ناموسِ رسالت ﷺ اور قانون توہینِ رسالت (پہلا باب)
Namoos-e-Risalat aur Qanoon Toheen-e-Risalat (Pehla Baab)
PDF 1

پہلا باب

ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم

اور

قانون توہینِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم قرآن وسنت کی روشنی میں

صفحہ ۲

پہلی فصل

تعظیم و ناموس رسالت مآبﷺ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ آپ کی حد درجہ تعظیم و تکریم اور ادب و توقیر بجا لائی جائے ۔ اور کمال ایمان کے لیئے اطاعت و اتباعِ رسول میں درجہ نہایت حاصل کیا جائے ۔ جب کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے سامنے عاجزی و انکساری کا پیکر بن کر جبین نیاز جھکائی جائے ۔ اور اس کی عبادت و ریاضت میں مقام حاصل کیا جائے ۔ المختصر اللہ تعالیٰ کی عبادت ہو یا نبی اکرمﷺ کے کسی حکم کی فرمانبرداری ، سب اللہ ہی کی اطاعت و فرمانبرداری ہے ۔

نبی محترم کے ساتھ اصل ایمان کا تعلق کیسا اور کس نوعیت کا ہونا چاہیئے اس بارہ میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے :

” فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِہٖ وَعَزَّرُوْہُ وَنَصَرُوْہُ وَاتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ مَعَہٗٓ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ە “ ١؎

(پس جو لوگ اس رسول پر ایمان لائے اور اس کی تعظیم کی اور اس کی مدد کی اور اس نور ہدایت کی اتباع کی جو اس کے ساتھ

١؎ الاعراف ۷ : ۱۵۷

صفحہ ۳

اتارا گیا یہی وہ لوگ ہیں جو اپنی مراد کو پہنچ گئے ) قرآن حکیم نے یہاں واضح کر دیا کہ حقیقی کامیابی و فلاح ان لوگوں کا مقدر ہوگی جنہوں نے اپنے اندر نبی کریم کی نسبت و اطاعت کو پختہ و مستحکم کر لیا اور آپؐ کی تعظیم و تکریم اور ادب و احترام بجا لانے کی صفت سے مزین ہوگئے ، آپؐ کے لائے ہوئے دین کی پیروی کی اور اس دین کی ترویج و فروغ کے لئے کوشاں رہے یقیناً ایسے لوگ دنیا و آخرت میں کامیابی و کامرانی کی منزل پائیں گے ۔

وجوب تعظیم رسول ﷺ

حضور نبی کریم ﷺ کی تعظیم و تکریم کا اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں واضح حکم ارشاد فرمایا ہے :

" اِنَّآ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّ نَذِيْرًا لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُ " ١؎

اور ہم نے (اے محمد) تم کو حق ظاہر کرنے والا اور خوشخبری سنانے والا اور خوف دلانے والا (بنا کر) بھیجا ہے تاکہ (مسلمانو !) تم لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کی مدد کرو اور اس

١؎ الفتح ۴۸ : ۸ - ۹

صفحہ ۴

کی تکریم کرو۔)

حضور نبی کریم کی عظمت و فضیلت کو قرآن پاک نے سب سے پہلے اس لیے اجاگر کرنا چاہا کہ یہ امر نقش ہو جائے کہ رسول اللہ کو شاہد مبشر ، نذیر ، مرکز ایمان اور باعث ایمان اتنی شانوں کے ساتھ اس لیئے مبعوث فرمایا تاکہ لوگ اتنی ارفع شانوں اور عظمت والے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم و توقیر کریں ۔

یہ مسلمہ اصول ہے کہ تعظیم ہمیشہ کسی عظیم المرتبت شخصیت ہی کی کی جاتی ہے ۔ تعظیم معظم کا تقاضا کرتی ہے اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اس ذات کی جس کی تعظیم کی جانی مقصود ہے کی عظمت و فضیلت معلوم نہ ہو یہی سبب تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمتوں اور رفعتوں کا تذکرہ کیا پھر حکم دیا کہ اس رسول مکرم کی تعظیم و تکریم اور احترام و توقیر اپنا وطیرۂ حیات بنا لو ۔

جب قرآن شعائر اللہ ، انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی نسبتوں اور مقدس مقامات کی بات کرتا ہے تو پھر یہ تعلیم دیتا ہے کہ ان کی تعظیم و تکریم بجا لاؤ ۔

" وَمَنْ يُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللهِ فَهُوَ خَيْرٌ لَّهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ ...... وَمَنْ يُّعَظِّمْ شَعَائِرَ اللهِ فَإِنَّهَا مِنْ

صفحہ ۵

تَقْوَى الْقُلُوبِ " ۱؎ (اور جو شخص ادب کی چیزوں کی جو خدا نے مقرر کی ہیں عظمت رکھے تو یہ پروردگار کے نزدیک اس کے حق میں بہتر ہے..... اور جو شخص ادب کی چیزوں کی جو خدا نے مقرر کی ہیں عظمت رکھے تو یہ فعل دلوں کی پرہیزگاری میں سے ہے ۔)

حضرت شاہ ولی اللہؒ نے اللہ تعالیٰ کے بڑے شعائر چار قرار دیئے ہیں : ۱۔ قرآن مجید ۲۔ کعبہ ۳۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ۴۔ نماز ۲؎ رسول کریمؐ اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی علامت مقدسہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنا برہان و دلیل قرار دیا ہے ۔ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمْ بُرْهَانٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكُمْ نُورًا مُبِينًا " ۳؎ (اے لوگو ! بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے واضح

۱؎ الحج ۲۲ : ۳۰ - ۳۲

۲؎ حجۃ اللہ ، ۱ : ۷۰

۳؎ النساء ۴ : ۱۷۴

صفحہ ۶

دلیل آئی اور ہم نے تمہاری طرف روشن نور اتارا ۔) اس آیت میں حضور کو اللہ تعالیٰ کی دلیل وعلامت بتایا گیا ہے اور قرآن کو نور واضح فرمایا گیا ہے لہذا قرآن اور صاحب قرآن دونوں پر ایمان لانا، اور دونوں کی تعظیم بجا لانا لازمی ہے اور ان کی توہین اصل میں اللہ تعالیٰ کی توہین ہوتی ہے ۔ کیونکہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دلیل برھان بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ ارشاد الٰہی ہے: " هُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهٖ ؕ وَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًا " ۱؎ (وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا کہ اسے سب دینوں پر غالب کرے اور حق ظاهر کرنے کے لئے اللہ ہی کافی ہے۔)

مزید فرمایا : " فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَعَزَّرُوْهُ وَنَصَرُوْهُ وَاتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ مَعَهٗ ۙ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ " ۲؎

۱؎ الفتح ۴۸ : ۲۸

۲؎ الاعراف ۷ : ۱۵۷

صفحہ ۷

(تو وہ جو اس پر ایمان لائیں اور اس کی تعظیم کریں اور اسے مدد دیں اور اس نور کی پیروی کریں جو اس کے ساتھ اترا وہی بامراد ہوئے ۔)

اس آیت میں ایمان والوں کے لئے واضح ہدایات ہیں کہ وہ ایمان کے ساتھ نبی کریم ﷺ کی تعظیم کریں اور ان کی مدد کریں ۔

پھر یہ تعظیم نبی کریم ﷺ تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اس کلام میں تمام رسولوں پر ایمان لانا اور ان کی تعظیم کرنا فرض قرار دیا گیا ہے ۔

" وَ اٰمَنْتُمْ بِرُسُلِیْ وَعَزَّرْتُمُوْهُمْ " ۱؎

(اور میرے رسولوں پر ایمان لاؤ اور ان کی تعظیم کرو ۔)

تعظیم رسول امت پر فرض ہے

تعظیم و تکریم اور ادب و احترام رسول امت مسلمہ پر فرض ہے حقیقتاً تعظیم رسول ہی دین و ایمان کی اساس و بنیاد ہے نبہانیؒ کہتے ہیں :

" اَوْجَبَ عَلَیْنَا تَعْظِیْمَهُ وَتَوْقِیْرَهُ وَنَصْرَتَهُ وَمَحَبَّتَهُ وَالْاَدَبَ مَعَهُ . " ۲؎

۱؎ المائدہ ۵ : ۱۲

۲؎ جواہر البحار ، ۳ : ۲۵۱

صفحہ 8

(اللہ نے ہم پر حضور کی تعظیم و تکریم ، مدد ، محبت اور ادب و احترام واجب کیا ہے ۔)

نبی کریم کے امت مسلمہ پر جو حقوق ہیں ان میں سے مذکورہ بالا حقوق بھی ہیں ۔ ان کی ادائیگی سے آپ کی روح پاک کو راحت و سکون نصیب ہوتا ہے اور ان کی عدم ادائیگی روح مصطفےٰ کو تکلیف و اذیت پہنچانے کے مترادف ہے اس لئے امتی پر لازم ہے کہ وہ ہر حال میں ایسا عمل بجالائے جس سے تعظیم و تکریم رسول کی جھلک نظر آئے ۔ آپ کی تعظیم زمان و مکان کی شرائط و قیود سے ماوراء ہے خواہ نبی کریم کی حیات مبارکہ ہو خواہ اس کے بعد ہر حال میں امت پر لازم ہے ۔ شیخ اسمعیل حقی بیان کرتے ہیں کہ

”اِنَّہٗ یَجِبُ عَلَی الْاُمَّۃِ اَنْ یُّعَظِّمُوْہُ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ وَیُوَقِّرُوْہُ فِیْ جَمِیْعِ الْاَحْوَالِ فِیْ حَالِ حَیَاتِہٖ وَبَعْدَ وَفَاتِہٖ فَاِنَّہٗ بِقَدْرِ اِزْدِیَادِ تَعْظِیْمِہٖ وَتَوْقِیْرِہٖ فِی الْقُلُوْبِ یَزْدَادُ نُوْرُ الْاِیْمَانِ “ ۱؎

(نبی کریم کی حیات مبارکہ اور وفات کے بعد تمام احوال میں آپ کی تعظیم و توقیر بجالانا امت پر واجب ہے کیوں کہ دلوں

۱؎ روح البیان ، ۷ : ۲۱۶

صفحہ ٩

میں جتنی حضور کی تعظیم و توقیر بڑھے گی اسی قدر نورِ ایماں بڑھے گا)

جان و مال تعظیمِ رسولؐ پر فدا

یہ بات علاماتِ ایمان میں سے ہے کہ نبی کریم کی تعظیم و تکریم بجالائی جائے اور ہر طرح سے اس کا اہتمام وانصرام کیا جائے۔ ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں: " یُوْجَبُ صَوْنُ عِرْضِہٖ بِکُلِّ طَرِیْقٍ " ۱؎ نبی کریم کی عزت و تکریم کی حفاظت ہر طریق سے کرنا واجب ہے۔

اس کے علاوہ وہ اصل ایمان کی علامت کا یوں ذکر کرتے ہیں: " لِاَنَّا نَسْفِکُ الدِّمَاءَ وَنَبْذِلُ الْاَمْوَالَ فِیْ تَعْزِیْرِ الرَّسُوْلِ وَتَوْقِیْرِہٖ وَرَفْعِ ذِکْرِہٖ وَاِظْہَارِ شَرَفِہٖ وَعُلُوِّ قَدْرِہٖ" ۲؎ (ہم سب اہل ایمان رسول اللہ کی بڑائی بیان کرتے ہیں اور آپ کی تعظیم وتکریم اور آپ کے ذکر کو بلند کرنے اور آپ کی بزرگی وعظمت کو ظاہر کرنے اور آپ کی علو قدر ومنزلت میں

۱؎ الصارم ، ۲۰۹

۲؎ ایضاً ۲۱۱

صفحہ 10

اپنا خون بہاتے ہیں اور اپنے اموال خرچ کرتے ہیں ۔) یعنی کوئی لحظہ ایسا نہیں جس میں یہ فرض اٹھ جائے بلکہ ہمہ وقت یہ موجود ہے ۔ اس کی ادائیگی کے لئے امتی کو ہر وقت مستعد رہنا چاہئیے ۔

تعظیم رسول روح دین ہے

ابن تیمیہؒ کہتے ہیں : " اَمَّا اِنْتِهَاكُ عِرْضِ رَسُولِ اللهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاِنَّهُ مُنَافٍ لِدِيْنِ اللهِ بِالْكُلِّيَّةِ فَاِنَّ الْعِرْضَ مَتٰی انْتُهِكَ سَقَطَ الْاِحْتِرَامُ وَالتَّعْظِيْمُ، فَسَقَطَ مَا جَاءَ بِهِ مِنَ الرِّسَالَةِ ، فَبَطَلَ الدِّيْنُ، فَقِيَامُ مَدْحِهِ وَالثَّنَاءِ عَلَيْهِ وَالتَّعْظِيْمُ وَالتَّوْقِيْرُ لَهُ قِيَامُ الدِّيْنِ كُلِّهِ ، وَ سُقُوطُ ذٰلِكَ سُقُوطُ الدِّيْنِ كُلِّهِ" ۱؎ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بے ادبی اللہ کے دین کے کلیۃً منافی ہے کیونکہ جب بے ادبی ہوتی ہے تو احترام تعظیم ساقط ہوا نتیجۃً جو رشد و ہدایت آپ اپنے ساتھ لائے وہ بھی ساقط ہوئی یوں سارے دین کا ابطال ہوا پس حضور کی مدح و ثناء

۱؎ الصارم ، ۲۱۱

صفحہ 11

اور تعظیم و توقیر کے قیام سے سارے دین کا قیام ہے اور ان چیزوں کے ساقط ہونے سے سارے دین کا سقوط ہے ۔)

اس سے یہ بات اچھی طرح عیاں ہوتی ہے کہ تعظیم و تکریم رسول ہی دین اسلام کی بنیاد اور روح ہے تعظیم رسول کی اسی اہمیت کے پیش نظر ابن تیمیہ ؒ مزید لکھتے ہیں :

" وَإِذَا كَانَ كَذَالِكَ وَجَبَ عَلَيْنَا أَنْ نَّنْتَصِرَ لَهُ مِمَّنْ انْتَهَكَ عِرْضَهُ وَالْاِنْتِصَارُ لَهُ بِالْقَتْلِ لِاَنَّ انْتِهَاكَ عِرْضِهِ انْتِهَاكٌ لِدِينِ اللّٰهِ " ۔ ١؎

(اور جب حقیقت یہ ہے تو ہم پر لازم ہے کہ آپ کی خاطر اس شخص کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں جو آپ کی شانِ اقدس میں بے ادبی کرے۔ اور احتجاج یہ ہے کہ اسے قتل کر دیں اس لیے کہ آپ کی عزت کو پامال کرنا اللہ کے دین کی اھانت کرنا ہے۔)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص تعظیم رسول سے منحرف ہو کر کسی دوسری روش پر چلے تو امت پر فرض ہے کہ اس کو قتل کر دیا جائے ۔

١؎ الصارم ، ۲۱۱

صفحہ ۱۲

اسلوب قرآن اور تعظیم رسول

اللہ تعالیٰ نے خود نبی کریم کی عزت وتکریم اور تعظیم تکریم کا اس حد تک اھتمام کیا ہے کہ پورے قرآن میں اللہ رب العزت نے کسی بھی مقام پر نبی کریم کو ذاتی نام سے نہیں پکارا ،جبکہ دیگر انبیاء علیہم السلام کو ذاتی ناموں سے پکارا گیا ہے ۔۱؎ یعنی جب نبی کریم کی باری آئی تو اسلوبِ قرآن بھی بدل گیا اور حضور کو ذاتی نام کی بجائے مختلف صفات والقاب سے مخاطب کیا گیا ہے ،کبھی یٰایھا النبی ۲؎ یٰایھا الرسول ۳؎ یٰایھا المزمل ۴؎ اور کبھی یٰایھا المدثر ۵؎ کے پیارے الفاظ سے پکارا گیا ہے گویا تعظیم رسول کا ہر لمحہ لحاظ رکھنا سنت الٰہیہ ہے ۔ قرآن پاک میں یہ بات واضح طور حضور نبی کریم کو دوسرے لوگوں کی طرح

۱؎ البقرۃ ۲ : ۳۵ ، ھود ۱۱ : ۴۸ ، ۷۲ ، مریم ۱۹ : ۱۲ ۲؎ الانفال ۸ : ۶۴ ، التوبہ ۹ : ۶۱ ، الاحزاب ۳۳ : ۱ ، الطلاق ۶۵ : ۱ ۳؎ المائدۃ ۵ : ۴۱ ، ۶۸ ۴؎ المزمل ۷۳ : ۱ ۵؎ المدثر ۷۴ : ۱

صفحہ ۱۳

بلانے کا طریقہ نہ اختیار کیا جائے : " لَا تَجْعَلُوْا دُعَاءَ الرَّسُوْلِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُمْ بَعْضاً " ۱؎ (مومنو! پیغمبر کے بلانے کو ایسا خیال نہ کرنا جیسا تم آپس میں ایک دوسرے کو بلاتے ہو۔)

گویا نبی کریمؐ کی توجہ و عنایت اپنی طرف مبذول کرانے کے لئے لازم ہے کہ تعظیم و ادب کے جملہ پہلو پیش نظر رکھے جائیں اور آپ کو دوسرے لوگوں کی طرح ذاتی نام سے "یا محمد" (صلی اللہ علیہ وسلم) ، یا "یا احمد" کہہ کر نہ پکارا جائے بلکہ آپ کو مختلف القابات کے حوالے سے پکارنا چاہیے ۲؎

تعظیم رسولؐ اور صحابہؓ کا عمل

ادب و احترام اور محبت رسول کا بہترین نمونہ صحابہ کرام تھے کہ جب نبی کریمؐ وضو کرتے تو وضو کے پانی کا کوئی قطرہ گرنے نہ دیتے ۳؎ اور آپ کا لعاب دہن اور دیگر رطوبتیں اپنے جسم پر مل لیتے تھے ۔ ۴؎

۱؎ النور ۲۴ : ۶۳ ۲؎ حلیہ ، ۱ : ۴۳ ؛ ابن کثیر ۳ : ۳۳۷ ؛ قرطبی ۱۲ : ۳۴۲ ۳؎ بخاری ، شروط ، ۱۶ ۴؎ ایضاً

صفحہ ۱۴

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی بال گرتا تو اسے حاصل کرنے میں جلدی کرتے ۔ ۱؎

گفتگوئے مصطفیٰ پر مکمل سکوت

عروہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ : ” وَاِذَا تَكَلَّمَ خَفَضُوْا اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَهٗ “ ۲؎ (اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گفتگو کرتے تو وہ اپنی آوازوں کو پست کر لیتے)

کیوں کہ ان حضرات کے پیشِ نظر قرآنِ حکیم کا یہ حکم تھا : ” لَا تَرْفَعُوْا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ “ ۳؎ (اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے اونچی نہ کرو اور جس طرح آپس

۱؎ الشفاء ۲ : ۵۹۳

۲؎ بخاری ، شروط ، ۲۷۳ ، ۲۷۴

۳؎ الحجرات ۴۹ : ۳

صفحہ ۱۵

میں ایک دوسرے سے زور سے بولتے ہو اسی طرح ان کے روبرو زور سے نہ بولا کرو ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو )

صحابہ کرامؓ بارگاہ رسالت کا ادب و احترام ایسے کرتے جس کی نظیر دنیا میں آج تک کوئی قوم و نسل نہ پیش کر سکی ہے اور نہ کر سکے گی۔ حضرت اسامہ بن شریک فرماتے ہیں : ”اَتَيْتُ النَّبِيَّ وَاَصْحَابُهُ حَوْلَهُ كَاَنَّمَا عَلٰی رُءُوْسِهِمُ الطَّيْرُ ۱؎ (میں نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہوا صحابہ کرامؓ آپ گرد یوں بیٹھے تھے گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں)

دیدار مصطفیٰ کا محبت بھرا انداز

تعظیم رسول کے سبب صحابہ کرامؓ کے نبی اکرم کو دیکھنے اور آپ کے دیدار فرحت آثار سے لطف اندوز ہونے کے انداز بھی بدل گئے۔ حضرت عروہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام تعظیماً حضور کی طرف ٹکٹکی باندھ کر نہ دیکھتے تھے۔ ۲؎ صحابہ کرامؓ میں سے صرف حضرت ابوبکر حضرت عمر حضور کی طرف دیکھتے

۱؎ الشفاء ۲ : ۵۹۲ ۲؎ بخاری، جہاد، ۳۷ ؛ ابن ماجہ، جنائز، ۳۷ ؛ نسائی، جنائز، ۸۱

صفحہ ۱۶

اور نبی کریم ان حضرات کی طرف دیکھتے ، یہ حضور کو دیکھ کر مسکراتے اور نبی محترم ان حضرات کو دیکھ کر تبسم فرماتے ۔ ۱؎

تقدیم رسول ہی تقدیم الٰہی ہے

جس طرح رسول اللہ کی اطاعت اللہ ہی کی اطاعت ہے اسی طرح نبی کریم سے کسی بھی معاملے میں آگے بڑھنا ، تقدیم اختیار کرنا ، یہ دراصل اللہ سے آگے بڑھنا ہے ۔ ارشاد الٰہی ہے :

يَاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَاتَّقُوْا اللّٰهَ ط اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ ۲؎

(اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو بے شک اللہ سنتا اور جانتا ہے)

سہل بن عبداللہ تستریؒ نے ”لَا تُقَدِّمُوْا“ کا معنی یہ بیان کیا ہے کہ حضور کے فرمانے سے پہلے نہ بولا کرو اور جب آپ فرما دیں تو خوب توجہ و انہماک سے سنو اور خاموش رہو ۳؎

۱؎ ترمذی ، ۳۶۶۸

۲؎ الحجرات ، ۴۹ : ۱

۳؎ روح البیان ، ۹ : ۶۳

صفحہ ۱۷

قاضی عیاض مالکیؒ کہتے ہیں کہ اس کا معنی و مفہوم یہ ہے کہ تمام دنیاوی و اخروی امور نبی کریم کے تابع ہوں ۔ ۱؎

مجاہد اور اسی طرح قسطلانی کہتے ہیں کہ نبی کریم کا ادب یہی ہے کہ آپ کے امر، نہی، اجازت اور تصرف غرضیکہ کسی بھی چیز میں آپ سے پہل نہ کی جائے ۔ ۲؎

حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے بھی کتاب اللہ اور سنت رسول پر اپنی رائے کو مقدم و برتر رکھنے کو صریح کفر اور نبی کریم کی بے ادبی قرار دیا ہے ۔ ۳؎

ادب احترام رسول کا بہر حال وجوب

امام رازیؒ نے اس آیت کے تحت ادب رسول کے وجوب کا استنباط کیا ہے اور آپ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضور کا مقام و مرتبہ اور آپ کے شان و مرتبہ کی رفعت و بلندی کو اس طرح بیان کیا ہے

۱؎ الشفاء ، ۲ : ۳۵

۲؎ زرقانی ، ۶ : ۴۴۷ - ۴۸

۳؎ تنویر المقیاس ، ۳۲۲

صفحہ ۱۸

کہ آپ ایسے رسول ہیں، جن کا دین غالب ہوگا اور ذکر مبارک بلند ہو گا، لہٰذا رسول اللہ کے ادب واحترام سے کبھی اپنے دل کو تہی نہ کرنا، اس لیے کہ تم اللہ کے سامنے حاضر ہو اور وہ تم کو ہر حال میں دیکھ رہا ہے پس ایسی حالت میں احترام رسول تم پر واجب ہے ۔ ۱؎

سارا قرآن ادب و تعظیم رسول سے مملو ہے

یہ حقیقت ہر قسم کے شک وشبہ سے بالاتر ہے کہ قرآن حکیم نے امت مسلمہ کو اپنے رسول کے ساتھ گفتگو کا طریقہ، آپ کی مجلس میں بیٹھنے کے آداب، آپ کو پکارنے اور مخاطب کرنے کا طریقہ و ادب غرضیکہ ہر چیز سے متعارف کرایا، جہاں کہیں بھی بالواسطہ طور پر بے ادبی کا شائبہ بھی پیدا ہوا تو فوراً آیتِ قرآنی کی صورت میں حکم دے کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس کے رستے مسدود کر دئیے بلکہ سبکی تو کہتے ہیں کہ :

" وَمَنْ تَأَمَّلَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ وَجَدَهُ طَافِحاً بِتَعْظِيْمِ عَظِيْمِ لِقَدْرِ النَّبِيِّ ” ۲؎

۱؎ کبیر ، ۲۸ : ۱۱۱

۲؎ جواہر البحار ، ۳ : ۳۵۲

صفحہ ۱۹

(جو شخص بھی قرآن حکیم میں غور و فکر کرے گا تو وہ سارے قرآن حکیم کو نبی کریم کی تعظیم سے بھر پور پائے گا)

بارگاہِ مصطفیٰ میں آوازوں کی پستی

مطلقاً رفع صوت کی ممانعت

حضور نبی کریم کی بارگاہ میں حاضری کے کچھ آداب ہیں جن کے پیشِ نظر رکھنے سے ایمان کی سلامتی ہے اور نظر انداز کر دینے سے ایمان کی تباہی ہے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :

" یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ " ۱؎

(اے اہلِ ایمان ! اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے اونچی نہ کرو )

شوکانی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ھیں کہ آوازوں کو اتنا بلند نہ کیا جائے کہ نبی کریم کی آواز سے بلند تر ہو جائے ۔ ۲؎ احمد المنیر سکندری کہتے

۱؎ الحجرات ۲ : ۴۹

۲؎ فتح القدیر ۵ : ۵۹

صفحہ ۲۰

ہیں کہ اس آیت کریمہ میں مطلقا رفع صوت سے منع کیا گیا ہے ۱؎

روضتہ رسول کے قرب میں رفع صوت کی ممانعت

حافظ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں اس بات کو بیان کیا ہے کہ علماء نے کہا ہے کہ حضور نبی کریم کی قبر انور کے پاس بھی آواز بلند کرنا مکروہ ہے جیسا کہ نبی کریم کی حیات مبارکہ آپ کے سامنے آواز بلند کرنا ناپسندیدہ و مکروہ تھا۔ اس لئے کہ نبی اکرم اپنی قبر انور میں زندہ ہیں اور اپنی حیات کی طرح واجب الاحترام ہیں ۲؎

حضور سے مخاطبت کے آداب

نبی کریم کو مخاطب کرنے کے لئے بھی نہایت احتیاط کا حکم دیا اور روزمرّہ کے معمولات میں ایک دوسرے کو مخاطب کرنے والے طریقے اور روش سے سختی سے منع کیا گیا ہے ۔ ” وَلَا تَجْهَرُوْا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ “ ۳؎

۱؎ کشاف ۴ : ۳۵۴

۲؎ ابن کثیر ۴ : ۲۰۷

۳؎ الحجرات، ۴۹ : ۲

صفحہ ۲۱

(جس طرح آپس میں ایک دوسرے سے زور سے بولتے ہو، اسی طرح ان کے روبرو زور سے نہ بولا کرو )

شیخین کریمین کا بارگاہ مصطفیٰ کا ادب

آیت کریمہ " لَا تَرْفَعُوْا اَصْوَاتَکُمْ ..... " کے نزول کے بعد حضرت سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی حالت یہ ہوئی کہ آپ نے حلفاً کہا کہ یارسول اللہ ! آج کے بعد آپ سے اس طرح بات کروں گا جیسے کوئی سرگوشی کرتا ہے ۱؎

یہی کیفیت حضرت سیدنا عمر فاروقؓ کی بھی ہوئی۔ آپ اس قدر نرم اور آہستہ لہجے میں بات کرتے کہ نبی کریم کو دوبارہ استفسار کرنا پڑتا ۔ ۲؎

ایذاء نبی کفر و حبط اعمال کا باعث ہے

پروردگار عالم نے اہل ایمان کو بارگاہ نبوی میں بلند آواز سے اور عام روش کے مطابق ایک دوسرے کو بلانے کی طرز پر آپ کو مخاطب کرنے سے منع فرمایا ہے اس لئے کہ یہ عمل ادب و احترام رسول کے ترک پر دلالت

۱؎ روح البیان ، ۹ : ۶۳ ؛ کشاف ، ۴ : ۳۵۴ ۲؎ ایضاً

صفحہ ۲۲

کرتا ہے بلکہ کفر تک پہنچاتا ہے جس کی وجہ سے سارے اعمال ضائع ہو جاتے ہیں، ارشاد باری تعالیٰ ہے : " اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ " ١؎ (کہ تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں اور تمہیں پتہ بھی نہ ہو)

بارگاہ رسالت مآب میں الفاظ کا چناؤ

کوئی ایسا لفظ جس سے نبی کریم کی ادنیٰ سی گستاخی و بے ادبی کا شائبہ متکلم یا سامع کے ذہن میں پیدا ہو، اس کا استعمال بھی حرام ہے۔ وہ لفظ جو ذو معنی "موہم تحقیر" ہو، اسے نبی کریم کی شانِ اقدس میں استعمال کرنا صریح توہین و گستاخی ہے۔ اگرچہ صراحۃً اس سے اہانت و تنقیص رسالتمآب کا کوئی وہم بھی پیدا نہ ہو، بلکہ محض ذہن میں معمولی سا شائبہ ہی پیدا ہو، تو ایسے الفاظ کا استعمال مطلقاً جائز نہیں ہے، اس میں یہ ضروری نہیں کہ وہ لفظ لغت عرب میں لغرض توہین و تنقیص کے وضع کیا گیا ہو اور نہ ہی یہ بات ضروری ہے کہ وہ لفظ کثیر المعانی ہے تو اس کے سب کے سب معانی توہین و اہانت اور تنقیص و تحقیر پر دلالت کرتے ہوں بلکہ کچھ معانی و مطالب اچھے

١ ۔ الحجرات : ٢ ۔ ۴٩

صفحہ ۲۳

بھی ہوں ، اس کے باوجود ایسے کثیر المعانی لفظ کو حضورؐ کی شان اقدس میں بولنے اور لکھنے وغیرہ سے قرآن حکیم نے سختی سے منع فرمایا ہے اس حقیقت سے آگاہی کے بعد بھی کوئی فرد اس کا ارتکاب کرے ، تو اس کا یہ عمل شان رسالتمآب میں گستاخی و اہانت کے مترادف ہے ۱؎

ارشاد خداوندی ہے

يٰاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوْا ط وَ لِلْكَافِرِيْنَ عَذَابٌ اَلِيْمٌ ۲؎

(اے اہل ایمان ! گفتگو کے وقت پیغمبر خدا سے ”راعنا“ نہ کہا کرو بلکہ ”انظرنا“ کہا کرو اور اچھی طرح سنا کرو ، جان لو کہ کافروں کے واسطے دکھ دینے والا عذاب ہے ۔)

حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد صحابہؓ کرام نے عہد کیا کہ جس کسی کو حضور کی شان میں گستاخی و اہانت کا کوئی کلمہ کہتے سنو ، تو اس کی گردن اڑا دو ۔ ۳؎

۱؎ مظہری ، ۱ : ۲۳ ؛ کبیر ، ۳ : ۲۲۴ ؛ تفسیر ابی السعود ۱ : ۱۴۱

۲؎ البقرہ ۲ : ۱۰۴

۳؎ تنویر المقیاس ، ۳۲۱ ؛ فتح القدیر ، ۱ : ۱۲۵

صفحہ ۲۴

اس کے بعد جب بھی کوئی وفد رسولِ کریم سے ملاقات کے لیے مدینہ منورہ حاضر ہوتا، تو کسی آدمی کو ان کے پاس بھجوایا جاتا، جو انہیں حاضری کے آداب بتاتا اور ہر طرح ادب و احترام ملحوظ رکھنے کی تلقین کرتا۔ ۱؎

اس ساری بحث کا خلاصہ کلام یہ ہوا کہ نبی کریم کی تعظیم و توقیر کرنا ایمان کا حصہ ہے اور ہر حال میں نبی کریم کا ادب و احترام واجب ہے اس سے معمولی سی روگردانی بھی انسان کو کفر میں پہنچا دیتی ہے اس لیے اسلامی ریاست کا قانون وضابطہ بھی اہانت رسول کے خاتمے کے لیے اتنی صریح عبارت پر مشتمل ہونا چاہیے کہ اس میں محض کسی کو یہ کہہ کر بچ جانے کی گنجائش اور موقع نہ ملے کہ جو لفظ میں نے بولا ہے ، اس میں صراحۃً حضور کی گستاخی ثابت نہیں ہوتی ۔

۱؎ روح المعانی ، ۱۳ : ۱۳۵

صفحہ ۲۵

دوسری فصل

توہین رسالت کی سزا قرآن کی روشنی میں

قرآن کریم میں ان لوگوں کے خلاف جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رنجیدہ کرتے ہیں یا ان کے لائے ہوئے اللہ کے پیغامِ حق کا مذاق اڑاتے ہیں، ایک معیاری فیصلۂ خدا موجود ہے در حقیقت ، اسلام اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے دغاباز دشمنوں کی دیدہ دلیری اور تکبر کے لیے کوئی گنجائش نہیں چھوڑتا ، لازمی ہے کہ ان کا سر نیچا کیا جائے اور ان کے فساد کو فوری ختم کیا جائے ، قرآن کریم کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ایسے گستاخوں کو ختم کرنے کے کئی طریقے ہیں ، لیکن بعض صورتوں میں جنگ قتل ، یا سر قلم کرنے کی سزا ضروری ہے ، ارشاد ہے

فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَاضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ ه ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَاقُّوْا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ ج وَمَنْ يُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ ه لہ

(ان کے سر مار کر اڑا دو اور ان کا پور پور مار کر توڑ دو ۔ یہ سزا اس لیے دی گئی ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول

لہ الانفال ۸ : ۱۲ - ۱۳

صفحہ ٢٦

کو ایذا پہنچاتی ہے اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچاتا ہے تو اللہ بھی سخت عذاب دینے والا ہے۔)

اس آیت میں جو لفظ ”یشاقق“ استعمال ہوا ہے، لغت میں اس کے معنی مخالفت کے علاوہ عداوت رکھنا اور تکلیف و ایذا پہنچانا بھی آتے ہیں١؎ نیز مفسرین اس آیت میں ”ومن یشاقق اللہ ورسولہ“ سے مراد اللہ کے رسول کو ایذا پہنچانے اور ان سے گستاخی کی کوشش لیتے ہیں اور ایسے گستاخوں کی اس دنیا میں سزا موت اور آخرت میں دردناک عذاب ہے٢؎ جیسا کہ دوسری آیات میں بھی ذکر کیا گیا ہے:

”وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصْلِهٖ جَهَنَّمَ ؕ وَسَآءَتْ مَصِيْرًا“ ٣؎

(اور جو شخص سیدھا رستہ معلوم ہونے کے بعد پیغمبر کو تکلیف دے اور مومنوں کے رستہ کے سوا اور رستے پر چلے تو جدھر وہ چلتا

١؎ المنجد : ٣٩٦ (ش. ق. ق)

٢؎ ابن کثیر، ٢ : ٣٢٥

٣؎ النساء : ١١٥

صفحہ ۲۷

ہے ہم اسے ادھر ہی چلنے دیں گے اور جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بری جگہ ہے ۔)

” لَعَذَّبَهُمْ فِي الدُّنْيَا ج وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابُ النَّارِ ہ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَاقُّوا اللهَ وَرَسُوْلَهُ ط وَمَنْ يُّشَا قِّ اللهَ فَاِنَّ اللهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ ” له

(تو ان سب کے لیئے دنیا میں بھی عذاب ہے اور آخرت میں تو ان کے لیئے آگ کا عذاب تیار ہے یہ اس لیئے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچائی اور جو شخص اللہ کو تکلیف پہنچائے تو اللہ سخت عذاب دینے والا ہے ۔)

اسلام اور رسول کریم کے دشمنوں اور گستاخوں کے بارہ میں یہ قرآنی احکام بالکل واضح ہیں اور اس بارہ میں کسی نرمی کی گنجائش نہیں ہے، کیوں کہ نبی کریم جو کہ سراپا رحمت تھے انہوں نے بھی ”رحمة للعالمین“ ہونے کے باوجود قانون شکن عناصر اور گستاخوں سے کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں برتی خود آپ کا ارشاد گرامی ہے :

” اِنِّيْ لَمْ اُبْعَثْ لِاُعَذِّبَ بِعَذَابِ اللهِ اِنَّمَا بُعِثْتُ لِاَضْرِبَ

له الحشر ۴ : ۵۹

صفحہ ۲۸

الرِّقَابِ اَي الْاَعْنَاقِ وَشُدُّوا الْوَثَاقَ “ ١؎ (میں اللہ کے عذاب کے ساتھ لوگوں کو عذاب دینے کے لئے رسول بنا کر نہیں بھیجا گیا ۔ لیکن میں نے بے حرمت باغیوں اور کافروں کی گردنیں قلم کرنے کے لئے بھیجا گیا ہوں ۔)

توہینِ رسالت کے قائدین سے لڑنے کا حکم

جب کافروں نے نبی کریم کو بے اعتبار و مشکوک ٹھہرانے کی کوشش کی آپ کو ایذا و تکلیف پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی اور آپ کی شان میں ہر قسم کی گستاخی کی ، تو مسلمانوں کو اجازت دی گئی کہ وہ ان سردارانِ کفر سے جنگ کریں ، جو کہ لوگوں کو رسول اللہ ﷺ اور پیغامِ حق کے خلاف برانگیختہ کرتے تھے :

” طَعَنُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ فَقَاتِلُوْا اَئِمَّةَ الْكُفْرِ ۙ اِنَّهُمْ لَآ اَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُوْنَ ہ “ ٢؎

(اور تمہارے دین میں طعن کرنے لگیں تو ان کفر کے پیشواؤں کو قتل کرو ، ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں عجب نہیں کہ اپنی حرکات

١؎ ابن ابی شیبہ ، ۱۲ : ۳۹۰ ؛ مسلم ، الجہاد ، ۱۱۹ ؛ بیہقی ، ۷ : ۴۰

٢؎ التوبہ ۹ : ۱۲

صفحہ ۲۹

سے باز آجائیں۔)

رسول اللہ کے شاتم کی سزا

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں :

(کسی کے لیئے جائز نہیں کہ وہ رسول اللہ کو ایذا پہنچائے)

الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَاَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِيْنًا " ۲؎ (جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا پہنچاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی پھٹکار ہے اور ان کے لیئے رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے)

(جو لوگ اللہ کے رسول کو ایذا پہنچاتے ہیں ان کے درد ناک

۱؎ الاحزاب ۳۳ : ۵۳ ۲؎ ایضاً : ۵۷ ۳؎ التوبہ ۹ : ۶۱

صفحہ ۳۰

عذاب ہے)

یہ اور اس سے قبل تحریر کی گئی آیات اس بات کا ثبوت مہیا کرتی ہیں کہ توہین دین و رسالت ناقابل معافی جُرم ہے جس کی سزا موت ہے اور حضور نبی اکرم کے عمل سے اس سزا کی تصدیق و توثیق ہوتی ہے کیوں کہ آپ نے ایسے کافر، بے حرمت اور گستاخ افراد کی گردن مارنے کا حکم خود کئی بار صادر فرمایا ہے کعب بن اشرف یہودی جو کہ نبی اکرم کی شان میں گستاخی کیا کرتا تھا، اس کے بارے میں آپ نے فرمایا : " مَنْ لِكَعْبِ ابْنِ اَشْرَفَ فَإِنَّهُ قَدْ آذَى اللهَ وَ رَسُوْلَهُ " ۱؎

(تم میں سے کون کعب بن اشرف سے نمٹے گا، کیوں کہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچائی ہے ۔)

اسی طرح آپ نے ابورافع اور عقبہ بن ابی مُعَیط کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ ۲؎

گستاخوں کا طویل سوہان رُوح

قرآن حکیم نے اسلام اور نبی کریم کے خلاف کافرانہ حرکتوں، بے حرمتی

۱؎ حاکم ، ۳ : ۴۳۵

۲؎ بخاری، مغازی، ۱۷ ، ابن ہشام ، ۱ : ۱۹۵ ، ۴۷۱ ، ۴ : ۴۶ ، ۴۷۰ ، الصارم ، ۱۴۲ ، ۱۴۷

صفحہ ٢١

شر اور غداری پر مصر افراد کے لیے سخت اور طویل سوہانِ روح کا اعلان کیا ہوا ہے :

" سَنُعَذِّبُهُمْ مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّوْنَ اِلٰی عَذَابٍ عَظِيْمٍ " ؎١ (ہم ان کو دہرا عذاب دیں گے پھر وہ بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے)

توہینِ رسالت کے مرتکب افراد سے میل جول کی ممانعت

مسلمان اگر دیکھیں یا سنیں کہ قرآنِ کریم کا مذاق اڑایا جا رہا ہے اور ذاتِ رسول کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ، تو ان کا فرض ہے کہ وہ ایسی حرکتوں کے خلاف ردّ عمل ظاہر کریں اور ایسے لوگوں سے ہر قسم کا تعلق ختم کرلیں ، ایسا کرنے میں ناکامی کا مطلب یہ ہوگا کہ مسلمان بھی ان جیسے ہوگئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے

" وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِى الْكِتَابِ اَنْ اِذَا سَمِعْتُمْ اٰيٰتِ اللّٰهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَاُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوْا مَعَهُمْ حَتّٰی يَخُوْضُوْا فِىْ حَدِيْثٍ غَيْرِهِ ز اِنَّكُمْ اِذاً مِّثْلُهُمْ " ؎٢

؎١ التوبہ ۹ : ۱۰۱

؎٢ النساء ۴ : ۱۴۰

صفحہ ۳۲

(اور خدا نے تم پر اپنی کتاب میں یہ حکم نازل فرمایا ہے کہ جب سنو کہ خدا کی آیات سے انکار ہو رہا ہے اور ان کی ہنسی اڑائی جارہی ہے تو جب تک وہ لوگ اور باتیں نہ کرنے لگیں ان کے پاس مت بیٹھو ورنہ تم بھی انہی جیسے ہو جاؤ گے)

اسی طرح جب یہ آیات نازل ہوئیں : " اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ اُولٰٓئِكَ فِی الْاَذَلِّیْنَ ه كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ ه لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَلَوْ كَانُوْا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْ ؕ " ۱؎

(جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا پہنچاتے ہیں وہ نہایت ذلیل ہوں گے ۔ اللہ کا حکم ناطق ہے میں اور میرا پیغمبر ضرور غالب رہیں گے ۔ بے شک اللہ زور آور اور زبردست ہے ۔ جو لوگ اللہ پر اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں تم ان کو اللہ اور اس کے رسول کے دشمنوں سے دوستی کرتے ہوئے نہ دیکھو گے خواہ وہ ان کے

۱؎ المجادلہ ۵۸ : ۲۰ - ۲۲

صفحہ ۳۳

(باپ یا بیٹے یا بھائی یا خاندان ہی کے لوگ ہوں)

”اَلَمْ يَعْلَمُوْا اَنَّهٗ مَنْ يُّحَادِدِ اللهَ وَرَسُوْلَهٗ فَاَنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِيْهَا ط ذٰلِكَ الْخِزْیُ الْعَظِيْمُ“ ۱؎

(کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول سے دشمنی رکھتا ہے تو اس لئے جہنم کی آگ تیار ہے جس میں وہ ہمیشہ جلتا رہے گا۔ یہ بڑی رسوائی ہے۔)

ان احکامات کے پیش نظر حالات یہ تھے کہ صحابہ کرام نے اپنے ان رشتہ داروں کو قتل کر دیا تھا یا قتل کرنے کی قسم اٹھا رکھی تھی جو کہ نبی کریم کو گالیاں دیتے یا بیہودہ مذاق کرتے تھے۔ حضرت ابو عبیدہ نے اپنے باپ الجراح کو اور حضرت مصعب بن عمیر نے اپنے بھائی جو کہ نبی کریم کو گالیاں دیتے تھے خاص طور پر ڈھونڈ کر معرکہ بدر کے دوران قتل کیا۔ اسی طرح حضرت ابوبکر صدیق نے اپنے حقیقی بیٹے کو قتل کرنے کی قسم اٹھا رکھی تھی۔ ۲؎

قرآن حکیم کے یہ احکام واضح طور پر بتاتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن، شاتم، الزام لگانے والے اور آپ کی شان اقدس میں

۱؎ التوبہ ۹ : ۶۳ ۲؎ ابن کثیر ۳ : ۱۴۰

صفحہ ۲۷

گستاخی کرنے والے کی برسرعام تحقیر کرنی چاہیے اور اس کو اس جرم کی حقیقی اور واحد سزا — موت (جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے بھی ثابت ہے) تک پہنچانے کا اہتمام کرنا چاہیے ۔

ازواج مطہرات کی توہین کی سزا

رسول کریم کی ازواج مطہرات جو کہ مسلمانوں کی مائیں ہیں ان کی تعظیم و عزت کرنا مسلمانوں پر فرض ہے، قرآن حکیم میں اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے :

" اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَاَزْوَاجُہٗ اُمَّهَاتُهُمْ " ۱؎

(پیغمبر مومنوں پر ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں اور پیغمبر کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔)

اسی طرح اللہ پاک کا فرمان ہے :

" وَلَا تَنْکِحُوْا اَزْوَاجَہٗ مِنْ بَعْدِہٖ اَبَداً " ۲؎

۱؎ الاحزاب ۳۳ : ۶ ۲؎ ایضاً : ۵۳

صفحہ ۲۵

(اور نہ ان کی بیویوں سے کبھی ان کے بعد نکاح کرو)

ان آیات کی روشنی میں اہل علم کا اس بات پر اجماع نقل کیا گیا ہے کہ جو کوئی ازواج مطہرات اور بالخصوص حضرت عائشہ پر بہتان لگائے اور گالی نکالے وہ کافر ہو جاتا ہے ۱؎ حضرت امام مالکؒ کا قول ہے کہ جو حضرت عائشہ کو گالی دے اسے بھی قتل کر دیا جائے ۲؎ اس کی وجہ وہ قرآن پاک کی یہ آیت بتاتے ہیں :

" يَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنْ تَعُوْدُوْا لِمِثْلِهٖٓ اَبَدًا اِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِيْنَ ۔" ۳؎

( اللہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ اگر مومن ہو تو پھر کبھی ایسا کام نہ کرنا )

البتہ دیگر فقہاء قتل کی بجائے سخت سزا کوڑوں کی صورت میں تجویز کرتے ہیں ۴؎

۱؎ الصارم ، ۵۶۵ - ۶۶ ؛ ردالمحتار ۴ : ۲۲۷

۲؎ ایضاً ، ۵۶۶

۳؎ النور ۲۴ : ۱۷

۴؎ المرجع السابق ، ۵۶۷ - ۶۸

صفحہ ۳۶

حضرت امام مالکؒ اور کچھ فقہاء جو کہ اہل بیت و ازواج مطہرات کو گالی دینے والے کو قتل کرنے کے قائل ہیں ۔ وہ یہ دلیل دیتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریمؐ کے اہل بیت پر الزام دھرتا اور ان کے جذبات مجروح کرتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو بلا کر فرمایا کہ تم میں سے کون ہے جو اس گستاخ سے مجھے نجات دلائے گا حضرت سعد بن معاذ نے یہ کام اپنے ذمہ لیا اور اس شخص کو قتل کر دیا ۔ ۱

حضرت ابن عباسؓ بھی کہتے ہیں کہ جو شخص امہات المومنین کو گالی دیتا ہے وہ حضور کو اذیت پہنچاتا ہے اور اس میں توبہ کی گنجائش نہیں لہٰذا وہ مباح الدم ہو جاتا ہے ۔ ۲

اسی طرح کچھ فقہاء حضرت السائب القاضی ، اسمعیل بن اسحٰق ابوبکر بن زیاد نیشاپوری اور محمد بن زید کے سامنے مختلف واقعات میں مختلف اشخاص نے ازواج النبی کو برا بھلا کہا ، تو ان حضرات نے بذاتِ خود انہیں قتل کر دیا ۔ ۳

۱ الصارم ، ۴۷

۲ ایضاً ، تنویر المقیاس ، ۳۲۳

۳ ایضاً ، ۵۶۶ - ۶۷

صفحہ ۳۷

تیسری فصل

دور نبوت کے مختلف فیصلے

نبی کریم کی تضحیک و توہین کرنے کا مطلب اللہ کی حدود کو توڑنا اور ان کا صریح مذاق اڑانا ہے ، اسی لئے آپ نے ایسے مجرموں سے سختی سے نمٹنے کا حکم دیا ہے حضرت علی سے مروی ہے کہ نبی کریم نے فرمایا : " مَنْ سَبَّنِيْ فَاقْتُلُوْهُ " ۱؎ (جس نے مجھے گالی دی اسے قتل کردو)

اسی طرح آپ نے فرمایا : " وَمَنْ سَبَّ نَبِيًّا قُتِلَ وَمَنْ سَبَّ اَصْحَابَهُ جُلِدَ " ۲؎ (اور جو کسی نبی کو گالی دے اسے قتل کیا جائے ۔ اور جو میرے اصحاب کو گالی دے اسے کوڑے مارے جائیں ۔)

حضرت عروہ بن محمد نے حضرت بلقینی سے روایت کی ہے کہ ایک شخص آپ کے خلاف بدزبانی کیا کرتا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے پوچھا : تم میں سے کون میرے اس دشمن سے مجھے نجات دلائے گا ۔ ؟

۱؎ البحر الزخار ، ۲ : ۲۰۵ ۲؎ مجمع الزوائد ، ۶ : ۲۶۰

صفحہ ۳۸

تو حضرت خالد بن ولید نے اس کو ختم کرنے کا ذمہ لیا، جس پر نبی کریم بہت خوش ہوئے، اس کے بعد حضرت خالد نے اس شخص کو ختم کر دیا۔ ۱؎

ایک عورت کی گالیاں سن کر نبی کریم نے فرمایا : " مَنْ يَّكْفِيْنِيْ عَدُوِّيْ " (میرے دشمن کو کون ختم کرے گا) حضرت خالد بن ولید نے ہی اس کی ذمہ داری لی اور اس کو قتل کر دیا ۲؎

حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ کسی قبیلے کی ایک عورت نبی کریم کو گالیاں دیا کرتی تھی، تو نبی کریم نے فرمایا : کون ہے جو اس کو میرے حکم کی بجا آوری میں قتل کرے گا۔ تو صحابہ میں سے ایک نے ذمہ داری لی اور اس کو قتل کر دیا ۳؎

صحابہ کرام کبھی بھی کسی شاتم رسول کو کھلا نہیں چھوڑتے تھے۔ جیسے ہی انہیں پتہ چلتا کہ کوئی نبی کریم کی بے عزتی کر رہا ہے یا ان سے بد زبانی کر رہا ہے تو وہ اس کا کام تمام کر دیتے۔ اور رسول کریم انہیں اس بات کا اختیار

۱؎ رزاق ، ۹۷۰۵

۲؎ حلیہ ، ۸ : ۲۵ ؛ الشفاء ۲ : ۱۹۵

۳؎ رزاق ، ۹۷۰۶ ؛ خطیب ، ۱۳ : ۹۹ ؛ الشفاء ۲ : ۱۹۵

صفحہ ۳۹

عطا کرتے اور صحابہ کرام شاتم رسول ، کفر گو بے حرمت شخص کو قتل کرنے کو اللہ اور اس کے رسول کی مدد و معاونت سمجھتے تھے ۔ اسی طرح نبی کریم اس شخص سے خوش ہوتے جو کہ کسی شاتم کا خاتمہ کرتا ، حضرت عمیر بن عدی نے جب ایک گستاخ عورت کو از خود (نبی کریم کی اجازت لیئے بغیر) قتل کر دیا ، تو آپ نے انہیں اللہ اور اس کے رسول کا مدد گار قرار دیتے ہوئے فرمایا :

” إِذَا أَحْبَبْتُمْ اَنْ تَنْظُرُوا اِلٰی رَجُلٍ نَصَرَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهُ بِالْغَيْبِ فَانْظُرُوا اِلٰی عُمَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ “ ۱ ؎

(اگر تم کسی ایسے شخص کو دیکھنا چاہو جس نے اللہ اور اس کے رسول کی غیب سے مدد کی ہو تو تم عمیر بن عدی کی طرف دیکھو)

اسی طرح نبی کریم کے زمانہ میں بہت سارے گستاخوں کو آپ کے حکم سے قتل کیا گیا اور خود آپ نے غزوہ بدر کے موقع پر حضرت سعد بن معاذ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : کہ میں دشمنان اسلام کو زندہ چھوڑ دیئے جانے کی نسبت ان کو قتل ہوا دیکھنا پسند کروں گا ۲ ؎

۱ ؎ مجمع الزوائد ، ۵ : ۲۶۰ ؛ الصارم ۱۲۹ ۲ ؎ ابن ہشام ، ۱ : ۲۸۵

صفحہ ۴۰

معاویہ بن مغیرہ کو موت کی سزا

یہ شخص نبی کریم کو گالیاں دیا کرتا تھا ، اس نے معرکہ بدر میں بھی حصہ لیا ، جس میں وہ قید بھی ہوا اور اس موقع پر اس نے قسم کھائی کہ وہ دوبارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی نہیں کرے گا، آپ نے اسے اس وعدہ پر رہا کر دیا ، لیکن یہ بدبخت باز نہ آیا ، اس کے بعد دوبارہ قید ہو کر آپ کے سامنے پیش ہوا ، تو پھر معافی طلب کرنے لگا ، لیکن رسول اکرم نے اس کی بات کو یہ کہتے ہوئے رد کر دیا کہ : ایک سچا مسلمان دو بار نہیں ڈسا جا سکتا ۔ اس کے بعد نبی محترم نے اس کا سر قلم کرنے کا حکم دیا ۔ ۱؎

نبی کریم نے خود ابی بن خلف کو ہلاک کیا

یہ شخص نبی کریم کا جانی دشمن اور نہایت بدتمیز و گستاخ شخص تھا جب بھی آپ کو دیکھتا تو کہتا کہ میں اپنے گھوڑے عوض کو خوب کھلاتا پلاتا ہوں تاکہ ایک روز اس پر سوار ہو کر تمہیں قتل کر دوں ۔ ( نَعُوْذُ بِاللّٰہِ ) معرکہ اُحد

۱؎ ابن ہشام ، ۲ : ۱۰۳

صفحہ ۴۱

کے دوران یہ آپ پر حملہ آور ہوا، صحابہ کرام نے آپ سے اس پر حملہ کی اجازت چاہی لیکن نبی کریم نے اس کے قریب آنے پر حارث بن الصمت کا نیزہ لے کر اس پر وار کیا جس سے یہ گھوڑے سے گر گیا اور واصلِ جہنم ہوا ۱؎

توہین رسالت کے جن مجرموں کو آپ نے قتل کرنے کا حکم دیا

ابو رافع عبداللہ بن ابی الحقیق

یہ ابو رافع کے طور پر معروف تھا اور خیبر کے علاقہ کا مشہور اور خوشحال تاجر تھا، یہ رسول اللہ کے لیئے زبان بد استعمال کرتا اور آپ کا ٹھٹھا اڑاتا، اسی وجہ سے آپ نے عبداللہ بن عتیق کی سربراہی میں ایک جماعت کو اس کا کام تمام کرنے کے لیئے روانہ فرمایا۔ یہ لوگ رات کے وقت اس کے قلعہ میں داخل ہوئے اور حضرت عبداللہ بن انیس نے اس کا پیٹ چاک کر کے اس کو ختم کر دیا۔ قلعہ سے باہر آتے ہوئے عبداللہ بن عتیق سیڑھی سے گرے اور ان کی ٹانگ پر چوٹ آئی۔ مدینہ پہنچ کر انہوں نے پورا واقعہ نبی کریم کو سنایا، آپ کو اس خبر سے مسرت و خوشی ہوئی ، آپ نے عبداللہ بن عتیق کو ٹانگ پھیلانے کا حکم

۱؎ ابن ہشام ، ۲ : ۸۴

صفحہ ۴۲

دیا ۔ آپ نے اسے ملا اور یہ ایسے شفایاب ہو گئی جیسے کہ اس پر کبھی چوٹ ہی نہیں آئی تھی ۔ ۱؎

ابو عفک

۱۲۰ سال کا یہ بوڑھا شاعر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو لکھتا اور لوگوں کو اسلام کے خلاف بھڑکاتا، بدر کے بعد اس نے مزید گستاخانہ نظمیں لکھیں جن میں غلیظ زبان استعمال کی ۔ جب دشمن اسلام حارث بن سوید بن صامت کو سزائے موت دی گئی تو اس نے ایک اور نظم لکھی جس میں رسول کریم کو گالیاں دی گئیں، مزید اس میں اسلام اور مسلمانوں کا ٹھٹھا اڑایا گیا، نبی کریم نے جب نظم سنی تو فرمایا : کہ کون اس غلیظ اور بدکردار آدمی کو ختم کرے گا، حضرت سالم بن عمیر نے اپنی خدمات پیش کیں وہ ابو عفک کے گھر گئے ، تو وہ سو رہا تھا ، انہوں نے اس کے جگر میں اپنی تلوار اتنے زور سے جھونکی کہ بستر کے پار نکل گئی ۔ ۲؎

صفوان بن امیہ

یہ شخص نبی اکرم کی بے عزتی کرنے کے علاوہ جسمانی گزند پہنچانے اور اذیت

۱؎ بخاری ، مغازی ۱۷ ، ابن ھشام ، ۲ : ۴۶ - ۴۷ ؛ الصارم ، ۱۴۲ ۲؎ ابن ھشام ، ۲ : ۱۰۵۱ ؛ الصارم ، ۱۰۳

صفحہ ۴۳

دینے کا کوئی موقع ھاتھ سے نہ جانے دیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قتل کرنے حکم دیا تو وہ فرار ہو کر جدہ چلا گیا اور وہاں جاکر بذریعہ سمندری جہاز یمن فرار ہونے یا خودکشی کرنے کے بارہ میں سوچنے لگا ۔

ادھر عمیر بن وھب جو کہ پہلے صفوان کے ساتھی رہ چکے تھے مگر اب اسلام لے آئے تھے ۔ مدینہ آکر صفوان کی حالت بیان کرکے ، اس کی جان بخشی کی درخواست کی اور حضور کی رضامندی دیکھ کر صفوان کے پیچھے روانہ ہوگئے اور وہاں پہنچ کر اسے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں معاف کرنے کو تیار ہیں ۔ جب وہ واپس آیا تو اس کی بیوی جو کہ پہلے ہی مسلمان ہوچکی تھی اور ان کا نام فاختہ بنت الولید تھا وہ اسے رسول اللہ کے حضور لے آئیں ، جہاں اس نے اسلام قبول کیا اور باقی ماندہ زندگی اس کی وفاداری میں گزار دی ۔ ۱؎

انس بن زنیم الدیلی

یہ شخص بھی رسول اکرم کی خدمت اقدس میں گستاخی کیا کرتا تھا ، ایک دفعہ بنو خزاعہ کے نوجوان نے اسے ایسا کرتے ہوئے سنا ، تو اس کا سر زخمی کر دیا انس نے اپنا زخم اپنے قبیلہ والوں کو دکھلایا اور حمایت کا طالب ہوا ، اس سارے

۱؎ ابن ہشام ، ۲ : ۵۵۵

صفحہ ۴۷

معاملہ سے نبی کریم کو مطلع کیا گیا تو آپ نے یہ حکم دیا کہ انس کو قانون کے سپرد کر کے قتل کر دیا جائے ۔ اس فیصلہ پر عمل درامد سے قبل حضرت نوفل بن معاویہ رسول اللہ کے پاس آئے اور درخواست کی کہ انس کی معذرت خواہی اور توبہ قبول کی جائے ۔ رسول اکرم نے انس کی معذرت قبول کر لی ، اس طرح اس کی جان بخشی ہو گئی ۱؎

حارث بن ہشام اور زبیر بن ابی امیہ

یہ دونوں قبیلہ مخزوم سے تھے اور حضرت ام ہانی بنت ابوطالب زوجہ ہبیرہ بن ابی وھب المخزومی کے بہنوئی تھے یہ دونوں مسلمانوں اور اسلام کے سخت دشمن اور رسول اللہ کو برا بھلا کہا کرتے تھے ، آپ نے دونوں کے لیے موت کی سزا سنائی ۔

