قادیانیت — ثبوت حاضر ہیں جلد 3 · محمد متین خالد
Saboot · Vol. 3
PDF 1

نئے اضافوں کے ساتھ

عالمِ اسلام میں اپنی نوعیت کی منفرد کتاب

قادیانیت

ثبوت حاضر ہیں!

قادیانی مذہب کے عقائد و عزائم، مضحکہ خیزیوں، تضاد بیانیوں اور کذب و ریا پر مبنی ناقابلِ تردید اور ھوش رُبا عکسی شہادتیں

3

ترتیب و تحقیق محمد متین خالد

صفحہ 2

چیلنج

”ثبوت حاضر ہیں“

یہ کتاب، اپنے اندر قادیانی مذہب کے بانی آنجہانی، مرزا غلام احمد قادیانی اس کے بیٹوں، اس کے نام نہاد خلیفوں اور دیگر اہم قادیانیوں کی مستند تصانیف اور اخبارات و رسائل کی قابل اعتراض اور دل آزار کفریہ عبارتوں کی عکسی نقول لیے ہوئے ہے قادیانی جرائم کے یہ ثبوت اتنے واضح ہیں کہ دنیا کی کسی بھی عدالت میں ان عکسی دستاویزات کی صداقت کو چیلنج کرنا کسی بھی قادیانی کے لیے ممکن نہیں ہے میں اس کتاب میں درج تمام حوالوں اور عکسی نقول کے مصدقہ ہونے کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں اور قادیانی جماعت کے موجودہ سربراہ سمیت قادیان و ربوہ کے تمام قادیانیوں (بشمول لاہوری گروپ) کو چیلنج کرتا ہوں کہ اگر اس کتاب میں موجود، کوئی بھی عکس غیر حقیقی ہو، یا میری طرف سے کسی بھی نوع کی ترمیم ہوئی ہو، کسی قسم کا اضافہ کیا گیا ہو، یا ایک بھی خانہ ساز حوالہ پایا جائے تو میں اس کے لیے ہر قسم کی سزا پانے کے لیے تیار ہوں! بصورت دیگر انہیں ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑ کر آخرت کی فکر کرتے ہوئے اسلام کی آغوش میں آ جانا چاہیے ہے کسی قادیانی میں اخلاقی جرأت جو میرے اس چیلنج کو قبول کرے؟

محمد متین خالد

PDF 3

نئے اضافوں کے ساتھ

عالمِ اسلام میں اپنی نوعیت کی منفرد کتاب

قادیانیت

ثبوت حاضر ہیں!

قادیانی مَذہَب کے عقائد وعزائم، مَضحکہ خیزیوں، تضاد بیانیوں اَور کِذب و رِیا پَر مَبنی ناقابلِ تردید اَور ھوش رُبا عَکسی شہادتیں

جلد سوم

محمد متین خالد

علم و عرفان پبلشرز

الحمد مارکیٹ 40- اردو بازار، لاہور، فون: 7352332-7232336-8405100

PDF 4

جملہ حقوق محفوظ

نام کتاب قادیانیت ثبوت حاضر ہیں ! جلد سوم مصنف محمد متین خالد ناشر علم و عرفان پبلشرز قانونی مشیر محمد نوید شاہین ایڈووکیٹ ہائی کورٹ مطبع جوہر رحمانیہ پرنٹرز، لاہور سرورق فضیل کیانی کمپوزنگ تاج کمپوزنگ سنٹر، لاہور سن اشاعت (نئے اضافوں کے ساتھ) 2011ء قیمت 700/- روپے

علم و عرفان پبلشرز الحمد مارکیٹ 40- اردو بازار، لاہور فون: 7352332-7232336-8405100

صفحہ 5

انتساب

”ثبوت حاضر ہیں!“ کی تدوین اور تیاری کوئی معمولی کاوش نہیں بلکہ جان جوکھوں کا کام ہے۔ موضوعات کا انتخاب، حوالہ جات کی تلاش، قادیانی کتب کا حصول، مواد کی درجہ بہ درجہ سلسلہ بندی، کمپوزنگ، پروف ریڈنگ، لے آؤٹ، عکسی نقول کا اصل کتب سے سکین کرنا، حوالہ جات کو ایک خاص ترتیب سے درست جگہ پر رکھنا، کمپوز شدہ مواد اور عکسی شہادتوں کا تفصیلی موازنہ، حوالہ نمبر اور صفحہ نمبر کا سو فیصد صحیح ہونا، حتی الامکان غلطی سے گریز کرنا، یہ ایسے مسلسل اور جانگسل مراحل ہیں جنہیں کامیابی سے عبور کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ گویا:

یہ عشق نہیں آساں بس اتنا سمجھ لیجیے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے

یہ مجھ اکیلے کا کام نہیں بلکہ پوری ٹیم کا مشن ہے جس نے نہایت مستعدی، حزم و احتیاط، محنت، لگن، اخلاص اور دلی جذبے سے سرشار ہوکر یہ مشکل فریضہ کامیابی سے انجام دیا۔ ان حضرات میں جناب وقار احمد، جناب عامر خورشید، جناب سہیل باوا (ختم نبوت اکیڈمی، لندن)، جناب پروفیسر جمیل احمد عدیل، جناب پروفیسر سمیر ملک، جناب گلفراز احمد، جناب السید عقیل انجم (کراچی)، جناب محمد احمد ترازی (کراچی)، حافظ عبدالقیوم، جناب محمد ہاشم جاوید،

صفحہ 6

جناب عبداللہ، جناب شہزاد انجم، جناب خالد محمود (سابق یونین کونسلر)، جناب عبدالرؤف اسلام آباد، جناب محمد ضیاء الحق نقشبندی، جناب عین الحق، جناب شوکت علی شاہد (ننکانہ صاحب)، جناب ظفر عباس (ننکانہ صاحب)، جناب سید علی الحسنین بخاری، جناب محمد شاہد حنیف، جناب ظفر اقبال، جناب فضیل کیانی، جناب رفاقت علی تاج، جناب محمد ذاکر، جناب محمد شفیق (شاہدرہ)، جناب اسد اللہ (جڑانوالہ) شامل ہیں۔ ان رفقا نے کتاب کی تیاری کے سلسلہ میں آنے والی تمام مشکلات میں میرا ہر ممکن ہاتھ بٹایا، قدم قدم پر رہنمائی فرمائی، ہر مرحلہ پر حوصلہ افزائی کی، نہایت مفید مشوروں سے نوازا اور عمدہ تجاویز دیں۔ سچی بات یہ ہے کہ اگر مجھے ان احباب کا بھر پور تعاون میسر نہ ہوتا تو شاید یہ کتاب اس قدر جلد شائع نہ ہو پاتی۔ اس کتاب کا انتساب ان دوستوں کے نام کرتے ہوئے میں بے حد فخر و انبساط محسوس کر رہا ہوں:

؎ کریں کس زباں سے شکریہ ادا ہم
کہ الفاظ کم ہیں عنایت زیادہ
صفحہ 7

ترتیب عنوانات

قادیانی اخلاق 53 Love for all, Hatred for none

صفحہ 8
صفحہ 9

View Proof

لعنت بازی

مرزا قادیانی کا پسندیدہ مشغلہ

81

View Proof

قادیانی ڈکشنری

87

صفحہ 10

مرزا قادیانی کے سفید جھوٹ 105

صفحہ 11
صفحہ 12

مرزا قادیانی کی تضاد بیانیاں 125

صفحہ 13
صفحہ 14
صفحہ 15

باپ سچا یا بیٹا؟ 151

صفحہ 16

قادیانی تحریفات 163

صفحہ 17

(اصل قرآنی آیات اور مرزا قادیانی کی تحریف شدہ آیات) 171

قرآن مجید میں تبدیلی کرنے والا ملحد اور کافر ہے 199

صفحہ 18

مرزا قادیانی کی پیش گوئیاں 205

(جو پوری نہ ہو سکیں)

صفحہ 19
صفحہ 20

قادیانیوں سے 30 انعامی سوالات 339

صفحہ 21
صفحہ 22

View Proof عکسی شہادتیں 393

صفحہ 23

توجہ فرمائیں!

خیزیوں کو نمبر شمار لگا کر ایک ترتیب سے درج کیا گیا ہے۔

دیے گئے ہیں۔ مثلاً ”قادیانی اخلاق“ کے باب میں حوالہ نمبر 31 کا عکسی ثبوت، کتاب کے آخر میں حوالہ نمبر 31 کے تحت فراہم کر دیا گیا ہے۔

صرف ایک دفعہ دیا گیا ہے، اس کے لیے دیکھیے صفحہ نمبر 27 تا 30

لگا دی گئی ہے۔

ہو جاتا ہے کہ ان کی گستاخانہ اور متنازع فیہ عبارات سیاق و سباق سے ہٹ کر بیان کی جاتی ہیں۔

اور توہین آمیز قادیانی عبارات پڑھتے وقت کثرت سے استغفار کریں۔ شکریہ!

PDF 24
صفحہ 25

أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ. بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ. وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِأَعْدَائِكُمْ وَكَفٰى بِاللّٰهِ وَلِيًّا وَّكَفٰى بِاللّٰهِ نَصِيْرًا. لَعْنَتُ اللّٰهِ عَلَى الْكٰذِبِيْنَ. اَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ الَّذِیْ لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْحَیُّ الْقَيُّوْمُ وَاَتُوْبُ اِلَيْهِ. وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِیِّ الْعَظِيْمِ. اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ.

پھول بغیر کانٹے کے نہیں ہوتا۔ آپ کتنا ہی نیک کام کیوں نہ کریں، نکتہ چین اپنی نیش زنی سے باز نہیں آتے۔ کسی کے عیب تلاش کرنے والے کی مثال اُس مکھی جیسی ہے جو سارا خوبصورت جسم چھوڑ کر صرف زخم پر ہی بیٹھتی ہے۔ چاند کو دیکھ کر کتے بھونکا کرتے ہیں اور بھونک بھونک کر یونہی اپنے آپ کو تھکا دیتے ہیں۔ حسد کا کوئی علاج نہیں۔ امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول زریں ہے کہ حاسد کے لیے یہی سزا کافی ہے کہ جب تم خوش ہوتے ہو تو وہ افسردہ ہو جاتا ہے۔

حاسد حسد کی آگ میں ہر دم جلا کرے
وہ شمع کیا بجھے، جسے روشن خدا کرے
PDF 26
صفحہ 27

فہرست ٹائٹل کتب

صفحہ نمبر

صفحہ 28
صفحہ 29
صفحہ 30
صفحہ 31

حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے فرمایا:

سيكون فى امتى كذابون ثلثون كلهم يزعم انه نبى و انا خاتم النبيين لا نبى بعدى. (مسلم شریف)

ترجمہ: ”حضرت ثوبانؓ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ قریب ہے کہ میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے جن میں سے ہر ایک یہی کہے گا کہ میں نبی ہوں، حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔“

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

گے اور کہیں گے: میں مسیح ہوں اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کریں گے۔“

(متی باب 24 فقرہ 5)

۞.......۞.......۞

PDF 32
صفحہ 33

تقریظ جمیل

”ثبوت حاضر ہیں“

قادیانی کفریہ عقائد و عزائم کا مستند دستاویزی ثبوت

عقیدۂ ختم نبوت اسلام کا وہ بنیادی اور مرکزی عقیدہ ہے جس میں معمولی سا شبہ بھی کفر ہے، امام اعظم حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جو شخص کسی جھوٹے مدعی نبوت (نبوت کا دعویٰ کرنے والا) سے دلیل طلب کرے وہ بھی دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“ کیونکہ دلیل طلب کر کے اُس نے اجرائے نبوت کے امکان کا عقیدہ رکھا اور یہی کفر ہے، عقیدۂ ختم نبوت اسلام کی بنیاد و اساس ہے جس پر مکمل ایمان رکھے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں ہوسکتا، قرآن مجید کی 100 کے قریب آیات اور 200 سے زائد احادیث مبارکہ سے ثابت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں، آپ ﷺ کے بعد کسی قسم کا کوئی نیا نبی نہیں، تمام صحابہ کرام، تابعین عظام، تبع تابعین، ائمہ مجتہدین اور چودہ صدیوں کے مفسرین، محدثین، متکلمین، علماء اور صوفیاء سمیت پوری اُمت مسلمہ کا اِس بات پر اجماع رہا ہے کہ حضور اکرم ﷺ کی بعثت کے ساتھ ہی نبوت و رسالت کا دروازہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بند ہو گیا ہے اور آپ ﷺ کے بعد کسی نئے نبی کے آنے کی ضرورت باقی نہیں رہی، لہٰذا اب اگر کوئی شخص کسی بھی معنوں میں دعویٰ نبوت کرتا ہے تو وہ بالاتفاق اُمت کافر و مرتد، کذاب و دجال اور دائرہ اسلام سے خارج قرار پاتا ہے۔

خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سلسلۂ نبوت کی آخری کڑی ہیں، آپ ﷺ کے

صفحہ 34

بعد کسی شخص کو اس منصب پر فائز نہیں کیا جائے گا، قرآن مجید میں ہے ”ماکان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين“ (الاحزاب 40) ”محمد ﷺ تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں، بلکہ اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں۔“ تمام ائمہ ومفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہاں ”خاتم النبیین“ کے معنی ہیں کہ ”آپ ﷺ آخری نبی ہیں“ آپ ﷺ کے بعد کسی کو ”منصب نبوت“ پر فائز نہیں کیا جائے گا۔

جس طرح قرآن کریم کی نصوص قطعیہ سے عقیدۂ ختم نبوت ثابت ہے، بالکل اسی طرح یہ عقیدہ حضور ﷺ کی احادیث متواترہ سے بھی ثابت ہے، آپ ﷺ فرماتے ہیں ”میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔“ (ابوداؤد جلد2،ص:228) ”مجھے تمام مخلوق کی طرف مبعوث کیا گیا اور مجھ پر نبیوں کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔“ (مشکوٰۃ:512) ”رسالت ونبوت ختم ہو چکی ہے پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہے اور نہ نبی۔“ (ترمذی،جلد2،ص51) ” میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امت ہو۔“ (ابن ماجہ: 297)

ان ارشادات نبوی میں اس امر کی تصریح فرمادی گئی ہے کہ آپ ﷺ آخری نبی اور رسول ہیں اور آپ ﷺ کی اُمت آخری امت، آپ ﷺ کا قبلہ آخری قبلہ، آپ ﷺ پر نازل شدہ کتاب آخری آسمانی کتاب ہے، یہ سب آپ ﷺ کی ذات مبارکہ کے ساتھ منصب ختم نبوت کے اختصاص کے تقاضے ہیں، جو اللہ تعالیٰ نے پورے کر دیے، چنانچہ قرآن مجید کو ”ذکر للعالمین“ اور بیت اللہ شریف کو ”ھدی للعالمین“ کا اعزاز بھی آپ ﷺ کی ختم نبوت کے صدقے میں ملا، ترجمان القرآن حضرت عبداللہ ابن عباسؓ ”تفسیر ابن عباس“ میں فرماتے ہیں، ”ختم الله به النبيين قبله فلا يكون نبي بعدہ“ ”خاتم“ کے معنی یہ ہیں کہ اللہ ﷻ نے سلسلۂ انبیاء حضور اکرم ﷺ کی ذات اقدس پر ختم فرما دیا ہے، پس آپ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا۔“ علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ”خصائص کبریٰ“ میں آپ ﷺ کا خاتم النبیین ہونا، آپ ﷺ کی خصوصیت قرار دیا ہے، امام اہلسنت الشاہ احمد رضا فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق ”حضور پر نور خاتم النبیین سید المرسلین ﷺ کا خاتم یعنی بعثت میں آخر جمیع انبیاء و مرسلین بلا تاویل و بلا تخصیص

صفحہ 35

ہونا ضروریات دین سے ہے، جو اس کا منکر ہو یا اس میں ادنیٰ شک و شبہ کو بھی راہ دے، کافر مرتد ملعون ہے۔“ (فتاویٰ رضویہ جلد 6۔ص 57)

چنانچہ ان تصریحات، تشریحات اور دلائل و اقوال سے یہ بات ثابت ہے کہ حضور اکرم ﷺ آخری نبی ہیں اور آپ کے بعد قیامت تک نبوت و رسالت کا سلسلہ بند ہوچکا ہے، اِس لیے حضور اکرم ﷺ کے بعد جو شخص بھی نبوت و رسالت کا دعویٰ کرے اور پھر اس دعوے کے بارے میں کتنی ہی تاویلیں کیوں نہ کرے، اپنی نبوت کو ظلی، بروزی، تشریعی، غیر تشریعی، یا لغوی ثابت کرنے کیلئے لاکھ جتن کرے، لیکن اسے کافر، مرتد اور زندیق ہی قرار دیا جائے گا، چنانچہ اب آپ ﷺ کے بعد کسی کو اس منصب پر فائز نہیں کیا جائے گا، آپ ﷺ سے پہلے جتنے انبیاء علیہم السلام تشریف لائے، اُن میں سے ہر نبی نے اپنے بعد آنے والے نبی کی بشارت دی اور گزشتہ انبیاء علیہم السلام کی تصدیق کی، آپ ﷺ نے گزشتہ انبیاء علیہم السلام کی تصدیق تو فرمائی مگر کسی نئے آنے والے نبی کی بشارت نہیں دی، بلکہ فرمایا ”قیامت اُس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ 30 کے قریب دجال اور کذاب پیدا نہ ہوں، جن میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔“ ایک اور ارشاد مبارک ہے کہ ”قریب ہے کہ میری امت میں 30 جھوٹے پیدا ہوں، ہر ایک یہی کہے گا کہ میں نبی ہوں، حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔“ ان ارشادات میں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے ایسے ”مدعیان نبوت“ کیلئے دجال اور کذاب کا لفظ استعمال فرمایا، جس کا معنیٰ ہے کہ ”وہ لوگ شدید دھوکے باز اور بہت زیادہ جھوٹ بولنے والے ہوں گے، اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر کے مسلمانوں کو اپنے دامن فریب میں پھنسائیں گے۔“ لہٰذا اُمت کو خبردار کر دیا گیا کہ وہ ایسے عیار و مکار جھوٹے مدعیان نبوت اور اُن کے ماننے والوں سے دور رہیں، آپ ﷺ کی اِس پیشگوئی کے مطابق عہد رسالت مآب ﷺ سے لے کر آج تک سینکڑوں کذاب اور دجال مدعیان نبوت پیدا ہوئے، جن کا حشر تاریخ اسلام سے واقفیت رکھنے والے خوب جانتے ہیں۔

لیکن بیسویں صدی میں فرنگی سرپرستی میں قادیان کے ایک ضمیر فروش مرزائے

صفحہ 36

قادیانی نے جس نبوت کاذبہ کا دعویٰ کیا، اُس کا لازمی نتیجہ یہی نکلنا تھا کہ جو بھی شخص مرزا کی نبوت پر ایمان نہ لائے وہ کافر قرار دیا جائے، چنانچہ قادیانیوں نے بھی یہی کیا، انہوں نے اُن تمام مسلمانوں کو اپنی تحریر و تقریر میں اعلانیہ کافر قرار دیا، جنھوں نے مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانا، قادیانیوں کا مسلمانوں سے اختلاف صرف مرزا کی نبوت کے معاملے میں ہی نہیں تھا، بلکہ خود قادیانیوں نے اپنا خدا، اپنا اسلام، اپنا قرآن، اپنی نماز، اپنا روزہ، غرض کہ اپنی ہر چیز مسلمانوں سے الگ قرار دی، جس کا منطقی نتیجہ ظاہر ہے کہ اُن کے غیر مسلم اقلیت ہونے کی شکل میں نکلا، مرزا قادیانی نے اسلام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا، برصغیر میں مرزا کی عجمی نبوت کا مقصد انگریزی اقتدار کی مضبوطی کیلئے مسلمانوں کی فکری وحدت کو پارہ پارہ کرنا اور جذبہ جہاد کا خاتمہ تھا، مرزا کی ساری زندگی انگریز کی حاشیہ برداری میں گزری، اُس نے اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ حکومت برطانیہ کی مدح سرائی اور جاسوسی میں صرف کیا ، انگریز کا دور حکومت مرزا کے نزدیک ”سایۂ رحمت اور ایسے امن واستحکام کا باعث تھا، جو اُسے مکہ و مدینہ میں بھی نہیں مل سکتا۔“ ایسی صورت میں مرزا کے متبعین یہ کب گوارہ کرتے کہ انگریز اِس سرزمین سے چلے جائیں، چنانچہ مرزا کی جماعت نے برصغیر میں انگریز کے قیام کو طول دینے کیلئے اُسے ہرممکن مدد و معاونت فراہم کی، حقیقت یہ ہے کہ قصرِ نبوت میں نقب لگانے کی کوشش کرنے والے مرزا کی ذریت نے ”اکھنڈ بھارت“ کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کیلئے تحریکِ پاکستان کی ہی مخالفت نہیں کی بلکہ انہوں نے قیام پاکستان کے بعد بھارت و اسرائیلی گٹھ جوڑ سے عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف سازشیں کر کے وجود پاکستان کو نقصان پہنچانے میں بھی کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔

یہاں یہ تاریخی حقیقت بھی پیش نظر رہے کہ قادیانیت کے خلاف تحریکِ تحفظِ ختمِ نبوت کی رہبری و قیادت میں علماء و مشائخ اہلسنّت ہمیشہ پیش پیش رہے، علمائے اہلسنّت و جماعت کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ سب سے پہلے مومنانہ فراست سے کام لیتے ہوئے مرزا کے کفر و نفاق اور اُس کے مذموم عقائد کا پردہ چاک کر کے اُس کا اُس وقت زبردست ردّ کیا، جس وقت کچھ لوگ مرزائے قادیانی کو ”مردِ صالح“ اور اُس کی کتاب ”براہین احمدیہ“ کو

صفحہ 37

صدی کا شاہکار قرار دے رہے تھے، عین اُسی وقت علمائے حق اہلسنت و جماعت کے نمائندے عارف کامل ”علامہ غلام دستگیر قصوری رحمتہ اللہ علیہ“ مرزا قادیانی کی کتاب ”براہین احمدیہ“ میں کئے گئے مرزا کے دعوؤں کا بطلان اپنی کتاب ”رجم الشیاطین بر اغلوطات البراہین“ میں پیش کر کے اُس کے کفر و گمراہی کا پردہ چاک کیا، علامہ غلام دستگیر قصوری رحمتہ اللہ علیہ برصغیر کے سب سے پہلے عالم دین تھے جنھوں نے مرزا کی کتاب ”براہین احمدیہ“ کے ابتدائی حصے پڑھ کر اُس کے کفر گمراہی کو بھانپ لیا تھا اور انہوں نے بروقت اس فتنے کا ردّ کر کے برصغیر کے مسلمانوں کو مرزا کے ناپاک عزائم سے آگاہ کیا، حقیقت یہ ہے کہ تعاقب فتنہ قادیانیت کے سب سے پہلے سرخیل علامہ غلام دستگیر ہاشمی قصوری سے لے کر پیر سیدنا مہر علی شاہ صاحب، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی، حجۃ الاسلام علامہ حامد رضا خان ، امیر ملت پیر جماعت علی شاہ صاحب، مبلغ اسلام علامہ شاہ عبدالعلیم صدیقی، پروفیسر محمد الیاس برنی، قاضی فضل احمد لدھیانوی، تاج العلماء مولانا مفتی عمر نعیمی، مفتی مظہر احمد دہلوی، قائد تحریک ختم نبوت 1953ء علامہ ابوالحسنات سید محمد احمد قادری، مجاہد ملت حضرت علامہ عبدالستار خان نیازی، غازی تحریک ختم نبوت 1953ء سید خلیل احمد قادری، حضرت شیخ الاسلام خواجہ قمر الدین سیالوی، مفتی ظفر علی نعمانی، صوفی محمد ایاز خان نیازی اور علامہ عبدالمصطفیٰ الازہری، رحمہم اللہ تعالیٰ اجمعین تک ہزاروں علماء و مشائخ اہلسنت شامل ہیں، لیکن عصر حاضر میں جس کے نام پر قادر مطلق نے تحریک ارتداد قادیانیت کا سہرا مقدر فرمایا، وہ شخصیت حضرت علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی رحمتہ اللہ علیہ کی ہے، تاریخ اسلام میں ریاست و مملکت کی سطح پر فتنہ انکار ختم نبوت کو کفر و ارتداد قرار دینے اور اُس کے خلاف سب سے پہلے علم جہاد بلند کرنے کا اعزاز جانشین رسول خلیفہ اوّل سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حاصل ہوا اور اُن کے بعد یہ اعزاز اُنہی کی اولاد امجاد میں علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی کو نصیب ہوا۔

علامہ شاہ احمد نورانی نے 30 جون 1974ء کو قومی اسمبلی میں قادیانیت کے خلاف قرار داد پیش کرنے سے لے کر اُس کی منظوری تک نہایت ہی محنت و جانفشانی سے کام کیا، اِس دوران آپ نے قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں باقاعدگی سے شرکت کے ساتھ، اراکین

صفحہ 38

اسمبلی کو اعتماد میں لینے، انہیں مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت و حیثیت سے روشناس کرانے، رات گئے تک اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار کے ساتھ قادیانیوں سے پوچھے جانے والے سوالات کی تیاری کے ساتھ، مرزا ناصر اور صدرالدین لاہوری کے محضر نامے کے جواب میں 75 سوالات پر مشتمل سوالنامہ کی تیاری میں بھی بھر پور حصہ لیا، آپ نے قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی اور رہبر کمیٹی کے رکن ہونے کے باوجود عوامی رائے عامہ ہموار کرنے کیلئے ملک بھر کے طوفانی دوروں میں چالیس ہزار میل کا سفر طے کیا اور ڈیڑھ سو سے زائد شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں عوامی جلسوں سے خطاب کر کے مسلمانوں کو قادیانیوں کے گمراہ کن عقائد، فتنہ پردازیوں اور شر انگیزیوں سے آگاہ کیا، پاکستان کی تاریخ میں اسمبلی فلور پر عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کیلئے سب سے پہلے مسلمان کی تعریف کو آئین کا حصہ بنانے کا مطالبہ کرنے والے علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی کی پیش کردہ قرار کے نتیجے میں 7 ستمبر 1974ء کو ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو اُن کے کفریہ عقائد کی بناء پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا اور یوں نوے سالہ فتنہ اپنے منطقی انجام کو پہنچا۔

علماء اسلام کی گرفت اور پارلیمنٹ کے متفقہ فیصلے کے بعد قادیانی جماعت نے اپنے لٹریچر کو چھپانے کی منظم کوشش کی اور اپنے اسلام دشمن عقائد پر تقیہ کا پردہ ڈال کر اہل اسلام میں نقب زنی کا عمل جاری رکھا، ایسے میں ضرورت اس امر کی تھی کہ قادیانیت کے کفر و ارتداد کو مستند شہادتوں کے ساتھ عوام کے سامنے لایا جائے اور شہادتیں بھی ایسی کہ ناقابل تردید ہوں، لیکن مجبوری یہ تھی کہ قادیانی لٹریچر تک عوام تو کجا خواص کی بھی رسائی آسان نہیں تھی اور اگر خوش قسمتی سے قادیانی کتب و رسائل دستیاب ہو بھی جائیں تو قادیانی اپنے لٹریچر کے ہر نئے ایڈیشن میں تحریف کا فریضہ باقاعدگی سے سرانجام دیتے رہتے ہیں، پھر دور جدید میں عوام کے پاس وقت کی بڑی قلت ہے کہ مرزائی لٹریچر کی ورق گردانی کر کے اُس میں سے حقائق تلاش کریں، جہاں تک قادیانی لٹریچر کے مطالعہ کا اتفاق ہوا، ہمیں اِن میں اجراء نبوت و وفات مسیح کی کج بحثیوں، جھوٹے الہامات، نہ پوری ہونے والی پیشین گوئیوں، علماء و مشائخ کے خلاف دشنام طرازیوں، سیدنا مسیح علیہ السلام پر توہین آمیز تبصرے، پادری عبداللہ آتھم سے

صفحہ 39

ہونے والے مناظرے اور محمدی بیگم کی مناکحت کی جھوٹی تاویلات کے علاوہ کچھ بھی نظر نہیں آتا ، علم و حکمت ہو بھی تو کیونکر، کہ خدا جب ایمان لیتا ہے تو عقل و حکمت چھین لیتا ہے مرزا کے ساتھ بھی یہی ہوا ، آج مرزا اور اُس کے متبعین دین و دنیا دونوں میں ذلیل و خوار اور راندۂ درگاہ ہیں، مرزا کے رنگ برنگے ماضی، اُس کے جھوٹے دعوؤں، تحریروں ، جھوٹی وحی و الہامات اور پیشین گوئیوں کا تجزیہ ہمیں یہ نتیجہ اخذ کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ وہ ایک فاجر کذاب تھا اور وہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی دھوکہ دے رہا تھا ، اُس نے خدا کے نام اور جعلی نبوت کو سامراجی مقاصد کی تکمیل میں استعمال کیا اور اُس کے اس تمام کاروبار کا مقصد، ذاتی عظمت اور مذہب کے نام پر دولت و شہرت اکٹھی کرنا تھا ، قادیانیوں کی انجیل ”تذکرہ“ میں وہ لغویات اور احمقانہ پن ہے جو کسی اہم شخص کی سوانح عمری اور تاریخ میں ہرگز نہیں ملتا ، مرزا قادیانی کی جھوٹی وحی عربی ، اردو، فارسی ، انگریزی ، عبرانی ، ہندی اور پنجابی زبان میں ہے ، زبان گھٹیا، مبہم ، عامیانہ، گندی اور غلط ہے، حقیقت میں اُس کا بڑا حصہ لغو اور بے معنی فقرات پر مشتمل ہے، جس کے کوئی واضح معانی نہیں ہیں ، پھر بھی قادیانی ذریت اُس کے بیانات کی مختلف تاویلات پیش کر کے مرزا کی جھوٹی نبوت ثابت کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہے۔

چنانچہ وقت کی اس اہم ترین ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے معروف سکالر محمد متین خالد زیدمجدہ نے علماء کرام اور نامور اہل علم و دانش کی سرپرستی میں برسوں کی انتھک محنت کے بعد زیر نظر شاندار ضخیم کتاب ”ثبوت حاضر ہیں !“ ترتیب دی ہے ، یہ اپنی نوعیت کی منفرد اور شاہکار کتاب ہے جس میں قادیانیوں کی اسلام کے خلاف ہرزہ سرائیوں ، مضحکہ خیزیوں اور کفریہ عقائد و عزائم کو مستند عکسی و دستاویزی شہادتوں کے ساتھ پیش کیا گیا ہے ، یہاں یہ امر واضح رہے کہ عکسی ثبوت شائع کرنے کے حوالے سب سے پہلا کام علامہ محمد منشا تابش قصوری صاحب (مدرس جامعہ نظامیہ لاہور ) نے ”دعوت فکر“ میں کیا تھا، دعوت فکر اس حوالے سے پہلی کتاب ہے ، جس میں متنازعہ تحریروں کے عکسی ثبوت کو بطور حوالہ استعمال کیا گیا تھا ، اس کتاب کی اشاعت سے قبل صرف حوالے شائع کیے جاتے تھے عکسی ثبوت نہیں ، جنھیں اصل کتاب

صفحہ 40

سامنے نہ ہونے کی وجہ سے مخالفین باآسانی جھٹلادیتے تھے، لیکن اب متنازعہ تحریروں کے عکسی ثبوت بمعہ اصل حوالوں کی موجودگی میں راہ فرار ممکن نہیں رہا، نوجوان سکالر محمد متین خالد نے اصل عکسی ثبوت کے ساتھ ”ثبوت حاضر ہیں!“ ترتیب دے کر قادیانیوں کے متعلق نادر و نایاب معلومات، حیرت انگیز سنسنی خیز انکشافات اور اسلام دشمن مذموم سرگرمیوں کے تمام خفیہ گوشے بے نقاب کر دیئے ہیں، انہوں نے قادیانیوں کے مذموم عقائد وعزائم کے عکسی ثبوت یکجا کرنے کیلئے قادیانی کتب و رسائل اور اخبارات کے 50 ہزار سے زائد صفحات کھنگالنے کے بعد بڑی محنت اور خوبی سے یہ کتاب ترتیب دی ہے، جس کی موجودگی میں اب قادیانیوں کیلئے کسی بھی قسم کے انکار، تاویل اور فرار کی گنجائش آسان نہیں رہی ہے۔

اپنے موضوع کے اعتبار سے یہ ایک ایسی بلند پایہ تحقیقی کتاب ہے، جو قادیانی کفریہ عقائد وعزائم کا مستند دستاویزی ثبوت فراہم کرتی ہے، ہماری نظر میں دور حاضر میں قادیانیت کے مذموم عقائد وعزائم اور اُس کی اصل حقیقت کو سمجھنے کے لیے پروفیسر محمد الیاس برنی کی کتاب ”قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ“ کے بعد جدید کتب میں اس سے بہتر کتاب کوئی نہیں ہے، یہ کتاب اپنی تحقیق کے لحاظ سے ایک ایسی کتاب ہے جس کا مطالعہ قادیانیوں کیلئے راہ ہدایت کا سبب بن سکتا ہے ، اس کتاب کا مطالعہ علماء، خطباء، وکلاء، اساتذہ اور طلبہ کو فتنہ قادیانیت کے خلاف مضبوط دلائل اور ٹھوس معلومات کا ذخیرہ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ قادیانیت کے خلاف بحث و مناظرہ میں مستند حوالوں کے علاوہ عدالتی کارروائی میں بھی بطور ثبوت پیش کیا جاسکتا ہے ، درحقیقت ایسی کتاب وقت کی اہم ضرورت تھی، جسے جناب محمد متین خالد صاحب نے بروقت پورا کیا ہے، فاضل مؤلف کی اِس کوشش و کاوش نے قادیانیت کی حقیقی گھناؤنی تصویر اور اسلام دشمن شرمناک کردار ہر قاری کے سامنے رکھ دیا ہے، موصوف کی یہ کوشش جہاں حقیقت اور اعتدال پسندی کی مظہر ہے، وہاں غیر جانب دار رویہ کی بھی عکاس ہے، ہم اس اعلیٰ کوشش پر مؤلف زیدمجدھم اور اُن کے معاونین ومحبین کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مؤلف کی اس کوشش و کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول و منظور فرما کر توشہ آخرت بنائے ، اُن کے علم وعمل ، مرتبے ومقام میں خیر وبرکت عطا فرمائے اور

صفحہ 41

فتنہ قادیانیت کی سرکوبی اور بیخ کنی کیلئے ہمیں بھی اپنے اسلاف کی طرح سرفروشانہ کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین بحرمۃ خاتم النبیین سید المرسلین وعلیٰ وآلہ واصحابہ اجمعین)

خاکپائے مجاہدین ختم نبوت احقر جمیل احمد نعیمی ضیائی (ناظم تعلیمات، دارالعلوم نعیمیہ کراچی) جمعرات یکم رمضان المبارک ۱۴۳۱ھ / 12 اگست 2010ء

صفحہ 42

آئینہ قادیانیت

جنوری 2003ء کی بات ہے کہ خاکسار صرف قادیانی مذہب کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی کی ہی تصانیف کے کئی برسوں کے مطالعہ کے بعد اس نتیجہ پر پہنچ چکا تھا کہ یہ ایک نیا مذہب ہے اور قرآن مجید کی تعلیمات کے خلاف ہے، اب میں کسی وقت بھی اعلان کرنا چاہتا تھا کہ میرا اس خود ساختہ مذہب سے کوئی تعلق نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے دین، اسلام سے تعلق ہے، لیکن اس سے قبل چونکہ میرا مسلم سکالرز کی قادیانی مذہب پر لکھی جانے والی کتاب کا کوئی مطالعہ نہیں تھا، خاکسار نے ایک مسلمان دوست سے کہا کہ کیا وہ مجھے اس مذہب پر مسلم سکالرز کی کچھ کتب مہیا کر سکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ اس کو جزائے خیر دے، اس نے چند کتابیں مہیا کیں، جن میں جناب محمد متین خالد صاحب کی شہرۂ آفاق کتاب ”ثبوت حاضر ہیں“ بھی تھی۔ خاکسار نے جب اس کتاب کو دیکھا تو پہلی نظر میں ہی اندازہ ہو گیا کہ یہ کوئی معمولی کتاب نہیں، بلکہ ایک ایسی کبھی نہ کند ہونے والی تیز دھار تلوار ہے جس کی کاٹ ہمیشہ قادیانی مربیان و معلمین کو لرزہ براندام رکھے گی۔ شرط صرف اس کو استعمال کرنے کی ہے۔ اس کتاب نے نہ صرف میرے نتائج کی تصدیق کی بلکہ مجھ پر بہت سے قادیانی عقائد و معاملات کو نئے زاویوں سے واضح کرنے میں مددگار ثابت ہوئی۔ خاکسار کے دل میں جناب متین خالد صاحب کے دیدار کی خواہش پیدا ہوئی، بعد میں جب دوسری کتابوں کے مطالعہ کا موقع ملا تو مجھ پر اس کتاب کی اہمیت مزید واضح ہوئی، کیونکہ اکثر کتابیں عالمانہ رنگ میں تھیں، جن سے بحث و مباحثہ میں زیادہ تر ایک عالم ہی فائدہ اٹھا سکتا تھا، لیکن ”ثبوت حاضر ہیں“ کا کمال یہ ہے کہ ایک عام آدمی بھی جس کو بات کرنے کا سلیقہ ہو، استعمال کرتے ہوئے قادیانیوں کے پاؤں کے نیچے سے زمین نکال سکتا ہے۔ اس طرح میرے دل میں بھی ”بزرگ“ سکالر جناب متین خالد صاحب کی زیارت کا شوق دو آتشہ ہو گیا اور متین خالد صاحب کی کچھ دوسری

صفحہ 43

تصنیفات مطالعہ میں آئیں تو شوق دید کئی گنا ہو گیا۔ اس اثناء میں خوش قسمتی سے ٹیلیفون پر رابطہ ہوا تو آواز بجائے بزرگ کے جوان سی لگی۔ میں نے مولانا جناب سہیل باوا صاحب (لندن) سے کہا کہ ماشاء اللہ، جناب متین خالد صاحب کی ہمت ہی نہیں بلکہ آواز بھی جوانوں جیسی ہے، جواب میں وہ کہنے لگے کہ وہ ماشاء اللہ جوان ہیں، میں نے بھی اس سکھ کی طرح (جس کو لوگ صحیح بات بتا رہے تھے لیکن وہ سمجھ رہا تھا کہ میں سکھ ہوں اور یہ سب مجھے بیوقوف بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ان کی بات مان کر میں بھی بیوقوف نہیں بنوں گا) سوچا کہ نیا نیا اس طرف آیا ہوں، مجھ سے مذاق کر رہے ہیں۔ (سکھ کی طرح شاید اس لیے سوچا کہ جس مذہب میں 55 سال گزارے ہیں، اس مذہب کے بانی اگر صحیح نہیں تو کم از کم شکل وصورت سے سکھ ہی تھے، بیشک تصویر دیکھ لیں اور کسی سکھ سے موازنہ کر لیں)، خاکسار نے جواب میں کہا کہ کیا بات کر رہے ہیں، اتنا تحقیقی اور پائیدار کام، جس کے لیے ایک عمر اور مہارت چاہیے، کیا ایک جوان آدمی کا کام ہے؟ انہوں نے متین خالد صاحب کے بارے میں کچھ اور بھی تذکرہ کیا جس نے میرے شوق دید پر ”جلتی پر تیل“ کا کام کیا اور رشک بھی آیا کہ ایسی توفیق خدا کی ہی عنایت ہے جس کو بھی دے۔ اور دل سے یہی دعا نکلی کہ اللہ تعالیٰ اس توفیق میں اپنی قدرت سے اضافہ کرے اور ان کی تحریروں کو زیادہ سے زیادہ لوگوں کی ہدایت کا سبب بنائے۔ آمین!

ستمبر 2004ء میں خاکسار کو پاکستان جانے کی توفیق ہوئی، جناب متین خالد صاحب نے مجھے بتایا کہ وہ ائیر پورٹ پر آ کر میری عزت افزائی کریں گے۔ جب رات کے دو بجے لاہور ائیر پورٹ پر پہنچا تو جناب سید کفیل بخاری شاہ صاحب، جناب عبدالطیف چیمہ صاحب، جناب ثاقب خورشید صاحب، جناب لیاقت علی صاحب اور کئی دوسرے احباب کے ساتھ میرے محترم دوست جناب متین خالد صاحب بھی استقبال کرنے والوں میں موجود تھے۔ باشرع، متین و پرکشش چہرہ، مناسب لباس میں ”باوقار بزرگ“ متین صاحب سے ملاقات کا اعزاز حاصل ہوا، اور دل میں خیال آیا کہ عمر کی بزرگی تو ایک رسمی بات ہے، اصل بزرگی نیک اور پائیدار کام میں ہے، جو محض خدا کے فضل سے حاصل ہوتی ہے اور جوانی میں بھی مل جاتی ہے۔ اور ساتھ ہی دعا نکلی کہ اے اللہ ان کے نیک کام کا اجر اور عزت جناب متین خالد صاحب کی اگلی نسلوں کو بھی منتقل کرنا، آمین۔ میری بدقسمتی کہ اچانک بیماری کی وجہ سے جرمنی واپس لوٹنا پڑا، جس کی وجہ سے تفصیلی ملاقات اور کچھ سیکھنے کی سعادت حاصل نہ ہوسکی، لیکن

صفحہ 44

میرے لیے یہ بھی خوشی و اطمینان کی بات تھی کہ ملاقات تو ہوئی۔ الحمدللہ

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ جناب متین خالد صاحب کی کوششوں میں برکت ڈالے اور ان کی کتابوں بالخصوص ”ثبوت حاضر ہیں“ کو زیادہ سے زیادہ سے لوگوں کے لیے راہ ہدایت کا موجب بنائے اور ان کی نسلوں کو بھی برکتوں اور فضلوں سے نوازے۔ (آمین) میں اپنے لیے بھی دعا کا خواستگار ہوں کہ خدا مجھے بھی بہتر سے بہتر رنگ میں اسلام کی خدمت اور قادیانیت کے فریب کو آشکارہ کرنے کی توفیق دے۔ آمین!

شیخ راحیل احمد (جرمنی)

صفحہ 45

مقابل ہے آئینہ!

یہ قدرت کے فیصلے ہیں کہ کس سے کیا کام لینا ہے! اپنے عملی سفر کی شروعات سے شاید میرے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا کہ مجھے نبوت محمدیہ ﷺ کے باغیوں اور منکرین ختم نبوت، قادیانیوں سے مدت العمر برسرِ پیکار رہنا پڑے گا۔ میں حضور شفیع المذنبین، سید المرسلین، خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا نہایت ادنیٰ امتی ہوں۔ آپ ﷺ کے دربار کی عزت و ناموس اور عظمت کا تحفظ میری اولین ایمانی ذمہ داری ہے۔ اگر مولائے کائنات ﷺ نے مجھ عاجز کو عملی محاذ پر ایک سپاہی بنا کر متعین فرمایا ہے تو اس میں میرا کوئی کمال نہیں، یہ سب میرے آقا و مولا ﷺ کی کرم فرمائی اور نگاہ التفات ہے، البتہ اس اعزاز پر نازاں ہونے کا حق مجھ سے کوئی نہیں چھین سکتا۔

ظہور اسلام کے ساتھ ہی طاغوتی توانائیاں اپنے پورے کروفر کے ساتھ فعال ہوگئی تھیں۔۔۔۔۔۔۔ ”یہ (نادان) چاہتے ہیں کہ اپنی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھا دیں لیکن اللہ اپنے نور کو کمال تک پہنچا کر رہے گا، اگرچہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار کیوں نہ ہو۔“ (الصف: 8) چنانچہ مشیت ایزدی اپنے رسل کے غلبے کو یقینی بنانے کے لیے سدا متحرک رہی ہے۔ انبیا کی مخالف قوتیں اپنے تمام تر کروفر کے باوجود اپنے ہی قدموں میں ڈھیر ہونے لگتی ہیں۔ خوش نصیب ہیں وہ مومنین جو اس مبارزت میں آزمائشوں اور ابتلاؤں کے انعامات سے سرفراز کیے جاتے ہیں کہ یہی تب و تاب جاودانہ ان کا صلہ و ثمر ہے۔

کچھ نہیں مانگتا بس آپ ﷺ کی چوکھٹ کے لیے
اپنے شانوں سے جُدا اپنا یہ سر مانگتا ہوں

کون نہیں جانتا کہ انسانیت کا واحد نجات دہندہ دین اسلام ایک ہمہ گیر نظام ہے۔ اللہ نے اگر اسے اپنا آخری پیغام قرار دیا ہے، اسے جوہر آئینہ ایام کی صفت سے متصف کیا ہے تو لازمی بات ہے اس نقش کو مٹانے کی مساعی بھی انفرادی نہیں، اجتماعی ہی متشکل ہونا تھی۔

صفحہ 46

کفر کو ملت واحدہ ہونے کی ”توفیق“ صرف اور صرف دین اسلام کی بدولت ہی ملی ہے اور جس گھڑی وادیِ فاران میں طیبہ کا چاند چمکا تھا، اسی ساعت عالم کفر نے قلعہ بند ہونے کی ٹھان لی تھی۔ یہ سلسلہ جس کا آغاز مکہ کے ”دارالندوہ“ سے ہوا تھا تو عہد موجود کی یورپی یونین تک پھیلتا چلا گیا ہے۔ وہ یہود و نصاریٰ جو ازلوں سے ایک دوسرے کے لہو کے پیاسے ہیں، دین اسلام کے انہدام کی سازش میں ایک دم متحد و متفق ہیں۔ سیاسی، تعلیمی، فکری، عسکری، اخلاقی، تمدنی، تہذیبی، معاشی........... غرض ہر پہلو سے ملت اسلامیہ کو گزند پہنچانے کی کوشش ہمیشہ استمرار آشنا رہی ہے۔ اور اس حوالے سے ایک حربہ ابتدا ہی سے استعمال کیا گیا، جی ہاں! مسلمانوں کی مرکزیت کو پارہ پارہ کرنے کے لیے متوازی نبوت قائم کرنے کا مجرب نسخہ بار بار برتا گیا اور یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ مسلمانوں نے اپنی بے عملیوں کے ادوار میں کم و بیش ہر جنگ میں میمنہ میسرہ کے زخم کھائے ہیں، سلطنتوں کے انحطاط، فرمانرواؤں نے غلامی کے عذابوں تک کو سہہ لیا ہے، خوشحالی سے بدحالی تک کی مسافرت کو اپنی تقدیر بنا لیا ہے، عملی تفوق کو ذہنی پستیوں میں مبدل کرلینے کی اذیت برداشت کر لی ہے، غرض ہر میدان میں سبکسری کی قسمت کو قبول کر لیا ہے، لیکن ایک منور نقطے کی اس ڈیڑھ ہزار سال میں حفاظت کا ایسا حق ادا کیا ہے کہ مذاہب عالم اور بنی نوع انسان کی تاریخ میں اس کی نظیر ڈھونڈے سے نہیں ملتی۔ اور نور کا وہ نیوکلیس ہے، حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی پاکیزہ شخصیت سے لامحدود اور غیر مشروط محبت، احترام اور عقیدت۔

حکومتیں، ریاستیں بنتی ٹوٹتی رہتی ہیں۔ زوال سے دو چار امت مسلمہ کو دیکھ کر بھلے ہی آنکھیں خون کے آنسو روتی ہیں، دل سیپارہ ہوتا ہے لیکن اس آئینِ مسلم پر ملت بیضا کو عامل پا کر روح کے معبد میں جنت کے چراغوں کی قطار سی جل اٹھتی ہے اور طنطنۂ آدم کو ایک نیا وقار، ایک تازہ اعتبار عطا ہونے لگتا ہے کہ حضور شافع محشر ﷺ کے پیروکاروں نے آپ ﷺ سے نبوی عقیدت پر مفاہمت کے عنوان سے بھی منافقت کے پاؤں نہیں ٹکنے دیے۔ مستشرقین نے اپنی ذہنی عیاری کا ثبوت دیتے ہوئے آپ ﷺ کو ہمیشہ ”مخترع اسلام (ﷺ)“ لکھا، حالانکہ آپ ﷺ کا تو امتیاز ہی یہ ہے کہ آپ ﷺ قیامت تک کے لیے پوری انسانیت کے رسول اور نبی ہیں۔ اور وہ گروہ جو انسانیت کو ایک جادے پر گامزن دیکھنے کے روادار نہیں، جو اپنے مخصوص مفادات اور مذموم عزائم کی وجہ سے نہیں چاہتے کہ انسان فوز و فلاح کے ارمغان سے ہمکنار ہو، وہ آپ ﷺ کے پروگرام کی راہ میں روڑے اٹکانے کے لیے بڑی

صفحہ 47

باریک تدبیریں اختیار کرتے رہتے ہیں۔ اور ان میں سے ایک تدبیر یہ ہے کہ کسی طرح اس دائرے سے مسلک نقطۂ ماسکہ کا اعتبار آپ ﷺ سے چھن جائے۔ ظاہر ہے یہ مکروہ سازش اسی صورت میں بامراد ہو سکتی ہے کہ آپ ﷺ کے مقابل جدید نبوت کی عمارت تعمیر کر لی جائے، جیسے ابرہہ نے یمن میں بیت اللہ کا حریف شاندار کلیسا ایجاد کر لیا تھا۔ ہمارا پختہ اعتقاد ہے کہ جس رب نے خانہ کعبہ کو جلال بخشا ہے، اسی رب نے اپنے آخری نبی حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو آسمانی رعب سے نوازا ہے۔ سو تاریخ گواہ ہے کہ آپ ﷺ کی ذات کی نفی کر کے نئی نبوت کے اثبات کی جرأت شاید و باید ہی کسی نے کی ہو۔ ننانوے اعشاریہ نو فیصد مدعیان نبوت نے آپ ﷺ کو تسلیم کر کے اپنی جعلی نبوت کا چراغ جلانے کی کوشش کی ہے۔ مسیلمہ جیسا بدصورت مدعی بھی آپ ﷺ کی توسیع کا ادعا لے کر منظر پر ابھرا تھا۔ لیکن قدرت نے مسلمانوں کا ایسا Mind Set مرتب فرما دیا ہے کہ کسی امتی، ظلی، بروزی، تشریعی، غیر تشریعی کسی بھی نوع کے مدعی نبوت کو قبول کرنے کی کوئی گنجائش نہیں رہ گئی۔ ختم نبوت کے عقیدے سے یہ محبت و جرات اس درجہ مثالی ہے کہ اسے آپ ﷺ کا زبردست معجزہ کہنا چاہیے۔

لیکن یہ دلچسپ توارد ہے کہ ہر مدعی نبوت نے منہ کی کھائی ہے، پھر بھی طالع آزمائی کا شوق ماند نہیں ہوا۔ اس سلسلے کی آخری اور بھر پور کاوش استعماریت کے سائبان میں پروان چڑھائی گئی اور مشرقی پنجاب بھارت کے ایک گاؤں قادیان سے مرزا غلام احمد نامی ایک شخص کو دریافت کیا گیا۔ ”احمدیت“ کے ٹائٹل سے ایک تحریک اس کے وجود سے جاری کی گئی۔ یہ مخبوط الحواس شخص سیالکوٹ کی کچہری میں اہلمد ٹائپ معمولی اہلکار تھا۔ کتب بینی کے شوق اور مناظرانہ کارروائیوں نے اسے مذہبی حلقوں میں مناسب تعارف کی فضا مہیا کر دی تھی۔ برطانوی راج، 1857ء کے بعد اگرچہ مقامی باشندوں کے جسموں میں اپنے پنجے گاڑ چکا تھا لیکن ذہنوں کی تسخیر کا اہم مرحلہ ہنوز باقی تھا۔ فرنگی کو منجی ثابت کرنے اور اسے رحمت خداوندی کا عکس جتانے کے لیے مرزا قادیانی نے اپنے دور کے ”میڈیا“ کو وقف کر دیا۔ فنڈز کی کمک چونکہ کبھی معطل نہیں ہوئی لہٰذا تلوار کے جہاد کے خلاف ان کا ”قلمی جہاد“ بھی کبھی نہیں رکا۔

زمانے نے کروٹ لینا ہی ہوتی ہے، یہ جدل ایک جبر ہے، جس سے مفر ممکن نہیں مگر مفاد عاجلہ کو قبلہ متعین کرنے والے ابنائے وقت اپنے حال کو سنوارنے کے لیے ماضی و

صفحہ 48

استقبال دونوں کی نفی کر بیٹھتے ہیں۔ آنجہانی مرزا قادیانی اور ان کے متبعین سے بھی یہی غلطی ہوئی۔ 26 مئی 1908ء کو مرزا قادیانی نہایت عبرتناک موت سے ہمکنار ہوا۔ ان کی موت کے صرف 39 سال 2 ماہ اور 19 دن بعد یعنی 14 اگست 1947ء کو مسلمانوں کی آزاد سرزمین کا وائسرائے انگریز نہیں بلکہ ایک سچا مومن گورنر جنرل تھا۔ بس اتنی ہی دیر باقی تھی آزادی میں، لیکن مرزا قادیانی نے یہ سوچا تھا کہ ظل سبحانی فرنگی صاحب بہادر ابد الآباد تک یہاں حکمران رہے گا اور یوں ان کی مذہبی پیشوائیت اسی طرح قائم و دائم رہے گی، جس طرح فرعون کے دربار میں ہامان کی پاپائیت کا طوطی بولتا تھا۔ افسوس! مرزا قادیانی نے فرعون کے انجام کو فراموش کر دیا۔ جی جناب! 63 برس پہلے جغرافیہ بدلا تو تاریخ کا طلسم بھی ٹوٹ گیا۔ قادیانی اکابرین سر جوڑ کر بیٹھ گئے کہ ”حضرت مسیح موعود“ نے شبانہ روز مجاہدے کے بعد انگریز سامراج کی مدحت بلکہ مداہنت میں جو ”پچاس الماریاں“ تخلیق فرمائی ہیں، اس بارِ ندامت کو کس خلیج میں غرق کریں؟ ان کا ایسا سوچنا بلا جواز نہیں تھا کہ سارا منظر نامہ ہی تبدیل ہو چکا تھا۔ انگریز کے عطا فرمودہ خطاب، عتاب بن چکے تھے۔ مرزا قادیانی کے خاندان کی بقا تو انگریز کے ”خودکاشتہ پودے“ کی بقا کے ساتھ مشروط تھی۔ یہاں ”خلافت“ نے نسل در نسل منتقل ہونا تھا اور یہ مسند کوئی معمولی نہیں، ایک ہیڈ آف دی سٹیٹ سے بھی بڑھ کر پروٹوکول ”خلیفہ“ کو ملتا ہے۔ ایک برطانوی انگریز آئن ایڈم سن نے A man of God کے نام سے قادیانی خلیفہ مرزا طاہر کی سوانح حیات تحریر کی ہے۔ اس کے پندرھویں باب کا مطالعہ کر لیجیے اور دیکھیے کہ ”خاندان مسیح موعود“ میں خلافت کا عہدہ پانے کے لیے کیسی شدید تڑپ موجود ہے۔ مختصر یہ کہ مرزا قادیانی کی اولاد نے سادہ لوح مریدوں کے بیش بہا چندوں کی بدولت عیش و تنعیم سے بھرپور زندگی گزاری ہے۔ (اور گزار رہی ہے)۔ یوں اس سلسلے کا قیام اور استحکام سیدھا سیدھا معاشی مسئلہ ہے۔ مگر جب اس کے بانی کے پیدا کردہ لٹریچر پر نظر ڈالی جاتی تو یہاں 3/4 حصہ برٹش حکومت کی تعریفوں سے مزین ملتا تھا۔ صرف تعریفوں سے نہیں، حد درجہ خوشامدی اُسلوب میں ملکہ برطانیہ کی قصیدہ خوانی ملتی تھی، جسے دیکھ/ پڑھ کر عقلِ سلیم کے حامل بعض قادیانی نوجوانوں کا خون کھول اٹھتا تھا۔ سو حل اس پیچیدگی کا یہ ڈھونڈا گیا کہ ایسی تحریروں کو ممکن حد تک بلیک آؤٹ کیا جائے۔ علاوہ ازیں مرزا قادیانی کی شخصیت سے وابستہ مضحکہ خیزیاں بھی زیادہ تر ان کی اپنی کتب میں اور باقی قادیانی لٹریچر میں محفوظ ہوگئی تھیں۔ تصویر

صفحہ 49

کے اس رُخ کو چھپا کر ”بانی سلسلۂ احمدیت“ کو ایک ”مقدس ہستی“ کے بہروپ میں پیش کرنا، ناگزیر ہو گیا تھا۔ اس طرح Cosmetics کا بڑا فنکارانہ استعمال کر کے مرزا قادیانی کو ایک برگزیدہ اور بے پناہ عالم کے گیٹ اپ میں پورٹرے کر دیا گیا۔ سادہ لوح قادیانیوں نے انہیں سچ مچ کا ”مہدی معہود“ اور ”مسیح موعود“ یقین کر لیا۔ بلاشبہ تیز طرار رجحان ساز قادیانیوں (آج کی زبان میں انہیں سٹیک ہولڈرز کہیے) کو اس حوالے سے کامیابی ہوئی کہ آخر کلاکاری بھی کوئی چیز ہے۔ اس ساری نوٹنکی میں بنیادی کردار ادا کرنے والا ایک ہی ہتھیار تھا کہ ”معترضہ احمدیہ لٹریچر“ کسی طرح اپنوں اور غیروں کی دسترس سے اتنا دور کر دیا جائے کہ کوئی چاہے بھی تو اس ”روحانی خزینے“ تک رسائی حاصل نہ کر سکے۔ نیز بطور نعم البدل نئے لٹریچر کا سیلاب اس شدت سے بہا دیا جائے کہ کسی کو اس سے فرصت ہی نہ ملے۔

ایک چال قادیانیوں نے چلی، ایک تدبیر اس عاجز کے ذہن میں قدرت نے ڈال دی کہ ردّ قادیانیت کے لیے ایک بالکل نیا، موثر، کارگر اور دندان شکن زاویہ تراشا جائے کہ ان کے لیے کوئی جائے فرار رہ نہ جائے۔ سو، میں نے دن رات ایک کر کے اصل قادیانی لٹریچر جمع کیا۔ اور پھر ان کی اپنی چھاپی ہوئی کتب کے عکس تیار کیے۔ یوں ایک یکسر منفرد کتاب ”ثبوت حاضر ہیں!“ کے عنوان سے قارئین کی نذر کر دی۔ اس کی پہلی جلد 1997ء میں منصہ شہود پر آئی تو قادیانی ایوانوں میں بھونچال برپا ہو گیا۔ متعدد قادیانی حضرات کو اس بہانے خدا نے اسلام قبول کرنے کی سعادت عطا فرمادی۔ تمام علمی حلقوں نے ناچیز کی اس کاوش کو بے حد سراہا لیکن مجھے یہ احساس برابر مضطرب رکھتا تھا کہ میرا کام ہنوز ادھورا ہے۔ اس دوران میں تحقیق و تدقیق کا عمل جاری رہا۔ یوں ”ثبوت حاضر ہیں!“ کی مزید جلدیں نئے حوالوں کے ساتھ سامنے لانے کی توفیق ملنے لگی۔ اس وقت تیسری جلد آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ ان اوراق میں میرا تبصرہ نہ ہونے کے برابر ہے، بس یہ جانیے! ”مقابل ہے آئینہ!“

خاکپائے مجاہدین ختم نبوت

محمد متین خالد

Email: fatehqadyaniat@hotmail.com

PDF 50
PDF 51

قادیانیت

ثبوت حاضر ہیں!

PDF 52
PDF 53

ثبوت حاضر ہیں!

قادیانیِ اخلاق!

Love for all, hatred for none

PDF 54
صفحہ 55

روزمرہ زندگی میں شائستہ گفتگو ہر شخص کے اخلاق عالیہ میں شامل ہونی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

(الانعام:108)

ترجمہ: اور تم نہ گالیاں دو انھیں جن کی یہ عبادت کرتے ہیں اللہ کے سوا (کہیں ایسا نہ ہو) کہ وہ بھی گالیاں دینے لگیں اللہ کو زیادتی کرتے ہوئے جہالت سے۔

اللہ تعالیٰ مزید ارشاد فرماتا ہے:

(البقرہ:83)

لوگوں سے نیکی اور بھلائی کی بات کہو۔

حضور خاتم النبیین ﷺ نے ارشاد فرمایا: کسی مسلمان کو گالی دینا بڑے گناہ کی بات ہے (بخاری ومسلم) مزید ارشاد فرمایا: گالی بکنے اور بے حیائی کی بات کرنے والے کے پاس اسلام کا کچھ حصہ نہیں ہے۔ (امام احمد)

مگر افسوس صد افسوس نہایت! ”سلطان القلم“ کہلوانے والے آنجہانی مرزا قادیانی کے سینہ بے گنجینہ اور زبان بے عنان سے ایسی ایسی فحش گالیاں نکلیں جنھیں سن کر بڑی سے بڑی بھٹیارن بھی پناہ مانگے۔ ان نہایت دل آزار گالیوں کی وجہ سے مرزا قادیانی کے عذاب میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنی کتابوں میں اللہ تعالیٰ، حضور نبی کریم ﷺ، انبیائے کرام بالخصوص حضرت عیسیٰ علیہ السلام، صحابہ کرامؓ اور دیگر مقدس شخصیات کی نسبت ایسے ایسے الفاظ تحریر کیے ہیں کہ جنھیں پڑھ کر ایک مسلمان کا دل زخم زخم اور جگر پاش پاش ہوتا ہے۔ کیا یہ حکم خداوندی کی تعمیل ہے؟ کیا مسیح موعود کی تہذیب اور خواص ایسے ہی ہونے چاہئیں؟

صفحہ 56

قارئین کرام! مرزا قادیانی نے قرآنی آیات احادیث مبارکہ اور اپنی تمام تحریروں و الہامات کو سراسر فراموش کرتے ہوئے انھیں ملیا میٹ کر دیا۔ اس نے نہ قرآنی آیات کی تعمیل کی، نہ احکام رسول خدا ﷺ پر عمل کیا اور نہ اپنی تبلیغی تحریروں کی پروا کی۔ نجانے کن خیالات کی بنا پر وہ خود کو مسیح موعود منوانا چاہتا ہے؟ اگر یہ کہا جائے کہ سجادہ نشین حضرات اور علمائے کرام نے مرزا قادیانی کے کفر کا فتویٰ دیا تھا، اسے دجال، کذاب اور کافر لکھا تھا، اس لیے مرزا قادیانی نے ردّعمل میں انھیں سب وشتم سے نوازا تو افسوس! مرزا قادیانی نے یہاں بھی حکم خداوندی کی تعمیل نہ کی۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

(آل عمران: 134)

ترجمہ: اور ضبط کرنے والے ہیں غصہ کو اور درگزر کرنے والے ہیں لوگوں سے اور اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے احسان کرنے والوں سے۔

مرزا قادیانی نے نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کیا، کیا نبی اور رسول اس طرح کے ہوتے ہیں کہ غصے میں آ کر لوگوں کو ماں بہن کی ننگی گالیاں دینی شروع کر دیں۔ آئیے! جھوٹے ”مسیح موعود کے“ ارشادات عالیہ ملاحظہ فرمائیں:۔

لوگوں پر لطف اور رحم

مرزا قادیانی کا ایک الہام ہے:

لوگوں سے لطف کے ساتھ پیش آ اور ان پر رحم کر!“

(انجام آتھم صفحہ 55 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 55 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 470 پر)

مرزا قادیانی ایک دوسرے الہام میں کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے داؤد کے نام سے مخاطب کرتے ہوئے کہا:

صفحہ 57

لوگوں سے نرمی اور احسان کر

اے داؤد! لوگوں سے نرمی اور احسان کے ساتھ معاملہ کر۔“

(انجام آتھم صفحہ 60 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 55 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 471 پر)

View Proof

نہایت قابل شرم بات

پڑتا ہے، اس لیے ان میں اعلیٰ درجہ کی اخلاقی قوت کا ہونا ضروری ہے اُن میں طیش نفس اور مجنونانہ جوش پیدا نہ ہو اور لوگ ان کے فیض سے محروم نہ رہیں۔ یہ نہایت قابل شرم بات ہے کہ ایک شخص خدا کا دوست کہلا کر پھر اخلاقی رذیلہ میں گرفتار ہو اور درشت بات کا ذرہ بھی متحمل نہ ہو سکے اور جو امام زمان کہلا کر ایسی کچی طبیعت کا آدمی ہو کہ ادنیٰ ادنیٰ بات میں منہ میں جھاگ آتا ہے، آنکھیں نیلی پیلی ہوتی ہیں، وہ کسی طرح امام زمان نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا اس پر آیت اِنَّکَ لَعَلیٰ خُلُقٍ عَظِيْم کا پورے طور پر صادق آ جانا ضروری ہے۔“

(ضرورت الامام صفحہ 8 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 478 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 472 پر)

View Proof

اندھے کو اندھا کہنا بھی دل دکھانا ہے

وقت شناس ہو ورنہ نہیں۔ مثلاً ایک شخص گو راست گو ہے مگر اپنی راستی کو حکمت کے ساتھ ملا کر استعمال نہیں کرتا بلکہ لاٹھی کی طرح مارتا ہے اور بے تمیزی سے ایک شریف خصلت کو بے محل کام میں لاتا ہے تو وہ ایک حکیم منش کے نزدیک ہرگز قابل تعریف نہیں ٹھہرتا۔ ایسے کو جاہل نیک بخت کہیں گے۔ نہ دانا نیک بخت اگر کوئی اندھے کو اندھا اندھا کر کے پکارے اور پھر کسی کے منع کرنے پر یہ کہے کہ میاں کیا میں جھوٹ بولتا ہوں تو اسے یہی کہا جائے گا کہ بے شک تو

صفحہ 58

راست گو ہے مگر احمق یا شریر کہ جس راستی کے اظہار کی تجھے ضرورت ہی نہیں، اس کو واجب الاظہار سمجھتا ہے اور اپنے بھائی کے دل کو دکھاتا ہے۔‘‘

(شحنہ حق صفحہ 40 مندرجہ روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 366 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 473 پر)

View Proof

اللہ تعالیٰ کا حکم

ایسے نام مت رکھو جو ان کو برے معلوم ہوں تو پھر برخلاف اس آیت کے کرنا کن لوگوں کا کام ہے؟‘‘

(تحفہ غزنویہ صفحہ 11 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 541 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 474 پر)

View Proof

تلخ بات

(آسمانی فیصلہ صفحہ 10 مندرجہ روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 320 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 475 پر)

View Proof

پرلے درجے کا شریرالنفس

ایسے امر کو پرلے درجہ کا شریرالنفس خیال کرتے ہیں۔‘‘

(براہین احمدیہ صفحہ 102 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 90، 91 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 476، 477 پر)

View Proof

سفلوں اور کمینوں کا کام

(ست بچن صفحہ 21 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 133 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 478 پر)

View Proof

صفحہ 59

کبھی گالی کا جواب نہیں دیا

گئی، میں نے جواب نہیں دیا۔“

(مواہب الرحمٰن صفحہ 20 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 236 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 479 پر)

View Proof

کبھی دشنام دہی نہیں کی

استعمال نہیں کیا جس کو دشنام دہی کہا جائے۔“

(ازالہ اوہام صفحہ 9 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 109 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 480 پر)

View Proof

گالی مت دو

(کشتی نوح صفحہ 12 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 11 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 481 پر)

View Proof

مجھے تہذیب و اخلاق کے ساتھ بھیجا گیا ہے

اور تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔“

(اربعین نمبر 3 صفحہ 84 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 426 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 482 پر)

View Proof

صفحہ 60

بدزبانی طریق شرافت نہیں

(13) ”گالیاں دینا اور بدزبانی کرنا طریق شرافت نہیں ہے۔“

(اربعین نمبر 4 صفحہ 129 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 471 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 483 پر)

گالیاں سن کے دعا دو

(14)

”گالیاں سن کر دعا دو پا کے دکھ آرام دو
کبر کی عادت جو دیکھو تم دکھاؤ انکسار“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 114 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 144 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 484 پر)

سخت زبانی سے برکت جاتی رہتی ہے

(15) ”مخالف جو گالیاں دیتے ہیں اور گندے اور ناپاک اشتہار شائع کرتے ہیں، ہم کو ان کا جواب گالیوں سے کبھی دینا نہیں چاہیے۔ ہم کو سخت زبانی کی ضرورت نہیں کیونکہ سخت زبانی سے برکت جاتی رہتی ہے اس لیے ہم نہیں چاہتے کہ اپنی برکت کو کم کریں۔“

(ملفوظات جلد دوم صفحہ 161 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 485 پر)

اہم نکات

مرزا قادیانی کی مذکورہ بالا تحریروں سے مندرجہ ذیل باتیں اخذ ہوتی ہیں:۔

صفحہ 61

جائے، اُس کی آنکھیں نیلی پیلی ہو جائیں، وہ کسی طرح امام الزماں نہیں ہو سکتا۔

النفس ہے۔

آئیے! اب مرزا قادیانی کا حیران کن ”تضاد“ دیکھتے ہیں۔

بندروں اور سوروں کی طرح

(16) ”جس وقت یہ سب باتیں پوری ہو جائیں گی، تو کیا اُس دن یہ احمق مخالف جیتے ہی رہیں گے؟ اور کیا اس دن یہ تمام لڑنے والے سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہو جائیں گے؟ ان بیوقوفوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہیں رہے گی اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سوروں کی طرح کر دیں گے۔“

(انجام آتھم صفحہ 53 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 337 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 486 پر)

صفحہ 62

خنزیر سے زیادہ پلید لوگ

(17) ”دنیا میں سب جانداروں سے زیادہ پلید اور کراہت کے لائق خنزیر ہے مگر خنزیر سے زیادہ پلید وہ لوگ ہیں جو اپنے نفسانی جوش کے لیے حق اور دیانت کی گواہی کو چھپاتے ہیں۔ اے مردار خور مولویو! اور گندی روحو! تم پر افسوس! کہ تم نے میری عداوت کے لیے اسلام کی سچی گواہی کو چھپایا۔ اے اندھیرے کے کیڑو!“

(انجام آتھم صفحہ 21 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 305 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 487 پر)

View Proof

جیسا کہ سنڈاس پاخانہ سے

(18) ”منشی الٰہی بخش صاحب نے جھوٹے الزاموں اور بہتان اور خلاف واقعہ کی نجاست سے اپنی کتاب ’عصائے موسیٰ‘ کو ایسا بھر دیا ہے جیسا کہ ایک نالی اور بدر رو گندے کیچڑ سے بھری جاتی ہے یا جیسا کہ سنڈاس پاخانہ سے۔“

(اربعین نمبر 4 حاشیہ صفحہ 114، 115 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 456، 457 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 488، 489 پر)

View Proof

جھوٹ کی نجاست، آسمانی لعنت

(19) ”اس پیشگوئی کی تکذیب میں پادریوں نے جھوٹ کی نجاست کھائی۔ عبدالحق اور عبدالجبار غزنویان وغیرہ مخالف مولویوں نے بھی وہ نجاست کھائی...... عبدالحق غزنوی بار بار لکھتا ہے کہ پادریوں کی فتح ہوئی۔ ہم اس کے جواب میں بجز اس کے کیا کہیں اور کیا لکھیں کہ اے بدذات یہودی صفت پادریوں کا اس میں منہ کالا ہوا اور ساتھ ہی تیرا بھی۔ اور پادریوں پر ایک آسمانی لعنت پڑی اور ساتھ ہی وہ لعنت تجھ کو بھی کھا گئی۔ اگر تو سچا ہے تو اب ہمیں دکھلا کہ آتھم کہاں ہے؟ اے خبیث کب تک تو جیئے گا......“

(انجام آتھم صفحہ 45 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 329 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 490 پر)

View Proof

صفحہ 63

خدائی لعنت کے دس لاکھ جوتے

(20) ”خاص کر رئیس الدجالین عبدالحق غزنوی اور اس کا تمام گروہ علیھم نعال لعن الله الف الف مرة (ترجمہ: ان پر خدائی لعنت کے دس لاکھ جوتے برسیں!) اے پلید دجال! پیشگوئی تو پوری ہو گئی۔ لیکن تعصب کے غبار نے تجھ کو اندھا کر دیا۔“

(انجام آتھم صفحہ 46 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 330 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 491 پر)

View Proof

مرد خنزیر، عورتیں کتیاں

(21) ”انّ العدا صاروا خنازير الفلا۔ ونسائهم من دونهن الا كلب۔ دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں۔“

(نجم الہدیٰ صفحہ 53 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 53 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 492 پر)

View Proof

ولدالحرام

(22) ”اور ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو صاف سمجھا جاوے گا کہ اس کو ولدالحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں۔“

(انوار الاسلام صفحہ 30 مندرجہ روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 31 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 493 پر)

View Proof

عیسائی، یہودی، مشرک

(23) ”جو میرے مخالف تھے، ان کا نام عیسائی اور یہودی اور مشرک رکھا گیا۔“

(نزول المسیح (حاشیہ) صفحہ 4 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 382 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 494 پر)

View Proof

صفحہ 64

کتوں کی طرح جھوٹ کا مردار کھانے والے

جھوٹ کا مردار کھا رہے ہیں۔“

(انجام آتھم (ضمیمہ) صفحہ 25 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 309 از مرزا قادیانی)

View Proof (عکس صفحہ نمبر 495 پر)

خراب عورتیں اور دجال کی نسل

نسل میں سے نہیں ہے، وہ دو باتوں میں سے ایک بات ضرور اختیار کرے گا یا تو بعد اس کے دروغگوئی اور افترا سے باز آ جائے گا یا ہمارے اس رسالہ جیسا رسالہ بنا کر پیش کرے گا۔“

(نور الحق صفحہ 163 مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 163 از مرزا قادیانی)

View Proof (عکس صفحہ نمبر 496 پر)

پرمیشر کی جگہ

(چشمہ معرفت صفحہ 106 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 114 از مرزا قادیانی)

View Proof (عکس صفحہ نمبر 497 پر)

پرمیشر ہندوؤں کے خدا کو کہتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے ہندوؤں کے خدا کو اپنی ناف سے دس انگل نیچے قرار دے کر انہیں بہت بڑی گالی دی۔ اس کے ردعمل میں ہندوؤں نے نہ صرف اپنے جلوسوں میں دین اسلام اور ہمارے نبی اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی توہین کی بلکہ مسلمانوں کی دل آزاری پر مبنی ”ستیارتھ پرکاش“ نامی کتاب بھی لکھی جس کے پہلے ایڈیشن میں صرف 13 ابواب تھے جبکہ مرزا قادیانی کی طرف سے ہندوؤں کی مذہبی شخصیات کو گالیاں دینے کے بعد چودھویں باب کا اضافہ کیا گیا جس میں انھوں نے حضور نبی کریم ﷺ کو ناقابل بیان گالیاں دیں۔ پھر ایک عرصہ بعد رسوائے زمانہ کتاب ”رنگیلا رسول“ بھی لکھی گئی

صفحہ 65

جس سے برصغیر کے مسلمانوں میں کہرام برپا ہو گیا۔ اس کی تمام تر ذمہ داری مرزا قادیانی اور ان کی ذریت پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے ہندوؤں کو اشتعال دلایا۔ حالانکہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ جھوٹے خداؤں کو بھی گالی نہ دو مبادا یہ کہ وہ تمہارے سچے خدا کو گالی دیں۔

پیٹ سے چوہا ؟

(27) ”اب عبدالحق کو ضرور پوچھنا چاہیے کہ اس کا وہ مباہلہ کی برکت کا لڑکا کہاں گیا؟ کیا اندر ہی اندر پیٹ میں تحلیل پا گیا یا پھر رجعت قہقری کر کے نطفہ بن گیا ۔۔۔۔۔۔۔ اور اب تک اس کی عورت کے پیٹ میں سے ایک چوہا بھی پیدا نہ ہوا۔“

(انجام آتھم صفحہ 311، 317 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 311، 317 از مرزا قادیانی)

View Proof (عکس صفحہ نمبر 498، 499 پر)

رحم پر مُہر

(28) ”خدا تعالیٰ نے اس (عبدالحق غزنوی) کی بیوی کے رحم پر مُہر لگا دی“

(حقیقۃ الوحی تتمہ صفحہ 444 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 444 از مرزا قادیانی)

View Proof (عکس صفحہ نمبر 500 پر)

عضو تناسل کاٹ دیتا ......

(29) ”حضرت مسیح موعود کے قریباً ہم عمر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بھی تھے۔ ان کے والد کا جس وقت نکاح ہوا، اگر ان کو حضرت اقدس مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی حیثیت معلوم ہوتی اور وہ جانتے کہ میرا ہونے والا بیٹا محمد رسول اللہ ﷺ کے ظل اور بروز کے مقابلہ میں وہی کام کرے گا جو آنحضرت ﷺ کے مقابلہ میں ابو جہل نے کیا تھا تو وہ اپنے آلہ تناسل کو کاٹ دیتا اور اپنی بیوی کے پاس نہ جاتا۔“

(مرزا بشیر الدین محمود کا خطبہ نکاح۔ روزنامہ الفضل قادیان مورخہ 2 نومبر 1922ء جلد 10 شمارہ 35)

View Proof (عکس صفحہ نمبر 501 پر)

صفحہ 66

جہاں سے نکلے تھے.......

(30) ”جھوٹے آدمی کی یہ نشانی ہے کہ جاہلوں کے روبرو تو بہت گزاف مارتے ہیں مگر جب کوئی دامن پکڑ کر پوچھے کہ ذرا ثبوت دے کر جاؤ تو جہاں سے نکلے تھے، وہیں داخل ہو جاتے ہیں۔“

(حیات احمد، حضرت مسیح موعود کے سوانح حیات جلد دوم نمبر اول صفحہ 25 از یعقوب علی عرفانی ایڈیٹر الحکم قادیان)

(عکس صفحہ نمبر 502 پر) View Proof

کنجریوں کی اولاد

(31) ”تلک کتب ینظر الیھا کل مسلم بعین المحبۃ والمودۃ و ینتفع من معارفھا و یقبلنی و یصدق دعوتی۔ الا ذریۃ البغایا الذین ختم اللہ علی قلوبھم فھم لا یقبلون۔“

(ترجمہ) ”میری ان کتابوں کو ہر مسلمان محبت کی نظر سے دیکھتا ہے اور اس کے معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے اور اسے قبول کرتا ہے مگر رنڈیوں (بدکار عورتوں) کی اولاد نے میری تصدیق نہیں کی کہ ان کے دلوں پر اللہ تعالیٰ نے مہر لگا دی ہے۔“

(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 547، 548 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 547، 548 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 503، 504 پر) View Proof

سوچنا چاہیے کہ دنیا کی سو ارب آبادی میں سے کتنے لوگ مرزا قادیانی کی کتابوں کو محبت و مودت کی نظر سے دیکھتے اور ان کی تصدیق کرتے ہیں؟

خود مرزا قادیانی کے پہلے دونوں بیٹوں مرزا سلطان احمد اور مرزا فضل احمد نے ہمیشہ اپنے باپ کی مخالفت کی۔ وہ جانتے تھے کہ ان کا باپ نبوت کا دعویٰ کرنے کے باوجود اپنی پہلی بیوی حرمت بی بی کے شرعی حقوق پورے نہیں کرتا۔ مرزا قادیانی نے اپنے بیٹے فضل احمد کو اپنی تمام جائیداد سے عاق کیا۔ (باوجود یہ کہ عاق کرنے والے پر حضور نبی کریمﷺ نے لعنت بھیجی ہے) اور ان کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات نیکی، بدی، خوشی، غمی وغیرہ میں شرکت ختم کر

صفحہ 67

دی۔ مرزا قادیانی نے اپنے پہلے دونوں بیٹوں کے بارے میں ایک اشتہار شائع کیا جس میں لکھا:

(32) ”سو اب ان سے کچھ تعلق رکھنا قطعاً حرام اور ایمانی غیوری کے برخلاف اور ایک دیوثی کا کام ہے۔ مومن دیوث نہیں ہوتا۔“

(مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 187 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 505 پر)

یہاں یہ بھی یاد رہے کہ مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا فضل احمد، مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتا تھا (اسی لیے مرزا قادیانی نے اس کا جنازہ بھی نہیں پڑھا تھا۔ (انوار خلافت صفحہ 91 مندرجہ انوار العلوم جلد 3 صفحہ 149 از مرزا بشیر الدین محمود ابن مرزا قادیانی) وہ مرزا قادیانی کی کتابوں کو محبت کی نظر سے نہیں دیکھتا تھا اور اس کی دعوت کی تصدیق بھی نہیں کرتا تھا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا فضل احمد اور اس کی والدہ (مرزا قادیانی کی بیوی) اس فتویٰ ”ذریۃ البغایا“ کی زد میں آتے ہیں؟ قادیانیوں کو اس پر ضرور غور کرنا چاہیے۔

ذریۃ البغایا کی تشریح

قادیانیوں کا موقف ہے کہ ”ذریۃ البغایا“ گالی نہیں ہے۔ اس کے جواب میں ان کی خدمت میں عرض ہے کہ کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جو لوگ مرزا قادیانی پر ایمان لائے، وہ سب ”ذریۃ البغایا“ ہیں؟ کیا اس پر انھیں کوئی اعتراض اور تکلیف تو نہیں؟

یاد رہے کہ ذریۃ البغایا عربی زبان میں ایک سخت اور غلیظ قسم کی گالی ہے۔ یعنی ”بدکار عورتوں کی اولاد“۔ بغایا کے معنی اس درجہ مشہور و معروف، واضح اور مسلّم ہیں کہ اس میں تاویل بازی اور سخن سازی کے سوا اختلاف کی گنجائش ہی نہیں رہتی۔ ذریۃ البغایا یا بغایا مرزا قادیانی کے مخصوص الفاظ ہیں جن کو اس نے اپنی تصانیف میں بکثرت اور تکرار سے استعمال کیا ہے اور اس کے معنی بھی خود ہی کیے ہیں۔ لغت کی رو سے، قرآن مجید کی حجت سے اور خود آنجہانی مرزا قادیانی کی تصانیف کے لحاظ سے بغایا کے معنی ملاحظہ فرمائیں:

امام راغب اصفہانی اپنی مشہور و معروف لغت قرآن ”مفردات“ میں لکھتے ہیں کہ بغت المراۃ بغا اس وقت بولتے ہیں جب عورت بدچلن ہو جائے۔ یہ اس لیے کہتے ہیں کہ وہ اس حد سے جو اس کے لیے ہے، نکل جاتی ہے۔

مرزا قادیانی کی اصل عبارت عربی میں ہے۔ اس کا ترجمہ ہم نے لکھا ہے۔ مرزا

صفحہ 68

قادیانی کے الفاظ یہ ہیں الا ذرية البغايا. عربی کا لفظ البغایا جمع کا صیغہ ہے۔ واحد اس کا بغیہ ہے جس کا معنی بدکار، فاحشہ، زانیہ ہے۔

بغایا کا ترجمہ بازاری عورتیں کیا ہے۔

ترجمہ نسل بدکاران، زناکار، زن بدکار وغیرہ کیا ہے۔

428، 431) پر لفظ بغایا کا ترجمہ زانیہ، زنان فاسقہ، زنان بازاری اور زنان فاحشہ کیا ہے۔

نیز قرآن پاک میں ہے کہ جب یہودیوں نے حضرت مریمؑ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے بعد کہا تھا:

ترجمہ: تیری ماں زنا کار اور بدکار نہ تھی۔

ترجمہ: اور نہ میں بدکار ہوں۔

ان آیات کے تحت مرزا قادیانی کے بیٹے اور قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود نے لفظ بغیا کا ترجمہ ”بدکار“ کیا ہے۔ (تفسیر صغیر صفحہ 386، 385 از مرزا بشیر الدین محمود) اسی طرح مولوی محمد علی لاہوری قادیانی نے بھی اپنی تفسیر بیان القرآن میں انہی آیات کے تحت بغیا کا ترجمہ بدکار کیا ہے۔

حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ کو گالیاں

مشہور روحانی بزرگ حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ کے بارے میں مرزا قادیانی لکھتا ہے:

اور بچھو کی طرح نیش زن۔ پس میں نے کہا کہ اے گولڑہ کی زمین تجھ پر لعنت، تو ملعون کے سبب

صفحہ 69

سے ملعون ہو گئی پس تو قیامت کو ہلاکت میں پڑے گی ۔“

(اعجاز احمدی صفحہ 75 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 188 از مرزا قادیانی)

View Proof (عکس صفحہ نمبر 506 پر)

عجیب بات ہے کہ مخالفت حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ نے کی اور لعنت گولڑہ کے تمام رہنے والوں پر کی اور وہ بھی قیامت تک ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر گولڑہ کی سرزمین پر کوئی قادیانی آباد ہو گیا تو کیا وہ بھی اس ابدی لعنت کا مستحق ہوگا ؟

(اعجاز احمدی صفحہ 92 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 196 از مرزا قادیانی)

View Proof (عکس صفحہ نمبر 507 پر)

مولانا محمد حسین بٹالویؒ کے متعلق لکھا:

(انجام آتھم صفحہ 242,241 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 241, 242 از مرزا قادیانی)

View Proof (عکس صفحہ نمبر 509,508 پر)

مولانا نذیر حسین دہلویؒ کے متعلق لکھا:

(انجام آتھم صفحہ 251 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 251 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 510 پر)

View Proof

مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کے متعلق لکھا:

(انجام آتھم صفحہ 252 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 252 از مرزا قادیانی)

View Proof (عکس صفحہ نمبر 511 پر)

مولانا سعد اللہؒ کے بارے میں لکھا:

صفحہ 70

سفیہوں کا نطفہ، بد گو ہے اور خبیث اور مفسد اور جھوٹ کو ملمع کر کے دکھانے والا، منحوس ہے جس کا نام جاہلوں نے سعد اللہ رکھا ہے۔“

(حقیقۃ الوحی تتمہ صفحہ 14 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 445 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 512 پر)

View Proof

مولانا عبدالحق غزنوی کے بارے میں لکھا:

ہوئی کہ میری کلام جیسی کلام بنالاؤ۔ اور عبدالجبار کی جماعت میں سے ایک موذی نے کہا کہ یہ شخص دجال اور اکفر الکفار ہے اور ان میں سے ایک غزنوی شخص ہے جس کو عبدالحق کہتے ہیں اور اسنے گالیاں دیں اور پشہ کی طرح اچھلا اور وہ ایک چوہا ہے شیروں کو اپنے سوراخ میں آواز سے ڈراتا ہے اور ایک شیخ لمبی زبان والا بہت ہذیان والا عبدالحق سے مشابہ ہے۔ اس نے گمان کیا ہے کہ وہ زمانہ کے فاضلوں میں سے ہے اور یہ شیخ نجفی ہے اور شیعہ ہے۔ اور اس نے عربی میں میری طرف ایک خط لکھا۔ بلکہ اسنے باوجود اس کے سب اور شتم کو کمال تک پہنچا دیا۔ اور کسی گالی کو نہ چھوڑا جسکو کمینہ رذیلوں کی طرح نہ لکھا۔ اور نہیں جانتا کہ ایمان کیا ہے اور مومنوں کی خصلتیں کیا ہیں۔ اور ہم گالی کی طرف رجوع نہیں کرتے جیسا کہ اس نے عناد سے کیا۔ مگر تو کمینوں اور سفلوں میں سے تھا۔ اور تمام تر تعجب یہ ہے کہ عبدالحق غزنوی پانچ برس سے مجھے گالیاں نکال رہا ہے۔ اور ہم نے فحش گوئی سے پرہیز کیا ہے اور ہر ایک درخت پھل سے پہچانا جاتا ہے۔ اور امید رکھتا ہوں کہ وہ اپنے تجاوز سے باز آجائیں گے اور بکواس سے باز نہ آئے۔ پس میں نے جان لیا کہ وہ مردود اور مخذول ہیں۔ اور بد بخت اور محروم ہیں اپنے تئیں تو بہت نیک آدمیوں میں سے خیال کرتا ہے اور بدبختوں کے طریق پر چلتا ہے۔ فاسقوں کی طرح تو زندگی بسر کرتا ہے۔ تیری باطنی پلیدی نے تیری صورت کو متغیر کر دیا تو ایک بھیڑیا ہے نہ انسان کی قسم اور شریروں میں سے ہے اور تو بوڑھا ہو گیا اور چمڑا پرانا ہو گیا اور خبث اور فساد کے طریقوں کو تو نہیں چھوڑتا۔ قبل اس کے جو تجھ کو کیڑے کھالیں اور موت آجائے اور تو نے مجھ سے دشمنی کی پس خدا تجھے تباہ کرے اور جلد بازوں کی طرح بکواس مت کر پس خدا نے تیرا منہ کالا کیا۔ کلب العناد، پس اے مسخ شدہ اور تیرا سر تیرے ہی جوتوں کے ساتھ نرم کیا جائے گا۔ تجھ پر لعنت، اے غزنی کے بندر، تو کتوں کی طرح تھا، بک بک کرنے والا، کم

صفحہ 71

مردک لکنت لسان کا داغ رکھنے والا اور کتا ایک صورت ہے اور تو اسکی روح ہے۔ پس تیرے جیسا آدمی کتے کی طرح بھونکتا ہے اور فریاد کرتا ہے۔ ہم نے تنبیہہ کے لیے تجھے طمانچہ مارا مگر تو نے طمانچہ کو کچھ نہ سمجھا۔ پس کاش ہمارے پاس مضبوط اونٹ کے چمڑے کا جوتا ہوتا۔ اور جو گالی تو دینا چاہے گا وہ ہم سے سنے گا۔ اور اگر تو بات اور حملہ میں نرمی کرے گا تو ہم بھی نرمی کریں گے۔ اور میں تیرے نفس میں علم اور عقل نہیں دیکھتا۔ اور تو خنزیر کی طرح حملہ کرتا ہے اور گدھوں کی طرح آواز کرتا ہے۔ اور تو نے بدکار عورت کی طرح رقص کیا۔ اور مجھے فاسق ٹھہرایا حالانکہ تو سب سے زیادہ فاسق ہے۔ اے شیخ شقی سوچ! اور انسان کی طرح فکر کر اور گدھے کی طرح آواز نہ کر۔ پس میں قسم کھاتا ہوں کہ اگر خدا کا خوف اور حیا نہ ہوتا۔ تو میں قصد کرتا کہ گالیوں سے تجھے فنا کر دیتا۔“

(حجۃ اللہ ص 12 تا 18 مندرجہ روحانی خزائن جلد نمبر 12، ص 172 تا 236 از مرزا قادیانی)

ہم اس صورتحال پر کچھ تبصرہ نہیں کرتے، اگر کسی ”قادیانی“ میں سلیم الفطرتی کے عناصر متحرک و فعال ہیں تو وہ خود اپنے ”پیر و مرشد“ کی شخصیت کے دونوں پہلوؤں کا موازنہ کر لے۔

بدتر ہر ایک بد سے

(39)

”بدتر ہر ایک بد سے وہ ہے جو بدزباں ہے
جس دل میں یہ نجاست بیت الخلا یہی ہے“

(قادیان کے آریہ اور ہم صفحہ 61 مندرجہ روحانی خزائن، جلد 20 صفحہ 458، از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 513 پر)

صفحہ 72

مرزا قادیانی اس شعر کا خود مصداق ہے۔ اس نے اپنی کتابوں میں مختلف لوگوں کو جو گالیاں دی ہیں، ان کی تعداد ہزاروں میں بنتی ہے۔ صفحات کی کمی کے پیش نظر صرف چند مثالیں پیش خدمت ہیں۔

صفحہ 73

(نورالحق حصہ 1، روحانی خزائن جلد 8 ص 4، 5 از مرزا قادیانی)

سے بے بہرہ اور برہنہ

(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 69 از مرزا قادیانی)

(ایام الصلح صفحہ 165، روحانی خزائن جلد 14 ص 413 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 22 / حاشیہ، روحانی خزائن جلد 11 ص 306 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 45، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 329 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 53، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 337 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ص 59، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 59 از مرزا قادیانی)

(شہادت القرآن ص 84، روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 380 از مرزا قادیانی)

(نورالحق صفحہ 3 حصہ اوّل، روحانی خزائن جلد 8 ص 5 از مرزا قادیانی)

(اعجاز احمدی صفحہ 39، روحانی خزائن جلد 19 ص 150 از مرزا قادیانی)

(اعجاز احمدی صفحہ 75، روحانی خزائن جلد 19 ص 188 از مرزا قادیانی)

(تذکرہ الشہادتین ص 38، روحانی خزائن جلد 20 ص 40 از مرزا قادیانی)

(حقیقۃ الوحی تتمہ ص 107، روحانی خزائن ج 22 ص 543 از مرزا قادیانی)

(ایام الصلح ص 165، روحانی خزائن جلد 14 ص 413 از مرزا قادیانی)

(ایام الصلح ص 166، روحانی خزائن جلد 14 ص 414 از مرزا قادیانی)

(ایام الصلح ص 166، روحانی خزائن جلد 14 ص 413 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 4، روحانی خزائن جلد 11 ص 288 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 46، روحانی خزائن جلد 11 ص 330 از مرزا قادیانی)

(اعجاز احمدی ص 43، روحانی خزائن جلد 19 ص 155 از مرزا قادیانی)

سے ذرہ مس نہیں

(اعجاز احمدی ص 51، روحانی خزائن جلد 19 ص 163 از مرزا قادیانی)

دودھ پلایا گیا

(انجام آتھم ضمیمہ ص 18 / حاشیہ، روحانی خزائن جلد 11 ص 302 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 49، روحانی خزائن جلد 11 ص 333 از مرزا قادیانی)

صفحہ 74

دجال کی نسل

صفحہ 75

(براہین پنجم ص 143، روحانی خزائن جلد 21 ص 311 از مرزا قادیانی)

(ازالہ اوہام ص 510، روحانی خزائن جلد 3 ص 373 از مرزا قادیانی)

(استفتاء ص 20، روحانی خزائن جلد 12 ص 128 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ص 47، روحانی خزائن جلد 11 ص 47 از مرزا قادیانی)

(مجموعہ اشتہارات جلد اول ص 125 از مرزا قادیانی)

(ضیاء الحق ص 35، روحانی خزائن جلد 9 ص 296 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ص 204، روحانی خزائن جلد 11 ص 204 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ص 206، روحانی خزائن جلد 11 ص 206 از مرزا قادیانی)

(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 69 از مرزا قادیانی)

(ایام الصلح ص 166، روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 413 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 53، روحانی خزائن جلد 11 ص 337 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 24 / ج، روحانی خزائن جلد 11 ص 308 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 59، روحانی خزائن جلد 11 ص 343 از مرزا قادیانی)

کے اندر غرق

(انجام آتھم ضمیمہ ص 46، روحانی خزائن جلد 11 ص 330 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ص 241، روحانی خزائن جلد 11 ص 241 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ص 241، روحانی خزائن جلد 11 ص 241 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ص 251، روحانی خزائن جلد 11 ص 251 از مرزا قادیانی)

(آئینہ کمالات اسلام ص 548، روحانی خزائن جلد 5 ص 548 از مرزا قادیانی)

(آئینہ کمالات اسلام ص 599، روحانی خزائن جلد 5 ص 599 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 53، روحانی خزائن جلد 11 ص 337 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 53، روحانی خزائن جلد 11 ص 337 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 229، روحانی خزائن جلد 11 ص 229 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 251، روحانی خزائن جلد 11 ص 251 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 253، روحانی خزائن جلد 11 ص 253 از مرزا قادیانی)

صفحہ 76

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص 14، روحانی خزائن جلد 22 ص 445 از مرزا قادیانی)

(نور الحق ص 23 حصہ 1، روحانی خزائن جلد 8 ص 32 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 62، روحانی خزائن جلد 11 ص 346 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 4، روحانی خزائن جلد 11 ص 288 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 18 / حاشیہ، روحانی خزائن جلد 11 ص 302 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 198، روحانی خزائن جلد 11 ص 198 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 241، روحانی خزائن جلد 11 ص 241 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 251، روحانی خزائن جلد 11 ص 251 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 252، روحانی خزائن جلد 11 ص 252 از مرزا قادیانی)

(آئینہ کمالات اسلام ص 604، روحانی خزائن جلد 5 ص 295 از مرزا قادیانی)

(آئینہ کمالات اسلام ص 301، روحانی خزائن جلد 5 ص 301 از مرزا قادیانی)

(آئینہ کمالات اسلام ص 306، روحانی خزائن جلد 5 ص 306 از مرزا قادیانی)

(کرامات الصادقین ص 27، روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 69 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ص 9، روحانی خزائن جلد 11 ص 9 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ص 241، روحانی خزائن جلد 11 ص 241 از مرزا قادیانی)

(اعجاز احمدی ص 76، روحانی خزائن جلد 19 ص 188 از مرزا قادیانی)

(کرامات الصادقین ص 22، روحانی خزائن جلد 7 ص 65 از مرزا قادیانی)

(نزول المسیح ص 11، روحانی خزائن جلد 18 ص 389 از مرزا قادیانی)

(آریہ دھرم ص 31، روحانی خزائن جلد 10 ص 31 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ص 241، روحانی خزائن جلد 11 ص 241 از مرزا قادیانی)

(حقیقۃ الوحی ص 311، روحانی خزائن جلد 22 ص 324 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 23 / حاشیہ، روحانی خزائن جلد 11 ص 307 از مرزا قادیانی)

(دافع البلاء ص 18، روحانی خزائن جلد 18 ص 238 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 46، روحانی خزائن جلد 11 ص 330 از مرزا قادیانی)

الف الف مرۃ

صفحہ 77

(انجام آتھم ضمیمہ ص 58، روحانی خزائن جلد 11 ص 342 از مرزا قادیانی)

(اعجاز احمدی ص 83، روحانی خزائن جلد 19 ص 196 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 58، روحانی خزائن جلد 11 ص 342 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ص 224، روحانی خزائن جلد 11 ص 224 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ص 230، روحانی خزائن جلد 11 ص 230 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ص 254، روحانی خزائن جلد 11 ص 254 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ص 252، روحانی خزائن جلد 11 ص 252 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 33، روحانی خزائن جلد 11 ص 317 از مرزا قادیانی)

(اعجاز احمدی ص 77، روحانی خزائن جلد 19 ص 190 از مرزا قادیانی)

(کرامات الصادقین ص (د)، روحانی خزائن جلد 7 ص 152 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 58، 59 روحانی خزائن جلد 11 ص 342، 343 از مرزا قادیانی)

پر لعنت

(انجام آتھم ضمیمہ ص 56، روحانی خزائن جلد 11 ص 340 از مرزا قادیانی)

محمد حسین بٹالوی

(انجام آتھم ضمیمہ ص 58، روحانی خزائن جلد 11 ص 342 از مرزا قادیانی)

(تحفہ گولڑویہ ص 14، روحانی خزائن جلد 22 ص 445 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ص 17 / حاشیہ، روحانی خزائن جلد 11 ص 17 از مرزا قادیانی)

(استفتاء ص 20، روحانی خزائن جلد 12 ص 128 از مرزا قادیانی)

(آئینہ کمالات اسلام ص 301، روحانی خزائن جلد 5 ص 301 از مرزا قادیانی)

(آئینہ کمالات اسلام ص (د)، روحانی خزائن جلد 5 ص 608 از مرزا قادیانی)

(نزول المسیح ص 66، روحانی خزائن جلد 18 ص 444 از مرزا قادیانی)

(تحفہ گولڑویہ ص 128 / ح، روحانی خزائن جلد 22 ص 565 از مرزا قادیانی)

(ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم ص 165، روحانی خزائن جلد 21 ص 332 از مرزا قادیانی)

(چشمہ معرفت ص 131 ج 2، روحانی خزائن جلد 23 ص 336 از مرزا قادیانی)

(مواہب الرحمٰن ص 13، روحانی خزائن جلد 19 ص 352 از مرزا قادیانی)

صفحہ 78

(اعجاز احمدی ص 43، روحانی خزائن جلد 19 ص 155 از مرزا قادیانی)

(کرامات الصادقین ص 6، روحانی خزائن جلد 7 ص 48 از مرزا قادیانی)

(الہدیٰ ص 18، روحانی خزائن جلد 18 ص 262 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ص 206، روحانی خزائن جلد 11 ص 206 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 25، روحانی خزائن جلد 11 ص 309 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ص 265، روحانی خزائن جلد 11 ص 265 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 21/حاشیہ، روحانی خزائن جلد 11 ص 305 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 47، روحانی خزائن جلد 11 ص 331 از مرزا قادیانی)

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص 115، روحانی خزائن جلد 21 ص 320 از مرزا قادیانی)

(مواہب الرحمٰن ص 13، روحانی خزائن جلد 19 ص 352 از مرزا قادیانی)

(نور الحق ص 89 ج 1، روحانی خزائن جلد 8 ص 120 از مرزا قادیانی)

جنگل کے شیطان

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص 14-15ح، روحانی خزائن جلد 22 ص 445 از مرزا قادیانی)

(براہین احمدیہ پنجم ص 149، روحانی خزائن جلد 21 ص 317 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ 21 /حاشیہ، روحانی خزائن جلد 11 ص 305 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 53، روحانی خزائن جلد 11 ص 337 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 58، روحانی خزائن جلد 11 ص 342 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ص 252، روحانی خزائن جلد 11 ص 252 از مرزا قادیانی)

(آئینہ کمالات اسلام ص 402، روحانی خزائن جلد 5 ص 402 از مرزا قادیانی)

(نزول المسیح ص 224، روحانی خزائن جلد 18 ص 602 از مرزا قادیانی)

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص 14-15ح، روحانی خزائن جلد 22 ص 445 از مرزا قادیانی)

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص 14-15ح، روحانی خزائن جلد 22 ص 445 از مرزا قادیانی)

(آسمانی فیصلہ ص 32، روحانی خزائن جلد 4 ص 342 از مرزا قادیانی)

(استفتاء ص 20، روحانی خزائن جلد 12 ص 128 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 28/حاشیہ، روحانی خزائن جلد 11 ص 312 از مرزا قادیانی)

صفحہ 79

(انجام آتھم ص 24/ح، روحانی خزائن جلد 11 ص 24 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ص 24/ح، روحانی خزائن جلد 11 ص 24 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ص 224، روحانی خزائن جلد 11 ص 224 از مرزا قادیانی)

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص 14، روحانی خزائن جلد 22 ص 445 از مرزا قادیانی)

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص 115، روحانی خزائن جلد 22 ص 551 از مرزا قادیانی)

(آسمانی فیصلہ ص 14، روحانی خزائن جلد 4 ص 324 از مرزا قادیانی)

(ایام الصلح ص 165، روحانی خزائن جلد 14 ص 413 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ص 20/حاشیہ، روحانی خزائن جلد 11 ص 20 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ص 24/حاشیہ، روحانی خزائن جلد 11 ص 24 از مرزا قادیانی)

(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 69 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ص 45، روحانی خزائن جلد 11 ص 45 از مرزا قادیانی)

(نزول المسیح ص 8، روحانی خزائن جلد 18 ص 386 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 24 (حاشیہ)، روحانی خزائن جلد 11 ص 308 از مرزا قادیانی)

(براہین احمدیہ پنجم ص 120، روحانی خزائن جلد 21 ص 285 از مرزا قادیانی)

(ضیاء الحق ص 27، روحانی خزائن جلد 9 ص 285 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 23/ح، روحانی خزائن جلد 11 ص 308 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 47، روحانی خزائن جلد 11 ص 331 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 49، روحانی خزائن جلد 11 ص 333 از مرزا قادیانی)

(انوار الاسلام ص 30، روحانی خزائن جلد 9 ص 31 از مرزا قادیانی)

(انوار الاسلام ص 29، روحانی خزائن جلد 9 ص 31 از مرزا قادیانی)

(انوار الاسلام ص 30، روحانی خزائن جلد 9 ص 40 از مرزا قادیانی)

بڑے بھائی

(انجام آتھم ص 251، روحانی خزائن جلد 11 ص 251 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 56، روحانی خزائن جلد 11 ص 340 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ص 59 حاشیہ، روحانی خزائن جلد 11 ص 59 از مرزا قادیانی)

صفحہ 80

(اعجاز احمدی ص 43، روحانی خزائن جلد 19 ص 154 از مرزا قادیانی)

(مجموعہ اشتہارات جلد دوم ص 77 از مرزا قادیانی)

(مواہب الرحمٰن ص 131، روحانی خزائن جلد 19 ص 352 از مرزا قادیانی)

(مواہب الرحمٰن ص 138، روحانی خزائن جلد 19 ص 359 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 3، روحانی خزائن جلد 11 ص 287 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 19 / ح، روحانی خزائن جلد 11 ص 303 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ص 24 / ح، روحانی خزائن جلد 11 ص 24 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 45، روحانی خزائن جلد 11 ص 329 از مرزا قادیانی)

(اعجاز احمدی ص 76، روحانی خزائن جلد 19 ص 188 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 24 / ح، روحانی خزائن جلد 11 ص 308 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 21 / ح، روحانی خزائن جلد 11 ص 305 از مرزا قادیانی)

(کرامات الصادقین صفحہ و (4)، روحانی خزائن جلد 7 ص 152 از مرزا قادیانی)

گالیاں دینے کی وجہ

دیتا ہے اور جس قدر کوئی زیادہ گالیاں دیتا ہے اسی قدر اپنی شکست کو ثابت کرتا ہے۔“

(انوار خلافت صفحہ 20 مندرجہ انوار العلوم جلد 3 صفحہ 80 از مرزا بشیر الدین محمود ابن مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 514 پر)

View Proof

PDF 81

ثبوت حاضر ہیں!

لَعنت بازی

مرزا قادیانی کا پسندیدہ مشغلہ

PDF 82
صفحہ 83

لعنت کے معنی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہونے کے ہوتے ہیں۔ لعنت جس قدر بری چیز ہے، اس قدر اس کے کرنے پر پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں۔ کسی مسلمان پر لعنت کرنا حرام ہے۔

حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ”نہیں ہے مسلمان طعنہ کرنے والا نہ لعنت کرنے والا اور نہ بدگو۔“

(ترمذی)

حضرت ابو درداءؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اکرم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ”جب بندہ کسی چیز پر لعنت کرتا ہے تو وہ لعنت آسمان کی طرف چڑھتی ہے، جس پر آسمان کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں پھر وہ زمین کی طرف اترتی ہے تو زمین کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں (یعنی زمین اس لعنت کو قبول نہیں کرتی) پھر وہ دائیں بائیں گھومتی ہے، جب کہیں اس کو راستہ نہیں ملتا تو جس پر لعنت کی گئی ہے، اس کے پاس پہنچتی ہے۔ اگر وہ واقعی لعنت کا مستحق ہے تو اس پر پڑتی ہے ورنہ پھر کہنے والے پر پڑ جاتی ہے۔“

(ابوداؤد)

ایک اور موقع پر نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: ”مسلمان کو لعنت کرنا قتل کرنے کے مترادف ہے۔“ (اور قتل کرنا کبیرہ گناہ ہے بلکہ قرآن مجید کے مطابق ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے)۔

جھوٹا مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی اپنے مخالفین کی تنقید پر فوراً طیش میں آ جاتا، آنکھیں سرخ اور منہ میں جھاگ آ جاتی اور پھر وہ اپنے مخالفین کو دل بھر کر ٹکسالی زبان میں گالیاں دیتا اور اندھا دھند لعنت بازی کی کلاشنکوف چلا دیتا۔ جبکہ اس کا یہ بھی دعویٰ ہے:

میں امام الزماں ہوں

صفحہ 84

اور خواب بینوں اور ملہموں کو ماننا خدا تعالیٰ کی طرف سے فرض قرار دیا گیا ہے۔ سو میں اس وقت بے دھڑک کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے فضل اور عنایت سے وہ امام الزمان میں ہوں۔"

(ضرورۃ الامام صفحہ 25 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 495 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 515 پر) View Proof

مومن لعان نہیں ہوتا

(ازالہ اوہام صفحہ 660 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 456 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 516 پر) View Proof

قارئین کرام: آئیے دیکھتے ہیں ”سلطان القلم“ کی ”گل افشانیاں!“

10 لعنتیں

روک نہیں سکتا کیونکہ وہ میرے نفس سے نہیں بلکہ القاء ربی ہے جو بڑے زور سے جوش مار رہا ہے اور وہ یہ ہے کہ جب کہ آپ نے مجھے کافر ٹھہرایا اور جھوٹ بولنا میری سرشت کا خاصہ قرار دیا تو اب آپ کو اللہ جل شانہ کی قسم ہے کہ حسب طریق مذکورہ بالا میرے مقابلہ پر فی الفور آ جاؤ تا دیکھا جائے کہ قرآن کریم اور فرمودہ نبی ﷺ کے رو سے کون کاذب اور دجال اور کافر ثابت ہوتا ہے اور اگر اس تبلیغ کے بعد ہم دونوں میں سے کوئی شخص متخلف رہا اور باوجود اشد غلو اور تکفیر اور تکذیب اور تفسیق کے میدان میں نہ آیا اور شغال کی طرح دُم دبا کر بھاگ گیا تو وہ مندرجہ ذیل انعام کا مستحق ہوگا۔

صفحہ 85

تلک عشرة کاملہ...... میں علیٰ وجہ البصیرت یقین رکھتا ہوں کہ آپ صرف استخوان فروش ہیں اور علم اور درایت اور تفقہ سے سخت بے بہرہ اور ایک غبی اور پلید آدمی ہیں...... اب آپ کسی حیلہ و بہانہ سے گریز نہیں کر سکتے...... اب آپ کسی حیلہ و بہانہ سے گریز نہیں کر سکتے، اب تو دس لعنتیں آپ کی خدمت میں نذر کر دی ہیں اور اللہ جل شانہ کی قسم بھی دی ہے کہ آپ آسمانی طریق سے میرے ساتھ صدق اور کذب کا فیصلہ کر لیں۔ اگر آپ مجھ کو جھوٹا سمجھنے میں سچے ہیں تو میری اس بات کو سنتے ہی مقابلہ کے لیے کھڑے ہو جائیں گے۔ ورنہ ان تمام لعنتوں کو ہضم کر جائیں گے اور کچے اور بیہودہ عذرات سے ٹال دیں گے اور میں آپ کو ہلاک کرنا نہیں چاہتا۔ ایک ہی ہے جو آپ کو در حالت نہ باز آنے کے ہلاک کرے گا اور اپنے دین کو آپ کے اس فتنہ سے نجات دے گا اور آپ کے قادیان آنے کی کچھ ضرورت نہیں۔ اگر آپ اللہ اور رسول کے نشان کے موافق آزمائش کے لیے مستعد ہوں تو میں خود بٹالہ اور امرتسر اور لاہور میں آ سکتا ہوں، تا سیاہ روئے شود ہر کہ دروغش باشد۔‘‘

(مکتوبات احمد جلد اوّل طبع جدید صفحہ 341، 342، 352، 353 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 517,518,519,520 پر)

View Proof

لعنت، لعنت، لعنت...... 1 تا 1000

(44) مرزا قادیانی کی ذہنی کیفیت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ اس نے کسی پر لعنت ڈالی تو بجائے یہ کہنے کے کہ تجھ پر ہزار لعنت ہو یا تحریری طور پر اسے اس طرح لکھ دیتا مگر اس نے باقاعدہ لعنت نمبر 1، لعنت نمبر 2، لعنت نمبر 3 ............ لعنت نمبر 1000 تک لکھ دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ قادیانی ذریۃ البغایا اسے سلطان القلم کہتی ہے۔ براہ کرم یہ اصل حوالہ ضرور ملاحظہ فرمائیں۔

(نور الحق صفحہ 118 تا 122 مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 158 تا 162 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 521,522,523,524,525 پر)

View Proof

صفحہ 86

10 لاکھ لعنتیں

(45) "اے بدذات یہودی صفت پادریوں کا اس میں منہ کالا ہوا۔ اور ساتھ ہی تیرا بھی۔ اور پادریوں پر ایک آسمانی لعنت پڑی اور ساتھ ہی وہ لعنت تجھ کو بھی کھا گئی۔ اگر تو سچا ہے تو اب ہمیں دکھلا کہ آتھم کہاں ہے؟ اے خبیث کب تک تو جئے گا؟ کیا تیرے لیے ایک دن موت کا مقرر نہیں۔ ایسا ہی ذرہ انصاف کرنا چاہیے کہ کس قوت اور چمک سے کسوف اور خسوف کی پیشگوئی پوری ہوئی اور ہمارے دعوٰی پر آسمان نے گواہی دی۔ مگر اس زمانہ کے ظالم مولوی اس سے بھی منکر ہیں۔ خاص کر رئیس الدجالین عبدالحق غزنوی اور اس کا تمام گروہ علیہم نعال لعن اللہ الف الف مرۃ۔" (یعنی ان پر 10 لاکھ جوتے اور اللہ کی لعنتیں)

(انجام آتھم صفحہ 45 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 329، 330 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 527,526 پر)

جب دل بگڑتا ہے

مرزا قادیانی کا کہنا ہے:

(46) "جب دل بگڑتا ہے تو زبان ساتھ ہی بگڑ جاتی ہے۔"

(آسمانی فیصلہ صفحہ 37 مندرجہ روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 347 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 528 پر)

یہ خدا کا کلام ہے

اپنی بیہودہ گفتگو کے بارے میں مرزا قادیانی کا کہنا ہے:

(47) "میں نے بار بار بیان کر دیا ہے کہ یہ کلام جو میں سناتا ہوں یہ قطعی اور یقینی طور پر خدا کا کلام ہے جیسا کہ قرآن اور توریت خدا کا کلام ہے۔"

(تحفۃ الندوہ صفحہ 7 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 95 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 529 پر)

قارئین کرام! اب آپ خود فیصلہ کر لیں کہ مرزا قادیانی اپنی "بکواسیات" اور "لغویات" کو کیا درجہ دے رہا ہے۔ اسے کہتے ہیں:

"جب نٹنی بانس پر چڑھے تو گھونگھٹ کیا"
PDF 87

ثبوت حاضر ہیں!

