخالفانہ تنقید اور تضحیک کے ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ روایات غلط نہیں ہوسکتیں۔ مثلاً اگر کوئی حدیث صحیح بخاری میں درج ہے تو اس بات کو خاص طور سے نمایاں کیا ہے کہ بخاری اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے۔ لیکن اگر کوئی روایت صحیحین میں نہیں آئی۔ لیکن اس سے اپنے دعویٰ کی نسبت کسی تاویل کے ذریعہ استمداد کی جاسکتی ہے تو پھر مرزا قادیانی نے اس امر کا ذکر نہیں کیا کہ بخاری اور مسلم میں یہ حدیث نہیں آئی۔ اس صورت میں انہوں نے یہ کہنے پر اکتفا کر دیا ہے کہ یہ روایت صحاح ستہ میں درج ہے۔ اس کے ساتھ ہی احادیث کے معانی وہ کئے ہیں جن کے متحمل نہ الفاظ ہوتے ہیں اور نہ کوئی قرائن اس طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اس کے باوجود مرزا قادیانی کو بہت مشکل کام در پیش تھا۔ روایات اتنی متناقض اور متضاد تھیں کہ تمام تاویلات کے باوجود مرزا قادیانی ان میں کوئی قابل قبول تطابق پیدا نہیں کر سکے۔ بلکہ اس کوشش میں خود مرزا قادیانی کی کتب اور اکثر ایک ہی کتاب کے مختلف حصص میں بین تضاد واقع ہو گیا ہے اور مجھے حیرت ہے کہ ان کی اور ان کے مریدوں کی اس طرف توجہ کیوں نہیں ہوئی۔

مثال کے طور پر دجال اور مسیح ابن مریم کی نسبت سب سے لمبی حدیث نواس بن سمعان سے مروی ہے۔ اُس میں دجال کی شخصیت اور اس کے سوانح کی نسبت اتنی تفصیل سے خبر دی گئی ہے کہ مرزا قادیانی کے لئے یہ مشکل ہو گیا کہ اس کی مکمل تاویل اپنے زمانہ کے حالات کے مطابق کریں۔ ویسے دجال کی نسبت مرزا قادیانی کو چنداں دل چسپی نہ تھی۔ لیکن احادیث میں ظہور مسیح دجال کے زمانہ کے ساتھ وابستہ کر دیا گیا ہے اور مسیح کے اہم کاموں میں دجال کے ساتھ مقابلہ اور اس کو قتل کرنا شامل ہیں۔ اس لئے مرزا قادیانی کے لئے یہ ضروری ہو گیا کہ دجال کے قصہ کی نسبت کوئی نہ کوئی توجیہہ پیش کریں۔

(ازالہ اوہام ص ٢٢٠ تا ٢٢٤، خزائن ج ٣ ص ٢٠٩ تا ٢١٣) میں پہلے تو مرزا قادیانی نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ نواس بن سمعان کی حدیث ہی موضوع اور قابل رد ہے۔ کم از کم اس حدیث میں جو خروج دجال کی نسبت پیش گوئی ہے۔ اس کے متعلق مرزا قادیانی کی رائے یہی

٤٢

صفحہ ٢٥٣

معلوم ہوتی ہے کہ یہ آخری زمانہ کی نسبت نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ رسول کریم ﷺ کے خیال کے مطابق دجال سے مراد ایک شخص ابن صیاد ہے جو نبی کے زمانہ میں موجود تھا۔ اس نظریہ کے حق میں مرزا قادیانی نے اپنے دلائل ان الفاظ میں بیان کئے ہیں۔

”یہ (نواس بن سمعان والی) وہ حدیث ہے جو صحیح مسلم میں امام مسلم صاحب نے لکھی ہے جس کو ضعیف سمجھ کر رئیس المحدثین امام محمد اسماعیل بخاریؒ نے چھوڑ دیا ہے۔ اس جگہ حیرانی کا یہ مقام ہے کہ جو کچھ دجال کے حالات وصفات اس حدیث میں لکھے گئے ہیں اور جس طرز سے اس کے آنے کی خبر بتائی گئی ہے۔ یہ بیان دوسری حدیثوں کے بیان سے بالکل منافی اور مبائن اور مخالف پایا جاتا ہے۔ کیونکہ صحیحین میں یہ حدیث بھی ہے کہ محمد بن منکدر تابعی سے روایت ہے کہ کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ کو دیکھا کہ خدا تعالیٰ کی قسم کھاتا تھا کہ ابن صیاد ہی دجال معہود ہے اور محمد بن منکدر کہتا ہے کہ میں نے جابر کو کہا کہ کیا تو خدا تعالیٰ کی قسم کھاتا ہے۔ یعنی یہ امر تو ظنی ہے نہ یقینی۔ پھر قسم کیوں کھاتا ہے۔ جابر نے کہا کہ میں نے عمرؓ کو بحضور رسول اللہ ﷺ اس بارہ میں قسم کھاتے سنا۔ یعنی عمرؓ پیغمبر ﷺ کے روبرو قسم کھا کر کہا کرتا تھا کہ ابن صیاد ہی دجال معہود ہے۔ پھر ایک دوسری حدیث یہ بھی ہے کہ نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر کہتے تھے کہ مجھے قسم ہے۔ اللہ تعالیٰ کی کہ میں ابن صیاد کے مسیح دجال ہونے میں شک نہیں کرتا۔

اب جب کہ خاص صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے بیان سے ثابت ہو گیا کہ ابن صیاد ہی دجال معہود ہے۔ بلکہ صحابہؓ نے قسمیں کھا کر کہا کہ یہی دجال ہے۔ تو کیا اس کے دجال ہونے میں کچھ شک رہ گیا ہے؟

یہ کیسا عجیب معاملہ ہے کہ بعض صحابہؓ قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ ابن صیاد ہی دجال ہے اور صحیحین میں بروایت جابر لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے قسم کھانے پر کہ دجال معہود وہی شخص ہے۔ خاموشی اختیار کر کے اپنی رائے ظاہر کر دی کہ درحقیقت دجال معہود ابن صیاد ہی تھا اور صحیح مسلم میں ابن صیاد کا مشرف بہ اسلام ہونا اور صاحب اولاد ہونا اور مکہ مدینہ میں جانا بوضاحت تمام لکھا ہے۔ اب ہر ایک منصف بنظر انصاف دیکھ سکتا ہے کہ جن کتابوں میں دجال کے آخری زمانے میں ظاہر ہونے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ سے مارے جانے کی خبر لکھی ہے۔ انہیں کتابوں میں یہ لکھا ہوا موجود ہے کہ دجال معہود آنحضرت ﷺ کے زمانے میں ہی ظاہر ہو گیا تھا اور مشرف بہ اسلام ہو کر فوت ہو گیا تھا اور اس کا مشرف بہ اسلام ہونا بھی ازروئے اس پیش گوئی کے ضروری تھا۔ جو بخاری اور مسلم میں آنحضرت ﷺ کی طرف سے بپیرایہ ایک خواب کے بیان ہو چکی

٤٣

صفحہ ٢٥٤

ہے۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ نے اس کو عالم رؤیا میں خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا تھا۔ بہر حال جب کہ انہیں حدیثوں میں دجال معہود کا اس طرح پر فیصلہ کیا گیا ہے تو پھر دوسری حدیثوں پر جو ان کی ضد واقع ہیں۔ کیونکر اعتبار کیا جائے۔"

اس عبارت سے ظاہر ہو گیا کہ مرزا قادیانی اس مسلک کے بالکل قریب پہنچ چکے ہیں کہ دجال والی پیش گوئی کو مکمل طور سے رد کر دینا چاہئے۔ بلکہ ایک جگہ تو وہ دونوں نظریات یعنی یہ کہ دجال آخری زمانے میں ظاہر ہوگا یا یہ کہ ابن صیاد ہی دجال ہے سے انکار کرتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں اور یہ رائے پیش کرتے ہیں کہ اگر ان دو متضاد مضامین والی احادیث کی تطبیق کرنا ممکن نہیں۔ (جو کہ فی الواقع کسی معقول طریق پر ممکن نہیں ہے) تو اصول اذا تعارضا تساقطا پر عمل کر کے دونوں قسم کی حدیثوں کو ساقط از اعتبار کرنا چاہئے۔

لیکن مرزا قادیانی مکمل طور پر اس مسلک کو نہیں اپناتے۔ کیونکہ اس صورت میں ان کے اپنے دعویٰ کی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی۔ اگر دجال کی نسبت احادیث کو رد کر دیا جائے تو عیسیٰ علیہ السلام (یا ان کے مثیل) کے ظہور کا سوال ہی کہاں پیدا ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ ذکر انہی احادیث کا جزو ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی نے یہ راہ اعتدال اختیار کی ہے کہ پیش گوئی کے جس حصہ کی کوئی تاویل ممکن ہے اس کی تاویل کی جائے۔ خواہ وہ معقولیت سے کتنی ہی عاری ہو۔ لیکن جو حصے ایسے رہ جاتے ہیں۔ جن کی تاویل مرزا قادیانی کے لئے اپنے تمام فن کو بروئے کار لانے کے بعد بھی ممکن نہیں۔ ان حصوں کو تضحیک کا نشانہ بنایا جائے اور رد کر دیا جائے۔

اب میں اس تاویل کے چند نمونے پیش کرتا ہوں اور اس بات کا فیصلہ کہ مرزا قادیانی اس مہم میں کس حد تک کامیاب ہوئے ہیں۔ قارئین پر چھوڑتا ہوں۔ شاید سب سے دل چسپ بات دمشق کی نسبت ہے۔ بظاہر خیال گذرے گا کہ دمشق ایک خاص شہر کا نام ہے۔ اس میں تاویل کی ضرورت کیا ہے اور گنجائش کہاں ہے۔ لیکن آپ مرزا قادیانی کا استدلال ملاحظہ کریں۔ (آئینہ کمالات اسلام ص ٣٥٦، خزائن ج ٥ ص ٣٥٦) میں علماء کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں۔ (اصل عبارت عربی میں ہے اس کا ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے)

”ان کو یہ خبر کہاں سے ملی ہے اور یہ کس دلیل پر یقین رکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس دمشق میں نازل ہوں گے جو ملک شام کا قاعدہ (دارالخلافہ) ہے۔ کیا رسول کریم ﷺ ان علماء کے ہمراہ دمشق تک گئے ہیں اور وہاں جا کر ان کو وہ منارہ اور موضع نزول مسیح دکھایا ہے یا کیا حضور ﷺ نے اس مقام کا نقشہ کاغذ پر بنا کر ان کو دکھایا ہے۔ جس سے یہ جگہ ان کے ذہن نشین

٤٤

صفحہ ٢٥٥

ہوگئی ہے اور اب وہ اس سے انکار نہیں کرتے اور پھر کیا اس شہر کو حرمین اور دیگر شہروں پر کوئی فضیلت حاصل ہے اور اس شہر کے رہنے والے سب پاک باز لوگ ہیں اور چاہئے کہ ان کو اس بات سے دھوکہ نہ ہو کہ احادیث میں لفظ دمشق آیا ہے۔ یہ تو ایک عام مفہوم والا لفظ ہے اور اس کے کئی معانی ہیں۔ جن کو کہ اہل علم لوگ اچھی طرح جانتے ہیں۔ ان معانی میں سے ایک خاص شہر کا نام ہے۔ اسی طرح یہ لفظ نسل کنعان کی ایک قوم کے سردار کے لئے بھی استعمال ہوا ہے اور ناقہ اور جمل بھی۔ اس کے معنی ہیں اور یہ لفظ مرد چابک دست کے معنی میں بھی بولا جاتا ہے۔ ان کے علاوہ اس کے کئی اور معنی بھی ہیں۔ پس اس خاص معنی (یعنی شہر کے نام) میں کیا خاص بات ہے کہ علماء اس پر اصرار کرتے ہیں اور دیگر معانی سے اعراض کرتے ہیں۔"

یہاں مرزا قادیانی نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ آخر اتنے بہت سے معانی میں سے حدیث میں یہ لفظ کس خاص معنی میں استعمال ہوا ہے۔ آخر اگر رسول کریم ﷺ نے یہ لفظ استعمال کیا ہے اور فرمایا ہے کہ مسیح ابن مریم نازل ہوگا۔ دمشق کے مشرق میں منارۃ البیضاء کے پاس تو دمشق سے ان کی کیا مراد تھی؟ شام کا شہر، کسی قوم کا سردار، ناقہ، جمل، ہوشیار آدمی یا کچھ اور؟ اور پھر اس خاص اور درست معنی کے لحاظ سے سیاق اور سباق کے دیگر الفاظ کے کیا معنی ہیں؟ دمشق کے ”مشرق“ سے کیا مراد ہے؟ منارۃ البیضاء کا کیا مفہوم ہے؟ اور اس کے پاس نازل ہونے سے کیا مطلب ہے؟ اس موقع پر ان سب سوالات میں سے صرف ایک اور لفظ یعنی منارہ کا انہوں نے ذکر کیا ہے۔ کہتے ہیں: ”اسی طرح لفظ منارہ ہے جو حدیث میں آیا ہے۔ اس سے مراد موضع نور ہوتا ہے اور کبھی یہ لفظ اس نشان کی نسبت بولا جاتا ہے جس سے لوگ راستہ معلوم کرتے ہیں۔ پس یہ اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ آنے والا مسیح ان انوار سے پہچانا جائے گا۔ جو اس کے دعویٰ سے پہلے آئیں گے اور نشان اور علم کا کام دیں گے تاکہ لوگ اس تک اپنی راہ پالیں۔"

(آئینہ کمالات اسلام ص ٤٥٧، خزائن ج ٥ ص ٤٥٧)

مرزا قادیانی نے اپنی ایک دوسری تصنیف (ازالۃ اوہام ص ٦٧، خزائن ج ٣ ص ١٣٥، ١٣٦) میں دمشق کے معاملے پر مزید روشنی ڈالی ہے۔ جیسا کہ کتاب کا نام ظاہر کرتا ہے۔ مرزا قادیانی نے کوشش کی ہے کہ مسئلہ بالکل صاف ہو جائے اور کوئی شبہات باقی نہ رہ جائیں۔ یہ اور بات ہے کہ ان کا طرز استدلال بہت کم لوگوں کی سمجھ میں آسکے گا۔ یہاں انہوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ حدیث میں لفظ دمشق سے مراد نہ تو شام کا دارالخلافہ ہے اور نہ ہی وہ دوسرے معانی ہیں۔ جن کا ذکر (آئینہ کمالات اسلام) والی عبارت میں ہے۔ بلکہ اصل میں دمشق کے معنی قادیان کا قصبہ ہے۔ اس

٤٥

صفحہ ٢٥٦

بارے میں مرزا قادیانی کی دلیل ان کے اپنے الفاظ میں حسب ذیل ہے۔

”پس واضح ہو کہ دمشق کے لفظ کی تعبیر میں میرے پر من جانب اللہ یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس جگہ ایسے قصبے کا نام دمشق رکھا گیا ہے۔ جس میں ایسے لوگ رہتے ہیں جو یزیدی الطبع اور یزید پلید کی عادات اور خیالات کے پیرو ہیں۔ جن کے دلوں میں اللہ اور رسول کی کچھ محبت نہیں اور احکام الٰہی کی کچھ عظمت نہیں۔ جنہوں نے اپنی نفسانی خواہشوں کو اپنا معبود بنا رکھا ہے اور اپنے نفس امارہ کے حکموں کے ایسے مطیع ہیں کہ مقدسوں اور پاکوں کا خون بھی ان کی نظر میں سہل اور آسان امر ہے اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور خدا تعالیٰ کا موجود ہونا ان کی نگاہ میں ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جو انہیں سمجھ نہیں آتا اور چونکہ طبیب کو بیماروں ہی کی طرف آنا چاہئے۔ اس لئے ضرور تھا کہ مسیح ایسے لوگوں میں ہی نازل ہو۔ غرض مجھ پر یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ دمشق کے لفظ سے دراصل وہ مقام مراد ہے جس میں دمشق والی مشہور خاصیت پائی جاتی ہو اور خدا تعالیٰ نے مسیح کے اترنے کی جگہ جو دمشق کو بیان کیا تو یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مسیح سے مراد وہ اصلی مسیح نہیں جس پر انجیل نازل ہوئی تھی۔ بلکہ مسلمانوں میں سے کوئی ایسا شخص مراد ہے جو اپنی روحانی حالت کی رو سے مسیح سے اور نیز امام حسین سے بھی مشابہت رکھتا ہے۔ کیونکہ دمشق پایہ تخت یزید ہو چکا ہے اور یزیدیوں کا منصوبہ گاہ۔ جس سے ہزار ہا طرح کے ظالمانہ احکام نافذ ہوئے۔ وہ دمشق ہی ہے اور یزیدیوں کو ان یہودیوں سے بہت مشابہت ہے جو حضرت مسیح کے وقت میں تھے اور ایسا ہی حضرت امام حسین کو اپنی مظلومانہ زندگی کی رو سے حضرت مسیح سے غایت درجہ کی مماثلت ہے۔“

(ازالہ اوہام ص٧٦، ٧٧، خزائن ج٣ ص١٣٥، ١٣٦)

آگے چل کر مرزا قادیانی نے اس پیچیدہ مماثلت اور استعارہ پر مزید بحث کی ہے۔ جس کا مکمل طور پر نقل کرنا طوالت کا موجب ہوگا۔ بالآخر مرزا قادیانی اس حیرت انگیز نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ نزول مسیح والی حدیث میں دمشق کے لفظ سے مراد قادیان ہے۔ لیکن اس بارے میں اپنے استدلال کی کمزوری کو محسوس کرتے ہوئے انہوں نے الہام کا بھی سہارا لیا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں:

”اس بارے میں قادیان کی نسبت مجھے یہ بھی الہام ہوا کہ ”اخرج منہ الیزیدون“ یعنی اس میں یزیدی لوگ پیدا کئے گئے ہیں۔“

(ازالہ اوہام ص٧١، خزائن ج٣ ص١٣٨)

یہ امر قابل غور ہے کہ ایک کتاب میں تو مرزا قادیانی شام کے شہر دمشق کو موضع نزول مسیح ماننے سے اس وجہ سے انکار کرتے ہیں کہ اس شہر کو دیگر شہروں بالخصوص مکہ و مدینہ پر فضیلت دینے کی کوئی وجہ نہیں ہے اور یہ کہ اس شہر کے سب لوگ پاک باز نہیں ہیں۔ لیکن دوسری کتاب میں اس

٤٦

صفحہ ٢٥٧

کے بالکل برعکس یہ رائے پیش کرتے ہیں کہ نزول مسیح کے لئے مناسب مقام وہ شہر ہوگا جس کے باشندے اپنی بدطینتی میں نمایاں حیثیت رکھتے ہوں۔

الہام سے قطع نظر مرزا قادیانی نے قادیان کے لوگوں کی نسبت وہ خاص باتیں ہمیں نہیں بتائیں ۔ جن کی بناء پر وہ ان کے لئے یزیدیوں کا عجیب و غریب لقب تجویز فرماتے ہیں۔ جہاں تک ہمیں علم ہے اس بارے میں بھی قادیان کو پنجاب کی دیگر آبادیوں پر کوئی شرف حاصل نہیں ہے۔

تاویل کے لئے مرزا قادیانی نے اس پر اکتفا نہیں کیا۔ بلکہ دعویٰ کیا ہے کہ انہیں اس سے بھی زیادہ واضح الہام اور کشف کے ذریعہ اطلاع دی گئی ہے کہ مسیح موعود نے قادیان میں پیدا ہونا تھا اور یہ کہ دمشق سے مراد قادیان ہی ہے۔ اوّل الہام کو لیجئے۔ فرماتے ہیں: ”یہ بھی مدت سے الہام ہو چکا ہے۔ 'انا انزلناه قریباً من القادیان وبالحق انزلناه وبالحق نزل وکان وعد اللہ مفعولا ‘ ‘ یعنی ہم نے اس کو قادیان کے قریب اتارا ہے اور سچائی کے ساتھ اتارا ہے اور سچائی کے ساتھ اترا اور ایک دن وعدہ اللہ کا پورا ہونا تھا۔ اس الہام پر نظر کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قادیان میں خدا تعالیٰ کی طرف سے اس عاجز کا ظاہر ہونا الہامی نوشتوں میں بطور پیش گوئی کے پہلے سے لکھا گیا تھا۔ اب چونکہ قادیان کو اپنی ایک خاصیت کی رو سے دمشق سے مشابہت دی گئی تو اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ قادیان کا نام پہلے نوشتوں میں استعارہ کے طور پر دمشق رکھ کر پیش گوئی بیان کی گئی ہوگی ۔ کیونکہ کسی کتاب حدیث یا قرآن شریف میں قادیان کا نام لکھا ہوا نہیں پایا جاتا اور یہ الہام جو براہین احمدیہ میں بھی چھپ چکا ہے۔ بصراحت وبآواز بلند ظاہر کر رہا ہے کہ قادیان کا نام قرآن شریف میں یا احادیث نبویہ میں بوجہ پیش گوئی ضرور موجود ہے اور چونکہ موجود نہیں تو بجز اس کے اور کس طرف خیال جا سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے قادیان کا نام قرآن شریف یا احادیث نبویہ میں کسی اور پیرایہ میں ضرور لکھا ہو گا اور اب جو ایک نئے الہام سے یہ بات پایہ ثبوت پہنچ گئی کہ قادیان کو خدا تعالیٰ کے نزدیک دمشق سے مشابہت ہے تو اس پہلے الہام کے معنی بھی اس سے کھل گئے ۔ گویا یہ فقرہ جو اللہ جل شانہ نے الہام کے طور پر اس عاجز کے دل پر القاء کیا ہے کہ : ”انا انزلناه قریباً من القادیان “ اس کی تفسیر یہ ہے کہ: ”انا انزلناه من دمشق بطرف شرقی عند المنارة البیضاء“ کیونکہ اس عاجز کی سکونتی جگہ قادیان کے شرقی کنارہ پر ہے۔ منارہ کے پاس۔“

(ازالہ اوہام ص ٧٣ تا ٧٥ ، خزائن ج ٣ ص ١٣٨، ١٣٩)

٤٧

صفحہ ٢٥٨

(یہاں یہ بتا دینا مناسب ہوگا کہ یہ منارہ مرزا قادیانی نے خود تعمیر کرایا تھا اور ظاہر ہے کہ حدیث کے الفاظ کو ملحوظ رکھتے ہوئے وہیں بنایا جہاں بنانا چاہئے تھا۔ یعنی اپنے مکان کے پاس اس سے مغرب کی طرف) اگر یہ تحریر میں نے اصل کتاب میں نہ پڑھی ہوتی تو مجھے کبھی یقین نہ آتا کہ اس قسم کی دلیل کوئی آدمی کسی سنجیدہ موضوع کی بحث میں پیش کر سکتا ہے۔ میرے لئے اس پر کسی طرح کی تنقید کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ کس جزو سے شروع کروں اور کس کس پہلو کی نسبت لکھوں۔ وخامہ انگشت بدنداں کہ اسے کیا کہئے۔

میں تو بار بار سوچنے کے بعد بھی اپنے ذہن میں اس استدلال کا کوئی مربوط سلسلہ قائم کرنے سے ہی قاصر ہوں۔ آنحضرت مسیح کے مصلوب کئے جانے، یہود کے مظالم اور امام حسین علیہ السلام کی شہادت، یزید کی حکومت کا پایہ تخت۔ ان سب باتوں کا آپس میں کیا تعلق ہے؟ اور اگر کھینچ تان کر ان سب باتوں کو کسی طرح جوڑ دیا جائے تو پھر اس قصے میں پنجاب کا گاؤں قادیان کیسے داخل ہو جائے گا؟

سابقہ حوالہ سے ظاہر ہوگا کہ مرزا قادیانی کو اس بارے میں ایک الجھن یہ تھی کہ ان کے الہام کے مطابق سابقہ پیش گوئیوں میں مسیح کے قادیان میں نازل یا پیدا ہونے کی بشارت ہونی چاہئے۔ لیکن ان کے اپنے الفاظ میں صورت یہ ہے کہ کسی کتاب حدیث یا قرآن شریف میں قادیان کا نام لکھا ہوا پایا نہیں جاتا۔ لیکن بالآخر یہ کھوئی ہوئی کڑی بھی مرزا قادیانی کے ایک کشف نے مہیا کر دی اور ان کو اس معاملہ میں پورا اطمینان ہو گیا۔ فرماتے ہیں: ’’اس جگہ مجھے یاد آیا ہے کہ جس روز وہ الہام مذکورہ بالا جس میں قادیان میں نازل ہونے کا ذکر ہے ہوا تھا۔ اس روز کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب مرحوم مرزا غلام قادر میرے قریب بیٹھ کر بآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے تھے اور پڑھتے پڑھتے انہوں نے ان فقرات کو پڑھا کہ: ’’انا انزلناہ قریباً من القادیان ‘‘ تو میں نے سن کر بہت تعجب کیا کہ قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے۔ تب انہوں نے کہا کہ یہ دیکھو لکھا ہوا ہے۔ تب میں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ میں شاید قریب نصف کے موقعہ پر یہی الہامی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے۔ تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے اور میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے۔ مکہ، مدینہ اور قادیان۔‘‘

(ازالہ اوہام ص٧٦، ٧٧، خزائن ج٣ ص١٤٠)

خواب اور کشف کی ماہیت کی نسبت میں اپنے خیالات اس کتاب میں ایک دوسرے

٤٨

صفحہ ٢٥٨

کہ یہ منارہ مرزا قادیانی نے خود تعمیر کرایا تھا اور ظاہر ہے وہیں بنایا جہاں بنانا چاہئے تھا۔ یعنی اپنے مکان کے پاس نے اصل کتاب میں نہ پڑھی ہوتی تو مجھے کبھی یقین نہ آتا موضوع کی بحث میں پیش کر سکتا ہے۔ میرے لئے اس پر ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ کس جزو سے شروع کروں اور کس بدحواس کہ اسے کیا کہئے۔

میں اپنے ذہن میں اس استدلال کا کوئی مربوط سلسلہ قائم سیح کے مصلوب کئے جانے، یہود کے مظالم اور امام حسین کے تحت۔ ان سب باتوں کا آپس میں کیا تعلق ہے؟ اور چھوڑ دیا جائے تو پھر اس قصے میں پنجاب کا گاؤں قادیان

زا قادیانی کو اس بارے میں ایک الجھن یہ تھی کہ ان کے مسیح کے قادیان میں نازل یا پیدا ہونے کی بشارت ہونی یقت یہ ہے کہ کسی کتاب حدیث یا قرآن شریف میں مگر یہ کھوئی ہوئی کڑی بھی مرزا قادیانی کے ایک کشف اطمینان ہو گیا۔ فرماتے ہیں: ”اس جگہ مجھے یاد آیا ہے قادیان میں نازل ہونے کا ذکر بھی ہوا تھا۔ اس روز کشفی ب مرحوم مرزا غلام قادر میرے قریب بیٹھ کر بآواز بلند تھے انہوں نے ان فقرات کو پڑھا کہ: ”انا انزلناہ سخت تعجب کیا کہ قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں لکھا لکھا ہے۔ تب میں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو معلوم ہوا میں شاید قریب نصف کے موقعہ پر یہی الہامی عبارت دلیل میں کہا کہ ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن بستیوں کا نام قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے۔ مکہ،

(ازالہ اوہام ص ٧٦، ٧٧، خزائن ج ٣ ص ١٤٠)

بحث میں اپنے خیالات اس کتاب میں ایک دوسرے

٤٨

٢٥٩ مقام پر پیش کروں گا۔ فی الحال براہ راست زیر بحث معاملہ کے لئے اتنا کہہ دینا ہی کافی ہے کہ مرزا قادیانی کے کہنے کے مطابق ان کے سامنے سوال یہ تھا کہ آیا قرآن اور حدیث میں قادیان کا نام درج ہے یا نہیں۔ یہ ایک واقعاتی امر ہے۔ جس کا فیصلہ ان کتابوں کے مطالعہ سے ہو سکتا ہے۔ خواب یا کشف کا اس میں کوئی دخل نہیں ہے۔

ایک ضمنی سی لیکن دل چسپ بات یہ بھی بیان کئے دیتا ہوں کہ کشف کی بناء پر تو مرزا قادیانی قادیان کو تقدس دے کر مکہ اور مدینہ کا ہمسر بنا رہے ہیں۔ لیکن اس سے پہلے اپنے ہی ایک الہام کی بناء پر اسی قادیان کو یزیدی صفت لوگوں کے پیدا ہونے کی جگہ بتایا ہے اور اس وجہ سے اس شہر کو دمشق سے مشابہت دی ہے۔

معلوم یہ ہوتا ہے کہ ان تمام براہین قاطع کے استعمال کے بعد بھی مرزا قادیانی کو پورا اعتماد نہیں ہوا کہ ان کے مخاطب لوگ ان کی تاویلات اور توجیہات پر ایمان لے آئیں گے۔ اس لئے مذبذب لوگوں کی تسلی کے لئے انہوں نے ایک اور صورت بھی پیش کی ہے اور وہ یہ کہ فی الحال تو قادیان کو دمشق سمجھ کر ایمان لے آؤ۔ ہو سکتا ہے کہ بعد میں اصل دمشق میں کوئی دوسرا مسیح نازل ہو جائے۔ اس وقت دیکھا جائے گا یہ گنجائش مرزا قادیانی نے ان الفاظ میں ظاہر کی ہے۔

”اب اگر چہ میرا دعویٰ تو نہیں اور نہ ایسے کامل تصریح سے خدا تعالیٰ نے میرے پر کھولا ہے کہ دمشق میں کوئی مثیل مسیح پیدا نہیں ہوگا۔ بلکہ میرے نزدیک ممکن ہے کہ کسی آئندہ زمانہ میں خاص کر دمشق میں کوئی مثیل مسیح پیدا ہو جائے۔ مگر خدا تعالیٰ خوب جانتا ہے اور وہ اس بات کا شاہد حال ہے کہ اس نے قادیان کو دمشق سے مشابہت دی ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٧٢، ٧٣، خزائن ج ٣ ص ١٣٨)

اب مختصرًا اس موضوع پر مرزا قادیانی کی چند مزید تصریحات کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اس کتاب کے محدود مقصد کے لئے تمام تاویلات کا ذکر کرنا غیر ضروری ہے اور اس کے لئے وقت اور گنجائش بھی نہیں اور بہر حال جو لوگ دمشق کی نسبت مرزا قادیانی کی تاویل کو قابل قبول سمجھتے ہیں۔ ان کے لئے دیگر توجیہات پر ایمان لے آنا بھی چنداں مشکل نہ ہوگا۔

تخیل کو سب سے زیادہ کام میں لانے کی ضرورت مرزا قادیانی کو لفظ دجال کی تشریح میں پیش آئی ہے۔ جیسا کہ پہلے کہا جا چکا ہے۔ اوّل تو مرزا قادیانی نے یہ نظریہ پیش کیا کہ آخری زمانے میں کسی دجال کے خروج کا خیال ہی غلط ہے اور عقلی و نقلی دونوں لحاظ سے ثابت نہیں۔ حیرت ہے کہ اس نظریہ کے باوجود مرزا قادیانی دجال کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے اور بالآخر بڑی تحقیق کے بعد یہ خیال پیش کیا کہ دجال سے مراد ایک فرد واحد نہیں ہے۔ بلکہ حدیث میں یہ لفظ

٤٩

صفحہ ٢٦٠

ایک تمثیلی رنگ میں استعمال ہوا ہے اور اس نام سے مقصد ایک قوم کی خاصیت کو ظاہر کرنا ہے۔ اپنے موضوع کی مناسبت کے لحاظ سے مرزا قادیانی نے بعض جگہ تو دجال سے مراد انگریز قوم لی ہے اور بعض جگہ پادریوں کا گروہ۔ مرزا قادیانی کے لئے اپنے دعوئی مسیحیت کو ثابت کرنے کے لئے کسی نہ کسی دجال کو پیش کرنا ضروری تھا۔ اس لئے جہاں حدیث میں مذکورہ دجال کے مافوق العادت کارناموں کا ذکر آیا ہے۔ وہاں اس سے مراد انگریز قوم لی ہے اور جہاں دجال کا مسلمانوں اور مسیح سے مقابلے کا ذکر آیا ہے۔ وہاں اس کو عیسائی پادریوں سے مشخص کر دیا ہے۔ اس ضمن میں اپنی حاجت کا ذکر بھی مرزا قادیانی نے کھلم کھلا کر دیا ہے۔

(ازالہ اوہام ص ٧٢١، ٧٢٢، خزائن ج ٣ ص ٤٨٨) میں لکھتے ہیں۔ ’’اس عاجز کے مسیح موعود ہونے پر یہ نشان ہے کہ مسیح موعود کے ظہور کی خصوصیت کے ساتھ یہ علامت ہے کہ دجال معہود کے خروج کے بعد نازل ہوگا۔ کیونکہ یہ ایک واقعہ مسلمہ ہے کہ دجال معہود کے خروج کے بعد آنے والا وہی سچا مسیح ہے جو مسیح موعود کے نام سے موسوم ہے اور ضرور ہے کہ وہ دجال معہود کے بعد نازل ہو۔ سو یہ عاجز دجال معہود کے خروج کے بعد آیا ہے۔ پس اس میں کچھ شک نہیں کہ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ دجال معہود یہی پادریوں اور عیسائی متکلموں کا گروہ ہے۔ جس نے زمین کو اپنے ساحرانہ کارناموں سے تہہ و بالا کر دیا ہے اور جو ٹھیک ٹھیک اس وقت سے زور کے ساتھ خروج کر رہا ہے تو ساتھ ہی اس عاجز کا مسیح موعود ہونا بھی ثابت ہو جائے گا۔‘‘

اس صورت کے پیش نظر مرزا قادیانی نے پورا زور اس بات پر صرف کیا ہے کہ کسی طرح ثابت ہو جائے کہ دجال کی تمام نشانیاں انگریزوں میں موجود ہیں۔ اس بحث میں مرزا قادیانی نے اکثر انگریزوں اور پادریوں کے ذکر کو آپس میں خلط ملط کر دیا ہے۔

مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ’’دجال کے اعور یعنی ایک آنکھ سے کانا ہونے سے یہ مراد ہے کہ دینی اور دنیوی علوم کی دونوں آنکھوں میں سے اس قوم کی ایک آنکھ روشن ہوگی اور دوسری ناکارہ اور یہ ظاہر ہے کہ افرنگ کو زمینی علوم میں نہایت درجہ کی مہارت حاصل ہے۔ لیکن روحانیت سے بے بہرہ ہیں۔‘‘

(ملخص ازالہ ص ٥٠١ ، خزائن ج ٣ ص ٣٦٩)

اس ضمن میں مرزا قادیانی دو تین باتوں کو نظر انداز کر گئے ہیں۔ حدیث میں اللہ کے اعور نہ ہونے سے کیا مراد ہے۔ کیا خدا تعالیٰ کی نسبت دینی یا دنیاوی علوم میں مہارت ہونے یا نہ ہونے کے سوال کا تصور بھی ہو سکتا ہے؟ پھر حدیث کے الفاظ کے مطابق رسول اللہ نے صحابہ کو اعور کی نسبت کسی شبہ میں نہیں چھوڑا۔ انہوں نے فرمایا کہ دجال کی ایک آنکھ انگور کے ابھرے ہوئے

٥٠

صفحہ ٢٦١

دانہ کی مانند ہوگی اور ساتھ نمونہ بھی بتا دیا کہ ابن قطن کو دیکھ لو۔ بس دجال کی آنکھ اس کی آنکھ کی طرح ہوگی۔

دجال کے گدھے پر سوار ہو کر آنے کی نسبت مرزا قادیانی کی دریافت یہ ہے کہ اس سے مراد ریل گاڑی ہے جو انگریزوں نے ایجاد کی ہے۔ گدھے کے کانوں کے درمیان ٧٠ باع (تقریباً ١٤٠ گز ) فاصلہ ہونے سے گاڑی کی لمبائی کی طرف اشارہ ہے۔ ( گویا گدھے کے کانوں سے مراد اس کا سر اور دم ہے)

حدیث میں گدھے کا رنگ بھی دیا ہے اور لکھا ہے کہ وہ سفید براق ہوگا۔ اس کی تشریح مرزا قادیانی نے ضروری خیال نہیں کیا۔ میں نے بڑے غور کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ غالباً اس سے مراد گدھے کے نگہبان یعنی ریل کے گارڈ ہوں گے۔ جن کی وردی عام طور پر سفید ہوتی ہے۔

تفنن برطرف، میرے لئے اس ضمن میں مزید کچھ کہنا ممکن نہیں۔ قارئین اصل حدیث کے متن کی طرف دوبارہ رجوع کریں اور پھر دیکھیں کہ وہ عبارت بحیثیت مجموعہ اس طرح کی تاویلات کی اجازت دیتی ہے جو مرزا قادیانی پیش کر رہے ہیں۔ یہ بھی تو خیال کرنا چاہئے کہ روایات کے مطابق رسول کریم ﷺ کے اولین مخاطب آپ کے الفاظ کے کیا معنی سمجھتے ہیں۔ اس کا تو ایک ہی جواب ہے کہ وہ لوگ الفاظ کو ان کے ظاہر معانی پر ہی محمول کر رہے تھے اور اسی مفہوم کو ملحوظ رکھ کر اپنے ہر طرح کے شبہات دور کر رہے تھے۔ مثلاً جب انہیں بتایا گیا کہ دجال کے وقت میں بعض دن ایک سال کے برابر بھی ہوں گے تو انہیں نمازوں کے اوقات کا فکر لاحق ہو گیا اور انہوں نے اس بارے میں استفسار کیا۔ اگر رسول کریم ﷺ مجاز اور استعارہ کے رنگ میں گفتگو کر رہے ہوتے تو یقینی طور پر ان کا جواب وہ نہیں ہو سکتا تھا جو حدیث میں درج ہے۔ حدیث کے مطابق آپ نے فرمایا کہ نمازوں کے لئے تم اس لمبے دن کا اندازے کے مطابق مختلف حصوں میں تقسیم کر لینا اور اس طرح نمازیں ادا کرنا۔

سنجیدہ کلام کا اولین مقصد مخاطب کو اپنا مافی الضمیر سمجھانا ہوتا ہے۔ نہ کہ اس کو گمراہ کیا جائے۔ کیا رسول کریم ﷺ کا منصب یہ تھا کہ مستقبل کی نسبت پیش گوئی کرتے اور وہ ایک مسلسل پہیلی ہوتی اور امت کا کوئی آدمی اس کا درست مطلب نہ پا سکتا۔

تاویل کی ایک اور مثال پیش کر کے اس ذکر کو ختم کرنا چاہتا ہوں۔ حدیث میں ہے کہ نزول کے وقت حضرت مسیح زرد رنگ کی (زعفرانی) چادروں میں ملبوس ہوں گے اور اپنے ہاتھ فرشتوں کے کندھوں پر رکھے ہوئے ہوں گے۔ جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے۔ مرزا قادیانی نے

٥١

صفحہ ٢٦٢

احادیث میں بیان کی ہوئی سب تفاصیل کی تاویل نہیں کی۔ بلکہ بہت سی باتوں کو نظر انداز کر دیا ہے۔ نہ معلوم چادروں کے معاملہ کی وضاحت انہوں نے کیوں ضروری خیال کی۔ زعفرانی چادر میں ملبوس ہونے کی نسبت مرزا قادیانی کا انکشاف یہ ہے کہ اس سے مراد مرزا قادیانی کی دو بیماریاں یعنی دردسر اور ذیا بیطس ہیں جو کہ انہیں اوائل سے ہی لاحق تھیں۔ اس تاویل کی مزید توجیہہ یہ کی گئی ہے کہ خواب کی تعبیر کے علم میں زرد کپڑے سے مراد بیماری ہوتی ہے۔ مجھے علم تعبیر میں کوئی دسترس حاصل نہیں ہے۔ اس لئے نہیں کہہ سکتا کہ یہ رائے کہاں تک درست ہے۔ لیکن مرزا قادیانی نے ہمیں یہ نہیں بتایا کہ وہ کس کے خواب کی تعبیر کر رہے ہیں۔ حدیث میں تو کسی خواب کا ذکر ہی نہیں۔

احادیث کی تاویل میں جو آزادی مرزا قادیانی نے اپنے لئے جائز قرار دی ہے۔ اپنے الہامات کی تعبیر میں بھی اس سے پورا فائدہ اٹھایا ہے۔ مثال کے طور پر اپنی کتاب ”اربعین“ میں مرزا قادیانی نے اپنے چند الہامات درج کئے ہیں جو ان کے کہنے کے مطابق اس کتاب کی تصنیف سے بیس سال پہلے کے ہیں اور مرزا قادیانی کی پہلی کتاب ”براہین احمدیہ“ میں چھپ چکے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس اثناء میں بعض علماء نے مرزا قادیانی کے دعاوی کی بناء پر ان کے خلاف کفر کے فتوے لگا دیئے تھے۔ مرزا قادیانی کی تحریر سے ظاہر ہوتا ہے کہ تکفیر کی اس مہم میں مولوی نذیر حسین دہلوی اور مولوی محمد حسین بٹالوی پیش پیش تھے۔ اربعین میں مرزا قادیانی نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ان دونوں صاحبان کی طرف سے ان کی مخالفت کرنے اور اس کے نتائج کی نسبت ”براہین احمدیہ“ میں مندرج الہامات بطور ایک پیش گوئی کے ہیں اور ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کو پہلے سے خبر دے دی تھی کہ مولویوں کی طرف سے کفر کے فتاویٰ تیار کئے جائیں گے۔ ان پر دوسرے علماء کے دستخط کرائے جائیں گے اور پھر ان کی تشہیر کی جائے گی۔ دیکھنا یہ ہے کہ ”براہین احمدیہ“ کی الہامی عبارت کہاں تک ان معانی اور تاویلات کی متحمل ہو سکتی ہے جو کہ مرزا قادیانی نے (اربعین ص ٥١٠، حاشیہ در حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٦٠٩) میں بیان کئے ہیں۔ متعلقہ الہامات عربی میں ہیں۔ میں پہلے ان کا متن اور لفظی ترجمہ پیش کرتا ہوں۔ ”اذا یمکر بک الذی کفر ، او قد لی یاھامان لعلی اطلع علی الہ موسیٰ وانی لا ظنہ من الکاذبین ٠ تبت یدا ابی لھب وتب ماکان لہ ان یدخل فیھا الا خائفا وما اصابک فمن اللہ الفتنة ھھنا فاصبر کما صبراولوالعزم “ اور جب تیرے ساتھ مکر کیا اس شخص نے جس نے کفر کی راہ اختیار کی۔ اے ہامان! میرے لئے

٥٢

آگ روشن کر شاید کہ موسیٰ کے معبو ہوں۔ ٹوٹ گئے ہاتھ ابولہب کے میں مگر اس حالت میں کہ وہ خائف فتنہ ہے پس صبر کر جیسا کہ صبر کیا اولوا

اب اسی عبارت کا اپنی طرف سے لکھ رہا ہوں۔ وگرنہ مر سے غیر عربی دان پر یہ اثر ہو سکتا مرزا قادیانی کی بیان کردہ تشریح ان

”ترجمہ اور یاد کرو وہ وق (یہ ایک پیش گوئی ہے۔ جس میں ا ہے۔ جب کہ وہ مسیح موعود کی نسبت کہے گا کہ اس تکفیر کی بنیاد تو ڈال کہ م کر سکتا ہے۔ سو تو سب سے پہلے اس کہ وہ بھی مہر لگا دیں اور تاکہ میں ا جھوٹا سمجھتا ہوں۔ (تب اس نے م ہو گئے۔ (ایک وہ ہاتھ جس کے سا نامہ لکھا) اس کو نہیں چاہئے تھا کہ ان خدا کی طرف سے ہے۔ جب وہ با کہ اولوالعزم نبیوں نے صبر کیا۔ یہ پلید طبع مولویوں نے کفر کا فتویٰ لکھ اس امر میں بھی حضرت عیسیٰ علیہ ا استفتاء لکھنے والے کا نام فرعون رکھا تعجب نہیں کہ یہ اس بات کی طرف جب خدا کا ارادہ ہو کہے گا۔ امنت

اصل الفاظ پھر پڑھئے میں آپ پر ہی چھوڑتا ہوں کہ یہ عب

صفحہ ٢٦٣

نہیں کی۔ بلکہ بہت سی باتوں کو نظر انداز کر دیا ل نے کیوں ضروری خیال کی۔ زعفرانی چادر یہ ہے کہ اس سے مراد مرزا قادیانی کی دو سے ہی لاحق تھیں۔ اس تاویل کی مزید توجیہہ سے مراد بیماری ہوتی ہے۔ مجھے علم تعبیر میں کوئی کہ یہ رائے کہاں تک درست ہے۔ لیکن ب کی تعبیر کر رہے ہیں۔ حدیث میں تو کسی دیانی نے اپنے لئے جائز قرار دی ہے۔ اپنے - مثال کے طور پر اپنی کتاب ”اربعین“ میں نا کے کہنے کے مطابق اس کتاب کی تصنیف تاب ”براہین احمدیہ“ میں چھپ چکے ہیں۔ یانی کے دعاوی کی بناء پر ان کے خلاف کفر ر ہوتا ہے کہ تکفیر کی اس مہم میں مولوی نذیر تھے۔ اربعین میں مرزا قادیانی نے یہ ثابت ف سے ان کی مخالفت کرنے اور اس کے ر ایک پیش گوئی کے ہیں اور ان کے ذریعہ ہ مولویوں کی طرف سے کفر کے فتاویٰ تیار آئیں گے اور پھر ان کی تشہیر کی جائے گی۔ ارت کہاں تک ان معانی اور تاویلات کی حاشیہ در حاشیہ ، خزائن ج ١ ص ٦٠٩) میں بیان متن اور لفظی ترجمہ پیش کرتا ہوں۔ لی یاها مان لعلی اطلع علی اله بی لهب وتب ماكان له ان يدخل هنا فاصبر كما صبر اولوالعزم“ راہ اختیار کی۔ اے ہامان! میرے لئے

آگ روشن کر شاید کہ موسیٰ کے معبود کی اطلاع پاسکوں اور میں تو اس کو جھوٹوں میں سے خیال کرتا ہوں۔ ٹوٹ گئے ہاتھ ابولہب کے اور ٹوٹ گیا وہ خود۔ اس کے لئے نہیں چاہئے تھا کہ داخل ہو اس میں مگر اس حالت میں کہ وہ خائف ہو اور جو تکلیف تجھ کو پہنچی ہے پس یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ یہ فتنہ ہے پس صبر کر جیسا کہ صبر کیا اولو العزم لوگوں نے۔

اب اس عبارت کا وہ ترجمہ اور تفسیر ملاحظہ ہو جو مرزا قادیانی نے کی ہے۔ تفسیر کا لفظ میں اپنی طرف سے لکھ رہا ہوں۔ وگرنہ مرزا قادیانی تو صرف ترجمہ لکھ کر مضمون شروع کر دیا ہے۔ جس سے غیر عربی دان پر یہ اثر ہوسکتا ہے کہ یہ اصل عبارت کا محض ترجمہ ہی بیان ہو رہا ہے۔ مرزا قادیانی کی بیان کردہ تشریح ان کے اپنے الفاظ میں یہ ہے۔

”ترجمہ اور یاد کر وہ وقت جب تیرے پر ایک شخص سراسر مکر سے تکفیر کا فتویٰ دے گا۔ (یہ ایک پیش گوئی ہے۔ جس میں ایک بدقسمت مولوی کی نسبت خبر دی گئی ہے کہ ایک زمانہ آتا ہے۔ جب کہ وہ مسیح موعود کی نسبت تکفیر کا کاغذ تیار کرے گا) اور پھر فرمایا کہ وہ اپنے بزرگ ہامان کو کہے گا کہ اس تکفیر کی بنیاد تو ڈال کہ تیرا اثر لوگوں پر بہت ہے اور تو اپنے فتویٰ سے سب کو برافروختہ کر سکتا ہے۔ سو تو سب سے پہلے اس کفر نامہ پر مہر لگا تا کہ سب علماء بھڑک اٹھیں اور تیری مہر کو دیکھ کر وہ بھی مہر لگا دیں اور تا کہ میں دیکھوں کہ خدا اس شخص کے ساتھ ہے یا نہیں۔ کیونکہ میں اس کو جھوٹا سمجھتا ہوں۔ (تب اس نے مہر لگادی) ابولہب ہلاک ہو گیا اور اس کے دونوں ہاتھ ہلاک ہو گئے۔ (ایک وہ ہاتھ جس کے ساتھ تکفیر نامہ کو پکڑا اور دوسرا وہ ہاتھ جس کے ساتھ مہر لگائی یا تکفیر نامہ لکھا) اس کو نہیں چاہئے تھا کہ اس کام میں دخل دیتا۔ مگر ڈرتے ڈرتے اور جو تجھے رنج پہنچے گا وہ خدا کی طرف سے ہے۔ جب وہ ہامان تکفیر نامہ پر مہر لگا دے گا تو بڑا فتنہ برپا ہوگا۔ پس تو صبر کر جیسا کہ اولو العزم نبیوں نے صبر کیا۔ یہ اشارہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت ہے کہ ان پر بھی یہود کے پلید طبع مولویوں نے کفر کا فتویٰ لکھا تھا اور اس الہام میں یہ اشارہ ہے کہ یہ تکفیر اس لئے ہوگی کہ تا اس امر میں بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے مشابہت ہو جائے اور اس الہام میں خدا تعالیٰ نے استفتاء لکھنے والے کا نام فرعون رکھا اور فتویٰ دینے والے کا نام جس نے اوّل فتویٰ دیا ہامان۔ پس تعجب نہیں کہ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ ہامان اپنے کفر پر مرے گا۔ لیکن فرعون کسی وقت جب خدا کا ارادہ ہو کہے گا۔ امنت بالذی أمنت به بنو اسرائیل“

اصل الفاظ پھر پڑھئے اور اس طویل ترجمہ اور تاویل کا ان سے مقابلہ کیجئے۔ یہ فیصلہ میں آپ پر ہی چھوڑتا ہوں کہ بیان کردہ الہامات سے اس طرح کے معانی لینے میں مرزا قادیانی

٥٣

صفحہ ٢٦٤

کہاں تک حق بجانب ہیں۔ اس ضمن میں یہ بھی یاد رہے کہ مرزا قادیانی کو اعتراف ہے کہ خود الہامی عبارت ”براہین احمدیہ“ میں اس ترتیب سے نہیں لکھی ہوئی۔ جس میں کہ مرزا قادیانی نے ایک خاص مضمون کے ثبوت کے لئے اسے اربعین میں درج کیا ہے۔ وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ الہامات کے یہی ٹکڑے مرزا قادیانی کی ہی دوسری کتب میں مختلف ترتیبوں سے لکھے جاچکے ہیں۔ لیکن وہ اس میں کوئی قباحت خیال نہیں کرتے۔ اس بارے میں ان کی پوزیشن یہ ہے۔

”چونکہ کئی دفعہ کئی ترتیبوں کے رنگ میں یہ الہامات ہوچکے ہیں۔ اس لئے فقرات کے جوڑنے میں ایک خاص ترتیب کا لحاظ نہیں۔ ہر ایک ترتیب ملہم ملہم کے مطابق الہامی ہے۔“

یہ امر مرزا قادیانی نے آسانی سے نظر انداز کر دیا ہے کہ جن الہامات پر وہ انحصار کر رہے ہیں۔ ان کا بیشتر حصہ قرآن کی آیات ہیں اور اگر فہم ملہم کے مطابق ان کی ترتیب مقرر ہوتی ہے تو اصل ملہم نے مرزا قادیانی کے زمانہ سے بہت پہلے اس عبارت کو ترتیب دی ہے۔ (اور خدا کا شکر ہے کہ ایک ہی ترتیب قرار پائی ہے اور وہ اب تک قائم ہے)

مرزا قادیانی نے یہ بیان نہیں فرمایا کہ کب پہلی بار ان کے اپنے ذہن میں الہامات کے وہ معنی آئے جو انہوں نے ١٩٠٠ء میں اربعین کے ذریعہ لوگوں کے سامنے پیش کئے۔ قیاس یہی ہے کہ مرزا قادیانی کو یہ معانی تکفیر کے فتوؤں کے بعد سوجھے ہیں۔

غضب یہ ہے کہ الہامات کے ان معانی کو جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ آسکتے تھے۔ مرزا قادیانی اپنے مخالفین کے لئے حجت قرار دیتے ہیں۔ مثلاً اسی کتاب اربعین میں ایک دوسرے مقام پر عربی کی ایک لمبی عبارت لکھی ہے اور اس کے متعلق دعویٰ کیا ہے کہ یہ ان کے وہ الہامات ہیں جو بہت عرصہ پہلے ”براہین احمدیہ“ میں چھپ چکے ہیں۔ مرزا قادیانی کے کہنے کے مطابق براہین کی اشاعت کے وقت ان کے حریف علماء مثلاً مولوی محمد حسین وغیرہ نے بڑے تعریفی الفاظ میں ریویو کیا تھا۔ اس لئے اب یہ علماء مرزا قادیانی کی مخالفت کرنے میں حق بجانب نہیں ہیں۔

سابقہ عبارت کی طرح ان الہامات کے بعض حصے بھی قرآنی آیات کے ٹکڑے ہیں۔ لیکن جس نئی ”الہامی ترتیب“ سے مرزا قادیانی نے لکھے ہیں۔ اس سے بالکل بے جوڑ اور مبہم ہوگئے ہیں۔ بہرحال اس عبارت کا ایک حصہ نقل کرکے اوّل اس کا لفظی ترجمہ لکھتا ہوں اور پھر مرزا قادیانی کا استدلال پیش کیا جائے گا۔

”اردت ان استخلف فخلقت ادم ٠ یا ادم اسکن انت وزوجک الجنۃ یا احمد اسکن انت وزوجک الجنۃ ٠ یا مریم اسکن انت وزوجک الجنۃ تموت

٥٤

صفحہ ٢٦٥

وانساراض منك فادخلو الجنة انشاء الله امنين ٠ سلام عليكم طبتم فادخلوها امنین.......خلق ادم فاکرمه جری الله فی حلل الانبیاء.......سلام علی ابراهیم صافيناه ونجيناه من الغم تفردنا بذالك فاتخذوا من مقام ابراهيم مصلی‘‘ ”میں نے ارادہ کیا کہ اپنا خلیفہ بناؤں۔ پس میں نے آدم کو پیدا کیا۔ اے آدم تو اور تیری بیوی جنت میں رہو۔ اے احمد! تو اور تیری بیوی جنت میں رہو۔ اے مریم تو اور تیرا زوج جنت میں رہو۔ تو مرے گا اور میں تجھ سے راضی ہوں گا۔ پس داخل ہو جنت میں انشاء اللہ امن کے ساتھ۔ تم پر سلام ہو۔ تم نے اچھے کام کئے۔ پس داخل ہو اس میں امن کے ساتھ۔ اس نے آدم کو پیدا کیا اور اس کو بزرگی دی۔ اللہ کا جری انبیاء کے لباس میں سلام ہوا ابراہیم پر۔ ہم نے اسے محبت کی؟ اس کو غم سے نجات دی ہم نے ہی یہ کیا؟ پس مقام ابراہیم سے جائے نماز بناؤ۔‘‘

(براہین احمدیہ ص ٤٩٢، ٤٩٧، ٥٦٢، خزائن ج ١ ص ٥٨٥، ٥٩٠، ٦٧٠)

اب اسی عبارت کا مرزا قادیانی کا اپنا کیا ہوا ترجمہ اور اس پر مبنی استدلال و بزعم خود اتمام حجت ملاحظہ ہو۔ لکھتے ہیں: ترجمہ: ”میں نے ارادہ کیا کہ ایک خلیفہ پیدا کروں۔ سو میں نے آدم کو بنایا۔ اے آدم تو اور تیرے دوست اور تیری بیوی بہشت میں داخل ہو۔ اے احمد تو اور تیرے دوست اور تیری بیوی بہشت میں داخل ہو۔ اے مریم تو اور تیرے دوست اور تیری عورت بہشت میں داخل ہو۔ تو اس حالت میں مرے گا کہ میں تجھ سے راضی ہوں گا اور خدا کے فضل سے تو بہشت میں داخل ہوگا۔ سلامتی کے ساتھ۔ پاکیزگی کے ساتھ۔ امن کے ساتھ بہشت میں داخل ہوگا۔‘‘ (اربعین ٢ ص ١٧، خزائن ج ١٧ ص ٣٦٤) اس نے اس آدم کو یعنی تجھ کو پیدا کیا اور اس کو عزت دی۔ یہ خدا کا رسول ہے۔ نبیوں کے حلوں میں........... ابراہیم پر سلام (یعنی اس عاجز پر) ہم نے اس سے محبت کی اور غم سے نجات دی۔ ہم نے ہی یہ کیا۔ پس تم ابراہیم کے قدم پر چلو۔‘‘

(اربعین ٢ ص ١٨ تا ٢١، خزائن ج ١٧ ص ٣٦٦ تا ٣٦٨)

اس جگہ تک وہ عبارت ہے جو مرزا قادیانی نے عربی الہامات کے ترجمہ کے طور پر پیش کی ہے۔ عربی زبان سے معمولی واقفیت رکھنے والے اصحاب بھی جان سکتے ہیں کہ محض ترجمہ میں ہی کس قدر تحریف کی گئی ہے۔ اپنی طرف سے مضمون بڑھا دیا گیا ہے اور بالکل بے بنیاد تاویل سے کام لیا گیا ہے۔ ملاحظہ ہو کہ کس طرح تین دفعہ ”اور تیرے دوست‘‘ کے الفاظ بغیر وجہ کے ترجمہ میں شامل کر لئے گئے ہیں اور پھر بغیر کسی قرینہ کے آدم اور ابراہیم کے ساتھ ”یعنی تجھ کو“ اور ”یعنی اس عاجز کو“ زیادہ کر کے اس عبارت کا مخاطب اپنے آپ کو قرار دے

٥٥

صفحہ ٢٦٦

دیا ہے اور اس تصرف کے لئے کوئی عذر بھی پیش نہیں کیا گیا۔ یہ امر بھی دلچسپ ہے کہ الہامی عبارت کو مکمل طور پر اپنی ذات سے وابستہ کرنے کے شوق میں مرزا قادیانی نے زوج مریم کا ترجمہ بھی ”مریم کی بیوی“ کر دیا ہے۔

محولہ بالا ترجمہ پیش کرنے کے بعد اور اسی کی بناء پر مرزا قادیانی اپنے مخالف علماء پر حجت قائم کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان علماء کو کیوں کر زیب دیتا ہے کہ میری مخالفت کرتے ہیں۔ حالانکہ: ”یہ وہ الہامات براہین ہیں جن کا مولوی محمد حسین بٹالوی نے ریویو لکھا تھا اور جن کو پنجاب اور ہندوستان کے تمام نامی علماء نے قبول کرلیا تھا اور ان پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔ حالانکہ ان الہامات کے کئی مقامات میں اس خاکسار پر خدا تعالیٰ کی طرف سے صلوٰۃ اور سلام ہے اور یہ الہامات اگر میری طرف سے اس موقع پر ظاہر ہوتے۔ جبکہ علماء مخالف ہوگئے تھے تو وہ لوگ ہزارہا اعتراض کرتے۔ لیکن وہ ایسے موقع پر شائع کئے گئے۔ جبکہ یہ علماء میرے موافق تھے ....... اور سوچنے سے ظاہر ہوگا کہ میرے دعویٰ مسیح ہونے کی بنیاد انہی الہامات سے پڑی ہے ....... اگر علماء کو خبر ہوتی کہ ان الہامات سے تو اس شخص کا مسیح ہونا ثابت ہوتا ہے تو وہ کبھی ان کو قبول نہ کرتے۔ یہ خدا کی قدرت ہے کہ انہوں نے قبول کرلیا اور اس بیچ میں پھنس گئے ۔“

(اربعین نمبر ٢ ص ٢١، خزائن ج ١٧ ص ٣٦٨، ٣٦٩)

یہاں چند امور قابل غور ہیں:

تصریح کردی تھی کہ ان میں مندرجہ تعریفی کلمات فی الحقیقت رسول کریم کی ذات کے متعلق ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں: ”اور ان کلمات کا حاصل مطلب تلطفات اور برکات الہیہ ہیں۔ جو حضرت خیرالرسل کی متابعت کی برکت سے ہر ایک کامل مؤمن کے شامل حال ہوجاتی ہے اور حقیقی طور پر مصداق ان سب عنایات کا آنحضرت ﷺ ہیں اور دوسرے سب طفیلی ہیں اور اس بات کو ہر جگہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہر ایک مدح و ثناء جو کسی مؤمن کی الہامات میں کی جائے۔ وہ حقیقی طور پر آنحضرت ﷺ کی مدح ہوتی ہے۔“

(براہین ص ٤٨٨، ٤٨٩ حاشیہ در حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٥٨٠، ٥٨١)

مرزا قادیانی نے اپنی نسبت مجدد، مسیح یا مہدی ہونے کا کوئی دعویٰ نہیں کیا تھا۔ بلکہ دوسرے مسلمانوں کی طرح مسیح کے جسمانی نزول کے قائل اور منتظر تھے۔ چنانچہ فرماتے ہیں ۔ ”اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت

٥٦

صفحہ ٢٦٧

نہیں کیا گیا۔ یہ امر بھی دلچسپ ہے کہ الہامی بننے کے شوق میں مرزا قادیانی نے زوج مریم کا

اس رائے کی بناء پر مرزا قادیانی اپنے مخالف علماء پر یہ الزام تراش کر فریب دیتا ہے کہ میری مخالفت کرتے ہیں۔ محمد حسین بٹالوی نے ریویو لکھا تھا اور جن کو پنجاب کے علماء نے اور ان پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔ حالانکہ ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے صلوٰۃ اور سلام ہے اور یہ دعوے بعد کے تھے۔ جبکہ علماء مخالف ہو گئے تھے تو وہ لوگ ہزار ہا گئے ۔ جبکہ یہ علماء میرے موافق تھے۔......... اور بنیاد انہی الہامات پر پڑی ہے ......... اگر آج جھوٹا ثابت ہوتا ہے تو وہ کبھی ان کو قبول نہ کرتے اور اس بیچ میں پھنس گئے ۔“

(اربعین نمبر ٢ ص ٢١، خزائن ج ١٧ ص ٣٦٨، ٣٦٩)

مرزا قادیانی نے مذکورہ الہامات کے ساتھ اس امر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ فی الحقیقت رسول کریم کی ذات کے متعلق ہیں۔ اس لئے ان میں سب تلطفات اور برکات الہیہ ہیں۔ جو حضرت رسول کریم ﷺ کی ہر مومن کے شامل حال ہو جاتی ہے اور حقیقی طور پر یہ الہامات اسی وجود مقدس کے سب طفیلی ہیں اور اس بات کو ہر جگہ یاد رکھنا چاہئے کہ مرزا قادیانی کی جو تعریف الہامات میں کی جائے۔ وہ حقیقی طور پر

(ملخصاً ص ٣٨٨، حاشیہ در حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٥٨٠، ٥٨١)

دعویٰ نبوت کے وقت اور اس کے کئی سال بعد تک مرزا قادیانی نے نبی ہونے کا کوئی دعویٰ نہیں کیا تھا۔ بلکہ دوسرے لوگوں کی طرح وہ بھی امیدوار اور منتظر تھے۔ چنانچہ فرماتے ہیں۔ ”اور جس وقت مسیح علیہ السلام کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا ۔“

(براہین احمدیہ ص ٤٩١، خزائن ج ١ص ٥٩٣)

یہ بحث کہ کیونکر بعد میں مرزا قادیانی نے اپنا عقیدہ تبدیل کرلیا اور یہ دعویٰ کر دیا کہ وہ خود مسیح موعود ہیں۔ ایک الگ موضوع ہے۔ یہاں صرف اس امر کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ جن الہامات کے ذریعہ خود ملہم پر اپنے مسیح ہونے کا راز نہ کھل سکا۔ ان پر مولوی محمد حسین کیونکر اس بناء پر اعتراض کرتے کہ ان الہامات سے تو اس شخص کا مسیح ہونا ثابت ہوتا ہے؟

یہ امور مرزا قادیانی کے مخالف مولوی صاحبان کے نکتۂ نگاہ کے مطابق لکھے گئے ہیں۔ میرے اپنے عقائد مختلف ہیں۔ میں قرآن کے بعد کسی شکل میں الہام کا قائل نہیں ہوں اور اپنی اس رائے کو عقیدہ ختم نبوت کا لازمی اور ناقابل استثناء منطقی نتیجہ سمجھتا ہوں۔ اس موضوع پر اس کتاب کے ایک علیحدہ باب میں مفصل بحث کی گئی ہے۔

تاویل کی ایک اور مثال پیش کر کے میں اس باب کو ختم کرتا ہوں۔ تحریر کے یہ چند نمونے مرزا قادیانی کا رجحان طبع اور طرز استدلال سامنے لانے کے لئے درج کئے گئے ہیں۔ اگر قارئین کو اس معاملہ میں زیادہ دلچسپی ہو تو مرزا قادیانی کی اصل کتب پڑھیں۔ ان میں جگہ جگہ بعید از قیاس تاویلات اور ناقابل فہم استدلال کے نمونے ملیں گے۔

معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی نے تہیہ کر لیا تھا کہ کسی بات کے سیدھے سادے معنی نہ کریں گے اور حتیٰ الوسع ہر مضمون سے کوئی نئی اور عجیب و غریب بات پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس رویہ کے وہ اس قدر عادی ہو گئے تھے کہ انہوں نے اپنے حق میں حقیر سے فائدہ کے لئے ہر طرح کی تحریف و تاویل کو جائز قرار دے لیا۔ اس قسم کے رجحان کا ایک نفسیاتی اثر یہ ہوتا ہے کہ کچھ عرصہ کی مشق کے بعد انسان کو اس طرح کی نکتہ آفرینی میں لطف آنے لگتا ہے اور وہ اس سے الگ ہو کر سوچ ہی نہیں سکتا۔

کتاب اربعین جیسا کہ اس کا نام ظاہر کرتا ہے۔ مرزا قادیانی نے اس ارادہ کے ساتھ لکھنی شروع کی تھی کہ اس میں اپنی صداقت پر چالیس دلائل پیش کریں گے۔ شروع میں مرزا قادیانی کا خیال کتاب کو چالیس قسطوں میں شائع کرنے کا تھا۔ چنانچہ کتاب کے پہلے حصہ یعنی (اربعین نمبر ١ ص ١، خزائن ج ١٧ ص ٣٤٢) کے شروع میں مرزا قادیانی نے کتاب کی نسبت یہ ہدایت لکھی۔

”نصیحت: وہ تمام دوست جن کے پاس وقتاً فوقتاً یہ نمبر پہنچتے جائیں وہ ان کو جمع کرتے

٥٧

صفحہ ٢٦٨

جائیں اور پھر ترتیب وار ایک رسالہ کی صورت میں بنالیں اور اس رسالہ کا نام ہوگا۔ ”اربعین لا تمام الحجة على المخالفين“ آج میں نے اتمام حجت کے لئے یہ ارادہ کیا ہے کہ مخالفین اور منکرین کی دعوت میں چالیس اشتہار شائع کروں۔ تا کہ قیامت کو میری طرف سے حضرت احدیت میں یہ حجت ہو کہ میں جس امر کے لئے بھیجا گیا تھا اس کو میں نے پورا کیا ۔“

اپنے اس ارادہ کی مزید تشریح مرزا قادیانی نے کتاب کے حاشیہ میں اس طرح کی ہے: ”اس اشتہار کے بعد انشاء اللہ ہر ایک اشتہار بشرطیکہ کوئی روک پیش نہ آ جائے نکلا کرے گا۔ جب تک کہ چالیس اشتہار پورے ہو جائیں ۔“

بعد میں چار اشتہار یا رسالے لکھنے پر مرزا قادیانی نے کتاب ختم کر دی اور چالیس اشتہار پورا کرنے کا ارادہ ترک کر دیا۔ اس میں کوئی خاص بات نہ تھی۔ مصنفوں کی بہترین کوشش کے باوجود بعض کتب نامکمل رہ جاتی ہیں۔ بہر حال یہ ایک معمولی سا معاملہ تھا اور معذرت کے چند الفاظ لکھ دینا کافی تھا۔ لیکن نہ معلوم اپنے فن کے تقاضے سے مجبور ہوکر یا مخالف مولویوں کے اعتراض کے ڈر سے مرزا قادیانی نے اس امر کے لئے بھی سند تلاش کر کے پیش کر دی ہے۔ یہ کہنے کے بعد کہ رسالے توقع سے زیادہ لمبے ہو گئے ہیں ۔ لکھتے ہیں کہ : ” درحقیقت وہ امر پورا ہو چکا ۔ جس کا میں نے ارادہ کیا تھا۔ اس لئے میں نے ان رسائل کو صرف چار نمبر تک ختم کر دیا اور آئندہ شائع نہیں ہوگا۔ جس طرح ہمارے خدائے عزوجل نے اوّل پچاس نمازیں فرض کیں ۔ پھر تخفیف کر کے پانچ کو بجائے پچاس کے قرار دے دیا۔ اسی طرح میں بھی اپنے رب کریم کی سنت پر ناظرین کی تخفیف تصدیع کر کے چار کو بجائے نمبر چالیس کے قرار دیتا ہوں۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ١٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٤٢)

مقام حدیث اور نزول مسیح

گذشتہ چند سالوں میں حدیث کا مقام ایک شدید اور پر جوش بحث کا موضوع بنا ہوا ہے اور جوں جوں وقت گزرتا ہے اس بحث میں تلخی بڑھ رہی ہے۔ پرانے مکتب خیال کے بزرگوں کو اصرار ہے کہ ایک مسلمان کے لئے یہ کافی نہیں کہ توحید اور رسالت پر ایمان لے آئے اور قرآن کو من جانب اللہ مان لے۔ بلکہ احادیث پر ایمان لانا بھی ویسا ہی ضروری ہے۔ ان کے نزدیک رسالت پر ایمان لانے کا مطلب ہی یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ کے فرمان پر بے چون و چرا عمل کیا جائے ۔ اس کے مقابلے میں جس گروہ کو منکرین حدیث کہا جاتا ہے وہ فی الواقعہ حدیث کے منکر نہیں ہیں۔ بلکہ صرف یہ کہتے ہیں کہ کسی روایت کا احادیث کی مستند کتابوں میں

٥٨

صفحہ ٢٦٩

آ جانا اس بات کی قطعی دلیل نہیں ہے کہ یہ حقیقتاً خبر رسول ہے۔ ہمیں حق حاصل ہے کہ ہر روایت کو عقلی اور نقلی لحاظ سے پرکھیں۔ یہ دیکھیں کہ یہ قرآنی احکام کے خلاف ہے یا موافق۔ تاریخی واقعات اور اسی مضمون کی دیگر روایات سے اس کا مقابلہ کریں اور یہ بھی دیکھیں کہ یہ روایت الٰہی صفات اور رسول اکرم ﷺ کے اس ارفع کردار کے مطابق ہے جو قرآن مجید نے پیش کیا ہے اور جس کو عقل سلیم مانتی ہے۔

یہ امتحان اس لئے نہیں ہے کہ اگر رسول کا قول۔ ان پر پورا نہ اترے تو اس کو رد کر دیا جائے۔ بلکہ ان کے ذریعہ یہ دریافت کرنا ہوتا ہے کہ آیا جس قول کو رسول اکرم ﷺ کا قول کہا جا رہا ہے وہ حقیقت میں رسول کا قول ہے یا نہیں۔ اس دور میں احادیث کی نسبت اس طرح کی جرح و قدح کو روا رکھنے والا طبقہ مستقیم الرائے علماء کے نزدیک منکر حدیث کہلاتا ہے۔

کسی بھی موضوع پر بحث ہو۔ ایک عام اور سہل لیکن گمراہ کن حربہ یہ استعمال کیا جاتا ہے کہ فریق مخالف کی طرف وہ اعتقادات منسوب کئے جاتے ہیں۔ جو فی الواقع اس کے اعتقادات نہیں ہوتے۔ یا پھر ان اعتقادات کی ایک ناقابل شناخت حد تک مسخ شدہ صورت ہوتی ہے اور اس مفروضہ کی بنیاد پر فریق مخالف پر تنقید کی جاتی ہے۔ یہ طریق بحث جیتنے کے لئے مفید ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر بحث کا مقصد دیانت داری سے فریق مخالف کو قائل کرنا یا حقیقت پر پہنچنا ہو تو ظاہر ہے اس کا کچھ فائدہ نہیں۔

کوئی مسلمان حدیث کا منکر نہیں ہو سکتا۔ لیکن پہلے یہ تو ثابت ہونا چاہئے کہ جس قول کو رسول اکرم ﷺ کی طرف منسوب کیا جا رہا ہے۔ وہ فی الواقع رسول کا قول ہے بھی۔ حدیث کے انتہائی فدائیوں کو بھی اس سے انکار نہیں کہ کسی روایت کی نسبت محض یہ دعویٰ کر دینا کافی نہیں کہ اس میں بیان کیا ہوا واقعہ رسول کریم ﷺ کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ بلکہ اس کی صحت کی نسبت تحقیق ہو سکتی ہے۔ علماء نے اس تحقیق کے لئے روایت اور درایت کے کئی اصول بھی قائم کئے ہوئے ہیں۔ حدیث کی حمایت میں آج کل جو کتب لکھی جا رہی ہیں۔ ان میں آپ کو ان اصولوں کا ذکر ملے گا۔ مثلاً مولانا محمد ادریس کاندھلوی شیخ التفسیر والحدیث جامعہ اشرفیہ لاہور کی لکھی ہوئی ایک کتاب ”حجیت حدیث“ اس وقت ہمارے سامنے ہے۔ اس میں مصنف نے ”معیار برہانی“ کے عنوان کے تحت پندرہ ایسے امور درج کئے ہیں۔ جن میں سے کسی کا حدیث میں پایا جانا اس کے موضوع ہونے کی علامت ہے۔ ان میں سے چند ایک یہ ہیں۔

٥٩

صفحہ ٢٧٠

ثابت ہو گیا۔ اس کی کوئی روایت بھی باجماع محدثین معتبر نہیں۔

نبوت ورسالت کے مناسب نہ ہوں۔

دھمکی ہو۔

ہزاروں اس کے روایت کرنے والے ہوتے۔ مگر بایں ہمہ سوائے اس ایک راوی کے اور کوئی روایت کرنے والا نہیں۔

یہ سب اصول بڑے اہم ہیں اور کسی روایت کی نسبت درست نتیجہ تک پہنچنے کے لئے بہت مفید ہو سکتے ہیں۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ علماء موجودہ دور کے کسی شخص کو ان اصولوں سے استفادہ کرنے کا مجاز نہیں سمجھتے۔ علماء کے محدود طبقے سے باہر تو کسی کا یہ حق ہی تسلیم نہیں کیا جاتا کہ وہ دینی معاملات میں آزادانہ تحقیقات سے کوئی رائے قائم کرے۔ اس نقطۂ نگاہ کی وضاحت کے لئے نمونہ کے طور پر کتاب ’’اسلام اور عقلیات‘‘ مصنفہ مولانا اشرف علی تھانوی کا ایک اقتباس پیش کیا جاتا ہے۔ فرماتے ہیں: ’’ہم ان کو (یعنی غیر علماء کو) رائے دیتے ہیں کہ قاعدہ مسلمہ بین العقلاء ’’لکل فن رجال‘‘ پر عمل کریں اور جو کام ان کے کرنے کا نہیں ہے۔ اس میں دخل نہ دیا کریں۔ بلکہ اس فن کے جاننے والوں پر چھوڑ دیا کریں۔ اگر یہ عربی کا جملہ ان کی سمجھ میں نہ آوے تو اپنے تسلیم کردہ مسئلہ تقسیم عمل پر ہی عمل کر لیا کریں۔ کبھی ایک حاکم ادنیٰ مجسٹریٹ سے لے کر اعلیٰ جج اور لیفٹیننٹ گورنر اور وائسرائے تک ایک معمولی ڈاکٹر کے حکم میں دخل نہیں دیتا۔ دیکھا ہوگا کہ بعض دفعہ ڈاکٹر نے ذرا دیر میں بڑے سے بڑے مجسٹریٹ کو دماغ خراب ہو جانے کا حکم لگا کر نکلوا دیا۔ تقسیم عمل کا مسئلہ آج کل بالکل مسلمہ مسئلہ ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ اس کو صرف دنیا تک محدود نہ کیجئے۔ دین میں بھی اس سے کام لیجئے اور دنیا کے کام آپ کیجئے اور دین کے کام علماء پر چھوڑ

٦٠

صفحہ ٢٧١

دیجئے۔ جب علماء کو کوئی عدالتی کام پیش آتا ہے تو وہ اس کو جزاً و کلاً آپ لوگوں کے سپرد کر دیتے ہیں۔ اسی طرح آپ کو جو دین کا کام پیش آوے آپ اس کو جزاً و کلاً علماء کے سپرد کر دیجئے ۔“

یہ تو ہوا غیر علماء کا طبقہ ۔ لیکن خود اس دور کے علماء بھی اپنے آپ کو حدیث کی جرح وتعدیل کا اہل قرار نہیں دیتے۔ بلکہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اس بارے میں جو تحقیقات بھی ممکن تھی وہ آج سے کئی سو سال پہلے ہو چکی ہے اور احادیث کی صحت کے بارے میں ائمہ کی رائے حرف آخر کا درجہ رکھتی ہے۔ بالفاظ دیگر معتقدین حدیث اور منکرین حدیث میں اصل تنازعہ حدیث کی حجت ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں نہیں ۔ بلکہ بات صرف اتنی ہے کہ منکرین حدیث یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ احادیث کو اب بھی درایت اور روایت کی میزان پر پرکھا جاسکتا ہے۔ یہ لوگ حدیث کے منکر نہیں ہیں۔ صرف بخاری، مسلم، ترمذی وغیرہ کی رائے کی قطعیت کے منکر ہیں۔ اس لئے ان کو منکر حدیث کا نام دینا زیادتی ہے۔ فی الواقعہ یہی طبقہ حدیث کا معتقد ہے۔ پرانے مکتب خیال کے بزرگ حدیث کے معتقد نہیں ہیں۔ بلکہ اپنے شیوخ کی رائے کے مقلد ہیں۔

یہ ایک وسیع بحث ہے اور ہم اس میں زیادہ تفصیل میں نہیں جانا چاہتے۔ دونوں جانب سے کثرت سے لٹریچر شائع ہو چکا ہے اور ہو رہا ہے۔ ہمارے سامنے نسبتاً ایک محدود مسئلہ یعنی ظہور مہدی اور نزول مسیح ہے۔ اس لئے ہم احادیث کے صرف اس حصہ سے بحث کرنا چاہتے ہیں جس کا اس عقیدہ سے براہ راست تعلق ہے۔ اس محدود حصہ پر تنقید میں بھی ہم صرف درایت کے معیار سے استفادہ کرنے پر اکتفاء کریں گے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ احادیث کی صحت کے بارے میں ہم اسی اصول کو فیصلہ کن سمجھتے ہیں۔ دوسرے روایت کے اصول اور ان کا اطلاق علم حدیث کا ایک نہایت درجہ دقیق اور پیچیدہ فنّی شعبہ ہے۔ (مصنف کو اعتراف ہے کہ اسے اس میں کوئی قابل لحاظ استعداد حاصل نہیں ہے) خود علماء میں سے بھی چند ایک حدیث کے ماہرین ہی ایسے ہیں جو اسماء الرجال کے علم کو کماحقہ سمجھتے ہیں اور تنقید کا مرحلہ تو اس سے کہیں آگے ہے۔ اس تنقید کے اہل شاید گنتی کے چند اصحاب ہوں گے۔ کچھ عرصہ ہوا ”طلوع اسلام“ کے چند شماروں میں نزول مسیح کی احادیث پر ایک نہایت مبسوط اور عالمانہ تنقید شائع ہوئی تھی۔ جن قارئین کو موضوع کے اس پہلو سے دلچسپی ہو وہ ان مضامین سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ اس سے دو فائدے ہوں گے۔ ایک تو ان قارئین کو یقین ہو جائے گا کہ روایت کے مسلمہ اصول، تاریخی قرائن اور داخلی شہادت کی رو سے بھی یہ احادیث ساقط الاعتبار ہیں۔ دوسرے ان مضامین کو پڑھ لینے کے بعد غالباً اکثر قارئین کی

٦١

صفحہ ٢٧٢

اس طرح تنقید میں دلچسپی بھی باقی نہ رہے گی۔

مثال کے لئے تنقید کے سمندر کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے سے گزرنے کی کوشش کیجئے۔ نزول مسیح کی نسبت بخاری کی ایک حدیث پر اپنی تنقید کا آغاز علامہ تمنا عمادی نے اس طرح کیا ہے۔ ”بخاری کی پہلی حدیث حدثنا اسحٰق انا یعقوب بن ابراہیم کر کے شروع ہوتی ہے۔ یہ اسحاق کون ہیں؟ اللہ ہی جانے۔ امام بخاری پندرہ اسحٰق سے روایت کرتے ہیں۔ شارحین کہتے ہیں کہ یہاں اسحٰق بن ابراہیم مراد ہیں تو امام بخاری سات اسحٰق بن ابراہیم سے روایت کرتے ہیں۔ اسحٰق بن ابراہیم بن یزید ابو النصر الفرادیسی، اسحٰق بن ابراہیم بن نصر البخاری ابو ابراہیم اسعدی، اسحٰق بن ابراہیم بن مخلد بن ابراہیم بن مطر المعروف بابن راہویہ، اسحٰق بن ابراہیم بن محکم الصواف الباہلی ابو یعقوب البصری، اسحٰق بن ابراہیم بن العلاء بن الضحاک ابو یعقوب الحمصی، اسحٰق بن ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن منیع البغوی ابو یعقوب، اسحٰق بن ابراہیم ابی اسرائیل بن ابو یعقوب المروزی نزیل بغداد (روی عنہ البخاری فی الادب)“

غرض اگر کہیں امام بخاری حدثنا اسحٰق بن ابراہیم بھی لکھیں جیسا کہ متعدد جگہ ہے تو قطعی طور سے نہیں کہا جاسکتا کہ یہ کون اسحٰق بن ابراہیم ہیں۔ لیکن ابو علی الجیانی نے یہاں اسحٰق بن راہویہ یا اسحٰق بن منصور میں سے کسی کے ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ چونکہ یہاں صرف اسحاق ہے۔ بلا اظہار نسبت مگر ابن حجر فتح الباری میں کہتے ہیں کہ یہاں اسحٰق بن راہویہ ہی مراد ہیں۔ کیونکہ ابن راہویہ کی عادت ہے کہ وہ حدثنا کبھی نہیں کہتے۔ جب کہتے ہیں اخبرنا ہی کہتے ہیں۔ (اور یہاں انا ہے جو اخبرنا کا مخفف ہے) اس لئے یقیناً ابن راہویہ ہی یہاں مراد ہیں۔

میں نے صحیح بخاری پر ایک سرسری نظر دوڑائی تو ابن حجر کے اس استقراء کو غلط پایا۔ ابن راہویہ عام محدثین کی طرح صرف عن کا لفظ بھی استعمال کرتے ہیں۔ جیسے بخاری جلد اوّل ص ١٨، باب فضل من علم وعلم میں امام بخاری لکھتے ہیں۔ حدثنا اسحٰق عن ابی اسامہ، حاشیہ بین السطور میں لکھا ہے کہ یہ ابن راہویہ ہیں اور حاشیہ پر جہاں قسطلانی وغیرہ سے اسماء الرجال کی تصریح ہے۔ اس میں لکھتے ہیں کہ جب اسحٰق بغیر کسی نسبت کے ہو تو صحیح بخاری میں ابن راہویہ ہی مراد ہوں گے۔ جیسا کہ جبائی نے (سعید) ابن السکن کا قول نقل کیا ہے۔ لیکن یہ بھی اس سرسری مطالعے میں غلط ہی ٹھہرا۔

یہ تنقید کی صرف تمہید ہے۔ پوری تنقید (صرف ایک حدیث کی) رسالے کے ساٹھ صفحات پر پھیلی ہوئی ہے۔ نزول عیسیٰ اور ظہور مہدی کے عقیدہ کے خلاف سب سے اہم امر یہ ہے

٦٢

صفحہ ٢٧٣

ور کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے سے گزرنے کی کوشش حدیث پر اپنی تنقید کا آغاز علامہ تمنا عمادی نے اس طرح ق انا یعقوب بن ابراہیم کر کے شروع ہوتی ہے۔ یہ کی پندرہ اسحق سے روایت کرتے ہیں۔ شارحین کہتے ہیں بخاری سات اسحق بن ابراہیم سے روایت کرتے ہیں۔ ، اسحق بن ابراہیم بن نصر البخاری ابوابراہیم اسعدی، اسحق وف بابن راہویہ، اسحق بن ابراہیم بن مخلد الصواف الباہلی العلاء بن الضحاک ابو یعقوب الحمصی، اسحق بن ابراہیم بن اسحق بن ابراہیم ابی اسرائیل بن ابو یعقوب المروزی نزیل

اسحق بن ابراہیم بھی لکھیں جیسا کہ متعدد جگہ ہے تو قطعی ابراہیم ہیں۔ لیکن ابوعلی الجیانی نے یہاں اسحق بن راہویہ کا امکان ظاہر کیا ہے۔ چونکہ یہاں صرف اسحاق ہے۔ بلا ہیں کہ یہاں اسحق بن راہویہ ہی مراد ہیں۔ کیونکہ ابن کہتے۔ جب کہتے ہیں اخبرنا ہی کہتے ہیں۔ (اور یہاں انا بن راہویہ ہی یہاں مراد ہیں۔ گہری نظر دوڑائی تو ابن حجر کے اس استقراء کو غلط پایا۔ کا لفظ بھی استعمال کرتے ہیں۔ جیسے بخاری جلد اول قاری لکھتے ہیں۔ حدثنا اسحق عن ابی اسامہ، حاشیہ میں حاشیہ پر جہاں قسطلانی وغیرہ سے اسماء الرجال کی بغیر کسی نسبت کے ہو تو صحیح بخاری میں ابن راہویہ ہی ابن السکن کا قول نقل کیا ہے۔ لیکن یہ بھی اس سرسری

التوحید (صرف ایک حدیث کی) رسالے کے ساتھ مہدی کے عقیدہ کے خلاف سب سے اہم امر یہ ہے ٦٢

کہ قرآن میں اس سارے معاملے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ احمدیہ جماعت کو ہمارے اس بیان سے بھی اختلاف ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ قرآن کی متعدد آیات میں آخری زمانہ میں فتنہ دجال کی پیش گوئی کی گئی ہے اور یہ بھی پیش گوئی موجود ہے کہ اس فتنہ کے انسداد کے لئے مسیح موعود اور مہدی معہود کو مبعوث کیا جائے گا۔ جماعت احمدیہ کے علماء کے اس مؤقف پر ہم ایک الگ باب میں بحث کریں گے۔ فی الحال اس مفروضہ کو درست تسلیم کرتے ہوئے استدلال کیا جاتا ہے کہ فی الواقع ان امور کا قرآن میں ذکر نہیں ہے۔ ویسے مسلم طور پر دجال اور مہدی کے تو الفاظ ہی قرآن میں موجود نہیں ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کا بھی ذکر نہیں ہے۔

یہ سوال مرزا غلام احمد قادیانی کے زمانے میں ہی اٹھایا گیا تھا کہ جب قرآن میں نزولِ مسیح کا کوئی ذکر نہیں ہے تو اس بارے میں احادیث پر کیوں کر یقین کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے کتاب (شہادۃ القرآن ص ١، خزائن ج ٦ ص ٢٩٧) اسی طرح کے ایک اعتراض کے جواب میں لکھی ہے۔ اس کتاب کی ابتداء ان الفاظ سے کی گئی ہے: ”ایک صاحب عطاء محمد نام اپنے خط مطبوعہ اگست ١٨٩٣ء میں مجھ سے دریافت کرتے ہیں کہ اس پر کیا دلیل ہے کہ آپ مسیح موعود ہیں یا کسی مسیح کا ہم کو انتظار کرنا لازم و واجب ہے۔“

”اس جگہ سب سے پہلے یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ معترض صاحب کا یہ مذہب ہے کہ حضرت عیسیٰ درحقیقت فوت ہو گئے ہیں۔ جیسا کہ قرآن شریف میں بتصریح موجود ہے۔ لیکن وہ اس بات سے منکر ہیں کہ عیسیٰ کے نام پر کوئی اس امت میں آنے والا ہے۔ وہ مانتے ہیں کہ احادیث میں پیش گوئی موجود ہے۔ مگر احادیث کے بیان کردہ پایہ اعتبار سے ساقط سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ احادیث زمانہ دراز کے بعد جمع کی گئی ہیں اور اکثر مجموعہ احاد ہیں اور مفید یقین نہیں ہیں۔ اس لئے وہ مسیح موعود کی خبر کو جو احادیث کی رو سے ثابت ہے حقیقت ثابتہ خیال نہیں کرتے۔“

اس تمہید کے بعد مرزا قادیانی نے اس موضوع کو تین تنقیحات میں تقسیم کیا ہے اور ہر تنقیح پر الگ الگ بحث کی ہے۔ فرماتے ہیں: ”سو واضح ہو کہ اس مسئلہ میں دراصل تنقیح طلب تین امر ہیں۔“

اوّل یہ کہ مسیح موعود کے آنے کی خبر جو حدیثوں میں پائی جاتی ہے۔ کیا اس وجہ سے ناقابل اعتبار ہے کہ حدیثوں کا بیان مرتبہ یقین سے دور و مہجور ہے۔ دوسرے یہ کہ کیا قرآن کریم میں اس پیش گوئی کے بارے میں کچھ ذکر ہے یا نہیں۔ تیسرے یہ کہ اگر یہ پیش گوئی ایک ثابت

٦٣

صفحہ ٢٧٤

شدہ حقیقت ہے تو اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ اس کا مصداق یہی عاجز ہے۔

دوسری دو تنقیحات کتاب کے موجودہ باب سے متعلق نہیں ہیں۔ پہلے امر یعنی احادیث کی قطعیت پر بحث کرتے ہوئے مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ”معترض صاحب نے کسی سے سن لیا ہے کہ احادیث احاد کے مرتبہ پر ہیں اور اس سے بلا توقف یہ نتیجہ پیدا کیا کہ بجز قرآن کریم کے جس قدر مسلمات اسلام ہیں وہ سب کے سب بے بنیاد شکوک ہیں۔ جن کو یقین اور قطعیت میں سے کچھ حصہ نہیں۔ لیکن درحقیقت یہ ایک بڑا بھاری دھوکہ ہے۔ جس کا پہلا اثر دین اور ایمان کا تباہ ہونا ہے۔ کیونکہ اگر یہی بات سچ ہے تو پھر شاید اسلام میں سے کچھ تھوڑا ہی حصہ باقی رہ جائے گا۔ وجہ یہ ہے کہ ہمیں اپنے دین کی تمام تفصیلات احادیث نبویہ کے ذریعہ سے ملی ہیں۔ مثلاً یہ نماز جو پنج وقت ہم پڑھتے ہیں۔ گو قرآن مجید سے اس کی فرضیت ثابت ہوتی ہے۔ مگر یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ صبح کی دو رکعت فرض اور دو رکعت سنت ہیں اور پھر ظہر کی چار رکعت فرض اور چار اور دو سنت اور مغرب کی تین رکعت فرض اور پھر عشاء کی چار۔ ایسا ہی زکوٰۃ کی تفاصیل معلوم کرنے کے لئے ہم بالکل احادیث کے محتاج ہیں۔“

(شہادۃ القرآن ص٢، ٣ خزائن ج٦ ص٢٩٨، ٢٩٩)

احادیث کی ضرورت ثابت کرنے کے لئے نماز کی مثال اتنی عام ہے کہ احادیث کے حق میں لکھی ہوئی تقریباً ہر کتاب میں آپ کو ملے گی۔ اس سے یہ تاثر پیدا کرنا مقصود ہوتا ہے کہ احادیث کے بغیر نماز کے اوقات، رکعتوں کی تعداد اور ارکان کی تفصیل کچھ بھی ہمیں معلوم نہیں ہوسکتا۔ علماء یہ دلیل پیش کرنے میں کسی غلط فہمی میں نہیں ہوتے۔ کیونکہ وہ اصل صورتحال سے واقف ہیں۔ لیکن عوام کو اس کے ذریعہ آسانی سے غلط فہمی میں مبتلا کیا جاسکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ احادیث کے جمع کرنے کو نماز کی تفصیل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ رسول کریم ﷺ کے زمانے میں مسلمانوں نے ان سے نماز سیکھی۔ اس کے بعد جہاں جہاں مسلمان گئے نو مسلموں نے ان کے عمل کے مطابق نماز ادا کرنا شروع کر دیا۔ حدیث کے اولین مجموعوں کے مرتب ہونے تک مسلمانوں کی تعداد لاکھوں یا شاید کروڑوں تک پہنچ چکی تھی۔ عرب کے علاوہ کئی دیگر ممالک تک اسلام پھیل چکا تھا۔ اس وقت احادیث کی اور کوئی ضرورت ہو تو ہو کم از کم نماز سکھانے کے لئے کسی حدیث کی ضرورت نہ تھی۔

اس بارے میں خود مرزا قادیانی اصل صورتحال سے ناواقف نہ تھے۔ لیکن ان کا طریق یہ ہے کہ ایک دلیل کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے بھی اس کے اس حصے پر انحصار کرنے میں کچھ عیب نہیں سمجھتے۔ جس سے ان کے دعویٰ کی تائید ہوتی ہو۔ احادیث کی نسبت بھی مرزا قادیانی نے یہی

٦٤

صفحہ ٢٧٥

طریقہ اختیار کیا ہے۔ چنانچہ ایک طرف تو یہ کہتے ہیں کہ احادیث کو رد کر دینے سے اسلام میں سے کچھ تھوڑا ہی حصہ باقی رہ جائے گا۔ وجہ یہ کہ ہمیں اپنے دین کی تمام تفصیلات احادیث نبویہ کے ذریعہ ملی ہیں۔

اور دوسری طرف جب ان سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ حدیث کی تفصیلات پر ایمان لایئے اور مسیح موعود ہونے کے دعویٰ سے دست بردار ہو جائے ۔ کیونکہ احادیث کے مطابق وعدہ یہ ہے کہ مسیح آسمان سے اترے گا اور اس عقیدہ پر امت کا اجماع ہے تو اس کے جواب میں مرزا قادیانی بڑی آسانی کے ساتھ حدیث کی وقعت کو بالکل کم کر دیتے ہیں اور یہ نظریہ پیش کرتے ہیں کہ احادیث میں مندرجہ روایات ایک ظنی معاملہ ہے۔ اس پر کیونکر اعتبار کیا جاسکتا ہے۔

عجیب بات یہ ہے کہ شہادت القرآن کے متذکرہ بالا اقتباس سے دو چار صفحات بعد اسی کتاب میں مرزا قادیانی بالکل متضاد نظریہ پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نماز کے ارکان وغیرہ کے تعین کے لئے احادیث کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ استدلال انہوں نے ان الفاظ میں کیا ہے۔ ”محدثین نے دیکھا کہ کروڑ ہا آدمی مغرب کے فرض تین رکعت پڑھتے ہیں اور فجر کی دو اور مع ذالک ہر ایک رکعت میں سورۃ فاتحہ ضرور پڑھتے ہیں اور آمین بھی کہتے ہیں۔ گویا بالجہر یا بالسر اور قعدہ آخیرہ میں التحیات پڑھتے ہیں اور ساتھ اس کے درود اور کئی دعائیں ملاتے ہیں اور دونوں طرف سلام دے کر نماز سے باہر ہوتے ہیں۔ سو اس طرز عبادت کو دیکھ کر محدثین کو یہ ذوق اور شوق پیدا ہوا کہ تحقیق کے طور پر اس وضع نماز کا سلسلہ آنحضرت ﷺ تک پہنچادیں اور احادیث صحیحہ مرفوعہ متصلہ سے اس کو ثابت کریں۔ کیا یہ سچ ہے کہ نماز کی بنیاد ڈالنے والے وہی محدث تھے اور پہلے اس سے دنیا میں نماز نہیں ہوتی تھی اور دنیا نماز سے بالکل بے خبر تھی اور کئی صدیوں کے بعد صرف ایک دو حدیثوں پر اعتبار کرنے سے نماز شروع کی گئی۔ پس میں زور سے کہتا ہوں کہ یہ ایک بڑا دھوکہ ہوگا۔ اگر یہ خیال کر لیا جائے کہ صرف مدار ثبوت ان رکعت اور کیفیت نماز خوانی کا ان چند حدیثوں پر تھا۔ کیا اس تحقیق اور تفتیش سے پہلے لوگ نماز نہیں پڑھتے تھے اور حدیثوں کی تحقیق اور راویوں کا پتہ ملنے کے بعد پھر نمازیں شروع کرائی گئی تھیں۔ بلکہ کروڑ ہا انسان اسی طرح نماز پڑھتے تھے اور اگر فرض کے طور پر حدیثوں کے اسنادی سلسلے کا وجود بھی نہ ہوتا تاہم اس سلسلہ تعامل سے قطعی اور یقینی طور پر ثابت تھا کہ نماز کے بارے میں اسلام کی مسلسل تعلیم وقتاً بعد وقت اور قرناً بعد قرن یہی چلی آتی ہے۔ جس تعامل کے سلسلے کو ہمارے نبی ﷺ نے اپنے ہاتھ سے قائم کیا تھا۔ وہ ایسا کروڑ ہا انسانوں میں پھیل گیا تھا کہ اگر محدثین کا دنیا میں نام ونشان بھی نہ ہوتا تب بھی اس کو

٦٥

صفحہ ٢٧٦

کچھ نقصان نہ تھا۔

(شہادۃ القرآن ص ٥، ٦، خزائن ج ٦ ص ٣٠١، ٣٠٢)

مرزا قادیانی کی تصانیف میں ایک مختصر سا رسالہ بھی شامل ہے۔ جس میں انہوں نے حدیث کے مقام کی نسبت اپنے موقف پر کسی قدر تفصیل سے بحث کی ہے۔ یہ رسالہ مرزا قادیانی نے ١٩٠٢ء میں مولوی محمد حسین بٹالوی اور مولوی عبداللہ چکڑالوی کے درمیان ایک مباحثہ پر ریویو کے طور پر لکھا ہے۔ مرزا قادیانی کے الفاظ ہیں۔ ”مباحثہ مندرجہ عنوان کے پیش آنے کی وجہ یہ ہے کہ مولوی عبداللہ صاحب احادیث نبویہ کو محض ردی کی طرح خیال کرتے ہیں اور ایسے الفاظ منہ پر لاتے ہیں۔ جن کا ذکر کرنا بھی سوء ادب میں داخل ہے اور مولوی محمد حسین بٹالوی نے ان کے مقابل پر یہ حجت پیش کی تھی کہ اگر احادیث ایسی ہی ردی اور لغو اور ناقابل اعتبار ہیں تو اس سے اکثر حصے عبادات اور مسائل فقہ کے باطل ہو جائیں گے۔ کیونکہ احکام قرآنی کی تفاصیل کا پتہ حدیث کے ذریعہ سے ہی ملتا ہے۔ ورنہ اگر صرف قرآن کو ہی کافی سمجھا جائے تو پھر محض قرآن کی رو سے اس پر کیا دلیل ہے کہ فریضہ صبح کی دو رکعت اور باقی تین نمازیں چار چار رکعت ہیں۔“

(ریویو بر مباحثہ چکڑالوی و بٹالوی ص ١، خزائن ج ١٩ ص ٢٠٦)

فریقین کے ان دو متضاد نظریات پر بحث کرتے ہوئے مرزا قادیانی نے یہ رائے پیش کی ہے کہ ان کے نزدیک دونوں نظریے غلط ہیں اور اصل بات یہ ہے کہ ان ہر دو فریق میں سے ایک فریق نے افراط کی راہ اختیار کر رکھی ہے اور دوسرے نے تفریط کی۔ چنانچہ دونوں فریقوں کے مسلک کے رد میں مرزا قادیانی نے اپنے دلائل پیش کئے ہیں۔ فریق اہل حدیث کے نمائندہ مولوی محمد حسین بٹالوی کے خیال کی تردید کرتے ہوئے مرزا قادیانی نے حدیث اور سنت میں امتیاز کیا ہے اور لکھا ہے کہ قرآن کے بعد سنت کا مقام ہے۔ لیکن سنت اور حدیث باہم مترادف نہیں ہیں اور دونوں کا فرق ملحوظ رکھنا چاہئے۔ چنانچہ فرماتے ہیں ۔ ”قرآن کے بعد دوسری (چیز) سنت ہے اور اس جگہ ہم اہل حدیث کی اصطلاحات سے الگ ہو کر بات کرتے ہیں۔ یعنی ہم حدیث اور سنت کو ایک چیز قرار نہیں دیتے۔ جیسا کہ رسمی محدثین کا طریق ہے۔ بلکہ حدیث الگ چیز ہے اور سنت الگ چیز۔ سنت سے مراد ہماری صرف آنحضرت ﷺ کی فعلی روش ہے جو اپنے اندر تواتر رکھتی ہے اور ابتداء سے قرآن شریف کے ساتھ ہی ظاہر ہوئی اور ہمیشہ ساتھ ہی رہے گی۔ یا بہ تبدیلی الفاظ یوں کہہ سکتے ہیں کہ قرآن شریف خدا کا قول ہے اور سنت رسول ﷺ کا فعل ہے۔ مثلاً جب نماز کے لئے حکم ہوا تو آنحضرت ﷺ نے خدا تعالیٰ کے اس قول کو اپنے فعل سے کھول کر دکھلا دیا اور عملی رنگ میں ظاہر کر دیا کہ فجر کی نماز کی یہ رکعات ہیں اور مغرب کی یہ اور باقی نمازوں

٢٦

صفحہ ٢٧٧

کے لئے یہ رکعات ہیں۔ ایسا ہی حج کر کے دکھلا دیا اور اپنے ہاتھ سے ہزارہا صحابہ کو اس فعل کا پابند کر کے سلسلۂ تعامل بڑے زور سے قائم کر دیا۔ پس عملی نمونہ جو اب تک امت میں تعامل کے رنگ میں مشہور اور محسوس ہے۔ اسی کا نام سنت ہے۔ یہ غلطی ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ جب تک حدیثیں جمع نہیں ہوئی تھی۔ اس وقت تک لوگ نمازوں کی رکعات سے بے خبر تھے یا حج کرنے کے طریق سے نا آشنا تھے۔ کیونکہ سلسلۂ تعامل نے جو سنت کے ذریعہ سے ان میں پیدا ہو گیا تھا۔ تمام حدود اور فرائض اسلام ان کو سکھلا دیئے تھے۔ اس لئے یہ بات بالکل صحیح ہے کہ ان حدیثوں کا دنیا میں اگر وجود بھی نہ ہوتا جو مدت دراز کے بعد جمع کی گئیں تو اسلام کی اصلی تعلیم کا کچھ حرج نہ تھا۔ کیونکہ قرآن اور سلسلۂ تعامل نے ان ضرورتوں کو پورا کر دیا تھا۔“

(ریویو بر مباحثہ چکڑالوی، بٹالوی ص ٥٣، خزائن ج ١٩ ص ٢٠٩ تا ٢١١)

اوپر لکھے ہوئے حوالوں میں مرزا قادیانی نے جو خیال پیش کیا ہے ہمیں اس سے کامل اتفاق ہے۔ لیکن خود مرزا قادیانی اس مسلک پر قائم نہیں رہے۔ اگر وہ نزول مسیح والی حدیثوں کو پرکھنے میں اپنے ہی قائم کئے ہوئے معیار کو استعمال کرتے تو انہیں ان روایات کو رد کرنے میں کوئی دقت نہ ہونی چاہئے تھی۔ لیکن اس صورت میں ان کے اپنے دعویٰ کی بھی گنجائش باقی نہ رہتی۔ اس لئے اپنے اصول کو مطلق نظر انداز کرتے ہوئے نزول مسیح کی روایات کی تائید میں یہ دلیل پیش کرتے ہیں۔ ”اگرچہ یہ تو سچ ہے کہ حدیثوں کا وہ حصہ جو تعامل قولی و فعلی کے سلسلہ سے باہر ہے اور قرآن سے تصدیق یافتہ نہیں ہے۔ یقین کامل کے مرتبہ پر مسلم نہیں ہو سکتا۔ لیکن دوسرا حصہ جو تعامل میں آ گیا اور کروڑ ہا مخلوقات ابتداء سے اس پر اپنے عملی طریق سے محافظ اور قائم چلی آتی ہے۔ اس کو ظنی اور شکی کیوں کر کہا جائے۔ پھر جب ائمہ حدیث نے اس سلسلۂ تعامل کے ساتھ ایک اور سلسلہ قائم کیا اور امور تعاملی کا اسناد راست گو متدین راویوں کے ذریعہ سے آنحضرت ﷺ تک پہنچا دیا تو پھر اس صورت پر جرح کرنا درحقیقت ان لوگوں کا کام ہے۔ جن کو بصیرت ایمانی اور عقل انسانی کا کچھ بھی حصہ نہیں ملا۔“

یہ حوالہ بھی (شہادۃ القرآن ص ٨، خزائن ج ٦ ص ٣٠٤) سے ہے۔ یہاں مرزا قادیانی نے اپنے استدلال میں نہایت سادگی سے ”قولی تعامل“ کا عجیب و غریب خیال داخل کر دیا ہے۔ یہ خیال بالکل بے معنی ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کے مقصد کے لئے ضروری تھا۔ معمولی تدبر سے معلوم ہو سکتا ہے کہ تعامل کا تعلق صرف فعل (ACTION) سے ہے۔ قول کے تعامل سے کیا مراد ہو سکتی ہے؟ (سوائے اس قول کے جو عمل کا حصہ بن جائے۔ مثلاً جس طرح بعض مسنون دعائیں نماز

٦٧

صفحہ ٢٧٨

کے ارکان کا حصہ ہیں) لیکن ظاہر ہے کہ عقیدۂ ظہور مسیح یا اس کے متعلق کوئی قول کسی اسلامی عبادت کا حصہ نہیں ہے اور اگر اس امتیاز کو اٹھا دیا جائے تو سنت اور حدیث میں وہ فرق کہاں باقی رہ جاتا ہے جو مرزا قادیانی نے اتنی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ ہر حدیث کسی نہ کسی قول یا عقیدہ سے متعلق ہے اور اگر سنت کا معیار یہی ہے کہ یہ قول یا عقیدہ احادیث کے مدون ہونے سے اب تک مسلمانوں میں رائج ہے تو پھر ہر حدیث کو سنت کا مقام حاصل ہو جائے گا۔

نماز کے علاوہ دوسری عبادات کے سلسلے میں بھی احادیث کی اہمیت پر زور دیا جاتا ہے۔ مثلاً کہا جاتا ہے کہ زکوٰۃ کی نسبت قرآن میں صرف یہ حکم ہے کہ زکوٰۃ دی جائے۔ لیکن یہ کس کس مال پر زکوٰۃ واجب ہے اور اس کی شرح کیا ہو۔ ان تفاصیل کا قرآن میں کوئی ذکر نہیں ہے۔ وراثت، نکاح، طلاق اور فقہ کے دیگر قواعد کا بھی قرآن میں پوری تفصیل کے ساتھ ذکر نہیں ہے۔ اس لئے ان سب امور میں ہمارے لئے احادیث پر انحصار کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ اس کا ایک جواب تو یہ دیا گیا ہے کہ ان امور کی تفاصیل قرآن میں اس لئے بیان نہیں کی گئیں کہ ان کی نسبت ہر دور کے مسلمانوں کو اپنے اجتہاد کے ذریعہ فیصلہ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ مثلاً زکوٰۃ کی نسبت مال کی تخصیص اور شرح کا تعین وغیرہ۔ معاملات، حکومت کی ضروریات اور لوگوں کی مالی حالت کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کئے جائیں گے۔ ان قواعد کو ناقابل تبدل شکل دینا مناسب نہیں ہے اور اسی حکمت کے تحت یہ امور قرآن میں بیان نہیں ہوئے۔

ہمارے نزدیک یہ جواب درست ہے۔ لیکن زیر بحث مسئلہ کے لئے اس جواب کے مالہ وماعلیہ میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارے سامنے سوال یہ نہیں ہے کہ کیوں نزول مسیح کی نسبت عام تفاصیل قرآن میں بیان نہیں ہوئیں۔ بلکہ سوال یہ ہے کہ کیوں سرے سے اس مسئلہ کا قرآن میں ذکر ہی نہیں۔ فرض کیجئے نماز، زکوٰۃ اور حج کے متعلق قرآن میں کوئی حکم نہ ہوتا۔ تو کیا اس صورت میں یہ جائز تھا کہ حدیث کی بناء پر ان عبادات کو مذہب کا جزو قرار دیا جاتا۔ اسلام کے تمام ضروری عقائد (کم از کم اجمالی اور اصولی رنگ میں) قرآن میں بیان ہوگئے ہیں اور اگر کوئی عقیدہ قرآن میں نہیں ہے تو وہ اسلام کا جزو بھی نہیں ہوسکتا۔

نزول مسیح اور اس سے متعلق آثار کا معاملہ اتنا اہم ہے کہ خواہ دیگر کئی مسائل کو چھوڑ دیا جاتا۔ اس امر کا قرآن میں نہایت واضح الفاظ میں ذکر ہونا ضروری تھا۔ اس معاملے کی اہمیت کا اندازہ لگانے کے لئے یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اگر مسیح کی آمد کا وعدہ سچا ہے تو اس کے نزول کے بعد دنیا کی آئندہ تاریخ کا دارومدار اس کی ذات کے ساتھ ہوگا۔ اس صورت میں اسلام کی نشأۃ

٦٨

صفحہ ٢٧٩

ثانیہ اس ہستی کی مساعی سے ظہور میں آئے گی۔ مسیح کے ظہور کے بعد دنیا کے دیگر تمام امور ثانوی حیثیت اختیار کرلیں گے۔ حالیہ واقعات سے متاثر ہو کر جماعت احمدیہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کی حیثیت کو بہت حد تک معتدل اور غیر اہم صورت میں پیش کرنے کا رجحان ترقی پر ہے اور یہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ مسلمانوں کے لئے مرزا قادیانی پر ایمان لانا کوئی ایسا ضروری نہیں ہے۔ اگر یہ نظریہ دوسروں کو غلط فہمی میں مبتلا کرنے کے لئے وضع نہیں کیا گیا تو ہم اس کو خود فریبی کی ایک نادر مثال قرار دیں گے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جس مسیح کے ہاتھوں اس دجال کا قتل ہونا ہے۔ جس کے فتنہ سے حدیث کے الفاظ کے مطابق نوح علیہ السلام کے وقت سے اب تک تمام انبیاء نے اپنی امتوں کو ڈرایا ہے اور جس مسیح کی قیادت میں کفر کے خلاف اسلام کی آخری جنگ لڑی جانی ہے۔ اس پر ایمان لانا مسلمانوں کے لئے ضروری نہ ہو۔ اگر احادیث میں بیان کی ہوئی خبر درست ہے تو ظاہر ہے کہ مسیح موعود کے نزول کے بعد دنیا میں صرف دو جماعتیں رہ جائیں گی۔ کفار اور منافقین دجال کے پیرو ہوں گے اور مؤمنوں کی جماعت مسیح کا ساتھ دے گی۔ اس وقت کسی کے لئے یہ ممکن نہ ہوگا کہ مسیح موعود کا انکار کرے اور پھر بھی مسلمان ہونے کا دعویدار ہو۔ اتنے اہم واقعہ کی نسبت قرآن میں ذکر نہ ہونا اس امر کی قطعی دلیل ہے کہ مسیح کے دوبارہ نازل ہونے کا عقیدہ بے بنیاد اور باطل ہے۔

لیکن فی الواقعہ قرآن اس عقیدہ کی نسبت خاموش نہیں ہے۔ قرآن کی متعدد آیات ایسی ہیں۔ جن کی رو سے نزول مسیح کے نظریہ کی تردید ہوتی ہے۔ سب سے پہلے تو ”خاتم النبیین“ والی آیت ہی کو لیجئے۔ ہمیں اس امر نے ہمیشہ حیران کیا ہے کہ جس ختم نبوت کے عقیدہ سے انکار کی بناء پر علماء جماعت احمدیہ کو اسلام سے خارج قرار دیتے ہیں۔ اس کی روشنی میں یہ علماء اپنی پوزیشن پر کیوں غور نہیں کرتے؟ اگر ختم نبوت سے یہ مراد ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا (اور ہمارے نزدیک یہی مراد ہے) تو جماعت احمدیہ اور غیر احمدی علماء جو نزول مسیح پر ایمان رکھتے ہیں۔ دونوں ہی ختم نبوت کے منکر ہیں۔ مسیح ابن مریم کے نبی ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور اگر ان کو رسول کریم کے بعد آنا ہے تو نبی کریم خاتم النبیین نہیں ہو سکتے۔ احمدیوں کے نزدیک مسیح ابن مریم کو نہیں آنا بلکہ ان کے مثیل کو آنا تھا ۔ جو مرزا قادیانی کی ذات میں آ گیا۔ ساتھ ہی ان کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ مثیل بھی نبی ہے۔ بلکہ اپنی شان میں مسیح ناصری سے بڑھ کر ہے۔ اس طرح بنیادی لحاظ سے ان دو فریقوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ صرف اتنا فرق ہے کہ ایک فریق ایک نبی کے آنے کا منتظر ہے اور دوسرے کا خیال ہے کہ یہ نبی آ چکا ہے۔ ایک منکر ختم نبوت

٦٩

صفحہ ٢٨٠

بالقوۃ ہے اور دوسرا بالفعل۔ یہ مسلمہ اصول ہے (یا ہونا چاہئے) کہ جو احادیث صریح قرآنی آیات کے خلاف ہیں۔ ان کے موضوع ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ ہمارے نزدیک نزول مسیح کی نسبت احادیث کو رد کرنے کے لئے قرآن کی آیت ’’ماکان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين‘‘ ہی کافی ہے۔ تاہم اس سلسلہ میں دو اور آیات کا ذکر مناسب ہوگا اور وہ یہ ہیں۔

لكم الاسلام ديناً"

پہلی آیت سے واضح ہے کہ قرآن کے ذریعہ دین کی تکمیل ہوچکی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جہاں تک وحی کے ذریعہ نسل انسانی کی ہدایت مطلوب تھی وہ مکمل ہو گئی۔ اس کے بعد جو ضروریات پیش آئیں گی۔ ان کے لئے انسان کو اسی ہدایت کی روشنی اور اپنے تدبر پر بھروسہ کرنا ہوگا۔ جدید آسمانی ہدایت کی ضرورت دو ہی صورتوں میں ہو سکتی ہے۔ ایک یہ کہ قرآنی تعلیم پرانی ہوگئی ہے اور وقت کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتی۔ لیکن خوش قسمتی سے مسلمانوں کا کوئی فرقہ اس مفروضہ پر ایمان نہیں رکھتا۔ دوسری صورت یہ ہو سکتی تھی کہ قرآن تو مکمل اور جامع ہے اور ہر قسم کے حالات کے لئے کافی ہے۔ لیکن اس کو سمجھنا مشکل ہے اور سمجھانے کے لئے آسمانی ہدایت کی ضرورت ہے۔ اوّل تو یہ خیال تکمیل دین کے منافی ہے۔ اس صورت میں ماننا پڑے گا کہ دین کی تکمیل قرآن کے ذریعہ نہیں ہوئی۔ بلکہ نزول مسیح کے وقت ان کی وحی کے ذریعہ ہوگی۔ دوسرے احادیث کے مطابق مسیح موعود کے کاموں میں دجال سے لڑائی کرنا اور ہر طرح کا جنگ وجدل تو شامل ہیں۔ لیکن قرآنی اسرار ورموز کھولنا اور قرآنی تعلیم سے دنیا کی روحانی، سیاسی، معاشرتی اور اقتصادی مشکلات کا حل نکالنے کا کوئی ذکر نہیں۔

دوسری آیت کا آخری حصہ تکمیل دین کے نظریے کی تائید اور تشریح کرتا ہے۔ نیکی اور بدی میں بین فرق بیان کر دیا گیا ہے۔ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ رشد اور گمراہی میں امتیاز نہیں ہو سکتا۔ اب یہ ہر شخص کا اپنا اختیار ہے کہ ہدایت کا راستہ اختیار کرتا ہے یا گمراہی کا۔ اسی انتخاب کا نام دین اختیار کرنا ہے اور خدا تعالیٰ نے اعلان کر دیا ہے کہ دین کے اختیار کرنے میں کسی طرح کا اکراہ جائز نہیں ہے۔ ایک دوسرے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ دین کے معاملے میں جبر واکراہ ممکن نہیں۔ اگر ہم کسی خارجی مجبوری کے اثر کے تحت کسی عقیدہ کا اقرار کرتے ہیں تو اس اقرار سے فی الواقعہ وہ ٧٠ عقیدہ ہمارا دین اور ایمان نہیں بن جاتا۔

اب اس آیت کی روشنی میں احادیث میں دی گئی ہے۔ حیرت ہے کہ ذکر نہیں۔ یہ بتایا گیا ہے کہ اس زمانہ و شبہات نے متزلزل کر دیا ہوگا اور حضر برعکس صرف یہ وعدہ ہے کہ جس کا فرق سانس حد نظر تک جائے گی۔ گویا مسیح ہوگا۔ یہ امر بھی اپنی جگہ دلچسپ ہے کہ منتخب کیا گیا ہے۔ جن کی زندگی بیمار بہر حال یہ پیش گوئی اس نبی کی نہیں ہ حکم موجود ہے کہ دین کے معاملہ میں ا کا مشن لوگوں تک ہدایت کا پہنچانا ہے شامل نہیں۔ ”لست عليهم بمصيطر

نزول مسیح کے احوال و آثا میں قیامت کا وہ تصور درست ہے ج قرآن زندگی کا ایک ارتقائی تصور پیش تو ہمیں قضا وقدر ایک مسلسل رو بہ ار اس عمل کی ایک اہم ترین کڑی ہے۔

آخری منزل اور نقطہ کمال کی صورت گا۔ بڑے بڑے فلاسفر اور مفکر اس ت

قرآن میں اس دور کے بھی تھا اور مبنی بر حکمت بھی۔ ناگزیر استعداد غیر محدود نہیں ہے۔ ہم ان معیار کو سامنے رکھ کر ہی ذہن میں لا اس سے آگے ہمارے لئے کسی چیز دور کی بات ہے۔ اس امر سے قیاس

صفحہ ٢٨١

عقیدہ ہمارا دین اور ایمان نہیں بن جاتا۔ اب اس آیت کی روشنی میں اس مسیح کے کارناموں کو پرکھئے۔ جس کے آنے کی خبر احادیث میں دی گئی ہے۔ حیرت ہے کہ مسیح کی طرف سے کسی دلیل یا حجت کے پیش کئے جانے کا ذکر نہیں۔ یہ بتایا گیا ہے کہ اس زمانے میں اسلام کی نسبت لوگوں کے اعتقادات کو کن شکوک وشبہات نے متزلزل کر دیا ہوگا اور حضرت مسیح علیہ السلام کس طرح ان کو دور کریں گے۔ اس کے برعکس صرف یہ وعدہ ہے کہ جس کافر تک اس کے سانس کی ہوا پہنچے گی وہ مر جائے گا اور اس کی سانس حد نظر تک جائے گی۔ گویا مسیح کا کام کفار کو قتل کرنا نہ ہوگا۔ بلکہ ان کو موت کا پیغام دینا ہوگا۔ یہ امر بھی اپنی جگہ دلچسپ ہے کہ اس مشن کے لئے انبیاء میں سے بھی حضرت مسیح علیہ السلام کو منتخب کیا گیا ہے۔ جن کی زندگی بیماروں کو تندرست کرنے اور مردوں کو زندہ کرنے میں گزری۔ بہر حال یہ پیش گوئی اس نبی کی نہیں ہو سکتی۔ جس پر قرآن نازل ہوا۔ کیونکہ اس کتاب میں واضح حکم موجود ہے کہ دین کے معاملہ میں ہر شخص کو مکمل آزادی ہے۔ کسی طرح کا جبر واکراہ نہیں اور نبی کا مشن لوگوں تک ہدایت کا پہنچانا ہے اور بس۔ اس ہدایت پر زبردستی عمل کرانا نبی کے فرائض میں شامل نہیں۔ ” لست عليهم بمصيطر“

نزول مسیح کے احوال و آثار قیامت کا حصہ ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ آیا قرآنی تعلیم کی روشنی میں قیامت کا وہ تصور درست ہے جو ان احادیث میں پیش کیا گیا ہے۔ اصولی بات یہ ہے کہ قرآن زندگی کا ایک ارتقائی تصور پیش کرتا ہے اور جب ہم اس عالم کی معلوم تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں قضا و قدر ایک مسلسل روبہ ارتقاء تخلیقی عمل میں مصروف نظر آتے ہیں۔ انسان کی پیدائش اس عمل کی ایک اہم ترین کڑی ہے۔ یہاں سے ارتقاء کا ایک نیا دور شروع ہوتا ہے۔ اس سفر کی آخری منزل اور نقطہ کمال کی صورت کیا ہوگی؟ مصنف جیسا عامی انسان تو اس کا کیا جواب دے گا۔ بڑے بڑے فلاسفر اور مفکر اس کا کوئی واضح تصور پیش نہیں کر سکے۔

قرآن میں اس دور کے بیان میں نہایت درجہ کا اجمال پایا جاتا ہے۔ ایسا کرنا نا گزیر بھی تھا اور مبنی بر حکمت بھی۔ ناگزیر اس لئے کہ انسان کے لئے نامعلوم حالات کے ادراک کی استعداد غیر محدود نہیں ہے۔ ہم ان حالات کا ایک دھندلا سا خاکہ بھی موجود اور محسوس اشیاء کے معیار کو سامنے رکھ کر ہی ذہن میں لا سکتے ہیں۔ جس حد پر پہنچ کر یہ معیار ہمارا ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔ اس سے آگے ہمارے لئے کسی چیز کا تصور قائم کرنا بھی ممکن نہیں ہوتا۔ ارتقاء کی آخری منزل تو خیر دور کی بات ہے۔ اس امر سے قیاس کر لیجئے کہ بے تار برقی اور ٹیلی ویژن وغیرہ ایجادات جو ترقی

٧١

صفحہ ٢٨٢

یافتہ ممالک میں روزمرہ کے استعمال کی اشیاء ہیں۔ اگر ان کے حالات آج سے سو برس پہلے بیان کئے جاتے تو کسی کے لئے ان کا سمجھنا ممکن نہ تھا۔ یہی حال خیالات کی دنیا کا ہے۔ فلسفہ کے جو نظریات اب زیر بحث ہیں۔ آج سے چند سو سال پہلے ان کا ادراک مشکل تھا۔ اس لئے قیامت کی نسبت قرآنی بیان سے زیادہ تفصیل ممکن ہی نہ تھی اور ہمارے نزدیک یہ حالات پوری تفصیل کے ساتھ بیان ہونا مناسب بھی نہ تھا۔ آخری منزل کے بارے میں ابہام اور حجاب انسان کی متجسس فطرت کے لئے ترقی کے محرک ہیں۔

لیکن قیامت کے حالات کو ایک واضح اور ہر لحاظ سے مکمل تصور کی صورت میں اپنے ذہن میں نہ لا سکنے سے یہ مراد نہیں ہے کہ ہم سرے سے اس کی نسبت کوئی تخیل ہی قائم نہیں کر سکتے۔ ایک بات یقینی ہے اور وہ یہ کہ آخری منزل حصول مقصد تخلیق اور تکمیل شرف انسانیت کی منزل ہوگی۔ نظریہ ارتقاء کا تقاضا ہے کہ انجام، انحطاط، پراگندگی اور شکست کی صورت میں ظاہر نہیں ہوگا۔

جو حالات آخری زمانہ کی نسبت احادیث میں درج ہیں۔ وہ اس کتاب کے پہلے باب میں لکھ دئے گئے ہیں۔ امید ہے آپ نے وہ حالات پڑھ لئے ہوں گے۔ کیا وہ حالات انسان کے کسی شاندار مستقبل کا نقشہ پیش کرتے ہیں؟ وہ تو ایک طرح کا Anti Climax ہیں۔ جس طرح ایک سنجیدہ اور پرشکوہ ڈرامہ یک لخت اور غیر متوقع طور سے ایک Farce کی صورت میں اختتام پذیر ہو جائے۔

جس آدم خاکی کے عروج سے انجم سہم رہے ہیں۔ کیا اس کا انجام اس طرح ہونا ہے کہ تمام بنی نوع انسان اس حد تک ذہنی افلاس میں مبتلا ہو جائے کہ ایک عجیب الخلقت دجال کو اس سے زیادہ عجیب الخلقت گدھے پر سوار دیکھے اور اس کی خدائی پر ایمان لے آئے۔ یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرشتوں کے سہارے آسمان سے اتر کر مینارۂ دمشق پر نازل ہوں اور دجال سے جنگ کر کے اسے قتل کریں اور اس طرح لوگ دجال کے شر سے محفوظ ہوں اور پھر اس کے ساتھ ہی قیامت قائم ہو جائے۔

قرآن کی رو سے تخلیق آدم کا مقصد زمین پر خدا کی خلافت کا قیام تھا۔ فرشتوں نے شروع سے ہی آدم کی صلاحیتوں کو نہایت درجہ شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھا اور خدشہ ظاہر کیا کہ یہ مخلوق خواہ مخواہ خون خرابہ کرے گی اور فساد پیدا کرنے کا موجب ہوگی۔ اس کے مقابلہ میں خدا تعالیٰ کا اعلان تھا کہ میں جانتا ہوں اور تم نہیں جانتے۔ آدم کی انتہائی ترقی اور انجام کے جو حالات

٧٢

صفحہ ٢٨٣

نزول مسیح والی احادیث میں بیان ہوئے ہیں۔ ان کے درست ماننے سے مقصد تخلیق کا فوت ہو جانا تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ اس صورت میں یہی کہنا پڑے گا کہ بالآخر وہی ہوا جس کا خدشہ تھا اور انجام کار اس مخلوق سے سوائے خون خرابے اور فساد کے کچھ حاصل نہ ہوا۔ یعنی انسان کی فطرت اور استعداد کو خدا کی نسبت فرشتوں نے بہتر سمجھا تھا۔

یہاں کسی ایک حدیث پر بحث نہیں ہے۔ بلکہ سوال یہ ہے کہ قرآن کے پیش کردہ مقصد تخلیق اور نظریہ ارتقاء کو مسلمات میں مانتے ہوئے کیا احادیث کی کتاب الفتن میں سے کسی بھی روایت پر ایمان لانا ممکن ہے؟

فتنوں اور آزمائشوں سے تو کوئی دور خالی نہیں رہا اور نہ آئندہ کبھی ہوگا۔ ان فتن کی موجودگی ہی انسان کی اعلیٰ ترین صلاحیتوں کو بیدار اور تیز کرنے کا موجب ہے اور بالآخر انسان نے ہر فتنہ پر فتح پائی ہے اور نوع انسانی کا ہر دن گزرے ہوئے دن سے زیادہ شاندار اور مکمل زندگی کا پیغام لایا ہے۔ لیکن ہر دور میں ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں رہی۔ جنہوں نے زندگی کے ارتقائی نظریہ سے انکار کر کے اپنے زمانہ کو بدترین وقت قرار دیا ہے۔ یہ گروہ ہمیشہ موجود رہا ہے۔ ان کی خاصیت یہ ہے کہ سنہرے ماضی کے لئے رطب اللسان رہتے ہیں۔ اپنے زمانے کو برا بھلا کہتے ہیں اور مستقبل کی نسبت انتہائی مایوسی کا اعلان کرتے ہیں۔ احادیث میں بیان کیے ہوئے آثار قیامت اسی طبقہ کے زور فکر کا نتیجہ معلوم ہوتے ہیں۔ یہ روایات قول رسول کیوں کر ہو سکتی ہیں۔ جب کہ رسول کے ساتھ اور ان کے ذریعہ تمام بنی نوع انسان کے ساتھ علیم و خبیر خدا کا حتمی وعدہ موجود ہے۔ ”تمہارے لئے ہر آنے والا زمانہ گزرے ہوئے زمانے سے بہتر ہو گا۔“

اسی مضمون کی تائید ایک قدسی حدیث سے ہوتی ہے۔ جس کے الفاظ یہ ہیں ۔ ”زمانے کو برا مت کہو۔ میں زمانہ ہوں ۔“

پھر یہ آخری فتنہ ہے کیا چیز کہ جس سے مقابلہ کرنے کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اب تک زندہ رکھنے اور آسمان سے نازل کرنے کی ضرورت ہوگی ۔ اگر دجال آ ہی جائے تو کیا اس ایٹمی قوت کے دور میں بھی انسان اس کی شعبدہ بازیوں کا علاج نہ کر سکیں گے؟

نزول مسیح کی نسبت احادیث کے بارے میں جماعت احمدیہ کا موقف بالکل ناقابل فہم ہے۔ یہ لوگ نہ ان حدیثوں کو مانتے ہیں اور نہ ان سے انکار کرتے ہیں۔ یہ عجیب بات ہے کہ احادیث کے اقرار اور انکار دونوں صورتوں میں مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ کی تردید ہوتی ہے اور جماعت احمدیہ کا علیحدہ وجود باطل ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اگر احادیث سے انکار کیا جائے تو کسی مسیح

٧٣

صفحہ ٢٨٤

یا مہدی پر ایمان لانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور اگر حدیثوں میں بیان کی ہوئی خبر صحیح ہے تو پھر آپ کو ان آثار کا انتظار کرنا چاہئے۔ جو نزول مسیح کے ضمن میں بیان ہوئے ہیں اور اس صورت میں آپ ہمیشہ انتظار کرتے رہیں گے۔

ہمیں اس پر اصرار نہیں کہ آپ ضرور نزول مسیح کی احادیث سے انکار کریں۔ البتہ ہمیں اس پر ضرور اصرار ہے کہ آپ عقل اور منطق کے مطابق ایک دو ٹوک فیصلہ کریں۔ احادیث کا صحیح یا موضوع ہونا بعض شہادتی امور کے قابل اعتبار ہونے یا نہ ہونے کا مسئلہ ہے۔ اگر کوئی حدیث شہادت کی میزان پر پوری اترتی ہے تو ماننا پڑے گا کہ اس میں دی ہوئی خبر وہی قول ہے۔ جو رسول کریم ﷺ نے بیان کیا اور صحابہؓ اور تابعین اور محدثین کے ذریعہ ہم تک پہنچ گیا۔ اس صورت میں اس پر بلاچون و چرا اور من وعن ایمان لانا چاہئے۔ اس کے برعکس اگر روایت اور درایت کے اصولوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ ثابت نہ ہو کہ یہ روایت صحیح ہے تو اس صورت میں اس کا کوئی حصہ بھی قابل قبول نہ ہوگا۔ کیا یہ انتہائی ظلم نہیں ہوگا کہ احادیث کو تو رد کر دیا جائے۔ لیکن ان میں بیان کئے ہوئے بعض الفاظ کو اپنے سیاق و سباق سے علیحدہ کر کے ایک عجیب و غریب دعویٰ کی دلیل ٹھہرا لیا جائے۔ بعینہ یہی عمل مرزا غلام احمد قادیانی نے احادیث کے ساتھ کیا ہے۔ انہوں نے ایک طرف تو ان احادیث کو رطب و یابس کا مجموعہ قرار دیا ہے اور دوسری طرف اس مجموعے میں سے مفرد الفاظ لے کر ان کو اپنے دعویٰ کی تائید میں پیش کیا ہے۔

کیا آپ کسی جج کے لئے یہ بات حق بجانب قرار دیں گے کہ وہ گواہ کی شہادت کو تو رد کردے۔ لیکن اس کے بیان سے کچھ الفاظ لے کر ان سے ازخود ایک کہانی مرتب کر لے اور پھر اس کہانی کے مطابق مقدمے کا فیصلہ کردے اور مرزا قادیانی نے تو اس سے زیادہ غضب کی بات یہ کی ہے کہ جن چند الفاظ پر ان کی نظر انتخاب پڑی ہے۔ ان کو بھی انہوں نے اپنے حال پر نہیں چھوڑا۔ ان الفاظ کی جو تاویل مرزا قادیانی کی ہے۔ اس کی چند مثالیں اس کتاب کے ایک دوسرے باب میں بیان کی گئی ہیں۔ ان کے پڑھنے سے معلوم ہوگا کہ مرزا قادیانی کا مسلک یہ تھا کہ ”جز نام نہیں ہستی اشیاء میرے آگے“

مرزا قادیانی نے حدیث میں سے دجال، مسیح، دمشق، مینارۂ بیضا وغیرہ چند الفاظ لئے ہیں اور ان کو کھینچ تان کر جو معنی اپنے حالات کے مناسب معلوم ہوئے ہیں۔ کر دیئے ہیں اور احادیث کے اصل مضمون کو رد کر دیا ہے۔ مرزا قادیانی کے لئے اپنے مقصد میں کامیاب ہونے کے لئے یہ رویہ ضروری تھا۔ لیکن ہمارا سوال جماعت احمدیہ کے نوجوانوں سے ہے۔ وہ کیوں خالی

٧٤

الذہن ہو کر معاملے کو نہیں سوچتے۔ احادیث کا انکار کرنے والوں کا موقف بھی قابل فہم ہیں۔ لیکن یہ راہ اختیار کرنا کیوں کر جائز ہے کی بنیاد قائم کی جائے۔

فہم قرآن

پیشوائیت اور دینی علوم کی اجارہ صدیوں سے ان تصورات ہی کا شکار ہیں عوام میں دو عقیدے راسخ کر دیئے جائیں تکمیل نہیں کرتا۔ اس کی تکمیل کے لئے احادیث ہے۔ جن میں استعداد پیدا کرنا ہر کسی کے بس کام ہے اور اس کے لئے تفاسیر اور علماء کی سے زیادہ خطرناک ہے۔ کیونکہ اگر اس دھوکہ تو ہمیں معلوم ہوگا کہ خدا کا اعلان کہ ہم نے ہے۔ بلکہ حقیقت پر مبنی ہے اور قرآن واقعی قرآن کو پڑھنے اور سمجھنے پر ہم حضرت عمرؓ اللہ کی کتاب کافی ہے۔

احمدیہ جماعت کے عقائد کے اس لئے اس کتاب میں اس بحث کا ایک مفروضہ کہ عوام کے لئے اپنی عقل کی روشنی کے لئے بہت عمدہ ثابت ہوا۔ چنانچہ انہوں سب سے پہلے تو ان کے سامنے یہ سوال آخری کتاب ہے۔ اس کے ذریعے دین کے حالات کے لئے ہدایت قرآن میں ہے۔ تو پھر کسی نبی، محدث، مجدد یا مامور کے زمانے میں ان پر یہ اعتراض علماء کی سے یہ اعتراض ہو بھی کیسے سکتا تھا۔ جب

صفحہ ٢٨٥

الذہن ہو کر معاملے کو نہیں سوچتے۔ احادیث معتقدین کا مسلک سمجھ میں آسکتا ہے۔ اسی طرح ان کا انکار کرنے والوں کا موقف بھی قابل فہم ہے۔ آپ ان میں سے کسی فریق کا ساتھ دے سکتے ہیں۔ لیکن یہ راہ اختیار کرنا کیوں کر جائز ہے کہ احادیث کا انکار کرتے ہوئے ان پر ہی اپنے عقیدہ کی بنیاد قائم کی جائے۔

فہم قرآن

پیشوائیت اور دینی علوم کی اجارہ داری صریحاً غیر اسلامی تصورات ہیں۔ لیکن مسلمان صدیوں سے ان تصورات ہی کا شکار ہیں۔ سلاطین اور ان کے ہوا خواہ علماء کا مفاد اسی میں تھا کہ عوام میں دو عقیدے راسخ کر دیئے جائیں۔ اوّل یہ کہ قرآن (اپنے دعوٰی کے باوجود) دین کی تکمیل نہیں کرتا۔ اس کی تکمیل کے لئے احادیث اور روایات کے ایک غیر متناہی سلسلے کی ضرورت ہے۔ جن میں استعداد پیدا کرنا ہر کسی کے بس میں نہیں۔ دوسرے یہ کہ خود قرآن کو سمجھنا ایک مشکل کام ہے اور اس کے لئے تفاسیر اور علماء کی راہنمائی کی ضرورت ہے۔ فی الواقعہ دوسرا خیال پہلے سے زیادہ خطرناک ہے۔ کیونکہ اگر اس وہم کو ترک کر کے ہم خود قرآن پڑھنا شروع کر دیں تو ایک تو ہمیں معلوم ہوگا کہ خدا کا اعلان کہ ہم نے قرآن کو آسان بنایا ہے۔ کوئی استعارہ اور تمثیل نہیں ہے۔ بلکہ حقیقت پر مبنی ہے اور قرآن واقعی آسان ہے۔ ہم سب اس کو سمجھ سکتے ہیں۔ دوسرے قرآن کو پڑھنے اور سمجھنے پر ہم حضرت عمرؓ کی طرح یہ کہنے کے قابل ہو جائیں گے کہ ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے۔

احمدیہ جماعت کے عقائد کے ضمن میں فہم قرآن کا تصور ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لئے اس کتاب میں اس بحث کا ایک حد تک تفصیل سے تجزیہ کرنا ضروری ہو گیا ہے۔ یہ مفروضہ کہ عوام کے لئے اپنی عقل کی روشنی میں قرآن کو سمجھنا ممکن نہیں۔ مرزا قادیانی کے دعاویٰ کے لئے بہت ممد ثابت ہوا۔ چنانچہ انہوں نے اس عقیدہ پر کئی پہلوؤں سے استدلال کیا ہے۔ سب سے پہلے تو ان کے سامنے یہ سوال پیش کیا گیا کہ جب آپ مانتے ہیں کہ قرآن خدا کی آخری کتاب ہے۔ اس کے ذریعے دین کی تکمیل ہو گئی ہے۔ تمام زمانوں، سب ملکوں اور ہر قسم کے حالات کے لئے ہدایت قرآن میں موجود ہے۔ اس میں کوئی تحریف نہیں ہوئی اور نہ ہو سکتی ہے۔ تو پھر کسی نبی، محدث، مجدد یا مامور من اللہ کی کیا حاجت ہے؟ لیکن یاد رہے کہ مرزا قادیانی کے زمانے میں ان پر یہ اعتراض علماء کے کسی قابل ذکر طبقے نے نہیں کیا اور ان لوگوں کی طرف سے یہ اعتراض ہو بھی کیسے سکتا تھا۔ جب کہ یہ خود اس بات کے قائل نہ تھے کہ ہمارے دینی

٧٥

صفحہ ٢٨٧

ضروریات کے لئے قرآن متکفل ہے۔ احادیث کی نسبت یہ علماء قرآن کے مثلہ معہ کا عقیدہ قائم کئے ہوئے تھے۔ یہ بھی مانتے تھے کہ ہر صدی کے سرے پر ایک مجدد کا مبعوث کیا جانا ضروری ہے۔ محدثین کے مقلد تھے اور مفسرین کی رائے کا بھی اپنے آپ کو پابند سمجھتے تھے اور سب سے بڑی بات یہ تھی کہ اگر ہدایت کے لئے قرآن کو کافی قرار دیا جائے تو خود علماء کا وجود بہ حیثیت ایک الگ جماعت کے غیر ضروری ہو جاتا ہے۔ ان حالات میں مرزا قادیانی کے دعویٰ پر مذکورہ بالا اعتراض صرف چند روشن خیال مسلمانوں ہی نے کیا۔ اکثر ان میں سے غیر معروف تھے اور بعض علماء کے نزدیک اپنے الحاد کے لئے مشہور۔

اس اعتراض کا جواب مرزا قادیانی نے اپنی اکثر کتب میں دیا ہے۔ نمونہ کے طور پر کتاب (نزول المسیح ص٩٣ ، خزائن ج١٨ ص٤٧١) کا ایک حوالہ ملاحظہ ہو۔ مسلمانوں کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں۔ ”قرآن شریف خدا کا کلام تو ہے۔ بلکہ سب سے بڑا کلام مگر وہ تم سے بہت دور ہے۔ تمہاری آنکھیں اس کو دیکھ نہیں سکتیں۔ اب وہ تمہارے ہاتھ میں ایسا ہے جیسا کہ توریت یہودیوں کے ہاتھ میں۔ اس وجہ سے اگر تم انصاف کرو تو گواہی دے سکتے ہو کہ باعث اس کے کہ اس پاک کلام کے یقینی انوار تمہاری آنکھوں سے پوشیدہ ہیں۔ تم اس سے باطنی تقدس کا کچھ بھی فائدہ حاصل نہیں کر سکتے۔“

آگے چل کر اسی کتاب میں (نزول المسیح ص١٠٨ ، ١١٢، خزائن ج١٨ ص٤٨٦، ٤٩٠) اس موقف کی مزید تشریح ان الفاظ میں کی گئی ہے۔ ”قرآن شریف اگر چہ عظیم الشان معجزہ ہے۔ مگر ایک کامل کے وجود کو چاہتا ہے کہ جو قرآن کے اعجازی جواہر پر مطلع ہو اور وہ اس تلوار کی طرح ہے۔ جو درحقیقت بے نظیر ہے۔ لیکن اپنا جوہر دکھلانے میں ایک خاص دست و بازو کی محتاج ہے۔ اسی پر دلیل شاہد یہ آیت ہے کہ : ”لا یمسہ الا المطہرون“ پس وہ ناپاکوں کے دلوں پر معجزہ کے طور پر اثر نہیں کر سکتا۔ بجز اس کے کہ اس کا اثر دکھلانے والا بھی قوم میں ایک موجود ہے اور وہ وہی ہوگا۔ جس کو یقینی طور پر نبیوں کی طرح خدا تعالیٰ کا مکالمہ اور مخاطبہ نصیب ہوگا۔ ......... ......... ہاں قرآن شریف معجزہ ہے۔ مگر وہ اس بات کو چاہتا ہے کہ اس کے ساتھ ایک ایسا شخص ہو کہ جو اس معجزہ کے جوہر ظاہر کرے اور وہ وہی ہوگا جو بذریعہ الہامی کلام کے پاک کیا جائے گا۔“

جہاں تک راقم کو معلوم ہے۔ قرآن نے اپنے من جانب اللہ ہونے کے لئے یہ امر تو بطور ایک دلیل پیش کیا ہے کہ اگر سب انسان بھی کوشش کریں تو کل قرآن تو رہا ایک طرف۔ اس

٧٦

کی کسی بھی آیت کی مانند اور ہم پلہ کوئی عبارت لا لیکن کیا قرآن کے اعجاز کے لئے یہ بھی ضروری ہے ہر وقت ایک ایسے وجود کا ہونا لازمی قرار دیا جائے کلام کی عظمت اس میں ہے کہ اس کا مطلب کوئی نہ ساتھ ہی اس کے معنی دل و دماغ کی گہرائیوں تک

زبان خیال کے اظہار کا ذریعہ ہے۔ دوسرے ذہن تک پہنچانا ہے۔ انسان بعض دفعہ دوسروں تک نہیں پہنچا سکتا اور بعض دفعہ زبان جان لئے استعمال کی جاتی ہے۔ لیکن قرآن خدا کا کلام اس کا مقصد انسانوں کی ہدایت ہے۔ پھر یہ کیوں معدودے چند خواص کے اور کوئی اس کے معنی جاتا ہے۔ قرآن کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام جہانوں اس بات سے آگاہ ہے کہ دنیا کی بہت بھاری قرآن کو عاملین کے لئے ذکر مقرر کرنے کے لئے تھی۔ اس کے برعکس کوئی تخیل قائم کرنا قرآن کے

قرآن کی نسبت دوسرا دعویٰ یہ ہے کہ کرنے کے قواعد اس میں بیان کئے گئے ہیں۔ اس نسبت دلائل اسی شخص پر حجت ہو سکتے ہیں جو کم از کم کہا جائے کہ قرآن کو سمجھنے کی استعداد بہت کم لوگوں دائرہ بھی بالکل محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔ دنیا میں پابندی بھی اس قیاس پر مبنی ہے کہ قانون ہر کوئی صورتوں میں یہ قیاس حقیقت سے عاری ہوتا ہے جو اس کو نہیں سمجھتے اور شاید سمجھ سکتے بھی نہیں۔ لیکن استدلال قائم نہیں کیا جاسکتا۔ قرآن میں نیکی اور ہیں اور ان حقیقتوں کی بناء پر چند اہم اور غیر مبدل سلیم کے عین مطابق ہیں اور ان کا بیان کر دینا ہی

٧٧

صفحہ ٢٨٧

کی کسی بھی آیت کی مانند اور ہم پلہ کوئی عبارت اپنی طرف سے پیش کرنے سے قاصر رہیں گے۔ لیکن کیا قرآن کے اعجاز کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ اس کو سمجھنے اور اس کا اثر قبول کرنے کے لئے ہر وقت ایک ایسے وجود کا ہونا لازمی قرار دیا جائے جو بذریعہ الہامی کلام کے پاک کیا گیا ہو؟ کیا کلام کی عظمت اس میں ہے کہ اس کا مطلب کوئی نہ سمجھ سکے۔ یا اس میں کہ اس کو پڑھنے یا سننے کے ساتھ ہی اس کے معنی دل و دماغ کی گہرائیوں تک پہنچ جائیں؟

زبان خیال کے اظہار کا ذریعہ ہے۔ کلام کا مقصد ہی کسی خیال کو ایک ذہن سے دوسرے ذہن تک پہنچانا ہے۔ انسان بعض دفعہ اپنے عجز بیان کی وجہ سے اپنا مطلب کما حقہ دوسروں تک نہیں پہنچا سکتا اور بعض دفعہ زبان جان بوجھ کر اظہار خیال کی بجائے اخفاء حقیقت کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔ لیکن قرآن خدا کا کلام ہے۔ خدا کو بیان پر پوری قدرت حاصل ہے۔ اس کا مقصد انسانوں کی ہدایت ہے۔ پھر یہ کیوں کر ممکن ہے کہ قرآن کی زبان ایسی ہو کہ سوائے معدودے چند خواص کے اور کوئی اس کے معنی ہی نہ سمجھ سکے۔ اس سے تو وحی کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔ قرآن کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام جہانوں کے لئے ذکر اور نصیحت ہے۔ خدا سے زیادہ کون اس بات سے آگاہ ہے کہ دنیا کی بہت بھاری اکثریت نہایت معمولی علمی استعداد رکھتی ہے۔ قرآن کو عالمین کے لئے ذکر مقرر کرنے کے لئے اس کی زبان بھی عالمین کی زبان ہونا چاہئے تھی۔ اس کے برعکس کوئی تخیل قائم کرنا قرآن کے اپنے دعویٰ اور مقصد کے منافی ہے۔

قرآن کی نسبت دوسرا دعویٰ یہ ہے کہ یہ ضابطہ حیات ہے۔ نیکی اور بدی میں امتیاز کرنے کے قواعد اس میں بیان کئے گئے ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ یہ ضابطہ اور قواعد اور ان کی صحت کی نسبت دلائل اسی شخص پر حجت ہو سکتے ہیں جو کم از کم ان کے معانی سمجھ سکے۔ اس صورت میں اگر یہ کہا جائے کہ قرآن کو سمجھنے کی استعداد بہت کم لوگوں میں ہے تو قرآنی قانون اور احکام کی پابندی کا دائرہ بھی بالکل محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔ دنیا میں انسانوں نے خود جو قوانین وضع کئے ہیں۔ ان کی پابندی بھی اس قیاس پر مبنی ہے کہ قانون ہر کوئی سمجھتا ہے یا سمجھ سکتا ہے۔ یہ درست ہے کہ کئی صورتوں میں یہ قیاس حقیقت سے عاری ہوتا ہے اور وہ لوگ بھی قانون میں ماخوذ ہو جاتے ہیں۔ جو اس کو نہیں سمجھتے اور شاید سمجھ سکتے بھی نہیں۔ لیکن اس صورتحال سے خدائی قانون کی نسبت کوئی استدلال قائم نہیں کیا جاسکتا۔ قرآن میں نیکی اور بدی کی نسبت صرف بنیادی حقیقتیں بیان کی گئی ہیں اور ان حقیقتوں کی بناء پر چند اہم اور غیر مبدل احکام مقرر کئے گئے ہیں۔ جو انسان کی فطرت سلیم کے عین مطابق ہیں اور ان کا بیان کر دینا ہی ان کو سمجھ لینا ہے۔

٧٧

صفحہ ٢٨٨

اس جگہ ایک امر کے بارے میں تصریح کر دینا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ یہ بات کہ قرآن میں رموز و معارف ہیں۔ اس سے یہاں انکار نہیں کیا جارہا۔ لیکن وہ ایسے معارف نہیں ہوسکتے کہ انسان کی سمجھ سے ہی بالا ہوں۔ ان معارف کو سمجھنے کے لئے عقل، علم، کوشش اور غور و فکر کی ضرورت ہے نہ کہ کسی خاص روحانی درجے کی۔

آیت ”لا یمسہ الا المطہرون“ کے کوئی معنی ہو سکتے ہیں۔ عام طور پر اس سے یہ مفہوم لیا جاتا ہے کہ اس میں قرآن کو چھونے کے لئے جسمانی پاکیزگی کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس آیت میں یہ امر واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ پاکیزہ خیال لوگوں کے سوائے دوسروں کو قرآنی تعلیم سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ لیکن مرزا قادیانی کا بیان کیا ہوا۔ مفہوم اس سے بالکل الگ ہے۔ ان کے نزدیک قرآن کو سمجھنے کے لئے پاک ہونا نہیں بلکہ پاک کیا جانا ضروری ہے۔ ان کے مسلک کے مطابق جسمانی طہارت تو خیر ایک عامیانہ خیال ہے۔ اپنی سعی سے روحانی تزکیہ نفس بھی فہم قرآن کی بحث سے غیر متعلق ہے۔ قرآن سمجھنے کے لئے الہامی کلام کے ذریعہ پاک کیا جانا اور نبیوں کی طرح خدا تعالیٰ کا مکالمہ اور مخاطبہ نصیب ہونا ضروری ہے۔

اس بات کا کوئی واضح تصور قائم نہیں ہو سکتا کہ الہامی کلام سے پاک کئے جانے سے مرزا قادیانی کی کیا مراد تھی۔ غالباً ان کا مدعا صرف یہ کہنے سے ہے کہ قرآن کا مفہوم کما حقہ سمجھنے کے لئے صاحب الہام ہونا ضروری ہے۔ پاک کئے جانے کے الفاظ محض آیت ”لا یمسہ الا المطہرون“ سے سند حاصل کرنے کے لئے استعمال کئے گئے ہیں

بہر حال اگر مرزا قادیانی کا خیال درست مانا جائے تو سوائے ان چند خوش نصیب اور برگزیدہ انسانوں کے جن کو نبیوں کی طرح مکالمہ و مخاطبہ کا مقام حاصل ہے۔ دیگر تمام بنی نوع انسان قرآنی ہدایت سے محروم رہے گی اور پھر جو نبیوں کی طرح خود صاحب الہام ہیں۔ ان کو شاید کسی دوسرے ذریعہ ہدایت کی احتیاج ہی کہاں ہوگی۔ گویا ہدایت سے سب سے زیادہ محروم وہی طبقہ رہے گا جو اس کا سب سے زیادہ محتاج اور مستحق ہے۔ ایک عالمگیر مذہب کے مآخذ کی نسبت اس طرح کا تصور کیوں کر درست ہو سکتا ہے؟

یہ اتفاق کی بات نہیں کہ قرآنی وحی کا حامل نبی امی تھا اور اس کے اولین مخاطب بھی ناخواندہ لوگ تھے۔ کیا اس دور میں بارہا ایسا نہیں ہوا کہ ایک شخص نے محض قرآن سن کر کفر چھوڑ دیا اور اسلام میں داخل ہو گیا؟ سوال یہ ہے کہ کیا یہ لوگ قرآن کو سمجھے بغیر ہی اس سے ہدایت پا رہے اور اس کی تعلیم پر عمل کر رہے تھے؟ پھر کیا قرآن سمجھنے کے قابل ہونے کے لئے انہیں کسی الہام کے

٧٨

صفحہ ٢٨٩

ذریعہ پاک کیا گیا تھا؟ خدا نے تو ان کی حالت یہ بیان کی ہے کہ نبی ﷺ سے قرآنی تعلیم سننے اور اس پر عمل کرنے سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں تھے۔ ”وان كانوا من قبل لفی ضلل مبین“ اگر لاکھوں عرب عوام کے لئے بغیر کسی الہام کی امداد کے قرآن کو سمجھنا اور اس کی تعلیم کے ذریعہ اپنے آپ میں اور دنیا میں ایک عملی اور نظریاتی انقلاب برپا کرنا ممکن تھا تو ہمارے لئے کیوں ضروری ہو گیا ہے کہ قرآن کو سمجھنے کے لئے ہم میں ایک ایسا شخص موجود ہو جس کو ”یقینی طور پر نبیوں کی طرح خدا تعالیٰ کا مکالمہ اور مخاطبہ نصیب ہو“۔

ہندوستان اور دیگر غیر عرب ممالک میں قرآن کا عربی زبان میں ہونا ایک دقت پیش کر سکتا ہے۔ لیکن مرزا قادیانی اس دقت کا ذکر نہیں کر رہے۔ یہ وقت قرآن کے ساتھ مخصوص نہیں۔ ہر کتاب کسی نہ کسی زبان میں ہوگی اور اس کتاب کو سمجھنے کے لئے اس کی زبان کا جاننا ضروری ہوگا۔ خود عربوں کے لئے بھی قرآن پڑھنے کے لئے عربی زبان کا سیکھنا ضروری ہے۔ لیکن بہر حال عربی زبان سیکھنے کے لئے کسی الہامی ذریعہ کی ضرورت نہیں ہے۔ مرزا قادیانی کی مراد قرآن کے اندرونی اور مخفی معانی سے ہے۔ جن تک پہنچنا باوجود عربی زبان پر پورا عبور حاصل ہونے کے ممکن نہیں۔ سوائے اس کے کہ قوم میں ایک ایسا آدمی موجود ہو جو الہام کے ذریعہ پاک کیا گیا ہو۔ الہام کے ذریعہ پاک کئے جانے کے الفاظ اس باب میں کئی بار استعمال ہو چکے ہیں۔ لیکن جیسا کہ پہلے آچکا ہے۔ ہم ان کا کوئی واضح مفہوم نہیں سمجھ سکے۔ الہام سے تو صرف کوئی بات بتائی جاسکتی ہے۔ پاک تو انسان پاکیزہ خیالات اور پاکیزہ اعمال سے ہی ہوگا۔ یہ بھی دلچسپ بات ہے کہ مرزا قادیانی نے کہیں یہ ظاہر نہیں کیا کہ اس ایک برگزیدہ ہستی سے قوم کے دیگر افراد کو کیا فائدہ پہنچے گا۔ آیا وہ بھی اس کے فیض سے قرآنی معارف کو سمجھ لیں گے یا پھر وہ اس کی صحبت کی وجہ سے ان معارف سے بے نیاز ہو جائیں گے؟

فہم قرآن کی نسبت بحث کا قطعی فیصلہ ایک آسان تجربے سے ہو سکتا ہے اور ہمارے خیال میں درست نتیجے تک پہنچنے کا واحد ذریعہ یہ تجربہ ہی ہے۔ جن قارئین کو اس بارے میں شک ہو وہ بجائے طویل خیالی بحث میں پڑنے کے خود قرآن کو پڑھ کر دیکھ لیں۔ انہیں معلوم ہو جائے گا کہ یہ صاف سیدھی اور دل نشین عبارت ہے۔ اس کے سمجھنے کے لئے کسی خارجی امداد کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر کسی مقام پر کچھ ابہام ہے تو دوسری جگہ خود قرآن ہی نے اس کی تشریح کر دی ہے۔

گو بہترین صورت یہ ہے کہ عربی زبان سیکھ کر قرآن کو اسی زبان میں پڑھا اور سمجھا جائے۔ لیکن اس تجربہ کے لئے عربی زبان کا جاننا ضروری نہیں۔ قرآن دنیا کی کئی زبانوں میں

٧٩

صفحہ ٢٩٠

ترجمہ ہوچکا ہے۔ ابھی حال ہی میں ایم پکتھال کے ترجمہ (The meaning of the glorious Quran) کا ایک خوبصورت ایڈیشن امریکہ میں چھپا ہے۔ انگریزی دان طبقہ اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے اور پھر عربی متن کے ساتھ اردو میں متعدد تراجم ہر جگہ مل سکتے ہیں۔ ضمناً قرآن کی عمومی مقبولیت اور عام فہم ہونے کا ایک یہ بھی ثبوت ہے کہ پکتھال کا ترجمہ ان چند کتب میں شامل ہے جو اس سال امریکن پبلک نے سب سے زیادہ خریدیں۔

یہاں ایک امر کی توضیح کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ قرآن نے محکم اور متشابہ آیات کی تخصیص کی ہے۔ دین کے تمام بنیادی عقائد اور احکام محکمات میں آگئے ہیں اور ان کی نسبت کسی شبہ اور ابہام کی گنجائش نہیں ہے۔ متشابہات کے جیسا کہ یہ لفظ خود ظاہر کر رہا ہے۔ ایک سے زیادہ معنی ممکن ہیں۔ لیکن متشابہات کا موضوع عقائد اور احکام نہیں ہے۔ بلکہ عام طور پر یہ سابقہ امتوں کے قصص اور تمثیلی امور کے متعلق ہیں۔ جن کی نسبت اختلاف آراء چنداں نقصان دہ نہیں ہے۔

قرآن کریم کی رو سے ایمان کی جڑ یہ ہے کہ محکمات کو مضبوطی سے پکڑا جائے اور ان میں قیل و قال کی گنجائش نہ نکالی جائے۔ اس کے برعکس متشابہات کی نسبت کوئی سی معقول توجیہہ کی جاسکتی ہے۔ لیکن کسی خاص معنی کو لے کر اس کو دین کے بنیادی عقائد میں داخل کر لینا اور اس کی بناء پر فرقہ بندی قائم کرنا ناپسندیدہ امر ہے اور جو لوگ متشابہات کی تاویلات میں الجھے رہتے ہیں۔ قرآن کے حکم کے مطابق ان کے دلوں میں کجی (زیغ) ہوتی ہے۔

مرزا قادیانی پر متشابہات کی ناجائز تاویل کا الزام نہیں لگایا جاسکتا۔ انہوں نے اپنی تصانیف میں ان آیات سے چنداں سروکار ہی نہیں رکھا۔ ان کا کارنامہ اس سے بالکل الگ ہے اور اپنی شان میں قریباً منفرد ہے۔ انہوں نے اپنی تاویل کے زور سے محکم آیات کو متشابہات میں داخل کر دیا ہے۔ اس عمل کی چند مثالیں اگلے باب میں لکھی جائیں گی۔ فی الحال اس امر کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ اگر مرزا قادیانی کے مامور کئے جانے کی غرض قرآن کے پوشیدہ معانی کو ظاہر کرنا تھی تو انہیں سب سے زیادہ توجہ ان آیات کی طرف کرنی چاہئے تھی۔ جن کو سمجھنا نسبتاً مشکل تھا۔ لیکن یہ کیا بات ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی اس امر کے لئے وقف کر دی کہ قرآن کے ان حصوں کو بھی مبہم اور ناقابل فہم بنادیں۔ جن کے معنی سمجھنے میں آج تک کسی کے ذہن میں کوئی الجھن پیدا نہیں ہوئی؟

محکمات اور متشابہات کی بحث سے قطع نظر مرزا قادیانی کی تصانیف کا بہت قلیل حصہ قرآن کی تفسیر پر مشتمل ہے۔ اگر قرآن کے یقینی انوار اور اس کا جوہر ظاہر کرنے کے لئے ایک کامل

٨٠

صفحہ ٢٩١

تھال کے ترجمہ The meaning of the) ورت ایڈیشن امریکہ میں چھپا ہے۔ انگریزی دان طبقہ کے ساتھ اردو میں متعدد تراجم ہر جگہ مل سکتے ہیں۔ ضمناً کا ایک یہ بھی ثبوت ہے کہ پکھتھال کا ترجمہ ان چند کتب نے سب سے زیادہ خریدیں۔ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ قرآن نے محکم اور متشابہ آیات عقائد اور احکام محکمات میں آگئے ہیں اور ان کی نسبت کسی ی کے جیسا کہ یہ لفظ خود ظاہر کر رہا ہے۔ ایک سے زیادہ عقائد اور احکام نہیں ہے۔ بلکہ عام طور پر یہ سابقہ امتوں کی نسبت اختلاف آراء چنداں نقصان دہ نہیں ہے۔ کی جڑ یہ ہے کہ محکمات کو مضبوطی سے پکڑا جائے اور ان جا کے برعکس متشابہات کی نسبت کوئی سی معقول توجیہہ کی کو دین کے بنیادی عقائد میں داخل کر لینا اور اس کی بناء جو لوگ متشابہات کی تاویلات میں الجھے رہتے ہیں۔ ی کجی (زیغ) ہوتی ہے۔

ناجائز تاویل کا الزام نہیں لگایا جاسکتا۔ انہوں نے اپنی اری نہیں رکھا۔ ان کا کارنامہ اس سے بالکل الگ ہے نے اپنی تاویل کے زور سے محکم آیات کو متشابہات میں اگلے باب میں لکھی جائیں گی۔ فی الحال اس امر کی طرف ے مامور کئے جانے کی غرض قرآن کے پوشیدہ معانی کو دان آیات کی طرف کرنی چاہئے تھی۔ جن کو سمجھنا نسبتاً نے اپنی زندگی اس امر کے لئے وقف کردی کہ قرآن کے جو جن کے معنی سمجھنے میں آج تک کسی کے ذہن میں کوئی

نے سے قطع نظر مرزا قادیانی کی تصانیف کا بہت قلیل حصہ کے عینی انوار اور اس کا جوہر ظاہر کرنے کے لئے ایک کامل

٨٠

کے وجود کی ضرورت تھی تو ہونا یہ چاہئے تھا کہ اس کامل کا کام قرآن کے معانی اور تفاسیر بیان کرنے سے شروع ہوتا اور اسی پر ختم ہوجاتا۔

لیکن مرزا قادیانی کی کتب سے قرآن کی تفسیر اور ترجمہ کے علم میں کوئی قابل لحاظ اضافہ نہیں ہوا۔ سارے قرآن کی کوئی تفسیر یا ترجمہ مرزا قادیانی کی تصانیف میں شامل نہیں ہے۔ بلکہ کسی ایک سورت کی بھی مکمل تفسیر مرزا قادیانی نے نہیں کی۔ جو مقامات مفسرین میں اختلاف اور نزاع کا موضوع ہیں۔ ان کی طرف مرزا قادیانی نے چنداں توجہ نہیں کی۔ ان کی یہ بے اعتنائی قرآن مجید سے ناواقفیت پر محمول نہیں ہوسکتی۔ ان کی کتب پڑھنے سے معلوم ہوگا کہ مرزا قادیانی نے قرآن کا نہایت غور اور محنت سے مطالعہ کیا تھا۔ لیکن یہ سب مطالعہ ایک ہی مقصد کو سامنے رکھ کر کیا گیا تھا اور وہ یہ تھا کہ قرآن میں ایسی آیات تلاش کی جائیں جو کسی نہ کسی طرح مرزا قادیانی کے حق میں یا ان کے مخالفین کے موقف کے خلاف استعمال ہوسکیں۔ (خواہ اس استعمال میں کتنی ہی دور از کار، اور خلاف عقل تاویلات سے کام لینا پڑے) یہ ایک الگ سوال ہے کہ مرزا قادیانی اس مقصد میں کہاں تک کامیاب ہوئے۔ اتنی بات واضح ہے کہ مرزا قادیانی کا مقصد قرآن کی تفسیر نہیں ہے۔ بلکہ قرآن کی امداد سے اپنے دعاوی کا ثبوت مہیا کرنا ہے۔ حالانکہ ان کے دعویٰ کی رو سے خود ان کے آنے کا مقصد قرآن کی تفسیر کرنا تھا۔

فہم قرآن کی نسبت اپنی استعداد پر مرزا قادیانی نے ایک اور پہلو سے بھی انحصار کیا ہے۔ اپنے مخالف علماء کو انہوں نے ایک مستقل چیلنج دے رکھا تھا کہ ان کے ساتھ قرآن کی تفسیر کا مقابلہ کریں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ خدا نے ان کو قرآنی معارف کا علم بطور ایک معجزہ کے دیا ہے اور اس میں کوئی مولوی ان کے مقابلہ میں آنے کی جرات نہیں کر سکتا اور اگر کوئی مقابلہ کرے گا تو لازماً شکست کھائے گا۔

جیسا کہ اس قسم کے مقابلے کی دعوتوں کا عام طور پر حال ہوتا ہے۔ عملاً مرزا قادیانی کا یہ مقابلہ کسی مولوی سے نہ ہوسکا اور مرزا قادیانی اس امر کو بھی اپنی صداقت اور فتح کا ایک نشان قرار دیا۔ چنانچہ ١٩٠٢ء میں انہوں نے اپنی کتاب (تحفہ گولڑویہ ص ٢١، خزائن ج ١٧ ص ٨٧، ٨٨) کے شروع میں عربی زبان میں ایک اشتہار کے ذریعہ اپنے سابق چیلنج کا اعادہ کیا ہے اور ساتھ ہی لکھا ہے کہ ١٩٠٠ء میں انہوں نے اپنے مخالف علماء اور بالخصوص پیر مہر علی شاہ صاحب کو مقابلہ کے لئے بلایا تھا اور لکھا تھا کہ آپ آخری فیصلہ یہ ہے کہ وہ سنت قدیمہ اکابر اسلام کے رو سے اس طرح پر ایک مباہلہ کی صورت پر مجھ سے مقابلہ کریں کہ قرآن شریف کی چالیس آیتیں قرعہ اندازی کے ذریعہ

٨١

صفحہ ٢٩٢

سے نکال کر اور یہ دعا کر کے جو شخص حق پر ہے اس کو اس مقابلے میں فوری عزت حاصل ہو اور جو ناحق پر ہے اس کو فوری خذلان نصیب ہو اور پھر آمین کہہ کر دونوں فریق یعنی میں اور پیر مہر علی شاہ زبان عربی فصیح اور بلیغ میں چالیس آیات کی تفسیر لکھیں جو بیس ورق سے کم نہ ہو اور جو شخص ہم دونوں میں سے فصاحت زبان عربی اور معارف قرآن کے رو سے غالب رہے وہی حق پر سمجھا جائے اور اگر پیر صاحب موصوف اس مقابلہ سے کنارہ کش ہوں تو دوسرے مولوی صاحبان مقابلہ کریں۔ بشرطیکہ چالیس سے کم نہ ہوں۔

لیکن مرزا قادیانی کی یہ دعوت مقابلہ منظور نہ کی گئی۔ جس کا انہیں بہت افسوس ہے۔ فرماتے ہیں: ”لیکن افسوس بلکہ ہزار افسوس کہ پیر مہر علی شاہ نے میری اس دعوت کو جس سے مسنون طور پر حق کھلنا تھا اور خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے فیصلہ ہو جانا تھا۔ ٹال دیا ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٢٠ خزائن ج ١٧ ص ٨٨)

اگر یہ مقابلہ ہو جاتا تو اپنی دلچسپی کے لحاظ سے ایک بے نظیر معاملہ ہوتا۔ پیر صاحب کی قرآن دانی کی نسبت کوئی رائے قائم کرنے کے ذرائع ہمارے پاس نہیں ہیں لیکن اگر مقابلہ اس بات میں تھا کہ کون قرآن کے ایسے معارف بیان کر سکتا ہے جو کسی دوسرے کے ذہن میں نہیں آسکتے تو فتح غالباً مرزا قادیانی کو ہی ہوتی۔ کیونکہ باقاعدہ مقابلہ کے بغیر جو معارف انہوں نے بیان کئے ہیں وہ بیان کے بعد بھی کسی کی سمجھ میں نہیں آسکتے۔

اس مقابلہ کی دعوت میں مرزا قادیانی نے یہ وضاحت نہیں کی کہ اس امر کا فیصلہ کون کرے گا کہ فریقین کی ”فصیح و بلیغ عربی تفسیروں“ میں سے کس کی تفسیر بہتر ہے۔ عوام تو عربی ہی نہیں جانتے۔ تفسیر کو کیا پرکھیں گے اور علماء ایک نہ ایک دھڑے کے ساتھ شامل ہیں۔ فیصلہ ان کے ہاتھ میں کس طرح چھوڑا جا سکتا ہے۔ پھر یہ بھی سوال ہے کہ جو لوگ ”الہام کے ذریعہ پاک“ نہیں کئے گئے وہ قرآنی معارف کو (خواہ وہ معارف مرزا قادیانی کی زبان سے ہی بیان ہوئے ہوں) کیونکر سمجھ سکیں گے؟ اور بغیر سمجھے یہ لوگ فیصلہ کس طرح دیں گے؟

آخری سوال یہ ہے کہ جب مرزا قادیانی کو علم ہے کہ ان کے سوا کوئی قرآن کے اصلی معانی سے باخبر نہیں ہے تو دوسرے علماء کو اس مقابلہ کی دعوت دینے اور اس میں وقت ضائع کرنے سے کیا فائدہ؟ وہ کیوں اپنی تفسیر ہی بیان نہیں کر دیتے؟ کیا علماء کے مقابلہ سے گریز کرنے کی وجہ سے مرزا قادیانی اپنے فرض سے سبک دوش ہو گئے۔ کیا وہ علماء پر دینی برتری ثابت کرنے کے لئے مامور کئے گئے تھے؟ ان کا کام قرآن کو بیان کرنا تھا؟ یا محض قرآن کے بیان کی قابلیت ثابت

٨٢

صفحہ ٢٩٣

عزت حاصل ہو اور جو میں اور پیر مہر علی شاہ نہ ہو اور جو شخص ہم سب رہے وہی حق پر سمجھا ہوں تو دوسرے مولوی صاحبان مقابلہ کی گئی۔ جس کا انہیں بہت افسوس ہے۔ شاہ نے میری اس دعوت کو جس سے جانا تھا۔ ٹال دیا ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٢، خزائن ج ١٧ ص ٨٨)

کے لحاظ سے ایک بے نظیر معاملہ ہوتا۔ پیر صاحب کی کے ذرائع ہمارے پاس نہیں ہیں۔ لیکن اگر مقابلہ اس بیان کر سکتا ہے جو کسی دوسرے کے ذہن میں نہیں کیونکہ باقاعدہ مقابلہ کے بغیر جو معارف انہوں نے میں نہیں آسکتے۔

قادیانی نے یہ وضاحت نہیں کی کہ اس امر کا فیصلہ کون روں‘ میں سے کس کی تفسیر بہتر ہے۔ عوام تو عربی ہی جب نہ ایک دھڑے کے ساتھ شامل ہیں۔ فیصلہ ان کے بھی سوال ہے کہ جو لوگ ”الہام کے ذریعہ پاک“ نہیں ف مرزا قادیانی کی زبان سے ہی بیان ہوئے ہوں) کس طرح دیں گے؟

زا قادیانی کو علم ہے کہ ان کے سوا کوئی قرآن کے اصلی مقابلہ کی دعوت دیتے اور اس میں وقت ضائع کرنے ں کر دیئے؟ کیا علماء کے مقابلہ سے گریز کرنے کی وجہ ں ہو گئے۔ کیا وہ علماء پر اپنی برتری ثابت کرنے کے بیان کرنا تھا؟ یا محض قرآن کے بیان کی قابلیت ثابت

٨٢

کرتا؟ جو معارف مرزا قادیانی کو پیر مہر علی شاہ کے مقابلے میں بیان کرنے تھے۔ ان سے ہمیں کیوں محروم رکھا اور اپنے سینے میں لئے ہوئے دنیا سے رخصت ہو گئے؟

شہادت القرآن

عصر من پیغمبرے ہم آفرید
آنکہ در قرآن بغیر از خود ندید

(اقبال)

اس باب میں ہم مرزا قادیانی کے فن تفسیر کے چند نمونے بیان کرنا چاہتے ہیں۔ غرض مرزا قادیانی کی تفسیر پر کوئی تفصیلی بحث کرنا نہیں ہے۔ بلکہ صرف یہ ظاہر کرنا ہے کہ کس طرح مرزا قادیانی نے قرآنی آیات کی ناجائز تاویل کر کے انہیں اپنے مقاصد کی تائید کے لئے استعمال کیا ہے۔ علامہ اقبالؒ نے اپنی ایک نظم میں ایک دوسرے مذہبی رہنما کے متعلق لطیفہ کے طور پر یہ بات بیان کی ہے کہ وہ کہتا تھا میں نے قرآنی الفاظ کو معانی کی قید سے آزاد کر دیا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ قول مرزا قادیانی پر بھی پوری طرح صادق آتا ہے۔ مرزا قادیانی کا بنیادی مقصد اپنی ذات تھا۔ ان کی تمام تفسیر اس مقصد کے گرد گھومتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ اس باب کے شروع میں علامہ اقبال کا جو شعر نقل کیا گیا ہے۔ حقیقت میں وہ مرزا قادیانی کے فن تفسیر کا نچوڑ ہے اور اس بارے میں اس سے بہتر تنقید ممکن نہ تھی۔

مرزا قادیانی کے دعاوی کی تردید میں ہم نے سب سے بڑی دلیل یہ پیش کی ہے کہ قرآن سے نزول مسیح وغیرہ آثار کی تائید نہیں ہوتی۔ لیکن اگر مرزا قادیانی کی تفسیر درست مان جائے تو ہماری دلیل غلط ہو جاتی ہے۔ کیونکہ اس صورت میں تمام قرآن مرزا قادیانی کی صداقت کی گواہی دے رہا ہے۔

اب اس شہادت کی مثالیں ملاحظہ فرمائیے: ”قرآن میں سورۃ فاتحہ کو ایک نہایت خاص اور اہم مقام حاصل ہے اس سورۃ کی اہمیت کی وضاحت کے لئے اسے کئی خاص ناموں سے پکارا گیا ہے۔ مثلاً: ام القرآن، الکافیہ، الکنز، اساس القرآن، سبع المثانی۔“