اس سزا کا سن کر یہ دونوں ام ہانی کے گھر میں چھپ گئے ، حضرت علی انہیں قتل کرنے کے لئے ام ہانی کے گھر میں داخل ہوئے تو انہوں نے بڑی مشکل سے حضرت علی کو ان کے قتل سے روکا اور خود ان کی معافی کے لئے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیں تو آپ نے انہیں

۱؎ ابن ہشام ، ۲ : ۸۷۹ ؛ الصارم : ۱۰۴

صفحہ ۴۵

معاف کر دیا ۔ ۱؎

ابوسفیان بن حرب

ابوسفیان مکہ میں خاندان قریش کے بہت ممتاز فرد تھے ، فتح مکہ تک یہ اس قدر مخالف اسلام و رسول اللہ رہے کہ انہی کی کوششوں سے بدر ، احد اور خندق کی جنگیں مسلمانوں پر مسلط ہوئیں ، جن میں بہت سارے مسلمان شہید ہوئے بلکہ انہوں نے خود نبی اکرم کو شہید کرنے کی مذموم کوشش بھی کی حضور اکرم نے ان کے بارہ میں اپنے احساسات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ مکہ میں ابوسفیان ہمیشہ میرے بارے میں تحقیر آمیز لہجے میں بات کرتا اور میرے احساسات مجروح کرتا ہے ۔

انہی وجوہ کی بناء پر آپ نے انہیں قتل کرنے کا حکم دیا اور عمرو بن امیہ الضمری اور جبار بن صخر الانصاری کو اس مقصد کے لئے روانہ فرمایا ، مگر یہ دونوں حضرات ان کو قتل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے ۔۲؎ بالآخر انہیں فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کرنے کی سعادت نصیب ہوئی ۔

۱؎ ابن ہشام ، ۲ : ۴۱۱

۲؎ ایضاً ، ۲ : ۱۰۴۹

صفحہ ٤٦

توہین رسالت کے مجرم سرداران مکہ کا انجام بد

حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں نماز ادا کر رہے تھے ، تو قریش کے کچھ لوگوں نے آپ کی ہنسی اڑاتے ہوئے آپ کی تحقیر کی ۔ عقبہ بن ابی معیط ایک ذبح شدہ اونٹنی کا رحم لے آیا اور حالت سجدہ میں آپ پر پھینک دیا جسے بعد میں حضرت فاطمہ نے آکر اٹھایا ۔

اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو جہل بن ہشام ، عقبہ بن ربیعہ ، عقبہ بن ابی معیط ، شیبہ بن ربیعہ ، امیہ بن خلف اور ابی بن خلف کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ تو ہی انہیں سزا دے جو کہ میری بے عزتی کر کے گستاخی کرتے ہیں اور ان کو تو ہی تباہ و برباد کر دے ۔

حضرت عبداللہ بن مسعود نے مزید بیان کیا ہے کہ میں نے خود دیکھا کہ یہ سردار جو کہ مخالف اسلام ہونے کے ساتھ سخت گستاخ تھے ، معرکہ بدر میں قتل ہوئے اور سب کی لاشوں کو ایک کنویں میں پھینکا گیا ، جب کہ امیہ کی لاش کو ٹکڑے کر کے کنویں میں پھینکا گیا ۔ اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان گستاخوں کے لئے جو بد دعا کی تھی ، وہ اللہ نے قبول

۱؎ بخاری ، مناقب ، ۴ ؛ مسلم ، الجہاد والسیر ، ۱۰۷

صفحہ ۷۷

کی اور انہیں ذلت سے دوچار کر کے مارا ۔

نو آدمیوں اور ایک دوسری جماعت کا قتل

حضرت ابو عامر الاشعری کا ایک دفعہ دس بھائیوں سے ٹکراؤ ہو گیا ، یہ سب بھائی حضور کی شان اقدس میں نازیبا کلمات کہا کرتے تھے انہوں نے مل کر حضرت ابو عامر پر حملہ کر دیا ، لیکن آپ نہایت جوانمردی اور جراءت سے لڑے اور نو گستاخوں کو قتل کر دیا ، دسویں بھائی نے اپنے بھائیوں کا حال دیکھ کر اللہ سے معافی کا اظہار کیا ، یہ سن کر آپ نے اسے جانے دیا، بعد میں وہ دسواں بھائی مسلمان ہو گیا ۔ ۱؎

بنی فزارہ کے کچھ لوگ نبی کریم کی شان میں کلمات بد کہا کرتے تھے حضور نے حضرت زید بن حارثہ کو ایک جمعیت کے ساتھ ان کی سرکوبی کے بھیجا ، وہ ان سے وادی القریٰ میں نبرد آزما ہوئے اور بہت سارے لوگوں کو قتل کر ڈالا اور کافی لوگ زخمی ہوئے یا قید ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے گئے ۔ ۲؎

۱؎ ابن ہشام ، ۲ : ۹۰۲

۲؎ ایضاً ۲ : ۱۰۳۲

صفحہ ۴۸

گستاخ عورتوں کا قتل

شادی ایک کنیز سے ہوئی تھی، وہ جب کبھی رسول اللہ کے متعلق بات کرتی تو بدزبانی کرتی، اس کے خاوند نے اسے کافی بار اس بات سے منع کیا لیکن وہ باز نہ آئی، ایک رات جب اس نے آپ کی شان میں بدکلامی کی تو اس کے نابینا خاوند نے اسے چاقو مار کر ہلاک کر دیا

صبح کو نبی اکرم کو اس واقعہ کی اطلاع ملی، تو آپ نے پوچھا کہ یہ قتل کس نے کیا ہے ؟ یہ سن کر وہ نابینا لوگوں کے کندھوں سے ٹھوکریں کھاتا ہوا اور خوف سے لرزاں آپ کے قریب پہنچا اور بتایا کہ میں نے اس کو آپ کی شان اقدس میں گستاخی پر قتل کیا ہے تو آپ نے فرمایا:

- " ألا اشهدوا ان دمها هدر " ا؎

(تم گواہ رہو کہ اس کا خون باطل ہے)

کہتی، تو ایک آدمی نے اس کا گلا گھونٹ دیا یہاں تک کہ وہ مرگئی۔ رسول اللہ

ا؎ ابو داؤد، حدود، ۲ ؛ دار قطنی، ۳ : ۱۱۲-۱۳ ؛ بیہقی، ۷ : ۶۰ ، ۱۰ : ۲۱

صفحہ ٤٩

نے اس کے خون کو ناقابل سزا قرار دیا ۔ ١؎

خالد بن سفیان الہذلی کو سزائے موت کا حکم

یہ اسلام کا بدترین دشمن تھا اور حضور کو گالیاں دیا کرتا تھا، اس نے باقاعدہ طور پر لوگوں کو آپ کے خلاف اکسانے کی مہم چلا رکھی تھی، اسی غرض سے وہ عرینہ یا نخلہ جانے کے لئے روانہ ہوا تو آپ نے حضرت عبداللہ بن انیس کو اس کی سرکوبی کے لئے مامور فرمایا، حضرت عبداللہ بن انیس نے نبی کریم سے اس کا حلیہ دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ تم اس کو دیکھو گے وہ تمہیں شیطان کی یاد دلائے گا، مزید یہ کہ وہ ہر وقت کانپتا رہتا ہے عبداللہ بن انیس جب اس کے ہاں پہنچے تو اس کو ہو بہو ویسا ہی پایا جیسا کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا تھا۔

حضرت عبداللہ بن انیس نے اپنی شناخت کو چھپاتے ہوئے اس پر یہ یہ خواہش ظاہر کی کہ وہ اس کے گروہ میں شامل ہونا چاہتے ہیں، کچھ دیر تک وہ اس کے ساتھ ایسی ہی باتوں میں مشغول رہے اور موقع پاتے ہی تلوار سے اس کو موت سے ہمکنار کر دیا ۔

١؎ ابو داؤد ، حدود ، ٢

صفحہ ۵۰

جب وہ واپس تشریف لائے تو رسول اللہ نے نہایت خوشی کا اظہار فرمایا ، اور انہیں اپنے گھر لے جاکر اپنی چھڑی عنایت فرمائی ، اور ارشاد فرمایا کہ میرے اور تمہارے درمیان یہ چھڑی ایک نشانی ہوگی ، حضرت عبد اللہ بن انیس نے اس چھڑی کو تلوار کے ساتھ باندھ لیا، یہ چھڑی آخری دم تک ان کے پاس رہی اور قبر میں ان کے ساتھ ہی دفن کی گئی ۔ ۱؎

حارث بن سوید بن صامت کا قتل

یہ ایک منافق تھا ، معرکہ احد میں مسلمانوں کے ساتھ تھا ، معرکہ شروع ہوتے ہی اس نے دو مسلمانوں کو شہید کردیا، اور دشمن کی جمعیت سے جا ملا ، رسول اللہ نے حضرت عمر کو موقع پر ہی حارث کو ٹھکانے لگانے کا حکم دیا، لیکن وہ بچ نکلا ، بعد میں اس نے اظہار ندامت ظاہر کر کے معافی چاہی، آپ اسے قبول نہ کیا ، اور اللہ تعالیٰ نے بھی یہ وحی نازل فرمائی ۔

” كَيْفَ يَهْدِی اللّٰهُ قَوْمًا كَفَرُوْا بَعْدَ اِيْمَانِهِمْ وَشَهِدُوْا اَنَّ الرَّسُوْلَ حَقٌّ وَّجَآءَهُمُ الْبَيِّنٰتُ ط وَاللّٰهُ لَا يَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ ۔ ۲؎

۱؎ ابن ہشام ، ۲ : ۱۰۳۶ - ۳۷

۲؎ آل عمران ۳ : ۸۶

صفحہ ۵۱

(اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو کیوں کر ہدایت دے جو ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے اور پہلے اس بات کی گواہی دے چکے کہ یہ پیغمبر برحق ہے اور ان کے پاس دلائل بھی آگئے اور اللہ بے انصافوں کو ہدایت نہیں دیتا۔)

ایک روز وہ سرخ لباس میں مدینہ کی دیواروں میں سے ظاہر ہوا، تو حضرت عثمان کو حضور نے اس کے قتل کا حکم دیا، تو اس حکم کی فوراً تعمیل ہوئی۔ ۱؎

فتح مکّہ کے روز شاتمانِ رسول کو سزائے موت

مشرکین مکہ، مدینہ کے متکبر یہودیوں اور منافقین نے اسلام کو ہر ممکن نقصان پہنچانے کی کوشش کی اور اسی طرح رسول اللہ کے وقار اور ناموس کو مجروح کرنے کے لئے ہر حربہ استعمال کیا اور اس سلسلہ میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ یہ گستاخِ رسولؐ اور دشمنانِ اسلام کافی تعداد میں مختلف معرکوں میں مسلمانوں کے ھاتھوں مارے گئے، لیکن ان میں سے کچھ شدید گستاخ ابھی زندہ تھے اور انہوں نے آپ کے خلاف انکار، عداوت اور نفرت کی باقاعدہ مہم شروع کی ہوئی تھی، نیز وہ انسانی شرافت اور مذہب

۱؎ ابن ہشام ۲ : ۶۰۵

صفحہ ۵۲

برائیوں کی تمام حدود پھلانگ کر نبی کریم کو گالیاں دیا کرتے تھے۔ فتح مکہ کے روز جب کہ آپ نے سب کے لئے عام معافی و امن کا اعلان فرمایا تو اس موقع پر بھی آٹھ ، دس ۱؎ لوگوں کے لئے سزائے موت کا حکم سنایا جو کہ سخت دشمن اسلام اور بدترین شاتم رسول تھے۔ آپ نے اعلان فرمایا تھا کہ یہ افراد چاہے غلاف کعبہ کے اندر چھپے ہوں ، انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا جائے جنہیں موت کی سزا سنائی گئی وہ یہ لوگ تھے:

۱؎ سیرت نگاروں نے عام طور پر دس ناموں کا ذکر کیا ہے ، بعض نے پندرہ نام بھی گنوائے ہیں ، لیکن ابن ہشام نے صرف آٹھ آدمیوں کا ذکر کیا ہے

۲؎ بخاری ، الجہاد ۶۵ ، نسائی المحاربہ ، باب حکم المرتد ؛ ابوداؤد ، ابواب قتل الاسیر ولا عرض علیہ السلام ؛ الاصابہ ، ۲ : ۱۸۷ ؛ ابن ھشام ، ۲ : ۸۶۸ - ۶۹ ، ۸۷۴ - ۷۵

صفحہ ۵۳

گستاخ و شاتم شعراء جنہیں حضور نے موت کی سزا سنائی

دوسرے دشمنان اسلام کے علاوہ بہت سارے عرب شاعر بھی ایسے تھے جو نبی کریم کی توہین پر مبنی اشعار کہا کرتے تھے اور انہیں برسرعام کفار کی محفلوں میں سنایا جاتا تھا۔ نبی کریم نے ان تمام شعراء کو اپنی توہین پر موت کی سزا سنائی ۔

کعب بن اشرف

کعب بن اشرف مدینے کا مشہور اور بااثر یہودی شاعر تھا وہ نہ صرف سخت دشمن اسلام بلکہ شدید شاتم رسول تھا وہ اپنی شاعری میں رسول اللہ صحابہ کرام اور مسلمان مستورات کو گالیاں دیا کرتا تھا جب غزوہ بدر میں قریش کو سخت شکست ہوئی تو یہ مدینہ سے مکہ چلا آیا اس کے بعد کچھ عرصہ وہاں گزارنے کے بعد مدینے واپس آگیا اور دوبارہ شدت سے گستاخانہ شاعری شروع کردی

جب یہ رسول اللہ کو گالیاں دینے اور ھر ممکن طریقے سے آپ اور آپ کے صحابہ کو اذیت پہنچانے سے باز نہ آیا تو رسول کریم نے صحابہ سے سوال کیا کہ

صفحہ ۵۴

" مَنْ لِّكَعْبِ بْنِ اَشْرَفَ فَإِنَّهُ قَدْ آذَى اللّٰهَ وَ رَسُولَهُ " ۱؎

(کعب بن اشرف سے کون نمٹے گا اس نے اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچائی ہے ۔)

یہ سن کر محمد بن مسلمہ کھڑے ہوئے اور کہا کہ میں اس کا سر قلم کرنے کو تیار ہوں اس کے بعد وہ کعب کے رضاعی بھائی ابونائلہ اور چند ایک صحابہ کے ساتھ اپنے مقصد کی تکمیل کے لیئے روانہ ہوئے ، نبی اکرم ان حضرات کو بقیع الغرقد تک خود چھوڑنے گئے اور انہیں دعا دی ۔

چاندنی رات میں یہ صحابہ پیدل کعب کے مکان تک پہنچے ، ابونائلہ (جو کہ ان کے رضاعی بھائی تھے) نے اس کو آواز دی جس پر وہ باہر آگیا ابونائلہ نے اس کو سیر پر آمادہ کیا اور وہ اس کے ساتھ چہل قدمی کرنے لگے تھوڑی دیر کے بعد ایک مناسب موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ابونائلہ نے اپنے ساتھیوں سے اسے مارنے کو کہا ، محمد بن مسلمہ نے اس کے پیٹ کے نچلے حصے میں اپنا خنجر اس زور سے پیوست کر دیا کہ وہ اس کے عضو تناسل میں اتر گیا ۔

۱؎ بخاری ، المغازی ۱۷ ؛ مسلم ، الجہاد ۱۱۹ ؛ دلائل النبوۃ ، ۳ : ۱۹۵ ؛ بیہقی ۷ : ۴۰ ، ۹ : ۸۱ ؛ الصارم ، ۷۰ ؛ ابن کثیر ، ۳ : ۱۱

صفحہ ۵۵

اس کا کام تمام کرنے کے بعد یہ لوگ رسول اللہ کے پاس رات ہی کو اطلاع کرنے آئے تو آپ مسجد نبوی کے دروازے تک تشریف لائے اور اللہ کا شکر ادا کیا ، ان حضرات میں سے ایک آدمی زخمی بھی ہوا تھا، جس کے زخموں پر آپ نے اپنا لعاب دھن لگایا ۔ ١؎

کعب بن زہیر

کعب بن زہیر اور بحیر بن زہیر عرب کے بڑے مشہور شاعر تھے ۔ بحیر نے مدینہ میں آکر نبی کریم سے ملاقات کی اور اس کے بعد مسلمان ہو گیا جب خبر اس کے بھائی (کعب) تک پہنچی تو اسے بڑا دکھ ہوا کہ اس کا بھائی اس کے مشورے کے بغیر ہی مسلمان ہو گیا ہے تو اس نے ایک نظم لکھی جس میں رسول اللہ کی ہجو کہی اور اپنے بھائی پر سخت تنقید کی ۔

جب آپ کو اس نظم کی اطلاع پہنچی تو آپ نے اس کو قتل کر دینے کا حکم دیا ، اس حکم کے باعث بحیر بھی پریشان ہوئے اور اسے یہ مشورہ بھجوایا کہ وہ اپنے جرم سے تائب ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ جائے کیونکہ آپ کسی تائب ہونے والے کو نہیں مارتے ۔

١؎ البدایہ والنہایہ ۴ : ۵ ؛ ابن ہشام ، ۱ : ۵۷۴ ۔ ۷۹ ؛ زاد المعاد ، ۲ : ۳۴۸

صفحہ ۵۶

یہ پیغام وصول کرنے کے بعد اس نے رسول اللہ کے پاس جا کر معافی مانگنے کا فیصلہ کیا اور ایک دوست کے ہمراہ آکر معافی کا طالب ہوا تو نبی کریم نے اس کی عفو خواہی قبول کر لی اس کے بعد آپ نے اس سے ایک اچھی نظم سنی ، اور اسے اپنی بردہ بھی عنایت کی اور سو اونٹ بطور تحفہ دیئے ۔ ۱؎

عبداللہ بن زبعری

یہ آپ اور مسلمانوں کی شان میں بدکلامی کیا کرتا تھا ، فتح مکہ کے روز اسے بھی قتل کرنے کا حکم دیا جس پر یہ نجران بھاگ گیا بعد میں تائب ہو کر اس نے بہ تمام اخلاص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معافی مانگی اور بعد کی ساری زندگی بطور صالح مسلمان گزاری ۔ ۲؎

ابوسفیان بن الحارث بن عبدالمطلب اور عبداللہ ابوامیہ

ابو سفیان رسول کریم کے چچیرے بھائی اور عبداللہ آپ کے بہنوئی تھے یہ دونوں رسول کریم اور صحابہ کرام کو گالیاں دیا کرتے تھے اس بنا پر نبی

۱؎ ابن ہشام ، ۲ : ۹۳۶ ؛ الصارم ، ۱۴۵

۲؎ ایضاً ۲ : ۸۷۵ - ۷۷ ، ایضاً ، ۱۳۷

صفحہ ۵۷

کریم نے ان کے قتل کے احکامات جاری کر دیئے ۔ یہ جان کر انہوں نے آپ سے ملاقات کی کوشش کی اور حضرت ام سلمیٰ سے سفارش بھی کروائی ، لیکن نبی کریم نے انکار کر دیا اس پر ان دونوں نے قسم کھائی کہ یا تو وہ آپ سے ملاقات کر کے رہیں گے یا موت آنے تک ملک میں آوارہ پھرتے رہیں گے ، جب رسول اللہ نے یہ سنا تو ان پر رحم کھا کر ملاقات کی اجازت دے دی ، دونوں نے معافی مانگی اور اسلام قبول کیا ۔

ابو سفیان بن حارث کا انتقال حضرت عمرؓ کے دور میں ہوا اور عبداللہ بن ابو امیہ طائف میں قتل ہوئے ۔ ۱؎

حویرث بن نقیص

یہ رسول اللہ کو گالیاں دیا کرتا اور ان کا دل تنگ کیا کرتا تھا ۔ ایک بار حضرت عباسؓ مکہ سے مدینہ جا رہے تھے ، حضرت زینبؓ اور حضرت ام کلثومؓ بھی ان کے ہمراہ ہولیں ، حویرث کو پتہ چلا تو اس نے اونٹ پر اس ناقے کا تعاقب کیا اور دختران رسول کے اونٹ کو ایڑھ لگائی جس سے وہ دونوں گر کر زخمی ہو گئیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے موت کی سزا سنائی ، فتح مکہ کے

۱؎ ابن ہشام ، ۲ : ۸۶ ، الصارم ، ۱۳۷ - ۳۹

صفحہ ۵۸

دن اس نے اپنے آپ کو مکان میں بند کرلیا ، حضرت علی اس کی تلاش میں تھے ، آپ کو بتایا گیا کہ وہ گھر پر نہیں ، مگر تھوڑی دیر بعد اس نے مکان سے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن حضرت علی نے اسے دیکھ لیا اور اس کا کام تمام کردیا۔ ١؎

عبداللہ بن ابی سرح

یہ پہلے مسلمان تھا، اس کے بعد مرتد ہو گیا اور کفر گوئی کے ساتھ ساتھ حضور اکرم کو بھی گالیاں دینے لگا ، اور ان پر کاذب ہونے کا الزام لگایا ۔ فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ جو کوئی بھی عبداللہ بن ابی سرح کو پائے ، اسے قتل کردے ، چاہے وہ غلاف کعبہ ہی میں کیوں نہ چھپا ہوا ہو ، اس نے اپنے رضاعی بھائی حضرت عثمان غنی کے پاس پناہ لے لی ، اور آپ اسے عام بیعت کے وقت لے کر حاضر ہوئے اور متعدد بار بیعت ومعافی کی درخواست کی ، نبی اکرم نے تین بار تو انکار کیا ، مگر حضرت عثمان اصرار کرتے رہے ، حتی کہ آپ نے اس سے بیعت لے لی اور معاف کردیا۔ ٢؎

١؎ ابن ہشام ، ٢ : ٨٦٨ ؛ الصارم ، ١٢١ - ٢٣

٢؎ ابن ہشام ، ٢ : ٨٦٧ - ٦٩ ، ٨٧٢ - ٧٥ ؛ نسائی محاربہ ، ١١

صفحہ ۵۹

عبداللہ بن خطل اور اس کی دو مغنیہ لڑکیاں

عبداللہ بن خطل کو رسول اللہ نے مسلمانوں سے زکوٰۃ وصول کرنے پر مامور کیا ، اس ڈیوٹی کے دوران اس نے ملازم کو کھانا پکانے کو کہا ، لیکن وہ جلد کھانا نہ پکا سکا ، جس کی وجہ سے اس نے ملازم کو قتل کر دیا اور خود بھاگ کر مرتد ہوگیا ، اس کے بعد اس نے رسول اللہ کی بے حرمتی شروع کر دی اس کے پاس دو لڑکیاں ، فرطنی اور قریبہ یا ارنب بھی تھیں جن کو اس نے رسول اللہ کے بارے میں ہجویہ گانے گانے کی تربیت دینی شروع کر دی اور ان کی مزید حوصلہ افزائی کی ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تینوں کے لیے سزائے موت کا حکم دیا ، جس کی تعمیل میں سعید بن الحارث اور حضرت بردۃ السلمی یا حضرت عمار بن یاسر نے اس کو صحن کعبہ میں قتل کر دیا ، اس کی گائیکہ لڑکیوں نے رسول اللہ کے پاس حاضر ہو کر توبہ کی اور معذرت چاہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں بہنوں کو معاف کر دیا اور ان کی معذرت قبول کر لی۔۱؎

۱؎ ایضاً ، ۲ : ۸۶۸ ؛ بخاری ، جہاد ، ۱۵۹

صفحہ ٦٠

مقیاس بن صبابہ

یہ شخص پہلے مسلمان تھا اس کے بعد مرتد ہو کر مکہ فرار ہو گیا وہاں جاکر اس نے رسول اللہ کے خلاف تند و تیز طعن و تشنیع کے حملوں کی مہم شروع کر دی ، اس گستاخانہ مہم کے شروع کرنے پر نبی کریم نے اس کے لیے موت کی سزا کا حکم دیا ، جنہیں حضرت نمیلہ بن عبد اللہ نے جو اس کے قبیلہ کے تھے ، نے اسے قتل کر دیا ۔ ١؎

عکرمہ بن ابی جہل

اسلام لانے سے قبل اپنے باپ کے ساتھ یہ بھی رسول اللہ کو تکالیف پہنچانے اور ان کی بے عزتی و گستاخی کرنے میں پیش پیش ہوتے ، جتنا ان دو باپ بیٹوں نے حضور اکرم کو سخت مشکلات میں مبتلا کیا کسی اور نے نہیں کیا ،

جب آپ نے ان کو قتل کر دینے کا حکم سنایا تو یہ یمن فرار ہو گئے ان کی بیوی ام حکیم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے لئے امان طلب کی رسول اللہ نے کمال رحمت سے انہیں معاف کرتے ہوئے ان کی بیوی کی درخواست قبول

١؎ ابن ہشام ٢ : ٨٦٨ ؛ الصارم ، ١٠٩

صفحہ ۶۱

کرلی ، وہ یمن گئی اور انہیں واپس لاکر آپ کی خدمت میں پیش کیا جس پر عکرمہ حلقہ بگوش اسلام ہوگئے ۔ ۱؎

حبار بن الاسود

یہ شخص آپ کو بہت گالیاں دیا کرتا حتی کہ آپ کے اھل بیت کے لیے بھی بہت غلیظ زبان استعمال کرتا ۔ رسول اللہ نے اس کی گردن اڑانے کا حکم سنایا، اس حکم کا پتہ چلتے ہی اس نے ایران بھاگ جانے کا منصوبہ بنایا ، مگر روانہ ہونے سے قبل اس کا دل توبہ کی طرف مائل ہو گیا اور اس نے آپ کے پاس آکر اپنے قبیح فعل سے توبہ کر لی ۔ آپ نے اس کی معذرت خواہی قبول کر لی ۔ ۲؎

سارہ کا معاملہ

یہ بنو عبد المطلب کی آزاد کردہ کنیز تھی ، اس نے مکہ میں رسول اللہ کے خلاف بڑی ہتک آمیز بد کلامی کی مہم شروع کر رکھی تھی ، حضور نبی کریم نے

۱؎ ابن ہشام ، ۲ : ۴۱۷ ، ۴۱۸ ؛ الصارم ، ۱/۲۰۲

۲؎ بخاری ، جہاد ، ۲۸

صفحہ ۶۲

قانون کے مطابق اسے بھی قتل کرنے کا حکم دیا لیکن تعمیل سے قبل ہی یہ آپ کے پاس معافی کے لئے حاضر ہو گئیں اور آپ نے اسے معاف کر دیا ۔ ۱؎

النضر بن الحارث اور عقبہ بن ابی محیط کا انجام

غزوہ بدر میں جو کافر قیدی ہوئے یہ دونوں انہی میں شامل تھے، یہ آپ کی ذات بابرکات پر بدکلامی کا کیچڑ اچھالنے کی ناپاک جسارت کیا کرتے تھے مقام بدر سے مدینہ واپس آتے ہوئے آپ نے اس جرم میں انہیں قتل کرنے کا حکم دیا ۔

انہیں رستے میں مقام الصفراء پر حضرت علی نے النضر بن الحارث اور حضرت عاصم بن ثابت نے عقبہ بن ابی محیط کو قتل کیا ۔ ۲؎

عصمہ بنت مروان

عفک کی موت کے بعد عصمہ نے مسلم معاشرے میں تفرقہ پیدا کرنے کی خاطر بہت منافقانہ کردار ادا کیا ، اس کے علاوہ اس نے رسول کریم کے خلاف

۱؎ ابن ہشام ، ۲ : ۸۶۸ - ۶۹ ؛ الصارم ، ۱۲۵ - ۲۶

۲؎ ایضاً ، ۱ : ۴۷۱ ، ۱۹۵ ؛ ایضاً ، ۱۴۲

صفحہ ٦٣

ایک نہایت گستاخانہ نظم بھی لکھی جسے وہ اکثر لوگوں کو سنایا کرتی ، یہ سب کچھ سُن کر رسول اللہ نے صحابہ کرامؓ سے اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کو کہا ۔

حضرت عمیر بن عدی الخطمی نے جو کہ اسی عورت کے قبیلے سے تعلق رکھتے تھے ، اسی رات جس دن کہ حضور نے اس کے قتل کا حکم دیا تھا ، اس کو قتل کر کے نبی کریم کو راحت پہنچائی ۔١؎

دور نبوی کے ان تمام واقعات سے اچھی طرح واضح ہوتا ہے کہ جو کوئی بھی نبی کریم کی شان اقدس میں گستاخی کرتا ، تو اس کے لئے آپؐ خود سزائے موت کا حکم صادر فرماتے ، پھر آپ نے ہر ایک شاتم کے لئے سزائے موت ہی کا حکم دیا ۔ اس کے علاوہ کسی اور سزا کا کسی بھی روایت میں قطعاً کوئی ذکر نہیں ملتا ۔ گویا یہ ثابت ہوتا ہے کہ شاتم رسول کی سزا صرف سزائے موت ہے اور اس کے علاوہ اس کی کوئی اور متبادل سزا نہیں ہے ۔

اس کے ساتھ ہی جن واقعات میں مختلف شاتموں کی معافی کا ذکر ملتا ہے، تو کیونکہ اس وقت خود شارع (نبی کریم ) ان کے درمیان موجود تھے ، انہیں اپنا حق معاف کرنے یا کسی حکم میں استثناء قائم کرنے کا اختیار حاصل تھا آپ کے بعد کسی بھی ہستی کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے ۔

١؎ ابن ہشام ، ۲ : ۱۵۲ ؛ الصارم ، ۹۲

صفحہ ۶۴

چوتھی فصل

دورِ صحابہؓ و خلفاء راشدین

یہ بات نہایت اہم ہے کہ رسول اللہ کے اس دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد ان کے خلاف کفر گوئی اور بے حرمتی کی سزا ختم نہیں ہو گئی بلکہ اس دنیا سے ان کی رحلت نے اللہ تعالیٰ کے احکام کے نفاذ کو اور زیادہ اہم بنا دیا ہے کیونکہ آپ اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو معافی دینے کے لیئے موجود نہیں ہیں، یہ جرم چوں کہ نبوت ورسالت کے ادارے کے خلاف اور اسلام کی جڑیں کھوکھلی کرنے کے لیئے کیا جاتا ہے، اس لئے مجرموں کو سزا دینا ضروری ہے اسی لیئے ھمیں صحابہ کرامؓ اور خلفائے راشدین کے دور میں متفقہ فیصلہ نظر آتا ہے کہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے ــــــ اس کی سزا موت ہے صحابہ کرامؓ کے درج ذیل فیصلے اس بات کا ثبوت ھیں ۔

حضرت ابوبکر کا فیصلہ

آپ کے دور میں مہاجر بن ابی امیہ یمامہ کا والی تھا، اس کے پاس دو گانے والی لڑکیوں کا معاملہ پیش ہوا ان میں سے ایک لڑکی نے اپنے کچھ گانوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دی تھیں تو اس

صفحہ ۶۵

پر مہاجر بن ابوامیہ نے ان کے ھاتھ کٹوا دیئے اور دانت اکھڑوا دیئے ۔ جب مدینہ میں یہ خبر حضرت ابو بکر صدیق کو پہنچی تو انہوں نے والی کو لکھا کہ اگر اس معاملہ میں ان کی رائے لی جاتی تو وہ مجرمہ کو سزائے موت دیتے ۔ ۱؎

شخص نے آپ سے سخت گستاخی کی جس پر آپ نے بھی اسے ڈانٹا، یہ گستاخی دیکھ کر میں نے آپ سے یہ اجازت مانگی کہ اس بدتمیزی و تحقیر پر میں اس شخص کا سر قلم کر دوں ۔ یہ سن کر آپ نے اپنے آپ پر قابو پا لیا اور اندر چلے گئے ، وہاں مجھے بلایا اور وضاحت فرمائی کہ صرف انبیائے کرام اور رسول اللہ کی شان مقدس میں بدتمیزی کرنے والے کو ہی قتل کیا جا سکتا ہے ۔ کسی اور شخص کی بدتمیزی اور تحقیر کرنے والے کو قتل نہیں کیا جا سکتا ۔ ۲؎

حضرت ابن عباس حضرت ابو بکر صدیق کا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں جو کہ عہد رسالت میں پیش آیا ، اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت

۱؎ الصارم ، ۲۰۰ ۲؎ ابوداؤد ، حدود ، ۳ ؛ الصارم ، ۱۸۸

صفحہ ۶۶

صدیق اکبر شان رسالت مآب کے بارے میں کس قدر غیور تھے ، ایک دن یہودیوں کے ایک مدرسہ میں تشریف لے گئے اور ان کے ایک عالم فنحاص بن عازوراء سے ملاقات کر کے دعوت اسلام دی جس پر فنحاص نے نہ صرف انکار کیا بلکہ اللہ اور رسول اللہ کی شان اقدس میں نازیبا کلمات بھی کہے یہ الفاظ سن کر آپ نے اس کے منہ پر تھپڑ مارا اور کہا کہ اگر یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان معاہدہ نہ ہوتا تو وہ اس کا سر اڑا دیتے ، فنحاص حضور کریم کے پاس اس معاملہ کی شکایت لے کر آیا نبی کریم نے جناب ابوبکر سے اس بارے میں پوچھا تو آپ نے فوری طور اقرار کیا اور سارا معاملہ بیان کر دیا۔ یہ سن کر رسول اللہ نے سکوت فرمایا ، تو تھوڑی دیر بعد حضرت ابوبکر صدیق کے حق میں ایک وحی نازل ہوئی جس نے کہ حضرت ابوبکر صدیق کے قول و فعل کی تائید کر دی، آیت مبارکہ ہے " لَقَدْ سَمِعَ اللهُ قَوْلَ الَّذِينَ قَالُوْا اِنَّ اللهَ فَقِيرٌ وَّ نَحْنُ اَغْنِيَاءُ سَنَكْتُبُ مَا قَالُوْا وَقَتْلَهُمُ الْاَنْبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَّ نَقُوْلُ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِيْقِ " ۱؎

۱؎ اسباب النزول ، ۷۶ ؛ قرطبی ، ۴ ، ۲۹۴ ؛ کبیر ، ۹ : ۲۱ ؛ کشاف ، ۱ : ۴۴۴ ۲؎ آل عمران ۳ : ۱۸۱

صفحہ ٦٧

(اللہ نے ان لوگوں کا قول سن لیا ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ فقیر ہے اور ھم امیر ہیں ، یہ جو کچھ کہتے ہیں ہم اس کو لکھ لیں گے اور پیغمبروں کو بے ناحق قتل کرتے رہے ہیں ، اس کو بھی قلمبند کر کے رکھیں گے ، اور قیامت کے دن کہیں گے کہ عذاب آتش سوزاں کے مزے چکھتے رہو)

حضرت عمر کے فیصلے

سوره عبس کی ابتدائی آیات " عَبَسَ وَ تَوَلّٰی ہ اَنْ جَآءَهُ الْاَعْمٰی ......... ١؎ میں رسول اللہ کے لئے اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک تنبیہ کی کیفیت پائی جاتی ہے ۔ اس خصوصیت کی وجہ سے ایک منافق کا معمول تھا کہ وہ ہر نماز میں یہی سورۃ پڑھتا اور جب اپنی قوم کی امامت کراتا تو بھی یہی سورۃ پڑھتا گویا کہ وہ اپنے دل میں یہ کیفیت مراد لیتا کہ یہ وہ سورت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم کو ڈانٹا ہے۔

یہ بات جب حضرت عمر فاروق تک پہنچی تو آپ نے اس شخص کے اس معمول کو جو کہ اس نے قصداً اختیار کر رکھا تھا رسالت مآب کی شان میں سخت گستاخی قرار دیتے ہوئے فوراً اس کا سر قلم کروا دیا۔ ٢؎

١؎ عبس ۸۰ : ۱ ، ۲ ٢؎ روح البیان ، ۱۰ ، ۳۳۱

صفحہ ۶۸

جھگڑا تھا ، یہودی اس جھگڑے کو رسول اللہ کے پاس لے آیا ، آپ نے اس جھگڑے کا فیصلہ یہودی کے حق میں کر دیا ، اس کے بعد منافق نے حضرت عمر کے پاس جانے کی تجویز دی ، وہ دونوں وہاں گئے اور یہودی نے وضاحت کر دی کہ اس سے قبل حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اس قضیہ کا فیصلہ میرے حق میں کر چکے ہیں ، حضرت عمر نے یہ سن کر اس منافق کا سر قلم کر دیا ، پھر فرمایا

" هٰكَذَا أَقْضِيْ بَيْنَ مَنْ لَّمْ يَرْضَ بِقَضَاءِ اللّٰهِ وَقَضَاءِ رَسُوْلِهٖ ۔ " لے

(پس اس شخص کے بارے میں اسی طرح فیصلہ کرتا ہوں جو اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے سے راضی نہ ہو ۔ )

گویا جو حضور نبی کریم کے فیصلے و حکم کو آخری و قطعی تسلیم نہیں کرتا وہ سرے سے مسلمان ہی نہیں ، اس شخص کا یہ عمل اختلاف نہیں بلکہ گستاخی و بے ادبی کا آئینہ دار ہے اور جہاں وہ فیصلہ رسول کی حجیت کا انکار کر رہا ہے وہاں شان رسالت مآب میں بے ادبی و اہانت کا مرتکب ہو رہا ہے اس لئے علامہ ابن تیمیہ کے بقول حضرت عمر نے اس شخص کو

لے طبری ، ۵ ، ۳۳۲ ؛ الصارم ، ۱۹۵ - ۹۷

صفحہ ۶۹

توبہ کا موقع دیئے بغیر اور نیت پوچھے بغیر ایک درست عمل کیا جس کے صائب ہونے کی تصدیق خود قرآن کریم نے کی۔ ۱؎ ۔ ابن تیمیہ مزید کہتے ہیں کہ رسول اللہ کے فیصلے پر راضی نہ ہونے کا عمل تو اھانت و گستاخی کی ادنیٰ و کم ترین انواع میں سے ہے۔ پس اعلیٰ درجے کی گستاخی واھانت پر کیسی سزا نافذ ہوگی ۲؎

دی تھی حضرت عمر کے سامنے لایا گیا تو آپ نے اس کی گردن اڑانے کا حکم دیا۔ اس کے بعد آپ نے ایک حکم نامہ جاری کیا کہ جو کوئی بھی رسول اللہ یا کسی بھی اور نبی کو گالی دے فوراً اُس کی گردن اڑا دی جائے ۳؎

بن صیاد کو ملنے گئے، صاف نے دوران گفتگو رسول اللہ کے بارے میں بدزبانی کی تو حضرت عمر نے نہ صرف اسے سختی سے ڈانٹا بلکہ رسول اللہ سے اس کی گردن اڑانے کی اجازت چاہی ۴؎

۱؎ الصارم : ۶۰

۲؎ الصارم ، ۳۲۰

۳؎ البدایہ والنہایہ ، ۳ : ۲۹۲ ، ۵ : ۴ ؛ الصارم ، ۲۰۱

۴؎ بخاری ، الادب ، ۱۳

صفحہ ۷۰

حضرت ابو سجمعہ بن ربعی کہتے ہیں کہ حضرت عمر روم تشریف لے گئے ، وھاں معاہدے کے بعد رومیوں اور عیسائیوں کو یقین دلایا کہ اگر وہ امان کے معاہدے کی خلاف ورزی نہ کریں اور اسی طرح دین اسلام کے تقدس سے نہ کھیلیں تو وہ محفوظ رہیں گے اگر کوئی خلاف ورزی کرے گا تو اس کو فی الفور موت کی سزا دے کر ختم کر دیا جائے گا ۔ لے

اب یہ بیان اس وقت دیا گیا ، جب بہت سے صحابہؓ موجود تھے اس کی تصدیق سب نے کی ۔ اس طرح صحابہؓ کے اس اجماع سے معلوم ہوا کہ معاہدین بھی ہمارے دین پر اعتراض نہیں کر سکتے ، اور ایسا کرنے سے ان کا خون مباح ہو جاتا ہے اور پھر سب سے بڑا اعتراض تو رسول اکرم کو گالی دینا ہے ۔

والنازعات“ کے متعلق یا ان میں سے کسی ایک کے متعلق پوچھا ، آپ نے اپنی نگاہ بصیرت سے اندازہ کر لیا کہ یہ شخص اپنے اندر بغض و عناد ، گستاخی و بے ادبی رسول کا مرض رکھتا ہے ، چنانچہ آپ نے اسے کہا کہ اپنے سر سے کپڑا ہٹا ، جب اس نے کپڑا ہٹایا تو اس کے سر پر بال موجود

لے البدایہ والنہایہ ، ۳ : ۴۹۲ ؛ الصارم ، ۲۰۱

صفحہ 71

تھے جو کہ کانوں تک جا رہے تھے ، تو آپ نے فرمایا اللہ کی قسم اگر میں آپ کے سر کو منڈا ہوا پاتا تو میں تیرے سر کو قلم کر دیتا ، جس میں یہ دونوں آنکھیں دھنسی ہوئی ہیں ۔ ۱؎

حضرت عمر فاروق کے ذہن میں اس گستاخ دین و رسول شخص اور اس کے گروہ کی علامات تھیں جو کہ نبی اکرم نے بیان فرمائی تھیں ان ہی میں سے ایک سر منڈانا بھی تھی ۲؎ اس واسطے آپ نے شک ہونے پر یقین تک پہنچنے کے لئے اس کے سر سے کپڑا ہٹوایا ، مگر جونہی اس کے سر پر بال دیکھے تو جان گئے کہ اس کا تعلق اس قبیل سے نہیں ۔ اس لئے اسے چھوڑ دیا ۔

حضرت عمرؓ کا یہ واقعہ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ کسی شخص کے متعلق شک ہو جائے کہ یہ شعائر دین کی توہین و تنقیص کرتا ہے تو تحقیق و تصدیق کے بعد اسے سزا دی جائے ۔ خود حضرت عمر ہی نے مہاجرین و انصار اور اہل بصرہ کو بذریعہ خط یہ ہدایت کی تھی کہ جس شخص میں دین اور رسول اللہ کی گستاخی کی کوئی علامت پائی جائے اور یہ بات بھی ہو جائے

۱؎ الصارم ، ۱۸۸ ۲؎ ایضاً ، ۱۸۳

صفحہ ۷۲

تو ایسے شخص کو قتل کر دو ۔ ۱؎

حضرت عبداللہ بن مسعود کا فیصلہ

حضرت حارثہ بن مدرک کہتے ہیں کہ بنو حنیفہ کی مسجد کے کچھ آدمی گرفتار کر کے لائے گئے جو کہ مسیلمہ کذاب پر ایمان رکھتے تھے اور گستاخ دین تھے حضرت عبداللہ بن مسعود نے سوائے ایک شخص ابن نواحہ کے باقی آدمیوں کو توبہ کے لئے کہا اور انہوں نے توبہ کر لی ۔ ابن نواحہ کو آپ نے قتل کرنے کا حکم دیا اور اس کی وجہ یہ بتلائی کہ یہ گستاخ رسول ہے ، یہ ایک دفعہ حضور نبی کریم کے پاس مسیلمہ کا ایلچی بن کر بھی آیا تھا اس وقت آپ نے یہ فرمایا تھا کہ اگر تم اس وقت ایلچی نہ ہوتے تو میں تمہارا سر اڑا دیتا ۔ تو حضرت ابن مسعود نے کہا کہ اب چونکہ یہ ایلچی نہیں ہے اور اس نے گستاخی بھی کی تھی، لہٰذا اس پر قتل کی حد لاگو کی جاتی ہے ۔ ۲؎

حضرت عمرو بن العاصؓ اور حضرت عوف بن الحارث الکندی کے فیصلے

ان دونوں صحابیانؓ رسول نے آپ کے متعلق بدزبانی کے بارہ میں کہا

۱؎ الصارم ، ۱۸۹

۲؎ ابو داؤد ، جہاد ، ۱۷۶

صفحہ ۷۳

کہ اگر اہل کتاب رسول اللہ کے بارے عداوت کا اظہار کرے اور انہیں گالی دے ، یا ان کے پیغام کا مذاق اڑائے ، تو اسے بلا تامل موت کی سزا دینی چاہئے ۱؎

حضرت عبداللہ بن عمرؓ کا بیان

ایک مرتبہ ایک عیسائی راہب آپ کے قریب سے گزرا کسی نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ راہب رسول اللہ کو گالیاں دیتا ہے اور ان کے بارے میں زبان درازی کرتا ہے ، حضرت ابن عمرؓ نے کہا اگر میں خود اس راہب کو رسول اللہ کو گالیاں دیتے ہوئے سنتا تو اس کو یقیناً قتل کر دیتا ۲؎

حضرت خالد بن ولید کا فیصلہ

ایک عورت نے رسول اللہ کی شان میں بد زبانی کی ، تو حضرت خالد بن ولیدؓ نے اسے قتل کر دیا ۔ ۳؎

حضرت سعد بن معاذ کا بیان

۱؎ ابن مبارک ، ۳۵ ؛ الصارم ، ۲۰۵ ۲؎ احمد ، ۳ : ۲۷۵ ؛ ایضاً ۳؎ البدایہ والنہایہ ، ۴ : ۶ ؛ ایضاً ، ۲۰۳

صفحہ ۷۴

جب یہود نے نبی کریم کا مذاق اڑانے کے لئے ذو معنی الفاظ کا استعمال شروع کیا، تو آپ نے انہیں متنبہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر یہ الفاظ میں نے تم میں سے کسی سے سنے تو میں اس کا سر اڑا دوں گا۔ ۱؎

حضرت عمر بن عبدالعزیز کا حکم

ایک شخص نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کو گالی دی اور ان سے نہائت بد کلامی کی تو انہوں نے فوراً ایک حکم نامہ جاری کیا، جس میں اعلان تھا کہ صرف اسی شخص کا قتل جائز ہوگا، جس نے رسول اللہ ﷺ کی بے حرمتی کی ہو ۲؎

دورِ امیہ

ایوب بن یحییٰ جو عبدالملک کے دور حکومت میں حاکم عدن مقرر ہوئے تھے ان کے سامنے ایک عیسائی کو لایا گیا، جس نے نبی کریم کی شان میں گستاخی کی تھی ایوب بن یحییٰ نے عبدالرحمٰن صنعانی سے مشورہ کیا، جنہوں نے اس جرم کی پاداش میں اس کے قتل کا فتویٰ دیا، تو اسے قتل کر دیا گیا، عبدالرحمٰن صنعانی

۱؎ البدایہ والنہایہ، ۴ : ۶ ؛ الصارم، ۲۳۳

۲؎ الشفاء ، ۲ : ۵۹۳

صفحہ ۷۵

وہ بزرگ ہیں جنہوں نے حضرت عمر سے اکتساب علم کیا اور ان سے تربیت حاصل کی، پھر ایوب نے اس بارے میں عبدالملک کو اطلاع دی، جس نے جواب میں کہا کہ تم نے بالکل صحیح کیا ۔ ۱ علی بن المدینیؒ ایک مرتبہ خلیفہ عبدالملک کے پاس آئے تو ان سے خلیفہ نے پوچھا کہ کیا آپ کو ایسی حدیث معلوم ہے جو شاتم رسولؐ کے بارے میں مستند ہو، علی بن المدنی نے اثبات میں جواب دیا ، اور خلیفہ کو عبدالرزاق بن ھمام کی مصنف میں روایت کردہ احادیث سنائیں ۔ ۲

عباسی دور حکومت

خلیفہ ہارون رشید نے حضرت امام مالکؒ سے شاتم رسول کی سزا کے متعلق دریافت کیا ، آپ نے واضح طور پر بتلایا کہ جو نبی کریم کی شان میں گستاخی کرے اسے قتل کر دیا جائے ۔ اور جو کسی صحابی کو گالی دے اسے کوڑے مارے جائیں ۔ ۳

۱ المحلی ، ۳ : ۲۸۶ ۲ ایضاً : ۲۸۷ ، یہ احادیث ”مصنف“ میں ۹۷۰۴ تا ۹۷۰۸ درج ہیں ۳ الشفاء ۲ : ۵۹۴

صفحہ ۷۶

اس ساری بحث کا خلاصہ یہ ہوا کہ رسول اللہ کا ادب و احترام ملحوظ رکھنا قرآن و سنت کی رو سے ایمان کا حصہ ہے اور ہر حال میں نبی کریم کی تعظیم و توقیر کرنا لازم و ضروری ہے، اس سے معمولی روگردانی بھی انسان کو اس دنیا میں موت کا سزاوار اور آخرت میں شدید ترین عذاب کا مستحق بنادیتی ہے، عہد رسالت مآب میں جن لوگوں نے آپ کی شان اقدس میں گستاخی یا کسی قسم کے کلمہ بد کہنے کے جرم کا ارتکاب کیا ان لوگوں کو بلا حیل و حجت قتل کرنے کا حکم حضور نے خود دیا اور کئی واقعات اس بات کے ثبوت کے طور پر پیش کیے جاچکے ہیں، کہ صحابہ کرامؓ نے فی الفور اس حکم تعمیل کی ۔

خلفاء راشدین اور دیگر تمام صحابہ کرامؓ بھی اپنے اپنے دور میں اس جرم کی سزا سے واضح طور پر آگاہ تھے ۔ ان کے دور میں بھی چند ایسے واقعات سامنے آتے ہیں تو انہوں نے بغیر کسی تردد کے اس طے شدہ قانون کے مطابق اپنا فیصلہ سنایا، حتی کہ دور امیہ اور عباسیہ میں بھی سرکاری طور پر اس قانون پر عمل درآمد ہوا ۔

لہٰذا مذکورہ بالا قرآنی آیات اور نبی کریم کے متعدد احکامات و فیصلوں کی روشنی میں بالکل واضح طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ گستاخ رسول (بلکہ کسی بھی نبی کے گستاخ) کی سزا صرف سزائے موت ہے ۔

PDF 77

دوسرا باب

قانون توہینِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم

ائمہ و فقہاء کی نظر میں

صفحہ ۷۸

پہلی فصل

شاتم رسول کی سزا ائمہ فقہاء کی نظر میں

اسلام کے مختلف مکاتب فکر کے لوگوں میں ایسے شخص کی سزا کے بارے میں جو کہ اللہ تعالیٰ کا مذاق اڑائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے اور ان کی اھانت کرے ، قطعاً کوئی اختلاف نہیں ہے برا بھلا کہنے والا چاہے مسلمان ہو یا کافر سزا — موت ہے ۔ امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو چاہے وہ دنیا میں جہاں کہیں بھی پائے جائیں مقررہ سزا تک پہنچانے کا اھتمام کریں ۔

امام مالک اور دیگر مالکی فضلاء کا فیصلہ

ابو مصعب اور ابن ابی اویس بیان کرتے ہیں کہ ہم نے امام مالکؒ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ کوئی بھی شخص ، چاہے وہ مسلمان ہو یا کافر ، اگر وہ رسول اللہ کو گالی دے یا برا بھلا کہے ، الزام دے ، یا بے عزت کرے اس کو سزائے موت دینی چاہیئے ۱؎

ان کے علاوہ محمد بن عبدالحکم ، مطرف ، ابن وھاب اور الاشھب نے

۱؎ الشفاء ۲ ، ۱۹ ؛ الصارم ، ۳۰۷

صفحہ ۷۹

بھی امام مالک سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۱؎ قاضی عیاض مالکی بھی واضح طور پر یہ کہتے ہیں کہ شاتم رسول کو موت کی سزا سنا کر قتل کر دینا چاہیے۔ ۲؎ یہی رائے ابن قاسم کی ہے۔ ۳؎

امام ابو حنیفہ اور دیگر حنفی علماء کا فتویٰ

آپ کہتے ہیں جو بھی شخص اللہ کے رسول کو گالی دے یا بیہودہ گوئی کرے یا ان کی طرف جھوٹ منسوب کرے اس کا خون بہا دینا چاہیے ۴؎ کوفے کے تمام باقی علماء جن میں حضرت اللیث ، اسحق اور اوزاعی بھی شامل ہیں کا بھی یہی فتویٰ ہے کہ توہین رسالت کرنے والے شخص کو موت کی سزا سنا کر قتل کر دینا چاہیے۔ ۵؎ خیر الدین رملی حنفی ۶؎

۱؎ الشفاء ، ۲ : ۱۹۱ ؛ الصارم ، ۳۰۷ - ۳۰۹ ، ۵۲۸ ، ۵۵۱

۲؎ ایضاً ، الصارم ، ۳

۳؎ الصارم ، ۵۲۸

۴؎ الشفاء ۲ ، ۱۸۹

۵؎ الصارم ، ۲ ، ۵۳ ؛ الشفاء ۲ : ۲۱۵

۶؎ خیریہ ، ۱ : ۱۷۰

صفحہ ۸۰

ابن بزاز حنفی لہ اور ابن عابدین ؒ کا بھی یہی موقف ہے ۔

امام شافعی اور دیگر شافعی علماء کا فتویٰ

حضرت امام شافعیؒ کا قول ہے کہ کوئی شخص جو رسول اللہ کو کسی طور پر بھی گالی دیتا ہو ، چاہے اپنے جرم سے توبہ کرے یا نہ کرے اسے موت کی سزا دے قتل کر دینا چاہئے ؎۲

ایک مرتبہ آپؒ سے قرآن کریم کی آیات کا مذاق اڑانے والے ایک شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو آپ نے جواب دیا کہ ایسا شخص کافر ہے اور اس بے حرمتی کے باعث اس کا قتل واجب ہے ، پھر انہوں نے قرآنی آیت تلاوت کی ؎۳

" قُلْ اَبِاللّٰهِ وَاٰيَاتِهٖ وَرَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ ه ؎۴ لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ ؎۵ "

له رد المحتار ، ۱ : ۳۲۷ ، بزازیہ ، ۶ : ۳۶۱

؎۲ ایضاً ، ۱ : ۳۲۷ ، ۲ : ۲۳۲

؎۳ شرح روض ، ۴ : ۱۲۳ ، روح المعانی ، ۵ : ۳۱۰ ، فتح الباری ، ۱۲ : ۲۳۶

؎۴ الصارم : ۵۱۵

؎۵ التوبہ ۹ : ۶۵ - ۶۶

صفحہ ۸۱

(کہو کیا تم اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنسی کرتے تھے بہانے مت بناؤ، تم ایمان لانے کے بعد کافر ہو چکے ہو)

حضرت ابو یعقوب اسحٰق بن ابراہیم الحنظلی معروف بہ ابن راہویہ (جن کو فقہ شافعی میں حضرت امام شافعی کے بعد سب بڑا فقیہ سمجھا جاتا ہے) ان کا فیصلہ ہے کہ جو شخص اللہ کی تضحیک کرتا اور اس کے رسول کو گالی دیتا ہے اور قرآن کریم کے کسی حصے یا آیت کو ترک کر دیتا ہے وہ بے حرمتی اور کفر گوئی کا مجرم ہے اور کافر ہو جاتا ہے چاہے اس کے بعد بھی اسلام اور قرآن پر ایمان کا دعویٰ ہی کیوں نہ کرتا ہو۔ ۱؎

ابوبکر الفارسی الشافعی کہتے ہیں کہ گستاخ رسول کی سزا موت ہے اور اس کی تعمیل فی الفور ہونی چاہیئے اور کسی باعث اس میں تاخیر نہیں ہونی چاہیئے۔ ۲؎

امام احمد اور دوسرے حنبلی علماء کا فتویٰ

امام احمد بن حنبل کے مطابق جو شخص رسول اللہ یا ان کے اہل بیت

۱؎ الشفاء ، ۲ : ۲۸۴ ؛ الصارم ، ۳۸۰ ، ۵۱۴

۲؎ ایضاً ، ۲ : ۴۷۴ ؛ ایضاً ۴ ، ۳۰۸ ؛ فتح الباری ، ۱۲ ، ۲۳۶

صفحہ ۸۲

کو گالی دے، چاہے وہ مسلم ہو یا غیر مسلم اسے سزائے موت دینی چاہئے ۱؂ قاضی ابو الحسین اور عبداللہ اس پر مزید اضافہ یہ کرتے ہیں کہ ایسے شخص کی توبہ اور معذرت قبول نہیں کی جاسکتی ۲؂

زیدیہ اور امامیہ علماء کا فتویٰ

ان حضرات کے مطابق جو رسول اللہ، ان کے اہل بیت یا اماموں میں سے کسی کو بھی گالی دیتا ہے سزائے موت کا مستحق ہے اور اس کو کوئی بھی شخص جسے موقع ملے موت کے گھاٹ اتار سکتا ہے ۳؂

دیگر معروف فقہاء کی آراء و فیصلے

جعفر بن محمد کہتے ہیں کہ میں نے ابو عبداللہ (جو کہ مفتی تھے) ایک یہودی کے بارے میں تحقیق کرتے ہوئے دیکھا وہ ایک یہودی مؤذن کے پاس سے گذر رہا تھا اور اس نے اذان ہوتے وقت مؤذن کے بارے میں یہ

۱؂ الصارم ، ۲۹۷ ، ۵۲۷

۲؂ ایضاً ، ۲۹۶ - ۹۷

۳؂ شرائع الاسلام، ۲۵۱

صفحہ ۸۳

رائے زنی کی کہ یہ جھوٹ بول رہا ہے ، اس بات کی تصدیق کر چکنے کے بعد اس یہودی نے فی الواقع یہ الفاظ منہ سے ادا کئے تھے آپ نے اس کے قتل کا فتویٰ جاری کیا جس پر اس کی فوری تعمیل کی گئی ۱؎

حضرت احمد بن ابو سلیمان اور حضرت ابو عثمان بن الحداد کہتے ہیں کہ اگر کوئی رسول اللہ کی شخصیت کی بیخ کنی صرف ایسے ہی کرتا ہے کہ نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم حبشی تھے تو اس شخص کو سزاوار موت قرار دینا چاہیے ۲؎

حضرت ابو الموہیب العسکری اور حضرت ابو علی الشّبّاء کے علاوہ قاضی ابو محمد بن نصر ۳؎ حضرت خرقی ۴؎ حضرت عثمان بن کنان ۵؎ حضرت ابراہیم بن حسین بن خالد ۶؎ عبد اللہ بن عبد الحکم ، حضرت اصبغ ۷؎ قاضی شریح ۸؎

۱؎ الصارم ، ۲۴۴ ۲؎ الشفاء ، ۲ : ۱۹۱ ، ۲۰۶ ۳؎ المرجع السابق ، ۳۰۴ ، ۲۹۸ - ۹۹ ۴؎ الشفاء ، ۲ : ۱۹۶ ۵؎ الصارم ، ۲۹۷ ۶؎ الشفاء ، ۲ : ۱۹۰ ، ۲۳۲ ۷؎ ایضاً ۸؎ ایضاً

صفحہ ۸۴

ابو علی بن موسیٰ ، ابو عبداللہ السمری ۱؎ ، حضرت ابو سلیمان الخطابی ۲؎ ، ابوبکر ابن منذر ۳؎ ، ابن نجیم ، ابن عقیل ۴؎ اور صدر الشہید حنفی ۵؎ بھی گستاخ رسول کی سزا صرف موت قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس بات پر تمام امت کا اجماع ہے ۔

حضرت حسن بصری اور حضرت لیث بن سعد شاتم رسول کو زانی کی طرح قرار دیتے ہیں جس کی سزا موت ہے ۶؎

حضرت ابوالحسن القبیسی کہتے ہیں کہ جو شخص صرف یہ بھی کہہ دے کہ رسول اللہ ابوطالب کے مسکین یتیم تھے اس کی گردن مار دینی چاہئیے ۷؎

قاضی ابو یعلیٰ کے نزدیک شاتم رسول دو اہم حقوق یعنی حقوق اللہ اور

۱؎ الصارم ، ۳۰۲ ۲؎ الشفاء ، ۲ : ۱۹ ؛ الصارم ، ۴۰ ؛ فتح القدیر ، ۴۰۷ ۳؎ الشفاء ، ۲ : ۲۷۴ ؛ درالمختار ، ۳ : ۳۱۸ ؛ الصارم ، ۴۰ ۴؎ البحرالرائق ، ۵ : ۲۳۵ ؛ الصارم ، ۲۹۸ ۵؎ ایضاً ، ۵ : ۱۲۶ ۶؎ الصارم ، ۲۱۰ ۷؎ الشفاء ، ۲ : ۱۹۱

صفحہ ۸۵

حقوق العباد کی خلاف ورزی کرتا ہے ۔ نبوت ، قرآن ، دین یا اسلام پر حملہ اللہ کے حق کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا ، رسول اللہ کی ذات یا شخصیت پر حملہ انسان کے حق پر حملہ تصور ہوگا رسول اللہ کے لیئے بد زبانی ایسا شدید نفرت انگیز فعل ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار کلی اور اللہ کے آخری رسول کی شخصیت دونوں کی توہین کرتا ہے اس لئے اس کا مجرم موت کا سزاوار ہے ۱؎