قادیانی ڈکشنری

PDF 88
صفحہ 89

تاویلات کے گورکھ دھندے کا دوسرا نام ”قادیانیت“ ہے۔ مرزا قادیانی، اس کے جانشین اور قادیانی مربیان بلاشبہ تاویل کے ہنر میں باکمال بازی گر ہیں۔ مگر افسوس! یہ نیا علم الکلام، یہ جدید لغت، روایتی عقیدت مندوں کے ذہنی اطمینان کے لیے ہی اکسیر ثابت ہوسکتا ہے۔ جو شخص معروضی اساس پر اس بھان متی کے کنبے کو دیکھتا ہے تو وہ اپنی بے ساختہ ہنسی ضبط نہیں کرسکتا۔ یوں دیکھا جائے تو مرزا قادیانی اور اس کے متبعین کے فکری آفاق بڑے ہی محدود واقع ہوئے ہیں۔ علمی لحاظ سے ”قادیانیت“ کا پیڈسٹل بڑا ہی مختصر اور بہت ہی کم تر ہے۔ سچ کہا گیا ہے: صدرہ پڑھ کر بھی احمق رہے۔

اس تناظر میں قادیانی ڈکشنری کے چند نمونے ملاحظہ فرمائیے:۔

اعتراف

مسلمانوں کو اس سے بچائے۔“

(ازالہ اوہام صفحہ 745 مندرجہ روحانی خزائن، جلد 3 صفحہ 501، از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 530 پر)

کدعہ سے مراد قادیان

مصداق ہے جو احادیث رسول اللہ ﷺ میں پائی جاتی ہے۔ پیشگوئی میں کدعہ کا لفظ بھی ہے جو صریح قادیان کے نام کو بتلا رہا ہے پس تمام مضمون اس حدیث کا یہ ہے کہ وہ

صفحہ 90

مہدی موعود قادیان میں پیدا ہوگا اور اس کے پاس ایک کتاب چھپی ہوئی ہو گی جس میں تین سو تیرہ اس کے دوستوں کے نام درج ہوں گے۔‘‘

(انجام آتھم صفحہ 45 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 329 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 531 پر)

اس ضمن میں مولانا محمد رفیق دلاوریؒ لکھتے ہیں:

’’امیر المومنین حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت مہدیؑ، حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت میں سے ہوں گے۔ ان کی ولادت مدینہ منورہ میں ہوگی اور بیت المقدس کی طرف ہجرت فرمائیں گے۔ اخرجہ نعیم بن حماد اور شیخ علی متقیؒ نے رسالہ ’’البرہان فی احوال مہدی آخرالزمان‘‘ میں لکھا ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام مدینہ منورہ میں متولد ہوں گے۔ مکہ مکرمہ میں ظہور فرمائیں گے۔ بیت المقدس کی طرف ہجرت کریں گے اور اسی جگہ انتقال فرمائیں گے۔ (حجج الکرامہ، صفحہ 358) لیکن اس کے برخلاف امام مستغفری نے ’’دلائل النبوۃ‘‘ میں عبداللہ بن عمرؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام کرعہ نامی ایک گاؤں میں پیدا ہوں گے۔ (ایضاً) اسی طرح میزان الاعتدال میں کامل ابن عدی سے نقل کیا ہے کہ مہدی ایک گاؤں سے ظاہر ہوں گے جس کا نام کرعہ ہوگا۔ (میزان الاعتدال، جلد 2، صفحہ 161) غرض مہدی علیہ السلام کی جائے ولادت میں روایات مختلف ہیں۔ میرے خیال میں اگر صحیح ہیں تو وہی روایات صحیح ہو سکتی ہیں جن میں صاحب الزمان مہدی علیہ السلام کا مدینہ منورہ میں متولد ہونا مذکور ہے۔ رہی کرعہ میں پیدا ہونے کی مؤخر الذکر روایتیں سو وہ پایہ اعتبار سے ساقط ہیں کیونکہ ان کا ایک راوی عبدالوہاب بن ضحاک ضعیف ہے۔ نسائی نے اس کو متروک الحدیث اور دارقطنی نے منکر الحدیث لکھا ہے اور ابو حاتم نے اسے کاذب بتایا ہے۔ (میزان الاعتدال، جلد 2، صفحہ 160)

کرعہ والی روایت ایک جھوٹے راوی عبدالوہاب بن ضحاک کا من گھڑت افسانہ ہے۔ لیکن مسیح قادیاں کو اس سے کوئی سروکار نہ تھا کہ کوئی روایت صحیح ہے یا سقیم۔ بلکہ وہ تو ہمیشہ یہ دیکھا کرتے تھے کہ کس چیز سے ان کے آشیانہ مہدویت و مسیحیت کے لیے کوئی تنکا فراہم ہو سکتا ہے؟ جب کوئی روایت خلاف مدعا ہوتی تھی تو صحیحین کی متفق علیہ حدیث سے بھی، جس کی صحت ساری دنیا کے علماء اور ہر زمانہ کے مسلمانوں کے نزدیک مسلم رہی ہے، روگردان ہو

صفحہ 91

جاتے اور اگر مفید مطلب ہوتی تو چاہے کیسی ہی مبتذل روایت کیوں نہ ہو اسے صحیح قرار دے کر اپنے پروپیگنڈا کا آلہ کار بنا لیتے۔ کدیہ والی روایت کو بھی انھوں نے مفید مطلب سمجھ کر لے لیا اور بساط زندقہ پرستی پر قدم رکھ کر اس سے اپنی خانہ ساز مہدویت پر استدلال کرنے لگے۔ اگر محض کسی ضعیف روایت کو اپنے دعویٰ کی تائید میں پیش کرتے تو کوئی انوکھی بات نہیں تھی کیونکہ دنیا میں تقدس کے جتنے جھوٹے دکاندار گزرے ہیں انھوں نے موضوع اور مجروح روایات کی آڑ لے کر خلق خدا کو گمراہ کیا ہے لیکن قادیاں کے ”مسیح موعود“ میں تو یہ کمال تھا کہ لغو روایات سے مطلب براری تو ایک طرف رہی، موضوع یا ضعیف روایتوں میں بھی حسب دلخواہ تصرف کر کے ان کو اپنے سانچے میں ڈھال لیتے تھے، چنانچہ مندرجہ ذیل تحریروں سے آپ کو معلوم ہوگا کہ انھوں نے کدیہ کو کدعہ میں تبدیل کر کے کس طرح مطلب براری کی نامراد کوشش کی۔ لکھتے ہیں:

والا ہوگا جس کا نام کدعہ یا کدیہ ہوگا۔ اب ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ یہ لفظ کدعہ دراصل قادیاں کے لفظ کا مخفف ہے۔“

(کتاب البریہ، صفحہ 243 مندرجہ روحانی خزائن، جلد 13 صفحہ 260، 261 از مرزا قادیانی)

دوسری جگہ لکھتے ہیں:

ذکر کیا ہے کہ ایک طور سے میرا نام بتلا دیا ہے اور حدیثوں میں کدعہ کے لفظ سے میرے گاؤں کا نام موجود ہے۔“

(تذکرۃ الشہادتین، صفحہ 39 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 40 از مرزا قادیانی)

جبکہ ایک اور جگہ پر لکھتے ہیں:

ہے کہ وہ اس ملک میں سمرقند سے آئے تھے اور ان کے ساتھ قریباً دو سو آدمی اُن کے توابع اور خدام اور اہل و عیال میں سے تھے اور وہ ایک معزز رئیس کی حیثیت سے اس ملک میں داخل ہوئے اور اس قصبہ کی جگہ میں جو اس وقت ایک جنگل پڑا ہوا تھا جو لاہور سے تخمیناً بفاصلہ پچاس کوس بگوشہ شمال مشرق واقع ہے، فروکش ہو گئے جس کو انہوں نے آباد کر کے اس کا نام اسلام پور رکھا۔ جو پیچھے سے اسلام پور قاضی ماجھی کے نام سے مشہور ہوا اور رفتہ رفتہ اسلام پور کا لفظ لوگوں کو بھول گیا۔ اور قاضی ماجھی کی جگہ پر قاضی رہا اور پھر آخر قادی بنا اور پھر اس سے بگڑ کر

صفحہ 92

قادیان بن گیا اور قاضی ماجھی کی وجہ تسمیہ یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ علاقہ جس کا طولانی حصہ تقریباً ساٹھ کوس ہے، اُن دنوں میں سب کا سب ماجھہ کہلاتا تھا۔ غالباً اس وجہ سے اس کا نام ماجھہ تھا کہ اس ملک میں بھینسیں بکثرت ہوتی تھیں اور ماجھ زبان ہندی میں بھینس کو کہتے ہیں۔‘‘

(کتاب البریہ صفحہ 145، 146 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 163، 164 (حاشیہ) از مرزا قادیانی)

لوگ معترض ہیں کہ مرزا قادیانی نے اپنا الو سیدھا کرنے کے لیے کرعہ کو کدعہ میں تبدیل کر کے اپنے دامن تقدس پر بددیانتی کا داغ لگایا۔ لیکن میرے نزدیک بددیانتی کا الزام کسی حد تک بے محل ہے۔ ”بوقت ضرورت“ ایک آدھ حرف کو دوسرے حرف سے تبدیل کر لینے میں کوئی لمبی چوڑی بددیانتی لازم نہیں آتی۔ بلکہ سچ پوچھو تو یہ مرزا قادیانی کا بہت بڑا احسان ہے کہ انھوں نے کرعہ کی جگہ کدعہ اور کدیہ لکھ کر لغات عرب میں دو لفظوں کا اضافہ فرما دیا۔ ع: ایں چہ احسان است قربانت شوم۔ البتہ میں اس بات کا قائل ہوں کہ حضرت ”مسیح موعود“ صاحب نے آسان طریق چھوڑ کر سنگلاخ راستہ اختیار کیا۔ اگر کرعہ کی روایتوں کے بجائے ان روایات سے مطلب براری کی کوشش فرماتے جن میں حضرت مہدی علیہ السلام کا مدینہ طیبہ میں متولد ہونا مذکور ہے تو ان کے لیے مہدی بننے میں زیادہ سہولت رہتی۔ کیونکہ مدینہ اور قادیاں میں حرف دال مشترک ہے۔ کرعہ کو کدعہ بنا کر قادیاں قرار دینے میں جو تکلف کیا گیا، وہ مدینہ کو قادیاں بنا لینے کی صورت میں نہ کرنا پڑتا۔ مؤخر الذکر طریق استدلال میں صرف اتنا کہنے کی ضرورت تھی کہ ”مدینہ سے قادیاں مراد ہے کیونکہ دونوں میں حرف دال موجود ہے۔“ لیکن یہ پیرایہ کیوں نہ اختیار کیا؟ اس لیے کہ یہ بقعہ مطہرہ اسلامی عظمت کا اولین گہوارہ جناب حبیب رب العالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دارالہجرت اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شہر ہے۔ یہیں سے اسلامی علم وعمل کے سرچشمے پھوٹے اور دنیا حلاوت اندوز رشد و سعادت ہوئی۔ مرزا قادیانی سمجھتے تھے کہ مسلمان ان کی تمام تعلیوں اور لن ترانیوں کو برداشت کر لیں گے لیکن مدینۃ الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین وتضحیک ہرگز گوارا نہ کریں گے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ قادیانی نے کرعہ کو تو اپنی توجہ کا مرکز بنایا لیکن مدینہ منورہ کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی ہمت نہ ہوئی۔“ (رئیس قادیان از مولانا محمد رفیق دلاوریؒ)

ادنیٰ الارض سے مراد قادیان

صفحہ 93

میں یہ آیت قرآن شریف کی پڑھتا ہوں غُلِبَتِ الرُّومُ فِیْ اَدْنَی الْاَرْضِ وَهُمْ مِّنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُوْنَ اور کہتا ہوں کہ اَدْنَی الْاَرْضِ سے قادیان مراد ہے اور میں کہتا ہوں کہ قرآن شریف میں قادیان کا نام درج ہے۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 649 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 532 پر)

دمشق سے مراد قادیان

اتریں گے...... دمشق کے لفظ کی تعبیر میں میرے پر منجانب اللہ یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس جگہ ایسے قصبہ کا نام دمشق رکھا گیا ہے، جس میں ایسے لوگ رہتے ہیں جو یزیدی الطبع اور یزید پلید کی عادات اور خیالات کے پیرو ہیں...... مجھ پر یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ دمشق کے لفظ سے دراصل وہ مقام مراد ہے، جس میں یہ دمشق والی مشہور خاصیت پائی جاتی ہے۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 141 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 533 پر)

”قرآن مجید قادیان کے قریب نازل ہوا“

اس کی تفسیر یہ ہے کہ انا انزلناہ قریباً من دمشق بطرف شرقی عند المنارة البیضاء کیونکہ اس عاجز کی سکونتی جگہ قادیان کے شرقی کنارہ پر ہے۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 59 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 534 پر)

یروشلم سے مراد قادیان

طاعون پڑے گی۔ اس زمانہ میں تمام فرقے دنیا کے متفق ہوں گے کہ یروشلم کو تباہ کر دیں۔ تب انہی دنوں میں طاعون پھوٹے گی اور اسی دن یوں ہوگا کہ جیتا پانی یروشلم سے جاری ہوگا یعنی

صفحہ 94

خدا کا مسیح ظاہر ہو جائے گا اور اس جگہ یروشلم سے مراد بیت المقدس نہیں ہے بلکہ وہ مقام ہے جس سے دین کے زندہ کرنے کے لیے الہی تعلیم کا چشمہ جوش مارے گا اور وہ قادیان ہے۔ جو خدا تعالیٰ کی نظر میں دارالامان ہے۔ خدا تعالیٰ نے جیسا کہ اس امت کے خاتم الخلفاء کا نام مسیح رکھا ایسا ہی اس کے خروج کی جگہ کا نام یروشلم رکھ دیا اور اُس کے مخالفوں کا نام یہود رکھ دیا ۔“

(نزول المسیح صفحہ 44 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 420 از مرزا قادیانی )

(عکس صفحہ نمبر 535 پر)

View Proof

مقام لُد سے مراد لدھیانہ

الاشرار فيها للاهانة. فلما كانت بيعة المخلصين. حربة لقتل الدجال اللعين. باشاعة الحق المبين. اشير في الحديث ان المسيح يقتل الدجال على باب اللد بالضربة الواحدة فاللد ملخص من لفظه لدهيانه كما لا يخفى على ذوى الفطنة.“

(الہدی صفحہ 92 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 341 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 536 پر)

(ترجمہ): ”سب سے پہلے میرے ساتھ لودھانہ میں بیعت ہوئی تھی جو دجال کے قتل کے لیے ایک حربہ (ہتھیار ) تھی۔ اسی لیے حدیث میں آیا ہے کہ مسیح موعود دجال کو باب لد میں قتل کرے گا۔ پس لد دراصل مختصر ہے لدھیانہ سے۔“

View Proof

مرزا قادیانی نے ایک اور جگہ پر لکھا:

(ازالہ اوہام صفحہ 730 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 492 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 537 پر)

View Proof

حالانکہ احادیث مبارکہ میں آتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کو مقام لُد پر قتل کریں گے۔ لُد آج کل اسرائیل کا ائیر بیس ہے۔

صفحہ 95

مسجد اقصیٰ سے مراد قادیان کی مسجد

(56) ”مسجد اقصیٰ سے مراد مسیح موعود کی مسجد ہے جو قادیان میں واقع ہے۔ جس کی نسبت براہین احمدیہ میں خدا کا کلام یہ ہے۔ مبارک و مبارک و کل امر مبارک یجعل فیہ۔ اور یہ مبارک کا لفظ جو بصیغہ مفعول اور فاعل واقع ہوا، قرآن شریف کی آیت بارکنا حولہ کے مطابق ہے۔ پس کچھ شک نہیں جو قرآن شریف میں قادیان کا ذکر ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ سبحان الذی اسریٰ بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الی المسجد الاقصیٰ الذی بارکنا حولہ“

(خطبہ الہامیہ صفحہ 21 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 21 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 538 پر)

View Proof

جہنم سے مُراد طاعون

(57) ”یاد رہے کہ میرے تمام الہامات میں جہنم سے مُراد طاعون ہے۔“

(حقیقۃ الوحی صفحہ 145 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 583 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 539 پر)

View Proof

محدث سے مراد نبوت

(58) ”اے نادانو! میری مراد نبوت سے یہ نہیں کہ میں نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ کے مقابل پر کھڑا ہو کر نبوت کا دعویٰ کرتا ہوں، یا کوئی نئی شریعت لایا ہوں۔ صرف مراد میری نبوت سے کثرتِ مکالمت و مخاطبت الٰہیہ ہے جو آنحضرت ﷺ کی اتباع سے حاصل ہے۔ سو مکالمہ اور مخاطبہ کے آپ لوگ بھی قائل ہیں۔ پس یہ صرف لفظی نزاع ہوئی۔ یعنی آپ لوگ جس امر کا نام مکالمہ و مخاطبہ رکھتے ہیں میں اس کی کثرت کا نام بحکم الٰہی نبوت رکھتا ہوں۔ ولکل ان یصطلح اور میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے۔“

(حقیقۃ الوحی تتمہ صفحہ 68، مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 503)

صفحہ 96

پس آپ کے دعویٰ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی اور نہ ہی آپ کا کوئی الہام یا آپ کی کوئی تحریر منسوخ ہوئی، بلکہ نبوت کی مسلمانوں میں رائج تعریف کے پیش نظر 1901ء سے پہلے آپ نبی کے لفظ کو ظاہر سے پھیر کر بمعنی محدث لیتے تھے لیکن 1901ء کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ پر جو نبوت کی حقیقت کا انکشاف کیا، اسی پہلی چیز کا نام بحکم الٰہی نبوت رکھا، اور اس نئی تعریف کے ماتحت اپنے آپ کو نبی قرار دیا۔‘‘

(روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 9 دیباچہ از جلال الدین شمس قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 540 پر)

View Proof

زرد کپڑے سے مراد بیماری

(59) ’’احادیث میں ہے کہ مسیح موعود دو زرد رنگ چادروں میں اترے گا۔ ایک چادر بدن کے اوپر کے حصہ میں ہوگی اور دوسری چادر بدن کے نیچے کے حصہ میں۔ سو میں نے کہا کہ یہ اس طرف اشارہ تھا کہ مسیح موعود دو بیماریوں کے ساتھ ظاہر ہوگا کیونکہ تعبیر کے علم میں زرد کپڑے سے مراد بیماری ہے اور وہ دونوں بیماریاں مجھ میں ہیں یعنی ایک سر کی بیماری اور دوسری کثرت پیشاب اور دستوں کی بیماری۔‘‘

(تذکرہ الشہادتین صفحہ 46 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 541 پر)

View Proof

(60) ’’دو مرض میرے لاحق حال ہیں۔ ایک بدن کے اوپر کے حصہ میں۔ اور دوسری بدن کے نیچے کے حصہ میں۔ اُوپر کے حصہ میں دوران سر ہے اور نیچے کے حصہ میں کثرت پیشاب ہے اور دونوں مرضیں اُسی زمانہ سے ہیں جس زمانہ سے میں نے اپنا دعویٰ مامور من اللہ ہونے کا شائع کیا ہے۔ میں نے ان کے لئے دعائیں بھی کیں مگر منع میں جواب پایا اور میرے دل میں القا کیا گیا کہ ابتدا سے مسیح موعود کے لیے یہ نشان مقرر ہے کہ وہ دو زرد چادروں کے ساتھ دو فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے اُترے گا۔ سو یہ وہی دو زرد چادریں ہیں جو میری جسمانی حالت کے ساتھ شامل کی گئیں۔ انبیاء علیہم السلام کے اتفاق سے زرد چادر کی تعبیر بیماری ہے اور دو زرد چادریں دو بیماریاں ہیں جو دو حصہ بدن پر مشتمل ہیں اور میرے پر بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے یہی کھولا گیا ہے کہ دو زرد چادروں سے مراد دو

صفحہ 97

بیماریاں ہیں اور ضرور تھا کہ خدا تعالیٰ کا فرمودہ پورا ہوتا ۔‘‘

(حقیقۃ الوحی صفحہ 320، مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 320 از مرزا قادیانی)

View Proof (عکس صفحہ نمبر 542 پر)

قادیانی جماعت کے موجودہ سربراہ سمیت دنیا کا کوئی قادیانی انبیاء علیہم السلام کا اتفاق قرآن مجید سے ثابت کردے کہ زرد چادر کی تعبیر بیماری ہے تو وہ مجھ سے منہ مانگا انعام حاصل کر سکتا ہے۔ بصورت دیگر انہیں ماننا پڑے گا کہ مرزا قادیانی جاہل مطلق اور کذاب تھا۔

(61) ’’میں ایک دائم المرض آدمی ہوں اور وہ دو زرد چادریں جن کے بارے میں حدیثوں میں ذکر ہے کہ ان دو چادروں میں مسیح نازل ہوگا وہ دو زرد چادریں میرے شامل حال ہیں جن کی تعبیر علم تعبیر الرؤیا کے رو سے دو بیماریاں ہیں۔ سو ایک چادر میرے اوپر کے حصہ میں ہے کہ ہمیشہ سر درد اور دوران سر اور کمی خواب اور تشنج دل کی بیماری دورہ کے ساتھ آتی ہے۔ اور دوسری چادر جو میرے نیچے کے حصہ بدن میں ہے وہ بیماری ذیابیطس ہے کہ ایک مدت سے دامنگیر ہے اور بسا اوقات سو سو دفعہ رات کو یا دن کو پیشاب آتا ہے اور اس قدر کثرت پیشاب سے جس قدر عوارض ضعف وغیرہ ہوتے ہیں وہ سب میرے شامل حال رہتے ہیں۔ بسا اوقات میرا یہ حال ہوتا ہے کہ نماز کے لیے جب زینہ چڑھ کر اوپر جاتا ہوں تو مجھے اپنے ظاہر حالت پر امید نہیں ہوتی کہ زینہ کی ایک سیڑھی سے دوسری سیڑھی پر پاؤں رکھنے تک میں زندہ رہوں گا۔ اب جس شخص کی زندگی کا یہ حال ہے کہ ہر روز موت کا سامنا اس کے لیے موجود ہوتا ہے اور ایسے مریضوں کے انجام کی نظیریں بھی موجود ہیں تو وہ ایسی خطرناک حالت کے ساتھ کیونکر افترا پر جرأت کر سکتا ہے اور وہ کس صحت کے بھروسے پر کہتا ہے کہ میری اسی برس کی عمر ہوگی۔ حالانکہ ڈاکٹری تجارب تو اس کو موت کے پنجہ میں ہر وقت پھنسا ہوا خیال کرتے ہیں۔ ایسی مرضوں والے مدقوق کی طرح گداز ہوکر جلد مر جاتے ہیں یا کاربنکل یعنی سرطان سے ان کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ تو پھر جس زور سے میں ایسی حالت پُرخطر میں تبلیغ میں مشغول ہوں کیا کسی مفتری کا کام ہے۔ جب میں بدن کے اوپر کے حصہ میں ایک بیماری اور بدن کے نیچے کے حصہ میں ایک دوسری بیماری دیکھتا ہوں تو میرا دل محسوس کرتا ہے کہ یہ وہی دو

صفحہ 98

چادریں ہیں جن کی خبر جناب رسول اللہ ﷺ نے دی ہے۔“

(اربعین نمبر 3، 4 ضمیمہ) صفحہ 4 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17، صفحہ 470، 471 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 543، 544 پر)

(62) ”دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرت ﷺ نے پیشگوئی کی تھی جو اسی طرح وقوع میں آئی۔ آپؐ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب اترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی تو اسی طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی یعنی مراق اور کثرتِ بول۔“

(ملفوظات جلد پنجم، صفحہ 32، 33 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 545، 546 پر)

مسیح موعود مراق کے عارضے میں مبتلا ہوگا اور اسے شوگر کا مرض لاحق ہوگا...... کیا یہ مسیح موعود کے اوصاف ہیں یا نقائص؟ فضائل ہیں یا رذائل؟ آخر اپنی بیماریوں پر اتنا بھی کیا اترانا کہ دو زرد چادروں سے مراد دو عوارض لے لیے! خوبیوں کی بجائے مصائب کو نشانیاں قرار دینے میں کیا حکمت ہو سکتی ہے! حضرت علیؓ کا قول زریں ہے کہ سب سے بڑا بیوقوف وہ شخص ہے جو دوسروں کی رذیل صفات کو تو بُرا سمجھے اور خود ان پر جما ہوا ہو۔

آدم، احمد، موسیٰ، عیسیٰ، داؤد، مریم سے مراد مرزا قادیانی

(63) ”يَا اٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ۔ يَا مَرْيَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ۔ يَا اَحْمَدُ اسْكُنْ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ۔ نَفَخْتُ فِيكَ مِنْ لَّدُنِّى رُوْحَ الصِّدْقِ۔

حضرت مسیح موعود ان الہامات کی تشریح فرماتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں۔ ”مریم سے مریم امِ عیسیٰ مراد نہیں۔ اور نہ آدم سے آدم ابوالبشر مراد ہے اور نہ احمد سے اس جگہ حضرت خاتم الانبیا ﷺ مراد ہیں اور ایسا ہی ان الہامات کے تمام مقامات میں کہ جو موسیٰ اور عیسیٰ اور داؤد وغیرہ نام بیان کیے گئے ہیں۔ ان ناموں سے بھی وہ انبیا مراد نہیں ہے بلکہ ہر ایک جگہ یہی عاجز مراد ہے۔ اب جبکہ اس جگہ مریم کے لفظ سے کوئی مونث مراد نہیں بلکہ مذکر مراد ہے تو قاعدہ یہی ہے کہ اس کے لیے صیغہ مذکر ہی لایا جائے یعنی یا مریم اسکن کہا جائے...... اور زوج کے

صفحہ 99

لفظ سے رفقا اور اقربا مراد ہیں، زوج مراد نہیں ہے۔ اور لغت میں یہ لفظ دونوں طور پر اطلاق پاتا ہے اور جنت کا لفظ اس عاجز کے الہامات میں کبھی اس جنت پر بولا جاتا ہے کہ جو آخرت سے تعلق رکھتا ہے۔ اور کبھی دنیا کی خوشی اور فتحیابی اور سرور اور آرام پر بولا جاتا ہے۔‘‘ (مکتوبات احمدیہ جلد اوّل صفحہ 599 طبع جدید، مکتوب بنام میر عباس علی شاہ صاحب)

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 55، 56 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 547، 548 پر)

View Proof

دجال سے مراد با اقبال قومیں

(64) ’’ہمارے نزدیک ممکن ہے کہ دجال سے مراد با اقبال قومیں ہوں اور گدھا ان کا یہی ریل ہو جو مشرق اور مغرب کے ملکوں میں ہزار ہا کوسوں تک چلتے دیکھتے ہو۔‘‘

(ازالہ اوہام صفحہ 174 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 174 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 549 پر)

View Proof

فرعون اور ہامان سے مراد

(65) ”من عنده يعصمك الله من عنده وان لم يعصمك الناس. واذ يمكر بک الذي كفر. اوقدلی یا هامان. لعلى اطلع الى اله موسیٰ وانی لاظنه من الکاذبین تبت یدا ابی لهب و تَب ماكان له ان يدخل فيها الا خائفا. وما اصابک فمن الله. الفتنة ههنا فاصبر كما صبر اولو العزم. الا انها فتنة من اللّٰه ليحب حبا جما. حبا من الله العزيز الاكرم. عطائاً غير مجذوذ. شاتان تُذبحان. وكل من عليها فان. ولا تهنوا ولا تحزنوا. الم تعلم ان الله على كل شيء قدير. انا فتحنالك فتحا مبينا ليغفرلک الله ما تقدم من ذنبک وما تاخر. الیس الله بکاف عبده. فبراه الله مما قالوا وكان عند الله وجيها. ترجمہ: ’’یعنی خدا تجھے بچائے گا۔ اگر چہ لوگ نہ بچائیں۔ میں پھر کہتا ہوں کہ خدا تجھے بچائے گا۔ اگر چہ لوگ نہ بچائیں۔ وہ زمانہ یاد کر کہ جب ایک شخص تجھ سے مکر کرے گا اور اپنے رفیق ہامان کو کہے گا کہ فتنہ انگیزی کی آگ بھڑکا۔ اس جگہ فرعون سے مراد شیخ محمد حسین

صفحہ 100

بٹالوی ہے اور ہامان سے مراد نومسلم سعد اللہ ہے اور پھر فرمایا کہ وہ کہے گا کہ میں اس کے خدا کی حقیقت معلوم کرنا چاہتا ہوں اور میں اس کو جھوٹا سمجھتا ہوں یعنی باخدا ہونے کا دعویٰ سراسر کذب ہے کوئی تعلق خدا تعالیٰ سے نہیں۔ اور پھر فرمایا کہ یہ فرعون ہلاک ہو گیا۔ اور دونوں ہاتھ اُس کے ہلاک ہوگئے یعنی یہ شخص ذلیل کیا جائے گا اور ہاتھ جس کسب معاش کا ذریعہ ہیں نکمے ہوجائیں گے۔“

(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 56 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11، صفحہ 340 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 550 پر)

View Proof

ہندو سے مراد

(66) ”ہندو سے مراد ایسا شخص ہوا کرتا ہے، جو دنیا کے غم وہم میں مبتلا ہو اور چاہے کہ کسی دنیوی ابتلاؤں سے نجات ہو۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 661 طبع چہارم، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 551 پر)

View Proof

موت کے معنی فتح

(67) ”ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں۔ ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں اس کے یہ معنی ہیں کہ قبل از موت مکی فتح نصیب ہوگی۔ جیسا کہ وہاں دشمن کو قہر کے ساتھ مغلوب کیا گیا تھا، اسی طرح یہاں بھی دشمن قہری نشانوں سے مغلوب کیے جائیں گے۔ دوسرے یہ معنی ہیں کہ قبل از موت مدنی فتح نصیب ہوگی۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 503 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 552 پر)

View Proof

بیوہ سے مراد

(68) ”تخمیناً اٹھارہ برس کے قریب عرصہ گزرا ہے کہ مجھے کسی تقریب سے مولوی محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر رسالہ اشاعت السنہ کے مکان پر جانے کا اتفاق ہوا۔ اس نے مجھ سے دریافت کیا

صفحہ 101

کہ آج کل کوئی الہام ہوا ہے؟ میں نے اس کو یہ الہام سنایا جس کو میں کئی دفعہ اپنے مخلصوں کو سنا چکا تھا۔ اور وہ یہ ہے کہ بِکْرٌ وَّ ثَیِّبٌ جس کے یہ معنی ان کے آگے اور نیز ہر ایک کے آگے میں نے ظاہر کیے کہ خدا تعالیٰ کا ارادہ ہے کہ وہ دو عورتیں میرے نکاح میں لائے گا۔ ایک بکر ہوگی اور دوسری بیوہ۔ چنانچہ یہ الہام جو بکر کے متعلق تھا پورا ہو گیا اور اس وقت بفضلہ تعالیٰ چار پسر اس بیوی سے موجود ہیں اور بیوہ کے الہام کی انتظار ہے۔‘‘

’’خاکسار کی رائے میں یہ الہام الٰہی اپنے دونوں پہلوؤں سے حضرت ام المومنین کی ذات میں ہی پورا ہوا ہے جو بکر یعنی کنواری آئیں اور ثیب یعنی بیوہ رہ گئیں۔ واللہ اعلم۔‘‘

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 31 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 553 پر)

دابۃ الارض سے مراد

قرآن مجید کی آیت کریمہ ہے:

’’وَاِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةً مِّنَ الْاَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ اَنَّ النَّاسَ كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا لَا يُوْقِنُوْنَ.‘‘ (النمل: 82)

ترجمہ: ’’اور جب وعدہ (قیامت) ان پر پورا ہونے کو ہوگا تو ہم ان کے لیے زمین سے ایک (عجیب) جانور نکالیں گے کہ وہ ان سے باتیں کرے گا کہ (کافر) لوگ ہماری (یعنی اللہ تعالیٰ کی) آیتوں پر یقین نہیں لاتے تھے۔‘‘

اس آیت میں دابۃ الارض سے مراد جانور (چوپایہ) ہے۔ احادیث مبارکہ میں قیامت کی اولین علامتوں میں سورج کا مغرب سے طلوع ہونا اور چاشت کے وقت دابۃ الارض (جانور) کا نکلنا مذکور ہے۔ اس جانور کے قدوقامت، مقام خروج اور دیگر تفصیلات روایات میں مذکور ہیں۔

مرزا قادیانی کے نزدیک دابۃ الارض سے کیا مراد ہے؟ آئیے دیکھتے ہیں۔

(69) ’’اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہی دابۃ الارض جو ان آیات میں مذکور ہے جس کا مسیح موعود کے زمانہ میں ظاہر ہونا ابتدا سے مقرر ہے۔ یہی وہ مختلف صورتوں کا جانور ہے جو مجھے عالم کشف میں نظر آیا اور دل میں ڈالا گیا کہ یہ طاعون کا کیڑا ہے اور خدا تعالیٰ نے اس کا

صفحہ 102

نام دابۃ الارض رکھا ہے“

(نزول المسیح صفحہ 39 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 416 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 554 پر)

View Proof

(70) ”پس اس سے زیادہ دابۃ الارض کے اصلی معنوں کی دریافت کے لیے اور کیا شہادت ہوگی کہ خود قرآن شریف نے اپنے دوسرے مقام میں دابۃ الارض کے معنی کیڑا کیا ہے۔ سو قرآن کے برخلاف اس کے معنی کرنا یہی تحریف اور الحاد اور دجل ہے۔“

(نزول المسیح صفحہ 40، 41 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 417، 418 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 555, 556 پر)

View Proof

در حقیقت مرزا اور مرزائیوں کی یہ تاویل نہیں بلکہ جھوٹ پر جھوٹ ہے۔ ایک تو جھوٹ پہلا تھا مگر اب اس کو سچ ثابت کرنے کے لئے مزید جھوٹ بولنا پڑ گیا۔ سچ ہے کہ ایک جھوٹ کو ثابت کرنے کے لیے ہزاروں جھوٹ بولنے پڑتے ہیں۔ ویسے تو یہ تمام تاویلات اتنی سفید جھوٹ ہیں کہ ان کا پردہ فاش کرنے کے لیے اور کسی تحریر کی ضرورت نہیں لیکن مزید کمک پہنچانے کے لیے کچھ اور رہنمائی کی جاتی ہے:۔

مجدد نے دابۃ الارض سے طاعون کا کیڑا مراد نہیں لیا ہے، اس لیے آیت کی یہ تفسیر لائق قبول نہیں۔

سے آ گیا؟ لہٰذا مرزا قادیانی پھر بھی اپنے اس دعویٰ میں جھوٹے کا جھوٹا رہا۔

”ازالہ اوہام“ میں لکھتا ہے:

(71) ”وَاِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةً مِّنَ الْاَرْضِ ۔ (سورہ نمل: 38) یعنی جب ایسے دن آئیں گے جو کفار پر عذاب نازل ہو اور ان کا وقت مقدر قریب آ جائے گا تو ہم ایک گروہ دابۃ الارض کا زمین سے نکالیں گے، وہ گروہ متکلمین کا ہوگا جو اسلام کی حمایت میں تمام ادیان باطلہ پر حملہ کرے گا۔“

(ازالہ اوہام صفحہ 270 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 370 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 557 پر)

View Proof

صفحہ 103

اسی کتاب میں ایک دوسری جگہ دابۃ الارض کے معنی بیان کرتے ہوئے کہتا ہے:

(72) ”ایسا ہی دابۃ الارض یعنی وہ علماء و واعظین جو آسمانی قوت اپنے اندر نہیں رکھتے ابتداء سے چلتے آتے ہیں۔ لیکن قرآن کا مطلب یہ ہے کہ آخری زمانہ میں ان کی حد سے زیادہ کثرت ہوگی اور ان کے خروج سے مراد وہی ان کی کثرت ہے۔“

(ازالہ اوہام صفحہ 273 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 373 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 558 پر)

View Proof

مرزا قادیانی نے اپنی کتاب ”حمامة البشریٰ“ میں دابۃ الارض سے علمائے سوء مراد لیے ہیں۔ اس سے مراد وہ نہیں جو اسلام کی حمایت میں ادیان باطلہ پر حملہ کریں گے۔ وہ لکھتا ہے:

(73) ”ان المراد من دابة الارض علماء السوء الذين يشهدون باقوالهم ان الرسول حق والقرآن حق ثم يعملون الخبائث ويخدمون الدجال.“

ترجمہ: ”بے شک دابۃ الارض سے مراد علمائے سوء ہیں جو اپنے قول سے رسول اور قرآن کے حق ہونے کی گواہی دیتے ہیں، پھر برے عمل کرتے ہیں اور دجال کی خدمت کرتے ہیں۔“

(حمامة البشریٰ صفحہ 142 مندرجہ روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 308) (عکس صفحہ نمبر 559 پر)

View Proof

ان سب عبارتوں کا حاصل یہ نکلا کہ مرزا قادیانی کے نزدیک دابۃ الارض کے کل تین معنی ہیں:

اب خود مرزا قادیانی کے کلام میں تناقض پیدا ہوگیا اور بقول مرزا قادیانی تناقض صرف پاگل، جاہل اور منافق کے کلام میں ہوتا ہے۔ (”کوئی دانشمند اور قائم الحواس آدمی ایسے دو متضاد اعتقاد ہرگز نہیں رکھ سکتا۔“ ازالہ اوہام صفحہ 239 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 220 از مرزا قادیانی، ”جھوٹے کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔“ براہین احمدیہ ضمیمہ حصہ پنجم صفحہ 111 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 275 از مرزا قادیانی، ”ہر ایک کو سوچنا چاہیے کہ اس شخص کی حالت ایک مخبوط الحواس انسان کی حالت ہے کہ ایک کھلا کھلا تناقض اپنے

صفحہ 104

کلام میں رکھتا ہے۔“ حقیقۃ الوحی صفحہ 191 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 191 از مرزا قادیانی، ”ایک دل سے دو متناقض باتیں نکل نہیں سکتیں کیونکہ ایسے طریق سے یا انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔“ ست بچن صفحہ 31 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 143 از مرزا قادیانی، ”کسی سچے یار اور عقلمند اور صاف دل انسان کی کلام میں ہرگز تناقض نہیں ہوتا۔ ہاں اگر کوئی پاگل اور مجنون یا ایسا منافق ہو کہ خوشامد کے طور پر ہاں میں ہاں ملا دیتا ہو، اس کا کلام بے شک متناقض ہو جاتا ہے۔“ ست بچن صفحہ 30 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 142 از مرزا قادیانی)، اس لیے دابۃ الارض والی آیت اس کے حق میں دلیل تو کیا بنتی، امت مرزائیہ کی ضلالت و گمراہی کی ایک اور نشانی بن گئی۔

”نزول المسیح“ میں مرزا نے دابۃ الارض کا معنی ”طاعون کا کیڑا“ کے علاوہ کوئی اور معنی کرنے کو تحریف اور دجل کہا ہے۔ اور مذکورہ بالا حوالہ جات ازالہ اوہام وغیرہ میں خود مرزا قادیانی نے دابۃ الارض سے مراد علماء واعظین وغیرہ لیے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی نے خود تحریف، دجل اور الحاد کا ارتکاب کیا ہے۔

دجال کون؟

(74) ”دجال کے معنی بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ جو شخص دھوکہ دینے والا اور گمراہ کرنے والا اور خدا کے کلام کی تحریف کرنے والا ہو، اس کو دجال کہتے ہیں۔“

(حقیقۃ الوحی صفحہ 456 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 456 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 560 پر)

مجھ سے خدا تعالیٰ لکھواتا ہے

(75) ”یہ بات بھی اس جگہ بیان کر دینے کے لائق ہے کہ میں خاص طور پر خدا تعالیٰ کی اعجاز نمائی کو انشاء پردازی کے وقت بھی اپنی نسبت دیکھتا ہوں کیونکہ جب میں عربی میں یا اُردو میں کوئی عبارت لکھتا ہوں تو میں محسوس کرتا ہوں کہ کوئی اندر سے مجھے تعلیم دے رہا ہے۔“

(نزول المسیح صفحہ 56 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 434 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 561 پر)

PDF 105

ثبوت حاضر ہیں!

مرزا قادیانی

کے

سفید جھوٹ

Back

PDF 106
صفحہ 107

انسان میں جتنی اخلاقی برائیاں ہو سکتی ہیں ان میں سب سے زیادہ بری اور خطرناک برائی جھوٹ ہے کیونکہ یہ برائی ہر قسم کی قولی و عملی برائیوں کی جڑ ہے۔ یہ صرف ایک اکیلی برائی نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ سے جھوٹے میں بیسیوں قسم کی دوسری برائیاں بھی لازمی طور سے پیدا ہو جاتی ہیں۔

ہمارا دین اسلام ایسا عالی مرتبہ ہے کہ راستی اور سچائی اس کا بڑا جز ہے۔ ہمارے نبی کریم سید المرسلین خاتم النبیین ﷺ نے مختلف اوقات میں فرمایا ہے کہ مسلمان جھوٹ نہیں بولتا۔ یہ کیسا پیارا اور سچا مقولہ ہے جس کی خوبی اور صداقت پر ہر ایک انسان شہادت دیتا ہے۔ جھوٹ تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ اس لیے اس کا شمار کبیرہ گناہوں میں ہوتا ہے۔ جھوٹ بولنے والا آدمی بظاہر غلط بیانی کر کے اپنا کوئی وقتی فائدہ حاصل کر لیتا ہے، لیکن جب اس کے جھوٹ کا پول کھل جاتا ہے تو اسے انتہائی شرمندگی اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ معاشرے میں اسے جھوٹا اور کذاب کا لقب مل جاتا ہے۔ آخرت میں ملنے والی شدید ترین سزا کے علاوہ جھوٹا آدمی دنیا میں خدائی نعمت ”صراط مستقیم“ پانے کا مستحق نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: لعنت الله على الكاذبين (آل عمران:61) (ترجمہ) جھوٹوں پر خدا کی لعنت!

قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے:

اور جھوٹ بولنے سے بچے رہو۔

جو لوگ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہیں، وہ کامیاب نہیں ہوں گے۔

صفحہ 108

بے شک اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا اُسے جو حد سے بڑھنے والا بہت جھوٹ بولنے والا ہو۔

اور اس شخص سے کون زیادہ ظالم ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے (یعنی اس پر وحی تو آتی نہیں مگر وہ کہتا ہے کہ مجھ پر اللہ کی طرف سے وحی آتی ہے۔)

اور روزِ قیامت آپ دیکھیں گے انہیں جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے تھے، اس حال میں کہ ان کے چہرے سیاہ ہوں گے۔

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:

(ترجمہ): جو شخص مجھ پر قصداً جھوٹ بولے (یعنی میری حدیث نہ ہو اور وہ اسے حدیث بیان کرے) تو اسے چاہیے کہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنالے۔

(ترجمہ): مجھ پر جھوٹ نہ بولو، کیونکہ بے شک جس نے مجھ پر جھوٹ بولا تو وہ (جہنم کی) آگ میں داخل ہوگا۔

(ترجمہ): جس نے مجھ سے ایسی حدیث بیان کی جس کا جھوٹ ہونا معلوم ہو، تو وہ شخص جھوٹوں میں سے ایک (یعنی جھوٹا) ہے۔

عادتیں ہیں۔ آپ ﷺ کے فرمانے سے میں ان عادتوں میں سے ایک کو چھوڑ سکتا ہوں۔ چوری کرنا، شراب پینا، زنا کرنا اور جھوٹ بولنا۔ آپ ﷺ نے فرمایا جھوٹ بولنا چھوڑ دے۔ (جھوٹ چھوڑنے سے وہ شخص سب بری عادتوں سے بچ گیا)۔

جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔ (2) جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے۔

صفحہ 109

جھوٹ صرف یہی نہیں ہوتا کہ آدمی اپنی طرف سے غلط بیانی کرے بلکہ یہ بھی جھوٹ ہے کہ ہر سنی سنائی بات جس کا کوئی سر ہو نہ پیر، آگے بیان کر دے۔ انسان کو بلا تحقیق بات نہیں کرنی چاہیے کیونکہ حضور سرور کائنات ﷺ نے اسے بھی جھوٹ شمار کیا ہے۔ آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ”کسی انسان کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ ہر سنی سنائی بات آگے بیان کر دے۔“ (صحیح مسلم) ایک دوسرے موقع پر آپ ﷺ نے جھوٹا خواب بیان کرنے کے بارے میں شدید وعید فرمائی ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔ ”سب سے بڑا جھوٹ یہ ہے کہ آدمی وہ خواب بیان کرے جو اس نے دیکھا ہی نہیں۔“ (صحیح بخاری)

قادیان کا جھوٹا مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کذابوں میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا۔ اس نے جھوٹ کو اپنی فطرت ثانیہ بنا لیا تھا۔ وہ اپنی جھوٹی نبوت ثابت کرنے کے لیے ہر روز ایک نیا جھوٹ تراشتا اور پھر اسے ثابت کرنے کے لیے مزید کئی جھوٹ بولتا۔ قہر خدا کا کہ مرزا قادیانی انتہائی بے باکی سے خدا، رسول اور آسمانی کتابوں کے بارے میں بھی جھوٹ و غلط بیانی سے کام لیتا۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ جھوٹ اس کی سرشت میں سرایت کر گیا ہے۔ آئیے پہلے جھوٹ نہ بولنے کے بارے میں اس کے ”اقوال زریں“ پر ایک نظر ڈالتے ہیں اور بعدازاں اس کے ”سفید جھوٹ“ ملاحظہ کرتے ہیں:

ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکہ یہ بازیگر کھلا

جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے

اعتبار نہیں رہتا۔“

(چشمۂ معرفت صفحہ 222 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 231 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 562 پر)

View Proof

صفحہ 110

کتوں کا طریق

(انجام آتھم صفحہ 43 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 43 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 563 پر)

View Proof

جھوٹ بولنے سے بدتر

(حقیقۃ الوحی صفحہ 27 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 459 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 564 پر)

View Proof

جھوٹ بولنے والا کتوں، سوروں اور بندروں سے بدتر

پھر کہتا ہے کہ یہ خدا کی وحی ہے جو مجھ کو ہوئی ہے۔ ایسا بدذات انسان تو کتوں اور سوروں اور بندروں سے بدتر ہوتا ہے۔ پھر کب ممکن ہے کہ خدا اس کی حمایت کرے۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 126 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 292 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 565 پر)

View Proof

جھوٹ کی نجاست

خواب آئی، اور یا الہام ہوا اور جھوٹ بولتا ہے یا اس میں جھوٹ ملاتا ہے، وہ اس نجاست کے کیڑے کی طرح ہے جو نجاست میں ہی پیدا ہوتا ہے اور نجاست میں ہی مر جاتا ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ ضمیمہ صفحہ 20 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 56 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 566 پر)

View Proof

صفحہ 111

جھوٹ بولنے والا مرتد

(تحفہ گولڑویہ ضمیمہ صفحہ 20 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 56 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 567 پر)

View Proof

جھوٹ بولنے والا کنجر اور ولدالزنا

(شحنہ حق صفحہ 60 مندرجہ روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 386 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 568 پر)

View Proof

لعنت ہے مفتری پر

عزت نہیں ہے ذرہ بھی اُس کی جناب میں"

(نصرۃ الحق، براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 11 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 21 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 569 پر)

View Proof

جھوٹ تمام گناہوں کی ماں

(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 208 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 570 پر)

View Proof

جھوٹے پر قیامت تک لعنت

(اربعین نمبر 3 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 398 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 571 پر)

View Proof

صفحہ 112

جھوٹے کی زندگی ...... لعنتی زندگی

(نزول المسیح صفحہ 2 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 380 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 572 پر)

View Proof

جھوٹ بولنا، مردار خوروں کا کام

(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 88 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 573 پر)

View Proof

جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا برابر

(حقیقۃ الوحی صفحہ 206 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 215 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 574 پر)

View Proof

اہم نکات

مرزا قادیانی کی مذکورہ بالا تحریروں سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے:

پر بھی اعتبار نہیں رہتا۔

ہے کہ یہ خدا کی وحی ہے جو مجھ کو ہوئی ہے۔ ایسا بدذات انسان تو کتوں اور سؤروں اور بندروں سے بدتر ہوتا ہے۔ پھر کب ممکن ہے کہ خدا اس کی حمایت کرے۔

صفحہ 113

مجھے یہ خواب آئی، اور یا الہام ہوا اور جھوٹ بولتا ہے یا اس میں جھوٹ ملاتا ہے، وہ اس نجاست کے کیڑے کی طرح ہے جو نجاست میں ہی پیدا ہوتا ہے اور نجاست میں ہی مر جاتا ہے۔

ہوتی ہے۔

قارئین کرام: آئیے! مرزا قادیانی کے ان ”فرمودات عالیہ“ کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ جھوٹ بولنے پر خود اس کا شمار کن لوگوں میں ہوتا ہے۔

؎ لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا

قرآن مجید میں طاعون کا ذکر

موجود ہے کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی۔ بلکہ حضرت مسیح ؑ نے بھی انجیل میں یہ خبر دی ہے۔“

(کشتی نوح صفحہ 5 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 5 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 575 پر)

قرآن مجید میں ایسا کوئی ذکر نہیں ہے۔ مرزا قادیانی نے قرآن مجید کے حوالے

صفحہ 114

سے جھوٹ بولا ہے۔

قرآن مجید میں قادیان کا ذکر

(90) ”کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب مرحوم مرزا غلام قادر میرے قریب بیٹھ کر بہ آواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انھوں نے ان فقرات کو پڑھا کہ انا انزلنہ قریباً من القادیان تو میں نے سن کر بہت تعجب کیا کہ کیا قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے؟ تب انھوں نے کہا کہ یہ دیکھو لکھا ہوا ہے۔ تب میں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ میں شاید قریب نصف کے موقع پر یہی الہامی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے۔ تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے اور میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے۔ مکہ اور مدینہ اور قادیان ۔“

(ازالہ اوہام صفحہ 77 حاشیہ مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 140 از مرزا قادیانی)

View Proof

(عکس صفحہ نمبر 576 پر)

قرآن مجید میں قادیان کا ذکر کہیں نہیں ہے۔ مرزا قادیانی نے نہ صرف جھوٹ بولا ہے بلکہ تحریف قرآنی کا بھی مرتکب ہوا ہے جو صریحاً کفر ہے۔

نبیوں کی بشارت اور خواہش

(91) ”اے عزیز! تم نے وہ وقت پایا ہے جس کی بشارت تمام نبیوں نے دی ہے اور اس شخص کو یعنی مسیح موعود کو تم نے دیکھ لیا جس کے دیکھنے کے لیے بہت سے پیغمبروں نے بھی خواہش کی تھی ۔“

(اربعین نمبر 4 صفحہ 100 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 442 از مرزا قادیانی)

View Proof

(عکس صفحہ نمبر 577 پر)

مرزا قادیانی تو بتلا نہ سکا اور چل بسا۔ کیا مرزائی حضرات میں سے کوئی بتلا سکتا ہے کہ جن حضرات انبیاء کرام نے مرزا قادیانی کی بشارت دی اور جنھوں نے مرزا قادیانی کے دیکھنے کی تمنا ظاہر فرمائی۔ ان حضرات انبیائے کرام کے اسمائے گرامی کیا ہیں؟ اور یہ تمنائیں اور

صفحہ 115

بشارتیں کس صحیفہ اور کونسی کتاب میں درج ہیں؟ میرا چیلنج ہے کہ قادیانی قیامت تک بھی ایسا کوئی حوالہ پیش نہیں کر سکتے۔

دنیا کی عمر سات ہزار برس

(92) ”تمام نبیوں کی کتابوں سے اور ایسا ہی قرآن شریف سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے آدم سے لے کر اخیر تک دنیا کی عمر سات ہزار برس رکھی ہے۔“

(لیکچر سیالکوٹ صفحہ 5 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 207 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 578 پر) View Proof

تمام نبیوں کی جن کتابوں اور قرآن شریف کی جن آیتوں میں یہ مضمون موجود ہے، اس کی صحیح عبارت پیش کر کے کوئی مرزائی ہے جو اپنے روحانی باپ کی پیشانی سے اس جھوٹ کی لعنت کو دور کر دے۔

قیامت کب آئے گی؟

(93) ”ایک اور حدیث بھی مسیح ابن مریم کے فوت ہو جانے پر دلالت کرتی ہے اور وہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ سے پوچھا گیا کہ قیامت کب آئے گی؟ تو آپ نے فرمایا کہ آج کی تاریخ سے سو برس تک تمام بنی آدم پر قیامت آ جائے گی۔“

(ازالہ اوہام صفحہ 127 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 ص 227 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 579 پر) View Proof

یہ رسول کریم ﷺ پر کھلا کھلا بہتان ہے کیونکہ کسی معتبر تو کجا کسی ضعیف حدیث میں بھی یہ الفاظ سرے سے موجود نہیں ہیں۔ اگر ہیں تو حوالہ پیش کیا جائے۔

بخاری شریف میں

(94) ”بخاری کے صفحہ 1080 میں یہ حدیث ہے وهذا الکتب الذی هدی الله به

صفحہ 116

رسولکم فخذوا به تهتدوا یعنی اسی قرآن سے تمہارے رسول نے ہدایت پائی ہے سو تم بھی اسی کو اپنا رہنما پکڑو تا تم ہدایت پاؤ۔ پھر بخاری میں یہ بھی حدیث ہے حسبنا کتاب الله ما کان من شرط ليس فى كتاب الله فهو باطل قضاء الله احق دیکھو صفحہ 29، 377، 348۔“

(ازالہ اوہام صفحہ 510 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 610 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 580 پر) View Proof

بخاری شریف کے مذکورہ صفحات تو کجا پوری بخاری شریف بلکہ پورے ذخیرہ احادیث میں یہ الفاظ حدیث کے حوالے سے موجود نہیں۔ مرزا قادیانی نے اس اعتبار سے صریح جھوٹ بولا ہے۔

سیاہ رنگ کا نبی

(95) ”ایک مرتبہ آنحضرتﷺ سے دوسرے ملکوں کے انبیا کی نسبت سوال کیا گیا تو آپؐ نے یہی فرمایا کہ ہر ایک ملک میں خدا تعالیٰ کے نبی گزرے ہیں اور فرمایا کہ کان فی الهند نبيا اسود اللون اسمه كاهنا یعنی ہند میں ایک نبی گزرا ہے جو سیاہ رنگ تھا اور نام اس کا کاہن تھا یعنی کنھیا جس کو کرشن کہتے ہیں اور آپؐ سے پوچھا گیا کہ کیا زبان پارسی میں بھی کبھی خدا نے کلام کیا ہے تو فرمایا کہ ہاں خدا کا کلام زبان پارسی میں بھی اترا ہے جیسا کہ وہ اس زبان میں فرماتا ہے۔ ”ایں مشت خاک را گر نہ بخشم چہ کنم۔“

(چشمہ معرفت صفحہ 11 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 382 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 581 پر) View Proof

یہ حضور نبی کریمﷺ پر خالص افترا ہے۔ اس کا وجود احادیث صحیحہ تو درکنار روایات ضعیفہ میں بھی ثابت نہیں۔ گویا احادیث کے ذخیرہ میں اس کا کہیں نام و نشاں نہیں۔ حضورﷺ کی جانب ایسی روایات کا منسوب کرنا بلاشبہ دوزخ جانے کی بھر پور تیاری ہے۔ اگر کسی مرزائی میں ہمت ہے تو اس کو حدیث صحیح سے ثابت کرے؟ اور حدیث کی کتاب کا حوالہ دے جس میں یہ روایت ان الفاظ میں مندرج ہے۔ ورنہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں۔ من كذب على متعمدا فليتبؤ مقعده من النار یعنی جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولے، اسے چاہیے کہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنائے!

صفحہ 117

قرآن میں مثیل ابن مریم

(96) ”قرآن کریم اور احادیث صحیحہ یہ امید و بشارت متواتر دے رہی ہیں کہ مثیل ابن مریم اور دوسرے مثیل بھی آئیں گے۔“

(ازالہ اوہام صفحہ 214 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 314 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 582 پر)

احادیث میں مثیل ابن مریم

(97) ”کیا حدیثوں میں یہ مذکور نہیں کہ مثیل ابن مریم وغیرہ اس امت میں پیدا ہوں گے۔ تو پھر جب قرآن مسیح ابن مریم کو مارتا ہے اور حدیثیں مثیل ابن مریم کے آنے کا وعدہ دیتی ہیں تو اس صورت میں کیا اشکال باقی رہا؟“

(ازالہ اوہام صفحہ 536 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 388 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 583 پر)

قرآن مجید اور احادیث میں کسی مثیل ابن مریم کا ذکر نہیں۔ مرزا قادیانی نے سفید جھوٹ بولا ہے۔

مسیح موعود اور اس کی توہین

(98) ”لیکن ضرور تھا کہ قرآن شریف اور احادیث کی وہ پیشگوئیاں پوری ہوتیں جن میں لکھا تھا کہ مسیح موعود جب ظاہر ہوگا تو اسلامی علما کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا۔ وہ اس کو کافر قرار دیں گے اور اس کے قتل کے لیے فتوے دیے جائیں گے اور اس کی سخت توہین کی جائے گی اور اس کو دائرہ اسلام سے خارج اور دین کا تباہ کرنے والا خیال کیا جائے گا۔“

(اربعین صفحہ 18 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 404 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 584 پر)

قرآن وحدیث میں ایسا کوئی ذکر نہیں۔ یہ خالص جھوٹ ہے۔ ہے کوئی قادیانی جو ہمیں یہ بتا سکے کہ یہ پیشگوئیاں قرآن کریم کے کون سے پارہ ، کونسی سورت اور کون سے رکوع میں لکھی ہیں یا حدیث کی کونسی کتاب کے کون سے باب میں درج ہیں؟

صفحہ 118

انبیا گذشتہ کے کشوف

(99) ”انبیاء گذشتہ کے کشوف نے اس بات پر قطعی مہر لگا دی کہ وہ چودھویں صدی کے سر پر پیدا ہوگا اور نیز یہ کہ پنجاب میں ہوگا۔“

(اربعین نمبر 2 صفحہ 23 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 586,585 پر)

View Proof

اولیائے گذشتہ کے کشوف

(100) ”اولیاء گذشتہ کے کشوف نے اس بات پر قطعی مہر لگا دی کہ وہ چودھویں صدی کے سر پر پیدا ہوگا اور نیز یہ کہ پنجاب میں ہوگا۔“

(اربعین نمبر 2 صفحہ 29 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 371 از مرزا قادیانی)

View Proof (عکس صفحہ نمبر 587 پر)

مرزا قادیانی کے دور میں جب یہ کتاب شائع ہوئی تو یہاں لفظ ”انبیا“ تھا۔ بعد ازاں قادیانی قیادت نے انبیا کی جگہ لفظ ”اولیاء“ کر دیا۔ مزید براں یہ اولیائے کرام پر جھوٹ باندھا گیا ہے۔

چودھویں صدی کا مجدد

(101) ”احادیث صحیحہ میں آیا تھا کہ وہ مسیح موعود صدی کے سر پر آئے گا، اور وہ چودھویں صدی کا مجدد ہوگا۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم (ضمیمہ) صفحہ 188 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 359 از مرزا قادیانی)

View Proof (عکس صفحہ نمبر 588 پر)

”احادیث“ عربی میں جمع کثرت کا وزن ہے اور جمع کثرت کم از کم دس سے شروع ہوتی ہے۔ لہذا مرزا قادیانی کے دعوے کے مطابق کم از کم دس احادیث ایسی ہونی چاہئیں۔ حالانکہ دس احادیث تو کجا احادیث کے پورے ذخیرہ میں ایک ضعیف سے ضعیف حدیث بھی ایسی نہیں پائی جاتی جس میں حضور اکرم ﷺ نے چودھویں صدی کا ذکر کیا ہو اور کہا ہو کہ اس

صفحہ 119

کے سر پر مسیح موعود ظاہر ہوگا۔ مرزا قادیانی کا حضور سرور دو عالم ﷺ پر یہ سراسر افتراء جھوٹ اور بہتان ہے، مرزا قادیانی، حضور نبی رحمت ﷺ پر یہ افترا باندھ کر آپ ﷺ کے ارشاد کے مطابق اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا چکا ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین

(102) ”یہ بات بالکل غیر معقول ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی ایسا نبی آنے والا ہے کہ جب لوگ نماز کے لیے مساجد کی طرف دوڑیں گے تو وہ کلیسیا کی طرف بھاگے گا۔ اور جب لوگ قرآن شریف پڑھیں گے تو وہ انجیل کھول بیٹھے گا اور جب لوگ عبادت کے وقت بیت اللہ کی طرف منہ کریں گے تو وہ بیت المقدس کی طرف متوجہ ہوگا اور شراب پئے گا اور سور کا گوشت کھائے گا اور اسلام کے حلال وحرام کی کچھ پرواہ نہیں رکھے گا۔“

(حقیقۃ الوحی صفحہ 31 مندرجہ روحانی خزائن، جلد 22 صفحہ 31 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 589 پر)

مسیلمہ پنجاب کی اسلامی مقدس شخصیات کے خلاف دریدہ دہنی اور بدلگامی سے ہر مسلمان کا رواں رواں کانپ اٹھتا ہے۔ کاش حکومت ایسی فضول کتابیں ضبط کر لیتی جس سے مسلمانان عالم کے دل چھلنی اور سینے پاش پاش ہوتے ہیں۔ ہمارے خیال میں، یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں نہیں بلکہ خود مثیل مسیح کے دعویدار، مرزا قادیانی کی اپنی تصویر ہے جو عملی رنگ میں ہم قارئین کرام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔ واقعی یہ غیر معقول اور بیہودہ امر ہے کہ رسول اکرم ﷺ کے بعد کوئی ایسا انگریزی نبی آنے والا ہے کہ جب لوگ نماز کے لیے بیت اللہ کو جائیں گے تو وہ قادیان کی طرف بلائے گا۔ لوگ مسجد نبوی ﷺ اور روضہ رسول ﷺ کی طرف دوڑیں گے تو وہ بہشتی مقبرہ کی طرف بھاگے گا اور جب لوگ قرآن شریف پڑھیں گے تو وہ اپنی بائیبل یعنی تذکرہ مجموعہ وحی والہامات کھول بیٹھے گا اور جب لوگ عبادت کے وقت بیت اللہ کی طرف منہ کریں گے تو وہ قادیان منارۃ المسیح کی طرف توجہ دلائے گا اور اسی پلومر کی دوکان سے ٹانک وائن منگوائے گا اور سور کا گوشت کھائے گا اور اسلام کے ارشادات کی کچھ پرواہ نہ کرے گا۔ واطیعو الله واطیعو الرسول کی بجائے واطیعو الانگریز واطیعو المرزا کا راگ الاپے گا۔ میں ڈنکے کی چوٹ پر دنیا بھر کے تمام

صفحہ 120

قادیانیوں کو چیلنج کرتا ہوں اور ایک لاکھ روپے کا نقد انعام پیش کرتا ہوں کہ وہ ایسی مذکورہ تحریر کسی اسلامی کتاب سے پیش کریں ورنہ یہ تسلیم کریں کہ آنجہانی مرزا قادیانی نے یہ بدترین جھوٹ اُس عظیم الشان ہستی کے خلاف بولا جو ”وجیها فی الدنیا والاخرۃ (آل عمران: 45)“ ہے اور جن کی سچی نبوت پر تمام مسلمان ایمان رکھتے ہیں۔

کرشن نبی، رُدّر گوپال، آریوں کا بادشاہ

(103) ”ہر ایک نبی کا مجھے نام دیا گیا ہے چنانچہ جو ملک ہند میں کرشن نام ایک نبی گزرا ہے جس کو ردر گوپال بھی کہتے ہیں (یعنی فنا کرنے والا اور پرورش کرنے والا) اس کا نام بھی مجھے دیا گیا ہے پس جیسا کہ آریہ قوم کے لوگ کرشن کے ظہور کا ان دنوں میں انتظار کرتے ہیں وہ کرشن میں ہی ہوں اور یہ دعویٰ صرف میری طرف سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ نے بار بار میرے پر ظاہر کیا ہے کہ جو کرشن آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والا تھا وہ تو ہی ہے آریوں کا بادشاہ۔“

(حقیقت الوحی صفحہ 86 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 521، 522 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 590، 591 پر)

ایں عقل و دانش بباید گریست

اللہ رب العزت کی ذات پر ایک قبیح بہتان ہے اور ایسا رکیک حملہ ہے۔ جس کی نظیر ڈھونڈے سے نہ ملے گی۔ یہ ایک ایسا خیال فاسد ہے جس کے تصور سے مسلمان کی روح لرزہ بر اندام ہوتی ہے اور ایمان اعوذ باللہ کی گود میں، استغفر اللہ کی پناہ میں اور سبحانک اللہ کی آغوش مرحمت میں منہ ڈھانپ لیتا ہے۔

خدا محفوظ رکھے ہر بلا سے
خصوصاً آج کل کے ”انبیا“ سے

کتاب سوانح یوز آسف

(104) ”کتاب سوانح یوز آسف جس کی تالیف کو ہزار سال سے زیادہ ہو گیا ہے، اس میں

صفحہ 121

صاف لکھا ہے کہ ایک نبی یوز آسف کے نام سے مشہور تھا اور اس کی کتاب کا نام انجیل تھا۔

(تحفہ گولڑویہ صفحہ 14 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 100 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 592 پر)

اس مذکورہ کتاب کا کوئی وجود نہیں۔ مرزا قادیانی نے اپنی طرف سے فرضی نام لکھ کر جھوٹ بولا ہے۔ View Proof

میرا کوئی استاد نہیں

(105) ”ہمارے نبی ﷺ نے اور نبیوں کی طرح ظاہری علم کسی استاد سے نہیں پڑھا تھا۔ مگر حضرت عیسیٰ اور حضرت موسیٰ مکتبوں میں بیٹھے تھے اور حضرت عیسیٰ نے ایک یہودی استاد سے تمام توریت پڑھی تھی۔ غرض اسی لحاظ سے کہ ہمارے نبی ﷺ نے کسی استاد سے نہیں پڑھا، خدا آپ ہی استاد ہوا، اور پہلے پہل خدا نے ہی آپ کو اقراء کہا یعنی پڑھ، اور کسی نے نہیں کہا۔ اس لیے آپ نے خاص خدا کے زیر تربیت تمام دینی ہدایت پائی اور دوسرے نبیوں کے دینی معلومات انسانوں کے ذریعہ سے بھی ہوئے۔ سو آنے والے کا نام جو مہدی رکھا گیا۔ سو اس میں یہ اشارہ ہے کہ وہ آنے والا علم دین خدا سے ہی حاصل کرے گا اور قرآن اور حدیث میں کسی استاد کا شاگرد نہیں ہوگا۔ سو میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرا حال یہی حال ہے۔ کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہے یا کسی مفسر یا محدث کی شاگردی اختیار کی ہے پس یہی مہدویت ہے جو نبوت محمدیہ کے منہاج پر مجھے حاصل ہوئی ہے اور اسرار دین بلاواسطہ میرے پر کھولے گئے ۔“

(ایام الصلح صفحہ 147 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 394 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 593 پر)

مرزا قادیانی نے یہ صریحاً جھوٹ بولا ہے۔ خود مرزا قادیانی کا اعتراف موجود ہے کہ اس نے عربی، فارسی، قواعد، صرف ونحو، حکمت اور منطق وغیرہ کی تعلیم فضل الٰہی، فضل احمد اور گل علی شاہ نامی استادوں سے حاصل کی۔ (کتاب البریہ صفحہ 161 تا 163 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 179 تا 181 از مرزا قادیانی) View Proof

صفحہ 122

انبیائے کرام اور زرد چادر کی تعبیر

(106) "مسیح موعود کے لیے یہ نشان مقرر ہے کہ وہ دو زرد چادروں کے ساتھ دو فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے اترے گا۔ سو یہ وہی دو زرد چادریں ہیں جو میری جسمانی حالت کے ساتھ شامل کی گئیں۔ انبیاء علیہم السلام کے اتفاق سے زرد چادر کی تعبیر بیماری ہے اور دو زرد چادریں دو بیماریاں ہیں جو دو حصہ بدن پر مشتمل ہیں۔ اور میرے پر بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے یہی کھولا گیا ہے کہ دو زرد چادروں سے مراد دو بیماریاں ہیں۔ اور ضرور تھا کہ خدا تعالیٰ کا فرمودہ پورا ہوتا۔"

(حقیقۃ الوحی صفحہ 307 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 320 از مرزا قادیانی)

View Proof (عکس صفحہ نمبر 594 پر)

کیا کوئی قادیانی بتا سکتا ہے کہ وہ کون کون سے انبیائے کرام ہیں جن کا اس بات پر اتفاق ہے کہ زرد چادر کی تعبیر بیماری ہے، اور یہ کہاں لکھا ہے؟

ہذا خلیفۃ المہدی

(107) "اگر حدیث کے بیان پر اعتبار ہے تو پہلے ان حدیثوں پر عمل کرنا چاہیے جو صحت اور وثوق میں اس حدیث پر کئی درجہ بڑھی ہوئی ہیں مثلاً صحیح بخاری کی وہ حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی ہے خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کی نسبت آواز آئے گی کہ هٰذَا خَلِیْفَةُ اللّٰهِ الْمَھْدِیُّ۔ اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے جو ایسی کتاب میں درج ہے جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے۔"

(شہادۃ القرآن صفحہ 41 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 337 از مرزا قادیانی)

View Proof (عکس صفحہ نمبر 595 پر)

صحیح بخاری میں یہ حدیث قطعاً موجود نہیں ہے۔ مرزا قادیانی نے حدیث کے حوالہ سے بہت بڑا جھوٹ بولا ہے۔ جو شخص صحیح بخاری جیسی کتاب کے بارے میں کذب بیانی کر سکتا ہے، وہ اپنے دعویٰ نبوت کے بارے میں کیا کچھ نہیں کہہ سکتا۔ قادیانیوں کو اس پر غور و فکر کرنا چاہیے۔ اگر کوئی قادیانی بخاری شریف میں سے یہ الفاظ دکھا دے تو میں اسے ایک لاکھ

صفحہ 123

روپے انعام دوں گا۔ بصورت دیگر اسے ماننا پڑے گا کہ مرزا قادیانی نے جھوٹ بولا ہے اور جھوٹا آدمی مہدی ہو سکتا ہے اور نہ مسیح موعود۔

قارئین کرام! آپ نے مرزا قادیانی کے جھوٹ ملاحظہ کیے لیکن اس کے باوجود مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے:

میں وہی کہتا ہوں جو خدا نے میرے منہ میں ڈالا

ہوں جو خدا نے میرے منہ میں ڈالا ہے۔“

(پیغام صلح صفحہ 47 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 485 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 596 پر)

View Proof

مزید کہا:

اگر میں جھوٹا ہوں تو پھر اسلام بھی جھوٹا ہے

(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 586 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 597 پر)

View Proof

بعض قادیانی، مرزا قادیانی کے جھوٹوں پر شرمندہ ہونے کے بجائے نہایت ڈھٹائی سے الٹا حضرت ابراہیم علیہ السلام پر الزام لگا دیتے ہیں کہ انھوں نے بھی جھوٹ بولے تھے۔ لہٰذا اگر مرزا قادیانی نے جھوٹ بولا ہے تو کوئی حرج نہیں۔

قادیانیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے ایک برگزیدہ نبی کی توہین ہے۔ قرآن مجید، حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اس اعزاز سے معزز کر رہا ہے: انه کان صدیقا نبیا (مریم:41) کہ وہ مجسم سچائی تھا اور اللہ کا نبی! سو، ہمارا پختہ عقیدہ ہے کہ جسے قرآن نے صدیق (بہت زیادہ سچ بولنے والا) کہا ہے، اس کی زبان صداقت ہی کی ترجمان تھی۔ حضرت

صفحہ 124

ابراہیم علیہ السلام کا کلام تعریض و توریہ کے قبیل سے تھا۔ دیکھنے والے اسے جھوٹ سمجھے، حالانکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہرگز جھوٹ نہ بولے تھے جیسا کہ شراح حدیث نے وضاحت کر دی ہے۔ اس لیے مرزا قادیانی کو خلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے معاملہ پر قیاس کرنا ہرگز صحیح نہیں ہے۔ یادرہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام پر جھوٹ کا الزام لگانے والے کو خود مرزا قادیانی نے خبیث، شیطان اور پلید کہا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:

نبیوں کی توہین کرنے والا خبیث، شیطان اور پلید ہے

(110) ’’حضرت موسیٰؑ کی نسبت یہ کہے کہ نعوذ باللہ وہ مال حرام کھانے والا تھا، یا حضرت مسیح کی نسبت یہ زبان پر لاوے کہ وہ طوائف کے گندہ مال کو اپنے کام میں لایا یا حضرت ابراہیم کی نسبت یہ تحریر شائع کرے کہ مجھے جس قدر ان پر بدگمانی ہے اس کی وجہ ان کی دروغگوئی ہے تو ایسے خبیث کی نسبت اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ اس کی فطرت ان پاک لوگوں کی فطرت سے مغائر پڑی ہوئی ہے اور شیطان کی فطرت کے موافق اس پلید کا مادہ اور خمیر ہے۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 598 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 598 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 598 پر)

دروغ آدمی را کند شرمسار
دروغ آدمی را کند بے وقار
PDF 125

ثبوت حاضر ہیں!

مرزا قادیانی

کی

تضاد بیانیاں

PDF 126
صفحہ 127

ایک شاعر نے کہا تھا:

؎ بات وہ کہیے کہ جس بات کے سو پہلو ہوں
کوئی تو پہلو رہے بات بدلنے کے لیے

آنجہانی مرزا قادیانی اس شعر کی مکمل تصویر تھا۔ گویا شاعر نے یہ شعر مرزا قادیانی ہی کے لیے کہا تھا یا پھر مرزا قادیانی نے اس شعر سے پورا پورا فائدہ اٹھایا ہے۔ بات کچھ بھی ہو، بہر حال یہ شعر مرزا قادیانی پر پوری طرح صادق آتا ہے۔ آپ مرزا قادیانی کے کسی بیان یا کسی بھی تحریر پر غور کریں تو وہ اس شعر کی مکمل تفسیر یا گرگٹ کی تصویر نظر آئے گا۔ آپ اس مضمون کو پڑھیں اور غور فرما کر خود فیصلہ کریں، ان شاء اللہ آپ میری رائے سے متفق ہوں گے۔ مزید برآں سچے نبی کی ایک نشانی یہ بھی ہوتی ہے کہ اس کا کلام ہر قسم کے تضاد سے پاک اور مبرا ہوتا ہے۔ وہ کسی بات میں متضاد رائے نہیں رکھتا۔ کیونکہ وہ جو کچھ کہتا ہے، اذن الٰہی سے کہتا ہے۔ آنجہانی مرزا قادیانی نبوت و رسالت کا مدعی تھا۔ وہ ہر بات میں متضاد رائے رکھتا تھا۔ اس کی تحریریں مختلف تضادات سے بھری پڑی ہیں۔ حالانکہ اس کا دعویٰ تھا:

ہم اللہ تعالیٰ کے بغیر بلائے نہیں بولتے

(111) ”جو لوگ خدائے تعالیٰ سے الہام پاتے ہیں، وہ بغیر بلائے نہیں بولتے اور بغیر سمجھائے نہیں سمجھتے اور بغیر فرمائے کوئی دعویٰ نہیں کرتے۔“

(ازالہ اوہام صفحہ 198 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 197 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 599 پر)

View Proof

صفحہ 128

میرے ساتھ اللہ تعالیٰ کی روح بولتی ہے

مرزا قادیانی کا الہام ہے:

(112) ”اعلموا ان فضل الله معی وان روح الله ينطق فی نفسی“

ترجمہ: ”جان لو کہ اللہ کا فضل میرے ساتھ ہے اور اللہ کی روح میرے ساتھ بول رہی ہے۔“

(انجام آتھم صفحہ 176 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 176 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 600 پر)

View Proof

صفحات کی کمی کے پیش نظر مرزا قادیانی کی تحریروں سے صرف چند حوالے پیش خدمت ہیں جن میں مکمل تضاد پایا جاتا ہے۔ پہلے تضاد بیانی کے متعلق مرزا قادیانی کی ”قیمتی آرا“ ملاحظہ فرمائیں اور دیکھیں وہ خود اپنے دام میں کس طرح گرفتار ہوا ہے۔

دو متضاد اعتقاد

(113) ”کوئی دانشمند اور قائم الحواس آدمی ایسے دو متضاد اعتقاد ہرگز نہیں رکھ سکتا۔“

(ازالہ اوہام صفحہ 239 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 220 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 601 پر)

View Proof

جھوٹا

(114) ”جھوٹے کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔“

(براہین احمدیہ ضمیمہ حصہ پنجم صفحہ 111 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 275 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 602 پر)

View Proof

مخبوط الحواس انسان

(115) ”ہر ایک کو سوچنا چاہیے کہ اس شخص کی حالت ایک مخبط الحواس انسان کی حالت

صفحہ 129

ہے کہ ایک کھلا کھلا تناقض اپنے کلام میں رکھتا ہے۔“

(حقیقۃ الوحی صفحہ 191 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 191 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 603 پر)

View Proof

دو متناقض باتیں

(116) ”ایک دل سے دو متناقض باتیں نکل نہیں سکتیں کیونکہ ایسے طریق سے یا انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔“

(ست بچن صفحہ 31 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 143 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 604 پر)

View Proof

پاگل، مجنوں یا منافق

(117) ”کسی سچیار اور عقلمند اور صاف دل انسان کی کلام میں ہرگز تناقض نہیں ہوتا۔ ہاں اگر کوئی پاگل اور مجنوں یا ایسا منافق ہو کہ خوشامد کے طور پر ہاں میں ہاں ملا دیتا ہو، اس کا کلام بے شک متناقض ہو جاتا ہے۔“

(ست بچن صفحہ 30 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 142 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 605 پر)

View Proof

اہم نکات

مرزا قادیانی کی مذکورہ بالا تحریروں سے درج ذیل نتیجہ اخذ ہوتا ہے:

کلام میں رکھتا ہے۔

یا منافق۔

صفحہ 130

کوئی پاگل اور مجنوں یا ایسا منافق ہو کہ خوشامد کے طور پر ہاں میں ہاں ملا دیتا ہو، اس کا کلام بے شک متناقض ہو جاتا ہے۔

مرزا قادیانی کے الفاظ میں مذکورہ بالا اقتباسات کا خلاصہ یہ ہے کہ جس انسان کے کلام (تحریر) میں تناقض (تضاد) ہوتا ہے، وہ پاگل، منافق، مخبوط الحواس اور جھوٹا ہوتا ہے۔ آئیے مرزا قادیانی کے خود اپنے قائم کردہ معیار کے مطابق اس کی تحریریں ملاحظہ فرمائیں:

خدا تعالیٰ کا قانون قدرت

پہلا موقف

(کرامت الصادقین صفحہ 8 مندرجہ روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 50 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 606 پر)

View Proof

دوسرا موقف

کے قانون میں ہی داخل ہے۔“

(چشمہ معرفت صفحہ 96 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 104 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 607 پر)

View Proof

مسیح کی قبر

پہلا موقف

(ازالہ اوہام صفحہ 472 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 353 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 608 پر)

View Proof

صفحہ 131

دوسرا موقف

(121) ’’بعد اس کے مسیح اس زمین سے پوشیدہ طور پر بھاگ کر کشمیر کی طرف آ گیا اور وہیں فوت ہوا اور تم سن چکے ہو کہ سری نگر محلہ خان یار میں اس کی قبر ہے۔‘‘

(کشتی نوح صفحہ 54 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 57، 58 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 609 پر)

View Proof

دو بکریاں

(122) ’’ شَاتَانِ تُذْبَحَانِ. ترجمہ: دو بکریاں ذبح کی جائیں گی۔‘‘

(براہین احمدیہ جلد 1 صفحہ 610 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 610 حاشیہ در حاشیہ | از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 610 پر)

View Proof

مولوی عبداللطیف قادیانی اور عبدالرحمان قادیانی

پہلا موقف

(123) ’’خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر چہ میں تجھے قتل سے بچاؤں گا۔ مگر تیری جماعت میں سے دو بکریاں ذبح کی جائیں گی اور ہر ایک جو زمین پر ہے آخر فنا ہو گا یعنی بیگناہ اور معصوم ہونے کی حالت میں قتل کی جائیں گی۔ یہ خدا تعالیٰ کی کتابوں میں محاورہ ہے کہ بیگناہ اور معصوم کو بکرے یا بکری سے تشبیہ دی جاتی ہے اور کبھی گائیوں سے بھی تشبیہ دی جاتی ہے سو خدا تعالیٰ نے اس جگہ انسان کا لفظ چھوڑ کر بکری کا لفظ استعمال کیا۔ کیونکہ بکری میں دو ہنر ہیں وہ دودھ بھی دیتی ہے اور پھر اس کا گوشت بھی کھایا جاتا ہے اور یہ پیشگوئی شہید مرحوم مولوی محمد عبداللطیف اور ان کے شاگرد عبدالرحمن کے بارے میں ہے کہ جو ’’براہین احمدیہ‘‘ کے لکھے جانے کے بعد پورے تیس برس بعد پوری ہوئی۔ اب تک لاکھوں کروڑوں انسانوں نے اس پیشگوئی کو میری کتاب ’’براہین احمدیہ‘‘ کے صفحہ 511 میں پڑھا ہوگا اور ظاہر ہے کہ جیسا کہ ابھی میں نے لکھا ہے بکری کی صفتوں میں سے ایک دودھ دینا ہے اور ایک اس کا گوشت ہے جو کھایا جاتا

صفحہ 132

ہے۔ یہ دونوں بکری کی صفتیں مولوی عبداللطیف صاحب مرحوم کی شہادت سے پوری ہوئیں۔“

(تذکرۃ الشہادتین صفحہ 72 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 72 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 611 پر)

View Proof

مرزا احمد بیگ اور اس کا داماد

دوسرا موقف

(124) ”ایسا ہی ”براہین احمدیہ“ میں احمد بیگ اور اس کے داماد کے متعلق کی پیشگوئی کی نسبت صفحہ 510 اور صفحہ 511 میں اور صفحہ 515 میں پہلے سے خبر موجود ہے اور وہ یہ ہے...... شاتان تذبحان. دو بکریاں ذبح کی جائیں گی پہلی بکری سے مراد مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری ہے اور دوسری بکری سے مراد اس کا داماد ہے...... ان پیشگوئیوں میں علاوہ اور پیشگوئیوں کے جو ان کے ضمن میں بیان کی گئیں دو بکریوں کے ذبح ہونے کی پیشگوئی احمد بیگ اور اس کے داماد کی طرف اشارہ ہے جو آج سے سترہ برس پہلے ”براہین احمدیہ“ میں شائع ہوچکی ہے۔“

(انجام آتھم صفحہ 56، 57 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 340، 341 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 612 پر)

View Proof

میرا نام غازی ہے

پہلا موقف

(125) ”اس عاجز کا نام مکاشفات میں غازی رکھا گیا ہے“

(نشان آسمانی صفحہ 15 مندرجہ روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 375 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ 613 پر)

View Proof

غازی نام رکھنا رسول کریم ﷺ کی نافرمانی ہے

دوسرا موقف

(126) ”اب اس کے بعد جو شخص کافر پر تلوار اٹھاتا اور اپنا نام غازی رکھتا ہے، وہ اس

صفحہ 133

رسول کریم ﷺ کی نافرمانی کرتا ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 408 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ 614 پر)

اندھے کو اندھا کہنا بھی دل دکھانا ہے

پہلا موقف

(127) ”خدا تعالیٰ کی سچی اطاعت اور نوع انسان کی حقیقی بھلائی وہی شخص بجا لاسکتا ہے جو وقت شناس ہو ورنہ نہیں۔ مثلاً ایک شخص گو راست گو ہے مگر اپنی راستی کو حکمت کے ساتھ ملا کر استعمال نہیں کرتا بلکہ لاٹھی کی طرح مارتا ہے اور بے تمیزی سے ایک شریف خصلت کو بے محل کام میں لاتا ہے تو وہ ایک حکیم منش کے نزدیک ہرگز قابل تعریف نہیں ٹھہرتا۔ ایسے کو جاہل نیک بخت کہیں گے۔ نہ دانا نیک بخت اگر کوئی اندھے کو اندھا ھانکا کر کے پکارے اور پھر کسی کے منع کرنے پر یہ کہے کہ میاں کیا میں جھوٹ بولتا ہوں تو اسے یہی کہا جائے گا کہ بے شک تو راست گو ہے مگر احمق یا شریر کہ جس راستی کے اظہار کی تجھے ضرورت ہی نہیں، اس کو واجب الاظہار سمجھتا ہے اور اپنے بھائی کے دل کو دکھاتا ہے۔“

(شحنہ حق صفحہ 40 مندرجہ روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 366 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 615 پر)

اندھے کو اندھا کہنا درست ہے

دوسرا موقف

(128) ”2 مئی 1906ء کی ڈاک میں مجھے دہلی کے اندھے عیسائی احمد مسیح کا وہ اشتہار ملا تھا جس میں عیسائی مذکور نے اسلام اور عیسائیت کے درمیان آخری فیصلہ کرنے کے واسطے مجھے مباہلہ کے واسطے طلب کیا۔“

(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 671 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 616 پر)

صفحہ 134

مسیح موعود کی پیش گوئی اجماع امت ہے

پہلا موقف

(129) ”یہ تمام الفاظ واسما ظاہر پر ہی محمول ہیں بلکہ صرف صورت پیشگوئی پر ایمان لے آئے ہیں پھر اجماع کس بات پر ہے۔ ہاں تیرہویں صدی کے اختتام پر مسیح موعود کا آنا ایک اجماعی عقیدہ معلوم ہوتا ہے۔“

(ازالہ اوہام صفحہ 185 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 189 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 617 پر)

مسیح موعود کی پیش گوئی اجماع امت نہیں ہے

دوسرا موقف

(130) ”اور واقعی یہ سچ اور بالکل سچ ہے کہ امت کے اجماع کو پیشگوئیوں کے امور سے کچھ تعلق نہیں اور ہمارے حال کے مولویوں کو یہ سخت دھوکا لگا ہوا ہے کہ پیشگوئیوں کو بھی جن کی اصل حقیقت ہنوز در پردہ غیب ہے اجماع کے شکنجہ میں کھینچنا چاہتے ہیں۔“

(ازالہ اوہام صفحہ 402 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 308 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 618 پر)

پرندوں کا اڑنا قرآن سے ثابت ہے

پہلا موقف

(131) ”حضرت مسیح علیہ السلام کی چڑیاں باوجود یکہ معجزہ کے طور پر ان کا پرواز قرآن کریم سے ثابت ہے مگر پھر بھی مٹی کی مٹی ہی تھے۔“

(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 68 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 68 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 619 پر)

صفحہ 135

پرندوں کا اڑنا قرآن سے ثابت نہیں ہے

دوسرا موقف

(132) ”اور یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ان پرندوں کا پرواز کرنا قرآن شریف سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا بلکہ ان کا ہلنا اور جنبش کرنا بھی پایۂ ثبوت نہیں پہنچتا۔“

(ازالہ اوہام صفحہ 308 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 256, 257 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 621,620 پر)

مسیح موعود؟؟؟

پہلا موقف

(133) ”اس عاجز نے جو مثیل موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں۔“

(ازالہ اوہام صفحہ 190 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 192 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 622 پر)

مسیح موعود

دوسرا موقف

(134) ”میرا دعویٰ یہ ہے کہ میں وہ مسیح موعود ہوں جس کے بارے میں خدا تعالیٰ کی تمام پاک کتابوں میں پیشگوئیاں ہیں کہ وہ آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا۔“

(تحفہ گولڑویہ (ضمیمہ) صفحہ 118 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 295 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 623 پر)

صفحہ 136

حضرت عیسیٰ علیہ السلام امتی ہیں

پہلا موقف

(135) ’’حضرت مسیح ابن مریم اس امت کے شمار میں ہی آگئے ہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام صفحہ 623 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 436 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 624 پر)

View Proof

حضرت عیسیٰ علیہ السلام امتی نہیں ہیں

دوسرا موقف

(136) ’’حضرت عیسیٰ کو امتی قرار دینا ایک کفر ہے کیونکہ امتی اس کو کہتے ہیں کہ جو بغیر اتباع آنحضرت ﷺ اور بغیر اتباع قرآن شریف محض ناقص اور گمراہ اور بے دین ہو، اور پھر آنحضرت ﷺ کی پیروی اور قرآن شریف کی پیروی سے اس کو ایمان اور کمال نصیب ہو۔ اور ظاہر ہے کہ ایسا خیال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت کرنا کفر ہے کیونکہ گو وہ اپنے درجہ میں آنحضرت ﷺ سے کیسے ہی کم ہوں مگر نہیں کہہ سکتے کہ جب تک وہ دوبارہ دنیا میں آ کر آنحضرت ﷺ کی امت میں داخل نہ ہوں تب تک نعوذ باللہ وہ گمراہ اور بے دین ہیں یا وہ ناقص ہیں اور ان کی معرفت ناتمام ہے۔ پس میں اپنے مخالفوں کو یقیناً کہتا ہوں کہ حضرت عیسیٰ امتی ہرگز نہیں ہیں۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 192 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 364 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 625 پر)

View Proof

دابۃ الارض سے مراد طاعون

پہلا موقف

(137) ’’تب میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہی طاعون ہے اور یہی وہ دابۃ الارض ہے جس کی نسبت قرآن شریف میں وعدہ ہے۔‘‘

(نزول المسیح صفحہ 38 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 415، 416 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 627,626 پر)

View Proof

صفحہ 137

دابۃ الارض سے مراد علماء سوء

دوسرا موقف

(138) ”ان المراد من دابۃ الارض علماء السوء“ ترجمہ: ”یقیناً دابۃ الارض سے مراد علماء سوء ہیں۔“

(حمامۃ البشریٰ صفحہ 142 مندرجہ روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 308 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 628 پر)

View Proof

آسمان سے

پہلا موقف

(139) ”صحیح مسلم کی حدیث میں جو یہ لفظ موجود ہے کہ حضرت مسیح جب آسمان سے اتریں گے تو ان کا لباس زرد رنگ کا ہوگا۔“

(ازالہ اوہام صفحہ 81 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 142 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 629 پر)

View Proof

آسمان سے نہیں

دوسرا موقف

(140) ”نحن مناظرون فی امر نزول المسیح من السماء، ولا نسلم انہ ثابت من الکتاب والسنۃ. بعض احادیث میں عیسیٰ ابن مریم کے نزول کا لفظ پایا جاتا ہے لیکن کتاب وسنت سے ثابت نہیں ہے کہ ان کا نزول آسمان سے ہوگا۔“

(حمامۃ البشریٰ صفحہ 40 مندرجہ روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 206 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 630 پر)

View Proof

صفحہ 138

سرسید...... ایک منکر

پہلا موقف

(141) ”میں نے سید احمد خان صاحب کا نام منکرین کی مد میں اس لیے لکھا ہے کہ ان کو خدا کے اُس الہام بلکہ وحی سے بھی انکار ہے جو خدا سے نازل ہوتی اور علم غیب کی عظمت اپنے اندر رکھتی ہے۔“

(سراج منیر صفحہ 56 مندرجہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 58 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 631 پر)

View Proof

سرسید...... دانا اور مردم شناس

دوسرا موقف

(142) ”سرسید احمد خاں صاحب کے۔ سی۔ ایس۔ آئی نے جو اپنے آخری وقت میں یعنی موت سے تھوڑے دن پہلے میری نسبت ایک شہادت شائع کی ہے۔ اس سے گورنمنٹ عالیہ سمجھ سکتی ہے کہ اس دانا اور مردم شناس شخص نے میرے طریق اور رویہ کو بدل پسند کیا ہے۔“

(کشف الغطاء صفحہ 13 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 189 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 632 پر)

View Proof

سرسید...... فراڈیا اور دھوکے باز

پہلا موقف

(143) ”ان کے وقت میں خدا نے یہ آسمانی سلسلہ پیدا کیا۔ مگر انھوں نے اپنی دنیوی عزت کی وجہ سے اس سلسلہ کو ایک ذرہ عظمت کی نظر سے نہیں دیکھا بلکہ اپنے ایک خط میں کسی اپنے رُد آشنا کو لکھا کہ یہ شخص جو ایسا دعویٰ کرتا ہے، بالکل ہیچ ہے اور اس کی تمام کتابیں لغو اور بے سود اور باطل ہیں اور اس کی تمام باتیں ناراستی سے بھری ہوئی ہیں۔ حالانکہ سرسید صاحب اس بات سے بکلی محروم رہے کہ کبھی میرے کسی چھوٹے سے رسالہ کو بھی اوّل سے آخر تک

صفحہ 139

دیکھیں۔ وہ غصے کے وقت میں دنیوی رعونت سے ایسے مدہوش تھے کہ ہر ایک کو اپنے پیروں کے نیچے کچلتے تھے اور یہ دکھلاتے تھے کہ گویا ان کو دنیوی حیثیت کے رُو سے ایسا عروج ہے کہ ان کا کوئی بھی ثانی نہیں۔ ہنسی اور ٹھٹھا کرنا اکثر ان کا شیوہ تھا۔ جب میں ایک دفعہ علی گڑھ میں گیا تو مجھ سے بھی اسی رعونت کی وجہ سے جس کا محکم پودہ ان کے دل میں مستحکم ہو چکا تھا ہنسی ٹھٹھا کیا اور یہ کہا کہ آؤ، میں مرید بنتا ہوں اور آپ مرشد بنیں اور حیدر آباد میں چلیں اور کچھ جھوٹی کرامات دکھائیں اور میں تعریف کرتا پھروں گا۔ تب ریاست اپنی سادہ لوحی کی وجہ سے ایک لاکھ روپیہ دے دے گی۔ اس میں دو حصے میرے اور ایک حصہ آپ کا ہوا۔ گویا اس تقریر میں وہ ٹھگ جو سادھو کہلاتے ہیں مجھے قرار دیا۔ ایسا ہی اور کئی باتیں تھیں جن کا اب ان کی وفات کے بعد لکھنا بے فائدہ ہے۔‘‘

(تریاق القلوب صفحہ 339، 340 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 467، 468 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 633، 634 پر)

View Proof

سرسید...... قدر مرداں بعد از مُردن

دوسرا موقف

(144) ’’سرسید احمد خان بالقابہ کیسا بہادر اور زیرک اور ان کاموں میں فراست رکھنے والا آدمی تھا۔ انھوں نے آخری وقت میں بھی اس کتاب کا رد لکھنا بہت ضروری سمجھا اور میموریل بھیجنے کی طرف ہرگز التفات نہ کیا۔ اگر وہ زندہ ہوتے تو آج وہ میری رائے کی ایسی ہی تائید کرتے جیسا کہ انھوں نے سلطان روم کے بارے میں صرف میری ہی رائے کی تائید کی تھی اور مخالفانہ راؤں کو بہت ناپسند اور قابلِ اعتراض قرار دیا تھا۔ اب ہم اس بزرگ پولیٹیکل مصالح شناس کو کہاں سے پیدا کریں تا وہ بھی ہم سے مل کر اس انجمن کی شتاب کاری پر روئیں۔ سچ ہے ’’قدر مرداں بعد از مُردن‘‘

(البلاغ صفحہ 54 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 425 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 635 پر)

View Proof

صفحہ 140

طاعون کی خواہش

پہلا موقف

(نزول المسیح صفحہ 157 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 533 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 636 پر)

طاعون سے پناہ

دوسرا موقف

کہتے کہ دعا کرو کہ ہمیں ہدایت ہو جائے طاعون ہی مانگتے ہیں۔ دراصل یہ لوگ دہریہ ہیں۔“

(ملفوظات جلد دوم طبع جدید صفحہ 549 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 637 پر)

کبھی گالی کا جواب نہیں دیا

پہلا موقف

گئی، مگر میں نے جواب نہیں دیا۔“

(مواہب الرحمٰن صفحہ 18 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 236 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 638 پر)

گالی جوابی طور پر ہے

دوسرا موقف

صفحہ 141

قدر میرے الفاظ میں سختی استعمال میں آئی تھی۔ لیکن وہ ابتدائی طور پر سختی نہیں ہے بلکہ وہ تمام تحریریں نہایت سخت حملوں کے جواب میں لکھی گئی ہیں۔ مخالفوں کے الفاظ ایسے سخت اور دشنام دہی کے رنگ میں تھے جن کے مقابل پر کسی قدر سختی مصلحت تھی۔ اس کا ثبوت اس مقابلہ سے ہوتا ہے جو میں نے اپنی کتابوں اور مخالفوں کی کتابوں کے سخت الفاظ اکٹھے کر کے کتاب مثل مقدمہ مطبوعہ کے ساتھ شامل کیے ہیں جس کا نام میں نے کتاب البریہ رکھا ہے اور باایں ہمہ میں نے ابھی بیان کیا ہے کہ میرے سخت الفاظ جوابی طور پر ہیں۔ ابتدا سختی کی مخالفوں کی طرف سے ہے۔“

(کتاب البریہ [دیباچہ] صفحہ 11 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 11 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 639 پر)

View Proof

میری دادیاں سادات میں سے تھیں

پہلا موقف

مشہور اور صحیح النسب سادات میں سے تھیں۔“

(نزول المسیح صفحہ 48 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 426 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 640 پر)

View Proof

میری دادیاں مغلیہ خاندان سے تھیں

دوسرا موقف

مصداق ہے کیونکہ اگرچہ سچ وہی ہے کہ جو خدا نے فرمایا کہ یہ خاندان فارسی الاصل ہے مگر یہ تو یقینی اور مشہور و محسوس ہے کہ اکثر مائیں اور دادیاں ہماری مغلیہ خاندان سے ہیں اور وہ صینی الاصل ہیں یعنی چین کے رہنے والی۔“

(حقیقۃ الوحی صفحہ 209 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 209 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 641 پر)

View Proof

صفحہ 142

اللہ تعالیٰ سے التجا

دوسرا موقف

کر بیاں سب حاجتیں حاجت روا کے سامنے“

(دُرثمین صفحہ 157 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 642 پر)

View Proof

انگریز سے التجا

پہلا موقف

تجربہ سے ایک وفادار جان نثار خاندان ثابت کر چکی ہے اور جس کی نسبت گورنمنٹ عالیہ کے معزز حکام نے ہمیشہ مستحکم رائے سے اپنی چٹھیات میں یہ گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے سرکار انگریزی کے پکے خیر خواہ اور خدمت گزار ہیں۔ اس خود کاشتہ پودہ کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔ ہمارے خاندان نے سرکار انگریزی کی راہ میں اپنے خون بہانے اور جان دینے سے فرق نہیں کیا اور نہ اب فرق ہے۔ لہٰذا ہمارا حق ہے کہ ہم خدمات گذشتہ کے لحاظ سے سرکار دولتمدار کی پوری عنایات اور خصوصیت توجہ کی درخواست کریں، تا ہر ایک شخص بے وجہ ہماری آبرو ریزی کے لیے دلیری نہ کر سکے۔“

(کتاب البریہ صفحہ 13 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 350 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 643 پر)

View Proof

انگریزی نہیں آتی

پہلا موقف

صفحہ 143

ناواقف ہوں ایک فقرہ تک مجھے معلوم نہیں مگر خارق عادت طور پر مندرجہ ذیل الہامات ہوئے۔ آئی لو یو۔ آئی ایم ود یو۔ آئی شل ہیلپ یو۔ آئی کین ویٹ آئی ول ڈو۔ دی کین ویٹ دی ول ڈو۔ صفحہ 480 ، 481۔ گاڈ از کمنگ بائی ہر آرمی۔ صفحہ 484۔ ہی از وڈ یو ٹو کل اینیمی۔ صفحہ 484۔ دی ڈیز شل کم وین گاڈ شل ہیلپ یو گلوری بی ٹو دس لارڈ۔ گاڈ میکر اوف ارتھ اینڈ ہون۔ صفحہ 522۔ دوہ آل مین شڈ بی اینگری بٹ گاڈ از ود یو ہی شل ہیلپ یو۔ وارڈس آف گاڈ کین ناٹ ایکس چینج۔ صفحہ 554۔ آئی لو یو۔ آئی شیل گو یو اے لارج پارٹی آف اسلام۔“

(نزول المسیح صفحہ 140 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 516 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 644 پر)

View Proof

انگریزی پڑھی تھی

دوسرا موقف

(154) ”اس زمانہ میں مولوی الٰہی بخش صاحب کی سعی سے جو چیف محرر مدارس تھے۔ (اب اس عہدہ کا نام ڈسٹرکٹ انسپکٹر مدارس ہے) کچہری کے ملازم منشیوں کے لیے ایک مدرسہ قائم ہوا کہ رات کو کچہری کے ملازم منشی انگریزی پڑھا کریں۔ ڈاکٹر امیر شاہ صاحب جو اس وقت اسسٹنٹ سرجن پنشنر ہیں استاد مقرر ہوئے۔ مرزا صاحب نے بھی انگریزی شروع کی اور ایک دو کتابیں انگریزی کی پڑھیں۔“

(سیرت المہدی جلد اول صفحہ 155 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 645 پر)

View Proof

میرے کئی استاد تھے

دوسرا موقف

(155) ”بچپن کے زمانہ میں میری تعلیم اس طرح پر ہوئی کہ جب میں چھ سات سال کا تھا

صفحہ 144

تو ایک فارسی خواں معلم میرے لیے نوکر رکھا گیا، جنھوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھائیں اور اس بزرگ کا نام فضل الہی تھا اور جب میری عمر قریباً دس برس کی ہوئی تو ایک عربی خواں مولوی صاحب میری تربیت کے لیے مقرر کیے گئے جن کا نام فضل احمد تھا۔ میں خیال کرتا ہوں کہ چونکہ میری تعلیم خدا تعالیٰ کے فضل کی ایک ابتدائی تخم ریزی تھی اس لیے ان استادوں کے نام کا پہلا لفظ بھی فضل ہی تھا۔ مولوی صاحب موصوف جو ایک دیندار اور بزرگوار آدمی تھے، وہ بہت توجہ اور محنت سے پڑھاتے رہے اور میں نے صرف کی بعض کتابیں اور کچھ قواعد نحو ان سے پڑھے اور بعد اس کے جب میں سترہ یا اٹھارہ سال کا ہوا تو ایک اور مولوی صاحب سے چند سال پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ ان کا نام گل علی شاہ تھا۔ ان کو بھی میرے والد صاحب نے نوکر رکھ کر قادیان میں پڑھانے کے لیے مقرر کیا تھا، اور ان آخر الذکر مولوی صاحب سے میں نے نحو اور منطق اور حکمت وغیرہ علوم مروجہ کو جہاں تک خدا تعالیٰ نے چاہا حاصل کیا اور بعض طبابت کی کتابیں میں نے اپنے والد صاحب سے پڑھیں اور وہ فن طبابت میں بڑے حاذق طبیب تھے۔“

(کتاب البریہ صفحہ 161 تا 163 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 179 تا 181 از مرزا قادیانی) -

(عکس صفحہ نمبر 648,647,646 پر)

View Proof

میرا کوئی استاد نہیں

پہلا موقف

(156) ”ہمارے نبی ﷺ نے اور نبیوں کی طرح ظاہری علم کسی استاد سے نہیں پڑھا تھا مگر حضرت عیسیٰ اور حضرت موسیٰ مکتبوں میں بیٹھے تھے اور حضرت عیسیٰ نے ایک یہودی استاد سے تمام توریت پڑھی تھی۔ غرض اسی لحاظ سے کہ ہمارے نبی ﷺ نے کسی استاد سے نہیں پڑھا، خدا آپ ہی استاد ہوا اور پہلے پہل خدا نے ہی آپ کو اقراء کہا۔ یعنی پڑھ۔ اور کسی نے نہیں کہا۔ اس لیے آپ نے خاص خدا کے زیر تربیت تمام دینی ہدایت پائی اور دوسرے نبیوں کے دینی معلومات انسانوں کے ذریعہ سے بھی ہوئے۔ سو آنے والے کا نام جو مہدی رکھا گیا، سو اس میں یہ اشارہ ہے کہ وہ آنے والا علم دین خدا سے ہی حاصل کرے گا اور قرآن اور حدیث میں

صفحہ 145

کسی استاد کا شاگرد نہیں ہوگا۔ سو میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرا حال یہی حال ہے۔ کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہے۔ یا کسی مفسر یا محدث کی شاگردی اختیار کی ہے۔"

(ایام الصلح صفحہ 168 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 394 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 649 پر)

View Proof

بقول مولانا محمد رفیق دلاوریؒ، واقعی مرزا صاحب حدیث، تفسیر اور دوسرے دین علوم سے بے بہرہ تھے اور اسی کا یہ اثر تھا کہ طبیعت قیودِ شریعت سے آزاد اور خود رائی کی طرف مائل تھی۔ ہر مسئلہ میں دعوائے اسلام کے باوجود یہ حالت تھی کہ اسلامی عقاید سے روگردان ہو کر جھٹ ملاحدہ اور زنادقہ کی صف میں جا کھڑے ہوتے تھے۔ مثل مشہور ہے "نیم ملا خطرہ ایمان" گو الہامی صاحب بھی حدیث و تفسیر نہ پڑھنے کی وجہ سے نیم ملا خطرہ ایمان تھے۔ لیکن دوسرے نیم ملاؤں میں اور الہامی صاحب میں یہ فرق تھا کہ دوسروں کی ذات سے صرف احتمال رہتا ہے کہ کہیں اپنی جہالت سے کسی مسلمان کو غلط عقیدہ بتا کر گمراہ نہ کریں۔ لیکن قادیانی صاحب ایسے خوفناک قسم کے نیم ملا خطرہ ایمان تھے کہ انہوں نے سچ مچ ہزاروں لاکھوں کلمہ گویوں کو مسلوب الایمان بنا دیا۔ اور نہ صرف اپنے وقت کے مریدوں کو ورطہ ہلاکت میں ڈالا بلکہ جب تک مرزائیت کا وجود اس عالم فانی میں پایا جائے گا، ان کے مریدوں کی آئندہ نسلیں بھی زندقہ و دہریت کے اسی قعرِ ہلاکت میں پڑی رہیں گی اور ان سب کی گمراہی کا وبال و نکال قادیانی صاحب کے نامہ اعمال میں بھی برابر ثبت ہوتا رہے گا۔" (رئیس قادیان از مولانا محمد رفیق دلاوریؒ)

انبیاء کو احتلام نہیں ہوتا

پہلا موقف

چونکہ انبیاء سوتے جاگتے پاکیزہ خیالوں کے سوا کچھ نہیں رکھتے اور ناپاک خیالوں کو دل میں آنے نہیں دیتے، اس واسطے ان کو خواب میں بھی احتلام نہیں ہوتا۔"

(سیرت المہدی جلد اول صفحہ 157 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 650 پر)

View Proof

صفحہ 146

اور احتلام ہو گیا......

دوسرا موقف

(158) "ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت صاحب کے خادم میاں حامد علی مرحوم کی روایت ہے کہ ایک سفر میں حضرت صاحب کو احتلام ہوا۔"

(سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 242 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 651 پر)

View Proof

الہام اپنی زبان میں

پہلا موقف

(159) "یہ بالکل غیر معقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو جس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا کیونکہ اس میں تکلیف مالا یطاق ہے اور ایسے الہام سے فائدہ کیا ہوا جو انسانی سمجھ سے بالاتر ہے۔"

(چشمہ معرفت صفحہ 209 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 218 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 652 پر)

View Proof

الہام دوسری زبانوں میں

دوسرا موقف

(160) "بعض الہامات مجھے ان زبانوں میں بھی ہوتے ہیں جن سے مجھے کچھ بھی واقفیت نہیں جیسے انگریزی یا سنسکرت یا عبرانی وغیرہ۔"

(نزول المسیح صفحہ 59 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 435 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 653 پر)

View Proof

الہامی کتابوں میں تبدیلی نہیں ہوئی

پہلا موقف

(161) "چونکہ وہ کتابیں محرف مبدل ہیں۔ ان کا بیان قابل اعتبار نہیں۔ ایسی بات

صفحہ 147

وہی کہے گا جو خود قرآن شریف سے بے خبر ہے۔“

(چشمہ معرفت صفحہ 75 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 83 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 654 پر)

الہامی کتابیں تبدیل ہوچکی ہیں

دوسرا موقف

توریت سے صلح کرے گا بلکہ ان کتابوں کو محرف مبدّل اور ناقص اور ناتمام قرار دیا ہے۔“

(دافع البلاء صفحہ 19 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 239 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 655 پر)

تھیں اور بہت جھوٹ اُن میں ملائے گئے تھے جیسا کہ کئی جگہ قرآن شریف میں فرمایا گیا ہے کہ وہ کتابیں محرف مُبدل ہیں اور اپنی اصلیت پر قائم نہیں رہیں۔ چنانچہ اس واقعہ پر اس زمانہ میں بڑے بڑے محقق انگریزوں نے بھی شہادت دی ہے۔ پس جب کہ بائبل محرف مُبدل ہوچکی تھی۔“

(چشمہ معرفت صفحہ 255 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 266 از مرزا قادیانی)

حضرت مسیح متواضع، حلیم اور عاجز

پہلا موقف

انھوں نے یہ بھی روا نہ رکھا، جو کوئی ان کو نیک آدمی بھی کہے۔“

(براہین احمدیہ صفحہ 104 (حاشیہ) مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 94 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 656 پر)

صفحہ 148

حضرت مسیح شرابی، کبابی

دوسرا موقف

(164) ”یسوع اس لیے اپنے تئیں نیک نہیں کہہ سکا کہ لوگ جانتے تھے کہ یہ شخص شرابی کبابی ہے اور یہ خراب چال چلن نہ خدائی کے بعد بلکہ ابتدا ہی سے ایسا معلوم ہوتا ہے چنانچہ خدائی کا دعویٰ شراب خواری کا ایک بد نتیجہ ہے۔“

(ست بچن صفحہ 172 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 296 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 657 پر)

View Proof

لُدّ ایک گاؤں

پہلا موقف

(165) ”پھر حضرت ابن مریم دجال کی تلاش میں لگیں گے اور لُدّ کے دروازہ پر جو بیت المقدس کے دیہات میں سے ایک گاؤں ہے اس کو جا پکڑیں گے اور قتل کر ڈالیں گے۔“

(ازالہ اوہام صفحہ 220 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 209 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 658 پر)

View Proof

لُدّ ، بے جا جھگڑے کرنے والے

دوسرا موقف

(166) ”پھر آخر باب لُدّ پر قتل کیا جائے گا۔ لُدّ ان لوگوں کو کہتے ہیں جو بے جا جھگڑنے والے ہوں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جب دجال کے بے جا جھگڑے کمال تک پہنچ جائیں گے تب مسیح موعود ظہور کرے گا اور اس کے تمام جھگڑوں کا خاتمہ کر دے گا۔“

(ازالہ اوہام صفحہ 730 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3، صفحہ 492، 493 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 660,659 پر)

قارئین کریم! آپ نے آنجہانی مرز قادیانی کی تضاد بیانیاں ملاحظہ کیں۔ آپ View Proof

صفحہ 149

شروع میں پڑھ چکے ہیں کہ مرزا قادیانی کے نزدیک دو متضاد باتیں رکھنے والا شخص مخبوط الحواس، پاگل یا منافق ہوتا ہے۔ مرزا قادیانی کے اس فتویٰ کی روشنی میں اس کی اپنی حیثیت خود بخود واضح ہو جاتی ہے۔

ہم بھی قائل تیری نیرنگی کے ہیں یاد رہے
او زمانے کی طرح رنگ بدلنے والے
PDF 150
PDF 151

ثبوت حاضر ہیں!

باپ سچّا یا بیٹا؟

PDF 152
صفحہ 153

آنجہانی مرزا قادیانی کا فتویٰ ہے کہ:

معارفہا ویقبلنی و یصدق دعوتی۔ الا ذریۃ البغایا۔“ ”جو شخص میری (مرزا قادیانی کی) کتابوں کو محبت کی نظر سے نہیں دیکھتا، یا اس کے معارف سے فائدہ نہیں اٹھاتا، وہ کنجریوں کی اولاد ہے۔“

(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 547 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 547، 548 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 661، 662 پر)

دوسرے معنوں میں اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص مرزا قادیانی کی تحریروں سے اختلاف کرتا ہے اور ان کے برعکس اپنا نقطہ نظر پیش کرتا ہے، وہ کسی فاحشہ یا رنڈی باز عورت کی اولاد ہے۔ مرزا قادیانی اپنی تحریروں کو مستند کہتا ہوا لکھتا ہے:

تائید الہی سے لکھے گئے رسائل

الہام تو نہیں رکھتا۔ مگر یہ تو ضرور کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی خاص اور خارق عادت تائید نے یہ رسالے میرے ہاتھ سے نکلوائے ہیں۔“

(سرالخلافہ صفحہ 101، 102 مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 415، 416 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 663، 664 پر)

اب ظاہر ہے جو رسائل تائید الہی سے لکھے گئے ہوں اور خدا تعالیٰ کی خاص اور

صفحہ 154

خارق عادت تائید نے یہ رسالے اس کے ہاتھ سے نکلوائے ہوں، ان سے اختلاف کرنے والا مرزا قادیانی کے بقول حرامی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی کا بڑا بیٹا اور قادیانی جماعت کا دوسرا خلیفہ مرزا بشیرالدین محمود نے اپنے والد ”مسیح موعود“ کی کئی تحریروں سے زبردست اختلاف کرتا ہے بلکہ ان تحریروں کے برعکس اپنا نقطۂ نظر پیش کرتا ہے۔ مرزا بشیرالدین کو قادیانی جماعت میں ”مصلح موعود“ اور ”فضل عمر“ کہا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں قادیانی جماعت کا عقیدہ ہے کہ ”خلیفہ کو خدا بناتا ہے!“ لہٰذا خلیفہ کی کسی بات سے اختلاف نہیں ہو سکتا۔ قادیانی جماعت میں جو شخص اپنے خلیفہ کی کسی بات ( تقریر یا تحریر ) سے معمولی سا بھی اختلاف کرتا ہے، اسے فوری طور پر جماعت سے خارج کر دیا جاتا ہے۔ ان لوگوں میں مولوی محمد علی لاہوری، خواجہ کمال الدین، مولوی عبد المنان عمر، عبد الکریم مبہلہ، ملک عزیز الرحمن، صلاح الدین ناصر، بشیر احمد رازی، چوہدری غلام رسول چیمہ، محمد یوسف ناز، عبد الرحمن مصری، فخر الدین ملتانی احمد کریم شیخ اور جناب شفیق مرزا خصوصی طور پر قابل ذکر ہیں۔

ذیل میں مرزا غلام احمد قادیانی اور آنجہانی مرزا بشیر الدین محمود کی وہ تحریریں درج کی جارہی ہیں جن سے باپ بیٹے نے اختلاف کیا ہے۔ میں یہ فیصلہ قادیانیوں پر چھوڑتا ہوں کہ باپ بیٹے کی آپس میں اختلافی تحریروں کے بعد وہ انھیں کس مقام پر فائز کرتے ہیں؟

نبی کریم ﷺ کے والد محترم

مرزا قادیانی کی تحریر

چند دن بعد ہی فوت ہو گیا۔ اور ماں صرف چند ماہ کا بچہ چھوڑ کر مر گئی تھی۔“

(پیغام صلح صفحہ 28 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 465 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 665 پر)

سیرت النبی ﷺ کا ہر طالب علم بخوبی جانتا ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کے والد محترم حضرت عبداللہؓ آپ ﷺ کی ولادت باسعادت سے چند ماہ پہلے ایک تجارتی سفر میں انتقال کر گئے تھے اور آپ ﷺ کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہؓ کا سانحہ ارتحال آپ ﷺ کی ولادت باسعادت کے 6 سال بعد ہوا تھا۔ مگر مرزا قادیانی کو ان تاریخی حقائق کا علم نہیں۔ بقول ڈاکٹر

صفحہ 155

غلام جیلانی برق: ”مت بھولیے کہ یہ مرزا صاحب کی آخری تحریر تھی جو انہتر برس کے علمی مطالعہ کا نچوڑ تھی۔ پھر تحریر بھی اس ہستی کے متعلق جن کا ذکر ہر زبان پر اور چرچا ہر گھر میں ہے۔ اور واقعہ بھی ایسا جسے ہمارے لاکھوں واعظین تیرہ سو برس سے گلی گلی سنا رہے ہیں اور جس سے ہمارے چھوٹے چھوٹے بچے بھی آگاہ ہیں۔ حیرت ہے کہ جناب مرزا صاحب تاریخ نبوی کے اس مشہور ترین واقعہ سے بھی بے خبر نکلے۔“ (حرف محرمانہ ص 164 از غلام جیلانی برق)

اس عبارت میں مرزا قادیانی نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی والدہ ماجدہ کے بارے میں ”مرگئی“ ایسے الفاظ استعمال کر کے بدترین توہین کا ارتکاب کیا ہے۔

مرزا بشیر الدین محمود کا اختلاف

(170) ”رسول کریم ﷺ ابھی رحم مادر میں ہی تھے کہ آپ کے والد فوت ہو گئے۔ جب آپکی پیدائش ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے دادا عبدالمطلب کے دل میں غیر معمولی طور پر محبت پیدا کردی۔“

(تفسیر کبیر جلد 9، صفحہ 97 از مرزا بشیر الدین محمود) (عکس صفحہ نمبر 666 پر)

معجزہ شق القمر

مرزا قادیانی کی تحریر

(171) ”ایسا ہی شق القمر کا عالیشان معجزہ جو خدائی ہاتھ کو دکھلا رہا ہے، قرآن شریف میں مذکور ہے کہ آنحضرت ﷺ کی انگلی کے اشارہ سے چاند دو ٹکڑے ہو گیا اور کفار نے اس معجزہ کو دیکھا۔ اس کے جواب میں یہ کہنا کہ ایسا وقوع میں آنا خلاف علم ہیئت ہے، یہ سراسر فضول باتیں ہیں کیونکہ قرآن شریف تو فرماتا ہے کہ اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ . وَإِنْ يَّرَوْا اٰيَةً يُعْرِضُوْا وَيَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ . یعنی قیامت نزدیک آ گئی اور چاند پھٹ گیا اور کافروں نے یہ معجزہ دیکھا اور کہا کہ یہ پکا جادو ہے جس کا آسمان تک اثر چلا گیا۔ اب ظاہر ہے کہ یہ نرا دعویٰ نہیں بلکہ قرآن شریف تو اس کے ساتھ ان کافروں کو گواہ قرار دیتا ہے جو سخت

صفحہ 156

دشمن تھے اور کفر پر ہی مرے تھے۔ اب ظاہر ہے کہ اگر شق القمر وقوع میں نہ آیا ہوتا تو مکہ کے مخالف لوگ اور جانی دشمن کیونکر خاموش بیٹھ سکتے تھے۔ وہ بلاشبہ شور مچاتے کہ ہم پر یہ تہمت لگائی ہے ہم نے تو چاند کو دو ٹکڑے ہوتے نہیں دیکھا اور عقل تجویز نہیں کر سکتی کہ وہ لوگ اس معجزہ کو سراسر جھوٹ اور افترا خیال کر کے پھر بھی چپ رہتے۔ بالخصوص جبکہ ان کو آنحضرت ﷺ نے اس واقعہ کا گواہ قرار دیا تھا تو اس حالت میں ان کا فرض تھا کہ اگر یہ واقعہ صحیح نہیں تھا تو اس کا رد کرتے، نہ یہ کہ خاموش رہ کر اس واقعہ کی صحت پر مہر لگا دیتے۔ پس یقینی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ ضرور ظہور میں آیا تھا۔‘‘

(چشمہ معرفت صفحہ 42 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 411 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 667 پر)

View Proof

مرزا بشیر الدین محمود کا اختلاف

(172) ’’مفسرین نے غلطی سے اس کے یہ معنی کیے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ایک دفعہ یہ معجزہ دکھایا تھا کہ چاند کی طرف اشارہ کیا تو وہ حقیقۃً جسمانی طور پر پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا (فتح البیان) حالانکہ یہ غلط ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو عرب کے سب حصوں میں اور دنیا کے سب حصوں میں ایسا نظر آتا بلکہ نظام شمسی کے لیے مہلک ثابت ہوتا کیونکہ وہ اسی صورت میں قائم رہ سکتا ہے جبکہ اس کے سب سیارے اپنی اپنی جگہ پر ٹھیک رہیں۔ پھر کسی صحابی نے بھی جو اس وقت اس مجلس میں ہو یا مکہ یا عرب کے کسی اور مقام پر ہو، اس کی شہادت نہیں دی کہ چاند جسمانی طور پر پھٹ گیا تھا۔‘‘

(تفسیر صغیر صفحہ 706 از مرزا بشیر الدین محمود) (عکس صفحہ نمبر 668 پر)

View Proof

اسمہ احمد سے مراد

مرزا قادیانی کی تحریر

(173) ’’مسیح علیہ السلام کی گواہی قرآن کریم میں اس طرح پر لکھی ہے کہ مُبَشِّرًا

صفحہ 157

بِرَسُوْلٍ يَّأْتِيْ مِنْ بَعْدِى اسْمُهُ اَحْمَدُ۔ یعنی میں ایک رسول کی بشارت دیتا ہوں جو میرے بعد یعنی میرے مرنے کے بعد آئے گا اور نام اس کا احمد ہوگا۔ پس اگر مسیح اب تک اس عالم جسمانی سے گزر نہیں گیا تو اس سے لازم آتا ہے کہ ہمارے نبی ﷺ بھی اب تک اس عالم میں تشریف فرما نہیں ہوئے کیونکہ نص اپنے کھلے کھلے الفاظ سے بتلا رہی ہے کہ جب مسیح علیہ السلام اس عالم جسمانی سے رخصت ہو جائے گا تب آنحضرت ﷺ اس عالم جسمانی میں تشریف لائیں گے۔‘‘

(آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 42 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 42 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 669 پر)

View Proof

مرزا بشیر الدین محمود کا اختلاف

(174) ’’پس اس آیت میں جس رسول احمد نام والے کی خبر دی گئی ہے، وہ آنحضرت ﷺ نہیں ہو سکتے۔ ہاں اگر وہ تمام نشانات جو اس احمد نام رسول کے ہیں آپ کے وقت میں پورے ہوں تب بیشک ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس آیت میں احمد نام سے مراد احمدیت کی صفت کا رسول ہے کیونکہ سب نشانات جب آپ میں پورے ہو گئے تو پھر کسی اور پر اس کے چسپاں کرنے کی کیا وجہ ہے۔‘‘

(انوارِ خلافت صفحہ 23 مندرجہ انوار العلوم جلد 3 صفحہ 87، 88 از مرزا بشیر الدین محمود)

(عکس صفحہ نمبر 671,670 پر)

View Proof

نبی دوسرے نبی کا مطیع

مرزا قادیانی کی تحریر

(175) ’’صاحب نبوت تامہ ہرگز امتی نہیں ہو سکتا اور جو شخص کامل طور پر رسول اللہ کہلاتا ہے وہ کامل طور پر دوسرے نبی کا مطیع اور امتی ہو جانا نصوصِ قرآنیہ اور حدیثیہ کے رو سے بالکل ممتنع ہے۔ اللہ جل شانہ فرماتا ہے وما ارسلنا من رسول الا ليطاع باذن

صفحہ 158

اللّٰہ ۔ (النساء: 65) یعنی ہر ایک رسول مطاع اور امام بنانے کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ اس غرض سے نہیں بھیجا جاتا کہ کسی دوسرے کا مطیع اور تابع ہو۔‘‘

(ازالہ اوہام صفحہ 569 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 407 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 672 پر)

مرزا بشیر الدین محمود کا اختلاف

(176) ’’بعض نادان کہہ دیا کرتے ہیں کہ نبی دوسرے نبی کا متبع نہیں ہو سکتا اور اس کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِيُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ (النساء 65) اور اس سے حضرت مسیح موعود کی نبوت کے خلاف استدلال کرتے ہیں۔ لیکن یہ سب سبب قلتِ تدبر ہیں۔‘‘

(حقیقت النبوۃ حصہ اوّل مندرجہ انوار العلوم جلد 2 صفحہ 472 از مرزا بشیر الدین محمود)

(عکس صفحہ نمبر 673 پر)

نبی کے لیے شرط

مرزا قادیانی کی تحریر

(177) ’’انبیاء اس لیے آتے ہیں کہ تا ایک دین سے دوسرے دین میں داخل کریں اور ایک قبلہ سے دوسرا قبلہ مقرر کرا دیں اور بعض احکام کو منسوخ کریں اور بعض نئے احکام لاویں۔‘‘

(آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 339 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 339 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 674 پر)

مرزا بشیر الدین محمود کا اختلاف

(178) ’’نادان مسلمانوں کا خیال تھا کہ نبی کے لیے یہ شرط ہے کہ وہ کوئی نئی شریعت لائے

صفحہ 159

یا پہلے احکام میں سے کچھ منسوخ کرے یا بلاواسطہ نبوت پائے لیکن اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود کے ذریعہ اس غلطی کو دور کروایا۔“

(حقیقت النبوۃ (حصہ اوّل) مندرجہ انوارالعلوم جلد 2 صفحہ 454 از مرزا بشیر الدین محمود)

(عکس صفحہ نمبر 675 پر)

حضرت مسیح صلیب پر

مرزا قادیانی کی تحریر

(179) ”حضرت مسیح علیہ السلام وہ انسان تھے جو مخلوق کی بھلائی کے لیے صلیب پر چڑھے۔ گو خدا کے رحم نے ان کو بچا لیا اور مرہم عیسیٰ نے ان کے زخموں کو اچھا کر کے آخر کشمیر جنت نظیر میں ان کو پہنچا دیا۔ سو انھوں نے سچائی کے لیے صلیب سے پیار کیا۔ اور اس طرح اس پر چڑھ گئے جیسا کہ ایک بہادر سوار خوش عنان گھوڑے پر چڑھتا ہے۔ سو ایسا ہی میں بھی مخلوق کی بھلائی کے لیے صلیب سے پیار کرتا ہوں۔“

(تریاق القلوب صفحہ 371 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 498، 499 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 676، 677 پر)

مرزا بشیر الدین محمود کا اختلاف

(180) ”اگر حضرت مسیح کفارہ ہوئے ہیں تو ان کا کفارہ ہونا اسی صورت میں تسلیم کیا جا سکتا ہے جب وہ خوشی اور انتہائی بشاشت کے ساتھ کفارہ ہوئے ہوں۔ جس شخص کو جبراً صلیب پر لٹکا دیا جائے اس کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ اپنی خوشی سے لوگوں کے لیے قربان ہوا ہے۔ اگر حضرت مسیح واقعہ میں کفارہ ہونے کے لیے دنیا میں تشریف لائے تھے تو چاہیے تھا کہ وہ دوڑ کر صلیب پر چڑھتے اور خوش ہوتے کہ جس غرض کے لیے میں آیا تھا وہ آج پوری ہو رہی ہے۔“

(تفسیر کبیر جلد 9 صفحہ 194 از مرزا بشیر الدین محمود) (عکس صفحہ نمبر 678 پر)

صفحہ 160

کرمہائے تو مارا کرد گستاخ

مرزا قادیانی کی تحریر

(181) ”کرمہائے تو مارا کرد گستاخ ......تیری بخششوں نے ہم کو گستاخ کر دیا۔“

(براہین احمدیہ صفحہ 554، 557 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 662، 664 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 679، 680 پر)

View Proof

مرزا بشیر الدین محمود کا اختلاف

(182) ”نادان ہے وہ شخص جس نے کہا ”کرم ہائے تو مارا کرد گستاخ“ کیونکہ خدا کے فضل انسان کو گستاخ نہیں بنایا کرتے اور سرکش نہیں کر دیا کرتے بلکہ اور زیادہ شکر گزار اور فرمانبردار بناتے ہیں۔“

(قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کی تقریر، مندرجہ روزنامہ الفضل، قادیان 23 جنوری 1917ء صفحہ 13)

(عکس صفحہ نمبر 681، 682 پر)

View Proof

مسیح موعود صرف مسلمان ہوگا یا نبی بھی

مرزا قادیانی کی تحریر

(183) ”اس جگہ اگر یہ اعتراض پیش کیا جائے کہ مسیح کا مثیل بھی نبی چاہیے کیونکہ مسیح نبی تھا تو اس کا اوّل جواب تو یہی ہے کہ آنے والے مسیح کے لیے ہمارے سید ومولیٰ نے نبوت شرط نہیں ٹھہرائی بلکہ صاف طور پر یہی لکھا ہے کہ وہ ایک مسلمان ہوگا۔“

(توضیح مرام صفحہ 17 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 59 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 683 پر)

View Proof

مرزا بشیر الدین محمود کا اختلاف

(184) ”دوسری دلیل حضرت مسیح موعود کے نبی ہونے پر یہ ہے کہ آپ کو آنحضرت ﷺ

صفحہ 161

نے نبی کے نام سے یاد فرمایا اور نواس بن سمعان کی حدیث میں نبی اللہ کہہ کے آپ کو پکارا گیا ہے۔ پس آنحضرت ﷺ شاہد ہیں اس امر کے کہ حضرت مسیح موعود نبی ہیں۔“

(حقیقت النبوۃ (حصہ اوّل) صفحہ 189 مندرجہ انوار العلوم جلد 2 صفحہ 504 از مرزا بشیر الدین محمود)

(عکس صفحہ نمبر 684 پر)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام امتی

مرزا قادیانی کی تحریر

(185) ”جو شخص امتی کی حقیقت پر نظر غور ڈالے گا۔ وہ بہ بداہت سمجھ لے گا کہ حضرت عیسیٰ کو امتی قرار دینا ایک کفر ہے۔“

(”ضمیمہ براہین احمدیہ“ حصہ پنجم صفحہ 188، مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 364، از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 685 پر)

مرزا بشیر الدین محمود کا اختلاف

(186) ”قرآن سے ثابت ہے کہ ہر ایک نبی آنحضرت ﷺ کی امت میں داخل ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ لتؤمنن بہ ولتنصرنہ پس اس طرح تمام انبیاء علیہم السلام آنحضرت ﷺ کی امت ہوئے۔“

(”تشحیذ الاذھان“ قادیان شمارہ نمبر 8، جلد 12، صفحہ 28، اگست 1917ء)

(عکس صفحہ نمبر 687,686 پر)

قارئین کرام! آپ نے مختلف تحریروں میں باپ بیٹے کا اختلاف ملاحظہ کیا۔ آئیے! اب دیکھتے ہیں کہ دونوں ایک دوسرے کو کیا کہتے ہیں؟

باپ جھوٹا

(187) ”میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جس کثرت اور صفائی سے غیب کا علم حضرت جل شانہ

صفحہ 162

نے اپنے ارادہ خاص سے مجھے عنایت فرمایا، اگر دنیا میں اِس کثرتِ تعداد اور اِنکشافِ تام کے لحاظ سے کوئی اور بھی میرے ساتھ شریک ہے تو میں جھوٹا ہوں ۔‘‘

(تریاق القلوب صفحہ 169 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 297 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 688 پر)

بیٹا مردود

(188) ’’جو مسیح موعود کے ایک لفظ کو بھی جھوٹا سمجھتا ہے۔ وہ خدائی درگاہ سے مردود ہے کیونکہ خدا اپنے نبی کو وفات تک غلطی میں نہیں رکھتا۔‘‘

(بدر 19 جنوری 1911ء صفحہ 7، آئینہ صداقت صفحہ 40 مندرجہ انوار العلوم جلد 6 صفحہ 124 از مرزا بشیر الدین محمود)

(عکس صفحہ نمبر 689 پر)

۞.......۞.......۞

PDF 163

ثبوت حاضر ہیں!