مولانا ابوالکلام آزادؒ نے اپنی تفسیر ”ترجمان القرآن“ کے شروع میں سورۃ فاتحہ کی اہمیت پر ایک دل نشین انداز میں بحث کی ہے۔ اس تحریر کا اقتباس پیش کرنا مفید ہوگا۔ فرماتے ہیں: ”عربی میں ’ام‘ کا اطلاق تمام ایسی چیزوں پر ہوتا ہے جو ایک طرح کی جامعیت رکھتی ہوں یا بہت سے چیزوں میں مقدم اور نمایاں ہوں۔ یا پھر کوئی ایسی اوپر کی چیز ہو جس کے نیچے اس کے

٨٣

صفحہ ٢٩٤

بہت سے توابع ہوں......... پس اس سورۃ کو ام القرآن کہنے کا مطلب یہ ہوا کہ یہ ایک ایسی سورت ہے جس میں مطالب قرآنی کی جامعیت اور مرکزیت ہے یا جو قرآن کی تمام سورتوں میں اپنی نمایاں اور مقدم جگہ رکھتی ہے ۔......... چنانچہ اس سورۃ کے مطالب پر نظر ڈالنے میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اس میں اور قرآن کے بقیہ حصے میں اجمال اور تفصیل کا سا تعلق پیدا ہو گیا ہے۔ یعنی قرآن کی تمام سورتوں میں دین حق کے جو مقاصد بیان کئے گئے ہیں۔ سورۃ فاتحہ میں انہی کا بہ شکل اجمال بیان موجود ہے۔ اگر ایک شخص قرآن میں سے اور کچھ نہ پڑھ سکے اور صرف اس سورۃ کے مطالب ذہن نشین کر لے۔ جب بھی وہ دین حق اور خدا پرستی کے بنیادی مقاصد معلوم کرلے گا اور یہی قرآن کی تمام تفصیلات کا ماحصل ہے ۔......... ایک طرف زیادہ سے زیادہ مختصر حتیٰ کہ گنے ہوئے الفاظ ہیں۔ دوسری طرف ایسے جچے تلے الفاظ کہ ان کے معانی سے پوری وضاحت اور دل نشینی پیدا ہو گئی ہے۔ ساتھ ہی نہایت سیدھا سادہ بیان ہے۔ کسی طرح کا پیچ و خم نہیں۔ کسی طرح کا الجھاؤ نہیں۔ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ دنیا میں جو چیز جتنی زیادہ حقیقت سے قریب ہوتی ہے۔ اتنی ہی زیادہ سہل اور دل نشین بھی ہوتی ہے اور خود فطرت کا یہ حال ہے کہ کسی گوشے میں بھی الجھی ہوئی نہیں ہے۔ الجھاؤ جس قدر بھی ہوتا ہے بناوٹ اور تکلف سے پیدا ہوتا ہے۔ پس جو بات سچی اور حقیقی ہوگی ضروری ہے کہ سیدھی سادی اور دل نشین بھی ہو۔‘‘

سورۃ فاتحہ کے اس مقام سے مرزا قادیانی بھی بے خبر نہ تھے۔ اس لئے انہوں نے اپنی تفسیر میں غالباً سب سے زیادہ توجہ اسی سورۃ پر دی ہے۔ اس سورت میں ایسے کوئی الفاظ موجود نہیں ہیں جن سے مرزا قادیانی کے دعویٰ کی تائید کا کوئی پہلو نکلتا ہو۔ لیکن اس کے باوجود مرزا قادیانی نے اس سورۃ کو اپنے حق میں ایک زبردست دلیل کے طور پر استعمال کیا ہے۔ اس سورت کی نسبت مرزا قادیانی کی تاویلات ان کی کتب میں جابجا بکھری پڑی ہیں۔ مثال کے لئے صرف ایک کتاب کا حوالہ کافی ہوگا۔

مختصراً مرزا قادیانی کا استدلال یہ ہے کہ سورۃ فاتحہ میں ایک دعا مانگنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس دعا کے ذریعے ہم مرزا قادیانی کی جماعت میں شامل ہونے کی خواہش کرتے ہیں اور عیسائیت اور مرزا قادیانی کے مخالف مسلمانوں یا ان کے مولویوں کے شر سے پناہ مانگتے ہیں۔ یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ کس عجیب و غریب منطق سے مرزا قادیانی اس نتیجے تک پہنچے ہیں۔ ان کی کتاب (تحفہ گولڑویہ ص ٦٦، خزائن ج ١٧ ص ١٩٨) کا ایک اقتباس ملاحظہ ہو۔ فرماتے ہیں: ’’(میری صداقت کی) تیسری دلیل بھی قرآن شریف سے ہی مستنبط ہے۔ وہ سورۃ فاتحہ کی اس آیت کی بنا

٨٤

پر ہے کہ اهدنا الصراط المستقيم عليهم ولا الضالين یعنی اے ہمارے پر تیرا انعام ہے اور بچا ہم کو ان لوگوں کی راہ الباری شرح صحیح بخاری میں لکھا ہے کہ اسلا مراد یہودی لوگ ہیں اور ضالین سے مراد ضالین اور مغضوب علیہم کے سکتا۔ لیکن مرزا قادیانی قدم بقدم اس مغضوب علیہم کے معنی اور بھی محدود کر ج ١٧ ص ٢٠١) ’’اس سے مراد عام یہود دیا تھا اور ان کا نام کافر اور لعنتی رکھا تھا اور کی مستورات تک پہنچا دیا تھا۔ اس مزی بہر حال یہ تو طے ہو گیا کہ مغضوب علیہم ہماری طرف سے یہ سوال پوچھتے ہیں: ’’ ان کو سکھلائی گئی؟۔‘‘ (ایضاً)

مرزا قادیانی کی بعثت سے ہے۔ فرماتے ہیں: ’’اب معلوم ہوا کہ یہ تھا اور مقدر تھا کہ اس کی بھی ویسی ہی توہین کہ اے خدا! ہمیں اس گناہ سے محفوظ رکھ ک اور اس کو سزا دلانے کے لئے عدالتوں کی کریں اور اس پر طرح طرح کے بہتان لگائ

’’ان معنوں کے لئے یہ قرینہ جنہوں نے حضرت مسیح کو ایذا دی تھی اور ضا یعنی وہ جنہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی

یہ کوئی ذوقی معنی نہیں ہیں کہ جن

صفحہ ٢٩٥

پر ہے کہ اهدنا الصراط المستقيم صراط الذين انعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالین یعنی اے ہمارے خدا ہمیں سیدھی راہ عنایت کر جو ان لوگوں کی راہ ہے جن پر تیرا انعام ہے اور بچا ہم کو ان لوگوں کی راہ سے جن پر تیرا غضب ہے اور جو راہ بھول گئے ہیں۔ فتح الباری شرح صحیح بخاری میں لکھا ہے کہ اسلام کے تمام اکابر وائمہ کے اتفاق سے مغضوب علیہم سے مراد یہودی لوگ ہیں اور ضالین سے مراد نصاریٰ ہیں۔“

ضالین اور مغضوب علیہم کے یہ محدود معنی کرنے سے بھی مرزا قادیانی کا کام نہیں بن سکتا۔ لیکن مرزا قادیانی قدم بقدم اپنے مقصد تک پہنچتے ہیں۔ متذکرہ بالا تشریح کے بعد وہ مغضوب علیہم کے معنی اور بھی محدود کر دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ (تحفہ گولڑویہ ص ٦٨، خزائن ج ١٧ ص ٢٠١) ”اس سے مراد عام یہود نہیں ۔ بلکہ وہ جنہوں نے حضرت مسیح کو بہت ستایا اور دکھ دیا تھا اور ان کا نام کافر اور لعنتی رکھا تھا اور ان کے قتل کرنے میں کچھ فرق نہ کیا تھا اور توہین کو ان کی مستورات تک پہنچا دیا تھا۔“ اس مزید تشریح کے لئے غالباً مرزا قادیانی کو کوئی سند نہیں ملی۔ بہر حال یہ تو طے ہو گیا کہ مغضوب علیہم سے مراد یہود کا یہ خاص گروہ ہے۔ اس پر مرزا قادیانی ہماری طرف سے یہ سوال پوچھتے ہیں: ”تو پھر مسلمانوں کو اس دعا سے کیا تعلق تھا اور کیوں یہ دعا ان کو سکھلائی گئی؟۔“ (ایضاً)

مرزا قادیانی کی بعثت سے پہلے یہ واقعی ایک معمہ تھا۔ لیکن اب معاملہ صاف ہو گیا ہے۔ فرماتے ہیں: ”اب معلوم ہوا کہ یہ تعلق تھا کہ اس جگہ بھی پہلے مسیح کی مانند ایک مسیح آنے والا تھا اور مقدر تھا کہ اس کی بھی ویسی ہی توہین اور تکفیر ہو۔ لہٰذا یہ دعا سکھلائی گئی جس کے یہ معنی ہیں کہ اے خدا! ہمیں اس گناہ سے محفوظ رکھ کہ ہم تیرے مسیح موعود کو دکھ دیں اور اس پر کفر کا فتویٰ لکھیں اور اس کو سزا دلانے کے لئے عدالتوں کی طرف کھینچیں اور اس کی پاک دامن اہل بیت کی توہین کریں اور اس پر طرح طرح کے بہتان لگائیں اور اس کے قتل کے لئے فتوے دیں۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٦٨، خزائن ج ١٧ ص ٢٠١)

”ان معنوں کے لئے یہ قرینہ کافی ہے کہ مغضوب علیہم صرف ان یہودیوں کا نام ہے جنہوں نے حضرت مسیح کو ایذا دی تھی اور حدیثوں میں آخری زمانہ کے علماء کا نام یہود رکھا گیا ہے۔ یعنی وہ جنہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تکفیر و توہین کی تھی۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٧٣، خزائن ج ١٧ ص ٢١٢)

یہ کوئی ذوقی معنی نہیں ہیں کہ جن کے بارے میں اختلاف کی گنجائش ہو۔ مرزا قادیانی

٨٥

صفحہ ٢٩٦

کے نزدیک ”یہ ایسی نص صریح ہے کہ اس سے انکار قرآن سے انکار ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص٧٤، خزائن ج١٧ص٢١٤)

آیت کے دوسرے حصے کی تشریح کرتے ہوئے مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”آیت کا دوسرا حصہ جو الضالین ہے۔ جس کے یہ معنی ہیں کہ ہمیں اے ہمارے پروردگار! اس بات سے بھی بچا کہ ہم عیسائی بن جائیں۔“ لیکن یہاں بھی اصل مقصد مرزا قادیانی کے متعلق پیش گوئی کرنا ہے۔ فرماتے ہیں: ”یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس زمانے میں جبکہ مسیح موعود ظاہر ہوگا۔ عیسائیوں کا بہت زور ہوگا اور عیسائیت کی ضلالت ایک سیلاب کی طرح زمین پر پھیلے گی اور اس قدر طوفان ضلالت جوش مارے گا کہ بجز دعا کے اور کوئی چارہ نہ ہوگا۔“

(تحفہ گولڑویہ ص٧٦، ٧٧، خزائن ج١٧ص٢٠٨، ٢٠٥)

لیکن ویسے ضالین کے گروہ میں شامل ہونا اتنا برا نہیں جتنا کہ مغضوب علیہم کے زمرے میں آجانا۔ کیونکہ: ”ضالین پر بھی یعنی عیسائیوں پر بھی اگرچہ خدا تعالیٰ کا غضب ہے کہ وہ خدا کے حکم کے شنوا نہیں ہوئے۔ مگر اس غضب کے آثار قیامت کو ظاہر ہوں گے اور اس جگہ مغضوب علیہم سے وہ لوگ مراد نہیں جن پر بوجہ تکفیر و توہین و ایذاء و ارادۃ قتل مسیح موعود کے دنیا میں ہی غضب الٰہی نازل ہوگا۔ یہ میرے جانی دشمنوں کے لئے قرآن کی پیش گوئی ہے۔

(تحفہ گولڑویہ ص٧٤، خزائن ج١٧ص٢١٣)

”غرض اس تحقیق سے ظاہر ہے کہ اس عاجز کی نسبت قرآن شریف نے اپنی پہلی سورت میں ہی گواہی دے دی ورنہ ثابت کرنا چاہئے کہ کن مغضوب علیہم سے اس سورت میں ڈرایا گیا ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص٧٣، خزائن ج١٧ص٢١٢)

سورۃ فاتحہ کی اس تشریح کے مطابق عیسائیوں کی پوزیشن کچھ عجیب و غریب سی ہے۔ ایک طرف ان کو ضالین قرار دے کر مسلمانوں کو ان کے فتنہ سے بچنے کی دعا سکھلائی گئی ہے اور دوسری طرف مرزا قادیانی کے نزدیک انہی عیسائیوں کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے کہ قیامت تک ان کی یہود پر بالادستی قائم رکھی جائے گی۔ اس کی تائید میں مرزا قادیانی نے یہ آیت پیش کی ہے: ”وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیامۃ“ گویا عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا قرار دینا اس نبی کی تعلیم کی پیروی کرنا ہے۔

سورۃ فاتحہ کی اس تفسیر کے لئے مرزا قادیانی نے قرآن مجید کے دیگر مقامات سے بھی تائید حاصل کی ہے۔ آخری چند سورتوں کے مضمون سے جو مضمون مرزا قادیانی نے پیدا کیا ہے۔

٨٦

صفحہ ٢٩٧

کا قرآن سے انکار ہے۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص ٧٢، خزائن ج١٧ ص٢١٤)

لکھتے ہوئے مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ’’آیت کا دعا میں اے ہمارے پروردگار! اس بات سے بھی اصل مقصد مرزا قادیانی کے متعلق پیش گوئی کرنا ہے کہ اس زمانے میں جبکہ مسیح موعود ظاہر ہوگا۔ ایک سیلاب کی طرح زمین پر پھیلے گی اور اس قدر نا چارہ نہ ہوگا۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص٧٢،٧١، خزائن ج١٧ ص ٢٠٨،٢٠٥)

میں ہونا، ظاہر انہیں جتنا کہ مغضوب علیہم کے زمرے پر بھی اگرچہ خدا تعالیٰ کا غضب ہے کہ وہ خدا کے روز قیامت کو ظاہر ہوں گے اور اس جگہ مغضوب علیہم اور وہ قتل مسیح موعود کے دنیا میں ہی غضب الٰہی ان کی پیش گوئی ہے۔

(تحفہ گولڑویہ ص٧٤، خزائن ج١٧ ص٢١٤)

اس عاجز کی نسبت قرآن شریف نے اپنی پہلی ہے کہ کن مغضوب علیہم سے اس سورت میں ڈرایا

(تحفہ گولڑویہ ص٧٣، خزائن ج١٧ ص٢١٢)

عیسائیوں کی پوزیشن کچھ عجیب و غریب سی ہے۔ اور ان کے فتنہ سے بچنے کی دعا سکھلائی گئی ہے اور یوں کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے کہ قیامت تک ان تائید میں مرزا قادیانی نے یہ آیت پیش کی ہے: وا الیٰ یوم القیامۃ‘‘ گویا عیسیٰ علیہ السلام کو

قادیانی نے قرآن مجید کے دیگر مقامات سے بھی نکالے جو مضمون مرزا قادیانی نے پیدا کیا ہے۔

اس کا نمونہ ملاحظہ ہو۔

’’اور یہ معنی جو ابھی میں نے سورۃ فاتحہ کی دعا غیر المغضوب علیھم ولا الضالین کے متعلق بیان کیے ہیں۔ انہی کی طرف قرآن شریف کی آخری چار سورتوں میں اشارہ ہے۔ جیسا کہ سورۃ تبت کی پہلی آیت تبت یدا ابی لھب وتب ۔ اس موذی کی طرف اشارہ کرتی ہے جو مظہر جمال احمد یعنی احمد مہدی کا مکفر اور مکذب اور مہین ہوگا۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص٤٧، خزائن ج١٧ ص ٢١٣)

یہ بتانا تو غیر ضروری ہے کہ ’’مظہر جمال احمدی‘‘ اور ’’احمدی مہدی‘‘ سے مرزا قادیانی کی مراد اپنی ذات ہے۔ جس شخص کو انہوں نے ابی لہب کا خطاب عنایت کیا ہے۔ وہ ان کے پہلے زمانے کے دوست اور بعد کے مخالف مولوی محمد حسین صاحب ہیں۔ گویا قرآن میں ابی لہب سے مراد مولوی محمد حسین ہے۔ اس دعوے کی تائید میں مرزا قادیانی کے پاس نہایت وزنی دلیل ہے اور وہ یہ کہ مولوی محمد حسین کی طرف سے مرزا قادیانی کی تکذیب سے کئی سال پہلے مرزا قادیانی نے اپنی کتاب براہین احمدیہ میں ایک الہام درج کیا تھا۔ جس میں قرآنی آیت کا یہ حصہ بھی شامل ہے۔ وہ الہام یہ ہے: ’’اذ یمکر بک الذی کفر، اوقدلی یاھامان لعلی اطلع علی الہ موسیٰ وانی لاظنہ من الکاذبین تبت یدا ابی لھب وتب ما کان لہ ان یدخل فیھا الا خائفا وما اصابک فمن اللہ‘‘

اس عبارت کا ترجمہ مرزا قادیانی نے یوں ارشاد فرمایا ہے: ’’یعنی یاد کرو وہ زمانہ جبکہ ایک مولوی تجھ پر کفر کا فتویٰ لگائے گا اور اپنے کسی حامی کو جس کا لوگوں پر اثر پڑ سکے کہے گا کہ میرے لئے اس فتنہ کی آگ بھڑکا۔ یعنی ایسا کر اور اس قسم کا فتویٰ دے دے کہ تمام لوگ اس شخص کو کافر سمجھ لیں۔ تا میں دیکھوں کہ اس کا خدا سے کیا تعلق ہے۔ یعنی یہ جو موسیٰ کی طرح اپنا کلیم اللہ ہونا ظاہر کرتا ہے کیا خدا اس کا حامی ہے یا نہیں اور میں خیال کرتا ہوں کہ یہ جھوٹا ہے۔ ہلاک ہو گئے دونوں ہاتھ ابی لہب کے (جبکہ اس نے یہ فتویٰ لکھا) اور وہ آپ بھی ہلاک ہو گیا۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص ٤٥،٤٧، خزائن ج١٧ ص٢١٥)

’’غرض براہین احمدیہ کے اس الہام میں سورۃ تبت کی پہلی آیت کا مصداق اس شخص کو ٹھہرایا ہے جس نے سب سے پہلے خدا کے مسیح موعود پر تکفیر اور توہین کے ساتھ حملہ کیا۔‘‘

’’یہ تفسیر سراسر حقانی ہے اور تکلف اور تصنع سے پاک ہے۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص ٧٥، خزائن ج١٧ ص ٢١٦)

٨٧

صفحہ ٢٩٨

”خلاصہ کلام یہ کہ آیت تبت یدا ابی لہب جو قرآن شریف کے آخر میں ہے۔ آیت مغضوب علیہم کی ایک شرح ہے جو قرآن شریف کے اول میں ہے۔ کیونکہ قرآن شریف کے بعض حصے بعض کی تشریح ہیں۔“

(تحفہ گولڑویہ ص٧٦، خزائن ج١٧ص٢١٧)

گویا مغضوب علیہم میں جن مکذب علماء کا ذکر ہے۔ قرآن کے آخر میں ایک مولوی کی مثال کے ذریعے اس کی وضاحت کی گئی ہے۔

مرزا قادیانی نے قرآن کی آخری چار سورتوں کا ذکر کیا تھا۔ ان میں سے ایک کی تشریح تو آپ نے ملاحظہ کر لی۔ مرزا قادیانی کی تفسیر کے مطابق آخری تین سورتوں میں سے سورۃ اخلاص ولا الضالین کی تشریح ہے اور سورۃ الفلق اور سورۃ الناس سورۃ تبت اور سورۃ اخلاص کی مزید تشریح کرتی ہیں اور یہ ساری سورتیں اجتماعی طور پر مرزا قادیانی کے زمانہ اور ان کی ذات کے متعلق پیش گوئی کے طور پر ہیں۔ اس کی وضاحت کے لئے مرزا قادیانی آخری تین سورتوں کی عبارت نقل کرنے کے بعد ان کا جو ترجمہ (تفسیر نہیں) بیان فرمایا ہے۔ اس کا ایک اقتباس یہ ہے: ”(ترجمہ) تم اے مسلمانو! نصاریٰ سے کہو کہ وہ اللہ ایک ہے۔ اللہ بے نیاز ہے۔ نہ اس سے کوئی پیدا ہوا اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ کوئی اس کے برابر کا ہے اور تم جو نصاریٰ کا فتنہ دیکھو گے اور مسیح موعود کے دشمنوں کا نشانہ بنو گے یوں دعا مانگا کرو کہ میں تمام مخلوق کے شر سے ......... خدا کی پناہ مانگتا ہوں ......... اور میں اس اندھیری رات کے شر سے جو عیسائیت کے فتنہ اور انکار مسیح موعود کے فتنہ کی رات ہے خدا کی پناہ مانگتا ہوں۔“

(تحفہ گولڑویہ ص٧٨، ٧٧، خزائن ج١٧ص٢٢١، ٢٢٠)

اس ترجمہ کے بعد مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”غرض قرآن نے اپنے اول میں بھی ”مغضوب علیہم“ اور ”ضالین“ کا ذکر فرمایا ہے اور اپنے آخر میں بھی جیسا کہ آیت ”لم یلد ولم یولد“ بصراحت اس پر دلالت کرتی ہے اور یہ تمام اہتمام تاکید کے لئے کیا گیا اور نیز اس لئے کہ تا مسیح موعود اور غلبہ نصرانیت کی پیش گوئی نظری نہ رہے اور آفتاب کی طرح چمک اٹھے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص٧٨، خزائن ج١٧ص٢٢٤)

یہ تو ہوئی سورۃ فاتحہ میں مغضوب علیہم اور ضالین کے گروہ سے بچنے کی تشریح اور اس سورت میں جو مثبت دعا یعنی ”اهدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیهم“ ہے تو یہ بھی مرزا قادیانی کی جماعت میں شامل ہونے کے لئے ہے۔

”سورۃ فاتحہ میں تین دعائیں سکھائی گئی ہیں۔ ایک یہ دعاء کہ خدا تعالیٰ اس جماعت میں داخل رکھے جو مسیح موعود کی جماعت ہے۔ جن کی نسبت قرآن شریف فرماتا ہے۔ ”وآخرین

٨٨

صفحہ ٢٩٩

شریف کے آخر میں ہے۔ آیت ہے کیونکہ قرآن شریف کے بعض

(تحفہ گولڑویہ ص ٧٦، خزائن ج ١٧ ص ٢١٧)

قرآن کے آخر میں ایک مولوی کی فرمایا تھا۔ ان میں سے ایک کی تشریح آخری تین سورتوں میں سے سورۃ کی مناسبت اور سورۃ اخلاص کی مزید کے زمانہ اور ان کی ذات کے متعلق آخری تین سورتوں کی عبارت ہے۔ اس کا ایک اقتباس یہ ہے: خدا بے نیاز ہے۔ نہ اس سے کوئی کہ جو نصاریٰ کا فتنہ دیکھو گے اور مسیح کے شر سے ............ خدا کی پناہ عیسائیت کے فتنہ اور انکار مسیح موعود

(تحفہ گولڑویہ ص ٧٧، خزائن ج ١٧ ص ٢٢٠، ٢٢١)

قرآن نے اپنے اول میں بھی کے آخر میں بھی جیسا کہ آیت ”لَمْ کا اتمام تاکید کے لئے کیا گیا اور نیز ہے اور آفتاب کی طرح چمک

(تحفہ گولڑویہ ص ٧٨، خزائن ج ١٧ ص ٢٢٤)

عقیدہ سے بچنے کی تشریح اور اس صراط الذین انعمت علیہم“ فرمایا کہ خدا تعالیٰ اس جماعت فرماتا ہے۔ ”وآخرین منهم لما يلحقوا بهم “ غرض اسلام میں یہی دو جماعتیں ”منعم علیہم“ کی جماعتیں ہیں اور انہی کی طرف اشارہ ہے۔ آیت ”صراط الذین انعمت علیہم“ میں کیونکہ تمام قرآن پڑھ کر دیکھو جماعتیں دو ہی ہیں۔ ایک صحابہ کی جماعت۔ دوسری وآخرین منہم کی جماعت جو صحابہ کے رنگ میں ہے اور وہ مسیح موعود کی جماعت ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٧٦، خزائن ج ١٧ ص ٢١٧)

”خدا تعالیٰ نے تمام مسلمانوں کو سورۃ فاتحہ میں یہ دعاء سکھلائی ہے کہ وہ اس فریق کی راہ خدا تعالیٰ سے طلب کرتے ہیں جو منعم علیہم کا فریق ہے اور منعم علیہم کے کامل طور پر مصداق دو گروہ ہیں۔ ایک گروہ صحابہ اور دوسرا گروہ جماعت مسیح موعود۔ کیونکہ یہ دونوں گروہ آنحضرت ﷺ کے ہاتھ کے تربیت یافتہ ہیں اور درمیانی گروہ جس کو رسول اللہ ﷺ نے فج اعوج کے نام سے موسوم کیا اور جن کی نسبت فرمایا ہے۔ ”لیسوا منی ولست منہم“ یعنی وہ الگ مجھ میں سے نہیں ہیں اور نہ میں ان سے ہوں۔ یہ گروہ حقیقی طور پر منعم علیہم نہیں ہیں۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٨٠، خزائن ج ١٧ ص ٢٢٤)

”خلاصہ کلام یہ کہ خدا نے ابتداء سے اس امت میں دو گروہ ہی تجویز فرمائے ہیں اور انہی کی طرف سورۃ فاتحہ کے فقرہ ”انعمت علیہم“ میں اشارہ ہے۔ (١)...... ایک اولین جو جماعت نبوی ہے۔ (٢)...... دوسرے آخرین جو جماعت مسیح موعود ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٨١، خزائن ج ١٧ ص ٢٢٦)

”پس جب تم نماز میں یا خارج نماز کے یہ دعاء پڑھو کہ ”اهدنا الصراط المستقيم صراط الذين انعمت علیهم“ تو دل میں یہی ملحوظ رکھو کہ میں صحابہ اور مسیح موعود کی جماعت کی راہ طلب کرتا ہوں۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٧٦، خزائن ج ١٧ ص ٢١٨)

”اس جگہ ان لوگوں پر سخت افسوس کرتا ہے جو کہتے ہیں کہ ہم اہل حدیث ہیں اور سورۃ فاتحہ پر ہمیشہ زور دیتے ہیں کہ اس کے بغیر نماز پوری نہیں ہوتی۔ حالانکہ سورۃ فاتحہ کا مغز مسیح موعود کی تابعداری ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص ٧٧، خزائن ج ١٧ ص ٢١٩)

مرزا قادیانی نے اپنے حق میں ایک نہایت پیچ در پیچ اور بزعم خود نہایت مکمل اور قوی دلیل قرآن کی دو آیتوں سے قائم کی ہے۔ ان میں سے ایک آیت ”انا ارسلنا الیکم رسولا شاهداً عليكم كما ارسلنا الى فرعون رسولاً “ ہے اور دوسری آیت وہ ہے جو آیۃ استخلاف کے نام سے مشہور ہے۔ بظاہر ان دونوں آیتوں کا مرزا قادیانی کے دعویٰ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن مرزا قادیانی نے ان کی تفسیر سے اپنی صداقت اس طرح ثابت کر دی ہے

٨٩

صفحہ ٣٠٠

جس طرح ایک اور ایک دو ہوتے ہیں۔ ان آیات پر مرزا قادیانی کی طویل بحث میں ہم صرف چند اقتباسات پیش کرنا چاہتے ہیں۔

”پہلی دلیل اس بات پر کہ میں ہی مسیح موعود اور مہدی معہود ہوں۔ یہ ہے کہ میرا یہ دعویٰ مہدی اور مسیح ہونے کا قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے۔ یعنی قرآن شریف اپنے نصوص قطعیہ سے اس بات کو واجب کرتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مقابل پر جو موسوی خلیفوں کے خاتم الانبیاء ہیں۔ اس امت میں سے بھی ایک آخری خلیفہ پیدا ہوگا۔ تفصیل اس دلیل کی یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہمارے نبی ﷺ کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مثیل ٹھہرایا ہے اور آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد جو مسیح موعود تک سلسلہ خلافت ہے اس سلسلہ کو خلافت موسویہ کے سلسلہ سے مشابہ قرار دیا ہے۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ ”انا ارسلنا اليكم رسولاً شاهداً عليكم كما ارسلنا الى فرعون رسولاً“ یہ تو وہ آیت ہے جس سے آنحضرت ﷺ کی مماثلت حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ثابت ہوتی ہے۔ لیکن جس آیت سے دونوں سلسلوں یعنی سلسلہ خلافت موسویہ اور سلسلہ خلافت محمدیہ میں مماثلت ثابت ہے یعنی جس سے قطعی اور یقینی طور پر سمجھا جاتا ہے کہ سلسلہ نبوت محمدیہ کے خلیفہ سلسلہ نبوت موسویہ کے مشابہ ومماثل ہیں۔ وہ یہ آیت ہے ”وعد الذين امنوا منكم وعملوا الصالحات ليستخلفنهم فى الارض كما استخلف الذين من قبلهم“ یعنی خدا نے ان ایمانداروں سے جو نیک کام بجالاتے ہیں۔ وعدہ کیا ہے کہ ان میں سے زمین پر خلیفہ مقرر کرے گا۔ انہی خلیفوں کی مانند جو ان سے پہلے کئے تھے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٥٦، ٥٧، خزائن ج ١٧ ص ١٨٢، ١٨٣)

ہم قارئین کو مرزا قادیانی کی تفسیر سے محظوظ ہونے میں آزاد چھوڑنا چاہتے ہیں اور اپنی طرف سے تنقید نہیں کرنا چاہتے اور نہ اس کی یہاں گنجائش ہے۔ صرف یہ عرض کرنا ہے کہ عربی کا معمولی علم رکھنے والا بھی جان سکتا ہے کہ ان دو آیات میں کسی مماثلت کا ذکر نہیں ہے اور دوسری آیت میں موسوی سلسلہ خلافت کی نسبت تو کوئی اشارہ یا کنایہ تک نہیں ہے۔ بہرحال مرزا قادیانی کا استدلال جاری ہے۔

”اب جب ہم مانند کے لفظ کو پیش نظر رکھ کر دیکھتے ہیں جو محمدی خلیفوں کی موسوی خلیفوں میں مماثلت واجب کرتا ہے تو ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ ان دونوں سلسلوں میں مماثلت ضروری ہے اور مماثلت کی پہلی بنیاد ڈالنے والا حضرت ابوبکرؓ ہے اور مماثلت کا آخری نمونہ ظاہر

٩٠

کرنے والا وہ مسیح خاتم خلفائے محمدیہ ہے جو سلسلہ

اس کے بعد مرزا قادیانی نے چند ا حضرت ابوبکرؓ کی مماثلت موسیٰ علیہ السلام کے خلیفہ دو حضرات کی سیرت اور احوال میں کوئی خاص م غرض کے لئے کاوش کر کے کچھ نہ کچھ تلاش کر ل حضرت یشوع بن نون کے ساتھ ایک اور عجیب م کی اطلاع سب سے پہلے حضرت یوشع کو ہوئی ۔ جو موسیٰ مر گیا تا یہود حضرت موسیٰ کی موت کے ب جیسا کہ یشوع کی کتاب باب اوّل سے ظاہر ہ موت پر حضرت ابوبکرؓ نے یقینِ کامل ظاہر کیا۔“ ی

یہ تو مماثلت کی پہلی کڑی ہوئی۔ ب مشکل تھی۔ اگر حضرت ابوبکرؓ کے بعد حضرت عمرؓ ان کی تعداد بارہ سے تجاوز کر جاتی ہے اور مرزا ق تعداد کو ١٢ تک محدود کرنے کی ہے۔ یہ دقت ا تاویل کے ذریعے کوئی صورت پیدا کر لیتے۔ م کے وقت بھی مسلمانوں کا ایک خلیفہ موجود تھا صورت میں پیش نہ کر سکتے تھے۔ انگریزی دور ب بھی پر از خطر تھا۔ اس لئے مرزا قادیانی نے حضر صورت میں پیش کیا ہے۔ ان کے نزدیک حضر کے خلفاء اس سلسلہ میں شامل نہیں ہیں۔ بلکہ قیا رہی ہے۔ اس سے مراد وہ دیگر اشخاص ہیں جو م اصحاب کی شخصیت اور تعداد متفق علیہ نہیں ہے ا آنے والے بنی اسرائیل کے انبیاء اور مصلحین ک

درمیانی خلفاء کی عدم مماثلت کی توج سلسلوں میں باہم مشابہت کو دیکھنے والے لمبی تف

صفحہ ٣٠١

کرنے والا وہ مسیح خاتم خلفائے محمدیہ ہے جو سلسلہ خلافت محمدیہ کا سب سے آخری خلیفہ ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٥٦، ٥٧، خزائن ج ١٧ ص ١٨٢،١٨٣)

اس کے بعد مرزا قادیانی نے چند باتیں گنوائی ہیں۔ جن کی رو سے ان کے نزدیک حضرت ابوبکرؓ کی مماثلت موسیٰ علیہ السلام کے خلیفہ یوشع بن نون سے ظاہر ہوتی ہے۔ فی الواقع ان دو حضرات کی سیرت اور احوال میں کوئی خاص امر مشترک نہیں ہے۔ لیکن مرزا قادیانی نے اپنی غرض کے لئے کاوش کر کے کچھ نہ کچھ تلاش کر ہی لیا ہے۔ مثلاً فرماتے ہیں: ”حضرت ابوبکرؓ کی حضرت یشوع بن نون کے ساتھ ایک اور عجیب مناسبت یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی موت کی اطلاع سب سے پہلے حضرت یوشع کو ہوئی اور خدا نے بلا توقف ان کے دل میں وحی نازل کی جو موسیٰ مرگیا تا یہود حضرت موسیٰ کی موت کے بارے میں کسی غلطی یا اختلاف میں نہ پڑ جائیں۔ جیسا کہ یشوع کی کتاب باب اوّل سے ظاہر ہے۔ اسی طرح سب سے پہلے آنحضرت ﷺ کی موت پر حضرت ابوبکرؓ نے یقین کامل ظاہر کیا۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٥٧، خزائن ج ١٧ ص ١٨٤)

یہ تو مماثلت کی پہلی کڑی ہوئی۔ لیکن اس کے بعد مرزا قادیانی کے سامنے ایک بڑی مشکل تھی۔ اگر حضرت ابوبکرؓ کے بعد حضرت عمرؓ اور ان کے بعد دیگر خلفاء کا شمار کیا جاتا ہے تو ایک تو ان کی تعداد بارہ سے تجاوز کر جاتی ہے اور مرزا قادیانی کی خواہش کئی دیگر مصلحتوں کی بناء پر اس تعداد کو ١٢ تک محدود کرنے کی ہے۔ یہ دقت اتنی اہم نہ تھی۔ مرزا قادیانی تعداد کی نسبت کسی نہ کسی تاویل کے ذریعے کوئی صورت پیدا کر لیتے۔ لیکن نہایت بڑی مشکل یہ تھی کہ مرزا قادیانی کے دعویٰ کے وقت بھی مسلمانوں کا ایک خلیفہ موجود تھا۔ اس لئے مرزا قادیانی اپنے آپ کو آخری خلیفہ کی صورت میں پیش نہ کر سکتے تھے۔ انگریزی دور میں ایک حکمران خلیفہ کے منصب کا دعویٰ کرنا ویسے بھی پر خطر تھا۔ اس لئے مرزا قادیانی نے حضرت ابوبکرؓ کے بعد محمدی سلسلۂ خلافت کو ایک دوسری صورت میں پیش کیا ہے۔ ان کے نزدیک حضرت ابوبکرؓ کے علاوہ دیگر خلفائے راشدین اور بعد کے خلفاء اس سلسلہ میں شامل نہیں ہیں۔ بلکہ قرآنی آیت کے مطابق جو خلافت مسلمانوں میں قائم رہی ہے۔ اس سے مراد وہ دیگر اشخاص ہیں جن کو اصطلاح عام میں مجدد کہا جاتا ہے۔ ویسے ان اصحاب کی شخصیت اور تعداد متفق علیہ نہیں ہے اور نہ ان کے حالات موسیٰ علیہ السلام کے بعد میں آنے والے بنی اسرائیل کے انبیاء اور مصلحین سے کوئی خاص مماثلت رکھتے ہیں۔

درمیانی خلفاء کی عدم مماثلت کی نسبت مرزا قادیانی کی توجیہہ یہ ہے کہ: ”کسی دو لمبے سلسلوں میں باہم مشابہت کو دیکھنے والے طبعاً یہ عادت رکھتے ہیں کہ یا اوّل کو دیکھا کرتے ہیں اور

٩١

صفحہ ٣٠٢

یا آخر کو۔ مگر دو سلسلوں کی درمیانی مماثلت کو جس کی تحقیق و تفتیش زیادہ وقت چاہتی ہے دیکھنا ضروری نہیں سمجھتے۔ بلکہ اوّل اور آخر پر قیاس کر لیا کرتے ہیں۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٥٨، خزائن ج ١٧ ص ١٨٦)

بزعم خود موسوی سلسلہ کے پہلے خلیفہ یشوع بن نون کی حضرت ابوبکرؓ سے مکمل مماثلت ثابت کرنے کے بعد مرزا قادیانی نے اپنے استدلال کے مطابق اپنی مماثلت حضرت مسیح ناصری علیہ السلام سے ثابت کرنا تھی۔ لیکن چند وجوہ سے مرزا قادیانی نے اس مہم کو براہِ راست سر نہیں کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ مسیح ابن مریم کی زندگی ایک ایسی ”غریب و سادہ و رنگین داستان“ ہے کہ اس سے مماثلت ثابت کرنا مرزا قادیانی کے لئے ممکن نہ تھا۔ اس لئے مرزا قادیانی نے ایک دوسرا راستہ اختیار کیا ہے اور اپنی مماثلت حضرت ابوبکرؓ سے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے اور اس ضمن میں مرزا قادیانی نے ایک عالمگیر اور مہتم بالشان نظریہ پیش کیا ہے۔ جس کا نام انہوں نے ”نظریہ استدرات“ رکھا ہے۔ ہم معلوم نہیں کر سکے کہ یہ ”استدرات“ کس سے مشتق ہے۔ مرزا قادیانی کے اپنے الفاظ میں اس نظریہ کی تشریح یہ ہے۔

”کمال ہر ایک چیز کا استدرات کو چاہتا ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٦٠، خزائن ج ١٧ ص ١٨٩)

”استدرات کے لفظ سے میری مراد یہ ہے کہ جب ایک دائرہ پورے طور پر کامل ہو جاتا ہے تو جس نقطہ سے شروع ہوا تھا اسی نقطہ سے جا ملتا ہے اور جب تک اس نقطہ کو نہ ملے تب تک اس کو دائرہ کاملہ نہیں کہہ سکتے۔“

(حاشیہ تحفہ گولڑویہ ص ٦٠، خزائن ج ١٧ ص ١٨٩)

”یہی وجہ ہے کہ تمام بسائط گول شکل پر پیدا کئے گئے ہیں۔ تا کہ خدا کے ہاتھ کی پیدا کی ہوئی چیزیں ناقص نہ ہوں۔ اسی بناء پر ماننا پڑتا ہے کہ زمین کی شکل بھی گول ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٦٠، خزائن ج ١٧ ص ١٨٩)

”اور نیز اس لئے بسائط کا گول رکھنا خدا تعالیٰ نے پسند کیا کہ گول میں کوئی جہت نہیں ہوتی اور یہ امر توحید کے بہت مناسب حال ہے۔ غرض صنعت کا کمال مدور شکل سے ہی ظاہر ہوتا ہے۔ کیونکہ اس میں انتہائی نقطہ اس قدر اپنے کمال کو دکھلاتا ہے کہ پھر اپنے مبداء کو جا ملتا ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٦٢، خزائن ج ١٧ ص ١٩٠)

اس گول مول دلیل کے دو تقاضے ہوں گے۔ ایک یہ کہ موسوی سلسلہ کے پہلے خلیفہ یشوع بن نون کو اس سلسلہ کے آخری خلیفہ یعنی عیسیٰ علیہ السلام سے مماثلت ہو گی اور دوسرا یہ کہ اسی طرح محمدی سلسلہ کے پہلے خلیفہ حضرت ابوبکرؓ کو آخری خلیفہ یعنی مرزا قادیانی سے مشابہت ہو گی۔

٩٢

صفحہ ٣٠٣

پہلی صورت میں مشابہت تو مرزا قادیانی نے نہایت آسانی سے ثابت کر دی۔ فرماتے ہیں: ”پس جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یشوع بن نون سے مشابہت تھی۔ یہاں تک کہ نام میں بھی تشابہ تھا۔“

(تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص ٦١، خزائن ج ١٧ ص ١٨٩)

یہ اور بات ہے کہ ان دو اصحاب میں سوائے اس نام کے تشابہ کے اور کوئی وجہ مماثلت موجود نہیں ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کی دلیل یہ معلوم ہوتی ہے کہ جب نام تک میں تشابہ ہے تو باقی امور کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔

اس کے بعد مرزا قادیانی نے وہ امور بتائے ہیں۔ جن کی وجہ سے انہیں حضرت ابوبکرؓ سے مشابہت حاصل ہے۔ مثلاً یہ کہ: ”ابوبکرؓ کو خدا نے سخت فتنہ اور بغاوت اور مفتریوں اور مفسدوں کے عہد میں خلافت کے لئے مقرر کیا تھا۔ ایسا ہی مسیح موعود اس وقت ظاہر ہوا۔ جب کہ تمام علامات صغریٰ کا طوفان ظہور میں آچکا تھا اور کچھ کبریٰ میں سے بھی۔ دوسری مشابہت یہ جیسا کہ خدا نے حضرت ابوبکرؓ کے وقت میں خوف کے بعد امن پیدا کر دیا۔ ایسا ہی مسیح موعود کے وقت میں ہوگا۔ ایسا ہی جس طرح شیعہ لوگ حضرت ابوبکرؓ کی تکفیر کرتے ہیں۔ ایسا ہی مسیح موعود کی تکفیر بھی کی جائے گی۔“

(تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص ٦١، خزائن ج ١٧ ص ١٨٩)

تو یہ ثابت ہو گیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یشوع بن نون سے مماثلت ہے اور مرزا قادیانی کو حضرت ابوبکرؓ سے۔ اس کے بعد مرزا قادیانی اپنی دلیل کے آخری حصہ کو پیش کرتے ہیں۔ استدلال کا یہ آخری حصہ اس قابل ہے کہ مرزا قادیانی کے اپنے الفاظ میں ہی نقل کیا جائے۔

”چونکہ ہم اکمل اور اتم طور پر ثابت کر چکے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ ، مسیح موعود سے مشابہت رکھتے ہیں اور دوسری طرف یہ بھی ثابت ہو گیا کہ حضرت ابوبکرؓ ، حضرت یشوع بن نون سے مشابہت رکھتے ہیں اور حضرت یشوع بن نون اس قاعدہ کی رو سے جو دائرہ کا اوّل نقطہ دائرہ کے آخر نقطہ سے اتحاد رکھتا ہے۔ حضرت عیسیٰ ابن مریم سے مشابہت رکھتے ہیں تو اس سلسلہ مساوات سے لازم آیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسلام کے مسیح موعود سے جو شریعت اسلامیہ کا آخری خلیفہ ہے مشابہت رکھتے ہیں۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت یشوع بن نون سے مشابہ ہیں اور حضرت یشوع بن نون حضرت ابوبکرؓ سے مشابہ اور پہلے ثابت ہو چکا ہے کہ حضرت ابوبکر اسلام کے آخری خلیفہ یعنی مسیح موعود سے مشابہ ہیں تو اس سے ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسلام کے آخری خلیفہ سے جو مسیح موعود ہے مشابہ ہیں۔ کیونکہ مشابہ کا مشابہ مشابہ ہوتا ہے۔ مثلاً اگر خط

٩٣

صفحہ ٣٠٤

”’د‘ خط ’ن‘ سے مساوی ہے اور خط ’ن‘ خط ’ل‘ سے مساوی تو ماننا پڑے گا کہ خط ’د‘ خط ’ل‘ سے مساوی اور یہی مدعا ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٦٣، خزائن ج ١٧ ص ١٩٢)

چاند و سورج گرہن

احمدیہ جماعت کی طرف سے مرزا قادیانی کی صداقت کے لئے ایک حدیث میں دی ہوئی پیش گوئی کی جاتی ہے۔ اس پیش گوئی کا مضمون یہ ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی نشانی یہ ہے کہ اس زمانے میں رمضان کے مہینے میں سورج اور چاند کو خاص تاریخوں پر گرہن لگے گا۔ یہ روایت فن حدیث کے معیار سے ضعیف قسم کی ہے اور یہ بھی تسلیم کیا جاتا ہے کہ یہ پیش گوئی کم از کم اپنے ظاہری الفاظ کے مطابق پوری نہیں ہوئی۔ لیکن اس وقت ہماری غرض اصل حدیث پر بحث کرنا نہیں۔ بلکہ صرف یہ بتانا ہے کہ کس طرح مرزا قادیانی نے اس حدیث کی تائید قرآن سے حاصل کی ہے۔ تحفہ گولڑویہ میں مرزا قادیانی نے آیت ”وجمع الشمس والقمر“ کی نسبت لکھا ہے کہ یہ اس امر کی تصریح کرتی ہے کہ آخری زمانے میں مسیح موعود کے ظاہر ہونے کے وقت سورج اور چاند کو ایک ہی مہینہ اور وہ بھی رمضان میں گرہن لگے گا۔ یہاں مرزا قادیانی نے آیت مذکور کی اس تفسیر کے لئے کوئی دلیل پیش نہیں کی۔ لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خود مرزا قادیانی کو اس معاملے پر پورا اطمینان حاصل نہ ہوا۔ چنانچہ تحفہ گولڑویہ کی تصنیف کے چند ماہ بعد جب وہ ایک رسالہ بعنوان ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی تحریر فرما رہے تھے تو انہیں قرآن کی ایک ایسی آیت مل گئی جس میں بالکل واضح طور پر رمضان میں سورج اور چاند کے گرہن کا ذکر تھا اور وہ آیت یہ ہے۔ ”خسف القمر والشمس فی رمضان، فبای الاء ربکما تکذبن“ آپ کہیں گے کہ یہ عبارت تو قرآن میں موجود نہیں ہے۔ یہ درست ہے۔ لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ آپ مرزا قادیانی کی زبانی اس کا شان نزول سنئے۔ ”میں جب اشتہار کو ختم کر چکا۔ شاید دو تین سطریں باقی تھیں تو خواب نے میرے پر زور کیا۔ یہاں تک کہ میں مجبوری کا کاغذ کو ہاتھ سے چھوڑ کر سو گیا تو خواب میں مولوی محمد حسین بٹالوی اور مولوی عبداللہ چکڑالوی نظر کے سامنے آگئے۔ میں نے ان دونوں کو مخاطب کر کے یہ کہا۔ ”خسف القمر والشمس فی رمضان فبای الاء ربکما تکذبن“ یعنی چاند اور سورج کو تو رمضان میں گرہن لگ چکا۔ پس تم اے دونوں صاحبو! کیوں خدا کی نعمت کی تکذیب کر رہے ہو۔ پھر میں خواب میں اخویم مولوی عبدالکریم صاحب کو کہتا ہوں کہ الاء سے مراد اس جگہ میں ہوں۔“

(حاشیہ ریویو بر مباحثہ چکڑالوی و بٹالوی ص٤، خزائن ج ١٩ ص ٢٠٩)

٩٤

اگر یہ محض خواب ہوتا تو بھی اس کا مقا لیکن مرزا قادیانی نے خود اس خواب کا مقام بھی ایک دالان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا کہ اس میں الہام مندرجہ بالا کو چند آدمی چراغ کے سامنے قرآ کر رہے ہیں۔ گویا اسی ترتیب سے قرآن شریف میں نے شناخت کیا کہ میاں نبی بخش صاحب رفوگر

(ریویو بر مباح

اب بتائیے ہم کیا تنقید کریں؟ اگر مرزا مقام بھی بتا دیتے تو ان کے معتقد قاری کے لئے کے لئے ایک رفو گر کا انتخاب بھی قابل داد ہے۔

یہ بیان کر دینا مناسب ہے کہ قرآن کی مرزا قادیانی نے اپنے استدلال کی بنیاد بنایا ہے موجود اور رمضان میں سورج گرہن یا چاند گرہن کا ذیل ہے۔

”لا اقسم بیوم القیمۃ ولا ا الن نجمع عظامہ بلی قادرین علی ان امامہ یسئل ایان یوم القیمۃ فاذا بر والقمر۔ یقول الانسان یومئذ این المفر

(القیمۃ:١٢) ”نہیں میں قیامت کے دن کی قسم قسم کھاتا ہوں۔ کیا انسان خیال کرتا ہے کہ ہم ا بات پر قادر ہیں کہ اس کے سارے اعضاء کو ب بدکاری کرتا چلا جائے۔ پوچھتا ہے قیامت کا دن تاریک ہو جائے گا اور سورج اور چاند اکٹھے ہوجا جانا ہے۔ ہرگز نہیں، کوئی جائے پناہ نہیں۔ تیرے

مولوی محمد علی صاحب امیر جماعت احمدیہ لاہور کی مرزا قادیانی نے قرآن کی تفسیر میں

صفحہ ٣٠٥

ل سے مساوی تو ماننا پڑے گا کہ خط ”ذ“ خط ”ل“

(تحفہ گولڑویہ ص ٦٣، خزائن ج ١٧ ص ١٩٢)

قادیانی کی صداقت کے لئے ایک حدیث میں یہ مضمون یہ ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی میں سورج اور چاند کو خاص تاریخوں پر گرہن لگے مسلم کی ہے اور یہ بھی تسلیم کیا جاتا ہے کہ یہ پیش گوئی کس ہوگی۔ لیکن اس وقت ہماری غرض اصل حدیث پر ج مرزا قادیانی نے اس حدیث کی تائید قرآن سے آیت ”وجمع الشمس والقمر“ کی نسبت لکھا زمانے میں مسیح موعود کے ظاہر ہونے کے وقت سورج گرہن لگے گا۔ یہاں مرزا قادیانی نے آیت مذکور کی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خود مرزا قادیانی کو اس معاملے کی تصنیف کے چند ماہ بعد جب وہ ایک رسالہ بعنوان تھے تو انہیں قرآن کی ایک ایسی آیت مل گئی جس میں کے گرہن کا ذکر تھا اور وہ آیت یہ ہے۔ ”خسف رہ۔ ربکما تکذبن“ آپ کہیں گے کہ یہ عبارت تو لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ آپ مرزا قادیانی اشتہار کو ختم کر چکا۔ شاید دو تین سطریں باقی تھیں تو میں بھورے کاغذ کو ہاتھ سے چھوڑ کر سو گیا تو خواب میں دو مولوی نظر کے سامنے آ گئے۔ میں نے ان دونوں کو میس فی رمضان فبای الاء ربکما تکذبن“ ہو چکا۔ پس تم اے دونوں صاحبو! کیوں خدا کی نعمت کی نام مولوی عبد الکریم صاحب کو کہتا ہوں کہ الاء سے مراد

(ریویو بر مباحثہ چکڑالوی و بٹالوی ص ٤، خزائن ج ١٩ ص ٢٠٩)

٩٤

اگر یہ محض خواب ہوتا تو بھی اس کا مقام نہایت ارفع تھا۔ کیونکہ ایک نبی کا خواب ہے۔ لیکن مرزا قادیانی نے خود اس خواب کا مقام بھی متعین کر دیا ہے۔ فرماتے ہیں: ”اور پھر میں نے ایک دالان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا کہ اس میں چراغ روشن ہے گویا رات کا وقت ہے اور اسی الہام مندرجہ بالا کو چند آدمی چراغ کے سامنے قرآن شریف کھول کر اس سے یہ دونوں فقرے نقل کر رہے ہیں۔ گویا اسی ترتیب سے قرآن شریف میں وہ موجود ہے اور ان میں سے ایک شخص کو میں نے شناخت کیا کہ میاں نبی بخش صاحب رفوگر امرتسری ہیں۔“

(ریویو بر مباحثہ چکڑالوی و بٹالوی ص ٤، خزائن ج ١٩ ص ٢٠٩ حاشیہ)

اب بتائیے ہم کیا تنقید کریں؟ اگر مرزا قادیانی سورۂ رحمٰن میں اس زائد ٹکڑے کا خاص مقام بھی بتا دیتے تو ان کے معتقد قاری کے لئے زیادہ آسانی ہو جاتی۔ ضمناً قرآن میں اس پیوند کے لئے ایک رفوگر کا انتخاب بھی قابل داد ہے۔

یہ بیان کر دینا مناسب ہے کہ قرآن کی جس آیت ”وجمع الشمس والقمر“ کو مرزا قادیانی نے اپنے استدلال کی بنیاد بنایا ہے۔ وہ سورۃ قیامت میں ہے اور اس میں ظہور مسیح موعود اور رمضان میں سورج گرہن یا چاند گرہن کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ آیت کا سیاق و سباق حسب ذیل ہے۔

”لا اقسم بيوم القيمة ولا اقسم بالنفس اللوامة ايحسب الانسان الن نجمع عظامه بلى قادرين على ان نسوى بنانه بل يريد الانسان ليفجر امامه يسئل ايان يوم القيمة فاذا برق البصر وخسف القمر وجمع الشمس والقمر ، يقول الانسان يومئذ اين المفر كلا لاوزر ، الى ربك يومئذ المستقر (القیمة: ١ ۔ ١٢)“ نہیں میں قیامت کے دن کی قسم کھاتا ہوں اور نہیں میں ملامت کرنے والے نفس کی قسم کھاتا ہوں۔ کیا انسان خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو جمع نہیں کریں گے۔ ہاں ہم اس بات پر قادر ہیں کہ اس کے پوروں تک کو درست کریں۔ بلکہ انسان چاہتا ہے کہ آگے آگے بدکاری کرتا چلا جائے۔ پوچھتا ہے قیامت کا دن کب ہے۔ سو جب نظر خیرہ ہو جائے گی اور چاند تاریک ہو جائے گا اور سورج اور چاند اکٹھے ہو جائیں گے۔ اس دن انسان کہے گا کہاں بھاگ کر جانا ہے۔ ہرگز نہیں، کوئی جائے پناہ نہیں۔ تیرے رب کی طرف اس دن ٹھکانا ہے۔ (نوٹ: ترجمہ مولوی محمد علی صاحب امیر جماعت احمدیہ لاہور کی تفسیر سے نقل کیا گیا ہے)

مرزا قادیانی نے قرآن کی تفسیر میں ابجد کے لحاظ سے حروف کی قیمتوں سے بھی ٩٥

عالمی سیرت

پر اکابر علماء کر

عالمی سیرت کا

نے سیرت مصطفیٰ

مسائل، سیرت طیبہ

مقالہ جات کو نظر

عالمی سیرت کانفرنس کی کارروائی اس

عالمی سیرت کانفرنس مقالہ

صفحہ ٣٠٦

استفادہ کیا ہے۔ (حقیقت یہ ہے کہ اس سلسلے میں لغت اور عقل سلیم کے سوا دیگر کوئی ذریعہ نہیں چھوڑا گیا)

پہلے سورۃ المؤمنون کی ایک آیت ”وانا على ذهاب به لقادرون “ کے متعلق مرزا قادیانی کی تفسیر پیش کی جاتی ہے۔ لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ اوّل اس سورۃ کا متعلقہ حصہ اور اس کا ترجمہ درج کر دیا جائے۔

”ولقد خلقنا فوقكم سبع طرائق وما كنا عن الخلق غافلين ، وانزلنا من السماء ماء بقدر فاسكنه في الارض وانا على ذهاب به لقادرون ، فانشانا لكم به جنت من نخيل واعناب لكم فيها فواكه كثيرة وفيها تاكلون (المؤمنون:١٩)“ ”اور ہم نے تمہارے اوپر سات رستے بنائے اور ہم مخلوق سے بے خبر نہیں اور ہم بادل سے ایک اندازہ سے پانی اتارتے ہیں۔ پھر اسے زمین میں ٹھہراتے ہیں اور ہم اسے لے جانے پر یقیناً قادر ہیں۔ پھر ہم اس سے تمہارے لئے کھجوروں اور انگوروں کے باغ اگاتے ہیں ان میں تمہارے لئے بہت پھل ہیں اور ان سے تم کھاتے ہو۔

یہ عبارت اتنی واضح ہے کہ کسی تشریح کی حاجت نہیں ہے۔ اب آپ مرزا قادیانی کے فن کا نمونہ دیکھئے۔ اپنی کتاب ازالۃ اوہام میں لکھتے ہیں۔ ”اب اس تحقیق سے ثابت ہے کہ مسیح ابن مریم کے آخری زمانے میں آنے کی قرآن شریف میں پیش گوئی موجود ہے۔ قرآن شریف نے جو مسیح کے نکلنے کی چودہ سو برس تک مدت ٹھہرائی ہے۔ بہت سے اولیاء بھی اپنے مکاشفات کی رو سے اس مدت کو مانتے ہیں اور آیت ”وانا على ذهاب به لقادرون “ جس کے بحساب جمل ١٢٧٤ھ عدد ہیں۔ اسلامی چاند کی راتوں کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ جس میں نئے چاند کے نکلنے کی اشارت چھپی ہوئی ہے جو غلام احمد قادیانی کے عددوں میں بحساب جمل پائی جاتی ہے۔“

(ازالۃ ص ٦٧٥، خزائن ج ٣ ص ٤٦٤)

آیت میں تو ”اسلامی چاند کی سلخ کی راتوں“ کی تاریخ دی گئی ہے۔ لیکن خود اسلامی چاند کے طلوع کی تاریخ مرزا قادیانی کے نام میں رکھ دی گئی ہے۔ اس کے متعلق مرزا قادیانی کی تصریح حسب ذیل ہے۔ ”چند روز کا ذکر ہے کہ اس عاجز نے اس طرف توجہ کی کہ کیا اس حدیث کا جو الآیات بعد المائتین ہے۔ ایک یہ بھی منشاء ہے کہ تیرہویں صدی کے اواخر میں مسیح موعود کا ظہور ہوگا اور کیا اس حدیث کے مفہوم میں بھی یہ عاجز داخل ہے تو مجھے کشفی طور پر مندرجہ ذیل نام کے اعداد حروف کی طرف توجہ دلائی گئی کہ دیکھ یہی مسیح ہے کہ جو تیرہویں صدی کے پورے ہونے پر

٩٦

ظاہر ہونے والا تھا۔ پہلے سے غلام احمد قادیانی ”اس نام کے عد کے اور کسی شخص کا نام غلام احمد تمام دنیا میں غلام احمد قادیانی کسی اگر قادیان میں مرزا میں تو غلام احمد قادیانی ہو ہی نہیں سک تو اس طرح ثبوت مکمل ظہور کی نسبت کہاں ذکر ہے تو اس تحقیق یہ ہے کہ آیت ”انا علی نہیں بلکہ اس میں قرآن کے آسمان به لقادرون میں ١٨٥٧ء کی طر ہیں اور ١٢٧٤ء کے زمانے کو جب بھ اسلام کے ضعیف ہونے کا زمانہ ابتدا بالا میں فرماتا ہے کہ جب وہ زمانہ آئے میں مسلمانوں کی حالت ہو گئی تھی کہ تھا۔ جس کا اثر عوام پر بھی بہت پڑ گیا سرکار انگریزی سے باوجود نمک خوار ہو ان کے لئے شرعاً جائز نہ تھا۔ کیونکہ وہ اس گورنمنٹ کے مقابل پر سر اٹھانا جس سے زندگی بسر کرتی ہے۔ سخت حرام اور بتا سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنی کتاب میں یہ بیان فرمانا کہ ١٨٥٧ء میں میرا اس پر عمل نہیں کریں گے۔ جیسا کہ مسلمان

آخر میں مشکل پسندوں کے

عالمی سیرت کانفرنس کی روداد اس عالمی سیرت کا یہ مقالات کا یہ مجمـ سیرت مطہرہ برا کار عالم

صفحہ ٣٠٧

ظاہر ہونے والا تھا۔ پہلے سے یہی تاریخ ہم نے نام میں مقرر کر رکھی تھی اور وہ یہ نام ہیں۔“

غلام احمد قادیانی

”اس نام کے عدد پورے تیرہ سو (١٣٠٠) ہیں اور اس قصبہ قادیان میں بجز اس عاجز کے اور کسی شخص کا نام غلام احمد نہیں۔ بلکہ میرے دل میں ڈالا گیا ہے کہ اس وقت بجز اس عاجز کے تمام دنیا میں غلام احمد قادیانی کسی کا بھی نام نہیں ۔“

(ازالہ اوہام ص ١٨٥، خزائن ج ٣ ص ١٨٩، ١٩٠)

اگر قادیان میں مرزا قادیانی کے علاوہ کوئی غلام احمد نہیں ہے تو دنیا کے دوسرے حصوں میں تو غلام احمد قادیانی ہو ہی نہیں سکتا۔

تو اس طرح ثبوت مکمل ہو گیا۔ لیکن شاید آپ پوچھیں کہ اصل آیت میں مسیح موعود کے ظہور کی نسبت کہاں ذکر ہے تو اس بارے میں بھی مرزا قادیانی بغیر دلیل کے نہیں ہیں۔ ان کی تحقیق یہ ہے کہ آیت ’انا على ذهاب به لقادرون‘ ”پانی کے واپس لئے جانے کے متعلق نہیں بلکہ اس میں قرآن کے آسمان پر اٹھائے جانے کا ذکر ہے۔ فرماتے ہیں: ”انا علی ذهاب به لقادرون میں ١٨٥٧ء کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ اس آیت کے اعداد بحساب جمل ١٢٧٤ ہیں اور ١٢٧٤ کے زمانے کو جب عیسوی تاریخ میں دیکھنا چاہیں تو ١٨٥٧ ہوتا ہے۔ سو درحقیقت اسلام کے ضعیف ہونے کا زمانہ ابتدائی یہی ١٨٥٧ء ہے۔ جس کی نسبت خدا تعالیٰ آیت موصوفہ بالا میں فرماتا ہے کہ جب وہ زمانہ آئے گا تو قرآن زمین پر سے اٹھایا جائے گا۔ سو ایسا ہی ١٨٥٧ء میں مسلمانوں کی حالت ہو گئی تھی کہ بجز بدچلنی اور فسق وفجور کے اسلام کے رئیسوں کو اور کچھ یاد نہ تھا۔ جس کا اثر عوام پر بھی بہت پڑ گیا اور انہی ایام میں انہوں نے ایک ناجائز اور ناگوار طریقہ سے سرکار انگریزی سے باوجود نمک خوار اور رعیت ہونے کے مقابلہ کیا۔ حالانکہ ایسا مقابلہ اور ایسا جہاد ان کے لئے شرعاً جائز نہ تھا۔ کیونکہ وہ اس گورنمنٹ کی رعیت اور ان کے زیر سایہ تھی اور رعیت کا اس گورنمنٹ کے مقابل پر سر اٹھانا جس کی کہ وہ رعیت ہے اور جس کے زیر سایہ امن اور آزادی سے زندگی بسر کرتی ہے۔ سخت حرام اور معصیت کبیرہ اور ایک نہایت مکروہ بدکاری ہے۔ کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ایسے جہاد کا کسی جگہ حکم دیا ہے۔ پس اس حکیم و علیم قرآن میں یہ بیان فرمانا کہ ١٨٥٧ء میں میرا کلام آسمان پر اٹھایا جائے گا۔ یہی معنی رکھتا ہے کہ مسلمان اس پر عمل نہیں کریں گے۔ جیسا کہ مسلمانوں نے ایسا ہی کیا۔“

(ازالہ اوہام ص ٧٢٥ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٤٨٩، ٤٩٠)

آخر میں مشکل پسندوں کے لئے مرزا قادیانی کی کتاب تحفہ گولڑویہ کا ایک اقتباس پیش

٩٧

صفحہ ٣٠٨

کیا جاتا ہے۔ اس میں مرزا قادیانی نے قرآن کی متفرق آیات پر منطق، ریاضی، علم نجوم وغیرہ کے عمل سے ایک عجیب وغریب نظریہ مرتب کیا ہے۔ مرزا قادیانی کا استدلال کتاب کے کئی صفحات پر پھیلا ہوا ہے۔ یہاں مرزا قادیانی کی تحریر کے چند حصے ہی نقل کئے جاسکتے ہیں۔

مختصراً جو امور مرزا قادیانی ثابت کرنا چاہتے تھے ان میں سے چند ایک یہ ہیں۔

اب دیکھئے ان امور کو مرزا قادیانی نے کتنی صفائی کے ساتھ ثابت کر دیا ہے۔ فرماتے ہیں: ”اور دوسری دلیل زمانہ کے آخری ہونے پر یہ ہے کہ قرآن شریف کی سورۃ عصر سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا یہ زمانہ حضرت آدم علیہ السلام سے ہزار ششم پر واقعہ ہے۔ ایسا ہی آدم سے لے کر آخر تک دنیا کی عمر سات ہزار سال ہے۔ خدائی کارخانہ قدرت میں چھٹے دن اور چھٹے ہزار کو الٰہی فعل کی تکمیل کے لئے قدیم سے مقرر فرمایا گیا ہے۔ مثلاً حضرت آدم علیہ السلام چھٹے دن میں یعنی بروز جمعہ دن کے اخیر حصہ میں پیدا ہوئے ۔“

(تحفہ گولڑویہ ص٩١، ٩٣ ، خزائن ج ١٧ ص٢٤٥، ٢٤٨)

آیات مندرجہ ذیل سے ظاہر ہوتا ہے کہ آدم چھٹے دن پیدا ہوا اور وہ آیات یہ ہیں۔ ”هو الذى خلق لكم ما فى الارض جميعاً . ثم استوى الى السماء فسوهن سبع سموت وهو بكل شئ عليم . واذ قال ربك للملائكة انى جاعل فى الارض خليفة قالوا اتجعل فيها من يفسد فيها ويسفك الدماء ونحن نسبح بحمدك ونقدس لك . قال انى اعلم ما لا تعلمون“

مذکورہ بالا آیات میں جمعہ کے دن اور عصر کے وقت کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ لیکن آپ مرزا قادیانی کی تفسیر ملاحظہ کریں۔ ”فرشتوں کا جناب الٰہی میں عرض کرنا کہ کیا تو ایک مفسد کو خلیفہ بنانے لگا ہے۔ اس کے کیا معنی ہیں۔ پس واضح ہو کہ اصل حقیقت یہ ہے کہ جب خدا تعالیٰ نے چھٹے دن آسمانوں کے سات طبقے بنائے اور ہر ایک آسمان کے قضا و قدر کا انتظام فرمایا اور چھٹا دن جو ستارہ سعد اکبر کا دن ہے۔ یعنی مشتری کا دن قریب الاختتام ہو گیا اور فرشتے جن کو حسب منطوق آیت واوحیٰ فی کل سماء امر ہا سعد ونحس کا علم دیا گیا تھا اور ان کو معلوم ہو چکا تھا کہ سعد اکبر مشتری ہے اور انہوں نے دیکھا کہ بظاہر اس دن کا حصہ آدم کو نہیں ملا۔ کیونکہ دن میں سے بہت ہی تھوڑا

٩٨

وقت باقی ہے۔ سو یہ خیال گذرا کہ میں زحلی تاثیریں جو قہر اور عذاب و موجب ہوگا۔ سو بناء اعتراض کی ایک اور عرض کیا کہ کیا تو ایسے شخص کو پیدا اور تقدیس کرنے والے اور ہر ایک میں ہے۔ جو سعد اکبر ہے۔ تب ان کو کس وقت بناؤں گا۔ میں مشتری کے حصوں میں سے زیادہ مبارک ہے۔ کی گھڑی ہر ایک اس کی گھڑی سے گھڑی میں بنایا گیا۔ یعنی عصر کے

مرزا قادیانی اپنی تفسیر لکھتے ہیں: ”اگر یہ سوال ہو کہ جمعہ کیا گیا۔ کیوں ایسی مبارک ہے اور ہے کہ خدا تعالیٰ نے تاثیر کواکب دوسرے ستارے کا کچھ اثر لے لیا اب چونکہ عصر کے وقت سے جمعہ سے بھی کچھ حصہ رکھنا تھا اور مشتری ہے۔ سو خدا نے آدم کو جمعہ کے جمال کا جامع بنا دے۔ جیسا کہ

لہٰذا بنص صریح اس جب یہ طے ہو گیا کہ مرزا قادیانی نے چھٹے دن کی دو گو آہستہ آہستہ پہلے سے نازل کو پہنچا اور آیت ”الیوم اکملت چھٹے مرتبہ ہی خلقت بشری سے

صفحہ ٣٠٩

وقت باقی ہے۔ سو یہ خیال گزرا کہ اب پیدائش آدم کی زحل کے وقت میں ہوگی۔ اس کی سرشت میں زحلی تاثیریں جو قہر اور عذاب وغیرہ ہے۔ رکھی جائیں گی۔ اس لئے اس کا وجود بڑے فتنوں کا موجب ہوگا۔ سو بناء اعتراض کی ایک ظنی امر تھا نہ یقینی۔ اس لئے ظنی پیرایہ میں انہوں نے انکار کیا اور عرض کیا کہ کیا تو ایسے شخص کو پیدا کرتا ہے جو مفسد اور خون ریز ہوگا اور خیال کیا کہ ہم زاہد اور عابد اور تقدیس کرنے والے اور ہر ایک بدی سے پاک ہیں اور نیز ہمارے پیدائش مشتری کے وقت میں ہے جو سعد اکبر ہے۔ تب ان کو جواب ملا کہ انی اعلم مالا تعلمون۔ یعنی تمہیں خبر نہیں کہ میں آدم کو کس وقت بناؤں گا۔ میں مشتری کے وقت کے اس حصے میں اس کو بناؤں گا۔ جو اس دن کے تمام حصوں میں سے زیادہ مبارک ہے اور اگرچہ جمعہ کا دن سعد اکبر ہے۔ لیکن اس کے عصر کے وقت کی گھڑی ہر ایک اس کی گھڑی سے سعادت اور برکت میں سبقت لے گئی ہے۔ سو آدم جمعہ کی اخیر گھڑی میں بنایا گیا۔ یعنی عصر کے وقت پیدا کیا گیا۔" (تحفہ گولڑویہ ص ١٠٩، ١١٠، خزائن ج ١٧ ص ١٧٩)

مرزا قادیانی اپنی تفسیر پر تمام ممکن اعتراضات کا جواب دینا ضروری سمجھتے ہیں۔ مثلاً لکھتے ہیں: ”اگر یہ سوال ہو کہ جمعہ کی آخری گھڑی جو عصر کے وقت کی ہے۔ جس میں آدم پیدا کیا گیا۔ کیوں ایسی مبارک ہے اور کیوں آدم کی پیدائش کے لئے وہ خاص کی گئی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے تاثیر کواکب کا نظام ایسا رکھا ہے کہ ایک ستارہ اپنے عمل کے آخری حصہ میں دوسرے ستارے کا کچھ اثر لے لیتا ہے۔ جو اس حصے سے ملحق ہو اور اس کے بعد میں آنے والا ہو۔ اب چونکہ عصر کے وقت سے جب آدم پیدا کیا گیا۔ رات قریب تھی۔ لہٰذا وہ وقت زحل کی تاثیر سے بھی کچھ حصہ رکھتا تھا اور مشتری سے بھی فیض یاب تھا۔ جو جمالی رنگ کی تاثیرات اپنے اندر رکھتا ہے۔ سو خدا نے آدم کو جمعہ کے دن عصر کے وقت بنایا۔ کیونکہ اس کو منظور تھا، کہ آدم کو جلال اور جمال کا جامع بنادے۔ جیسا کہ اس کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے کہ خلقت بیدی“

(تحفہ گولڑویہ ص ١١٠، خزائن ج ١٧ ص ١٨١ حاشیہ)

لہٰذا بنص صریح اس بات کا فیصلہ ہو گیا کہ آدم جمعہ کے آخری حصہ میں پیدا کیا گیا۔ جب یہ طے ہو گیا کہ حضرت آدم علیہ السلام جمعہ کے دن پیدا ہوئے تھے تو اس کے بعد مرزا قادیانی نے چھٹے دن کی دیگر خصوصیات بیان کی ہیں۔ فرماتے ہیں: ”اور قرآن شریف بھی گو آہستہ آہستہ پہلے سے نازل ہورہا تھا۔ مگر اس کا کامل وجود بھی چھٹے دن ہی بروز جمعہ اپنے کمال کو پہنچا اور آیت ”الیوم اکملت لکم دینکم“ نازل ہوئی اور انسانی نطفہ بھی اپنے تغیرات کے چھٹے مرتبہ ہی خلقت بشری سے پورا حصہ پاتا ہے۔ جس کی طرف آیت ”ثم انشاناه خلقا

٩٩

صفحہ ٣١٠

آخر “ میں اشارہ ہے۔ اس قانون قدرت سے جو روز ششم اور مرتبہ ششم کی نسبت معلوم ہو چکا ہے۔ ماننا پڑتا ہے کہ دنیا کی عمر کا ہزار ششم بھی یعنی اس کا آخری حصہ بھی جس میں ہم ہیں۔ کسی آدم کے پیدا ہونے کا وقت اور کسی دینی تکمیل کے ظہور کا زمانہ ہے۔ قرآن میں بہت سے ایسے اشارات بھرے پڑے ہیں جن سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ عمر دنیا یعنی دور آدم کا زمانہ سات ہزار سال ہے۔ چنانچہ منجملہ ان اشارات قرآن کے ایک یہ بھی ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے ایک کشف کے ذریعے اطلاع دی ہے کہ سورۃ العصر کے اعداد سے بحساب ابجد معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے آنحضرت ﷺ کے مبارک عصر تک جو عہد نبوت ہے۔ یعنی تیئس (٢٣) برس کا تمام و کمال زمانہ یہ کل مدت گذشتہ زمانہ کے ساتھ ملا کر ٤٧٣٩ برس ابتدائے دنیا سے آنحضرت ﷺ کے روز وفات تک قمری حساب سے ہیں۔ یہ قرآن شریف کے علمی معجزات میں سے ایک عظیم الشان معجزہ ہے۔ جس پر تمام افراد امت محمدیہ میں سے خاص مجھ کو جو میں مہدی آخر الزمان ہوں اطلاع دی گئی ہے۔ تا قرآن کا یہ علمی معجزہ اور نیز اس سے اپنے دعویٰ کا ثبوت لوگوں پر ظاہر کروں۔ آنحضرت ﷺ کا زمانہ جس کی خدا تعالیٰ نے سورۃ والعصر میں قسم کھائی۔ الف خامس ہے۔ یعنی ہزار پنجم جو مریخ کے اثر کے ماتحت ہے اور یہی سر ہے جو آنحضرت ﷺ کو ان مفسدین کے قتل اور خون ریزی کے لئے حکم فرمایا گیا۔ جنہوں نے مسلمانوں کو قتل کیا اور قتل کرنا چاہا۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٩٢، ٩٤، خزائن ج ١٧ ص ٢٥٠، ٢٥٤)

”غرض آنحضرت ﷺ کے بعثت اوّل کا زمانہ ہزار پنجم تھا جو اسم محمد کا مظہر تجلی تھا۔ مگر بعثت دوم مظہر تجلی اسم احمد ہے جو اسم جمالی ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٩٤، ٩٦، خزائن ج ١٧ ص ٢٥٠، ٢٥٤)

”یہ باریک بھید یاد رکھنے کے لائق ہے کہ آنحضرت ﷺ کی بعثت دوم میں تجلی ہے۔ کیونکہ بعثت دوم آخر ہزار ششم میں ہے اور ہزار ششم کا تعلق ستارہ مشتری کے ساتھ ہے جو کوکب ششم منجملہ ”خنس کنّس“ ہے اور اس ستارہ کی تاثیر یہ ہے کہ مامورین کو خون ریزی سے منع کرنا اور عقل اور دانش اور مواد استدلال کو بڑھاتا ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص ٩٦، خزائن ج ١٧ ص ٢٥٤)

”پس اسم احمد میں آنحضرت ﷺ کا شریک ہوں۔ اگر اس سے انکار کیا جائے تو تمام سلسلہ اس پیش گوئی کا زیر و زبر ہو جاتا ہے۔ بلکہ قرآن شریف کی تکذیب لازم آتی ہے جو نعوذ باللہ کفر تک نوبت پہنچاتی ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٩٦، خزائن ج ١٧ ص ٢٥٤)

”غرض آنحضرت ﷺ کے لئے دو بعثت مقرر تھے۔ ایک بعثت تکمیل ہدایت کے لئے اور دوسرا بعثت تکمیل اشاعت ہدایت کے لئے اور یہ دونوں قسم کی تکمیل روز ششم سے وابستہ تھی۔

١٠٠

تا دائرہ خلقت اپنے استدارات کاملہ اس وقت حسب منطوق منطوق آیت ’قل یا ایھا النـ دوسرے بعثت کی ضرورت ہوئی اور اور احسن انتظام ڈاک اور باہمی زبـ مسلمانوں میں ایک زبان مشترک درخواست کی کہ یا رسول اللہ ﷺ ہـ بدل و جان سرگرم ہیں۔ آپ تشریف ہے کہ میں کافہ ناس کے لئے آیا ہو رہتے ہیں۔ قرآنی تبلیغ کر سکتے آنحضرت ﷺ کی روحانیت نے بہـ ہند میں آؤں گا۔ کیونکہ جوش مذاہـ و آزادی اسی جگہ ہے اور نیز آدم علیـ جو آدم کے رنگ میں آتا ہے۔ اسی لـ ہو کر دائرہ پورا ہو جائے۔“

”یہ وہ ثبوت ہیں جو میر ہیں اور اس میں کچھ شک نہیں کہ ایک تو اس پر روز روشن کی طرح کھل جا

یہ اقتباس کسی تنقید کا متحمل مفصل جواب دیا جائے۔ اگر متذکر جائے تو سرسری مطالعے سے واضح ہو جو مرزا قادیانی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ قرآن کے ساتھ مرزا قـ اس طرح کی تفسیر کرنا ایک بڑا کافـ بارہا اس امر کا دعویٰ کر چکے ہیں کہ

صفحہ ٣١١

تا دائرہ خلقت اپنے استدرات کاملہ کو پہنچ جائے۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص ٩٩، خزائن ج ١٧ ص ٢٦٠)

اس وقت حسب منطوق آیت ’’وآخرین منھم لما یلحقوا بھم‘‘ اور نیز حسب منطوق آیت ’’قل یا ایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعاً‘‘ آنحضرت ﷺ کی دوسرے بعثت کی ضرورت ہوئی اور ان تمام خادموں نے جو ریل اور تار اور اگن بوٹ اور مطابع اور احسن انتظام ڈاک اور باہمی زبانوں کا علم اور خاص کر ملک ہند میں اردو نے جو ہندوؤں اور مسلمانوں میں ایک زبان مشترک ہوگئی تھی۔ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں بزبان حال درخواست کی کہ یا رسول اللہ ﷺ ہم تمام خدام حاضر ہیں اور فرض اشاعت پورا کرنے کے لئے بدل و جان سرگرم ہیں۔ آپ تشریف لائیے اور اس اپنے فرض کو پورا کیجئے۔ کیونکہ آپ کا دعویٰ ہے کہ میں کافۂ ناس کے لئے آیا ہوں اور اب یہ وہ وقت ہے کہ آپ ان تمام قوموں کو جو زمین پر رہتے ہیں۔ قرآنی تبلیغ کر سکتے ہیں اور اشاعت کو کمال تک پہنچا سکتے ہیں۔.......... تب آنحضرت ﷺ کی روحانیت نے جواب دیا کہ دیکھو میں بروز کے طور پر آتا ہوں۔ مگر میں ملک ہند میں آؤں گا۔ کیونکہ جوش مذاہب اور اجتماع جمیع ادیان اور مقابلہ جمیع ملل ونحل اور امن وآزادی اسی جگہ ہے اور نیز آدم علیہ السلام اسی جگہ نازل ہوا تھا۔ پس ختم دور زمانہ کے وقت بھی وہ جو آدم کے رنگ میں آتا ہے۔ اسی ملک میں اس کو آنا چاہئے۔ تا آخر اور اوّل کا ایک ہی جگہ اجتماع ہو کر دائرہ پورا ہو جائے۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص ١٠١، خزائن ج ١٧ ص ٢٦٢، ٢٦٣)

’’یہ وہ ثبوت ہیں جو میرے مسیح موعود اور مہدی معہود ہونے پر کھلے کھلے دلالت کرتے ہیں اور اس میں کچھ شک نہیں کہ ایک شخص بشرطیکہ متقی ہو۔ جس وقت ان تمام دلائل میں غور کرے گا تو اس پر روز روشن کی طرح کھل جائے گا کہ میں خدا کی طرف سے ہوں۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص ١٠١، خزائن ج ١٧ ص ٢٦٤)

یہ اقتباس کسی تنقید کا متحمل نہیں ہوسکتا اور مرزا قادیانی کا استدلال اس قابل نہیں کہ اسکا مفصل جواب دیا جائے۔ اگر متذکرہ بالا آیات کو قرآن میں اپنے سیاق وسباق کے ساتھ دیکھا جائے تو سرسری مطالعے سے واضح ہو جائے گا کہ ان آیات کا اس مفہوم کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں جو مرزا قادیانی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

قرآن کے ساتھ مرزا قادیانی کی اس آزادی کا نتیجہ یہ ہوا کہ جماعت احمدیہ میں اس طرح کی تفسیر کرنا ایک بڑا کارنامہ اور قابل قدر کام سمجھا جاتا ہے۔ موجودہ خلیفہ صاحب بار ہا اس امر کا دعویٰ کر چکے ہیں کہ وہ قرآن کی ہر آیت سے مرزا غلام احمد قادیانی کی صداقت

١٠١

صفحہ ٣١٢

ثابت کر سکتے ہیں اور اس بارے میں انہوں نے ایک کھلا چیلنج دے رکھا ہے۔ ہمارا ارادہ ہی اس چیلنج کو قبول کرنے کا نہیں ہے۔ مرزا محمود احمد قادیانی اپنے والد محترم کے سچے جانشین ہیں اور مرزا غلام احمد قادیانی کی تفسیر کا تھوڑا سا مطالعہ کرنے پر ہمیں یقین ہو گیا ہے کہ خلیفہ صاحب کسی بھی آیت سے جو چاہیں ثابت کر سکتے ہیں۔ ہمارے لئے مرزا محمود احمد قادیانی کا چیلنج قبول کرنے میں ایک اور امر بھی حوصلہ شکن ہے وہ یہ کہ موصوف خود بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ اس چیلنج کے تحت کسی صاحب نے اپنے خیال سے ایک ایسی آیت پیش کر دی جس کا بظاہر مرزا غلام احمد قادیانی کے ساتھ کوئی تعلق قائم نہ ہو سکتا تھا۔ لیکن مرزا محمود احمد قادیانی نے فوراً اس سے مرزا قادیانی کی صداقت ثابت کر دی۔

مرزا قادیانی اور صنف مجبور

کچھ عرصہ ہوا علامہ اقبالؒ کی نسبت ایک لطیفہ پڑھنے میں آیا وہ کہتے تھے کہ اگر میں مسلمان نہ ہوتا اور قرآن کا ویسے ہی مطالعہ کرتا تو میں اس نتیجہ پر پہنچتا کہ یہ کتاب کسی عورت کی تصنیف ہے۔ جس نے مرد سے اپنی صنف کے غصب کردہ حقوق کا بدلہ لیا ہے۔

اس کے مقابلے میں جس شخص نے خود قرآن نہ پڑھا ہو اور قرآنی تعلیم کا اندازہ ہندو پاکستان اور بالخصوص پنجاب کی مسلمان عورتوں کی حالت سے لگائے۔ وہ علامہ اقبالؒ کے قول کو ایک ایسا شاعرانہ مبالغہ خیال کرے گا جس کو حقیقت سے کچھ تعلق نہیں۔ لیکن اگر عورت کے حقوق کی نسبت اسلامی تعلیم کا خود قرآن سے مطالعہ کیا جائے تو ظاہر ہو گا کہ اقبالؒ کی رائے حقیقت پر مبنی ہے اور فی الواقع قرآن اس بارے میں ایک انقلابی نظریہ پیش کرتا ہے۔

قرآن کے ذریعہ پہلی بار عورت کو مرد کے ساتھ برابر کی حیثیت سے تسلیم کیا گیا ہے۔ اگر اس وقت کے معاشرہ کے حالات کو دیکھا جائے اور یہ بات ذہن میں رکھی جائے کہ اسلام سے قبل دنیا بھر میں عورت کے بطور انسان الگ حیثیت ہی تسلیم نہ کی جاتی تھی اور حقوق ، اور پھر مرد کے ساتھ برابر کے حقوق کا تو سوال ہی نہ پیدا ہوتا تھا۔ تو ایک طرف تو اس نظریاتی انقلاب کی عظمت سامنے آ جائے گی جو قرآن نے یہ کہہ کر پیش کیا۔ ”اور عورتوں کے مردوں پر حقوق ہیں۔ ایسے ہی جیسے کہ مردوں کے عورتوں پر۔“

دوسرے یہ امر قرآن کے خدا کا کلام ہونے کا ایک اور ثبوت ہے کوئی سوشل مصلح اپنی عقل سے اس قسم کی تعلیم پیش کرنے کی جرأت ہی نہ کر سکتا تھا۔ بلکہ عرب کے قبل از اسلام حالات کے پیش نظر عورت اور مرد کے حقوق کی مساوات کا تصور ہی انسانی ذہن میں نہیں آسکتا۔ اس کا

١٠٢

صفحہ ٣١٤

اندازہ کچھ اس سے کر لیجئے کہ آج بھی جب قرآن کے نازل ہوئے۔ قریباً چودہ سو سال ہو چکے ہیں ۔ اکثر مسلمان بھی عورت اور مرد کی مساوات کے نظریہ کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں اور اصرار کرتے ہیں کہ مرد کو عورت پر برتری حاصل ہے۔ اس رائے کے لئے کبھی تو یہ لوگ (غیر قرآنی) فقہ پر انحصار کرتے ہیں اور کبھی عورت کی فطری کمزوری کا حوالہ دیتے ہیں۔ یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ یہ فقہ آپ نے خود مرتب کیا ہے اور اگر جسمانی کمزوری کی وجہ سے عورت اپنے انسانی حقوق سے محروم کی جا سکتی ہے تو دنیا کے طاقت ور مرد اپنے کمزور بھائیوں کو ان کے حقوق سے محروم کرنے میں حق بجانب ہیں۔ اسی طرح زبردست اقوام کے لئے کمزور قوموں اور ملکوں کو محکوم رکھنا بھی جائز ہے۔

دراصل اسلام سے قبل صدیوں تک عورت مرد کے ظلم کا شکار رہی تھی اور مردوں کے ذہن میں عورت کے خلاف نفرت و حقارت کے جذبات اتنے راسخ ہو چکے تھے کہ اس صورتحال میں کوئی قباحت نہ سمجھی جاتی تھی اور اسے فطرت کے عین مطابق خیال کیا جاتا تھا۔ ان تعصبات کو دور کرنے کے لئے ایک مدت مدید تک قرآنی تعلیم پر عمل کرانے کی ضرورت تھی۔ لیکن ہوا یہ کہ ایک قلیل عرصہ کے لئے اور وہ بھی صرف عرب میں قرآنی اصول کے مطابق حکومت قائم رہ سکی اور اس کے بعد ملوکیت کا دور شروع ہو گیا۔ مستبد بادشاہ جو مردوں کے حقوق بھی غصب کرنے کے درپے تھے۔ عورتوں کو ان کے ماتحت مساویانہ حقوق ملنا خارج از بحث تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سلاطین کے زیر سایہ ہمارے فقہاء نے قرآنی اصول کو نظر انداز کرتے ہوئے اسلامی قانون کے نام سے ایک ایسا ضابطہ قواعد تدوین کرنا شروع کر دیا جس پر عمل کرنے سے عورت بتدریج اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہوتی گئی۔

یہاں اس امر کی وضاحت کر دینا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ مرد اور عورت کی مساوات کا تخیل محض ایک نعرہ کی صورت میں پیش کرنا بے فائدہ بات ہے۔ اس طرح کی نعرہ بازی ہمیشہ سے دنیا میں جاری رہی ہے۔ لیکن عورت جوں کی توں مجبور ومحکوم رہی ہے۔ مرد نے عورت کو فرشتہ، دیوی، پھول، قوس قزح تو قرار دیا ہے۔ لیکن اس کے انسان ہونے سے انکار کیا ہے۔ قرآن کسی شاعر یا مصور کے فکر کا نتیجہ نہیں ہے۔ اس لئے اس نے اس طرح کے خوبصورت لیکن بے حقیقت الفاظ سے کام نہیں لیا۔ قرآن نے عورت کو مرد کی طرح انسان قرار دیا ہے اور محض اعلان اور نصیحت پر ہی اکتفا نہیں کیا۔ بلکہ واضح اور غیر مبہم الفاظ میں دو بنیادی امور میں عورت کے حقوق مرد کے برابر کر دیئے گئے ہیں۔ یہ دو امور وراثت اور ازدواجی تعلقات ہیں۔ معاشرے میں عورت کا مقام

١٠٣

صفحہ ٣١٤

متعین کرنے کے لئے یہ دونوں امور مرکزی حیثیت رکھتے ہیں اور زندگی کے دیگر تمام شعبے وراثت اور ازدواج کے قوانین سے متاثر ہوتے ہیں۔ اگر مسلمان ان دو باتوں میں قرآنی قانون پر کار بند رہتے تو اس وقت سماجی معاشی اور سماجی امور میں عورت کو مرد کے برابر حقوق دلانے یا ان کی حفاظت کرنے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا۔ قرآنی احکام ان حقوق کے قائم کرنے اور انہیں برقرار رکھنے کے لئے کافی ضمانت ہیں اور دیگر کسی تحفظ کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ ایک وسیع مضمون ہے اور میں صرف ان پہلوؤں کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جن کا اس کتاب کے محدود موضوع سے تعلق ہے۔ اس ضمن میں میرے سامنے تین سوالات بحث طلب ہیں۔

خرابیاں واقع ہوگئی ہیں؟

وہ رویہ کہاں تک اس شخص کے منصب کے مطابق ہے۔ جسے دعویٰ ہے کہ وہ نبی اور مجدد دین ہے اور اسے خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کی تعلیم اپنی اصل شکل میں پیش کرنے کے لئے مامور کیا ہے۔

نکاح کی نسبت قرآنی نظریے اور دیگر مذاہب کے پیش کردہ نظریات میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ قرآن نکاح کو ازدواجی معاہدہ قرار دیتا ہے۔ اس کے برعکس بیشتر دیگر مذاہب نے ازدواجی تعلق کو ایک نیم مذہبی فریضہ کی شکل دے دی ہے۔ بالخصوص ہندو مذہب میں شادی ایک مذہبی رسم (Sacrement) سمجھی جاتی ہے۔ ہمارے فقہاء نے بھی اس امر کو تسلیم کیا ہے کہ اسلامی نکاح ایک سول معاہدہ ہے۔ لیکن تعجب یہ ہے کہ اس اصل کو تسلیم کرتے ہوئے انہوں نے نکاح کی نسبت قواعد وہ وضع کئے ہیں جو منطقی لحاظ سے اس اصل کے بالکل مناقض ہیں۔ مثلاً یہ مسلمہ بات ہے کہ معاہدہ کے لئے فریقین کی باہمی رضامندی (Agreement) ضروری ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ رضامندی صرف بالغ مرد اور بالغ عورت ہی دے سکتے ہیں ۔ اس امر کو بھی فقہاء نے تسلیم کیا ہے اور ہمارے مروج فقہ کی رو سے بالغ مرد اور عورت کا نکاح ان کی رضامندی کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ رضامندی کی شہادت وغیرہ کی نسبت بھی ایسی کڑی شرائط مقرر کی گئی ہیں کہ دھوکہ اور غلط فہمی کا امکان بہت کم رہ جاتا ہے۔ ویسے ہمارے ملک میں ان فقہی مسائل کی جگہ بھی رسم ورواج نے لے لی ہے اور عورت کی رضامندی کی نسبت بس واجبی سی کارروائی ہی کی جاتی

١٠٢

صفحہ ٣١٥

ہے ۔ غالباً خاموشی نیم رضامندی کی ضرب المثل ایسے مواقع ہی کے لئے بنی ہے۔

لیکن میری رائے میں بلوغت کی عمر مقرر کرنے میں فقہاء نے غلطی کی ہے۔ یہ درست ہے کہ قرآن میں یہ عمر بیان نہیں کی گئی۔ لیکن ایسی ہی بیسیوں اور باتیں قرآن میں درج نہیں ہیں۔ ایسے امور کا فیصلہ قرآنی اصول کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہم نے اپنی عقل سے کرنا ہوتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ بلوغت کی عمر کیا ہونی چاہئے؟ ہمارے فقہاء کا فتویٰ ہے کہ عورت جب (Pubert) ہو جائے یعنی ایسی عمر کو پہنچ جائے کہ جسمانی لحاظ سے جنسی تعلق ممکن ہو جائے تو وہ نکاح کے لئے بالغ سمجھی جائے گی۔ اس اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے پریوی کونسل نے قرار دیا ہے کہ ہندوستانی عورت نو سال کی عمر میں بھی بالغ ہو سکتی ہے۔ (ویسے ٩ سال کی لڑکی کو عورت کہنا ہی ایک طرح کی زیادتی ہے)

اصل بات یہ ہے کہ بلوغت کی عمر مقرر کرنے میں صرف جسمانی تعلق کے امکان کو ملحوظ رکھا گیا ہے اور نکاح کے اعلیٰ مقاصد اور نکاح کے بعد عورت کی ذمہ داریوں کی اہمیت کو فراموش کر دیا گیا ہے۔ بلوغت کا تعلق اس قیاس پر ہے کہ بالعموم ایک خاص عمر تک پہنچ کر انسان شعور کا ایک خاص درجہ حاصل کر لیتا ہے۔ یہ عمر سب معاملات میں ایک سی نہیں ہو سکتی اور عملاً نہیں ہے۔ مثلاً پاکستان میں جرائم کی ذمہ داری کے لئے سات سال کی عمر مقرر کی گئی ہے۔ یہ اس قیاس پر ہے کہ نیکی اور بدی میں تمیز کرنے کے لئے کم از کم سات سال کی عمر کو پہنچنا ضروری ہے۔ نکاح کے علاوہ دوسرے معاہدات میں رضامندی دینے کے لئے کم از کم عمر اٹھارہ سال مقرر ہے اور اکثر نمائندہ اداروں میں حق رائے دہندگی کی عمر ٢١ تا ٢٥ سال تک رکھی گئی ہے۔ اصول یہ ہے کہ متعلقہ معاملہ کی اہمیت کو مدنظر رکھ کر بلوغت کی عمر کا تعین کرنا چاہئے۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ اٹھارہ سال کی عمر سے قبل کوئی عورت اپنی جائیداد کی نسبت کوئی معاہدہ نہیں کر سکتی۔ خواہ اس جائیداد کی قیمت پانچ دس روپے ہی ہو۔ مثلاً اگر وہ سترہ سال کی عمر میں ایک معمولی برتن بیچنے کا اقرار کرے اور گو اس کی قیمت بھی وصول کر لے۔ اس اقرار کو کالعدم سمجھا جائے گا اور کوئی عدالت اس کو نافذ نہ کرے گی۔ لیکن اس کے برعکس یہی عورت نو سال کی عمر میں اپنے نفس کا سودا کرنے کے اہل سمجھی گئی ہے۔ یہ سودا قابل پابندی ہو گا اور عدالتیں اس کو خاوند کے حق میں نافذ کرائیں گی۔ اسی طرح ٢٠ سال کی عمر میں عورت اس قابل نہیں سمجھی گئی کہ اسمبلیوں وغیرہ کی نمائندگی کے لئے رائے دے۔ جہاں تنہا اس کی رائے سے فیصلہ نہیں ہوتا اور بہر حال نتیجہ کا اثر محض اس کی ذات پر نہیں پڑتا۔ اس کے برعکس یہی عورت ٩ یا ١٠ سال کی عمر میں ایک ایسے معاملے کی نسبت رائے دینے کے قابل قرار دی جاتی

١٠٥

صفحہ ٣١٦

ہے ۔ جس کے درست فیصلہ پر اس کی آئندہ ساری زندگی کی خوشی اور چین کا انحصار ہے۔ یہ بات بھی ذہن میں رکھئے کہ اگر ٩ سال کی لڑکی بیوی بنے گی تو اس کے چند ماہ بعد وہ ماں بھی بن سکتی ہے۔ کیا دس سال کی ماں اپنے بچوں کی نگہداشت، تعلیم اور تربیت کی ذمہ داریاں اٹھانے کے قابل ہو سکتی ہے؟ اس عمر میں تو یہ ماں ابھی خود اپنے ماں باپ کی حفاظت اور تربیت کی محتاج اور مستحق ہوتی ہے۔

قرآن میں بلوغت کی عمر مقرر نہ کیا جانا ایک خاص حکمت کے ماتحت ہے۔ ہر ملک اور ہر دور کے مسلمانوں کو آزادی دی گئی ہے کہ وہ اپنے حالات کو مدنظر رکھ کر اس امر کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ لیکن مولویوں نے اپنے آپ کو اس آزادی سے محروم کر لیا ۔ (عوام کو تو خیر یہ لوگ دینی معاملات میں رائے دینے کا اہل ہی نہیں سمجھتے) اور اس بات پر اصرار کیا کہ اگر ائمہ نے بعض جسمانی آثار کے نمودار ہونے پر بلوغت کی عمر مقرر کی ہے تو بس اس معاملہ میں یہ فتویٰ حرف آخر ہے۔ اس امر کو یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ ائمہ نے کئی سو سال پہلے کے حالات میں ایک فیصلہ کیا تھا۔ ممکن ہے۔ ان حالات میں وہ فتویٰ درست ہو یا شاید اس وقت بھی غلط ہی ہو۔ آخر وہ انسان ہی تھے اپنی عقل سے انہوں نے فیصلہ کیا تھا۔ وحی کا انہیں دعویٰ نہ تھا۔ ہم پر ان کا اجتہاد کیونکر قابل پابندی ہے؟

میری رائے میں نکاح کا معاہدہ دوسرے کسی معاہدے سے کم اہم نہیں ہے۔ اس لئے نکاح کے لئے بالغ ہونے کی عمر ١٨ سال ۔ سے کسی طرح کم نہ ہونی چاہئے۔ بہر حال یہ ایسا مسئلہ نہیں جس کی نسبت کوئی قطعی قاعدہ مقرر ہو سکے۔ اسلامی حکومت کو ہر وقت بلوغت کی عمر مقرر کرنے اور اسے تبدیل کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ یہاں صرف یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ ہمارے علماء نے اس بارے میں جو قاعدہ مقرر کیا ہے۔ اس کے لئے کوئی قرآنی سند موجود نہیں اور وہ فی الواقع غلط اور مضر ہے۔

ہمارے فقہاء نے سب سے زیادہ غلطی اس امر میں کی ہے کہ نابالغوں کا نکاح جائز قرار دیا گیا ہے۔ یعنی یہ کافی نہیں سمجھا گیا کہ لڑکی کے حق میں بلوغت کی عمر اتنی کم رکھی جائے ۔ جس میں وہ اپنا نفع نقصان سمجھنے کے قابل نہیں ہوتی۔ بلکہ یہ بھی ضروری سمجھا گیا ہے کہ ”شرعی“ بلوغت کی اس کم سنی سے قبل بھی مثلاً دو تین سال کی عمر میں لڑکی کا ولی اس کا نکاح کر دے۔ ولی کی طرف سے کیا ہوا نکاح ویسا ہی جائز اور قابل پابندی ہے۔ جیسا کہ بالغ لڑکی کا اپنی رضامندی سے عمل میں آیا ہوا معاہدہ نکاح۔ یہ درست ہے کہ فقہ میں لڑکی کو ”خیار البلوغ“ حاصل ١٠٦

ہے ۔ جس کی رو سے اسے حق پہنچتا نے اس کی نابالغی میں کرایا ہو۔ لیکن ا تو یہی شرط ہے کہ باپ یا دادا کے کئے غیر منقسم ہندوستان کی ”بے دین“ حکو سخت قاعدہ کو عورت کے حق میں کسی ق ذریعہ نابالغی کا نکاح فسخ کرا سکتی ہے مولوی اس قانون کو ناجائز سمجھتے ہیں۔ فسخ نکاح کے مقدمات سننے کا اختیار ن

ایک دوسرا اہم اصلاحی قا کی لڑکی کا نکاح کرنا یا اس میں کوئی ح ظاہر کرتا ہے۔ ایک غیر مسلم کی مساعی ورزی میں جو نکاح عمل میں آئے وہ اپنے اثر کے لحاظ سے جائز اور قابل عمل

اگر نکاح کے اصل مقاصد اس کے ولی کی طرف سے یہ معاہدہ کی معاملہ ہے۔ اس بارے میں کوئی دوس کے مفاد کے لئے بعض امور طے کر لے نہیں آسکتا۔ جس معاہدہ پر بلوغت وقت پابند کرنا، ولی کے مفاد کے لئے میں ضروری نہیں ہو سکتا۔

لیکن ہمارے علماء نے ہما اور لڑکیوں کے نکاح کے لئے آزادی ساز کے سامنے زیرِ غور تھا تو علماء نے مسلمانوں کو اس کے نفاذ سے مستثنیٰ را قرار دیتے تھے۔

یہ نہیں کہا جا سکتا کہ پاک

صفحہ ٣١٧

کی خوشی اور چین کا انحصار ہے۔ یہ بات تو اس کے چند ماہ بعد وہ ماں بھی بن سکتی کام اور تربیت کی ذمہ داریاں اٹھانے کے ماں باپ کی حفاظت اور تربیت کی محتاج اور

ایک خاص حکمت کے ماتحت ہے۔ ہر ملک اپنے حالات کو مد نظر رکھ کر اس امر کا فیصلہ کر حق سے محروم کر لیا ۔ (عوام کو تو خیر یہ لوگ اور اس بات پر اصرار کیا کہ اگر ائمہ نے مقرر کی ہے تو بس اس معاملہ میں یہ فتویٰ نے کئی سو سال پہلے کے حالات میں ایک صحت ہو یا شاید اس وقت بھی غلط ہی ہو۔ آخر تھا۔ وحی کا انہیں دعویٰ نہ تھا۔ ہم پر ان کا

ے کسی معاہدے سے کم اہم نہیں ہے۔ اس کسی طرح کم نہ ہونی چاہئے ۔ بہر حال یہ ایسا ۔ اسلامی حکومت کو ہر وقت بلوغت کی عمر ہے۔ یہاں صرف یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ ہے۔ اس کے لئے کوئی قرآنی سند موجود نہیں

اس بارے میں کی ہے کہ نابالغوں کا نکاح جائز کہ بچیوں کے لئے بلوغت کی عمر اتنی کم رکھی گئی ہو۔ بلکہ یہ بھی ضروری سمجھا گیا ہے کہ تین سال کی عمر میں لڑکی کا ولی اس کا نکاح کر اور قابل پابندی ہے۔ جیسا کہ بالغ لڑکی کا اپنی صورت ہے کہ فقہ میں لڑکی کو ”خیار البلوغ“ حاصل

ہے ۔ جس کی رو سے اسے حق پہنچتا ہے کہ بالغ ہونے پر اس نکاح کو فسخ کرا لے ۔ جو اس کے ولی نے اس کی نابالغی میں کرایا ہو۔ لیکن اس حق کا دائرہ بہت محدود اور مشروط ہے۔ مثلاً سب سے اہم تو یہی شرط ہے کہ باپ یا دادا کے کئے ہوئے نکاح کی نسبت خیار البلوغ حاصل نہیں ہوتا ۔ یہ توفیق غیر منقسم ہندوستان کی ”بے دین“ حکومت کو حاصل ہوئی کہ اس نے ١٩٣٩ء میں فقہ حنفی کے اس سخت قاعدہ کو عورت کے حق میں کسی حد تک نرم کر دیا اور اب لڑکی کو حق مل گیا ہے کہ عدالت کے ذریعہ نابالغی کا نکاح فسخ کرا سکتی ہے۔ خواہ یہ نکاح اس کے باپ یا دادا نے ہی کرایا ہو۔ لیکن اکثر مولوی اس قانون کو ناجائز سمجھتے ہیں۔ بلکہ وہ سرے سے اس بات کے ہی قائل نہیں کہ عدالتوں کو فسخ نکاح کے مقدمات سننے کا اختیار ہے۔

ایک دوسرا اہم اصلاحی قانون ”ساردا ایکٹ“ ہے۔ جس کی رو سے ١٤ سال سے کم عمر کی لڑکی کا نکاح کرنا یا اس میں کوئی حصہ لینا جرم قرار دیا گیا ہے۔ یہ قانون بھی جیسا کہ اس کا نام ظاہر کرتا ہے۔ ایک غیر مسلم کی مساعی کا نتیجہ ہے۔ لیکن عجیب صورت یہ ہے کہ اس قانون کی خلاف ورزی میں جو نکاح عمل میں آئے وہ بھی شرعاً جائز سمجھا جاتا ہے۔ یعنی ایک معاہدہ جرم بھی ہے اور اپنے اثر کے لحاظ سے جائز اور قابل عمل بھی ۔

اگر نکاح کے اصل مقاصد کو ملحوظ رکھا جائے تو بلوغت سے پہلے متعلقہ فریق کی بجائے اس کے ولی کی طرف سے یہ معاہدہ کیا جانا ایک بے معنی بات ہے۔ نکاح ایک شخصی پسند اور ناپسند کا معاملہ ہے۔ اس بارے میں کوئی دوسرا کیوں کر فیصلہ کر سکتا ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ ولی کو نابالغ کے مفاد کے لئے بعض امور طے کرنے ضروری ہوتے ہیں۔ لیکن نکاح کا معاملہ ان امور میں قطعاً نہیں آسکتا۔ جس معاہدہ پر بلوغت سے قبل عمل ہونا ہی ناممکن ہو۔ اس میں کسی مرد یا عورت کو قبل از وقت پابند کرنا، ولی کے مفاد کے لئے ہو تو ہو۔ نابالغ کے کسی فائدہ کے لئے ایسا کرنا کسی حالت میں ضروری نہیں ہو سکتا۔

لیکن ہمارے علماء نے ہمیشہ اس امر کو اسلام کا ضروری جزو قرار دیا ہے کہ نابالغ لڑکوں اور لڑکیوں کے نکاح کے لئے آزادی ہونی چاہئے ۔ جب ساردا ایکٹ ہندوستان کی مجلس قانون ساز کے سامنے زیر غور تھا تو علماء نے انتہائی کوشش کی کہ یہ قانون پاس نہ کیا جائے یا کم از کم مسلمانوں کو اس کے نفاذ سے مستثنیٰ رکھا جائے ۔ کیونکہ مولوی اس کو مداخلت فی الدین اور ناجائز قرار دیتے تھے۔

یہ نہیں کہا جا سکتا کہ پاکستان کے نئے آئین کا اس طرح کے اصلاحی قوانین پر کیا اثر

١٠٧

صفحہ ٣١٨

ہوگا۔ اس آئین کی ایک شق کے ذریعہ آئندہ کے لئے مملکتی پالیسی کا ایک بنیادی اصول یہ قرار دیا گیا ہے کہ موجودہ قوانین کو بتدریج شریعت کے مطابق بنایا جائے۔ اگر شریعت سے مراد ”راسخ العقیدہ“ (Orthodox) علماء کی پیش کردہ فقہ ہو تو شاید ساردا ایکٹ کی قسم کے قوانین منسوخ کرنے ہوں گے اور اس طرح ایک معکوس ترقی کا دور شروع ہو جائے گا۔ لیکن مجھے امید ہے کہ قوم کی اجتماعی فراست اور بیداری ایسا نہ ہونے دے گی۔

ہماری فقہ کے یہ دونوں قواعد یعنی نابالغی کا نکاح اور بلوغت کے لئے چھوٹی عمر مقرر کرنا عورت کے لئے ایک ایسی صورتحال پیدا کرنے کا موجب ہو گئے ہیں۔ جس میں وہ ظلم سہنے اور مجبوری کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔ مرد کو ان قواعد سے کوئی نقصان نہیں ہے۔ کیونکہ اسے ہر وقت طلاق دے دینے کا غیر مشروط حق حاصل ہے۔ اس لئے وہ ناپسندیدہ بیوی کو طلاق دے کر دوسری شادی کر سکتا ہے۔ بلکہ طلاق دینے کی بھی ضرورت نہیں۔ کیونکہ اس کے تعدد ازواج پر کوئی پابندی نہیں۔ چنانچہ کئی مرد اپنی مردانہ بالا دستی کے لئے ضروری سمجھتے ہیں کہ ناچاقی کی صورت میں دوسری شادی کر لی جائے۔ لیکن پہلی بیوی کو ”معلقہ“ چھوڑ دیا جائے اور دوسرے نکاح کی آزادی سے محروم رکھا جائے۔ اس طرز عمل کے خلاف وعظ تو کئے جاتے ہیں۔ لیکن کوئی مؤثر قانونی روک موجود نہیں ہے۔

ان سب قواعد کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ گو اصولاً اب بھی تسلیم کیا جاتا ہے کہ اسلامی نکاح ایک معاہدہ ہے۔ لیکن عملاً اس رشتہ میں اب معاہدہ کی صورت قائم نہیں رہی۔ ایک ایسے تعلق کو معاہدہ کا نام دینا سراسر زیادتی ہے۔ جس میں تمام حقوق ایک فریق کو حاصل ہوں اور تمام ذمہ داریاں دوسرے فریق پر ڈال دی جائیں۔

اور عظیم ترین ظلم یہ ہے کہ جن قواعد کو اسلامی قانون کہا جا رہا ہے۔ ان میں سے اکثر یا تو قرآنی احکام کے صریحاً خلاف ہیں یا ان احکام میں ناجائز تحریف اور ان کی غلط تفسیر کر کے وضع کئے گئے ہیں۔ انہی قواعد میں سے تعدد ازواج کا مسئلہ ہے۔ عام طور پر فرض کر لیا گیا ہے کہ مسلمانوں کو غیر مشروط طور پر بیک وقت چار تک بیویاں نکاح میں رکھنے کی اجازت ہے۔ اس کے لئے سورۃ النساء کی ایک آیت پر انحصار کیا جاتا ہے۔ لیکن اس آیت کا سیاق و سباق اور الفاظ واضح طور پر ظاہر کر رہے ہیں کہ یہاں تعدد ازواج کے لئے عام قاعدہ نہیں مقرر کیا گیا۔ بلکہ ایک خاص قومی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے ایک استثنائی صورت کی اجازت دی گئی ہے۔ چنانچہ متعلقہ دو آیات کا ترجمہ حسب ذیل ہے۔

١٠٨

’’اور یتیموں کو ان کے مال دے اپنے مال کے ساتھ ملا کر مت کھاؤ۔ کیو بارے میں انصاف نہ کر سکو گے تو ایسی عور گویا اصل مقصد ان بیوگان ایسے ہیں کہ سوائے تعدد ازواج کے ان نہیں۔ مثال کے طور پر اس طرح کی صورت تعداد میں مارے جائیں اور ملک میں ایک ظاہر ہے کہ ہر ملک میں اور فیصلہ کہ فی الواقع ایسے حالات پیدا ہو گئ اجتماعی طور پر یہ فیصلہ کرنا ہوگا۔ پھر یہ بھی لئے تعدد ازواج کی اجازت ضروری ہو بیوہ عورتوں، یتیم بچوں، بیماروں، بوڑھوں داری اپنے اوپر لے لے۔ اس صورت می نہ رہے گی۔

بہر حال مذکورہ بالا آیات سے بچوں کی تعلیم و تربیت اور ان کے مال کی اجازت نہیں ہے اور پھر ایک بیوی کے ہے۔ جس کے ساتھ یتیم بچے نہ ہوں۔

زمانہ حال کی ایک ترقی پسند دے چکی ہے۔ علامہ اقبال نے پنڈت اسلامی قانون کی تعریف کی ہے اور اسے رائے میں تعدد ازواج ایک ”شرعی اجاز اس کے خیال میں یہ اجازت معاشرتی فسا حقیقتاً ہمارے فقہاء نے ازو ملحوظ رکھا ہے۔ مثلاً چار بیویوں تک تو خیر ہیں۔ اس لئے یتیم بچوں کی موجودگی کا

صفحہ ٣١٩

”اور یتیموں کو ان کے مال دے دو اور اچھی چیز کو ردی سے نہ بدلو اور ان کے مال کو اپنے مال کے ساتھ ملا کر مت کھاؤ۔ کیونکہ یہ بڑا گناہ ہے اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ یتیموں کے بارے میں انصاف نہ کر سکو گے تو ایسی عورتوں سے نکاح کر لو۔ دو، تین، چار تک۔“

گویا اصل مقصد ان بیوگان کی حفاظت ہے۔ جن کے ساتھ یتیم بچے ہیں اور حالات ایسے ہیں کہ سوائے تعدد ازدواج کے ان بیوگان اور یتیم بچوں کی کماحقہ نگہداشت کا اور کوئی ذریعہ نہیں۔ مثال کے طور پر اس طرح کی صورت جنگ کے نتیجہ میں پیدا ہو سکتی ہے۔ جب مرد ایک کثیر تعداد میں مارے جائیں اور ملک میں ایک بھاری تعداد یتیم بچوں اور ان کی ماؤں کی رہ جائے۔

ظاہر ہے کہ ہر ملک میں اور ہر وقت ایسے حالات موجود نہیں ہوتے۔ نیز اس امر کا فیصلہ کہ فی الواقع ایسے حالات پیدا ہو گئے۔ افراد کے اختیار پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ بلکہ قوم نے اجتماعی طور پر یہ فیصلہ کرنا ہوگا۔ پھر یہ بھی ضروری نہیں کہ ہر قوم کے لئے یتامیٰ کا انتظار کرنے کے لئے تعدد ازدواج کی اجازت ضروری ہو۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ کوئی قوم اپنے کمزور اور معذور طبقوں مثلاً بیوہ عورتوں، یتیم بچوں، بیماروں، بوڑھوں وغیرہ کے تمام ضروری اخراجات اور نگہداشت کی ذمہ داری اپنے اوپر لے لے۔ اس صورت میں یتامیٰ کی پرورش کے لئے تعدد ازدواج کی ضرورت ہی نہ رہے گی۔

بہر حال مذکورہ بالا آیات سے عیاں ہے کہ سوائے اس صورت کے کہ یہ اندیشہ ہو کہ یتیم بچوں کی تعلیم و تربیت اور ان کے مال کی حفاظت کا اور کوئی ذریعہ نہیں۔ تعدد ازدواج کی ہرگز اجازت نہیں ہے اور پھر ایک بیوی کے ہوتے ہوئے دوسری ایسی عورت سے نکاح قطعاً ناجائز ہے۔ جس کے ساتھ یتیم بچے نہ ہوں۔

زمانہ حال کی ایک ترقی پسند اسلامی مملکت یعنی ترکی تعدد ازدواج کو قانوناً ممنوع قرار دے چکی ہے۔ علامہ اقبال نے پنڈت جواہر لال نہرو کے ساتھ ایک بحث میں ترکی کے اس اصلاحی قانون کی تعریف کی ہے اور اسے اسلام کی روح کے عین مطابق قرار دیا ہے۔ علامہ کی رائے میں تعدد ازدواج ایک ”شرعی اجازت“ ہے۔ جس کو حکومت ہر وقت منسوخ کر سکتی ہے۔ اگر اس کے خیال میں یہ اجازت معاشرتی فساد پیدا کرنے کی طرف مائل ہو جائے۔

حقیقتاً ہمارے فقہاء نے ازدواجی قوانین وضع کرنے میں قرآنی پابندیوں کو بہت کم ملحوظ رکھا ہے۔ مثلاً چار بیویوں تک تو خیر کہا جا سکتا ہے کہ چونکہ مثنیٰ و ثلث و ربع کے الفاظ موجود ہیں۔ اس لئے یتیم بچوں کی موجودگی کا سوال نہیں پیدا ہوتا۔ لیکن اس بات کا کیا جواب ہے کہ

١٠٩

صفحہ ٣٢٠

فقہ کی رو سے چار سے زیادہ بیویاں رکھنا بھی ناجائز اور قابل گرفت نہیں ہیں۔ چونکہ معاشی دشواریوں اور بعض دیگر وجوہ کی بناء پر چار کی تعداد تک پہنچنا بھی شاذ ہی دیکھنے میں آتا ہے۔ اس لئے شاید اکثر قارئین اس سے بے خبر ہوں کہ چار سے زیادہ بیویاں رکھنا بھی جرم نہیں ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ ہمارے فقہاء نے نکاح کو جائز اور ناجائز دو قسموں میں ہی تقسیم نہیں کیا۔ بلکہ ان دو کے درمیان ایک تیسری صورت بھی پیدا کی ہے اور اس تقسیم کی رو سے نکاح کی تین قسمیں ہیں۔ صحیح ، باطل اور فاسد۔ فقہی قواعد کے لحاظ سے چار بیویوں کی موجودگی میں مزید عورتوں سے نکاح باطل نہیں ہوتا۔ بلکہ صرف فاسد ہوتا ہے۔ اسی طرح موجودہ بیوی کی حقیقی بہن سے نکاح بھی فاسد کے زمرہ میں ہی آتا ہے۔ گو اس کی صریح ممانعت قرآن میں موجود ہے اور اس نکاح میں سوائے اس کے نام کے اور کوئی فساد نہیں ہے۔ ایسا کرنا کوئی جرم نہیں ہوتا اور ایسے نکاح سے اولاد، جائز اولاد سمجھی جاتی ہے۔

ان قوانین کے ذریعہ مرد نے اپنے آپ کو ازدواجی رشتے سے متعلق تمام پابندیوں سے آزاد کر لیا ہے اور اس کے مقابلے میں عورت ان حقوق اور تحفظات سے بالکل محروم کر دی گئی ہے۔ جو خدا کے قانون نے اس کو دیے تھے۔ پنجاب میں غیر قرآنی فقہ پر عرصہ تک عمل کرنے سے حالت یہ ہو گئی تھی کہ مسلمان عورت اپنے باپ اور اس کے بعد اپنے خاوند کی جائیداد کا ایک حصہ ہو کر رہ گئی۔ مردوں کو جس طرح اپنی دوسری ملک کی نسبت ہر طرح کے اختیارات اور حقوق حاصل تھے۔ یہی صورت عورتوں کے متعلق تھی۔ (غیر مسلم عورتوں کی حالت مسلمانوں سے کسی طرح بہتر نہ تھی۔ لیکن ان کا معاملہ میرے موضوع سے خارج ہے)

ملک کے ازدواجی قوانین بہت حد تک اسی حق ملکیت کی بناء پر وضع کئے گئے ہیں۔ مثلاً اس ملک میں مطلق زنا جرم نہیں قرار دیا گیا۔ جرم صرف اس صورت میں بنتا ہے جب اس سے کسی مرد کے حقوق میں مداخلت ہوتی ہو اور پھر اس جرم کی نسبت عدالت میں استغاثہ کرنے کا اختیار بھی صرف خاوند کو حاصل ہے۔ جرم کے متعلق ثبوت گزر جانے کے بعد بھی خاوند مقدمہ واپس لے سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر خاوند کسی دوسری عورت سے ناجائز تعلقات قائم کرے تو بیوی کو یہ حق حاصل نہیں کہ خاوند یا اس دوسری عورت کے خلاف اس طرح کا فوجداری مقدمہ کر سکے۔

اسی طرح خاوند کے حق میں عدالتیں ایک عجیب و غریب کارروائی یہ بھی کرتی ہیں کہ اس کے دعویٰ پر بیوی کو حکم دیا جاتا ہے کہ اپنے خاوند کے حقوق زوجیت ادا کرے۔ اس حکم کی خلاف ورزی کرنے پر عورت کی جائیداد نیلام کر کے اس رقم سے خاوند کو (حقوق زوجیت سے محرومی کا)

١١٠

معاوضہ دلایا جا سکتا ہے۔ عرف و کی نسبت ہمارے نظریات پر کا دیہاتی ابھی تک اس غلط فہمی میں م ان کے سپرد کر دے گی۔ ایسا نہ ہو کرتے ہیں کہ ابھی ان کے ملک

عورتوں کی اس حال میں سے ایک سمجھتا ہوں۔ علم الا زیادہ اثر اس کی ماں کا ہوتا ہے رشتہ داروں ، دوستوں وغیرہ سے ہے۔ لیکن ہماری زندگی کا وہ زمان میں گزرتا ہے۔ جو عادات، خیالا پر تمام زندگی میں ہمارا ساتھ دے بچپن میں ماں کے ہاتھوں بنتی ہے اپنی ماں کے جسم کا ٹکڑا ہے۔ پہلی لیکن اس میں تو کسی کو شک نہ ہو گا

عورت پر ظلم تمام بنی ظلم ، مجبوری، محکومی ، بے بسی اور جہا میں کوئی حقیقی ترقی کرنا ایک محال ہو۔ لیکن بیٹے اس کی تربیت کے انسانی حقوق کو نظر انداز کر دیا جاے بھی ان کے لئے موجودہ ازدواجی جائز حقوق سے محروم رکھ کر مردان کئے بغیر کسی حقیقی معنی میں قومی ترقی

ہم مسلمانوں کے ہاں معاشرہ جن دور رس خرابیوں کا شکا امر کے متقاضی تھے کہ عورتوں کا

عائلی سیرت کا پروگرام

عائلی سیرت کے مختلف پہلوؤں پر مقالہ جات کا مجموعہ

پیش کش طیبہ پبلیکیشنز

عائلی سیرت کا نفرنس، کانفرنس کی مکمل روئداد اس

صفحہ ٣٢١

معاوضہ دلایا جاسکتا ہے۔ عرف عام میں اس دعویٰ کو بازو کا دعویٰ کہا جاتا ہے۔ خود یہ نام ہی عورت کی نسبت ہمارے نظریات پر کافی روشنی ڈالتا ہے۔ قانون کی باریکیوں سے ناواقف ہمارے اکثر دیہاتی ابھی تک اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ اس دعویٰ کے نتیجہ میں عدالت عورت کو بازو سے پکڑ کر ان کے سپرد کردے گی۔ ایسا نہ ہونے پر انہیں سخت مایوسی ہوتی ہے اور وہ اس کمی کو اس بات پر محمول کرتے ہیں کہ ابھی ان کے ملک میں شریعت پر پورے طور پر عمل نہیں ہو رہا۔

عورتوں کی اس حالت کو میں دور حاضر کے مسلمانوں کے دو تین نہایت درجہ اہم مسائل میں سے ایک سمجھتا ہوں۔ علم الاخلاق کے ماہر اس بات پر متفق ہیں کہ انسان کے کردار پر سب سے زیادہ اثر اس کی ماں کا ہوتا ہے۔ ہم اپنی زندگی کے مختلف حصوں میں اپنے ماں، باپ، استادوں، رشتہ داروں، دوستوں وغیرہ سے متاثر ہوتے ہیں۔ ہمارا کردار بہت حد تک ان اثرات کا نتیجہ ہوتا ہے۔ لیکن ہماری زندگی کا وہ زمانہ جس میں ہم سب سے زیادہ اثر قبول کرتے ہیں۔ ماں کی تربیت میں گزرتا ہے۔ جو عادات، خیالات اور اعتقادات ہم اس زمانے میں قائم کر لیتے ہیں وہ عام طور پر تمام زندگی میں ہمارا ساتھ دیتے ہیں اور ہمارے کردار کی عمارت اس بنیاد پر کھڑی کی جاتی ہے جو بچپن میں ماں کے ہاتھوں بنتی ہے۔ یہ استعارہ اور تمثیل نہیں بلکہ حقیقت ہے کہ ہم میں سے ہر ایک اپنی ماں کے جسم کا ٹکڑا ہے۔ پہلی عورت کا پہلے مرد کی پسلی سے پیدا ہونا تاریخی لحاظ سے مشتبہ ہے۔ لیکن اس میں تو کسی کو شک نہ ہوگا کہ ہر مرد کو عورت ہی جنم دیتی ہے۔

عورت پر ظلم تمام بنی نوع انسان پر ظلم ہے۔ قوم افراد سے بنتی ہے۔ جن افراد کی مائیں ظلم، مجبوری، محکومی، بے بسی اور جہالت کی زندگی بسر کر رہی ہوں۔ ان کے لئے زندگی کے کسی شعبے میں کوئی حقیقی ترقی کرنا ایک محال کام ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ماں تو جاہل، بزدل اور وہم پرست ہو۔ لیکن بیٹے اس کی تربیت کے نتیجہ میں عالم، دلیر اور روشن خیال بن جائیں۔ اگر عورت کے انسانی حقوق کو نظر انداز کر دیا جائے اور مرد خود غرضی سے صرف اپنی فلاح و بہبود کو ہی ملحوظ رکھیں تو بھی ان کے لئے موجودہ ازدواجی تعلقات میں بنیادی تبدیلی کرنا ضروری ہوگا۔ عورتوں کو ان کے جائز حقوق سے محروم رکھ کر مرد اپنے آپ پر اور اپنی آئندہ نسلوں پر ظلم کر رہے ہیں۔ یہ حقوق قائم کئے بغیر کسی حقیقی معنی میں قومی ترقی کا تصور ہی نہیں ہو سکتا۔

ہم مسلمانوں کے ہاں بالعموم عورتوں کی جو بری حالت ہے اور اس کی وجہ سے ہمارا پورا معاشرہ جن دور رس خرابیوں کا شکار ہو رہا ہے۔ اگر میں اجرائے نبوت کا قائل ہوتا تو یہ حالات اس امر کے متقاضی تھے کہ عورتوں کا ایک نبی مبعوث کیا جاتا۔ نسبتاً چھوٹے چھوٹے معاملات مثلاً

١١١

صفحہ ٣٢٢

بیوپار میں پورا پورا تولنے کے لئے نبی آتے رہے ہیں۔ کیا آبادی کے نصف حصہ کو ابتدائی انسانی حقوق سے محروم کیا جانا اور ظاہر یہ کرنا کہ یہ خدائی قانون کے ماتحت کیا جارہا ہے۔ کم تولنے سے بھی کم اہمیت رکھتا ہے؟

اگر مرزا غلام احمد قادیانی اس مسئلے کی نسبت مکمل خاموشی اختیار کر لیتے اور ان کا کوئی قول اور عمل ایسا موجود نہ ہوتا جس سے یہ ظاہر ہوتا کہ وہ عورتوں کے ساتھ موجودہ سلوک کو قرآنی احکام کے منافی سمجھتے ہیں تو بھی یہ بات حیرت انگیز ہوتی۔ کیونکہ اس صورت میں ماننا پڑتا کہ اگر مرزا قادیانی مامور من اللہ ہیں تو خدا بھی عورتوں کی موجودہ حالت کو اپنے دینی احکام کے عین مطابق سمجھتا ہے اور شاید فی الواقع مرزا قادیانی خاموشی ہی اختیار کئے رہتے اور یہ بات ان کے عام رجحان کے بالکل مطابق ہوتی۔ کیونکہ وفات مسیح جیسے بعید از کار اور خیالی مسائل کو تو انہوں نے اس قدر اہمیت دی کہ ان کی کتب میں سے شاید ہی کوئی کتاب اس بحث سے خالی ہو اور اس کے برعکس زندہ مسائل جن پر قومی ترقی و تنزل کا دارو مدار ہے۔ عام طور پر مرزا قادیانی کی نظر التفات سے محروم ہی رہے۔ لیکن مرزا قادیانی کی زندگی میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا۔ جس سے ہم عورتوں کے بارے میں ان کے اعتقادات کی نسبت کسی شبہ میں نہیں رہتے۔ یہ واقعہ ایک کم سن لڑکی محمدی بیگم کے ساتھ مرزا قادیانی کے نکاح کرنے کی ناکام کوشش سے متعلق ہے۔ محمدی بیگم کی نسبت مرزا قادیانی کی پیش گوئی جماعت احمدیہ اور ان کے مخالفین کے درمیان ایک مستقل بحث کا موضوع ہے۔ میں چونکہ پیش گوئیوں کو کسی صداقت کے پرکھنے کا معیار ہی نہیں سمجھتا اور نہ اس طرح کی پیش گوئیاں کرنا کسی نبی یا مجدد کے منصب کے شایان سمجھتا ہوں۔ اس لئے میں اس پیش گوئی کے ان پہلوؤں پر زیادہ بحث نہیں کرنا چاہتا۔ جن کا تعلق محض اس امر سے ہے کہ آیا پیش گوئی سچی تھی یا جھوٹی۔ ویسے اس ضمن میں میرے لئے یہ بات حیرت انگیز ہے کہ اس پیش گوئی کے پورا ہو جانے کا دعویٰ بھی کیا جاتا ہے۔ مرزا قادیانی کی پیش گوئی یہ تھی کہ بالآخر ان کا نکاح محمدی بیگم سے ضرور ہوگا۔ انکا دعویٰ تھا کہ یہ بات وہ خدا سے خبر پا کر کہہ رہے ہیں اور یہ ٹل نہیں سکتی۔

چنانچہ ١٨٩١ء میں اپنی کتاب (ازالہ اوہام ص ٣٩٦، خزائن ج ٣ ص ٣٠٥) میں لکھتے ہیں۔ ”عرصہ قریباً تین برس کا ہوا کہ بعض تحریکات کی وجہ سے جن کا مفصل ذکر اشتہار دہم جولائی ١٨٨٨ء میں مندرج ہے۔ خدا تعالیٰ نے پیش گوئی کے طور پر اس عاجز پر ظاہر فرمایا کہ مرزا احمد بیگ ولد گاماں بیگ ہوشیار پوری کی دختر کلاں انجام کار تمہارے نکاح میں آئے گی اور وہ لوگ بہت عداوت کریں گے اور بہت مانع ہوں گے اور کوشش کریں گے کہ ایسا نہ ہو۔ لیکن آخر کار ایسا

١١٢

صفحہ ٣٢٣

ہی ہوگا اور فرمایا کہ خدا تعالیٰ ہر طرح سے اس کو تمہاری طرف لائے گا۔ باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے اور ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھا دے گا اور اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔‘‘

یہی نہیں مرزا قادیانی کے کہنے کے مطابق جب کبھی انہیں اس پیش گوئی کی نسبت کوئی شبہ پیدا ہوا خدا تعالیٰ نے جدید وحی کے ذریعہ ان کے تمام شکوک دور کر دیئے اور انہیں یقین دلا دیا کہ خدا کا وعدہ ضرور پورا ہوگا۔ اس طرح کے ایک الہام کا ذکر اسی کتاب (ازالہ اوہام ص ٣٩٨، خزائن ج ٣ ص ٣٠٥) میں ہے۔ فرماتے ہیں : ”جب یہ پیش گوئی معلوم ہوئی اور ابھی پوری نہیں ہوئی تھی (جیسا کہ اب تک بھی جو ١٦؍اپریل ١٨٩١ء ہے پوری نہیں ہوئی) تو اس کے بعد اس عاجز کو ایک سخت بیماری آئی۔ یہاں تک کہ قریب موت کے نوبت پہنچ گئی۔ بلکہ موت کو سامنے دیکھ کر وصیت بھی کر دی گئی۔ اس وقت گویا یہ پیش گوئی آنکھوں کے سامنے آ گئی اور یہ معلوم ہو رہا تھا کہ اب آخری دم ہے اور کل جنازہ نکلنے والا ہے۔ تب میں نے اس پیش گوئی کی نسبت خیال کیا کہ شاید اس کے اور معنی ہوں گے جو میں سمجھ نہ سکا۔ تب اسی حالت قریب الموت میں مجھے الہام ہوا۔ ”الحق من ربك فلا تكونن من الممترين “ یعنی یہ بات تیرے رب کی طرف سے سچ ہے تو کیوں شک کرتا ہے۔“

اور مرزا قادیانی خدا کے اس وعدہ سے زندگی کے آخری ایام تک مکمل طور پر مایوس نہیں ہوئے تھے۔ چنانچہ اپنی وفات سے صرف تین سال پہلے (حقیقت الوحی ص ١٣٢، ١٣٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٠) میں لکھتے ہیں ۔ ”اور یہ امر کہ الہام میں یہ بھی تھا کہ اس عورت کا نکاح آسمان پر میرے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ یہ درست ہے مگر جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں۔ اس نکاح کے ظہور کے لئے جو آسمان پر پڑھا گیا۔ خدا کی طرف سے ایک شرط یہ بھی تھی جو اسی وقت شائع کی گئی تھی اور وہ یہ کہ ”ایتھا المرأۃ توبی توبی فان البلا علی عقبک “ پس جب ان لوگوں نے اس شرط کو پورا کر دیا تو نکاح فسخ ہو گیا یا تاخیر میں پڑ گیا۔“

اب یہ امر واقعہ ہے کہ آسمان پر پڑھا ہوا یہ نکاح زمین پر عمل میں نہیں آسکا۔ اس کے باوجود احمدی مولوی صاحبان کو اصرار ہے کہ یہ پیش گوئی پوری شان کے ساتھ پوری ہو گئی ہے۔ میں ایک سوال پیش کرتا ہوں۔ فرض کیجئے محمدی بیگم کے ساتھ مرزا قادیانی کا نکاح ہو جاتا۔ کیا اس صورت میں یہ پیش گوئی پوری نہ ہوتی ؟ اس کا جواب یہی ہوگا کہ یقیناً پوری ہو جاتی تو پھر پیش گوئی کے پورا نہ ہونے کی کون سی صورت تھی؟

١١٣

صفحہ ٣٢٤

میرے لئے پیش گوئی کا پورا ہونا نہ ہونا اتنا اہم نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس پیش گوئی سے متعلق واقعات مرزا قادیانی کے کردار پر کیا روشنی ڈالتے ہیں۔ اوّل مرزا قادیانی کی زندگی کی نسبت چند موٹے موٹے امور بیان کر دینا ضروری معلوم ہوتا ہے۔

مرزا قادیانی کی پہلی شادی عمر کے اوائل میں ہی ہوگئی تھی اور اس شادی سے مرزا قادیانی کے دو لڑکے مرزا سلطان احمد اور فضل احمد موجود تھے۔ ١٨٨٤ء میں جب کہ مرزا قادیانی کی عمر قریباً پچاس سال تھی۔ انہوں نے دہلی کے ایک معزز خاندان کی ایک نوعمر کنواری لڑکی سے رشتہ کیا۔ جو قرآنی احکام میں نے تعدد ازدواج کی نسبت بیان کئے ہیں۔ ان کی روشنی میں اس نکاح ثانی کے لئے کوئی معقول وجہ موجود نہ تھی۔ جس بیوی کے ساتھ مرزا قادیانی کی جوانی کا بہترین حصہ گزر چکا تھا۔ بڑھاپے میں اسے عذاب میں مبتلا کرنا کسی طرح جائز نہ تھا۔ شاید بعض لوگ میری اس رائے سے اختلاف رکھتے ہوں کہ نکاح ثانی کی اجازت صرف یتیم بچوں کی نگہداشت کی غرض سے ہے۔ لیکن اس سے تو سب متفق ہوں گے کہ انصاف کی شرط ضروری ہے اور حکم یہ نہیں ہے کہ بے شک دو، تین، چار بیویاں نکاح میں لے آؤ۔ لیکن ان کے درمیان انصاف قائم رکھو۔ بلکہ حکم یہ ہے کہ ایک بیوی کے ہوتے ہوئے اگر دوسری شادی کا خیال پیدا ہو تو اس وقت اپنے حالات کا جائزہ لو اور دل کو ٹٹولو۔ اگر تم کو خوف ہو کہ انصاف نہ کر سکو گے تو پھر ایک ہی بیوی رکھو اور دوسرا نکاح کرنے سے باز رہو۔ اگر مرزا قادیانی قرآنی حکم کے ماتحت دیانتداری سے غور کرتے تو یقیناً وہ اس نتیجہ پر پہنچتے کہ اس عمر میں وہ اپنی نئی دلہن اور ادھیڑ عمر کی بیوی کے درمیان انصاف نہ کر سکیں گے۔ قرآنی حکم کے الفاظ کی طرف پھر توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ دوسری شادی سے باز رہنے کے لئے یہ شرط نہیں ہے کہ بے انصافی کا یقین ہو بلکہ الفاظ یہ ہیں کہ اگر اس بارے میں کچھ بھی خوف ہو تو اس صورت میں ایک ہی بیوی کی اجازت ہے۔ خدا سے زیادہ کون انسانی فطرت اور ازدواجی تعلقات کے تقاضوں کی نزاکت اور اہمیت سے واقف ہے۔ اس لئے سورۃ نساء میں جہاں تعدد ازدواج کے لئے انصاف کی شرط مقرر کی گئی ہے۔ ساتھ ہی مردوں کو اس حقیقت سے متنبہ کر دیا گیا ہے کہ اس بارے میں اپنی استعداد کی نسبت کسی خوش فہمی اور حسن ظن میں مبتلا نہ رہو اور یہ نہ سمجھو کہ تم آسانی کے ساتھ انصاف کے تقاضے پورے کر سکو گے۔ چنانچہ فرمایا: 'ولن تستطيعوا ان تعدلوا بين النساء ولو حرصتم (النساء:١٢٩)' یعنی عورتوں کے درمیان عدل قائم کرنا ایک محال کام ہے۔ خواہ تم اس کی کتنی ہی خواہش رکھتے ہو۔

مرزا قادیانی کی نسبت ہمارے پاس ایسی شہادت موجود ہے جو ظاہر کرتی ہے کہ اپنے

١١٤

صفحہ ٣٢٥

حالات کے ماتحت ان کو یقین تھا کہ دوسری شادی کے بعد وہ اپنی پہلی بیوی سے انصاف نہ کرسکیں گے اور اس کے حقوق ادا کرنے سے قاصر رہیں گے۔ مرزا قادیانی کی زندگی کے حالات کی نسبت ان کے چھوٹے صاحبزادے میاں بشیر احمد صاحب ایم اے نے ایک کتاب (سیرۃ المہدی) لکھی ہے۔ اس میں انہوں نے اپنی والدہ یعنی مرزا قادیانی کی دوسری بیوی کی زبانی یہ واقعہ لکھا ہے۔

”والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ شادی کے بعد حضرت صاحب نے انہیں (یعنی پہلی بیوی کو) کہلا بھیجا کہ آج تک تو جس طرح ہوتا رہا اب میں نے دوسری شادی کرلی ہے۔ اس لئے اب اگر دونوں بیویوں میں برابری نہ رکھوں گا تو میں گنہگار ہوں گا۔ اس لئے اب دو باتیں ہیں یا تو تم مجھ سے طلاق لے لو اور یا مجھے اپنے حقوق چھوڑ دو۔ میں تم کو خرچ دیئے جاؤں گا۔ انہوں نے کہلا بھیجا کہ اب میں بڑھاپے میں کیا طلاق لوں گی۔ بس مجھے خرچ ملتا رہے۔ میں اپنے باقی حقوق چھوڑتی ہوں۔“

(سیرۃ المہدی ج١ ص٣٢)

مرزا بشیر احمد قادیانی نے سیرت المہدی میں ہمیں اپنی سوتیلی والدہ کا اصل نام تک نہیں بتایا۔ لیکن اس کا ذکر ان تحقیر آمیز الفاظ سے کیا ہے کہ: ”فضل احمد کی ماں جن کو لوگ عام طور پر ’پھجے دی ماں‘ کہا کرتے تھے۔“ خدا کی شان ہے کہ ایک عورت تو اس اعزاز سے ام المؤمنین بن جائے کہ اس نے اپنی جوانی میں ایک ادھیڑ عمر کے مرد سے شادی کرلی اور دوسری بیچاری محض اس قصور کی بناء پر کہ وہ خاوند کے ساتھ ساتھ بوڑھی ہوتی گئی۔ صرف ’پھجے دی ماں‘ ہوکر رہ جائے۔

اس ذکر سے میرے ذہن میں بیسیوں مثالیں آگئی ہیں۔ اگر آپ اپنے ملک کے ان لوگوں پر نظر ڈالیں جو شروع میں چھوٹے چھوٹے عہدوں پر فائز تھے۔ یا متوسط طبقہ سے تعلق رکھتے تھے اور اب اتفاق زمانہ سے یک لخت اعلیٰ عہدوں پر پہنچ گئے ہیں یا دولت مند ہوگئے ہیں تو آپ دیکھیں گے کہ ان میں سے اکثر کی ایک تو بیگم صاحبہ ہوتی ہے اور ایک غریب کوئی ’پھجے دی ماں‘ ہوتی ہے جو گم نامی میں اپنے آبائی گاؤں میں کسی نہ کسی طرح زندگی کے دن پورے کر رہی ہوتی ہے۔ ان حالات میں مرزا قادیانی کا طرز عمل کوئی ایسا انوکھا نہیں ہے۔ انہوں نے وہی کیا جو ان کے طبقے کے دوسرے مرد کرتے تھے اور اب بھی کر رہے ہیں۔ لیکن کیا نبی اور مجدد دین کی صداقت کا یہی معیار ہونا چاہئے کہ اس کی زندگی معاشرہ کی مروج برائیوں کے عین مطابق ہے اور کسی برائی میں وہ منفرد نہیں ہے؟ کیا نبی برائیوں کی تقلید اور ان کے استحکام کے لئے آتے ہیں؟

اور کتنی بے بسی اور مظلومیت ٹپکتی ہے۔ مرزا قادیانی کی بیوی کے جواب سے ”اب

١١٥

صفحہ ٣٢٦

میں بڑھاپے میں کیا طلاق لوں گی۔“ اس چھوٹے سے فقرے میں اس عورت نے اپنی نوع کے ساتھ صدیوں کے ظلم اور جبر کی داستان کہہ ڈالی ہے اور ان الفاظ میں ایک لطیف اور گہرا طنز ہے۔ جس کو مرزا قادیانی اور ان کے سیرت نگار دونوں نے محسوس نہیں کیا۔ کیا یہ عورت یہ کہتی ہوئی نہیں معلوم ہوتی۔

”آخر میرا قصور کیا ہے؟ یہی نا کہ میں جوان نہیں رہی؟ کیا میں ہمیشہ بوڑھی تھی؟ میں نے اپنی جوانی کس پر نثار کی ہے؟ پھر اپنی عمر کا بھی تو خیال کرو۔ کیا تم ویسے ہی جوان ہو؟ کیا نکاح صرف جنسی خواہش کو پورا کرنے کے لئے ہوتا ہے؟۔ کیا ہم نے زندگی کا اتنا لمبا عرصہ ایک دوسرے کے غم اور خوشی میں شریک ہو کر نہیں گزارا ؟۔ اب مجھے کیوں چھوڑتے ہو؟ کیا زندگی کی شام کے لئے جوانی کی یادیں اور جوان بیٹوں کی خوشیاں ناکافی ہیں؟“

سیرۃ المہدی کے متذکرہ بالا اقتباس سے واضح ہوگا کہ مرزا قادیانی اس امر کے معترف تھے کہ وہ دو بیویوں میں برابری کا سلوک کرنے کے اہل نہیں ہیں۔ تعجب ہے کہ اس احساس کے باوجود انہوں نے جلدی ہی ایک تیسری شادی کا بھی ارادہ کر لیا۔

احمدی مولویوں کی طرف سے محمدی بیگم کے ساتھ نکاح نہ ہو سکنے کی ایک توجیہہ یہ کی جاتی ہے کہ فی الواقع مرزا قادیانی کا اصل مقصد اس لڑکی سے نکاح نہ تھا۔ بلکہ لڑکی کے خاندان کے لوگوں کو جو مرزا قادیانی کے خیال کے مطابق اپنی اسلام دشمنی میں حد سے بڑھ گئے تھے۔ راہ راست پر لانا اور توبہ پر مائل کرنا تھا۔ لیکن اس قسم کی تاویل واقعات کے صریح مخالف ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے بڑی سوچ بچار کے بعد یہ حتمی فیصلہ کیا تھا کہ انہیں ایک اور نکاح کرنا چاہئے۔ چنانچہ مولوی نور الدین صاحب کے نام ٨؍ جون ١٨٨٦ء کے ایک خط میں مرزا قادیانی نے اس تیسری شادی کی نسبت حسب ذیل عبارت لکھی ہے۔

”سو آج آپ سے بھی جو میرے مخلص دوست ہیں۔ ایک واقعہ پیش گوئی کا بیان کرتا ہوں۔ شاید چار ماہ کا عرصہ ہوا ہے کہ اس عاجز پر ظاہر کیا گیا تھا کہ ایک فرزند قوی الطاقت کامل الظاہر والباطن تم کو عطاء کیا جائے گا۔ اس کا نام بشیر ہوگا۔ سو اب تک میرا قیاسی طور پر خیال تھا کہ شاید وہ فرزند مبارک اس اہلیہ سے ہوگا۔ اب زیادہ تر الہام اس بات میں ہو رہے ہیں کہ عنقریب ایک اور نکاح تمہیں کرنا پڑے گا اور جناب الٰہی میں یہ بات قرار پا چکی ہے کہ ایک پارسا طبع اور نیک سیرت اہلیہ تمہیں عطاء ہوگی۔ وہ صاحب اولاد ہوگی۔

ان دنوں میں اتفاقاً نئی شادی کے لئے دو شخص نے تحریک کی تھی۔ مگر جب ان کی نسبت

١١٦

صفحہ ٣٢٧

استخارہ کیا گیا تو ایک عورت کی نسبت جواب ملا کہ اس کی قسمت میں ذلت ومحتاجی و بے عزتی ہے اور اس لائق نہیں کہ تمہاری اہلیہ ہو اور دوسری کے متعلق اشارہ ہوا کہ اس کی شکل اچھی نہیں۔ گویا یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ صاحب صورت وصاحب سیرت لڑکا جس کی بشارت دی گئی ۔ وہ برعایت مناسبت ظاہری اہلیہ جمیلہ و پارسا طبع سے پیدا ہو سکتا ہے۔ (مکتوبات احمد یہ ج ٥ نمبر ٢ ص ٥)

الہام، اشارہ اور استخارہ وغیرہ کو خارج کر کے سیدھے سادے الفاظ میں صورت یہ تھی کہ دوسری شادی سے قریباً ایک سال بعد ہی مرزا قادیانی نے ایک تیسری شادی کے لئے کوشش شروع کر دی تھی اور کئی رشتوں کے حسن و قبح پر غور کرنے لگ گئے۔ اس تگ و دو کے نتیجہ میں بالآخر ان کی نظر انتخاب محمدی بیگم پر پڑی۔

اس لڑکی کی عمر اس وقت قریباً گیارہ سال تھی۔ اس کا خاندان مرزا قادیانی کے خاندان کے ساتھ کئی رشتوں سے وابستہ تھا۔ چنانچہ محمدی بیگم کا والد مرزا احمد بیگ مرزا غلام احمد قادیانی کے ماموں کا لڑکا تھا اور محمدی بیگم کی والدہ مرزا قادیانی کی چچا زاد بہن تھی۔ اس کے علاوہ مرزا احمد بیگ کی ایک بھانجی مرزا قادیانی کے صاحبزادے فضل احمد سے بیاہی ہوئی تھی۔

یہ رشتے ذرا تفصیل سے اس لئے بیان کر دیئے گئے ہیں کہ ان میں سے بعض کا ذکر مرزا قادیانی کی محمدی بیگم سے نکاح کرنے کی کوشش کے سلسلہ میں آئے گا۔

جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں ۔ محمدی بیگم والا معاملہ مرزا قادیانی کی جماعت اور ان کے مخالفین کے درمیان ہمیشہ ایک تلخ اور نہ ختم ہونے والی بحث کا موضوع رہا ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ بحث اس نکتہ پر مرکوز رہی ہے کہ پیش گوئی کیا تھی۔ اس کی شرائط کیا تھیں۔ کون سی شرط کس طرح پوری ہوگئی وغیرہ ۔ یہ کوئی نہیں سوچتا کہ اس قسم کی پیش گوئی خدائی حکم کے ماتحت ہو بھی سکتی ہے یا نہیں؟

بڑھے مردوں کی کنواری نوعمر لڑکیوں سے شادی کی خواہش کسی پیچیدہ اور ناقابل فہم جذبہ سے متعلق نہیں ہے اور ہماری سوسائٹی کے امراء کے طبقہ میں یہ بات کوئی ایسی غیر معمولی بھی نہیں ۔ لیکن اس طرح کے عزائم میں خدا کو شریک کرنا زیادتی ہے۔ یہ مانا کہ زندگی محض رومان نہیں ہوسکتی اور اس میں ٹھوس حقیقتوں سے دوچار ہونا ہوتا ہے۔ لیکن آخر ہر عمر کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں۔ خدا کی یہ منشاء کیونکر ہو سکتی ہے کہ مرد تو بوڑھے ہو کر بھی جوانی کے خواب دیکھیں ہی نہیں ان کو پورا کرنے کا سامان بھی مہیا کر لیں اور عورت اپنی حقیقی جوانی کے جائز تقاضوں کا بھی گلا گھونٹنے پر مجبور کی جائے۔

١١٧

صفحہ ٣٢٨

جیسا کہ بیان ہو چکا ہے۔ جب مرزا قادیانی نے محمدی بیگم کے ساتھ شادی کی کوشش شروع کی تو ان کی عمر پچاس سال کے قریب تھی۔ مرزا قادیانی نے یہ کوشش اپنی زندگی کے آخری ایام تک جاری رکھی۔ گو میرا خیال ہے کہ شروع میں یہ کوشش شادی کی حقیقی خواہش کے ماتحت تھی اور بعد میں زیادہ تر اپنی پیش گوئی کو پورا کرنے کی غرض سے۔ بہر حال مرزا قادیانی اس وقت بھی اس کوشش میں لگے ہوئے تھے۔ جب وہ قریباً ستر سال کی عمر کو پہنچ چکے تھے اور محمدی بیگم ابھی عین جوانی کے عالم میں تھی۔ بنیادی تصورات کے بارے میں مجھے مرزا قادیانی اور ان کے اکثر مخالفین تعجب انگیز حد تک متحد الخیال معلوم ہوتے ہیں۔ اس نکاح کے متعلق مرزا قادیانی کو الہام ہو رہے ہیں۔ وہ استخارہ کر رہے ہیں۔ دوستوں سے مشورہ کر رہے ہیں۔ لڑکی کے رشتہ داروں کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن ایک لحظہ کے لئے بھی انہیں یہ خیال نہیں آتا کہ جس کو وہ اپنی زندگی کی رفیقہ بنانا چاہتے ہیں۔ اس کی رائے بھی پوچھنی چاہئے۔ اس طرح مرزا قادیانی کے مخالفین بھی اس طرف توجہ نہیں دیتے اور ان کی جانب سے بھی سارا زور اس بات پر صرف ہو رہا ہے کہ پیش گوئی خطا گئی۔ کوئی یہ نہیں کہتا کہ نکاح تو مرزا قادیانی اور محمدی بیگم کا ہونا ہے۔ اتنے بڑے ہنگامے کی کیا بات ہے۔ محمدی بیگم سے پوچھ لو۔ اگر وہ مرزا قادیانی سے نکاح کرنا چاہتی ہے تو اور کسی کو اعتراض کا کیا حق ہے؟ اور اگر لڑکی ہی رضامند نہیں تو الہام اور استخارہ سے کیا ہو سکتا ہے؟

اس امر کی نسبت ہمارے پاس کوئی شہادت موجود نہیں کہ جب مرزا قادیانی نے اس شادی کے لئے پہلے پہل کوشش شروع کی تو محمدی بیگم شرعی لحاظ سے بالغ تھی یا نہ۔ چونکہ عمر اس کی گیارہ سال کے قریب تھی۔ اس لئے قیاس یہی ہے کہ ابھی وہ بلوغت کو نہ پہنچی تھی۔ اس صورت میں ہمارے مروج فقہ کی رو سے لڑکی کا والد اس کا نکاح کر سکتا تھا۔ گو یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ بلوغت سے پہلے لڑکی کو نکاح میں لانے سے کیا غرض ہو سکتی تھی۔ لیکن جب لڑکی بالغ ہو گئی تو بھی کسی فریق نے اس سے پوچھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔

اگر نابالغ لڑکی کے نکاح کا اختیار اس کے ولی کو دینا جائز سمجھا جائے تو کم از کم ولی کے لئے یہ موقع تو ہونا چاہئے کہ ہر طرح کے ناجائز اثرات سے آزاد رہ کر اور محض لڑکی کے مفاد کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کر سکے۔ لیکن مرزا قادیانی نے لڑکی کے والد مرزا احمد بیگ کو اس آزادی سے محروم کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی تھی۔ ان کے اس طرز عمل پر جب نہ صرف ان کے مخالفین بلکہ بعض معتقدین کی طرف سے بھی اعتراض ہوا تو اس کا جواب (حقیقت الوحی ص ١٩١، خزائن ج ٢٢ ص ١٩٨)

١١٨ م

میں ان الفاظ میں دیتے ہیں : ”اور یہ کہنا کہ و کوشش کی گئی اور طمع دی گئی اور خط لکھے گئے کی وجہ سے اندھا ہو جاتا ہے۔ کوئی مولوی اس پیش گوئی ظاہر فرمادے اور ممکن ہو کہ انسان اپنے ہاتھ سے اس پیش گوئی کا پورا کرنا نہ ص فعل اس کے ثبوت کے لئے کافی ہے اور پھ اسلام کی ترقی کے لئے بھی قرآن شریف می جان توڑ کوشش کی گئی ۔“

اس بات کو تو جانے دیجئے کہ ک کے لئے نہایت ضعیف روایات کا سہارا لے مسئلہ زیر بحث سے کچھ تعلق نہ تھا۔ بہر حال م پورا کرنا جائز اور مسنون ہے۔ اگر یہ بات ک انہوں نے محمدی بیگم کے ساتھ نکاح میں کام فتنہ سے پاک قرار دیا۔

سب سے پہلے وہ حالات بیا نکاح کی درخواست مرزا احمد بیگ کے سامن میں سنئے ۔ ١٨٨٨ء کے ایک اشتہار میں لکھ والد ایک ضروری کام کے لئے ہماری طرف ہمارے ایک چچا زاد بھائی غلام حسین نامی کی اور مفقود الخبر ہے۔ اس کی زمین جس کا ح کاغذات سرکاری میں درج کرا دی گئی تھی جاری ہے۔ نامبردہ یعنی ہمارے خط کے م زمین جو چار پانچ ہزار روپے قیمت کی ہے چنانچہ ان کی ہمشیرہ کی طرف سے ہبہ نامہ لکھ تھا۔ اس لئے مکتوب الیہ نے بہ تمام عجز وانک ہبہ نامہ پر دستخط کر دیں اور قریب تھا کہ دستخط

صفحہ ٣٢٩

میں ان الفاظ میں دیتے ہیں: ’’اور یہ کہنا کہ پیش گوئی کے بعد احمدی بیگ کی لڑکی کے نکاح کے لئے کوشش کی گئی اور طمع دی گئی اور خط لکھے گئے۔ یہ عجیب اعتراض ہے۔ سچ ہے انسان شدت تعصب کی وجہ سے اندھا ہو جاتا ہے۔ کوئی مولوی اس بات سے بے خبر نہ ہوگا کہ اگر وحی الٰہی کوئی بات بطور پیش گوئی ظاہر فرمادے اور ممکن ہو کہ انسان بغیر کسی فتنہ اور ناجائز طریق کے اس کو پورا کر سکے تو اپنے ہاتھ سے اس پیش گوئی کا پورا کرنا نہ صرف جائز بلکہ مسنون ہے اور آنحضرت ﷺ کا خود اپنا فعل اس کے ثبوت کے لئے کافی ہے اور پھر حضرت عمرؓ کا ایک کو کڑے پہنانا دوسری دلیل ہے اور اسلام کی ترقی کے لئے بھی قرآن شریف میں ایک پیش گوئی تھی۔ پھر کیوں اسلام کی ترقی کے لئے جان توڑ کوشش کی گئی۔‘‘

اس بات کو تو جانے دیجئے کہ کس طرح مرزا قادیانی اپنے عمل کو درست ثابت کرنے کے لئے نہایت ضعیف روایات کا سہارا لے رہے ہیں اور ایسی باتوں کا حوالہ دے رہے ہیں جن کا مسئلہ زیر بحث سے کچھ تعلق نہ تھا۔ بہرحال مرزا قادیانی کا دعویٰ یہ ہے کہ اپنے ہاتھ سے پیش گوئی کو پورا کرنا جائز اور مسنون ہے۔ اگر یہ بات کسی فتنہ یا ناجائز طریق کے بغیر ہوسکے۔ دیکھنا یہ ہے کہ انہوں نے محمدی بیگم کے ساتھ نکاح میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے کن کن کوششوں کو جائز اور فتنہ سے پاک قرار دیا۔

سب سے پہلے وہ حالات بیان کرنے مناسب ہوں گے جن میں کہ مرزا قادیانی نے نکاح کی درخواست مرزا احمد بیگ کے سامنے پیش کی۔ اس کی تفصیل مرزا قادیانی کے اپنے الفاظ میں سنئے۔ ١٨٨٨ء کے ایک اشتہار میں لکھتے ہیں: ’’خدا تعالیٰ نے یہ تقریب قائم کی کہ اس لڑکی کا والد ایک ضروری کام کے لئے ہماری طرف ملتجی ہوا۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ نامبردہ کی ایک ہمشیرہ ہمارے ایک چچا زاد بھائی غلام حسین نامی کی بیاہی گئی۔ غلام حسین عرصہ پچیس سال سے کہیں چلا گیا اور مفقود الخبر ہے۔ اس کی زمین جس کا حق ہمیں بھی پہنچتا ہے۔ مرزا احمد بیگ کی ہمشیرہ کے نام کاغذات سرکاری میں درج کرادی گئی تھی۔ اب حال کے بندوبست میں جو ضلع گورداسپور میں جاری ہے۔ نامبردہ یعنی ہمارے خط کے مکتوب الیہ نے اپنی ہمشیرہ کی اجازت سے یہ چاہا کہ وہ زمین جو چار پانچ ہزار روپے قیمت کی ہے۔ اپنے بیٹے محمد بیگ کے نام بطور ہبہ منتقل کرادیں۔ چنانچہ ان کی ہمشیرہ کی طرف سے ہبہ نامہ لکھا گیا۔ چونکہ وہ ہبہ نامہ بغیر ہماری رضامندی کے بیکار تھا۔ اس لئے مکتوب الیہ نے بہ تمام عجز و انکساری ہماری طرف رجوع کیا تا کہ ہم راضی ہو کر اس ہبہ نامہ پر دستخط کردیں اور قریب تھا کہ دستخط کر دیتے۔ لیکن یہ خیال آیا کہ جیسا کہ ایک مدت سے

١١٩

صفحہ ٣٣٠

بڑے بڑے کاموں میں ہماری عادت ہے جناب الٰہی میں استخارہ کر لینا چاہئے۔ سو مکتوب الیہ کے متواتر اصرار سے استخارہ کیا گیا۔ وہ استخارہ کیا تھا۔ گویا آسمانی نشانی کی درخواست کا وقت آ پہنچا تھا۔ جس کو خدا تعالیٰ نے اس پیرایہ میں ظاہر کر دیا۔

اس خدا تعالیٰ قادر مطلق نے مجھے فرمایا کہ اس شخص کی دختر کلاں کے نکاح کے لئے سلسلہ جنبانی کر اور ان کو کہہ دے کہ تمام سلوک اور مروت تم سے اسی طرح پر کیا جائے گا یہ نکاح تمہارے لئے موجب برکت اور ایک رحمت کا نشان ہوگا اور ان تمام برکتوں اور رحمتوں سے حصہ پاؤ گے جو اشتہار ٢٠؍ فروری ١٨٨٦ء میں درج ہے۔ لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہوگا اور جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی وہ روز نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس دختر کا تین سال تک فوت ہو جائے گا اور ان کے گھر پر تفرقہ اور تنگی اور مصیبت پڑے گی اور درمیانی زمانہ میں بھی اس دختر کے لئے کئی کراہیت اور غم کے امر پیش آئیں گے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٧، آئینہ کمالات اسلام ص ، خزائن ج ٥ ص ٢٨٥)

آئینہ کمالات اسلام میں ایک طویل عربی عبارت میں مرزا قادیانی نے رشتہ کے اس قضیہ کا بڑی تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ میرے لئے اس کتاب میں وہ ساری عبارت یا اس کا ترجمہ نقل کرنا مشکل ہے۔ ہبہ کی نسبت قریباً انہی واقعات کا اعادہ کیا ہے جن کا ذکر پہلے آ چکا ہے۔ البتہ یہاں استخارہ کا مقصد یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ: ”میری رائے یہ ہے کہ استخارہ تقویٰ کے بہت قریب ہے۔ کیونکہ وارث مفقود الخبر ہے اور ہمیں یقین نہیں کہ وہ مر چکا ہے یا زندہ ہے۔ پس اس کی جائیداد کو میت کے ترکہ کی طرح تقسیم کرنے میں عجلت روا نہیں ہے۔ پس بہتر یہ ہے کہ اس معاملے پر بحث ختم کی جائے۔ تا آنکہ میں عالم الغیب اور ذوالجلال رب سے مشورہ کر لوں اور یقینی راہ پالوں۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ، خزائن ج ٥ ص ٥٧٢)

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے جس کا موجودہ موضوع سے براہ راست تعلق نہیں ہے۔ لیکن ضمنی طور پر ذکر کر دینا مناسب ہوگا۔ استخارہ کا مطلب کسی معاملہ میں خدا سے رہنمائی اور ہدایت حاصل کرنا ہوتا ہے۔ مرزا قادیانی کے کہنے کے مطابق انہوں نے استخارہ اس لئے کیا تھا کہ اس امر کی نسبت یقین ہو جائے کہ مرزا غلام حسین زندہ ہے یا فوت ہو گیا ہے۔ تا کہ ایسا نہ ہو کہ مرزا قادیانی اس کی جائیداد کے ہبہ کی نسبت رضامندی دے دیں اور فی الواقع وہ زندہ موجود ہو۔ تعجب ہے کہ اس استخارہ کے جواب میں خدا کی طرف سے الہام یہ ہوا کہ: ”مرزا احمد بیگ سے اس کی ”دختر کلاں کے نکاح کے لئے سلسلہ جنبانی کر“ اور کہہ کہ پہلے وہ تجھے اپنی دامادی میں قبول

١٤٠

صفحہ ٣٣١

جناب الٰہی میں استخارہ کر لینا چاہئے۔ سو مکتوب الیہ استخارہ کیا تھا۔ گویا آسمانی نشانی کی درخواست کا وقت اپنا ظاہر کر دیا۔ نے فرمایا کہ اس شخص کی دختر کلاں کے نکاح کے لئے سلوک اور مروت تم سے اسی طرح پر کیا جائے گا یہ نکاح کا نشان ہوگا اور ان تمام برکتوں اور رحمتوں سے حصہ سچ ہے۔ لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا جس شخص سے بیاہی جائے گی وہ روز نکاح سے اڑھائی سال تک فوت ہو جائے گا اور ان کے گھر پر تفرقہ اور تنگی اور پڑے گی اس دختر کے لئے کئی کراہت اور غم کے امر پیش

(حاشیہ ص ١٥٧، آئینہ کمالات اسلام ص ، خزائن ج ٥ ص ٢٨٥)

طویل عربی عبارت میں مرزا قادیانی نے رشتہ کے اس کے لئے اس کتاب میں وہ ساری عبارت یا اس کا ترجمہ واقعات کا اعادہ کیا ہے جن کا ذکر پہلے آچکا ہے۔ البتہ ”میری رائے یہ ہے کہ استخارہ تقویٰ کے بہت قریب یقین نہیں کہ وہ مر چکا ہے یا زندہ ہے۔ پس اس کی میں عجلت روا نہیں ہے۔ پس بہتر یہ ہے کہ اس معاملے لطیف اور ذوالجلال رب سے مشورہ کر لوں اور یقینی راہ

(آئینہ کمالات اسلام ص، خزائن ج ٥ ص ٥٧٢)

اس کا موجودہ موضوع سے براہ راست تعلق نہیں ہے۔

استخارہ کا مطلب کسی معاملہ میں خدا سے رہنمائی اور کے کہنے کے مطابق انہوں نے استخارہ اس لئے کیا تھا کہ غلام حسین زندہ ہے یا فوت ہو گیا ہے۔ تاکہ ایسا نہ ہو کہ رضامندی دے دیں اور فی الواقع وہ زندہ موجود ہو۔ کی طرف سے الہام یہ ہوا کہ: ”مرزا احمد بیگ سے اس سگائی کر“ اور کہہ کہ پہلے وہ تجھے اپنی دامادی میں قبول ١٢٠

کرے اور پھر تیرے نور سے روشنی حاصل کرے۔ اسے کہہ کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ اس زمین کا ہبہ کردوں کہ جو تم چاہتے ہو اور اس کے علاوہ دوسری زمین بھی تمہیں دے دوں اور دیگر احسانات بھی تم پر کروں۔ لیکن اس شرط پر کہ تم اپنی بڑی لڑکی کا نکاح مجھ سے کردو۔ میرا تمہارے ساتھ یہی عہد ہے اگر تم مان لوگے تو یقیناً میں بھی مان لوں گا۔“

(آئینہ کمالات اسلام، خزائن ج ٥ ص ٥٧٢)

گویا اگر مرزا احمد بیگ اپنی لڑکی مرزا قادیانی کے نکاح میں دے دیتا تو مرزا غلام حسین متوفی سمجھا جاتا اور اگر احمد بیگ اس پر رضامند نہیں ہوا تو غلام حسین بقید حیات قرار دیا گیا۔

جائیداد کے وعدہ کی نسبت مرزا قادیانی نے احمد بیگ کو کسی شبہ میں نہ چھوڑا تھا اور اس بارے میں تحریص میں برابر اضافہ کرتے گئے۔ چنانچہ مرزا قادیانی آئینہ کمالات اسلام میں لکھتے ہیں کہ: ”انہوں نے مرزا احمد بیگ کو یہ پیش کش بھی کی تھی کہ میں تیری بیٹی کو اپنی زمین اور دیگر تمام جائیداد سے ایک تہائی حصہ دے دوں گا اور جو قطعہ بھی تو مانگے گا میں وہی تجھے دے دوں گا اور میں سچوں میں سے ہوں۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص، خزائن ج ٥ ص ٥٧٣)

یہاں یہ امر بھی غور طلب ہے کہ آیا مرزا قادیانی کا اپنی ہونے والی بیوی اور اس کے خاندان کے ساتھ یہ فیاضانہ سلوک ان کی موجودہ دو بیویوں اور اولاد کے ساتھ اسلامی انصاف کے مطابق تھا؟۔ یاد رہے کہ اس وقت مرزا قادیانی کی پہلی بیوی سے ان کے دو لڑکے اور دوسری سے ایک لڑکی اور ایک لڑکا موجود تھے۔

جائیداد کے لالچ اور عذاب کی دھمکی کے علاوہ مرزا قادیانی نے جن اور ”جائز ذرائع“ سے مرزا احمد بیگ کو متاثر کرنے کی کوشش کی ان میں سے چند ایک یہ ہیں۔ ”مرزا احمد بیگ کو یقین دلایا کہ مرزا قادیانی نے احمد بیگ کے فرزند عزیز محمد بیگ کے لئے پولیس میں بھرتی کرنے اور عہدہ دلانے کی خاص کوشش وسفارش کر لی ہے۔ تاکہ وہ کام میں لگ جائے۔“

(نوشتہ غیب ص ١٠١)

”اور اسی محمد بیگ کی نسبت یہ بھی لکھا کہ اس کا رشتہ میں نے ایک بہت امیر آدمی کے ہاں جو میرے عقیدت مندوں میں ہے تقریباً کر دیا ہے۔“

جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے۔ مرزا قادیانی کے چھوٹے صاحبزادے مرزا فضل احمد کی بیوی عزت بی بی مرزا احمد بیگ کی بھانجی تھی۔ مرزا قادیانی نے پوری کوشش کی کہ اس رشتے کو اپنے نکاح کی غرض کے لئے استعمال کریں۔ چنانچہ جب ١٨٩١ء میں مرزا قادیانی کو خبر ملی کہ محمدی بیگم کا نکاح چند روز میں دوسری جگہ ہونے والا ہے تو انہوں نے عزت بی بی کی والدہ کو ایک خط لکھا جس کا ایک حصہ یہ ہے۔ ”والدہ عزت بی بی کو معلوم ہو کہ مجھ کو خبر پہنچی ہے کہ چند روز میں محمدی بیگم کا نکاح ١٢١

صفحہ ٣٣٢

ہونے والا ہے اور میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا چکا ہوں۔ اس نکاح سے رشتے ناتے توڑ دوں گا اور کوئی تعلق نہیں رہے گا۔ اس لئے نصیحت کی راہ سے لکھتا ہوں کہ اپنے بھائی مرزا احمد بیگ کو سمجھا کہ یہ ارادہ موقوف کراؤ اور جس طرح تم سمجھا سکتی ہو اس کو سمجھاؤ اور اگر ایسا نہ ہوگا تو آج میں نے مولوی نورالدین اور فضل احمد کو خط لکھ دیا ہے کہ اگر تم اس ارادہ سے باز نہ آؤ تو فضل احمد عزت بی بی کے لئے طلاق لکھ کر بھیج دے اور اگر فضل احمد طلاق نامہ لکھنے میں عذر کرے تو اس کو عاق کیا جائے اور اپنے بعد اس کو وارث نہ سمجھا جائے اور ایک پیسہ اس کو وراثت کا نہ ملے۔ سو امید رکھتا ہوں کہ شرطی طور پر اس کی طرف سے طلاق نامہ آ جائے گا۔ جس کا یہ مضمون ہوگا کہ اگر مرزا احمد بیگ محمدی کا نکاح غیر کے ساتھ کرنے سے باز نہ آوے تو پھر اسی روز سے جو محمدی کا کسی اور سے نکاح ہو جائے۔ عزت بی بی کو تین طلاق ہیں۔ سو اس طرح لکھنے سے اس طرف تو محمدی بیگم کا کسی دوسرے سے نکاح ہوگا اور اس طرف عزت بی بی پر فضل احمد کو طلاق پڑ جائے گی۔ یادرہے کہ میں نے کوئی بات کچی نہیں لکھی۔ مجھے قسم ہے اللہ تعالیٰ کی کہ میں ایسا ہی کروں گا اور خدا تعالیٰ میرے ساتھ ہے۔ جس دن نکاح ہوگا اسی دن عزت بی بی کا نکاح باقی نہ رہے گا۔“

(احتساب قادیانیت ج ٢٠ ص ٢٧٩، نوشتہ غیب ص ١٢٨، ١٢٩)

اس وعید کو زیادہ پکا اور مؤثر بنانے کے لئے مرزا قادیانی نے خود عزت بی بی سے اپنی والدہ کو اسی طرح کا ایک خط بھیجوایا کہ: ”اگر ماموں کو سمجھا سکتی ہو تو سمجھاؤ۔ اگر نہیں تو پھر طلاق ہوگی اور ہزار طرح کی رسوائی ہوگی۔“

اس کے علاوہ مرزا قادیانی نے قریباً اسی مضمون کا ایک خط عزت بی بی کے والد مرزا علی شیر بیگ کو بھی لکھا کہ اپنی بیوی کی معرفت مرزا احمد بیگ کو محمدی بیگم کے نکاح پر آمادہ کیا جائے۔ وگرنہ فضل احمد کی طرف سے عزت بی بی کو طلاق دے دی جائے گی۔

اس عہد پر مرزا قادیانی پوری طرح قائم رہے۔ جب محمدی بیگم کا نکاح دوسری جگہ کر دیا گیا تو مرزا قادیانی نے اپنے بیٹے فضل احمد کو مجبور کر کے اس کی بیوی کو طلاق دلا دی۔ اس کے باوجود فضل احمد کی وفاداری مرزا قادیانی کی نگاہ میں مشتبہ ہی رہی اور ان کو ہمیشہ شک رہا کہ اس لڑکے کا تعلق مرزا احمد بیگ کے خاندان سے قائم ہے۔ اس خفگی کی بناء پر مرزا قادیانی نے فضل احمد کو اس کے مرنے کے بعد بھی معاف نہ کیا اور اس کی نماز جنازہ میں شریک نہ ہوئے۔

اسی محمدی بیگم والے قضیہ کے سلسلہ میں مرزا قادیانی نے اپنے بڑے فرزند مرزا سلطان احمد قادیانی کو بھی عاق کر دیا۔ ان سے مرزا قادیانی کو شکایت تھی کہ محمدی بیگم کے نکاح کے بارے

١٢٢

صفحہ ٣٣٣

میں اپنے والد کی امداد کرنے کی بجائے دوسری فریق کا ساتھ دے رہے ہیں۔

٢مئی ١٨٩١ء کو مرزا قادیانی نے مرزا سلطان احمد کی نسبت ایک خاص اشتہار شائع کیا جس کی عبارت کا ایک حصہ یہ ہے۔ ”ناظرین کو یاد ہوگا کہ اس عاجز نے ایک دینی خصومت کے پیش آجانے کی وجہ سے ایک نشان کے مطالبے کے وقت اپنے ایک قریبی مرزا احمد بیگ کی دختر کلاں کی نسبت بحکم الہام الٰہی یہ اشتہار دیا تھا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہی مقدر اور قرار یافتہ ہے کہ وہ لڑکی اس عاجز کے نکاح میں آئے گی۔ خواہ پہلے ہی باکرہ ہونے کی حالت میں آجائے اور یا خدا تعالیٰ بیوہ کر کے اس کو میری طرف لے آئے۔ اب باعث تحریر اشتہار ہذا یہ ہے کہ میرا بیٹا سلطان احمد جو نائب تحصیلدار لاہور میں ہے اور اس کی تائی صاحبہ جنہوں نے اس کو بیٹا بنایا ہوا ہے۔ وہی اس مخالفت پر آمادہ ہو گئے ہیں اور یہ سارا کام اپنے ہاتھ میں لے کر اس تجویز میں ہیں کہ عید کے دن یا اس کے بعد اس لڑکی کا کسی سے نکاح کیا جائے۔ اگر یہ اوروں کی طرف سے مخالفانہ کارروائی ہوتی تو ہمیں درمیان میں دخل دینے کی ضرورت اور کیا غرض تھی۔ امر ربی تھا اور وہی اس کو اپنے فضل وکرم سے ظہور میں لاتا۔ مگر اس کام کے مدارالمہام وہ ہو گئے جن پر اس عاجز کی اطاعت فرض تھی۔ لہٰذا میں آج کی تاریخ کہ ٢مئی ١٨٩١ء ہے۔ عوام اور خواص پر بذریعہ اشتہار ہذا ظاہر کرتا ہوں کہ اگر یہ لوگ اس ارادہ سے باز نہ آئے اور وہ تجویز جو اس لڑکی کے ناطہ اور نکاح کرنے کی اپنے ہاتھ سے یہ لوگ کر رہے ہیں۔ اس کو موقوف نہ کر دیا اور جس شخص کو انہوں کے ساتھ نکاح کے لئے تجویز کیا ہے اس کو رد نہ کیا بلکہ اس شخص کے ساتھ نکاح ہو گیا۔ اسی نکاح کے دن سے سلطان احمد عاق اور محروم الارث ہوگا اور اسی روز سے اس کی والدہ پر میری طرف سے طلاق ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج١ ص٢١٩، ٢٢١)