قیروان کے فقہاء کا فتویٰ

ابراہیم الفزاری قیروان کا ایک بڑا شاعر تھا اور قاضی ابوالعباس بن طالب کا دوست تھا ۔ لیکن جب اس نے اپنی تحریروں اور شاعری میں رسول اللہ کو گالی دی اور ان کی بے حرمتی کی تو قاضی یحییٰ بن عمر اور قیروان کے دیگر فقہاء نے اس کو موت کی سزا سنائی ، لہٰذا اس کی گردن اڑا دی گئی ۲؎

اندلس کے فقہاء کا فتویٰ

ابن حاتم الطلیطولی نامی ایک شخص نے دوران گفتگو رسول اللہ کی شخصیت

۱؎ الصارم . ۴۴۴

۲؎ الشفاء ، ۲ : ۱۹۲

صفحہ ۸۶

کی بے حرمتی کی اور ان کی پاکیزہ زندگی کے بارے میں حقارت انگیز لہجہ و انداز تکلم اختیار کیا ، اندلس کے تمام علماء و فقہاء کے متفقہ فتویٰ سے اسے موت کی سزا سنائی گئی ۱؂

ابن تیمیہ کا فتویٰ

آپ کے مطابق اگر کوئی رسول اللہ کو گالی دے اور پھر توبہ بھی کرے، تو اس کی توبہ کسی کام کی نہیں ــــــــــــــــ اس کو موت کی سزا دینی چاہئے کسی غیر مسلم کی تبدیلی مذہب جو جرم کے ارتکاب کے بعد اسلام قبول کرتا ہے ، اسے سزا سے نہیں بچاسکتی ۔ ۲؂

قاضی ثناء اللہ پانی پتی نے احناف اور تمام امت کے اس اجماع کو نقل کیا ہے کہ جو شخص حضور کی گستاخی کرے اسے قتل کر دیا جائے ۳؂

ڈاکٹر فضیلت کہتے ہیں کہ شاتم رسول کا خون بہانے کے علاوہ اس کی دولت اور جائیداد بھی ضبط کر لینی چاہیے ۴؂

۱؂ الشفاء ، ۲ : ۱۹۲

۲؂ الصارم ، ۳۰۲ ؛ مغنی ، ۱۰ : ۱۱۳

۳؂ مظہری ۴ : ۱۹۱

۴؂ احکام الردہ ، ۲۷۸

صفحہ ۸۷

ان ائمہ کرام اور معروف نمائندہ علماء و فقہاء کے مندرجہ بالا اقوال سے یہ بات کسی شبہ کے بغیر واضح ہوتی ہے کہ ہمیشہ سے امت کا اس بات پر اجماع رہا ہے کہ اگر کوئی بھی مسلم اور غیر مسلم توہین رسالت کا جرم کرتا ہے، اور اس کا یہ جرم ثابت ہو جاتا ہے تو اس کی سزا صرف اور صرف موت ہے اس سلسلہ میں کسی ایک فقیہ یا عالم نے بھی اس کے متبادل کوئی اور سزا بیان نہیں کی ۔

صفحہ ۸۸

دوسری فصل

مسئلہ توبہ (تین موقف اور ان کی تفصیل)

قرآن مجید ، احادیث ، اور ائمہ کرام و علماء کے اقوال سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جو شخص بھی چاہے وہ مسلم ہو یا غیر مسلم گستاخی رسول کا ارتکاب کرے وہ کافر و مرتد ہے اور حداً قتل کا مستحق ہے مگر یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کفر و ارتداد اور گستاخی کے بعد اگر کوئی شخص توبہ کی طرف مائل ہو تو اس کی توبہ قبول ہوگی یا نہیں؟۔

اس ضمن میں دوسرا سوال یہ ہے کہ توبہ معتبر کس وقت ہے، کیا گستاخی و بے ادبی کا ارتکاب کرتے ہی یعنی "قبل الاخذ" (گرفتار ہونے یا مقدمہ دائر ہونے سے پہلے) کی توبہ قبول ہوگی یا "بعد الاخذ" (گرفتار ہونے اور مقدمہ دائر ہوجانے کے بعد) کی توبہ قبول ہوگی ۔

اسی حوالہ سے تیسرا سوال ذہن میں یہ ابھرتا ہے کہ گستاخ رسول کی توبہ کی قبولیت کا کیا معنی ہے ؟ کیا یہ عند اللہ قبول تصور کی جائے گی یا عند الناس ، اور آیا عند القاضی بھی مقبول ہوگی اور کیا یہ توبہ صرف گناہ معاف کرانے کے لئے ہی کافی ہوگی یا اسقاطِ قتل کے لئے بھی، یعنی اس توبہ سے سزائے موت بھی معاف ہو

صفحہ ۸۹

سکتی ہے یا کہ نہیں ؟ ۔ مذکورہ بالا سوالات کی روشنی میں جملہ مذاہب کے ائمہ و فقہاء جنہوں نے اس موضوع پر لکھا ہے ، ان کی تصریحات و تحقیقات کو سامنے رکھ کے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اس مسئلہ پر کل تین آراء ہیں ۔ اور فی الواقع وہ تین بھی نہیں بلکہ دو ہیں ، ان کا بالتفصیل تذکرہ حسب ذیل ہے ۔

پہلا موقف ـــــ توبہ مطلقاً قبول نہیں

موقف اول یہ ہے کہ اہانت رسالت مآب کا مرتکب بہر صورت واجب القتل ہے اور اس کی توبہ مطلقاً کسی بھی صورت میں قبول نہیں کی جائے گی ۔ خواہ " قبل الاخذ" یعنی مقدمے کے اندراج یا گرفتاری سے پہلے توبہ کرے یا " بعد الاخذ " یعنی مقدمے کے اندراج یا گرفتاری کے بعد تائب ہو ہر صورت برابر ہے کسی صورت بھی قطعاً قبولیت توبہ کا اعتبار نہیں کیا جائے گا ۔

اس موقف کو امت کے جمہور ائمہ و فقہائے عظام نے اختیار کیا ہے

دلائل

یہ گروہ اپنے موقف پر یہ دلائل پیش کرتا ہے ۔

صفحہ ٩٠

" لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ " ؎۱ [ (گستاخی رسول کے بعد) بہانے مت بناؤ ، تم ایمان لانے کے بعد کافر ہو چکے ہو ۔ ]

الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاَعَدَّ لَهُمْ عَذَاباً مُّهِيْناً " ؎۲ (بے شک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا پہنچاتے ہیں ان پر اللہ دنیا اور آخرت میں لعنت کرتا ہے اور ان کے لئے اس نے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے)

اس آیت کریمہ سے ابن تیمیہؒ استدلال کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جو بھی حضور کی بے ادبی و گستاخی کرے گا ، اسے توبہ کا موقع دیئے بغیر قتل کر دیا جائے اگرچہ وہ بعد الاخذ توبہ کرے اور وہ کہتے ہیں کہ یہی مذہب جمہور ہے ۔ ؎۳

؎۱ التوبہ ٩ : ٦٦

؎۲ الاحزاب ٣٣ : ٥٧

؎۳ الصارم ، ٣٣٧

صفحہ 91

کی گواہی دیتے ہوئے اور ان پر اتہام باندھنے والوں کے متعلق ارشاد فرمایا :

" اِنَّ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ “ ١؎

(بے شک جو لوگ پاک دامن ، بے خبر اور ایمان والی عورتوں پر اتہام لگاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت ہے اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے )

حضرت عبداللہ بن عباسؓ کہتے ہیں کہ یہ آیت حضرت عائشہؓ اور امہات المؤمنین کے بارے میں بطور خاص نازل ہوئی اور اس میں توبہ کا ذکر نہیں ہے ، اس کے بعد آپ اس آیت :

" وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَأْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ فَاجْلِدُوْھُمْ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَةً وَّ لَا تَقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا وَ اُولٰٓئِکَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ ، اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ وَاَصْلَحُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ “ ٢؎

(اور جو لوگ پرہیزگار عورتوں کو بدکاری کا الزام لگائیں

١؎ نور ٢٤ : ٢٣

٢؎ نور ٢٤ : ٤

صفحہ ۹۲

اور اس پر چار گواہ نہ لائیں تو ان کو اسی درے مارو، اور کبھی اس کی شہادت قبول نہ کرو اور یہی بدکردار ہیں ہاں جو لوگ توبہ کر کے اپنی حالت سنوار لیں تو اللہ بھی بخشنے والا مہربان ہے۔) کو بیان کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ اس آیت میں عام عورتوں پر تہمت لگانے والوں کی معافی کا ذکر ہے مگر سابق الذکر لوگوں کی توبہ کا ذکر نہیں کیا گیا۔ لہٰذا جس شخص پر ایسی لعنت کی جا چکی ہو اس کے لئے کوئی توبہ نہیں اور دوسری لعنت اس سے بھی بلیغ تر ہے جس کی تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ امہات المؤمنین پر بہتان لگانے والا اس لعنت کا مستحق اس لئے ہوا کہ بہتان ان کی ازواج مطہرات پر لگایا گیا ہے، مگر جو خود نبی کریم پر بہتان لگائے اور ایذاء پہنچائے اس پر کس قدر لعنت ہوگی، لہٰذا اس سے مستفاد ہوا کہ آپ کو تکلیف پہنچانے والے کے لئے کوئی توبہ نہیں ۱؎

اسی بات کو ابن تیمیہ دلیل بنا رہے ہیں کہ عام قذف میں تو توبہ کا موقع ہے مگر امہات المؤمنین کو تکلیف پہنچانے کی صورت

۱؎ تنویر المقیاس ، ۲۵۶ ؛ الصارم ، ۳۳۸

صفحہ ۹۳

میں توبہ کا کوئی موقع نہیں، تو ازواج مطہرات جنہیں عزت وحرمت حضور کی نسبت سے ملی ہے سو جب انہیں اذیت دینے والے کی توبہ سرے سے معتبر نہیں تو اب حضور کو اذیت دینے والے کی توبہ کیسے معتبر ہو سکتی ہے، اس کی قبولیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

ــــــــــــــــ اس لئے فیصلہ یہی ہوگا کہ " اِنَّ مُؤْذِیْہِ لَا تَوْبَۃَ لَہٗ " ۱؎ (حضور اکرم کو تکلیف پہنچانے والے کی توبہ قبول نہیں)

فساد فی الارض کے مرتکب افراد کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے: " اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَیَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْا اَوْ یُصَلَّبُوْا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْہِمْ وَاَرْجُلُہُمْ مِّنْ خِلَافٍ " ۲؎ (جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور ملک میں فساد پھیلاتے پھرتے ہیں ان کی یہی سزا ہے کہ ان کو قتل کیا جائے یا ان کو سولی پر چڑھایا جائے یا ان کے ہاتھ پیر ایک

۱؎ الصارم ، ۳۳۸ ۲؎ المائدہ ۵ : ۳۳

صفحہ ۹۴

ادھر سے (دوسرا) ادھر سے کاٹ دیئے جائیں ۔ )

یہ آیت لکھنے کے بعد ابن تیمیہؒ کہتے ہیں کہ امت مسلمہ میں انتشار و افتراق اور فساد و فتنہ پیدا کرنے والا اپنے اس عمل سے حضور کو اذیت و تکلیف پہنچاتا ہے، سو اپنے اس طرز عمل کے باعث وہ بالواسطہ نبی اکرم کے ساتھ محارب ہے، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ براہ راست دشمنی و عداوت، بغض و عناد رکھنے والا، اور محاربت کرنے والا، زمین میں فساد کرنے والے سے زیادہ مفسد ہے، اسی بناء پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے اپنا دشمن قرار دیا ہے۔ اب بالواسطہ محاربت باللہ والرسول کے مرتکب کی توبہ ”قبل الاخذ“ قبول کی جائے گی، مگر ”بعد الاخذ“ ان کی توبہ قبول نہ ہوگی، اور اس کے برعکس جو شخص رسول اللہ سے محاربت و مخاصمت کرتا ہے اس کی بھی اگر ”قبل الاخذ“ توبہ قبول ہو تو ان دونوں مسئلوں میں کوئی فرق نہیں رہتا، سو ان میں فرق یوں ہوگا کہ براہ راست رسول اللہ سے مخاصمت و مخالفت کرنے والے کی توبہ ”قبل الاخذ“ (گرفتار ہونے یا مقدمہ دائر ہونے سے پہلے) بھی قبول نہ ہوگی۔ ۱؎

۱؎ الصارم ، ۳۳۸ - ۳۹

صفحہ ۹۵

احادیث سے استدلال

رسالت مآب میں بے ادبی و گستاخی کی سزا، توبہ کا موقع دیئے بغیر قتل کرنا ہے، کیونکہ آپ نے خود اس شخص کے بارہ میں بغیر توبہ کا موقع دیئے قتل کا حکم صادر فرمایا جس نے آپ کی طرف جھوٹ منسوب کیا تھا، اسی طرح جس شخص نے مال غنیمت کی تقسیم کے وقت حضورؐ پر زبان طعن دراز کی تھی تو آپ نے اسے توبہ کا موقع دیئے بغیر قتل کرنے کا حکم جاری فرمایا، مگر وہ دستیاب نہ ہوسکا ۱؎

ہے کہ جب ابوبرزہ نے آپ کی شان میں گستاخی و بے ادبی کا ارتکاب کرنے والے کو توبہ کا موقع دیئے بغیر قتل کی اجازت طلب کی تو اس پر خلیفۃ الرسول یوں گویا ہوئے کہ نہیں، یہ صرف رسول اللہ کی ہی خصوصیت و امتیاز ہے کہ آپ کی شان اقدس میں گستاخی کے مرتکب کو قتل کر دیا جائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی بھی فرد و بشر کو یہ حق

۱؎ بخاری، مناقب، ۲۵ ؛ مسلم، الزکاۃ، ۳۰ ؛ الصارم ۳۴۰

صفحہ ۹۶

حاصل نہیں ہے ۔ ۱؎

(۳) ابن تیمیہؒ اس موقف کی دلیل میں اس واقعہ کا حوالہ بھی دیتے ہیں کہ حضرت عمر فاروقؓ نے جب اس شخص کو توبہ کا موقع دیئے بغیر قتل کر دیا تھا جو کہ نبی کریمؐ کے فیصلہ پر راضی نہ ہوا تھا ، اب حضور کے فیصلے کو قبول کرنے سے انکار آپ کی گستاخی و بے ادبی کی نسبت ایک ادنیٰ جرم ہے ، مگر اس پر سزائے قتل دی جارہی ہے ، اور پھر قرآن میں بھی اس اقدام کو درست قرار دیا جارہا ہے ۲؎ لہٰذا گستاخی و بے ادبی جو کہ اپنی سنگینی و شدت کے اعتبار سے بہت ہی بڑا جرم ہے اس کی معافی کا ــــ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۳؎

(۴) عبداللہ بن سعد بن ابی سرح نے اسلام لانے کے بعد طعن کیا اور ایسا بہتان باندھا ، جس سے آپؐ کو سخت تکلیف ہوئی ، تو آپؐ نے اس کے خون کو ھدر قرار دیا اور اس کو بیعت کرنے سے روک دیا حضرت عثمانؓ کے شدید اصرار پر آپ نے اسکی بیعت تو لے لی لیکن بعد میں صحابہؓ

۱؎ ابو داؤد ، الحدود ، ۳ ؛ الصارم ، ۳۴۰ ۲؎ نساء ۴ : ۶۰ ؛ اسباب النزول ، ۹۲-۹۳ ؛ الصارم ، ۳۷ ؛ ابن کثیر ، ۱ ، ۵۷۱ ۳؎ الصارم ، ۳۴۰

صفحہ ۹۷

کی سرزنش کی کہ تم میں سے کسی نے اٹھ کر اسے قتل کیوں نہ کر دیا ہے اس سے ابن تیمیہ یہ دلیل لیتے ہیں کہ گستاخ رسول اگر تائب بھی ہو جائے پھر بھی اس سے سرزد ہونے والی گستاخی پر حد قائم رہے گی۔ اور ہر حال میں اسے کیفر کردار تک پہنچانا امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے۔

آئمہ و فقہاء کے اقوال

مندرجہ ذیل فقہاء اھانت رسول مرتکب شخص کی مطلقاً قبولیت توبہ کے قائل ہی نہیں ہیں۔

حضرت امام مالک کہتے ہیں کہ اھانت رسول کرنے والا شخص چاہے مسلم ہو یا غیر مسلم اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ ۱؎

حضرت امام احمد بن حنبلؒ کی بھی یہی رائے ہے کہ اسے توبہ موقع دیئے بغیر قتل کر دیا جائے گا۔ آپ کے صاحبزادے نے بھی ایک دفعہ آپ سے یہی سوال کیا کہ شاتم رسول کی توبہ قبول ہے کہ نہیں، آپ نے جواب میں یہی رائے بیان فرمائی ۔ ۲؎

۱؎ ابن ہشام ، ۲ : ۸۶۴ - ۶۹ ، ۸۷۴ - ۷۵ ، نسائی، محاربہ ، ۱۱، الصارم، ۲۴۰

۲؎ الشفاء ، ۲ : ۹۳۷

۳؎ الصارم ، ۳۰۰

صفحہ ۹۸

قاضی ابویعلی کہتے ہیں کہ حضور کو گالی دینے والا شخص چاہے کافر ہو یا مسلم اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی، کافر و ذمی کو اس لئے قتل کیا جائے گا کہ وہ اہانت رسول کا ارتکاب کر کے اپنی امان (Security) کا عہد توڑ چکا ہے۔ اب اسلامی ریاست پر اس کی ذات کے حوالے سے حفاظت دم کی ذمہ داری نہ رہے گی، وہ علت (Cause) جس کی وجہ سے اسے دارالاسلام میں امان ملا تھا وہ اسی امان کی عہد شکنی کا مرتکب ہو گیا ہے، اس لئے اسلامی سلطنت اب اسے امان دینے کی مجاز ہی نہیں رہی ۔ ۱؎

ابن تیمیہ کا موقف

آپ گستاخ رسول کی توبہ کے مطلقاً قبول نہ ہونے کے سبب کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نبی اکرم کا حق دو حقوق سے متعلق ہے ایک اللہ کا حق، دوسرا بندے کا حق ہے، اور عقوبت سے جب اللہ اور بندے دونوں کا حق متعلق ہو جائے تو وہ توبہ سے ساقط نہیں ہو سکتی جیسے جنگ میں حداً کہ مسلمانوں کی گرفت میں آنے سے پہلے اگر توبہ کرے، تو

۱؎ الصارم ، ۳۰۱

صفحہ ۹۹

پھر بھی اس سے بندے کا حق ساقط نہ ہوگا ، جیسے قصاص کہ باقی رہے گا، ہاں اللہ کا حق ساقط ہو جائے گا ، ۱؎ (یعنی جس طرح باقی گناہ اسلام لانے سے معاف ہو جاتے ہیں)

اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایسی صورت جب حق اللہ اور حق العباد دونوں جمع ہو جائیں تو پھر ان کی بے حرمتی و پامالی پر جس حد کا اجراء ہوگا وہ توبہ سے ساقط قطعاً نہ ہوگی ۔ بلکہ بہر صورت نافذ ہو کر رہے گی ، امام ابوالمواہب العکبری کا بھی یہی موقف ہے ۲؎

قاضی شریف ابو علی بن ابی موسیٰ بھی یہی کہتے ہیں ، کہ گستاخ رسول کی توبہ ہی قبول نہیں ہوگی ، اور اگر وہ غیر مسلم ہے اور اس ہرزہ سرائی کے بعد اسلام لے آیا تو بھی اسے قتل کر دیا جائے گا ۔ ۳؎

ابو علی بن البناء کہتے ہیں کہ حضرت امام ابو حنیفہ سے بھی ایک قول اسی طرح نقل ہوا ہے اور حضرت امام مالکؒ کا بھی یہی مذہب ہے ۴؎

۱؎ الصارم ، ۳۰۲ ۲؎ ایضاً ۳؎ الصارم ، ۳۰۳ ۴؎ ایضاً

صفحہ ۱۰۰

ابوبکر بن المنذر نے امام مالک ، امام ابولیث ، امام احمد بن حنبل ، اور امام اسحق کا بھی یہی مذہب بیان کیا ہے اور امام شافعیؒ کو بھی اسی فہرست میں شامل کرتے ہیں ۔ ؂۱

مالکی فقہاء میں امام مالک کے علاوہ محمد بن عبدالحکم ؂۲ ، مطرف ؂۳ ، قاضی عیاض ؂۴ اور ابن قاسم ؂۵ شاتم رسول کی توبہ کی قبولیت کے قائل نہیں ہیں ۔

احناف میں لیث اور اسحق کے ساتھ ساتھ ثوری ، اوزاعی اور کوفے کے دوسرے علماء کا بھی یہی فتویٰ ہے ؂۶ حنبلی علماء میں قاضی ابوالحسین اور عبداللہ کہتے ہیں کہ گستاخ رسول کی

؂۱ رد المحتار ، ۳ : ۳۱۸ ؂۲ الصارم ، ۳۰۷ ؂۳ ایضاً ، ۳۰۷ ، ۵۲۸ ، ۵۵۱ ؂۴ ایضاً ، ۵۲۹ ، الشفاء ، ۲ : ۲۷۴ ؂۵ ایضاً ، ۵۲۸ ؂۶ ایضاً ؂۷ ایضاً ۲۹۷

صفحہ ۱۰۱

توبہ اور معذرت خواہی قبول نہ کی جائے گی ۱ے

عثمان بن کنانہؒ کہتے ہیں کہ کسی بھی مذہب کا آدمی ہو یا عورت وہ اس جرم کا ارتکاب کرے تو اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی ۲ے

عبداللہ بن عبدالحکمؒ اور اصبغؒ بھی کھلے بندوں یا چوری چھپے توہین رسالت کرنے والے کو توبہ کا موقع دیئے بغیر فی الفور جان سے مارنے کے قائل ہیں ۳ے

حسن بصریؒ کہتے ہیں کہ شاتم رسول کی عذر خواہی کا اسلامی شرع میں کوئی وزن نہیں ہے ۴ے

ابن نجیم اور ابن عقیل بھی معافی یا توبہ کو رد کرتے ہیں ۵ے اور ابو محمد بن زید کا بھی یہی فتوی ہے ۶ے

۱ے الصارم ، ۲۹۶

۲ے الشفاء ، ۲ : ۱۹۰ ، ۲۳۲

۳ے ایضاً ، ۱۹۰ - ۹۱

۴ے الصارم ، ۲۱۰

۵ے البحر الرائق ، ۵ : ۲۳۵ ؛ الصارم ، ۲۹۸

۶ے الشفاء ، ۲ : ۱۹۱

صفحہ ١٠٢

برہان الدین محمودؒ کہتے ہیں کہ شاتم کی توبہ نہ اللہ کے ہاں قبول ہے نہ لوگوں کے ہاں ۔ ١؎

خیر الدین رملی حنفی کہتے ہیں کہ شاتم کو حداً قتل کیا جائے گا اور سرے سے اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی، پھر وہ کہتے ہیں کہ یہی حضرت ابوبکر صدیقؓ، امام ابو حنیفہؒ، البدری، اہل کوفہ اور امام مالکؒ کا بھی مذہب ہے۔ ٢؎

ابن بزاز حنفی بھی کہتے ہیں کہ جس طرح حد قذف توبہ سے ساقط نہیں ہوتی اسی طرح شاتم اگر ”بعد الاخذ“ تائب ہو تو اس کی توبہ قبول نہیں۔ ٣؎

شیخ ابوبکر فارسی شافعیؒ کہتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے جملہ انبیاء علیہم السلام میں سے کسی نبی پر گو اشارہ و کنایہ ہی سہی تہمت لگائی تو اسے حداً قتل کر دیا جائے گا اور یہ حد قذف توبہ سے ساقط نہیں ہوتی، اس کے علاوہ آپؒ کا یہ کہنا ہے کہ اس مسئلہ میں امت کا اجماع ہے ٤؎ اور کسی کا اختلاف نہیں ۔

١؎ خلاصۃ الفتاویٰ ، ٤ : ٣٨٦

٢؎ خیریہ ، ١ : ١٧٠

٣؎ بزازیہ ، ٦ : ٣٢١ ؛ رسائل ، ١ : ٢٢٧

٤؎ شرح روض ، ٤ : ١٢٢

صفحہ ۱۰۳

دوسرا موقف ۔ توبہ قبل الاخذ قبول ہے

دوسرا موقف یہ ہے کہ گستاخ رسول کی سزا حداً قتل ہی ہے لیکن قبولیت توبہ کے امکان کے ساتھ بایں طور پر اگر وہ "قبل الاخذ" گرفتاری یا مقدمے کے اندراج سے پہلے تائب ہو، تو یہ توبہ "لاسقاط الحد" ہوگی (یعنی اس توبہ سے قتل کی سزا اٹھ جائے گی، اکثر شوافع اور بعض احناف نے اس موقف کو اختیار کیا ہے ۔

دوسرے موقف کے حوالے سے یہ بات پیش نظر رہے کہ اس بحث کے دوران جب قبول توبہ کا لفظ استعمال کیا جائے گا تو اس سے مراد "قبل الاخذ" توبہ ہی ہوگی

امام ابو یوسف

آپ کے نزدیک جس نے بھی حضور کو گالی دی وہ کافر ہوجائے گا۔ اور اس کا نکاح بھی ٹوٹ جائے گا، اگر وہ توبہ کرے تو درست وگرنہ اسے قتل کردیا جائے گا ۔ ۱؎

۱؎ رد المحتار ، ۴ : ۲۳۴ ، الفقہ الاکبر ۲ : ۱۳۳

صفحہ ۱۰۴

شمس الدین محمد خراسانی کا بھی یہی موقف ہے کہ اگر کسی نے انبیاء میں سے کسی نبی پر عیب لگایا اور پھر اس نے توبہ کی تو اس کی توبہ قبول ہوجائے گی ۱؎

امام ابو حنیفہ کا ایک قول

ابن عابدینؒ نے امام ابو حنیفہ کا ایک اور قول اس طرح بیان کیا ہے کہ اگر کوئی مسلمان شانِ رسالت مآب میں سب کا جرم کرے تو اس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا، پھر اگر توبہ کرے تو بہتر، ورنہ مرتد کی طرح قتل کر دیا جائے گا ۲؎

آپ کا اسی طرح کا ایک اور قول الحاوی کے حوالہ سے بھی نقل کیا گیا ہے ۳؎

طحاوی ایسے مجرم کو مرتد جیسا قرار دیتے ہیں کہ توبہ کرے تو قبول ورنہ قتل کر دیا جائے ۴؎

۱؎ جامع الرموز ، ۴ : ۵۸۲

۲؎ رد المحتار ، ۴ : ۲۳۳ ، رحمۃ الامۃ ، ۲ : ۱۳۶

۳؎ حاویہ ، ۱ : ۱۰۶

۴؎ البحر الرائق ، ۵ : ۱۲۵

صفحہ ۱۰۵

غرضیکہ جن ائمہ احناف نے حد ساقط کرنے کے لئے قبول توبہ کا جو قول بیان کیا ہے اس میں سبب یہ ٹھہرایا ہے کہ حضور کی بے ادبی و گستاخی اور اہانت ایسا کفر ہے جو باعث ارتداد ہے اس لئے انہوں نے ارتداد کی صورت میں قبولیت توبہ کے احکام کا گستاخ رسول پر بھی اطلاق کر دیا ہے بناء بریں ان کے نزدیک اس کے لئے توبہ کی گنجائش ہو گئی ہے ۔

بعض علمائے احناف نے مذکورہ دونوں موقف میں تطبیق بیان کی ہے مفتی ابوالسعود حنفی نے تطبیق کی ایک صورت یہ بیان کی ہے کہ گستاخ کی توبہ "بعد الاخذ" (مقدمہ دائر ہونے یا گرفتاری کے بعد) بالاتفاق و بالاجماع قبول نہیں کی جائے گی بلکہ اسے قتل کر دیا جائے گا ۔ ۱؎

یعنی توبہ کی قبولیت اور عدم قبولیت کے اختلاف کا دائرہ کار فقط "قبل الاخذ" تک ہی محدود ہے ۔ اسی طرح مفتی ابوالسعود نے بیان کیا ہے کہ اسی وجہ سے ۹۴۴ھ میں سلطان سلیمان خان بن سلیم خان نے اپنی سلطنت کے قاضیوں کو یہ حکم جاری کیا تھا کہ وہ دونوں آراء کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کیا کریں، اگر اہانت رسول کا مرتکب آدمی اپنے حالات سنوار لے اور بخوشی توبہ کر کے سچا و پکا مسلمان ہو جائے تو اسے قتل نہ کیا جائے ، بلکہ امام ابو حنیفہ کے

۱؎ رد المحتار ، ۴ : ۲۳۶

صفحہ ١٠٦

قول پر عمل کرتے ہوئے اسے تعزیراً سزا دی جائے اور قید بھی کیا جائے ۔ اسے اسی طرح اگر وہ اپنے حالات کو نہ سنوارے ، سچا پکا مسلمان نہ بنے ، مکمل طور پر اپنے گستاخانہ طریقوں اور برے افعال سے تائب نہ ہو تو اسے بقیہ تمام ائمہ کے اقوال کے مطابق حداً قتل کیا جائے اور اس کی توبہ مطلقاً قبول نہ کی جائے ۔

اس بحث سے یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ امت مسلمہ میں گستاخ رسول کے حداً واجب القتل ہونے میں سرے سے کوئی اختلاف نہیں ہے اس بات پر بھی امت کا اجماع ہے کہ ” بعد الاخذ “ گستاخ رسول کی توبہ قطعاً قبول نہیں ہوگی ۔ وہ بہر صورت واجب القتل ہی رہے گا ۔

اب اختلاف کا دائرہ صرف اس بات پر محدود ہے کہ ” قبل الاخذ “ توبہ معتبر ہے یا نہیں ؟ جمہور علماء کا موقف ہے کہ توبہ کسی حالت میں بھی قبول نہیں ۔ لیکن احناف اور شوافع کے کچھ علماء اس توبہ کی قبولیت کے قائل ہیں ، قرآن کے نزدیک بھی توبہ کے معتبر ہونے کی کچھ شرائط ھیں کہ مقدمہ درج ہونے سے قبل یہ بات قرائن و شواہد سے واضح ہونی چاہئے کہ وہ سزائے موت سے ڈر کر گھبراہٹ کے عالم میں توبہ تو نہیں کر رہا ہے ؟ عدالت وقت پر یہ بھی لازم ہے اس بات کی بھی خوب تحقیق و تفتیش کرے

۱؎ رد المحتار ، ۴ ، ۲۳۶

صفحہ ۱۰۷

کہ واقعہ ”اس نے ”قبل الاخذ“ ہی توبہ کی تھی اسی طرح حسنِ اسلام و اصلاح احوال کا بھی پہلو دیکھا جائے گا ۱؎

تیسرا موقف

اس موقف کی وضاحت ابن عابدین کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ شانِ رسالت مآب میں گستاخی کرنے والے کو قتل کرنا واجب ہے خواہ یہ توبہ کرے یا نہ کرے۔ اس لئے کہ اگر یہ گستاخی و اھانت کے بعد توبہ کرلیں اور دوبارہ مسلمان بھی ہوجائیں تو انہیں حداً قتل کر دیا جائے گا۔ توبہ اور دوبارہ اسلام میں داخلہ کی وجہ سے قتل کے بعد ان پر مسلمانوں ہی کے احکام جاری کیے جائیں گے اور اگر یہ اپنے کفر اور عداوت و دشمنی پر ہی قائم رہیں تو انہیں کفر و ارتداد کی وجہ سے قتل کر دیا جائے گا۔ اور قتل کے بعد ان پر مشرکین کے احکام جاری کیئے جائیں گے۔ ۲؎ اسمعیل حقی نے بھی اس تیسرے موقف کی وضاحت اسی طرح کی ہے ۳؎

۱؎ ردالمختار ، ۴ ، ۲۳۶

۲؎ حامدیہ ، ۱ ، ۱۰۳

۳؎ روح البیان ، ۳ : ۳۹۴

صفحہ ١٠٨

دراصل یہ تیسرا موقف پہلے موقف کی ہی ایک صورت ہے اور تائید بھی، اسی طرح پہلے اور دوسرے موقف کی عملی تطبیق بھی کہہ سکتے ہیں ۔ اس میں سزائے قتل واجب ہے ، توبہ بھی قبول نہیں، فرق صرف اتنا ہے کہ اس موقف کے مطابق "قبل الاخذ" قبولیتِ توبہ کا مفہوم یہ ہے کہ توبہ عند الناس قبول نہیں لہٰذا حد جاری کرنے کے لئے مجرم کو قتل کر دیا جائے گا، اور اس کی توبہ کی قبولیت کا معاملہ اللہ تعالیٰ پر ہے۔

البتہ اس سے توبہ کرنے والے کو یہ فائدہ ہوگا کہ سزائے موت کے بعد اس پر احکامِ اسلام کا اجراء ہوگا۔ نماز جنازہ ادا کی جائے گی تکفین و تدفین میں بھی اس کے ساتھ مسلمانوں جیسا سلوک ہی ہوگا۔

صفحہ ۱۰۹

تیسری فصل

حدِّ شرعی کے نفاذ کا مسئلہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کے دو واقعات جس میں ایک نابینا صحابیؓ نے از خود اپنی گستاخ رسول لونڈی کو قتل کر دیا تھا، اور ایک یہودیہ عورت جس کو ایک صحابی نے گلا دبا کر قتل کر دیا تھا۔ اس سے لوگوں کو یہ غلط فہمی ہو رہی ہے کہ شاتم کے معاملہ میں قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر ھر شخص اس امر کا مجاز ہے کہ جہاں بھی اور جب بھی ایسے لعین پر اس قابو ہو وہ اس کو بذات خود وہیں قتل کر سکتا ہے۔ وہ اس کو مسلمانوں کا قانونی حق گردانتے ہیں۔

ان مندرجہ بالا واقعات کا بہ نظر غائر مطالعہ کیا جائے (جو کہ پیچھے تفصیلاً گزر چکے ہیں) تو یہ بات منکشف ہوتی ہے کہ جب شاتم نبی کے ان پر جوش قاتلوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں اشتعال انگیز حالات میں اپنے ارتکاب قتل کا اعتراف کیا تو نبی اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے واقعات معلوم کر کے بحیثیت حاکم مملکت ان حضرات کو مواخذہ سے بری قرار دیا۔ اگر مرتد یا شاتم کا قتل تابع قضائے قاضی نہ ہوتا تو پھر ان قاتلوں کا اعتراف و اعتذار اور ان کا بری المواخذہ

صفحہ ۱۱۰

قرار دیا جانا سب غیر ضروری باتیں ہو کر رہ جاتیں اور ریکارڈ سے خارج کر دی جاتیں۔ یہ ساری روئیداد اس امر کا ثبوت ہے کہ شاتم نبی بھی اس وقت تک نہیں قتل کیا جا سکتا جب تک قضاء قاضی کے ذریعے ایسا حکم صادر نہ ہو جائے اگر بلا اذن عام کسی سے ایسی حرکت سرزد ہو جائے تو وہ عدالت یا حاکم کے آگے جواب دہ ہے اور حاکم اس سے باز پرس کر سکتا ہے۔

اگر قضاء اور تعمیل کے اختیارات ہر ایک کے ہاتھ میں دیئے جائیں تو خون ناحق اور فتنوں کے دروازے کھل جائیں گے۔ اس بات کی صداقت کا اندازہ اس روایت سے با آسانی ہو سکتا ہے جو کہ حضرت ابو ہریرہ سے نقل کی گئی ہے اور اس میں اس بات کا ذکر ہے کہ ایک شخص نے حضرت ابوبکر کی شان میں گستاخی کی اور ایک صحابی نے آپ سے اس شخص کی گردن مارنے کی اجازت طلب کی مگر آپ نے اس کی اجازت نہیں دی اور فرمایا کہ یہ سزا صرف گستاخ رسول کے لیئے مخصوص ہے اس روایت سے جہاں شاتم نبی کا قابل گردن زدنی ثابت ہورہا ہے وہیں یہ خدشہ بھی سامنے آ رہا ہے کہ احکامات کے نفاذ میں ہر فرد

لہ ابوداؤد ، ج ۲ ص ، ۳

صفحہ ۱۱۱

کو آزادی ہو تو اس کا قوی امکان ہے کہ شاتم صحابہ کو بھی لوگ از خود شاتم نبی کی سزا دینے لگ جائیں گے۔ یہ تو بھلا ہوا کہ خلیفہ وقت خود بنفس نفیس برسر موقع تھے اور انہوں نے قتل کا ایک امکانی حادثہ روک دیا۔

شاتم رسول کے قتل کے سلسلہ میں جو احادیث اوپر گزری ہیں : " وَمَنْ سَبَّ نَبِيًّا قُتِلَ وَمَنْ سَبَّ اَصْحَابَهُ جُلِدَ " ١؎ (شاتم نبی کو قتل کیا جائے گا اور شاتم صحابہؓ کو کوڑے مارے جائیں گے) " وَمَنْ سَبَّنِيْ فَاقْتُلُوْهُ " ٢؎ (جس نے مجھے گالی دی اسے قتل کر دو ")

اسی طرح یہ احادیث : " مَنْ بَدَّلَ دِيْنَهُ فَاقْتُلُوْهُ " ٣؎ (جو شخص اپنا دین یعنی اسلام بدل دے اس کو قتل کر ڈالو،) اور " مَنْ جَحَدَ اٰيَةً مِّنَ الْقُرْاٰنِ حَلَّ ضَرْبُ عُنُقِهِ " ٤؎

١؎ مجمع الزوائد ، ۶ : ۲۶

٢؎ البحر الزخار ، ۲ : ۲۰۵

٣؎ احمد ، ۱ : ۲۱۷ ؛ بیہقی ، ۸ : ۱۹۵ ؛ طبرانی ، ۱۰ : ۲۳۰ ؛ حاکم ، ۴ : ۵۳۸

٤؎ ابن ماجہ ، حدود ، ۲ ، ۳۵

صفحہ ۱۱۲

(جو شخص قرآن کی کسی آیت کا انکار کرے اس کی گردن مار دینا حلال ہے)

ان سے بظاہر عوام یہی مراد لیتے ہیں کہ ھمیں ان مجرموں کو ختم کرنے کی عام اجازت ہے ، اب ایسے معاملات جو ارتداد کا باعث بن جاتے ہیں ، موجب قتل ضرور ہوتے ہیں ، لیکن حد جاری کرنا ہر کس و ناکس کا کام نہیں صرف امام یا اس کا نائب اس کا مجاز ہے ۔ فقہاء کرام نے اس سلسلہ میں بڑی وضاحت سے لکھا ہے ۔

حضرت امام شافعی کا قول اس طرح نقل ہوا ہے : " وَأَمَّا مَنْ يُقِيمُ هَذَا الْحَدَّ فَاتَّفَقُوا عَلَى أَنَّ الْاِمَامَ يُقِيمُهُ وَكَذَالِكَ الْاَمْرُ فِي سَائِرِ الْحُدُودِ " ۱؎

(رہا یہ مسئلہ کہ حد کون قائم کرے گا تو اس سلسلہ میں اتفاق ہے کہ امام ہی اسے نافذ کرے گا ۔ اسی طرح تمام دیگر حدود کا معاملہ ہے ۔)

ابن قدامہ کہتے ہیں کہ " فَأَمَّا الْقَتْلُ فِي الرِّدَّةِ وَ الْقَطْعُ فِي السَّرْقَةِ فَلَا يَمْلِكُهَا

۱؎ ابن رشد ، ۵۴۴

صفحہ ۱۱۳

الا الامام ..... اَنَّ الْاَصْلَ تَفْوِيْضُ الْحَدِّ إِلَى الْإِمَامِ" ۱؎ (ارتداد پر قتل ، چوری میں قطع ید کا اختیار صرف امام کو حاصل ہے اس لئے کہ اصولی بات ہے کہ حد جاری کرنے کی ذمہ داری امام کی ہے)

مزید آپ ایک دوسری کتاب میں لکھتے ہیں کہ : "وَلَا يَجُوزُ اَنْ يُقِيْمَ الْحَدَّ إِلَّا الْإِمَامُ اَوْ نَائِبُهُ" ۲؎ (صرف امام یا اس کا نائب ہی حد قائم کر سکتا ہے ۔)

الکاسانی ۳؎ ، ابن عابدین ۴؎ اور ابن نجیم ۵؎ نے بھی یہی لکھا ہے اور تمام فقہاء و علماء کا اس بات پر اتفاق نقل کیا ہے ۔

اسی طرح طحاوی نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ حدود کو بڑے شہروں کے امراء اور حکام ہی قائم کر سکتے ہیں، بیرونی علاقوں کے امراء وغیرہ قائم نہیں کر سکتے ۶؎

۱؎ مغنی ، ۱۰ : ۱۲۷

۲؎ شرح الکبیر ، ۱۰ : ۱۲۱

۳؎ بدائع الصنائع ، ۹ : ۲۴۹

۴؎ رد المحتار ، ۳ : ۳۱۸ - ۱۹

۵؎ البحر الرائق ، ۵ : ۱۲۴ - ۲۵

۶؎ طحاوی ، ۱۰ : ۱۶۲

صفحہ ۱۱۴

فتاویٰ عالمگیری میں لکھا ہے کہ اگر کوئی مرتد کو قتل کر دے یا اس کے کسی عضو کو کاٹ دے تو ایسا کرنا مکروہ تنزیہی ہے ۱؎ نیز ایسے آدمی کو امام کی طرف سے تادیب کی جائے گی کہ اس نے حکومتی اختیارات اپنے ہاتھ میں کیوں لیئے ۲؎

ان بلند پایہ فقہاء کے محولہ بالا اقوال سے یہ امر پایہ ثبوت کو پہنچ جاتا ہے کہ حد جاری کرنے کا اختیار امیر مملکت یا سلطان ہی کو حاصل ہے جب کہ وہ اپنے نائبین کو تفویض کر سکتا ہے۔ ھر شخص کو نہ مرتد کو قتل کرنے کا اختیار ہے نہ شاتم رسول و نبی کو ۔

کوئی مرتد یا شاتم رسول اسی وقت مباح الدم قرار پائے جب کہ حاکم وقت نے اس کے مباح الدم ہونے کا اعلان کر دیا ہو، اس امر کا اجراء بھی قضاء قاضی پر ہے یہ کس و ناکس کا کام نہیں ہے کہ وہ کسی بھی مرتد یا شاتم کو مباح الدم قرار دے کر اس کو قتل کر دے ۔

بعض اوقات ایسی صورتیں ظہور پذیر ہوتی ہیں کہ کسی مرتد یا شاتم رسول کے خلاف قتل کا فیصلہ ہو چکا ہوتا ہے لیکن قبل اس کے کہ اسے مقتول

۱؎ عالمگیری ، ۲ ، ۶۶۱ ۲؎ ابن الہمام ، ۵ ، ۳۱۰

صفحہ ١١٥

جایا جائے ، وہ کسی تدبیر سے راہِ فرار اختیار کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور روپوش ہو بیٹھتا ہے ، ایسے مجرمین کو جو عدالت کے حلقہ اثر اور عاملہ کی گرفت سے باہر نکل جائیں ، ان کے خلاف حاکم اس امر کا اظہار کر دیتا ہے کہ وہ سب کے لئے مباح الدم ہیں اور جن کو ان پر قابو حاصل ہو جائے ، وہ ان کو وہیں قتل کر دے سکتا ہے ۔ ایک ہو یا ٹولی ہو ان سب کے لئے یہی حکم ہے اور باغی ٹولی ہو تو ایسے غارت گروں کے لئے تو حکم میں اور بھی شدت ہے ، اور ان کا قتل کیا جانا کارِ ثواب ہے ۔

حضرت علی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرتدین کی ایک جماعت کے بارے میں فرمایا :

" اَيْنَمَا لَقِيْتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ فَإِنَّ قَتْلَهُمْ اَجْرٌ لِّمَنْ قَتَلَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ " ۱؎

(تم انہیں جہاں کہیں بھی پاؤ بس انہیں قتل کر دو ، بے شک انہیں جو بھی قتل کرے گا روزِ قیامت اجر پائے گا)

اسی طرح عبداللہ بن ابی سرح (جو کہ آپ کو گالیاں دیا کرتا تھا) کے متعلق آپ نے یہ اذن عام دیا تھا کہ جو کوئی بھی اس شخص کو پائے اور چاہے

۱؎ احمد ، ۱ : ۱۴۷

صفحہ ۱۱۶

یہ غلافِ کعبہ ہی میں کیوں نہ چھپا ہوا ہو اسے قتل کر دیا جائے لے لہٰذا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حاکم کسی گستاخِ رسول یا دیگر باغیان کی جماعت کو اگر مناسب سمجھے تو مباح الدم قرار دے سکتا ہے اور اس امر کے اظہار و اعلان کے بعد ہی شاتم یا مرتد مباح الدم قرار پا کر قابل گردن زدنی ہو جاتا ہے ۔

لے ابن ہشام ، ۲ : ۸۶۷ - ۶۹ ، ۸۷۴ - ۷۵ ؛ نسائی ، محاربہ ، ۱۱

PDF 117

تیسرا باب

قانون توہین رسالت ﷺ

کا

عالمی و تاریخی پس منظر

صفحہ ۱۱۸

پہلی فصل

اسلامی ممالک میں قانون توہین رسالت

دنیا میں جہاں جہاں مسلمانوں کی حکومت رہی ہے وہاں شاتم رسول کو سزائے موت بطور حد دینے کا قانون ملک کے قانون عام (Common Law) کے طور پر نافذ رہا ہے اور کسی مسلک یا مذہب کے کسی گروہ یا جماعت نے اس سے اختلاف نہیں کیا اور مسلمہ طور پر یہ مذہب جمہور چلا آ رہا ہے۔ اسلام تو اپنے پیروانِ مذہب کو اس بات سے بھی منع کرتا ہے کہ وہ دیگر مذاہب و ادیان کے معبودوں تک کو، جو معبود حقیقی نہیں، برا بھلا نہ کہو تاکہ انہیں خدائے بزرگ و برتر اور پیغمبر حق کی شان میں گستاخی کا موقع نہ مل سکے، اس کے باوجود اگر کوئی بدبخت پیغمبر اسلام علیہ السلام یا کسی بھی اور پیغمبر کی توہین و تنقیص کرتا ہے تو اسلام نے اس کے لیئے جائز طور پر سزائے موت تجویز کی ہے۔

سپین میں تحریک شماتتِ رسول

یورپ میں جب مسلمانوں کی حکومت سپین میں قائم ہوئی تو وہاں کے عام شہریوں کو کلیسا اور پادریوں کے خود ساختہ نام نہاد مذہبی قوانین

صفحہ 119

کی سخت گیری سے نجات ملی اور اس کی بجائے اسلام کے عادلانہ اور فلاحی نظام کی بدولت انہیں خوشحالی ، تعلیم و تمدن اور امن و سلامتی نصیب ہوئی لیکن اہل کلیسا کے ھاتھوں سے چونکہ اقتدار جاتا رہا اس لیئے ان کے دلوں میں اسلام اور مسلمان حکمرانوں کے خلاف آتش انتقام بھڑک اٹھی، جس نے انہیں پاگل کردیا ۔ اگر وہ مسلمانوں کی حکومت یا ان کے نظام حکومت پر تنقید کرتے یا ان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے تو حکومت اسے نظر انداز کر دیتی لہذا انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کا ناپاک منصوبہ بنایا اور یہ منصوبہ ایک منظم سازش کے تحت ایک نہایت متعصب پادری و راہب یولوجیس اور اس کے حواریوں نے شروع کیا ۔ ۱؎

سپین میں مسلمانوں کے عمدہ اخلاق نے عیسائیوں کو بہت متاثر کیا اور وہ عربی زبان اور اسلامی تمدن کی طرف مائل ہونے لگے ، نصرانی پادریوں کو اس بات کا سخت دکھ اور رنج ہوا اسی باعث پادریوں کی تشویش میں اضافہ ہوتا چلا گیا ، اور مسلمانوں کے خلاف ان کے جذبات نفرت کی طرف بڑھتے گئے ۔ ۲؎

۱؎ ابن بشکوال ، ۳۹۰ ۲؎ المعارف ، ۵۸۲

صفحہ ۱۲۰

Stanley Lane-Poole لکھتا ہے کہ اندلس میں عیسائیوں کو اپنے مذہبی مراسم آزادی سے انجام دینے کی جو رعایتیں حاصل تھیں ان کی طبائع کی کج روی سے اس کا بڑا عجیب برعکس قسم کا نتیجہ ظاہر ہوا ، اندلس کے پادری اپنا اقتدار بحال کرنے کے خواہاں تھے لیکن حکومت کے روادارانہ رویے سے ان کو عیسائیوں کے جذبات برانگیختہ کرنے کا موقع نہیں ملتا تھا اس لیئے خاص کر ایک راہب جو کہ قرطبہ کا رہنے والا تھا نے چند غالی عیسائیوں میں یہ خیالات پیدا کیے کہ مذہب کی اصلی روح تکلیفیں اٹھانے سے پیدا ہوتی ہے اس لیئے دین اسلام کے داعی (صلی اللہ علیہ وسلم) پر سب وشتم کیا جائے تاکہ حکمرانوں کو مشتعل کیا جاسکے ۱؎

یہ تحریک امیر عبدالرحمٰن کے عہد حکومت کے آخری ایام میں شروع ہوئی ( ۲۳۲ھ / ۸۵۰ء) اور اس کے فرزند امیر محمد بن عبدالرحمٰن کے عہد میں اپنے انجام کو پہنچی ۔ (۲۷۲ھ / ۸۸۶ء) ۲؎

اس دوران بہت سے شاتمان رسول کو واصل جہنم کیا گیا Lane Poole کے بقول ۸۵۱ء کے موسم گرما کے دو مہینے سے کم عرصہ میں گیارہ

۱؎ The moors in Spain , 463

۲؎ Spanish Islam , 574

صفحہ ۱۲۱

گستاخوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا ۔ ۱؎

اس سلسلہ میں جن لوگوں کے نام مغربی مصنفین کی کتابوں میں مختلف جگہوں پر ملتے ہیں، ان کا مختصر تذکرہ حسب ذیل ہے ۔

خاندان سے تھا، یہ خاندان عیسائی مذہب سے شغف رکھتا تھا۔ اسی قدر اسلام سے عداوت رکھنے میں مشہور تھا، اس کا دادا اذان کے وقت اسلام دشمنی کے اظہار کے لئے مختلف گستاخانہ کلمات کہتا ۔۲؎

یہ شخص ظاہری طور پر اپنی نیکی کی بہت نمائش کرتا، لیکن مغربی مصنفین خاص کر Prof Reinhart Dozy نے متعدد بار اس بات کا ذکر کیا ہے کہ یہ شخص بہت حسن پرست تھا ۳؎

اس نے ایک حسین راہبہ فلورا کو بھی اپنے ساتھ ملایا اور اسے اپنی محبت کا اسیر کرنے کے بعد مزید لوگوں کو شامل کرکے یہ تحریک شروع کی، یہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف نازیبا باتیں گھڑتا۔

۱؎ The Moors in Spain, 464

۲؎ Gayangos, 1 : 510

۳؎ Spanish Islam, 575

صفحہ ۱۲۲

اور عیسائیوں کو ان کی توھین و تضحیک پر اکساتا تھا ، اسے امیر عبدالرحمٰن الاوسط کے زمانہ میں اس کے ساتھیوں سمیت جیل میں ڈالا گیا ، اس کے بعد عبدالرحمٰن کی وفات سے ایک سال قبل اسے رھا کیا گیا ، لیکن یہ اپنی حرکتوں سے باز نہ آیا اور محمد بن عبدالرحمٰن کے ھاتھوں کیفر کردار کو پہنچا، اس کے قتل کے بعد اس کی چلائی ہوئی تحریک خود بخود ختم ہو گئی ۱؎

ایک روایت کے مطابق یولوجیس کا سر ۸۵۹ء میں قلم کیا گیا ۲؎

(۲) فلورا : یہ قرطبہ کی ایک خوبصورت راہبہ تھی جسے یولوجیس نے اپنے دام میں پھنسا کر استعمال کیا ، اس نے تحریک شماتتِ رسولؐ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔

اس کا باپ مسلمان اور ماں عیسائی تھی باپ کے مرنے کے بعد ماں انتہائی متعصبانہ انداز سے اس کی مذہبی تربیت کی جوان ہو کر وہ بھائی کے گھر سے بھاگ نکلی اور عیسائیوں کے گرجا میں مقیم ہو گئی ، اس کے مسلمان بھائی نے اسے واپس لینے کیلئے عدالت کا سہارا لیا ، لیکن وہاں بھی اس نے علی الاعلان عیسائی ہونے کا دعویٰ کیا ۔ ۳؎

1؎ Spanish People, 460

2؎ Falcon of Spain, 244

3؎ McCabe, 401

صفحہ ۱۲۳

اس کے بعد اس کی ملاقات یولوجیئس سے ہوئی جس نے اس کے تعصب کو اور بڑھایا ایک دن اس نے منصوبہ کے تحت ایک اور گستاخ رسول راہبہ میری کو ساتھ لیا اور قاضی کی عدالت میں پہنچ کر آنحضرت کی شان اقدس میں انتہائی گستاخانہ کلمات کہے ، قاضی نے اسے باز رہنے کی تلقین کی ، مگر یہ باز نہ آئیں اس بناء پر انہیں گرفتار کر کے جیل بھجوا دیا گیا اور پھر مقدمہ چلانے کے بعد جرم ثابت ہونے پر انہیں ۲۴ نومبر ۸۵۱ء کو قتل کر دیا گیا ۱؎

(۳) اسحٰق راہب یہ نوجوان عیسائی امیر عبدالرحمٰن الاوسط کے دربار میں کاتب تھا ، لیکن ۲۲ برس کی عمر میں دنیا سے کنارہ کش ہو کر جدالوس کی مسیحی خانقاہ میں گوشہ نشین ہو گیا ، جہاں یہ متعصب پادریوں کے خیالات سے متاثر ہو گیا اور اس کے دل میں بھی جوش پیدا ہوا کہ وہ اپنی جان دے کر بزرگی حاصل کرے ۔

ایک دن وہ اپنی خانقاہ سے نکل کر قرطبہ کے قاضی کے پاس پہنچا اور کہا کہ میں آپ کا دین قبول کرنا چاہتا ہوں ، قاضی نے خوش ہو کر اسلام کی بنیادی تعلیمات سے آگاہ کرنا شروع کیا تو اس نے نبی کریم پر سَبّ

۱؎ Murphy, 279

صفحہ ۱۲۴

دشنام کرنا شروع کر دیا ، قاضی نے اسے جیل بھجوا دیا ، امیر عبدالرحمٰن نے اس گستاخ رسول کی بابت حکم جاری کیا کہ اسے سزائے موت دی جائے ، چنانچہ جون ۸۵۱ء میں اس حکم کی تعمیل ہوئی ۔ ۱؎

امیر عبدالرحمٰن کی محافظ فوج کا ایک سپاہی تھا جو کہ یولوجیئس کے گروہ میں شامل ہو گیا تھا، اسحٰق کے قتل کے دو دن بعد اس نے حضور کو گالیاں دینا شروع کر دیں لہٰذا اسے بھی سزائے موت دی گئی ۔ ۴؎

جرمیاس اسحٰق کا چچا تھا، اس کا ایک ساتھی راہب حابنتوس جو کہ اپنے حجرے میں گوشہ نشینی کی زندگی گزارتا تھا ، یہ بھی یولوجیئس کے گروہ کے رکن تھے ، سانچو کے قتل کے بعد اتوار کے دن سات جون ۸۵۱ء کو یہ بھی قاضی کی عدالت میں آئے اور حضور اکرم کی شان میں گستاخی کا ۔

۱؎ Code, 670 ; Whishaw, 322

۲؎ Scott, 540 ; Sell, 685

۳؎ Watts, 375 ; Falcon of Spain, 272

۴؎ Bourke, 402 ; Meakin, 288

صفحہ ۱۲۵

ارتکاب کیا ۔ ۱؎

ایک اور روایت کے مطابق یہ کل چھ راہب تھے ۲؎ لین پول نے ان کے نام دیئے بغیر ان کا ذکر کیا ہے ۳؎ یہ چھ کے چھ اس جرم کی پاداش میں قتل کر دیئے گئے تھے ۔

بھی نبی کریم کی گستاخی کا مرتکب ہوا اور اسے بھی سزائے موت دی گئی ۴؎ ۔

کرنے کی نصیحت کی تھی لہذا اس نے بھی یہی فعل کیا اور قتل کیا گیا ۵؎

رسالت کے جرم میں قتل کیا گیا ۔ ۶؎

۱؎ Power, 480

۲؎ The Moors, 503 ; Power, 481

۳؎ The Moors in Spain, 464

۴؎ The Moorish Empire, 285

۵؎ The Conquest of Garnada, 302

۶؎ Chronicle of the Conquest of Garnada, 260

صفحہ ۱۲۶

(۹) آئزک :۔ اس نے بھی قاضی کی عدالت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ۔ جب قاضی نے دینی عقائد بیان کئے تو اس نے سب وشتم شروع کر دیا لہٰذا اس کو بھی مقدمہ چلانے کے بعد قتل کیا گیا ۱؎ اکثر مصنفین نے اس کا نام علیحدہ لکھا ہے Prof Reinhart Dozy نے اسے مذکورہ بالا چھ راہبوں میں شمار کیا ہے ۲؎

میری :۔ یہ آئزک کی بہن تھی اور قرطبہ کی ایک مسیحی خانقاہ کی راہبہ تھی ، اس کی ملاقات فلورا سے ہوگئی جس نے اسے اس گناہ کی طرف مائل کیا ۔ اس نے بھی قاضی کے سامنے رسول اللہ کی شان اقدس میں گستاخی کی اور اسے بھی فلورا کے ساتھ ۲۴ نومبر ۸۵۱ء کو قتل کیا گیا ۳؎

یہ ان بدبخت مردوں اور عورتوں کا مختصر ذکر تھا جنہوں نے رسول اللہ کی شان اقدس میں گستاخی کا ارتکاب کیا اور اس وقت کے حکمرانوں نے بغیر کسی حیل و حجت اور اختلاف رائے کے انہیں موت کی سزا دی ۔ ان سب واقعات کا مسلم مورخین نے اصلا ان کا ذکر کرنا ہی مناسب

۱؎ Spanish Islam, 401 ; Gayangos, I : 510

۲؎ do

۳؎ Spain, 280

صفحہ ۱۲۷

نہیں سمجھا، اور ان کے متعلق کچھ لکھا ہے تو انتہائی مختصر ، تاہم مسیحی مؤرخین نے خوب بڑھ چڑھ کر اپنی ہر کتاب جو کہ ہسپین پر لکھی گئی میں ان واقعات کا ذکر کیا ہے ۔

اس تحریک کو خاطر خواہ کامیابی نہیں ہوئی اور خود عیسائی امراء نے ان متعصب پادریوں کو روکنے کی کوشش کی ، امیر عبدالرحمٰن الاوسط کے دور میں ایک کلیسائی کونسل بھی اس کو ختم کرنے کے لئے بٹھائی گئی ۔ لیکن متعصب پادریوں نے اس کونسل کے فیصلہ کی خلاف ورزی کی لے

ریجی نالڈ اور صلاح الدین ایوبی

یہ کرک کا امیر تھا اور صلیبی جنگوں میں مسلمانوں کا سخت دشمن ثابت ہوا، اس نے پہلے تو مدینہ منورہ میں حضور کے مزار اقدس اور خانہ کعبہ کو مسمار کرنے کا ارادہ ظاہر کیا اور اس غرض سے اس نے سمندر کے راستے سے لشکر کشی بھی شروع کردی، مگر صلاح الدین ایوبی نے ۵۸۲ھ/فروری ۱۱۸۲ء میں کرک پر حملہ کر دیا اور حجاز مقدس کی حفاظت کے لئے بھی فوج