قادیانی تحریفات

PDF 164
صفحہ 165

تحریف کا مفہوم ہے اصل الفاظ کو بدل کر کچھ اور لکھ دینا۔ تحریف اگر کسی مصنف یا شاعر کی کتاب میں ہو تو تحریف کرنے والے کو مضمون چور یا شعر چور کہا جاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر یہ تحریف اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب قرآن مجید میں کی جائے تو تحریف کرنے والا دائرہ اسلام سے خارج اور واجب القتل قرار پائے گا۔ قرآن مجید کی حفاظت کا کام اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ماضی میں جب کسی اسلام دشمن نے قرآن مجید کے کسی ایک حرف میں بھی تحریف کی ناپاک کوشش کی تو وہ بری طرح ناکام رہا اور ساڑھے چودہ سو سال سے پوری دنیا میں ایک ہی جیسا قرآن مجید موجود رہا ہے۔ قیامت تک قرآن مجید کے کسی لفظ یا آیت کی زبر یا زیر میں بھی تبدیلی نہیں کی جا سکتی کیونکہ اس سے مفہوم بدل سکتا ہے اور معنی کچھ کے کچھ نکل سکتے ہیں۔ دشمنان اسلام مختلف ادوار میں قرآن مجید میں تین طرح کی تحریف کرنے کی کوشش کرتے رہے۔

کوئی دوسرا مفہوم بیان کرنا۔

اپنے اوپر یا کسی اور پر منطبق کرنا، یا جو آیات مکہ مکرمہ یا بیت اللہ شریف کی شان میں ہوں، ان کو کسی اور جگہ پر چسپاں کرنا وغیرہ۔ قرآن مجید میں تحریف کرنا بہت بڑا جرم ہے اور اس کا مرتکب آخرت میں عذاب عظیم کا مستحق کہا گیا ہے۔ ایسے یہودی الفطرت لوگ کفر صریح کے مرتکب ہیں۔

قادیانی مذہب کے بانی جھوٹے مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی اور اس کے نام

صفحہ 166

نہاد خلیفوں نے اپنی کتابوں میں قرآنی آیات کے حوالے سے ہر قسم کی تحریف روا رکھی۔

مرزا قادیانی نے کہا تھا:

میں قرآن کی تفسیر تیار کروں گا

پاس بھیجی جائے۔ میں اس بات کو صاف صاف بیان کرنے سے رہ نہیں سکتا کہ یہ میرا کام ہے، دوسرے سے ہرگز ایسا نہیں ہوگا۔“

(ازالہ اوہام صفحہ 774 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 518 از مرزا قادیانی)

View Proof (عکس صفحہ نمبر 690 پر)

مگر مرزا قادیانی مدت العمر مطبوعہ صورت میں کوئی مکمل تفسیر منظر عام پر نہ لا سکا۔ سوائے اس کے کہ اس نے جابجا تحریفی اقوال اپنی تصانیف میں طاعون کے سیاہ پودوں کی طرح پھیلا دیئے۔

خود مرزا قادیانی کا کہنا ہے کہ قرآن مجید میں تحریف کرنے والا جماعت مومنین سے خارج، ملحد اور کافر ہے۔ مرزا قادیانی لکھتا ہے:

ملحد اور کافر کون؟

کتب سماوی ہے اور ایک شوشہ یا نقطہ اس کی شرائع اور حدود اور احکام اور اوامر سے زیادہ نہیں ہوسکتا اور نہ کم ہوسکتا ہے اور اب کوئی ایسی وحی یا ایسا الہام منجانب اللہ نہیں ہوسکتا جو احکام فرقانی کی ترمیم یا تنسیخ یا کسی ایک حکم کے تبدیل یا تغیر کر سکتا ہو اگر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ ہمارے نزدیک جماعت مومنین سے خارج اور ملحد اور کافر ہے۔“

(ازالہ اوہام صفحہ 70 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 170 از مرزا قادیانی)

View Proof (عکس صفحہ نمبر 691 پر)

صفحہ 167

سخت شریر، بدمعاش اور گنڈا؟؟؟

(191) ”یوں ہی کسی آیت کا سر پیر کاٹ کر اور اپنے مطلب کے موافق بنا کر پیش کر دینا یہ تو اُن لوگوں کا کام ہے جو سخت شریر اور بدمعاش اور گنڈے کہلاتے ہیں۔“

(چشمہ معرفت صفحہ 195 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 203، 204 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 692، 693 پر)

View Proof

دجال کون؟

(192) ”دجال کے معنی بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ جو شخص دھوکہ دینے والا اور گمراہ کرے والا اور خدا کے کلام کی تحریف کرنے والا ہو، اس کو دجال کہتے ہیں۔“

(حقیقت الوحی صفحہ 456 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 456 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 694 پر)

View Proof

آیئے دیکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے قرآن مجید و احادیث مبارکہ میں کون کون سی تحریفات کیں اور کس طرح اپنے ہی مقرر کردہ معیار کے مطابق جماعت مومنین سے خارج، ملحد، کافر، سخت شریر، بدمعاش، غنڈہ اور دجال ہو گیا؟

مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے:

اللہ تعالیٰ مجھے غلطی پر ایک لمحہ بھی باقی نہیں رہنے دیتا

(193) ترجمہ: ”اللہ تعالیٰ مجھے غلطی پر ایک لمحہ بھی باقی نہیں رہنے دیتا اور مجھے ہر ایک غلط بات سے محفوظ رکھتا ہے۔“

(نور الحق صفحہ 86 حصہ دوئم مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 272، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 695 پر)

View Proof

روح القدس کی قدسیت ہر وقت ملہم کے تمام قویٰ میں کام کرتی رہتی ہے

(194) ”اس عاجز کو اپنے ذاتی تجربہ سے یہ معلوم ہے کہ روح القدس کی قدسیت ہر وقت

صفحہ 168

اور ہر دم اور ہر لحظہ بلافصل ملہم کے تمام قویٰ میں کام کرتی رہتی ہے۔“

(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 93 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 93 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 696 پر)

View Proof

میرے اندر ایک آسمانی روح بول رہی ہے

(195) ”میری زبان کی تائید میں ایک اور زبان بول رہی ہے اور میرے ہاتھ کی تقویت کے لیے ایک اور ہاتھ چل رہا ہے جس کو دنیا نہیں دیکھتی مگر میں دیکھ رہا ہوں۔ میرے اندر ایک آسمانی روح بول رہی ہے۔ جو میرے لفظ لفظ اور حرف حرف کو زندگی بخشتی ہے۔“

(ازالہ اوہام صفحہ 563 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 403 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 697 پر)

View Proof

جو لوگ خدائے تعالیٰ سے الہام پاتے ہیں، وہ بلائے نہیں بولتے

(196) ”جو لوگ خدائے تعالیٰ سے الہام پاتے ہیں، وہ بغیر بلائے نہیں بولتے اور بغیر سمجھائے نہیں سمجھتے اور بغیر فرمائے کوئی دعویٰ نہیں کرتے اور اپنی طرف سے کسی قسم کی دلیری نہیں کر سکتے۔“

(ازالہ اوہام صفحہ 199 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 197 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 698 پر)

View Proof

میں قرآن کو دوبارہ واپس لاؤں گا

(197) ”آخری زمانہ میں قرآن آسمان پر اٹھایا جائے گا۔ پھر انھیں حدیثوں میں لکھا ہے کہ پھر دوبارہ قرآن کو زمین پر لانے والا ایک مرد فارسی الاصل (یعنی مرزا قادیانی) ہوگا جیسا کہ فرمایا ہے لو کان الایمان معلقاً عند الثریا لنا لہ رجل من فارس۔“

(ازالہ اوہام صفحہ 393 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 493 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 699 پر)

View Proof

صفحہ 169

عیسیٰ لدھیانہ میں آکر قرآن کی غلطیاں نکالے گا

(198) ”اس بزرگ نے ایک دفعہ جس بات کو عرصہ تیس سال کا گزرا ہوگا، مجھ کو کہا کہ عیسیٰ اب جوان ہو گیا ہے اور لدھیانہ میں آ کر قرآن کی غلطیاں نکالے گا۔“

(ازالہ اوہام صفحہ 708 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 ص 482 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 700 پر)

View Proof

مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب براہین احمدیہ میں حیات و نزول عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ قرآن مجید کی روشنی میں بیان کیا۔ اس کا دعویٰ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے براہِ راست قرآن مجید، اس کے صحیح معنی اور اس کے حقائق و معارف سکھائے ہیں۔ ایک جگہ پر بڑے وثوق کے ساتھ لکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ براہین احمدیہ میں فرماتا ہے۔ یعنی قرآن مجید نہیں بلکہ براہین احمدیہ میں۔ ملاحظہ فرمائیں:

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے صحیح معنی مجھ پر ظاہر کیے

(199) ”يَا اَحْمَدُ بَارَكَ اللّٰهُ فِیکَ مَارَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰی، الرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ. ترجمہ: اے احمد خدا نے تجھ میں برکت رکھ دی ہے جو کچھ تو نے چلایا، وہ تو نے نہیں چلایا بلکہ خدا نے چلایا، خدا نے تجھے قرآن سکھلایا۔ یعنی اس کے صحیح معنی تجھ پر ظاہر کیے۔ (ترجمہ از مرزا قادیانی، حقیقۃ الوحی صفحہ 70 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 73 از مرزا قادیانی)“

(براہین احمدیہ صفحہ 239 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 265 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 701 پر)

View Proof

اللہ تعالیٰ براہین احمدیہ میں فرماتا ہے

(200) ”اللہ تعالیٰ براہین احمدیہ میں فرماتا ہے اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ“

(حقیقۃ الوحی صفحہ 51 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 485 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 702 پر)

View Proof

صفحہ 170

اس قسم کے فقرے مرزا قادیانی نے اپنی تالیفات میں بہت جگہ لکھے ہیں۔ مسلمان کہا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتے ہیں جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ قرآن شریف کلام اللہ ہے۔ اسی طرح بقول مرزا قادیانی اللہ تعالیٰ براہین احمدیہ میں فرماتا ہے گویا براہین احمدیہ کلام اللہ ہے۔ اسی طرح مرزا قادیانی کی یہ وحی الرحمٰن علم القرآن ...... یعنی وہ اللہ الرحمٰن ہے جس نے تجھے (مرزا قادیانی کو) قرآن سکھلایا اور صحیح معنوں پر مطلع کیا۔‘‘

مسیلمہ کذاب کی تحریف قرآن

یہاں ایک بات کا تذکرہ دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ مسیلمہ کذاب سے لے کر مسیلمہ پنجاب تک ہر جھوٹے مدعی نبوت نے اپنی خود ساختہ وحیوں کی آڑ میں قرآن مجید کی مقدس آیات میں تحریفات کیں۔ صفحات کی کمی کے پیش نظر صرف ایک مثال پیش خدمت ہے۔ مسیلمہ کذاب نے سورۃ الکوثر میں درج ذیل تحریف کی۔

اصل آیت قرآن

”انا اعطینک الکوثرہ فصل لربک وانحرہ ان شانئک هو الابترہ (الکوثر 1 تا 3)

ترجمہ: بے شک ہم نے آپ کو (جو کچھ عطا کیا) بے حد و بے حساب عطا کیا۔ پس آپ نماز پڑھا کریں۔ اپنے رب کے لیے اور قربانی دیں۔ یقیناً آپ کا جو دشمن ہے، وہی بے نام (ونشاں) ہوگا۔“

مسیلمہ کذاب کی تحریف شدہ آیات

”انا اعطینک الجواہر. فصل لربک وھاجر. ان مبغضک رجل فاجر.“

ترجمہ: ہم نے دیئے تجھ کو جواہرات۔ سو نماز پڑھ اپنے رب کے آگے اور ہجرت کر۔ بے شک جو دشمن رکھنے والا ہے تجھ کو، وہ بدکار شخص ہے۔“

اسی طرح مسیلمہ پنجاب آنجہانی مرزا قادیانی نے اپنے گرو کی پیروی میں قرآن ...

صفحہ 171

مجید کی بے شمار آیات میں تحریفات کیں۔ چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں!

قرآن مجید کی لفظی تحریف

اصل آیت قرآن

وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّلَا نَبِيٍّ اِلَّا اِذَا تَمَنّٰى اَلْقَى الشَّيْطٰنُ فِيْ اُمْنِيَّتِهٖ. (الحج: 52)

مرزا قادیانی کی تحریف شدہ آیت

(201) ”وما ارسلنا من رسول ولانبي الا اذا تمنى القى الشيطان فى امنيته.“ (آئینہ کمالات اسلام صفحہ 352 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 703 پر) View Proof

یہاں مرزا قادیانی نے قرآن شریف کی آیت سے مِنْ قَبْلِكَ خارج کر دیا ہے کیونکہ اگر مِنْ قَبْلِكَ یہاں رہتا تو مرزا قادیانی کی نبوت کا ٹھکانا نہ رہتا۔

اصل آیت قرآن

اَلَمْ يَعْلَمُوْا اَنَّهٗ مَنْ يُّحَادِدِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ فَاَنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِيْهَا ط ذٰلِكَ الْخِزْيُ الْعَظِيْمُ. (التوبۃ: 63)

مرزا قادیانی کی تحریف شدہ آیت

(202) ”الم يعلموا انه من يحاد دالله ورسوله يد خله نارا خالدا فيها ذلک الخزى العظيم.“ (حقیقۃ الوحی صفحہ 130 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 704 پر)

اس آیت میں مرزا قادیانی نے يدخله اپنی طرف سے داخل کیا اور فان له اور View Proof

صفحہ 172

جہنم کو خارج کر دیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ موجودہ قادیانی قیادت نے کتاب کے جدید ایڈیشن میں قرآنی آیت کی تصحیح کردی ہے مگر ترجمہ اسی تحریف شدہ آیت کا دے دیا ہے۔ سچ ہے چور چوری سے جائے ، ہیرا پھیری سے نہ جائے۔

اصل آیت قرآن

يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَلْ لَكُمْ فُرْقَانًا وَيُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ. (الانفال:29)

مرزا قادیانی کی تحریف شدہ آیت

(203) ”ياايها الذين امنوا ان تتقو الله يجعل لكم فرقاناً ويكفر عنكم سياتكم ويجعل لكم نورا تمشون به.“

(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 177، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 705 پر)

اس آیت میں مرزا قادیانی نے ويجعل لكم نورا تمشون به شامل کر دیا اور ويغفرلكم والله ذوالفضل العظیم کو خارج کر دیا۔

View Proof

اصل آیت قرآن

كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ O وَّ يَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ O

(الرحمٰن : 27)

مرزا قادیانی کی تحریف شدہ آیت

(204) ”كُلُّ شَيْءٍ فَانٍ وَّ يبقٰى وجه رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْاِكْرَامِ.“

(ازالہ اوہام صفحہ 53 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 706 پر)

یہاں مرزا قادیانی نے من علیھا غائب کر دیا اور اپنی طرف سے شئی کا اضافہ کر دیا۔ مزید برآں دو آیتوں کو ایک آیت بنا دیا۔

View Proof

صفحہ 173

یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ آنجہانی مرزا قادیانی کی کتاب ”ازالہ اوہام“ جس میں اس نے مذکورہ بالا قرآنی تحریف کی ہے، اس کے ٹائٹل پیج پر لکھا ہے:

(205) ”دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اسے قبول نہ کیا مگر خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کردے گا۔ ازالہ اوہام، فیہ باس شدید ومنافع للناس ط۔ الحمد و المنت کہ بماہ مبارک ذی الحجہ ۱۳۰۸ھ کتاب جامع معارف قرآنی و شارح اسرار کلام ربانی از تالیفات مرسل یزدانی و مامور رحمانی حضرت جناب میرزا غلام احمد صاحب قادیانی۔“

(ازالہ اوہام، سر ورق، مندرجہ روحانی خزائن، جلد 3، صفحہ 101 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 707 پر)

اصل آیت قرآن

”وَلَقَدْ اٰتَیْنٰکَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ وَالْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَo“

(الحجر: 87)

مرزا قادیانی کی تحریف شدہ آیت

(206) ”اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے۔ انا اتیناک سبعًا من المثانی والقرآن العظیم۔“

(براہین احمدیہ صفحہ 580 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 558 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 708 پر)

(207) عجیب بات یہ ہے کہ مذکورہ کتاب براہین احمدیہ کے شروع میں دی گئی ”فہرست مضامین“ میں بھی اس آیت قرآنی کو اسی طرح تحریف شدہ لکھا گیا ہے۔ ملاحظہ کیجیے ۔

(براہین احمدیہ صفحہ 6، مندرجہ روحانی خزائن جلد 1، صفحہ 6 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 709 پر)

صفحہ 174

اصل آیت قرآن

"وجاهدوا باموالكم وانفسكم فی سبیل اللہ." (التوبہ: 41)

مرزا قادیانی کی تحریف شدہ آیت

(208) ”ان يجاهدوا فی سبیل اللہ باموالهم وانفسهم.“

(جنگِ مقدس، صفحہ 194 مندرجہ روحانی خزائن، جلد 6 صفحہ 276 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 710 پر) View Proof

مرزا قادیانی نے ان يجاهدوا اور باموالهم وانفسهم کے الفاظ اپنی طرف سے داخل کیے اور وجاهدوا باموالكم وانفسكم کو خارج کر کے فی سبیل اللہ کو آخر سے اٹھا کر درمیان میں رکھ دیا ہے۔ یہاں مسلمانوں سے خطاب اور جہاد کا حکم تھا۔ مرزا قادیانی نے یہاں جہاد کے حکم کو ختم کرنے کی ناپاک جسارت کی۔

اصل آیت قرآن

"هل ينظرون الا ان ياتيهم الله فی ظلل من الغمام والملئكة وقضى الامر." (البقرہ: 210)

مرزا قادیانی کی تحریف شدہ آیت

(209) ”يوم ياتی ربک فی ظل من الغمام.“

(حقیقت الوحی صفحہ 154، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 711 پر)

View Proof

(210) دیکھیے یہاں مرزا قادیانی نے تحریف قرآنی کر کے اس آیت کا کیا حلیہ بگاڑا۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے شدید غم و غصہ کے نتیجہ میں موجودہ قادیانی قیادت نے جدید ایڈیشن میں اس آیت کی تصحیح کر دی ہے۔ مشہور ہے کہ چور خواہ کتنا ہی چالاک کیوں نہ ہو، جاتا ہوا اپنی چوری کا کوئی نشان ضرور چھوڑ جاتا ہے۔ اسی طرح موجودہ قادیانی قیادت نے کیا

صفحہ 175

کہ قرآنی آیت کی تصحیح تو کر دی لیکن ترجمہ اس تحریف شدہ آیت کا دے دیا۔

(حقیقت الوحی صفحہ 154، مندرجہ روحانی خزائن، جلد 22 صفحہ 158، از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 712 پر)

View Proof

اصل آیت قرآن

"عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يَرْحَمَكُمْ وَإِنْ عُدتُّمْ عُدْنَا وَجَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكَافِرِينَ حَصِيرًا" (بنی اسرائیل: 8)

مرزا قادیانی کی تحریف شدہ آیت

للکافرین حصیراً."

(براہین احمدیہ صفحہ 505 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 601 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 713 پر)

اس آیت میں مرزا قادیانی نے لفظ کم ختم کر کے اپنی طرف سے علیکم کا اضافہ کر دیا۔

View Proof

اصل آیت قرآن

هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ O (توبہ: 33)

مرزا قادیانی کی تحریف شدہ آیت

(اربعین نمبر 3 صفحہ 35 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 425 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 714 پر)

اس آیت میں مرزا قادیانی نے اپنی طرف سے لفظ تہذیب الاخلاق کا اضافہ کیا۔

View Proof

صفحہ 176

اصل آیت قرآن

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ ط وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ o (آل عمران: 31)

مرزا قادیانی کی تحریف شدہ آیت

ویرحم علیکم وهو ارحم الراحمین۔“

(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 551 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 551 از مرزا قادیانی)

View Proof (عکس صفحہ نمبر 715 پر)

اس آیت میں مرزا قادیانی نے ”واللہ غفور الرحیم“ ختم کر کے اپنی طرف سے ”ویرحم علیکم وهو ارحم الراحمین“ کا اضافہ کر دیا ہے۔

اصل آیت قرآن

یٰسٓ o والقرآن الحکیم o انک لمن المرسلین o علٰی صراط مستقیم ۝ تنزیل العزیز الرحیم ۝ (یٰسین: 1 تا 5)

مرزا قادیانی کی تحریف شدہ آیت

العزیز الرحیم. (ترجمہ مرزا قادیانی) اے سردار! تو خدا کا مرسل ہے، راہ راست پر، اس خدا کی طرف سے جو غالب اور رحم کرنے والا ہے۔“

(حقیقۃ الوحی صفحہ 107 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 110 از مرزا قادیانی)

View Proof (عکس صفحہ نمبر 716 پر)

صفحہ 177

ان آیات میں مرزا قادیانی نے متعدد تحریفات کی ہیں:۔

ان آیات کو اپنے اوپر منطبق کر لیا۔ گویا اب یہ خطاب سید المرسلین ﷺ کے بجائے مرزا قادیانی کو منتقل ہو گیا۔ (نعوذ باللہ)!

قسم کھائی گئی ہے اور اگلی آیت ”اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ“ اس قسم کا جواب ہے، مگر مرزا قادیانی نے تحریف لفظی کر کے ”وَالْقُرْآنِ الْحَکِیْمِ“ کی آیت کو حذف کردیا، اور جوابِ قسم بغیر قسم کے ذکر کر دیا۔

اور مطلب یہ ہے کہ یہ قرآن، عزیز رحیم خدا کی جانب سے نازل شدہ ہے، مگر مرزا قادیانی خود اپنے آپ کو نازل شدہ سمجھ بیٹھے، اور اس آیت کو بھی اپنی صفت قرار دے کر یہ ترجمہ کیا: ”اس خدا کی طرف سے جو غالب اور رحم کرنے والا ہے۔“

اصل آیت قرآن

اِنَّا اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةِ الْقَدْرِ ۝ وَمَا اَدْرٰکَ مَالَیْلَةُ الْقَدْرِ ۝ (القدر: 1، 2)

مرزا قادیانی کی تحریف شدہ آیت

(215) ”اُس روز کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب مرحوم مرزا غلام قادر میرے قریب بیٹھ کر بآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انھوں نے ان فقرات کو پڑھا کہ انا انزلنہ قریباً من القادیان تو میں نے سن کر بہت تعجب کیا کہ کیا قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے؟ تب انھوں نے کہا کہ یہ دیکھو لکھا ہوا ہے، تب میں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ میں شاید قریب نصف کے موقع پر یہی الہامی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے۔ تب میں نے اپنے دل میں کہا

صفحہ 178

کہ ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے۔ اور میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے مکہ اور مدینہ اور قادیان۔“

(ازالہ اوہام صفحہ 77 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 140 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 717 پر)

View Proof

(216) ”پھر بعد اس کے فرمایا اِنَّا اَنْزَلْنَاهُ قَرِيبًا مِّنَ القادیان. وبالحق انزلناہ و بالحق نزل. صدق الله ورسوله و كان امر الله مفعولا. یعنی ہم نے ان نشانوں اور عجائبات کو اور نیز اس الہام پُر از معارف وحقائق کو قادیان کے قریب اتارا ہے، اور ضرورتِ حقّہ کے ساتھ اتارا ہے اور بضرورتِ حقّہ اترا ہے۔ خدا اور اس کے رسول نے خبر دی تھی کہ جو اپنے وقت پر پوری ہوئی۔ اور جو کچھ خدا نے چاہا تھا وہ ہوتا ہی تھا۔“ View Proof

(براہین احمدیہ صفحہ 571 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 593 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 718 پر)

نبی کا خواب سچا ہوتا ہے۔ اگر مرزا قادیانی کو اپنے خواب کی سچائی پر اعتبار ہوتا تو وہ ضرور بمطابق اپنے کشف قرآن کے متن میں ”قادیان“ کا اضافہ کر لیتا مگر اسے اپنے خوابوں اور اپنی حیثیت کا بھی خوب علم تھا۔ سو وہ قرآن کا ”مسیح موعود ایڈیشن“ تو تیار کرنے کی جرأت نہ کر سکا بس قادیان میں ”مینارۃ المسیح“ تعمیر کرا کے خوش ہو گیا۔

قرآن مجید کی معنوی تحریف

قادیانیوں نے قرآن مجید میں معنوی تحریف کی مذموم جسارت بھی کی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا مسلمانوں کو ارشاد ہے: ”أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ.“ (نساء:59) (ترجمہ): ”اطاعت کرو اللہ تعالیٰ کی، اور اطاعت کرو رسول (ﷺ) کی اور حاکموں کی جو تم میں سے ہوں۔“

صفحہ 179

مرزا قادیانی نے اس آیت کی تشریح میں لکھا:

(217) ”جسمانی سلطنت میں بھی یہی خدا تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ ایک قوم میں ایک امیر اور بادشاہ ہو اور خدا کی لعنت ان لوگوں پر ہے جو تفرقہ پسند کرتے ہیں اور ایک امیر کے تحت حکم نہیں چلتے۔ حالانکہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔ اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم۔ اولی الامر سے مراد جسمانی طور پر بادشاہ اور روحانی طور پر امام الزمان ہے اور جسمانی طور پر جو شخص ہمارے مقاصد کا مخالف نہ ہو اور اس سے مذہبی فائدہ ہمیں حاصل ہو سکے وہ ہم میں سے ہے۔ اسی لیے میری نصیحت اپنی جماعت کو یہی ہے کہ وہ انگریزوں کی بادشاہت کو اپنے اولی الامر میں داخل کریں اور دل کی سچائی سے ان کے مطیع رہیں۔“

(ضرورۃ الامام ص 23 مندرجہ روحانی خزائن ج 13 ص 493 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 719 پر) View Proof

قرآن مجید نے تو خدا، رسول اور جماعت مومنین میں سے ان حکام کی اطاعت کو فرض قرار دیا ہے جنہیں کچھ اختیارات تفویض کیے گئے ہوں۔ لیکن مرزا قادیانی نے قرآن کریم کی معنوی تحریف کر کے کفار کی اطاعت کو فرض قرار دے دیا۔ مرزا قادیانی سے تو جرمنی کا مشہور و معروف شاعر گوئٹے بھی قرآن دانی میں کہیں آگے تھا اور اس کی سوچ اسلام کے مطابق تھی۔ مرزا قادیانی اپنے دعویٰ نبوت کے باوجود انگریز کی اطاعت کے شرک میں سرتاپا غرق تھا لیکن گوئٹے نے جب قرآن حکیم پڑھا تو بے اختیار پکار اٹھا ”اس کا پڑھنے والا کبھی کسی کا غلام نہیں ہو سکتا۔“

مرزا قادیانی نے قرآنی آیت کا صرف اتنا حصہ لیا جس کو وہ توڑ مروڑ سکتا تھا اور آیت کے اس حصے کو چھوڑ دیا جو اس کی مذکورہ تحریف کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوڑ دیتا۔ پوری آیت یہ ہے:

”یاایہا الذین امنوا اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم ۚ فان تنازعتم فی شیء فردوہ الی اللہ والرسول ان کنتم تؤمنون باللہ والیوم الاخر ؕ ذلک خیر و احسن تاویلا O (النساء: 59)

صفحہ 180

ترجمہ: اے ایمان والو! اطاعت کرو اللہ تعالیٰ کی اور اطاعت کرو (اپنے ذیشان) رسول کی اور حاکموں کی جو تم میں سے ہوں پھر اگر جھگڑنے لگو تم کسی چیز میں تو لوٹا دو اسے اللہ اور (اپنے) رسول (کے فرمان) کی طرف اگر تم ایمان رکھتے ہو، اللہ پر اور روزِ قیامت پر یہی بہتر ہے اور بہت اچھا ہے اس کا انجام۔‘‘

آیت کا خط کشیدہ فقرہ مرزا قادیانی کمال عیاری سے چھوڑ گیا کیونکہ یہ وہ ہڈی تھی جو اس کے حلق سے گزر نہ سکتی تھی۔ سوال یہ ہے کہ اگر انگریز اولی الامر تھے تو ان سے نزاع کی صورت میں کس کی طرف رجوع کیا جاتا؟ ظاہر ہے کہ انگریز تو مسلمانوں کے خدا اور رسول کریم ﷺ کو مانتے نہیں تھے۔ لہٰذا مسلمانوں کے خدا اور رسول کی طرف تو رجوع ہو نہیں سکتا تھا۔ شاید ایسی صورت میں مرزا قادیانی کے ذہن میں خدا اور رسول سے مراد ملکہ برطانیہ اور سیکرٹری آف سٹیٹ ہوں کیونکہ انگریز کی حکومت میں تو انہی کی طرف رجوع ہو سکتا تھا۔

انگریز کا عہد سیاسی شرک کا دور تھا کیونکہ انگریز کی حکومت غیر اللہ کی حکومت تھی۔ انگریز کو اولی الامر میں داخل کرنا قرآن حکیم کی وہ بدترین تحریف ہے جس سے بدتر تحریف شاید یہودیوں نے بھی توریت کی کبھی نہ کی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ سے اس قدر بے خوفی......؟ نبوت تو کجا اس بے خوفی کے ساتھ تو مسلمان ہونے کا دعویٰ بھی میل نہیں کھاتا۔ معلوم نہیں قادیانیوں کے پاس اس کا کیا جواب ہے؟

قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود نے قرآن پاک کا ترجمہ و تفسیر کیا ہے جس میں ارادۃً معنوی تحریف کی ہے:

صحیح ترجمہ

غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّيْنَ. نہ (دکھا) رستہ ان لوگوں کا جن پر تیرا غضب ہوا اور نہ ان لوگوں کا جو گمراہ ہوگئے۔ (سورہ فاتحہ)

صفحہ 181

غلط ترجمہ

(218) قادیانی ترجمہ کے مطابق سورہ فاتحہ کی آخری آیت کے نصف غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّين کا ترجمہ یوں کیا گیا تھا: ”جن پر نہ تو بعد میں تیرا غضب نازل ہوا ہے اور نہ وہ بعد میں گمراہ ہو گئے ہیں۔“

(تفسیر صغیر صفحہ 4 از مرزا بشیر الدین محمود) (عکس صفحہ نمبر 720 پر)

View Proof

صحیح ترجمہ

وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ. (البقرہ: 4) اور جو لوگ ایمان لاتے ہیں آپ پر جو نازل ہوا اور جو کچھ آپ سے پہلے نازل ہوا اور آخرت پر وہ یقین رکھتے ہیں۔

غلط ترجمہ

(219) ”والذین یومنون بمآ انزل الیک وما انزل من قبلک وبالاخرۃ ھم یوقنون. (البقرہ: 4) اور جو تجھ پر نازل کیا گیا ہے یا جو تجھ سے پہلے نازل کیا گیا تھا اس پر ایمان لاتے ہیں اور آئندہ ہونے والی موعود باتوں پر بھی یقین رکھتے ہیں۔“ View Proof

(تفسیر صغیر صفحہ 5 از مرزا بشیر الدین محمود) (عکس صفحہ نمبر 721 پر)

اسی طرح تمام قادیانی کتب معنوی تحریفات سے بھری پڑی ہیں۔ اے کاش! کوئی محقق آگے بڑھے اور اس موضوع پر ایک مکمل Thesis تیار کر کے قادیانیوں کی جعلسازی سامنے لائے۔

تحریف معنوی

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ لکھتے ہیں:

نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ترجمہ...... ”آخر زمانے میں بہت سے دجال،

صفحہ 182

کذاب (مکار، جھوٹے) ہوں گے (جن کی علامت یہ ہے کہ) وہ تمھارے سامنے ایسی باتیں لائیں گے جو نہ تو تم نے کبھی سنی ہوں گی، نہ تمھارے باپ دادا نے، خبردار! ان سے بچتے رہنا! کہیں تمھیں گمراہ نہ کر دیں اور اپنے فتنے کے جال میں نہ پھانس لیں۔“ (مشکوٰۃ صفحہ: 28) صاحب مرقات لکھتے ہیں: ”یعنی وہ جھوٹی حدیثیں پیش کریں گے، باطل احکام گھڑیں گے اور اعتقاداتِ باطلہ کو مکر و فریب سے رائج کریں گے۔“

یہ حدیث مبارکہ مرزا قادیانی اور اس کی امت پر حرف بحرف صادق آتی ہے۔ سورۃ ”الفتح“ کی آخری آیت ”مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰهِ وَالَّذِيْنَ مَعَهُ اَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ“ (محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، اور جو لوگ آپ کے صحبت یافتہ ہیں وہ کافروں کے مقابلہ میں سخت اور آپس میں مہربان ہیں) اور سورۃ الصف کی آیت نمبر 5: ”هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ“ (وہ اللہ ایسا ہے، جس نے اپنے رسول کو ہدایت (قرآن) اور دین حق (اسلام) دے کر بھیجا ہے تاکہ اس دین کو تمام دینوں پر غالب کر دے، گو مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار ہو) ان دونوں آیتوں کے بارے میں مرزا قادیانی کا ”الہامی انکشاف“ یہ ہے کہ پہلی آیت میں ”محمد رسول اللہ“ سے اور دوسری آیت میں ”رسولہ“ سے مراد ان کی ذات ہے (نعوذ باللہ) چنانچہ اپنے اشتہار ”ایک غلطی کا ازالہ“ میں لکھتا ہے:

(220) ”حق یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے اس میں ایسے لفظ رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں، نہ ایک دفعہ بلکہ صد ہا دفعہ..... چنانچہ وہ مکالماتِ الٰہیہ جو ”براہین احمدیہ“ میں شائع ہو چکے ہیں، ان میں سے ایک یہ وحی اللہ ہے: ”هو الذی ارسل رسوله بالھدیٰ و دین الحق لیظہرہ علی الدین کلّٰہ.“ (دیکھو صفحہ 498 براہین احمدیہ) اس میں صاف طور پر اس عاجز کو رسول کر کے پکارا گیا ہے۔..... پھر اسی کتاب میں اس مکالمہ کے قریب ہی یہ وحی اللہ ہے: ”محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم“ اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا ہے اور رسول بھی۔“

(ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 2، 3 روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 206، 207)

(عکس صفحہ نمبر 722، 723 پر)

صفحہ 183

سورۂ صف کی آیت 6: ”وَمُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ يَّأْتِيْ مِنْ بَعْدِى اسْمُهُ اَحْمَدُ“ (الصف:6) (اور خوشخبری دیتا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا، اس کا نام احمد ہے) اس آیت کریمہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جس عظیم الشان رسول کی اپنے بعد تشریف آوری کی خوشخبری دی اور جس کا نام نامی ”احمد“ بتایا اس کا مصداق سرور کائنات حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ ہیں۔ آنحضرت ﷺ کے زمانے سے (جبکہ یہ آیت نازل ہوئی) آج تک چودہ صدیوں میں مسلمانوں کے ایک تنفس کو بھی اس سے اختلاف نہیں۔ خود آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت کا مصداق ہوں (مشکوٰۃ صفحہ 515) آنحضرت ﷺ نے خود اپنے اسمائے گرامی محمد اور احمد ذکر فرمائے (مشکوٰۃ صفحہ 515)۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اسی بشارت کی بنا پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مجھے دنیا و آخرت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قرب و تعلق سب لوگوں سے زیادہ حاصل ہے اور یہ کہ ان کے اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں۔ (مشکوٰۃ صفحہ 509)۔ اسی آیت کی بنا پر اسلام کا عیسائیت کے مقابلے میں چودہ صدیوں سے معرکہ قائم ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے جس نبی کی آمد کی بشارت دی اور جس کا ذکر (تحریف کے باوجود) انجیل سے حذف نہیں کیا جا سکا ہے اس سے مراد حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہیں، ان مختصر اشارات کے بعد اب قادیانی تحریف ملاحظہ فرمائیے:

”مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمه احمد“ ”آیت مرقوم الصدر کے الفاظ میں مسیح نے خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک پیش گوئی کی ہے کہ ایک ایسے رسول کی بشارت دینے والا ہوں جس کا آنا میرے بعد ہوگا۔ اس کا نام احمد ہے۔ پیش گوئی میں آنے والے رسول کا اسم احمد بتایا گیا ہے، جس کے مصداق آنحضرت ﷺ اس لیے نہیں ہو سکتے کہ قرآنی وحی میں کسی مقام سے آپ کا نام نامی احمد ثابت نہیں ہوتا، ہاں محمد آپ کا اسم گرامی ضرور ہے، جیسا کہ آپ قبل از دعوائے نبوت محمد ﷺ کے نام سے مشہور تھے، اور ایسا ہی قرآنی وحی میں بھی بار بار آپ کا نام محمد ﷺ ہی بتایا گیا ہے۔“

(روزنامہ الفضل قادیان، 19؍ اگست 1918ء)

(221) ”اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سا رسول ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام

صفحہ 184

کے بعد آیا اور اس کا نام ”احمد“ ہے؟ میرا اپنا دعویٰ ہے، اور میں نے یہ دعویٰ یوں ہی نہیں کر دیا، بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا قادیانی) کی کتابوں میں بھی اسی طرح لکھا ہوا ہے، اور حضرت خلیفۃ المسیح اول (حکیم نور الدین) نے بھی یہی فرمایا ہے کہ مرزا صاحب، احمد ہیں، چنانچہ ان کے درسوں کے نوٹوں میں یہی چھپا ہوا ہے اور میرا ایمان ہے کہ اس آیت کے مصداق حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا قادیانی) ہی ہیں۔“

(انوارِ خلافت صفحہ 21 مندرجہ انوار العلوم جلد 3 صفحہ 86 از مرزا بشیر الدین محمود)

(عکس صفحہ نمبر 724 پر)

ایک جانب حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ کی پوری امت ہے اور دوسری جانب قادیانی امت کے مسیح موعود، خلیفہ نور دین اور میاں محمود احمد ہیں۔ یہ فیصلہ تو دنیا کے اہل عقل و فہم پر چھوڑتا ہوں کہ ان دونوں فریقوں میں سے کون سچا ہے اور کون جھوٹا؟

(تحفہ قادیانیت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ جلد 6 صفحہ 208)

آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی نے وہ آیات جو اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کی شان میں نازل فرمائیں، ان کو اپنے اوپر منطبق کیا ہے۔

اس طرح بے شمار ”الہامات“ جن کے ذریعے مرزا قادیانی نے اپنی ذات، اپنے گاؤں، اپنے خاندان کی شان بیان کرنے میں وحی چوری کی ہے، سب تحریف معنوی کی صورتیں ہیں۔ اسی طرح قرآنی آیات سے ملتے جلتے مشابہ الفاظ اور قرآنی الفاظ میں لپٹے ہوئے ”الہامات اور وحیاں“ بھی تحریف قرآن ہی کی شکلیں ہیں۔

(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 235 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 725 پر)

کثیر جماعت تجھے دی جائے گی۔ دیکھو اس پیشگوئی کو بیس برس گزر گئے اور اب وہ کثیر جماعت ہوئی اور نہ صرف ستر ہزار بلکہ اب تو یہ جماعت لاکھ کے قریب ہو گئی اور ان دنوں میں

صفحہ 185

ایک بھی نہ تھا۔“ (نزول المسیح صفحہ 133 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 509 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 726 پر) View Proof

(224) ”ورفعناک لک ذکرک “ (تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 236 طبع چہارم،از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 727 پر) View Proof

(225) ”ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ“ (تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 538 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 728 پر) View Proof

(226) ”وما ینطق عن الھویٰ۔ ان ھو الا وحی یوحیٰ۔“ (تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 321 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 729 پر) View Proof

(227) ”دنیٰ فتدلیٰ فکان قاب قوسین او ادنیٰ۔“ (تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 542 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 730 پر) View Proof

(228) وقل یایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا۔ (تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 292 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 731 پر) View Proof

(229) ” و داعیا الی اللہ و سراجا منیرا “ (تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 541 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 732 پر) View Proof

(230) ”سبحان الذی اسریٰ بعبدہ لیلا۔“ (تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 63 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 733 پر) View Proof

(231) ”تبت یدا ابی لھب وتب “ (تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 546 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 734 پر) View Proof

صفحہ 186

(232) ”قل ان کنتم تحبون الله فاتبعونی یحببکم الله“

(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 547 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 735 پر)

View Proof

(233) ”وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین“

(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 547 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 736 پر)

View Proof

(234) ”یاایھا المدثر قم فانذر وربک فکبر.“

(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 39 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 737 پر)

View Proof

تحریف حدیث

(235) ”ایسا ہی احادیث صحیحہ میں آیا تھا کہ وہ مسیح موعود صدی کے سر پر آئے گا۔ اور وہ چودھویں صدی کا مجدد ہوگا۔“ View Proof

(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 188 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 359، 360 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 739,738 پر)

احادیث کی کتب میں ایسی کوئی حدیث موجود نہیں۔ مرزا قادیانی نے اپنی طرف سے یہ (جھوٹی) حدیث گھڑی ہے۔

(236) ”لیکن ضرور تھا کہ قرآن شریف اور احادیث کی وہ پیشگوئیاں پوری ہوتیں جن میں لکھا تھا کہ مسیح موعود جب ظاہر ہوگا تو اسلامی علما کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا۔ وہ اس کو کافر قرار دیں گے، اور اس کے قتل کے لیے فتوے دیے جائیں گے، اور اس کی سخت توہین کی جائے گی، اور اس کو دائرہ اسلام سے خارج اور دین کا تباہ کرنے والا خیال کیا جائے گا۔“ View Proof

(اربعین 3 صفحہ 17 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 404 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 740 پر)

پورے قرآن مجید اور ذخیرہ احادیث میں ایسی کوئی عبارت نہیں، یہاں تک کہ

صفحہ 187

قرآن مجید اور کتب احادیث میں ”مسیح موعود“ کا لفظ تک نہیں ملے گا۔ قادیانی حضرات کبھی بے تعصب ہو کر اس پہلو پر ضرور غور کریں کہ قرآن و حدیث کے وسیع و وقیع اثاثے میں مرزا قادیانی کے نام یا شہر وغیرہ کے حوالے سے کوئی اشارہ تک کیوں نہیں ملتا؟

اگر تجھے پیدا نہ کرتا......

ترجمہ: ”(اے مرزا) اگر تو نہ ہوتا تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا ۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 525، طبع چہارم، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 741 پر)

سب جانتے ہیں کہ یہ حدیث قدسی ہے اور اس کے مصداق صرف اور صرف حضور نبی کریم ﷺ ہیں جبکہ ملعون مرزا قادیانی اس حدیث کو اپنے اوپر منطبق کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مرزا قادیانی کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ اے مرزا، اگر میں تجھے پیدا نہ کرتا تو آسمان و زمین اور جو کچھ اس میں ہے، کچھ پیدا نہ کرتا۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ دنیا میں جس قدر انبیائے کرام اور اولیائے عظام تشریف لائے اور انھیں مراتب عالیہ عنایت ہوئے، یہ سب مرزا قادیانی کے طفیل سے ہوا۔ یعنی تمام انبیا اور اولیاء مرزا قادیانی کے طفیلی اور زلہ ربا ہیں۔ قادیانی عقیدہ کے مطابق اس میں حضور سرور عالم ﷺ بھی شامل ہیں۔ (نعوذ باللہ )

کلمہ طیبہ اور درود شریف میں تحریف

مسلمانوں کا کلمہ

لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔

قادیانیوں کا کلمہ

(مرزا غلام احمد ) اللہ کے رسول ہیں۔

صفحہ 188

نوٹ: قادیانیوں نے کلمہ طیبہ میں محمد ﷺ حذف کر کے احمد لگا دیا ہے۔ مرزا ناصر احمد کے دورۂ افریقہ پر تصویری کتاب (Afrika speaks) میں ”احمدیہ سنٹرل ماسک“ نائیجیریا کا فوٹو موجود ہے۔ وہاں پر یہ قادیانی کلمہ لکھا ہوا ہے۔

مسلمانوں کا درود شریف

(239) اللهم صلّ علی محمد و علی ال محمد کما صلیت علی ابراہیم و علی ال ابراہیم انک حمید مجید۔ اللهم بارک علی محمد و علی ال محمد کما بارکت علی ابراہیم و علی ال ابراہیم انک حمید مجید۔

قادیانی امت کا درود

صفحہ 189

علیٰ ابراہیم و علیٰ ال ابراہیم انک حمید مجید. اللّٰھم بارک علیٰ محمد و احمد و علیٰ ال محمد و احمد کما بارکت علیٰ ابراہیم و علیٰ ال ابراہیم انک حمید مجید.

ضیاء الاسلام پریس قادیان کے مطبوعہ رسالہ درود شریف صفحہ 16 پر یہ درود شریف لکھا ہوا ہے خط کشیدہ الفاظ میں احمد (مرزا غلام احمد) کا اضافہ کیا گیا۔ اسلام کو مسخ کرنے کا پروگرام اور آل ابراہیم و آل محمد کا مقابلہ مرزا غلام احمد کی آل کا مقام؟

چہ نسبت خاک را با عالم پاک !!!

(240) ”صلی اللہ علیک و علیٰ محمد“

( تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 661، طبع چہارم از مرزا قادیانی ) (عکس صفحہ نمبر 742 پر)

(241) ”اے محمد ﷺ سلسلہ کے برگزیدہ مسیح تجھ پر خدا کا لاکھ لاکھ درود اور لاکھ لاکھ سلام ہو ۔“

(سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 208 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی ) (عکس صفحہ نمبر 743 پر)

(242) ”اللھم صلی علیٰ محمد و علیٰ عبدک المسیح الموعود.“

( روزنامہ الفضل قادیان 31 جولائی 1937ء صفحہ 5 کالم 2 ) (عکس صفحہ نمبر 744 پر)

ترجمہ: اے اللہ محمدﷺ اور اپنے بندے مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر درود و سلام بھیج ۔

مرزا قادیانی پر درود و سلام

(243) ”اے امام الوریٰ سلام علیک
مہ بدر الدجیٰ سلام علیک
مہدی عہد و عیسیٰ موعود
احمد ﷺ مجتبیٰ سلام علیک
صفحہ 190
مطلع قادیان پہ تو چمکا
ہو کے شمس الہدیٰ سلام علیک
تیرے آنے سے سب نبی آئے
مظہر الانبیاء سلام علیک
مسقط وحی مہبط جبرئیل
سدرۃ المنتہیٰ سلام علیک
مانتے ہیں تیری رسالت کو
اے رسول خدا سلام علیک
ہے مصدق تیرا کلام خدا
اے میرے مرزا سلام علیک
تیرے یوسف کا تحفہ صبح و مسا
ہے درود و دعا سلام علیک

(قاضی محمد یوسف قادیانی کی نظم، روزنامہ الفضل قادیان جلد 7 شمارہ نمبر 100 مورخہ 30 جون 1920ء) (عکس صفحہ نمبر 745 پر)

مرزا قادیانی پر درود و سلام کے اعتراض کا قادیانی جواب

مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب اربعین نمبر 2 میں مندرجہ ذیل دعویٰ کیا ہے: (244) "بعض بے خبر یہ اعتراض بھی میرے پر کرتے ہیں کہ اس شخص کی جماعت اس پر فقرہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا اطلاق کرتے ہیں اور ایسا کرنا حرام ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ میں مسیح موعود ہوں اور دوسروں کا صلوٰۃ یا سلام کہنا تو ایک طرف، خود آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اس کو پاوے، میرا سلام اس کو کہے اور احادیث اور تمام شروح احادیث میں مسیح موعود کی نسبت صدہا جگہ صلوٰۃ و سلام کا لفظ لکھا ہوا موجود ہے۔ پھر جبکہ میری نسبت نبی علیہ السلام نے یہ لفظ کہا، صحابہ نے کہا بلکہ خدا نے کہا، تو میری جماعت کا میری نسبت یہ فقرہ بولنا کیوں حرام ہو گیا۔"

(اربعین نمبر 2 صفحہ نمبر 6، مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 349 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 746 پر)

صفحہ 191

حضرت مجدد الف ثانیؒ کی تحریر میں تحریف

(245) ”امام ربانی صاحب اپنے مکتوبات کی جلد ثانی میں جو مکتوب پنجاہ و یکم ہے، اس میں صاف لکھتے ہیں کہ غیر نبی بھی مکالمات و مخاطبات حضرت احدیت سے مشرف ہو جاتا ہے اور ایسا شخص محدث کے نام سے موسوم ہے۔“

(براہین احمدیہ صفحہ 630 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 652 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 747 پر)

View Proof

اس حوالے کو مرزا قادیانی اپنی کتاب ”تحفہ بغداد“ میں لکھتا ہے:

(246) ”وقال المجدد الامام السرهندی الشیخ أحمد رضی الله عنه فی مکتوب یکتب فیه بعض الوصایا الی مریده محمد صدیق: اعلم أیها الصدیق! أن کلامه سبحانه مع البشر قد یکون شفاها و ذلک لأفراد من الانبیاء وقد یکون ذلک لبعض الکمل من متابعیهم، واذا کثر هذا القسم من الکلام مع واحد منهم یسمی محدثا۔“

(تحفہ بغداد صفحہ 21 (حاشیہ) مندرجہ روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 28 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 748 پر)

View Proof

لیکن جب مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا تو مجدد الف ثانیؒ کے مکتوبات میں تحریف کرتے ہوئے یوں درج کیا:

(247) ”مجدد صاحب سرہندی نے اپنے مکتوبات میں لکھا ہے کہ اگرچہ اس امت کے بعض افراد مکالمہ و مخاطبہ الٰہیہ سے مخصوص ہیں اور قیامت تک مخصوص رہیں گے لیکن جس شخص کو بکثرت اس مکالمہ و مخاطبہ سے مشرف کیا جائے اور بکثرت امور غیبیہ اس پر ظاہر کیے جائیں، وہ نبی کہلاتا ہے۔“

(حقیقۃ الوحی صفحہ 390 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 406 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 749 پر)

View Proof

صفحہ 192

دیکھئے مجدد الف ثانیؒ تحریر فرماتے ہیں کہ جسے کثرت مکالمہ ہو وہ ”محدث“ ہوتا ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنی کتب ”براہین احمدیہ“ اور ”تحفہ بغداد“ میں حضرت مجدد الف ثانیؒ کے حوالہ سے بھی یہی تحریر کیا کہ کثرت مکالمہ والا ”محدث“ کہلاتا ہے لیکن جب خود دعویٰ نبوت کیا تو اپنی کتاب ”حقیقت الوحی“ میں مجدد صاحبؒ کے حوالہ سے لکھ دیا کہ کثرت مکالمہ والا ”نبی“ کہلاتا ہے۔

اب آپ خود فیصلہ فرمائیں کہ ایک ہی حوالہ کو مرزا غلام احمد قادیانی تین جگہ لکھتا ہے۔ ”براہین احمدیہ“ اور ”تحفہ بغداد“ میں ”محدث“ لکھتا ہے جبکہ اسی حوالہ کو مرزا غلام احمد قادیانی ”حقیقت الوحی“ میں نبی لکھتا ہے۔ ”محدث“ کو ”نبی“ کرنا محض غلطی نہیں بلکہ صریح اور کھلی بددیانتی ہے۔

حضرت مولانا نور محمد خان صاحبؒ مدرس مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور نے اپنی کتاب ”کذبات مرزا“ صفحہ 21 مطبوعہ خواجہ برقی پریس دہلی مئی 1933ء میں یہ حوالہ نقل کر کے دنیا کے تمام قادیانیوں کو چیلنج کیا تھا:

”حضرت مجدد صاحبؒ کی عبارت مذکورہ میں مرزا غلام احمد قادیانی نے جس خیانت مجرمانہ بیباکانہ جرأت سے کام لیا ہے اس پر قیامت تک علمی دنیا لعنت و نفرت کا وظیفہ پڑھ کر مرزا غلام احمد قادیانی کی روح کو لعنت کا ”ایصال ثواب“ کرے گی۔ کیا کوئی قادیانی جرأت کر سکتا ہے کہ خط کشیدہ عبارت مکتوبات امام ربانیؒ میں دکھلا کر اپنے پیشوا کو کذابوں کی قطار سے علیحدہ کر دے؟“

بقول حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ: ”آج سے سڑسٹھ سال قبل قادیانیوں کو جو چیلنج دیا گیا تھا وہ جوں کا توں برقرار ہے۔ قادیانی امت، آنجہانی مرزا قادیانی کی ذات سے اس خیانت و بددیانتی کے الزام کو دُور نہیں کر سکی اور نہ قیامت تک کر سکتی ہے۔ کیا جھوٹا اور بددیانت شخص نبی ہو سکتا ہے؟ یہ قادیانی امت کے لیے سوچنے کا مقام ہے۔

شیخ سعدیؒ کے کلام سے سرقہ

شیخ سعدی شیرازی (1184ء تا 1292ء) شہرہ آفاق فارسی ادیب، شاعر، صوفی

صفحہ 193

اور مصنف گلستان و بوستان ہیں۔ ان کا ایک مشہور شعر ہے:

مکن تکیہ بر عمر نا پائیدار
مباش ایمن از بازی روزگار

مرزا قادیانی نے کمال صفائی سے اس شعر کو اپنے الہامات میں شامل کر لیا۔

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 638 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 750 پر)

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 640 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 751 پر)

اس کے علاوہ مرزا قادیانی نے فارسی کی مشہور ضرب الامثال کو اپنا الہام قرار دیا۔ مثلاً

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 434 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 752 پر)

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 104 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 753 پر)

عقل حیران ہے کہ خالق نے مخلوق کے کلام کو اپنا کلام بتا کر کیسے نازل کر دیا؟ شاعری کی اصطلاح میں ایسے کلام کو ادبی سرقہ کہتے ہیں۔ کیا قادیانیوں کے پاس اس کا کوئی جواب ہے؟ توقع ہے اس عمل کو توارد قرار دے کر وہ مزید علمی خیانت کے مرتکب نہیں ہوں گے کہ ”عذر گناہ بدتر از گناہ“ کی معنویت سے وہ بخوبی آگاہ ہیں۔

صفحہ 194

مرزا قادیانی کی اپنی تحریروں میں تحریف

پہلی تحریر

(252) ”انبیا گذشتہ کے کشوف نے اس بات پر قطعی مہر لگا دی کہ وہ چودھویں صدی کے سر پر پیدا ہوگا اور نیز یہ کہ پنجاب میں ہوگا۔“

(اربعین نمبر 2 صفحہ 23 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 755,754 پر)

دوسری تحریر

(253) ”اولیا گذشتہ کے کشوف نے اس بات پر قطعی مہر لگا دی کہ وہ چودھویں صدی کے سر پر پیدا ہوگا اور نیز یہ کہ پنجاب میں ہوگا۔“

(اربعین نمبر 2 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 371 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 756 پر)

مرزا قادیانی نے کتاب کے پہلے ایڈیشن میں لفظ ”انبیا“ استعمال کیا، بعد میں اسے تبدیل کر کے ”اولیا“ کر دیا۔ علاوہ ازیں یہ انبیا کرام اور اولیا کرام پر صریح بہتان ہے کہ انھیں کشف ہوا کہ مسیح موعود چودھویں صدی کے سر پر پیدا ہوگا اور پنجاب میں ہوگا۔

پہلی تحریر

(254) ”یا عبدالقادر انی معک اسمع واری غرست لک بیدی رحمتی وقدرتی و نجیناک من الغم و فتناک فتونا. لیاتینکم منی ھدی الا ان حزب اللہ ھم الغالبون. وما کان اللہ لیعذبھم وانت فیھم وما کان اللہ لیعذبھم وھم یستغفرون. (ترجمہ) اے عبدالقادر! میں تیرے ساتھ ہوں، سنتا ہوں اور دیکھتا ہوں۔ تیرے لیے میں نے رحمت اور قدرت کو اپنے ہاتھ سے لگایا، اور تجھ کو غم سے نجات دی اور تجھ کو خالص کیا، اور تجھ کو میری طرف سے مدد آئے گی۔ خبردار ہو کہ لشکر خدا ہی غالب ہوتا ہے۔ اور خدا ایسا

صفحہ 195

نہیں جو اُن کو عذاب پہنچاوے جب تک تُو ان کے درمیان ہے یا جب وہ استغفار کریں۔“

(براہین احمدیہ صفحہ 591، 592 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 613، 614 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 758,757 پر)

View Proof

دوسری تحریر

(255) ”یا عبدالقادر انی معک اسمع وارٰی غرست لک بیدی رحمتی و قدرتی۔ والقیت علیک محبۃ منی۔ ولتصنع علی عینی۔ کزرع اخرج شطاہ فاستغلظ فاستویٰ علی سوقہ۔ دیکھو براہین احمدیہ صفحہ 514 ترجمہ۔ اے قادر کے بندے! میں تیرے ساتھ ہوں۔ میں دیکھتا ہوں اور سنتا ہوں۔ میں نے اپنی محبت تیرے پر ڈال دی تاکہ تُو میری آنکھوں کے رو برو پرورش کیا جائے۔ تُو ایک بیج کی طرح ہے یعنی اکیلا ہے جس کی ابھی کوئی شاخ نہیں نکلی۔ صرف ایک سبزہ نکلا مگر بعد اس کے ایسا ہوگا کہ وہ سبزہ موٹا ہو جاوے گا اور اس کی شاخیں تنہ پر قائم ہوں گی اور وہ ایک بڑا درخت بن جاوے گا۔“

(نزول المسیح صفحہ 230 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 508 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 759 پر)

View Proof

پہلی تحریر

(256) ”وقالوا انیٰ لک ھذا ان ھذا الا سحر یوثر۔ لن نؤمن لک حتیٰ نری اللّٰہ جھرة۔ لا یصدق السفیہ الا سیفۃ الھلاک۔ عدوی و عدوک قل اتی امر اللّٰہ فلا تستعجلوہ۔ اذا جاء نصر اللّٰہ الست بربکم قالوا بلی۔ اور کہیں گے یہ تجھے کہاں سے حاصل ہوا۔ یہ تو ایک سحر ہے جو اختیار کیا جاتا ہے۔ ہم ہرگز نہیں مانیں گے جب تک خدا کو بچشم خود دیکھ نہ لیں۔ سفیہ بجز ضربۂ ہلاکت کے کسی چیز کو باور نہیں کرتا۔ میرا اور تیرا دشمن ہے۔ کہہ خدا کا امر آیا ہے سو تم جلدی مت کرو۔ جب خدا کی مدد آئے گی تو کہا جائے گا کہ کیا میں تمہارا خدا نہیں۔ کہیں گے کہ کیوں نہیں۔“

(براہین احمدیہ صفحہ 597، 598 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 619، 620 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 761,760 پر)

View Proof

صفحہ 196

دوسری تحریر

(257) ”وقالوا انی لک ھذا ان ھذا الاّ سحر یوثر۔ لن نؤمن لک حتّی نری اللّٰہ جھرة لا یصدق السفیہ الا سیفة الھلاک عدوّ لی و عدوّ لک۔ قل انی امر اللّٰہ فلا تستعجلوہ۔ دیکھو صفحہ 518 و 519 براہین احمدیہ۔ ترجمہ: اور کہتے ہیں کہ یہ مقام تجھے کہاں سے ملا، یہ تو ایک فریب ہے۔ ہم تیرے پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک خدا کو نہ دیکھ لیں۔ یہ لوگ تو بجز موت کے نشان کے کبھی مانیں گے نہیں۔ ان کو کہہ دے کہ مری یعنی طاعون بھی چلی آتی ہے سو تم مجھ سے جلدی مت کرو۔“

View Proof

(نزول المسیح صفحہ 132 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 510 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 762 پر)

پہلی تحریر

(258) ”پھر بعد اس کے فرمایا اِنَّا اَنْزَلْنَاهُ قَرِيبًا مِّنَ القادیان. وبالحق انزلناہ و بالحق نزل. صدق اللّٰہ ورسولہ و کان امر اللّٰہ مفعولا. یعنی ہم نے ان نشانوں اور عجائبات کو اور نیز اس الہام پُر از معارف وحقائق کو قادیان کے قریب اتارا ہے اور ضرورت حقہ کے ساتھ اتارا ہے اور بضرورت حقہ اترا ہے۔ خدا اور اس کے رسول نے خبر دی تھی کہ جو اپنے وقت پر پوری ہوئی اور جو کچھ خدا نے چاہا تھا وہ ہونا ہی تھا۔“

View Proof

(براہین احمدیہ صفحہ 571 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 593 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 763 پر)

دوسری تحریر

(259) ”قریباً بیس برس ہوئے کہ میں نے اپنی کتاب ”براہین احمدیہ“ میں خدا تعالیٰ کا یہ کلام جو میری زبان پر جاری کیا گیا لکھا تھا، یعنی یہ کہ انا انزلناہ قریباً من القادیان. وبالحق انزلناہ و بالحق نزل صدق اللّٰہ ورسولہ وکان امر اللّٰہ مفعولا۔ (دیکھو براہین احمدیہ صفحہ 498) یعنی ہم نے اس مسیح موعود کو قادیان میں اتارا ہے۔ اور وہ ضرورت

صفحہ 197

حقہ کے ساتھ اتارا گیا۔ اور ضرورت حقہ کے ساتھ اترا۔ خدا نے قرآن میں اور رسول نے حدیث میں جو کچھ فرمایا تھا وہ اس کے آنے سے پورا ہوا ۔“

(خطبہ الہامیہ صفحہ 20 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 20 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 764 پر)

پہلی تحریر

(260) ”وَلَنْ تَرْضٰى عَنْكَ الْيَهُوْدُ وَلَا النَّصٰارىٰ حَتّٰى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ وَخَرَقُوْا لَهُ بَنِيْنَ وَبَنَاتٍ بِغَيْرِ عِلْمٍ قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَد اَللّٰهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَّهُ كُفُوًا اَحَد۔“

(نزول المسیح صفحہ 149 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 527 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 765 پر)

دوسری تحریر

(261) ”ولن ترضى عنک اليهود ولا النصرى وخرقوا له بنين و بنات بغير علم۔ قل هو الله احد۔ الله الصمد لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا احد۔“

(براہین احمدیہ صفحہ 256 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 266 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 766 پر)

پہلی تحریر

(262) ”پھر بعد اس کے یہ الہام ہے: يَا عِيْسٰى اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَيَّ (مُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا) وَجَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا اِلٰى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ۔ اے عیسیٰ! میں تجھے کامل اجر بخشوں گا یا وفات دوں گا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا یعنی رفع درجات کروں گا یا دنیا سے اپنی طرف اٹھاؤں گا اور تیرے تابعین کو ان پر جو منکر ہیں قیامت تک غلبہ بخشوں گا یعنی تیرے ہم عقیدہ اور ہم مشربوں کو حجت اور برہان اور برکات کے رُو سے دوسرے لوگوں پر قیامت تک فائق رکھوں گا۔“

(براہین احمدیہ صفحہ 557، 558 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 ص 664، 665 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 767، 768 پر)

صفحہ 198

دوسری تحریر

متوفیک ورافعک الی و جاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیامۃ ثلۃ من الاولین و ثلۃ من الاخرین۔ یعنی اے عیسیٰ! میں تجھے طبعی وفات دوں گا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا اور تیرے تابعین کو ان لوگوں پر غلبہ بخشوں گا جو مخالف ہوں گے اور تیرے تابعین دو قسم کے ہوں گے پہلا گروہ اور پچھلا گروہ۔“

(سراج منیر صفحہ 41 مندرجہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 43 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 769 پر)

View Proof

تحریفات کے سلسلہ میں مرزا قادیانی کا اپنا ایک الہام خود اس پر صادق آتا ہے۔

(ترجمہ): اے بڑے خیانت کرنے والے، مرجا۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 601 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 770 پر)

View Proof

جبکہ مرزا قادیانی کا کہنا ہے:

ہوں۔ کوئی نہیں کہ جو اس کا مقابلہ کر سکے۔

نہیں کہ جو اس کا مقابلہ کر سکے۔“

(ضرورۃ الامام صفحہ 26 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 496, 497 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 771, 772 پر)

View Proof

قرآن مجید میں تحریف کرنے والا ملحد، بے ایمان، یہودی، سور اور بندر

صفحہ 199

ایک دوسرے سے الگ کر کے اور بعض فقرے اپنی طرف سے زائد کر کے کوئی امر ثابت کرنا چاہے اگر اسی بات کا نام ثبوت ہے تو کونسا امر ہے جو ثابت نہیں ہو سکتا۔ بلکہ ہر ایک ملحد اور بے ایمان اپنے مقاصد اسی طرح ثابت کر سکتا ہے۔ اس بات کو کون نہیں جانتا کہ ایک کتاب کے معنے اسی صورت میں اس کتاب کے معنے کہلاتے ہیں کہ جب اس کی ترتیب اور تعلقات فقرات اور سیاق و سباق محفوظ رکھ کر کیے جائیں۔ لیکن اگر اس کتاب کی ترکیب کو ہی زیر و زبر کیا جائے اور عبارت کے اعضا کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا جائے اور نہایت دلیری کر کے بعض فقرات اپنی طرف سے ملا دیئے جائیں تو پھر ایسی خود ساختہ عبارت سے اگر کوئی مُدعا ثابت کرنا چاہیں تو کیا یہ وہی یہودیانہ تحریف نہیں ہے جس کی وجہ سے قرآن کریم میں ایسے لوگ سؤر اور بندر کہلائے جنہوں نے اسی طرح توریت میں ملحدانہ کارروائیاں کی تھیں۔‘‘

(اتمام الحجۃ صفحہ 19 مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 291 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 773 پر)

View Proof

قرآن مجید میں تبدیلی کرنے والا ملحد اور کافر ہے

(267) ”ہم پختہ یقین کے ساتھ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن شریف خاتم کتب سماوی ہے اور ایک شوشہ یا نقطہ اس کی شرائع اور حدود اور احکام اور اوامر سے زیادہ نہیں ہو سکتا اور نہ کم ہو سکتا ہے اور اب کوئی ایسی وحی یا ایسا الہام منجانب اللہ نہیں ہو سکتا جو احکام فرقانی کی ترمیم یا تنسیخ یا کسی ایک حکم کے تبدیل یا تغیر کر سکتا ہو اگر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ ہمارے نزدیک جماعت مومنین سے خارج اور ملحد اور کافر ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام صفحہ 70 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 170 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 774 پر)

View Proof

کتابت کی غلطیاں

(268) ”ان کتبی مبرءة مما زعمت. ومنزهة عما ظننت. الا سهو الكاتبين. او زيغ القلم بتغافل منى لا كجهل الجاهلين. فان قدرت ان تثبت فيها عثارا فخذ منى بحذاء كل لفظ غلط دينارا. واجمع صريفا ونضارا. وكن من المتمولين.“ (عربی سے ترجمہ) ”میری کتابیں ایسی غلطیوں سے جیسا کہ تیرا خیال ہے، مبرا اور منزہ ہیں۔-

صفحہ 200

ہاں سہو کاتب کی غلطیاں یا لغزش قلم سے جو بے خبری میں ایک مؤلف سے بعض وقت صادر ہو جاتی ہیں، ان میں پائی جاسکتی ہیں۔ لیکن وہ ایسی غلطیاں نہیں جو ایک جاہل زبان سے صادر ہوتی ہیں۔ اگر تم کوئی ایسی غلطی بتا سکو تو میں ہر لفظی غلطی پر ایک دینار دوں گا۔ اس طرح تم سونے چاندی جمع کر کے مالدار بن سکتے ہو ۔‘‘

(انجام آتھم صفحہ 241، 242، روحانی خزائن جلد 11، صفحہ 241، 242) (عکس صفحہ نمبر 775، 776 پر)

(نوٹ : یہ ترجمہ قیوم شاہد قادیانی ایم اے کی کتاب ’’مہدی موعود کے علمی خزانے‘‘ مطبوعہ 1978ء کی کتاب سے لیا گیا ہے)

قارئین کرام: نہایت قابل غور بات یہ ہے کہ آنجہانی مرزا قادیانی نے تقریباً سو کے قریب کتب تصنیف کیں۔ 1880ء میں اس کی پہلی کتاب براہین احمدیہ شائع ہوئی جس میں اس نے ملہم اور مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ کیا۔ پھر باقاعدہ ایک منصوبے کے تحت مختلف دعاویٰ کر کے بالآخر 1901ء میں اس نے اپنے نبی اور رسول ہونے کا اعلان کردیا۔ 1908ء میں وہ مختلف عوارض کا شکار ہو کر نہایت عبرتناک موت سے ہمکنار ہوا۔ اس کی تمام تصانیف اس کی زندگی میں شائع ہوئیں اور اب تک مسلسل شائع ہورہی ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے قرآن مجید کی آیات میں جو تحریفات کیں، وہ بھی مسلسل شائع ہورہی ہیں۔ مسلمانوں کے شدید غم وغصہ اور مسلسل احتجاج کے نتیجہ میں قادیانی قیادت نے موجودہ ایڈیشنوں میں ان تحریف شدہ آیات میں تصحیح کردی ہے۔ لیکن بعض جگہ اب بھی بدستور قرآنی تحریفات موجود ہیں جو ان کے خبیث باطن کی بین دلیل ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کے دور سے لے کر اس کے مرنے کے بعد (تقریباً 90 سال) تک اس کی کتب میں تحریف قرآن مسلسل ہوتی رہی۔ آنجہانی مرزا قادیانی سمیت اس کے کسی بیٹے، خلیفہ یا مرید نے اس طرف توجہ نہیں دی۔ جبکہ مرزا قادیانی کا کہنا ہے کہ وہ اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا بلکہ وہی کچھ کہتا ہے جو اُسے اللہ تعالیٰ وحی کرتا ہے۔ اس سلسلہ میں مرزا قادیانی کی نام نہاد وحی ملاحظہ فرمائیں:

(تذکرہ مجموعہ وحی الہامات طبع چہارم ،ص 309، 321 از مرزا قادیانی)

صفحہ 201

مرزا قادیانی کا مزید کہنا ہے:

ترجمہ: تُو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے، ہم نے تیرا نام متوکل رکھا، اپنی طرف سے علم سکھلایا۔“

(ازالہ اوہام صفحہ 698 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 476 از مرزا قادیانی)

يعلم غيرى من المعاصرين.“ ترجمہ: ”اللہ نے مجھے پاک مقدس علوم نیز صاف و روشن معارف عطا کیے۔ اور وہ کچھ سکھایا جو میرے سوا کسی اور انسان کو اس زمانے میں معلوم نہ تھا۔“

(انجام آتھم صفحہ 75 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 75 از مرزا قادیانی)

رب کی طرف سے ایک کھلا نشان ہے تا کہ وہ لوگوں پر میرے علم اور میرے ادب کو ظاہر کرے...... مجھے یہ فخر بھی حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے چالیس ہزار مادہ عربی زبان کا سکھایا گیا ہے۔“

(انجام آتھم صفحہ 234 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 234 از مرزا قادیانی)

کے لیے ایک اور ہاتھ چل رہا ہے جس کو دنیا نہیں دیکھتی مگر میں دیکھ رہا ہوں۔ میرے اندر ایک آسمانی روح بول رہی ہے، جو میرے لفظ لفظ اور حرف حرف کو زندگی بخشتی ہے۔“

(ازالہ اوہام صفحہ 563 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 403 از مرزا قادیانی)

نہیں جس قدر علمی قوت کی ضرورت ہے کیونکہ شریعت پر ہر ایک قسم کے اعتراض کرنے والے ہوتے ہیں۔ طبابت کے رُو سے بھی، ہیئت کے رُو سے بھی، طبعی کے رو سے بھی، جغرافیہ کے رُو سے بھی اور کتب مسلمہ اسلام کے رُو سے بھی اور عقلی بنا پر بھی اور نقلی بنا پر بھی۔“

(ضرورۃ الامام صفحہ 10 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 480 از مرزا قادیانی)

جو خدا نے میرے منہ میں ڈالا ہے۔“

(پیغام صلح صفحہ 47 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 485 از مرزا قادیانی)

صفحہ 202

بارہا لکھتے لکھتے دیکھا ہے کہ ایک خدا کی رُوح ہے جو تیر رہی ہے۔ قلم تھک جایا کرتی ہے مگر اندر جوش نہیں تھکتا۔ طبیعت محسوس کیا کرتی ہے کہ ایک ایک حرف خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے۔“

(ملفوظات جلد دوم صفحہ 483 (طبع جدید) از مرزا قادیانی)

میرے ہاتھ سے جام پیئے گا جو مجھے دیا گیا ہے، وہ ہرگز نہیں مرے گا۔ وہ زندگی بخش باتیں جو میں کہتا ہوں۔ اور وہ حکمت جو میرے منہ سے نکلتی ہے اگر کوئی اور بھی اس کی مانند کہہ سکتا ہے تو سمجھو کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں آیا۔ لیکن اگر یہ حکمت اور معرفت جو مُردہ دلوں کے لیے آبِ حیات کا حکم رکھتی ہے، دوسری جگہ سے نہیں مل سکتی تو تمہارے پاس اس جرم کا کوئی عذر نہیں کہ تم نے اس سرچشمہ سے انکار کیا جو آسمان پر کھولا گیا۔“

(ازالہ اوہام صفحہ 3 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 104 از مرزا قادیانی)

اعجاز نمائی کو انشاء پردازی کے وقت بھی اپنی نسبت دیکھتا ہوں کیونکہ جب میں عربی میں یا اُردو میں کوئی عبارت لکھتا ہوں تو میں محسوس کرتا ہوں کہ کوئی اندر سے مجھے تعلیم دے رہا ہے۔“

(نزول المسیح صفحہ 56 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 434 از مرزا قادیانی)

(تذکرۃ الشہادتین صفحہ 79 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 79 از مرزا قادیانی)

يحفظنی من سبل الشياطين۔“ ترجمہ : ”اور اللہ تعالیٰ ایک پلک جھپکنے کے برابر بھی مجھے خطا پر قائم نہیں رہنے دیتا اور مجھے ہر ایک خطا سے محفوظ رکھتا ہے اور شیاطین کے راستوں سے میری حفاظت کرتا ہے۔“

(نور الحق صفحہ 86 مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 272 از مرزا قادیانی)

تفوهنا بہ يوما من الدهر۔“ ترجمہ: ”میں نے کسی کتاب میں کبھی کوئی چیز قرآن و حدیث کی تصریحات کے

صفحہ 203

خلاف نہیں لکھی۔“ (حمامۃ البشریٰ صفحہ 72 مندرجہ روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 285)

وما مسہا قلمی فی عمری۔“

ترجمہ: ”خدا جانتا ہے کہ میں جو کچھ کہتا ہوں، وہ وہی کہتا ہوں جو خدا تعالیٰ فرماتا ہے اور میں نے کوئی کبھی ایسا کلمہ تک نہیں کہا جو خلاف خداوند تعالیٰ ہو اور مخالفت خداوندی میرے قلم سے کبھی سرزد نہیں ہوئی۔“

(حمامۃ البشریٰ صفحہ 10 مندرجہ روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 186 از مرزا قادیانی)

ہوتی ہے اور اس کا ہاتھ خدا کا ہاتھ ہوتا ہے اور اگرچہ اس کو خاص طور پر الہام بھی نہ ہو تب بھی جو کچھ اس کی زبان پر جاری ہوتا ہے، وہ اس کی طرف سے نہیں بلکہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔“

(حقیقۃ الوحی صفحہ 16 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 18 از مرزا قادیانی)

حقائق اور معارف کے سمجھنے میں ہر ایک روح پر غلبہ دیا گیا ہے۔“

(سراج منیر صفحہ 39 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 41 از مرزا قادیانی)

نہیں سمجھتے، اور بغیر فرمائے کوئی دعویٰ نہیں کرتے۔ اور اپنی طرف سے کسی قسم کی دلیری نہیں کر سکتے۔“

(ازالہ اوہام صفحہ 197 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 197 از مرزا قادیانی)

اور ہر دم اور ہر لحظہ بلا فصل ملہم کے تمام قویٰ میں کام کرتی رہتی ہے۔“

(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 93 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 93 از مرزا قادیانی)

تعالیٰ کی طرف سے آئے گا یعنی علوم لدنیہ و آیات سماویہ کے ساتھ۔ اب بتلاویں کہ اگر یہ عاجز حق پر نہیں ہے تو پھر کون آیا جس نے اس چودھویں صدی کے سر پر مجدد ہونے کا ایسا دعویٰ کیا جیسا کہ اس عاجز نے کیا۔“

(ازالہ اوہام صفحہ 179 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 179 از مرزا قادیانی)

صفحہ 204

فروش نہیں ہوتے بلکہ وہ واقعی طور پر نائب رسول اللہ ﷺ اور روحانی طور پر آنجناب کے خلیفہ ہوتے ہیں۔ خدا تعالیٰ انھیں اُن تمام نعمتوں کا وارث بناتا ہے جو نبیوں اور رسولوں کو دی جاتی ہیں اور ان کی باتیں ازقبیل جوشیدن ہوتی ہیں نہ محض ازقبیل کوشیدن۔ اور وہ حال سے بولتے ہیں نہ مجرد قال سے۔ اور خدا تعالیٰ کے الہام کی تجلی ان کے دلوں پر ہوتی ہے اور وہ ہر ایک مشکل کے وقت روح القدس سے سکھلائے جاتے ہیں اور ان کی گفتار اور کردار میں دنیا پرستی کی ملونی نہیں ہوتی کیونکہ وہ بکلی مصفا کیے گئے اور تمام و کمال کھینچے گئے ہیں۔“

(فتح اسلام صفحہ 9 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 7 از مرزا قادیانی)

الی رحمۃ منه فاتبع ما یوحی...... وما کان لی ان اترک سبیله و اختار طرقا شتی. وکلما قلت قلت من امرہ. وما فعلت شيئا عن امری. وما افتريت علی ربی الاعلی وقد خاب من افتری.“

(ترجمہ) ”میں وہ مرد ہوں کہ خدا میرے ساتھ گفتگو کرتا ہے اور خزانہ خاص سے تعلیم دیتا ہے۔ اپنے ادب سے مجھ کو ادب سکھاتا ہے۔ اپنی رحمت سے مجھ پر وحی بھیجتا ہے۔ پس میں اس وحی کی پیروی کرتا ہوں اور مجھے کیا ہے کہ میں اس کی راہ کو چھوڑ دوں اور دوسرے راستے کو اختیار کروں اور جو میں نے کہا ہے اس کے حکم سے کہا ہے۔ میں از خود کوئی کام نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہیں باندھتا۔ ہلاک ہوا وہ جس نے افتراء کیا۔“

(مواہب الرحمٰن صفحہ 5 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 221 از مرزا قادیانی)

عصمت بھی فرقان مجید کے کامل تابعین کو بطور خارق عادت عطا ہوتی ہے۔ اور اس جگہ عصمت سے مراد ہماری یہ ہے کہ وہ ایسی نالائق اور مذموم عادات اور خیالات اور اخلاق اور افعال سے محفوظ رکھے جاتے ہیں جن میں دوسرے لوگ دن رات آلودہ اور ملوث نظر آتے ہیں۔ اور اگر کوئی لغزش بھی ہو جائے تو رحمت الٰہی جلدتر اُس کا تدارک کر لیتی ہے۔“

(براہین احمدیہ صفحہ 514 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 536 از مرزا قادیانی)

۞ ۞ ۞

PDF 205

ثبوت حاضر ہیں!

مرزا قادیانی

کی

پیش گوئیاں

(جو پوری نہ ہو سکیں)

PDF 206
صفحہ 207

قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے: فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ ذُوانْتِقَامٍ

(ابراہیم: 47)

ترجمہ: خدا تعالیٰ کو اپنے رسولوں کے ساتھ وعدہ خلافی کرنے والا گمان نہ کر، بے شک اللہ تعالیٰ غالب اور انتقام لینے والا ہے۔

اسی طرح توریت میں یہ حکم ہے:

اور اپنا کلام اس کے منہ ڈالوں گا اور جو کچھ میں اسے حکم دوں گا، وہی وہ ان سے کہے گا اور جو کوئی میری ان باتوں کو جن کو وہ میرا نام لے کر کہے گا نہ سنے تو میں ان کا حساب اس سے لوں گا۔ لیکن جو نبی گستاخ بن کر کوئی ایسی بات میرے نام سے کہے جس کے کہنے کا میں نے اس کو حکم نہیں دیا یا اور معبودوں کے نام سے کچھ کہے تو وہ نبی قتل کیا جائے۔“

(بائبل عہد نامہ قدیم، کتاب استثناء باب 18 فقرہ نمبر 18 تا 21)

جس طرح آگ کا کیڑا آگ میں خوش اور زندہ رہتا ہے۔ اس طرح قادیان کا جھوٹا مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی اپنے جھوٹ پر بہت خوش رہتا تھا۔ ”بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا!“ کے مصداق اسے ہر روز نت نئی پیش گوئیاں کرنے کا بہت شوق تھا۔ خواہ وہ پوری ہوں یا نہ ہوں۔ حالانکہ پیش گوئیوں کے سچا ہونے کے بارے میں خود مرزا قادیانی کا کہنا ہے:

صدق یا کذب جانچنے کا معیار

صفحہ 208

کوئی محک امتحان نہیں ہو سکتا۔“

(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 288 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 288 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 777 پر)

View Proof

اگر ایک بھی پیش گوئی جھوٹی نکلی

(270) ”اگر ثابت ہو کہ میری سو پیشگوئیوں میں سے ایک بھی جھوٹی نکلی ہو تو میں اقرار کروں گا کہ میں کاذب ہوں۔“

(اربعین نمبر 4 صفحہ 119 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 461 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 778 پر)

View Proof

تمام رسوائیوں سے بڑھ کر

(271) ”کسی انسان کا اپنی پیشگوئی میں جھوٹا نکلنا خود تمام رسوائیوں سے بڑھ کر رسوائی ہے۔“

(تریاق القلوب صفحہ 254 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 382 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 779 پر)

View Proof

مدعی کاذب کی پیش گوئی

(272) ”مدعی کاذب کی پیشگوئی ہرگز پوری نہیں ہوتی۔ یہی قرآن کی تعلیم ہے اور یہی توریت کی۔“

(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 326 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 326 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 780 پر)

View Proof

نبیوں کی پیشگوئیاں ٹلتی نہیں

(273) ”ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیشگوئیاں ٹل جائیں۔“

(کشتی نوح صفحہ 5 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 5 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 781 پر)

View Proof

صفحہ 209

توریت اور قرآن میں نبوت کا ثبوت

(274) ”توریت اور قرآن نے بڑا ثبوت نبوت کا صرف پیشگوئی کو قرار دیا ہے۔“

(استفتاء صفحہ 3 مندرجہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 111 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 782 پر)

اگر کوئی تلاش کرتا مر بھی جائے

(275) ”اور کوئی ایسی پیشگوئی میری نہیں ہے کہ وہ پوری نہیں ہوئی یا اس کے دو حصوں میں سے ایک حصہ پورا نہیں ہو چکا۔ اگر کوئی تلاش کرتا کرتا مر بھی جائے تو ایسی کوئی پیشگوئی جو میرے منہ سے نکلی ہو، اس کو نہیں ملے گی جس کی نسبت وہ کہہ سکتا ہو کہ خالی گئی۔ مگر بے شرمی سے یا بیخبری سے جو چاہے کہے اور میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ ہزارہا میری ایسی کھلی کھلی پیشگوئیاں ہیں جو نہایت صفائی سے پوری ہو گئیں۔“

(کشتی نوح صفحہ 8 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 6 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 783 پر)

(276)

پیش گوئی کا جب انجام ہویدا ہوگا

”پیشگوئی کا جب انجام ہویدا ہوگا
قدرتِ حق کا عجب ایک تماشا ہوگا
جھوٹ اور سچ میں جو ہے فرق وہ پیدا ہوگا
کوئی پا جائے گا عزت کوئی رسوا ہوگا“

(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 281 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 281 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 784 پر)

غلط بیانی اور بہتان طرازی راست بازوں کا کام نہیں

(277) ”غلط بیانی اور بہتان طرازی راست بازوں کا کام نہیں بلکہ نہایت شریر اور بد ذات آدمیوں کا کام ہے۔“

(آریہ دھرم صفحہ 13 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 13 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 785 پر)

صفحہ 210

کاذب کی پیشگوئی ہرگز پوری نہیں ہوتی

(278) ”خدا تعالیٰ صاف فرماتا ہے کہ ان اللہ لا یہدی من ہو مسرف کذاب. سوچ کر دیکھو کہ اس کے یہی معنی ہیں، جو شخص اپنے دعویٰ میں کاذب ہو، اس کی پیشین گوئی ہرگز پوری نہیں ہوتی۔“

(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 322، 323 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 322، 323 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 787,786 پر)

اہم نکات

مرزا قادیانی کی مذکورہ بالا تحریروں سے مندرجہ ذیل نتیجہ اخذ ہوتا ہے:

کوئی پیمانہ نہیں۔

ثابت ہو جائے تو وہ جھوٹا اور کاذب ہے۔

رسوائیوں سے بڑھ کر رسوائی ہے۔

اور توریت کی یہی تعلیم ہے۔

ہونے کو قرار دیا ہے۔

میں سے ایک حصہ پورا نہیں ہوا۔ اگر کوئی شخص اسے تلاش کرتا کرتا مر بھی جائے تو ایسی کوئی پیشگوئی جو اس کے منہ سے نکلی ہو، اس کو نہیں ملے گی جس کی نسبت وہ کہہ سکتا ہو کہ پیش گوئی پوری نہیں ہوئی۔

صفحہ 211

صفائی سے پوری ہو گئیں۔

قارئین کرام: آئیے دیکھتے ہیں، مرزا قادیانی کے مذکورہ بالا ”فرمودات“ کی روشنی میں اس کی چند اہم پیش گوئیوں کا انجام۔

پہلی پیش گوئی

خواتین مبارکہ

آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی کی پہلی شادی اس کے ماموں مرزا جمعیت بیگ کی بیٹی حرمت بی بی سے 1852ء میں ہوئی جس سے دو بیٹے مرزا سلطان احمد اور مرزا فضل احمد پیدا ہوئے۔ جب مرزا قادیانی کا حرمت بی بی سے دل بھر گیا تو اس نے دہلی کی ایک آزاد خیال فیملی سے تعلق رکھنے والی نصرت جہاں سے 17 نومبر 1884ء کو دوسری شادی رچا لی۔ قادیانی نصرت جہاں کو ”ام المومنین“ (نعوذ باللہ) کا درجہ دیتے ہیں جبکہ مرزا قادیانی کی پہلی بیوی کو حقارت سے اس کے بیٹے فضل احمد کے حوالہ سے ”فجے دی ماں“ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ نصرت جہاں کے بیٹے مرزا بشیر احمد ایم اے (جسے مرزا قادیانی نے ”قمر الانبیا“ کا خطاب دیا) نے اپنے والد مرزا قادیانی کے حالات زندگی پر مشتمل ایک کتاب ”سیرت المہدی“ لکھی۔ قادیانیوں کے نزدیک یہ کتاب بڑی اہم اور مستند ہے۔ اس کتاب میں مرزا بشیر احمد اپنی والدہ نصرت جہاں کے حوالہ سے لکھتا ہے کہ ایک دفعہ مجھے میری والدہ نے بتایا کہ تمہارے ابا (مرزا قادیانی) نے اپنی پہلی بیوی حرمت بی بی سے مباشرت ترک کر دی تھی اور اسے کہا تھا کہ اب میں نے دوسری شادی کر لی ہے۔ اب تم طلاق لے لو یا مجھے وظیفہ زوجیت ادا کرنے کے حقوق معاف کر دو۔ اس بے چاری نے بڑی سادگی سے جواب دیا کہ اب میں طلاق لے کر کیا کروں گی۔ البتہ میں آپ کو اپنے حقوق زوجیت معاف کرتی ہوں۔ مرزا بشیر احمد اپنی والدہ کے حوالہ سے مزید لکھتا ہے کہ پھر واقعی ایسا ہی ہوا۔ یعنی تمہارے ابا عمر بھر حرمت بی بی کے پاس مباشرت کے لیے نہیں گئے۔ (سیرت المہدی جلد اول صفحہ 33، از مرزا بشیر احمد)

صفحہ 212

قارئین کرام! ان ہوشربا واقعات پر بحث پھر کبھی سہی۔ ہم اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ نصرت جہاں سے شادی کے بعد مرزا قادیانی نے مالک ارض و سما اللہ تعالیٰ کے حوالہ سے مندرجہ ذیل الہام بیان کیا:

(279) ”پھر خدائے کریم جل شانہٗ نے مجھے بشارت دے کر کہا کہ تیرا گھر برکت سے بھرے گا اور میں اپنی نعمتیں تجھ پر پوری کروں گا، اور خواتین مبارکہ سے جن میں سے تو بعض کو اس کے بعد پائے گا، تیری نسل بہت ہوگی اور میں تیری ذریت کو بہت بڑھاؤں گا اور برکت دوں گا۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 111 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 788 پر)

مرزا قادیانی نے مزید کہا:

(280) ”اس عاجز نے 20 فروری 1886ء کے اشتہار میں یہ پیشگوئی خدا تعالیٰ کی طرف سے بیان کی تھی کہ اس نے مجھے بشارت دی ہے کہ بعض بابرکت عورتیں اس اشتہار کے بعد بھی تیرے نکاح میں آئیں گی اور ان سے اولاد پیدا ہوگی۔“

(مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 113 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 789 پر)

لیکن افسوس! مرزا قادیانی کے نکاح میں کوئی خواتین مبارکہ یا بابرکت عورتیں نہیں آئیں۔ قادیانی کہتے ہیں کہ اس سے مراد محمدی بیگم ہے۔ لیکن وہ یہ نہیں سوچتے کہ یہ پیش گوئی 1886ء کی ہے جبکہ محمدی بیگم کا مسئلہ کئی سال بعد شروع ہوا تھا اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا محمدی بیگم آخر تک مرزا قادیانی کے نکاح میں آئی؟ پھر یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اکیلی محمدی بیگم، خواتین مبارکہ ہو سکتی ہے؟ سو مرزا قادیانی کی یہ پیش گوئی بھی جھوٹی ثابت ہوئی۔ حالانکہ مرزا قادیانی نے اس پیش گوئی میں واضح طور پر کہا تھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے بشارت دی ہے۔ آپ خود سوچئے! جو شخص اللہ تعالیٰ پر بہتان لگائے، وہ کتنا بڑا جھوٹا، کذاب اور دجال ہوگا۔

مرزا قادیانی نے کہا تھا:

(281) ”کیا اس کے سوا کسی اور چیز کا نام ذلت ہے کہ جو کچھ اس نے کہا، وہ پورا نہ ہوا۔“

(انجام آتھم صفحہ 27 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 311 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 790 پر)

صفحہ 213

دوسری پیش گوئی

موت مکہ میں ہوگی یا مدینہ میں

مرزا قادیانی نے اپنے ایک خدائی الہام میں اپنی موت کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا: (282) ”ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں۔“ (تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 503 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 791 پر)

ہر مسلمان اپنے دل میں یہ شدید خواہش رکھتا ہے کہ اسے زندگی میں کم از کم ایک مرتبہ حج یا عمرہ کی صورت میں مکہ مکرمہ یا مدینہ طیبہ کی زیارت نصیب ہو جائے اور پھر اس سے بڑھ کر اس کی یہ بھی خواہش ہوتی ہے کہ اسے ان مقدس شہروں میں موت کی سعادت حاصل ہو جائے۔ حضرت عمر فاروقؓ کی یہ دعا بہت مشہور ہے کہ ”اے اللہ! مجھے اپنے راستہ میں شہادت عطا فرما اور اپنے رسولؐ کے شہر میں موت عطا فرما۔“ حضرت ابن عمرؓ، حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی نقل کرتے ہیں کہ ”جو شخص اس کی طاقت رکھتا ہو کہ مدینہ طیبہ میں مرے، اسے چاہیے کہ وہیں مرے، اس لیے کہ میں اس شخص کا سفارشی ہوں گا جو مدینہ میں مرے گا۔“ دوسری حدیث میں ہے کہ ”میں اس کا گواہ ہوں گا۔“ علمائے کرام نے لکھا ہے کہ اس شفاعت سے مراد خاص قسم کی شفاعت ہے۔ ایک اور حدیث مبارکہ میں حضور خاتم النبیین ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ ”قیامت میں سب سے پہلے میری قبر شق ہوگی، میں اس میں سے نکلوں گا پھر ابوبکرؓ اپنی قبر سے نکلیں گے پھر عمرؓ۔ پھر میں جنت البقیع میں جاؤں گا اور وہاں جتنے مدفون ہیں، ان سب کو اپنے ساتھ لوں گا۔ پھر مکہ مکرمہ کے قبرستان والوں کا انتظار کروں گا، وہ مکہ اور مدینہ کے درمیان آ کر مجھ سے ملیں گے۔“

آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی جھوٹا مدعی نبوت تھا۔ اس نے پیش گوئی کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا ہے کہ اے مرزا قادیانی تو مکہ میں مرے گا یا مدینہ میں۔ یعنی (نعوذ باللہ) مرزا قادیانی کے خدا کو بھی صحیح طرح معلوم نہ تھا کہ مرزا قادیانی مکہ میں مرے گا یا مدینہ میں؟ مرزا قادیانی کی یہ پیش گوئی سراسر غلط اور عبرتناک ثابت ہوئی۔ مرزا قادیانی برانڈرتھ روڈ لاہور کی احمدیہ بلڈنگ میں 26 مئی 1908ء کو مرا اور لاش ریل گاڑی پر

صفحہ 214

قادیان بھجوائی گئی۔ جب مرزا قادیانی کی لاش لاہور ریلوے اسٹیشن لے جانے کے لیے احمدیہ بلڈنگ سے باہر نکالی گئی تو زندہ دلان لاہور نے اس کا بڑا ”شاندار استقبال“ کیا۔ یعنی راستے بھر مرزا قادیانی کے جنازے پر اس قدر غلاظتیں اور پاخانے پھینکے گئے کہ اس کی لاش بڑی مشکل سے ریلوے سٹیشن تک پہنچ سکی۔

مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ میں موت تو درکنار مرزا قادیانی کو ساری زندگی ان مقدس مقامات میں قدم رکھنے کی توفیق تک نہ ہوئی۔ جب کبھی مرزا قادیانی سے پوچھا جاتا کہ آپ حج کرنے کیوں نہیں جاتے؟ تو مرزا قادیانی طرح طرح کی تاویلات کرتا۔ کبھی کہتا کہ صحت ٹھیک نہیں ہے (جبکہ محمدی بیگم سے شادی کرنے کے لیے آخر عمر تک سر توڑ کوشش کرتا رہا) کبھی کہا گیا کہ اس کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے (جبکہ مخالفین کو 10، 10 ہزار روپے کا چیلنج دیتا) کبھی کہتا کہ میری جان کو خطرہ ہے (درآں حالیکہ اس کا کہنا تھا خدا کے مرسلین کسی سے نہیں ڈرا کرتے) سچی بات یہ ہے اللہ تعالیٰ کو منظور ہی نہ تھا کہ مرزا قادیانی حرمین شریفین کی حدود میں داخل ہو۔ حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ”جس شخص کے پاس اتنا خرچہ ہو اور سواری کا انتظام ہو کہ بیت اللہ شریف جاسکے اور پھر حج نہ کرے تو کوئی فرق نہیں اس بات میں کہ وہ یہودی ہو کر مر جائے یا نصرانی ہو کر۔“ اب اس کا فیصلہ قادیانی خود کریں کہ باوجود وسائل ہونے کے مرزا قادیانی نے حج نہیں کیا، لہٰذا وہ کس حیثیت سے مرا؟

قادیانیوں کا اس پیش گوئی کے متعلق یہ کہنا کہ اس سے مراد مکی فتح یا مدنی فتح ہوگی، کائنات کا سب سے بڑا دجل اور جھوٹ ہے۔ دنیا کی کسی لغت میں موت کا معنی فتح نہیں ہے۔ اگر موت کا معنی فتح ہے تو سب قادیانی زہر کھا کر مر جائیں تاکہ سب کی فتح ہو جائے۔ بہرحال مرزا قادیانی کی پیش گوئی کے برعکس اس کی موت لاہور میں اور قبر قادیان میں ...... اس کے جھوٹا ہونے کی ایک ایسی ناقابل تردید شہادت ہے جو ہمیشہ قادیانیوں کو ذلت و رسوائی سے دوچار کرتی رہے گی۔ باقی رہا قادیانیوں کا بے تکی تاویلات کرنا، تو اس سلسلہ میں مرزا قادیانی کا کہنا ہے:

(283) ”اگر ان تمام الفاظ کی تاویل کی جائے گی تو پھر پیشگوئی کچھ بھی نہ رہے گی بلکہ مخالف کے نزدیک ایک باعث تمسخر ہوگا کیونکہ پیشگوئی کی تمام شوکت اور اس کا اثر اپنے ظاہر

صفحہ 215

الفاظ کے ساتھ ہوتا ہے اور پیشگوئی کرنے والے کا مقصود یہ ہوتا ہے کہ لوگ ان علامتوں کو یاد رکھیں اور انہی کو مدعی صادق کا معیار ٹھہرائیں۔ مگر تاویل میں تو وہ سارے نشان مقرر کردہ گم ہو جاتے ہیں اور یہ امر مقبول اور مسلم ہے کہ نصوص کو ہمیشہ ان کے ظاہر پر حمل کرنا چاہیے اور ہر ایک لفظ کی تاویل مخالف کو تسکین نہیں دے سکتی کیونکہ اس طرح تو کوئی مقدمہ فیصلہ ہی نہیں ہوسکتا۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ صفحہ 75 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 161 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 792 پر)

قادیانی حضرات اپنے ”مسیح موعود“ کے مقرر کردہ صرف اس ایک نہایت معقول معیار ہی کو مدنظر رکھ لیں تو قبول اسلام کے سوا ان کے پاس کوئی آپشن نہیں رہے گی کہ مرزا قادیانی کی پیش گوئیوں کے ”عظیم الشان“ ڈھیر میں ایک بھی پیش گوئی ایسی نہیں ہے جسے تاویل کی سان پر نہ چڑھایا گیا ہو۔

تیسری پیش گوئی

مرزا قادیانی کی عمر

مرزا قادیانی کو اپنی عمر کے بارے میں الہام ہوا:

(284) ”تَرٰی نَسْلًا بَعِیْدًا وَلَنُحْیِیَنَّکَ حَیٰوۃً طَیِّبَۃً. ثَمَانِیْنَ حَوْلًا اَوْ قَرِیْبًا مِّنْ ذٰلِکَ اَوْ تَزِیْدُ عَلَیْهِ سِنِیْنًا. وَکَانَ وَعْدُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا.“

ترجمہ: تو دور کی نسل بھی دیکھے گا اور ہم تجھے خوش زندگی عطا کریں گے۔ اسی سال یا اس کے قریب یا اس سے چند سال زیادہ۔ اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا۔‘‘

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 301 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 793 پر)

مرزا قادیانی نے مزید کہا:

(285) ”خدا تعالیٰ نے مجھے صریح لفظوں میں اطلاع دی تھی کہ تیری عمر اسی برس کی ہوگی اور یا یہ کہ پانچ چھ سال زیادہ یا پانچ چھ سال کم ۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 97 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 258 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 794 پر)

صفحہ 216

(286) ”خدا نے مسیح کو وعدہ دیا کہ میں تجھے صلیب سے بچاؤں گا اور اپنی طرف تیرا رفع کروں گا، جیسا کہ ابراہیمؑ اور دوسرے پاک نبیوں کا رفع ہوا۔ سو اس طرح ان لوگوں کے منصوبوں کے برخلاف خدا نے مجھے وعدہ دیا کہ میں اسی برس یا دو تین برس کم یا زیادہ تیری عمر کروں گا تا لوگ کچی عمر سے کاذب ہونے کا نتیجہ نہ نکال سکیں۔“

(تحفہ گولڑویہ بقیہ حاشیہ صفحہ 8 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 44 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 795 پر)

View Proof

مرزا قادیانی اپنے خدائی الہام میں کہتا ہے: (287) ”ہم تجھے ایک پاک اور آرام کی زندگی عنایت کریں گے۔ اسی برس یا اس کے قریب قریب یعنی دو چار برس کم یا زیادہ۔ اور تو ایک دُور کی نسل دیکھے گا۔“

(تحفہ گولڑویہ صفحہ 33 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 69 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 796 پر)

View Proof

مرزا قادیانی ایک سوال کے جواب میں کہتا ہے: (288) ”مشیر اعلیٰ: کیا جناب کو یہ بھی اطلاع دی گئی ہے کہ آپ کی عمر کتنی ہو گی؟ حضرت اقدس: ہاں عمر کے متعلق مجھے الہاماً یہ بتایا گیا تھا کہ وہ اسی کے قریب ہوگی۔ اور حال میں ایک رؤیا کے ذریعہ یہ بھی معلوم ہوا کہ 15 سال اور بڑھانے کے واسطے دعا کی ہے۔“ View Proof

(ملفوظات جلد سوم صفحہ 537، 538 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 797، 798 پر)

مرزا قادیانی کو محمدی بیگم کا وصل نصیب ہوا نہ عمر میں Extension ہی عطا ہوئی۔ بس Tension ہی اس کا مقدر رہی۔

مرزا قادیانی اپنی کتاب میں لکھتا ہے: (289) ”اب جس شخص کی زندگی کا یہ حال ہے کہ ہر روز موت کا سامنا اس کے لیے موجود ہوتا ہے اور ایسے مریضوں کے انجام کی نظیریں بھی موجود ہیں تو وہ ایسی خطرناک حالت کے ساتھ کیونکر افترا پر جرأت کر سکتا ہے اور وہ کس صحت کے بھروسے پر کہتا ہے کہ میری اسی برس

صفحہ 217

کی عمر ہو گی۔ حالانکہ ڈاکٹری تجارب تو اس کو موت کے پنجہ میں ہر وقت پھنسا ہوا خیال کرتے ہیں۔ ایسی مرضوں والے مدقوق کی طرح گداز ہو کر جلد مر جاتے ہیں یا کاربنکل یعنی سرطان سے ان کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔“

(اربعین نمبر 4 صفحہ 129 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 471 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 799 پر)

(290) ”اس جگہ یہ مسئلہ بھی حل ہوا کہ آنحضرت ﷺ کو قرآن کی تکمیل تک جو تئیس برس کی مدت تھی، مہلت ملنا اور مخالفانہ کوششوں سے جو ہلاک کرنے کے لیے تھیں، محفوظ رہنا اور زندگی پوری کر کے خدا کے حکم کے ساتھ جانا جیسا کہ میرے لیے بھی اسی برس کی زندگی کی پیشگوئی ہے جب تک میں سب کچھ پورا کر لوں۔“

(تحفۃ الندوہ صفحہ 5 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 93 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 800 پر)

مرزا قادیانی کے مذکورہ بالا الہامات اور وحیوں سے واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ بقول مرزا قادیانی، اللہ تعالیٰ نے اس سے وعدہ کیا اور الہاماً بتایا تھا کہ اس کی عمر 80 سال یا دو تین سال کم یا زیادہ ہوگی۔ اس بنا پر مرزا قادیانی نے پیش گوئی کر دی کہ اس کی عمر 80 سال کے قریب ہوگی۔ مرزا قادیانی کی اس پیش گوئی کو سچا یا جھوٹا جانچنے کے لیے بڑا آسان فارمولا ہے کہ مرزا قادیانی کی تاریخ پیدائش اور تاریخ وفات دیکھ لی جائے۔ زیادہ لمبی چوڑی بحث کی ضرورت نہیں۔ مسلمانوں اور قادیانیوں میں اس بات پر کوئی اختلاف نہیں کہ مرزا قادیانی 26 مئی 1908ء کو آنجہانی ہوا۔ اب صرف یہ معلوم کرنا باقی ہے کہ مرزا قادیانی کس سال میں پیدا ہوا؟ اس کا فیصلہ خود مرزا قادیانی کی اپنی تحریروں سے کر لیتے ہیں۔ مرزا قادیانی اپنے سوانح میں لکھتا ہے:

(291) ”میرے ذاتی سوانح یہ ہیں کہ میری پیدائش 1839ء یا 1840ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی ہے اور میں 1857ء میں سولہ برس کا یا سترھویں برس میں تھا۔“

(کتاب البریہ صفحہ 159 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 177 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 801 پر)

801 پر)

صفحہ 218

یہ مرزا قادیانی کی اپنی واضح تحریر ہے۔ اس میں کہیں بھی کوئی ایسی مشکل بات نہیں جس کی تاویل کی جا سکے۔ مرزا قادیانی نے صریح اور صاف لفظوں میں لکھا ہے کہ اس کی پیدائش 1839ء یا 1840ء میں ہوئی۔ اس بات کی مزید تصدیق خود اس کے اپنے دوسرے بیان سے بھی ہوتی ہے کہ جب اس کا والد مرزا غلام مرتضیٰ فوت ہوا تو مرزا قادیانی کی عمر 34، 35 سال تھی۔

مرزا قادیانی لکھتا ہے:

انتقال ہوا۔“

(کتاب البریہ صفحہ 174 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 192 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 802 پر)

مرزا غلام مرتضیٰ کا انتقال 1874ء میں ہوا۔ اس کا اقرار مرزا قادیانی نے اپنی کتاب ”نزول المسیح“ کے صفحہ 116 پر کیا ہے۔

(نزول المسیح صفحہ 116 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 494 از مرزا قادیانی)

مرزا قادیانی کا سال ولادت 1839ء یا 1840ء تھا اور سال وفات 1908ء۔ قارئین کرام! آپ خود حساب کر لیں کہ مرزا قادیانی نے کتنی عمر پائی تھی؟ اگر سال ولادت 1839ء تسلیم کیا جائے تو کل عمر 69 سال بنتی ہے اور اگر 1840ء مان لیا جائے تو کل عمر 68 سال بنتی ہے۔ لہٰذا الہامی دعوؤں، خدائی وحیوں اور بشارتوں کے باوجود مرزا قادیانی کی عمر 80 سال کے قریب نہ ہوئی اور اس کی پیش گوئی جھوٹی ثابت ہوئی۔

جبکہ مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ اللہ نے اُسے الہام کیا ہے:

(ترجمہ) برکت دی اللہ نے تیرے الہام میں اور تیری وحی میں اور تیری رؤیا میں۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات طبع چہارم صفحہ 569 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 803 پر)

صفحہ 219

اسی سلسلہ میں ایک اور حوالہ ملاحظہ فرمائیں۔ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب میں لکھا:

(294) ”یعنی اُس روز سے جو وہ امام ملہم ہو کر اپنے تئیں ظاہر کرے گا چالیس برس تک

زندگی کرے گا۔ اب واضح رہے کہ یہ عاجز اپنی عمر کے چالیسویں برس میں دعوتِ حق کے لیے بالہام خاص مامور کیا گیا اور بشارت دی گئی کہ اسی برس تک یا اس کے قریب تیری عمر ہے سو اس الہام سے چالیس برس تک دعوت ثابت ہوتی ہے جن میں سے دس برس کامل گزر بھی گئے ۔“ (نشان آسمانی صفحہ 14 مندرجہ روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 374 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 804 پر)

مرزا قادیانی کا کہنا ہے کہ اسے قدرت نے دعوت حق کے لیے خاص طور پر مامور کیا اور ایک خاص الہام کے ذریعے بشارت دی گئی کہ تیری عمر 80 سال یا اس کے قریب ہو گی۔ بقول مرزا قادیانی اس الہام سے 40 سال تک دعوتِ حق دینا بھی ثابت ہوتا ہے۔ دعوت کے 10 سال گزر گئے ہیں۔ باقی 30 سال رہ گئے ہیں۔ مرزا قادیانی نے 1892ء میں یہ کتاب تحریر کی۔ اس وقت اس کی عمر 50 سال تھی۔ گویا دعوت حق کے لیے اُسے مزید 30 سال زندہ رہنا تھا۔ اس لحاظ سے مرزا قادیانی کی وفات 1922ء کے قریب ہونی چاہیے تھی مگر وہ اپنی الہامی تحریر کے صرف 14 سال بعد ہی 1908ء میں جہنم واصل ہو گیا اور اس طرح اس کی عمر 80 سال پوری نہ ہوئی اور یہ پیش گوئی جھوٹی ثابت ہوئی۔

چوتھی پیش گوئی

9 نام والا لڑکا

جھوٹے مدعی نبوت مرزا قادیانی کا ایک نام نہاد ”صحابی“ میاں منظور محمد، قادیان کی ایک مشہور و معروف شخصیت تھا۔ اس کی اہلیہ کا نام محمدی بیگم تھا۔ (یہ وہ محمدی بیگم نہیں تھی جس کے عشق میں مرزا قادیانی گرفتار ہوا تھا) اس کی دو لڑکیاں تھیں، حامدہ بیگم اور صالحہ بیگم۔ حامدہ بیگم کا نکاح سردار کرم داد خاں سے ہوا جبکہ صالحہ بیگم کا نکاح مرزا قادیانی کے سالے، مرزا بشیر الدین محمود کے ماموں اور نصرت بیگم کے بھائی میر محمد اسحاق سے ہوا۔ میاں منظور محمد کی اہلیہ

صفحہ 220

محمدی بیگم اپنی پہلی بیٹی حامدہ بیگم کی پیدائش کے کچھ عرصہ بعد 1906ء میں جب دوبارہ حاملہ ہوئی تو اس کی خبر مرزا قادیانی کو کسی طریقے سے ہو گئی۔ مرزا قادیانی کی یہ عادت تھی کہ خواہ اس کا اپنا گھر ہو یا کسی مرید کا، اگر اُسے یہ پتہ چل جاتا کہ کوئی خاتون حاملہ ہے تو وہ فوراً لڑکا ہونے کی پیش گوئی داغ دیتا۔ مگر جب لڑکے کی بجائے لڑکی پیدا ہو جاتی تو مختلف تاویلات کا سہارا لے کر اپنی شرمندگی مٹانے کی کوشش کرتا۔ اس قسم کی پیش گوئی مرزا قادیانی نے اپنے مرید میاں منظور کے ہاں بیٹا پیدا ہونے کے متعلق کی۔ مرزا قادیانی نے اپنا الہام بیان کرتے ہوئے کہا:

دریافت کرتے ہیں کہ اس لڑکے کا کیا نام رکھا جائے۔ تب خواب سے حالت الہام کی طرف چلی گئی اور یہ معلوم ہوا:

”بشیر الدولہ“

فرمایا: کئی آدمیوں کے واسطے دعا کی جاتی ہے معلوم نہیں کہ منظور محمد کے لفظ سے کس کی طرف اشارہ ہے۔ ممکن ہے کہ بشیر الدولہ کے لفظ سے یہ مراد ہو کہ ایسا لڑکا میاں منظور محمد کے پیدا ہوگا، جس کا پیدا ہونا موجب خوشحالی اور دولتمندی ہو جائے۔ اور یہ بھی قرین قیاس ہے کہ وہ لڑکا خود اقبال مند اور صاحب دولت ہو۔ لیکن ہم نہیں کہہ سکتے کہ کب اور کس وقت یہ لڑکا پیدا ہوگا۔ خدا نے کوئی وقت ظاہر نہیں فرمایا۔ ممکن ہے کہ جلد ہو، یا خدا اس میں کئی برس کی تاخیر ڈال دے۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 510، 511 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 806، 805 پر)