یہ والدہ وہی غریب ”بھجے دی ماں“ ہے جس کا ذکر پہلے آچکا ہے اور جس نے طلاق لینے کی بجائے اپنے حقوق ترک کرنا قبول کیا تھا۔

کتاب کا یہ باب توقع سے زیادہ لمبا ہو رہا ہے۔ اس لئے میں مذکورہ بالا اقتباسات پر زیادہ تبصرہ نہیں کرنا چاہتا اور پھر خود یہ حوالے اتنے واضح دلائل ہیں کہ مزید تنقید غیر ضروری معلوم ہوتی ہے۔ حقیقت الوحی کے ایک حوالے کے ایک حصہ کی طرف پھر توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ وہاں مرزا قادیانی نے فرمایا ہے کہ: ”کوئی مولوی اس بات سے بے خبر نہ ہوگا کہ اگر وحی الٰہی کوئی بات بطور پیش گوئی ظاہر فرمادے اور ممکن ہو کہ انسان بغیر کسی فتنہ اور ناجائز طریق کے اس کو پورا کر سکے تو اپنے ہاتھ سے اس پیش گوئی کو پورا کرنا نہ صرف جائز بلکہ مسنون ہے۔“ (حوالہ سابقہ)

١٢٢٣

صفحہ ٣٣٤

ظاہر ہے کہ نکاح کو ممکن بنانے کے لئے اوپر لکھے ہوئے تمام ذرائع کو مرزا قادیانی اپنے معیار سے جائز طریق سمجھتے ہوں گے۔ اسی طرح غالباً مرزا قادیانی کے نزدیک بیٹے کو عاق کرنا۔ بیوی کو بلاوجہ طلاق دلانا، دوسرے بیٹے کو طلاق پر مجبور کرنا اور آباد گھروں کو برباد کرنا یہ سب امور کسی فتنہ کا موجب نہ تھے۔

رسول کریم ﷺ کے ایک قول کے مطابق حلال چیزوں میں سے طلاق سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہے۔ قرآن میں طلاق کی نسبت جو احکام لکھے ہیں۔ ان سے واضح ہے کہ صرف میاں بیوی میں شقاق کی انتہائی صورت میں طلاق کی اجازت ہے۔ اس صورت میں بھی حکم ہے کہ اول فریقین کے رشتہ داران میں مفاہمت کی پوری کوشش کریں اور جب سوائے طلاق کے چارہ نہ ہو تو طلاق دی جائے۔ اس پر بھی ایک ہی وقت میں قطعی طلاق نہیں ہو سکتی۔ تین طلاقیں مقرر ہیں۔ جو ایک ایک ماہ کے وقفہ کے بعد ہونی چاہئیں۔ اس درمیانی عرصہ میں بھی صلح کی کوشش ہونی چاہئے۔ اگر صلح ہو جائے تو طلاق منسوخ سمجھی جائے گی۔ دوسری رائے کے مطابق طلاق ایک دفعہ ہی دینی ہوتی ہے۔ لیکن اس صورت میں بھی عدت کے وقفہ میں رجوع ہو سکتا ہے اور اس کی کوشش مستحسن ہے۔ یہ سب احکام ظاہر کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ازدواجی رشتے کو ایک مقدس اور زندگی بھر برقرار رہنے والا تعلق قرار دیا ہے اور معمولی معمولی باتوں پر یہ رشتہ نہیں توڑا جا سکتا۔ کہاں قرآن کی یہ تعلیم اور کہاں اس تعلیم کی تجدید کے مدعی کا ردعمل۔ یہ بیوی کے کسی قصور کے بغیر طلاق دے رہے ہیں اور دوسروں کو طلاق دینے پر مجبور کر رہے ہیں۔ مشروط طلاق جیسے صریحاً غیر قرآنی طریقہ پر عمل کر رہے ہیں اور شرط بھی ایسی کہ جس کا میاں بیوی کے اپنے تعلقات کے ساتھ کوئی واسطہ ہی نہیں۔ یعنی اگر احمد بیگ اپنی لڑکی کا رشتہ مرزا قادیانی کو دے دیوے تو فضل احمد کی بیوی اس کے گھر میں رہے۔ لیکن اگر احمد بیگ ایسا نہ کرے تو فضل احمد کی بیوی کو طلاق ہو جائے۔

محمدی بیگم والے معاملے میں ایک حربہ جو مرزا قادیانی نے استعمال کیا۔ یہ تھا کہ ایک ایسے جھگڑے کو جس کا تعلق ان کی ذاتی خواہشات سے تھا۔ ایسے رنگ میں پیش کیا۔ گویا یہ ایک اہم دینی معاملہ ہے اور یہ کہ اصل مقابلہ مرزا قادیانی اور احمد بیگ میں نہیں بلکہ اسلام اور عیسائیت میں ہے۔ یہ طرز عمل چنداں تعجب انگیز نہیں۔ ہمارے اکثر مذہبی اور سیاسی رہنما بڑی آسانی سے اپنے ذاتی مفاد کو قومی اور دینی مفاد کا درجہ دے لیتے ہیں۔

اگر مرزا قادیانی کی اطلاع درست مانی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے مقصد میں بہت حد تک کامیاب ہو گئے اور مسلمانوں کے ایک خاصے طبقے نے مرزا قادیانی کے محمدی بیگم سے

١٢٤

صفحہ ٣٣٥

اوپر لکھے ہوئے تمام ذرائع کو مرزا قادیانی اپنے معیار طرح غالباً مرزا قادیانی کے نزدیک بیٹے کو عاق کرنا۔ بیوی کو طلاق پر مجبور کرنا اور آباد گھروں کو برباد کرنا یہ سب امور کسی حدیث کے مطابق حلال چیزوں میں سے طلاق سب سے زیادہ مبغوض ہے۔ جو احکام لکھے ہیں۔ ان سے واضح ہے کہ صرف میاں طلاق کی اجازت ہے۔ اس صورت میں بھی حکم ہے کہ اوّل صلح کی پوری کوشش کریں اور جب سوائے طلاق کے چارہ نہ ہو تو دفعہ میں قطعی طلاق نہیں ہو سکتی۔ تین طلاقیں مقرر ہیں۔ جو نہیں۔ اس درمیانی عرصہ میں بھی صلح کی کوشش ہونی چاہئے۔

جائے گی۔ دوسری رائے کے مطابق طلاق ایک دفعہ ہی دینی عدت کے وقفہ میں رجوع ہو سکتا ہے اور اس کی کوشش مستحسن خدا تعالیٰ نے ازدواجی رشتے کو ایک مقدس اور زندگی بھر کوئی معمولی باتوں پر یہ رشتہ نہیں توڑا جاسکتا۔ کہاں قرآن کی خوشی کا ردعمل۔ یہ بیوی کے کسی قصور کے بغیر طلاق دے رہے کر رہے ہیں۔ مشروط طلاق جیسے صریحاً غیر قرآنی طریقہ پر جس کا میاں بیوی کے اپنے تعلقات کے ساتھ کوئی واسطہ ہی رشتہ مرزا قادیانی کو دے دیوے تو فضل احمد کی بیوی اس کے نہ کرے تو فضل احمد کی بیوی کو طلاق ہو جائے۔

میں ایک حربہ جو مرزا قادیانی نے استعمال کیا۔ یہ تھا کہ ایک خواہشات سے تھا۔ ایسے رنگ میں پیش کیا۔ گویا یہ ایک اہم مرزا قادیانی اور احمد بیگ میں نہیں بلکہ اسلام اور عیسائیت میں ہمارے اکثر مذہبی اور سیاسی رہنما بڑی آسانی سے اپنے لیتے ہیں۔

درست مانی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے مقصد میں کے ایک خاصے طبقے نے مرزا قادیانی کے محمدی بیگم سے

١٢٤

نکاح کے معاملے کو اسلام کی فتح کا ایک نشان تصور کر لیا۔ چنانچہ ١٨٩٢ء میں مرزا قادیانی اپنے ایک خط میں مرزا احمد بیگ کو لکھتے ہیں۔ ”اور آپ کو شاید معلوم ہوگا یا نہیں کہ یہ پیش گوئی اس عاجز کی ہزار ہا لوگوں میں مشہور ہو چکی ہے اور میرے خیال میں شاید دس لاکھ سے زیادہ آدمی ہوگا۔ جو اس پیش گوئی پر اطلاع رکھتا ہے اور ایک جہاں کی اس طرف نظر لگی ہوئی ہے اور ہزاروں پادری شرارت سے نہیں بلکہ حماقت سے منتظر ہیں کہ پیش گوئی جھوٹی نکلے تو ہمارا پلہ بھاری ہو۔ لیکن یقینا خدا تعالیٰ ان کو رسوا کرے گا اور اپنے دین کی مدد کرے گا۔ میں نے لاہور میں جا کر معلوم کیا کہ ہزاروں مسلمان مساجد میں نماز کے بعد اس پیش گوئی کے ظہور کے لئے بصدق دل دعا کرتے ہیں۔ سو یہ ان کی ہمدردی اور محبت ایمانی کا تقاضہ ہے۔“

(کلمہ فضل رحمانی ص١٢٣)

معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں محمدی بیگم والی پیش گوئی کی نسبت مرزا قادیانی پر سب سے زیادہ اعتراض بعض عیسائی اخبار کر رہے تھے۔ اس وجہ سے مرزا قادیانی کے لئے ایک ذاتی معاملہ کو قومی مسئلہ بنانا نسبتاً آسان ہو گیا اور اس طرح مسلمانوں کی اکثریت کی صحیح قرآنی تعلیم سے لاعلمی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مرزا قادیانی نے یہ ظاہر کیا کہ ان کا عمل اسلام کے عین مطابق ہے اور یہ کہ عیسائیوں کا اعتراض مرزا قادیانی کی ذات پر نہیں ہے۔ بلکہ اسلام پر ہے۔ اسی طرح کی ایک مغالطہ دہی کی ایک شدید مثال وہ تحریر ہے جو مرزا قادیانی نے عیسائی اخبار ”نور افشاں“ کے ایک مضمون کے جواب میں لکھی۔ اس تحریر میں مرزا قادیانی نے پہلے یہ مفروضہ قائم کیا ہے کہ اسلام میں مردوں کے لئے تعدد ازدواج کی نہ صرف غیر مشروط اجازت ہے۔ بلکہ اس اجازت سے فائدہ اٹھانا ایک حد تک واجب ہے اور پھر اسلام کے اس حکم کی حمایت میں عجیب و غریب دلائل پیش کئے ہیں۔ یہاں مرزا قادیانی نے انداز بیان اتنا عامیانہ اختیار کیا ہے کہ مجھے لکھتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔ لیکن اس کے سوا چارہ بھی نہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی کے اصل الفاظ نقل کرنے کے بغیر اس بارے میں ان کا رجحان طبیعت اور کردار پوری طرح واضح نہیں ہو سکتا۔ اس لئے بادل نخواستہ حسب ذیل اقتباس پیش کرتا ہوں لکھتے ہیں۔

”اخبار نور افشاں ١٠؍مئی ١٨٨٨ء میں جو اس راقم کا ایک خط متضمن درخواست نکاح چھاپا گیا ہے۔ اسی خط کو صاحب اخبار نے اپنے پرچہ میں درج کر کے عجیب طرح کی زبان درازی کی ہے اور ایک صفحہ اخبار کا سخت گوئی اور دشنام دہی میں ہی سیاہ کیا ہے۔ کسی خاندان کا سلسلہ صرف ایک ایک بیوی سے ہمیشہ کے لئے جاری نہیں رہ سکتا۔ بلکہ کسی نہ کسی فرد سلسلہ میں یہ دقت آ پڑتی ہے کہ ایک جورو عقیمہ اور ناقابل اولاد نکلتی ہے۔ اس تحقیق سے ظاہر ہے کہ دراصل بنی آدم کی نسل

١٢٥

صفحہ ٣٣٦

ازدواج مکرر سے ہی قائم و دائم چلی آتی ہے۔ اگر ایک سے زیادہ بیوی کرنا منع ہوتا تو اب تک نوع انسانی قریب قریب خاتمہ تک پہنچ جاتی۔ تحقیق سے ظاہر ہوگا کہ اس مبارک اور مفید طریق نے انسان کی کہاں تک حفاظت کی ہے اور کیسے اس نے اجڑتے ہوئے گھروں کو بیک دفعہ آباد کر دیا ہے اور انسان کے تقویٰ کے لئے یہ فعل کیسا زبردست ممد و معاون ہے۔ خاوندوں کی حاجت برآری کے بارے میں جو عورتوں کی فطرت میں ایک نقصان پایا جاتا ہے۔ جیسے ایام حمل اور حیض نفاس میں یہ طریق بابرکت اس نقصان کا تدارک تام کرتا ہے اور جس حق کا مطالبہ مرد اپنی فطرت کی رو سے کر سکتا ہے وہ اسے بخشتا ہے۔ ایسا ہی مرد اور کئی وجوہات اور موجبات سے ایک سے زیادہ بیوی کرنے کے لئے مجبور ہوتا ہے۔ مثلاً اگر مرد کی ایک بیوی تغیر عمر یا کسی بیماری کی وجہ سے بدشکل ہو جائے تو مرد کی قوت فاعلہ جس پر سارا مدار عورت کی کارروائی کا ہے۔ بے کار اور معطل ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر مرد بدشکل ہو تو عورت کا کچھ بھی حرج نہیں۔ کیونکہ کارروائی کی کل مرد کو دی گئی ہے اور عورت کی تسکین کرنا مرد کے ہاتھ میں ہے۔ ہاں اگر مرد اپنی قوت مردی میں قصور یا عجز رکھتا ہے تو قرآنی حکم کی رو سے عورت اس سے طلاق لے سکتی ہے اور اگر پوری پوری تسلی کرنے پر قادر ہو تو عورت یہ عذر نہیں کر سکتی کہ دوسری بیوی کی ہے۔ کیونکہ مرد کی ہر روزہ حاجتوں کی عورت ذمہ دار اور کار برآر نہیں ہو سکتی اور اس سے مرد کا استحقاق دوسری بیوی کرنے کے لئے قائم رہتا ہے۔ جو لوگ قوی الطاقت اور متقی اور پارسا طبع ہیں۔ ان کے لئے یہ طریق نہ صرف جائز بلکہ واجب ہے۔"

(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨١،٢٨٢ خزائن ج ٥ ص ٢٨٠)

غضب یہ ہے کہ جس کتاب میں مرزا قادیانی نے اسلام کو اس صورت میں پیش کیا اس کا نام انہوں نے آئینہ کمالات اسلام تجویز کیا۔

نبوت ...... تمہید

عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ احمدیوں اور دیگر مسلمانوں کے اختلافات میں ختم نبوت کے مسئلہ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ احمدی ختم نبوت کے منکر ہیں اور مسلمان اس عقیدہ کو اپنے ایمان کا جزو سمجھتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک سیدھی سی بات ہے۔ لیکن جب ہم اس معاملے کا ذرا تفصیلی تجزیہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ فریقین اپنے مؤقف میں حد درجہ الجھے ہوئے ہیں اور یہ مسئلہ اتنا آسان نہیں جتنا کہ بظاہر نظر آتا ہے۔

احمدیہ تحریک کے ایک طالب علم کے لئے ایک بات حیران کن ہو گی کہ اگر ختم نبوت پر ایمان لانا ہمیشہ سے اسلام کا ایک بنیادی مسئلہ رہا ہے تو یہ کیونکر ہو گیا کہ پڑھے لکھے اور دیندار

١٢٦

مسلمانوں کا اتنا بڑا طبقہ مرزا قادیانی

ہمارے علماء حضرات یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی کامیا

اب یہ تو درست ہے کہ انگریز کی پالیسی مرزا قادیانی کے ہ ماحول قائم ہو گیا کہ آزادی س چلائی جا سکتی تھی۔ حکومت صر سامراج کو کسی طرح کا خطرہ ہ استعمال کئے جاتے تھے۔ لیکن اس سے تعرض نہ کرتی تھی۔ ا تحریک میں حکومت کے خلاف کوئی شخص نبوت چھوڑ خدائی کا ایک یہ آزادی تھی کہ انا الحق کہو

یہی نہیں یہ بات بھی انتشار اور فرقہ بندی کو پسند کرتی آپ کو زیادہ محفوظ سمجھے گی۔ اس ل مسلمانوں میں ایک نئے فرقہ کا ا تک حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ لی حصہ تھا۔ اس عمومی پالیسی سے علیحد نہیں پہنچ سکتا تھا۔

البتہ مرزا قادیانی کی تعلی دیگر فرقوں کی نسبت حکومت کے ل کی اطاعت کے متعلق نظریہ تھا۔ مر حلقوں کی طرف سے زیر بحث آچکا بخوبی واقف ہیں اور ہم یہاں اس م نے یہ عقیدہ پیش کیا کہ جہاد کا حکم ا

صفحہ ٣٣٧

پر اکابر علماء کر نے سیرت مصطفیٰ مبنی مقالات کانفرنس مکہ کارروائی کے عالمی سیرت مقالہ جات پیش کئے عالمی سیرت کانفرنس

ہے، اگر ایک سے زیادہ بیوی کرنا منع ہوتا تو اب تک پاتی۔ تحقیق سے ظاہر ہوگا کہ اس مبارک اور مفید طریق اور کیسے اس نے اجڑتے ہوئے گھروں کو بیک دفعہ آباد عمل کیسا زبردست ممد و معاون ہے۔ خاوندوں کی حاجت ت میں ایک نقصان پایا جاتا ہے۔ جیسے ایام حمل اور حیض تدارک تام کرتا ہے اور جس حق کا مطالبہ مرد اپنی فطرت ایسا ہی مرد اور کئی وجوہات اور موجبات سے ایک سے مثلاً اگر مرد کی ایک بیوی تغیر عمر یا کسی بیماری کی وجہ سے سارا مدار عورت کی کارروائی کا ہے۔ بے کار اور معطل ہو کا کچھ بھی حرج نہیں۔ کیونکہ کارروائی کی کل مرد کو دی گئی میں ہے۔ ہاں اگر مرد اپنی قوت مردی میں قصور یا عجز رکھتا سے طلاق لے سکتی ہے اور اگر پوری پوری تسلی کرنے پر قادر بیوی کی ہے۔ کیونکہ مرد کی ہر روزہ حاجتوں کی عورت ذمہ مرد کا استحقاق دوسری بیوی کرنے کے لئے قائم رہتا ہے۔ ہی ہیں۔ ان کے لئے یہ طریق نہ صرف جائز بلکہ واجب

(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨١، ٢٨٢، خزائن ج ٥ ص ٢٨٠)

میں مرزا قادیانی نے اسلام کو اس صورت میں پیش کیا اس یز کیا۔

کہ احمدیوں اور دیگر مسلمانوں کے اختلافات میں ختم نبوت احمدی ختم نبوت کے منکر ہیں اور مسلمان اس عقیدہ کو اپنے بدیہی سی بات ہے۔ لیکن جب ہم اس معاملے کا ذرا تفصیلی تعین اپنے موقف میں حد درجہ الجھے ہوئے ہیں اور یہ مسئلہ

طالب علم کے لئے ایک بات حیران کن ہوگی کہ اگر ختم نبوت پر وئی مسئلہ رہا ہے تو یہ کیونکر ہو گیا کہ پڑھے لکھے اور دیندار

١٢٦

مسلمانوں کا اتنا بڑا طبقہ مرزا قادیانی کو نبی مان کر ان کی جماعت میں شامل ہو گیا۔ ہمارے علماء حضرات اس سوال کا جواب دینے سے قاصر ہیں۔ ان کی آخری تحقیق یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی کامیابی کا باعث یہ تھا کہ ان کو انگریزی حکومت کی سر پرستی حاصل تھی۔ اب یہ تو درست ہے کہ انگریزی حکومت کی مذہبی معاملات میں غیر جانبداری اور عدم مداخلت کی پالیسی مرزا قادیانی کے لئے بہت مفید ثابت ہوئی۔ اس پالیسی کی وجہ سے ملک میں ایسا ماحول قائم ہو گیا کہ آزادی کے ساتھ کوئی بھی نیا فرقہ قائم کیا جاسکتا تھا اور ہر طرح کی تحریک چلائی جاسکتی تھی۔ حکومت صرف اس تحریک کو برداشت نہ کرتی تھی۔ جس میں انگریزوں کے سامراج کو کسی طرح کا خطرہ ہو۔ ایسی تحریکوں کو دبانے اور کچلنے کے لئے ہر طرح کے ذرائع استعمال کئے جاتے تھے۔ لیکن اگر کسی تحریک میں انگریزی اقتدار کے لئے خطرہ نہ ہو تو حکومت اس سے تعرض نہ کرتی تھی۔ انگریزوں کے اپنے مفاد کے لئے یہی پالیسی درست تھی۔ اگر کسی تحریک میں حکومت کے خلاف بغاوت کا کوئی شائبہ نہ ہو تو انگریزوں کو اس سے غرض نہ تھی کہ کوئی شخص نبوت چھوڑ خدائی کا دعویدار ہی کیوں نہ ہو۔ انگریزی حکومت کی برکات میں سے ایک یہ آزادی تھی کہ اناالحق کہو اور سولی نہ پاؤ۔

یہی نہیں یہ بات بھی قابل فہم ہے کہ ایک غیر ملکی حکومت اپنے محکوموں کے اندرونی انتشار اور فرقہ بندی کو پسند کرتی ہو۔ جب تک لوگ مختلف فرقوں میں بٹے رہینگے۔ حکومت اپنے آپ کو زیادہ محفوظ سمجھے گی۔ اس لحاظ سے یہ امر بھی باور کیا جاسکتا ہے کہ احمدیہ تحریک کی صورت میں مسلمانوں میں ایک نئے فرقہ کا اضافہ انگریزوں کے لئے باعث اطمینان تھا اور وہ اس کی ایک حد تک حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ لیکن حکومت کا یہ رویہ اس کی انتشار پسندی کی عمومی پالیسی کا ایک حصہ تھا۔ اس عمومی پالیسی سے علیحدہ احمدیہ تحریک کی بالخصوص سر پرستی سے انگریزوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا تھا۔

البتہ مرزا قادیانی کی تعلیم کا ایک پہلو ایسا تھا جس کی وجہ سے احمدیہ فرقہ مسلمانوں کے دیگر فرقوں کی نسبت حکومت کے لئے زیادہ مقبول ہو سکتا تھا۔ یہ پہلو مرزا قادیانی کا جہاد اور حکومت کی اطاعت کے متعلق نظریہ تھا۔ مرزا قادیانی کی تعلیم کا یہ حصہ اتنی تکرار کے ساتھ اور اتنے مختلف حلقوں کی طرف سے زیر بحث آچکا ہے کہ ہمارے خیال میں اس کتاب کے سب قارئین اس سے بخوبی واقف ہیں اور ہم یہاں اس مسئلہ میں زیادہ تفصیل سے نہیں جانا چاہئے۔ مختصر مرزا قادیانی نے یہ عقیدہ پیش کیا کہ جہاد کا حکم اپنے معروف معنوں میں منسوخ ہو چکا ہے۔ اس کے ساتھ ہی

١٢٧

صفحہ ٣٣٨

انہوں نے حکومت کی اطاعت کو قہری مصلحت کے طور پر نہیں بلکہ ایک بنیادی مذہبی عقیدہ کی صورت میں پیش کیا۔ اس عقیدہ کی رو سے مرزا قادیانی نے حکومت کی اطاعت کو اسلام کے اہم ترین ارکان میں شامل کر دیا۔ مرزا قادیانی کے نزدیک اطاعت ایک مذہبی فریضہ ہے۔ اس فریضہ کے وجوب کے لئے یہ امور غیر متعین ہیں کہ حکومت ملکی ہے یا غیر ملکی ۔ اسلامی ہے یا غیر اسلامی اور اس کی تشکیل جمہوری اصولوں پر ہے یا محض قوت اور استبداد پر۔ کوئی بھی صورت ہو حکومت کی مکمل اطاعت فرض ہے۔ اس اطاعت کا درجہ صرف خدا اور رسول کی اطاعت کے بعد آتا ہے۔ عملی زندگی میں یہ درجہ بندی بھی قائم نہیں رہتی اور حکومت مقام اولیٰ حاصل کر لیتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا اور رسول کے احکام میں آپ ہر طرح کی تعبیر اور تحریف کر کے ان کو اپنے مناسب حال بنا سکتے ہیں۔ نیز ان احکام کو نافذ کرنے کی کوئی قوت (SANCTION) موجود نہیں ہیں۔ اس کے برعکس حکومت کے احکام کی وہی تعبیر قبول ہو گی جو حکومت کے منشاء کے مطابق ہو گی اور ان احکام کے ساتھ قوت نافذہ موجود ہے۔ ملکی قوانین اور دینی احکام میں تضاد کی صورت میں جماعت احمدیہ کی پالیسی مرزا قادیانی کی تعلیم کی روشنی میں یہ ہے کہ حکومت کے احکام کی پابندی بہر حال واجب ہے۔ اگر دینی احکام میں حکومت کی مداخلت شدید صورت اختیار کر جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ ملک چھوڑ دیا جائے۔ لیکن چونکہ دین کو نماز، روزہ اور ظاہری رسوم تک محدود سمجھا گیا ہے۔ اس لئے مؤخر الذکر صورت کے پیدا ہونے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ زمانہ حال کی کوئی حکومت ان معاملات میں دخل نہیں دیتی۔

بے شک ان اعتقادات کی وجہ سے جماعت احمدیہ کے افراد غیر ملکی حکومت کے بہترین شہریوں میں شمار ہونے چاہئیں۔ لیکن یہ سب کچھ مان لینے کے بعد بھی یہ سوال اپنی جگہ پر قائم رہتا ہے کہ مسلمانوں کا ایک طبقہ ختم نبوت جیسے بنیادی عقیدہ کو ترک کر کے مرزا قادیانی کی جماعت میں کیوں شامل ہو گیا۔ اس سوال کا درست جواب تلاش کرنے کے لئے ہمیں مختلف اسباب و عوامل کے اثر کو اپنے مقام پر رکھنا چاہئے اور غلو اور عدم اعتدال کی راہ اختیار نہ کرنی چاہئے۔ اگر ہم یہ طریقہ اختیار کریں تو معلوم ہو گا کہ جماعت احمدیہ کی شروع زمانہ کی ترقی میں انگریزی حکومت کی سرپرستی کو بہت کم دخل ہے۔ مرزا قادیانی اپنی زندگی میں اپنے معتقدین کو ایک منظم اور رو بہ ترقی جماعت کی صورت میں قائم کر چکے تھے۔ مرزا قادیانی ١٩٠٨ء میں فوت ہوئے تھے۔ اس وقت تک ہندوستان میں تحریک آزادی نے صحیح معنی میں جنم ہی نہ لیا تھا اور انگریزوں کو اپنی رعایا میں وقتاً فوقتاً افراد اور جماعتوں کی خاص طور سے حاجت پیدا نہ ہوئی تھی۔ مرزا قادیانی کے زمانے میں

١٢٨

صفحہ ٣٤٩

ان کے مشہور مقتدر مخالفین مثلاً مولوی محمد حسین بٹالوی، پیر مہر علی شاہ صاحب، مولوی ثناء اللہ ، سرسید احمد خاں وغیرہ سب انگریزوں کے ایسے ہی وفادار تھے۔ جیسے مرزا قادیانی۔ یہی وجہ ہے کہ اس زمانے میں جو لٹریچر مرزا قادیانی کے رد میں لکھا گیا۔ اس میں اس امر کا کوئی ذکر نہیں ملتا کہ مرزا قادیانی نے اپنی تعلیمات میں غلامی پر رضا مند رہنے کی تلقین کی ہے۔

صحیح یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی تعلیم کے اس پہلو کو ان کی ابتدائی کامیابی کے اسباب سے خارج سمجھا جائے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اپنی اہمیت کے لحاظ سے یہ سبب دیگر عوامل کی نسبت بہت کم درجہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر مرزا قادیانی کی کامیابی کے اسباب کو اپنی اہمیت کے لحاظ سے ترتیب دیا جائے تو اس سلسلے میں پہلے چند اعزازی مقامات بڑی آسانی کے ساتھ مولویوں کے حصہ میں آتے ہیں۔

ایک حدیث کے مطابق رسول کریم کی پیش گوئی ہے کہ آخری زمانے میں اسلام کا کچھ نہ رہے گا۔ سوائے اس کے نام کے۔ ہم نہیں کہہ سکتے کہ یہ روایت کہاں تک درست ہے۔ لیکن اگر ختم نبوت اسلام کا بنیادی نظریہ ہے تو مرزا قادیانی کے وقت تک مسلمانوں میں عام طور پر اس عقیدہ کا صرف نام باقی رہ گیا تھا اور اس کی روح اور حقیقت قائم نہ تھی اور اس صورتحال کی ذمہ داری علماء کے سر ہے۔ جنہوں نے صدیوں سے جمہور کی مذہبی رہنمائی کی اجارہ داری سنبھال رکھی تھی۔

ختم نبوت کا صحیح مفہوم سمجھنے کے لئے سب سے پہلے خود نبوت کے ایک واضح معنی متعین کرنے ہوں گے۔ کیونکہ اس کے بغیر ممکن ہے کہ دو آدمی لفظاً ختم نبوت کے معتقد ہونے کے باوجود فی الواقع بالکل متضاد نظریات پر کار بند ہوں۔ چنانچہ اس معاملے میں تھوڑے سے تامل سے معلوم ہوگا کہ عملاً کچھ اسی قسم کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ جماعت احمدیہ کا موجودہ موقف یہ ہے کہ اس پر منکر ختم نبوت ہونے کا الزام بے بنیاد ہے اور یہ کہ فی الواقع وہ بھی محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین مانتے ہیں اور اس بارے میں ان کے اور دوسرے مسلمانوں کے درمیان کوئی اصولی اختلاف نہیں ہے۔ صرف اس آیت کے مفہوم اور تفسیر کی نسبت اختلاف ہے اور یہ کوئی ایسی اہم بات نہیں۔

جیسا کہ ابھی کہا گیا ہے اس اختلاف کی حقیقت کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ اوّل نبوت کی نسبت ایک درست نظریہ قائم کیا جائے۔ نبی، عربی زبان کا لفظ ہے۔ اس کے لغوی معنی خبر دینے والے کے ہیں۔ دیگر سامی الاصل زبانوں میں بھی اس سے ملتے جلتے الفاظ موجود ہیں۔

١٢٩

صفحہ ٣٢٠

نبی کے لغوی معنی پر انحصار کرتے ہوئے مرزا قادیانی اور ان کے مخالفین کے درمیان ایک طویل بحث جاری رہی ہے۔ اس میں یہ سوال اٹھائے گئے ہیں کہ آیا آیت خاتم النبیین میں نبوت کے لغوی معنی مراد ہیں۔ یا اس سے نبی کا کوئی اصطلاحی مفہوم لیا گیا ہے اور یہ کہ وہ اصطلاحی مفہوم کیا ہے؟ مرزا قادیانی نے جو متعدد توجیہات اپنی نبوت کی نسبت کی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انہوں نے جہاں اپنے متعلق یہ لفظ استعمال کیا ہے۔ وہاں کی مراد اس کے لغوی معنی سے ہے اور نبوت کا اصطلاحی مفہوم مراد نہیں ہے۔ ہمارے نزدیک لغت اور اصطلاح کی یہ بحث بے بنیاد مفروضات پر مبنی ہے۔ کسی لفظ کے لغوی اور اصطلاحی معنی ایک دوسرے سے مکمل طور پر جدا نہیں ہو سکتے۔ یہ درست ہے کہ ایک لفظ کئی معانی کا حامل ہوتا ہے۔ ان میں سے بعض معانی عمومی حیثیت رکھتے ہیں اور بعض خاص فن یا شعبہ سے متعلق ہوتے ہیں۔ لیکن لغت ان دونوں قسموں کے معانی پر حاوی ہے۔ لغوی معنی سے مراد کسی لفظ کا مآخذ یا (Origin) بھی ہو سکتا ہے۔ الفاظ کی نسبت اس طرح کا مطالعہ علم الالسنہ کا ایک دلچسپ شعبہ ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ موجودہ بحث سے اس کا کچھ تعلق نہ ہوگا۔ ہمارے سامنے سوال یہ نہیں کہ عربی زبان میں لفظ نبی کا مآخذ کیا ہے اور تاریخی لحاظ سے یہ لفظ اپنے معنی اور محل استعمال کے لئے کن کن تبدیلیوں سے گزرا ہے۔ بلکہ سوال یہ ہے کہ قرآن میں یہ لفظ کن معنوں میں استعمال ہوا ہے؟

یہ باور کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ قرآن میں لفظ نبی بائبل سے مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے۔ کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو قرآن میں اس کی نسبت صراحتاً ذکر ہوتا۔ قرآن میں لفظ نبی کثرت سے استعمال ہوا ہے۔ لیکن کہیں اس کے معانی کی تشریح ضروری نہیں سمجھی گئی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت کے عرب معاشرہ میں اور بالخصوص اہل کتاب میں اس لفظ کے ایک ایسے مشہور و معروف معنی موجود تھے جو ہر کسی کو معلوم تھے۔ اس امر کی تائید تاریخی شہادت سے ہوتی ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے دعویٰ نبوت پر بعض لوگ ایمان لے آئے اور بعض نے انکار کر دیا۔ لیکن نہ ایمان لانے والوں نے یہ سوال اٹھایا کہ منصب نبوت کی تشریح کی جائے اور نہ انکار کرنے والوں نے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں فریقوں کے ذہن میں لفظ نبوت کے معنی کی نسبت کسی طرح کا اشتباہ نہ تھا۔ اس ضمن میں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ یہ حال اس سوسائٹی کا تھا۔ جس کا بیشتر حصہ نا خواندہ یا نہایت کم تعلیم یافتہ تھا۔

یہی نہیں نبی کریم ﷺ کی نبوت کی ابتدا کسی دعویٰ نبوت سے نہیں ہوئی۔ بلکہ آپ کو وحی کے ذریعہ ایک پیغام دیا گیا اور اس سے یہ سمجھا گیا کہ آپ کو نبوت کے مقام پر مبعوث کیا جا رہا

١٣٠

صفحہ ٣٤١

ہے ۔ سب سے پہلی وحی جو رسول کریم ﷺ پر نازل ہوئی وہ بالاتفاق سورۃ علق کی پہلی پانچ آیات ہیں ۔ اس وحی کے نزول کے واقعہ کو (بخاری ج ١ ص ٣٩٧) میں بیان کیا گیا ہے۔ زیر بحث نکتہ کی وضاحت کے لئے اس حدیث کے ایک حصہ کا ترجمہ پیش کیا جاتا ہے۔

”حضرت عائشہ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا۔ رسول کریم ﷺ حرا کی غار میں تنہا رہتے اور وہاں عبادت کرتے۔ وہاں آپ کے پاس فرشتہ آیا اور اس نے کہا پڑھ تو فرمایا میں نے کہا میں پڑھنا نہیں جانتا۔ پس اس نے کہا ”اقراء باسم ربک الذی خلق ۔ خلق الانسان من علق ۔ اقراء وربک الاکرم“ پس رسول ان آیات کے ساتھ لوٹ آئے اور درآنحالیکہ آپ کا دل کانپ رہا تھا۔ سو آپ خدیجہ بنت خویلد کے پاس آئے اور کہا مجھے کپڑا اوڑھا دو۔ سو انہوں نے آپ کو کپڑا اوڑھا دیا۔ یہاں تک کہ آپ کا ڈر جاتا رہا۔ پھر خدیجہ آپ کو ساتھ لے کر چلیں۔ یہاں تک کہ آپ کے ساتھ ورقہ بن نوفل کے پاس پہنچیں۔ خدیجہ نے اسے کہا۔ اے چچا کے بیٹے ۔ اپنے بھائی کی بات سن ۔ تب ورقہ نے کہا اے بھائی کے بیٹے آپ نے کیا دیکھا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے خبر دی جو دیکھا تھا۔ پس ورقہ نے آپ سے کہا یہ وہ رازدار فرشتہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ پر اتارا۔ اے کاش! میں اس زمانہ میں جوان ہوتا۔ اے کاش! میں اس زمانہ تک زندہ رہوں۔ جب آپ کی قوم آپ کو نکال دے گی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا وہ مجھے نکال دیں گے۔ اس نے کہا ہاں کوئی شخص کبھی اس کی مثل نہیں لایا جو آپ لائے ہیں۔ مگر لوگ اس کے دشمن ہوجاتے ہیں۔“

اس حدیث میں بیان کردہ واقعہ قرآنی آیت اور عقلی قیاس کے خلاف نہیں۔ اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ اس کو درست نہ مانا جائے۔ اس واقعہ سے ظاہر ہے کہ ورقہ بن نوفل نے محض وحی کے نزول سے یہ جان لیا کہ محمد ﷺ کو منصب نبوت عطاء کیا گیا ہے۔ وحی میں نبوت یا نبی کے الفاظ استعمال ہونا ضروری نہیں سمجھا گیا اور کسی کی طرف سے ورقہ کی اس رائے کی نسبت نہ کوئی وضاحت طلب کی گئی اور نہ اس پر اعتراض کیا گیا۔ غالباً حدیث اور تفسیر کی کتب سے وہ خاص وقت متعین ہو سکتا ہو کہ جب رسول کریم ﷺ کو پہلی بار وحی میں نبی یا رسول کے نام سے مخاطب کیا گیا۔ لیکن یہ ایک تحقیق طلب معاملہ ہے اور ابتدائی زمانے کے بعد کی وحی کے نزول کی ترتیب کا مسئلہ اختلاف سے خالی نہیں۔ تاہم موجودہ بحث کی غرض کے لئے زیادہ تفصیل میں جانا ضروری نہیں۔ اتنا ذکر کر دینا کافی ہے کہ غار حرا والی پہلی وحی کے بعد سورۃ مدثر نازل ہوئی۔ پہلی وحی اور سورۃ مدثر کے نزول کے درمیانی عرصہ کی نسبت کچھ اختلاف ہے۔ لیکن عام طور پر یہ مدت چھ ماہ کی بیان کی گئی

١٤١

صفحہ ٣٤٢

ہے ۔ اہم بات یہ ہے کہ سورۂ مدثر میں بھی محمد رسول اللہ ﷺ کو نبی یا رسول کے نام سے مخاطب نہیں کیا گیا اور نہ یہ کہا گیا ہے کہ آپ نبی یا رسول ہیں۔ اس کی بجائے مدثر کے نام سے مخاطب کر کے انہیں وہ پیغام بتا دیا گیا ہے۔ جو لوگوں تک جانا ہے۔ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ کم از کم چند لوگ ایسے تھے جو پہلی وحی کے ساتھ ہی محمد ﷺ پر ایمان لے آئے ۔ یعنی ان کو نبی اور رسول مان لیا۔ ان میں حضرت خدیجہؓ، حضرت علیؓ اور حضرت ابو بکرؓ شامل تھے۔

ان واقعات سے یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ قرآن کے نزول کے زمانہ میں عربوں کے ہاں اس شخص کو نبی سمجھا جاتا تھا جو اپنی وحی کے ذریعہ دنیا کی ہدایت کا دعویدار ہو۔ شاید دعویدار کا لفظ استعمال کرنا بھی غیر موزوں ہے۔ کیونکہ متذکرہ ابتدائی آیات میں کسی دعویٰ کا ذکر نہیں ہے۔ اس لئے یہ کہنا زیادہ قرین صحت ہوگا کہ اس زمانے میں ہر اس شخص کو مدعی نبوت سمجھا جاتا تھا جو اپنی وحی کو لوگوں کے سامنے بطور ذریعہ ہدایت پیش کرے۔ خواہ وہ اپنا کوئی نام ہی رکھے یا کوئی نام بھی نہ رکھے۔ ہمارے نزدیک قرآن میں لفظ نبی انہی معروف اور عمومی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ خواہ یہ نبیوں کو مبعوث کرنے کے ضمن میں ہو اور خواہ نبوت کو ختم کرنے کی نسبت۔

نبی بمعنی محدث

پہلے یہ وضاحت ضروری ہے کہ یہاں محدث (بہ فتح د) سے بحث ہے۔ محدث (بہ کسرہ د) جدا اور بے ضرر سا لفظ ہے۔ جس سے مراد حدیث بیان کرنے والا یا عالم حدیث ہے۔

مرزا قادیانی کی نبوت کی بحث میں لفظ محدث اور اس کے مفہوم نے خاصی اہمیت حاصل کر لی ہے۔ محدث کے معنی ہیں جس سے کلام کیا گیا ہو۔ مذہبی اصطلاح میں اس سے مراد وہ شخص ہے جس سے خدا تعالیٰ کلام کرے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کے مخاطب مسلمانوں کے نزدیک محدثین کا وجود ایک مسلمہ حقیقت تھی اور عام خیال یہ تھا کہ امت میں ایسے اشخاص ہو سکتے ہیں جو خدا سے مکالمہ و مخاطبہ کے تعلق کی بناء پر محدث کہلائیں۔ اس خیال کے پیچھے قرآن کی ایک آیت کے بارے میں ایک ایسی روایت موجود تھی۔ جس کی مدد سے محدث اور نبی کو ہم منصب قرار دیا جاسکتا تھا۔ چنانچہ اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مرزا قادیانی نے اپنی نبوت کا جواز پیدا کر لیا۔ مرزا قادیانی کے استدلال کی وضاحت کے لئے ان کی کتاب آئینہ کمالات اسلام کا ایک اقتباس پیش کیا جاتا ہے۔ یہ تحریر مرزا قادیانی کے فن تاویل کے شہ پاروں میں جگہ پانے کے لائق ہے۔ اولیاء اللہ کے احوال پر بحث کرتے ہوئے مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔

”جب کسی کی حالت اس نوبت تک پہنچ جائے تو اس کا معاملہ اس عالم سے وراء الوراء

١٤٤

ہوجاتا ہے اور ان تمام کما رسولوں کو ملے تھے اور انبیاء کے نام سے موسوم ہوتی ہے انبیاء میں عصمت کے نام سے وہی حقیقت جو انبیاء میں نبوت پکڑتی ہے۔ حقیقت ایک ہی ہیں۔ اسی لئے آنحضرت ﷺ ہے اور اگر باب نبوت مسدود کی رکھتا تھا اور اسی وقت اور ا کہ المحدث نبی جیسا کہ کہہ سکے هذا الحمل شایع متعار كما لا يخفى على كل ذي اسی حمل کی طرف اشارہ ہے ولا نبی ولا محدث" ارسلنا من رسول ولا ن قرآن کریم کی لفظ محدث موجود ہے اور میں یہ تحریر پڑھ کر ہمیں بہ طرح کی تحریف کرنے کی میں مرزا قادیانی بغیر سند کے مذکورہ بالا آیات الفاظ نہیں ہیں۔ سیوطی نے ا تابعی کے حوالے سے یہ پڑھی۔ "وما ارسلنا الصافی شرح اصول الکافی م بعنوان "الفرق بين الرس

عالمی سیرت کا پر اکابر علماء کر عالمی سیرت کا کی سیرت مطہر مسائل سیرت قر مقالات حیات و خط روشنی میں مطالعہ پیغام حق عالمی سیرت کانفرنس کانفرنس کی روداد کی ر

صفحہ ٣٤٤

ہو جاتا ہے اور ان تمام ہدایتوں اور مقامات عالیہ کو ظلی طور پر پالیتا ہے جو اس سے پہلے نبیوں اور رسولوں کو ملے تھے اور انبیاء اور رسل کا وارث اور نائب ہو جاتا ہے۔ وہ حقیقت جو انبیاء میں معجزہ کے نام سے موسوم ہوتی ہے۔ وہ اس میں کرامت کے نام سے ظاہر ہوتی ہے اور وہی حقیقت جو انبیاء میں عصمت کے نام سے ظاہر ہوتی ہے۔ اس میں محفوظیت کے نام سے پکاری جاتی ہے اور وہی حقیقت جو انبیاء میں نبوت کے نام سے بولی جاتی ہے۔ اس میں محدثیت کے پیرایہ میں ظہور پکڑتی ہے۔ حقیقت ایک ہی ہے۔ لیکن بباعث شدت اور ضعف رنگ کے مختلف نام رکھے جاتے ہیں۔ اسی لئے آنحضرت ﷺ کے ملفوظات مبارکہ اشارۃً فرما رہے ہیں کہ محدث نبی بالقوۃ ہوتا ہے اور اگر باب نبوت مسدود نہ ہوتا تو ہر ایک محدث اپنے وجود میں قوت اور استعداد نبی ہو جانے کی رکھتا تھا اور اسی قوت اور استعداد کے لحاظ سے محدث کا حمل نبی پر جائز ہے۔ یعنی کہہ سکتے ہیں کہ المحدث نبی جیسا کہ کہہ سکتے ہیں۔ ”العنب خمر نظراً علی القوة والاستعداد ومثل هذا الحمل شایع متعارف فی عبارات القوم وقد جرت المحاورات علی ذلک كما لا يخفى على كل ذي علم مطلع على كتب الادب والكلام والتصوف “ اور اسی حمل کی طرف اشارہ ہے۔ جو اللہ جل شانہ نے اس قرآن کو جو ”وما ارسلنا من رسول ولا نبی ولا محدث“ ہے، مختصر کر کے قرأت ثانی میں صرف یہ الفاظ کافی قرار دیئے کہ ”وما ارسلنا من رسول ولا نبی“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٤٧، خزائن ج ٥ ص ٣٤٧)

قرآن کریم کی دوسری قرأت سے کیا مراد ہے؟ کیا یہ بھی ممکن ہے کہ پہلے ایک زائد لفظ محدث موجود ہے اور پھر بنظر اختصار اس کو حذف کر دیا گیا ہو؟ شروع میں آئینہ کمالات اسلام میں یہ تحریر پڑھ کر ہمیں بہت تعجب ہوا اور سوچتے رہے کہ مرزا قادیانی کو قرآنی عبارت میں اس طرح کی تحریف کرنے کی جسارت کیوں کر ہوئی۔ بعد میں مزید مطالعہ سے ظاہر ہوا کہ اس بارے میں مرزا قادیانی بغیر سند کے نہیں ہیں۔

مذکورہ بالا آیات سورۃ حج میں ہیں۔ یہ کہنا تو غیر ضروری ہے کہ اس میں محدث کے الفاظ نہیں ہیں۔ سیوطی نے اپنی تفسیر درمنثور میں سورۃ حج کے ذکر میں (ج ٣ ص ٣٦٦) عمرو بن دینار تابعی کے حوالے سے یہ روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے کہ حضرت ابن عباسؓ نے یہ آیت یوں پڑھی۔ ”وما ارسلنا من قبلك من نبی ولا رسول ولا محدث“ اسی طرح کتاب الصافی شرح اصول الکافی میں جو شیعہ فرقہ کی حدیث اور روایت کی مستند کتاب ہے۔ ایک باب بعنوان ”الفرق بين الرسول والنبي والمحدث“ ہے۔ جس میں لکھا ہے کہ گو سورۃ حج کی

١٣٣

صفحہ ٣٤٤

قرأت مشہورہ میں ولا محدث موجود نہیں ہیں۔ لیکن قرأت غیر مشہور میں یہ آیت اس طرح پڑھی گئی ہے۔ ”وما ارسلنا من قبلك من رسول ولا نبی ولا محدث“ اس سے معلوم ہوا کہ بہت سے دیگر امور کی طرح اس بارے میں بھی مرزا قادیانی کا غلط عقیدہ اپنے مخالف علماء کے مسلک کے عین مطابق ہے۔

قرأت ثانیہ کے عقیدہ کے غلط ہونے کی نسبت کم از کم ہم کسی شبہ میں نہیں ہیں۔ اگر یہ درست ہے کہ قرآن خدا کا کلام ہے اور رسول کا منصب یہ نہ تھا کہ خدا کے کلام میں کچھ اضافہ کرے یا اس میں سے کچھ حذف کر دے تو قرآن کی ایک سے زیادہ قرأت کا خیال ہی کیسے کیا جا سکتا ہے؟ یاد رہے کہ یہاں اعراب کے اختلاف سے بحث نہیں ہے۔ اس قسم کا اختلاف عرب قبائل کے لہجوں میں اختلاف پر محمول ہو سکتا ہے اور اس کی کوئی اہمیت نہیں۔ یہاں پورے الفاظ کا سوال ہے جو قرآن میں نہیں ہیں۔ لیکن یہ عقیدہ پیش کیا جا رہا ہے کہ ان الفاظ کو قرآن کا حصہ سمجھنا جائز ہے۔

قرآن کی نسبت خدا کا فرمان ہے کہ ہم نے ہی اسے اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ ہمارے لئے یہ امر الٰہی وعدہ کے برحق ہونے کی نسبت ازدیاد ایمان کا موجب ہے کہ غیروں کے علاوہ اپنوں کی مساعی کے باوجود قرآن اپنی جگہ پر قائم ہے اور تمام دنیا میں ایک ہی قرأت سے پڑھا جاتا ہے اور اگر کسی قرأت غیر مشہور کے کوئی الفاظ احادیث میں موجود ہیں تو کبھی کسی کو ان کو قرآن میں لکھنے یا اس کے ساتھ ملا کر پڑھنے کی جرأت نہیں ہوئی۔ یہاں تک مرزا قادیانی کے مریدوں کی لاہوری جماعت کے امیر مولوی محمد علی نے بھی اپنی کتاب بیان القرآن میں سورۃ حج کی تفسیر میں دوسری قرأت کے امکان کے ضمن میں اپنے مرشد کے خیالات کا ذکر تک نہیں کیا۔

مولوی کی اس فروگذاشت کی وجہ یہ نہیں ہو سکتی کہ وہ اس بارے میں مرزا قادیانی کے موقف سے بے خبر تھے۔ کیونکہ خود مولوی نے اپنی کتاب ”النبوۃ فی الاسلام“ میں ولا محدث والی قرأت کی نسبت مرزا قادیانی کی کتب کے حوالہ جات کم از کم تین بار نقل کئے ہیں اور اپنی دلیل کے لئے ان حوالوں پر انحصار کیا ہے۔ اسی طرح مولوی صاحب کے قرأت ثانیہ پر بحث نہ کرنے کا موجب یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ وہ اس معاملے کو کوئی اہمیت نہ دیتے تھے۔ کیونکہ اسی تفسیر میں مولوی نے ایک دیگر موضوع پر بحث کرتے ہوئے قرآن میں بعض الفاظ کے حذف کئے جانے کے عقیدہ کی نسبت حسب ذیل خیالات پیش کئے ہیں۔

١٣٤

صفحہ ٣٤٥

”آخر اس کا کیا مطلب ہے کہ ایک حکم تو باقی ہے۔ مگر اس کے الفاظ باقی نہیں۔ یا کم از کم پڑھے نہیں جاسکتے یا قرآن کریم کا حصہ نہیں رہے۔ جو حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتا رہا ہے۔ جب سے دنیا قائم ہوئی الفاظ میں ہی آتا رہا ہے۔ اب ایک حکم الفاظ میں اترتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ حکم تو باقی ہے مگر لفظ نہیں رہے۔ پہلے ہی بغیر لفظوں کے اتر آتا تو بھی کچھ بات ہوتی۔ لیکن یہ گورکھ دھندہ کسی کی سمجھ میں نہیں آسکتا کہ حکم لفظوں میں اترا۔ کیونکہ بغیر لفظوں کے اتر نہ سکتا تھا۔ پھر لفظ منسوخ ہو گئے اور حکم رہ گیا۔ کیا وہ حکم صحیح تھا اور لفظ غلط تھے؟ آخر بات وہ کہنی چاہئے جو عقل انسانی میں آ سکے۔“

(بیان القرآن ص ٩٥٦، تفسیری نوٹ ٢٦٠٤)

مولوی صاحب کا استدلال مرزا قادیانی کے موقف کا مکمل جواب ہے۔ لیکن مولوی صاحب نے النبوۃ فی الاسلام میں تو مرزا قادیانی کا عقیدہ نقل کر کے اس پر انحصار کر لیا ہے۔ کیونکہ یہ کتاب جماعت احمدیہ کے دو فرقوں کے اندرونی اختلاف میں اپنی پوزیشن درست ثابت کرنے کے لئے لکھی گئی تھی۔ اس کے برعکس تفسیر میں جو عام مسلمانوں کے لئے لکھی گئی ہے۔ مصلحتاً مرزا قادیانی کے عقیدہ کا ذکر ہی نہیں کیا گیا۔

روایات میں یہ ظاہر نہیں کیا گیا کہ قرآت ثانی میں ولا محدث کے الفاظ کس نے حذف کر دیئے اور کس حکمت کی بناء پر۔ البتہ مرزا قادیانی بتاتے ہیں کہ ایسا خدا تعالیٰ نے خود کیا ہے اور اختصار کی غرض سے کیا ہے۔ کوئی خدائی حکم اس بارے میں پیش کرنے سے مرزا قادیانی قاصر ہیں اور ظاہر ہے کہ ایک لفظ کے حذف کرنے سے قرآن کی ضخیم کتاب میں کوئی قابل لحاظ اختصار واقع نہیں ہوتا۔ جب کہ دیگر کئی آیات تکرار کے ساتھ بیان کی گئی ہیں اور حذف کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔ بہرحال آیت کا یہ خاص حصہ حذف نہ ہونا چاہئے تھا۔ کیونکہ اس آخری زمانے میں ان الفاظ کی مدد سے مسیح زمان اور مہدی آخر دوران کی بعثت کا مہتم بالشان مسئلہ حل ہونا تھا۔

چلئے یہ مان لیتے ہیں کہ قرآنی آیت میں ”ولا محدث“ کے الفاظ موجود ہیں۔ پھر بھی ہم یہ نہیں سمجھ سکے کہ اس سے مرزا قادیانی کے دعویٰ کو کیسے تائید حاصل ہوتی ہے۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ ان کا دعویٰ نبوت کا نہیں محدثیت کا ہے اور ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ قرآن میں محدثیت نبوت کے ساتھ ساتھ رسالت کے ہم پہلو بیان کی گئی ہے اور کہہ سکتے ہیں کہ المحدث نبی (محدث نبی ہے) ان دو باتوں کو ملانے سے مرزا قادیانی کا دعویٰ یہ بنتا ہے۔ ”مجھ پر جھوٹا الزام مت لگاؤ کہ میں نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ میں نبی ہرگز نہیں۔ میں صرف محدث ہوں۔ ویسے محدث کی بھی وہی معنی ہیں جو نبی اور رسول کے ہیں۔“ (ازالہ اوہام ص ٥٦٩، خزائن ج ٣ ص ١٩٠)

١٣٥

صفحہ ٣٤٦

غیر تشریعی نبوت

مرزا قادیانی کی نبوت کے سلسلے میں دو دیگر اصطلاحات جن پر بہت بحث کی گئی ہے۔ تشریعی اور غیر تشریعی نبوت ہیں۔ اس ضمن میں جماعت احمدیہ کی طرف سے آیت خاتم النبیین کی توضیح یہ کی جاتی ہے کہ اس سے مراد تشریعی نبوت کا ختم ہونا ہے۔ یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آ سکتا جو نئی شریعت لائے۔ لیکن غیر تشریعی نبوت کا سلسلہ جاری ہے۔

گو قرآنی آیت اور اس کے سیاق و سباق میں اس تفریق کے لئے کوئی قرینہ موجود نہیں ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کے اس نظریے کی تائید بعض ائمہ کے اقوال سے ہوتی ہے۔ دلیل یہ دی گئی ہے کہ قرآن کے ذریعہ دینی احکام کی تکمیل ہو گئی ہے اور یہ احکام تمام دنیا کے لئے اور ہر زمانے میں ہدایت کے لئے کافی ہیں اور اب کسی نئی شریعت کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن شریعت کی وضاحت اور اس کے نفاذ کی حاجت باقی ہے اور یہ کام غیر تشریعی انبیاء کے ذریعہ تکمیل پاتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ نبوت کی تشریعی اور غیر تشریعی اقسام کی تمیز کوئی نئی بات نہیں ہے۔ پہلے انبیاء میں اس کی مثال موجود ہے۔ مثلاً موسیٰ علیہ السلام صاحب شریعت نبی تھے۔ ان کے ذریعہ توریت کی صورت میں ایک نئی شریعت جاری کی گئی۔ لیکن بنی اسرائیل کے وہ انبیاء جو موسیٰ علیہ السلام کے بعد آئے غیر تشریعی تھے۔ وہ کوئی جدید شریعت نہ لائے۔ بلکہ ان کا کام موسوی شریعت کی تجدید اور اس کا نفاذ تھا۔

اس ضمن میں حسب ذیل امور قابل غور ہیں۔

قرآنی سے یہاں مراد یہ ہے کہ قرآن میں اس کا ذکر نہیں ہے) اور چونکہ احمدیہ نظریہ کے مطابق یہ تقسیم شروع سے موجود رہی ہے۔ اس لئے قرآن میں اتنے بنیادی معاملے کا ذکر نہ ہونا ایک حیرت انگیز بات ہے۔

ہو سکتے ہیں۔ ایک عام اخلاقی قواعد مثلاً راست بازی، دیانت و اعمال صالح کی تعلیم اور ہر قسم کی بدیوں سے بچنے کی تلقین۔ ظاہر ہے کہ اس معنی میں شریعت ہمیشہ ایک ہی رہی ہے۔ تمام انبیاء تشریعی ہیں۔ انہوں نے اسی شریعت کی تعلیم دی ہے اور کوئی بھی جدید شریعت نہیں لایا۔ لیکن شریعت کا ایک دوسرا محدود اور نسبتاً غیر اہم مفہوم بھی ہے اور عام طور پر شریعت سے یہی محدود مفہوم لیا جاتا ہے۔ اس کے مطابق شریعت سے مراد ظاہری عبادات کے قواعد اور قانون کا وہ حصہ ہے جو

١٣٦

عدالتوں کے ذریعے نافذ کیا جائے معاشرتی قانون کا وہ مجموعہ جسے

مرزا قادیانی کی نبوت غیر تشریعی مرزا قادیانی کی تحریریں اس مطاب مرزا قادیانی کی تحریر

احمدیہ جماعت کے قادیانی اور لاہ بات پر متفق ہیں کہ مرزا قادیانی جہاں تک الفاظ کا تعلق ہے دونو الفاظ کے مفہوم کی نسبت دونوں کا مذہب یہ ہے کہ غیر تشریعی نب سے مراد اولیاء کرام کا مقام ہ یہی اعزازی غیر حقیقی نبوت ج متواتر انکار کیا ہے۔ اس لی تشریعی نبی تو خیر تھے۔ لیکن بہ لفظ نہیں ہے۔ مرزا قادیانی اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ غ شریعت پیش نہیں کی۔

اس مفروضہ غلط فہ ذکر صرف غیر تشریعی نبوت کی

سوال یہ ہے کہ ا اس کا جواب یہ ہے کہ دونو بنیاد پر قائم ہے کہ جس مجدد صاحب شریعت نہ سمجھتے تھے

مرزا قادیانی نے اپنی صدا سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے نبی کو اتنی مہلت نہیں دیتا اور

صفحہ ٣٤٧

عدالتوں کے ذریعے نافذ کیا جاسکے۔ مثلاً اسلام میں نماز، روزہ، حج وغیرہ کے احکام اور شخصی اور معاشرتی قانون کا وہ مجموعہ جسے فقہ کہا جاتا ہے۔ احمدیہ لٹریچر میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ جب مرزا قادیانی کی نبوت غیر تشریعی بیان کیا جاتا ہے تو شریعت کا کون سا مفہوم مراد ہوتا ہے۔ خود مرزا قادیانی کی تحریریں اس معاملے میں الجھاؤ اور تضاد سے خالی نہیں ہیں۔

مرزا قادیانی کی تحریر کا حوالہ دینے سے قبل مناسب ہو گا کہ غیر تشریعی نبوت کے متعلق احمدیہ جماعت کے قادیانی اور لاہوری فرقوں کے اختلاف کا ذکر کر دیا جائے۔ دونوں فرقے اس بات پر متفق ہیں کہ مرزا قادیانی تشریعی نبی نہ تھے۔ لیکن وہ کیا تھے؟ اس بات پر اختلاف ہے بلکہ جہاں تک الفاظ کا تعلق ہے دونوں اس پر بھی متفق ہیں کہ مرزا قادیانی غیر تشریعی نبی تھے۔ لیکن الفاظ کے مفہوم کی نسبت دونوں کے نظریئے ایک دوسرے سے بالکل جدا ہیں۔ لاہوری جماعت کا مذہب یہ ہے کہ غیر تشریعی نبوت حقیقتاً نبوت ہی نہیں ہوتی۔ یہ محض ایک اعزازی نام ہے جس سے مراد اولیاء کرام کا مقام ہے اور جب ہم مرزا قادیانی کو غیر تشریعی نبی کہتے ہیں تو اس سے مراد یہی اعزازی غیر حقیقی نبوت ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ خود مرزا قادیانی نے اپنے نبی ہونے سے متواتر انکار کیا ہے۔ اس کے مقابلے میں قادیانی فرقے کا موقف یہ ہے کہ مرزا قادیانی غیر تشریعی نبی تو خیر تھے۔ لیکن بہر حال نبی تھے۔ ان کی نسبت نبوت کا لقب محض اعزازی اور غیر حقیقی لفظ نہیں ہے۔ مرزا قادیانی حقیقی نبی تھے۔ اپنی نبوت سے انکار وہ اس وجہ سے کرتے رہے کہ وہ اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ نبی کے لئے صاحب شریعت ہونا لازمی ہے اور انہوں نے کوئی نئی شریعت پیش نہیں کی۔

اس مفروضہ غلط فہمی پر مفصل بحث ایک دوسرے باب میں آئے گی۔ یہاں اس کا مختصراً ذکر صرف غیر تشریعی نبوت کی تشریح کے لئے کیا گیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ لاہوری اور قادیانی فرقوں میں سے کون درست ہے؟ ہمارے نزدیک اس کا جواب یہ ہے کہ دونوں ہی غلط ہیں۔ دونوں میں سے ہر ایک فریق کی دلیل کی عمارت اس بنیاد پر قائم ہے کہ جس نبوت کا دعویٰ مرزا قادیانی نے کیا وہ غیر تشریعی تھا اور یہ کہ وہ اپنے آپ کو صاحب شریعت نہ سمجھتے تھے۔ اب مرزا قادیانی کا اپنا دعویٰ ملاحظہ کیجئے۔ اپنی کتاب (اربعین) میں مرزا قادیانی نے اپنی صداقت کی نسبت ایک دلیل یہ دی ہے کہ ان کے دعویٰ نبوت پر تئیس سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے اور خدا نے ان کو ہلاک نہیں کیا، حالانکہ خدا کا قانون ہے کہ وہ جھوٹے نبی کو اتنی مہلت نہیں دیتا اور اس مدت سے پہلے ہی اس کو ہلاک کر دیتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ

١٣٧

صفحہ ٣٤٨

مرزا قادیانی کی اس دلیل پر بعض حلقوں کی طرف سے یہ اعتراض کیا گیا کہ خدا کی یہ وعید صرف ان جھوٹے مدعیان نبوت کے متعلق ہے جو نئی شریعت لانے کے دعویدار ہوں۔ اس اعتراض کا جواب مرزا قادیانی نے ان الفاظ میں دیا ہے ۔ ’’اوّل تو یہ دعویٰ بے دلیل ہے۔ خدا نے افتراء کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی ۔ ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب الشریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کے رو سے ہمارے ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔ مثلاً یہ الہام ’قل للمؤمنین یغضوا من ابصارھم ویحفظوا فروجہم ذلک ازکی لھم‘ یہ براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں بھی امر ہے اور نہی بھی اور اس پر تئیس برس کی مدت بھی گزر گئی۔ اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی اور اگر کہو کہ شریعت سے وہ شریعت مراد ہے جس میں نئے احکام ہوتے ہوں تو یہ باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ’ان ھذا لفی الصحف الاولی صحف ابراہیم وموسیٰ‘ یعنی قرآنی تعلیم توریت میں بھی موجود ہے اور اگر یہ کہو کہ شریعت وہ ہے جس میں باستیفاء امر اور نہی کا ذکر ہو تو یہ بھی باطل ہے۔ کیونکہ اگر توریت یا قرآن شریف میں باستیفاء احکام شریعت کا ذکر ہوتا تو پھر اجتہاد کی گنجائش نہ رہتی۔ غرض یہ سب خیالات فضول اور کوتاہ اندیشیاں ہیں ۔‘‘

(اربعین نمبر ٤ ص ٦ ، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)

یہ اقتباس کسی وضاحت کا محتاج نہیں ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ مرزا محمود احمد قادیانی اور مولوی محمد علی دونوں کے خیال کے برعکس خود مرزا قادیانی اپنے آپ کو تشریعی نبی سمجھتے تھے۔

ضمناً یہاں یہ امر بھی دلچسپ ہے کہ مرزا محمود احمد قادیانی کے نزدیک ١٩٠١ء تک مرزا قادیانی اس غلط فہمی میں تھے کہ چونکہ وہ نئی شریعت نہیں لائے اس لئے وہ حقیقی معنی میں نبی نہیں ہیں۔ حالانکہ اربعین میں جو (سال ١٩٠٠ء کی لکھی ہوئی کتاب ہے) مرزا قادیانی اپنی نسبت صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ نبوت کے لئے مرزا قادیانی کے خیال میں صاحب شریعت جدید ہونا لازمی تھا۔ کیونکہ مرزا قادیانی صاحب قرآن کو بھی پرانی شریعت ہی سمجھتے ہیں ۔ جو ابراہیم وموسیٰ کے صحیفوں میں موجود ہے۔

یہ تھا شریعت کا وسیع مفہوم لیکن جیسا کہ بیان ہو چکا ہے۔ شریعت کا لفظ ایک خاص محدود اور اصطلاحی معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اگر ہم صرف اس معنی کو ملحوظ رکھ کر غور کریں تو ہمیں ایک عجیب و غریب صورتحال کا سامنا ہوگا۔

١٣٨

صفحہ ٣٤٩

پہلے شریعت کی نسبت چند بنیادی امور کا ذکر اور کچھ ممکن غلط فہمیوں کا ازالہ کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ راسخ العقیدہ مسلمانوں کے نزدیک عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ شریعت اسلامی کا ایک مکمل ضابطہ موجود ہے جو شخصی اور اجتماعی زندگی کے تمام شعبوں پر حاوی ہے۔ یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ضابطہ قانون الہامی ہے یا الہام کی روشنی میں مدون کیا گیا ہے۔ لہٰذا دائمی اور غیر متبدل ہے۔ یہ دعویٰ (جس شکل میں کہ عام طور پر بیان کیا اور سمجھا جاتا ہے) درست نہیں ہے۔

اوّل تو یہ بات غلط ہے کہ کوئی ایسا اسلامی شرعی قانون موجود ہے جس کے کہ تمام مسلمان کم از کم اعتقاداً پیرو ہوں بیشتر امور میں مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے شرعی قوانین میں شدید اختلاف ہے اور ظاہر ہے کہ کسی معاملے پر متضاد شرعی قواعد کو آپ بیک وقت اسلامی اور الہامی قانون نہیں کہہ سکتے۔ دوسرے یہ بات بھی صحیح نہیں ہے کہ شریعت کے تمام قواعد ہمیں وحی کے ذریعے ملے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ شرعی قواعد کا بہت تھوڑا حصہ براہ راست وحی پر مبنی ہے۔ اگر وحی کو قرآن تک محدود سمجھا جائے تو ہر کوئی اس پر اتفاق کرے گا کہ اس کتاب میں فقہ کے وسیع مجموعہ کے صرف چند قواعد کا ذکر ہے۔ قرآن کے بعد شریعت کے مآخذ حدیث، اجماع اور قیاس ہیں۔ گو نظری طور پر قرآن کے بعد حدیث کا درجہ ہونا چاہئے اور بعض کے نزدیک حدیث غیر ملفوظ وحی کا مقام رکھتی ہے۔ لیکن عملی صورت یہ ہے کہ فقہ کے بہت کم حصے کی بنیاد حدیث پر ہے۔ فقہی مسائل کے متعلق احادیث کی تعداد اتنی زیادہ نہیں ہیں اور فقہاء نے اکثر صورتوں میں ان احادیث کو نظر انداز کر دیا ہے۔ کم از کم حنفی فقہ کے متعلق یہی بات درست ہے اور ہندوستانی مسلمانوں میں حنفی فقہ کے پیروؤں کو بھاری اکثریت حاصل ہے۔ اس فقہ کا زیادہ تر انحصار قرآنی احکام کی روشنی میں اجتہاد اور استحسان پر ہے۔

اس عمومی صورت کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہمیں مرزا قادیانی کے زمانہ میں ہندوستان کے مخصوص حالات کا جائزہ لینا چاہئے اور یہ دیکھنا چاہئے کہ اسلامی شریعت یہاں کس طرح اور کس حد تک نافذ تھی۔ ایسا کرنے کے بعد ہی ہم اس پوزیشن میں ہوں گے کہ یہ فیصلہ کریں کہ مرزا قادیانی کے غیر تشریعی نبی ہونے سے کیا مراد ہے۔ اس وقت کے ہندوستان میں دو مختلف لیکن یکساں طاقت اور عوامل کے اثر سے اسلامی فقہ مکمل طور پر اور اپنی شکل میں نافذ نہ رہا تھا۔ یہ دو عوامل غیر اسلامی حکومت اور مقامی رسم و رواج تھے۔ حکومت نے ملکی قانون کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ یہ تقسیم اس اصول پر تھی کہ جن معاملات کا تعلق ملکی آئین حکومت کے نظم و نسق اور امن عامہ سے ہے۔ ان کی نسبت قانون غیر دینی اساس پر مرتب ہوگا۔ اس حصہ میں تعزیرات ضابطہ

١٣٩

صفحہ ٣٥٠

فوجداری و دیوانی، عدالتوں کے اختیارات، فوج اور پولیس کی نسبت خصوصی قوانین اور شہادت کے قواعد وغیرہ شامل ہیں۔ یہ چند امور صرف مثال کے طور پر بیان کئے گئے ہیں۔ ورنہ اس حصہ قانون کا حلقہ بہت وسیع ہے اور تقریباً اہم معاملات اس میں آجاتے ہیں۔ اس سب قوانین میں یکسانیت کا ہونا ضروری تھا۔ ظاہر ہے کہ جس قانون کا اثر ملک کی تمام آبادی سے ہو۔ اس کی نسبت کسی ایک گروہ یا فرقہ کے مذہب پر مبنی قانون نافذ نہیں کیا جاسکتا۔ بہرحال قانون کے اس حصہ سے اسلامی شریعت خارج از عمل ہو چکی تھی۔

لیکن حکومت ہندوستانیوں کے مذہبی تعصب سے بھی باخبر تھی۔ اس لئے اس تعصب کی تسکین کے لئے قانون کے بعض غیر اہم شعبے آزاد چھوڑ دیئے گئے کہ ان میں اپنی اپنی شریعت نافذ کر لو۔ چنانچہ ١٨٧٢ء کے ایک قانون پنجاب لاز ایکٹ کے ذریعہ پنجاب میں اسی طرح کے دوسرے قوانین کی رو سے ہندوستان کے دیگر حصوں میں مسلمانوں کو آزادی دے دی گئی کہ نکاح، طلاق، وراثت، ہبہ، وصیت وغیرہ کے معاملات میں اگر وہ چاہیں تو شریعت کے مطابق فیصلہ کرا لیں اور اگر چاہیں تو کسی قابل نفاذ رواج کی پابندی اختیار کر لیں۔

معدودے چند خاندانوں کو مستثنیٰ کرتے ہوئے پنجابی مسلمانوں نے آزادی کے تحت جائیداد کی وراثت اور انتقالات کے بارے میں شریعت کی بجائے رواج کی پابندی زیادہ مناسب سمجھی اور عدالتوں میں مسلمانوں کے ان تنازعات کا فیصلہ اس قانون کے مطابق ہونے لگا۔ جسے زمیندارہ رواج کہا جاتا ہے۔ جوں جوں وقت گزرتا گیا اس رواج نے بجائے خود ایک منضبط اور جامع قانون کی صورت اختیار کر لی اور پنجاب کی دیہی آبادی بلاتمیز مذہب اس کی پابند ہو گئی۔

اسلامی قانون کے ساتھ رواج کا تفصیلی مقابلہ کرنے کی یہاں ضرورت نہیں ہے۔ مختصراً رواج کے قواعد وضع کرنے میں عوام نے دو مقاصد سامنے رکھے تھے۔ جائیداد اپنے خاندان میں برقرار رہے اور حتی الوسع عورتوں کو اراضیات میں مستقل مالکانہ حقوق نہ حاصل ہوں۔ ظاہر ہے کہ یہ مقاصد اسلامی قانون وراثت کے صریحاً خلاف ہیں۔

ازدواجی قوانین میں البتہ شریعت سے انحراف ضروری نہ سمجھا گیا۔ لیکن اس میں کوئی تعجب نہیں۔ جیسا کہ ایک سابقہ باب میں وضاحت کی گئی ہے۔ نکاح، طلاق وغیرہ معاملات میں مروج شرعی قواعد حقیقی اسلامی اصول کے مطابق نہ تھے اور عورتوں کے خلاف مردوں کے اقتدار کو قائم رکھنے کے لئے شریعت کو ترک کرنا ضروری نہ تھا۔

١٤٠

صفحہ ٣٥١

یہ تھی شریعت کی عملی صورت اس وقت کی جب خدا نے فیصلہ کیا کہ ہندوستانی مسلمانوں کو اصلاح اور ان کے دین کی تجدید کے لئے اب معمولی ذرائع سے کام نہیں چل سکتا اور اس غرض کے لئے ایک نبی کی بعثت ضروری ہو گئی ہے۔ شریعت پہلے سے موجود تھی۔ صرف اس کا نفاذ ہونا تھا۔ اس لئے ایک غیر تشریعی نبی بھیجا گیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس نبی نے شریعت کی تنفیذ کے لئے کیا اقدام کیا۔

جہاں تک شریعت کے پہلے حصے یعنی آئین تعزیرات اور عدالتی نظام وغیرہ کا تعلق ہے۔ سوائے غیر ملکی حکومت سے آزادی حاصل کرنے کے ان شعبوں میں شریعت نافذ نہ ہو سکتی تھی اور آزادی کی جدوجہد کے ہیرو بہر حال مرزا قادیانی نہ تھے۔ اس کے برعکس ان کی تبلیغ غیر ملکی حکومت کے استحکام کا موجب تھی۔ اس حد تک شریعت کی بجائے رواج کی پابندی اختیار کر رکھی تھی۔ لیکن یہاں مرزا قادیانی کے لئے ایک دوسری دقت تھی۔ پنجاب کی دیہی آبادی کے لئے ان کی عزیز ترین متاع زمین ہے۔ اس کے لئے یہ لوگ ہر قربانی دینے کے لئے تیار ہیں۔ ان حالات میں مرزا قادیانی رواج کے خلاف جہاد کا اعلان کر کے اپنی کامیابی کو اور مخدوش نہ بنانا چاہتے تھے۔ مولوی پہلے سے ہی ان کے خلاف تھے۔ اگر شریعت کی تنفیذ شروع کی جاتی تو زمین دار آبادی بھی متنفر ہو جاتی۔ اس لئے مصلحت اسی میں تھی کہ اس معاملے میں کچھ نہ کیا جائے۔ اس کے علاوہ مرزا قادیانی کا ذاتی مفاد بھی اسی میں تھا کہ شریعت کی بجائے رواج ہی قائم رہے۔ مرزا قادیانی نے اپنی تحریروں میں کئی جگہ اس امر کا اظہار فخریہ رنگ میں کیا ہے کہ ان کا خاندان پنجاب کے رؤساء میں شامل ہے۔ اسلامی قانون وراثت کا ایک لازمی اثر یہ ہے کہ اس کے عمل کی وجہ سے جائیدادوں کا چند افراد کے پاس جمع ہونا مشکل ہو جاتا ہے۔ اگر مرزا قادیانی رواج کے مقابلے میں شریعت کی تلقین اپنی نبوت کا حصہ بنا لیتے تو ان کی اپنی ریاست خطرہ میں پڑ سکتی تھی۔ اس لئے مرزا قادیانی نے اپنے اور اپنے متبعین کے لئے رسول کی شریعت کی بجائے ریٹی گن کے رواج پر قائم رہنا ہی بہتر سمجھا۔

نتیجہ یہ ہے کہ سابق انبیاء کی روایات کے خلاف مرزا قادیانی نے مکمل طور پر غیر تشریعی رہنے کا فیصلہ کیا۔ یعنی نہ نئی شریعت لائے اور نہ پرانی کی احیاء اور تجدید کے لئے کچھ کیا۔ چند الفاظ میں ان کا پیغام یہ تھا۔

”مسلمانو! میں کوئی نئی شریعت نہیں لایا۔ اسلام کے بعد کوئی نئی شریعت نہیں آسکتی۔ شریعت ہمارے پاس اپنی مکمل اور آخری صورت میں موجود ہے۔ اس کے ایک حصے پر غیر ملکی

صفحہ ٣٥٢

عالمی سیرت کا پہلا انعام یافتہ مقالہ رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کے عالمی سیرت کے مقابلہ کا پہلا انعام یافتہ مقالہ عالمی سیرت کانفرنس مکہ مکرمہ کا پہلا انعام یافتہ مقالہ

حکومت کی وجہ سے عمل نہیں ہو سکتا۔ اس لئے مجبوری ہے۔ ایک دوسرے حصے پر عمل تمہیں پسند نہیں ۔ یہ بھی مجبوری ہے۔ ایک تیسرے حصہ پر تم عمل کر رہے ہو۔ اس میں مجھے کچھ نہیں کہنا۔“

کیا یہ انقلاب آفرین پیغام پہنچانے کے لئے کسی نبی کی ضرورت تھی؟

امتی نبی

ختم نبوت کے عقیدہ کو قائم رکھتے ہوئے اپنی نبوت کی گنجائش نکالنے کا ایک راستہ جو مرزا قادیانی نے دریافت کیا ہے وہ ایک نئی اصطلاح ہے۔ یعنی ”امتی نبی“ اس اصطلاح کے لئے فی الواقع کوئی عقلی یا نقلی دلیل موجود نہ تھی۔ لیکن مرزا قادیانی کا کمال ہے کہ انہوں نے دونوں قسم کے دلائل ڈھونڈ نکالے ۔ اگر آپ نے کتاب کا سابقہ حصہ پڑھا ہے تو آپ کو معلوم ہو گیا ہوگا کہ مرزا قادیانی کے نزدیک قرآن اور حدیث کے الفاظ معانی کی قید کے پابند نہیں ہیں۔ صرف یہ غرض ہے کہ کس طرح ان سے مرزا قادیانی کے دعوٰی کی تائید حاصل کی جاسکتی ہے۔ اس لئے اب نقلی دلیل کی نسبت زیادہ تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ صرف قرآن کی آیت اور حدیث کا وہ حصہ پیش کرنا کافی ہے جس کی بنا پر مرزا قادیانی نے امتی نبی کی اصطلاح وضع کی ہے۔

پہلے قرآنی آیت ملاحظہ ہو۔ مرزا قادیانی کے فن تفسیر کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے آیت خاتم النبیین سے ہی اجرائے نبوت کی دلیل پیدا کر لی ہے۔ فرماتے ہیں: ”مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ“ یعنی آنحضرتﷺ تمہارے مَردوں میں سے کسی کا باپ نہیں ہے۔ مگر وہ رسول اللہ ہے اور خاتم الانبیاء ہے۔ اب ظاہر ہے کہ لکن کا لفظ زبانِ عرب میں استدراک کے لئے آتا ہے۔ یعنی تدارک مافات کے لئے۔ سو اس آیت کے پہلے حصہ میں جو امر فوت شدہ قرار دیا گیا تھا یعنی جس کی آنحضرتﷺ کی ذات سے نفی کی گئی تھی وہ جسمانی طور سے کسی مرد کا باپ ہونا تھا۔ سو لکن کے لفظ کے ساتھ ایسے فوت شدہ امر کا اس طرح تدارک کیا گیا کہ آنحضرتﷺ کو خاتم الانبیاء ٹھہرایا گیا۔ جس کے یہ معنی ہیں کہ آپ کے بعد براہِ راست فیوضِ نبوت منقطع ہو گئے اور اب کمالِ نبوت صرف اسی شخص کو ملے گا جو اپنے اعمال پر اتباعِ نبوی کی مہر رکھتا ہو اور اسی طرح پر آنحضرتﷺ کا بیٹا اور آپ کا وارث ہو۔ ماحصل اس آیت کا یہ ہوا کہ نبوت کو بغیر شریعت ہو اس طرح پر تو منقطع ہے کہ کوئی شخص براہِ راست مقامِ نبوت حاصل کر سکے۔ لیکن اس طرح پر منقطع نہیں کہ وہ نبوت چراغِ نبوتِ محمدیہؐ سے مکتسب اور مستفاض ہو۔ یعنی ایسا صاحب کمال ایک جہت سے تو امتی ہو اور دوسری جہت سے بوجہ اکتساب

١٤٢

انوارِ محمدیہ نبوت کے کمال بھی

حدیث پر مبنی و (ج ١ ص ٢٩٩) میں اس طرح نبی کا لفظ استعمال پاتا اور ا آنے والے عیسیٰ کی نسبت ع صرف ایک امتی ہے اور نہ

اصلی احادیث م متعلق کہا گیا ہے کہ وہ مسیح الفاظ کا یہ سیاق و سباق مرزا کر دیا کہ عیسیٰ اور امام مہدی

امتی اور غیر امتی نہایت اہم مسئلہ ہے۔ مستقیم کے نزول کے ذریعہ پوری کے لئے ضروری تھا کہ نزول کر دیا جائے۔ اس بظاہر کا ایک خاصہ حصہ امتی اور

مختصراً مرزا قاد محمد رسول اللہ کی امت میں منافی ہے۔ لیکن اگر محمد رس سے ختمِ نبوت کے عقیدہ کو گی کہ مرزا قادیانی کی ا قرآن کریم کی نصوص شب تاب کو پیش کیا جا بھی تو نہیں ملتیں۔ جن سے طرف زندہ اٹھایا گیا۔ ب

صفحہ ٣٥٣

ملی ہے۔ ایک دوسرے حصے پر عمل تمہیں پسند عمل کرنا ہے کرو۔ اس میں مجھے کچھ نہیں کہنا۔“ کے لئے کسی نبی کی ضرورت تھی؟

سوائے اپنی نبوت کی گنجائش نکالنے کا ایک راستہ جو اصطلاح ہے۔ یعنی ”امتی نبی“ اس اصطلاح کے لئے میں مرزا قادیانی کا کمال ہے کہ انہوں نے دونوں قسم سابقہ حصہ پڑھا ہے تو آپ کو معلوم ہو گیا ہوگا کہ اپنے الفاظ معانی کی قید کے پابند نہیں ہیں۔ صرف یہ دعوے کی تائید حاصل کی جاسکتی ہے۔ اس لئے اب کی ضرورت نہیں ہے۔ صرف قرآن کی آیت اور مرزا قادیانی نے امتی نبی کی اصطلاح وضع کی ہے۔ قادیانی کے فن تفسیر کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے دلیل پیدا کر لی ہے۔ فرماتے ہیں: ”مَا كَانَ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ “ یعنی آنحضرت ﷺ ہے۔ مگر وہ رسول اللہ ہے اور خاتم الانبیاء ہے۔ اب ف کے لئے آتا ہے۔ یعنی تدارک مافات کے لئے۔ یہ قرار دیا گیا تھا یعنی جس کی آنحضرت ﷺ کی ذات اب ہونا تھا۔ سو لکن کے لفظ کے ساتھ ایسے فوت شدہ کو خاتم الانبیاء ٹھہرایا گیا۔ جس کے یہ معنی ہیں کہ ہو گئے اور اب کمال نبوت صرف اسی شخص کو ملے گا جو طرح پر آنحضرت ﷺ کا بیٹا اور آپ کا وارث ہو۔ عوث ہو اس طرح پر تو منقطع ہے کہ کوئی شخص براہ راست منقطع نہیں کہ وہ نبوت چراغ نبوت محمدیہ سے مکتسب جہت سے تو امتی ہو اور دوسری جہت سے بوجہ اکتساب

١٤٢

انوار محمدیہ نبوت کے کمال بھی اپنے اندر رکھتا ہو۔“

(ریویو پر مباحثہ چکڑالوی و بٹالوی ٢٧ ، خزائن ج ١٩ ص ٢١٤)

حدیث پر مبنی دلیل مرزا قادیانی نے اپنی کتاب (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٤٢ حاشیہ، خزائن ج ٢١ ص ٢٩٩) میں اس طرح بیان کی ہے: ”ہاں اگر آنے والے عیسیٰ کی نسبت حدیثوں میں صرف نبی کا لفظ استعمال پاتا اور امتی اس کا نام نہ رکھا جاتا تو دھوکہ لگ سکتا تھا۔ مگر اب تو صحیح بخاری میں آنے والے عیسیٰ کی نسبت صاف لکھا گیا ہے کہ امامکم منکم یعنی اے امتیو! آنے والا عیسیٰ بھی صرف ایک امتی ہے اور نہ کچھ اور“

اصلی احادیث میں یہ الفاظ امام مہدی علیہ السلام کے متعلق بیان ہوئے ہیں جن کے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ مسیح کے زمانے میں ہی ظاہر ہوں گے اور مسلمانوں کے امام ہوں گے۔ لیکن الفاظ کا یہ سیاق و سباق مرزا قادیانی کے لئے روک نہ ہو سکتا تھا۔ اس لئے انہوں نے یہ نظریہ پیش کر دیا کہ عیسیٰ اور امام مہدی کے منصب ان کی ذات میں جمع کر دیئے گئے ہیں۔

امتی اور غیر امتی کا تخیل مرزا قادیانی کے اپنے دعوے کی کامیابی کے ضمن میں ایک نہایت اہم مسئلہ ہے۔ مستقیم الرائے مسلمانوں کے نزدیک مسیح موعود کی پیش گوئی اس عیسیٰ ابن مریم کے نزول کے ذریعہ پوری ہوئی تھی جو اس وقت آسمان پر زندہ موجود ہے۔ مرزا قادیانی کی کامیابی کے لئے ضروری تھا کہ نزول مسیح کا عقیدہ قائم رکھتے ہوئے اس میں سے مسیح ناصری کی ذات کو ختم کر دیا جائے۔ اس بظاہر محال کارنامہ سے عہدہ برآ ہونے کے لئے مرزا قادیانی نے اپنی تصنیفات کا ایک خاصہ حصہ امتی اور غیر امتی نبوت کی بحث پر صرف کیا ہے۔

مختصراً مرزا قادیانی کی دلیل یہ ہے کہ مسیح ناصری علیہ السلام پہلے سے نبی ہیں۔ وہ محمد رسول اللہ کی امت میں داخل نہیں ہیں۔ اس لئے ان کا دوبارہ نازل ہونا عقیدہ ختم نبوت کے منافی ہے۔ لیکن اگر محمد رسول اللہ کی امت میں سے کسی کو منصب نبوت پر فائز کر دیا جائے تو اس سے ختم نبوت کے عقیدہ کو کوئی ضرر نہیں پہنچتا۔ اس دلیل کی وضاحت کے لئے بہتر صورت یہ رہے گی کہ مرزا قادیانی کی ایک کتاب ازالہ اوہام کے چند اقتباسات پیش کر دیئے جائیں: ”اگرچہ قرآن کریم کی نصوص بینہ کے سامنے حدیثوں کا ذکر کرنا ایسا ہے جیسا کہ آفتاب کے مقابل پر کرم شب تاب کو پیش کیا جائے۔ مگر پھر بھی ہمارے مخالفین کی سخت بے نصیبی ہے کہ اس قسم کی حدیثیں بھی تو نہیں ملتیں جن سے یہ ثابت ہو کہ مسیح ابن مریم سچ مچ اس جسم خاکی عنصری کے ساتھ آسمان کی طرف زندہ اٹھایا گیا۔ ہاں! اس قسم کی حدیثیں بہت ہیں کہ ابن مریم آئے گا۔ مگر یہ تو کہیں نہیں لکھا

١٤٣

صفحہ ٣٥٤

کہ وہی ابن مریم اسرائیلی نبی جس پر انجیل نازل ہوئی تھی۔ جس کو قرآن شریف مار چکا ہے۔ وہی زندہ ہو کر پھر آجائے گا۔ ہاں! یہ بھی سچ ہے کہ آنے والے مسیح کو نبی کر کے بھی بیان کیا گیا ہے۔ مگر اس کو امتی کر کے بھی تو بیان کیا گیا ہے۔ بلکہ خبر دی گئی کہ اے امتی لوگو! وہ تم میں سے ہی ہوگا اور تمہارا امام ہوگا اور نہ صرف قولی طور پر اس کا امتی ہونا ظاہر کیا بلکہ فعلی طور پر بھی دکھلا دیا کہ وہ امتی لوگوں کے موافق صرف کتاب اللہ وقال الرسول کا پیرو ہوگا اور حل مغلقات و معضلات دین نبوت سے نہیں بلکہ اجتہاد سے کرے گا اور نماز دوسروں کے پیچھے پڑھے گا۔ اب ان تمام اشارات سے ظاہر ہے کہ وہ واقعی اور حقیقی طور پر نبوت تامہ کی صفت سے متصف نہیں ہوگا۔ ہاں نبوت ناقصہ اس میں پائی جائے گی۔ جو دوسرے لفظوں میں محدثیت کہلاتی ہے اور نبوت تامہ کی شانوں میں سے ایک شان اپنے اندر رکھتی ہے۔ سو یہ بات کہ اس کو امتی بھی کہا اور نبی بھی۔ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دونوں شانیں امیت اور نبوت کی اس میں پائی جائیں گی۔ جیسا کہ محدث میں ان دونوں شانوں کا پایا جانا ضروری ہے۔ لیکن صاحب نبوت تامہ تو صرف ایک شان نبوت ہی رکھتا ہے۔ غرض محدثیت دونوں رنگوں سے رنگین ہوتی ہے۔ اسی لئے خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں بھی اس عاجز کا نام امتی بھی رکھا اور نبی بھی ....“

(ازالہ اوہام ص ٥٣١، ٥٣٣، خزائن ج ٣ ص ٣٨٥)

”اور کیوں کر ممکن تھا کہ خاتم النبیین کے بعد کوئی اور نبی اسی مفہوم تام اور کامل کے ساتھ جو نبوت تامہ کی شرائط میں سے ہے آسکتا۔ کیا یہ ضروری نہیں کہ ایسے نبی کے نبوت تامہ کے لوازم جو وحی اور نزول جبرائیل ہے۔ اس کے وجود کے ساتھ لازم ہونی چاہئے۔ کیونکہ حسب تصریح قرآن کریم رسول اسی کو کہتے ہیں۔ جس نے احکام وعقائد دین جبرائیل کے ذریعہ سے حاصل کئے ہوں۔ لیکن وحی نبوت پر تو تیرہ سو برس سے مہر لگ گئی ہے۔ کیا یہ مہر اس وقت ٹوٹ جائے گی اور اگر کہو کہ مسیح ابن مریم نبوت تامہ سے معزول کر کے بھیجا جائے گا تو اس سزا کی کوئی وجہ بھی تو ہونی چاہئے۔ بعض کہتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ بے استحقاق معبود قرار دیا گیا تھا۔ سو خدا تعالیٰ نے چاہا کہ اس کی سزا میں نبوت سے الگ کر دیا جائے اور وہ زمین پر آ کر دوسروں کے پیرو بنیں اوروں کے پیچھے نماز پڑھیں اور امام اعظم کی طرح صرف اجتہاد سے کام لیں اور حنفی الطریق ہو کر حنفی مذہب کی تائید کریں۔ لیکن یہ جواب معقول نہیں ہے۔ خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس الزام سے ان کو بری کر دیا ہے اور ان کی نبوت کو ایک دائمی نبوت قرار دیا ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٥٣٤، ٥٣٥، خزائن ج ٣ ص ٣٨٧)

جس حالت میں مسیح ابن مریم اپنے نزول کے وقت کامل طور پر امتی ہوگا تو پھر وہ باوجود

١٤٤

امتی ہونے کے کسی طرح رسول نہیں النبیین ہونا ہمارے نبی ﷺ کا کسی دوسر مسیح ابن مریم جس پر انجی لازمی امر سمجھا گیا ہے۔ کسی طرح امتی فوقتاً اس پر نازل ہوگی۔ جیسا کہ رسولو ہوا۔ تو پھر وہ امتی کیوں کر کہلائے گا کے مخالف نہیں ہوں گے تو میں کہتا ہ ظاہر ہے کہ بہت سا حصہ توریت کا قر سے ہمارے سید و مولیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ جائیں گے۔ خدا تعالیٰ قرآن کریم می بلکہ وہ مطاع اور صرف اپنی اس وحی ک ہے۔ اب یہ سیدھی بات ہے کہ جس السلام لگا تار آسمان سے وحی لانے پ وصلوٰۃ اور زکوٰۃ حج اور جمیع مسائل فقہی اللہ کہلائے گا۔ اگر یہ کہو کہ مسیح کو وحی ت پھر وحی مدت العمر تک منقطع ہو جا ہونگے۔ تو یہ طفلانہ خیال ہنسی کے لائ جائے اور صرف ایک فقرہ حضرت عیسیٰ نبوت کا منافی ہے۔ کیونکہ جب تک ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ ہے اور جو حدیثوں میں یہ تصریح بیا کے لئے وحی نبوت لانے سے منع کیا رسالت ہمارے نبی ﷺ کے بعد چ ابن مریم زندہ ہو کر پھر دنیا میں آئے اور بحیثیت رسالت آئے گا اور جبرئی گا۔ جس طرح یہ بات ممکن نہیں کہ

صفحہ ٣٥٥

ہوتی تھی۔ جس کو قرآن شریف مار چکا ہے۔ وہی نے والے مسیح کو نبی کر کے بھی بیان کیا گیا ہے۔ مگر دعویٰ کیا کہ اے امتی لوگو! وہ تم میں سے ہی ہوگا اور کا ہونا ظاہر کیا بلکہ فعلی طور پر بھی دکھلا دیا کہ وہ امتی ظاہر ہوگا اور حل مغلقات و معضلات دین نبوت اس کے پیچھے پڑھے گا۔ اب ان تمام اشارات سے صفت سے متصف نہیں ہوگا۔ ہاں نبوت ناقصہ اس ساتھ کہلاتی ہے اور نبوت تامہ کی شانوں میں سے اس کو امتی بھی کہا اور نبی بھی۔ اس بات کی طرف اس میں پائی جائیں گی۔ جیسا کہ محدث میں ان جب نبوت تامہ تو صرف ایک شان نبوت ہی رکھتا جاتی ہے۔ اسی لئے خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں

(ازالہ اوہام ص ٥٣١، ٥٣٢، خزائن ج ٣ ص ٣٨٥)

کے بعد کوئی اور نبی اسی مفہوم تام اور کامل کے بلکہ یہ ضروری نہیں کہ ایسے نبی کے ثبوت تامہ کے وجود کے ساتھ لازم ہونی چاہئے۔ کیونکہ حسب خدا نے احکام وعقائد دین جبرائیل کے ذریعہ سے اس سے مہر لگ گئی ہے۔ کیا یہ مہر اس وقت ٹوٹ سے معزول کر کے بھیجا جائے گا تو اس سزا کی کوئی وجہ وجہ یہ ہے کہ وہ بے استحقاق معبود قرار دیا گیا تھا۔ سو ہلاک کر دیا جائے اور وہ زمین پر آ کر دوسروں کے عظم کی طرح صرف اجتہاد سے کام لیں اور حنفی جواب معقول نہیں ہے۔ خدا تعالیٰ نے قرآن کریم نبوت کو ایک دائی نبوت قرار دیا ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص ٥٣٤، ٥٣٥، خزائن ج ٣ ص ٤٧٨)

نزول کے وقت کامل طور پر امتی ہوگا تو پھر وہ باوجود

١٤

امتی ہونے کے کسی طرح رسول نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ رسول اور امتی کا مفہوم متبائن ہے۔ نیز خاتم النبیین ہونا ہمارے نبی ﷺ کا کسی دوسرے نبی کے آنے سے مانع ہے۔

مسیح ابن مریم جس پر انجیل نازل ہوئی جس کے ساتھ جبرائیل کا بھی نازل ہونا ایک لازمی امر سمجھا گیا ہے۔ کسی طرح امتی نہیں بن سکتا۔ کیونکہ اس پر اس وحی کا اتباع فرض ہوگا جو وقتاً فوقتاً اس پر نازل ہوئی۔ جیسا کہ رسولوں کے شان کے لائق ہے اور جب کہ وہ اپنی ہی وحی کا متبع ہوا۔ تو پھر وہ امتی کیوں کر کہلائے گا اور اگر یہ کہو کہ جو احکام اس پر نازل ہوں گے وہ احکام قرآنیہ کے مخالف نہیں ہوں گے تو میں کہتا ہوں کہ محض اس توارد کی وجہ سے وہ امتی نہیں ٹھہر سکتا۔ صاف ظاہر ہے کہ بہت سا حصہ توریت کا قرآن کریم سے بعینہ مطابق ہے تو کیا نعوذ باللہ اس توارد کی وجہ سے ہمارے سید ومولیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت میں سے شمار کئے جائیں گے۔ خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ کوئی رسول دنیا میں مطیع اور محکوم ہو کر نہیں آتا۔ بلکہ وہ مطاع اور صرف اپنی اس وحی کا متبع ہوتا ہے جو اس پر بذریعہ جبرائیل علیہ السلام نازل ہوتی ہے۔ اب یہ سیدھی بات ہے کہ جب حضرت مسیح ابن مریم نازل ہوئے اور حضرت جبرائیل علیہ السلام لگا تار آسمان سے وحی لانے لگے اور وحی کے ذریعے سے انہیں تمام اسلامی عقائد اور صوم وصلوٰۃ اور زکوٰۃ وحج اور جمیع مسائل فقہ کے سکھلائے گئے تو پھر بہر حال یہ مجموعہ احکام دین کا کتاب اللہ کہلائے گا۔ اگر یہ کہو کہ مسیح کو وحی کے ذریعہ سے صرف اتنا کہا جائے گا کہ تو قرآن پر عمل کر اور پھر وحی مدت العمر تک منقطع ہو جائے گی اور کبھی حضرت جبرائیل علیہ السلام ان پر نازل نہیں ہونگے۔ تو یہ طفلانہ خیال ہنسی کے لائق ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر چہ ایک ہی دفعہ وحی کا نزول فرض کیا جائے اور صرف ایک فقرہ حضرت جبرائیل علیہ السلام لاویں اور پھر چپ ہو جاویں۔ یہ امر بھی ختم نبوت کا منافی ہے۔ کیونکہ جب ختمیت کی مہر ہی ٹوٹ گئی اور وحی رسالت پھر نازل ہونا برابر ہے۔ ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ صادق الوعد ہے اور جو آیت خاتم النبیین میں وعدہ دیا گیا ہے اور جو حدیثوں میں یہ تصریح بیان کیا گیا ہے کہ اب جبرائیل بعد وفات رسول اللہ ﷺ ہمیشہ کے لئے وحی نبوت لانے سے منع کیا گیا ہے۔ یہ تمام باتیں سچی اور صحیح ہیں تو پھر کوئی شخص بحیثیت رسالت ہمارے نبی ﷺ کے بعد ہرگز نہیں آ سکتا۔ لیکن اگر ہم فرض کے طور پر مان بھی لیں کہ مسیح ابن مریم زندہ ہو کر پھر دنیا میں آئے گا تو ہمیں کسی طرح اس سے انکار نہیں ہو سکتا کہ وہ رسول ہے اور بحیثیت رسالت آئے گا اور جبرائیل نزول اور کلام الہی کے اترنے کا پھر سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ جس طرح یہ بات ممکن نہیں کہ آفتاب نکلے اور اس کے ساتھ روشنی نہ ہو۔ اسی طرح ممکن نہیں

١٤٥

صفحہ ٣٥٦

کہ دنیا میں ایک رسول اصلاح خلق اللہ کے لئے آوے اور اس کے ساتھ وحی الٰہی اور جبرائیل نہ ہو۔"

(ازالہ اوہام ص ٥٧٥، ٥٧٨، خزائن ج ٣ ص ٤١٠، ٤١٢)

مرزا قادیانی کے استدلال کا کھوکھلا پن اس قدر واضح ہے کہ ہمیں اس پر کوئی طویل تنقید کرنا ضروری معلوم نہیں ہوتا۔ مسیح علیہ السلام کی بعثت ثانی پر بنیادی اعتراض جو کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ وہ نبی ہیں اور نبی کے لئے لازم ہے کہ اس پر وحی نازل ہو۔ مرزا قادیانی کے نزدیک نبوت کا مقام اور وحی کا نزول باہم لازم ملزوم ہیں اور جس طرح یہ بات ممکن نہیں کہ آفتاب نکلے اور اس کے ساتھ روشنی نہ ہو۔ اسی طرح ممکن نہیں کہ دنیا میں ایک رسول اصلاح خلق اللہ کے لئے آوے اور اس کے ساتھ وحی الٰہی اور جبرائیل نہ ہو اور محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی شخص پر وحی اور جبرائیل علیہ السلام کا نازل ہونا ختم نبوت کے منافی ہے اور اس بارے میں وحی کی مقدار سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ اگر چہ ایک ہی دفعہ وحی کا نزول فرض کیا جائے اور صرف ایک فقرہ حضرت جبرائیل علیہ السلام لاویں اور پھر چپ ہو جاویں تو یہ امر بھی ختم نبوت کے منافی ہے۔ کیونکہ جب ختمیت کی مہر ہی ٹوٹ گئی تو پھر تھوڑا یا بہت نازل ہونا برابر ہے۔ اس کے برعکس سوچنا طفلانہ خیال ہے۔ جو ہنسی کے لائق ہے۔ مرزا قادیانی کے نزدیک وحی کا مضمون بھی اس بارے میں غیر متعلق ہے۔ اگر جدید وحی قرآنی احکام کے عین مطابق ہے تو بھی بہر حال یہ منافی عقیدۂ ختم نبوت ہے۔

متذکرہ بالا موقف کی موجودگی میں مرزا قادیانی کا اپنے لئے نبوت کا دعویٰ کرنا (خواہ وہ نبوت کسی قسم کی ہی ہو) ایک انتہائی جسارت کا امر ہے۔ مرزا قادیانی کی کتب ان کی وحی نبوت سے بھری پڑی ہیں۔ ان کی وفات کے بعد ان کی وحی کے مختلف ٹکڑوں پر مشتمل ایک ضخیم کتاب ”تذکرہ“ کے نام سے شائع کی گئی ہے اور یہ بھی نہیں کہ مرزا قادیانی کی وحی قرآنی وحی سے کس طرح کم ہے۔ اس کے متعلق مرزا قادیانی نے حقیقت الوحی ص ٢١١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢٠ میں لکھا ہے۔

”میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں۔ جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں۔ اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔“

مسیح کے دوبارہ آنے پر مرزا قادیانی کو یہ اعتراض ہے کہ ان پر وحی نازل ہوگی اور اس طرح ختم نبوت کی مہر ٹوٹ جائے گی۔ مسیح کی صورت میں وحی کے نزول کا خدشہ محض ایک منطقی

١٤٦

قیاس پر مبنی ہے۔ یعنی یہ کہ چونکہ وہ مرزا قادیانی کی ذات میں یہ بات م قائم ہے۔ مرزا قادیانی کی اپنی دیکھ مناسب تھا۔ کیونکہ ان کی صورت می کے لئے وحی ضروری ہے۔ لیکن نبی کی کی پہلی زمینی زندگی کے دوران وہ و حاصل کرنے کا سوال ہے وہ ہو چکا ختم نبوت کی مہر مرزا قادیانی کے خیا

یہاں مولوی محمد علی کی ایک مرشد کے ایک نہ ہارنے والے معت مرزا قادیانی ختم نبوت کے منافی ک کے نازل ہونے سے ختم نبوت پر کوئی نبوت ہے۔ ہمارے خیال میں وحی ( ہے۔ ہمارے اس عقیدہ کے لئے یہ قر یوحٰی الیّٰ“

لیکن چونکہ اس بارے می ہے اور مرزا قادیانی نے بھی دیگر مقاب جب مرزا قادیانی مسیح کی بعثت ثانی ک ہی ہے۔ لیکن اہم نکتہ جو مولوی محمد علی صا وحی نبوت سے مراد صرف وہ وحی ہے ج پہنچائی جائے۔ اپنی کتاب ”النبوۃ فی بحث کی ہے۔ مولوی صاحب اور ان ب اس عقیدہ کی تائید میں مولوی صاحب نبی پر وحی بذریعہ جبرائیل پہنچتی ہے ا السلام کے علاوہ کسی دیگر ذریعہ سے مرزا قادیانی پر وحی نازل ہوتی تھی۔ م

صفحہ ٣٥٧

قیاس پر مبنی ہے۔ یعنی یہ کہ چونکہ وہ نبی ہیں۔ اس لئے ان پر وحی کا نازل ہونا لازمی ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کی ذات میں یہ بات عملاً واقع ہو چکی ہے اور اس کے باوجود ختم نبوت کی مہر اپنی جگہ پر قائم ہے۔ مرزا قادیانی کی اپنی دلیل کے مطابق تو مسیح ناصری کا دوبارہ مبعوث کیا جانا زیادہ مناسب تھا۔ کیونکہ ان کی صورت میں وحی کا نہ نزول ہونا خارج از امکان نہیں ہے۔ بے شک نبی کے لئے وحی ضروری ہے۔ لیکن نبی کی تمام زندگی میں اس کا تواتر ضروری نہیں ہے۔ مسیح علیہ السلام کی پہلی زمینی زندگی کے دوران وہ وحی سے مشرف ہو چکے ہیں۔ اس لئے جہاں تک نبوت کا مقام حاصل کرنے کا سوال ہے وہ ہو چکا۔ اب دوسرے دور میں ان پر وحی نازل نہ ہوگی اور اس طرح ختم نبوت کی مہر مرزا قادیانی کے خیال کے مطابق ٹوٹنے سے بچ جائے گی۔

یہاں مولوی محمد علی کی ایک دلیل کا ذکر کر دینا بھی مناسب ہوگا۔ مولوی صاحب اپنے مرشد کے ایک نہ ہارنے والے معذرت خواہ ہیں۔ اوپر کے حوالوں سے ظاہر ہوگا کہ جس چیز کو مرزا قادیانی ختم نبوت کے منافی سمجھتے ہیں۔ وہ وحی ہے لیکن مولوی صاحب کے نزدیک محض وحی کے نازل ہونے سے ختم نبوت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ جو چیز مسدود ہو گئی ہے وہ محض وحی نہیں بلکہ وحی نبوت ہے۔ ہمارے خیال میں وحی (جو انسان پر نازل ہوتی ہے) کی یہ تقسیم ہی سرے سے ناجائز ہے۔ ہمارے اس عقیدہ کے لئے یہ قرآنی آیت کافی دلیل ہے۔ " قل انما انا بشر مثلکم یوحیٰ الی“

لیکن چونکہ اس بارے میں عام مسلمانوں کا عقیدہ یہی ہے کہ وحی انبیاء تک محدود نہیں ہے اور مرزا قادیانی نے بھی دیگر مقامات پر یہی خیال ظاہر کیا ہے۔ اس لئے ہم یہ مان لیتے ہیں کہ جب مرزا قادیانی مسیح کی بعثت ثانی کے ضمن میں وحی کا ذکر کر رہے ہیں تو ان کی مراد وحی نبوت سے ہی ہے۔ لیکن اہم نکتہ جو مولوی محمد علی صاحب نے پیش کیا ہے۔ اس سے آگے ہے۔ ان کے نزول وحی نبوت سے مراد صرف وہ وحی ہے جو نہ صرف نبی پر نازل ہو بلکہ جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے پہنچائی جائے۔ اپنی کتاب ”النبوۃ فی الاسلام“ میں مولوی صاحب نے اس موضوع پر ایک مفصل بحث کی ہے۔ مولوی صاحب اور ان کے رفقاء کا مذہب یہ ہے کہ مرزا قادیانی مدعی نبوت نہ تھے۔ اس عقیدہ کی تائید میں مولوی صاحب نے نبی کی خصوصیات میں ایک اہم بات یہ بیان کی ہے کہ نبی پر وحی بذریعہ جبرائیل پہنچتی ہے اور یہ بات نبی سے مختص ہے اور غیر نبی کی وحی جبرائیل علیہ السلام کے علاوہ کسی دیگر ذریعہ سے پہنچائی جاتی ہے۔ مولوی صاحب کا ادعا ہے کہ بلاشبہ مرزا قادیانی پر وحی نازل ہوتی تھی۔ لیکن چونکہ یہ وحی بذریعہ جبرائیل علیہ السلام نہ آتی تھی۔ اس

١٤٧

صفحہ ٣٥٨

لئے مرزا قادیانی حقیقی نبی نہ تھے۔ یہاں یہ وضاحت بھی مناسب ہے کہ مولوی صاحب کے نزدیک کسی شخص کو نبوت کے مقام پر کھڑا کرنے کے لئے جس طرح محض وحی کافی نہیں۔ اسی طرح تنہا جبرائیل علیہ السلام کا اس شخص کے پاس آنا بھی ناکافی ہے۔ ہمیں خیال تھا کہ جبرائیل علیہ السلام فرشتہ کا کام ہی وحی پہنچانا ہے۔ لیکن مولوی صاحب کی رائے اس کے برعکس ہے اور انہوں نے ایک سے زیادہ روایات اس امر کی شہادت میں پیش کی ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام کا بغیر وحی کے بھی انسانوں کے پاس آنا ثابت ہے۔ لیکن جو چیز نبی کو غیر نبی سے قطعی طور سے جدا کرتی ہے وہ نزول وحی بذریعہ جبرائیل علیہ السلام ہے۔ کوئی غیر نبی اس صفت میں نبی کے ساتھ شریک نہیں ہوسکتا اور بدوں اس صفت کے حاصل ہونے کے کوئی شخص حقیقی معنوں میں نبی نہیں ہوسکتا۔

اپنے اس مؤقف کی تائید میں مرزا قادیانی کی کتب سے بعض حوالے پیش کرنے کے بعد مولوی صاحب لکھتے ہیں: ”یہ حوالے اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں کہ نبی اور غیر نبی یا نبی اور امتی کے درمیان حد فاصل یا کھلا کھلا امتیاز یہ ہے کہ نبی پر وحی بہ نزول جبرائیل علیہ السلام آنی لازمی ہے۔ جب تک جبرائیل علیہ السلام اس پر وحی لے کر نہ آئے وہ نبی نہیں ہوسکتا اور غیر نبی یا امتی پر جبرائیل السلام کا وحی لانا بالکل ممتنع ہے۔ اسی لئے ختم نبوت کے ساتھ باب نزول جبرائیل بہ پیرایہ وحی رسالت ونبوت بھی ہمیشہ کے لئے مسدود کیا گیا۔“

(النبوۃ فی الاسلام ص ٣٠)

مولوی صاحب نے یہ تمام بحث اس یقین کے ساتھ کی ہے کہ مرزا قادیانی نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ ان پر وحی بذریعہ جبرائیل علیہ السلام نازل ہوتی تھی۔ ہمیں مرزا قادیانی کی ایک ہی کتاب (حقیقت الوحی ص ١٠٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٦) کی معمولی ورق گردانی سے معلوم ہو گیا کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ یہ ہے کہ ان کے پاس جبرائیل علیہ السلام فرشتہ وحی لے کر آیا تھا۔ اس کتاب میں اپنے مکذبین بالخصوص اپنے ایک سابق مرید ڈاکٹر عبدالحکیم خان کو مباہلہ کا چیلنج دیتے ہوئے مرزا قادیانی نے اپنی وحی کے چند نمونے درج کئے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے: ”وقالوا انی لک ھذا قل ھو اللہ عجیب ۔ جاء نی ایل واختار وادار اصابعہ واشار ان وعداللہ اتی ۔ فطوبی لمن وجد ورای الامراض تشاع والنفوس تضاع“

مرزا قادیانی کے اپنے الفاظ میں اس عبارت کا اردو ترجمہ حسب ذیل ہے: ”اور کہیں گے کہ تجھے یہ مرتبہ کہاں سے حاصل ہوا۔ کہہ خدا ذوالعجائب ہے۔ میرے پاس آئیل آیا اور اس نے مجھے چن لیا اور اپنی انگلی کو گردش دی اور یہ اشارہ کیا کہ خدا کا وعدہ آ گیا۔ پس مبارک وہ جو اس کو پاوے اور دیکھے۔ طرح طرح کی بیماریاں پھیل جائیں گی اور کئی آفتوں

١٤٨

صفحہ ٣٥٩

وضاحت بھی مناسب ہے کہ مولوی صاحب کے دعوے کے لئے جس طرح محض وحی کافی نہیں۔ اسی طرح الہام بھی ناکافی ہے۔ ہمیں خیال تھا کہ جبرائیل علیہ السلام کی نسبت مولوی صاحب کی رائے اس کے برعکس ہے اور انہوں نے یہ دلیلیں پیش کی ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام کا بغیر وحی کے آنا جو چیز نبی کو غیر نبی سے قطعی طور سے جدا کرتی ہے وہ ہے اور غیر نبی اس صفت میں نبی کے ساتھ شریک نہیں اور کوئی شخص حقیقی معنوں میں نبی نہیں ہو سکتا۔ مرزا قادیانی کی کتب سے بعض حوالے پیش کرنے کے نبوت کے ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں کہ نبی اور کھلا امتیاز یہ ہے کہ نبی پر وحی بہ نزول جبرائیل علیہ السلام اس پر وحی لے کر نہ آئے وہ نبی نہیں ہو سکتا اور نہ نبی ہوتا ہے۔ اس لئے ختم نبوت کے ساتھ باب نزول جبرائیل نبی کے لئے مسدود کیا گیا ۔“

(النبوۃ فی الاسلام ص ٣٠)

یہ بات یقین کے ساتھ کہی گئی ہے کہ مرزا قادیانی نے یہ دعویٰ کبھی نہیں کیا کہ مجھ پر وحی نازل ہوتی تھی۔ ہمیں مرزا قادیانی کی ایک ہی کتاب حقیقۃ الوحی کی معمولی ورق گردانی سے معلوم ہو گیا کہ اس پر جبرائیل علیہ السلام فرشتہ وحی لے کر آیا تھا۔ اس کتاب میں وہ ڈاکٹر عبدالحکیم خان کو مباہلہ کا چیلنج دیتے ہوئے درج ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے: "وقالوا انی جاء نی آیل واختار وادار اصابعه واشار ان الامراض تشاع والنفوس تضاع" اس عبارت کا اردو ترجمہ حسب ذیل ہے۔ ”اور انہوں نے کہا کہ خدا ذوالعجائب ہے۔ میرے پاس آئیل آیا۔ یعنی ہادی اور یہ اشارہ کیا کہ خدا کا وعدہ آ گیا۔ پس اسی طرح کی بیماریاں پھیل جائیں گی اور کئی آفتوں

سے جانوں کا نقصان ہوگا۔“

یہ ترجمہ لکھنے کے بعد مرزا قادیانی نے (حاشیہ حقیقت الوحی ص ١٠٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٦) میں ایک تشریحی نوٹ لکھا ہے جو یہ ہے: ”اس جگہ آئیل خدا تعالیٰ نے جبرائیل علیہ السلام کا نام رکھا ہے۔ اس لئے کہ بار بار رجوع کرتا ہے۔“

اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ اگر مولوی صاحب کا سابق الذکر معیار درست ہے تو مرزا قادیانی حقیقی اور مکمل نبوت کے مدعی تھے۔ چونکہ مرزا قادیانی کا یہ الہام مولوی صاحب کے موقف کی نہایت واضح تردید ہے۔ اس لئے مولوی صاحب اس کو بالکل نظر انداز نہ کر سکتے تھے۔ اس لئے انہوں نے اس الہام کا ذکر اپنی کتاب میں کیا ہے اور اس سے پیدا ہونے والے اعتراض کا جواب دیا ہے جو مولوی صاحب کے الفاظ میں یہ ہے: ”سب سے پہلا امتیازی نشان وحی نبوت اور وحی ولایت میں ہم نے یہ قائم کیا تھا کہ وحی نبوت حضرت جبرائیل علیہ السلام لاتے ہیں تو اس لئے سب سے پہلے یہ دیکھیں گے کہ آیا حضرت مسیح موعود نے کہیں لکھا ہے کہ مجھ پر حضرت جبرائیل علیہ السلام وحی لاتے ہیں۔ اس کے متعلق یہ الہام پیش کیا جاتا ہے۔ ”جاء نی آئیل“ یعنی آئیل میرے پاس آیا اور آئیل کے معنی حضرت صاحب نے جبرائیل کئے ہیں تو الہام کے معنی ہوئے جبرائیل میرے پاس آیا۔ لیکن جیسا کہ ہم اس امتیاز کو قائم رکھتے ہوئے دکھا چکے ہیں۔ جبرائیل کا مؤمنوں کی تائید کے لئے آنا ثابت ہے اور یہاں صرف جبرائیل کے آنے کا ذکر ہے۔ یہ ذکر نہیں کہ وہ وحی لے کر آیا۔ پس ہم اس الہام کے وہ معنی کریں گے جو اس کے ظاہر الفاظ چاہتے ہیں اور اپنی طرف سے یہ بڑھانا کہ جبرائیل آپ پر وحی لے کر آئے۔ اصول دین کا ابطال ہے۔ الہام میں وحی لانے کا ذکر نہیں۔ اصولاً آنحضرت ﷺ کے بعد جبرائیل کا وحی لے کر آنا ممنوع ہے۔ پس ہمیں کیا حق ہے کہ ایسے الفاظ الہام میں بڑھائیں جن سے اصول دین کا ابطال ہوتا ہو۔“

(النبوۃ فی الاسلام)

اس کے جواب میں ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ قارئین دوبارہ اس الہامی عبارت کی طرف رجوع کریں۔ جس میں جبرائیل کے مرزا قادیانی کے پاس آنے کا ذکر ہے۔ وہاں واضح طور پر وہ وحی بھی درج ہے جو یہ فرشتہ لے کر آیا۔

ہمارے خیال میں مولوی صاحب کے لئے یہ تاویل زیادہ بہتر رہتی کہ گو مرزا قادیانی کے پاس جبرائیل آتا تھا اور وحی بھی لاتا تھا۔ لیکن چونکہ وہ اپنے اصل نام کی بجائے آئیل کے نام یا لقب کے ساتھ نازل ہوتا تھا۔ اس لئے یہ وحی نبوت نہیں کہلا سکتی اور مہر ختم نبوت قائم رہتی ہے۔

١٤٩

صفحہ ٣٦٠

مولوی صاحب نے امتی اور نبی کے درمیان ایک دوسرا امتیاز دونوں کی وحی کے مقام کو ملحوظ رکھ کر قائم کیا ہے۔ جہاں تک وحی کے یقینی ہونے کا سوال ہے۔ پہلے لکھا جا چکا ہے کہ مرزا قادیانی نے نہایت واضح الفاظ میں اپنے الہام کو قرآنی وحی کے برابر درجہ دیا ہے۔ اس لئے مولوی صاحب کے لئے یہ ممکن نہ تھا کہ وحی کے اس پہلو سے مرزا قادیانی کے غیر نبی ہونے کی نسبت کوئی دلیل قائم کر سکتے نبی اور امتی کی وحی میں جو فرق مولوی صاحب نے بیان کیا ہے وہ یہ ہے۔ ”رسول یا نبی اولاً اور بالذات صرف اپنی وحی کا پیرو ہوتا ہے اور دوسری وحیوں کو اگر مانتا ہے تو اس لئے مانتا ہے کہ اس کی وحی اس کا ماننا ضروری ٹھہراتی ہے اور غیر نبی اولاً اور بالذات کسی دوسری وحی کا مانتا ہے اور اسی کا پیرو ہوتا ہے اور اپنی وحی کو اگر مانتا ہے تو اس لئے کہ وہ دوسری وحی کے جس کا وہ متبع ہے خلاف نہیں۔ بالفاظ دیگر رسول دوسرے کا مطیع نہیں ہوتا۔ بلکہ اپنی وحی کا مطیع ہوتا ہے۔ امتی کسی رسول کی وحی کا مطیع ہوتا ہے۔“ (النبوۃ فی الاسلام ص٤٣) ”امتی باوجود اس وحی کے پانے کے جو کئی طور پر نبی کی وحی سے مشابہت رکھتی ہے۔ کبھی حقیقی طور پر نبی کہلانے کا مستحق نہیں ہوتا اور باوجود اس کے کہ وہ یقینی اور قطعی وحی من جانب اللہ پاتا ہے اس کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ حقیقی طور پر پیروی صرف اپنے نبی متبوع کی وحی کے کرنے والا ہو۔“ (النبوۃ فی الاسلام ص٤٥)

”وحی کے مقام میں اس فرق کا اثر متبعین پر بھی پڑتا ہے۔ اس فرق کو مولوی صاحب نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔ ”ہر ایک رسول کے متبعین کو حکم ہوتا ہے کہ وہ اپنے نبی متبوع کی وحی اور اس کی ہدایات اور ارشادات کی پیروی کریں۔ (لیکن) امتی کا کام سوائے اس کے کچھ نہیں کہ وہ اپنے نبی متبوع کی وحی کی طرف لوگوں کو بلائے۔“ (النبوۃ فی الاسلام ص٤٤) (نیز) نبی اپنی وحی کو کسی دوسری وحی پر پیش نہیں کرتا۔ مگر امتی کے لئے لازمی ہے کہ جب تک وہ اپنی وحی کو اپنے نبی متبوع کی وحی پر پیش نہ کرے۔ اس وقت تک اُسے قبول نہ کرے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی کی وحی کے لئے اللہ تعالیٰ خاص سامان حفاظت کا فرماتا ہے...... کیونکہ اس وحی سے لوگوں کی ہدایت وابستہ ہوتی ہے۔ اس لئے نبی جو وحی اس طرح پر پاتا ہے۔ وہ چونکہ یقیناً ہر قسم کی غلطی سے مبرا ہوتی ہے اور خاص پہرا اور حفاظت میں اتاری جاتی ہے۔ اس لئے اپنی وحی کسی پہلی کتاب پر پیش نہیں کی جاتی۔ بلکہ جو کچھ اس وحی میں ہوگا وہ سب ٹھیک اور درست ہوگا......... غیر نبی بعض بے شک ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو یقینی اور قطعی طور پر سچی وحی پاتے ہیں۔ مگر چونکہ ان کی وحیاں بطور فرع کے ہوتی ہیں اور اس قدر پہرا اور حفاظت کا اہتمام ان کی صورت میں نہیں ہوتا۔ کیونکہ اس کے اوپر ہدایت کا انحصار نہیں ہے۔ اس لئے غیر نبی کی وحی کو گو وہ قطعی اور یقینی بھی ہو۔ یہ مرتبہ حاصل نہیں

١٥٠

بلکہ غیر نبی کی وحی اگر اپنے نبی متبوع خلاف ہوگی تو غیر نبی کی اس وحی ا اور) امتیازی نشان رسول اور امتی کی و ہے۔ یعنی خود وہ وحی اپنے اندر لوگو ہوتی ہے اور چونکہ اس وقت اس وحی جب اللہ تعالیٰ نے اس وحی کو ایک حفاظت سے پہنچایا ہے۔ اس کی اطا فرض ہوتا ہے کہ وہ اس ایک ایک ک اور اس کی اشاعت کردے۔...... اور امر ونواہی کے معاملے میں شر اس لئے اس کو یہ حکم نہیں ہوتا کہ تم ا اوپر کا اقتباس جس پر ا دونوں فریقوں کا خاصہ ہے اور یہیں سے ہمیں ان سے اس سے زیادہ کا

مختصراً مولوی صاحب کے متبعین اس کی پیروی بغیر کسی تحقیقات اور امتحان کی محتاج نہی اوّل تو یہ بات ہی عجیب معلوم ہو طرح کی تفریق روا رکھے، خا ہے۔ اگر یہ کام خدا کے سپرد قدرت کو بروئے کار نہ لانے کی اپنے موقف کی خود ہی تردید کر د لوگ بھی ہوتے ہیں جو یقینی او مولوی صاحب کے لئے اس کے خدا کی قسم کھا کر کہا ہے کہ وہ ا قرآن کو اس لئے جہاں تک جملا

صفحہ ٣٦١

ایک دوسرا امتیاز دونوں کی وحی کے مقام کو نے کا سوال ہے۔ پہلے لکھا جا چکا ہے کہ آئی وحی کے برابر درجہ دیا ہے۔ اس لئے علاوہ سے مرزا قادیانی کے غیر نبی ہونے کی فرق مولوی صاحب نے بیان کیا ہے وہ یہ ہوتا ہے اور دوسری وحیوں کو اگر مانتا ہے تو ہے اور غیر نبی اولاً اور بالذات کسی دوسری ہے تو اس لئے کہ وہ دوسری وحی کے جس مطیع نہیں ہوتا۔ بلکہ اپنی وحی کا مطیع ہوتا الاسلام ص٤٤) ”امتی باوجود اس وحی کے کبھی حقیقی طور پر نبی کہلانے کا مستحق نہیں اللہ پاتا ہے اس کے لئے ضروری ہوتا ہے کرنے والا ہو ۔“ (النبوۃ فی الاسلام ص ٤٥) بھی پڑتا ہے۔ اس فرق کو مولوی صاحب کا حکم ہوتا ہے کہ وہ اپنے نبی متبوع کی وحی ) امتی کا کام سوائے اس کے کچھ نہیں کہ النبوۃ فی الاسلام ص٤٤) (نیز) نبی اپنی وحی کو کیا ہے کہ جب تک وہ اپنی وحی کو اپنے نبی نہ کرے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی کی وحی کیونکہ اس وحی سے لوگوں کی ہدایت وابستہ نکہ یقیناً ہر قسم کی غلطی سے مبرا ہوتی ہے نے اپنی وحی کسی پہلی کتاب پر پیش نہیں کی ت ہوگا ........ غیر نبی بعض بے شک تے ہیں۔ مگر چونکہ ان کی وحیاں بطور فرع صورت میں نہیں ہوتا۔ کیونکہ اس کے اوپر قطعی اور یقینی بھی ہو۔ یہ مرتبہ حاصل نہیں بلکہ غیر نبی کی وحی اگر اپنے نبی متبوع کی وحی متلو یعنی کتاب یا وحی خفی یعنی حدیث اور سنت کے خلاف ہوگی تو غیر نبی کی اس وحی کو ترک کرنا پڑے گا۔ (النبوۃ فی الاسلام ص٤٩، ٥٠) (ایک اور ) امتیازی نشان رسول اور امتی کی وحی کا یہ ہے کہ چونکہ رسول کی وحی ہدایت خلق کے لئے ہوتی ہے۔ یعنی خود وہ وحی اپنے اندر لوگوں کے لئے ہدایت رکھتی ہے اور چونکہ اس وحی کی خاص حفاظت ہوتی ہے اور چونکہ اس وقت اس وحی کو دوسری سب وحیوں پر مقدم کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس لئے جب اللہ تعالیٰ نے اس وحی کو ایک خاص غرض کے پورا کرنے کے لئے بھیجا ہے اس کو خاص حفاظت سے پہنچایا ہے۔ اس کی اطاعت کو سب سے زیادہ ضروری قرار دیا ہے۔ پس رسول پر بھی فرض ہوتا ہے کہ وہ اس ایک ایک کلمہ کو جو اس طرح سے اس پر نازل ہوا ہے لوگوں تک پہنچا دے اور اس کی اشاعت کر دے...... یہ خصوصیت صرف رسولوں کے ساتھ ہے ...... مگر امتی چونکہ ہدایت اور امر ونواہی کے معاملے میں شریعت کی تفصیلات میں اپنے نبی متبوع کی وحی کا محتاج ہوتا ہے۔ اس لئے اس کو یہ حکم نہیں ہوتا کہ تم اپنی وحی کو پورا پورا لوگوں تک پہنچاؤ۔‘‘ (النبوۃ فی الاسلام ص ٦١)

اوپر کا اقتباس جس پراگندہ خیالی اور تضاد بیانی سے بھرا پڑا ہے وہ احمدیہ جماعت کے دونوں فریقوں کا خاصہ ہے اور ہمیں اس پر کوئی تعجب نہیں۔ البتہ مولوی صاحب کے علمی مقام کی وجہ سے ہمیں ان سے اس سے زیادہ کامیاب تاویل کی توقع تھی۔

مختصراً مولوی صاحب کے نزدیک صرف نبی کی وحی اس لائق ہوتی ہے کہ خود ملہم اور اس کے متبعین اس کی پیروی بغیر کسی مزید تحقیق کے کریں۔ یہ وحی اپنی صحت کے بارے میں کسی تحقیقات اور امتحان کی محتاج نہیں ہوتی۔ کیونکہ اس وحی کی حفاظت کا خاص انتظام کیا جاتا ہے۔

اوّل تو یہ بات ہی عجیب معلوم ہوتی ہے کہ وحی نازل کرنے والی ہستی نبی اور غیر نبی کی وحی میں اس طرح کی تفریق روا رکھے۔ حفاظت کا انتظام اس شخص کو تو کرنا نہیں۔ جس پر کہ وحی نازل ہو رہی ہے۔ اگر یہ کام خدا کے سپرد ہی ہے تو اسے ہر وحی کی مکمل حفاظت پر قدرت حاصل ہے اور اس قدرت کو بروئے کار نہ لانے کی کوئی حکمت بیان نہیں کی گئی۔ اسی حوالہ میں مولوی صاحب نے اپنے موقف کی خود ہی تردید کر دی ہے۔ کیونکہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ غیر نبی بعض بے شک ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو یقینی اور قطعی طور پر سچی وحی پاتے ہیں۔ ان بعض اشخاص کی گنجائش نکالنا مولوی صاحب کے لئے اس لئے ضروری تھا کہ وہ جانتے تھے کہ مرزا قادیانی نے اپنی وحی کی نسبت خدا کی قسم کھا کر کہا ہے کہ وہ اسے اسی طرح خدا کا قطعی اور یقینی کلام جانتے ہیں۔ جس طرح کہ قرآن کو اس لئے جہاں تک عملاً کلام کے غلطی سے پاک ہونے کا سوال ہے۔ مرزا قادیانی کی وحی

١٥١

صفحہ ٣٦٢

عالمی سیرت کانفرنس عالمی سیرت کانفرنس کی روئداد پیش مقالا مقالہ جات و خط مسائل سیرت کا نے سیرت مطہرہ پر ایک طائرانہ عالمی سیرت کا

اور دیگر انبیاء کی وحی میں کوئی فرق نہیں ہے۔ لیکن اوپر کے حوالہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ مولوی صاحب نے اپنے نظریہ کو اس اعتراض سے بچانے کے لئے ایک نہایت باریک نکتہ پیدا کیا ہے۔ ان کے نزدیک چونکہ غیر نبی کی وحی بطور فرع کے ہوتی ہے اور اس قدر پہرا اور حفاظت کا اہتمام ان کی صورت میں نہیں ہوتا۔ اس لئے غیر نبی کی وحی کو گو وہ قطعی اور یقینی بھی ہو۔ یہ مرتبہ حاصل نہیں کہ اس کی اتباع کی جائے۔ جہاں تک ہمیں معلوم ہے پہرا کے اہتمام کی اصطلاح مولوی صاحب کی اپنی ایجاد ہے۔ یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ وحی کے نازل ہونے کے عمل میں کس ذریعہ سے گڑ بڑ پیدا ہونے کا احتمال ہوتا ہے۔ جس کے خلاف پہرا کا اہتمام کیا جاتا ہے اور یہ کیا اہتمام ہوتا ہے اور کون کرتا ہے۔ بہر حال جو نتیجہ مولوی صاحب کے استدلال سے نکلتا ہے وہ یہ ہے کہ غیر نبی کے لئے صرف اس وجہ سے اپنی وحی کی پیروی ضروری نہیں کہ اس وحی کی حفاظت کے لئے پہرا کا اہتمام نہیں کیا گیا۔ ویسے حفاظت اس کی بھی ہو گئی ہے اور حقیقت میں یہ بھی اتنی ہی یقینی اور غلطی سے پاک ہے۔ جتنی کہ وہ وحی جس کی حفاظت کے لئے پہرا کا اہتمام کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ محض انتظام بھی کافی نہیں۔ اہتمام ہونا چاہیئے جس میں پر تکلف تیاری اور ظاہری شان وشکوہ کا پہلو ہے۔

مرزا قادیانی کو غیر نبی ثابت کرنے کے لئے مولوی صاحب نے جو دیگر امتیازی امور بیان کئے ہیں۔ وہ بھی اسی طرح بے بنیاد اور خلافِ واقع ہیں۔ مثلاً مرزا قادیانی کے متعلق یہ درست نہیں ہے کہ انہوں نے محض اپنے نبی متبوع (محمد رسول اللہ ﷺ) کی وحی کی طرف لوگوں کو بلایا ہے اور اپنی وحی پر ایمان لانے کی دعوت نہیں دی۔ مولوی صاحب مرزا قادیانی کی ان متعدد تحریروں سے بے خبر نہیں ہو سکتے تھے۔ جن میں کہ انہوں نے نہایت واضح طور پر لوگوں کو اپنی وحی پر ایمان لانے کے لئے کہا ہے۔ ایمان کی صورت میں انعامات کی بشارت دی ہے اور انکار پر ہر طرح کے عذاب سے ڈرایا ہے۔ اسی طرح مرزا قادیانی کے متعلق یہ بھی درست نہیں ہے کہ ان کو یہ علم نہیں تھا کہ تم اپنی وحی کو پورا پورا لوگوں تک پہنچاؤ۔ اس کے متعلق مرزا قادیانی کا یہ الہام نقل کر دینا کافی ہے۔ ”وبشر الذین امنوا ان لهم قدم صدق عند ربهم (تذکرہ ص ٥٦) واتل عليهم ما اوحی الیک من ربك (تذکرہ ص ٥٦)“

اور جس صورت میں مرزا قادیانی نے اپنی وحی کو اپنے نبی متبوع کی وحی پر پیش کیا ہے اس کی مثالیں دوسرے ابواب میں بیان ہو چکی ہیں۔ مولوی صاحب کے نزدیک نبی متبوع کی وحی نہ صرف قرآن بلکہ حدیث اور سنت بھی شامل ہے اور اس معیار کے مطابق مرزا قادیانی کا فرض تھا کہ وہ اپنی وحی کو قبول کرنے سے پہلے اس کا موازنہ قرآن اور حدیث سے کرتے۔ اگر یہ ان کے

١٥٢

مطابق ہوتی تو اسے قبول کرتے وگرنہ متبوع یعنی کتاب یا وحی خفی یعنی حدیث اور گا۔ جو مثالیں اس کتاب میں بیان ہو مولوی صاحب کے معیار کے مطابق قرآن اور حدیث پر نہیں پرکھا بلکہ اپنی ہے۔ قرآنی عبارت کے الفاظ کو تو انہو سے ہوتا تھا۔ وہاں انہوں نے قرآن کے اپنی وحی کے مطابق بنانے کی کوشش کی ہے آزادی برتی ہے جو حدیث ان کی وحی کے متفق علیہ ہو۔ اس کے برعکس جس روایت اسے مرزا قادیانی نے منظور کر لیا ہے۔ خواہ

مولوی صاحب نے ایک وضاحت کرنا ہے کہ کس طرح غیر نبی کو ”غیر نبی خود بھی اپنی ہر ایک وحی کو اپنے نبی اپنے نبی متبوع کی وحی کے خلاف پائے تو جیسا کہ حضرت سید عبدالقادر جیلانی کے حو کہ غیب سے یہ آواز آ رہی ہے کہ اے عبد تکالیف شرعی میں پڑنے کی ضرورت نہیں ر ہو جا۔ میں جانتا ہوں کہ یہ بات من جان کہ علم نے تجھے میرے مکر سے بچا لی

کیا اچھا ہوتا اگر مرزا قادیانی میں ان کی بیشتر وحی رد کرنے کے قابل تھی مرزا قادیانی کو اپنی وہ وحی بلا تامل رد کر دینی سے پکارا گیا تھا۔ اگر وہ ایسا کرتے تو ہمارے

مولوی محمد علی صاحب کا اپنے م کرنا خود اپنی ذات میں ایک دلچسپ معاملہ

صفحہ ٣٦٣

مطابق ہوتی تو اسے قبول کرتے وگرنہ رد کر دیتے۔ کیونکہ غیر نبی کی وحی اگر اپنے نبی متبوع کی وحی متلو یعنی کتاب یا وحی خفی یعنی حدیث اور سنت کے خلاف ہوگی تو غیر نبی کی اس وحی کو ترک کرنا پڑے گا۔ جو مثالیں اس کتاب میں بیان ہوچکی ہیں۔ ان سے ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کا عمل نہ صرف مولوی صاحب کے معیار کے مطابق نہ تھا بلکہ اس کے بالکل برعکس تھا۔ انہوں نے اپنی وحی کو قرآن اور حدیث پر نہیں پرکھا بلکہ اپنی وحی کو مقدم رکھ کر قرآن اور حدیث کو اس پر پیش کیا ہے۔ قرآنی عبارت کے الفاظ کو تو انہوں نے رد نہیں کیا۔ لیکن جہاں قرآن کا تصادم ان کی وحی سے ہوتا تھا۔ وہاں انہوں نے قرآن کے اصل مفہوم کو رد کردیا ہے اور الفاظ کو غلط معنی دے کر انہیں اپنی وحی کے مطابق بنانے کی کوشش کی ہے۔ وحی غیر متلو یعنی حدیث کے ساتھ انہوں نے اس زیادہ آزادی برتی ہے جو حدیث ان کی وحی کے خلاف تھی اسے بلا تردد رد کر دیا ہے۔ خواہ اس کا صحیح ہونا متفق علیہ ہو۔ اس کے برعکس جس روایت سے مرزا قادیانی کے کسی دعویٰ کی تائید کا پہلو نکلتا ہو۔ اسے مرزا قادیانی نے منظور کر لیا ہے۔ خواہ وہ کتنی ہی ضعیف ہو۔

مولوی صاحب نے ایک مثال بھی پیش کی ہے۔ جس سے ان کی مراد اس امر کی وضاحت کرنا ہے کہ کس طرح غیر نبی کو اپنی وحی بغیر پرکھے کے قبول نہ کرنی چاہئے۔ لکھتے ہیں: "غیر نبی خود بھی اپنی ہر ایک وحی کو اپنے نبی متبوع کی وحی پر پیش کرے گا۔ پھر اگر اس میں کوئی بات اپنے نبی متبوع کی وحی کے خلاف پائے تو اسے ترک کرے گا اور نبی متبوع کی بات کو سچ مانے گا۔ جیسا کہ حضرت سید عبدالقادر جیلانیؒ کے تذکرہ میں لکھا ہے کہ ایک دفعہ آپ کو خواب میں دکھایا گیا کہ غیب سے یہ آواز آ رہی ہے کہ اے عبدالقادر ہم تم سے خوش ہو گئے ہیں۔ اب تجھے نماز ، روزہ تکالیف شرعی میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ تو اس بندۂ خدا نے جواب میں کہا کہ اے شیطان تو دور ہو جا۔ میں جانتا ہوں کہ یہ بات من جانب اللہ نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ جس تکلیف کے ماتحت خود نبی کریم ﷺ تھے دوسرا اس سے کیونکر آزاد ہو سکتا ہے۔"

(النبوۃ فی الاسلام ص٥١، ٥٠ طبع ١٩١٥ء)

کیا اچھا ہوتا اگر مرزا قادیانی بھی اپنی وحی کی نسبت ایسا ہی عمل کرتے۔ اس صورت میں ان کی پیشتر وحی رد کرنے کے قابل تھی۔ بہر حال قرآن میں آیت ختم نبوت کی موجودگی میں مرزا قادیانی کو اپنی وہ وحی بلا تامل رد کر دینی چاہئے تھی جس میں کہ انہیں نبی اور رسول کے ناموں سے پکارا گیا تھا۔ اگر وہ ایسا کرتے تو ہمارے خیال میں ان پر وحی کا سلسلہ ہی بند ہو جاتا۔

مولوی محمد علی صاحب کا اپنے موقف کے لئے سید عبدالقادرؒ کے متذکرہ واقعہ پر انحصار کرنا خود اپنی ذات میں ایک دلچسپ معاملہ ہے۔ مولوی صاحب کا دعویٰ یہ ہے کہ غیر نبی اپنی یقینی

١٥٣

صفحہ ٣٦٤

طور پر درست وحی کو بھی اپنے نبی متبوع کی وحی پر پیش کرتا ہے اور تضاد کی صورت میں اول الذکر وحی کو رد کر دیتا ہے۔ تاہم اپنی وحی کو بھی درجہ وہ وحی کا ہی دیتا ہے۔ لیکن جو مثال انہوں نے پیش کی ہے اس میں سید عبدالقادر جیلانی نے غیب کی آواز کو وحی الٰہی قرار ہی نہیں دیا۔ بلکہ شیطانی آواز سمجھا ہے اور اسے رد کرنے کے لئے اس کو نبی متبوع کی وحی پر پیش کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا۔ محض عقل سلیم کی مدد سے (اور درست طور پر) اسے فوراً رد کر دیا ہے۔

مرزا قادیانی کے متعلق اپنی وحی کی نسبت اس طرح کے عمل کی کوئی مثال ہمیں نہیں ملتی اور غالباً کوئی ایسی مثال موجود نہ ہوگی۔ وگرنہ مولوی صاحب سے اسے نظر انداز کرنے کی فروگزاشت غیر متوقع ہے۔

دراصل جو بنیادی اور اصولی اعتراض مولوی صاحب کے نظریے پر وارد ہوتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کیوں ایک غیر نبی پر ایسی وحی نازل کرے جو اس ملہم کے نبی متبوع کی وحی کے خلاف ہو اور ملہم کو وحی کے ساتھ یہ حکم بھی بھیجے کہ پہلے ہماری اس وحی کو اپنے نبی متبوع کی وحی پر پیش کرو۔ اگر یہ اس کے خلاف ہو تو بے شک اسے رد کر دو۔ آخر اس سارے تکلف کی ضرورت ہی کیا ہے؟ اگر یہ مان بھی لیا جائے (جس میں فی الواقع ہمیں عذر ہے) کہ ختم نبوت کے بعد امتیوں میں وحی جاری ہے تو بھی اس وحی کے نازل کرنے میں قطعاً کوئی حکمت نہیں ہو سکتی۔ جسے خود ملہم ہی رد کر دیتا ہے۔ مولوی صاحب کو کہنا یہ چاہئے تھا کہ غیبی آواز کے متعلق فیصلہ کرنے کے لئے یہ خدائی وحی ہے یا نہیں۔ ضروری ہے کہ اس کو پہلے کسی مسلمہ وحی پر پیش کیا جائے اور اگر دونوں میں اختلاف ہو تو اس جدید غیبی آواز کو رد کر دینا چاہئے۔ کیونکہ اس صورت میں یہ آواز یا اشارہ جو کچھ بھی ہو خدائی کلام نہیں ہو سکتا۔ قرآن کی رو سے خدائی کلام کی اہم صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ اندرونی اختلاف سے پاک ہوتا ہے اور یہ صفت زمانے کی قید سے آزاد ہے۔ خدائی کلام بہر حال خدائی کلام ہے۔ خواہ وہ کسی پر نازل ہو۔

حقیقت یہ ہے کہ اپنے اس دعویٰ کی موجودگی میں کہ ان کی وحی قرآن کی طرح خطاء سے پاک ہے۔ مرزا قادیانی کے لئے اس کے سوا چارہ نہ تھا کہ اپنی تمام وحی کو علیٰ حالہ قبول کر لیتے۔ اس کے کسی حصہ کو رد کرنے کا مرزا قادیانی کو اختیار نہ تھا۔ اسی طرح ان پر فرض تھا کہ وہ تمام وحی لوگوں تک پہنچا دیتے اور حق یہ ہے کہ انہوں نے یہ فرض ادا کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کی اور اس بارے میں ان کا اپنی وحی کی نسبت عقیدہ اور عمل مکمل طور پر ہم آہنگ ہیں۔

یہاں تک امتی نبی کی اس توضیح پر بحث کی گئی ہے جو مولوی محمد علی صاحب نے پیش کی

١٥٤

صفحہ ٣٦٥

کی وحی پر پیش کرتا ہے اور تضاد کی صورت میں اول الذکر جیح وہ وحی کا ہی دیتا ہے۔ لیکن جو مثال انہوں نے پیش کی یب کی آواز کو وحی الٰہی قرار ہی نہیں دیا۔ بلکہ شیطانی آواز کو نبی متبوع کی وحی پر پیش کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا۔ محض اسے فوراً رد کر دیا ہے۔ نبی کی نسبت اس طرح کے عمل کی کوئی مثال ہمیں نہیں ملتی تا۔ وگرنہ مولوی صاحب سے اسے نظر انداز کرنے کی

اعتراض مولوی صاحب کے نظریے پر وارد ہوتا ہے۔ وہ ہی وحی نازل کرے جو اس ملہم کے نبی متبوع کی وحی کے بھیجے کہ پہلے ہماری اس وحی کو اپنے نبی متبوع کی وحی پر لگ اسے رد کر دو۔ آخر اس سارے تکلف کی ضرورت ہی ں فی الواقع ہمیں عذر ہے) کہ ختم نبوت کے بعد امتیوں ں کرنے میں قطعاً کوئی حکمت نہیں ہو سکتی۔ جسے خود ملہم ہی اہئے تھا کہ غیبی آواز کے متعلق فیصلہ کرنے کے لئے یہ کو پہلے کسی مسلمہ وحی پر پیش کیا جائے اور اگر دونوں میں نا چاہئے۔ کیونکہ اس صورت میں یہ آواز یا اشارہ جو کچھ وہ سے خدا کے کلام کی اہم صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ صفت زمانے کی قید سے آزاد ہے۔ خدائی کلام بہر حال

نبی کی موجودگی میں کہ ان کی وحی قرآن کی طرح خطاء ں کے سوا چارہ نہ تھا کہ اپنی تمام وحی کو علی حالہ قبول کر قادیانی کو اختیار نہ تھا۔ اسی طرح ان پر فرض تھا کہ وہ تمام ہوں نے یہ فرض ادا کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کی اور اور عمل مکمل طور پر ہم آہنگ ہیں۔ پر بحث کی گئی ہے جو مولوی محمد علی صاحب نے پیش کی

١٥٤

ہے اور جس پر جہاں تک ہمیں علم ہے احمدیہ جماعت کے لاہوری گروہ کا مذہب مبنی ہے۔ لاہوری جماعت کے عقائد کو ایک سائنٹیفک اور عملی شکل دینے میں جو کام مولوی صاحب نے کیا ہے۔ اس کا شاید دسواں حصہ بھی ان کے دیگر رفقاء سے نہیں ہوا۔ لیکن اپنی تمام موشگافیوں کے باوجود مولوی صاحب مرزا قادیانی کی نبوت کی نسبت کوئی قابل قبول نظریہ پیش کرنے سے قاصر رہے ہیں۔ اس کی وجہ مولوی صاحب کے فن استدلال و تاویل کی کوتاہی نہیں ہے۔ بلکہ بات اصل میں یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی تحریروں میں نبوت کی نسبت کوئی اصولی اور علمی قاعدہ اخذ کرنے میں مولوی صاحب اس چیز کی تلاش کر رہے تھے جو موجود نہ تھی۔

اس کے مقابلے میں قادیانی جماعت کے قائد مرزا محمود احمد قادیانی کا مسلک بہت سیدھا سادا تھا اور اس کے لئے موصوف کو دقیق نظری مباحث میں پڑنے کی ضرورت نہ تھی۔ ان کا مقصد مرزا قادیانی کو غیر نبی ثابت کرنا نہ تھا بلکہ ان کے موقف کے مطابق مرزا قادیانی حقیقی اور مکمل نبی تھے۔ اس لئے انہوں نے مرزا قادیانی کے امتی نبی ہونے کی یہ توضیح کی ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی دو حیثیتیں ہیں۔ ایک وہ محمد رسول اللہ ﷺ کی امت کے فرد تھے اور دوسرے وہ نبی تھے قادیانی عقیدہ کی رو سے گو اسلام سے پہلے ہر قوم میں نبی آتے رہے ہیں۔ لیکن محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے ساتھ اس قاعدہ میں ایک اہم تبدیلی کر دی گئی ہے۔ اب نبوت امت محمدیہ کے ساتھ مخصوص ہو گئی ہے۔ اس امت سے باہر کوئی نبی نہیں آسکتا اور محمد رسول اللہ ﷺ کے خاتم النبیین ہونے سے بھی یہی مراد ہے کہ اس امت سے باہر نبوت کا دروازہ بند ہے۔

یہ توجیہہ کرنے میں مرزا محمود احمد قادیانی کو اپنے حریف مولوی محمد علی پر ایک واضح فوقیت حاصل ہو گئی۔ ایک پہلے باب میں ہم نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ مرزا قادیانی کے منصب کی نسبت جماعت احمدیہ کے دونوں فریق غلطی پر ہیں۔ اس رائے پر قائم رہتے ہوئے بھی ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس معاملے میں مرزا محمود احمد قادیانی کا کام نسبتاً سہل تھا۔ مرزا قادیانی نے شروع سے آخر تک اپنی تمام کتب میں اپنے امتی ہونے کے واقعہ پر انحصار کیا ہے اور اس سے قرآنی آیات واحادیث کی تعبیر و تاویل کرنے میں مدد لی ہے اور کسی نہ کسی طرح اپنے دعاویٰ کی صداقت میں اس امر کو پیش کیا ہے کہ وہ امتی ہیں اور یہ صفت مسیح ناصری کو حاصل نہیں ہے۔ لیکن یہ بھی واضح ہے کہ مریدوں کی ایک جماعت قائم کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنا طریقہ استدلال بھی تبدیل کر لیا۔ شروع میں ان کی دلیل یہ تھی کہ رسول اور امتی کا مفہوم متبائن ہے۔ احادیث کی رو سے مسیح موعود کا امتی ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس لئے مسیح ناصری وہ مسیح آخر الزمان نہیں ہو سکتا جس کے

١٥٥

صفحہ ٣٦٦

محاکمہ سیرت پر ایک نظر محاکمہ سیرت کا مقالہ جات و خط محاکمہ سیرت کانفرنس کی روداد کی ر محاکمہ سیرت کانفرنس

آنے کی خبر احادیث میں دی گئی ہے۔ مرزا قادیانی کا یہ مؤقف ازالہ اوہام (جو شروع دور کی کتاب ہے) کے ان حوالوں سے ظاہر ہے جو کتاب کے اسی باب کے ایک پہلے حصہ میں دیئے جاچکے ہیں۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب مرزا قادیانی اپنے متعلق ایک شش و پنج کے عالم میں تھے اور یہ فیصلہ نہ کر پائے تھے کہ مجددیت، محدثیت، ولایت، نبوت وغیرہ میں سے کون سا مقام مسلمانوں کے لئے قابل برداشت ہوگا۔ لیکن جب ان کی خود اعتمادی اس مرحلہ پر پہنچ گئی کہ انہوں نے واضح طور سے اپنے لئے نبوت کا دعویٰ کرنے کا فیصلہ کیا تو امتی کی نسبت سابقہ استدلال بے کار ہو گیا۔ اب یہ کہنا ممکن نہ تھا کہ مسیح موعود بیک وقت امتی اور نبی نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ امتی اور رسول کا مفہوم متبائن ہے۔ اب مرزا قادیانی اپنے متعلق یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ وہ نبی بھی ہیں اور امتی بھی۔ اس لئے اس مقام سے انہوں نے ایک نئے طرز استدلال کی بنا ڈالی۔ جو گو ان کے سابقہ مؤقف کے صریحاً خلاف تھا۔ لیکن اس سے ان کے دعویٰ نبوت کی راہ صاف ہوتی تھی۔ مرزا محمود احمد قادیانی کا انحصار مرزا قادیانی کی اس تبدیلی سے بعد کی تحریروں پر ہے۔ اس سے پہلے کی تحریریں انہوں نے بڑی آسانی سے یہ کہہ کر رد کر دی ہیں کہ اس زمانہ میں مرزا قادیانی نبوت کے مفہوم کے بارے میں غلط فہمی میں مبتلا تھے۔

آئیے اب دیکھیں کہ مرزا قادیانی کا یہ جدید استدلال کیا ہے؟ ہمارے لئے اس ضمن میں مرزا قادیانی کی بہت سی کتابوں کے حوالے پیش کرنا یا ان کی دلیل کا تفصیل سے جائزہ لینا ممکن نہیں اور نہ ضروری ہے۔ مختصرًا مرزا قادیانی کا مؤقف یہ ہو گیا کہ آیت خاتم النبیین سے نبوت ختم نہیں ہوتی۔ بلکہ جاری رہتی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب اس کی وسعت اور عالمگیر حیثیت ختم کر دی گئی ہے۔ اس مرکزی دعویٰ کے ثبوت میں انہوں نے (بزعم خود) عقلی اور نقلی دلائل کا ایک لشکر جمع کر دیا ہے اور ان کی وفات کے بعد قادیانی جماعت کی طرف سے شائع کردہ فرقہ وارانہ لٹریچر کا بیشتر حصہ اسی ایک دلیل کو مضبوط کرنے پر صرف کیا گیا ہے۔

اب مرزا قادیانی کی دو کتابوں سے چند اقتباسات پیش کئے جاتے ہیں۔ جن سے ان کی دلیل (جو کچھ وہ ہے) سامنے آجائے گی۔ پہلی کتاب ایک چھوٹا سا رسالہ (ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی ص ٦، ٧، خزائن ج ١٩ ص ٢١٣، ٢١٤) ہے۔ یہ رسالہ ١٩٠٢ء کا لکھا ہوا ہے اور سرورق پر ذیلی نام یہ درج ہیں۔ قرآن مجید اور حدیث کا اصل مرتبہ اور مقام کیا ہے۔ ضمناً یہ امر بھی دلچسپ ہے کہ نام کے تقاضا کے برخلاف رسالے کا زیادہ حصہ مرزا قادیانی کے اپنے مقام کی وضاحت کے لئے وقف کیا گیا ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کی کتب میں یہ صفت گریز کوئی استثنائی صورت نہیں ہے۔ ١٥٦

مرزا قادیانی نے خواہ کسی بھی موضوع پر مقصد اولیٰ تھا۔ رسالہ متذکرہ بالا کا متعلقہ قیامت تک ان معنوں سے کوئی آنحضرت ﷺ وحی پاسکتا ہو۔ بلکہ حاصل کرنے کے لئے قیامت تک ہوگی۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ خدا الانبیاء ہیں۔ اسی جگہ یہ اشارہ بھی فرما میں باپ کے حکم میں ہیں۔ جن کی بـ مکالمات کا ان کو بخشا جاتا ہے۔ جیسـ محمد ابا احد من رجالکم ولـ طور سے آنحضرت ﷺ کے باپ اثبات بھی کیا گیا۔ تا کہ وہ اعتراض کیا جائے۔ ماحصل اس آیت کا یـ براہ راست ہو اس طرح پر تو منقطع طرح پر ممتنع نہیں کہ وہ نبوت جو لـ کمال ایک جہت سے تو امتی ہو اور د اپنے اندر رکھتا ہو اور اگر اس طور باللہ آنحضرت ﷺ دونوں طرف پر کوئی فرزند اور معترض سچا ٹھہرتا بـ اس دلیل کی مزید وضـ حوالہ بھی ملاحظہ ہو۔ یہاں مرزا قـ ”اب عیسائی قوم دو بذریعہ وحی اور الہام مدد نہیں مل سکـ قدم نہیں بڑھا سکتی۔ کیونکہ کفارہ مـ قرآن شریف نازل ہوا۔ اس کی

صفحہ ٣٦٧

ئی کا یہ موقف ازالہ اوہام (جو شروع دور کی کتاب گہ اسی باب کے ایک پہلے حصہ میں دیئے جا چکے ئی اپنے متعلق ایک شش و پنج کے عالم میں تھے اور یت، نبوت وغیرہ میں سے کون سا مقام مسلمانوں خود اعتمادی اس مرحلہ پر پہنچ گئی کہ انہوں نے واضح یا تو امتی کی نسبت سابقہ استدلال بے کار ہو گیا۔ اور نبی نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ امتی اور رسول کا مفہوم ن کر رہے تھے کہ وہ نبی بھی ہیں اور امتی بھی۔ اس ستدلال کی بنا ڈالی۔ جو گوان کے سابقہ موقف کے بوت کی راہ صاف ہوتی تھی۔ مرزا محمود احمد قادیانی کا ول پر ہے۔ اس سے پہلے کی تحریریں انہوں نے بمانہ میں مرزا قادیانی نبوت کے مفہوم کے بارے

یہ جدید استدلال کیا ہے؟ ہمارے لئے اس ضمن ش کرنا یا ان کی دلیل کا تفصیل سے جائزہ لینا ممکن توقف یہ ہو گیا کہ آیت خاتم النبیین سے نبوت ختم ہے کہ اب اس کی وسعت اور عالمگیر حیثیت ختم کر یوں نے (بزعم خود) عقلی اور نقلی دلائل کا ایک لشکر ماعت کی طرف سے شائع کردہ فرقہ وارانہ لٹریچر کا ا گیا ہے۔ ہذا اقتباسات پیش کئے جاتے ہیں۔ جن سے ان ی کتاب ایک چھوٹا سا رسالہ (ریویو بر مباحثہ بٹالوی رسالہ ١٩٠٢ء کا لکھا ہوا ہے اور سرورق پر ذیلی نام در مقام کیا ہے۔ ضمناً یہ امر بھی دلچسپ ہے کہ نام ا قادیانی کے اپنے مقام کی وضاحت کے لئے یہ صفت گریز کوئی استثنائی صورت نہیں ہے۔ ١٧

مرزا قادیانی نے خواہ کسی بھی موضوع پر قلم اٹھایا، حاصل کلام ان کا اپنا ذاتی مقام ٹھہرا اور یہی ان کا مقصد اولیٰ تھا۔ رسالہ متذکرہ بالا کا متعلقہ اقتباس حسب ذیل ہے۔ ”ہمارا ایمان یہ ہے کہ ............. قیامت تک ان معنوں سے کوئی نبی نہیں ہے جو صاحب شریعت ہو یا بلا واسطہ متابعت آنحضرت ﷺ وحی پاسکتا ہو۔ بلکہ قیامت تک یہ دروازہ بند ہے اور متابعت نبوی سے نعمت وحی حاصل کرنے کے لئے قیامت تک دروازے کھلے ہیں۔ وہ وحی جو اتباع کا نتیجہ ہے کبھی منقطع نہیں ہوگی۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے جس جگہ یہ وعدہ فرمایا ہے کہ آنحضرت ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ اسی جگہ یہ اشارہ بھی فرما دیا ہے کہ آنجناب اپنی روحانیت کی رو سے ان صلحاء کے حق میں باپ کے حکم میں ہیں۔ جن کی بذریعہ متابعت تکمیل نفوس کی جاتی ہے اور وحی الہی اور شرف مکالمات کا ان کو بخشا جاتا ہے۔ جیسا کہ وہ جل شانہ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ ”ما کان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين “ اس آیت میں ایک طور سے آنحضرت ﷺ کے باپ ہونے کی نفی کی گئی ہے اور دوسرے طور سے باپ ہونے کا اثبات بھی کیا گیا۔ تا کہ وہ اعتراض جس کا ذکر آیت ”ان شانئک ھو الابتر “ میں ہے۔ دور کیا جائے۔ ماحصل اس آیت کا یہ ہوا کہ نبوت گو بغیر شریعت ہو اس طرح پر منقطع ہے کہ کوئی شخص براہ راست ہو اس طرح پر تو منقطع ہے کہ کوئی شخص براہ راست مقام نبوت حاصل کر سکے۔ لیکن اس طرح پر ممتنع نہیں کہ وہ نبوت چراغ نبوت محمدیہ سے مکتسب اور مستفاض ہو۔ یعنی ایسا صاحب کمال ایک جہت سے تو امتی ہو اور دوسری جہت سے بوجہ اکتساب انوار محمدیہ نبوت کے کمالات بھی اپنے اندر رکھتا ہو اور اگر اس طور سے بھی تکمیل نفوس مستعدہ امت کی نفی کی جائے تو اس سے نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ دونوں طرف سے ابتر ٹھہرتے ہیں۔ نہ جسمانی طور پر کوئی فرزند نہ روحانی طور پر کوئی فرزند اور معترض سچا ٹھہرتا ہے جو آنحضرت ﷺ کا نام ابتر رکھتا ہے۔“ اس دلیل کی مزید وضاحت کے لئے (حقیقۃ الوحی ص ٩٧، خزائن ج ٢٢ ص ٢٩) کا ایک حوالہ بھی ملاحظہ ہو۔ یہاں مرزا قادیانی اسلام کا عیسائیت پر تفوق بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں ۔ ”اب عیسائی قوم دو گونہ بد قسمتی میں مبتلا ہے۔ ایک تو ان کو خدا تعالیٰ کی طرف سے بذریعہ وحی اور الہام مدد نہیں مل سکتی۔ کیونکہ الہام پر جو مہر لگ گئی اور دوسری یہ کہ وہ عملی طور پر آگے قدم نہیں بڑھا سکتی۔ کیونکہ کفارہ نے مجاہدات اور سعی و کوشش سے روک دیا۔ مگر جس کامل انسان پر قرآن شریف نازل ہوا۔ اس کی نظر محدود نہ تھی اور اس کی عام غم خواری اور ہمدردی میں کچھ قصور نہ ١٥٧

عالمی سیرت کانفرنس کانفرنس کی روئداد ی عالمی سیرت کانفرنس مقالہ جات و خط نے سیرت مطہر عالمی سیرت کا پروگرام عالمی سر عالمی سیرت

صفحہ ٣٦٨

تھا۔ بلکہ کیا باعتبار زمان اور کیا باعتبار مکان اس کے نفس کے اندر کامل ہمدردی موجود تھی۔ اس لئے قدرت کی تجلیات کا پورا اور کامل حصہ اس کو ملا اور وہ خاتم الانبیاء بنے۔ مگر ان معنوں سے نہیں کہ آئندہ اس سے کوئی روحانی فیض نہیں ملے گا۔ بلکہ ان معنوں سے کہ وہ صاحب خاتم ہے۔ بجز اس کی مہر کے کوئی فیض کسی کو نہیں پہنچ سکتا اور بجز اس کے کوئی نبی صاحب خاتم نہیں۔ ایک وہی ہے جس کی مہر سے ایسی نبوت مل سکتی ہے جس کے لئے امتی ہونا لازمی ہے اور اس کی ہمت اور ہمدردی نے امت کو ناقص حالت پر چھوڑنا نہیں چاہا۔“

اسی کتاب (حقیقت الوحی ص ٢٨ ، خزائن ج ٢٢ ص ٣٠) کے حاشیہ میں مرزا قادیانی نے ایک ممکن سوال کا جواب دیتے ہوئے اپنے منصب کی مزید وضاحت کر دی ہے۔ فرماتے ہیں : ”اس جگہ یہ سوال طبعاً ہو سکتا ہے کہ حضرت موسیٰ کی امت میں بہت سے نبی گزرے ہیں۔ پس اس حالت میں موسیٰ علیہ السلام کا افضل ہونا لازم آتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جس قدر نبی گزرے ہیں۔ ان سب کو خدا نے براہ راست چن لیا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا اس میں کچھ بھی دخل نہیں تھا۔ لیکن اس امت میں آنحضرت ﷺ کی پیروی کی برکت سے ہزار اولیاء ہوئے ہیں اور ایک وہ بھی ہوا جو امتی بھی ہے اور نبی بھی۔ اس کثرت فیضان کی کسی نبی میں نظیر نہیں مل سکتی۔“

گویا مرزا قادیانی امت محمدی میں اجرائے نبوت کو محمد رسول اللہ ﷺ کے کمال مرتبت کی ایک دلیل بیان کی ہے۔ مرزا قادیانی کے اس استدلال کی نسبت اپنی رائے ظاہر کرنے سے پہلے ہم اس بارے میں ایک مولوی صاحب کی تنقید کا ایک حصہ پیش کرنا چاہتے ہیں۔

”پھر میں پوچھتا ہوں کہ اگر دروازہ نبوت آنحضرت ﷺ کے بعد کھلا ہے تو پھر کون کون نبی ہے۔ انسان جب ایک اصول کو قائم کرے تو پھر اس پر پختہ ہو۔ ایک طرف دروازہ نبوت کھولا جاتا ہے اور آنحضرت ﷺ کی فضیلت دیگر انبیاء پر یہی رہ جاتی ہے کہ اور نبی اپنی پیروی سے محدث بنا سکتے تھے۔ آنحضرت ﷺ اپنی پیروی سے نبی بنا سکتے ہیں۔ دوسری طرف یہ اعتراف موجود ہے کہ اس امت میں سوائے مسیح موعود کے کوئی رسول نہیں ہے۔ اب غور کرو تو فضیلت بھی رسول اللہ ﷺ کی کوئی نہ رہی اور نبی بھی محدث بناتے تھے۔ آپ بھی محدث ہی بناتے رہے۔ یہاں تک کہ ہزاروں اولیاء آپ کی امت میں ہوئے۔ مگر اس میں آپ کی فضیلت کوئی نہ تھی۔ فضیلت تھی نبی بنانے میں وہ کوئی بنا نہیں۔ نہ آئندہ قیامت تک بن سکتا ہے۔ سوائے ایک کے وہ بھی ایسا ادھورا کہ باوجود نبی ہونے کے پندرہ سال تک بقول (حقیقت النبوت) اپنی نبوت کا انکار کرتا رہا اور مدعی نبوت پر لعنت بھیجتا رہا۔ کیا اسی بات کو نبی کریم ﷺ کی فضیلت کے طور پر

١٥٨

صفحہ ٣٦٩

امکان اس کے نفس کے اندر کامل ہمدردی موجود تھی۔ اس لئے ہر اس کو ملا اور وہ خاتم الانبیاء بنے۔ مگر ان معنوں سے نہیں کہ ملے گا۔ بلکہ ان معنوں سے کہ وہ صاحب خاتم ہے۔ بجز اس نکلا اور بجز اس کے کوئی نبی صاحب خاتم نہیں۔ ایک وہی ہے جس کے لئے امتی ہونا لازمی ہے اور اس کی ہمت اور ہمدردی میں چاہا۔"

ص ٢٨، خزائن ج ٢٢ ص ٣٠) کے حاشیہ میں مرزا قادیانی نے ایک اپنے منصب کی مزید وضاحت کر دی ہے۔ فرماتے ہیں: ”اس موسیٰ کی امت میں بہت سے نبی گزرے ہیں۔ پس اس ہونا لازم آتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جس قدر نبی گزرے نبوت ملا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا اس میں کچھ بھی دخل حضرت ﷺ کی پیروی کی برکت سے ہزار اولیاء ہوئے ہیں اور بھی۔ اس کثرت فیضان کی کسی نبی میں نظیر نہیں مل سکتی۔“

مجھنے میں اجزائے نبوت کو محمد رسول اللہ ﷺ کے کمال مرتبت قادیانی کے اس استدلال کی نسبت اپنی رائے ظاہر کرنے سے صاحب کی تنقید کا ایک حصہ پیش کرنا چاہتے ہیں۔ کہ اگر دروازہ نبوت آنحضرت ﷺ کے بعد کھلا ہے تو پھر کون سول کو قائم کرے تو پھر اس پر پختہ ہو۔ ایک طرف دروازہ نبوت کی فضیلت دیگر انبیاء پر یہی رہ جاتی ہے کہ اور نبی اپنی پیروی ﷺ اپنی پیروی سے نبی بنا سکتے ہیں۔ دوسری طرف یہ میں سوائے مسیح موعود کے کوئی رسول نہیں ہے۔ اب غور کرو تو مدعی اور نبی بھی محدث بناتے تھے۔ آپ بھی محدث ہی بناتے آپ کی امت میں ہوئے۔ مگر اس میں آپ کی فضیلت کوئی نہ نہیں بناتیں۔ نہ آئندہ قیامت تک بن سکتا ہے۔ سوائے ایک آنے کے پندرہ سال تک بقول (حقیقت النبوۃ) اپنی نبوت کچھ سمجھتا رہا۔ کیا اسی بات کو نبی کریم ﷺ کی فضیلت کے طور پر

١٥٨

پیش کیا جاتا ہے۔ ایسی فضیلت کو ظاہر کرنے کی بجائے چھپا کر رکھنا بہتر تھا۔ بہرحال اس ایک ہی آدمی کو اپنی فہرست سے فائدہ پہنچانے میں یا تو نعوذ باللہ من ذلک محمد رسول اللہ ﷺ نے بخل سے کام لیا اور یا پھر امت ہی ایسی نکمی تھی کہ ان میں سے کوئی انسان اس قدر استعداد ہی نہ رکھتا تھا کہ ترقی کرتے کرتے انسانی کمال کے اس رتبہ کو پالے جس کا نام نبوت ہے۔ یا تو محمد رسول اللہ ﷺ نعوذ باللہ من ذلک اس قابل نہ تھے کہ ان کو مہر نبوت دی جاتی۔ کیونکہ انہوں نے ساری امت کو ناقص حالت میں رکھا اور انسانی ترقی کے کمال تک ایک کو بھی نہ پہنچا سکے۔ یا اگر ایک کو پہنچایا تو وہ بھی ایسا ادھورا کہ مدت العمر اپنی نبوت کے تاویل کرتا رہا اور شک میں رہا کہ وہ کمال مجھے مل گیا ہے یا نہیں اور یا یہ ماننا پڑے گا کہ یہ امت ہی اتنی نکمی اور ناکارہ تھی اور ان کی طبائع ہی یہ استعداد نہ رکھتی تھیں کہ اچھے سے اچھا معلم بھی ان کو انسانی ترقی کے کمال تک پہنچا سکے۔ بہرحال یہ ایک نہایت بھدا عذر ہے کہ ہم نبوت کا دروازہ اس لئے کھولتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی پیروی سے لوگ نبی نہ بن سکیں تو آنحضرت ﷺ کی کوئی فضیلت دوسرے انبیاء پر قائم نہیں رہتی۔ کاش اس عذر تراشی کا نتیجہ یہی ہوتا کہ چند نبی تجویز کر دیئے جاتے۔“

ایک حیران کن انکشاف آپ کے انتظار میں ہے۔ متذکرہ بالا تنقید مرزا قادیانی کے کسی مخالف مولوی کی طرف سے نہیں ہے۔ بلکہ مولوی محمد علی امیر جماعت احمدیہ لاہور کی کتاب (النبوت فی الاسلام ص ١٣٥، ١٣٦) کا ایک اقتباس ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ بالا ارادہ اس طرح کی تنقید مرزا قادیانی کے موقف پر نہ کر سکتے تھے اور ایسا انہوں نے نہیں کیا۔ یہاں اصل میں وہ مرزا محمود احمد قادیانی کے ان دلائل کا رد کر رہے ہیں جو مؤخر الذکر نے اجزائے نبوت کے حق میں اپنی کتاب (حقیقت النبوۃ) میں بیان کئے ہیں۔ لیکن مولوی صاحب کی تنقید خود مرزا قادیانی کے استدلال کے متعلق اتنی برمحل ہے کہ ہم نے اسے اسی غرض کے لئے پیش کر دیا ہے۔

فریقین کی یہ ساری بحث اس مفروضہ کو درست مانتے ہوئے کی گئی ہے کہ امت محمدی ایک ناگزیر اور اصولی حقیقت ہے اور اس امت کی برتری ثابت کرنا اور اس برتری کو برقرار رکھنا اسلام کے مقاصد میں ہے۔ ہمارے نزدیک یہ مفروضہ (جس معروف مفہوم میں اسے سمجھا جاتا ہے) درست نہیں ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اسلام کا مقصد انسانوں کو امتوں اور گروہوں میں تقسیم کرنے کی بجائے انہیں اکٹھا کرنا ہے۔ لیکن زیر نظر مسئلہ کا یہ پہلو موجودہ بحث کے محدود دائرہ سے زیادہ وسیع ہے۔ اس لئے یہاں اس پر مفصل بحث کرنا ممکن نہیں ہے۔ لیکن چند اہم امور کا مختصراً ذکر ضروری ہے۔ امت کے معنی جماعت یا گروہ کے ہیں۔ اب اسے ملت اور قوم کے معنی میں لیا

١٥٩

صفحہ ٣٧٠

جاتا ہے۔ ملت کی اساس وطن، زبان، رنگ، نسل وغیرہ عوامل پر ہوتی ہے۔ لیکن امت محمدی کی بنیاد ان امور کی بجائے مذہبی عقیدہ پر ہے۔ عقائد اور نظریات کی یگانگت کی بنا پر انسانوں کے کسی گروہ کو ایک جماعت یا امت قرار دینا ناجائز نہیں ہے۔ لیکن مسلمانوں کی جماعت کی اصولی بنیاد کو نمایاں کرنے کے لئے اسے امت محمدی کی بجائے امت مسلم کہنا زیادہ بہتر ہے۔

یہ ایک باریک سا فرق ہے۔ لیکن بعض دفعہ نام کے ایک نازک فرق سے نہایت اہم نظریاتی نتائج مترتب ہوتے ہیں۔ مغربی مصنفین عام طور پر مسلمانوں کو محمدن کہتے ہیں اور زمانہ حال کے مسلمان بجا طور پر اس کو ناپسند کرتے ہیں۔ ہمارے خیال میں جن وجوہ کی بنا پر ایک مسلمان فرد کے لئے محمدن کا نام نامناسب ہے۔ انہی وجوہ سے مسلمان قوم کے لئے محمدن نیشن یا امت محمدی کا نام غیر موزوں ہے۔ اس ضمن میں یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ قرآن میں مسلمان قوم کو محمد رسول اللہ ﷺ کے نام کے ساتھ منسوب نہیں کیا گیا۔ رسول اکرم ﷺ کا ذاتی نام قرآن میں غالباً چار مقامات پر بیان ہوا ہے۔ ان میں سے صرف ایک کا اس موضوع کے ساتھ تعلق ہو سکتا ہے۔ لیکن وہاں بھی مؤمنین کو محمد رسول اللہ ﷺ کی امت نہیں کہا گیا۔ بلکہ ان کا ساتھی کہا گیا ہے۔ ”محمد رسول الله والذين معه“ مقصد رسول کے عقائد اور اعمال میں اس کا ساتھ دینے اور پیروی کرنے سے ہے۔ نام سے وابستگی غیر اہم بات ہے۔

بلاشبہ مسلمانوں کو ایک جماعت تسلیم کرتے ہوئے خیر الامم کہا گیا ہے۔ لیکن یہاں امت کی فوقیت اس کے نام یا مذہب کے ظواہر پر مبنی نہیں ہے۔ کیونکہ ساتھ وضاحت کر دی گئی ہے کہ یہ اس لئے ہے کہ تم اچھے کاموں کی تلقین کرتے ہو۔ برائیوں سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان لاتے ہو۔ اب ظاہر ہے کہ جب خیر الامم ہونے کے اسباب یہ ٹھہرے تو جس جماعت میں بھی یہ صفات پائی جائیں گی وہ خیر الامم کہلانے کی مستحق ہو گی۔

امت کے اس بلند اور اصولی تصور میں امتی نبی کی اصطلاح اور اس سے متعلقہ بحث بے معنی ہو جاتی ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کے وقت تک اسلام کا یہ وسیع اور عالمگیر مفہوم تقریباً مفقود ہو چکا تھا۔ کم از کم جس طبقہ سے مرزا قادیانی کو اپنی نبوت منوانی تھی وہاں ایسا تصور موجود نہ تھا عوام مذہب کے متعلق اخلاقی اقدار کی نسبت نام اور گروہ بندی کے زیادہ معتقد تھے۔ مرزا قادیانی کو اسی طبقے سے اپنے مریدوں کی جماعت پیدا کرنی تھی۔ اس لئے انہوں نے عوام کی جماعتی عصبیت سے جذبات کو بیدار کیا اور اس سے فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ نازل ہونے کے مسئلہ کو مسلمانوں کے لئے ایک قومی غیرت اور حمیت کے سوال کی شکل میں پیش کیا اور یہ

١٦٠

صفحہ ٣٧١

ظاہر کیا کہ مسیح ناصری کی دوبارہ آمد سے ایک طرف امت محمدی کی سبکی اور حق تلفی ہوتی ہے اور دوسری طرف یہ صورت محمد رسول اللہ ﷺ کی شان کے منافی ہے۔ (مرزا قادیانی کا ذاتی معاملہ تو خیر ایک ضمنی سی بات ہے)

اس استدلال کی نسبت مرزا قادیانی کی تحریروں کو اگر جمع کیا جائے تو بجائے خود ایک ضخیم کتاب بن سکتی ہے۔ ہم صرف نمونہ کے طور پر چند اقتباسات پیش کرتے ہیں۔

”اب جب کہ یہ بات طے پا چکی کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت مستقلہ جو براہ راست ملتی ہے۔ اس کا دروازہ قیامت تک بند ہے اور جب تک کوئی امتی ہونے کی حقیقت اپنے اندر نہیں رکھتا اور حضرت محمدیہ کی غلامی کی طرف منسوب نہیں تب تک وہ کسی طور سے آنحضرت ﷺ کے بعد ظاہر نہیں ہو سکتا تو اس صورت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان سے اتارنا اور پھر ان کی نسبت تجویز کرنا کہ وہ امتی ہیں اور ان کی نبوت آنحضرت ﷺ کے چراغ نبوت محمدیہ سے مکتسب اور مستفاض ہے۔ کس قدر بناوٹ اور تکلف ہے۔ جو شخص پہلے ہی نبی قرار پا چکا ہے۔ اس کی نسبت یہ کہنا کیونکر صحیح ٹھہرے گا کہ اس کی نبوت آنحضرت ﷺ کے چراغ نبوت سے مستفاد ہے اور اگر اس کی نبوت چراغ نبوت محمدیہ سے مستفاد نہیں ہے تو پھر وہ کن معنوں سے امتی کہلائے گا اور ظاہر ہے کہ امت کے معنی کسی پر صادق نہیں آ سکتے۔ جب تک ہر ایک کمال اس کا نبی متبوع کے ذریعہ سے اس کو حاصل نہ ہو۔ پھر جو شخص اتنا بڑا کمال نبی کہلانے کا خود بخود رکھتا ہے وہ امتی کیوں کر ہوا۔“

(ریویو مباحثہ بٹالوی چکڑالوی ص ٧ ، خزائن ج ١٩ ص ٢١٤، ٢١٥)

اور مسیح علیہ السلام کے دوبارہ آنے سے امت محمدی کی حق تلفی ہوتی ہے۔ ”کیونکہ اگر امتی کو بذریعہ انوار محمدی کمالات نبوت مل سکتے ہیں تو اس صورت میں کسی کو آسمان سے اتارنا اصل حق دار کا حق ضائع کرنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ یہی امت جو خیرالامم کہلاتی ہے۔ حق رکھتی ہے کہ ان میں سے کوئی فرد بیمن اتباع نبوی اس مرتبہ ممکنہ کو پہنچ جائے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان سے اتارنے کی کوئی ضرورت نہیں۔“

(ریویو مباحثہ بٹالوی چکڑالوی ص ٨ ، خزائن ج ١٩ ص ٢١٥)

نیز اس طرح محمد رسول اللہ ﷺ کا بھی کوئی کمال ظاہر نہیں ہوتا: ”اور کون مانع ہے جو کسی امتی کو یہ فیض پہنچایا جائے تا نمونہ فیض محمدی کسی پر مشتبہ نہ رہے۔ کیونکہ نبی کو نبی بنانا کیا معنی رکھتا ہے۔ مثلاً ایک شخص سونا بنانے کا دعویٰ رکھتا ہے اور سونے پر ہی ایک بوٹی ڈال کر کہتا ہے کہ لو سونا ہو گیا۔ اس سے کیا ثابت ہو سکتا ہے کہ وہ کیمیا گر ہے۔“

(ریویو مباحثہ بٹالوی چکڑالوی ص ٨ ، خزائن ج ١٩ ص ٢١٥، ٢١٦)

١٦١

صفحہ ٣٧٢

اور پھر یہ صورت آنے والے کے لئے بھی پریشانی اور سبکی کا باعث ہے۔" اس جگہ پرانے خیالات کے لوگ اس حدیث "امامکم منکم" کے معنی اس طرح پر کرتے ہیں کہ جب حضرت مسیح آسمان سے اتریں گے تو وہ اپنے منصب نبوت سے مستعفی ہو کر آئیں گے۔ انجیل سے انہیں کچھ غرض نہ ہوگی۔ امت محمدیہ میں داخل ہو کر قرآن شریف پر عمل کریں گے۔ پنج وقتہ نماز پڑھیں گے اور مسلمان کہلائیں گے۔ مگر یہ بیان نہیں کیا گیا کہ کیوں اور کس وجہ سے یہ تنزل کی حالت انہیں پیش آئے گی۔"

(مفہوم ایضاً)

(نشانات استعجاب مرزا قادیانی کے اپنے ہیں)

واقعی کسی کے لئے قرآن شریف پر عمل کرنا، پنج وقتہ نماز پڑھنا اور مسلمان کہلانا کتنی بڑی سزائیں ہیں۔ یہ سوال بھی شاید بے محل نہ ہوگا کہ خود مرزا قادیانی نے نبی ہوتے ہوئے یہ تنزل کی حالت کیوں قبول کی اور مسیح ناصری کے نزول کی صورت میں امت محمدی کی حق تلفی کی نسبت ایک اور حوالہ بھی ملاحظہ ہو۔

"اور یہ تاویل کہ پھر اس کو (یعنی مسیح ناصری کو) امتی بنایا جائے گا اور وہی نو مسلم مسیح موعود کہلائے گا۔ یہ طریق عزتِ اسلام سے بہت بعید ہے۔ جس حالت میں حدیثوں سے ثابت ہے کہ اسی امت میں سے یہود پیدا ہوں گے۔ تو افسوس کی بات ہے کہ یہود تو پیدا ہوں اس امت میں سے اور مسیح باہر سے آوے۔"

(حقیقت الوحی ص ٤٠، خزائن ج ٢٢ ص ٤٢)

ان حالات میں ظاہر ہے کہ مسیح ناصری کے نزول میں ہر متعلقہ فریق کا نقصان ہی نقصان ہے اور بقول مرزا قادیانی جب کہ ایک امتی کے لئے یہ دروازہ کھلا ہے کہ اپنے نبی متبوع سے یہ فیض حاصل کرے تو پھر ایک بناوٹ کی راہ اختیار کرنا اور اجتماع نقیضین جائز رکھنا کس قدر حمق ہے۔

مرزا قادیانی اپنے دور کے مسلمانوں کی کمزوریوں کا اندازہ لگانے میں غلط نہ تھے۔ ان کے مخاطب لوگوں کے ایک معقول حصہ نے عیسائیوں کے نبی سے بچنے کے لئے مرزا قادیانی کی ذات میں اپنے ہاں کے امتی نبی کو قبول کر لیا۔

ایک غلطی کا ازالہ

عرصہ ہوا مجھے لاہوری اور قادیانی احمدیوں کا ایک مناظرہ سننے کا اتفاق ہوا۔ طالب علمی کا زمانہ تھا اور میں نے ان دنوں اس مناظرے کو ایک تماشے سے زیادہ وقعت نہ دی۔ لیکن ایک بات اس وقت بھی مجھے بڑی عجیب معلوم ہوئی اور وہ یہ کہ دونوں طرف کے مولوی صاحبان اپنے

١٦٢

صفحہ ٣٧٣

اپنے دعویٰ کے ثبوت میں مرزا قادیانی کی ایک ہی تحریر ایک غلطی کا ازالہ کا حوالہ دے رہے تھے۔ اس تحریر سے ایک فریق یہ استدلال کرتا تھا کہ فی الحقیقت مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا اور ان کی طرف ایسا دعویٰ منسوب کرنا ایک بے بنیاد الزام ہے اور دوسرا فریق بھی اسی تحریر پر انحصار کر کے یہ ثابت کر رہا تھا کہ مرزا قادیانی نے نہایت واضح الفاظ میں اپنی نبوت کا اعلان کیا ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ ان دو فریقوں میں سے کون سا فریق راستی پر ہے اور یہ کہ مرزا قادیانی کا اپنے متعلق فی الواقع کیا دعویٰ تھا۔

عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ احمدیوں کی یہ اندرونی فرقہ بندی ١٩١٤ء میں مولوی نور الدین قادیانی کی وفات پر عمل میں آئی۔ لیکن اس زمانہ کے احمدی لٹریچر کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دراصل اختلاف ١٩١٤ء سے بہت پہلے پیدا ہو چکے تھے۔ البتہ مولوی نور الدین قادیانی کی وفات پر جماعت کی قیادت کے سوال نے ان اختلافات کو ایک شدید اور معین صورت دے دی۔ جس کے نتیجے میں جماعت کا دو الگ الگ گروہوں میں تقسیم ہو جانا ناگزیر ہو گیا۔ مرزا قادیانی کے وقت میں ان کے مریدوں کی ذہنی کیفیت کیا تھی؟ آج ہمارے لئے یہ معلوم کرنا ایک مشکل کام ہے۔ تاہم اس زمانے کی تحریروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ خود مرزا قادیانی کے وقت میں ان کے پیروؤں نے ان کے منصب کی نسبت اپنے اعتقاد میں کوئی واضح صورت قائم نہ کی تھی۔

احمدیوں کا دعویٰ ہے کہ اس آخری زمانے میں مرزا قادیانی خدا کی طرف سے دنیا کی اصلاح کے لئے مامور کئے گئے ہیں۔ اس بات کو جانے دیجئے کہ اس زمانے میں کون کون سی خرابیاں ہیں اور ہم کن مسائل سے دوچار ہیں اور مرزا قادیانی نے ان خرابیوں کو دور کرنے اور ان مسائل کو حل کرنے میں اپنی وحی کی مدد سے کون سی نئی بات پیش کی ہے جو ہم پہلے نہ جانتے تھے اور پھر اس سلسلے میں کیا یہ عجیب بات نہیں کہ ایک شخص مقرر تو کیا جائے۔ دنیا کی اصلاح کے لئے لیکن اس کی عمر کا بیشتر حصہ اپنے دعویٰ ہی کی اصلاح میں گزر جائے۔ یہاں تک کہ جو کتب وہ اپنی وفات سے تھوڑا عرصہ پہلے لکھے۔ ان میں بھی اپنی حیثیت کی نسبت وہی ابہام اور تضاد موجود ہو اور اس کے اولین اور نہایت درجہ معتمد مریدوں کے لئے بھی سب سے اہم یہ مسئلہ بن جائے کہ ان کے آقا نے اپنے لئے کون سا مقام تجویز کیا تھا۔ یاد رہے کہ یہ وہ مرید تھے جنہوں نے اپنی زندگیوں کا بہترین حصہ احمدیہ تحریک کی نذر کر دیا تھا۔ بہت سے ایسے تھے جنہوں نے اپنی زندگی وقف کر کے مستقل طور پر قادیان میں رہائش اختیار کر لی تھی اور دن رات مرزا قادیانی کی صحبت میں رہتے تھے۔ دیانتداری سے ان میں سے کسی پر منافقت کا شبہ

١٦٣

صفحہ ٣٧٤

نہیں کیا جاسکتا۔ کم از کم اس وقت تک مرزا قادیانی کی جماعت میں شامل ہونے سے کسی دنیاوی فائدے کی طمع نہ ہو سکتی تھی۔ پھر کیا وجہ ہے کہ یہ لوگ جنہوں نے مرزا قادیانی کو اتنے قریب سے دیکھا۔ جنہوں نے ان کی باتیں سنیں اور ان کی تقریباً سب کتابیں پڑھی ہی نہیں۔ بلکہ ان کے لکھنے اور چھپوانے میں امداد بھی کی۔ یہ لوگ کیوں مرزا قادیانی کے متعلق یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتے کہ انہوں نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا یا نہیں۔

دراصل اس معاملے میں ان لوگوں کا کوئی قصور نہیں ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنا دعویٰ پیش ہی اس شکل میں کیا ہے کہ انتہائی کوشش کے باوجود اس دعویٰ کو درست طور پر سمجھنا تقریباً ناممکن ہے۔

مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو ایک نہایت پیچیدہ اور مشکل صورت حال سے دو چار کر لیا تھا۔ ایک طرف ان کی یہ خواہش تھی کہ اپنے گرد مریدوں کی ایک خاص جماعت اکٹھی کرنے میں جو کامیابی انہیں ہوئی تھی۔ اس کو پائیدار بنایا جائے اور جماعت کو مستقل اور منظم صورت دی جائے۔ اس لئے ان کے لئے ضروری ہو گیا کہ اپنے لئے کوئی ایسا منصب تجویز کریں کہ مسلمانوں کے لئے اپنے مسلمہ اعتقادات کے مطابق ان پر ایمان لانا اور ان کی جماعت میں شامل ہونا ضروری ہو جائے۔ ظاہر ہے کہ یہ منصب نبوت کا مقام ہی ہو سکتا تھا۔ دوسری طرف مرزا قادیانی جانتے تھے کہ مسلمانوں کے مختلف فرقوں میں باہم شدید اختلافات کے باوجود اس ایک امر پر سب کا اتفاق ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین ہیں اور ان کے بعد اب کوئی نبی نہیں آسکتا۔ اس مشکل صورت حال سے عہدہ برآ ہونے کے لئے مرزا قادیانی کی سعی قابل داد ہے۔ بظاہر کام ناممکن تھا۔ لیکن پھر بھی مرزا قادیانی کو اتنی کامیابی ہوئی کہ ایک خاصی جماعت ایسے لوگوں کی پیدا ہوگئی جو محمد ﷺ کو آخری نبی مانتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ مرزا قادیانی کی نبوت کے بھی قائل ہیں اور ایک دوسرا گروہ ایسا بھی موجود ہے جو باوجود اس امر کے کہ مرزا قادیانی نے متعدد مقامات پر اپنے لئے نبی کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اس بات پر مصر ہے کہ انہوں نے نبوت کا دعویٰ ہی نہیں کیا۔

عدالتی زبان کے مطابق کہا جاسکتا ہے کہ دونوں گروہوں کی کامیابی کا انحصار بار ثبوت پر ہے۔ اگر یہ معاملہ کسی غیر جانبدار شخص کے سامنے رکھا جائے تو فریق مدعی ہار جائے گا۔ یعنی قطعی طور پر نہ قادیانیوں کا یہ دعویٰ ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور نہ لاہوریوں کا یہ دعویٰ کہ انہوں نے ایسا دعویٰ نہیں کیا تھا۔

لاہوری جماعت کو ہم ایک طرف سے مظلوم سمجھتے ہیں۔ مباحثین کے مقابلے میں یہ

١٦٤

صفحہ ٣٧٥

لوگ بہت تھوڑی تعداد میں ہیں۔ لیکن انہوں نے اشاعت اسلام کا ٹھوس کام قادیانیوں کی نسبت کہیں زیادہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں مولوی محمد علی قادیانی اور خواجہ کمال الدین قادیانی کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ مولوی صاحب نے قرآن کریم کا انگریزی میں ترجمہ کیا ہے اور اردو میں تین جلدوں پر مشتمل ایک تفسیر بھی لکھی ہے۔ انگریزی ترجمہ اس زمانہ کے لحاظ سے بہت اہم تھا۔ کیونکہ غالباً اس وقت تک ایک غیر مسلم مصنف کے سوا کسی نے قرآن کریم کا انگریزی میں ترجمہ نہ کیا تھا اور مولوی صاحب کا یہ اجتہاد بھی قابل ستائش ہے کہ انہوں نے قرآن کے انگریزی ترجمے کا ایک ایڈیشن بغیر عربی متن کے شائع کیا جو ہمارے نزدیک قرآن کو دیگر زبانوں میں منتقل کرنے اور اس کی اشاعت کو بڑھانے کے لئے ضروری ہے۔ ان کتب کے علاوہ مولوی صاحب نے صحیح بخاری کا بھی اردو میں ترجمہ کیا۔ دو جلدوں کی اس کتاب میں ترجمہ کے علاوہ مفید حواشی بھی درج ہیں۔ مولوی صاحب کے تفسیری نوٹوں میں اکثر مقامات کا طرز استدلال بہت لوگوں کے لئے قابل قبول نہ ہوگا۔ لیکن یہ بات ہر کوئی مانے گا کہ یہ کتاب نہایت محنت سے اور مکمل تحقیق کے بعد لکھی گئی ہیں اور اسلامی لٹریچر میں ایک مفید اور خیال آفریں اضافہ ہیں۔ مولوی صاحب کی بعض دوسری کتب جمع قرآن مقام حدیث وغیرہ بھی ہیں۔ خواجہ کمال الدین قادیانی نے وسیع اور متنوع مذہبی مضامین پر اردو اور انگریزی میں بے شمار کتابیں اور رسالے لکھے ہیں۔ ان میں سے بالخصوص انگریزی لٹریچر یورپ میں اسلام کی تبلیغ میں ممد ثابت ہوا ہے۔

اس وقت بھی قادیانی جماعت کے بے شمار بیرونی مراکز تبلیغ اور ان کی (بالعموم) کاغذی کارروائی کے مقابلے میں لاہوری جماعت کی احمدیہ انجمن اشاعت اسلام کا تنہا دوکنگ مشن زیادہ اہم ہے۔ اس مشن کی طرف سے شائع ہونے والا ماہنامہ اسلامک ریویو ایک بلند پایہ جریدہ ہے۔ جس میں اسلام کے متعلق گراں قدر علمی مضامین پیش کئے جاتے ہیں۔ ظاہری محاسن مثلاً کاغذ، تصاویر اور چھپائی وغیرہ میں بھی یہ یورپ کے بہترین رسائل سے کسی طرح کم نہیں ہے۔ ضمناً ایک خوشی کی بات یہ ہے کہ عام احمدیہ پالیسی کے برعکس یہ رسالہ عام طور پر اسلام کے ترقی پسند نظریئے کا حامی ہے۔ (اب کچھ عرصہ سے اس رسالے کی اشاعت بند ہوگئی ہے جس کی وجوہ معلوم نہیں ہو سکیں)

(اب تو خیر سے مولانا لال حسین اخترؒ کے ١٩٦٩ء میں برطانیہ تشریف لے جانے پر دوکنگ مشن سے قادیانی بے دخل ہو گئے۔ اب وہ مسلمانوں کے پاس ہے۔ فقیر مرتب!)