لے تاریخ ہسپانیہ ، ۲۱۰ ، ۲۲۶

صفحہ ۱۲۸

بھجوائی جس سے یہ وقتی طور پر باز آ گیا ۔ ۱؎

اس کے بعد بھی یہ خاص کر اپنی گستاخانہ حرکتوں سے باز نہ آیا اور اکثر نبی کریم کی شان میں توہین کرتا ، ۱۱۷۹ء میں اس نے مسلمانوں کا قافلہ لوٹا اور اسلامی شعائر کا مذاق اڑایا ، اس کے بعد ۱۱۸۶ء میں مسلمان تاجروں کا قافلہ لوٹنے کے بعد نبی کریم کی شان اقدس میں سخت گستاخی کی جب صلاح الدین ایوبی کو اس بات کی خبر پہنچی تو اس نے قسم کھائی کہ وہ اس کو اپنے ھاتھ سے قتل کرے گا ۔

۷ جولائی ۱۱۸۷ء کو جب سلطان صلاح الدین ایوبی کا قلعہ طبریہ پر قبضہ ہوا تو دیگر قیدیوں میں رینالڈ بھی شامل تھا ، سلطان نے بادشاہ اور دیگر امراء کے ساتھ تو اچھا سلوک کیا مگر رینالڈ کو اپنے ھاتھوں قتل کیا ۲؎

سلطان نور الدین زنگی اور دو گستاخ نصرانی

سلطان نور الدین زنگی (م ۵۶۹ھ) کے زمانہ میں دو نصرانیوں نے عبادت گزار درویشوں کا روپ دھار کر ، مدینہ کے باہر قیام کیا اور وہاں سے ایک

۱؎ Hitti : 647 ۲؎ الفتح القسی ، ۲۷۰ ؛ صلاح الدین الایوبی ، ۴۵۰

صفحہ ۱۲۹

سرنگ کھود کر حضور کے روضہ اقدس تک پہنچنے کی ناپاک جسارت کی ، تاکہ آپ کی قبر مبارک سے آپ کا جسم اطہر نکال لیا جائے ۔ نبی کریم نے کئی بار خواب میں دو نیلی آنکھوں والے آدمیوں کی طرف اشارہ کر کے سلطان کو کہا کہ ان سے میری حفاظت کرو ، اور سلطان نور الدین نے مدینہ آکر تمام اھل مدینہ کی دعوت کی اور بالآخر ان افراد کو شناخت کر لیا اور شہر سے باہر جا کر ان کی جھونپڑی کی تلاشی لی گئی تو ان کی چٹائی کے نیچے سے سرنگ نکلی جو کہ روضہ انور تک پہنچ چکی تھی ۔ سلطان نے ان دونوں کو صبح کے وقت قتل کروا دیا اور شام کے وقت ان کی نعشوں کو نذر آتش کر کے خاکستر کر دیا گیا ۔ ۱؂

دورِ مغلیہ میں گستاخوں کو سزائے موت

دور مغلیہ میں بادشاہ اکبر کا زمانہ لا دین عناصر کے غلبہ کا زمانہ سمجھا جاتا ہے اور اس دور میں جاھل اور ان پڑھ بادشاہ کو خوشامدی اور چاپلوس درباریوں نے اسلام سے بیگانہ کر رکھا تھا ۔ اور اکبر مکمل طور پر ھندو مہارانیوں کے زیر اثر تھا لیکن اس کے باوجود اس زمانہ میں بھی ایک ایسے مقدمہ

۱؂ وفاء الوفاء ۱ : ۴۳۲ ، ۴۳۳ - ۴۳۷ ؛ جذب القلوب ، ۲۷-۲۹ ؛ دیار رحمۃ للعلمین ۱۴-۲۵

صفحہ ۱۳۰

کا فیصلہ ملتا ہے جس میں گستاخی رسول کے مرتکب ہندو کو علماء کے اصرار پر سزائے موت دی گئی۔

متھرا کے قاضی عبدالرحیم نے قاضی القضاۃ شیخ عبدالنبی کے پاس ایک مقدمہ بھجوایا جس میں بیان کیا گیا کہ وہاں کے مسلمان ایک مسجد کی تعمیر کی خاطر سامان اکٹھا کر رہے تھے کہ ایک سرکش مالدار برہمن نے ان کا جمع شدہ عمارتی سامان اپنے قبضہ میں لے کر مندر کی تعمیر شروع کر دی۔ لوگ شکایت لے کے قاضی عبدالرحیم کے پاس گئے اور قاضی صاحب نے اس کے خلاف تادیبی کارروائی کا ارادہ کیا تو اس نے عام مسلمانوں اور دیگر لوگوں کی موجودگی میں حضور اکرم کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا اور مسلمانوں کی بھی سخت توہین کی۔ اس کے بعد قاضی عبدالرحیم نے یہ مقدمہ استغاثہ کی صورت میں قاضی القضاۃ کے پاس بھجوایا۔

قاضی القضاۃ شیخ عبدالنبی نے اسے طلب کیا لیکن یہ نہیں آیا۔ اس پر بادشاہ نے بیربل اور شیخ ابو الفضل کے ذریعہ عدالت میں پیش کروایا۔ شیخ ابو الفضل نے یہ بیان دیا کہ گواہوں کے ذریعہ اس بات کی تحقیق و تصدیق ہو گئی ہے کہ اس نے گستاخانہ باتیں کہی ہیں۔ اکثر و بیشتر علماء نے اس کے قتل کا مطالبہ کیا۔ لیکن شاہی محل کی بیگمات کی سفارشات کے باعث بادشاہ نے صراحۃً قتل کی اجازت نہ دی اور قاضی القضاۃ کو گول مول کہہ دیا کہ شرعی

صفحہ ۱۳۱

سزا کا تعلق تم سے ہے ہم سے کیا پوچھتے ہو ؟ البتہ بادشاہ شیخ کا بے حد احترام کرتا تھا لہٰذا شیخ عبدالنبی نے قتل پر اصرار کیا تو پھر اس نے وہی جواب دیا کہ جو مناسب جانو وہی کرو ، اس کے بعد قاضی القضاۃ نے فوراً اس برہمن کے قتل کا حکم دیا ، چنانچہ اس کی تعمیل میں اس کی گردن اڑا دی گئی ، ۱؎

دوسرا اہم مقدمہ مغل حکمرانوں کے آخری دور حکومت اور لاہور کے متعلق ہے :

حقیقت رائے باگھ مل پوری ، سیالکوٹ کے کھتری خاندان کا پندرہ سالہ لڑکا تھا جس کی شادی بٹالہ کشن سنگھ بھٹہ نامی سکھ کی لڑکی سے ہوئی تھی ، حقیقت رائے کو مسلمان بچوں کے ساتھ ہی سکول میں پڑھنے بھجوایا جاتا تھا ، کسی دن سکول میں مسلمان استاد نے بت پرستی کے خلاف کچھ کہا ، اس پر حقیقت رائے نے احتجاج کیا اور انتقاماً رسول اللہ اور حضرت بی بی فاطمہ کی شان میں نازیبا کلمات کہے ، اس جرم میں حقیقت رائے کو گرفتار کر کے لاہور عدالتی کارروائی کے لیے بھیجا گیا ، کچھ ہندو افسر گورنر لاہور زکریا خان کے پاس سفارش لے کر پہنچے کہ

۱؎ منتخب التواریخ ، ۳۶۲

صفحہ ١٣٢

حقیقت رائے کو معاف کر دیا جائے لیکن زکریا خان نے کوئی سفارش نہ مانی اور عدالت کی عائد کردہ سزائے موت کے حکم پر نظرثانی کرنے سے انکار کر دیا۔

حقیقت رائے کو پہلے ایک ستون کے ساتھ باندھ کر کوڑے لگائے گئے اور پھر ١٧٣٤ء میں اس کی گردن اڑا دی گئی۔ ١؎

ھندو مورخ Dr B.S Nijjar یہ انکشاف بھی کرتے ہیں کہ پنجاب میں بسنت کا تہوار ھندؤوں نے اسی حقیقت رائے کی یاد میں شروع کیا تھا۔ ٢؎

اسی طرح ترکی سمرقند اور بخارا میں بھی یہ قانون نافذ رہا۔ ٣؎

١٩٩٢ء میں سعودی عرب کی حکومت نے ایک شاتم رسول کا اسی قانون کے تحت سر قلم کر دیا۔ وزارت داخلہ کے مطابق ایک ملاح پر اللہ تعالیٰ، قرآن پاک اور رسول پاک کی شان میں گستاخی کا جرم ثابت ہو گیا تھا، اس شخص نے یہ بھی کہا تھا کہ (نعوذ باللہ) رسول خدا ایک جادوگر تھے اور ان کے قبضے میں بدروحیں تھیں، اس شخص کو مشرقی صوبہ کے ریگستانی

١؎ Nijjar , 278 ٢؎ Do , 279 ٣؎ ناموس رسالت ، ٣١٨

صفحہ ١٣٣

قصبہ میں قاطف کے قریب طوبیٰ مسجد سے ملحقہ احاطے میں تلوار کے ایک ہی وار سے ختم کر دیا گیا۔ یہ خبر سعودی ٹی، وی اور ریڈیو پر نمایاں انداز میں نشر کی گئی۔ ۱؎

نومبر ۱۹۹۶ء میں مشرقی جاوا میں سیتوں بوندو میں ایک عدالت نے سولی نامی ایک شخص کو ۵ سال قید کی سزا سنائی، جس پر الزام تھا کہ گزشتہ ماہ ہونے والے ہنگاموں کا سبب اس کا پیغمبر اسلام کے بارے میں اہانت آمیز رویہ تھا، ملزم نے اسلام کے بارے میں بھی قابل اعتراض باتیں کی تھیں جس کے بعد اشتعال پھیل گیا تھا اور اس کے بعد ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔ ۲؎

ستمبر ۱۹۸۸ء میں برطانیہ سے پینگوئن نامی ادارۂ کتب نے ۵۴۷ صفحات اور ۹ ابواب پر مشتمل ایک کتاب ”Satanic Verses“ شائع کی جس کا مصنف سلمان رشدی تھا، اس کتاب کے دو ابواب، باب ۲ اور باب ۶ جو کہ ستر صفحات پر مشتمل ہیں، ان میں پیغمبر اسلام، امہات المومنین رض، قرآن مجید، اسلامی عقائد، حضرت ابراہیمؑ اور صحابہ کرام کی ذات

۱؎ قومی آواز دہلی، ۵ ستمبر ۱۹۹۲ء، ۸ ۲؎ جنگ لاہور، ۱۹ نومبر ۱۹۹۶ء، ۸ ۱۹۹۶ء، ۸

صفحہ ۱۳۴

گرامی پر از راه خباثت نہایت گستاخانہ اور شرمناک حملے کئے گئے جن کے تصور سے بھی انسانی روح کانپ اٹھتی ہے ۔

سلمان رشدی برطانیہ کا شہری ہے وہ بمبئی کے ایک مسلم گھرانہ میں پیدا ہوا کیمبرج سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور مستشرقین کی تصانیف سے اسلامی تاریخ کا مطالعہ کیا اس کتاب کی اشاعت کے بعد مغربی ذریعہ ابلاغ نے رشدی کو ایک روشن خیال مسلم مصنف کے طور پر دنیا میں مشہور کیا اور آزادی رائے کے نام پر اس کا بھر پور دفاع کیا ۔

ریاض (سعودی عرب) میں ۱۳ / تا ۱۶ / مارچ ۱۹۸۹ء؁ میں ہونے والی وزرائے خارجہ کی اٹھارویں کانفرنس نے متفقہ طور پر اس کی کتاب کی مذمت کرتے ہوئے رشدی کو مرتد قرار دیا ۔

ایران کے رہنما خمینی صاحب نے رشدی کے قتل کا فتویٰ جاری کیا اور ایرانی حکومت نے رشدی کو قتل کرنے کے لئے انعام مقرر کیا جس کے مطابق اگر اس کا قاتل ایران کا باشندہ ہو تو پچاس لاکھ ڈالر اور اگر کسی دوسرے ملک کا باشندہ ہو تو دس لاکھ ڈالر حکومت ایران پیش کرے گی ۔

اس فتویٰ کے باعث حکومت ایران کو بین الاقوامی سطح پر بہت ساری مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑا لیکن اس نے اپنا مبنی برحق فتویٰ واپس نہیں لیا ۔

صفحہ ۱۳۵

دوسری فصل

مذاہبِ عالم میں شعائر مذہب کی توہین کی ممانعت

شریعت اسلام میں توہینِ رسالت اور شعائر اللہ کی توہین کی ممانعت و سزا کے بارے میں تو واضح احکامات و معلومات ملتی ہیں مگر مذاہب عالم اور بالخصوص سامی مذاہب یہودیت و مسیحیت بھی اس قانون سے بالکل کورے نہیں ہیں ، ہر مذہب نے اپنے ماننے والوں کو اس بات کی تاکید کی ہے کہ وہ اپنے مذہب ، مقدس ہستیوں اور شعائر مذہب کی نہ تو خود تحقیر کریں اور نہ کسی اور کو ان کی توہین کرنے کی اجازت دیں اور جو کوئی ایسا کرے اسکو سخت سزا دی جائے۔

یہودی شریعت میں اللہ تعالیٰ ، انبیاء اور شعائر اللہ کی توہین اور گستاخی پر سخت احکامات اور سزائے موت کا بڑا واضح ذکر موجود ہے

جماعت اسے قطعی سنگسار کرے ، خواہ دیسی ہو یا پردیسی جب وہ پاک نام پر کفر بکے تو وہ ضرور جان سے مارا جائے" ۱؎

۱؎ احبار ، ۲۴ : ۱۶ ( بائبل مقدس )

صفحہ ۱۳۶

کا باپ مصری تھا کسی اسرائیلی سے مار پیٹ کی اور دوران لڑائی پاک نام پر کفر بکا ، لوگ اسے پکڑ کر حضرت موسیٰ کے پاس لے گئے جہاں اسے حوالات میں ڈال دیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے اسے سنگسار کرنے کا حکم دیا ۱؎

"جو نبی گستاخ بن کر کوئی ایسی بات میرے نام سے کہے جس کے کہنے کا میں نے اس کو حکم نہیں دیا اور معبودوں کے نام سے کچھ کہے تو نبی قتل کیا جائے ۲؎

کی شان میں گستاخی کی تو اللہ تعالیٰ نے اسے تباہ و برباد کرنے کا ارادہ ظاہر فرمایا ۳؎

سامریہ کی شرارت ظاہر ہوئی ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ وہ رجوع ہوتے ہیں پر حق تعالیٰ کی طرف نہیں ، وہ دغا دینے والی کمان کی مانند

۱؎ احبار ۲۴ : ۱۰ - ۱۵

۲؎ استثناء ۱۸ : ۲۰

۳؎ یسعیاہ ۱۰ : ۱۲ - ۱۹

صفحہ ۱۳۷

ہیں ان کے امراء اپنی زبان کی گستاخی کے سبب تہہ تیغ ہوں گے ۱؎

میں غیر قوم کو سخت عذاب کی وعید ہے اس لئے کہ انہوں نے بڑی گستاخی کی ہے۔ ۲؎

ان کو ذلیل و رسوا کیا ۔ ۳؎

غرض سے ان کے شہر کا محاصرہ کیا اور خدا اور اس کے مقرب بندوں کی شان میں گستاخی کی تو اس کا غضب اس پر اور اس کے لشکر پر بھڑکا جس کا ذکر بائیبل میں اس طرح ہے :

’’ اس کے نوکروں نے (شاہ اسور سنحیرب کے لشکر نے) خداوند اور اس کے بندے حزقیاہ کے خلاف بہت سی اور باتیں کیں اور اس نے خداوند خدا اسرائیل کے خدا کی اہانت کرنے اور

۱؎ ہوسیع ۷ : ۱ - ۱۶

۲؎ یوایل ۲ : ۲۰

۳؎ یرمیاہ ۴۸ : ۲۹

صفحہ ۱۳۸

اس کے حق میں کفر بکنے کے لیئے اس مضمون کے خط بھی لکھے کہ جیسے اور ملکوں کی قوموں کے معبودوں نے اپنے لوگوں کو میرے ھاتھ سے نہیں بچایا ہے ویسے ہی حزقیاہ کا معبود بھی اپنے لوگوں کو میرے ھاتھ سے نہیں بچا سکے گا “ لہٰذا خدا نے اس گستاخ شاہِ اسور کے سرداروں اور اس کے بیٹوں کو مار ڈالا ۔ ۱؎

(۹) خدا تعالیٰ واضح طور پر اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ اس کی تکریم و تعظیم کی جائے ۔

” رب الافواج تم کو فرماتا ہے اے میرے نام کی تحقیر کرنے والے کاھنو ، بیٹا اپنے باپ کی اور نوکر اپنے آقا کی تعظیم کرتا ہے پس اگر میں باپ ہوں تو میری عزت کہاں ہے“ ۲؎

(۱۰) ” اگر کوئی شخص گستاخی سے پیش آئے کہ اس کاھن کی بات جو خداوند تیرے خدا کے حضور خدمت کے لیئے کھڑا رہتا ہے یا اس قاضی کا کہا نہ سنے تو وہ شخص مار ڈالا جائے اور تو اسرائیل

۱؎ ۲ - تواریخ ۳۲ : ۹ - ۲۳ ، یسعیاہ ۳۷ : ۲۳ ۲؎ ملاکی ۱ : ۶

صفحہ ۱۳۹

میں سے ایسی برائی کو دور کر دینا اور سب لوگ سن کر ڈر جائیں گے اور پھر گستاخی سے پیش نہیں آئیں گے ۔“ ۱؎

اب اگر حاکم و قاضی و کاہن کی شان میں گستاخی کی سزا موت ہے، تو نبی جو کہ لاکھوں قاضیوں اور کاہنوں سے افضل ہوتا ہے، کی شان میں گستاخی کرنے والا کیوں کر بچ سکتا ہے ۔

پھر بعض اوقات انبیاء بھی کاہن اور قاضیوں کا کام کرتے تھے ۲؎ ہارون ؑ اور ان کے خاندان سے ہی کاہنوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا ۳؎ حضرت ہارون ؑ نبی بھی تھے ۴؎ یرمیاہ نبی بھی کاہنوں سے تھے ۵؎ حزقی ایل نبی بھی کاہنوں کے خاندان سے تھے ۶؎ مسیح نبی کاہن اور بادشاہ تینوں عہدوں پر فائز تھے ۷؎ اور

۱؎ استثناء ۱۷ : ۱۲ ، ۱۳ ۲؎ قاموس الکتاب ، ۷۷۰ ۳؎ خروج ابواب ، ۲۸ - ۲۹ ۴؎ خروج ۷ : ۱ ۵؎ یرمیاہ ۱ : ۱ ۶؎ حزقی ایل ۱ : ۳ ۷؎ قاموس الکتاب ، ۷۷۰

صفحہ ۱۷۰

پھر نبی اور کاہن کا عہدہ ایک ہی شخص کو مل سکتا تھا لہٰذا یہ شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ کاہن کی گستاخی کی سزا ہی موت ہے نبی کی نہیں ۔ جب ایک کم عہدے والے کی گستاخی کی سزا موت ہے تو بڑے عہدیدار و منصب کے حامل شخص (نبی) کی گستاخی کی سزا تو از خود موت ہی ٹھہرتی ہے ۔

(جو کہ بادشاہ وقت اور نبی بھی تھے) کے متعلق یہ گستاخانہ الفاظ استعمال کئے ” داؤدؑ کون ہے اور یسی کا بیٹا کون ہے“ ؟ اس کی خبر داؤدؑ کو ہوئی تو ان کی زبان نبوت سے شاتم کے لیئے قتل کے احکامات یوں صادر ہوئے ” تب داؤدؑ نے اپنے لوگوں سے کہا اپنی تلوار باندھ لو سو ہر ایک نے اپنی تلوار باندھی اور داؤد نے اپنی تلوار حمائل کی ، سو قریباً چار سو جوان داؤد کے پیچھے چلے “ ؎۱

کسی طرح اس گستاخ رسول کی بیوی کو خبر ہو گئی کہ اس کا شوہر گستاخ رسول ثابت ہوا ہے اور حضرت داؤدؑ اس کو قتل کرنے کے لیئے خود تشریف لا رہے ہیں تو اس عورت نے بہت ہی منت سماجت کر کے حضرت داؤدؑ کو نابال کے قتل سے روکا ، لیکن خدا کو اپنے رسول کی گستاخی گوارا نہیں تھی اس نے نابال کو دس

؎۱ ۔ ۱۔ سموئیل ۲۵ : ۲ - ۱۳

صفحہ ۱۴۱

دن کے اندر اندر مار دیا۔ ۱؂

"جو قوم یا امت یا اہل لغت سدرک اور لیسک اور عبد نجو کے خدا کے حق کوئی نامناسب بات کہیں ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں۔ ۲؂

۱۳۔ خدا کے کلام کی بے حرمتی کی سزا

پوری بنی اسرائیل کے پاس تورات کا صرف ایک ہی نسخہ تھا تورات ہر سات سال بعد عوام کو صرف ایک بار عید خیام کے روز پڑھ کر سنائی جاتی تھی ۳؂ اس کے علاوہ تورات کا یہ واحد نسخہ ہمیشہ لکڑی کے ایک صندوق میں رکھا رہتا تھا، اس صندوق کو عہد کا صندوق کہا جاتا تھا ۴؂ کوئی شخص اگر بھول کر بھی اس صندوق کو ہاتھ لگاتا تو اسے صندوق کی شان میں گستاخی

۱؂ ۱۔ سموئیل ۲۵ : ۱۳۔۳۸

۲؂ دانی ایل ۳ : ۲۹

۳؂ استثناء ۳۱ : ۹۔۱۱

۴؂ خروج ۲۵ : ۱۰۔۲۲

صفحہ ۱۷۲

سمجھ کر ھاتھ لگانے والے کو قتل کر دیا جاتا تھا ۔ ایک دفعہ صندوق میں محض جھانک لینے کی گستاخی پر بیت شمس کے پچاس ھزار آدمیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔

ایک دفعہ مذکورہ بالا صندوق کو بیل گاڑی پر لاد کر لے جایا جا رھا تھا بیل گاڑی کو عُزَّہ ھانک رھا تھا کہ اچانک بیلوں نے ٹھوکر کھائی تو غیر ارادی طور پر عُزَّہ کا ھاتھ صندوق کو لگ گیا اسے عُزَّہ کی طرف سے صندوق کی شان میں گستاخی قرار دے کر مار دیا گیا ۔ ۱؎

(ب) " جو کلام کی تحقیر کرتا ہے اپنے آپ پر ہلاکت لاتا ہے" ۲؎ یہودیت و مسیحیت میں یہ زیادہ تر خدا کے الفاظ و کلام کے لیئے استعمال ہوتا ہے ۳؎ اسے انجیل کے لیئے بھی استعمال کیا جاتا ہے ۴؎ اور یوحنا کی انجیل کا دیباچہ مسیح اور کلام کو تطابق دے کر ایک ہی قرار دیتا ہے ۵؎

۱؎ ۲۔ سموئیل ۶ : ۶-۸

۲؎ امثال ۱۳ : ۱۳

۳؎ اشعیاہ ۲ : ۳ ، ۴۰ : ۸ ، یرمیاہ ۲ : ۴

۴؎ ۱۔ کرنتھیوں ۱۴ : ۳۶ ؛ ۲۔ کرنتھیوں ۲ : ۱۷

۵؎ یوحنا ۱ : ۱

صفحہ ۱۴۳

لہٰذا اس فقرہ سے ھم یہ مراد بھی لے سکتے ہیں کہ جو شخص ان مقدس کتب و انبیاء کی توھین و تحقیر کرتا ہے وہ اپنے اوپر ھلاکت کی دعوت دیتا ہے ۔

مسیحی لٹریچر میں بھی کم و بیش وہی الفاظ خدا اور اس کے شعائر کی توھین کی ممانعت و سزا کے لئے استعمال ہوتے ہیں جو کہ یہودی لٹریچر میں استعمال ہوئے ھیں اور اسی طرح سزا بھی وہی ہے جو کہ یہودیت میں ہے :

”میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ بنی آدم کے سب گناہ اور جتنا کفر وہ بکتے ہیں معاف کیا جائے گا لیکن جو کوئی روح القدس کے حق میں کفر بکے وہ ابد تک معافی نہ پائے بلکہ ابدی گناہ کا قصور وار ہے“ ۱؎

”جو باپ یا ماں کو برا کہے وہ ضرور جان سے مارا جائے“ ۲؎

اب ظاہر ھے کہ کسی مسلمان یا مسیحی کا ایمان ہرگز قبول نہیں جب کہ وہ اپنے نبی کو اپنے والدین سے زیادہ عزیز نہ رکھے ، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے بھی فرمایا ہے : ”جو کوئی باپ یا ماں کو مجھ سے عزیز رکھتا ہے وہ میرے لائق نہیں“ ۳؎

۱؎ مرقس ۳ : ۲۸ ، ۲۹ ۲؎ متی ۱۰ : ۳۷ ؛ لوقا ۱۴ : ۲۶ ، ۳۳ ۳؎

صفحہ ۱۷۴

دیگر مسیحی تبلیغ دین کے لیے مختلف علاقوں میں گئے انہی میں ایک مخلص مسیحی مبلغ ستفنس (Stephen) بھی تھے اس تبلیغ کی پاداش میں ان پر یہ الزام لگایا گیا کہ انہوں نے موسیٰ اور خدا کے برخلاف کفر کی باتیں کی ہیں انہیں سردار کاہن کی صدر عدالت میں لے جایا گیا وہاں انہوں نے اپنے پیغام اور نظریے کی وضاحت کی اور بتایا کہ انہوں نے قطعی طور پر نبی اور خدا پر کفر نہیں بکا ۔

اس پر سردار کاہن نے پوری تسلی کے بعد انہیں سزائے موت کے مقدمے سے بری کیا ۱؎

اسی طرح جب پولس کو (جو کہ حضرت مسیح کے اس دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد مسیحی ہوا تھا اور بڑی جانفشانی سے مسیحیت کی تبلیغ میں مشغول ھوا ، نیز مسیحیت قبول کرنے سے قبل وہ یہودی تھا اور معاشرے میں اعلیٰ مذہبی مقام رکھتا تھا) گرفتار کر کے اگرپا بادشاہ کے سامنے پیش کیا گیا ۔ تو اس نے اس بات کا اقرار کیا کہ جب وہ مسیحی نہیں تھا تو اس نے مسیحیوں کو سزائے موت دلوانے کے لیے متعدد بار ان پر یہ

۱؎ اعمال ۶ : ۵ — ۱۵

صفحہ ۱۴۵

الزام دھرا کہ یہ لوگ انبیاء ، رسل ، شریعت اور خدا کی توہین کرتے ہیں اور انہیں یہ سزا دلوانے کے لئے اس نے اپنی مذہبی حیثیت و مقام کا ناجائز استعمال بھی کیا ۔ لہ

بہر حال مسیحیت کے ان بنیادی مآخذ سے یہ بخوبی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ الصلاۃ والسلام کی اس دنیا میں موجودگی وقت اور ان کے جانے کے بعد بھی یہودی اور مسیحی ملے جلے معاشرہ میں انبیاء اور خدا کی توہین کی سزا موت ہی تھی ۔ نیز حضرت مسیح علیہ السلام نے تورات کے احکامات کی تصدیق کر کے اس حکم کو بھی برقرار رکھا تھا ۔ بلکہ مزید تاکید بھی فرمائی تھی جیسا کہ اوپر آپ کا قول گزر چکا ہے ۔

لہ اعمال ۲۶ : ۱۱ - الخ

صفحہ ١٤٦

تیسری فصل

غیرسامی مذاہب میں شعائر مذہب کی توہین کی سزا

یہودیت ، مسیحیت یا اسلام کی طرح غیر سامی مذاہب ھندو دھرم ، بدھ دھرم یا کسی اور مذہب میں کوئی ایسا قطعی اور واضح حکم تو نظر نہیں آتا کہ ان کے بانی مذہب یا دیگر مقدس ھستیوں کی توھین پر سزائے موت دی جائے مگر یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ یہ سب مذاہب بھی شعائر مذہب اور مقدس ھستیوں کی تعظیم کا حکم دیتے ہیں ۔ اور کسی نہ کسی حد تک ایسے احکامات کا ضرور پتہ ملتا ہے کہ اگر کوئی شخص شعائر مذہب کی توھین کرے تو اسے سختی سے نمٹا جائے ۔

البتہ ان مذاہب کی معاشرتی اور مذہبی روایات نیز تاریخ سے ضرور یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان مذاہب کے ماننے والوں نے یہ از خود طے کر رکھا ہے کہ اگر کوئی ان کے مذہب یا شعائر مذہب کی توھین کرے تو اس کو موت کے گھاٹ اتار دیا جائے ۔

”جو شخص وید اور عابد لوگوں کی وید کے مطابق بنائی ہوئی کتابوں کی بے عزتی کرتا ہے، اس وید کی برائی کرنے والے منکر کو ذات

صفحہ ۱۷۷

جماعت اور مسلک سے نکال دینا چاہئے " ؎۱

" دیوتا ، برہمن ، گرو اور پنڈت کی تعظیم و تکریم ، خاطر تواضع کی جائے خود برھمچریہ کے اصولوں کا برتاؤ کر کے دلآزاری سے متنفر رھو " ؎۲

کرے " ؎۳

" کوئی برہمن پر حملہ نہ کرے ، جو برہمن کو مارتا ہے اس پر تف ہے " ؎۴

ھندو ھر سال دوسہرہ کا تہوار مناتے ہیں جو کہ ان کا سب سے بڑا تہوار ہوتا ہے ، یہ تہوار ھندو اپنی سب سے بڑی مقدس ہستی رام جی

؎۱ منو ، ۲ : ۱۲ ؛ ستیارتھ پرکاش ، ۱۰۰

؎۲ گیتا ، ۱۷ : ۱۴

؎۳ ایضاً : ۱۵

؎۴ دھم پد ۲۶۰ : ۳۸۸

صفحہ ۱۴۸

ــــــ کی بیوی کی بازیابی اور حق کی باطل پر فتح کی خوشی و یاد میں مناتے ھیں سیتا کو لنکا کا حکمران راون اٹھا کے لے گیا اور اس کی عصمت دری کی ناپاک کوشش کی تھی ، بعد میں رام جی نے اپنے بہادر بھائی لکشمن ، ساتھی ھنومان اور بانرسینا (بندروں کی فوج) کی مدد سے راون کو شکست دے کر اس توھین و تحقیر پر قتل کیا تھا ۔

اس کے بعد سے اب تک ھر شہر و قریہ میں ھندو اس کہانی کو دھراتے ہیں اور گستاخ راون کے بڑے بڑے مجسمے بنا کر ان کو آگ لگاتے ھیں اس طرح وہ ھر سال اپنی مقدس ھستیوں کی توھین کرنے والے گستاخ کو جلا کر سزائے موت دینے کا اعادہ کرتے ہیں ۔

توہین مذہب پر سکھوں کا پرتشدّد رویہ

۱۸۸۲ء میں جب آریہ سماج کے بانی سوامی دیانند سرسوتی نے اپنی مشہور کتاب "ستیارتھ پرکاش" لکھی تو دیگر مذاہب پر سخت تنقید و اعتراضات کے علاوہ اس کتاب کے گیارہویں باب میں "نانک پنتھ" کے عنوان کے تحت سکھ مت اور بابا گرو نانک پر سخت تنقید کی اور ان کے متعلق لکھا کہ نانک جی کا مدعا تو اچھا تھا لیکن علمیت کچھ بھی نہ تھی ۔ ۱؎ ۔ اسی طرح انہیں

۱؎ ستیارتھ پرکاش ، ۴۹۹

صفحہ ۱۴۹

شہرت کا بھوکا قرار دیا ۔ ۱؎ نیز ان کے مذہبی شعار گرنتھ کے پاٹھ ، مضامین اور اس کو سجدہ کرنے پر سخت تنقید کی ۔ ۲؎

اس پر سکھ سخت مشتعل ہوئے اور جوابی طور پر اسے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ، نیز اسے قتل کی دھمکیاں دیں ۔

دیانند سرسوتی کو آخری عمر میں زہر دے کر ہلاک کیا گیا تھا ۔ اور آریہ سماجیوں کا دیگر مذاہب کے مختلف لوگوں کے علاوہ سکھوں پر بھی اس قتل کا شک تھا اور عین ممکن ہے کہ کسی سکھ ہی نے اپنے مذہبی شعائر کی توہین پر اسے قتل کرنے کے لئے زہر دے دیا ہو ۔

من گھڑت قصوں کی صورت میں عائد کئے جاتے ہیں کہ

۱۶۰۶ء) کو محض مذہبی تعصب کی بناء پر قتل کروا دیا حالانکہ ان کا کوئی قصور نہیں تھا ۔

۱؎ ستیارتھ پرکاش ، ۴۹۹ ۔ ۵۰۰

۲؎ ایضاً ، ۵۰۰ ۔ ۵۰۱

صفحہ ۱۵۰

کو دلی بلایا اور مسلمان نہ ہونے کے جرم میں چاندنی چوک میں قتل کروا دیا ۔ (ج) صوبہ دار سرہند کے حکم سے دسویں گورو گوبند جی (۱۶۶۶ء - ۱۷۰۸ء) کے دو شیر خوار معصوم بچوں کو اس جرم میں زندہ دیوار میں چنوا دیا گیا کہ انہوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا ؎ ۱

تقسیم ہند کے وقت سکھوں نے باؤنڈری کمیشن کے سامنے جو میمورنڈم پیش کیا تھا اس میں بھی یہی فرضی مظالم اور قصے دھرائے گئے تھے ۔

یہ سب الزامات اور قصے اگرچہ تحقیق سے غلط اور فرضی ثابت ہو چکے ہیں اور خود سکھ اس بات کو کھلے دل سے بارہا تسلیم کر چکے ہیں کہ یہ قصے ۱۸۹۳ء میں مسٹر میکالف نے سیاسی اغراض کے تحت مخصوص انداز سے سکھوں کی تاریخ (جو کہ چھ جلدوں میں ہے) لکھتے وقت انگریز کے Divide and Rule کی پالیسی کو مستحکم کرنے اور بطور خاص مسلمانوں کو شدید نقصان پہنچانے کی غرض سے وضع کیے اور پھر انہیں باقاعدہ مشہور کیا گیا ؎ ۲، مگر پھر بھی ۱۹۴۷ء میں جو کشت و خون ہوا اور اس سلسلہ میں لاکھوں کی تعداد میں مسلمان عورتیں، بچے، بوڑھے اور جوان مارے گئے اس کا بڑا سبب

؎ ۱ سکھ مسلم تاریخ، ۸ - ۱۲ ؎ ۲ قومی ڈائجسٹ، اگست ۱۹۸۴ء، ص ۲۲۲

صفحہ ۱۵۱

یہی الزامات تھے اور اس وقت سکھوں کے سیاسی و مذہبی لیڈروں نے جن میں ماسٹر تارا سنگھ نمایاں تھا ، دربار صاحب ، امرتسر اور پنجاب اسمبلی لاہور کی سیڑھیوں پر کرپان لہرا کر یہ اعلان کیا تھا کہ اپنی مقدس گروؤں کی توہین کا بدلہ لینے کے لئے مسلمانوں کو ختم کر دیا جائے اور اب پنجاب میں صرف ” خالصہ “ کی حکومت ہو گی ۔لے

(۳) تقسیم ھند کے بعد جب ھندوؤں کے امتیازی سلوک کے باعث سکھوں کو ھوش آئی تو انہوں نے اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھائی اور یہ جد و جہد ” تحریک خالصتان “ میں بدلی تو سکھوں کا سب سے بڑا مقدس مقام مقام دربار صاحب امرتسر سکھ حریت پسندوں کی اماجگاہ بن گیا ، لہٰذا مسز اندرا گاندھی نے سکھ حریت پسندوں کو سختی سے کچلنے کیلئے ایک زبردست فوجی ایکشن کروایا جسے ”اپریشن بلیو سٹار“ کا نام دیا گیا اور یہ ایکشن ۴۔ جون ۱۹۸۴ء کو شروع ہوا جس میں بے شمار سکھ زائرین مارے گئے ، مقدس کتب ، اشیاء اور اس مقدس عمارت کی سخت بے حرمتی ہوئی جس پر تمام دنیا میں موجود سکھوں نے شدید ترین الفاظ میں مسز اندرا گاندھی پر اپنے غم و غصے کا اظہار کیا ۔

لے قومی ڈائجسٹ اگست ۱۹۸۴ء ، تحریک پاکستان میں مسلم خواتین کا کردار ، ۹۴

صفحہ ۱۵۲

اس المناک واقعہ اور سخت توہین پر سکھوں کی خفیہ عسکری و مذہبی تنظیموں نے ایک ہٹ لسٹ ( Hit List ) جاری کی جوکہ ان تنظیموں کے اراکین چوری چھپے مختلف شہروں کی دیواروں پر لکھ جاتے تھے اور ہندوستانی و پاکستانی اخبارات میں ان کی تصاویر شائع ہوتی رہیں اس میں سر فہرست بھارتی وزیر اعظم مسز اندرا گاندھی کا نام تھا کہ اسے ” دربار صاحب کی توہین و بے حرمتی “ کے باعث عنقریب قتل کر دیا جائے گا ۔

اس Hit List کے جاری ہونے کے کچھ ہی عرصہ بعد ۳۱۔ اکتوبر ۱۹۸۴ء کو مسز اندرا گاندھی کو ان کی رہائش گاہ واقع صفدر جنگ روڈ ۔ نیو دہلی میں انہی کے دو سکھ محافظوں ستونت سنگھ اور کبیر سنگھ نے گولیوں کی بوچھاڑ کر کے قتل کر دیا ۔

مسز اندرا گاندھی کے قتل کی تحقیقات کرنے کے لیے کمشنز آف انکوائری ایکٹ ۱۹۵۲ء کی دفعہ ۳ کے تحت ۲۰ نومبر ۱۹۸۴ء کو سپریم کورٹ کے جج ایم پی ٹھاکر کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے اپنی رپورٹ ۲۷ فروری ۱۹۸۶ء کو دی اور یہ رپورٹ ۸ ہزار صفحات پر مشتمل ہے اس میں اس بات کو مسز گاندھی کے قتل کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا ہے اور لکھا گیا ہے کہ :

صفحہ ۱۵۳

”مسز گاندھی کے قتل کا اصل اور بنیادی سبب سکھ مسئلہ اور اپریشن بلیو سٹار ہے، سکھوں کی اکثریت اس پر اندرا جی کے خون پیاسی ہو رہی تھی“ ۱؎

اس طرح ان غیر سامی اور الہامی مذاہب کی مذہبی روایت اور تاریخ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان مذاہب کے ماننے والوں نے اپنی مذہبی روایت اور احکام کی روشنی میں یہ طے کر رکھا ہے کہ اگر کوئی ان کے مذہب یا مقدس ہستیوں کی توہین کرے تو اس کو موت کے گھاٹ اتار دیا جائے ۔

اس سلسلہ میں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ بالفرض کسی مذہب میں اس مذہب یا دیگر شعائر مذہب کی توہین و تحقیر کی سزا نہ بھی متعین ہو ، تو بھی یہ ایک فطری امر ہے کہ جب بھی کسی مذہب کے ماننے والوں کے سامنے اس کی مقدس ہستی ، مقدس کتاب یا تعلیمات کی توہین کی جائے تو وہ اشتعال میں آکر مرنے مارنے پر اتر آتا ہے، لہٰذا اس قانون توہین رسالت کو ہم مذاہب عالم کے متفقہ قانون کے ساتھ ساتھ ایک فطری قانون بھی کہہ سکتے ہیں ۔

۱؎ جنگ ، ۲۰ جنوری ۸۹ء ، ۱۱ (میگزین)

صفحہ ۱۵۷

چوتھی فصل

مغربی ممالک اور قانون توہین شعائر مذہب

مغربی ممالک میں یہ قانون ”Blasphemy“ کے نام سے مروج رہا ۔ اور اس سے مراد خدا تعالیٰ، اس کے اختیارات، قدرت، روح القدس، حضرت عیسیٰ مسیحؑ، تثلیث، آخرت، یوم الحساب، تورات و انجیل مقدس، حواریوں اور دینی بزرگوں یا مسیحیت کی تعلیمات و شعائر کی تضحیک و تحقیر ہے۔ ۱؎

یورپ، امریکہ اور دیگر مسیحی ممالک میں حکومت پر لادینی عناصر اور قوانین کے تسلط سے قبل ”توہین شعائر مذہب“ کا قانون صدیوں تک نافذ رہا اور اس قانون کے تحت گستاخوں کو کئی بار سزائے موت دی گئی ۔

رومن سلطنت کے شہنشاہ Justinian کا دور حکومت طلوع اسلام سے چند سال قبل ۵۲۷ء ـــ ۵۶۵ء پر محیط ہے، رومن لاء کی تدوین کا سہرا بھی اسی کے سر ہے اور اس کو عدل و انصاف کا

۱؎ E.A, 4:62 ; E.B (1910) , 4:43 ; E.R.E , 2:669;

B.L.D, 1:369 ; N.C.U, 3: 411

صفحہ ۱۵۵

کا مظہر سمجھا جاتا تھا ، اس نے جب دین مسیحیت قبول کیا تو قانون موسوی کو منسوخ کر کے انبیائے بنی اسرائیل کی بجائے صرف حضرت مسیح کی توہین اور انجیل کی تعلیمات سے انحراف کی سزا سزائے موت مقرر کی گئی ۔ ١؎

روم میں ایک شخص Giordano Bruno کو ١٦٠٠ء میں توہین شعائر مذہب پر زندہ جلانے کی سزا دی گئی ۔ ٢؎

انگلینڈ میں Elizabeth نے چھ یا پانچ اشخاص کو اس بات پر زندہ جلانے کی سزا دی کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ کے خدا ہونے کا انکار کیا تھا ۔ اور یہ کہا تھا کہ نابالغ بچے کو بپتسمہ دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ ٣؎

١٦١٢ء میں بھی ایک شخص کو اسی جرم میں سزائے موت دی گئی ۔ ٤؎

١٦٧٦ء میں Taylor نامی شخص نے ”مذہب کو ایک دھوکا“ قرار دیا اور حضرت عیسیٰ کی شان اقدس میں انتہائی غلیظ الفاظ کہے (جوکہ Ency- clopaedia - کے مقالہ نگار نے تو نقل کئے ہیں مگر یہاں انہیں نقل کرنا مناسب

١؎ E.A, 4: 62

٢؎ E.R, 2: 24 - 41

٣؎ E.R, 2: 241

٤؎ Do

صفحہ ۱۵۶

نہیں) لہٰذا اس سخت توہین پر اسے اس قانون کے مطابق سزا سنائی گئی ۱؎ Edinburgh کے ایک سرجن کا بیس سالہ لڑکا جس کا نام Thomas Aichen head تھا توہین مذہب کا مرتکب ہوا تو اسے بھی اس جرم میں سزائے موت سنائی گئی ۔ ۲؎ تمام رومن کیتھولک ممالک میں اس ناپاک جرم کی سزا موت ہی مقرر تھی ۳؎ ۱۷۴۸ء میں ایک شخص کو اس جرم پر یہ سزا سنائی گئی کہ پہلے توہین مذہب پر اس کی زبان کاٹی گئی پھر اسے سزائے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۴؎ امریکن کالونیوں (جو کہ ابتداء میں برطانیہ ہی کے ماتحت تھیں) میں امریکہ کی ورجینیا ریاست میں ۱۶۱۱ء میں توہین رسالت عیسیٰ کا قانون بنا جس کے تحت نظریہ تثلیث کی مخالفت یا حضرت عیسیٰ کی توہین کی سزا موت مقرر کی گئی دیگر ریاستوں میں بھی اسی طرز پر قانون بنائے گئے ۔ ۵؎

۱؎ E.R, 2:241

۲؎ N.P.E, 2: 203

۳؎ Do

۴؎ Do

۵؎ E.R, 2: 241

صفحہ ۱۵۷

آزادی سے قبل اور آزادی کے بعد ابتدائی سالوں میں جو مجموعہ قوانین بنایا گیا، اس میں اس جرم کی سزا موت ہی مقرر تھی ۱؎ ۱۶۶۱ء اور ۱۶۹۸ء کے قوانین کے تحت Scotland (سکاٹ لینڈ) میں بھی توہین مسیح کی سزا موت تھی۔ ۲؎

فرانس میں مسیحی ایمان ویقین اور مقدس ہستیوں کی توہین پر سزائے موت مقرر تھی اور اس کی مختلف صورتیں رائج تھیں کہ ایسے ملزموں کو زندہ جلایا جاتا ، ان کا مثلہ کیا جاتا انہیں مار مار کر مار دیا جاتا تھا ۔۳؎

اس کے بعد جوں جوں مغربی ممالک میں لادینی عناصر کا حکومت پر غلبہ بڑھتا گیا دیگر قوانین کے ساتھ ساتھ اس قانون کو بھی تبدیل کیا جاتا رہا، پہلے اس جرم کے لئے سزائے موت ختم کر کے عمر قید یا دیگر سخت جسمانی سزائیں مقرر کی گئیں ، اور اس کے بعد ان سزاؤں میں مزید تخفیف کی گئی جیسا کہ ان واقعات وقوانین سے ظاہر ہے : انگلینڈ میں George III نے ۱۶۶۱ء اور ۱۶۹۵ء کے ایکٹ میں

۱؎ N.P.E, 2: 203

۲؎ Do: E.B (1929), 2: 701, E.B, (1875), 3: 807 ; E.B, (1910) 4: 44

۳؎ E.B, (1910) 4: 44

صفحہ ۱۵۸

ترمیم کر کے اس کی سزا سزائے قید اور جرمانہ میں تبدیل کر دی ۔ ۱؎

بعض مواقع پر توہین شعائر مذہب کی سزا قید ، کوڑے مارنا ، شکنجے میں کسے رکھنا یا زبان پر لوہے کو سرخ کر کے لگانے کی صورت میں بھی دی گئی ۔ ۲؎

نیو انگلینڈ کی ریاستوں میں بعد میں یہ قانون طے کیا گیا کہ جو شخص خدا کی ذات قوت تخلیق اور یوم الحساب نیز حضرت یسوع مسیح ، روح القدس ، کلام مقدس یا کسی بھی مسیحی شعار کی توہین کرے اسے پانچ سال کی سزا دی جائے ۔ ۳؎

سکاٹ لینڈ میں بھی توہین مذہب پر سزائے موت کو ختم کر کے ۱۸۲۵ء اور پھر ۱۸۳۷ء کی ایک ترمیم کے تحت اس سزا کو سزائے قید اور جرمانے میں تبدیل کر دیا ۴؎

جرمنی میں اس جرم کی سزا ایک دن کی قید سے تین سال کی قید تک مقرر کی گئی ۵؎

۱؎ N.P.E, 2 : 203

۲؎ Do

۳؎ N.P.E, 2 : 203

۴؎ E.B, 2 : 701

۵؎ E.B (1910) 4 : 44

صفحہ 159

آسٹریلیا میں یہ طے کیا گیا کہ اگر کوئی شخص ایک بار یا ایک سے زیادہ بار توہین شعائر مذہب کا مرتکب ہوتا ہے تو ہر بار اسے علیحدہ علیحدہ چھ ماہ کی قید دی جائے۔ اٹھارہویں صدی کے بعد بھی امریکہ کی مختلف ریاستوں میں توہین مسیح پر چھ چھ درجن مجرموں کو سزائیں ملیں اور ایک مجرم کو تو اس قدر سخت سزا دی گئی کہ پہلے لوہے کی ایک سلاخ سرخ و گرم کرکے اس کی زبان میں سوراخ کیا گیا پھر اسے ایک سال کی قید دی گئی۔ ؎۱

انگلینڈ میں ۱۸۲۱ء - ۱۸۴۲ء میں ۷۳ مجرموں کو اس جرم میں سزا دی گئی، یہ سب حضرات مسیحیت اور حضرت مسیح کی توہین کے مرتکب ہوئے تھے۔ ؎۲

۱۸۱۱ء میں نیویارک میں People V. Ruggles ایک بہت مشہور مقدمہ ثابت ہوا تھا Ruggles نامی شخص نے حضرت عیسیٰؑ پر اور ان کی والدہ محترمہ حضرت مریم پر بہتان لگائے تھے اور ان کے خلاف سخت غلیظ زبان استعمال کی تھی۔ ــــــــــــــــــــــــــــــ اس پر عدالت نے یہ

- ؎۱ E.B (1910), 4: 44

؎۲ E.R, 2: 241

؎۳ E.R, 2: 241

صفحہ ۱۶۰

فیصلہ دیا کہ اس کا یہ جرم قابل گرفت ہے اور صرف حضرت مسیح اور مسیحیت کی توہین ہی امریکی قانون کے مطابق قابل گرفت ہیں دیگر مذاہب کی توہین اس قانون کے زمرے میں نہیں آتی ۔ ۱؎ (اس شخص کو کیا سزا دی گئی یہ حوالہ میں موجود نہیں ہے)

بعدازاں ۱۸۳۸ء میں امریکہ میں کامن ویلتھ بنام نی لینڈ (Knee Land) کے مقدمہ میں عدالت نے یہ فیصلہ سنایا کہ مذہبی امور کو عدالتی اور حکومتی امور سے الگ رکھا جائے ، چنانچہ اس فیصلہ کے بعد عدالتیں نرم رویہ اختیار کرنے لگیں ۱۸۸۳ء میں انگلینڈ کے لارڈ چیف جسٹس نے بھی یہی نظریہ دیا کہ پریس کی آزادی مقدم ہے لہٰذا اس کے بعد توہین مذہب و مسیح کے تمام مقدمات میں عدالت کے پیش نظر یہی نظریہ رہا اور اس نام نہاد پریس کی آزادی کے تصور نے توہین کرنے والوں کو کھلی چھٹی دے دی اب مذہب کے ایک نجی معاملہ ہونے کے ساتھ یہ نظریہ مروّج ہو چکا ہے کہ مسیحیت کے تحفظ کے لیئے یا خدا کی توہین کے لیے قانونی گرفت کی ضرورت ہی نہیں بلکہ خدا خود اب اپنی عزت کا محافظ ہے۔ ۲؎

۱؎ E.R, 2: 242 ۲؎ Do

PDF 161

چوتھا باب

برصغیر پاک و ہند میں

توہین رسالتﷺ ایکٹ

کا

تاریخی پس منظر

صفحہ ۱۶۲

پہلی فصل

تعزیرات ہند میں دفعہ ۲۹۵۔الف کا تاریخی پس منظر

سلطنت مغلیہ کے سقوط کے بعد جب ھندوستان میں برطانوی راج مسلط ہوگیا تو یہاں ۱۸۶۰ء میں گورنر جنرل ھند کی منظوری سے تعزیرات The Indian Penal Code کو نافذ العمل کر دیا گیا، اس سے قبل سارے ملک میں اسلامی قانون کے مطابق فیصلے ہوتے تھے تعزیرات ھند کی تدوین لارڈ میکالے کی سربراہی میں تشکیل شدہ کمیشن نے نپولین کوڈ کو سامنے رکھ کر کی تھی اور اس سلسلہ میں انگریزی قوانین اور خاص طور پر انتظامی مصلحتوں کو پیش نظر رکھا گیا تھا لیکن عجیب بات یہ ہوئی کہ اس میں قانون توھین شعائر مذھب مسیح شامل نہیں کیا گیا حالانکہ یہ ۱۸۶۰ء میں اور آج بھی برطانیہ کے مجموعی قوانین میں شامل ہے البتہ ھندوستان میں حکومت برطانیہ کے خلاف منافرت پھیلانے یا توھین حکومت یا حکومت کے خلاف اشتعال انگیزی کے جرم کی سزا کے لئے ایک دفعہ تعزیرات ھند میں شامل کی گئی جسے جرم بغاوت قرار دے کر اس کی سزا ــــ سزائے عمر قید مقرر کی گئی ، پھر اس کی جگہ ۱۸۹۸ء میں دفعہ

صفحہ ۱۶۳

۱۲۴۔الف کو معمولی ترمیم کے ساتھ تعزیرات میں شامل کیا گیا مگر سزا اور نوعیت جرم وہی برقرار رہی ۔

اسی سال ۱۸۹۸ء میں دفعہ ۱۲۴۔الف کے ساتھ ہی ایک مزید دفعہ ۱۵۳۔الف کا بھی اضافہ کیا گیا تاکہ فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کی وجہ سے ملک میں جو فتنہ اور فسادات پیدا ہوں ان کا سد باب کیا جا سکے اور حکومت ان خطرات سے محفوظ رہ سکے ۔ دفعہ ۱۵۳۔الف کا متن حسب ذیل ہے ۔

" Whoever by words, either spoken or written, or by signs, or by visible representations, or otherwise, promotes or attempts to promote feelings of enmity or harted between different classes of Her Majesty's subjects shall be punished with imprisonment which may extend to two years, or with fine or with both" 1

1 The Law of Crime, 315

صفحہ ۱۶۷

(جو کوئی الفاظ سے بذریعہ تقریر یا تحریر یا اشاروں سے یا کسی اور طریقہ سے ہندوستان میں ہر میجسٹی کی رعایا کی مختلف جماعتوں میں دشمنی یا منافرت کے جذبات ابھارے یا انہیں بھڑکانے کی کوشش کرے اسے دو سال قید تک سزا یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جاسکتی ہیں ۔)

اس کی توضیح میں یہ بھی لکھا گیا کہ ایسا کوئی فعل جو بدنیتی کے بغیر نیک نیتی کے ساتھ ان امور کی نشاندہی کرے ، جو رعایا کی مختلف جماعتوں کے درمیان دشمنی یا منافرت کے جذبات یا رجحانات پیدا کرنے کا باعث ہوں ختم کرنے کے لیے کیا گیا ہو ، مذکورہ بالا جرم کی تعریف میں نہیں آئے گا ۔ ۱؎

اس کی تشریحات میں اس دفعہ کا مقصد یہ بتایا گیا کہ رعایا کے درمیان امن و امان کی فضا قائم رہے ۔ ۲؎

آریہ سماجیوں کے ناموس رسالت مآب پر ناپاک حملے

برصغیر پاک و ہند میں خلافت اور عدم تعاون کی تحریکوں سے ہندو مسلم اتحاد کی جو فضا قائم ہوئی تھی ، سوامی شردھانند کی برپا کردہ ”تحریک

۱؎ The Law of Crime , 315

۲؎ Do

صفحہ ۱۶۵

شدھی“ نے اسے غارت کر دیا، اتحاد اور امن و شانتی کی جگہ ملک بھر میں فرقہ وارانہ فسادات شروع ہو گئے آریہ سماج اور ھندو مہا سبھا کی زیر نگرانی ھندو نوجوانوں کی ایک نیم فوجی تنظیم قائم کی گئی جس کا نام ”مہابیر دل“ تھا جو بعد میں ”راشٹریہ سیوک سنگھ“ کی صورت اختیار کر گئی اس جماعت کے سپرد یہ کام تھا کہ وہ فسادات کے دنوں میں نہ صرف ھندو آبادی کی حفاظت کرے بلکہ مسلمانوں کے محلوں پر منظم حملے کرے اسی طرح ایک ایسا شعبہ قائم کیا گیا جس کے ذمے یہ کام تھا کہ وہ اسلام، قرآن اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس واطہر کے متعلق ایسی کتابیں شائع کرے جو کہ انتہائی دلآزار اور توہین آمیز ہوں اس طرح سوامی دیانند نے ”ستیارتھ پرکاش“ لکھ کر اس تحریک شماتت کا برصغیر میں آغاز کر دیا اس کتاب میں ”چودھواں باب“ اسلام کی مخالفت اور توہین پر مبنی ہے ۔

ھندو مہا سبھا اور آریہ سماجی غنڈوں کی اس ناپاک تحریک و روش کے باعث برصغیر میں جگہ جگہ ناخوشگوار واقعات وقوع پذیر ہوئے ۔ ۱۹۲۳ء میں ایک کتاب شائع ہوئی جو کہ نہایت گستاخانہ عبارتوں پر مشتمل تھی ۱؎

۱؎ نگینہ، غازی علم الدین شہید، ۳۷

صفحہ ١٦٦

بمبئی کے ماہوار رسالہ ”گجرات“ کے ایڈیٹر کنہیا لعل منشی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی زیادہ شادیوں پر انتہائی بازاری طریقے سے اعتراضات کئے ١؎

سوامی شردھانند کے ایک چیلے نے اس کے ایماء پر ایک کتاب ”چڑپٹ“ لکھی جس میں اس نے انبیاء کرام اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق نہایت عریاں انداز میں سخت گستاخیاں کیں ٢؎

قاضی عبد الرشید جو کہ دھلی کے ایک اخبار ”ریاست“ میں کام کرتے تھے انہوں نے ۲۳ دسمبر ۱۹۲۶ء کو سوامی شردھانند کو پستول کے چھ فائر کر کے ھلاک کر دیا ، قاضی صاحب کے دفتر کے ساتھی سردار علی صابری کہتے ھیں کہ مذکورہ کتاب ھمارے دفتر میں برائے تبصرہ و جواب آئی تھی اور قاضی صاحب نے بھی اس کو پڑھا تھا اور یہی کتاب اس قتل کا محرک بنی ٣؎

پکا قلعہ حیدر آباد (سندھ) میں ھندو جن سنگھیوں کا بڑا اجتماع

١؎ نگینہ ، غازی علم الدین شہید ، ۳۷ ٢؎ صوت الاسلام ، حیدرآباد ، دسمبر ۶۸ء ، ۲۷ ٣؎ ایضاً ، ۲۸

صفحہ ۱۶۷

ہوا اور اس میں آٹھ دس ہزار ہندو شریک تھے، اس میلے کے ایک گرو نینوں مہاراج نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں نہایت گستاخانہ تقریر کی تو پچیس نوجوانوں نے اس اجتماع پر حملہ کر دیا اور ایک نوجوان عبدالخالق نے نینوں مہاراج کو قتل کر دیا۔ ۱؂

پنڈت لیکھ رام نے ”کلیات آریہ مسافر“ لکھی اور یہ آریہ سماجی بھی دن رات مسلمانوں کے خلاف دل آزار تقریریں کرتا رہتا تھا، اسے بھی کسی مسلمان نے قتل کر دیا۔ ۲؂

بمبئی کے اخبار ”ورنیکلر“ نے نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر شائع کی جس کے باعث کسی مسلمان نے اس کے ایڈیٹر کو قتل کر دیا۔ ۳؂

بمبئی ہی میں ویربھان نامی آریہ سماجی نے گستاخانہ تقاریر اور دل آزار تحریروں کا سلسلہ شروع کر دیا، ایک دن اس نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں علی الاعلان گستاخانہ کلمات کہے تو شام کو ہی کسی مسلمان نے اسے جہنم رسید کر دیا۔ ۴؂

۱؂ نعت، لاہور، اپریل ۱۹۹۱ء، ۹۲-۹۳

۲؂ ایضاً، ۹۳

۳؂ ایضاً

۴؂ ایضاً، ۹۴

صفحہ ١٦٨

غازی محمد منیر شہید موضع موگہ ضلع فیروز پور ویٹرنری ھسپتال میں چپڑاسی تھے ، یہاں کے ایک آریہ سماجی نے اپنی اس ناپاک تحریک کے تحت موگہ میں شرانگیزی پھیلانی شروع کی اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات مبارک پر کیچڑ اچھالنا شروع کیا تو آپ نے اس کو ختم کر دیا ١؎

بھلوال کی ایک انگریز ھیڈ مسٹریس نے قرآنی اوراق قصداً ھندو بھنگن سے کوڑے میں ڈلوا دیئے غازی محمد حنیف (جو کہ ایک قصاب تھے) نے اسے اس کام سے روکا ، مگر اس نے الٹا اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں توھین و تحقیر کی ، اس پر غازی محمد حنیف نے اسے موقع پر ہی قتل کر دیا ۔ ٢؎

منڈی بہاؤ الدین کے نزدیک گاؤں "آھلہ" میں ایک سکھ جو کہ آریہ سماجیوں میں بیٹھا کرتا تھا نے توھین رسالت کی تو نو عمر محمد اعظم نے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا ۔ غازی محمد اعظم ابھی بقید حیات ہیں ٣؎

پنڈی بھٹیاں کے علاقہ ذخیرہ بیرا نوالہ (سرگودھا روڈ) سے ملحقہ

١؎ صدف ، لاہور، جنوری ١٩٨٢ء ، ٣٩

٢؎ نعت ، لاہور ، اپریل ١٩٩١ء ، ٩٠

٣؎ ایضاً ، ٩٢

صفحہ ۱۶۹

بستی چک کوکارہ میں بھی ھندوؤں کی سازش سے گستاخئ اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا واقعہ پیش آیا ۱؎

ایک زبان دراز ھندو پالا مل چبن نے شماتتِ رسول کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا ، اس کو حافظ محمد صدیق نے قتل کر دیا ۔ ۲؎