ساڑھے تین ماہ بعد ”الہام“ لڑکے کے دو نام

تقریباً ساڑھے تین ماہ بعد مرزا قادیانی نے منظور محمد اور ان کی اہلیہ محمدی بیگم کا نام لے کر کہا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا ہے کہ پیدا ہونے والے لڑکے کا ایک نام نہیں بلکہ دو نام ہوں گے۔ چنانچہ مرزا قادیانی لکھتا ہے:

میں یعنی محمدی بیگم کا ایک لڑکا پیدا ہوگا، جس کے دو نام ہوں گے۔

صفحہ 221

(1) بشیر الدولہ (2) عالم کباب

”یہ ہر دو نام بذریعہ الہام الہی معلوم ہوئے اور ان کی تعبیر اور تفہیم یہ ہے:

ہوگا۔ اس کے پیدا ہونے کے بعد یا اس کی ہوش سنبھالنے کے بعد زلزلہ عظیمہ کی پیشگوئی اور دوسری پیشگوئیاں ظہور میں آئیں گی، اور گروہ کثیر مخلوقات کا ہماری طرف رجوع کرے گا۔ اور عظیم الشان فتح ظہور میں آئے گی۔

کہ وہ اپنی برائی بھلائی شناخت کرے، دنیا پر ایک سخت تباہی آئے گی۔ گویا دنیا کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اس وجہ سے اس لڑکے کا نام عالم کباب رکھا گیا۔ غرض وہ لڑکا اس لحاظ سے کہ ہماری دولت اور اقبال کی ترقی کے لیے ایک نشان ہوگا۔ بشیر الدولہ کہلائے گا اور اس لحاظ سے کہ مخالفوں کے لیے قیامت کا نمونہ ہوگا، عالم کباب کے نام سے موسوم ہوگا۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 533، 534 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 807، 808 پر)

اسی دن پھر ”الہام“ لڑکے کے چار نام

اسی دن اور اسی تاریخ کو مرزا قادیانی کو تازہ الہام ہوتا ہے کہ اس پیدا ہونے والے بچے کے دو نام نہیں بلکہ 4 نام ہوں گے۔ مزید یہ بھی کہا کہ جب تک ان چار ناموں والا لڑکا میاں منظور محمد کے نطفہ سے محمدی بیگم کے بطن سے حامدہ بیگم اور صالحہ بیگم کا بھائی پیدا نہیں ہوگا، اس وقت تک میاں منظور کی اہلیہ محمدی بیگم ضرور زندہ رہے گی۔

ایک شادی خان کیونکہ وہ اس جماعت کے لیے شادی کا موجب ہوگا۔ (2) دوسرے کلمتہ اللہ خان کیونکہ وہ خدا کا کلمہ ہوگا۔ جو ابتدا سے مقرر تھا، اس زمانہ میں پورا ہو جائے گا اور ضرور ہے کہ خدا اس لڑکے کی والدہ کو زندہ رکھے، جب تک یہ پیشگوئی پوری ہو اور گذشتہ الہام ’اے ورڈ اینڈ ٹو گرلز‘ اسی پیشگوئی کو بیان کرتا ہے جس کے معنی ہیں، ایک کلمہ اور دو لڑکیاں۔ کیونکہ میاں منظور محمد کی دو لڑکیاں

صفحہ 222

ہیں اور جب کلمتہ اللہ پیدا ہوگا، تب یہ بات پوری ہو جائے گی۔ ایک کلمہ اور دو لڑکیاں۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 534 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 809 پر)

View Proof

گیارہ دن بعد پھر الہام کہ لڑکے کے 9 نام

صرف گیارہ دن بعد مرزا قادیانی پھر لکھتا ہے کہ اب الہام ہوا ہے کہ میاں منظور محمد کے ہاں پیدا ہونے والے لڑکے کے چار نام نہیں بلکہ 9 نام ہوں گے۔ چنانچہ لکھتا ہے:

(298) 19 جون 1906ء ”میاں منظور محمد صاحب کے اس بیٹے کا نام جو بطور نشان ہوگا، بذریعہ الہام الٰہی مفصلہ ذیل معلوم ہوئے:۔

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 537 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 810 پر)

قارئین کرام! دل پر ہاتھ رکھ کے بتائیے، کبھی ایسا لطف آپ کو کسی مزاحیہ تحریر سے بھی فراہم ہوا ہے؟

View Proof

27 دن بعد لڑکے کے بجائے لڑکی پیدا ہوئی

(299) ”وحی الٰہی قریباً چار ماہ سے اخبار بدر اور الحکم میں چھپ کر شائع ہو چکی ہے اور چونکہ زلزلہ نمونہ قیامت آنے میں تاخیر ہو گئی، اس لیے ضرور تھا کہ لڑکا پیدا ہونے میں بھی تاخیر ہوتی۔ لہٰذا پیر منظور محمد کے گھر میں 17 جولائی 1906ء میں بروز سہ شنبہ لڑکی پیدا ہوئی اور یہ دعا کی قبولیت کا ایک نشان ہے جو لڑکی پیدا ہونے سے قریباً چار ماہ پہلے شائع ہو چکی تھی۔ مگر یہ ضرور ہوگا کہ کم درجہ کے زلزلے آتے رہیں گے اور ضرور ہے کہ زمین نمونہ قیامت زلزلہ سے رکی رہے جب تک وہ موعود لڑکا پیدا ہو۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 557 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 811 پر)

مرزا قادیانی کا یہ کہنا درست نہیں کہ اس نے لڑکی کی پیدائش سے چار ماہ پہلے بتا دیا

صفحہ 223

تھا کہ لڑکے کا آنا موخر ہو گیا ہے۔ لڑکی کی پیدائش 17 جولائی 1906ء ہے۔ اس حساب سے مرزا قادیانی کو 17 مارچ 1906ء کو یہ بات بتانی چاہیے تھی۔ جبکہ اس نے 7 جون 1906ء کو کہا کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ اس لڑکے کے دو نام ہوں گے اور پھر 19 جون 1906ء کو اس لڑکے کے 9 نام بتائے۔ اس وقت کیوں نہ صاف صاف کہہ دیا کہ لڑکے کے بجائے لڑکی پیدا ہوگی؟

مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ لڑکی صالحہ بیگم کی پیدائش کے کچھ عرصہ بعد محمدی بیگم مر گئی۔ اور اس طرح 9 نام والا لڑکا آنا تھا نہ آیا۔ مرزا قادیانی کی یہ پیش گوئی بھی غلط اور جھوٹ ثابت ہوئی۔

مرزا قادیانی کا کہنا ہے:

اعتبار نہیں رہتا۔“

(چشمہ معرفت صفحہ 222 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 231 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 812 پر)

پانچویں پیش گوئی

ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالوی

ڈاکٹر عبدالحکیم خاں پٹیالہ (بھارت) کے سول ہسپتال میں اسسٹنٹ سرجن کے عہدے پر فائز تھے۔ وہ بڑی مشہور و معروف شخصیت کے مالک تھے۔ وہ تقریباً 25 برس تک مرزا غلام احمد قادیانی کے خاص الخاص اور جلیل القدر مریدین میں شمار ہوتے رہے۔ مرزا قادیانی کو آپ سے بڑی محبت تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ڈاکٹر صاحب پر اپنا فضل و کرم فرمایا کہ 25 سال بعد وہ مرزائیت سے تائب ہو کر دوبارہ مسلمان ہو گئے۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنے مرزائیت کے دور میں قرآن کریم کی ایک تفسیر بنام ”تفسیر القرآن بالقرآن“ لکھی۔ مرزا قادیانی کے نزدیک ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالوی کا کیا مقام تھا؟ درج ذیل اقتباس قابل غور ہے۔

صفحہ 224

مرزا قادیانی لکھتا ہے:

(301) ”چونکہ حدیث صحیح میں آ چکا ہے کہ مہدی موعود کے پاس ایک چھپی ہوئی کتاب ہوگی جس میں اس کے تین سو تیرہ اصحاب کا نام درج ہوگا، اس لیے یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ وہ پیشگوئی آج پوری ہوگئی......اور بموجب منشاء حدیث کے یہ بیان کر دینا پہلے سے ضروری ہے کہ یہ تمام اصحاب خصلتِ صدق وصفا رکھتے ہیں اور حسب مراتب جس کو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے بعض، بعض سے محبت اور انقطاع الی اللہ اور سرگرمی دین میں سبقت لے گئے ہیں۔“

(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 41 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 324، 325 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 814,813 پر)

View Proof

(302) اس کے بعد مرزا قادیانی ان تین سو تیرہ (313) صاحبان کا نام درج کرتا ہے، جن میں 159 نمبر پر ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب کا نام درج ہے۔

(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 43 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 327 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 815 پر)

View Proof

مرزا قادیانی نے اپنی معروف کتاب ”ازالہ اوہام“ میں ڈاکٹر عبدالحکیم کا تعارف ان الفاظ میں کرایا:

(303) ”محبی فی اللہ عبدالحکیم خاں جوان صالح ہے۔ علامات رشد و سعادت اس کے چہرے سے نمایاں ہیں۔ زیرک اور فہیم آدمی ہے۔ انگریزی زبان میں عمدہ مہارت رکھتے ہیں۔ میں امید رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کئی خدمات اسلام ان کے ہاتھ سے پوری کرے۔ وہ باوجود زمانہ طالب علمی اور غربت کی حالت کے ایک روپیہ ماہواری بطور چندہ اس سلسلہ کے لیے دیتے ہیں اور ایسا ہی ان کا دوست خلیفہ رشید الدین صاحب جو ایک اہل آدمی اور انھیں کے ہمرنگ ہیں اسی قدر چندہ محض للہی محبت کے جوش سے ماہ بماہ ادا کرتے ہیں۔ جزاہم اللہ خیر الجزاء۔“

(ازالہ اوہام صفحہ 809 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 537 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 816 پر)

View Proof

صفحہ 225

ترک مرزائیت کے بعد ڈاکٹر صاحب موصوف نے نہایت تحدی کے ساتھ یہ اعلان کیا کہ خداوند عالم نے بذریعہ الہام مجھے اطلاع دی ہے کہ میں صادق ہوں اور مرزا قادیانی کاذب، میں حق پر ہوں اور مرزا قادیانی باطل پر اور میرے صادق ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ مرزا قادیانی میری زندگی میں ہی ہلاک ہوگا۔ چنانچہ ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ مجھے خدا کی طرف سے یہ الہام ہوا کہ:

(304) ”مرزا مسرف، کذاب اور عیار ہے۔ صادق کے سامنے شریر ہلاک ہوگا۔“

(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 673 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 817 پر)

ڈاکٹر صاحب کا کیسا واضح اور صاف اعلان ہے کہ صادق کے سامنے شریر ہلاک ہوگا۔ اب اس میں کسی تاویل وغیرہ کی گنجائش نہیں ہے۔ جو کاذب اور شریر ہوگا، وہ پہلے مرے گا۔

مرزا قادیانی نے اپنی کتاب ”چشمہ معرفت“ میں اپنے اور ڈاکٹر عبدالحکیم کے مابین اس تحریری مباہلے کو تفصیلاً بیان کیا ہے:

(305) ”ایسا ہی کئی اور دشمن مسلمانوں میں سے میرے مقابل پر کھڑے ہو کر ہلاک ہوئے اور ان کا نام و نشان نہ رہا۔ ہاں آخری دشمن اب ایک اور پیدا ہوا ہے جس کا نام عبدالحکیم خان ہے اور وہ ڈاکٹر ہے اور ریاست پٹیالہ کا رہنے والا ہے جس کا دعویٰ ہے کہ میں اس کی زندگی میں ہی 4 اگست 1908ء تک ہلاک ہو جاؤں گا اور یہ اس کی سچائی کے لیے ایک نشان ہوگا۔ یہ شخص الہام کا دعویٰ کرتا ہے اور مجھے دجال اور کافر اور کذاب قرار دیتا ہے۔ پہلے اس نے بیعت کی اور برابر بیس برس تک میرے مریدوں اور میری جماعت میں داخل رہا۔ پھر ایک نصیحت کی وجہ سے جو میں نے محض للہ اس کو کی تھی، مرتد ہوگیا...... آخر میں نے اسے اپنی جماعت سے خارج کر دیا۔ تب اس نے یہ پیشگوئی کی کہ میں اس کی زندگی میں ہی 4 اگست 1908ء تک اس کے سامنے ہلاک ہو جاؤں گا مگر خدا نے اس کی پیشگوئی کے مقابل پر مجھے خبر دی کہ وہ خود عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اور خدا اس کو ہلاک کرے گا اور میں اس کے شر سے محفوظ رہوں گا۔ سو یہ وہ مقدمہ ہے جس کا فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔ بلاشبہ یہ سچ بات ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کی نظر میں صادق ہے، خدا اس کی مدد کرے گا۔“

(چشمہ معرفت صفحہ 322 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 337 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 819,818 پر)

صفحہ 226

ڈاکٹر موصوف ایک طویل عرصہ تک مرزا قادیانی کے مرید رہے اور اس وقت تک منصب صدق و صفا پر فائز رہے جب تک وہ ان کے ہر دعوے پر آمنا و صدقنا کہتے رہے۔ مگر مرزا قادیانی نے ان کو جماعت سے خارج کر دیا اور حسب معمول ان کے خلاف پروپیگنڈے کی باقاعدہ مہم کا آغاز کر کے ان کی کردار کشی کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ یقیناً قادیانی حضرات ان ہتھکنڈوں سے بخوبی واقف ہیں۔ مگر حق چھپائے نہیں چھپتا۔ ان کا اصل قصور کیا تھا؟ مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد، ڈاکٹر صاحب کے جماعت سے اخراج کے راز پر سے پردہ یوں اٹھاتا ہے:

(306) ”اول یہ کہ حضرت صاحب کو اللہ تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ اطلاع دی کہ تیرا انکار کرنے والا مسلمان نہیں اور نہ صرف یہ اطلاع دی بلکہ حکم دیا کہ تو اپنے منکروں کو مسلمان نہ سمجھ۔ دوسرے یہ کہ حضرت

صفحہ 227

کے بیان کی حاجت نہیں اور پھر میاں عبدالحکیم صاحب نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ ہر ایک لیکچر کے ساتھ یہ پیشگوئی بھی صدہا آدمیوں میں شائع کی کہ مجھے خدا نے الہام کیا ہے کہ ”یہ شخص تین سال کے عرصہ میں فنا ہو جائے گا اور اس کی زندگی کا خاتمہ ہو جائے گا کیونکہ کذاب اور مفتری ہے۔ میں نے اس کی ان پیشگوئیوں پر صبر کیا۔ مگر آج جو 14 اگست 1906ء ہے، پھر اس کا خط ہمارے دوست فاضل جلیل مولوی نورالدین صاحب کے نام آیا۔ اس میں بھی میری نسبت کئی قسم کی عیب شماری اور گالیوں کے بعد لکھا ہے کہ 12 جولائی 1906ء کو خدا تعالیٰ نے اس شخص کے ہلاک ہونے کی خبر مجھے دی ہے کہ اس تاریخ سے تین برس تک ہلاک ہو جائے گا۔ جب اس حد تک نوبت پہنچ گئی تو اب میں بھی اس بات میں کچھ مضائقہ نہیں دیکھتا کہ جو کچھ خدا نے اس کی نسبت میرے پر ظاہر فرمایا ہے میں بھی شائع کروں اور درحقیقت اس میں قوم کی بھلائی ہے کیونکہ اگر درحقیقت میں خدا تعالیٰ کے نزدیک کذاب ہوں اور پچیس برس سے دن رات خدا پر افترا کر رہا ہوں اور اس کی عظمت اور جلال سے بے خوف ہو کر اس پر جھوٹ باندھتا ہوں اور اس کی مخلوق کے ساتھ بھی میرا یہ معاملہ ہے کہ میں لوگوں کا مال بدیانتی اور حرامخوری کے طریق سے کھاتا ہوں اور خدا کی مخلوق کو اپنی بدکرداری اور نفس پرستی کے جوش سے دکھ دیتا ہوں تو اس صورت میں تمام بدکرداروں سے بڑھ کر سزا کے لائق ہوں تا لوگ میرے فتنہ سے نجات پاویں۔ اور اگر میں ایسا نہیں ہوں جیسا کہ میاں عبدالحکیم خاں نے سمجھا ہے تو میں امید رکھتا ہوں کہ خدا مجھ کو ایسی ذلت کی موت نہیں دے گا کہ میرے آگے بھی لعنت ہو اور میرے پیچھے بھی۔ میں خدا کی آنکھ سے مخفی نہیں۔ مجھے کون جانتا ہے مگر وہی۔ اس لیے میں اس وقت دونوں پیشگوئیاں یعنی میاں عبدالحکیم خاں کی میری نسبت پیشگوئی اور اس کے مقابل پر جو خدا نے میرے پر ظاہر کیا ذیل میں لکھتا ہوں اور اس کا انصاف خدائے قادر پر چھوڑتا ہوں اور وہ یہ ہیں۔

میاں عبدالحکیم خان صاحب اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ کی میری نسبت پیشگوئی

جو اخویم مولوی نورالدین صاحب کی طرف اپنے خط میں لکھتے ہیں۔ ان کے اپنے الفاظ یہ ہیں:

”مرزا کے خلاف 12 جولائی 1906ء کو یہ الہامات ہوئے ہیں۔ مرزا

صفحہ 228

مسرِف کذاب اور عیار ہے۔ صادق کے سامنے شریر فنا ہو جائے گا اور اس کی میعاد تین سال بتائی گئی ہے۔“☆

اس کے مقابل پر وہ پیشگوئی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے میاں عبدالحکیم خان صاحب اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ کی نسبت مجھے معلوم ہوئی۔ جس کے الفاظ یہ ہیں:

”خدا کے مقبولوں میں قبولیت کے نمونے اور علامتیں ہوتی ہیں اور وہ سلامتی کے شہزادے کہلاتے ہیں۔ ان پر کوئی غالب نہیں آ سکتا۔ فرشتوں کی کھینچی ہوئی تلوار تیرے آگے ہے پر تُو نے وقت کو نہ پہچانا نہ دیکھا نہ جانا۔ ربّ فرق بین صادق و کاذب۔ انت تریٰ کل مصلح و صادق۔☆☆

(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 672 تا 674 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ 821 تا 823 پر)

مرزا قادیانی نے اللہ تعالیٰ سے الہام پا کر مزید کہا:

اس کے سامنے ہلاک ہو جاؤں گا۔ مگر خدا نے اس کی پیشگوئی کے مقابل پر مجھے خبر دی کہ وہ خود عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اور خدا اس کو ہلاک کرے گا اور میں اس کے شر سے محفوظ رہوں گا۔ سو یہ وہ مقدمہ ہے جس کا فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔ بلاشبہ یہ سچ بات ہے کہ جو

☆ خدا تعالیٰ کا یہ فقرہ کہ وہ سلامتی کے شہزادے کہلاتے ہیں۔ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے عبدالحکیم خان کے اس فقرہ کا رد ہے کہ جو مجھے کاذب اور شریر قرار دے کر کہتا ہے کہ صادق کے سامنے شریر فنا ہو جائے گا۔ گویا میں کاذب ہوں اور وہ صادق اور وہ مرد صالح ہے اور میں شریر۔ اور خدا تعالیٰ اس کے رد میں فرماتا ہے کہ جو خدا کے خاص لوگ ہیں وہ سلامتی کے شہزادے کہلاتے ہیں۔ ذلت کی موت اور ذلت کا عذاب ان کو نصیب نہیں ہوگا۔ اگر ایسا ہو تو دنیا تباہ ہو جائے اور صادق اور کاذب میں کوئی امر فارق نہ رہے۔

☆☆ یعنی اے میرے خدا صادق اور کاذب میں فرق کر کے دکھلا۔ تُو جانتا ہے کہ صادق اور مصلح کون ہے۔ اس فقرۂ الہامیہ میں عبدالحکیم خاں کے اس قول کا رد ہو جو وہ کہتا ہے کہ صادق کے سامنے شریر فنا ہو جائے گا۔ پس چونکہ وہ اپنے تئیں صادق ٹھہراتا ہے۔ خدا فرماتا ہے کہ تو صادق نہیں ہے۔ میں صادق اور کاذب میں فرق کر کے دکھلاؤں گا“

(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 673، 674 طبع جدید (حاشیہ) از مرزا قادیانی)

صفحہ 229

شخص خدا تعالیٰ کی نظر میں صادق ہے خدا اس کی مدد کرے گا۔“

(چشمہ معرفت صفحہ 322 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 337 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 824 پر)

View Proof

مرزا قادیانی اس سلسلہ میں اپنا ایک اور الہام بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے:

(309) ”اپنے دشمن کو کہہ دے کہ خدا تجھ سے مواخذہ لے گا۔ اور پھر آخر میں اُردو میں فرمایا کہ میں تیری عمر کو بھی بڑھا دوں گا۔ یعنی دشمن جو کہتا ہے کہ صرف جولائی 1907ء سے چودہ مہینے تک تیری عمر کے دن رہ گئے ہیں یا ایسا ہی جو دوسرے دشمن پیشگوئی کرتے ہیں، ان سب کو میں جھوٹا کروں گا اور تیری عمر کو بڑھا دوں گا تا معلوم ہو کہ میں خدا ہوں اور ہر ایک امر میرے اختیار میں ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 720 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 825 پر)

View Proof

اس کے بعد مرزا قادیانی نے ڈاکٹر عبدالحکیم کے مکمل بائیکاٹ کے بارے میں اپنی جماعت کو ہدایات دیتے ہوئے کہا:

تمام جماعت احمدیہ کے لیے اعلان

(310) ”چونکہ ڈاکٹر عبدالحکیم اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ نے جو پہلے اس سلسلہ میں داخل تھا، نہ صرف یہ کام کیا کہ ہماری تعلیم سے اور اُن باتوں سے جو خدا تعالیٰ نے ہم پر ظاہر کیں، منہ پھیر لیا بلکہ اپنے خط میں وہ سختی اور گستاخی دکھلائی اور وہ گندے اور ناپاک الفاظ میری نسبت استعمال کیے کہ بجز ایک سخت دشمن اور سخت کینہ ور کے کسی کی زبان اور قلم سے نکل نہیں سکتے، اور صرف اسی پر کفایت نہیں کی بلکہ بے جا تہمتیں لگائیں اور اپنے صریح لفظوں میں مجھ کو ایک حرام خور اور بندہ نفس اور شکم پرور اور لوگوں کا مال فریب سے کھانے والا قرار دیا اور محض تکبر کی وجہ سے مجھے پیروں کے نیچے پامال کرنا چاہا۔ اور بہت سی ایسی گالیاں دیں جو ایسے مخالف دیا کرتے ہیں جو پورے جوشِ عداوت سے ہر طرح سے دوسرے کی ذلت اور توہین چاہتے ہیں۔ اور یہ بھی کہا کہ پیشگوئیاں جن پر ناز کیا جاتا ہے کچھ چیز نہیں۔ مجھ کو ہزارہا ایسے الہام اور

صفحہ 230

خوابیں آتی ہیں جو پوری ہو جاتی ہیں۔

غرض اس شخص نے محض توہین اور تحقیر اور دل آزاری کے ارادہ سے جو کچھ اپنے خط میں لکھا ہے اور جس طرح اپنی ناپاک بدگوئی کو انتہا تک پہنچا دیا ہے، ان تمام تہمتوں اور گالیوں اور عیب جوئیوں کے لکھنے کے لیے اس اشتہار میں گنجائش نہیں۔ علاوہ اس کے میری تحقیر کی غرض سے جھوٹ بھی پیٹ بھر کے بولا ہے۔ مگر مجھے ایسے مفتری اور بدگو لوگوں کی کچھ پروا نہیں، کیونکہ اگر جیسا کہ مجھے اس نے دغاباز، حرام خور، مکار، فریبی اور جھوٹ بولنے والا اقرار دیا ہے اور طریق اسلام اور دیانت اور پیروی آنحضرت ﷺ سے باہر مجھے کرنا چاہا ہے اور میرے وجود کو محض فضول اور اسلام کے لیے مضر ٹھہرایا ہے بلکہ مجھے محض شکم پرور اور دشمن اسلام قرار دیا ہے۔ اگر یہ باتیں سچ ہیں تو میں اس کیڑے سے بھی بدتر ہوں جو نجاست سے پیدا ہوتا اور نجاست میں ہی مرتا ہے۔ لیکن اگر یہ باتیں خلاف واقعہ ہیں تو میں امید نہیں رکھتا کہ خدا تعالیٰ ایسے شخص کو اس دنیا میں بغیر مواخذہ کے چھوڑے گا جو مرید ہو کر اور پھر مرتد ہو کر اس درجہ تک پہنچ گیا ہے کہ جو ذلیل سے ذلیل زندگی بسر کرنے والے جیسے چوہڑے اور چمار جو شکم پرور کہلاتے ہیں اور مُردار کھانے سے بھی عار نہیں رکھتے، ان کی مانند مجھے بھی محض شکم پرست اور بندۂ نفس اور حرام خور قرار دیتا ہے۔

اب میں ان باتوں کو زیادہ طول دینا نہیں چاہتا اور خدا تعالیٰ کی شہادت کا منتظر ہوں اور اس کے ہاتھ کو دیکھ رہا ہوں اور اس اشارہ پر ختم کرتا ہوں انما اشکو ابثی و حزنی الی اللہ واعلم من اللہ مالا تعلمون. اب چونکہ یہ شخص اس درجہ پر میرا دشمن معلوم ہوتا ہے جیسا کہ عمرو بن ہشام آنحضرت کی عزت اور جان کا دشمن تھا، اس لیے میں اپنی تمام جماعت کو متنبہ کرتا ہوں کہ اس سے بکلی قطع تعلق کر لیں۔ اس کے ساتھ ہرگز واسطہ نہ رکھیں ورنہ ایسا شخص ہرگز میری جماعت میں سے نہیں ہوگا۔ ربنا افتح بیننا و بین قومنا بالحق و انت خیر الفاتحین. امین. امین. امین.

المشتہر خاکسار مرزا غلام احمد مسیح موعود از قادیان۔ ضلع گورداسپور پنجاب‘‘

(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 667، 668 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 827,826 پر)

View Proof

مرزا قادیانی نے اپنی موت سے سات دن پہلے ڈاکٹر عبدالحکیم کے بارے ایک

صفحہ 231

سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جلد ہی اللہ تعالیٰ ظاہر کر دے گا کہ ہم دونوں میں سے سچا کون اور جھوٹا کون ہے؟ مرزا قادیانی کہتا ہے:

راست باز کون

(311) ”19 مئی 1908ء عبدالحکیم کی کتاب کا ذکر تھا کہ بہت سے اعتراض کیے ہیں۔ فرمایا: ہم نے جو کچھ کہنا تھا کہہ چکے۔ بحثیں ہو چکیں۔ کتابیں مفصل لکھی جا چکی ہیں۔ اب بحث میں پڑنا فضولیوں میں داخل ہے۔

فرمایا:

ہر ایک کی فطرت جدا ہوتی ہے۔ ہمیں تو سمجھ میں نہیں آتا کہ کس طرح کوئی شخص ایک آدمی کی 20 سال مریدی کرنے کے بعد اور اس کے ماتحت تعلیم حاصل کرنے کے بعد اور اس سے فائدہ اٹھانے کے بعد پھر اس کے حق میں ایسی گندی گالیاں بول سکتا ہے۔ ہماری تو سمجھ میں نہیں آسکتا مگر ہر ایک شخص کی فطرت جدا ہوتی ہے۔

عرب صاحب عبدالحی نے عرض کیا کہ میں پٹیالہ سے آیا ہوں۔ عبدالحکیم نے آپ کے متعلق پیشگوئی کی ہے کہ آنے والی 21 ساون کو آپ کی وفات ہو جائے گی۔ لیکن پٹیالہ کے لوگ خوب جانتے ہیں کہ وہ ایک جھوٹا آدمی ہے۔

حضرت نے فرمایا:

کل یعمل علی شاکلتہ۔ اللہ تعالیٰ ظاہر کر دے گا کہ راستباز کون ہے۔“ (ملفوظات جلد پنجم صفحہ 679، 680 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 828،829 پر)

مرزا قادیانی اپنی دعا کے بارے میں اتنا پُر اعتماد تھا کہ لکھتا ہے:

(312) ”اے لوگو! تم یقیناً سمجھ لو کہ میرے ساتھ وہ ہاتھ ہے جو آخیر وقت تک مجھ سے وفا کرے گا۔ اگر تمھارے مرد اور تمھاری عورتیں اور تمھارے جوان اور تمھارے بوڑھے اور تمھارے چھوٹے اور تمھارے بڑے سب مل کر میرے ہلاک کرنے کے لیے دعائیں کریں یہاں تک کہ سجدے کرتے کرتے ناک گل جائیں اور ہاتھ شل ہو جائیں، تب بھی خدا ہرگز

صفحہ 232

تمہاری دعا نہیں سنے گا۔“

(تحفہ گولڑویہ [ضمیمہ] صفحہ 14 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 50 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 830 پر)

اس کے بعد مرزا قادیانی نے اللہ تعالیٰ سے دوٹوک الفاظ میں بات کرتے ہوئے کہا:

(313) ”اے میرے خدا اگر تو جانتا ہے کہ میرے دشمن سچے ہیں اور مخلص ہیں پس تو مجھے ہلاک کر جیسا کہ تو جھوٹوں کو ہلاک کرتا ہے۔“

(نزول المسیح صفحہ 72 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 449 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 831 پر)

اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کی مندرجہ بالا دعا کو قبول کیا اور جھوٹا سچے کی زندگی میں مر گیا۔ مرزا قادیانی 26 مئی 1908ء صبح ساڑھے دس بجے عبرتناک موت کا شکار ہوا جبکہ ڈاکٹر عبدالحکیم، مرزا قادیانی کی موت سے 11 سال بعد 1919ء میں اپنی طبعی موت سے ہمکنار ہوئے۔

ڈاکٹر عبدالحکیم کی پیش گوئی سچی نکلی اور مرزا قادیانی کی جھوٹی۔ قادیانیوں کے لیے مرزا قادیانی کی کتاب ”چشمہ معرفت“ کا صفحہ 322 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 337 ذلت و رسوائی کا قیامت خیز زلزلہ بنا ہوا ہے۔

آخر میں قادیانیوں سے سوال ہے کہ کیا مرزا قادیانی کے الہامات رحمانی تھے یا شیطانی؟ وہ کون تھا جو خدا بن کر مرزا قادیانی کو ساری عمر دھوکہ دیتا رہا؟ اس کا جواب خود مرزا قادیانی اپنی زبانی دیتا ہے۔

(314) ”واضح ہو کہ شیطانی الہامات ہونا حق ہے۔“

(ضرورت الامام صفحہ 13 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 483 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 832 پر)

صفحہ 233

چھٹی پیش گوئی

عبداللہ آتھم

1857ء کی جنگ آزادی کے بعد انگریزوں نے ہندوستان پر سیاسی تسلط قائم کیا اور اپنے اقتدار کو استحکام اور طول دینے کے لیے مختلف منصوبے تیار کیے۔ ان میں ایک منصوبہ یہ بھی تھا کہ برطانیہ سے عیسائی مبلغین کی ایک بڑی کھیپ منگوا کر مسلمانوں کو اسلام سے برگشتہ کیا جائے۔ لہٰذا عیسائی مشنریوں نے برصغیر پر یلغار کر دی اور تقریباً ہر علاقہ میں مسلمانوں کو مرتد بنانے کے لیے اپنی سر توڑ کوششیں کر دیں۔ ”لِکُلِ فِرْعَوْنَ مُوْسٰی“ کے مصداق اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی حفاظت کے لیے اپنے کئی مقبول بندوں کو پیدا کیا۔ جن میں مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ انھوں نے نہ صرف عیسائی مبلغین کے ایک ایک اعتراض کا جواب دیا بلکہ انھیں مناظرہ ومباحثہ کے میدان میں شکست فاش سے دوچار کیا۔ مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ اپنی ان ناقابل فراموش اور مجاہدانہ خدمات کے نتیجہ میں دیکھتے ہی دیکھتے برصغیر کے مسلمانوں کی آنکھ کا تارا بن گئے۔ چنانچہ اس دور میں طالب شہرت جھوٹے مدعی نبوت مرزا قادیانی نے اعلان کر دیا کہ وہ اسلام کی حمایت میں 50 کتابیں لکھے گا جس میں 300 سے زائد دلائل ہوں گے اور کسی عیسائی کو اس کا جواب دینے کی جرات نہ ہوگی۔ مرزا قادیانی نے اسلام کی حمایت کے نام پر لوگوں سے لاکھوں روپیہ اکٹھا کیا اور پھر ساری رقم ہضم کر گیا۔ مسلمان مبلغین عیسائیوں کے عقائد پر قرآن اور بائبل کی روشنی میں علمی بحث کرتے جبکہ مرزا قادیانی علمی بحث ومباحثہ کے بجائے پیش گوئیاں اور موت کی دھمکیاں دیتا۔ تاکہ اُسے سستی شہرت نصیب ہو۔ اسی طرح کا ایک واقعہ عیسائیوں کے ایک معروف عالم مسٹر عبداللہ آتھم کے ساتھ پیش آیا۔ مرزا قادیانی کا یہ اعترافی بیان موجود ہے کہ مسٹر عبداللہ آتھم صاحب عیسائیوں میں سے شریف اور سلیم المزاج ہیں۔ (سرمہ چشم آریہ صفحہ 260 مندرجہ روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 310) مرزا قادیانی اور عیسائی مناظر عبداللہ آتھم کے درمیان امرتسر شہر میں ایک مناظرہ طے پایا۔ یہ مناظرہ ڈاکٹر مارٹن کلارک کی کوٹھی واقع امرتسر میں منعقد ہوا۔ مرزا قادیانی کے معاون حکیم نور الدین، مولوی احسن امروہی اور شیخ اللہ دتہ تھے

صفحہ 234

جبکہ پادری ٹھاکر داس، پادری ٹامس ہاؤل اور ڈاکٹر مارٹن کلارک عبداللہ آتھم کے مددگار تھے۔ مناظرہ کا موضوع تھا ”الوہیت مسیح“ دونوں فریق 22 مئی 1893ء سے لے کر 5 جون 1893ء تک تقریباً 15 دن بحث و مباحثہ کرتے رہے۔ مرزا قادیانی اس مناظرے میں بری طرح شکست کھا گیا۔ لہٰذا اپنی خفت مٹانے کے لیے مناظرہ کے آخری دن 5 جون 1893ء کو سب لوگوں کے سامنے ایک پیش گوئی کی اور اسے حسب معمول اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر دیا۔ مرزا قادیانی نے کہا کہ پادری عبداللہ آتھم 5 جون 1893ء سے لے کر پندرہ ماہ کے اندر اندر ہاویہ میں گرا دیا جائے گا، جس کی آخری تاریخ 5 ستمبر 1894ء بنتی ہے اور صاف صاف الفاظ میں یہ اقرار کیا:

(315) ”آج رات جو مجھ پر کھلا وہ یہ ہے کہ جب کہ میں نے بہت تضرع اور ابتہال سے جناب الٰہی میں دعا کی کہ تو اس امر میں فیصلہ کر اور ہم عاجز بندے ہیں، تیرے فیصلہ کے سوا کچھ نہیں کر سکتے تو اس نے مجھے یہ نشان بشارت کے طور پر دیا ہے کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور سچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے، وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی 15 ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے اس کی اس سے عزت ظاہر ہوگی اور اس وقت جب یہ پیشینگوئی ظہور میں آوے گی بعض اندھے سوجاکھے کیے جائیں گے اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے اور بعض بہرے سننے لگیں گے ۔“

(جنگ مقدس صفحہ 209، 210 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 291، 292 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 833، 834 پر)

View Proof

مرزا قادیانی کے نزدیک ہاویہ میں گرنے سے کیا مراد ہے؟ اس سلسلہ میں مرزا قادیانی لکھتا ہے:

(316) ”بشرنی ربی بعد دعوتی بموتہ الی خمسة عشرا شهر من یوم خاتمہ البحث.“

صفحہ 235

ترجمہ: ”میری دعا کے بعد مجھے میرے رب نے خوشخبری دی ہے کہ آتھم خاتم بحث کے دن سے لے کر پندرہ ماہ کے اندر مر جائے گا۔“

(کرامات الصادقین صفحہ 121 مندرجہ روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 163 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 835 پر)

اس کے بعد مرزا قادیانی اور مسٹر آتھم کے درمیان جاری مناظرہ ختم ہو گیا۔ دونوں فریق اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوئے۔ کسی نے مرزا قادیانی سے اس کی پیش گوئی کے بارے میں پوچھا کہ کیا واقعی اسے اللہ نے یہ بات بتائی ہے کہ آتھم پندرہ ماہ میں مر جائے گا۔ کہیں تم نے اپنی طرف سے تو یہ بات نہیں کہہ دی۔ اس پر مرزا قادیانی نے مندرجہ ذیل جواب دیا:

(317) ”سو الحمدللہ والمنتہ کہ اگر یہ پیشنگوئی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظہور نہ فرماتی تو ہمارے یہ پندرہ دن ضائع گئے تھے۔ انسان ظالم کی عادت ہوتی ہے کہ باوجود دیکھنے کے نہیں دیکھتا اور باوجود سننے کے نہیں سنتا اور باوجود سمجھنے کے نہیں سمجھتا اور جرأت کرتا ہے اور شوخی کرتا ہے اور نہیں جانتا کہ خدا ہے لیکن اب میں جانتا ہوں کہ فیصلہ کا وقت آ گیا۔ میں حیران تھا کہ اس بحث میں کیوں مجھے آنے کا اتفاق پڑا۔ معمولی بحثیں تو اور لوگ بھی کرتے ہیں۔ اب یہ حقیقت کھلی کہ اس نشان کے لیے تھا۔ میں اس وقت یہ اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیشنگوئی جھوٹی نکلی یعنی وہ فریق جو خدا تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے، وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کے اٹھانے کے لیے تیار ہوں، مجھ کو ذلیل کیا جاوے۔ روسیاہ کیا جاوے۔ میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جاوے۔ مجھ کو پھانسی دیا جاوے۔ ہر ایک بات کے لیے تیار ہوں اور میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ زمین آسمان ٹل جائیں، پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔“

(جنگ مقدس صفحہ 211 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 292، 293 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 836، 837 پر)

صفحہ 236

مرزا قادیانی نے مزید کہا: (318) ”اب اس سے زیادہ میں کیا لکھ سکتا ہوں جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ ہی فیصلہ کر دیا ہو۔ اب ناحق ہنسنے کی جگہ نہیں اگر میں جھوٹا ہوں تو میرے لیے سولی تیار رکھو اور تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے زیادہ مجھے لعنتی قرار دو۔“

(جنگ مقدس صفحہ 211 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 293 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 838 پر)

مرزا قادیانی نے آتھم کے 5 ستمبر 1894ء تک مرنے کی جو پیش گوئی کی تھی، اس پر اس نے خدائی قسم بھی اٹھائی تھی۔ اور اس نے یہ بات بڑی تاکید اور اعتماد سے کہی تھی کہ ایسا ہو کر رہے گا، خدا کی بات ٹل نہیں سکتی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کو یہ خبر دے دی کہ آتھم مقررہ مدت کے اندر مر جائے گا تو پھر مرزا قادیانی کو خود ڈرنے اور گھبرانے کی کیا ضرورت تھی۔ کہتے ہیں جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔ جوں جوں دن گزرتے جاتے، مرزا قادیانی اور اس کے مریدوں کی پریشانی، گھبراہٹ اور بدحواسی میں اضافہ ہوتا جاتا۔ حتیٰ کہ میعاد کے پورا ہونے میں صرف ایک دن رہ گیا۔ مرزا قادیانی کے جاسوس اسے بتا رہے تھے کہ آتھم خیریت سے ہے اور تندرست و فربہ ہے۔ یہ خبر سن کر مرزا قادیانی کے پاؤں تلے زمین نکل گئی تو اس نے اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے کے بجائے سفلی عملیات اور جادو ٹونے کا سہارا لینا شروع کر دیا۔ تاکہ کسی بھی طرح آتھم مر جائے اور اس کی پیش گوئی پوری ہو جائے۔ اس سلسلہ میں مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر احمد ایم اے کا اعترافی بیان ملاحظہ فرمائیں:

(319) ”بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ جب آتھم کی میعاد میں صرف ایک دن باقی رہ گیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھ سے اور میاں حامد علی مرحوم سے فرمایا کہ اتنے چنے (مجھے تعداد یاد نہیں رہی کہ کتنے چنے آپ نے بتائے تھے) لے لو اور ان پر فلاں سورۃ کا وظیفہ اتنی تعداد میں پڑھو (مجھے وظیفہ کی تعداد بھی یاد نہیں رہی) میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ مجھے وہ سورۃ یاد نہیں رہی مگر اتنا یاد ہے کہ وہ کوئی چھوٹی سی سورۃ تھی جیسے الم تر کیف فعل ربک باصحاب الفیل الخ ہے۔ اور ہم نے یہ وظیفہ قریباً ساری رات صرف کر کے ختم کیا تھا۔ وظیفہ ختم کرنے پر ہم وہ دانے حضرت صاحب کے پاس لے

صفحہ 237

گئے کیونکہ آپ نے ارشاد فرمایا تھا کہ وظیفہ ختم ہونے پر یہ دانے میرے پاس لے آنا۔ اس کے بعد حضرت صاحب ہم دونوں کو قادیان سے باہر غالباً شمال کی طرف لے گئے اور فرمایا یہ دانے کسی غیر آباد کنوئیں میں ڈالے جائیں گے، اور فرمایا کہ جب میں دانے کنوئیں میں پھینک دوں تو ہم سب کو سرعت کے ساتھ منہ پھیر کر واپس لوٹ آنا چاہیے، اور مڑ کر نہیں دیکھنا چاہیے۔ چنانچہ حضرت صاحب نے ایک غیر آباد کنوئیں میں ان دانوں کو پھینک دیا اور پھر جلدی سے منہ پھیر کر سرعت کے ساتھ واپس لوٹ آئے۔ اور ہم بھی آپ کے ساتھ جلدی جلدی واپس چلے آئے اور کسی نے منہ پھیر کر پیچھے کی طرف نہیں دیکھا۔“

(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 178 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 839 پر)

مرزا قادیانی کے بڑے بیٹے مرزا محمود کا کہنا ہے کہ اس دن ہمارے گھر ماتم برپا تھا اور عورتیں چیخ چیخ کر واویلا کر رہی تھیں۔ اس کا کہنا تھا: (320) ”جب آتھم کی پیشگوئی کا آخری دن آیا تو کتنے کرب واضطراب سے دعائیں کی گئیں۔ میں نے تو محرم کا ماتم بھی کبھی اتنا سخت نہیں دیکھا۔ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) ایک طرف دعا میں مشغول تھے اور مولوی عبدالکریم صاحب اور سلسلہ کے بعض اور بزرگ مسجد میں جمع ہو کر دعا کر رہے تھے اور تیسری طرف بعض نوجوان (جن کی اس حرکت پر بعد میں برا بھی منایا گیا) جہاں حضرت خلیفہ اول مطب کیا کرتے تھے اور آج کل مولوی قطب الدین صاحب بیٹھتے ہیں، وہاں اکٹھے ہو گئے اور جس طرح عورتیں بین ڈالتی ہیں، اس طرح انھوں نے بین ڈالنے شروع کر دیے۔ ان کی چیخیں سو سو گز تک سنی جاتی تھیں اور ان میں سے ہر ایک کی زبان پر یہ دعا جاری تھی کہ یا اللہ آتھم مر جائے، یا اللہ آتھم مر جائے، مگر اس کہرام اور آہ زاری کے نتیجہ میں آتھم تو نہ مرا۔“

(قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کی تقریر، روزنامہ الفضل قادیان 20 جولائی 1940ء)

(عکس صفحہ نمبر 841,840 پر)

صفحہ 238

مرزا محمود مزید لکھتا ہے:

(321) ”حضرت مسیح موعود نے جب آتھم والی پیشگوئی کی اور میعاد کے ختم ہونے کا دن آیا تو مجھے وہ نظارہ اب تک یاد ہے کہ آج کل جہاں حکیم مولوی قطب الدین صاحب کا مطب ہے وہاں لوگ جمع ہوئے اور چیخیں مار مار کر دعائیں کرنے لگے کہ الٰہی یہ پیشگوئی ضرور پوری ہو جائے۔ ایک پٹھان عبدالعزیز ہوا کرتا تھا وہ تو دیوار کے ساتھ بے تحاشا اپنا سر مارتا اور کہتا خدایا اب یہ سورج نہ ڈوبے جب تک آتھم نہ مرجائے۔ حضرت مسیح موعود کو اس کا علم ہوا تو آپ باہر تشریف لائے اور فرمایا ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ چیخیں مار مار کر انھوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا ہے۔ اگر جھوٹے ہوں گے تو ہم ہوں گے ان کو کس بات کا فکر ہے۔“ View Proof

(تفسیر کبیر جلد 9 صفحہ 432 از مرزا بشیر الدین محمود) (عکس صفحہ نمبر 842 پر)

قارئین کرام! اب آپ خود فیصلہ کریں کہ اس دن کس کے گھر ماتم برپا ہونا چاہیے تھا؟ مرزا قادیانی کے گھر یا آتھم کے گھر؟ مرزا قادیانی اور ان کے مریدین و اہل خانہ کو پورے اطمینان کے ساتھ آتھم کے مرنے کی خبر کا انتظار کرنا چاہیے تھا مگر یہاں معاملہ برعکس ہوا۔ خدا کی بشارتیں ملنے اور قسمیں اٹھانے کے باوجود مرزا قادیانی اور اس کے مریدوں کو پریشانی لاحق تھی اور ان کے چہروں پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ بالآخر 5 ستمبر 1894ء کا دن گزر گیا۔ مرزا قادیانی اور اس کی جماعت کو شرمندگی، ذلت اور رسوائی کی وجہ سے سر چھپانے کو جگہ نہ مل رہی تھی۔ ندامت اور پریشانی ہر قادیانی کے چہرے پر نمایاں تھی۔ 6 ستمبر کی صبح ہوتے ہی عیسائیوں نے مرزا قادیانی کی اس پیش گوئی کے غلط اور جھوٹا ہونے پر بڑا جلوس نکالا جس کی قیادت آتھم نے کی۔ انھوں نے بڑے بڑے پوسٹر شائع کیے۔ مرزا قادیانی کا پتلا بنا کر اس پر جوتے مارے اور اسے پھانسی دی۔ یوں مرزا قادیانی اور ان کی جماعت بے حد خجالت اور بدنامی سے دوچار ہوئی۔ بعض عیسائی رسی لے کر قادیان میں مرزا قادیانی کے گھر اسے سولی دینے کے لیے ”حاضر“ ہوگئے تھے مگر مرزا قادیانی کو گھر سے باہر آنے کی جرأت نہ ہوسکی۔

اس مناظرہ کا الٹ اثر یہ ہوا کہ:

صفحہ 239

اور لوگ مرزا غلام احمد قادیانی کو خود اس کے اپنے الفاظ میں ”تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے زیادہ لعنتی سمجھنے پر مجبور ہوئے۔“

اب یہ فیصلہ قادیانیوں کے شعور و انصاف پر چھوڑا جاتا ہے کہ کیا مسلمان یہ کہنے میں حق بجانب نہیں ہیں، اگر مرزا قادیانی کا کچھ نام رہا تو ذلت اور رسوائی کے ساتھ رہے گا۔

بعدازاں مرزا قادیانی نے کہا کہ خدا نے اسے بتایا کہ اس نے آتھم کو مزید کچھ عرصہ کے لیے مہلت دے دی تھی، اس لیے وہ وقتِ معیاد میں نہیں مرا۔ مرزا قادیانی نے لکھا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے فرمایا:

(322) ”اطلع اللہ علی ہمہ و غمہ. خدا تعالیٰ نے اس کے ہم و غم پر اطلاع پائی اور اس کو مہلت دی۔“ View Proof

(انوار الاسلام صفحہ 2 مندرجہ روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 2 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 843 پر)

مرزا قادیانی کی کتاب ”انوار الاسلام“ 27 اکتوبر 1894ء کی تصنیف ہے جبکہ پیش گوئی کی میعاد 5 ستمبر 1894ء تھی۔ جب یہ میعاد گزر گئی تو پھر خدا نے (ڈیڑھ ماہ بعد) مرزا قادیانی کو بتایا کہ ہم نے اسے مہلت دے دی ہے، اس لیے اب وہ نہیں مرے گا۔ کاش مرزا قادیانی کا خدا اسے وقت سے پہلے بتا دیتا تو پیسے خراب ہوتے اور نہ مرزائیوں کے گھر ماتم برپا ہوتا۔ مرزا قادیانی کی اس بات میں کوئی وزن نہیں۔ یہ صرف اپنے آپ کو اور قادیانیوں کو سہارا دینے کی ایک جھوٹی اور نہایت بودی کوشش ہے۔ پھر تقریباً 8 سال بعد (1902ء میں) مرزا قادیانی نے اپنی ذلت و رسوائی پر پردہ ڈالنے کے لیے عجیب نکتہ اٹھایا کہ آتھم نے اسی مجلس (5 جون 1893ء) میں رجوع کر لیا تھا۔ (اعجاز احمدی صفحہ 2 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 109 از مرزا قادیانی)

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر آتھم نے اسی مجلس میں رجوع کر لیا تھا تو پھر مرزا قادیانی کو پیش گوئی کرنے، سفلی عملیات اپنانے، ماتم کرنے اور پریشان ہونے کی کیا ضرورت تھی؟

مزید یہاں پر مرزا قادیانی کے ایک خاص مرید ماسٹر قادر بخش کی مضحکہ خیز منطق کا مطالعہ دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔ اس سے آپ قادیانی فہم و فراست کے معیار کا بخوبی اندازہ لگا لیں گے۔

(323) ”5 ستمبر 1894ء کو جس دن عبداللہ آتھم والی پیش گوئی کے پورا ہونے کا انتظار

صفحہ 240

تھا۔ آپ (یعنی ماسٹر قادر بخش صاحب) قادیان میں تھے کہ آج سورج غروب نہیں ہوگا کہ آتھم مر جائے گا۔ مگر جب سورج غروب ہو گیا تو لوگوں کے دل ڈولنے لگے۔ آپ (یعنی ماسٹر قادر بخش صاحب‘ فرماتے تھے کہ اس وقت مجھے کوئی گھبراہٹ نہیں تھی، ہاں فکر اور حیرانی ضرور تھی لیکن جس وقت حضور نے تقریر فرمائی اور ابتلاؤں کی حقیقت بتلائی تو طبیعت بشاش اور انشراح صدر پیدا ہو گیا اور ایمان تازہ ہو گیا۔ (ماسٹر قادر بخش صاحب) فرماتے تھے کہ میں نے امرتسر جا کر عبداللہ آتھم کو خود دیکھا، عیسائی اسے گاڑی میں بٹھائے ہوئے بڑی دھوم دھام سے بازاروں میں لیے پھرتے تھے۔ لیکن اسے دیکھ کر یہ سمجھ گیا کہ واقع میں یہ مر گیا ہے۔ اور یہ صرف اس کا جنازہ ہے۔ جسے لیے پھرتے ہیں۔ آج نہیں تو کل مر جائے گا۔“

(”رحیم بخش صاحب۔ ایم۔ اے ولد ماسٹر قادر بخش صاحب“ کا مضمون مندرجہ اخبار الحکم

قادیان جلد 25 نمبر 34 مورخہ 7 ستمبر 1923ء) (عکس صفحہ نمبر 844، 845 پر)

قارئین کرام: ایک دفعہ پھر مرزا قادیانی کی الہامی پیش گوئی کا جائزہ لیتے ہیں:۔

ماہ کے اندر ہاویہ میں گرے گا یعنی مر جائے گا۔

گے اور بعض بہرے سننے لگیں گے۔

شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے زیادہ مجھے لعنتی قرار دو۔

کے بادل امڈ آئے۔ مرزا قادیانی اپنے مریدوں سے مل کر سفلی عملیات کرواتا رہا۔

صفحہ 241

بقول مرزا محمود گھروں میں ماتم ہو رہے تھے۔ لوگوں نے چیخ و پکار سے آسمان سر پر اٹھا رکھا تھا۔

جبکہ مرزا قادیانی کا خود کہنا ہے:

(324) ”ایک جھوٹا شخص جب کسی اپنی پیشگوئی میں دیکھتا ہے کہ میرا جھوٹ کھل جائے گا تو بے شک وہ ناجائز طریقوں کی طرف توجہ کرتا ہے اور اس کی خبیث ذات سے کچھ بعید نہیں ہوتا کہ ایسی ایسی ناپاک حرکات اس سے صادر ہوں۔“

(کتاب البریہ صفحہ 20 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 38 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 846 پر)

قارئین کرام: آتھم کے متعلق مرزا قادیانی کی پیش گوئی سو فیصد جھوٹی نکلی۔ اس طرح وہ بقلم خود جھوٹا نکلا اور لعنتیوں سے زیادہ لعنتی قرار پایا۔ یہ فیصلہ خود اس کا اپنا کیا ہوا ہے۔

ساتویں پیش گوئی

بکر و ثیب (کنواری یا بیوہ)

مرزا قادیانی کی پہلی شادی اس کے ماموں مرزا جمعیت بیگ کی بڑی بیٹی حرمت بی بی سے ہوئی۔ جبکہ دوسری شادی دہلی کے ایک آزاد خیال گھرانے کی خاتون نصرت جہاں سے ہوئی۔ دو بیویاں ہونے کے باوجود اسے تیسری شادی کا شوق چرایا۔ اتفاق سے اس کی نظر خاندان کی ایک بچی محمدی بیگم پر پڑی تو ہاتھ دھو کر اس کے پیچھے پڑ گیا اور اعلان کر دیا کہ اس لڑکی سے میرا آسمان پر نکاح ہو گیا ہے۔ اگر کوئی شخص اس سے شادی کرے گا تو نہ صرف اس کا خاوند مر جائے گا بلکہ لڑکی کا والد بھی مر جائے گا۔ محمدی بیگم کے گھر والوں نے مرزا قادیانی کو پاگل سمجھ کر اس کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہ کی اور اپنی بیٹی کا نکاح اپنے قریبی عزیز سلطان احمد سے کر کے اس کی رخصتی کر دی۔ اس پر مرزا قادیانی نے اپنے مریدوں کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ فکر نہ کرو، جلد ہی یہ لڑکی بیوہ ہو کر میرے نکاح میں آئے گی۔ مرزا قادیانی کی خوش

صفحہ 242

گمانی تھی کہ شاید محمدی بیگم کا شوہر فوت ہو جائے تو محمدی بیگم اس کے نکاح میں آ جائے گی۔ پھر لوگوں کو بتایا جائے گا کہ بیوہ عورت کے ملنے سے یہ بشارت پوری ہو گئی۔ مگر افسوس محمدی بیگم کا شوہر فوت ہوا نہ وہ بیوہ ہوئی۔ اس طرح محمدی بیگم سمیت کسی بھی بیوہ کو مرزا قادیانی کی بیوی بننے کا شرف حاصل نہ ہو سکا اور مرزا قادیانی بیوہ کا انتظار کرتے کرتے قادیان کے قبرستان میں چلا گیا۔ اب آپ مرزا قادیانی کا الہام ملاحظہ فرمائیں:

(325) ”تخمیناً اٹھارہ برس کے قریب عرصہ گزرا ہے کہ مجھے کسی تقریب سے مولوی محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر رسالہ اشاعۃ السنۃ کے مکان پر جانے کا اتفاق ہوا۔ اس نے مجھ سے دریافت کیا کہ آج کل کوئی الہام ہوا ہے؟ میں نے اس کو یہ الہام سنایا جس کو میں کئی دفعہ اپنے مخلصوں کو سنا چکا تھا اور وہ یہ ہے کہ بکر و ثیب جس کے یہ معنی ان کے آگے اور نیز ہر ایک کے آگے میں نے ظاہر کیے کہ خدا تعالیٰ کا ارادہ ہے کہ وہ دو عورتیں میرے نکاح میں لائے گا۔ ایک بکر ہوگی اور دوسری بیوہ۔ چنانچہ یہ الہام جو بکر کے متعلق تھا پورا ہو گیا اور اس وقت بفضلہٖ تعالیٰ چار پسر اس بیوی سے موجود ہیں اور بیوہ کے الہام کی انتظار ہے۔“

(تریاق القلوب صفحہ 73 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 201 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 847 پر)

پیش گوئی بتا رہی ہے کہ مرزا قادیانی کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت دی گئی اور اس سے وعدہ کیا گیا کہ ”اللہ تعالیٰ دو عورتیں تیرے نکاح میں لائے گا، ایک کنواری اور دوسری بیوہ۔“ بقول مرزا قادیانی کنواری کا الہام پورا ہو گیا۔ بیوہ کے نکاح کا انتظار ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کا تاحیات کسی بیوہ سے نکاح نہیں ہوا اور وہ اس کی حسرت لیے دنیا سے کوچ کر گیا۔ یہ پیش گوئی ایک گپ اور جھوٹ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔

قادیانی تنخواہ یافتہ مبلغین نے مرزا قادیانی کے اس ناکام الہام سے عبرت حاصل کرنے کے بجائے الٹا اس کی غلط تاویلات کرنا شروع کر دیں۔ قادیانی مناظر جلال الدین شمس لکھتا ہے:

(326) ”یہ الہام الٰہی اپنے دونوں پہلوؤں سے حضرت ام المومنین کی ذات میں ہی پورا

صفحہ 243

ہوا ہے، جو بکر یعنی کنواری آئیں اور ثیب یعنی بیوہ رہ گئیں۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 31 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 848 پر)

اسے کہتے ہیں ”شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار“! جلال الدین شمس کہتا ہے کہ یہ الہام ایک ہی خاتون (نصرت جہاں) کے بارے میں ہے۔ جب وہ مرزا قادیانی کے نکاح میں آئی تو کنواری تھی اور جب مرزا قادیانی مر گیا تو بیوہ ہو گئی۔ اس کے برعکس مرزا قادیانی کا کہنا ہے کہ کنواری نکاح میں آ گئی ہے جبکہ بیوہ کے الہام کی انتظار ہے۔ یعنی بیوہ عورت سے شادی کا منتظر ہوں کہ کب وہ پیش گوئی پوری ہو؟ مرزا قادیانی کہہ رہا ہے کہ الہام پورا نہیں ہوا جبکہ تنخواہ یافتہ ناخلف مرید کہہ رہا ہے کہ حضرت آپ بکواس کر رہے ہیں، الہام پورا ہو چکا ہے۔ حالانکہ مرزا قادیانی کا کہنا ہے:

مخالف کہے۔“

(حقیقت الوحی تتمہ صفحہ 7 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 438 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 849 پر)

جامعہ عثمانیہ یونیورسٹی حیدر آباد (دکن) کے پروفیسر جناب محمد الیاس برنیؒ اس قادیانی تاویل پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

تو گویا مرزا قادیانی کا بیوہ سے نکاح ہو گیا اور اس طرح پیش گوئی پوری ہو گئی۔ مرزا قادیانی کی اکثر پیش گوئیاں اس انداز سے پوری ہوئیں اور اس طرح کی تاویلات قادیانی جماعت کا ایمانی سرمایہ ہیں۔“ (قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ صفحہ 485)

حضرت مولانا لال حسین اخترؒ اپنے شہرہ آفاق مضمون ”بکر و ثیب، مرزا قادیانی کی ایک پیشین گوئی“ میں لکھتے ہیں:

”قارئین کرام! پھر ایک دفعہ مرزا قادیانی کے ”الہام“ اور اس کی تشریح توضیح کو

صفحہ 244

پڑھ لیجیے اور ساتھ ہی ”تذکرہ“ کے مرتب کی دجل آمیز عبارت پر غور کیجیے کہ کس قدر دھوکا اور فریب دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ واللہ میں تو مرزائی مبلغین کی ایسی مکروہ چال بازیاں دیکھنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ان کے قلوب میں نہ اللہ تعالیٰ کا خوف ہے، نہ ہی ان لوگوں کو شرم و حیا آتی ہے۔

مرزا قادیانی تو لکھتے ہیں:

”خدا تعالیٰ کا ارادہ ہے کہ وہ دو عورتیں میرے نکاح میں لائے گا۔ ایک کنواری ہوگی اور دوسری بیوہ۔“

مرزا قادیانی کی اس تصریح کے خلاف مرزا کے چیلے لکھتے ہیں کہ ایک ہی نکاح سے ’الہام‘ پورا ہو گیا۔ یعنی نصرت جہاں بیگم (مرزا محمود احمد کی والدہ) کا کنواری ہونے کی حالت میں مرزا قادیانی سے نکاح ہوا اور مرزا کی وفات کے بعد نصرت جہاں بیگم بیوہ رہ گئیں۔

مرزائیو! ”تریاق القلوب“ صفحہ 34 (مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 201) اور ”ضمیمہ انجام آتھم“ صفحہ 14 (مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 298) پر درج کردہ اپنے ”مسیح موعود“ کی عبارت پڑھو تو تم پر روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جائے گا کہ مرزا قادیانی یہ نہیں لکھتے کہ میری نکاح میں آنے والی کنواری بیوی، بیوہ رہ جائے گی بلکہ وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ دو عورتیں میرے نکاح میں لائے گا۔ ایک کنواری ہوگی اور دوسری بیوہ۔ پس تم بتاؤ کہ کس بیوہ عورت سے مرزا جی کا نکاح ہوا؟ جب کسی بیوہ سے مرزا قادیانی کا نکاح نہیں ہوا اور یقیناً نہیں ہوا تو تمہیں مرزا کو کاذب اور مفتری علی اللہ ماننے میں کون سا امر مانع ہے؟ کسی بیوہ عورت سے نکاح نہ ہونے کے باعث مرزا کا ثیب (نکاح بیوہ) کا ”الہام“ صریح جھوٹ اور کھلا ہوا افتراء ہوا۔ پس مرزا قادیانی کاذب ثابت ہوا کیونکہ بقول مرزا قادیانی:

(328) ”خدا تعالیٰ صاف فرماتا ہے کہ ان اللہ لا یہدی من ہو مسرف کذاب سوچ کر دیکھو کہ اس کے یہی معنی ہیں، جو شخص اپنے دعویٰ میں کاذب ہو، اس کی پیش گوئی ہرگز پوری نہیں ہوتی۔“

(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 322، مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 322، 323 از مرزا قادیانی)

صفحہ 245

آٹھویں پیش گوئی

چاند و سورج گرہن

آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی عجیب و غریب نفسیات کا مالک تھا۔ ذخیرہ احادیث میں سے ضعیف سے ضعیف، من گھڑت اور موضوع روایت بھی اگر اس کے کسی دعویٰ یا موقف کو تقویت پہنچاتی تو وہ نہ صرف اسے قبول کر لیتا بلکہ اپنے موقف کی حمایت میں غوغا آرائی کا اس قدر طوفان برپا کر دیتا کہ اس حماقت پر صداقت کا گمان ہونے لگتا۔ اس کے برعکس اگر مرزا قادیانی کے کسی موقف کے رد میں صحیح ترین اور متفقہ علیہ احادیث بھی موجود ہوتیں تو مرزا قادیانی نہ صرف انھیں ماننے سے انکاری ہو جاتا بلکہ علی الاعلان کہتا کہ جو حدیثیں میری وحی کے مخالف ہیں، وہ ہم ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتے ہیں (نعوذ باللہ)! چنانچہ رمضان المبارک میں چاند گرہن (خسوف) اور سورج گرہن (کسوف) کی لغو اور موضوع روایت اس کی روشن مثال ہے۔

سچے مہدی کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ جب وہ تشریف لائیں گے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے مل کر دجال کو قتل کریں گے اور پوری دنیا سے یہود و نصاریٰ کا صفایا کر دیں گے۔ مرزا قادیانی نے اپنے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا مگر اندر سے ڈرتا بھی رہا کہ اگر انگریز نے جہاد کے بارے پوچھ لیا تو کیا جواب دوں گا؟ لہذا وہ اس سلسلہ میں مختلف تاویلات کرتا رہا۔ کبھی کہا:

(ازالہ اوہام صفحہ 457 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 344 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 852 پر)

کبھی کہا:

(ازالہ اوہام صفحہ 519 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 379 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 853 پر)

صفحہ 246

کبھی کہا: (331) ”میرا عقیدہ اور میری جماعت کا عقیدہ ہے کہ اس قسم کی تمام حدیثیں جو مہدی کے آنے کے بارے میں ہیں، ہرگز قابل وثوق اور قابل اعتبار نہیں ہیں۔“

(حقیقۃ المہدی صفحہ 3 روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 429، 430 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 854، 855 پر)

مارچ 1894ء میں جب چاند گرہن اور سورج گرہن کا اجتماع رمضان المبارک میں ہوا تو مرزا قادیانی کی رگ خود غرضی پھر پھڑکی اور اس نے ایک غیر مستند اور انتہائی نا قابل اعتبار قول کا سہارا لے کر گوبلز برانڈ پروپیگنڈا شروع کر دیا کہ میں ہی مہدی ہوں اور رمضان میں چاند اور سورج گرہن میری ہی مہدویت کا نشان ہے۔ مرزا قادیانی لکھتا ہے:

(332) ”میرے پاس خاص خدا کی طرف سے گواہی ہے۔۔۔۔۔ مہدی معہود کے لیے قرآن شریف اور حدیث دارقطنی میں بطور نشان مندرج تھا۔“

(تحفہ گولڑویہ ضمیمہ صفحہ 27 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 63 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 856 پر)

مرزا قادیانی نے حسب روایت اپنی خود غرضی کے تحت نہایت بے باکی سے قرآن پاک پر جھوٹ بولا ہے۔ کیا کوئی قادیانی بتا سکتا ہے کہ قرآن مجید کی کونسی آیت، مرزا قادیانی کے دعویٰ مہدویت کا نشان ہے؟

دارقطنی کی رمضان المبارک میں خسوف و کسوف کی وہ روایت جس سے مرزا قادیانی نے استدلال کر کے اپنے دعویٰ مہدویت کی تائید میں پیش کیا، مندرجہ ذیل ہے:

(333) ”عن عمرو بن شمر عن جابر عن محمد بن علی قال ان لمھدینا آیتین لم تکونا منذ خلق اللہ السموات والارض تنکسف القمر لاول لیلۃ من رمضان و تنکسف الشمس فی النصف منہ ولم تکونا منذ خلق اللہ السموات والارض.“

(سنن دارقطنی از امام علی بن عمر الدارقطنی جلد اوّل صفحہ 65، بیروت)

(عکس صفحہ نمبر 857 پر)

صفحہ 247

(مفرد الفاظ کا ترجمہ) ”محمد بن علی کہتے ہیں، اِن (بیشک) لمهدينا (ہمارے مہدی کے لیے) آیتین (دو نشانیاں ہیں) لم تکونا (نہیں ہوئیں ظاہر) منذ (جب سے) خلق السمٰوات والارض (تخلیق ہوئی آسمان و زمین کی) تنکسف القمر (چاند گرہن ہوگا) لاول لیلة (پہلی رات) من رمضان (رمضان کی) و (اور) تنکسف الشمس (سورج گرہن ہوگا) فی النصف منه (اس رمضان کے نصف میں) لم تکونا (نہیں ہوئی ظاہر) منذ (جب سے) خلق الله السمٰوات والارض (پیدا کیا اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو)“

اب آئیے مفرد الفاظ کے ترجمہ کی مدد سے پوری روایت کا ترجمہ کرتے ہیں۔

”بیشک ہمارے مہدی کی (کے لیے) دو نشانیاں ہیں، نہیں ہوئیں وہ (نشانیاں) جب سے تخلیق ہوئی آسمان وزمین کی۔ چاند گرہن ہوگا رمضان کی پہلی رات اور سورج گرہن ہوگا اس (رمضان) کے نصف میں، نہیں ہوئی (ظاہر) وہ نشانیاں جب سے پیدا کیا اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو۔“

قارئین! دارقطنی کی روایت کے مفرد الفاظ کا ترجمہ اور پھر روایت کے مفرد الفاظ کی مدد سے پوری روایت کا ترجمہ آپ کی خدمت میں پیش کر دیا گیا اور مجھے یقین ہے کہ ہمارے کیے ہوئے اس ترجمہ کے ساتھ عربی جاننے والا کوئی شخص قطعاً اختلاف نہیں کر سکتا البتہ اس روایت کا جو ترجمہ مرزا قادیانی نے کیا ہے، وہ ملاحظہ فرمائیں اور ان کی دیانت پر اُسے داد دیں۔

(334) (ترجمہ بقلم مرزا قادیانی) ”یعنی ہمارے مہدی کی تائید اور تصدیق کے لیے دو نشان مقرر ہیں اور جب سے کہ زمین و آسمان پیدا کیے گئے وہ دو نشان کسی مدعی کے وقت ظہور میں نہیں آئے اور وہ یہ ہیں کہ مہدی کے ادعا کے وقت میں چاند کو اس پہلی رات میں گرہن ہوگا جو اس کے خسوف کی تین راتوں میں سے پہلی رات ہے یعنی تیرھویں رات اور سورج کو اس کے گرہن کے دنوں میں سے اس دن گرہن ہوگا جو درمیان کا دن ہے یعنی اٹھائیس تاریخ کو۔ اور جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے کسی مدعی کے لیے یہ اتفاق نہیں ہوا کہ اُس کے دعوٰی کے وقت میں خسوف کسوف رمضان میں ان تاریخوں میں ہوا ہو۔“

(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 46 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 330 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 858 پر)

صفحہ 248

قارئین! مرزا قادیانی کے ترجمہ کو آپ نے ملاحظہ فرمایا۔ کیا ہم قادیانی جماعت کے پڑھے لکھے مربی حضرات سے پوچھ سکتے ہیں کہ خط کشیدہ الفاظ ”کسی مدعی کے وقت، مہدی کے ادعا کے وقت، جو اس کے خسوف کی تین راتوں میں سے پہلی رات ہے یعنی تیرھویں رات، اور سورج کو اس کے گرہن کے دنوں میں سے اس دن گرہن ہوگا جو درمیان کا دن ہے یعنی اٹھائیس تاریخ کو“، روایت دارقطنی کے کن الفاظ کا ترجمہ ہے؟

قارئین! دارقطنی کی روایت کا جو ہم نے ترجمہ کیا ہے، اس کو اور مرزا قادیانی کے کیے ہوئے ترجمہ کو پڑھیں، کس کا ترجمہ درست ہے اور کس کا غلط؟ اور قابل غور بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنے پورے علم اور تخیلاتی قوت صرف کر کے یہ ترجمہ کیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس ترجمہ میں کہیں روایت قطنی کا مفہوم باقی رہ سکتا ہے؟ لاول لیلۃ من رمضان کا ترجمہ تیرھویں رات کرنا اور فی النصف منہ کا ترجمہ اٹھائیس تاریخ کرنا کیسے ہو سکتا ہے؟ پھر ظلم یہ کہ اس واضح بددیانتی کے باوجود وہ اپنے دعویٰ اور اس پر غلط رنگ میں پیش کی جانے والی دلیل اور تاویل کے نہ ماننے والے کو ”ظالم، رئیس الدجال کے القابات اور ہزار ہزار لعنت!“ کا تحفہ پیش کرتا ہے۔ (انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 46 مندرجہ روحانی خزائن 11 صفحہ 330 از مرزا قادیانی)

اس مذکورہ بالا عبارت کے حوالہ سے ذیل میں چند اہم اور قابل غور نکات پیش خدمت ہیں۔ قارئین کرام سے گزارش ہے کہ ان نکات کو خصوصی توجہ سے ملاحظہ فرمائیں:۔

نبوی ﷺ بنا کر پیش کرتے ہیں، وہ حدیث نبوی ﷺ نہیں۔ اسے حدیث نبوی کہنا سراسر جھوٹ اور کذب ہے۔ نبی کریم ﷺ پر بہتان عظیم اور صریح دھوکہ ہے۔ یہ روایت نہ تو حدیث رسول ﷺ ہے اور نہ کسی صحابیؓ ہی کا قول ہے بلکہ یہ قول محمد بن علی کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔

پھر یہ کیسے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ یہ کون سے محمد بن علی ہیں؟ لیکن مرزا قادیانی اور ان کی جماعت کا اصرار ہے کہ یہ محمد بن علی، جناب امام محمد باقر ہیں جو شہید کربلا حضرت امام حسینؓ کے پوتے ہیں۔

ناقابل حجت ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی ساقط اور مردود ہے کیونکہ اس روایت کا

صفحہ 249

پہلا راوی عمرو بن شمر بڑا جھوٹا آدمی تھا۔ وہ اپنی طرف سے جھوٹی روایتیں بنا بنا کر بزرگوں کی طرف منسوب کر دیتا تھا۔ دارقطنی اور نسائی نے اس کو متروک الحدیث کہا ہے۔ ابن حبان نے اس کی نسبت کہا کہ وہ صحابہ کرام کو گالیاں دیتا تھا اور موضوع روایات بیان کیا کرتا تھا۔ امام بخاریؒ نے فرمایا کہ عمرو بن شمر منکر الحدیث ہے۔

(میزان الاعتدال جلد 2 صفحہ 262)

ابوحنیفہؒ نے فرمایا کہ میں نے جابر جعفی سے بڑھ کر کسی کو جھوٹا نہیں دیکھا۔ نسائی نے کہا کہ وہ متروک الحدیث ہے۔ لیث بن ابو سلیم نے کہا کہ وہ کذاب تھا۔ سعید بن جبیر نے کہا کہ وہ جھوٹا ہے۔ ابن حبان نے کہا کہ وہ سبائی یعنی عبداللہ بن سبا یہودی کا پیروکار تھا۔ (تہذیب التہذیب جلد 2 صفحہ 46 تا 50)

اس ضمن میں مولانا رفیق دلاوریؒ لکھتے ہیں:

’’دارقطنی کی یہ روایت انتہا درجہ کی رذل اور بے ہودہ ہے اور اس سے استدلال کرنا اسی شخص کا کام ہے جو علم حدیث سے بے بہرہ ہو یا قادیاں کے مسیح موعود کا سا مطلب پرست ہو۔ چونکہ مرزا قادیانی اس روایت کو کھینچ تان کر مفید مطلب بنا سکتے تھے، اس لیے یہ روایت ان کے نزدیک نہایت صحیح تھی، چنانچہ ضمیمہ، انجام آتھم (صفحہ 49) میں لکھا کہ ’’پھر ایک اور اعتراض سادہ لوح عبدالحق کا یہ ہے کہ محدثین نے دارقطنی کی اس حدیث کے بعض راویوں پر جرح کی ہے، اس لیے یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔ لیکن اس احمق کو سمجھنا چاہیے کہ حدیث نے اپنی سچائی کو آپ ظاہر کر دیا ہے، کیونکہ اس کی پیش گوئی پوری ہو گئی، پس اس صورت میں جرح سے حدیث کا کچھ نقصان نہیں ہوا، بلکہ جنھوں نے جرح کیا ہے ان کی حماقت ظاہر ہوئی۔ فرض کیا کہ اس حدیث میں کوئی راوی کذاب ہے، مفتری ہے، مگر جبکہ یہ پیشین گوئی پوری ہو گئی تو حدیث کی صحت پر شہادت پیدا ہو گئی۔‘‘

اس کے بعد مرزا قادیانی نے ضمیمہ ’’انجام آتھم‘‘ کے صفحہ 50 پر مولوی عبدالحق صاحب غزنوی مرحوم کو خطاب کرتے ہوئے لکھا: ’’اے بدذات، خبیث، دشمنِ اللہ اور رسولؐ کے تو نے یہ یہودیانہ تحریف اسی لیے کی کہ تا یہ عظیم الشان معجزہ پیغمبر خدا ﷺ کا دنیا پر مخفی رہے۔ جابر اور عمرو بن شمر کا جھوٹ تو ہرگز ثابت نہیں ہوا، مگر تیرا جھوٹ اے نابکار پکڑا

صفحہ 250

گیا ۔ جابر اور عمرو کا سچا ہونا کسوف خسوف سے ثابت ہو گیا اور رویت نے روایت کے ضعف کو دور کر دیا۔ اب جو شخص ان بزرگوں ( جابر اور عمرو بن شمر ) کو جھوٹا کہے وہ بذات خود جھوٹا اور بے ایمان ہے ۔“

مرزا قادیانی نے کتاب ”حقیقۃ الوحی“ صفحہ 197 میں لکھا، جبکہ یہ پیش گوئی اپنے معنوں کے رو سے کامل طور پر پوری ہو چکی تو اس حدیث سے بڑھ کر اور کون سی حدیث صحیح ہوگی جس کے سر پر محدثین کی تنقید کا بھی احسان نہیں، بلکہ اس نے اپنی صحت کو آپ ظاہر کر کے دکھلا دیا کہ وہ صحت کے اعلیٰ درجہ پر ہے۔ مرزا قادیانی نے کتاب ”تحفہ گولڑویہ“ صفحہ 45 میں اعلان کیا تھا کہ جو کوئی اس حدیث کو موضوع ثابت کرے گا، اس کو سو روپیہ انعام دیا جائے گا۔ اس کے جواب میں علمائے اسلام نے عمرو بن شمر اور جابر جعفی کی از سر نو قلعی کھول کر قادیانی صاحب کی پیش کردہ روایت کی حقیقت ظاہر کر دی ،مگر مرزا قادیانی نے جیسا کہ ان کا معمول تھا کہ انعام مشتہر کرتے تھے، لیکن اس کا ایفا نہیں کرتے تھے، کسی کو پھوٹی کوڑی بھی انعام نہ دی۔“

(رئیس قادیان از مولانا رفیق دلاوری صفحہ 634)

جاتا۔ کیونکہ احادیث مبارکہ میں جس قدر علامتیں حضرت امام مہدیؑ کی بیان ہوئی ہیں، ان میں کوئی علامت بھی مرزا قادیانی میں نہیں پائی جاتی۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ دنیا فنا نہ ہوگی جب تک کہ ایک شخص میرے اہل بیت سے عرب کا بادشاہ نہ ہو۔ پھر ارشاد فرمایا کہ اس کا نام میرے نام کے مطابق ہوگا یعنی محمد۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ اس کے والد کا نام میرے والد محترم کے نام کے مطابق ہوگا یعنی عبداللہ۔ مگر سب جانتے ہیں کہ مرزا قادیانی کا نام غلام احمد قادیانی تھا۔ اس کے باپ کا نام غلام مرتضیٰ تھا۔ مرزا قادیانی قوم کا سید نہ تھا بلکہ مغل قوم سے تعلق رکھتا تھا۔ احادیث میں حضرت امام مہدی کی نسبت ”من اہل بیتی من عترتی من ولد فاطمہ“ کے الفاظ وارد ہوئے ہیں۔ چونکہ سچے امام مہدی حضرت فاطمہؓ کی اولاد میں سے ہوں گے۔ اس بنا پر شہید کربلا حضرت امام حسینؓ کے پوتے امام محمد باقرؒ نے فرمایا کہ ہمارے مہدی کی دو نشانیاں ہیں اور مرزا قادیانی فاطمی نہیں تھا چنانچہ مرزا قادیانی نے خود لکھا:

صفحہ 251

(335) ’’میرا یہ دعویٰ نہیں ہے کہ میں وہ مہدی ہوں جو مصداق ’’من ولد فاطمہ و من عترتی‘‘ وغیرہ ہے۔‘‘

(براہین احمدیہ ضمیمہ حصہ پنجم صفحہ 186 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 356 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 859 پر)

اس کھلی نشانی کو کہتے ہیں کہ جس کی مانند اس کے ظہور سے پہلے اس کی مثل کوئی چیز واقع نہ ہوئی ہو اور وہ بے نظیر ہو۔ سچا مہدی تب ہی پہچانا جائے گا۔ اگر روزمرہ معمولات کے مطابق کچھ چیزیں ظہور میں آجائیں تو پھر سچے مہدی اور جھوٹے مہدی میں تمیز کرنی مشکل ہو جائے گی۔ مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ 13,14,15 تاریخیں خسوف (چاند گرہن) کے لیے اور 27,28,29 کسوف (سورج گرہن) کے لیے مقرر ہیں اور یہ نظام کبھی نہیں ٹوٹ سکتا۔ جبکہ مرزا قادیانی کے زمانہ میں کبھی حسب سابق ایسا ہی ہوا۔ اس سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی سچا مہدی نہ تھا۔ اگر وہ سچا مہدی ہوتا تو اس کے لیے کوئی خاص نشان ظاہر ہوتا جو اس کو دوسرے جھوٹے مہدیوں سے ممتاز کرتا اور وہ فخر سے کہہ سکتا کہ مجھے ایسا نشان ملا ہے جو کسی کو نہیں ملا۔ لیکن 1894ء میں جب رمضان المبارک میں چاند گرہن اور سورج گرہن لگا اور مرزا قادیانی نے اپنے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا تو اس وقت یہ گرہن ہندوستان کے علاوہ دنیا بھر میں ہوا۔ اس وقت امریکہ میں مسٹر ڈوئی نے اپنے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہوا تھا اور سوڈان میں محمد احمد نے اپنے مہدی ہونے کا اور وہ دونوں زندہ موجود تھے۔

السموات والارض‘‘ مطلب اس کا یہ ہے کہ مہدی کی دو نشانیاں ایسی ہیں کہ جب سے زمین و آسمان بنے ہیں، ان دونوں نشانیوں کا ظہور آج تک ہوا ہی نہیں۔ یہ قول اسی صورت میں صحیح ہو سکتا ہے کہ جب اسے ظاہری الفاظ کے مطابق رکھا جائے۔ یعنی رمضان المبارک کی پہلی تاریخ اور پندرہ تاریخ مراد لی جائے کیونکہ جب سے زمین و آسمان بنے ہیں، ان تاریخوں میں کبھی چاند اور سورج کا

صفحہ 252

گرہن نہیں لگا۔ جبکہ مرزا قادیانی کے دور میں 13 رمضان المبارک کو چاند گرہن اور 28 رمضان المبارک کو سورج گرہن لگا۔ اور ایسا مرزا قادیانی سے پہلے ہزاروں مرتبہ ہو چکا ہے۔

کی گئی کہ ”تنکسف القمر لاول ليلة من رمضان“ یعنی چاند گرہن رمضان المبارک کی پہلی رات میں ہوگا اور دوسری علامت یہ بیان کی گئی کہ: ”وتنکسف الشمس في النصف منه“ یعنی سورج گرہن رمضان کی درمیانی تاریخ کو ہوگا۔ اس جملہ میں لفظ نصف اور منہ پر غور فرمائیں۔ منہ میں ضمیر مذکر ہے اور اس کا مرجع رمضان ہے۔ نصف سے مراد رمضان المبارک کی 14 یا 15 تاریخ ہے۔ سورج گرہن کا دوسرا نشان بھی بے نظیر، بے مثل اور بالکل منفرد و انوکھا ہوگا۔ جبکہ مرزا قادیانی کے وقت میں چاند گرہن رمضان کی 13 تاریخ کو جبکہ سورج گرہن رمضان کی 28 تاریخ کو لگا تھا۔ چنانچہ مرزا قادیانی خود لکھتا ہے: ”چاند گرہن 13 رمضان کو ہوا اور سورج گرہن 28 رمضان کو“ (انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 50 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 334 از مرزا قادیانی) لیکن برا ہو خود غرضی کا کہ مرزا قادیانی کی سلطانی قلم نے ان تاریخوں کا ترجمہ اپنے مفاد کے تحت کر کے اپنے لیے جگ ہنسائی کا سامان پیدا کر لیا۔ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب ”حقیقتہ الوحی“ میں اس قول کا ترجمہ یہ لکھا:

میں ہوگا یعنی تیرھویں تاریخ میں اور سورج کا گرہن اس کے دنوں میں سے بیچ کے دنوں میں ہو گا یعنی اسی رمضان کے مہینہ کی اٹھائیسویں تاریخ کو۔“

(حقیقتہ الوحی صفحہ 194 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 202 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 860 پر)

یعنی چاند کی اوّل تاریخ سے مراد تیرھویں تاریخ اور رمضان کے نصف سے مراد اٹھائیس تاریخ۔ اب ان عقل کے اندھوں کو کون سمجھائے کہ تیرہ رمضان کو کوئی اوّل

صفحہ 253

رمضان نہیں کہتا اور نہ اٹھائیس تاریخ کو کوئی رمضان کا نصف کہتا ہے۔ یہ ہیں قادیانی تاویلات جس پر پوری قادیانی عمارت کھڑی ہے۔ پھر اس کتاب میں مرزا قادیانی نے مزید لکھا:

(337) ”عرب کے محاورہ میں پہلی رات کا چاند قمر کبھی نہیں کہلاتا بلکہ تین دن تک اس کا نام ہلال ہوتا ہے اور بعض کے نزدیک سات دن کا ہلال کہلاتا ہے۔“

(حقیقۃ الوحی صفحہ 196 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 203 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 861 پر)

مزید اس ضمن میں حضرت مولانا رفیق دلاوری لکھتے ہیں:

”کیونکہ عربی میں چاند کو قمر کہتے ہیں اور وہ مختلف حالتوں میں ہلال یا بدر وغیرہ کہلاتا ہے، اس لیے ہلال اور بدر وغیرہ سب کو قمر کہہ سکتے ہیں، کیونکہ عربی میں چاند کا یہی اصلی نام ہے، چنانچہ رب جلیل نے فرمایا: ھو الذی جعل الشمس ضیاء والقمر نورا (وہ ذات پاک جس نے سورج کو چمک دار اور چاند کو نور بنایا) اور فرمایا: والقمر قدرناہ منازل حتی عاد کالعرجون القدیم (ہم نے چاند کے لیے منزلیں مقرر کی ہیں ان کے بموجب ترقی کرتا ہے پھر رو بہ زوال ہوتا ہے، یہاں تک کہ کھجور کی پرانی ٹہنی کی مانند رہ جاتا ہے) اور قاموس اور اس کی شرح تاج العروس میں ہے: الھلال غرة القمر وھی اول لیلتہ (ہلال قمر کی پہلی رات کا نام ہے) اور تاج العروس اور لسان العرب میں ہے: یسمی القمر للیلتین من اول شھر ھلالا (مہینہ کی پہلی دو راتوں میں قمر کو ہلال کہتے ہیں) غرض چاند کی پہلی رات کو جس طرح ہلال کہتے ہیں، اسی طرح قمر بھی کہہ سکتے ہیں، کیونکہ قمر سب تاریخوں کے لیے مشترک نام ہے۔ ہر رات کا چاند قمر کہلاتا ہے، خواہ وہ پہلی رات کا ہو یا چودھویں کا یا کسی اور تاریخ کا۔

پس مرزا قادیانی کا ضمیمہ ”انجام آتھم“ صفحہ 47 میں نہایت دیدہ دلیری سے یہ لکھنا کہ احمقوں نے یہ معنے کس لفظ سے سمجھ لیے، اے نادانو، آنکھوں کے اندھو، مولویّت کو بدنام کرنے والو، ذرا سوچو کہ حدیث میں قمر کا لفظ آیا ہے، اگر یہ مقصود ہوتا کہ پہلی رات میں چاند گرہن ہوگا تو حدیث میں قمر کا لفظ نہ آتا بلکہ ہلال کا لفظ آتا۔“ اس بات کی بین دلیل ہے کہ مرزا قادیانی کو نہ تو قرآن پر عبور تھا نہ لغت ہی سے مس تھا، لیکن انھیں باایں ہمہ جہل و نادانی

صفحہ 254

علمائے امت کے خلاف دریدہ دہنی کرتے ہوئے انھیں شرم نہیں آتی۔ مرزا قادیانی نے ضمیمہ ”انجام آتھم“ میں متذکرہ صدر الفاظ درج کرنے کے بعد از سرنو یوں گل افشانی کی: ”جواب سوچنا چاہیے کہ یہ لوگ اس علمیت کے ساتھ مولوی کہلاتے ہیں۔ اب تک یہ بھی خبر نہیں کہ پہلی رات کے چاند کو عربی زبان میں کیا کہتے ہیں؟“ اور ضمیمہ ”انجام آتھم“ صفحہ 47 میں یہ بھی لکھا کہ ”اگر مہینہ کی پہلی رات مراد ہوتی تو روایت یوں ہونی چاہیے تھی: ينكسف الهلال لاول ليلة“ لیکن بے چارے مرزے کی بلا جانے کہ عربی محاورہ تنکسف القمر ہی بولا جاتا ہے ینکسف الهلال خلاف محاورہ اور غلط ہے۔

یاد رہے کہ جب سے آفتاب اور ماہتاب پیدا ہوئے، کبھی ایسا اتفاق نہیں ہوا کہ چاند کو رمضان کی پہلی اور سورج کو رمضان کی چودھویں یا پندرھویں تاریخ گہن لگا ہو، بلکہ چاند کو ہمیشہ قمری مہینہ کی تیرہویں، چودہویں یا پندرھویں رات اور سورج کو قمری مہینہ کی دو تاریخوں اٹھائیسویں یا انتیسویں تاریخ میں گہن لگتا ہے، لیکن روایت مسطورہ کے بموجب حضرت مہدی علیہ السلام کے زمن سعادت میں اسی طرح قاعدۂ نجوم کے خلاف چاند کو رمضان کی درمیانی تاریخ میں گہن لگے گا، جس طرح نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے صاحبزادے حضرت ابراہیم کی وفات کے دن 10 تاریخ کو لگا تھا، بعض علما نے لکھا ہے کہ آفتاب کو جو خلاف معمول 10 تاریخ کو گہن لگا تو اس سے خدائے قادر و توانا کو اہل نجوم کے اس قاعدہ کا ابطال منظور تھا، جن کے نزدیک کسوف 28 یا 29 کے سوا کسی اور تاریخ میں ہرگز نہیں ہو سکتا۔

(رئیس قادیان از مولانا محمد رفیق دلاوری)

اس ضمن میں معروف عالم دین حضرت مفتی ابولبابہ شاہ منصور صاحب لکھتے ہیں:

قمری مہینے کے وسط اور سورج گرہن ہمیشہ مہینے کے آخر میں ہی ممکن ہے۔ یہ مسئلہ فلکیات کا بالکل ابتدائی اور عام سا مسئلہ ہے۔ اس کی وجہ اس فن کے مبتدی بھی جانتے اور بآسانی سمجھا سکتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں چاند گرہن ہمیشہ اسلامی تاریخ کے حساب سے 13، 14، 15 اور سورج گرہن ہمیشہ 27، 28، 29 کو ہوگا۔ اس سے آگے پیچھے نہیں ہوسکتا۔ اللہ پاک نے فلکی نظام ہی کچھ ایسا رکھا ہے۔ البتہ حضرت مہدی کے ہاتھ پر جس سال کے محرم میں عاشورہ کی

صفحہ 255

رات کو حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان بیعت جہاد و خلافت ہو گی اور اس محرم سے پہلے ذی الحجہ میں منیٰ میں سخت خونریزی ہو گی، اس سال رمضان میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ سے چاند گرہن 13، 14، 15 رمضان کے بجائے یکم رمضان المبارک کی رات کو ہوگا اور سورج گرہن 27، 28، 29 رمضان کے بجائے 15 رمضان المبارک کو ہوگا۔ یہ دونوں باتیں ناممکن ہیں اور نہ تخلیق کائنات سے آج تک ہوئی ہیں۔ لیکن قانون سے ہٹ کر پیش آنے والی چیزوں کی علامت بھی عام قوانین سے ہٹ کر ہوتی ہے۔‘‘

(ہفت روزہ ضرب مومن کراچی 22 تا 28 اگست 2008ء جلد نمبر 12، شمارہ 36)

مرزا قادیانی ”حقیقۃ الوحی“ میں لکھتا ہے:

(338) ”ہمارے مخالف سراسر تعصب سے یہ اعتراض کرتے ہیں۔ اوّل یہ کہ حدیث کے لفظ یہ ہیں چاند گرہن پہلی رات میں ہوگا اور سورج گرہن بیچ کے دن میں مگر ایسا نہیں ہوا یعنی ان کے زعم کے موافق ”چاند گرہن شب ہلال کو ہونا چاہیے تھا جو قمری مہینہ کی پہلی رات ہے اور سورج گرہن قمری مہینہ کے پندرھویں دن کو ہونا چاہیے تھا جو مہینہ کا بیچواں دن ہے ۔“ مگر اس خیال میں سراسر ان لوگوں کی ناسمجھی ہے کیونکہ دنیا جب سے پیدا ہوئی ہے چاند گرہن کے لیے تین راتیں خدا تعالیٰ کے قانون قدرت میں مقرر ہیں یعنی تیرھویں چودھویں پندرھویں اور چاند گرہن کی پہلی رات جو خدا تعالیٰ کے قانون قدرت کے مطابق ہے، وہ قمری مہینے کی تیرھویں رات ہے اور سورج کے گرہن کے لیے تین دن خدا کے قانون قدرت میں مقرر ہیں یعنی قمری مہینے کا ستائیسواں اٹھائیسواں اور انتیسواں دن۔ اور سورج کے تین دن گرہن میں سے قمری مہینہ کے رو سے اٹھائیسواں دن بیچ کا دن ہے۔ سو انہی تاریخوں میں عین حدیث کے منشا کے موافق سورج اور چاند کا رمضان میں گرہن ہوا۔ یعنی چاند گرہن رمضان کی تیرھویں رات میں ہوا اور سورج گرہن اسی رمضان کے اٹھائیسویں دن ہوا ۔“

(حقیقۃ الوحی صفحہ 195 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 203 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 862 پر)

View Proof

لیکن مرزا قادیانی کا یہ ڈھکوسلہ بھی ناقابل التفات ہے، کیونکہ روایت کے الفاظ اس کو رد کرتے ہیں۔ اول تو تین دنوں میں سے درمیان کے دن کو نصف نہیں کہتے، بلکہ وسط

صفحہ 256

کہتے ہیں اور روایت میں ہے کہ سورج گہن اس کے نصف میں ہوگا۔ دوسرے سورج گہن کے وقت کی تشریح فی النصف منہ میں موجود ہے، کیونکہ اگر نصف سے وسط مراد لے کر کہیں کہ سورج گہن اپنے معمولی ایام کے وسط میں ہوگا تو لفظ منہ کا مرجع کوئی نہ رہے گا اور منہ کی ضمیر کا مرجع بجز رمضان کے اور کسی طرف نہیں ہو سکتا۔ پس اس کے معنی لازمی طور پر یہی ہوں گے کہ وسط رمضان میں سورج گہن ہوگا۔

چونکہ رمضان کی پہلی رات خسوف اور نصف رمضان کو کسوف ہوگا اور یہ دونوں واقعات عادت مستمرہ کے خلاف ہوں گے اس لیے ان کو آیتین یعنی دو نشانیاں بتایا گیا اور ظاہر ہے کہ یہ نشان منجمین کے حساب کے سراسر خلاف اور ایسے بدیع ہیں کہ جن کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی، اسی بنا پر روایت میں مذکور ہے لم تكونا منذ خلق السموات والارض یعنی جب سے زمین آسمان بنائے گئے یہ بدیع نشان یعنی پہلی تاریخ کو خسوف اور پندرہویں کو کسوف کبھی ظاہر نہیں ہوئے، البتہ مہدی علیہ السلام کے زمانہ میں گہن کا قاعدہ مستمرہ ٹوٹ جائے گا، لیکن قادیاں کے مسیح موعود صاحب اس بدیہی چیز کے منکر ہیں اور اپنی عقل کے ناخن لینے کی بجائے مقتضائے طبیعت کی بنا پر الٹا علمائے امت کو گالیاں دیتے ہیں، چنانچہ ان کی مزید گوہرافشانی ملاحظہ ہو۔ ارشاد ہوتا ہے: ”انصاف کرنا چاہیے کہ کس قوت اور چمک سے کسوف اور خسوف کی پیش گوئی پوری ہوئی اور ہمارے دعوے پر آسمان نے گواہی دی، مگر اس زمانہ کے ظالم مولوی اس سے بھی منکر ہیں۔ خاص کر رئیس الدجالین عبدالحق غزنوی اور اس کا تمام گروہ علیہم نعال لعن اللہ الف الف مرة (خدا کی لعنت کے دس لاکھ جوتے علما پر پڑیں) اپنے ناپاک اشتہار میں نہایت اصرار سے کہتا ہے کہ یہ پیش گوئی بھی پوری نہیں ہوئی۔ اے پلید دجال پیش گوئی تو پوری ہو گئی، لیکن تعصب کے غبار نے تجھ کو اندھا کر دیا۔“ (ضمیمہ انجام آتھم صفحہ 46) اگلے صفحہ پر یوں گوہرافشانی کرتا ہے: ”اور یہ خیال کہ اس حدیث میں جو یہ فقرہ ہے کہ لم تكونا منذ خلق السموات والارض اس سے سمجھا جاتا ہے کہ یہ خسوف و کسوف بطور خارق ہوگا۔ نہ ایسا خسوف کسوف جو منجمین کے نزدیک معلوم و معروف ہے۔ یہ وہم بھی اس بات پر قطعی دلیل ہے کہ یہ لوگ (علمائے ملت) علم عربی اور عالمانہ تدبر سے بالکل بے نصیب اور بے بہرہ ہیں۔ یہودیوں کے لیے خدا نے اس گدھے کی مثال لکھی ہے، جس پر کتابیں لدی ہوئی ہوں، مگر یہ (معاذ اللہ) خالی گدھے ہیں۔ یہ اس شرف سے بھی محروم ہیں

صفحہ 257

جو ان پر کوئی کتاب ہو۔“ اور آگے چل کر لکھتا ہے کہ ”خدا نے قدیم سے چاند گرہن کے لیے 15-14-13 اور سورج گرہن کے لیے 27-28-29 تاریخیں مقرر کر رکھی ہیں۔ سو پیش گوئی کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ یہ نظام اس روز ٹوٹ جائے گا۔ جو شخص ایسا سمجھتا ہے وہ گدھا ہے، نہ انسان“ (ضمیمہ انجام آتھم صفحہ 47) لیکن جس صورت میں کہ 15-14-13 کو خسوف اور 29-28-27 کو کسوف ہر زمانہ میں ہوتے رہتے ہیں، اگر مہدی علیہ السلام کے زَمَنِ سعادت میں بھی انہی تاریخوں میں ہوں تو وہ کسی طرح نشان نہیں بن سکتے، کیونکہ وہ سچے مہدی اور جھوٹے مہدی میں فارق اور مابہ الامتیاز نہ بن سکیں گے اور قادیانی صاحب نے خود تسلیم کیا ہے کہ میرے زمانہ میں ماہتاب کو تیرہویں رات اور آفتاب کو اٹھائیسویں تاریخ کو گہن لگا تھا، جو ہمیشہ کا معمول اور مروج ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ قادیانی صاحب سچے مہدی نہ تھے، اگر سچے مہدی ہوتے تو ان کے لیے کوئی ایسا مخصوص نشان ظاہر ہوتا جو انھیں جھوٹے مہدیوں سے ممتاز کر دیتا۔ اب مرزائی صاحبان انصاف سے بتائیں کہ اس لقب (گدھے) کا حقیقی مستحق کون ہے، جو ان کے مقتدائے علمائے اسلام کے لیے تجویز کیا ہے؟“

(رئیس قادیان از مولانا رفیق دلاوری صفحہ 636 تا 639)

مرزا قادیانی بڑے دعویٰ سے لکھتا ہے:

کسوف ہوگا اور پہلے اس سے جیسا کہ منطوقِ حدیثِ صاف بتلا رہا ہے کبھی کسی رسول یا نبی یا محدث کے وقت میں خسوف کسوف کا اجتماع رمضان میں نہیں ہوا اور جب سے کہ دنیا پیدا ہوئی ہے، کسی مدعی رسالت یا نبوت یا محدث کے وقت میں کبھی چاند گرہن اور سورج گرہن اکٹھے نہیں ہوئے اور اگر کوئی کہے کہ اکٹھے ہوئے ہیں تو بارِ ثبوت اس کے ذمہ ہے۔“

(انوارالاسلام صفحہ 47 مندرجہ روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 48 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 863 پر)

تک کبھی چاند گرہن اور سورج گرہن رمضان کے مہینہ میں اپنے طور سے اکٹھے ہو گئے ہوں کہ

صفحہ 258

اس وقت کوئی مدعی رسالت یا نبوت یا محدثیت بھی موجود ہو۔‘‘

(انوار الاسلام صفحہ 48 مندرجہ روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 50 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 864 پر)

View Proof

(341) ’’کسی مدعی رسالت یا نبوت کے وقت میں کبھی یہ دونوں گرہن جمع نہیں ہوئے۔‘‘

(حقیقۃ الوحی صفحہ 196 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 203 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 865 پر)

View Proof

(342) ’’چونکہ اس گرہن کے وقت میں مہدی معہود ہونے کا مدعی کوئی زمین پر بجز میرے نہیں تھا اور نہ کسی نے میری طرح اس گرہن کو اپنی مہدویت کا نشان قرار دے کر صد ہا اشتہار اور رسالے اردو اور فارسی اور عربی میں دنیا میں شائع کیے، اس لیے یہ نشان آسمانی میرے لیے متعین ہوا۔‘‘

(حقیقۃ الوحی صفحہ 195 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 202 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 866 پر)

View Proof

(343) ’’جب ہندوستان میں یہ نشان ظاہر ہوا تو مکہ معظمہ کی ہر ایک گلی اور کوچہ میں اس کا تذکرہ تھا کہ مہدی موعود پیدا ہو گیا....... وہ سب خوشی سے اچھلنے لگے کہ اب اسلام کی ترقی کا وقت آگیا اور مہدی پیدا ہو گیا۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ صفحہ 68 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 154 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 867 پر)

View Proof

(344) ’’سو پیشگوئی کا بھی مفہوم یہی ہے کہ یہ نشان کسی دوسرے مدعی کو نہیں دیا گیا خواہ صادق ہو یا کاذب۔ صرف مہدی موعود کو دیا گیا ہے۔ اگر یہ ظالم مولوی اس قسم کا خسوف کسوف کسی اور مدعی کے زمانہ میں پیش کر سکتے ہیں تو پیش کریں۔ اس سے بیشک میں جھوٹا ہو جاؤں گا۔‘‘

(انجام آتھم صفحہ 48 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 332 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 868 پر)

View Proof

صفحہ 259

مرزا قادیانی کی مندرجہ بالا تحریروں سے یہ نتائج اخذ ہوتے ہیں:۔

گرہن اکٹھے نہیں ہوئے۔

روئے زمین پر اور کوئی دوسرا شخص نہ تھا جس نے اس گرہن کو اپنی مہدویت کا نشان قرار دیا ہو۔

کوئی شخص یہ بات ثابت کر دے کہ ایسا نشان (چاند گرہن + سورج گرہن) کسی دوسرے مدعی مہدی کے زمانہ میں پیش آیا تو بے شک میں جھوٹا ہو جاؤں گا۔

اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل نکات نہایت قابل توجہ اور اہم ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں:

ہے کہ جب اسے ظاہری الفاظ کے مطابق رکھا جائے یعنی اول ”لیلۃ“ سے یکم رمضان اور ”نصف منہ“ سے پندرہ رمضان مراد لی جائے، کیونکہ جب سے آسمان و زمین بنے ہیں ان تاریخوں میں چاند اور سورج کو گرہن نہیں لگا۔ تیرہ رمضان کو چاند گرہن اور اٹھائیس رمضان کو سورج گرہن مرزا قادیانی سے قبل ہزاروں مرتبہ لگ چکا ہے، مرزا قادیانی سے قبل 45 سال کے عرصہ میں تین مرتبہ رمضان کی انہی تاریخوں میں گرہن لگ چکا ہے۔

”ڈاکٹر ڈیوڈ مکناٹن شمالی افریقہ سے تعلق رکھنے والے ایک مشہور و معروف عیسائی منجم ہیں جو کہ حکومت دبئی کے موسمیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ رمضان میں خسوف و کسوف کے اجتماع کے موضوع پر انھوں نے ایک تحقیقی مقالہ لکھا ہے۔ ان کی تحقیقات کا خلاصہ درج ذیل ہے۔

چاند گرہن

یہ اس وقت ہوتا ہے جب زمین، چاند اور سورج کے بیچ میں حائل ہو جاتی ہے۔

صفحہ 260

چاند کو گرہن صرف پورے چاند پر ہی لگ سکتا ہے۔

سورج گرہن

سورج کو گرہن اس وقت لگتا ہے جب چاند، زمین اور سورج کے درمیان آ جائے اور یہ صرف اور صرف نئے چاند پر ہی ہو سکتا ہے۔ ان دونوں قسم کے گرہنوں کے لیے ضروری ہے تینوں اجسام ایک ہی سیدھ میں ہوں۔ چاند کا زمین کے گرد اپنا مدار ہے۔ اسی طرح زمین کا سورج کے گرد اپنا ایک الگ مدار ہے۔ ضروری نہیں ہے کہ ہر قمری ماہ کی پہلی اور 15 کو تینوں اس طرح ایک لائن میں ہوں کہ سورج اور چاند گرہن ہوں۔ البتہ سال میں کم از کم دو گرہن کے موسم ہوتے ہیں جن میں یہ تینوں اجسام فلکی ایک لائن میں ہوتے ہیں۔ چنانچہ سورج اور چاند گرہن تقریباً ہر ساڑھے پانچ ماہ بعد لگ سکتا ہے۔

ڈاکٹر مکناشن سے سوال کیا گیا کہ پچھلے 1400 سالوں میں رمضان میں چاند اور سورج گرہن کا اجتماع کتنی مرتبہ ہوا ہے؟

ڈاکٹر ڈیوڈ مکناشن کہتے ہیں:

کی تو پتہ چلا کہ کسی بھی خاص قمری مہینے میں سورج اور چاند گرہن ہر بائیس سال کے بعد گھوم کر انہی تاریخوں میں واقع ہوتا ہے۔ چنانچہ جب میں نے دنیا کے مختلف حصوں میں ہونے والے سورج اور چاند کے جزوی اور کامل گرہنوں کے رمضان میں اجتماع کے بارے میں تحقیق کی تو پتہ چلا کہ ہر بائیس سال کے بعد باقاعدگی سے کم از کم ایک بار اور کبھی کبھی دو بار سورج اور چاند کے گرہنوں کا رمضان میں اجتماع ہوتا چلا آیا ہے۔ البتہ رمضان کی پہلی تاریخ کو چاند گرہن اور درمیانی تاریخ کو سورج گرہن کا ہونا جیسا کہ آپ نے دارقطنی نامی کتاب کے حوالے سے تذکرہ کیا ہے، یہ سائنسی نقطہ نگاہ سے ناممکنات میں سے ہے۔ کائنات کی تخلیق سے لے کر آج تک ایسا کبھی نہیں ہوا۔“

(امام بے لگام کے منہ میں لگام از سید عبدالحفیظ شاہ)

جس کا نام ”ویوز آف دی گلوبس“ ہے۔ یہ کتاب لندن میں طبع ہوئی۔ مسٹر کیتھ نے اس کتاب میں 1801ء سے 1900ء تک کے پورے سو برس کے آئندہ گرہنوں

صفحہ 261

کی فہرست درج کی ہے۔ اس کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک سو سال کے اندر پانچ مرتبہ خسوف وکسوف کا اجتماع رمضان المبارک میں ہوا ہے۔

چھپی۔ اس کتاب کی فہرست میں 63 برس کے اندر تین گرہنوں کا اجتماع رمضان المبارک میں لکھا ہے اور یہ تین اجتماع ایسے ہیں کہ مذکورہ دونوں کتابوں کے مصنف اس پر متفق ہیں۔

اور مسٹر نارمن لوکئیر کی کتاب ”اسٹرونومی“ صفحہ 102 جدول خسوف وکسوف کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ گذشتہ تیرہ صدیوں میں 18ھ سے 1313ھ تک ساٹھ مرتبہ رمضان المبارک میں اجتماع خسوف وکسوف ہوا۔

سے سات سو ترسٹھ برس پہلے سے 1901ء تک کا تجربہ لکھا ہے جس کے بعد وہ لکھتے ہیں کہ ہر ثابت شدہ یا مانا ہوا گہن 223 برس قبل اور بعد اس قسم کا گہن ہوتا ہے یعنی وہ مانا ہوا گہن جس وقت اور جس مہینہ میں جس طور کا ہوگا، 223 برس سے قبل اور بعد بھی ان ہی خصوصیات کے ساتھ ویسا ہی دوسرا گہن ہوگا۔ اب اس حساب کی روشنی میں آپ غور کریں! جب 1267ھ سے 1312ھ تک چھیالیس برس میں تین مرتبہ گرہنوں کا اجتماع رمضان کی تیرہ اور اٹھائیس کو ہوا، اس قاعدے کو جاری کر کے دیکھا جائے کہ اس سے پہلے کس وقت میں گرہنوں کا اجتماع رمضان کی تیرہ اور اٹھائیس کو ہوا ہے۔

حضرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ اپنی کتاب ”شہادت آسمانی“ میں لکھتے ہیں: ”رمضان شریف کی 13 اور 28 کو گرہنوں کا اجتماع معمولی بات ہے۔ جس طرح کے گرہن مرزا قادیانی کے دعوے کے بعد ہوئے، اسی طرح ان کے دعوے کے قبل بھی ہوئے ہیں۔ جس طرح چاند گرہن کے لیے عادۃ اللہ یہ ہے کہ تاریخ 13-14-15 کو ہو اور سورج گرہن 27-28-29 کو ہو۔ اسی طرح یہ بھی عادۃ اللہ ہے کہ دورہ مقررہ اور اوقات معینہ کے بعد دونوں کا اجتماع ایک ماہ میں ہو۔ اب وہ مہینہ رمضان شریف کا ہو یا دوسرا مہینہ ہو۔ اگر علم

صفحہ 262

کے ساتھ طلب تحقیق اور دل میں حق پسندی ہے تو علم ہیئت و نجوم کی کتابوں کو دیکھیے۔ اگر آپ بہ نظر تحقیق دیکھیں گے تو بالیقین میرے بیان کی تصدیق کریں گی۔

یہ امر ظاہر ہے کہ جس طرح علم رمل اور نجوم وغیرہ سے گذشتہ اور آئندہ کی خبریں معلوم ہوتی ہیں اور بہت رمال و نجومی وہ خبریں شائع کیا کرتے ہیں، اسی طرح علم ہیئت اور نجوم کے ماہر گذشتہ اور آئندہ کے گرہنوں کو بیان کرتے ہیں اور اپنی کتابوں میں لکھا کرتے ہیں۔ اس وقت میرے پاس اس فن کی دو کتابیں موجود ہیں، مسٹر کیتھ کی کتاب یوز آف دی گلوبس اور حدائق النجوم۔ پہلی کتاب انگریزی میں ہے اور دوسری فارسی میں۔ ان دونوں کتابوں میں گرہنوں کی فہرست دی گئی ہے۔ مسٹر کیتھ نے پورے سو برس کی فہرست دی ہے یعنی 1801ء سے 1900ء تک کی۔ کیتھ کی فہرست سے معلوم ہوتا ہے کہ سو برس کے عرصہ میں پانچ مرتبہ سورج گرہن اور چاند گرہن کا اجتماع رمضان شریف میں لگا ہے۔ چونکہ یہ تین اجتماع ایسے ہیں کہ دونوں کتابوں کے مؤلف اس پر متفق ہیں اور ان تین گرہنوں کے دیکھنے والے بھی اس وقت تک موجود ہیں اور ان گرہنوں کا ظہور بھی بالاتفاق 13 رمضان شریف اور 28 رمضان شریف کو ہوا ہے۔ اس لیے میں صرف پینتالیس برس کے گرہنوں کی فہرست ان دونوں کتابوں سے نقل کرتا ہوں تاکہ معلوم ہو جائے کہ اس قلیل مدت میں تین مرتبہ ایسے گرہنوں کا اجتماع رمضان میں ہوا، پھر دنیا کی ابتدا سے اس کثیر مدت میں کس قدر ہوا ہوگا۔ ہر ایک ذی علم سمجھتا ہے کہ اگر اس اجتماع کو نشان قرار دیا جائے گا تو صرف ایک نشان ثابت ہوگا اور حدیث میں نہایت صاف طور پر دو نشانوں کی پیش گوئی کی ہے اور ہر ایک نشان کو بے نظیر کہا ہے۔ اس لیے اگر 13 تاریخ اور 28 رمضان کو گرہن ہونا نشان ہے تو روایت کے بموجب ہر ایک گرہن کو نشان ہونا چاہیے اور ہر ایک کو بے نظیر ہونا چاہیے مگر مذکورہ فہرست سے ظاہر ہے کہ نوے برس کے عرصے میں چاند گرہن رمضان کے 13 تاریخ کو پانچ مرتبہ ہوا یعنی 1263ھ اور 1267ھ اور 1291ھ اور 1310ھ، 1311ھ اور 1312ھ ہے اور سورج گرہن 28 رمضان کو 36 برس میں 6 مرتبہ ہوا اور دونوں کا اجتماع ان تاریخوں میں 3 مرتبہ ہوا۔ یعنی 46 برس میں 3 مرتبہ چاند گرہن اور سورج گرہن کا اجتماع رمضان المبارک کی 13 اور 28 تاریخ کو ہوا۔ پھر کیا ایسے ہی گرہن نشان و معجزہ ہو سکتے ہیں؟

صفحہ 263

45 سال میں چاند اور سورج گرہن کی فہرست ملاحظہ ہو

نمبر چاند گرہن کلی یا سنہ عیسوی سنہ ہجری شمار یا سورج جزئی زمانہ اوسط چاند گرہن یا سورج گرہن گرہن انگریزی مہینہ عربی مہینہ مہینہ تاریخ مہینہ تاریخ دوپہر دن یا آدھی رات 1- چاند جزئی 1851ء 1267ھ جنوری 17 ربیع الاول 13 دوپہر کے بعد 2- چاند جزئی 1851ء 1267ھ جولائی 13 رمضان 13 آدھی رات کے بعد 3- سورج 1851ء 1267ھ جولائی 28 رمضان 28 دوپہر کے بعد 4- چاند کلی 1852ء 1268ھ جنوری 7 ربیع الاول 14 آدھی رات کے بعد 5- چاند کلی 1852ء 1268ھ جولائی 1 رمضان 12 دوپہر کے بعد 6- سورج 1852ء 1269ھ دسمبر 11 صفر 28 آدھی رات کے بعد 7- چاند جزئی 1852ء 1269ھ دسمبر 26 ربیع الاول 14 دوپہر کے بعد 8- چاند جزئی 1853ء 1269ھ جون 21 رمضان 13 آدھی رات کے بعد 9- چاند جزئی 1854ء 1270ھ مئی 12 شعبان 14 دوپہر کے بعد 10- چاند جزئی 1854ء 1271ھ نومبر 4 صفر 12 دوپہر کے بعد 11- چاند کلی 1855ء 1271ھ مئی 2 شعبان 14 آدھی رات کے بعد 12- سورج 1855ء 1271ھ مئی 16 شعبان 28 آدھی رات کے بعد 13- چاند کلی 1855ء 1272ھ اکتوبر 25 صفر 13 آدھی رات کے بعد 14- چاند جزئی 1856ء 1272ھ اپریل 20 شعبان 14 آدھی رات کے بعد

صفحہ 264

15- سورج 1273ھ ، 1856ء ستمبر 29 محرم 28 آدھی رات کے بعد 16- چاند جزئی 1273ھ ، 1856ء اکتوبر 13 صفر 13 دوپہر کے بعد 17- سورج 1274ھ ، 1857ء ستمبر 18 محرم 28 آدھی رات کے بعد 18- چاند جزئی 1274ھ ، 1858ء فروری 27 رجب 12 دوپہر کے بعد 19- سورج 1274ھ ، 1858ء مارچ 15 رجب 28 دوپہر کے بعد 20- چاند جزئی 1275ھ ، 1858ء اگست 24 محرم 14 دوپہر کے بعد 21- چاند کلی 1275ھ ، 1859ء فروری 17 رجب 13 آدھی رات کے بعد 22- سورج 1275ھ ، 1859ء جولائی 29 ذی الحجہ 28 دوپہر کے بعد 23- چاند کلی 1276ھ ، 1859ء اگست 13 محرم 13 دوپہر کے بعد 24- چاند جزئی 1276ھ ، 1860ء فروری 7 رجب 14 آدھی رات کے بعد 25- سورج 1276ھ ، 1860ء جولائی 18 ذی الحجہ 28 دوپہر کے بعد 26- چاند جزئی 1277ھ ، 1860ء اگست 1 محرم 13 دوپہر کے بعد 27- سورج 1277ھ ، 1861ء جنوری 11 جمادی الثانی 28 آدھی رات کے بعد 28- سورج 1277ھ ، 1861ء جولائی 8 ذی الحجہ 29 آدھی رات کے بعد 29- چاند جزئی 1278ھ ، 1861ء دسمبر 17 جمادی الثانی 14 آدھی رات کے بعد 30- سورج 1278ھ ، 1861ء دسمبر 31 جمادی الثانی 28 دوپہر کے بعد 31- چاند کلی 1278ھ ، 1862ء جون 12 ذی الحجہ 13 آدھی رات کے بعد 32- چاند کلی 1279ھ ، 1862ء دسمبر 6 جمادی الثانی 13 آدھی رات کے بعد 33- سورج 1279ھ ، 1862ء دسمبر 21 جمادی الثانی 28 آدھی رات کے بعد 34- سورج 1279ھ ، 1863ء مئی 17 ذیقعدہ 27 دوپہر کے بعد 35- چاند کلی 1279ھ ، 1863ء جون 2 ذی الحجہ 13 آدھی رات کے بعد 36- چاند جزئی 1280ھ ، 1863ء نومبر 25 جمادی الثانی 13 آدھی رات کے بعد

صفحہ 265

37- سورج 1864ء 1280ھ مئی 6 ذیقعدہ 29 آدھی رات کے بعد 38- چاند جزئی 1865ء 1281ھ اپریل 11 ذیقعدہ 14 آدھی رات کے بعد 39- چاند جزئی 1865ء 1282ھ اکتوبر 4 جمادی الاول 13 دوپہر کے بعد 40- سورج 1865ء 1282ھ اکتوبر 19 جمادی الاول 28 دوپہر کے بعد 41- سورج 1866ء 1282ھ مارچ 16 شوال 28 دوپہر کے بعد 42- چاند کلی 1866ء 1282ھ مارچ 31 ذیقعدہ 13 آدھی رات کے بعد 43- چاند کلی 1866ء 1283ھ ستمبر 24 جمادی الاول 14 دوپہر کے بعد 44- سورج 1867ء 1283ھ مارچ 6 شوال 28 آدھی رات کے بعد 45- چاند جزئی 1867ء 1283ھ مارچ 20 ذیقعدہ 13 آدھی رات کے بعد 46- چاند جزئی 1867ء 1284ھ ستمبر 14 جمادی الاول 15 آدھی رات کے بعد 47- سورج 1868ء 1284ھ اگست 18 ربیع الثانی 28 آدھی رات کے بعد 48- چاند جزئی 1869ء 1286ھ جنوری 28 شوال 14 آدھی رات کے بعد 49- چاند جزئی 1869ء 1286ھ جولائی 23 ربیع الثانی 13 دوپہر کے بعد 50- سورج 1869ء 1286ھ اگست 7 ربیع الثانی 28 دوپہر کے بعد 51- چاند کلی 1870ء 1286ھ جنوری 17 شوال 14 دوپہر کے بعد 52- چاند کلی 1870ء 1287ھ جولائی 12 ربیع الثانی 12 دوپہر کے بعد 53- سورج 1870ء 1287ھ دسمبر 22 رمضان 28 دوپہر کے بعد 54- چاند جزئی 1871ء 1287ھ جنوری 6 شوال 14 دوپہر کے بعد 55- سورج 1871ء 1288ھ جون 18 ربیع الاول 28 آدھی رات کے بعد 56- چاند جزئی 1871ء 1288ھ جولائی 2 ربیع الثانی 13 دوپہر دن کے بعد 57- سورج 1871ء 1288ھ دسمبر 12 رمضان 28 آدھی رات کے بعد 58- چاند جزئی 1872ء 1289ھ مئی 22 ربیع الاول 13 دوپہر کے بعد