ان سب خوبیوں کے باوجود بلکہ ان کی وجہ سے ہی لاہوری احمدیوں کو مظلوم سمجھتے

١٦٥

صفحہ ٣٧٦

عالمی سیرت پر ایک عالمانہ عالمی سیرت کا پس منظر مسائل سیرت کا مطالعہ پیشگی مقالات عالمی سیرت کانفرنس کانفرنس کی کاروائی

ہیں ۔ یہ اس لئے کہ قادیانی احمدی اور غیر احمدی دونوں ان کو منافقین کا گروہ کہتے ہیں۔ قادیانی ان کو غیر احمدیوں سے بھی برا سمجھتے ہیں اور غیر احمدی ان کو قادیانیوں سے بدتر خیال کرتے ہیں ۔ اول الذکر کا الزام یہ ہے کہ انہوں نے مسیح موعود کی جماعت میں شامل ہونے کے بعد اس سے بے وفائی کی ہے اور یہ کہ اپنے آپ کو غیر احمدیوں میں ہر دلعزیز بنانے کے لئے مرزا قادیانی کی تعلیم کو چھپاتے ہیں یا اسے مسخ شدہ صورت میں پیش کرتے ہیں اور غیر احمدی کہتے ہیں کہ قادیانیوں کی کم از کم یہ خوبی تو ہے کہ اپنے آپ کو کھلم کھلا پیش کرتے ہیں اور مرزا قادیانی کے دعویٰ کی نسبت ہمیں کسی شک و شبہ میں نہیں چھوڑتے ۔ اس لئے ان کے دھوکے سے بچنا آسان ہے ۔ اس کے مقابلہ میں لاہوری احمدی اپنے آپ کو دوسرے مسلمانوں میں خلط ملط کر دیتے ہیں اور مرزا قادیانی کے دعویٰ کو اپنی اصلی شکل کے ساتھ ظاہر نہیں ہونے دیتے اور اس طرح مسلمان ان کے دام میں پھنس جاتے ہیں ۔

بات یہ ہے کہ سیاست ہو یا مذہب ، اعتدال کی راہ بہت کم پسند کی جاتی ہے ۔ حقیقتاً لاہوری جماعت کسی کو دھوکا نہیں دے رہے ۔ بلکہ خود فریب خوردہ ہے ۔ اپنے زعم میں یہ جماعت مرزا قادیانی کے مقام کی نسبت ایک ایسا عقیدہ رکھتی ہے جو بظاہر نظریہ ختم نبوت کے منافی نہیں ہے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ خود مرزا قادیانی کی تحریریں بحیثیت مجموعہ لاہوری عقیدہ کی متحمل نہیں ہوسکتیں۔ یعنی ان تحریروں سے یہ ثابت نہیں کیا جاسکتا کہ مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔ لاہوری نظریہ کو قابل قبول بنانے کے لئے مرزا قادیانی کی اپنی کتب کی ایسی تاویل اور تحریف کرنی پڑتی ہے جو ہم کسی طرح جائز نہیں سمجھتے ۔ پھر یہ بھی سوال ہے کہ اگر فی الواقع مرزا قادیانی کی حیثیت محض مجدد وقت کی تھی اور کسی حقیقی معنی میں نبی کا دعویٰ ان کا نہیں ہے تو پھر اس فی سبیل اللہ فساد کی ضرورت کیا ہے؟ مجدد پر ایمان لانا کیونکر ضروری ہے اور مجدد کی اتباع میں الگ فرقہ اور جماعت قائم کرنا کس طرح جائز ہے؟ اس قسم کے فرقوں کی پہلے ہی کیا کمی ہے کہ ایک اور کا اضافہ کیا جائے؟۔

جماعت احمدیہ کے دونوں فرقوں کا اس پر اتفاق ہے کہ مرزا قادیانی کی تصانیف میں نبوت کا دعویٰ بھی ہے اور اس سے انکار بھی ۔ لیکن اس تضاد کی توجیہہ دونوں الگ الگ کرتے ہیں ۔ قادیانی جماعت کا نظریہ یہ ہے کہ گو خدا نے شروع سے ہی مرزا قادیانی کو نبی مبعوث کیا تھا اور بار بار الہام اور وحی کے ذریعے ان کو اس کی خبر دے دی تھی ۔ لیکن مرزا قادیانی دیگر مسلمانوں کی طرح ختم نبوت پر یقین رکھتے تھے اور محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد نبوت کے دروازہ کو قطعی طور پر بند

١٦٦

خیال کرتے تھے۔ اس لئے انہوں نے ان کو نبی کہہ کر پکارا گیا تھا۔ محض اعزازی ا لیکن جب اس قسم کی وحی تواتر کے ساتھ جا لی اور جان لیا کہ فی الواقع ان کو منصب نبو استعارہ نہیں ہیں ۔ مرزا محمود احمد قادیانی نے واضح الفاظ میں پیش کیا ہے اور عقیدہ کی مرزا قادیانی کو لفظ نبی کا صحیح مفہوم معلوم نہ ہونا ضروری ہے۔ اس سلسلہ میں مرزا محمود ص ١٢٤) میں لکھا ہے۔

"خلاصہ کلام یہ ہے کہ حضرت نبی وہ ہے جو نئی شریعت لائے یا بعض حکم منسوخ کہ وہ سب شرائط جو نبی کے لئے واقع میں ضرو اختیار کرنے سے انکار کرتے رہے اور گو ا جانے سے کوئی شخص نبی ہو جاتا ہے۔ لیکن ا تھے۔ بلکہ محدث کی شرائط سمجھتے تھے۔ اس لئے میں دعویٰ کی کیفیت تو وہ بیان کرتا ہوں جو سے انکار کرتا ہوں ۔"

قادیانی جماعت کے نزدیک میں واقع ہوئی اور سب سے پہلے مرزا قادیان کیا۔ اس رسالہ کے نفس مضمون کی تنقید کر طرف توجہ دلانا ضروری ہے۔

١....... کیا یہ عجیب بات سو سال کے بعد ساری دنیا میں سے ایک ا کہ خدا کی وحی کے مفہوم کو سمجھ سکے اور یہ ہو ۔ بلکہ متواتر تئیس سال تک یہ غلط فہمی قائم پانچ سال پہلے سمجھ میں آئے؟

صفحہ ٣٧٧

خیال کرتے تھے۔ اس لئے انہوں نے ان الہامات کو ظاہر پر محمول نہ کیا اور ان الفاظ کو جن میں ان کو نبی کہہ کر پکارا گیا تھا۔ محض اعزازی القاب سمجھا جو استعارہ کے طور پر استعمال کئے گئے تھے۔ لیکن جب اس قسم کی وحی تواتر کے ساتھ جاری رہی تو مرزا قادیانی نے اپنے سابقہ عقیدہ کی تصحیح کر لی اور جان لیا کہ فی الواقع ان کو منصب نبوت پر فائز کیا گیا ہے اور اس ضمن میں وحی کے الفاظ محض استعارہ نہیں ہیں۔ مرزا محمود احمد قادیانی نے مرزا قادیانی کے اس تبدیلی عقیدہ کے نظریہ کو بڑے واضح الفاظ میں پیش کیا ہے اور عقیدہ کی تبدیلی کی ایک دلیل یہ بھی دی ہے کہ شروع میں مرزا قادیانی کو لفظ نبی کا صحیح مفہوم معلوم نہ تھا۔ وہ خیال کرتے تھے کہ نبی کے لئے صاحب شریعت ہونا ضروری ہے۔ اس سلسلہ میں مرزا محمود احمد قادیانی نے اپنی کتاب (حقیقت النبوت حصہ اول ص ١٤٣) میں لکھا ہے۔

”خلاصہ کلام یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود چونکہ ابتدا نبی کی تعریف یہ خیال کرتے تھے کہ نبی وہ ہے جو نئی شریعت لائے یا بعض حکم منسوخ کرے یا بلا واسطہ نبی ہو۔ اس لئے باوجود اس کے کہ وہ سب شرائط جو نبی کے لئے واقع میں ضروری ہیں۔ آپ میں پائی جاتی تھیں۔ آپ نبی کا نام اختیار کرنے سے انکار کرتے رہے اور گو ان ساری باتوں کا دعویٰ کرتے رہے۔ جن کے پائے جانے سے کوئی شخص نبی ہو جاتا ہے۔ لیکن چونکہ آپ ان شرائط کو نبی کی شرائط نہیں خیال کرتے تھے۔ بلکہ محدث کی شرائط سمجھتے تھے۔ اس لئے اپنے آپ کو محدث کہتے رہے اور نہیں جانتے تھے کہ میں دعویٰ کی کیفیت تو وہ بیان کرتا ہوں جو نبیوں کے سوا اور کسی میں نہیں پائی جاتی اور نبی ہونے سے انکار کرتا ہوں۔“

قادیانی جماعت کے نزدیک عقیدہ کی یہ تبدیلی ١٩٠١ء (اور بعض کے نزدیک ١٩٠٢ء) میں واقع ہوئی اور سب سے پہلے مرزا قادیانی نے اس کا اظہار اپنے رسالہ ایک غلطی کا ازالہ میں کیا۔ اس رسالہ کے نفس مضمون کی تنقید کو فی الحال چھوڑتے ہوئے چند اہم سوال ہیں۔ جن کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے۔

سو سال کے بعد ساری دنیا میں سے ایک ایسے شخص کو انتخاب کرے جس میں اتنی استعداد بھی نہ ہو کہ خدا کی وحی کے مفہوم کو سمجھ سکے اور یہ غلطی ایک آدھ فقرہ کی نسبت اور تھوڑے عرصہ کے لئے نہ ہو۔ بلکہ متواتر تئیس سال تک یہ غلط فہمی قائم رہے اور اسے اصل صورتحال اپنی وفات سے صرف چار پانچ سال پہلے سمجھ میں آئے؟

١٦٧

صفحہ ٣٧٨

اور ذومعنی تھے تو اس میں خدا کے پیش نظر کون سی مصلحت تھی۔ (اس بارے میں مرزا قادیانی کی ذاتی مصلحت تو آسانی سے سمجھ میں آسکتی ہے) کیا خدا واضح الفاظ استعمال کرنے پر قدرت نہ رکھتا تھا؟ یا کیا اس کی یہ غرض ہو سکتی تھی کہ اس کا اپنا مامور ہی اس کی بات کو نہ سمجھ سکے۔

میرا مخاطب میری بات نہیں سمجھ رہا۔ لیکن اس نے اپنے بندے کو غلطی سے آگاہ کرنا مناسب نہ سمجھا۔ اس میں کیا مصلحت تھی؟

غلطی لگنا ممکن ہے ہو سکتا ہے کہ احمدیوں کے علاوہ بھی مسلمانوں کا کوئی فرقہ اس کا قائل ہو۔ لیکن ہم اس کو ایک بالکل بے بنیاد تصور خیال کرتے ہیں۔ اگر مرزا قادیانی کو اپنا مقام خود تجویز کرنا تھا تو اجتہاد بھی برتا جاسکتا ہے اور اجتہادی غلطی بھی ممکن ہے۔ لیکن اگر خدا نے مرزا قادیانی کو کسی مقام پر کھڑا کیا تھا تو اس میں مرزا قادیانی کے اجتہاد کا کیا سوال ہے؟

درست نتیجے پر نہ پہنچایا اور وہ اپنے منصب کی نسبت اپنے ہی الہامات کے درست معانی سمجھنے سے قاصر رہے۔ اب یہ تو ہو سکتا تھا کہ خدا اپنے کلام سے مرزا قادیانی کی غلطی دور کرتا اور ایسی صاف اور واضح وحی کے ذریعہ ان کو اپنے مقام سے آگاہ کر دیتا کہ شک وشبہ کی کوئی گنجائش باقی نہ رہتی۔ لیکن یہ نہیں ہوا۔ بلکہ واقعہ یہ ہے کہ ١٩٠٢ء کے بعد مرزا قادیانی کے بیان کے مطابق انہیں یہ کم وحی ہوئی۔ اس سال کے بعد کی کتب میں بیشتر الہامات وہی ہیں۔ جو اس سے پہلے کی کتب میں شائع ہو چکے تھے۔ اکثر وہ ہیں جو مرزا قادیانی کی سب سے پہلی تصنیف براہین احمدیہ میں بھی شامل ہیں۔ تو پھر ظاہر یہ ہوا کہ جن الہامات کی نسبت پہلے مرزا قادیانی کا اپنا اجتہاد یہ تھا کہ ان کی بناء پر یہ دعوٰی نہیں کیا جاسکتا کہ خدا نے انہیں نبی مقرر کیا ہے۔ انہی کے متعلق مرزا قادیانی کی رائے (بغیر کسی الہام کی مدد کے) یہ ہوگئی کہ ان سے دعوٰی نبوت لازم ہو جاتا ہے۔ اس صورت میں کیا یہ ممکن نہیں کہ مرزا قادیانی کی پہلی رائے ہی درست ہو؟ اور اس کو بدلنے میں انہیں غلطی لگی ہو۔ پہلی رائے کی غلطی پر آگاہ ہونے میں انہیں تیس سال لگے۔ ممکن ہے اگر اتنا ہی عرصہ مزید ان کی زندگی وفا کرتی تو اس رائے کی غلطی بھی ان پر واضح ہو جاتی۔

١٦٨ لائیں اور ان کے دعوٰی کو سچا مان کر ان کی جماعت سے ان کی مراد کیا تھی؟ اپنی نبوت پر ایمان لانے خود مرزا قادیانی اپنے آپ کو نبی نہ سمجھتے تھے فائدہ نہ ہو سکتا تھا۔ کیونکہ بعد کی وضاحت کے سے ظاہر نہیں کرتے۔ اس کے باوجود مرزا قادیانی رہے تھے کہ دنیا پر طاعون، زلزلوں اور دیگر آفات ان کی وجہ محض یہ ہے کہ مخلوق نے مرزا قادیانی ان سے بڑھ کر عذاب آتے رہیں گے۔ یہاں تک کے انکار سے عذاب میں مبتلا کئے جارہے تھے

رہے تھے کہ ان کے کہنے کے مطابق مرزا قادیانی اس کے جواب میں مرزا قادیانی بار بار اعلان کرتے ہیں۔ حالانکہ مرزا قادیانی کا عقیدہ اجماع امت نہیں ہیں۔ مثلاً کے طور پر مرزا قادیانی کی کتاب اقتباس اور ان کا ترجمہ ملاحظہ ہو۔

وصعودهم ويحسب الشمس والقمر محمد اﷺ خاتم الانبياء ومنتهى المرسلين فهذا كلها مفتريات وتحريفات الاكذب . والله ليعلم انهم من الدجالین ان کے نزول و صعود کو نہیں مانتا اور خیال کرتا ہے ہیں اور یہ اس بات پر بھی اعتقاد نہیں رکھتا کہ محمد بعد کوئی نبی نہیں آسکتا اور وہ خاتم النبیین ہیں رب پاک ذات ہے۔ میں نے اس طرح کی کرنا) محض جھوٹ ہے اور اللہ جانتا ہے کہ یہ لوگ

صفحہ ٣٧٨-٣٧٩

عالمی سیرت کانفرنس کانفرنس کی کارروائی پر عالمی سیرت کانفرنس پہلا مقالہ مقالہ جات و خط عالمی سیرت کا

کی استعداد کا نقص نہیں ہے۔ بلکہ وحی کے الفاظ ہی مبہم کون سی مصلحت تھی۔ (اس بارے میں مرزا قادیانی کی ہے) کیا خدا واضح الفاظ استعمال کرنے پر قدرت نہ رکھتا اپنا مدعیٰ اس کی بات کو نہ سمجھ سکے۔ یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ باوجود اس کے کہ خدا کو معلوم تھا کہ اس نے اپنے بندے کو غلطی سے آگاہ کرنا مناسب نہ

ایک اجتہادی غلطی تھی اور یہ کہ ایک نبی کو بھی اس طرح کی کے علاوہ بھی مسلمانوں کا کوئی فرقہ اس کا قائل ہو۔ لیکن کرتے ہیں۔ اگر مرزا قادیانی کو اپنا مقام خود تجویز کرنا تھا تو بھی ممکن ہے۔ لیکن اگر خدا نے مرزا قادیانی کو کسی مقام اعتقاد کا کیا سوال ہے؟

کس طرح ہوئی؟ مرزا قادیانی کے اپنے ذہن نے تو انہیں کی نسبت اپنے ہی الہامات کے درست معانی سمجھنے سے اپنے کلام سے مرزا قادیانی کی غلطی دور کرتا اور ایسی صاف سے آگاہ کر دیتا کہ شک وشبہ کی کوئی گنجائش باقی نہ رہتی۔ ہو کے بعد مرزا قادیانی کے بیان کے مطابق انہیں یہ کم وحی ترا الہامات وہی ہیں۔ جو اس سے پہلے کی کتب میں شائع ان کی سب سے پہلی تصنیف براہین احمدیہ میں بھی شامل نسبت پہلے مرزا قادیانی کا اپنا اجتہاد یہ تھا کہ ان کی بناء پر نبی مقرر کیا ہے۔ انہی کے متعلق مرزا قادیانی کی رائے اسے دعویٰ نبوت لازم ہو جاتا ہے۔ اس صورت میں کیا یہ ہی درست ہو؟ اور اس کو بدلنے میں انہیں غلطی لگی ہو۔ پہلی یس سال لگے ۔ ممکن ہے اگر اتنا ہی عرصہ مزید ان کی زندگی واضح ہو جاتی۔

مرزا قادیانی لوگوں کو دعوت دینے آئے تھے کہ ان پر ایمان ١٦٨

لائیں اور ان کے دعویٰ کو سچا مان کر ان کی جماعت میں شامل ہو جائیں ۔ آخر اس دعوت اور مطالبے سے ان کی مراد کیا تھی؟ اپنی نبوت پر ایمان لانے کی دعوت تو ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ کیونکہ اس وقت خود مرزا قادیانی اپنے آپ کو نبی نہ سمجھتے تھے۔ غیر نبی مجدد یا محدث وغیرہ ماننے سے لوگوں کو کچھ فائدہ نہ ہو سکتا تھا۔ کیونکہ بعد کی وضاحت کے مطابق یہ منصب مرزا قادیانی کی حیثیت کو صحیح طور سے ظاہر نہیں کرتے۔ اس کے باوجود مرزا قادیانی اس تمام عرصے میں بڑی تحدی سے بیان کر رہے تھے کہ دنیا پر طاعون ، زلزلوں اور دیگر آفات کی صورت میں جو عذاب نازل ہو رہے ہیں۔ ان کی وجہ محض یہ ہے کہ مخلوق نے مرزا قادیانی کے دعویٰ سے انکار کیا ہے اور یہ کہ اس طرح کے اور ان سے بڑھ کر عذاب آتے رہیں گے۔ یہاں تک کہ لوگ ایمان لے آئیں ۔ گویا لوگ اس دعویٰ کے انکار سے عذاب میں مبتلا کئے جا رہے تھے۔ جس کو مدعی خود بھی نہ سمجھتا تھا۔

رہے تھے کہ ان کے کہنے کے مطابق مرزا قادیانی نبوت کے مدعی اور عقیدۂ ختم نبوت کے منکر تھے۔ اس کے جواب میں مرزا قادیانی بار بار اعلان کرتے ہیں کہ مخالفین ان پر بلاوجہ غلط الزام لگا رہے ہیں۔ حالانکہ مرزا قادیانی کا عقیدہ اجماع امت کے بالکل مطابق ہے اور وہ ہرگز نبوت کے مدعی نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر مرزا قادیانی کی کتاب (حمامتہ البشریٰ ص ٩، خزائن ج ٧ ص ١٨٥) کے دو اقتباس اور ان کا ترجمہ ملاحظہ ہو۔

وصعودهم ويحسب الشمس والقمر والنجوم اجسام الملائكه ولا يعتقد بان محمد ﷺ خاتم الانبياء ومنتهى المرسلين لا نبى بعده وهو خاتم النبيين . فهذا كلها مفتريات وتحريفات . سبحان ربى . ماتكلمت مثل هذا ان هو الا كذب . والله ليعلم انهم من الدجالين" اور (یہ لوگ) کہتے ہیں کہ یہ شخص فرشتوں اور ان کے نزول وصعود کو نہیں مانتا اور خیال کرتا ہے کہ سورج اور چاند اور ستارے فرشتوں کے اجسام ہیں اور یہ اس بات پر بھی اعتقاد نہیں رکھتا کہ محمد ﷺ انبیاء اور مرسلین کے خاتم ہیں۔ حالانکہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا اور وہ خاتم النبیین ہیں۔ یہ سب باتیں محض مفتریات اور تحریفات ہیں۔ میرا رب پاک ذات ہے۔ میں نے اس طرح کی کوئی بات نہیں کی۔ یہ بات ( میری طرف منسوب کرنا ) محض جھوٹ ہے اور اللہ جانتا ہے کہ یہ لوگ دجالین ہیں۔

١٦٩

صفحہ ٣٨٠

ادعی النبوة وقال انی من النبیین اما الجواب فاعلم یا اخی انی ما ادعیت النبوة وما قلت لہم انی نبی ولکن تعجلوا واخطأوا فی فہم قولی ”اور جو لوگ مجھے کافر کہتے ہیں ان کے اعتراضات میں سے ایک یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں میں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور یہ کہ میں نے کہا ہے کہ میں نبیوں میں سے ہوں۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ اے بھائی! جان لے کہ میں نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ میں نے ان کو کہا ہے کہ میں نبی ہوں۔ ان لوگوں نے جلد بازی سے کام لیا ہے اور میری بات کو سمجھنے میں غلطی کی ہے۔

(حمامة البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٦)

یہ حوالے کسی تشریح کے محتاج نہیں ہیں۔ اب مرزا محمود احمد قادیانی کے اس خیال پر دوبارہ غور کیجئے کہ : ”آپ نبی کا نام اختیار کرنے سے انکار کرتے رہے اور نہیں جانتے تھے کہ میں دعویٰ کی کیفیت تو وہ بیان کرتا ہوں جو نبیوں کے سوا اور کسی میں نہیں پائی جاتی اور میں نبی ہونے سے انکار کرتا ہوں ۔“ اس سے ظاہر ہوا کہ اس زمانے میں بھی اس بارے میں مرزا قادیانی کی پوزیشن غلط تھی اور ان کے مقابلے میں ان کے مخالفین کی درست تھی۔ یہ کیونکر ممکن ہے کہ نبی کی تکذیب کرنے والے تو اس کے الہام کا مطلب درست سمجھ رہے ہیں۔ لیکن خود ملہم یہ مفہوم سمجھنے سے قاصر ہو۔

جس کی وجہ سے مرزا قادیانی اتنا عرصہ مغالطے میں مبتلا رہے۔ خود مرزا قادیانی نے اپنی کتاب (حقیقت الوحی ص ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣) میں اس امر پر بحث کی ہے کہ وحی کی شان کے اعتبار سے ملہمین کے کئی مدارج ہوتے ہیں۔ یہ کتاب مرزا قادیانی نے اپنی وفات سے صرف ایک سال پہلے لکھی تھی اور تمہید میں اس کی تصنیف کی غرض ان الفاظ میں بیان کی ہے ۔

”واضح ہو کہ مجھے اس رسالے کے لکھنے کے لئے یہ ضرورت پیش آئی ہے کہ اس زمانے میں جس طرح اور صدہا طرح کے فتنے اور بدعتیں پیدا ہوگئی ہیں۔ یہ بھی ایک بزرگ فتنہ پیدا ہو گیا ہے کہ اکثر لوگ اس بات سے بے خبر ہیں کہ کس درجہ اور کس حالت میں کوئی خواب یا الہام قابل اعتبار ہو سکتا ہے اور کن حالتوں میں یہ اندیشہ ہے کہ وہ شیطان کا کلام ہو نہ خدا کا اور حدیث النفس ہو نہ حدیث الرب۔“

آگے چل کر مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ اکثر لوگ اس سے بے خبری کی وجہ سے سخت ابتلا میں پڑ جاتے ہیں اور ان کی نظر میں سلسلۂ نبوت اس سے مشتبہ ہو جاتا ہے۔ اس لئے میں نے

١٧٠

مناسب سمجھا کہ حق اور باطل میں فرق کرتے ہوئے مرزا قادیانی فرماتے رہتے ہیں۔ بلکہ کبھی کبھی سچے بھی ہو ہیں۔ جو الہام اور وحی کے مدعی ہیں نیک چلنی کی بھی نہیں تو اس صورت اپنے دل میں ضرورت محسوس نہ کرے ثبوت ملتا ہے کہ باوجود اختلافِ ہوتے ہیں.......... تو اس صورت خاص کر ایسے لوگوں کے لئے یہ ایک اللہ ملہم خیال کرتے ہیں اور دراصل خواب ان کی سچی ہو جاتی ہے اپنے بات پر آمادہ کیا کہ میں اس فرق کو منقسم کرتا ہوں۔ باب اوّل ان لوگو الہام ہوتے ہیں۔ لیکن ان کو خدا تـ جن کو بعض اوقات سچی خوابیں آتی ہے۔ لیکن بڑا تعلق نہیں۔ باب سوم وحی پاتے ہیں اور کامل طور پر مشرف کی طرح سچی آتی ہیں اور خدا تعالیٰ پسندیدہ نبیوں اور رسولوں کا تعلق ہو میں کہ خدا تعالیٰ کے فضل اور کرم سے

وحی کی حقیقت اور اس ک کے مقرب انبیاء کی طرح شرف مکالم تھی۔ لیکن مرزا قادیانی نے موضوع اشتہارات کو شامل کر کے جو کہ اس میں سے پہلے تین ابواب جن میں مر

صفحہ ٣٨١

الجواب فاعلم يا اخي اني ما ادعيت جهلوا واختلاطاً في فهم قولي“ اور جولوگ ایک یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں میں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہوں ۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ اے بھائی ! جان نے ان کو کہا ہے کہ میں نبی ہوں ۔ ان لوگوں نے غلطی کی ہے۔

(حمامتہ البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٦)

ہیں ۔ اب مرزا محمود احمد قادیانی کے اس خیال پر سے انکار کرتے رہے اور نہیں جانتے تھے کہ میں سوا اور کسی میں نہیں پائی جاتی اور میں نبی ہونے ی زمانے میں بھی اس بارے میں مرزا قادیانی کی مخالفین کی درست تھی۔ یہ کیونکر ممکن ہے کہ نبی کی ب درست سمجھ رہے ہیں۔ لیکن خود ملہم یہ مفہوم سمجھنے

کے درجے اور نوعیت کے تعین کا بھی سوال ہے۔ ر میں مبتلا رہے۔ خود مرزا قادیانی نے اپنی کتاب ں اس امر پر بحث کی ہے کہ وحی کی شان کے اعتبار مرزا قادیانی نے اپنی وفات سے صرف ایک سال ان الفاظ میں بیان کی ہے۔ کے لکھنے کے لئے یہ ضرورت پیش آئی ہے کہ اس اور بدعتیں پیدا ہوگئی ہیں۔ یہ بھی ایک بزرگ فتنہ تھ ہیں کہ کس درجہ اور کس حالت میں کوئی خواب یا ل یہ اندیشہ ہے کہ وہ شیطان کا کلام ہو نہ خدا کا اور

یہ ہے کہ اکثر لوگ اس سے بے خبری کی وجہ سے سخت نبوت اس سے مشتبہ ہو جاتا ہے۔ اس لئے میں نے ١٧٠

مناسب سمجھا کہ حق اور باطل میں فرق کرنے کے لئے یہ رسالہ لکھوں ۔ الہام کے مدارج پر بحث کرتے ہوئے مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”ایسی خوابیں اور ایسے الہام مختلف قسم کے لوگوں کو ہوتے رہتے ہیں۔ بلکہ کبھی کبھی بچے بھی ہو جاتے ہیں اور ایسے آدمی اس ملک میں پچاس سے بھی زیادہ ہیں ۔ جو الہام اور وحی کے مدعی ہیں اور ان لوگوں کا ایسا وسیع دائرہ ہے کہ کوئی شرط سچے مذہب اور نیک چلنی کی بھی نہیں تو اس صورت میں کوئی عقل مند ایسا نہ ہوگا کہ اس عقیدہ کو حل کرنے کے لئے اپنے دل میں ضرورت محسوس نہ کرے کہ مابہ الامتیاز کیونکر قائم ہو۔ بالخصوص جب کہ اس بات کا بھی ثبوت ملتا ہے کہ باوجود اختلاف مذہب اور عقیدہ کے ہر ایک فرقہ کے لوگوں کو خوابیں اور الہام ہوتے ہیں ............ تو اس صورت میں حق کے طالبوں کی راہ میں یہ ایک خطرناک پتھر ہے اور خاص کر ایسے لوگوں کے لئے یہ ایک زہر قاتل ہے جو خود مدعی الہام ہیں اور اپنے تئیں من جانب اللہ ملہم خیال کرتے ہیں اور دراصل خدا تعالیٰ سے ان کا کوئی تعلق نہیں اور وہ اس دھوکے سے جو کوئی خواب ان کی سچی ہو جاتی ہے اپنے تئیں کچھ چیز سمجھتے ہیں ۔ پس یہی وہ امر ہے جس نے مجھے اس بات پر آمادہ کیا کہ میں اس فرق کو حق کے طالبوں پر ظاہر کروں ۔ سو میں اس کتاب کو چار باب پر منقسم کرتا ہوں۔ باب اوّل ان لوگوں کے بیان میں جن کو بعض سچی خوابیں آتی ہیں ۔ یا بعض سچے الہام ہوتے ہیں ۔ لیکن ان کو خدا تعالیٰ سے کچھ بھی تعلق نہیں ۔ باب دوم ان لوگوں کے بیان میں جن کو بعض اوقات سچی خوابیں آتی ہیں یا سچے الہام ہوتے ہیں اور ان کو خدا تعالیٰ سے کچھ تعلق تو ہے۔ لیکن بڑا تعلق نہیں ۔ باب سوم ان لوگوں کے بیان میں جو خدا تعالیٰ سے اکمل اور اصفےٰ طور پر وحی پاتے ہیں اور کامل طور پر مشرف مکالمہ اور مخاطبہ ان کو حاصل ہے اور خوابیں بھی ان کو فلق الصبح کی طرح سچی آتی ہیں اور خدا تعالیٰ سے اکمل اور اتم اور اصفیٰ تعلق رکھتے ہیں۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ کے پسندیدہ نبیوں اور رسولوں کا تعلق ہوتا ہے۔ باب چہارم اپنے حالات کے بیان میں یعنی اس بیان میں کہ خدا تعالیٰ کے فضل اور کرم نے مجھے ان اقسام ثلاثہ میں سے کس قسم میں داخل فرمایا ہے۔

(حقیقت الوحی ص ٤، ٥، خزائن ج ٢٢ ص ٧، ٦)

وحی کی حقیقت اور اس پر ایک ایسے شخص کی بحث جو اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ اسے خدا کے مقرب انبیاء کی طرح شرف مکالمہ اور مخاطبہ حاصل ہے ایک نہایت دلچسپ کتاب ہونی چاہئے تھی۔ لیکن مرزا قادیانی نے موضوع کے اصولی پہلو پر زیادہ توجہ نہیں دی۔ ان متعدد ضمیموں اور اشتہارات کو شامل کر کے جو کہ اس کتاب کا جزو ہیں کتاب کا حجم قریباً سات سو صفحات ہے۔ اس میں سے پہلے تین ابواب جن میں مسئلہ کے بنیادی اصولوں پر بحث کی گئی ہے۔ صرف چھپن صفحات ١٧١

صفحہ ٣٨٢

میں ختم ہوگئے ہیں۔ کتاب کا باقی حصہ زیادہ تر ان پیش گوئیوں پر مشتمل ہے جن کی نسبت مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ پوری ہوچکی ہیں۔ ان میں سے اکثر پیش گوئیوں کا ذکر مرزا قادیانی کی پہلی کتب میں آچکا تھا۔ یہاں ان سب کو جمع کر دیا گیا ہے۔

ہم اس کتاب کے تیسرے باب (ص ١٢، ٢٢، خزائن ج ٢٢ ص ١٦، ٢٥) سے چند اقتباسات پیش کرنا چاہتے ہیں۔ جن سے ظاہر ہوگا کہ مرزا قادیانی نے خود اکمل اور اصفیٰ وحی کی کیا کیفیت بیان کی ہے جو ان کے کہنے کے مطابق کامل شرف مکالمہ و مخاطبہ کے نتیجے میں نازل ہوتی ہے۔

فرماتے ہیں: ”خدا تعالیٰ سے کامل تعلق پیدا کرنے والے اس شخص سے مشابہت رکھتے ہیں۔ جو اوّل دور سے آگ کی روشنی دیکھے اور پھر اس سے نزدیک ہو جائے۔ یہاں تک کہ اس آگ میں اپنے تئیں داخل کر دے اور تمام جسم جل جائے اور صرف آگ ہی باقی رہ جائے۔ یہ امر کہ خدا تعالیٰ سے کسی کا کامل تعلق ہے۔ اس کی بڑی علامت یہ ہے کہ صفات الہیہ اس میں پیدا ہو جاتی ہیں اور بشریت کے رذائل شعلہ نور سے جل کر ایک نئی ہستی پیدا ہوتی ہے۔ منجملہ ان علامات کے یہ بھی ہے کہ خدا تعالیٰ اپنا فصیح اور لذیذ کلام وقتاً فوقتاً اس کی زبان پر جاری کرتا ہے جو الٰہی شوکت اور برکت کی کامل طاقت اپنے اندر رکھتا ہے اور ایک نور اس کے ساتھ ہوتا ہے جو بتلاتا ہے کہ یہ یقینی امر ہے، ظنی نہیں ہے۔ خدا تعالیٰ کا کلام اس پر اسی طرح نازل ہوتا ہے جیسا کہ خدا کے پاک نبیوں اور رسولوں پر نازل ہوتا ہے اور وہ ظن سے پاک اور یقینی ہوتا ہے۔ اس کی آنکھ کو کشفی قوت عطاء کی جاتی ہے۔ جس سے وہ مخفی در مخفی خبروں کو دیکھ لیتا ہے اور بسا اوقات لکھی ہوئی تحریریں اس کی نظر کے سامنے پیش کی جاتی ہیں اور مردوں سے زندوں کی طرح ملاقات کر لیتا ہے اور بسا اوقات ہزاروں کوس کی چیزیں اس کی نظر کے سامنے ایسی آجاتی ہیں۔ گویا وہ پیروں کے نیچے پڑی ہیں۔ ایسا ہی اس کے کانوں کو بھی مغیبات کے سننے کی قوت دی جاتی ہے اور اکثر اوقات وہ فرشتوں کی آواز سن لیتا ہے اور عجیب تر یہ کہ بعض اوقات جمادات اور نباتات اور حیوانات کی آواز بھی اس کو پہنچ جاتی ہے۔ اسی طرح اس کی ناک کو بھی غیبی خوشبو سونگھنے کی ایک قوت دی جاتی ہے اور بسا اوقات وہ بشارت کے امور کو سونگھ لیتا ہے اور مکروہات کی بدبو اس کو آجاتی ہے۔ علیٰ ہذا القیاس اس کے دل کو قوت فراست عطاء کی جاتی ہے اور بہت سی باتیں اس کے دل میں پڑ جاتی ہیں اور وہ صحیح ہوتی ہیں۔ علیٰ ہذا القیاس شیطان اس پر تصرف کرنے سے محروم ہو جاتا ہے۔ اور یا باعث نہایت درجہ فانی فی اللہ ہونے کے اس کی زبان ہر وقت خدا کی زبان ہوتی ہے اور اس کا ہاتھ خدا کا ہاتھ ہوتا ہے اور اگر چہ اسے خاص طور پر الہام بھی نہ ہو۔ تب بھی جو کچھ اس کی زبان پر جاری ہوتا

١٧٢

ہے وہ اس کی طرف سے نہیں بلکہ خدا ”پہلی حالت علم الیقین نام سے نامزد ہے اور تیسری مبارک الذکر ) درجہ کا آدمی صفات الہیہ الہیہ میں فنا ہو جاتا ہے کہ خدا میں ہے اور خدا میں ہوکر چلتا ہے۔ گویا الہیہ کے نیچے مغلوب ہو جاتی ہے۔ کتاب کے چوتھے باب پر روشنی ڈالی ہے۔ چنانچہ اس حصے کے فضل اور کرم نے مجھے ان اقسام دعویٰ ہے کہ میں نے اس نعمت سے کے برگزیدوں کو دی گئی تھی۔ سوال یہ ہے کہ کیا مرزا اترتی ہے؟ جس الہام کے معنی خود ظنی نہیں ہے؟ اور کیا یہ وہ کلام ہو سکتا طرح نازل ہوتا ہے۔ جیسا کہ خدا ہے؟ وحی کی اس تشریح کے مطابق کیونکہ ان کے کہنے کے مطابق الہام خاص طور پر الہام بھی نہ ہو تب بھی بلکہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔“ بھی خدا میں سے ہو کر بول رہے وحی کے ساتھ دی جاتی ہے؟ کیا جاسکتا ہے کہ وہ حق الیقین یا یقین .............٩...... اس ضمن مرزا قادیانی اپنی غلطی سے آگاہ اعلان واضح اور غیر مبہم الفاظ میں

صفحہ ٣٨٣

ہے وہ اس کی طرف سے نہیں بلکہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔“

”پہلی حالت علم الیقین کے نام سے موسوم ہے اور دوسری حالت عین الیقین کے نام سے نامزد ہے اور تیسری مبارک اور کامل حالت حق الیقین کہلاتی ہے۔ اس (یعنی آخر الذکر) درجہ کا آدمی صفات الہیہ سے ظلی طور پر متصف ہوجاتا ہے اور اس قدر طبعاً مرضات الہیہ میں فنا ہوجاتا ہے کہ خدا میں ہوکر بولتا ہے اور خدا میں ہوکر دیکھتا ہے اور خدا میں ہوکر سنتا ہے اور خدا میں ہوکر چلتا ہے۔ گویا اس کے جبہ میں خدا ہی ہوتا ہے اور انسانیت اس کی تجلیات الہیہ کے نیچے مغلوب ہوجاتی ہے۔“

کتاب کے چوتھے باب (ص٦٢، خزائن ج٢٢ ص٦٤) میں مرزا قادیانی نے اپنے مقام پر روشنی ڈالی ہے۔ چنانچہ اس حصے کا عنوان ہی یہ ہے: ”اپنے حالات کے بیان میں کہ خدا تعالیٰ کے فضل اور کرم نے مجھے ان اقسام ثلاثہ میں سے کسی قسم میں داخل فرمایا ہے۔“ مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ میں نے اس نعمت سے کامل حصہ پایا ہے جو جو مجھ سے پہلے نبیوں اور رسولوں اور خدا کے برگزیدوں کو دی گئی تھی۔

سوال یہ ہے کہ کیا مرزا قادیانی کی وحی ان کے اپنے قائم کئے ہوئے معیار پر پوری اترتی ہے؟ جس الہام کے معنی خود ملہم نہ سمجھ سکے۔ کیا اس کے متعلق کہا جاسکتا ہے کہ یقینی امر ہے اور ظنی نہیں ہے؟ اور کیا یہ وہ کلام ہوسکتا ہے جس کی نسبت مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ خدا کا کلام اس طرح نازل ہوتا ہے۔ جیسا کہ خدا کے پاک نبیوں اور رسولوں پر اور وہ ظن سے پاک اور یقینی ہوتا ہے؟ وحی کی اس تشریح کے مطابق تو مرزا قادیانی کو اپنے مقام کی نسبت غلطی لگنا ممکن ہی نہ تھا۔ کیونکہ ان کے کہنے کے مطابق انہیں فنا فی اللہ کا وہ درجہ حاصل تھا۔ جس پر پہنچ کر انسان کو ”اگرچہ خاص طور پر الہام بھی نہ ہو تب بھی جو کچھ اس کی زبان پر جاری ہوتا ہے وہ اس کی طرف سے نہیں بلکہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔“ کیا جب وہ غلط فہمی سے اپنی نبوت کا انکار کر رہے تھے۔ اس وقت بھی خدا میں سے ہوکر بول رہے تھے؟ مرزا قادیانی اس قوت فراست سے کیوں محروم رہے جو اصلی وحی کے ساتھ دی جاتی ہے؟ کیا مرزا قادیانی کی وحی کو ان کے اپنے ہی معیار پر پرکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ وہ حق الیقین یا یقین کے کسی بھی درجہ تک پہنچی ہوئی تھی؟

مرزا قادیانی اپنی غلطی سے آگاہ ہوگئے تو لازم تھا کہ اس سابقہ غلط فہمی اور اپنے عقیدہ میں تبدیلی کا اعلان واضح اور غیر مبہم الفاظ میں کردیتے۔ لیکن انہوں نے کہیں ایسا اعلان نہیں کیا اور یہ اعلان نہ

١٧٣

صفحہ ٣٨٤

کرنا مخالفین اور پیروؤں دونوں سے بے انصافی تھی۔ انصاف کا تقاضہ یہ تھا کہ وہ مخالفین سے معذرت چاہتے اور کہتے۔ آپ لوگ یہ کہنے میں راستی پر تھے کہ میں مدعی نبوت ہوں اور اس بارے میں میری طرف سے تردید میری غلط فہمی پر مبنی تھی۔ اسی طرح تمام مریدوں کو بھی اصل صورتحال سے صاف صاف الفاظ میں باخبر کرنا چاہئے تھا۔ ان لوگوں نے مرزا قادیانی کی بیعت ان کو مجدد سمجھ کر کی تھی۔ اس صورت میں ضروری تھا کہ ان مریدوں کو مزید غلط فہمی میں نہ رہنے دیا جاتا۔ بلکہ ان سے دوبارہ بیعت لی جاتی تاکہ لوگ سمجھ سوچ کر جماعت میں داخل ہوتے۔

کہا جاتا ہے کہ رسالہ (ایک غلطی کا ازالہ ص٢، خزائن ج١٨ ص٢٠٦) میں مرزا قادیانی نے اپنے منصب کی نسبت عقیدہ کی تبدیلی کا اعلان کر دیا تھا۔ لیکن جب ہم اس رسالہ کو دیکھتے ہیں تو اس میں اس طرح کا کوئی اعلان نہیں ملتا۔ بلکہ اس میں مرزا قادیانی نے اشارۃً بھی اپنے عقیدہ کی تبدیلی کا ذکر نہیں کیا ہے اور نہ کہیں اپنی سابقہ غلطی کا اعتراف ہے۔ اس کے برعکس مرزا قادیانی اس رسالے میں اس غلطی کے لئے بھی اپنے مریدوں کو ہی قصور وار ٹھہراتے ہیں۔ چنانچہ یہ رسالہ ان الفاظ سے شروع ہوتا ہے۔

”ہماری جماعت میں بعض صاحب جو ہمارے دعویٰ اور دلائل سے کم واقفیت رکھتے ہیں۔ جن کو نہ بغور کتابیں دیکھنے کا اتفاق ہوا اور نہ وہ ایک معقول مدت تک صحبت میں رہ کر اپنے معلومات کی تکمیل کر سکے۔ وہ بعض حالات میں مخالفین کے کسی اعتراض پر ایسا جواب دیتے ہیں کہ جو سراسر واقعہ کے خلاف ہوتا ہے۔ اس لئے باوجود اہل حق ہونے کے ان کو ندامت اٹھانی پڑتی ہے۔ چنانچہ چند روز ہوئے کہ ایک صاحب پر ایک مخالف کی طرف سے یہ اعتراض پیش ہوا کہ جس سے تم نے بیعت کی ہے وہ نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کا جواب محض انکار کے الفاظ سے دیا گیا۔ حالانکہ ایسا جواب صحیح نہیں ہے۔“

کیا یہ صریح ظلم نہیں کہ مصنف خود تو اپنی کتب کا مطلب نہ سمجھتا ہو اور قارئین سے توقع رکھی جائے کہ وہ اس حقیقت سے آگاہ ہوں جو ابھی باطن مصنف میں بھی موجود نہیں؟ مریدوں کی غلطی کی توجیہ تو مرزا قادیانی نے بتا دی۔ کیا ان کی اپنی غلطی بھی اس وجہ سے تھی کہ انہیں (اپنی) کتابیں بغور دیکھنے کا اتفاق نہ ہوا تھا اور اپنی صحبت میں رہ کر معلومات کی تکمیل نہ کر سکے تھے؟

مرزا قادیانی نے اپنے منصب کے متعلق اپنے دعویٰ اور عقیدہ میں کوئی تبدیلی کی بھی تھی؟ یہ سوال ذرا پیچیدہ ہے اور اس کو دو ٹوک جواب نہیں دیا جاسکتا۔ کوئی ایسا سال یا وقت متعین نہیں ہو سکتا جس

١٧٦

صفحہ ٣٨٥

کے متعلق کہا جاسکے کہ اس سے پہلے مرزا قادیانی اپنے آپ کو غیر نبی سمجھتے تھے اور اس کے بعد نبی قرار دینے لگے۔ اس کے مقابلے میں یہ بھی غلط ہے کہ انہوں نے دعویٰ میں کوئی تبدیلی نہیں کی تھی۔ اصل بات یہ ہے کہ اپنی پہلی کتاب ”براہین احمدیہ“ کی تصنیف سے لے کر اپنی وفات تک مرزا قادیانی متواتر اپنے دعویٰ میں ترمیم اور تبدیلی کرتے رہے۔ لیکن بتدریج اور غیر محسوس طور پر اس عمل کو کامیابی کے ساتھ نبھانے کے لئے مرزا قادیانی نے ایک ایسی تکنیک نہایت درجہ کمال کے ساتھ استعمال کی ہے جس میں ہماری رائے میں وہ تقریباً منفرد ہیں۔ اس تکنیک کے اہم اجزاء طوالت کلام، تاویل، استعارہ، خلط مبحث اور الفاظ کو غیر معروف معنوں میں استعمال کرنا ہے۔ اس کتاب میں ان تمام خصوصیات پر مفصل بحث کرنا ممکن نہیں۔ اس کے لئے قارئین کو خود مرزا قادیانی کی کتب کا مطالعہ کرنا چاہئے۔

مرزا قادیانی نے مسلمانوں کے مستقیم الرائے علماء کے طبقہ کے مخصوص اعتقادات (جن میں سے بیشتر فی الواقع غلط تھے) سے بھی پورا فائدہ اٹھایا ہے۔ ہندوستان اور بالخصوص پنجاب میں پیر پرستی اور مجذوب قسم کے لوگوں کی نسبت خوش اعتقادی کا جو ماحول قائم ہو چکا تھا۔ اس نے بھی مرزا قادیانی کی امداد کی۔ ان پہنچے ہوئے اصحاب کی طرف سے عوام ہر طرح کے کفر اور شرک کے کلمات سننے کے عادی ہو گئے تھے۔ بلکہ انہی کلمات کی وجہ سے ان کو پہنچا ہوا تصور کرتے تھے۔

ان حالات نے مرزا قادیانی کے تعلی آمیز دعاوی کو قابل برداشت بنا دیا۔ بالخصوص اس لئے کہ مرزا قادیانی اپنی ہر فضیلت کے ساتھ بڑے زور دار الفاظ میں یہ کہا کرتے تھے کہ میرا کوئی شرف ذاتی نہیں ہے۔ یہ سب محمد رسول اللہ ﷺ سے کامل اتباع کا نتیجہ ہے۔ چنانچہ ان کی کتب اس قسم کی عبارتوں سے بھری پڑی ہیں۔

ایں چشمۂ رواں کہ بخلق خدا دہم
یک قطرہ ز بحر کمال محمد است

(درثمین فارسی ص ٦٩، منقول از ضمیمہ اخبار ریاض ہند امرتسر مورخہ یکم مارچ ١٨٨٣ء)

”کل برکة من محمد ﷺ فتبارک من علم وتعلم“ یعنی ہر ایک برکت آنحضرت ﷺ کی طرف سے ہے۔ پس بہت برکت والا وہ انسان ہے جس نے تعلیم دی۔ یعنی آنحضرت ﷺ اور پھر بعد اس کے بہت برکت والا وہ ہے جس نے تعلیم پائی۔ یعنی یہ عاجز۔“

(ازالہ اوہام ص ٥٨٧، خزائن ج ٣ ص ٤١٧)

١٧٥

صفحہ ٣٨٦

مرزا قادیانی نے یہ بھی التزام کیا ہے کہ اپنی نسبت علو شان کے کلمات ایسے رنگ میں لکھے جائیں کہ قاری پر یہ اثر ہو کہ مصنف کا اصل مقصد اپنی ستائش نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک ضمنی سی بات ہے جو اس نے کسی دوسرے مہتم بالشان مسئلہ کی وضاحت کے لئے کہی ہے۔ نیز انہوں نے اپنی نسبت اس قسم کے کلمات اکثر کتابوں کے حواشی اور حواشی در حواشی میں درج کئے ہیں۔ یہ امر سرسری مطالعہ کرنے والے کے ذہن میں ان کی اہمیت اور بھی کم کرنے کا موجب ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس جہاں رسول کریم ﷺ کی تعریف میں کوئی عبارت لکھی ہے۔ وہ عام طور پر کتاب کے متن میں اور جلی حروف سے تحریر کی گئی ہے۔ اکثر جگہ مرزا قادیانی نے اپنے درجہ کی بلندی کو محمد رسول اللہ ﷺ کی شان کی بلندی کے لئے بطور دلیل کے پیش کیا ہے۔ مثلاً اپنے دعویٰ نبوت اور شرف مکالمہ و مخاطبہ سے بھی رسول کریم ﷺ کی دیگر انبیاء پر فضیلت ثابت کرتے ہیں۔ ان کے اس استدلال کی مثال میں (حقیقت الوحی ص ٢٧، ٢٨، خزائن ج ٢٢ ص ٢٩، ٣٠) کا ایک اقتباس ملاحظہ ہو۔

”مگر جس کامل انسان پر قرآن شریف نازل ہوا۔ اس کی نظر محدود نہ تھی اور اس کی عام غم خواری اور ہمدردی میں کچھ قصور نہ تھا۔ بلکہ کیا باعتبار زمان اور کیا باعتبار مکان اس کے نفس کے اندر کامل ہمدردی موجود تھی۔ اس لئے قدرت کی تجلیات کا پورا اور کامل حصہ اس کو ملا اور وہ خاتم الانبیاء ہے۔ مگر ان معنوں سے نہیں کہ آئندہ اس سے کوئی روحانی فیض نہیں ملے گا۔ بلکہ ان معنوں سے کہ وہ صاحب خاتم ہیں۔ بجز اس کی مہر کے کوئی فیض کسی کو نہیں پہنچ سکتا اور اس کی امت کے لئے قیامت تک مکالمہ اور مخاطبہ کا دروازہ کبھی بند نہ ہوگا اور بجز اس کے کوئی نبی صاحب خاتم نہیں۔ ایک وہی ہے جس کی مہر سے ایسی نبوت بھی مل سکتی ہے۔ جس کے لئے امتی ہونا لازمی ہے۔“

(حاشیہ حقیقت الوحی ص ٢٨، خزائن ج ٢٢ ص ٣٠)

”اس جگہ یہ سوال طبعاً ہو سکتا ہے کہ حضرت موسیٰ کی امت میں بہت سے نبی گزرے ہیں۔ پس اس حالت میں موسیٰ کا افضل ہونا لازم آتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جس قدر نبی گزرے ہیں۔ ان سب کو خدا نے براہ راست چن لیا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا اس میں کچھ بھی دخل نہ تھا۔ لیکن اس امت میں آنحضرت ﷺ کی پیروی کی برکت سے ہزار ہا اولیاء ہوئے ہیں اور ایک وہ بھی ہوا جو امتی بھی ہے اور نبی بھی۔“

اس قسم کا طرز استدلال اس قوم کے لئے بڑی حد تک قابل قبول ہو گیا جو نبی کریم ﷺ کی تعریف میں ہر قسم کے غلو کو روا رکھتی تھی۔ جو شخص مرزا قادیانی کی دلیل کی صحت سے انکار کرے

١٧٦

صفحہ ٣٨٧

الزام کیا ہے کہ اپنی نسبت علوئے شان کے کلمات ایسے ہو کہ مصنف کا اصل مقصد اپنی ستائش نہیں ہے۔ بلکہ یہ دوسرے مہتم بالشان مسئلہ کی وضاحت کے لئے کہی ہے۔ بات اکثر کتابوں کے حواشی اور حواشی در حواشی میں درج حوالے کے ذہن میں ان کی اہمیت اور بھی کم کرنے کا جہاں رسول کریم ﷺ کی تعریف میں کوئی عبارت لکھی اور جلی حروف سے تحریر کی گئی ہے۔ اکثر جگہ مرزا قادیانی ﷺ کی شان کی بلندی کے لئے بطور دلیل کے پیش کیا مکالمہ و مخاطبہ سے بھی رسول کریم ﷺ کی دیگر انبیاء پر ان استدلال کی مثال میں (حقیقت الوحی ص ٢٧، ٢٨، خزائن ہو۔

قرآن شریف نازل ہوا۔ اس کی نظر محدود نہ تھی اور اس کی عام نہ بلکہ کیا باعتبار زمان اور کیا باعتبار مکان اس کے نفس کے قدرت کی تجلیات کا پورا اور کامل حصہ اس کو ملا اور وہ خاتم آئندہ اس سے کوئی روحانی فیض نہیں ملے گا۔ بلکہ ان معنوں اس مہر کے کوئی فیض کسی کو نہیں پہنچ سکتا اور اس کی امت کے کبھی بند نہ ہوگا اور بجز اس کے کوئی نبی صاحب خاتم نہیں۔ ہی مل سکتی ہے۔ جس کے لئے امتی ہونا لازمی ہے۔“

(حاشیہ حقیقت الوحی ص ٢٨، خزائن ج ٢٢ ص ٣٠)

ہے کہ حضرت موسیٰ کی امت میں بہت سے نبی گزرے ہونا لازم آتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جس قدر نبی امت چن لیا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا اس میں کچھ سیرت ﷺ کی پیروی کی برکت سے ہزار ہا اولیاء ہوئے نبی بھی۔“

کام کے لئے بڑی حد تک قابل قبول ہو گیا جو نبی کریم ﷺ ہے۔ جو شخص مرزا قادیانی کی دلیل کی صحت سے انکار کرے ١٧٦

اس پر بڑی آسانی سے یہ الزام عائد ہو سکتا تھا کہ یہ شخص فی الواقع محبّ رسول نہیں ہے۔ یہ نہیں چاہتا کہ ہمارے نبی کو دیگر انبیاء پر فضیلت حاصل ہو۔

اسی طرح مرزا قادیانی نے شروع میں اپنے تمام نشانات اور معجزات کو محمد رسول اللہ ﷺ اور اسلام کی صداقت اور برتری کے ثبوت میں پیش کیا۔ ہندوستان کی مذہبی تاریخ میں اس زمانہ کو مناظرہ اور مجادلہ کا دور کہہ سکتے ہیں۔ مختلف مذاہب کے متعصب ترین طبقے ایک دوسرے کے بزرگوں پر ناروا حملے کرنے میں مسابقت کر رہے تھے اور ایک غیر ملکی حکومت کے تحت غلامی کے ساتھ امن کی فضا اس قسم کے بے مقصد مباحثات کے لئے سازگار تھی۔ بلکہ یہ جھگڑے اس حکومت کے استحکام میں ممد تھے اور حکومت ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کر رہی تھی۔ یہ حالات تھے جب مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو قوم کے سامنے اسلام کے پہلوان کی حیثیت میں پیش کیا۔ جس نے اپنی زندگی کا مشن دیگر مذاہب بالخصوص آریوں اور عیسائیوں کے مقابلے میں اسلام کی برتری ثابت کرنا قرار دیا تھا۔ جب مقابلہ ہو رہا ہو تو بہت کم تماشائی اپنے پہلوانوں کو عیب اور نقائص دیکھتے ہیں۔

ان حالات نے مرزا قادیانی کے لئے یہ ممکن کر دیا کہ اپنی کتب میں عجز اور انکساری کے الفاظ اور انتہائی غلو اور تعلی کے کلمات ایک ساتھ استعمال کرتے چلے گئے اور معاملے کو اس حد تک خلط ملط کر دیا کہ مجموعی طور پر تمام کتب ایک چیستان بن کر رہ گئیں۔ جس پر نہایت دیانتداری سے غور کرنے سے بھی قطعی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ کیا تھا؟

ممکن ہے ہماری یہ رائے غلط ہو۔ لیکن مرزا قادیانی کی کتب پڑھنے سے ہم پر یہ اثر ہوا ہے کہ مرزا قادیانی کا یہ عمل غیر شعوری اور نادانستہ نہیں تھا۔ موجودہ خلیفہ مرزا محمود احمد قادیانی کی کتاب (حقیقت النبوۃ ص ١٢٤) کا ایک اقتباس ہم اس باب میں پیش کر چکے ہیں۔ اپنے موجودہ مفہوم کی وضاحت کے لئے ہم اس اقتباس کا ایک حصہ یہاں نقل کرنا چاہتے ہیں۔ خلیفہ صاحب نے لکھا ہے: ”(مرزا قادیانی) اپنے آپ کو محدث کہتے رہے اور نہیں جانتے تھے کہ میں دعویٰ کی کیفیت تو وہ بیان کرتا ہوں جو نبیوں کے سوائے اور کسی میں نہیں پائی جاتی اور نبی ہونے سے انکار کرتا ہوں۔“

اگر اس اقتباس میں سے پہلا لفظ ”نہیں“ حذف کر دیا جائے تو یہ عبارت مرزا قادیانی کی ذہنی کیفیت کے بارے میں ہماری رائے کو درست طور پر ظاہر کر دے گی۔ یعنی مرزا قادیانی جانتے تھے کہ میں دعویٰ کی کیفیت تو وہ بیان کرتا ہوں......... الخ۔

١٧٧

صفحہ ٣٨٨

عالمی سیرت پر ایک مقالہ عالمی سیرت کا مسائل سیرت مقالہ جات و خط پیش مقالہ کانفرنس کی کاروائی اور عالمی سیرت کانفرنس

یہ بھی واضح ہے کہ مرزا قادیانی کے دعوٰی میں یہ مسلسل تبدیلی کسی اندرونی روشنی یا نئے الہام کی وجہ سے نہیں ہو رہی تھی۔ بلکہ خارجی حالات اور لوگوں کا مرزا قادیانی کی نسبت ردعمل اس تبدیلی کا باعث تھے۔ چنانچہ ١٨٩٠ء کے بعد جب مخالفت زور پکڑ گئی اور دعوٰی نبوت کی بناء پر ہندوستان کے بیشتر علماء کی طرف سے مرزا قادیانی کے خلاف کفر کے فتوے شائع کئے گئے اور ان کے مریدوں کا مقاطعہ ہونے لگا اور ہر طرح کی تکالیف انہیں پہنچائی جانے لگیں تو مرزا قادیانی نے ہر ممکن تاویل کے ساتھ اپنے دعاوٰی کو ایک معتدل اور قابل برداشت شکل دینے کی کوشش کی اور بالآخر یہ اعلان کر دیا کہ: ”تمام مسلمانوں کی خدمت میں گذارش ہے کہ اس عاجز کے رسالہ فتح اسلام توضیح المرام وازالہ اوہام میں جس قدر ایسے الفاظ موجود ہیں کہ محدث ایک معنی میں نبی ہوتا ہے یا یہ کہ محدثیت جزوی نبوت ہے یا کہ یہ محدثیت نبوت ناقصہ ہے۔ یہ تمام الفاظ حقیقی معنوں پر محمول نہیں ہیں۔ سو میں تمام مسلمان بھائیوں کی خدمت میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگر وہ ان لفظوں سے ناراض ہیں تو ان الفاظ کو ترمیم شدہ تصور فرما کر بجائے اس کے محدث کا لفظ میری طرف سے سمجھ لیں۔ کیونکہ کسی طرح مجھ کو مسلمانوں میں تفرقہ اور نفاق ڈالنا منظور نہیں ہے۔ مجھے اپنے مسلمان بھائیوں کی دل جوئی کے لئے اس لفظ (نبی) کو دوسرے پیرایہ میں بیان کرنے سے کیا عذر ہو سکتا ہے۔ سو دوسرا پیرایہ یہ ہے کہ بجائے لفظ نبی کے محدث کا لفظ ہر جگہ سمجھ لیں اور اس کو یعنی لفظ نبی کو کاٹا ہوا خیال فرمائیں ۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٣١٣، ٣١٤)

مسلمانوں کو تفرقہ اور نفاق سے بچانا ایک مبارک خیال ہے۔ لیکن اگر خدا نے مرزا قادیانی کا نام نبی رکھا تھا تو یہ حق مرزا قادیانی کو کیونکر حاصل ہو گیا کہ خدا کے کلام میں نبی کے لفظ کو محدث سے تبدیل کر ڈالیں۔ کیا کسی مامور من اللہ کا یہ منصب ہو سکتا ہے کہ انسانوں کے ڈر سے اس مقام سے خود کو گرا لے۔ جہاں کہ خدا نے اسے کھڑا کیا ہے۔ یادر ہے کہ مرزا قادیانی نے اس پر اکتفا نہیں کیا کہ یہ کہہ دیں کہ ان کی تحریر میں لفظ نبی سے مراد صرف محدث ہے۔ بلکہ فرمایا کہ ان کی کتب میں لفظ نبی کو کاٹا ہوا خیال کیا جائے اور اس قسم کی عبارت کو ترمیم شدہ تصور کیا جائے۔

یہ امر بجائے خود دلچسپ ہے کہ ان کتب کے بعد کے ایڈیشنوں میں بھی لفظ نبی کو محدث سے بدلا نہیں گیا۔ حالانکہ مسلمانوں کو تفرقہ اور نفاق سے بچانے کا یہ ایک آسان طریقہ ہو سکتا تھا۔ لیکن مرزا قادیانی کے سامنے دو مقاصد تھے۔ مریدوں کی عقیدت کو قائم رکھنا اور زیادہ کرنا اور مخالفین کی ناراضگی کو کم کرنا۔ اس لئے متعلقہ الفاظ کو ترمیم و تبدیل نہیں کیا اور نہ فی الواقع کاٹا ہے۔ بلکہ یہ میانہ روی اختیار کی ہے کہ نبی کے الفاظ والی عبارت تو جوں کی توں رہے۔ لیکن جو

١٧٨

اس سے ناراض ہوتا ہے وہ ( لیکن بعد میں مر مرزا قادیانی کی اپنی ہدایت کسی مخالف کو یہ جواب دیا کہ غلطی کا ازالہ ص ٨، خزائن ج ١٨ ”حق یہ ہے کہ خـ الفاظ رسول اور مرسل اور نبی ہے کہ ایسے الفاظ موجود ہیں یـ سے یہ الفاظ موجود ہیں اور ہـ تھوڑے نہیں ہیں۔ چنانچہ و یہ ایک وحی اللہ ہے۔ ”هو الـ الدین کلہ“ (براہین احمدیہ پھر اس کتاب میں میری نسبت رسول نبیوں کے حلوں میں (نـ اللہ ہے۔ ”محمد رسول وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گـ ہے۔ دنیا میں ایک نذیر آیا ۔ ا احمدیہ میں اور کئی جگہ رسول کے یہاں ان حوالوں دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔ برا احمدیہ جماعت کا اس وقت کـ رسول، محدث، مجدد، مسیح مـ فرقوں کا مسلمہ اعتقاد ہے کہ غرض جیسا کہ اس کے دیباچہ اور برتری ثابت کرنا تھا۔ اس کے عقلی اور نقلی دلائل جمع کـ

صفحہ ٣٨٩

اس سے ناراض ہوتا ہے وہ (کاٹ نہ دے) صرف کاٹا ہوا خیال کرے۔ لیکن بعد میں مرزا قادیانی اس مؤقف پر بھی قائم نہ رہے۔ جب کسی مرید نے مرزا قادیانی کی اپنی ہدایت کے مطابق مرزا قادیانی کی الہامی عبارتوں میں لفظ نبی کو کاٹا ہوا سمجھ کر کسی مخالف کو یہ جواب دیا کہ مرزا قادیانی نبوت کے مدعی نہیں ہیں تو مرزا قادیانی نے رسالہ (ایک غلطی کا ازالہ ص ٣، ٤، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٦، ٢٠٧) لکھ ڈالا۔ جس میں فرماتے ہیں۔

”حق یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے۔ اس میں ایسے الفاظ رسول اور مرسل اور نبی موجود ہیں۔ نہ ایک دفعہ بلکہ صدہا دفعہ۔ پھر کیونکر یہ جواب صحیح ہوسکتا ہے کہ ایسے الفاظ موجود نہیں ہیں۔ بلکہ اس وقت تو پہلے زمانے کی نسبت بھی بہت تصریح اور توضیح سے یہ الفاظ موجود ہیں اور براہین احمدیہ میں بھی جس کو طبع ہوئے بائیس برس ہوئے۔ یہ الفاظ کچھ تھوڑے نہیں ہیں۔ چنانچہ وہ مکالمات الہیہ جو براہین احمدیہ میں شائع ہو چکے ہیں۔ ان میں سے یہ ایک وحی اللہ ہے۔ ”ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ“ (براہین احمدیہ ص ٤٩٨) اس میں صاف طور پر اس عاجز کو رسول کر کے پکارا گیا ہے۔ پھر اس کتاب میں میری نسبت یہ وحی اللہ ہے۔ ”جری اللہ فی حلل الانبیاء“ یعنی خدا کا رسول نبیوں کے حلوں میں (براہین احمدیہ ص ٥٠٤) پھر اسی کتاب میں اس مکالمہ کے قریب ہی یہ وحی اللہ ہے۔ ”محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم“ اس وحی الہی میں میرا نام محمد رکھا گیا ہے اور رسول بھی پھر یہ وحی اللہ ہے جو صفحہ ٥٥٧ براہین میں درج ہے۔ دنیا میں ایک نذیر آیا۔ اس کی دوسری قرأت یہ ہے کہ دنیا میں ایک نبی آیا۔ اس طرح براہین احمدیہ میں اور کئی جگہ رسول کے لفظ سے اس عاجز کو یاد کیا گیا ہے۔“

یہاں ان حوالوں کے اصلی مآخذ یعنی براہین احمدیہ میں ان کا محل نزول بیان کرنا بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔ براہین احمدیہ ١٨٨٠ء کی کتاب ہے۔ اس کے نام سے کسی کو دھوکا نہ لگے۔ احمدیہ جماعت کا اس وقت کوئی وجود نہ تھا۔ بلکہ اس وقت تک مرزا قادیانی نے اپنی نسبت نبی، رسول، محدث، مجدد، مسیح موعود وغیرہ ہونے کا کوئی دعویٰ نہ کیا تھا۔ ان کے پیروؤں کے دونوں فرقوں کا مسلمہ اعتقاد ہے کہ دعویٰ (جو کچھ بھی تھا) پہلی بار ١٨٩٠ء کے قریب کیا گیا۔ اس کتاب کی غرض جیسا کہ اس کے دیباچہ میں بیان کیا گیا ہے۔ اسلام کی دیگر مذاہب کے مقابلے میں حقانیت اور برتری ثابت کرنا تھا۔ اس مقصد کے حصول کے لئے مرزا قادیانی نے اس کتاب میں ہر طرح کے عقلی اور نقلی دلائل جمع کئے ہیں۔ ان میں سے ایک دلیل یہ پیش کی گئی ہے کہ برخلاف دیگر

١٧٩

صفحہ ٣٩٠

مذاہب کے اسلام ایک ایسے زندہ خدا کا تصور پیش کرتا ہے جس سے ہر شخص اس وقت بھی ہم کلام ہونے کا شرف حاصل کر سکتا ہے اور یہ کہ مسلمانوں میں بیسیوں ایسے اولیاء اللہ گزر چکے ہیں۔ جنہوں نے کامل اتباع رسول سے وہ مقام حاصل کر لیا۔ جس پر پہنچ کر خدا نے ان پر الہام کیا اور کئی غیب کے امور ان پر ظاہر کر دیئے۔ اس ضمن میں مرزا قادیانی اپنی مثال بھی پیش کرتے ہیں اور انہوں نے اپنے چند الہامات اور پیش گوئیوں کا ذکر کیا ہے۔ ہم فی الحال اس بحث میں نہیں جانا چاہتے کہ ان الہامات سے کہاں تک اسلام کی صداقت ثابت ہوتی ہے۔ اس وقت صرف اتنا سوال قابل غور ہے کہ کیا اس وحی میں مرزا قادیانی کو نبی اور رسول کہا گیا تھا۔

رسالہ ایک غلطی کا ازالہ کے مذکورہ بالا اقتباس میں براہین احمدیہ کے چار حوالوں کا ذکر ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ چاروں جملے اس کتاب میں درج ہیں۔ اصل متن میں نہیں۔ حاشیہ میں بھی نہیں بلکہ حاشیہ در حاشیہ نمبر ٣ میں ویسے یہ حاشیہ در حاشیہ خاصی لمبی عبارت ہے اور شاید کتاب کے متن سے بھی زیادہ لمبی ہے۔

جس سیاق و سباق اور تشریح کے ساتھ یہ الہامات براہین احمدیہ میں درج کئے گئے ہیں۔ ان سے یہ بات قطعی طور پر واضح ہے کہ ان میں الفاظ نبی اور رسول سے مراد مرزا قادیانی کی ذات نہ تھی۔ الہامی عبارت کے ساتھ ہی مزید تصریح مرزا قادیانی نے خود ہی کر دی ہے کہ ان کلمات کا حاصل مطلب تلطفات اور برکات الٰہیہ ہیں۔ جو حضرت خیر الرسل کی متابعت کی برکت سے ہر ایک کامل مؤمن کے شامل حال ہو جاتی ہے اور حقیقی طور پر مصداق ان سب عنایات کا آنحضرت ﷺ ہیں اور اس بات کو یاد رکھنا چاہئے کہ ہر ایک مدح و ثناء جو کسی مؤمن کے الہامات میں کی جائے وہ حقیقی طور پر آنحضرت ﷺ کی مدح ہوتی ہے۔

اس وقت مرزا قادیانی نے ان الہامات میں الفاظ نبی اور رسول کا مصداق رسول کریم ﷺ کو ہی سمجھا اور قرار دیا تھا۔ زیادہ وضاحت کے لئے براہین احمدیہ میں مندرج متعلقہ الہامات مع اس ترجمہ کے لکھے جاتے ہیں۔ جو کہ مرزا قادیانی نے خود ہی کیا تھا۔

لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘ قرآنی آیت ہے اور ہر کسی کو معلوم ہے کہ اس میں لفظ رسول سے مراد محمد رسول اللہ ﷺ ہی ہیں۔ یہ درست ہے کہ مرزا قادیانی نے بہت سی قرآنی آیات کی نسبت دعویٰ کیا ہے کہ یہ ان کو الہام ہوئی ہیں۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ براہین احمدیہ کے صفحہ ٤٩٩ پر مرزا قادیانی نے یہ آیت اپنے الہام کے طور پر درج نہیں کی۔ وہاں صورت یہ ہے کہ انہوں نے

١٨٠

اپنے چند الہامات لکھنے کے بعد ہے۔ چنانچہ براہین احمدیہ کی اصل القاديان وبالحق انزلن امر الله مفعولا“ یعنی ہم نے قادیان کے قریب اتارا ہے اور خدا اور اس کے رسول نے خبر دی ہی تھا۔ یہ آخری فقرات اس بات اپنی حدیث متذکرہ بالا میں اشا ہیں۔ چنانچہ وہ اشارہ حصہ سوم ہے۔ ”ھو الذی ارسل رسو

حاشیہ در حاشیہ نمبر ٣، خزائن ج١ ص مرزا قادیانی کا کیا ہوا ترجمہ اور ” خلق آدم فاک الانبیاء“ جری اللہ نبیوں کے اور مورد وحی الٰہی ہونے کا دفع امت محمدیہ کے بعض افراد ا آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ ” نہیں پر نبیوں کا کام ان کے ہم حیران ہیں کہ رسالہ (ایک غلطی کا ازالہ ص ٣، وحی اللہ ہے۔ ”جری الله

معه“ کو اصل کتاب میں کے ایک مبہم کلام کی عجیب

صفحہ ٣٩١

اپنے چند الہامات لکھنے کے بعد اس آیت کو بطور آیت قرآن ان الہامات کی تائید میں پیش کیا ہے۔ چنانچہ براہین احمدیہ کی اصل عبارت یہ ہے۔ پھر بعد اس کے فرمایا: ” ان انزلنه قريباً من القاديان وبالحق انزلناه وبالحق نزل ، صدق الله وصدق رسوله وكان امر الله مفعولا“ یعنی ہم نے ان نشانوں اور عجائبات کو اور نیز اس الہام پر از معارف وحقائق کو قادیان کے قریب اتارا ہے اور ضرورت حقہ کے ساتھ ساتھ اتارا ہے اور بضرورت حقہ اترا ہے۔ خدا اور اس کے رسول نے خبر دی تھی کہ جو اپنے وقت پر پوری ہوئی اور جو کچھ خدا نے چاہا تھا وہ ہونا ہی تھا۔ یہ آخری فقرات اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس شخص کے ظہور کے لئے نبی کریم ﷺ اپنی حدیث متذکرہ بالا میں اشارہ فرما چکے ہیں اور خدا تعالیٰ اپنے کلام مقدس میں اشارہ فرما چکے ہیں۔ چنانچہ وہ اشارہ حصہ سوم کے الہامات میں درج ہو چکا ہے اور فرقانی اشارہ اس آیت میں ہے۔”هو الذي ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله“

(براہین احمدیہ حصہ چہارم حاشیہ در حاشیہ نمبر ٣ ص ٤٩٩، خزائن ج ١ص ٥٩٣)

حاشیہ در حاشیہ نمبر ٣، خزائن ج ١ ص ٦٠١) پر واقعی بطور الہام درج ہے۔ لیکن وہاں اصل عبارت اور مرزا قادیانی کا کیا ہوا ترجمہ اور تشریح اس طرح ہے۔

” خلق آدم فاکرمه“ پیدا کیا آدم پس اکرام کیا اس کا ”جری الله فی حلل الانبیاء“ جری اللہ نبیوں کے حلوں میں۔ اس فقرہ الہامی کے یہ معنی ہیں کہ منصب ارشاد و ہدایت اور مورد وحی الہی ہونے کا دراصل حلہ انبیاء ہے اور ان کے غیر کو بطور مستعار ملتا ہے اور حلہ انبیاء امت محمدیہ کے بعض افراد کو بغرض تکمیل ناقصین ہوتا ہے اور اسی کی طرف اشارہ ہے جو آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔” علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل“ پس یہ لوگ اگر چہ نبی نہیں پر نبیوں کا کام ان کے سپرد کیا جاتا ہے۔“

ہم حیران ہیں کہ اس عبارت سے وہ مطلب کیسے نکل سکتا ہے جو مرزا قادیانی نے اپنے رسالہ (ایک غلطی کا ازالہ ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧) میں ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔” میری نسبت یہ وحی اللہ ہے۔ ”جری الله فی حلل الانبیاء “ یعنی خدا کا رسول نبیوں کے حلوں میں ۔“

معه “ گو اصل کتاب میں اس آیت اور بعض دیگر آیات کو کچھ غیر قرآنی عربی عبارت سے مخلوط کر کے ایک مبہم کلام کی عجیب سی صورت پیدا کر دی گئی ہے۔

١٨١

صفحہ ٣٩٢

بہر حال اصل عبارت جو (براہین احمدیہ ص ٥١٦، خزائن ج ١ ص ٦١٦) میں درج ہے وہ ترجمہ و تشریح ( من جانب مرزا قادیانی) ذیل میں نقل کی جاتی ہے۔ ” محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم رجال لاتلھیھم تجارة ولا بیع عن ذکر اللہ جمع اللہ الیہ المسلمین ببرکاتھم فانظر الی آثار رحمۃ اللہ وانبؤنی من مثل ھؤلاء ان کنتم صدقین ومن تبتغ غیر الاسلام دینا لن یقبل منہ وھوا فی الاخرۃ من الخاسرین“ ”محمد خدا کا رسول ہے اور جو لوگ اس کے ساتھ ہیں۔ وہ کفار پر سخت ہیں۔ یعنی کفار ان کے سامنے لاجواب اور عاجز ہیں اور ان کی حقانیت کی ہیبت کافروں کے دلوں پر مستولی ہے اور وہ لوگ آپس میں رحم کرتے ہیں۔ وہ ایسے مرد ہیں کہ ان کو یاد الٰہی سے نہ تجارت روک سکتی ہے اور نہ بیع مانع ہوتی ہے۔

اب اس عبارت میں کہاں مرزا قادیانی کا نام محمد رکھا گیا ہے۔ یا ان کو نبی اور رسول کہا گیا ہے؟۔

استدلال ایک ہی عجیب صورت پیش کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ اللہ کی وحی براہین احمدیہ میں درج ہے کہ دنیا میں ایک نذیر آیا۔ جسے یہ بھی مان لیتے ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی کی غرض اس سے پوری نہیں ہوتی۔ انہیں تو براہین احمدیہ کی عبارت میں اپنی نسبت لفظ نبی اور رسول کی تلاش ہے جو وہاں نہیں ہے۔ اس لئے فرماتے ہیں کہ یہاں نذیر کو نبی پڑھنا چاہئے۔ کیوں؟ مرزا قادیانی نے اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی۔ صرف یہ لکھ دیا ہے کہ دوسری قرأت یہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ قرأت کہاں ہے اور کیوں ہے؟ قرأت کہہ دینے سے تو کچھ ثابت نہیں ہوتا۔ یہ تو صرف پڑھنے کے لئے عربی کا لفظ ہے۔

الغرض رسالہ ایک غلطی کا ازالہ فی الواقع کسی غلطی کا ازالہ نہیں کرتا۔ اس رسالے میں اپنی کسی غلطی کا تو خیر مرزا قادیانی اعتراف ہی نہیں کرتے۔ مرید کی جس غلطی کا ازالہ کرنا مقصود تھا وہ یہ تھی کہ اس نے اس بات سے انکار کر دیا تھا کہ مرزا قادیانی نے نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ لیکن مرزا قادیانی یہ نہیں بتاتے کہ اس شخص کے لئے صحیح جواب کیا ہونا چاہئے تھا۔ زیادہ سے زیادہ یہی کہا جاسکتا ہے کہ سوال کرنے والے کو اصل رسالہ دے دیا جائے اور کہہ دیا جائے کہ اس کو پڑھ لو۔ لیکن چھوٹے سائز کے ١٦ صفحات کے اس رسالے کو کم از کم پانچ دفعہ پڑھنے کے بعد بھی مرزا قادیانی کے دعویٰ کی نسبت کوئی واضح تصور قائم نہیں کر سکے اور یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ غلطی کیا تھی

١٨٢

اور اس کا ازالہ کیسے کیا گیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اس کی وجہ نا فہمی میں مرزا قادیانی کی جماعت نے چنانچہ جب احمدیہ جماعت کے لاہو قادیانی نے یہ نظریہ پیش کیا کہ مرزا ق تھا اور اس کا اعلان رسالہ ایک غلطی بیان کے ذریعے مرزا محمود احمد قادیا پہلے بیعت کی تھی اور ان میں سے مرزا قادیانی کی صحبت میں رہنے کا مو ”ہم حلفی شہادت ادا کر کی اور میاں محمود احمد قادیانی سرگروہ ابتداء میں نبوت کا منکر تھا مگر نومبر ١٩٠١ اور انکار نبوت کی دس گیارہ سال کی ہے۔ ہم اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر ک ١٩٠١ء میں حضرت مسیح موعود نے ا

ختم نبوت...... نذر اقبال

اب ہم ایسے مقام پر کریں۔ یہ نظریہ متعین کرنے میں ک اس موضوع پر ڈاکٹر اقبال کی دو تحر کتاب کے مقدمہ میں آچکا ہے۔

.Thooght in Islam)

حصے تشکیل نو، متذکرہ خطوط سے پہل خطبات خالص علمی انداز میں لکھے سے آزادنہ کئے جاسکتے تھے۔ ہمیں جس کے کہ وہ مستحق ہیں۔ یہاں بحر ہوا۔ بدقسمتی سے ملک میں اقبال فہمی

صفحہ ٣٩٣

اور اس کا ازالہ کیسے کیا گیا ہے۔

ہوسکتا ہے کہ اس کی وجہ ہماری کم علمی اور ناتفہمی ہو۔ لیکن آپ حیران ہوں گے کہ اس ناتفہمی میں مرزا قادیانی کی جماعت کے ”السابقون الاولون“ اور چوٹی کے علماء بھی شامل ہیں۔ چنانچہ جب احمدیہ جماعت کے لاہوری اور قادیانی فرقوں میں اختلاف شروع ہوا اور مرزا محمود احمد قادیانی نے یہ نظریہ پیش کیا کہ مرزا قادیانی نے ١٩٠١ء میں اپنے منصب کی نسبت عقیدہ تبدیل کر لیا تھا اور اس کا اعلان رسالہ ایک غلطی کا ازالہ میں کر دیا تھا۔ تو جماعت کے ستر اصحاب نے ایک حلفی بیان کے ذریعے مرزا محمود احمد قادیانی کے دعویٰ کی تردید کر دی۔ ان سب اصحاب نے ١٩٠١ء سے پہلے بیعت کی تھی اور ان میں سے بیشتر احمدیہ جماعت کے جید علماء تھے اور اکثر کو عرصہ تک مرزا قادیانی کی صحبت میں رہنے کا موقع ملا تھا۔ بیان ان الفاظ میں تھا۔

”ہم حلفی شہادت ادا کرتے ہیں کہ ہم نے ١٩٠١ء سے پہلے حضرت مسیح موعود کی بیعت کی اور میاں محمود احمد قادیانی سرگروہ احمدی فریق قادیان نے جو یہ لکھا ہے کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ ابتداء میں نبوت کا نہ تھا مگر نومبر ١٩٠١ء میں آپ نے اپنا دعویٰ تبدیل کیا اور نبوت کے مدعی بن گئے اور انکار نبوت کی دس گیارہ سال کی لگاتار تحریریں منسوخ ہیں۔ یہ محض غلط اور سراسر خلاف واقعات ہے۔ ہم اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ کبھی ہمارے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں آئی کہ ١٩٠١ء میں حضرت مسیح موعود نے اپنے دعویٰ میں تبدیلی کی۔“ واللہ علی ما نقول شہید!

ختم نبوت ...... نذرِ اقبالؒ

اب ہم ایسے مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ نبوت اور ختم نبوت کے متعلق اپنا نظریہ بیان کریں۔ یہ نظریہ متعین کرنے میں ہمیں سب سے زیادہ مدد ڈاکٹر اقبال کے خیالات سے ملی ہے۔ اس موضوع پر ڈاکٹر اقبال کی دو تحریریں نہایت اہم ہیں۔ ایک ان کے وہ خطوط جن کا ذکر اس کتاب کے مقدمہ میں آچکا ہے اور دوسرے علامہ کے خطبات اسلامی فکر کی تشکیل نو، (Reconstruction of Religious Thought in Islam) کے چند حصے۔ تشکیل نو، متذکرہ خطوط سے پہلے کی کتاب ہے اور ان سے زیادہ اہم ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خطبات خالص علمی انداز میں لکھے گئے تھے اور اس کے مضامین ایک محدود سیاسی تنازعہ کے اثر سے آزاد پڑھے جاسکتے تھے۔ ہمیں افسوس ہے کہ خطباتِ اقبال کے مطالعہ پر وہ توجہ نہیں دی گئی جس کے کہ وہ مستحق ہیں۔ یہاں تک کہ (ہمارے علم میں) اس کتاب کا مکمل اردو ترجمہ بھی نہیں ہوا۔ بدقسمتی سے ملک میں اقبال فہمی سے زیادہ اقبال منانے پر توجہ ہے۔

١٨٣

صفحہ ٣٩٤

موجودہ موضوع کے لئے ہم تشکیل نو کے پانچویں لیکچر (مسلم ثقافت کی روح) سے ایک اقتباس پیش کرنا چاہتے ہیں۔ اقتباس خاصا طویل ہوگا۔ لیکن اس کا ہر فقرہ اپنے اندر ایک وسیع مضمون لئے ہوئے ہے۔ اس لئے کوئی حصہ حذف نہیں ہو سکتا۔

علامہ نے اس خطبے کی ابتداء ایک مشہور صوفی کے اس قول سے کی ہے۔ ”محمد عربی عرش معلیٰ تک پہنچے اور واپس آگئے۔ خدا کی قسم، اگر میں اس مقام تک پہنچتا تو کبھی واپس نہ آتا۔“

اس کے بعد علامہ لکھتے ہیں: ”یہ قول ایک عظیم مسلمان ولی اللہ عبدالقدوس گنگوہی کا ہے۔ غالباً تمام صوفیانہ ادب میں اس طرح کے دوسرے الفاظ مشکل سے ملیں گے۔ جن کے ذریعہ ایک ہی فقرہ میں پیغمبرانہ اور صوفیانہ شعور کے باہم فرق کی نسبت اتنے شدید ادراک کا اظہار ہوتا ہو۔ صوفی اپنے وجدانی تجربے کے سکون سے باہر نہیں آنا چاہتا اور جب با امر مجبوری وہ اس تجربے سے باہر آتا ہے تو اس کی واپسی دیگر نوع انسانی کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتی۔ لیکن نبی کی واپسی تخلیق جو ہوتی ہے وہ واپس ہوکر اپنے آپ کو وقت کے دھارے میں ڈال کر زمانہ کے محرکات کو قابو میں لاتا ہے اور اس طرح نظریات کا ایک نیا عالم پیدا کرتا ہے۔ صوفی کے لئے فنا فی الوجود کا سکون منتہائے مقصد ہے۔ اس کے برعکس نبی میں اس مقام سے وہ دنیا کو ہلا دینے والی نفسیاتی قوتیں بیدار ہوتی ہیں۔ جن کا مقصد ٹھوس حقائق کے عالم میں ایک مکمل انقلاب برپا کرنا ہوتا ہے۔ نبی کی غالب ترین خواہش یہ ہوتی ہے کہ اس کا مذہبی تجربہ ایک زندہ عالمی قوت کی تشکیل اختیار کرے۔ اس طرح نبی کی واپسی ایک قسم کا عملی ثبوت ہے۔ جس سے اس کے مذہبی تجربہ کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ پیغمبر کی خودی اپنے تخلیقی عمل میں اپنے آپ کو جانچتی ہے اور حقائق کی اس بیرونی دنیا کو بھی جس میں وہ خود کو متشکل کرنے کے لئے کوشاں ہوتی ہے۔ ایک بظاہر ناقابل تسخیر مادی ماحول میں اپنی راہ بناتے ہوئے نبی خود کو اپنی ذات پر آشکار کرتا ہے اور زمانہ کی آنکھ کے لئے اپنے وجود کو بے حجاب کرتا ہے۔ اس لئے نبی کی مذہبی تجربہ کی وقعت کو پرکھنے کا ایک ذریعہ یہ ہو سکتا ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ اس نے کس طرح کی انسانی جماعت پیدا کی ہے اور کس قسم کی ثقافتی دنیا اس کے پیغام کی روح سے پھوٹی ہے۔

موجودہ لیکچر میں میں صرف مؤخر الذکر خیال پر اکتفا کروں گا۔ یہاں میری غرض علم کی دنیا میں اسلام کے کارناموں کی تفصیل بیان کرنا ہے۔ اس کی بجائے میں آپ کی توجہ اسلامی تمدن کے چند بنیادی تصورات پر مرکوز کرنا چاہتا ہوں تاکہ وہ نظریات آفرین عمل پوری طرح نگاہ کے سامنے آجائے۔ جو ان تصورات کی تہ میں ہے اور اس طرح اس نفس کی بھی ایک معمولی سی

١٨٤

صفحہ ٣٩٥

عالمی سیرت کانفرنس کانفرنس کی کاروائی پر مبنی مقالات مقالہ جات بابت سائنس، سیرت طیبہ فقہ، سیرت مطہرہ عالمی سیرت کا پر اکابر علماء کر عالمی سیرت

یل نو کے پانچویں لیکچر (مسلم ثقافت کی روح) سے خاصا طویل ہوگا۔ لیکن اس کا ہر فقرہ اپنے اندر ایک حصہ حذف نہیں ہو سکتا۔

مشہور صوفی کے اس قول سے کی ہے۔ ”محمد عربی عرش گر میں اس مقام تک پہنچتا تو کبھی واپس نہ آتا۔“ قول ایک عظیم مسلمان ولی اللہ عبدالقدوس گنگوہیؒ کا ج کے دوسرے الفاظ مشکل سے ملیں گے۔ جن کے شعور کے باہم فرق کی نسبت اتنے شدید ادراک کا کے سکون سے باہر نہیں آنا چاہتا اور جب با امر مجبوری کی دیگر نوع انسانی کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتی۔ لیکن کر اپنے آپ کو وقت کے دھارے میں ڈال کر زمانہ نظریات کا ایک نیا عالم پیدا کرتا ہے۔ صوفی کے لئے اس کے برعکس نبی میں اس مقام سے وہ دنیا کو ہے۔ جن کا مقصد ٹھوس حقائق کے عالم میں ایک مکمل یہی خواہش یہ ہوتی ہے کہ اس کا مذہبی تجربہ ایک زندہ ع نبی کی واپسی ایک قسم کا عملی ثبوت ہے۔ جس سے ہے۔ پیغمبر کی خودی اپنے تخلیقی عمل میں اپنے آپ کو بھی جس میں وہ خود کو متشکل کرنے کے لئے کوشاں ل میں اپنی راہ بناتے ہوئے نبی خود کو اپنی ذات پر نئے وجود کو بے حجاب کرتا ہے۔ اس لئے نبی کی مذہبی سکتا ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ اس نے کس طرح کی خالق دنیا اس کے پیغام کی روح سے پھوٹی ہے۔

پر اکتفا کروں گا۔ یہاں میری غرض علم کی دنیا میں ۔ اس کی بجائے میں آپ کی توجہ اسلامی تمدن کے تا کہ وہ نظریات آفرین عمل پوری طرح نگاہ کے ہے اور اس طرح اس نفس کی بھی ایک معمولی سی

١٨٤

جھلک دیکھی جاسکے۔ جس نے ان تصورات کو اپنے اظہار کا ذریعہ بنایا۔ لیکن قبل اس کے کہ میں اس بحث میں آگے چلوں، یہ ضروری ہے کہ اسلام کے ایک مہتم بالشان تخیل کی ثقافتی اہمیت کو سمجھ لیا جائے۔ میری مراد نبوت کے سلسلہ کے انقطاع سے ہے۔

نبوت کی تعریف یوں کی جاسکتی ہے کہ یہ ایک طرح کا تصوفانہ شعور ہے۔ جس میں وجدانی تجربہ اپنی حدود سے باہر جانا چاہتا ہے اور اجتماعی زندگی کی قوتوں کی از سر نو تشکیل یا ان کی جدید رہنمائی کے مواقع کا متلاشی ہوتا ہے۔ نبی کی شخصیت میں زندگی کا مرکز اپنی ہی ذات کی لامحدود گہرائیوں میں ڈوب کر تازہ قوت حاصل کر کے ابھرتا ہے۔ تا کہ قدیم نظام کو ختم کر کے زندگی کی نئی راہیں آشکار کرے۔ کسی ذات کا اپنے اصل کے ساتھ اس طرح کا الحاق انسان کے ساتھ مختص نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح قرآن نے لفظ وحی استعمال کیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن اس کو زندگی کا ایک عمومی خاصہ قرار دیتا ہے۔ اگرچہ اس کی نوعیت اور خاصیت زندگی کے مختلف ارتقائی مدارج پر مختلف ہوتی ہے۔ ایک پودے کا آزادی کے ساتھ فضا میں پھیلنا، یا ایک حیوان کا اپنے نئے ماحول کی مناسبت کے لئے ایک نیا عضو بدن پیدا کرنا یا ایک انسانی وجود کا زندگی کی اندرونی گہرائیوں سے روشنی حاصل کرنا۔ یہ سب وحی کی مثالیں ہیں۔ جن کا اپنی خاصیت میں باہم اختلاف وحی (Inspiration) پانے والے وجود یا اس کی نوع کی ضروریات کے اختلافات کی وجہ سے ہے۔

نوع انسانی کی کم سنی کے دور میں ذہنی قوت وہ شے پیدا کرتی ہے جسے میں پیغمبرانہ شعور کا نام دیتا ہوں۔ یہ دراصل ایک طریقہ ہے جس کے ذریعہ فیصلہ، ردوقبول اور ردعمل کے چند اصول مقرر کر لئے جاتے ہیں اور اس طرح انفرادی فکر و اختیار میں کمی عمل میں لائی جاتی ہے۔ لیکن عقل اور جوہر استنباط کی پیدائش کے ساتھ زندگی اپنے مفاد کے لئے ان غیر عقلی ذرائع شعور کی نمود اور افزائش کو بند کر دیتی ہے۔ جن میں کہ اس کی ذہنی قوت انسانی ارتقاء کے نسبتاً ابتدائی دور میں جاری رہی تھی۔ ابتداً انسان جذبات اور فطری حسیات کے تابع تھا۔ قیاس کرنے والی عقل جو انسان کو اپنے ماحول پر قادر بناتی ہے۔ ایک حاصل کی ہوئی استعداد ہے۔ اس استعداد کے وجود میں آنے کے ساتھ ہی اس کی مزید تقویت کے لئے ضروری ہو جاتا ہے کہ علم کے دیگر ذرائع کی مناہی کر دی جائے۔ اس میں شک نہیں کہ قدیم دنیا نے انسان کے ابتدائی دور میں جب کہ وہ کم وبیش القاء (Suggestion) کے تابع تھا۔ فلسفہ کے بعض اہم سسٹم پیدا کئے۔ لیکن ہمیں یہ نہ بھولنا چاہئے کہ قدیم دنیا کا یہ طریق کار نظری خیالات کے عمل کا نتیجہ تھا۔ یہ طریقہ مبہم مذہبی

١٨٥

صفحہ ٣٩٦

اعتقادات اور روایات کو منظم شکل دینے سے آگے نہیں جاسکتا اور اس سے ہم زندگی کے ٹھوس احوال پر قابو نہیں پاسکتے۔

معاملہ کو اس پہلو سے دیکھتے ہوئے پیغمبر اسلام قدیم اور جدید دنیا کے درمیان کھڑے معلوم ہوتے ہیں۔ اپنے پیغام کے ماخذ کے لحاظ سے وہ قدیم دنیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن اس پیغام کی روح (Spirit) انہیں جدید دنیا سے وابستہ کرتی ہے۔ ان کی ذات میں زندگی نے اپنی جدید رہنمائی کے لئے مناسب اور پہلے سے مختلف ذرائع علم دریافت کئے ہیں۔ اسلام کی ابتداء قیاسی عقل کی پیدائش ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ میں اس امر کی نسبت (اس لیکچر میں) آپ کو کافی دلائل سے قائل کر سکوں گا۔“

”اسلام کے ذریعہ نبوت اپنے خاتمے کی ضرورت کے احساس کے ساتھ اپنے کمال تک پہنچتی ہے۔ اس سے مراد اس امر کا شدید احساس ہے کہ زندگی ہمیشہ کے لئے خارجی سہارے کی محتاج نہیں رہ سکتی اور یہ کہ خود شعوری کی تکمیل کے لئے ضروری ہے کہ بالآخر انسان محض اپنی استعداد پر انحصار کرنے لگے۔ اسلام میں مذہبی پیشوائیت اور خاندانی بادشاہت کا خاتمہ اور قرآن میں بار بار عقل اور تجربہ سے خطاب اور اسی طرح اس کتاب کا نیچر اور تاریخ پر بطور ذرائع علم زور دینا۔ یہ سب امور اسی ایک تصور خاتمیت کے مختلف پہلو ہیں۔“ (خطبات اقبال پانچواں لیکچر)

آئیے علامہ اقبال کے ان خیالات کا ذرا تفصیل سے مطالعہ کریں اور دیکھیں کہ موجودہ موضوع کی نسبت علامہ کے نظریات کی روشنی میں کون سے نتائج مترتب ہوتے ہیں۔ سب سے پہلا غور طلب امر نبوت کی تعریف ہے۔ پہلے لکھا جاچکا ہے کہ ہمارے نزدیک نبی سے مراد وہ شخص ہے جس پر وحی نازل ہو۔ اس خیال کی تائید میں ہم نے آیت ”انما انا بشر یوحی الی“ پیش کی تھی۔ علامہ اقبال کے نزدیک وحی ایک عمومی ذریعہ رہنمائی ہے اور انسان تک محدود نہیں ہے۔ اس کے لئے علامہ نے قرآن پر انحصار کیا ہے اور کہا ہے کہ قرآن میں اس لفظ کے محل استعمال سے ظاہر ہے کہ قرآن وحی کو زندگی کا ایک عمومی خاصہ قرار دیتا ہے۔ اقبال کا اشارہ حسب ذیل قرآنی آیات کی طرف ہے۔

جو ان کے پیٹوں میں ہے۔ گوبر اور لہو کے درمیان سے خالص دودھ پلاتے ہیں۔ جو پینے والوں کے لئے خوشگوار ہے اور کھجوروں اور انگوروں کے میوؤں سے تم شراب اور اچھا رزق حاصل کرتے ہو۔ یقیناً اس میں ان لوگوں کے لئے نشان ہیں۔ جو عقل سے کام لیتے ہیں اور تیرے رب نے شہد

١٨٦

صفحہ ٣٩٧

کی مکھی کی طرف وحی کی کہ پہاڑوں اور درختوں میں اور ان اونچی جگہوں پر جو (اس غرض کے لئے) بنائی جاتی ہیں۔ اپنا چھتہ بنا اور پھر تمام پھلوں سے کھا اور اپنے رب کے رستوں پر فرمانبرداری سے چلی جا۔ ان کے پیٹوں سے پینے کی چیز نکلتی ہے جس کے رنگ مختلف ہیں اور اس میں لوگوں کے لئے شفا ہے۔“

وحی کیا اور ہم نے دنیا کے آسمان کو ستاروں سے مزین کیا اور بڑی حفاظت کے ساتھ۔ یہ غالب علم والے کا اندازہ ہے۔“

کہے گا اسے کیا ہوا۔ اس دن وہ سب خبریں بیان کر دے گی۔ گویا تیرے رب نے اس کی خاطر وحی کی ہے۔“

ہوں۔ سو جو ایمان لائے ان کو ثابت قدم رکھو۔“

یہ سب مثالیں غیر انسان کی وحی کے متعلق ہیں۔ لیکن وحی سے مراد کیا ہے؟ اس کے بنیادی معنی یہ کئے گئے ہیں۔ نہایت خفیف لیکن بہت تیز اشارہ۔ جن قرآنی آیات کا حوالہ دیا گیا ہے۔ ان سے نہ صرف وحی کی عمومی نوعیت ظاہر ہوتی ہے بلکہ اس کے مقصد کی بھی بہت حد تک وضاحت ہوتی ہے۔ مثلاً سورۃ النحل کی مثال سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں وحی کی غرض شہد کی مکھی کو اس کے مقصدِ تخلیق تک پہنچنے میں رہنمائی کرنا ہے۔ اس سے پہلے کی آیات بھی اسی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ فطرت کے سامنے ایک مقصد ہے جو تمام جانداروں اور نباتات نے پورا کرنا ہے اور مقصد کے حصول کے لئے ایک ذریعہ ہدایت ہے۔ جو فطرت مہیا کرتی ہے۔ کہیں یہ ہدایت چار پایوں کے قویٰ کو ایک ایسی ساخت اور عمل اختیار کرنے پر مائل کرتی ہے۔ جس سے وہ انسانوں کو دودھ مہیا کر سکیں اور کہیں یہ مکھی کو اس راہ پر چلاتی ہے۔ جس کے نتیجے میں شہد حاصل ہوتا ہے۔ ہر صورت میں وحی کا مقصد ایک ہی ہے۔ یعنی حصولِ مقصدِ حیات، اور غیر انسانی مخلوق میں یہ مقصد کسی نہ کسی شکل میں انسان کی ترقی میں معاون بنتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جمادات، نباتات اور تمام حیوانات میں اس فطری ہدایت کی صورت ایک نہیں ہو سکتی۔

کہیں ہم اسے اشیاء کے خواص کا نام دیتے ہیں۔ کہیں اسے جبلت کہتے ہیں اور کہیں الہام۔ لیکن اس ذریعہ ہدایت کی عمومی ماہیت ایک ہی ہے اور اقبال نے اس عمومی ماہیت کو سامنے

١٨٧

صفحہ ٣٩٨

رکھتے ہوئے قرآن میں اس لفظ کے محل استعمال کی روشنی میں وحی کی دوسری مثالیں بیان کی ہیں۔ مثلاً وہ جذبہ جو ایک پودے کے لئے فضا میں پھیلنے کی خاصیت پیدا کرتا ہے۔ یا ایک جانور میں نئے ماحول کی مناسبت سے ایک جدید عضو بدن پیدا کرنے کا رجحان وجود میں لاتا ہے۔

وحی بطور ذریعہ ہدایت انسان کے ساتھ مختص نہیں ہے۔ اسی مقام سے ایک نتیجہ تو واضح طور پر سامنے آجاتا ہے۔ جس خاصیت میں انسان کے ساتھ غیر انسان، یہاں تک کہ بے جان اشیاء بھی شریک ہیں۔ وہ یقیناً انسان کا مابہ الامتیاز نہیں ہو سکتی۔ جو چیز انسان کو دیگر مخلوق سے ممتاز کرتی ہے وہ عقل ہے۔ کہنے کو یہ بات ایسی ہے کہ جس سے کسی کو اختلاف نہ ہونا چاہئے۔ لیکن آئندہ بحث سے ثابت ہوگا کہ یہ بات فی الواقع اتنی سادہ نہیں جتنی کہ نظر آتی ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ انسان اور غیر انسان کی وحی میں فرق کیا ہے اور انسان کی صورت میں ان دو ذرائع ہدایت یعنی وحی اور عقل کا تعلق کیا ہے؟ ان دو میں سے ہر ایک کا دائرہ عمل کہاں تک ہے اور ان میں سے کون سا ذریعہ بنیادی اور مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور کون سا ضمنی اور ثانوی اور پھر آخری سوال یہ ہے کہ کیا انسان کے ارتقاء کے سفر میں یہ دونوں ذرائع ہمیشہ کے لئے اس کا ساتھ دیں گے اور اپنی اہمیت کے لحاظ سے ان کا مقام اور باہم تعلق بھی وہی رہے گا جو ماضی میں کبھی تھا یا اب ہے؟ یا کیا اس تعلق اور مقام میں تبدیلی واقع ہونا مقدر ہے؟ اور وہ تبدیلی کیا ہوگی؟

ان سوالات کے درست جواب تک پہنچنے کے لئے ہمیں اس معاملے کی ابتداء تک جانا ہوگا۔ آدم کی تخلیق اور اس کے نہایت ابتدائی دور کے حالات کی نسبت بھی علامہ اقبال کا ایک مخصوص اور واضح تخیل ہے۔ جو انہوں نے تشکیل نو کے ایک دوسرے حصے میں بیان کیا ہے۔ علامہ نے پیدائش کے ارتقائی نظریہ (Theory of Evolution) کو تسلیم کیا ہے اور لکھا ہے کہ قرآن کی رو سے انسان زمین پر اجنبی نہیں ہے۔ قرآن کہتا ہے۔ ہم نے تم کو زمین میں سے پیدا کیا ہے۔

پھر آدم علیہ السلام کے جنت سے نکالے جانے سے کیا مراد ہے؟ بائبل کے مطابق اور مسلمان عوام کے عقیدے کی رو سے آدم علیہ السلام کسی گناہ کی پاداش میں جنت سے نکال کر زمین پر پھینک دیا گیا۔ لیکن علامہ اقبال کو اس خیال سے اختلاف ہے۔ ان کے الفاظ میں قرآن زمین کو انسان کی آبادی کی جگہ اور اس کے لئے منافع حاصل کرنے کا ذریعہ قرار دیتا ہے اور یہ تلقین کرتا ہے کہ انسان کو ان نعمتوں کے لئے خدا کا شکر گزار ہونا چاہئے۔

اور یقیناً ہم نے زمین میں تمہارا ٹھکانا بنایا اور تمہارے لئے اس کے اندر زندگی کا

١٨٨

سامان مہیا کیا۔ تم کتنا کم شکر کرتے ہ

اقبال کے نزدیک ج بلکہ اس سے مراد انسانی وجود کی ف فی الواقع انسان نہ بنا تھا۔ لیکن الفاظ میں کی ہے۔

”یہ باور کرنے کی بھی ک کے لفظ سے مراد جسمانی لذت س سے انسان کو نکال کر باہر پھینک د الفاظ کے مطابق نہ بھوک تھی نہ پ جنت سے مراد انسان کی وہ نہایت ا نہ ہوا تھا۔ اس سے واضح ہوتا ہے نمود کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ بل ابتدائی حالت سے جب کہ وہ حیو میں داخل ہوا۔ جس میں وہ شعور ک گویا احساس محض سے احساس فر اپنی فطری خواب سے بیدار ہو کر

اس مقام تک انسان پابند تھا۔ یعنی اس جذبے کا جو ا کرتا ہے یا قرآن کی رو سے جو طرف رہنمائی کرتا ہے۔ لیکن ہو جاتی۔ ابھی عقل نے ایک ط نحیف سا نو بیدار وصف ہے ۔ ذریعہ علم و ہدایت کے وجود میں مقام قائم نہ رہتا جو اس سے پہ وجہ سے ہم قبل از بشر وجود کو بھی انسان کہلانے کا مستحق ہوا) تو

عالمی سیرت کا عالمی سیرت کا عالمی سیرت کانفرنس مکہ المکرمہ کے مقالات کا مجموعہ پیش کش مرکزی نعتیہ کونسل

صفحہ ٣٩٩

عالمی سیرت کانفرنس

کانفرنس کی روئداد، حصہ

پہلا مقالہ

مقالات کا جائزہ

مسائل سیرت و

مطالعہ سیرت مطہرہ

عالمی سیرت کا

عالمی سیرت

پر ایک طائرانہ

استعمال کی روشنی میں وحی کی دوسری مثالیں بیان کی ہیں۔ فضا میں پھیلنے کی خاصیت پیدا کرتا ہے۔ یا ایک جانور میں عضو بدن پیدا کرنے کا رجحان وجود میں لاتا ہے۔ انسان کے ساتھ مختص نہیں ہے۔ اسی مقام سے ایک نتیجہ تو واضح صورت میں انسان کے ساتھ غیر انسان، یہاں تک کہ بے جان کا مابہ الامتیاز نہیں ہو سکتی۔ جو چیز انسان کو دیگر مخلوق سے ممتاز بات ایسی ہے کہ جس سے کسی کو اختلاف نہ ہونا چاہئے۔ لیکن فی الواقع اتنی سادہ نہیں جتنی کہ نظر آتی ہے۔ خدا اور غیر انسان کی وحی میں فرق کیا ہے اور انسان کی صورت عمل کا تعلق کیا ہے؟ ان دو میں سے ہر ایک کا دائرہ عمل کہاں بنیادی اور مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور کون سا ضمنی اور ثانوی ارتقاء کے سفر میں یہ دونوں ذرائع ہمیشہ کے لئے اس کا سے ان کا مقام اور باہم تعلق بھی وہی رہے گا جو ماضی میں مقام میں تبدیلی واقع ہونا مقدر ہے؟ اور وہ تبدیلی کیا ہوگی؟ جواب تک پہنچنے کے لئے ہمیں اس معاملے کی ابتدا تک جانا ابتدائی دور کے حالات کی نسبت بھی علامہ اقبال کا ایک نے تشکیل نو کے ایک دوسرے حصے میں بیان کیا ہے۔ علامہ Theory of Evolu) کو تسلیم کیا ہے اور لکھا ہے کہ عمل ہے۔ قرآن کہتا ہے۔ ہم نے تم کو زمین میں سے پیدا

جنت سے نکالے جانے سے کیا مراد ہے؟ بائبل کے مطابق اور آدم علیہ السلام کسی گناہ کی پاداش میں جنت سے نکال کر زمین خیال سے اختلاف ہے۔ ان کے الفاظ میں قرآن زمین کو لئے منافع حاصل کرنے کا ذریعہ قرار دیتا ہے اور یہ تلقین کرتا شکر گزار ہونا چاہئے۔ ہم نے تمہارا ٹھکانا بنایا اور تمہارے لئے اس کے اندر زندگی کا ١٨٨

سامان مہیا کیا۔ تم کتنا کم شکر کرنے والے ہو۔

اقبال کے نزدیک ہبوط آدم کے قصے میں جنت سے مراد فردوس بریں نہیں ہے۔ بلکہ اس سے مراد انسانی وجود کی وہ حالت ہے جس میں وہ ابھی اذیت شعور سے آزاد تھا۔ یعنی فی الواقع انسان نہ بنا تھا۔ لیکن بننے کے قریب تھا۔ اس خیال کی وضاحت علامہ اقبال نے ان الفاظ میں کی ہے۔

”یہ باور کرنے کی بھی کوئی وجہ نہیں کہ قرآن کے قصے (Legend) میں جنت یا باغ کے لفظ سے مراد جسمانی لذت سے مکمل طور پر لطف اندوز ہونے کی کوئی فردوس بریں ہے۔ جہاں سے انسان کو نکال کر باہر پھینک دیا گیا ہو۔ اس باغ کو ایک ایسی جگہ قرار دیا گیا ہے جہاں قرآنی الفاظ کے مطابق نہ بھوک تھی نہ پیاس، نہ گرمی تھی اور نہ عریانی۔ میرا خیال ہے کہ اس کہانی میں جنت سے مراد انسان کی وہ نہایت ابتدائی حالت ہے جب کہ اس کا اپنے ماحول سے کوئی تعلق قائم نہ ہوا تھا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ قرآن میں ہبوط آدم کے قصے کا اس کرۂ ارضی پر انسان کی پہلی نمود کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ بلکہ اس (قصے) سے مقصود یہ ظاہر کرنا ہے کہ کس طرح انسان اپنی ابتدائی حالت سے جب کہ وہ حیوانی خواہشات کا غیر شعوری طور پر محکوم تھا۔ ترقی کر کے اس حالت میں داخل ہوا۔ جس میں وہ شعور اور آزاد شخصیت کا مالک بنا اور شک اور نافرمانی کے قابل ہوا۔ یہ گویا احساس محض سے احساس خودی کی طرف ارتقاء کی پہلی منزل میں داخل ہونا ہے۔ جیسے انسان اپنی فطری خواب سے بیدار ہو کر پہلی بار اپنی شخصیت کا احساس کرنے لگے۔“

اس مقام تک انسان دیگر مخلوق کی طرح اپنی بقاء اور ارتقاء کے لئے مکمل طور پر وحی کا پابند تھا۔ یعنی اس جذبے کا جو اقبال کے الفاظ میں ایک پودے کو آزادی کے ساتھ پھیلنے پر آمادہ کرتا ہے یا قرآن کی رو سے جو شہد کی مکھی کی مختلف پودوں اور پھولوں سے رس حاصل کرنے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ لیکن شعور (Reason) کے وجود میں آنے کے ساتھ وحی ختم نہیں ہو جاتی۔ ابھی عقل نے ایک مضبوط اور قابل اعتماد قوت کا درجہ حاصل کرنا ہے۔ ابھی تو وہ ایک نحیف سا نو بیدار وصف ہے۔ اس حالت میں وحی کی امداد کو جاری رہنا تھا۔ لیکن ایک دوسرے ذریعہ علم و ہدایت کے وجود میں آنے کا لازمی نتیجہ یہ بھی ہونا تھا کہ رہنمائی کے بارے میں وحی کا وہ مقام قائم نہ رہتا جو اس سے پہلے تھا۔ اس سے پہلے انسان کے لئے (کسی اور نام کے نہ ہونے کی وجہ سے ہم قبل از بشر وجود کو بھی انسان کہنے پر مجبور ہیں۔ حالانکہ حقیقتاً یہ وجود عقل کی پیدائش سے ہی انسان کہلانے کا مستحق ہوا) وحی سے ہدایت پانے کے لئے اس کے ارادے کو کوئی دخل نہیں تھا۔ ١٨٩

صفحہ ٤٠٠

وحی کا عمل اس وجود میں اسی طرح کار فرما تھا جس طرح کہ دوسری غیر انسان مخلوق میں۔ یعنی یہ وحی ایک جبلت (Instinct) کی صورت میں موجود تھی۔ جس پر عمل کرنے کے لئے کسی ارادے کی ضرورت نہیں تھی اور اس پر عمل نہ کرنے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا۔ لہٰذا نیکی اور بدی کا تصور بھی شروع نہ ہوا تھا۔ اقبال نے یہ خیال اس طرح ظاہر کیا ہے۔

”انسان کی پہلی نافرمانی میں اس کا پہلا آزاد فعل بھی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنی بیان کے مطابق یہ پہلا گناہ معاف کر دیا گیا۔ نیکی جبر سے عمل میں نہیں آ سکتی۔ نیکی کے معنی کسی مختار شخصیت کا آزادانہ طور پر اپنے آپ کو اخلاقی اقدار کا مطیع کرنا اور ان کے حصول کے لئے اپنی خودی کے قویٰ کو بالارادہ تعاون پر آمادہ کرنا ہے۔ جس ہستی کی حرکات ایک مشین کی مانند مقرر کر دی گئی ہوں۔ وہ نیکی کیسے کر سکتی ہے۔ آزادیِ عمل کے بغیر نیکی ممکن نہیں ۔“

عقل کے وجود میں آنے سے وحی نے آئندہ کے لئے انسان کی جبلت کا حصہ ہونے کی بجائے ایک ایسے ذریعۂ ہدایت کی صورت اختیار کر لی۔ جس پر عمل کرنا یا نہ کرنا انسان کے اختیار اور ارادہ میں آ گیا۔ یہ اختیار اور ارادہ انسان عقل کی روشنی سے استعمال کرتا ہے۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ عقل سے ہماری مراد دانائی (Wisdon) نہیں ہے۔ بلکہ محض سوچنے کا مادہ (Reason) ہے۔ عقل (Reason) کا راست یا غلط استعمال ایک علیحدہ سوال ہے۔ اس نئے وصف کا غلط استعمال اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی گمراہی ایک خطرہ (Risk) ہے۔ لیکن قضا و قدر نے اور خود انسان نے یہ خطرہ قبول کیا ہے۔ اقبال کے نزدیک یہ خطرہ اب پیدا نہیں ہوا۔ بلکہ باشعور آدم کو وجود میں لانے کا لازمی حصہ ہے۔

”یہ بھی درست ہے کہ ایک ایسی محدود خودی (Finite Ego) کو وجود میں لانا جو عمل کی مختلف راہوں کا موازنہ کر کے رد و اختیار کے قابل ہو، خطرہ سے خالی نہیں۔ کیونکہ جس طرح یہ ہستی نیکی کرنے میں آزاد ہے۔ اسی طرح بدی کی راہ اختیار کرنے میں بھی آزاد ہے۔“

لیکن یہ خطرہ بغیر مقصد کے قبول نہیں کیا گیا۔ اس کی بنیاد ایک یقین پر ہے۔ اقبال کے نزدیک اس پر از خطرہ واقعہ کو وجود میں لانا ظاہر کرتا ہے کہ خدا کو انسان میں کسی درجہ یقین ہے۔ یہ اب انسان کے لئے ہے کہ خدا کے اس اعتماد کو حق بجانب ثابت کرے۔ شاید اس پر از خطر صورتحال کو اختیار کئے بغیر اس وجود کے امکانات کا امتحان ممکن نہ تھا۔ جو احسن التقویم میں پیدا کیا گیا اور اسفل السافلین میں داخل کیا گیا۔

اس سے معلوم ہوا کہ انسان کی پیدائش سے ہی عقل نے بطور ذریعۂ ہدایت بنیادی

١٩٠

حیثیت حاصل کر لی۔ لیکن یہاں ع عقل نے مہیا کرنے شروع کر دئیے ہدایت کو قبول کرنا یا نہ کرنا عقل کے ہے اور اس کا غیر محدود طور پر آزاد ہو سکتا تھا اور مقصد اس وجود کے اعل کے کم سنی کے دور میں ذہنی قوت نے علامہ کے نزدیک اس شعور کو وجود واختیار اور راہِ عمل کے انتخاب کے واختیار میں کمی عمل میں لائی جاتی ہے فلسفیانہ نظریات کی بحث میں پڑنے ک رکھے اور ان پر بے چون و چرا عمل کر اہم نکتہ یہ ہے کہ علامہ اقبال سنی کا دور قرار دیا ہے۔ یہ نظریہ نہایت ا چیز نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ نوعِ انسانی ہوتی جائے گی اور اس کے نتیجے میں انفر ہمیں اعتراف ہے کہ نبوت مسلمانوں (بالخصوص طبقۂ علماء نے) ہر حلقوں میں محترم غلام احمد صاحب پروی کا تتبع کیا ہے۔ ہمارا ارادہ اس موضوع ساتھ جائزہ لینے کا ہے۔ اس کی وجہ یہ مذہبی تحریک کے بانیوں میں سے ہیں اور کے اندر فکر نے مسلمانوں کے ایک طبقہ کو حلقۂ اثر رو بہ ترقی ہے۔ گو کسی تیز رفتاری اقبال کا مطالعہ پرویز صا ١٩٣٨ء میں اقبال کی یادگار میں ہی جاری کے متعلق کچھ نہ کچھ لکھتے رہے ہیں۔ نی

صفحہ ٤٠٢

حیثیت حاصل کر لی۔ لیکن یہاں بنیادی سے مراد یہ نہیں کہ انسان کے فکر وعمل کے بیشتر قواعد عقل نے مہیا کرنے شروع کر دیئے ۔ بلکہ صرف یہ مراد ہے کہ دیگر ذرائع سے حاصل کی ہوئی ہدایت کو قبول کرنا یا نہ کرنا عقل کے اختیار میں آ گیا۔ لیکن کسی اختیار کا حاصل ہونا ایک بات ہے اور اس کا غیر محدود طور پر آزادانہ عمل انسان کی نا پختگی کے باعث مکمل تباہی کا موجب ہو سکتا تھا اور مقصد اس وجود کے امکانات کا امتحان تھا نہ کہ اس کی تباہی۔ اس لئے نوع انسانی کے کم سنی کے دور میں ذہنی قوت نے وہ شے پیدا کی جسے اقبال نے پیغمبرانہ شعور کا نام دیا ہے اور علامہ کے نزدیک اس شعور کو وجود میں لانا دراصل ایک طریقہ ہے۔ جس کے ذریعہ فیصلہ و واختیار اور راہ عمل کے انتخاب کے چند اصول مقرر کر لئے جاتے ہیں اور اس طرح انفرادی فکر واختیار میں کمی عمل میں لائی جاتی ہے۔ اس مرحلہ پر انسان کو ضرورت اس بات کی تھی کہ پیچیدہ فلسفیانہ نظریات کی بحث میں پڑنے کی بجائے زندگی کے چند بڑے بڑے اصول اپنے سامنے رکھے اور ان پر بے چون و چرا عمل کرتا جائے۔

اہم نکتہ یہ ہے کہ علامہ اقبال نے پیغمبرانہ شعور کی پیدائش کے زمانے کو نوع انسانی کی کم سنی کا دور قرار دیا ہے۔ یہ نظریہ نہایت اہم اور بہت دورس نتائج کا حامل ہے۔ کم سنی ہمیشہ رہنے والی چیز نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ نوع انسانی کی جوانی کے ساتھ پیغمبرانہ شعور کے دائرہ عمل میں کمی واقع ہوتی جائے گی اور اس کے نتیجے میں انفرادی فکر و اختیار کا دائرہ وسیع ہوتا جائے گا۔

ہمیں اعتراف ہے کہ نبوت کی نسبت علامہ اقبال کے اس نظریہ کو دور حاضر کے مسلمانوں (بالخصوص طبقہ علماء نے) بہت کم قبول کیا ہے۔ ہمارے علم میں پاکستان کے اہل علم حلقوں میں محترم غلام احمد صاحب پرویز تنہا وہ شخص ہیں۔ جنہوں نے بظاہر علامہ اقبال کے نظریے کا تتبع کیا ہے۔ ہمارا ارادہ اس موضوع کی نسبت پرویز صاحب کے خیالات کا کسی قدر تفصیل کے ساتھ جائزہ لینے کا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پرویز صاحب اس وقت پاکستان میں ایک خاص مذہبی تحریک کے بانیوں میں سے ہیں اور عملاً ان کی تحریریں اس تحریک کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ان کے طرز فکر نے مسلمانوں کے ایک طبقہ کو خاصی حد تک متاثر کیا ہے اور ہمارے اندازے میں ان کا حلقہ اثر رو بہ ترقی ہے۔ گو کسی تیز رفتاری کے ساتھ نہیں۔

اقبال کا مطالعہ پرویز صاحب کا خاص موضوع ہے۔ بلکہ ان کا مجلہ طلوع اسلام ١٩٣٨ء میں اقبال کی یادگار میں ہی جاری کیا گیا تھا۔ اس وقت سے اب تک پرویز صاحب اقبال کے متعلق کچھ نہ کچھ لکھتے رہے ہیں۔ زیر بحث موضوع کی نسبت سال ١٩٥٤ء میں ادارہ طلوع ١٩٢

صفحہ ٤٠٢

اسلام کی طرف سے شائع کردہ ایک رسالہ اس وقت ہمارے سامنے ہے۔ اس رسالے کے دو حصے ہیں۔ ایک کا عنوان ہے۔ ”احمدیت اور اسلام“ اور یہ مشتمل ہے احمدیہ تحریک کی نسبت علامہ اقبال کے چند مضامین کے اردو ترجمے پر۔ (اصل مضامین انگریزی میں تھے اور یہ وہی مضامین ہیں جن کا اس باب کے شروع میں ذکر ہو چکا ہے ) رسالے کے دوسرے حصے میں ختم نبوت کے عنوان کے تحت پرویز صاحب کا وہ مقالہ درج کیا گیا ہے جو انہوں نے اسی عنوان سے اپنی کتاب معراج انسانیت کے ایک باب میں شامل کیا تھا۔

ہم اس رسالے کے مؤخر الذکر حصے میں سے ایک اقتباس پیش کرنا چاہتے ہیں۔ جس سے نبوت کی نوعیت اور اس کے مقصد کے باب میں پرویز صاحب کے خیالات معلوم ہوں گے۔

”بچہ جب پہلے پہل چلنا سیکھتا ہے تو اسے اٹھنے کے لئے کسی آسرے کی ضرورت ہوتی ہے۔ سہارا لے کر اٹھتا ہے اور ابھی دو چار قدم بھی چلنے نہیں پاتا کہ لڑکھڑا کر گر پڑتا ہے۔ گرتا ہے تو ادھر ادھر حسرت بھری نگاہوں سے مدد کی تلاش کرتا ہے۔ مایوس ہو جاتا ہے تو رو رو کر کسی اٹھانے والے کو پکارتا ہے۔ کوئی انگلی پکڑ کر اٹھانے والا مل جائے تو پھر چار قدم چل لیتا ہے۔ ذرا اور بڑا ہو جائے تو ڈنڈے کے سہارے چلتا ہے وہ ہاتھ سے چھوٹ جائے تو پھر مشکل ہو جاتی ہے اور بڑا ہو جائے تو اپنے پاؤں پر کھڑا ضرور ہو جاتا ہے۔ لیکن چلنا پھرنا ان مقامات ہی میں ہے۔ جن سے وہ مانوس ہوتا ہے۔ غیر مانوس مقامات کی طرف جانے سے گھبراتا ہے۔ لیکن جب وہ اسی طرح اٹھتے بیٹھتے، گرتے پڑتے، گھبراتے سنبھلتے پوری جوانی کو پہنچ جاتا ہے۔ تو پھر اسے انگلی پکڑنے والے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ مانوس و غیر مانوس مقامات کا امتیاز اٹھ جاتا ہے۔ روشنی اور اندھیرے کا فرق بھی باقی نہیں رہتا۔ اب وہ ہر جگہ بلاخوف وخطر چلا جاتا ہے۔ اگر کہیں ٹھوکر سے گر بھی پڑے تو خود بخود اٹھنے کی کوشش کرتا ہے اور اس طرح یہ بتانا چاہتا ہے کہ اسے کسی خارجی مدد کی احتیاج نہیں۔ وہ اس مدد کو اپنی شان جوانمردی کے خلاف سمجھ کر اس میں خفت محسوس کرتا ہے۔ البتہ اس مقام پر اسے ایک چیز کی ضرورت باقی رہتی ہے اور یہ احتیاج فقط یہ ہے کہ شاہراہ زندگی میں جہاں جہاں دوراہے آئیں وہاں نشان راہ نصب ہوں۔ جن پر واضح اور بین الفاظ میں لکھا ہو کہ یہ راستہ کدھر جاتا ہے اور دوسرا راستہ کس طرف۔“

رسالے کے پیش لفظ میں ناظم ادارہ طلوع اسلام نے پرویز صاحب کے مضمون کا تعارف اور اس کا علامہ اقبال کے مضامین سے تعلق ان الفاظ سے ظاہر کیا ہے۔ ”علامہ اقبال کا یہ بیان (ان کے اسلوب کے مطابق ) اصولی ارشادات پر مشتمل تھا۔ ان قرآنی ارشادات کی تفصیل

١٩٢

صفحہ ٤٠٤

مفسر قرآن اور ترجمان اقبال جناب پرویز کے حصے میں آئی۔ چنانچہ انہوں نے اپنی بصیرت افروز تصنیف معراج انسانیت کے آخری باب میں ختم نبوت کے عنوان سے ایک ایسا جامع مقالہ سپرد قلم فرما دیا ہے۔ جو اس موضوع پر فی الحقیقت حرف آخر کی حیثیت رکھتا ہے۔“

ترجمان اقبال کے حرف آخر کے بعد کچھ اور کہنا بہت جسارت کی بات ہے۔ لیکن ہم چند باتیں عرض کرنے کی جرات کرتے ہیں۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تشکیل نو کا جو اقتباس اس باب کے شروع میں پیش کیا گیا ہے وہ پرویز صاحب اور ادارہ طلوع اسلام کے ہاں چنداں مقبول نہیں ہوسکا۔ جس رسالے کا ذکر ابھی کیا گیا ہے۔ اس کے موضوع کے ساتھ خطبات کے متذکرہ حصہ کو گہرا اور بنیادی تعلق تھا۔ لیکن اس رسالے میں خطبات کے اس حصہ کو شامل کرنا ضروری نہیں سمجھا گیا۔ اس کے بعد پرویز صاحب دو ایسی کتابیں تحریر فرما چکے ہیں۔ جن کے موضوع پر بھی علامہ اقبال کے یہ نظریات کافی روشنی ڈال سکتے تھے۔ ایک کتاب ”اقبال اور قرآن“ ہے۔ ہمارے خیال میں قرآن کی نسبت علامہ اقبال کے تصورات کو سمجھنے کے لئے مناسب تھا کہ اس کتاب میں وحی کے بارے میں علامہ کا نظریہ پیش کیا جاتا۔ لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ اس ضمن میں پرویز صاحب کی آخری تصنیف ان کی کتاب ”نظام ربوبیت“ ہے جس کو ان کے ادارے نے دور حاضر کی عظیم کتاب قرار دیا ہے۔ اس عظیم کتاب کے موضوع کا مرکزی خیال وحی اور عقل کا تقابل ہے۔ مصنف کے نزدیک نظام ربوبیت کے لئے تنہا عقل کی رہنمائی کافی نہیں ہے اور نہ کسی صورت میں ہو سکتی ہے۔ بلکہ ہر دور میں اس نظام کی بنیاد وحی پر رکھنا ناگزیر ہے۔ ہمیں کہنا پڑتا ہے کہ ترجمان اقبال نے اس معاملے میں اقبال کے فکر کی پوری ترجمانی نہیں کی۔ اقبال کے جن اشعار سے عقل کی کوتاہی کی سند ملتی تھی، مصنف نے ان کو نمایاں طور سے لکھ دیا ہے۔ لیکن خطبات کا ذکر نہیں کیا۔ جہاں کہ اقبال نے وحی اور عقل کی نسبت اصولی اور سائنٹیفک انداز میں بحث کی ہے۔

ہمارے خیال میں اس فروگزاشت کی وجہ یہ ہے کہ پرویز صاحب اس منطقی نتیجے سے بچنا چاہتے ہیں۔ جس تک اقبال کا وہ نظریہ ارتقاء ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ جو اس عظیم مفکر نے خطبات میں بیان کیا ہے۔

جہاں تک وحی کی ابتدائی ضرورت کا سوال ہے۔ پرویز صاحب کا استدلال علامہ اقبال کے نظریے کے مطابق ہے۔ یعنی وحی کی ضرورت انسانی ذہن کے عالم طفولیت کے تقاضوں سے پیدا ہوتی ہے۔ لیکن یہاں بھی پرویز صاحب پر اقبال کے نظریے کا ایک اہم نکتہ ضائع ہو گیا

١٩٣

صفحہ ٤٠٤

ہے۔ پرویز صاحب نے وحی کو آسمانی ذریعہ ہدایت قرار دیا ہے۔ اس میں کلام نہیں کہ وحی کا تعلق وحی پانے والے وجود سے باہر ایک قوت کے ساتھ ہے۔ لیکن اس قوت کو آسمانی اور انسان کو زمینی کہنا کم از کم اقبال کے نظریے کے ایک پہلو کے مطابق نہیں ہے۔ اقبال کے الفاظ میں نبی کی شخصیت میں زندگی کا محدود مرکز اپنی ہی ذات کی لامحدود گہرائیوں میں ڈوب کر تازہ قوت حاصل کرتا ہے۔ علامہ نے خطبات میں انسان اور خدا کے باہم لطیف اور عمیق تعلق کو بیان کرنے میں ایک جامع اور بلیغ لفظ خودی استعمال کیا ہے۔ خدا کی ہستی کو علامہ نے غیر محدود مطلق خودی اور اس کے مقابلے میں انسان کو اس غیر محدود مطلق خودی کا ایک محسوس اور محدود صورت کا نام دیا ہے۔

لیکن وہ نقطہ جس پر پہنچ کر پرویز صاحب اور علامہ اقبال کے خیالات میں اختلاف ایک شدید صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ نوع انسانی کے عالم جوانی میں وحی کے مقام کی نسبت ہے۔ پرویز صاحب کے نزدیک نبوت کے ختم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ انسانی ذہن نے سن بلوغ حاصل کر لیا ہے۔ اس مقام پر پہنچنے کے بعد آئندہ ارتقاء کے لئے جدید وحی کے ذریعے ہدایت پہنچانا ضروری نہیں رہا۔ جو اصولی غیر متبدل قواعد عمل ایسے ہیں جن کو عقل وضع نہیں کر سکتی۔ وہ ایک مستقل اور منزہ من الخطا وحی کی صورت میں مہیا کر دیئے گئے ہیں اور اس وحی کی ہمیشہ کے لئے حفاظت کا ذمہ خود خدا نے لے لیا ہے۔ ان اصولی قواعد کے اندر رہتے ہوئے انسان کو تفصیلی احکام اپنی عقل کی مدد سے خود متعین کرتے ہیں۔ فی الواقع یہ خیالات نظریہ ارتقاء کی درست تعبیر نہیں ہیں۔ حقیقتاً یہ طرز فکر انسان کو آزاد کرنے کی بجائے اس کو جدید اور پہلے سے زیادہ سخت پابندیوں میں جکڑنے کا موجب ہے۔ لیکن اس کی تصریح ذرا بعد میں آئے گی۔ فی الحال یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ اس ضمن میں بھی علامہ اقبال کا نظریہ پرویز صاحب کے خیال سے واضح طور پر مختلف ہے۔ اقبال کے نزدیک ارتقاء کے آخری دور میں انسان کے لئے عمل کے تمام قواعد کی نسبت (خواہ وہ اصولی ہوں یا تفصیلی اور فروعی) تنہا عقل پر انحصار کرنا مقدر ہے۔

”اس (ختم نبوت) سے مراد اس امر کا شدید احساس ہے کہ زندگی ہمیشہ کے خارجی سہارے کی محتاج نہیں رہ سکتی اور یہ کہ خود شعوری کی تکمیل کے لئے ضروری ہے کہ بالآخر انسان محض اپنی استعداد پر انحصار کرنے لگے۔“

(خطبات)

پرویز صاحب بھی اس احساس کے ایک حد تک قائل ہیں۔ لیکن ان کی نظر میں یہ احساس ایک سطحی پندار کے جذبے کا نتیجہ ہے۔ جس طرح مثلاً ایک جوان آدمی یہ پسند نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ بچوں جیسا سلوک کیا جائے۔ لیکن اقبال کے نزدیک وحی کی بجائے عقل پر

١٩٤

انحصار کرنے میں ا حصول ہوتا ہے۔ ا میں خود اعتمادی پیدا روک ثابت ہو سکتی ہ ”عقل ا ذرائع شعور کی نمود ا نسبتاً ابتدائی دور میں ہے۔ ایک حاصل کی ہ تقویت کے لئے ضرو علاوہ ازیں وہ اس کے اوائلی دور انحصار ناکافی ہو جاتا ”قدیم دور نہیں جا سکتا اور اس لیکن نوع آسکتا تھا۔ جس طرح ہو اور اس سے اگلے دور بتدریج مختلف مراحل اور بلوغت کے درمیان سے جدید تک پہنچنے میں ہدایت کے کرنے کی غرض سے و اور ہر قوم میں رسول آ تفصیل کے ساتھ معلوم سرسری سے مطالعے پر آجائیں گے۔

عالمی سیرت مقالہ جات و خط کانفرنس کی کارروائی اور

صفحہ ٤٠٥

انحصار کرنے میں انسان کے ذہن میں اپنے حال سے زیادہ مستقبل یعنی اگلی منزل ارتقاء کا حصول ہوتا ہے۔ اس غرض کے لئے اسے اپنے نئے ذریعہ عمل و ہدایت کو تقویت دینا اور اس میں خود اعتمادی پیدا کرنا ضروری ہوتا ہے اور پرانے ذرائع ہدایت کی موجودگی عقل کی پختگی میں روک ثابت ہو سکتی ہے۔

”عقل اور جوہر استنباط کی پیدائش کے ساتھ زندگی خود اپنے مفاد کے لئے ان غیر عقلی ذرائع شعور کی نمو اور افزائش کو بند کر دیتی ہے۔ جن میں کہ اس کی ذہنی قوت انسانی ارتقاء کے نسبتاً ابتدائی دور میں جاری رہی تھی۔ قیاس کرنے والی عقل جو انسان کو اس کے ماحول پر قادر بناتی ہے۔ ایک حاصل کی ہوئی استعداد ہے۔ اس استعداد کے وجود میں آنے کے ساتھ ہی اس کی مزید تقویت کے لئے ضروری ہو جاتا ہے کہ علم کے دیگر ذرائع کی مناہی کر دی جائے۔“

علاوہ ازیں اس مرحلے پر بدلے ہوئے حالات میں انسان کو جو مسائل پیش آتے ہیں وہ اس کے اوائلی دور سے یکسر مختلف ہوتے ہیں اور ان سے عہدہ برآ ہونے کے لئے قدیم ذرائع پر انحصار ناکافی ہو جاتا ہے۔

”قدیم دنیا کا یہ طریق کار نیم مذہبی اعتقادات اور روایات کو منظم شکل دینے سے آگے نہیں جا سکتا اور اس سے ہم زندگی کے ٹھوس احوال پر قابو نہیں پا سکتے۔“

لیکن نوع انسانی کا قدیم دور سے نکل کر جدید میں داخلے کا واقعہ یک لخت عمل میں نہ آ سکتا تھا۔ جس طرح ایک فرد کی بلوغت کا عمل اس طرح ظہور پذیر نہیں ہوتا کہ ایک دن تو وہ نابالغ ہو اور اس سے اگلے روز اچانک مکمل بلوغت حاصل کر لے۔ اسی طرح نوع کی اجتماعی بلوغت بھی بتدریج مختلف مراحل طے کرتے ہوئے اپنے کمال تک پہنچتی ہے اور جس طرح فرد کے لئے کم سنی اور بلوغت کے درمیان ایک (Adolescence) کا زمانہ ہوتا ہے۔ اسی طرح نوع قدیم سے جدید تک پہنچنے میں ایک عبوری دور سے گزرتی ہے۔

ہدایت کے مقتضیات ارتقاء کے مختلف مراحل کے ساتھ بدلتے رہے ہیں اور ان کو پورا کرنے کی غرض سے وحی بھی بتدریج مقام تبدیل کرتی رہی ہے۔ گو یہ درست ہے کہ دنیا کے ہر ملک اور ہر قوم میں رسول آتے رہے ہیں۔ لیکن سامی نسل کی اقوام سے باہر انبیاء کے حالات ہمیں کسی تفصیل کے ساتھ معلوم نہیں ہیں۔ ان اقوام میں اگر ہم اس ذریعہ ہدایت کی تاریخ پر غور کریں تو سرسری سے مطالعے پر بھی بعض اہم امور ایسے ملتے ہیں۔ جو نہایت وضاحت کے ساتھ سامنے آ جائیں گے۔

١٩٥

صفحہ ٤٠٦

پہلا امر تو انبیاء کے تواتر اور تعداد کا ہے۔ عہد نامہ قدیم کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ شروع میں کوئی دور ایسا نہ تھا کہ جس میں انبیاء موجود نہ ہوں۔ کئی دفعہ ایک ہی وقت میں کئی انبیاء موجود تھے۔ اس کے بعد ہم انبیاء کی تعداد اور ان کے تسلسل میں بتدریج ایک کمی پاتے ہیں۔ یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زمانہ آ جاتا ہے۔ اس کے بعد ایک طویل وقفہ آتا ہے۔ غالباً اس وقت تک کی تاریخ میں سب سے لمبا یعنی قریباً ٦٠٠ سال کا جس میں کہ کسی نبی کا ذکر نہیں ملتا اور پھر محمد رسول اللہ ﷺ مبعوث ہوئے۔ جن کی ذات میں نبوت اپنے خاتمے کی ضرورت کے احساس کے ساتھ اپنے کمال تک پہنچتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ختم نبوت کا مرحلہ تدریجاً حاصل کیا گیا اور شروع سے نبوت کے ختم ہونے کا مقصد سامنے رکھا گیا۔

دوسرا اہم امر جو ہمیں اس مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے وہ انداز ہدایت کی مسلسل تبدیلی ہے۔ گو شروع سے وحی کا مقصد انسان کو خدا پرستی اور نیک عملی کی تعلیم دینا رہا ہے۔ لیکن اس تعلیم کا اسلوب بتدریج تبدیل ہوتا رہا ہے اور اس تبدیلی کے مطالعہ سے بھی نظریہ ارتقاء کی تائید ہوتی ہے۔ مذہب کا مرکزی نقطہ خدا کا تصور ہے۔ اس تصور میں کس طرح بتدریج ترقی ہوئی ہے اور اس میں کیا حکمت تھی ان امور کی وضاحت کے لئے مولانا ابوالکلام آزاد کی تفسیر ”ترجمان القرآن“ کا ایک اقتباس ملاحظہ ہو۔ فرماتے ہیں : ”انبیاء کرام (علیہم السلام) کی دعوت کی ایک بنیادی اصل یہ رہی ہے کہ انہوں نے ہمیشہ خدا پرستی کی تعلیم ویسی ہی شکل و اسلوب میں دی۔ جیسی شکل و اسلوب کے فہم و تحمل کی استعداد مخاطبوں میں پیدا ہو گئی تھی۔ وہ مجمع انسانی کے معلم و مربی تھے اور معلم کا فرض ہے کہ متعلموں میں جس درجہ کی استعداد پائی جائے اسی درجہ کا سبق بھی دے۔ پس انبیاء کرام نے بھی وقتاً فوقتاً خدا کی صفات کے لئے جو پیرایۂ تعلیم اختیار کیا وہ اس سلسلۂ ارتقاء سے باہر نہ تھا۔ بلکہ اس کی مختلف کڑیاں مہیا کرتا ہے۔ ارتقائی نقطے ہمیشہ تین ہی رہے اور انہی سے اس سلسلہ کی بدایت اور غایت معلوم کی جاسکتی ہے۔“

یعنی تجسم اور صفات قہریہ کا تصور اس کا ابتدائی درجہ ہے اور تنزہ اور صفات رحمت و جمال سے اتصاف اعلیٰ و کامل درجہ ہے۔ جو تصور جس قدر ابتدائی اور ادنیٰ درجہ کا ہے۔ اتنا ہی تجسم اور صفات قہریہ کا عنصر اس میں زیادہ ہے۔ جو تصور جس قدر زیادہ ترقی یافتہ ہے۔ اتنا ہی زیادہ منزہ اور صفات

١٩٦

صفحہ ٤٠٧

رحمت وجلال سے متصف ہے۔

انسان کا تصور صفات قہریہ کے تخیل سے کیوں شروع ہوا؟ اس کی علت واضح ہے۔ فطرت میں کائنات کی تعمیر، تخریب کے نقاب میں پوشیدہ ہے۔ انسانی فکر کی طفولیت تعمیر کا حسن نہ دیکھ سکی۔ تخریب کی ہولناکیوں سے سہم گئی۔ تعمیر کا حسن و جمال دیکھنے کے لئے فہم و بصیرت کی دور رس نگاہ مطلوب تھی اور وہ ابھی اس کی آنکھوں نے پیدا نہ کی تھی۔

مندرجہ ذیل عبارتوں پر غور کیجئے۔

فرماتا ہے کہ تو کہہ تلوار بلکہ تیز اور صیقل کی ہوئی تلوار ہے۔ وہ تیز کی گئی ہے تاکہ اس سے بڑی خوں ریزی کی جائے وہ صیقل کی گئی ہے تاکہ چمکے وہ تیز اور صیقل کی گئی ہے تاکہ قتل کرنے والے کے ہاتھ میں دی جائے۔ اے آدم زاد! تو رو اور نالہ کر۔ کیونکہ وہ میرے لوگوں پر چلے گی۔ وہ اسرائیل کے سب امراء پر ہوگی۔ وہ میرے لوگوں سمیت امرا کے حوالے کئے گئے ہیں اور اے آدم زاد تو نبوت کر اور تالی بجا اور تلوار دو چند بلکہ سہ چند ہو جائے اور میں اپنا قہر تجھ پر نازل کروں گا اور اپنے غضب کی آگ تجھ پر بھڑکاؤں گا اور تجھ کو حیوان خصلت آدمیوں کے حوالے کروں گا۔ جو برباد کرنے میں ماہر ہیں تو آگ کے لئے ایندھن ہوگا اور تیرا خون ملک میں بہے گا اور پھر تیرا ذکر بھی نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ میں خداوند نے فرمایا ہے۔

طرح طرح کے منافع ہیں اور ان سے تم اپنی غذا بھی حاصل کرتے ہو۔ جب ان کے غول شام کو چر کر واپس آتے ہیں اور جب چراگاہوں کے لئے نکلتے ہیں تو ان کے منظر میں تمہارے لئے خوشنمائی رکھ دی ہے اور انہی میں وہ جانور بھی ہیں جو تمہارا بوجھ اٹھا کر ان شہروں تک پہنچا دیتے ہیں۔ جہاں تک تم بغیر سخت مشقت کے نہیں پہنچا سکتے تھے۔ بلاشبہ تمہارا رب بڑا ہی شفقت رکھنے والا اور صاحب رحمت ہے۔

”اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے۔ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ یقیناً اللہ تمہارے تمام گناہ بخش دے گا۔ یقیناً وہ بڑا بخشنے والا بڑی ہی رحمت رکھنے والا ہے۔“ ١

پہلی ہی نظر سے معلوم ہو جاتا ہے کہ ان میں سے کون سا اقتباس بائبل سے ہے اور کون سا قرآن سے اور اس کے لئے ضروری نہیں کہ قاری نے پہلے سے یہ عبارتیں دیکھی ہوئی ہوں۔

١٩٧

صفحہ ٤٠٨

خدا کی صفات کے ساتھ نبی کے مشن میں بھی ایک فرق بین طور پر نظر آ رہا ہے۔ ایک طرف قرآن میں ہے کہ نبی کو جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے اور اس کے مقابلے میں پرانے عہد نامے میں سے کتاب حزقی ایل کی یہ عبارت ملاحظہ کیجئے۔

’’اے آدم زاد بنی عمون کی طرف متوجہ ہو اور ان کے خلاف نبوت کر۔ صیدا کا رخ کر کے اس کے خلاف نبوت کر۔ شاہ مصر فرعون کے خلاف ہو اور اس کے اور تمام ملک مصر کے خلاف نبوت کر۔‘‘

تشکیل نو کا جو اقتباس ہم نے اس باب کے شروع میں نقل کیا ہے۔ اس کے آخر میں علامہ اقبال نے جن امور کو ختم نبوت کے مختلف پہلو بیان کیا ہے۔ ان کی نسبت ایک مختصر تنقید کرنا ضروری ہے۔ علامہ کے الفاظ میں اسلام میں مذہبی پیشوائیت اور خاندانی بادشاہت کا خاتمہ اور قرآن میں بار بار عقل اور تجربہ سے خطاب اور اسی طرح اس کتاب کا نیچر اور تاریخ پر بطور ذرائع علم زور دینا۔ اسی ایک تصور خاتمیت کے مختلف پہلو ہیں۔ یہاں اقبال نے تین چیزوں کو قرآنی تعلیم کی ایک امتیازی خصوصیت بیان کیا ہے۔ اس بارے میں پہلا غور طلب نکتہ یہ ہے کہ علامہ کے نزدیک یہ تین باتیں ختم نبوت کی دلیل ہی نہیں بلکہ اس تصور کے مختلف پہلو ہیں۔ جس سے مراد یہ ہے کہ حقیقتاً ان امور کے اجتماعی نتیجے میں ختم نبوت کا عقیدہ مرتب ہوتا ہے اور تکمیل پاتا ہے۔

سب سے پہلے مذہبی پیشوائیت کو لیجئے۔ دیکھنا یہ ہے کہ مذہبی پیشوائیت کی ماہیت کیا ہے۔ اسلام اسے کس طرح ختم کرتا ہے اور عقیدہ ختم نبوت سے اس کا کیا تعلق ہے؟

پیشوائیت کا وحی کے منصب کے ساتھ ایک گہرا تعلق ہے۔ انسان کی صورت میں وحی کی ہدایت ہر انسان کو انفرادی طور پر براہ راست مہیا نہیں کی جاتی۔ کوئی ایک یا چند انسان منتخب کر لئے جاتے ہیں۔ ان پر وحی نازل ہوتی ہے اور دوسرے لوگوں تک یہ وحی پہنچانا اور اس پر عمل کرنے کی تلقین کرنا ان خاص افراد کا کام ہوتا ہے۔ یہ افراد اپنے اس منصب کی وجہ سے رسول اور نبی کہلاتے ہیں۔ لیکن ہر قوم میں ایسا زمانہ بھی آتا ہے۔ جب اس میں کوئی نبی موجود نہیں ہوتا اور یہاں سے ہی نبی کے قائم مقام یا مذہبی پیشوا کی ضرورت پیدا ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ ضرورت پہلے کیوں پیدا ہوتی تھی اور اسلام کے ساتھ کیوں کر ختم ہوگئی ہے؟

ہمارے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ ابتدائی وحی اپنے دائرہ عمل کے لحاظ سے ہمہ گیر تھی اور اس کی رو سے عمل کی معمولی معمولی تفاصیل کے قواعد بھی مقرر کر دیئے جاتے تھے۔ (یہ بات اس دور کے تقاضا کے عین مطابق تھی۔ فرد کی طرح نوع کی طفولیت میں آزادیِ فکر وعمل کا دائرہ لازماً

محدود ہوتا ہے) ان قواعد ضرورت ہوتی ہے۔ انہی کما جب تک وحی کا پہلی زور دار آواز ہمیں عہد مذہبی پیشواؤں سے خطاب

’’اور شاگرد یا خبردار، فریسیوں اور صدوقی سے روٹی کی بابت نہیں کہا کہ اس نے روٹی کے خمیر سے

’’اے ریا کا ہو۔ پر تم نے شریعت کی ب اندھے راہ بتانے والو جو مچ

’’اے ریا کا اوپر سے تو خوبصورت دکھا ہیں۔ اسی طرح تم بھی ظاہ بے دینی سے بھرے ہو۔“

پیشوائیت کے سے آزاد نہ کیا جاتا۔ ان ایک اہم جزو قرار پایا۔ ا لینے والے اور گنہگاروں ہاتھ نہ دھونے سے درگزر عفو سے کام لینا۔ اس عمل کے ظاہری احکام ب

لیکن پیشوائ رخصت ہو جانے کے بع پوپ کے ماتحت کلیسا کا

١٩٨

صفحہ ٤٠٩

عالمی سیرت کانفرنس کانفرنس کی کارروائی اور پیشکش مقالہ جات پر مشتمل عالمی سیرت نمبر عالمی سیرت کا

ان دونوں میں بھی ایک فرق بین طور پر نظر آ رہا ہے۔ ایک کو تو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے اور اس کے مقابلے میں دوسرے کی عبارت ملاحظہ کیجئے۔

(اے فرزند آدم) صیدا کی طرف متوجہ ہو اور اس کے خلاف نبوت کر۔ اور کہہ کہ اے صیدا میں تیرے خلاف ہوں۔ خداوند خدا یوں فرماتا ہے

اسے اس باب کے شروع میں نقل کیا ہے۔ اس کے آخر میں ایک پہلو بیان کیا ہے۔ ان کی نسبت ایک مختصر تنقید کر کے اسلام میں مذہبی پیشوائیت اور خاندانی بادشاہت کا خاتمہ کیا اور اسی طرح اس کتاب کا تیسرا اور تاریخی پہلو یہ ہے کہ اس کے مختلف پہلو ہیں۔ یہاں اقبال نے تین چیزوں کو قرآنی نقطہ نظر سے پیش کیا ہے۔ علامہ کے نزدیک یہ تینوں چیزیں الگ الگ نہیں بلکہ اس تصور کے مختلف پہلو ہیں۔ جس سے مراد یہ ہے کہ ان کی جامعیت سے ختم نبوت کا عقیدہ مرتب ہوتا ہے اور تکمیل پاتا ہے۔

پہلی چیز کو لیجئے۔ دیکھنا یہ ہے کہ مذہبی پیشوائیت کی ماہیت کیا ہے اور عقیدہ ختم نبوت سے اس کا کیا تعلق ہے؟

پیشوائیت کا مذہب کے ساتھ ایک گہرا تعلق ہے۔ انسان کی صورت میں وحی کی نعمت ہر شخص کو مہیا نہیں کی جاتی۔ کوئی ایک یا چند انسان منتخب کر کے ان کے ذریعے سے دوسرے لوگوں تک یہ وحی پہنچانا اور اس پر عمل کرنے کی تلقین کرنا ضروری ہوتا ہے۔ یہ افراد اپنے اس منصب کی وجہ سے رسول اور نبی کہلاتے ہیں۔ جب دنیا میں کوئی نبی موجود نہیں ہوتا اور نئے نبی کی ضرورت پیدا ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ ضرورت کیوں کر ختم ہو گئی ہے؟

چونکہ ابتدائی وحی اپنے دائرہ عمل کے لحاظ سے محدود تھی اس لئے اس میں جزوی قواعد بھی مقرر کر دیئے جاتے تھے۔ (یہ بات اس لئے ہے کہ نوع بشر کی طفولیت میں آزادی فکر و عمل کا دائرہ لازماً

١٩٨

محدود ہوتا ہے) ان قواعد کو جاننا ہر آدمی کے بس میں نہیں ہوتا اور اس کے لئے ماہرین فن کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہی کو ہم مذہبی پیشوا کہتے ہیں۔

جب تک وحی کا یہ کردار قائم رہے گا، پیشوائیت ناگزیر رہے گی۔ پیشوائیت کے خلاف پہلی زور دار آواز ہمیں عہد نامہ جدید میں ملتی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اپنے زمانے کے مذہبی پیشواؤں سے خطاب کا ایک نمونہ ملاحظہ ہو۔

’’اور شاگرد پار جاتے وقت روٹی ساتھ لینا بھول گئے تھے۔ یسوع نے ان سے کہا خبردار، فریسیوں اور صدوقیوں کے خمیر سے ہوشیار رہنا۔ کیا وجہ ہے کہ تم یہ نہیں سمجھتے کہ میں نے تم سے روٹی کی بابت نہیں کہا؟ بلکہ فریسیوں اور صدوقیوں کے خمیر سے خبردار رہو۔ تب ان کی سمجھ میں آیا کہ اس نے روٹی کے خمیر سے نہیں بلکہ فریسیوں اور صدوقیوں کی تعلیم سے خبردار رہنے کو کہا تھا۔‘‘

’’اے ریا کار فقیہو اور فریسیو تم پر افسوس! کہ پودینہ اور سونف اور زیرہ کی تو دہ یکی دیتے ہو۔ پر تم نے شریعت کی زیادہ بھاری باتوں یعنی انصاف اور رحم اور ایمان کو چھوڑ دیا ہے۔ اے اندھے راہ بتانے والو! جو مچھر کو تو چھانتے ہو اور اونٹ کو نگل جاتے ہو۔‘‘

’’اے ریا کار فقیہو اور فریسیو تم پر افسوس! کہ تم سفیدی پھری ہوئی قبروں کی مانند ہو۔ جو اوپر سے تو خوبصورت دکھائی دیتی ہیں۔ مگر اندر مردوں کی ہڈیوں اور ہر طرح کی نجاست سے بھری ہیں۔ اسی طرح تم بھی ظاہر میں تو لوگوں کو راست باز دکھائی دیتے ہو۔ مگر باطن میں ریا کاری اور بے دینی سے بھرے ہو۔‘‘

پیشوائیت کے خلاف یہ بغاوت ممکن نہ تھی۔ جب تک لوگوں کو مذہب کے ظواہر کی سختی سے آزاد نہ کیا جاتا۔ اس لئے شریعت کی پابندیوں سے آزاد کرنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعوت کا ایک اہم جزو قرار پایا۔ ان کا شرع کے احکام کے خلاف سبت کے دن بیماروں کو شفا دینا۔ محصول لینے والے اور گنہگاروں کے ساتھ کھانا کھانا، شاگردوں کے روزہ نہ رکھنے اور کھانے سے پہلے ہاتھ نہ دھونے سے درگزر کرنا اور ایک بدکار عورت کے معاملے میں شرعی حد قائم کرنے کی بجائے عفو سے کام لینا۔ اس عمل کی مثالیں ہیں۔ عہد نامہ جدید کی تعلیم کا مرکزی خیال یہی ہے کہ شریعت کے ظاہری احکام سے توجہ ہٹا کر نیکی کے مغز کو رائج کیا جائے۔