بھولا ناتھ سین نے بنگالی زبان میں ایک کتاب " پراچین کہانی " کلکتہ سے شائع کی جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرضی فوٹو اور نہائت گستاخانہ عبارتیں شامل تھیں ، اس گستاخ رسول کو غازی عبداللہ اور امیر احمد نے قتل کیا ۔ ۳؎

راج پال کی کتاب پر ہنگامے اور عدالتی کاروائی

اس دور کی دلآزار تحریروں میں ایک کتاب " رنگیلا رسول " کی اشاعت پر سب سے زیادہ زیادہ اور ملک گیر ھنگامے ہوئے ، یہ کتاب ایک آریہ سماجی ناشر راج پال نے لاہور سے شائع کی تھی ، اس کتاب میں نبی کریم

۱؎ نعت ، لاہور ، اپریل ۱۹۹۱ء ، ۹۲ ۲؎ ایضاً ، ۶۲ - ۶۳ ۳؎ ایضاً ، ۷۹

صفحہ ۱۷۰

صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے بعض پہلوؤں اور دین اسلام پر سوقیانہ حملے کئے گئے تھے کتاب پر مصنف کا نام درج نہ تھا ۱؎ ناشر نے اپنا نام و پتہ درج کر کے پریس ایکٹ کا پیٹ بھر دیا تھا ۔

مسلمانوں کے احتجاج پر صوبائی حکومت کی پریس برانچ نے کوئی اقدام نہ کیا، زیادہ احتجاج شروع ہوا تو صوبائی حکومت نے تعزیرات ھند کی دفعہ ۱۵۳۔الف کے تحت دو فرقوں کے درمیان مذہبی منافرت پھیلانے کے الزام میں ناشر راج پال کے خلاف کاروائی کی، لاہور کے سٹی مجسٹریٹ نیلبوس کی عدالت میں مقدمہ کی خاصی طویل سماعت کے بعد ملزم کو چھ ماہ قید کی سزا ہوئی، سیشن کورٹ میں بھی ملزم کو مجرم گردانا گیا، البتہ اس کی سزا میں تخفیف کر دی گئی، تقریباً تین سال تک جاری رہنے والی اس کارروائی کے بعد ۱۹۲۷ء میں راج پال کی طرف سے نظر ثانی کی درخواست ہائی کورٹ میں پیش کی گئی، اس درخواست کی سماعت کنور دلیپ سنگھ

۱؎ اس کتاب کے مصنف کے بارے میں دو نام لئے جاتے ہیں : ایک نام ڈی ۔ اے ۔ وی کالج، لاہور کے ھندو پروفیسر چموپتی کا ہے اور دوسرا نام ”پرتاپ“ (لاہور) کے مدیر مہاشہ کرشن کا، جن کے راج پال کے ساتھ دوستانہ اور کاروباری تعلقات تھے، غالب خیال پروفیسر چموپتی کے متعلق ہے۔ غازی علم الدین شہید ۲۲

صفحہ ۱۷۱

جج نے کی، (یہ جج پیدائشی طور پر عیسائی تھا) اس جج نے ۵/ مئی ۱۹۲۷ء کو یہ فیصلہ سنایا کہ یہ کتاب دفعہ ۱۵۳ - الف یا کسی اور دفعہ کی زد میں نہیں آتی، اس نے لکھا :

"کتاب کی عبارتیں کیسی ہی ناخوشگوار ہوں بہر حال کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کر رہیں" ۱؎

اس لئے اس نے ملزم مذکور کو بری کر دیا ۔

راج پال نے ہائی کورٹ سے بری ہونے کے بعد یہ اعلان کیا کہ وہ آئندہ اس کتاب کو شائع نہیں کرے گا لیکن اس دوران یہ کتاب بنارس سے دوبارہ شائع ہوئی اور حقیقت میں اب بھی اس کی اشاعت میں پس پردہ کردار راج پال نے ادا کیا تھا ۔

راج پال کا قتل

انہی دنوں انجمن خدام الدین ، شیرانوالہ دروازہ ، لاہور نے راج پال کے قتل کا فتویٰ دے دیا ۔۲؎

۱؎ A.I.R, 250

۲؎ نگینہ ، ۴۲

صفحہ ۱۷۲

اس پر راج پال پر سب سے پہلے ۲۴ ستمبر ۱۹۲۷ء کو خدا بخش اکّو جہان نے حملہ کیا لیکن وہ بچ گیا مگر خدا بخش کو سات سال قید سخت دی گئی ۹؍ اکتوبر ۱۹۲۷ء کی شام کو غازی عبدالعزیز نے بھی اس پر حملہ کیا مگر یہ پھر بچ گیا اور غازی عبدالعزیز کو بھی سات سال قید سخت سنائی گئی ۔

۶؍ اپریل ۱۹۲۹ء کو غازی علم الدین شہیدؒ نے بالآخر راج پال کو اس کی دکان ، واقع ہسپتال روڈ ، متصل انارکلی ، لاہور چھری کے متعدد وار کر کے جہنم رسید کر دیا ۔ ۱؎

دو سال بعد راج پال اپنے منطقی انجام کو تو پہنچ گیا مگر اس سے قبل جج کنور دلیپ سنگھ کے اس فیصلے نے مسلمانوں کو حیرت زدہ کر دیا کہ کیا واقعی تعزیرات ہند میں کوئی ایسی دفعہ نہ تھی جس کے تحت کروڑوں افراد کی دل آزاری کرنے والوں کو سزا دی جا سکتی ۔ مسلمانان پنجاب اور بالخصوص اہل لاہور سراپا احتجاج بن گئے ، متعدد جلسے ہوئے ، جلوس نکالے گئے ، مذمت کی گئی ۔

مسلم اخبارات نے دلیپ سنگھ کے فیصلے پر سخت تنقید کی ، لاہور سے

۱؎ نگینہ ، ۴۲ ، ۴۳ - ۴۴ ، ۱۷۲ ؛ مقدس رسول ، ۱

صفحہ ۱۷۳

مسلمانوں کا ایک ہی انگریزی اخبار "مسلم آؤٹ لک" چھپتا تھا، اس نے اپنے اداریوں میں کھل کر لکھا کہ جج نے قانون کی غلط تشریح کی ہے اس پر اخبار کے پرنٹر ، پبلشر مولوی نورالحق اور ان کے ایک عزیز دلاور شاہ بخاری پر توہین عدالت کا مقدمہ دائر ہوا اور دونوں حضرات کو دو دو ماہ قید اور ایک ایک ہزار روپیہ جرمانے کی سزا ہوئی۔

عوامی سطح پر اس ردعمل کے پہلو بہ پہلو لاہور کے بااثر مسلمانوں کا ایک وفد سر محمد شفیع کی قیادت میں گورنر میلکم ہیلی سے ملا اور اسے بگڑتی ہوئی صورت حال سے آگاہ کیا گورنر نے وفد کی گزارشات سن کر وعدہ کیا کہ وہ مزید چھان بین کریں گے اور اگر واقعی قانون میں کوئی سقم معلوم ہوا تو اسے دور کرانے کی کوشش کریں گے ۔ لاہور کے آریہ سماجی رہنماؤں کو گورنر کی یہ زبانی ہمدردی پسند نہ آئی انہوں نے گورنر کے رویے کے خلاف وائسرائے ہند کو اس مضمون کا احتجاجی تار بھیجا کہ مسلمانوں کے ایک وفد نے گورنر کے سامنے عدالت عالیہ کے فیصلے پر نکتہ چینی کی اور گورنر نے اس وفد کے نقطہ نظر سے ہمدردی ظاہر کی ہے ۱؎

"مسلم آؤٹ لک" نے مسلمانوں کو نعرہ دیا تھا " دلیپ سنگھ مستعفی ہو

۱؎ غازی علم الدین شہید ، ۳۰

صفحہ ۱۷۷

جاؤ“ اور یہ نعرہ زبان زد عام و خاص تھا، توہین عدالت کے جرم میں مسلمان زنداں کے ویرانے آباد کر رہے تھے اور جوش بڑھتا جا رہا تھا ۔

رئیس الاحرار مولانا محمد علی جوہر جو بقول سید سلیمان ندویؒ ”سچے مسلمان غمخوار تھے ان کے دل میں اسلام کا حقیقی سوز تھا اور رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سچا عشق تھا ۔“ ۱؎ انہوں نے ۲۷ جون ۱۹۲۷ء کے ”ہمدرد“ دھلی میں کنور دلیپ سنگھ کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا :

” جو فیصلہ کنور دلیپ سنگھ نے لکھا ہے اور جسے میں نے بار بار پڑھا ...... اس میں مجھے ایسی کوئی چیز نظر نہیں آئی جس سے ان کا تعصب مذہبی ظاہر ہوتا یا ان کی بد دیانتی مترشح ہوتی“ ۲؎

مولانا جوہر کا تجزیہ یہ تھا کہ

”قاضی کے متعلق کوئی بات بھی ایسی مجھے معلوم نہیں جس بناء پر میں اس پر استعفیٰ طلب کروں بلکہ اس کا فیصلہ پڑھنے کے بعد اور تعزیرات ھند کے باب ہشتم دربارہ جرائم خلاف امن عامہ کی دفعہ ۱۵۳۔ الف اور باب پانزدھم دربارہ جرائم

۱؎ یاد رفتگاں ، ۲۱۰ ۲؎ افادات محمد علی ، ۱۶۰

صفحہ ۱۷۵

متعلق مذہب کی تمام دفعات ۲۹۵ ، ۲۹۶ ، ۲۹۷ اور ۲۹۸ کا بار بار اور بغور مطالعہ کرنے کے بعد مجھے خود بہت سخت شبہ ہوتا ہے کہ قصور قاضی کا نہیں بلکہ قانون کا ہے “ ؂ ۱

مزید لکھتے ہیں :

” میں صاف لکھنا چاہتا ہوں کہ غالباً وہ (کنور دلیپ سنگھ) پہلے جج ہیں جنہوں نے ہم پر یہ احسان کیا ہے خواہ وہ کتنے ہی بھونڈے طریقے سے کیوں نہ کیا ہو کہ ہم پر ظاہر کر دیا گیا کہ تعزیرات ہند میں ایک دفعہ بھی ایسی نہیں جس کی رو سے (۱) توہین بانی اسلام (۲) توہین اسلام (۳) بانی اسلام کے خلاف نفرت پھیلانا (۴) اسلام کے خلاف نفرت پھیلانا (۵) مسلمانوں کی دل آزاری اور (۶) مسلمانوں کے خلاف غیر مسلموں کے دلوں میں حقارت پیدا کرنا، ان چھ سنگین ترین جرائم میں سے ایک بھی جرم ہو ۔ “ ؂ ۲

ہیجان انگیز فضا میں مولانا محمد علی جوہر کی یہ آواز جوشیلے رہنماؤں کو پسند

؂ ۱ افادات محمد علی ، ۱۶۲ ؂ ۲ ایضاً ، ۱۷۰

صفحہ ۱۷۶

نہ آئی ، ان پر الزام لگایا گیا کہ وہ اپنے آکسفورڈ کے رفیق کنور دلیپ سنگھ کی جانب داری کر رہے ہیں ۔

قانون توہین بانیان مذاہب کے لیئے مولانا جوہر کی کاوشیں

مولانا جوہر نے مضمون لکھنے کے علاوہ ، ملک بھر کا دورہ بھی کیا ، پبلک جلسوں سے خطاب کیا اور رہنماؤں کو دلائل و برہان سے قائل کرنے کی کوشش کی جولائی ۱۹۲۷ء میں لکھنؤ میں ایک عظیم الشان جلسہ ہوا جس کی صدارت کے لیئے آپ کو بطور خاص مدعو کیا گیا ، وہاں جلسہ میں مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کے رہنما اپنے روایتی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر یک جا تھے ، عوام کے ساتھ ساتھ راجہ صاحب محمود آباد ، ٹھاکر نواب علی اور دوسرے تعلقداران اودھ بھی حاضرین جلسہ میں شامل تھے ۔ ۱؎

مولانا محمد علی نے صدارتی تقریر میں قانون میں ترمیم کرانے پر زور دیا حاضرین اتنا اثر لے کر اٹھے ، مغرب کی نماز کے بعد دوسری نشست میں دیگر مقررین کو حاضرین سے مخاطب ہونے کا موقع دیا گیا ۔ مولانا ظفر الملک علوی نے بھی اس موقع پر بہت پرجوش تقریر کی ، اس عالم میں مولانا جوہر نے بھی تقریر کی جو ان کی ” صحیح اور تاریخی رہنمائی کی ایک مثال تھی “ انہوں نے کہا :

۱؎ محمد علی — ذاتی ڈائری ، ۴۱۹

صفحہ ۱۷۷

"ایسی کتابیں اور مضمون یقیناً ہر مسلمان کا خون کھولا دینے کے لیے کافی ہے، جتنا بھی جوش و خروش آپ پیدا ہوا سب بجا ہے لیکن اصل کوشش فتنہ کے سرچشمہ کو بند کرنے کی ہونی چاہئیے نہ کہ فلاں جج کو ہٹا دینے کی ۔ قصور قاضی کا نہیں، قصور خود قانون کا ہے۔ .... مجھ عاصی کا پر زور مشورہ یہی ہے کہ آئندہ سدباب فتنہ کے لیے قانون ہی کو بدلوائیے اور تعزیرات ہند میں ایک مستقل دفعہ بڑھوا کر توہین بانیان مذاہب کو جرم قرار دیجئے، اب تک یہ کوئی مستقل جرم ہی ملکی قانون میں نہیں" ۱؎

مولانا محمد علی جوہر نے خود ہی ترمیم کا مسودہ تیار کیا۔ ۲؎ جو انہی الفاظ اور جملوں پر مشتمل تھا، جو تعزیرات ہند میں استعمال ہوئے ہیں۔ ۳؎ انہوں نے مسودہ وائسرائے کو بھیجا اور ان کے خط میں لکھا : "ہز ایکسیلنسی کی گورنمنٹ کی توجہ کے لئے میں یہ عرض کروں گا کہ وہ سرکاری مسودہ قانون کی حیثیت سے اُس

۱؎ محمد علی — ذاتی ڈائری ، ۴۱۸ ۲؎ مولانا محمد علی کا مسودہ یہ تھا : (بقیہ ص۱۷۸ پر)

صفحہ ۱۷۸

کو پیش کریں ۔ ۱؂

بل پر اسمبلی میں بحث اور منظوری

روز نامہ ” ہمدرد “ کے اداریوں اور مولانا محمد علی کی زبانی تقریروں سے حکومت ہند کے ہوم ممبر نے ہندوستان کی قانون ساز اسمبلی میں مسودہ ۵ ستمبر ۱۹۲۷ء کو پیش کیا ۔ ۲؂

۱؂ افادات محمد علی ، ۲۱۵

۲؂ سیرت محمد علی ، ۲۸۹

(بقیہ از ص۱۷۷ ) :۔ جو کوئی شخص کسی کا دل دکھائے ، کسی شخص کے مذہب کی توہین کرنے کی نیت سے یا اس امر کے احتمال کے علم سے کہ اس کے ذریعہ سے کسی شخص کا دل دکھائے گا یا کسی شخص کے مذہب کی توہین ہوگی ، ایسی باتوں کے ذریعہ سے جو تلفظ سے ادا کی جائیں یا لکھی جائیں یا اشاروں کے ذریعہ سے یا نقوش مرثیہ کے ذریعہ سے یا اور اسی طرح کسی نبی یا ولی یا اور شخص کی جسے لوگوں کا فرقہ اسی طرح مقدس سمجھتا ہو، توہین کرے یا اس کی نسبت ایسا اتہام لگائے یا مشتہر کرے جس سے اور لوگوں میں اس کی ہتک یا خفت ہو تو اس کو دونوں قسموں میں سے کسی قسم کی قید کی سزا دی جائے گی جس کی میعاد تین برس تک ہو سکتی ہے یا جرمانہ کی سزا یا دونوں سزائیں دی جائیں گی ۔ “ سیرت محمد علی ، ۴۸۷ - ۸۸

صفحہ ۱۷۹

ھوم ممبر نے اس بل کو سترہ ارکان پر مشتمل مجلس منتخبہ کے سپرد کرنے کی تجویز پیش کر دی ، جو سات روز کے اندر اپنی رپورٹ ایوان میں پیش کرے ہوم ممبر نے مسودہ کے اغراض و مقاصد پر طویل تقریر کی، انہوں نے مجموعہ تعزیرات ھند میں موجودہ دفعات کو توہین مذہب کے سلسلے میں ناکافی قرار دیا اور تجویز کیا کہ ملک کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر یہ ترمیمی بل فوراً منظور کر لیا جائے ۔

اس مسودہ پر ارکان اسمبلی میں سے مشرقی پنجاب کے مسلمان رکن عبدالحئی صاحب نے حکومت کو مبارک باد پیش کی۔ بمبئی کے ڈی ۔ وی بیلوی نے مزید یہ ترمیم پیش کی کہ بل کو مجلس منتخبہ میں پیش کرنے کی بجائے رائے عامہ معلوم کرنے کے لئے مشتہر کیا جائے ، بیلوی صاحب کی اس رائے پر ارکان اسمبلی نے بحث و تمحیص کی ۔ اسمبلی کی کارروائی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک طرف جملہ مسلمان ارکان بل کو جلد از جلد قانون کی شکل دینا پسند کرتے تھے، تو دوسری طرف ھندو ارکان کی ایک خاصی تعداد تاخیری حربے استعمال کرنا چاہتی تھی ۔

بحث و تمحیص کے بعد ایوان سے رائے لی گئی، جس نے بیلوی صاحب کی رائے مسترد کر دی اور بل کا مسودہ مجلس منتخبہ کے سپرد کر دیا گیا ۔ ۱؂

۱؂ رپورٹ تیسری قانون ساز اسمبلی، ۱۹۲۷ء : ۱۰۶ - ۱۳۰

صفحہ ۱۸۰

مجلس منتخبہ کی رپورٹ پر اسمبلی نے ۱۶ ستمبر سے ۱۹ ستمبر تک غور کیا ، پہلوی صاحب نے دوبارہ یہ رائے دی کہ مجلس کی رپورٹ ۱۵ جنوری ۱۹۲۸ء تک رائے عامہ معلوم کرنے کے لئے شائع کر دی جائے ۔ رپورٹ پر دلچسپ بحث ہوئی ، بعض ہندو ارکان نے اس بل کا مذاق اڑانے کی کوشش کی اور یہ ترمیم پیش کی کہ یہ بل صرف مسلمانوں کے پیغمبر سے مخصوص ہونا چاہئے ۔ مسلمان ارکان میں سے یو پی کے تصدق احمد خاں شروانی کا نقطہ نظر تعجب انگیز تھا ، وہ ذاتی طور پر اس قانون کو غیر ضروری قرار دیتے تھے ، مگر جس حلقے کی نمائندگی کرتے تھے ، اس کے سات شہروں میں سے چار نے بل کے حق میں قرار دادیں منظور کی تھیں ، اس لئے وہ بھی بل کی حمایت کرنے پر اپنے آپ کو مجبور پاتے تھے ۔

تین دن کی طویل بحث کے بعد مسودہ قانون رائے شماری کے لئے ایوان میں پیش کیا گیا ، ۲۶ ووٹوں کی مخالفت اور ۶۱ ووٹوں کی موافقت سے مسودہ قانون منظور کیا گیا ، اور ۱۹ ستمبر کو کونسل آف اسٹیٹ کو بھیج دیا گیا ، ان ۲۶ ارکان میں سے کوئی رکن بھی مسلمان نہیں تھا ،

۲۱ ستمبر ۱۹۲۷ء کو کونسل آف اسٹیٹ کے سامنے مسودہ قانون پیش ہوا ، کونسل میں بھی یہی رجحان تھا کہ ہندو ارکان کی معتد بہ تعداد مسودے کی مخالفت کر رہی تھی اور مختلف ترامیم کے ذریعہ اس کے دائرہ

صفحہ ۱۸۱

اثر کو محدود کرنا چاہتی تھی ، بحث کے بعد مسودے پر رائے شماری ہوئی اور کثرتِ رائے سے منظور ہوا ۔ ۱؎

ان تمام مراحل سے گزر کر وہ "مسودہ قانون" جو مولانا محمد علی جوہر کی غور و فکر کا نتیجہ تھا اور قانوناً حکومت ھند کے ھوم ممبر نے پیش کیا تھا دفعہ ۲۹۵ ۔ الف کی صورت میں مجموعہ تعزیرات ھند اور بعد میں مجموعہ تعزیرات پاکستان میں شامل ھوا ۔

۱؎ دوسری کونسل آف سٹیٹ (رپورٹ) ۲۰ ، ۱۵۳ - ۱۶۰

صفحہ ۱۸۲

دوسری فصل

پاکستان میں قانون توہین رسالت کا پس منظر

۱۹۴۷ء میں جب پاکستان اسلام کی بنیاد پر وجود میں آیا تو ابتدائی سالوں میں اسے اور یہاں کے شہریوں کو انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، اس صورت حال کا عیسائی مشنریوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور مہاجرین کی امداد کے پردے میں پورے پاکستان میں عیسائیت کی تبلیغ کا ایک وسیع جال پھیلا دیا جس کے باعث وہ بہت سارے مسلمانوں کو مرتد کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

قیام پاکستان کے بعد حکومت نے اقلیتوں کے ساتھ ہمیشہ فیاضانہ سلوک روا رکھا، لیکن عیسائیوں نے بہتر سلوک سے ہمیشہ ناجائز فائدہ اٹھایا اور اپنے تبلیغی لٹریچر میں اسلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایسی غلط بیانیاں اور جھوٹے الزامات تراشے کہ عام طور پر پست اخلاق کا انسان بھی ایسی باتوں سے پرہیز کرتا ہے۔

تقسیم ہند سے قبل مسیحی ادباء، شعراء، مورخین، مقالہ نگاروں اور پادریوں نے بہت ساری ایسی تصانیف اور تالیفات وضع کی تھیں جن میں خاص کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس کو

صفحہ ۱۸۳

تھانہ بنا لیا گیا تھا ، یہ کتب زیادہ تر مشن پریس ، الہ آباد ، امریکن مشن پریس لدھیانہ ، کرسچین لٹریچر سوسائٹی فار انڈیا ، لودھیانہ اور پنجاب ریلیجس بک سوسائٹی ، انارکلی ، لاہور سے شائع ہوتی تھیں ، قیام پاکستان کے بعد ان سب اسلام مخالف ، مناظرانہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تنقیص پر مبنی کتب کو پنجاب ریلیجس بک سوسائٹی ، انارکلی ، لاہور نے دوبارہ کثیر تعداد میں شائع کرنا شروع کر دیا اور یہ سلسلہ ۴۲/۴۳ سال جاری رہا ، ۱۹۹۱ء میں جب ” توہین رسالت ایکٹ “ کا نفاذ ہوا ، تو ان کتب کی عام فروخت بند کی گئی ۔

اس قدیم مسیحی اشاعتی ادارے نے بیسیوں اسلام مخالف اور توہین رسالت پر مبنی کتب شائع کیں ، جن میں ” نبی معصوم “ ، ” آئینہ اسلام “ ، ” آئینہ قرآن “ ، ” دین حق کی تحقیق “ ، ” دین اسلام اور اس کی تردید از روئے اسلام “ ، ” جواز اہل کتاب “ ، ” قرین کتاب “ از ڈپٹی آتھم ، ” ردّ رائے اسلام “ از ایچ ہنسل ، ” میزان الحق “ از پادری فائنڈر ، ” سیرت المسیح و محمد “ از پادری جی ایل ٹھاکر داس ، ” تحریف قرآن “ ، ” عدم ضرورت قرآن “ از پادری جی ایل ٹھاکر داس وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔

اس کے علاوہ اقتباسات (واقعات عمادیہ) پادری عماد الدین ، ” خدائے اسلام “ از پادری گولڈ سیک ، ” فضیلت مسیح “ از پادری بوئامل ،

صفحہ ۱۸۴

”توضیح البیان“ از پادری برکت اللہ، ”دین فطرت اسلام یا مسیحیت“ از پادری برکت اور ”اسلام میں قرآن“ از پادری گولڈ سیک شدید دلآزار کتب ہیں ”احادیثِ اسلام، اختصار اسلام، اسلام کا نبی یا جہان کا منجی، اسلام میں مسیح، اہل مسجد، تحریفِ قرآن یا بائیبل، تعلیمِ نجات از روئے قرآن، غلافِ کعبہ، انجیل یا قرآن، دشتِ کربلا اور کوہِ کلوری، ردائے اسلام درباب معجزہ، خداوند کی دعا اور سورۃ فاتحہ، قبلہ و نماز، حجرِ اسود اور زمانوں کی چٹانیں، خاتم النبیین، محمد عربی اور کلام اللہ از روئے اسلام“ وغیرہ کتابچوں کی صورت میں توہین آمیز مواد شائع کیا گیا ۔

ان کتب و کتابچوں کے علاوہ چند شدید دلآزار پمفلٹ یہ ہیں : ”چند غلط فہمیاں، رَدّ و بدل، ناسخ و منسوخ، کِتاب المیزان“ اور ”ان شاء اللہ“

اس اشاعتی ادارے کی کئی کتب پر پابندی بھی لگی لیکن پھر بھی اب تک یہ کتب کسی نہ کسی مسیحی بک سٹال سے مل جاتی ہیں ۔

گوجرانوالہ سے آنجہانی پادری کندن لعل ناصر نے مشہور مسیحی ماہنامہ ”کلامِ حق“ نکالنا شروع کیا جس کے ہر شمارے میں زیادہ تر صفحات ردِ اسلام پر صرف ہوتے ۔

۱۹۷۰ء اور ۱۹۸۰ء کی دھائی میں سیالکوٹ کے پادری برکت اُکھان

صفحہ ۱۸۵

نے اوٹر ھاؤس ، سیالکوٹ کینٹ سے کثیر تعداد میں کتب و پمفلٹ اور مختلف سرکلر کی اشاعت کی جو کہ تعلیمات اسلام اور بالخصوص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت توہین پر مبنی ہوتے ، یہ کتب و پمفلٹ پاکستان میں موجود درجنوں بائیبل کارسپانڈنس سکولز کے ہزاروں مسلمان طلبہ کو ان کے گھروں پر بذریعہ ڈاک مفت بھجوائے جاتے ۔ ان سخت توہین آمیز کتب اور کتابچوں کے نام یہ ہیں :

محبت اور قربانی ۱۹۷۶ء ، خدا محبت ہے ۱۹۷۶ء اصلی انجیل ۱۹۷۶ء ، مسلمانوں کے دوست ۱۹۷۶ء سیرت المسیح ۱۹۷۹ء ، وہ نبی ۱۹۸۱ء ، یحرفون الکلم ۱۹۸۲ء خدا روح ہے ۱۹۸۵ء ، کون نجات دے سکتا ہے ۱۹۸۲ء اوصاف مرسلین ۱۹۸۲ء ، اصول تنزیل الکتاب ۱۹۸۴ء فلسفہ وحدت الوجود ۱۹۸۲ء، جناب عیسیٰ مصداق موسیٰ ۱۹۸۸ء آل ابرھام ابن تارح ۱۹۸۷ء اور قیامت اور زندگی ۱۹۸۹ء

۱۹۹۲ء میں یہ پادری ”توہینِ رسالت ایکٹ“ کے نفاذ کے بعد مسلمانوں کی طرف سے قانونی کاروائی کا اعلان کرنے کے بعد امریکہ فرار ہو گیا ۔

۱۹۶۱ء میں ایک عیسائی پادری سیموئیل نے مغل پورہ ورکشاپ میں بہت سارے لوگوں کے سامنے رسالت مآب کی شان میں نازیبا کلمات

صفحہ ۱۸۶

کہے جس پر ایک شخص زاھد حسین اور اس کے ساتھیوں نے سیموئیل کو سختی سے منع کیا لیکن وہ اپنی ہرزہ سرائی سے باز نہ آیا ، اس پر زاھد حسین نے مشتعل ہو کر اس کا سر پھاڑ دیا جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہو گیا ، اس واقعہ کا بہت چرچا ہوا اور زاھد حسین نے عدالت کے روبرو اعتراف قتل کیا عوام کی ہمدردی اور دلچسپی نیز وکلاء کی قانونی مہارت کی وجہ سے زاھد حسین کو صرف جرمانہ کی سزا سنائی گئی ، اس کے خلاف ھائیکورٹ میں نگرانی دائر کی گئی ، جو خارج ہوئی ۔ اس مقدمہ کی پیروی علامہ اقبالؒ کے صاحبزادے ڈاکٹر جاوید اقبال نے کی اور ان کی معاونت میاں شبیر عالم نے کی ۔۱؎

۱۹۶۴ء میں اسی زاھد حسین کو جب یہ معلوم ہوا کہ پنجاب ریلیجس بک سوسائٹی ، انار کلی ، لاہور میں دیگر دلآزار کتب کے ساتھ ایک نہایت رسوائے زمانہ کتاب " اثمار شیریں " فروخت ہو رہی ہے ۲؎ جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جگہ جگہ توہین آمیز مواد موجود ہے ، تو یہ ایک بار پھر تڑپ اٹھا اور اپنے ساتھی الطاف حسین شاہ سے مل کر پنجاب ریلیجس بک سوسائٹی میں آگ لگا دی اور اس کے مینجر ھیکٹر گوہر

۱؎ ناموس رسول ، ۴۳۳ - ۳۴ ، داغ ندامت ، ۳۳ ۲؎ یہ کتاب " الباکورۃ الشھیہ فی الروایات الدینیہ " نامی عربی (باقی اگلے صفحہ پر)

صفحہ ۱۸۷

مسیح پر پستول سے فائر کیا لیکن وہ بال بال بچ گیا ، دونوں نے عدالت میں اقبال جرم کیا جس علاقہ مجسٹریٹ نے دونوں کو تین تین سال سزائے قید سنائی ، پھر ایڈیشنل سیشن جج لاہور نے اس سزا کو بحال رکھا اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں نگرانی دائر ہوئی ، مقدمہ جسٹس شیخ شوکت علی کے سامنے پیش ہوا انہوں نے بھی اس کتاب کو سخت قابل اعتراض قرار دیا اور کہا کہ اس کو پڑھ کے ایک مسلمان کا خون کھول اٹھتا ہے اس لیے زاہد حسین کو بری کر دیا نیز کتاب پر پابندی لگانے کا حکم جاری کیا ۔ ۱؎

مسیحیوں کی تحریک شماتت کے انسداد کی کاوشیں

ان واقعات (جنہوں نے کہ ملک گیر شہرت حاصل کی) کے باوجود بدقسمتی

۱؎ ناموس رسول ، ۴۴ - ۴۵ ؛ داغ ندامت ، ۳۳ - ۳۴

(حاشیہ صفحہ گزشتہ) ناول کا ترجمہ ہے اسے غالباً شام کے پروٹسٹنٹ مسیحی نے تحریر کیا تھا ، مگر اپنا نام ظاہر نہیں کیا ۔ ولیم میور (سابق لفٹنٹ گورنر ممالک مغربی و شمالی) نے اس کتاب کا خلاصہ "Sweet First Fruits" کے نام سے مرتب کیا جو کہ لندن کی ریلیجس ٹریکٹ سوسائٹی کی طرف سے شائع ہوا ، اور اس کے علاوہ فارسی ، پشتو اور دیگر زبانوں میں اس کا ترجمہ شائع ہوچکا ہے (المنار ، ۷)

صفحہ ۱۸۸

سے عیسائیوں کو اس مکروہ فعل سے روکنے اور باز رکھنے کے لئے حکومتی سطح پر کوئی اقدام نہیں کیا گیا ، البتہ انفرادی طور پر بہت سارے لوگوں نے اس محاذ پر بڑا کام کیا ۔ تحریک پاکستان کے مخلص کارکن ڈاکٹر عبدالمجید ملک نے اپنے ساتھیوں ، دوست ڈاکٹروں اور شاگردوں کی مدد سے اس سلسلہ میں بڑا کام کیا ، ڈاکٹر ایس ۔ ایم ۔ کے واسطی ان کے خاص رفقاء میں سے تھے ان حضرات نے بڑی خاموشی سے لیکن انتہائی منظم طور پر مسیحی یلغار روکنے کی سعی کی ، سٹڈی سرکل قائم کئے ، نوجوان مبلغین کی تربیت کا اہتمام کیا ، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس ضمن میں پنجاب اسمبلی اور مرکزی اسمبلی میں نیک دل اراکین اسمبلی نے عیسائیوں کی گستاخیوں کے بارے میں سوالات اٹھائے ، اس بارے میں تحریکات التواء بھی پیش کروائی گئیں ان سب کوششوں کے باعث ڈاکٹر ملک کو ملازمت سے برخاست کروانے کی بھی دھمکیاں دی گئیں ، مگر ان کی جدوجہد رائیگاں نہ گئی ۔ ۱؎

علامہ علاؤ الدین صدیقیؒ (وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی لاہور) نے اپنے انداز میں ایک حلقہ قائم کیا اور اسے ”عالمی ادارہ تبلیغ اسلام“ کے نام سے بطور ٹرسٹ رجسٹرڈ کروایا ، انہوں نے اپنے مخلص رفقاء کی مدد

۱؎ پاکستان میں مسیحیت ، ۲۷ - ۲۸

صفحہ ۱۸۹

سے علمی سطح پر نمایاں خدمات انجام دیں، بڑے بڑے مناظر پادری ان کے سامنے خاموش رہنے ہی میں پناہ ڈھونڈتے تھے، مسیحیوں کی اسلام مخالف کتب کا تحقیقی جائزہ لینے کے لئے آپ نے ”Light of Islam“ نامی رسالہ لاہور سے جاری کرنا شروع کیا، افسوس یہ تا دیر جاری نہ رہ سکا ۔

اسلام مخالف سرگرمیوں کا جواب دینے کے لئے لاہور میں کچھ مزید انجمنیں قائم ہوئیں ۔ مجلس مبلغین، اچھرہ، لاہور، مرکز مطالعہ مذاہب، ساندہ روڈ، لاہور، ادارہ خدام اسلام، گڑھی شاہو، لاہور؛ عوامی اسلامک مشن، لاہور نے اپنے اپنے انداز سے اس سلسلہ میں کام کیا، اور مذکورہ مسیحی کتب کا رد لکھا ۔ کچھ عرصہ بعد ”رابطہ دعوت و تبلیغ“، شاہراہ قائد اعظم، لاہور کے نام سے ان کا وفاق بن گیا ۔ ان سب اداروں میں سر فہرست اسلامی مشن سنت نگر، لاہور کا نام ہے جس سید اختر احسن شاہ صاحبؒ (سابق ناظم امتحانات، ثانوی تعلیمی بورڈ، لاہور) کی نگرانی میں سینکڑوں کتب، کتابچے رسائل اور پوسٹر لاکھوں کی تعداد میں شائع کئے، جس سے کافی حد تک متعصب مسیحی پادریوں کے طوفان بدتمیزی میں کمی آئی ۔

حافظ نذر احمد صاحب (پرنسپل شبلی کالج، ریلوے سٹیشن لاہور) نے بائیبل خط و کتابت سکولز کی شرانگیزیوں کا رد کرنے کے لئے ۱۹۷۴ء میں تعلیم القرآن خط و کتابت سکول، پوسٹ بکس ۱۷۷، لاہور قائم کیا

صفحہ ۱۹۰

صدیقی ٹرسٹ، کراچی نے اصلاحی اور تبلیغی کتابچوں کے علاوہ عیسائیوں کی شر انگیز اور توہین رسالت پر مبنی تحریروں کا رد کرنے کے لئے بھی کافی تعداد میں کتابچے شائع کیئے ۔

اس سلسلہ میں محمد اسلم رانا ایڈیٹر "المذاھب" کی مساعی جمیلہ نہایت قابل قدر ہیں، جوں ہی کوئی مضمون "کلام حق" گوجرانوالہ، پادری برکت جے خاں یا پنجاب ریلیجس بک سوسائٹی کی جانب سے شائع ہوتا جس میں کہ اسلام یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر کیچڑ اچھالا گیا ہوتا، تو یہ فوراً "طب وصحت" (لاہور) یا "المذاھب" میں اس کی قلعی کھولتے، اس کے علاوہ اسلامی مشن لاہور سے ان کی تیس سے زاید کتب شائع ہوچکی ہیں جن میں انہوں نے مسیحیوں کی مذکورہ دلآزار کتب کا تحقیقی جائزہ لیا ہے۔

صفحہ ۱۹۱

تیسری فصل

قانون توہین رسالت کی منظوری کےلیے عدالتی و پارلیمانی کاوشیں

عدالتی کاوشیں

۱۹۸۳ء میں لاہور کے ایک اشتراکیت زدہ ایڈووکیٹ مشتاق راج نے ”آفاقی اشتمالیت“ نامی ایک کتاب لکھی، جس کا انگریزی ترجمہ Heavenly Communism) کے نام سے کیا گیا۔ یہ کتاب لاہور بار ایسوسی ایشن اور دیگر تعلیم یافتہ افراد میں مفت تقسیم کی گئی۔ اس کتاب میں نہ صرف اللہ تعالیٰ کا تمسخر اڑایا گیا، بلکہ مذاہب پر سخت تنقید کے علاوہ دینی پیشواؤں کو ”مذہبی شیطان“ کہا گیا، انبیاء کرام پر نہایت گھٹیا اور سوقیانہ حملے کئے گئے اور انتہا یہ کہ حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں بھی گستاخی کی گئی ۔

یہ کتاب محمد اسمٰعیل قریشی صاحب (سینیئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ) تک بھی پہنچی، انہوں ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس (پاکستان) کا ہنگامی اجلاس طلب کیا۔ اس وقت پاکستان ڈاکٹر ربیع المدخلی اور سعید صالح

صفحہ ۱۹۲

(پروفیسر اسلامک یونیورسٹی، مدینہ منورہ) بھی موجود تھے، انہوں نے علامہ احسان الٰہی ظہیر ؒ کے ہمراہ اس اجلاس میں شرکت کی۔ اس اجلاس میں پاکستان کے دیگر علماء نے بھی شرکت کی۔ اس اجلاس میں نہ صرف اس کتاب کی ضبطی کا مطالبہ کیا گیا، بلکہ یہ قرارداد بھی منظور کی گئی کہ مشتاق راج کی بار کی رکنیت بھی منسوخ کی جائے اور اسے عبرتناک سزا دی جائے ۱؎

اس قرارداد کی منظوری کے بعد اسے بار ایسوسی ایشن سے خارج کر دیا گیا اور حکومت نے یہ کارروائی کی کہ مشتاق راج کی کتاب ضبط کر لی گئی بار ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے انارکلی پولیس اسٹیشن لاہور میں مشتاق راج کے خلاف توہین مذہب کے جرم میں زیر دفعہ ۲۹۵ - الف مقدمہ درج کرایا۔ اس وقت تک تعزیرات پاکستان میں ”توہین رسالت“ جیسے سنگین جرم کی سخت سزا مقرر نہیں تھی، اس لئے پولیس نے اس معاملہ کو بہت سہل لیا اور ابتدائی رپورٹ کے باوجود ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی جس کی وجہ سے مسلمانوں میں بہت اضطراب پیدا ہوا۔

سنہ ۱۹۸۳ء میں اس مسئلہ پر غور کرنے کے لئے ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس کی تحریک پر تمام اسلامی مکاتب فکر کے علماء اور ممتاز قانون

۱؎ ناموس رسول ، ۳۳۵-۳۶

صفحہ ۱۹۳

دانوں کی کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس میں مولانا عبدالستار خاں نیازی ، علامہ احسان الہی ظہیر ، علی غضنفر کراروی ، مولانا محمد اجمل خاں اور سیّد محمد متین ہاشمی نمایاں تھے ۔ اس کانفرنس میں تمام علمائے دین ، قانون دان حضرات اور شرکائے کانفرنس نے حکومت سے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ اسلام میں چونکہ توہین رسالت کی سزا ۔ سزائے موت ہے ، اس لئے گستاخ رسول کو سزائے موت دیئے جانے کا قانون بنایا جائے ۔ پاکستان کے سابق چیف جسٹس جناب انوار الحق اور لاہور ھائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج جناب ذکی الدین پال نے بھی اس مطالبہ کی تائید اور حمایت کی۔ پاکستان کے قومی اخبارات نے جن میں روزنامہ "جنگ" ، "نوائے وقت" ، "مشرق" اور "امروز" قابل ذکر ہیں ، نہ صرف اس مطالبہ کے حق میں مقالات شائع کئے ، بلکہ اداریئے بھی لکھے ، بالآخر اسلامی نظریاتی کونسل نے اس قرارداد کا نوٹس لیا اور شیخ محمد غیاث سابق اٹارنی جنرل کی تحریک پر کونسل نے حکومت سے سفارش کی کہ توہین رسالت اور ارتداد جیسے جرائم کی سزا سزائے موت مقرر کی جائے ۔

اس سلسلہ میں مسلمانوں کے جذبات اور احساسات کے باوجود حکومت وقت نے کوئی قدم نہیں اٹھایا ، اگرچہ اس وقت کے صدر جنرل محمد ضیاء الحق نے علماء کنونشن منعقدہ ۲۱ اگست ۱۹۸۱ء میں یہ اعلان کیا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ کرامؓ یا دیگر مذہبی اکابرین کے

صفحہ ۱۹۴

متعلق ہتک آمیز، گستاخانہ تحریر و تقریر کی حوصلہ شکنی کے لئے جلد ہی ضروری قانون بنایا جائے گا اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لئے سخت سزا مقرر کی جائے گی، لیکن اس یقین دھانی کے باوجود اس سلسلہ میں کوئی قانون سازی نہیں کی گئی ۔

اس مشتعل صورت حال اور حکومت کی بے اعتنائی کو دیکھتے ہوئے محمد اسمعیل قریشی ایڈووکیٹ نے وفاقی شرعی عدالت میں صدر مملکت جنرل محمد ضیاء الحق اور تمام صوبوں کے گورنروں کے خلاف پٹیشن دائر کر دی ، جس میں کہا گیا کہ تعزیرات پاکستان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی ، اھانت ، توھین اور تنقیص جیسے سنگین اور ناقابل معافی جرم کے بارے میں کوئی سزا مقرر نہیں ، اس لئے توھین رسالت اور توہین شعائر اسلام کے جرائم کی سزا قرآن اور سنت کی روشنی میں سزائے موت مقرر کی جائے ۔ یہ درخواست ایک سو پندرہ سر برآوردہ مسلمان شہریوں کی جانب سے دائر ہوئی ، جن میں تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام سپریم کورٹ ، ھائی کورٹ کے سابق جج صاحبان ، سابق وزرائے قانون سابق اٹارنی جنرل ، ایڈووکیٹ جنرل اور ممتاز قانون دان شامل تھے جن میں سے چند ایک کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں :

مولانا عبیداللہ انور ، مولانا عبدالستار خاں نیازی ، مفتی محمد حسین نعیمی

صفحہ ۱۹۵

علامہ احسان الٰہی ظہیر، سید علی غضنفر کراروی، مولانا محمد اجمل، ایس ایم ظفر، بدیع الزمان کیکاؤس (سابق جج سپریم کورٹ) اور ڈاکٹر ظفر علی راجا وغیرہ ۔

یہ پٹیشن وفاقی شرعی عدالت کے فل بینچ کے سامنے، جو جسٹس شیخ آفتاب حسین، جسٹس فخر عالم، جسٹس چوہدری محمد صدیق، جسٹس ملک غلام علی اور جسٹس عبدالقدوس ہاشمی پر مشتمل تھا، ۱۸/ جنوری ۱۹۸۳ء کو پیش ہوئی، فاضل عدالت نے ابتدائی بحث کی سماعت کے بعد اٹارنی جنرل پاکستان اور تمام صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرل کے نام نوٹس جاری کر دیئے اور پٹیشن برائے سماعت منظور کرلی۔ اس کے بعد پھر اس مقدمے کی سماعت اسی فیڈرل شریعت کورٹ کے فل بینچ نے کی، جو چیف جسٹس گل محمد خاں، جسٹس فخر عالم، جسٹس مولانا عبد القدوس قاسمی، جسٹس مفتی شجاعت علی قادری اور جسٹس فخر الدین ایچ شیخ پر مشتمل تھا۔ اس کی سماعت ۱۳/ نومبر کو شروع اور ۲۱/ نومبر ۱۹۸۵ء تک جاری رہی۔ اس پٹیشن کی تائید میں تمام مکاتب فکر کے علماء نے جن کے اسماء گرامی درج ذیل ہیں پیش ہوئے۔ مولانا سید محمد سعید ہاشمی، شیعہ عالم علی غضنفر کراروی، حافظ صلاح الدین یوسف، اسلامی اکیڈمی برطانیہ کے سربراہ ڈاکٹر خالد محمود، مولانا

صفحہ ۱۹۶

عبدالقادر آزاد ، پروفیسر طاہر القادری ، جامعہ المنتظر کے پرنسپل محمد حسین اکبر اور پروفیسر عطا محمد نقوی ۔

سماعت کے دوران مولانا عبدالستار خاں نیازی ، مولانا گلزار احمد مظاھری ، مولانا منظور احمد چنیوٹی ، سید ریاض الحسن نوری ، ایران کے سکالر ڈاکٹر سہراب ، مولانا عبد الرحمٰن اور عبد المالک کاندھلوی کے علاوہ معروف قانون دان ، یونیورسٹی ، کالجوں اور دینی درسگاہوں کے اساتذہ کی کثیر تعداد عدالت میں آتی رہی ۔ ۱؎

وفاقی حکومت کی جانب سے ڈاکٹر سید ریاض الحسن گیلانی ، ڈپٹی اٹارنی جنرل ، حکومت پنجاب کی جانب سے خلیل رمدے ایڈووکیٹ جنرل حکومت پنجاب ، حکومت سرحد کی طرف سے میاں محمد اجمل اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پشاور ، صوبہ بلوچستان کی جانب سے محمد یوسف اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل اور صوبہ سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل نے اپنی اپنی حکومتوں کا موقف پیش کیا ۔ ۲؎

علمائے کرام نے اپنا موقف تحریری صورت میں بھی پیش کیا ، وفاقی

۱؎ F.S.C ( 1.L, 1984 ) , 259

۲؎ Do , 261

صفحہ ۱۹۷

اور صوبائی حکومتوں کے نمائندوں نے بھی اس بات کی تائید کی کہ شاتم رسول قرآن اور سنت کی روشنی میں سزائے موت ہی کا حق دار ہے لیکن دورانِ بحث ڈپٹی اٹارنی جنرل سید ریاض الحسن گیلانی نے یہ موقف اختیار کیا کہ گستاخ رسول کو پولیس یا عدالت سے رجوع کئے بغیر موقع پر قتل کر دیا جائے ، پھر یہ عجیب نکتہ اُٹھایا کہ تعزیرات پاکستان میں توہین رسالت کی سرے سے کوئی سزا ہی موجود نہیں ہے ۔ جسے قرآن وسنت کے منافی قرار دیا جائے ، اس لیئے وفاقی شرعی عدالت کو اس پٹیشن کی سماعت کا ہی اختیار حاصل نہیں ہے۔ درخواست گزار اور صوبائی حکومتوں کے تمام نمائندوں نے صوبائی حکومت کے دوسرے موقف کی تردید میں اپنے دلائل پیش کیے کہ فیڈرل شریعت کورٹ کو توہین مذہب کے بارے میں جو سزا مقرر ہے اس کے قانونی سقم کو جو قرآن وسنت سے متصادم ہے دور کر کے توہین رسالت کی سزا کو بطور حد جاری کرنے کے لئے حکومت کو یہ حکم دینے کا پورا پورا اختیار حاصل ہے ۔ عدالت نے فریقین اور معاونین علماء کے مبسوط دلائل سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ رکھا ۱؎

۱؎ F.S.C , 270

صفحہ ١٩٨

قومی اسمبلی میں قانون توہین رسالت کی منظوری

اس کے بعد جولائی ١٩٨٦ء میں ایڈووکیٹ عاصمہ جہانگیر نے اسلام آباد میں منعقدہ ایک سیمینار میں تقریر کرتے ہوئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں ناخواندہ اور تعلیم سے نابلد جیسے الفاظ استعمال کیے، جو سامعین اور تمام امت مسلمہ کے لئے دلآزاری کا باعث بنے ۔ اسی سیمینار میں موجود راولپنڈی بار ایسوسی ایشن کے اراکین میں سے عبادالرحمن لودھی اور ظہیر احمد قادری نے سخت احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ وہ ان توہین آمیز الفاظ پر معافی مانگے لیکن عاصمہ جہانگیر نے بڑی ڈھٹائی سے انکار کر دیا، جس پر سیمینار میں ہنگامہ برپا ہوگیا، اس معاملہ کے باعث پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور وکلاء و علماء کی انجمنوں نے اس کا سختی سے نوٹس لیا، مختلف قرار دادیں حکومت کو بھجوائی گئیں، جن میں حکومت سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ وہ عاصمہ جہانگیر کو اس گستاخی پر سخت سزا دے اور اس کی سزا مقرر کرے ۔

قومی اسمبلی میں اس معاملے کا نوٹس سب سے پہلے ایم این اے آپا نثار فاطمہ نے لیا، انہوں نے قومی اسمبلی میں ایک بل پیش کیا جس میں

صفحہ 199

توہین رسالت کی سزا۔ سزائے موت تجویز کی گئی تھی لیکن اس وقت کے وزیر انصاف و قانون اقبال احمد خاں نے اس تجویز سے اختلاف کیا، ان کے خیال میں اس جرم کی سزا قرآن میں مقرر نہیں، اس لئے انہوں نے بل کی حمایت سے معذرت کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ حیرت انگیز بات یہ ہوئی کہ ان کے علاوہ کچھ اسلامی ذہن رکھنے والے اراکین اسمبلی مولانا وصی مظہر ندوی، لیاقت بلوچ اور شاہ بلیغ الدین اس جرم کی سزا کے لئے صرف عمر قید کو کافی سمجھتے تھے، جس پر آپا نثار فاطمہ نے فرداً فرداً ہم خیال اراکین اسمبلی اور مروت خاں وزیر مملکت برائے انصاف و پارلیمانی امور سے مل کر ان کے سامنے قرآن حدیث ائمہ کرام اور اجماع امت کے فیصلے پیش کئے اور انہیں اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ اس بل کی حمایت کر کے اسے قومی اسمبلی میں منظور کروائیں۔

آپا نثار فاطمہ نے جب یہ بل قومی اسمبلی میں پیش کیا تو کسی نے بھی اس کی مخالفت نہیں کی، بالآخر ۲۔ اکتوبر ۱۹۸۶ء کو پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر اس بل کو منظور کر لیا۔ اس طرح رسول پاکﷺ کے لئے اسلامیان پاکستان کا جذبہ محبت و عقیدت اور احترام غالب آکر رہا، اس بل کی منظوری سے توہین رسالت کے جرم کی سزا۔ سزائے موت یا سزائے قید مقرر ہوئی ۔ اور تعزیرات پاکستان میں دفعہ ۲۹۵۔ ج کا اضافہ

صفحہ ۲۰۰

کیا گیا۔ ۱؎

دفعہ ۲۹۵۔ ج میں متبادل سزا کی منسوخی کے لیے شرعی عدالت میں درخواست

اس بل کے منظور ہونے کے بعد بھی اس دفعہ میں یہ ایک سقم رہ گیا کہ دفعہ مذکورہ میں توہینِ رسالت کی سزا — سزائے موت یا سزائے عمر قید رکھی گئی، حالانکہ اہانت رسول کی سزا بطور حد سزائے موت مقرر ہے اور کسی کو حد کی سزا میں کمی بیشی یا اس کی متبادل سزا مقرر کرنے کا کوئی اختیار نہیں اس کے لیئے محمد اسمعیل قریشی ایڈووکیٹ نے ایک بار پھر وفاقی شرعی عدالت میں صدرِ پاکستان اور حکومت پاکستان کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا اور دفعہ ۲۹۵ ۔ ج کی اس شق کو چیلنج کیا، جس کی رو سے عدالت کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ توہینِ رسالت کے مجرم کو سزائے موت کی بجائے عمر قید کی سزا بھی دینے کی مجاز ہے۔ اس پٹیشن میں وفاقی شرعی عدالت سے یہ درخواست کی گئی کہ سزائے عمر قید کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے صدر پاکستان کو یہ ہدایت جاری کی جائے کہ وہ توہینِ رسالت کی سزا بطور حد صرف سزائے موت مقرر کریں، کیونکہ سزائے حد میں صدر ، گورنر، پارلیمنٹ بلکہ پوری مسلمہ کو بھی کسی قسم

۱؎ جنگ ، لاہور، ۳/اکتوبر ۱۹۸۶ء ، ۱

صفحہ ۲۰۱

کی ترمیم، تبدیلی یا تخفیف کا کوئی اختیار نہیں ۔ یہ پٹیشن فیڈرل شریعت کورٹ کے فل بنچ کے سامنے یکم اپریل ۱۹۸۷ء کو پیش ہوئی، فاضل عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے نام نوٹس جاری کر دیئے ۔ اس کے بعد اسلام آباد، پھر لاہور میں اس مقدمہ کی سماعت ہوتی رہی، اس میں محمد اسمعیل قریشی ایڈووکیٹ اور مختلف مکاتب فکر کے علماء جن میں سید ریاض الحسن نوری، حافظ صلاح الدین یوسف اور مفتی غلام سرور قادری شامل ہیں، نے توہین رسالت کی سزا پر سیر حاصل بحث کی ۔ وفاقی حکومت کی کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل عبدالستار نجم اور صوبائی حکومت پنجاب کی طرف سے نذیر غازی اور جلال الدین خاں پیش ہوئے، حکومت سرحد کی نمائندگی میاں محمد اجمل نے کی ۔ ۱؎

بحث کی سماعت لاہور میں مارچ ۱۹۹۰ء میں فل بنچ کے سامنے ہوئی جو چیف جسٹس گل محمد خاں، جسٹس عبدالکریم خاں کنڈی، جسٹس عبادت یار خاں، ڈاکٹر جسٹس فدا محمد خاں اور جسٹس عبدالرزاق تھہیم پر مشتمل تھا ۔ وفاقی حکومت کا موقف تھا کہ توہین رسالت کی سزا ۔ سزائے موت کی بجائے صرف سزائے عمر قید کافی ہے کیونکہ اس جرم کی سزا کا قرآن

۱؎ P.L.D (F.S.C - 1991) , XLIII: 10, 11, 16

صفحہ ۲۰۲

پاک میں ذکر نہیں ، اس لئے یہ سزا بطور حد نہیں دی جاسکتی ، اس کے علاوہ ایک فرقہ دوسرے پر توہین رسالت کا الزام عائد کر کے سزائے موت کا مطالبہ کرے گا ۔

جن وکلاء و علماء نے اس بحث میں حصہ لیا تھا ، انہوں نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کے اس موقف کی سختی سے تردید کی اور قرآنی آیات اور صحیح احادیث سے بتایا کہ توہین رسالت کی سزا بطور حد سزائے موت دی جائے گی، خود رسالت مآب کے حکم سے غیر مسلم شاتموں کو سزائے موت دی گئی، اس کے علاوہ ائمہ و فقہاء اس سزا پر متفق ہیں ۔ اس بات کی تائید و تصدیق صو پنجاب کے نمائندے نے بھی کی اس کے بعد وفاقی شرعی عدالت نے ۳۰۔ اکتوبر ۱۹۹۰ء کو درخواست گزاروں کے حق میں فیصلہ سنا دیا اور کہا کہ دفعہ ۲۹۵ - ج تعزیرات پاکستان میں عمر قید کی جو متبادل سزا مقرر ہے وہ احکامات اسلام سے متصادم ہے لہٰذا یہ الفاظ اس دفعہ سے حذف کر دیئے جائیں کیونکہ گستاخ رسول کی سزا صرف موت ہے اسی کے ساتھ اس میں ایک شق شق کا اضافہ کیا جائے جس میں دیگر انبیاء کرام کی توہین کی سزا بھی موت قرار پائے ۔

اپنے اس تفصیلی فیصلے کے آخر میں عدالت نے یہ حکم دیا کہ اس حکم کی ایک نقل صدر پاکستان کو دستور کی آرٹیکل ۲۰۳ و (۳) کے تحت ارسال

صفحہ ۲۰۳

کی جائے تاکہ قانون میں ترمیم کے اقدامات کئے جائیں اور اسے اسلامی احکامات کے مطابق بنایا جائے ، اگر ۳۰؍ اپریل ۱۹۹۱ء تک ایسا نہیں کیا جائے تو "یا عمر قید" کے الفاظ دفعہ ۲۹۵۔سی تعزیرات پاکستان میں اس تاریخ سے غیر موثر ہو جائیں گے ۔ ۱؎

حکومت کی سپریم کورٹ میں درخواست اور پھر واپسی

اس فیصلہ کے بعد پھر ایک عجیب مرحلہ پیش آیا ، وفاقی شرعی عدالت کے اس فیصلہ کے خلاف حکومت نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی ، جس پر علماء ، دینی جماعتوں اور عوام نے شدید غم و غصہ کا اظہار کیا اور وزیر اعظم محمد نواز شریف پر اس اپیل کی واپسی کے لئے دباؤ ڈالا گیا ، جس پر انہوں نے یہ کہا کہ انہیں اس اپیل کا قطعی علم نہ تھا ورنہ ایسی غلطی سرزد نہ ہوتی، اس لئے یہ اپیل سپریم کورٹ سے فوری طور پر واپس لے لی گئی ۔

اس طرح بفضلہ تعالیٰ پاکستان میں توہین رسالت مآب کی سزا بطور حد سزائے موت حتمی اور قطعی طور پر جاری ہو گئی ۔

۱؎ P.L.D (F.S.C), 1991, XLII : 10

PDF 204

پانچواں باب

حقوق انسانی اور آزادی رائے کے حوالے سے

توہین رسالتﷺ ایکٹ

کا

جَائزہ

صفحہ ۲۰۵

پہلی فصل

حقوق انسانی اور آزادی اظہار رائے کا موجودہ تصوّر

انسانی حقوق آج کی دنیا میں سب سے زیادہ زیر بحث آنے والا موضوع ہے اور یہ مغرب کے ھاتھوں میں ایک ایسا فکری ھتھیار ہے جس کے ذریعے وہ مسلم ممالک اور تیسری دنیا پر مسلسل حملہ آور ہے۔ مغرب نے انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کے چارٹر کو مسلمہ معیار کا درجہ دے کر کسی بھی معاملہ میں اس سے الگ رویہ رکھنے والے تیسری دنیا اور عالم اسلام کے ممالک کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دینے کی مہم شروع کر رکھی ہے جس میں اسے عالمی ذرائع ابلاغ کے ساتھ ساتھ عالم اسلام اور تیسری دنیا میں اپنی ہمنوا لابیوں کا بھرپور تعاون حاصل ہے اور اس نظریاتی و فکری یلغار نے ملت اسلامیہ کے عقیدہ و احکام اور روایات و اقدار سب سے زیادہ مغربی دانشوروں، لابیوں اور ذرائع ابلاغ کے حملوں کی زد میں ہے

اس کشمکش میں جب اسلام کے عقائد و احکام پر مغربی دانشوروں کے حملوں کا جائزہ لیا جاتا ہے تو یہ یلغار عقائد و احکام اور معاشرت کے

صفحہ ۲۰۶

تمام شعبوں پر محیط نظر آتی ہے اور اگر گذشتہ ایک دھائی کے دوران پیش آنے والے واقعات کو سامنے رکھتے ہوئے حالات کا تجزیہ کیا جائے تو صورت حال کا نقشہ کچھ یوں نظر آئے گا :

اور کوڑے مارنے کو انسانی حقوق کے منافی قرار دیا گیا ہے ۔

اسلام کا نام اور مسلمانوں کے مذہبی شعائر کے استعمال سے روکنے کے قانونی و آئینی اقدامات کو انسانی حقوق کے ساتھ نتھی کر کے قادیانیوں کو مظلوم قرار دے امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کی طرف سے ان کے خلاف مذکورہ اقدامات واپس لینے پر زور دیا جا رہا ہے ۔

"کارنامے" پر آزادی لانے کا ھیرو بنا کر پیش کیا کہ اس نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی پر کیچڑ اچھالا ۔

بن گئی کہ اس نے قرآن کریم کے ناقابل تغیر و تبدل ہونے کے عقیدے پر یہ کہہ کر ضرب لگانے کی کوشش کی کہ آج کے حالات کی روشنی میں قرآن کریم میں ترمیم کی ضرورت ہے۔