صفحہ 266

59- سورج 1872ء 1289ھ جون 6 ربیع الاول 28 آدھی رات کے بعد 60- چاند 1872ء 1289ھ نومبر 15 شعبان 13 آدھی رات کے بعد 61- چاند کلی 1873ء 1290ھ مئی 12 ربیع الاول 14 آدھی رات کے بعد 62- سورج 1873ء 1290ھ مئی 26 ربیع الاول 28 آدھی رات کے بعد 63- چاند کلی 1873ء 1290ھ نومبر 4 رمضان 12 دوپہر دن کے بعد 64- چاند جزئی 1874ء 1291ھ مئی 1 ربیع الاول 14 دوپہر دن کے بعد 65- سورج 1874ء 1291ھ اکتوبر 10 شعبان 28 آدھی رات کے بعد 66- چاند جزئی 1874ء 1291ھ اکتوبر 25 رمضان 13 آدھی رات کے بعد 67- سورج 1875ء 1292ھ اپریل 6 صفر 28 آدھی رات کے بعد 68- سورج 1875ء 1292ھ ستمبر 29 شعبان 28 دوپہر دن کے بعد 69- چاند جزئی 1876ء 1293ھ مارچ 10 صفر 13 آدھی رات کے بعد 70- چاند جزئی 1876ء 1293ھ ستمبر 3 شعبان 14 دوپہر دن کے بعد 71- چاند کلی 1877ء 1294ھ فروری 27 صفر 13 آدھی رات کے بعد 72- سورج 1877ء 1294ھ مارچ 15 صفر 29 دوپہر دن کے بعد 73- سورج 1877ء 1294ھ اگست 9 رجب 28 دوپہر دن کے بعد 74- چاند کلی 1877ء 1294ھ اگست 23 شعبان 13 آدھی رات کے بعد 75- چاند کلی 1878ء 1295ھ فروری 17 صفر 14 آدھی رات کے بعد 76- سورج 1878ء 1295ھ جولائی 29 رجب 28 دوپہر دن کے بعد 77- چاند جزئی 1878ء 1295ھ اگست 13 شعبان 13 آدھی رات کے بعد 78- سورج 1879ء 1296ھ جنوری 22 محرم 28 دوپہر کے بعد 79- سورج 1879ء 1296ھ جولائی 19 رجب 28 آدھی رات کے بعد 80- چاند جزئی 1879ء 1297ھ دسمبر 28 محرم 14 دوپہر کے بعد

صفحہ 267

81- سورج 1880ء 1297ھ 11 جنوری 14 محرم دوپہر کے بعد

82- چاند کلی 1880ء 1297ھ 22 جون 13 رجب دوپہر کے بعد

83- چاند کلی 1880ء 1298ھ 16 دسمبر 13 محرم دوپہر کے بعد

84- سورج 1880ء 1298ھ 31 دسمبر 28 محرم دوپہر کے بعد

85- سورج 1881ء 1298ھ 28 مئی 29 جمادی الثانی آدھی رات کے بعد

86- چاند کلی 1881ء 1298ھ 13 جون 14 شعبان آدھی رات کے بعد

87- چاند جزئی 1881ء 1299ھ 5 دسمبر 12 محرم دوپہر کے بعد

88- سورج 1882ء 1299ھ 17 مئی 28 جمادی الثانی دوپہر کے بعد

89- سورج 1882ء 1299ھ 11 نومبر 29 ذی الحجہ آدھی رات کے بعد

90- چاند 1883ء 1300ھ 22 اپریل 14 جمادی الثانی دوپہر کے بعد

91- چاند جزئی 1883ء 1300ھ 16 اکتوبر 14 ذی الحجہ آدھی رات کے بعد

92- سورج 1883ء 1300ھ 31 اکتوبر 29 ذی الحجہ آدھی رات کے بعد

93- سورج 1884ء 1301ھ 27 مارچ 28 جمادی الاول آدھی رات کے بعد

94- چاند کلی 1884ء 1301ھ 10 اپریل 13 جمادی الثانی دوپہر کے بعد

95- چاند کلی 1884ء 1301ھ 4 اکتوبر 14 ذی الحجہ دوپہر کے بعد

96- سورج 1884ء 1301ھ 19 اکتوبر 29 ذی الحجہ آدھی رات کے بعد

97- چاند جزئی 1885ء 1302ھ 30 مارچ 12 جمادی الثانی دوپہر کے بعد

98- چاند جزئی 1885ء 1302ھ 24 ستمبر 14 ذی الحجہ آدھی رات کے بعد

99- سورج 1886ء 1303ھ 29 اگست 8 ذیقعدہ دوپہر کے بعد

100- چاند جزئی 1887ء 1304ھ 8 فروری 8 جمادی الاول آدھی رات کے بعد

101- چاند جزئی 1887ء 1304ھ 2 اگست 12 ذیقعدہ دوپہر کے بعد

102- سورج 1887ء 1304ھ 19 اگست 28 ذیقعدہ آدھی رات کے بعد

صفحہ 268

103- چاند کلی 1888ء 1305ھ جنوری 28 جمادی الاول 14 دوپہر کے بعد 104- چاند کلی 1888ء 1305ھ جولائی 23 ذیقعدہ 13 آدھی رات کے بعد 105- چاند جزئی 1889ء 1306ھ جنوری 17 جمادی الاول 14 آدھی رات کے بعد 106- چاند جزئی 1889ء 1306ھ جولائی 12 ذیقعدہ 13 دوپہر کے بعد 107- سورج 1889ء 1307ھ دسمبر 22 ربیع الثانی 28 دوپہر کے بعد 108- چاند جزئی 1890ء 1307ھ جون 3 شوال 14 آدھی رات کے بعد 109- سورج 1890ء 1307ھ جون 17 شوال 28 آدھی رات کے بعد 110- چاند جزئی 1890ء 1308ھ نومبر 26 جمادی الاول 13 دوپہر کے بعد 111- چاند کلی 1891ء 1308ھ مئی 23 شوال 14 دوپہر کے بعد 112- سورج 1891ء 1308ھ جون 6 شوال 28 دوپہر کے بعد 113- چاند کلی 1891ء 1309ھ نومبر 16 ربیع الثانی 13 آدھی رات کے بعد 114- چاند جزئی 1892ء 1309ھ مئی 11 شوال 13 دوپہر کے بعد 115- چاند کلی 1892ء 1310ھ نومبر 4 ربیع الثانی 13 دوپہر کے بعد 116- سورج 1893ء 1310ھ اپریل 16 رمضان 28 دوپہر کے بعد 117- چاند جزئی 1894ء 1311ھ مارچ 21 رمضان 12 دوپہر کے بعد 118- سورج 1894ء 1311ھ اپریل 6 رمضان 28 آدھی رات کے بعد 119- چاند جزئی 1894ء 1312ھ ستمبر 15 ربیع الاول 14 آدھی رات کے بعد 120- سورج 1894ء 1312ھ ستمبر 29 ربیع الاول 28 آدھی رات کے بعد 121- چاند کلی 1895ء 1312ھ مارچ 11 رمضان 13 آدھی رات کے بعد 122- سورج 1895ء 1312ھ مارچ 26 رمضان 28 آدھی رات کے بعد 123- سورج 1895ء 1313ھ اگست 20 صفر 28 دوپہر کے بعد 124- چاند کلی 1895ء 1313ھ ستمبر 4 ربیع الاول 14 آدھی رات کے بعد

صفحہ 269

گرہنوں کا پہلا اجتماع

چاند اور سورج گرہن کا پہلا اجتماع 1267ھ میں ہوا جو 1851ء کے مطابق ہے۔ یعنی پہلا چاند گرہن 13 رمضان 1267ھ مطابق 13 جولائی 1851ء اور سورج گرہن 28 جولائی 1851ء مطابق 28 رمضان 1267ھ کو لگا۔ اس گرہن کا ظہور ہندوستان میں ہوا اور اس کے دیکھنے والے اس وقت تک موجود ہیں۔ ان گرہنوں کی تاریخ وہی 13 اور 28 رمضان ہے جن تاریخوں کے گرہنوں کو مرزا قادیانی مہدی کا نشان کہتے ہیں۔ اس وقت مرزا قادیانی کی عمر گیارہ یا بارہ برس کی ہوگی کیونکہ اس نے کتاب البریہ صفحہ 159 خزائن جلد 13 صفحہ 177 میں اپنی پیدائش 1839ء یا 1840ء کی بتائی ہے غرضیکہ یہ گرہن اس کے دعوے سے بہت پہلے کا ہے۔ اس گرہن کا اجتماع رمضان کے 13-28 کو ایسا صحیح ہے کہ دو ماہر فن نجوم کے لکھنے کے علاوہ نہایت معتبر اہل کمال اور بعض دیگر سن رسیدہ حضرات اپنا معائنہ و مشاہدہ بیان کرتے ہیں۔ بعض نادان مرزائیوں کو دیکھا کہ وہ اس گرہن کو بھی مرزا قادیانی ہی کا نشان سمجھتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ایک نشان دعوے سے قبل ہوا اور ایک بعد ہوا۔ مگر یہ کہنا خود مرزا قادیانی کے قول کے خلاف ہے۔ قادیانیوں کو چونکہ راستی سے کچھ واسطہ نہیں ہے، اس لیے ناواقفوں کے رو برو جیسا موقع دیکھتے ہیں، ویسی بات بنا دیتے ہیں۔ اس کا جواب ملاحظہ ہو۔ ضمیمہ انجام آتھم کے صفحہ 46 روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 330 پر مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ وہ دونوں نشان مہدی کے وقت میں ہوں گے، 1267ھ کا گرہن مرزا قادیانی کے دعویٰ مہدی کے وقت میں نہیں ہے بلکہ اس وقت میں ہے کہ اس دعوے کا اُسے خیال بھی نہ ہوگا۔ پھر انجام آتھم صفحہ 50 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 334 میں لکھتا ہے کہ نشانوں کو ظاہر کرنے کے لیے سنت اللہ یہی ہے کہ وہ سچے مدعی کے دعویٰ کی تصدیق کے لیے ہوتے ہیں بلکہ ایسے وقت میں ہوتے ہیں، جب اس مدعی کی تکذیب سرگرمی سے کی جائے۔ اس کے بعد لکھتا ہے اس تحقیقات سے ثابت ہے کہ نشان کے لیے ضرور ہے کہ تکذیب کے بعد ظاہر ہو۔‘‘ اس آخر کے قول نے نہایت ہی وضاحت سے ثابت کر دیا کہ 1267ھ کا گرہن مرزا قادیانی کے لیے نشان نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ اس کے دعوے اور اس کی تکذیب سے بہت پہلے ہے۔ البتہ مرزا قادیانی کے خیال کے موافق اگر اسے علامت کہا جائے تو علی محمد باب کے لیے ہوگا کیونکہ اس

صفحہ 270

کے دعوئی نبوت ومہدویت اور اس کی تکذیب کے بعد یہ گرہن ہوا ہے جس وقت اس کا خلیفہ اس کے دعوے کو روشن کر رہا تھا۔ یہ (بابی) فرقہ اب تک موجود ہے۔ چنانچہ لندن، فرانس، امریکہ، کلکتہ اور بمبئی اور رنگون میں بھی اس کے پیرو ہیں اور اب چھپرے میں آگئے ہیں اور ان کا سرگروہ عبدالبہا ہے۔ لندن کے معزز میمن اس کے مرید ہو گئے ہیں۔ اس فرقہ کو بہائیہ کہتے ہیں اور بابی بھی کہتے ہیں۔

گرہنوں کا دوسرا اجتماع

گرہنوں کا دوسرا اجتماع 1311ھ کے رمضان میں ہوا جو 1894ء کے مطابق ہے۔ یعنی چاند گرہن 21 مارچ 1894ء مطابق 13 رمضان 1311ھ اور سورج گرہن 6 اپریل 1894ء مطابق 28 رمضان 1311ھ۔ اس گرہن کا ظہور ہندوستان میں نہیں ہوا بلکہ امریکہ میں ہوا جس وقت مسٹر ڈوئی مدعی مسیحیت وہاں موجود تھا۔ ہندوستانی جنتریوں میں اس چاند گرہن کی تاریخ 12 ہے 13 نہیں ہے۔ مرزا قادیانی نے ہندوستان میں رہ کر اس کی تاریخ بھی 13 بتائی ہے اور اپنی کتاب ”حقیقۃ الوحی“ میں اس گرہن کو بھی اپنا نشان بتایا ہے اور محض غلط حوالہ دے دیا ہے کہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ مہدی کے وقت میں ایسے گرہن دو مرتبہ ہوں گے حالانکہ کسی حدیث میں یہ مضمون نہیں ہے۔ اس صریح جھوٹ کے علاوہ اس گرہن کا وجود ہندوستان میں نہیں ہوا جہاں مرزا قادیانی کا وجود ہے بلکہ اس ملک میں ہوا جہاں ان کی طرح ایک دوسرا مدعی رسالت موجود ہے۔ ان کی عقل پر افسوس ہے کہ جو چیز ایک جھوٹے مدعی کے ملک میں اس کے دعوے کے وقت میں پائی جائے، اسے مدعی صادق کی علامت کہتا ہے؟

گرہنوں کا تیسرا اجتماع

گرہنوں کا تیسرا اجتماع 1312ھ کے رمضان شریف کی 13 اور 28 تاریخ کے مطابق 11 مارچ اور 26 مارچ کو ہوا۔ یعنی چاند گرہن 11 مارچ 1895ء مطابق 13 رمضان 1312ھ اور سورج گرہن 26 مارچ 1895ء مطابق 28 رمضان 1312ھ۔ یہ وہی گرہن ہے جسے مرزا قادیانی نے اپنے لیے آسمانی شہادت ٹھہرایا ہے اور دارقطنی کی روایت کا مصداق قرار

صفحہ 271

دیا ہے مگر یہاں غور کرنا چاہیے کہ چھیالیس برس کے گرہنوں میں یہ تیسری مرتبہ رمضان کی 13 اور 28 تاریخ کو دونوں گرہنوں کا اجتماع ہوا ہے پھر یہ گرہن اس روایت کا مصداق کس طرح ہوسکتا ہے۔ جس میں نہایت صاف طور سے یہ ارشاد ہے۔ لم تکونا منذ خلق اللہ السموات والارض۔ (سنن الدارقطنی جلد 2 صفحہ 65) یہ جملہ روایت کے شروع میں بھی ہے اور آخر میں بھی ہے۔ آخر میں لم تکونا کی ضمیر یقینی طور سے چاند گرہن اور سورج گرہن کی طرف پھرتی ہے۔ کوئی دوسرا مرجع اس ضمیر کا نہیں ہو سکتا۔ اس لیے اس جملہ کے یہی معنی ہیں کہ جب سے آسمان و زمین اللہ تعالیٰ نے پیدا کیے ہیں، اس وقت سے لے کر اس مہدی کے وقت تک ایسا چاند گرہن اور سورج گرہن کبھی نہ ہوا ہو گا یعنی وہ دونوں گرہن ایسے بے مثل اور بے نظیر ہوں گے کہ اس سے پہلے کسی وقت ان کی نظیر نہیں مل سکتی۔ اس پر خوب نظر رہے کہ روایت کے اس آخری جملہ میں خاص ان گرہنوں کو بے نظیر کہا ہے جن کا ذکر اس سے پہلے جملہ میں ہے اور اس سال کا گرہن تو ایسا ہے کہ جس کی ایک نظیر اس سے ایک سال پہلے یعنی 1311ھ میں موجود ہے پھر وہ بے نظیر کس طرح ہو سکتا ہے؟ اور جب وہ بے نظیر نہیں ہے تو دارقطنی کی روایت کا مصداق نہیں ہو سکتا اور لطف یہ ہے کہ پہلی نظیر جس وقت اور جس ملک میں پائی گئی، اس وقت اس ملک میں ایک مدعی رسالت یعنی مسٹر ڈوئی موجود ہے۔ اگرچہ وہ جھوٹا ہے مگر جس گرہن کو مرزا قادیانی سچے رسول کی علامت بیان کرتے ہیں وہ علامت جھوٹے مدعی کے وقت اسی کے ملک میں پائی گئی۔ پھر یہ کیسے عقل پر پردے پڑے ہیں کہ وہ علامت جو نہایت صاف طور سے جھوٹے کے وقت اور اس کے ملک میں پائی جائے، اسے سچے رسول کی نشانی کہا جاتا ہے افسوس! بلکہ واقعات کا معائنہ کرکے یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ دونوں گرہن یعنی 1311 اور 1312ھ کے جھوٹوں کی نشانی ہوئی۔ پہلے امریکہ میں مسٹر ڈوئی کی علامت ہوئی۔ اس کے ایک سال کے بعد ہندوستان میں مرزا قادیانی کی علامت کا ظہور ہوا۔ غرضیکہ دونوں جھوٹوں کے وقت میں یہ دونوں گرہن پائے گئے۔ جس سے اس طرف اشارہ ہوا کہ ان دونوں شخصوں سے ان ملکوں میں ایسی ہی تاریکی پھیل رہی ہے جیسے گرہن سے تاریکی ہو جاتی ہے مگر یہ گرہن صادق کی علامت کسی طرح نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کا مصداق تو وہی گرہن ہو سکتا ہے جو بے نظیر ہو اور اس گرہن کی ایک نظیر ایک ہی برس پہلے موجود ہے اور دوسری نظیر پینتالیس برس پہلے گزر چکی ہے غرضیکہ دو نظیریں چھیالیس برس کے عرصہ میں

صفحہ 272

بالیقین موجود ہیں اور اگر نظر کو وسیع کر کے دیکھا جائے تو علم نجوم کے قاعدے کے رو سے 117ھ سے 1312ھ تک اٹھارہ مرتبہ رمضان شریف کے انھیں تاریخوں میں گرہنوں کا اجتماع ہوا ہے۔ انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا کی جلد 27 میں گرہن کی حالت بیان کر کے 763 برس قبل مسیح سے 1901ء تک کا تجربہ اس کے مطابق بیان کیا ہے۔ اس کے بعد لکھا ہے کہ تحریر سابق سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر ثابت شدہ یا مانے ہوئے گرہن کو (223) برس قبل اور بعد اسی قسم کا گرہن ہوتا ہے۔ یعنی وہ مانا ہوا اور معینہ گرہن جس وقت اور جس مہینہ میں جس طور کا ہوگا، 223 برس کے قبل اور بعد بھی ان ہی خصوصیات کے ساتھ ویسا ہی دوسرا ہوگا۔

کئی لوگوں نے اپنے مہدی اور نبی ہونے کا دعویٰ کیا اور پھر اس نشان کی بدولت ایک عرصہ تک مخلوق خدا کو گمراہ کرتے رہے۔ مثلاً:-

طریف

اس کے زمانہ میں رمضان المبارک 117ھ (736ء) میں چاند اور سورج گرہنوں کا اجتماع ہوا۔

صالح بن طریف برغواطی

ابو منصور عیسیٰ

صفحہ 273

علی محمد باب

اجتماع ہوا۔

مرزا قادیانی

مرزا قادیانی نے 1311ھ (1895ء) میں رمضان المبارک میں جس خسوف و کسوف کو اپنی صداقت کا نشان ظاہر کیا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ 1311ھ کا خسوف و کسوف ہندوستان میں نہیں ہوا بلکہ امریکہ میں ہوا ہے۔ جہاں مسٹر ڈوئی نے مسیح موعود ہونے کا جھوٹا دعویٰ کیا ہوا تھا اور سوڈان میں انہی دنوں میں محمد احمد نے بھی مہدویت کا جھوٹا دعویٰ کر رکھا تھا۔ اگر 1311ھ کا خسوف و کسوف مرزا قادیانی کے لیے نشان بن سکتا ہے تو پھر محمد احمد سوڈانی اور مسٹر ڈوئی کے لیے اس کو نشان کیوں نہیں قرار دیا جا سکتا؟ تین دعوے داروں میں سے دو کو تو جھوٹا قرار دیا جائے اور تیسرے کے لیے اس کی صداقت کی دلیل ٹھہرائی جائے اور پھر صالح بن طریف، ابو منصور عیسیٰ اور علی محمد باب کے رمضان المبارک میں خسوف و کسوف کا یہ اجتماع نشان کیوں نہیں بن سکتا؟

ہندوؤں اور مسلمانوں نے اپنی قدیم و جدید کتابوں میں گذشتہ اور آئندہ ہونے والے گرہنوں کی فہرستیں شائع کی ہوئی ہیں اور یہ ہر دور میں شائع ہوتی رہی ہیں۔ اگر کوئی شخص ایسی ہی کوئی فہرست یا جنتری دیکھ کر اور دار قطنی کی روایت پڑھ کر اپنے مہدی ہونے کا دعویٰ کر دے اور اپنی مہدویت کے ثبوت میں اس نشان کو سچائی کے طور پر بطور معجزہ یا کرامت پیش کرے تو کیا ایسا شخص واقعی مہدی ہو سکتا ہے؟ ممکن ہے، آنجہانی مرزا قادیانی نے بھی یہی طریقہ واردات اختیار کیا ہو اور پھر پوری دنیا میں اپنے مہدی ہونے کا شور و غوغا مچا دیا ہو۔ مرزا قادیانی کہتا تھا کہ مجھ سے پہلے کسی مدعی نبوت کے وقت میں اس قسم کا گرہن نہیں ہوا مگر صالح نے مرزا قادیانی کے اس دعویٰ کو غلط کر دیا کیونکہ اس کے وقت میں بھی اس قسم کا گرہن ہوا۔ اسی طرح اس کا یہ دعویٰ تھا کہ کوئی جھوٹا مدعی 20 برس کامیاب نہیں رہتا بلکہ ذلت سے مارا جاتا ہے۔ صالح باوجود

صفحہ 274

کاذب ہونے کے 47 برس خود بادشاہ رہا اور اس کی اولاد میں کئی سو برس تک سلطنت رہی۔ قادیانی جماعت کو ماننا پڑے گا کہ 1311ھ میں جو چاند گرہن اور سورج گرہن کا اجتماع رمضان شریف میں ہوا ہے۔ یہ مرزا قادیانی یا کسی دوسرے مدعی مہدویت کی صداقت کا نشان نہیں ہو سکتا۔ روایت کے وہ معنی نہیں ہیں جو مرزا قادیانی نے سمجھے ہیں۔ روایت میں جن گرہنوں کے اجتماع کو مہدی کا نشان بتایا ہے، وہ ایسا ہونا چاہیے جو اس سے پہلے کبھی نہ ہوا ہو اور جو اجتماع حضرت آدم علیہ السلام کے وقت سے اس وقت تک سیکڑوں مرتبہ ہوا ہو، وہ کسی کے صدق یا کذب کا نشان نہیں ہو سکتا۔ مگر جس کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہو، وہ آفتاب کو نہیں دیکھ سکتا جب تک پردہ آنکھوں سے نہ ہٹائے۔

نشان کو حضور نبی کریم ﷺ پر اپنی فضیلت قرار دیا اور کہا:

View Proof

(345) ”له خسف القمر المنیر وان لی. غسا القمران المشرقان اتنکر .“

(اعجاز احمدی صفحہ 71 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 183 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 869 پر)

ترجمہ: ”اس (حضور نبی کریم ﷺ) کے لیے چاند گرہن کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لیے چاند اور سورج دونوں کا نشان ہوا۔ اب کیا تو انکار کرے گا؟“

یعنی رسول اللہ ﷺ کے لیے تو صرف چاند گرہن ہوا تھا اور مرزا قادیانی کے لیے چاند گرہن اور سورج گرہن دونوں ہوئے جو سچے مہدی کی نشانی ہے۔ یعنی اس نشان میں مرزا قادیانی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے بڑھ گیا اور اس طرح اس کی فضیلت ثابت ہوئی۔ (نعوذ باللہ)

نویں پیش گوئی

مولانا ثناء اللہ امرتسری کی موت

حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کا شمار برصغیر پاک و ہند کے ان جید علمائے کرام

صفحہ 275

میں ہوتا ہے جنھوں نے زندگی بھر فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے محاذ پر نمایاں کارنامے سرانجام دیے۔ وہ بیک وقت عیسائیوں، آریوں اور بالخصوص قادیانیوں سے مناظرے کرتے اور انھیں شکست فاش سے دوچار کرتے۔ انھوں نے قادیانیت کی تردید میں درجنوں کتب تحریر کیں جنھیں ہر مکتبہ فکر نے بے حد سراہا۔ اُن کا اپنا پرچہ ہفت روزہ ’’اہل حدیث‘‘ امرتسر سے نکلتا تھا جس کے ابتدائی صفحات قادیانیت کی تردید کے لیے وقف تھے۔ اس کے علاوہ انھوں نے ملک بھر میں قادیانی کفریہ عقائد پر بے شمار تقریریں کیں اور مباحثے کیے۔ قادیانیوں سے ان کا ایک تاریخی مناظرہ جو موضع ’’مُد‘‘ ضلع امرتسر میں ہوا، بہت مشہور ہوا۔ اس سے پہلے مولانا ثناء اللہ امرتسریؔ ’’الہامات مرزا‘‘ کے نام سے ایک کتاب شائع کر چکے تھے جس میں انھوں نے مرزا قادیانی کے نام نہاد اور خود ساختہ الہامات کا زبردست پوسٹ مارٹم کیا تھا۔ قادیانیوں کا ابھی یہ زخم ہرا ہی تھا کہ ان پر ایک اور بلائے ناگہانی آ پڑی جو خود ان کی اپنی لائی ہوئی تھی۔ موضع ’’مُد‘‘ ضلع امرتسر میں قادیانیوں نے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت بڑے پیمانے پر اپنے جھوٹے مذہب کی تبلیغ و تشہیر کا کام شروع کیا تو وہاں کے باشندگان نے فوراً مولانا ثناء اللہ امرتسریؔ کو تار دیے اور آدمی بھیجے کہ حضرت فوراً موضع ’’مُد‘‘ پہنچئے ورنہ گاؤں کا گاؤں بلکہ اطراف کے لوگ بھی سب گمراہ ہو جائیں گے۔ چنانچہ فوراً مولانا موضع ’’مُد‘‘ پہنچے۔ قادیانیوں سے مولانا کا یہ مناظرہ بڑے پیمانے اور دھوم دھام سے 29، 30 اکتوبر 1902ء کو منعقد ہوا۔ اس مناظرہ کے لیے آنجہانی مرزا قادیانی خود آنا چاہتا تھا مگر شکست سے ڈرتے ہوئے اپنے خاص مرید مولوی سرور شاہ اور مولوی عبداللہ کشمیری کو بھیجا اور انھیں مناظرہ کے سلسلہ میں ضروری ہدایات دیں۔ مناظرے کا موضوع تھا: ’’صداقتِ حضرت مسیح موعود‘‘ یعنی مرزا قادیانی اپنے الہامی دعوؤں میں سچے ہیں یا جھوٹے؟ مولانا امرتسریؔ نے مرزا قادیانی کے مقرر کیے ہوئے معیار اور اصول کے مطابق اُسے قطعی طور پر جھوٹا اور فریب کار ثابت کیا، بالخصوص دلائل اور حوالہ جات سے ثابت کیا کہ مرزا قادیانی کی تمام پیش گوئیاں جھوٹی نکلیں۔ بیچارے سرور شاہ نے مرزا قادیانی کے جھوٹ بچانے کے لیے مولانا امرتسریؔ کے دلائل توڑنے اور ان کی علمی گرفت سے جان چھڑانے کے لیے بہت ہاتھ پاؤں مارے مگر

؎ کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے

آخر قادیانی مبلغین، مولانا امرتسریؔ کے ہاتھوں شکست فاش کھا کر بڑی رسوائی اور ذلت کے

صفحہ 276

ساتھ اپنے رفقا سمیت میدان چھوڑ کر بھاگ نکلے۔ مرزا قادیانی کے ان فرستادوں نے یکم نومبر 1902ء کو قادیان پہنچ کر مناظرہ کے المناک انجام کی داستان اور اپنی خواری و خجالت کے احوال مرزا قادیانی کے گوش گزار کیے تو وہ غصہ سے لال پیلا ہو گیا۔ سخت طیش کی حالت میں پہلے موضع ”مد“ کو بددعائیں دیں اور کہا:

(346)

”اری ارض مد قد اريد تبارھا
وغادرھم ربی کغصن تجذر“

(ترجمہ از مرزا قادیانی) ”میں مد کی زمین دیکھتا ہوں کہ اس کی تباہی نزدیک آ گئی اور میرے رب نے ان کو کٹی ٹہنی کی طرح کر دیا۔“

(اعجاز احمدی صفحہ 45 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 156 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 870 پر)

View Proof

پھر اسی قصیدہ میں مرزا قادیانی نے مولانا ثناء اللہ امرتسری کو جوش غضب میں دل کھول کر گالیاں دیں۔ بطور نمونہ چند گالیاں ملاحظہ فرمائیں:

طرح بھونکنے والا، بھیڑیا، متکبر، جہنم کا راہنما، احمق، اجڈ، ہذیان گو، فتنہ خیز، فساد انگیز، آتش فساد بھڑکانے والا، جاہل، بھوت، ابن البغی، بچھوؤں کی طرح ڈنک مارنے والا، بے روح جسم، ہانڈی کی طرح جوش مارنے والا، نافہم، غدار، لئیم، خاسر، فحش گو وغیرہ وغیرہ۔“

(اعجاز احمدی صفحہ 39 تا 87 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 150 تا 201 از مرزا قادیانی)

مرزا قادیانی نے مولانا ثناء اللہ امرتسری کو قادیان آ کر ان پیش گوئیوں کی تحقیق کی دعوت دی اور اس کے غلط ہونے پر اپنی طرف سے انعام دینے کا وعدہ کر دیا۔ مرزا قادیانی لکھتا ہے:

(347) ”ایسا ہی یہ لوگ عقل کے پورے میری بعض پیشگوئیوں کا جھوٹا نکلنا اپنے ہی دل سے فرض کر کے یہ بھی کہا کرتے ہیں کہ جب بعض پیشگوئیاں جھوٹی ہیں یا اجتہادی غلطی ہے تو پھر مسیحیت کے دعویٰ کا کیا اعتبار شاید وہ بھی غلط ہو۔ اس کا اوّل جواب تو یہی ہے کہ لَعْنَةُ اللّٰهِ

صفحہ 277

عَلَی الْکَاذِبِیْنَ اور مولوی ثناء اللہ نے موضع مڈ میں بحث کے وقت یہی کہا تھا کہ سب پیشگوئیاں جھوٹی نکلیں، اس لیے ہم ان کو مدعو کرتے ہیں اور خدا کی قسم دیتے ہیں کہ وہ اس تحقیق کے لیے قادیان میں آویں اور تمام پیشگوئیوں کی پڑتال کریں اور ہم قسم کھا کر وعدہ کرتے ہیں کہ ہر ایک پیشگوئی کی نسبت جو منہاج نبوت کی رُو سے جھوٹی ثابت ہو، ایک ایک سو روپیہ ان کی نذر کریں گے۔ ورنہ ایک خاص تمغہ لعنت کا ان کے گلے میں رہے گا اور ہم آمد و رفت کا خرچ بھی دیں گے اور کل پیشگوئیوں کی پڑتال کرنی ہوگی، تا آئندہ کوئی جھگڑا باقی نہ رہ جاوے اور اسی شرط سے روپیہ ملے گا اور ثبوت ہمارے ذمہ ہوگا۔‘‘

(اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح صفحہ 27، 28 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 131، 132 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 871، 872 پر)

View Proof

مرزا قادیانی نے مزید لکھا: (348) ’’یہ لوگ چوروں کی طرح دُور دُور سے اعتراض کرتے ہیں اور صاف باطن لوگوں کی طرح بالمقابل آ کر اعتراض نہیں کرتے اور نہ جواب سننا چاہتے ہیں۔‘‘

(حقیقت المہدی صفحہ 15 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 441 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 873 پر)

View Proof

مرزا قادیانی کا کہنا تھا کہ ان کی پیش گوئیاں 150 کے قریب ہیں، اگر وہ سب کی سب جھوٹی ثابت ہوں تو وہ مولانا ثناء اللہ امرتسری کو فی پیش گوئی 100 روپے کے حساب سے 15 ہزار روپے دیں گے۔ مرزا قادیانی لکھتا ہے: (349) ’’یاد رہے کہ رسالہ نزول المسیح میں ڈیڑھ سو پیشگوئی میں نے لکھی ہے تو گویا جھوٹ ہونے کی حالت میں پندرہ ہزار روپیہ مولوی ثناء اللہ صاحب لے جائیں گے اور در بدر گدائی کرنے سے نجات ہوگی۔ بلکہ ہم اور پیشگوئیاں بھی معہ ثبوت ان کے سامنے پیش کر دیں گے اور اسی وعدہ کے موافق فی پیشگوئی سو روپیہ دیتے جائیں گے۔ اس وقت ایک لاکھ سے زیادہ میری جماعت ہے۔ پس اگر میں مولوی صاحب موصوف کے لیے ایک ایک روپیہ بھی اپنے مریدوں سے لوں گا، تب بھی ایک لاکھ روپیہ ہو جائے گا، وہ سب ان کی نذر ہوگا جس حالت

صفحہ 278

میں دو دو آنہ کے لیے وہ در بدر خراب ہوتے پھرتے ہیں اور خدا کا قہر نازل ہے اور مُردوں کے کفن یا وعظ کے پیسوں پر گزارہ ہے۔ ایک لاکھ روپیہ حاصل ہو جانا ان کے لیے ایک بہشت ہے لیکن اگر میرے اس بیان کی طرف توجہ نہ کریں اور اس تحقیق کے لیے بپابندی شرائط مذکورہ جس میں بشرط ثبوت تصدیق ورنہ تکذیب دونوں شرط ہیں۔ قادیان میں نہ آئیں تو پھر لعنت ہے اس لاف و گزاف پر جو انھوں نے موضع مڈ میں مباحثہ کے وقت کی اور سخت بے حیائی سے جھوٹ بولا۔“

(اعجاز احمدی [نزول المسیح ضمیمہ] صفحہ 23 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 132 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 874 پر)

مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی پیشگوئیوں کی تفتیش کے لیے مولانا موصوف کو قادیان آنے کا چیلنج دیا اور اس پر انعام کا وعدہ کیا اور اپنے اس چیلنج کو بار بار دُہرایا۔ مرزا قادیانی جانتا تھا کہ قادیان آ کر ڈیڑھ سو پیشگوئیوں کی تفتیش کرنا اور اتنا عرصہ قادیان میں رہنا کوئی آسان کام نہیں ہے اور ایک مصروف آدمی کے لیے اتنا وقت نکالنا ایک مشکل ترین مسئلہ ہے۔ پھر وہ یہ بھی جانتا تھا کہ ایک ایک پیشگوئی کی تاویل اور اس کی تردید و تفتیش میں خاصا عرصہ لگ جائے گا، آخرکار مولانا موصوف قادیان چھوڑ جائیں گے اور پھر وہ اپنی فتح کا اعلان کر دے گا۔ اسی یقین کی وجہ سے مرزا قادیانی نے کہا کہ اسے خدا نے بتا دیا ہے:

(350) ”واضح رہے کہ مولوی ثناء اللہ کے ذریعہ سے عنقریب تین نشان میرے ظاہر ہوں گے۔ (1) وہ قادیان میں تمام پیشگوئیوں کی پڑتال کے لیے میرے پاس ہرگز نہیں آئیں گے اور سچی پیشگوئیوں کی اپنے قلم سے تصدیق کرنا ان کے لیے موت ہوگی۔ (2) اگر اس چیلنج پر وہ مستعد ہوئے کہ کاذب صادق کے پہلے مر جائے تو ضرور وہ پہلے مریں گے۔ (3) اور سب سے پہلے اس اُردو مضمون اور عربی قصیدہ کے مقابلہ سے عاجز رہ کر جلد تر ان کی رُوسیاہی ثابت ہو جائے گی۔“

(اعجاز احمدی [ضمیمہ نزول المسیح] صفحہ 37 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 148 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 875 پر)

صفحہ 279

یاد رہے کہ مرزا قادیانی کی یہ کتاب ”اعجاز احمدی“ [ضمیمہ کتاب نزول المسیح] 15 نومبر 1902ء کو شائع ہوئی تھی۔ افسوس کہ مرزا قادیانی کے خدا کی یہ بات غلط نکلی اور مرزا قادیانی کی ساری امیدوں پر پانی پھر گیا۔ جب اسے معلوم ہوا کہ مولانا ثناء اللہ صاحب قادیان آ دھمکے ہیں تو اس کے ہوش اڑ گئے۔ مرزا قادیانی تسلیم کرتا ہے کہ مولانا ثناء اللہ صاحب اس سلسلے میں قادیان آئے۔

(351) ”ترجمة ماكتبنا الى ثناء الله الامرتسری اذجاء قادیان وطلب رفع الشبهات بعطش فری وکان هذا عاشر شوال 1320ھ اذجاء هذا الدجال.“ (مواہب الرحمٰن صفحہ 113 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 329، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 876 پر) ترجمہ: خطے کہ سوئے ثناء اللہ امرتسری نوشتم وقتی کہ بہ قادیان آمد و بہ تشنگی دروغ ازالہ شبہات خود بخواست و بود ایں تاریخ دہم شوال 1320ھ چوں ایں دجال بہ قادیان آمد۔

مرزا قادیانی کی یہ کتاب جس میں اس کا خط بھی شامل ہے جنوری 1903ء میں شائع ہوئی ہے۔ اس سے آپ اندازہ کریں کہ مرزا قادیانی کی 15 نومبر کی یہ بات کہ وہ ہرگز قادیان نہیں آئیں گے، جنوری 1903ء میں ہی غلط ثابت ہوگئی۔

مرزا قادیانی کے ڈینگیں ہانکنے کے باوجود مولانا کے قادیان پہنچ جانے اور مقابلہ پر نہ آنے سے ان کا نام نہاد قصر نبوت پیشاب کی جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔ ظاہر ہے مرزا قادیانی ان معاملات کو منظر عام پر آنے سے روک نہ سکتا تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس کی خرافات نے ارتداد کے لیے جو فضا ہموار کر رکھی تھی، وہ یکسر بدل گئی اور خود اس کے مریدوں کی بھی آنکھیں کھل گئیں۔ چنانچہ جو طالب ہدایت تھے، وہ قادیانیت سے تائب ہو کر دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے۔ قادیان سے واپس آکر مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ نے اپنی مجاہدانہ سرگرمیوں، عالمانہ گرفتوں اور فاضلانہ مواخذات کے ذریعے فتنہ قادیانیت کا قافیہ مزید تنگ کرنا شروع کر دیا جس پر مرزا قادیانی اور ان کے پیروکار بے حد پریشان ہوئے اور عاجز آگئے، چنانچہ وہ اپنا اور مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کا مقدمہ لے کر خود 15 اپریل 1907ء کو خدا کی عدالت میں جا پہنچا اور خدا تعالیٰ نے ان کے استغاثہ کے ٹھیک ساڑھے تیرہ ماہ بعد ایسا فیصلہ کیا جسے اہل اسلام اور قادیانیوں کی جنگ کی تاریخ کا یوم الفرقان کہنا صحیح ہوگا۔ یہ فیصلہ تاقیامت مرزا قادیانی کے صدق و کذب کا دو

صفحہ 280

ٹوک اور حتمی جواب ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:

(352) "مولوی ثناء اللہ صاحب کا قادیان آنا۔"

10 جنوری 1903ء

عصر کے وقت خدا تعالیٰ کے برگزیدہ حضرت مسیح موعود کو یہ خبر ہوئی کہ مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری قادیان آئے ہوئے ہیں مگر آپ نے اس کے متعلق صرف یہی فرمایا کہ ہزاروں لوگ راہرو آتے ہیں، ہمیں اس سے کیا؟

مغرب کی نماز باجماعت ادا کر کے جب حضرت اقدس دولت سرا کو تشریف لے چلے تو ایک شخص نے ہاتھ میں قلم دوات لیے ہوئے حضرت اقدس کی خدمت میں کچھ کاغذات پیش کیے۔ اس قلم دوات سے اس کی یہ غرض تھی کہ حضرت سے رقعہ کی رسید لے مگر حضرت نے توجہ نہ کی اور اس کے وہ کاغذات لے کر تشریف لے گئے اور جب عشاء کی نماز کے واسطے تشریف لائے تو فرمایا کہ:

ایک ہی مضمون کے دو رقعے مولوی ثناء اللہ صاحب کی طرف سے پہنچے ہیں۔ نہ معلوم دو رقعوں کی کیا غرض تھی۔

اُس وقت یہ عقدہ حل ہوا کہ غالباً دوسرا رقعہ دستخط یعنی رسید رقعہ لینے کی غرض سے تھا مگر قاصد کو رسید مانگنے کی جرأت نہ ہوئی اور وہ رقعہ اس وقت سید سرور شاہ صاحب کے حوالہ کیا گیا کہ وہ اسے پڑھ کر اہل مجلس کو سنا دیویں۔

اس کے بعد حضرت اقدس نے فرمایا:

ہم تیار ہیں۔ وہ ہفتہ عشرہ آرام سے سب باتیں سنے اور اگر اس کا منشا مباحثہ کا ہو تو یہ اس کی غلطی ہے کیونکہ اب مدت ہوئی کہ ہم مباحثات کو بند کر چکے ہیں۔ اگر اس کو طلب حق کی ضرورت ہے تو وہ رفق اور آہستگی سے اپنی غلطی دور کروائے۔ طالب حق کے لیے ہمارا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ ہاں جو شخص ایک منٹ رہ کر چلا جانا چاہتا ہے اور اسے فتح اور شکست اور ہار اور جیت کا خیال ہے وہ مستفید نہیں ہو سکتا، بجز ایسے شخص کے جو نیک نیت بن کر آوے۔ ہم تو دوسرے کے ساتھ کلام کرنا بھی تضیع اوقات خیال کرتے ہیں۔ ہمیں تعجب ہے کہ وہ کیوں گھمار کے ہاں جا کر اترے۔ چاہیے تھا کہ مستفیدوں کی طرح آتا اور ہمارے مہمان خانہ میں اترتا۔

پھر فرمایا: ہم اس رقعہ کا صبح کو جواب دیں گے۔

صفحہ 281

اس کے بعد حضرت اقدس نماز سے فارغ ہو کر تشریف لے چلے تو ثناء اللہ صاحب کے قاصد نے آواز دی کہ حضرت جی! مولوی ثناء اللہ صاحب کے رقعہ کا کیا جواب ہے؟ حضرت نے فرمایا کہ صبح کو دیا جائے گا۔

قاصد نے کہا کہ میں آ کر جواب لے جاؤں یا آپ بذریعہ ڈاک روانہ کریں گے؟ حضرت اقدس نے فرمایا: خواہ تم آ کر لے جاؤ، خواہ ثناء اللہ آ کر لے جاوے۔

پھر آپ نے قاصد کا نام پوچھا۔ اس نے کہا محمد صدیق۔‘‘

(ملفوظات جلد دوم صفحہ 683، 684 طبع جدید ربوہ) (عکس صفحہ نمبر 877، 878 پر)

(353) مولوی ثناء اللہ کے رقعہ کا جواب

”11 جنوری 1903ء بروز یکشنبہ

فجر کی نماز کو جب حضرت اقدس تشریف لائے تو قبل از نماز آپ نے وہ رقعہ جو مولوی ثناء اللہ صاحب کے رقعہ کے جواب میں تحریر فرمایا تھا، احباب کو سنایا۔ وہ رقعہ یہ تھا:

از طرف غلام احمد۔

بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب

آپ کا رقعہ پہنچا۔ اگر آپ لوگوں کی صدق دل سے یہ نیت ہو کہ اپنے شکوک و شبہات پیشگوئیوں کی نسبت یا ان کے ساتھ اور امور کی نسبت بھی جو دعویٰ سے تعلق رکھتے ہوں، رفع کراویں تو یہ آپ لوگوں کی خوش قسمتی ہوگی۔ اور اگرچہ میں کئی سال ہوئے کہ اپنی کتاب انجامِ آتھم میں شائع کر چکا ہوں کہ میں اس گروہِ مخالف سے ہرگز مباحثات نہ کروں گا کیونکہ اس کا نتیجہ بجز گندی گالیوں اور اوباشانہ کلمات سننے کے اور کچھ نہیں ہوا مگر میں ہمیشہ طالب حق کے شبہات دور کرنے کے لیے تیار ہوں۔ اگرچہ آپ نے اس رقعہ میں دعویٰ تو کر دیا ہے کہ طالب حق ہوں مگر مجھے تامل ہے کہ اس دعویٰ پر آپ قائم رہ سکیں کیونکہ آپ لوگوں کی عادت ہے کہ ایک بات کو کشاں کشاں بے ہودہ اور مباحثات کی طرف لے آتے ہیں اور میں خدا تعالیٰ کے سامنے وعدہ کر چکا ہوں کہ ان لوگوں سے مباحثات ہرگز نہیں کروں گا۔ سو وہ طریق جو مباحثات سے بہت دور ہے کہ آپ اس مرحلہ کو صاف کرنے کے لیے اوّل یہ اقرار

صفحہ 282

کریں کہ آپ منہاج نبوت سے باہر نہیں جائیں گے اور وہی اعتراض کریں گے جو آنحضرت ﷺ پر یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر یا حضرت موسیٰ علیہ السلام پر یا حضرت یونس علیہ السلام پر عائد نہ ہوتا ہو اور حدیث اور قرآن شریف کی پیشگوئیوں پر زد نہ ہو۔ دوسری شرط یہ ہوگی کہ آپ زبانی بولنے کے مجاز نہ ہوں گے۔ صرف آپ مختصر ایک سطر یا دو سطر تحریر دے دیں کہ میرا یہ اعتراض ہے۔ پھر آپ کو عین مجلس میں مفصل جواب سنایا جائے گا۔ اعتراض کے لیے لمبا لکھنے کی ضرورت نہیں ایک سطر یا دو سطر کافی ہیں۔ تیسری یہ شرط ہوگی کہ ایک دن میں صرف ایک ہی آپ اعتراض پیش کریں گے کیونکہ آپ اطلاع دے کر نہیں آئے، چوروں کی طرح آگئے۔ اور ہم ان دنوں بباعث کم فرصتی اور کام طبع کتاب کے تین گھنٹہ سے زیادہ صرف نہیں کر سکتے۔ یاد رہے کہ یہ ہرگز نہ ہوگا کہ عوام کالانعام کے روبرو آپ واعظ کی طرح ہم سے گفتگو شروع کر دیں بلکہ آپ نے بالکل منہ بند رکھنا ہوگا۔ جیسے صم بکم۔ یہ اس لیے کہ تا گفتگو مباحثہ کے رنگ میں نہ ہو جاوے اور صرف ایک پیشگوئی کی نسبت سوال کریں۔ میں تین گھنٹہ تک اس کا جواب دے سکتا ہوں اور ایک ایک گھنٹہ کے بعد آپ کو متنبہ کیا جاوے گا کہ اگر ابھی تسلی نہیں ہوئی تو اور لکھ کر پیش کرو۔ آپ کا کام نہیں ہوگا کہ اس کو سناویں، ہم خود پڑھ لیں گے۔ مگر چاہیے کہ دو تین سطر سے زیادہ نہ ہو۔ اس طرز میں آپ کا کچھ حرج نہیں ہے کیونکہ آپ تو شبہات دور کرانے آئے ہیں۔ یہ طریق شبہات دور کرانے کا بہت عمدہ ہے۔ میں بآواز بلند لوگوں کو سنا دوں گا کہ اس پیشگوئی کی نسبت مولوی ثناء اللہ صاحب کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا ہے اور اس کا یہ جواب ہے۔ اس طرح تمام وساوس دور کر دیے جائیں گے۔ لیکن اگر چاہو کہ بحث کے رنگ میں آپ کو بات کا موقعہ دیا جاوے تو ہرگز نہ ہوگا۔ 14 جنوری 1903ء تک میں اس جگہ ہوں۔ بعد میں 15 جنوری کو ایک مقدمہ پر جہلم جاؤں گا۔ سو اگرچہ بہت کم فرصتی ہے، لیکن 14 جنوری تک آپ کے لیے تین گھنٹے تک خرچ کر سکتا ہوں۔ اگر آپ لوگ کچھ نیک نیتی سے کام لیویں تو یہ ایسا طریق ہے کہ اس سے آپ کو فائدہ ہوگا۔ ورنہ ہمارا اور آپ لوگوں کا آسمان پر مقدمہ ہے۔ خود خدا تعالیٰ فیصلہ کرے گا۔ والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ۔ سوچ کر دیکھ لو کہ یہ بہتر ہوگا کہ آپ بذریعہ تحریر جو سطر دو سطر سے زیادہ نہ ہو ایک ایک گھنٹہ کے بعد اپنا شبہ پیش کرتے جاویں گے اور میں وہ وسوسہ دور کرتا جاؤں گا۔ ایسے ہی صدہا آدمی آتے ہیں اور وسوسہ دور کرا لیتے ہیں۔ ایک بھلا مانس شریف آدمی ضرور اس بات کو پسند

صفحہ 283

کرے گا۔ اس کو وساوس دور کرانے ہیں اور کچھ غرض نہیں۔ لیکن وہ لوگ جو خدا سے نہیں ڈرتے ان کی تو نیتیں ہی اور ہوتی ہیں۔“

(ملفوظات جلد دوم طبع جدید صفحہ 684 تا 686 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 879 تا 881 پر)

(354) ”فجر کی نماز ہوئی تو حضرت اقدس نے قلم دوات طلب فرمائی اور فرمایا کہ تھوڑا سا اور اس رقعہ پر لکھنا ہے۔

اتنے میں مولوی ثناء اللہ صاحب کے قاصد پھر آ موجود ہوئے اور جواب طلب کیا۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ ابھی لکھ کر دیا جاتا ہے۔

پھر بقیہ حصہ آپ نے لکھ کر اپنے خادم کے حوالہ کیا کہ اس کی نقل کر کے روانہ کر دو۔ وہ حصہ رقعہ کا یہ ہے:

بالآخر اس غرض کے لیے اب آپ اگر شرافت اور ایمان رکھتے ہیں تو قادیان سے بغیر تصفیہ کے خالی نہ جاویں۔

دو قسموں کا ذکر کرتا ہوں (1) اول چونکہ میں ”انجام آتھم“ میں خدا سے قطعی عہد کر چکا ہوں کہ ان لوگوں سے قطعی بحث نہیں کروں گا۔ اس وقت پھر اسی عہد کے مطابق قسم کھاتا ہوں کہ میں زبانی آپ کی کوئی بات نہیں سنوں گا۔ صرف آپ کو یہ موقعہ دیا جاوے گا کہ آپ اول ایک اعتراض جو آپ کے نزدیک سب سے بڑا اعتراض کسی پیشگوئی پر ہو ایک سطر یا دو سطر یا حد تین سطر تک لکھ کر پیش کریں جس کا یہ مطلب ہو کہ یہ پیشگوئی پوری نہ ہوئی اور منہاج نبوت کی رُو سے قابل اعتراض ہے اور پھر چپ رہیں اور میں مجمع عام میں اس کا جواب دوں گا جیسا کہ مفصل لکھ چکا ہوں۔ پھر دوسرے دن دوسری پیشگوئی اسی طرح لکھ کر پیش کریں۔ یہ تو میری طرف سے خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ میں اس سے باہر نہیں جاؤں گا اور کوئی زبانی بات نہیں سنوں گا اور آپ کی مجال نہیں ہوگی کہ کوئی کلمہ بھی زبانی بول سکیں اور آپ کو بھی خدا تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں کہ اگر آپ سچے دل سے آئے ہیں تو اس کے پابند ہو جاویں اور ناحق فتنہ و فساد میں عمر بسر نہ کریں۔ اب ہم دونوں میں سے ان دونوں قسموں سے جو شخص اعراض کرے گا، اس پر خدا کی لعنت ہو اور خدا کرے کہ وہ اس لعنت کا پھل بھی اپنی زندگی میں دیکھ لے۔ آمین! سو میں دیکھوں گا کہ آپ سنت نبویہ کے موافق اس قسم کو پورا کرتے ہیں یا قادیان سے نکلتے

صفحہ 284

ہوئے اس لعنت کو ساتھ لے جاتے ہیں؟ اور چاہیے کہ اوّل آپ اس عہد موکد بقسم کے آج ہی ایک اعتراض دو تین سطر کا لکھ کر بھیج دیں اور پھر وقت مقرر کر کے مسجد میں مجمع کیا جائے گا اور آپ کو بتلایا جاوے گا اور عام مجمع میں آپ کے شیطانی وساوس دور کر دیئے جاویں گے۔“

رقعہ دے کر آپ تشریف لے گئے اور اندر سے حضور نے کہلا بھیجا کہ رقعہ وہاں اُن کو جا کر سنا دیا جاوے اور پھر ان کے حوالہ کیا جاوے۔

چنانچہ یہ رقعہ مولوی ثناء اللہ صاحب کو پہنچا دیا گیا۔ تھوڑے عرصہ کے بعد پھر مولوی ثناء اللہ صاحب کی طرف سے جواب الجواب آیا۔

یہ نامعقول اور اصل بحث سے بالکل دور جواب سن کر حضرت اقدس کو بہت رنج ہوا اور آپ نے فرمایا کہ:

ہم نے جو اسے خدا کی قسم دی تھی، اس سے فائدہ اٹھانا یہ نظر نہیں آتا۔ اب خدا کی لعنت لے کر واپس جانا چاہتا ہے۔ جس بات کو ہم بار بار لکھتے ہیں کہ ہم مباحثہ نہیں کرتے جیسا کہ ہم ”انجام آتھم“ میں اپنا عہد دنیا میں شائع کر چکے ہیں، تو اب اس کا منشا ہے کہ ہم خدا کے اس عہد کو توڑ دیں۔ یہ ہرگز نہ ہوگا اور پھر اس رقعہ میں کس قدر افترا سے کام لیا گیا ہے کیونکہ جب ہم اسے اجازت دیتے ہیں کہ ہر ایک گھنٹہ کے بعد وہ دو تین سطریں ہماری تقریر پر اپنے شبہات کی لکھ دیوے تو اس طرح سے خواہ اس کی دن میں تیس سطور ہو جاویں ہم کب گریز کرتے ہیں اور خواہ ایک ہی پیشگوئی پر وہ ہم سے دس دن تک سنتا رہتا اور اپنے وساوس اس طرز سے پیش کرتا رہتا۔ اسے اختیار تھا۔ پھر ایک دوسرا جھوٹ یہ بولا ہے کہ لکھتا ہے کہ آپ مجمع پسند نہیں کرتے۔ بھلا ہم نے کب لکھا ہے کہ ہم مجمع پسند نہیں کرتے بلکہ ہم تو عام جلسہ چاہتے ہیں کہ تمام قادیان کے لوگ اور دوسرے بھی جس قدر ہوں جمع ہوں تاکہ ان لوگوں کی بے ایمانی کھلے کہ کس طرح یہ لوگوں کو فریب دے رہے ہیں۔ اگر اسے حق کی طلب ہوتی تو اسے ہمارے شرائط ماننے میں کیا عذر تھا مگر یہ بدنصیب واپس جاتا نظر آتا ہے۔

پھر مولوی محمد احسن صاحب کو حضور انور نے فرمایا کہ

آپ اس کا جواب لکھ دیں، مجھے فرصت نہیں۔ میں کتاب لکھ رہا ہوں۔

یہ کہہ کر حضور تشریف لے گئے اور مولوی محمد احسن صاحب نے رقعہ کا جواب تحریر فرمایا۔

اس کے بعد کوئی جواب مولوی ثناء اللہ صاحب کی طرف سے نہ آیا۔ اور وہ قادیان سے چلے گئے۔“

(ملفوظات جلد دوم صفحہ 686 تا 688 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 882 تا 884 پر)

صفحہ 285

مرزا قادیانی کا دعویٰ تھا:

ہاتھ شیروں پر نہ ڈال اے روبۂ زار و نزار“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 101 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 131 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 885 پر)

View Proof

پھر مرزا قادیانی نے اپنا الہام اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے خدا تعالیٰ نے کہا ہے:

نہیں کہ تجھ کو چھوڑ دے جب تک کہ پاک اور پلید میں فرق کر کے نہ دکھلا دے۔“

(حقیقۃ الوحی صفحہ 76 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 79 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 886 پر)

View Proof

مزید کہا:

ہو کہ کس کو خدا غیب کی خبریں دیتا ہے اور کس کی دعائیں قبول کرتا ہے اور کس کی مدد کرتا ہے اور کس کے لیے بڑے بڑے نشان دکھاتا ہے تو میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ہی غالب رہوں گا۔ کیا کوئی ہے؟ کہ اس امتحان میں میرے مقابل پر آوے۔“

(حقیقۃ الوحی صفحہ 176 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 181، 182 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 888,887 پر)

View Proof

مرزا قادیانی اللہ تعالیٰ کو مخاطب کر کے کہتا ہے:

کے کہا کہ میں تیری ہر ایک دعا کو قبول کروں گا مگر شرکا کے بارے میں نہیں۔ تبھی سے میری روح دعاؤں کی طرف دوڑتی ہے۔ اور میں نے اپنے لیے یہ قطعی فیصلہ کر لیا ہے کہ اگر میری

صفحہ 286

یہ دعا قبول نہ ہو تو میں ایسا ہی مردود اور ملعون اور کافر اور بے دین اور خائن ہوں جیسا کہ مجھے سمجھا گیا ہے۔“

(تریاق القلوب صفحہ 384 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 512 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 889 پر)

مرزا قادیانی لکھتا ہے: (359) ”میں نے سنا ہے بلکہ مولوی ثناء اللہ امرتسری کی دستخطی تحریر میں نے دیکھی ہے جس میں وہ یہ درخواست کرتا ہے کہ میں اس طور کے فیصلہ کے لیے بدل خواہشمند ہوں کہ فریقین یعنی میں اور وہ یہ دعا کریں کہ جو شخص ہم دونوں میں سے جھوٹا ہے وہ سچے کی زندگی میں ہی مر جائے۔“

(اعجاز احمدی صفحہ 14 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 121 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 890 پر)

مزید کہا: (360) ”یہ تو انھوں نے اچھی تجویز نکالی۔ اب اس پر قائم رہیں تو بات ہے۔“

(اعجاز احمدی [ضمیمہ نزول المسیح] صفحہ 14 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 122 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 891 پر)

مرزا قادیانی نے لکھا: (361) ”ابو جہل نے جب بدر کی لڑائی میں یہ دعا کی تھی کہ اللھم من کان منا کاذبا فاحنہ فی ھذا الموطن۔ یعنی اے خدا ہم دونوں میں سے جو محمد مصطفیٰ ﷺ اور میں ہوں جو شخص تیری نظر میں جھوٹا ہے، اس کو اسی موقع قتال میں ہلاک کر۔ تو کیا اس دعا کے وقت اس کو گمان تھا کہ میں جھوٹا ہوں۔“

(تحفہ گولڑویہ [ضمیمہ] صفحہ 10 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 52 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 892 پر)

صفحہ 287

اس سے پہلے مرزا قادیانی مولانا امرتسریؒ کے ساتھ ہونے والی ایک بحث میں لکھ چکا تھا۔

(362) ”مگر شرط یہ ہوگی کہ کوئی موت قتل کے رُو سے واقع نہ ہو بلکہ محض بیماری کے ذریعہ سے ہو۔ مثلاً طاعون سے یا ہیضہ سے یا اور کسی بیماری سے تا ایسی کارروائی حکام کے لیے تشویش کا موجب نہ ٹھہرے اور ہم یہ بھی دعا کرتے رہیں گے کہ ایسی موتوں سے فریقین محفوظ رہیں۔ صرف وہ موت کاذب کو آوے جو بیماری کی موت ہوتی ہے اور یہی مسلک فریق ثانی کو اختیار کرنا ہوگا۔“

(اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح صفحہ 15 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 122 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 893 پر)

مرزا قادیانی کا مندرجہ بالا اشتہار کسی حاشیہ یا شرح کا محتاج نہیں۔ اس اشتہار کے شائع ہونے کے 4 دن بعد یعنی 19 اپریل 1907ء کو اسے دوبارہ شائع کر کے تقسیم کیا گیا۔

(مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحہ 580)

اس کے 6 دن بعد 25 اپریل 1907ء کو قادیانی اخبار بدر قادیان میں مرزا قادیانی کا ایک اور بیان شائع ہوا جس میں مرزا قادیانی نے کہا:

(قارئین کرام سے گزارش ہے کہ وہ مرزا قادیانی کے اس اشتہار کو توجہ سے ملاحظہ

فرمائیں۔ شکریہ)!

(363) ”مولوی ثناء اللہ صاحب (امرتسری) کے ساتھ آخری فیصلہ

بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب السلام علٰی من اتبع الھدٰی۔ مدت سے آپ کے پرچہ ”اہلحدیث“ میں میری تکذیب اور تفسیق کا سلسلہ جاری ہے۔ ہمیشہ مجھے آپ اپنے اس پرچہ میں مردود و کذاب دجال مفسد کے نام سے منسوب کرتے ہیں اور دنیا میں میری نسبت شہرت دیتے ہیں کہ یہ شخص مفتری اور کذاب اور دجال ہے اور اس شخص کا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا سراسر افترا ہے۔ میں نے آپ سے بہت دکھ اٹھایا اور صبر کرتا رہا۔ مگر چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ میں حق کے پھیلانے کے لیے مامور ہوں اور آپ بہت سے افترا میرے پر کر کے دنیا کو میری طرف آنے سے روکتے ہیں اور مجھے ان گالیوں اور ان تہمتوں اور ان الفاظ سے یاد کرتے ہیں کہ جن سے بڑھ کر کوئی لفظ سخت نہیں ہوسکتا۔ اگر میں ایسا ہی کذاب اور

صفحہ 288

مفتری ہوں جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے اشد دشمنوں کی زندگی میں ہی ناکام ہلاک ہو جاتا ہے اور اس کا ہلاک ہونا ہی بہتر ہوتا ہے تا خدا کے بندوں کو تباہ نہ کرے۔ اور اگر میں کذاب اور مفتری نہیں ہوں اور خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں اور مسیح موعود ہوں تو میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ سنت اللہ کے موافق آپ مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں گے۔ پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے جیسے طاعون ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی میں ہی وارد نہ ہوئی تو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں۔ یہ کسی الہام یا وحی کی بنا پر پیشگوئی نہیں، محض دعا کے طور پر میں نے خدا سے فیصلہ چاہا ہے۔ اور میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اے میرے مالک بصیر و قدیر جو علیم و خبیر ہے جو میرے دل کے حالات سے واقف ہے اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افترا ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن رات افترا کرنا میرا کام ہے تو اے میرے پیارے مالک میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے۔ آمین! مگر اے میرے کامل اور صادق خدا اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے حق پر نہیں تو میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی میں ہی ان کو نابود کر۔ مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون و ہیضہ وغیرہ امراض مہلکہ سے بجز اس صورت کے کہ وہ کھلے کھلے طور پر میرے روبرو اور میری جماعت کے سامنے ان تمام گالیوں اور بدزبانیوں سے توبہ کرے جن کو وہ فرض منصبی سمجھ کر ہمیشہ مجھے دکھ دیتا ہے۔ آمین! یارب العالمین! میں ان کے ہاتھ سے بہت ستایا گیا اور صبر کرتا رہا۔ مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ ان کی بدزبانی حد سے گزر گئی۔ وہ مجھے اُن چوروں اور ڈاکوؤں سے بھی بدتر جانتے ہیں جن کا وجود دنیا کے لیے سخت نقصان رساں ہوتا ہے اور انھوں نے ان تہمتوں اور بدزبانیوں میں آیت لا تقف ما لیس لک بہ علم پر بھی عمل نہیں کیا اور تمام دنیا سے

صفحہ 289

مجھے بدتر سمجھ لیا اور دور دور ملکوں تک میری نسبت یہ پھیلا دیا کہ یہ شخص درحقیقت مفسد اور ٹھگ اور دوکاندار اور کذاب اور مفتری اور نہایت درجہ کا بد آدمی ہے۔ سو اگر ایسے کلمات حق کے طالبوں پر بداثر نہ ڈالتے تو میں ان تہمتوں پر صبر کرتا۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ انھیں تہمتوں کے ذریعہ سے میرے سلسلہ کو نابود کرنا چاہتا ہے اور اس عمارت کو منہدم کرنا چاہتا ہے جو تُو نے اے میرے آقا اور میرے بھیجنے والے اپنے ہاتھ سے بنائی ہے۔ اس لیے اب میں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں درحقیقت مفسد اور کذاب ہے اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھا لے یا کسی اور نہایت سخت آفت میں جو موت کے برابر ہو مبتلا کر۔ اے میرے پیارے مالک تو ایسا ہی کر۔ آمین ثم آمین!! ربنا افتح بیننا و بین قومنا بالحق وانت خیر الفاتحین۔ آمین۔

بالآخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ وہ میرے اس تمام مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔

الراقم عبدہ المذنب مرزا غلام احمد مسیح موعود عافاہ اللہ وایدہ مرقوم 15 اپریل 1907ء

(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 705، 706 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 895,894 پر)

View Proof اس اشتہار کے چند ماہ بعد 17 ستمبر 1907ء کو مرزا قادیانی کا نوجوان لڑکا مبارک احمد ایک پُر اسرار بیماری سے ہلاک ہو گیا۔ حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ نے مرزا قادیانی پر اعتراض کیا کہ آپ نے اپنی دعا میں کہا تھا کہ جھوٹے کو موت آئے یا موت کے برابر کوئی تکلیف۔ لہٰذا جوان بیٹے کا مر جانا بھی آپ کی موت کے برابر ہے۔ مرزا قادیانی نے 5 نومبر 1907ء کو بذریعہ اشتہار یہ جواب دیا کہ ہمارا لڑکا اس مباہلہ میں شامل نہیں۔

مزید کہا: (364) ”ثناء اللہ کے متعلق جو لکھا گیا ہے، یہ دراصل ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ

صفحہ 290

ہی کی طرف سے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے۔“

(ملفوظات جلد پنجم طبع جدید صفحہ 206 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 896 پر)

مرزا قادیانی کے مولانا ثناء اللہ امرتسری کے متعلق اشتہار اور بیانات سے مندرجہ ذیل نتائج اخذ ہوتے ہیں:۔

زندگی میں فوت ہو جائے گا۔

جیسے طاعون، ہیضہ وغیرہ میں ہلاک ہوگا۔

گیا تھا۔

اب صرف یہ دیکھنا باقی ہے کہ:۔

مرزا قادیانی کی تاریخ وفات 26 مئی 1908ء ہے۔ یعنی مرزا قادیانی اپنی دعا کے تقریباً 13 ماہ اور بارہ دن بعد ہیضہ کی بیماری سے آنجہانی ہو گیا جبکہ مولانا ثناء اللہ امرتسری اس دعا کے تقریباً چالیس سال بعد (پاکستان بننے کے بعد) 15 مارچ 1948ء میں اللہ کو پیارے ہوئے۔

کسی نے کیا خوب کہا تھا:

لکھا تھا کاذب مرے گا پیشتر
کذب میں سچا تھا پہلے مر گیا

مرزا قادیانی نے جھوٹے کے لیے خود ہیضہ کی بیماری تجویز کی تھی۔ اس طرح اسے منہ مانگی موت مل گئی۔ اس سلسلہ میں اگر ہم کچھ عرض کریں گے تو شکایت ہوگی۔ بہتر ہے کہ گھر کی شہادت پیش کی جائے تاکہ اعتراض و انکار کی کوئی گنجائش نہ رہے۔

صفحہ 291

مرزا قادیانی کہا کرتا تھا کہ مجھے الہام ہوا ہے۔

(365) ”انی احافظ كل من فی الدار“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 553,552 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 898,897 پر)

(یعنی اے مرزا! تیرے گھر کے ہر فرد کی میں (خدا) حفاظت کروں گا) اس خدائی الہام کے باوجود اپریل 1908ء میں مرزا قادیانی کو اپنے اہل وعیال سمیت بیماری کے سبب قادیان چھوڑ کر تبدیلی آب و ہوا کے لیے لاہور جانا پڑا۔ مگر جب لاہور وارد ہوا تو زندہ نہ پلٹ سکا۔ اس کی موت کیونکر واقع ہوئی؟ اس کی تفصیلات اس طرح ہیں:

25 مئی 1908ء کو شام کھانے کے بعد مرزا قادیانی کی حالت اچانک بگڑنے لگی۔ اسے مسلسل اسہال شروع ہوگئے۔ ایک دو دفعہ رفع حاجت کے لیے لیٹرین گیا، بعدازاں ضعف کی وجہ سے نڈھال ہوگیا۔ ان کے جسم کا پانی اور نمک ختم ہوگیا تھا۔ بلڈ پریشر کم ہونے سے ٹھنڈے پسینے آنے لگے۔ آنکھیں اندر کو دھنس گئیں اور نبض اتنی کمزور ہوگئی کہ محسوس کرنا مشکل ہو گئی۔ پھر دست آیا تو چارپائی سے بڑی مشکل سے اٹھا تو گر گیا۔ ضعف اتنا تھا کہ وہ پشت کے بل چارپائی پر گر گیا اور ان کا سر چارپائی کی لکڑی سے ٹکرایا اور حالت دگرگوں ہوگئی۔ بعدازاں ایک اور دست آیا تو بستر پر ہی نکل گیا۔ اس کے ساتھ ہی اسے قے ہونا شروع ہوگئیں۔

مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد اپنی والدہ نصرت جہاں کے حوالہ سے لکھتا ہے:

(366) ”والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود کو پہلا دست کھانا کھانے کے وقت آیا تھا۔ مگر اس کے بعد تھوڑی دیر تک ہم لوگ آپ کے پاؤں دباتے رہے اور آپ آرام سے لیٹ کر سو گئے اور میں بھی سو گئی۔ لیکن کچھ دیر کے بعد آپ کو پھر حاجت محسوس ہوئی اور غالباً ایک یا دو دفعہ رفع حاجت کے لیے آپ پاخانہ تشریف لے گئے۔ اس کے بعد آپ نے زیادہ ضعف محسوس کیا، تو اپنے ہاتھ سے مجھے جگایا۔ میں اٹھی تو آپ کو اتنا ضعف تھا کہ آپ میری چارپائی پر ہی لیٹ گئے اور میں آپ کے پاؤں دبانے کے لیے بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب نے فرمایا۔ تم اب سو جاؤ۔ میں نے کہا۔ نہیں میں دباتی ہوں۔ اتنے میں آپ کو ایک اور دست آیا۔ مگر اب اس قدر ضعف تھا کہ آپ پاخانہ نہ جاسکتے تھے۔ اس لیے میں نے چارپائی کے پاس ہی انتظام کر دیا اور آپ وہیں بیٹھ کر فارغ ہوئے اور پھر اٹھ کر لیٹ گئے اور

صفحہ 292

میں پاؤں دباتی رہی۔ مگر ضعف بہت ہو گیا تھا اس کے بعد ایک اور دست آیا اور پھر آپ کو ایک قے آئی۔ جب آپ قے سے فارغ ہو کر لیٹنے لگے تو اتنا ضعف تھا کہ آپ لیٹتے لیٹتے پشت کے بل چارپائی پر گر گئے اور آپ کا سر چارپائی کی لکڑی سے ٹکرایا اور حالت دگرگوں ہو گئی۔ اس پر میں نے گھبرا کر کہا ”اللہ یہ کیا ہونے لگا ہے“! تو آپ نے فرمایا: ”یہ وہی ہے جو میں کہا کرتا تھا۔“

(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 11، 12 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 899، 900 پر)

گویا یضربون وجوههم وادبارهم کا نقشہ تھا۔

مرزا قادیانی کے خسر میر ناصر نواب کا کہنا ہے: (367) ”حضرت صاحب جس رات کو بیمار ہوئے، اس رات کو میں اپنے مقام پر جاکر سو چکا تھا۔ جب آپ کو بہت تکلیف ہوئی تو مجھے جگایا گیا تھا۔ جب میں حضرت صاحب کے پاس پہنچا اور آپ کا حال دیکھا تو آپ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا: میر صاحب! مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے۔ اس کے بعد آپ نے کوئی ایسی صاف بات میرے خیال میں نہیں فرمائی۔ یہاں تک کہ دوسرے روز دس بجے کے بعد آپ علیہ السلام کا انتقال ہو گیا ۔“

(حیات ناصر صفحہ 14 از شیخ یعقوب علی عرفانی قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 901 پر)

مرزائیوں کی لاہوری پارٹی کے آرگن ”پیغام صلح“ نے 3 مارچ 1939ء کی اشاعت میں لکھا ہے:

نکل رہا تھا۔“

کیا اس سے زیادہ کسی اور شہادت کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟ کیا گھر والوں کی یہ شہادت کافی نہیں کہ مرزا قادیانی نے جھوٹے کے لیے جس بیماری میں مرنے کی دعا کی تھی ویسی ہی موت مرزا قادیانی کو ملی۔ اور ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کی یہ دعا قبول کی اور ان کی منہ مانگی مراد انھیں دے دی۔ فاعتبروا یا اولی الابصار.

کسی زندہ دل شاعر نے مرزا قادیانی آنجہانی کی تاریخ وفات لکھی ہے ۔

یوں کہا کرتا تھا مر جائیں گے اور
اور تو زندہ ہیں خود ہی مر گیا
صفحہ 293
اس کے بیماروں کا ہو گا کیا علاج
کالرہ ۱ سے خود مسیحا مر گیا

۱۔ کالرہ (Cholera) سے مراد ہیضہ۔

ہمیں افسوس ہے کہ مرزا قادیانی کے جانشینوں نے مرزا قادیانی کی عبرتناک موت سے کچھ بھی سبق حاصل نہیں کیا۔ حق کے فیصلے کو سامنے دیکھتے ہوئے جھوٹ پر اڑنا اور عام لوگوں کو گمراہ کرنا بڑی بدبختی کی بات ہے۔ حالانکہ مرزا قادیانی یہ کہہ چکا ہے کہ اس کی عبرتناک ہلاکت کی صورت میں قادیانیوں کو چاہیے کہ وہ سچائی کا دامن تھام لیں اور غلط بات پر ہرگز نہ اڑیں۔

مرزا قادیانی مولانا ثناء اللہ صاحب مرحوم کے ساتھ ہونے والی بحث میں لکھتا ہے:

(368) ”میں اقرار کرتا ہوں کہ اگر میں اس مقابلہ میں مغلوب رہا تو میری جماعت کو چاہیے جو ایک لاکھ سے بھی اب زیادہ ہے کہ سب مجھ سے بیزار ہو کر الگ ہو جائیں کیونکہ جب خدا نے مجھے جھوٹا قرار دے کر ہلاک کیا تو میں جھوٹے ہونے کی حالت میں کسی پیشوائی اور امامت کو نہیں چاہتا بلکہ اس حالت میں ایک یہودی سے بھی بدتر ہوں گا اور ہر ایک کے لیے جائے عار و ننگ۔“

(اعجاز احمدی [ضمیمہ نزول المسیح] صفحہ 16 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 124 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 902 پر)

ہم قادیانیوں سے درخواست کریں گے کہ وہ خود غور کریں اور دیکھیں کہ مرزا قادیانی، مولانا ثناء اللہ مرحوم کے مقابل غالب ہوا یا مغلوب؟ مرزا قادیانی کا مغلوب ہونا اور وبائی ہیضہ سے ہلاک ہونا کوئی اختلافی مسئلہ نہیں ہے، اس کے باوجود سرور دو عالم خاتم الانبیاء والمرسلین حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی غلامی میں نہ آنا بہت بڑی بدنصیبی اور شقاوت ہے۔

مرزا قادیانی خود لکھتا ہے:

(369) ”اب بتلاؤ کہ کیا مقبولانِ الٰہی کا یہی نشان ہے کہ جو دعاء وہ نہایت تضرع و ابتہال سے کریں، اس کا الٹا اثر ہو اور اثر بھی یہ کہ خود ہی ہلاک ہو کر اپنے کاذب ہونے پر مہر لگا جاویں۔“

(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 200 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 903 پر)

صفحہ 294

مزید مرزا قادیانی کا یہ الہام بھی پورا نہ ہوا بلکہ الٹ ثابت ہوا۔

(370) ”انی مهین من اراد اهانتک. جو تیری ذلت چاہے، میں اُسے ذلیل کروں گا۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 158 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 904 پر)

View Proof

مزید لکھتا ہے: (371) ”قانون قدرت صاف گواہی دیتا ہے کہ خدا کا یہ فعل بھی دنیا میں پایا جاتا ہے کہ وہ بعض اوقات بے حیا اور سخت دل مجرموں کی سزا ان کے ہاتھ سے دلواتا ہے۔ سو وہ لوگ اپنی ذلت اور تباہی کے سامان اپنے ہاتھ سے جمع کر لیتے ہیں اور ان کی نظر سے وہ امور اس وقت تک مخفی رکھے جاتے ہیں جب تک خدا تعالیٰ کی قضا و قدر نازل ہو جائے۔“

(استفتاء صفحہ 8 مندرجہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 116 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 905 پر)

View Proof

دسویں پیش گوئی

محمدی بیگم

تاریخ میں جھوٹے نبیوں کے حالات زندگی پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ عیش و عشرت اور غایت درجہ بے لگام نفسانی خواہشات کے غلام تھے۔ ان کی سب سے بڑی کمزوری ان کی تعیش پسندی تھی۔ وہ اخلاقی قدروں کے سرے سے قائل نہ تھے۔ ان کے حلقۂ ارادت میں آنے والی خوبصورت اور نوجوان لڑکیاں ایک ایک کر کے ان کی شیطانی ہوس کے گھاٹ اترتی رہیں، لیکن ان کے پیرو کار یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی ان کی اندھی محبت اور عقیدت میں ان کی مدح کے گیت الاپتے رہے۔

جھوٹا مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی بھی اپنے پیش روؤں کی طرح اسی کردار کا مالک تھا۔ وہ دن کو غیر محرم عورتوں کے جھرمٹ میں بیٹھا خوشی سے پھولے نہ سماتا تو رات کو

صفحہ 295

خواب میں بھی ایسی ہی رنگینیوں اور سنگینیوں کا نظارہ کرتا۔ مرزا قادیانی کی پہلی شادی اس کے ماموں مرزا جمعیت بیگ کی لڑکی حرمت بی بی سے ہوئی جس سے دو لڑکے فضل احمد اور سلطان احمد پیدا ہوئے۔ بعدازاں انگریز کی حمایت اور جہاد کی مخالفت کے عوض انگریز سرکار اس پر بہت مہربان ہو گئی۔ اس کے دن پھر گئے اور وہ لاکھوں میں کھیلنے لگا۔ دولت کی فراوانی نے اسے شراب و کباب کا رسیا بنا دیا جس سے اس کی صحت خراب رہنے لگی۔ لیکن اس کے باوجود اس نے دہلی کے ایک آزاد خیال گھرانے کی ایک 16 سالہ الہڑ خاتون نصرت جہاں سے شادی رچائی۔ حالانکہ بقول مرزا قادیانی اُن دنوں اس کی حالت مردی کالعدم تھی۔ حکیم نور الدین کے کُشتوں نے اسے ازسرنو عارضی طور پر جوان کر دیا۔ نصرت جہاں سے اس کے کئی بچے پیدا ہوئے۔ دوسری شادی کے تقریباً 2، 4 سال بعد اس کی نظر خاندان کی ایک نوخیز اور نہایت خوبصورت لڑکی ”محمدی بیگم“ پر پڑی تو وہ دل پر قابو نہ رکھ سکا۔ ان کی جنسی ہوس کی رال ٹپکنے لگی۔ وہ اپنے خوابوں اور خیالات میں محمدی بیگم کا تصور لا کر تنہائی میں نجانے کیا کیا احمقانہ حرکات کرتا۔ انہی دنوں مرزا قادیانی کو الہام ہوا:

(372) ”بستر عیش۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 416 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 906 پر)

View Proof

پھر اپنا ایک رنگین وسنگین خواب اس طرح بیان کرتا ہے:

(373) ”مطابق 30 ذی الحجہ روز شنبہ۔ آج میں نے بوقت صبح صادق چار بجے خواب میں دیکھا کہ ایک حویلی ہے۔ اس میں میری بیوی والدہ محمود اور ایک عورت بیٹھی ہے۔ تب میں نے ایک مشک سفید رنگ میں پانی بھرا ہے اور اس مشک کو اٹھا کر لایا ہوں اور وہ پانی لا کر ایک گھڑے میں ڈال دیا ہے۔ میں پانی کو ڈال چکا تھا کہ وہ عورت جو بیٹھی ہوئی تھی، یکا یک سرخ اور خوش رنگ لباس پہنے ہوئے میرے پاس آ گئی۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک جوان عورت ہے، پیروں سے سر تک سرخ لباس پہنے ہوئے۔ شاید جالی کا کپڑا ہے۔ میں نے دل میں خیال کیا کہ وہی عورت ہے جس کے لیے اشتہار دیے تھے۔ لیکن اس کی صورت میری بیوی کی صورت معلوم ہوئی۔ گویا اس نے کہا، یا دل میں کہا کہ میں آ گئی ہوں۔ میں نے کہا یا اللہ آ جاوے۔ اور پھر وہ عورت مجھ سے بغلگیر ہوئی۔ اس کے بغلگیر ہوتے ہی میری آنکھ کھل گئی۔ فالحمد

صفحہ 296

للہ علی ذالک۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 159 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 907 پر)

View Proof

ایک اور خواب بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے:

(374) ”رؤیا۔ دیکھا کہ پندرہ سولہ نوجوان عورتیں خوبصورت اور نہایت خوش لباس پہنے ہوئے میرے سامنے آئی ہیں۔ میں نے اس خیال سے کہ یہ جوان عورتیں ہیں، منہ ان سے پھیر لیا، اور ان سے پوچھا کہ تم کیسے آئی ہو؟ انھوں نے کہا ہم تو آپ کے پاس ہی آئی ہیں۔ پھر انھوں نے وہیں ہمارے دالان میں ڈیرے لگا دیے۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 535 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 908 پر)

View Proof

ایک خواب میں دیکھتا ہے:

(375) ”دیکھا کہ میں ایک پیڑھی پر بیٹھا ہوں تو ایک عورت نوجوان عمدہ لباس پہنے ہوئے تیس بتیس سال کی میرے سامنے آئی اور اس نے کہا کہ میرا ارادہ اب اس گھر سے چلا جانے کا تھا۔ مگر تمھارے لیے رہ گئی ہوں۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 535 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 909 پر)

View Proof

پھر مرزا قادیانی محمدی بیگم کے عشق میں گرفتار ہو کر عشقیہ اشعار کہنے لگا۔ ملاحظہ فرمائیں:

(376) ”عشق کا روگ ہے کیا پوچھتے ہو اس کی دوا
ایسے بیمار کا مرنا ہی دوا ہوتا ہے
کچھ مزا پایا مرے دل! ابھی کچھ پاؤ گے
تم بھی کہتے تھے کہ اُلفت میں مزا ہوتا ہے

.........................

ہائے کیوں ہجر کے الم میں پڑے
مفت بیٹھے بٹھائے غم میں پڑے
اس کے جانے سے صبر دل سے گیا
ہوش بھی ورطۂ عدم میں پڑے

.........................

صفحہ 297
سبب کوئی خداوندا بنا دے
کسی صورت سے وہ صورت دکھا دے
کرم فرما کے آ او میرے جانی
بہت روئے ہیں اب ہم کو ہنسا دے
کبھی نکلے گا آخر تنگ ہو کر
دلا اک بار شور و غل مچا دے

(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 232 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 910 پر)

View Proof

اس کے بعد مرزا قادیانی نے محمدی بیگم کو ”پارسا طبع اور نیک سیرت اہلیہ“ کا خطاب دے کر درج ذیل خدائی الہام بیان کیا۔ مزید کہا کہ یہ بات اللہ تعالیٰ کے ہاں طے ہو چکی ہے کہ محمدی بیگم میرے نکاح میں آئے گی۔ ملاحظہ فرمائیں:

(377) ”شاید چار ماہ کا عرصہ ہوا کہ اس عاجز پر ظاہر کیا گیا تھا کہ ایک فرزند قوی الطاقتین، کامل الظاہر والباطن تم کو عطا کیا جائے گا۔ سو اس کا نام بشیر ہوگا۔ اب تک میرا قیاسی طور پر خیال تھا کہ شاید وہ فرزند مبارک اسی اہلیہ سے ہوگا۔ اب زیادہ تر الہام اس بات میں ہو رہے ہیں کہ عنقریب ایک اور نکاح تمھیں کرنا پڑے گا اور جنابِ الٰہی میں یہ بات قرار پا چکی ہے کہ ایک پارسا طبع اور نیک سیرت اہلیہ تمھیں عطا ہوگی۔ وہ صاحب اولاد ہوگی۔ اس میں تعجب کی بات یہ ہے کہ جب الہام ہوا تو ایک کشفی عالم میں چار پھل مجھ کو دیے گئے۔ تین ان میں سے تو آم کے تھے۔ مگر ایک پھل سبز رنگ بہت بڑا تھا۔ وہ اس جہان کے پھلوں سے مشابہ نہیں تھا۔ اگرچہ ابھی یہ الہامی بات نہیں۔ مگر میرے دل میں یہ پڑا ہے کہ وہ پھل جو اس جہان کے پھلوں میں سے نہیں ہے، وہی مبارک لڑکا ہے کیونکہ کچھ شک نہیں کہ پھلوں سے مراد اولاد ہے اور جبکہ ایک پارسا طبع اہلیہ کی بشارت دی گئی اور ساتھ ہی کشفی طور پر چار پھل دیے گئے، جن میں سے ایک پھل الگ وضع کا ہے تو یہی سمجھا جاتا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 112، 113 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 911، 912 پر)

View Proof

قارئین کرام! آگے بڑھنے سے پہلے ضروری ہے کہ یہ معلوم کر لیا جائے کہ محمدی

صفحہ 298

بیگم اور اس کے خاندان کی مرزا غلام احمد قادیانی سے کیا رشتے داری تھی؟

(قارئین خود غور فرمالیں کہ ماموں زاد بھائی کی بیٹی رشتے میں مرزا قادیانی کی کیا لگتی تھی؟)

حقیقی ہمشیرہ تھی۔

بھائی کی بیٹی تھی۔

بھانجی تھی۔

معروف عالم دین حضرت مولانا حافظ محمد اقبال رنگونی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں:

’’کسی آدمی کا شادی کے لیے کسی لڑکی کا انتخاب کرنا اور اس کے لیے پیغام دینا کوئی بُری بات نہیں ہے۔ لیکن ایک پچاس سالہ بوڑھے کا ایک کم سن بچی پر نظر رکھنا اور اس کی طلب و ہوس میں دن رات تڑپنا اس کے شریف ہونے کا پتہ نہیں دیتا۔ پھر یہ مسئلہ اس وقت اور بھی شدید ہو جاتا ہے جب اس لڑکی کا والد اپنی کسی اور مجبوری میں اس شخص کے پاس آئے اور وہ اس شخص کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر اس لڑکی کو حاصل کرنے کی کوشش کرے اور طرح طرح کے لالچ اور انعام کے وعدے کرے اور پھر موت کی دھمکیوں پر اُتر آئے۔ یہ پرلے درجے کی بداخلاقی اور غنڈہ گردی ہے اور معاشرہ ایسے شخص کو بے حیا اور بدمعاش کہتا ہے۔ پھر یہ بات اس وقت اور بھی سنگین ہو جاتی ہے جب اس قسم کی اوچھی حرکتیں کرنے والا شخص مامور

صفحہ 299

من اللہ ہونے کا مدعی ہو اور اس لڑکی کو پانے کی خدا کے نام سے خبر دے۔

خدا تعالیٰ کے محبوبین اور مقبولین، اخلاق و کردار کی اُس بلند دیوار پر کھڑے ہوتے ہیں جس پر خدا کے معصوم فرشتوں کو بھی رشک آتا ہے۔ مخالفین ان کے دعویٰ کی تکذیب تو کرتے ہیں لیکن کبھی ان کے اخلاق زیر بحث نہیں لاتے۔ شدید ترین مخالفین بھی اللہ کے ان محبوبین کے اعلیٰ اخلاق و کردار کو تسلیم کرتے ہیں اور انھیں امین و صادق اور عفیف مانے بغیر انھیں چارہ نہیں ہوتا۔ اس کے مقابل جو لوگ خدا کے نام پر جھوٹی آواز لگاتے ہیں، وہ افترا علی اللہ اور افترا علیٰ الرسول کے مجرم ہوتے ہیں۔ وہ اخلاق و کردار کے اعتبار سے اس قدر گرے ہوتے ہیں کہ کوئی مہذب معاشرہ ایسے آدمیوں کو شریف کہنا گوارا نہیں کرتا۔ وہ اول مرحلے پر ہی اپنے آپ کو اس قدر ننگا کر دیتے ہیں کہ ذرا سی سمجھ رکھنے والا انسان یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ جو شخص اس قدر بداخلاق اور بدکردار ہے، وہ مامور من اللہ تو کجا ایک شریف انسان کہلانے کے بھی قابل نہیں۔ جب ایک دھوکہ باز آدمی کو کوئی شخص صالح اور پرہیز گار نہیں کہہ سکتا تو ایسے بدکردار آدمی کو مامور من اللہ کیسے تسلیم کیا جا سکتا ہے؟ مولانا روم نے ایسے ہی فراڈی قسم کے لوگوں کے بارے میں یہ کہا تھا ۔

کار شیطان مے کند نامش ولی
گر ولی ایں است لعنت بر ایں ولی

قادیانی، مرزا غلام احمد کو خدا کا نبی اور اس کا مامور مانتے ہیں اور مسلمانوں کو کہتے ہیں کہ اس پر ایمان لاؤ گے تو جنت میں جاؤ گے اور اسے نہ ماننے والا حرام زادہ ہے۔ اہلِ اسلام تو سرے سے ہی اسے پرلے درجے کا جھوٹا سمجھتے ہیں اور اس کے دعویٰ کی بنا پر اسے اسلام سے باہر جانتے ہیں۔ لیکن جو لوگ اُسے مانتے ہیں انھیں غور کرنا چاہیے کہ انھوں نے کس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیا ہے؟

ایک مرتبہ مرزا غلام احمد کی نظر ایک کمسن لڑکی پر پڑی جو اس کے دل کو بھا گئی۔ یہ اس کے اپنے ایک قریبی رشتہ دار کی بچی تھی۔ کچھ عرصہ بعد اس بچی کے والد کو اپنی زمین کے ہبہ نامہ کے سلسلہ میں مرزا غلام احمد کے پاس آنا پڑا۔ مرزا غلام احمد نے مختلف بہانوں کے ذریعہ اسے ٹالنے کا کھیل کھیلا مگر جب وہ کسی طرح بھی نہ ٹلا تو مرزا قادیانی نے کہا کہ میں ایک شرط پر تمہارا یہ کام کرنے کے لیے تیار ہوں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھ کو یہ الہام ہوا کہ تمہارا

صفحہ 300

یہ کام اس شرط پر ہو سکتا ہے کہ تم اپنی لڑکی کا نکاح مجھ سے کر دو۔ یہ شخص احمد بیگ تھا اور یہ بچی محمدی بیگم تھی۔ احمد بیگ نے جب مرزا غلام احمد کی یہ بات سنی تو اُس کے ہوش اُڑ گئے کہ ایک ایسا شخص جو مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، اس عمر میں ایک کام کے لیے میری کم سن بچی مانگ رہا ہے۔ چنانچہ اس نے مرزا غلام احمد کی یہ شرط ماننے سے انکار کر دیا اور بغیر کام کرائے واپس چلا آیا۔ مرزا غلام احمد نے احمد بیگ کو مختلف ذرائع سے سمجھانے اور منانے کی کوشش کی مگر غیرت مند باپ کسی طرح بھی اپنی بچی کا نکاح مرزا قادیانی سے کرنے کے لیے تیار نہ ہوا۔ مرزا قادیانی نے اس بچی کو پانے کے لیے خدا کی وحی آنے کی خبر دی اور احمد بیگ کے خاندان کو رحمتوں اور برکتوں کے ملنے کی خوشخبری دی۔“

(اہم پیشگوئیاں اور ان کا جائزہ از حافظ محمد اقبال رنگونی)

مرزا قادیانی لکھتا ہے: (قارئین کرام سے گزارش ہے کہ وہ مرزا قادیانی کی یہ عبارت توجہ سے پڑھیں۔ شکریہ)!

. (378) ”یہ لوگ جو مجھ کو میرے دعویٰ الہام میں مکار اور دروغ گو خیال کرتے تھے اور اسلام اور قرآن شریف پر طرح طرح کے اعتراض کرتے تھے اور مجھ سے کوئی نشان آسمانی مانگتے تھے تو اس وجہ سے کئی دفعہ ان کے لیے دعا بھی کی گئی تھی۔ سو وہ دعا قبول ہو کر خدا تعالیٰ نے یہ تقریب قائم کی کہ والد اس دختر کا ایک اپنے ضروری کام کے لیے ہماری طرف ملتجی ہوا۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ نامبردہ (احمد بیگ) کی ایک ہمشیرہ ہمارے ایک چچا زاد بھائی غلام حسین نام کو بیاہی گئی تھی۔ غلام حسین عرصہ پچیس سال سے کہیں چلا گیا ہے اور مفقود الخبر ہے۔ اس کی زمین ملکیت جس کا ہمیں حق پہنچتا ہے، نامبردہ (احمد بیگ) کی ہمشیرہ کے نام کاغذاتِ سرکاری میں درج کرا دی گئی تھی۔ اب حال کے بندوبست میں جو ضلع گورداسپور میں جاری ہے، نامبردہ یعنی ہمارے خط کے مکتوب الیہ (احمد بیگ) نے اپنی ہمشیرہ کی اجازت سے یہ چاہا کہ وہ زمین جو چار ہزار یا پانچ ہزار روپیہ کی قیمت کی ہے، اپنے بیٹے محمد بیگ کے نام بطور ہبہ منتقل کرا دیں چنانچہ ان کی ہمشیرہ کی طرف سے یہ ہبہ نامہ لکھا گیا۔ چونکہ وہ ہبہ نامہ بجز ہماری رضامندی کے بیکار تھا، اس لیے مکتوب الیہ (احمد بیگ) نے بتمامتر عجز و انکسار ہماری طرف رجوع کیا، تا ہم اس ہبہ پر راضی ہو کر اس ہبہ نامہ پر دستخط کر دیں۔ اور قریب تھا کہ

صفحہ 301

دستخط کر دیتے لیکن یہ خیال آیا کہ جیسا کہ ایک مدت سے بڑے بڑے کاموں میں ہماری عادت ہے جناب الٰہی میں استخارہ کر لینا چاہیے۔ سو یہی جواب مکتوب الیہ کو دیا گیا۔ پھر مکتوب الیہ کے متواتر اصرار سے استخارہ کیا گیا۔ وہ استخارہ کیا تھا گویا آسمانی نشان کی درخواست کا وقت آ پہنچا تھا جس کو خدائے تعالیٰ نے اس پیرایہ میں ظاہر کر دیا۔

اس خدائے قادر حکیم مطلق نے مجھے فرمایا کہ اس شخص (احمد بیگ) کی دختر کلاں (محمدی بیگم) کے نکاح کے لیے سلسلہ جنبانی کر اور ان کو کہہ دے کہ تمام سلوک اور مروت تم سے اسی شرط سے کیا جائے گا اور یہ نکاح تمھارے لیے موجب برکت اور ایک رحمت کا نشان ہوگا اور ان تمام برکتوں اور رحمتوں سے حصہ پاؤ گے جو اشتہار 20 فروری 1888ء میں درج ہیں لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہوگا اور جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی، وہ روز نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس دختر کا تین سال تک فوت ہو جائے گا اور ان کے گھر پر تفرقہ اور تنگی اور مصیبت پڑے گی اور درمیانی زمانہ میں بھی اس دختر کے لیے کئی کراہت اور غم کے امر پیش آئیں گے۔

پھر ان دنوں میں جو زیادہ تصریح اور تفصیل کے لیے بار بار توجہ کی گئی تو معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے یہ مقرر کر رکھا ہے کہ وہ مکتوب الیہ کی دختر کلاں (محمدی بیگم) کو جس کی نسبت درخواست کی گئی تھی ہر ایک روک دور کرنے کے بعد انجام کار اسی عاجز کے نکاح میں لاوے گا اور بے دینوں کو مسلمان بناوے گا اور گمراہوں میں ہدایت پھیلا دے گا۔ چنانچہ عربی الہام اس بارے میں یہ ہے: کذبوا بایتنا وکانوا بھا یستھزؤن فسیکفیکھم اللہ ویردھا الیک لا تبدیل لکلمات اللہ ان ربک فعال لما یرید۔ انت معی وانا معک عسی ان یبعثک ربک مقامًا محمودًا۔ یعنی انھوں نے ہمارے نشانوں کو جھٹلایا اور وہ پہلے سے ہنسی کر رہے تھے سو خدا تعالیٰ ان سب کے مدارک کے لیے جو اس کام کو روک رہے ہیں، تمہارا مددگار ہوگا اور انجام کار اُس کی اس لڑکی کو تمہاری طرف واپس لائے گا۔ کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو ٹال سکے۔ تیرا رب وہ قادر ہے کہ جو کچھ چاہے وہی ہو جاتا ہے۔ تُو میرے ساتھ اور میں تیرے ساتھ ہوں اور عنقریب وہ مقام تجھے ملے گا جس میں تیری تعریف کی جائے گی یعنی گو اوّل میں احمق اور نادان لوگ بد باطنی اور بدظنی کی راہ سے بدگوئی کرتے ہیں اور نالائق باتیں منہ پر لاتے ہیں لیکن آخر خدا تعالیٰ کی مدد کو دیکھ کر شرمندہ ہوں گے اور سچائی

صفحہ 302

کے کھلنے سے چاروں طرف سے تعریف ہوگی۔“

(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 285 تا 287 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 285 تا 287 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 915,914,913 پر)

مگر کسی قدر افسوسناک بات ہے کہ مرزا قادیانی کے ”خدا“ نے اسے لکھ سے ہولا کر دیا۔ ایک رشتہ دار عورت سے نکاح ایسی ناممکن بات نہیں ہوتی مگر ہر طرح کے پاپڑ بیلنے کے باوجود مرزا قادیانی، محمدی بیگم کو حبالۂ عقد میں لانے سے قاصر رہا۔ جس ”خدا“ نے مرزا قادیانی کی ایسی جگ ہنسائی کرائی، اس پر بھروسہ کرنا پرلے درجے کی نادانی ہے یا نہیں؟ اے کاش! مرزا قادیانی کا سچے خدا سے زندہ تعلق ہوتا تو وہ یوں عالم میں رسوا نہ ہوتا۔

مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد ایم اے اپنے والد کے موقف کی تصدیق کرتے ہوئے لکھتا ہے:

(379) ”خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح کی حقیقی ہمشیرہ مراد بی بی، مرزا محمد بیگ ہوشیار پوری کے ساتھ بیاہی گئی تھیں۔ مگر مرزا محمد بیگ جلد فوت ہو گئے اور ہماری پھوپھی کو باقی ایام زندگی بیوگی کی حالت میں گزارنے پڑے۔ ہماری پھوپھی صاحبہ رویا و کشف تھیں۔ مرزا محمد بیگ مذکور کے چھوٹے بھائی مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کے ساتھ حضرت مسیح موعود کے چچیرے بھائیوں یعنی مرزا نظام الدین وغیرہ کی حقیقی بہن عمر النساء بیاہی گئی تھیں، ان کے بطن سے محمدی بیگم پیدا ہوئی۔ مرزا نظام الدین و مرزا امام الدین وغیرہ پرلے درجہ کے بے دین اور دہریہ طبع لوگ تھے اور مرزا احمد بیگ مذکور ان کے سخت زیر اثر تھا اور انھیں کے رنگ میں رنگین رہتا۔ یہ لوگ ایک عرصہ سے حضرت مسیح موعود سے نشان آسمانی کے طالب رہتے تھے کیونکہ اسلامی طریق سے انحراف اور عناد رکھتے تھے اور والد محمدی بیگم یعنی مرزا احمد بیگ ان کے اشارہ پر چلتا تھا۔ اب واقعہ یوں ہوا کہ حضرت مسیح موعود کا ایک اور چچا زاد بھائی مرزا غلام حسین تھا جو عرصہ سے مفقود الخبر ہو چکا تھا، اور اس کی جائداد اس کی بیوی امام بی بی کے نام ہو چکی تھی۔ یہ امام بی بی مرزا احمد بیگ مذکور کی بہن تھی۔ اب مرزا احمد بیگ کو یہ خواہش پیدا ہوئی کہ مسمات امام بی بی اپنی جائداد اس کے لڑکے مرزا محمد بیگ برادر کلاں محمدی بیگم کے نام ہبہ کر دے۔ لیکن قانوناً امام بی بی اس جائداد کا ہبہ بنام محمد بیگ مذکور بلا رضامندی حضرت مسیح موعود نہ کر

صفحہ 303

سکتی تھی۔ اس لیے مرزا احمد بیگ بتمام عجز و انکساری حضرت مسیح موعود کی طرف ملتجی ہوا کہ آپ ہبہ نامہ پر دستخط کر دیں۔ چنانچہ حضرت صاحب قریباً تیار ہو گئے۔ لیکن پھر اس خیال سے رک گئے کہ دریں بارہ مسنون استخارہ کر لینا ضروری ہے۔ چنانچہ آپ نے مرزا احمد بیگ کو یہی جواب دیا کہ میں استخارہ کرنے کے بعد، دستخط کرنے ہوں گے تو کر دوں گا۔ چنانچہ اس کے بعد مرزا احمد بیگ کے متواتر اصرار سے استخارہ کیا گیا۔ وہ استخارہ کیا تھا، گویا آسمانی نشان کے دکھانے کا وقت آن پہنچا تھا جس کو خدا تعالیٰ نے اس پیرایہ میں ظاہر کر دیا۔ چنانچہ استخارہ کے جواب میں خداوند تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود سے یہ فرمایا کہ ”اس شخص کی دختر کلاں کے نکاح کے لیے سلسلہ جنبانی کر اور ان کو کہہ دے کہ تمام سلوک اور مروت تم سے اس شرط سے کیا جائے گا اور یہ نکاح تمہارے لیے موجب برکت اور ایک رحمت کا نشان ہوگا، اور ان تمام برکتوں اور رحمتوں سے حصہ پاؤ گے جو اشتہار 20 فروری 1886ء میں درج ہیں۔ لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہوگا اور جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی وہ روزِ نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس دختر کا تین سال تک فوت ہو جائے گا، اور ان کے گھر پر تفرقہ اور تنگی اور مصیبت پڑے گی، اور درمیانی زمانہ میں بھی اس دختر کے لیے کئی کراہت اور غم کے امر پیش آئیں گے۔“ اس وحی الہامی کے ساتھ حضرت مسیح موعود نے نوٹ دیا کہ ”تین سال تک فوت ہونا روز نکاح کے حساب سے ہے مگر یہ ضروری نہیں کہ کوئی واقعہ اور حادثہ اس سے پہلے نہ آئے بلکہ مکاشفات کے رُو سے مکتوب الیہ (یعنی مرزا احمد بیگ) کا زمانہ حوادث جن کا انجام معلوم نہیں، نزدیک پایا جاتا ہے۔ واللہ اعلم۔“ جب استخارہ کے جواب میں یہ وحی ہوئی تو حضرت مسیح موعود نے اسے شائع نہیں فرمایا بلکہ صرف ایک پرائیویٹ خط کے ذریعہ سے والد محمدی بیگم کو اس سے اطلاع دے دی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ وہ اس کی اشاعت سے رنجیدہ ہوگا۔ لہٰذا آپ نے اشاعت کے لیے مصلحتاً دوسرے وقت کی انتظار کی۔ لیکن جلد ہی خود لڑکی کے ماموں مرزا نظام الدین نے شدتِ غضب میں آ کر اس مضمون کو آپ ہی شائع کر دیا اور علاوہ زبانی اشاعت کے اخباروں میں بھی اس خط کی خوب اشاعت کی۔ تب پھر حضرت مسیح موعود کو بھی اظہار کا عمدہ موقعہ مل گیا۔“

(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 114، 115 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 916، 917 پر)

View Proof

صفحہ 304

مرزا قادیانی نے محمدی بیگم سے نکاح کے سلسلہ میں ”اللہ تعالیٰ سے بشارت پاکر“ اپنے ایک اشتہار میں لکھا:

(380) ”پھر خدائے کریم جل شانہ نے مجھے بشارت دے کر کہا کہ تیرا گھر برکت سے بھرے گا۔ اور میں اپنی نعمتیں تجھ پر پوری کروں گا اور خواتین مبارکہ سے جن میں سے تو بعض کو اس کے بعد پائے گا، تیری نسل بہت ہو گی اور میں تیری ذریت کو بہت بڑھاؤں گا اور برکت دوں گا مگر بعض ان میں سے کم عمری میں فوت بھی ہوں گے اور تیری نسل کثرت سے ملکوں میں پھیل جائے گی اور ہر ایک شاخ تیرے جدی بھائیوں کی کاٹی جائے گی اور وہ جلد لاولد رہ کر ختم ہو جائے گی۔ اگر وہ توبہ نہ کریں گے تو خدا اُن پر بلا پر بلا نازل کرے گا۔ یہاں تک کہ وہ نابود ہو جائیں گے۔ ان کے گھر بیواؤں سے بھر جائیں گے اور ان کی دیواروں پر غضب نازل ہوگا۔ لیکن اگر وہ رجوع کریں گے تو خدا رحم کے ساتھ رجوع کرے گا۔ خدا تیری برکتیں اردگرد پھیلائے گا اور ایک اُجڑا ہوا گھر تجھ سے آباد کرے گا۔ [حاشیہ] یہ ایک پیشگوئی کی طرف اشارہ ہے جو دہم جولائی 1888ء کے اشتہار میں شائع ہو چکی، جس کا ماحصل یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس عاجز کے مخالف اور منکر رشتہ داروں کے حق میں نشان کے طور پر یہ پیشگوئی ظاہر کی ہے کہ ان میں سے جو ایک شخص احمد بیگ نام ہے، اگر وہ اپنی بڑی لڑکی اس عاجز کو نہیں دے گا تو تین برس کے عرصہ تک بلکہ اس سے قریب فوت ہو جائے گا اور وہ جو نکاح کرے گا وہ روزِ نکاح سے اڑھائی برس کے عرصہ میں فوت ہوگا۔ اور آخر وہ عورت اس عاجز کی بیویوں میں داخل ہوگی۔ سو اس جگہ اجڑے ہوئے گھر سے وہ اُجڑا ہوا گھر مراد ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 96 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 918 پر)

اس اشتہار پر تبصرہ مرزا قادیانی کی زبانی ملاحظہ فرمائیں:

(381) ”عاجز نے 20 فروری 1886ء کے اشتہار میں یہ پیشگوئی خدا تعالیٰ کی طرف سے بیان کی تھی کہ اس نے مجھے بشارت دی ہے کہ بعض بابرکت عورتیں اس اشتہار کے بعد بھی تیرے نکاح میں آئیں گی اور ان سے اولاد پیدا ہوگی۔ اس پیشگوئی پر منشی صاحب فرماتے ہیں

صفحہ 305

کہ الہام کئی قسم کا ہوتا ہے نیکوں کو نیک باتوں کا اور زانیوں کو عورتوں کا۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 113 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 919 پر)

مرزا قادیانی اپنی اور محمدی بیگم کی عمر کے بارے میں لکھتا ہے: (382) ”كانت بنته هذه المخطوبة جارية حديثة السن عذراء وكنت حينئذ جاوزت الخمسين. (ترجمہ) محمدی بیگم ابھی نوخیز لڑکی ہے اور میری عمر پچاس سال سے زائد ہے۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 574 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 574 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 920 پر)

قادیانیوں کو مرزا قادیانی کی باتوں پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ وہ تذبذب کا شکار تھے کہ کیا واقعی اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کو محمدی بیگم سے نکاح کے سلسلہ میں یقین دہانیاں کرائی ہیں۔ اس پر مرزا قادیانی نے کہا: (383) ”یہ بھی الہام (ہوا) ہے ويستنبونك احق هو قل ای وربی انه لحق وما انتم بمعجزين. زوجنكها لا مبدل لكلماتی. وان يروا اية يعرضوا و يقولوا سحر مستمر. اور (لوگ) تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا (محمدی بیگم سے نکاح والی) یہ بات سچ ہے؟ کہہ ہاں! مجھے اپنے رب کی قسم ہے کہ یہ سچ ہے اور تم اس بات کو وقوع میں آنے سے روک نہیں سکتے۔ ہم نے خود اس (محمدی بیگم) سے تیرا عقد نکاح باندھ دیا ہے۔ میری باتوں کو کوئی بدل نہیں سکتا اور نشان دیکھ کر منہ پھیر لیں گے اور قبول نہیں کریں گے اور کہیں گے کہ یہ کوئی پکا فریب یا پکا جادو ہے۔“

(آسمانی فیصلہ صفحہ 40 مندرجہ روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 350 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 921 پر)

مرزا قادیانی نے مزید کہا: (384) ”خدائے تعالیٰ نے پیشگوئی کے طور پر اس عاجز پر ظاہر فرمایا کہ مرزا احمد بیگ ولد

صفحہ 306

مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کی دختر کلاں انجام کار تمھارے نکاح میں آئے گی اور وہ لوگ بہت عداوت کریں گے اور بہت مانع آئیں گے اور کوشش کریں گے کہ ایسا نہ ہو لیکن آخر کار ایسا ہی ہوگا۔ اور فرمایا کہ خدا تعالیٰ ہر طرح سے اس کو تمہاری طرف لائے گا باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے اور ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھادے گا اور اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔‘‘

(ازالہ اوہام صفحہ 305 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 305 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 922 پر)

View Proof

؎ نکاح آسمانی ہو مگر بیوی نہ ہاتھ آئے
رہے گی حسرت دیدار تا روز جزا باقی

مرزا قادیانی اپنے الہام کے حوالہ سے مزید لکھتا ہے:

(جیسا کہ اب تک بھی جو 16 اپریل 1891ء ہے، پوری نہیں ہوئی) تو اس کے بعد اس عاجز کو ایک سخت بیماری آئی یہاں تک کہ قریب موت کی نوبت پہنچ گئی بلکہ موت کو سامنے دیکھ کر وصیت بھی کر دی گئی۔ اس وقت گویا پیشگوئی آنکھوں کے سامنے آ گئی اور یہ معلوم ہو رہا تھا کہ اب آخری دم ہے اور کل جنازہ نکلنے والا ہے۔ تب میں نے اس پیشگوئی کی نسبت خیال کیا کہ شاید اس کے اور معنی ہوں گے جو میں سمجھ نہیں سکا۔ تب اسی حالت قریب الموت میں مجھے الہام ہوا الحق من ربک فلا تکونن من الممترین یعنی یہ بات تیرے رب کی طرف سے سچ ہے تو کیوں شک کرتا ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام صفحہ 306 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 306 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 923 پر)

View Proof

اپنے نفس کو ”خدا“ بنا لیا جائے تو وہ اسی طرح فریب دیا کرتا ہے۔

”فاوحی اللہ الیٰ ان اخطب صبیۃ الکبیرۃ لنفسک۔ وقل لہ لیصاھرک

صفحہ 307

اولاً ثم ليقتبس من قبسک. وقل انی امرت لاهبک ما طلبت من الارض وارضاً اخرى معها واحسن الیک باحسانات اخرى على ان تنکحنی احدی بناتک التی هی کبیرتها و ذلک بینی و بینک فان قبلت فستجدنی من المقبلین. وان لم تقبل فاعلم ان اللّٰه قد اخبرنی ان انکاحها رجلا اخر لا یبارک لها ولا لک فان لم تزدجر فیصب علیک مصائب و آخر المصائب موتک فتموت بعد النکاح الى ثلث سنین. بل موتک قریب و یرد علیک و انت من الغافلین. وکذلک یموت بعلها الذی یصیر زوجها الى حولین و ستة اشهر. قضاءً من اللّٰه فاصنع ما انت صانعه وانی لک لمن الناصحین. فعبس وتولى وکان من المعرضین. ثم کتبت الیه مکتوباً بایماء منانی. واشارة رحمانی. و نمقت فیه.“

(ترجمہ)”اللہ تعالیٰ نے مجھ پر وحی نازل کی کہ اس شخص (احمد بیگ) کی بڑی لڑکی کے نکاح کے لیے درخواست کر اور اس سے کہہ دے کہ پہلے وہ تمھیں دامادی میں قبول کرے اور پھر تمھارے نور سے روشنی حاصل کرے اور کہہ دے کہ مجھے اس زمین کے ہبہ کرنے کا حکم مل گیا ہے، جس کے تم خواہش مند ہو بلکہ اس کے ساتھ اور زمین بھی دی جائے گی اور دیگر مزید احسانات تم پر کیے جائیں گے۔ بشرطیکہ تم اپنی بڑی لڑکی کا مجھ سے نکاح کر دو۔ میرے اور تمھارے درمیان یہی عہد ہے۔ تم مان لو گے تو میں بھی تسلیم کرلوں گا۔ اگر تم قبول نہ کرو گے تو خبر دار رہو۔ مجھے خدا نے یہ بتلایا ہے کہ اگر کسی اور شخص سے اس لڑکی کا نکاح ہوگا تو نہ اس لڑکی کے لیے یہ نکاح مبارک ہوگا اور نہ تمھارے لیے۔ ایسی صورت میں تم پر مصائب نازل ہوں گے، جن کا نتیجہ موت ہوگا۔

پس تم نکاح کے بعد تین سال کے اندر مر جاؤ گے بلکہ تمہاری موت قریب ہے اور ایسا اس لڑکی کا شوہر بھی اڑھائی سال کے اندر مر جائے گا۔ یہ حکم اللہ ہے۔ پس جو کرنا ہے کر لو۔ میں نے تم کو نصیحت کر دی ہے۔ پس وہ (مرزا احمد بیگ) تیوری چڑھا کر چلا گیا۔“

(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 572، 573 روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 572، 573 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 925,924 پر)

مرزا احمد بیگ کا بڑا لڑکا محمد بیگ ( محمدی بیگم کا حقیقی بھائی) حکیم نور الدین کے پاس

صفحہ 308

ایک بیماری کے سلسلہ میں زیر علاج تھا۔ اس لڑکے نے مرزا قادیانی کو کئی خطوط لکھے کہ آپ حکیم نور الدین کو میری سفارش کر دیں کہ وہ مجھے محکمہ پولیس میں نوکر کروا دیں۔ اس پر مرزا قادیانی نے حکیم نور الدین کو حسب ذیل خط لکھا:

السلام علیکم! محمد بیگ لڑکا جو آپ کے پاس ہے۔ آنمکرم کو معلوم ہوگا کہ اس کا والد مرزا احمد بیگ بوجہ اپنی بے سمجھی اور حجاب کے اس عاجز سے سخت عداوت و کینہ رکھتا ہے اور ایسا ہی اس کی والدہ بھی، چونکہ خدا تعالیٰ نے بوجہ اپنے بعض مصالح کے اس لڑکے کی ہمشیرہ کی نسبت وہ الہام ظاہر فرمایا تھا کہ جو بذریعہ اشتہارات شائع ہو چکا ہے، اس وجہ سے ان لوگوں کے دلوں میں حد سے زیادہ جوش مخالفت ہے اور مجھے معلوم نہیں کہ وہ امر جس کی نسبت مجھے اس شخص کی ہمشیرہ کی نسبت اطلاع دی گئی ہے، کیونکر اور کس راہ سے وقوع میں آئے گا اور بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ نرمی کارگر نہ ہوگی، یفعل اللہ ما یشاء کرتا ہے جو اللہ چاہتا ہے، لیکن تاہم کچھ مضائقہ نہیں کہ ان لوگوں کی سختی کے عوض میں نرمی اختیار کر کے ادفع بالتی ھی احسن کا ثواب حاصل کیا جائے اس لڑکے محمد بیگ کے کتنے خطوط اس مضمون کے پہنچے کہ مولوی صاحب پولیس کے محکمہ میں مجھ کو نوکر کرا دیں۔

آپ براہ مہربانی اس کو بلا کر نرمی سے سمجھائیں کہ تیری نسبت انھوں (غلام احمد قادیانی) نے بہت سفارش لکھی ہے اور تیرے لیے جہاں تک گنجائش اور مناسب وقت ہو، کچھ فرق نہ ہوگا۔ (یہاں حکیم نور دین کو جھوٹ بولنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ مرتب) غرض آنمکرم میری طرف سے اس کے ذہن نشین کر دیں کہ وہ تیری نسبت بہت تاکید کرتے ہیں، اگر محمد بیگ آپ کے ساتھ آنا چاہے تو ساتھ لے آئیں۔۔۔۔۔۔ زیادہ خیریت ہے۔"

والسلام۔ خاکسار غلام احمد، لدھیانہ محلہ اقبال گنج 21 مارچ 1891ء

اس خط سے مرزا قادیانی کی ذہنیت کا اندازہ خود بخود ہو جاتا ہے کہ وہ کس طرح محمدی بیگم کے بھائی کو ملازمت کا لالچ دے کر اس کی برین واشنگ کر رہا ہے کہ مناسب وقت یعنی محمدی بیگم کا مرزا قادیانی سے پہلے نکاح ہو جائے، پھر ملازمت کی کوشش کی جائے گی لہٰذا پہلے تم مرزا قادیانی کے نکاح کے سلسلہ میں کوشش کرو۔

مرزا قادیانی نے محمدی بیگم سے شادی کے سلسلہ میں اپنے رشتہ داروں کو بھی خطوط

صفحہ 309

لکھے اور انھیں مجبور کیا کہ لڑکی کے والد احمد بیگ کو اس نکاح کے لیے تیار کیا جائے اور خود احمد بیگ کو 20 فروری 1888ء کو ایک لالچ بھرا خط لکھا کہ اگر تم نے اپنی بچی کا نکاح میرے ساتھ کر دیا تو میں نہ صرف ان کاغذات پر دستخط کرنے کے لیے تیار ہوں بلکہ تمھیں جائیداد بھی ملے گی اور تمھارے لڑکے کو پولیس کی ملازمت بھی دلا دوں گا۔ مرزا قادیانی کا خط ملاحظہ فرمائیے:

ابھی ابھی مراقبہ سے فارغ ہی ہوا تھا تو کچھ غنودگی سی ہوئی اور خدا کی طرف سے یہ حکم ہوا کہ احمد بیگ کو مطلع کر دے کہ وہ بڑی لڑکی کا رشتہ منظور کرے، یہ اس کے حق میں ہماری جانب سے خیر و برکت ہوگا اور ہمارے انعام و اکرام بارش کی طرح اس پر نازل ہوں گے اور تنگی اور سختی اس سے دور کر دی جائے گی اور اگر انحراف کیا تو مورد عتاب ہوگا اور ہمارے قہر سے نہ بچ سکے گا۔ اور میں نے اس کا حکم پہنچا دیا تاکہ اس کے رحم و کرم سے حصہ پاؤ اور اس کی بے بہا نعمتوں کے خزانے تم پر کھولے جائیں اور میں اپنی طرف سے تو صرف یہی عرض کرتا ہوں کہ میں آپ کا ہمیشہ ادب و لحاظ ہی ملحوظ رکھتا ہوں اور آپ کو ایک دین دار اور ایمان دار بزرگ تصور کرتا ہوں اور آپ کے حکم کو اپنے لیے فخر سمجھتا ہوں اور ہبہ نامہ جب لکھو، حاضر ہو کر دستخط کر جاؤں اور اس کے علاوہ میری املاک خدا کی اور آپ کی ہے، اور میں نے عزیز محمد بیگ کے لیے پولیس میں بھرتی کرانے کی اور عہدہ دلانے کی خاص کوشش و سفارش کر لی ہے تاکہ وہ کام میں لگ جاوے اور اس کا رشتہ میں نے ایک بہت امیر آدمی جو میرے عقیدت مندوں میں ہے تقریباً کر دیا ہے اور اللہ کا فضل آپ کے شامل حال ہو! فقط

خاکسار غلام احمد عفی عنہ لدھیانہ اقبال گنج“

20 فروری 1888ء

مذکورہ بالا خط کا جواب نہ ملنے پر مرزا قادیانی نے درج ذیل دوسرا خط روانہ کیا۔ یاد رہے کہ بقول مرزا قادیانی انھوں نے یہ خط بھی اللہ تعالیٰ کے ایما اور اشارہ سے احمد بیگ کو لکھا:

(387) ”بسم الله الرحمن الرحیم۔ امابعد فاسمع ايها العزيز ما لک اتخذت جدّی عبثا۔ و حسبت قبری خبثا۔ ووالله ما اريد ان اشق علیک و

صفحہ 310

ستجدنی انشاء اللہ من المحسنین۔ وہا انا اکتب بعہد موثق فانک ان قبلت قولی علی رغم انف قبیلتی فافرض لک حصّۃ فی ارضی و خمیلتی و یرتفع الخلاف والنزاع بہذہ الوصلۃ من بیننا و یصلح اللہ قلوب شعبی و عشیرتی۔ وفی کل منیتک اقفی صغوک و ازیل قشفک فتکون من الفائزین۔ لامن الفاترین۔

والحق والحق اقول انی اکتب ہذا المکتوب بخلوص قلبی و جنانی۔ فان قبلت قولی و بیانی۔ فقد صنعت لطفاً الیّ۔ وکان لک احساناً علیّ۔ و معروفاً لدی۔ فاشکرک وادعو زیادۃ عمرک من ارحم الراحمین۔ وانی اقیم معک عہدی۔ انی اعطی بنتک ثلثا من ارضی ومن کل ما ملکتہ یدی۔ ولا تسئلنی خطۃ الا اعطیک ایاہا وانی من الصادقین۔ ولن تجد مثلی فی رعایۃ الصلۃ ومودۃ الاقارب و حقوق الوصلۃ و تجدنی ناصر نوائبک وحامل اثقالک فلا تضیع وقتک فی الاباء ولا تستنکر حبک ولا تکونن من الممترین۔ وہا انا کتبت مکتوبی ہذا من امر ربّی لاعلن امری فاحفظ مکتوبی ہذا فی صندوقک فانہ من صدوق امین واللہ یعلم اننی فیہ صادق و کل ما وعدت فہو من اللہ تعالیٰ وما قلت اذ قلت ولکن انطقنی اللہ تعالیٰ بالہامہ۔ وکانت ہذہ وصیۃ من ربّی فقضیتہا ما کان لی حاجۃ الیک و الی بنتک وما ضیق اللہ علیّ والنساء سواہا کثیرۃ واللہ یتولی الصالحین۔ فلا تنظر الی مکتوبی بعین الارتیاب۔ فانہ کتبتہ بامحاض النصح والتزام الصدق والصواب۔ ودع الجدال وانتظر الاجال۔ فان مضی الاجل وما حصحص الصدق فاجعل حبلاً فی جیدی و سلاسل فی ارجلی و عذبنی بعذاب لم یعذب بہ احد من العالمین۔ کنتم قد طلبتم آیۃ من ربّی فہذہ آیۃ لکم انہ یاخذ المنکرین من مکان قریب و یختار ما کان اقرب التعدیات فی حقہم وادنی من افہامہم واشد اثراً فی اعراضہم۔ و اجسامہم لیری المحتالین ضعفہم ویکسر کبر الضائمین۔ ہذا ما کتبت الیٰ احمد بیگ فی سنۃ ١٣٠٣ھ۔

(ترجمہ) بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ اے عزیز سنیے! آپ کو کیا ہو گیا ہے کہ آپ میری سنجیدہ بات کو لغو سمجھتے ہیں اور میرے کھرے کو کھوٹا خیال کرتے ہیں۔ بخدا میرا یہ ارادہ نہیں کہ

صفحہ 311

میں آپ کو تکلیف دوں۔ انشاء اللہ آپ مجھے احسان کرنے والوں میں سے پائیں گے اور میں یہ عہد استوار کے ساتھ لکھ رہا ہوں کہ اگر آپ نے میرے خاندان کے خلاف مرضی میری بات کو مان لیا تو میں اپنی زمین اور باغ میں آپ کو حصہ دوں گا اور اس رشتہ کی وجہ سے آپس کی نزاع اور اختلاف رفع ہو جائے گا اور خدا میرے کنبہ اور خاندان کے قلوب کی اصلاح کر دے گا...... اگر آپ نے میرا قول اور بیان مان لیا تو مجھ پر مہربانی اور احسان اور میرے ساتھ نیکی ہوگی۔ میں آپ کا شکر گزار ہوں اور آپ کی درازی عمر کے لیے ارحم الراحمین کے جناب میں دعا کروں گا اور آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ آپ کی لڑکی کو اپنی زمین اور مملوکات کا ایک تہائی حصہ دوں گا اور میں سچ کہتا ہوں کہ اس میں سے جو کچھ مانگیں گے، میں آپ کو دوں گا۔ صلہ رحم عزیزوں سے محبت اور رشتہ کے حقوق کے بارے میں آپ کو مجھ جیسا کوئی شخص نہیں ملے گا۔ آپ مجھے مصیبتوں میں اپنا دستگیر اور بار اٹھانے والا پائیں گے۔ اس لیے انکار میں اپنا وقت ضائع نہ کیجیے اور شک و شبہ میں نہ پڑیے۔

میں اپنا یہ خط اپنے پروردگار کے حکم سے لکھ رہا ہوں۔ اپنی رائے سے نہیں۔ آپ میرے اس خط کو اپنے صندوق میں محفوظ رکھیے۔ یہ خط بڑے سچے اور امین کی جانب سے ہے۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں اس میں سچا ہوں اور جو کچھ میں نے وعدہ کیا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور میں نے جو کہا ہے وہ میں نے نہیں کہا بلکہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے اپنے الہام سے کہلوایا ہے اور یہ مجھے میرے پروردگار کی وصیت تھی۔ اس لیے میں نے اسے پورا کیا۔ ورنہ مجھے آپ کی یا آپ کی لڑکی کی کچھ حاجت نہیں تھی...... اگر میعاد گزر جائے اور سچائی ظاہر نہ ہو تو میرے گلے میں رسی اور پاؤں میں زنجیر ڈالنا اور مجھے ایسی سزا دینا کہ تمام دنیا میں کسی کو نہ دی گئی ہو۔ یہ خط میں نے احمد بیگ کو 1304ھ میں لکھا تھا۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 573، 574 روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 573، 574 از مرزا قادیانی)

View Proof (عکس صفحہ نمبر 926، 927 پر)

مرزا قادیانی کی ان تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ محمدی بیگم سے شادی کے سلسلہ میں کس قدر بے تاب تھا۔ وہ لڑکی کے باپ کو ہر قسم کا لالچ اور دھمکی بھی دے رہا ہے کہ آپ کو اپنی زمین اور باغ میں سے حصہ دوں گا۔ آپ کی لڑکی کو جائیداد میں سے حصہ ملے گا۔

صفحہ 312

آپ کے لیے لمبی عمر کی دعا کروں گا۔ اگر یہ سچ نہ ہوا تو میرے گلے میں رسی ڈال کر ایسی سزا دینا جو کسی کو نہ دی گئی ہو۔ بس تم جلدی محمدی بیگم کا نکاح مجھ سے کر دو۔ اگر ایسا نہ کیا تو لڑکی کا باپ مر جائے گا، لڑکی کا شوہر مر جائے گا۔ قارئین کرام! آپ خود بتائیں کیا یہ باتیں نبی تو کجا کسی شریف آدمی کو جس کے دل میں ذرا بھی شرم و حیا ہو، زیب دیتی ہیں؟

اس کے بعد مرزا قادیانی نے اپنے سمدھی مرزا علی شیر بیگ کو خط لکھا جو مرزا فضل احمد کی بیوی عزت بی بی کا والد تھا۔ اس خط میں بھی مرزا قادیانی نے رشتہ کے سلسلہ میں بے حد منت سماجتیں کی ہیں اور خود کو ذلت کی حد تک پستی میں گرایا۔ آئیے! مرزا قادیانی کا خط پڑھیے اور ان کی بے بسی کا اندازہ لگائیے!