لیکن پیشوائیت کا ادارہ اتنی آسانی سے ختم ہونے والا نہ تھا۔ عیسیٰ علیہ السلام کے رخصت ہو جانے کے تھوڑا عرصہ بعد ان کے شاگردوں نے فقیہوں اور فریسیوں کی جگہ لے لی اور پوپ کے ماتحت کلیسا کو ایک ایسے طاقتور نظام کی صورت میں قائم کر دیا کہ ایک لمبے عرصہ تک اس

١٩٩

صفحہ ٤١٠

نظام نے عیسائی دنیا کے عوام کی آزادی فکر و عمل کو سلب کئے رکھا۔ بلکہ اس دور میں بادشاہ تک کلیسائی اقتدار سے سرتابی نہ کر سکتے تھے۔ یہ صورتحال عیسیٰ علیہ السلام کی دعوت کے صریحاً خلاف تھی۔ حقیقت ہے کہ ازمنۂ وسطیٰ کی عیسائیت میں مسیحی تعلیم کی روح کا بہت کم حصہ باقی رہ گیا تھا۔ اسلام کے ذریعہ مذہبی پیشوائیت کے خاتمے کی طرف ایک اور قدم اٹھایا گیا ہے۔ لیکن یہاں اس عمل کی بنیاد پہلے سے کہیں مضبوط اصول پر قائم کی گئی ہے۔ قرآن کا طریق عہد نامہ جدید سے مختلف ہے۔ یہاں فقیہوں اور فریسیوں کے خلاف محض مذمت کے کلمات سے کام نہیں لیا گیا۔ بلکہ لوگوں کو ان غیر مذہبی ذرائع ہدایت کی راہ پر ڈال دیا گیا ہے۔ جو عملاً مذہبی پیشوائیت کی ضرورت کو ختم کرتے ہیں۔ یہ ذرائع جیسا کہ علامہ اقبال نے بتایا ہے۔ عقل کی روشنی میں نیچر پر غور کرنا اور تاریخ کا مطالعہ ہیں۔

آگے چلنے سے پہلے ایک امر کی تصریح کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ موجودہ بحث میں پیشوائیت کا لفظ ایک خاص محدود اصطلاحی معنوں میں استعمال ہو رہا ہے۔ پیشوائیت سے ہماری مراد اس معاشرتی نظام سے ہے۔ جس کے اندر کسی قسم میں سیاسی اقتدار کی اساس محض دینی علوم میں مہارت قرار دی جائے۔ دوسرے الفاظ میں ہم اس کو (Theocracy) کہہ سکتے ہیں۔ سیاسی اقتدار سے الگ ویسے مذہبی علوم میں دسترس حاصل کرنا یا دینی علم کی وجہ سے کسی شخص کا سوسائٹی میں عزت کا مقام حاصل کرنا بالکل دوسری باتیں ہیں اور ان کا پیشوائیت کے اصطلاحی مفہوم سے کوئی تعلق نہیں اور پیشوائیت کے خاتمے کا یہ تقاضا بھی نہیں کہ دینی علوم کے ماہرین کے لئے سیاسی اقتدار ممنوع ہے۔ تھیوکریسی کا امتیازی نشان یہ ہے کہ اس میں سیاسی اقتدار کے استحقاق کی بنیاد (بظاہر) دینی علوم پر ہوتی ہے۔ بظاہر اس لئے کہ عملاً محض دینی علوم کا ہونا بھی کافی نہیں ہوتا۔ تھیوکریسی میں حکمران طبقہ میں شامل ہونے کے لئے علاوہ دینی علوم کے زندگی کے متعلق ایک خاص قسم کا طرز فکر بھی ضروری ہوتا ہے۔ تقلید و روایات پرستی اور قدامت پسندی اس طرز فکر کے لازمی اجزاء ہیں۔

لیکن کیا اسلام واقعی مذہبی پیشوائیت کے خلاف ہے؟ ہمارے ملک میں بعض حلقوں کی طرف سے عملاً علامہ اقبال کے اس مؤقف کی پر زور تردید ہو رہی ہے۔ دلیل یہ ہے کہ اسلام زندگی کا ایک مکمل ضابطہ پیش کرتا ہے۔ اس ضابطے کی بنیاد وحی پر ہے۔ وحی سے مراد صرف قرآن نہیں بلکہ قرآن اور سنت دونوں ہیں۔ جن معاملات میں قرآن یا سنت کے کوئی قواعد موجود ہوں۔ وہاں ہمارے لئے آزادانہ سوچ بچار کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ زیادہ سے زیادہ قرآن کی تفسیر اور

٢٠٠

صفحہ ٤١١

کو سلب کئے رکھا۔ بلکہ اس دور میں بادشاہ تک بہر حال عیسیٰ علیہ السلام کی دعوت کے صریحاً خلاف مسیحی تعلیم کی روح کا بہت کم حصہ باقی رہ گیا تھا۔ خاتمے کی طرف ایک اور قدم اٹھایا گیا ہے۔ لیکن بنیاد قائم کی گئی ہے۔ قرآن کا طریق عہد نامہ جدید خلاف محض مذمت کے کلمات سے کام نہیں لیا گیا۔ پر ڈال دیا گیا ہے۔ جو عملاً مذہبی پیشوائیت کی اقبال نے بتایا ہے۔ عقل کی روشنی میں نیچر پر غور

واضح کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ موجودہ بحث معنوں میں استعمال ہو رہا ہے۔ پیشوائیت سے کے اندر کسی قسم میں سیاسی اقتدار کی اساس محض دینی الفاظ میں ہم اس کو (Theocracy) کہہ سکتے میں دسترس حاصل کرنا یا دینی علم کی وجہ سے کسی شخص کا دوسری باتیں ہیں اور ان کا پیشوائیت کے اصطلاحی کے لئے یہ تقاضا بھی نہیں کہ دینی علوم کے ماہرین کے لازمی نشان یہ ہے کہ اس میں سیاسی اقتدار کے ظاہر اس لئے کہ عملاً محض دینی علوم کا ہونا بھی کافی کے نہ ہونے کے لئے علاوہ دینی علوم کے زندگی کے ہے۔ تقلید و روایات پرستی اور قدامت پسندی اس

کے خلاف ہے؟ ہمارے ملک میں بعض حلقوں کی روز بروز شدید ہو رہی ہے۔ دلیل یہ ہے کہ اسلام زندگی کی بنیاد وحی پر ہے۔ وحی سے مراد صرف قرآن نہیں جس میں قرآن یا سنت کے کوئی قواعد موجود ہوں۔ وہاں پیدا نہیں ہوتا۔ زیادہ سے زیادہ قرآن کی تفسیر اور

٢٠٠

احادیث کا مفہوم معلوم کرنا رہ جاتا ہے۔ یہ ایک فنی کام ہے جس کا اہل ہر شخص نہیں ہو سکتا۔ صرف وہی لوگ اس کے اہل ہیں۔ جن میں ضروری علمی قابلیت موجود ہو۔ اس کے بعد جو امور ایسے ہیں۔ جن کی نسبت قرآن اور حدیث میں واضح احکام موجود نہ ہوں۔ ان کا فیصلہ بھی قرآن اور سنت کی روشنی میں کرنا ہوگا اور ظاہر ہے کہ یہ کام بھی صرف ماہرین فن کے سپرد کیا جا سکتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جو بات اسلام کو دیگر بہت سے مذاہب سے ممتاز کرتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ اسلامی نظریے کے مطابق مذہب ہر شخص کا ذاتی اور پرائیویٹ معاملہ نہیں ہے۔ بلکہ اسلام مذہب کو انسان کے شخصی اور اجتماعی تمام شعبوں پر حاوی کرتا ہے۔ اس فرق کو ایک دوسرے طریق پر اس طرح ظاہر کیا جاتا ہے کہ اسلام مذہب نہیں۔ دین ہے۔ بالخصوص اس بارے میں اسلام کا مقابلہ عیسائیت سے کیا جاتا ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ برخلاف عیسائیت کے اسلام کی رو سے زندگی کا کوئی شعبہ خواہ انفرادی ہو یا اجتماعی، مذہب سے خارج نہیں ہے۔

اگر یہ سب باتیں درست ہوں تو اسلام کے ذریعے مذہبی پیشوائیت ختم نہیں ہو سکتی۔ بلکہ پہلے سے زیادہ مضبوط بنیادوں پر قائم ہوگی۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ مسلمانوں میں مذہبی پیشوائیت بطور ایک سیاسی نظام کے کبھی قائم نہیں ہوسکی۔ نہ عروج کے زمانے میں اور نہ دور انحطاط میں، اور اس کے مقابلے میں عیسائیوں میں جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے ایک لمبے عرصہ تک پیشوائیت اپنی انتہائی شدید صورت میں موجود رہ چکی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں میں مذہبی پیشوائیت کا قیام ایک بالکل جدید رجحان ہے اور یہ رجحان اسلامی تعلیم اور تمدن کے صریحاً خلاف ہے۔ دوسرا امر خاندانی بادشاہت کا خاتمہ ہے۔ بادشاہت کا نبوت سے ایک گہرا تعلق ہے۔ بیشتر انبیاء اپنی قوم کے دنیاوی سردار اور بادشاہ بھی تھے اور یہ بات اس دور کے تقاضوں کے مطابق تھی۔ اگر اخلاقی اقدار کے لئے تنہا عقل پر انحصار نہ ہو سکتا تھا۔ تو سیاسی نظام کے لئے بھی عوام کو آزادی نہ دی جاسکتی تھی۔ آج جمہوری نظام ایک نا قابل استثناء فطری حقیقت معلوم ہوتا ہے۔ لیکن ہمیں یہ نہ بھولنا چاہئے کہ ہم کتنے مراحل سے ہو کر موجودہ صورت تک پہنچے ہیں۔ محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے دور کا خیال کرتے ہوئے اسلامی تعلیم کا سب سے زیادہ انقلابی پہلو بادشاہت کا خاتمہ ہے۔ اسلام کے ذریعے نہ صرف خاندانی بادشاہت کا خاتمہ کیا گیا ہے۔ بلکہ عالمگیر آزادی، اخوت اور مساوات کے وہ اصول پیش کئے گئے ہیں۔ جن کے عمل سے بالآخر بادشاہت کے ادارے ہی کو ختم ہو جانا تھا۔ سلطانی جمہور اور ختم نبوت ایک ہی ارتقائی عمل کے دو پہلو ہیں۔

٢٠١

عالمی سیرت کانفرنس

مقالات سیرت ط

عالمی سیرت کانفرنس کی روداد اور

صفحہ ٤١٢

علامہ اقبال نے ختم نبوت کا تیسرا پہلو یہ بیان کیا ہے کہ قرآن میں بار بار عقل اور تجربہ سے خطاب کیا گیا ہے۔ گویا قرآنی وحی انسان کی ان قوتوں کو بیدار کرنا چاہتی ہے۔ جن کے ذریعے وہ بتدریج وحی کے احتیاج سے آزاد ہوتا چلا جائے۔ یہ عجیب بات ہے کہ خدا تو انسان کو عقل سے کام لینے کے لئے کہتا ہے اور ہمارے بعض علماء سب سے زیادہ تحقیر عقل ہی کی کرتے ہیں۔ قرآن کا عقل سے اپیل کرنا اس بات کی ناقابل تردید دلیل ہے کہ عقل پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔ علامہ نے عقل کے ساتھ تجربہ کا ذکر کیا ہے۔ تجربہ دراصل عقلی رہنمائی کے نتیجے کا نام ہے۔ تجربہ میں عقل کی کامیابیاں اور فروگزاشتیں سب شامل ہیں۔ عقل کی غلط رہنمائی کے خوف سے عقلی ذرائع کو ترک نہیں کیا جا سکتا۔ جوں جوں انسانی تجربہ وسیع ہوتا جائے گا۔ غلطیوں کے امکانات کم ہوتے جائیں گے۔ وحی سے آزادی کی خواہش انسان کا باغیانہ رجحان نہیں ہے۔ بلکہ ارتقائی نظریہ اور فطرت کے تقاضے کے عین مطابق ہے۔ اگر الہامی ہدایت خدا نے مہیا کی ہے تو عقل بھی خدا داد صفت ہے۔

علامہ کے بیان کردہ امور میں آخری بات یہ ہے کہ قرآن نے نیچر اور تاریخ پر بطور ذرائع علم زور دیا ہے۔ ہمارے نزدیک طبعی علوم میں مسلمانوں کی ترقی میں اسلامی تعلیم کے اس پہلو کا ایک بڑا حصہ ہے۔ قرآن فطری عوامل سے ڈرانے کی بجائے ان کی حکمت بیان کرتا ہے اور ہمیں ان کی نسبت غور اور تدبر کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ اس طرز فکر کے نتیجے میں مسلمانوں نے سائنٹیفک تحقیقات کی ابتداء کی اور پھر ان سے دنیا کی دیگر قومیں متاثر ہوئیں اور یوں ہم ترقی کے موجود مرحلے تک پہنچے۔

ہم نے ابھی کہا ہے کہ پرویز صاحب کا نظریہ نہ صرف علامہ اقبال کے عقیدہ کی غلط توجیہ ہے۔ بلکہ اس سے انسان اپنے فکر و عمل میں آزاد ہونے کی بجائے پہلے سے زیادہ سخت پابندیوں میں جکڑا جاتا ہے۔ بظاہر پرویز صاحب پیشوائیت کے خلاف ہیں۔ لیکن حقیقتاً ان کی تعلیم ایک جدید اور نہایت سخت گیر پیشوائیت کی بنیاد ہے۔ پرویز صاحب کے نزدیک ختم نبوت کے بعد ہمارا اختیار کیا ہے؟ فقط یہ ہے کہ شاہراہ زندگی میں جہاں کہیں دو راہے آئیں۔ وہاں نشان راہ نصب ہوں۔ جن پر واضح اور بین الفاظ میں لکھا ہوا ہو کہ یہ راستہ کدھر جاتا ہے اور دوسرا راستہ کس طرف۔ اب صورت یہ ہے کہ زندگی کے ہر لمحے ہم ایک دوراہے سے دوچار ہیں۔ (Sign Posts) سے پرویز صاحب کی مراد قرآنی آیات ہیں۔ لیکن کیا ان (Sign Posts) پر کوئی واضح اشارہ موجود ہوتا ہے؟ اس پر ہم متفق ہیں کہ قرآنی آیات میں جو ہدایت درج ہے وہ

٢٠٢

واضح اور بین ہے۔ خود قرآن کا د صاحب کرتے ہیں۔ وہ آج تک تاریخی پس منظر کے سراسر خلاف قرآنی آیات ایک ایسا (osts مذہبی رہنما کی ضرورت قائم رہت ذریعے کی جائے تاکہ اگر قرآن م کہ ان معانی کی تائید وحی سے کی ہمارے نزدیک در س ہے۔ جس طرح راستے پر چلنا اس بھی اس کا اپنا کام ہے۔ جو خیال کے خلاف ہے۔

اس بنیادی نظریے کی جماعت احمدیہ اور ان کے معروف فریقوں کے درمیان جو تنازعہ ہے صرف یہ ظاہر کرنا ہے کہ کس طرح حقیقت کی طرف بہت کم توجہ دی جیسا کہ چند سابقہ ابو سب سے زیادہ زور الفاظ پر دی موجود آ سکتا ہے وغیرہ۔ دلچسپ تک محدود ہے۔

مرزا قادیانی کا صاف ہدایت بذریعہ وحی نام کی کوئی اہمی کیا گیا ہے کہ وہ وحی کی مدد سے رکھے۔ نبی کا لفظ تو عربی اور چند د مفہوم کو کیسے ادا کریں گے؟ مثلاً چ ذریعے لوگوں کی ہدایت کا دعویدار

صفحہ ٤١٣

واضح اور بین ہے۔ خود قرآن کا دعویٰ یہی ہے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ بیشتر آیات کے جو معانی پرویز صاحب کرتے ہیں۔ وہ آج تک کسی نے نہیں کئے اور قرآن کی ظاہری عبارت، سیاق و سباق اور تاریخی پس منظر کے سراسر خلاف ہیں۔ اس صورت میں اگر پرویز صاحب کے معانی درست ہیں تو قرآنی آیات ایک ایسا (Sign Posts) ہے کہ جس کی عبارت سمجھنے کے لئے ہر وقت ایک مذہبی رہنما کی ضرورت قائم رہے گی۔ بلکہ اس صورت میں بہتر یہی ہوگا کہ یہ رہنمائی ایک نبی کے ذریعے کی جائے تاکہ اگر قرآن کے معنی ہماری عقل کے مطابق نہیں ہیں تو کم از کم ہمیں یہ تسلی ہو کہ ان معانی کی تائید وحی سے کی گئی ہے۔

ہمارے نزدیک درست صورت یہ ہے کہ ختم نبوت کی تکمیل پر انسان مکمل طور پر آزاد ہے۔ جس طرح راستے پر چلنا اس کے اختیار میں ہے۔ اسی طرح (Sign Posts) قائم کرنا بھی اس کا اپنا کام ہے۔ جو خیال اس صورتحال کے خلاف ہے۔ وہ لازماً اس حد تک نظریہ ختم نبوت کے خلاف ہے۔

اس بنیادی نظریے کی موجودگی میں ختم نبوت اور اجرائے نبوت کے بارے میں جماعت احمدیہ اور ان کے معروف مخالفین کی تاویلات کا تفصیلی جائزہ غیر ضروری ہے۔ تاہم دونوں فریقوں کے درمیان جو تنازعہ ہے۔ اس کے چند پہلوؤں کا ذکر کرنا مناسب ہے۔ اس سے مقصود صرف یہ ظاہر کرنا ہے کہ کس طرح دونوں فریق غیر حقیقی مباحث میں الجھے رہے ہیں اور معاملہ کی حقیقت کی طرف بہت کم توجہ دی گئی ہے۔

جیسا کہ چند سابقہ ابواب کی بحث سے ظاہر ہے مرزا قادیانی نے نبوت کے ضمن میں سب سے زیادہ زور الفاظ پر دیا ہے۔ مثلاً یہ کہ نبی نہیں آسکتا۔ لیکن مجدد آسکتا ہے۔ مہدی موعود آسکتا ہے وغیرہ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے اکثر مخالفین کی بحث بھی الفاظ تک محدود ہے۔

مرزا قادیانی کا صاف اور سیدھا جواب یہ ہے کہ نبوت بند ہوگئی ہے۔ نبوت یعنی ہدایت بذریعہ وحی نام کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ جو شخص اس کا مدعی ہے کہ اسے اس بات پر مامور کیا گیا ہے کہ وہ وحی کی مدد سے لوگوں کی رہنمائی کرے وہ مدعی نبوت ہے۔ خواہ اپنا کوئی نام ہی رکھے۔ نبی کا لفظ تو عربی اور چند دیگر زبانوں تک محدود ہے۔ دنیا کی دیگر بیسیوں زبانوں میں اس مفہوم کو کیسے ادا کریں گے؟ مثلاً چین میں ایک شخص ہے وہ اپنے آپ کو نبی نہیں کہتا۔ لیکن وحی کے ذریعے لوگوں کی ہدایت کا دعویدار ہے۔ ظاہر ہے اس کا دعویٰ، نبوت کے سوا کچھ نہیں۔

٢٠٣

صفحہ ٤١٤

نبی کے نام اور شخصیت سے زیادہ اہم معاملہ منصب نبوت ہے۔ یہاں ہم ایک ایسے قول کا ذکر کرنا چاہتے ہیں جو حضرت عائشہؓ سے روایت کیا گیا ہے اور جس پر جماعت احمدیہ نے اپنے عقیدۂ اجراءِ نبوت کے لئے بہت انحصار کیا ہے۔ روایت یہ ہے کہ حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ ”قولوا خاتم الانبیاء ولا تقولوا لا نبی بعدہ“ یعنی نبی کریم ﷺ کے متعلق یہ کہنا چاہئے کہ وہ خاتم الانبیاء تھے۔ لیکن یہ نہ کہنا چاہئے کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں۔ جماعت احمدیہ کے قادیانی فرقے کا استدلال یہ ہے کہ اس قول سے ظاہر ہوتا ہے کہ نبی کریم کے زمانے میں آیت خاتم النبیین کا یہ مفہوم نہ سمجھا جاتا تھا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ آئے گا اور اس سے غیر تشریعی امتی وغیرہ نبوت کے حق میں دلیل قائم ہوتی ہے۔ اس قول کے بارے میں لاہوری جماعت کے قائد مولوی محمد علی نے کوئی واضح رویہ اختیار نہیں کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر تو اس قول کے معنی یہ ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد نبی آسکتے ہیں تو یہ بات چونکہ آیت خاتم النبیین کی اس تفسیر کے خلاف ہے جو نبی کریم نے خود حدیث لا نبی بعدی میں کی ہے۔ اس لئے اس قول کو رد کرنا چاہئے۔ لیکن مولوی صاحب کے نزدیک حضرت عائشہؓ کے قول کو رد کرنا ضروری نہیں ہے۔ کیونکہ اس کی یہ تاویل ہو سکتی ہے کہ آپ کا منشاء یہ تھا کہ لا نبی بعدہ تو تفسیر ہی ہے اور یہ تفسیر ایسی جامع نہیں۔ جیسا خدا کا قول خاتم النبیین۔ کیونکہ یہ صرف خاتم النبیین کے ایک ہی پہلو کی تفسیر ہے اور در حقیقت نبوت کا دروازہ بند کرنے کے لئے اسی ایک پہلو کی تفسیر کی ضرورت تھی۔ دوسرے پہلو کی تفسیر آنحضرت ﷺ کے اقوال میں دوسری جگہ موجود ہے۔ جیسا اس حدیث میں کہ ’لم یبق من النبوۃ الا المبشرات‘ پس اس لحاظ سے اگر حضرت عائشہؓ نے کہہ دیا ہو کہ خاتم النبیین زیادہ جامع لفظ ہے۔ ”لا نبی بعدہ“ صرف اس کے ایک حصے کی تفسیر ہے تو مضائقہ نہیں۔ کیونکہ اس طرح حدیث صحیح کی مخالفت لازم نہیں آتی۔

مولوی صاحب کی یہ تاویل ان کی دیگر تاویلات کی طرح دلچسپ لیکن غیر نتیجہ خیز ہے۔ مولوی صاحب کا کہنا یہ ہے کہ آیت خاتم النبیین کی تفسیر کے ایک سے زیادہ پہلو ہیں۔ ایک پہلو تو یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔ لیکن ایک دوسرا پہلو یہ ہے کہ حضور ﷺ کے بعد بھی نبوت کا ایک حصہ قائم رکھا گیا ہے اور یہ حصہ مبشرات ہے۔ تو گویا نبوت قطعی طور پر بند نہیں ہوئی۔ کیونکہ مبشرات کا حامل بھی بہر حال ایک حد تک نبی ہوگا۔ اس طرح مولوی صاحب کے نزدیک ختم نبوت کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ اب کوئی نبی نہیں آسکتا اور دوسرے معنی یہ ہیں کہ نبی ٢٠٤

صفحہ ٤١٥

آسکتا ہے۔ یہ بات مولوی صاحب کے خیال میں نہیں آئی کہ یہ تاویل کرنے سے وہ قادیانی مؤقف کے کس قدر قریب آگئے ہیں۔

ہم حضرت عائشہؓ کے قول کی صحت کی نسبت کوئی حتمی رائے قائم کرنا ضروری نہیں سمجھتے۔ البتہ ہم مولوی محمد علی قادیانی سے اس بات پر متفق ہیں کہ اگر اس قول کے معنی یہ ہوں کہ رسول کریم ﷺ کے بعد بھی نبی آسکتے ہیں تو یہ قول یقیناً غلط ہے۔ لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ اس قول کے یہ معنی نہیں ہیں۔ اس سے مراد ختم نبوت کے ظاہری اور لفظی مفہوم سے توجہ ہٹا کر اسلام کے اس مرکزی اور بنیادی تصور کی معنوی اہمیت پر زور دینا ہے۔ نبی کریم ﷺ واقعی آخری نبی تھے اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ لیکن اس سے معاملے کی روح کی طرف کوئی رہنمائی نہیں ہوتی۔ اس کے مقابلے میں خاتم النبیین جامع اور بلیغ الفاظ ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ اس مقصد کی تکمیل ہوگئی ہے۔ جو انبیاء کے ذریعہ پورا ہونا تھا۔ نبوت مکمل ہوگئی۔ اس لئے ختم ہوگئی ہے۔ علامہ اقبال کے الفاظ میں نبوت کا کمال ہی اس ذریعہ ہدایت کے خاتمے کا احساس ہے اور یہ کمال اور یہ احساس نبی کریم ﷺ کی ذات میں حاصل ہوگیا ہے۔

مذکورہ بالا اقتباس مولوی محمد علی قادیانی کی کتاب ”النبوۃ فی الاسلام“ میں سے تھا۔ یہاں مولوی صاحب نے ایک حدیث کا ذکر کیا ہے جو مبشرات کے متعلق ہے۔ کتاب میں ایک دوسری جگہ مولوی صاحب نے مبشرات پر کافی تفصیل سے بحث کی ہے اور ایک پورا باب اس پر صرف کیا ہے۔ متعلقہ حدیث کے الفاظ اس طرح بیان کئے گئے ہیں۔

”آنحضرت ﷺ نے فرمایا وحی منقطع ہوگئی اور نہیں باقی رہی۔ مگر مبشرات اور وہ رؤیا صالحہ ہے جس کو مؤمن دیکھتا ہے یا وہ اس کے لئے دکھائی جاتی ہے۔“

مبشرات کے لفظی معنی خوشخبری کے ہیں۔ لیکن اصطلاحاً یہ لفظ رؤیا یعنی سچی خواب کے لئے استعمال ہوا ہے۔ نظریاتی لحاظ سے خواب کا معاملہ ایک اختلافی موضوع ہے۔ ایک طرف وہ مادی سائنٹیفک نظریہ ہے جو خواب کو خواب بین کے مادی احوال اور ذہنی کیفیات مثلاً جذبات، خواہشات وغیرہ سے وابستہ کرتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق ہر خواب متعلقہ شخص کی اپنی جسمانی اور ذہنی کیفیات کا نتیجہ ہوتی ہے اور کسی خارجی روحانی قوت کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ہمارے ملک میں ابھی تک اس نظریے کو بہت کم قبول کیا گیا ہے۔ عام خیال یہی ہے کہ بہت سی خوابیں انسان کو بعض معاملات میں رہنمائی مہیا کرنے کے لئے خدا کی طرف سے ایک اشارہ ہوتی ہیں۔

٢٠٥

صفحہ ٤١٦

عالمی سیرت کانفرنس کانفرنس کی روئداد ١ پیش کش مقالہ جات و تجاویز سال سیرت عالمی سیرت پروگرام عالم عالمی سیرت

اس مفروضے پر تعبیر کا وسیع اور پیچیدہ علم وجود میں لایا گیا ہے۔ ذاتی طور پر ہم خواب کی مادی توجیہہ کے قائل ہیں۔ لیکن موجودہ مقصد کے لئے اس بحث میں پڑنا ضروری نہیں ہے۔ اگر خواب کی روحانی توجیہہ درست ہو تو بھی یہ سوال قائم رہتا ہے کہ اس کا نبوت سے کیا تعلق ہے؟

اس تعلق کے ضمن میں عجیب و غریب اور باہم متضاد باتیں بیان کی گئی ہیں۔ مثلاً ایک نمایاں کردہ تقسیم کے عمل سے نبوت کے حصے کر دئے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ سچی خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔ یہ کہیں مذکور نہیں کہ دیگر پینتالیس حصے کون سے ہیں اور پھر یہ اتنی دقیق اور مکمل تقسیم کیونکر کی گئی ہے۔ دوسری طرف بخاری کی سند سے ایک روایت یہ بیان کی گئی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی وحی کی ابتداء رویائے صادقہ سے ہوئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ رویائے صادقہ وحی کی ایک قسم ہے۔ وحی سے الگ اور کم تر چیز نہیں ہے۔ اس صورت میں وحی کے بند کئے جانے اور مبشرات کے جاری رہنے سے صرف یہ مراد ہو سکتی ہے کہ وحی کی ایک قسم جاری رکھی گئی ہے اور دوسری بند کی گئی ہے۔ یہ سوال بھی غور طلب ہے کہ اگر الہامی ذریعہ ہدایت جاری رکھنا مقصود تھا تو واضح ملفوظ الہام کے بند کرنے اور مبہم اور تعبیر طلب وحی کو جاری رکھنے میں کیا حکمت تھی؟

مبشرات کی اس توجیہہ کے لئے ایک قرآنی آیت سے بھی تائید حاصل کی گئی ہے۔ وہ آیت یہ ہے۔ "الا ان اولیاء الله لا خوف عليهم ولا هم يحزنون ، الذين أمنوا وكانوا يتقون ، لهم البشرى فى الحيوة الدنيا وفى الاخرة ، لا تبديل لكلمت الله ، ذالك هو الفوز العظيم (یونس:٦٢ تا ٦٤) "

اس آیت میں بشریٰ سے مراد سچی خوابیں لیا گیا ہے۔ معمولی تدبر سے معلوم ہو گا کہ اس لفظ کے یہ معنی نہیں ہو سکتے۔ اگر بشریٰ سے مراد سچی خوابیں ہیں تو آخرت میں سچی خوابیں دکھائے جانے سے کیا مطلب ہے؟۔

نبوت کے اس چھیالیسویں حصے کو مرزا قادیانی کے دعاوی اور احمدیہ تحریک کے ارتقاء کے ساتھ ایک گہرا تعلق ہے۔ مرزا قادیانی کی بیشتر وحی خوابوں پر مشتمل ہے اور جو حصہ الفاظ میں ہے۔ وہ بھی عام طور پر کسی نہ کسی خواب سے متعلق ہے۔ اس کے علاوہ شروع میں مرزا قادیانی کی بیعت میں شامل ہونے والوں میں ایک معقول تعداد ایسے لوگوں کی تھی جن کو خواب میں مرزا قادیانی کی صداقت کا اشارہ دیا گیا تھا۔ ہم ان اصحاب کے بیان کی تردید نہیں کرتے اور مان لیتے ہیں کہ انہوں نے ایسی خوابیں دیکھی ہوں گی۔ یہ کوئی ایسا پیچیدہ معاملہ نہیں۔ یہ سب لوگ

٢٠٦

مذہب سے دلچسپی رکھنے والے تھے اور اس سے انتظار کا ایک عام ماحول چھایا ہوا تھا تھے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے اپنے ایک وقت تھا وقت میں نہ آتا ایسے میں اس طرح کی خوابیں مرزا قادیانی کے بعد موجودہ کے لئے خواب سے استفادہ جاری رکھا والد قادیانی کے خوابوں سے بہتر ہیں۔ آفرین اور کثیر التعبیر ہو اور یہ خوبیاں خلیفہ خواب کو حقیقت پر مبنی عقلی اف سے رد کر سکتے ہیں۔ لیکن خواب کا کوئی بیان کر دیا جائے۔ یہ دقت مرزا قادیانی دیکھنے میں خواب کی خواہش اور خواب متبعین میں یہ خواہش اور یقین دوسرے کہ احمدیوں کو دوسرے لوگوں کی نسبت حقانیت کے خلاف خوابیں دیکھیں اور ایسے لوگوں کا مقابلہ کرنا پڑا جو ان کے خ خلیفہ قادیان کو بھی بعض اس قسم کے مخال معیار ہے اور نہ تکذیب کا۔ سچی خواب مقصود کسی معاملہ کی نسبت خبر یا ہدایت ہ ساتھ ختم ہو گئی ہے۔ اس کے خلاف خو عقیدہ ختم نبوت کے منافی ہے۔ ختم نبوت دنیا کی حقیقتوں پر غور کریں اور عقل کی رو

صفحہ ٤١٧

مذہب سے دلچسپی رکھنے والے تھے اور اس وقت احادیث میں بیان کئے ہوئے بعض آثار کی وجہ سے انتظار کا ایک عام ماحول چھایا ہوا تھا۔ لوگ مہدی آخرالزمان کے نزول کے لئے دیدہ براہ تھے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے اپنے ایک شعر میں کہا ہے۔

وقت تھا وقت مسیحا نہ کسی اور کا وقت
میں نہ آتا تو کوئی اور ہی آیا ہوتا

(درثمین اردو)

ایسے میں اس طرح کی خوابیں آنا بالکل قابل فہم ہے۔

مرزا قادیانی کے بعد موجودہ خلیفہ قادیانی نے اپنی حقانیت اور بلندی مقام کے ثبوت کے لئے خواب سے استفادہ جاری رکھا ہے۔ تکنیک کے اعتبار سے خلیفہ قادیان کے خواب اپنے والد قادیانی کے خوابوں سے بہتر ہیں۔ مقصدی نقطہ نگاہ سے بہتر خواب وہ ہے جو گنجلک خیال آفرین اور کثیر التعبیر ہو اور یہ خوبیاں خلیفہ صاحب کے خوابوں میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔

خواب کو حقیقت پر مبنی عقلی دلائل پر ایک فوقیت یہ حاصل ہے کہ دلیل کو آپ دلیل سے رد کر سکتے ہیں۔ لیکن خواب کا کوئی جواب ہی نہیں۔ سوائے اس کے کہ ایک جوابی خواب بیان کر دیا جائے۔ یہ وقت مرزا قادیانی کو اور موجودہ خلیفہ قادیان کو پیش آچکا ہے۔ خواب دیکھنے میں خواب کی خواہش اور خواب کی نسبت یقین کو بڑا دخل ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنے متبعین میں یہ خواہش اور یقین دوسرے لوگوں کی نسبت زیادہ پیدا کر دیا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ احمدیوں کو دوسرے لوگوں کی نسبت خوابیں زیادہ آتی ہیں۔ بعض نے مرزا قادیانی کی حقانیت کے خلاف خوابیں دیکھیں اور اس طرح مرزا قادیانی کو اپنی جماعت میں سے بعض ایسے لوگوں کا مقابلہ کرنا پڑا جو ان کے خلاف ان کا مسلمہ حربہ خواب استعمال کرتا تھا۔ موجودہ خلیفہ قادیان کو بھی بعض اس قسم کے مخالفین کا سامنا ہے۔ ہمارے نزدیک خواب نہ صداقت کا معیار ہے اور نہ تکذیب کا۔ سچی خواب یعنی وہ خواب جو خدا کی طرف سے ہو اور جس سے مقصود کسی معاملہ کی نسبت خبر یا ہدایت دینا ہو۔ وحی کی ایک قسم ہے اور ہر قسم کی وحی نبوت کے ساتھ ختم ہو گئی ہے۔ اس کے خلاف خیال ، خواہ اس کی کوئی تاویل ہی کی جائے ، فی الواقع عقیدہ ختم نبوت کے منافی ہے۔ ختم نبوت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم خواب پر انحصار کرنے کی بجائے دنیا کی حقیقتوں پر غور کریں اور عقل کی روشنی سے اپنا راستہ متعین کریں۔

٢٠٧

صفحہ ٤١٨

احمدیہ جماعت کی طرف سے اجرائے نبوت کے حق میں ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اس سے خدا تعالیٰ کی ہستی ایک یقین کے ساتھ ثابت ہوتی ہے۔ مرزا قادیانی کے دعویٰ کی یہ توجیہہ اب زیادہ مقبول ہے اور بالخصوص مغربی ممالک میں تبلیغ کے لئے اس پر زیادہ انحصار کیا جاتا ہے۔ دلیل یہ ہے کہ احمدی ایک زندہ خدا کے قائل ہیں۔ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ خدا جس طرح پہلے کلام کرتا تھا۔ اب بھی کرتا ہے۔ اس کے برخلاف غیر احمدی عقیدہ کے مطابق خدا کا سکوت لازم آتا ہے۔ جو ایک طرح سے زندگی کے منافی ہے۔ دلیل کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ بغیر ذاتی تعلق اور مکالمہ ومخاطبہ کے خدا کی ہستی کی نسبت صرف ایک ظن پیدا ہوتا ہے اور یہ ظن خواہ کتنا ہی غالب ہو۔ بہر حال یقین کے درجے کو نہیں پہنچتا۔ کائنات پر تدبر اور دیگر عقلی ذرائع سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ خدا ہونا چاہئے۔ لیکن ہے کا مقام ہونا چاہئے سے آگے ہے۔

دلیل بظاہر جاذب توجہ ہے۔ لیکن تھوڑے تدبر سے معلوم ہو جاتا ہے کہ فی الواقع اسکی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ خدا کی ذات ازل سے ابد تک قائم و دائم ہے۔ انسان کے ساتھ اس کا خطاب عارضی ذریعہ ہدایت ہے۔ مستقل ذریعہ جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے۔ جو ہر عقل اور کائنات کا نظام ہے اور اسی پر قرآن میں انحصار کیا گیا ہے۔ حیرت ہے کہ کائنات کا یہ نظام تو انسان کو خدا کی ہستی کا قائل نہ کر سکے اور اس بات سے وہ قائل ہو جائے کہ خدا کلام بھی کرتا ہے اور پھر یہ کلام اس سے نہیں کیا گیا۔ بلکہ ایک اور شخص سے کیا گیا ہے۔ اس دلیل کے مطابق تو خدا پر مکمل ایمان صرف ان لوگوں کا ہو سکتا ہے۔ جن سے خدا کلام کرے۔ موجودہ دور میں اگر مرزا قادیانی کے ساتھ ان کے متبعین میں سے چند خواص کو بھی شامل کر لیا جائے تو بھی مکالمہ ومخاطبہ سے مشرف ہونے والے چند سو اشخاص بنتے ہیں۔ دیگر مخلوق خدا کیوں خدا پر ایمان لائے۔ اگر خدا کی ہستی اس کے کلام سے ہی ثابت ہوتی تو چاہئے یہ تھا کہ خدا ہر ایک سے کلام کرتا اور خدا کی زندگی کا یہ کوئی اعلیٰ نمونہ نہیں ہے کہ چودہ سو سال کے بعد کلام کرے اور صرف ایک شخص کے ساتھ اس درمیانی دور میں اس کی زندگی کا کیا ثبوت تھا؟ اور اب مرزا قادیانی کے بعد کیا ثبوت ہے؟ اور بہر حال جو لوگ پہلے ہی خدا کے قائل ہیں۔ ان کے لئے مرزا قادیانی پر ایمان لانا کیونکر ضروری ہے؟ اور اگر خدا کی ہستی کے ثبوت کے لئے اس کا کلام ضروری ہے۔ تو قرآن اور پہلے انبیاء کی وحی کی صورت میں یہ کلام موجود ہے۔ مرزا قادیانی کے الہام سے اس ثبوت میں کیا اضافہ ہوتا ہے؟

٢٠٨

صفحہ ٤١٩

اجرائے نبوت کے حق میں ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ حجت ثابت ہوتی ہے۔ مرزا قادیانی کے دعویٰ کی یہ توجیہہ ممالک میں تبلیغ کے لئے اس پر زیادہ انحصار کیا جاتا ہے۔ ہیں۔ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ خدا جس طرح پہلے کلام کرتا اور احمدی عقیدہ کے مطابق خدا کا سکوت لازم آتا ہے۔ دلیل کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ بغیر ذاتی تعلق اور مکالمہ و مخاطبہ ہوتا ہے اور یہ ظن خواہ کتنا ہی غالب ہو۔ بہر حال یقین مگر عقلی ذرائع سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ خدا ہوتا ہے۔

لیکن تھوڑے تدبر سے معلوم ہو جاتا ہے کہ فی الواقع دلیل سے ابد تک قائم و دائم ہے۔ انسان کے ساتھ اس کا ذریعہ جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے۔ جوہر عقل اور انحصار کیا گیا ہے۔ حیرت ہے کہ کائنات کا یہ نظام تو بنیات سے وہ قائل ہو جائے کہ خدا کلام بھی کرتا ہے ہر شخص سے کیا گیا ہے۔ اس دلیل کے مطابق تو ہے۔ جن سے خدا کلام کرے۔ موجودہ دور میں اگر اتنے چند خواص کو بھی شامل کر لیا جائے تو بھی مکالمہ اس بنتے ہیں۔ دیگر مخلوق خدا کیوں خدا پر ایمان ثابت ہوتی تو چاہئے یہ تھا کہ خدا ہر ایک سے کلام ہے کہ چودہ سو سال کے بعد کلام کرے اور صرف کی زندگی کا کیا ثبوت تھا؟ اور اب مرزا قادیانی کے خدا کے قائل ہیں۔ ان کے لئے مرزا قادیانی پر ہستی کے ثبوت کے لئے اس کا کلام ضروری ہے۔ یہ کلام موجود ہے۔ مرزا قادیانی کے الہام سے

خدا کی نسبت ہونا چاہئے اور ہے کی تفریق بھی ایک غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔ ہر ہستی کے ثبوت کے لئے اس کے مناسب حال دلائل اور ذرائع ہوتے ہیں۔ ہم مادی اشیاء کے وجود اور ان کی صفات کو چند ذرائع سے ثابت کرتے ہیں۔ لیکن ضروری نہیں کہ یہی ذرائع غیر مادی اشیاء اور اقدار کے ثبوت میں بھی استعمال کئے جائیں۔ خدا کی ہستی تو خیر ورا الوریٰ ہے۔ یہ سوچنے کہ آیا برقی قوت اور ایتھر کے ثبوت کے لئے وہ ذرائع کارآمد ہو سکتے ہیں جو ٹھوس اشیاء کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں۔ یقیناً نہیں۔ خدا کی ہستی کے ثبوت سے مراد اس کی صفات کا ادراک ہے اور یہ صفات کائنات کی حسین و جمیل تخلیق اور اس کے ضبط و نظم و رو بہ ارتقاء قوت سے ظاہر ہیں۔ ان کے ہوتے ہوئے آپ اور کیا چاہتے ہیں؟

ابھی اجرائے نبوت کے کئی پہلو باقی ہیں۔ لیکن ان سب پر یہاں بحث کرنا ممکن نہیں۔ مرزا قادیانی نے اپنی خطابت کی تمام قوتیں اس بات پر مرتکز کر دیں کہ کسی طرح لوگ یہ مان لیں کہ مرزا قادیانی کے ذاتی مفاد کے علاوہ دنیا کو بھی کسی نہ کسی طرح کی نبوت کی ضرورت ہے۔ لیکن دنیا کی تمام آبادی کو ملحوظ رکھتے ہوئے مرزا قادیانی کی کوششیں زیادہ کامیاب نہیں ہوئیں۔ اس میں شک نہیں کہ اتنے لوگ جماعت میں ضرور شامل ہو گئے کہ جس سے مرزا قادیانی کی ذات اور ان کے خاندان کی وجاہت محفوظ ہو گئی۔ لیکن بحیثیت مجموعی لوگوں نے مرزا قادیانی کی نبوت کے بغیر ہی کام چلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس کا اعتراف مرزا قادیانی نے اپنے اس الہام میں کیا ہے۔

”دنیا میں ایک نذیر آیا۔ لیکن دنیا نے اس کو قبول نہیں کیا۔“

سوال یہ ہے کہ دنیا نے اس نذیر کو کیوں قبول نہیں کیا؟ اصل میں اس میں مرزا قادیانی کا کوئی قصور نہیں۔ اگر مرزا قادیانی ان کمزوریوں اور کوتاہیوں سے پاک ہوتے جن کا ان پر الزام ہے تو بھی آج کی دنیا انہیں قبول نہ کرتی۔ انہوں نے نبوت کا دعویٰ غلط دور میں کیا۔ دنیا عقلیت کے دور میں داخل ہو چکی ہے اور ایسا کرنے میں انسان نے خدا سے کوئی بغاوت نہیں کی۔ بلکہ وہ عین اس راہ پر چل رہا ہے۔ جو خدا نے شروع سے ہی مقدر کر دیا تھا۔

محمد رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ ختم نبوت کا اعلان عین وقت پر کیا گیا تھا۔ اس کے چودہ سو سال بعد ایک جدید نبوت کی طرف بلانا ترقی معکوس کی دعوت دینا ہے۔

۞ ۞ ۞ ۞ ۞

٢٠٩

عالمی سیرت کانفرنس مقالہ جات مکی سیرت مدنی سیرت عالمی سیرت کانفرنس

صفحہ ٤٢٠

فہرست مضامین !

٢١٠

صفحہ ٤٢٢

عالی سیرت پر ایک عالمانہ عالی سیرت کا نے سیرتِ مطہرہ مسائلِ سیرت پر مقالہ جات کو ایک کانفرنس کی رودادِ عالی سیرت کانفرنس

مضامین !

٢١٢ ٢٣٣ ٢٤٨ ٢٦٨ ٢٨٥ ٢٩٣ ٣١٢ ٣٢٦ ٣٤٢ ٣٤٦ ٣٥٢ ٣٧٢ ٣٩٣

خَاتَمَ النَّبِيّٖنَ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ

مَنْ كَذَبَ عَلَىَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهٗ مِنَ النَّارِ

ختم نبوت

اور

تحریک احمدیت

جناب غلام احمد پرویز صاحب

صفحہ ٤٢٢

باسمہ تعالیٰ

پیش لفظ ....... (طبع اوّل)

اس کتاب کا مسودہ اپریل ١٩٧٤ء میں مکمل ہو گیا تھا اور ارادہ تھا کہ اسے نہایت عمدگی اور خوبصورتی سے طبع کرایا جائے۔ لیکن ٢٩ مئی ١٩٧٤ء میں ربوہ اسٹیشن کا جو ہنگامہ برپا ہوا تو احباب کی طرف سے تقاضے موصول ہونے لگے کہ اسے جلد از جلد شائع کیا جائے۔ چنانچہ نہایت عجلت سے اس کی کتابت کرا کر جون کے آخر میں کاپیاں پریس میں بھیج دی گئیں کہ اتنے میں احمدیوں کے خلاف لٹریچر شائع کرنے پر حکومت کی طرف سے پابندیاں عائد کر دی گئیں اور اس کی طباعت روک دینی پڑی۔ ٧ ستمبر ١٩٧٤ء کو حکومت نے ”احمدیوں“ کی دونوں جماعتوں (قادیانیوں اور لاہوریوں) کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دیا۔ لیکن مذکورہ صدر پابندیاں بدستور عائد رہیں۔ اب وہ پابندیاں اٹھی ہیں تو اسے شائع کیا گیا ہے۔ کتاب کے مطالعہ کے دوران آپ اس حقیقت کو پیش نظر رکھیں کہ یہ ٧ ستمبر کے فیصلہ سے پہلے کی تحریر شدہ ہے۔ آپ اس کے مطالعہ کے بعد یقیناً ہم سے متفق ہوں گے کہ ٧ ستمبر کے فیصلہ کے بعد بھی اس کی اہمیت بدستور باقی ہے۔

اس کتاب میں آپ کو بعض امور ہمارے ہاں کے مروجہ نظریات سے مختلف ملیں گے۔ مثلاً نزول عیسیٰ علیہ السلام، آمد مہدی اور مجدد، امکان کشف والہام وغیرہ۔ اس ضمن میں اس بنیادی نکتہ کو ملحوظ رکھئے کہ دین سے متعلق جملہ معتقدات و نظریات کے سلسلہ میں پرویز صاحب کا مسلک یہ ہے کہ انہیں قرآن مجید کی روشنی میں پرکھا جائے۔ جو اس کے مطابق ہو اسے صحیح قرار دیا جائے۔ جو خلاف ہو اسے مسترد کر دیا جائے۔ اپنے اس مسلک کی روشنی میں انہوں نے ان نظریات کو بھی پرکھا ہے۔ اگر آپ ان کے اس مسلک سے متفق نہیں تو آپ کو اپنے معیار کے مطابق رد و قبول کا پورا پورا حق حاصل ہے۔ وہ اس بات میں کسی سے بحث میں الجھنا پسند نہیں کرتے۔ (یوں بھی ان کی قرآنی بصیرت کی رو سے) ان معتقدات اور نظریات کا دین کی اساسات سے کوئی تعلق نہیں۔ اس لئے یہ کفر اور اسلام کا معیار نہیں قرار پاسکتے۔ البتہ مسئلہ ختم نبوت سے ان کا بڑا گہرا تعلق ہے۔

ہمارے خیال کے مطابق یہ اپنے انداز کی منفرد کتاب ہے۔ جسے (مسلمان تو ایک طرف) اگر احمدی حضرات بھی خالی الذہن ہو کر پڑھیں گے تو بہت مفید پائیں گے۔ اس مسئلہ پر

٢

صفحہ ٤٢٣

اس سے پہلے اس انداز سے کہیں بحث نہیں کی گئی۔ مستند، مدلل، مسکت اور اس کے ساتھ ہی شگفتہ، سنجیدہ اور جذبات سے یکسر الگ ہٹ کر، اللہ تعالیٰ مصنف کی اس عمر بھر کی محنت کو شرفِ قبولیت سے باریاب فرمائے۔ والسلام! طلوعِ اسلام ٹرسٹ (رجسٹرڈ) ٢٥ بی، گلبرگ ٢، لاہور

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم!

پہلا باب ...... پسِ منظر

آغازِ سخن

جولائی ١٩٧٣ء کی بات ہے۔ (ہفتہ وار) چٹان (لاہور) کے نمائندہ نے میرا ایک انٹرویو لیا۔ جو اس اخبار میں بھی چھپا اور بعد ازاں، طلوع اسلام بابت اگست ١٩٧٣ء میں بھی شائع ہوا۔ اس انٹرویو کے ایک سوال کے جواب میں میں نے اپنے کوائفِ زندگی بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ: ”میری پیدائش مشرقی پنجاب کے قصبہ بٹالہ (ضلع گورداسپور) میں ہوئی۔ بٹالہ ایک مذہبی شہر تھا۔ اس لئے (اس دور کی عام فضاء کے مطابق) وہاں مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے علاوہ، آریوں، عیسائیوں اور قادیانیوں سے اکثر مناظرے رہا کرتے تھے۔ اس طرح مجھے فرقوں اور مذہبوں کے تقابلی مطالعہ کا موقعہ مل گیا۔ بعد میں مختلف فرقوں کے باہمی مباحثوں یا آریوں اور عیسائیوں کے ساتھ مناظروں کا دور تو ختم ہوگیا۔ لیکن ختمِ نبوت کے موضوع پر میں مسلسل لکھتا چلا آرہا ہوں۔ کیونکہ میرے نزدیک انکارِ ختمِ نبوت کا فتنہ امت کے لئے بڑا خطرناک ہے۔ چونکہ میں اس مسئلہ پر قرآنِ خالص کی روشنی میں گفتگو کرتا ہوں۔ روایات میں نہیں الجھتا۔ اس لئے فریقِ مقابل کے پاس میرے دلائل کا کوئی جواب نہیں ہوتا۔“

چونکہ مسئلہ ختمِ نبوت نے ان دنوں ملک میں پھر خاص اہمیت اختیار کرلی تھی۔ بالخصوص اس مطالبہ کے پیش نظر کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ اس لئے احباب کی طرف سے ملک کے مختلف گوشوں سے تقاضے موصول ہونے لگے کہ میں اس اہم مسئلہ پر جامع طور پر لکھوں تاکہ ذہنوں میں ابھرنے والے مختلف سوالات، ایک ہی دفعہ، اطمینان بخش انداز سے حل ہو جائیں۔ ان تقاضوں کی ایک وجہ اور بھی تھی۔ حضور نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ کے متعلق میری تصنیف ”معراجِ انسانیت“ کے پہلے ایڈیشن کے آخری باب میں میں نے مسئلہ ختمِ نبوت پر مختصراً

٣

صفحہ ٤٢٤

لکھا تھا۔ لیکن جب اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن شائع ہوا تو اس باب میں سے وہ حصہ نکال دیا گیا۔ جس کا تعلق قادیانیت سے تھا۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ یہ موضوع ایک مستقل تصنیف کا متقاضی ہے۔ تقاضا کرنے والے احباب نے میری توجہ اس طرف بھی منعطف کرائی۔ اس سلسلہ میں ایک خاص بات یہ بھی سامنے آئی کہ بعض احمدی حضرات کی طرف سے بھی یہ مطالبہ ہوا کہ مجھے اس موضوع پر تفصیل سے لکھنا چاہئے۔ تاکہ وہ دیکھ سکیں کہ قرآن کریم کی روشنی میں اس مسئلہ کی حقیقت اور اہمیت کیا ہے۔ ان میں سے بعض خطوط میں مجھے جذبہ تلاش حق کی جھلک محسوس ہوئی۔ میرا تجربہ یہ ہے کہ عام طور پر احمدی حضرات کا قرآن کریم کا مبلغ علم ان چند آیات اور ان کے مخصوص مفہوم تک محدود ہوتا ہے۔ جنہیں بحث و مباحثہ کے لئے انہیں یاد کرا دیا جاتا ہے۔ اس لئے جب یہ کہا جائے کہ قرآن خالص کی روشنی میں گفتگو کی جائے تو فریق مقابل کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہوتا تو ان کا جذبہ تجسس قابل فہم ہو سکتا ہے۔

ان مطالبات کے علاوہ قرآن کریم کی روشنی میں اس مسئلہ پر گفتگو کی اہمیت کی ایک اور وجہ بھی میرے پیش نظر تھی۔

مقدمہ بہاولپور

١٩٢٦ء کا ذکر ہے۔ ریاست بہاولپور کی ایک عدالت میں ایک مقدمہ دائر ہوا۔ جس میں ایک مسلمان خاتون نے یہ دعویٰ کیا کہ اس کے خاوند نے قادیانی مسلک اختیار کر لیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ مرتد ہو گیا ہے۔ اس لئے اس شخص سے مدعیہ کا نکاح فسخ قرار دیا جائے۔ اس مقدمہ نے ملک گیر شہرت حاصل کر لی اور مسلمانوں میں ایک ہیجان پیدا ہو گیا۔ اس لئے نہیں کہ اس میں فریقین کی حیثیت بڑی ممتاز تھی۔ وہ تو بالکل غیر معروف سے تھے۔ یہ اس لئے کہ ہندوستان میں (غالباً) یہ اپنی نوعی کا پہلا مقدمہ تھا۔ جس میں فیصلہ طلب سوال یہ تھا کہ ایک شخص قادیانی مسلک اختیار کرنے کے بعد مسلمان رہتا ہے یا نہیں۔ اس اعتبار سے یہ مقدمہ متعلقہ فریقین کا مابہ النزاع معاملہ نہ رہا۔ بلکہ قادیانیوں اور غیر قادیانیوں کے مابین ایک دینی سوال بن گیا۔ جس کا عدالتی فیصلہ (ظاہر ہے کہ) بڑی اہمیت کا حامل تھا۔ یہ مقدمہ قریب نو سال تک زیر سماعت رہا اور آخر الامر محمد اکبر صاحب ڈسٹرکٹ جج بہاول نگر نے (جو اب مرحوم ہو چکے ہیں) ٧؍ فروری ١٩٣٥ء کو اس کا فیصلہ سنا دیا۔ یہ فیصلہ اپنی شہرت اور اہمیت کے پیش نظر اس زمانے میں بھی الگ چھپ گیا تھا اور اس کے بعد بھی چھپتا رہا۔ اس وقت میرے سامنے اس کا وہ نسخہ ہے جو حال ہی (جون ١٩٧٣ء) میں محفل ارشادیہ سیالکوٹ کی طرف سے شائع کیا گیا ہے۔ اس فیصلہ کے ص ٥٣ پر بتایا گیا ہے کہ

٤

صفحہ ٤٢٥

مدعیہ کی طرف سے بڑے بڑے جید علماء کرام بطور گواہ پیش ہوئے۔ مثلاً مولانا غلام محمد شیخ الجامعہ عباسیہ بہاولپور، مولانا نجم الدین پروفیسر اورینٹل کالج لاہور، مولانا محمد شفیع مفتی دارالعلوم دیوبند، مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوری اور مولانا سید انور شاہ شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند وغیرہم۔ اس سے اس مسئلہ کی اہمیت واضح ہو جاتی ہے۔ فاضل جج نے اپنے فیصلہ میں لکھا کہ اس مسئلہ کا سارا دار و مدار اس بات پر تھا کہ نبوت کی حقیقت کیا ہے اور نبی کسے کہتے ہیں۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ: ”موجودہ زمانے میں بہت سے مسلمان نبی کی حقیقت سے بھی نا آشنا ہیں۔ اس لئے بھی ان کے دلوں میں یہ مسئلہ گھر نہیں کر سکتا کہ مرزا قادیانی کو نبی ماننے میں کیا قباحت ہوتی ہے کہ جس پر اس قدر چیخ و پکار کی جارہی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ اس کی کچھ تھوڑی سی حقیقت بیان کر دی جائے۔ مدعیہ کی طرف سے نبی کی کوئی تعریف بیان نہیں کی گئی۔ صرف یہ کہا گیا ہے کہ نبوت ایک عہدہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے برگزیدہ بندوں کو عطا کیا جارہا ہے اور نبی اور رسول میں فرق بیان کیا گیا ہے کہ ہر رسول نبی ہوتا ہے اور نبی کے لئے لازمی نہیں کہ وہ رسول بھی ہو۔ فریق ثانی نے (بحوالہ نبراس ص ٨٩) بیان کیا ہے کہ رسول ایک انسان ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ احکام شریعت کی تبلیغ کے لئے بھیجتا ہے۔ بخلاف نبی کے وہ عام ہے۔ کتاب لائے یا نہ لائے۔ رسول کے لئے کتاب لانا شرط ہے۔ اسی طرح رسول کی ایک تعریف یہ بھی کی گئی ہے کہ رسول وہ ہوتا ہے جو صاحب کتاب ہو یا سابقہ شریعت کے بعد احکام کو منسوخ کردے۔“

(فیصلہ ص ١٠٦، ١٠٧)

اس کے بعد فاضل جج نے لکھا: ”یہ تعریفیں چونکہ اس حقیقت کے اظہار کے لئے کافی نہ تھیں ۔ اس لئے میں اس جستجو میں رہا کہ نبی یا رسول کی کوئی ایسی تعریف مل جائے جو تصریحات قرآن کی رو سے تمام لوازم نبوت پر حاوی ہو ۔“

(فیصلہ ص ١٠٧)

اس کے بعد انہوں نے لکھا کہ: ”انہوں نے اس باب میں کافی جستجو کی لیکن نبی کی کوئی جامع تعریف انہیں نہ مل سکی۔ آخر کار ایک رسالہ میں ایک مضمون بہ عنوان میکانکی اسلام از جناب چوہدری غلام احمد پرویز میری نظر سے گذرا۔ اس میں انہوں نے مذہب اسلام کے متعلق آج کل کی روشن ضمیر طبقہ کے خیالات کی ترجمانی کی ہے اور پھر خود ہی اس کے حقائق بیان کئے ہیں۔ اس سلسلہ میں نبوت کی جو حقیقت انہوں نے بیان کی ہے۔ میری رائے میں اس سے بہتر اور کوئی بیان نہیں کی جاسکتی اور میرے خیال میں فریقین میں سے کسی کو اس سے انکار بھی نہیں ہوسکتا۔ اس لئے میں ان کے الفاظ میں ہی اس حقیقت کو بیان کرتا ہوں۔“

(فیصلہ ص ١٠٧)

ازاں بعد انہوں نے میرے اس مضمون سے خاصا مفصل اقتباس درج کیا اور نبی کی جو

٥

صفحہ ٤٢٦

تعریف میں نے پیش کی تھی اس پر مبنی بحث کے بعد اپنے فیصلہ میں کہا کہ : ”مدعا علیہ ، قادیانی عقائد اختیار کرنے کی وجہ سے مرتد ہو چکا ہے۔ لہذا اس کے ساتھ مدعیہ کا نکاح تاریخ ارتداد مدعا علیہ سے فسخ ہو چکا ہے ۔“

(فیصلہ ص ١٨٢)

مذکورہ بالا فیصلہ میں فاضل جج نے لکھا ہے کہ ان کی عدالت میں (غیر منقسم ) ہندوستان کے بڑے بڑے جید علماء حضرات پیش ہوئے۔ جن میں سے ایک ایک کا بیان سینکڑوں صفحات پر مشتمل تھا۔ لیکن وہ حقیقت نبوت کے متعلق ان میں سے کسی کے بیان سے بھی مطمئن نہ ہو سکے۔ وہ مطمئن ہوئے تو میرے ایک ایسے مضمون سے جو اس مقدمہ سے بالکل الگ آزادانہ لکھا گیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ میرے مضمون کی وہ کون سی خصوصیت تھی جس کی بناء پر وہ اس قدر اطمینان بخش ثابت ہو گیا۔ یہ ظاہر ہے کہ جہاں تک متداول علوم شرعیہ ( فقہ، حدیث وغیرہ) کا تعلق ہے۔ ان علماء کرام کا مقام بہت بلند تھا۔ جو اس عدالت میں پیش ہوئے تھے۔ لیکن میرے مضمون کی خصوصیت یہ تھی کہ اس کی بنیاد خالص قرآنی حقائق پر تھی۔ میں اس میں ، فقہ اور روایات پر مبنی بحثوں میں الجھا ہی نہیں تھا۔ ختم نبوت کا مسئلہ جو قادیانی اور غیر قادیانی حضرات میں ساٹھ، ستر برس سے مسلسل بحث و نظر کا موضوع بنے چلا آ رہا ہے اور بھنور میں پھنسی ہوئی لکڑی کی طرح ایک ہی مقام پر مصروف گردش ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ اس بحث کا مدار روایات پر ہوتا ہے اور روایات کی کیفیت یہ ہے کہ ان کے مجموعوں میں ، مخالف اور موافق ہر ایک کو اپنے اپنے مطلب کے مطابق روایات مل جاتی ہیں۔ نتیجہ اس کا یہ ہوتا ہے کہ بحث اصل موضوع سے ہٹ کر فریقین کی طرف سے پیش کردہ حدیثوں کے صحیح یا ضعیف ہونے پر مرکوز ہو جاتی ہے اور یوں محمل لیلیٰ ، غبار ناقہ لیلیٰ میں گم ہو کر رہ جاتا ہے۔ اس کے برعکس قرآن جو کچھ پیش کرتا ہے حتمی، یقینی اور دوٹوک پیش کرتا ہے اور یہ ممکن ہی نہیں کہ کسی مسئلہ کے متعلق اس میں فریقین کو اپنے اپنے مطلب کے مطابق اختلافی آیات مل جائیں۔ یہ وجہ ہے کہ میں روایات میں نہیں الجھتا۔ میں جو کچھ پیش کرتا ہوں اس کی اساس قرآنی دلائل پر ہوتی ہے اور فریق مقابل سے بھی قرآنی سند کا مطالبہ کرتا ہوں ۔ نتیجہ یہ کہ بات بالکل نکھر کر سامنے آ جاتی ہے۔

احادیث کی پوزیشن

حدیث کی تاریخ اور صحیح پوزیشن کے متعلق میں مختلف مقامات پر بڑی شرح وبسط سے لکھتا چلا آ رہا ہوں ۔ ( میری حال میں شائع شدہ تازہ تصنیف ، شاہکار رسالت کے آخری باب میں اس تفصیل کا ملخص بڑے جامع و مانع انداز سے دیا گیا ہے ) یہ حقیقت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے

٦

صفحہ ٤٢٧

اپنی احادیث کا کوئی مجموعہ مرتب کر کے یا مرتب کرا کر، اپنی تصدیق کے ساتھ امت کو نہیں دیا۔ حضور ﷺ کی وفات کے دو اڑھائی سو سال بعد بعض حضرات نے انفرادی طور پر ان اقوال کو جمع اور مرتب کیا۔ جنہیں حضور ﷺ کی طرف منسوب کیا جاتا تھا۔ اس طرح احادیث کے مختلف مجموعے وجود میں آئے۔ ان مجموعوں میں جو روایات درج ہیں۔ ان میں صحیح بھی ہیں اور غلط بھی۔ یہ جو ہمارے ہاں مختلف فرقوں میں باہمی اختلافات پائے جاتے ہیں تو ان کی وجہ یہ ہے کہ ایک فرقہ ایک حدیث کو صحیح قرار دے کر اس کے مطابق عمل کرتا ہے اور دوسرا فرقہ اسے غلط (ضعیف و وضعی) قرار دے کر اس کے خلاف کسی دوسری روایت پر عمل پیرا ہوتا ہے۔ لہٰذا جب بات کسی حدیث تک پہنچے گی تو سب سے پہلے یہ سوال سامنے آئے گا کہ آیا وہ حدیث قول رسول ﷺ ہے بھی یا نہیں۔ چنانچہ سید ابوالاعلیٰ مودودی اپنے فریق مخالف کے ساتھ بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”اصل واقعہ یہ ہے کہ کوئی روایت جو رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب ہو۔ اس کی نسبت کا صحیح اور معتبر ہونا بجائے خود زیر بحث ہوتا ہے۔ آپ (یعنی مودودی صاحب کے فریق مقابل) کے نزدیک ہر اس روایت کو حدیث رسولؐ مان لینا ضروری ہے۔ جسے محدثین سند کے اعتبار سے صحیح قرار دیں۔ لیکن ہمارے نزدیک یہ ضروری نہیں۔ ہم سند کی صحت کو حدیث کے صحیح ہونے کی لازمی دلیل نہیں سمجھتے۔“

(رسائل و مسائل حصہ اوّل ص ٢٩٠)

لہٰذا جب فیصلہ کا مدار حدیث پر رکھا جائے گا تو سب سے پہلے یہ سوال سامنے آئے گا کہ وہ حدیث صحیح بھی ہے یا نہیں۔ ایک فریق اسے صحیح قرار دے گا اور دوسرا فریق غلط اور اس کے خلاف اپنی طرف سے پیش کردہ حدیث کو صحیح۔ اس باب میں دیکھئے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا مؤقف کیا تھا۔ قادیانی حضرات کے خلیفہ ثانی (مرزا محمود احمد قادیانی) کا ارشاد ہے: ”حضرت مسیح موعود (یعنی مرزا قادیانی) فرمایا کرتے تھے کہ حدیثوں کی کتابوں کی مثال تو مداری کے پٹارے کی ہے۔ جس طرح مداری جو چاہتا ہے اس میں سے نکال لیتا ہے۔ اسی طرح ان سے جو چاہو نکال لو۔“

(خطبہ جمعہ، مندرجہ اخبار الفضل مورخہ ١٥؍ جولائی ١٩٢٣ء)

خود مرزا قادیانی نے لکھا ہے: ”اور جو شخص حکم ہو کر آیا ہے۔ اس کا اختیار ہے کہ حدیثوں کے ذخیرہ میں سے جس انبار کو چاہے خدا سے علم پا کر قبول کر لے اور جس ڈھیر کو چاہے خدا سے علم پا کر رد کر دے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ١٠، خزائن ج ١٧ ص ٥١ حاشیہ)

اس رد وقبول کا معیار کیا ہے۔ اس کے متعلق لکھتے ہیں: ”میرے اس دعوٰی کی بنیاد حدیث نہیں بلکہ قرآن اور وحی ہے جو میرے پر نازل ہوئی۔ ہاں تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی

٧

صفحہ ٤٢٨

پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔“

(اعجاز احمدی ص ٣٠، خزائن ج ١٩ ص ١٤٠)

لہٰذا احادیث کی صحت وسقم کے متعلق مرزا قادیانی کا معیار یہ ہے کہ جو حدیث ان کی وحی کے مطابق ہے وہ صحیح ہے جو اس کے خلاف ہے وہ ردی کی طرح پھینک دینے کے قابل۔ دوسری طرف مودودی صاحب کا معیار بھی ایسا ہی ہے۔ مرزا قادیانی اپنی وحی کو معیار قرار دیتے ہیں۔ مودودی صاحب مزاج شناس رسول کی نگہ بصیرت کو معیار ٹھہراتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ: ”حدیث کے صحیح اور غلط ہونے کا فیصلہ وہی شخص کر سکتا ہے جس نے حدیث کے بیشتر ذخیرہ کا گہرا مطالعہ کر کے حدیث کو پرکھنے کی نظر بہم پہنچائی ہو۔ کثرت مطالعہ اور ممارست سے انسان میں ایک ایسا ملکہ پیدا ہو جاتا ہے جس سے وہ رسول اللہ ﷺ کا مزاج شناس ہو جاتا ہے۔ اس کی کیفیت بالکلیہ ایسی ہوتی ہے جیسے ایک پرانے جوہری کی بصیرت کہ وہ جواہر کی نازک سے نازک خصوصیات تک کو پرکھ لیتی ہے۔ اس مقام پر پہنچ جانے کے بعد وہ اسناد کا زیادہ محتاج نہیں رہتا۔ وہ اسناد سے مدد ضرور لیتا ہے۔ مگر اس کے فیصلے کا مدار اس پر نہیں ہوتا۔ وہ بسا اوقات ایک غریب، ضعیف، منقطع السند، مطعون فیہ، حدیث کو بھی لے لیتا ہے۔ اس لئے کہ اس کی نظر پتھر کے اندر ہیرے کی جوت کو دیکھ لیتی ہے اور بسا اوقات وہ ایک غیر معلل، غیر شاذ، متصل السند، مقبول حدیث سے بھی اعراض کر جاتا ہے۔ اس لئے کہ اس جام زریں میں جو بادہ معنی بھری ہوئی ہے وہ اسے طبیعت اسلام اور مزاج نبوی کے مناسب نظر نہیں آتی۔“

(تفہیمات حصہ اول ص ٣٠٢، ٣٢٣، ٣٢٤)

حتیٰ کہ وہ یہاں تک بھی کہتے ہیں کہ: ”جن مسائل میں اس کو (مزاج شناس رسول کو) قرآن وسنت سے کوئی چیز نہیں ملتی۔ ان میں بھی وہ کہہ سکتا ہے کہ اگر نبی ﷺ کے سامنے فلاں مسئلہ پیش آتا تو آپ اس کا فیصلہ یوں فرماتے ۔“

(تفہیمات حصہ اول ص ٣٢٣)

آپ دیکھتے ہیں کہ ان دونوں (مرزا قادیانی اور مودودی صاحب) کا معیار انفرادی اور موضوعی ہے۔ جس کے پرکھنے کا کوئی خارجی معیار نہیں ہو سکتا۔ چونکہ مودودی صاحب کا معیار وہی ہے جسے مرزا قادیانی نے پیش کیا تھا۔ اس فرق کے ساتھ کہ مودودی صاحب اسے مزاج شناس رسول کی نگہ بصیرت قرار دیتے ہیں اور مرزا قادیانی اسے خدا سے پایا ہوا علم کہتے ہیں۔ اس لئے مرزا قادیانی کی طرح ان کی بھی سخت مخالفت ہوتی ہے۔ اس باب میں جماعت اہل حدیث

١؎ ہم نے مودودی صاحب کا حوالہ بالخصوص اس لئے دیا ہے کہ ان مباحث پر ہمارے زمانے میں سب سے زیادہ (کثرت ۔ ١٢) وہی لکھتے ہیں۔

صفحہ ٤٢٩

کے سابق صدر مولانا اسماعیل (مرحوم) اپنے کتابچہ (جماعت اسلامی کا نظریہ حدیث ص ٦٥) میں لکھتے ہیں: ”اگر ایک جماعت اپنی عقیدت مندی سے کسی اپنے بزرگ یا قائد کو خدا کا مزاج شناس سمجھ لے یا رسول کا مزاج شناس تصور کر لے۔ پھر اسے اختیار دے دے کہ اصول محدثین کے خلاف جس حدیث کو چاہے قبول کر لے اور جسے چاہے رد کر دے۔ تو یہ مضحکہ انگیز پوزیشن ہمیں یقیناً ناگوار ہے۔ ہم انشاء اللہ آخری حد تک اس کی مزاحمت کریں گے اور سنت رسول کو ان ہوائی حملوں سے بچانے کی کوشش کریں گے۔“

ان حالات میں آپ سوچئے کہ اگر کسی مسئلہ کے صحیح یا غلط ہونے کا معیار حدیث کو قرار دیا جائے تو اس مسئلہ تک پہنچنے سے پہلے فریقین کی پیش کردہ احادیث کے صحیح یا غلط ہونے کی بحث چھڑ جائے گی اور یہ بحث ایسی ہے کہ اس کا فیصلہ ہزار برس سے ہو نہیں پایا اور یہی وجہ ہے کہ ختم نبوت جیسا اہم سوال جو دین کی بنیاد اور اسلام کا مرکزی ستون ہے۔ ساٹھ ستر برس سے بحث و جدل کی آماج گاہ بنے چلا آ رہا ہے اور ہمارے عوام (جن میں وہ تعلیم یافتہ حضرات بھی شامل ہیں ۔ جنہیں دین کا براہ راست علم نہیں) حیران و پریشان ہیں کہ کسے سچا سمجھیں اور کسے جھوٹا۔

احادیث کے پرکھنے کا معیار

میرے نزدیک دین میں سند اور حجت خدا کی کتاب (قرآن کریم) ہے اور احادیث کے پرکھنے کا معیار یہ کہ جو حدیث قرآن کریم کی تعلیم کے خلاف نہیں جاتی۔ اسے حضورﷺ کا ارشاد تسلیم کیا جاسکتا ہے اور جو حدیث اس کے خلاف جاتی ہو اس کے متعلق یہ کہا جائے گا کہ یہ رسول اللہﷺ کا قول نہیں ہو سکتی۔ مجھے منکر حدیث قرار دیا جاتا ہے تو وہ اس لئے نہیں کہ میں صحیح احادیث کا منکر ہوں۔ میری کتاب ”معراج انسانیت“ میں دیکھئے میں نے کتنی حدیثیں درج کی ہیں۔ میں درحقیقت منکر ہوں۔ ان حضرات کے وضع کردہ ”معیار حدیث“ کا۔ چونکہ قرآن کریم کو صحیح اور غلط کا معیار قرار دینے سے ان حضرات کے اکثر معتقدات، نظریات اور مسالک، خلاف قرآن (فلہٰذا غلط) قرار پاتے ہیں۔ اس لئے انہوں نے عوام کا رخ دوسری طرف موڑنے کے لئے یہ حربہ اختیار کر رکھا ہے کہ مجھے منکر حدیث اور منکر شان رسالت مشہور کر دیا جائے۔ آئندہ صفحات میں آپ دیکھیں گے کہ احمدی حضرات تو ایک طرف، خود سنیوں کے کس قدر معتقدات ایسے ہیں جن کی تائید میں وہ احادیث پیش کرتے ہیں۔ لیکن وہ قرآن کے خلاف ہیں اور یہی وہ مقامات ہیں۔ جہاں یہ حضرات ”احمدیوں“ سے بحث کرتے ہوئے مات کھا جاتے ہیں۔ ”احمدی“ حضرات اس صورت کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں کہ اس میں ان کا فائدہ ہے۔ اس لئے وہ بھی مجھے منکر

٩

صفحہ ٤٣٠

حدیث قرار دے کر میری مخالفت کرتے ہیں۔ یہ اس لئے نہیں کہ انہیں ارشادات نبوی ﷺ سے اس قدر عقیدت ہوتی ہے۔ بلکہ اس لئے کہ قرآن خالص کو معیار و مدار تسلیم کرنے سے ان کے دعاوی باطل قرار پاجاتے ہیں۔ یہ ہے حدیث کے ساتھ ان حضرات کی وابستگی کا راز ۔ یعنی

حکایت قد آں یار دل نواز کنم
بایں بہانہ مگر عمر خود دراز کنم

میرا تعلق کسی فرقہ سے نہیں

اس تمہیدی وضاحت کے بعد میں آگے بڑھتا ہوں۔ لیکن آگے بڑھنے سے پیشتر میں اتنی وضاحت اور ضروری سمجھتا ہوں کہ میرا تعلق کسی فرقہ سے نہیں۔ میں سیدھا سادہ مسلمان ہوں اور قرآن کریم کا ادنیٰ سا طالب علم اور اس کی تعلیم کا مبلغ۔ ختم نبوت چونکہ (میری بصیرت قرآنی کی رو سے) دین کی اصل اور اسلام کی بنیاد ہے۔ اس لئے میں اپنا فریضہ سمجھتا ہوں کہ اس مسئلہ کو قرآن کریم کی روشنی میں واضح طور پر سامنے لاؤں۔ میں نہ کسی سے بحث کرنا چاہتا ہوں نہ کوئی ہنگامہ کھڑا کرنا۔ میں اس موضوع کو علمی سطح پر رکھنا چاہتا ہوں۔ مرزا قادیانی کی تحریروں میں بہت کچھ ایسا بھی ہے جسے عام بازاری سطح پر بھی پیش کیا جاسکتا ہے۔ لیکن میں اس سے احتراز کروں گا۔ مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت کا ہو یا مثیل مسیح وغیرہ کا۔ میری تحقیق کی رو سے یہ تمام دعاوی قرآن کریم کے خلاف اور کذب وافتراء ہیں۔ لیکن چونکہ وہ ایک جماعت کے نزدیک واجب الاحترام ہیں اور قرآن کی تعلیم یہ ہے کہ تم مشرکین کے معبودوں کے متعلق بھی کوئی دلآزارانہ بات نہ کرو۔ اس لئے میں انہیں مرزا قادیانی کہہ کر پکاروں گا۔ مرزائی حضرات اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں۔ لیکن میں ان کی اس نسبت کو صحیح نہیں سمجھتا۔ کیونکہ احمد حضور نبی اکرم ﷺ کا اسم گرامی تھا اور یہ حضرات رسول اللہ ﷺ کی نسبت سے اپنے آپ کو احمدی نہیں کہتے۔ کیونکہ مرزا غلام احمد قادیانی کی نسبت سے ایسا کہتے ہیں۔ بایں ہمہ میں انہیں احمدی کہہ کر ہی پکاروں گا۔ کیونکہ یہ مرزائی کہلانے سے گریز کرتے ہیں۔

میں الفاظ کے استعمال میں اس قدر احتیاط اس لئے ضروری خیال کرتا ہوں کہ ان حضرات میں شاید کوئی سعید روحیں ہوں جو نیک نیتی سے حق کی متلاشی ہوں تو وہ میری معروضات پر ٹھنڈے دل سے غور کرسکیں۔ الفاظ میں بے احتیاطی، فریق مخالف میں نفرت اور تعصب پیدا کردیتی ہے۔ اسی لئے قرآن کریم نے تاکید کی ہے کہ: ”اُدع الى سبيل ربك بالحكمة والموعظة الحسنة وجادلهم بالتی ھی احسن (النحل:١٢٥) “تم ١٠

ان لوگوں کو حکمت و موعظت سے خدا کے میں بطریق احسن بات کرو۔

جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہے ہے۔ اس زمانے میں میں نے مرزا قادیانی معمول کے مطابق ) ان سے اہم مقامات میں اقتباسات کی صورت میں آجاتے تھے اکثر کتابیں میسر نہیں آسکیں۔ اس لئے میں کیا ہے۔ لیکن ان کے حوالوں کو پروفیسر چیک کرلیا ہے۔ کتابوں کے مختلف ایڈیشن پڑ جاتا ہے۔ اس لئے میرے حوالوں میں الامکان بڑا خیال رکھا گیا ہے۔ بایں ہمہ دقت ہو سکتا ہے۔ اگر کسی حوالہ میں شک کسی کے ساتھ بحث میں نہیں الجھوں گا۔

جہاں تک آیات قرآنی کے آیت کا ۔ مثلاً (٢/٤٦) سے مراد ہے میں آیات کے شمار میں ایک آدھ کا فرق

پس تحریر

اس کتاب کا مسودہ اپریل ٧٤ء تھا۔ اس کے بعد ٢٩ مئی کو ربوہ اسٹیشن پ ملک میں ہیجان پیدا ہو گیا اور امت م مطالبہ کیا گیا کہ احمدیوں کو غیر مسلم اقلی ہوگا۔ مسلمانوں کا مطالبہ دین کا تقاضا وضاحت سے یہ بتانا مقصود ہے کہ یہ دین کا وہی تقاضا تھا جسے میں چالیس س ان مساعی کے تذکرہ کا اضافہ کردیا گیا ہ

صفحہ ٤٣١

ان لوگوں کو حکمت وموعظت سے خدا کے راستے کی طرف دعوت دو اور ان سے اختلافی امور میں بطریق احسن بات کرو۔

جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہے۔ مسئلہ قادیانیت سے میری دلچسپی شروع سے چلی آتی ہے۔ اس زمانے میں میں نے مرزا قادیانی کی قریب قریب تمام تصانیف کا مطالعہ کیا تھا اور (اپنے معمول کے مطابق) ان سے اہم مقامات کے نوٹ لیا کرتا تھا۔ یہی نوٹ بعد میں میری تحریروں میں اقتباسات کی صورت میں آجاتے تھے۔ زیر نظر کتاب کی تالیف کے وقت مجھے مرزا قادیانی کی اکثر کتابیں میسر نہیں آسکیں ۔ اس لئے میں نے اقتباسات کے لئے زیادہ تر اپنے نوٹس پر انحصار کیا ہے۔ لیکن ان کے حوالوں کو پروفیسر الیاس برنی (مرحوم) کی کتاب ”قادیانی مذہب“ سے چیک کرلیا ہے۔ کتابوں کے مختلف ایڈیشنوں کی وجہ سے بعض اوقات صفحات کے نمبروں میں فرق پڑ جاتا ہے۔ اس لئے میرے حوالوں میں اس قسم کا فرق ہو سکتا ہے۔ ویسے ان کی صحت کا حتی الامکان بڑا خیال رکھا گیا ہے۔ بایں ہمہ یہ ایک انسانی کوشش ہے۔ جس میں سہو وخطاء کا امکان ہر وقت ہو سکتا ہے۔ اگر کسی حوالہ میں شک گزرے تو آپ مجھ سے دریافت فرما سکتے ہیں۔ لیکن میں کسی کے ساتھ بحث میں نہیں الجھوں گا۔

جہاں تک آیات قرآنی کے حوالوں کا تعلق ہے تو اوپر سورۃ کا نمبر دیا گیا ہے اور نیچے آیت کا۔ مثلاً (٢/٣٦) سے مراد ہے۔ سورۃ البقر کی آیت نمبر ٣٦۔ قرآن کریم کے بعض نسخوں میں آیات کے شمار میں ایک آدھ کا فرق ہوتا ہے۔ اسے ملحوظ رکھا جائے۔

پس تحریر

اس کتاب کا مسودہ اپریل ١٩٧٤ء میں مکمل ہوگیا اور کتابت کے لئے بھی دے دیا گیا تھا۔ اس کے بعد ٢٩ مئی کو ربوہ اسٹیشن پر واقعہ ہونے والے حادثہ اور اس کے عواقب سے سارے ملک میں ہیجان پیدا ہو گیا اور امت محمدیہ کے جذبات میں تلاطم برپا ہو گیا اور ہر گوشے سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ جیسا کہ اس کتاب کے مطالعہ سے واضح ہوگا۔ مسلمانوں کا مطالبہ دین کا تقاضا ہے اور قرآن کریم کی واضح تعلیم کے عین مطابق۔ اس وضاحت سے یہ بتانا مقصود ہے کہ یہ کتاب اس ہنگامی حادثہ کی پیدا کردہ نہیں۔ (اس کا جذبہ محرکہ دین کا وہی تقاضا تھا جسے میں چالیس سال سے پیش کرتا چلا آرہا تھا) اس کے آخری باب میں البتہ ان مساعی کے تذکرہ کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ جو اس مطالبہ کو آئینی شکل دینے کے لئے جاری ہیں۔

پرویز : بمورخہ ٢٣؍جون ١٩٧٤ء

١١

صفحہ ٤٣٢

دوسرا باب ...... چند بنیادی اصطلاحات

مسئلہ ختم نبوت کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ قرآن کریم کی چند بنیادی اصطلاحات کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے۔ اس سلسلہ میں اس حقیقت کو پیش نظر رکھئے کہ قرآن مجید خدا کا کلام ہے۔ لیکن وہ نازل ہوا تھا عربوں کی زبان میں۔ (اس کی تصریح خود قرآن مجید میں موجود ہے) دنیا کی ہر زبان کی طرح عربی زبان کے الفاظ کے عام معانی لغوی ہوتے ہیں۔ لیکن جب وہ الفاظ بطور اصطلاح استعمال کئے جائیں گے تو ان کے معانی مختص اور متعین ہو جائیں گے۔ قرآن کریم کے الفاظ کی بھی یہی کیفیت ہے۔ ان الفاظ کے عام معانی لغوی ہیں۔ لیکن جب وہ قرآنی اصطلاح کے طور پر سامنے آئیں گے تو ان کا مفہوم وہی ہوگا جسے قرآن مجید نے متعین کر دیا ہے۔ مثلاً لفظ رسول کے لغوی معنی پیغام رساں کے ہیں۔ قرآن کریم میں یہ لفظ ان معانی میں بھی آیا ہے۔ لیکن اصطلاحی طور پر رسول سے مراد ہے وہ منتخب شخصیت جسے خدا کے احکام بذریعہ وحی ملتے تھے اور وہ انہیں دوسرے انسانوں تک پہنچاتا تھا۔ قرآنی آیات کا صحیح مفہوم سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ اس مقام پر متعلقہ لفظ کے لغوی معانی لئے جائیں گے یا اصطلاحی۔ ہمارے ہاں قرآن مجید کے ترجموں میں بالعموم اس فرق کو ملحوظ نہیں رکھا گیا۔ جس کی وجہ سے قرآنی تعلیم کے سمجھنے میں خلط مبحث بھی ہو جاتا ہے اور مغالطہ آفرینی کے امکانات بھی پیدا ہوتے ہیں۔ (تفصیل ان اشارات کی آگے چل کر ملے گی) اس تمہید کے بعد آئیے قرآن مجید کی چند بنیادی اصطلاحات کی طرف جو ہمارے موضوع پیش نظر سے متعلق ہیں۔

آسمانی راہنمائی

اللہ تعالیٰ نے کائنات کو پیدا کیا تو اشیائے کائنات کی ربوبیت کا ذمہ بھی خود ہی لیا۔ ربوبیت کے معنی ہیں۔ کسی شے کی اس کے نقطۂ آغاز سے پرورش کرتے ہوئے اسے اس کے مقام تکمیل تک پہنچا دینا۔ ظاہر ہے کہ ارتقاء کا یہ راستہ طے کرنے کے لئے راہنمائی کی ضرورت ہوگی۔ خالق کائنات نے یہ راہنمائی اشیائے کائنات کے اندر رکھ دی۔ فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام سے کہا کہ تم جس رب کی طرف دعوت دیتے ہو وہ رب کون سا ہے۔ جواب ملا ”ربنا الذی اعطی کل شئی خلقہ ثم ھدیٰ“ ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر شے کو پیدا کیا اور پھر اسے اس کی تکمیل تک پہنچنے کی راہ بتائی۔ دوسری جگہ ہے۔ ”الذی خلق فسویٰ ۔ والذی قدر فھدیٰ“ خدا وہ ہے جس نے (ہر شے) کو پیدا کیا

١٢

اور اس میں صحیح توازن قائم کر اس کی راہنمائی کر دی۔

جیسا کہ اوپر کہا گیا اسے ان اشیاء کی فطرت، یا جبلت وہ کس طرح بڑھے، پھولے، پھلے اسی قسم کے پھول آئیں اور پھل کے لئے رکھ دیں۔

جبلت یا فطرت

انڈوں سے باہر آئے اس سے دور بھاگیں گے۔ کہیں ا تو دوڑ کر مرغی کے پروں کے نیچے آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھے گا۔ بکری کا گا۔ ظاہر ہے کہ انہوں نے یہ تعلیم ک یہ راہنمائی پیدائش کے ساتھ ان کے ہوتی ہے تو وہ اس کے مطابق زند اختیار ہی نہیں ہوتا۔ کسی شے کی فطرت لئے وہ مجبور ہے اور اشیائے کائنات سے اس قدر مقید مطلب کام لیتا ہے جائے اور کبھی منجمد ہو جائے تو اتنی ہی

اور جب ذکر انسان کا آ نقاب ہو گیا۔ ہم نے دیکھا ہے کہ شیر دور بھاگتا ہے۔ بکری کا بچہ گھاس چرت چوہے کو دبوچ لیتا ہے۔

انسان کی کوئی فطرت نہیں

انسانی بچے کی یہ کیفیت نہیں جس بے تکلفی سے مصری کا ٹکڑا چوس

صفحہ ٤٣٤

ادی اصطلاحات

کہ قرآن کریم کی چند بنیادی اصطلاحات کو کو پیش نظر رکھے کہ قرآن مجید خدا کا کلام ی کی تصریح خود قرآن مجید میں موجود ہے) معانی لغوی ہوتے ہیں۔ لیکن جب وہ الفاظ ختص اور متعین ہو جائیں گے۔ قرآن کریم م معانی لغوی ہیں۔ لیکن جب وہ قرآنی ہو گا جسے قرآن مجید نے متعین کر دیا ہے۔ آن کریم میں یہ لفظ معانی میں بھی آیا ہے۔ جیسے خدا کے احکام بذریعہ وحی سنتے تھے اور کا صحیح مفہوم سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ یہ لئے جائیں گے یا اصطلاحی۔ ہمارے ہاں دھوکا کھایا۔ جس کی وجہ سے قرآنی تعلیم کے انی کے امکانات بھی پیدا۔ (تفصیل ان قرآن مجید کی چند بنیادی اصطلاحات کی

کائنات کی ربوبیت کا ذمہ بھی خود ہی لیا۔ سے پرورش کرتے ہوئے اسے اس کے طے کرنے کے لئے رہنمائی کی ضرورت کے اندر رکھ دی۔ فرعون نے حضرت موسیٰ رب کی طرف دعوت دیتے ہو وہ رب عطیٰ خلقہ ثم ھدیٰ '' ہمارا رب وہ پہنچنے کی راہ بتائی۔ دوسری جگہ ہے۔ ادہ ہے جس نے (ہر شے) کو پیدا کیا

اور اس میں صحیح توازن قائم کر دیا۔ پھر اس کی زندگی کے پیمانے مقرر کر دئیے اور ان کی طرف اس کی رہنمائی کر دی۔

جیسا کہ اوپر کہا گیا ہے۔ یہ رہنمائی کائنات میں ہر شے کے اندر از خود موجود ہے۔ اسے ان اشیاء کی فطرت، یا جبلت کہا جاتا ہے۔ (مثلاً) بیج کے اندر یہ رہنمائی موجود ہوتی ہے کہ وہ کس طرح بڑھے، پھولے، پھلے، ایک ننھے سے بیج سے ایک تناور درخت بن جائے اور اس میں اسی قسم کے پھول آئیں اور پھل لگیں۔ مثلاً آپ مرغی کے نیچے بطخ اور مرغی کے مخلوط انڈے سینے کے لئے رکھ دیں۔

جبلت یا فطرت

انڈوں سے باہر آتے ہی بطخ کے بچے پانی کی طرف لپکیں گے اور مرغی کے چوزے اس سے دور بھاگیں گے۔ کہیں اڑتی ہوئی چیل کا سایہ نظر آ جائے یا بلی کی آواز کان میں پڑ جائے تو دوڑ کر مرغی کے پروں کے نیچے دبک کر بیٹھ جائیں گے۔ شیر، بھوکوں مر جائے، گھاس کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھے گا۔ بکری کا بچہ جاں بلب کیوں نہ ہو جائے، گوشت کے پاس تک نہیں پھٹکے گا۔ ظاہر ہے کہ انہوں نے یہ تعلیم کسی درس گاہ سے حاصل نہیں کی۔ یہ کسی معلم کے پاس نہیں گئے۔ یہ رہنمائی پیدائش کے ساتھ ان کے اندر موجود ہوتی ہے اور جب یہ رہنمائی ان کے اندر موجود ہوتی ہے تو وہ اس کے مطابق زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوتی ہیں۔ انہیں اس کی خلاف ورزی کا اختیار ہی نہیں ہوتا۔ کسی شے کی فطرت یا جبلت کے معنی ہی اس کی وہ روش ہے جس پر چلنے کے لئے وہ مجبور ہے اور اشیائے کائنات کی یہی وہ غیر متبدل فطرت ہے جس کی وجہ سے انسان ان سے اس قدر مفید مطلب کام لیتا ہے۔ اگر صورت یہ ہو کہ آگ پر رکھنے سے پانی کبھی کھولنے لگ جائے اور کبھی منجمد ہو جائے تو اتنی سی بات انسان کے لئے وبال جان بن جائے۔ اور جب ذکر انسان کا آ گیا تو یہیں سے ہمارے سامنے حقیقت کا ایک اور گوشہ بے نقاب ہو گیا۔ ہم نے دیکھا ہے کہ بطخ کا بچہ لپک کر پانی کی طرف جاتا ہے اور مرغی کا بچہ اس سے دور بھاگتا ہے۔ بکری کا بچہ گھاس چرتا ہے۔ گوشت کی طرف دیکھتا تک نہیں اور بلی کا بچہ لپک کر چوہے کو دبوچ لیتا ہے۔

انسان کی کوئی فطرت نہیں

انسانی بچے کی یہ کیفیت نہیں۔ وہ زہر کی ڈلی بھی اسی بے تکلفی سے منہ میں ڈال لیتا ہے جس بے تکلفی سے مصری کا ٹکڑا۔ جب بچہ ذرا گھٹنوں چلنے لگتا ہے تو اس کو سنبھالنا مشکل ہو جاتا

١٣

عالمی سیرت کانفرنس

مقالہ جات سیرت

عالمی سیرت کانفرنس

عالمی سیرت کانفرنس

صفحہ ٤٣٤

ہے۔ وہ کبھی آگ میں ہاتھ ڈال دیتا ہے۔ کبھی پانی کے ٹب میں ڈبکیاں لینے لگ جاتا ہے۔ کبھی مرچیں آنکھوں پر مل کر دہائی دینے لگ جاتا ہے اور کبھی پیسہ نگل کر سارے گھر کے لئے پریشانی کا موجب بن جاتا ہے۔ اس سے واضح ہے کہ یہ راہنمائی انسان کے اندر ودیعت کر کے نہیں رکھ دی گئی۔ بالفاظ دیگر انسان کی کوئی فطرت نہیں۔ یہ جو ہمارے ہاں عام طور پر مشہور ہے کہ اسلام دین فطرت ہے اور خدا نے انسان کو اپنی فطرت پر پیدا کیا ہے۔ یہ سب لاعلمی پر مبنی ہے۔ فطرت مجبور کی ہوتی ہے۔ جسے اختیار و ارادہ دیا گیا ہو۔ اس کی کوئی فطرت نہیں ہوتی۔ اس کے اندر کچھ صلاحیتیں ہوتی ہیں۔ جنہیں وہ اپنے اختیار و ارادہ کے مطابق استعمال کرتا ہے۔ میں اپنے موضوع سے دور نکل جاؤں گا۔ اگر میں اس نکتہ کی تفصیل میں چلا جاؤں اس لئے اس مقام پر ان اشارات پر اکتفاء کر کے مجھے اصل موضوع کی طرف آ جانا چاہئے۔ (جو حضرات اس موضوع سے دلچسپی رکھتے ہوں وہ میری کتاب سلیم کے نام خطوط (جلد سوم) میں متعلقہ خط ابلیس و آدم میں وحی کا باب ملاحظہ فرمائیں)

انسانی راہنمائی

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب یہ راہنمائی انسان کے اندر موجود نہیں کہ اسے زندگی کس نہج سے بسر کرنی چاہئے تو اسے یہ راہنمائی حاصل کس طرح سے ہوگی؟ انسانی زندگی کو دو شقوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک اس کی طبعی زندگی ہے۔ یعنی اس کے جسم یا بدن کی زندگی۔ اس کی اس زندگی کے تقاضے وہی ہیں جو دیگر حیوانات کے ہیں۔ سانس لینا، کھانا، پینا، سونا، افزائش نسل کرنا اور ایک مدت کے بعد مر جانا۔ ان امور کا تعلق قوانین فطرت سے ہے۔ جنہیں انسان عقل و فکر اور غور و تدبر پر مبنی مشاہدہ، تجربہ، مطالعہ، تعلیم و تعلم کے ذریعے معلوم کر سکتا ہے۔ اسے اکتسابی علم کہا جاتا ہے۔ یعنی وہ علم جو کسب و ہنر اور محنت و کاوش سے حاصل کیا جاسکے۔ عقل و فکر کی بنیادی صلاحیت اور تحصیل علم کی استعداد ہر انسان کو عطاء کر دی گئی ہے۔

اور یہاں سے ایک نئی پرابلم (مشکل) کا آغاز ہوتا ہے۔ انسان مدنی الطبع واقع ہوا ہے۔ یعنی انسانوں نے مل جل کر رہنا ہے۔ اس سے مختلف افراد کے مفاد میں ٹکراؤ پیدا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر تحفظ خویش، زندگی کا بنیادی تقاضا ہے اور اس تقاضا کے پورا کرنے کے لئے وسائل واسباب کی ضرورت ہوتی ہے۔ عام حیوانات کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ ان میں سے جب کوئی اپنے تحفظ کی طرف سے مطمئن ہو جاتا ہے تو وہ دوسروں کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتا۔ جب ایک بیل کا پیٹ بھر جاتا ہے تو وہ مطمئن ہو کر بیٹھ جاتا ہے۔ اسے اس کی پرواہ نہیں

١٤

صفحہ ٤٣٥

ہوتی کہ باقی چارہ کون لے جاسکتا ہے۔ لیکن انسان کی حالت یہ ہے کہ جو لوگ زیادہ چالاک اور ہوشیار ہوتے ہیں۔ ان کی انتہائی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ سامان زیست سمیٹ لیں۔ خواہ اس سے باقی ماندہ افراد تلف ہی کیوں نہ ہو جائیں۔ لیکن ان باقی ماندہ محتاج انسانوں میں بھی تو تحفظ خویش کا تقاضا اسی طرح موجود ہوتا ہے۔ اس لئے وہ اوّل الذکر افراد کی اس قسم کی کوششوں کی مزاحمت کرتے ہیں۔ باہمی مفاد کے اس ٹکراؤ سے معاشرہ میں فساد رونما ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس تزاحم و تصادم یا فساد و انتشار کا حل عقل انسانی کی رو سے ممکن نہیں۔ اس لئے کہ یہ تو پیدا ہی عقل انسانی کا کیا ہوا ہوتا ہے۔ ہر فرد کی عقل کا فریضہ یا منصب یہ ہے کہ وہ اس فرد متعلقہ کے تحفظ کی تدبیر کرے۔ عقل اپنے فریضہ کو چھوڑ نہیں سکتی۔ وہ مختلف تدبیریں کرتی رہتی ہے۔ اسی بناء پر معاشرہ کے اس فساد کو عقول کی جنگ کہا جاتا ہے۔ ارسطو نے اڑھائی ہزار سال پہلے کہا تھا کہ: ”ہر عمل جو ارادۃً سرزد ہو۔ بظاہر کتنا ہی مبنی بر عقل کیوں نہ نظر آئے۔ درحقیقت ہمارے مفاد پر مبنی ہوتا ہے اور مفاد کے لئے ضروری ہے کہ اس کی بنیاد جذبات پر ہو۔“

(MYSTICISM BY EUNDERHILL)

اور اسی حقیقت کو آج ان الفاظ میں دہرایا جاتا ہے کہ: ”عقل درحقیقت ہماری خواہشات کی لونڈی ہے۔ اس کا کام یہ ہے کہ ہم جن مقاصد کو غیر شعوری طور پر حاصل کرنے کی خواہش کریں۔ ان کے حصول کے لئے ذرائع بہم پہنچادے اور جو کچھ ہم کرنا چاہیں۔ اس کے جواز کے لئے دلائل تلاش کر کے مہیا کر دے۔“

(JOAD: GUIDE TO MODERN THOUGHTS)

اقبالؔ کے الفاظ میں۔

عقل خود بیں غافل از بہبود غیر
سود خود بیند نہ بیند سود غیر

ظاہر ہے کہ باہمی مفاد کے ان تصادمات کو حل کرنے کے لئے راہنمائی کی ضرورت ہے۔ ہم دیکھ چکے ہیں کہ یہ راہنمائی (دیگر اشیائے کائنات اور حیوانات کی طرح) انسان کے اندر موجود نہیں اور اب یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ انسانی علم وعقل بھی اس قسم کی راہنمائی مہیا نہیں کر سکتے۔ یہاں سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر یہ راہنمائی ملے کہاں سے؟ یہ اس خدا کی طرف سے ہی مل سکتی تھی۔ جس نے راہنمائی دینے کا ذمہ لیا تھا۔ اس نے یہ راہنمائی دی۔ قرآن کریم میں قصہ آدم کی تمثیلی داستان کے ضمن میں کہا گیا ہے کہ خدا نے آدم (انسانوں) سے کہا کہ تم نے زمین

١٥

صفحہ ٤٣٦

میں رہنا سہنا ہے۔ اس تمدنی زندگی کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہارے مفادات میں باہمی ٹکراؤ ہوگا۔ جس سے ”بعضکم لبعض عدوا (البقره:٣٦)“ ﴿تم ایک دوسرے کے دشمن ہو جاؤ گے۔﴾ اپنے مستقبل کی یہ تصویر دیکھ کر آدم پر افسردگی چھا گئی تو خدا نے کہا کہ اس میں گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ ”فاما یاتینکم منی ھدی فمن تبع ھدای فلا خوف علیھم ولا ھم یحزنون (البقره:٣٨)“ ﴿میری طرف سے تمہارے پاس راہنمائی آتی رہے گی۔ جو اس راہنمائی کا اتباع کریں گے انہیں نہ کسی قسم کا خوف ہوگا نہ حزن۔﴾

وحی خداوندی

اس راہنمائی کے لئے اس نے طریق یہ اختیار کیا کہ اس مقصد کے لئے ایک انسان کو منتخب کر لیا جاتا۔ اسے یہ راہنمائی دی جاتی اور اسے یہ کہہ دیا جاتا کہ اسے دوسرے انسانوں تک بھی پہنچاؤ اور اس پر عمل کر کے بھی دکھاؤ۔ راہنمائی دیئے جانے کے اس منفرد طریق کو وحی کہا جاتا ہے اور جس برگزیدہ انسان کی وساطت سے اسے دوسرے انسانوں تک پہنچایا جاتا۔ اسے نبی یا رسول اور اس ضابطہ وحی کو خدا کی کتاب۔ ان الفاظ کی تشریح اور تفصیلی مفہوم آگے چل کر سامنے آئے گا۔ وحی کا کام انسانی عقل وفکر کو سلب کرنا نہیں۔ عقل وفکر تو فطرت کا بہت بڑا عطیہ ہے۔ جس سے انسان کو نوازا گیا ہے۔ خدا اس عطیہ کو دے کر پھر سے چھین لینے کا پروگرام کیوں بنائے گا؟ وحی کا فریضہ عقل انسانی کی راہنمائی کرنا ہے۔ کائنات میں بعض حقائق تو ایسے ہیں جن کا ادراک عقل انسانی کے بس کی بات ہی نہیں۔ وہ اس کے دائرہ سے باہر ہیں۔ مثلاً ذات خداوندی کی حقیقت، آغاز کائنات (زمان ومکان) کی کیفیت، انسانی ذات کی ماہیت جو فرد کی موت کے بعد بھی زندہ رہتی اور آگے بڑھتی ہے۔ اخروی زندگی کی کنہ وحقیقت وغیرہ۔ ان حقائق کے متعلق وحی خداوندی ایسے دلائل وشواہد بہم پہنچاتی ہے جن کی روشنی میں عقل انسانی ان کی حقیقت و ماہیت تک نہ پہنچ سکنے کے باوجود ان کی ہستی کے متعلق مطمئن ہو جاتی ہے۔

دوسری قسم کے امور وہ ہیں جن کا تعلق انسان کی تمدنی زندگی سے ہے۔ ان امور سے متعلق، خدائی راہنمائی ایسے غیر متبدل اصول دیتی ہے۔ جن کا تمام نوع انسان پر یکساں اطلاق ہو سکے اور وہ زمانے کے بدلتے ہوئے تقاضوں سے متاثر نہ ہوں۔ مثلاً یہ اصول کہ تمام انسان پیدائش کے اعتبار سے یکساں واجب التکریم ہیں۔ ایک غیر متبدل اصول ہے جس کا اطلاق تمام انسانوں پر یکساں ہوتا ہے اور جو زمان ومکان سے متاثر نہیں ہو سکتا۔ اس قسم کے اصولوں کو دین کی اساسات (بنیادیں) کہا جاتا ہے۔

١٦

صفحہ ٤٣٧

لیکن یہ ظاہر ہے کہ ان اصولوں پر عملدرآمد ہر قوم اور زمانے کے حالات کے مطابق ہوسکتا ہے۔ اس کے لئے انسانی علم و عقل طریقہ وضع کر سکتی ہے۔ لیکن انسانی علم و عقل کی صورت یہ ہے کہ یہ انسان کے ابتدائی دور میں نہایت محدود تھے۔ (اس زمانے میں تو انسان صحیح طریق پر اپنا ستر چھپانا بھی نہیں جانتا تھا) اندریں حالات، وحی کی راہنمائی کا طریق یہ رہا کہ ایک رسول آتا اور (از روئے وحی) انسان کو زندگی کے غیر متبدل اصول بھی بتاتا اور ان پر عمل کرنے کے طور طریق بھی۔ وہ چلا جاتا تو اس کی وحی یا تو حوادث ارضی و سماوی کی وجہ سے باقی نہ رہتی اور یا اس میں انسانی خیالات کی آمیزش ہو جاتی۔ اس کے بعد ایک اور رسول آتا اور (وحی کی رو سے)

تقاضوں کے مطابق ممکن العمل ہوتیں۔

جہاں تک آسمانی ہدایت میں انسانی خیالات کی آمیزش کا تعلق ہے۔ قرآن کریم میں ہے۔ ”وما ارسلنا من قبلك من رسول ولا نبى الا اذا تمنى القى الشيطن فى امنيته فينسخ الله ما يلقى الشيطن ثم يحكم الله آيته والله عليم حكيم (الحج: ٥٢)“ ”اے رسول! تم سے پہلے کوئی نبی اور رسول نہیں آیا۔ جس کے ساتھ یہ ماجرا نہ گزرا ہو کہ (اس کے جانے کے بعد) سرکش انسانوں (شیطان) نے اس کی وحی میں اپنی طرف سے آمیزش نہ کر دی ہو۔ اس کے بعد خدا کی طرف سے ایک اور رسول آجاتا اور وہ وحی میں آمیزش کو منسوخ کر کے اصلی تعلیم خداوندی کو بار دیگر محکم کر دیتا اور یہ سب کچھ خدا کے علم و حکمت کی رو سے ہوتا۔“

اس طریقِ محو و ثبات (تنسیخ و تحکیم) کو سورۂ بقرہ میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ ”ماننسخ من آية او ننسها نأت بخير منها او مثلها الم تعلم ان الله على كل شئ قدير (البقرہ: ١٠٦)“ ”وحی کا انداز یہ رہا ہے کہ جس حکم کے متعلق ہم سمجھتے کہ وہ (بدلے ہوئے حالات کے تابع) قابلِ عمل نہیں رہا۔ ہم اس سے بہتر حکم دے دیتے اور جو احکام قابلِ عمل تو ہوتے لیکن انسانوں نے انہیں فراموش کر دیا ہوتا۔ ان کی از سر نو تجدید کر دی جاتی۔ کیا تو نہیں جانتا کہ خدا نے ہر بات کے لئے پیمانے مقرر کر رکھے ہیں۔

آسمانی راہنمائی کا یہ سلسلہ اسی طرح آگے بڑھتا رہا۔ علم و عقل کی وسعتوں کے ساتھ، وحی کی تفصیلات سمٹتی گئیں۔ ذرائع رسل و رسائل کی کثرت کے ساتھ اس کے دوائرِ عمل و نفوذ پھیلتے

١٧

صفحہ ٤٣٨

چلے گئے۔ تا نکہ تاریخ اس دور میں آ پہنچی جسے علامہ اقبالؒ کے الفاظ میں دور قدیم اور عہد جدید میں حد فاصل سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یعنی اس دور میں جب حضور رسالت مآب ﷺ کا ظہور ہوا۔ یہ وہ دور تھا جب انسانیت اپنے زمانہ طفولیت سے آگے بڑھ کر عہد شباب میں پہنچ رہی تھی۔ سلسلۂ رشد و ہدایت کی اس داستان حقیقت کشا اور بصیرت افروز کو میں نے (اپنی کتاب معراج انسانیت، نقش اول کے باب ختم نبوت میں ) ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔

بچپن سے جوانی تک

بچہ جب پہلے پہل چلنا سیکھتا ہے تو اسے اٹھنے کے لئے بھی کسی آسرے کی ضرورت ہوتی ہے۔ سہارا لے کر اٹھتا ہے اور ابھی دو چار قدم بھی چلنے نہیں پاتا کہ لڑکھڑا کر گر پڑتا ہے۔ گرتا ہے تو ادھر ادھر حسرت بھری نگاہوں سے مدد کی تلاش کرتا ہے۔ مایوس ہو جاتا ہے تو رو کر کسی اٹھانے والے کو پکارتا ہے (کہ اس وقت اس کے پاس پکار کا یہی ایک ذریعہ ہوتا ہے) کوئی انگلی پکڑ کر اٹھانے والا مل جائے تو پھر چار قدم چل لیتا ہے۔

عالم طفولیت

ذرا اور بڑا ہو جائے تو گھٹنوں کے سہارے چلتا ہے۔ وہ ہاتھ سے چھوٹ جائے تو پھر مشکل ہو جاتی ہے اور بڑا ہو جائے تو اپنے پاؤں پر کھڑا ضرور ہو جاتا ہے۔ لیکن چلتا پھرتا انہی مقامات میں ہے جن سے وہ مانوس ہوتا ہے۔ غیر مانوس مقامات کی طرف جانے سے گھبراتا ہے۔ جانا ہی پڑے تو کسی کا ساتھ ڈھونڈتا ہے۔ پھر اگر راستے میں چھوٹی سی نالی بھی آجائے تو اسے دریا نظر آتی ہے۔ صحن کے نشیب سے برآمدے کا فراز ایک پہاڑ دکھائی دیتا ہے اور بڑا ہو جائے تو دن کی روشنی میں ہر طرف جا نکلتا ہے۔ لیکن اندھیرے میں اسے چھلاوے نظر آتے ہیں۔ اس وقت پھر کسی رفیق سفر کی احتیاج محسوس کرتا ہے۔

جوانی کا زمانہ

لیکن جب وہ اسی طرح اٹھتے بیٹھتے، گرتے پڑتے، گھبراتے سنبھلتے پوری جوانی کو پہنچ جاتا ہے تو پھر اسے انگلی پکڑنے والے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ مانوس و غیر مانوس مقامات کا امتیاز اٹھ جاتا ہے۔ روشنی اور اندھیرے کا فرق بھی باقی نہیں رہتا۔ اب وہ ہر طرح یہ بتانا چاہتا ہے کہ اسے کسی خارجی مدد کی احتیاج نہیں۔ وہ اس قسم کی مدد کو اپنی شان جوانمردی کے خلاف سمجھ کر اس میں خفت محسوس کرتا ہے۔ وہ اپنے پاؤں پر آپ چلنا چاہتا ہے۔ وہ اپنی حفاظت خود کرنے کا متمنی ہوتا ہے۔ وہ اپنی منزلیں آپ قطع کرنے میں لذت محسوس کرتا ہے۔ البتہ اس مقام پر اسے ایک

١٨

چیز کی ضرورت باقی رہتی ہے۔ جس س نہ ہی منزل مقصود تک پہنچ سکتا۔ یہ چیز احتیاج میں وہ کوئی شرم و ندامت محسو جہاں دوراہے آئیں وہاں نشان راہنما کدھر جاتا ہے اور دوسرا راستہ کس طرف روشنی کہ جس کی مدد سے یہ نشانات راہ جانا یقینی ہے۔ ”لا خوف علیهم ولا جب ذہن انسانی اس طر دیا جانا مقصود تھا اور جس میں اب نہ کسی اسے آخری مرتبہ نبی آخرالزمان، حضو دیا گیا۔ اس ضابطہ وحی کا نام قرآن کری

قرآن کی خصوصیات

وهو الذى انزل اليكم الكتب م فیصلہ کرنے والے کو تلاش کروں۔ حالان مفصل ہے۔﴾

آگئے ہیں۔ ”وانزلنا اليك الكت ومهيمناً عليه (مائده:٤٨) ” ہے جو ان دعاوی کو سچ کر دکھائے گی جو حقائق کو محیط ہے۔﴾

رہ گئی ہو۔ ”ما فرطنا فی الكتب من کی نہیں چھوڑی۔﴾

لكل شئ (النحل:٨٩) ”

عالمی سیرت کانفرنس کانفرنس کی کاروائی عالمی سیرت کا مقالہ جات کوئٹہ

صفحہ ٤٤٩

چیز کی ضرورت باقی رہتی ہے۔ جس کے بغیر نہ تو وہ راستہ کی پر خطر گھاٹیوں سے محفوظ رہ سکتا ہے اور نہ ہی منزلِ مقصود تک پہنچ سکتا۔ یہ چیز جس کی ضرورت لاینفک اور جس کی احتیاج یقینی ہے اور اس احتیاج میں وہ کوئی شرم و ندامت اور سبکی وخفت بھی محسوس نہیں کرتا یہ ہے شاہراہ زندگی میں جہاں جہاں دوراہے آئیں وہاں نشانِ راہ نصب ہوں۔ جن پر واضح اور بین الفاظ میں لکھا ہو کہ یہ راستہ کدھر جاتا ہے اور دوسرا راستہ کس طرف؟ اب اگر راہ رو کی آنکھوں میں بصارت ہے اور فضا میں روشنی کہ جس کی مدد سے یہ نشاناتِ راہ پڑھے جاسکیں تو پھر راستہ قطع کرنے پر منزلِ مقصود تک پہنچ جانا یقینی ہے۔ "لا خوف علیہم ولا ہم یحزنون"

جب ذہنِ انسانی اس طرح سنِ رشد و شعور کو پہنچ گیا تو جس راہنمائی کو وحی کے ذریعے دیا جانا مقصود تھا اور جس میں اب نہ کسی حک واضافہ کی ضرورت تھی اور نہ ہی تغیر وتبدل کی حاجت۔ اسے آخری مرتبہ نبی آخر الزمان، حضور رسالت مآب ﷺ کی وساطت سے انسانوں تک پہنچا دیا گیا۔ اس ضابطۂ وحی کا نام قرآنِ کریم ہے۔ اس ضابطۂ ہدایت کی خصوصیات یہ بتائی گئیں۔

قرآن کی خصوصیات

وہو الذی انزل الیکم الکتب مفصلا (انعام: ١١٥) ﴿کیا میں خدا کے سوا کسی اور فیصلہ کرنے والے کو تلاش کروں۔ حالانکہ اس نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کر دی ہے جو مفصل ہے۔﴾

آگئے ہیں۔ "وانزلنا الیک الکتب بالحق مصدقا لما بین یدیہ من الکتب ومہیمناً علیہ (مائدہ: ٤٨) ﴿ہم نے تیری طرف (اے رسول) ایسی کتاب نازل کر دی ہے جو ان دعاوی کو سچ کر دکھائے گی جو کتب سابقہ میں انسانوں سے کئے گئے تھے اور یہ تمام ابدی حقائق کو محیط ہے۔﴾

رہ گئی ہو۔ "ما فرطنا فی الکتب من شئ (انعام: ٣٨) ﴿ہم نے اس کتاب میں کسی قسم کی کمی نہیں چھوڑی۔﴾

لکل شئ (النحل: ٨٩)"

١٩

صفحہ ٤٤٠

بالهزل (طارق: ١٣، ١٤)"

ہیں۔ "وتمت كلمت ربك صدقاً وعدلاً (انعام: ١١٥)" ﴿تیرے خدا کی باتیں اس کے قوانین، صدق وعدل کے ساتھ مکمل ہو گئے۔﴾

(یونس: ٦٤)" ﴿ان میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔﴾ دیگر مقامات میں ہے۔ "لا مبدل لكلمته (انعام: ١١٥)" ﴿انہیں کوئی بدل نہیں سکتا۔﴾

حتیٰ کہ خود رسول اللہ ﷺ بھی ان میں اپنی طرف سے کسی تبدیلی کے مجاز نہیں تھے۔

نزلنا الذكر وانا له لحافظون (الحجر: ٩)" ﴿ہم نے اس ضابطہ قوانین کو نازل کیا ہے اور ہم خود اس کے محافظ ہیں۔﴾

لئے ضابطہ ہدایت "ان هو الا ذكر للعلمين (تكوير: ٢٧)" ﴿یہ تمام اقوام کے لئے ضابطہ ہدایت ہے۔﴾

موعظة من ربكم وشفاء لما في الصدور (يونس: ٥٧)" "اے نوع انسان! تمہاری طرف تمہارے رب کی جانب سے موعظت آ گئی۔ یعنی وہ نسخہ کیمیا جس میں تمہارے نفسیاتی امراض کا علاج موجود ہے۔

واضح رہے کہ جب یہ کہا گیا کہ یہ کتاب مفصل اور مکمل ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس میں تمام احکام اور ان کی جزئیات تک بھی دے دی گئی ہیں۔ قرآن کریم کی کیفیت یہ ہے کہ اس میں احکام بہت کم ہیں۔ یعنی وہی جو ہمیشہ کے لئے غیر متبدل رہ سکتے تھے۔ باقی راہنمائی اصول واقدار کی شکل میں دی گئی ہے۔ ان اصول واقدار پر عمل درآمد کس طرح کیا جائے گا۔ اسے ہر زمانے میں قرآنی نظام حکومت (یعنی اسلامی مملکت جو قرآن کے مطابق قائم ہوگی) باہمی مشورہ سے خود متعین کرے گا۔ یہ طریق عمل (یا جزئیات) زمانہ کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق بدلتا جائے گا۔ لیکن اصول واقدار اپنی جگہ غیر متبدل رہیں گے۔ ثبات و تغیر کے اس امتزاج سے یہ

٢٠

راہنمائی ممکن العمل رہے گی اور ابد اسے پھر سمجھ لیجئے کہ ختم نہیں رہے اور اب یہ اپنے تمام مع انسان ہمیشہ وحی کی راہنمائی کے محتا رہتے ہوئے کارفرما ہوگی۔ یہ وحی مزید وحی کی ضرورت نہیں رہی۔ یہ تھیں (اور ہیں) اس دیا گیا۔ جب کتاب اس قسم کی تھی وہ بھی انہی خصوصیات کا حامل تھا

رسول آخر الزمان

کتاب، تمام نوع انس طرف رسول تھا۔ چنانچہ کہا کہ اعلا (اعراف: ١٥٨) "﴿اے نو ہے۔ "وما ارسلنك الا كاف نوع انسان کے لئے بشیر و نذیر ب میں موجود تھے اور ان کی طرف کے يلحقوا بهم (جمعه: ٣)" " ملے نہیں۔ بعد میں آنے والے جب خدا کی کتاب "واوحى الى هذا القر کہ میری طرف یہ قرآن وحی انہیں بھی جن تک یہ (بعد میں رسالت محمدیہ انہیں محیط ہوگی ۔ (تكوير: ٢٧) "یہ ارسلنك الا رحمة للعلم باعث رحمت بنا کر بھیجا ہے

عالمی سیرت کا نفرنس مقالہ جات کوئز مسائل سیرت عالمی سیرت پروگرام عالمگیر عالمی سیرت کانفرنس، کیسیٹ اور دیگر پیش کش مجلس تحفظ ختم نبوت

صفحہ ٤٤١

راہنمائی ممکن العمل رہے گی اور ابدیت درکنار بھی۔

اسے پھر سمجھ لیجئے کہ ختم نبوت یا ختم وحی کے معنی یہ نہیں کہ اب انسانوں کو وحی کی ضرورت نہیں رہے اور اب یہ اپنے تمام معاملات اپنی عقل و فکر کی رو سے طے کر سکتے ہیں۔ بالکل نہیں۔ انسان ہمیشہ وحی کی راہنمائی کے محتاج رہیں گے۔ ان کی عقل و فکر وحی کی مقرر کردہ حدود کے اندر رہتے ہوئے کارفرما ہوگی۔ یہ وحی قرآن کریم کے اندر محفوظ ہے اور چونکہ وہ مکمل ہے۔ اس لئے مزید وحی کی ضرورت نہیں رہی۔

یہ تھیں (اور ہیں) اس کتاب کی خصوصیات جسے نوع انسانی کی ابدی راہنمائی کے لئے دیا گیا۔ جب کتاب اس قسم کی تھی تو جس رسول کی وساطت سے یہ کتاب دی گئی تھی۔ ظاہر ہے کہ وہ بھی انہی خصوصیات کا حامل تھا۔

رسول آخرالزمان

کتاب، تمام نوع انسان کے لئے ضابطہ ہدایت تھی تو رسول بھی تمام نوع انسان کی طرف رسول تھا۔ چنانچہ کہا کہ اعلان کر دو کہ: "يأيها الناس انى رسول الله اليكم جميعا (اعراف: ١٥٨) ﴿اے نوع انسان میں تم سب کی طرف خدا کا رسول ہوں۔﴾ دوسری جگہ ہے: "وما ارسلنك الا كافة للناس بشيراً ونذيرا (سبا: ٢٨)﴿ ہم نے تمہیں جملہ نوع انسان کے لئے بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ ان انسانوں کی طرف بھی جو حضور ﷺ کے زمانے میں موجود تھے اور ان کی طرف بھی جو بعد میں آنے والے تھے۔﴾ "واخرين منهم لما يلحقوا بهم (جمعه: ٣)﴿ اس قوم مخاطب کی طرف بھی اور ان کی طرف بھی جو ابھی ان سے ملے نہیں۔ بعد میں آنے والے ہیں۔ ﴾

جب خدا کی کتاب دائمی تھی تو اس کے رسول کی رسالت بھی دائمی تھی۔ فرمایا: "واوحى الى هذا القرآن لانذركم به ومن بلغ (انعام: ١٩)﴿ ان سے کہہ دو کہ میری طرف یہ قرآن وحی کیا گیا ہے تاکہ میں اس کے ذریعے تمہیں بھی آگاہ کروں اور انہیں بھی جن تک یہ (بعد میں) پہنچے۔﴾ یعنی قیامت تک جن جن لوگوں تک قرآن پہنچے گا۔ رسالت محمدیہ انہیں محیط ہوگی۔ یوں جس طرح قرآن کے متعلق کہا کہ وہ "ذكر للعلمين (تكوير: ٢٧)" ہے۔ اسی طرح اس قرآن کے حامل، رسول کے متعلق کہا کہ: "وما ارسلنك الا رحمة للعلمين (انبیاء: ١٠٧)﴿ ہم نے تمہیں تمام اقوام عالم کے لئے باعث رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ ﴾

٢١

صفحہ ٤٤٢

ان تمام وضاحتوں اور صراحتوں کے بعد یہ اعلان عظیم کر دیا کہ: ”الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا (مائدہ:٣)“ ﴿اس دور میں ہم نے تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نوازشات کا اتمام کر دیا اور تمہارے لئے اسلام بطور ضابطہٴ زندگی پسند کر لیا۔﴾

اس آیت میں اگر تکمیل دین سے مراد اس زمانے کے لئے مسلمانوں کا دینی غلبہ بھی لیا جائے تو بھی قرآن مجید نے اس کی وضاحت کر دی تھی کہ یہ نظام زندگی دنیا کے باقی تمام نظامہائے حیات پر غالب آ کر رہے گا۔

”هو الذي ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله ولو كره المشركون (التوبہ:٣٣)“ ﴿خدا وہ ہے جس نے اپنے رسول کو ضابطہٴ ہدایت اور مبنی برحق نظام حیات کے ساتھ بھیجا تاکہ یہ نظام دیگر تمام نظامہائے عالم پر غالب آ جائے۔ خواہ یہ بات ان لوگوں کو کتنی ہی ناگوار کیوں نہ گزرے جو دین خداوندی میں اوروں کو بھی شریک کرنا چاہتے ہیں۔﴾

میں آپ کی توجہ ایک بار پھر اس حقیقت کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ خدا نے اپنی کتاب (قرآن کریم) کے متعلق واضح الفاظ میں کہہ دیا کہ یہ ہر طرح سے مکمل ہے۔ غیر متبدل ہے۔ محفوظ ہے۔ قیامت تک کے آنے والے انسانوں کے لئے ضابطہٴ ہدایت ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کے بعد ختم نبوت کا مسئلہ خود بخود حل ہو جاتا ہے۔ جب کتاب ایسی ہے جس کے بعد قیامت تک کسی اور کتاب کی ضرورت نہیں تو اس کتاب کے لانے والے نبی کے بعد کسی اور نبی کی بھی ضرورت نہیں۔ نبی تو کتاب لے کر آتا ہے۔ جب کوئی کتاب ہی نہیں آنی تو نبی کیا کرنے آئے گا۔ کتاب دائمی اس لئے اس کتاب کے لانے والے نبی کی نبوت بھی دائمی۔ کتاب کے بعد مزید کتابوں کے نزول کا سلسلہ ختم اس لئے اس نبی کے بعد نبوت کا سلسلہ بھی ختم۔ اس کے بعد سوچئے کہ اللہ تعالیٰ نے جو نبی اکرم کو خاتم النبیین ﷺ کہا۔ تو اس کے صحیح قرآنی مفہوم کے سمجھنے میں کوئی دشواری ہو سکتی ہے۔ قرآن کریم کے خاتم الکتب (آسمانی کتابوں کے سلسلہ کی آخری کتاب) تسلیم کر لینے کے بعد نبی اکرم کے خاتم الانبیاء (سلسلہ انبیاء کی آخری کڑی) ہونے میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا۔ میں اکثر کہا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ قرآن کریم کے متعلق کہا ہے۔ اس کے بعد اگر حضور ﷺ کے متعلق خاتم النبیین ہونے کا اعلان نہ بھی کیا جاتا تو بھی حضور ﷺ کے آخری نبی ہونے میں دو آراء نہ ہو سکتیں۔ ان حقائق کی موجودگی میں سوچئے کہ

٢٢

صفحہ ٤٤٣

قرآن کریم کو خدا کی کتاب ماننے والوں کے ہاں ختم نبوت بھی کوئی ایسا مسئلہ ہو سکتا تھا۔ جس میں کسی بحث کی گنجائش ہوتی۔ لیکن وائے بد نصیبی کہ ہمارے ہاں ایسی مسلمہ حقیقت پر بھی گذشتہ ساٹھ ستر برس سے بحث ہو رہی ہے اور مسلسل بحث! آپ کو معلوم ہے کہ اس بحث کا مدار کس چیز پر ہے؟ (جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں) روایات پر۔ اس کی تفصیل آگے چل کر آئے گی۔ سر دست ہم قرآن کریم کی ان اصطلاحات کو دیکھیں گے۔ جن کا اس موضوع سے بنیادی تعلق ہے۔

ان اصطلاحات میں سب سے پہلے وحی کی اصطلاح آتی ہے۔ لغت کی رو سے اس لفظ (یا مادہ و، ح، ی) کے کیا معنی ہیں۔ اسے میں نے اپنی لغات القرآن میں عربی زبان کی مستند کتاب لغت کے حوالوں کے ساتھ تفصیل سے لکھا ہے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اسے اس جگہ بالفاظ درج کر دیا جائے۔ وھو ہٰذا!

الوحی: اشارہ جس میں تیزی اور سرعت ہو۔ ”وحيت لك بخبر كذا“ ”میں نے تمہیں فلاں بات کا اشارہ کر دیا۔ یا چپکے سے مطلع کر دیا۔ چنانچہ سورۃ مریم میں حضرت زکریا علیہ السلام کے متعلق ہے کہ ان سے کہہ دیا گیا تھا کہ وہ لوگوں سے بات نہ کریں۔ ”فاوحى اليهم (......)“ لہٰذا اس نے لوگوں کو اشارہ سے کہا۔

الوحی کے معنی تیز اشارہ کے ہیں۔ اسی لئے شئی وحی کے معنی ہیں۔ وہ چیز جو جلدی سے آ جائے اور امر وحی تیز رفتار معاملہ الوحی جلدی، تیزی کرنا، اوحی العمل اس نے کام میں جلدی کی۔

نے کتاب کو لکھا۔ واح لکھنے والا۔ (کاتب) ”الوحی“ لکھی ہوئی چیز یا نامہ۔ چنانچہ جوہری نے کہا ہے کہ: ”الوحی“ کے معنی ”الکتاب“ ہیں۔

صاحب لطائف اللغۃ نے بھی ان معانی کی تائید کی ہے اور ابن فارس اور راغب نے بھی سورۂ مائدہ میں جو ہے۔ ”وإذ اوحيت الى الحوارین (مائدہ: ١١١)“ ”تو اس میں وحی کے معنی لکھے ہوئے۔ حکم کے ہیں۔ یعنی اس وحی کے ذریعے جو (بقول راغب) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وساطت سے (انجیل میں لکھی ہوئی) بھیجی گئی تھی۔

بالا آیت میں حواریوں کی طرف وحی کرنے کے معنی یہ ہیں کہ خدا نے انہیں حکم دیا تھا۔ اور یہ وحی

٢٣

صفحہ ٤٤٤

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وساطت سے حواریوں کو ملی تھی۔ ابن فارس نے کہا ہے کہ وہ چیز جسے تم کسی طرف پہنچا دو اور اسے اس کا علم ہو جائے۔ وحی کہلاتی ہے۔ خواہ اسے پہنچانے کی کیفیت کچھ ہی ہو۔ مخفی طور پر یا ویسے ہی۔

سورۃ حم سجدہ میں ہے۔ ”واوحى فى كل سماء امرها (حم سجدہ:١٢)“ اس نے ہر سماء میں اس کا امر وحی کر دیا۔ اس میں امر وحی (یا وحی امر) کے معنی مامور کرنے کے لئے ہیں۔ یعنی وہ قانون خداوندی جس کی رو سے خارجی کائنات کی ہر شے اپنے اپنے فرائض مفوضہ کی تکمیل میں سرگرداں ہے۔ اسی کو سورۃ النور میں اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ ”كل قد علم صلاته وتسبيحه (النور:٤١)“ کائنات کی ہر شے جانتی ہے کہ اس کے فرائض کیا ہیں اور وہ مقصد کیا ہے۔ جس کے حصول کے لئے انہیں سرگرم عمل رہنا ہے۔ یہی وہ وحی ہے جو ان میں جاری و ساری ہے۔ یعنی امر خداوندی ، خدا کا قانون۔ اس کے متعلق سورۂ زلزال میں ہے۔ ”بان ربك اوحیٰ لها (زلزال:٥)“ یعنی اس مقصد کے لئے خدا نے زمین کی طرف وحی کی ہے۔ زمین کو حکم دے رکھا ہے۔ زمین کے متعلق خدا کا قانون یہ ہے۔ اسی طرح سورۂ النحل میں ہے۔ ”واوحى ربك الى النحل (النحل:٦٨)“ شہد کی مکھی کی طرف خدا نے وحی کر رکھی ہے۔ یعنی اس کے لئے خدا کا قانون یہ ہے کہ وہ یہ کچھ کرے۔

کے معنی ہیں۔ اس نے اپنے معتمد پیامی کو ایلچی بنا کر بھیجا۔ (بحوالہ تاج العروس) ابن الانباری نے کہا ہے کہ ایحاء کے اصلی معنی کسی کا دوسرے کے ساتھ علیحدگی میں خفیہ باتیں کرنا ہیں۔ اس لئے قرآن میں حضرات انبیاء کرام کے مخالفین کے متعلق ہے۔ ”يوحى بعضهم الى بعض (انعام:١١٢)“ اس کے معنی خفیہ سازشوں کے ہیں۔ اخفاء کے اعتبار سے اس کے معنی وسوسے ہیں۔ کسی بات کو دل میں ڈال دینا چنانچہ ”اوحت نفسه“ کے معنی ہیں۔ اس کے دل میں خوف پیدا ہو گیا۔ اس کے دل میں خدشہ پیدا ہو گیا۔

(بحوالہ تاج العروس)

لفظ (یا مادہ) کے لغوی معنی جنہیں اچھی طرح ذہن نشین کر لیجئے۔ کیونکہ آگے چل کر ان سے بڑے اہم نکتے پیدا ہوں گے۔

لیکن اس لفظ کے اصطلاحی معنی ہیں۔ وہ علم جسے خدا ایک برگزیدہ (منتخب) فرد کو براہ راست اپنی طرف سے دیتا تھا۔ اسے پھر سمجھ لیجئے کہ قرآنی اصطلاح کی رو سے وحی کے معنی

٢٤

ہیں ۔ خدا کی طرف سے براہ را خصوصیات حسب ذیل ہیں۔

کی طرف نہیں آتی تھی۔ حضرات انبیـ رسول سے کہا جاتا تھا کہ : ”بلغ ما ا طرف سے تجھ پر نازل کیا جاتا ہے ا

میں صاحب وحی کے اپنے خیالات سے براہ راست ملتا تھا۔ ”وما ينطق میں اس کی اپنی فکر یا جذبات کا کوئی وحی ہے جو اس کی طرف بھیجی جاتی ہے یعنی نبی کے دل سے ابھر کر باہر آئی ہو

اور جو انسان چاہے اسے حاصل کر سکتا کے لئے خدا کسی فرد کو منتخب کر لیتا تھا جـ ﴿خدا اپنی مشیت کی رو سے جسے چاہـ اکتسابی نہیں بلکہ وہبی کہا جاتا تھا۔ اسـ مقصد کے لئے منتخب کیا جاتا تھا۔ اسـ ہے۔ حضور نبی اکرمﷺ کے متعلق بـ (الزخرف : ٥٢) ”اس سے پہلے ہے۔﴾ ”وما كنت ترجوا ان خیال تک بھی پیدا نہیں ہو سکتا تھا۔ ”الا رحمة من ربك (القصص کیا گیا ہے۔ ”وما كنت تتلـ (العنکبوت : ٤٨) ”تو تو اس سے پہلے

صفحہ ٤٤٤

حواریوں کو ملی تھی۔ ابن فارس نے کہا ہے کہ وہ چیز جسے تم چھپاؤ۔ وحی کہلاتی ہے۔ خواہ اسے پہنچانے کی کیفیت کچھ بھی ہو۔

فاوحی فی کل سماء امرها (حم سجدہ:١٢) ”اس نے ہر آسمان میں امر وحی (یا وحی امر ) کے معنی مامور کرنے کے لئے ہیں اور وحی سے خارجی کائنات کی ہر شے اپنے اپنے فرائض مفوضہ کی پابند ہے۔ پس اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ ”کل قد علم صلاتہ“ کائنات کی ہر شے جانتی ہے کہ اس کے فرائض کیا ہیں اور وہ اپنے دائرے میں سرگرم عمل رہتی ہے۔ یہی وہ وحی ہے جو ان میں جاری و ساری ہے۔ اس کے متعلق سورۂ زلزال میں ہے۔ ”بان ربک اوحی لھا“ اس کے لئے خدا نے زمین کی طرف وحی کی ہے۔ زمین کو حکم دے دیا کہ ایسا کرے۔ اسی طرح سورۂ النحل میں ہے۔ ”واوحی ربک الی النحل“ کہ مکھی کی طرف خدا نے وحی کر رکھی ہے۔ یعنی اس کے ذمے ایک کام لگا دیا ہے۔

کسی کو اپنا پیغامبر یا ایلچی بنا کر بھیجنا۔ چنانچہ اوحی الرجل کے معنی ہیں کسی کو اپنا بنا کر بھیجا۔ (بحوالہ تاج العروس) ابن الانباری نے کہا ہے کہ وحی کے معنی دوسرے کے ساتھ علیحدگی میں خفیہ باتیں کرنا ہیں۔ اس لئے خفیہ بات کو وحی کہتے ہیں۔ ”یوحی بعضهم الى بعض زخرف القول“ میں یہی معنی ہیں۔ اخفاء کے اعتبار سے اس کے معنی ہوتے ہیں ”اوحی الیہ یعنی کلمہ وحدث نفسہ“ کے یہ معنی ہیں۔ اس نے دل میں خوف پیدا کیا۔ (بحوالہ تاج العروس)

اور اشارہ کرنے کو بھی وحی کہتے ہیں۔ (لطائف اللغۃ) یہ ہیں اس کے لغوی معنی۔ اب ذرا اصطلاحی معنی بھی متعین کر لیجئے۔ کیونکہ آگے چل کر ان سے بڑے بڑے اہم مسائل حل کرنے ہیں۔

یہ وہ علم ہے جسے خدا ایک برگزیدہ (منتخب ) فرد کو براہِ راست بخشے کہ قرآنی اصطلاح کی رو سے وحی کے معنی

٢٤

٤٤٥ ہیں۔ خدا کی طرف سے براہ راست ملنے والا علم اس اصطلاح کی (قرآن کی رو سے) خصوصیات حسب ذیل ہیں۔

کی طرف نہیں آتی تھی۔ حضرات انبیاء کرام اسے دوسرے انسانوں تک پہنچاتے تھے۔ چنانچہ رسول سے کہا جاتا تھا کہ: ”بلغ ما انزل اليك من ربک (مائدہ: ٦٧) ”جو کچھ تیرے رب کی طرف سے تجھ پر نازل کیا جاتا ہے۔ اسے دوسروں تک پہنچاؤ۔

میں صاحب وحی کے اپنے خیالات اور جذبات کا کوئی دخل نہیں ہوتا تھا۔ یہ علم اسے خدا کی طرف سے براہ راست ملتا تھا۔ ”وما ينطق عن الهوى (نجم:٣) ”جو کچھ یہ رسول کہتا ہے۔ اس میں اس کی اپنی فکر یا جذبات کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ ”ان هو الا وحی یوحی (نجم:٤) ”یہ تو وحی ہے جو اس کی طرف بھیجی جاتی ہے۔ وحی کی اسی خارجیت کی جہت سے اسے تنزیل کہا جاتا تھا۔ یعنی نبی کے دل سے ابھر کر باہر آئی ہوئی بات نہیں بلکہ اس پر اوپر سے نازل شدہ بات۔

اور جو انسان چاہے اسے حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن وحی کا علم اس طرح حاصل نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اس کے لئے خدا کسی فرد کو منتخب کر لیتا تھا۔ ”والله يختص برحمته من يشاء (البقرہ:١٠٥)“ خدا اپنی مشیت کی رو سے جسے چاہتا اس مقصد کے لئے مختص کر لیتا۔ اس جہت سے اس علم کو اکتسابی نہیں بلکہ وہبی کہا جاتا تھا۔ یعنی خدا کی طرف سے بلا کسب و ہنر ملنے والا علم جس فرد کو اس مقصد کے لئے منتخب کیا جاتا تھا۔ اسے اس کا علم و احساس تک نہیں ہوتا تھا کہ اسے یہ علم ملنے والا ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ کے متعلق ہے۔ ”ما كنت تدرى ما الكتب ولا الايمان (الزخرف:٥٢) ”تو اس سے پہلے تو یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ کتاب کسے کہتے ہیں اور ایمان کیا ہوتا ہے۔“ ”وما كنت ترجوا ان يلقى اليك الكتب (القصص:٨٦) ”تیرے دل میں یہ خیال تک بھی پیدا نہیں ہو سکتا تھا۔ نہ تو اس کی آرزو کر سکتا تھا کہ تیری طرف کتاب نازل ہوگی۔ ”الا رحمة من ربك (القصص:٨٦) ”یہ تیرے خدا کی رحمت ہے۔ جس کے لئے تجھے منتخب کیا گیا ہے۔ ”وما كنت تتلوا من قبله من كتب ولا تخطه بيمينك (العنکبوت: ٤٨) ”تو تو اس سے پہلے لکھنا پڑھنا بھی نہیں جانتا تھا۔

٢٥

صفحہ ٤٤٦

ہی نہیں سکتے کہ اس کی ماہیت و کیفیت کیا ہوتی تھی۔ یعنی یہ کس طرح نازل ہوتا تھا۔ ہمیں اتنا ہی بتایا گیا ہے کہ : ”نزلہ علی قلبک باذن الله (البقرہ: ٩٧)“ جبرائیل علیہ السلام اسے بحکم خداوندی قلب نبوی پر نازل کرتا تھا۔ اس کی طرف اس کا القا ہوتا تھا۔

تھے۔ اسی لئے اسے کلام اللہ کہا جاتا ہے۔ قرآن کریم کے الفاظ وحی خداوندی ہیں یہ نہیں کہ اس کا مفہوم رسول اللہ ﷺ کو سمجھا دیا گیا تھا اور حضور ﷺ نے اسے اپنے الفاظ میں بیان کر دیا۔

و تبدل کر سکے۔ مخالفین عرب آپ سے کہتے کہ آپ قرآن کچھ ردو بدل کر دیں تو ہم آپ کے ساتھ مفاہمت کر لیں گے۔ اس کے جواب میں حضور ﷺ سے کہا گیا کہ ان سے کہہ دیجئے کہ: ”مایکون لی ان ابدله من تلقائ نفسی“ ”یہ قرآن چونکہ میرا اپنا تصنیف کردہ نہیں۔ اس لئے مجھے اس کا اختیار ہی نہیں کہ میں اس میں کسی قسم کا ردو بدل کر سکوں۔ ”ان اتبع الا ما یوحی الیٰ (یونس: ١٥)“ ”میں تو خود اس وحی کی پیروی کرتا ہوں ۔

یہ ہیں وہ خصوصیات جن کے لئے لفظ وحی بطور قرآنی اصطلاح استعمال ہوتا ہے۔ اگر ہم سمٹا کر کہنا چاہیں تو یوں کہا جا سکے گا کہ:

یہ ہے وہ علم جو آخری مرتبہ حضور نبی اکرم ﷺ کو دیا گیا اور جو اب قرآن کے اندر محفوظ ہے۔ آپ کے بعد یہ علم کسی کو نہیں مل سکتا۔ خدا نے اس طریق علم کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا۔ اسے ختم نبوت کہا جاتا ہے۔ یعنی سلسلۂ وحی کا اختتام۔ اب کسی کو حق حاصل نہیں کہ یہ دعویٰ کرے کہ مجھے خدا کی طرف سے براہ راست علم حاصل ہوتا ہے۔ (خواہ اس کا نام کچھ ہی کیوں نہ رکھ لے) جو ایسا کہتا ہے وہ مدعی نبوت ہے اور اس کا دعویٰ باطل۔ ”احمدی“ حضرات اس سلسلہ میں کس قسم کی مغالطہ آفرینی سے کام لیتے ہیں۔ اس کی تفصیل تیسرے باب میں آئے گی۔ جہاں ان کے پیش کردہ دلائل کا تجزیہ کیا جائے گا۔

٢...... الہام اور کشف

الہام (مادہ، ل، ہ، م) کے معنی ہیں۔ کسی چیز کو یکبارگی نگل لینا۔ یہ لفظ قرآن کریم میں صرف ایک جگہ آیا ہے۔ یعنی سورۂ الشمس میں جہاں کہا گیا ہے۔ ”ونفس وما سوها. ٢٦

صفحہ ٤٤٧

فالهمها فجورها وتقوها (الشمس:٨،٧) ”انسانی نفس اور اس کا تسویہ اس حقیقت پر شاہد ہے کہ خدا نے اس کے اندر فجور اور تقویٰ کی صلاحیت رکھ دی ۔

ان نکات کی تشریح کا یہ موقعہ نہیں۔ یہاں صرف اتنا بتانا مقصود ہے کہ قرآن کریم میں یہ لفظ صرف اس مقام پر آیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ خدا نے انسانی نفس میں اس قسم کی خصوصیات رکھ دی ہیں۔ انسانی نفس ہر انسانی بچہ کو پیدائش کے ساتھ عطاء ہوتا ہے۔ اس لئے نفس کی یہ خصوصیات ہر انسانی نفس کے لئے ہیں۔ قرآن کریم میں یہ کہیں نہیں کہا گیا کہ خدا بعض انسانوں (اپنے مقربین) کو بذریعہ الہام کوئی علم دیتا ہے۔ ایسا کہیں نہیں آیا۔ باقی رہا کشف، سو اس کے معنی ہیں پردے کا اٹھا دینا۔ کسی بات کو ظاہر کر دینا۔ قرآن کریم میں یہ مادہ عذاب یا مصائب کے دور کرنے کے معانی میں آیا ہے۔ کسی کو غیب کا علم عطاء کرنے کے معانی میں کہیں نہیں آیا۔ یہ جو ہمارے ہاں عقیدہ ہے کہ حضرت اولیاء کرام کو کشف و الہام ہوتا ہے اور مقصد اس سے ہوتا ہے۔ ایسا علم جو خدا سے براہ راست حاصل ہو تو قرآن کریم سے اس کی سند نہیں ملتی۔ (جیسا کہ آگے چل کر بیان کیا جائے گا۔ یہ عقیدہ غیر قرآنی اور دوسروں سے مستعار لیا ہوا) خدا سے براہ راست علم حاصل کرنے کے لئے قرآن کریم میں وحی کی اصطلاح آتی ہے اور وحی حضرات انبیاء کرام علیہم السلام تک محدود تھی اور حضور نبی اکرم ﷺ کی ذات پر ختم ہو گئی۔ اب خدا سے کسی کو براہ راست علم حاصل نہیں ہو سکتا۔ وحی کو خدا نے اپنا کلام بھی کہا ہے۔ اس لئے ختم نبوت کے بعد خدا سے ہم کلامی کا دعویٰ بھی درحقیقت دعویٰ نبوت ہے۔ خدا نے کسی (غیر از نبی) انسان کے متعلق یہ نہیں کہا کہ ہم اس سے کلام کرتے ہیں یا وہ ہم سے کلام کر سکتا ہے۔ نہ ہی یہ کہ ہم نے فلاں کی طرف الہام کیا یا اپنے مقربین کی طرف الہام کریں گے۔ لہٰذا قرآن کریم سے کشف، الہام یا غیر از نبی سے ہم کلامی کی کوئی سند نہیں ملتی۔ اس عقیدہ کے عملی نتائج کے متعلق ذرا آگے جا کر بات کی جائے گی۔

اس لفظ (یا مادہ، ک، ت، ب) کے بنیادی معنی فیصلہ اور حکم کے ہیں۔ (تاج العروس) قرآن کریم میں ”كُتِبَ عَلَيْكُمُ القِصَاص (البقره:١٧٨) یا کتب عليكم الصيام (البقره: ١٨٣) ”فرض یا ضروری قرار دینے کے معنوں میں آیا ہے۔

چونکہ یہ احکام اکثر لکھے ہوتے تھے۔ اس لئے کتب کے معنی لکھنے کے ہو گئے اور ان تحریر شدہ احکام یا فیصلوں کے اوراق کی شیرازہ بندی نے جو مجموعہ مرتب ہوا۔ اسے کتاب سے تعبیر

٢٧

صفحہ ٤٤٨

کیا گیا۔ یہ اس کے لغوی معنی ہیں۔ لیکن قرآنی اصطلاح میں کتاب اس حکم یا احکام کے مجموعہ کو کہتے ہیں ۔ جو خدا کی طرف سے بذریعہ وحی ملیں ۔ اس مفہوم کے لئے ضروری نہیں کہ کتاب دو چار سو صفحات پر مشتمل تصنیف ہو ۔ خدا کے کسی ایک حکم کو بھی کتاب کہا جائے گا۔ اس اعتبار سے جس منتخب برگزیدہ فرد (یعنی نبی ) کو وحی ملتی تھی۔ اسے خدا کی طرف سے کتاب ملتی تھی۔ لہٰذا ہر صاحب وحی صاحب کتاب ہوتا تھا۔ یہ سمجھنا یا کہنا قرآن سے بیگانگی کی دلیل ہو گی کہ فلاں نبی کو وحی تو ملی تھی۔ لیکن کتاب نہیں ملی تھی۔ (اس نکتہ کی وضاحت ذرا آگے چل کر آتی ہے) جیسا کہ پہلے بھی لکھا جا چکا ہے۔ سلسلۂ رشد و ہدایت کی کیفیت یہ تھی کہ ایک نبی آتا اور لوگوں تک خدا کی وحی پہنچاتا۔ اسے اس نبی یا رسول کی کتاب کہا جاتا۔ اس کے بعد اس کے سرکش متبعین (مذہبی پیشوا) اس کی کتاب (یعنی اس کی وحی) میں تغیر و تبدل کر دیتے یا وہ لکھی ہوئی وحی کسی ارضی یا سماوی حادثہ کی وجہ سے ضائع ہو جاتی۔ اس کے بعد دوسرا نبی آتا اور وہ اس وحی کو جو پہلے نبی کو ملی تھی۔ اس کی خالص اور منزہ شکل میں پیش کر دیتا۔ اس فرق کے ساتھ کہ خدا کو جن سابقہ احکام و ہدایت میں کوئی تغیر و تبدل مطلوب ہوتا۔ وہ اس جدید وحی یا کتاب کو اس کے مطابق کر دیتا۔ یہ سب کچھ خدا کی طرف سے ہوتا چلا آیا۔ تاآنکہ جب اس نے اپنی مشیت کے مطابق سلسلۂ وحی کو ختم کر دینا چاہا تو حضور نبی اکرم ﷺ کی طرف نازل کردہ وحی میں ان تمام سابقہ احکام یعنی کتب کی تجدید کر دی۔ جنہیں علیٰ حالہ رکھنا مقصود تھا اور اس میں ان احکام واصول کا بھی اضافہ کر دیا جنہیں نوع انسان کی راہنمائی کے لئے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے غیر متبدل رکھا جانا مقصود تھا۔ اس ضابطۂ اصول واقدار واحکام وقوانین کا نام قرآن مجید ہے۔ یعنی خدا کی آخری کتاب یا آخری وحی کا مجموعہ۔ لہٰذا اب اگر کوئی شخص یہ کہے کہ خدا نے میری طرف فلاں حکم بھیجا ہے تو وہ صاحب کتاب ہونے کا مدعی ہے اور قرآن کی رو سے اپنے اس دعویٰ میں جھوٹا ہے۔

نبی اور رسول

اس کے بعد آئیے نبی اور رسول کے الفاظ کی طرف، عربی زبان میں ایک مادہ ہے۔ نَباء (ن، ب، أ) اس کے بنیادی معنی ہیں خبر دینا۔ نبی کا لفظ اس مادہ سے بھی آ سکتا ہے۔ اس صورت میں اس کے معنی ہوں گے۔ خبریں دینے والا۔ یہودیوں کے ہاں نبی ہیکل کے ایک خاص منصب دار کا لقب تھا جو پیش گوئیاں کیا کرتا تھا۔ اس اعتبار سے انگریزی زبان میں نبی کو (Prophet) کہتے ہیں۔ یعنی پیش گوئیاں (Prophecies) کرنے والا قرآن کریم میں یہ مادہ ان معنوں میں بھی آیا ہے۔

٢٨

صفحہ ٤٤٩

لیکن ایک مادہ (ن،ب،و) بھی ہے۔ جس کے معنی مقام بلند کے ہیں۔ نبی کا لفظ اس مادہ سے بھی آسکتا ہے۔ اس اعتبار سے نبی اس منتخب فرد کو کہیں گے جو علم انسانی کی سطح سے بلند تر مقام پر فائز ہو۔ میں ان معانی کو ترجیح دیا کرتا ہوں۔ لیکن نبی کا لفظ (ن،ب،أ) سے ہو یا (ن،ب، و) سے قرآن کریم کی اصطلاح میں یہ لفظ اس منتخب فرد کے لئے بولا جاتا ہے۔ جسے خدا کی طرف سے وحی ملتی تھی۔ اس وحی کا سرچشمہ علم انسانی سے بلند اور ماورا تھا۔ اس لئے یہ برگزیدہ ہستی بلند ترین مقام پر فائز ہوتی تھی۔ اس کی وحی میں احکام واقدار کے علاوہ ماضی کے ان واقعات کا بھی ذکر ہوتا تھا۔ جن کی پردہ کشائی صاحب وحی کے زمانے تک کے انسانی علم نے نہیں کی ہوتی تھی اور مستقبل کے متعلق بعض واقعات وحوادث کا ذکر بھی۔ اس اعتبار سے اسے خبریں دینے والا کہا جاسکتا ہے۔ اس قسم کی خبروں کے لئے قرآن کریم میں غیب کا لفظ آیا ہے۔ نبی کو اس غیب کا علم بھی وحی کے ذریعے ہی دیا جاتا ہے۔ قرآن کریم میں اس قسم کی خبروں کے سلسلہ میں بصراحت کہا گیا ہے۔ ”ذلك من انباء الغيب نوحيه اليك (آل عمران:٤٤)“ یہ غیب کی خبریں ہیں۔ جنہیں بذریعہ وحی بتایا جاتا ہے۔ لہٰذا ختم نبوت کے بعد اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ مجھے خدا کی طرف سے غیب کی خبریں، یعنی پیش گوئیاں ملتی ہیں تو وہ وحی کا مدعی ہے۔ لہٰذا ختم نبوت کا منکر اور اس کا دعویٰ باطل (عام لوگوں کی پیش گوئیاں، قیاسات پر مبنی ہوتی ہیں۔ ان کے متعلق میں اس وقت بحث نہیں کر رہا۔ میں صرف اس شخص کی بات کر رہا ہوں جو یہ کہے کہ میں خدا کی طرف سے علم پاکر پیش گوئیاں کرتا ہوں۔ ایسا شخص درحقیقت مدعی نبوت ہے۔ لہٰذا از روئے قرآن اس کا دعویٰ باطل)

رسول

ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ نبی کا یہ فریضہ ہوتا تھا کہ جو وحی اسے خدا کی طرف سے ملے اسے دوسروں تک بھی پہنچائے۔ جو شخص کسی پیغام کو دوسروں تک پہنچائے اسے رسول کہا جاتا ہے۔ رسول کے لغوی معانی ہیں۔ پیغامبر یا قاصد لیکن قرآن کی اصطلاح میں اس کے معنی ہوں گے وہ منتخب فرد۔ جو خدا کی طرف سے وحی پا کر اسے دوسروں تک پہنچائے۔ اب دیکھئے یہاں اس منتخب فرد کی دو حیثیتیں ہوگئیں۔ ایک اس کی خدا کی طرف سے وحی پانے کی حیثیت اسے نبوت کہا جائے گا اور دوسرے اس وحی کو دوسروں تک پہنچانے کی حیثیت اسے منصب رسالت کہا جائے گا۔ بالفاظ دیگر قرآنی اصطلاح میں خدا کی طرف سے وحی پانے والا نبی بھی ہوتا تھا اور رسول بھی۔ یہ ایک ہی فرد ہوتا تھا۔ جس کے دو الگ الگ منصب ہوتے تھے۔ ان اصطلاحی معنوں کی رو سے یہ ہو نہیں سکتا کہ ایک شخص نبی تو ہو لیکن رسول نہ ہو یا وہ رسول تو ہو، نبی نہ ہو۔

٢٩

صفحہ ٤٥٠

ہم یہ بھی دیکھ چکے ہیں کہ وحی کو خدا کی کتاب بھی کہتے ہیں۔ اس اعتبار سے جو منتخب فرد صاحب وحی یا صاحب کتاب ہوگا۔ وہ نبی بھی کہلائے گا اور رسول بھی۔ وہ خدا سے کتاب پانے کی جہت سے نبی ہوگا اور اس کتاب کو دوسروں تک پہنچانے کی جہت سے رسول۔ لہٰذا قرآن کریم کی رو سے نبی اور رسول میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ اس لئے قرآن کریم میں ہے کہ تمام انبیاء صاحب کتاب تھے اور تمام رسول صاحب کتاب۔ سورۂ بقرہ میں ہے۔ ”فبعث اللہ النبیین مبشرین ومنذرین“ ”خدا نے انبیاء کو مبعوث فرمایا جو مبشر اور منذر تھے۔“ وانزل معہم الکتب (البقرہ:٢١٣) ”اور ان سب کے ساتھ کتابیں نازل کیں۔ یہاں سے واضح ہے کہ کوئی نبی ایسا نہیں تھا جو صاحب کتاب نہ تھا۔ بات بالکل واضح ہے۔ قرآن کی اصطلاح میں نبی کہتے ہی اسے ہیں جسے خدا کی طرف سے وحی ملے اور وحی کو کتاب خداوندی کہا جاتا ہے۔ اس لئے کوئی نبی ایسا ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ جو صاحب وحی یعنی صاحب کتاب نہ ہو اور سورۂ حدید میں ہے۔ ”لقد ارسلنا رسلنا بالبینت وانزلنا معہم الکتب (حدید:٢٥) ”ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل دے کر بھیجا اور ان سب کے ساتھ کتابیں نازل کیں۔ یعنی کوئی رسول ایسا نہیں تھا جو صاحب کتاب نہ ہو۔

واضح رہے کہ بات یہ نہیں تھی کہ انبیاء کا کوئی الگ گروہ تھا۔ جنہیں الگ کتابیں ملی تھیں اور رسولوں کا کوئی الگ گروہ، انبیاء، رسول تھے اور رسول انبیاء۔ اس لئے کبھی یہ کہا جائے گا کہ فلان کتاب فلاں نبی کو ملی تھی اور کبھی یہ کہ وہ کتاب اس رسول کو ملی تھی۔ یہ وجہ ہے جو قرآن میں ایک ہی فرد کہیں نبی کہہ کر پکارا گیا ہے۔ کہیں رسول کہہ کر۔ خود نبی اکرم ﷺ کو کہیں رسول کہا گیا ہے۔ مثلاً ”محمد رسول اللہ والذین معہ (فتح:٢٩)“ کہیں نبی ”یایہا النبی حسبک اللہ (انفال:٦٤)“ اور کہیں رسول و نبی دونوں القاب سے آپ کو مخاطب ومتعارف کرایا گیا ہے۔ جیسے ”فامنوا باللہ ورسولہ النبی (اعراف:١٥٨)“ سورۂ النساء میں پہلے کہا: ”انا اوحینا الیک کما اوحینا الی نوح والنبیین من بعدہ “ ”اے رسول! ہم نے تیری طرف اس طرح وحی بھیجی جس طرح نوح علیہ السلام اور نوح علیہ السلام کے بعد دیگر انبیاء کی طرف بھیجی۔ یہاں حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے بعد آنے والوں کو انبیاء کہا ہے۔ اس کے بعد ان آنے والوں کے نام گنوائے ہیں۔ ابراہیم، اسمعیل، اسحق، یعقوب اور اولاد یعقوب، عیسیٰ، ایوب، یونس، ہارون، سلیمان، داؤد علیہم السلام اور اس کے بعد کہا: ”رسلا قد قصصنہم علیک من قبل ورسلا لم نقصصہم علیک ....... رسلا مبشرین ومنذرین

٣٠

(نساء:١٦٤، ١٦٥) ”یعنی ”اولئک الذین اتینہم الکت حکومت اور نبوت دی۔ اس سے قرآن کریم کی رو ان اجزاء کے متعلق ایک مقام پر والکتب والنبیین (البقرہ ورسلہ (البقرہ:٢٨٥) ”یعنی ان تصریحات (اور ق جاتی ہے کہ نبی اور رسول ایک ہی میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ ایک ہی فر کو آگے پہنچانے کی جہت سے رسو لیکن آپ یہ سن کر حیر رسول میں فرق ہوتا ہے۔ رسول ص نبی کسی رسول کا متبع اور اس کی شریع عقیدہ کی بنیاد روایات پر ہے۔ یہ حضرات) سے مات کھا جاتے ہیں کا دعویٰ باطل قرار پا جاتا ہے۔ (تف کے دلائل کا تجزیہ کیا جائے گا)

یہاں ایک اور دلچسپ کے سلسلے میں جو آیت قرآن مجید میں رجالکم ولکن رسول اللہ و میں سے کسی کے باپ نہیں۔ وہ خدا کے ہمارے ہاں کے مروجہ عقی نبیوں کا سلسلہ ختم کیا ہے۔ جنہیں کتا کی رو سے نبی اکرم ﷺ کے بعد نبی بہائیوں کا یہی دعویٰ ہے وہ بہاء اللہ کو صا

عالمی سیرت کانفرنس کانفرنس کی رودادیں پیش کش مقالات کا مجموعہ عالمی سیرت کا

صفحہ ٤٥١

عالمی سیرت کانفرنس مقالات سیرت عالمی سیرت کانفرنس

(نساء:١٦٤، ١٦٥)“ یعنی پہلے انہیں انبیاء کہا اور پھر رسول۔ انہی کے متعلق دوسری جگہ ہے۔ ”اولئك الذين اتينهم الكتب والحكم والنبوة (انعام:٨٩)“ انہیں خدا نے کتاب اور حکومت اور نبوت دی۔ اس سے ظاہر ہے کہ جسے نبوت ملتی تھی اسے کتاب بھی ملتی تھی۔

قرآن کریم کی رو سے اجزائے ایمان پانچ ہیں۔ اللہ، ملائکہ، کتب، رسل اور آخرت۔ ان اجزاء کے متعلق ایک مقام پر کہا گیا ہے۔ ”من آمن بالله واليوم الآخر والملئكة والكتب والنبيين (البقره:١٧٧)“ دوسری جگہ کہا: ”كل آمن بالله وملئكته وكتبه ورسله (البقره:٢٨٥)“ یعنی ایک جگہ انبیاء کہا اور دوسری جگہ رسل۔

ان تصریحات (اور قرآن کریم کے ایسے ہی دیگر مقامات) سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ نبی اور رسول ایک ہی سکہ کے دو رخ اور ایک ہی حقیقت کے دو گوشے ہیں۔ ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ ایک ہی فرد خدا سے علم پانے کی جہت سے نبی کہلاتا ہے اور اس علم (وحی) کو آگے پہنچانے کی جہت سے رسول۔

لیکن آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ ہمارے ہاں یہ عقیدہ چلا آ رہا ہے کہ نبی اور رسول میں فرق ہوتا ہے۔ رسول صاحب کتاب اور صاحب شریعت اور نبی بلا کتاب ہوتا ہے۔ نبی کسی رسول کا متبع اور اس کی شریعت پر عمل کرانے کے لئے آتا ہے۔ اپنی کتاب نہیں لاتا۔ اس عقیدہ کی بنیاد روایات پر ہے۔ یہ دوسرا مقام ہے۔ جہاں مسلمان اپنے فریق مقابل (احمدی حضرات) سے مات کھا جاتے ہیں۔ لیکن معیار اگر قرآن کریم کو رکھا جائے تو پھر احمدی حضرات کا دعویٰ باطل قرار پا جاتا ہے۔ (تفصیل اس کی ساتویں باب میں ملے گی۔ جہاں احمدی حضرات کے دلائل کا تجزیہ کیا جائے گا)

یہاں ایک اور دلچسپ سوال سامنے آتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ کے خاتم الانبیاء ہونے کے سلسلے میں جو آیت قرآن مجید میں آتی ہے وہ یوں ہے۔ ”ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين (احزاب:٤٠)“ ﴿محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں۔ وہ خدا کے رسول ہیں اور خاتم النبیین۔﴾

ہمارے ہاں کے مروجہ عقیدہ کی رو سے خاتم النبیین کا مطلب یہ ہوگا کہ خدا نے صرف نبیوں کا سلسلہ ختم کیا ہے۔ جنہیں کتاب نہیں ملتی تھی۔ رسولوں کا سلسلہ ختم نہیں کیا۔ لہٰذا اس آیت کی رو سے نبی اکرم ﷺ کے بعد نبی تو نہیں آ سکتا تھا۔ رسول مع اپنی کتاب کے آ سکتا تھا۔ بہائیوں کا یہی دعویٰ ہے وہ بہا اللہ کو صاحب کتاب رسول مانتے ہیں۔

٤١

صفحہ ٤٥٢

آپ نے غور فرمایا کہ قرآن کریم کے خلاف ایک عقیدہ کس کس انداز کی الجھنیں پیدا کرتا ہے۔ ہمارے علماء حضرات ان الجھنوں کو حل کرنے کی ناکام کوشش میں تو عمریں صرف کر دیں گے۔ لیکن اس خلاف قرآن عقیدہ کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوں گے۔

خاتم النبیین

”احمدی“ حضرات کے ساتھ مباحثوں اور مناظروں میں نقطہ ماسکہ ”خاتم النبیین“ کی اصطلاح ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے اسے اس مسئلہ میں بڑی اہمیت حاصل ہے۔ لیکن ہمارے نزدیک اس اصطلاح کی اس مسئلہ کے ضمن میں وہ اہمیت ہے ہی نہیں جو اسے دی جاتی ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں۔ نبی اکرمﷺ کے سلسلۂ انبیاء کرام کی آخری کڑی ہونے کے متعلق قرآن کریم میں اس قدر دلائل و شواہد ہیں کہ اگر قرآن کریم میں یہ الفاظ نہ بھی آتے تو بھی حضورﷺ کے آخری نبی ہونے میں کوئی شک و شبہ نہ ہوتا۔ بایں ہمہ ہم اس مقام پر اس اصطلاح کی مختصر الفاظ میں وضاحت کرتے ہیں۔ پہلے لفظ خاتم کے لغوی معنی دیکھئے۔

ختم کے معنی ہیں کسی چیز کو چھپا دینا اور ڈھانک دینا۔ اس طرح بند کر کے محفوظ کر دینا کہ اس کا کوئی حصہ باہر نہ نکل سکے۔ چنانچہ زمین میں ہل چلا کر اور بیج ڈال کر جو پہلی مرتبہ پانی دیتے ہیں۔ اسے اہل عرب ختم الزرع کہتے ہیں۔ اس لئے کہ پانی دینے کے بعد مٹی جم جاتی ہے اور بیج مٹی کے اندر بند ہو کر محفوظ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح شہد کی مکھیاں اپنے چھتہ کے خانوں میں شہد جمع کر کے موم کا نہایت باریک سا پردہ خانوں کے منہ پر بنا دیتی ہیں۔ جس سے شہد اندر بند اور محفوظ ہو جاتا ہے۔ اسے بھی عرب ختم سے تعبیر کرتے ہیں۔ (اس کے بعد خود شہد اور ان خانوں کے منہ کو بھی ختم کہنے لگ گئے)

”ختم الشئ ختماً“ کے معنی کسی چیز کے آخری سرے تک پہنچ جانے کے بھی ہیں۔ ابن فارس نے کہا ہے کہ یہ اس کے بنیادی معنی ہیں۔ ختم اور طبع کا لفظ دو طرح سے استعمال ہوتا ہے۔ (١) کسی چیز پر لاکھ وغیرہ لگا کر مہر سے اس پر نشان لگا دینا اور (٢) وہ نقش یا نشان جو اس طرح مہر لگانے سے بن جائے پھر قدرے مفہوم میں وسعت پیدا کر کے کسی چیز کو بند کرنے اور روک دینے کے لئے بولا جانے لگا۔ اس لئے کہ مہر لگا کر خط یا دروازہ بند کر دیا جاتا ہے اور اس کے اندر کی چیز باہر نہیں نکالی جاتی۔ ختام اس لاکھ یا موم وغیرہ کو کہتے ہیں جس سے کسی چیز کو بند کر کے اس پر مہر لگائی جاتی ہے اور خاتم وہ چیز ہے (انگوٹھی وغیرہ) جس سے اس لاکھ پر مہر لگائی جاتی ہے۔ ہر چیز کا انجام اور آخر خاتم کہلاتا ہے۔ چنانچہ خاتم القوم کے معنی ہیں قوم کا آخری فرد۔ ایسے ہی ہر

٣٢

صفحہ ٤٥٣

پینے کی چیز کا ختام اس کا آخری حصہ ہوتا ہے۔ (ابن فارس) فراء کا قول ہے کہ خاتم اور ختام دونوں قریب المعنی ہیں۔ ”فلان ختم عليك بابه“ کے معنی ہیں وہ شخص تجھ سے اعراض برتتا ہے اور اپنا دروازہ تجھ پر بند کر لیتا ہے۔

مرزا غلام احمد قادیانی اپنے دعاوٰی کے ابتدائی ایام میں بہ تکرار و اصرار خاتم النبیین کے معنی آخری نبی کرتے رہے۔ (تفصیل ذرا آگے جا کر سامنے آئے گی) لیکن بعد میں انہوں نے اپنے مسلک میں تبدیلی کی اور کہا کہ خاتم النبیین کے معنی ہیں وہ جس کی مہر تصدیق سے دوسرے بھی نبی بن جائیں۔ یہ مفہوم (اگر اسے مفہوم کہا جاسکے تو) قرآن کریم کی بنیادی تعلیم کے یکسر خلاف اور مقام نبوت سے لاعلمی پر مبنی ہے۔ جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں۔ نبوت خدا کی طرف سے وہبی طور پر اس منتخب فرد کو ملتی تھی۔ جسے خدا اپنی مشیت کے مطابق اس منصب جلیلہ کے لئے مختص کر لیتا تھا۔ اس میں نہ اس فرد کی اپنی محنت و کاوش کو کسی قسم کا دخل ہوتا تھا اور نہ ہی کسی کو یہ اتھارٹی حاصل تھی کہ وہ اپنی مہر تصدیق سے دوسروں کو نبی بنادے۔ قرآن کریم میں خود نبی اکرمﷺ کے متعلق واضح الفاظ میں ہے کہ حضورﷺ کو نبی بننے سے ذرا بھی پہلے اس کا علم نہیں تھا کہ آپ اس منصب جلیلہ پر فائز کئے جانے والے ہیں۔ چہ جائیکہ حضورﷺ اپنی تصدیق سے دوسروں کو نبی بنا سکتے۔ پھر حضورﷺ کی طرف سے مہر تصدیق کا ثبوت کیا؟ اگر حضورﷺ دنیا میں تشریف رکھتے اور (بفرض محال) اپنے ہاتھ سے کسی کو نبوت کا سرٹیفکیٹ عطا فرما دیتے تو اسے مہر تصدیق تسلیم کیا جاسکتا تھا۔ لیکن آج کسی کا خود ہی نبوت کا دعویٰ کر دینا اور خود ہی یہ کہہ دینا کہ مجھے یہ نبوت رسول اللہﷺ کی مہر تصدیق سے حاصل ہوئی ہے۔ بارگاہ خداوندی اور حضور رسالت مآبﷺ میں اتنی بڑی جسارت ہے۔ جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ انسان جب بیباک ہو جائے تو اس کی حدود فراموشی کی کوئی انتہاء نہیں رہتی۔

عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ختم نبوت کے عقیدہ کی اہمیت کیا ہے۔ اس اہمیت کے متعدد گوشے ہیں۔ جن میں سے سردست ایک گوشہ سامنے لایا جاتا ہے۔ ہم دیکھ چکے ہیں کہ:

میں ٹکراؤ پیدا ہوتا ہے۔ جس کا لازمی نتیجہ خونریزی اور فساد انگیزی ہے۔

٣٣

صفحہ ٤٥٤

و ارادہ استعمال کر سکتے ہیں۔ اس سے معاشرہ کا توازن برقرار رہتا ہے۔

جب تک وحی کا سلسلہ جاری تھا، کوئی انسان یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ ایک آنے والا رسول، وحی خداوندی کی رو سے اس کے اختیارات پر کس قسم کی پابندیاں عائد کر دے گا۔ ختم نبوت نے اس بات کا اعلان کر دیا کہ انسانی اختیار و ارادہ پر جس قدر پابندیاں عائد کی جانی مقصود تھیں۔ ان سب کی صراحت خدا کی آخری وحی (قرآن مجید) میں کر دی گئی ہے۔ جو انسان وحی کے مطابق زندگی بسر کرنا چاہے وہ قرآن کو دیکھ لے اور اپنا اطمینان کر لے کہ یہ ہیں وہ حدود جن کے اندر رہتے ہوئے مجھے زندگی بسر کرنی ہے۔ اس کے بعد اسے اس امر کی ضمانت مل جائے گی کہ اس کی پابندی اور آزادی کی حدود میں نہ کوئی تغیر و تبدل ہوگا۔ نہ کوئی مزید پابندی عائد کی جاسکے گی۔ یہ ضمانت، نوع انسان کے لئے بہت بڑی رحمت ہے۔ اس سے واضح ہے کہ ختم نبوت وہ ضمانت خداوندی ہے جس کی رو سے انسان اپنی آزادی کی طرف سے حتمی اور یقینی طور پر مطمئن ہو جاتا ہے۔ علامہ اقبالؒ نے اپنے خطبات میں اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے:۔

”اسلام کا ظہور استقرائی فکر (Inductive Intellect) کا ظہور ہے۔ اس میں نبوت اپنی تکمیل کو پہنچ گئی اور اس تکمیل سے اس نے خود اپنی خاتمیت کی ضرورت کو بے نقاب دیکھ لیا۔ اس میں یہ لطیف نکتہ پنہاں ہے کہ زندگی کو ہمیشہ کے لئے عہد طفولیت کی حالت میں نہیں رکھا جا سکتا۔ اسلام میں مذہبی پیشوائیت اور وراثتی بادشاہت کا خاتمہ کر دیا۔ قرآن مجید غور وفکر اور تجربات ومشاہدات پر بار بار زور دیتا ہے اور تاریخ اور فطرت دونوں کو علم انسانی کے ذرائع ٹھہراتا ہے۔ یہ سب اسی مقصد کے مختلف گوشے ہیں جو ختم نبوت کی تہ میں پوشیدہ ہیں۔ پھر عقیدہ ختم نبوت کی ایک بڑی اہمیت یہ بھی ہے کہ...... اب نوع انسانی کی تاریخ میں کوئی شخص اس امر کا مدعی نہیں ہو سکتا کہ وہ کسی مافوق الفطرت اختیار (Super Natural Authority) کی بناء پر دوسروں کو اپنی اطاعت پر مجبور کر سکتا ہے۔ ختم نبوت کا عقیدہ ایک ایسی نفسیاتی قوت ہے جو اس قسم کے دعویٰ اقتدار کا خاتمہ کر دیتی ہے۔“

اسی بناء پر انہوں نے آگے جا کر کہا ہے کہ: ”اس عقیدہ کی حامل قوم کو دنیا میں سب سے زیادہ آزاد قوم ہونا چاہئے ۔“

یہ ہے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت کا اولین گوشہ۔ اس عقیدہ کی موجودگی میں کوئی شخص ہم

٢٠٦

سے آکر یہ نہیں کہہ سکتا ہے۔ اگر ایسا نہ کرو گے

براہ راست اور اس کو اپ

عقیدہ کشف والہام

اس کے بع زور دینا بھی چاہئے تھا کر لیا کہ خدا کے برگزید اولیاء اللہ یا صوفیائے کرا عقیدہ سے ختم نبوت کی عم چوپٹ کھل گیا۔ انبیاء تو بستی پیدا ہونے شروع ہو کشف والہام ہے۔ ان کارنامے ان سے سرزد ہو سے مطمئن ہو گئے کہ ہم عق بھی کرتے ہیں اور اپنے ا قرآن مجید کے فلاں حکم احکام کی تکمیل کا تعلق ہے لیتے ہیں۔ لیکن ان حضرات نہیں ہونے دیتے۔ اگر ا غضب نازل ہو جائے گا۔ تھا۔ وہ سب سے زیادہ غلام کہ ان پتھروں کی بھی غلام میں نے اوپر کہا

صفحہ ٤٥٥

کے اندر رہتے ہوئے مختلف افراد معاشرہ اپنا اختیار سے معاشرہ کا توازن برقرار رہتا ہے۔ پابندیاں عائد کرتی ہے۔

کوئی انسان یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ ایک آنے والا رسول، کس قسم کی پابندیاں عائد کرے گا۔ ختم نبوت نے اس کس قدر پابندیاں عائد کی جانی مقصود تھیں۔ ان سب نہیں کر دی گئی ہے۔ جو انسان وحی کے مطابق زندگی غلط کرلے کہ یہ ہیں وہ حدود جن کے اندر رہتے اسے اس امر کی ضمانت مل جائے گی کہ اس کی پابندی مفاد کو کوئی مزید پابندی عائد کی جاسکے گی۔ یہ ضمانت، نہیں ہے واضح ہے کہ ختم نبوت وہ ضمانت خداوندی حد سے حتمی اور یقینی طور پر مطمئن ہو جاتا ہے۔ علامہ الفاظ میں بیان کیا ہے۔

(Inductive Intell کا ظہور ہے۔ اس اس نے خود اپنی خاتمیت کی ضرورت کو بے نقاب اس کو ہمیشہ کے لئے عہد طفولیت کی حالت میں نہیں بنیاد پاپائیت کا خاتمہ کر دیا۔ قرآن مجید غور و فکر اور اور فطرت دونوں کو علم انسانی کے ذرائع ٹھہراتا ختم نبوت کی تہ میں پوشیدہ ہیں۔ پھر عقیدہ ختم نبوت انسانی کی تاریخ میں کوئی شخص اس امر کا مدعی نہیں (Super Natural Auth کی بناء پر اس کا عقیدہ ایک ایسی نفسیاتی قوت ہے جو اس قسم کہ: ”اس عقیدہ کی حامل قوم کو دنیا میں سب ہمیشہ اس عقیدہ کی موجودگی میں کوئی شخص ہم

سے آکر یہ نہیں کہہ سکتا کہ خدا نے تمہیں میری وساطت سے یہ حکم دیا ہے۔ تم پر اس کی پابندی لازمی ہے۔ اگر ایسا نہ کرو گے تو تم پر خدا کا غضب نازل ہو جائے گا۔ اس مقام پر اسے پھر دہرا لینا چاہئے کہ:

براہ راست علم حاصل ہوتا ہے۔ جو ایسا کہے گا کہ وہ ختم نبوت کا منکر اور مدعی نبوت ہوگا اور اس کا یہ دعویٰ از روئے قرآن جھوٹا ہوگا۔

عقیدہ کشف والہام کے عملی نتائج

اس کے بعد آگے بڑھے۔ مسلمانوں نے ختم نبوت کے عقیدہ پر تو اتنا زور دیا (اور زور دینا بھی چاہئے تھا) لیکن (جیسا کہ پہلے کہا جاچکا ہے) اس کے ساتھ ہی یہ عقیدہ بھی وضع کر لیا کہ خدا کے برگزیدہ انسانوں کو اب بھی خدا کی طرف سے براہ راست علم ملتا ہے۔ انہیں اولیاء اللہ یا صوفیائے کرام کہا جاتا ہے اور ان کے اس علم کو کشف والہام، آپ نے غور کیا کہ اس عقیدہ سے ختم نبوت کی مہر کس طرح ٹوٹ گئی اور جس دروازے کو خدا نے بند کیا تھا وہ کس طرح چوپٹ کھل گیا۔ انبیاء تو پھر بھی کچھ کچھ عرصہ کے بعد آیا کرتے تھے۔ یہ حضرات قریہ قریہ اور بستی بستی پیدا ہونے شروع ہو گئے۔ اعتراض سے بچنے کے لئے یہ کہہ لیا کہ ان کا علم وحی نہیں بلکہ کشف والہام ہے۔ ان کا نام نبی یا رسول نہیں۔ بلکہ اولیاء اللہ ہے اور جو مافوق الفطرت کارنامے ان سے سرزد ہوتے ہیں۔ وہ معجزات نہیں کرامات ہیں۔ یعنی صرف نام بدل دینے سے مطمئن ہو گئے کہ ہم عقیدہ ختم نبوت کی خلاف ورزی نہیں کر رہے۔ یہ حضرات پیش گوئیاں بھی کرتے ہیں اور اپنے احکام بھی صادر فرماتے ہیں۔ کبھی کھلے الفاظ میں اور کبھی یہ کہہ کر کہ قرآن مجید کے فلاں حکم کے باطنی معنی یہ ہیں اور یہی اس کا حقیقی مفہوم ہے۔ جہاں تک ان کے احکام کی تکمیل کا تعلق ہے۔ ان کے ماننے والے احکام شریعت کی تو کھلے بندوں خلاف ورزی کر لیتے ہیں۔ لیکن ان حضرات کے ارشادات کے خلاف دل کی گہرائیوں میں بھی کوئی وسوسہ پیدا نہیں ہونے دیتے۔ اگر کبھی ایسا ہو جائے تو ان پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے کہ نہ معلوم مجھ پر کیا غضب نازل ہو جائے گا۔ نتیجہ اس کا یہ کہ جس قوم کو دنیا کی سب سے زیادہ آزاد قوم ہونا چاہئے تھا۔ وہ سب سے زیادہ غلام بن گئی۔ نہ صرف زندہ انسانوں کی غلام بلکہ مردوں کی بھی غلام۔ حتیٰ کہ ان پتھروں کی بھی غلام جن کے اندر ان حضرات کی لاشیں دفن ہیں۔

میں نے اوپر کہا ہے کہ جہاں تک کشف والہام کا تعلق ہے۔ یہ صرف نام کا فرق ہے۔

٣٥

عالمگیر سیرت کانفرنس کی روئداد

پیغام خاتم النبین

مقالہ جات کا مجموعہ

مسائل سیرت کا

عالمگیر اہمیت کا

یہ عظیم الشان

تاریخی

کارنامہ

عالمگیر سیرت کانفرنس

صفحہ ٢٥٦

حقیقت کے اعتبار سے ان میں اور وحی میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ شیخ اکبر محی الدین ابن عربی، اس طائفہ کے سرخیل قرار دیئے جاتے ہیں۔ سنئے کہ وہ اس باب میں کیا کہتے ہیں۔ وہ اپنی مشہور کتاب فصوص الحکم میں لکھتے ہیں۔

ابن عربی کے دعاوی

”جس مقام سے نبی لیتے تھے۔ اسی مقام سے انسان کامل، صاحب الزمان، غوث، قطب لیتے ہیں۔ اگرچہ اولیاء انبیاء کے تابع ہوتے ہیں۔ لیکن صاحب وحی دونوں ہوتے ہیں۔ ارباب شریعت تو وہ ہیں جو قرآن وحدیث سے حکم دیتے ہیں۔ قرآن وحدیث سے مصرح حکم نہیں ملتا تو قیاس کرتے ہیں۔ اجتہاد کرتے ہیں۔ مگر اس اجتہاد کی اصل وہی منقول قرآن وحدیث ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس ہم میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اس چیز کو اپنے کشف والہام کے ذریعے خود اللہ تعالیٰ سے لیتے ہیں۔ اس طور پر مادہ کشف والہام اور مادہ وحی رسول ایک ہے۔ صاحب کشف اللہ تعالیٰ سے لینے کے طریقے سے واقف ہونے کی وجہ سے خاتم النبیین کے موافق ہے۔ ان کا اللہ تعالیٰ سے لینا عین رسول اللہ کا لینا ہے۔“

آپ غور کیجئے کہ لفظی فرق کو چھوڑ کر حقیقت کے اعتبار سے نبی کی وحی اور ان حضرات کے کشف والہام میں کچھ بھی فرق ہے؟ اور کیا کشف والہام کے امکان کو تسلیم کرلینے کے بعد عقیدہ ختم نبوت باقی رہ جاتا ہے؟ کہا یہ جاتا ہے کہ کشف والہام کسی دوسرے کے لئے سند اور حجت نہیں ہوتا۔ لیکن (اوّل تو) سوال سند وحجت ہونے یا نہ ہونے کا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ختم نبوت کے بعد خدا سے براہ راست علم حاصل کرنے کا امکان رہتا ہے؟ جہاں تک کشف والہام کے سند و حجت ہونے کا تعلق ہے۔ ان حضرات کے وابستگانِ دامن کے نزدیک قرآن و حدیث کا حکم اس قسم کی سند و حجت نہیں ہوتا۔ جس قسم کی سند و حجت ان حضرات کا کشف والہام ہوتا ہے۔ جیسا کہ پہلے کہا جاچکا ہے۔ ان کے عقیدت مندان کے کشف والہام کے خلاف دل کی گہرائیوں میں بھی کسی قسم کا شک و شبہ پیدا ہو جانا مستوجب غضب خداوندی سمجھتے ہیں۔

یاد رکھیے کشف والہام کا کوئی تصور قرآن میں نہیں دیا گیا۔ جہاں تک اولیاء اللہ کا تعلق ہے۔ قرآن ان کا کوئی الگ گروہ قرار نہیں دیتا۔ وہ ولی اللہ (خدا کا دوست یا مطیع وفرمانبردار) ہونا مؤمنین ہی کی ایک صفت قرار دیتا ہے۔ یعنی قرآن کریم کی رو سے ہر مؤمن ولی اللہ ہوتا ہے۔ اس قسم کے تمام تصورات ہم نے دوسروں سے مستعار لئے ہیں۔ تصوف علامہ اقبال کے الفاظ میں اسلام کی سرزمین میں ایک اجنبی پودا ہے۔

(مکاتیب اقبال حصہ اوّل ص ٧٨)

٣٦

صفحہ ٤٥٧

کشف والہام کی حقیقت کے متعلق تفصیل میں جانے کا یہ موقع نہیں۔ اس جگہ صرف اتنا بتا دینا کافی ہوگا کہ انسان کے اندر کچھ ایسی صلاحیتیں ہیں۔ (مثلاً قوت ارادی وغیرہ) کہ اگر مقررہ ریاضتوں اور مراقبوں کے ذریعے ان میں ارتکاز (Concentration) پیدا کر دیا جائے تو ذہن انسانی میں عجیب وغریب قسم کے تصورات وتخیلات ابھرنے شروع ہو جاتے ہیں یا اس قسم کے کرشمے ظہور میں آنے شروع ہو جاتے ہیں جو عام لوگوں کے نزدیک محیر العقول ہوتے ہیں۔ لیکن یہ ایک فنی چیز ہے۔ جسے دین سے کوئی تعلق نہیں جو چاہے اسے کثرت ممارست سے حاصل کرسکتا ہے۔ (راقم الحروف یہ منازل خود طے کر چکا ہے۔ اس لئے جو کچھ بیان کیا جارہا ہے وہ شنید نہیں ذاتی تجربہ ہے۔ یہ تجربہ میں نے خانقاہوں سے بھی حاصل کیا اور سنیاسیوں، جوگیوں کی سمادھیوں سے بھی۔ تفصیل اس اجمال کی میری کتاب شاہکار رسالت میں ملے گی) علامہ اقبالؒ اس باب میں لکھتے ہیں: ”آج کل کا مسلمان یونانی اور ایرانی تصوف کی ان تاریک وادیوں میں بے مقصد و بے مدعا ٹامک ٹوئیاں مارتے پھرنے کو ترجیح دیتا ہے۔ جس کی تعلیم یہ ہے کہ گردوپیش کے حقائق ثابتہ سے آنکھیں بند کر لی جائیں اور توجہ اس نیلی پیلی، سرخ روشنی پر جمادی جائے۔ جسے اشراق کا نام دے دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت دماغ کے ان خانوں سے پھوٹ پھوٹ کر نکلتی ہے جو ریاضت کی کثرت اور تواتر کے باعث ماؤف ہو چکے ہوں۔ میرے نزدیک یہ خود ساختہ تصوف اور فنائیت یعنی حقیقت کو اپنے مقام پر تلاش کرنا جہاں اس کا وجود ہی نہ ہو۔ دراصل ایک بدیہی علامت ہے۔ جس سے عالمِ اسلام کے رو بہ انحطاط ہونے کا سراغ ملتا ہے۔ (علامہ اقبالؒ کا یہ مضمون اسلام اور تصوف کے عنوان سے لکھنؤ سے شائع ہونے والے اخبار نیو ایرا کی ٢٨؍ جولائی ١٩١٧ء کی اشاعت میں شائع ہوا تھا)“

یہ ہے کشف والہام کی حقیقت۔ اسی بناء پر علامہ اقبالؒ نے ابن عربی کی کتاب فصوص الحکم کے متعلق (جس کا ایک اقتباس پیش کیا جا چکا ہے) کہا ہے کہ اس میں الحاد و زندقہ کے سوا کچھ نہیں۔ (مکاتیب اقبالؒ) بہر حال موضوع زیر نظر کی نسبت سے ہم کہنا یہ چاہتے ہیں کہ یہ عقیدہ کہ کسی کو اب بھی خدا سے براہ راست علم حاصل ہو سکتا ہے۔ ختم نبوت کی مہر کو توڑ دیتا ہے۔ خواہ اس کا نام کچھ ہی کیوں نہ رکھ لیا جائے۔ اس قسم کے عقائد کس طرح دعوائے نبوت کے لئے راہیں ہموار کرتے ہیں۔ اس کے متعلق آگے چل کر بات کی جائے گی۔

یہ ہے تیسرا مقام جس پر مسلمان اپنے فریق مقابل (احمدی حضرات) سے بری طرح مات کھا جاتے ہیں۔ تفصیل اس کی بعد میں سامنے آئے گی۔

٣٧

صفحہ ٤٥٨

عالی سیرت پر ایک عالمانہ عالی سیرت کا نے سیرت مطہر مسائل سیرت و مقالات، مقالات و پیش کش کانفرنس کی کارروائی عالی سیرت کا نفرنس

آنے والے کا عقیدہ

اب ایک قدم آگے بڑھئے۔ ختم نبوت کا عقیدہ دنیا کے کسی مذہب میں نہیں تھا۔ اس لئے ان میں سے ہر ایک کے ہاں ایک آنے والے کا عقیدہ پیدا ہو گیا۔ یہودیوں نے کہا کہ ایک مسیحا آئے گا جو ان کی تمام مصیبتوں کو حل کر دے گا۔ عیسائیوں نے کہا کہ حضرت مسیح علیہ السلام زندہ آسمان پر موجود ہیں۔ وہ آخری زمانے میں آئیں گے اور عیسائیت کا غلبہ قائم کر دیں گے۔ ہندو، آخری زمانے میں کلنکی اوتار کے منتظر ہیں۔ بدھ مت کے پیرو میتریا بدھ کے منتظر، مجوسی (پارسی) بھی عیسائیوں کی طرح اپنے نبی مترا کو زندہ آسمان پر تصور کرتے اور آخری زمانے میں اس کی آمد کے منتظر ہیں۔ انہوں نے اس باب میں (عیسائیوں کے مقابلہ میں) اتنی تبدیلی کی کہ وہ آنے والا وہی پہلا مترا نہیں ہوگا۔ اس کا ظل یا بروز یا مثیل ہوگا۔ قرآن آیا اور اس نے ان تمام مذاہب سے پکار کر کہہ دیا کہ تم جس آنے والے کے انتظار میں ہو وہ رسول ”کافة للناس“ آ گیا ہے۔ یہی تمہارا انجام دہندہ ہے۔ اسی کے اتباع سے اس دین کو غلبہ حاصل ہوگا۔ جسے تمہارے نبی نے اصل شکل میں پیش کیا تھا۔ اس نبی آخر الزمان نے وہ سب کچھ کر کے دکھا دیا جس کے دیکھنے کے وہ لوگ منتظر تھے۔ وہ اپنے مشن کی تکمیل کے بعد دنیا سے تشریف لے جانے والے تھے تو خدا نے اعلان کر دیا کہ اب ہماری طرف سے کوئی نہیں آئے گا۔ اس لئے تمہیں کسی آنے والے کا انتظار نہیں کرنا ہوگا۔ جو راہنمائی ہم نے دینی تھی اسے اپنی کتاب (قرآن مجید) میں مکمل کر کے محفوظ کر دیا اور اس رسولؐ نے اس پر عمل کر کے دکھا دیا۔ اب اس مشعل آسمانی کی روشنی اور اس رسولؐ کے اسوۂ حسنہ کے اتباع میں تم نے اپنی زندگی کی راہیں آپ قطع کرنی ہوں گی۔ اب تم جوان ہو گئے ہو۔ اگر کسی مقام پر تمہارا پاؤں پھسل گیا تو تمہیں ہمت کر کے خود ہی اٹھنا ہوگا۔ اب تمہاری انگلی پکڑ کر اٹھانے والا کوئی نہیں آئے گا۔

مجدد، مہدی، مسیح

یہ ہے ختم نبوت کی اہمیت کا دوسرا گوشہ یعنی اس سے انسان میں خود اعتمادی پیدا کر دی۔ خدا نے تو یہ اعلان کیا۔ لیکن ہم نے دوسرے اہل مذاہب کی طرح اپنے ہاں بھی آنے والے کا عقیدہ وضع کر لیا۔ ہر صدی کے آخر ایک مجدد، آخری زمانہ میں امام مہدی اور ان کے ساتھ آسمان سے نازل ہونے والے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہم نے ان مجددین اور امام مہدی کو نبی تو نہ کہا کہ اس سے ہمارے دل میں کھٹکا پیدا ہوتا تھا کہ یہ بات عقیدۂ ختم نبوت کے خلاف ہوگی۔ لیکن در حقیقت ہم نے انہیں بھی اسی بنیادی خصوصیت کا حامل قرار دے دیا۔ جو خاصۂ نبوت تھی۔ یعنی ٣٨

خدا سے براہ راست علم حاصل ہوتا خدا کے نبی تھے۔ اس لئے انہیں ان یہ کہا گیا کہ وہ ہوں گے تو نبی ہی۔ لیک نبی قرار دیا گیا۔

قرآن کریم میں نہ کسی م دوبارہ بذات خود تشریف لانے کا قرآنی ہے۔ اس میں کسی مسیح کے آم کے ذریعے جزو اسلام بن گئے۔ (الم گئے۔ اسے میں نے اپنی کتاب ”خ تصورات بنیادی طور پر ختم نبوت کے راستے کھول دیئے۔ میں نے شروع نو سال تک زیر سماعت رہا اور ہندوستا کہ ان حضرات کی اس قدر طول طوی ختم نبوت کی کنہ وحقیقت کو سمجھ نہیں راست خدا سے علم حاصل کرنے کا اد کرنے والے حضورﷺ کے بعد آ واضح ہو سکتی ہے نہ ختم نبوت کی اہمیت دلائل مہیا کرنے کا موجب بن جاتا بات کا رخ قادیان کے مرزا غلام احم

تیسرا باب ......