صفحہ ۲۰۷

قرار دیا جارہا ہے اور خاندانی زندگی کے بارے میں بیشتر مسلم ممالک میں مروجہ قوانین کو نام نہاد عالمی معیار کے مطابق بدل دینے کی تلقین کی جارہی ہے جس میں شادی کیلئے مذہب کی شرط کو ختم کرنے، آزادانہ جنسی تعلقات کے بھرپور مواقع کی فراہمی، ہم جنس پرستی کو قانونی طور پر تسلیم کرنے اور بن بیاہی ماؤں اور ناجائز بچوں کو سماجی تحفظ فراہم کرنے کے تقاضے بھی شامل ہیں ۔

وابستگی کو ” بنیاد پرستی “ قرار دیا جارہا ہے، اور ایسی دینی تحریکات پر دہشت گردی کا لیبل چسپاں کر کے انہیں عالمی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ مسلسل کردار کشی کا نشانہ بنایا جارہا ہے، جو متعدد مسلم ممالک میں اسلامی تشخص کی بحالی کے لیئے کوشاں ہیں ۔

کے منافی قرار دیا گیا ہے اور اس کے خاتمہ کے دباؤ کے ساتھ ساتھ مغربی حکومتوں کی طرف سے توہین رسالت کے مرتکب افراد کی حوصلہ افزائی اور پشت پناہی کا سلسلہ جاری ہے

یہ ہے ایک سرسری خاکہ مغرب کی طرف سے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں کیے جانے والے اعتراضات اور تقاضوں کا جو گذشتہ ایک عشرہ کے

صفحہ ۲۰۸

دوران منظم مہم اور مربوط نظریاتی جنگ کی شکل اختیار کر چکے ہیں اور جن کے سامنے مسلم ممالک کی بیشتر حکومتیں معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرتی جا رہی ہیں ۔

اس نظریاتی معرکہ اور فکری جنگ میں بنیادی حیثیت اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر ۱؎ اور جنیوا انسانی حقوق کمیشن کے فیصلوں اور قرار دادوں کو حاصل ہے جو اس نظریاتی جنگ میں مغرب کے ھاتھ میں ایک مضبوط ھتھیار کا کام دے رہی ہیں مغرب کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی رکنیت اختیار کرنے والے تمام ممالک نے انسانی حقوق کے اس چارٹر پر دستخط کرکے اسے تسلیم کر لیا ہے ، اس لئے وہ اس کے پابند ہیں اور جن ممالک میں اس چارٹر کے منافی قوانین نافذ ہیں وہ اس بین الاقوامی معاہدے کی خلاف ورزی کر رہے ہیں ، اس لئے یہ ضروری ہے کہ تمام ممالک خواہ وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم اس عالمی معاہدے کی پابندی کریں اور اپنے ملک میں رائج قوانین میں ترامیم کرکے انہیں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کے ساتھ ہم آہنگ کریں ۔

۱؎ یہ چارٹر اقوام متحدہ نے ۱۰؍ دسمبر ۱۹۴۸ء کو جاری کیا تھا ، اس کی ۳۰ شقیں ہیں اور پاکستان بھی اس پر دستخط کر چکا ہے ۔

صفحہ ۲۰۹

یہ چارٹر دراصل مغربی فلسفہ حیات اور مغربی تہذیب کا نقطہ عروج ہے جس کے پیچھے یہ سوچ کارفرما ہے کہ مذہب کا تعلق صرف عقیدہ ، عبادت اور اخلاقیات سے ہے ، جس میں ہر انسان آزاد ہے کہ وہ جو رجحان چاہے اختیار کرے ، جس سے ریاست یا کوئی اور اتھارٹی کسی قسم کا تعرض نہ کرے ، البتہ انسانی زندگی کے اجتماعی معاملات مذہب کی کسی بھی قید یا چھاپ سے آزاد ہوں گے ۔ اسے اصطلاحی طور پر سیکولرازم سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ اور اسی سیکولرازم کو قبول کرنے کا ھم سے بھی تقاضا کیا جا رہا ہے قانون توہین رسالت کے حوالہ سے اس چارٹر کی ان دفعات اور دیگر انسانی حقوق کا بھی بار بار ذکر کیا جا رہا ہے جن میں آزادی ضمیر ، آزادی عقیدہ ، آزادی رائے اور آزادی اظہار کے حوالے سے تصریحات موجود ہیں جو چارٹر کی دفعہ ۱۸ اور ۱۹ میں ان لفظوں کے ساتھ بیان کی گئی ہے " ہر شخص کو آزادی خیال ، آزادی ضمیر اور آزادی مذہب کا حق حاصل ہے اس حق میں اپنا مذہب اور عقیدہ تبدیل کرنے اور انفرادی و اجتماعی طور پر علیحدگی میں یا سب کے سامنے اپنے مذہب یا عقیدے کی تعلیم اس پر عمل کرنے ، اس کے مطابق عبادت کرنے اور اس کی پابندی کرنے کا حق شامل ہے ۔ "

صفحہ ۲۱۰

"ہر شخص کو آزادی رائے اور آزادی کا حق حاصل ہے اس حق میں بلا مداخلت رائے رکھنے کی آزادی اور بلا لحاظ علاقائی حدود کسی بھی ذریعے سے اطلاعات اور نظریات تلاش کرنے حاصل کرنے اور انہیں دوسروں تک پہنچانے کی آزادی شامل ہے" ۱؎

تو یہ ہیں اس ”انسانی حقوق کے عالمگیر اعلامیہ“ کی وہ شقیں جنہیں اسلام دشمن قوتیں آزادی رائے اور آزادی اظہار کے نام پر مسلمانوں کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہیں ۔

اب ان شقوں کو پڑھ کے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ آزادی اظہار Absolute یعنی مطلق ہے ، اس پر کوئی شرط ، قید یا کوئی پابندی عائد نہیں ہوتی یا یہ کہ آزادی رائے و آزادی اظہار پر کچھ قیود و شرائط بھی عائد ہونی چاہیئے ؟

اگر شرائط و قیود ہیں تو کیا ہیں ؟

مثلاً ایک شخص یہ کہتا ہے کہ میری رائے یہ ہے کہ دولت مند افراد نے غریبوں کا خوں چوس کے بہت دولت کمائی ہے جس کے باعث غریب

۱؎ انسانی حقوق کا عالمگیر اعلامیہ ، ۲

صفحہ ۲۱۱

بھوکے مر رہے ہیں، لہٰذا امیروں کے گھروں پر ڈاکہ ڈالنا چاہیے اور ان کے گھروں کو لوٹ کر غریبوں کو پیسہ پہنچانا چاہیے۔ تو کیا ایسی اظہار رائے کی آزادی کی حمایت کی جاسکتی ہے، اسے درست قرار دیا جاسکتا ہے اور اس خواہش و اظہار رائے کو اس شخص کا بنیادی انسانی حق قرار دے کر اسے اس پر عمل کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے؟

اگر نہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آزادی اظہار اتنی Absolute اتنی مطلق نہیں کہ اس پر کوئی قید کوئی شرط کوئی پابندی عائد نہ کی جاسکے کچھ نہ کچھ قید اور شرط لگانا پڑے گی۔

اب مغرب کے ہاں یہ بات بھی حل طلب ہے کہ قید و شرط کس بنیاد پر لگائی جائے اور کون لگائے ؟

کس بنیاد پر یہ طے کیا جائے کہ فلاں قسم کی رائے کا اظہار کرنا ۔ تو جائز ہے اور فلاں قسم کی رائے کا اظہار کرنا جائز نہیں ہے ؟ فلاں قسم کی تبلیغ کرنا جائز ہے اور فلاں قسم کی تبلیغ کرنا جائز نہیں اس کا تعین کون کرے گا اور کس بنیاد پر کرے گا ؟

البتہ یہ ایک فطری تقاضا ہے کہ اس کا کوئی فارمولا کچھ نہ کچھ معیار ہونا چاہیے ۔

مغربی ممالک کے پاس جتنے نظریات اور فلسفے ہیں، یہ انہیں

صفحہ ۲۱۲

مدنظر رکھ کے بھی کوئی ایسا متفقہ فارمولا نہیں پیش کر سکتے ، جس پر ساری دنیا متفق ہو کہ فلاں بنیاد پر اظہار رائے کی آزادی ہونی چاہیئے اور فلاں بنیاد پر نہیں ہونی چاہیئے اب جو کوئی ان بنیادی باتوں کو طے کرنے بیٹھے گا ، وہ فیصلہ اپنی سوچ و عقل کی بنیاد پر کرے گا لیکن کبھی دو انسانوں کی عقل یکساں نہیں ہوتی اور دو زمانوں کی عقل یکساں نہیں ہوتی ، لہٰذا ان کے درمیان اختلاف رہا ہے رہے گا اور اس اختلاف کو ختم کرنے کا کوئی راستہ نہیں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ انسانی عقل کی اپنی ایک حد ہے ، اس سے آگے وہ تجاوز نہیں کر پاتی ۔

ان حالات میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس پوری انسانیت کے لئے سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ آپ نے ان تمام معاملات کو طے کرنے کی وہ بنیاد فراہم کی ہے کہ کون سا حق قابل تحفظ ہے ۔

اب اس مقام پر جہاں انسان کی عقل ناکارہ ہو جاتی ہے اور کوئی جواب نہیں دیتی تو اس مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رب العزت کی وحی لے کر آتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ یہ وہ بنیاد ہے جس کی روشنی میں ہم اپنے مسائل حل کر سکتے ہیں ۔

صفحہ ۲۱۳

دوسری فصل

مغربی ممالک میں انسانی حقوق کا ابتر منظر

فطری طور پر اٹھنے والے سوالات و مسائل کا جواب و حل تو مغربی دنیا کے پاس نہیں ہے مگر وہ یکطرفہ طور پر ان مبہم نظریات کو مسلم دنیا کے اوپر ٹھونسے جا رہی ہے اور اس سلسلہ میں دوہرا معیار اپنائے ہوئے ہے ، جب کہ ان کے اپنے ہاں آزادی رائے اور انسانی حقوق کی جو ابتر صورت حال ہے مندرجہ ذیل واقعات خوب اس کی عکاسی کرتے ہیں ۔

۱۹۶۸-۶۹ء میں غیر رومن کیتھولک فرقوں کو اپنے عقیدہ کے مطابق زندگی بسر کرنے اور اپنے عقیدہ کا اظہار کرنے کی اجازت مل سکی اس سے قبل ایسا کرنے پر سخت پابندی تھی ۱؂

یونان میں اب بھی اکثریتی آرتھوڈکس مسیحی فرقہ کے مقابلہ میں پروٹسٹنٹ اقلیتی فرقوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے ، نئے آئین میں بھی عملاً حقوق صرف آرتھوڈکس فرقہ کو تسلیم کیا گیا ہے ۔

۱؂ Recorder, London 13.10.94 , 13

صفحہ ۲۱۴

بلغاریہ میں پروٹسٹنٹ مسیحیوں کے ساتھ نہایت برا سلوک کیا جاتا ہے اور ان کے ایک گرجا گھر کی پرانی عمارت کو زبردستی تھیٹر میں تبدیل کر دیا گیا اس پر احتجاج ہوا تو پادری غداری کے مرتکب ٹھہرائے گئے ۔

پولینڈ رومن کیتھولک اکثریتی ملک ہے لیکن اس میں میتھوڈسٹ نامی فرقہ کو کام کرنے کی آزادی نہیں ۔ ۱؎

کولمبیا میں نئے ریاستی آئین کی رو سے پبلک سکولوں میں رومن کیتھولک تعلیم کر دی گئی ہے ۲؎

شمال مغربی اٹلی میں والدی فرقہ کے ۵۰ ہزار عیسائی رہتے ہیں وہ ملک کی رومن کیتھولک آبادی کے ہاتھوں اب تک محض اس لیئے ظلم و استبداد کا شکار ہیں کہ سولھویں صدی عیسوی میں "تحریک اصلاح کلیسا" میں حصہ لیا تھا حکومتی سطح پر بھی انہیں تنگ کرنے کے لیے ایک خاص ٹیکس کا نظام وضع کیا گیا ہے جس پر والدی فرقے کے لوگ سراپا احتجاج ہیں ۔

اسی طرح اٹلی میں رومن کیتھولک کے ماننے والوں کی ہے لہذا وہاں تمام سکولوں میں اسی کے مطابق تعلیم دی جا رہی ہے ، جس سے کثیر تعداد میں پروٹسٹنٹ

۱؎ Methodist Recorder , 13. 10. 94 , 16 ۲؎ Sign of The Times , 4:120

صفحہ ۲۱۵

فرقوں کے عیسائی سخت نالاں ہیں۔ ۱؎ بوسنیا میں کیتھولک دور حکومت میں آرتھوڈکس سرب مسیحیوں پر بڑے ظلم کئے گئے تھے، اب سرب آرتھوڈکس مسیحی بوسنیا میں مسلمانوں کے ساتھ کیتھولک عیسائیوں کو بھی تباہ کر رہے ہیں۔ انگریزوں نے ایک صدی تک پورے ھندوستان پر حکومت کی لیکن یہاں کے ان لوگوں کو جنہوں نے مسیحیت کو قبول کیا کبھی بھی اپنے پایہ نہ سمجھا، بلکہ شروع میں تو انہوں نے برصغیر کے سیاہ فام باشندوں کو قبول عیسائیت کی دعوت دینے کے قابل بھی نہیں سمجھا، اس سلسلہ میں ایک مسیحی جریدہ لکھتا ہے :

” درحقیقت پنجاب میں مسیحی مشن خاص طور پر رومن کیتھولکوں کی طرف سے صرف غیر ملکی اور اونچی ذات کے لوگوں میں دلچسپی رکھتا تھا ۔ اس طرح انہوں نے اچھوت ذات کے لوگوں کو یکسر رد کر دیا لیکن بعد ازاں جب انہیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تو انہیں احساس ہوا کہ یہ ہرگز مناسب طریقہ کار نہیں ہے، لہٰذا ان کا رجحان امیر طبقہ سے غریب طبقہ کے لوگوں کی طرف ہوا اور اس طرح ایک بڑی

۱؎ Methodist Recorder, 18.10.90, 16

صفحہ ۲۱۶

تعداد میں چوہڑوں نے مسیحیت کو اپنا مذہب قبول کیا ۔ ۱؎ بعد ازاں ان کے مسیحی ہونے کے باوجود اپنے سے کمتر سمجھا گیا ان کے گرجے یا کم از کم اوقات عبادت اپنے سے الگ رکھے گئے ، تاریخ کلیسا میں یہ تفریق ۔ بھی مذکور ہے کہ رومن کیتھولک گرجوں میں گھٹیا ذاتوں کے لیئے الگ جگہ ہوتی تھی ، کہیں منڈیر بنی ہوتی تو کہیں جنگلا ، اس کے علاوہ انہیں کھیتوں اور دیگر جگہوں پر سے مردہ جانور اٹھانے ، ان کی کھالیں اتارنے ، لاوارث لاشیں دفنانے قانون کے تحت مجرموں کو سزا دینے اور گندگی اٹھانے جیسے روایتی پیشوں کو ترک کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی ۲؎ اس طرح ”انسانی حقوق کا علمبردار معاشرہ“ اپنے ہم مذہب انسانوں کے ساتھ وہی چھوت چھات روا رکھتا تھا جیسا کہ ہندو مت سے چلی آرہی تھی ۔ ایک طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود انگریزوں کی اس پرانی ذہنیت میں تبدیلی نہ آسکی ، وہ آج بھی برطانیہ میں پاکستانی مسیحیوں کو امتیازی سلوک کے مستحق سمجھتے ہیں ، اگرچہ حکومت نے مساوی مواقع کا قانون بنا رکھا ہے ، مگر پاکستانی مسیحیوں کا وہاں نوکری حاصل کرنا ناممکن ہے ۳؎

۱؎ کیتھولک نقیب ، یکم اکتوبر ، ۱۰ ۲؎ Indian Church History , 219

صفحہ ۲۱۷

برطانیہ میں رنگ ونسل یا قومیت کا عملی طور پر بہت لحاظ رکھا جاتا ہے اقلیتوں میں ھندوؤں سکھوں اور یہودیوں کو قانونی طور پر تحفظ حاصل ہے مگر سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں کو کوئی قانونی تحفظ حاصل نہیں ۔ ١؎

محمد اسلم رانا (ایڈیٹر المذاہب) کے مطابق مساجد کی توڑ پھوڑ بے حرمتی اور ان میں سُؤر کا سر پھینکنا معمول بن چکا ہے مانچسٹر کی مسجد میں اکثر شریر نوجوان پتھر مار کر شیشے توڑ جاتے ہیں ٢؎ اور انگریزوں کے بچے تنگ کرنے کی غرض سے نماز کے دوران ایک بڑے کپڑے میں متعدد بار جوتے چوری کر کے لے جا چکے ہیں ٣؎

برطانیہ میں یارک کے مسلمان مسجد میں توسیع کر رہے تھے کہ غنڈوں نے مسجد پر پتھراؤ کر دیا اور اس پر پیٹرول بم پھینکے ۔ ٤؎

سکاٹ لینڈ میں اسلامک سنٹر اور مسجد فالکرک کی بے حرمتی کی گئی اور پینٹ سے دیواروں پر گندی گالیاں لکھی گئیں ٥؎

١؎ نجات جنوری ١٩٩٤ء ، ١٣ ٢؎ جنگ ، لندن ، ٢٦ ستمبر ٩٣ ، ٢ ٣؎ مسیحیوں کی حالت زار ، ٣٢ ٤؎ جنگ ، لندن ، ٧ ستمبر ٩٣ء ، ١٢ ٥؎ ایضاً ، ٣٠ ستمبر ٩٣ء ، ٨

صفحہ ۲۱۸

آسٹریلیا کے ڈیڑھ لاکھ مسلمان خوف و ھراس اور تعصب کا شکار ہیں ۔

امریکہ میں انسانی حقوق کی پامالی

امریکہ میں گوروں اور کالوں کے درمیان نسلی یا طبقاتی فسادات اب روزمرہ کا معمول بن گئے ہیں گوروں کو ہر طرح کی آزادی میسر ہے لیکن اس برعکس کالے حکومت کی ہر سہولت سے محروم ہیں لہذا ان کے اندر گوروں کے خلاف جذبات روز بروز شدید سے شدید تر ہو رہے ۔

۱۹۹۲ء میں لاس اینجلس شدید نسلی ہنگاموں کی زد میں آگیا کالوں نے امیر گوروں کے خلاف اپنی نفرت کا اظہار اس شدت سے کیا کہ لوگ جان بچا کر بھاگ کھڑے ہوئے ۔ ان فسادات میں پچاس افراد ھلاک اور اڑھائی زخمی جبکہ ڈیڑھ بلین ڈالر کی پراپرٹی تباہ ہوئی ۔

ان فسادات کی بنیاد نسلی تفریق ، طبقاتی تقسیم ، معاشی عدم مساوات اور غیر عادلانہ نظام بتایا گیا ۔ ۱؎

حال ہی میں چین کے سرکاری میڈیا نے انسانی حقوق کے متعلق امریکی

۱؎ نوائے وقت لاہور ، ۵ نومبر ۹۴ء ، ۸

۲؎ ایضاً ، ۲۸ نومبر ۹۳ء ، ۳

صفحہ ۲۱۹

”قانونی منافقت“ کی شدید مذمت کی ہے۔ اس کے مطابق جب امریکی قوانین بین الاقوامی معاہدوں سے متصادم ہوتے ہیں تو امریکہ کو انسانی حقوق یاد نہیں آتے۔ امریکہ نے انسانی حقوق کے متعلق اقوام متحدہ کے چارٹر پر دستخط کئے ہیں جس کے تحت ۱۸ سال سے کم عمر کے افراد کو سزائے موت سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے مگر وہ اس کی خلاف ورزی کرتا ہے اور ابھی تک اس رول کو امریکی قوانین میں شامل نہیں کیا گیا۔ ؎۱

۱ ؎ جنگ ، لاہور ، ۵؍ اپریل ۹۷ء ، ۱

صفحہ ۲۲۰

تیسری فصل

کیا توہین رسالت ایکٹ بنیادی انسانی حقوق و آزادی رائے کے منافی ہے؟

اللہ تعالیٰ کا عالم انسانیت پر سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ اس نے انسانوں کی رہنمائی کے لئے انسانوں کے اندر ہی سے سلسلہ نبوت جاری فرمایا ، ورنہ ساری انسانیت گمراہی میں گر چکی ہوتی ۔ پھر منصب نبوت پر فائز کرنے کے لئے صرف ان لوگوں کو منتخب فرمایا جو اپنے عہد کے بہترین اور اعلیٰ ترین انسان تھے تاکہ لوگ ان سے ”انسانیت“ سیکھیں ۔

انسانیت میں ہر وہ خوبی آ جاتی ہے جسے ہر سلیم الفطرت انسان پسند کرتا ہے اور اس کے مد مقابل خصلت اور عادت کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتا ہے اس وقت پوری دنیا میں جہاں کہیں بھی تھوڑی بہت انسانیت اور امن نظر آتا ہے بلاشبہ انبیاء کرام علیہم السلام کی تعلیمات ہی کی مرہون منت ہے ۔

جن لوگوں نے جس قدر تعلیمات انبیاء سے بے نیازی برتی وہ اسی قدر انسانی فضائل بلکہ انسانیت سے بھی محروم ہو گئے ۔

اُولٰئِكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ

صفحہ ۲۲۱

(یہ لوگ بالکل چار پایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی بھٹکے ہوئے ہیں ۔) ۱؎

یہی حال مغربی اقوام کا ہے کہ وہ انسانی حقوق کے علمبردار تو ہیں مگر اس کی بنیادی باتوں سے بھی واقف نہیں ہیں ، ان کے انسانیت اور انسانی حقوق کے معیار خود ساختہ ، مبہم ، متضاد اور دہرے ہیں بلکہ ان کے اعمال اور نظریات کو دیکھ کر یہ کہنا مبالغہ نہیں ہو گا کہ در حقیقت وہ انسانیت اور انسانی حقوق کو ترک کر چکے ہیں ۔ دنیا میں جہاں کہیں انہیں اپنے خود ساختہ قوانین یا مفاد کے خلاف کوئی اصول نظر آتا ہے تو وہیں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا واویلا مچانا شروع کر دیتے ہیں اور اس معاشرہ یا ملک کے لیے مصیبت کھڑی کر لیتے ہیں ۔ ـــــــــــــــ کچھ اسی طرح کا برتاؤ قانون توہین رسالت کے ساتھ بھی ہو رہا ہے ۔

مغربی اقوام نے جب سے اپنے مذہب کو اجتماعی معاملات سے جدا کر کے سیکولر رویہ اپنایا ہے انہوں نے انسانیت کو بنیادی حقوق فراہم کرانے والے اپنے عظیم محسنین ــــــ انبیاء کرامؑ کی تعظیم وتکریم سے بھی منہ موڑ لیا ہے حتیٰ کہ اپنے محسن اعظم جناب عیسیٰ مسیحؑ کی توہین

۱؎ الاعراف ۷ : ۱۷۹

صفحہ ۲۲۲

تحقیر کی بھی پروا کرنا گوارہ نہیں کرتے ۔ اب وہ چاہتے ہیں کہ عالم اسلام بھی ان کی پیروی میں ایسی بے حسی اور بے غیرتی کا رویہ اختیار کرے ۔

مسلمانوں کے لئے چونکہ یہ دین و ایمان کا معاملہ ہے اور ان کی دنیا و اخروی نجات حبِّ رسول اور اطاعتِ رسول سے وابستہ ہے اس لئے وہ ایسا نہیں کر سکتے لہٰذا ان پر بنیاد پرست ، قدامت پسند ، آزادی اظہار رائے اور بنیادی انسانی حقوق کا مخالف ہونے کا فتویٰ عائد کر دیتے ہیں ۔

اس مقام پر نہایت افسوس ناک بات یہ ہے کہ مغربی اقوام کی اندھی تقلید میں پاکستان کی مسیحی برادری بھی اس قانون کو جو کہ 94 % پاکستان کے بنیادی عقیدے پر مبنی ہے کی مخالفت میں پیش پیش ہے اور اسے اپنی آزادی و تحفظ ، بنیادی انسانی حقوق آزادیِ اظہار رائے کے خلاف قرار دے رہی ہے ۔

یہاں مقامِ غور یہ ہے کہ ایک ارب مسلمانوں کی محبوب ترین شخصیت کو گالیاں دینا ، ان کی ذاتِ گرامی میں عیب نکالنا اور ان کی تحقیر کرنا آخر کدھر کا بنیادی حق ہے ۔

عصرِ حاضر میں اگر کسی کی عزت و ناموس پر حملہ کیا جائے اور اس کی شہرت و مقبولیت اور عوامی ساکھ کو نقصان پہنچایا جائے تو توہینِ

صفحہ ۲۲۳

ھتک عزت کے طور پر کروڑوں اربوں روپے کے دعوے دائر کر دیئے جاتے ہیں گویا ایک عام انسان کی عزت و حرمت کو ناقابل جرح قدر مانا گیا ہے اگر کوئی آدمی انسانی اقدار (Human Values) کو پامال کرے تو عدالتیں ان انسانی اقدار کے تقدس و احترام کے لئے فیصلے جاری کرکے کروڑوں روپے اس کے ازالے کیلئے دیتی ہیں تاکہ کسی حد تک اس کی تلافی ہوسکے۔

حیرت ہے کہ عالم مغرب ایک عام انسان کی عزت و حرمت، احترام و تقدس کی بحالی اور اس بے حرمتی کے ازالے کے لئے اتنا سخت اقدام اٹھاتا ہے مگر اس عظیم شخصیت صلی اللہ علیہ وسلم جو کہ کروڑوں مسلمانوں کے ایمان کا حصہ ہے، کی توہین کرنے والے کی سزا کو انسانی حقوق کے خلاف قرار دے رہا ہے۔

ایک عام شخص کی ھتک کا ازالہ تو ھزاروں لاکھوں ڈالر تاوان ادا کرکے کیا جاتا ہے اور اسے اس ھتک سے پہنچنے والے نقصانات ازالہ اس گراں قدر تاوان سے ہو بھی سکتا ہے، مگر وہ عظیم المرتبت ھستی جنہیں کروڑھا مسلمان اپنی جان و عزت سے زیادہ عزیز سمجھتے ہیں، ان کی عزت کی ھتک کا ازالہ روپے پیسے سے ممکن نہیں بلکہ گستاخ کو جان اور زندگی سے محروم کرنا ہی اس کا ازالہ ہے۔

سیکولر اور مغرب زدہ لوگوں کے نزدیک اگر کوئی بدبخت پیغمبر

صفحہ ۲۲۴

انسانیت حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس پر حملہ کرتا ہے تو یہ بات ان کے نزدیک "حقوق انسانی" کی خلاف ورزی نہیں ہے لیکن اگر ایسے گستاخ پر قانونی گرفت کی جائے تو یہ آزادی اظہار رائے اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی بن جاتی ہے ۔

اس سلسلہ میں مغربی اقوام کا رویہ بعینہ اس بات کی طرح ہے کہ اگر کوئی بدمعاش و باغی آدمی کسی شریف آدمی کو گالیاں نکال کر سخت توہین و تحقیر کرے اور اس کے ساتھ اس کو زدوکوب بھی کرے ، تو جب اس قانون شکن مجرم کو سزا دی جانے لگے تو کچھ لوگ یہ مطالبہ شروع کر دیں کہ یہ اس شخص کا بنیادی انسانی حق ہے کہ وہ کسی کو جو جی میں آئے کہے اور جو جی میں آئے وہ کرے لہٰذا اس کو سزا دینے سے اس شخص کے بنیادی انسانی حقوق متاثر ہوں گے __________________ تو کیا یہ بات قرین انصاف ہو سکتی ہے یا عقل اسے قبول کرتی ہے ؟

اب جس شخص کی توہین و تحقیر ہوئی اور جس نے جسمانی و ذہنی تکلیف اٹھائی ، اس کے بنیادی انسانی حقوق اور ان کی پامالی کا ازالہ کرنا ۔ کسی کو یاد نہیں ۔

اسی طرح انسانی حقوق کی اس پامالی کے مستقبل میں معاشرے پر پڑنے والے مضر اثرات کو یکسر نظر انداز کر کے یک طرفہ طور پر صرف اسی شخص

صفحہ ۲۲۵

کے حقوق پورے کرنے پر سارا زور لگا دیا ، جس نے کہ خود انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی ہیں، کہاں کی دانشمندی ہے ۔

کیا ایسی سوچ یک طرفہ اور یہ مطالبہ غیر فطری نہیں ؟

کیا ایسے انسانی حقوق کے تصور سے ایک فلاحی معاشرہ کا قیام ممکن ہے جس میں ایک طرف کروڑوں انسانوں کے حقوق کو یکسر نظر انداز کر کے دوسری جانب صرف ایک قانون شکن انسان کے انسانی حقوق کو پورا کرنے پر زور دیا جارہا ہو ، جس نے کہ خود ایک نہایت محترم شخصیت کی عزت و عظمت پر حملہ کر کے پوری انسانیت کی توہین کی ہو اور اسے روند ڈالا ہو ۔

اصل میں ایسا تصور تو خود ساری انسانیت کے بنیادی حقوق کے منافی ہے ، جس میں ایک انسان کی عزت و ناموس کی تحقیر اور دیگر حقوق کو برباد کر کے ساری انسانیت کو خطرے میں ڈالنے والے شخص کا انسانی حقوق اور آزادی اظہار رائے کے نام پر تحفظ کیا جاتا ہے ، بلکہ یہ استحصال کی ہی ایک صورت ہے اور عالم مغرب کا مسلمانوں کے ساتھ طرز عمل اور انسانی حقوق کی عالمی صورت حال اس بات کو ثابت کرتی ہے ۔

بوسنیا ، کشمیر یا دنیا کے کسی بھی حصے میں مسلمانوں کے قتل عام اور عصمت دری کے واقعات پر اقوام مغرب کو انسانی حقوق کی پامالی ہوتی نظر نہیں آتی ، مگر مسلم آزار سرگرمی ختم کرنے کی کسی بھی کاروائی کو بنیادی انسانی

صفحہ ۲۲۶

حقوق اور آزادی اظہار رائے کی پامالی اور خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے ۔ اس طرح یہ دوھرا معیار اس حقیقت کو کھولنے کے لئے کافی ہے کہ یہ لوگ انسانی حقوق کے نام کو دنیا میں اپنے مذموم مفادات کے تحفظ اور مسلمان ممالک کو تنگ و ہراساں کرنے کے لئے استعمال کر رہے ۔

قانون توہین رسالت حقوق انسانی کا محافظ ہے

جب کوئی گروہ یا قوم یہ کہے کہ قانون " توہین رسالت " سے ہمارے بنیادی حقوق اور آزادیٔ اظہار رائے ختم ہو گئی ہے جس سے ھم عدم تحفظ کا شکار ہو گئے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ ان کے دلوں میں چھپا ہوا چور بول رہا ہے اگر ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کرنی ہی نہیں تو لاکھ ایسے قوانین بنتے رہیں انہیں غم کا ہے کا ہو سکتا ہے ۔

ا حق بات تو یہ ہے کہ یہ قانون کسی بھی شخص اور بالخصوص مسیحی اقلیت کے لئے ڈھال اور رحمت ہے بلکہ ان کے بنیادی حقوق کا محافظ ہے وہ اس طرح کہ اگر ۔ کوئی شخص کسی پر توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگائے اور بہتان تراشی کرے تو اس کیس کو عدالت میں لے جایا جا سکے ، یہاں ملزم اپنی صفائی پیش کر سکے ۔

صفحہ ۲۲۷

دوسرے یہ کہ یہ قانون مسلمانوں کے لئے بھی روک ہے کہ وہ قانون ہاتھ میں لے کر کسی بھی ملزم کو قتل نہ کر دیں اگر یہ قانون نہ ہو تو ظاہر ہے انارکی پھیلے گی اور ہر شخص کو جج اور جلاد کا کردار ادا کرنے کی خود ساختہ آزادی حاصل ہو جائے گی ۔

منشیات فروش سزائے موت کا مستحق، تو گستاخ رسالت کیوں نہیں

امریکہ اور مغربی ممالک آج منشیات کے خلاف بڑے منظم انداز میں مہم چلا رہے ہیں ، مختلف ادارے اور تنظیمیں اس کے انسداد کے لئے سرگرم عمل ہیں جو کہ لوگوں کو اس کے استعمال کے نتیجے میں پیدا ہونے والے جسمانی و نفسیاتی ، دماغی و جذباتی ، سماجی اور معاشرتی اور معاشی و اقتصادی اثرات سے آگاہ کیا جا رہا ہے یہ ایک ایسا مرض اور وباء ہے جس کے اثرات پورے معاشرے پر ظاہر ہوتے ہیں اس استعمال سے انسان شعور و آگہی سے عاری ہو جاتا ہے معاشرے کی اعلیٰ و ارفع اقدار تباہ و برباد ہو جاتی ہیں۔

انہی نقصانات کے پیش نظر کئی ممالک میں منشیات فروشی کی سزا موت رکھی گئی ہے ۔

اب اس پر تو کسی کو بھی کوئی اعتراض نہیں یہاں انسانی حقوق کے

صفحہ ۲۲۸

متاثر ہونے کا خطرہ کسی کو نظر نہیں آتا ۔

کیا یہ انسانی قدریں رہبر انسانیت حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و توقیر سے بڑھ کر ہیں جنہوں نے کہ خود انسانیت کو منشیات کے نقصانات سے آگاہ فرمایا اور اس کی ابتدائی تیاری سے لے کر پینے اور پلانے کے درمیان تمام مراحل میں شریک افراد پر لعنت فرمائی ۔

مگر دنیا کو انسانی اقدار کی بحالی و برقراری کے لئے منشیات فروش کی سزائے موت تو گوارا ہے مگر انسانیت اور انسانی اقدار قائم کرنے والے عظیم محسنین کی اھانت اور تحقیر کرنے والے کی سزا برداشت نہیں ہوتی یہ کھلی منافقت ہے ، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ عالم کفر اخلاقی اقدار و انسانی حقوق سے مخلص نہیں ہے ۔

ریاست کے اقتدار اعلی کے بچاؤ کے لئے قتل جائز تو محسن انسانیت کے لئے کیوں نہیں؟

جمہوری اقدار کی بحالی اور اقوام کے حق آزادی کے نام پر مغربی دنیا اپنے مفادات کے تحفظ و بقاء کے لئے کیا کچھ نہیں کر رہی ہے عراق نے عاقبت نا اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کویت پر حملہ کیا جو کسی بھی طرح درست نہ تھا تو امریکہ اور مغربی دنیا چونتیس ممالک کی افواج کے ساتھ عراق کو سزا دینے کے لئے حملہ وار ہو گئیں ۔

صفحہ ۲۲۹

اس ساری کاروائی کا مقصد ایک ریاست کے اقتدار کو بحال کرنا تھا، اسی طرح کسی بھی ملک میں اقتدار اعلیٰ کو ختم کرنے کی باغیانہ جسارت کرنے والے فرد یا گروہ کو سزائے موت سے ہمکنار کیا جاتا ہے۔ مسلمانوں کے نزدیک ساری دنیا کے اقتدار اعلیٰ سے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس اعلیٰ و ارفع ہے، اس لیئے جو کوئی ان کی عزت و ناموس پر حملہ کرتا ہے اسے مسلمانوں کے نزدیک موت سے ہمکنار کرنا کسی ملک کے اقتدار اعلیٰ کے ڈھانے والے شخص سے کہیں زیادہ اہم ہے۔

قانون توہین رسالت اقلیت آزار قانون نہیں

مغربی ممالک کی پشت پناہی کی بنا پر مسیحیوں کو پاکستان میں نفاذ اسلام کی کوششیں ایک آنکھ نہیں بھاتیں، جونہی کوئی اسلامی قانون بنے یہ لوگ حیلوں بہانوں سے اس کی خوب مخالفت کرتے ہیں، ان پر حملے کرتے ہیں اور نت نئے محاذ کھولتے ہیں اور ان سب مخالفانہ سرگرمیوں کو مغربی پریس خوب کوریج دیتا ہے۔ خصوصیت سے ”قانون توہین رسالت“ کے بارے میں پاکستانی مسیحی پریس کے اقوال وافکار حد درجہ افسوس ناک ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملکی آبادی کا فقط ۱٫۵۶ فیصد اکثریت کے مذہبی جذبات وحقوق کو محض آزادی اظہار رائے کے نام پر پامال کرنے میں کس قدر نڈر و بے باک اور خدا خوفی سے

صفحہ ۲۳۰

عاری ہے۔ مندرجہ ذیل بیانات سے ان کے منفی رجحانات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔

گیا، جس کے آخر پر یہ اعلان جاری کیا گیا :

کی نفی کرتے ہیں" ۱؎

ثبوت ہے۔" ۳؎

جدا کرتے ہیں، نفرتوں اور کدورتوں کی دیوار کھڑی کرتے ہیں" ۴؎

۱؎ نقیب، لاہور، ۲ فروری ۹۳ء، ۲۷

۲؎ شالوم، راولپنڈی، جنوری ۹۵ء، ۲۲

۳؎ کارٹیاس، لاہور، جنوری ۹۵ء، ۲۸

۴؎ ساون، لاہور، مارچ ۹۷ء، ۳۲

صفحہ ۲۳۱

آزادی چھیننے کی سازش کے لئے ہے “ ۱؎

یعنی مسیحیوں کو حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ، نعوذ باللہ گستاخی کرنے سے روکنے سے اقلیتیں دکھی اور انسان دوستی مجروح ہوتی ہے ۔

معاشرہ رواداری سے محروم ہوتا ہے ۔

انسان دشمنی ، تفریق اور کدورتیں فروغ پاتی ہیں ۔

۱؎ نقیب ، لاہور ، یکم اگست ۹۳ء ، ۱۹ ۲؎ جفاکش ، کراچی ، جنوری ۹۷ء ، ۴ ۳؎ ایضاً ، ۱۵ ۴؎ شاداب ، لاہور ، اگست ۹۷ء ، ۲۲ ۵؎ نئی دنیا ، لاہور ، اگست ۹۷ء ، ۲ ۶؎ شالوم ، راولپنڈی ، ۹۷ء ، ۲۰

صفحہ ۲۳۲

اقلیتوں کی مذہبی آزادی چھنتی ہے ۔

یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔

نا انصافی ہے ۔

بنیادی حقوق کی پامالی ہے ۔

مذہبی منافرت پھیلتی ہے ۔

آزادی فکر ، جمہوریت اور انسانی اقدار کی مخالفت ہے ۔

انسانیت کی توہین ہوتی ہے ۔

انسانی حقوق کے تقاضے پورے نہیں ہوتے ۔

تو گویا مسیحیوں اور لادین طبقہ کے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی (نعوذ باللہ) توہین کرنا حریت فکر ، جمہوریت پسندی اور مساوات کی پذیرائی کا باعث ہوگا ۔

اقلیت پروری اور انسان دوستی ہے ۔

اس سے معاشرہ اتحاد و اتفاق ، محبتوں اور قلبی لگاؤ سے معمور ہوگا ۔

اقلیتی طبقے مذہبی آزادی سے بہرہ ور ہوں گے ۔

مسیحی عالمی حقوق ، انسانی حقوق اور بنیادی حقوق سے لطف اندوز ہوں گے حق و انصاف کا بول بالا ہوگا ۔

خوش گوار مذہبی تعلقات ، جمہوریت ، انسانیت اور مساوات کو فروغ حاصل

صفحہ ۲۳۳

ہوگا ۔ انسانیت عز و شرف سے سرفراز ہوگی ۔ عفو و درگزر کا روح پرور منظر ہوگا ۔ ایسی سوچ کسی طرح بھی درست نہیں قرار دی جاسکتی ۔ اسی طرح سوال یہ بھی ہے کہ کیا اکثریتی طبقہ کا ملک پر کوئی حق نہیں ہے ؟

برصغیر کے مسلمانوں کی کوشش سے پاکستان کا قیام ہی اسلام کے نام پر عمل میں لایا گیا تھا کہ یہاں ملکی سطح پر اسلامی احکام اور قواعد و قوانین پوری آب و تاب کے ساتھ نافذ ہوں گے ۔ پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے ، اگر اس کے قوانین کو اسلام کے مطابق نہیں بنایا جاتا تو اس کی سلامتی کی بنیاد اور اس کے وجود کا جواز کچھ بھی نہیں رہتا ، تحریک و قیام پاکستان کے ادوار کی قربانیاں رائیگاں جاتی ہیں ۔ لہٰذا مسیحی اقلیت یا کسی اور کی طرف سے اس قانون کو ختم کرنے کا مطالبہ کرنا خود پاکستانی شہریوں کے حقوق کے منافی ہے ۔

۲۹۵۔سی کو ختم کرنے کا مطالبہ خود انسانی حقوق اور آزادی کے

مفہوم کے خلاف ہے

علمی حلقوں میں آزادی کی عام فہم یہی تعریف کی جاتی ہے کہ دوسروں

صفحہ ۲۳۴

کی آزادی مجروح نہ ہو، اسی طرح کروڑوں انسانوں کے قلوب مجروح کر دینا آزادی نہیں ہے ۔

انسانی حقوق اور آزادی کے باہمی تعلق، دائرہ کار اور مفہوم کو عموماً اس خوبصورت مثال سے واضح کیا جاتا ہے کہ لندن کے ایک فٹ پاتھ پر ایک شخص اپنی چھڑی گھماتا ہوا جا رہا تھا جو کہ کسی دوسرے آدمی کے ناک پر جا لگی، اس شخص نے اس پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ پہلے شخص نے کہا: میں ایک آزاد مملکت کا آزاد شہری ہوں، جو جی میں آئے کہوں گا اور جو جی میں آئے کروں گا۔ اس پر دوسرے آدمی نے خوب جواب دیا کہ تمہاری آزادی اس جگہ ختم ہو جاتی ہے، جہاں سے میری ناک شروع ہوتی ہے۔

ایک مسیحی مفکر Prof. L. Levonian مطلق آزادی فکر کے خطرناک نتائج اور آزادی کا مفہوم واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں ۔

” آزادی کا خطرناک ترین مفہوم اخلاقی اور معاشری اصولوں کو نظر انداز کر دینا ہے۔ دور حاضر میں نوجوانوں کے لئے یہ سب سے بڑا خطرہ ہے، کیوں کہ خدشہ ہے کہ آزادی کو عیاشی اور قانون شکنی تصور کر کے تمام مذہبی اور معاشری قوانین کی مطلق پروا نہ کریں۔ ایسا کرنا آزادی کے معانی کے سمجھنے میں قاصر رہنا ہے آزادی عیاشی اور اوباشی نہیں ہے۔ اخلاقی اصول کوئی غیر محدود

صفحہ ۲۳۵

بے قاعدہ باتیں نہیں، جو باہر سے لاکر انسان پر عائد کی گئی ہیں وہ انسانی طبعیت اور فطرت کے قوانین ہیں۔ خیالات کی پاکیزگی معاملات میں دیانتداری اور دوسروں کے حقوق کی رعایت کرنا اور خاندانی زندگی کی عظمت و عزت کو قائم رکھنا ، ہماری شخصی اور معاشری زندگی کی بنیاد ہے مذکورہ بالا باتوں کو نظر انداز کر دینا یا انہیں برطرف کر دینا آزادی نہیں بلکہ برعکس اس کے ایسا کرنے سے ہم اور زیادہ غلامی کے شکنجے میں جکڑے جاتے ہیں“ ۱؎

دوسری جگہ لکھتے ہیں :

”عقلی آزادی کے معانی حق اور راستی کے مطابق رائے قائم کرنا ہے ، نہ اپنی خوشی اور ارادہ کے مطابق ......... پس اخلاقی آزادی کا مطلب یہ نہ ہوا کہ ہم جو چاہیں اپنی حسب منشا کریں بلکہ یہ کہ ہم وہی کام کریں جو درست اور واجب اور ہم پر فرض ہے ، لہذا آزادی سے مراد درست اور ٹھیک کام کرنا ہے “ ۲؎

۱؎ حریت ، ۷ ۲؎ ایضاً ، ۱۶

صفحہ ۲۳۶

اپنے رسالہ کے آخر میں وہ اپنے مسیحی بھائیوں کو نصیحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

" آزادی کا اعلیٰ ترین مفہوم محبت ہے ، کیوں کہ محبت اور جھوٹ یکجا اکٹھے نہیں ہو سکتے محبت اپنے ہمسایہ کو کبھی ضرر نہیں پہنچاتی" ۱؎

مندرجہ بالا بیانات کی روشنی میں ظاہر ہوتا ہے کہ کسی کو بھی مادر پدر آزاد قسم کی آزادی اور اظہار رائے کا حق نہیں دیا جاسکتا ، کسی بھی مہذب ملک میں آج آزادی رائے و اظہار کے لئے عموماً حسب ذیل شرائط عائد کی جاتی ہیں :

نہ کیا جائے ۔

اجتناب کیا جائے ۔

۱؎ حریت ، ۱۶

صفحہ ۲۳۷

دنیا کے بیشتر ممالک میں مذکورہ شرائط کے ساتھ رائے و اظہار کی آزادیاں حاصل ہیں اور ان شرائط کو بھی انسانی حقوق ہی میں شامل کیا جاتا ہے اور مذکورہ شرائط کی خلاف ورزی کرنے والوں پر تعزیری قوانین نافذ کیئے جاتے ہیں۔

لندن میں ہائیڈ پارک کے ”اسپیکر کارنر“ میں آزادی تقریر کا مظاہرہ ہوتا ہے۔ وہاں جو شخص جس کو چاہے گالیاں دے برا بھلا کہے مگر وہاں بھی شرط ہے کہ حضرت یسوع مسیح علیہ السلام ، حضرت بی بی مریم اور ملکہ وقت کے خلاف ایک ایک لفظ بھی منہ سے نہ نکالا جائے۔

اس ساری بات سے واضح ہوا کہ انسانی حقوق کے ہی تحفظ کی خاطر کچھ پابندیاں اور قانون ہر معاشرہ اور ملک چاہے وہ لادین ہو یا دیندار وضع کرتا ہے تاکہ معاشرہ و ملک میں امن و بھائی چارہ کا ماحول رہے اور یہ پابندیاں فطری بھی ہیں۔

قانون توہین رسالت بھی اسی طرح کی ایک فطری ضرورت ہے لہٰذا اسے بنیادی انسانی حقوق اور آزادی اظہار رائے کے منافی قرار دینا سراسر غلط ہے۔

صفحہ ۲۳۸

چوتھی فصل

انسانی حقوق اور آزادی اظہار رائے — مسلمانوں کے لیے اہل مغرب کا دہرا معیار

عالم مغرب انسانی حقوق، رواداری اور آزادی اظہار رائے کا علمبردار ہونے کا زور شور سے دعویٰ تو کرتا ہے، مگر مسلمانوں کے بارے میں اس کا دہرا معیار تصویر کا دوسرا ہی رخ پیش کرتا ہے۔

فکر کو بنیاد بنا کر اس کی حمایت و اعانت کی، جب کہ اس کے خلاف مسلمانوں اور بالخصوص ایران نے اسی ”آزادی فکر و اظہار رائے“ کے حق کو استعمال کرتے ہوئے، اس کی مذمت کی اور قتل کا فتویٰ جاری کیا تو اہل مغرب نے اس کا سخت برا منایا۔

یعنی اہل مغرب اتنی سی رواداری کے قائل نہیں ہیں کہ ان کے علاوہ بھی کوئی اور آزادی اظہار رائے اور بنیادی حقوق کو حاصل کرسکے یا استعمال کرسکے۔

میں کتاب لکھی، مگر اسی برطانیہ میں جہاں آزادی اظہار رائے کا بڑا پرچار ہوتا ہے کوئی برطانوی پبلشر ڈاکٹر بشیر کی اس جوابی کتاب کو شائع کرنے پر تیار نہیں ہوا۔ اس کتاب لکھنے پر انہیں اتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کہ وہ برطانیہ چھوڑنے

صفحہ ۲۳۹

پر مجبور ہو گئے ۱؂ لیکن دوسری طرف انہی دنوں بنگلہ دیش کی تسلیمہ نسرین کی یورپ میں خوب پذیرائی ہوئی۔

"انٹرنیشنل گوریلے" کے نام سے پاکستان میں ایک فلم بنی، جس میں گستاخ رسول رشدی کو آسمانی بجلی سے جل کر راکھ ہوتا دکھایا گیا۔ اس کے ساتھ اس فلم میں پاکستانی عوام کے جذبات کی عکاسی اور مغربی معاشرہ کی دوہری پالیسیوں کو طشت از بام کیا گیا۔ اس فلم کو انگریزی دان طبقہ کے لیئے انگریزی میں بھی ڈب کیا گیا، شوٹنگ ویڈیو سنٹر، لندن کے مالک ماسٹر محمد فیاض نے اس فلم کے حقوق خرید کر اسے برٹش بورڈ آف فلم کلاسیفیکیشن کے سامنے پیش کیا، تو اس نے اس فلم کے پیش کرنے پر پابندی لگا دی۔ ۲؂

اس کے برعکس ترکی کے جس شخص نے سلمان رشدی کی کتاب کا ترکی زبان میں ترجمہ کیا، اسے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے امن و سلامتی کے ایوارڈ کے لیئے منتخب کیا۔ ۳؂

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یورپ کا انسانی حقوق کا معیار صرف اتنا ہے کہ

۱؂ نوائے وقت، لاہور، ۲۷ اگست ۹۷ء، ۶

۲؂ ناپاک سازش، ۱۴۳

۳؂ نوائے وقت، لاہور، ۲ جنوری ۹۷ء، ۶

صفحہ ۲۷۰

ہر کسی کو اسلام کے خلاف بولنے کی پوری آزادی اور تحفظ حاصل ہے لیکن اگر کوئی اسلام کے دفاع میں کچھ کہنا چاہے تو اس پر بنیاد پرستی اور تنگ نظری کا لیبل چسپاں کر دیا جاتا ہے۔

نے امریکی پرچم جلا کر اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ اس پر امریکہ نے حکومت پاکستان سے احتجاج کیا۔ ۱؎

امریکہ نے یہ احتجاج اس لئے کیا تھا کہ اس کے نزدیک امریکی پرچم جلانا اظہار رائے کی آزادی کے زمرے میں نہیں آتا، جب کہ پرچم جلانے والوں نے اپنے تئیں "اظہار رائے کی آزادی" کا ہی ایک طریقہ استعمال کیا تھا۔

اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی مسلمانوں کے نزدیک پرچم کے جلانے سے زیادہ بڑا جرم ہے اور یہ بھی آزادی اظہار رائے کے زمرے میں نہیں آتا۔

تعاون کرتا ہے اور مجرموں کو انٹرنیشنل پول کے ذریعے ایک دوسرے کے حوالے بھی کیا جاتا ہے لیکن ان کی پشت پناہی، مدد اور اعزازات دے کر حوصلہ افزائی

۱؎ نوائے وقت، لاہور، ۶ جنوری ۹۵ء، / جنگ، وہی تاریخ، ۱

صفحہ ۲۴۱

نہیں کی جاتی ۔

حکومت پاکستان نے تو اسی اخلاقی و قانونی اصول کے تحت اپنے ملکی قوانین کو بھی نرم کر کے یوسف رمزی اور عامل کانسی کو امریکہ کے حوالے کر دیا لیکن اس بات کو کیا کہا جا سکتا ہے کہ عالم اسلام کے مجرموں رشدی اور تسلیمہ نسرین کو نہ صرف پناہ دی گئی بلکہ رشدی سے برطانیہ کے سابق وزیر اعظم جان میجر اور امریکہ کے صدر بل کلنٹن نے خصوصی ملاقات کر کے اس کی پیٹھ ٹھونکی ۔ پھر سویڈن کے کے وزیر اعظم نے تسلیمہ نسرین کو اعزاز سے نوازا ۔

یہودی طلبہ و طالبات سر پر اپنی مخصوص مذہبی ٹوپی پہن سکتے ہیں، مگر مسلم طالبات کو سر ڈھانپنے کی اجازت نہیں ۔

اور تہذیبی اقدار کے خلاف مواد موجود ہوتا ہے برداشت کر لیا جاتا ہے، جب کہ مغربی ممالک میں مسلمان علماء جیسے احمد دیدات ، ابوالحسن علی ندوی اور یوسف قرضاوی کی کتب پر محض اس لیئے پابندی لگادی جاتی ہے کہ ان کا لہجہ مغرب مخالف ہے ۔

فطری حق ہے ۔ بعض اوقات مغربی ممالک مسلم آزار قوانین بھی بناتے ہیں، مگر

صفحہ ۲۷۲

مسلم ممالک اس لیئے خاموشی اختیار کرلیتے ہیں کہ یہ ان ممالک کا اندرونی معاملہ ہے، مگر جب کسی اسلامی ملک میں کوئی اسلامی قانون اور بالخصوص ”قانون توہین رسالت“ بنتا ہے، تو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا شور مچا دیا جاتا ہے۔

پیغمبر خدا“ (صلی اللہ علیہ وسلم) تھا، امریکی اداکار انتھونی کوئن نے اس فلم میں نعوذ باللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کردار ادا کیا۔ مسلمانوں کے سخت احتجاج کے باوجود جب یہ فلم بند نہ ہوئی تو ایک مسلمان خلیفہ حماس عبدالخالص نے واشنگٹن میں چند یہودیوں کو یرغمال بنا کر مسلمانوں کا مطالبہ تسلیم کروایا۔ اس کا طریقہ کار اگرچہ غلط تھا مگر اسے جرم کی نوعیت کے خلاف توقع سزا سے ہمکنار کیا گیا اور بعد میں اس کی بے گناہ بیوی اور تین معصوم بچوں کو بھی قتل کروا دیا گیا لے

مندرجہ بالا ساری گفتگو سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ مغربی ممالک نے بنیادی انسانی حقوق کا ایک خود ساختہ معیار بنا رکھا ہے، جس کی کوئی ٹھوس بنیاد اور اصول نہیں ہیں۔ خود مغرب میں انسانی حقوق اور آزادی اظہار رائے کی صورت حال انتہائی مخدوش ہے لیکن یہ قانون توہین رسالت کی سخت مخالفت کر رہے ہیں جو کسی بھی انسانی حق کے خلاف نہیں ہے۔

ان کے اس قانون پر اعتراضات کے انداز اور طرز عمل سے یہ بات معلوم ہوتی

لے جنگ، کراچی ، ۱۳ / مارچ ۱۹۷۷ء، آخر

صفحہ ۲۴۳

ہے کہ وہ رسول اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے بغض میں آپ کی ذات گرامی میں محض عیب نکالنے کی شتر بے مہار آزادی چاہتے ہیں کیوں کہ جب بھی کوئی دریدہ دہن ایسی حرکت کرتا ہے تو یہ انسانی حقوق کی آڑ میں اس کی تائید و حمایت میں کمر بستہ ہو جاتے ہیں لیکن جب اس کی سرزنش کی بات کی جائے تو اس کو آزادی اظہار رائے اور انسانی حقوق کے نام نہاد چارٹر کی خلاف ورزی قرار دے دیا جاتا ہے لہٰذا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسانی حقوق کے نام پر قانون توہین رسالت کی مخالفت مغربی ممالک کا محض ایک ڈھونگ ہے۔

PDF 244

چھٹا باب

قانون توہینِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم

پر

مسیحی اقلیّت کی طرف سے عائد کردہ

اعتراضات کا جائزہ

صفحہ ۲۴۵

(پہلی فصل) مسیحیوں کے قانون توہین رسالت پر اعتراضات کا جائزہ

۱۹۸۱ء کی مردم شماری کے مطابق مسیحی پاکستان کی سب سے بڑی اقلیت ہیں، اس مردم شماری کے مطابق ان کی آبادی ۱۳,۱۰,۴۲۶ ہے ۱۲,۷۶,۱۱۶ کی تعداد میں ہندو دوسری بڑی اقلیت ہیں، قادیانی ۱,۰۴,۲۴۴ اور پارسی ۷۰۰۷ ہیں ۱؎ ہندو اکثریت سندھ میں رہتی ہے، قادیانی اپنے آپ کو غیر مسلم سمجھتے ہی نہیں، قلیل التعداد پارسی زیادہ تر کراچی میں ہیں اور مسیحی پورے پاکستان میں پھیلے ہوئے ہیں، مگر پھر بھی ان کی اکثریت پنجاب کے بڑے اور اہم شہروں میں آباد ہیں ۔

مسیحی اقلیت سیاسی لحاظ سے فعال ہیں، متوازن قوت ہیں حزب اقتدار وحزب اختلاف دونوں کے نزدیک ان کی اہمیت مسلمہ ہے، چنانچہ ان کے ووٹ حاصل کرنے کی غرض سے دونوں گروہ انہیں زیادہ سے زیادہ حقوق ومراعات اور سہولتوں کی پیش کش کرتے رہتے ہیں، خواہ ان سے قرآن کریم کے صریح احکام کی خلاف ورزی یا وطن عزیز کے بنیادی نظریات پر زد ہی کیوں نہ پڑتی ہو۔ یورپی و مغربی ممالک میں بالخصوص جرمنی، برطانیہ اور امریکہ کی بنیاد پرست مسیحی طاقتیں

۱؎ Pakistan, 1986, 32

صفحہ ٢٤٦

پاکستان کی مسیحی اقلیت کی پشت پر ہیں ۔ مسیحی راہنما بہت ہوشیار ہیں ذرا ذرا بات پر اقوام متحدہ کو اپروچ کرلیتے ہیں بنابریں حوصلہ مند ہیں اور ارباب اقتدار کے دلوں کے نرم گوشے ان کے لیئے ہمیشہ وا رہتے ہیں ۔

انہی حالات کی وجہ سے پاکستان میں مسیحی اقلیت بے باک اور نڈر ہے جو جی میں آئے کہتے ہیں ، نفاذِ اسلام کی اہم کوشش شریعت بل کو ملائیت ، بنیاد پرستی ، شرارت بل اور کالا بل قرار دیتے ہیں ۔ یہ برملا آٹھویں ترمیم کی اسلامی دفعات کی مقدور بھر مخالفت کرتے ہیں اور اب بالخصوص ” توہین رسالت ایکٹ “ کے خاتمہ کے لیئے باقاعدہ ایک منظم محاذ قائم ہے ، جس کے تحت اس کے خاتمہ کی مہم کی خاطر مسیحی کانفرنس ہالوں میں اس کے خلاف جلسے منعقد کروائے جاتے ہیں ، جن میں ناروا پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے۔

مسیحی پریس اب بھی قرآن مجید ، احادیث پاک ، اللہ تعالیٰ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس ، اسلامی احکامات اور عبادات پر کھلے بندوں حملے کرتا اور ان کا مذاق اڑاتا ہے ۔ ١؎

١٩٩١ء میں توہین رسالت ایکٹ کی منظوری سے اب تک مسیحی اقلیت کی

١؎ کارٹیاس ، لاہور ، اگست ٩٢ء ، الخ ٢؎ اس کے لیئے بالخصوص مسیحی ماہنامہ : کلام حق ، گوجرانوالہ کے اگست ٩٣ء ، اکتوبر ٩٣ء اور مئی ٩٤ء کے شمارے ملاحظہ ہوں ۔

صفحہ ۲۷۷

اسلام دشمنی رویہ میں شدت روز بروز بڑھتی جا رہی ہے اور پھر اقلیت بیرونی طاقتوں کو مداخلت کی دعوت ۱ ، شورش و بغاوت برپا کرنے کی دھمکیاں ۲ دینے کے ساتھ ساتھ سخت جارحانہ اور احتجاجی رویہ اختیار کیئے ہوئے ہے ۔ بدقسمتی سے اس تحریک میں ملک کا بااثر سیکولر طبقہ بھی مسیحی اقلیت کے ساتھ بڑی سرگرمی سے شریک ہے اور سابق حکومت بھی اس قانون کی مخالف رہی ہے ۔

۱ نوائے وقت ، لاہور ، ۷ نومبر ۹۲ء ، ۸ اپریل ۹۳ء ، ۴ ، خبریں ، لاہور ، ۲۲ اپریل ۹۴ء ، ۶