مشفقی مرزا علی شیر بیگ صاحب

میں آپ کو ایک غریب طبع اور نیک خیال آدمی اور اسلام پر قائم سمجھتا ہوں۔ لیکن اب جو آپ کو ایک خبر سناتا ہوں آپ کو اس سے بہت رنج گزرے گا۔ مگر میں محض ان لوگوں سے تعلق چھوڑنا چاہتا ہوں جو مجھے ناچیز بتاتے ہیں اور دین کی پرواہ نہیں رکھتے۔ آپ کو معلوم ہے کہ مرزا احمد بیگ کی لڑکی کے بارے میں ان لوگوں کے ساتھ کس قدر میری عداوت ہو رہی ہے۔ اب میں نے سنا ہے کہ عید کے دوسری یا تیسری تاریخ کو اس لڑکی کا نکاح ہونے والا ہے اور آپ کے گھر کے لوگ اس مشورہ میں ساتھ ہیں۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اس نکاح کے شریک میرے سخت دشمن ہیں۔ بلکہ میرے کیا دین اسلام کے سخت دشمن ہیں۔ عیسائیوں کو ہنسانا چاہتے ہیں۔ ہندوؤں کو خوش کرنا چاہتے ہیں اور اللہ رسول کے دین کی کچھ بھی پرواہ نہیں رکھتے، اور اپنی طرف سے میری نسبت ان لوگوں نے پختہ ارادہ کر لیا ہے کہ اس کو خوار کیا جائے، ذلیل کیا جائے، رسوا کیا جائے۔ یہ اپنی طرف سے ایک تلوار چلانے لگے ہیں، اب مجھ کو بچا لینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ اگر میں اس کا ہوں گا تو ضرور مجھے بچائے گا۔ اگر آپ کے گھر کے لوگ سخت مقابلہ کر کے اپنے بھائی کو سمجھاتے تو کیوں نہ سمجھ سکتا۔ کیا میں چوہڑا یا چمار تھا، جو مجھ کو لڑکی دینا عار یا ننگ تھی بلکہ وہ تو اب تک ہاں سے ہاں ملاتے رہے اور اپنے بھائی کے لیے مجھے چھوڑ دیا اور اب اس لڑکی کے نکاح کے لیے سب ایک ہو گئے۔

صفحہ 313

یوں تو مجھے کسی کی لڑکی سے کیا غرض، کہیں جائے، مگر یہ تو آزمایا گیا کہ جن کو میں خویش سمجھتا تھا اور جن کی لڑکی کے لیے چاہتا تھا کہ اس کی اولاد ہو، وہ میری وارث ہو۔ وہی میرے خون کے پیاسے، وہی میری عزت کے پیاسے ہیں اور چاہتے ہیں کہ خوار ہو اور اس کا روسیاہ ہو۔ خدا بے نیاز ہے جس کو چاہے روسیاہ کرے مگر اب وہ مجھے آگ میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ میں نے خط لکھے کہ پرانا رشتہ مت توڑو۔ خدا تعالٰی سے خوف کرو۔ کسی نے جواب نہ دیا بلکہ میں نے سنا ہے کہ آپ کی بیوی نے جوش میں آ کر کہا کہ ہمارا کیا رشتہ ہے، صرف عزت بی بی نام کے لیے فضل احمد کے گھر میں ہے۔ بیشک وہ طلاق دے دے، ہم راضی ہیں۔ اور ہم نہیں جانتے کہ یہ شخص کیا بلا ہے۔ ہم اپنے بھائی کے خلاف مرضی نہیں کریں گے۔ یہ شخص کہیں مرتا بھی نہیں۔ پھر میں نے رجسٹری کرا کر آپ کی بیوی صاحب کے نام خط بھیجا۔ مگر کوئی جواب نہ آیا اور بار بار کہا کہ اس سے کیا ہمارا رشتہ باقی رہ گیا ہے، جو چاہے کرے۔ ہم اس کے لیے اپنے خویشوں سے اپنے بھائیوں سے جدا نہیں ہو سکتے۔ مرتا مرتا رہ گیا ابھی مرا بھی نہیں۔ یہ باتیں آپ کی بیوی صاحب کی مجھے پہنچی ہیں۔ بے شک میں ناچیز ہوں، ذلیل ہوں اور خوار ہوں۔ مگر خدا تعالٰی کے ہاتھ میں میری عزت ہے۔ جو چاہتا ہے، کرتا ہے۔ اب جب میں ایسا ذلیل ہوں تو میرے بیٹے سے تعلق رکھنے کی کیا حاجت ہے۔ لہٰذا میں نے ان کی خدمت میں خط لکھ دیا ہے کہ اگر آپ اپنے ارادہ سے باز نہ آئیں اور اپنے بھائی کو اس نکاح سے روک نہ دیں۔ پھر جیسا کہ آپ کی خود منشا ہے، میرا بیٹا فضل احمد بھی آپ کی لڑکی کو اپنے نکاح میں رکھ نہیں سکتا بلکہ ایک طرف جب محمدی کا کسی شخص سے نکاح ہوگا تو دوسری طرف فضل احمد آپ کی لڑکی کو طلاق دے دے گا۔ اگر نہیں دے گا تو میں اس کو عاق اور لاوارث کروں گا اور اگر میرے لیے احمد بیگ سے مقابلہ کرو گے اور یہ ارادہ اس کا بند کراؤ گے تو میں بدل و جان حاضر ہوں اور فضل احمد کو جو اب میرے قبضہ میں ہے، ہر طرح سے درست کر کے آپ کی لڑکی کی آبادی کے لیے کوشش کروں گا اور میرا مال ان کا مال ہوگا۔ لہٰذا آپ کو بھی لکھتا ہوں کہ آپ اس وقت کو سنبھال لیں۔

اور احمد بیگ کو پورے زور سے خط لکھیں کہ باز آجائیں اور اپنے گھر کے لوگوں کو تاکید کریں کہ وہ بھائی کو لڑائی کر کے روک دیوے۔ ورنہ مجھے خدا تعالٰی کی قسم ہے کہ اب ہمیشہ کے لیے یہ تمام رشتے ناطے توڑ دوں گا۔ اگر فضل احمد میرا فرزند اور وارث بننا چاہتا ہے تو اسی

صفحہ 314

حالت میں آپ کی لڑکی کو گھر میں رکھے گا اور جب آپ کی بیوی کی خوشی ثابت ہو۔ ورنہ جہاں میں رخصت ہوا۔ ایسے ہی سب ناطے رشتے بھی ٹوٹ گئے۔ یہ باتیں خطوں کی معرفت مجھے معلوم ہوئی ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ کہاں تک درست ہیں۔

راقم خاکسار غلام احمد ۔ از لودھیانہ اقبال گنج 4 مئی 1891ء

اس خط کا جواب علی شیر بیگ صاحب نے دو روز بعد یوں لکھا اور اس میں جو ادبیت اور نہایت لطیف طنز ہے، وہ قابل ستائش ہے،

اخویم مرزا غلام احمد !

السلام علیکم! گرامی نامہ پہنچا غریب طبع یا نیک جو کچھ بھی آپ تصور کریں آپ کی مہربانی ہے۔ ہاں مسلمان ضرور ہوں، مگر آپ کی خود ساختہ نبوت کا قائل نہیں ہوں اور خدا سے دعا کرتا ہوں کہ مجھے سلف صالحین کے طریقے پر ہی رکھے اور اسی پر میرا خاتمہ بالخیر کرے...... باقی رہا تعلق چھوڑنے کا مسئلہ تو بہترین تعلق خدا کا ہے، وہ نہ چھوٹے اور باقی اس عاجز مخلوق کا ہوا تو پھر کیا، نہ ہوا تو پھر کیا اور احمد بیگ کے متعلق میں کر ہی کیا سکتا ہوں، وہ ایک سیدھا سادہ مسلمان آدمی ہے جو کچھ ہوا، آپ کی طرف ہی سے ہوا، نہ آپ فضول ایمان کو گنواتے اور الہام بافی کرتے اور نہ مرنے کی دھمکیاں دیتے اور نہ وہ کنارہ کش ہوتا ...... یہ ٹھیک ہے کہ خویش ہونے کی حیثیت سے آپ نے رشتہ طلب کیا مگر آپ خیال فرمائیں کہ اگر آپ کی جگہ احمد بیگ ہو اور احمد بیگ کی جگہ آپ ہوں، تو خدا لگتی کہنا کہ تم کن کن باتوں کا خیال کر کے رشتہ دو گے؟ اگر احمد بیگ سوال کرتا اور وہ مجمع الامراض ہونے کے علاوہ پچاس سال سے زیادہ عمر کا ہوتا اور اس پر وہ مسیلمہ کذاب کے کان بھی کتر چکا ہوتا تو آپ رشتہ دیتے؟ آپ کو خط لکھتے وقت یوں آپے سے باہر نہیں ہونا چاہیے، لڑکیاں سبھی کے گھروں میں ہیں اور نظام عالم انہی باتوں سے قائم ہے، کچھ حرج نہیں اگر آپ طلاق دلوائیں گے تو یہ بھی ایک پیغمبری کی نئی سنت دنیا پر قائم کر کے بدنامی کا سیاہ داغ مول لیں گے۔ باقی روٹی تو خدا اس کو بھی کہیں سے دے ہی دے گا تر نہ سہی خشک، مگر خشک بہتر ہے جو پسینہ کی کمائی سے پیدا کی جاتی ہے۔ میں بھائی احمد بیگ کو لکھ رہا ہوں بلکہ آپ کا خط بھی اس کے ساتھ شامل کر دیا گیا ہے، مگر میں ان کی موجودگی میں کچھ نہیں کر سکتا اور بیوی کا کیا حق ہے کہ وہ اپنی بیٹی کے لیے بھائی

صفحہ 315

کی لڑکی کو ایک دائم المریض آدمی کو جو مراق سے خدائی تک پہنچ چکا ہو کس طرح دے۔۔۔۔۔ ہاں اگر وہ خود مان لیں تو میں اور میری بیوی حارج نہ ہوں گے، آپ خود ان کو لکھیں مگر درشت اور سخت الفاظ آپ کا قلم اگلنے کا عادی ہو چکا ہے، اس سے جہاں تک ہو سکے احتراز کریں اور منت سماجت سے کام لیں۔ خاکسار علی شیر بیگ از قادیان 4 مئی 1891ء۔

مرزا علی شیر کے اس خط میں مرزا قادیانی کے کردار کی صحیح تصویر کھینچی گئی ہے۔ اسے کہتے ہیں گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے۔ خط میں لکھا گیا ہے کہ مرزا قادیانی کی نبوت خود ساختہ ہے اور وہ اپنے دعویٰ میں مسیلمہ کذاب سے بڑھ کر ہے۔ بلیک میلنگ میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں۔ وہ جسمانی بیماریوں کا مجموعہ اور مراقی ہے۔

جس روز علی شیر بیگ، مرزا قادیانی کو مذکورہ بالا خط لکھ رہے تھے، ٹھیک اسی دن مرزا قادیانی نے علی شیر بیگ کی اہلیہ کو درج ذیل خط تحریر کیا:

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

بیگ کی لڑکی کا نکاح ہونے والا ہے۔ اور میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا چکا ہوں کہ اس نکاح سے سارے رشتے ناطے توڑ دوں گا اور کوئی تعلق نہیں رہے گا۔ اس لیے نصیحت کی راہ سے لکھتا ہوں کہ اپنے بھائی مرزا احمد بیگ کو سمجھا کر یہ ارادہ موقوف کراؤ اور جس طرح تم سمجھا سکتے ہو، اس کو سمجھا دو۔ اور اگر ایسا نہیں ہوگا تو آج میں نے مولوی نور دین صاحب اور فضل احمد کو خط لکھ دیا ہے کہ اگر تم اس ارادہ سے باز نہ آؤ تو فضل احمد، عزت بی بی کے لیے طلاق نامہ لکھ کر بھیج دے۔ اور اگر فضل احمد طلاق نامہ لکھنے میں عذر کرے تو اس کو عاق کیا جائے اور اپنے بعد اس کو وارث نہ سمجھا جائے اور ایک پیسہ وراثت کا اس کو نہ ملے۔ سو امید رکھتا ہوں کہ شرطی طور پر اس کی طرف سے طلاق نامہ لکھا آ جائے گا جس کا یہ مضمون ہوگا کہ اگر مرزا احمد بیگ محمدی بیگم کے غیر کے ساتھ نکاح کرنے سے باز نہ آوے تو پھر اسی روز سے جو محمدی کا کسی اور سے نکاح ہو جائے عزت بی بی کو تین طلاق ہیں۔ سو اس طرح پر لکھنے سے اس طرف تو محمدی بیگم کا کسی دوسرے سے نکاح ہوگا اور اُس طرف عزت بی بی پر فضل احمد کی طلاق پڑ جائے گی۔ سو یہ شرطی طلاق ہے اور مجھے اللہ تعالیٰ کی قسم ہے کہ اب بجز قبول کرنے کے کوئی راہ نہیں اور اگر فضل احمد

صفحہ 316

نے نہ مانا تو میں فی الفور اس کو عاق کر دوں گا اور پھر وہ میرے وراثت سے ایک دانہ نہیں پا سکتا اور اگر آپ اس وقت اپنے بھائی کو سمجھا لو تو آپ کے لیے بہتر ہوگا۔ مجھے افسوس ہے کہ میں نے عزت بی بی کی بہتری کے لیے ہر طرح سے کوشش کرنا چاہا تھا اور میری کوشش سے سب نیک بات ہو جاتی مگر آدمی پر تقدیر غالب ہے۔ یاد رہے کہ میں نے کوئی کچی بات نہیں لکھی۔ مجھے قسم ہے اللہ تعالیٰ کی کہ میں ایسا ہی کروں گا۔ اور خدا تعالیٰ میرے ساتھ ہے۔ جس دن نکاح ہوگا، اس دن عزت بی بی کا نکاح باقی نہیں رہے گا۔

راقم مرزا غلام احمد از لودھیانہ اقبال گنج 4 مئی 1891ء۔“

(کلمہ فضل رحمانی صفحہ 123 تا 128 مصنفہ جناب قاضی فضل احمد گورداسپوری)

مرزا امام الدین، مرزا قادیانی کا چچازاد بھائی اور محمدی بیگم کا ماموں تھا۔ مرزا بشیر احمد ایم اے کی ایک روایت کے مطابق احمد بیگ اس کے تابع تھا اور بالکل اس کے زیر اثر ہو کر اس کے اشارے پر چلتا تھا۔ مرزا قادیانی نے محمدی بیگم سے شادی کے بارے میں اس سے خط کتابت کی اور اسے لالچ دیا کہ اگر تم میرا یہ رشتہ کروا دو گے تو میں تمھیں دولت کی شکل میں انعام دوں گا۔ اس سلسلہ میں مرزا بشیر احمد ایم اے لکھتا ہے:

(388) ”بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ سنوری نے کہ ایک دفعہ حضرت صاحب جالندھر جا کر قریباً ایک ماہ ٹھہرے تھے اور ان دنوں میں محمدی بیگم کے ایک حقیقی ماموں نے محمدی بیگم کا حضرت صاحب سے رشتہ کرا دینے کی کوشش کی تھی مگر کامیاب نہیں ہوا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے کہ جب محمدی بیگم کا والد مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری زندہ تھا، اور ابھی محمدی بیگم کا مرزا سلطان محمد سے رشتہ نہیں ہوا تھا۔ محمدی بیگم کا یہ ماموں جالندھر اور ہوشیار پور کے درمیان یکے میں آیا جایا کرتا تھا اور وہ حضرت صاحب سے کچھ انعام کا بھی خواہاں تھا۔ اور چونکہ محمدی بیگم کے نکاح کا عقدہ زیادہ تر اسی شخص کے ہاتھ میں تھا، اس لیے حضرت صاحب نے اس سے کچھ انعام کا وعدہ بھی کر لیا تھا۔“

(سیرت المہدی جلد اول صفحہ 192، 193 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 928, 929 پر)

یہ گھر کی شہادت بآواز بلند اعلان کر رہی ہے کہ محمدی بیگم کے ساتھ نکاح کرانے کے لیے مرزا قادیانی، محمدی بیگم کے ماموں کو انعام یا رشوت دینے کے لیے تیار تھا۔ مرزائیو!

صفحہ 317

خدا کے لیے غور کرو کہ پہلے اللہ تعالیٰ کے نام سے محمدی بیگم کے نکاح کی پیشگوئی شائع کرنا، پھر انعام، رشوت اور روپے کے لالچ سے نکاح کی کوشش کرنا کسی راستباز انسان کا کام ہوسکتا ہے؟ ہرگز نہیں جیسا کہ خود مرزا قادیانی نے لکھا ہے۔ ”ہم ایسے مرشد کو اور ساتھ ہی ایسے مرید کو کتوں سے بدتر اور نہایت ناپاک زندگی والا خیال کرتے ہیں کہ جو اپنے گھر سے پیشگوئیاں بنا کر پھر اپنے ہاتھ سے، اپنے مکر سے، اپنے فریب سے ان کے پوری ہونے کے لیے کوشش کرے اور کرائے۔“

(سراج منیر صفحہ 25 مندرجہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 27 از مرزا قادیانی)

خانہ بربادی

مرزا قادیانی کو شک تھا کہ ان کی پہلی بیوی کے دونوں بیٹے سلطان احمد اور فضل احمد محمدی بیگم سے نکاح کے بارے میں اپنے والد کی حمایت کرنے کے بجائے دوسرے فریق کا ساتھ دے رہے ہیں۔ لہٰذا مرزا قادیانی نے 2 مئی 1891ء کو ایک خاص اشتہار کے ذریعے انہیں دھمکی دی کہ اگر محمدی بیگم کا نکاح کسی اور جگہ ہو گیا تو نہ صرف وہ ہر قسم کی جائیداد وغیرہ سے عاق ہوں گے بلکہ ان کی والدہ کو بھی طلاق ہو جائے گی۔ ملاحظہ فرمائیں:

(389) ”ناظرین کو یاد ہوگا کہ اس عاجز نے ایک دینی خصومت کے پیش آجانے کی وجہ سے ایک نشان کے مطالبہ کے وقت اپنے ایک قریبی مرزا احمد بیگ ولد مرزا گاماں بیگ ہوشیار پوری کی دختر کلاں کی نسبت بحکم والہام الٰہی یہ اشتہار دیا تھا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہی مقدر اور قرار یافتہ ہے کہ وہ لڑکی اس عاجز کے نکاح میں آئے گی۔ خواہ پہلے ہی باکرہ ہونے کی حالت میں آ جائے اور یا خدا تعالیٰ بیوہ کر کے اس کو میری طرف لے آوے۔ چنانچہ تفصیل ان کل امور مذکورہ بالا کی اس اشتہار میں درج ہے۔ اب باعث تحریر اشتہار ہٰذا یہ ہے کہ میرا بیٹا سلطان احمد نام جو نائب تحصیلدار لاہور میں ہے اور اس کی تائی صاحبہ جنھوں نے اس کو بیٹا بنایا ہوا ہے، وہی اس مخالفت پر آمادہ ہوگئے ہیں۔ اور یہ سارا کام اپنے ہاتھ میں لے کر اس تجویز میں ہیں کہ عید کے دن یا اس کے بعد اس لڑکی کا کسی سے نکاح کیا جائے۔ اگر یہ اوروں کی طرف سے مخالفانہ کارروائی ہوتی تو ہمیں درمیان میں دخل دینے کی کیا ضرورت اور کیا غرض تھی۔ امر ربی تھا اور وہی اس کو اپنے فضل و کرم سے ظہور میں لاتا۔ مگر اس کام کے مدار علیہ وہ لوگ ہوگئے جن پر اس عاجز کی اطاعت فرض تھی اور ہر چند سلطان احمد کو سمجھایا اور

صفحہ 318

بہت تاکیدی خط لکھے کہ تُو اور تیری والدہ اس کام سے الگ ہو جائیں، ورنہ میں تم سے جدا ہو جاؤں گا اور تمہارا کوئی حق نہیں رہے گا۔ مگر انھوں نے میرے خط کا جواب تک نہ دیا اور بکلی مجھ سے بیزاری ظاہر کی۔ اگر ان کی طرف سے ایک تیز تلوار کا بھی مجھے زخم پہنچتا تو بخدا میں اس پر صبر کرتا۔ لیکن انھوں نے دینی مخالفت کر کے اور دینی مقابلہ سے آزار دے کر مجھے بہت ستایا اور اس حد تک میرے دل کو توڑ دیا کہ میں بیان نہیں کر سکتا اور عمداً چاہا کہ میں سخت ذلیل کیا جاؤں۔ سلطان احمد ان دو بڑے گناہوں کا مرتکب ہوا۔ اوّل یہ کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کے دین کی مخالفت کرنی چاہی، اور یہ چاہا کہ دین اسلام پر تمام مخالفوں کا حملہ ہو اور یہ اپنی طرف سے اس نے ایک بنیاد رکھی ہے اس امید پر کہ یہ جھوٹے ہو جائیں گے اور دین کی ہتک ہو گی اور مخالفوں کی فتح۔ اس نے اپنی طرف سے مخالفانہ تلوار چلانے میں کچھ فرق نہیں کیا اور اس نادان نے نہ سمجھا کہ خداوند قدیر و غیور اس دین کا حامی ہے اور اس عاجز کا بھی حامی۔ وہ اپنے بندہ کو کبھی ضائع نہ کرے گا۔ اگر سارا جہان مجھے برباد کرنا چاہے تو وہ اپنی رحمت کے ہاتھ سے مجھ کو تھام لے گا، کیونکہ میں اس کا ہوں اور وہ میرا۔ دوم سلطان احمد نے مجھے جو میں اس کا باپ ہوں سخت ناچیز قرار دیا اور میری مخالفت پر کمر باندھی اور قولی اور فعلی طور پر اس مخالفت کو کمال تک پہنچایا اور میرے دینی مخالفوں کو مدد دی اور اسلام کی ہتک بدل و جان منظور رکھی۔ سو چونکہ اس نے دونوں طور کے گناہوں کو اپنے اندر جمع کیا۔ اپنے خدا کا تعلق بھی توڑ دیا اور اپنے باپ کا بھی۔ اور ایسا ہی اس کی دونوں والدہ نے کیا۔ سو جبکہ انھوں نے کوئی تعلق مجھ سے باقی نہ رکھا، اس لیے میں نہیں چاہتا کہ اب ان کا کسی قسم کا تعلق مجھ سے باقی رہے اور ڈرتا ہوں کہ ایسے دینی دشمنوں سے پیوند رکھنے میں معصیت نہ ہو۔ لہٰذا میں آج کی تاریخ کہ دوسری مئی 91ء ہے، عوام اور خواص پر بذریعہ اشتہار ہذا ظاہر کرتا ہوں کہ اگر یہ لوگ اس ارادہ سے باز نہ آئے اور وہ تجویز جو اس لڑکی کے ناطہ اور نکاح کرنے کی اپنے ہاتھ سے یہ لوگ کر رہے ہیں اس کو موقوف نہ کر دیا اور جس شخص کو انھوں نے نکاح کے لیے تجویز کیا ہے اس کو رد نہ کیا بلکہ اسی شخص کے ساتھ نکاح ہو گیا تو اسی نکاح کے دن سے سلطان احمد عاق اور محروم الارث ہوگا اور اسی روز سے اس کی والدہ پر میری طرف سے طلاق ہے۔ اور اگر اس کا بھائی فضل احمد جس کے گھر میں مرزا احمد بیگ والد لڑکی کی بھانجی ہے اپنی اس بیوی کو اسی دن جو اس کو نکاح کی خبر ہو اور طلاق نہ دیوے تو پھر وہ بھی عاق اور محروم الارث ہوگا۔ اور آئندہ ان سب کا کوئی حق

صفحہ 319

میرے پر نہیں رہے گا اور اس نکاح کے بعد تمام تعلقات خویشی و قرابت و ہمدردی دور ہو جائے گی۔ اور کسی نیکی، بدی، رنج راحت شادی اور ماتم میں ان سے شراکت نہیں رہے گی کیونکہ انھوں نے آپ تعلق توڑ دیے اور توڑنے پر راضی ہو گئے۔ سو اب ان سے کچھ تعلق رکھنا قطعاً حرام اور ایمانی غیوری کے برخلاف اور ایک دیوثی کا کام ہے۔ مومن دیوث نہیں ہوتا۔

چوں نہ بود خویش را دیانت و تقویٰ
قطع رحم بہ از مودت قربیٰ

والسلام على من اتبع الهدى. المشتہر مرزا غلام احمد لودیانہ 2 مئی 1891ء

(مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 186، 187 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 931,930 پر)

اس ضمن میں مرزا بشیر احمد ایم اے اپنی والدہ کے حوالہ سے لکھتا ہے:

(390) ”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب محمدی بیگم کی شادی دوسری جگہ ہو گئی اور قادیان کے تمام رشتہ داروں نے حضرت صاحب کی سخت مخالفت کی اور خلاف کوشش کرتے رہے اور سب نے احمد بیگ والد محمدی بیگم کا ساتھ دیا اور خود کوشش کر کے لڑکی کی شادی دوسری جگہ کرا دی تو حضرت صاحب نے مرزا سلطان احمد اور مرزا فضل احمد دونوں کو الگ الگ خط لکھا کہ ان سب لوگوں نے میری سخت مخالفت کی ہے۔ اب ان کے ساتھ ہمارا کوئی تعلق نہیں رہا اور ان کے ساتھ اب ہماری قبریں بھی اکٹھی نہیں ہو سکتیں۔ لہٰذا اب تم اپنا آخری فیصلہ کرو۔ اگر تم نے میرے ساتھ تعلق رکھنا ہے تو پھر اُن سے قطع تعلق کرنا ہوگا اور اگر اُن سے تعلق رکھنا ہے تو پھر میرے ساتھ تمہارا کوئی تعلق نہیں رہ سکتا۔ میں اس صورت میں تم کو عاق کرتا ہوں۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ مرزا سلطان احمد کا جواب آیا کہ مجھ پر تائی صاحبہ کے احسانات ہیں۔ ان سے قطع تعلق نہیں کر سکتا۔ مگر مرزا فضل احمد نے لکھا کہ میرا تو آپ کے ساتھ ہی تعلق ہے، ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ حضرت صاحب نے مرزا فضل احمد کو جواب دیا کہ اگر یہ درست ہے تو اپنی بیوی بنت مرزا علی شیر کو (جو سخت مخالف تھی اور مرزا احمد بیگ کی

صفحہ 320

بھانجی تھی) طلاق دے دو۔ مرزا فضل احمد نے فوراً طلاق نامہ لکھ کر حضرت صاحب کے پاس روانہ کر دیا۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ پھر فضل احمد باہر سے آ کر ہمارے پاس ہی ٹھہرتا تھا مگر اپنی دوسری بیوی کی فتنہ پردازی سے آخر پھر آہستہ آہستہ اُدھر جا ملا۔“

(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 28، 29 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 933,932 پر)

View Proof

مرزا بشیر احمد ایم اے مزید لکھتا ہے:

(391) ”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود کو اوائل سے ہی مرزا فضل احمد کی والدہ سے جن کو لوگ عام طور پر ’پھجے دی ماں‘ کہا کرتے تھے، بے تعلقی سی تھی جس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت صاحب کے رشتہ داروں کو دین سے سخت بے رغبتی تھی اور ان کا ان کی طرف میلان تھا اور وہ اسی رنگ میں رنگین تھیں۔ اس لیے حضرت مسیح موعود نے ان سے مباشرت ترک کر دی تھی، ہاں آپ اخراجات وغیرہ باقاعدہ دیا کرتے تھے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میری شادی کے بعد حضرت صاحب نے انھیں کہلا بھیجا کہ آج تک تو جس طرح ہوتا رہا ہوتا رہا، اب میں نے دوسری شادی کر لی ہے، اس لیے اب اگر دونوں بیویوں میں برابری نہیں رکھوں گا تو میں گنہگار ہوں گا۔ اس لیے اب دو باتیں ہیں یا تو تم مجھ سے طلاق لے لو اور یا مجھے اپنے حقوق چھوڑ دو۔ میں تم کو خرچ دیے جاؤں گا۔ انھوں نے کہلا بھیجا کہ اب میں بڑھاپے میں کیا طلاق لوں گی۔ بس مجھے خرچ ملتا رہے۔ میں اپنے باقی حقوق چھوڑتی ہوں۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں۔ چنانچہ پھر ایسا ہی ہوتا رہا۔ حتیٰ کہ محمدی بیگم کا سوال اٹھا اور آپ کے رشتہ داروں نے مخالفت کر کے محمدی بیگم کا نکاح دوسری جگہ کرا دیا اور فضل احمد کی والدہ نے ان سے قطع تعلق نہ کیا بلکہ ان کے ساتھ رہیں۔ تب حضرت صاحب نے ان کو طلاق دے دی۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کا یہ طلاق دینا آپ کے اس اشتہار کے مطابق تھا جو آپ نے 2 مئی 1891ء کو شائع کیا تھا اور جس کی سرخی تھی ”اشتہار نصرتِ دین و قطع تعلق از اقارب مخالفِ دین۔“

(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 33، 34 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 935,934 پر)

View Proof

صفحہ 321

مرزا قادیانی نے اپنے مخالفوں کو ”کنجریوں کی اولاد“ کہا ہے:

معارفها و یقبلنی و یصدق دعوتی. الا ذرية البغايا الذين ختم الله على قلوبهم فهم لا یقبلون.“

ترجمہ ”میری ان کتابوں کو ہر مسلمان محبت کی نظر سے دیکھتا ہے اور اس کے معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے اور اسے قبول کرتا ہے مگر کنجریوں (بدکار عورتوں) کی اولاد نے میری تصدیق نہیں کی۔“

(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 547، 548 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 547، 548 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 937، 936 پر)

مذکورہ بالا عبارات سے پتہ چلتا ہے کہ مرزا قادیانی کے بیٹوں مرزا سلطان احمد اور مرزا فضل احمد نے نہ صرف مرزا قادیانی کی مخالفت کی بلکہ اس کے مخالفین کی بھر پور حمایت کی۔ قادیانیوں سے سوال ہے کہ کیا مذکورہ بالا عبارت کی موجودگی میں مرزا قادیانی کے بیٹوں کا شمار کنجریوں کی اولاد میں ہوتا ہے؟

مرزا قادیانی لکھتا ہے:

کہ محمدی (بیگم) جس کی نسبت پیشگوئی ہے باہر کسی تکیہ میں معہ چند کس کے بیٹھی ہوئی ہے اور سر اُس کا شاید مُنڈا ہوا ہے اور بدن سے ننگی ہے اور نہایت مکروہ شکل ہے۔ میں نے اس کو تین مرتبہ کہا ہے کہ تیرے سر مُنڈی ہونے کی یہ تعبیر ہے کہ تیرا خاوند مر جائے گا اور میں نے دونوں ہاتھ اس کے سر پر اتارے ہیں اور پھر خواب میں، میں نے یہی تعبیر کی ہے اور اسی رات والدۂ محمود نے خواب میں دیکھا کہ محمدی (بیگم) سے میرا نکاح ہو گیا ہے اور ایک کاغذ مہر ان کے ہاتھ میں ہے جس پر ہزار روپیہ مہر لکھا ہے اور شیرینی منگوائی گئی ہے۔ اور پھر میرے پاس وہ خواب میں کھڑی ہے۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 160 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 938 پر)

یہ خواب تو مرزا قادیانی نے سخت ردّعمل میں جان بوجھ کر دیکھا ہے۔

صفحہ 322

مرزا قادیانی محمدی بیگم کے خاوند کی موت کی پیش گوئی کرتے ہوئے لکھتا ہے:

(394) ”مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کے داماد کی موت کی نسبت پیشگوئی جو پٹی ضلع لاہور کا باشندہ ہے جس کی میعاد آج کی تاریخ سے جو 21 ستمبر 1893ء ہے، قریباً گیارہ مہینے باقی رہ گئی ہے۔ یہ تمام امور جو انسانی طاقتوں سے بالکل بالاتر ہیں ایک صادق یا کاذب کی شناخت کے لیے کافی ہیں۔“

(شہادۃ القرآن صفحہ 79 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 375 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 939 پر)

مرزا قادیانی کی تمام تر کوششوں، دھمکیوں، ترغیبات، تحریصات اور جھوٹے الہامات کے باوجود احمد بیگ نے اپنی بیٹی محمدی بیگم کا نکاح مسمی سلطان محمد سے 7 اپریل 1892ء کو بڑی دھوم دھام سے کردیا۔ اُدھر شہنائی بج رہی تھی، اِدھر مرزا قادیانی کے گھر میں ماتم برپا تھا۔ مرزا قادیانی کے قریبی دوست تو بخوبی جانتے تھے کہ مرزا قادیانی نے خدا کے نام پر جتنی باتیں کہی ہیں، ان کی کوئی حقیقت نہیں، یہ سب مرزا قادیانی کی اپنی اختراع ہے جو وہ خدا کے نام پر پیش کر رہا ہے لیکن نادان قادیانیوں کو کس طرح سمجھایا جائے کہ ان کے نبی کی آسمانی منکوحہ کسی اور کے نکاح میں دی جاچکی ہے اور ”خدا“ کے فیصلے پر انسانی فیصلے غالب آ چکے ہیں۔ مرزا قادیانی میں اتنی ہمت نہ تھی کہ وہ اپنی آسمانی منکوحہ کو سلطان محمد سے چھین سکے اور نہ اس کے کسی مرید میں یہ جرات تھی کہ وہ اپنے نبی کی آسمانی بیوی کو کسی غیر کی منکوحہ ہونے سے روک سکے۔ مرزا قادیانی ذلت وحسرت کی تصویر بنا اپنی آسمانی منکوحہ کی رخصتی پر آنسو بہاتا رہا اور دانت پیستا رہا اور اس کے مریدوں کے منہ پر اس کی بے بسی اور شرمندگی کی گہری چھاپ صاف دکھائی دے رہی تھی۔

مرزا قادیانی نے اس نازک صورت حال کو دیکھتے ہوئے اعلان کیا کہ اسے خدا نے وحی کی ہے کہ اس بارے میں فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ سچ ہے کہ خدا نے اس کا نکاح آسمان پر تمھارے ساتھ ہی پڑھایا ہے۔ وہ تمہاری ہی منکوحہ ہے۔ اب اس دنیا میں اگر کوئی اسے اپنی منکوحہ بنا چکا ہے تو یہ اس کی عارضی منکوحہ ہوگی۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ خدا اسے مرزا قادیانی کی منکوحہ بنائے اور کوئی دوسرا اسے لے اڑے۔ سو وقت آئے گا کہ اس آسمانی

صفحہ 323

منکوحہ کا عارضی شوہر مرے گا اور خدا پھر اسے تمھارے پاس ہی لے آئے گا۔ مرزا قادیانی نے پوری ڈھٹائی کے ساتھ یہ اعلان کیا اور اشتہاروں پر اشتہار لکھے تاکہ اس کی جماعت سے نکلنے والے قادیانی واپس آ جائیں اور اسے اپنی آمدنی سے حصہ دیتے رہیں۔ مرزا قادیانی نے خدا کے نام سے یہ اعلان کیا:

(395) ”دختر احمد بیگ مسمی سلطان محمد سے بیاہی گئی۔ اس کا والد اور اس کے اقارب اور عزیز بہت بے دین تھے اور تکذیب حق میں حد سے بڑھے ہوئے تھے ...... اس لیے خدا تعالیٰ نے چاہا کہ ان کو وہ نشان دکھلاوے جس سے وہ ذلیل ہوں۔ پس اس نے اس تمام ملحد گروہ کے حق میں مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ کذبوا بآیاتنا وكانوا بها يستهزؤن فسیکفیکھم اللہ ویردّھا الیک لا تبدیل لکلمات اللہ ان ربک فعال لما یرید۔ یعنی ان لوگوں نے ہمارے نشانوں کی تکذیب کی اور ان سے ٹھٹھا کیا۔ سو خدا ان کے شر دُور کرنے کے لیے تیرے لیے کافی ہوگا اور انھیں یہ نشان دکھلائے گا کہ احمد بیگ کی بڑی لڑکی ایک جگہ بیاہی جائے گی اور خدا اس کو پھر تیری طرف واپس لائے گا۔ یعنی آخر وہ تیرے نکاح میں آئے گی۔ اور خدا سب روکیں درمیان سے اٹھا دے گا۔ خدا کی باتیں ٹل نہیں سکتیں۔ تیرا رب ایسا قادر ہے کہ جس کام کا وہ ارادہ کرے اس کام کو وہ اپنے منشا کے موافق ضرور پورا کرتا ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 397، 398 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 940، 941 پر)

View Proof

مرزا قادیانی نے پھر خدا کے نام پر اعلان کیا:

(396) ”نفسِ پیشگوئی یعنی اُس عورت کا اِس عاجز کے نکاح میں آنا یہ تقدیر مبرم ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی کیونکہ اس کے لیے الہامِ الٰہی میں یہ فقرہ موجود ہے کہ لا تبدیل لکلمات اللہ۔ یعنی میری یہ بات ہرگز نہیں ٹلے گی پس اگر ٹل جائے تو خدا تعالیٰ کا کلام باطل ہوتا ہے ...... اس نے فرمایا کہ میں اس عورت کو اس کے نکاح کے بعد واپس لاؤں گا اور تجھے دوں گا اور میری تقدیر کبھی نہیں بدلے گی اور میرے آگے کوئی بات انہونی نہیں اور میں سب روکوں کو اٹھا دوں گا جو اس حکم کے نفاذ سے مانع ہوں۔“

(مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 399 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 942 پر)

View Proof

صفحہ 324

ناظرین! اس سے بڑھ کر بھی کوئی صاف گوئی ہو گی جو مرزا قادیانی نے اس عبارت میں کی ہے؟ بات بھی صحیح ہے کہ خدا جس امر کی بابت خبر دے، پھر اس کی تاکید کے لیے ”لاتبدیل“ فرمائے؟ پھر وہ تبدیل ہو جائے تو خدائی کلام کے جھوٹ ہونے میں کچھ شک رہتا ہے؟ اب سوال یہ ہے کیا یہ نکاح مرزا قادیانی سے ہو گیا؟ آہ! اس کا جواب بڑی حسرت اور افسوس کے ساتھ نفی میں دیا جاتا ہے کہ تاحیات مرزا قادیانی کا نکاح نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ 26 مئی 1908ء کے دن بے چارہ اس حسرت کو اپنے ساتھ قبر میں لے گیا۔

لے گئے خاک میں ہم داغ تمنائے نشاط
تو ہو اور آپ یہ صد رنگ گلستاں ہونا
(غالب)

اب مرزا قادیانی نے محمدی بیگم اور اس کے خاندان کے لیے بددعائیں کرنا شروع کر دیں۔ اس نے خدا کے نام پر کہا:

(397) ”فدعوت ربى بالتضرع والابتهال و مددت اليه ايدى السوال فالهمنى ربى وقال ساريهم آية من انفسهم واخبرنى وقال اننى ساجعل بنتاً من بناتهم اية لهم. فسماها وقال انها سيجعل ثيبة ويموت بعلها و ابوها الى ثلث سنة من يوم النكاح ثم نردها الیک بعد موتهما ولا يكون احدهما من العاصمين وقال انا رادوها الیک لا تبديل لكلمات الله.

(ترجمہ) میں نے بڑی عاجزی سے خدا سے دعا کی تو اس نے مجھے الہام کیا کہ میں ان (تیرے خاندان کے) لوگوں کو ان میں سے ایک نشانی دکھاؤں گا۔ خدا تعالیٰ نے ایک لڑکی (محمدی بیگم) کا نام لے کر فرمایا کہ وہ بیوہ کی جاوے گی اور اس کا خاوند اور باپ یوم نکاح سے تین سال تک فوت ہو جائیں گے اور پھر ہم اس لڑکی کو تیری طرف لائیں گے اور کوئی اس کو روک نہ سکے گا۔“

(مرزا قادیانی کا الہام، مندرجہ تالیف ”کرامات الصادقین“ سرورق آخر نمبر 1، مندرجہ روحانی

خزائن جلد 7 صفحہ 162) (عکس صفحہ نمبر 943 پر)

صفحہ 325

مرزا قادیانی نے مزید پیش گوئیاں کرتے ہوئے کہا: (398) ”میں اشتہار 10 جولائی 1888ء میں شائع کر چکا ہوں جن کا مضمون یہی ہے کہ خدا تعالیٰ اس عورت کو بیوہ کر کے میری طرف رد کرے گا۔ اب انصاف سے دیکھیں کہ نہ کوئی انسان اپنی حیات پر اعتماد کر سکتا ہے اور نہ کسی دوسرے کی نسبت دعویٰ کر سکتا ہے کہ وہ فلاں وقت تک زندہ رہے گا۔ یا فلاں وقت تک مر جائے گا۔ مگر میری اس پیشگوئی میں نہ ایک بلکہ چھ دعوے ہیں۔ اول نکاح کے وقت تک میرا زندہ رہنا۔ دوم نکاح کے وقت تک اس لڑکی کے باپ کا یقیناً زندہ رہنا۔ سوم پھر نکاح کے بعد اس لڑکی کے باپ کا جلدی سے مرنا جو تین برس تک نہیں پہنچے گا۔ چہارم اس کے خاوند کا اڑھائی برس کے عرصہ تک مرجانا۔ پنجم اس وقت تک کہ میں اس سے نکاح کروں اس لڑکی کا زندہ رہنا۔ ششم پھر آخر یہ بیوہ ہونے کی تمام رسموں کو توڑ کر باوجود سخت مخالفت اس کے اقارب کے میرے نکاح میں آجانا۔ اب آپ ایماناً کہیں کہ کیا یہ باتیں انسان کے اختیار میں ہیں اور ذرا اپنے دل کو تھام کر سوچ لیں کہ کیا ایسی پیشگوئی سچے ہو جانے کی حالت میں انسان کا فعل ہو سکتی ہے؟“

(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 324، 325 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 324، 325 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 944، 945 پر)

View Proof

مرزا قادیانی اپنا ایک الہام بیان کرتے ہوئے کہتا ہے: (399) ”اس زمانہ کے قریب ہی یہ بھی الہام ہوا تھا۔ بکر و ثیب یعنی ایک کنواری اور ایک بیوہ تمھارے نکاح میں آئے گی۔“

(تریاق القلوب صفحہ 159 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 287 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 946 پر)

View Proof

جناب حافظ محمد اقبال رنگونی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں: ”مرزا قادیانی کی مذکورہ تصریحات اور پھر اس کی تشریحات سے یہ بات واضح ہے کہ محترمہ محمدی بیگم کی شادی ہو جانے کے باوجود مرزا قادیانی نے اس خاتون کی آبرو کا کوئی خیال نہیں کیا اور سالہا سال تک ایک غیر محرم خاتون کی عزت کو اچھالنے کا مشغلہ جاری رکھا۔

صفحہ 326

آپ ہی بتائیں کہ کیا مرزا قادیانی کو اس کی اجازت تھی کہ وہ کسی دوسرے کی منکوحہ کے بارے میں بار بار یہ اشتہار شائع کرے کہ وہ میری بیوی بنے گی، میرے گھر آئے گی، اس کا شوہر مرے گا، وہ میری ہی منکوحہ ہے، کچھ ہی ہو جائے، اسے میرے ہی پاس آنا ہے۔ ہر شریف آدمی اس قسم کی باتیں کرنے والے شخص کو بڑا بے شرم آدمی کہتا ہے مگر افسوس کہ قادیانیوں نے اسے خدا کے نبی کا درجہ دے رکھا ہے۔ چہ نسبت ناپاک را بعالم پاک!

مرزا قادیانی کو اس بات کا تو حق تھا کہ وہ محمدی بیگم کے شوہر کے انتقال کر جانے کے بعد پھر سے اپنے رشتہ کی بات چلاتا اور وہ بھی عدت گزرنے کے بعد اور پھر اسے لالچ اور دھمکیوں کے ذریعے اپنی منکوحہ بناتا مگر اسے یہ حق ہرگز نہ تھا کہ وہ ایک شخص کی منکوحہ کے بارے میں مسلسل یہ دعویٰ کرے کہ یہ اسی کی بیوی ہے، اور اس کا شوہر مر جائے گا، یہ واپس میرے پاس آ جائے گی۔ یہ اندازِ گفتگو اور اشتہارات اس بات کے شاہد ہیں کہ مرزا قادیانی کو شریف آدمی کہنا بھی شرافت کے خلاف ہے۔ ہاں یہ بات اور ہے کہ قادیانیوں کے ہاں شرافت کا معیار مرزا قادیانی کا گھناؤنا کردار ہے، اور ایسے ہی لوگ ان کے ہاں سب سے بڑے شریف سمجھے جاتے ہیں۔ اسلام میں تو خاوند کے فوت ہونے کے بعد بھی عدت گزرنے سے پہلے بیوہ کو نکاح کا پیغام نہیں دیا جا سکتا چہ جائیکہ خاوند زندہ ہو، مرا بھی نہ ہو اور یہاں اس کے نکاح ثانی کے پیغام دیے جارہے ہوں۔

اُن دنوں محمد بخش جعفر زٹلی نے اپنے رسالہ میں یہ اعلان شائع کیا کہ وہ عنقریب نصرت جہاں بیگم (مرزا قادیانی کی بیوی) سے بیاہ رچانے والا ہے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ مرزا قادیانی کی موت کے بعد نصرت جہاں میرے نکاح میں آئے گی۔ پھر اس نے اپنے اعلان کی تائید میں چند خواب بھی سنائے اور بشارتیں بھی نقل کیں۔ مرزا قادیانی نے جب یہ اعلان پڑھا تو مارے غصے کے سرخ ہو گیا اور اس نے لکھا:

گندی خوابیں بنا کر سراسر بے حیائی کی راہ سے شائع کیں اور میری دشمنی سے اس میں وہ لحاظ و ادب بھی نہ رہا جو اہل بیتِ رسول کی پاک دامن خواتین سے رکھنا چاہیے۔ مولوی کہلانا اور یہ بے حیائی کی حرکات افسوس ہزار افسوس!! (تحفہ گولڑویہ صفحہ 56 حاشیہ جلد 17 صفحہ 199)

اگر جعفر زٹلی اس لیے بے حیا ہے کہ وہ مرزا قادیانی کی بیوی کے بارے میں خواب

صفحہ 327

سناتا ہے اور کسی وقت اس کے نکاح میں آنے کی خبر دیتا ہے تو مرزا قادیانی اس سے زیادہ بے حیا ہے کہ وہ مدعی نبوت ہو کر سلطان محمد کی بیوی محترمہ محمدی بیگم کے بارے میں الہامات سناتا ہے اور کسی دوسرے کی بیوی کو اپنے نکاح میں لانے کے بارے میں اشتہار شائع کرتا ہے۔ اگر جعفر زٹلی اس وجہ سے لائق نفرت ہیں تو مرزا قادیانی اس سے بدرجہ اولیٰ لائق نفرین ٹھہرے۔ ہے کوئی قادیانی جو انصاف کا دامن تھامے اور مرزا قادیانی کو برسرعام بے حیا مانے؟ مرزا قادیانی نے جب خدا کے نام سے احمد بیگ کو اپنی لڑکی کا رشتہ دینے کے لیے کہا تو اسے یقین تھا کہ احمد بیگ اپنی مجبوری کے پیش نظر اس کی بات مان لے گا لیکن احمد بیگ نے غیرت کا مظاہرہ کیا۔ مرزا قادیانی نے دیگر ذرائع سے لالچ اور دھمکیاں دیں۔ وہ بھی بے اثر ثابت ہوئیں اب جبکہ لڑکی کا نکاح کسی اور جگہ ہو چکا اور وہ لڑکی کسی کی بیوی بن چکی، پھر بھی بار بار یہ بات دہرانا کہ اس کا شوہر مر جائے گا، ہمیں کسی اور بات کی خبر دیتا ہے۔ مرزا قادیانی کے خیال میں محمدی بیگم کس طرح بیوہ ہو سکتی تھی، اس وقت ہم اس پر بحث نہیں کر رہے، ہم صرف مرزا قادیانی کی غیر شریفانہ ذہنیت کی نشاندہی کر رہے ہیں تاکہ قادیانی عوام اس سے عبرت حاصل کریں اور وہ جان پائیں کہ مرزا قادیانی بداخلاقی کی کس سطح تک گر چکا تھا۔

مرزا قادیانی نے محمدی بیگم کے ساتھ نکاح کو نہ صرف خدائی پیغام بتایا بلکہ اسے اپنے صدق و کذب کا اہم عنوان بھی بنا دیا۔ اپنے اس عنوان صدق کی لاج رکھنے اور اپنے عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے کہ یہ خدائی معاملہ ہے، مرزا قادیانی نے اوچھی حرکتوں کے اختیار تک سے اجتناب نہ کیا۔ ایک ظالم اور لالچی شخص کوئی چیز حاصل کرنے کے لیے جتنا کچھ کر سکتا ہے، مرزا قادیانی نے وہ سب راہ عمل اپنائے تاکہ وہ کسی طرح یہ کہنے میں کامیاب ہو جائے کہ یہ خدائی معاملہ ہے اور وہ اپنے دعویٰ میں سچا ہے۔ مرزا قادیانی نے اس رشتہ کو جو اہمیت دی ہے، اسے مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر احمد نے اس طرح بیان کیا ہے:

بنیادی پتھر ہیں۔" (سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 195)

آئیے دیکھیں کہ یہ بنیادی پتھر کس طرح ٹوٹتا ہے۔ اس کی بنیادیں کس طرح ہلتی ہیں اور مرزا قادیانی کس طرح اپنی بات میں جھوٹا نظر آتا ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنے صدق و کذب کا معیار محمدی بیگم کے ساتھ نکاح کو ٹھہرایا اور کھلے طور پر اعلان کیا کہ اگر یہ پیش گوئی پوری ہو جائے تو وہ اپنے دعویٰ نبوت میں سچا ثابت ہوگا اور اگر محمدی بیگم اس کے نکاح میں نہ

صفحہ 328

آئے تو وہ جھوٹا ہے اور اس کے گلے اور پاؤں میں رسی ڈال کر اسے ذلیل کیا جائے۔“

(اہم پیش گوئیاں اور ان کا جائزہ از حافظ محمد اقبال رنگونی)

مرزا قادیانی نے ایک پیش گوئی مسلمانوں کے لیے خاص کی جس کے کئی ایک حصے ہیں۔ مرزا قادیانی نے لکھا: (400) ”(1) کہ مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری تین سال کی میعاد کے اندر فوت ہو۔ (2) اور پھر داماد اُس کا جو اُس کی دختر کلاں کا شوہر ہے، اڑھائی سال کے اندر فوت ہو۔ (3) اور پھر یہ کہ مرزا احمد بیگ تا روز شادی دختر کلاں فوت نہ ہو۔ (4) اور پھر یہ کہ وہ دختر بھی تا نکاح اور تا ایام بیوہ ہونے اور نکاح ثانی کے فوت نہ ہو۔ (5) اور پھر یہ کہ یہ عاجز بھی ان تمام واقعات کے پورے ہونے تک فوت نہ ہو۔ (6) اور پھر یہ کہ اس عاجز سے نکاح ہو جاوے۔“

(شہادت القرآن صفحہ 81 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 376 از مرزا قادیانی)

View Proof (عکس صفحہ نمبر 947 پر)

یعنی داماد مرزا احمد بیگ کی موت کے متعلق اسی حوالہ میں کہا ہے کہ اس کی میعاد 21 ستمبر 1893ء سے قریباً گیارہ مہینہ باقی رہ گئی ہے۔ (شہادۃ القرآن صفحہ 79 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 375)

یہ میعاد اگست 1894ء کو ختم ہوتی ہے یعنی مرزا قادیانی کے الہام کے مطابق مرزا سلطان محمد داماد مرزا احمد بیگ اگست 1894ء کے بعد بقید حیات نہیں رہ سکتا تھا۔ جب وہ اس مدت کے بعد بھی زندہ رہا تو مرزا قادیانی نے آخری اقرار نامہ ان لفظوں میں شائع کیا۔

(401) ”میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیشگوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے۔ اس کی انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آ جائے گی۔ اور اگر میں سچا ہوں تو خدا تعالیٰ ضرور اس کو بھی ایسے ہی پوری کر دے گا۔“

(انجام آتھم صفحہ 31 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 31 از مرزا قادیانی)

View Proof (عکس صفحہ نمبر 948 پر)

یہ عبارت بآواز بلند کہہ رہی ہے کہ مرزا سلطان محمد یعنی اس لڑکی کا خاوند جس سے

صفحہ 329

مرزا قادیانی نے الہامی نکاح کا دعویٰ کیا تھا، وہ اگر مرزا قادیانی کی زندگی میں نہ مرے تو مرزا قادیانی کے دعوئی الہام و رسالت وغیرہ بقول ان کے جھوٹے ہوں گے۔ اس کا نام مرزا قادیانی نے تقدیر مبرم رکھا ہے یعنی اٹل فیصلہ الٰہی، (حوالہ انجام آتھم صفحہ 31) اسی کتاب کے ضمیمہ انجام آتھم صفحہ 54 پر اس دعویٰ کو دوسرے لفظوں میں یوں شائع کیا: (402) ”یاد رکھو کہ اس پیشگوئی کی دوسری جز پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ اے احمقو! یہ انسان کا افترا نہیں۔ یہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار نہیں۔ یقیناً سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے، وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں۔ وہی رب ذوالجلال جس کے ارادوں کو کوئی روک نہیں سکتا۔“

(انجام آتھم [ضمیمہ] صفحہ 54 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 338 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 949 پر)

مزید کہا: (403) ”جب تقدیر مبرم آ جاتی ہے تو ٹل نہیں سکتی۔“

(انوار الاسلام صفحہ 10 مندرجہ روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 80 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 950 پر)

سلطان محمد مذکورہ اگست 1894ء تک نہ مرا بلکہ وہ مرزا قادیانی کی موت کے بعد 40 سال تک زندہ رہا۔ حالانکہ اس اثنا میں وہ جنگ عظیم کے دوران فرانس بھی گیا جہاں اس کی گدی میں گولی لگ کر سر سے نکل گئی مگر زندہ رہا اور اس کی اولاد بھی بہ کثرت آج تک خدا کے فضل سے موجود ہے۔ شریعت اسلامیہ کی تعلیم کا مفہوم ہے۔ یوخذ المرء باقرارہ۔ یعنی انسان اپنے اقرار پر ماخوذ ہوتا ہے۔ مرزا قادیانی نے نہ صرف اقرار کیا بلکہ شائع کیا کہ مرزا سلطان محمد کا مرنا میری زندگی میں اٹل فیصلہ الٰہی ہے۔ یہ بھی کہا اگر وہ میری زندگی میں نہ مرے تو میں جھوٹا۔ بلکہ یہ بھی صاف اقرار کیا کہ میں اس صورت میں یعنی مرزا سلطان محمد کے نہ مرنے کی صورت میں ہر بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ جس صورت میں مرزا قادیانی کا یہ اقرار ہے اور الہامی اعلان ہے۔ اب پبلک فیصلہ کر سکتی ہے کہ وہ اپنے دعوے میں کہاں تک سچا تھا؟

صفحہ 330

ملاحظہ فرمائیں، مرزا قادیانی کا اقرار

(404) ”اگر ہم سچے ہیں تو خدا تعالیٰ ان پیشگوئیوں کو پورا کر دے گا۔ اور اگر یہ باتیں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں تو ہمارا انجام نہایت بد ہوگا، اور ہرگز یہ پیشگوئیاں پوری نہیں ہوں گی۔ ربنا افتح بیننا و بین قومنا بالحق وانت خیر الفاتحین۔ اور میں بالتضرع دعا کرتا ہوں کہ اے خدائے قادر و علیم! اگر آتھم کا عذاب مہلک میں گرفتار ہونا اور احمد بیگ کی دختر کلاں کا آخر اس عاجز کے نکاح میں آنا یہ پیشگوئیاں تیری طرف سے ہیں تو ان کو ایسے طور سے ظاہر فرما جو خلق اللہ پر حجت ہو اور کور باطن حاسدوں کا منہ بند ہو جائے۔ اور اگر اے خداوند! یہ پیشگوئیاں تیری طرف سے نہیں ہیں تو مجھے نامرادی اور ذلت کے ساتھ ہلاک کر، اگر میں تیری نظر میں مردود اور ملعون اور دجال ہی ہوں جیسا کہ مخالفوں نے سمجھا ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 452 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 951 پر)

View Proof

مرزا قادیانی نے محمدی بیگم سے اپنے نکاح کے بارے میں اپنی پیش گوئی کو نہایت جرأت کے ساتھ حضور نبی کریم ﷺ کی ایک حدیث کے ساتھ منسلک کرنے کی ناپاک جسارت کی۔

(405) ”اس پیشگوئی کی تصدیق کے لیے جناب رسول اللہ ﷺ نے بھی پہلے سے ایک پیشگوئی فرمائی ہے کہ یتزوج ویولد لہ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ اس میں کچھ خوبی نہیں بلکہ تزوج سے مراد وہ خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہوگا اور اولاد سے مراد وہ خاص اولاد ہے جس کی نسبت اس عاجز کی پیشگوئی موجود ہے۔ گویا اس جگہ رسول اللہ ﷺ ان سیہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔“ View Proof

(انجام آتھم صفحہ 337 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 337 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 952 پر)

اس تناظر میں ضروری تھا کہ ”مسیح موعود“ کی اس مطلوبہ یعنی محمدی بیگم ہی سے اولاد ہوتی، جب اس سے شادی ہی نہیں ہوئی تو اولاد کہاں سے ہوتی؟ لہٰذا ثابت ہوگیا کہ مرزا

صفحہ 331

قادیانی حضور نبی کریم ﷺ کی پیش گوئی کے مصداق بہر حال نہیں تھا۔

(406) ”براہین احمدیہ میں بھی اس وقت سے سترہ برس پہلے اس پیشگوئی کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ جو اس وقت میرے پر کھولا گیا ہے اور وہ یہ الہام ہے جو براہین کے صفحہ 496 میں مذکورہ ہے۔ یاادم اسکن انت و زوجک الجنۃ۔ یامریم اسکن انت و زوجک الجنۃ۔ یا احمد اسکن انت و زوجک الجنۃ۔ اس جگہ تین جگہ زوج کا لفظ آیا اور تین نام اس عاجز کے رکھے گئے۔ پہلا نام آدم۔ یہ وہ ابتدائی نام ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے اس عاجز کو روحانی وجود بخشا۔ اس وقت پہلی زوجہ کا ذکر فرمایا۔ پھر دوسری زوجہ کے وقت میں مریم نام رکھا کیونکہ اس وقت مبارک اولاد دی گئی جس کو مسیح سے مشابہت ملی اور نیز اس وقت مریم کی طرح کئی ابتلا پیش آئے جیسا کہ مریم کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے وقت یہودیوں کی بدظنیوں کا ابتلا پیش آیا اور تیسری زوجہ جس کی انتظار ہے۔ اُس کے ساتھ احمد کا لفظ شامل کیا گیا اور یہ لفظ احمد اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس وقت حمد اور تعریف ہوگی۔ یہ ایک چھپی ہوئی پیشگوئی ہے۔ جس کا سر اس وقت خدا تعالیٰ نے مجھ پر کھول دیا۔“

(انجام آتھم صفحہ 54 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 338 از مرزا قادیانی)

View Proof (عکس صفحہ نمبر 953 پر)

مرزا قادیانی نے اس پیش گوئی کے پورا ہونے کی صورت میں اپنے مخالفین کے لیے کیا منصوبہ طے کیا تھا، ملاحظہ فرمائیں:

(407) ”سوچا یہ تھا کہ ہمارے نادان مخالف انجام کے منتظر رہتے اور پہلے ہی سے اپنی بدگوہری ظاہر نہ کرتے۔ بھلا جس وقت یہ سب باتیں پوری ہو جائیں گی، تو کیا اس دن یہ احمق مخالف جیتے ہی رہیں گے اور کیا اس دن یہ تمام لڑنے والے سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہو جائیں گے۔ ان بیوقوفوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہیں رہے گی اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی۔ اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سؤروں کی طرح کر دیں گے۔“

(انجام آتھم صفحہ 337 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 337 از مرزا قادیانی)

View Proof (عکس صفحہ نمبر 954 پر)

صفحہ 332

مزید گوہر افشانی کرتے ہوئے کہتا ہے:

(408) ”اب بہتیرے جاہل اس میعاد گزرنے کے بعد ہنسی کریں گے اور اپنی بد نصیبی سے صادق کا نام کاذب رکھیں گے۔ لیکن وہ دن جلد آنے والے ہیں کہ جب یہ لوگ شرمندہ ہوں گے اور حق ظاہر ہوگا اور سچائی کا نور چمکے گا اور خدا تعالیٰ کے غیر متبدل وعدے پورے ہو جائیں گے۔ کیا کوئی زمین پر ہے جو ان کو روک سکے؟ بد بخت انسان بد ظنی کی طرف جلدی کرتا ہے، اور حلیم طبیعت اور عمیق فکر کے ساتھ نہیں سوچتا۔

اے بد فطرتو ! اپنی فطرتیں دکھلاؤ۔ لعنتیں بھیجو، ٹھٹھے کرو اور صادقوں کا نام کاذب اور دروغ گو رکھو۔ لیکن عنقریب دیکھو گے کہ کیا ہوتا ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 399 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 955 پر)

View Proof

مرزا قادیانی نے مزید لکھا:

(409) ”اور میرے رب نے مجھے مبارک دی اور فرمایا: ہم اس کے خاوند کو (بھی) ہلاک کریں گے۔ جیسا کہ ہم نے اس کے باپ کو ہلاک کیا اور اس (لڑکی) کو تیری طرف لوٹائیں گے۔ تیرے رب کی طرف سے (یہ) سچ ہے۔ پس تو شک کرنے والوں میں سے نہ ہو۔ اور ہم اسے صرف گنتی کی مدت کے لیے تاخیر کریں گے۔ کہہ اس عرصہ کی انتظار کرو۔ اور میں (بھی) تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔ اور جب خدا کا وعدہ آئے گا (تب کہا جائے گا) کیا یہ وہی ہے، جس کو تم نے جھٹلایا تھا، یا تم اندھے تھے۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 181 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 956 پر)

View Proof

(410) ”فَبُشْرٰی لَکَ فِی النِّکَاحِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ فَلَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ اِنَّا زَوَّجْنَاکَھَا. لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمَاتِ اللّٰہِ وَاِنَّا رَادُّوْھَا اِلَیْکَ.

(ترجمہ) پس تجھے نکاح کے متعلق بشارت ہو۔ یہ بات تیرے رب کی طرف سے حق ہے۔ پس تو شک کرنے والوں میں سے مت ہو۔ ہم نے اس کو تیرے ساتھ ملا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی باتیں ٹل نہیں سکتیں۔ اور ہم اسے تیری طرف واپس لائیں گے۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 198 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 957 پر)

View Proof

صفحہ 333

مرزا قادیانی کی اس وحی میں کسی قسم کی کوئی شرط یہ نہیں لگائی بلکہ صاف صاف کہا گیا ہے کہ اے مرزا ! ہم نے محمدی بیگم کو تیری زوجہ بنا دیا ہے۔

مرزا قادیانی نے مزید کہا:

(411) ”اگر ہم سچے ہیں تو خدا تعالیٰ ان پیشگوئیوں کو پورا کر دے گا اور اگر یہ باتیں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں تو ہمارا انجام نہایت بد ہو گا اور ہرگز یہ پیشگوئیاں پوری نہیں ہوں گی۔ ربنا افتح بیننا و بین قومنا بالحق وانت خیر الفاتحین۔ اور میں تضرعاً دعا کرتا ہوں کہ اے خدائے قادر و علیم! اگر آتھم کا عذاب مہلک میں گرفتار ہونا اور احمد بیگ کی دختر کلاں کا آخر اس عاجز کے نکاح میں آنا، یہ پیشگوئیاں تیری طرف سے ہیں تو ان کو ایسے طور پر ظاہر فرما جو خلق اللہ پر حجت ہو اور کور باطن حاسدوں کا منہ بند ہو جائے اور اگر اے خداوند! یہ پیشگوئیاں تیری طرف سے نہیں ہیں تو مجھے نامرادی اور ذلت کے ساتھ ہلاک کر۔ اگر میں تیری نظر میں مردود اور ملعون اور دجال ہی ہوں جیسا کہ مخالفوں نے سمجھا ہے اور تیری وہ رحمت میرے ساتھ نہیں جو تیرے بندہ ابراہیمؑ کے ساتھ اور اسحاقؑ کے ساتھ اور اسمٰعیلؑ کے ساتھ اور یعقوبؑ کے ساتھ اور موسیٰؑ کے ساتھ اور داؤدؑ کے ساتھ اور مسیح ابن مریم کے ساتھ اور خیرالانبیا محمد صلعم کے ساتھ اور اس امت کے اولیائے کرام کے ساتھ تھی، تو مجھے فنا کر ڈال اور ذلتوں کے ساتھ مجھے ہلاک کر دے اور ہمیشہ کی لعنتوں کا نشانہ بنا اور تمام دشمنوں کو خوش کر اور ان کی دعائیں قبول فرما لیکن اگر تیری رحمت میرے ساتھ ہے اور تو ہی ہے جس نے مجھ کو مخاطب کر کے کہا۔ انت وجیہ فی حضرتی اخترتک لنفسی اور تو ہی ہے جس نے مجھ کو مخاطب کر کے کہا۔ یحمدک اللہ من عرشہ اور تو ہی ہے جس نے مجھ کو مخاطب کر کے کہا یا عیسی الذی لا یضاع وقتہ اور تو ہی ہے جس نے مجھ کو مخاطب کر کے کہا الیس اللہ بکاف عبدہ اور تو ہی ہے جس نے مجھ کو مخاطب کر کے کہا۔ قل انی امرت و انا اول المؤمنین اور تو ہی ہے جو غالباً مجھے ہر روز کہتا رہتا ہے۔ انت معی وانا معک تو میری مدد کر اور میری حمایت کے لیے کھڑا ہو جا۔ وانی مغلوب فانتصر۔“

(انوار الاسلام صفحہ 28، 29 مندرجہ روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 124، 125 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 958، 959 پر)

صفحہ 334

مرزا قادیانی ایک عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہتا ہے:

(412) ”احمد بیگ کی دختر کی نسبت جو پیشگوئی ہے وہ اشتہار میں درج ہے اور ایک مشہور امر ہے۔ وہ مرزا امام الدین کی ہمشیرہ زادی ہے جو خط بنام مرزا احمد بیگ کلمہ فضل رحمانی میں ہے، وہ میرا ہے، اور سچ ہے۔ وہ عورت میرے ساتھ بیاہی نہیں گئی۔ مگر میرے ساتھ اس کا بیاہ ضرور ہوگا، جیسا کہ پیشگوئی میں درج ہے۔ وہ سلطان محمد سے بیاہی گئی، جیسا کہ پیشگوئی میں تھا۔ میں سچ کہتا ہوں کہ اسی عدالت میں جہاں ان باتوں پر جو میری طرف سے نہیں ہیں بلکہ خدا کی طرف سے ہیں ہنسی کی گئی ہے۔ ایک وقت آتا ہے کہ عجیب اثر پڑے گا اور سب کے ندامت سے سر نیچے ہوں گے۔ پیشگوئی کے الفاظ سے صاف معلوم ہوتا ہے اور یہی پیشگوئی تھی کہ وہ دوسرے کے ساتھ بیاہی جائے گی۔ اس لڑکی کے باپ کے مرنے اور خاوند کے مرنے کی پیشگوئی شرطی تھی اور شرط توبہ اور رجوع الی اللہ کی تھی۔ لڑکی کے باپ نے توبہ نہ کی۔ اس لیے وہ بیاہ کے بعد چند مہینوں کے اندر مر گیا اور پیشگوئی کی دوسری جز پوری ہوگئی۔ اس کا خوف اس کے خاندان پر پڑا اور خصوصاً شوہر پر پڑا، جو پیشگوئی کا ایک جز تھا۔ انھوں نے توبہ کی۔ چنانچہ اس کے رشتہ داروں اور عزیزوں کے خط بھی آئے۔ اس لیے خدا تعالیٰ نے اس کو مہلت دی۔ عورت اب تک زندہ ہے۔ میرے نکاح میں وہ عورت ضرور آئے گی۔ امید کیسی یقین کامل ہے۔ یہ خدا کی باتیں ہیں، ٹلتی نہیں، ہو کر رہیں گی ...... مندرجہ بالا بیان دے چکنے کے بعد جب آپ کمرۂ عدالت سے باہر تشریف لائے تو فرمایا۔ ”معلوم ہوتا ہے کہ اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا زمانہ آ گیا۔ اگر ہم ہزار روپیہ بھی خرچ کرتے اور آرزو رکھتے کہ یہ عدالت کے کاغذات میں درج ہو جاوے اور اس طرح پر تین ڈپٹی گواہ ہو جائیں تو کبھی بھی نہ ہوتا۔ یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے اور اس کی باتیں عجیب ہوتی ہیں۔ اب عدالت کے کاغذات سے کون اس کو مٹا سکے گا۔ جب یہ پیشگوئی پوری ہوگی۔ کیا ان ڈپٹیوں پر اس کا اثر نہ پڑے گا۔ ضرور ہی پڑے گا۔ جیسے لیکھرام کی پیشگوئی کی بہت شہرت ہوگئی تھی۔ اسی طرح اس کی شہرت ہو گئی ہے اور یہ بہت ہی اچھا ہوا کہ عدالت کے کاغذات میں درج ہوگئی۔“

(اخبار الحکم قادیان 10 اگست 1901ء صفحہ 14 کالم 3، کتاب منظور الٰہی صفحہ 244 تا 246 از محمد منظور الٰہی قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 960 تا 963 پر)

صفحہ 335

مرزا قادیانی نے فروری 1888ء میں محمدی بیگم سے اپنے نکاح کی پیش گوئی کی تھی جبکہ احمد بیگ نے اپنی بیٹی محمدی بیگم کا نکاح سلطان محمد سے 7 اپریل 1892ء کو کر دیا۔ (آئینہ کمالات اسلام صفحہ 280 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 280 از مرزا قادیانی) اس حساب سے 6 اکتوبر 1894ء کا دن مرزا سلطان محمد کی زندگی کا آخری روز ہوتا مگر وہ زندہ رہا اور 1948ء میں فوت ہوا۔ حالانکہ اس عرصہ میں وہ فرانس کی جنگ عظیم میں شریک ہوا جس میں اس کے سر میں گولی بھی لگی مگر وہ زندہ رہا۔ اس طرح مرزا قادیانی اپنی اس پیش گوئی میں دوسری پیش گوئیوں کی طرح جھوٹا نکلا۔ محمدی بیگم سے نکاح کی پیش گوئی جسے مرزا قادیانی نے اپنی صداقت کا نشان ٹھہرایا تھا، مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے کا واضح اور کھلا نشان ثابت ہوا۔ اس پیش گوئی کے معاملے میں ایک اور حربہ جو مرزا قادیانی نے استعمال کیا، وہ یہ تھا کہ وہ ایک ایسے جھگڑے کو جس کا تعلق ذاتی خواہشات سے تھا، ایسے رنگ میں پیش کیا جیسے یہ ایک بڑا اہم دینی معاملہ ہے اور اصل مقابلہ مرزا قادیانی اور احمد بیگ میں نہیں بلکہ اسلام اور عیسائیت کے درمیان ہے۔ مرزا قادیانی اور اس کے پیرو کار اس پیش گوئی کے پورا نہ ہونے پر بے حد ذلیل و رسوا ہوئے، اور پریشانی کے عالم میں اس کی مختلف تاویلات کرتے رہے۔ اس پیش گوئی کے بارے میں مرزا قادیانی کا ایک بھی دعویٰ سچا ثابت نہ ہوا۔ مرزا سلطان محمد جس کو پیش گوئی کے مطابق اڑھائی سال کے اندر اندر مرنا تھا، وہ نکاح کے بعد 56 سال تک زندہ رہا اور 1948ء میں فوت ہوا اور محمدی بیگم جو مرزا قادیانی کے کذب کا کھلا نشان تھی، 19 نومبر 1966ء کو بحالت اسلام لاہور میں فوت ہوئیں۔ ان کی مرقد لاہور کے معروف اور تاریخی قبرستان میانی صاحب میں ہے۔ مرزا قادیانی کو خوش گمانی تھی کہ محمدی بیگم بیوہ ہو کر ان کے نکاح میں آجائے گی مگر اس کی یہ حسرت بھی پوری نہ ہوسکی۔ مرزا قادیانی 26 مئی 1908ء کو ہیضہ کے مرض سے آنجہانی ہوا جبکہ محمدی بیگم مرزا قادیانی کے مرنے کے چالیس سال بعد تک سلطان محمد کے نکاح میں رہی۔ اس پیش گوئی کے بارے میں مرزا قادیانی نے کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی مجھے یہ خبر دی کہ اگر محمدی بیگم کا نکاح میرے ساتھ نہ ہوا تو اس گھر میں تفرقہ اور مصیبتیں آئیں گی جبکہ محمدی بیگم کا نکاح سلطان محمد سے ہوا۔ اب دیکھتے ہیں کہ تفرقہ اور مصیبتیں کس گھر میں آئیں؟

صفحہ 336

اپنے باپ کے کہنے پر مجبوراً اپنی بیوی کو طلاق دی۔

ہی بے گھر بیٹھی ہوئی تھی اور جس کے کوئی حقوق پورے نہ ہو رہے تھے۔ یہ وہی خاتون ہے جسے مرزا بشیر احمد ایم اے ”پھجے دی ماں“ کہہ کر طنز کے تیر چلاتا ہے اور اس طرح اپنی سوتیلی والدہ کی توہین کرتا ہے۔

کہ فضل احمد کا تعلق مرزا احمد بیگ کے خاندان سے قائم ہے۔ اس ناراضی کی بنا پر مرزا قادیانی نے فضل احمد کو مرنے کے بعد بھی معاف نہ کیا بلکہ اس کی نماز جنازہ میں بھی شریک نہ ہوا۔

مذکورہ بالا تفصیلات سے پتہ چلتا ہے کہ مرزا قادیانی نے ایک کم سن بچی (محمدی بیگم) سے بیاہ رچانے کے لیے خدا پر افترا کیا اور گھر میں بیٹھے بیٹھے پیش گوئیاں بناتا رہا، اور اسے پورا کرنے کے لیے طرح طرح کے مکر اور فریب کے جال بنتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ اپنے ہی جال میں پھنستا چلا گیا۔ اگر یہ پیش گوئیاں خدا کی طرف سے ہوتیں تو ضرور اس کا اثر ہوتا اور محمدی بیگم آخر کار اس کے نکاح میں آتی۔ اب جو لوگ گھر بیٹھے اس قسم کی پیش گوئیاں کرتے جائیں، دوسروں کو ان کے بارے میں کیا سمجھنا چاہیے۔ اس باب میں ہم کچھ نہیں کہتے، مرزا قادیانی کی ہی ایک تحریر پیش کرتے ہیں تاکہ ہر قادیانی اپنے نبی کو اس کی اپنی تحریر میں بآسانی دیکھ سکے۔ مرزا قادیانی کا فیصلہ دیکھیے:

(413) ”ہم ایسے مرشد کو اور ساتھ ہی ایسے مرید کو کتوں سے بدتر اور نہایت ناپاک زندگی والا خیال کرتے ہیں کہ جو اپنے گھر سے پیش گوئیاں بنا کر پھر اپنے ہاتھ سے، اپنے مکر سے، اپنے فریب سے ان کے پوری ہونے کے لیے کوشش کرے اور کرادے۔“

(سراج منیر صفحہ 25 مندرجہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 27 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 964 پر)

اب اس تحریر کی روشنی میں اگر کوئی شخص مرزا قادیانی اور اس کے مریدوں کو ایسا ہی

صفحہ 337

سمجھے تو اس پر قادیانیوں کو ناراض نہ ہونا چاہیے۔ واقعات خود اس کے اپنے تیار کردہ ہیں اور فیصلہ بھی اس کا اپنا ہے۔

قادیانی کہتے ہیں کہ محمدی بیگم کے خاوند سلطان محمد نے توبہ کر لی تھی۔ ہم انھیں مرزا قادیانی ہی کے الفاظ میں دکھاتے ہیں کہ توبہ کسے کہتے ہیں؟ مرزا قادیانی کا کہنا ہے: ”مثلاً اگر کافر ہے تو سچا مسلمان ہو جائے اور اگر ایک جرم کا مرتکب ہے تو سچ مچ اس جرم سے دست بردار ہو جائے ۔“ (اشتہار 6 ستمبر 1894ء، مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 401 از مرزا قادیانی)

اس کی رو سے سلطان محمد کی توبہ یہ تھی کہ نکاح کرنے کے بعد اور اپنے خسر کی موت سے متاثر ہو کر محمدی بیگم کو طلاق دے دیتا لیکن ایسا نہیں ہوا، کیونکہ نکاح سے پہلے نہ ڈرنا تو مرزا قادیانی کی تحریر مذکورہ بالا سے بھی ثابت ہے اور نکاح سے بعد نہ ڈرنا محتاجِ دلیل نہیں۔ یومِ نکاح 7 اپریل 1892ء سے 1948ء تک تقریباً 60 سال وہ اس عورت پر قابض و متصرف رہا اور خدا نے اسے اسی محمدی بیگم کے بطن سے مرزا قادیانی کی تحریر کے خلاف ایک درجن کے قریب اولاد بھی بخشی۔ حالانکہ مرزا قادیانی نے لکھا تھا کہ اس سے دوسرے شخص کا نکاح کرنا اس لڑکی کے لیے بابرکت نہ ہوگا۔ پس پیش گوئی کا یہ جزو بھی جھوٹا نکلا۔

محمدی بیگم کا خاوند ایک مرفہ الحال رئیس تھا۔ معقول پنشن لیتا تھا۔ اسے مرزا قادیانی کے خداوندانِ نعمت سے، باوجود ان کے رقیب ہونے کے، مربے بھی عطا ہوئے۔ بعض فرزند بھی معقول روزگار پر تھے۔ غرض یہ نکاح اس کے لیے بہت بابرکت ہوا ہے اور مرزا سلطان محمد، مرزا قادیانی کے الہام ”بستر عیش“ کو غلط ثابت کر رہا تھا۔ لیکن قادیانی نہایت بھولے بن کر یا دنیا بھر کے لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اور ان کو بے عقل جان کر یہی ہانکے جارہے ہیں کہ مرزا سلطان محمد تائب ہو گیا۔ اس لیے وہ بچ گیا۔ جناب! اس کا گناہ کیا تھا اور اس کی توبہ کیا چاہیے تھی؟ کیا اس نے اس گناہ سے توبہ کی؟ اس کا قصور یہی تھا کہ وہ مرزا قادیانی کے ”بستر عیش“ کی خواہش و تمنا کے پورا ہونے میں حائل تھا۔ اگر مرزا قادیانی کی غایت تمنا نکاح نہ تھی تو الہام ”بستر عیش“ کے کیا معنی اور اس کا شانِ نزول اور محلِ وقوع بتایا جائے کہ کیا ہے؟

مرزا قادیانی کو 1888ء سے محمدی بیگم کی چاہت پیدا ہوئی اور اس نے اس قدر تکلیف و محنت، رنج و غم اور صدمے اٹھائے جن کا سلسلہ 19 برس تک چلتا رہا۔ انتھک کوششیں

صفحہ 338

اور لاتعداد الہامات، پیشگوئیاں، اشتہارات، خطوط، قاصد، ناصح، دھمکیاں، عنایات، ترغیبات، تحریصات، نوازشات، روانہ کرنے میں پیہم سعی کی اور چونکہ دل میں تسلی تھی اور اوائل میں یہ وہم و خیال بھی کبھی نہ گزرا تھا کہ یوں ناکامی ہوگی۔ اس لیے وہ قوت مردی کے لیے بیش قیمت مرکبات بھی نوش کرتا رہا جس کے نتیجہ میں اس کی طاقت پورے پچاس مردوں سے بھی بڑھ گئی۔ مگر افسوس! جس کے ارمان میں مرا تھا، وہ محبوب ہاتھ نہ آیا اور قسمت میں بات تک کرنا بھی نصیب نہ ہوا۔ دل کی امنگ کہ ظالم موت نے آ دبوچا اور آنکھیں دیدار کو ترستی ہوئی کھلی کی کھلی رہ گئیں اور وہ راہی ملک عدم ہوا۔

آنکھیں کھلی ہوئی ہیں پس مرگ اس لیے
جانے کوئی کہ طالب دیدار مر گیا

مرزا قادیانی کے دیرینہ ساتھی اور لاہوری قادیانی جماعت کا امیر مولوی محمد علی لاہوری اس پیشگوئی کی نسبت جو رائے رکھتا ہے، وہ قابل دید و شنید ہے۔ وہ لکھتا ہے:

(اخبار پیغام صلح لاہور 21 جنوری 1912 صفحہ 5 کالم 3)

کوئی بھی بات مسیحا تیری پوری نہ ہوئی
نامرادی میں ہوا تیرا آنا جانا

۞........۞........۞

PDF 339

ثبوت حاضر ہیں!

قادیانیوں سے

30

انعامی سوالات

PDF 340
صفحہ 341

جھوٹے مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ اس کی تمام وحیوں، الہامات، پیش گوئیوں، خوابوں، بشارتوں، کشفوں اور تحریروں کو تائید الٰہی حاصل ہے۔ وہ ان کی صداقت پر مسلسل اصرار کرتا اور مخالفین کو متواتر علی الاعلان چیلنج کرتا رہا کہ اگر وہ اس کی کسی ایک بات کو بھی غلط ثابت کر دیں تو انھیں بھاری انعام دیا جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ جب ہم مرزا قادیانی کی عبارتوں کو حق کے ترازو میں تولتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ مرزا قادیانی کی تمام وحیاں، الہامات، پیش گوئیاں، خواب اور تصنیفات سفید اور کالے جھوٹوں کا پلندہ ہیں۔ میں نے مختصر وقت میں مرزا قادیانی کی تحریروں سے صرف 30 انعامی سوالات تیار کیے ہیں۔ ہر سوال کے صحیح جواب پر مبلغ ایک ہزار روپے نقد انعام دیا جائے گا۔ قادیانی، رہتی دنیا تک ان سوالات کے جوابات نہ دے سکیں گے۔ (ان شاء اللہ)! ؎

پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
مرد ناداں پر کلام نرم و نازک بے اثر

اللہ رب العزت نے توفیق اور ہمت دی تو اس طرز پر قادیانیوں سے 500 سوالات پر مشتمل ایک منفرد کتاب تیار کرنے کا پروگرام ہے جس کے مطالعہ سے تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر کام کرنے والے کارکنان، کسی بھی قادیانی مبلغ سے مناظرہ میں اس کی بولتی بند کر دیں گے۔ (ان شاء اللہ)! قارئین کرام سے درخواست ہے کہ اس سلسلہ میں احقر کے لیے خصوصی دعا کریں! شکریہ

(1) پہلا سوال

جھوٹا کون؟؟؟

انبیائے کرام کو سب سے پہلے اپنی وحی پر ایمان ہوتا ہے۔ وہ اس بات کے پابند

صفحہ 342

ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی وحی بلاکم و کاست لوگوں تک پہنچا دیں خواہ انھیں اس ”جرم“ کی پاداش میں بھڑکتی ہوئی آگ یا تختہ دار سے ہمکنار ہونا پڑے۔ مرزا قادیانی کا دعویٰ تھا کہ میں مامور اور مرسل من اللہ ہوں۔ مرزا قادیانی کا کہنا ہے:

(414) ”ہم خدا کے مرسلین اور مامورین کبھی بزدل نہیں ہوا کرتے بلکہ سچے مومن بھی بزدل نہیں ہوتے۔ بزدلی ایمان کی کمزوری کی نشانی ہے۔“

(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 286 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 965 پر)

View Proof

مرزا قادیانی کا یہ بیان سو فیصد درست ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث کیے گئے انبیائے کرام و مرسلین کو ہمہ وقت خدا کی نصرت و تائید ملتی رہتی ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا دنیا کی کسی طاقت سے کبھی مرعوب نہیں ہوتے اور ہمیشہ باطل قوتوں کے سامنے کلمۂ حق بلند کرتے ہیں۔ اس کے برعکس جھوٹے مدعی نبوت مرزا قادیانی کی زندگی کے حالات و واقعات پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ وہ ایک بے حد موقع پرست ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت ڈرپوک، بزدل اور پست ہمت انسان تھا۔ کلمۂ حق کہنا تو بڑی دور کی بات تھی، وہ تو اپنی کہی بات پر بھی قائم نہ رہتا تھا۔ استقامت سے تو گویا مرزا قادیانی کو عداوت تھی۔

مرزا قادیانی کی مجلس میں اسلامی تعلیمات کا مذاق اڑایا جاتا۔ نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں نازیبا کلمات کہے جاتے، دیگر مقدس شخصیات کے خلاف ہرزہ سرائی کی جاتی، بالخصوص حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مریم علیہا السلام کے بارے میں بازاری زبان استعمال کی جاتی۔ علمائے حق کی غیبت اور عیب جوئی کا ناپاک مشغلہ جاری رہتا۔ یہ ساری باتیں ”ملفوظات“ کے نام سے جو 5 جلدوں پر مشتمل ہے، موجود ہیں۔

مرزا قادیانی کی محفل میں انگریز کی وفاداری کا راگ بھی الاپا جاتا۔ مگر ایک دفعہ 1898ء کے زمانہ میں نہایت راز داری کی خاص نشست میں مرزا قادیانی نے اپنے خاص چیلوں سے گفتگو کرتے ہوئے بڑ ہانکی کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ سلطنت برطانیہ سات آٹھ سال تک کمزور ہو جائے گی۔ اس کے کل پرزے بگڑ جائیں گے اور ضعف و اختلال رونما ہوگا۔ قادیانی الہام کے اصل الفاظ یہ تھے:

صفحہ 343

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 650 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 966 پر)

مرزا قادیانی نے چوروں کی طرح اپنے اس الہام کو ہر ممکن طریقے سے چھپا کر رکھا اور دوسرے الہاموں کی طرح اسے شائع کرنے کی جرأت نہ کر سکا۔ اتفاق سے ایک دفعہ اس کا مرید خاص حافظ حامد علی کسی مسئلہ میں مولوی محمد حسین بٹالوی سے مناظرانہ چھیڑ چھاڑ کر رہا تھا کہ دوران گفتگو اس الہام کا بھی تذکرہ کر بیٹھا، حالانکہ یہ ایک سربستہ راز تھا اور مرزا قادیانی نہیں چاہتا تھا کہ اس الہام کی بھنک غیروں کے کان میں پڑے۔ بعد ازاں مولوی محمد حسین بٹالوی نے اس الہامی قادیانی پیش گوئی کا قصہ اپنی ایک مجلس میں چھیڑ دیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ اس الہام کا چرچا ہر جگہ ہونے لگا۔ مرزا قادیانی کو اس بات کا علم ہوا تو بہت پریشان ہوا۔ مارے خوف کے بدن پر لرزہ طاری ہونے لگا۔ آنکھوں میں اندھیرا نظر آنے لگا اور فرط غم میں حواس کھونے لگا۔ چونکہ یہ الہام کسی مطبوعہ تحریر میں نہ آیا تھا، اس لیے مرزا قادیانی نے فیصلہ کیا کہ میں اس الہام سے صاف مکر جاؤں گا، خواہ مجھے ہر طرح کا حلف ہی کیوں نہ دینا پڑے۔ اتنے میں مرزا قادیانی کے کسی مرید نے اسے بتایا کہ مولوی محمد حسین بٹالوی نے اپنے اخبار ”اشاعۃ السنۃ“ میں اس الہام کو شائع کر دیا ہے۔ بس پھر کیا تھا مرزا قادیانی کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ عالم اضطراب میں تلافی و معافی کے لیے ہاتھ پاؤں مارنے لگا کہ کہیں انگریز بہادر ناراض ہو کر اس ”خودکاشتہ پودا“ کی جڑیں نہ اکھاڑ دے۔ لہٰذا فوری طور پر ایک رسالہ ”کشف الغطاء“ لکھ مارا جس کے ٹائٹل پیج پر موٹے قلم سے لکھا:

باادب گذارش!

اس گورنمنٹ عالیہ انگلشیہ کو ہماری طرف سے نیک جزا دے اور اس سے نیکی کر جیسا کہ اس نے ہم سے نیکی کی۔ آمین!

کشف الغطاء یعنی ایک اسلامی فرقہ کے پیشوا مرزا غلام احمد قادیانی کی طرف سے بحضور گورنمنٹ عالیہ اس فرقہ کے حالات اور خیالات کے بارے میں اطلاع اور

صفحہ 344

نیز اپنے خاندان کا کچھ ذکر اور اپنے مشن کے اصولوں اور ہدایتوں اور تعلیموں کا بیان اور نیز ان لوگوں کی خلاف واقعہ باتوں کا رد جو اس فرقہ کی نسبت غلط خیالات پھیلانا چاہتے ہیں اور یہ مؤلف تاج عزت جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کا واسطہ ڈال کر بخدمت گورنمنٹ عالیہ انگلشیہ کے اعلیٰ افسروں اور معزز حکام کے باادب گذارش کرتا ہے کہ براہ غریب پروری و کرم گستری اس رسالہ کو اوّل سے آخر تک پڑھا جائے یا سن لیا جائے۔‘‘

(کشف الغطاء ٹائٹل پیج مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 177 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 967 پر)

اس کے بعد نہایت عاجزی اور انکساری بلکہ اپنے پسندیدہ الفاظ ’’فروتنی اور تذلل‘‘ سے اپنے الہام کا انکار کرتے ہوئے لکھا:

(417)

’’ضمیمہ رسالہ ہذا

قابلِ توجہ گورنمنٹ

مجھے اس رسالہ کے لکھنے کے بعد محمد حسین بٹالوی صاحب ’’اشاعت السنہ‘‘ کا انگریزی میں ایک رسالہ ملا جس کو اس نے مطبع وکٹوریہ پریس لاہور میں چھاپ کر بماہ 14 اکتوبر 1898ء میں شائع کیا ہے۔ اس رسالہ کے دیکھنے سے مجھے بہت افسوس ہوا کیونکہ اس نے اس میں میری نسبت اور نیز اپنے اعتقاد مہدی کے آنے کی نسبت نہایت قابل شرم جھوٹ سے کام لیا ہے اور سراسر افترا سے کوشش کی ہے کہ مجھے گورنمنٹ عالیہ کی نظر میں باغی ٹھہراوے۔ لیکن اس صحیح اور سچے مقولہ کے رُو سے کہ کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں جو آخر ظاہر نہ ہو۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ ہماری زیرک اور روشن دماغ گورنمنٹ جلد معلوم کر لے گی کہ اصل حقیقت کیا ہے۔

اوّل امر جو محمد حسین نے خلاف واقعہ اپنے اس رسالہ میں میری نسبت گورنمنٹ میں پیش کیا ہے، یہ ہے کہ وہ گورنمنٹ عالیہ کو اطلاع دیتا ہے کہ یہ شخص گورنمنٹ عالیہ کے لیے خطرناک ہے یعنی بغاوت کے خیالات دل میں رکھتا ہے۔ لیکن میں زور سے کہتا ہوں کہ اگر میں ایسا ہی ہوں تو اس نمک حرامی اور بغاوت کی زندگی سے اپنے لیے موت کو ترجیح دیتا ہوں۔

صفحہ 345

میں ادب سے توجہ دلاتا ہوں کہ گورنمنٹ عالیہ میری نسبت اور میری تعلیم کی نسبت جہاں تک ممکن ہو کامل تحقیقات کرے اور میری جماعت کے ان معزز عہدہ داروں اور دیسی افسروں اور رئیسوں اور دوسرے معزز اور تعلیم یافتہ لوگوں سے جن کی کئی سو تک تعداد ہے حلفاً دریافت کرے کہ میں نے اس محسن گورنمنٹ کی نسبت کیا کیا ہدایتیں ان کو دی ہیں اور کس کس تاکید سے اس گورنمنٹ کی اطاعت کے لیے وصیتیں کی ہیں اور نیز گورنمنٹ اس مولوی یعنی محمد حسین کی اس شہادت کو غور سے دیکھے جو اس نے اپنی ”اشاعت السنہ“ میں جس کا ذکر اس رسالہ میں ہو چکا ہے، میری کتاب ”براہین احمدیہ“ کے ریویو کی تقریب پر میرے خیالات اور میرے والد صاحب مرزا غلام مرتضیٰ کے خیالات کی نسبت جو گورنمنٹ انگریزی کے متعلق ہیں، اپنے ہاتھ سے لکھی ہے۔ اور نیز میری ان تحریروں کو جو برابر انیس سال سے گورنمنٹ عالیہ کی تائید میں شائع ہورہی ہیں غور سے ملاحظہ فرماوے اور ہر ایک پہلو سے میری نسبت تحقیقات کرے۔ پھر اگر میرے حالات گورنمنٹ کی نظر میں مشتبہ ہوں تو میں بدل چاہتا ہوں کہ گورنمنٹ سخت سے سخت سزا مجھ کو دے دے لیکن اگر میرے اصل حالات کے برخلاف یہ تمام رپورٹیں گورنمنٹ میں محمد حسین مذکور نے پہنچائی ہیں تو میں ایک وفادار اور خیر خواہ جاں نثار رعیت ہونے کی وجہ سے گورنمنٹ عالیہ میں بتمامتر ادب دادخواہ ہوں کہ محمد حسین سے مطالبہ ہو کہ کیوں اس نے ان صحیح واقعات کے برخلاف گورنمنٹ کو خبر دی، جن کو وہ اپنے ریویو براہین احمدیہ میں تسلیم کر چکا ہے۔ یہاں تک کہ اس نے بارہ سال تک برابر اس پہلی رائے کے برخلاف کوئی رائے ظاہر نہ کی اور اب دشمنی کے ایام میں مجھے باغی قرار دیتا ہے حالانکہ میں نے اس محسن گورنمنٹ کی خیر خواہی میں انیس سال تک اپنے قلم سے وہ کام لیا ہے اور ایسے طور سے ممالک دور دراز تک گورنمنٹ کی انصاف بخشی کی تعریفوں کو پہنچایا ہے کہ میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ اس کارروائی کی نظیر دوسروں کے کارناموں میں ہرگز نہیں ملے گی۔ میرے پاس وہ الفاظ نہیں جن سے میں اپنی عاجزانہ عرض گورنمنٹ پر ظاہر کروں کہ مجھے اس شخص کے ان خلاف واقعہ کلمات سے کس قدر صدمہ پہنچا ہے اور کیسے درد رسان زخم لگے ہیں۔ افسوس کہ اس شخص نے عمداً اور دانستہ گورنمنٹ کی خدمت میں میری نسبت نہایت ظلم سے بھرا ہوا جھوٹ بولا ہے۔ اور میری تمام خدمات کو برباد کرنا چاہا ہے۔ اس دعوے کی میرے پاس پختہ وجوہات اور کامل شہادتیں اور گواہ موجود ہیں۔ میں امید رکھتا ہوں کہ بوجہ اس کے کہ میں ایک وفادار خاندان میں سے ہوں،

صفحہ 346

جنھوں نے اپنے مال سے اور جان سے گورنمنٹ پر اپنی اطاعت ثابت کی ہے۔ میری اس دردناک فریاد کو یہ محسن گورنمنٹ غور سے توجہ فرمائے گی اور جھوٹ بولنے والے کو تنبیہ کرے گی۔ دوسرا امر جو اسی رسالہ میں محمد حسین نے لکھا ہے، وہ یہ ہے کہ گویا میں نے کوئی الہام اس مضمون کا شائع کیا ہے کہ گورنمنٹ عالیہ کی سلطنت آٹھ سال کے عرصہ میں تباہ ہو جائے گی۔ میں اس بہتان کا جواب بجز اس کے کیا لکھوں کہ خدا جھوٹے کو تباہ کرے۔ میں نے ایسا الہام ہرگز شائع نہیں کیا۔ میری تمام کتابیں گورنمنٹ کے سامنے موجود ہیں۔ میں بادب گذارش کرتا ہوں کہ گورنمنٹ اس شخص سے مطالبہ کرے کہ کس کتاب یا خط یا اشتہار میں میں نے ایسا الہام شائع کیا ہے؟ اور میں امید رکھتا ہوں کہ گورنمنٹ عالیہ اس کے اس فریب سے خبردار رہے گی کہ یہ شخص اپنے اس جھوٹے بیان کی تائید کے لیے یہ تدبیر نہ کرے کہ اپنی جماعت اور اپنے گروہ میں سے ہی جو مجھ سے اختلاف مذہب کی وجہ سے دلی عناد رکھتے ہیں جھوٹے بیان بطور شہادت گورنمنٹ تک پہنچاوے۔ اس شخص اور اس کے ہم خیال لوگوں کی میرے ساتھ کچھ آمد و رفت اور ملاقات نہیں تا میں نے ان کو کچھ زبانی کہا ہو۔ میں جو کچھ کہنا چاہتا ہوں، اپنی کتابوں میں اور اشتہاروں میں شائع کرتا ہوں اور میرے خیالات اور میرے الہامات معلوم کرنے کے لیے میری کتابیں اور اشتہارات متکفل ہیں اور میری جماعت کے معززین گواہ ہیں۔ غرض میں بادب التماس کرتا ہوں کہ ہماری گورنمنٹ عالیہ اس خلاف واقعہ مخبری کا اس شخص سے مطالبہ کرے۔ کپتان ڈگلس صاحب سابق ڈپٹی کمشنر ضلع گورداسپور مقدمہ ڈاکٹر کلارک میں جو میرے پر دائر ہوا تھا لکھ چکے ہیں کہ یہ شخص مجھ سے عداوت رکھتا ہے اسی لیے جھوٹ بولنے سے کچھ بھی پرہیز نہیں کرتا۔‘‘

(کشف الغطاء صفحہ 38 تا 40 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 214 تا 216 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 968 تا 970 پر)

؎ ہائے اُس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

محترم قارئین! آپ نے ملاحظہ کیا کہ مرزا قادیانی نے کس طرح حقیقت حال پر پردہ ڈال کر سچ کو جھوٹ بنانے کی کوشش کی ۔ کیا کوئی نیک آدمی اس طرح حق پوشی کا ارتکاب کر سکتا ہے؟ چہ جائیکہ ایسا شخص جو مجدد وقت اور مسیح موعود کا دعوی دار ہو۔ مذکورہ بالا عبارت

صفحہ 347

میں مرزا قادیانی نے اپنے ”ہشت سالہ الہام“ سے نہ صرف انکار کیا بلکہ اس کے ناقل کو دروغ گو قرار دیا۔ حالانکہ مرزا قادیانی نے اپنی خاص مجلس میں اس الہام کا ذکر کیا تھا۔ مولوی محمد حسین بٹالوی کے پاس کوئی تحریری شہادت موجود نہ تھی، اس لیے وہ بھی خاموش ہو گئے۔ شیطان کے کان کاٹنے والے مرزا قادیانی نے انگریز بہادر کے سامنے اپنے کان پکڑے اور یقین دلایا کہ وہ ایسا کہنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ دشمنوں نے مجھ پر افترا پردازی کی ہے۔ اس پر حکومت نے مرزا قادیانی کے بیان پر یقین کر لیا اور عام لوگوں کو محمد حسین بٹالوی کی غلط بیانی کا یقین ہو گیا۔

مرزا قادیانی کے اس تاریخی جھوٹ پر عرصہ 25 سال تک پردہ پڑا رہا۔ مگر صاحبانِ علم و دانش کا کہنا ہے کہ ”کمان سے نکلا ہوا تیر اور زبان سے کہے ہوئے الفاظ واپس نہیں ہوتے۔“ محفل میں کہی ہوئی بات کو چھپانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ مذکورہ الہام کے سلسلہ میں بھی ایسا ہی ہوا کہ مرزا قادیانی نے اس سے انکار کر دیا اور دعا کی کہ جھوٹے کو خدا تباہ کرے۔ مگر مرزا قادیانی کی موت کے بعد اس کے منجھلے بیٹے مرزا بشیر احمد ایم اے نے تسلیم کیا کہ ”حضرت صاحب“ کو واقعی یہ الہام ہوا تھا۔ مرزا بشیر احمد لکھتا ہے:

(418) ”بیان کیا ہم سے حاجی عبدالمجید صاحب نے کہ ایک دفعہ جب ’ازالہ اوہام‘ شائع ہوئی ہے، حضرت صاحب لدھیانہ میں باہر چہل قدمی کے لیے تشریف لے گئے۔ میں اور حافظ حامد علی ساتھ تھے۔ راستہ میں حافظ حامد علی نے مجھ سے کہا کہ آج رات یا کہا ان دنوں میں حضرت صاحب کو الہام ہوا ہے کہ ”سلطنت برطانیہ تا ہشت سال۔ بعد ازاں ایام ضعف و اختلال۔“ خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس مجلس میں جس میں حاجی عبدالمجید صاحب نے یہ روایت بیان کی میاں عبداللہ صاحب سنوری نے بیان کیا کہ میرے خیال میں یہ الہام اس زمانہ سے بھی پرانا ہے۔ حضرت صاحب نے خود مجھے اور حافظ حامد علی کو یہ الہام سنایا تھا اور مجھے الہام اس طرح پر یاد ہے۔ ”سلطنت برطانیہ تا ہفت سال۔ بعد ازاں باشد خلاف و اختلال۔“ میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے تھے کہ دوسرا مصرع تو مجھے پتھر کی لکیر کی طرح یاد ہے کہ یہی تھا اور ہفت کا لفظ بھی یاد ہے۔ جب یہ الہام ہمیں حضرت صاحب نے

صفحہ 348

سنایا تو اس وقت مولوی محمد حسین بٹالوی مخالف نہیں تھا۔ شیخ حامد علی نے اسے بھی جا سنایا۔ پھر جب وہ مخالف ہوا تو اس نے حضرت صاحب کے خلاف گورنمنٹ کو بدظن کرنے کے لیے اپنے رسالہ میں شائع کیا کہ مرزا صاحب نے یہ الہام شائع کیا ہے۔

خاکسار عرض کرتا ہے کہ میاں عبداللہ صاحب اور حاجی عبدالمجید صاحب کی روایت میں جو اختلاف ہے، وہ اگر کسی صاحب کے ضعف حافظہ پر مبنی نہیں تو یہ بھی ممکن ہے کہ یہ الہام حضور کو دو وقتوں میں دو مختلف قرأتوں پر ہوا ہو۔ واللہ اعلم! نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس الہام کے مختلف معنی کیے گئے ہیں۔ بعضوں نے تاریخ الہام سے میعاد شمار کی ہے۔ بعضوں نے کہا ہے کہ ملکہ وکٹوریہ کی وفات کے بعد سے اس کی میعاد شمار ہوتی ہے کیونکہ ملکہ کے لیے حضور نے بہت دعائیں کی تھیں۔...... خاکسار عرض کرتا ہے کہ میرے نزدیک یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ حضرت صاحب کی وفات سے اس کی میعاد شمار کی جاوے۔ کیونکہ حضرت صاحب نے اپنی ذات کو گورنمنٹ برطانیہ کے لیے بطور حرز کے بیان کیا ہے۔ پس حرز کی موجودگی میں میعاد کا شمار کرنا میرے خیال میں درست نہیں۔ اس طرح جنگ عظیم کی ابتدا اور ہفت یا ہشت سالہ میعاد کا اختتام آپس میں مل جاتے ہیں۔ واللہ اعلم! خاکسار عرض کرتا ہے کہ گورنمنٹ برطانیہ کے ہم لوگوں پر بڑے احسانات ہیں۔ ہمیں دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اسے فتنوں سے محفوظ رکھے۔“

(سیرت المہدی جلد اول صفحہ 76,75 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 972,971 پر)

View Proof

مرزا بشیر احمد کے علاوہ قادیانیوں کے دوسرے خلیفہ مرزا محمود نے بھی گواہی دی کہ اس کے باپ مرزا قادیانی کو سلطنت برطانیہ والا الہام ہوا تھا۔ ملاحظہ فرمائیں:

خبر دے دی:

”سلطنتِ برطانیہ تا ہشت سال ...... بعد ازاں ضعف و فساد و اختلال“ اور یہ آٹھ سال جا کر ملکہ وکٹوریہ کی وفات پر پورے ہو گئے۔“

(الفضل جلد 16 نمبر 78 مورخہ 5 اپریل 1929ء صفحہ 5)

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 650 طبع چہارم، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 975 پر)

View Proof

صفحہ 349

(419) حافظ حامد علی صاحب نے مجھ سے کہا کہ..... ان دنوں میں حضرت صاحب کو الہام ہوا ہے: ”سلطنت برطانیہ تاہشت سال...... بعد ازاں ایام ضعف و اختلال“

(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 75 از مرزا بشیر احمد) (عکس صفحہ نمبر 973 پر)

View Proof

میاں عبداللہ صاحب سنوری نے بیان کیا کہ: (420) ”مجھے (یہ) الہام اِس طرح پر یاد ہے: ”سلطنت برطانیہ تاہفت سال...... بعدازاں باشد خلاف و اختلال“

(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 75 از مرزا بشیر احمد) (عکس صفحہ نمبر 974 پر)

View Proof

صاحبزادہ پیر سراج الحق صاحب نعمانی نے بیان کیا: (421) ”میں نے حضرت سے یہ الہام اس طرح پر سُنا ہے: ”قوتِ برطانیہ تا ہشت سال...... بعد ازاں ایام ضعف و اختلال“

(سیرت المہدی جلد دوم صفحہ 9 روایت نمبر 314)

(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات طبع چہارم صفحہ 651 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ

نمبر 976,975 پر)

View Proof

مرزا قادیانی نے رسالہ ”کشف الغطاء“ میں مولوی محمد حسین بٹالوی کی نسبت یہ بھی لکھا تھا: (422) ”ایسے منافق پر کیوں اعتبار کیا جاتا ہے کہ جو گورنمنٹ کو کچھ کہتا ہے اور مسلمانوں کے کانوں میں کچھ پھونکتا ہے۔“

(کشف الغطاء صفحہ 49 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 225 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 977 پر)

View Proof

مزید لکھا: (423) ”جبکہ یہ فاش جھوٹ اس نے اختیار کیا ہے تو کیونکر اطمینان ہو کہ جو دوسری باتیں

صفحہ 350

گورنمنٹ تک پہنچاتا ہے، اس میں سچ ہوتا ہے۔“

(کشف الغطاء صفحہ 45 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 221 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 978 پر)

View Proof

اپنی وحی پر یقین

(424) ”ہم کو تو خدا تعالیٰ کے اس کلام پر جو ہم پر وحی کے ذریعہ نازل ہوتا ہے۔ اس قدر یقین اور علیٰ وجہ البصیرۃ یقین ہے کہ بیت اللہ میں کھڑا کر کے جس قسم کی چاہو تم قسم دیدو بلکہ میرا تو یقین یہاں تک ہے کہ اگر میں اس بات کا انکار کروں۔ یا وہم بھی کروں کہ یہ خدا کی طرف سے نہیں تو معا کافر ہو جاؤں۔“

(ملفوظات جلد اول صفحہ 400 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 979 پر)

View Proof

قارئین کرام! اب میرا قادیانیوں سے سوال ہے کہ وہ بتائیں کہ اس تحریر کی رو سے منافق اور جھوٹا مرزا قادیانی ہے یا مولانا محمد حسین بٹالوی؟؟؟ اور دوسرا سوال یہ ہے کہ باپ اپنے الہام سے منکر ہے اور اس کا بیٹا کہتا ہے کہ الہام واقعی ہوا تھا۔ ذرا سوچ کر بتائیے کہ جھوٹا کون ہے؟ باپ یا بیٹا؟؟؟

(2) دوسرا سوال

قرآن نے میرا نام ابن مریم رکھا

مرزا قادیانی اپنی کتاب میں لکھتا ہے:

(425) ”اگر میں صاحب معجزہ نہیں تو جھوٹا ہوں۔ اگر قرآن سے ابن مریم کی وفات ثابت نہیں تو میں جھوٹا ہوں۔ اگر حدیث معراج نے ابن مریم کو مردہ روحوں میں نہیں بٹھا دیا تو میں جھوٹا ہوں۔ اگر قرآن نے سورۂ نور میں نہیں کہا کہ اس امت کے خلیفے اسی امت میں سے ہوں گے تو میں جھوٹا ہوں۔ اگر قرآن نے میرا نام ابن مریم نہیں رکھا تو میں جھوٹا ہوں۔“

(تحفۃ الندوہ صفحہ 5 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 97، 98 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 980، 981 پر)

View Proof

صفحہ 351

مرزا قادیانی کے حالات زندگی پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ اس کی والدہ کا نام مریم نہیں بلکہ چراغ بی بی تھا۔ قادیانیوں سے سوال ہے کہ وہ قرآن مجید کی اس آیت کی نشاندہی کریں جس میں اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کو ابن مریم کہا ہو؟؟؟

مرزا قادیانی کا جھوٹ کے بارے میں کہنا ہے:

اعتبار نہیں رہتا۔“

(چشمہ معرفت صفحہ 222 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 231 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 982 پر)

View Proof

(تحفہ گولڑویہ ضمیمہ صفحہ 20 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 56 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 983 پر)

View Proof

(شحنہ حق صفحہ 60 مندرجہ روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 386 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 984 پر)

View Proof

(حقیقۃ الوحی صفحہ 206 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 215 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 985 پر)

View Proof

صفحہ 352

(3) تیسرا سوال

جہاد، خدا کے حکم سے بند

جہاد کی ممانعت کے بارے مرزا قادیانی نے کہا:

(430) ”آج سے انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا تھا، خدا کے حکم کے ساتھ بند کیا گیا۔“

(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 408 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 986 پر)

قادیانیوں سے سوال ہے کہ وہ خدا کے اس حکم کی نشاندہی فرما دیں کہ جس سے وہ انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا تھا، خدا کے حکم سے بند ہو گیا؟؟؟

محکوم کے الہام سے اللہ بچائے
غارت گر اقوام ہے وہ صورت چنگیز

(4) چوتھا سوال

بیوہ کا نام

مرزا قادیانی اپنی کتاب میں لکھتا ہے:

(431) ”تخمیناً اٹھارہ برس کے قریب عرصہ گزرا ہے کہ مجھے کسی تقریب سے مولوی محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر رسالہ ”اشاعۃ السنۃ“ کے مکان پر جانے کا اتفاق ہوا۔ اس نے مجھ سے دریافت کیا کہ آج کل کوئی الہام ہوا ہے؟ میں نے اس کو یہ الہام سنایا جس کو میں کئی دفعہ اپنے مخلصوں کو سنا چکا تھا اور وہ یہ ہے کہ بکر و ثیب جس کے یہ معنی ان کے آگے اور نیز ہر ایک کے آگے میں نے ظاہر کیے کہ خدا تعالیٰ کا ارادہ ہے کہ وہ دو عورتیں میرے نکاح میں لائے گا۔ ایک بکر ہوگی اور دوسری بیوہ۔ چنانچہ یہ الہام جو بکر کے متعلق تھا پورا ہو گیا۔ اور اس وقت بفضلہ تعالیٰ چار پسر اس بیوی سے موجود ہیں اور بیوہ کے الہام کی انتظار ہے۔“

(تریاق القلوب صفحہ 73 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 201 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 987 پر)

پیش گوئی بتا رہی ہے کہ مرزا قادیانی کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت دی گئی اور

صفحہ 353

اس سے وعدہ کیا گیا کہ ”اللہ تعالیٰ دو عورتیں تیرے نکاح میں لائے گا، ایک کنواری اور دوسری بیوہ۔“ بقول مرزا قادیانی کنواری کا الہام نصرت جہاں بیگم سے پورا ہو گیا۔ بیوہ کے نکاح کا انتظار ہے۔“ لیکن مرزا قادیانی کا تاعمر کسی بیوہ سے نکاح نہیں ہوا اور وہ اس کی حسرت لیے دنیا سے کوچ کر گیا۔

قادیانیوں سے سوال ہے کہ وہ اس بیوہ کا نام بتائیں جو مرزا قادیانی کے نکاح میں آئی؟؟؟

(5) پانچواں سوال

پچاس الماریاں

مرزا قادیانی کا کہنا ہے:

(432) ”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کیے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچا دیا ہے۔ میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیر خواہ ہو جائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں، ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔“

(تریاق القلوب صفحہ 27، 28 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 155، 156 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 989,988 پر)

View Proof

(433) ”میں نے چالیس کتابیں تالیف کی ہیں اور ساٹھ ہزار کے قریب اپنے دعویٰ کے ثبوت کے متعلق اشتہارات شائع کیے ہیں، وہ سب میری طرف سے بطور چھوٹے چھوٹے رسالوں کے ہیں۔“

(اربعین 3 صفحہ 35 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 418 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 990 پر)

View Proof

صفحہ 354

مرزا قادیانی کی 100 کے قریب کتب ہیں۔ جس میں اس نے اپنی ذات اور اپنے آباؤ اجداد کی تعریف میں کم و بیش نصف سے زیادہ صفحات سیاہ کر دیے ہیں اور بقیہ حصہ میں گورنمنٹ برطانیہ کی تعریف، حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر بازاری جملے، توہین انبیائے کرام، دجال کے من گھڑت قصے، بزرگان دین کے اقوال میں تحریف، مخالفین کو گالیاں، غیر مذاہب پر اوباشانہ حملے اور اپنی نام نہاد وحی و الہامات پر خرچ کیے۔ مرزا قادیانی کی ان تمام تصانیف کے لیے ایک عام الماری کا 1/4 حصہ کافی ہے۔ مگر ”سلطان القلم“ کا دعویٰ ہے کہ اس نے انگریز کی اطاعت اور ممانعت جہاد کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں کہ اس سے 50 الماریاں بھر سکتی ہیں۔ ہمارا دنیا کے تمام قادیانیوں کو چیلنج ہے کہ وہ ہمیں مرزا قادیانی کی پچاس الماریوں پر مشتمل کتابوں کی فہرست فراہم کریں، ہم انہیں منہ بولا انعام دیں گے۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ قیامت تک کوئی قادیانی ہمارا یہ چیلنج قبول کرنے کی جرأت نہ کر سکے گا۔ مرزا قادیانی کے اس جھوٹ کو سچ ثابت کرنا کسی قادیانی کے بس میں نہیں۔ قادیانیوں کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے!