ابتدائی حالات

مرزا قادیانی اپنے ذاتی ح ”اب میرے سوانح اس طر عطا محمد اور میرے پردادا کا نام گل محم ١٨٣٩ء میں سکھوں کے آخری وقت می

صفحہ ٤٥٩

خدا سے براہ راست علم حاصل ہونا ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ضمن میں دقت پیش آتی تھی کہ وہ خدا کے نبی تھے۔ اس لئے انہیں ان کی واپسی پر نبی تسلیم کرنا پڑتا تھا۔ اس دشواری کے حل کے لئے یہ کہا گیا کہ وہ ہوں گے تو نبی ہی ۔ لیکن رسول اللہ ﷺ کی امت میں ہوں گے۔ اس لئے انہیں امتی نبی قرار دیا گیا۔

قرآن کریم میں نہ کسی مجدد کا ذکر ہے نہ مہدی کا اور نہ ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ بذات خود تشریف لانے کا۔ یا ان کے مثیل کے آنے کا۔ مسیح موعود کی اصطلاح بھی غیر قرآنی ہے۔ اس میں کسی مسیح کے آنے کا وعدہ نہیں کیا گیا۔ یہ تمام نظریات ہمارے ہاں روایات کے ذریعے جزو اسلام بن گئے۔ (ان نظریات کا سرچشمہ کون سا ہے اور یہ کس طرح جزو اسلام بن گئے ۔ اسے میں نے اپنی کتاب ”شاہکار رسالت“ میں شرح وبسط سے بیان کیا ہے) چونکہ یہ تصورات بنیادی طور پر ختم نبوت کے نقیض تھے۔ اس لئے انہوں نے بھی دعویٰ نبوت کے لئے راستے کھول دیئے۔ میں نے شروع میں کہا ہے کہ ریاست بہاولپور کی عدالت میں یہ مقدمہ قریب نو سال تک زیر سماعت رہا اور ہندوستان کے جید علماء کرام نے حصہ لیا۔ لیکن فاضل جج کو یہ کہنا پڑا کہ ان حضرات کی اس قدر طول طویل بحثوں کے باوجود ان پر مقام نبوت واضح نہیں ہوسکا اور وہ ختم نبوت کی کنہ وحقیقت کو سمجھ نہیں سکے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ تمام حضرات مانتے تھے کہ براہ راست خدا سے علم حاصل کرنے کا امکان، رسول اللہ ﷺ کے بعد بھی باقی ہے اور ایسا علم حاصل کرنے والے حضور ﷺ کے بعد آتے رہیں گے۔ اس عقیدہ کی موجودگی میں نہ حقیقت نبوت واضح ہوسکتی ہے نہ ختم نبوت کی اہمیت مبرہن ۔ اس کے برعکس، یہ عقیدہ، دعوئے نبوت کے حق میں دلائل مہیا کرنے کا موجب بن جاتا ہے۔ آئیے ہم دیکھیں کہ ایسا کس طرح ہوا اور یہاں سے بات کا رخ قادیان کے مرزا غلام احمد قادیانی کے دعاوی کی طرف مڑ جاتا ہے۔

تیسرا باب ...... تدریجی نبی، مرزا قادیانی کے دعاوی

ابتدائی حالات

مرزا قادیانی اپنے ذاتی کوائف اس طرح بیان کرتے ہیں۔ ”اب میرے سوانح اس طرح پر ہیں کہ میرا نام غلام احمد، والد کا نام غلام مرتضیٰ اور دادا کا نام عطاء محمد اور میرے پردادا کا نام گل محمد تھا...... ہماری قوم مغل برلاس ہے۔..... میری پیدائش ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی ۔“ (کتاب البریہ ص ١٣٤، ١٥٩ خزائن ج ١٣ ص ١٦٢، بقیہ حاشیہ

٣٥

صفحہ ٤٦٠

”میرے والد مرزا غلام مرتضی دربار گورنری میں کرسی نشین بھی تھے اور سرکار انگریزی کے ایسے خیر خواہ اور دل کے بہادر تھے کہ مفسدہ ١٨٥٧ء میں پچاس گھوڑے اپنی گرہ سے خرید کر اور پچاس جوان جنگ جو بہم پہنچا کر اپنی حیثیت سے زیادہ گورنمنٹ عالیہ کو مدد دی تھی ۔“

(تحفہ قیصریہ ص ١٨، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٠)

مرزا قادیانی نے (کتاب البریہ میں) لکھا ہے کہ ان کی تعلیم گھر پر ہی ہوئی تھی۔ اس کے بعد وہ سیالکوٹ کچہری میں (بطور اہلمد) ملازم رہے اور وہاں سے مستعفی ہونے کے بعد گھر کے دھندوں (زمینداری کے کاموں) میں مصروف ہوگئے۔

مرزا قادیانی کی علمی زندگی (جس سے وہ ملک میں متعارف ہوئے) ١٨٨٠ء میں شروع ہوئی۔ جب انہوں نے اپنی سب سے پہلی تصنیف ”براہین احمدیہ“ کی جلد اوّل شائع کی۔ اس زمانے میں مباحثوں اور مناظروں کا بازار گرم تھا۔ ایک طرف ہندوؤں کے فرقہ آریہ سماج کے بانی پنڈت دیانند، اسلام پر مسلسل حملے کر رہے تھے۔ دوسری طرف سے پادری فنڈل کی سربراہی میں عیسائی پادری، مسلمانوں کے خلاف مذہبی میدان میں نبرد آزما تھے۔ براہین احمدیہ ان مخالفین کے اعتراضات کے جواب میں لکھی گئی اور اس وجہ سے اس نے ملک میں کافی شہرت حاصل کر لی۔ یہ جو احمدی حضرات اکثر کہتے رہتے ہیں کہ مسلمانوں کے بڑے بڑے اکابرین اور مشاہیر نے مرزا قادیانی کی اسلامی خدمات کو سراہا ہے تو یہ اسی زمانے کی بات ہے۔

اس کتاب کی اشاعت کے لئے مرزا قادیانی نے مسلمانوں سے مالی مدد کی اپیل کی اور کافی روپیہ جمع ہو گیا۔ انہوں نے پہلے یہ کہا کہ یہ کتاب بڑی جامع ہوگی اور پچاس حصوں پر مشتمل۔ لیکن بعد میں اس میں یوں ترمیم کر دی کہ: ”پہلے پچاس حصے لکھنے کا ارادہ تھا۔ مگر پچاس نے پانچ پر اکتفا کیا گیا اور چونکہ پچاس اور پانچ میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے۔ اس لئے پانچ حصوں سے وہ وعدہ پورا ہو گیا۔“

(دیباچہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٧، خزائن ج ٢١ ص ٩)

اس کتاب کے پہلے چار حصے ١٨٨٠ء سے ١٨٨٤ء تک مسلسل شائع ہوگئے۔ لیکن پانچویں حصہ کی اشاعت معرض التواء میں ڈال دی گئی۔ یہ حصہ (مرزا قادیانی کی وفات کے بعد) ١٩٠٨ء میں شائع ہوا۔ یہ التواء دانستہ کیا گیا تھا۔ اس کتاب کے پہلے چار حصوں میں مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو صوفیائے کرام کی طرح محض ولایت اور کشف والہام تک محدود رکھا تھا اور چونکہ اس قسم کا دعویٰ، مسلمانوں کے نزدیک قابل اعتراض نہیں تھا۔ اس لئے نہ صرف یہ کہ مرزا قادیانی کی کوئی مخالفت نہ ہوئی۔ بلکہ ان کی مذہبی خدمات کو سراہا بھی گیا۔ اس دوران میں ان کے خیالات ٤٠

میں کیا کیا تبدیلیاں ہوئیں۔ اس لئے تقریباً بارہ برس تک جو ایک زمانہ فتر بڑی شدومد سے براہین میں مسیح موعود رسمی عقیدہ پر جما رہا۔ جب بارہ برس گزر ہی مسیح موعود ہے۔“

یعنی براہین احمدیہ کی اشاعت دعویٰ نہیں کیا اور ١٨٩٢ء میں مسیح موعود ہو صاحبزادہ اور خلیفہ ثانی میاں محمود احمد اشاعت تک (جو کہ اگست ١٨٩٩ء سے یہی تھا کہ آپ کو حضرت مسیح پر جزوی فضی نبوت ہے اور ناقص نبوت۔ لیکن بعد میں ایک شان میں مسیح سے افضل ہیں اور کسی ج نبی جن کو آنحضرت ﷺ کے فیض سے نبو بالکل جائز نہیں ہوسکتا۔“

دوسرے مقام پر میاں محمود احمد میں ہی آپ نے اپنے عقیدہ میں تبدیلی کی ہے کہ ١٩٠١ء کے پہلے کے وہ حوالے جن می ہیں اور ان سے حجت پکڑنی غلط ہے۔“

ضمناً آپ اس اقتباس کے آخ سے احمدیوں کی قادیانی جماعت لاہوری ج آجاتی ہے۔ تفصیل بعد میں پیش کی جائے گی

اس سے مرزا قادیانی کی زندگی دور وہ امت مسلمہ کے مصلح کی حیثیت سے

١؎ ماہنامہ انصار اللہ (ربوہ) کی مارچ ١٨٨٢ء کو ماموریت کی خلعت سے نو کہ مسیح ابن مریم رسول اللہ فوت ہو چکا ہے او

عالمی سیرت کانفرنس کی روئداد عالمی سیرت کانفرنس پیش کش : مقالہ جات کوئٹہ مسائل سیرت عالمی سیرت پروگرام عالمی عالمی سیرت

صفحہ ٤٦١

میں کیا کیا تبدیلیاں ہوئیں۔ اس کے متعلق خود انہی کے الفاظ میں سنئے۔ وہ لکھتے ہیں: ”پھر میں تقریباً بارہ برس تک جو ایک زمانہ دراز ہے۔ بالکل اس سے بے خبر اور غافل رہا کہ خدا نے مجھے بڑی شدومد سے براہین میں مسیح موعود قرار دیا ہے اور میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کے رسمی عقیدہ پر جما رہا۔ جب بارہ برس گزر گئے تب تواتر سے اس بارہ میں الہامات شروع ہوئے کہ تو ہی مسیح موعود ہے۔“

(اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ١١٣)

یعنی براہین احمدیہ کی اشاعت ١٨٨٠ء کے بعد قریب بارہ سال تک انہوں نے کبھی اور دعویٰ نہیں کیا اور ١٨٩٢ء میں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ اس کے بعد کیا ہوا اسے مرزا قادیانی کے صاحبزادہ اور خلیفہ ثانی میاں محمود احمد کے الفاظ میں سنئے۔ وہ لکھتے ہیں: ”تریاق القلوب کی اشاعت تک (جو کہ اگست ١٨٩٩ء سے شروع ہوئی اور اکتوبر ١٩٠٢ء میں ختم ہوئی) آپ کا عقیدہ یہی تھا کہ آپ کو حضرت مسیح پر جزوی فضیلت ہے اور آپ کو جو نبی کہا جاتا ہے تو یہ ایک قسم کی جزوی نبوت ہے اور ناقص نبوت۔ لیکن بعد میں آپ کو خدائے تعالیٰ کی طرف سے معلوم ہوا کہ آپ ہر ایک شان میں مسیح سے افضل ہیں اور کسی جزوی نبوت کے پانے والے نہیں بلکہ نبی ہیں۔ ہاں ایسے نبی جن کو آنحضرت ﷺ کے فیض سے نبوت ملی۔ پس ١٩٠٢ء سے پہلے کی کسی تحریر سے حجت پکڑنا بالکل جائز نہیں ہو سکتا۔“

(القول الفصل ص ٢٤، مصنفہ میاں محمود احمد قادیانی)

دوسرے مقام پر میاں محمود احمد قادیانی لکھتے ہیں: ”اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ١٩٠١ء میں ہی آپ نے اپنے عقیدہ میں تبدیلی کی ہے اور ١٩٠٠ء ایک درمیانی عرصہ ہے۔..... پس یہ ثابت ہے کہ ١٩٠١ء کے پہلے کے وہ حوالے جن میں آپ نے نبی ہونے سے انکار کیا ہے۔ اب منسوخ ہیں اور ان سے حجت پکڑنی غلط ہے۔“

(حقیقت النبوۃ ص ١٢١، مصنفہ میاں محمود احمد قادیانی)

ضمناً آپ اس اقتباس کے آخری الفاظ کو اچھی طرح ذہن نشین کر لیجئے۔ کیونکہ ان سے احمدیوں کی قادیانی جماعت لاہوری جماعت کی باہمی چپقلش کی حقیقت واضح طور پر سامنے آجاتی ہے۔ تفصیل بعد میں پیش کی جائے گی۔

اس سے مرزا قادیانی کی زندگی کے تین دور نمایاں طور پر سامنے آجاتے ہیں۔ پہلا دور وہ امت مسلمہ کے مبلغ کی حیثیت سے ١٨٨٠ء میں شروع کرتے ہیں اور کشف والہام سے

١؎ ماہنامہ انصار اللہ (ربوہ) کی مئی ١٩٧٤ء کی اشاعت میں کہا گیا ہے کہ مرزا قادیانی کو مارچ ١٨٨٢ء کو ماموریت کی خلعت سے نوازا گیا اور ١٨٩٠ء کے آخر میں آپ پر یہ انکشاف ہوا کہ مسیح ابن مریم رسول اللہ فوت ہو چکا ہے اور اس کے رنگ میں ہو کر وعدہ کے موافق تو آیا ہے۔

٤١

صفحہ ٤٦٢

زیادہ کوئی دعویٰ نہیں کرتے۔ ١٨٩٢ء میں وہ مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور ١٩٠١ء میں مستقل نبوت کا، جو ان کی وفات ١٩٠٨ء تک قائم و دائم رہتا ہے۔ اس تمام دوران میں (جبکہ انہوں نے بقول ان کے قریب اسی کتابیں شائع کر دیں) وہ براہین احمدیہ کا پانچواں حصہ شائع نہیں کرتے۔ اس کی وجہ خود ان کے الفاظ میں ملاحظہ فرمائیے۔

پیچ میں پھنسانے کے لیئے

”اور یہ الہامات (یعنی جن میں نبوت وغیرہ کے دعوے کئے گئے ہیں۔ مصنف) اگر میری طرف سے اس موقع پر ظاہر ہوتے جب کہ علماء مخالف ہو گئے تھے تو وہ ہزار ہا اعتراض کرتے۔ لیکن وہ ایسے موقع پر شائع کئے گئے۔ جب کہ یہ علماء میرے موافق تھے۔ یہی سبب ہے کہ باوجود اس قدر جوشوں کے ان الہامات پر انہوں نے اعتراض نہیں کیا۔ کیونکہ وہ ایک دفعہ ان کو قبول کر چکے تھے اور سوچنے سے ظاہر ہوگا کہ میرے دعوئی مسیح موعود ہونے کی بنیاد انہی الہامات سے پڑی ہے اور انہیں میں خدا نے میرا نام عیسیٰ رکھا اور جو مسیح موعود کے حق میں آیتیں تھیں وہ میرے حق میں بیان کر دیں۔ اگر علماء کو خبر ہوتی کہ ان الہامات سے تو اس شخص کا مسیح ہونا ثابت ہوتا ہے تو وہ کبھی ان کو قبول نہ کرتے۔ یہ خدا کی قدرت ہے کہ انہوں نے قبول کر لیا اور اس پیچ میں پھنس گئے۔“

(اربعین نمبر ٢ ص ٢١، خزائن ج ١٧ ص ٣٦٩)

مرزا قادیانی کی تدریجی نبوت کا سارا راز اقتباس بالا کے آخری الفاظ میں پوشیدہ ہے۔ یعنی انہوں نے پہلے کشف والہام اور ولایت کے ایسے دعاوی کئے جو مسلمانوں کے نزدیک قابل اعتراض نہ تھے۔ پھر اپنے الہامات میں ایسا ابہام رکھا کہ نظر بظاہر ان میں کوئی بات قابل مواخذہ دکھائی نہ دے۔ یوں انہوں نے لوگوں کو اپنے پیچ میں پھنسایا اور رفتہ رفتہ دعویٰ ولایت سے نبوت تک پہنچ گئے۔ آیئے اب ہم ان سیڑھیوں کو دیکھیں جن پر چڑھ کر وہ بام نبوت تک پہنچے۔

ابتدائی اعلان

”میں ان تمام امور کا قائل ہوں۔ جو اسلامی عقائد میں داخل ہیں اور جیسا کہ اہل سنت جماعت کا عقیدہ ہے۔ ان سب باتوں کو مانتا ہوں جو قرآن وحدیث کی رو سے مسلم الثبوت ہیں اور سیدنا مولانا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ ﷺ پر ختم ہو گئی۔“

(اعلان مورخہ ٢؍اکتوبر ١٨٩١ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٢ ص ٢٠، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٥٥)

٤٢

دعویٰ ولایت

”ان پر واضح ہو محمد رسول اللہ ﷺ نبوت نہیں بلکہ وحی ولایت اس کے ہم قائل ہیں....... ہے۔“

دوسری جگہ کہتے اور کس قدر حد سے فزوں آنحضرت ﷺ کے مقابل مراد نبوت سے کثرت مکالمہ مکالمہ اور مخاطبہ کے آپ لوگ آپ اقتباس ہاں یہ عام عقیدہ ہے کہ اولیا سے براہ راست علم لدنی حاص کے اس عقیدہ کو بطور دلیل پ ان سے قرآن کریم کی بنا پ خدا سے مکالمہ اور مخاطبہ کا ا ہے۔ لہٰذا آپ کا (مرزا قاد وہیں ختم ہو جاتی۔ لیکن ان خود قائل تھے۔ وہ ان کے ل

محدث

ہمارے ہاں ا ہے۔ اس کے معنی بھی خدا ملے گی جہاں ہم احمدیوں بڑھایا اور محدثیت کا دعویٰ بعد آنحضرت ﷺ کوئی ن

صفحہ ٤٦٣

دعویٰ ولایت

"ان پر واضح رہے کہ ہم بھی نبوت کے مدعی پر لعنت بھیجتے ہیں اور 'لا الہ الا الله محمد رسول الله ' کے قائل ہیں اور آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں اور وحی نبوت نہیں بلکہ وحی ولایت جو زیر سایہ نبوت محمدیہ اور بہ اتباع آنجناب ﷺ اولیاء اللہ کو ملتی ہے۔ اس کے ہم قائل ہیں۔.... غرض نبوت کا دعویٰ اس طرف کبھی نہیں صرف ولایت اور مجددیت کا دعویٰ ہے ۔"

(مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٢ ص ٣٠٢، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٩٧)

دوسری جگہ کہتے ہیں: "یہ کہنا کہ نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ کس قدر جہالت، کس قدر حماقت اور کس قدر حد سے خروج ہے۔ اے نادانو! میری مراد نبوت سے یہ نہیں کہ میں نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ کے مقابل کھڑا ہو کر نبوت کا دعویٰ کرتا ہوں یا کوئی نئی شریعت لایا ہوں۔ صرف میری مراد نبوت سے کثرت مکالمت ومخاطبت الہیہ ہے جو آنحضرت ﷺ کی اتباع سے حاصل ہے۔ سو مکالمہ اور مخاطبہ کے آپ لوگ بھی قائل ہیں۔"

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨ ، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)

آپ اقتباس بالا پر غور کیجئے۔ ہم شروع میں لکھ چکے ہیں کہ روایات کی رو سے ہمارے ہاں یہ عام عقیدہ ہے کہ اولیاء اللہ خدا سے ہم کلام ہوتے ہیں اور انہیں کشف والہام کے ذریعے خدا سے براہ راست علم لدنی حاصل ہوتا ہے۔ مرزا قادیانی اپنے دعویٰ ولایت کی تائید میں مسلمانوں کے اس عقیدہ کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں اور اس طرح فریق مقابل کو خاموش کر دیتے ہیں۔ اگر ان سے قرآن کریم کی بناء پر بات کی جاتی اور قدم اوّل ہی میں یہ کہہ دیا جاتا کہ ختم نبوت کے بعد خدا سے مکالمہ اور مخاطبہ کا کوئی ثبوت قرآن سے نہیں ملتا۔ نہ ہی اس میں کشف والہام کا کوئی ذکر ہے۔ لہٰذا آپ کا (مرزا قادیانی کا) یہ دعویٰ قرآن کے خلاف اور ختم نبوت کے منافی ہے۔ تو بات وہیں ختم ہو جاتی۔ لیکن ان سے بحث کرنے والے علماء کشف والہام اور مخاطبہ و مکالمہ خداوندی کے خود قائل تھے۔ وہ ان کے دعویٰ کی تردید کس طرح کر سکتے تھے۔

محدث

ہمارے ہاں اولیاء اللہ کے علاوہ ایک اصطلاح محدث (دال زبر کے ساتھ) بھی ہے۔ اس کے معنی بھی خدا سے ہم کلام ہونے والا ہیں۔ (اس کی تفصیل بحث ساتویں باب میں ملے گی جہاں ہم احمدیوں کے دلائل کا تجزیہ کریں گے) مرزا قادیانی نے ایک قدم آگے بڑھایا اور محدثیت کا دعویٰ کر دیا۔ فرمایا: "ہمارے سید و رسول اللہ ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور بعد آنحضرت ﷺ کوئی نبی نہیں آسکتا۔ اس لئے شریعت میں نبی کے قائم مقام محدث رکھے

٤٣

صفحہ ٤٦٤

گئے ہیں۔“

(شہادۃ القرآن ص ٢٨، خزائن ج ٦ ص ٣٢٣)

دوسری جگہ لکھا ہے۔ ”میں نبی نہیں ہوں۔ بلکہ اللہ کی طرف سے محدث اور اللہ کا کلیم ہوں تا کہ دین مصطفےٰ کی تجدید کروں ۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٨٣، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

محدث کا اگلا درجہ، برزخی نبوت

”محدث جو مرسلین میں سے امتی بھی ہوتا ہے اور ناقص طور پر نبی بھی۔ امتی وہ اس وجہ سے کہ وہ بکلی تابع شریعت رسول اللہ اور مشکوٰۃ رسالت سے فیض پانے والا ہوتا ہے اور نبی اس وجہ سے کہ خدا تعالیٰ نبیوں کا سا معاملہ اس کے ساتھ کرتا ہے۔ محدث کا وجود انبیاء اور امم میں بطور برزخ کے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔ وہ اگرچہ کامل طور پر امتی ہے۔ مگر ایک وجہ سے نبی بھی ہوتا ہے اور محدث کے لئے ضروری ہے کہ وہ نبی کا مثیل ہو اور خدائے تعالیٰ کے نزدیک وہی نام پاوے جو اس نبی کا نام ہے۔“

(ازالۃ اوہام ص ٥٦٩، خزائن ج ٣ ص ٤٠٧)

آپ دیکھ رہے ہیں کہ مرزا قادیانی کس طرح محدثیت کے دعویٰ کو (جو مسلمانوں میں رائج تھا) آگے بڑھا کر نبوت تک لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اپنے مثیل مسیح ہونے کے دعویٰ کے لئے زمین ہموار کر رہے ہیں۔ نظر آتا ہے کہ یہ سب کچھ ایک سوچی سمجھی سکیم کے مطابق ہو رہا ہے۔ لیکن ان کے فرزند ارجمند (مرزا محمود احمد قادیانی) ان کی مدافعت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی ایسا کچھ دیدہ دانستہ نہیں کہہ رہے تھے۔ یہ ان کی لاعلمی پر مبنی غلطی تھی۔ ارشاد ہے: ”حضرت اقدس اپنے دعویٰ کو کہتے تو محدثیت کا دعویٰ تھے۔ مگر محدثیت کے جو معنی تعریف اور کیفیت بیان کرتے تھے وہ درحقیقت نبوت کے معنی تعریف اور کیفیت تھی۔ ..... اور آپ کا اپنے اس دعویٰ کو نبوت کے بجائے محدثیت کا دعویٰ قرار دینا آپ کی لاعلمی پر مبنی غلطی تھی۔ کیونکہ یہ دعویٰ بلحاظ تعریف و کیفیت اور تفصیل درحقیقت نبوت کا دعویٰ تھا۔“

(حقیقت النبوۃ ص ١٢٤، ١٢٨، بحوالہ پیغام صلح لاہور ص ٥ ج ٥٨ نمبر ١١، مورخہ ١٧؍مارچ ١٩٧١ء)

”اتنا ہی نہیں۔ حضرت اقدس کی مجالس میں مہینوں یہ چرچا رہتا تھا کہ نبوت کے بارے میں آپ کا اجتہاد درست نہیں نکلا۔“ (ملفوظات میاں محمود احمد، اخبار الفضل مورخہ ٢٦؍مئی ١٩٢٢ء، بحوالہ پیغام صلح ص ٦ ج ٥٨ نمبر ١١، مورخہ ١٧؍مارچ ١٩٧١ء)

اس قسم کا تذبذب مرزا قادیانی کی لاعلمی پر مبنی غلطی ہو یا (خود مرزا قادیانی کے اپنے الفاظ میں) مسلمانوں کو پیچ میں پھنسانے کی ترکیب بہرحال یہ ان کی ذہنی سطح اور قلبی کیفیت کی صحیح صحیح آئینہ دار ہے۔

٤٤

صفحہ ٤٦٥

عقیدۂ ختم نبوت

عقیدۂ ختم نبوت قلب مسلم کا نازک ترین گوشہ ہے۔ (اور ایسا ہونا بھی چاہئے) مرزا قادیانی نے جب اپنے لئے نبی کا لفظ استعمال کیا تو اگرچہ اسے ابہام والتباس کے پردوں میں چھپانے کی پوری پوری کوشش کی۔ لیکن اس کے باوجود اس خدشہ کا امکان تھا کہ اس سے مسلمانوں کے جذبات بھڑک اٹھیں گے۔ اس خطرہ کی حفاظتی تدبیر کے لئے مرزا قادیانی اپنے عقیدۂ ختم نبوت کا باصرار و تکرار اعلان کرتے رہے۔ اس سلسلہ میں چند ایک اقتباسات درج ذیل ہیں۔

”کیا تو نہیں جانتا کہ پروردگار رحیم وصاحب فضل نے ہمارے نبی ﷺ کا بغیر کسی استثناء کے خاتم النبیین نام رکھا اور ہمارے نبی نے اہل طلب کے لئے اس کی تفسیر اپنے قول لا نبی بعدی میں واضح طور پر فرمادی۔ اگر ہم اپنے نبی ﷺ کے بعد کسی نبی کا ظہور جائز قرار دیں تو گویا ہم باب وحی بند ہو جانے کے بعد اس کا کھلنا جائز قرار دیں گے اور یہ صحیح نہیں جیسا کہ مسلمانوں پر ظاہر ہے اور ہمارے رسول ﷺ کے بعد نبی کیونکر آسکتا ہے۔ درآنحالیکہ آپ کی وفات کے بعد وحی منقطع ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر نبیوں کا خاتمہ فرمادیا۔“

(حمامۃ البشریٰ ص ٣٤، خزائن ج ٧ ص ٢٠٠)

دوسرے مقام پر لکھا: ”آنحضرت ﷺ نے بار بار فرما دیا تھا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور حدیث لا نبی بعدی ایسی مشہور تھی کہ کسی کو اس کی صحت میں کلام نہ تھا اور قرآن شریف جس کا لفظ لفظ قطعی ہے۔ اپنی آیت ’ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین‘ سے بھی اس بات کی تصدیق کرتا تھا کہ فی الحقیقت ہمارے نبی ﷺ پر نبوت ختم ہوچکی ہے۔“

(کتاب البریہ ص ١٩٩، خزائن ج ١٣ ص ٢١٧)

وہ اپنی کتاب ”آئینہ کمالات اسلام“ میں لکھتے ہیں: ”اللہ کو شایان نہیں کہ خاتم النبیین کے بعد نبی بھیجے اور نہیں شایان کہ سلسلۂ نبوت کو دوبارہ ازسرنو شروع کر دے۔ بعد اس کے کہ اسے قطع کر چکا ہو اور بعض احکام قرآن کریم کے منسوخ کر دے اور ان پر بڑھا دے۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٧٧، خزائن ج ٥ ص ایضا)

وہ اپنے ایک اشتہار میں اعلان کرتے ہیں کہ: ”میں سیدنا ومولانا محمد مصطفیٰ ﷺ خاتم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت ورسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ محمد مصطفیٰ ﷺ پر ختم ہوگئی۔“

(اشتہار مورخہ ٢ اکتوبر ١٨٩١ء، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠)

٤٥

صفحہ ٤٦٦

انہوں نے ٢٣؍ اکتوبر ١٨٩١ء کو جامع مسجد دہلی کے ایک جلسہ میں اپنے تحریری بیان میں کہا: ’’میں جناب خاتم النبیین ﷺ کی ختم نبوت کا قائل ہوں اور جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو اس کو بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٥٥)

دوسرے مقام پر لکھا: ’’مجھے کب جائز ہے کہ میں نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام سے خارج ہو جاؤں اور کافروں کی جماعت سے جاملوں۔‘‘

(حمامۃ البشریٰ ص ١٣١، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)

اور ایک اشتہار میں کہا: ’’ہم بھی مدعی نبوت پر لعنت بھیجتے ہیں۔ ’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘ کے قائل ہیں اور آنحضرت ﷺ کے ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔‘‘

(اشتہار مورخہ ٢٠؍ شعبان ١٣١٤ھ، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٩٧)

نبی کا لفظ کاٹا ہوا خیال کریں

مرزا قادیانی کے اس قسم کے اعلانات پر جب یہ اعتراض کیا گیا کہ جب آپ ختم نبوت کے قائل ہیں اور مدعی نبوت کو کاذب اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں تو آپ اپنے آپ کو نبی کیوں کہتے ہیں۔ اس کے جواب میں آپ نے کہا: ’’جس حالت میں ابتداء سے میری نیت میں جس کو اللہ جل شانہ خوب جانتا ہے۔ اس لفظ نبی سے مراد نبوت حقیقی نہیں بلکہ صرف محدث مراد ہے جس کے معنی آنحضرت ﷺ نے مکلم مراد لئے ہیں تو پھر مجھے اپنے مسلمان بھائیوں کی دلجوئی کے لئے اس لفظ کو دوسرے پیرایہ میں بیان کرنے سے کیا عذر ہوسکتا ہے۔ سو دوسرا پیرایہ یہ ہے کہ بجائے اس لفظ نبی کے محدث کا لفظ ہر جگہ سمجھ لیں اور اس کو یعنی لفظ نبی کو کاٹا ہوا خیال فرمالیں۔‘‘

(اعلان مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٢ ص ٩٥، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٣١٣، ٣١٤)

خاتم النبیین کے نئے معنی

ہم دیکھ چکے ہیں کہ مرزا قادیانی نے واضح الفاظ میں بار بار کہا کہ حضور نبی اکرم ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ سلسلۂ نبوت آپ پر ختم ہوگیا اور آپ خدا کے آخری نبی ہیں۔ لیکن اس کے بعد آپ آگے بڑھے اور کہا کہ خاتم النبیین کے معنی آخری نبی نہیں۔ خاتم کے معنی مہر ہیں۔ اس لئے خاتم النبیین کے معنی ہیں وہ جس کی مہر سے نبی بن سکیں۔ مرزا محمود احمد قادیانی کے الفاظ ہیں: ’’خاتم النبیین کے بارے میں حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ آپ کی مہر کے بغیر کسی کی نبوت تصدیق نہیں ہوسکتی۔ جب مہر لگ جاتی ہے تو وہ کاغذ سند ہو جاتا ہے اور مصدقہ سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ کی مہر اور تصدیق جس نبوت پر نہ ہو وہ صحیح نہیں ہے۔‘‘

(ملفوظات احمدیہ حصہ پنجم ص ٢٩٠، مرتبہ محمد منظور الٰہی قادیانی)

٤٦

صفحہ ٤٦٧

عالمی سیرت کانفرنس کانفرنس کی رُوداد کی

پیش کش مقالہ جات کے مسائل سیرت

نے سیرت مطہر عالمی سیرت کا

پر اکابر علماء کر عالمی سیرت

کہ جامع مسجد دہلی کے ایک جلسہ میں اپنے تحریری بیان ختم نبوت کا قائل ہوں اور جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو اس کو ہوں۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ١ص ٢٥٥)

تب جائز ہے کہ میں نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام سے خارج ہوں۔“

(حمامتہ البشریٰ ص ١٣١، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)

کی مدعی نبوت پر لعنت بھیجتے ہیں۔ ”لا الہ الا اللہ آنحضرت ﷺ کے ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔“

اشتہار مورخہ ٢٠؍شعبان ١٣١٤ھ، مجموعہ اشتہارات ج ٢ص ٢٩٧)

داعلانات پر جب یہ اعتراض کیا گیا کہ جب آپ ختم ہیں اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں تو آپ اپنے آپ میں آپ نے کہا: ”جس حالت میں ابتداء سے میری نیت کسی لفظ نبی سے مراد نبوت حقیقی نہیں بلکہ صرف محدث مراد مراد لئے ہیں تو پھر مجھے اپنے مسلمان بھائیوں کی دلجوئی ر کرنے سے کیا عذر ہو سکتا ہے۔ سو دوسرا پیرا یہ یہ ہے کہ نہ لیں اور اس کو یعنی لفظ نبی کو کاٹا ہوا خیال فرما لیں۔“

تحفہ گولڑویہ، رسالہ ج ٢ ص ٩٥، مجموعہ اشتہارات ج ١ص ٣١٣، ٣١٤)

جانے واضح الفاظ میں بار بار کہا کہ حضور نبی اکرم ﷺ مسئلہ نبوت آپ پر ختم ہو گیا اور آپ خدا کے آخری نبی کہا کہ خاتم النبیین کے معنی آخری نبی نہیں۔ خاتم کے سکتا ہیں وہ جس کی مہر سے نبی بن سکیں۔ مرزا محمود احمد دعوے میں حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ خاتم النبیین نبوت تصدیق نہیں ہو سکتی۔ جب مہر لگ جاتی ہے تو وہ اس طرح آنحضرت ﷺ کی مہر اور تصدیق جس

(ملفوظات احمد یہ حصہ پنجم ص ٢٩٠، مرتبہ محمد منظور الہی قادیانی)

٤٦

مرزا قادیانی کے خلیفہ اوّل (حکیم نورالدین قادیانی) سے ایک شخص نے سوال کیا کہ: ”خاتم النبیین رسول تھے تو پھر نبی ہونے کا دعویٰ کس طرح ہو سکتا ہے۔“ جواب دیا کہ: ”خاتم مہر کو کہتے ہیں۔ جب نبی کریم ﷺ مہر ہوئے۔ اگر ان کی امت میں کسی قسم کا نبی نہیں ہو گا تو وہ مہر کس طرح ہوئے یا مہر کس پر لگی۔“

(اخبار الفضل قادیان ص ٩، ج ٩ نمبر ٩١، مورخہ ٢٢؍مئی ١٩٢٢ء)

اب اس سلسلہ میں خود مرزا قادیانی کی تحریریں ملاحظہ فرمائیے۔ لکھتے ہیں: ”جس کامل انسان پر قرآن شریف نازل ہوا...... اور وہ خاتم الانبیاء بنے۔ مگر ان معنوں سے نہیں کہ آئندہ اس سے کوئی روحانی فیض نہیں ملے گا۔ بلکہ اس معنوں سے کہ وہ صاحب خاتم ہے۔ بجز اس کی مہر کے کوئی فیض کسی کو نہیں پہنچ سکتا...... اور بجز اس کے کوئی نبی صاحب خاتم نہیں۔ ایک وہی ہے جس کی مہر سے ایسی نبوت بھی مل سکتی ہے جس کے لئے امتی ہونا لازمی ہے۔“ (حقیقت الوحی ص ٩٧، خزائن ج ٢٢ ص ٢٩)

یہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنی پہلی تصنیف براہین احمدیہ کے پہلے چار حصے ١٨٨٠ء لغایت ١٨٨٤ء میں شائع کئے۔ لیکن پانچویں حصہ کی اشاعت کو ملتوی کر دیا۔ یہ حصہ انہوں نے اپنی عمر کے آخری دنوں مرتب کیا اور ان کی وفات ١٩٠٨ء کے بعد شائع ہوا۔ اس کتاب کے پہلے چار حصوں میں مرزا قادیانی کا دعویٰ ولایت کشف والہام تک محدود تھا۔ لیکن پانچویں حصہ میں اپنے دعویٰ نبوت کو ثابت کرنے کی کوشش کی۔ وہ پانچویں حصہ کے ضمیمہ میں لکھتے ہیں: ”اور آنحضرت ﷺ کو جو خاتم الانبیاء فرمایا گیا ہے۔ اس کے یہ معنی نہیں کہ آپ کے بعد دروازہ مکالمات ومخاطبات الہیہ کا بند ہے۔ اگر یہ معنی ہوتے تو یہ امت ایک لعنتی امت ہوتی۔ جو شیطان کی طرح ہمیشہ سے خدا تعالیٰ سے دور مہجور ہوتی۔ بلکہ یہ معنی ہیں کہ براہ راست خدا سے فیض وحی پانا بند ہے اور یہ نعمت بغیر اتباع آنحضرت ﷺ کسی کو ملنا محال اور ممتنع ہے...... یہ کس قدر لغو اور باطل عقیدہ ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ بعد آنحضرت ﷺ کے وحی الہی کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا اور آئندہ کو قیامت تک اس کی کوئی بھی امید نہیں۔ صرف قصوں کو پوجا کرو...... میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس زمانے میں مجھ سے زیادہ بیزار ایسے مذہب سے اور کوئی نہ ہوگا۔ میں ایسے مذہب کا نام شیطانی مذہب رکھتا ہوں نہ رحمانی مذہب۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٨٤، خزائن ج ٢١ ص ٣٥٤، ٣٥٥)

احمدی حضرات قرآنی الفاظ خاتم النبیین بڑی شدومد کے ساتھ پیش کیا کرتے ہیں اور یہ کہہ کر عوام کو دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ خاتم (ت کی زبر کے ساتھ) کے معنی مہر کے ہیں

٤٧

صفحہ ٤٦٨

اور مطلب اس سے یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی مہر سے آپ کے امتی نبی بن سکتے ہیں۔ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ عربوں کے ہاں خاتم اس مہر یا نشان کو کہتے ہیں جو کسی بوتل وغیرہ کو لاکھ سے بند کر کے اس لاکھ کے اوپر لگاتے ہیں۔ اسے انگریزی زبان میں (Seal) کر دینا کہتے ہیں۔ چنانچہ قرآن کریم میں ختم کا لفظ انہی معنوں میں آیا ہے۔ خود مرزا بشیر الدین محمود قادیانی اپنی تفسیر میں قرآنی آیت ”ختم الله علی قلوبهم وعلی سمعهم (البقره:٨)“ کا ترجمہ کرتے ہیں۔ ”اللہ نے ان کے دلوں پر اور کانوں پر مہر کر دی ہے۔“

(تفسیر صغیر ص ٦)

”یسقون من رحیق مختوم (مطففین: ٢٥)“ کے معنی لکھتے ہیں۔ ”انہیں خالص سربمہر شراب پلائی جائے گی۔“ اور ”ختمہ مسک (مطففین:٢٦)“ کے معنی لکھتے ہیں۔ اس کے آخر میں مشک ہوگا۔

(تفسیر صغیر ص ٨١١)

جیسا کہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں۔ ہمیں اس بحث میں الجھنے کی ضرورت نہیں جب کہ خود مرزا قادیانی نے (ان اقتباسات کی رو سے جو پہلے درج کئے جاچکے ہیں) خاتم النبیین کے معنی وہ نبی کئے ہیں۔ جس پر سلسلۂ نبوت ختم ہو گیا۔ وہ آخری نبی جس کے بعد وحی منقطع ہو گئی۔

باقی رہا یہ کہ رسول اللہ ﷺ کے اتباع سے کسی امتی کو نبوت مل سکتی ہے تو یہ دعویٰ نبوت کی حقیقت سے بیخبری کی دلیل ہے۔ (جیسا کہ ہم پہلے بتاچکے ہیں) نبوت ، موہبت خداوندی ہے جو کسی انسان کو کسب و ہنر، محنت و کاوش، کسی کے اتباع یا اطاعت سے نہیں مل سکتی۔ محنت و کاوش سے نبوت حاصل ہونا تو ایک طرف جس برگزیدہ ہستی کو اس منصب جلیلہ اور موہبت کبریٰ کے لئے منتخب کیا جاتا تھا۔ اسے (نبوت حاصل ہونے سے) ایک ثانیہ پہلے تک اس کا علم و ادراک تک نہیں ہوتا تھا کہ اسے اس منصب کے لئے منتخب کیا جا رہا ہے۔ اسی سلسلہ میں ایک بڑی دلچسپ بات یاد آگئی۔ احمدی حضرات (مرزا قادیانی کے اس دعویٰ کی تائید میں کہ انہیں اتباع محمدیہ سے نبوت حاصل ہو گئی ہے) یہ دلیل پیش کیا کرتے ہیں کہ:

المستقیم . صراط الذین انعمت علیهم “ دکھا ہم کو سیدھی راہ۔ راہ ان لوگوں کی جن پر تو نے اپنا انعام کیا۔

انعم الله علیهم من النبیین والصدیقین والشهداء والصالحین (النساء:٦٩)“ یعنی منعم علیہ حضرات میں انبیاء، صدیق، شہداء اور صالحین شامل ہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ خدا

٤٨

صفحہ ٤٦٩

نے مسلمانوں کو نبی بن جانے کی بھی دعاء سکھائی ہے۔ (ہم ان حضرات کی اس مغالطہ آفرینی کا تجزیہ بعد میں کریں گے۔ اس مقام پر صرف اتنا سمجھ لیجئے کہ) احمدیوں کی جماعت لاہوری کے امام مولانا محمد علی قادیانی اپنی تفسیر بیان القرآن میں اس نکتہ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ”یہاں نبی کا لفظ آجانے سے بعض لوگوں کو یہ ٹھوکر لگی ہے کہ خود مقام نبوت بھی اس دعاء کے ذریعے سے مل سکتا ہے اور گویا ہر مسلمان ہر روز بار بار مقام نبوت کو ہی اس دعاء کے ذریعہ طلب کرتا ہے۔ یہ ایک اصولی غلطی ہے۔ اس لئے کہ نبوت محض موہبت ہے اور نبوت میں انسان کی جدو جہد اور اس کی سعی کو کوئی دخل نہیں۔ ایک وہ چیزیں ہیں جو موہبت سے ملتی ہیں اور ایک وہ جو انسان کی جدوجہد سے ملتی ہیں۔ نبوت اوّل میں سے ہے۔“

(بیان القرآن ص٥)

لیکن یہ لکھتے وقت مولانا محمد علی قادیانی یہ بھول گئے کہ یہ ٹھوکر بعض لوگوں ہی کو نہیں لگی خود مرزا قادیانی کو بھی لگی تھی۔ جو اتباع محمدی سے مقام نبوت تک پہنچ جانے کے مدعی تھے۔ چنانچہ انہوں نے سورۃ فاتحہ کی مندرجہ بالا آیت کے سلسلہ میں لکھا تھا۔

”افسوس کہ حال کے نادان مسلمانوں نے اپنے اس نبی مکرم کا کچھ قدر نہیں کیا اور ہر ایک بات میں ٹھوکر کھائی۔ وہ ختم نبوت کے ایسے معنی کرتے ہیں۔ جس سے آنحضرتﷺ کے نفس پاک میں اضافہ اور تکمیل نفوس کے لئے کوئی قوت نہ تھی اور صرف خشک شریعت سکھانے آئے تھے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ اس امت کو دعاء سکھاتا ہے۔ ”اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیہم“ پس اگر یہ امت پہلے نبیوں کی وارث نہیں اور اس انعام میں سے اس کو کچھ حصہ نہیں تو پھر یہ دعاء کیوں سکھائی گئی ۔“

(حقیقۃ الوحی ص١٠٠، خزائن ج٢٢ ص١٠٢)

بہر حال بات یوں چلی تھی کہ مرزا قادیانی نے:

باصرار وتکرار کہا کہ ختم نبوت پر ان کا عقیدہ ہے۔ وہ حضورﷺ کو خاتم النبیین (آخری نبی) مانتے ہیں اور مدعی نبوت کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیتے ہیں۔

کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اب نبوت، رسول اللہ ﷺ کی مہر تصدیق سے حاصل ہو سکتی ہے۔ براہ راست نہیں اور مجھے اس طرح نبوت حاصل ہوئی ہے۔

٤٩

صفحہ ٤٧٠

بروزی اور ظلی نبی

(مرزا قادیانی کے اپنے الفاظ میں) اس پیچ میں پھنسانے کے لئے انہوں نے بڑی دلچسپ اصطلاحات وضع یا اختیار کیں۔ انہوں نے کہا: ”غرض خاتم النبیین کا لفظ ایک ایسی مہر ہے جو آنحضرت ﷺ کی نبوت پر لگ گئی ہے۔ اب ممکن نہیں کہ کبھی یہ مہر ٹوٹ جائے۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ آنحضرت ﷺ نہ ایک دفعہ بلکہ ہزار دفعہ دنیا میں بروزی رنگ میں آ جائیں اور بروزی رنگ میں اور کمالات کے ساتھ اپنی نبوت کا بھی اظہار کریں۔“ (ایک غلطی کا ازالہ ص ١٠، ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢١٤، ٢١٥)

دوسری جگہ لکھتے ہیں: ”خدا تعالیٰ نے ابتداء سے ارادہ کیا تھا کہ آنحضرت ﷺ کے کمالات متعدیہ کے اظہار واثبات کے لئے کسی شخص کو آنجناب کی پیروی اور متابعت کی وجہ سے وہ مرتبہ کثرت مکالمات اور مخاطبات الہیہ بخشے کہ جو اس کے وجود میں عکسی طور پر نبوت کا رنگ پیدا کر دے۔ سو اس طرح خدا نے میرا نام نبی رکھا۔ یعنی نبوت محمدیہ میرے آئینہ نفس میں منعکس ہوگئی اور ظلی طور پر نہ اصلی طور پر مجھے یہ نام دیا گیا تا کہ میں آنحضرت ﷺ کے فیوض کا کامل نمونہ ٹھہروں۔“ (چشمہ معرفت ص ٣٢٤، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٩)

ایک اور مقام پر اس کی تشریح ان الفاظ میں کرتے ہیں: ”مجھے بروزی صورت نے نبی اور رسول بنایا ہے اور اس بناء پر خدا نے بار بار میرا نام نبی اللہ اور رسول اللہ رکھا۔ مگر بروزی صورت میں میرا نفس درمیان نہیں ہے۔ بلکہ محمد مصطفیٰ ﷺ ہے۔ اس لحاظ سے میرا نام محمد اور احمد ہوا۔ پس نبوت اور رسالت کسی دوسرے کے پاس نہیں گئی۔ محمد کی چیز محمد کے پاس رہی علیہ الصلوٰۃ والسلام۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ١٢، خزائن ج ١٨ ص ٢١٦)

لیجئے ظل اور بروز کے بعد مرزا قادیانی نے خود محمد رسول اللہ ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ (معاذ اللہ ثم معاذ اللہ ) ذرا دل پر پتھر رکھ کر اس کی تشریح بھی ملاحظہ فرما لیجئے۔ فرماتے ہیں: ”اور ہمارے نزدیک تو کوئی دوسرا آیا ہی نہیں۔ نہ نیا نبی نہ پرانا۔ بلکہ خود محمد رسول اللہ ﷺ کی چادر دوسرے کو پہنائی گئی ہے اور وہ خود ہی آئے۔“ (الحکم، قادیان مورخہ ٣٠؍ نومبر ١٩٠١ء، ملفوظات ج ٢ ص ٤٠٤)

مرزا قادیانی کے انہی دعاوی کی روشنی میں ان کے متبعین اعلان کرتے ہیں کہ؎

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

(اخبار بدر ج ٢ نمبر ٤٣ ص ١٤، مورخہ ٢٥؍ اکتوبر ١٩٠٦ء، بحوالہ پیغام صلح مورخہ ١٤؍ مارچ ١٩١٦ء)

٥٠

صفحہ ٤٧١

اور صاحبزادہ بشیر احمد قادیانی فرماتے ہیں کہ: ”اب معاملہ صاف ہے۔ اگر نبی کریم کا انکار کفر ہے تو مسیح موعود (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی) کا انکار بھی کفر ہونا چاہئے۔ کیونکہ مسیح موعود نبی کریم سے کوئی الگ چیز نہیں ہے۔“

(کلمتہ الفصل ص ١٤٦، صاحبزادہ بشیر احمد قادیانی)

صحابہ کی جماعت

جب مرزا قادیانی (معاذ اللہ) عین محمد ٹھہرے تو ان کی جماعت بھی صحابہ کی جماعت بن گئی۔ ملاحظہ فرمایئے: ”اس حوالہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کی جماعت درحقیقت آنحضرت ﷺ کے ہی صحابہ میں کی ایک جماعت ہے اور جیسا کہ آنحضرت ﷺ کا فیض صحابہ پر جاری ہوا۔ ایسا ہی بغیر فرق ایک ذرہ کے مسیح موعود کی جماعت پر بھی آنحضرت ﷺ کا فیض ہوا...... یہ اس امر کی پختہ دلیل ہے کہ مسیح موعود درحقیقت محمد اور عین محمد ہیں۔“

(الفضل قادیان مورخہ یکم جنوری ١٩١٦ء)

خود خدا کا ظہور

محمد (ﷺ) ہی کا ظہور نہیں بلکہ خود خدا کا ظہور، قادیان سے شائع ہونے والے مجلہ (تشحیذ الاذہان ج ٦ نمبر ١١ کے ص ٤٠٨، نومبر ١٩١١ء) پر مرقوم ہے ۔ ”وہ جو خدا کے لئے بمنزلہ اولاد ہے۔ وہ جس کا ظہور خدا اپنا ظہور قرار دیتا ہے۔“

آگے بڑھنے سے پہلے اتنا سمجھ لینا ضروری ہے کہ ظلی اور بروزی، عکسی اور حلولی وغیرہ الفاظ یا اس قسم کے تصورات نہ قرآن کریم میں ملتے ہیں نہ حدیث میں۔ نہ ہی صدر اوّل کے لٹریچر میں ان کا کہیں پتہ نشان ملتا ہے۔ یہ تمام تصورات مجوسیوں کے تھے۔ ان سے ہمارے ہاں تصوف نے مستعار لئے اور وہاں سے مرزا قادیانی نے اخذ کر لئے۔ اس کی شہادت خود مرزا قادیانی کے متبعین کے ہاں سے ملتی ہے۔ احمدیوں کی لاہوری شاخ کے ترجمان پیغام صلح ص ٨ ج ٦٠ نمبر ٢٨ کی ١١ جولائی ١٩٧٣ء کی اشاعت میں ایک مقالہ شائع ہوا ہے۔ جس میں لکھا ہے کہ: ”آپ کی (مرزا قادیانی کی) تحریرات میں جو اصطلاحات پائی جاتی ہیں۔ جن سے اپنوں اور بیگانوں کو ٹھوکر لگی ہے اور آپ کو مدعی نبوت سمجھنے لگے ہیں۔ جیسے ظلی نبی، بروزی نبی، امتی نبی، غیر تشریعی نبی، فنافی الرسول اور مجازی نبی تو ان کے متعلق سمجھنے والی بات صرف یہ ہے کہ یہ اصطلاحات کہاں سے لی گئی ہیں اور ان کے معنی کیا ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان اصطلاحات کا قرآن مجید اور احادیث میں تو کوئی ذکر نہیں اور آنحضرت ﷺ کے پانچ چھ سو سال بعد تک ہمیں ان کا وجود نظر نہیں آتا۔ لیکن جب ہم تاریخ کی ورق گردانی کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ اصطلاحات صوفیائے کرام نے وضع کی ہیں۔“

٥١

صفحہ ٤٧٢

یہ تو ہم ذرا آگے چل کر دیکھیں گے کہ ”ٹھوکر کس کس کو لگی ہے“ سر دست اتنا دیکھئے کہ ایک شخص کا دعویٰ یہ ہے کہ اسے خدا کی طرف سے وحی ملتی ہے اور اس کے دعویٰ کی بنیاد وحی پر ہے۔ لیکن وہ شخص جو دعویٰ کرتا ہے ان کی بنیاد مجوسی نظریات پر ہے۔ جو یکسر قرآن کے خلاف ہے۔ علامہ اقبالؒ کے الفاظ ہیں۔ ”احمدیت کے ماخذ اور اس امر کی بحث کہ قبل اسلام مجوسی تصورات نے اسلامی تصوف کے ذریعے احمدیت کے ذہن کو کس طرح متاثر کیا۔ مذہب مقابلہ کی نگاہ سے بے حد دلچسپ ہوگی۔“

(احمدیت اور اسلام ص ٢٦)

اور یہ بھی دیکھئے کہ وہ جو ہم نے پہلے کہا ہے کہ ہمارے ہاں کا تصوف، مدعیان نبوت کے لئے راستہ ہموار کرتا ہے۔ وہ کس قدر صحیح ہے۔ مرزا قادیانی کے ان دعاوی کی سند صوفیاء کرام ہیں۔ لیکن یہ تو راستے کا مقام ہے۔ آپ دیکھئے کہ اس کے بعد مرزا قادیانی کیا کیا دعویٰ کرتے ہیں۔

واحد نبی

اس وقت تک یہ کہا جا رہا تھا کہ نبی اکرم ﷺ کا خاتم الانبیاء ہونا اس معنی میں ہے کہ آپ کے اتباع سے آپ کے امتی، منصب نبوت تک پہنچ سکتے ہیں۔ لیکن اس کے بعد کہا: ”اس امت میں ...... نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا ہوں اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں...... اور ضرور تھا کہ ایسا ہوتا۔ جیسا کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ ایسا شخص ایک ہی ہو گا وہ پیش گوئی پوری ہو جائے۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦، ٤٠٧)

اس سے پہلے دعویٰ یہ تھا کہ مرزا قادیانی امتی نبی ہیں۔ لیکن اب کہا گیا کہ مرزا قادیانی کو امتی سمجھنا کفر ہے۔ چنانچہ الفضل (قادیان) کی اشاعت بابت ٢٩ /جون ١٩١٥ء میں لکھا ہے۔ ”مسیح موعود کو احمد نبی اللہ تسلیم نہ کرنا اور آپ کو امتی قرار دینا یا امتی گروہ میں سمجھنا گویا آنحضرت ﷺ کو جو سید المرسلین اور خاتم النبیین ہیں امتی قرار دینا اور امتیوں میں داخل کرنا ہے جو کفر عظیم اور کفر بعد کفر ہے۔“

آخری نبی

اوپر لکھا گیا ہے کہ مرزا قادیانی نے کہا ہے کہ نبی کا نام صرف ان کے لئے مختص ہے۔ کسی دوسرے کو حق حاصل نہیں کہ وہ اپنے آپ کو نبی کہلائے۔ اس کے بعد کہا کہ اتنا ہی نہیں کہ اس دور میں صرف میں ہی نبی کہلانے کا مستحق ہوں۔ بلکہ یہ کہ میں آخری نبی ہوں۔ مرزا قادیانی کے الفاظ ہیں: ”ہلاک ہو گئے وہ جنہوں نے ایک برگزیدہ رسول کو قبول نہ کیا مبارک ہے وہ جس نے مجھے پہچانا۔ میں خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہ ہوں اور اس کے سب نوروں میں سے

٥٢

صفحہ ٤٧٣

٤٧ یہ ٹھوکر کس کس کو لگی ہے، سر دست استاد دیکھئے کہ اسے وحی ملتی ہے اور اس کے دعاوی کی بنیاد وحی پر مجموعی نظریات پر ہے۔ جو یکسر قرآن کے خلاف کے ماخذ اور اس امر کی بحث کہ قبل اسلام مجوسی کے ذہن کو کس طرح متاثر کیا۔ مذہب مقابلہ کی

(احمدیت اور اسلام ص ٢٦)

چاہیے کہ ہمارے ہاں کا تصوف، مدعیان نبوت کے مرزا قادیانی کے ان دعاوی کی سند صوفیاء کرام ہیں۔ اس کے بعد مرزا قادیانی کیا کیا دعویٰ کرتے ہیں۔

مگر رسول اللہﷺ کا خاتم الانبیاء ہونا اس معنی میں ہے کہ مدت تک پہنچ سکتے ہیں۔ لیکن اس کے بعد کہا: ’’اس مخصوص کیا گیا ہوں اور دوسرے تمام لوگ اس نام ہے کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ ایسا شخص ایک ہی

(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ص ٤٠٧، ٤٠٦)

کوئی امتی نبی نہیں۔ لیکن اب کہا گیا کہ مرزا قادیانی کی اشاعت بابت ٢٩؍ جون ١٩١٥ء میں لکھا ہے۔ کو امتی قرار دینا یا امتی گروہ میں سمجھنا گویا امتی قرار دینا اور امتیوں میں داخل کرنا ہے جو

ہے کہ نبی کا نام صرف ان کے لئے مختص ہے۔ کہلائے۔ اس کے بعد کہا کہ اتنا ہی نہیں کہ اس وجہ یہ کہ میں آخری نبی ہوں۔ مرزا قادیانی کے رسول کو قبول نہ کیا مبارک ہے۔ وہ جس نے کی راہ ہوں اور اس کے سب نوروں میں سے

آخری نور۔ بدقسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے۔ کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔

(کشتی نوح ص ٥٦، خزائن ج ١٩ص ٦١)

خاتم الانبیاء

مرزا قادیانی کا دعویٰ یہ تھا کہ حضور نبی اکرمﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ لیکن خاتم الانبیاء کے معنی یہ ہیں کہ اب خدا سے براہ راست نبوت نہیں مل سکتی۔ بلکہ رسول اللہ کے اتباع سے مل سکتی ہے۔ جس کی نبوت پر رسول اللہ کی مہر تصدیق ثبت ہو۔ لیکن اب مرزا قادیانی نے کہا کہ ان کے بعد نبوت رسول اللہﷺ کے اتباع سے نہیں ملے گی۔ مرزا قادیانی کی وساطت سے ملے گی۔ ارشاد ہے: ’’ایک بروز محمدی جمیع کمالات محمدی کے ساتھ آخری زمانے کے لئے مقدر تھا۔ سو وہ ظاہر ہوگیا۔ اب بجز اس کھڑکی کے اور کوئی کھڑکی نبوت کے چشمے سے پانی لینے کے لئے باقی نہیں۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص ١١، خزائن ج ١٨ص ٢١٥)

مرزا قادیانی کے اس بنیادی نکتہ کی تشریح ان کے صاحبزادہ اور خلیفہ ثانی میاں محمود احمد قادیانی نے مختلف مقامات پر کی ہے۔ پہلے انہوں نے کہا کہ جو لوگ ختم نبوت کے قائل ہیں۔ ’’انہوں نے سمجھ لیا ہے کہ خدا کے خزانے ختم ہو گئے ..... ان کا یہ سمجھنا خدا تعالیٰ کی قدر کو ہی نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے۔ ورنہ ایک نبی کیا میں تو کہتا ہوں ہزاروں نبی ہوں گے۔‘‘

(انوار خلافت ص ٦٢)

ایک دفعہ ان سے سوال کیا گیا کہ کیا آئندہ بھی نبیوں کا آنا ممکن ہے تو اس کے جواب میں انہوں نے کہا: ’’ہاں قیامت تک رسول آتے رہیں گے۔ اگر یہ خیال ہے کہ دنیا میں خرابی پیدا ہوتی رہے گی تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ رسول بھی آتے رہیں گے۔ جب تک بیماری ہے تب تک ڈاکٹر کی بھی ضرورت ہے۔‘‘

(الفضل بابت ٢٧؍ فروری ١٩٢٧ء)

سوال یہ کیا گیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا قادیانی) کے بعد بھی جب نبی آنے کا امکان ہے تو آپ کو آخری زمانے کا نبی کہنے کا مطلب کیا ہے۔ جواب دیا: ’’آخری زمانے کا نبی اصطلاح ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے توسط کے بغیر کسی کو نبوت کا درجہ حاصل نہیں ہوسکتا۔ اب کوئی نبی ایسا نہیں آ سکتا جو یہ کہے کہ رسول کریمﷺ سے براہ راست تعلق پیدا کر کے نبی بن سکا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں۔ میری اتباع کے بغیر کسی کو قرب الٰہی حاصل نہیں ہوسکتا۔ پس آئندہ خواہ کوئی نبی ہو۔ اس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ایمان لانا ضروری ہے۔‘‘

(الفضل قادیان نمبر ١٣٠ ج ٢٠ص ٧، مورخہ ٢؍ مئی ١٩٣٣ء)

دوسرے مقام پر اس کی وضاحت ان الفاظ میں کرتے ہیں: ’’پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے

٥٣

عالمی سیرت کانفرنس مقالہ جات و عالمی سیرت عالمی سیرت کانفرنس کی روئداد

صفحہ ٤٧٤

کہ جب کوئی نبی آجائے تو پہلے نبی کا علم بھی اس کے ذریعے سے ملتا ہے۔ یوں اپنے طور پر نہیں مل سکتا اور بعد میں آنے والا نبی پہلے نبی کے لئے بمنزلہ سوراخ کے ہوتا ہے۔ پہلے نبی کے آگے دیوار کھینچ دی جاتی ہے اور کچھ نظر نہیں آتا۔ سوائے آنے والے نبی کے ذریعے دیکھنے کے، یہی وجہ ہے کہ اب کوئی قرآن نہیں۔ سوا اس قرآن کے جو حضرت مسیح موعود نے پیش کیا اور کوئی حدیث نہیں سوائے اس حدیث کے جو حضرت مسیح موعود کی روشنی میں پیش آئے اور کوئی نبی نہیں سوائے اس کے جو حضرت مسیح موعود کی روشنی میں دکھائی دے۔ اسی طرح رسول کریم ﷺ کا وجود اس ذریعہ سے نظر آئے گا کہ حضرت مسیح موعود کی روشنی میں دیکھا جائے۔ اگر کوئی چاہے کہ آپ سے علیحدہ ہو کر کچھ دیکھ سکے تو اسے کچھ نظر نہیں آئے گا۔ ایسی صورت میں اگر کوئی قرآن کو بھی دیکھے گا تو وہ اس کے لئے ”یھدی من یشاء“ والا قرآن نہیں۔ ”یضل من یشاء“ والا قرآن ہوگا۔“

(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد قادیانی مندرجہ الفضل قادیان نمبر ٤٨ ج ١٣ ص ٨، بابت ١٥؍ جولائی ١٩٢٤ء)

صاحب شریعت

احمدی حضرات عام طور پر کہا کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ رسول ہونے کا نہیں اور نبی اور رسول میں فرق یہ ہے کہ رسول صاحب کتاب اور صاحب شریعت ہوتا ہے اور نبی نہ کوئی کتاب لاتا ہے نہ شریعت۔ ہم ساتویں باب میں جہاں ان حضرات کے اس قسم کے دعاویٰ کا تجزیہ کریں گے۔ نبی اور رسول کی اس تفریق کا غلط ہونا بھی ثابت کریں گے۔ اس مقام پر صرف یہ دیکھئے کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ کیا تھا۔ آپ نے کہا: ”مجھے یہ شرف (یعنی مخاطبہ و مکالمہ خداوندی کا شرف) محض آنحضرت ﷺ کی پیروی سے حاصل ہوا۔ کیونکہ اب بجز محمدی نبوت کے سب نبوتیں بند ہیں۔ شریعت والا نبی کوئی نہیں آسکتا اور بغیر شریعت کے نبی ہو سکتا ہے۔ مگر وہی جو پہلے امتی ہو۔ اس بناء پر میں امتی بھی ہوں اور نبی بھی۔“

(تجلیات الٰہیہ ص ١٩، ٢٠، خزائن ج ٢٠ ص ٤١١، ٤١٢)

دوسری جگہ لکھتے ہیں: ”پس چونکہ میں اس کا رسول یعنی فرستادہ ہوں۔ مگر بغیر کسی نئی شریعت اور نئے دعویٰ اور نئے نام کے بلکہ اس نبی کریم ﷺ خاتم الانبیاء کا نام پا کر اور اسی میں محو ہو کر اور اس کا مظہر اتم بن کر آیا ہوں ۔“

(نزول المسیح ص ٢، حاشیہ خزائن ج ١٨ ص ٣٨٠، ٣٨١)

میاں محمود احمد قادیانی اس کا اعتراف ان الفاظ میں کرتے ہیں: ”آپ کے مجازی نبی ہونے ۔۔۔ معنی ہیں کہ آپ کوئی نئی شریعت نہیں لائے اور نہ براہ راست نبی بنے ہیں۔“

(حقیقت النبوۃ ص ١٧٢، ١٧٤ ملخصاً)

یہ تو رہا وہ سچ جس مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”یہ سمجھ چند امر و نہی بیان کئے اور اپنی ام میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی

صاحب کتاب

احمدی حضرات کا تحریر ہے۔ ”بحث اگر کچھ ہو سکتی ہے شریف میں آیا ہے۔ ”یلیہا۔ ہے کہ ”ما انزل“ کو جمع کر لی مظہر اور بروز ہیں تو ان کا ”ما ا اس قدر زیادہ ہے کہ کسی نبی کے ”فالحمدللہ“

مرزا قادیانی کی وحی

قرآن مجید نے فی ریب مما نزلنا عل نے اپنے بندے پر نازل کیا علاج بڑا آسان ہے) تم ا مختلف مقامات پر آئی ہے کو ہوئی تھی اور نہ ہی حضور مثل و بے نظیر ہونا اس کے یہ جرات صرف مرزا قادیانی

صفحہ ٤٧٥

عائلی سیرت

پر ایک طائرانہ نظر

عائلی سیرت کے

مسائل، سیرت مطہرہ

کے

مقابلہ جات کا جائزہ

پیشین گوئیاں

کانفرنس کی کارروائی

عائلی سیرت کا نظر

ان کے ذریعے سے ملتا ہے۔ یوں اپنے طور پر نہیں مل سکتے بمنزلہ سوراخ کے ہوتا ہے۔ پہلے نبی کے آگے دیوار ہے آنے والے نبی کے ذریعے دیکھنے کے، یہی وجہ ہے کہ جو حضرت مسیح موعود نے پیش کیا اور کوئی حدیث نبوی کی روشنی میں پیش آئے اور کوئی نبی نہیں سوائے قادیانی دے۔ اسی طرح رسول کریم ﷺ کا وجود اس روشنی میں دیکھا جائے۔ اگر کوئی چاہے کہ آپ سے لے گا۔ ایسی صورت میں اگر کوئی قرآن کو بھی دیکھے گا قرآن نہیں۔ ”یضل من یشاء“ والا قرآن ہوگا۔“

الفضل قادیان نمبر ٤، ج ١٢ ص ٨، بابت ١٥؍ جولائی ١٩٢٤ء)

کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ دیا ہے کہ رسول صاحب کتاب اور صاحب شریعت ہے۔ ہم ساتویں باب میں جہاں ان حضرات کے اس عقائد کی اس تفریق کا غلط ہونا بھی ثابت کریں گے۔ کا دعویٰ کیا تھا۔ آپ نے کہا: ”مجھے یہ شرف (یعنی امت کے کسی فرد ہی سے حاصل ہوا۔ کیونکہ اب بجز غلامی کوئی نہیں آ سکتا اور بغیر شریعت کے نبی ہو سکتا تی بھی ہوں اور نبی بھی۔“

تجلیات الٰہیہ ص ١٩، ٢٠، خزائن ج ٢٠ ص ٤١١، ٤١٢)

میں اس کا رسول یعنی فرستادہ ہوں۔ مگر بغیر کسی نئی میں نبی کریم ﷺ خاتم الانبیاء کا نام پا کر اور اس میں

نزول المسیح ص ٢، خزائن ج ١٨ ص ٣٨٠، ٣٨١)

نے ان الفاظ میں کرتے ہیں: ”آپ کے مجازی نبی نہیں لائے اور نہ براہ راست نبی بنے ہیں۔“

حقیقت النبوۃ ص ٢٧٢)

یہ تو رہا وہ سچ جس کا ذکر پہلے کیا جا چکا ہے۔ اب اصلی حقیقت ملاحظہ فرمائیے۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعے سے چند امر و نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب شریعت ہو گیا۔ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)

صاحب کتاب

احمدی حضرات کا بھی یہی اعلان ہے۔ چنانچہ اخبار الفضل بابت ١٥؍ فروری ١٩١٩ء میں تحریر ہے: ”بحث اگر کچھ ہو سکتی ہے تو وہ ”ما انزل الیہ من ربہ“ پر ہو سکتی ہے۔ چنانچہ قرآن شریف میں آیا ہے۔ ”یایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک“ اور نبی کی کتاب یہی ہوتی ہے کہ ”ما انزل“ کو جمع کر لیا جائے۔ چونکہ حضرت مرزا صاحب علیہ الصلوۃ والسلام سب انبیاء کے مظہر اور بروز ہیں تو ان کا ”ما انزل الیہ من ربہ“ ببرکت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ قرآن شریف اس قدر زیادہ ہے کہ کسی نبی کے ”ما انزل الیہ“ سے کم نہیں بلکہ اکثروں سے زیادہ ہے۔“

”فالحمد اللہ“ کہ مرزا قادیانی کا ایک لحاظ سے صاحب کتاب ہونا ثابت ہو گیا۔

مرزا قادیانی کی وحی

قرآن مجید نے اپنے منجانب اللہ ہونے کے لئے دنیا کو چیلنج دیا اور کہا کہ: ”وان کنتم فی ریب مما نزلنا علی عبدنا فاتوا بسورۃ من مثلہ (البقرہ: ٢٣)“ ﴿جو کچھ ہم نے اپنے بندے پر نازل کیا ہے۔ اگر تمہیں اس کے منجانب اللہ ہونے میں کوئی شک ہے تو (اس کا علاج بڑا آسان ہے) تم اس قرآن کی مثل ایک سورت بنا کر دکھاؤ۔﴾ یہ تحدی قرآن کریم میں مختلف مقامات پر آئی ہے۔ اس چیلنج کو قبول کرنے کی جرأت نہ حضور ﷺ کے زمانے کے مخاطبین کو ہوئی تھی اور نہ ہی حضور ﷺ کے بعد اس چودہ سو سال میں کسی اور کو ہوئی ہے۔ قرآن کریم کا بے مثل و بے نظیر ہونا اس کے منجانب اللہ ہونے کی اولین دلیل اور نبوت محمدیہ کا بنیادی ثبوت ہے۔ یہ جرأت صرف مرزا قادیانی کو ہوئی جو اپنی وحی کے متعلق کہتے ہیں کہ:

آنچہ من بشنوم ز وحیِ خدا
بخدا پاک دانمش ز خطا
ہمچو قرآں منزہ اش دانم
از خطاہا ہمیں است ایمانم

٥٥

صفحہ ٤٧٦
بخدا ہست ایں کلام مجید
از دہانِ خدائے پاک وحید

(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

مرزا قادیانی پر یہ وحی (ان کے دعویٰ کے مطابق) بذریعہ جبریل نازل ہوتی تھی۔ فرماتے ہیں: ’’میرے پاس ایل آیا (اس جگہ ایل خدائے تعالیٰ نے جبریل کا نام رکھا ہے اس لئے کہ بار بار رجوع کرتا ہے۔ حاشیہ) اور اس نے مجھے چن لیا اور اپنی انگلی کو گردش دی اور یہ اشارہ کیا کہ خدا کا وعدہ آ گیا۔ پس مبارک ہے وہ جو اس کو پاوے اور دیکھے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص ١٠٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٦)

یہ وحی بکثرت نازل ہوتی تھی۔ فرماتے ہیں: ’’اور خدا کا کلام اس قدر مجھ پر ہوا ہے کہ اگر وہ تمام لکھا جائے تو بیس جزو سے کم نہیں ہوگا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٧)

اپنی وحی پر ایمان کے متعلق کہتے ہیں: ’’میں خداے تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں۔ جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے۔ خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔‘‘

(حقیقت الوحی ص ٢١١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢٠)

دوسری جگہ ہے: ’’میں خدا تعالیٰ کے ان تمام الہامات پر جو مجھے ہو رہے ہیں۔ ایسا ہی ایمان رکھتا ہوں جیسا کہ تورات اور انجیل اور قرآن پر ایمان رکھتا ہوں۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٤)

ایک اور : ’’مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے جیسا کہ تورات اور انجیل اور قرآن پر۔‘‘

(اربعین نمبر ٤ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٤)

جہاں تک وحی بذریعہ جبریل کا تعلق ہے۔ احمدی حضرات کا عقیدہ ہے کہ اس بات میں (بجز نبی اکرم ﷺ) مرزا قادیانی منفرد ہیں۔ ملاحظہ فرمائیے: ’’جولوگ نبیوں اور رسولوں پر حضرت جبرئیل علیہ السلام کا وحی لانا ضروری شرط نبوت قرار دیتے ہیں۔ ان کے واسطے یہ امر واضح ہے کہ حضرت (مرزا قادیانی) کے پاس نہ صرف ایک بار جبرئیل آیا۔ بلکہ بار بار رجوع کرتا تھا اور وحی خداوندی لاتا رہا۔ قرآن میں نزول جبرئیل بہ پیرایہ وحی صرف حضرت محمد ﷺ کے واسطے ثابت ہے۔..... ورنہ دوسرے انبیاء کے واسطے جبرئیل علیہ السلام کا نزول از روئے قرآن شریف ثابت نہیں..... اعلیٰ درجہ کی وحی کے ساتھ فرشتہ ضرور آتا ہے خواہ اس کو کوئی دوسرا فرشتہ کہو یا جبرئیل کہو اور چونکہ حضرت احمد علیہ السلام بھی نبی اور رسول تھے اور آپ پر اعلیٰ درجہ کی وحی کا یعنی رسالت کا نزول

٥٦

صفحہ ٤٧٧

ہوتا رہا ہے۔ لہٰذا آپ کی وحی کے ساتھ فرشتہ ضرور آتا تھا اور خدا تعالیٰ نے اس فرشتہ کا نام تک بتا دیا ہے کہ وہ فرشتہ جبرئیل ہی ہے۔‘‘ (رسالہ احمدی نمبر ٥ تا ٧، بابت ١٩١٩ء، موسومہ النبوۃ فی الالہام ص ٣٠)

ضمناً مرزا قادیانی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی طرف جبرئیل بار بار رجوع کرتے تھے۔ آپ انہی کی زبانی سنئے کہ (بار بار تو ایک طرف) جبرئیل امین کے ایک بار نزول کا مطلب کیا ہوتا ہے۔ فرماتے ہیں: ”ظاہر ہے کہ اگرچہ صرف ایک ہی دفعہ کا نزول فرض کر لیا جائے اور صرف ایک ہی فقرہ حضرت جبرئیل لائیں اور پھر چپ ہو جائیں تو یہ امر بھی ختمِ نبوت کا منافی ہے۔ کیونکہ جب ختمیت کی مہر ہی ٹوٹ گئی اور وحی رسالت نازل ہونی شروع ہو گئی تو پھر تھوڑا یا بہت نازل ہونا برابر ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص ٥٧٧، خزائن ج ٣ ص ٤١١)

آیات الکتاب المبین

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو الکتاب المبین اور اس کے مندرجات کو آیات سے موسوم کیا ہے۔ احمدی حضرات انہی ناموں سے مرزا قادیانی کی وحی کو پکارتے ہیں۔ کہتے ہیں: ”خدا تعالیٰ نے حضرت اقدس علیہ السلام کے بہیئت مجموعی الہامات کو الکتاب المبین فرمایا ہے اور جدا جدا الہامات کو آیات سے موسوم کیا ہے۔ حضرت (مرزا قادیانی) کو یہ الہام متعدد دفعہ ہوا ہے۔ پس آپ کی وحی بھی جدا جدا آیت کہلا سکتی ہے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسا نام دیا ہے اور مجموعہ الہامات کو الکتاب المبین کہہ سکتے ہیں۔“

(رسالہ احمدی نمبر ٥ تا ٧، موسومہ النبوۃ فی الالہام ص ٤٣، ٤٤)

آخری بات

اخبار الفضل (قادیان) بابت ١٦؍اکتوبر ١٩١٧ء میں یہ اعلان شائع ہوا تھا۔ ”سنو! ہم مرزا غلام احمد قادیانی کو وہ امام مہدی اور وہ مسیح مانتے ہیں۔ جس کی خبر تمام انبیاء سابقین نے اور بالآخر حضرت محمد رسول اللہ خاتم النبیین نے دی۔ ہم بغیر کسی فرق کے بہ لحاظ نبوت کے انہیں ایسا ہی رسول مانتے ہیں۔ جیسے کہ پہلے رسول مبعوث ہوتے رہے۔“

رسول اللہ ﷺ کی رسالت (معاذ اللہ) ختم ہو گئی

مرزا قادیانی کی نبوت کے بعد نبوت محمدیہ کا (معاذ اللہ) خاتمہ ہو گیا۔ (جیسا کہ پہلے بھی لکھا جا چکا ہے) میاں محمود احمد قادیانی فرماتے ہیں: ”پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جب کوئی نبی آ جائے تو پہلے نبی کا علم بھی اسی کے ذریعہ ملتا ہے۔ یوں اپنے طور پر نہیں مل سکتا اور ہر بعد میں آنے والا نبی پہلے نبی کے لئے بمنزلہ سوراخ کے ہوتا ہے۔ پہلے نبی کے آگے دیوار کھینچ دی جاتی ہے اور

٥٧

صفحہ ٤٧٨

کچھ نظر نہیں آتا۔ سوائے آنے والے نبی کے ذریعہ دیکھنے کے یہ ہی وجہ ہے کہ اب کوئی قرآن نہیں۔ سوائے اس قرآن کے جو حضرت مسیح موعود نے پیش کیا اور کوئی حدیث نہیں سوائے اس حدیث کے جو حضرت مسیح موعود کی روشنی میں نظر آئے اور کوئی نبی نہیں سوائے اس کے جو حضرت مسیح موعود کی روشنی میں دکھائی دے۔ اسی طرح رسول کریم ﷺ کا وجود اسی ذریعہ سے نظر آئے گا کہ حضرت مسیح موعود کی روشنی میں دیکھا جائے۔ اگر کوئی چاہے کہ آپ سے علیحدہ ہو کر کچھ دیکھ سکے تو اسے کچھ نظر نہ آئے گا۔ ایسی صورت میں اگر کوئی قرآن کو بھی دیکھے گا تو وہ اس کے لئے ”یھدی من یشاء“ والا قرآن نہ ہوگا۔ بلکہ ”یضل من یشاء“ والا قرآن ہوگا۔“

(خطبہ جمعہ مندرجہ الفضل قادیان نمبر ٢ ج ١٤ ص ٨، مورخہ ١٥ جولائی ١٩٣٢ء)

کرشن گوپال

مرزا قادیانی نے (ہندوؤں کے اوتار) مہاراج کرشن ہونے کا بھی دعویٰ کیا تھا۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ: ”خدا تعالیٰ نے بار بار میرے پر ظاہر کیا ہے کہ جو کرشن آخری زمانے میں ظاہر ہونے والا تھا وہ تو ہی ہے۔ آریوں کا بادشاہ۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢٢)

انہوں نے اپنے سیالکوٹ کے لیکچر میں (جو ٢ نومبر ١٩٠٤ء کو دیا تھا) کہا کہ: ”مجھے منجملہ اور الہاموں کے اپنی نسبت ایک یہ بھی الہام ہوا تھا کہ جے کرشن رودر گوپال تیری مہما گیتا میں لکھی ہے۔“

(لیکچر سیالکوٹ ص ٣٣، خزائن ج ٢٠ ص ٢٢٩)

لیکن ہندوؤں نے اس دعویٰ کو قابل التفات نہ سمجھا اور بات آگے نہ چلی۔

چوتھا باب ...... مرزا قادیانی اور مسلمان

ہم دیکھ چکے ہیں کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ یہ تھا کہ:

نیا دین

اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس امر کی بھی وضاحت کر دی کہ: ”انبیاء اس لئے آتے ہیں کہ تا ایک دین سے دوسرے دین میں داخل کریں اور ایک قبلہ سے دوسرا قبلہ مقرر کر دیں اور بعض احکام کو منسوخ کریں اور بعض نئے احکام لاویں۔“

(مکتوبات احمدیہ ج ٥ نمبر ٢ ص ٣١)

٥٨

صفحہ ٤٧٩

اسی بناء پر احمدی حضرات کا عقیدہ ہے کہ: ”اللہ تعالیٰ نے اس آخری صداقت کو قادیان کے ویرانے میں نمودار کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو جو فارسی النسل ہیں۔ اس کام کے لئے منتخب فرمایا اور فرمایا کہ میں تیرے نام کو دنیا کے کناروں تک پہنچا دوں گا۔ زور آور حملوں سے تیری تائید کروں گا اور جو دین تو لے آیا ہے۔ اسے تمام دیگر ادیان پر بذریعہ دلائل و براہین غالب کروں گا اور اس کا غلبہ دنیا کے آخر تک قائم رکھوں گا۔“

(الفضل قادیان نمبر ٩٣، ج ٢٢ ص ٥، مورخہ ٣؍ فروری ١٩٣٥ء)

اسلام سے الگ دین

یہ دین (جسے مرزا قادیانی لے کر آئے تھے) اسلام نہیں تھا۔ چنانچہ اخبار الفضل مورخہ ٣١؍ دسمبر ١٩١٣ء میں کہا گیا ہے کہ: ”عبداللہ کوکلم نے حضرت مسیح موعود کی زندگی میں ایک مشن قائم کیا۔ بہت سے لوگ مسلمان ہوئے۔ مسٹر ویب نے امریکہ میں اس کی اشاعت شروع کی۔ لیکن آپ نے (مرزا قادیانی نے) مطلق ان کو ایک پائی کی مدد نہ کی۔ اس کی وجہ یہ کہ جس اسلام میں آپ پر (مرزا قادیانی پر) ایمان لانے کی شرط نہ ہو اور آپ کے سلسلہ کا ذکر نہیں۔ اسے آپ اسلام ہی نہیں سمجھتے تھے کہ ان کا (مسلمانوں کا) اسلام اور ہے اور ہمارا اسلام اور۔“

اور میاں محمود احمد قادیانی (خلیفہ ثانی) نے فرمایا کہ: ”ہندوستان سے باہر ہر ایک ملک میں ہم اپنے واعظ بھیجیں۔ مگر میں اس بات کے کہنے سے نہیں ڈرتا کہ اس تبلیغ سے ہماری غرض سلسلہ احمدیہ کی صورت میں اسلام کی تبلیغ ہو۔ میرا یہی مذہب ہے اور حضرت مسیح موعود کے پاس رہ کر اندر باہر ان سے بھی یہی سنا ہے کہ آپ فرماتے تھے کہ اسلام کی تبلیغ یہی میری تبلیغ ہے۔ پس اس اسلام کی تبلیغ کرو جو مسیح موعود لایا۔“

(منصب خلافت ص ٢٠، ٢١)

مسلمانوں سے اختلاف

میاں صاحب نے اپنے ایک خطبہ جمعہ میں کہا: ”حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح یا اور چند مسائل میں ہے۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات رسول کریمﷺ، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، غرضیکہ آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں ہمیں ان سے اختلاف ہے۔“

(الفضل قادیان نمبر ١٣، ج ١٩، مورخہ ٣٠؍ جولائی ١٩٣١ء)

٥٩

صفحہ ٤٨٠

مسلمان کافر ہیں

یہ اس لئے کہ مرزا قادیانی نے اعلانیہ کہہ دیا تھا کہ مسلمان (جو ان کی نبوت کے قائل نہیں) وہ مسلمان ہی نہیں کافر ہیں۔ چنانچہ انہوں نے اپنی کتاب حقیقت الوحی میں کہا: ”علاوہ اس کے جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔ کیونکہ میری نسبت خدا اور رسول کی پیش گوئی موجود ہے۔۔۔۔ اب جو شخص خدا اور رسول کے احکام کو نہیں مانتا اور قرآن کی تکذیب کرتا ہے اور عمداً خدائے تعالیٰ کے نشانوں کو رد کرتا ہے اور مجھ کو باوجود صد ہا نشانوں کے مفتری ٹھہراتا ہے تو وہ مؤمن کیونکر ہوسکتا ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ١٦٣، ١٦٤، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٨)

آگے چل کر کہا: ”کفر دو قسم پر ہے۔ ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرت ﷺ کو رسول نہیں مانتا۔ دوسرا یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے۔ جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔“

(حقیقت الوحی ص ١٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥)

اس سے بھی واضح تر الفاظ ہیں: ”خدائے تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک وہ شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا ہے وہ مسلمان نہیں۔“

(تذکرہ ص ٦٠٧، ارشاد مرزا قادیانی)

میاں محمود احمد قادیانی آگے بڑھے اور فرمایا: ”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے۔ خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“

(آئینہ صداقت ص ٣٥)

صاحبزادہ بشیر احمد قادیانی نے فرمایا: ”ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ علیہ السلام کو مانتا ہے۔ مگر عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں مانتا، یا عیسیٰ علیہ السلام کو مانتا ہے مگر محمد رسول اللہ ﷺ کو نہیں مانتا یا محمد ﷺ کو مانتا ہے مگر مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“

(کلمۃ الفصل ص ١١٠، مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد قادیانی)

جہنمی

مرزا قادیانی نے اپنے اشتہار (معیار الاخبار مورخہ ٢٥ مئی ١٩٠٠ء ص ٨، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٥) پر لکھا کہ: ”جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا

٦٠

صفحہ ٤٨١

مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے۔“

لا نفرق بین احد من رسله

قادیانی حضرات کے مجموعہ فتاویٰ میں درج ہے کہ: ”یہ بات تو بالکل غلط ہے کہ ہمارے اور غیر احمدیوں کے درمیان کوئی فروعی اختلاف ہے......کسی مامور من اللہ کا انکار کفر ہو جاتا ہے۔ ہمارے مخالف حضرت مرزا قادیانی کی ماموریت کے منکر ہیں۔ بتاؤ یہ اختلاف فروعی کیونکر ہوا۔ قرآن مجید میں تو لکھا ہے کہ: ”لا نفرق بین احد من رسلہ“ لیکن حضرت مسیح موعود کے انکار میں تو تفرقہ ہوتا ہے۔“

(نہج المصلی مجموعہ فتاویٰ احمدیہ ص ٢٧٤، ٢٧٥)

اس سے یہ بھی واضح ہے کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ رسالت کا تھا۔ کیونکہ قرآن کریم کی محولہ بالا آیت میں کہا گیا ہے کہ ہم خدا کے رسولوں میں سے کسی ایک میں فرق نہیں کرتے۔ مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو زمرہ رسل میں شامل کیا ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ: ”جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔“

(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٨)

چنانچہ مرزا محمود احمد قادیانی نے سب جج گورداسپور کی عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ: ”اس کی وجہ کہ غیر احمدی کیوں کافر ہیں۔ قرآن کریم نے بیان کی ہے وہ اصول جو قرآن نے بتایا ہے۔ اس سب کا انکار یا اس کے کسی ایک حصہ کے نہ ماننے سے کافر ہو جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ کا انکار کفر ہے۔ سب نبیوں کا یا نبیوں میں سے کسی ایک کا انکار کفر ہے۔ کتب الٰہی کا انکار کفر ہے۔ ملائکہ کے انکار سے انسان کافر ہو جاتا ہے وغیرہ۔ ہم چونکہ حضرت مرزا قادیانی کو نبی مانتے ہیں اور غیر احمدی آپ کو نبی نہیں مانتے۔ اس لئے قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق کسی ایک نبی کا انکار بھی کفر ہے۔ غیر احمدی کافر ہیں۔“

(الفضل قادیان نمبر ١٠١، ١٠٢، ج ٩ ص ٦، بابت ٢٦، ٢٩ جون ١٩٢٢ء)

قصور اپنا نکل آیا

آگے بڑھنے سے پیشتر اس لطیف نکتہ پر غور کیجئے کہ مسلمانوں کا مطالبہ یہ ہے کہ احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ لیکن احمدیوں نے اس مسئلہ کو پہلے ہی حل کر رکھا ہے۔ وہ اپنے آپ کو مسلمان قرار دیتے ہیں اور غیر احمدیوں کو مسلمان ہی نہیں سمجھتے۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ ابھی غیر احمدیوں کو اس پیچ میں پھنسے رہنے دینا چاہتے ہیں۔ جب مناسب موقعہ آئے گا تو ان کی طرف سے یہ مطالبہ پیش ہوگا کہ غیر احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا جائے۔ اس کے لئے انہوں نے پہلے سے ہی رخنہ رکھ دیا ہوا ہے۔ چنانچہ صاحبزادہ بشیر احمد قادیانی حضرات کو مخاطب کرتے ہوئے

٦١

صفحہ ٦٢

کہتے ہیں: ”اب جب کہ یہ مسئلہ بالکل صاف ہے کہ مسیح موعود کے ماننے کے بغیر نجات نہیں ہو سکتی تو کیوں خواہ مخواہ غیر احمدیوں کو مسلمان ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔“

(کلمۃ الفصل مندرجہ ریویو آف ریلیجنز نمبر ٣ ج ١٤ ص ١٤٨)

انہیں نئے سرے سے مسلمان کیا جائے

دوسرے مقام پر وہ لکھتے ہیں:

چوں دور خسروی آغاز کردند
مسلماں را مسلماں باز کردند

اس الہامی شعر میں اللہ تعالیٰ نے مسئلہ کفر و اسلام کو بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اس میں خدا نے غیر احمدیوں کو مسلمان بھی کہا ہے اور پھر ان کے اسلام کا انکار بھی کیا ہے۔ مسلمان تو اس لئے کہا ہے کہ وہ مسلمان کے نام سے پکارے جاتے ہیں اور جب تک یہ لفظ استعمال نہ کیا جائے لوگوں کو پتہ نہیں چلتا کہ کون مراد ہے۔ مگر ان کے اسلام کا اس لئے انکار کیا گیا ہے کہ وہ اب خدا کے نزدیک مسلمان نہیں ہیں۔ بلکہ ضرورت ہے کہ ان کو پھر نئے سرے سے مسلمان کیا جائے۔

(کلمۃ الفصل مندرجہ ریویو آف ریلیجنز نمبر ٣ ج ١٤ ص ١٤٣)

دوسری جگہ لکھتے ہیں: ”اس جگہ ایک اور شبہ پڑتا ہے اور وہ یہ کہ جب حضرت مسیح موعود اپنے منکروں کو حسب حکم الہی اسلام سے خارج سمجھتے تھے تو آپ نے ان کے لئے اپنی بعض آخری کتابوں میں مسلمان کا لفظ کیوں استعمال فرمایا؟“

اس کے جواب میں کہا: ”معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کو بھی بعض وقت اس کا خیال آیا کہ کہیں میری تحریروں میں غیر احمدیوں کے متعلق مسلمان کا لفظ دیکھ کر لوگ دھوکا نہ کھائیں۔ اس لئے آپ نے کہیں کہیں بطور ازالہ کے غیر احمدیوں کے متعلق ایسے الفاظ بھی لکھ دیئے ہیں کہ وہ لوگ جو اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں۔ تا جہاں کہیں بھی مسلمان کا لفظ ہو اس سے مدعی اسلام سمجھا جائے نہ کہ حقیقی مسلمان ....... پس یہ ایک یقینی بات ہے کہ مرزا قادیانی نے جہاں کہیں بھی غیر احمدیوں کو مسلمان کہہ کر پکارا ہے وہاں صرف یہ مطلب ہے کہ وہ صرف اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ورنہ آپ حسب حکم الہی اپنے منکروں کو مسلمان نہ سمجھتے تھے۔“

(کلمۃ الفصل مندرجہ ریویو آف ریلیجنز نمبر ٣ ج ١٤ ص ١٢٦، ١٢٧)

ان کے پیچھے نماز مت پڑھو

ظاہر ہے کہ جب احمدیوں کے نزدیک غیر احمدی مسلمان ہی نہیں تو ان کے ساتھ

صفحہ ٤٨٣

صاف ہے کہ مسیح موعود کے ماننے کے بغیر نجات نہیں ہو سکتی ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔“

(کلمۃ الفصل مندرجہ ریویو آف ریلیجنز نمبر ٣ ج ١٤ ص ١٢٨)

جائے

خسروی آغاز کردند
مسلماں باز کردند

نے مسئلہ کفر و اسلام کو بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ق بھی کیا ہے اور پھر ان کے اسلام کا انکار بھی کیا ہے۔ کے نام سے پکارے جاتے ہیں اور جب تک یہ لفظ کون مراد ہے۔ مگر ان کے اسلام کا اس لئے انکار کیا گیا نی ہیں۔ بلکہ ضرورت ہے کہ ان کو پھر نئے سرے سے

(کلمۃ الفصل مندرجہ ریویو آف ریلیجنز نمبر ٣ ج ١٤ ص ١٤٣)

مہلک اور شبہ پڑتا ہے اور وہ یہ کہ جب حضرت مسیح موعود خارج سمجھتے تھے تو آپ نے ان کے لئے اپنی بعض آخری فرمایا؟“

ہم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کو بھی بعض وقت اس کا احمدیوں کے متعلق مسلمان کا لفظ دیکھ کر لوگ دھوکا نہ کہ ازالہ کے غیر احمدیوں کے متعلق ایسے الفاظ بھی لکھ نہیں۔ تاجہاں کہیں بھی مسلمان کا لفظ ہو اس سے مدعی سے ایک یقینی بات ہے کہ مرزا قادیانی نے جہاں کہیں اس میں صرف یہ مطلب ہے کہ وہ صرف اسلام کا دعویٰ کافروں کو مسلمان نہ سمجھتے تھے۔“

(کلمۃ الفصل مندرجہ ریویو آف ریلیجنز نمبر ٣ ج ١٤ ص ١٢٦، ١٢٧)

وہ ایک غیر احمدی مسلمان ہی نہیں تو ان کے ساتھ

٢٢

مسلمانوں جیسا برتاؤ کس طرح جائز قرار پاسکتا ہے۔ اس سلسلہ میں مرزا قادیانی نے اپنی جماعت سے کہا کہ: ”صبر کرو اور اپنی جماعت کے غیر کے پیچھے نماز مت پڑھو۔“

(ملفوظات ج ٢ ص ٣٢١)

اور تاکید کے ساتھ کہا: ”پس یاد رکھو کہ جیسا کہ مجھے خدا نے اطلاع دی ہے۔ تمہارے پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو بلکہ چاہیے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٣٤، خزائن ج ١٧ ص ٤١٧)

ان کا جنازہ پڑھنا بھی جائز نہیں

اخبار الفضل (قادیان) مورخہ ٢٩/ اپریل ١٩١٦ء میں کہا گیا ہے کہ: ”مرزا قادیانی نے اگر منکرین کے جنازہ کی اجازت دی تھی تو وہ اوائل کی بات تھی۔ بعد میں اگر کسی نے اس فتویٰ کو جاری سمجھا تو وہ اس کی اجتہادی غلطی تھی۔ جس کو خلیفہ اوّل (حکیم نور الدین قادیانی) نے صاف حکم کے ساتھ رد کر دیا کہ غیر احمدی کا جنازہ ہرگز جائز نہیں۔“

اور میاں محمود احمد قادیانی نے فرمایا کہ: ”غیر احمدی بچے کا جنازہ پڑھنا درست نہیں۔“

(الفضل قادیان نمبر ٨٦ ج ٩، مورخہ ٤/ مئی ١٩٢٢ء)

اخبار الفضل بابت ١٥/ دسمبر ١٩٢١ء میں کہا گیا ہے کہ: ”حضرت صاحب نے اپنے بیٹے (فضل احمد مرحوم) کا جنازہ محض اس لئے نہ پڑھا کہ وہ غیر احمدی تھا۔“

اور اپنے امام کی تقلید میں چوہدری ظفر اللہ خان نے قائد اعظم کے جنازہ میں شرکت نہیں کی اور لاکھوں آدمیوں کی موجودگی میں جنازہ کے وقت الگ کھڑے رہے۔

ضمناً مسئلہ ختم نبوت کے سلسلہ میں فسادات پنجاب کے لئے جو تحقیقاتی کمیٹی مقرر ہوئی تھی۔ (اور جسے منیر کمیٹی کہہ کر پکارا جاتا ہے) اس میں (غیر احمدیوں کے جنازہ کے سلسلے میں) احمدیوں کی طرف سے کہا گیا کہ اب مرزا قادیانی کے ایک ایسے ارشاد کا انکشاف ہوا ہے جس میں انہوں نے ان مسلمانوں کے جنازہ میں شرکت کی اجازت دی تھی۔ جو مکذب اور مکفر نہ ہوں۔ اس پر عدالت نے کہا کہ اس سے تو بات وہیں کی وہیں رہتی ہے۔

(منیر کمیٹی رپورٹ ص ٢١٢)

نکاح بھی جائز نہیں

قرآن کریم کی رو سے کسی مسلمان عورت کا کسی غیر مسلم سے (خواہ وہ اہل کتاب ہی کیوں نہ ہوں) نکاح جائز نہیں۔ البتہ اہل کتاب کی عورتوں سے مسلمان مردوں کا نکاح جائز ہے۔ احمدیوں کا غیر احمدیوں سے نکاح کے معاملہ میں بھی یہی مسلک ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”غیر احمدی کی لڑکی لے لینے میں حرج نہیں ہے۔ کیونکہ اہل کتاب عورتوں سے بھی

٢٣

صفحہ ٤٨٤

نکاح جائز ہے۔۔۔۔۔لیکن اپنی لڑکی کسی غیر احمدی کو نہیں دینی چاہئے۔ اگر ملے تو لے بیشک لو، لینے میں حرج نہیں اور دینے میں گناہ ہے۔“

(ملفوظات ج١٠ ص٢٣٠)

میاں محمود احمد قادیانی کے ارشاد کے مطابق اس باب میں غیر احمدیوں کی پوزیشن ہندووں اور سکھوں جیسی ہے۔ یعنی ان کی لڑکیاں بھی لے لینی چاہئیں۔ لیکن انہیں لڑکی دینی نہیں چاہئے۔

(الفضل قادیان نمبر ٥٦ ج١٠ ص ٥، مورخہ ١٧؍ جولائی ١٩٢٢ء)

تمام تعلقات حرام

صاحبزادہ بشیر احمد قادیانی لکھتے ہیں: ”غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ ہوگئیں۔ ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار دیا گیا۔ ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا۔ اب باقی کیا رہ گیا ہے جو ہم ان کے ساتھ مل کر کر سکتے ہیں۔ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں۔ ایک دینی ، دوسری دنیوی۔ دینی تعلق کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے اور دنیوی تعلقات کا بھاری ذریعہ رشتہ و ناطہ ہے۔ سو یہ دونوں ہمارے لئے حرام قرار دیئے گئے۔۔۔۔۔۔ اگر یہ کہو کہ غیر احمدیوں کو سلام کیوں کہا جاتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ حدیث سے ثابت ہے کہ بعض اوقات نبی اکرم ﷺ نے یہود تک کو سلام کا جواب دیا ہے۔ ہاں اشد مخالفین کو حضرت مسیح موعود نے کبھی سلام نہیں کہا اور نہ ان کو سلام کہنا جائز ہے۔ غرض ہر ایک طریقہ سے ہم کو حضرت مسیح موعود نے غیروں سے الگ کیا ہے اور ایسا کوئی تعلق نہیں جو اسلام نے مسلمانوں کے ساتھ خاص کیا ہو اور پھر ہم کو اس سے نہ روکا گیا ہو۔“

(کلمۃ الفصل مندرجہ رسالہ ریویو نمبر ٣ جلد ١٤ ص ١٦٩، ١٧٠)

الگ نام احمدی

ہم نے بعض احمدی حضرات کو یہ کہتے سنا ہے کہ ہم نے اپنا نام احمدی حضور نبی اکرم ﷺ کی نسبت سے رکھا ہے۔ کیونکہ حضور ﷺ کا اسم گرامی احمد بھی تھا۔ یہ ان حضرات کی غلط بیانی اور ابلہ فریبی ہے۔ مرزا قادیانی نے خود اپنا نام احمد بتایا ہے اور احمدی کی نسبت انہیں (مرزا قادیانی) ہی کی طرف ہے۔ نہ کہ نبی اکرم ﷺ کی طرف۔ تفصیل اس اجمال کی بڑی دلچسپ ہے۔ ”واذ قال عیسی ابن مریم یبنی اسرائیل انی رسول اللہ الیکم مصدقاً لما بین یدی من التوراة ومبشراً برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد (الصف:٦)“ ﴿اور جب عیسیٰ ابن مریم نے بنی اسرائیل سے کہا کہ میں تمہاری طرف خدا کا رسول ہوں۔ میں تصدیق کرتا ہوں تورات کی جو پہلے آچکی ہے اور میں بشارت دیتا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا اور جس کا نام احمد ہوگا۔﴾ (ہم نے اس آیت کا آدھا حصہ یہاں

٦٤

صفحہ ٤٨٥

نقل کیا ہے۔ بقایا حصہ بعد میں سامنے لایا جائے گا) یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ کا اسم گرامی محمد بھی تھا اور احمد بھی۔ اس کا ثبوت صدر اوّل کے لٹریچر سے لے کر ہر دور کی کتب تاریخ و تفسیر سے ملتا ہے۔ مسلمانوں کے نام کے ساتھ احمد (بلکہ تنہا احمد) شروع سے چلا آرہا ہے۔ جیسے امام احمد بن حنبل وغیرہ۔ لیکن مرزا قادیانی نے دعویٰ کیا کہ نہیں میرا نام احمد ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جس آنے والے رسول کی بشارت دی تھی وہ حضور نبی اکرم ﷺ نہیں، بلکہ میں ہوں۔ مرزا قادیانی اپنے دعویٰ نبوت کی سب سے محکم دلیل یہی پیش کرتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے کہا: ”مجھے بروزی صورت نے نبی اور رسول بنایا ہے اور اس بنا پر خدا نے بار بار میرا نام نبی اللہ اور رسول اللہ رکھا۔ مگر بروزی صورت میں میرا نفس درمیان نہیں ہے۔ بلکہ محمد مصطفیٰ ﷺ ہے۔ اس لحاظ سے میرا نام محمد اور احمد ہوا ۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ١٢، خزائن ج ١٨ ص ٢١٦)

اس سلسلہ میں مندرجہ بالا آیت کے حوالہ سے کہا: ”اور جیسا کہ آیت ’مُبَشِّراً بِرَسُوْلٍ يَّأْتِيْ مِنْ بَعْدِ اسْمُهٗ اَحْمَد‘ میں یہ اشارہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کا آخر زمانہ میں ایک مظہر ظاہر ہوگا۔ گویا وہ اس کا ایک ہاتھ ہوگا جس کا نام آسمان پر احمد ہوگا۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٣١، خزائن ج ١٧ ص ٤٢١)

مرزا قادیانی اپنے مشہور خطبہ الہامیہ میں فرماتے ہیں: ”میرے رب نے میرا نام احمد رکھا ہے۔ پس میری تعریف کرو اور مجھے دشنام مت دو۔“ (خطبہ الہامیہ ص ٢٠، خزائن ج ١٦ ص ٥٣)

ان کا مشہور شعر ہے کہ ؎

منم مسیح زماں و منم کلیمِ خدا
منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد

(تریاق القلوب ص ٦، خزائن ج ١٥ ص ١٣٢)

اس سلسلہ میں میاں محمود احمد قادیانی لکھتے ہیں: ”پہلا مسئلہ یہ ہے کہ آیا حضرت مسیح موعود کا نام احمد تھا یا آنحضرت ﷺ کا اور کیا سورۂ صف کی آیت جس میں ایک رسول کی جس کا نام احمد ہوگا۔ بشارت دی گئی ہے۔ آنحضرت ﷺ کے متعلق ہے یا حضرت مسیح موعود کے متعلق۔ میرا یہ عقیدہ ہے کہ یہ آیت مسیح موعود کے متعلق ہے اور احمد آپ ہی ہیں۔“ (انوار خلافت ص ١٨)

اس کی تائید صاحبزادہ بشیر احمد قادیانی نے ان الفاظ میں کی ۔ ”ان تمام الہامات میں اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود کو احمد کے نام سے پکارا ہے۔ دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح

٦٥

صفحہ ٤٨٦

موعود بیعت لیتے وقت یہ اقرار لیا کرتے تھے کہ آج میں احمد کے ہاتھ پر اپنے تمام گناہوں سے توبہ کرتا ہوں۔ پھر اس پر بس نہیں بلکہ آپ نے اپنی جماعت کا نام بھی احمدی جماعت رکھا۔ پس یہ بات یقینی ہے کہ آپ احمد تھے۔“

( کلمۃ الفصل مندرجہ رسالہ ریویو نمبر ٣ ج ١٤ص ١٣٩ تا ١٤١)

غلام احمد

لیکن ایسا کہتے وقت ان حضرات کے دل میں یہ کھٹک رہی اور دوسروں نے بھی یہ اعتراض کیا کہ جب مرزا قادیانی کا نام غلام احمد تھا تو آپ احمد کیسے ہو گئے۔ اس اعتراض کا جواب ملاحظہ فرمائیے ۔ ” آپ کا یہ سوال ہے کہ بشارت تو احمد کی ہے اور مرزا قادیانی غلام احمد ہیں۔ جواباً عرض ہے کہ مطلق غلام احمد نہ عربی ہے۔ کیونکہ اس صورت میں غلام احمد ہوتا اور نہ یہ فارسی بن سکتا ہے۔ کیونکہ اس صورت میں غلام احمد ہوتا اور نہ یہ نام اردو ہو سکتا ہے۔ کیونکہ اس صورت میں احمد کا غلام ہونا چاہئے تھا۔ اصل بات یہ ہے کہ چونکہ حضرت صاحب کے خاندان میں غلام کا لفظ اصل نام کے ساتھ اضافہ کے طور پر اس ملک کے رواج کے مطابق چلا آتا تھا۔ اس واسطے آپ کے نام کے ساتھ بھی لگا دیا گیا۔ احادیث میں آتا ہے کہ مسیح جوان ہوگا اور غلام کے معنی جوان کے ہیں۔ جس سے یہ بتایا گیا کہ اس کے کام جوانوں کے سے ہیں۔“

(الفضل مورخہ ١٨؍ اپریل ١٩١٦ء)

یہ جواب کسی تبصرہ کا محتاج نہیں۔ (حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کا جواب یہی حضرات دے سکتے تھے ) پہلے یہ کہا کہ غلام کا لفظ حضرت صاحب کے خاندان میں بطور اضافہ چلا آ رہا تھا۔ لیکن (غالباً) بعد میں خیال آیا کہ حضرت صاحب کے خاندانی بزرگوں کے نام یہ تھے۔ والد (غلام مرتضیٰ ) دادا (عطاء محمد ) پردادا (گل محمد ) اس لئے غلام کا لفظ صرف ان کے والد کے نام کے ساتھ آیا تھا۔ ان کے خاندان میں نہیں چلا آ رہا تھا۔ (غالباً) اسی خیال سے دوسری توجیہہ کی ضرورت پڑی کہ مسیح جوان ہوگا۔ اس لئے یہ بتایا گیا کہ ان کے کام جوانوں جیسے ہوں گے۔

یہ حضرات (غالباً) اس بات کو بھول گئے کہ اگر غلام احمد سے مراد احمد ہے۔ غلام کا لفظ خاندانی رواج کے مطابق محض اضافہ ہے تو اس دلیل کی رو سے مرزا قادیانی کے والد غلام مرتضیٰ بھی

١ لیکن اس کا کیا جواب کہ مرزا قادیانی اپنے آپ کو خود احمد کا غلام کہتے رہے۔ ان کا مشہور شعر ہے۔

برتر گمان و وہم سے احمد کی شان ہے
جس کا غلام دیکھو مسیح الزمان ہے

(حقیقۃ الوحی ص ٢٧٢ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٢٨٦)

٦٦

صفحہ ٤٨٧

یح میں احمد کے ہاتھ پر اپنے تمام گناہوں سے جماعت کا نام بھی احمدی جماعت رکھا۔ پس یہ

(الفضل مندرجہ رسالہ ریویو نمبر ٣ ج ١٤ ص ١٣٩ تا ١٤١)

ول میں یہ کھٹک رہی اور دوسروں نے بھی یہ و آپ احمد کیسے ہوگئے۔ اس اعتراض کا جواب احمد کی ہے اور مرزا قادیانی غلام احمد ہیں۔ جواباً صورت میں غلام احمد ہوتا اور نہ یہ فارسی بن سکتا ام اردو ہوسکتا ہے۔ کیونکہ اس صورت میں احمد کا ضرت صاحب کے خاندان میں غلام کا لفظ اصل کے مطابق چلا آتا تھا۔ اس واسطے آپ کے نام یح جوان ہوگا اور غلام کے معنی جوان کے ہیں۔ تے ہیں۔“

(الفضل مورخہ ١٨؍ اپریل ١٩١٦ء)

قت یہ ہے کہ اس قسم کا جواب یہی حضرات دے کے خاندان میں بطور اضافہ چلا آ رہا تھا۔ لیکن خاندانی بزرگوں کے نام یہ تھے۔ والد (غلام غلام کا لفظ صرف ان کے والد کے نام کے ساتھ غالباً) اسی خیال سے دوسری توجیہہ کی ضرورت کے کام جوانوں جیسے ہوں گے۔ لئے کہ اگر غلام احمد سے مراد احمد ہے۔ غلام کا لفظ لغت کی رو سے مرزا قادیانی کے والد غلام مرتضیٰ بھی اپنے آپ کو خود احمد کا غلام کہتے رہے۔ ان کا

احمد کی شان ہے
مسیح الزمان ہے

(حقیقت الوحی ص ٧٢ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٨٦)

مرتضیٰ قرار پاتے ہیں کیا یہ حضرات ایسا ہی مانتے ہیں؟ پھر اس کا کیا جواب کہ امام بخاری کی ایک حدیث کی رو سے خود حضورﷺ نے فرمایا کہ: ”لی خمسة اسماء، انا محمد واحمد وانا الماحی ....... وانا الحاشر....... وانا العاقب (بخاری ج ١ ص ٥٠١، باب ماجاء فی اسماء رسول اللہﷺ) “ یہاں حضورﷺ نے خود اپنے اسماء گرامی محمد اور احمد بیان فرمائے ہیں۔

بہر حال احمدی حضرات کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جس آنے والے رسول کی بشارت دی تھی اور اس کا نام احمد بتایا تھا۔ وہ مرزاغلام احمد قادیانی ہی تھے۔ اسی بناء پر وہ انہیں (مرزا قادیانی کو) احمد نبی اللہ کہہ کر پکارتے ہیں۔ چنانچہ رسالہ احمدی نمبر ٥، ٦، ٧ بابت ١٩١٩ء موسومہ النبوۃ فی الالہام ص ١٠، مؤلفہ قاضی محمد یوسف (قادیان) میں کہا گیا ہے ۔ ” جری اللہ فی حلل الانبیاء سے صاف ثابت ہے کہ حضرت احمد علیہ السلام ایک عظیم الشان نبی اللہ ورسول اللہ ہیں اور ان کا انکار موجب غضب الٰہی اور کفر ہے ۔ “

سلسلہ انبیاء کی آخری کڑی

ربوہ کی جماعت خدام الاحمدیہ نے ایک کتابچہ شائع کیا ہے۔ جس کا نام (دینی معلومات ص ١٠، ١١، طبع سوم ١٩٧٣ء) بطرز سوال وجواب ایک صاحب کی وساطت سے راقم الحروف کو اس (کے متعلقہ حصہ) کی فوٹوسٹیٹ کاپی موصول ہوئی ہے۔ اس میں سوال نمبر ٢٢ اور اس کا جواب قابل غور ہے۔

جواب ....... حضرت آدم، حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت لوط، حضرت اسماعیل، حضرت اسحق، حضرت یعقوب، حضرت یوسف، حضرت ہود، حضرت صالح، حضرت شعیب، حضرت موسیٰ، حضرت ہارون، حضرت داؤد، حضرت سلیمان، حضرت الیاس، حضرت یونس، حضرت ذوالکفل، حضرت الیسع، حضرت ادریس، حضرت ایوب، حضرت زکریا، حضرت یحییٰ، حضرت لقمان، حضرت عزیر، حضرت ذوالقرنین، (علیہم السلام) حضرت محمدﷺ اور حضرت احمد علیہ الصلوٰۃ والسلام۔

درود شریف

جب مرزا قادیانی ان تصریحات کی رو سے (بموجب عقیدہ احمدی حضرات) نبی قرار پا گئے تو آپ پر درود بھیجنا بھی لازم ٹھہر گیا۔ ملاحظہ فرمائیے۔

٦٧

صفحہ ٤٨٨

پس آیۂ ”یٰایھا الذین امنوا صلوا علیہ وسلموا تسلیما“ کی رو سے اور ان احادیث کی رو سے جن میں آنحضرتﷺ پر درود بھیجنے کی تاکید پائی جاتی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر بھی درود بھیجنا اسی طرح ضروری ہے جس طرح آنحضرتﷺ پر بھیجنا از بس ضروری ہے۔

(رسالہ درود شریف ص ٢٢٢، مصنفہ محمد اسماعیل قادیانی)

اور یہ خود مرزا قادیانی کے ارشادات کے مطابق کہا گیا ہے۔ انہوں نے کہا تھا: ”بعض بے خبر ایک یہ اعتراض بھی میرے پر کرتے ہیں کہ اس شخص کی جماعت اس پر فقرہ ”عــــلــــیــــہ الصلوٰۃ والسلام“ اطلاق کرتے ہیں اور ایسا کرنا حرام ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ میں مسیح موعود ہوں اور دوسروں کا صلوٰۃ یا سلام کہنا تو ایک طرف خود آنحضرتﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شخص اس کو پاوے میرا سلام اس کو کہے۔...... لہٰذا میری جماعت کا میری نسبت یہ فقرہ بولنا کیوں حرام ہوگیا۔“

(رسالہ درود شریف ص ٢٢٤، ٢٢٥، بحوالہ اربعین نمبر ٢ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٣٤٩)

پوری آیت

تصریحات بالا سے واضح ہے کہ مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کی بنیاد سورۂ صف کی اس آیت پر ہے۔ جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت کا ذکر ہے۔ ہم نے قصداً اس آیت کا ایک حصہ درج کیا تھا۔ اب پوری آیت ملاحظہ فرمائیے: ”واذ قال عیسیٰ ابن مریم یبنی اسرائیل انی رسول اللّٰہ الیکم مصدقا لما بین یدی من التورۃ ومبشرا برسول یأتی من بعد اسمہ احمد (الصف:٦١)“

یہ آیت کا پہلا حصہ ہے اس کا ترجمہ مرزا بشیر الدین محمود قادیانی نے یوں کیا ہے: ”اور (یاد کرو) جب عیسیٰ ابن مریم نے اپنی قوم سے کہا کہ اے بنی اسرائیل! میں اللہ کی طرف سے تمہاری طرف رسول ہوکر آیا ہوں۔ (جو کلام) میرے آنے سے پہلے نازل ہوچکا ہے۔ یعنی توریت اس کی پیش گوئیوں کو میں پورا کرتا ہوں اور ایک ایسے رسول کی بھی خبر دیتا ہوں جو میرے بعد آئے گا۔ جس کا نام احمد ہوگا۔“

(تفسیر صغیر ص ٧٤٣)

آیت کا باقی حصہ یہ ہے: ”فلما جاء ھم بالبینت قالوا ھذا سحر مبین (الصف:٦١)“

اس کا ترجمہ مرزا بشیر الدین محمود قادیانی نے یہ کیا ہے: ”پھر جب وہ رسول دلائل لے کر آگیا تو انہوں نے کہا یہ تو کھلا کھلا فریب ہے۔“

(تفسیر صغیر ص ٧٤٣)

آیت میں جاءہم آیا ہے جو ماضی کا صیغہ ہے۔ اور اس کا ترجمہ جب وہ رسول آگیا صحیح

٦٨

طور پر کیا گیا ہے۔ آ نے دی تھی وہ زمانہ وہ خود نبی اکرمﷺ اکرمﷺ کے بعد آ گا۔ میں تبدیل کر آپ ترجمہ میں آگیا لکھا کیسے قرار دے دیا۔ نیچے) حاشیہ میں لکھا ”اس آی عیسائی اس کو جھوٹی انجیل یہ بھی دلیل ہے کہ مر پس اس آیت میں رس ہے۔ بالواسطہ خبر دی گئی آپ نے جب وہ آگیا کیا ہے بروز کی آڑ میں مرزا قاد حلول اور رجعت ( تعلیم کے یکسر خلاف ہ مرزا بشیر الد سورت میں ہے۔ بالوا انہوں نے کر دیا ہے۔ اس لئے ترجمہ (مرزا بشیر الد علی اللّٰہ الکذب و سے زیادہ ظالم اور کون

صفحہ ٤٨٩

طور پر کیا گیا ہے۔ آیت کے الفاظ سے واضح ہے کہ جس رسول کی بشارت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دی تھی وہ زمانہ نزول قرآن میں آچکا تھا۔ (ماضی کے صیغے کے معنی ہی یہ ہیں) اور ظاہر ہے کہ وہ خود نبی اکرم ﷺ تھے۔ لہٰذا اس آیت سے کسی ایسے آنے والے رسول کی دلیل لانا جو حضور نبی اکرم ﷺ کے بعد آئے گا اور اس کا نام احمد ہوگا قرآن کریم کی صریحاً تحریف ہے۔ آ گیا کو آئے گا۔ میں تبدیل کرنا تحریف نہیں تو اور کیا ہے؟

آپ یقیناً حیران ہوں گے کہ جب مرزا بشیر الدین محمود قادیانی نے اس آیت کے ترجمہ میں آ گیا لکھا ہے تو پھر انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت کا مورد مرزا قادیانی کو کیسے قرار دے دیا۔ اس کی توجیہہ بڑی دلچسپ ہے۔ انہوں نے (اپنے ترجمہ پر نشان دے کر نیچے) حاشیہ میں لکھا ہے۔

”اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کی پیش گوئی ہے جو انجیل برنباس میں لکھی ہوئی ہے۔ عیسائی اس کو جھوٹی انجیل قرار دیتے ہیں۔ مگر یہ پوپ کی لائبریری میں پائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی دلیل ہے کہ مروجہ اناجیل میں فارقلیط کی خبر دی گئی ہے۔ جس کے معنی احمد ہی کے بنتے ہیں۔ پس اس آیت میں رسول کریم ﷺ کی بلاواسطہ اور آپ کے ایک بروز کی جس کا ذکر اگلی سورۃ میں ہے۔ بالواسطہ خبر دی گئی ہے۔“

(تفسیر صغیر ص ٧٤٣)

آپ نے دیکھا کہ قرآن کریم کی نص صریح کے بعد (جس کا ترجمہ خود انہوں نے جب وہ آ گیا کیا ہے) اور اس بشارت کا مورد نبی اکرم ﷺ کو قرار دے کر اسے کس طرح ایک بروز کی آڑ میں مرزا قادیانی پر چسپاں کیا گیا ہے؟ ہم شروع میں کہہ چکے ہیں کہ ظل اور بروز اور حلول اور رجعت (کسی کے دوبارہ آنے) کے تمام تصورات مجوسیوں کے ہیں اور قرآن کریم کی تعلیم کے یکسر خلاف ہیں، لیکن مرزا قادیانی کا دعویٰ انہی مجوسی تصورات پر مبنی ہے۔

مرزا بشیر الدین محمود قادیانی نے اوپر کہا ہے کہ آپ کے ایک بروز کی جس کا ذکر اگلی سورت میں ہے۔ بالواسطہ خبر دی گئی ہے۔ اس دعویٰ کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا تو اگلی سورت میں ہے۔ لیکن بروز کا ذکر اسی سورت کی اگلی آیت میں کر دیا ہے۔ اس لئے پہلے اس کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ سورۂ صف کی اگلی آیت اور اس کا ترجمہ (مرزا بشیر الدین قادیانی کے الفاظ میں) حسب ذیل ہے: ”ومن اظلم ممن افتریٰ علی اللہ الکذب وهو یدعی الی الاسلام والله لا یھدی القوم الظلمین ! اور اس سے زیادہ ظالم اور کون ہو سکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔ حالانکہ وہ اسلام کی طرف بلایا جاتا

٦٩

صفحہ ٤٩٠

اور اللہ ظالموں کو کبھی ہدایت نہیں دیتا۔‘‘

(تفسیر صغیر ص ٧٤٤)

محمود صاحب اس کے نیچے حاشیے میں لکھتے ہیں: ”اس آیت میں اس بات کو ظاہر کیا گیا ہے کہ آپ کے بروز کی بابت خاص توجہ چاہئے جو ہے تو پیش گوئی کا بالواسطہ مورد لیکن اسلام کی طرف اس کو بلایا جائے گا۔ محمد رسول اللہ ﷺ تو خود دنیا کو اسلام کی طرف بلاتے تھے۔‘‘

(تفسیر صغیر ص ٧٤٤)

بعض اوقات انسان کی زبان اور قلم پر غیر شعوری طور پر اس طرح سچی بات آ جاتی ہے کہ اسے دیکھ کر واقعی حیرت ہوتی ہے۔ میاں محمود قادیانی نے اس آیت میں مرزا قادیانی کو اس پیش گوئی کا بالواسطہ مورد اور بروز قرار دیا ہے۔ لیکن قرآن نے اس مبینہ ”بروز“ کے متعلق کہا ہے کہ وہ ظالم خدا پر افتراء باندھے گا اور کبھی راہ راست پر نہیں آئے گا۔ حالانکہ اسے اسلام کی طرف دعوت بھی دی جائے گی۔ کیسا صحیح چسپاں کیا ہے بیٹے (مرزا بشیر الدین محمود قادیانی) نے قرآن کی اس تصریح کو اپنے والد (مرزا غلام احمد قادیانی) پر۔

سورۂ صف سے اگلی سورت سورۃ جمعہ ہے۔ اس میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے : ”هــــــــو الذي بعث ...... ضلال مبین “ وہی خدا ہے جس نے ایک ان پڑھ قوم کی طرف اس میں سے ایک شخص کو رسول بنا کر بھیجا۔ (جو کہ باوجود ان پڑھ ہونے کے ) ان کو خدا کے احکام سناتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب و حکمت سکھاتا ہے۔ گو وہ اس سے پہلے بڑی بھول میں تھے۔

(تفسیر صغیر ص ٧٤٥)

اس کے بعد : ”وآخرين منهم لما يلحقوا بهم ، وهو العزيز الحكيم (جمعہ : ٣) ”اور یہ ان کی طرف بھی رسول ہے جو اس مخاطب کے بعد آنے والے ہیں اور یہ پروگرام اس خدا کا ہے جو بڑے غلبہ اور حکمت کا مالک ہے۔

آیت نمبر ١ اور آیت نمبر ٣ کو ملا لیا جائے تو بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ رسول (یعنی محمد رسول اللہ ﷺ ) صرف قوم مخاطب ہی کی طرف رسول نہیں بلکہ ان اقوام کی طرف بھی رسول ہے جو ان کے بعد آنے والے ہیں۔ اس مفہوم کی تائید قرآن کریم کے دیگر مقامات سے بھی ہوتی ہے۔ جہاں کہا گیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ تمام نوعِ انسان کی طرف رسول تھے۔ مثلاً سورۂ سبا میں ہے۔ ”وما ارسلنك الا كافة للناس بشيرا ونذيرا ولكن اكثر الناس لا يعلمون (سبــــــا : ٢٨) ”اور ہم نے تجھ کو تمام نوعِ انسان کی طرف (جن میں سے ایک بھی تیرے حلقۂ رسالت سے باہر نہ رہے) ایسا رسول بنا کر بھیجا ہے جو (مؤمنوں کو) خوشخبری دیتا اور (کافروں کو)

٧٠

صفحہ ٤٩١

عالمی سیرت پر اکابر علماء

عالمی سیرت نے سیرت مصطفیٰ

مسائل سیرت مقالہ جات کو

پڑھیں

کانفرنس کی کاروائی؟ عالمی سیرت کانفرنس

(تفسیر صغیر ص٧٤٤)

میں لکھتے ہیں: ”اس آیت میں اس بات کو ظاہر کرنا چاہتے جو ہے تو پیش گوئی کا بالواسطہ مورد لیکن ہ تو خود دنیا کو اسلام کی طرف بلاتے تھے۔“

(تفسیر صغیر ص٧٤٤)

پر غیر شعوری طور پر اس طرح سچی بات آ جاتی ہے محمود قادیانی نے اس آیت میں مرزا قادیانی کو اس لیکن قرآن نے اس مبینہ ’بروز‘ کے متعلق کہا ہے امت پر نہیں آئے گا۔ حالانکہ اسے اسلام کی طرف ہ دیئے (مرزا بشیر الدین محمود قادیانی) نے قرآن

ہے۔ اس میں ارشاد باری تعالیٰ ہے : ”هـــــــو جسے جس نے ایک ان پڑھ قوم کی طرف اس میں سے پڑھ ہونے کے) ان کو خدا کے احکام سناتا ہے اور تا ہے۔ گو وہ اس سے پہلے بڑی بھول میں تھے۔

(تفسیر صغیر ص٧٤٥)

ثم لما يلحقوا بهم . وهو العزيز الحكيم ی ہے جو اس مخاطب کے بعد آنے والے ہیں اور یہ مالک ہے۔

جائے تو بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ رسول (یعنی محمد د رسول نہیں بلکہ ان اقوام کی طرف بھی رسول ہے جو بقیہ قرآن کریم کے دیگر مقامات سے بھی ہوتی ہے۔ ان کی طرف رسول تھے۔ مثلاً سورۂ سبا میں ہے۔ شيرًا ونذيرًا ولكن اكثر الناس لا يعلمون انسان کی طرف (جن میں سے ایک بھی تیرے حلقہ ا ہے جو (مومنوں کو) خوشخبری دیتا اور ( کافروں کو ) ے

ہوشیار کرتا ہے۔ لیکن انسانوں میں سے اکثر اس حقیقت سے واقف نہیں۔

(تفسیر صغیر ص ٥٤٢)

اور وہ حاشیہ میں اس کی وضاحت ان الفاظ میں کرتے ہیں : ”یہاں کافۃ للناس کے الفاظ ہیں اور کف الشی کے معنی ہوتے ہیں کسی چیز کو اس طرح جمع کیا جائے کہ اس کا کوئی حصہ باہر نہ رہے۔ (اقرب) یہ آیت اس بات کا زبردست ثبوت ہے کہ یہودی یا عیسائی یا اور کسی مذہب کا اور خواہ قیامت تک کسی صدی میں پیدا ہونے والا ہو وہ رسول کریم ﷺ کی رسالت کے ماتحت ہے۔ ایسا کوئی دعویٰ نہ تورات میں ہے نہ انجیل میں نہ ویدوں میں۔ بلا استثناء سب مذاہب کی طرف اور سب زمانوں کی طرف اور سب قوموں کی طرف مبعوث ہونے کا دعویٰ صرف محمد رسول اللہ ﷺ کو ہے جو اس آیت سے ثابت ہے۔“

(تفسیر صغیر ص ٥٦٤)

اس سے سورۂ جمعہ کی آیت ”وآخرين منهم لما يلحقوا بهم“ کا مفہوم واضح ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد آپ دیکھئے کہ مرزا بشیر الدین محمود قادیانی اس آیت کا مفہوم کیا پیش کرتے ہیں۔ لیکن اس سے پہلے ان کا پیش کردہ مفہوم سامنے لایا جائے۔ تجدید یا دداشت کے لئے اسے دہرا لیجئے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ یہ تھا کہ وہ کوئی دوسرے رسول نہیں۔ خود محمد ہی ہیں جو بار دگر دنیا میں آئے ہیں۔ (تفصیل پہلے گزر چکی ہے ) اس دعویٰ کی روشنی میں مرزا بشیر الدین محمود قادیانی کا (اس آیت کا) ترجمہ اور تشریح ملاحظہ فرمائیے۔ وہ اس کا ترجمہ یوں کرتے ہیں۔ ”اور ان کے سوا ایک دوسری قوم میں بھی وہ اس کو بھیجے گا جو ابھی تک ان سے ملی نہیں اور وہ غالب اور حکمت والا ہے۔“

(تفسیر صغیر ص ٧٤٥)

یعنی خدانے محمد کو اس وقت صرف ان عربوں کی طرف بھیجا ہے اور اس کے بعد وہ انہیں ایک اور قوم کی طرف بھی بھیجے گا۔ لیکن ان کا دوبارہ دنیا میں آنا بروزی شکل میں ہوگا۔

اس ترجمہ کے بعد ان کی تشریح ملاحظہ فرمائیے۔ وہ حاشیہ میں لکھتے ہیں: ”اس آیت میں اس حدیث کی طرف اشارہ ہے جس میں آتا ہے کہ رسول کریم ﷺ سے صحابہؓ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! یہ آخرین کون ہیں۔ تو آپ نے سلمان فارسی کے کندھے پر ہاتھ رکھ فرمایا۔”لوکان الايمان معلقاً بالثريا لنا له رجل اورجال من فارس (بخاری)“ یعنی اگر ایک وقت ایمان ثریا تک بھی اڑ گیا تو اہل فارس کی نسل سے ایک یا ایک سے زیادہ لوگ اسے واپس لے آئیں گے۔ اس میں مہدی معہود کی خبر ہے۔“

(تفسیر صغیر ص ٧٤٥)

اور یہ ”مہدی معہود“ مرزا غلام احمد قادیانی ہیں۔

آپ نے غور فرمایا کہ مرزا قادیانی کے دعویٰ کو ثابت کرنے کے لئے قرآن کریم میں ٧

صفحہ ٤٩٢

کس طرح کھینچا تانی کی جارہی ہے۔ جس رسول کی رسالت خود (مرزا بشیر الدین محمود قادیانی کے الفاظ میں) بلا استثناء تمام مذاہب تمام زمانوں، تمام قوموں کو قیامت تک محیط ہے۔ اس کے بعد کسی اور آنے والے کا کیا سوال۔ لیکن یہ حضرات رسالت محمدیہ کی (قیامت تک ) ابدیت اور ہمہ گیریت کے بھی قائل ہیں اور پھر ایک اور آنے والے کے بھی مدعی، اس دعوٰی کی بنیاد روایت پر ہے۔ قرآن پر نہیں۔

فارسی النسل

پھر یہاں جو فارسی النسل ہونے کا ذکر ہے۔ یہ بڑی دلچسپ چیز ہے۔ لیکن اس کی تشریح کا یہ مقام نہیں۔ جو حضرات اس سے دلچسپی رکھتے ہوں۔ وہ میری کتاب ”شاہکار رسالت“ کا آخری باب ملاحظہ فرمائیں۔ اس مقام پر صرف اتنا سمجھ لینا کافی ہوگا کہ اس فارسی الاصل ہونے کی شرط نے پھر ایک مشکل پیدا کر دی۔ مرزا قادیانی مغل (برلاس) خاندان سے متعلق تھے جو فارسی الاصل نہیں ہو سکتا۔ یہ واقعی مشکل تھی جس کا کوئی حل نظر نہیں آتا تھا۔ لیکن اس کا حل بھی وحی نے پیدا کر دیا۔

مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”یاد رہے کہ اس خاکسار کا خاندان بظاہر مغلیہ خاندان ہے۔ کوئی تذکرہ ہمارے خاندان میں نہیں دیکھا گیا کہ وہ بنی فارس کا خاندان تھا۔ ہاں بعض کاغذات میں یہ دیکھا گیا ہے کہ ہماری بعض دادیاں شریف اور مشہور سادات میں سے تھیں۔ اب خدا کے کلام سے معلوم ہوا کہ دراصل ہمارا خاندان فارسی خاندان ہے۔ سو اس پر ہم پورے یقین سے ایمان لاتے ہیں۔ کیونکہ خاندانوں کی حقیقت جیسی کہ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کسی کو ہرگز نہیں ۔“

(اربعین نمبر ٢ ص ١٧ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)

دوسری جگہ لکھتے ہیں: ”میرے پاس فارسی ہونے کے لئے بجز الہام الٰہی کے اور کچھ ثبوت نہیں۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ١٨، خزائن ج ١٧ ص ١١٦)

محمد کے اوتار

بات یہاں سے چلی تھی کہ مرزا قادیانی نے اپنے دعوٰی نبوت کی بنیاد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اس بشارت پر رکھی جو قرآن کریم (سورۂ صف ) میں مذکور ہے۔ لیکن اس میں پیچ یہ آ پڑا کہ اس میں آنے والے رسول کا نام احمد بتایا گیا ہے۔ پہلے یہ کوشش کی گئی کہ یہ ثابت کیا جائے کہ مرزا قادیانی کا نام درحقیقت احمد تھا۔ لیکن اس میں بھی بہت سے اشکال لاحق تھے۔ کیونکہ یہ ثابت تھا کہ آنحضور نبی اکرم ﷺ کے اسمائے گرامی محمد اور احمد (دونوں) تھے۔ اس الجھن کو مرزا قادیانی

٧٢

صفحہ ٤٩٣

نے یہ کہہ کر دور کر دیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کا (معاذ اللہ) اوتار ہوں۔ اس لئے جو نام حضور ﷺ کے تھے وہی میرے ہیں۔ ان کے الفاظ میں: ”اس وقت خدا نے جیسا کہ حقوق عباد کے تلف کے لحاظ سے میرا نام مسیح رکھا اور مجھے خوار و بوار رنگ اور روپ کے لحاظ سے حضرت عیسیٰ مسیح کا اوتار کر کے بھیجا۔ ایسا ہی اس نے حقوق خالق کے تلف کے لحاظ سے میرا نام محمد اور احمد رکھا اور مجھے توحید پھیلانے کے لئے تمام خوار و بوار رنگ اور روپ اور جامہ محمدی پہنا کر حضرت محمد ﷺ کا اوتار بنا دیا۔“

(ضمیمہ رسالہ جہاد ص ٥، ٦، خزائن ج ١٧ ص ٢٧، ٢٨)

اس دعویٰ کو صاحبزادہ بشیر احمد قادیانی نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: ”اس جگہ کسی کو یہ وہم نہ گزرے کہ ہم نعوذ باللہ نبی کریم ﷺ کو احمد نہیں مانتے۔ ہمارا ایمان ہے کہ آپ احمد تھے۔ بلکہ ہمارا تو یہاں تک خیال ہے کہ آپ کے سوا کوئی احمد نہیں اور نہ کوئی احمد ہو سکتا ہے۔ مگر سوال تو یہ ہے کہ کیا آپ اپنی پہلی بعثت میں بھی احمد تھے؟ نہیں ! بلکہ آپ اپنی پہلی بعثت میں محمدیت کی جلالی صفت میں ظاہر ہوئے تھے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ سورۂ صف میں کسی ایسے رسول کی پیش گوئی کی گئی ہے جو احمد ہے۔ پس ثابت ہوا کہ یہ پیش گوئی نبی اکرم ﷺ کی پہلی بعثت کے متعلق نہیں بلکہ آپ کی دوسری بعثت یعنی مسیح موعود کے متعلق ہے۔ کیونکہ مسیح موعود جمالی صفت کا مظہر یعنی احمد ہے۔ اس حقیقت کو حضرت مسیح موعود نے اپنی کتاب اعجاز المسیح میں بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے اور کھول کھول کر بتایا ہے کہ نبی کریم ﷺ کے دو بعث میں بعثت اوّل میں اسم محمد کی تجلی تھی۔ مگر بعثت دوم، اسم احمد کی جلوہ گری کے لئے ہے۔“

(کلمۃ الفصل مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز نمبر ٣ ج ١٤ ص ١٣٠، ١٣٩)

ہم سمجھتے ہیں کہ اس بات میں مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ جب معاملہ اوتار تک پہنچ گیا تو پھر کون سی کسر باقی رہ گئی۔

احمدی جماعت

بہر حال اس طرح مرزا قادیانی نے رسول (احمد) ہونے کا دعویٰ کیا۔ اپنی جماعت کا نام احمدی رکھا اور اس جماعت میں شامل ہونے والوں کو صحابہ کہا گیا۔ خطبہ الہامیہ میں کہا: ”مسیح موعود کے عین محمد ہونے کی اوّل دلیل یہ ہے جو حضرت مسیح موعود الہامی شان کے الفاظ میں یوں تحریر فرماتے ہیں اور خدا نے مجھ پر اس رسول کریم کا فیض نازل فرمایا اور اس نبی کریم کے لطف اور جود کو میری طرف کھینچا۔ یہاں تک کہ میرا وجود اس کا وجود ہو گیا۔ پس وہ جو میری جماعت میں شامل ہوا در حقیقت میرے سردار خیر المرسلین کے صحابہ میں داخل ہوا۔“

(خطبہ الہامیہ ص ١٧١، خزائن ج ١٦ ص ٢٥٨، ٢٥٩)

٧٣

صفحہ ٤٩٤

اخبار الفضل میں ہے: ’’پس ہمارا صحابہ کی جماعت میں شامل ہونا مسیح موعود کے عین محمد ہونے پر ایک پختہ اور بدیہی دلیل ہے۔‘‘

(الفضل ٧ اگست ١٩١٥ء)

دوسری جگہ ہے: ’’پس ہر احمدی کو جس نے احمدیت کی حالت میں حضور (مرزا قادیانی) کو دیکھا یا حضور (مرزا قادیانی) نے اسے دیکھا۔ صحابی کہا جائے۔‘‘

(الفضل ١٣ دسمبر ١٩٣٦ء)

قادیان....... ارض حرم

جب مرزا قادیانی رسول ٹھہرے اور ان کی جماعت میں شامل ہونے والے صحابہ، تو جس سر زمین (قادیان) پر ان کی بعثت ہوئی۔ وہ خود بخود ارض حرم قرار پاگئی۔ چنانچہ مرزا قادیانی کا مشہور شعر ہے کہ؎

زمین قادیان اب محترم ہے
ہجوم خلق سے ارض حرم ہے

(درثمین ص٥٢، مجموعہ کلام مرزا قادیانی)

قرآن کریم میں کعبہ کے متعلق ہے کہ: ’’ومن دخله کان آمنا‘‘ مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ یہ صفت قادیان کی مسجد کے متعلق ہے۔ ارشاد ہے: ’’بیت الفکر سے مراد اس جگہ وہ چوبارہ ہے جس میں یہ عاجز کتاب (براہین احمدیہ) کی تالیف کے لئے مشغول رہا ہے اور رہتا ہے اور بیت الذکر سے مراد وہ مسجد ہے جو اس چوبارہ کے پہلو میں بنائی گئی ہے اور آخری فقرہ مذکورہ بالا ’’ومن دخله کان آمنا‘‘ اس مسجد کی صفت میں بیان فرمایا ہے۔ (براہین احمدیہ ص٥٥٨) مسجد اقصیٰ بھی قادیان ہی کی مسجد کا نام ہے۔ اخبار الفضل میں ہے: ’’سبحن الذی اسریٰ بعبده لیلا من المسجد الحرام الی المسجد الاقصا الذی برکنا حوله‘‘ کی آیت کریمہ میں مسجد اقصیٰ سے مراد قادیان کی مسجد ہے۔

(الفضل قادیان نمبر ٢٢ ج ٢٠، مورخہ ٢١ اگست ١٩٣٣ء)

میاں محمود احمد قادیانی نے کہا: ’’میں تمہیں سچ کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بتا دیا ہے کہ قادیان کی زمین بابرکت ہے۔ یہاں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ والی برکات نازل ہوتی ہیں۔‘‘

(الفضل قادیان نمبر ٧٠ ج ٢٠ ص١، مورخہ ١١ دسمبر ١٩٣٢ء)

ضمناً یہاں یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ میاں محمود احمد قادیانی نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بتا دیا ہے۔ بالفاظ دیگر میاں صاحب بھی وحی کے مدعی تھے۔ اب آگے بڑھئے۔

٧٤

صفحہ ٤٩٥

ہمارے اصحاب کی جماعت میں شامل ہونا مسیح موعود کے عین محمد

(الفضل ٧؍اگست ١٩١٥ء)

ہر احمدی کو جس نے احمدیت کی حالت میں قادیانی) نے اسے دیکھا۔ صحابی کہا جائے۔“

(الفضل ١٣؍دسمبر ١٩٣٦ء)

نے اور ان کی جماعت میں شامل ہونے والے صحابہ، تو ائی۔ وہ خود بخود ارضِ حرم قرار پا گئی۔ چنانچہ مرزا قادیانی

اب محترم ہے
سے ارض حرم ہے

(درثمین ص ٥٢، مجموعہ کلام مرزا قادیانی)

تا ہے کہ: ’ومن دخلہ کان اٰمنا‘ ”مرزا قادیانی متعلق ہے۔ ارشاد ہے: ”بیت الفکر سے مراد اس جگہ وہ ین احمدیہ)“ کی تالیف کے لئے مشغول رہا ہے اور رہتا جو اس چوبارہ کے پہلو میں بنائی گئی ہے اور آخری فقرہ تا“ اس مسجد کی صفت میں بیان فرمایا ہے۔ (براہین احمدیہ کا نام ہے۔ اخبار الفضل میں ہے: ”سبحن الذی حرام الی المسجد الاقصا الذی برکنا حولہ“ ان کی مسجد ہے۔

(الفضل قادیان نمبر ٢٢ ج ٢٠، مورخہ ٢١ اگست ١٩٣٣ء)

میں تمہیں سچ کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بتا دیا ہے کہ مکہ اور مدینہ منورہ والی برکات نازل ہوتی ہیں۔“

(الفضل قادیان نمبر ٧٠، ج ٢٠، ص ١، مورخہ ١١ دسمبر ١٩٣٢ء)

ہے کہ میاں محمود احمد قادیانی نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے کی وحی کے مدعی تھے۔ اب آگے بڑھئے۔

٧٤

شعائر اللہ

انہوں نے ١٩٣٢ء کے سالانہ جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا: ”پھر شعائر اللہ کی زیارت بھی ضروری ہے۔ یہاں (قادیان میں) کئی ایک شعائر اللہ ہیں۔ مثلاً یہی ایک علاقہ ہے جہاں جلسہ ہورہا ہے۔ ...... اسی طرح شعائر اللہ میں مسجد مبارک، مسجد اقصیٰ، منارۃ المسیح شامل ہیں۔“

(اخبار الفضل قادیان نمبر ٨١، ج ٢٠ ص ٣، مورخہ ٨؍جنوری ١٩٣٣ء)

حج بھی

جب ارضِ قادیان، ارضِ حرم قرار پائی تو وہاں کا اجتماع بھی حج کہلائے گا۔ چنانچہ میاں محمود قادیانی نے خطبہ جمعہ میں فرمایا: ”چونکہ حج پر وہی لوگ جاسکتے ہیں جو مقدرت رکھتے اور امیر ہوں۔ حالانکہ الہی تحریکات پہلے غرباء ہی میں پھیلتی اور پنپتی ہیں اور غرباء کو حج سے شریعت نے معذور رکھا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایک اور ظلی حج مقرر کیا تا وہ قوم جس سے وہ اسلام کی ترقی کا کام لینا چاہتا ہے اور تا وہ غریب یعنی ہندوستان کے مسلمان اس میں شامل ہوسکیں۔“

(الفضل قادیان نمبر ٦٦، ج ٢٠ ص ٥، مورخہ یکم دسمبر ١٩٣٢ء)

یہاں قادیان کے حج کو ظلی حج کہا۔ یہ تدریجی دعاوی کی منزلِ اوّل تھی۔ ایک اور صاحب نے فرمایا: ”جیسے احمدیت کے بغیر پہلا اسلام یعنی حضرت مرزا قادیانی کو چھوڑ کر جو اسلام باقی رہ جاتا ہے۔ خشک اسلام ہے۔ اسی طرح اس ظلی حج کو چھوڑ کر مکہ والا خشک حج رہ جاتا ہے۔“ اس قول کو احمدی حضرات کی لاہوری شاخ کے ترجمان پیغامِ صلح کی ١٩؍اپریل ١٩٣٣ء کی اشاعت میں شائع کیا گیا ہے۔ لیکن ان صاحب کا نام نہیں بتایا گیا۔ جنہوں نے ایسا فرمایا تھا۔

حج اکبر

قادیان کے سالانہ جلسہ میں شریک ہونے والوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا گیا: ”(بہشتی مقبرہ میں) وہ روضہ مطہرہ ہے۔ جس میں اس خدا کے برگزیدہ کا جسم مبارک مدفون ہے۔ جسے افضل الرسل نے اپنا سلام بھیجا اور جس کی نسبت حضرت خاتم النبیین نے فرمایا: ”یدفن معی فی قبری“ اس اعتبار سے مدینہ منورہ کے گنبد خضریٰ کے انوار کا پورا پورا پرتو اس گنبد بیضا پر پڑ رہا ہے اور آپ گویا ان برکات سے حصہ لے سکتے ہیں جو رسول کریم ﷺ کے مرقد منور سے مخصوص ہیں۔ کیا ہی بدقسمت ہے وہ شخص جو احمدیت کے حج اکبر میں اس تمتع سے محروم رہے۔“

(الفضل قادیان نمبر ٤٨، ج ١٠، ص ٦، مورخہ ١٨؍دسمبر ١٩٢٢ء)

اس مقام پر اتنا اور واضح کر دینا بھی مناسب ہے کہ میاں محمود احمد قادیانی نے اپنی

٧٥

صفحہ ٤٩٦

ڈائری میں لکھا ہے کہ: ”جب میں حج کرنے گیا تھا تو اپنے طور پر جماعت کرا کر مسجد حرام میں نماز پڑھتا تھا۔“

(بحوالہ الفضل مورخہ ٧ / مارچ ١٩٢١ء)

ان تصریحات کی روشنی میں آپ سوچئے کہ کیا کوئی بات بھی ایسی ہے جس میں احمدی حضرات مسلمانوں سے الگ نہ ہو چکے ہوں۔ اس مقام پر صاحبزادہ بشیر احمد قادیانی کا وہ قول ایک بار پھر نقل کر دینا مناسب ہوگا۔ جسے پہلے بھی درج کیا جا چکا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ”غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں۔ ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار دیا گیا۔ ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا۔ اب باقی رہ گیا جو ہم ان کے ساتھ مل کر کر سکتے ہیں۔“

(کلمتہ الفضل مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز نمبر ٣ ج ١٤ ص ١٦٩)

جداگانہ کلمہ

اس مقام پر یہ سوال پیدا ہوگا کہ جب احمدی حضرات اپنے آپ کو ہر لحاظ سے مسلمانوں سے الگ سمجھتے ہیں تو پھر اپنا کلمہ بھی الگ کیوں نہیں وضع اور اختیار کر لیتے۔ کلمہ کا مسئلہ بڑا نازک ہے۔ دیگر معاملات میں الگ ہو جانے سے عندالضرورت تاویلات سے کام لیا جا سکتا ہے۔ لیکن کلمہ کے الگ کر لینے سے کسی تاویل کی گنجائش نہیں رہتی اور اس سے مسلمان عوام کے مشتعل ہو جانے کا اندیشہ بدیہی ہے۔ (جیسا کہ آگے جا کر بتایا جائے گا) احمدی حضرات مسلمانوں سے کھلے بندوں الگ ہو جانا سردست اپنے مفاد و مصلحت کے خلاف سمجھتے ہیں۔ اس لئے کلمہ میں محمد کے بجائے احمد کا لفظ رکھنے سے ہچکچاتے ہیں۔ لیکن احمدیہ سن کر متعجب ہوں گے کہ یہ حضرات کلمہ طیبہ ”لا اله الا الله محمد رسول الله“ میں محمد سے مراد مرزا قادیانی ہی لیتے ہیں۔

مرزا بشیر احمد قادیانی فرماتے ہیں: ”اگر ہم بفرض محال یہ بات مان بھی لیں کہ کلمہ شریف میں نبی کریم ﷺ کا اسم مبارک اس لئے رکھا گیا ہے کہ آپ آخری ہیں تو تب بھی کوئی حرج واقع نہیں ہوتا اور ہم کو نئے کلمہ کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ کیونکہ مسیح موعود نبی کریم ﷺ سے الگ چیز نہیں۔ جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے۔ ”صار وجودی وجوده“ نیز ”من فرق بینی وبین المصطفٰی فما عرفنی ومارائی“ اور یہ اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو دنیا میں مبعوث کرے گا۔ جیسا کہ آیت ”آخرین منهم“ سے ظاہر ہے۔ پس مسیح موعود خود محمد رسول اللہ ﷺ ہے جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔ اس لئے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں۔ ہاں اگر محمد رسول اللہ ﷺ کی جگہ کوئی اور آتا تو

٧٦

ضرورت پیش آتی۔ آپ آنکھوں میں جھونکی لئے ہے۔ ان حضرا چنانچہ ایک صاحب ”چوتھی بات جو میں احباب نے ”لا الہ پڑھنے اور بطور احمدی کہ ”لا اله الا الله جری اللہ“ ہے۔ ممکن ش پر زور نہیں دیتے۔ اس امر کی کہ ان حضر مرزا قادیانی ہیں۔ ویسے رسول اللہ“ رہ جاتا ہے۔ اس عقیدہ کی رو سے مسلمان بننے ک (سردست) اس خاتم النبیین کا جیسا ہے۔ مسلمانوں مسلمان ہونے کی ا اسی مسئلہ پر بحث ہ ”احمدی“ حضرات

صفحہ ٤٩٧

ضرورت پیش آتی۔“

(کلمتہ الفصل، مندرجہ ریویو آف ریلیجنز نمبر ٣ ج ١٤ ص ١٥٨)

آپ نے غور فرمایا کہ کیسی لطیف اور ساحرانہ غیر مرئی ہے یہ دھول، جو دوسروں کی آنکھوں میں جھونکی جا رہی ہے۔ لیکن بعض حضرات کا کہنا ہے کہ یہ نظری توجیہہ محض دکھاوے کے لئے ہے۔ ان حضرات کی مجالس میں جو کلمہ پڑھا جاتا ہے۔ اس میں احمد ہی کا نام لیا جاتا ہے۔ چنانچہ ایک صاحب منشی ظہیر الدین نے جلسہ قادیان کے جو چشم دید حالات لکھے۔ ان میں کہا کہ: ”چوتھی بات جو میں نے جلسہ میں دیکھی تھی وہ اختلاف عقائد تھا اور میں حیران رہ گیا۔ جب بعض احباب نے ”لا الہ الا الله احمد جری الله“ کو درست اور صحیح قرار دیتے ہوئے اس کو پڑھنے اور بطور احمدی عقائد کے خلاصہ کے تسلیم کرنے کا اقرار کیا۔ بلکہ بعض سے میں نے یہ بھی سنا کہ: ”لا الہ الا الله محمد رسول الله“ محمدی کلمہ ہے اور احمدی کلمہ ”لا الہ الا الله احمد جری الله“ ہے۔“

ممکن ہے ”احمدی“ (قادیانی) حضرات اس بیان کو صحیح تسلیم نہ کریں۔ اس لئے ہم اس پر زور نہیں دیتے۔ ہمارے نزدیک، صاحبزادہ بشیر احمد قادیانی کی توجیہہ بڑی وزنی شہادت ہے۔ اس امر کی کہ ان حضرات کے ہاں کلمہ طیبہ کے الفاظ تو وہی ہیں۔ لیکن اس میں محمد سے مراد مرزا قادیانی ہیں۔

ویسے بھی جب ان حضرات کے عقیدہ کی رو سے ایک شخص ”لا الہ الا الله محمد رسول الله“ کے اقرار سے مسلمان نہیں ہو سکتا۔ کافر کا کافر رہتا ہے تو مسلمانوں کا کلمہ بیکار ہو کر رہ جاتا ہے۔ اس کلمہ کے ساتھ اگر مرزا قادیانی کی نبوت کا اقرار نہ کیا جائے تو (ان حضرات کے عقیدہ کی رو سے) کوئی شخص حلقہ اسلام میں داخل نہیں ہو سکتا۔ لہذا حلقہ بگوش اسلام ہونے اور مسلمان بننے کے لئے حقیقی کلمہ وہی ہے جس میں مرزا قادیانی کو رسول اللہ مانا جائے اور (سردست) اس کی عملی شکل یہ ہے کہ محمد رسول اللہ میں محمد سے مراد مرزا قادیانی لئے جائیں۔

خاتم النبیین کا مفہوم

جیسا کہ پہلے بھی لکھا جا چکا ہے مسلمانوں اور احمدیوں میں بنیادی نزاع مسئلہ ختم نبوت ہے۔ مسلمانوں کے نزدیک حضور نبی اکرم ﷺ کا خاتم النبیین ہونا اسلام کا بنیادی مطالبہ اور مسلمان ہونے کی اساسی شرط ہے۔ گذشتہ ساٹھ ستر برس سے مسلمانوں کی ان حضرات کے ساتھ اسی مسئلہ پر بحث ہو رہی ہے۔ لیکن یہ بات عوام کے لئے سخت حیرت کا موجب ہوتی ہے کہ ”احمدی“ حضرات اٹھتے بیٹھتے، حضور نبی کریم ﷺ کو خاتم النبیین کہتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں، ٧٧

صفحہ ٤٩٨

تقریروں میں ہر جگہ حضورﷺ کے اسم گرامی کے ساتھ خاتم النبیین ملے گا۔ جب عام مسلمان ان پر اعتراض کرتے ہیں کہ آپ نبی اکرمﷺ کو خاتم النبیین تسلیم نہیں کرتے تو یہ دھڑلے سے جواب دیتے ہیں کہ یہ تمہارے مولویوں کا پھیلایا ہوا جھوٹ ہے۔ تم دیکھتے نہیں کہ ہم کس طرح ایک ایک سانس میں حضور نبی اکرمﷺ کے لئے خاتم النبیین کا لقب استعمال کرتے ہیں۔ ان کا یہ جواب عوام کو خاموش کر دینے کا بڑا کامیاب حربہ ہوتا ہے۔

آپ دیکھ چکے ہیں کہ مسلمانوں کے نزدیک خاتم النبیین کے معنی ہیں ۔ وہ آخری نبی جس کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا ۔ لیکن احمدی حضرات کے نزدیک اس کے معنی ہیں ۔ وہ نبی جس کی مہر سے مرزا قادیانی نبی بن گئے تھے۔ لہذا جب احمدی حضرات کے نزدیک اس کے یہ معنی ہیں تو اس سے ان کا مفہوم اپنا ہوتا ہے۔ الفاظ وہی مفہوم نہ صرف الگ بلکہ مسلمانوں کے مفہوم کے یکسر خلاف۔ سنئے کہ اس باب میں احمدیوں کے خلیفہ اول حکیم نور الدین صاحب کیا ارشاد فرماتے ہیں ۔ کہتے ہیں : ”رہی یہ بات کہ آنحضرتﷺ کو قرآن مجید میں خاتم النبیین فرمایا ۔ ہم اس پر ایمان لاتے ہیں اور ہمارا یہ مذہب ہے کہ اگر کوئی شخص آنحضرتﷺ کو خاتم النبیین تسلیم نہ کرے تو بالا تفاق کافر ہے۔ یہ جدا امر ہے کہ ہم اس کے کیا معنی کرتے ہیں اور ہمارے مخالف کیا ۔“

(ارشاد حکیم نور الدین قادیانی مندرجہ نہج المصلی ج ١ ص ٢٧٥)

اس کی مزید وضاحت ان الفاظ میں ملتی ہے۔ ”ہم تو جیسے پہلے آنحضرتﷺ کی ختم نبوت کے قائل تھے۔ ویسے ہی اب بھی ہیں اور ختم نبوت کے ساتھ ہی مرزا قادیانی کی نبوت بھی قائم ہے۔ اگر آنحضرتﷺ خاتم النبیین ہیں تو حضرت مرزا قادیانی بھی نبی ہیں۔ گویا ختم نبوت اور مسیح موعود کی نبوت لازم وملزوم ہیں۔ ہمارے جلسوں، تحریروں اور تقریروں اور یہاں تک کہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ سے بیعت کے اقراری الفاظ میں بھی خاتم النبیین کا اقرار مقدم رکھا گیا ہے۔“

(الفاروق، قادیان مورخہ ٢٨ فروری ١٩٣٥ء)

آپ نے پیچ ملاحظہ فرمالئے۔

الہامات کا نمونہ

ہم نے شروع میں کہا ہے کہ ہم اپنی اس کتاب کو علمی دائرہ تک محدود رکھنا چاہتے ہیں۔ اسی لئے ہم نے مرزا قادیانی کے الہامات کا تذکرہ نہیں کیا۔ کیونکہ وہ علمی گفتگو کا موضوع بن نہیں سکتے۔ لیکن چونکہ قارئین کو تجسس ہوگا کہ جس شخص نے نبوت رسالت کا دعویٰ کیا ہے۔ دیکھنا چاہئے کہ اس کے الہامات کس قسم کے تھے۔ اس لئے ہم ان کی تسکین کاوش کے لئے مرزا قادیانی کے

٧٨

صفحہ ٤٩٨

امی کے ساتھ خاتم النبیین ملے گا۔ جب عام مسلمان ان کو خاتم النبیین تسلیم نہیں کرتے تو یہ دھڑلے سے جواب ہوا جھوٹ ہے۔ تم دیکھتے نہیں کہ ہم کس طرح ایک ایک خاتم النبیین کا لقب استعمال کرتے ہیں۔ ان کا یہ جواب ہوتا ہے۔

وں کے نزدیک خاتم النبیین کے معنی ہیں۔ وہ آخری نبی ی حضرات کے نزدیک اس کے معنی ہیں۔ وہ نبی جس کی مذاہب احمدی حضرات کے نزدیک اس کے یہ معنی ہیں تو وہی مفہوم نہ صرف الگ بلکہ مسلمانوں کے مفہوم کے یکسر کے خلیفۂ اوّل حکیم نور الدین صاحب کیا ارشاد فرماتے ارے رسول کو قرآن مجید میں خاتم النبیین فرمایا۔ ہم اس پر مد اگر کوئی شخص آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین تسلیم نہ کرے اس کے کیا معنی کرتے ہیں اور ہمارے مخالف کیا۔۔‘‘

ارشاد حکیم نور الدین قادیانی مندرجہ نہج المصلیٰ ج اول ص ٢٧)

الفاظ میں ملتی ہے۔ ’’ہم تو جیسے پہلے آنحضرت ﷺ کی ختم ہیں اور ختم نبوت کے ساتھ ہی مرزا قادیانی کی نبوت بھی مان ہیں تو حضرت مرزا قادیانی بھی نبی ہیں۔ گویا ختم نبوت ہمارے جلسوں، تحریروں اور تقریروں اور یہاں تک کہ مرہ سے بیعت کے اقراری الفاظ میں بھی خاتم النبیین کا

(الفاروق، قادیان مورخہ ٢٨؍فروری ١٩٣٥ء)

ہم اپنی اس کتاب کو علمی دائرہ تک محدود رکھنا چاہتے ہیں۔ ت کا تذکرہ نہیں کیا۔ کیونکہ وہ علمی گفتگو کا موضوع بن نہیں س شخص نے نبوت رسالت کا دعویٰ کیا ہے۔ دیکھنا چاہئے اس لئے ہم ان کی تسکین کاوش کے لئے مرزا قادیانی کے ٧٨

٤٩٩ الہامات کے صرف دو تین نمونے پیش کرتے ہیں۔ انہی سے قارئین ان کے باقی الہامات کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ (الہامات کے سلسلہ میں مرزا قادیانی نے کہا تھا کہ ان پر وحی اور الہامات کا نزول بارش کی طرح ہوتا ہے اور یہ سلسلہ قریب اٹھائیس سال (١٨٨٠ء لغایت ١٩٠٨ء) تک جاری رہا۔ اس سے آپ ان کی مقدار کا اندازہ کر سکتے ہیں) بہر حال آپ دو ایک الہامات و مکاشفات ملاحظہ فرمائیے:

اس پر حملہ کرتی ہے۔ بار بار ہٹانے سے باز نہیں آتی تو بالآخر میں نے اس کا ناک کاٹ دیا ہے اور خون بہہ رہا ہے۔ پھر بھی باز نہ آئی تو میں نے اسے گردن سے پکڑ کر اس کا منہ زمین سے رگڑنا شروع کیا۔ بار بار رگڑتا تھا۔ لیکن پھر بھی سر اٹھاتی جاتی تھی تو آخر میں کہا کہ آؤ اسے پھانسی دے دیں۔‘‘

(تذکرہ ص ٢٨٣)

حالت یہ ظاہر فرمائی کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی قوت کا اظہار فرمایا۔‘‘

(ٹریکٹ نمبر ٣٤، اسلامی قربانی ص ١٢)

کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں بذریعہ اس الہام کے مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا۔‘‘

(کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠)

علامہ اقبالؒ نے کہا تھا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ کوئی ماہر علم النفس مرزا قادیانی کا نفسیاتی تجزیہ کر کے بتائے کہ وہ کس قسم کے نفسیاتی مریض تھے اور اس کی بنیادی وجہ کیا تھی۔ اس قسم کے تھے وہ الہامات جن کے پیش نظر انہوں نے اس امر کی ضرورت محسوس کی تھی۔ ویسے خود احمدی حضرات کی بھی تحقیق ہے کہ مرزا قادیانی مراق (مالیخولیا) کے مریض تھے۔

’’مراق کا مرض مرزا قادیانی کو موروثی نہ تھا۔ بلکہ یہ خارجی اثرات کے ماتحت پیدا ہوا تھا اور اس کا باعث سخت دماغی محنت، تفکرات، غم اور سوء ہضم تھا۔ جس کا نتیجہ دماغی ضعف تھا اور جس کا اظہار مراق اور دیگر ضعف کی علامات مثلاً دوران سر کے ذریعے ہوتا تھا۔‘‘

(رسالہ ریویو آف ریلیجنز نمبر ٨ ج ٢٥ ص ٢٩٠، قادیان بابت اگست ١٩٢٦ء)

صاحبزادہ بشیر احمد قادیانی اپنی تالیف (سیرۃ المہدی حصہ دوم ص ٥٥) میں لکھتے ہیں: ٧٩

صفحہ ٥٠٠

”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے کئی دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سنا ہے کہ مجھے ہسٹریا ہے۔ بعض اوقات آپ مراق بھی فرمایا کرتے تھے۔“

جن حضرات نے ولیم جیمز کی شہرہ آفاق کتاب کا مطالعہ کیا ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ اس (ماہر نفسیات) کی تحقیق کی رو سے مراق یا ہسٹریا کے مریض کس طرح کشف و الہام کے مدعی بن جاتے ہیں۔ ہمیں بہر حال اس تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ ہم مرزا قادیانی کے الہامات کے نمونے پیش کر رہے تھے۔ ایک اور ملاحظہ فرمائیے: ”ایک میرے مخلص عبداللہ نام پٹواری، غوث گڑھ، علاقہ پٹیالہ کے دیکھتے ہوئے ان کی نظر کے سامنے یہ نشانِ الٰہی ظاہر ہوا کہ اوّل مجھ کو کشفی طور پر دکھلایا گیا کہ میں نے بہت سے احکام قضا و قدر کے اہلِ دنیا کے نیکی بدی کے متعلق اور نیز اپنے لئے اور اپنے دوستوں کے لئے لکھے ہیں اور پھر تمثیل کے طور پر میں نے خدائے تعالیٰ کو دیکھا اور وہ کاغذ جناب باری کے آگے رکھ دیا کہ وہ اس پر دستخط کردیں۔ مطلب یہ تھا کہ یہ سب باتیں جن کے ہونے کے لئے میں نے ارادہ کیا ہے ہو جائیں۔ سو خدائے تعالیٰ نے سرخ سیاہی سے دستخط کر دیئے اور قلم کی نوک پر جو سرخی زیادہ تھی اس کو جھاڑا اور معاً جھاڑنے کے ساتھ ہی اس سرخی کے قطرے میرے کپڑوں اور عبداللہ کے کپڑوں پر پڑے اور چونکہ کشف کی حالت میں انسان بیداری سے تعلق رکھا ہے۔ اس لئے مجھے جب کہ ان قطروں سے جو خدائے تعالیٰ کے ہاتھ سے گرے اطلاع ہوئی ساتھ ہی بچشم خود ان قطروں کو بھی دیکھا اور میں رقت دل کے ساتھ اس قصے کو جب عبداللہ کے پاس بیان کر رہا تھا کہ اتنے میں اس نے بھی وہ تر بہ تر قطرے کپڑوں پر پڑے ہوئے دیکھے اور کوئی چیز ایسی ہمارے پاس موجود نہ تھی جس سے اس سرخی کے گرنے کا کوئی احتمال ہوتا اور وہ وہی سرخی تھی جو خدائے تعالیٰ نے اپنے قلم سے جھاڑی تھی۔ اب تک بعض کپڑے میاں عبداللہ کے پاس موجود ہیں۔ جن پر وہ بہت سی سرخی پڑی تھی۔“

(تریاق القلوب ص ٣٣، خزائن ج ١٥ ص ١٧، حقیقت الوحی ص ٢٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٧)

اللہ تعالیٰ کے قلم سے مادی روشنائی کے قطرے جن کے دھبے ان کے کپڑوں پر پڑے۔ عقیدت مندوں کے ذہن ہی کے لئے قابل فہم ہو سکتے ہیں ورنہ خدا کے متعلق ایسا تصور۔

سبحان اللہ وتعالیٰ عما یصفون!