۲ اس سلسلہ میں مسیحی ایم پی اے سندھ سلیم کھوکھر کی یہ دھمکی کہ یہ قانون واپس نہ لیا گیا تو پاکستان میں بھی بوسنیا جیسے حالات پیدا کر دیئے جائیں گے (نوائے وقت ، ملتان ، ۳ نومبر ۹۲ء ، ۲) اور قانون گستاخ رسول کے خلاف اجتماعات میں یہ دھمکیاں بھی نہایت تشویش ناک ہیں کہ اس طرح کے قوانین ختم نہ کئے گئے تو استحکام پاکستان بلکہ بقائے پاکستان کو شدید نقصان پہنچے گا اور افریقہ میں اور اسی امریکی شہر لاس اینجلس کی طرح کالے اور گورے لوگوں کے مابین ہونے والے فسادات پاکستان میں بھی ہو سکتے اور جنگ جیسی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے ۔ (شاداب ، لاہور ، فروری ۹۳ء ، ۵ ، ۱۷ اگست ۹۲ء ، ۲ ؛ نوائے وقت ، ملتان ، ۳ نومبر ۹۲ء ، ۸ ، ؛ جفا کش ، لاہور ، ۶ مارچ ۹۷ء ، ۳

صفحہ ۲۷۸

اس طبقہ کی طرف سے توہین رسالت ایکٹ پر متعدد اعتراضات سامنے آئے ہیں، جن کا ذکر و جائزہ حسب ذیل ہے :

ہے کہ اس قانون کو مذہبی جنونی اپنے مفاد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ مذہب کے نام پر اقلیتوں کو دوسرے درجے کا شہری بنا کر ان کی زندگی اجیرن بنا دی گئی ہے۔ یہ مکمل طور پر امتیازی قانون ہے اور خاص کر اقلیتوں پر تشدد کرنے کے لیے بنایا گیا ہے ۱؎ ۔

مسیحی اقلیت اس قانون کے بارے میں یہ موقف اختیار کر کے اس پر بے جا اصرار کر رہی ہے اگر ان کی اس بات کو تسلیم کر لیا جائے کہ چونکہ اس قانون کا استعمال غلط ہو رہا ہے لہذا اس قانون کو ہی ختم کر دیا جائے، تو اس اصول کے تحت سب قانون ختم کرنے پڑیں گے۔

قانون کے تحت عدالتی کاروائی کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دے۔ کوئی ملزم ، مجرم نہیں تو اس کو چھوڑ دیا جائے جبکہ جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزا دی جائے۔ ایسے میں یہ موقف اور اس پر

۱؎ پاکستان ، لاہور، ۱۱ اپریل ۹۴ء ، ۸ ، دفعہ ۲۹۵۔سی ، ص ۱۶-۱۷ ؛

ضرب شلاق ، ۲۱ ؛ خبریں ، لاہور، ۲۷ فروری ۹۵ء ، ۸ ، ۱۱ فروری ۹۵ء ، ۸ ؛

جنگ ، لاہور، ۱۱ فروری ۹۵ء ، ۸

صفحہ ۲۴۹

اصرار بالکل بے بنیاد ہے کہ یہ قانون ہی ختم کر دیا جائے ۔ یہ قانون کسی طرح سے بھی امتیازی نہیں ہے اور کسی اقلیت کے خلاف انتقامی کاروائیوں کے لیے نہیں بنایا گیا ۔ مسلمان بھی اس سے بالا تر نہیں ہیں ۔ اس بارے میں مسیحی جریدے کا یہ بیان بھی حقیقت حال واضح کرتا ہے :

” گستاخ رسول ایکٹ کے تحت سب سے زیادہ مقدمات مسلمان اکثریت پر قائم ہیں ، جن کی تعداد ہزاروں میں ہے ، دوسرے نمبر پر قادیانی مذہب آتا ہے ، جن پر سینکڑوں مقدمات قائم ہیں اور مسیحیوں پر ایک محتاط اندازہ کے مطابق تقریباً ایک درجن مقدمات قائم ہیں ۔“ ۱؎

اب جہاں تک تشدد ، عدم مساوات ، دوسرے درجے کے شہری اور مذہبی آزادی سلب کرنے کے الزامات کا تعلق ہے تو یہ سب حقیقت کے خلاف ہیں ۔ پاکستان میں مسلمان ان کی بحیثیت انسان اتنی قدر کرتے ہیں کہ انہیں اپنے کثیر المذاہب ملکی معاشرے کا قابل احترام رکن سمجھ کر اسمبلیوں اور دوسرے منتخب اداروں میں انہیں پہلو بہ پہلو بٹھا کر مذہبی اور معاشرتی رواداری کا ثبوت دے رہے ہیں ۔ ان کا ، ان کے مذہب کا اور بالخصوص مذہبی بزرگوں کا خاص احترام کیا جاتا ہے ۔ اب یہ اصل اسلام کا ان پر احسان نہیں ، مذہبی فریضہ ہے ۔

۱؎ کلام حق ، گوجرانوالہ ، جنوری ۱۹۹۷ء : ۱۴

صفحہ ۲۵۰

پاکستان میں مسیحیوں کو جس قدر تحفظ اور آزادی حاصل ہے ، تقسیم ہند سے قبل خود ان کے ہم مذہب انگریز کے دور میں بھی حاصل نہیں تھی۔ انگریزوں نے انہیں اپنے برابر کا عشر عشیر بھی نہیں سمجھا اور غیر منقسم ہندوستان میں ان کا جو مقام تھا وہ ڈھکی چھپی بات نہیں ہے ۔ ۱؎

اس صورت حال کے پیش نظر پاکستانی مسیحیوں کے لئے یہ جواز کہاں سے پیدا ہوتا ہے کہ وہ مسلمانوں کے مذہب اور ان کے پیغمبر علیہ التحیۃ والسلام کا احترام کرنے کی بجائے ان کے ناموس کی بے حرمتی کریں اور پھر سزا سے مستثنیٰ قرار پائیں ۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس قانون میں سزا جرم کی بنیاد پر رکھی گئی ہے، کسی کے مذہب کی بنیاد پر نہیں اگر یہ قانون صرف مسیحیوں کے خلاف استعمال کے لئے بنایا گیا ہوتا تو اس قانون کے تحت مقدمات بھی انہی پر بنتے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے اور مسلمانوں پر ہی اس قانون کے تحت مقدمے درج ہیں ۔

ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات میں اپنی شان میں گستاخی کرنے والوں کے

۱؎ کیتھولک نقیب ، لاہور، یکم اکتوبر ۱۹۸۱ء ، ۱۶ Indian Church History, 219

صفحہ ۲۵۱

لئے نہ تو کبھی سزائے موت کا حکم دیا تھا اور نہ کبھی یہ سزا تجویز کی تھی۔ یہ توہین رسالت کی سزا قرآن وحدیث سے بصراحت ثابت ہے اور اسوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی ابہام کے بغیر یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ آپ نے کئی شاتموں کو قتل کرنے کا حکم خود جاری فرمایا اور اس کے لیئے باقاعدہ مہمیں بھیجی گئیں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم کی فی الفور تعمیل کی اور اپنے دور میں بھی گستاخی کرنے والے افراد کو قتل کرنے کا حکم دیا آج تک پوری امت کا اس قانون پر اجماع ہے اور شاتم رسول کی سزا کے متعلق کسی کو کوئی اختلاف نہیں۔

اب یہ مسیحی برادری کے رویہ کی ایک اہم خامی ہے کہ وہ اس قانون کی مخالفت میں مسلمانوں کے متفقہ اور بنیادی عقیدہ کی نہ صرف مخالفت کر رہے ہیں بلکہ اسے خلاف اسلام بھی کہہ رہے ہیں۔ مسیحی برادری بھی اس بات سے انکار نہیں کرسکتی اور تاریخ اسلام اس بات کی شاہد ہے کہ مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین و تحقیر برداشت نہیں کرتے۔ ایسی صورت میں مسیحی برادری کی طرف سے اگر یہ مطالبہ کیا جاتا کہ توہین رسالت کے قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لیئے

۱ ضرب شلاق ، ص ۷۵ ؛ توہین رسالت ۳۸ ؛ دفعہ ۲۹۵۔سی ، ۲۸ ؛ شتم رسول کا مسئلہ ، ۱۱۷ ؛ نوائے وقت کراچی ۱۷ جنوری ۹۵ء ، ۸ ؛ جنگ ، لاہور ، ۸ فروری ۹۳ء ، ۸

صفحہ ۲۵۲

مناسب اقدامات کئے جائیں تو یہ بات قابل توجہ ہوتی لیکن وہ سرے سے اس قانون کو ختم کرنے کے درپے ہیں ، اب پاکستان ایک ایسا نظریاتی ملک ہے جس کی بنیاد ہی اسلام پر ہے ، اس ملک میں ایسا مطالبہ کس طرح درست ہو سکتا ہے ۔

بے نظیر بھٹو صاحبہ نے اس قانون پر یہ اعتراض کیا کہ توہین رسالت کی سزا کے متعلق تعزیرات پاکستان میں ترمیم کے بل کا مقصد ملک کو ملائیت کی طرف لے جانا ہے ، اس ملک میں جہاں بیس روپے میں گواہ مل سکتا ہے ، کسی بھی بے گناہ کو توہین رسالت کے جرم میں پھانسی پر چڑھایا جاسکتا ہے ۔ ۱

اس اعتراض کو پڑھنے کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان میں عدلیہ میں عدلیہ کا نظام اتنا ناقص ہو گیا ہے کہ اس سے حصول انصاف کی توقع ہی نہیں کی جاسکتی اور پاکستان کی اعلیٰ عدالتیں بھی سچ اور جھوٹ کے

۱ جنگ ، کراچی ، ۱۰؍ اگست ۱۹۹۲ء، ــــــــــــــــ اس بیان پر علمائے کرام نے بے نظیر بھٹو صاحبہ کو تجدید ایمان و نکاح کا بھی مشورہ دیا تھا (جنگ ، کراچی ، ۱۱؍ اگست ۱۹۹۲ء) کیوں کہ اس بیان میں اور بہت ساری سخت قابل اعتراض باتیں موجود تھیں۔

صفحہ ۲۵۳

درمیان امتیاز کرنے سے قاصر ہیں۔ پھر دنیا میں کون سا مقدمہ ہے، جس میں جھوٹی گواہی کے استعمال ہونے کا خدشہ نہ ہو اگر جھوٹی گواہیوں کے استعمال کے خدشہ و خوف کی بنا پر قوانین ہی ختم کرنے شروع کر دیئے جائیں تو پھر کتنے قانون باقی بچیں گے؟ چاہیے تو یہ کہ قانونی نظام کو درست کیا جائے نہ کہ مشکلات و خامیوں کی وجہ سے قوانین کو ہی ختم کرنا شروع کر دیا جائے۔

یہ قانون اس لیئے بنایا گیا ہے کہ مسیحیوں کو با آسانی ظلم و ستم کا نشانہ بنا کر انہیں اپنے مذہب سے منحرف ہونے پر مجبور کیا جاسکے۔ ۱؎

یہ اعتراض قانون توہین رسالت اور اسلامی قوانین سے عدم واقفیت کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے کیوں کہ اگر کوئی آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کرنے کے بعد سزا سے بچنے کے لیئے اسلام قبول کر لیتا ہے، تو بھی اس کی سزا معاف نہیں کی جاسکتی۔ ۲؎

لہٰذا اس اصول کی روشنی میں اس اعتراض کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی کہ یہ قانون مسیحیوں کو دباؤ ڈال کر مسلمان بنانے کے لیئے وضع کیا گیا ہے۔ پاکستان میں مسیحیوں کو مکمل مذہبی و تبلیغی آزادی حاصل ہے، کوئی بھی

۱؎ ضرب شلاق، ۱۷

۲؎ الصارم، ۳۰۴ ؛ ردالمحتار، ۳ : ۳۱۸ ؛ الشفاء، ۲ : ۲۷۴

صفحہ ۲۵۴

انہیں مذہب تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا اور نہ ہی ایسا ہوتا ہے اگر کوئی مسیحی اپنی مرضی و خواہش سے اسلام قبول کر بھی لے تو مسیحی برادری اس کے خلاف سخت قانونی مزاحمت کرتے ہیں اور اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے نومسلموں پر مقدمے قائم کرواتے ہیں ، جن کے باعث اکثر و بیشتر نومسلم دوبارہ اپنے سابقہ مذہب کی طرف لوٹ جاتے ہیں ۱؎

اس کے برعکس عیسائی مشنری بڑی تیزی سے پسماندہ علاقوں کے لوگوں کے ساتھ ساتھ جدید شہری آبادیوں کے ماڈرن اور تعلیم یافتہ افراد کو بھی مسیحی بنانے میں بڑی تیزی سے کامیاب ہو رہے ہیں ۲؎

یہ سب کچھ ہونے کے باوجود بھی پاکستان میں ارتداد پر کوئی قدغن یا کاروائی نہیں کی جاتی ۔

(ھ) مسیحی حلقوں میں اکثر و بیشتر یہ بات کہی جاتی ہے کہ یہ کیسا قانون و انصاف ہے کہ بلا تفتیش ایک بے گناہ کو اس کے ناکردہ گناہ کی سزا دینے والا تو غازی اور مجاہد کہلاتا ہے اور اسے قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی سزا بھی نہیں ملتی جب کہ ملزم کو اپنی صفائی پیش کرنے کا بھی موقع فراہم نہیں کیا جاتا ۳؎

۱؎ مسیحیوں کی حالت زار ، ۷۹ ؛ جسارت کراچی ، ۱۵ / جولائی ۹۴ء ، ۸ ۲؎ تکبیر ، کراچی ، ۲۸ / جنوری ۹۳ء ، ۲۵ - ۲۶ ؛ ۱۸ / فروری ۹۳ء ، ۳۸ - ۳۹ ۳؎ ضرب شلاق ، ۲۱

صفحہ ۲۵۵

یہ اعتراض اگرچہ بہت حد تک درست ہے کیوں کہ ہمارے معاشرہ میں اکثر یہ رویہ بہت حد تک بڑھ گیا ہے کہ لوگ کسی ملزم کو مجرم سمجھ کر خود ہی سزا دینے کا فریضہ سرانجام دینے کی کوشش کرتے ہیں، مگر قانون توہین رسالت کا حقیقی مقصد ہی اس خطرناک رویہ کی روک تھام کرنا ہے کہ کوئی قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی جرأت نہ کرے اور اگر ایسا کرے تو مجرم قرار پائے

اسی طرح یہ قانون ہر آدمی اور بالخصوص مسیحی اقلیت کے لیئے رحمت اور ڈھال ہے کہ اگر کوئی کسی پر توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگائے اور بہتان تراشی کرے تو اس کیس کو قانون کے مطابق عدالت میں لے جایا جاسکے، جہاں ملزم آزادی سے اپنی صفائی پیش کر سکے ۔

مزید یہ کہ حدود و تعزیرات نافذ کرنے کا اختیار صرف حکومت اور اس کی مقرر کردہ عدالتوں کا اختیار ہے، کوئی بھی شخص از خود یہ کام سرانجام دینے کا مجاز نہیں۔

اور قرآن مجید کی بے حرمتی کرنے کی جرأت ہی نہیں کر سکتا، لہٰذا اس قانون کو سرے سے ختم کر دینا چاہیے ۱؎

یہ اعتراض و مطالبہ اس بنا پر درست معلوم نہیں ہوتا کہ یہ حقیقت کے

۱؎ ضرب شلاق ، ۲۱ ، ۵۹

صفحہ ۲۵۶

خلاف ہے، پاکستان میں آئے دن قرآن پاک کو قصداً نذر آتش کرنے کے افسوس ناک واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔ برصغیر میں انگریزوں کی آمد سے لے کر اب تک جن عیسائیوں یا آریہ سماجی مصنفین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین پر مبنی کتب تحریر کیں، وہ سب پڑھے لکھے ہی تھے، ان پڑھ نہیں تھے اور یہ سلسلہ رکا نہیں جاری ہے۔ واقعات شاہد ہیں کہ غیر مسلموں کا ان پڑھ طبقہ بھی کسی سے کم نہیں رہا، رتہ دوہٹڑ (ضلع گوجرانوالہ) کے منظور مسیح، رحمت مسیح اور سلامت مسیح کا واقعہ اس کی نمایاں مثال ہے، چاند برکت، گل مسیح، حبیب مسیح اور سرور مسیح وہ ان پڑھ ہیں، جن پر اس جرم کے ارتکاب کا الزام ہے اور مقدمات زیر سماعت ہیں ۔ ۱؎

اس مطالبہ و اعتراض پر یہ اہم سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی صاف نیت ان پڑھ یا پڑھے لکھے غیر مسلم نے رسول اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کبھی کوئی نازیبا بات کہنی ہی نہیں، تو اس طرح کے لاکھ قوانین بننے پر انہیں اسے کس بات کا غم و فکر ہے ؟

قانون سازی کا معیار بہت پست ہے اور بین الاقوامی قانون سازی کے اصولوں

۱؎ ضرب شلاق ، ۲۱ ، ۵۶

صفحہ ۲۵۷

سے متصادم ہے، اسی طرح قانون توہین رسالت کی منظوری کے لیئے بھی پورے طور پر قانونی و آئینی تقاضے پورے نہیں کیئے گئے ہیں لہٰذا اسے ختم کر دینا چاہیئے ۱؎ پاکستان کی 96 ٪ آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے ، اس لیئے یہاں قانون سازی کے بنیادی مآخذ اسلامی شریعت اور مسلم روایات پر مبنی ہیں اور انہی کو معترضین بین الاقوامی معیار کے خلاف قرار دے رہے ہیں نیز یہاں سیکولر نظام حکومت قائم کرنے کی نہ صرف شدید خواہش رکھتے ہیں بلکہ اس کے لیئے کوشاں بھی ہیں۔ ۲؎

جہاں تک قانون توہین رسالت کی منظوری کا تعلق ہے، تو اسے اسمبلی میں باقاعدہ قرارداد کی صورت میں پیش کرنے سے لے کر منظوری حاصل کرنے تک کے تمام آئینی و قانونی مراحل طے کرنے پڑے ہیں۔ اسے کسی آمر نے مسلط نہیں کیا بلکہ مسلم قوم کے نمائندوں نے اسے منظور کر کے قانون کی شکل دی ہے۔ اس میں ترمیم کا فیصلہ بھی ایک آئینی عدالت نے آئین کے تحت فراہم کردہ اختیارات کو ہی استعمال کرکے کیا تھا ۔

۱؎ ضرب شلاق ، ۲۳ ، دفعہ ۲۹۵۔سی ، ۳۵ ۲؎ دفعہ ۲۹۵۔سی ، ۱۷ ، مسیحی رہنماؤں پر طوفان ، ۹-۱۲ ، کیتھولک نقیب یکم نومبر ۹۵ء ، ۹

صفحہ ۲۵۸

سنایا گیا ، تو یہ مطالبہ بار بار دہرایا گیا کہ گستاخ رسول کو گواہوں کی بنیاد پر سزا دینا غلط ہے بلکہ یہ سزا حقائق کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ ۱؎

پوری دنیا میں مقدمات کا فیصلہ شہادتوں کی بنیاد پر ہی ہوتا ہے۔ شہادت سے مراد وہ بیان ہوتا ہے جو اس علم کی بنا پر ہو جو مشاہدہ ، بصیرت یا مشاہدۂ بصر کے ذریعے حاصل ہوا ہو۔ ۲؎

یعنی شہادت کسی واقعہ کے بارے میں اپنے مشاہدے اور دید کے مطابق خبر دینے کو کہتے ہیں نہ کہ ظن و تخمین کی بنیاد پر۔ اسی واسطے شہادت کو خبر قاطع بھی کہا گیا ہے۔ ۳؎

گویا یہ حقائق سامنے لانے کا پہلا اور بنیادی ذریعہ ہے ، جن کے بغیر انصاف تک پہنچنا ممکن نہیں ، اس طرح شہادت حقائق ہی کی ایک صورت ہے ، جس کو کوئی شخص عدالت میں پیش ہو کر سامنے لاتا ہے لہٰذا دونوں کو جدا نہیں کیا جاسکتا لہٰذا یہ بات کہ سزا گواہی کی بنیاد پر نہیں

۱؎ نوائے وقت ، لاہور ، ۹ نومبر ۱۹۹۲ء ، ۱ ۲؎ دائرہ ، ۱۱ : ۸۱۶ ۳؎ بحر الرائق ، ۷ : ۵۵ ۴؎ لسان العرب ، ۳ : ۲۳۹ ، تاج العروس ، ۲ : ۳۹۱

صفحہ ۲۵۹

حقائق کی بنیاد پر دینی چاہیے ، بنیادی اصولوں سے لاعلمی کی بنا پر کہی جا رہی ہے۔

قانون مبہم اور غیر واضح ہے۔ ۱؎

جہاں تک توہین رسالت کی تعریف کا معاملہ ہے ، تو اس کی تعریف طے کرنا ممکن نہیں۔ توہین رسالت تو بس توہین ہے اور کوئی آدمی بھی اتنا بے شعور نہیں کہ اسے یہ علم نہ ہو کہ یہ الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی ہیں یا نہیں۔ کسی بھی کلام کے الفاظ خود بتا سکتے ہیں کہ یہ گستاخی ہے یا نہیں۔

ایک آدمی جو سامنے کھڑا ہے ــــــــــــــــــــــ یہ ایک حقیقت ہے۔ اس سے زیادہ اس کے وجود کا ثبوت اور اس کی تعریف ممکن نہیں ۔ اس کے باوجود اگر کوئی اس کے وجود کا ثبوت اور اس کے وجود کی حقیقت کی تعریف بیان کرنے کا مطالبہ کرے ، تو یہ بات معاملہ الجھانے کے مترادف ہوگی۔

نیت کا ذکر نہیں ہے۔ ۲؎

۱؎ خبریں ، لاہور ، ۲۸؍ فروری ۹۵ء ، ۸

۲؎ ن ، ۸؍ اپریل ۹۴ء ، ۸

صفحہ ٢٦٠

اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے ایک اصول متعین فرمایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیئے ایسا لفظ استعمال نہیں کیا جاسکتا، جسے غلط معنی پہنائے جانے کا تھوڑا سا بھی امکان ہو اور شان رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم میں ذرا بھی بے ادبی کا پہلو نکلتا ہو، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حُکماً "راعنا" کے لفظ کے استعمال پر پابندی لگادی۔ ۱؎ جبکہ یہ بات مسلّمہ ہے کہ لفظ "راعنا" کا استعمال کرتے وقت صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین بے ادبی اور گستاخی کے معنوں میں بولنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس ضمن میں صحابہ کرام کی نیتوں کو مدنظر نہیں رکھا۔ نتیجتاً یہ اصول حاصل ہوتا ہے کہ اہانت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے جرم میں نیت کا لحاظ نہیں کیا جائے گا۔

منسلک کر کے معاملے کو الجھانے کی کوشش کی ہے۔ ۲؎ جب کہ یہ بات واضح ہے کہ دین کے معاملے میں جبر نہیں، ہر غیر مسلم کو اس بات کی پوری آزادی حاصل ہے کہ وہ رسول اللہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبول کرے یا نہ کرے لیکن کسی کو بھی ان کی اہانت و توہین کی کسی صورت اجازت نہیں دی جاسکتی ۳؎

۱؎ البقرہ ۲ : ۱۰۴

۲؎ نوائے وقت، لاہور، ۱۴ جولائی ۱۹۹۲ء، ملی ایڈیشن، ص ۸ ، ۱۲ جولائی ۱۹۹۲ء، ص ۱

3 The Law of Tohin-i-Risalat, 48

صفحہ ۲۶۱

اسی طرح دنیا کا کوئی، آئین اور بنیادی حقوق کا چارٹر کسی فرد کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرے اور مذہبی معاملات میں دوسروں کی دل آزاری کرے۔

سے متصادم ہے، مگر ۱۹۷۳ء کے آئین میں اس بات کی صراحت موجود ہے کہ "اسلام پاکستان کا مملکتی مذہب ہوگا" ۱ "جمہوریت، حریت، مساوات، رواداری اور عدل عمرانی کے اصولوں کو اسلام کی تشریح کے مطابق پورے طور پر ملحوظ رکھا جائے گا" ۲ "قانون، امن عامہ اور اخلاق کے تابع (الف) ہر شہری کو اپنے مذہب کی پیروی کرنے اور اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کا حق ہوگا" ۳ "تمام موجودہ قوانین کو قرآن پاک اور سنت میں منضبط اسلامی احکام

1 Artical: 2

2 Artical: 2-A

3 Artical: 20

صفحہ ٢٦٢

کے مطابق بنایا جائے گا، جن کا اس حصہ میں بطور اسلامی احکام حوالہ دیا گیا ہے اور ایسا کوئی قانون وضع نہیں کیا جائے گا، جو مذکورہ احکام کے منافی ہو۔ ۱؎

اس طرح آئین کے آرٹیکل ٢ الف کے مطابق جمہوریت ، مساوات اور رواداری وغیرہ کا وہ تصور نہیں لیا جائے گا ، جو مغرب یا اشتراکی ممالک میں مروج ہے۔ پاکستان کا آئین مغرب کی مادر پدر آزادی کی اجازت نہیں دیتا ، ملک کا موجودہ آئین حکومت اور شہری کو پابند کرتا ہے کہ جمہوریت ، حریت ، مساوات ، رواداری اور عدل عمرانی کے اصولوں پر اسلام کی تشریحات کے مطابق عمل کیا جائے گا۔

آرٹیکل ٢٠ جو کہ بنیادی حقوق کے باب کا حصہ ہے ، اس میں ہر شہری کو خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم اپنے مذہب کی پیروی کرنے ، اس پر عمل کرنے اور اس کا پرچار کرنے کے لئے تین شرائط : (١) ملکی قانون (٢) امن عامہ اور اخلاقیات کے تابع ہیں ۔ ٢؎

لہٰذا آئین کے تحت عطا کردہ بنیادی حقوق کسی کو یہ حق نہیں دیتے کہ وہ مسلمانوں کے اکثریتی ملک میں ایسی ہستی کی توہین کرے ، جن کی عزت

1 Artical: 227

2 Artical: 20

صفحہ ۲۶۳

و احترام اور عظمت و توقیر کرنا مسلمانوں کے ایمان کا حصہ ہے ۔ آئین کے مطابق تو توہین رسالت کا مرتکب شخص نہ صرف اس قانون (۲۹۵۔ سی تعزیرات پاکستان) کی خلاف ورزی اور امن عامہ سے کھیلنے کا مجرم قرار پائے گا بلکہ ایسا فرد مسلمانوں کی تہذیب و تمدن اور اخلاقیات سے سے بغاوت کا بھی سزاوار ٹھہرے گا ۔

صفحہ ۲۶۴

دوسری فصل

مسیحیوں کے پرتشدد رویہ کا جائزہ مسیحی تعلیمات کی روشنی میں

مندرجہ بالا اعتراضات کے بے وقعت اور بلا جواز ہونے کے ساتھ ساتھ اس قانون کے خلاف مسیحی اقلیت کی جانب سے احتجاج، مخالفت اور اعتراضات کا سلسلہ انجیل مقدس اور مسیح علیہ السلام کی سیرت و تعلیمات کے سراسر خلاف ہے۔ مسیحیت میں حضرت مسیح علیہ السلام کو ”شہزادۂ امن“ پکارا جاتا ہے۔ انجیل مقدس کا مطلوب مسیحی ایک مطیع و منقاد، انتہائی فرمان بردار اور ہر ماحول میں، ہر موقع اور ہر قیمت پر حیرت انگیز حد تک پرامن اور صابر و شاکر ہونا چاہیے ۱؎

حضرت مسیح علیہ السلام کے زمانے میں فلسطین قیصر روم کے زیر نگین تھا، جب آپ سے یہ پوچھا گیا کہ ”قیصر کو جزیہ دینا روا ہے یا نہیں؟“ تو آپ نے جواب دیا تھا: ”جو قیصر کا ہے قیصر کو اور جو خدا کا ہے خدا کو ادا کرو“ ۲؎

۱؎ متی ۵ : ۳۹ - ۴۴ ؛ ۱ - پطرس ۲ : ۱۲ - ۲۳ ؛ رومیوں ۲ : ۱۷ - ۲۱

۲؎ متی ۲۲ : ۱۷، ۲۱

صفحہ ۲۶۵

آگے چل کر حضرت مسیح علیہ السلام کے اس فرمان کی بھر پور اور تفصیلی وضاحت موجود ہے، جس میں مسیحیوں کو حکومتی قوانین اور فیصلوں کی مخالفت سے باز رہنے کی ہدایت کی گئی ہے:

ہر شخص اعلیٰ حکومتوں کا تابعدار رہے کیوں کہ کوئی حکومت ایسی نہیں جو خدا کی طرف سے نہ ہو اور جو حکومتیں موجود ہیں، وہ خدا کی طرف سے مقرر ہیں۔ پس جو کوئی حکومت کا سامنا کرتا ہے وہ خدا کے انتظام کا مخالف ہے اور جو مخالف ہیں وہ سزا پائیں گے۔ کیوں کہ نیکو کار کو حاکموں سے خوف نہیں بلکہ بد کار کو ہے۔ پس اگر تو حاکم سے نڈر رہنا چاہتا ہے تو نیکی کر ، اسکی طرف سے تیری تعریف ہو گی۔ کیوں کہ وہ تیری بہتری کے لیئے خدا کا خادم ہے لیکن اگر تو بدی کرے تو ڈر کیوں کہ وہ تلوار بے فائدہ لیئے ہوئے نہیں اور خدا کا خادم ہے کہ اس کے غضب کے موافق بد کار کو سزا دیتا ہے۔ پس تابعدار رہنا نہ صرف غضب کے ڈر سے ضرور ہے بلکہ دل بھی یہی گواہی دیتا ہے۔ تم اس لیئے بھی خراج دیتے ہو کہ وہ خدا کے خادم ہیں اور اسی خاص کام میں ہمیشہ مشغول رہتے ہیں۔ سب کا حق ادا کرو ، جس کو خراج چاہیئے خراج دو ، جس کو محصول چاہیئے محصول، جس سے ڈرنا چاہیئے اس سے ڈرو ، جس کی عزت کرنا چاہیئے

صفحہ ٢٦٦

اسکی عزت کرو“ ١؎

حضرت مسیح علیہ السلام نے رومی حاکموں کی اطاعت میں درویشانہ طریق زندگانی کو ترجیح دی ، عوام کی خواہشات و آرزوؤں کے برعکس بادشاہت پر لات مار دی ٢؎ بدلہ لینے کی بجائے معاف کر دینے کی ترغیب دی ٣؎ تشدد پسندی کی جڑ کاٹ کے رکھ دی ، جب حضرت مسیح علیہ السلام کو گرفتار کر کے لے جایا جارہا تھا ، تو آپ کے ایک حواری نے تلوار سے ایک پیادہ سپاہی کا کان اڑا دیا ، اس پر مسیح علیہ السلام نے اس سے کہا :

”اپنی تلوار کو میان میں کرلے کیوں کہ جو تلوار کھینچتے ہیں وہ سب تلوار سے ہلاک کئے جائیں گے“ ٤؎

ان احکامات کے برعکس مظاہرے اور سڑکوں پر ہنگامہ آرائی ، ٹائر جلا کر یا دھرنا مار کر ٹریفک جام کرنا ، توڑ پھوڑ ، راہ گیروں پر تشدد ، حکومت اور علماء اسلام کے خلاف نعرہ زنی ، اسلامی قوانین کی مخالفت ، ان کی منسوخی کا مطالبہ اور ذاتی و سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا ، قانون شکنی اور خلقِ خدا کی ایذارسانیوں

١؎ رومیوں ١٣ : ١-٧

٢؎ یوحنا ٦ : ١٥

٣؎ لوقا ١١ : ٤ ؛ متی ٦ : ١٤

٤؎ متی ٢٦ : ٥١ - ٥٢

صفحہ ۲۶۷

کے زمرہ میں آتے ہیں۔ یہ سب چیزیں مسیحی اقلیت کی روایتی امن پسندی اور انجیل کی خوبصورت و دلربا تعلیمات اور اعلیٰ اقدار کے منافی ہیں، ”شہزادہ امن“ کے مقدس خطاب پر دھبہ ہیں ۔

ہمیشہ سے مسیحی اقلیت کے سنجیدہ حلقے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین اور اہلِ اسلام کی دل آزاری کی سختی سے ممانعت کرتے رہے ہیں ۔

پادری عنایت اللہ مجاہد ( ایڈیٹر : کلامِ حق ، گوجرانوالہ) لکھتے ہیں :

”مسیحیت کے نزدیک کسی مذہب کے پیروؤں یا کسی فردِ واحد کی دل آزاری گناہِ عظیم ہے ..... بلکہ ہمارا تو عقیدہ ہے کہ قوم کے بزرگان اور مذہبی پیشواؤں کے علاوہ اگر تیرے کھانے سے تیرے بھائی کو رنج پہنچتا ہے ، تو تو محبت کے قاعدے پر نہیں چلتا اور بائبل کی تعلیم یہ ہے کہ اگر کھانا میرے بھائی کو ٹھوکر کھلائے ، تو میں کبھی ہرگز گوشت نہ کھاؤں گا تاکہ اپنے بھائی کے لیئے ٹھوکر کا سبب نہ بنوں “ ١؎

معروف مسیحی عالم ڈبلیو . اے . سنگھ نے ایم غلام نبی شتّم کو اپنے ایک خط میں تحریر کیا :

١؎ کلام حق ، گوجرانوالہ ، اگست ۵۸ء ، ص ۶

صفحہ ٢٦٨

"جہاں تک عیسائی اور ان کے پادریوں کا اسلام پر حملے کرنے کا تعلق ہے ، تو عرض خدمت ہے کہ ایسے ناہنجار لوگ ہر مذہب میں پائے جاتے ہیں ، میں اسے مستحسن بات نہیں سمجھتا" ۔ ١؎

دور حاضر کے دو اہم مسیحی جرائد کے یہ بیانات بھی بہت اہم ہیں :

"کسی فرد کو قطعی طور پر یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ انبیاء کرام کی سیرت پر نازیبا الفاظ کہے ، یہ واقعی قابل مذمت ہے اور اس سے معاشرے میں محبت اور اخوت پامال ہوتی ہے"۔ ٢؎

"کسی مذہب کی توہین کرنا ، کسی کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنا انسانی حقوق کی سب سے بڑی خلاف ورزی ہے"۔ ٣؎

اسی طرح "قانون توہین رسالت" کی موجودہ مخالفانہ تحریک میں بھی انہی سنجیدہ لوگوں کی طرف سے واضح طور پر کہا گیا کہ وہ اس قانون کے مخالف نہیں ہیں اور نہ ہی اسے ختم کرانا چاہتے ہیں :

"ہم مسیحی قوم تعزیرات پاکستان دفعہ ٢٩٥ سی یعنی

١ قرآن مجید پر اعتراضات اور ان کے جوابات ، ١٧

٢ جفاکش ، لاہور ، جنوری ٩٤ء ، ١٥

٣ کاریتاس ، لاہور ، نومبر ٩٤ء ، ٦١

صفحہ ۲۶۹

گستاخ رسول کے مخالف نہیں ، ہم صرف یہ درخواست کرتے ہیں کہ جو مسیحی اس الزام کے تحت پابند سلاسل ہیں یا ہوں گے ، ان کے لیئے ایک خصوصی عدالتی کمیشن بنایا جائے ، جس کا سربراہ ہائی کورٹ کا جج ہو مسلمان اور مسیحی قومی یا صوبائی نمائندے ، مقامی انتظامیہ اور دونوں پارٹیاں مل کر غیر جانبدار تحقیقات کریں اور اگر ملزم واقعی مجرم ہو تو اس کو قانون کے مطابق سزا دی جائے ، بصورت دیگر رہا کر دیا جائے “ ۱؎

سابق وفاقی وزیر برائے وزارت بہبود آبادی جولیس سالک نے کہا کہ چونکہ تعزیرات پاکستان میں توہین رسالت کی سزا موت ہے ، اس لیئے اگر کسی کو یہ سزا ملتی ہے تو اسے کسی کے خلاف انتقامی کاروائی کا نشانہ بنانا نہیں کہا جا سکتا ۲؎

جو لوگ توہین مذہب و توہین رسالت کا قانون منسوخ کروانے کی کوشش کر رہے ہیں آکسفورڈ کے بشپ انہیں یہ کہتے ہیں : ” گو گستاخی مسیح کا موجودہ قانون کئی پہلوؤں سے تسلی بخش نہیں

۱؎ کلام حق ، گوجرانوالہ ، مارچ ۹۷ء ، ۱۳ ۲؎ جنگ ، لاہور ، ۱۹ فروری ۹۵ء ، ۸

صفحہ ۲۷۰

ہے ، اسے ختم کر دینے کا مطلب یہ ہوگا کہ اب ہمارے معاشرہ میں مذہب کا کوئی مقام نہیں رہا ہے۔" ۱؎

قانون توہین رسالت کا دائرہ وسیع کرنے کا مطالبہ

مسیحی اقلیت جہاں ایک طرف قانون توہین رسالت ختم کرنے کا پرزور مطالبہ کررہی ہے ، وہیں اس کے کچھ حلقے اس مطالبہ کے برعکس اس قانون کا دائرہ تمام انبیاء اور بالخصوص سیدنا مسیح علیہ السلام تک وسیع کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ۲؎

اس سلسلہ میں لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ ایل کے ٹریسٹر (بشپ کینٹ ، چیئرمین چیف آرگنائزر پاکستان مسیحی پارٹی) کی طرف سے چلائی جانے والی مہم قابل ذکر ہے۔ ۳؎

ان کے علاوہ میانوالی کے بشپ کینٹ نے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی کہ ”توہین رسالت ایکٹ“ میں حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کا نام

۱؎ Recorder, London, 17.3.94, 18 ۲؎ ضرب شالاق ، ۲۹ ، شاداب ، لاہور ، اگست ۹۲ء ، ۹ ۳؎ خبریں ، لاہور ، ۱۲؍ اپریل ۹۴ء ، ۸

صفحہ ۲۷۱

بھی شامل کیا جائے ، تو ھائی کورٹ کے فل بینچ نے ان کی درخواست پر یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ کے پیغمبروں اور رسولوں کی توہین کے مرتکب کسی بھی شخص کے خلاف توہین رسالت ایکٹ میں لفظ "تمام پیغمبروں" استعمال کیا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے وہ تمام پیغمبر جن کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے اور شرعی عدالت پہلے ہی اس سلسلہ میں احکامات جاری کر کے تمام پیغمبروں کو اس ایکٹ میں شامل کر چکی ہے، لہٰذا درخواست گزار کو مزید ریلیف دینے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ۱؎

مسیحیوں کے اس طبقہ کی طرف سے مسلم دل آزاری کی مخالفت، توہین رسالت ایکٹ کی عدم مخالفت اور اسے وسیع کرنے کے مطالبہ سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ جو لوگ قانون توہین رسالت پر اعتراض کر رہے ہیں اور اسے ختم کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں، وہ اپنے مذہبی احکامات اور روایات سے قطعاً واقف نہیں اور ان سے کنارہ کشی کرکے لادینیت و مغرب پرستی کے رجحان میں بہتے ہوئے محض مغربی اقوام کی خوشنودی و حمایت حاصل کرنے کے لیئے یہ سب کچھ کر رہے ہیں ۔

رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَاَنْتَ خَیْرُ الْفَاتِحِیْنَ ہ

۱؎ P.L.D, Lahore, Aug 94, 485

PDF 272

ساتواں باب

توہین رسالتﷺ ایکٹ

میں

مجوزہ ترمیم اور اس کے ممکنہ

نتائج و عواقب جائزہ

صفحہ ۲۷۳

پہلی فصل

ناموس انبیاء اور جدید مغربی رجحانات

دنیا کے اکثر و بیشتر ممالک میں مغربی افکار و اثرات کا دور دورہ ہے وہیں کی درسگاہوں کے تعلیم یافتہ ہر شعبہ میں برسر اقتدار ہیں۔ مغرب نے تو اپنی اجتماعی زندگی میں سے مذہب کو خارج کر دیا ہے اور اب دنیا میں جہاں کہیں کوئی معاشرہ مذہب پر کاربند نظر آئے، تو وہ انہیں ان مذہبی روایات کی پیروی ترک کرنے اور اپنے نقش قدم کی اتباع کا حکم صادر کرتا ہے۔

برطانیہ میں بھی ”گستاخ مسیح و مذہب“ کا قانون موجود ہے، گزشتہ سالوں میں یہ موضوع زیر بحث آیا، تو انسانی حقوق کے یورپی کمیشن نے برطانوی سرکار کو اس قانون پر نظر ثانی کا مشورہ دیا، مسلمانوں نے اس قانون کا دائرہ کار وسیع کرنے کا مطالبہ کیا، بحث بڑھی تو ایک ممتاز مسیحی بشپ آف ڈرھم نے کہا :

"Defending God from blasphemy was a waste of time" 1

1 Recorder, London, 17.3.94, 14

صفحہ ۲۷۴

(خدا کو گستاخی سے بچانا تضیع اوقات ہے)

اس سوچ کی تہہ میں کارفرما حقیقت یہ ہے کہ مسیحی مذہب اور اس کی مقدس کتاب بائبل خدا کو قابلِ قدر اور انبیاء کو معزز شخصیات بنا کر پیش نہیں کرتی۔ لکھا ہے : ”خدا بھسم کرنے والی آگ ہے“ ۱؎ ”خدا دغا دینے والا ہے“ ۲؎ ”خدا بے وقوف ہے“ ۳؎ ایک طرف خدا کو قادر مطلق بھی تسلیم کیا جاتا ہے اور دوسری طرف یہ بھی عقیدہ ہے کہ یہی خدا ”کمزوری کے سبب سے مصلوب کیا گیا“ ۴؎

بائبل میں بزرگانِ دین اور جلیل القدر انبیاء کرام علیہم السلام کے متعلق سخت قابلِ اعتراض اور بہت توہین آمیز باتیں موجود ہیں ، حتیٰ کہ عظیم شخصیات اور انبیاء کرام علیہم السلام کے گناہوں ، فحاشیوں اور بدکاریوں کے تذکرے عام ہیں ۔

حضرت نوح علیہ السلام کے شراب پی کر برہنہ ہونے ۵؎ حضرت یعقوب علیہ السلام کا اپنے والدِ محترم حضرت اسحق علیہ السلام سے دغا بازی اور فریب کر کے

١؎ استثناء ۴ : ۲۴ ٢؎ یرمیاہ ۴ : ۱۰ ٣؎ ۱۔کرنتھیوں ۲ : ۲۵ ۴؎ ۲۔کرنتھیوں ۱۳ : ۴ ۵؎ پیدائش ۹ : ۲۰-۲۱

صفحہ ۲۷۵

وراثت کا حق حاصل کرنے ۱؎ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا خدا کی نافرمانی کرنے ۲؎ حضرت داؤد علیہ السلام کا غیر عورت کے ساتھ زنا کرنے اور پھر اس سے شادی کرنے کی غرض سے اس کے خاوند کو ناحق قتل کروانے ۳؎ جناب یرمیاہ کا بادشاہ کے دباؤ پر جھوٹ بولنے ۴؎ حضرت لوط علیہ السلام کا اپنی بیٹیوں سے زنا کرنے اور پھر ان سے اس فعل کے نتیجہ میں اولاد پیدا ہونے ۵؎ جناب روبن کا اپنی ماں سے زنا کرنے ۶؎ جناب امون کا بہن سے زنا بالجبر ۷؎ حضرت سلیمان علیہ السلام کا بڑھاپے میں بت پرست عورتوں کے عشق میں مبتلا ہو کے بت پرستی اختیار کرنے ۸؎ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے داشتہ رکھنے ۹؎ اور بت پرستی ۱۰؎ کرنے کے واقعات صریح اور فحش الفاظ میں موجود ہیں۔

۱؎ پیدائش باب ۲۷ ۲؎ گنتی باب ۲۰ ۳؎ ۲۔ سموئیل باب ۶ ، باب ۱۱ ۴؎ یرمیاہ باب ۳۸ ۵؎ پیدائش باب ۱۹ ۶؎ ایضاً باب ۳۵ ۷؎ ۲۔ سموئیل باب ۱۳ ۸؎ ۱۔ سلاطین باب ۱۱ ، تواریخ بائبل ، ۳۰۴ ۹؎ پیدائش باب ۱۵ ، بزرگان بائبل ، ۷ ۱۰؎ یشوع باب ۲۴

صفحہ ۲۷۶

جن کی صداقت پر یہودی اور مسیحی دونوں ایمان رکھتے ہیں (نعوذ باللہ من ذالک) یہودی و مسیحی انبیاء کرام علیہم السلام کو معصوم عن الخطاء نہیں مانتے وہ لکھتے ہیں :

”نہ صرف بائبل مقدس میں انبیاء کے گناہوں کا ذکر پایا جاتا ہے بلکہ قرآن شریف اور احادیث میں بھی انبیاء کے گناہوں کا ذکر اور ان کے گناہوں سے متعلق اقرار اور استغفار بھی واضح الفاظ میں موجود ہے ہمارا دعویٰ ہے کہ قرآن شریف میں کسی صورت انبیاء کو معصوم نہیں بتایا گیا۔ انبیاء کو معصوم ماننا کہ ان میں گناہ کا امکان ہی نہ تھا ایسا یقین نہ صرف خلاف واقعہ ہونے کی وجہ سے جہل مرکب ہے بلکہ خلاف عقل بھی ہے“ ۱؎

اسی ضلال کے تحت وہ حضرت مسیح علیہ السلام کو خدا ، عین خدا ، خدا کا بیٹا اور نجات دہندہ ماننے کے ساتھ ان کے متعلق دیوانہ ، بہکا ہوا افترا جہنم میں جلنے والا شیطان ۲؎ جھوٹا ۳؎ اور لعنتی ۴؎ (نعوذ باللہ) ایسے گرے

۱؎ کلام حق ، گوجرانوالہ ، جون ۱۹۷۹ء ، ۱۰

۲؎ A Lion Hand Book , 339

۳؎ یوحنا ۷ :

۴؎ گلتیوں ۳ : ۱۳

صفحہ ۲۷۷

بڑے اور گستاخانہ الفاظ استعمال کرنے میں کوئی عار اور جھجک محسوس نہیں کرتے ۔ اسی طرح مسیح علیہ السلام کو عام انسان ، غیر تاریخی اور تخیلاتی کردار ماننے والوں کی بھی کمی نہیں ہے ۔ ۱؎

اس پس منظر سے اندازہ ہوتا ہے کہ عیسائی جو اپنے انبیاء اور حضرت مسیح علیہ السلام کو اپنا خدا اور نجات دہندہ قرار دینے کے باوجود یہ سب کچھ کہہ سکتے ہیں ، تو حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق وہ کیا کچھ نہیں کہہ اور لکھ سکتے ، جنہیں کہ وہ کچھ بھی نہیں سمجھتے ۔ مغربی اقوام اور مسیحیوں کے قانون توہین رسالت کو منسوخ کرنے کے مطالبہ اور سخت دباؤ کے پیچھے یہی بنیادی تصور کارفرما ہے ۔

مغرب کا قانون توہین رسالت ختم کرنے کے لیے دباؤ

اب یہی وجہ ہے کہ مغربی دنیا جو مذہب کو نہ صرف ترک کر چکی ہے ، بلکہ مذہبی ہستیوں پر شرمناک تنقید کرنے کو کوئی غلط بات نہیں سمجھتی ، وہ اب یہ چاہتی ہے کہ عالم اسلام بھی یہی روش اختیار کرے اور اس کے پیش کردہ انسانی حقوق کے تصور کو قبول کرتے ہوئے اسلامی قوانین کا اپنے ممالک سے خاتمہ کر دے ۔

گستاخ رسول ایکٹ ، ۳۹ ؛ Time, New York, Jan 94, 21 ; ۱؎ عالم اسلام اور عیسائیت ، اسلام آباد ، اپریل ۹۷ء ، ۱۷ ؛ المذاہب ، لاہور ، اکتوبر ۹۳ء ، ۲۴

صفحہ ۲۷۸

پاکستان میں "قانون توہین رسالت" کو ختم کرنے کے لئے یورپ اور امریکی حکومت متعدد مرتبہ دباؤ ڈال چکے ہیں ۔ ۱۹۹۳ء میں امریکی نائب وزیر خارجہ پاکستان آئیں تو انہوں نے وزیر اعظم کو کہا کہ اس قانون کو ختم کیا جائے ۱؎ ۱۹۹۶ء میں پھر مطالبہ ہوا کہ اس قانون کو ختم کیا جائے ۲؎ اسی کے ساتھ ساتھ امریکن کرسچین ایسوسی ایشن کے انسانی حقوق کمیشن کی امریکی ایوان نمائندگان کی خارجہ امور سے متعلق کمیٹی کے چیئرمین سی۔ ایچ ہیمائٹن سے تحریری درخواست کی کہ پاکستان کو دی جانے والی امداد کو توہین رسالت کے قانون کے خاتمہ سے مشروط کر دیا جائے ۳؎

۱۹۹۵ء میں جب توہین رسالت کیس میں سلامت مسیح اور منظور مسیح کو سزائے موت ہوئی تو برطانوی پارلیمنٹ میں ۱۷ ارکان کے دستخطوں کے ساتھ ایک تحریک پیش ہوئی ، جس میں اس فیصلہ پر تنقید اور اس قانون کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا ، بعد میں یہ تحریک منظور ہوئی ۴؎ اور پھر پاکستانی ھائی کمشنر کو دفتر خارجہ بلا کر وزیر برائے دفتر خارجہ ٹونی بلیئر نے

۱؎ زندگی ، لاہور ، ۱۰ مارچ ۹۵ء ، ۱۶ ۲؎ نوائے وقت ، لاہور ، ۸ مارچ ۹۶ء ، ۱ ، ۴ مارچ ۹۶ء ، ۱ ۳؎ ایضاً ، ۱۷ اپریل ۹۳ء ، ۸ ؛ زندگی ، لاہور ، ۱۰ مارچ ۹۵ء ، ۱۶ ۴؎ جنگ ، لندن ، ۱۱ فروری ۹۵ء ، ۱ ؛ پبلک ، کراچی ، ۱۲ فروری ۹۵ء ، ۱

صفحہ ۲۷۹

نے اس عدالتی فیصلہ کے خلاف احتجاج اور اس قانون کو ختم کرنے کا مطالبہ پیش کیا۔۱؎

۱۹۹۵ء ہی میں جب ھائی کورٹ ، لاہور نے سلامت مسیح اور منظور مسیح کو توہین رسالت کیس سے بری کیا تو امریکہ نے اس پر اظہار اطمینان کیا۔۲؎ اسی سال کے دوران جب جرمن صدر ھرزوک پاکستان آئے تو انہوں نے حکومت پاکستان کو قانون توہین رسالت کو تبدیل کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ پاکستان اپنے ہاں انسانی حقوق کے معاملے درست کرے ورنہ جرمنی کے لیئے مدد کرنا مشکل ہو جائے گا۔۳؎ اسی کے ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس بارہ میں پاکستانی وزیر خارجہ آصف احمد علی سے بات ہو گئی ہے اور اس مسئلہ پر دونوں ممالک کے خیالات میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے ، اسی کے ساتھ وزیر خارجہ نے یہ یقین دلایا کہ اس قانون کی صحیح تشریح و اطلاق کیا جائے گا۔۴؎ ۱۴ دسمبر ۱۹۹۵ء کو برلن میں اٹھاسی ہزار جرمنوں کے دستخطوں پر مشتمل

۱؎ جنگ ، لندن ، ۱۷ فروری ۹۵ء ، ۱ ، نوائے وقت ، کراچی ، ۱۷ فروری ۹۵ء ، ۸

۲؎ جنگ ، راولپنڈی ، ۲۵ فروری ۹۵ء ، ۱

۳؎ خبریں ، لاہور ، ۹ اپریل ۹۵ء ، ۱ ؛ المذاہب ، لاہور ، مئی ۹۵ء ، ۳

۴؎ نوائے وقت ، لاہور ، ۹ اپریل ۹۵ء ، ۱

صفحہ ۲۸۰

ایک ضخیم دستاویز پاکستانی سفیر کے سپرد کی گئی، جس میں اس قانون کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ۱

قانون میں ترمیم کا فیصلہ

مغربی ممالک کے اسی دباؤ کے تحت بے نظیر بھٹو صاحبہ کے دور حکومت میں اس قانون میں ترمیم کرکے اسے عملاً غیر موثر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وفاقی وزیر قانون سیّد اقبال حیدر نے آئرلینڈ میں ”آئرش ٹائمز“ کے نمائندے ڈیوڈ شینکس کو ایک سوال کے جواب میں یہ کہا کہ کابینہ نے قانون توہین رسالت میں ترمیم کی منظوری دے دی ہے، جس کے مطابق پولیس سے ملزم کو گرفتار کرنے کا اختیار واپس لے کر یہ اختیار عدالتوں کو دے دیا گیا ہے، اسی طرح کسی پر توہین رسالت کے بارے میں الزام عائد کرنے کو ایک قابل سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔ ۲ اس کے بعد لندن میں مسیحی برادری کے ایک وفد سے ملاقات کرتے ہوئے بھی مذکورہ وزیر قانون نے اسی طرح کی یقین دھانی کروائی۔ ۳ اس وقت کے وزیر اطلاعات و نشریات خالد احمد کھرل نے اخبار نویسوں

۱ نوائے وقت، لاہور، ۷ اپریل ۹۴ء، ۸ ، شاداب، لاہور، ۱۶ جنوری ۹۶ء، ۲۰

۲ Irish Times, Dublin, 1.7.94

۳ جنگ، کراچی، ۷ جولائی ۹۴ء، ۸

صفحہ ۲۸۱

کو کابینہ کے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ کابینہ نے وزارت قانون کو ہدایت کی ہے کہ وہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۵۔ سی میں ترمیم کر کے بل کا مسودہ تیار کرے، جس میں توہین رسالت کے مرتکب کی سزا میں کمی کر کے زیادہ سے زیادہ دس سال سزائے قید رکھی جائے۔ ۱؎

اسی بات کو وفاقی وزیر خصوصی تعلیم و سماجی امور ڈاکٹر شیر افگن نے سرگودھا میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے دہرایا۔ ۲؎

وفاقی وزراء کے ان بیانات اور کابینہ کے فیصلے پر مسلمانان پاکستان کی جانب سے شدید ردّ عمل ہوا، ملک بھر کی اسلامی تنظیموں نے اس فیصلے کی مذمت کی اور حکومت کے اسلام کش اقدامات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ پنجاب کے متعدد شہروں میں اس فیصلے کے اعلان پر ہڑتال ہوئی اور وفاقی وزیر قانون سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا گیا۔ اس شدید ردّ عمل کو ختم کرنے کے لئے حکومت نے یہ موقف اختیار کیا کہ وزیر موصوف نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا، یہ ان پر محض تہمت ہے۔ ۳؎

۱؎ جسارت، کراچی، ۶؍ اپریل ۹۷ء، ۱

۲؎ جنگ، لاہور، ۷؍ جولائی ۹۷ء، ۸

۳؎ جنگ، کراچی، ۸؍ جولائی ۹۷ء، ۱؛ نوائے وقت، کراچی، ۷؍ جولائی ۹۷ء، ۱

صفحہ ۲۸۲

ترمیم کے بعد مقدمہ کا طریقہ کار

انہی حالات و بیانات کے دوران وفاقی وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر کی جانب سے یہ تفصیل پیش کی گئی کہ مذہبی رہنماؤں اور اقلیتوں کے نمائندوں نے توہین رسالت کے مقدمات کے طریقہ کار میں ترمیم کے لیئے حکومت کا فارمولا منظور کر لیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ توہین رسالت کے قانون میں ایسی کوئی ترمیم نہیں کی گئی ہے، جس سے توہین رسالت کی سزا میں کمی واقع ہو، مگر پولیس کو آئندہ کوئی اختیار نہیں ہو گا کہ وہ معمولاً کسی شکایت پر کسی بھی فرد کے خلاف مقدمہ رجسٹرڈ کرے بلکہ پولیس فوراً اس معاملہ کی علاقہ مجسٹریٹ کو رپورٹ کرے گی، جوکہ متعلقہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس کے ساتھ اس جگہ کا معائنہ کرے گی، جہاں متذکرہ جرم ہوا ہو، مجسٹریٹ تحقیقات کر کے یہ طے کرے گا کہ شکایت صحیح ہے یا جھوٹ پر مبنی ہے۔

ملزم کے خلاف شہادت یا ثبوت مل جانے کی صورت میں مجسٹریٹ پولیس کو یہ حکم کرے گا کہ متذکرہ ملزم کے خلاف ایف ۔ آئی ۔ آر درج کی جائے مجوزہ طریقہ کار کے تحت ایسا شکایت کنندہ جو جھوٹی رپورٹ پولیس میں دائر کرائے گا، اس کو دس سال تک قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔ جس ملزم کے خلاف پولیس مقدمہ رجسٹر کرے گی، اس کو فوراً حفاظتی تحویل میں لے لیا جائے گا، ایسا کرنا بہت ضروری ہو گا تاکہ مشتبہ شخص کو عوام کے ممکنہ غیظ و غضب سے

صفحہ ۲۸۳

حفاظت کی جاسکے۔ ۱/

وفاقی وزیر نے جس کمیٹی اور ان کے ارکان کا ذکر کیا، ان میں سے مسلم ممبران اور مسیحی ممبران کی تعداد چار چار تھی، مگر ان میں کوئی بھی قابلِ ذکر مستند عالم یا اسلامی قانون دان نہیں تھا۔ ۲/

وفاقی کابینہ نے اپنے اجلاس میں ایف آئی آر درج کرنے کے طریقہ کار میں ترمیم کرنے کے بل کا مسودہ منظور کر لیا تھا، مگر اس موضوع پر نزاع کی وجہ سے اس بل کو پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا جا سکا بلکہ خود حکومت نے اس کا ارادہ موخر کر دیا، البتہ اس بل کے مسودے کو ان ممبران پارلیمنٹ - جن کا تعلق مذہبی گروپوں اور اقلیتوں کے نمائندگان سے ہے، ان کی تجاویز حاصل کرنے کے لئے دکھا دیا گیا۔ ۳/

عوامی ردعمل

توہین رسالت کے مجوزہ قانون اور طریق نفاذ میں ترمیم کی ان اطلاعات پر پورے ملک میں عوام کا بھرپور اور نہایت سخت ردعمل سامنے آیا۔

۱/ 1/ The News, Lahore, 14.7.94, 1

۲/ 2/ The Law of Tauhin-i-Risalat, 49

۳/ جنگ، لاہور، ۷ جولائی ۱۹۹۴ء، ۱

صفحہ ۲۸۷

احتجاج کا سب سے پہلا سلسلہ فیصل آباد سے کاروباری اور پہیہ جام ہڑتال سے شروع ہوا ۔ ۱؎ پورے ملک میں تمام مذہبی ، سماجی اور کاروباری تنظیموں نے مل کر ۸/ جولائی ۱۹۹۴ء کو حکومت کے اس فیصلہ کے اعلان کے خلاف ”یوم سیاہ“ منایا جس سے پورے ملک میں جا بجا ہنگاموں ، مظاہروں ، جلسے جلوسوں اور ٹائر و پتلے جلانے کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔ ۲؎

مذہبی تنظیموں نے باقاعدہ ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان کر دیا ۔ ۳؎ سندھ میں ۸/ جولائی کے بعد ۱۵/ جولائی (جمعۃ المبارک) کو بھی ”یوم سیاہ“ اور ”یوم احتجاج“ منایا گیا ۔ ۵؎

۱۷ دینی جماعتوں نے پنجاب اسمبلی ، لاہور کے سامنے سخت احتجاج کیا اور کہا کہ جب تک حکومت ترمیم واپس لینے کا واضح اعلان نہیں کرتی احتجاجی مظاہروں اور ہڑتالوں کا سلسلہ جاری رہے گا ۔ ۶؎

۱؎ پاکستان ، لاہور ، ۴ جولائی ۹۴ء ، ۱ ۲؎ ناپاک سازش ، ۵۳ ۳؎ جنگ ، لاہور ، ۹ جولائی ۹۴ء ، ۱ ۴؎ امن ، کراچی ، ۱۱ جولائی ۹۴ء ، ۱ ، ناپاک سازش ، ۸۲ - ۸۳ ۵؎ جنگ ، لاہور ، ۱۲ ، ۱۶ جولائی ۹۴ء ، ۲ ، ۱ ۶؎ جنگ ، لاہور ، ۱۱ جولائی ۹۴ء ، ۱