(6) چھٹا سوال

قرآن شریف میں قادیان کا ذکر

مرزا قادیانی بڑے وثوق کے ساتھ کہتا ہے:

(434) ”اس روز کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب مرحوم مرزا غلام قادر میرے قریب بیٹھ کر بآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انھوں نے ان فقرات کو پڑھا کہ انا انزلنہ قریباً من القادیان تو میں نے سن کر بہت تعجب کیا کہ کیا قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے؟ تب انھوں نے کہا کہ یہ دیکھو، لکھا ہوا ہے۔ تب میں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ پر شاید قریب نصف کے موقع پر یہی الہامی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے۔ تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے اور میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے۔ مکہ اور مدینہ اور قادیان۔“

(ازالہ اوہام [حاشیہ] حصہ اوّل صفحہ 40 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 140 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 991 پر)

View Proof

صفحہ 355

قادیانیوں سے سوال ہے کہ مرزا قادیانی کی مذکورہ بالا تحریر سے قرآن مجید میں اس آیت کی نشاندہی کریں جس میں قادیان کا لفظ آیا ہے؟؟؟

(7) ساتواں سوال

مسلمانوں کی جاسوسی

1857ء کی جنگ آزادی کے بعد مسلمانوں میں یہ بحث چھڑ گئی چونکہ مسلمانوں کی اسلامی حکومت ختم ہو گئی ہے اور ہندوستان پر انگریز قابض ہو گیا ہے، اب شرعی لحاظ سے ہندوستان کی حیثیت کیا ہے؟ دارالحرب یا دارالسلام۔ اگر دارالحرب ہے تو اب مسلمانوں پر (شرائط نماز جمعہ پوری نہ ہونے کی وجہ سے) نماز جمعہ فرض نہ رہا اور اگر دارالسلام ہے تو نماز جمعہ کی فرضیت بدستور قائم ہے۔ یہ بحث کچھ عرصہ چلتی رہی۔ بعد ازاں یہ قرار پایا کہ نماز جمعہ بھی ادا کیا جائے اور نماز ظہر بھی پوری پڑھی جائے۔ بعض لوگوں نے جمعہ کے روز نماز ظہر کو ترک کر دیا تھا اور بعض لوگ صرف نماز ظہر پڑھتے تھے۔ جن لوگوں کی یہ رائے تھی کہ ہندوستان کے دارالحرب ہونے کی وجہ سے نماز جمعہ اب فرض نہیں رہی اور صرف نماز ظہر ہی پڑھنی چاہیے، انگریز بہادر کے نزدیک ایسے تمام مسلمان حکومت کے باغی تھے۔ انگریز کے محکمہ جاسوسی کا فرض تھا کہ ایسے لوگوں پر گہری نظر رکھے تاکہ مستقبل میں وہ اکٹھے اور منظم ہو کر حکومت کے لیے کوئی مشکلات پیدا نہ کریں۔ حکومت کے ایسے باغیوں کی نشاندہی کے لیے مرزا قادیانی نے یہ ڈیوٹی اپنے ذمہ لی۔ اس سلسلہ میں اس نے ایک اشتہار شائع کیا جس میں گورنمنٹ برطانیہ کو اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ مسلمان حکومت کے ساتھ باغیانہ رویہ رکھتے ہیں۔ اس کی شناخت یہ ہے کہ جو لوگ نماز جمعہ نہیں پڑھتے، وہ سرکاری باغی اور ”دہشت گرد“ سمجھے جائیں۔ اس ”نیک“ کام کے لیے مرزا قادیانی نے باقاعدہ ایک گوشوارہ تیار کر کے ہندوستان بھر میں اپنے تمام مریدوں میں تقسیم کیا اور حکم دیا کہ وہ اس گوشوارہ میں ایسے تمام مسلمانوں کے کوائف درج کر کے قادیان بھجوائیں جو اپنے اپنے علاقوں میں نماز جمعہ کے لیے مسجد نہیں آتے تاکہ باغیوں کے یہ نام انگریز بہادر کی خدمت میں پیش کر کے وہ اس کی بارگاہ

صفحہ 356

میں سرخرو ہوسکے۔ اب آپ اس اشتہار کی عبارت ملاحظہ فرمائیں جو مسلمانوں کی جاسوسی کی غرض سے مرزا قادیانی نے شائع کر کے اپنے مریدوں میں تقسیم کیا۔

(435) ”قابل توجہ گورنمنٹ از طرف مہتمم کاروبار تجویز تعطیل جمعہ

میرزا غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور پنجاب

چونکہ قرین مصلحت ہے کہ سرکار انگریزی کی خیر خواہی کے لیے ایسے نافہم مسلمانوں کے نام بھی نقشہ جات میں درج کیے جائیں جو درپردہ اپنے دلوں میں برٹش انڈیا کو دارالحرب قرار دیتے ہیں اور ایک چھپی ہوئی بغاوت کو اپنے دلوں میں رکھ کر اسی اندرونی بیماری کی وجہ سے فرضیت جمعہ سے منکر ہو کر اس کی تعطیل سے گریز کرتے ہیں۔ لہٰذا یہ نقشہ اسی غرض کے لیے تجویز کیا گیا کہ تا اس میں اُن ناحق شناس لوگوں کے نام محفوظ رہیں کہ جو ایسے باغیانہ سرشت کے آدمی ہیں۔ اگرچہ گورنمنٹ کی خوش قسمتی سے برٹش انڈیا میں مسلمانوں میں ایسے آدمی بہت ہی تھوڑے ہیں جو ایسے مفسدانہ عقیدہ کو اپنے دل میں پوشیدہ رکھتے ہوں۔ لیکن چونکہ اس امتحان کے وقت بڑی آسانی سے ایسے لوگ معلوم ہو سکتے ہیں، جن کے نہایت مخفی ارادے گورنمنٹ کے برخلاف ہیں۔ اس لیے ہم نے اپنی محسن گورنمنٹ کی پولیٹیکل خیر خواہی کی نیت سے اس مبارک تقریب پر یہ چاہا کہ جہاں تک ممکن ہو ان شریر لوگوں کے نام ضبط کیے جائیں جو اپنے عقیدہ سے اپنی مفسدانہ حالت کو ثابت کرتے ہیں کیونکہ جمعہ کی تعطیل کی تقریر پر ان لوگوں کا شناخت کرنا ایسا آسان ہے کہ اس کی مانند ہمارے ہاتھ میں کوئی بھی ذریعہ نہیں۔ وجہ یہ کہ جو ایک ایسا شخص ہو جو اپنی نادانی اور جہالت سے برٹش انڈیا کو دارالحرب قرار دیتا ہے، وہ جمعہ کی فرضیت سے ضرور منکر ہوگا اور اسی علامت سے شناخت کیا جائے گا کہ وہ درحقیقت اس عقیدہ کا آدمی ہے۔ لیکن ہم گورنمنٹ میں باادب اطلاع کرتے ہیں کہ ایسے نقشے ایک پولیٹیکل راز کی طرح اُس وقت تک ہمارے پاس محفوظ رہیں گے جب تک گورنمنٹ ہم سے طلب کرے۔ اور ہم امید رکھتے ہیں کہ ہماری گورنمنٹ حکیم مزاج بھی ان نقشوں کو ایک ملکی راز کی طرح اپنے کسی دفتر میں محفوظ رکھے گی اور بالفعل یہ نقشے جن میں ایسے

صفحہ 357

لوگوں کے نام مندرج ہیں گورنمنٹ میں نہیں بھیجے جائیں گے۔ صرف اطلاع دہی کے طور پر ان میں سے ایک سادہ نقشہ چھپا ہوا جس پر کوئی نام درج نہیں فقط یہی مضمون درج ہے ہمراہ درخواست بھیجا جاتا ہے اور ایسے لوگوں کے نام معہ پتہ و نشان یہ ہیں:“

نمبر شمار نام معہ لقب و عہدہ سکونت ضلع کیفیت

(مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 555 تا 557 طبع جدید از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 992 تا 994 پر)

آنجہانی مرزا قادیانی مسلمانوں کے خلاف انگریز کے لیے جاسوسی کا کام ”مفت“ نہیں کرتا تھا بلکہ وہ ان خدمات کے لیے بھاری معاوضہ حاصل کرتا تھا۔ اس سلسلہ میں مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد ایم اے اپنی کتاب ”سیرۃ المہدی“ میں لکھتا ہے: View Proof

صفحہ 358

پُراسرار منی آرڈر

(436) ”مرزا دین محمد صاحب ساکن لنگروال ضلع گورداسپور نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے صبح کے قریب جگایا اور فرمایا کہ مجھے ایک خواب آیا ہے۔ میں نے پوچھا کیا خواب ہے؟ فرمایا: میں نے دیکھا ہے کہ میرے تخت پوش کے چاروں طرف نمک چنا ہوا ہے۔ میں نے تعبیر پوچھی تو کتاب دیکھ کر فرمایا کہ کہیں سے بہت سا روپیہ آئے گا۔ اس کے بعد میں چار دن یہاں رہا۔ میرے سامنے ایک منی آرڈر آیا، جس میں ہزار سے زائد روپیہ تھا۔ مجھے اصل رقم یاد نہیں۔ جب مجھے خواب سنائی تو ملاوامل اور شرن پت کو بھی بلا کر سنائی۔ جب منی آرڈر آیا تو ملاوامل و شرن پت کو بلایا اور فرمایا کہ لو بھئی یہ منی آرڈر آیا ہے، جا کر ڈاکخانہ سے لے آؤ۔ ہم نے دیکھا تو منی آرڈر بھیجنے والا کا پتہ اس پر درج نہیں تھا۔ حضرت صاحب کو بھی پتہ نہیں لگا کہ کس نے بھیجا ہے۔“

(سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 102,101 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 996,995 پر)

مرزا بشیر احمد کی مذکورہ روایت کے مطابق مرزا قادیانی کو ایک ہزار روپے سے زائد کا منی آرڈر موصول ہوا۔ اگر اسے ہزار روپے بھی سمجھ لیا جائے تو آج کے تقریباً 64 لاکھ روپے بنتے ہیں۔ میں نے یہ حساب اس طرح لگایا ہے کہ مرزا بشیر احمد ایم اے کے مطابق اس زمانے میں ایک روپیہ کا سولہ کلو گوشت آتا تھا۔ (سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 182 از مرزا بشیر احمد ایم اے) آج کل گوشت 400 روپے فی کلو ہے۔ اس حساب سے سولہ کلو گوشت 6 ہزار 4 سو روپے مالیت کا بنتا ہے اور 6 ہزار 4 سو کو ایک ہزار سے ضرب دی جائے تو 64 لاکھ بنتا ہے۔ اس دور میں انگریز کے علاوہ ایسا کون سخی تھا جو مرزا قادیانی کو اس کی ”خصوصی خدمات“ کے عوض 64 لاکھ روپے دے اور اپنا نام بھی پوشیدہ رکھے؟

قادیانیوں سے سوال ہے کہ وہ بتائیں کہ رقم بھیجنے والا کون تھا اور اس نے یہ رقم کس مقصد کے لیے بھیجی؟؟؟

صفحہ 359

(8) آٹھواں سوال

بخاری شریف میں

مرزا قادیانی اپنی کتاب میں لکھتا ہے:

(437) ’’صحیح بخاری کی وہ حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی ہے، خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کی نسبت آواز آئے گی کہ ھذا خلیفۃ اللہ المہدی اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے جو ایسی کتاب میں درج ہے جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے۔‘‘

(شہادت القرآن صفحہ 41 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 337 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 997 پر)

قادیانیوں سے سوال ہے کہ وہ بتائیں کہ مذکورہ بالا حدیث بخاری شریف کی کونسی جلد کے کس صفحہ پر درج ہے؟؟؟

View Proof

(9) نواں سوال

کنجریوں کی اولاد

مرزا قادیانی اپنی کتاب میں لکھتا ہے:

(438) ’’تلک کتب ینظر الیھا کل مسلم بعین المحبۃ والمودۃ و ینتفع من معارفھا و یقبلنی و یصدق دعوتی۔ الا ذریۃ البغایا الذین ختم اللہ علی قلوبھم فھم لا یقبلون۔‘‘

ترجمہ ’’میری ان کتابوں کو ہر مسلمان محبت کی نظر سے دیکھتا ہے اور اس کے معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے اور اسے قبول کرتا ہے مگر کنجریوں (بدکار عورتوں) کی اولاد نے میری تصدیق نہیں کی۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 547، 548 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 547، 548 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 999,998 پر)

View Proof

صفحہ 360

مرزا قادیانی کے پہلے دونوں بیٹوں مرزا فضل احمد اور مرزا سلطان احمد نے ہمیشہ اپنے باپ کی مخالفت کی۔ وہ جانتے تھے کہ ان کا باپ جعلی نبوت کا دھندا کرتا ہے اور نبوت کا دعویٰ کرنے کے باوجود اپنی پہلی بیوی حرمت بی بی کے شرعی حقوق پورے نہیں کرتا۔ مرزا قادیانی اور ان کے بیٹوں کی مخالفت کے بارے میں مرزا بشیر احمد ایم اے اپنی والدہ کے حوالہ سے لکھتا ہے:

(439) "بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب محمدی بیگم کی شادی دوسری جگہ ہو گئی اور قادیان کے تمام رشتہ داروں نے حضرت صاحب کی سخت مخالفت کی اور خلاف کوشش کرتے رہے اور سب نے احمد بیگ والد محمدی بیگم کا ساتھ دیا اور خود کوشش کر کے لڑکی کی شادی دوسری جگہ کرا دی تو حضرت صاحب نے مرزا سلطان احمد اور مرزا فضل احمد دونوں کو الگ الگ خط لکھا کہ ان سب لوگوں نے میری سخت مخالفت کی ہے۔ اب ان کے ساتھ ہمارا کوئی تعلق نہیں رہا۔ اور ان کے ساتھ اب ہماری قبریں بھی اکٹھی نہیں ہو سکتیں لہذا اب تم اپنا آخری فیصلہ کرو۔ اگر تم نے میرے ساتھ تعلق رکھنا ہے تو پھر ان سے قطع تعلق کرنا ہوگا اور اگر ان سے تعلق رکھنا ہے تو پھر میرے ساتھ تمہارا کوئی تعلق نہیں رہ سکتا۔ میں اس صورت میں تم کو عاق کرتا ہوں۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ مرزا سلطان احمد کا جواب آیا کہ مجھ پر تائی صاحبہ کے احسانات ہیں۔ ان سے قطع تعلق نہیں کر سکتا۔ مگر مرزا فضل احمد نے لکھا کہ میرا تو آپ کے ساتھ ہی تعلق ہے، ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ حضرت صاحب نے مرزا فضل احمد کو جواب دیا کہ اگر یہ درست ہے تو اپنی بیوی بنت مرزا علی شیر کو (جو سخت مخالف تھی اور مرزا احمد بیگ کی بھانجی تھی) طلاق دے دو۔ مرزا فضل احمد نے فوراً طلاق نامہ لکھ کر حضرت صاحب کے پاس روانہ کر دیا۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ پھر فضل احمد باہر سے آ کر ہمارے پاس ہی ٹھہرتا تھا مگر اپنی دوسری بیوی کی فتنہ پردازی سے آخر پھر آہستہ آہستہ اُدھر جا ملا۔" (سیرت المہدی جلد اول صفحہ 28، 29 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 1001,1000 پر)

اب مرزا قادیانی کا اپنے پہلے دونوں بیٹوں کے بارے میں اشتہار ملاحظہ فرمائیں:

صفحہ 361

(440) ”اشتہار نصرت دین و قطع تعلق

از اقارب مخالف دین

چوں بدندان تو کرمے اوفتاد، آن بن دندان بکن ای اوستاد

ناظرین کو یاد ہوگا کہ اس عاجز نے ایک دینی خصومت کے پیش آجانے کی وجہ سے ایک نشان کے مطالبہ کے وقت اپنے ایک قریبی مرزا احمد بیگ ولد مرزا گاماں بیگ ہوشیار پوری کی دختر کلاں کی نسبت بحکم والہام الٰہی یہ اشتہار دیا تھا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہی مقدر اور قرار یافتہ ہے کہ وہ لڑکی اس عاجز کے نکاح میں آئے گی۔ خواہ پہلے ہی باکرہ ہونے کی حالت میں آ جائے اور یا خدا تعالیٰ بیوہ کر کے اس کو میری طرف لے آوے۔ چنانچہ تفصیل ان کل امور مذکورہ بالا کی اس اشتہار میں درج ہے۔ اب باعثِ تحریر اشتہار ہٰذا یہ ہے کہ میرا بیٹا سلطان احمد نام جو نائب تحصیلدار لاہور میں ہے، اور اس کی تائی صاحبہ جنھوں نے اس کو بیٹا بنایا ہوا ہے، وہی اس مخالفت پر آمادہ ہو گئے ہیں، اور یہ سارا کام اپنے ہاتھ میں لے کر اس تجویز میں ہیں کہ عید کے دن یا اس کے بعد اس لڑکی کا کسی سے نکاح کیا جائے۔ اگر یہ اوروں کی طرف سے مخالفانہ کارروائی ہوتی تو ہمیں درمیان میں دخل دینے کی کیا ضرورت اور کیا غرض تھی۔ امر ربی تھا اور وہی اس کو اپنے فضل و کرم سے ظہور میں لاتا۔ مگر اس کام کے مدار المہام وہ لوگ ہو گئے جن پر اس عاجز کی اطاعت فرض تھی اور ہر چند سلطان احمد کو سمجھایا اور بہت تاکیدی خط لکھے کہ تُو اور تیری والدہ اس کام سے الگ ہو جائیں ورنہ میں تم سے جدا ہو جاؤں گا، اور تمہارا کوئی حق نہیں رہے گا۔ مگر انھوں نے میرے خط کا جواب تک نہ دیا اور بکلی مجھ سے بیزاری ظاہر کی۔ اگر ان کی طرف سے ایک تیز تلوار کا بھی مجھے زخم پہنچتا تو بخدا میں اس پر صبر کرتا۔ لیکن انھوں نے دینی مخالفت کر کے اور دینی مقابلہ سے آزار دے کر مجھے بہت ستایا، اور اس حد تک میرے دل کو توڑ دیا کہ میں بیان نہیں کر سکتا، اور عمداً چاہا کہ میں سخت ذلیل کیا جاؤں۔ سلطان احمد ان دو بڑے گناہوں کا مرتکب ہوا۔ اوّل یہ کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کے دین کی مخالفت کرنی چاہی۔ اور یہ چاہا کہ دین اسلام پر تمام مخالفوں کا حملہ ہو اور یہ اپنی طرف سے اس نے ایک بنیاد رکھی ہے اس امید پر کہ یہ جھوٹے ہو جائیں گے اور دین کی

صفحہ 362

ہتک ہو گی اور مخالفوں کی فتح۔ اس نے اپنی طرف سے مخالفانہ تلوار چلانے میں کچھ فرق نہیں کیا اور اس نادان نے نہ سمجھا کہ خداوند قدیر وغیور اس دین کا حامی ہے اور اس عاجز کا بھی حامی۔ وہ اپنے بندہ کو کبھی ضائع نہ کرے گا۔ اگر سارا جہان مجھے برباد کرنا چاہے تو وہ اپنی رحمت کے ہاتھ سے مجھ کو تھام لے گا، کیونکہ میں اس کا ہوں اور وہ میرا۔ دوم سلطان احمد نے مجھے جو میں اس کا باپ ہوں سخت ناچیز قرار دیا اور میری مخالفت پر کمر باندھی، اور قولی اور فعلی طور پر اس مخالفت کو کمال تک پہنچایا۔ اور میرے دینی مخالفوں کو مدد دی اور اسلام کی ہتک بدل و جان منظور رکھی۔ سو چونکہ اس نے دونوں طور کے گناہوں کو اپنے اندر جمع کیا۔ اپنے خدا کا تعلق بھی توڑ دیا اور اپنے باپ کا بھی۔ اور ایسا ہی اس کی دونوں والدہ نے کیا۔ سو جبکہ انھوں نے کوئی تعلق مجھ سے باقی نہ رکھا۔ اس لیے میں نہیں چاہتا کہ اب ان کا کسی قسم کا تعلق مجھ سے باقی رہے۔ اور ڈرتا ہوں کہ ایسے دینی دشمنوں سے پیوند رکھنے میں مصیبت نہ ہو۔ لہذا میں آج کی تاریخ کہ دوسری مئی 91ء ہے۔ عوام اور خواص پر بذریعہ اشتہار ہٰذا ظاہر کرتا ہوں کہ اگر یہ لوگ اس ارادہ سے باز نہ آئے۔ اور وہ تجویز جو اس لڑکی کے ناطہ اور نکاح کرنے کی اپنے ہاتھ سے یہ لوگ کر رہے ہیں اس کو موقوف نہ کر دیا اور جس شخص کو انھوں نے نکاح کے لیے تجویز کیا ہے اس کو رد نہ کیا بلکہ اسی شخص کے ساتھ نکاح ہو گیا تو اسی نکاح کے دن سے سلطان احمد عاق اور محروم الارث ہوگا اور اسی روز سے اس کی والدہ پر میری طرف سے طلاق ہے۔ اور اگر اس کا بھائی فضل احمد جس کے گھر میں مرزا احمد بیگ والد لڑکی کی بھانجی ہے اپنی اس بیوی کو اسی دن جو اس کو نکاح کی خبر ہو اور طلاق نہ دیوے تو پھر وہ بھی عاق اور محروم الارث ہوگا۔ اور آئندہ ان سب کا کوئی حق میرے پر نہیں رہے گا اور اس نکاح کے بعد تمام تعلقات خویشی و قرابت و ہمدردی دور ہو جائے گی اور کسی نیکی، بدی، رنج راحت، شادی اور ماتم میں ان سے شراکت نہیں رہے گی کیونکہ انھوں نے آپ تعلق توڑ دیے اور توڑنے پر راضی ہو گئے۔ سو اب ان سے کچھ تعلق رکھنا قطعاً حرام اور ایمانی غیوری کے برخلاف اور ایک دیوثی کا کام ہے۔ مومن دیوث نہیں ہوتا۔ المشتہر مرزا غلام احمد لدھیانہ۔ 2 مئی 1891ء۔” (مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 186، 187 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1002, 1003 پر)

صفحہ 363

قادیانیت کے معروف تجزیہ نگار جناب ابن فیض لکھتے ہیں: ”اس اشتہار سے یہ باتیں اخذ ہوتی ہیں کہ مرزا سلطان احمد نے:۔

غیوری کے برخلاف اور ایک دیوثی کا کام ہے۔ مومن دیوث نہیں ہوتا۔“

اب آپ سوچیے کہ ایک عام آدمی بھی اگر اس قسم کا اعلان کرتا ہے تو اس کے بیٹے، اس کی موت کے بعد بھی اس اعلان کا احترام کرتے ہیں، اور جب ایک نبی نے اپنی زندگی میں ایک انتہائی دکھے ہوئے دل کے ساتھ اس قسم کا اعلان کیا ہے تو کیا اس نبی کے ماننے والوں پر اس اعلان کی حرمت قائم رکھنا فرض نہیں؟؟؟ اور اس شخص پر تو اس اعلان کی پاسداری، عمل اور حفاظت کی بے انتہا ذمہ داری عائد ہوتی ہے، جو نہ صرف بیٹا ہے بلکہ اس نبی کے خلیفہ ہونے کا دعویدار بھی ہے اور ایسا خلیفہ جو کہ اسی نبی کی پیشگوئی کے تحت مصلح موعود ہونے کا دعویدار بھی ہے۔

میرے سوال یہ ہیں کہ مرزا محمود احمد نے مرزا سلطان احمد سے تعلق قائم کر کے:۔

صفحہ 364

نہ اس تعلق کو موت کے بعد بھی جوڑنے ہی کی کسی قسم کی خواہش کی، کیا ان کو پس پشت نہیں ڈال دیا؟

کے برخلاف کام نہیں کیا؟

”مومن دیوث نہیں ہوتا۔“

قادیانیوں سے سوال ہے کہ بتائیں، مذکورہ بالا معاملہ میں وہ کس کو صحیح سمجھتے ہیں؟ مرزا قادیانی یا مرزا محمود کو؟؟؟

(10) دسواں سوال

کئی لاکھ پیش گوئیاں

مرزا قادیانی نے اپنی کتاب میں لکھا:

سے ظہور میں آئے اور حدیبیہ کی پیش گوئی کو بار بار ذکر کرے کہ وہ وقت اندازہ کردہ پر پوری نہیں ہوئی۔“

(تحفہ گولڑویہ صفحہ 67، مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 153 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 1004 پر)

View Proof

صفحہ 365

جو دس لاکھ سے زیادہ ہوں گے اور نشان بھی ایسے کھلے کھلے ہیں جو اول درجہ پر خارق عادت ہیں۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 72، مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 72 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 1005 پر)

مرزا قادیانی نے مزید لکھا:

(443) ’’یاد رہے کہ ہم نے محض نمونے کے طور پر چند پیشگوئیاں اس کتاب میں لکھی ہیں مگر دراصل وہ کئی لاکھ پیشگوئی ہے جن کا سلسلہ ابھی تک ختم نہیں ہوا۔‘‘

(حقیقۃ الوحی صفحہ 407 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 407 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 1006 پر)

نشان اور معجزہ ایک ہی ہے

(444) ’’امتیازی نشان جس سے وہ شناخت کیا جاتا ہے پس یقیناً سمجھو کہ سچا مذہب اور حقیقی راست باز ضرور اپنے ساتھ امتیازی نشان رکھتا ہے اور اسی کا نام دوسرے لفظوں میں معجزہ اور کرامت اور خارق عادت امر ہے۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 63، مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 63 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 1007 پر)

قادیانیوں سے سوال ہے کہ وہ مرزا قادیانی کی ’’کئی لاکھ پیش گوئیاں‘‘ اور ’’دس لاکھ معجزات‘‘ پر مشتمل کوئی کتاب یا فہرست دکھائیں؟؟؟

جَاءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا
ظَفَرَ الْمُسْلِمُ هَرَبَ الْمِرْزَا اِنَّ الْمِرْزَا كَانَ كَذُوبًا
صفحہ 366

(11) گیارہواں سوال

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہودی استاد

مرزا قادیانی اپنی کتاب میں لکھتا ہے:

(445) ”یہ ثابت شدہ امر ہے کہ حضرت مسیح نے ایک یہودی استاد سے ”سبقاً“ توریت پڑھی تھی اور طالمود کو بھی پڑھا تھا۔“

(نزول المسیح ص 60 مندرجہ روحانی خزائن ج 18 ص 438 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 1008 پر)

View Proof

مزید لکھا:

(446) ”اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا استاد ایک یہودی تھا جس سے انہوں نے ساری بائبل پڑھی اور لکھنا بھی سیکھا۔“

(اربعین نمبر 2 ص 11 مندرجہ روحانی خزائن ج 17 ص 358 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 1009 پر)

قرآن مجید کی آیات مبارکہ اور احادیث صحیحہ نبویہ میں یہ کہیں نہیں آیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ایک یہودی استاد سے توریت پڑھنا اور لکھنا سیکھا تھا۔ View Proof قادیانیوں سے سوال ہے کہ قرآن مجید کی کسی آیت یا کسی صحیح حدیث نبویﷺ سے ثابت کریں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے توریت ایک یہودی استاد سے پڑھی تھی یا کسی سے لکھنا سیکھا تھا؟؟؟

مشہور قادیانی مبلغ اللہ دتہ جالندھری نے اپنی کتاب (تفہیمات ربانیہ ص 671) پر لکھا ہے کہ یہودی تاریخی روایت ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے ایک استاد سے سبقاً سبقاً تورات پڑھی تھی۔“

جبکہ مرزا قادیانی کا کہنا ہے:

(اعجاز احمدی ص 25، مندرجہ روحانی خزائن، ج 19 ص 134 از مرزا قادیانی)

صفحہ 367

(12) بارہواں سوال

شوخ و شنگ لڑکا

مئی 1904ء میں مرزا قادیانی کی بیوی حاملہ تھی تو اس نے یہ پیشگوئی شائع کی: (447) ”شوخ وشنگ لڑکا پیدا ہوگا۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات طبع چہارم صفحہ 430 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1010 پر)

اس الہام کے ایک ماہ بعد 25 جون 1904ء کو لڑکی پیدا ہوئی۔ جس کا نام امۃ الحفیظ رکھا۔ (حقیقۃ الوحی صفحہ 218 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 228 از مرزا قادیانی) مگر وہ شوخ وشنگ لڑکا نہ اس حمل سے اور نہ اس کے بعد پیدا ہوا۔ کیا قادیانی حضرات بتا سکتے ہیں کہ وہ ”شوخ وشنگ“ لڑکا کہاں گیا؟

(13) تیرہواں سوال

گستاخ رسول حرامی ہے

آنجہانی مرزا قادیانی نے حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی شان میں توہین کرتے ہوئے اپنی کتاب میں خود کو ”محمد رسول اللہ“ کہا۔ ملاحظہ فرمائیں: (448) ”پھر اسی کتاب میں اس مکالمہ کے قریب ہی یہ وحی اللہ ہے محمد رسول اللہ والذین معه اشداء علی الکفار رحماء بینہم اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔“ (نعوذ باللہ)!

(ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 4، مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 207 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 1011 پر)

شانِ رسالت ﷺ میں مزید ہرزہ سرائی کرتے ہوئے لکھا: (449) ”آنحضرت ﷺ اور آپؐ کے اصحاب ...... عیسائیوں کے ہاتھ کا پنیر کھا لیتے تھے حالانکہ مشہور یہ تھا کہ سُؤر کی چربی اس میں پڑتی ہے۔“ (نعوذ باللہ)!

(مرزا قادیانی کا مکتوب، اخبار الفضل قادیان 22 فروری 1924ء) (عکس صفحہ نمبر 1012 پر)

صفحہ 368

مرزا قادیانی کے بیٹے اور قادیانی جماعت کے پہلے خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود نے شان رسالت ﷺ میں توہین کرتے ہوئے لکھا: (450) ”یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پاسکتا ہے حتیٰ کہ محمد رسول اللہ ﷺ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔“ (نعوذ باللہ)!

(مرزا بشیر الدین محمود کی ڈائری، اخبار الفضل قادیان نمبر 5، جلد 10، 17 جولائی 1922ء)

(عکس صفحہ نمبر 1013 پر)

View Proof

مرزا قادیانی کے دوسرے بیٹے مرزا بشیر احمد ایم اے نے توہین رسالت ﷺ کا ارتکاب کرتے ہوئے لکھا: (451) ”پس مسیح موعود خود محمد رسول اللہ ﷺ ہے جو اشاعت اسلام کے لیے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے، اس لیے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں، ہاں اگر محمد رسول اللہ ﷺ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔“ (نعوذ باللہ)!

(کلمۃ الفصل صفحہ 158 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1014 پر)

View Proof

مرزا قادیانی کے ایک خاص مرید ملعون قاضی اکمل نے بھری محفل میں مرزا قادیانی کی موجودگی میں اُس کی شان میں ایک نظم پڑھی جس پر مرزا قادیانی سمیت تمام قادیانیوں نے اُسے داد دی اور پھر یہ نظم مرزا قادیانی اپنے ساتھ گھر لے گیا اور بعد ازاں قادیانی اخبار الفضل میں شائع ہوئی۔ اس نظم کے صرف دو اشعار ملاحظہ فرمائیں:

(452) ”محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں“

(روزنامہ بدر قادیان 25 اکتوبر 1906ء) (عکس صفحہ نمبر 1015 پر)

View Proof

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان تحریروں سے شان رسالت مآب ﷺ میں توہین کا

صفحہ 369

ارتکاب ہوتا ہے یا نہیں؟؟؟ اگر ہوتا ہے تو گستاخ رسولﷺ کی حیثیت کے بارے میں خود مرزا قادیانی کا اعترافی بیان ملاحظہ فرمائیں:-

سخت سے سخت دکھ اور تکالیف آپ کو پہنچے۔ جنگیں بھی آپ نے کیں۔ ایک لاکھ سے زیادہ صحابہؓ آپ کی زندگی میں موجود تھے۔ پھر ان باتوں کے ہوتے ہوئے جو شخص آنحضرتﷺ کی شان میں کوئی ایسا کلمہ زبان پر لائے گا۔ جس سے آپ کی ہتک ہو وہ حرامی نہیں تو اور کیا ہے؟“

(ملفوظات جلد سوم صفحہ 208 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1016 پر)

قادیانی بتائیں کہ مرزا قادیانی کی اس مذکورہ بالا تحریر کی روشنی میں خود مرزا قادیانی، اُس کے بیٹے اور اُس کے چیلے حرامی ہیں یا نہیں؟ خدارا انصاف کیجیے گا! View Proof

(14) چودھواں سوال

مرزا قادیانی کی تاریخ پیدائش

آنجہانی مرزا قادیانی پنجاب میں ضلع گورداسپور کے ایک قصبے ”قادیان“ میں پیدا ہوا۔ یہ قصبہ امرتسر سے شمال مشرق کی طرف ریلوے لائن پر ایک قدیم شہر بٹالہ سے گیارہ میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ مرزا قادیانی کی تاریخ پیدائش کا تذکرہ کئی قادیانی کتابوں سے ملتا ہے، لیکن اُس کی تاریخ پیدائش کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ مرزا قادیانی اپنی پیدائش کے بارے میں لکھتا ہے:

1857ء میں سولہ برس کا یا سترہویں برس میں تھا اور ابھی ریش و برودت کا آغاز نہیں تھا۔“

(”کتاب البریہ“ (حاشیہ) صفحہ 159 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 177 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 1017 پر) View Proof

صفحہ 370

میں اختلاف پیدا ہو گیا، اس کے بیٹے مرزا بشیر احمد ، جو اس کا سوانح نگار اور ”سیرت المہدی“ کا مصنف ہے، کے پہلے نظریے کے مطابق سال ولادت 1836ء یا 1837ء ہو سکتا ہے۔“

(سیرت المہدی، جلد دوم صفحہ 150 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 1018 پر)

View Proof

تاریخ صحیح قرار پاتی ہے۔“

(سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 76 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 1019 پر)

View Proof

(سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 74 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 1020 پر)

View Proof

(سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 302 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 1021 پر)

View Proof

(سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 194 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 1022 پر)

View Proof

ہمارے ہاتھ میں نہیں۔ اس لیے اس امر میں اختلاف ہونا لازمی امر تھا۔ مگر تحقیقات سے سنہ ولادت 1835ء صحیح معلوم ہوتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ آپ نے کتاب البریہ میں اپنی پیدائش کا سنہ 1839ء یا 1840ء لکھا ہے لیکن ظاہر ہے کہ آپ نے یہ کسی تحریری یاداشت کی بنا پر نہیں لکھا، محض تخمینہ یا اندازہ سے قیاس کر کے ایسا لکھ دیا۔ اسی لیے کوئی سنہ متعین نہیں کیا۔“

(مجدد اعظم جلد اوّل صفحہ 16 از ڈاکٹر بشارت احمد لاہوری قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1023 پر)

View Proof

صفحہ 371

قادیانی بتائیں کہ مرزا قادیانی کی اصل تاریخ پیدائش کے حوالہ سے یہ گورکھ دھندہ کیا ہے؟؟

(15) پندرہواں سوال

مرزا قادیانی کی ایک فحش اور شرمناک تحریر

(461) ”ایک معزز آریہ کے گھر میں اولاد نہیں ہوتی، دوسری شادی کر نہیں سکتا کہ وید کی رُو سے حرام ہے، آخر نیوگ کی ٹھہرتی ہے، یار دوست مشورہ دیتے ہیں کہ لالہ صاحب نیوگ کرائیے، اولاد بہت ہو جائے گی۔ ایک بول اٹھتا ہے کہ مہر سنگھ جو اسی محلہ میں رہتا ہے، اس کام کے بہت لائق ہے۔ لالہ بہاری لال نے اس سے نیوگ کرایا تھا، لڑکا پیدا ہو گیا۔ یہ لالہ لڑکا پیدا ہونے کا نام سن کر باغ باغ ہو گیا۔ بولا مہاراج آپ ہی نے سب کام کرنے ہیں، میں تو مہر سنگھ کا واقف بھی نہیں۔ مہاراج شریر النفس بولے کہ ہاں ہم سمجھا دیں گے، رات کو آجائے گا۔ مہر سنگھ کو خبر دی گئی، وہ محلہ میں ایک مشہور قمار باز، اول نمبر کا بدمعاش اور حرام کار تھا۔ سنتے ہی بہت خوش ہو گیا اور انہیں کاموں کو وہ چاہتا تھا پھر اس سے زیادہ اس کو کیا چاہیے تھا۔ ایک نوجوان عورت اور پھر خوبصورت، شام ہوتے ہی آ موجود ہوا۔ لالہ صاحب نے پہلے ہی دلالہ عورتوں کی طرح ایک کوٹھری میں نرم بستر بچھوا رکھا تھا اور کچھ دودھ اور حلوا بھی دو برتنوں میں سرہانے کی طاق میں رکھوا دیا تھا تا اگر بیرج داتا کو ضعف ہو تو کھا پی لیں۔ پھر کیا تھا آتے ہی بیرج داتا نے لالہ دیوث کے نام و ناموس کا شیشہ توڑ دیا اور وہ بد بخت عورت تمام رات اس سے منہ کالا کراتی رہی اور اس پلید نے جو شہوت کا مارا تھا، نہایت قابل شرم اس عورت سے حرکتیں کیں اور لالہ باہر کے دالان میں سوئے اور تمام رات اپنے کانوں سے بے حیائی کی باتیں سنتے رہے بلکہ تختوں کی دراڑوں سے مشاہدہ بھی کرتے رہے۔ صبح وہ خبیث اچھی طرح لالہ کی ناک کاٹ کوٹھری سے باہر نکلا۔ لالہ تو منتظر ہی تھے، دیکھ کر اس کی طرف دوڑے اور بڑے ادب سے اس پلید بدمعاش کو کہا سردار صاحب رات کیا کیفیت گزری؟ اس نے مسکرا کر مبارک باد دی اور اشاروں میں جتا دیا کہ حمل ٹھہر گیا۔ لالہ دیوث سن کر بہت خوش ہوئے اور کہا کہ مجھے تو اسی دن سے آپ پر یقین ہو گیا تھا جبکہ میں نے بہاری لالہ کے گھر کی کیفیت سنی تھی اور پھر کہا وید حقیقت میں ودیا سے بھرا ہوا ہے۔ کیا عمدہ تدبیر لکھی ہے جو خطا نہ گئی۔ مہر سنگھ نے کہا کہ ہاں لالہ صاحب، سب سچ ہے کیا وید کی آگیا کبھی خطا بھی ہو جاتی ہے

صفحہ 372

میں تو انہی باتوں کے خیال سے وید کو ست ودیاؤں کا پستک مانتا ہوں۔ اور دراصل مہر سنگھ ایک شہوت پرست آدمی تھا۔ اس کو کسی وید شاستر اور شرتی شلوک کی پروا نہ تھی اور نہ ان پر کچھ اعتقاد رکھتا تھا۔ اس نے صرف لالہ دیوث کی حماقت کی باتیں سن کر اس کے خوش کرنے کے لیے ہاں میں ہاں ملا دی۔ مگر اپنے دل میں بہت ہنسا کہ اس دیوث کی چٹکی لینے کے لیے کہاں تک نوبت پہنچ گئی۔ پھر اس کے بعد مہر سنگھ تو رخصت ہوا اور لالہ گھر کی طرف خوش خوش آیا اور اسے یقین تھا کہ اس کی استری رام دئی بہت ہی خوشی کی حالت میں ہو گی کیونکہ مراد پوری ہوئی۔ لیکن اس نے اپنے گمان کے برخلاف اپنی عورت کو روتے پایا اور اس کو دیکھ کر تو وہ بہت ہی روئی، یہاں تک کہ چیخیں نکل گئیں، اور ہچکی آنی شروع ہوئی۔ لالہ نے حیران سا ہو کر عورت کو کہا کہ ”ہے بھگوان آج تو خوشی کا دن ہے کہ دل کی مرادیں پوری ہوئیں اور بیج ٹھہر گیا پھر تو روتی کیوں ہے؟ وہ بولی میں کیوں نہ روؤں، تو نے سارے کنبے میں میری مٹی پلید کی اور اپنی ناک کاٹ ڈالی اور ساتھ ہی میری بھی۔ اس سے بہتر تھا کہ میں پہلے ہی مرجاتی۔ لالہ دیوث بولا کہ یہ سب کچھ ہوا مگر اب بچہ ہونے کی بھی کس قدر خوشی ہوگی، وہ خوشیاں بھی تو تو ہی کرے گی مگر رام دئی شاید کوئی نیک اصل کی تھی۔ اس نے ترت جواب دیا کہ حرام کے بچہ پر کوئی حرام کا ہی ہو تو خوشی منائے۔ لالہ تیز ہو کر بولا کہ ہے ہے کیا کہہ دیا۔ یہ تو وید آگیا ہے۔ عورت کو یہ بات سن کر آگ لگ گئی، بولی میں نہیں سمجھ سکتی کہ یہ کیسا وید ہے جو بدکاری سکھلاتا اور زنا کاری کی تعلیم دیتا ہے۔ یوں تو دنیا کے مذاہب ہزاروں باتوں میں اختلاف رکھتے ہیں مگر یہ کبھی نہیں سنا کہ کسی مذہب نے وید کے سوا یہ تعلیم بھی دی ہو کہ اپنی پاک دامن عورتوں کو دوسروں سے ہم بستر کراؤ۔ آخر مذہب پاکیزگی سکھلانے کے لیے ہوتا ہے نہ بدکاری اور حرام کاری میں ترقی دینے کے لیے۔ جب رام دئی سب باتیں کہہ چکی تو لالہ نے کہا کہ چپ رہو، اب جو ہوا سو ہوا۔ ایسا نہ ہو کہ شریک سنیں اور میرا ناک کاٹیں۔ رام دئی نے کہا کہ اے بے حیا کیا ابھی تک تیرا ناک تیرے منہ پر باقی ہے۔ ساری رات میرے شریک نے جو تیرا ہمسایہ اور تیرا پکا دشمن ہے، تیری سبھوں کی بیاہتا اور عزت کے خاندان والی سے تیرے ہی بستر پر چڑھ کر تیرے ہی گھر میں خرابی کی اور ہر ایک ناپاک حرکت کے وقت جتا بھی دیا کہ میں نے خوب بدلا لیا۔ سو کیا اس بے غیرتی کے بعد تو جیتا ہے۔ کاش تو اس سے پہلے ہی مرا ہوتا۔ اب وہ شریک اور پھر دشمن باتیں بنانے اور ٹھٹھا کرنے سے کب باز رہے گا بلکہ وہ تو کہہ گیا ہے کہ

صفحہ 373

میں اس فتح عظیم کو چھپا نہیں سکتا کہ جو آج وسادائل کے مقابل پر مجھے حاصل ہوئی۔ میں ضرور رام دائی کا سارا نقشہ محلہ کے لوگوں پر ظاہر کروں گا، سو یاد رکھ کہ وہ ہر ایک مجلس میں تیرا ناک کاٹے گا اور ہر ایک لڑائی میں یہ قصہ تجھے جتائے گا اور اس سے کچھ تعجب نہیں کہ وہ دعویٰ کر دے کہ رام دئی میری ہی عورت ہے کیونکہ وہ اشارہ سے یہ بھی کہہ گیا ہے کہ آئندہ بھی میں تجھے کبھی نہیں چھوڑوں گا۔ لالہ دیوث نے کہا کہ نکاح کا دعویٰ ثابت ہونا تو مشکل ہے البتہ یارانہ کا اظہار کرے تو کرے تا ہماری اور بھی رسوائی ہو، بہتر تو یہ ہے کہ ہم دیش ہی چھوڑ دیں۔ بیٹا ہونے کا خیال تھا، وہ تو ایشر نے دے ہی دیا۔ بیٹے کا نام سن کر عورت زہر خندہ ہنسی اور کہا کہ تجھے کس طرح اور کیونکر یقین ہوا کہ ضرور بیٹا ہوگا، اول تو پیٹ ہونے میں ہی شک ہے اور پھر اگر ہو بھی تو اس بات پر کوئی دلیل نہیں کہ لڑکا ہی ہوگا، کیا بیٹا ہونا کسی کے اختیار میں رکھا ہے۔ کیا ممکن نہیں کہ حمل ہی خطا جائے یا لڑکی پیدا ہو۔ لالہ دیوث بولے کہ اگر حمل خطا گیا تو میں کھڑک سنگھ کو جو اسی محلہ میں رہتا ہے، نیوگ کے لیے بلا لاؤں گا۔ عورت نہایت غصہ سے بولی کہ اگر کھڑک سنگھ بھی کچھ نہ کر سکا تو پھر کیا کرے گا؟ لالہ بولا کہ تو جانتی ہے کہ نرائن سنگھ بھی ان دونوں سے کم نہیں، اس کو بلا لاؤں گا۔ پھر اگر ضرورت پڑی تو جیمل سنگھ، لہنا سنگھ، بوڑ سنگھ، جیون سنگھ، صوبا سنگھ، خزان سنگھ، ارجن سنگھ، رام سنگھ، کشن سنگھ، دیال سنگھ سب اس محلہ میں رہتے ہیں اور زور اور قوت میں ایک دوسرے سے بڑھ کر ہیں، میرے کہنے پر سب حاضر ہو سکتے ہیں۔ عورت بولی کہ میں اس سے بہتر تجھے صلاح دیتی ہوں کہ مجھے بازار میں ہی بٹھا دے، تب دس بیس کیا ہزاروں لاکھوں آ سکتے ہیں، منہ کالا جو ہونا تھا، وہ تو ہو چکا مگر یاد رکھ کہ بیٹا ہونا پھر بھی اپنے بس میں نہیں اور اگر ہوا بھی تو تجھے اس سے کیا جس کا وہ نطفہ ہے آخر وہ اسی کا ہوگا اور اسی کی خُوبو، لائے گا کیونکہ درحقیقت وہ اسی کا بیٹا ہے، اس کے بعد رام دئی نے کچھ سوچ کر پھر رونا شروع کیا اور دور دور تک آواز گئی اور آواز سن کر ایک پنڈت نہال چند نام دوڑا آیا اور آتے ہی کہا کہ لالہ سُکھ تو ہے، یہ کیسی رونے کی آواز آئی۔ لالہ ناک کٹا چاہتا تو نہیں تھا کہ نہال چند کے آگے قصہ بیان کرے مگر اس خوف سے کہ رام دئی اس وقت غصہ میں ہے، اگر میں بیان نہ کروں تو وہ ضرور بیان کر دے گی۔ کچھ کھسیانا سا ہو کر زبان دبا کر کہنے لگا کہ مہاراج آپ جانتے ہیں کہ وید میں وقت ضرورت نیوگ کے لیے آ گیا ہے۔ سو میں نے بہت دنوں سوچ کر رات کو نیوگ کرایا تھا، مجھ سے یہ غلطی ہوئی کہ میں نے نیوگ کے لیے مہر

صفحہ 374

سنگھ کو بلا لیا، پیچھے معلوم ہوا کہ وہ میرے دشمن کرم سنگھ کا بیٹا اور نہایت شریر آدمی ہے، وہ مجھے اور میری استری کو ضرور خراب کرے گا اور وہ وعدہ کر گیا ہے کہ میں یہ ساری کیفیت خوب شائع کروں گا۔ نہال چند بولا کہ درحقیقت بڑی غلطی ہوئی اور پھر بولا کہ وساوا مل تیری سمجھ پر نہایت ہی افسوس ہے۔ کیا تجھے معلوم نہ تھا کہ نیوگ کے لیے پہلا حق برہمنوں کا ہے اور غالباً یہ بھی تجھ پر پوشیدہ نہیں ہوگا کہ اس محلہ کی تمام کھترانی عورتیں مجھ سے ہی نیوگ کراتی ہیں اور میں دن رات اسی سیوا میں لگا ہوا ہوں پھر اگر تجھے نیوگ کی ضرورت تھی تو مجھے بلا لیا ہوتا۔ سب کام سدھ ہو جاتا اور کوئی بات نہ نکلتی۔ اس محلہ میں اب تک تین ہزار کے قریب ہندو عورتوں نے نیوگ کرایا ہے مگر کیا کبھی تم نے اس کا ذکر بھی سنا، یہ پردہ کی باتیں ہیں، سب کچھ ہوتا ہے پھر ذکر نہیں کیا جاتا لیکن مہر سنگھ تو ایسا نہیں کرے گا۔ ذرہ دو چار گھنٹوں تک دیکھنا کہ سارے شہر میں رام دئی کے نیوگ کا شور و غوغا ہوگا۔ لالہ دیوث بولا کہ درحقیقت مجھ سے سخت غلطی ہوئی۔ اب کیا کروں؟ اس وقت شریر پنڈت نے جو باعث نہ ہونے رسم پردہ کے رام دئی کو دیکھ چکا تھا کہ جوان اور خوش شکل ہے، نہایت بے حیائی کا جواب دیا کہ اگر اسی وقت رام دئی مجھ سے نیوگ کرے تو میں ذمہ دار ہوتا ہوں کہ مہر سنگھ کے فتنہ کو میں سنبھال لوں گا اور پہلا حمل ایک پکی بات ہے۔ اب بہر حال یقینی ہو جائے گا۔ تب وساوا مل دیوث تو اس بات پر بھی راضی ہو گیا مگر رام دئی نے سن کر سخت گالیاں اس کو نکالیں۔ تب وساوا مل نے پنڈت کو کہا کہ مہاراج اس کا یہی حال ہے، ہرگز نیوگ کرنا نہیں چاہتی۔ پہلے بھی مشکل سے کرایا تھا جس کو یاد کر کے اب تک رو رہی ہے کہ میرا منہ کالا کیا۔ اسی سے تو اس نے چیخیں ماری تھی جن کو آپ سن کر دوڑے آئے۔ تب وہ شہوت پرست پنڈت وساوا مل کی یہ بات سن کر رام دئی کی طرف متوجہ ہوا اور کہا نہیں بھگوان نیوگ کو برا نہیں ماننا چاہیے۔ یہ وید آگیا ہے مسلمان بھی تو عورتوں کو طلاق دیتے ہیں اور وہ عورتیں کسی دوسرے سے نکاح کر لیتی ہیں۔ سو جیسے طلاق ویسے نیوگ۔ بات ایک ہی ہے۔“

(آریہ دھرم صفحہ 31 تا 34 مندرجہ ذیل روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 31 تا 34 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 1024,1025,1026,1027 پر)

کہتے ہیں کہ جو کچھ برتن کے اندر ہوتا ہے، وہی باہر ٹپکتا ہے۔ قادیانی جماعت کا

صفحہ 375

بانی آنجہانی مرزا قادیانی جس طرح ظاہری طور پر بدصورت تھا، اسی طرح باطنی طور پر بھی بد سیرت تھا۔ قادیانی امت اسے ”سلطان القلم“ کہتی ہے۔ اس پنجابی نبی کی تحریرات کو ملاحظہ کیا جائے تو جا بجا بدکلامی و بدگوئی کی نجاست وغلاظت بکھری ہوئی نظر آئے گی۔ اوپر غلاظت کے ڈھیر میں نمونہ کے طور پر ”سلطان القلم“ کی تحریروں میں سے صرف ایک اقتباس نقل کیا گیا ہے، وگرنہ مرزا قادیانی کی ساری کتابیں ایسی ہی تحریروں سے بھری ہوئی ہیں۔ اس فحش، مخرب اخلاق ، حیا سوز، گندی اور بازاری تحریر سے بآسانی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ کسی شریف انسان کی تحریر نہیں ہوسکتی۔

ہے کوئی قادیانی جو اپنے ”نبی“ کی اس تحریر کو اپنی جوان بیٹیوں اور بہنوں کے سامنے بآواز بلند پڑھ سکے؟

جبکہ مرزا قادیانی کا کہنا ہے کہ وہ اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا بلکہ وہی کچھ کہتا ہے جو اُسے اللہ تعالیٰ وحی کرتا ہے۔ اس سلسلہ میں مرزا قادیانی کی نام نہاد وحی ملاحظہ فرمائیں:

(تذکرہ مجموعہ وحی الہامات طبع چہارم، صفحہ 309 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1028 پر)

View Proof

میں تیری تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا

مرزا قادیانی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے مجھ سے وعدہ کیا:

الارض ومغاربها. وتتموج بحور الحق حتی یعجب الناس حباب غواربها.“

ترجمہ: ”میرے رب نے میری طرف وحی بھیجی اور وعدہ فرمایا کہ وہ مجھے مدد دے گا یہاں تک کہ میرا کلام مشرق ومغرب میں پہنچ جائے گا اور راستی کے دریا موج میں آئیں گے یہاں تک کہ اس کی موجوں کے حباب لوگوں کو تعجب میں ڈالیں گے۔“

”میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 260، طبع چہارم، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1029 پر)

View Proof

صفحہ 376

(16) سولہواں سوال

آخری مجدد کون؟

مرزا قادیانی اپنی کتاب میں ایک حدیث نقل کرتا ہے: (464) ”قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان اللّٰہ یبعث لہذہ الامۃ علیٰ رأس کل مائۃ سنۃ من یجدد لھا دینھا. (رواہ ابوداؤد) یعنی خدا ہر ایک صدی کے سر پر اس امت کے لیے ایک شخص مبعوث فرمائے گا جو اس کے لیے دین کو تازہ کرے گا۔“ (حقیقۃ الوحی صفحہ 193 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 200 از مرزا قادیانی) View Proof

(عکس صفحہ نمبر 1030 پر)

مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ تھا کہ میں چودھویں صدی کا مجدد ہوں اور چونکہ آخری زمانہ جس میں آخری مجدد کو آنا تھا، یہی صدی ہے، اس لیے میں مسیح موعود بھی ہوں۔ لیکن اب چودھویں صدی ختم ہو کر پندرہویں صدی شروع ہوگئی ہے۔ اس لیے ارشاد نبوی ﷺ کے مطابق اس صدی میں بھی کسی مجدد کا آنا ضروری ہے اور مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ چونکہ وہ چودھویں صدی کا مجدد ہے، اس لیے مسیح موعود بھی ہے، غلط ثابت ہوتا ہے کیونکہ مسیح موعود تو آخری مجدد ہوگا جو آخری زمانے میں ظاہر ہوگا۔

اس سلسلہ میں مرزا قادیانی نے مزید لکھا: (465) ”یہ بھی اہل سنت میں متفق علیہ امر ہے کہ آخری مجدد اس امت کا مسیح موعود ہے جو آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا۔“ (حقیقۃ الوحی صفحہ 193 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 201 از مرزا قادیانی) View Proof

(عکس صفحہ نمبر 1031 پر)

وہ تمام قادیانی جنہوں نے غلط فہمی سے مرزا قادیانی کو مسیح موعود مان لیا ہے، وہ آنحضرت ﷺ کے مندرجہ بالا ارشاد کی روشنی میں بتائیں:

صفحہ 377

اور جب زمانے نے ثابت کر دیا کہ وہ آخری مجدد نہیں تو مسیح موعود بھی نہ ہوا۔ کیا قادیانیوں میں عقل سلیم کا حامل کوئی ایسا شخص ہے جو آنحضرت ﷺ کے اس فرمان پر غور کر کے اپنے عقیدے کی اصلاح کے لیے تیار ہو؟

(17) سترھواں سوال

خدا تعالیٰ کا الہام

مرزا قادیانی نے اپنی کتاب میں انگریزوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے لکھا: (466) ”میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ میں تمام مسلمانوں میں سے اول درجہ کا خیر خواہ گورنمنٹ انگریزی کا ہوں کیونکہ مجھے تین باتوں نے خیر خواہی میں اول درجہ پر بنا دیا ہے۔ (1) اول والد مرحوم کے اثر نے (2) دوم اس گورنمنٹ عالیہ کے احسانوں نے (3) تیسرے خدا تعالیٰ کے الہام نے۔“ View Proof

(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 357 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1032 پر)

قادیانیوں سے سوال ہے کہ خدا تعالیٰ کا وہ الہام بتائیں جس میں مرزا قادیانی کو گورنمنٹ انگریزی کا خیر خواہ بننے کے لیے کہا گیا ہو؟

(18) اٹھارھواں سوال

کمینے آدمی کی عادت

مرزا قادیانی نے اپنی کتاب میں لکھا: (467) ”واللہ قد کنت اعلم من ایام مدیدۃ اننی جعلت المسیح ابن مریم وانی نازل فی منزلہ ولکن اخفیتہ نظراً الی تاویلہ، بل ما بدلت عقیدتی وکنت علیھا من المستمسکین وتوقفت فی الاظھار عشر سنین۔“

ترجمہ: خدا کی قسم! میں بہت دنوں سے جانتا تھا کہ میں مسیح ابن مریم بنایا گیا ہوں اور میں ہی مسیح کی بجائے نازل ہونے والا شخص ہوں۔ لیکن میں نے اس کو چھپائے رکھا، اس

صفحہ 378

کی تاویل کر کے، بلکہ میں نے اپنا عقیدہ بھی نہیں بدلا۔ میں اس پر مضبوطی سے قائم رہا ہوں اور میں نے اس کے ظاہر کرنے میں دس (10) سال توقف کیا ہے۔“

(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 551 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 551 از مرزا قادیانی)

View Proof (عکس صفحہ نمبر 1033 پر)

بقول مرزا قادیانی اللہ تعالیٰ نے اُسے ”مسیح ابن مریم“ کا منصب عطا کیا۔ مگر مرزا قادیانی نے اُسے 10 سال تک چھپائے رکھا۔ اب قادیانی بتائیں کہ اللہ کے حکم کو چھپانے والا کون ہوتا ہے؟ خائن ...... جھوٹا ...... کمینہ ...... یا مسیح موعود؟؟؟

جبکہ مرزا قادیانی کا کہنا ہے: (468) ترجمہ: ”اخفا کرنا میرے نزدیک گناہ ہے اور کمینے آدمی کی عادت ہے۔“

(ترجمہ: الاستفتاء صفحہ 36 ملحقہ حقیقۃ الوحی ص 657 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 ص 657 از مرزا قادیانی)

View Proof (عکس صفحہ نمبر 1034 پر)

(19) انیسواں سوال

تھیٹر

آنجہانی مرزا قادیانی کا خاص مرید مفتی محمد صادق اپنی کتاب ”ذکر حبیب“ میں مرزا قادیانی کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتا ہے:

(469) ”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے امرتسر جانے کی خبر سے بعض اور احباب بھی مختلف شہروں سے وہاں آگئے۔ چنانچہ کپور تھلہ سے محمد خاں صاحب اور منشی ظفر احمد صاحب بہت دنوں وہاں ٹھہرے رہے۔ گرمی کا موسم تھا۔ اور منشی صاحب اور میں ہر دو نحیف البدن اور چھوٹے قد کے آدمی ہونے کے سبب ایک ہی چارپائی پر دونوں لیٹ جاتے تھے۔ ایک شب دس بجے کے قریب میں تھیٹر میں چلا گیا، جو مکان کے قریب ہی تھا۔ اور تماشہ ختم ہونے پر دو بجے رات کو واپس آیا۔ صبح منشی ظفر احمد صاحب نے میری عدم موجودگی میں حضرت صاحب کے پاس میری شکایت کی کہ مفتی صاحب رات تھیٹر چلے گئے تھے۔ حضرت صاحب نے فرمایا۔ ایک دفعہ ہم بھی گئے تھے تا کہ معلوم ہو کہ وہاں کیا ہوتا ہے۔ اس کے سوا

صفحہ 379

اور کچھ نہیں فرمایا۔ منشی ظفر احمد صاحب نے خود ہی مجھ سے ذکر کیا کہ میں تو حضرت صاحب کے پاس آپ کی شکایت لے کر گیا تھا اور میرا خیال تھا کہ حضرت صاحب آپ کو بلا کر تنبیہ کریں گے مگر حضور نے تو صرف یہی فرمایا کہ ایک دفعہ ہم بھی گئے تھے۔"

(ذکر حبیب صفحہ 18 از مفتی محمد صادق قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1035 پر)

تھیٹر اور سینما گھر ایک ہی برائی کے دو نام ہیں۔ سینما گھر میں پہلے سے تیار شدہ فلم دکھائی جاتی ہے جبکہ تھیٹر میں مختلف کردار سٹیج پر براہ راست اپنی پرفارمنس ادا کرتے ہیں۔ تھیٹر میں جو خرافات، فحاشی، لچر پن، بے ہودہ باتیں اور ناچ وغیرہ ہوتا ہے، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ قدرت کی طرف سے ساری دنیا کو حکم ہے کہ وہ برائی کے پاس نہ جائے جبکہ برائی کو یہ حکم ہے کہ وہ نبی یا رسول کے پاس نہ جائے کیونکہ وہ معصوم عن الخطا ہوتے ہیں۔ مرزا قادیانی کا یہ اعتراف کہ ایک دفعہ وہ بھی تھیٹر دیکھنے گیا تھا، ان لوگوں کے منہ پر طمانچہ اور لمحہ فکریہ ہے جو اسے نبی، رسول، مسیح موعود، مہدی یا مجدد وغیرہ مانتے ہیں۔ قادیانی بتائیں کہ نبوت و رسالت کے دعویدار مرزا قادیانی کا تھیٹر دیکھنا ایک قبیح حرکت ہے یا نہیں؟

(20) بیسواں سوال

پانچ اور پچاس کا قادیانی فرق

مرزا قادیانی نے شروع شروع میں ایک عالم کا روپ دھارا اور اعلان کیا کہ وہ عیسائیت، ہندومت اور آریہ سماج کے عقائد کے خلاف کتاب لکھے گا جس میں ان مذکورہ مذاہب کا ابطال اور صداقت اسلام پر 300 مضبوط اور محکم عقلی دلائل ہوں گے۔ ( مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 38 از مرزا قادیانی) اور یہ کتاب پچاس جلدوں پر مشتمل ہوگی جس کے تقریباً 4800 صفحات ہوں گے۔ (برکات الدعاء صفحہ 41 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 41 از مرزا قادیانی) مرزا قادیانی نے اعلان کیا کہ تمام مسلمان مخیر حضرات اس کی طباعت وغیرہ کے لیے پیشگی رقوم ارسال کریں۔ مرزا قادیانی نے کہا کہ اس کتاب کی فی جلد پر 25 روپے خرچ آیا ہے لیکن مسلمانوں میں یہ کتاب پھیلانے کے لیے اس کی رعایتی قیمت صرف 5 روپے رکھی ہے۔ (براہین احمدیہ حصہ اوّل صفحہ 2 از مرزا قادیانی) بعد ازاں اس نے فی جلد 5 روپے کے بجائے 10 روپے رکھ دی۔ (مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 19، طبع جدید از مرزا قادیانی) یاد رہے

صفحہ 380

کہ ان دنوں ایک روپے کا سولہ کلو گوشت ملتا تھا۔ (سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 182 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی) آج کل گوشت کی قیمت 400 روپے ہے۔ اس طرح اس دور کے 10 روپے آج کے 64,000 روپے کے برابر ہیں۔ مرزا قادیانی کے مسلسل اور بھرپور پروپیگنڈے کے نتیجہ میں مخیر حضرات جن میں نواب شاہ جہاں بیگم والی ریاست بھوپال اور خلیفہ سیّد محمد حسن خاں بہادر وزیر اعظم و دستور معظم ریاست پٹیالہ وغیرہ شامل ہیں، نے اس دور میں اسلام کی خاطر ہزاروں روپے کی اعانت کی جس کی موجودہ قیمت کروڑوں روپے میں بنتی ہے۔

مرزا قادیانی کے بیان کے مطابق لوگوں نے پچاس جلدوں کی اشاعت کی رقم پیشگی بھجوادی۔ مرزا قادیانی نے ”براہین احمدیہ“ کے نام سے اس کتاب کو لکھا۔ 5 جلدیں (1101 صفحات) مکمل ہونے پر اعلان کردیا کہ چونکہ 5 اور 50 میں صرف صفر کا فرق ہے، اس لیے پانچویں جلد کے ساتھ ہی ان کا پچاس جلدیں لکھنے کا وعدہ پورا ہوگیا ہے۔ ملاحظہ فرمایئے مرزا قادیانی کی مضحکہ خیز دلیل!

(470) ”پہلے پچاس حصے لکھنے کا ارادہ تھا مگر پچاس سے پانچ پر اکتفا کیا گیا اور چونکہ پچاس اور پانچ کے عدد میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے، اس لیے پانچ حصوں سے وہ وعدہ پورا ہوگیا۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم دیباچہ صفحہ 7 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 9 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 1036 پر)

عجیب بات ہے کہ:

صرف ایک ہی دلیل بیان ہوئی، اور وہ بھی نامکمل (سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 111، 112 از مرزا بشیر احمد ایم اے)

صفحہ 381

کریم ﷺ سے فرمایا تھا کہ میں آپ کی امت کو 5 نمازوں کا ثواب 50 نمازوں کے برابر دوں گا۔ لہٰذا یہ اللہ کی سنت ہے۔ قادیانیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے 5 کے بدلے 50 کا ثواب دینے کا وعدہ کیا لیکن مرزا قادیانی نے 50 جلدوں کی جگہ 5 دیں۔ اگر 5 جلدوں کی قیمت لے کر 50 جلدیں دی ہوتیں تو بات بھی بنتی یہاں تو اس نے صریح دھوکا کیا ہے۔ مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد ایم اے لکھتا ہے کہ باقی جلدوں کی اشاعت خدا تعالیٰ کے حکم سے رُک گئی۔ (سیرت المہدی جلد اول صفحہ 111، 112 از مرزا قادیانی) سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ حکم لوگوں سے مال بٹورنے سے پہلے آنا چاہیے تھا، بعد میں کیوں آیا؟ قادیانی بتائیں کیا یہ فراڈ نہیں ہے؟ کیا یہ کاروبار اخلاقیات کے عین مطابق ہے؟ اگر یہ نوسربازی نہیں ہے تو کیا وہ یہ پسند کریں گے کہ وہ کسی کو 50 روپے دیں اور انھیں واپسی صرف 5 روپے کی ہو؟ اور جواباً کہا جائے کہ 5 اور 50 میں کوئی فرق نہیں۔

(21) اکیسواں سوال

نماز میں فارسی نظم

مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد ایم اے اپنی کتاب سیرت المہدی میں لکھتا ہے:

(471) ”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ گرمیوں میں مسجد مبارک میں مغرب کی نماز پیر سراج الحق صاحب نے پڑھائی۔ حضور (مرزا قادیانی) بھی اس نماز میں شامل تھے۔ تیسری رکعت میں رکوع کے بعد انہوں نے بجائے مشہور دعاؤں کے حضور کی ایک فارسی نظم پڑھی ،جس کا یہ مصرعہ ہے:

”اے خدا اے چارۂ آزارِ ما“

خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ فارسی نظم نہایت اعلیٰ درجہ کی مناجات ہے جو روحانیت سے پُر ہے۔“

(سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 138 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 1037 پر)

صفحہ 382

نماز اسلام کی اہم ترین عبادت ہے۔ اس میں پڑھی جانے والی دعائیں وغیرہ قرآن وسنت سے ثابت شدہ ہیں اور اس پر امت کا اجماع ہے۔ قادیانی اپنی نمازوں میں مرزا قادیانی کی نظمیں بڑے شوق سے پڑھتے ہیں۔

قادیانی بتائیں کہ کیا نمازوں میں فارسی نظمیں پڑھنا قرآن وسنت سے ثابت ہے اور کیا اس سے نماز فاسد ہوتی ہے یا نہیں؟؟

(22) بائیسواں سوال

بلا عنوان

آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی کا اپنی ذات کے متعلق ایک شعر ہے۔

”کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں

(472)

ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار“

(براہین احمدیہ، حصہ پنجم، صفحہ 97، مندرجہ روحانی خزائن جلد 21، صفحہ 127، از مرزا قادیانی)

View Proof

(عکس صفحہ نمبر 1038 پر)

مرزا قادیانی کا کہنا ہے کہ وہ خاک کا کیڑا مکوڑا ہے۔ وہ کسی انسان کی اولاد نہیں بلکہ وہ آدمی کی باعث شرم اور نفرت والی جگہ ہے۔ انسان کی جائے نفرت دو تین قسم کی ہوتی ہیں، نجانے مرزا قادیانی کس کی طرف اشارہ کر رہا ہے؟؟؟ ہمیں تو اس شعر کی تشریح کرتے ہوئے بھی شرم محسوس ہوتی ہے۔ قادیانیوں کا کہنا ہے کہ اس شعر میں مرزا قادیانی نے اپنے عجز و انکسار کا اظہار کیا ہے۔ بھلا یہ کہاں کا عجز و انکسار ہے کہ ایک شخص اپنے انسان ہونے سے ہی انکار کر دے اور انسان کی قابل نفرت جگہ ہونے کا اقرار کرے۔ قادیانیوں سے سوال ہے کہ کیا وہ اپنے مکانوں، دکانوں اور عبادت گاہوں پر یہ شعر جلی حروف میں لکھوا سکتے ہیں تاکہ ان کا عجز و انکسار بلکہ ان کا باطنی تذلل دوسروں پر واضح ہو جائے؟

(23) تئیسواں سوال

مسیح موعود اور اس کی توہین

”لیکن ضرور تھا کہ قرآن شریف اور احادیث کی وہ پیشگوئیاں پوری ہوتیں جن میں

(473)

صفحہ 383

لکھا تھا کہ مسیح موعود جب ظاہر ہوگا تو اسلامی علما کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا۔ وہ اس کو کافر قرار دیں گے اور اس کے قتل کے لیے فتوے دیے جائیں گے اور اس کی سخت توہین کی جائے گی اور اس کو دائرہ اسلام سے خارج اور دین کا تباہ کرنے والا خیال کیا جائے گا۔“

(اربعین صفحہ 18 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 404 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1039 پر)

قرآن وحدیث میں ایسا کوئی ذکر نہیں۔ یہ خالص جھوٹ ہے۔ ہے کوئی قادیانی جو ہمیں یہ بتا سکے کہ یہ پیشگوئیاں قرآن کریم کے کون سے پارہ، کون سی سورت اور کون سے رکوع میں لکھی ہیں یا حدیث کی کون سی کتاب کے کون سے باب میں درج ہیں؟؟

(24) چوبیسواں سوال

اِدھر اُدھر

(474) ”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ اپنی جوانی کے زمانہ میں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) تمہارے دادا کی پنشن وصول کرنے گئے تو پیچھے پیچھے مرزا امام الدین بھی چلا گیا۔ جب آپ نے پنشن وصول کر لی تو وہ آپ کو پھسلا کر اور دھوکہ دے کر بجائے قادیان لانے کے، باہر لے گیا اور اِدھر اُدھر پھراتا رہا۔ پھر جب اس نے سارا روپیہ اڑا کر ختم کردیا تو آپ کو چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا۔ حضرت مسیح موعود اس شرم سے واپس گھر نہیں آئے (بے شرمی کا کام نہ کرتے!) اور چونکہ تمہارے دادا کا منشا رہتا تھا کہ آپ کہیں ملازم ہو جائیں، اس لیے آپ سیالکوٹ شہر میں ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں قلیل تنخواہ پر ملازم ہو گئے۔“....................

....................”والدہ صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ ہمیں چھوڑ کر پھر مرزا امام الدین اِدھر اُدھر پھرتا رہا۔ آخر اس نے چائے کے ایک قافلہ پر ڈاکہ مارا اور پکڑا گیا مگر مقدمہ میں رہا ہو گیا۔ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ معلوم ہوا ہے اللہ تعالیٰ نے ہماری (”خدمت خاص“ کی) وجہ سے ہی اسے قید سے بچا لیا ورنہ خواہ وہ خود کیسا ہی آدمی تھا، ہمارے مخالف یہی کہتے کہ ان کا ایک چچازاد بھائی جیل خانہ میں رہ چکا ہے۔“

(سیرت المہدی، جلد اول صفحہ 43، 44 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1040, 1041 پر)

صفحہ 384

یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ مرزا قادیانی کا چچا زاد بھائی امام الدین نہ صرف بے دین اور دہریہ طبع بلکہ بھنگی چرسی تھا۔ مرزا قادیانی ادھر اُدھر اس کے ساتھ پھرتا رہا تو اس سفر کی روشنی میں مرزا قادیانی کا کردار بھی واضح ہو گیا ہے۔

کند ہم جنس با ہم جنس پرواز ...... کبوتر با کبوتر باز با باز

اس وقت مرزا قادیانی کی عمر 24، 25 سال تھی۔ پنشن کی رقم معمولی رقم نہ تھی بلکہ 700 روپے تھی۔ (سیرت المہدی جلد اول صفحہ 131) ان دنوں ایک آنہ کا ایک کلو گوشت ملتا تھا۔ (سیرت المہدی جلد اول صفحہ 182) آج کل گوشت 400 روپے کلو ہے۔ گویا اس دور کا ایک روپیہ (6400=16x400) آج کے 6 ہزار 4 سو روپے کے برابر ہے۔ سات سو روپے پنشن آج کل کی 44 لاکھ 40 ہزار روپے کی خطیر رقم بنتی ہے۔ قادیانیوں سے سوال ہے کہ مرزا قادیانی کی عمر اور پنشن کی رقم ذہن میں رکھ کر بتائیں:

(25) پچیسواں سوال

ٹیچی ٹیچی

(475) ”5 مارچ 1905ء کو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص جو فرشتہ معلوم ہوتا تھا، میرے سامنے آیا اور اس نے بہت سا روپیہ میرے دامن میں ڈال دیا۔ (بلی کو خواب چھیچھڑوں کے) میں نے اس کا نام پوچھا اس نے کہا، نام کچھ نہیں، میں نے کہا آخر کچھ تو نام ہوگا۔ اس نے کہا میرا نام ہے ٹیچی ۔ ٹیچی پنجابی زبان میں وقت مقررہ کو کہتے ہیں یعنی عین ضرورت کے وقت پر آنے والا۔ تب میری آنکھ کھل گئی۔“

(حقیقۃ الوحی صفحہ 332، مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 346 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 1042 پر)

صفحہ 385

مرزا قادیانی کے فرشتے کا نام ٹیچی ٹیچی ہے۔ جب قادیانیوں سے اس کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ یہ لفظ ”ٹیچ“ سے بنا ہے جس کا مطلب تیز رفتار ہے۔ یہ فرشتہ ٹیچ کر کے مرزا قادیانی کا پیغام اللہ تعالیٰ کے پاس لے جاتا ہے اور ٹیچ کر کے واپس آتا ہے۔ اب اگر کوئی مسلمان کسی قادیانی کو از راہ مذاق ”ٹیچی ٹیچی“ کہتا ہے تو وہ غصہ سے آگ بگولا ہو جاتا ہے۔ کئی قادیانی اساتذہ نے طلبہ کی طرف سے بلیک بورڈ پر ”ٹیچی ٹیچی“ لکھنے یا کورس کے انداز میں با آواز بلند ٹیچی ٹیچی کہنے پر اپنے تبادلے کروا لیے ہیں۔ (آزمائش شرط ہے!) جس کی وجہ بظاہر ہمیں نظر نہیں آتی۔ حالانکہ انہیں تو خوش ہونا چاہیے کہ مسلمان ان کے فرشتے کا نام لے رہے ہیں۔

مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ فرشتے کبھی جھوٹ نہیں بولتے جبکہ مرزا قادیانی کا فرشتہ ٹیچی ٹیچی جھوٹ بولتا ہے۔ پہلے اس نے کہا کہ میرا نام کچھ نہیں پھر کہا کہ میرا نام ٹیچی ہے۔

قادیانیوں سے سوال ہے کہ کیا وہ مرزا قادیانی کے فرشتے ٹیچی ٹیچی پر ایمان رکھتے ہیں؟ اگر وہ ایمان رکھتے ہیں تو پھر مسلمانوں کے ٹیچی ٹیچی کہنے پر وہ کیوں چڑتے ہیں؟؟

سچ کہا ہے کسی نے: جیسی روح ویسے فرشتے!

(26) چھبیسواں سوال

اسلام میں نیچی قومیں

مرزا قادیانی اپنی کتاب میں لکھتا ہے:

(476) ”ایک وہ جو دوسروں کی اصلاح کے لیے مامور نہیں ہوتے بلکہ ان کا کاروبار اپنے نفس تک ہی محدود ہوتا ہے اور ان کا کام صرف یہی ہوتا ہے کہ وہ ہر دم اپنے نفس کو ہی زہد اور تقویٰ اور اخلاص کا صیقل دیتے رہتے ہیں اور حتی الوسع خدا تعالیٰ کی ادق سے ادق رضا مندی کی راہوں پر چلتے اور اُس کے باریک وصایا کے پابند رہتے ہیں اور ان کے لیے ضروری نہیں ہوتا کہ وہ کسی ایسے عالی خاندان اور عالی قوم میں سے ہوں جو علو نسب اور شرافت اور نجابت اور امارت اور ریاست کا خاندان ہو بلکہ حسب آیۂ کریمہ ان اکرمکم عند الله اتقکم صرف ان کی تقویٰ دیکھی جاتی ہے گو وہ دراصل چوہڑوں میں سے ہوں یا چماروں میں سے۔

صفحہ 386

یا مثلاً کوئی ان میں سے ذات کا کنجر ہو جس نے اپنے پیشہ سے توبہ کر لی ہو یا ان قوموں میں سے ہو جو اسلام میں دوسری قوموں کے خادم اور نیچی قومیں سمجھی جاتی ہیں۔ جیسے حجام، موچی، تیلی، ڈوم، میراثی، سقے، قصائی، جولاہے، گوجر، تنبولی، دھوبی، مچھوے، بھڑبھونجے، نانبائی وغیرہ یا مثلاً ایسا شخص ہو کہ اس کی ولادت میں ہی شک ہو کہ آیا حلال کا ہے یا حرام کا؟ یہ تمام لوگ توبہ نصوح سے اولیاء اللہ میں داخل ہو سکتے ہیں۔‘‘

(تریاق القلوب صفحہ 149 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 277 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 1043 پر)

اسلام اخوت اور مساوات کا دین ہے۔ حضور خاتم النبیین ﷺ نے اپنے آخری خطبہ میں ارشاد فرمایا تھا کہ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں، سوائے تقویٰ کے۔ آنجہانی مرزا قادیانی کا کہنا ہے کہ اسلام میں بعض قومیں نیچی سمجھی جاتی ہیں جو قطعاً جھوٹ اور بہتان ہے۔ قادیانیوں سے سوال ہے کہ قرآن وحدیث میں کہاں لکھا ہے کہ اسلام میں بعض قومیں نیچی سمجھی جاتی ہیں؟؟

(27) ستائیسواں سوال

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور صلیب

(477) ’’حضرت مسیح علیہ السلام وہ انسان تھے جو مخلوق کی بھلائی کے لیے صلیب پر چڑھے۔ گو خدا کے رحم نے ان کو بچا لیا اور مرہم عیسیٰ نے ان کے زخموں کو اچھا کر کے آخر کشمیر جنت نظیر میں ان کو پہنچا دیا۔ سو انھوں نے سچائی کے لیے صلیب سے پیار کیا اور اس طرح اُس پر چڑھ گئے جیسا کہ ایک بہادر سوار خوش عنان گھوڑے پر چڑھتا ہے۔ سو ایسا ہی میں بھی مخلوق کی بھلائی کے لیے صلیب سے پیار کرتا ہوں۔‘‘

(تریاق القلوب صفحہ 370، 371 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 498، 499 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 1044، 1045 پر)

یہودیوں اور عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب پر چڑھے جبکہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں اس کی تردید کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔

صفحہ 387

وما قتلوہ وما صلبوہ (النساء: 157) . یعنی نہ انھیں (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) قتل کیا گیا اور نہ انھیں صلیب دیا گیا۔ اس کے برعکس آنجہانی مرزا قادیانی کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب پر چڑھے۔ قادیانی بتائیں کہ کیا مرزا قادیانی کا مذکورہ بالا عقیدہ قرآن مجید کے خلاف ہے یا نہیں؟؟

(28) اٹھائیسواں سوال

قادیانی کلمہ کی حقیقت

یہ تصویر نائیجیریا (افریقہ) میں قادیانیوں کی بڑی عبادت گاہ ”احمدیہ سنٹرل ماسک“ کی ہے، جو قادیانی جماعت کے تیسرے خلیفہ مرزا ناصر احمد کے دورۂ افریقہ پر تصویری کتاب

صفحہ 388

"AFRICA SPEAKS" سے لی گئی ہے۔ قادیانیوں کی اس عبادت گاہ پر کلمہ طیبہ لا اله الا الله محمد رسول الله کی بجائے لا اله الا الله احمد رسول الله لکھا ہوا ہے، جس کا ترجمہ ہے ”اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، احمد (مرزا غلام احمد قادیانی) اللہ کے رسول ہیں۔“ قادیانی کلمہ کی مزید وضاحت مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر الدین محمود کے مندرجہ ذیل اقتباس سے ہو جاتی ہے۔

احمد سے مراد مرزا قادیانی

(478) ”اور اس آنے والے (مرزا قادیانی) کا نام جو احمد رکھا گیا ہے، وہ بھی اس کے مثیل ہونے کی طرف اشارہ ہے کیونکہ محمد جلالی نام ہے اور احمد جمالی۔ اور احمد اور عیسیٰ اپنے جمالی معنوں کے رو سے ایک ہی ہیں۔ اسی کی طرف یہ اشارہ ہے ومبشراً برسول یأتی من بعدی اسمه احمد مگر ہمارے نبی ﷺ فقط احمد ہی نہیں بلکہ محمد بھی ہیں یعنی جامع جلال و جمال ہیں لیکن آخری زمانہ میں بر طبق پیش گوئی مجرد احمد جو اپنے اندر حقیقت عیسویت رکھتا ہے، بھیجا گیا۔“ (ازالہ اوہام صفحہ 673 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 463 از مرزا قادیانی)

اس عبارت سے ظاہر ہے کہ آپ (مرزا قادیانی) اس آیت کا مصداق اپنے آپ کو ہی قرار دیتے ہیں کیونکہ آپ نے اس میں دلیل کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ اگر رسول کریم ﷺ اس جگہ مراد ہوتے تو محمد و احمد کی پیش گوئی ہوتی۔ لیکن یہاں صرف احمد کی پیش گوئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی اور شخص ہے جو مجرد احمد ہے۔ پس یہ حوالہ صاف طور پر ثابت کر رہا ہے کہ آپ (مرزا قادیانی) احمد تھے بلکہ یہ کہ اس پیش گوئی کے آپ ہی مصداق ہیں۔“

(انوار خلافت صفحہ 37 مرزا بشیر الدین محمود ابن مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1046 پر)

قادیانیوں سے سوال ہے کہ کیا انہوں نے کلمہ طیبہ تبدیل کر لیا ہے؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو بتائیں کہ وہ اپنی دوسری عبادت گاہوں پر ایسا کلمہ تحریر کیوں نہیں کرتے؟ اور اگر جواب نہیں میں ہے تو بتائیں کہ انہوں نے افریقہ کی عبادت گاہ پر ایسا کلمہ تحریر کیوں کیا؟

صفحہ 389

(29) انتیسواں سوال

اکھنڈ بھارت

یہ تصویر پاکستان میں قادیانیوں کے مرکز ربوہ ضلع جھنگ کے قادیانی قبرستان میں نصرت جہاں بیگم (مرزا قادیانی کی بیوی) اور مرزا بشیر الدین محمود کی بیوی کی قبروں کی ہے جن پر مرزا بشیر الدین محمود کے حسب ذیل فرمودات کا بورڈ آویزاں ہے۔

”ارشاد حضرت خلیفتہ المسیح ثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ“

قادیانی کی بیوی) اور دوسرے اہل بیت (مرزا قادیانی کے گھر والے) کی نعشوں کو مقبرہ بہشتی قادیان میں لے کر جا کر دفن کریں، چونکہ مقبرہ بہشتی کا قیام اللہ تعالیٰ کے الہام سے ہوا ہے، اس میں حضرت ام المومنین اور خاندان حضرت مسیح موعود کے دفن کرنے کی پیشگوئی ہے، اس لیے یہ بات فرض کے طور پر ہے، جماعت کو اسے کبھی نہیں بھولنا چاہیے۔“

صفحہ 390

ایک اور موقع پر مرزا بشیر الدین محمود نے کہا تھا :

(479) ”ہندوستان جیسی مضبوط بیس جس قوم کو مل جائے، اس کی کامیابی میں کوئی شک نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ کی اس مشیت سے کہ اس نے احمدیت کے لیے اتنی وسیع بیس مہیا کی ہے پتہ لگتا ہے کہ وہ سارے ہندوستان کو ایک سٹیج پر جمع کرنا چاہتا ہے اور سب کے گلے میں احمدیت کا جوا ڈالنا چاہتا ہے۔ اس لیے ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہندو مسلم سوال اٹھ جائے اور ساری قومیں شیر وشکر ہو کر رہیں تا ملک کے حصے بخرے نہ ہوں بے شک یہ کام بہت مشکل ہے۔ مگر اس کے نتائج بھی بہت شاندار ہیں اور اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ساری قومیں متحد ہوں تا احمدیت اس وسیع بیس پر ترقی کرے چنانچہ اس رویا میں اسی طرف اشارہ ہے، ممکن ہے عارضی طور پر افتراق پیدا ہو، اور کچھ وقت کے لیے دونوں قومیں جدا جدا رہیں مگر یہ حالت عارضی ہوگی اور ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ جلد دور ہو جائے ۔“

( قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کی تقریر، روزنامہ الفضل قادیان 5 اپریل 1947ء صفحہ 3)

(عکس صفحہ نمبر 1050,1049 پر)

(480) ”میں قبل ازیں بتا چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ہندوستان کو اکٹھا رکھنا چاہتی ہے، لیکن اگر قوموں کی غیر معمولی منافرت کی وجہ سے عارضی طور پر الگ بھی کرنا پڑے تو یہ اور بات ہے، بسا اوقات عضو ماؤف کو ڈاکٹر کاٹ دینے کا بھی مشورہ دیتے ہیں لیکن یہ خوشی سے نہیں ہوتا بلکہ مجبوری اور معذوری کے عالم میں اور صرف اسی وقت جب اس کے بغیر چارہ نہ ہو۔ اور اگر پھر یہ معلوم ہو جائے کہ اس ماؤف عضو کی جگہ نیا لگ سکتا ہے تو کون جاہل انسان اس کے لیے کوشش نہیں کرے گا۔ اس طرح ہندوستان کی تقسیم پر اگر ہم رضا مند ہوئے ہیں تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے، اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح جلد متحد ہو جائے ۔“

(قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کی تقریر، روزنامہ الفضل قادیان 16 مئی 1947ء صفحہ 2)

(عکس صفحہ نمبر 1048,1047 پر)

یہ ایک حقیقت ہے کہ قادیانی آزادی سے پہلے پاکستان کے کھلے دشمن تھے اور

صفحہ 391

پاکستان بننے کے بعد بھی وہ اس کو نقصان پہنچانے سے باز نہیں آئے۔ مذکورہ بالا اقتباسات پاکستان کے خلاف قادیانیوں کی بھیانک سازشوں کے بین ثبوت ہیں۔ اس سے بڑی غداری اور بغاوت اور کیا ہو سکتی ہے۔ انھیں پڑھنے کے بعد ہر محب وطن پاکستانی کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔ ہر قادیانی سب سے پہلے اپنی جماعت اور خلیفہ کا وفادار ہے، بعد میں کسی اور کا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے خلیفہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے پاکستان کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچا کر اپنا فرض پورا کر رہے ہیں تاکہ یہ جلد ختم ہو کر اکھنڈ بھارت بن جائے یوں ان کے خلیفہ کا خواب پورا ہو سکے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کا دیرینہ مطالبہ ہے پاک فوج کو قادیانیوں سے پاک کیا جائے کیونکہ وہ جہاد کے منکر ہیں جبکہ جہاد ہماری فوج کا موٹو ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بھارت کے خلاف جنگ میں پاک فوج میں شامل قادیانی کیا کردار ادا کریں گے؟ اپنے کمانڈر کا حکم مانیں گے یا اپنے خلیفہ کا؟ قادیانی بتائیں کہ کیا مذکورہ بالا اقتباسات پاکستان سے غداری ہے یا حب الوطنی؟؟

(30) تیسواں سوال

مرزا قادیانی کی تصویر

یہ مرزا قادیانی کی تصویر ہے جس کا دعویٰ ہے کہ وہ نبی اور رسول ہے، تمام انبیا کرام کا مجموعہ ہے، بلکہ خود محمد رسول اللہ ہے (نعوذ باللہ)! اللہ کا نبی اپنے دور میں تمام انسانوں سے زیادہ خوبصورت اور

صفحہ 392

حسین و جمیل ہوتا ہے۔ وہ اپنے حسن کی زکوٰۃ تقسیم کرے تو پوری کائنات صاحبِ حیثیت ہو جائے۔

قادیانی بتائیں کہ کیا نبی اس شکل کے ہوتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے خود مبعوث کیا ہو اور اُن کی موت بیت الخلا میں ہوئی ہو۔ (نعوذ باللہ)!۔ ہمیں تو یہ رنجیت سنگھ کی تصویر لگتی ہے؟؟ (مہاراجا رنجیت سنگھ سے معذرت کے ساتھ)!

❁.......❁.......❁

PDF 393

ثبوت حاضر ہیں!

عکسی شہادتیں

PDF 394
صفحہ 395

مجھے ضرور پڑھیے!!!

مناظرہ کی کتاب

(481) ”اس پراگندہ وقت میں وہی مناظرہ کی کتاب روحانی جمعیت بخش سکتی ہے کہ جو بذریعہ تحقیق عمیق کے اصل ماہیت کے باریک دقیقے کی تہہ کو کھولتی ہو اور اس حقیقت کے اصل قرارگاہ تک پہنچاتی ہو کہ جس کے جاننے پر دلوں کی تشفی موقوف ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 56 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1051 پر)

زبانی تبلیغ نہیں بلکہ تحریر پیش کرنی چاہیے

(482) ”وہ لوگ جو اشاعت اور تبلیغ کے واسطے باہر جاویں۔ وہ ایسے نہ ہوں کہ اُلٹ پلٹ کر ہماری باتوں کو کچھ اور کا اور ہی بناتے رہیں اور بات تو کچھ اور ہو سمجھانے کچھ اور لگ جاویں۔ دوسروں کو تو ہمارے دعویٰ سے آگاہ کریں اور خود ہماری کتابوں کو کبھی پڑھا بھی نہ ہو۔ اس طرح سے ہی تحریف ہوا کرتی ہے۔ ایسے وقتوں میں صرف زبانی فیصلہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ تحریر پیش کرنی چاہیے۔“

(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 328 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1052 پر)

غور و فکر کرنے کی نصیحت

(483) ”اصل بات یہ ہے کہ جب تک انسان کسی بات کو خالی الذہن ہو کر نہیں سوچتا اور تمام پہلوؤں پر توجہ نہیں کرتا اور غور سے نہیں سُنتا، اس وقت تک پُرانے خیالات نہیں چھوڑ سکتا۔ اس لیے جب آدمی کسی نئی بات کو سُنے تو اُسے یہ نہیں چاہیے کہ سُنتے ہی اُس کی مخالفت کے لیے

صفحہ 396

تیار ہو جائے بلکہ اس کا فرض ہے کہ اُس کے سارے پہلوؤں پر پورا فکر کرے اور انصاف اور دیانت اور سب سے بڑھ کر خدا تعالیٰ کے خوف کو مدنظر رکھ کر تنہائی میں اس پر سوچے ۔“

(ملفوظات جلد دوم صفحہ 355 طبع جدید، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1053 پر)

مسخ شدہ لوگوں کی علامت

(484) ”یہودی لوگ جو مورد لعنت ہو کر بندر اور سور ہو گئے تھے۔ ان کی نسبت بھی تو بعض تفسیروں میں یہی لکھا ہے کہ بظاہر وہ انسان ہی تھے لیکن ان کی باطنی حالت بندروں اور سوروں کی طرح ہو گئی تھی اور حق کے قبول کرنے کی توفیق بکلی اُن سے سلب ہو گئی تھی اور مسخ شدہ لوگوں کی یہی تو علامت ہے کہ اگر حق کھل بھی جائے تو اس کو قبول نہیں کر سکتے ۔“

(مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 325، طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ 1054 پر)

تعصب

(485) ”تعصب ایک ایسی بلا ہے جو غور کرنے نہیں دیتا“

(چشمہ معرفت ص 68 مندرجہ روحانی خزائن ج 23 ص 436، از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 1055 پر)

وہ شرم ہے، کہ ان کو ہے آئینے سے نفرت
خود دیکھنا اپنا بھی گوارا نہیں کرتے

۞.......۞.......۞

صفحہ 397

سُنَنُ الدَّارَقُطْنِي

تأليف

شيخ الإسلام حافظ عصره ، الجهبذ في علم الحديث ومعرفة علله ورجاله

الإمام الكبير علي بن عمر الدارقطني

المولود سنة ٣٠٦ والمتوفى سنة ٣٨٥ هجرية

وبَذَيله

التعليق المغني على الدارقطني

تأليف

المحدث العلامة

أبي الطيب محمد شمس الحق العظيم آبادي

الجزء الأول

عالم الكتب

بيروت

الطبعة الرابعة ١٤٠٦هـ - ١٩٨٦م

بيروت - المزرعة بناية الايمان - الطابق الأول - ص.ب. ٨٧٢٣ تلفون : ٣٠٩١١٦ - ٣١٥١٤٢ - ٣١٣٨٥٩ - برقياً : ناومليكي - تلکس : ٢٣٣٩٠

صفحہ 398

تذکرہ

مجموعہ

الہامات، کشوف و رؤیا

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی

مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام

صفحہ 399

مکتوباتِ احمد

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی

مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام

کے

خطوط اور مکاتیب

جلد اوّل

صفحہ 400

ملفوظات

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی

مسیح موعود و مہدی معہود

بانی جماعت احمدیہ

صفحہ 401

ملفوظات

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی

مسیح موعود و مہدی معہود

بانی جماعت احمدیہ

جلد دوم

صفحہ 402

ملفوظات

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی

مسیح موعود و مہدی معہود

بانی جماعت احمدیہ

جلد سوم

صفحہ 403

ملفوظات

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی

مسیح موعود و مہدی معہود

بانی جماعت احمدیہ

آغاز مئی ۱۹۰۳ء تا اواخر ۱۹۰۵ء

جلد چہارم

صفحہ 404

ملفوظات

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی

مسیح موعود و مہدی معہود

بانی جماعت احمدیہ

جنوری ۱۹۰۶ء تا مئی ۱۹۰۸ء

جلد پنجم

صفحہ 405

مجموعہ

اشتہارات

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی

مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام

جلد اوّل

صفحہ 406

مجموعہ

اشتہارات

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی

مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام

جلد دوم

صفحہ 407

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ

وَلَقَدْ اٰتَیْنٰکَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ وَالْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَ

الْحَمْدُ لِلّٰهِ

سیرۃ المہدی

حِصّہ اوّل

مرتّبہ

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے۔ سلمہ اللہ تعالیٰ

حسب فرمائش

مولیٰنا المکرم محترم مولوی محمد اسمٰعیل صاحب مولوی فاضل و منشی فاضل استاذ مدرسہ احمدیہ ۔ قادیان

جسے محمد فخر الدین (ملتانی) مہتمم احمدیہ کتاب گھر قادیان کو شائع کرنیکا فخر حاصل ہے۔

جملہ حقوق محفوظ

سنہ ١٩٣٩ء

قیمت فی جلد مجلد غیر مجلد

صفحہ 408

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ

سیرت المہدی

(حصہ دوم)

تالیف لطیف حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے

جسے

مینجر بُک ڈپو تالیف واشاعت قادیان دارالامان

نے

ماہ دسمبر ۱۹۳۵ء میں شائع کیا ٭

سورج پریس دہلی میں چھپا اور مطبع احمدیہ قادیان میں چھپا

صفحہ 409

سلسلہ

اشاعت

نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم

سیرۃ المہدی

حصہ سوم

مرتبہ

حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے

طبع

باہتمام محمد اسماعیل مولوی فاضل و منشی فاضل قادیان دارالامان نے

شائع کیا

ایڈیشن اول صفر ۱۳۵۸ھ اپریل ۱۹۳۹ء

نمبر

۱۱۴

صفحہ 410

آؤ لوگو کہ یہیں نور خدا پاؤ گے ܀ لو تمھیں طور تسلی کا بتایا ہم نے

ریویو آف ریلیجنز

یعنی

دنیا کے مذاہب پر تبصرہ

جلد ۱۴ بابت ماہ مارچ و اپریل ۱۹۱۵ء نمبر ۳ و ۴

مطابق جمادی الاول و جمادی الثانی ۱۳۳۳ھ

فہرست مضامین

چندہ سالانہ

کلمۃ الفصل ۹۱ - ۱۸۴

۳ روپے علاوہ محصول ڈاک

صفحہ 411

ٹائیٹل پیج بار اوّل

جاء الحق وزھق الباطل

ان الباطل کان زھوقا

بفضلہ تعالےٰ

یہ رسائل اربعہ جن کے نام بتفصیل ذیل ہیں

انجام آتھم

خدائی فیصلہ ۔ دعوت قوم

مکتوب عربی بنام علماء

مطبع ضیاء الاسلام میں طبع ہو کر عام فائدہ

کے لئے شائع کئے گئے

بمقام قیمت فی جلد مجلد قادیان

صفحہ 412

ٹائٹل طبع اوّل

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

وَيَقُولُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَسْتَ مُرْسَلًا

قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيدًۢا بَيْنِيْ وَبَيْنَكُمْ وَمَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتَابِ

الحمد للہ

کہ یہ رسالہ جس کا نام ہے

ضرورۃ الامام

صرف ڈیڑھ دن میں طیار ہو کر

مطبع

ضیاء الاسلام قادیان میں

قیمت ۲ ؍ محصول علاوہ مجلد ٠٠-۷-٠

بِاهْتِمَامِ حَكِيم فَضْلِ الدِّينِ صَاحِبِ بْهَيْرَوِي مَالِكِ وَمُهْتَمِمِ مَطْبَعِ هٰذَا

صفحہ 413

لَنْ يَّجْعَلَ اللّٰهُ لِلْكَافِرِیْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِيْلًا

قرآن شریف جزو پنجم

یہ ہرگز نہیں ہوگا کہ کافر مومنوں کو ملزم کرنے کے لئے راہ پاسکیں۔

کتاب لاجواب

شحنۂ حق

جس کا دوسرا نام یہ ہے

آریوں کی کسی قدر خدمت

اور

اُن کے ویدوں اور نُکتہ چینیوں کی کچھ ماہیت

یہ رسالہ جو تالیفات مرزا غلام احمد مؤلف براہین احمدیہ میں سے ہے اُس پُر افترا رسالہ کا جواب ہے جو چند قادیان کے ہندؤوں کی طرف سے بامداد پنڈت لیکھ رام پشاوری چشمہ نور امرتسر میں چھپا تھا سو عام فائدہ کے لئے مرزا صاحب موصوف کی طرف سے مطبع ریاض ہند امرتسر میں باہتمام شیخ نور احمد مالک مطبع طبع ہو کر شائع ہوا

۲۲۳

صفحہ 414

ٹائٹل طبع اوّل

مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ وَالَّذِيْنَ مَعَهُ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيْنَهُمْ ترجمہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ انکے ساتھ ہیں وہ کافروں پر سخت اور آپس میں رحم دل ہیں

قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا ترجمہ کہہ دو کہ حق آیا اور باطل بھاگ گیا اور باطل بھاگنے والا ہی تھا

هٰذَا الَّذِيْ كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُوْنَ یہ وہی ہے جس کے لئے تم جلدی کرتے تھے

میاں نذیر حسین صاحب دہلوی اور اُنکے شاگرد بٹالوی کو جو مؤلف رسالہ ہذا صاحب کتاب ازالۃ الاوہام و توضیح مرام کو کافر اور دجال اور کذّاب اور ملحد اور بے ایمان اور ملعون اور دُور از رحمت رحمٰن ٹھہراتے ہیں اور ایسا ہی انکے تمام ہمخیالوں، مولویوں، صوفیوں، پیرزادوں، فقیروں، سجادہ نشینوں کو آسمانی فیصلہ کیطرف دعوت اور نیز اُن کے گزشتہ مباحثات کی کیفیت والحمد للہ والمنۃ کہ یہ رسالہ موسومہ بہ

آسمانی فیصلہ

مطبع ریاض ہند امرتسر میں چھپا یکہزار جلد فی سبیل اللہ تقسیم کیا گیا ہو

يُرِيْدُوْنَ لِيُطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَاللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُوْنَ

هُوَ الَّذِيْ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهٖ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ

۳۰۹

صفحہ 415

ٹائیٹل طبع اول حصہ اول

جَآءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَهُوْقًا

بفضلِ عظیم حضرت باری عزاسمہ وبرحمتِ عمیمِ رہنمائے گمگشتگانِ کنجِ لا یعلم بجواہرِ علوم ۔

براہینِ احمدیہ

ملقب بہ

البَرَاہِينُ الاحْمَدِيَّة عَلٰى حَقّيَّتِ کِتَابِ اللّٰهِ الْقُرْآنِ وَالنُّبُوَّةِ الْمُحَمَّدِيَّةِ

جس کو مفخرِ اہل اسلام پنجاب جناب مرزا غلام احمد صاحب رئیس اعظم قادیان

ضلع گورداسپور پنجاب دام اقبالہم نے کمال تحقیق اور تدقیق سے تالیف کر کے

منکرینِ اسلام پر حجّتِ اسلام پوری کرنے کیلئے بوعدہ انعام دس ہزار روپیہ شائع کیا

امرتسر پنجاب

سفیرِ ھند پریس میں در ۱۸۸۰ء طبع ہوئی

امیر علی دولہ پرنٹر

طالب حق کو اس میں سے حق کی بو آئے گی اور

نابینا اس کے دیکھنے سے بھی نابینا ہی رہے گا

اس کتاب میں حضرت باری تعالیٰ کی طرف سے وہ وہ

براہین درج ہیں کہ جن کو دیکھ کر سچا دین کھل جائیگا

صفحہ 416

ایڈیشن بار اول

وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُولَئِكَ مَا عَلَيْهِمْ مِنْ سَبِيلٍ

جو شخص مظلوم ہو کے بدلہ لے اس پر کوئی الزام نہیں

ست بچن

آریہ دھرم

مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں حکیم فضل دین مالک مطبع

کے اہتمام سے چھپے

قیمت مجلد

سنه ۱۸۹۶ء

صفحہ 417

ٹائیٹل طبع اوّل

هٰذَا الْكِتَابُ أَلَّفْتُه مِنْ تَأْيِيْدِ رَبِّي الْمَنَّانِ

وَوَاللّٰهِ إِنَّه مِنْ قُوَّةِ رَبِّي لَا مِنْ قُوَّةِ الْإِنْسَانِ

وَإِنَّه لَآيَةٌ عَظِيْمَةٌ لِمَنْ تَفَكَّرَ وَخَافَ الدَّيَّانَ

وَإِنِّيْ سَمَّيْتُه

مَوَاهِبُ الرَّحْمٰنِ

وَأَنَا عَبْدُ اللّٰهِ الْأَحْمَدُ غُلَامُ أَحْمَد عَاذَنَا اللّٰهُ

وَأَيَّدَ وَجَعَلَ قَرْيَتِيْ هٰذَا قَادِيَان

دَارَ الْإِسْلَامِ وَمَهْبِطَ الْمَلٰئِكَةِ

الْكِرَامِ

(آمِينَ)

قَدْ طُبِعَ فِي مَطْبَعِ ضِيَاءِ الْإِسْلَامِ قَادِيَان بِاهْتِمَامِ

الْحَكِيْمِ فَضْلِ الدِّيْنِ الْبُهَيْرَوِيّ لِأَرْبَعَةَ عَشَرَ خَلَوْنَ

مِنْ شَوَّال سَنَة ١٣٢٠ هـ مُطَابِقًا لِأَرْبَعَةَ عَشَرَ خَلَوْنَ مِنْ

شَهْرِ جَنُوَرِي سَنَة ١٩٠٣ م

التعداد ٢٠٠٠

صفحہ 418

ازالہ الاوہام ۱۰۱ حصہ اول

نقل ٹائیٹل بار اول

حصہ اول

پس یقینا خدا نے قبل کہ مجھ پر فرشتہ نازل ہو اور مجھ پر سچائی ظاہر کرے

اِزَالَۃُ اَوْهَام

بِقِيَامِ بَأْسٍ شَدِيْدٍ وَّمَنَاصٍ لِّلنَّاسِ

الحمد والمنت کہ بماہ مبارک ذی الحجہ ۱۳۰۸ھ کتاب جامع معارف قرآنی و شارح اسرار کلام ربانی از تالیفات مرسل یزدانی و مامور رحمانی جناب مرزا غلام احمد صاحب قادیانی

مطبع ریاض ہند امرتسر میں باہتمام شیخ محمد علی چھپ کر طیار ہوئی

تعداد جلد ۷۰۰ قیمت فی جلد مجلد

صفحہ 419

ٹائٹل پیج بار اول

یہ آیت خدا کی وحی ہے جو کئی ایک

بار مجھ پر نازل ہوئی

اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَكَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَ يَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْ

بحوالہ اشتہار ۲۰ نومبر ۱۸۹۸ء

یہ وہی آیت ہے جو بیعت کرتے وقت بیعت کرنے والے کو پڑھائی جاتی ہے

رسالہ آسمانی ٹیکہ جو طاعون کے بارے میں اپنی جماعت کیلئے تیار کیا گیا

مَا یَفْعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمْ اِنْ شَكَرْتُمْ وَاٰمَنْتُمْ

وَكَانَ اللّٰهُ شَاكِرًا عَلِیْمًا

کشتی نوح

اور دوسرا نام

دعوت الایمان

لتقویۃ الایمان

اس رسالہ کی قیمت چار آنہ مقرر کی گئی ہے لیکن

ہر ایک احمدی کو جو چندہ دیتا ہے مفت دیا جائے گا

اِنِّیْ حَافِظٌ كُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ - لَا عَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَحِمَ

میں ہر ایک کو جو اس چار دیواری کے اندر ہے بچاؤں گا ۔ آج کے دن خدا کے ارادہ سے کوئی بچانے والا نہیں مگر وہی جس پر وہ رحم کرے۔

۵؍ اکتوبر ۱۹۰۲ء

بمقام قادیان فضل دین مہتمم کے اہتمام سے مطبع ضیاء الاسلام میں چھپ کر شائع ہوا

تعداد جلد ۵۰۰۰

صفحہ 420

طبع ٹائپ بار اول

الحمدللہ و المنۃ کہ تمام مخالفوں پر الٰہی حجت پوری کرنے کیلئے یہ رسالہ جس کا نام ہے

اربعین

لاتمام الحجۃ علی المخالفین

بمقام قادیان مطبع ضیاء الاسلام میں باہتمام حکیم فضل الدین صاحب مالک مطبع چھپ کر شائع ہوا

تعداد ۷۰۰ قیمت ۵ ر

۱۵۔ دسمبر ۱۹۰۰ء

صفحہ 421

جاء الحق وزہق الباطل ان الباطل کان زہوقاً

آنانکہ بر دعویٰ ما حملہ ہا کنند وز راہ جہل عربدہ ہا برپا کنند
گر یک نظر کنند بدیں نسخۂ کتب ہست ایں یقیں کہ توبہ ز عربدہ ہا بکنند
باور نمی‌کنم کہ نیایند عذر خواہ ویں امر دیگر است کہ ترک حیا کنند

براہین احمدیہ

حصہ پنجم (۵)

ملقب

بالبراہین الاحمدیۃ علیٰ حقیقۃ کتاب اللّٰہ القرآن والنبوۃ المحمدیۃ

مؤلفہ

حضرت اقدس مرزا غلام احمد مسیح موعود علیہ السلام

صفحہ 422

تعداد ۴۰۰۰

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

بسم الله الرحمن الرحيم

براہین احمدیہ

حصہ پنجم

مصنفہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلوٰۃ والسلام

صفحہ 423

ٹائٹل پیج بار اول

جاء الحق وزهق الباطل ان الباطل كان زهوقا

انوار الاسلام

يخادعون الله والذين امنوا وما يخدعون الا انفسهم وما يشعرون

تعداد اشاعت (۳۰۰۰)

صفحہ 424

ٹائٹل طبع اول

كَيْفَ اَنْتُمْ اِذَا نَزَلَ فِیْكُمُ ابْنُ مَرْيَمَ وَاِمَامُكُمْ مِنْكُمْ

خدائے تعالیٰ کے بے انتہا احسانوں میں سے یہ بھی ایک عظیم الشان فضل و احسان ہے۔

کہ کتاب مستطاب منبع الایمان و عرفان مسمّی بہ

حصہ دوم چھپنے پر نسخے مل سکتے ہیں

صادقوں اور مفتریوں میں فرق بیان فرماتی ہے

نزول المسيح

ایں چشمہ ایست کہ تصدیق او بآسمان رفتہ اند

فِیْ اٰخِرِ الزَّمَانِ

آسمان بارہا نشانِ وقت بتلا دیے ہیں

خود مسیح موعود علیہ السلام کے قلم سے نکلی ہوئی جس کا نزول جمالی اور جلالی رنگوں میں حضرت ختم الرسل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق جو آخری زمانہ کے متعلق تھیں، اسوقت کے اُولوا الالباب اور اُولوا الابصار نے برائی العین مشاہدہ کیا

مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں چھپ کر باہتمام مہدی حسین مہتمم کتب خانہ حضرت مسیح موعود

علیہ السلام کے زیر نگرانی شائع ہوئی۔ ٹائٹل پیج مطبع میگزین قادیان میں چھپ کر طیار ہوا۔

بار اول تعداد اشاعت ۲۹۰۰

ماہ اگست ۱۹۰۹ء

قیمت ؎

شعبان المعظم ۱۳۲۷ھ

صفحہ 425

ٹائٹل پیج بار اوّل

يٰأَهْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللّٰهَ الحمد لله الموفق اني كتبت هذه الرسالة والصحيفة العجالة لعلاج مرض المتنصرين الذى امتدّ مداه وغرتهم دنياه وأكلتهم نار انكار الفرقان. والصول علىٰ كتاب الله القرآن. فأردتّ أن ننجيهم من مخلب الحمام. ونريهم سوء داءهم ونهديهم الى دواء السقام. فألّفْتُ هذا الكتاب مع انعام كثير لمن اجاب. وهو خمسة آلاف من الدراهم لكل من اتى بمثله وارى العجائب. وهو بفضل الله حسن وطيب ولطيف وادق. وسميته الحصة الاولى من

نور الحق

"عسى ربكم ان يرحمكم وان عدتم عدنا وجعلنا جهنم للكافرين حصيرا ان هذا القرآن يهدي للتي هي اقوم ويبشر المؤمنين الذين يعملون الصالحات ان لهم اجرا كبيرا ٭"

قد طبع فى المطبع المصطفائى بمدينة لاهور سنة ١٣١١ هجرى

بار اول عدد ۱۲۰۰

صفحہ 426

(نقل ٹائٹل طبع اول) * بغیر دستخط مہتمم کتب خانہ کے کتاب مسروقہ سمجھی جاوے گی *

قَدْ فَرَغْنَا مِنَ الرَّدِّ عَلٰی قَوْمٍ يُسَمَّوْنَ آریہ فَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ اِنَّا اِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَآءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِيْنَ

(ترجمہ) ہم آریہ قوم کی رد لکھنے سے فراغت کر چکے سو اس خدا کو سب تعریف ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے ہم جب ایک قوم پر چڑھائی کرتے ہیں اور ان کے صحن میں اترتے ہیں تو وہ صبح ان کی ایک بُری صبح ہوتی ہے جو تباہی کی خبر دیتی ہے

یہ کتاب آریہ صاحبوں کے اس مضمون کے جواب میں ہے جس کو انہوں نے اپنے مذہبی جلسہ میں یکم دسمبر ۱۹۰۷ء میں بمقام قادیان بعض ہماری جماعت کے مسلمانوں کے چند آدمیوں کو اپنے گھر میں بلا کر سنایا تھا جو ہمارے سید و مولیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین اور دشنام دہی سے پُر تھا جس میں دین اسلام پر جا بجا تحقیر اور ہنسی اور ٹھٹھا کیا گیا تھا اور نہایت شوخی سے گندی گالیاں دے کر ابدی جہنم کی تہمتیں ہمارے مقدس ذات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر لگا کر صدہا مسلمانوں کو غم و غصہ دلا کر نہایت دکھ دیا تھا اور اس کتاب کا نام ہے

چشمہ معرفت

از مولفات حضرت مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود جو ۱۵؍ مئی ۱۹۰۸ء کو مطبع انوار احمدیہ مشین پریس قادیان ضلع گورداسپور میں طبع ہوئی باہتمام شیخ یعقوب علی تراب منیجر

دو ہزار چار سو قیمت فی جلد ۶؍ اور قیمت مجلد تین روپے

صفحہ 427

ٹائٹل پیج بار اوّل

قادر کے کاروبار نمودار ہو گئے۔ کافر جو کہتے تھے وہ گرفتار ہو گئے

وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِيْنَ اِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنْصُوْرُوْنَ وَاِنَّ جُنْدَنَا لَهُمُ الْغَالِبُوْنَ

(سورة صافات)

وَكَفَانِي مِمَّا اُوْحِيَ اِلَیَّ ھٰذَا الْوَحْيُ الْمُبَشِّر قَالَ رَبُّكَ اِنَّهٗ نَازِلٌ مِّنَ السَّمَآءِ مَا يُرْضِيْكَ وَمَا تَتَنَزَّلُ بِالْاٰیٰتِ وَرَبُّكَ مَا اَرْسَلَ نَبِيًّا اِلَّا اُخْزِيَ بِهٖ اِنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يُؤْمِنُوْنَ۔ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَالَّذِيْنَ ھُمْ مُّحْسِنُوْنَ۔ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاَنَّ لَهُمُ الْفَتْحَ۔ وَاللّٰهُ مَعِيْ نُوْرِيْ۔ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُوْنَ كَذَّبَ الْمُبْطِلُوْنَ الْمُفْسِدُوْنَ لَا تَخَفْ اِنَّكَ بِنَجَاةٍ۔ لَدَىَّ الْمُرْسَلُوْنَ۔

حقیقۃ الوحی

خدا تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ یہ کتاب جامع جس میں ہر ایک قسم کے حقائق اور معارف اور بہت سے آسمانی نشان درج ہیں محض اسی کے فضل اور کرم اور خاص اُس کی توفیق اور تائید سے مرتب و تالیف ہو کر مطبع میگزین قادیان میں باہتمام مینجر مطبع کے چھپی

تعداد ایک ہزار جلد تاریخ اشاعت ۱۵؍مئی ۱۹۰۷ء

صفحہ 428

ٹائٹل طبع اوّل

الحمد لله والمنت کہ بتائید و توفیق آن نعم المولیٰ و نعم النصیر و عنایات اُس ذات جلیل و عظیم کے یہ حصّہ اولیٰ کتاب کا جو نامی بہ اسم ہے

آئینہ کمالات اسلام

جس کا دُوسرا نام دافع الوساوس بھی ہے

بماہ فروری سنه ۱۸۹۳ء

مطبع ریاض ہند قادیان میں باہتمام شیخ نور احمد مہتمم و مالک مطبع طبع ہو کر شائع ہُوا

صفحہ 429

وما یبطل باطل

اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ

اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ

الحمد للہ والمنۃ کہ ضمیمہ نزول المسیح جسکے ساتھ

دس ہزار روپیہ کا اشتہار ہے

حسب استدعا مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کے

محض پانچ دن میں ابتداء ۸ نومبر ۱۹۰۲ء سے

طیار ہو کر اس کا نام

اعجاز احمدی

رکھا گیا

اور اس رسالہ میں پیر مہر علی شاہ صاحب و مولوی اصغر علی صاحب

و مولوی علی حائری صاحب شیعہ وغیرہ بھی مخاطب ہیں جن کا نام

رسالہ میں مفصل درج ہے (تاریخ طبع ۱۵ نومبر ۱۹۰۲ء)

بمقام قادیان باہتمام حکیم فضل الدین صاحب مطبع ضیاء الاسلام میں طبع ہوا

اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ

اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ

تعداد اشاعت ۵۰۰

صفحہ 430

ٹائیٹل پیج بار اوّل

حُجَّۃُ اللّٰہ

مطبوعہ مطبع ضیاء الاسلام

قادیان دارالامن والامان

۲۴ ذی الحجہ

۱۳۱۴ھ

صفحہ 431

نمونہ ٹائیٹل بار اول

خدائے کریم کا شکر ہے کہ یہ رسالہ قادیان کے آریہ اور ہم کے جواب میں لکھا گیا ہے جن میں بہت سی توہین اور بدزبانی کی گئی ہے اس اشتہار میں میرے نشانوں کا انکار کیا ہے جسکے گواہ نہ فقط وہی بلکہ لاکھہا دنیا ان کو دیکھ چکی ہے اور اس رسالہ کا نام ہے

قادیان کے آریہ اور ہم

اور یہ رسالہ باہتمام مینجر صاحب میگزین پریس قادیان میں طبع ہوکر شائع ہوا ۲۰ فروری ۱۸۹۳ء

تعداد یک ہزار جلد قیمت فی جلد ۲؍

صفحہ 432

القمر والشمس فى رمضان ـ ليكون آيتين لى من ربى الرحمن ثم انزل الطاعون لعل الناس يتفكرون ـ فمالكم لا تنظرون الى اى الله ام تعمت عيونكم ما تنظرون ـ ايها الناس عندى شهادات من الله فهل انتم تؤمنون ـ ايها الناس عندى شهادات من الله فهل انتم تسلمون ـ وان تعدوا شهادات ربى لا تحصوها فاتقوا الله ايها المستعجلون ـ افكلما جاءكم رسول بما لا تهوى انفسكم فريقا كذبتم وفريقا تقتلون انا نصرنا من ربنا ولا تنصرون من الله ايها الخائنون ـ اقتلتمونى بفتاوى القتل او دعاوى رفعتموها الى الحكام ثم لا تندمون كتب الله لاغلبن انا ورسلى ولن تعجزوا الله ايها الهاربون ـ ووالله انى صادق ولست من الذين يختلقون ـ اتنكروننى وقد تمت عليكم الحجة الا تردون الى الله او انتم كمسيحكم مخلدون ـ الا تتدبرون سورة النور والتحريم والفاتحة او تكرهون قراءتها او على انفسكم تحرمون ـ وهذه رسالة منى اهديت لكم يا اهل الندوة لعلكم تفتحون عيونكم او تتم عليكم حجة الله فلا تعتذرون بعدها ولا تختصمون وانى سميتها

تُحْفَةَ النَّدْوَةِ

وانى اُرسل اليكم رسلى وانظر كيف يرجعون
وانى ادعو الله ان يجعلها مباركة لقوم لا يستكبرون ـ رب اشهد انى بلغت
ما امرت فاكتبنى فى الذين يبلغون رسالاتك ولا يخافون ـ امين ثم امين۔
صفحہ 433

ٹائیٹل طبع اول

اَلهُدٰى

وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ يَّرٰى

١٢ جون ١٩٠٢ء

ع

الثمن فی جلد محصول ڈاک وي پي

١٢ ر ١٠ ر ١ ر

طبع فی دارالامان قادیان المطبع ضیاء الاسلام

باہتمام الحکیم فضل دین بھیروی

تعداد اشاعت ٥٠٠

صفحہ 434

تائیٹل ٹائیٹل

هذا هو الكتاب الذى الهمت بحصة منه من رب السماء . فى يوم عيد من الاعياد . لقرأته على المخالفين . بانطاق الروح الامين . من غير مدد التروية والتسويد . فلا شك انه آية من الآيات . وما كان لبشر ان ينطق كمثلى مرتجلا مستحضراً فى مثل هذه العبارات . وكان الناس يرقبون طبعه رقبة يوم العيد ويستطلعون بعيون المشتاق المريد . فالحمد لله الذى اراهم مقصودهم بعد الانتظار . ووجدوا مطلوبهم كبستان مذللة اغصانه من الثمار . وانه صنيعة احسان الحضرة . ومطية تبليغ الناس الى السعادة وانه غيث من الله بعد ما أَمْحَلَتِ البلاد وعم الفساد . ولن تجد هذه المعارف فى الآثار منتقاً المدوّنة من الثقات . بل هى حقائق اوحيت الىّ من ربّ الكائنات . وانه اعجاز تام . وهل بعد المسيح يكتم . وهل بعد خاتم الخلفاء على السر نختم . وليس من العجب ان تسمع من خاتم الائمة . فكانما سمعت من قَبْلُ من علماء الملة . بل العجب كل العجب ان يأتى المسيح الموعود والامام المنتظر ويكفر الناس بخاتم الخلفاء ثم لا يأتى بمعرفة جديدة من حضرة الكبرياء . ويتكلم كشخص العادة من التعلم . ولا يشرق فى قلبه انوار الخلوة والصفاء . وانى سميت هذه الرسالة

خُطْبَةُ اِلْهَامِيَّةٌ

وَاِنِّي عُلِّمْتُهَا اِلْهَامًا مِنْ رَّبِّي كَانَتْ آيَةً

تعداد طباعة ٢١٠٠

ثمن نسخة واحدة ٤ عانه

وانها طبع فى مطبع ضياء الاسلام قاديان باهتمام الحكيم فضل الدين البهيروى فى سنة ١٣١٩ من الهجرة المقدسة

صفحہ 435

روحانی خزائن

تصنیفات

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی

مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام

جلد ۱۸

اعجاز المسیح ۔ ایک غلطی کا ازالہ ۔ اَلْھُدَیٰ اَلتَّبْصِرَۃُ لِمَنْ یَّرٰی

دافع البلاء ۔ نزول المسیح

صفحہ 436

(ٹائٹل طبع اول)

الحمد لله والمنة کہ یہ رسالہ مبارکہ جس میں اخوند زادہ سرآمد علماء کابل اور شیخ اجل افغانستان اور رئیس اعظم غوث مولوی محمد عبد اللطیف صاحب مرحوم کی شہادت کا ذکر ہے اور نیز اُنکے شاگرد رشید میاں عبدالرحمن کے شہید ہونے کے حالات مذکور ہیں تالیف ہو کر نام اس کا مندرجہ ذیل رکھا گیا یعنے

تذکرۃ الشہادتین

مع رسالہ عربی وعلامات المقربین

اور یہ رسالہ مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں باہتمام حکیم مولوی فضل الدین صاحب مالک مطبع اکتوبر کے مہینہ میں چھاپ کر شائع کیا گیا۔

قیمت فی جلد ۴؍

تعداد جلد ۸۰۰

صفحہ 437

۱۶۵

حمامتنا تطير بريش شوق وفى منقارها تحف السلام
الى وطن النبي حبيب ربي وسيد رسله خير الانام

الرِّسَالَة

اللطيفة المشتملة على معارف القرآن ودقائقه المسماة

حَمَامَةُ البُشْرٰى

الى

أهل مكة وصلحاء أمّ القرى

لحضرة أحمد المسيح الموعود والمهدى المعهود

عليه وعلى مُطاعِهِ الصَّلوٰة وَالسَّلَام

الطبعة الأولى فى رجب سنة ۱۳۱۱ الهجرية

صفحہ 438

ٹائٹل پیرا اول

As the Muslims of India entertain different beliefs with regard to "the coming Mehdi" and especially the nature of his appearance among the Muslims, according to some Muslims he will be a reformer and engenderer of new life, like a true lover of peace and tranquility and a person poor in heart,— the Muslims of his party considering his appearance as merely spiritual, while other Muslims, such as Maulvi Mohammad Husain of Batala , editor of Isha-at-Usunnah and leader and advocate of Ahl-i-hadis or Wahabis of his class , believe that the "coming Mehdi" will be Ghazi, general slaughterer, and upsetter of the empires of the nations other than Muslims, especially the bitter opponent of the British Empire and speak of the terrible consequences resulting from the bloody deeds of this Mehdi, I have written this pamphlet to show which of those two Muslim parties is right in its beliefs with regard to "the coming Mehdi".