الہام کی زبان

مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”اور یہ بالکل غیر معقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اصلی زبان تو کوئی اور ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو۔ جس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا۔ کیونکہ اس

٨٠

صفحہ ٥٠١

کیا کہ میں نے کئی دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مراقبہ بھی فرمایا کرتے تھے۔‘‘

فاق کتاب کا مطالعہ کیا ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ اس یا کہ مریض کس طرح کشف والہام کے مدعی بن نے کی ضرورت نہیں۔ ہم مرزا قادیانی کے الہامات فرمائیے: ”ایک میرے مخلص عبداللہ نام پٹواری، نظر کے سامنے یہ نشان الہی ظاہر ہوا کہ اوّل مجھ کو م قضا وقدر کے اہل دنیا کے نیکی بدی کے متعلق اور ں اور پھر تمثیل کے طور پر میں نے خدائے تعالیٰ کو ہ وہ اس پر دستخط کردیں۔ مطلب یہ تھا کہ یہ سب ا ہے ہو جائیں۔ سو خدائے تعالیٰ نے سرخ سیاہی گئی اس کو جھاڑا اور معاً جھاڑنے کے ساتھ ہی اس کپڑوں پر پڑے اور چونکہ کشف کی حالت میں جب کہ ان قطروں سے جو خدائے تعالیٰ کے ہاتھ روں کو بھی دیکھا اور میں رقت دل کے ساتھ اس ہتے ہیں اس نے بھی وہ تر بہ تر قطرے کپڑوں پر موجود نہ تھی جس سے اس سرخی کے گرنے کا کوئی اپنے قلم سے جھاڑی تھی۔ اب تک بعض کپڑوں ہی سرخی پڑی تھی۔‘‘

ص ١٩، حقیقت الوحی ص ٢٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٧)

کے قطرے جن کے دھبے ان کے کپڑوں پر عل فہم ہو سکتے ہیں ورنہ خدا کے متعلق ایسا تصور ۔

ل غیر معقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اصلی میں ہو۔ جس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا۔ کیونکہ اس میں تکلیف مالا یطاق ہے۔‘‘

(چشمہ معرفت ص ٢٠٩، خزائن ج ٢٣ ص ٢١٨)

وحی کے متعلق قرآن کریم کا بھی ارشاد ہے: ”وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ“ ہم نے کوئی رسول ایسا نہیں بھیجا جس کی (طرف وحی) اس کی قوم کی زبان میں نہ بھیجی ہو۔ مرزا قادیانی نے فرمایا کہ: ”یہ بالکل غیر معقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی اور ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو۔ جس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا۔‘‘ لیکن دوسری جگہ خود ہی فرمایا کہ: ”زیادہ تر تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض الہامات مجھے ان زبانوں میں بھی ہوتے ہیں جن سے مجھے کچھ بھی واقفیت نہیں جیسے انگریزی یا سنسکرت یا عبرانی وغیرہ۔‘‘

(نزول المسیح ص ٥٧، خزائن ج ١٨ ص ٤٣٥)

اس سے انہیں کس قدر دقت کا سامنا کرنا پڑتا تھا اس کا اندازہ ان کے ایک خط سے لگ سکتا ہے جو انہوں نے میر عباس علی شاہ صاحب کے نام لکھا تھا۔ تحریر تھا: ”چونکہ اس ہفتے میں بعض کلمات انگریزی وغیرہ الہام ہوئے ہیں اور اگرچہ بعض ان میں سے ایک ہندو لڑکے سے دریافت کئے ہیں۔ مگر قابل اطمینان نہیں اور بعض منجانب اللہ بطور ترجمہ الہام ہوا تھا اور بعض کلمات شاید عبرانی ہیں۔ ان سب کی تحقیق و تنقیح ضرور ہے۔ آپ جہاں تک ممکن ہو بہت جلد دریافت کرکے صاف خط میں جو پڑھا جاوے اطلاع بخشیں۔‘‘

(مکتوبات احمدیہ ج اوّل ص ٦٨)

ایک ”مامور من اللہ“ کی دشواریاں بھی کس قدر ہوتی ہیں۔ خدا اس کی طرف ایسی زبان میں الہام نازل کر دیتا ہے جسے وہ سمجھتا نہیں اور اسے اس کا مفہوم سمجھنے کے لئے ہندو لڑکوں کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے۔ سچ ہے۔

جن کے رتبے ہیں سوا ان کی سوا مشکل ہے

تناقضات

مرزا قادیانی نے جس قدر دعاوی کئے اور جس قدر بیانات دیئے۔ ان کے اقتباسات آپ کی نظروں سے گذر چکے ہیں۔ ان سب میں ایک چیز آپ کو بطور قدر مشترک ملے گی اور وہ یہ کہ ان کے دعاوی اور بیانات باہم دگر مختلف اور متناقض ہیں۔ اس قدر متناقض کہ انہیں (مرزا قادیانی کو) مخالفین کے اعتراضات سے تنگ آ کر یہاں تک کہہ دینا پڑا کہ ان کے دعاوی میں جہاں جہاں بھی نبی کا لفظ آیا ہے۔ اس کو کاٹا ہوا تصور کیا جائے اور میاں محمود احمد قادیانی کو یہ کہنا پڑا کہ مرزا قادیانی کی ١٩٠١ء سے قبل کی تحریروں سے سند نہ لائی جائے۔ وہ سب مرفوع القلم ہیں۔ ان تناقضات کی بین مثال ابھی ابھی ہمارے سامنے آئی ہے وہ کہتے ہیں کہ: ”یہ بالکل غیر

٨١

عالمی سیرت کانفرنس مقالہ جات عالمی سیرت کانفرنس مقالہ جات عالمی سیرت کانفرنس

صفحہ ٥٠٢

معقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو جس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا۔‘‘

زیادہ تر تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض الہامات مجھے ان زبانوں میں بھی ہوتے ہیں جن سے مجھے کچھ بھی واقفیت نہیں۔

جس شخص کے بیانات میں تناقض پایا جائے۔ اس کے متعلق ہم سے نہیں خود مرزا قادیانی سے سنئے۔ فرماتے ہیں: ’’کسی سچے اور عقلمند اور صاف دل انسان کے کلام میں ہرگز تناقض نہیں ہوتا۔ ہاں اگر کوئی پاگل یا مجنون یا ایسا منافق ہو کہ خوشامد کے طور پر ہاں میں ہاں ملا دیتا ہو۔ اس کا کلام بیشک متناقض ہو جاتا ہے۔‘‘

(ست بچن ص ٣٠، خزائن ج ١٠ ص ١٤٢)

دوسری جگہ لکھتے ہیں: ’’اس شخص کی حالت ایک مخبط الحواس انسان کی حالت ہے کہ ایک کھلا کھلا تناقض اپنے کلام میں رکھتا ہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص ١٨٤، خزائن ج ٢٢ ص ١٩١)

اور قول فیصل یہ کہ: ’’جھوٹے کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١١١، خزائن ج ٢١ ص ٢٧٥)

قرآن کریم نے اپنے منجانب اللہ ہونے کی دلیل یہ دی ہے کہ اس میں کوئی بات اختلافی (یعنی متناقض) بات نہیں۔

ان تصریحات کی روشنی میں آپ مرزا قادیانی کے متعلق خود ہی فیصلہ کر لیجئے کہ وہ کیا تھے؟ ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی۔

علمی سطح

جن حضرات کو مرزا قادیانی کی تصانیف پڑھنے کا اتفاق ہوا ہے وہ اس حقیقت سے باخبر ہیں کہ علمی نقطۂ نگاہ سے وہ کس قدر پست ہیں۔ چونکہ یہ موضوع بڑی تفصیل کا متقاضی ہے۔ اس لئے ہم اس بحث میں نہیں الجھنا چاہتے۔ اس مقام پر ہم صرف دو چار مثالیں پیش کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔ جن سے واضح ہو جائے گا کہ مرزا قادیانی کی تاریخی اور دینی معلومات کیسی تھیں۔

تاریخ

فرماتے ہیں: ’’تاریخ کو دیکھو کہ آنحضرتﷺ وہی ایک یتیم لڑکا تھا جس کا باپ پیدائش سے چند دن بعد ہی فوت ہو گیا۔‘‘

(پیغام صلح ص ٢٨، خزائن ج ٢٣ ص ٤٦٥)

حالانکہ تاریخ کا ایک ادنیٰ طالب علم بھی جانتا ہے کہ حضور نبی اکرمﷺ کے والد حضورﷺ کی پیدائش سے پہلے ہی فوت ہو گئے تھے۔

٨٢

صفحہ ٥٠٣

زبان تو کوئی ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو جس بعض الہامات مجھے ان زبانوں میں بھی ہوتے ہیں جن

شخص پایا جائے۔ اس کے متعلق ہم سے نہیں خود چا یار، عقلمند اور صاف دل انسان کے کلام میں ہرگز ہوا ایسا منافق ہو کہ خوشامد کے طور پر ہاں میں ہاں ملا دیتا

(ست بچن ص ٣٠، خزائن ج ١٠ ص ١٤٢)

ی کی حالت ایک مخبط الحواس انسان کی حالت ہے کہ

(حقیقت الوحی ص ١٨٤، خزائن ج ٢٢ ص ١٩١)

کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١١١، خزائن ج ٢١ ص ٢٧٥)

اللہ ہونے کی دلیل یہ دی ہے کہ اس میں کوئی بات

پہ مرزا قادیانی کے متعلق خود ہی فیصلہ کر لیجئے کہ وہ کیا

تصانیف پڑھنے کا اتفاق ہوا ہے وہ اس حقیقت سے ت ہیں۔ چونکہ یہ موضوع بڑی تفصیل کا متقاضی ہے۔ اس مقام پر ہم صرف دو چار مثالیں پیش کرنے پر اکتفا رزا قادیانی کی تاریخی اور دینی معلومات کیسی تھیں۔

گر آنحضرت ﷺ وہی ایک یتیم لڑکا تھا جس کا باپ

(پیغام صلح ص ٣٨، خزائن ج ٢٣ ص ٤٦٥)

ن علم بھی جانتا ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ کے والد گئے تھے۔

٨٢

حدیث

مرزا قادیانی نے اپنے دعویٰ مہدیت کے ثبوت میں لکھا ہے: ”بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کی نسبت آواز آئے گی کہ ہذا خلیفۃ اللہ المہدی۔ اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے جو ایسی کتاب میں درج ہے جو اصح الکتب بعد از کتاب اللہ ہے۔“

(شہادۃ القرآن ص ٤١، خزائن ج ٦ ص ٣٣٧)

بخاری میں ایسی کوئی حدیث نہیں۔

قرآن

اگر کوئی مسلمان یہ کہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ یا خدا نے کہا ہے۔ تو اس کا مطلب اس کے سوا کچھ اور ہو نہیں سکتا کہ قرآن مجید میں ایسا آیا ہے۔ کیونکہ ارشادات خداوندی قرآن کے سوا کہیں نہیں۔

”احمدی“ (لاہوری) حضرات کے ترجمان پیغام صلح کی اشاعت بابت ٢؍ اکتوبر ١٩٢٨ء میں گناہ کی فلاسفی کے عنوان سے مرزا قادیانی کے متعلق کہا گیا کہ: ”ایک شخص نے حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کی کہ دنیا میں لوگ بہت گنہگار ہوں گے۔ مگر میرے جیسا گنہگار تو کوئی نہ ہوگا۔ میں نے بڑے بڑے سخت گناہ کئے ہیں۔ میری بخشش کس طرح ہوگی؟ حضرت نے فرمایا۔ دیکھو! خدا تعالیٰ جیسا غفور اور رحیم کوئی نہیں۔ اللہ تعالیٰ پر یقین کامل رکھو کہ وہ تمام گناہوں کو بخش سکتا ہے اور بخش دیتا ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر دنیا بھر میں کوئی گنہگار نہ رہے تو میں اور امت پیدا کروں گا جو گناہ کرے اور میں اسے بخش دوں گا۔“

قرآن کریم میں یہ کہیں نہیں آیا کہ خدا نے کہا ہے کہ اگر دنیا بھر میں کوئی گنہگار نہ رہے تو میں ایک اور امت پیدا کروں گا جو گناہ کرے اور میں اسے بخش دوں گا۔ البتہ ایک حدیث میں ایسا آیا ہے۔ مرزا قادیانی حدیث کو قرآن کی آیت کہہ کر پیش کرتے ہیں۔ یہ ہے قرآن مجید کے متعلق ان کے مبلغ علم کی ایک مثال۔

انشاء پردازی

(ہم اس تکرار کے لئے معذرت خواہ ہیں کہ) جن حضرات نے مرزا قادیانی کی تحریرات کا مطالعہ کیا ہے وہ جانتے ہیں کہ ادبی نقطۂ نگاہ سے ان کی سطح کس قدر پست ہے۔ اس کی جزوی شہادت وہ اقتباسات بھی دے سکتے ہیں جو اس کتاب میں درج کئے گئے ہیں۔ ہم اس امر کو اس قدر اہمیت نہ دیتے۔ اگر ہمارے سامنے مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ نہ ہوتا کہ: ”یہ بات بھی اس

٨٣

صفحہ ٥٠٤

جگہ بیان کر دینے کے لائق ہے کہ میں خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے اعجاز نمائی کو انشاء پردازی کے وقت بھی اپنی نسبت دیکھتا ہوں۔ کیونکہ جب میں عربی میں یا اردو میں کوئی عبارت لکھتا ہوں تو میں محسوس کرتا ہوں کہ کوئی اندر سے مجھے تعلیم دیتا ہے۔“

(نزول المسیح ص ٥٦، خزائن ج ١٨ ص ٤٣٤)

ہم (ارباب ذوق سے بصد معذرت) مرزا قادیانی کی معجزانہ انشا پردازی کی صرف ایک مثال پر اکتفاء کرتے ہیں۔ وہ (اپنے ایک دوست کے نام) ایک خط میں لکھتے ہیں: ”ایک انگریزی وضع کا پاخانہ جو ایک چوکی ہوتی ہے اور اس میں ایک برتن ہوتا ہے۔ اس کی قیمت معلوم نہیں۔ آپ ساتھ لاویں۔ قیمت یہاں سے دے دی جائے گی۔ مجھے دوران سر کی بہت شدت سے مرض ہوگئی ہے۔ پیروں پر بوجھ دے کر پاخانہ پھرنے سے مجھے سر کو چکر آتا ہے۔“

(مجموعہ مکتوبات مرزا غلام احمد بنام حکیم محمد حسین قریشی ص ٦)

واضح رہے کہ احمدی حضرات مرزا قادیانی کو سلطان القلم کہتے ہیں۔

اضافہ ....... طبع دوم

اس کتاب کا پہلا ایڈیشن اکتوبر ١٩٧٤ء کے آخری ہفتہ میں شائع ہوا۔ للہ الحمد کہ اسے بڑی مقبولیت حاصل ہوئی اور چند دنوں کے اندر ملک کے دور دراز گوشوں تک پھیل گئی۔ اس اثناء میں قارئین کی طرف سے (تحسین و تبریک کے خطوط و پیغامات کے علاوہ) بہت سے مشورے، تجاویزیں، مطالبے اور تقاضے موصول ہوئے۔ ان کی روشنی میں کتاب کے اس دوسرے ایڈیشن میں مختصر سا اضافہ ضروری سمجھا گیا ہے جو درج ذیل ہے۔ مجھے تو کچھ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ کتاب کے ہر نئے ایڈیشن میں شاید اسی قسم کے مزید اضافوں کی ضرورت لاحق ہو۔ سر دست موجودہ اضافہ پر اکتفا کیا جاتا ہے۔

مرزا قادیانی کی ذہنی کیفیت

حضرات انبیاء کرام علیہم السلام نظام خداوندی کے پیغمبر ہوتے تھے اور ان کا مشن انسانی دنیا میں عظیم انقلاب برپا کرنا۔ اس کے لئے (علاوہ وحی آسمانی کے) عصری علوم و حقائق پر ان کی نگاہ بڑی وسیع اور غائر ہوتی تھی۔ اس کے بغیر وہ اپنے مشن کو سر انجام نہیں دے سکتے تھے۔ بنابریں ان کی فکر بڑی بلند بصیرت بڑی عمیق اور نگاہ بڑی تابناک ہوتی تھی۔ ان کے برعکس مرزا قادیانی کی دماغی کیفیت کیا تھی۔ اس کا اندازہ دو ایک مثالوں سے لگ سکتا ہے۔

ہوں...... ہمیشہ درد سر اور دوران سر اور کمی خواب اور تشنج دل کی بیماری دورہ کے ساتھ آتی ہے اور

٨٤

صفحہ ٥٠٥

دوسری بیماری ذیابیطس ہے اور ایک مدت سے دامن گیر ہے اور بسا اوقات سو سو دفعہ رات کو یا دن کو پیشاب آتا ہے اور اس قدر کثرت پیشاب سے جس قدر عوارض ضعف وغیرہ ہوتے ہیں وہ سب میرے شامل حال رہتے ہیں۔“

(ضمیمہ اربعین نمبر ٤، ص ٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٧١، ٤٧٠)

ہے۔ اگر کئی دفعہ کسی کی ملاقات ہو تب بھی بھول جاتا ہوں یاددہانی عمدہ طریقہ ہے۔ حافظہ کی یہ ابتری ہے کہ بیان نہیں کر سکتا۔“

(مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر ٣ ص ٢١)

لکھتے ہیں: ”ایک دفعہ کسی شخص نے حضرت صاحب کو ایک جیبی گھڑی تحفہ دی۔ حضرت صاحب اس کو رومال میں باندھ کر جیب میں رکھتے تھے۔ زنجیر نہیں لگاتے تھے اور جب وقت دیکھنا ہوتا تھا تو گھڑی نکال کر ایک کے ہندسے یعنی عدد سے گن کر وقت کا پتہ لگاتے تھے اور انگلی رکھ کر ہندسہ گنتے تھے اور منہ سے بھی گنتے جاتے تھے۔“

ہیں کہ: ”ایک دفعہ ایک شخص نے بوٹ تحفہ میں پیش کیا۔ آپ نے اس کی خاطر سے پہن لیا۔ مگر اس کے دائیں بائیں کی شناخت نہ کر سکتے تھے۔ دایاں پاؤں، بائیں طرف کے بوٹ میں اور بایاں پاؤں دائیں طرف کے بوٹ میں پہن لیتے تھے۔ آخر اس غلطی سے بچنے کے لئے ایک طرف کے بوٹ پر سیاہی سے نشان لگانا پڑا۔“

(باختلاف الفاظ سیرت المہدی ج ١ ص ٦٧)

اسی طرح صاحبزادہ بشیر احمد اپنی کتاب (سیرت المہدی حصہ دوم ص ٥٨) پر لکھتے ہیں کہ: ”بعض دفعہ جب حضور جراب پہنتے تو بے توجہی کے عالم میں اس کی ایڑی پاؤں کے تلے کی طرف نہیں بلکہ اوپر کی طرف ہو جاتی تھی اور بارہا ایک کاج کا بٹن دوسرے کاج میں لگا ہوتا تھا۔“

اس میں وہ ایک مقام پر لکھتے ہیں: ”آپ کو شیرینی سے بہت پیار ہے اور مرض بول بھی آپ کو عرصہ سے لگی ہوئی ہے۔ اس زمانے میں آپ مٹی کے ڈھیلے بعض وقت اپنی جیب میں رکھتے تھے اور اس جیب میں گڑ کے ڈھیلے بھی رکھ لیا کرتے تھے۔“

(دیباچہ براہین احمدیہ ج ١ ص ٦٧)

محمود احمد قادیانی لکھتے ہیں: ”حضرت مسیح موعود نے تریاق الٰہی دوا خدا تعالیٰ کی ہدایت کے ماتحت بنائی اور اس کا ایک بڑا جز افیون تھا۔“

(اخبار الفضل قادیان نمبر ٦ ج ١٧ ص ٢، مورخہ ١٩ جولائی ١٩٢٩ء)

٨٥

صفحہ ٥٠٦

افیون کے علاوہ ٹانک وائن بھی چنانچہ مرزا قادیانی حکیم محمد حسین قریشی کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں: ”اس وقت میاں یار محمد بھیجا جاتا ہے۔ آپ اشیائے خریدی خود خرید دیں اور ایک بوتل ٹانک وائن کی پلومر کی دکان سے خرید دیں۔ مگر ٹانک وائن چاہئے۔ اس کا لحاظ رہے۔“

(خطوط امام بنام غلام ص ٥)

الہامات

مرزا قادیانی کے مزعومہ الہامات کی بعض مثالیں ہم پہلے لکھ چکے ہیں۔ چند ایک اور ملاحظہ فرمائیے:

ہے اور وہ پتنگ ٹوٹ گئی اور میں نے اس کو زمین کی طرف گرتے دیکھا۔ پھر کسی نے کہا غلام احمد کی ہے۔“

(تذکرہ ص ٢٤، طبع سوم)

کیا اس کا نام بھی یعنی غلام احمد قادیانی اپنے حروف کے اعداد سے اشارہ کر رہا ہے۔ یعنی ١٣٠٠ کا عدد جو اس نام سے نکلتا ہے وہ بتلا رہا ہے کہ تیرھویں صدی کے ختم ہونے پر یہی مجدد آیا جس کا نام تیرہ سو کا عدد پورا کرتا ہے۔“

(تریاق القلوب ص ٦٨، خزائن ج ١٥ ص ١٥٧، ١٥٨)

ضمناً یہ پہلے لکھا جا چکا ہے۔ مرزا قادیانی کے نام کے متعلق ”احمدی“ حضرات یہ کہتے ہیں کہ ان کا نام صرف احمد تھا۔ غلام کا لفظ خاندانی رواج کے مطابق ساتھ لگا دیا تھا۔ یہاں آپ دیکھتے ہیں کہ خود مرزا قادیانی اپنا نام غلام احمد قادیانی لکھتے ہیں۔ جس کے عدد تیرہ سو بنتے ہیں۔ اگر ان کا نام صرف احمد تھا تو پھر اس عددی دلیل کے متعلق کیا کہا جائے گا۔

میں نماز پڑھوں گا اور روزہ رکھوں گا۔ جاگتا ہوں اور سوتا ہوں۔“

(البشریٰ ج دوم ص ٧٩)

نماز، روزہ کے علاوہ میں سوتا ہوں۔ اس خدا کے متعلق کہا گیا ہے جس نے قرآن کریم میں اپنے متعلق کہا ہے کہ ”لا تاخذه سنة ولا نوم“ یعنی نیند تو ایک طرف اسے اونگھ تک بھی نہیں آتی۔

بمنزلہ میرے فرزند کے ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)

دوسرے الہام میں کہا: ”تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔ تیرا ظہور میرا ظہور ہے۔“

(تذکرہ مجموعہ الہامات و مکاشفات ص ٧٠٢، طبع سوم)

٨٦

صفحہ ٥٠٧

نے بیس برس کے نوجوانوں کی شکل میں دیکھا۔ صورت اس کی مثل انگریزوں کے تھی اور میز کرسی لگائے ہوئے بیٹھا ہے۔ میں نے اس سے کہا کہ آپ بہت ہی خوبصورت ہیں۔ اس نے کہا کہ ہاں میں درشنی آدمی ہوں۔“

(تذکرہ مجموعہ الہامات و مکاشفات ص ١٣٠، طبع اوّل دسمبر ١٩٣٥ء)

١٥، ١١“

(البشریٰ جلد دوم ص ١٧)

آپ یہ نہ کہئے کہ یہاں کوئی طباعت کی غلطی ہے یا کچھ چھپنے سے رہ گیا ہے۔ بالکل نہیں۔ الہام ہی ایسا ہے۔

ہیں: ”میں نے (ایک رؤیا میں) دیکھا کہ کسی نے مجھ سے درخواست کی ہے کہ اگر تیرا خدا قادر خدا ہے تو اس سے درخواست کر کہ یہ پتھر جو تیرے سر پر ہے، بھینس بن جائے۔ تب میں نے دیکھا کہ ایک وزنی پتھر میرے سر پر ہے۔ جس کو کبھی میں پتھر اور کبھی لکڑی خیال کرتا ہوں۔ تب میں نے یہ معلوم کرتے ہی اس پتھر کو زمین پر پھینک دیا۔ پھر بعد اس کے میں نے جناب الٰہی میں دعاء کی کہ اس پتھر کو بھینس بنا دیا جائے اور میں اس دعاء میں محو ہو گیا۔ جب بعد اس کے میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ پتھر بھینس بن گیا۔“

انہوں نے فرمایا: ”ہم ایک جگہ جا رہے ہیں۔ ایک ہاتھی دیکھا۔ اس سے بھاگے اور ایک اور کوچہ میں چلے گئے۔ لوگ بھی بھاگے جاتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ ہاتھی کہاں ہے۔ لوگوں نے کہا کہ وہ کسی اور کوچہ میں چلا گیا ہے۔ ہمارے نزدیک نہیں آیا۔ پھر نظارہ بدل گیا۔ گویا گھر میں بیٹھے ہیں۔ قلم پر میں نے دو نوک لگائے ہیں جو ولایت سے آئے ہیں۔ پھر میں کہتا ہوں۔ یہ بھی نامردی نکلا۔ اس کے بعد الہام ہوا ۔ ”ان الله عزیز ذو انتقام“

(تذکرہ مجموعہ الہامات و مکاشفات ص ٥٠٤، طبع سوم)

صاحب کی قبر پر دعائیں مانگ رہا تھا اور وہ بزرگ ہر ایک دعا پر آمین کہتے جاتے تھے۔ اس وقت خیال ہوا کہ اپنی عمر بھی بڑھا لوں۔ تب میں نے دعاء کی کہ میری عمر پندرہ سال اور بڑھ جائے۔ اس پر اس بزرگ نے آمین نہ کہی۔ تب اس صاحب بزرگ سے بہت کشتم کشتا ہوا۔ تب اس

٨٧

صفحہ ٥٠٨

مردے نے کہا۔ مجھے چھوڑ دو۔ میں آمین کہتا ہوں۔ اس پر میں نے اسے چھوڑ دیا اور دعا مانگی کہ میری عمر پندرہ سال اور بڑھ جائے۔ تب اس بزرگ نے آمین کہی۔“

مرزا قادیانی کا یہ مکاشفہ اخبار (الحکم بابت ١٧ تا ٢٤؍ دسمبر ١٩٠٣ء، مکاشفات ص٣٤، باختلاف الفاظ، تذکرہ ص ٤٩٧، طبع سوم باختلاف الفاظ) میں شائع ہوا تھا۔ پندرہ سال عمر بڑھ جانے کا نتیجہ یہ ہونا چاہئے تھا کہ وہ ١٩١٨ء تک زندہ رہتے۔ لیکن ان کی وفات ١٩٠٨ء میں ہو گئی۔ (زبردستی آمین کہلوانے کا نتیجہ کچھ ایسا ہی ہونا چاہئے تھا)

عمر کے سلسلہ میں مرزا قادیانی نے اپنی کتاب مواہب الرحمٰن میں لکھا تھا کہ میرے مخالفین میری موت کی پیش گوئیاں کرتے ہیں۔ ”پس خدائے ما مرا بشارت ہشتاد سال عمر داد۔ بلکہ شاید ازیں زیادہ (یعنی خدا نے بشارت دی کہ میری عمر اسی سال یا اس سے بھی زیادہ ہو گی)“

(مواہب الرحمٰن ص ٢١، خزائن ج١٩ص٢٣٩)

لیکن مرزا قادیانی کی وفات ١٩٠٨ء میں ہو گئی۔ جس وقت ان کی عمر ان کے اپنے بیان کردہ سن پیدائش ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء کے مطابق اڑسٹھ یا انہتر سال کی تھی۔

مرزا قادیانی کے مجموعہ (مکاشفات ص٣٨، تذکرہ ص ٥٢٧ طبع سوم) پر لکھا ہے: ”حالت کشفی میں جب کہ حضور (مرزا قادیانی) کی طبیعت ناساز تھی۔ ایک شیشی دکھائی گئی جس پر لکھا ہوا تھا۔ خاکسار پیپرمنٹ۔“

مرزا قادیانی اپنی کتاب (حقیقت الوحی ص ٣٣٢، خزائن ج٢٢ص٣٤٦) پر لکھتے ہیں: ”پانچ مارچ ١٩٠٥ء کو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص جو فرشتہ معلوم ہوتا تھا۔ میرے سامنے آیا اور اس نے بہت سا روپیہ میرے دامن میں ڈال دیا۔ میں نے اس کا نام پوچھا اس نے کہا نام کچھ نہیں۔ میں نے کہا۔ آخر کچھ تو نام ہوگا۔ اس نے کہا میرا نام ہے ٹیچی ٹیچی۔“

مرزا قادیانی کے متعلق تو کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ انہوں نے تو خود کہا تھا کہ وہ مراق یا مالیخولیا کے مریض ہیں اور مالیخولیا کے متعلق تحقیق یہ ہے کہ اس میں مریض صاحبِ علم ہو تو پیغمبری اور معجزات و کرامات کا دعویٰ کر دیتا ہے۔ خدا کی باتیں کرتا ہے اور لوگوں کو اس کی تبلیغ کرتا ہے۔ (اکسیر اعظم ج اول ص ١٨٨، مصنفہ حکیم محمد اعظم خان مرحوم) لیکن حیرت ہے ان کے متبعین پر جن میں اچھے خاصے تعلیم یافتہ لوگ بھی شامل ہیں اور وہ مرزا قادیانی کے اس قسم کے الہامات اور

٨٨

مکاشفات کو خدا کی طرف سے اندھی عقیدت سے دلوں پر مہر

پیش گوئیاں

پیش گوئیوں کے ہے کہ قرآن کریم کی رو سے جو شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ دعویٰ کرتا ہے۔ خود مرزا احادیث نبویہ میں کہا گیا کثرت سے امور غیبیہ نے فرمایا ہے: ”فلا یظہر غیب پر کسی کو پوری طرح کے جو اس کا برگزیدہ مکالمہ و مخاطبہ کیا ہے کو آج تک جو میرے ضمناً اس حضرات کی طرف سے خود مرزا قادیانی کے بیا معجزات اور پیش گوئیاں ان معجزات اور پیش گوئیوں مرزا قادیانی کی ملاحظہ فرمائیے۔

”حمامۃ البشریٰ“ لکھا تھا کہ میں نے طاعون گئی۔“

صفحہ ٥٠٩

مکاشفات کو خدا کی طرف سے عطاء کردہ وحی اور علم غیب مانتے ہیں۔ سچ کہا ہے۔ قرآن نے کہ اندھی عقیدت سے دلوں پر مہریں لگ جاتی ہیں اور آنکھوں پر پردے پڑ جاتے ہیں۔

پیش گوئیاں

پیش گوئیوں کے متعلق اصولی بحث اس سے پہلے کی جا چکی ہے اور جہاں میں نے لکھا ہے کہ قرآن کریم کی رو سے غیب کا علم اللہ تعالیٰ کی طرف سے صرف اس کے رسولوں کو ملتا تھا۔ لہذا جو شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اسے خدا کی طرف سے غیب کا علم حاصل ہوتا ہے وہ نبوت ورسالت کا دعویٰ کرتا ہے۔ خود مرزا قادیانی نے بھی کہا ہے کہ میں وحی آنے والا ہوں۔ جس کے متعلق احادیث نبویہ میں کہا گیا ہے کہ : ”اس کثرت سے مکالمہ و مخاطبہ کا شرف اس کو حاصل ہوگا اور اس کثرت سے امور غیبیہ اس پر ظاہر ہوں گے کہ بجز نبی کے کسی پر ظاہر نہیں ہو سکتے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ”فلا یظہر علی غیبہ احداً الّا من ارتضیٰ من رسول“ یعنی خدا اپنے غیب پر کسی کو پوری قوت اور غلبہ نہیں بخشتا۔ جو کثرت اور صفائی سے حاصل ہو سکتا ہے۔ بجز اس شخص کے جو اس کا برگزیدہ رسول ہو اور یہ بات ایک ثابت شدہ امر ہے کہ جس قدر خدا تعالیٰ نے مجھ سے مکالمہ و مخاطبہ کیا ہے اور جس قدر امور غیبیہ مجھ پر ظاہر فرمائے ہیں۔ تیرہ سو برس ہجری میں کسی شخص کو آج تک بجز میرے یہ نعمت عطاء نہیں کی گئی ۔“

( حقیقت الوحی ص ٣٩٠، ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)

ضمناً اس سے یہ بھی واضح ہے کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ نبی اور رسول دونوں کا تھا۔ احمدی حضرات کی طرف سے جو کہا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ نبی ہونے کا تھا۔ رسول کا نہیں۔ تو یہ خود مرزا قادیانی کے بیانات کے خلاف ہے اور کھلی ہوئی مغالطہ آفرینی اور فریب دہی ۔ وہ اپنے معجزات اور پیش گوئیوں کے متعلق لکھتے ہیں کہ: ”اس جگہ اکثر گذشتہ نبیوں کی نسبت بہت زیادہ معجزات اور پیش گوئیاں موجود ہیں۔ بلکہ بعض گذشتہ انبیاء علیہم السلام کے معجزات اور پیش گوئیوں کو ان معجزات اور پیش گوئیوں سے کچھ نسبت ہی نہیں۔“

( نزول المسیح ص ٨٢، خزائن ج ١٨ ص ٤٦٠)

مرزا قادیانی کے ان دعاوی کے بعد ان کی چند ایک پیش گوئیاں اور ان کا نتیجہ ملاحظہ فرمائیے ۔

”حمامۃ البشریٰ میں جو کئی سال طاعون پیدا ہونے سے پہلے شائع کی تھی۔ میں نے یہ لکھا تھا کہ میں نے طاعون پھیلنے کے لئے دعاء کی ہے سو وہ دعاء قبول ہو کر ملک میں طاعون پھیل گئی ۔“

(حقیقت الوحی ص ٢٢٤، خزائن ج ٢٢ ص ٢٣٥)

٨٩

صفحہ ٥١٠

مرزا قادیانی نے اپنی پیش گوئی میں یہ بھی کہا تھا کہ یہ وبا ان کے منکرین پر آئے گی۔ ان کے متبعین پر نہیں۔ لیکن جب طاعون نے ان کے متبعین کو بھی نہ چھوڑا اور اس پر مخالفین نے اعتراض کیا تو انہوں نے جواب میں کہا کہ : ”ہماری جماعت میں سے بعض لوگوں کا طاعون سے فوت ہونا بھی ایسا ہی ہے جیسا کہ آنحضرت ﷺ کے بعض صحابہ لڑائیوں میں شہید ہوتے تھے۔“

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٣١، خزائن ج ٢٢ ص ٥٦٨)

اور اس کے بعد یہ بھی کہا : ”اگر خدانخواستہ کوئی شخص ہماری جماعت سے اس مرض سے وفات پا جائے تو گو وہ ذلت کی موت ہوئی۔ لیکن ہم پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ ہم نے خود اشتہار دے رکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہماری جماعت سے وعدہ ہے کہ وہ متقی کو اس سے بچائے گا۔“

(ملفوظات احمدیہ حصہ ہشتم ص ٤٩٤)

”اگر ہماری جماعت کا کوئی شخص طاعون سے مرتا ہے تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ فی الحقیقت جماعت سے الگ تھا۔“

(ملفوظات حصہ ششم ص ٣٥٨)

ان اقتباسات سے واضح ہے کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ یہ تھا کہ جو لوگ فی الحقیقت ان کی جماعت میں داخل ہیں اور متقی ہیں وہ اس عذاب سے محفوظ رہیں گے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے خود اپنے گھر کے متعلق کہا کہ : ”اللہ جل شانہ نے ان لوگوں کے لئے جو اس گھر کی چار دیواری کے اندر ہوں گے۔ حفاظت خاص کا وعدہ فرمایا ہے۔“

(کشتی نوح ص ٧٦، خزائن ج ١٩ص ٨٦)

لیکن خدا کے اس وعدہ اور یقین دہانی کے باوجود مرزا قادیانی کی کیفیت یہ تھی کہ وہ فینائل لوٹے میں حل کر کے خود اپنے ہاتھ سے گھر کے پاخانوں اور نالیوں میں جا کر ڈالتے تھے۔ بعض اوقات گھر میں ایندھن کا بڑا ڈھیر لگوا کر آگ بھی جلوایا کرتے تھے تا کہ ضرر رساں جراثیم مر جاویں۔ آپ نے ایک بہت بڑی انگیٹھی بھی منگوائی ہوئی تھی۔ جس میں کوئلہ ڈال کر اور گندھک وغیرہ رکھ کر کمروں کے اندر جلایا جاتا تھا۔

(سیرت المہدی حصہ دوم ص ٥٩)

علاوہ ازیں مرزا قادیانی اس وبا سے بچنے کے لئے قصبہ سے باہر باغ میں چلے گئے تھے۔ انہوں نے طاعون کے علاوہ زلزلہ کی بھی پیش گوئی کی تھی اور باغ میں منتقل ہو جانے کی دوسری وجہ زلزلہ سے بچنے کی حفاظتی تدبیر بھی تھی۔ یعنی خود ہی دعائیں مانگ مانگ کر ان تباہیوں کو بلاتے تھے اور پھر ان سے بچنے کے لئے اس قسم کی تدابیر بھی اختیار کرتے تھے۔ یہ اسی قسم کی تدبیریں تھیں۔ جنہیں ایک کافر بھی اختیار کر لے تو اسی قسم کے نتائج مرتب ہو جائیں۔

٩٠

صفحہ ٥١١

جب ان کی جماعت کے لوگ طاعون سے مرنے لگے تو انہوں نے لکھا کہ: ”میں کہتا ہوں اور بڑے دعویٰ اور زور سے کہتا ہوں کہ اگر ایک شخص ہماری جماعت میں سے طاعون سے مرتا ہے تو بجائے اس کے سو آدمی یا زیادہ ہماری جماعت میں داخل ہوتا ہے اور یہ طاعون ہماری جماعت کو بڑھاتی جاتی ہے۔ پس ہمارے لئے طاعون رحمت ہے اور مخالفوں کے لئے زحمت اور عذاب ہے اور اگر دس پندرہ سال تک ملک میں ایسی ہی طاعون رہی تو میں یقین رکھتا ہوں کہ تمام ملک احمدی جماعت سے بھر جائے گا۔ پس مبارک ہے وہ خدا جس نے دنیا میں طاعون کو بھیجا تا کہ اس کے ذریعہ سے ہم بڑھیں اور پھولیں اور ہمارے دشمن نیست نابود ہوں۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣١ حاشیہ، خزائن ج٢٢ ص ٥٦٨، ٥٦٩)

لوگوں کی موت کی پیش گوئیاں

پیش گوئیوں کے سلسلے میں مرزا قادیانی نے خود کہا تھا کہ وہ ان کے دعاوی کے سچا اور جھوٹا ہونے کی محک (کسوٹی) ہیں اور بات ہے بھی ٹھیک۔ جس شخص کا دعویٰ ہو کہ یہ غیب کی خبر مجھے خدا نے دی ہے۔ وہ بات اگر جھوٹی نکلے تو اس کا یہ دعویٰ خود بخود جھوٹا ثابت ہو جائے گا۔ اس اصول کے مطابق ہم مرزا قادیانی کی پیش گوئیوں میں سے دو تین کا جائزہ لیتے ہیں۔

مناظرے کیا کرتا تھا۔ اس کے متعلق مرزا قادیانی نے پیش گوئی کی کہ وہ ایک مقررہ تاریخ (٥ ستمبر ١٨٩٣ء) کو مر جائے گا۔ دوسرے لوگوں کو اس پیش گوئی پر یقین ہو یا نہ ہو، لیکن ظاہر ہے کہ خود پیش گوئی کرنے والے (یعنی مرزا قادیانی) کو تو اس پر ایمان ہونا چاہئے تھا کہ کچھ بھی کیوں نہ ہو جائے ایسا ہو کر رہے گا۔ لیکن مرزا قادیانی کی کیفیت کیا تھی۔ اس کا اندازہ اس واقعہ سے لگائیے۔ جسے صاحبزادہ بشیر احمد نے اپنی کتاب (سیرت المہدی حصہ اول ص ١٧٨) پر لکھا ہے۔ اسے غور سے پڑھیئے۔ انہوں نے لکھا ہے: ”بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ جب آتھم کی میعاد میں صرف ایک دن باقی رہ گیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھ سے اور میاں حامد علی صاحب مرحوم سے فرمایا کہ اتنے چنے (مجھے تعداد یاد نہیں رہی کہ کتنے چنے آپ نے فرمائے تھے) لے لو اور ان پر فلاں سورت کا وظیفہ اتنی تعداد میں پڑھو۔ (مجھے وظیفہ کی تعداد بھی یاد نہیں رہی) میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ مجھے سورت یاد نہیں رہی مگر اتنا یاد ہے کہ وہ کوئی چھوٹی سی سورت تھی۔ جیسے ”الم تر کیف فعل ربک باصحاب الفیل“ ہے۔ ہم نے یہ وظیفہ قریباً ساری رات صرف کر کے ختم کیا تھا۔ وظیفہ ختم کرنے پر ہم وہ دانے حضرت صاحب کے پاس لے

٩١

صفحہ ٥١٢

عالمگیر سیرت عالمگیر سیرت مقالات سیرت عالمگیر سیرت کانفرنس عالمگیر سیرت کانفرنس کی روئداد

گئے۔ کیونکہ آپ نے ارشاد فرمایا تھا کہ وظیفہ ختم ہونے پر یہ دانے میرے پاس لے آنا۔ اس کے بعد حضرت صاحب ہم دونوں کو قادیان سے باہر غالباً شمال کی طرف لے گئے اور فرمایا یہ دانے کسی غیر آباد کنوئیں میں ڈالے جائیں گے اور فرمایا کہ جب میں دانے کنوئیں میں پھینک دوں تو تم سب کو سرعت کے ساتھ منہ پھیر کر واپس لوٹ آنا چاہئے اور مڑ کر نہیں دیکھنا چاہئے۔ چنانچہ حضرت صاحب نے ایک غیر آباد کنوئیں میں ان دانوں کو پھینک دیا اور پھر جلدی سے منہ پھیر کر سرعت کے ساتھ واپس لوٹ آئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ جلدی جلدی واپس لوٹ آئے اور کسی نے منہ پھیر کر پیچھے کی طرف نہیں دیکھا۔“

آپ نے غور فرمایا کہ اپنے آپ کو خدا کا رسول کہنے والا خدا کی طرف سے دی گئی پیش گوئی کے پورا کرنے کے لئے کیا کیا جتن کر رہا ہے؟ لیکن افسوس کہ یہ پیش گوئی اس پر بھی پوری نہ ہوئی اور عبداللہ آتھم بدستور زندہ رہا۔ اس کی شہادت خود مرزا قادیانی کے متبع ماسٹر قادر بخش نے ان الفاظ میں دی۔ ”میں نے امرتسر جا کر عبداللہ آتھم کو خود دیکھا۔ عیسائی اسے گاڑی میں بٹھائے بڑی دھوم دھام سے بازاروں میں لئے پھرتے ہیں۔“

(اخبار الحکم قادیان مورخہ ٧ ستمبر ١٩٠٢ء)

......٢ مولوی ثناء اللہ مرحوم عمر بھر مرزا قادیانی کے ساتھ مناظرے کرتے رہے۔ وہ فاتح قادیان کے لقب سے مشہور تھے۔ ان کے متعلق مرزا قادیانی نے اپنے اشتہار مورخہ ١٥؍اپریل ١٩٠٧ء میں مولوی ثناء اللہ امرتسری کو مخاطب کرنے کے لئے لکھا: ”اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچے میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا کہ جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے اشد دشمنوں کی زندگی ہی میں ناکام ہلاک ہو جاتا ہے۔.....(اس کے برعکس) وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے۔ جیسے طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی میں ہی وارد نہ ہوئیں تو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٨)

اس کے بعد ٢٥؍اپریل ١٩٠٧ء کو اخبار بدر قادیان میں مرزا قادیانی کی ڈائری کے الفاظ شائع ہوئے کہ: ”ثناء اللہ کے متعلق جو کچھ لکھا گیا یہ دراصل ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا ہی کی طرف سے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے۔“

اس کے بعد ہوا یہ کہ مرزا قادیانی کا مئی ١٩٠٨ء میں انتقال ہو گیا اور مولوی ثناء اللہ تشکیل پاکستان کے بعد تک بخیر وخوبی زندہ و سلامت رہے۔ (ان کی وفات غالباً ١٩٤٨ء میں ہوئی تھی)

٩٢

......٣ صاحب تھے۔ انہوں جائیں گے۔ اس کے ہے کہ میں اس کی ز گوئی کے مقابل پر اور میں اس کے شر مرزا عبدالحکیم خان ا محمدی بیگم ک

اختیار کر لی ت گوئی تھی۔ اس

کی والدہ مرزا ق

کے بیٹے فضل م

پر ظاہر فرمایا لوگ بہت ط کارایا تھا م حالت میں پایا گا، کوئی نہیں

سال بعد ایک اس کی تفصیل میں لکھا: ”(ش

صفحہ ٥١٣

عالمی سیرت

کانفرنس

پر اکابر علماء

کی

عالمی سیرت کا

نفرنس نے سیرت مطہرہ

پر مقالہ جات کو

پیش کیا ہے

کانفرنس کی روداد کی

عالمی سیرت کانفرنس

ختم ہونے پر یہ دانے میرے پاس لے آنا۔ اس کے باہر غالباً شمال کی طرف لے گئے اور فرمایا یہ دانے کسی فرمایا کہ جب میں دانے کنوئیں میں پھینک دوں تو تم پلٹ آنا چاہئے اور مڑ کر نہیں دیکھنا چاہئے۔ چنانچہ حضرت دانوں کو پھینک دیا اور پھر جلدی سے منہ پھیر کر سرعت کے ساتھ جلدی جلدی واپس لوٹ آئے اور کسی نے

کو خدا کا رسول کہنے والا خدا کی طرف سے دی گئی پیش کر رہا ہے؟ لیکن افسوس کہ یہ پیش گوئی اس پر بھی پوری نہ کی شہادت خود مرزا قادیانی کے متبع ماسٹر قادر بخش نے عبداللہ آتھم کو خود دیکھا۔ عیسائی اسے گاڑی میں بٹھائے جاتے ہیں۔“

(اخبار الحکم قادیان مورخہ ٧ ستمبر ١٩٣٣ء)

عمر بھر مرزا قادیانی کے ساتھ مناظرے کرتے رہے۔ جن کے متعلق مرزا قادیانی نے اپنے اشتہار مورخہ پادری کو مخاطب کرنے کے لئے لکھا: ”اگر میں ایسا ہی وقت آپ اپنے ہر ایک پرچے میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی اشد دشمنوں کی زندگی ہی میں ناکام ہلاک ہو جاتا کے ہاتھوں نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے۔ میری زندگی میں ہی وارد نہ ہوئیں تو میں خدا تعالیٰ

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٨)

کو اخبار بدر قادیان میں مرزا قادیانی کی ڈائری کے کچھ لکھا گیا یہ دراصل ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا ہی

مئی ١٩٠٨ء میں انتقال ہو گیا اور مولوی ثناء اللہ فاتح بنے۔ (ان کی وفات غالباً ١٩٤٨ء میں ہوئی تھی)

٩٢

صاحب تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ مرزا قادیانی ان کی زندگی میں ٤ اگست ١٩٠٨ء تک ہلاک ہو جائیں گے۔ اس کے جواب میں مرزا قادیانی نے لکھا کہ: ”ڈاکٹر عبدالحکیم خان ...... جس کا دعویٰ ہے کہ میں اس کی زندگی میں ہی ٤ اگست ١٩٠٨ء تک ہلاک ہو جاؤں گا۔ مگر خدا نے اس کی پیش گوئی کے مقابل پر مجھے خبر دی ہے کہ وہ خود عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اور خدا اس کو ہلاک کرے گا اور میں اس کے شر سے محفوظ رہوں گا۔“

(چشمہ معرفت ص ٣٢١، ٣٢٢ ، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٦، ٣٣٧)

مرزا قادیانی ٤ اگست ١٩٠٨ء سے پہلے یعنی ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو وفات پاگئے اور ڈاکٹر عبدالحکیم خان اس کے بعد بھی زندہ رہے۔

محمدی بیگم کا قصہ

اختیار کر لی تھی۔ محمدی بیگم نامی ایک خاتون (نو عمر لڑکی) کے ساتھ ان کے نکاح ہو جانے کی پیش گوئی تھی۔ اس واقعہ کو سمجھنے کے لئے چند افراد کے باہمی رشتہ کا سمجھ لینا ضروری ہے۔ محمدی بیگم مرزا احمد بیگ کی لڑکی تھیں۔ جو مرزا قادیانی کے ماموں زاد بھائی تھے اور لڑکی کی والدہ مرزا قادیانی کی چچازاد ہمشیرہ۔ مرزا احمد بیگ کی ہمشیرہ کی لڑکی (جس کا نام عزت بی بی تھا) مرزا قادیانی کی پہلی بیوی کے بیٹے فضل احمد کی بیوی تھی۔ اس لڑکی کے والد کا نام مرزا علی شیر بیگ تھا۔

مرزا قادیانی نے ایک دفعہ اعلان کیا کہ: ”خدا تعالیٰ نے پیش گوئی کے طور پر اس عاجز پر ظاہر فرمایا کہ مرزا احمد بیگ کی دختر کلاں (محمدی بیگم) انجام کار تمہارے نکاح میں آئے گی اور وہ لوگ بہت عداوت کریں گے اور بہت مانع آئیں گے اور کوشش کریں گے کہ ایسا نہ ہو۔ لیکن آخر کار ایسا ہی ہوگا اور فرمایا کہ خدائے تعالیٰ ہر طرح سے اس کو تمہاری طرف لائے گا۔ باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے اور ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھا دے گا اور اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔“

(ازالہ اوہام ص ٣٩٦ ، خزائن ج ٣ ص ٣٠٥)

لڑکی کے والد نے مرزا قادیانی کی اس درخواست کو مسترد کر دیا۔ اس کے قریب دو سال بعد ایک ہی بات سامنے آئی جس سے مرزا قادیانی نے اپنی اس تجویز کو اور زور سے پیش کیا۔ اس کی تفصیل خود مرزا قادیانی کی زبانی سنئے۔ انہوں نے اپنے اشتہار مورخہ ١٠ جولائی ١٨٨٨ء میں لکھا: ”(محمدی بیگم کے اعزہ) مجھ سے کوئی نشان آسمانی مانگتے تھے۔ تو اس وجہ سے کئی مرتبہ دعاء

٩٣

صفحہ ٥١٤

کی گئی۔ سو وہ دعاء قبول ہو کر خدائے تعالیٰ نے یہ تقریب قائم کی کہ اس لڑکی کا والد ایک ضروری کام کے لئے ہماری طرف ملتجی ہوا۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ نامبردہ (مرزا احمد بیگ) کی ایک ہمشیرہ ہمارے چچا زاد بھائی غلام حسین نامی کو بیاہی گئی۔ غلام حسین عرصہ پچیس سال سے کہیں چلا گیا اور مفقود الخبر ہے۔ اس کی زمین جس کا حق ہمیں بھی پہنچتا ہے۔ نامبردہ (احمد بیگ) کی ہمشیرہ کے نام کاغذات سرکاری میں درج کرا دی گئی تھی۔ اب مرزا احمد بیگ نے چاہا کہ وہ زمین اپنے بیٹے محمد بیگ کے نام بطور ہبہ منتقل کرادیں۔ چنانچہ ان کی ہمشیرہ کی طرف سے وہ ہبہ نامہ لکھا گیا۔ چونکہ وہ ہبہ نامہ بغیر ہماری رضامندی کے بیکار تھا۔ اس لئے مکتوب الیہ (احمد بیگ) نے بہ تمام عجز و انکساری ہماری طرف رجوع کیا۔ تاکہ ہم راضی ہو کر اس ہبہ نامہ پر دستخط کر دیں اور قریب تھا کہ ہم دستخط کر دیتے۔ لیکن یہ خیال آیا کہ جیسا کہ ایک مدت سے بڑے بڑے کاموں میں ہماری عادت ہے۔ جناب الہٰی میں استخارہ کر لینا چاہئے۔ سو یہی جواب مکتوب الیہ (احمد بیگ) کو دیا گیا۔ پھر احمد بیگ کے متواتر اصرار سے استخارہ کیا گیا۔ وہ استخارہ کیا تھا۔ گویا آسمانی نشان کی درخواست کا وقت آ پہنچا۔ جس کو خدائے تعالیٰ نے اس پیرایہ میں ظاہر کر دیا۔

اس خدائے مطلق نے مجھے فرمایا کہ اس شخص (مرزا احمد بیگ) کی دختر کلاں کے نکاح کے لئے سلسلہ جنبانی کر اور ان کو کہہ دے کہ تمام سلوک ومروت تم سے اسی شرط پر کیا جائے گا۔ لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہو گا اور جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی وہ روز نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی اس دختر کا والد تین سال تک فوت ہو جائے گا۔“

(مجموعہ اشتہارات ج اول ص ١٥٧، ١٥٨)

لیکن مرزا احمد بیگ اس پر بھی نکاح کے لئے آمادہ نہ ہوا اور اپنی لڑکی کی نسبت ایک اور جگہ کر دی اور نکاح کی تاریخ بھی مقرر ہو گئی۔ اس پر مرزا قادیانی نے ٢٠ مئی ١٨٩١ء کو اپنی بہو (فضل احمد کی بیوی) کے والد مرزا علی شیر بیگ کو ایک خط لکھا کہ: ”میں نے سنا ہے کہ عید کی دوسری یا تیسری تاریخ کو اس لڑکی کا نکاح ہونے والا ہے اور آپ کے گھر کے لوگ اس مشورہ میں ساتھ ہیں۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اس نکاح کے شریک میرے سخت دشمن ہیں۔ میرے کیا دین اسلام کے سخت دشمن ہیں۔ عیسائیوں کو ہنسانا چاہتے ہیں۔ ہندوؤں کو خوش کرنا چاہتے ہیں اور اللہ اور رسول کے دین کی کچھ بھی پرواہ نہیں رکھتے۔ کیا میں چوہڑا یا چمار تھا جو مجھ کو لڑکی دینا عار یا ننگ تھی۔ (میں نے آپ کی بیوی یعنی مرزا احمد بیگ کی بہن کو خط لکھ دیا ہے کہ وہ اپنے بھائی کو اس نکاح سے روک دیں) ورنہ میرا بیٹا فضل احمد آپ کی لڑکی اپنے نکاح میں نہیں رکھ سکے گا۔ ایک طرف جب محمدی

٩٤

صفحہ ٥١٥

بیگم کا کسی شخص سے نکاح ہوگا تو دوسری طرف سے فضل احمد آپ کی لڑکی کو طلاق دے دے گا۔ اگر نہیں دے گا تو میں اس کو عاق اور لاوارث کر دوں گا۔‘‘

(کلمۃ فضل رحمانی ص ١٢٥ تا ١٢٧)

یعنی اپنے بیٹے کی ساس کو لکھا جا رہا ہے کہ اگر تمہارا بھائی اپنی لڑکی کا رشتہ مجھ سے نہیں کرے گا تو یہاں تمہاری بیٹی کو طلاق مل جائے گی۔

مرزا قادیانی کے دوسرے بیٹے سلطان احمد (جو اس زمانے میں نائب تحصیلدار تھے) بھی اس نکاح کے مخالف تھے۔ مرزا قادیانی نے اپنے اشتہار مورخہ ٢ مئی ١٨٩١ء میں لکھا کہ اگر سلطان احمد نے بھی انہیں اس بات سے نہ روکا تو۔ اس نکاح کے دن سے سلطان احمد عاق اور محروم الارث ہوگا اور اسی روز سے اس کی والدہ پر میری طرف سے طلاق ہوگی۔

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٢١)

لیکن اس کے باوجود انہوں نے محمدی بیگم کی شادی سلطان محمد نامی ایک صاحب کے ساتھ کر دی۔ مرزا سلطان احمد نے تو باپ کی بات نہ مانی۔ لیکن ان کے دوسرے بیٹے فضل احمد نے اپنی بیوی کا طلاق نامہ لکھ کر باپ کے پاس بھیج دیا۔ اس کے بعد مرزا قادیانی نے کہا کہ اگرچہ وہ لڑکی سلطان محمد سے بیاہی گئی۔ لیکن وہ میرے نکاح میں ضرور آئے گی۔ یہ خدا کی باتیں ہیں۔ ٹلتی نہیں ہو کر رہیں گی۔‘‘

(اخبار الحکم قادیان نمبر ٢٩ ج ٥ ص ١٥، مورخہ ١٠ اگست ١٩٠١ء)

بلکہ انہوں نے یہاں تک بھی کہا تھا کہ خدا نے مجھ سے کہا ہے کہ : ”ہم نے خود اس لڑکی سے عقد نکاح باندھ دیا ہے۔ میری باتوں کو کوئی بدل نہیں سکتا۔‘‘

(الہام مرزا مورخہ ٢٧ ستمبر ١٨٩١ء)

اس لڑکی کے خاوند کے متعلق مرزا قادیانی نے لکھا کہ: ”میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیش گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے۔ اس کی انتظار کرو۔ اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی۔‘‘

(انجام آتھم ص ٣١، خزائن ج ١١ ص ٣١)

لیکن ہوا یہ کہ محمدی بیگم بدستور سلطان محمد کے نکاح میں رہیں۔ زندہ اور سلامت اور مرزا قادیانی کا مئی ١٩٠٨ء میں انتقال ہو گیا۔

پہلے لکھا جا چکا ہے کہ مرزا قادیانی نے کہا تھا کہ اگر اس لڑکی کا نکاح ان سے نہ کیا گیا تو ان کا بیٹا فضل احمد اپنی بیوی کو طلاق دے دے گا اور خود مرزا قادیانی اپنی بیوی یعنی فضل احمد اور سلطان احمد کی والدہ کو بھی طلاق دے دیں گے۔ چنانچہ انہوں نے اپنی اس بیوی کو بھی طلاق دے دی۔ سیرت المہدی کے مصنف صاحبزادہ بشیر احمد نے لکھا ہے کہ: ”حضرت صاحب کا یہ طلاق دینا آپ کے اس اشتہار کے مطابق تھا جو آپ نے ٢ مئی ١٨٩١ء کو شائع کیا تھا۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ اول ص ٤٣)

٩٥

صفحہ ٥١٦

یہ تھا محمدی بیگم کے نکاح کا وہ واقعہ جس نے بڑی شہرت حاصل کی تھی۔ ہم اپنی طرف سے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔ یہ واقعہ اپنا تبصرہ خود آپ ہے۔

یہ ہیں مرزا قادیانی کی پیش گوئیوں کی چند ایک مثالیں۔ قطع نظر اس کے کہ وہ کس قدر جھوٹی ثابت ہوئیں۔ ان کی جرأت اور حق گوئی کی کیفیت یہ تھی کہ جب ان کے مخالفین نے ان پیش گوئیوں کی بناء پر ڈپٹی کمشنر گورداسپور کی عدالت میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ ١٠٧ کے تحت مقدمہ دائر کر دیا تو انہوں نے معافی مانگ لی اور عدالت میں اقرار نامہ داخل کر دیا کہ میں آئندہ نہ خدا سے اس قسم کی دعاء کیا کروں گا اور نہ ہی ایسی پیش گوئیاں شائع کروں گا۔ (تفصیل اس کی آپ کو ذرا آگے چل کر مقام نبوت کے عنوان میں ملے گی)

بدکلامی

مرزا قادیانی کی پیش گوئیاں ایسی نہیں ہوتی تھیں۔ بلکہ وہ اپنے مخالفین کے خلاف جس قسم کی بدزبانی سے کام لیا کرتے تھے وہ بھی کچھ کم قابل اعتراض نہیں ہوتی تھیں۔ مثلاً وہ انہیں ”ذریۃ البغایا“ یعنی بدکار عورتوں کی اولاد کہا کرتے تھے۔ (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٨، خزائن ج ٥ ص ٥٤٨) وہ ایک مقام پر لکھتے ہیں : ”دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں۔“

(نجم الہدیٰ ص ٥٣، خزائن ج ١٤ ص ایضاً)

وہ دوسری جگہ لکھتے ہیں : ”اب جو شخص اس صاف فیصلہ کے خلاف شرارت اور عناد کی راہ سے بکواس کرے گا اور اپنی شرارت سے بار بار کہے گا کہ عیسائیوں کی فتح ہوئی اور کچھ شرم وحیا کو کام میں نہیں لائے گا اور ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ’ولـــــــــــد الحرام‘ بننے کا شوق ہے اور وہ حلال زادہ نہیں ہے۔“

(انوار الاسلام ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣١)

ضمناً اپنے والد ماجد کے تتبع میں میاں محمود قادیانی بھی اسی قسم کی زبان استعمال کیا کرتے تھے۔ مثلاً انہوں نے ١٩٣٢ء کے سالانہ جلسہ کی افتتاحی تقریر میں فرمایا تھا کہ جو لوگ ہماری جماعت سے علیحدہ رہیں گے ان کی آواز ایسی ہی غیر مؤثر اور ناقابل التفات ہوگی ۔ جیسی کہ موجودہ زمانے میں چوہڑے چماروں کی ہے۔

(اخبار الفضل قادیان نمبر ٩٠ ج ٢٠ ص ٥، مورخہ ٢٩؍جنوری ١٩٣٣ء)

مرزا قادیانی تحریف بھی کرتے تھے

مرزا قادیانی نے اپنی کتاب (حقیقت الوحی ص ٣٩٠، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦) پر لکھا کہ: ”مجدد صاحب سرہندی نے اپنے مکتوب میں لکھا ہے کہ اگرچہ اس امت کے بعض افراد مکالمہ

٩٦

صفحہ ٥١٧

و مخاطبہ الٰہیہ سے مخصوص ہیں اور قیامت تک مخصوص رہیں گے لیکن جس شخص کو بکثرت اس مکالمہ و مخاطبہ سے مشرف کیا جائے اور بکثرت امور غیبیہ اس پر ظاہر کئے جائیں۔ وہ نبی کہلاتا ہے۔"

جناب مجدد سرہندی کے مکتوبات میں نبی کا لفظ نہیں آیا۔ محدث کا لفظ آیا ہے۔ جب یہ اعتراض کیا گیا کہ مرزا قادیانی نے اپنے وعدہ کے ثبوت میں مجدد سرہندی کے مکتوبات میں تحریف کر کے محدث کی جگہ نبی کا لفظ لکھ دیا ہے تو اس کے جواب میں ان کے متبع نے فرمایا کہ: "مجدد صاحب سرہندی نے تو محدث ہی لکھا ہے۔ مگر حضرت مسیح موعود نے خدا سے علم پا کر محدث کے بجائے نبی لکھ دیا ہے اور یوں مکتوبات کی غلطی کو درست کر دیا ہے۔"

(پیغام صلح لاہور مورخہ ١١؍ جنوری ١٩٢٦ء)

نبی بھی اور رسول بھی

ہم نے گذشتہ صفحات میں یہ لکھا ہے کہ احمدی حضرات کا دعویٰ یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو نبی کہا تھا۔ رسول نہیں کہا تھا۔ ہم نے متعدد حوالہ جات سے یہ واضح کیا کہ انہوں نے اپنے آپ کو نبی بھی کہا تھا اور رسول بھی۔ اس سلسلہ میں دو ایک حوالے اور بھی ملاحظہ فرمائیے:

میں لکھا ہے کہ ان کے کسی مخالف نے یہ اعتراض کیا کہ مرزا قادیانی نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تو مرزا قادیانی کے متبع نے اس سے انکار کیا۔ اس پر مرزا قادیانی نے لکھا کہ: "ان کے اس متبع کا جواب صحیح نہیں۔ حق یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ کو وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے اس میں ایسے لفظ رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں۔ نہ ایک دفعہ بلکہ صدہا دفعہ پھر کیونکر یہ جواب صحیح ہو سکتا ہے کہ ایسے الفاظ موجود نہیں ہیں۔"

ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ “ مرزا قادیانی نے کہا کہ: "اس آیت میں صاف طور پر اس عاجز کو رسول کہہ کر پکارا گیا ۔"

(ایک غلطی کا ازالہ ص٢،٣، خزائن ج ١٨ ص٢٠٦، ٢٠٧)

معہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم“ اس آیت کو درج کرنے کے بعد مرزا قادیانی نے کہا کہ: "اس وحی اللہ میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔"

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧)

٩٧

صفحہ ٥١٨

قرآن کریم کی ایک اور آیت ہے۔ ”قل یایها الناس انی رسول الله الیکم جمیعا“ اس آیت میں نبی اکرمﷺ سے کہا گیا کہ آپ اعلان کر دیجئے کہ اے نوع انسان میں تم تمام کی طرف خدا کا رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ مرزا قادیانی نے یہ آیت لکھ کر اس کے نیچے لکھا: ”کہہ (اے غلام احمد) اے تمام لوگو میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہو کر آیا۔“

(البشریٰ ج ٢ ص ٥٦)

آخری نبی

ہم یہ بھی لکھ چکے ہیں کہ احمدی حضرات، رسول اللہﷺ کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی کا نام بھی صف انبیاء میں لکھتے ہیں۔ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے مارچ ١٩٣٣ء میں ایک ٹریکٹ شائع کیا تھا۔ جس میں یہ فہرست یوں دی تھی۔

خدا کے راست باز نبی، رام چندر پر سلامتی ہو۔
خدا کے راست باز نبی، کرشن پر سلامتی ہو۔
خدا کے راست باز نبی، بدھ پر سلامتی ہو۔
خدا کے راست باز نبی، زرتشت پر سلامتی ہو۔
خدا کے راست باز نبی، کنفیوشش پر سلامتی ہو۔
خدا کے راست باز نبی، ابراہیم علیہ السلام پر سلامتی ہو۔
خدا کے راست باز نبی، موسیٰ علیہ السلام پر سلامتی ہو۔
خدا کے راست باز نبی، مسیح علیہ السلام پر سلامتی ہو۔
خدا کے راست باز نبی، محمدﷺ پر سلامتی ہو۔
خدا کے راست باز نبی، احمد پر سلامتی ہو۔
خدا کے راست باز بندہ بابا نانک پر سلامتی ہو۔

(پیغام صلح بمورخہ ١٩ اپریل ١٩٣٣ء)

آپ نے غور فرمایا کہ (قرآنی) انبیاء کی فہرست میں آخری نام احمد یعنی (مرزا غلام احمد قادیانی کا) لکھا گیا ہے۔ ان کے بعد بابا نانک کا نام ہے۔ جنہیں نبی نہیں بلکہ بندہ لکھا گیا ہے۔

ضمناً (جیسا کہ اس کتاب میں پہلے لکھا گیا ہے) میاں محمود احمد قادیانی سکھوں کو بھی اہل کتاب میں شامل کرتے تھے اور اس لئے ان کا فیصلہ یہ تھا کہ ان کی (اور ہندوؤں اور غیر احمدیوں کی) لڑکیاں لے لینی چاہئیں۔ لیکن انہیں لڑکی دینی نہیں چاہئے۔ اگر سکھ اہل کتاب

٩٨

صفحہ ٥١٩

میں شامل ہیں تو پھر مرزا محمود احمد قادیانی کے نزدیک بابا نانک کو نبی تسلیم کیا جائے گا۔ لیکن چوہدری ظفر اللہ خان نے انہیں زمرہ انبیاء میں شامل نہیں کیا۔ خدا کا آخری نبی مرزا غلام احمد کو بتایا ہے۔ البتہ میاں محمود قادیانی نے خود اپنے آپ کو زمرہ انبیاء اور رسل میں شامل کر لیا ہے۔ چنانچہ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ : ”جس طرح مسیح موعود کا انکار تمام انبیاء کا انکار ہے۔ اسی طرح میرا انکار انبیائے بنی اسرائیل کا انکار ہے۔ جنہوں نے میری خبر دی۔ میرا انکار شاہ نعمت اللہ ولی کا انکار ہے۔ جنہوں نے میری خبر دی۔ میرا انکار مسیح موعود کا انکار ہے۔ جنہوں نے میرا نام محمود رکھا اور مجھے بیٹا ٹھہرا کر میری تعیین کی۔“

(اخبار الفضل قادیان نمبر ٢٤ ج ٥ ، مورخہ ٢٢؍ ستمبر ١٩١٧ء)

اگر حکومت ہمارے پاس ہوتی تو ......

آپ اس کتاب کے آخری باب میں دیکھیں گے۔ حکومت پاکستان نے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا ہے۔ اس پر شور مچایا گیا کہ کفر اور اسلام کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہے۔ کسی حکومت کو حق حاصل نہیں کہ وہ اس امر کا فیصلہ کرے۔ دین میں اکراہ نہیں۔

ہم نے اس کی وضاحت کی ہے کہ یہ فیصلہ نہ دین میں اکراہ ہے نہ اس سے احمدیوں پر کسی قسم کی زیادتی کی گئی ہے۔ اس کے برعکس آپ دیکھئے کہ خود احمدی حضرات کے مذہب کے معاملہ میں کیا خیالات ہیں۔ مرزا محمود قادیانی نے اپنی ایک تقریر میں ( جو اخبار الفضل کی ٢ ؍ جون ١٩٣٦ء کی اشاعت میں شائع ہوئی تھی ) فرمایا تھا کہ: ”حکومت ہمارے پاس نہیں کہ ہم جبر کے ساتھ ان لوگوں کی اصلاح کریں اور ہٹلر یا مسولینی کی طرح جو شخص ہمارے حکموں کی تعمیل نہ کرے اسے ملک سے نکال دیں اور جو ہماری باتیں سنے اور ان پر عمل کرنے پر تیار نہ ہو۔ اسے عبرتناک سزا دیں۔ اگر حکومت ہمارے پاس ہوتی تو ہم ایک دن کے اندر اندر یہ کام کر لیتے ۔“

اگر اپنی حکومت نہ ہو تو ......

اگر اپنی حکومت نہ ہو تو بھی مسلمانوں کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہنا چاہئے۔ (غیر مسلموں کے ساتھ نہیں، مسلمانوں کے ساتھ ) چنانچہ میاں محمود احمد نے ١٩٣٤ء میں اپنے ایک خطبہ میں کہا تھا: ”قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک عام مومن دو مخالفوں پر بھاری ہوتا ہے اور اگر اس سے بھی ترقی کرے تو صحابہؓ کے طرز عمل سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے ایک نے ہزار کا مقابلہ کیا ہے۔ ہماری جماعت مردم شماری کی رو سے پنجاب میں چھپن ہزار ہے۔ گو یہ بالکل غلط ہے۔ صرف اسی ضلع گورداسپور میں تیس ہزار احمدی ہیں۔ مگر فرض کر لو۔ یہ تعداد درست ہے اور فرض کر لو کہ باقی تمام ہندوستان میں ہماری جماعت کے بیس ہزار افراد رہتے ہیں۔

٩٩

صفحہ ٥٢٠

تب بھی یہ ٧٥ ، ٧٢ ہزار آدمی بن جاتے ہیں اور اگر ایک احمدی سو کے مقابلہ میں رکھا جائے تو ہم ٧٥ لاکھ کا مقابلہ کر سکتے ہیں اور اگر ایک ہزار کے مقابل پر ہمارا ایک آدمی ہو تو ہم ساڑھے سات کروڑ کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اتنی ہی تعداد دنیا کے تمام مسلمانوں کی ہے؟ پس سارے مسلمان مل کر بھی جسمانی طور پر ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکتے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم ان پر بھاری ہیں۔ پھر آجکل تو جسمانی مقابلہ ہے ہی نہیں۔ اس لئے اس لحاظ سے بھی ہمیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ۔‘‘

(الفضل قادیان نمبر ٥٢ ج ٧ ص ٧، ٢١؍ جون ١٩٣٣ء)

یہاں دو تین باتیں قابل غور ہیں۔ قرآن کریم کا جو حوالہ اوپر دیا گیا ہے۔ وہاں جماعت مؤمنین کی کفار کے ساتھ جنگ کا ذکر ہے۔ اس اعتبار سے میاں محمود قادیانی اپنی جماعت کو مؤمنین کہتے ہیں اور مسلمانوں کو کفار کی جماعت اور یہی ان کے نزدیک مسلمانوں کی پوزیشن ہے۔ دوسرے یہ کہ ان حضرات کے عقیدہ کی رو سے مسلمانوں کا انگریزوں کے خلاف جہاد تو حرام ہے۔ لیکن یہ خود اپنی جماعت کو مسلمانوں کے خلاف جہاد (قتال بالسیف) کی تلقین کر رہے ہیں۔ اور تیسرے یہ کہ ان کے مبلغ علم کی کیفیت یہ ہے کہ یہ (١٩٣٣ء میں) تمام دنیا کے مسلمانوں کی آبادی ساڑھے سات کروڑ بتاتے ہیں۔

اقتباس کے آخر میں کہا گیا ہے کہ: پھر آج کل تو جسمانی مقابلہ ہے ہی نہیں۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ آجکل جنگ کا دارومدار افراد کی تعداد پر نہیں۔ اسلحہ پر ہے۔ اس سلسلہ میں الفضل بابت ٢ مئی ١٩٢٥ء کا حسب ذیل بیان قابل غور ہے ۔

’’حضور (یعنی میاں محمود قادیانی) نے فرمایا کہ جو اصحاب بندوق کا لائسنس رکھ سکتے ہیں ۔ وہ بندوق کا لائسنس حاصل کریں اور جہاں جہاں تلوار رکھنے کی اجازت ہے وہاں تلوار رکھیں۔ لیکن جہاں اس کی ضرورت نہ ہو وہاں لاٹھی ضرور رکھیں ۔‘‘

احمدی جماعت

یہ تھا وہ اضافہ جسے قارئین کے تقاضوں اور مطالبوں کے پیش نظر ضروری سمجھا گیا۔ اب کتاب کے تسلسل کے اعتبار سے اگلے باب کی طرف آجائیے ۔ اس باب میں ہم نے بتایا ہے کہ مرزا قادیانی نے ایک نئی امت کی تشکیل کی اور اسے مسلمانوں سے الگ قرار دیا۔ ہم نے اس سے پہلے لکھا ہے کہ اس جماعت کا نام (احمدی جماعت) خود مرزا قادیانی کے نام پر رکھا گیا تھا۔ احمدی حضرات جو کہتے ہیں کہ یہ نام نبی اکرم ﷺ کے نام پر رکھا گیا تھا۔ یہ ان کی مغالطہ آفرینی اور فریب دہی ہے۔ اس سلسلہ میں صاحبزادہ بشیر احمد نے اپنے مقالہ کلمۃ الفصل میں لکھا تھا: ’’ان

١٠٠

صفحہ ٥٢١

تمام الہامات میں اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی) کو احمد کے نام سے پکارا ہے۔ دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) بیعت لیتے وقت یہ اقرار لیا کرتے تھے کہ آج میں احمد کے ہاتھ پر اپنے تمام گناہوں سے توبہ کرتا ہوں۔ پھر اس پر بس نہیں۔ بلکہ آپ نے اپنی جماعت کا نام بھی احمدی جماعت رکھا۔ پس یہ بات یقینی ہے کہ آپ احمد تھے۔“

(ریویو آف ریلیجنز قادیان نمبر ٣ ج ١٤ ص ١٣٨ تا ١٤١)

پانچواں باب ...... ایک نئی امت

ہم مرزا قادیانی کے دعاوی کے طول طویل اور پر پیچ وخم راستوں سے گذر کر یہاں تک پہنچے ہیں۔ انہوں نے اپنے دعاوی کی ابتدا کشف والہام سے کی۔ اگرچہ اس کے لئے قرآن سے کوئی سند نہیں ملتی۔ لیکن چونکہ یہ چیز تصوف میں چلی آ رہی تھی۔ اس لئے قوم نے اس کے خلاف کوئی اعتراض نہ کیا اور عیسائیوں اور آریوں کے خلاف مباحثوں اور مناظروں کے سلسلہ میں مرزا قادیانی کی خدمات کو سراہا۔ اس کے بعد انہوں نے ظل و بروز ، حلول و بعث ثانی بلکہ عین محمد ہونے تک کا دعویٰ کر دیا۔ یہ دعاوی قابل مواخذہ ہو سکتے تھے۔ لیکن بعض غالی صوفیاء کے ہاں اس قسم کی شطحیات بلکہ ان سے بھی بڑھ کر ہفوات پائی جاتی ہیں۔ اس لئے مرزا قادیانی کے ان دعاوی کے خلاف بھی کوئی شور نہ مچا۔ وہ آگے بڑھے اور نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ یہاں پر ایک نازک مقام سامنے آتا ہے۔ جس کا اچھی طرح سمجھ لینا نہایت ضروری ہے۔

ایک نئی امت

اس حقیقت کو یوں سمجھئے کہ (مثلاً) ایک شخص حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے کے تمام انبیاء بنی اسرائیل پر ایمان رکھتا ہے۔ لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبی تسلیم نہیں کرتا۔ وہ یہودی کہلائے گا، عیسائی نہیں کہلائے گا۔ لیکن جونہی وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت پر ایمان لے آئے وہ امت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا فرد بن جائے گا اور عیسائی کہلائے گا۔ لیکن یہ عیسائی، امت محمدیہ کا فرد قرار نہیں پائے گا۔ کیونکہ وہ سلسلہ نبوت کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے آگے نہیں بڑھاتا۔ انہی پر ختم کر دیا ہے۔ لیکن اگر وہ اس سلسلہ کو آگے بڑھا کر نبوت محمدیہ پر بھی ایمان لے آئے تو وہ امت عیسوی سے کٹ کر امت محمدیہ کا فرد بن جائے گا۔ حالانکہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس وقت بھی خدا کا سچا نبی مانتا ہے۔ یعنی ایک شخص اس نبی کی امت کا فرد بنتا ہے۔ جسے وہ سلسلہ نبوت کی آخری کڑی سمجھتا ہے۔ جونہی وہ اس سلسلہ کو آگے بڑھاتا ہے اور ایک اور نبی کی

١٠١

صفحہ ٥٢٢

نبوت پر ایمان لے آتا ہے۔ اس کا سلسلہ سابقہ نبی کی امت سے کٹ جاتا ہے اور وہ اس نئے نبی کی امت کا فرد قرار پاتا ہے۔ مسلمان، امت محمدیہ کے افراد ہیں۔ کیونکہ وہ (اگرچہ تمام سابقہ انبیاء پر بھی ایمان رکھتے ہیں۔ لیکن) سلسلۂ نبوت کو محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس پر ختم سمجھتے ہیں۔ اگر کوئی شخص محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی کو نبی تسلیم کرتا ہے تو اس کا سلسلہ امت محمدیہ سے کٹ جاتا ہے اور اس کا شمار اس نئے نبی کی امت میں ہوجاتا ہے۔ اس اصول کے مطابق مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ نبوت کو ماننے والے امت محمدیہ کے افراد نہیں رہتے۔ ان سے الگ امت قرار پا جاتے ہیں۔

خود مرزا قادیانی کو بھی اس حقیقت کا احساس تھا کہ دعویٰ نبوت و رسالت کا لازمی نتیجہ ایک نئے دین کا ظہور میں آنا اور ایک امت کا متشکل ہونا ہے۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں: ”انبیاء اس لئے آتے ہیں تا ایک دین سے دوسرے دین میں داخل کریں اور ایک قبلہ سے دوسرا قبلہ مقرر کرا دیں اور بعض احکام کو منسوخ کریں اور بعض نئے احکام لاویں۔“

(مکتوبات احمدیہ ج ٥ ص ٢، ٣٢)

احمدی حضرات ! مرزا قادیانی کے متعلق عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ ایک نیا دین لے کر آئے تھے۔ ملاحظہ فرمائیے: ”اللہ تعالیٰ نے اس آخری صداقت کو قادیان کے ویرانے میں نمودار کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جو فارسی النسل ہیں اہم کام کے لئے منتخب فرمایا اور فرمایا میں تیرے نام کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔ زور آور حملوں سے تیری تائید کروں گا اور جو دین تو لے کر آیا ہے اسے تمام دیگر ادیان پر بذریعہ دلائل و براہین غالب کروں گا اور اس کا غلبہ دنیا کے آخر تک قائم رکھوں گا۔“

(الفضل قادیان نمبر ٩٣ ج ٢٢ ص ٥ ، مورخہ ٣؍فروری ١٩٣٥ء)

یہ رہا نئے دین کا معاملہ، نئی امت کے متعلق مرزا قادیانی نے فرمایا : ”جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے گا اس دعویٰ میں ضرور ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی ہستی کا اقرار کرے اور نیز یہ بھی کہے کہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے میرے پر وحی نازل ہوتی ہے اور نیز خلق اللہ کو وہ کلام سناوے جو اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے اور ایک امت بنادے جو اس کو نبی سمجھتی ہو اور اس کی کتاب کو کتاب اللہ مانتی ہو۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٤٤، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

دوسری جگہ لکھتے ہیں: ”یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا ہے؟ جس نے اپنی وحی کے ذریعے سے چند اوامر ونواہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب شریعت ہوگیا۔ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)

مرزا قادیانی کا یہ ارشاد الفضل میں نقل ہوا ہے۔ ”(مرزا قادیانی نے) فرمایا کہ پہلا

١٠٢

صفحہ ٥٢٣

سابقہ نبی کی امت سے کٹ جاتا ہے اور وہ اس نئے نبی کی امت محمدیہ کے افراد ہیں۔ کیونکہ وہ (اگرچہ تمام سابقہ ختم نبوت کو محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس پر ختم سمجھتے کسی کو نبی تسلیم کرتا ہے تو اس کا سلسلہ امت محمدیہ سے نبی کی امت میں ہو جاتا ہے۔ اس اصول کے مطابق ننے والے امت محمدیہ کے افراد نہیں رہتے۔ ان سے الگ

ت کا احساس تھا کہ دعویٰ نبوت ورسالت کا لازمی نتیجہ ت کا متشکل ہونا ہے۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں: ”انبیاء اس ین میں داخل کریں اور ایک قبلہ سے دوسرا قبلہ مقرر س نئے احکام لاویں۔“ (مکتوبات احمدیہ ج ٥ ص ٢٤، ٢٣) تعلق عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ ایک نیا دین لے کر آئے شری صداقت کو قادیان کے ویرانے میں نمودار کیا اور ی ہیں اہم کام کے لئے منتخب فرمایا اور فرمایا میں تیرے دشمنوں سے تیری تائید کروں گا اور جو دین تو لے کر آیا مین غالب کروں گا اور اس کا غلبہ دنیا کے آخر تک قائم

(الفضل قادیان نمبر ٢٢، ج ٣ ص ٥، مورخہ ٣ فروری ١٩٣٥ء)

ت کے متعلق مرزا قادیانی نے فرمایا: ”جو شخص نبوت کا دا تعالیٰ کی ہستی کا اقرار کرے اور نیز یہ بھی کہے کہ ل ہوئی ہے اور نیز خلق اللہ کو وہ کلام سناوے جو اس پر امت بنا دے جو اس کو نبی سمجھتی ہو اور اس کی کتاب کو

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٤٤، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

ہو کہ شریعت کیا ہے؟ جس نے اپنی وحی کے ذریعے کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب شریعت

(اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)

ل ہوتا ہے۔“ (مرزا قادیانی نے) فرمایا کہ پہلا

١٠٢

مسیح صرف مسیح تھا۔ اس لئے اس کی امت گمراہ ہو گئی اور موسوی سلسلہ کا خاتمہ ہوا۔ اگر میں بھی صرف مسیح ہوتا تو ایسا ہی ہوتا۔ لیکن میں مہدی اور محمد (ﷺ) کا بروز بھی ہوں۔ اس لئے میری امت کے دو حصے ہوں گے۔ ایک وہ جو مسیحیت کا رنگ اختیار کریں گے اور یہ تباہ ہو جائیں گے۔ دوسرے وہ جو مہدویت کا رنگ اختیار کریں گے۔“

(الفضل ٢٦؍ جنوری ١٩١٦ء)

اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہ مرزا قادیانی نے اپنی الگ امت کیوں بنائی۔

الفضل لکھتے ہیں: ”کیا مسیح ناصری نے اپنے پیروؤں کو یہود بے بہبود سے الگ نہیں کیا۔ کیا وہ انبیاء جن کے سوانح کا علم ہم تک پہنچا ہے اور ہمیں ان کے ساتھ جماعتیں بھی نظر آتی ہیں۔ انہوں نے اپنی جماعتوں کو غیروں سے الگ نہیں کر دیا۔ ہر ایک شخص کو ماننا پڑے گا کہ بیشک کیا ہے۔ پس اگر مرزا قادیانی نے بھی جو کہ نبی اور رسول ہیں۔ اپنی جماعت کو منہاج نبوت کے مطابق غیروں سے الگ کر دیا تو نئی اور انوکھی بات کون سی کی؟“

(الفضل قادیان نمبر ٢٩ ، ج ٤ ص ٣، بابت ٢٦؍ فروری و ٢؍ مارچ ١٩١٨ء)

آپ نے دیکھا کہ یہاں تک مرزا قادیانی کے دعاوی میں ایک منطقی ربط ہے۔ یعنی دعویٰ نبوت کے منطقی نتائج ایک نیا دین اور نئی امت کا اعلان کیا گیا۔ ہمیں (مسلمانوں کو) اس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے تو نبوت ہی کا دعویٰ کیا۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو خدا ہونے کا دعویٰ کر دیتے ہیں۔ ہم یہ کہیں گے کہ نبوت (یا خدائی کا دعویٰ کرنے والا) مسلمان نہیں کہلا سکتا۔ ایران میں (انہی دنوں) مرزا علی محمد باب کے جانشین بہاء اللہ نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ ایک نئے دین کا مدعی ہوا۔ اپنی جداگانہ امت تشکیل کی۔ مسلمانوں سے الگ ہو گیا۔ ہم (مسلمان) اس کے دعویٰ کو باطل سمجھتے ہیں۔ لیکن ہمیں اس کے خلاف اعتراض کرنے کی ضرورت نہیں۔ ایک غیر مسلم جو دعاوی جی میں آئے کرتا رہے۔ ہمیں اس سے کیا غرض! معلوم ہوتا ہے کہ شروع میں خود مرزا غلام احمد قادیانی کا بھی یہی نظریہ تھا کہ ان کی جماعت مسلمان نہیں بلکہ مسلمانوں سے الگ ایک مشخص امت ہے۔ جماعت احمدیہ کی بنیاد ١٩٠١ء میں رکھی گئی اور (منیر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق) خود مرزا قادیانی کی درخواست پر ١٩٠١ء کی مردم شماری میں اس کا ایک الگ جماعت کی حیثیت سے شمار کرایا گیا۔ (رپورٹ ص ٩)

لیکن اس کے بعد مرزا قادیانی کے تخیل نے ایک ایسا پلٹا کھایا جس کی مثال اسلام تو ایک طرف دنیائے مذاہب میں کہیں نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ:

١٠٣

صفحہ ٥٢٤

ہم نے جیسا کہ اوپر لکھا ہے۔ اسلام ہی میں نہیں دنیائے مذاہب میں اس قسم کے دعویٰ کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے۔ اس چودہ سو سال میں کسی شخص نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ میں نبی ہوں اور جو مجھے ایسا ہی نہیں مانتا وہ مسلمان نہیں۔ مسلمان میرے متبعین ہیں۔ جہاں تک دنیائے مذاہب کا تعلق ہے۔ بات بڑی واضح ہے۔ نبی اکرمﷺ نے دعویٰ نبوت فرمایا اور کہا کہ جو شخص میری رسالت پر اور جس قدر انبیائے کرام مجھ سے پہلے گزرے ہیں۔ ان کی رسالت پر ایمان لائے۔ وہ میری امت کا فرد (مسلمان) ہے۔ لیکن آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی رسالت پر ایمان لانے کی بناء پر موسائی (یا یہود) ہم ہیں۔ جو یہودی میری رسالت پر ایمان نہیں لاتا وہ یہودی نہیں رہ سکتا۔ یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی رسالت پر ایمان لانے کی بناء پر عیسائی ہم ہیں جو عیسائی میری رسالت پر ایمان نہیں لاتا وہ عیسائی نہیں کہلا سکتا۔ اس قسم کا دعویٰ کسی بانی مذہب نے بھی نہیں کیا۔ اگر آج مسلمان یہ کہیں کہ عیسائی ہم ہیں جو لوگ اپنے آپ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متبع (عیسائی) کہتے ہیں۔ وہ دائرہ عیسائیت سے خارج ہیں تو آپ سوچئے کہ دنیا اس قسم کے دعویٰ کے متعلق کیا کہے گی۔ ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ جو لوگ رسالت محمدیہ پر ایمان نہیں رکھتے وہ مسلمان نہیں کافر (یعنی رسالت محمدیہ کے منکر) ہیں۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ ہندو یا یہودی یا عیسائی نہیں۔ یہ متفرد مثال مرزا قادیانی کے ہاں ہمیں ملتی ہے کہ جو لوگ رسالت محمدیہ پر ایمان کی بناء پر اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں وہ مسلمان نہیں، مسلمان ہم ہیں جو ایک نئی نبوت پر ایمان لائے ہیں۔ علامہ اقبالؒ نے کہا تھا کہ مرزا قادیانی کے مقابلہ میں بہائیوں کا دعویٰ (غلط ہی سہی لیکن بہر حال) دیانتدارانہ ہے۔ ان کا دعویٰ یہ ہے کہ:

جماعت کے افراد ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی اس کے بالکل الٹ چلے۔

بہر حال یہ تھا مرزا قادیانی کا وہ دعویٰ جو مسلمانوں کے نزدیک کسی صورت میں قابلِ قبول نہیں ہو سکتا تھا۔ اس لئے کہ اسلام کی رو سے:

رہتا اور دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔

١٠٤

صفحہ ٥٢٥

نے دعوائے نبوت کو قبول نہیں کرتے وہ مسلمان نہیں۔ ہے۔ اسلام ہی میں نہیں دنیائے مذاہب میں اس قسم کے دعوئی اسلام کا تعلق ہے۔ اس چودہ سو سال میں کسی شخص نے یہ دعویٰ عیسائی نہیں مانتا وہ مسلمان نہیں۔ مسلمان میرے متبعین ہیں۔

یہ بات بڑی واضح ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے دعویٰ نبوت فرمایا اور جس قدر انبیائے کرام مجھ سے پہلے گزرے ہیں۔ ان کی امت کا فرد (مسلمان) ہے۔ لیکن آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ پر ایمان لانے کی بناء پر موسائی (یا یہود) ہم ہیں۔ جو یہودی عیسوی نہیں رہ سکتا۔ یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی رسالت پر جو عیسائی میری رسالت پر ایمان نہیں لاتا وہ عیسائی نہیں کہلا نے بھی نہیں کیا۔ اگر آج مسلمان یہ کہیں کہ عیسائی ہم ہیں جو اسلام کے متبع (عیسائی) کہتے ہیں۔ وہ دائرہ عیسائیت سے ہم کے دعویٰ کے متعلق کیا کہے گی۔ ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ جو وہ مسلمان نہیں کافر (یعنی رسالت محمدیہ کے منکر) ہیں۔ ہم عیسائی نہیں۔ یہ منفر د مثال مرزا قادیانی کے ہاں ہمیں ملتی ہے وہ پر اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں وہ مسلمان نہیں، مسلمان ہیں۔ علامہ اقبال نے کہا تھا کہ مرزا قادیانی کے مقابلہ میں وں کو دیانتداری ہے۔ ان کا دعویٰ یہ ہے کہ:

وہ مسلمان ہیں۔ لیکن

مسلمان سے الگ ایک نئے مذہب کے متبع اور ایک جداگانہ تو اس کے بالکل الٹ چلے۔

علاوہ دعویٰ جو مسلمانوں کے نزدیک کسی صورت میں قابل رو سے:

جو محمد رسول اللہ ﷺ کو خدا کا آخری رسول مانتا ہے۔ نے کے بعد دعویٰ نبوت کرتا ہے۔ وہ امت محمدیہ کا فرد نہیں

١٠٤

اس کے جواب میں مرزا قادیانی نے فرمایا کہ مجھے (اور میرے متبعین کو) دائرہ اسلام سے خارج کرنے والے تم کون ہوتے ہو؟ یہ حق ایک صاحب شریعت، نبی کو پہنچتا ہے کہ وہ اپنے دعوئی کے منکرین کو کافر قرار دے۔

(تریاق القلوب ص ١٣٠، خزائن ج ١٥ ص ٤٣٢)

تمہیں یہ کیسے حق پہنچ سکتا ہے کہ مجھے کافر قرار دو۔ یعنی (آج کل کی مثال کے مطابق) ایک ناجائز قابض کو تو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مالک مکان کو مکان کے اندر داخل نہ ہونے دے۔ مالک مکان کو اس کا حق حاصل نہیں ہو سکتا کہ وہ ناجائز قابض کو مکان سے باہر نکال دے۔

یہ تھا اصل مسئلہ: مسلمانوں کو چاہئے تھا کہ ان سے صرف یہ کہتے کہ آپ نے دعویٰ نبوت کی بناء پر اپنی جدا گانہ امت کی تشکیل کر لی۔ ہمیں نہ آپ کے دعوئی سے کوئی واسطہ ہے اور نہ آپ کی امت سے کوئی سروکار۔ لیکن آپ کو یہ حق حاصل نہیں کہ آپ اپنی اس امت کا نام مسلمان رکھیں۔ چودہ سو سال سے ایک امت کا نام مسلمان (یا مسلم) چلا آرہا ہے۔ اسے امت محمدیہ کہا جاتا ہے۔ چودہ سو سال سے ساری دنیا میں یہ امت اسی نام سے متعارف ہے۔ خود اللہ تعالیٰ نے اس امت کا نام مسلم رکھا تھا۔ جب کہا تھا کہ: ”ھو سمکم المسلمین من قبل وفی ھٰذا“ (الحج : ٧٨) ”اس نے تمہارا نام مسلم رکھا ہے۔ اس قرآن میں بھی اور اس سے پہلے بھی۔ لہٰذا کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ اس امت کے متعلق کہے کہ تمہارا نام مسلم (یا مسلمان) نہیں۔ مرزا قادیانی امت کا نام اپنی نسبت سے احمدی رکھنا چاہتے ہیں تو رکھ لیں۔ جس طرح بہائیوں نے بہاء اللہ کی نسبت سے اپنا نام بہائی رکھا ہے۔ ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ (اگر چہ اس میں بھی ابہام اور غلط فہمی پیدا کرنے کا پہلو مضمر ہے) لیکن امت محمدیہ سے الگ ہو جانے کے بعد آپ سے علیحدگی کو اس پردے میں نہیں چھپا سکتے کہ مسلمان تو آپ ہیں۔ یہ ساٹھ ستر کروڑ مسلمان کچھ اور ہیں جو مسلمانوں (یعنی آپ لوگوں) سے الگ ہو گئے ہیں۔

مسلمانوں کو چاہئے تھا کہ بات صرف یہاں تک رکھتے۔ وہ یہ بات کسی بحث ومباحثہ کا موضوع بن نہیں سکتی تھی۔ جب مرزا قادیانی کا اپنا دعویٰ تھا کہ انہوں نے ایک الگ امت کی تشکیل کی ہے۔ جب ان کے متبعین (احمدیوں) کا دعویٰ تھا کہ ہم میں اور مسلمانوں میں کوئی چیز مشترک نہیں۔ خدا، رسول، دین، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ ہر بات میں ہم ان سے الگ ہیں۔ ہم ان سے شادی بیاہ تک جائز نہیں سمجھتے۔ ان کے ساتھ نماز تک نہیں پڑھ سکتے۔ ان کے جنازہ میں شریک نہیں ہو سکتے۔ جب وہ خود اس علیحدگی کے دعویدار تھے تو ان سے کہنا ہی یہی چاہئے تھا کہ آپ کو اپنی علیحدگی مبارک۔ ہمیں آپ سے کوئی سروکار نہیں۔ لیکن ہم اس کی اجازت نہیں دے سکتے کہ

١٠٥

صفحہ ٥٢٦

آپ مسلمانوں سے علیحدہ بھی ہوں اور اپنے آپ کو مسلمان بھی کہیں۔ دنیا میں اس کی کہیں مثال نہیں ملتی کہ جو لوگ مسلمانوں سے الگ ہونے کے مدعی ہوں وہ اپنے آپ کو مسلمان کہیں اور مسلمانوں سے کہیں کہ تم اپنا نام کچھ اور رکھو۔

اس موضوع پر ان حضرات سے نہ کسی بحث و مباحثہ کی ضرورت تھی نہ ہنگامے برپا کرنے کی حاجت۔ اگر یہ حضرات اپنے آپ کو مسلمان کہلانے پر مصر ہوتے تو ان کے اس قسم کے بیانات کو (جن میں انہوں نے مسلمانوں سے علیحدہ ہونے کی تصریحات کی ہیں) حکومت کے سامنے پیش کر کے مطالبہ کیا جاتا کہ انہیں مسلمانوں سے علیحدہ شمار کیا جائے اور اگر ضرورت پڑتی تو اس سوال کی عدالت عالیہ کے سامنے پیش کر کے فیصلہ لے لیا جاتا۔ جب (منیر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق) مرزا قادیانی نے ١٩٠١ء کی مردم شماری میں خود اپنے متبعین کا شمار مسلمانوں سے الگ کرایا تھا تو مسلمانوں کو چاہئے تھا کہ وہ اس پر اصرار کرتے کہ ہر مردم شماری میں ایسا ہی ہونا چاہئے۔

لیکن یہاں یہ مصیبت تھی کہ ہمارے علماء حضرات خود یہ فیصلہ نہیں کر پاتے تھے (نہ آج تک فیصلہ کر پائے ہیں) کہ مسلمان کہتے کسے ہیں۔ آپ منیر کمیٹی کی رپورٹ دیکھئے۔ انہوں نے اس مسئلہ کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دینے کے لئے مسلمان علماء سے یہ پوچھا تھا کہ مسلمان کسے کہتے ہیں۔ اس سوال کا کوئی متفق علیہ جواب ان سے نہ بن پڑا۔ جب صورتحال یہ سامنے آئی تو منیر کمیٹی کو یہ کہنا پڑا کہ (جب آپ حضرات یہ نہیں بتا سکتے کہ مسلمان کہتے کسے ہیں تو) ہم یہ کس طرح فیصلہ کریں کہ فلاں جماعت جو اپنے آپ کو مسلمان کہتی ہے مسلمان کہلا سکتی ہے یا نہیں۔

جب تک مسلمان اپنے ہاں اس سوال کا متفق علیہ جواب متعین نہیں کرتے۔ مسئلہ احمدیت کا حل نہیں مل سکتا۔ جب اس مسئلہ میں اس قدر الجھاؤ پیدا ہو گیا ہے تو ہمارا مشورہ یہ ہے کہ سوال یہ نہ اٹھایا جائے کہ مسلمان کسے کہتے ہیں۔ سوال یہ اٹھایا جائے کہ امت محمدیہ میں کس کا شمار ہو سکتا ہے اور اس کا صاف اور سیدھا جواب یہ دیا جائے کہ جو شخص یہ تسلیم کرے کہ خدا کی طرف سے وحی کا سلسلہ محمد رسول اللہ ﷺ پر ختم ہو چکا ہے اور میں اس وحی (قرآن کریم) پر ایمان رکھتا ہوں۔ اسے امت محمدیہ کا فرد شمار کیا جائے۔ بات صاف ہو جائے گی۔ اسلامی ممالک میں امت محمدیہ کی اس تعریف کو آئینی اور قانونی حیثیت حاصل ہونی چاہئے۔

احمدی حضرات مسلمان کہلانے پر کیوں مصر ہیں

سوال یہ ہے کہ احمدی حضرات مسلمانوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دینے کے باوجود اپنے آپ کو (سرکاری طور پر) انہی میں شمار کرانے پر کیوں مصر ہیں۔ علامہ اقبالؒ نے اپنے

١٠٦

صفحہ ٥٢٧

بیان (احمدیت اور اسلام) میں اس کی وجہ صاف صاف بیان کر دی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس کی ساری وجہ سیاسی ہے۔ احمدی حضرات اچھی طرح جانتے ہیں کہ اپنے آپ کو مسلمانوں سے الگ شمار کرا کر وہ ان تمام مفادات سے محروم ہو جائیں گے جو سیاسی طور پر مسلمانوں کو حاصل ہیں۔

بہائیوں کی مثال ان حضرات کے سامنے تھی کہ انہوں نے اپنے آپ کو مسلمانوں سے الگ کر لیا تو کس طرح ان مفادات سے محروم رہ گئے اور حالت یہ ہو گئی کہ؎

اکیلے پھر رہے ہیں یوسف بے کارواں ہو کر

مفادات کے سلسلہ میں بڑے بڑے امور کو چھوڑیئے۔ صرف سرکاری ملازمتوں کے شعبہ کو لیجئے۔ ہندوستان میں جب سرکاری ملازمتوں میں تناسب ہوا تو ہندوؤں کے لئے ساڑھے چھیاسٹھ فیصد مسلمانوں کے لئے ٢٥ فیصد اور بقایا ساڑھے آٹھ فیصد دیگر اقلیتوں کے لئے طے ہوا تھا۔ دیگر اقلیتوں میں سکھ، پارسی، ہریجن، بدھ، جین، بہائی سب شامل تھے۔ ظاہر ہے کہ اگر احمدی بھی اپنے آپ کو مسلمانوں سے الگ شمار کراتے تو یہ انہی دیگر اقلیتوں کے زمرے میں شامل ہو جاتے۔ اس سے ان کے حصے میں جس قدر ملازمتیں آسکتیں ظاہر ہے کہ اپنے آپ کو دس بارہ کروڑ مسلمانوں کا حصہ شمار کرانے سے یہ ٢٥ فیصدی میں شریک ہو گئے۔ اسی سے دیگر مفادات کا اندازہ بھی لگا لیجئے۔

یہ وجہ تھی کہ جو یہ حضرات اپنے ایمان کی رو سے اپنے آپ کو مسلمانوں (بقول ان کے کافروں) سے الگ تسلیم کرنے کے باوجود اپنا شمار مسلمانوں میں کرانے پر مصر رہے اور مصر چلے آ رہے ہیں۔ اس سے آپ نے سمجھ لیا ہو گا کہ علامہ اقبالؒ نے کیوں کہا تھا کہ ان حضرات کے مقابلہ میں بہائیوں کا مسلک دیانتدارانہ تھا۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حکومت برطانیہ نے بھی ان کے اس یکسر غیر منطقی اور غیر معقول انداز سے چشم پوشی کیوں کی؟ اس سوال کا جواب تشریح طلب ہے اور بڑا دلچسپ۔ اس کے لئے آئندہ باب سامنے لائیے۔

چھٹا باب ...... یہ تحریک دراصل سیاسی تھی

حقیقت یہ ہے کہ احمدیت کی تحریک مذہبی تھی ہی نہیں۔ یہ ایک سیاسی تحریک تھی جو انگریزوں کی پیدا (یا پرورش) کردہ تھی۔ تفصیل اس اجمال کی غور سے سننے کے قابل ہے۔

حکومت برطانیہ کا خطرہ

انگریز نے سات سمندر پار سے آ کر ہندوستان میں حکومت قائم کی۔ اپنی حکومت کے

١٠٧

صفحہ ٥٢٨

استحکام میں اسے اگر کوئی خطرہ نظر آتا تھا تو وہ مسلمانوں کی طرف سے تھا۔ وہ سید احمد (شہید) بریلوی اور شاہ اسماعیل (شہید) دہلوی کی تحریک جہاد میں دیکھ چکا تھا کہ امت مسلمہ کے اس راکھ کے ڈھیر میں ابھی وہ چنگاریاں دبی ہوئی ہیں جو تھوڑی سی موافق ہوا سے شعلہ جوالہ بن سکتی ہیں۔ بظاہر وہ تحریک بالاکوٹ میں دفن ہو چکی تھی۔ لیکن اس کی روح بدستور زندہ تھی۔ اور ١٨٥٧ء کی جنگ آزادی کے بعد وہابی تحریک کی شکل میں سلگ اور سرک رہی تھی۔ انگریز اس سے خائف تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اسے تشدد سے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ اسے مذہب ہی سے ختم کیا جاسکتا ہے۔ اس مقصد کے لئے پہلے انہوں نے سوچا کہ اس مقصد کے حصول کے لئے ایک باقاعدہ تحریک چلائی جانی چاہئے۔ (ہنٹر نے اپنی کتاب میں اس کا تفصیلی ذکر کیا ہے)

مسلمانوں کا عقیدہ تھا کہ آخری زمانہ میں امام مہدی کا ظہور اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نزول ہوگا۔ ان کی زیرسیاست و امامت اسلام کا پھر سے غلبہ ہو جائے گا۔ اس تحریک کے لئے جس کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔ یہ ضروری سمجھا گیا کہ ایک ایسا مہدی اور مسیح موعود آ جائے جو ان کے جذبہ انتظار کی بھی تسکین کر دے اور جہاد کے خطرہ کو بھی دور۔ یہ تھی اس تحریک کی وجہ تخلیق اور یہ تھا وہ مقصد جسے مرزا قادیانی نے پورا کرنے کی مذموم کوشش کی۔

اقبال کا بیان

علامہ اقبالؒ نے ١٩٣٥ء میں تحریک احمدیت کے سلسلہ میں طویل بیانات (انگریزی زبان میں) دیئے تھے جو بعد میں احمدیت اور اسلام کے نام سے شائع ہو گئے تھے۔ وہ ایک بیان میں ان خدشات اور وساوس کا ذکر کرتے ہوئے جو مسلمانوں کے عقیدہ جہاد کی رو سے انگریز کے دل میں پیدا ہورہے تھے۔ کہتے ہیں کہ انگریزوں نے پہلے یہ کوشش کی کہ اس عقیدہ کی تردید منطقی دلائل کی رو سے کر دی جائے۔ لیکن انہوں نے جلد ہی محسوس کر لیا کہ یہ منطق کے بس کا روگ نہیں۔ انہوں نے اس حقیقت کو سمجھ لیا کہ: ”مسلمان عوام کو جن میں مذہبی جذبہ بہت شدید ہے۔ صرف ایک چیز قطعی طور پر متاثر کر سکتی ہے۔ یعنی وحی کی سند، راسخ عقائد کو مؤثر طریق پر جڑ بنیاد سے اکھیڑنے اور مذکورہ بالا سوالات میں جو دینی نظریات مضمر ہیں۔ ان کی ایک ایسی نئی تفسیر و تعبیر کرنے کے لئے جو سیاسی طور پر مفید مطلب ہو۔ یہ ضروری سمجھا گیا کہ اس کی بنیاد وحی پر رکھی جائے۔ یہ (مبنی بر وحی) ”بنیاد احمدیت نے فراہم کر دی۔ خود احمدیوں کا دعویٰ ہے کہ برطانوی شاہنشاہیت کی یہ سب سے بڑی خدمت ہے جو انہوں نے سرانجام دی ہے۔

(انگریزی ایڈیشن ص ١٢٦)

١٠٨

صفحہ ٥٢٩

مسلمانوں کی طرف سے تھا۔ وہ سید احمد (شہید) کے جہاد میں دیکھ چکا تھا کہ امت مسلمہ کے اس راکھ میں تھوڑی سی موافق ہوا سے شعلہ جوالہ بن سکتی ہیں۔ جن میں اس کی روح بدستور زندہ تھی۔ اور ١٨٥٧ء کی جنگ اندر سلگ رہی تھی۔ انگریز اس سے خائف تھا۔ اسے مذہب ہی سے ختم کیا جاسکتا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے ایک باقاعدہ تحریک چلائی جانی مقرر کی گئی۔

جس میں امام مہدی کا ظہور اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی امت اسلام کا پھر سے غلبہ ہو جائے گا۔ اس تحریک میں یہ سمجھا گیا کہ ایک ایسا مہدی اور مسیح موعود آ جائے جو جہاد کے خطرہ کو بھی دور کر دے۔ یہ تھی اس تحریک کی وجہ تخلیق جس کی تکمیل کی مذموم کوشش کی گئی۔

تحریک احمدیت کے سلسلہ میں طویل بیانات (انگریزی حکام کے نام) شائع ہو گئے تھے۔ وہ ایک بیان میں جو مسلمانوں کے عقیدہ جہاد کی رو سے انگریز کے خلاف تھا۔ اس نے پہلے یہ کوشش کی کہ اس عقیدہ کی تردید منطقی طریق پر کرے مگر جلد ہی محسوس کر لیا کہ یہ منطق کے بس کا روگ نہیں ہے۔ مسلمان عوام کو جن میں مذہبی جذبہ بہت شدید ہے۔ ان کے لئے وحی کی سند، راسخ عقائد کو مؤثر طریق پر بدلنے کے لئے ضروری ہے۔ ان کی ایک ایسی نئی تفسیر وتعبیر پیش کرنا ضروری سمجھا گیا کہ اس کی بنیاد وحی پر رکھی جاسکے۔ خود احمدیوں کا دعویٰ ہے کہ برطانوی حکومت کی یہ خدمت انہوں نے سرانجام دی ہے۔

(انگریزی ایڈیشن ص ١٢٦)

١٠٨

آگے چل کر لکھتے ہیں: ”مسلمانوں کے مذہبی افکار کی تاریخ میں احمدیوں نے جو کارنامہ سرانجام دیا وہ یہی ہے کہ ہندوستان کی موجودہ غلامی کے لئے وحی کی سند مہیا کر دی جائے۔“ مرزا قادیانی کے تمام دعاویٰ کا منتہیٰ یہ تھا کہ جہاد کو حرام قرار دے دیا جائے۔ چنانچہ انہوں نے اعلان کیا کہ: ”جہاد یعنی دینی لڑائیوں کی شدت کو خدا تعالیٰ آہستہ آہستہ کم کرتا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں اس قدر شدت تھی کہ ایمان لانا بھی قتل سے بچا نہیں سکتا تھا اور شیر خوار بچے بھی قتل کئے جاتے تھے۔ پھر ہمارے نبی ﷺ کے وقت میں بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کو قتل کرنا حرام کیا گیا اور پھر بعض قوموں کے لئے بجائے ایمان کے صرف جزیہ دے کر مواخذہ سے نجات پانا قبول کیا گیا اور پھر مسیح موعود کے وقت قطعاً جہاد کا حکم موقوف کر دیا گیا۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ١٥، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٣)

اس کی تشریح میں کہا: ”آج سے انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا تھا۔ خدا کے حکم کے ساتھ بند کیا گیا۔ اب اس کے بعد جو شخص کافر پر تلوار اٹھاتا اور اپنا نام غازی رکھتا ہے وہ اس رسول کریم ﷺ کی نافرمانی کرتا ہے۔ جس نے آج سے تیرہ سو برس پہلے فرما دیا ہے کہ مسیح موعود کے آنے پر تمام تلوار کے جہاد ختم ہو جائیں گے۔ سو اب میرے ظہور کے بعد تلوار کا کوئی جہاد نہیں۔ ہماری طرف سے امان اور صلح کاری کا سفید جھنڈا بلند کیا گیا۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٩٥)

اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال
دیں کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال
اب آگیا مسیح جو دیں کا امام ہے
دیں کی تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
اب آسماں سے نورِ خدا کا نزول ہے
اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد
منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد

(اعلان مرزا قادیانی مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٩ ص ٤٩، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٣٩٨)

اس نکتہ کو ذہن میں رکھئے کہ اسی جہاد کو منسوخ قرار دیا جا رہا ہے۔ جو بحکم خداوندی رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں رائج تھا اور جس کا حکم قرآن مجید کے اندر مسلسل چلا آ رہا ہے۔ مرزا قادیانی اس قرآنی حکم کو منسوخ قرار دے رہے ہیں۔ ١٠٩

صفحہ ٥٣٠

حکومت برطانیہ کی اطاعت

جہاد کو حرام قرار دینے کے بعد اگلا قدم یہ تھا کہ حکومت برطانیہ کی اطاعت کو فرض قرار دیا جاتا۔ اس سلسلہ میں مرزا قادیانی نے جو کچھ لکھا ہے اسے مختصراً پیش کرنے کے لئے بھی کئی مجلدات درکار ہوں گی۔ انہوں نے خود کہا ہے کہ جو کچھ انہوں نے رد جہاد اور اطاعت حکومت برطانیہ کے سلسلہ میں لکھا ہے اگر اسے یکجا کر دیا جائے تو اس سے پچاس الماریاں بھر جائیں۔

(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ص ١٥٥)

لہٰذا اس کا احصاء ممکن نہیں۔ ہم اس مقام پر چند ایک اقتباسات پر اکتفا کرتے ہیں۔ انہوں نے ١٠؍دسمبر ١٨٩٤ء کو ایک اشتہار شائع کیا۔ جس کا عنوان تھا۔ اشتہار لائق توجہ گورنمنٹ جو جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند اور جناب گورنر جنرل ہند اور لیفٹیننٹ گورنر پنجاب اور دیگر معزز حکام کے ملاحظہ کے لئے شائع کیا گیا۔ اس میں انہوں نے لکھا۔’’میں نے برابر سولہ برس سے یہ اپنے پر حق واجب ٹھہرا لیا کہ اپنی قوم کو اس گورنمنٹ کی خیر خواہی کی طرف بلاؤں اور ان کو اسی اطاعت کی طرف ترغیب دوں۔ چنانچہ میں نے اس مقصد کے انجام کے لئے اپنی ہر ایک تالیف میں یہ لکھنا شروع کیا کہ اس گورنمنٹ کے ساتھ کسی طرح مسلمانوں کو جہاد درست نہیں۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج ٢ص ١٢٣)

دوسری جگہ لکھا ہے: ’’میں نے خدا تعالیٰ سے یہ عہد کیا ہے کہ کوئی مبسوط کتاب بغیر اس کے تالیف نہیں کروں گا۔ جس میں احسانات قیصرہ کا ذکر نہ ہو۔‘‘

(نور الحق حصہ اوّل ص ٢٨، خزائن ج ٨ص ٣٩)

ولی الامر منکم

قرآن کریم میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ: ’’اطیعوا اللّٰه واطیعوا الرسول واولی الامر منکم (النساء: ٥٩)‘‘ یعنی تم خدا کی اطاعت کرو۔ رسول کی اطاعت کرو اور تم میں سے جنہیں کچھ اختیارات سونپ دیئے جائیں ان کی اطاعت کرو۔ مرزا قادیانی نے اس آیت کے لکھنے کے بعد تحریر کیا کہ: ’’اولی الامر سے مراد جسمانی طور پر بادشاہ اور روحانی طور پر امام الزمان ہے اور جسمانی طور پر جو شخص ہمارے مقاصد کا مخالف نہ ہو اور اس سے مذہبی فائدہ ہمیں حاصل ہو سکے وہ ہم میں سے ہے۔ اس لئے میری نصیحت اپنی جماعت کو یہی ہے کہ وہ انگریزوں کی بادشاہت کو اپنے اولی الامر میں داخل کریں اور دل کی سچائی سے ان کے مطیع رہیں۔‘‘

(ضرورت الامام ص ٢٣، خزائن ج ١٣ص ٤٩٣)

١١٠

یعنی قرآ اطاعت کو فرض قرار اطاعت کو فرض قرار وہ اس تالیفات میں اس جہاد حرام ہے۔ ایک میں گذرا ہے اور ہیں اور اشتہارات سے بھر سکتی ہیں مہدی خونی اور کے دلوں کو خراف انہوں خاکسار مرزا غلام جہاد ختم میں پھیل گیا اس کے اصول فرقوں میں اس کوئی امر جنگ ویسے ویسے جہا انکار کرتا ہے۔ آپ تھا؟ مسلمانوں کے ایک اور

صفحہ ٥٣١

یعنی قرآن کریم نے خدا اور رسول اور جماعت مؤمنین میں سے ان افسران ماتحت کی اطاعت کو فرض قرار دیا تھا۔ جنہیں کچھ اختیارات تفویض کئے گئے ہوں۔ لیکن مرزا قادیانی کفار کی اطاعت کو فرض قرار دے رہے ہیں۔ یاللعجب!

وہ اپنے اشتہار مورخہ ١٠؍ دسمبر ١٨٩٤ء میں لکھتے ہیں کہ: ”میں سولہ برس سے برابر اپنی تالیفات میں اس بات پر زور دے رہا ہوں کہ مسلمانان ہند پر اطاعت گورنمنٹ برطانیہ فرض اور جہاد حرام ہے۔“

(تبلیغ رسالت ج ٣ ص ١٩٦، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ١٢٨)

ایک اور مقام پر ہے: ”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گذرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہارات شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیر خواہ ہو جائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں۔ ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔“

(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥، ١٥٦)

انہوں نے ٢٤؍ فروری ١٨٩٨ء کو بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر دام اقبالہ، پنجاب خاکسار مرزا غلام احمد قادیانی ایک درخواست پیش کی جس میں لکھا تھا کہ:

جہاد ختم

”میں گورنمنٹ عالیہ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ فرقہ جدید جو برٹش انڈیا کے اکثر مقامات میں پھیل گیا ہے۔ جس کا میں پیشوا اور امام ہوں۔ گورنمنٹ کے لئے ہرگز خطرناک نہیں ہے اور اس کے اصول ایسے پاک اور صاف اور امن بخش اور صلح کاری کے ہیں کہ تمام اسلام کے موجودہ فرقوں میں اس کی نظر گورنمنٹ کو نہیں ملے گی ...... میرے اصولوں اور اعتقادوں اور ہدایتوں میں کوئی امر جنگ جوئی اور فساد کا نہیں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے ویسے ویسے جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے۔ کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٨، ١٩)

آپ نے غور فرمایا ہے کہ مسیح اور مہدی کے دعویٰ اور قرآنی حکم جہاد کی تنسیخ کا مقصد کیا تھا؟ مسلمانوں کے دل سے جہاد کا خیال ختم کرنا۔

ایک اور اشتہار میں فرماتے ہیں: ”یادرہے کہ مسلمانوں کے فرقوں میں سے یہ فرقہ

صفحہ ٥٣٢

جس کا مجھے خدا نے امام اور پیشوا اور رہبر مقرر فرمایا ہے۔ ایک بڑا امتیازی نشان اپنے ساتھ رکھتا ہے اور وہ یہ کہ اس فرقہ میں تلوار کا جہاد بالکل نہیں اور نہ اس کی انتظار ہے۔ بلکہ یہ مبارک فرقہ نہ ظاہر طور پر نہ پوشیدہ طور پر جہاد کی تعلیم کو ہرگز جائز نہیں سمجھتا۔‘‘

(اشتہار مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٩ ص ٨٢، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٣٥٧)

چنانچہ وہ فخر سے لکھتے ہیں کہ میری ان کوششوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ : ”لاکھوں انسانوں نے جہاد کے وہ غلیظ خیالات چھوڑ دیئے جو نافہم ملاؤں کی تعلیم سے ان کے دلوں میں تھے۔ یہ ایک ایسی خدمت ظہور میں آئی کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ برٹش انڈیا کے تمام مسلمانوں میں سے اس کی نظیر کوئی مسلمان دکھلا نہ سکا۔‘‘

(ستارہ قیصریہ ص ٤، خزائن ج ١٥ ص ١١٤)

جب مسلمانوں نے مرزا قادیانی کے ان دعاوی اور خیالات کی مخالفت کی تو انہوں نے حضور گورنمنٹ عالیہ کی خدمت میں ایک عاجزانہ درخواست پیش کی جس میں کہا کہ : ”میں اس گورنمنٹ محسنہ کے زیر سایہ ہر طرح سے خوش ہوں۔ صرف ایک رنج اور درد اور غم ہر وقت مجھے لاحق ہے جس کا استغاثہ پیش کرنے کے لئے اپنی محسن گورنمنٹ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں اور وہ یہ کہ اس ملک کے مولوی مسلمان اور ان کی جماعتوں کے لوگ حد سے زیادہ مجھے ستاتے اور دکھ دیتے “

(مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٨ ص ٥٣ ، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٣٣)

اور اس کے بعد سرکار عالی سے کہا کہ ہم جو آپ کو مدد کے لئے پکارتے ہیں تو کچھ اپنی حفاظت کے لئے نہیں۔ یہ اس پودے کی حفاظت کے لئے ہے جو خود آپ کے اپنے ہاتھ کا لگایا ہوا ہے۔ آپ نے پہلے ہمارے خاندان کی پرورش و حفاظت کی اور اب آپ میری تحریک کی حفاظت فرما رہے ہیں۔ یہ آپ کی ذمہ داری تھی۔ کیونکہ یہ تحریک آپ ہی کی تو پیدا کردہ ہے۔ چنانچہ وہ لیفٹیننٹ گورنر بہادر کے نام اپنی درخواست مورخہ ٢٤ فروری ١٨٩٨ء میں کہتے ہیں۔

انگریزوں کا خود کاشتہ پودا

”میرا اس درخواست سے جو حضور کی خدمت میں مع اسماء مریدین روانہ کرتا ہوں۔ مدعا یہ ہے کہ اگر چہ میں ان خدمات خاصہ کے لحاظ سے جو میں نے اور میرے بزرگوں نے محض صدق دل اور اخلاص اور جوش اور وفاداری سے سرکار انگریزی کی خوشنودی کے لئے کی ہے۔ عنایت خاص کا مستحق ہوں ..... صرف یہ التماس ہے کہ سرکار دولت مدار اس خود کاشتہ پودا کی نسبت نہایت حزم و احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو ارشاد فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت

١١٢

صفحہ ٥٣٢

رہبر مقرر فرمایا ہے۔ ایک بڑا امتیازی نشان اپنے ساتھ رکھتا جہاد بالکل نہیں اور نہ اس کی انتظار ہے۔ بلکہ یہ مبارک فرقہ نہ اس کو ہرگز جائز نہیں سمجھتا۔“

(اشتہار مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٩ ص ٨٢، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٣٥٧)

کہ میری ان کوششوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ : ”لاکھوں انسانوں نے جو نا فہم ملاؤں کی تعلیم سے ان کے دلوں میں تھے۔ یہ ایک ایسی جس پر فخر ہے کہ برٹش انڈیا کے تمام مسلمانوں میں سے اس کی

(ستارہ قیصریہ ص ٤، خزائن ج ١٥ ص ١١٤)

قادیانی کے ان دعاوی اور خیالات کی مخالفت کی تو انہوں نے ایک عاجزانہ درخواست پیش کی جس میں کہا کہ: ”میں اس سے خوش ہوں۔ صرف ایک رنج اور درد اور غم ہر وقت مجھے کے لئے اپنی محسن گورنمنٹ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں اور وہ ان کی جماعتوں کے لوگ حد سے زیادہ مجھے ستاتے اور دکھ

(مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٨ ص ٥٣، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٤٣)

نے کہا کہ ہم جو آپ کو مدد کے لئے پکارتے ہیں تو کچھ اپنی کی حفاظت کے لئے ہے جو خود آپ کے اپنے ہاتھ کا لگایا ہوا پرورش و حفاظت کی اور اب آپ میری تحریک کی حفاظت گی۔ کیونکہ یہ تحریک آپ ہی کی تو پیدا کردہ ہے۔ چنانچہ وہ عریضہ مورخہ ٢٤ فروری ١٨٩٨ء میں کہتے ہیں۔

حضور کی خدمت میں مع اسماء مریدین روانہ کرتا ہوں۔ کے لحاظ سے جو میں نے اور میرے بزرگوں نے محض وفاداری سے سرکار انگریزی کی خوشنودی کے لئے کی ہے۔ التماس ہے کہ سرکار دولت مدار اس خود کاشت پودا کی نسبت کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو ارشاد فرمائے کہ وہ بھی اس کو ملحوظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت

١١٢

٥٣٣

اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔ اس لئے کہ یہ ایک ایسی جماعت ہے جو سرکار انگریزی کی نمک پروردہ اور نیک نامی حاصل کردہ مورد مراحم گورنمنٹ ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢١، ٢٠)

انگریزی سلطنت سپر ہے

اس سلسلہ میں حکومت نے اس جماعت کو کس طرح اپنی عنایات خصوصی سے نوازا اس کا تو ہمیں علم نہیں۔ مرزا قادیانی نے اپنی جماعت کو نصیحت کی کہ یاد رکھو۔ ”انگریزی سلطنت تمہارے لئے ایک رحمت ہے۔ تمہارے لئے ایک برکت ہے اور خدا کی طرف سے تمہاری وہ سپر ہے۔ پس تم دل و جان سے اس سپر کی قدر کرو۔“

(اشتہار مندرجہ تبلیغ رسالت ج ١٠ ص ١٢٣، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٨٤)

جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے۔ مرزا قادیانی نے کہا تھا کہ جو حکومت ہمارے مقاصد کی مخالف نہ ہو۔ اس کی اطاعت فرض ہے۔ اس لئے انہوں نے واضح طور پر لکھا کہ: ”میرے اعلیٰ مقاصد جو جناب قیصرہ ہند کی حکومت کے سایہ کے نیچے انجام پذیر ہو رہے ہیں۔ ہرگز ممکن نہ تھا کہ وہ کسی اور گورنمنٹ کے زیر سایہ انجام پذیر ہو سکتے۔ اگرچہ وہ کوئی اسلامی گورنمنٹ ہی ہوتی۔“

(تحفہ قیصریہ ص ٣١، ٣٢، خزائن ج ١٢ ص ٢٨٣، ٢٨٤)

ایسا کسی اسلامی حکومت میں ممکن نہیں

”ہم نے جو اس گورنمنٹ کے زیر سایہ آرام پایا اور پارہے ہیں۔ وہ آرام ہم کسی اسلامی گورنمنٹ میں بھی نہیں پا سکتے۔ ہرگز نہیں پا سکتے۔“

(ازالہ اوہام ص ٥٠٩، خزائن ج ٣ ص ٣٧٢)

وہ اپنے اشتہار مورخہ ٢٢؍ مارچ ١٨٩٧ء میں لکھتے ہیں: ”میں اپنے کام کو نہ مکہ میں اچھی طرح چلا سکتا ہوں نہ مدینہ میں نہ روم میں نہ شام میں۔ نہ ایران میں نہ کابل میں۔ مگر اس گورنمنٹ میں جس کی اقبال کے لئے دعاء کرتا ہوں۔“

(تبلیغ رسالت ج ٦ ص ٦٩، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٣٧٠)

دوسری جگہ لکھتے ہیں: ”جو کچھ ہم پوری آزادی سے اس گورنمنٹ کے تحت میں اشاعت حق کر سکتے ہیں۔ یہ خدمت ہم مکہ معظمہ یا مدینہ منورہ میں بیٹھ کر بھی ہرگز بجا نہیں لا سکتے۔“

(ازالہ اوہام ص ٥٦ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٤٠)

ان اقتباسات میں اس اعتراف اور اعلان کو اچھی طرح پیش نظر رکھئے کہ مرزا قادیانی نے کہا ہے کہ جو آزادی ہمیں انگریزوں کی حکومت میں حاصل ہے وہ کسی اسلامی حکومت حتیٰ کہ مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں بھی حاصل نہیں ہو سکتی تھی۔ اس سے واضح ہے کہ کسی

١١٣

صفحہ ٥٣٤

اسلامی حکومت کا وجود مرزا قادیانی اور ان کے متبعین کے لئے کسی صورت میں قابل قبول اور قابل برداشت نہیں ہو سکتا۔

شرم کیوں آتی ہے

حکومت برطانیہ کی اس حد تک خوشامد ایک ایسی حرکت تھی جس کے احساس سے اور تو اور خود مرزا قادیانی کے متبعین کو بھی شرم آنے لگ گئی۔ چنانچہ اس سلسلہ میں میاں محمود احمد قادیانی کو انہیں ڈانٹ کر کہنا پڑا کہ: ”حضرت مسیح موعود نے فخریہ لکھا ہے کہ میری کوئی کتاب ایسی نہیں جس میں میں نے گورنمنٹ کی تائید نہ کی ہو۔ مگر مجھے افسوس ہے کہ میں نے غیروں سے نہیں بلکہ احمدیوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ ہمیں حضرت مسیح موعود کی ایسی تحریریں پڑھ کر شرم آجاتی ہے۔ انہیں شرم کیوں آتی ہے؟ اس لئے کہ ان کے اندر کی آنکھ کھلی نہیں۔“

(الفضل بابت ٧ جولائی ١٩٣٢ء)

مرزا قادیانی کے بعد

مرزا قادیانی یہ تبلیغ کرتے کرتے دنیا سے چلے گئے اور اس کے بعد ان کے متبعین نے بھی اس سلسلے کو جاری رکھا اور اس کے صلہ میں (یا یوں کہئے کہ خود اپنے مفاد کی خاطر) انگریزی حکومت نے بھی اپنی اعانت اور حفاظت کا سلسلہ بدستور قائم رکھا۔ ہندوستان ہی میں نہیں بلکہ دیگر ممالک میں بھی چنانچہ میاں محمود احمد (خلیفہ ثانی) نے اعلان کیا کہ: ”گورنمنٹ برطانیہ کے ہم پر بڑے احسان ہیں اور ہم بڑے آرام اور اطمینان سے زندگی بسر کرتے اور مقاصد کو پورا کرتے ہیں اور اگر دوسرے ممالک میں تبلیغ کے لئے جائیں تو وہاں بھی برٹش گورنمنٹ ہماری مدد کرتی ہے۔“

(برکات خلافت ص ٦٥)

تقسیم سے پہلے ہندوستان میں مالا بار کے علاقہ میں احمدیوں کے خلاف ایک تحریک اٹھی تھی۔ حکومت ہند نے اس میں احمدیوں کی حفاظت کا خاص انتظام کیا۔

”ڈپٹی کمشنر نے یہ حکم دیا کہ اب اگر احمدیوں کو کوئی تکلیف ہوئی تو مسلمانوں کے جتنے لیڈر ہیں۔ ان سب کو نئے قانون کے ماتحت ملک بدر کر دیا جائے گا۔“

(انوار خلافت ص ٩٦)

جاسوس جماعت

حکومت کے ساتھ ان کے یہ تعلقات اس قدر گہرے اور پراسرار تھے کہ لوگوں میں یہ چرچا عام ہونے لگا کہ یہ جماعت حکومت کی جاسوس ہے۔ ٢٦/ مارچ ١٩٣٣ء کو ان حضرات کے اکابرین نے حضور وائسرائے کی خدمت میں ایک ایڈریس پیش کیا جس میں انہوں نے عرض کیا کہ: ”جماعت احمدیہ کا سیاسی مسلک ایک مقررہ شاہراہ ہے۔ جس سے وہ کبھی ادھر ادھر نہیں

١١٤

صفحہ ٥٣٥

اور ان کے متبعین کے لئے کسی صورت میں قابل قبول اور

دیکھ کر خوشامد ایک ایسی حرکت تھی جس کے احساس سے اور تو آنے لگ گئی۔ چنانچہ اس سلسلہ میں میاں محمود احمد قادیانی کو موعود نے فخریہ لکھا ہے کہ میری کوئی کتاب ایسی نہیں جس ہو۔ مگر مجھے افسوس ہے کہ میں نے غیروں سے نہیں بلکہ مسیح موعود کی ایسی تحریریں پڑھ کر شرم آ جاتی ہے۔ انہیں شرم کی آنکھ کھلی نہیں۔“

(الفضل بابت ٧؍ جولائی ١٩٣٢ء)

کرتے دنیا سے چلے گئے اور اس کے بعد ان کے متبعین نے سلسلہ میں (یا یوں کہئے کہ خود اپنے مفاد کی خاطر ) انگریزی کا سلسلہ بدستور قائم رکھا۔ ہندوستان ہی میں نہیں بلکہ دیگر خلیفہ ثانی ) نے اعلان کیا کہ : ”گورنمنٹ برطانیہ کے ہم پر اطمینان سے زندگی بسر کرتے اور مقاصد کو پورا کرتے ہیں جائیں تو وہاں بھی برٹش گورنمنٹ ہماری مدد کرتی ہے۔“

(برکات خلافت ص ٢٥)

میں مالابار کے علاقہ میں احمدیوں کے خلاف ایک تحریک ان کی حفاظت کا خاص انتظام کیا۔ جب اگر احمدیوں کو کوئی تکلیف ہوئی تو مسلمانوں کے جتھے تخت ملک بدر کر دیا جائے گا۔“

(انوار خلافت ص ٩٦)

تعلقات اس قدر گہرے اور پراسرار تھے کہ لوگوں میں یہ کی جاسوس ہے۔ ٢٦؍ مارچ ١٩٣٤ء کو ان حضرات کے میں ایک ایڈریس پیش کیا جس میں انہوں نے عرض کیا ایک مقررہ شاہراہ ہے۔ جس سے وہ کبھی ادھر ادھر نہیں ١١٤

ہو سکتے اور وہ حکومت وقت کی فرمانبرداری اور امن پسندی ہے۔ اگر خدا تعالیٰ کے رسول دنیا کو امن دینے کے لئے نہیں آئے تو وہ یقیناً دنیا کے لئے رحمت نہیں کہلا سکتے۔ بعض لوگوں نے سلسلہ احمدیہ کی اس تعلیم سے یہ دھوکا کھایا ہے کہ شاید جماعت احمدیہ حکومت ہند سے ساز باز رکھتی ہے اور اس کا تعلق حکومت برطانیہ کی جاسوس جماعت سے ہے۔“

(الفضل قادیان نمبر ١١٨ ج ٢١ ص ٣، مورخہ ٢؍ اپریل ١٩٣٤ء)

یہ تو ہم کہہ نہیں سکتے کہ اس کی اندرونی وجہ کیا تھی۔ لیکن ان کے لٹریچر سے پتہ چلتا ہے کہ اس کے بعد ان میں کشیدگی پیدا ہوگئی۔ حتیٰ کہ میاں محمود احمد قادیانی نے اپنے خطبہ جمعہ میں یہاں تک کہہ دیا کہ: ”حکومت نے اندھا دھند اپنا قلم اٹھایا اور ہمیں باغی اور سلطنت کا تختہ الٹ دینے والا قرار دے دیا۔“

(الفضل قادیان نمبر ٥٨ ج ٢٢ ص ٣، مورخہ ١١؍ نومبر ١٩٣٣ء)

حتیٰ کہ حکومت نے اس جماعت کے افراد کو بڑے بڑے عہدے دینے بھی بند کر دیئے۔ جس کی وجہ سے میاں محمود احمد کو یہ کہنا پڑا کہ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ: ”حکومت کے اپنے راز بھی محفوظ نہیں رہے..... اگر اعلیٰ عہدوں پر اس کی وفادار جماعت کے ارکان ہوں تو اس کے راز مخفی رہیں۔“

(الفضل قادیان نمبر ٦٣ ج ٢٢ ص ٤، ٥، بابت ٢٢؍ نومبر ١٩٣٣ء)

جب حکومت نے اس طرح ان سے دست شفقت کھینچ لیا تو انہیں تحفظ خویش کا خیال آیا اور میاں محمود احمد قادیانی نے اپنی جماعت کے لوگوں سے تاکیداً کہا کہ وہ اپنے آپ کو منظم کریں اور ان کی تشکیل کردہ نیشنل لیگ میں شامل ہوں۔

مسلم لیگ یا کانگرس

یہ وہ زمانہ تھا جب ہندوستان میں تحریک آزادی زوروں پر تھی۔ منیر رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پہلے جماعت احمدیہ اس زعم میں تھی کہ شاید ہندوستان میں حکومت برطانیہ کی جانشین وہی ہو۔ لیکن انگریزوں کی بدلی ہوئی نگاہوں کو دیکھ کر انہوں نے فیصلہ کیا کہ انہیں تحریک آزادی کا ساتھ دینا چاہئے۔ لیکن وہ اس بارے میں تذبذب میں رہے کہ مسلم لیگ کا ساتھ دیا جائے یا کانگرس کا۔ سر ظفر اللہ خان مسلم لیگ کی طرف آئے۔ لیکن انہوں نے جلدی محسوس کر لیا کہ مسلمان انہیں برداشت نہیں کر سکیں گے۔ (دہلی میں مسلم لیگ کا جو اجلاس ان کی زیر صدارت منعقد ہونے والا تھا اسے ہنگامہ کی وجہ سے بند ہال میں منعقد کرنا پڑا تھا) معلوم ہوتا ہے کہ ہندوؤں کے ساتھ ان کا سمجھوتہ ہو گیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب علامہ اقبالؒ نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے جس پر پنڈت جواہر لال نہرو کی طرف سے تین چار ١١٥

صفحہ ٥٣٦

عالمی سیرت پر اکابر علماء کرام

مقالہ جات ایوارڈ یافتہ

عالمی سیرت کانفرنس کانفرنس میں اول، دوئم و

آرٹیکل شائع ہوئے۔ جن میں اس مطالبہ کی مخالفت کی گئی۔ اس سے ان حضرات نے پنڈت نہرو کو سر آنکھوں پر بٹھایا۔ چنانچہ وہ مئی ١٩٣٦ء میں لاہور آئے۔ تو احمدیوں کی طرف سے ان کا بڑا شاندار جلوس نکالا گیا۔ جس کی تفصیل قادیان کے اخبار الفضل کی ٣١ مئی ١٩٣٦ء کی اشاعت میں یوں شائع ہوئی تھی ۔

”چونکہ کانگریس نے صرف پان صد والنٹیروں کی خواہش کی تھی۔ اس لئے قادیان سے تین صد اور سیالکوٹ سے دو صد کے قریب والنٹیر ٢٨ مئی کو لاہور پہنچ گئے۔ قادیان کی کور دس بجے پہنچی۔ گاڑی کے آنے پر جناب صدر آل انڈیا نیشنل لیگ اور قائد اعظم آل انڈیا نیشنل لیگ کورز موجود تھے۔ قادیان سے کارخاص کے سپاہی ساتھ آئے۔ (استقبال کے سلسلے میں) کور کا مظاہرہ ایسا شاندار تھا کہ ہر شخص اس کی تعریف میں رطب اللسان تھا اور لوگ کہہ رہے تھے کہ ایسا شاندار نظارہ لاہور میں کم دیکھنے میں آیا ہے۔ کانگریسی لیڈر کور کے ضبط اور ڈسپلن سے حد درجہ متاثر تھے اور بار بار اس کا اظہار کر رہے تھے۔ حتی کہ ایک لیڈر نے شیخ صاحب (یعنی شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ) سے کہا کہ اگر آپ لوگ ہمارے ساتھ شامل ہو جائیں تو یقینا ہماری فتح ہوگی ۔“

لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بعد انہوں نے محسوس کر لیا کہ ہندوؤں کے ہاتھوں ان کی جان و مال محفوظ نہیں رہ سکتے اور اس طرح انہیں باصد دل ناخواستہ یہ کہتے ہوئے پاکستان آنا پڑا کہ یہ علیحدگی عارضی ہے کچھ عرصے کے بعد یہ دونوں ملک پھر آپس میں مل جائیں گے۔

جب ہندوستان میں ان حضرات کو اپنی تنظیم کی ضرورت محسوس ہوئی تھی تو اس کے لئے مرزا محمود احمد قادیانی کے ذہن میں ایک اسکیم ابھری تھی۔ جسے انہوں نے ایک خطبہ جمعہ میں ان الفاظ میں بیان کیا تھا: ”احمدیوں کے پاس ایک چھوٹے سے چھوٹا ٹکڑا بھی نہیں جہاں احمدی ہی احمدی ہوں۔ کم از کم ایک علاقہ کو مرکز بنالو۔ جب تک ایک ایسا مرکز نہ ہو جس میں کوئی غیر نہ ہو۔ اس وقت تک تم مطلب کے مطابق امور جاری نہیں کر سکتے اور نہ اخلاق کی تعلیم ہو سکتی ہے۔ نہ پورے طور پر تربیت کی جاسکتی ہے۔ اس لئے نبی کریم نے حکم دیا تھا کہ مکہ اور حجاز سے مشرکوں کو نکال دو۔ ایسا علاقہ اس وقت ہمیں نصیب نہیں جو خواہ چھوٹے سے چھوٹا ہو۔ مگر اس میں غیر نہ ہوں۔ جب تک یہ نہ ہو۔ اس وقت تک ہمارا کام بہت مشکل ہے۔ اگر یہ نہ ہوا تو کام اور مشکل ہو جائے گا۔“

(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد قادیانی مندرجہ الفضل قادیان مورخہ ١٢ مارچ ١٩٤٢ء)

ا۔ ایک قائد اعظم مسلمانوں کے تھے اور ان کے مقابلے میں یہ قائد اعظم احمدی جماعت کے تھے۔

١١٦

ہندو.... جانتے تھے کہ اس.... بعد انہوں نے.... ١٩٤٨ء میں ایک.... بستی بسانے کا.... نگاہ او....

قادیان جوان.... کیا ہے۔ اس.... اقتباسات پ....

مسجد ہے ۔ (....

اس کے متعلق.... شمولیت کو....

رہ جاتا ہے.... .... سکتے ہیں....

صفحہ ٥٣٧

ہندوستان میں تو انگریزوں نے ان کی اس سکیم کو کامیاب نہ ہونے دیا۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اس طرح کی ریاست کے اندر ایک ریاست قائم ہو جائے گی۔ پاکستان پہنچنے کے بعد انہوں نے سب سے پہلا قدم اس سکیم کی عملی تشکیل کے لئے اٹھایا۔ چنانچہ انہوں نے مئی ١٩٤٨ء میں ایک وسیع خطہ زمین حاصل کیا اور قائد اعظم کی وفات کے چند ہی روز بعد وہاں ایک بستی بسانے کا سنگ بنیاد رکھا۔ یہ بستی وہی ہے جو ربوہ کے نام سے مشہور ہے۔

نگاہ او بشاخ آشیانہ

بسنے کو تو یہ لوگ ربوہ میں بس گئے۔ لیکن ان کے قلب ونگاہ کا مرکز قادیان ہی رہا۔ قادیان جو ان کے نزدیک ساری دنیا سے زیادہ مقدس بستی ہے۔ ان کی نگاہوں میں اس کی اہمیت کیا ہے۔ اس کے متعلق ہم پہلے لکھ چکے ہیں۔ موضوع کی اہمیت کے پیش نظر ان میں سے دو چار اقتباسات یہاں بھی درج کئے جاتے ہیں۔

مسجد ہے۔ (اب ربوہ کی مسجد کا نام اقصی ہے)“

(الفضل قادیان نمبر ٢٢ ج ٢٠، بابت ٢١ اگست ١٩٣٢ء)

زمین قادیان اب محترم ہے
ہجوم خلق سے ارض حرم ہے

(درثمین ص٥٢، مجموعہ کلام، مرزا غلام احمد قادیانی)

اس کے متعلق ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ دونوں نام قادیان کے ہیں۔ (لہٰذا قادیان کے جلسہ میں شمولیت کو ظلی حج کہنا ناجائز نہیں“

(تقریر میاں محمود احمد قادیانی مندرجہ الفضل بابت ٥ جنوری ١٩٣٣ء)

(تقریر میاں محمود احمد قادیانی جلسہ سالانہ ١٩١٤ء مندرجہ برکات خلافت ص٧٠)

رہ جاتا ہے وہ خشک اسلام ہے۔ اسی طرح ظلی حج کو چھوڑ کر مکہ والا حج بھی خشک حج رہ جاتا ہے۔“

(قادیانی جماعت کے ایک بزرگ کا ارشاد مندرجہ اخبار پیغام صلح، مورخہ ١٩ اپریل ١٩٣٢ء)

ان کے عقیدہ کی رو سے قادیان کے ساتھ ان کے جس قدر گہرے جذبات وابستہ ہیں۔ اس سے متعلق کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ بیت المقدس پر یہودیوں کا قبضہ

١١٧

صفحہ ٥٣٨

ہو گیا ہے تو ساری دنیا کے مسلمانوں کے دل وقف صد اضطراب ہیں۔ اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھئے اور سوچئے کہ اگر (خدا نہ کردہ) کسی وقت مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ پر غیروں کا تسلط ہو جائے اور ہم وہاں تک پہنچنے سے روک دیئے جائیں تو اس رکاوٹ کو دور کرنے کے لئے ہم کیا کچھ نہیں سوچیں اور کیا کچھ کر گزرنے کے لئے آمادہ نہیں ہوں گے۔ اسی قسم کے جذبات ان حضرات کے دل میں موجزن رہتے ہیں۔ اس رکاوٹ کو دور کرنے کے لئے جو اس وقت ان کے اور قادیان کے درمیان حائل ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ رکاوٹ پاکستان اور ہندوستان کی علیحدگی ہے اور یہ علیحدگی اسی صورت میں دور ہو سکتی ہے کہ پاکستان اور ہندوستان پھر سے ایک ہو جائیں۔ یا یہاں انہیں ایسی سیاسی پوزیشن حاصل ہو جائے کہ یہ اس باب میں بھارت کے ساتھ براہ راست معاملہ طے کر سکیں۔ ویٹکن کے انداز کی ریاست قائم کرنے کا تصور اسی مقصد کے حصول کا ذریعہ ہے۔ لیکن یہ حضرات ویٹکن ریاست تک ہی محدود نہیں رہنا چاہتے۔ ان کے عزائم اس سے وسیع تر ہیں۔ اس سلسلے میں مرزا محمود احمد قادیانی نے بہت پہلے کہہ دیا تھا۔

”حکومت والوں کو حکومتیں مبارک ہوں۔ ہم ان کو آسمانی پیغام پہنچا کر دین واحد پر جمع کریں گے اور ظاہر ہے کہ ان کے دین واحد پر جمع ہونے کے یہی معنی ہیں کہ دنیا میں اسلام کی حکومت قائم ہو جائے اور سلسلہ احمدیہ کے افراد اس حکومت کے چلانے والے ہوں۔“

(الفضل بابت ٢ اگست ١٩٤٦ء)

یعنی پہلے ایک خطہ زمین میں ایسی حکومت قائم کی جائے جس کے چلانے والے سلسلہ احمدیہ کے افراد ہوں اور اس کے بعد ساری دنیا میں یہی کیفیت پیدا کر دی جائے۔ میاں محمود احمد قادیانی کے الفاظ میں: ”ہماری جماعت کی بنیاد ہی اس پر ہے کہ دنیا کو کھا جانا ہے۔“

(الفضل بابت ٧ اپریل ١٩٣٨ء)

مسلمانوں کو بیت المقدس بھی نہیں مل سکتا

ضمناً اپنے لئے تو یہ حضرات ساری دنیا پر حکومت کا عزم رکھتے ہیں۔ لیکن مسلمانوں کو بیت المقدس کی تولیت کا بھی حقدار نہیں سمجھتے۔ چنانچہ انہوں نے قیام پاکستان سے بہت پہلے اس کا فیصلہ کر دیا تھا کہ: ”اگر یہودی اس لئے بیت المقدس کی تولیت کے مستحق نہیں کہ وہ جناب مسیح اور حضرت نبی اکرم ﷺ کی رسالت و نبوت کے منکر ہیں اور عیسائی اس لئے غیر مستحق ہیں کہ انہوں نے خاتم النبیین کی نبوت و رسالت کا انکار کر دیا ہے تو یقیناً غیر احمدی بھی مستحق تولیت بیت المقدس نہیں۔ ۔۔۔ یہ بھی اس زمانے میں مبعوث ہونے والے خدا کے ایک اولوالعزم نبی کے منکر اور مخالف ہیں

١١٨

صفحہ ٥٣٩

اور اگر کہا جائے کہ مرزا قادیانی کی نبوت ثابت نہیں تو سوال ہو گا۔ کن کے نزدیک اگر جواب یہ ہو کہ نہ ماننے والوں کے نزدیک تو اسی طرح یہود کے نزدیک مسیح اور آنحضرت ﷺ کی اور مسیحیوں کے نزدیک۔ آنحضرت ﷺ کی نبوت رسالت بھی ثابت نہیں۔ اگر منکرین کے فیصلہ سے ایک نبی غیر نبی ٹھہرتا ہے تو کروڑوں عیسائیوں اور یہودیوں کا اجماع ہے کہ نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ، جانب اللہ نبی اور رسول نہ تھے۔ پس اگر ہمارے غیر احمدی بھائیوں کا یہ اصل درست ہے کہ بیت المقدس کی تولیت کے مستحق تمام نبیوں کے ماننے والے ہی ہو سکتے ہیں تو ہم اعلان کرتے ہیں کہ احمدیوں کے سوا خدا کے تمام نبیوں کا مومن اور کوئی نہیں۔“

(اخبار الفضل قادیان نمبر ٣٩ ج ٩ ص ٤ مورخہ ٧ نومبر ١٩٢١ءرج ٩ نمبر ٣٦)

یہ ہیں احمدیوں کی قادیانی جماعت کے اعتقادات اور عزائم۔ اب ان کی لاہوری جماعت کی طرف آئیے۔

ساتواں باب ...... لاہوری جماعت

مرزا قادیانی کی وفات ١٩٠٨ء میں ہوئی۔ اس وقت تک ان کی جماعت میں کوئی باہمی اختلاف نہیں تھا۔ (کم از کم اس سطح پر نہیں آیا تھا۔ اگرچہ اس کے جراثیم اسی زمانے میں پیدا ہو گئے تھے ) ان کے بعد حکیم نورالدین قادیانی ان کے جانشین مقرر ہوئے۔ ان کی زندگی میں بھی کوئی اختلاف ابھر کر سامنے نہ آیا۔ ان کی وفات ١٩١٤ء میں ہوئی اور اس کے ساتھ ہی یہ جماعت دو شاخوں میں بٹ گئی۔ قادیانی شاخ کے سربراہ مرزا بشیر الدین محمود قادیانی قرار پائے اور خواجہ کمال الدین اور مولوی محمد علی نے لاہوری شاخ قائم کی۔ اس افتراق کے حقیقی اسباب یا محرکات کا تو علم نہیں ۔ ( کیونکہ یہ راز اندرون خانہ تھا) البتہ جو قرائن مشہور طور پر سامنے آئے ہیں۔ ان سے مترشح ہوتا ہے کہ بنا ء نزاع وہی تھی جو ہر جاگیر دارانہ نظام میں وجہ مخالفت ہوتی ہے۔

غریبی سے امیری

تحریک احمدیت کی ابتداء نہایت سقیم حالات میں ہوئی۔ لیکن رفتہ رفتہ اس کی مالی پوزیشن بڑی مستحکم ہو گئی۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”ہماری معاش اور آرام کا تمام مدار ہمارے والد صاحب کی محض ایک مختصر آمدنی پر منحصر تھا اور بیرونی لوگوں میں سے ایک شخص بھی مجھے نہیں جانتا تھا۔ اور میں ایک گمنام انسان تھا جو قادیان جیسے ویران گاؤں میں زاویہ گمنامی میں پڑا ہوا تھا۔ پھر بعد اس کے خدا نے اپنی پیش گوئی کے موافق ایک دنیا کو میری طرف رجوع دے دیا اور

صفحہ ٥٤٠

ایسی متواتر فتوحات سے مالی مدد کی کہ جس کا شکریہ ادا کرنے کے لئے میرے پاس الفاظ نہیں۔ مجھے اپنی حالت پر خیال کر کے اس قدر بھی امید نہ تھی کہ دس روپے ماہوار بھی آئیں گے۔ مگر خدائے تعالیٰ غریبوں کو خاک سے اٹھاتا ہے اور متکبروں کو خاک میں ملاتا ہے۔ اس نے ایسی میری دستگیری کی کہ میں یقیناً کہہ سکتا ہوں کہ اب تک تین لاکھ کے قریب روپیہ آچکا ہے اور شاید اس سے بھی زیادہ ہو۔ اگر اس میرے بیان کا اعتبار نہ ہو تو بیس برس کی ڈاک کے سرکاری رجسٹروں کو دیکھو، تا معلوم ہو کہ کس قدر آمدنی کا دروازہ اس تمام مدت میں کھولا گیا ہے۔ حالانکہ یہ آمدنی صرف ڈاک کے ذریعے تک محدود نہیں رہی۔ بلکہ ہزار ہا روپے کی آمدنی اس طرح بھی ہوئی ہے کہ لوگ خود قادیان میں آ کر دیتے تھے اور نیز ایسی آمدنی جو لفافوں میں نوٹ بھیجے جاتے ہیں۔“

(حقیقۃ الوحی ص ٢١١، ٢١٢، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢١)

یہ تو وہ آمدنی تھی جو عطیات (چندہ) پر مشتمل تھی۔ اس کے علاوہ دو اسکیمیں ایسی تھیں جن سے ایک جاگیر وجود میں آگئی۔ قادیان ایک قصبہ نما گاؤں تھا۔ جس کی زمینیں عام دیہات کی زمینوں جیسی تھیں۔ مرزا قادیانی نے دو ایسی اسکیموں کی ترویج کی جن سے ان کی زمینیں کان جواہر بن گئیں۔ ایک اسکیم بہشتی مقبرہ کی تھی جس کے متعلق فرمایا کہ: ”خدا نے مجھے وحی کی اور ایک زمین کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ وہ زمین ہے۔ جس کے نیچے جنت ہے۔ پس جو شخص اس میں دفن کیا گیا وہ جنت میں داخل ہوا اور وہ امن پانے والوں میں سے ہے۔“

(اردو ترجمہ الاستفتاء عربی ص ٥١، خزائن ج ٢٢ ص ٦٧٥)

اس مقبرہ میں دفن ہونے کے لئے جو شرائط مقرر کی گئیں۔ ان میں ایک تو یہ تھی کہ وہ شخص اپنی حیثیت کے مطابق چندہ ادا کرے اور دوسری یہ کہ وہ یہ وصیت کرے کہ اس کے ترکہ کا کم از کم دسواں حصہ سلسلہ احمدیہ کو ملے گا۔ ان شرائط کے بعد مرزا قادیانی نے تحریر فرمایا کہ: ”میری نسبت اور میرے اہل وعیال کی نسبت خدا نے استثناء رکھا ہے۔ باقی ہر ایک مرد ہو یا عورت ہو۔ ان کو ان شرائط کی پابندی لازم ہوگی اور شکایت کرنے والا منافق ہوگا۔“

(ضمیمہ الوصیت ص ٢٩، خزائن ج ٢٠ ص ٣٢٧)

دوسری اسکیم یہ تھی کہ لوگ ہجرت کر کے قادیان میں آباد ہوں۔ فرمایا کہ: ”جو شخص سب کو چھوڑ کر اس جگہ آ کر آباد نہیں ہوتا اور کم سے کم یہ کہ یہ نیت دل میں نہیں رکھتا اس کی حالت کی نسبت مجھ کو اندیشہ ہے کہ وہ پاک کرنے والے تعلقات میں ناقص نہ رہے۔“

(تریاق القلوب ص ٦٠، خزائن ج ١٥ ص ٢٦٢، ٢٦٣)

١٢٠

صفحہ ٥٤١

حساب کتاب پر اعتراضات

ان اسکیموں کی رو سے سر زمین قادیان جس طرح چند سالوں میں ایک جاگیر بن گئی۔ ظاہر ہے کہ اس سے حساب کتاب کا مسئلہ چھڑا اور خواجہ کمال الدین اور مولوی محمد علی قادیانی نے مرزا غلام احمد قادیانی پر اعتراضات کرنے شروع کر دیئے ۔ ان کے متعلق میاں محمود احمد قادیانی نے خلیفہ نور الدین قادیانی کو اپنے ایک خط میں لکھا: ”باقی آپ سے (یعنی مولوی حکیم نور الدین قادیانی خلیفہ اوّل سے ) میں (یعنی میاں محمود احمد قادیانی ابن مرزا غلام احمد قادیانی ) یہ بھی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہ ابتلاء اگر حضرت (مرزا قادیانی ) زندہ رہتے تو ان کے عہد میں بھی آتا۔ کیونکہ یہ لوگ (یعنی خواجہ کمال الدین قادیانی اور مولوی محمد علی قادیانی لاہوری ) اندر ہی اندر تیاریاں کر رہے تھے۔ چنانچہ نواب صاحب نے بتایا کہ ان سے انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ حضرت (مرزا قادیانی) سے حساب لیا جائے ۔ چنانچہ حضرت صاحب نے اپنی وفات سے جس دن وفات ہوئی اسی دن بیماری سے کچھ ہی پہلے کہ خواجہ کمال الدین صاحب اور مولوی محمد علی صاحب وغیرہ مجھ پر بدظنی کرتے ہیں کہ میں قوم کا روپیہ کھا جاتا ہوں۔ ان کو ایسا نہ کرنا چاہئے تھا۔ ورنہ انجام اچھا نہ ہوگا۔ چنانچہ آپ نے فرمایا کہ آج خواجہ صاحب مولوی محمد علی کا ایک خط لے کر آئے اور کہا کہ مولوی محمد علی نے لکھا ہے کہ لنگر کا خرچ تو تھوڑا سا ہوتا ہے۔ باقی ہزاروں روپیہ جو آتا ہے وہ کہاں جاتا ہے اور گھر میں آ کر آپ نے بہت غصہ ظاہر کیا اور کہا کہ کیا یہ لوگ ہم کو حرام خور سمجھتے ہیں۔ ان کو اس روپیہ سے کیا تعلق ۔ اگر آج میں الگ ہو جاؤں تو سب آمدن بند ہو جائے ۔

پھر خواجہ صاحب نے ایک ڈیپوٹیشن کے موقع پر جو عمارت مدرسہ کا چندہ لینے گیا تھا۔ مولوی محمد علی سے کہا کہ حضرت (مرزا قادیانی) آپ تو خود عیش و آرام سے زندگی بسر کرتے ہیں اور ہمیں یہ تعلیم دیتے ہیں کہ اپنے خرچ گھٹا کر بھی چندہ دو۔ جس کا جواب مولوی محمد علی نے یہ دیا کہ ہاں اس کا انکار تو نہیں ہو سکتا۔ مگر بشریت ہے کیا ضرور کہ ہم نبی کی بشریت کی پیروی کریں ۔“

(حقیقت اختلاف ص ٥٠، مصنفہ مولوی محمد علی لاہوری )

حکیم نور الدین قادیانی، مولوی محمد علی قادیانی کے استاد تھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی زندگی تک یہ اختلاف دبے دبے سے رہے اور ان کی وفات کے بعد یہ جماعت دو پارٹیوں میں بٹ گئی۔ جہاں تک عقائد کا تعلق ہے علیحدگی کے وقت تک ان میں (یعنی ان دونوں پارٹیوں میں) کوئی اختلاف نظر نہیں آتا۔ لاہوری حضرات بھی مرزا قادیانی کو نبی اور رسول مانتے تھے۔ انکا ١٢١

صفحہ ٥٤٤

اعلان تھا کہ: ”ہم حضرت مسیح موعود اور مہدی معہود علیہ السلام کو اس زمانہ کا نبی رسول اور نجات دہندہ مانتے ہیں۔ ہمارا ایمان ہے کہ اب دنیا کی نجات حضرت نبی اکرمﷺ اور آپ کے غلام، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ایمان لائے بغیر نہیں ہوسکتی۔“

(لاہوری جماعت کا اخبار پیغام صلح بابت ١٦؍اکتوبر ١٩١٣ء)

اس کے بعد ان میں عقائد کا اختلاف پیدا ہوگیا۔ چنانچہ مولوی محمد علی قادیانی اپنے رسالہ مسیح موعود اور ختم نبوت میں لکھتے ہیں کہ فریق قادیان اور فریق لاہور کا اصلی اختلاف صرف دو امور میں ہے۔ ”اوّل یہ کہ حضرت مسیح موعود مجدد تھے یا نبی، فریق قادیان کے پیشوا کا خیال ہے کہ آپ نبی تھے۔ فریق لاہور آپ کو صرف مجدد مانتا ہے۔“

دوم یہ کہ جو مسلمان آپ کی بیعت میں داخل نہیں ہوئے وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ فریق قادیان کے پیشوا کا خیال ہے کہ روئے زمین کے تمام مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں داخل نہیں ہوئے وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور فریق لاہور کا عقیدہ ہے کہ ہر کلمہ گو مسلمان ہے۔ ہاں مجدد اور مسیح امت کو رد کرنا یا اس کی مخالفت کرنا قابل مواخذہ ضرور ہے۔ بلکہ اس کا ساتھ نہ دینا اور خاموشی سے الگ بیٹھے رہنا بھی اسلام کی موجودہ حالت میں عند اللہ قابل مواخذہ ہے۔

(مسیح موعود اور ختم نبوت ص ١)

دونوں فریقوں میں بحث

ساٹھ برس سے ان دونوں جماعتوں میں یہ بحث جاری ہے کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ کیا تھا۔ قادیانی جماعت کا دعویٰ ہے کہ مرزا قادیانی مدعی رسالت و نبوت تھے اور لاہوری جماعت کہتی ہے کہ نہیں ان کا دعویٰ صرف مجددیت کا تھا۔ آپ غور کیجئے کہ مرزا قادیانی کی اوریجنل کتابیں (جن کی تعداد کم از کم اسی بتائی جاتی ہے) ان دونوں فریقوں کے پاس موجود ہیں اور ان کتابوں سے ساٹھ برس کی مدت میں یہ فیصلہ نہیں ہوپایا کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ کیا تھا؟ اصل یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے فرمایا تھا کہ حدیث کی کتابیں مداری کا پٹارہ ہیں۔ جن سے جو کسی کے جی میں آئے نکالا جاسکتا ہے۔ مرزا قادیانی کی کتابیں اس سے بھی بڑا پٹارہ ہیں۔ جن سے ہر فریق اپنے اپنے دعویٰ کی تائید میں جو چاہے نکال لیتا ہے۔ (مثلاً) مرزا قادیانی نے اپنے لئے سینکڑوں، ہزاروں مرتبہ نبی کا لفظ استعمال کیا ہے۔ لاہوری جماعت کہتی ہے کہ انہوں نے (مرزا قادیانی نے) مولوی عبدالحکیم صاحب کے ساتھ مباحثہ کے بعد جو راضی نامہ کیا تھا اس میں لکھ دیا تھا کہ: ”بجائے لفظ نبی کے محدث کا لفظ ہر ایک جگہ سمجھ لیں اور اس کو یعنی لفظ نبی کو کاٹا ہوا خیال فرمائیں۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٣١٤)

١٢٢

صفحہ ٥٤٣

اس کے جواب میں قادیانی حضرات کہتے ہیں کہ: ’’(آپ لوگ) حضرت صاحب کے جس منسوخ معاہدہ کا سہارا لینا چاہتے ہیں وہ فروری ١٨٩٢ء کا ہے اور اس میں بھی مسلمان بھائیوں کی دلجوئی کی خاطر یہی الفاظ لکھے گئے تھے کہ وہ مانا ہوا خیال کرلیں۔ مگر اس کے بعد حضرت اقدس کو بار بار بارش کی طرح وحی میں نبی اور رسول کہا گیا تو پھر آپ نے مسلمان بھائیوں کی دلجوئی کی پرواہ اتنی بھی نہیں کی کہ اپنے سابقہ اعلان کا عملی طور پر اعادہ فرمائیں۔ بلکہ کثرت سے نبی اور رسول کے الفاظ کا استعمال فرمایا۔‘‘

(قادیانی اخبار فاروق ٢٨ فروری ١٩٠٥ء)

جیسا کہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں۔ مرزا قادیانی اپنے دعاوی کی سیڑھیوں پر درجہ بدرجہ چڑھے تھے۔ اس لئے ان کی کتابوں میں مختلف دعاوی پائے جاتے ہیں۔ اس سلسلہ میں میاں محمود احمد قادیانی رقم طراز ہیں: ’’غرضیکہ مذکورہ بالا حوالہ سے صاف ثابت ہے کہ تریاق القلوب کی اشاعت تک (جو کہ اگست ١٨٩٩ء سے شروع ہوئی اور اگست ١٩٠٢ء میں ختم ہوئی) آپ کا عقیدہ یہی تھا کہ آپ کو حضرت مسیح پر جزوی فضیلت ہے اور آپ کو جو نبی کہا جاتا ہے تو یہ ایک قسم کی جزوی نبوت ہے اور ناقص نبوت لیکن بعد میں آپ کو خدائے تعالیٰ کی طرف سے معلوم ہوا کہ آپ ہر ایک شان میں مسیح سے افضل ہیں اور کسی جزوی نبوت کے پانے والے نہیں بلکہ نبی ہیں۔ ہاں ایسے نبی جن کو آنحضرت ﷺ کے فیض سے نبوت ملی۔ پس ١٩٠٢ء سے پہلے کی کسی تحریر سے حجت پکڑنا جائز نہیں ہوسکتا۔‘‘

(القول الفصل ص ٢٤ مصنفہ میاں محمود احمد قادیانی)

ان دونوں جماعتوں میں بحث کا اندازہ یہی ہوتا ہے۔ لاہوری جماعت ١٩٠٢ء سے پہلے کے دعاوی کو بطور حجت پیش کرتی ہے اور قادیانی جماعت ١٩٠٢ء کے بعد کے دعاوی کو اور بعد کے دعاوی کے ضمن میں وہ یہاں تک کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے اپنی وفات کے تین دن پہلے (یعنی ٢٣ مئی ١٩٠٨ء کو) ایڈیٹر اخبار عام لاہور کے نام ایک خط میں لکھا تھا۔ (جو اس اخبار کے ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کی اشاعت میں شائع ہوا تھا کہ)

’’میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں۔ اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہوگا اور جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے تو میں کیونکر اس سے انکار کرسکتا ہوں۔ میں اس پر قائم ہوں۔ اس وقت تک کہ دنیا سے گزر جاؤں۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٩٧)

حقیقت یہ ہے کہ لاہوری جماعت کی حالت بڑی قابل رحم ہے۔ ایک طرف وہ قادیانی جماعت سے الجھتی ہے تو وہ مرزا قادیانی کی تحریروں کے حوالوں سے انہیں بری طرح گھیر

صفحہ ٥٤٤

لیتے ہیں۔ دوسری طرف جب یہ غیر احمدیوں سے بحث کرتے ہیں تو مرزا قادیانی کی تحریروں کی ایسی رکیک اور مضحکہ انگیز تاویلات پیش کرتے ہیں۔ جن پر علم ہنستا اور عقل شرماتی ہے۔ یہ نہ مرزا قادیانی کو چھوڑ سکتے ہیں نہ ان کے دعاوی کی صداقت کا کھلے بندوں اقرار و اعلان کر سکتے ۔ ان کی کیفیت سانپ کے منہ میں چھپکلی کی سی ہے کہ اگلے تو اندھا نگلے تو کوڑھی ہو۔ ہم مرزا قادیانی کے واضح دعاوی کی موجودگی میں ان حضرات کی تاویلات کو درخور اعتنا نہ قرار دیتے لیکن ایک تو اس لئے کہ معلومات کی کمی کی وجہ سے عوام ان تاویلات کے دام فریب میں گرفتار ہو جاتے ہیں اور دوسرے اس لئے کہ ان تاویلات کا مدار ایسی روایات پر ہوتا ہے جس سے ہمارے علماء انکار نہیں کر سکتے۔ اس لئے مناظروں اور مباحثوں میں وہ ان سے مات کھا جاتے ہیں۔ ہم نے مناسب سمجھا کہ قرآن کریم کی روشنی میں ان کی ان تاویلات کا جائزہ لیا جائے۔ ان میں سے بعض امور کے متعلق اس سے پہلے اصطلاحات کے سلسلہ میں بھی گفتگو ہو چکی ہے۔ بایں ہمہ ان کا یہاں تذکرہ بھی ضروری ہے ١؎

نبی بلا کتاب

لاہوری حضرات جب اس سے انکار نہیں کر سکتے کہ مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت کیا تھا تو کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ رسول ہونے کا نہیں۔ نبی اور رسول میں فرق یہ ہے کہ رسول صاحب کتاب ہوتا ہے۔ اسے تشریعی نبی کہتے ہیں اور نبی بلا کتاب اسے غیر تشریعی کہتے ہیں۔ مرزا قادیانی بلا کتاب آئے تھے۔ اس لئے صرف نبی تھے۔

اول تو یہی غلط ہے کہ مرزا قادیانی نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ رسول ہونے کا نہیں۔ ہم سابقہ صفحات میں دیکھ چکے ہیں کہ انہوں نے صاحب کتاب، صاحب شریعت نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ دوسرے یہ دعویٰ قرآن کریم کے یکسر خلاف ہے کہ رسولوں کو کتاب ملتی تھی اور نبی بلا کتاب آتے تھے۔ سورۂ حدید میں ہے: ”لقد ارسلنا رسلنا بالبينت وانزلنا معهم الكتب (حديد:٢٥) “ ﴿ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل کے ساتھ بھیجا اور ان سب کے ساتھ کتاب نازل کی ۔﴾

١؎ ہم متعین طور پر نہیں کہہ سکتے کہ ان دعاوی میں سے کون کون سے دعویٰ قادیانی احمدی کرتے ہیں اور کون کون سے لاہوری احمدی۔ یہ دعاوی بہر حال احمدی حضرات کی طرف سے پیش کئے جاتے ہیں۔

١٢٤

صفحہ ٥٤٥

اور سورۃ البقرہ میں ہے: ”کان الناس امة واحدة فبعث الله النبیین مبشرین ومنذرین وانزل معھم الکتب بالحق (البقرہ: ٢١٣)“ ﴿نوع انسان امت واحده تھے۔ (انہوں نے اختلاف کیا تو) خدا نے انبیاء کو بھیجا جو مبشر اور منذر تھے اور ان سب کے ساتھ کتاب نازل کی حق کے ساتھ۔﴾

آپ دیکھئے سورۂ حدید میں کہا کہ تمام رسولوں کو کتاب دی اور سورۂ بقرہ میں فرمایا کہ تمام انبیاء کو کتاب دی۔ اس لئے یہ عقیدہ کہ نبی بلا کتاب آئے تھے۔ قرآن کریم کی کھلی ہوئی مخالفت ہے۔ چونکہ کتاب، نبی اور رسول وغیرہ اصطلاحات قرآنیہ کے متعلق دوسرے باب میں تفصیل سے لکھا جا چکا ہے۔ اس لئے اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔ البتہ ان حضرات کے دو ایک دلائل کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

وقت مبعوث ہوئے اور دونوں نبی تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تو کتاب دی گئی۔ لیکن حضرت ہارون علیہ السلام کو نہیں دی گئی۔ اس سے ثابت ہوا کہ نبی بلا کتاب بھی آسکتا ہے اور یہی مرزا قادیانی کا دعویٰ تھا۔

ان حضرات کی یہ دلیل قرآن کریم سے لاعلمی پر مبنی ہے۔ قرآن کریم میں ہے: ”ولقد آتینا موسى وھرون الفرقان وضیاء وذکر للمتقین (الانبیاء: ٤٨)“ ﴿اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو فرقان اور ضیاء اور متقین کے لئے ذکر عطا کیا۔﴾ قرآن کریم انبیاء کی کتابوں کو انہی القاب سے پکارتا ہے۔ دوسرے مقام پر اس کی وضاحت کر دی جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کا نام لے کر فرمایا کہ: ”وآتینھما الکتب المستبین (الصفت: ١١٧)“ ﴿اور ہم نے ان دونوں کو واضح کتاب دی۔﴾

اس سے ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام دونوں صاحب کتاب تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ (جیسا دوسرے باب میں بتایا جاچکا ہے) کتاب کہتے ہی خدا کی وحی کو ہیں۔ اس لئے یہ کہنا ابلہ فریبی ہے کہ نبی بلا کتاب (یعنی بلا وحی) بھی آتا ہے۔ ان کی طرف سے پیش کردہ تیسری دلیل یہ ہوتی ہے کہ سورۂ مائدہ میں ہے: ”انا انزلنا التورة فیھا ھدی ونور یحکم بھا النبیون الذین اسلموا للذین

....