صفحہ ۲۸۵

اس قانون کی مخالفت کرنے اور اس میں ترمیم کے مسودہ کی منظوری پر بے نظیر بھٹو صاحبہ جوکہ اس وقت وزیر اعظم تھیں، کو یہ مشورہ دیا گیا کہ وہ اپنے ایمان اور نکاح کی تجدید کرائیں ؂۱

وزیر قانون سید اقبال حیدر سے معذرت و معافی کا مطالبہ کیا گیا۔ ؂۲ جماعت اہل حدیث کے سربراہ عبدالقادر روپڑی نے فتویٰ دیا کہ اقبال حیدر اور کابینہ کے وہ دوسرے وزراء جنہوں نے اس قانون کی مخالفت کی اور ترمیم کے مسودے کی منظوری میں شریک ہوئے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوگئے ہیں۔ ؂۳

بہاولپور کے آٹھ علماء نے مشترکہ طور پر اقبال حیدر کے دائرہ اسلام سے خارج ہونے کا فتویٰ دیا۔ ؂۴

جمعیت علماء اسلام (ف) کے مولانا فضل الرحمٰن درخواستی نے فتویٰ دیا کہ اقبال حیدر مرتد ہو گیا ہے اور واجب القتل ہے ؂۵ گجرات میں جماعت

؂۱ جنگ، کراچی، ۱۱ اگست ۹۴ء، ۱ ؂۲ جنگ، لاہور، ۶ جولائی ۹۴ء، ۸، ۹ ؂۳ جسارت، کراچی، ۷ جولائی ۹۴ء، ۱ ؂۴ ایضاً، ۸ ؂۵ پاکستان، لاہور، ۷ جولائی ۹۴ء، ۸

صفحہ ۲۸۶

اہل سنت کے ناظم اعلیٰ پیر محمد افضل قادری اور ایک شخص مرزا شوکت علی نے وزیر قانون کے سر کی قیمت پانچ لاکھ مقرر کر دی ۔ ۱؎

ترمیم کی دوسری کوشش

جولائی ۱۹۹۴ء کے شدید عوامی احتجاج کی وجہ سے حکومت نے قانون توہین رسالت میں ترمیم کا ارادہ مؤخر کر دیا لیکن اپریل ۱۹۹۵ء میں دوبارہ اسی قسم کی خبریں آنا شروع ہو گئیں اور کچھ ہی دنوں بعد انسانی حقوق کے لئے وزیر اعظم کے مشیر سیّد کامران حیدر رضوی نے اے ۔ پی ۔ پی کو بتایا کہ وفاقی کابینہ نے توہین رسالت کے قانون میں دوبارہ دو ترامیم منظور کر لی ہیں ، جن کے مطابق اس قانون کے تحت جعلی مقدمہ بنانے والے کو دس سال تک قید اور مقدمہ کا اندراج ، جوڈیشل افسر کی ابتدائی تحقیق کے بعد ہی درج کیا جائے گا اور جوڈیشل افسر ڈپٹی کمشنر کے عہدے سے کم نہیں ہوگا ۔ ۲؎

دوبارہ عوامی ردّعمل

۱۹۹۵ء میں وفاقی کابینہ نے جن دو ترامیم کی منظوری دی ملک کے تمام مسلمانوں اور ۳۶ دینی جماعتوں نے متفقہ طور پر اس کو مسترد کر دیا اور اعلان

۱؎ پاکستان ، نوائے وقت ، ۱۵ / جولائی ۹۴ء ، ۸

۲؎ خبریں ، لاہور ، ۲۰ / اپریل ۹۵ء ، ۸

صفحہ ۲۸۷

کیا کہ اگر حکومت نے یہ ترامیم واپس نہ لیں تو ان کے خلاف اسمبلی کے اندر اور باہر شدید مزاحمت کی جائے گی۔ ؎۱

۲۷ مئی ۱۹۹۵ء کو پورے ملک میں ملی یکجہتی کونسل کی اپیل پر ترمیم کے خلاف مکمل پہیہ جام ہڑتال کی گئی، جس میں تمام دینی و سیاسی جماعتوں نے جلوس نکالے اور مظاہرے کئے جن کی کئی مقامات پر پولیس سے جھڑپیں بھی ہوئیں۔ ؎۲

پنجاب اسمبلی کی قرارداد

اپریل ۱۹۹۵ء کے دوسرے عشرے کے اختتام پر پنجاب اسمبلی نے ایک متفقہ قرارداد منظور کی، جس میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ توہین رسالت کے انسداد کے قانون ۲۹۵-ج میں ترمیم نہ کی جائے اور اہانت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سنگین جرم کا ارتکاب کرنے والوں کے لئے موت کی سزا برقرار رکھی جائے بلکہ اس میں اس بات کا اضافہ کیا جائے کہ نہ صرف حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بلکہ کسی بھی نبی کی شان میں گستاخی کرنے والے کو سزائے موت دی جائے۔ ؎۳

بہر حال حکومت کے بار بار بیانات نے یہ بات واضح کر دی کہ :

؎۱ نوائے وقت، لاہور، ۲۱ اپریل ۹۵ء، ۱، ۷ ؎۲ جنگ، نوائے وقت، لاہور، ۲۸ مئی ۹۵ء، ۱، ۷، ۱۱ ؎۳ جنگ، لاہور، ۵ مئی ۹۵ء، ۱، ۱۱؛ خبریں، لاہور، ۶ مئی ۹۵ء، ۶

صفحہ ۲۸۸

کی سزا دی جائے گی۔

مگر مسلمانان پاکستان کے بروقت اور شدید احتجاج سے حکومت پر یہ بات واضح ہو گئی کہ وہ دفعہ ۲۹۵۔سی میں ترمیم کر کے سزا میں کمی کی متحمل نہیں ہو سکتی لیکن ارباب اختیار نے غیر ملکی سیکولر قوتوں ، انسانی حقوق کی تنظیموں کے دباؤ اور خود اپنے ذہنی رجحان کے پیش نظر یہ کوشش کی کہ براہ راست نہ سہی ، بالواسطہ طور پر ضابطہ جاتی قانون میں ترمیم کے ذریعے مروجہ قانونی طریقہ کار کو تبدیل کر کے اس قانون کو غیر مؤثر کر دیا جائے اور اس قانون کی گرفت اس قدر ڈھیلی پڑ جائے کہ نہ صرف یہ کہ ملزم توہین رسالت کی سزا سے بچ جائے بلکہ الٹا توہین رسالت کے جرم کے ارتکاب کی اطلاع دینے والا شخص امتیازی قانون کے تحت ۱۰ سال کے لیئے قید میں چلا جائے ، اس طرح توہین رسالت کے سلسلہ میں مدعی بننے والا شخص اس قدر ہراساں اور خوف زدہ کر دیا جائے کہ کوئی بھی شاتم کے خلاف ایف ، آئی ، آر درج کرانے کی جرأت نہ کر سکے۔

صفحہ ۲۸۹

دوسری فصل

مجوزہ ترمیم کا جائزہ

ملک بھر میں شدید احتجاج کے دباؤ کے تحت حکومت نے غیر تسلی بخش اور متضاد انداز میں یہ وضاحت تو پیش کر دی کہ وہ توہین رسالت کی سزا میں کمی نہیں کر رہی ہے مگر اس جرم کو ناقابل دست اندازی پولیس اور مدعی کے جھوٹا ثابت ہونے کی صورت میں قید کے مسئلہ پر حکومت اپنے موقف پر قائم رہی لہذا حکومت کی اس مجوزہ ترمیم کا ضابطہ فوجداری کے حوالہ سے جائزہ لینا ضروری ہے کہ آیا توہین رسالت کے مقدمہ کی تفتیش اور سماعت کا مجوزہ طریقہ کار انصاف اور قانون کے تقاضے پورے کرتا ہے یا نہیں ؟

قانون توہین رسالت اور موجودہ قوانین

ہر ملک میں دو طرح کے قوانین ہوتے ہیں ایک (Substantive Law) یعنی مقاصد اور معاملات کا قانون ۔ زیر بحث معاملہ میں تعزیرات پاکستان (Pakistan Penal Code) مجریہ ۱۸۶۰ء اس قانون کے زمرے میں آتا ہے جب کہ دوسرا (Procedural Code) قانون ضابطہ

صفحہ ۲۹۰

جاتی کہلاتا ہے ، ضابطہ فوجداری (Criminal Procedure Code) مجریہ ۱۸۹۸ء اسی قانون کی ایک قسم ہے ۔ تعزیرات پاکستان جرم کی نوعیت اور اس کی سزا بتاتا ہے ، جب کہ ضابطہ فوجداری اس بات کی رہنمائی کرتا ہے کہ ملزم کے خلاف کس کے پاس شکایت لے کر جانا ہے ، مقدمہ کس طرح درج ہوگا ، تفتیش کس طرح ہوگی اور مقدمے کی سماعت کون سی عدالت کرے گی ۔

سنگین نوعیت کے جرائم قابل دست اندازی پولیس (Cogniz able offence) ہوتے ہیں ۔ ضابطہ فوجداری کی دفعہ ۴ (۱ف) کے مطابق جرم اور مقدمہ قابل دست اندازی پولیس سے مراد ایسا جرم اور مقدمہ ہے، جس میں پولیس کو بلا وارنٹ گرفتاری کا اختیار حاصل ہو ۔ ۱؎ سنگین نوعیت کے جرائم میں قانون ملزم کو یہ موقع فراہم نہیں کرتا کہ پولیس مجسٹریٹ سے ملزم کی گرفتاری کے لیئے وارنٹ حاصل کرنے چلی جائے اور ملزم آرام سے فرار ہو جائے قانون کا منشا یہ ہے کہ سنگین نوعیت کے جرم کے ارتکاب کی صورت میں بلا تاخیر بغیر وارنٹ پولیس ملزم کو گرفتار کرے ۔ اب توہین رسالت کے جرم کو ناقابل دست اندازی پولیس بنانے کا مطلب

۱؎ C.C.P, S, 8

صفحہ ۲۹۱

یہ کہہ کر توہین رسالت کوئی سنگین جرم نہیں ہے ــــــــــــــــــــــــ بلکہ یہ بات خود توہین رسالت کے مترادف ہے۔

قابل دست اندازی جرائم میں پولیس دفعہ ۱۵۴ ضابطہ فوجداری کے تحت کاروائی کرتی ہے، جس کے مطابق ارتکاب جرم قابل دست اندازی سے متعلق ہر ایسی اطلاع جو کسی پولیس اسٹیشن کے افسر انچارج کو زبانی دی جائے تو اس کو لازم ہے کہ وہ بقلم خود یا اپنی زیر ہدایت اسے ضبط تحریر میں لائے اور اسے اطلاع دہندہ کو پڑھ کے سنائے اور ہر ایسی اطلاع پر خواہ وہ تحریری طور پر دی گئی ہو یا حسب مذکورہ ضبط تحریر میں لائی گئی ہو، اطلاع دہندہ کے دستخط ہوں گے اور اس کا خلاصہ ایسی کتاب میں درج کیا جائے گا، جو ایسا افسر اس طریقہ کے مطابق اپنے پاس رکھے گا، جو صوبائی حکومت نے مقرر کیا ہو۔ ؎۱ مذکورہ دفعہ کے تحت درج تحریر ایف۔آئی۔آر (پرچہ) کہلاتی ہے۔

دفعہ ۱۵۵ (۱) کے مطابق جب کسی پولیس اسٹیشن کے انچارج کو ایسی اطلاع موصول ہو کہ اسٹیشن کی حدود میں کسی جرم ناقابل دست اندازی

؎۱ C. C. P, 154

صفحہ ۲۹۲

کا ارتکاب ہوا ہے، تو اس کو چاہیے کہ اس کتاب میں جو حسب مذکورہ اس غرض کے لیئے رکھی جائے گی، اس کے خلاصہ کا اندراج کرے اور اطلاع دہندہ کو مجسٹریٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کرے۔ لے

مذکورہ دونوں دفعات کا فرق صاف ظاہر ہے، دفعہ ۱۵۴ ض۔ ف کے تحت پرچہ ہوگا اور پولیس ملزم کو بلا وارنٹ گرفتار کر کے مقدمہ کی تفتیش کرے گی، جب کہ زیر دفعہ ۱۵۵۔ض۔ف پولیس ناقابل دست اندازی جرم میں از خود نہ ایف۔آئی۔آر درج کر سکتی ہے، نہ ملزم کو گرفتار کر سکتی ہے اور نہ ہی مقدمہ کی تفتیش کی مجاز ہے۔

حکومت دفعہ ۲۹۵۔سی تعزیرات پاکستان کے جرم کو ناقابل دست اندازی پولیس بنا کر دراصل غیر موثر کرنا چاہتی تھی تاکہ نہ پولیس ملزم کو گرفتار کر سکے، نہ ایف۔آئی۔آر درج ہو اور نہ ہی مقدمہ کی تفتیش ہو سکے۔ اصول قانون (Jurisprudence) کے مطابق بین الا قوامی طور پر یہ مسلمہ امر ہے کہ کوئی سنگین جرم ناقابل دست اندازی پولیس نہیں ہو سکتا لیکن حکومت اصول قانون کو نظر انداز کرتے ہوئے توہین رسالت کے سنگین ترین جرم کو محض غیر موثر کرنے کے لیئے ناقابل دست اندازی پولیس بنانا چاہتی تھی۔

لے C.C.P, 155

صفحہ ۲۹۳

سابق حکومت نے اپنے مقاصد حاصل کروانے کے لیئے یہ سفارش کروائی کہ توہین رسالت کے جرم کی اطلاع ہونے کے بعد پولیس فوری طور پر ایف۔ آئی۔ آر درج نہ کرے بلکہ پولیس اور مجسٹریٹ ۲۴ گھنٹے کے اندر انکوائری کرکے ایف۔ آئی۔ آر درج کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرے ۔

یہ تجویز دو پہلوؤں سے نامعقول اور انتہائی نقصان دہ ہے :

مشتعل لوگ ملزم کو موقع پر ہی قتل کردیں گے ۔

حیثیت صفر ہوکر رہ جائے گی ۔

یہاں کی عدالتیں پہلے ہی تاخیر سے درج ہونے کی صورت میں ایف۔ آئی۔ آر پر اعتبار نہیں کرتیں ، بلکہ اس کی تحریر میں دو گھنٹے کی تاخیر بھی مقدمہ کی صحت کو مشکوک بنا دیتی ہے ، اس لیئے ایف۔ آئی۔ آر کے اندراج میں تاخیر دانستہ یا غیر دانستہ توہین رسالت کے ملزم کو فائدہ پہنچانے کی کوشش ہے ۔

مروجہ طریق کار میں مقدمہ کا فیصلہ ہر صورت میں مجاز عدالت کو کرنا ہوتا ہے ۔ پولیس اگر اس نتیجے پر پہنچے کہ ملزم بے گناہ ہے تو بھی عدالت کی صوابدید ہے کہ وہ ملزم کو پرچہ سے ڈسچارج کرے یا نہ کرے ، جب کہ حکومت کی مذکورہ تجویز کی صورت میں عدالت کا اختیار بھی پولیس یا انتظامیہ

صفحہ ۲۹۴

کے کسی عہدیدار کو مل جاتا ہے۔ اس طرح نہ ایف ۔ آئی ۔ آر درج ہوتی اور نہ معاملہ عدالت تک جاتا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا متضاد رویہ

انسانی حقوق کی تنظیموں اور بار ایسوسی ایشن کا ہمیشہ یہی پر زور مطالبہ رہا ہے کہ ایف ۔ آئی ۔ آر درج کرنے کا طریقہ سہل اور آسان بنایا جائے اور پولیس کو اس امر کا پابند کیا جائے کہ کسی بھی جرم کی اطلاع وصول ہونے پر وہ فی الفور ایف ۔ آئی ۔ آر درج کرے اور اس کی نقل اطلاع دہندہ کو مہیا کرے لیکن یہی انسانی حقوق کی تنظیمیں توہین رسالت کے معاملے میں فوری ایف ۔ آئی ۔ آر درج کرنے پر متعرض ہیں۔

مقدمہ توہین رسالت اور مدعی

اس امر سے ہر کوئی آگاہ ہے کہ نظام عدل میں بعض خامیوں اور عدم تحفظ کی وجہ سے دن دیہاڑے اور برسرعام کئے گئے جرائم میں بھی کوئی فرد مدعی اور گواہ بننے کو تیار نہیں ہوتا نتیجتاً مجرم قرار واقعی سزا بھگتنے کی بجائے باآسانی قانونی گرفت سے بچ نکلتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ سنگین جرائم کے عینی شاہدوں کو تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ لوگ تفتیش کے دوران پولیس اور مقدمہ کی سماعت کے دوران مجاز عدالتوں کی بطور مدعی اور گواہ بلاخوف مدد کر سکیں اور عدالتیں اصل حقائق

صفحہ ۲۹۵

کی بنیاد پر مقدمات کے فیصلے کے قابل ہو سکیں۔ لیکن وزراء کے بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حکومت توہین رسالت کے مقدمہ کے مدعی کے خلاف مقدمہ ثابت نہ کر سکنے کی صورت میں اسے سزا دینے کے لیئے امتیازی قانون بنانا چاہتی تھی تاکہ سزا کے خوف سے کوئی شہری اس مقدمہ میں مدعی بننے کی ہمت نہ کرسکے، جب کہ مقدمہ کا ثابت نہ ہو سکنا اور ملزم کا بری ہو جانا، اس امر کی دلیل نہیں ہے کہ مقدمہ جھوٹا اور غلط تھا۔ فوجداری مقدمات میں شک کا فائدہ ملزم کو دیا جاتا ہے، اسی طرح بعض فنی اور ٹیکنیکی وجوہات کی بنا پر بھی ملزم بری ہو جاتا ہے۔

جھوٹا مقدمہ درج کرانے کی سزا

وطن عزیز میں نافذالعمل قوانین میں جھوٹا مقدمہ درج کرانے اور جھوٹی گواہی دینے والے کے لیئے پہلے سے سزا مقرر ہے۔ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 182 کے تحت جھوٹا مقدمہ درج کرانے والے شخص کو چھ ماہ قید یا ایک ہزار روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ لے تعزیرات پاکستان (Pakistan Penal Code) میں عام جرائم سے لے کر سنگین ترین جرائم میں مقدمہ جھوٹا ثابت ہو جانے کی صورت میں

لے P.P.C , 169

صفحہ ۲۹۶

مدعی کے لیئے چھ ماہ قید کی مذکورہ سزا متعین ہے۔ دفعہ ۱۹۳ کے تحت عدالت میں جان بوجھ کر جھوٹی شہادت دینے والے کو سزائے قید سادہ یا دس سال بامشقت اور جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔ ۱؎

اسی طرح دفعہ ۱۹۴ ت ۔ پ کے تحت جان بوجھ کر جھوٹی گواہی کے ذریعہ کسی دوسرے معصوم بے گناہ شخص کو سزا یاب کرنے والے شخص کی سزا اتنی ہوگی ، جتنی سزا اس نے اپنی جھوٹی شہادت کے ذریعہ سے بے گناہ شخص کو دلائی ہو۔ ۲؎

مذکورہ بالا تعزیری دفعات کی موجودگی میں توہین رسالت کا مقدمہ ثابت نہ ہو سکنے کی صورت میں مدعی اور گواہان کو سزا دینے کے لیئے الگ قانون سازی کی ہرگز ضرورت نہ تھی نہ ہے ۔

سابق حکومت کے طرز عمل سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ توہین رسالت کے مقدمات کے سلسلہ مدعی کے لیئے الگ سزا مقرر کرنے کا مقصد صرف اور صرف توہین رسالت کے جرم کی سزا حوصلہ شکنی کرنا ہے ، جو کہ درحقیقت توہین رسالت کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنے کے مترادف ہے۔

۱؎ P.P.C , 191

۲؎ do , 195

صفحہ ۲۹۷

موجودہ قانون کے مطابق توہین رسالت کی ایف، آئی، آر درج ہونے کے بعد پولیس ملزم کو فوری گرفتار کر کے مقدمہ کی تفتیش کرتی ہے، تفتیش مکمل ہو جانے پر چالان مقدمہ سیشن عدالت کے سپرد کر دیا جاتا ہے، اگر سیشن کورٹ توہین رسالت کا جرم ثابت ہو جانے پر ملزم کو سزائے موت دینے کا حکم صادر کرے تو ملزم کو ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ جانے کا حق ہے، ملزم اپیل نہ بھی کرے تب بھی مقدمہ ریفرنس کی صورت میں ہائی کورٹ کے ڈویژنل بنچ کے روبرو پیش ہوتا ہے۔ ہائی کورٹ کے دو فاضل جج مقدمہ کا تمام پہلوؤں سے ازسرنو جائزہ لے کر فیصلہ کرتے ہیں، ہائی کورٹ کی جانب سے سزا کی توثیق کی صورت میں سزا پر عمل درآمد ہوتا ہے۔

جرم ثابت ہونے کے بعد گرفتاری

اس ترمیم میں جو یہ ترمیم ہے کہ ملزم کو اس وقت تک گرفتار نہ کیا جب تک یہ فیصلہ نہ ہو جائے کہ واقعی جرم کا ارتکاب ہوا ہے ــــــــــ حالانکہ اگر جرم کے ارتکاب کا یقین حاصل کر لیا گیا تو اس کے بعد مزید عدالتی کاروائی کی ضرورت ہی کیا باقی رہ جاتی ہے۔ عدالتی تحقیقات و کاروائی تو ثبوت کے لئے ہوتی ہے، اگر جرم پہلے ثابت کر دیا گیا تو پھر دوبارہ عدالتی کاروائی کا کیا جواز رہ جاتا ہے، اس طرح یہ تجویز غیر منطقی سی ہے۔

دوسری طرف جو یہ تجویز رکھی گئی ہے کہ جرم ثابت ہونے تک ملزم کو گرفتار نہ

صفحہ ۲۹۸

کیا جائے ، تو اس ترمیم کے ذریعے حکومت ملزم کو خود فرار کا موقع فراہم کر رہی ہے اور جو مجرم ہوتا ہے ، اسے اگر فرار کا موقع فراہم ہو جائے تو پھر وہ دستیاب نہیں ہوتا ، جرم ثابت ہونے کے بعد اسے کہاں سے گرفتار کیا جائے گا ؟

جن دنوں یہ ترمیم زیر غور تھی اور پولیس اسٹیشنوں کو اس قانون کے کے تحت فوراً مقدمہ درج کرنے سے روک دیا گیا تھا ، انہی دنوں لوگوں نے ڈاکٹر اختر حمید خاں کے خلاف نئے طریقہ کار کے مطابق کاروائی کرنی چاہی تو وہ دریں اثنا فرار ہو گیا ؎۱

ہمارے ملک میں لوگ بڑے بڑے جرائم کر کے آزاد قبائلی علاقہ میں پناہ لے لیتے ہیں یا بیرون ملک فرار ہو جاتے ہیں اور اس طرح بڑے سے بڑا مجرم بھی بچ نکلتا ہے ، جب ہمارے ملک میں خطرناک جرائم کے مرتکبین کی داروگیر کا موثر نظام ہی نہیں ہے تو گستاخ رسول کو اگر پہلے مرحلہ میں ہی گرفتار نہیں کیا جائے گا ، تو بعد میں اسے گرفتار کرنا اور سزا دینا کیوں کر ممکن ہوگا ؟

مندرجہ بالا حقائق سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ موجودہ قانونی طریقہ کار میں کوئی سقم موجود نہیں ہے ، جس کے لیئے کسی ترمیم کی ضرورت ہو۔ توہین

؎۱ عیسائی ذہنیت ، ۹۳

صفحہ ۲۹۹

رسالت کے سلسلہ میں نافذ العمل قوانین اور طریق کار انصاف کے تمام تقاضے پورے کرتا ہے۔

یہ تاثر بالکل غلط، بے بنیاد اور بلا جواز ہے کہ توہین رسالت کے سلسلہ میں اقلیتی ملزم کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔

سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو اور ان کے وزراء نے اس بارے میں جتنے بیانات دیئے ہیں، ان میں وہ مروجہ قانون توہین رسالت میں کسی خامی کی نشاندہی نہیں کر پائے اور محض زبانی کلامی بیرونی دباؤ کے پیش نظر اسے سقم زدہ قانون قرار دیتے رہے۔

۲۷ مئی ۱۹۹۵ء کو "سنی یکجہتی کونسل" اور "تحریک تحفظ ناموس رسالت" کی اپیل پر پورے ملک میں جو بھر پور ہڑتال ہوئی، وہ امت مسلمہ کی طرف سے حکومتی موقف کے خلاف ایک ریفرنڈم تھا اور اسی کے ساتھ ساتھ مغربی اقوام کے لیئے پیغام بھی کہ مسلمان اپنے تمام تر باہمی فروعی اختلافات کے باوجود ناموس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تحفظ کے لیئے جسد واحد کی طرح ہیں۔

قانون توہین رسالت اور وزیر اعظم کی ذمہ داری

پارلیمانی نظام حکومت میں وزیر اعظم کا عہدہ رائے عامہ کی نمائندگی کا مظہر ہوتا ہے، جمہوری نظام میں اکثریتی رائے کے سامنے سر تسلیم خم کرنا پڑتا ہے۔ اس لحاظ سے وزیر اعظم آئینی و اخلاقی طور پر پابند ہیں کہ وہ رائے عامہ کی ترجمانی کرے

صفحہ ۳۰۰

لیکن نہ جانے کیوں پاکستان کی وزیر اعظم نے ایک ایسے مسئلہ میں جس پر قومی سطح پر اتفاق رائے عملی طور پر ثابت ہو چکا تھا ، قومی امنگوں کو نظر انداز کر کے مغربی دنیا کو خوش کرنے کی کوشش کی ۔

اس مسئلہ پر حکومتی موقف متضاد پالیسی پر مبنی رھا ۔ ۲۷ مئی ۱۹۹۵ء کی ہڑتال کے بعد ایک طرف تو یہ کہا جاتا رھا کہ ناموس رسالت کے قوانین پر کوئی اختلاف نہیں ہے ، جب کہ دوسری طرف علماء کرام کو ان ہی قوانین کو بہتر بنانے کے لئے مذاکرات کی دعوت دی جاتی رہی ۔ اس لئے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر مروجہ قانون پر اختلاف نہیں تھا تو مذاکرات کس بات پر ہونے تھے

در حقیقت حکومت اس قانون میں براہ راست ترمیم کی بجائے اسے غیر مؤثر کرنا چاہتی تھی اور بدنیتی سے بالواسطہ طور پر تفتیش کے طریقہ کار کو تبدیل کر کے انتظامیہ کی سطح پر ہی توہین رسالت کے مقدمہ کا فیصلہ چاہتی تھی اور عدلیہ کو اس سارے عمل و طریقہ کار سے نکالنا چاہتی تھی ، حالاں کہ دنیا کے ہر ملک میں یہ کام صرف عدلیہ کا ہوتا ہے کہ مقدمہ کے سچے یا جھوٹے ہونے کا فیصلہ کرے ۔

فوجداری مقدمات میں انتظامیہ تو خود فریق ہوتی ہے لہذا ایک فریق کو ہی مقدمہ کے فیصلہ کا اختیار کس طرح دیا جا سکتا ہے ۔

اہل مغرب اس قانون کے ضمن میں بد دیانتی اور تعصب کی انتہا کر چکے ہیں

صفحہ ۳۰۱

حالانکہ وہ یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ پاکستان میں نافذ ضابطہ فوجداری مجریہ ۱۸۶۰ء مغربی ملک برطانیہ ہی کا بنایا ہوا اور نافذ کیا ہوا ہے اور توہین مذہب و رسالت کے ملزم سے متعلق ضابطہ جاتی دفعات میں پاکستان بننے سے لے کر آج تک کوئی ترمیم نہیں ہوئی بلکہ برطانیہ کا بنایا ہوا یہی ضابطہ فوجداری آج بھی برصغیر کے دوسرے ممالک میں نافذ ہے ۔

جولائی ۱۹۹۷ء میں امریکہ نے ایک بار پھر پاکستان سے اس قانون کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ، جسے موجودہ وزیر اعظم محمد نواز شریف نے ناقابل غور قرار دے کر مسترد کر دیا۔ ۱؎

دسمبر ۱۹۹۷ء میں برطانیہ سے بشپ آف کنٹربری ڈاکٹر جارج کیری پاکستان کے سرکاری دورے پر آئے تو انہوں نے پاکستانی حکام پر زور دیا کہ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے قانون کے تحت موت کی جو سزا رکھی گئی ہے ، اس میں تخفیف ہونی چاہیے۔ ۲؎

اس کے بعد لاہور میں گورنر پنجاب شاہد حامد سے ملاقات میں بھی

۱؎ جنگ ، لاہور ، ۲۵ جولائی ۹۷ء ، ۱ (الف)

۲؎ ایضاً ، ۱

۳؎ دن ، لاہور ، ۶ دسمبر ۹۷ء ، آخر

صفحہ ۳۰۲

انہوں نے یہ مطالبہ دہرایا۔ ۱؎

وفاقی وزیر برائے مذہبی و اقلیتی امور اور عشر و زکوٰۃ سینیٹر راجہ ظفر الحق نے ان کے ساتھ ملاقات میں واضح کیا کہ توہین رسالت کے قانون کا مقصد کسی اقلیتی برادری کو نشانہ بنانا نہیں ہے۔ اس قانون کو ماورائے عدالت فسادات روکنے کے لیئے کبھی کبھار استعمال کیا جاتا ہے اور عدالتی کاروائی کے دوران ملزم کو تحفظ فراہم کرنے کے علاوہ اپیل کا حق بھی دیا جاتا ہے۔ ۲؎

بہر حال وزیراعظم کے مذکورہ بیان سے قوم کے جذبات کی ترجمانی بھی ہوگئی اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ موجودہ حکومت اس قانون کے بارے میں سنجیدہ و مثبت رویہ رکھتی ہے۔

۱؎ نوائے وقت ، لاہور ، ۴ دسمبر ۹۷ء ، آخر

۲؎ ایضاً

صفحہ ۳۰۳

تیسری فصل

مجوزہ ترمیم کے ممکنہ نتائج و عواقب

اس قانون میں اگر کوئی بھی حکومت کسی وقت ترمیم کرتی ہے یا اسے ختم کرتی ہے، تو اس سے بہت سارے ایسے شدید اور بھیانک مسائل پیدا ہونے کا امکان ہے ، جن پر قابو پانا بہت ہی مشکل ہوگا۔

غیر مؤثر ہو کر رہ جائے گا لہٰذا یہ ترمیم اس شرعی قانون کے ساتھ ایک مذاق ہوگی۔

ابتدائی کاروائی دستیاب ہی نہیں ہوسکے گا۔

خدشہ کے پیش نظر مقدمہ درج کروانے سے گریز کرے گا۔

والے اور ان کی ذات اقدس پر زبان طعن دراز کرنے والے لوگ مزید دلیر ہو جائیں گے۔

خطرناک رجحان میں مزید اضافہ ہو جائے گا کہ ملزم کو ماورائے عدالت قتل کر دیا جائے

صفحہ ۳۰۷

گا۔

پاکستانی معاشرہ اپنی تعلیم و تربیت کے اعتبار سے ایسی حالت میں ہے کہ مذہبی جذبات بہت جلدی بھڑک اٹھتے ہیں اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ کس وقت کوئی گنہ گار یا بے گناہ ان جذبات کا شکار ہو جائے ، جب اس قانون میں ترمیم کرنے کا حکومتی ارادہ سامنے آیا ، تو بہت سارے سنجیدہ حلقوں اور جید علماء کی طرف بھی اس طرح کے جذباتی بیانات سامنے آئے کہ توہین رسالت کے قانون کے خاتمہ یا کسی قسم کی ترمیم کی صورت میں وہ خود ہی اس قانون پر عمل درآمد کرتے ہوئے مجرم کو کیفر کردار تک پہنچا دیں گے۔ ۱؎

جائے گی اور پاکستان میں مسلم اکثریت کے اقلیتی مذاہب کے ساتھ پچاس سالہ دیرینہ تعلقات پر بہت برا اثر پڑے گا۔

سے خوامخواہ ملزموں کے بچ جانے کی گنجائش پیدا ہوتی ہو تو عوام کا اس قانون کے نفاذ کے طریقہ کار کے ساتھ ساتھ دیگر قوانین سے بھی اعتماد اٹھ جائے گا۔ عدالتوں کا احترام جاتا رہے گا اور لوگ ہر معاملہ میں قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر نتیجہ اپنے حق میں

۱؎ امن، کراچی، ۴ جولائی ۱۹۹۴ء ، ۱ ، آخر

صفحہ ۳۰۵

نکالنے کی کوشش کریں گے بلکہ تفتیشی افسران اور جج صاحبان کو بھی عوام کے ہاتھوں نقصان پہنچے گا ۔

اکتوبر ۱۹۹۷ء میں جسٹس عارف اقبال بھٹی صاحب کا قتل اس خدشہ کو مزید تقویت دیتا ہے، کیونکہ ایجنسیوں اور تفتیشی ٹیموں کی متفقہ رائے یہی ہے کہ ۱۹۹۵ء کے توہین رسالت کیس میں ملزموں منظور مسیح اور سلامت مسیح کو بری کرنے کی وجہ سے جسٹس صاحب کو قتل کیا گیا ۔ ۱؎

ہڑتال اور "تحریک تحفظ ناموس رسالت" کے عشرہ محرم کے دوران ہونے والے ہنگاموں اور احتجاجی جلسوں سے یہ اندازہ لگانا بھی مشکل نہیں کہ اگر اس قانون کو ختم کیا جاتا ہے یا ترمیم کی جاتی ہے ، تو ۱۹۷۷ء کی "تحریک نظام مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم" جیسی شدید تحریک احتجاج شروع ہو سکتی ہے ۔

۱؎ جنگ، لاہور، ۲۱؍ اکتوبر ۱۹۹۷ء، ۲۰

PDF 306

خلاصہ بحث

صفحہ ۳۰۷

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و اتباع کے ساتھ ساتھ آپ کی تعظیم وتکریم اور ادب و احترام بھی ایمان کا بنیادی تقاضا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا شعار قرار دیا ہے اور قرآن پاک میں آپ کی تعظیم وتکریم کے بارے میں واضح احکام جاری کئے ہیں۔ آپ کی شان اقدس میں کسی مشکوک و ہلکے لفظ کے استعمال کی بڑی سختی سے ممانعت ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ذاتی نام سے پکارنے کی بجائے القاب وصفات سے مخاطب کرنے کا اسلوب اختیار کیا ہے اور تمام مسلمانوں کو بھی ایسا ہی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی محبت کے پیش نظر ادب و احترام کو ہر لحظہ ملحوظ رکھا ، مگر دوسری طرف کچھ لوگ ایسے بھی تھے ، جنہوں نے قبول اسلام سے خود بھی گریز کیا ، دوسروں کو بھی روکا اور آپ پر سَبّ وشتم کی مہم شروع کردی تاکہ آپ کو ذہنی ونفسیاتی طور پر تنگ کرکے آپ کے پیغام اور انقلابی تحریک میں رکاوٹ ڈالی جاسکے۔

اللہ تعالیٰ نے کفر کے ان پیشواؤں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا پہنچانے والوں سے سختی سے نمٹنے اور ان کو ختم کرنے کا حکم جاری کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سمیت تمام انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام اجمعین کی توہین کی سزا

صفحہ ۳۰۸

قتل مقرر فرمائی (مَنْ سَبَّ نَبِيًّا قُتِلَ وَمَنْ سَبَّ اَصْحَابَهُ جُلِدَ) دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں معاویہ بن مغیرہ ، ابورافع ، ابوعفک ، خالد بن سفیان الہذلی ، حارث بن سوید بن صامت ، کعب بن اشرف ، الحویرث بن نقیض ، عبداللہ بن خطل ، مقیاس بن صبابہ ، النضر بن الحارث ، عقبہ بن ابی معیط ، عصمہ بنت مروان اور دیگر شاتموں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے قتل کیا گیا۔ اسلام کے عالمگیر پیغام کی راہ میں حائل ان افراد کو ہٹایا جانا اس لیئے بھی ضروری تھا کہ ایسا کیئے بغیر انسانیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گراں قدر فیوض وبرکات سے محروم رہ جاتی ، انسان شجر و حجر کی پرستش کرتے کرتے شرف انسانیت کھو بیٹھتا تو موجودہ ترقی اور تسخیر کائنات کی طرف اس کا قدم کبھی نہ اٹھتا۔ نیز اسلام ایک عالمگیر دستور ہے ، جس میں دستور دینے والے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کو بھی دستوری تحفظ حاصل ہے لہٰذا اس کی توہین کو بغاوت قرار دے کر سزاے موت مقرر کی گئی ہے۔

رسول اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد بھی یہ سزا ختم نہیں ہوگئی ، بلکہ خلفاء الراشدین اور صحابہ کرام کے دور میں کوئی ایسا واقعہ رونما ہوا تو انہوں نے توہین رسالت کی سزا کو بطور ” حَدّ “ اور ” ضابطہ فوجداری “ کے لاگو کیا۔ شاتم رسول کی سزا قتل اور اس کے حَدّ ہونے میں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین میں قطعاً کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا۔

صفحہ ٣٠٩

اموی اور عباسی دور میں بھی سرکاری طور پر اس قانون پر عمل درآمد ہوا ۔ اسلام کے مختلف مکاتب حنفیہ ، مالکیہ ، شافعیہ ، حنابلہ اور جعفریہ کے تمام ائمہ و علماء کرام شاتم رسول کی سزا کے بارے میں متفق ہیں کہ وہ حداً قتل کا مستحق ہے ۔ کسی فقیہہ نے ان میں سے کسی کا اختلاف نقل نہیں کیا اس قانون کی دیگر تفصیلات میں فقہاء کا اختلاف صرف اس مسئلہ میں نظر آتا ہے کہ اگر کوئی گستاخ کفر گوئی کے بعد توبہ کی طرف مائل ہو گیا ہو تو کیا اس کی توبہ قبول ہو گی یا نہیں ؟

جمہور فقہاء کا تو یہی موقف ہے کہ توبہ مطلقاً قبول نہیں ہو گی حضرت امام مالکؒ ، امام احمدؒ ، امام شافعیؒ ، ابواللیثؒ ، اسحقؒ ، حسن بصریؒ ، ابن نجیمؒ ، ابن تیمیہؒ اور ابن بزازؒ کے علاوہ اکثر فقہاء اسی بات کے قائل ہیں ۔

دوسرا موقف یہ ہے کہ گستاخ رسول کی سزا حداً قتل ہی ہے لیکن اگر شاتم "قبل الاخذ" (گرفتاری سے یا مقدمہ کے اندراج سے قبل) توبہ کر لے تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی ۔

شوافع اور احناف میں سے بعض نے یہ موقف اختیار کیا ہے ، امام ابو یوسفؒ اور امام ابو حنیفہؒ سے بھی ایک قول اس بارہ میں نقل ہوا ہے ، مگر ان حضرات کے نزدیک بھی توبہ کے معتبر ہونے کے لیئے خاصی کڑی شرائط اور ثبوت

صفحہ ۳۱۰

کی ضرورت ہے۔

بہر حال فقہاء نے ان دونوں آراء میں عملی تطبیق کی یہ صورت بیان کی ہے کہ ”قبل الاخذ“ قبولیت توبہ کا مفہوم یہ ہے کہ یہ توبہ عندالناس قبول نہیں ہوگی اور نہ ہی حد ساقط ہوگی، اس لیئے تائب ہونے والے شاتم کو بھی قتل کیا جائے گا، مگر توبہ کی وجہ سے قتل کے بعد اس پر مسلمانوں کے ہی احکام جاری کیئے جائیں گے اور اس کی توبہ کی قبولیت کا معاملہ اللہ تعالیٰ پر ہوگا۔

تمام فقہاء اس معاملے میں بھی واضح ہیں کہ کوئی مرتد یا شاتم اسی وقت مباح الدم قرار پائے گا، جب کہ حاکم وقت یا قاضی ایسا اعلان و فیصلہ کرے اور اس پر سزا کا اطلاق بھی حاکم، اس کا نائب یا مجاز قاضی ہی کروائے گا کیوں کہ حد جاری کرنے کی ذمہ داری صرف امام کی ہے۔ یہ کس و ناکس کا کام نہیں کہ وہ کسی بھی قاتل، مرتد یا شاتم رسول کو مباح الدم قرار دے کر قتل کرتا پھرے۔

عہد صحابہ و تابعین کے بعد جہاں جہاں اسلامی ریاستیں قائم ہوئیں، شاتم رسول کی سزائے قتل بطور حد نافذ رہی۔ سپین میں عبدالرحمٰن الداخل اول کے زمانہ میں مسیحی راہبوں کی تحریک شماتت میں شامل تمام شاتموں کو قانون کے مطابق سزائے قتل دی گئی تھی۔

صلاح الدین ایوبیؒ اور نور الدین زنگیؒ نے بھی رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم

صفحہ ۳۱۱

کے گستاخوں کو قتل کیا ، برصغیر پاک و ہند میں مغلیہ دور حکومت کے سیکولر ادوار میں بھی غیر مسلم شاتموں کو قتل کیا گیا ۔

اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب بھی اپنے پیروکاروں کو مذہبی کتب و تعلیمات ، مقدس شخصیات اور دیگر مذہبی شعائر کی عزت و توقیر کا حکم دیتے ہیں اور کوئی مذہب اور اس کا پیروکار ان کی توہین برداشت نہیں کرتا ۔ یہودیت میں خدا اور شعائر مذہب کی توہین کی سزا موت مقرر ہے ۔ ہندو دھرم وید ، برہمن اور دیگر مقدس شخصیات کی پوجا کی حد تک تکریم کا حکم دیتا ہے اور ان کی دل آزاری کی ممانعت ہے ۔ ہندو دسہرہ کا تہوار مناکر اپنی سب سے مقدس مذہبی شخصیت رام جی اور ان کی اہلیہ سیتا کی گستاخی و اہانت کے جرم میں گستاخ راون کے پتلے جلاکر ہر سال گستاخی و اہانت کی سزا موت کا اعادہ کرتے ہیں ۔ بدھ مت بھی اپنے پیشواؤں کی عزت و تکریم کا قائل ہے اور سکھ مت کے ماننے والوں نے بھی اپنے مذہب کے شعائر کی توہین پر کبھی کسی کو معاف نہیں کیا ، مسز اندرا گاندھی کا قتل اس کی واضح مثال ہے ۔

بہرحال یہ ایک فطری بات ہے کہ اگر کسی شخص کے مذہب اور اس کی مقدس مذہبی ہستی کی توہین کی جائے ، تو وہ مشتعل ہوکر مرنے مارنے پر تل جاتا ہے ۔ لہذا اسے مذاہب عالم کا مشترکہ قانون ہونے کے ساتھ ساتھ

صفحہ ۳۱۲

ایک فطری قانون بھی کہا جاسکتا ہے۔ مغربی ممالک میں یہ قانون ”Blasphemy“ کے نام سے صدیوں تک لاگو رہا، جس کے تحت سینکڑوں اشخاص کو ”گستاخی مسیحؑ و مذہب“ کے جرم میں بے رحمانہ طریقہ سے قتل کیا گیا۔ اب لادینی رجحانات کے غلبہ کے تحت اس سزا میں نرمی کردی گئی ہے۔

برصغیر پر برطانیہ نے قبضہ کے بعد ۱۸۶۰ء میں Indian Penal“ ”Code (تعزیرات ہند) نافذ کیا، تو اس میں دفعہ ۱۲۴ اور پھر ۱۸۹۸ء میں دفعہ ۱۵۳ توہین حکومت اور فرقہ وارانہ روک تھام کے لیئے شامل کی گئی، بعد میں آریہ سماج کی تحریک اہانت رسول اور راج پال کی شائع کردہ کتاب پر ہنگاموں کے بعد قانون ساز اسمبلی میں مولانا محمد علی جوہر نے ”توہین بانیانِ مذاہب“ کا بل ۱۹۲۷ء میں پیش کیا جوکہ بحث و تمحیص کے بعد ۲۱ ستمبر ۱۹۲۷ء کو اکثریت رائے سے منظور ہوگیا، اس طرح دفعہ ۲۹۵۔ الف کی صورت میں یہ قانون مجموعہ تعزیرات ہند اور پھر تعزیرات پاکستان میں شامل ہوا۔

۲ اکتوبر ۱۹۸۶ء کو توہینِ رسالت کے مختلف واقعات کے پس منظر میں قومی اسمبلی نے ”توہینِ رسالت ایکٹ“ منظور کیا، جس کے مطابق شاتم کے لیئے سزائے موت یا عمر قید مع جرمانہ رکھی گئی۔ اس کے بعد محمد اسماعیل قریشی

صفحہ ۳۱۳

ایڈووکیٹ کی وفاقی شرعی عدالت میں درخواست پر اس میں سزائے قید کا حصہ خارج کر کے گستاخی کی سزا صرف سزائے موت قرار دی گئی اور اب پاکستان میں یہی گستاخ رسول کی سزا ہے۔

اس بل کے منظور ہوتے ہی ملک کے مؤثر سیکولر طبقہ ، مسیحی اقلیت اور مغربی ممالک نے اس پر اعتراضات کا سلسلہ شروع کر دیا اور خاص کر مغربی ممالک نے اسے اپنے خود ساختہ انسانی حقوق کے تصور کے خلاف قرار دے کر اسے ختم کرنے کے لئے پاکستانی حکومت پر سخت دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔ یہ ”انسانی حقوق“ دورِ حاضر میں مغرب کے ہاتھ میں ایک ایسا فکری ہتھیار ہے ، جس کے ذریعے وہ خاص کر مسلم ممالک پر مسلسل حملہ آور ہے ، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ خود ”انسانی حقوق“ کے تصور کی بنیادوں سے بھی آگاہ نہیں ہیں ان کے انسانیت اور انسانی حقوق کے معیار خود ساختہ ، مبہم ، متضاد اور دوہرے ہیں۔ ان کے طرزِ عمل سے یہ بات عیاں ہے کہ جہاں کہیں انہیں اپنے خود ساختہ قوانین یا مفاد کے خلاف کوئی بھی اصول نظر آتا ہے ، تو وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہونے کا پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے ، یہی برتاؤ قانون توہینِ رسالت کے ساتھ بھی ہے۔ بوسنیا ، کشمیر یا دنیا کے کسی بھی حصے میں مسلمانوں کے قتل عام کے واقعات کو اہل مغرب نے کبھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار نہیں دیا ، مگر مسلم آزار سرگرمی ختم کرنے کی کسی بھی کاروائی کو وہ بنیادی انسانی حقوق

صفحہ ۳۱۴

اور آزادی اظہار رائے کی پامالی قرار دیتے ہیں۔ اس قانون پر کئے جانے والے اعتراض بھی بے بنیاد ہیں، کیوں کہ یہ قانون اقلیت آزار نہیں اور نہ کسی قانون یا آئین کے خلاف ہے بلکہ یہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے۔ مغربی ممالک اور ان کے پروردہ بے دین طبقہ کا منشا یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ آزادی رائے اور انسانی حقوق کے نام کو استعمال کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بغض میں آپ کی ذات اقدس ۔ میں عیب نکالنے کی کھلی آزادی چاہتے ہیں ، اسی واسطے جب کوئی دریدہ دہن ایسی مذموم حرکت کرتا ہے ، تو انسانی حقوق کی آڑ میں سارا مغرب اس کی تائید و حمایت میں کمر بستہ ہو جاتا ہے۔

یہ سارا کچھ اس لیے بھی ہے کہ اہل مغرب کے اخلاقی و انسانی معیار بہت پست ہو چکے ہیں۔ اب وہ خدا ، حضرت مسیح علیہ السلام ، انبیاء اور دیگر مقدس شخصیات کو بھی سخت تنقید بلکہ فحش اعتراضات کا نشانہ بنانے سے بھی نہیں چوکتے ، اب ان کی خواہش ہے کہ مسلم ممالک بھی اسی روش کو اپنائیں ، اسی خواہش کو پورا کرنے کے لیے انہوں نے متعدد بار پاکستانی حکومت پر دباؤ ڈالا ہے کہ ” قانون توہین رسالت “ کو ختم کر دیا جائے ۔ سابق حکومت میں وزیر اعظم بے نظیر بھٹو صاحبہ کی قدرے لادینیت کی طرف مائل حکومت نے مغرب کے اس مطالبہ کو پورا کرنے کا ارادہ کیا اور اس کی سزا میں کمی کر کے دس سال

صفحہ ۳۱۵

کرنے کی تجویز طے کی ، اس پر ملک بھر میں شدید ہنگامے و ہڑتالیں ہوئیں ، جس کے باعث یہ ظاہر کیا گیا کہ اس قانون میں سزا کی کمی نہیں کی جا رہی بلکہ طریق کار میں تبدیلی کی جا رہی ہے ، مگر عوام نے اس وضاحت اور ترمیم کو قبول نہیں کیا ۔ عوام کے سخت دباؤ پر یہ فیصلہ موخر ہوا ، اس کے بعد مئی ۱۹۹۴ء میں اس قانون میں ترمیم کی تجویز پر عمل کر کے توہین رسالت کے جرم کو ناقابل دست اندازی پولیس قرار دے کر عملاً غیر موثر بنانے کا فیصلہ کیا گیا ۔ ۲۷ مئی ۱۹۹۵ء کو اس مجوزہ ترمیم کے خلاف زبردست ہڑتال ہوئی اور پنجاب اسمبلی میں بھی اس کے خلاف قرارداد منظور کی گئی ۔

اس مجوزہ ترمیم کے تحت قانون توہین رسالت کو ناقابل دست اندازی پولیس بنانے اور مقدمہ ثابت نہ کرنے والے مدعی کو دس سال قید کی سزا کئی قانونی پہلوؤں سے غلط ہے ، بلکہ یہ مجوزہ ترمیم تعزیرات پاکستان اور ضابطہ فوجداری ہی سے متصادم ہے اور اس کے نفاذ سے معاشرہ میں ہولناک نتائج و عواقب سامنے آئیں گے ، جن پر قابو پانا بے حد مشکل ہوگا ۔

صفحہ ۳۱۶

مزید اصلاح کے لیے تجاویز

قانون توہین رسالت کے ضمن میں مسلمانان پاکستان کے رویے میں ایک تشویش ناک بات یہ ہے کہ یہاں توہین رسالت کے ملزم کو خود قتل کرنے کا رجحان بہت زیادہ ہے۔ اس میں کوئی شک کی بات نہیں کہ قانون توہین رسالت کا مسئلہ مسلمانوں کی بقاء کا مسئلہ ہے لیکن جذبات کی رو میں بہہ کر شان رسالت میں گستاخی کرنے والے کو بلا تحقیق ماورائے عدالت قتل کرنے کا رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے کوئی جواز یا دلیل نہیں پیش کی جاسکتی کیوں کہ اسلامی شریعت کے مطابق سزا دینے اور اس پر عمل درآمد کرانے کا اختیار بھی صرف ریاست کو حاصل ہے۔ اس کے برعکس ہر شخص ملزم کو اپنے ہاتھ سے سزا دینے لگے تو معاشرے میں جو انارکی پھیل جائے گی اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

اسی لیئے کسی بے گناہ ملزم کو جسے کسی غلط فہمی کی بنا پر اس الزام میں ملوث کیا گیا ہو، بچانے کے لیئے اس قانون کو منصفانہ بنانے کی ضرورت ہے، بالخصوص اقلیتوں کے خلاف اس الزام کے بے جا استعمال کے خدشات دور کرنے کے لیئے مزید اقدامات کرنے چاہیں۔ اقلیتوں کو مکمل تحفظ کا احساس دلانے کے لیئے تفتیشی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اس نوعیت کے مقدمات کے اندراج اور تفتیش میں انتہائی احتیاط ، غیر جانبداری اور تعصب سے بالاتر ہو کر خوب چھان

صفحہ ۳۱۷

کی ذمہ داری پوری کرنا ہو گی اور کسی شہری کو قانون اپنے ھاتھوں میں لے کر خود ہی مدعی ، جج اور جلاد کا کردار ادا کرنے کے رحجان کی بیخ کنی کرنی ہو گی لہٰذا اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ توہین رسالت کے ملزمان کے خلاف مقدمہ کے اندراج سے سزا تک کے تمام مراحل کو سرکاری سطح پر ہی مؤثر انداز سے نمٹایا جائے ۔ یہ نہ صرف اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہے بلکہ وطن عزیز کی سالمیت ، امن و امان کی صورت حال اور انصاف پسند معاشرے کے قیام کے لیئے بھی سود مند ہے ۔

پاکستان ایک ایسا نظریاتی ملک ہے، جس کی بنیاد اسلام پر ہے اور اس کی ۹۶ ٪ آبادی مسلمان ہے، لہٰذا اقلیتوں اور بالخصوص مسیحی برادری اور ان کے راہنماؤں کو بھی اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس بات کو پیش نظر رکھنا چاہیے کہ وہ ۔ کوئی ایسا مطالبہ نہ کریں جو اس ملک کی اکثریتی آبادی کے مذہبی جذبات مجروح کرنے کا باعث بنے اور پھر اسے عملی طور پر تسلیم کرنا بھی ممکن نہ ہو ۔ وطن عزیز کی صرف ۱ء۵ ٪ فیصد آبادی کے ترجمان رسائل و جرائد اشتعال انگیز تحریریں شائع کرتے رہیں گے، تو اس بات کا امکان خطرناک حد تک بڑھ جائے گا کہ اکثریتی آبادی کا کوئی جذباتی فرد کسی بھی وقت قانون کو اپنے ھاتھوں میں لے لے ۔ لہٰذا مسیحی برادری کو بھی اپنے اس رویہ پر نظرثانی کرنی چاہیے ۔

پاکستان میں اکثریت اور اقلیتوں کے تعلقات شروع سے ہی مثالی رہے ہیں اور ایک اسلامی ریاست میں اس کے شہریوں کو آزادی ، مساوات ، معاشی اور

صفحہ ۳۱۸

معاشرتی انصاف کے ساتھ ساتھ حقوق انسانی کے تحفظ کی بھی مکمل ضمانت ہوتی ہے علاوہ ازیں اقلیتوں کے جان و مال کا تحفظ اور عزت و تکریم بھی اسلامی ریاست کی اولین ذمہ داری ہے لیکن حساس مسئلہ کو بنیاد بنا کر پرتشدد مظاہرے اور بیرونی مداخلت کی دعوت ایسے معاملات تشویش ناک ہیں ۔ خدانخواستہ اکثریت بھی مشتعل ہو کر ردعمل کے طور پر مسیحیوں کے لیئے پرتشدد راستہ اختیار کر لیتی ہے تو یہ صورت حال نتائج و عواقب کے لحاظ سے اقلیت ، اکثریت اور ملک کے لیئے بھی انتہائی خوف ناک ہوگی ۔ اس لیئے مسیحی اقلیت کو قانون توہین رسالت پر طعن و تشنیع اور بلا جواز اعتراضات کا سلسلہ ترک کر دینا چاہیے تاکہ ملک میں اکثریت اور اقلیتوں کے درمیان محبت کی جو فضا قائم ہے وہ برقرار رہے ۔

مسیحی اقلیت کی طرف سے دائر کردہ ایک درخواست پر اگرچہ لاہور ہائی کورٹ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اس ایکٹ کے تحت تمام انبیاء کی توہین کی سزا موت ہے مگر پھر بھی مسیحی اقلیت کو مطمئن کرنے کا یہ طریقہ بھی ہے کہ اس قانون میں یہ الفاظ شامل کر کے وضاحت کر دی جائے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ حضرت مسیح علیہ السلام اور دیگر تمام انبیاء کی توہین کی سزا موت ہی ہوگی۔

مذہبی معاملات میں ہمارے خطیب حضرات کے رویہ میں ایک بڑی خامی یہ ہے کہ بسا اوقات فرقہ وارانہ عداوت ، مفاد پرستی یا لاعلمی کے باعث

صفحہ ٣١٩

یہ طبقہ ایسی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا ہے ، جس سے معاشرہ میں انتہائی پریشان کن صورت حال پیدا ہو جاتی ہے ۔ اپنی تقریروں کے ذریعہ بعض اوقات یہ حضرات کم علم جذباتی مسلمانوں کو غلط طور پر مشتعل کر دیتے ہیں، نتیجتاً ایسا سانحہ رونما ہو جاتا ہے ، جس کی بعد ازاں تلافی ناممکن ہو جاتی ہے۔ مسئلہ توہین رسالت اور اسی طرح کے دیگر حساس معاملات کے متعلق یہ بات انتہائی ضروری ہے کہ منبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے وارث عوام کی درست سمت میں رہنمائی کریں ۔

ہمارے ہاں عام طور پر معمولی فروعی اختلافات پر ایک دوسرے پر توہین رسالت کے الزامات لگنا شروع ہو جاتے ہیں ، جس سے نہ صرف امت مسلمہ کا توہین رسالت ایکٹ کے ضمن میں موقف کمزور ہو جاتا ہے بلکہ مسلمانوں کے آپس میں لگائے گئے توہین رسالت کے الزامات ہی کی بنا پر قانون توہین رسالت کے مخالفین، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت کا غلط جواز پیش کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس لیئے حکومت کو فرقہ واریت کے خاتمہ کے لیئے بھی قانون بنانے کا جلد اہتمام کرنا چاہیے

۱۴ اکتوبر ۱۹۹۰ء کو وفاقی شرعی عدالت نے اگرچہ اس قانون میں متبادل سزا عمر قید کو خارج و ختم کر دیا ہے ، مگر تعزیرات پاکستان میں ابھی تک اس متبادل سزا کے فقرہ کا اندراج و ذکر موجود ہے لہذا حکومت کو چاہیے کہ وہ اس متبادل سزا کے ذکر کو بھی تعزیرات پاکستان کے مجموعہ سے خارج کرنے کا باقاعدہ

صفحہ ۳۲۰

نوٹیفکیشن جاری کر کے آخری قانونی تقاضا بھی پورا کر دے۔ آئینی طور پر شرعی عدالت کے فیصلے کی وجہ سے یہ متبادل سزا اس قانون کا حصہ نہیں اور نہ اس پر عمل ہوتا ہے لہٰذا اسے خارج کر دینے سے کسی بھی قانونی الجھاؤ سے بچا جا سکتا ہے ۔

اسلامی قانون حدود و تعزیرات میں کسی جرم کی جتنی سنگین سزا مقرر ہے ، اسی قدر کڑی شرائط بھی اس کے ثبوت کے لیئے درکار ہیں ، اس لیئے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر جرم توہین رسالت کی سزا کے لیئے اسلام کے معیار شہادت کے مطابق مطلوب گواہ موجود یا دستیاب نہ ہوں ، تو سزائے حد موقوف ہونے پر کیا ملزم کو عدالت کوئی سزا نہیں دے سکے گی ۔

ایسی صورت میں اسلام کا قانون تعزیر حرکت میں آتا ہے ، کیوں کہ جہاں حد کی شرائط پوری نہ ہوں ، وہاں اسلامی اصول قانون کی رو سے ملزم کو تعزیری سزا دی جاتی ہے ، اس لیئے علماء اور قانون دان طبقہ کی طرف سے تجویز کیا گیا ہے کہ اگر توہین رسالت کے جرم میں مطلوبہ شرائط حد کی بوجہ تکمیل نہ ہو سکے مگر ثبوت اور قرائن قاطع جو ریکارڈ پر ہوں ، تو ملزم کو فرد جرم ثابت ہونے کے بعد تعزیری سزا دی جائے ۔

اس بارہ میں ایک تجویز یہ بھی دی گئی ہے کہ قومی اسمبلی ایسے ملزم کو ۲۵ سال قید بامشقت اور ۳۰ کوڑوں کی سزا مع جرمانہ دینے کے لیئے قانون

صفحہ ۳۲۱

سازی کرے۔

بہر حال اس تجویز اور اس کے دیگر پہلوؤں پر مزید تحقیق علماء و ماہرین قانون کی آراء کی روشنی میں ضروری ہے۔

رَبَّنَا اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَاغْفِرْلَنَا ج اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ہ

رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِيْ اَمْرِنَا وَ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِيْنَ ہ

رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا اِنْ نَّسِيْنَا اَوْ اَخْطَاْنَا ط

رَبَّنَا اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّ فِي الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ ہ

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ ہ وَتُبْ عَلَيْنَا ج اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ ہ

سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ . وَصَلَّى اللّٰهُ تَعَالٰى عَلٰى خَيْرِ خَلْقِهٖ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ وَ اَصْحَابِهٖ اَجْمَعِيْنَ ط بِرَحْمَتِكَ يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ ۔