صفحہ ٥٤٦

ھادوا (مائده:٤٤) ”ہم نے تورات نازل کی جس میں ہدایت اور روشنی تھی۔ انبیاء جو خدا کے فرمانبردار تھے۔ یہودیوں کے فیصلے اسی کی رو سے کرتے تھے۔“

یہ حضرات کہتے ہیں کہ دیکھئے! یہاں کہا گیا ہے کہ انبیاء بنی اسرائیل، یہودیوں کے فیصلے تورات کے مطابق کرتے تھے۔ اس سے واضح ہے کہ ان انبیاء کی اپنی کتاب کوئی نہیں تھی اور وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کتاب ( تورات ) کے مطابق فیصلہ کیا کرتے تھے۔

ان کی غلط فہمی یہ ہے کہ یہ توراۃ کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کتاب قرار دیتے ہیں۔ قرآن کریم نے کہیں بھی توراۃ کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کتاب نہیں کہا۔ جیسا کہ معلوم ہے جسے بائبل کہا جاتا ہے۔ اس کے دو حصے ہیں۔ عہد نامہ جدید اور عہد نامہ عتیق، عہد نامہ جدید حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی (مبینہ) تعلیمات پر مشتمل ہے اور عہد نامہ عتیق مختلف انبیاء بنی اسرائیل کی کتابوں کا مجموعہ ہے۔ جن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے صرف پانچ صحیفے ہیں۔ قرآن کریم اس تمام مجموعہ (عہد نامہ عتیق ) کو توراۃ کہہ کر پکارتا ہے۔

اور صحف موسیٰ کا الگ بھی ذکر کرتا ہے۔ لہٰذا جہاں کہا گیا ہے کہ انبیاء بنی اسرائیل یہودیوں کے معاملات کا فیصلہ توراۃ کی رو سے کرتے تھے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ ان امور کا فیصلہ اپنی اپنی کتابوں کے مطابق کرتے تھے۔ جن کا مجموعہ توراۃ کے نام سے متعارف ہے۔

ہمارے ہاں کا عقیدہ

لیکن ہم احمدی حضرات سے کیا کہیں۔ جب خود ہمارے علماء کرام کا بھی یہ عقیدہ ہے کہ نبی اور رسول میں فرق ہوتا ہے۔ رسول صاحب کتاب ہوتا ہے اور نبی بلا کتاب۔ علامہ محمد ایوب دہلوی، اپنے پمفلٹ ” فتنہ انکار حدیث “ میں لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کا بالاجماع اور بالاتفاق یہ عقیدہ ہے کہ نبی صاحب کتاب بھی ہوتا ہے اور بغیر کتاب کے بھی۔

(فتنہ انکار حدیث ص ١٠)

ہمارے ہاں بعض (وضعی) روایات بھی ایسی ہیں اور نامور بزرگوں ( بالخصوص صوفیاء حضرات کے اقوال بھی) جن سے رسول اور نبی یا تشریعی اور غیر تشریعی نبی میں امتیاز کیا گیا ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھئے مجلہ طلوع اسلام بابت ستمبر ١٩٦١ء۔

احمدی حضرات ہمارے علماء سے بحث میں اس قسم کی روایات اور اسلاف کے اقوال پیش کر کے ان سے پوچھتے ہیں کہ اگر مرزا قادیانی ان دعاوی کی رو سے (تمہارے نزدیک) مفتری اور کذاب تھے تو فرمائیے۔ آپ کا ان بزرگوں کے متعلق کیا ارشاد ہے۔ جن کے اقوال اور روایات ہم پیش کر رہے ہیں۔ اس کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔ اس کا ایک ہی جواب ہے

١٢٦

صفحہ ٥٤٧

عالی سیرت

عالی سیرت کا

پر اکابر علماء

کی سیرت

نے سیرت مطہرہ

مقالہ جات کوثر

سال سیرت

عالمگیر سیرت کانفرنس مکہ مکرمہ وقاہرہ کی

نے تورات نازل کی جس میں ہدایت اور روشنی تھی۔ انبیاء جو خدا کے مسلم تھے یہودیوں کے فیصلے اسی کی رو سے کرتے تھے۔﴿ دیکھئے! یہاں کہا گیا ہے کہ انبیاء بنی اسرائیل ، یہودیوں کے اس سے واضح ہے کہ ان انبیاء کی اپنی کتاب کوئی نہیں تھی اور (تورات) کے مطابق فیصلے کیا کرتے تھے۔ توراۃ کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کتاب قرار دیتے ہیں۔ رت موسیٰ علیہ السلام کی کتاب نہیں کہا۔ جیسا کہ معلوم ہے جسے ہیں۔ عہد نامہ جدید اور عہد نامہ عتیق ، عہد نامہ جدید حضرت عیسیٰ امل ہے اور عہد نامہ عتیق مختلف انبیاء بنی اسرائیل کی کتابوں کا لسلام کے صرف پانچ صحیفے ہیں۔ قرآن کریم اس تمام مجموعہ

ی ذکر کرتا ہے۔ لہٰذا جہاں کہا گیا ہے کہ انبیاء بنی اسرائیل کی رو سے کرتے تھے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ ان امور کا تھے۔ جن کا مجموعہ توراۃ کے نام سے متعارف ہے۔

ے کیا کہیں۔ جب خود ہمارے علماء کرام کا بھی یہ عقیدہ ہے رسول صاحب کتاب ہوتا ہے اور نبی بلا کتاب ۔ علامہ محمد دیث“ میں لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کا بالاجماع اور بالاتفاق ہے اور بغیر کتاب کے بھی۔

(فتنہ انکار حدیث ص ١٠)

روایات بھی ایسی ہیں اور نامور بزرگوں (بالخصوص صوفیاء اور نبی یا تشریعی اور غیر تشریعی نبی میں امتیاز کیا گیا ہے۔ ہت ستمبر ١٩٦١ء۔ سے بحث میں اس قسم کی روایات اور اسلاف کے اقوال مرزا قادیانی ان دعاوی کی رو سے (تمہارے نزدیک) ان بزرگوں کے متعلق کیا ارشاد ہے۔ جن کے اقوال اور کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔ اس کا ایک ہی جواب ہے

١٢٦

اور وہ یہ کہ حق اور باطل غلط اور صحیح کا معیار خدا کی کتاب ہے جو عقیدہ جو قول قرآن کے خلاف ہوگا۔ وہ باطل ہے۔ خواہ اس کی نسبت کسی کی طرف بھی کیوں نہ کر دی جائے۔ قرآن کریم کا واضح ارشاد ہے کہ نبوت کی مختلف قسمیں نہیں ہوتیں۔ نہ ہی نبیوں میں اس قسم کی تفریق ہوتی ہے کہ بعض صاحب کتاب (تشریعی) ہوتے ہیں اور بعض بلا کتاب (غیر تشریعی) اس قسم کے عقائد قرآن کی تعلیم کے خلاف ہیں۔ نبوت حضور رسالت مآب ﷺ کی ذات اقدس پر ختم ہوگئی۔ اس کے بعد دعویٰ نبوت کذب وافتراء ہے۔

غیر نبی کی طرف وحی

جب ان حضرات سے کہا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی نے وحی کا بھی دعویٰ کیا ہے تو ان کا جواب ہوتا ہے کہ نبیوں کے علاوہ اوروں پر وحی نازل ہونا بھی قرآن سے ثابت ہے اور اس کی تائید میں قرآن کریم کی دو آیات پیش کرتے ہیں۔

نے ام موسیٰ کی طرف حکم بھیجا کہ وہ بچے کو دودھ پلائے۔﴾

(مائدہ: ١١١)“ ﴿اور جب ہم نے (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ) حواریوں کی طرف حکم بھیجا کہ وہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لائیں۔﴾

ہم نے دوسرے باب میں وحی کے متعلق جو کچھ لکھا ہے اس سے واضح ہے کہ وحی کے ایک معنی تو اصطلاحی ہیں۔ جس سے مراد ہے کہ خدا کی طرف سے کسی رسول کو کوئی حکم ملنا اور اس کے لغوی معانی ہیں۔ اپنے ایلچی کی معرفت کسی کی طرف کوئی پیغام بھیجنا۔ مذکورہ دونوں آیات میں اوحینا کے یہی لغوی معنی مقصود ہیں۔ یعنی خدا نے اپنے کسی پیغامبر (یعنی کسی رسول) کی معرفت حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کی طرف یہ حکم بھیجا۔ یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں کی طرف۔ حضرت عیسیٰ کی وساطت سے یہ حکم بھیجا۔ قرآن کریم کی رو سے کسی غیر از نبی کو خدا کی طرف سے وحی ملنے کا ثبوت نہیں مل سکتا۔ لہٰذا یہ دعویٰ باطل ہے کہ غیر از نبی کی طرف بھی وحی نازل ہو سکتی ہے۔ وحی آخری بار حضور نبی اکرم ﷺ کو ملی اور اس کے بعد اس کا سلسلہ ہمیشہ کے لئے منقطع ہو گیا۔ اسی کو ختم نبوت کہتے ہیں۔

خدا سے ہم کلامی

ان حضرات کا کہنا ہے کہ وحی نبوت تو بند ہو چکی ہے۔ لیکن خدا سے ہم کلامی کا سلسلہ

١٢٧

صفحہ ٥٤٨

جاری ہے۔ اس کے لئے (یہ حضرات) دلیل یہ دیتے ہیں کہ ہم کلامی فیضان خداوندی ہے۔ جس کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوسکتا۔ یہ محض لفاظی ہے۔ جس کی دین میں کوئی حقیقت نہیں۔ اس کی تائید میں بھی یہ حضرات بعض صوفیاء کے اقوال پیش کر دیتے ہیں۔ لیکن جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے۔ دین میں سند خدا کی کتاب ہے اور کتاب اللہ کی رو سے خدا کا کلام اس کی وحی ہے۔ جو اب قرآن کریم میں محفوظ ہے۔ اس نے قرآن کریم کو کلام اللہ کہہ کر پکارا ہے۔ جب ہم قرآن کریم پڑھتے ہیں تو خدا ہم سے ہم کلام ہو رہا ہوتا ہے۔ اس کے بعد وہ کون سی ہم کلامی ہے۔ جس کی ضرورت باقی ہے۔ قرآن کریم نے جب اپنے آپ کو مکمل اور غیر متبدل کہا تو اس سے مراد یہی تھا کہ اب مزید ہم کلامی کی ضرورت نہیں رہی۔ اس نے کہا تھا کہ: ”وتمت کلمت ربک صدقا وعدلا (الانعام:١١٥)“ ”تیرے خدا کا کلام (کلمات اللہ) صدق وعدل کے ساتھ مکمل ہو گیا۔ لیکن ان حضرات کا دعویٰ ہے کہ ہم کلامی کو قرآن تک محدود رکھا جائے تو دنیا کے لئے کوئی روحانی غذا باقی نہیں رہے گی۔ (معاذ اللہ استغفر اللہ) اس کا مطلب واضح ہے کہ ان حضرات کے نزدیک قرآن دنیا کے لئے کافی روحانی غذا مہیا نہیں کرتا۔ مخالفین عرب کا بھی کچھ اسی قسم کا خیال تھا جس کی تردید کے لئے کہا کہ: ”اولم یکفہم انا انزلنا علیک الکتب یتلی علیہم (العنکبوت:٥١)“ ”﴿کیا ان کے لئے یہ کافی نہیں کہ ہم نے تیری طرف یہ کتاب نازل کی جسے ان کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔﴾

انہوں نے تو اس کا جو جواب دیا ہوگا دیا ہوگا۔ یہ حضرات چھاتی پر ہاتھ مار کر کہتے ہیں کہ ہاں! یہ کتاب دنیا کی روحانی غذا کے لئے کافی نہیں۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لئے ہم کلامی کے سلسلہ کا جاری رہنا ضروری ہے۔ (پناہ خدا) ایسے ہی ہیں وہ لوگ جن کے متعلق کہا گیا ہے کہ: ”واذا ذکر اللہ وحدہ اشمازت قلوب الذین لا یؤمنون بالآخرۃ واذا ذکر الذین من دونہ اذا ہم یستبشرون (الزمر:٤٥)“ ”﴿جب ان کے سامنے اکیلے خدا کی بات کی جاتی ہے تو یہ لوگ جو آخرت کے منکر ہیں۔ ان کا منہ سوج جاتا ہے اور دلوں میں اضطراب پیدا ہو جاتا ہے۔ لیکن جب اس کے علاوہ دوسروں کا ذکر کیا جاتا ہے تو یہ بہت خوش ہوتے ہیں۔﴾ ظاہر ہے کہ یہ دوسرے وہی ہیں جن کے متعلق دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ خدا سے ہم کلام ہوتے ہیں۔

پیش گوئیاں

یہ حضرات مرزا قادیانی کے دعویٰ ہم کلامی کے ثبوت میں ان کی پیش گوئیاں سامنے

١٢٨

صفحہ ٥٤٩

لاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس قدر پیش گوئیاں کرنا، خدا سے علم پائے بغیر کس طرح ممکن تھا۔ آئیے دیکھیں کہ پیش گوئی کے متعلق قرآن کریم کیا کہتا ہے۔

پیش گوئی کے معنی ہیں کسی واقعہ کے ظہور سے پہلے اس کے متعلق بتا دینا۔ اسے علم غیب کہا جاتا ہے اور علم غیب کے متعلق قرآن کریم میں ہے کہ: ”انما الغیب للہ (یونس:٢٠)“ ﴿غیب کا علم صرف خدا کو حاصل ہے۔ کسی اور کو نہیں۔﴾

اس کی تشریح میں دوسری جگہ کہا ہے: ”قل لا یعلم من فی السمٰوات والارض الغیب الا اللہ (النحل:٦٥)“ ﴿(اے رسول!) اس کا اعلان کر دو کہ خدا کے سوا کائنات میں غیب کا علم کسی کو حاصل نہیں۔﴾

حتیٰ کہ رسولوں کو بھی از خود اس کا علم نہیں ہوتا تھا۔ حضور ﷺ کی زبان مبارک سے قرآن میں کہا گیا ہے کہ: ”لا اعلم الغیب (انعام:٥٠)“ ﴿غیب کا علم میں بھی نہیں جانتا۔﴾ البتہ جس بات کے متعلق خدا چاہتا وحی کے ذریعے اپنے رسولوں کو مطلع کر دیتا ہے۔ سورۃ آل عمران میں ہے: ”وما کان اللہ لیطلعکم علی الغیب ولکن اللہ یجتبی من رسلہ من یشاء (آل عمران:١٧٩)“ ﴿خدا تمہیں غیب کی باتیں نہیں بتاتا۔ البتہ وہ اپنے رسولوں میں سے اپنی مشیت کے مطابق اس کے لئے چن لیتا ہے۔﴾

دوسری جگہ ہے: ”عالم الغیب فلا یظہر علی غیبہ احدا ...... الا من ارتضیٰ من رسول (الجن:٢٦)“ ﴿عالم الغیب صرف خدا ہے وہ اپنے علم غیب کو کسی پر ظاہر نہیں کرتا۔ بجز اس کے کہ اپنے رسول کو اس امر کے لئے منتخب کرے۔﴾

رسول کو غیب کی باتیں بذریعہ وحی بتائی جاتی تھیں۔ چنانچہ نبی اکرم ﷺ کو جن امور غیب پر مطلع کیا گیا ان کے ساتھ واضح کر دیا گیا کہ: ”ذلک من انباء الغیب نوحیہ الیک (یوسف:١٠٢)“ ﴿یہ غیب کی خبریں ہیں۔ جنہیں ہم نے تیری طرف وحی کیا ہے۔﴾

چونکہ وحی کا سلسلہ حضور نبی اکرم ﷺ کی ذات پر ختم ہو گیا۔ اس لئے اب علم غیب کسی کو بھی حاصل نہیں ہو سکتا۔ اسی لئے قرآن کریم میں حتمی طور پر کہہ دیا گیا کہ: ”وما تدری نفس ماذا تکسب غدا وما تدری نفس بای ارض تموت (لقمان:٣٤)“ ﴿کوئی شخص یہ نہیں جان سکتا کہ وہ کل کیا کرے گا۔ نہ ہی یہ کہ اس کی موت کہاں واقعہ ہوگی۔﴾

قرآن کریم کی ان تصریحات کی روشنی میں واضح ہے کہ اب جو شخص یہ کہتا ہے کہ میں

١٢٩

صفحہ ٥٥٠

عالی سیرت پر اکابر علماء کر مقالات و مسائل سیرت کا عالی سیرت کا نفر کانفرنس کی کارروائی

کل (مستقبل) کا علم رکھتا ہو ۔ (اسی کو پیش گوئی کہتے ہیں ) تو وہ یا تو رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے ۔ ( کیونکہ قرآن نے کہا ہے کہ غیب کا علم صرف رسولوں کو دیا جاتا ہے ) اور وہ (معاذ اللہ ) خدا کو چیلنج دیتا ہے کہ تم تو کہتے تھے کہ کوئی شخص کل کی بات نہیں جان سکتا ۔ دیکھو میں کس طرح آنے والے کل ہی کی نہیں ، برسوں بعد کی باتیں بھی بتاتا ہوں ۔ قادیانی حضرات عجیب مخمصہ میں پھنس جاتے ہیں ۔ وہ مرزا قادیانی کو رسول بھی نہیں مانتے اور انہیں غیب کے علم ( پیش گوئیوں ) کا مدعی بھی کہتے ہیں یہ اس کے لئے عجیب دلیل پیش کرتے ہیں ۔ قرآن مجید میں ہے: ” ان الذين قالوا ربنا الله ثم استقاموا تتنزل عليهم الملئكة ألا تخافوا ولا تحزنوا وابشروا بالجنة التي كنتم توعدون (حم السجده: ٣٠) ” جن لوگوں نے کہہ دیا کہ ہمارا رب اللہ ہے اور پھر اپنے اس ایمان پر جم کر کھڑے ہو گئے تو ان پر ملائکہ کا نزول ہوتا ہے (جو ان سے کہتے ہیں کہ ) تم مت خوف کھاؤ ، مت گھبراؤ اور اس جنت کی خوشخبری لو جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے ۔ ﴿

یہ حضرات کہتے ہیں کہ دیکھئے اس آیت میں خدا کے مخلص بندوں پر ملائکہ کے نازل ہونے اور انہیں بشارت دینے کا ذکر موجود ہے ۔

یہی بشارات (مبشرات ) ہیں جو پیش گوئیاں کہلاتی ہیں ۔

ملائکہ کی ہستی ان مابعد الطبیعاتی حقائق سے ہے جن کی کنہ وماہیت کے متعلق ہم کچھ نہیں جان سکتے ۔ قرآن کریم نے ان کے افعال وخصائص کے متعلق جو کچھ کہا ہے ۔ اس پر ہمارا ایمان ہے ۔ (مثال کے طور پر ) وہ جہاں مومنین کے لئے جنت کی بشارت کا ذکر کرتا ہے ۔ وہاں کفار کے متعلق کہا ہے کہ : ” ولو ترى اذ يتوفى الذين كفروا الملئكة يضربون وجوههم وادبارهم وذوقوا عذاب الحريق (الانفال: ٥٠) ”اگر تو اس منظر کو دیکھ سکتا جب ملائکہ کفار کو وفات دیتے ہیں اور ان کے چہروں اور پیٹھ پر (سخت مار ) مارتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ تم جلا دینے والے عذاب کا مزہ چکھو ۔ ﴿

مرنے والے کفار ہمارے سامنے ہوتے ہیں ۔ لیکن ملائکہ ان کے ساتھ جو کچھ کرتے

لے یہ جو منجم وغیرہ پیش گوئیاں کرتے رہتے ہیں تو یہ محض قیاس آرائیاں ہوتی ہیں جن میں سے بعض اتفاقیہ سچی بھی نکل آتی ہیں ۔ قرآن جس علم غیب کا ذکر کرتا ہے وہ قطعی حتمی اور یقینی ہوتا ہے ۔

١٣٠

ہیں ۔ ہمیں وہ آیات میں قرآ ہے کہ ایمان ذلت وخواری

نہیں کھا گیا نظر آتا ہے اسلامی لشکر لكم و خوشخبری کا باعث

تھیں ۔ ہیں ۔ انہ بارشیں ہوتیں بارشوں

تھا۔ اس منعم علی

ایک دلیل الصراط راہ ان لو

صفحہ ٥٥١

ہیں۔ ہمیں وہ بالکل نظر نہیں آتا۔ نہ ہی قریب المرگ اس کی کوئی شہادت دیتا ہے۔ اس قسم کی آیات میں قرآن کریم غیر مرئی کیفیات کا اظہار کرتا ہے۔ ان سے ہمارے لئے اتنا ہی سمجھنا کافی ہے کہ ایمان واستقامت کا نتیجہ خوف وحزن سے مامونیت اور جنت کی زندگی ہے اور کفر کا نتیجہ ذلت وخواری اور جہنم کا عذاب۔

پھر آیت میں اتنا ہی کہا گیا ہے کہ ملائکہ ان مؤمنین کو جنت کی خوشخبری دیتے ہیں۔ یہ تو نہیں کہا گیا کہ وہ انہیں غیب کی خبریں بتاتے ہیں۔ اس بشارت (خوشخبری) سے نفسیاتی تغیر مقصود نظر آتا ہے۔ کیونکہ دیگر آیات میں جہاں کہا گیا ہے کہ خدا نے (بدر وغیرہ کے میدانوں میں) اسلامی لشکروں کی ملائکہ کے ذریعے مدد کی تو وہاں کہا گیا ہے کہ: ”وما جعله الله الا بشری لكم ولتطمئن قلوبکم به (آل عمران:١٢٦) ”اس (نزول ملائکہ) کو تمہارے لئے خوشخبری اور اطمینان قلب کا موجب بنایا اور دوسری طرف منافقین کے دلوں میں تمہارا رعب ڈالنے کا باعث، یہ کہیں نہیں کہا گیا کہ ملائکہ آ کر غیب کی باتیں بتایا کرتے تھے۔

جیسا کہ اوپر کہا جا چکا ہے غیب کی خبریں صرف وحی کے ذریعے رسولوں کو ملا کرتی تھیں۔ مرزا قادیانی کو اس کا علم تھا اس لئے ان کا بھی یہی دعویٰ تھا کہ انہیں یہ خبریں بذریعہ وحی ملتی ہیں۔ انہوں نے ان پیش گوئیوں کے متعلق کہا تھا: ”میرے پر خدائے تعالیٰ نے ظاہر کیا تھا۔ سخت بارشیں ہوں گی اور گھروں میں ندیاں چلیں گی اور اس کے بعد سخت زلزلے آئیں گے۔ چنانچہ ان بارشوں سے پہلے وہ وحی الٰہی بدر اور الحکم میں شائع کر دی گئی تھی۔“

(حقیقت الوحی ص ٢٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ٢٧٨)

اسے ایک بار پھر سمجھ لیجئے کہ قرآن کریم نے کہا ہے کہ علم غیب رسولوں کو بذریعہ وحی ملتا تھا۔ اس لئے اگر مرزا قادیانی کو یہ علم بذریعہ وحی ملتا تھا تو ان کا دعویٰ رسالت کا تھا۔

منعم علیہ

مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کی تائید میں (قادیانی حضرات کی طرف سے بالخصوص) ایک دلیل یہ بھی دی جاتی تھی کہ سورۃ فاتحہ میں مسلمانوں کو یہ دعاء سکھائی گئی ہے کہ: ”اھدنا الصراط المستقيم صراط الذين انعمت علیهم (فاتحہ:٥) ”دکھا ہم کو سیدھی راہ۔ راہ ان لوگوں کی جن پر تو نے اپنا انعام کیا۔“

اس کے بعد وہ کہتے ہیں کہ سورۃ النساء میں ہے: ”ومن یطع الله والرسول

١٣١

صفحہ ٥٥٢

فأولئك مع الذين انعم الله عليهم من النبيين والصديقين والشهداء والصالحين (النساء: ٦٩) ”﴿اور جو خدا اور رسول کی اطاعت کرتا ہے تو یہ لوگ ان کے ساتھ ہوں گے۔ جن پر اللہ نے اپنا انعام کیا ہے۔ یعنی انبیاء، صدیق، شہداء اور صالحین۔﴾

یہ حضرات (اس آیت کا اتنا حصہ پیش کرنے کے بعد) کہتے ہیں کہ دیکھئے! یہاں یہ کہا گیا ہے کہ جو لوگ خدا اور رسول کی اطاعت کریں گے وہ انبیاء کے ساتھ ”مع النبین“ ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا اور رسول کی اطاعت سے انسان، نبیوں کے زمرے میں شامل ہو سکتا ہے۔ (مرزا محمود احمد قادیانی نے تفسیر صغیر میں اس آیت کے ترجمہ میں کہا ہے ’وہ ان لوگوں میں شامل ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا ہے‘) یعنی وہ نبی بھی بن سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں ذیل کے نکات غور طلب ہیں۔

نہیں جو انسان اپنی سعی و کاوش (اطاعت خدا اور رسول) سے حاصل کر سکے۔ یہ خالصتہً وہبی عطیہ تھا۔ جسے خدا اپنی مشیت کے مطابق منتخب افراد کو عطاء کرتا تھا۔

صدیق، شہداء، صالحین کی معیت میں ہوں گے اور اس کی وضاحت آیت کے آخری حصہ نے یہ کہہ کر کردی کہ: ”وحسن اولئك رفيقا (النساء: ٦٩) ”﴿اور یہ لوگ کیسے اچھے رفیق ہوں گے۔﴾ اس سے واضح ہے کہ ان لوگوں کو انبیاء کی رفاقت نصیب ہوگی۔ یہ نہیں کہ یہ خود بھی نبی بن جائیں گے۔ ختم نبوت کے بعد انسان، مؤمن، صدیق، شہید، صالح وغیرہ تو بن سکتا ہے۔ نبی نہیں بن سکتا۔ نبی تو کوئی شخص پہلے بھی اپنی کوشش سے نہیں بن سکتا تھا۔ وہ خدا کی طرف سے نبی بنایا جاتا تھا۔ ختم نبوت کے بعد اس کا امکان بھی ختم ہو گیا۔

قرآن کریم میں ہے۔ ”محمد رسول الله والذين معه (الفتح: ٢٩) ”﴿محمد رسول اللہ اور جو لوگ اس کے ساتھ (معه) تھے (ان کی خصوصیات یہ تھیں)﴾

ان حضرات کی اس دلیل کی رو سے (کہ جو کسی کے ساتھ ہو وہ خود وہی کچھ بن جاتا ہے) یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ تمام صحابہؓ ”والذين معه“ کے زمرہ میں آنے کی وجہ سے) انبیاء تھے۔ کیا یہ حضرات ایسا ماننے کے لئے تیار ہیں؟

١٣٢

صفحہ ٥٥٣

عليهم من النبيين والصديقين والشهداء (خدا اور رسول کی اطاعت کرتا ہے تو یہ لوگ ان کے ساتھ ہیں یعنی انبیاء، صدیق، شہداء اور صالحین ۔ ﴾ (حصہ پیش کرنے کے بعد) کہتے ہیں کہ دیکھئے! یہاں یہ اطاعت کریں گے وہ انبیاء کے ساتھ ”مع النبیین“ اللہ اور رسول کی اطاعت سے انسان، نبیوں کے زمرے میں اس نے تفسیر صغیر میں اس آیت کے ترجمہ میں کہا ہے ”وہ ان جن پر انعام کیا ہے“) یعنی وہ نبی بھی بن سکتا ہے۔ اس سلسلہ

باب میں صراحت سے بتا چکے ہیں۔ نبوت اکتسابی ملکہ یعنی خدا اور رسول) سے حاصل کر سکے۔ یہ خالصتہً وہبی عطیہ افراد کو عطاء کرتا تھا۔

یہ ہے کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرنے والے انبیاء، جائیں گے اور اس کی وضاحت آیت کے آخری حصہ نے یہ ورفیقا (النساء: ٦٩) ”اور یہ لوگ کیسے اچھے رفیق لوگوں کو انبیاء کی رفاقت نصیب ہوگی۔ یہ نہیں کہ یہ خود بھی انسان، مومن، صدیق، شہید، صالح وغیرہ تو بن سکتا ہے۔ کوئی کوشش سے نہیں بن سکتا تھا۔ وہ خدا کی طرف سے نبی سلسلہ بھی ختم ہوگیا۔

معیت (ساتھ ہونے) سے انسان خود بھی نبی بن جاتا ہے تو محمد رسول الله والذين معه (الفتح: ٢٩) ”محمد رسول اللہ اور خصوصیات یہ تھیں) ﴾ کی رو سے (کہ جو کسی کے ساتھ ہو وہ خود وہی کچھ بن جاتا والذين معه“ کے زمرہ میں آنے کی وجہ سے) انبیاء سکتے ہیں؟

١٤٢

جماعت مومنین کی یہ دعاء کہ ہمیں ان لوگوں کی راہ دکھا جن پر تو نے اپنا انعام کیا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ہم ان کی رفاقت میں یہ سفر طے کریں۔ انہی کے نقوش قدم پر چلتے ہوئے منزل مقصود تک پہنچیں۔ یہ وہی رفاقت ہے جس سے محروم انسانوں کے متعلق کہا گیا ہے کہ ”ویوم یعض الظالم علی یدیہ یقول یلیتنی اتخذت مع الرسول سبیلا (الفرقان: ٢٧) ”اس دن ظالم اپنی انگلیاں کاٹیں گے اور کہیں گے کہ اے کاش ہم نے بھی رسول کی رفاقت میں سفر زندگی طے کیا ہوتا۔ ہم نے بھی وہی راستہ اختیار کیا ہوتا جسے رسول نے بتایا اور اختیار کیا تھا۔ ﴾

ہے تو قرآن کریم میں متعدد مقامات پر آیا ہے کہ ”ان الله مع الصابرين“ یا ”ان الله مع المتقين“ تو (ان حضرات کی دلیل کی رو سے ) صابرین اور متقین کو خدا بن جانا چاہئے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ یہ حضرات (اپنے دلائل میں) کس طرح تنکوں کے پل بناتے ہیں اور اس پر سے ہاتھی گزارنے کی کوشش کرتے ہیں۔

محدثیت

مرزا قادیانی نے شروع میں کہا تھا کہ میرا دعویٰ نبوت کا نہیں۔ محدثیت کا ہے۔ لاہوری حضرات اسے بڑی شدومد سے پیش کرتے ہیں۔ آیئے دیکھیں کہ اس دعویٰ کا پس منظر کیا ہے اور اس کی بنیاد کیا ہے۔ میں نے اس بحث کو اپنی کتاب ”شاہکار رسالت“ کے آخری باب میں بڑی شرح وبسط سے لکھا ہے۔

قرآن کریم میں محدث کا لفظ تک بھی نہیں آیا۔ جب مرزا قادیانی پر یہ اعتراض کیا گیا کہ محدث کا کوئی ذکر قرآن کریم میں نہیں۔ آپ یہ دعویٰ کیسے کرتے ہیں تو انہوں نے فرمایا: ”آپ لوگ کیوں قرآن شریف میں غور نہیں کرتے اور کیوں سوچنے کے وقت غلطی کھا جاتے ہیں۔ کیا آپ صاحبوں کو خبر نہیں کہ صحیحین سے ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ اس امت کے لئے بشارت دے چکے ہیں کہ اس امت میں بھی پہلی امتوں کی طرح محدث پیدا ہوں گے اور محدث بفتح دال وہ لوگ ہیں جن سے مکالمات ومخاطبات الہیہ ہوتے ہیں اور آپ کو معلوم ہے کہ ابن عباس کی قرأت میں آیا ہے۔ ”وما ارسلنا من قبلك من رسول ولا نبي ولا محدث“ (آخر تک ) پس اس آیت کی رو سے بھی جس کو بخاری نے بھی لکھا ہے۔ محدث کا الہام یقینی اور قطعی ثابت ہوتا ہے۔ جس میں دخل شیطان کا قائم نہیں رہ سکتا۔“

(براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ٥٤٨ حاشیہ، خزائن ج ٢١ ص ٢٥٥)

١٣٣

صفحہ ٥٥٤

(ابن حزم) کو یہ

میں نے ان کا پڑ

نے نہیں پڑھا۔

آپ نے غور فرمایا کہ مرزا قادیانی اپنے دعویٰ کی تائید میں کون سی آیت پیش کرتے ہیں۔ وہ نہیں جو اس قرآن مجید میں ہے۔ جو مسلمانوں میں مروج ہے اور جس کے متعلق ہمارا ایمان ہے کہ وہ حرفاً حرفاً وہی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ کو دیا اور رسول اللہ نے امت کو، بلکہ قرأت ابن عباس والی آیت۔

ویسے بھی قرآت

کے متعلق کہا جا

ولا محدث

اور نبی کہا ہے،

اضافہ کے

مثال پیش کی

(سورۃ النساء

میں نے جب (اپنے ایک مقالہ شائع شدہ طلوع اسلام بابت جنوری ١٩٧٤ء میں) احمدی حضرات کی توجہ اس طرف مبذول کرائی کہ مرزا قادیانی اپنے دعویٰ کی تائید میں ایسی سند پیش کر رہے ہیں جو بالبداہت وضعی ہے اور جس سے قرآن مجید کا محرف ہونا ثابت ہو جاتا ہے تو لاہوری جماعت کے ترجمان، پیغام صلح نے اپنی اشاعت بابت ٢٣ جنوری ١٩٧٤ء میں اس کے جواب میں کہا کہ جسے اختلاف قرأت کہا جاتا ہے۔ اس سے درحقیقت مراد ان آیات کی تعبیر وتفسیر ہے۔ قرأت ابن عباس سے مفہوم یہ ہے کہ اس قرأت کے مطابق محدث کے معنی بھی اس آیت سے نکل سکتے ہیں۔

مسافحین

کے ساتھ چا

اٹھانا چاہو تو

جو موت یا ط

ایک مرد اور

لئے اس عورت

ہیں۔ ان کی قر

لئے فائدہ اٹھ

یہ جواب اس قدر خلاف حقیقت اور فریب انگیز تھا کہ مجھے اس کی تردید میں ایک مبسوط مقالہ لکھنا پڑا جو طلوع اسلام بابت مارچ ١٩٧٤ء میں شائع ہوا۔ موضوع کی اہمیت کے پیش نظر میں اس میں سے دو ایک اقتباسات یہاں درج کر دینا مناسب سمجھتا ہوں۔ میں نے اس میں لکھا تھا کہ عربی زبان کا ایک ابجد خوان بھی اس حقیقت سے واقف ہوگا کہ قرأت کے معنی تفسیر وتعبیر نہیں۔ اس کے معنی پڑھنا ہیں۔ جب قرأت ابن عباس کہا جائے گا تو اس سے مراد ہوگا کہ حضرت ابن عباس اس آیت کو یوں پڑھا کرتے تھے اور جس طرح وہ اس آیت کو پڑھا کرتے تھے اسی طرح یہ ان کے مصحف میں درج تھی۔ حضرت ابن عباس کی تفسیری روایات الگ ہیں اور ان کی طرف منسوب کردہ مصحف (قرآنی نسخہ) الگ۔ ان کی تفسیر میں نہیں۔ بلکہ ان کی طرف منسوب کردہ مصحف میں زیر بحث آیت لفظ محدث کے اضافہ کے ساتھ درج ہے۔ لہٰذا اسے تفسیر کہنا دوسروں کی آنکھوں میں دھول جھونکنا ہے۔ قرأت کا لفظ قرآن کریم میں (بصیغہ فعل) اور کتب احادیث میں پڑھنے کے معنوں میں آیا ہے۔ بخاری میں مدالقرآت ایک باب ہے جس میں قرأت رسول اللہ کے تحت لکھا ہے کہ حضور ﷺ قرآن کریم کو ٹھہر ٹھہر کر اور الفاظ کو کھینچ کر پڑھا کرتے تھے۔ (بخاری ج ٢ ص ٧٤٧، باب انزل القرآن علی سبعۃ احرف، کتاب فضائل قرآن) میں حضرت عمر کی طرف منسوب ایک روایت ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ: ”میں نے ہشام بن حکیم

١٣٤

صفحہ ٥٥٤

یانی اپنے دعویٰ کی تائید میں کون سی آیت پیش کرتے جو مسلمانوں میں مروج ہے اور جس کے متعلق ہمارا تعالیٰ نے رسول اللہ کو دیا اور رسول اللہ نے امت کو، بلکہ

الہ شائع شدہ طلوع اسلام بابت جنوری ١٩٧٤ء میں) دعویٰ کہ مرزا قادیانی اپنے دعویٰ کی تائید میں ایسی سند پیش جس سے قرآن مجید کا محرف ہونا ثابت ہو جاتا ہے تو کو اپنی اشاعت بابت ٢٣ جنوری ١٩٧٤ء میں اس کے دیا ہے۔ اس سے درحقیقت مراد ان آیات کی تعبیر وتفسیر کہ اس قرأت کے مطابق محدث کے معنی بھی اس آیت

تی اور فریب انگیز تھا کہ مجھے اس کی تردید میں ایک مبسوط ١٩٧٤ء میں شائع ہوا۔ موضوع کی اہمیت کے پیش نظر درج کر دینا مناسب سمجھتا ہوں۔ میں نے اس میں لکھا حقیقت سے واقف ہوگا کہ قرأت کے معنی تفسیر وتعبیر ت ابن عباسؓ کہا جائے گا تو اس سے مراد ہوگا کہ حضرت تھے اور جس طرح وہ اس آیت کو پڑھا کرتے تھے اسی ت ابن عباسؓ کی تفسیری روایات الگ ہیں اور ان کی تک ان کی تفسیر میں نہیں۔ بلکہ ان کی طرف منسوب ں کے اضافہ کے ساتھ درج ہے۔ لہٰذا اسے تفسیر کہنا قرأت کا لفظ قرآن کریم میں (بصیغہ فعل) اور کتب ہے۔ بخاری میں مدالقرأت ایک باب ہے جس میں ن قرآن کریم کو ٹھہر ٹھہر کر اور الفاظ کو کھینچ کر پڑھا لقرآن علی سبعۃ احرف، کتاب فضائل قرآن) میں حضرت میں انہوں نے کہا ہے کہ: ”میں نے ہشام بن حکیم

١٣٤

٥٥٥

(ابن حزام) کو رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں سورۃ فرقان پڑھتے سنا۔ ”فاستمعت لقرأتہ“ میں نے ان کا پڑھنا (قرأت) سنا تو وہ بہت سے ایسے الفاظ پڑھ رہے تھے جو مجھے رسول اللہ ﷺ نے نہیں پڑھائے تھے۔“

ان تصریحات سے واضح ہے کہ قرأت کے معنی پڑھنا ہیں۔ تفسیر یا مفہوم نہیں۔

ویسے بھی قرآنی آیت ”وما ارسلنا من قبلك من رسول ولا نبی (الحج:٥٢)“ کے متعلق کہنا کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ: ”وما ارسلنا من قبلك من رسول ولا نبی ولا محدث“ قرآن کریم سے (معاذ اللہ) مذاق نہیں تو اور کیا ہے؟ قرآن کریم نے رسول اور نبی کہا ہے۔ ان میں سے کون سا لفظ ہے جس کا مفہوم محدث ہے؟ اور اگر یہ تفسیر ہے تو پھر اضافہ کسے کہتے ہیں؟

اس کے بعد میں نے حضرت ابن عباسؓ کی طرف منسوب کردہ اختلاف قرأت کی ایک مثال پیش کی جس میں میں نے لکھا تھا: ”مرد عورت کے جنسی تعلقات کے سلسلہ میں قرآن کریم (سورۃ النساء) میں ان رشتوں کی تفصیل دینے کے بعد جن سے نکاح حرام ہے کہا گیا ہے۔“

”واحل لکم ما ورآء ذلکم ان تبتغوا باموالکم محصنین غیر مسافحین فما استمتعتم بہ منہن فاتوھن اجورھن فریضۃ (النساء: ٢٤)“

اور جو اس کے سوا ہیں وہ تمہارے لئے حلال ہیں۔ اس طرح کہ تم ان کو اپنے مالوں کے ساتھ چاہو نکاح میں لا کر نہ کہ شہوت رانی کرتے ہوئے۔ سو تم ان میں سے جس کے ساتھ نفع اٹھانا چاہو تو انہیں ان کے مقرر کردہ مہر دے دو۔ (ترجمہ مولانا محمد علی لاہوری، بیان القرآن ص ٣٢٩، ٣٣٠)

سنیوں کے ہاں اس معاہدہ کا نام ہے نکاح جو مہر ادا کر کے دائمی طور پر کیا جاتا ہے اور جو موت یا طلاق سے فسخ ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس شیعہ حضرات متعہ کے قائل ہیں۔ جس میں ایک مرد اور ایک عورت ایک مدت معینہ کے لئے مباشرت کا معاملہ طے کر لیتے ہیں اور اس کے لئے اس عورت کو جنسی تعلق کا معاوضہ دے دیا جاتا ہے۔ سنیوں کے ہاں متعہ حرام ہے۔

اس تمہید کے بعد آگے بڑھئے۔ حضرت عبداللہ ابن عباسؓ سنیوں کے جلیل القدر صحابی ہیں۔ ان کی قرأت (مصحف) میں مندرجہ بالا آیت یوں آتی ہے۔

”فماستمتعتم بہ منہن الی اجل مسمیٰ“ تم ان سے ایک مدت معینہ کے لئے فائدہ اٹھاؤ۔ یعنی اس قرأت کی رو سے آیت قرآنی میں ”الی اجل مسمیٰ“ کا اضافہ کیا گیا

١٣٥

صفحہ ٥٥٦

ہے ۔ جس سے متعہ کی سند مل جاتی ہے۔ اب دیکھئے کہ اس اضافہ کے متعلق حضرت عبداللہ بن عباسؓ کیا فرماتے ہیں۔ سنیوں کی سب سے پہلی اور سب سے زیادہ قابل اعتماد تفسیر، تفسیر طبری ہے۔ وہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں ۔ ” ابونضرہ کی روایت ہے کہ میں نے ابن عباسؓ سے متعہ کے متعلق دریافت کیا ۔ انہوں نے کہا کہ کیا تم سورۃ النساء کی تلاوت نہیں کرتے ۔ میں نے کہا کیوں نہیں ۔ کہا پھر اس میں یہ آیت نہیں پڑھا کرتے کہ ’فما استمتعتم بہ منہن الی اجل مسمّٰی“ میں نے کہا نہیں ۔ میں اگر اس طرح پڑھتا ہوتا تو آپ سے دریافت کیوں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اصلی آیت یونہی ہے ۔ عبدالاعلیٰ کی روایت میں بھی ابونضرہ سے اسی طرح کا واقعہ منقول ہے۔ تیسری روایت میں بھی ابونضرہ سے نقل ہے کہ میں نے ابن عباسؓ کے سامنے یہ آیت پڑھی ۔ ” فما استمتعتم بہ منہن“ ابن عباسؓ نے کہا ” الی اجل مسمّٰی“ میں نے کہا میں تو اس طرح نہیں پڑھا ۔ انہوں نے تین مرتبہ کہا خدا کی قسم ! خدا نے اسی طرح نازل کیا ہے ۔ “

(تفسیر طبری ج ٥ ص ١٣،١٤)

ہم ان حضرات سے پوچھتے ہیں کہ کیا اب بھی یہ بات آپ کی سمجھ میں آئی ہے یا نہیں کہ اختلاف قرأت سے کیا مراد ہے؟ کیا اس کے بعد بھی آپ فرمائیں گے کہ اختلاف قرأت سے مراد تفسیر اور مفہوم کا اختلاف ہے؟ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ خدا کی قسم ! خدا نے اس آیت کو نازل ہی اس طرح کیا تھا جس طرح میں پڑھتا ہوں نہ کہ اس طرح جس طرح یہ قرآن مجید میں درج ہے ۔

ان اعتراضات کے جواب میں احمدی حضرات کہتے ہیں کہ جب اختلاف قرأت آپ کے علماء کرام بھی مانتے ہیں تو اس سلسلہ میں مرزا قادیانی پر کیوں اعتراض کیا جاتا ہے سوال یہ نہیں کہ ہمارے ہاں کے علماء کیا مانتے ہیں اور کیا نہیں ۔ سوال غور طلب یہ ہے کہ ایک (مرزا قادیانی) دعویٰ کرتا ہے کہ وہ مامور من اللہ ہے ۔ وہ خدا سے براہ راست علم حاصل کرتا ہے اور مبعوث اس لئے ہوا ہے کہ مسلمانوں میں جو غلط عقائد رائج ہو گئے ہیں ۔ ان کی اصلاح کرے اور اس کی حالت یہ ہے کہ خود اپنے دعویٰ ماموریت کی سند ایک ایسی روایت سے پیش کرتا ہے جو بدیہی طور پر وضعی ہے اور جس کے صحیح ماننے سے قرآن کریم محرف ثابت ہو جاتا ہے ۔

مہدی یا امام آخرالزمان

مرزا قادیانی کا دعویٰ مہدی یا امام آخر الزمان ہونے کا بھی ہے ۔

١٣٦

صفحہ ٥٥٧

عالمی سیرت کانفرنس کانفرنس کی کاروائی مقالہ جات وتجاویز تا ہے۔ اب دیکھئے کہ اس اضافہ کے متعلق حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے پہلی اور سب سے زیادہ قابل اعتماد تفسیر، تفسیر طبری میں ہے۔ ”ابونضرہ کی روایت ہے کہ میں نے ابن عباسؓ سے متعہ نے کہا کہ کیا تم سورۃ النساء کی تلاوت نہیں کرتے۔ میں نے کہا میں پڑھا کرتا ”فما استمتعتم به منهن الى اجل مسمیٰ“ اگر اس طرح پڑھتا ہوتا تو آپ سے دریافت کیوں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ اصلی آیت یونہی ہے۔ عبدالاعلیٰ کی روایت میں بھی ابونضرہ ہے۔ تیسری روایت میں بھی ابونضرہ سے نقل ہے کہ میں نے ابن عباسؓ کے سامنے ”فما استمتعتم به منهن“ ابن عباسؓ نے کہا ”الی اجل مسمیٰ“ میں نے کہا میں تو اس طرح نہیں پڑھا۔ انہوں نے تین مرتبہ کہا خدا کی قسم! خدا نے اسی طرح نازل کی ہے۔“

(تفسیر طبری ج٥ ص١٣، ١٤)

اب آپ خود سوچتے ہیں کہ کیا اب بھی یہ بات آپ کی سمجھ میں آئی ہے یا نہیں آئی کہ یہ اختلاف قرأت ہے؟ کیا اس کے بعد بھی آپ فرمائیں گے کہ اختلاف قرأت سے تبدیلی واقع نہیں ہوتی ہے؟ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ خدا کی قسم! خدا نے اس طرح نازل کی ہے۔ اور میں اس طرح ہی پڑھتا ہوں نہ کہ اس طرح جس طرح یہ قرآن میں ہے۔

اب میں احمدی حضرات کہتے ہیں کہ جب اختلاف قر اس سلسلہ میں مرزا قادیانی پر کیوں اعتراض کیا جاتا ہے کیا مانتے ہیں اور کیا نہیں۔ سوال غور طلب یہ ہے کہ آ مأمور من اللہ ہے۔ وہ خدا سے براہ راست علم حاصل قرآن میں جو غلط عقائد رائج ہو گئے ہیں۔ ان کی اصلاح کوئی ماموریت کی سند ایک ایسی روایت سے پیش کرتا ہونے سے قرآن کریم محرف ثابت ہو جاتا ہے۔

مہدی یا امام آخر الزمان ہونے کا بھی ہے۔ ١٣٦

مسائل سیرت عالمی سیرت کانفر اصطلاحات بنیادی طور پر شیعہ (امامیہ) حضرات کی ہیں۔ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ ان کے بارہویں امام، عراق کے ایک غار میں چھپ گئے تھے اور اب قیامت کے قریب وہ وہاں سے باہر تشریف لائیں گے۔ انہیں وہ امام مہدی یا امام آخر الزمان کہہ کر پکارتے ہیں۔ اور یہی عقیدہ خود سنیوں کے ہاں بھی چلا آ رہا ہے۔ اس فرق کے ساتھ کہ ان کے تصور کے امام مہدی عراق کے غار سے نمودار نہیں ہوں گے۔ (کیونکہ وہ تو شیعہ ہوں گے) ان کا ظہور ویسے ہی ہوگا۔ مرزا قادیانی نے دعویٰ کیا کہ وہ امام میں ہوں۔ ایک آنے والے کے عقیدہ کے متعلق ہم (دوسرے باب میں) لکھ چکے ہیں۔ اس لئے اسے دہرانے کی ضرورت نہیں۔ یہ عقیدہ دنیا کی ہر مذہبی قوم میں چلا آ رہا تھا۔ قرآن کریم نے حضور نبی اکرم ﷺ کو آخری آنے والا قرار دے کر اس عقیدہ کو ختم کر دیا۔ ختم نبوت سے یہی مراد ہے کہ اب کسی آنے والے کا انتظار نہ کرو۔ وہ آنے والا آچکا ہے۔ مہدی کا ذکر قرآن میں کہیں نہیں آیا۔ مرزا قادیانی نے اپنے دعویٰ کی تائید میں کہا ہے: ”بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کے لئے آواز آئے گی کہ ”ھذا خليفة الله المهدی“ اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے جو ایسی کتاب میں درج ہے جو اصح الکتب بعد از کتاب اللہ ہے۔“

(شهادت القرآن ص٤١، خزائن ج٦ ص٣٣٧)

اور (جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے) بخاری میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا۔ کتنا بڑا فریب ہے جو عوام کو دیا گیا ہے اور کس قسم کا سفید جھوٹ جو دھڑلے سے بولا گیا۔ یہ ہے ان کے دعویٰ مہدویت کی حقیقت۔

مہدی سوڈانی

(ضمناً) انہی ایام ، سوڈان کے ایک درویش نے بھی مہدی ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ ان کے اس دعویٰ کے سلسلہ میں سید جمال الدین افغانی کا ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے۔

کہتے ہیں کہ جب سید صاحب کی ملاقات درویش سوڈانی سے ہوئی تو انہوں نے اسے انگریز کے خلاف علم جہاد بلند کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے دیکھا کہ وہ درویش اس جہاد کی اہمیت کا تو قائل ہے لیکن اس کے باوجود اس پروگرام کو اختیار کرنے سے ہچکچاتا ہے۔ سید صاحب نے جب اصرار کیا کہ وہ متذبذب کیوں ہے تو اس نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ بات یہ ہے کہ سوڈانیوں کو ایک مدت سے یہ کہہ کر فریب دیا جا رہا ہے کہ جب تک امام مہدی کا ظہور نہ ہو۔ جہاد حرام ہے۔ یہ بات وہ پچاس برسوں سے ہمارے آباء و اجداد سے سنتے چلے آ رہے ہیں۔ بار بار کے اعادہ نے یہ امر ان کے عقائد کا جزو بنا دیا ہے کہ امام مہدی کے ظہور سے پہلے جہاد حرام ہے۔ ١٣٧

صفحہ ٥٥٨

اب اگر ان سے کہا جائے کہ تم میدان کارزار میں کود پڑو تو وہ سب سے پہلے یہ سوال کریں گے کہ امام آخر الزمان کہاں ہیں۔ اگر نہیں ہیں تو جہاد کی وجہ جواز کیا ہے؟ اور اگر ظہور امام سے پہلے جہاد جائز ہے تو ہمیں اتنے عرصہ سے دھوکہ کیوں دیا جاتا رہا ہے۔ بتائیے ان سوالات کا جواب کیا ہے۔ یہ سن کر سید صاحب نے کہا کہ اگر بات اتنی ہی ہے تو پھر اس مشکل کا حل بڑا آسان ہے۔ ان تمام سوالات کا جواب یہ ہے کہ تم خود مہدی بن جاؤ۔ چنانچہ درویش سوڈانی نے مہدی بن کر انگریز کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔ وہ اگرچہ اس وقت انگریز کو ملک سے نکال تو نہ سکے۔ لیکن اس کے قصر حکومت میں تزلزل پیدا کر دیا۔ اس سے انگریز کے دل پر کیا گزری تھی۔ اس کا اندازہ اس سے لگائیے کہ جب لارڈ کچنر نے سوڈان پر قبضہ کیا ہے تو اس نے تحریک مہدویت کے نام لیواؤں کی قبروں سے ان کی ہڈیاں نکال کر ان کی سخت توہین کی۔ خود مہدی سوڈانی کی قبر کھدوا کر ان کی لاش برآمد کی اور اس کے ٹکڑے کر کے انہیں دریائے نیل میں پھینکوا دیا۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ اس کے بعد خود کچنر کی موت سمندر میں ڈوب جانے سے واقعہ ہوئی تھی۔ علامہ اقبالؒ نے اس واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جاوید نامہ میں روح مہدی سوڈانی کی زبانی کہا ہے کہ ؎

گفت اے کشنر! اگر داری نظر
انتقام خاک درویشے نگر
آسماں خاک ترا گورے نداد
مرقدے جز در یم شورے نداد

مجھے جمال الدین افغانی کی طرف منسوب کردہ اس واقعہ کی صحت و سقم سے بحث نہیں۔ میں کہنا صرف یہ چاہتا ہوں کہ ایک دعویٰ مہدی سوڈانی نے کیا اور اس سے اس نے انگریز کی حکومت کے خلاف علم جہاد بلند کر کے اس کے ایوان اقتدار کو متزلزل کر دیا اور ایک دعویٰ ہمارے ہاں کے مہدی نے کیا۔ جس نے ساری کوششیں انگریزی تسلط کی جڑیں مضبوط کرنے میں صرف کردیں۔ یہ حضرات مرزا قادیانی کے دعوائے مجددیت کی تائید میں اکثر امام سرہندیؒ اور شاہ ولیؒ اللہ کا نام لیا کرتے ہیں کہ انہوں نے مجدد ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ لیکن ایسا کہتے وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ امام سرہندیؒ نے قید و بند کی صعوبات برداشت کرنا گوارا کر لیا۔ لیکن شہنشاہ اکبر کی تعظیم کے لئے جھکنا گوارا نہ کیا۔ شاہ ولیؒ اللہ نے جب دیکھا کہ یہاں کفار کی قوتیں مسلمانوں کو مغلوب کرنے کے درپے ہیں تو انہوں نے احمد شاہ ابدالی کو بلانے کا اہتمام کیا۔ جس نے مرہٹوں کی قوت

١٣٨

صفحہ ٥٥٩

ار میں کود پڑو تو وہ سب سے پہلے یہ سوال کریں گے کہ جہاد کی وجہ جواز کیا ہے؟ اور اگر ظہور امام سے پہلے جہاد دیا جاتا رہا ہے۔ بتائیے ان سوالات کا جواب کیا ہے۔ اگر بات اتنی ہی ہے تو پھر اس مشکل کا حل بڑا آسان خود مہدی بن جاؤ۔

بن کر انگریز کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔ وہ اگرچہ لیکن اس کے قصر حکومت میں تزلزل پیدا کر دیا۔ اس اندازہ اس سے لگائیے کہ جب لارڈ کچنر نے سوڈان پر نام لیواؤں کی قبروں سے ان کی ہڈیاں نکال کر ان کی تا کہ ان کی لاش برآمد کی اور اس کے ٹکڑے کر کے انہیں ہے کہ اس کے بعد خود کچنر کی موت سمندر میں ڈوب اس واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جاوید نامہ میں

شعر! اگر داری نظر
در ویشے نگر
ترا گورے نداد
وریم شورے نداد

منسوب کردہ اس واقعہ کی صحت وسقم سے بحث نہیں۔ مہدی سوڈانی نے کیا اور اس سے اس نے انگریز کی کے ایوان اقتدار کو متزلزل کر دیا اور ایک دعویٰ ہمارے میں انگریزی تسلط کی جڑیں مضبوط کرنے میں صرف مجددیت کی تائید میں اکثر امام سرہندیؒ اور شاہ ولیؒ نے کا دعویٰ کیا تھا۔ لیکن ایسا کہتے وقت یہ بھول جاتے رداشت کرنا گوارا کر لیا۔ لیکن شہنشاہ اکبر کی تعظیم کے دیکھا کہ یہاں کفار کی قوتیں مسلمانوں کو مغلوب دلی کو بلانے کا اہتمام کیا۔ جس نے مرہٹوں کی قوت

کی ریڑھ کی ہڈی تک توڑ دی اور ان کے پوتے شاہ اسماعیل شہید نے داستان جہاد کا سرنامہ اپنے درخشندہ خون سے لکھا۔ ایک مجدد وہ تھے اور ایک مجدد یہ ہیں جو نہایت فخر سے کہتے ہیں کہ: ”میں سولہ برس سے برابر اپنی تالیفات میں اس بات پر زور دے رہا ہوں کہ مسلمانان ہند پر اطاعت گورنمنٹ برطانیہ فرض اور جہاد حرام ہے۔“ (اشتہار مورخہ ١٠؍دسمبر ١٨٩٢ء، مجموعہ اشتہارات ج٢ص١٢٨) اور جن کی ساری عمر اپنی جماعت کو یہ تاکید کرتے ہوئے گزر گئی کہ: ”وہ انگریز کی بادشاہت کو اپنے اولی الامر میں داخل کریں اور دل کی سچائی سے ان کے مطیع رہیں۔“

(ضرورة الامام ص٢٣، خزائن ج١٣ص٤٩٣)

مجدد

آنے والے کے سلسلہ میں ایک عقیدہ مجدد کا بھی ہے۔ اس عقیدہ کی رو سے کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث ہے کہ ہر صدی کے سر پر خدا ایک ایسے مامور کو بھیجتا رہے گا جو دین کی تجدید کرے گا۔ (اس حدیث کا بخاری اور مسلم میں جو حدیث کی معتبر ترین کتابیں تسلیم کی جاتی ہیں۔ کہیں ذکر نہیں) اس نظریہ کا وضعی ہونا بالکل بدیہی ہے۔ اس کی رو سے صورت یوں سامنے آتی ہے کہ سو سال کے عرصہ کے اندر دنیا کتنی ہی خراب کیوں نہ ہو جائے خدا ایسے مصلح کو نہیں بھیجے گا اور سو سال کے بعد خواہ دنیا کی حالت کیسی ہی اچھی کیوں نہ ہو۔ مجدد آ جائے گا۔ اس قسم کی کیلنڈرانہ بعثتیں مصلحت خداوندی سے بعید ہیں۔

لیکن اس سلسلہ میں اب کسی بحث کی ضرورت ہی نہیں۔ مرزا قادیانی نے تیرہویں صدی (ہجری) کے آخر میں مجددیت کا دعویٰ کیا۔ اب چودھویں صدی کا آخر آ گیا ہے۔ اس لئے سابقہ مجدد کا زمانہ ختم ہو رہا ہے۔ اب ایک نیا مجدد آنا چاہئے۔ اس کے آنے پر لاہوری جماعت احمدیہ کا سلسلہ خود بخود ختم ہو جائے گا۔

لیکن نہیں اور یہ حکایت بڑی لذیذ ہے۔

کچھ عرصہ ہوا میں نے اپنے ایک مقالہ میں یہی بات کہی تو اس کے جواب میں انجمن احمدیہ اشاعت اسلام لاہور (یعنی لاہوری جماعت) کے ترجمان، پیغام صلح کی اشاعت بابت ٢٢؍جولائی ١٩٧٠ء کے افتتاحیہ میں کہا گیا: ”اس بلند پایہ مجدد کے متعلق یہ کہنا کہ اس کا زمانہ مجددیت ختم ہو چکا ہے یا ختم ہونے والا ہے اور اب ہمیں نئے مجدد کی تلاش کرنی چاہئے۔ صریح زیادتی ہے۔ حضرت مرزا صاحب نے تبلیغ دین کے لئے جو جماعت بنائی ہے وہ آپ کے تجدیدی کام کو بحسن وخوبی سرانجام دے رہی ہے اور دیتی رہے گی۔ اس لئے ہمیں ضرورت نہیں کہ کسی نئے

صفحہ ٥٦٠

مجدد کی تلاش کرتے پھریں۔ جب کوئی نیا مجدد آئے گا تو اس کا وجود اور اس کا نام خود اس کی مجددیت ظاہر کر دے گا۔ وہ بھی حضرت مرزا صاحب کا مصدق ہوگا نہ مکذب۔ اس لئے اس کے زمانے کو بھی حضرت مرزا صاحب کا ہی زمانہ سمجھنا چاہئے ۔“

یعنی قادیانی جماعت نے مرزا قادیانی کی نبوت کو آخری راہ قرار دے کر اپنی مداومت (ہمیشگی) پر مہر تصدیق ثبت کر لی اور لاہوری جماعت نے مرزا قادیانی کی مجدد کے زمانہ کو لامتناہی قرار دے کر اپنے خلود (ہمیشگی) کا جواز پیدا کر لیا۔ معاذ اللہ ، دین کے ساتھ کیا مذاق ہورہا ہے۔

جہاں تک ایک مجدد کے زمانے کا تعلق ہے۔ پیغام صلح کے اسی افتتاحیہ میں جس کا اوپر اقتباس دیا گیا ہے۔ مرزا قادیانی سے پہلے مجددین ( حضرت شیخ سرہندیؒ اور شاہ ولی اللہ دہلویؒ) کے بعض اقوال دیئے گئے ہیں۔ لیکن ایسا کرتے وقت یہ حضرات بھول گئے کہ ان اقتباسات کی رو سے نئے مجدد کے آنے سے سابقہ مجدد کی بعثت ختم ہو جاتی ہے۔ حضرت شیخ سرہندیؒ کا قول دیا گیا ہے کہ : ”مجدد آنست کہ ہر چہ در آں مدت از فیوض بامتاں برسد بتوسط او برسد، اگر چہ اقطاب و اوتاد آں وقت بودند و بدلا و نجبا باشند۔“

(مکتوبات ربانی ج ٢ مکتوب چہارم ص ١٣،١٤)

یعنی مجدد وہ ہوتا ہے کہ اس کے عہد مجددیت میں جس قدر فیض لوگوں کو پہنچتا ہے اس کی وساطت سے پہنچ سکتا ہے۔ اگر چہ وہ اس زمانے کے قطب اور اوتار یا ابدال اور نجیب بھی کیوں نہ ہوں۔

اور اس کے بعد شاہ ولی اللہؒ کی یہ عبارت درج کی گئی ہے۔ ”میرے رب نے مجھے مطلع فرمایا ہے کہ ہم نے تجھے اس طریقہ کا امام مقرر کیا ہے اور اس کی اعلیٰ بلندی تک پہنچایا ہے اور حقیقت قرب کے اور طریقے مسدود کر دیئے ہیں۔ سوائے ایک طریقہ کے وہ تیری محبت اور تیری فرمانبرداری ہے۔ پس جو شخص تجھ سے عداوت کرے۔ نہ آسمانی برکات اس پر نازل ہوں گی نہ ارضی برکات کا موجب ہوگا۔ اہل مشرق اور اہل مغرب تیری رعیت ہیں اور تو ان کا بادشاہ ہے۔ خواہ جانیں یا نہ جانیں۔ اگر وہ جان لیں تو کامیاب ہوں گے اور اگر بے خبر رہیں تو خائب وخاسر ہوں گے۔“

(تفہیمات الہیہ عربی ترجمہ)

یعنی (خود ان حضرات کے بقول) جب نیا مجدد آجاتا ہے تو حقیقت قرب کے سابقہ سب راستے مسدود ہو جاتے ہیں اور اسی ایک کا طریقہ باقی رہ جاتا ہے جو اسے جان لیں وہ کامیاب ہو جائیں گے۔ جو بے خبر رہیں۔ وہ خائب و خاسر رہیں گے۔ لیکن یہ حضرات کہتے ہیں کہ ہمیں کیا ضرورت ہے کہ ہم نئے مجدد کی تلاش کرتے پھریں۔ مجددیت کا فریضہ اب ہماری انجمن سرانجام دے گی۔

١٤٠

صفحہ ٥٦١

دعوؤں کی تیاریاں

لیکن اب چونکہ صدی کا اختتام ہے۔ اس لئے مجددیت کے دعویداروں نے انگڑائیاں لینی شروع کردی ہیں۔ (میرے پاس اکثر ان لوگوں کے خطوط آتے رہتے ہیں۔ جن سے بدیہی طور پر نظر آ جاتا ہے کہ وہ صحیح الدماغ نہیں) کل کو جب یہ اپنے دعویٰ کا اعلان کریں گے تو ان کے ساتھ دھینگا مشتی شروع ہو جائے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری حالت عجیب ہے۔ ہم نے ایک کرسی بچھا رکھی ہے۔ لیکن جب کوئی اس پر آ کر بیٹھتا ہے تو اس سے دھکم پیل شروع کر دیتے ہیں۔ کوئی اتنا نہیں سوچتا کہ یہ کرسی (جس کی دین میں کوئی سند نہیں) اٹھا کیوں نہ دی جائے کہ ..... نہ رہے بانس نہ بجے بانسری ..... اصل یہ ہے کہ جو قومیں ”جو ہوتا چلا آ رہا ہے“ کو اپنا مسلک قرار دے لیں۔ ان کے ہاں ایسا ہی کچھ ہوتا ہے۔

اسی ”ہوتا چلا آ رہا ہے“ سے ہمارے سامنے ایک اور حقیقت آ جاتی ہے۔ احمدی حضرات کی ٹیکنیک یہ ہے کہ اگر مرزا قادیانی کے کسی ایسے دعویٰ کے خلاف اعتراض کیا جائے۔ جس کی قرآن سے تو سند نہ ملے۔ لیکن وہ ہمارے ہاں ہوتا چلا آ رہا ہو۔ تو یہ حضرات جھٹ سے اسلاف کا مسلک پیش کر دیں گے۔ (جیسے مجددیت کے دعویٰ کی سند میں۔ یہ حضرات شیخ احمد سرہندیؒ اور شاہ ولی اللہ وغیرہ کا نام پیش کر دیتے ہیں) لیکن اگر مرزا قادیانی کا دعویٰ ایسا ہو جو اسلام کے مسلک کے خلاف ہو تو یہ حضرات کہہ دیں گے کہ یہ اسلاف اپنی فکر و قیاس سے ایسا مانتے تھے اور مرزا قادیانی خدا سے علم پا کر دعویٰ کرتے ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ علم خداوندی کے مقابلہ میں انسانی فکر و قیاس کچھ حقیقت نہیں رکھتے۔ یاد رکھئے! کوئی عقیدہ نظریہ یا مسلک جو قرآن کے خلاف ہے غلط ہے۔ خواہ اس کی نسبت کتنی ہی بڑی شخصیتوں کی طرف کیوں نہ کر دی جائے۔ قرآن مجید نے شخصیتوں کو سند و حجت قرار دینے کی سختی سے مخالفت کی ہے۔ اس نے اسلاف کے مسلک کو بطور سند و حجت پیش کرنے والوں کے متعلق کہا ہے کہ: ”وَاِذَا قِيْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَآ اَلْفَيْنَا عَلَيْهِ اٰبَآءَنَا (البقره:١٧٠، لقمان:٢١)“ ”جب ان سے کہا جاتا ہے کہ خدا کی کتاب کا اتباع کرو تو یہ کہتے ہیں کہ نہیں! ہم تو اپنے بزرگوں کے مسلک ہی کا اتباع کریں گے۔“ اسلاف کے متعلق اس نے کہا ہے کہ تمہارے لئے اتنا ہی عقیدہ کافی ہے کہ: ”تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ وَلَا تُسْـَٔلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْن (البقره:١٣٤، ١٤١)“ ”یہ لوگ اپنے اپنے وقتوں میں دنیا سے چلے گئے۔ ان کے اعمال ان کے لئے تھے۔ تمہارے اعمال تمہارے لئے ہم تم سے یہ قطعاً نہیں پوچھیں گے کہ انہوں

١٤١

صفحہ ٥٦٢

نے کیا کیا تھا۔ لہٰذا بزرگوں کا کوئی قول و عمل کتاب اللہ کے مقابلہ میں سند قرار نہیں پاسکتا۔ یہی دین کی اصل بنیاد ہے۔

لیکن اس مقام پر ہم واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ آپ کشف الہام خدا سے ہم کلامی، مجددیت وغیرہ کی جتنی جی چاہے مثالیں پیش کریں۔ ان میں سے کسی نے یہ دعویٰ نہیں کیا تھا کہ جو میرے دعوٰی کو نہیں مانتا وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔ یہ دعویٰ صرف مرزا قادیانی نے کیا۔ اسی لئے مرزا قادیانی کے دعوٰی کی حیثیت ان حضرات کے دعاویٰ سے یکسر مختلف ہے۔ جنہیں احمدی حضرات مرزا قادیانی کے دعاویٰ کی تائید میں پیش کردیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان میں اور مرزا قادیانی میں ایک اور بنیادی فرق ہے جس کا ذکر آگے چل کر کیا جائے گا۔

مسیح موعود

اب ہم مرزا قادیانی کے اس دعوٰی کی طرف آتے ہیں۔ جس کی بنیادوں پر اس تحریک کی پوری کی پوری عمارت اٹھتی ہے۔ یعنی مسیح موعود کا دعوٰی، مسیح موعود کا یہودی تصور نہ قرآن کریم میں ملتا ہے اور نہ ہی اسلام کے صدرِ اول میں۔ ”آنے والے“ کے نظریہ کے متعلق ہم پہلے تفصیل سے گفتگو کر چکے ہیں۔ اسے ایک نظر پھر دیکھ لینا چاہئے۔ مسیح موعود کا نظریہ سب سے پہلے یہودیوں نے اپنے ایام اسیری میں وضع کیا۔ جب انہیں امید کی کوئی کرن نظر نہیں آتی تھی۔ اس کے بعد اسے عیسائیوں نے اختیار کیا جب کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے صلیب پر وفات نہیں پائی تھی۔ وہ زندہ آسمان پر اٹھا لئے گئے تھے اور اب دنیا کے آخری زمانے میں وہ آسمان سے نازل ہوں گے اور عیسائیت کا عالمگیر غلبہ قائم کریں گے وہیں سے اس عقیدہ نے ہماری کتب روایات و تفسیر میں راہ پائی۔ چونکہ اس عقیدہ کی رو سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رتبہ حضور نبی اکرم ﷺ کے مقابلہ میں برتر ثابت ہوتا تھا۔ (کہ وہ زندہ جاوید آسمانوں پر موجود ہیں اور حضور نبی اکرم ﷺ وفات پاکر آسودۂ لحد ہیں) اس لئے عیسائیوں نے اسے بہت اچھالا۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے ہاں حیات و وفات مسیح کا مسئلہ گویا کفر و ایمان کا معیار بن گیا ہے۔ حالانکہ اگر غور سے دیکھا جائے تو اس سوال کو اس قدر اہمیت حاصل ہی نہیں۔ قرآن کریم نے ہمیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت پر ایمان لانے کا مکلف ٹھہرایا ہے اور بس،۔ (اس مسئلہ پر میں نے اپنی کتاب شعلۂ مستور میں تفصیل سے بحث کی ہے)

مرزا قادیانی نے مسلمانوں کے دل و دماغ پر چھائے ہوئے اس عقیدہ سے فائدہ اٹھایا اور اپنے آپ کو اس مسیح کی شکل میں پیش کردیا۔ جس کا مسلمانوں کو انتظار تھا۔ لیکن جس

١٤٢

صفحہ ٥٦٣

کتاب اللہ کے مقابلہ میں سند قرار نہیں پاسکتا۔ یہی چاہتے ہیں کہ آپ کشف الہام خدا سے ہم کلامی ، کریں۔ ان میں سے کسی نے یہ دعویٰ نہیں کیا تھا کہ جو خارج ہو جاتا ہے۔ یہ دعویٰ صرف مرزا قادیانی نے سمیت ان حضرات کے دعوٰی سے یکسر مختلف ہے۔ اس کی تائید میں پیش کر دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان ہے جس کا ذکر آگے چل کر کیا جائے گا۔

ایک طرف آتے ہیں۔ جس کی بنیادوں پر اس تحریک موجود کا دعویٰ، مسیح موعود کا یہودی تصور نہ قرآن کریم ”آنے والے“ کے نظریہ کے متعلق ہم پہلے تفصیل دیکھ لینا چاہئے۔ مسیح موعود کا نظریہ سب سے پہلے جب انہیں امید کی کوئی کرن نظر نہیں آتی تھی۔ اس کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے صلیب پر وفات نہیں اور اب دنیا کے آخری زمانے میں وہ آسمان سے کریں گے وہیں سے اس عقیدہ نے ہماری کتب کی رو سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رتبہ حضور نبی کہ وہ زندہ جاوید آسمانوں پر موجود ہیں اور حضور نبی عیسائیوں نے اسے بہت اچھالا۔ جس کا نتیجہ یہ ہے گویا کفر و ایمان کا معیار بن گیا ہے۔ حالانکہ اگر غور حاصل ہی نہیں۔ قرآن کریم نے ہمیں حضرت عیسیٰ دیا ہے اور بس،۔ (اس مسئلہ پر میں نے اپنی کتاب

دماغ پر چھائے ہوئے اس عقیدہ سے فائدہ کر دیا۔ جس کا مسلمانوں کو انتظار تھا۔ لیکن جس ١٤٢

انداز سے وہ اس دعویٰ تک پہنچے وہ قابل داد ہے۔ شروع میں مرزا قادیانی خود حیاتِ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قائل تھے۔ اس کے بعد انہوں نے عقیدہ بدلا اور کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر تشریف نہیں لے گئے تھے۔ وہ دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کی طرح وفات پاگئے تھے۔ انہوں نے قرآنی آیات سے ثابت کیا اور چونکہ یہ بات تھی بھی جی کو لگتی ہوئی۔ اس لئے قوم کے دانشور طبقہ نے اسے قبول کر لیا۔ (دراصل سرسید اس سے پہلے اس عقیدہ کو پیش کر چکے تھے ۔ لیکن انہوں نے چونکہ کوئی دعویٰ نہیں کرنا تھا۔ اس لئے انہوں نے اسے نظری بحث تک محدود رکھا۔ لہٰذا جب مرزا قادیانی نے اسی نظریہ کو پیش کیا تو تعلیم یافتہ طبقہ کو اس کے قبول کر لینے میں کوئی دشواری پیش نہ آئی ) وہ دس بارہ سال تک صرف وفات مسیح تک محدود رہے۔ جب مخالف علماء نے کہا کہ احادیث میں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا ذکر موجود ہے تو انہوں نے جواب میں کہا کہ : ”اوّل تو جاننا چاہئے کہ مسیح کے نزول کا عقیدہ کوئی ایسا عقیدہ نہیں ہے جو ہمارے ایمانیات کی کوئی جزو یا ہمارے دین کی رکنوں میں سے کوئی رکن ہو۔ بلکہ صدہا پیش گوئیوں میں سے یہ ایک پیش گوئی ہے جس کو حقیقت اسلام سے کچھ بھی تعلق نہیں۔ جس زمانے تک یہ پیش گوئی بیان نہیں کی گئی تھی اس زمانے تک اسلام کچھ ناقص نہیں تھا اور جب بیان کی گئی تو اس سے اسلام کچھ کامل نہیں ہو گیا۔“

(ازالۃ اوہام ص ١٤٠ ، خزائن ج ٣ ص ١٧١)

جب وفات مسیح کا عقیدہ عام ہو گیا تو پھر مرزا قادیانی نے فرمایا کہ میں احادیث کا منکر نہیں ۔ ان میں نزول مسیح کا جو ذکر آتا ہے۔ اس پر میرا ایمان ہے۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ:

آسکتے ۔

مسیح علیہ السلام کا مثیل ہوگا۔

”میرا دعویٰ یہ ہے کہ میں وہ مسیح ہوں جس کے بارے میں خدائے تعالیٰ کی تمام پاک کتابوں میں پیش گوئیاں ہیں کہ وہ آخر زمانہ میں ظاہر ہوگا ۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ١١٨، خزائن ج ١٧ ص ٢٩٥)

١٤٣

عالمی سیرت کانفرنس

مقالہ جات و

مسائل سیرت

عالمی سیرت کا

نفرنس کی روئداد

صفحہ ٥٦٤

جب کہا گیا کہ آپ اتنے عرصہ تک صرف وفات مسیح کا ذکر کرتے رہے۔ اس کے ساتھ ہی آپ نے یہ کیوں نہ کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پاگئے ہیں اور آنے والا مسیح میں ہوں تو آپ نے جواب میں فرمایا کہ اصل بات یہ ہے کہ اس زمانے میں مجھے خود بھی علم نہیں تھا کہ وہ آنے والا میں ہوں۔ فرماتے ہیں: ”پھر میں تقریباً بارہ برس تک جو ایک زمانہ دراز ہے۔ بالکل اس سے بے خبر اور غافل رہا کہ خدا نے مجھے بڑی شدومد سے براہین میں مسیح موعود قرار دیا ہے اور میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کے عقیدہ پر جما رہا۔ جب بارہ برس گزر گئے تب وہ وقت آگیا کہ میرے پر اصل حقیقت کھول دی جائے۔ تب تواتر سے اس بارہ میں الہامات شروع ہوئے کہ تو ہی مسیح موعود ہے۔“

(اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ١١٣)

مسیح موعود یعنی نبی

”اوائل میں میرا عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح سے کیا نسبت ہے۔ وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو اس کو میں جزوی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں خدا کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی۔ اس نے مجھے اس عقیدے پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دے دیا گیا۔ مگر اس طرح سے کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی۔“

(حقیقت الوحی ص ١٤٩، ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣، ١٥٤)

(یہ ایک طرح سے نبی اور ایک طرح سے امتی۔ اس لئے کہ احادیث میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے تو وہ ہوں گے تو نبی ہی۔ لیکن حضور ﷺ کے امتی ہوں گے)

انہوں نے شعوری طور پر تو اس اعتراض کا یہ جواب دیا۔ لیکن بعض اوقات ہزار احتیاط کے باوجود اصل بات غیر شعوری طور پر زبان سے نکل جاتی ہے۔ یہ وہ اصلی بات ہے جسے (اگرچہ) ہم اس سے پہلے بھی لکھ چکے ہیں۔ لیکن چونکہ اس کا زیادہ موزوں مقام یہ ہے۔ اس لئے اسے دوبارہ درج کیا جاتا ہے۔ اسے پھر ذہن میں دہرا لیجئے کہ مرزا قادیانی نے پہلے صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کا مسئلہ چھیڑا اور اپنے مسیح ہونے کی بات قطعاً نہ کی۔ ایسا کیوں کیا گیا۔ اس کے متعلق اصل بات سنئے۔ فرماتے ہیں: ”اب دیکھو یہ وہ الہامات براہین احمدیہ ہیں جن کا مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے ریویو لکھا تھا اور جن کو پنجاب اور ہندوستان کے تمام علماء نے قبول کرلیا تھا اور ان پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔ حالانکہ ان الہامات کے کئی مقامات پر اس خاکسار پر خدائے تعالیٰ کی طرف سے صلوٰۃ اور سلام ہے اور یہ الہامات اگر میری طرف سے اس موقعہ پر

١٤٤

صفحہ ٥٦٥

ظاہر ہوتے۔ جب کہ علماء مخالف ہو گئے تھے تو وہ لوگ ہزار ہا اعتراض کرتے۔ لیکن وہ ایسے موقع پر شائع کئے گئے۔ جب کہ یہ علماء میرے موافق تھے۔ یہی سبب ہے کہ باوجود اس قدر جوشوں کے ان الہامات پر انہوں نے اعتراض نہیں کیا۔ کیونکہ وہ ایک دفعہ ان کو قبول کر چکے تھے اور سوچنے سے ظاہر ہوگا کہ میرے دعویٰ مسیح موعود ہونے کی بنیاد انہی الہامات سے پڑی ہے اور انہی میں خدا نے میرا نام عیسیٰ رکھا اور جو مسیح موعود کے حق میں آیتیں تھیں۔ وہ میرے حق میں بیان کر دیں۔ اگر علماء کو خبر ہوتی کہ ان الہامات سے تو اس شخص کا مسیح ہونا ثابت ہوتا ہے تو وہ کبھی ان کو قبول نہ کرتے۔ یہ خدا کی قدرت ہے کہ انہوں نے قبول کر لیا اور اس پیچ میں پھنس گئے۔‘‘

(اربعین نمبر ٢ ص ٢١، خزائن ج ١٧ ص ٣٦٩)

آپ نے غور فرمایا کہ مرزا قادیانی نے پہلے ہی اپنے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیوں نہ کر دیا؟ یہ اس لئے کہ اگر پہلے ہی یہ دعویٰ کر دیا جاتا تو سب لوگ مخالف ہو جاتے۔ پہلے صرف حضرت مسیح علیہ السلام کی آمد کا نظریہ عام کیا گیا۔ جب لوگوں نے اسے تسلیم کر لیا اور اس پیچ میں پھنس گئے تو پھر اپنے مسیح ہونے کا دعویٰ کر دیا۔

اگر ہم نے اس کتاب کو خالصۃً علمی سطح پر نہ رکھنا ہوتا اور بحث و جدل کا عمومی انداز اختیار کیا ہوتا تو ہم بتاتے کہ جو شخص اس طرح دوسروں کو پیچ میں پھنسا کر اپنے دعویٰ پیش کرتا ہے۔ اس کا کردار کیسا ہوتا ہے اور اس کے دعووں کی حقیقت کیا؟ لیکن ہمیں اس بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ ارباب علم و عقل کے لئے اس اقتباس کے الفاظ کافی ہیں۔ میں نے احتیاطاً ربوہ سے شائع کردہ اربعین کا نسخہ بھی دیکھ لیا ہے تاکہ اقتباس کے کسی لفظ میں کمی بیشی نہ ہو۔

یہ ہے وہ طریق جس سے مرزا قادیانی مسیح موعود کے دعویٰ تک پہنچے۔

احمدی حضرات (بالخصوص لاہوری احمدی) بڑے فخر سے دعویٰ کیا کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت کر کے کسرِ صلیب کر دی ہے۔ یعنی عیسائیت کو ختم کر دیا ہے۔ انہیں کیا علم کہ مسیحی دنیا میں کسرِ صلیب کا کام کب سے شروع ہے اور خود یورپ کے مفکرین، مورخین اور محققین نے اس پر کس کس انداز سے ضربیں لگائی ہیں۔ زیادہ نہیں تو اگر نطشے کی (Anti-Christ) مارکس کے رفقاء میں سے فیور باخ کی (Essence of Christianity) اور انگلیز کی (Anti-Duhring) کا مطالعہ کر لیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ انہوں نے جس انداز سے انجیل میں پیش کردہ عیسائیت ہی نہیں بلکہ خود

١٤٥

صفحہ ٥٦٦

عالمی سیرت

تأثرات اکابر علماء

مقالات سیرت

مسائل سیرت

عالمی سیرت کانفرنس

کانفرنس کی کارروائی

عیسائیت کے بانی کی (معاذ اللہ) دھجیاں بکھیری ہیں۔ مرزا قادیانی کا تصور بھی اس تک نہیں پہنچ سکتا۔ ان سے آگے بڑھئے تو رینان کی (Life of Jesus) اور برٹرینڈ رسل کی (Why I am not a Christian) دیکھئے تو ان میں ایک ایک صفحہ پر صلیب کے ٹکڑے بکھرے ہوئے نظر آئیں گے۔ آپ وفات مسیح کہتے ہیں۔ عیسائی دنیا کے محققین (عیسائی لٹریچر کے مطالعہ کے بعد) یہاں تک کہنے لگ گئے ہیں کہ مسیح علیہ السلام نام کی کوئی تاریخ میں شخصیت ہی نہیں محض افسانہ ہے۔ حال ہی میں اٹلی کے ایک ممتاز اہل قلم (Marcello- Craveri) کی ارتعاش انگیز کتاب (Life of Jesus) اور لنڈن کے (Dr, Hughj. Schonfield) کی شہرہ آفاق تصنیف (The pass Over Plot) شائع ہوئی ہیں۔ جو دلائل اور حقائق ان میں پیش کئے گئے ہیں۔ مرزا قادیانی کے دلائل ان کے سامنے نصاب بچگان نظر آتے ہیں۔ عیسائی دنیا تو خود یہاں تک پہنچ چکی ہے۔ ان کے سامنے آپ کسر صلیب کا کارنامہ کیا پیش کریں گے؟ ویسے بھی عیسائی مملکتوں نے نظام سیکولر اختیار کر لیا ہے۔ جس میں مذہب کی کوئی اہمیت ہی نہیں رہتی۔ اس لئے انہیں اس کی پرواہ نہیں کہ کوئی شخص وفات مسیح کا قائل ہے یا حیات مسیح کا۔ (خود مرزا قادیانی نے بھی اسلام کو ایک مذہب کی حیثیت سے پیش کیا ہے۔ اسلام بحیثیت ایک دین، نظام حیات، ان کے حیطہ تصور میں بھی نہیں آتا تھا) حتیٰ کہ اگر آپ کچھ عیسائیوں کو مسلمان بھی کر لیں تو ان کے ہاں اس سے بھی کچھ فرق نہیں پڑتا۔ نہ ہی اس سے اسلام کا پلڑا جھک جاتا ہے۔ اس زمانے میں جبکہ مغربی فلسفۂ سیاست کی رو سے قوموں کی موت اور حیات، وطنیت اور قومیت کے نظریہ کے ساتھ وابستہ ہوچکی ہے۔ چند افراد کی تبدیلی مذہب کیا مؤثر حیثیت رکھتی ہے۔ اگر (مثلاً) پاکستان کے خلاف انگلستان کی جنگ ہو تو اس میں مسلمان انگریز بھی اسی طرح پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھائیں گے۔ جس طرح وہاں کے عیسائی انگریز یہی وہ حقیقت ہے جس کے پیش نظر علامہ اقبالؒ نے اپنی اس نظم میں جس کا عنوان ہے۔ ”اشاعت اسلام فرنگستان میں“ کہا تھا کہ ؎

ضمیر اس مدنیت کا دیں سے ہے خالی
فرنگیوں میں اخوت کا ہے نسب پہ قیام
بلند تر نہیں انگریز کی نگاہوں میں
قبول دین مسیحا سے برہمن کا مقام

١٤٦

یورپ میں مسلمان اس خیال کی نگاہ اس طرف کچھ کر رہی ہیں خودکاشتہ پودہ انگریز کو اس مجلس شوریٰ اور کسی کا

میں الجھا

رکھا گیا ہے یاد رکھئے! ہی دور لے جا کی اپنی آزاد

صفحہ ٥٦٧

٥ ہیں۔ مرزا قادیانی کا تصور بھی اس تک نہیں پہنچ (Why I اور برٹرینڈ رسل کی (Life of J میں ایک ایک صفحہ پر صلیب کے ٹکڑے بکھرے عیسائی دنیا کے محققین (عیسائی لٹریچر کے مطالعہ اسلام نام کی کوئی تاریخ میں شخصیت ہی نہیں محض م (Marcello- Craveri) کی ارتعاش کی (Dr, Hugh J. Schonfield) The) شائع ہوئی ہیں۔ جو دلائل اور حقائق ان ان کے سامنے نصاب بچگانہ نظر آتے ہیں۔ کے سامنے آپ کر صلیب کا کارنامہ کیا پیش سیکولر اختیار کر لیا ہے۔ جس میں مذہب کی کوئی نہیں کہ کوئی شخص وفات مسیح کا قائل ہے یا حیات ایک مذہب کی حیثیت سے پیش کیا ہے۔ اسلام تصور میں بھی نہیں آتا تھا) حتیٰ کہ اگر آپ کچھ سے بھی کچھ فرق نہیں پڑتا۔ نہ ہی اس سے اسلام کی فلسفہ سیاست کی رو سے قوموں کی موت اور وابستہ ہو چکی ہے۔ چند افراد کی تبدیلی مذہب کیا کے خلاف انگلستان کی جنگ ہو تو اس میں مسلمان اٹھائیں گے۔ جس طرح وہاں کے عیسائی انگریز نے اپنی اس نظم میں جس کا عنوان ہے۔ ”اشاعت

دیں سے ہے خالی
کا ہے نسب پہ قیام
کی نگاہوں میں
سے برہمن کا مقام

یہ

اگر قبول کرے دین مصطفیٰ انگریز
سیاہ روز مسلماں رہے گا پھر بھی غلام

یورپ میں اشاعت اسلام کے ڈھنڈورے اس لئے پیٹے جاتے ہیں کہ سادہ لوح مسلمان اس خیال میں مست رہے کہ مغربی اقوام میں اسلام کو فروغ حاصل ہو رہا ہے اور اس کی نگاہ اس طرف اٹھنے ہی نہ پائے کہ اقوام مغرب اسلام کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے کیا کچھ کر رہی ہیں۔ اشاعت اسلام کے یہ سحر آفریں، خواب آور افسانے ، درحقیقت فرنگی کے اس خود کاشتۂ پودے کے برگ و بار ہیں۔ جو پچھلی صدی میں بویا گیا تھا۔ اگر آپ سمجھنا چاہیں کہ انگریز کو اس پودے کے لگانے کی ضرورت کیا تھی تو ارمغان حجاز میں علامہ اقبالؒ کی نظم ابلیس کی مجلس شوریٰ کا غائر نگاہوں سے مطالعہ کیجئے۔ اس میں ابلیس اپنے مشیروں سے کہتا ہے کہ میں اور کسی بات سے نہیں ڈرتا۔

عصرِ حاضر کے تقاضاؤں سے ہے لیکن یہ خوف
ہو نہ جائے آشکارا شرعِ پیغمبرؐ کہیں

اس کے لئے اس نے اپنے مشیروں کو نسخہ یہ بتایا تھا کہ تم مسلمانوں کو اس قسم کے مسائل میں الجھائے رکھو کہ؎

ابن مریم مر گیا یا زندہ جاوید ہے
ہیں صفات ذات حق ، حق سے جدا یا عین ذات
آنے والے سے مسیحِ ناصری مقصود ہے
یا مجدد جس میں ہوں فرزندِ مریم کے صفات

مسلمانوں کو ان مباحث میں الجھائے رکھو اور اس طرح؎

تم اسے بے گانہ رکھو عالمِ کردار سے
تا بساطِ زندگی میں اس کے سب مہرے ہوں مات

یہ تھا وہ پروگرام جسے انگریز نے تجویز کیا تھا اور جس میں مسلمان کو بری طرح الجھائے رکھا گیا ہے اور جس جال کے حلقے اب اشاعت اسلام کے پراپیگنڈے سے کسے جا رہے ہیں۔ یاد رکھئے! جو لوگ اسلام کو بحیثیت ایک مذہب کے دنیا میں پیش کریں گے وہ مسلمان کو دین سے اتنا ہی دور لے جائیں گے۔ دین یہ بتاتا ہے کہ اسلام ایک زندہ حقیقت نہیں بن سکتا۔ جب تک اس کی اپنی آزاد مملکت نہ ہو جس میں قرآن کے احکام کو ملی قوانین کی حیثیت سے نافذ کیا جائے اور

١٤٧

صفحہ ٥٦٨

زندگی کا ہر نظام اس کے اصولوں کے تابع ہو۔ اس کے برعکس مذہب اس فریب میں مبتلا رکھتا ہے کہ مسلمان، کفار کی محکومی میں بھی نہ صرف سچا اور پکا مسلمان بن کر رہ سکتا ہے۔ بلکہ ایسے روحانی مراتب حاصل کر سکتا ہے جن سے وہ ولی اللہ، محدث، مجدد، مہدی، مثیل مسیح بلکہ نبی اور رسول بھی بن سکتا ہے اور اپنی اس خدمت جلیلہ کو فخر کے ساتھ پیش کرتا ہے کہ: ”میں سولہ برس سے اپنی تالیفات میں اس بات پر زور دے رہا ہوں کہ مسلمانان ہند پر اطاعت گورنمنٹ برطانیہ فرض اور جہاد حرام ہے۔“

(اشتہار مرزا غلام احمد قادیانی مورخہ ١٠ دسمبر ١٨٩٤ء، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٢٨)

مسیح موعود پر ایمان

بحث کو ختم کرنے کی غرض سے ہم مان لیتے ہیں کہ لاہوری جماعت کا عقیدہ یہی ہے کہ مرزا قادیانی مسیح موعود تھے اور بس۔ اس کے بعد وہ کہتے ہیں کہ مسیح موعود کے عقیدہ کا کفر یا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ اسے نہ ماننے سے کوئی دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہو جاتا۔ آیئے ذرا ان کے اس دعویٰ کا جائزہ لیں۔ مرزا قادیانی کا ارشاد ہے: ”میں خدا کا ظلی اور بروزی طور پر نبی ہوں اور ہر ایک مسلمان کو دینی امور میں میری اطاعت واجب ہے اور مجھے مسیح موعود ماننا واجب ہے اور ہر ایک جس کو میری تبلیغ پہنچ گئی ہے گو وہ مسلمان ہے، مگر مجھے اپنا حکم نہیں ٹھہراتا اور نہ مجھے مسیح موعود مانتا ہے اور نہ میری وحی کو خدا کی طرف سے جانتا ہے۔ وہ آسمان پر قابل مؤاخذہ ہے۔ کیونکہ جس امر کو اس نے اپنے وقت پر قبول کرنا تھا۔ اس کو رد کر دیا۔“

(تحفۃ الندوہ ص ٤،٣، خزائن ج ١٩ ص ٩٥)

لاہوری جماعت کے ترجمان، پیغام صلح نے اپنی ٢٠؍ فروری ١٩٧٤ء کی اشاعت کے صفحہ اوّل پر مرزا قادیانی کا یہ قول شائع کیا۔

”اب یہ امر صاف ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے مامور اور مسیح موعود کے نام سے دنیا میں بھیجا ہے۔ جو شخص میری مخالفت کرنے والے ہیں وہ میری نہیں، اللہ کی مخالفت کرتے ہیں۔ ان نادانوں کو یہ بھی معلوم نہیں کہ کفر اور ایمان کا تعلق دنیا سے نہیں خدائے تعالیٰ کے ساتھ ہے اور خدائے تعالیٰ میرے مؤمن اور مامور ہونے کی وجہ سے تصدیق کرتا ہے۔ پھر ان کی بیہودگیوں کی مجھے کیا پرواہ ہو سکتی ہے۔ غرض ان باتوں سے صاف پایا جاتا ہے کہ یہ لوگ میرے مخالف نہ تھے۔ بلکہ خدا تعالیٰ کی باتوں کی انہوں نے مخالفت کی اور یہی وجہ ہے جس سے مامور من اللہ کے مخالفوں کا ایمان سلب ہو جاتا ہے۔“

١٤٨

صفحہ ٥٦٩

مرزا قادیانی نے اپنی ایک تقریر میں جسے (سابق) امیر جماعت احمدیہ لاہور، مولوی محمد علی نے اپنی کتاب النبوۃ فی الاسلام میں نقل کیا۔ فرمایا: ”دیکھو جس طرح جو شخص اللہ اور اس کے رسول اور اس کی کتاب کو ماننے کا دعویٰ کر کے ان کے احکام کی تفصیلات مثلاً نماز، روزہ، حج، زکوۃ، تقویٰ، طہارت کو بجا نہ لائے اور ان احکام کو جو تزکیہ نفس، ترک شر اور حصولِ خیر کے متعلق نافذ ہوئے ہیں۔ چھوڑ دے وہ مسلمان کہلانے کا مستحق نہیں اور اس پر ایمان کے زیور سے آراستہ ہونے کا اطلاق صادق نہیں آسکتا۔ اسی طرح جو شخص مسیح موعود کو نہیں مانتا یا ماننے کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ وہ بھی حقیقت اسلام اور غایت نبوت اور غرض رسالت سے بیخبر محض ہے اور وہ اس بات کا حقدار نہیں ہے کہ اس کو سچا مسلمان، خدا اور رسول کا سچا تابعدار اور فرمانبردار کہہ سکیں۔ کیونکہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے ذریعے قرآن شریف میں اور احکام دیئے ہیں۔ اسی طرح سے آخری زمانے میں ایک خلیفہ کے آنے کی پیش گوئی بھی بڑے زور سے بیان فرمائی ہے اور اس کے نہ ماننے والوں اور اس سے انحراف کرنے والوں کا نام فاسق رکھا ہے۔“

(النبوۃ فی الاسلام ص٢١٢، ٢١٥)

یہ صریح جھوٹ ہے اور خدا کے خلاف افتراء قرآن کریم میں کہیں ایسا نہیں کہا گیا۔

بہر حال ان مقامات میں مرزا قادیانی نے الفاظ کے انتخاب میں تھوڑی سی احتیاط برتی ہے۔ اس پیچ کے بعد بات نکھر کر سامنے آجاتی ہے۔ انہوں نے کہا: ”علاوہ اس کے جو مجھے نہیں مانتا۔ وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔ کیونکہ میری نسبت خدا اور رسول کی پیش گوئی موجود ہے۔ اب جو شخص خدا اور رسول کے احکام کو نہیں مانتا اور قرآن کی تکذیب کرتا ہے اور عمداً خدا کے نشانوں کو ردّ کرتا ہے اور مجھ کو باوجود صدہا نشانیوں کے مفتری ٹھہراتا ہے تو وہ مؤمن کیونکر ہوسکتا ہے اور اگر وہ مؤمن ہے تو میں بوجہ افتراء کرنے کے کافر ٹھہرا۔ کیونکہ میں ان کی نظر میں مفتری ہوں۔“

(حقیقت الوحی ص١٦٣،١٦٤، خزائن ج٢٢ ص١٦٨)

ان اقتباسات کی روشنی میں ہم لاہوری جماعت سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ جو شخص مرزا قادیانی کو مامور من اللہ یا مسیح موعود نہیں مانتا۔ اسے آپ مسلمان تسلیم کرتے ہیں یا نہیں؟ اگر آپ اسے مسلمان نہیں مانتے تو آپ میں اور قادیانیوں میں فرق کیا رہا اور اگر اسے مسلمان سمجھتے ہیں تو پھر مرزا قادیانی (خود اپنے الفاظ کی رو سے) کافر ٹھہرے۔ کیا آپ انہیں کافر سمجھتے ہیں یا نہیں؟

١٤٩

صفحہ ٥٧٠

اور آگے بڑھئے۔ اس کتاب (حقیقت الوحی) میں ذرا آگے چل کر مرزا قادیانی نے بات اور بھی واضح کر دی ہے۔ (جیسا کہ پہلے بھی لکھا جاچکا ہے ) وہ کہتے ہیں: ”کفر دو قسم پر ہے۔ ایک کفر یہ ہے کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرت ﷺ کو رسول نہیں مانتا۔ دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے۔ جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے۔ کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔“

(حقیقت الوحی ص ١٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥)

اسی بناء پر مرزا قادیانی نے کہا تھا کہ انہیں خدا کی طرف سے الہام ہوا ہے کہ: ”جو تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے۔“ (اشتہار معیار الاخیار مورخہ ٢٥ مئی ١٩٠٠ء ص ٨، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٥)

مرزا قادیانی کے ان بیانات اور الہامات کی روشنی میں دیکھئے کہ لاہوری جماعت کا یہ دعویٰ کہ مرزا قادیانی کو مسیح موعود نہ ماننے سے کوئی شخص کافر نہیں ہو جاتا۔ کس قدر فریب دہی ہے۔

قول فیصل

آخر میں ہم ایک ایسا نکتہ سامنے لانا چاہتے ہیں جو اس باب میں حرف آخر اور قول فیصل کا حکم رکھتا ہے۔ مرزا قادیانی کا یہ فیصلہ ہے جسے لاہوری جماعت اپنے ہاں بار بار دہراتی رہتی ہے کہ: ”ہم پختہ یقین کے ساتھ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن شریف خاتم کتب سماوی ہے اور ایک شوشہ یا نقطہ اس کی شرائع اور حدود اور احکام اور اوامر سے زیادہ نہیں ہو سکتا اور نہ کم ہو سکتا ہے اور اب کوئی ایسی وحی یا الہام منجانب اللہ نہیں ہو سکتا جو احکام فرقان کی ترمیم و تنسیخ یا کسی ایک حکم کی تبدیلی یا تغیر کر سکتا ہو اور اگر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ ہمارے نزدیک جماعت مومنین سے خارج اور ملحد اور کافر ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ١٣٧، ١٣٨، خزائن ج ٣ ص ١٧٠)

اور یہ قرآن کریم کے ارشاد کے عین مطابق ہے جس نے کہا ہے کہ: ﴿لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِہٖ (الانعام: ١١٥)﴾ ”احکام خداوندی کو کوئی بدل نہیں سکتا۔“

جیسا کہ پہلے بھی لکھا جا چکا ہے۔ یوں تو قرآن کریم کا ہر ( چھوٹا بڑا ) حکم، حکم خداوندی ہے اور مرزا قادیانی کے مندرجہ بالا فیصلہ کا ان سب پر یکساں اطلاق ہوتا ہے۔ لیکن قرآن کریم

١٥٠

صفحہ ٥٧١

نے جہاد (قتال بالسیف، تلوار کے ساتھ جنگ) کو جو اہمیت دی ہے وہ کسی بھی مسلمان سے پوشیدہ نہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان کے بعد قرآنی اعمال صالحہ کی فہرست میں سب سے اوپر اس جہاد (قتال بالسیف) کا نام آتا ہے۔ اس نے مؤمنین کی خصوصیت یہ بتائی ہے کہ : ”ان الله اشتری من المؤمنين انفسهم واموالهم بان لهم الجنة يقاتلون في سبيل الله فيقتلون ويقتلون وعدا عليه حقاً في التوراة والانجيل والقرآن (التوبه:١١١) ”یہ حقیقت ہے کہ خدا نے مؤمنین سے ان کی جانیں بھی خرید لی ہیں اور مال بھی اور اس کے عوض انہیں جنت کی زندگی عطاء کر دی ہے۔ یہ اللہ کی راہ میں جنگ (جہاد بالسیف) کرتے ہیں۔ جس میں دشمنوں کو قتل بھی کرتے ہیں اور خود بھی قتل ہو جاتے ہیں۔ (خدا کا یہ وعدہ کوئی نیا وعدہ نہیں ۔ اس نے یہ وعدہ ) توریت اور انجیل میں بھی کیا تھا اور اب اسے قرآن میں بھی دہرایا جاتا ہے۔ ﴾

اس سے ظاہر ہے کہ کسی شخص کے مؤمن ہونے کی بنیادی شرط یہ ہے کہ وہ قتال فی سبیل اللہ کے لئے ہر وقت تیار رہے کہ جہاں تک اس عمل کی افضلیت کا تعلق ہے واضح الفاظ میں کہا گیا ہے کہ: ”ولا تقولوا لمن يقتل في سبيل الله اموات (البقره:١٥٤) ﴿ان لڑائیوں میں جان دے دینے والوں کو مردہ مت کہو وہ زندہ ہیں۔ ﴾ انہیں مردہ کہنا تو ایک طرف تاکید کر دی کہ : ”ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله امواتا (آل عمران:١٦٩) ﴿ان کے متعلق خیال تک بھی نہ کرو کہ وہ مردہ ہیں۔ ﴾

اس حکم کی تحکیمیت کے متعلق انہیں بتا دیا گیا کہ اگر تم میں یہ جذبہ باقی نہ رہا اور تم نے اس سے راہ فرار اختیار کر لی تو یاد رکھو اس سے تمہاری ملی ہستی فنا ہو جائے گی۔ تم مٹ جاؤ گے۔ تمہارا وجود باقی نہ رہے گا ۔ ”الا تنفروا يعذبكم عذاباً اليما، ويستبدل قوماً غيركم ولا تضروه شيئا (التوبه:٣٩) ”﴿اگر تم جنگ کے لئے نہ نکلے تو تمہیں الم انگیز سزا ملے گی اور خدا تمہاری جگہ کسی اور قوم کو لا کھڑا کرے گا اور تم اس کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکو گے۔ ﴾

یعنی قتال اور مسلمانوں کی ملی ہستی لازم وملزوم ہیں۔ اگر ان میں جذبہ قتال نہ رہا تو ان کا وجود بھی باقی نہیں رہے گا۔

قرآن کریم میں جہاد بالسیف کے متعلق اس قسم کی متعدد آیات آئی ہیں۔ لیکن ہم اس مقام پر صرف انہی پر اکتفا کرتے ہیں۔ ان کی بابت ہر مسلمان کو بخوبی علم ہے۔

جس جہاد بالسیف کی اس قدر تاکید اور جس کی اس قدر اہمیت اور فضیلت ہے۔ اس

١٥١

صفحہ ٥٧٢

کے متعلق مرزا قادیانی نے جو کچھ کہا ہے۔ اسے پہلے بھی درج کیا جا چکا ہے۔ موضوع کی اہمیت کے پیش نظر اس کا ایک ٹکڑا دوبارہ ملاحظہ فرمائے ۔ مرزا قادیانی نے کہا کہ: ”آج سے انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا تھا۔ خدا کے حکم سے بند کیا گیا ۔ اب اس کے بعد جو شخص کافر پر تلوار اٹھاتا اور اپنا نام غازی رکھتا ہے وہ اس رسول کریم ﷺ کی نافرمانی کرتا ہے۔ جس نے آج سے تیرہ سو برس پہلے فرمایا کہ مسیح موعود کے آنے پر تمام تلوار کے جہاد ختم ہو جائیں گے ۔ سو اب میرے ظہور کے بعد تلوار کا کوئی جہاد نہیں۔ ہماری طرف سے امان اور صلح کاری کا سفید جھنڈا بلند کیا گیا ۔“

(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٢٩٥)

اس کی وضاحت میں مرزا قادیانی نے جو نظم لکھی تھی اسے ہم پہلے درج کر چکے ہیں اور یہ بھی بتا چکے ہیں کہ جہاد کو حرام قرار دینے کے سلسلہ میں انہوں نے اتنا کچھ لکھا جس سے (بقول ان کے ) پچاس الماریاں بھر جائیں ١؎

(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥)

لاہوری جماعت کو اس کا اقرار ہے کہ مرزا قادیانی نے واقعی تلوار کے جہاد کو منسوخ قرار دے دیا۔ پیغام صلح بابت ٢٨/ جولائی ١٩٧١ء کے افتتاحیہ میں اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہ مرزا قادیانی نے جہاد کو حرام قرار دیا تھا۔

”معلوم ہونا چاہئے کہ جہاد دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک وہ جہاد جو ارشاد الٰہی ”قاتلوا فی سبیل اللہ الذین یقاتلونکم“ کی تعمیل میں کفار کے حملہ کے جواب میں قتال کی صورت میں کیا جاتا ہے اور دوسری قسم کا جہاد اسلام پر اعتراضات کے دفعیہ اور تبلیغ اسلام کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس دوسری قسم کے جہاد کو حضرت رسول کریم ﷺ نے جہاد اکبر قرار دیا ہے۔ مرزا قادیانی نے جہاد کو مطلقاً منسوخ نہیں کیا۔ انہوں نے علمائے اسلام کی تائید میں ٢؎ جہاد اصغر (یا تلوار کے جہاد کو) منسوخ قرار دیتے ہوئے نبی اکرم ﷺ کے ارشاد کی تعمیل میں جہاد اکبر کو جاری رکھا ۔“

١؎ واضح رہے کہ کسی غیر کو بزور شمشیر مسلمان کرنا قرآن کی رو سے قطعاً جائز نہیں۔ جہاد بالسیف دین کی حفاظت کے لئے ہے۔ اسی کو مرزا قادیانی حرام قرار دیتے اور منسوخ ٹھہراتے ہیں۔

٢؎ جن علماء نے ایسا کیا تھا وہ اسی جرم کے مرتکب تھے۔ ان کے کسی مسلک کو سند کے طور پر پیش کرنا عام مسلمانوں کے نزدیک بھی قابل نہیں قرار پا سکتا۔ چہ جائیکہ اسے ایک مامور من اللہ کے دعویٰ کی تائید میں پیش کیا جائے۔ ویسے بھی مرزا قادیانی کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے جہاد کو خدا کے حکم سے بند کیا ہے۔

١٥٢

صفحہ ٥٧٢

رہا ہے۔ اس سے پہلے بھی درج کیا جا چکا ہے۔ موضوع کی اہمیت ملاحظہ فرمائے۔ مرزا قادیانی نے کہا کہ: ”آج سے انسانی جہاد سے بند کیا گیا۔ اب اس کے بعد جو شخص کافر پر تلوار اٹھاتا اور اپنا ل ﷺ کی نافرمانی کرتا ہے۔ جس نے آج سے تیرہ سو برس مام تلوار کے جہاد ختم ہو جائیں گے۔ سو اب میرے ظہور کے بعد رف سے امان اور صلح کاری کا سفید جھنڈا بلند کیا گیا۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٩٥)

مرزا قادیانی نے جو نظم لکھی تھی اسے ہم پہلے درج کر چکے ہیں اور ر دینے کے سلسلہ میں انہوں نے اتنا کچھ لکھا جس سے (بقول ان کے)

(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥)

کا اقرار ہے کہ مرزا قادیانی نے واقعی تلوار کے جہاد کو منسوخ لائی ١٩١٧ء کے افتتاحیہ میں اس اعتراض کا جواب دیتے قرار دیا تھا۔

جہاد دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک وہ جہاد جو ارشاد الٰہی ’قاتلوا فی کی تعمیل میں کفار کے حملہ کے جواب میں قتال کی صورت میں سلام پر اعتراضات کے دفعیہ اور تبلیغ اسلام کی صورت میں ہوتا ضرت رسول کریم ﷺ نے جہاد اکبر قرار دیا ہے۔ مرزا قادیانی انہوں نے علمائے اسلام کی تائید میں ”جہاد اصغر (یا تلوار کے ی اکرم ﷺ کے ارشاد کی تعمیل میں جہاد اکبر کو جاری رکھا۔“ کو بزور شمشیر مسلمان کرنا قرآن کی رو سے قطعاً جائز نہیں۔ لئے ہے۔ اسی کو مرزا قادیانی حرام قرار دیتے اور منسوخ اعتقاد اسی جرم کے مرتکب تھے۔ ان کے کسی مسلک کو سند کے کو نیک بھی قابل نہیں قرار پا سکتا۔ چہ جائیکہ اسے ایک مامور من جائے۔ ویسے بھی مرزا قادیانی کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے جہاد کو ١٥٢

٥٧٣ ہم جہاد اکبر اور جہاد اصغر کی تمیز و تفریق میں نہیں الجھنا چاہتے۔ قرآن کریم میں ایسی کوئی تفریق نہیں۔ ان حضرات کو بہر حال یہ تسلیم ہے کہ مرزا قادیانی نے تلوار کے جہاد کو منسوخ قرار دیا تھا۔ تلوار کے جہاد کا حکم قرآن مجید میں موجود ہے اور ایک جگہ نہیں، متعدد مقامات میں موجود ہے اور مرزا قادیانی نے فرمایا تھا کہ: ”اب کوئی ایسی وحی یا الہام منجانب اللہ نہیں ہو سکتا جو احکام فرقانی کی ترمیم یا تنسیخ یا کسی ایک حکم کی تبدیلی یا تغیر کر سکتا ہو اور اگر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ ہمارے نزدیک جماعت مومنین سے خارج اور ملحد اور کافر ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ١٣٨، خزائن ج ٣ ص ١٧٠)

قرآن کریم کے حکم کو منسوخ قرار دینے کی بناء پر مرزا قادیانی خود اپنے فیصلے کے مطابق ”جماعت مومنین سے خارج ملحد اور کافر“ قرار پاجاتے ہیں۔ لہٰذا انہیں مامور من اللہ، مجدد، مسیح موعود وغیرہ تسلیم کرنا تو ایک طرف، انہیں مسلمان بھی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ نہ صرف انہیں بلکہ جو شخص انہیں مسلمان تسلیم کرے خود اسے بھی مسلمان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ان تصریحات سے واضح ہے کہ احمدی حضرات (خواہ قادیانی ہوں اور خواہ لاہوری) مرزا قادیانی کے دعویٰ کو سچا سمجھنے کی بناء پر دائرہ اسلام سے خارج قرار پاجاتے ہیں اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انکار ہی نہیں کیا جا سکتا۔ ہم نے اس جگہ اور اس سے پہلے بھی کئی ایک مقامات پر کہا ہے کہ ان دلائل کی رو سے جو متعلقہ مقامات میں پیش کئے گئے ہیں۔ مرزا قادیانی اور ان کے متبعین، امت محمدیہ کے افراد (مسلمان) تسلیم نہیں کئے جا سکتے۔ یہ قرآنی بصیرت کے مطابق ہماری اپنی رائے ہے جو قول فیصل کی حیثیت نہیں رکھ سکتی۔ اصل یہ ہے کہ کسی فرد یا افراد کی جماعت کو یہ حق ہی حاصل نہیں ہوتا کہ وہ کسی کے کفر و اسلام کے متعلق فیصلہ کرے۔ وہ صرف اپنی رائے پیش کر سکتا ہے۔ اس کا حق صرف اسلامی مملکت کو حاصل ہوتا ہے جو آئینی طور پر فیصلہ کرتی ہے کہ مسلم کون ہے اور غیر مسلم کون؟

آئیے ہم دیکھیں کہ آئین پاکستان کی رو سے احمدیوں کی پوزیشن کیا ہے۔

آٹھواں باب ...... آئینی پوزیشن

مرزا قادیانی نے اپنی اٹھائیس سالہ زندگی بحیثیت داعی میں جو مختلف دعوے کئے ان کی تفصیل گذشتہ صفحات میں آپ کے سامنے آچکی ہے۔ چونکہ وہ دعاوی مختلف صفحات پر بکھرے ہوئے ہیں۔ ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ مختصر الفاظ میں انہیں یکجا کر دیا جائے۔ تاکہ بیک نظر پوری تصویر سامنے آجائے۔ ان کی دعاوی کی فہرست یوں مرتب ہوتی ہے۔ ١٥٣

مقالات و جائزے عالمی سیرت کانفرنس پیغام حق عالمی سیرت کانفرنس کے مقالات کا جائزہ

صفحہ ٥٧٤

قائل۔

اور میں اسی نہج سے نبی ہوں۔

صاحب شریعت جدیدہ، کہ قرآن کریم کے جہاد (قتال بالسیف) جیسے حکم کو منسوخ بلکہ حرام قرار دے دیا۔

ان سے ہر معاملہ میں علیحدگی اور قطع تعلق۔

ان کے ان دعاوی کے سلسلے میں ہمارے علماء حضرات نے ان سے مناظرے کرنے شروع کئے اور ان پر کفر کے فتوے لگائے۔ علماء کی طرف سے عائد کردہ کفر کے فتوؤں کی حیثیت کیا ہوتی ہے اور درحقیقت ہونا کیا چاہئے یہ بات سمجھنے کے قابل ہے۔

زندگی یا ضابطۂ حیات۔ یہ نظام یا ضابطہ عملی شکل اپنی آزاد مملکت میں اختیار کر سکتا ہے۔ اس مملکت میں اس کے احکام واقتدار قوانین حکومت کی حیثیت سے نافذ ہوتے ہیں۔ اگر اپنی مملکت نہ ہو تو ان کی حیثیت محض وعظ یا اخلاقیات کی رہ جاتی ہے۔

لئے وجود میں آئے۔ اسے اسلامی مملکت کہا جاتا ہے۔ جس کا ضابطہ آئین وقوانین قرآن کریم ہوتا ہے۔

١٥٤

صفحہ ٥٧٥

قرآنی احکام واقدار واصول کو عملاً نافذ کرنے کی اس سے یہ بھی واضح ہے کہ یہ فریضہ صرف امت مسلمہ کے افراد سرانجام دے سکتے ہیں۔ غیر مسلم اس میں شریک نہیں ہو سکتے۔

اوپر کہا جا چکا ہے ) غیر مسلم، نہ امور مملکت میں دخیل ہو سکتے ہیں، نہ رموز حکومت میں شریک ۔اس اعتبار سے اسلامی مملکت میں دو الگ الگ گروہ آباد ہوں گے...... مسلم اور غیر مسلم ...... اس کو دو قومی نظریہ کہا جاتا ہے۔

انہیں تمام انسانی حقوق حاصل ہوتے ہیں اور مملکت ان کے جان، مال، عزت آبرو، معابد کی حفاظت کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ نیز انہیں مذہبی آزادی بھی حاصل ہوتی ہے۔

خط امتیاز کھینچنا مملکت کا اولین فریضہ ہوتا ہے۔ کیونکہ ان دونوں کی آئینی پوزیشن الگ الگ ہوتی ہے۔

والے مسلم اور غیر مسلم ایک دوسرے سے بالکل ممیز اور الگ الگ تھے۔ یعنی مملکت آئینی طور پر طے کرتی تھی کہ مسلم کون ہیں اور غیر مسلم کون ۔ مملکت کے سوا کسی کو کسی کے کفر و اسلام کے متعلق فیصلہ کرنے کا حق حاصل نہیں تھا۔

اور مملکت (یوں سمجھئے گویا) سیکولر ہوگئی۔ جب مملکت کے باشندوں کے کفر و اسلام کا فیصلہ کرنا مملکت کا آئینی فریضہ نہ رہا تو اسے مذہبی پیشوائیت نے اپنے حیطۂ اقتدار میں لے لیا۔ انہوں نے کفر اور اسلام کے فتاویٰ صادر کرنے شروع کر دیئے ۔ یہ ظاہر ہے کہ ان فتاویٰ کی حیثیت ان کی ذاتی آراء کی سی تھی۔ لیکن یہاں ایک اور عقیدہ وضع کرلیا گیا ۔ وہ یہ کہ جس مسلمان کے متعلق یہ حضرات فتویٰ صادر کر دیتے کہ اس نے اسلام چھوڑ دیا ہے۔ اسے مرتد قرار دے دیا جاتا اور مرتد کی سزا قتل ۔ یاد رہے کہ اسلام چھوڑ دینے سے مراد یہی نہیں کہ وہ مسلمان، عیسائی، یہودی یا مجوسی وغیرہ ہو جاتا۔ جس مسلمان کے متعلق یہ کہہ دیتے کہ اس کے عقائد اسلام کے مطابق نہیں رہے۔ (یعنی ان حضرات کے عقائد کے مطابق نہیں رہے) اسے مرتد قرار دے کر قتل کر دیا جاتا۔ ان

١٥٥

صفحہ ٥٧٦

فتاویٰ کی رو سے جس قدر مسلمانوں کا خون خود مسلمانوں کے ہاتھوں بہا ہے۔ اس کے چھینٹوں سے ہماری تاریخ کے اوراق لالہ زار بنے چلے آ رہے ہیں۔ یہ عقیدہ قرآن کریم کی کھلی ہوئی تعلیم کے خلاف ہے۔ وہ مذہبی آزادی کا علمبردار ہے اور تبدیلی مذہب کو جرم قرار نہیں دیتا۔ اسی لئے میں نے کہا ہے کہ یہ عقیدہ وضع کردہ ہے،۔ اس لئے کہ جو عقیدہ یا نظریہ قرآن کریم کے خلاف ہوگا وہ بعد کا وضع کردہ ہوگا۔ چونکہ میں اس موضوع پر بہت کچھ لکھ چکا ہوں۔ اس لئے اس مقام پر اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔ اس سوال سے دلچسپی رکھنے والے حضرات ادارہ طلوع اسلام کی طرف سے شائع کردہ کتابچہ قتل مرتد کا مطالعہ کریں۔

دے دی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہمارے علماء کفر کے فتوے تو بدستور صادر کرتے رہے۔ لیکن ان کے نتیجہ میں کسی کا خون نہ بہا۔ ان کے فتاویٰ کفر کی بے محابیوں کا یہ عالم تھا (اور ہے) کہ مسلمانوں کا کوئی فرقہ ایسا نہیں جس پر دوسرے فرقوں کے علماء نے کفر کا فتویٰ نہ لگایا ہو۔ بالفاظ دیگر اس وقت عالم اسلام میں شاید ہی کوئی مسلمان ایسا ہو جو ان کے فیصلوں کے مطابق کافر نہ قرار پا چکا ہو۔ لیکن ان فتوؤں سے کسی کا کچھ نہیں بگڑتا تھا۔ وہ ویسے کا ویسا مسلمان رہتا تھا۔ (اور رہتا ہے) اس سے البتہ اتنا ضرور ہوتا ہے کہ یہ حضرات وقتی طور پر عوام کو مشتعل کر دیتے اور اس شخص کے پیچھے لگا دیتے ہیں۔ جس پر یہ کفر کا فتویٰ عائد کر دیں۔

دعاوی (منجملہ دعویٰ نبوت) کئے۔ علماء نے حسب معمول ان پر کفر کے فتوے لگائے۔ لیکن (جیسا کہ اوپر کہا گیا ہے) ان کی حیثیت محض نظری رہی۔

نبوت کے دعویٰ کئے تو خود ہی مسلمانوں سے الگ ہو گئے۔ لہٰذا ان کے ساتھ کسی قسم کا جھگڑا، تنازعہ نہ رہا۔ ان کی حیثیت ویسی ہی ہوگئی جیسی دیگر اہل مذاہب کی تھی۔ لیکن مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت کیا تو کہا کہ مسلمان وہ ہیں جو میرے متبعین ہیں جو مجھے نہیں مانتا وہ مسلمان ہی نہیں یعنی انہوں نے اپنے سوا ساری دنیا کے مسلمانوں کو کافر قرار دے دیا۔

لیکن جس طرح (ہندوستان میں) ہمارے علماء کے فتوے سے مرزا قادیانی اور ان کے متبعین کا کچھ نہ بگڑا اسی طرح مرزا قادیانی کے فتوے سے ان پر کوئی اثر نہ ہوا۔

١٥٦

صفحہ ٥٧٧

مسلمانان ہند نے ایک اسلامی مملکت متشکل کرنے کا طے کرلیا۔ جس کی بنیاد دو قومی نظریہ پر تھی۔ یہ مملکت ١٩٤٧ء میں وجود میں آگئی۔ اس مملکت کے کرنے کا پہلا کام یہ تھا کہ یہاں دو قومی نظریہ کو عملاً متشکل کرتے۔ یعنی مسلمانوں اور غیر مسلموں کا تعین کرتے اور انہیں ایک دوسرے سے الگ الگ قرار دیتے۔ اس سے کفر بازی کا سلسلہ بھی ختم ہو جاتا اور مرزا قادیانی کے متبعین کی آئینی حیثیت بھی متعین ہو جاتی۔ لیکن مملکت پاکستان نے دو قومی نظریہ کو بالائے طاق رکھ دیا۔ اگرچہ ان الفاظ کو برابر دہراتے رہے اور دہراتے چلے جا رہے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ یہاں باہمی تکفیر کا سلسلہ بھی بدستور جاری رہا۔ لیکن چونکہ یہاں بھی مذہبی آزادی کی ضمانت حسب سابق دی گئی تھی۔ اس لئے ارتداد کی بناء پر قتل کی نوبت نہ آئی۔ یہ جو ہمیں بار بار یہ آواز سنائی دیتی ہے کہ منیر کمیٹی کے روبرو، علماء حضرات یہ بھی متعین نہیں کر سکتے تھے کہ مسلمان کہتے کسے ہیں۔ اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ یہ فریضہ مملکت کا تھا کہ وہ متعین کرے کہ مسلمان کسے تسلیم کیا جائے گا اور غیر مسلم کون قرار پائے گا۔ مملکت اس فریضہ کی ادائیگی سے قاصر رہی اور پوزیشن اس اسلامی مملکت میں بھی وہی رہی جو غیر منقسم ہندوستان میں تھی۔

ہونے کی شرط کیا ہے وہ اس طرح کہ:

وہ حضورﷺ کو آخری نبی تسلیم کرتے ہیں اور آپ کے بعد سلسلۂ نبوت کو ختم قرار دیتے ہیں۔

جانے کی شرط یہ ہے کہ وہ اس امر پر ایمان رکھے کہ نبوت کا سلسلہ حضورﷺ کی ذات پر ختم ہو گیا۔ بالفاظ دیگر جو شخص اجرائے نبوت کا قائل ہو اسے آئین کی رو سے مسلمان تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ (واضح رہے کہ قرآن کریم کے کسی حکم کو منسوخ اور حرام قرار دینا بجائے خویش دعویٰ نبوت ہے۔ اس لئے اس کا مدعی یا معتقد بھی اجرائے نبوت کا قائل قرار پائے گا)

ہے۔ اب آئین کی مذکورہ بالا شرط کی رو سے جو بھی غیر مسلم قرار پائے گا اس کا شمار ان اقلیتوں میں ہو جائے گا۔ جیسا کہ کہا جا چکا ہے۔ ان غیر مسلم اقلیتوں کو تحفظات کی ضمانت دی گئی ہے۔ لیکن جہاں تک حقوق کا تعلق ہے ان میں اور مسلمانوں میں کوئی فرق نہیں کیا گیا۔ بجز اس کے

١٥٧

صفحہ ٥٧٨

کہ غیر مسلم صدر یا وزیر اعظم نہیں بن سکتا۔ اس اعتبار سے دیکھئے تو (سردست ) ان کی پوزیشن مسلمانوں سے بھی بہتر ہے۔

حل (اور ختم ) ہو جانا چاہئے تھا۔ لیکن سوال یہ زیر غور آ گیا کہ مرزا قادیانی کے متبعین کو اجرائے نبوت کے ماننے والے تسلیم کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ ان سطور کی تسوید کے وقت یہ سوال پارلیمان کے زیر غور ہے۔ اس لئے ہم اس سلسلہ میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔

البتہ جو کچھ اس کتاب میں پیش کیا گیا ہے اس کی روشنی میں قارئین خود ایک نتیجہ پر پہنچ سکتے ہیں۔ ہماری قرآنی بصیرت کے مطابق مرزا قادیانی کے متبعین (خواہ وہ قادیانی ہوں اور خواہ لاہوری ) امت محمدیہ کے افراد قرار نہیں پا سکتے۔ ان کی آئینی حیثیت کیا متعین کی جاتی ہے۔ اس کے لئے میں مکلف نہیں، مجھے تو صرف بارگاہ خداوندی میں جواب دینا ہے اور اسی جوابدہی کا احساس اس کتاب کی تدوین کا جذبہ محرکہ ہے۔

پس تحریر

یہ سطور اس وقت لکھی گئی تھیں جب احمدیوں کے کفر و اسلام کا مسئلہ پارلیمان میں زیر غور تھا۔ اس کے بعد کیا ہوا اس کے لئے آپ تکملہ ملاحظہ فرمائیے۔

نواں باب ...... مقام نبوت

ختم نبوت سے متعلق جملہ مباحث کے بعد وہ تصور سامنے آتا ہے جس سے ایک حساس مسلمان کی کیفیت یہ ہو جاتی ہے کہ ؎

ناطقہ سر بگریباں کہ اسے کیا کہئے

ہم نبوت کی حقیقت اور ماہیت کو تو نہیں جان سکتے۔ لیکن قرآن کریم نے مقام نبوت کا جو تصور پیش کیا ہے وہ اس قدر عظیم اور بلند ہے کہ ساری کائنات اس کے سامنے جھکی ہوئی نظر آتی ہے۔ میں نے اس سلسلہ میں اپنی کتاب ”معراج انسانیت“ کے آخری باب میں لکھا ہے : ”نبوت کا مقام اس قدر عظیم المرتبت ہے کہ اس کے تصور سے روح میں بالیدگی، نگاہوں میں بصیرت، ذہن میں جلا، قلب میں روشنی، خون میں حرارت، بازوؤں میں قوت، ماحول میں درخشندگی، فضا میں تابندگی اور کائنات کے ذرہ ذرہ میں زندگی کے آثار نمودار ہو جاتے ہیں۔ نبی کا پیغام انقلاب آفرین، دین ودنیا کی سرفرازیوں اور سربلندیوں کا امین ہوتا ہے۔ وہ مردوں کی بستی میں صور

١٥٨

صفحہ ٥٧٩

سکتا۔ اس اعتبار سے دیکھئے تو (سردست) ان کی پوزیشن بالا شرط، فیصلہ کن تھی۔ جس سے اس مسئلہ کو مستقل طور پر سوال یہ زیر غور آ گیا کہ مرزا قادیانی کے متبعین کو اجرائے ہے یا نہیں۔ ان سطور کی تسوید کے وقت یہ سوال پارلیمان میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔ پیش کیا گیا ہے اس کی روشنی میں قارئین خود ایک نتیجہ پر پہنچ مطلق مرزا قادیانی کے متبعین (خواہ وہ قادیانی ہوں اور خواہ پا سکتے ۔ ان کی آئینی حیثیت کیا متعین کی جاتی ہے۔ اس بارگاہ خداوندی میں جواب دینا ہے اور اسی جوابدہی کا ہے۔

میں جب احمدیوں کے کفر واسلام کا مسئلہ پارلیمان میں لئے آپ تکملہ ملاحظہ فرمائیے۔

ب ...... مقام نبوت

نبوت کے بعد وہ تصور سامنے آتا ہے جس سے ایک حساس کہاں کہ اسے کیا کہئے نبوت کو تو نہیں جان سکتے۔ لیکن قرآن کریم نے مقام نبوت کا عقدہ ہے کہ ساری کائنات اس کے سامنے جھکی ہوئی نظر آتی ”معراج انسانیت“ کے آخری باب میں لکھا ہے : ”نبوت اس کے تصور سے روح میں بالیدگی، نگاہوں میں بصیرت، میں حرارت، بازوؤں میں قوت، ماحول میں درخشندگی، فضا میں زندگی کے آثار نمودار ہو جاتے ہیں۔ نبی کا پیغام انقلاب کر بلند یوں کا امین ہوتا ہے۔ وہ مردوں کی بستی میں صور ١٥٨

اسرافیل پھونک دیتا ہے۔ اس سے قوم کے عروقِ مفلوج میں پھر سے خونِ حیات رقص کرنے لگ جاتا ہے۔ وہ اپنی ملت کو زمین کی پستیوں سے اٹھا کر آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیتا ہے اور ان کے ایک ہاتھ میں زمین کی خلافت اور دوسرے میں آسمان کی بادشاہت دے دیتا ہے۔ وہ اپنی ہوش ربا تعلیم اور محیر العقول عمل سے باطل کے تمام نظامہائے کہنہ کی بنیادیں اکھیڑ کر آئین کائنات کو ضابطۂ خداوندی پر متشکل کر دیتا ہے۔ اس سے زندگی ایک نئی کروٹ لیتی ہے۔ آرزوئیں آنکھیں ملتی ہوئی اٹھتی ہیں۔ ولولے جاگ پڑتے ہیں۔ ایمان کی حرارتیں، دلوں میں سوز اور جگر میں گداز پیدا کرتی ہیں۔ روح کی مسرتوں کے چشمے ابلتے ہیں۔ قلب وجگر کی نورانیت کی سوتیں پھوٹتی ہیں۔ تازہ امیدوں کی کلیاں مہکتی ہیں۔ زندہ مقاصد کے غنچے چٹکتے ہیں اور اس خوش بخت قوم کا صحن چمن، دامانِ صد باغبان و کف ہزار گل فروش کا فردوسی منظر پیش کرتا ہے۔ حکومت الٰہی کا قیام اس کا نصب العین اور قوانین خداوندی کا نفاذ اس کا منتہی ہوتا ہے۔ جب اس کے ہاتھوں خدا کی بادشاہت کا تخت اجلال بچھتا ہے تو باطل کی ہر طاغوتی قوت پہاڑوں کے غاروں میں منہ چھپاتی پھرتی ہے جو رو استبداد کے قصر فلک بوس کے کنگورے سجدہ ریز ہو جاتے ہیں۔ طغیان وسرکشی کے آتش کدے ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں۔ وہ اپنے ساتھیوں کی قدوسی جماعت کے ساتھ اعلائے کلمۃ الحق کے لئے باہر نکلتا ہے تو فتح وظفر اس کی رکاب چومتی ہے۔ شوکت وحشمت اس کے جلومیں چلتی ہے۔ سرکش اور خود پرست قوتیں اس کے خدائے واحد القہار کا کلمہ پڑھتی ہیں اور خدا اور اس کے فرشتے ان انقلاب آفرین ملکوتی کارناموں پر تحسین وتبریک کے پھولوں کی بارش کرتے ہیں۔ ان الله وملئکته يصلون على النبی !“

یہ تھا مقام نبوت جسے شمع قرآنی سے اکتساب ضیاء کے بعد میں نے ان الفاظ میں پیش کیا تھا۔ اس کے بعد ہمارے سامنے ایک مدعی نبوت آتا ہے۔ جس کی ساری عمر انگریزوں جیسی ابلیسی سیاست کی حامل قوم کی غلامی کی تلقین و تاکید میں گزر جاتی ہے۔ وہ لیفٹیننٹ گورنر بہادر کو درخواستوں پر درخواستیں گزارتا ہے کہ میں نے آپ کی اس قدر خدمت کی ہے۔ آپ اس کے صلہ میں میری حفاظت بھی کریں اور خصوصی مراعات سے بھی نوازیں۔ سوچئے عزیزانِ من! کہ اس سے نبوت کو کس مقام پر لے آیا گیا ہے؟ یہی وہ احساس تھا جس سے تڑپ کر اقبالؒ نے کہا تھا کہ ؎

فتنہ ملت بیضا ہے امامت اس کی
جو مسلماں کو سلاطین کا پرستار کرے

١٥٩

صفحہ ٥٨٠

مقام نبوت کے تعارف کے بعد میں نے اپنی مذکورہ صدر کتاب میں لکھا تھا کہ: ”مقام نبوت تو ایک طرف شمع نبویؐ سے اکتساب ضیاء کرنے والے مرد مومن کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ اس کی نگاہوں سے قوموں کی تقدیریں بدل جاتی ہیں۔ ایک اللہ کے سوا کسی کا خوف اس کے دل تک نہیں پہنچ سکتا۔ دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں اس کی شمشیر جگر دار کے سامنے لرزہ براندام ہوتی ہیں۔ اس کی قوت بازو حکومت خداوندی کے تمکن و بقاء کی ضامن ہوتی ہے۔ وہ قوانین خداوندی کا عملاً نفاذ کرتا ہے۔ یہ وہ مجدد ہوتا ہے جس کی قوت ایمانی اور بصیرت فرقانی سے محمد رسول اللہ والذین معہ کے عہد سعادت مہد کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ یہ وہ مسیحا ہوتا ہے جس کے اعجاز نفس سے مردہ قوم میں از سر نو زندگی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ یہ وہ مہدی ہوتا ہے جو خود اللہ کے صراط مستقیم پر گامزن ہو کر ساری دنیا کے لئے ہدایت و رشد کا نمونہ بن جاتا ہے۔ یہی وہ مرکز ہوتا ہے جس کے گرد ایسی جماعت کا دائرہ کھنچ جاتا ہے جس کے متعلق فرمایا کہ: ”يحبهم ويحبونه اذلة على المؤمنين اعزة على الكافرين يجاهدون فى سبيل الله ولا يخافون لومة لائم (المائدہ: ٥٤)“ ﴿اللہ ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اللہ سے۔ وہ مومنوں کے سامنے جھکے ہوئے اور مخالفین کے مقابل میں غالب ہوتے ہیں۔ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈرنے والے۔﴾

اس کے برعکس دیکھئے کہ آپ کو اس عہد کی مجددیت، مہدویت، مسیحیت اور نبوت سے

محکومی و مسکینی و نومیدی جاوید

کے سوا اور کیا ملا؟ یہ آنے والا آیا۔ آ کر چلا بھی گیا اور قوم کی حالت یہ کہ

وہی نالۂ سحری رہا وہی آہ نیم شبی رہی

کچھ ملنا تو ایک طرف اس کی خاکستر پارینہ میں کہیں کوئی دبی ہوئی چنگاری تھی تو وہ بھی اس کے تنفس مرگ آور کی برکت سے بجھ بجھا گئی۔ یہ فرق ہے ایک زندہ قوم کے ابناء اور مردوں کی بستی کی لاشوں میں۔

ہو بندۂ آزاد اگر صاحب الہام
ہے اس کی نگہ فکر و عمل کے لئے مہمیز
اس کے نفس گرم کی تاثیر ہے ایسی
ہو جاتی ہے خاک چمنستان شرر آمیز

١٦٠

صفحہ ٥٨١
شاہیں کی ادا ہوتی ہے بلبل میں نمودار
کس درجہ بدل جاتے ہیں مرغان سحر خیز
اس مرد خود آگاہ وخدا مست کی صحبت
دیتی ہے گداؤں کو شکوہ جم وپرویز
محکوم کے الہام سے اللہ بچائے
غارت گر اقوام ہے وہ صورت چنگیز

قوم کے دل میں جرأت بسالت کے حوصلے بلند کرنا تو ایک طرف خود اس کی اپنی حالت یہ تھی کہ جب مرزا قادیانی نے اپنے مخالفین کے متعلق ہلاکت آمیز پیش گوئیاں شائع کرنا شروع کر دیں تو مخالفین نے ان کے خلاف ضابطہ فوجداری دفعہ نمبر ١٠٧ کے تحت ڈپٹی کمشنر گورداسپور کی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا۔ اس مقدمہ میں انہوں نے ایک اقرار نامہ داخل کر کے معافی مانگ لی۔ اقرار نامہ کے الفاظ یہ تھے:

میں مرزا غلام احمد قادیانی بحضور خداوند تعالیٰ باقرار صالح اقرار کرتا ہوں کہ آئندہ:

ایسے معنی خیال کئے جاسکیں کہ کسی شخص کو (یعنی مسلمان ہو خواہ ہندو ہو یا عیسائی وغیرہ ) ذلت پہنچے گی یا وہ مورد عتاب الٰہی ہوگا۔

کروں گا کہ وہ کسی شخص کو (یعنی مسلمان ہو یا ہندو یا عیسائی وغیرہ ) ذلیل کرنے سے یا ایسے نشان ظاہر کرنے سے کہ وہ مورد عتاب الٰہی ہے۔ یہ ظاہر کرے کہ مذہبی مباحثہ میں کون سچا اور کون جھوٹا ہے۔

ہو یا جو ایسا منشاء رکھے کہ معقول وجہ رکھتا ہو کہ فلاں شخص (یعنی مسلمان ہو خواہ ہندو یا عیسائی وغیرہ ) ذلت اٹھائے گا یا مورد عتاب الٰہی ہوگا۔

اثر یا اختیار ہے۔ ترغیب دوں گا کہ وہ بھی بجائے خود اس طریق پر عمل کریں۔ جس طریق پر کار بند ہونے کا میں نے دفعہ نمبر ١ تا نمبر ٥ میں اقرار کیا ہے۔

العبد گواہ مرزا غلام احمد بقلم خود خواجہ کمال الدین، بی اے۔ ایل ایل بی

١٦١

صفحہ ٥٨٢

دستخط: جے ایم ڈوئی۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ٢٤ فروری ١٨٩٩ء ”سو اگر مسٹر ڈوئی صاحب (ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپور) کے روبرو میں نے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ میں ان کو (مولوی محمد حسین بٹالوی کو) کافر نہیں کہوں گا تو واقعی میرا یہی مذہب ہے کہ میں کسی مسلمان کو کافر نہیں جانتا۔“

(تریاق القلوب ص ١٣٠، خزائن ج ١٥ ص ٤٣٣)

عدالت سے یوں چھٹکارا حاصل کر لیا اور اس کے بعد ساری عمر مسلمانوں کو کافر قرار دیتے رہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس کے بعد اس موضوع پر کچھ اور لکھنے کی ضرورت نہیں۔

نگہ بازگشت

اس طویل سفر میں ہم نے جو راستہ طے کیا ہے۔ بہتر ہے کہ اس پر ایک نگہ بازگشت ڈال لی جائے۔ سب سے پہلے یہ سمجھ لیجئے کہ حضور نبی اکرمﷺ کے بعد نبوت کے امکان کا تصور بھی انسان کو امت محمدیہ کے دائرہ سے خارج کر دیتا ہے۔ دوسرے یہ کہ نبوت کی مختلف قسمیں نہیں ہوتیں۔ نبوت کی ایک ہی قسم ہے اور وہی اصلی اور حقیقی نبوت ہوتی ہے جو خدا کی طرف سے وہبی طور پر ملتی تھی۔ نبوت کے معنی ہیں خدا کی طرف سے براہ راست علم حاصل ہونا۔ اس علم کو وحی یا اس نبی کی کتاب کہا جاتا تھا۔ یہ وحی اپنی آخری مکمل اور غیر متبدل شکل میں قرآن کی دفتین میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے محفوظ کر دی گئی۔ لہٰذا نبوت کا خاتمہ ہو گیا۔ اب اگر کوئی شخص قرآن کریم کے حکم کو منسوخ کرنے کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ مدعی نبوت ہے۔ لہٰذا جھوٹا اور خدا کے خلاف افتراء کرنے والا، بروزی، ظلی، تدریجی، اتباعی نبوت کا تصور بھی خلاف قرآن ہے اور مسیح موعود، مجدد اور مہدی کا ذکر تک بھی قرآن میں نہیں۔ ختم نبوت کے اندر رسالت محمدیہ کا عملی نفاذ قرآنی نظام حکومت کی شکل میں ہو گیا۔ اسی نظام کی وارث امت محمدیہ خیر الامم ہے۔ جب تک وہ نظام قائم رہا امت میں کوئی مدعی نبوت پیدا نہ ہوا۔ اب اس قسم کے مدعی اس لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں کہ امت میں وہ نظام باقی نہیں رہا۔ ان مدعیوں کے دعاوی کے ابطال کی عملی صورت یہی ہے کہ دنیا میں پھر سے دین کا نظام قائم کر دیا جائے۔ آنے والے کا انتظار مایوسی کا پیدا کردہ ہوتا ہے۔ جب نظام خداوندی کے قیام سے مایوسی ختم ہو جائے گی تو پھر امت کو کسی نئے ظہور کی طلب و جستجو نہیں رہے گی۔ اس وقت ایران کے باب اور بہاء اللہ کی سمجھ میں بھی یہ بات آ جائے گی کہ قرآن ریلوے ٹائم ٹیبل کی طرح منسوخ العمل نہیں ہو گیا۔ بلکہ وہ انسانی زندگی کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے ابدی اصول حیات اپنے اندر رکھتا ہے اور اس وقت قادیانی نبوت یا مجددیت پر بھی یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ رسالت محمدیہ اس طرح ابدیت آشنا ہے کہ نہ اس کا دور کبھی ختم ہو سکتا ہے اور نہ ہی مرور زمانہ

١٦٢

صفحہ ٥٨٣

٥٨ مجسٹریٹ ٢٢ فروری ١٨٩٩ء ”سو اگر مسٹر ڈوئی اس کے روبرو میں نے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ میں وں گا تو واقعی میرا یہی مذہب ہے کہ میں کسی مسلمان کو

(تریاق القلوب ص ١٣٠، خزائن ج ١٥ ص ٤٣٣)

کر لیا اور اس کے بعد ساری عمر مسلمانوں کو کافر قرار موضوع پر کچھ اور لکھنے کی ضرورت نہیں۔

طے کیا ہے۔ بہتر ہے کہ اس پر ایک نگہ بازگشت حضور نبی اکرم ﷺ کے بعد نبوت کے امکان کا تصور کر دیتا ہے۔ دوسرے یہ کہ نبوت کی مختلف قسمیں نہیں اور حقیقی نبوت ہوتی ہے جو خدا کی طرف سے یقینی طور سے براہ راست علم حاصل ہونا۔ اس علم کو وحی یا اس نبی نئی اور غیر متبدل شکل میں قرآن کی صورت میں ہمیشہ خاتمہ ہو گیا۔ اب اگر کوئی شخص قرآن کریم کے حکم کو ب ہے، لہذا جھوٹا اور خدا کے خلاف افتراء کرنے والا، خلاف قرآن ہے اور مسیح موعود، مجدد اور مہدی کا ذکر تو رسالت محمدیہ کا عملی نفاذ قرآنی نظام حکومت کی شکل لازم نہیں۔ جب تک وہ نظام قائم رہا امت میں کوئی ض لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں کہ امت میں وہ نظام قائل کی عملی صورت یہی ہے کہ دنیا میں پھر سے دین کا مایوسی کا پیدا کردہ ہوتا ہے۔ جب نظام خداوندی کے بھی نئے ظہور کی طلب و جستجو نہیں، ہے گی۔ اس وقت بات آجائے گی کہ قرآن ریلوے ٹائم ٹیبل کی طرح وقت کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے ابدی اصول یا نبوت یا مجددیت پر بھی یہ حقیقت واضح ہو جائے گی ہے کہ نہ اس کا دور کبھی ختم ہو سکتا ہے اور نہ ہی مرور زمانہ

١٦٢

سے وہ ایسی بوسیدہ ہو جاتی ہے کہ اسے تجدید کی ضرورت لاحق ہو۔ اس وقت دنیا دیکھ لے گی کہ یہ رسالت اس شجر طیب کی طرح بہار خزاں نا آشنا کی مظہر ہے۔ جس کے متعلق کہا گیا ہے کہ : ”اُكُلُهَا دَآئِمٌ وَظِلُّهَا (الرعد:٣٥)“ جس کے سائے بھی ہمیشہ گھنے اور ٹھنڈے رہتے ہیں اور جس کی شاخیں بھی ہر موسم میں پھلوں سے جھکی ہوتی ہیں۔ جھوٹے مدعی، قوموں کی زبوں حالی کی وجہ سے پیدا ہوتے اور مایوسی کی فضا میں پروان چڑھتے ہیں۔ زندہ قومیں اپنے دعاوی کی صداقت کی آپ دلیل ہوتی ہیں اور رسالت محمدیہ میں جو قرآن ہی کا دوسرا نام ہے۔ قیامت تک یہ قوت موجود ہے کہ وہ ہر اس قوم کو زندگی عطاء کر دے جو زندہ رہنے کی متمنی ہو۔ قرآن کا پیغام اپنی حقیقت سے نا آشنا مسلمان کو پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ :

وائے نادانی کہ تو محتاج ساقی ہو گیا
مے بھی تو مینا بھی تو ساقی بھی تو محفل بھی تو
بے خبر تو جوہر آئینہ ایام ہے
تو زمانے میں خدا کا آخری پیغام ہے

لیکن یہ مسلمان ”زمانے میں خدا کا آخری پیغام“ اسی صورت میں ہو سکتا ہے۔ جب اس کا ایمان ہو کہ خدا سے براہ راست علم حاصل ہونے کا امکان حضور خاتم المرسلین ﷺ کی ذات اقدس پر ختم ہو گیا اور قرآن کریم قیامت تک تمام نوع انسان کے لئے غیر متبدل اور مکمل ضابطۂ حیات ہے اور اس کا ایک حرف بھی منسوخ نہیں ہو سکتا۔ اسی کو ختمِ نبوت کہتے ہیں۔ والسلام ! پرویز

تکملہ ...... (طبع اوّل)

کتاب آپ نے پڑھ لی۔ جیسا کہ آپ نے پیش لفظ میں دیکھ لیا ہوگا۔ اس کا مسودہ اپریل ١٩٧٤ء میں مکمل ہو گیا تھا اور کتابت شدہ کاپیاں اواخر جون میں پریس میں جا چکی تھیں۔ لیکن احمدیوں سے متعلق لٹریچر پر عائد شدہ پابندیوں کی وجہ سے اس کی طباعت روک دی گئی۔ ان پابندیوں کے اٹھ جانے کے بعد یہ شائع ہوسکی۔ اس دوران میں حکومت پاکستان نے (٧ ستمبر ١٩٧٤ء) کو فیصلہ دیا کہ: ”جو شخص اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتا کہ نبوت سلسلہ انبیاء کرام کی آخری کڑی محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس پر مطلقاً اور غیر مشروط طور پر ختم ہو گئی۔ یا جو شخص رسول

١٦٣

صفحہ ٥٨٤

اللہ ﷺ کے بعد نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے خواہ وہ اس لفظ کو کوئی معنی پہنائے یا کسی رنگ میں مدعی نبوت ہو۔ وہ اور جو شخص ایسے مدعی نبوت کو نبی یا مذہبی ریفارمر مانے۔ آئین اور قانون کی رو سے مسلمان نہیں۔“

نیز یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ احمدیوں کی دونوں جماعتوں (قادیانی اور لاہوری) کو غیر مسلم اقلیتوں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔ آپ نے متن کتاب میں دیکھا ہوگا کہ میں نے مختلف مقامات پر یہی مشورہ دیا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ یہ مسئلہ علماء کے فتوؤں سے حل نہیں ہوگا۔ حکومت کے قانون نے اسے حل کر دیا۔ للہ الحمد کہ جس حقیقت نے ١٩٣٥ء میں میرے ایک مقالہ کی بناء پر عدالت (بہاولنگر) کے فیصلہ کی شکل اختیار کی تھی۔ قریب چالیس سال کے بعد وہ آئین پاکستان کا حصہ بن گئی۔ یہ میری زندگی کا مشن تھا۔ جس کی تکمیل پر میں بدرگاہ رب العزت جتنے سجدہائے تشکر بھی ادا کروں کم ہیں۔

میرے ان جذبات انبساط تشکر کی وجہ یہ نہیں کہ مجھے احمدی حضرات سے کوئی چڑ تھی۔ یا یہ میرے ذاتی وقار کا سوال تھا۔ جس کی کامیابی پر مجھے اس قدر خوشی ہوئی ہے۔ اسلام، خدا کا آخری اور مکمل دین اسی صورت میں قرار پاسکتا ہے کہ نبوت محمدیہ کو تمام نوع انسان کے لئے قیامت تک قائم و دائم تسلیم کیا جائے۔ حضور ﷺ کے بعد خدا کی طرف سے وحی پانے کا دعویٰ، خواہ اس کا نام کچھ ہی کیوں نہ رکھ لیا جائے۔ اسلام کی اس بنیاد اور نبوت محمدیہ کی اس انفرادیت اور اختصاص کو ختم کر دیتا ہے۔ دین کی اساسات کا استحکام میرے ایمان کا جزو اور تحفظ ناموس رسالت، میرے عشق کا تقاضا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بچپن سے لے کر اس وقت تک میری زندگی کا ایک ایک لمحہ اس کے لئے وقف رہا ہے۔ اس مقصد کی تکمیل پر میرے جذبات انبساط وتشکر کی بنیادی وجہ یہ ہے۔

ثنویت اور مغائرت نہیں۔ یہ تمام امور اسلامی مملکت کے دائرہ اقتدار کے اندر ہوتے ہیں۔ اس سے پیشوائیت کا تصور اور وجود ختم ہو جاتا ہے۔ صدر اوّل میں (جب اسلامی مملکت قائم تھی) آپ کو مذہبی پیشوائیت کا نام ونشان تک نہیں ملے گا۔ جب اسلامی مملکت کی جگہ ملوکیت نے لے لی تو مذہبی پیشوائیت پھر وجود میں آگئی اور ثنویت قائم ہوگئی۔ دنیاوی امور، حکومت نے خود سنبھال لئے اور مذہبی امور علماء کی تحویل میں دے دیئے گئے۔ میری زندگی کا دوسرا مشن خلافت علیٰ منہاج

١٦٤

صفحہ ٥٨٥

رسالت کا احیاء یعنی قرآنی مملکت کا باردگر قیام ہے۔ اسی مقصد کے پیش نظر میں نے تحریک پاکستان میں امکان بھر حصہ ڈالا اور اسی کے لئے میں تشکیل پاکستان کے بعد آج تک کوشاں ہوں۔ مولوی صاحبان کی طرف سے میری جو اس قدر مخالفت ہو رہی ہے تو اس کی بھی یہی وجہ ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ قرآنی مملکت میں مذہبی پیشوائیت کا وجود نہیں رہتا۔

میں ان حضرات سے کہتا ہوں کہ مسئلہ احمدیت کا حل آپ کے مناظروں یا فتوؤں سے نہیں ہو سکے گا۔ اس کا حل حکومت کے قانون کی رو سے ہو سکے گا۔ آپ اس کے لئے حکومت سے کہئے۔ لیکن یہ اس کے لئے آمادہ نہیں ہوتے تھے۔ ان کا مسلک یہ تھا کہ اس مسئلہ کا تعلق اعتقادات (کفر و اسلام) سے ہے اور اعتقادات کے متعلق فیصلہ کرنے کے مجاز ہم ہی ہیں، حکومت نہیں۔ حکومت کا فیصلہ ہمارے حیطہ اقتدار میں مداخلت کے مرادف ہوگا۔ لیکن زمانے کے تقاضوں نے ایسے حالات پیدا کر دیئے کہ اس مسئلہ کے فیصلہ کے لئے انہیں حکومت سے کہنا پڑا اور نوے برس سے جو عقیدہ لاینحل چلا آ رہا تھا حکومت کے ایک قانون نے اس کا حتمی فیصلہ کر دیا۔ اس سلسلہ میں جو کچھ ہوا اور جس طرح ہوا وہ اس مولویت کی بنیادوں میں تزلزل پیدا کر دینے کے لئے پہلا اور نہایت اہم اور مؤثر اقدام ہے۔ جسے یہ حضرات صدیوں سے مستحکم کئے چلے آ رہے تھے۔ اس سے ایک ایسی نظیر قائم ہو گئی ہے۔ جس سے مملکت پاکستان کے اسلامی بننے کی راہیں ہموار ہوتی چلی جائیں گی۔ بشرطیکہ وہ جملہ (دنیاوی اور مذہبی) امور کے فیصلے، قرآنی حدود کے اندر رہتے ہوئے اسی جرأت و تدبر سے کرتی جائے۔ یہ بھی میرے پیش نظر نصب العین کی طرف ایک نہایت مبارک اقدام ہے اور میرے مزید سجدہ ہائے تشکر و امتنان کا جذبہ محرکہ۔

حکومت کا یہ فیصلہ کوئی نیا فیصلہ نہیں۔ مرزا قادیانی کے دعویٰ کی بنیادی اینٹ مسلمانوں سے علیحدگی اور اپنی جداگانہ امت کی تشکیل پر رکھی گئی تھی۔ حکومت کے حالیہ فیصلہ نے صرف اس امر واقعہ کو آئینی حیثیت دے دی ہے اور ایسا کرنا آئینی طور پر ضروری بھی تھا۔ جس مملکت کی بنیاد اسلام پر ہو مسلم اور غیر مسلم میں امتیاز و تفریق اس کی قانونی ضرورت اور آئینی فریضہ ہوتا ہے۔ احمدی حضرات نے اس فیصلہ سے کچھ کھویا بھی نہیں۔ مروجہ آئین پاکستان کی رو سے (صدر مملکت اور وزیر اعظم کے سوا) کسی معاملہ میں مسلم اور غیر مسلم میں تخصیص و تمیز نہیں کی گئی اور غیر مسلم اس اعتبار سے بہتر پوزیشن میں ہیں کہ اقلیت ہونے کی بناء پر انہیں ہر قسم کے تحفظ کی ضمانت حاصل ہے۔

١٧٥

صفحہ ٥٨٦

مسلمانوں کے ہاتھوں انہیں کسی قسم کا خطرہ بھی نہیں ہونا چاہئے۔ جس امن وامان سے یہاں دوسری غیر مسلم اقلیتیں رہتی ہیں۔ اسی طرح سے یہ بھی رہیں گے۔ غیر مسلموں کو تو اہل الذمہ کہا ہی اس لئے جاتا ہے کہ اسلامی مملکت ان کی ہر طرح کی حفاظت کا ذمہ لیتی ہے۔ جان، مال، عزت، آبرو، مذہبی شعائر، سب کی حفاظت۔

جانے کا بنیادی سبب ایک آنے والے کے انتظار کا عقیدہ ہے۔ ختم نبوت کے معنی ہی یہ ہیں کہ خدا کی طرف سے آنے والوں کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ جس نے آخری بار آنا تھا۔ چودہ سو سال ہوئے وہ آگیا۔ اب خدا کی طرف سے کوئی نہیں آئے گا۔ نہ ہی اب کوئی خدا کی طرف سے براہ راست علم حاصل کر سکے گا۔ خدا نے جو کچھ انسان سے کہنا تھا اسے اس نے آخری مرتبہ کہہ دیا اور اب وہ قرآن مجید کے اندر مکمل شکل میں محفوظ ہے۔ ’تمت كلمت ربك (الانعام:١١٥)‘ کے معنی یہی ہیں کہ خدا نے جو باتیں انسانوں سے کرنی تھیں۔ ان کا تمام ہو گیا۔ اب کوئی ایسی بات باقی نہیں رہی جسے اس نے انسان سے کرنا ہو۔ لہٰذا خدا کے ساتھ مخاطبات ومکالمات کا امکان ”تمت كلمت ربك“ کے منافی اور عقیدہ ختم نبوت سے متناقض ہے۔ آنے والے کا نظریہ یکسر غیر قرآنی ہے اور دوسروں کے ہاتھ سے مستعار لیا ہوا ۔ دنیا کے ہر مذہب میں آنے والے کا عقیدہ تھا اور اسلام کو ان پر اس لحاظ سے بھی برتری حاصل تھی کہ اس میں آنے والے کا عقیدہ نہیں تھا جو اس کے مکمل ہونے کی دلیل تھی۔ ان اہل مذاہب نے اسلام کی اس برتری کو ختم کرنے کے لئے وضعی روایات کے ذریعے آنے والے کا عقیدہ ہمارے ہاں بھی رائج کر دیا اور اسے اس قدر اہمیت دی کہ وہ کفر و اسلام کا معیار قرار پا گیا۔ جب تک یہ عقیدہ ہم میں باقی رہے گا۔ جھوٹے مدعی پیدا ہوتے رہیں گے۔ اس کا واحد حل یہ ہے کہ ہم اپنے ہر عقیدہ اور نظریہ کے صحیح اور غلط ہونے کا معیار خدا کی کتاب (قرآن مجید) کو قرار دیں۔ اس سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے یہ حقیقت ثبت ہو جائے گی کہ

او رسل را ختم وما اقوام را

٣؍اکتوبر ١٩٧٤ء والسلام! پرویز

١٦٦

صفحہ ٥٨٧

میں ہونا چاہئے۔ جس امن و امان سے یہاں بھی رہیں گے۔ غیر مسلموں کو تو اہل الذمہ کہا ہی کی حفاظت کا ذمہ لیتی ہے۔ جان، مال، عزت،

کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد باب نبوت کے کھلنے کا عقیدہ ہے۔ ختم نبوت کے معنی ہی یہ ہیں کہ خدا س نے آخری بار آنا تھا۔ چودہ سو سال ہوئے وہ نہ ہی اب کوئی خدا کی طرف سے براہ راست علم کہنا تھا اسے اس نے آخری مرتبہ کہہ دیا اور اب وہ ”تمت کلمت ربك (الانعام: ١١٥)“ کے معنی ے کرنی تھیں۔ ان کا اتمام ہو گیا۔ اب کوئی ایسی کرنا۔ اب لہٰذا خدا کے ساتھ مخاطبات و مکالمات کا یدہ ختم نبوت سے متناقض ہے۔ آنے والے کا نظریہ ستعار لیا ہوا۔ دنیا کے ہر مذہب میں آنے والے کا ری حاصل تھی کہ اس میں آنے والے کا عقیدہ نہیں نے کہا ہمارے ہاں اسلام کی اس برتری کو ختم کرنے کے عقیدہ ہمارے ہاں بھی رائج کر دیا اور اسے اس قدر جب تک یہ عقیدہ ہم میں باقی رہے گا۔ جھوٹے مدعی ور ہم اپنے ہر عقیدہ اور نظریہ کے صحیح اور غلط ہونے کا ا۔ اس سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے یہ حقیقت ثابت ہو

فقط وما علینا والسلام ! پرویز

١٦٦

فہرست مضامین !

پہلا باب ...... پس منظر

آغاز سخن ٤٢٣ مقدمہ بہاولپور ٤٢٤ احادیث کی پوزیشن ٤٢٤ احادیث کے پرکھنے کا معیار ٤٢٦ میرا تعلق کسی فرقہ سے نہیں ٤٢٩ پس تحریر ٤٣٠

دوسرا باب ...... چند بنیادی اصطلاحات

آسمانی راہنمائی ٤٣١ جبلت یا فطرت ٤٣٢ انسان کی کوئی فطرت نہیں ٤٣٢ انسانی راہنمائی ٤٣٣ وحی خداوندی ٤٣٤ بچپن سے جوانی تک ٤٣٤ عالم طفولیت ٤٣٦ جوانی کا زمانہ ٤٣٨ قرآن کریم کی خصوصیات ٤٣٨ رسول آخر الزمان ٤٣٩

نبی اور رسول ٤٤٧ رسول ٤٤٩

١٦٧

صفحہ ٥٨٨

عالی سیرت پر ایک طائرانہ

عالی سیرت کا نے سیرت مطہر مسائل سیرت مقالہ جات کو ا

پہلی نشست چھٹی نشست

کانفرنس کی کارروائی عالی سیرت کانفرنس

خاتم النبیین ٤٥٢ عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت ٤٥٣ عقیدہ کشف والہام کے عملی نتائج ٤٥٥ ابن عربی کے دعاوی ٤٥٦ آنے والے کا عقیدہ ٤٥٨ مجدد، مہدی، مسیح ٤٥٨ تیسرا باب ....... تدریجی نبی، مرزا قادیانی کے دعاوی ٤٥٩ ابتدائی حالات ٤٥٩ بیچ میں پھنسانے کے لئے ٤٦٢ ابتدائی اعلان ٤٦٢ دعواے ولایت ٤٦٣ محدث ٤٦٣ محدث کا اگلا درجہ، برزخی نبوت ٤٦٤ عقیدہ ختم نبوت ٤٦٥ نبی کا لفظ کاٹنا ہوا خیال کریں ٤٦٦ خاتم النبیین کے نئے معنی ٤٦٦ بروزی اور ظلی نبی ٤٧٠ صحابہ کی جماعت ٤٧١ خود خدا کا ظہور ٤٧١ واحد نبی ٤٧٢ آخری نبی ٤٧٢ خاتم الانبیاء ٤٧٣ صاحب شریعت ٤٧٤ صاحب کتاب ٤٧٥

مرزا قادیانی کی وفات آیات الکتاب آخری بات رسول اللہ کرشن گو

نمازیں اسلام سے مسلمانوں مسلمان کافر جہنمی لا نفرق بین قصور اپنا نکل آیا انہیں نئے سرے سے ان کے پیچھے نماز ان کا جنازہ نکاح قادیانی الکفر

١٦٨

صفحہ ٥٨٩

٥٨٨ ٤٥٢ مرزا قادیانی کی وحی ٤٧٥ ٤٥٣ آیات الکتاب المبین ٤٧٧ ٤٥٥ آخری بات ٤٧٧ ٤٥٦ رسول اللہ کی رسالت (معاذ اللہ) ختم ہوگئی ٤٧٧ ٤٥٨ کرشن گوپال ٤٧٨ مرزا قادیانی کے دعاوی ٤٥٨ چوتھا باب ...... مرزا قادیانی اور مسلمان ٤٧٨ ٤٥٩ نیا دین ٤٧٨ ٤٥٩ اسلام سے الگ دین ٤٧٩ ٤٦٢ مسلمانوں سے اختلاف ٤٧٩ ٤٦٢ مسلمان کافر ہیں ٤٨٠ ٤٦٣ جہنمی ٤٨٠ ٤٦٣ لا نفرق بین احد من رسلہ ٤٨١ ٤٦٤ قصور اپنا نکل آیا ٤٨١ ٤٦٥ انہیں نئے سرے سے مسلمان کیا جائے ٤٨٢ ٤٦٦ ان کے پیچھے نماز مت پڑھو ٤٨٢ ٤٦٦ ان کا جنازہ پڑھنا بھی جائز نہیں ٤٨٣ ٤٧٠ نکاح بھی جائز نہیں ٤٨٣ ٤٧١ تمام تعلقات حرام ٤٨٤ ٤٧١ الگ نام ”احمدی“ ٤٨٤ ٤٧٢ غلام احمد ٤٨٦ ٤٧٢ سلسلۂ انبیاء کی آخری کڑی ٤٨٧ ٤٧٣ درود شریف ٤٨٧ ٤٧٤ پوری آیت ٤٨٨ ٤٧٥ فارسی النسل ٤٩٢ ١٦ ١٦٩

صفحہ ٥٩٠

محمد کے اوتار ٤٩٢ احمدی جماعت ٤٩٣ قادیان...... ارض حرم ٤٩٤ شعائر اللہ ٤٩٥ حج بھی ٤٩٥ حج اکبر ٤٩٥ جداگانہ کلمہ ٤٩٦ خاتم النبیین کا مفہوم ٤٩٧ الہامات کا نمونہ ٤٩٨ الہام کی زبان ٥٠٠ تناقضات ٥٠١ علمی سطح ٥٠٢ تاریخ ٥٠٢ حدیث ٥٠٣ قرآن ٥٠٣ انشاء پردازی ٥٠٣ اضافہ ٥٠٤ مرزا قادیانی کی ذہنی کیفیت ٥٠٤ الہامات ٥٠٦ پیش گوئیاں ٥٠٩

لوگوں کی موت کی پیش گوئیاں ٥١١ محمدی بیگم کا قصہ ٥١٣ بدکامی ٥١٦

١٧٠

مرزا قادیانی کی نبی بھی اور رسو آخری نبی اگر حکومت اگر اپنی حکو احمدی جماع

ایک نئی احمدی ح

حکومت اقبال حکومت اولی الام جہاد مح اگر

عالمی سیرت پر اکابر علماء کر

عالمی سیرت کا نے سیرت مطہ مسائل سیرت مقالات جائز

کانفرنس کی کارروائی عالمی سیرت کانفرنس

صفحہ ٥٩١

عالمی سیرت نے سیرت مصطفیٰ پراگ، امریکہ مسائل سیرت پر عالمی سیرت کا مقالہ جات کو ب کانفرنس کی مجلس کارروائی عالمی سیرت کانفرنس

٤٩٢ مرزا قادیانی تحریف بھی کرتے تھے ٥١٦ ٤٩٣ نبی بھی اور رسول بھی ٥١٧ ٤٩٤ آخری نبی ٥١٨ ٤٩٥ اگر حکومت ہمارے پاس ہوتی تو ٥١٩ ٤٩٥ اگر اپنی حکومت نہ ہو تو ٥١٩ ٤٩٥ احمدی جماعت ٥٢٠ ٤٩٦ پانچواں باب ....... ایک نئی امت ٥٢١ ٤٩٧ ایک نئی امت ٥٢١ ٤٩٨ احمدی حضرات مسلمان کہلانے پر کیوں مصر ہیں ٥٢٦ ٥٠٠ چھٹا باب ....... یہ تحریک دراصل سیاسی تھی ٥٢٧ ٥٠١ حکومت برطانیہ کا خطرہ ٥٢٧ ٥٠٢ اقبال کا بیان ٥٢٨ ٥٠٢ حکومت برطانیہ کی اطاعت ٥٣٠ ٥٠٣ اولی الامر منکم ٥٣٠ ٥٠٣ جہاد ختم ٥٣١ ٥٠٣ انگریزوں کا خود کاشتہ پودا ٥٣٢ ٥٠٤ انگریزی سلطنت سپر ہے ٥٣٣ ٥٠٤ ایسا کسی اسلامی حکومت میں ممکن نہیں ٥٣٣ ٥٠٦ شرم کیوں آتی ہے ٥٣٤ ٥٠٩ مرزا قادیانی کے بعد ٥٣٤ ٥٠٩ جاسوس جماعت ٥٣٤ ٥١١ مسلم لیگ یا کانگریس ٥٣٥ ٥١٣ نگاہ او بشاخ آشیانہ ٥٣٧ ٥١٦ مسلمانوں کو بیت المقدس بھی نہیں مل سکتا ٥٣٨

١٧١

صفحہ ٥٩٢

ساتواں باب ...... لاہوری جماعت ٥٣٩ غریبی سے امیری ٥٣٩ حساب کتاب پر اعتراضات ٥٤١ دونوں فریقوں میں بحث ٥٤٢ نبی بلا کتاب ٥٤٤ ہمارے ہاں کا عقیدہ ٥٤٦ غیر نبی کی طرف وحی ٥٤٧ خدا سے ہم کلامی ٥٤٧ پیش گوئیاں ٥٤٨ منعم علیہ ٥٥١ محدثیت ٥٥٣ مہدی یا امام آخرالزمان ٥٥٦ مہدی سوڈانی ٥٥٧ مجدد ٥٥٩ دعووں کی تیاریاں ٥٦١ مسیح موعود ٥٦٢ مسیح موعود یعنی نبی ٥٦٣ مسیح موعود پر ایمان ٥٦٨ قول فیصل ٥٧٠

آٹھواں باب ...... آئینی پوزیشن ٥٧٣

پس تحریر ٥٧٨

نواں باب ...... مقام نبوت ٥٧٨

مکہ بازگشت ٥٨٢ تکملہ ٥٨٣

١٧٢