It will be better that our benign Government will get this pamphlet translated into English and hence make itself acquainted with these differences concern- ing "the coming Mehdi".

Haqiqat-ul-Mehdi

حقیقت المہدی

The true nature of Almehdi

بتاریخ ۲۱ فروری ۱۸۹۹ء بمطبع ضیاء الاسلام قادیان میں باہتمام فضل الٰہی پرنٹر چھپ کر شائع ہوا

صفحہ 439

ٹائٹل پیج طبع اوّل

الحمدللہ والمنّۃ

کہ یہ رسالہ پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی اور ان کے مریدوں اور ہمخیال لوگوں پر اتمامِ حجت کے لئے محض نصیحتاً للہ شائع کیا گیا ہے اور بغرض اس کے کہ عام لوگوں پر حق واضح ہو جائے اس رسالہ کے ساتھ پچاس روپیہ کے انعام کا اشتہار بھی دیا گیا ہے جو اسی ٹائٹل پیج کے دوسرے صفحہ پر مندرج ہے اور یہ رسالہ موسوم بہ

تحفۂ گولڑویہ

ہوکر مطبع ضیاء الاسلام قادیان ضلع گورداسپور میں باہتمام حکیم حافظ فضل الدین صاحب بھیروی مالک مطبع چھپ کر یکم ستمبر ۱۹۰۲ء کو شائع ہوا

قیمت ۱۰؍ محصول ۲؍ مجلد ۱۲؍ کل ۱۴؍

صفحہ 440

ٹائیٹل پیچ لکچر

هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ ط

رسید مژدہ ز غیبم کہ من ہماں مردم کہ او مجدد ایں دین و رہنما باشد
منم مسیح ببانگ بلند مے گویم منم خلیفہ شاہے کہ بر سما باشد
چنیں زمانہ چنیں دور ایں چنیں برکات زہے نصیب وے در چنیں لقا باشد
سیاه باد رُخ بخت من اگر بہ دلم دگر غرض بجز از یار آشنا باشد

خدا کے مرسل

حضرت مسیح موعود و مہدی معہود

عالیجناب مرزا غلام احمد صاحب قادیانی

کا لیکچر موسوم بہ

اسلام

جو ۲ نومبر ۱۹۰۴ء کو بمقام سیالکوٹ ایک عظیم الشان جلسہ میں پڑھا گیا جسکو چوہدری نور بخش صاحب احمدی بھٹی نائب محافظ دفتر ضلع سیالکوٹ نے مفید عام پریس سیالکوٹ میں چھپوا کر شائع کیا

صفحہ 441

ٹائٹل طبع اول

الحمد للہ والمنۃ

کہ رسالہ شافیہ کافیہ جو مخالفوں کو حجت اللہ اور موافقوں کیلئے موجب ثبات ایمان و عرفان ہے

موسوم بہ

نشانِ آسمانی

جس کا دوسرا نام

شَہَادَةُ المُلہَمِیْن

بھی ہے

اثرت نشان آسمانی * چشمہ فیض اک یزدانی

یا صوفی چشمہ باش در حال * تا نو بہار حسن بے زوال

از تالیفات مہدی زمان و مسیح دَوران مجدد الوقت حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی

جون ۱۸۹۲ء میں

بزیر نگرانی خاکسار غلام محمد کاتب

ریاض ہند امرتسر میں چھپا

۳۵۵

صفحہ 442

ٹائٹل بار اول

الحمد للہ والمنہ کہ یہ رسالہ

موسومہ

ایّامُ الصلح

قیمت فی جلد ۲؍

تعداد اشاعت ۳۰۰

مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں باہتمام حکیم حافظ فضل الدین صاحب

بھیروی مالک مطبع کے مطبوع ہوا

یکم جنوری ۱۸۹۹ء

صفحہ 443

۲۹۵

(ٹائٹل پیج طبع بار ثانی)

الحمد للہ والمنت کہ رسالہ طیبہ مبارکہ

المسماۃ بہ

شَهَادَةُ الْقُرْآنِ

عَلٰی

نُزُولِ الْمَسِيحِ الْمَوْعُودِ فِی آخِرِ الزَّمَانِ

مطبع پنجاب پریس سیالکوٹ میں

باہتمام

منشی غلام قادر صاحب

فصیحؔ کے چھپا

صفحہ 444

پیغام صلح

رقم فرمودہ

حضرت اقدس مرزا غلام احمد مسیح موعود علیہ السلام

صفحہ 445

ٹائیٹل طبع اول

هٰذِهِ رِسَالَةٌ مُّبَارَكَةُ الْمُسَمَّاةُ

كَرَامَاتُ الصَّادِقِينَ

ولمن يأت برسالة مثلها فله إنعام

الف من الورق غير مقلّدٍ

كان أو من المقلّدين

وإنها

قَدْ طُبِعَتْ بِفَضْلِ اللهِ وَرَحْمَتِهِ فِى پَنجَاب پَرِيس سِيالكُوت

بِاهْتِمَام

المنشی غلام قادر الفصیح مالك المطبع فالحمد لله ربّ العالَمین۔

صفحہ 446

ٹائیٹل طبع اوّل

مطبوعہ ضیاء الاسلام

۱۳۱۴ھ

سِرَاج مُنِیْرُ

مشتمل بر نشانہائے قدیر

قادیان دارالامان

مئی ۱۸۹۷ء

صفحہ 447

روحانی خزائن ۱۷۷ کشف الغطاء

اے قادرِ خدا! اُس گورنمنٹ عالیہ انگلشیہ کو ہماری طرف سے نیک جزا دے اور اُس سے نیکی کر جیسا کہ اُس نے ہم سے نیکی کی۔ آمین ۔

كَشْفُ الغِطَاءِ

یعنے

ایک اسلامی فرقہ کے پیشوا مرزا غلام احمد قادیانی کی طرف سے بحضور گورنمنٹ عالیہ اس فرقہ کے حالات اور خیالات کے بارے میں اطلاع اور نیز اپنے خاندان کا کچھ ذکر اور اپنے مشن کے اصولوں اور ہدایتوں اور تعلیموں کا بیان اور نیز ان لوگوں کی خلاف واقعہ باتوں کا ردّ جو اس فرقہ کی نسبت غلط خیالات پھیلانا چاہتے ہیں

اور یہ مؤلف تاجِ عزت جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کا واسطہ ڈال کر بخدمت گورنمنٹ عالیہ انگلشیہ کے اعلیٰ افسروں اور معزز حکام کے پاس گذارش کرتا ہے کہ براہِ غریب پروری وکرم گستری اس رسالہ کو اوّل سے آخر تک پڑھا جائے یا سُن لیا جائے۔

یہ رسالہ تالیف ہوکر ۲۸ دسمبر ۱۸۹۸ء کو مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں باہتمام حکیم فضل الدین صاحب مالک مطبع کے مطبوع ہوا۔

تعداد ۳۵۰

صفحہ 448

۱۲۷

ان هذا الكتاب يدفع وساوس الخناس۔ وفيه

شفاء للناس۔ وهو يهب السكينة

ويجلو الكروب۔ وسميته۔

تریاق القلوب

تصنیف

امام ربانی حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی

مسیح موعود و مہدی مسعود علیہ الصلوۃ والسلام۔

صفحہ 449

۳۶۷

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم

مَا عَلَی الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلَاغُ

البلاغ

جس کا دُوسرا نام ہے

فریاد درد

تصنیف منیف حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام

باجازت حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ

مینیجر بکڈپو تالیف و اشاعت قادیان نے شائع کیا

۲۹؍ مئی ۱۹۲۲ء تعداد ۱۰۰۰ ۱۳۴۰ھ۔

صفحہ 450

حاشیہ : اس کتاب کا نام میری اس الہامی عبارت کے مطابق رکھا گیا ہے جس کے اوّل میں یہ فقرہ ہے :۔ انّی مع الافضال معک و مع اہلک ومع من تبعک الخ۔ اور اس الہام کے ساتھ یہ فقرہ بھی الہام ہوا تھا۔ انّ الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ ردّ علیہم ۔ رجل من فارس شکر اللہ سعیہ ۔ یعنی وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور خدا کی راہ سے روکا ایک فارسی الاصل نے ان کے مکروں کو ان پر الٹا دیا خدا اس کی کوشش کا شکر گذار ہے ۔ یہ اشارہ اس امر کی طرف ہے کہ بعض مخالفوں نے جن کے پیشرو عیسائی اور آریہ اور بعض ان کے ہم مشرب تھے مجھے ایک جھوٹے مقدمہ میں پھنسا کر یہ چاہا تھا کہ گویا میری طرف سے اس الہام کا نمونہ دکھلاویں کہ انّ الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ الخ مگر خداتعالیٰ نے ان کے اس مکر کو انہیں پر الٹا دیا اور مجھے بریت بخشی اور انہیں کے حصہ میں ذلت اور رسوائی رہی ۔ فالحمدللہ علی ذالک ۔ منھ

اس الہام میں جو فارسی الاصل کی نسبت یہ کہا گیا ہے کہ خدا اس کی کوشش کا شکر گذار ہے یہ استعارہ کے طور پر ہے کیونکہ جو شخص کسی کا شکر گذار ہوتا ہے اس کو ہر ایک انعام اور اکرام سے خوش کر دیتا ہے ۔ سو مراد یہ ہے کہ وہ فارسی الاصل خداتعالیٰ کے انعام اور اکرام کا مورد ہوگا اور خدا اس کے سب کام پورے کرے گا اور کوئی ایسا کام اس کا نہیں رہے گا جس کا انجام با مراد نہ ہو ۔ اور نیز یہ کہ اس کا انجام بخیر ہو گا ۔ اور یہ الہام براءت کے مقدمہ سے سات برس پہلے براہین احمدیہ میں چھپ چکا ہے جس کا صفحہ ۵۱۰ ہے۔

الیس اللہ بکاف عبدہ فبشرہ اللہ تعالیٰ بآیات صدقہ و یجعلہ وجیھاً فی الدنیا والآخرة ومن المقربین ۔ ولنجعلہ آیۃ للناس ورحمۃ منا وکان امراً مقضیا ۔ انّ الذی فرض علیک القرآن لرادّک الی معاد ۔ انی معک یا رسول اللّٰہ ۔ اجیبک ولا اکاد ابین ۔ اہل بیتک فی حفظی و ہم ینصرون ۔ وما کان اللہ لیعذبہم و انت فیہم ۔ انّی مع الافضال معک و مع اہلک ۔

یہ فقرہ بھی کہ دراصل ان لوگوں کا کام مکر اور فریب نہیں ہے براہین احمدیہ میں پہلے سے چھپا ہوا ہے جس میں یہ اشارہ ہے کہ آخر مخالفین اور حاسدین کہیں گے کہ واقعی ان لوگوں کا کام مکر اور فریب نہیں ہے بلکہ کوئی نصرت الٰہی ان کے شامل حال ہے۔ سو اس الہام میں اس اقرار کے لئے ایک پیشین گوئی ہے۔ جو ایک جماعت کی زبان سے نکلے گی ۔ کیونکہ ایک شخص کی نسبت یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ مکر اور فریب نہیں کرتے۔ بلکہ ایک جماعت کی نسبت کہتے ہیں ۔ سو اس میں اشارہ ہے کہ آخر خدا تعالیٰ ایک جماعت بنا دے گا ۔ اور ایک جماعت بنا دی ۔ اور یہ الہام بھی اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تم پر مکر اور فریب کا الزام لگایا جائے گا۔ پس ایسا ہی وقوع میں آیا۔ کیونکہ اس مقدمہ میں عیسائیوں اور آریوں نے مجھ پر مکر اور فریب کا الزام لگایا تھا جس سے خداتعالیٰ نے مجھے بریت دی۔ منھ

یہ الہام بھی کہ انّ الذی فرض علیک القرآن لرادّک الی معاد ۔ اسی مقدمہ کی نسبت ہے جو براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۱۰ میں درج ہے اور یہ اس زمانہ میں الہام ہوا تھا کہ جب ابھی میں قادیان میں تھا اور مقدمہ کی نسبت کوئی علم نہ تھا تب خداتعالیٰ نے مجھے فرمایا کہ تجھ پر قرآن کے حکموں کا التزام فرض کیا گیا ہے۔ اب تو اس حکم کے مطابق امرتسر کی طرف جا تیری معاد یعنی تیری بازگشت پھر قادیان کی طرف ہوگی۔ یعنی تو اس مقدمہ سے بریت پاکر پھر قادیان میں آئے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ظہور میں آیا۔ فالحمدللہ علی ذالک ۔ منھ

اور یہ جو براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۱۰ میں یہ الہام ہے کہ اجیبک ولا اکاد ابین ۔ اس میں بھی اسی براءت کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ میں اس قدر تیری مدد کروں گا کہ قریب ہے کہ نظر نہ آؤں ۔ اور اس مقدمہ میں ایسا ہی ہوا کہ بظاہر کوئی سامان بریت کا نظر نہیں آتا تھا کیونکہ بعض آریوں اور عیسائیوں نے اتفاق کر کے ایک جھوٹا مقدمہ قتل کا میرے پر بنا لیا تھا جس کی سزا پھانسی یا کم سے کم حبس دوام عبور دریائے شور تھا مگر چونکہ خدا نے مجھے پیشتر سے خبر دے دی تھی اس لئے میں کامل یقین اور اطمینان میں تھا۔ منھ

نحمدہ بسم اللہ الرحمن الرحیم ونصلی

مطبوعہ جنوری ۱۸۹۸ء

کِتَابُ البَرِیَّۃ

مع

آیَاتِ البَرِیَّہ

مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں چھپی تعداد جلد ۷۰۰

اس کتاب میں جو عیسائیوں کے بعض بزرگوں کی نسبت کچھ سخت الفاظ پائے جاتے ہیں یہ سخت الفاظ ان کے ان سخت الفاظ کے مقابل پر استعمال کئے گئے ہیں جو پادری عماد الدین اور فتح مسیح اور پادری ٹھاکر داس اور پادری کلارک صاحب کی کتابوں اور نیز پرچہ نور افشاں میں چھپ چکے ہیں۔ ہم نے بہت صبر کیا اور پندرہ برس تک صبر کرتے رہے مگر جب دیکھا کہ ان کی بدزبانی اور گالیاں حد سے گذر گئی ہیں تب ہم نے ان کے بعض خیالات کے مقابل پر انہی کے الفاظ ان کو واپس دئیے اور ہم پادری کلارک صاحب کے مقدمہ میں ثابت کر چکے ہیں کہ وہ گالیاں اور بدزبانیاں جن میں عیسائیوں نے پہل کی ہے وہ اسی لائق ہیں کہ ان کے مقابل پر یہ سخت الفاظ استعمال کئے جائیں کیونکہ ایک پہلوان اپنے مقابل پر وہی ہتھیار استعمال کرتا ہے جو اس پر استعمال کئے گئے ہوں۔ پس ہمارا یہ فعل بغرض حفظ ماتقدم ہے جس کو کوئی قانون منع نہیں کر سکتا۔

صفحہ 451

کچھ شعر و شاعری سے اپنا نہیں تعلق اس ڈھب سے کوئی سمجھے بس مدعا یہی ہے

در کلام تو چیزیست کہ شعراء را در آں دخلے نیست

دُرِّ ثمین

منظوم اردو کلام مسیح موعود علیہ السلام

مرتبہ

شیخ محمد اسماعیل پانی پتی

صفحہ 452

ٹائیٹل طبع اول

رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنْتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ

الحمد للہ کہ زمانہ کی ضرورت کے موافق بہتوں کو طاعون سے نجات دینے کے لئے یہ رسالہ تالیف کیا گیا اور اس کا نام ہے

دَافِعُ الْبَلَاءِ وَمِعْيَارُ اَهْلِ الْاِصْطِفَاءِ

بمقام

قادیان دارالامان

باہتمام حکیم فضل دین صاحب مطبع ضیاء الاسلام میں چھپا

تعداد جلد ۵۰۰ اپریل ۱۹۰۲ء

صفحہ 453

تأليف مسيح موعود

دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اسکو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کریگا اور بڑے زور آور حملوں سے اسکی سچائی ظاہر کریگا

هذا كتاب يحكم بين الشيعة واهل السنة ويهدى الى الحق فى امر الخلافة وانه يقطع معاذير المخالفين ويدحض تقارير المفترين ولا يستنكره الا من لبس السفاهة وخلع الصدق والصداقة واتبع الكاذبين

كتاب عزيز محكم يفحم العدا
فنحمد بارينا على ما اسعدا

وَسَمَّيْتُهُ سِرَّ الخِلاَفَةِ حُجَّةً

بِمَا جَاءَ فِي تِلْكَ الْمَقَاصِدِ اَرْشَدَا

هذا كتاب سر الخلافة لمن يبغى سبل الثقافة وقد طبع فى المطبع رياض الهند امرتسر فى الشهر المبارك محرم سنة ١٣١٢ هـ

یہ کتاب طبع دوم میں بٹالوی اور دیگر علماء مکفرین کے الزام اور تمام دلائل باطلہ کی حقیقت کھولنے کے لئے بوجہ اتمام حجت کے دوبارہ شائع ہوئی ہے۔ تاکہ معترضین بمقابلہ رسالہ بنانے کیلئے مہلت پاویں اور یہ ستائیس دن روز اشاعت سے محسوب ہونگے۔

صفحہ 454

۴۹

ٹائٹل پیج طبع اول

حصہ دوم رسالہ فتح اسلام از تالیفات مجدد دَوران

ومسیح الزمان مرزا غلام احمد صاحب رئیس قادیان کا نام نامی ہے

الہامی

توضیح مرام

الہامی

گویا خدا کے پاس سے اُتر کر اُس کی برکات کو بانٹنے آیا

ماننا ہی پڑے گا کہ تیری ہے یہ شان غالب کوئی نہیں لا سکتا تیرے پاس کا پایہ

مطبع ہند شہر امرتسر میں مالک کے اہتمام

سے ریاض امرتسر میں طبع ہوا احمد بن شیخ

صفحہ 455

ایک غلطی کا ازالہ

از

حضرت مسیح موعود علیہ السلام

صفحہ 456

ٹائیٹل پیج بار اول

رسالة

تحفة بغداد

ولا تقولوا لمن القى اليكم السلام لست مؤمنا ـ

وما كان الله ليطلعكم على الغيب ولكن الله يجتبى

من رسله من يشاء فآمنوا بالله ورسله وان تؤمنوا

وتتقوا فلكم اجر عظيم ـ

ــــ : 0 : ــــ

فى شهر المحرم الحرام سنة ١٣١١ هجرى

طبع فى مطبع پنجاب پریس سيالكوٹ

باهتمام المنشى غلام قادر الفصيح

مالك المطبع

ــــ ÷ ــــ

صفحہ 457

۱۰۵ ٹائیٹل طبع اوّل

استفتاء

لَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ

وَمَنْ يَّكْتُمْهَا فَاِنَّهٗ اٰثِمٌ قَلْبُهٗ وَاللّٰهُ بِمَا

تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ

گواہی کو مت چھپاؤ۔ اور جو شخص گواہی کو چھپائے اُس کا دل گنہگار ہے

اور خدا جو کام تم کرتے ہو جانتا ہے

مطبع ضیاء الاسلام قادیان دارالامان میں چھپا

۱۶؍ مئی ۱۸۹۷ء

صفحہ 458

آریہ دھرم

ان الله

وملائكته

يصلون

على النبي

يا ايها الذين

امنوا صلوا

عليه وسلموا

تسليما

آریہ دھرم

مطبع

ضیاء

الاسلام قادیان

میں حکیم فضل الدین

کے اہتمام سے

طبع ہوا

صفحہ 459

جَنگِ مُقدّس

یعنے

تحقیقِ حق کیواسطے اہل اسلام اور عیسائیان امرتسر میں بمقام امرتسر

مباحثہ

۲۲ مئی ۱۸۹۳ء سے شروع ہو کر ۵ جون ۱۸۹۳ء کو

ختم ہُوا

اہل اسلام کی طرف سے حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی بحث کیلئے

قادیان سے امرتسر تشریف لائے اور عیسائی صاحبان کیطرف سے ڈپٹی عبداللہ آتھم

صاحب پینشنر انتخاب ہو کر جلسہ مباحثہ میں پیش ہوئے۔ راقم کو مصدقہ تحریریں

چھاپکر مشتہر کرنے کی جلسہ بحث میں ہر دو جانب سے اجازت دی گئی۔

جو

حرف بحرف مطابق روزانہ مصدقہ بحث ہر دو جانب چھپکر شائع ہوا کی اور وہ سب

کاپیاں فروخت ہوگئیں۔ اب بار دوم اُسی حیثیت سے شائقین کیلئے چھاپی گئیں۔

راقم

شیخ نور احمد مالک مہتمم ریاض ہند پریس امرتسر (پنجاب)

مطبوعہ ریاض ہند پریس امرتسر

صفحہ 460

ٹائٹل بار اول

الحمد للہ والمنہ

کہ

یہ رسالہ مبارکہ جس میں حضرت ملکہ معظمہ قیصرہ دام اقبالہا

کی برکات کا ذکر ہو اور یہ بیان ہو کہ جناب ملکہ ممدوحہ کے

عہد عدالت مہد میں اور اُن کے نہایت روشن ستارہ کی

تاثیر سے انواع اقسام کی زمینی اور آسمانی برکتیں ظہور میں

آئی ہیں منطبع ہو کر انہی وجوہ کی مناسبت سے نام اس کا

ستارہ قیصرہ

رکھا گیا

اور یہ رسالہ مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں باہتمام حکیم فضل دین

صاحب مالک مطبع کے چھپ کر ۲۴؍ اگست ۱۸۹۹ء کو

شائع ہُوا

تعداد جلد ۲۵۰

قیمت ۲/

صفحہ 461

انوار العلوم جلد - ۳ ۷۵ انوار خلافت

انوارِ خلافت

(مجموعہ تقاریر جلسہ سالانہ ۱۹۱۵ء)

از

سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفۃ المسیح الثانی

صفحہ 462

وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَآئِنُهٗ وَمَا نُنَزِّلُهٗ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ (الحجر : ۲۲)

تَفْسِیْرُ کَبِیْر

مُصَنَّفَہ

حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفۃ المسیح الثانی المصلح الموعود

رضی اللہ عنہ

جِلْد نُہُم

سورتہائے شمس ، لیل ، الضحیٰ ، الم نشرح ، التین ، العلق ، القدر

البینۃ ، الزلزال ، العادیات ، القارعۃ ، التکاثر ، العصر ، الہمزۃ

♦ ♦ ♦

نظارت نشر و اشاعت قادیان

صفحہ 463

اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَآئِنُهٗ وَمَا نُنَزِّلُهٗ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ

تفسیر صغیر

قرآن مجید

کا

اُردو بامحاورہ ترجمہ مع مختصر تفسیر

از

الحاج حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ

ناشر

ادارۃ المصنفین ربوہ ضلع جھنگ

صفحہ 464

انوار العلوم جلد ۲ ۴۴۳ حقیقۃ النبوۃ (حصہ اول)

حقیقۃ النبوۃ

(مسئلہ نبوت پر سیر حاصل بحث)

از

سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفۃ المسیح الثانی

صفحہ 465

( جملہ حقوق محفوظ ہیں )

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

وَلَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا مِّن قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ

الہام حضرت مسیح موعود علیہ السلام

حیات احمد علیہ السلام

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سوانح حیات

جلد دوم نمبر اوّل

جسے مرضی مولیٰ نما حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے احباب کے

شدید اصرار پر ازراہ کرم شائع کرنا منظور فرمایا اور جس میں

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعض زمانہ قبل از مبعوثیت کے حالات کو مؤلف نے بڑی محنت اور عرق ریزی سے مرتب

کیا ہے نیز اس میں حضور کی مبعوثیت کے بعد کے حالات نہایت تفصیل سے درج ہیں

باہتمام منیجر بکڈپو تالیف و اشاعت قادیان

مطبوعہ مطبع ضیاء الاسلام قادیان بار اول ماہ اگست ۱۹۴۴ء

صفحہ 466

دعویٰ نبوت کا ثبوت

حضرت مسیح موعود کے اصحاب کی سوانح حیات سیرۃ کا سلسلہ (نمبر اول)

ہمرنگ بے رنگان شو ایں رنگ ٭ تا بماند نام نیکت بر قرار

حیات ناصر

یعنے

حضرت میر ناصر نواب صاحب نبیرہ حضرت خواجہ میر درد رضی اللہ عنہما کے سوانح حیات و سیرۃ

جسکو

حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی ایڈیٹر اخبار الحکم قادیان دارالامان نے مرتب کیا

اور

ابوالمنیر محمود احمد داناپوری ناظم انوار احمدیہ بکڈپو نے تعلیمی پریس دہلی میں چھپوا کر تراب منزل دارالامان قادیان سے شائع کیا ۔

دسمبر ۱۹۲۷ء

بار اول تعداد جلد ۵۰۰ قیمت مجلد علاوہ محصول ڈاک

صفحہ 467

پارہ ۱۱ اَلَا اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ (یونس ۶۳)

مُجَدِّدِ اَعْظَمْ

یعنی

سوانحعمری حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی رحمۃ اللہ علیہ

مسیح موعود و مہدی معہود مجددِ صدِ چہار دہم

حِصّہ اوّل

از ابتدا تا جون ۱۹۰۰ء

مؤلّفہ

جناب ڈاکٹر بشارت احمد صاحب

بماہ ذیقعدہ ۱۳۵۸ھ مطابق نومبر ۱۹۳۹ء

احمدیہ انجمن اشاعتِ اسلام لاہور نے

شائع کیا

تعداد اشاعت تین ہزار

بار اوّل

قیمت مجلد ۴؍ غیر مجلد ۳؍

صفحہ 468

يُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَاللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَلَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ

چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں مگر اللہ سوائے اسکے کہ اپنے نور کو پورا کرے اور کچھ نہیں مانیگا گو کافر برا مانیں

مَنْظُوْرِ اِلٰہِی

سیدنا و مرشدنا حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی ؑ

مسیح موعود و مہدی معہود مجدد صدی چہار دہم علیہ الصلوٰۃ والسلام

کے ملفوظات بترتیب تاریخ

مرتبہ و شائع کردہ

خاکسار محمد منظور الٰہی ممبر احمدیہ انجمن اشاعت اسلام

احمدیہ بلڈنگز لاہور

۱۲ مئی ۱۹۳۴ء

قیمت ایک روپیہ

تعداد ایک ہزار

مطبوعہ مفید عام پریس لاہور باہتمام لالہ موتی رام مینجر چھپی

صفحہ 469

AFRICA SPEAKS

Published by: Majlis Nusrat Jahan Tahrik-i-Jadid, Rabwah — West Pakistan

صفحہ 470

حوالہ نمبر 1

۵۵

هُمْ مُحْسِنُونَ ۔ قَالُوا اِنْ هٰذَا اِلَّا اخْتِلَاقٌ ۔ قُلْ اِنِ افْتَرَيْتُهٗ فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ ۔ اِنَّكَ الْيَوْمَ اور ان کے ساتھ ہے جو نیکو کار ہیں ۔ کہتے ہیں کہ یہ تمام نرا افتراء ہے ۔ کہہ کہ اگر میں نے افتراء کیا ہے تو یہ سخت گناہ میری گردن پر ہو لَدَيْنَا مَكِينٌ اَمِينٌ ۔ وَاِنَّ عَلَيْكَ رَحْمَتِي فِی الدُّنْيَا وَالدِّینِ ۔ وَاِنَّكَ آج تو ہمارے نزدیک باوجاہت اور امین ہے۔ اور تیرے پر دین اور دنیا میں میری رحمت ہے ۔ اور تو مِنَ الْمَنْصُورِينَ ۔ يَحْمَدُكَ اللّٰهُ مِنْ عَرْشِهٖ ۔ يَحْمَدُكَ اللّٰهُ وَ يَمْشِی مدد دیا گیا ہے ۔ خدا عرش پر سے تیری تعریف کرتا ہے ۔ خدا تیری تعریف کرتا ہے ۔ اور تیری اِلَيْكَ ۔ اَلَا اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِيبٌ ۔ كَمَثَلِكَ دُرٌّ لَّا يُضَاعُ ۔ بُشْرٰی لَكَ طرف چلا آتا ہے ۔ خبردار خدا کی مدد قریب ہے ۔ تیرے جیسا موتی ضائع نہیں کیا جاتا ۔ تجھے يَا اَحْمَدِی ۔ اَنْتَ مُرَادِی وَمَعِی ۔ اِنِّي نَاصِرُكَ ۔ اِنِّي حَافِظُكَ ۔ خوشخبری ہو اے میرے احمد ۔ تو میری مراد ہے اور میرے ساتھ ہے۔ میں تیرا مددگار ہوں۔ میں تیرا حافظ ہوں اِنِّی جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا ۔ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا ۔ قُلْ هُوَ اللّٰهُ میں تجھے لوگوں کا امام بناؤں گا کیا لوگوں کو تعجب ہوا ۔ کہہ وہ خدا عجیب ہے عَجِيبٌ يَجْتَبِی مَنْ يَّشَاءُ مِنْ عِبَادِهٖ ۔ لَا يُسْئَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ جس کو چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے چن لیتا ہے۔ وہ اپنے کاموں میں پوچھا نہیں جاتا يُسْئَلُوْنَ ۔ وَتِلْكَ الْاَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ ۔ وَقَالُوا اِنْ هٰذَا اور دوسرے پوچھے جاتے ہیں۔ اور یہ دن ہم لوگوں میں پھیرتے رہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو اِلَّا اخْتِلَاقٌ ۔ اِذَا نَصَرَ اللّٰهُ الْمُؤْمِنَ جَعَلَ لَهُ الْحَاسِدِينَ فِی الْاَرْضِ نرا افتراء ہے ۔ خدا جب مومن کو مدد دیتا ہے تو زمین پر اس کے کئی حاسد بنا دیتا ہے قُلِ اللّٰهُ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِی خَوْضِهِمْ يَلْعَبُونَ ۔ لَا تُحَاطُ اَسْرَارَ الْاَوْلِيَاءِ کہہ خدا ہے جس نے یہ الہام کیا پھر ان کو چھوڑ دے تا اپنی کج فکریوں میں بازی کریں۔ اولیاء کے اسرار پر تَلَطَّفْ بِالنَّاسِ وَتَرَحَّمْ عَلَيْهِمْ ۔ اَنْتَ فِيهِمْ بِمَنْزِلَةِ مُوسٰی ۔ وَاصْبِرْ کوئی احاطہ نہیں کر سکتا۔ لوگوں سے لطف کے ساتھ پیش آ اور ان پر رحم کر۔ تو ان میں بمنزلہ موسیٰ کے ہے اور ان کی عَلٰی مَا يَقُولُونَ ۔ وَ ذَرْنِی وَالْمُكَذِّبِينَ اُولِی النَّعْمَةِ ۔ اَنْتَ مِنْ مَّائِنَا باتوں پر صبر کر اور منعم مکذبوں کی سزا مجھ پر چھوڑ دے تو ہمارے پانی میں سے ہے

انجام آتھم صفحہ 55 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 55 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 56 پر درج ہے

صفحہ 471

حوالہ نمبر 2

۶۰ نَظَرَ اللّٰهُ اِلَيْكَ مَرْضِيًّا ۔ وَقَالُوْا اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا قَالَ خدا نے تیرے پر خوشنود ہو کر نظر کی اور لوگوں نے دلوں میں کہا کہ اے خدا کیا تو ایسے مفسد کو اپنا خلیفہ بنائے گا اِنِّیْ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ۔ وَقَالُوْا کِتَابٌ مُمْتَلِئٌ مِنَ الْکُفْرِ وَ خدا نے کہا کہ جو کچھ میں جانتا ہوں تمہیں معلوم نہیں ۔ اور لوگوں نے کہا کہ یہ کتاب کفر اور کذب سے بھری ہوئی الْکَذِبِ ۔ قُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَاءَ نَا وَاَبْنَاءَ کُمْ وَنِسَاءَ نَا وَنِسَاءَ کُمْ وَ ہے ان کو کہہ دے کہ آؤ ہم اور تم اپنے بیٹوں اور عورتوں اور عزیزوں سمیت ایک جگہ اکٹھے اَنْفُسَنَا وَاَنْفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَةَ اللّٰهِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ ۔ ہوں پھر مباہلہ کریں اور جھوٹوں پر لعنت بھیجیں سَلَامٌ عَلٰی اِبْرَاهِیْمَ صَافَيْنَاهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ ۔ تَفَرَّدْنَا بِذٰلِكَ ابراہیم یعنی اس عاجز پر سلام ہم نے اس کی سچی دوستی کی اور غم سے نجات دی ۔ یہ ہمارا ہی کام تھا جو ہم نے یَا دَائُودُ عَامِلْ بِالنَّاسِ رِفْقًا وَّاِحْسَانًا ۔ تَمُوْتُ وَاَنَا رَاضٍ مِّنْكَ ۔ کیا ۔ اے داؤد لوگوں سے نرمی اور احسان کے ساتھ معاملہ کر تو اس حالت میں مریگا ۔ کہ میں تجھ سے وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۔ کَذَّبُوْا بِاٰیَاتِیْ وَکَانُوْا بِهَا یَسْتَهْزِءُوْنَ ۔ راضی ہونگا ۔ اور خدا تجھے ان لوگوں کے شر سے بچائیگا ۔ انہوں نے میرے نشانوں کی تکذیب کی اور ٹھٹھا کیا فَسَیَکْفِیْکَهُمُ اللّٰهُ وَیَرُدُّهَا اِلَيْكَ اَمْرٌ مِّنْ لَّدُنَّا اِنَّا کُنَّا فَاعِلِیْنَ ۔ سو خدا ان کیلئے تجھے کفایت کریگا ۔ اور اس عورت کو تیری طرف واپس لائیگا ۔ یہ امر ہماری طرف سے ہے اور ہم ہی کرنیوالے ہیں ۔ زَوَّجْنٰكَهَا ۔ اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ ۔ لَا تَبْدِیْلَ بعد نا امیدی کے ہم نے تجھکو بخش دیا ۔ تیرے رب کی طرف سے سچ ہے پس تو شک کرنے والوں سے مت ہو ۔ خدا کے

حاشیہ ۔ شیخ محمد حسین بٹالوی کا یہ اعتراض ہے کہ الہام کا یہ فقرہ کہ یَرُدُّهَا اِلَيْكَ خلاف محاورہ ہے۔ کیونکہ رَدَّ کا لفظ اس صورت میں آتا ہے کہ ایک چیز اپنے پاس ہو ۔ پھر چلی جائے اور پھر واپس آوے ۔ لیکن افسوس کہ اس کو بسبب قلت واقفیت علم زبان کے معلوم نہیں کہ یہ لفظ ادنیٰ تعلق کے ساتھ بھی استعمال ہو جاتا ہے ۔ اس کی کلام عرب میں ہزار ہا مثالیں ہیں جن کے لکھنے کا اس مقام میں موقعہ نہیں چونکہ اس جگہ قرابت قریبہ تھی اور شریک کے رشتہ کے تعلقات نے اپنے پاس کے حکم میں اس کو کیا ہوا تھا ۔ اسلئے خدا تعالیٰ نے یَرُدُّهَا کا استعمال کیا جو ان چیزوں کیلئے مستعمل ہوتا ہے جو اپنے پاس سے چلی جائیں اور پھر واپس آئیں ۔ ہاں اس جگہ یہ نہایت لطیف اشارہ تھا کہ خدا نے یَرُدُّهَا کا لفظ استعمال کیا ۔ تا معلوم ہو کہ اول اس کا اپنے پاس سے بے تعلقی میں چلے جانا ضروری ہے پھر واپس آنا تقدیر میں ہے فقط ۔ منہ ۔

یہ حوالہ صفحہ 57 پر درج ہے | انجام آتھم صفحہ 60 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 55 از مرزا قادیانی

صفحہ 472

حوالہ نمبر 3 ضرورت الامام ۴۷۸

کہ نعوذ باللہ آپ اخلاق فاضلہ سے بے بہرہ تھے۔ کیونکہ وہ تو خود اخلاق سکھلاتے اور نرمی کی تاکید کرتے ہیں۔ بلکہ یہ لفظ جو اکثر آپکے منہ پر جاری رہتے تھے یہ غصّہ کے جوش اور مجنونانہ طیش سے نہیں نکلتے تھے بلکہ نہایت آرام اور ٹھنڈے دل سے اپنے محل پر یہ الفاظ چسپاں کئے جاتے تھے۔ غرض اخلاقی حالت میں کمال رکھنا اماموں کیلئے لازمی ہو۔ اور اگر کوئی سخت لفظ سوختہ مزاجی اور مجنونانہ طیش سے نہ ہو۔ اور عین محل پر چسپاں اور عندالضرورت ہو۔ تو وہ اخلاقِ صالحہ کے منافی نہیں ہو اور یہ بات بیان کر دینے کے لائق ہو کہ جن کو خدا تعالیٰ کا ہاتھ امام بناتا ہے اُن کی فطرت میں ہی امامت کی قوّت رکھی جاتی ہے۔ اور جس طرح الٰہی فطرت نے بموجب آیت کریمہ منہ اَعْطٰى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهٗ ہر ایک پرندہ اور چرندہ میں پہلے سے وہ قوت رکھ دی ہو جسکے بارے میں خدا تعالیٰ کے علم میں یہ تھا کہ اس قوت سے اُسکو کام لینا پڑیگا۔ اِسی طرح ان نفوس میں جن کی نسبت خدا تعالیٰ کے ازلی علم میں یہ ہو کہ ان سے امامت کا کام لیا جاوے گا منصب امامت کے مناسب حال کئی روحانی ملکے پہلے سے رکھے جاتے ہیں ۔ اور جن لیاقتوں کی آئندہ ضرورت پڑیگی۔ اُن تمام لیاقتوں کا بیج اُن کی پاک سرشت میں بویا جاتا ہے۔ اور مَیں دیکھتا ہوں کہ اماموں میں بنی نوع کے فائدہ اور فیض رسانی کے لئے مندرجہ ذیل قوتوں کا ہونا ضروری ہے :۔

اول۔ قوتِ اخلاق ۔ چونکہ اماموں کو طرح طرح کے اوباشوں اور سفلہ اور بد زبان لوگوں سے واسطہ پڑتا ہو اسلئے ان میں اعلیٰ درجہ کی اخلاقی قوت کا ہونا ضروری ہو تا ان میں طیشِ نفس اور مجنونانہ جوش پیدا نہ ہو۔ اور لوگ اُنکے فیض سے محروم نہ رہیں۔ یہ نہایت قابلِ شرم بات ہے کہ ایک شخص خدا کا دوست کہلا کر پھر اخلاق رذیلہ میں گرفتار ہو۔ اور درشت بات کا ذرہ بھی تحمل نہ ہوسکے۔ اور جو امام زمان کہلا کر ایسی کچی طبیعت کا آدمی ہو کہ ادنیٰ ادنیٰ بات میں منہ میں جھاگ آتا ہو۔ آنکھیں نیلی پیلی ہوتی ہوں۔ وہ کسی طرح امام زمان نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا اسپر آیت اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ کا پورے طور پر صادق آنا ضروری ہے۔

دوم ۔ قوّتِ امامت ہے جس کی وجہ سے اس کا نام امام رکھا گیا ہو ۔ یعنی نیک باتوں

۱؎ طٰہٰ : ۵۱ ۲؎ القلم : ۵

ضرورت الامام صفحہ 8 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 478 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 57 پر درج ہے

صفحہ 473

حوالہ نمبر 4

۴۰

امور ملکی تمدنی و منزلی اور خود فرد فرد کے ذاتی ہیں۔ ان میں سے کسی میں بھی یہ بات نہیں ہے کہ ہر وقت اور ہر جگہ اُن کے رازوں کا افشا کرنا مصلحت ہو یا عدم افشا کا نام مکر اور فریب رکھا جائے۔ خدا تعالیٰ نے دل و زبان وغیرہ قویٰ انسان کو عطا فرما کر اُن کے مناسب استعمال کے لئے اُنکا قدردان بنایا ہے اور ہر ایک بات کی عمدگی اور خوبی دکھلانے کے لئے جدا جدا مواقع اور محل اور وقت اُس بات کے مقرر کئے ہیں کوئی خلق خواہ کیسا ہی عمدہ ہو مگر جب وہ بے محل اور بے وقت صادر ہوگا تو ساری خوبی اور خوبصورتی اُس کی خاک میں مل جائے گی اور کوئی مفید چیز اپنے فواید ہرگز ظاہر نہیں کرے گی جب تک وہ ٹھیک ٹھیک اپنے وقت پر استعمال میں نہ لائی جائے۔ خدا تعالیٰ کی سچی اطاعت اور نوع انسان کی حقیقی بھلائی وہی شخص بجا لا سکتا ہے جو وقت شناس ہو ورنہ نہیں۔ مثلاً ایک شخص گو راست گو ہے مگر اپنی راستی کو حکمت کے ساتھ ملا کر استعمال نہیں کرتا بلکہ لاٹھی کی طرح مارتا ہے اور بے تمیزی سے ایک شریف خصلت کو بے محل کام میں لاتا ہے تو وہ ایک حکیم منش کے نزدیک ہرگز قابل تعریف نہیں ٹھہرتا۔ ایسے کو جاہل نیک بخت کہیں گے۔ نہ دانا نیک بخت اگر کوئی اندھے کو اندھا اندھا کر کے پکارے اور پھر کسی کے منع کرنے پر یہ کہے کہ میاں کیا میں جھوٹ بولتا ہوں تو اُسے یہی کہا جائے گا کہ بے شک تو راست گو ہے مگر احمق یا شریر کہ جس راستی کے اظہار کی تجھے ضرورت ہی نہیں اُس کو واجب الاظہار سمجھتا ہے اور اپنے بھائی کے دل کو دُکھاتا ہے۔ اسی طرح اخلاقی امور کا تمام عقد جواہر اسی ایک ہی رشتہ سے

٣٦٦

شحنہ حق صفحہ 40 مندرجہ روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 366 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 57 پر درج ہے

صفحہ 474

حوالہ نمبر 5

۵۴۱

کے مانگنے میں کچھ قصور نہیں ہے بلکہ بحسب آیت تَشَابَهَتْ قُلُوبُهُمْ ان کی طبیعت ہی اُن بدبخت کفار کے مشابہ واقع ہوئی ہے جو خدا تعالیٰ کے نشانوں کو قبول نہیں کرتے تھے اور اپنی طرف سے اختراع کر کے درخواستیں کرتے تھے کہ ایسے ایسے نشان دکھاؤ۔ لیکن اگر افسوس ہے تو صرف یہ ہے کہ ان ١؎ لوگوں نے مولوی کہلا کر ہنسی ٹھٹھا اپنا شیوہ بنا لیا ہے۔ جو شخص عبدالحق کے اشتہار کو غور سے پڑھے گا اس کو قبول کرنا پڑے گا کہ انہوں نے اخویم مولوی عبدالکریم صاحب کا شرارت اور بے ادبی سے ذکر کر کے ان کی ٹانگ کی درستی یا آنکھ کی نظر کی نسبت جو نشان مانگا ہے یہ ایک اوباشانہ طریق پر ٹھٹھا کیا ہے جو کسی پرہیزگار اور نیک بخت کا کام نہیں ہے۔ پلید دل سے پلید باتیں نکلتی ہیں اور پاک دل سے پاک باتیں۔ انسان اپنی باتوں سے ایسا ہی پہچانا جاتا ہے جیسا کہ درخت اپنے پھلوں سے۔ جس حالت میں اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں صاف فرما دیا کہ لَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ ٢؎ یعنے لوگوں کے ایسے نام مت رکھو جو ان کو بُرے معلوم ہوں تو پھر برخلاف اس آیت کے کرنا کن لوگوں کا کام ہے۔ لیکن اب تو نہ ہم عبدالحق پر افسوس کرتے ہیں نہ اس کے دوسرے رفیقوں پر کیونکہ ان لوگوں کا ظلم اور نا انصافی اور دروغ گوئی اور افترا حد سے گزر گیا ہے اسی اشتہار کو پڑھ کر دیکھ لو کہ کس قدر جھوٹ سے کام لیا ہے کیا کسی جگہ بھی خدا تعالیٰ سے حیا کی ہے چنانچہ ہم بطور نمونہ بطرز قولہ و اقول اس ظالم شخص کے جھوٹوں کا ذخیرہ ذیل میں لکھ دیتے ہیں جو اسی اشتہار میں اُس نے استعمال کئے ہیں اور وہ یہ ہیں۔

قولہ میرزا بار ہا متفرق مواقع کے مباحثات میں شرمندہ اور لاجواب ہوا اور ہر مجمع میں خائب اور خاسر اور نامراد رہا۔

١ البقرة : ١١٩ ٢ الحجرات : ١٢

تحفہ غزنویہ صفحہ 11 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 541 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 58 درج ہے

صفحہ 475

(حوالہ نمبر 6)

آسمانی فیصلہ ۱۰

کرائی بھی اور بٹالوی کی کوئی بدگوئی میاں صاحب کو مکروہ معلوم نہ ہوئی اور میاں صاحب کے مکان میں بیٹھ کر ایک اور اشتہار تکبر کا بھرا ہوا بٹالوی نے لکھا جسمیں اس عاجز کی نسبت یہ فقرہ مندرج تھا کہ یہ میرا شکار جو کہ بدقسمتی سے مجدّداً میرے قبضہ میں آگیا اور میں خوش قسمت ہوں کہ بھاگا ہوا شکار پھر مجھے مل گیا۔ ناظرین!! انصافاً کہو کہ یہ کیسے سفلہ پن کی باتیں ہیں۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس زمانہ کے مہذب ڈوم اور نقال بھی تھوڑا بہت حیا کو کام میں لاتے ہیں اور پشتوں کے سفلے بھی ایسی کمینگی اور شیخی سے بھرا ہوا تکبر اپنے حقیقت شناس کے سامنے زبان پر نہیں لاتے۔ اگر میں بٹالوی صاحب کا شکار ہوتا تو انکے اُستاد کو دہلی میں کیوں جا پکڑتا۔ کیا شاگرد اُستاد سے بڑا ہو- جب اُستاد ہی چڑیا کی طرح میرے پنجہ میں گرفتار ہو گیا تو پھر ناظرین سمجھ لیں کہ کیا میں بٹالوی کا شکار ہوا یا بٹالوی میرے شکار کا شکار۔ بٹالوی کی شوخیاں اُسکے اُمّی ہونے کی ہیں اور اُسکی کھوپری میں ایک کیڑا ہے جسکو ضرور ایک دن خدائے تعالیٰ نکال دیگا۔ افسوس کہ آجکل ہمارے مخالفوں کا جھوٹ اور بہتانوں پر ہی گزارہ ہے اور فرعونی رنگ کے تکبر سے اپنی عزّت بنانی چاہتے ہیں۔ فرعون اس روز تک جو معہ اپنے لشکر کے غرق ہو گیا یہی سمجھتا رہا کہ موسےٰ اُس کا شکار ہے آخر رودنیل نے دکھا دیا کہ واقعی طور پر کون شکار تھا۔ میں نادم ہوں کہ نااہل حریف کے مقابلہ نے کسی قدر مجھے درشت الفاظ پر مجبور کیا ورنہ میری فطرت اس طور پر نہیں کہ کوئی تلخ بات منہ پر لاؤں۔ میں کچھ بھی بولنا نہیں چاہتا تھا مگر بٹالوی اور اُسکے اُستاد نے مجھے بلایا۔ اب بھی بٹالوی کیلئے بہتر ہے کہ اپنی پالیسی بدل لیوے اور منہ کو لگام دیوے ورنہ اُن دنوں کو رو رو کے یاد کریگا۔ با درویشاں ہر کہ در افتاد برافتاد و ما علینا الا البلاغ المبین

؎ گندم از گندم بروید جو ز جو از مکافاتِ عمل غافل مشو

جو لوگ اُن جھوٹے اشتہارات پر خوش ہو رہے ہیں جن میں میاں نذیر حسین کی مصنوعی فتح کا ذکر ہے میں خالصاً للہ انکو نصیحت کرتا ہوں کہ اِس دروغگوئی میں ناحق کا گناہ اپنے ذمہ نہ لیں۔ میں ۳۱؍ اکتوبر ۱۸۹۱ء کے اشتہار میں مفصل بیان کر چکا ہوں کہ میاں صاحب ہی بحث سے یکسر گریز کر گئے یہ کیا شرارت اور بے حیائی کا بہتان ہے کہ میری نسبت اُڑایا گیا ہے کہ گویا میں میاں نذیر حسین سے ڈر گیا نعوذ باللہ میں ہرگز اُن سے نہیں ڈرا اور کیونکر ڈرتا میں اُس بصیرت کے

۲۲۰

یہ حوالہ صفحہ 58 پر درج ہے آسمانی فیصلہ صفحہ 10 مندرجہ روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 320 از مرزا قادیانی

صفحہ 476

حوالہ نمبر 6 ۹۰

پس بخوبی یاد خاطر رہے کہ جو صاحب بغرض اثبات حقانیت اپنی کتاب اور اپنے اُصول کے کوئی ایسا دعویٰ یا دلیل پیش کریں گے کہ جس کو اُن کی الہامی کتاب نے پیش نہیں کیا تو یہ فعل اُن کا اس امر پر شہادتِ قاطعہ ہوگا جو کتابِ مقبولہ ان کی کہ جس کو وہ الہامی خیال کر رہے ہیں۔ ایفاء مضمون اس شرط سے قاصر ہوگا۔

چہارم ۔ بخدمت جملہ صاحبان یہ بھی عرض ہے کہ یہ کتاب کمال تہذیب اور رعایتِ آداب سے تصنیف کی گئی ہے اور اس میں کوئی ایسا لفظ نہیں کہ جس میں کسی بزرگ یا پیشوا کسی فرقہ کی کسرِ شان لازم آوے ۔ اور خود ہم ایسے الفاظ کو صراحۃً یا کنایۃً اختیار

بقیہ حاشیہ صفحہ ۸۹ منہ

کا دروازہ نہیں کھولتی۔ اور نہ اس کو عقل اور علم میں ترقی بخشتی ہے۔ بلکہ ترقیات سے روکتی ہے۔ اور مُردے کی طرح صرف تقلید کے گڑھے میں ڈالنا چاہتی ہے۔ کہ جس میں وہ نہ دیکھے نہ سُنے نہ سمجھے اور جو شخص ایسی کتابوں کا پیرو ہوتا ہے وہ عقل اور قیاس اور نظر اور فکر سے کچھ سروکار نہیں رکھتا۔ بلکہ محض قصوں اور کہانیوں پر بھروسہ کر بیٹھتا ہے اور حقائقِ امور کی تہہ کو نہیں پہنچتا اور تدبّر اور تفکّر کی قوّت کو بالکل بے کار چھوڑ کر اور ان تمام استعدادوں کو جو اس کے نفس میں مخزون اور مودع ہیں دانستہ تلف کر کے رفتہ رفتہ حیوانات لا یعقل سے بھی پرلے پار ہو جاتا ہے اور بالاٰخر جوہرِ قوّتِ عقلی اور قیاس اور فکر اور ادراک سے کہ جس سے انسان کی تمام انسانیت وابستہ ہے۔ بالکل بیگانہ اور نا آشنا ہو کر ایک ایسا مسلوب الحواس بن جاتا ہے۔ کہ پھر اس لائق ہی نہیں رہتا کہ اس کو انسان کہا جائے۔ اور اس میں یہ قابلیت ہی نہیں رہتی جو عقلی طور پر حق اور باطل میں تمیز کر سکے۔ اور اس پر وہ تمثیل خوب صادق آتی ہے جو فرقانِ مجید میں مذکور ہے۔ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا وَ لَهُمْ أَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِهَا وَ لَهُمْ آذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِهَا أُولٰئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ (سورۃ اعراف سیپارہ ۹) یعنے وہ لوگ جو صرف باپ دادے کی تقلید پر چلنے والے ہیں۔ وہ دِل تو رکھتے ہیں پر دلوں سے سمجھنے کا کام نہیں لیتے۔ اور ان کی آنکھیں بھی ہیں پر

۱؎ اعراف : ۱۸۰

براہین احمدیہ صفحہ 101 ، 102 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 90 ، 91 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 58 پر درج ہے

صفحہ 477

حوالہ نمبر 7

41

۱۰۲

کرنا سخت عظیم سمجھتے ہیں اور مرتکب ایسے امر کو پرلے درجہ کا شریر النفس خیال کرتے ہیں۔ سو اسی طرح ہر یک اپنے شریف مخاطب کو اس طرف توجہ دلانی چاہیئے کہ ان کی کوششیں بھی اس بارے میں مصروف رہنی چاہیئیں کہ تمام تحریر ان کی بشرطیکہ کچھ تحریر کریں جیساکہ مہذب اشخاص کے لائق ہے سراسر تہذیب پر مبنی ہو۔ اور اوباشانہ بکواسات بیہودہ اور ہتک مقدسین اور رسولوں اور نبیوں سے بکلی پاک ہو۔ یہ منصب تالیفات مذہبی کا بڑا نازک منصب ہے۔ اور اس میں عنانِ حکومت صرف ایک ہی شخص کے ہاتھ میں نہیں ہوتی بلکہ ہر یک سُخن اور طبع میں فرق کرنے والے اور منصف اور متعصب اور مفسد اور حق گو کو

بقیہ حاشیہ نمبر ۱

آنکھوں کو دیکھنے سے معطل چھوڑا ہوا ہے اور کان بھی رکھتے ہیں پر وہ بھی بیکار پڑے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ چار پایوں کی طرح ہیں۔ بلکہ اُن سے بھی گئے گذرے ۔ غرض کلامِ الٰہی کا یہ نہایت عمدہ کام ہے کہ جو جو طاقتیں اور قوتیں انسان کی فطرت میں ڈالی گئی ہیں کہ ان کو بطور اصلح اور انسب کے استعمال میں لانے کی تاکید کرے تا کوئی قوت اور طاقت جو عین حکمت اور مصلحت سے انسان کو عطا کی گئی تھی۔ ضائع نہ ہو جاوے یا بطور افراط یا تفریط کے استعمال میں نہ لائی جائے اور منجملہ ان سب طاقتوں کے ایک عقل بھی طاقت ہے کہ جس کی تکمیل میں شرف انسان کا ہے۔ اور جس کے ٹھیک ٹھیک استعمال میں لانے سے انسان حقیقی طور پر انسان بنتا ہے۔ اور اپنے کمال مطلوب کو پہنچتا ہے۔ اور وہی ایک آلہ انسان کے ہاتھ میں ہے۔ جو بے انتہا ترقیات کے حاصل کرنے کے لئے عام طور پر اس کو دیا گیا ہے۔ پس ظاہر ہے کہ اگر الہامی کتاب اس آلہ کی ممد اور معاون اور محافظ نہ ہو۔ بلکہ یہ تعلیم دے جو اس آلہ کو بالکل معطل چھوڑ دینا چاہیئے۔ تو ایسی کتاب بجائے اس کے جو انسان کی فطرتی طاقتوں کو وضع استقامت پر چلاوے۔ خود ان طاقتوں کو وضع استقامت پر چلنے سے روکے گی اور بجائے اس کے جو کچھ یاری اور مددگاری کرے۔ خود رہزن اور مضل بن جائے گی اور جو کچھ اس کے ذریعہ سے سیکھا اور سمجھا جائے گا۔ وہ ایسی شے نہ ہوگی کہ جس کو علم اور حکمت کہا جاوے۔ بلکہ صرف خام طمع اور غیر معقول اعتقادوں اور بے جا ہوسوں

براہین احمدیہ صفحہ 101 ، 102 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 90، 91 از مرزا قادیانی | حوالہ صفحہ 58 پر درج ہے

صفحہ 478

حوالہ نمبر 8

۱۳۳

بیزار نہ ہو جاتے تو کوئی بھی پنڈت اُن کو بُرا نہ کہتا۔ اب تو باوا صاحب ان پنڈتوں کی نظر میں کچھ بھی نہیں وید کے مکذب جو ہوئے۔

قولہ ۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ویدوں کو نہ سُنا نہ دیکھا۔ کیا کریں جو سنے اور دیکھنے میں آوے تو بُدھ مان لوگ جو کہ ہٹھی درہ گرہی نہیں وے سب سمپردای والے بید مت میں آجاتے ہیں۔ یعنی نانک وغیرہ اس کے سکھوں نے نہ ویدوں کو سُنا نہ دیکھا کیا کریں جو سُننے یا دیکھنے میں آویں تو جو عقلمند متعصب نہیں وہ فوراً اپنی ٹھگ بیدیا چھوڑ کر وید کی ہدایت میں آجاتے ہیں۔ اقول اس تمام تقریر سے پنڈت صاحب کا مطلب صرف اتنا ہے کہ باوا نانک صاحب اور اُن کے پیرو ٹھگ ہیں اُنہوں نے دنیا کے لئے دین کو بیچ دیا مگر ہر چند یہ تو سچ ہے کہ باوا نانک صاحب نے وید کو چھوڑ دیا اور اس کو گمراہ کرنے والا طومار سمجھا لیکن پنڈت صاحب پر لازم تھا کہ یوں ہی باوا صاحب کے گرد نہ ہو جاتے اور ٹھگ اور مکار اُن کا نام نہ رکھتے بلکہ اُن کے وہ تمام عقیدے جو گرنتھ میں درج ہیں اور مخالفت وید میں اپنی کتاب کے کسی صفحہ کے ایک کالم میں لکھ کر دوسرے کالم میں اس کے مقابل پر وید کی تعلیمیں درج کرتے تا عقلمند خود مقابلہ کر کے دیکھ لیتے کہ ان دو تعلیموں سے سچی تعلیم کونسی معلوم ہوتی ہے۔ ظاہر

صفحہ 479

(حوالہ نمبر 9)

مواہب الرحمن ۲۳۶

آخر من كتب أولى - اتكفيك هذه الشواهد او نأتيك بأمثال أُخَرَ ۔ از کتاب ہائے نخستیں برآمد ۔ آیا کفایت کند ترا ایں گواہان یا دیگر امثال ہا بیاریم ١٨ فان فكرت فيما تلوت عليك من الامثال ذكرا - فستعلم انك قد بلغت منى پس اگر فکر کنی درانچہ بر تو خواندم از امثال برائے یاد دہانیدنی پس عنقریب بدانی کہ در یافتے عذر کامل عذرا - هذا و سأكشف عليك امر الم تستطع عليه صبرا - شنیدے ۔ پس ایں ست بطور مختصر و عنقریب مفصل بیان یک امر می کنم که بر و صبر نہ کردی ۔

البَيَانُ الشَّافِي في هَذَا البَابِ وَتَفْصِيلُ مَا أَلْجَأَنِي

بیان شافی دریں باب و تفصیل آں امر کہ مرا برائے

إِلَى تَرْكِ التَّعْظِيمِ وَالتَّوَكُّلِ عَلَى رَبِّ الْأَرْبَابِ

ترک تعظیم مضطر گردانید و بیان توکل بر خدائے خدا ونداں ۔

اعلم ان موضوع امرنا هذا هو الدعوى الذى عرضت على النّاس قلت انى بدانکه موضوع ایں امر ما آں دعویٰ است کہ بر مردم پیش کردم و گفتم کہ من انا المسيح الموعود والامام المنتظر المعهود - حكّمنى الله لرفع اختلاف الأمّة مسیح موعود ہستم و امام منتظر معہود ہستم خدا مرا حکم مقرر کردہ است برائے دفع اختلاف امت وعلّمني من لدنه لا دعو الناس على البصيرة - فما كان جوابهم الاّ السبّ و و از جناب خود مرا تعلیم داد تا مردم را بوجہ بصیرت بخوانم پس جواب اوشاں بجز ایں ہیچ نبود کہ دشنام ہا الشتم والفحشاء - والتكفير والتكذيب والايذاء - وقد سبّونى بكلّ سبّ دادند و فحش ہا گفتند و کافر گفتند و دروغگو قرار دادند و ستم کردند و مرا در ہر گونہ سبّ و شتم یاد کردند فما رددت عليهم جوابهم - ومآ عباتُ بمقالهم وخطابهم - ولم يزل پس جواب سب و شتم ہا ندادم و پروائے مقالہ و گفتگو و خطاب ایشاں نیاوردم و دشنام دهند

۶۰

مواہب الرحمن صفحہ 20 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 236 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 59 پر درج ہے

صفحہ 480

حوالہ نمبر 10

ازالہ اوہام ۱۰۹ حصہ اول

وہ الفاظ بیان نہیں فرمائے جو اس عاجز نے بزعم اُن کے اپنی تالیفات میں استعمال کئے ہیں اور درحقیقت سبّ و شتم میں داخل ہیں۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جہاں تک مجھے معلوم ہے میں نے ایک لفظ بھی ایسا استعمال نہیں کیا جس کو دشنام دہی کہا جائے۔ بڑے دھوکہ کی بات یہ ہے کہ اکثر لوگ دشنام دہی اور بیان واقعہ کو ایک ہی صورت میں سمجھ لیتے ہیں اور ان دونوں مختلف مفہوموں میں فرق کرنا نہیں جانتے۔ بلکہ ایسی ہر ایک بات کو جو دراصل ایک واقعی امر کا اظہار ہو اور اپنے محل پر چسپاں ہو محض اُس کی کسی قدر صراحت کی وجہ سے جو حق گوئی کے لازم حال ہوا کرتی ہے دشنام ہی تصور کر لیتے ہیں حالانکہ دشنام اور سبّ و شتم فقط اس مفہوم کا نام ہے جو خلاف واقعہ اور دروغ کے طور پر محض آزار رسانی کی غرض سے استعمال کیا جائے۔ اور اگر ہر ایک سخت اور آزار دہ تقریر کو محض بوجہ اس کے کہ حرارت اور تلخی اور ایذا رسانی کے دشنام کے مفہوم میں داخل کر سکتے ہیں تو پھر اقرار کرنا پڑے گا کہ سارا قرآن شریف گالیوں سے ١٢ پُر ہے۔ کیونکہ جو کچھ بُتوں کی مذمت اور بُت پرستوں کی حقارت اور انکے بارہ میں لعنت ملامت کے سخت الفاظ قرآن شریف میں استعمال کئے گئے ہیں یہ ہرگز ایسے نہیں ہیں جن کے سُننے سے بُت پرستوں کے دل خوش ہوئے ہوں بلکہ بلاشبہ ان الفاظ نے اُن کے غصہ کی حالت کی بہت تحریک کی ہوگی۔ کیا خدائے تعالیٰ کا کفار کو مخاطب کر کے یہ فرمانا کہ انکم وما تعبدون من دون الله حصب جهنم ١؎ معترض کے من گھڑت قاعدہ کے موافق گالی میں داخل نہیں ہے کیا خدائے تعالیٰ کا قرآن شریف میں کفار کو شرّ البریہ قرار دینا اور تمام رذیل اور پلید مخلوقات سے انہیں بدتر ظاہر کرنا یہ معترض کے خیال کے رُو سے دشنام دہی میں داخل نہیں ہوگا؟ کیا خدائے تعالیٰ نے قرآن شریف میں واغلظ علیهم ٢؎ نہیں فرمایا کیا مومنوں کی علامات میں اشدّاء علی الکفار ٣؎ نہیں رکھا گیا۔ کیا حضرت مسیح کا یہودیوں کے معزز فقیہوں اور فریسیوں کو سُؤر اور کُتّے کے نام سے پکارنا اور گلیل کے عالی مرتبہ فرمانروا ہیرودیس کا لومڑی نام رکھنا اور معزز سردار کاہنوں اور فقیہوں کو ١٥

١؎ الانبیاء : ٩٩ ٢؎ التوبہ : ٧٣ ٣؎ الفتح : ٢٩

ازالہ اوہام صفحہ 9 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 109 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 59 پر درج ہے

صفحہ 481

حوالہ نمبر 11

کشتی نوح 11 تقویۃ الایمان

جیتے اور مرتے ہو۔ بلکہ وہ ایسا ہو کہ باوجود دُور ہونے کے نزدیک ہے اور باوجود نزدیک ہونے کے وہ دور ہو۔ اور باوجود ایک ہونے کے اُسکی تجلّیات الگ الگ ہیں۔ انسان کیسا ہی ہو جب ایک نئے رنگ کی تبدیلی ظہور میں آوے تو اسکے لئے وہ ایک نیا خدا بنجاتا ہو۔ اور ایک نئی تجلی کے ساتھ اُس سے معاملہ کرتا ہو۔ اور انسان بقدر اپنی تبدیلی کے خدا میں بھی تبدیلی دیکھتا ہو۔ مگر یہ نہیں کہ خدا میں کچھ تغیّر آجاتا ہے بلکہ وہ ازل سے غیر متغیّر اور کمال تام رکھتا ہے لیکن انسانی تغیّرات کے وقت جبکہ نیکی کی طرف انسان کے تغیّر ہوتے ہیں۔ خدا میں ایک نئی تجلی کا سِرّ ظاہر ہوتا ہے۔ اور ہر ایک ترقی یافتہ حالت کے وقت جو انسان کو ظہور میں آتی ہے خدا تعالیٰ کی قادرانہ تجلی بھی ایک ترقی کے ساتھ ظاہر ہوتی ہے وہ خارق عادت قدرت اسی جگہ دکھلاتا ہے جہاں خارق عادت تبدیلی ظاہر ہوتی ہو۔ خوارق اور معجزات کی یہی جڑہ ہے۔ یہی خدا ہے جو ہمارے سلسلہ کی شرط ہے۔ اِس پر ایمان لاؤ۔ اور اپنے نفس پر اور اپنے آراموں پر اور اپنے کل تعلقات پر اُسکو مقدم رکھو۔ اور عملی طور پر بہادری کے ساتھ اُس کی راہ میں صدق و وفا دکھلاؤ۔ دُنیا اپنے اسباب کو اور اپنے عزیزوں پر اُسکو مقدم نہیں رکھتی مگر تم اُسکو مقدم رکھو تاکہ آسمان پر اُسکی جماعت لکھے جاؤ۔ رحمت کے نشان دکھلانا قدیم سے خدا کی عادت ہے۔ مگر تم اُس حالت میں اِس عادت سے حصہ لے سکتے ہو کہ تم میں اور اُس میں کچھ جدائی نہ رہے اور تمہاری مرضی اُسکی مرضی اور تمہاری خواہشیں اُسکی خواہشیں ہو جائیں۔ اور تمہارا سر ہر ایک وقت اور ہر ایک حالت مُراد یابی اور نامرادی میں اُس کے آستانہ پر پڑا رہے تا جو چاہے سو کرے۔ اگر تم ایسا کرو گے تو تم میں وہ خدا ظاہر ہوگا جسنے مدّت سے اپنا چہرہ چھپا لیا ہے۔ کیا کوئی تم میں ہے جو اِس پر عمل کرے اور اُسکی رضا کا طالب ہو جائے اور اُسکی قضاء و قدر پر ناراض نہ ہو سو تم مصیبت کو دیکھکر اور بھی قدم آگے رکھو کہ یہ تمہاری ترقی کا ذریعہ ہے اور اُسکی توحید زمین پر پھیلانے کے لئے اپنی تمام طاقتوں سے کوشش کرو اور اُسکے بندوں پر رحم کرو اور اُن پر زبان یا ہاتھ یا کسی تدبیر سے ظلم نہ کرو اور مخلوق کی بھلائی کے لئے کوشش کرتے رہو اور کسی پر تکبّر نہ کرو گو اپنا ماتحت ہو۔ اور کسی کو گالی مت دو گو وہ گالی دیتا ہو غریب اور حلیم اور نیک نیت اور مخلوق کے ہمدرد بن جاؤ تا قبول کئے جاؤ۔ بہت ہیں جو حلم ظاہر کرتے ہیں مگر وہ اندر سے

۱۲

یہ حوالہ صفحہ 59 پر درج ہے

کشتی نوح صفحہ 12 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 11 از مرزا قادیانی

صفحہ 482

حوالہ نمبر 12

اربعین نمبر ۳ ۴۲۶

ممن افترى على الله كذبا - تنزيل من الله العزيز الرحيم ـ لتنذر قوماً ما انذر اباؤهم ولتدعو قوماً أخرين ـ عسى الله ان يجعل بينكم وبين الذين عاديتم مودة ـ يخرون على الاذقان سجدا ربنا اغفر لنا انا كنا خاطئين - لا تثريب عليكم اليوم يغفر الله لكم ـ و ۳۶ هو ارحم الراحمين - انى انا الله فاعبدني ولا تنسنى واجتهد ان تصلنى واسئل ربك وكن سئولا - الله ولی حنان ـ علم القرآن ۔ فبای حديث بعده تحكمون - نزلنا على هذا العبد رحمة ـ وما ينطق عن الهوى - ان هو الا وحي يوحى - دنى فتدلّى فكان قاب قوسين او ادنى - ذرني والمكذبين انى مع الرسول اقوم - ان يومى لفصل عظيم - وانك على صراط مستقيم - و اما نرينك بعض الذى نعد هم او نتوفينك ـ وانى رافعك الىّ - وياتيك نصرتى ـ انى انا الله ذو السلطان - ترجمہ : ۔ اور کہتے ہیں کہ یہ بناوٹ ہے اور یہ شخص دین کی بیخ کنی کرتا ہے۔ کہہ حق آیا اور باطل بھاگ گیا۔ کہہ اگر یہ امر خدا کی طرف سے نہ ہوتا تو تم اس میں بہت سا اختلاف پاتے یعنی خدا تعالیٰ کی کلام سے اس کے لئے کوئی تائید نہ ملتی اور قرآن جو راہ بیان فرماتا ہے یہ راہ اس کے مخالف ہوتی اور قرآن سے اس کی تصدیق نہ ملتی اور دلائل عقلیہ میں سے کوئی دلیل اس پر قائم نہ ہوسکتی اور اس میں ایک نظام اور ترتیب اور علمی سلسلہ اور دلائل کا ذخیرہ جو پایا جاتا ہے یہ ہرگز نہ ہوتا اور آسمان اور زمین میں سے جو کچھ اس کے ساتھ نشان جمع ہورہے ہیں ان میں سے کچھ بھی نہ ہوتا۔ اور پھر فرمایا خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دین حق ....... اور تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔ ان کو کہہ دے کہ اگر میں نے افترا کیا ہے تو

۸۴

اربعین نمبر 3 صفحہ 84 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 426 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 59 پر درج ہے

صفحہ 483

(حوالہ نمبر 13)

اربعین نمبر ۴ ۴۷۱

دوران سر اور کمی خواب اور تشنّج دل کی بیماری دورہ کے ساتھ آتی ہے ۔ اور دوسری بیماری جو میرے نیچے کے حصہ بدن میں ہے وہ بیماری ذیابیطس ہے کہ ایک مدت سے دامنگیر ہے اور بسا اوقات سو سو دفعہ رات کو یا دن کو پیشاب آتا ہے اور اس قدر کثرت پیشاب سے جس قدر عوارض ضعف وغیرہ ہوتے ہیں وہ سب میرے شامل حال رہتے ہیں ۔ بسا اوقات میرا یہ حال ہوتا ہے کہ نماز کے لئے جب زینہ چڑھ کر اوپر جاتا ہوں تو مجھے اپنے ظاہر حالت پر امید نہیں ہوتی کہ زینہ کی ایک سیڑھی سے دوسری سیڑھی پر پاؤں رکھنے تک میں زندہ رہوں گا ۔ اب جس شخص کی زندگی کا یہ حال ہے کہ ہر روز موت کا سامنا اس کے لئے موجود ہوتا ہے اور ایسے مریضوں کے انجام کی نظیریں بھی موجود ہیں تو وہ ایسی خطرناک حالت کے ساتھ کیونکر افتراء پر جرأت کر سکتا ہے اور وہ کس صحت کے بھروسے پر کہتا ہے کہ میری اسّی برس کی عمر ہوگی ۔ حالانکہ ڈاکٹری تجارب تو اس کو موت کے پنجہ میں ہر وقت پھنسا ہوا خیال کرتے ہیں ۔ ایسی مرضوں والے مدقوق کی طرح گداز ہو کر جلد مر جاتے ہیں یا کاربنکل یعنی سرطان سے اُن کا خاتمہ ہو جاتا ہے ۔ تو پھر جس زور سے میں ایسی حالت پُر خطر میں تبلیغ میں مشغول ہوں کیا کسی مفتری کا کام ہے ۔ جب میں بدن کے اوپر کے حصہ میں ایک بیماری ۔ اور بدن کے نیچے کے حصہ میں ایک دوسری بیماری دیکھتا ہوں تو میرا دل محسوس کرتا ہے کہ یہ وہی دو بیماریاں ہیں جن کی خبر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے ۔

مَیں مَحض نَصیحتاً لِلّٰہ مخالف علماء اور ان کے ہمخیال لوگوں کو کہتا ہوں کہ گالیاں دینا اور بدزبانی کرنا طریقِ شرافت نہیں ہے ۔ اگر آپ لوگوں کی یہی طینت ہے تو خیر آپ کی مرضی ۔ لیکن اگر مجھے آپ لوگ کاذب سمجھتے ہیں تو آپ کو یہ بھی تو اختیار ہے کہ مساجد میں اکٹھے ہو کر یا الگ الگ میرے پر بددعائیں کریں

۱۲۹

اربعین نمبر 4 صفحہ 129 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 471 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 60 پر درج ہے

صفحہ 484

حوالہ نمبر 14 براہین احمدیہ حصہ پنجم ۱۴۴

وہ فخر آدم کہ تھا وہ نامکمل اب تلک میرے آنے سے ہوا کامل بجملہ برگ و بار
وہ خدا جس نے نبی کو تھا زر خالص دیا زیور دیں کو بناتا ہے وہ اب مثل سُنار
وہ دکھاتا ہے کہ دیں میں کچھ نہیں اکراہ وجبر دین تو خود کھینچتی ہے دل کشی برُخِ عذار
پس یہی ہے رمز جو حق نے کیا منع از جہاد تا اٹھا دے دیں کی راہ کا وہ تھا جو اک غبار
تا کھلے منکروں کو دیں کی ذاتی خوبیاں جن سے ہوں شرمندہ جو اسلام پر کرتے ہیں وار
کہتے ہیں یہ دین کج ہے یہ نبی کامل نہیں دشمنوں میں دیں کو پھیلانا یہ کیا مشکل تھا کار
پر بنانا آدمی وحشی کو ہے اک معجزہ معنیِ رازِ نبوت ہے اسی سے آشکار
نور لائے آسماں سے خود بھی وہ اک نور تھے قوم وحشی میں اگر پیدا ہوئے کیا جائے عار
لاشئی میں پھر مکاں کی بھلا کیا فرق ہو گرچہ نکلے روم کی سرحد سے یا از زنگبار
اے مرے پیارو شکیب و صبر کی عادت کرو وہ اگر پھیلائیں بدبو تم بنو مُشکِ تتار
نفس کو مارو کہ اس جیسا کوئی دشمن نہیں چپکے چپکے کرتا ہے پیدا وہ سامانِ دمار
جس نے نفس دوں کو ہمت کر کے زیر پا کیا چیز کیا ہیں اس کے آگے رستم و اسفندیار
گالیاں سُن کر دُعا دو پا کے دُکھ آرام دو کبر کی عادت جو دیکھو تم دکھاؤ انکسار
تم نہ گھبراؤ اگر وہ گالیاں دیں ہر گھڑی چھوڑ دو ان کو کہ چھپوائیں وہ ایسے اشتہار
چپ رہو تم دیکھ کر ان کے رسالوں میں ستم دم نہ مارو گر وہ ماریں اور کردیں حالِ زار
دیکھ کر لوگوں کا جوش و بغض مت کچھ غم کرو شدتِ گرمی کا ہے محتاج بارانِ بہار
افترا ان کی نگاہوں میں ہمارا کام ہے یہ خیال اللہ اکبر کس قدر ہے نابکار
خیر خواہی میں جہاں کی خوں کیا ہم نے جگر جنگ بھی تھی صلح کی نیت اور کیں سے فرار
پاک دل پر بدگمانی ہے یہ شقوت کا نشاں اب تو آنکھیں بند ہیں مرجائینگے پھر انکی کھلیں

براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 114 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 144 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 60 پر درج ہے

Back

صفحہ 485

(حوالہ نمبر 15)

١٦١

١٥؍ جنوری ١٩٠٢ء

مخالفانہ تحریروں کا جواب

مخالف جو گالیاں دیتے ہیں اور گندے اور ناپاک اشتہار شائع کرتے ہیں، ہم کو ان کا جواب گالیوں سے کبھی دینا نہیں چاہیے۔ ہم کو سخت زبانی کی ضرورت نہیں، کیونکہ سخت زبانی سے برکت جاتی رہتی ہے، اس لیے ہم نہیں چاہتے کہ اپنی برکت کو کم کریں۔ اُن کو تو مخاطب کرنے کی بھی ضرورت نہیں، یہ لوگ بجائے خود واجب الرحم ہیں، ہاں فضول باتوں کو نکال کر، اگر کسی معقول اعتراض کا جواب عوام کو دھوکہ سے بچانے کے لیے دیا جاوے تو نامناسب نہیں۔ اگر ہم ان کے مقابل پر سخت زبانی کا استعمال کریں، تو یہ تو اپنے مرتبہ کا بھی تنزل ہے، مگر کبھی کوئی سخت لفظ استعمال کیا گیا ہے تو وہ حق کی لازمی موجبات ہے جو خدا کے طور پر ہے جس کی نظیر انجیل اور نبیوں کے کلام میں پائی جاتی ہے۔ دشنام دہی اور تحقیر کرنا انبیاء کا کام نہیں، نام تو وہی ہوتا ہے جو آسمان پر رکھا جاتا ہے، کسی کے ظالم، کافر کہنے سے کیا بنتا ہے، زمینی ناموں کا آخر خاتمہ ہو جاتا ہے اور آسمانی نام ہی رہ جاتے ہیں پس دنیا کے کیڑوں کے ناموں کی کیا پروا؟ ہمیں اس کی قدر ہے جو آسمان پر نیک لکھا جاوے۔

مسیح کے دو زرد چادروں میں نزول

زرد چادروں سے مراد، اگر یہی ہو جو ہمارے مخالف بیان کرتے ہیں تو پھر عام ہندو، جوگیوں اور مسیح میں مابہ الامتیاز کیا ہوگا، اصل میں خدا کی ہر وحی اپنے الگ معنی رکھتی ہے اور وہ وہی ہیں جو خدا تعالیٰ نے مجھ پر کھولے ہیں کہ دو زرد چادروں سے مراد دو بیماریاں ہیں جو مجھے لاحق حال ہیں۔

آداب تبلیغ

دنیا میں تین قسم کے آدمی ہوتے ہیں، عوام، متوسط درجے کے، اُمراء۔ عوام عموماً کم فہم ہوتے ہیں، اُن کی سمجھ موٹی ہوتی ہے، اس لیے اُن کو سمجھانا بہت ہی مشکل ہوتا ہے۔ اُمراء کے لیے سمجھانا بھی مشکل ہوتا ہے، کیونکہ وہ نازک مزاج ہوتے ہیں اور جلد گھبرا جاتے ہیں اور انکا تکبر اور تعلیٰ اور بھی سدِ راہ ہوتی ہے، اس لیے ان کے ساتھ گفتگو کرنے والے کو چاہیے کہ وہ اُن کے طرز کے موافق اُن سے کلام کرے یعنی مختصر مگر پُر از مطلب، کہ اس میں کوئی لمبی تقریر نہ ہو، حق و صدق کو عوام کو تبلیغ کرنے کے لیے تقریر بہت ہی صاف اور عام فہم ہونی چاہیے، رہے اوسط درجہ کے لوگ، زیادہ تر یہ گروہ اس قابل ہوتا ہے کہ ان کو تبلیغ کی جاوے، وہ بات کو سمجھ سکتے ہیں اور اُن کے مزاج میں وہ تعلیٰ اور تکبر اور نزاکت بھی نہیں

یہ حوالہ صفحہ 60 پر درج ہے ملفوظات جلد دوم صفحہ 161 طبع جدید از مرزا قادیانی

صفحہ 486

حوالہ نمبر 16 ۲۲۷

کہتی تھی کہ ان لوگوں کو احمد بیگ کی وفات کے بعد اپنے عزیز داماد کی موت کا فکر کھا لے گا۔ اور اس طرح ہراساں ہو کر رجوع الی الحق کرتے۔ کیا انسان میں یہ خاصیت نہیں کہ چشم دید تجربہ اس پر سخت اثر ڈالتا ہے۔ سو درحقیقت ایسا ہی ہوا۔ احمد بیگ کی موت نے اس کے وارثوں کو خاک میں ملا دیا۔ اور ایسے غم میں ڈالا کہ گویا وہ مر گئے اور سخت خوف میں پڑ گئے اور دعا میں اور تضرع میں لگ گئے۔ سو ضرور تھا۔ کہ خدا تعالیٰ اس جگہ بھی تاخیر ڈالتا۔ جیسا کہ آتھم کے متعلق کی پیشگوئی میں تاخیر ڈالی۔ ہم عربی مکتوب میں لکھ چکے ہیں کہ یہ پیشگوئی بھی مشروط بہ شرط تھی اور ہم یہ بھی بار بار بیان کر چکے ہیں کہ وعید کی پیشگوئی بغیر شرط کے بھی تخلف پذیر ہو سکتی ہے جیسا کہ یونس کی پیشگوئی میں ہوا۔ ۱۲

سو چاہئے تھا کہ ہمارے مخالف انجام کے منتظر رہتے اور پہلے ہی سے اپنی بدگوہری ظاہر نہ کرتے۔ بھلا جس وقت یہ سب باتیں پوری ہو جائیں گی۔ تو کیا اس دن یہ احمق مخالف جیتے ہی رہیں گے اور کیا اس دن یہ تمام اڑنے والے سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہو جائیں گے ان بیہودوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہیں رہے گی۔ اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی۔ اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سوروں کی طرح کر دیں گے۔ شنو! اور یاد رکھو! کہ میری پیشگوئیوں میں کوئی ایسی بات نہیں کہ جو خدا کے نبیوں اور رسولوں کی پیشگوئیوں میں ان کا نمونہ نہ ہو۔ بیشک یہ لوگ میری تکذیب کریں۔ بیشک گالیاں دیں۔ لیکن اگر میری پیشگوئیاں نبیوں اور رسولوں کی پیشگوئیوں کے نمونہ پر ہیں تو اُن کی تکذیب انہیں پر لعنت ہے۔ چاہئے کہ اپنی جانوں پر رحم کریں اور روسیاہی کے ساتھ نہ مریں۔ کیا یونس کا قصہ انہیں یاد نہیں کہ کیونکر وہ عذاب ٹل گیا جس میں کوئی شرط بھی نہ تھی۔ اور اس جگہ تو شرطیں موجود ہیں۔ اور احمد بیگ کے اصل وارث جن کی تنبیہ کے لئے یہ نشان تھا اُس کے مرنیکے بعد پیشگوئی سے ایسے متاثر ہوئے تھے کہ اس پیشگوئی کا نام لے لے روتے تھے اور پیشگوئی کی عظمت دیکھ کر اس گائوں کے تمام مردعورت کانپ اُٹھے تھے اور عورتیں چھاتیاں مار کر روتی تھیں کہ ہائے وہ باتیں سچ نکلیں چنانچہ وہ لوگ اُس دن تک غم اور خوف میں تھے جبتک اُن کے داماد سلطان محمد کی میعاد گذر گئی۔ پس اس تاخیر کا یہی سبب تھا جو خدا کی قدیم سنّت کے موافق ظہور میں آیا۔ خدا کے الہام میں جو وعید تھی

* اس جگہ ایک تصدیق کے لئے چند سطریں حاشیہ در حاشیہ پر لکھے دیتا ہوں یعنی ایک دفعہ مجھے ایک الہام ہوا جو چھپا ہوا ہے کہ انی رافعک الی۔ پھر اس کے بعد یہ الہام ہوا کہ تیری عمر ۸۰ سال یا دو چار سال کم یا زیادہ ہو گی ۔ اس سے ظاہر ہے کہ اگر وہ الہام اس الہام کے ساتھ ملایا جائے جس میں یہ پیشگوئی ہے کہ تیری نسل بہت ہو گی اور وہ جو اس الہام میں ہے یعنی یہ کہ تیرا صابر داماد ہو گا تو اس سے صریح سمجھ آتا ہے کہ کوئی داماد میرا ایسا ہو گا کہ جو ایک لمبی مدت تک میرے ساتھ رہے گا اور پھر یہ کہ صابر داماد ہو گا۔ اور ظاہر ہے کہ صابر کا لفظ ایک بڑی مدت کی مصیبتوں کے بعد بولا جاتا ہے اور چونکہ کوئی داماد میرا میری عمر کے زمانہ میں کوئی ایسی مصیبت نہیں دیکھے گا جس کا وہ صابر کہلائے سوائے اس داماد کے جو احمد بیگ کی لڑکی کا خاوند ہے۔ ۱۲

یہ حوالہ صفحہ 61 پر درج ہے | انجام آتھم صفحہ 53 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 337 از مرزا قادیانی

صفحہ 487

حوالہ نمبر 17

۲۰۵

بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ مباہلہ کے بعد میری بددعا کے اثر سے ایک بھی خالی رہا تو میں اقرار کروں گا۔ کہ میں جھوٹا ہوں واقعی ذلت نہ پہنچی یا ہمیں کوئی واقعی عزت حاصل نہ ہوئی جیسا کہ میں آگے چل کر بیان کروں گا۔ ماسوا اس کے وہ مباہلہ درحقیقت میری درخواست سے نہیں تھا اور نہ میرا اس میں یہ مدعا تھا کہ میں پیش تر دعا کروں اور نہ میں نے بعد مباہلہ کبھی اس بات کی طرف توجہ کی۔ اس بات کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ میں نے کبھی بغور و دلی توجہ دُعا نہیں کی۔ اور اپنے دل کے جوش کو ہرگز اس طرف متوجہ نہیں کیا۔ لیکن اب ان مولویوں کا ظلم انتہاء سے گزر گیا۔ اس لئے اب میں آسمانی فیصلہ کے لئے خود ہر ایک مکفّر سے مباہلہ کی درخواست کرتا ہوں۔ اور اس لئے کہ بعد میں شبہات پیدا نہ ہوں میں نے یہ لازمی شرط ٹھہرا دی ہے کہ جو لوگ مباہلہ کے لئے بلائے گئے ہیں کہ وہ نام بنام مدّعیان میں سے مباہلہ کی درخواست کریں تا خدا کی مدد صفائی سے ثابت ہو۔ اور کسی تاویل کی گنجائش نہ رہے اور تا کوئی بعد میں یہ نہ کہے کہ مقابل پر صرف ایک ڈراوا تھا سو قضاءً قدراً اس پر کوئی مصیبت آگئی۔ بعض خبیث طبع مولوی جو یہودیت کا خمیر اپنے اندر رکھتے ہیں۔ سچائی پر پردہ ڈالنے کے لئے یہ بھی کہا کرتے ہیں کہ گزشتہ مباہلہ میں عبدالحق کو فتح ہوئی۔ کیونکہ آتھم کے متعلق جو پیشگوئی کی گئی اس میں آتھم نہیں مرا۔ مگر یہ دل کے مجذوم اور اسلام کے دشمن یہ نہیں سمجھتے کہ کب اور کس وقت یہ الہام ظاہر کیا گیا تھا کہ آتھم شرط مباہلہ کے اندر مرے گا اور کس اشتہار یا کتاب میں ہم نے لکھا تھا کہ اس عرصہ میں بغیر کسی شرط کے آتھم کی نسبت موت کا حکم ہے دنیا میں جانوروں سے زیادہ پلید اور کراہت کے لائق خنزیر ہے مگر خنزیر سے زیادہ پلید وہ لوگ ہیں جو اپنے نفسانی جوش کے لئے حق اور دیانت کی گواہی کو چھپاتے ہیں۔ اے مردار خورو بولو۔ اور گندی روحو۔ تم پر افسوس کہ تم نے میری عداوت کے لئے اسلام کی سچی گواہی کو چھپایا۔ اے اندھو ! کہ کیونکر تم سچائی کی تیز شعاعوں کو کف دست سے چھپا سکتے ہو کیا ضرور نہ تھا کہ خدا اس پیشگوئی میں اپنی شرط کا لحاظ رکھتا۔ اے ایمان اور انصاف سے بھاگنے والو سچ کہو کہ کیا اس پیشگوئی میں کوئی ایسی شرط نہ تھی جس پر عدم رجوع آتھم کا اس کی موت میں ہی تاخیر ڈال سکتا تھا۔ سو تم جھوٹ مت بولو اور وہ خباثت مت کرو جو عیسائیوں نے دکھائی۔ آنکھ کھول کر دیکھو کہ یہ پیشگوئی اپنے تمام پہلوؤں کے ساتھ پوری ہو گئی ہے۔ اب اس پیشگوئی کو ایک پیشگوئی نہ سمجھو بلکہ دو پیشگوئیاں ہیں جو اپنے وقت پر ظہور میں آئیں۔

۲۱

انجام آتھم صفحہ 21 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 305 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 62 پر درج ہے

صفحہ 488

حوالہ نمبر 18

اربعین نمبر ۴ ۴۵۶

کہتے ہیں کہ مہر علی شاہ صاحب لاہور میں آئے اُن سے مقابلہ نہ کیا۔ جن دلوں پر خدا ۳۱ لعنت کرے میں اُن کا کیا علاج کروں۔ میرا دل فیصلہ کے لئے درد مند ہے۔ ایک زمانہ گزر گیا میری یہ خواہش اب تک پوری نہیں ہوئی کہ ان لوگوں میں سے کوئی راستی اور ایمانداری اور نیک نیتی سے فیصلہ کرنا چاہے مگر افسوس کہ یہ لوگ صدق دل سے میدان میں نہیں آتے۔ خدا فیصلہ کے لئے تیار ہے اور اُس اونٹنی کی طرح جو بچہ جننے کے لئے دُم اُٹھاتی ہے زمانہ خود فیصلہ کا تقاضا کر رہا ہے۔ کاش اِن میں سے کوئی فیصلہ کا طالب ہو۔ کاش ان میں سے کوئی رشید ہو میں بصیرت سے دعوت کرتا ہوں اور یہ لوگ ظن پر بھروسہ کر کے میرا انکار کر رہے ہیں ان کی تکفیر عنقریب ان پر ہی کسی نہ کسی جگہ بھاری پڑ جائے۔ اے نادان قوم! یہ سلسلہ آسماں سے قائم ہوا ہے۔ تم خدا سے مت لڑو۔ تم اس کو نابود نہیں کر سکتے۔ اس کا ہمیشہ بول بالا ہے۔ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے۔ بجز ان چند حدیثوں کے جو تہتر فرقوں نے بوٹی بوٹی کر کے باہم تقسیم کر رکھی ہیں رُؤیت حق اور یقین کہاں ہے! اور ایک دوسرے کے مکذّب ہو۔ کیا ضرور نہ تھا کہ خدا کا حَکَم یعنی فیصلہ کرنیوالا تم میں نازل ہو کر تمہاری حدیثوں کے انبار میں سے کچھ لیتا اور کچھ ردّ کر دیتا۔ سو یہی عین وقت ہوا ۔ وہ شخص حَکَم کس بات کا ہے جو تمہاری سب باتیں مانتا جائے اور کوئی بات ردّ نہ کرے اپنے نفسوں پر ظلم مت کرو اور اس سلسلہ کو بے قدری سے نہ دیکھو جو خدا کی طرف سے تمہاری اصلاح کیلئے پیدا ہوا اور یقیناً سمجھو کہ اگر یہ کاروبار انسان کا ہوتا اور کوئی پوشیدہ ہاتھ اس کے ساتھ نہ ہوتا تو یہ سلسلہ کب کا تباہ ہو جاتا اور ایسا مفتری ایسی جلدی ہلاک ہو جاتا کہ اب اس کی ہڈیوں کا بھی پتہ نہ ملتا۔ سو اپنی مخالفت کے کاروبار میں نظر ثانی کرو کہ کم سے کم یہ تو سوچو کہ شائد غلطی ہو گئی ہو اور شائد یہ لڑائی تمہاری خدا سے ہو۔ اور کیوں مجھ پر یہ الزام لگاتے ہو کہ براہین احمدیہ کا روپیہ کھا گیا ہے۔ اگر میرے پر تمہارا کچھ حق ہے

[ + منشی الٰہی بخش صاحب نے جھوٹے الزاموں اور بہتان اور خلاف واقعہ کی باتوں سے ] ۱۱۴

اربعین نمبر 4 حاشیہ صفحہ 115، 114 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 456، 457 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 62 پر درج ہے

صفحہ 489

حوالہ نمبر 18

۴۵۷ اربعین نمبر ۴

م ۱۴ جس کا ایماناً تم مواخذہ کر سکتے ہو یا اب تک مَیں نے تمہارا کوئی قرضہ ادا نہیں کیا ۔ یا تم نے اپنا حق مانگا اور میری طرف سے انکار ہُوا تو ثبوت پیش کر کے وہ مطالبہ مجھ سے کرو ۔ مثلاً اگر مَیں نے براہین احمدیہ کی قیمت کا روپیہ تم سے

بقیہ حاشیہ در حاشیہ صفحہ ہذا اپنی کتاب عصائے موسیٰ کو ایسا بھرا ہے جیسا کہ ایک نالی اور بدر رو گندے کیچڑ سے بھری ہوتی ہے یا جیسا کہ سنڈاس پاخانہ سے ۔ اور خدا سے بے خوف ہو کر میری عزت پر افترا کے طور پر سخت دشمنوں کی طرح حملہ کیا ہے وہ یقیناً سمجھ لیں کہ یہ کام انہوں نے اچھا نہیں کیا ۔ اور جو کچھ انہوں نے لکھا ہے ان گالیوں سے زیادہ نہیں جو حضرت موسیٰ کو دی گئیں اور حضرت مسیح کو دی گئیں۔ اور ہمارے سیّد صلّے اللہ علیہ وسلم کو دی گئیں۔ افسوس انہوں نے آیت ویل لکل ھمزۃ لمزۃ ؎١ کے ویل کے وعید سے کچھ بھی اندیشہ نہیں کیا ۔ اور نہ انہوں نے آیت لا تقف ما لیس لک بہ علم ؎٢ کی کچھ بھی پروا کی ۔ وہ بار بار میری نسبت لکھتے ہیں کہ مَیں نے ان کو تسلّی دیدی کہ مَیں آپ کے افترا کی وجہ سے کسی انسانی عدالت میں آپ پر نالش نہیں کرونگا ۔ سو مَیں کہتا ہوں کہ مَیں نہ صرف انسانی عدالت میں نالش نہ کرونگا بلکہ مَیں خدا کی عدالت میں بھی نالش نہیں کرتا ۔ لیکن چونکہ آپ نے محض جھوٹے اور قابل شرم الزام میرے پر لگائے ہیں اور مجھے ناکردہ گناہ دکھ دیا ہے اس لئے مَیں ہرگز یقین نہیں رکھتا کہ مَیں اس وقت سے پہلے مروں جب تک کہ میرا قادر خدا ان جھوٹے الزاموں سے مجھے بری کر کے آپ کا کاذب ہونا ثابت نہ کرے ۔ الا ان لعنۃ اللہ علی الکاذبین ۔ اسی کے متعلق قطعی اور یقینی طور پر مجھ کو ۹؍ دسمبر ۱۸۹۸ء؁ بروز پنجشنبہ کو یہ الہام ہُوا بمقام قادیان ۔ یا ربّ ۔ گر امیدے دہم بدار عجب ۔ بعدہٗ الافتقار الی اللہ تعالیٰ مَیں نہیں جانتا کہ گیارھواں دن ہے یا گیارھواں ہفتہ یا گیارھواں مہینہ یا گیارھواں سال مگر بہرحال ایک نشان میری بریت کے لئے اس مدت میں ظاہر ہو گا جو آپ کو سخت شرمندہ

؎١ الھمزۃ : ٢ ؎٢ بنی اسرائیل : ٣٧

۱۱۵

اربعین نمبر 4 حاشیہ صفحہ 114، 115 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 456، 457 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 62 پر درج ہے

صفحہ 490

حوالہ نمبر 19 ۳۲۹

اب دیکھو یہ کیسی صریح نص ہے جو اس کتاب میں درج ہے یہ اسی پیشگوئی کا مصداق ہے جو احادیث رسول اللہ صلی علیہ وسلم میں پائی جاتی ہے پیشگوئی میں کدعہ کا لفظ بھی ہے جو موضع قادیان کے نام کو بتلا رہا ہے پس تمام مضمون اس حدیث کا یہ ہے کہ وہ مہدی موعود قادیان میں پیدا ہو گا۔ اور اس کے پاس ایک کتاب چھپی ہوئی ہوگی جس میں تین سو تیرہ اس کے دوستوں کے نام درج ہونگے۔ سو ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ یہ بات میرے اختیار میں تو نہیں تھی کہ میں ان کتابوں میں جو اس زمانہ سے ہزار ہا پہلے دنیا میں شائع ہو چکی ہیں اپنے گاؤں قادیان کا نام لکھ دیتا۔ اور نہ میں نے چھاپہ کی کل نکالی ہے تا یہ خیال کیا جائے کہ میں نے اس غرض سے مطبع کو اس زمانہ میں ایجاد کیا ہے۔ اور نہ تین سو تیرہ مخلص اصحاب کا پیدا کرنا میرے اختیار میں تھا بلکہ یہ تمام اسباب خود خدا تعالیٰ نے پیدا کئے ہیں۔ تا وہ اپنے رسول کریم کی پیشگوئی کو پورا کرے۔

مگر اس زمانہ کے مولویوں کی حالت پر سخت افسوس ہے، کہ وہ نہیں چاہتے کہ کوئی پیشگوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری ہو۔ آتھم کی نسبت کیسی صفائی سے پیشگوئی پوری ہوئی خدا تعالیٰ کی الہامی شرط کے موافق اول آتھم عیسائیوں کی طرح ڈرتا پھرا۔ اور بوجہ سخت خوف شرط سے فائدہ اٹھایا۔ آخر جو اس کی حالت میں خدا تعالیٰ کے قطعی الہام کے موافق وہ داخل جہنم ہوا۔ اور یہی پیشگوئی تھی جس کی براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۱۶ میں بھی اب سے سترہ برس پہلے خبر دی گئی تھی سو جب کہ اس پیشگوئی کی تکذیب میں پادریوں نے جھوٹ کی قسم کھائی عبدالحق اور عبدالجبار غزنویان وغیرہ مخالف مولویوں نے بھی وہ نجاست کھائی اور جیسا کہ عیسائیوں نے اسلام پر حملہ کیا۔ انہوں نے بھی اسلام پر حملہ کیا کیونکہ یہ نشان اسلام کی تائید میں تھا۔ سو ان لوگوں نے اسلام کی کچھ پروا نہ کی اور کچھ بھی حیا اور شرم اور تقویٰ سے کام نہ لیا۔ اسی لئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کا نام یہودی رکھا۔ اگر یہ لوگ آتھم کے بارے میں کوئی سچی توجیہ پیش کرتے تو ہمیں کچھ افسوس نہ تھا مگر ان لوگوں نے تمام سچائی پر جو آفتاب کی طرح چمک رہی تھی عبدالحق غزنوی بار بار لکھتا ہے کہ پادریوں کی فتح ہوئی ہم اس کے جواب میں بجز اس کے کیا کہیں اور کیا لکھیں کہ اے بدذات یہودی صفت پادریوں کا اس میں منہ کالا ہوا۔ اور ساتھ ہی تیرا بھی۔ اور پادریوں پر ایک آسمانی لعنت پڑی اور ساتھ ہی وہ لعنت تجھ کو بھی کھا گئی اگر تو سچا ہے تو اب ہمیں دکھلا کہ آتھم کہاں ہے اے خبیث کب تک تو جئے گا۔ کیا تیرے لئے ایک دن موت کا مقرر نہیں ۔

انجام آتھم صفحہ 45 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 329 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 62 پر درج ہے

صفحہ 491

حوالہ نمبر 20

۳۳۰

ایسا ہی ذرہ انصاف کرنا چاہیئے کہ کس قوت اور چمک سے کسوف اور خسوف کی پیشگوئی پوری ہوئی۔ اور ہمارے دعویٰ پر آسمان نے گواہی دی۔ مگر اس زمانہ کے ظالم مولوی اس سے بھی منکر ہیں۔ خاص کر رئیس المتخلفین عبدالحق غزنوی اور اس کا تمام گروہ علیہم لعائن اللہ الف الف مرۃ ۔ اپنے ناپاک اشتہار میں نہایت اصرار سے کہتا ہے کہ یہ پیشگوئی بھی پوری نہیں ہوئی اے پلید دجال ! پیشگوئی تو پوری ہو گئی لیکن تعصب کے غبار نے تجھے اندھا کر دیا ۔ پیشگوئی کے اصل لفظ جو امام محمد باقر ؓ سے دارقطنی میں مروی ہیں یہ ہیں " ان لمهدينا آيتين لم تكونا منذ خلق السموات والارض ينكسف القمر لاول ليلة من رمضان وتنكسف الشمس في النصف منه الخ ۔ یعنی ہمارے مہدی کی تائید اور تصدیق کے لئے دو نشان مقرر ہیں۔ اور جب سے کہ زمین و آسمان پیدا کئے گئے وہ دو نشان کسی مدعی کے وقت ظہور میں نہیں آئے۔ اور وہ یہ ہیں کہ مہدی کے ادّعاء کے وقت میں چاند کو اس پہلی رات میں گرہن ہو گا جو اس کے خسوف کی تین راتوں میں سے پہلی رات ہے یعنی تیرہویں رات۔ اور سورج کو اس کے گرہن کے دنوں میں سے اُس دن گرہن ہو گا جو درمیانی دن ہے یعنی اٹھائیسویں تاریخ کو ۔ اور جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے کسی مدعی کے لئے یہ اتفاق نہیں ہوا کہ اُس کے دعویٰ کے وقت میں خسوف کسوف رمضان میں ان تاریخوں میں ہوا ہو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا اس غرض سے نہیں تھا کہ وہ خسوف کسوف قانون قدرت کے برخلاف ظہور میں آئے گا۔ اور نہ حدیث میں کوئی ایسا لفظ ہے۔ بلکہ صرف یہ مطلب تھا کہ اس مہدی سے پہلے کسی مدعی صادق یا کاذب کو یہ اتفاق نہیں ہوا ہو گا کہ اس نے مہدویت یا رسالت کا دعویٰ کیا ہو ۔ اور اس کے وقت میں ان تاریخوں میں رمضان میں خسوف کسوف ہوا ہو۔ پس ان مولویوں کو چاہیئے تھا ۔ کہ اگر اس پیشگوئی کی صحت میں شک تھا تو ایسی کوئی نظیر سابق زمانہ میں سے حوالہ کسی کتاب کے پیش کرتے۔ جس میں لکھا ہوتا کہ پہلے ویسا دعویٰ ہو چکا ہے۔ اور اُس کے وقت میں ایسا خسوف کسوف بھی ہو چکا ہے مگر اس طرف تو انہوں نے رُخ بھی نہیں کیا۔ اور یہ احمقانہ عذر پیش کر دیا ہے کہ اس پیشگوئی کے یہ معنی ہیں کہ چاند کو رمضان کی پہلی رات میں گرہن لگے گا۔ اور پندرہ تاریخ کو سورج گرہن ہو گا۔ لا حول ولا قوۃ۔ ان احمقوں کو یہ معنی کس لفظ سے سمجھ آئے اے نادانو! آنکھیں کھولو اندھو! مولویّت کو بدنام کرنے والو! ذرہ سوچو !

۴۶

انجام آتھم صفحہ 45، 46 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 329، 330 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 63 پر درج ہے

صفحہ 492

(حوالہ نمبر 21)

۵۳

اقوم لدعوة الانام - وفعل ماشاء و کے لئے حکم کیا۔ اور جو چاہا کیا۔ اور ھو احکم الحاکمین ۔ واللہ یعلم ما فی قلبی وہ احکم الحاکمین ہے۔ ولا یعلم احد من العالمین ؏ حُبّ لنا فی حُبّہ مُتَجَنَّبٌ ہمارا ایک دوست ہے اور ہم اس کی محبت سے پر ہیں وعن المنازل والمراتب نرغب اور مراتب اور منازل سے ہمیں بے رغبتی اور نفرت ہے۔ انّی لاریٰ الدنیا دبلة اھلھا میں دیکھتا ہوں کہ دنیا اور اُس کے طالبوں کی زمین قحط زدہ جدبت وارض ودادھا لا تجدب ہوگئی ہے۔ یعنی ہماری بہار جو عاشقی اور ہماری محبت کی زمین ہری ہے۔ یتمایلون علی النعیم وانّنا لوگ دنیا کی نعمت پر جھکتے ہیں۔ مگر ہم اس منہ کی طرف ملنا الی وجہ یسر ویطرب جھک گئے ہیں جو خوشی پہنچانے والا اور طرب انگیز ہے۔ انا تعلقنا بنور حبیبنا ہم اپنے پیارے کے نور سے تعلق پکڑتے ہیں یہاں تک کہ جو کثیف حتی استنار لنا الذی لا یحشب شفاف نہیں ہوسکتا وہ بھی ہمارے لئے منور ہو گیا۔ ان العدا صاروا خنازیر الفلا دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہوگئے۔ اور اُن کی ونساؤھم من دونھات الاکلب عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں۔

آنچہ را خواست کرد کہ او احکم الحاکمین است و خدا می داند آنچہ در دل من است و غیر او ازیں آگاہ نہ ۔

اشعار

ما را محبوبی است کہ از حب او پر می باشیم ۔ و از مراتب و مناصب بکلی فارغ و ملولیم ۔ می بینیم دنیا و زمین طالبانش را قحط بر آن چیرہ شدہ ولے زمین دوستی ما ہمیشہ سرسبز خواہد بود ۔ مردم بر نعمتہای دنیا سر فرود آوردہ اند ولیکن ما بمیل سوئے روئے آوردہ ایم کہ شادی و خرمی می بخشد ۔ ما دست بدامان دوست نورانی زدہ ایم ازین سبب است کہ آنچہ شفاف روشن نمی نمود ہمہ برما روشن گردیدہ است ۔ دشمنان ما خنزیر ہائے بیابان شدہ اند و زنان آنہا سگ مادہ ہا را در پس انداختہ اند ۔

یہ حوالہ صفحہ 63 پر درج ہے | نجم الہدیٰ صفحہ 53 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 53 از مرزا قادیانی

صفحہ 493

حوالہ نمبر 22

روحانی خزائن اسلام پہلا

بلکہ اس پر سخت دل اور دشمن اسلام ہوا اور مسیح کو اپنا ربّ اور خدا ہی کہتا رہا۔ پھر اگر ہم اسی وقت یا اس وقت سے کچھ زیادہ دیر بعد ظاہر نہ ہوا تو پس وہ سچا اور ہم جھوٹے اور ہمارا الہام جھوٹا۔ اور اگر عبداللہ آتھم قسم نہ کھائے یا قسم کی شرطوں کے اندر مر جاوے تو ہم سچے اور ہمارا الہام سچا۔ پھر بھی اگر کوئی قسم سے پہلو تہی کر کے اس بدیہی حقانیت کی طرف متوجہ نہ ہو اور ناحق سچائی پر پردہ ڈالنا چاہے تو بے شک وہ ولد الحلال اور نیک ذات نہیں ہو گا کہ خواہ نخواہ حق سے روگردان ہوتا ہے بلکہ وہ اپنی شیطنت سے کوشش کرتا ہے کہ سچے جھوٹے ہو جائیں۔

اب اس سے زیادہ صاف اور کون فیصلہ ہو گا کہ ہم دو شخصوں کے مقابلہ میں خود ایک مقدمہ میں حاکم کو ہزار روپیہ دیتے ہیں۔ مسٹر عبداللہ آتھم اگر درحقیقت مجھے کاذب سمجھتا ہے اور جانتا ہے کہ یہ کاذب نبی ہے اور اس نے اسلام کی حقانیت کی طرف رجوع نہیں کیا تو وہ ضرور بلا توقف مہلت مذکورہ بالا کے مطابق اقرار کرے گا کیونکہ اب تو وہ اپنے تجربہ سے جان چکا کہ میں جھوٹا ہوں اور مسیح کی حفاظت کو اس نے مشاہدہ کر لیا پھر اس مقابلہ سے اس کو کیا خوف ہے کیا پہلے پندرہ مہینوں میں مسیح زندہ تھا اور مسٹر عبداللہ آتھم کی حفاظت کر سکتا تھا اور اب مر گیا ہے اس لئے نہیں کر سکتا جبکہ عیسائیوں نے اپنے اشتہار میں یہ کھلا اعلان دیا ہے کہ خداوند یسوع نے مسٹر عبداللہ آتھم کی جان بچائی تو پھر یہ بھی تمہارا وہم ہے کہ جان بچائی گئی ۔ کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ اب مسیح کے خدا اور قادر ہونے کی نسبت مسٹر عبداللہ آتھم کو کچھ شک اور تردد پیدا ہو جائے اور پہلے سے شک نہ ہو بلکہ اب تو بہت یقین چاہئے کیونکہ اس کی خدائی مدد دینے کا تجربہ ہوچکا اور نیز ہمارے جھوٹ کا تجربہ ۔ لیکن یاد رکھو کہ مسٹر عبداللہ آتھم اپنے دل میں خوب جانتا ہے کہ یہ سب باتیں جھوٹی ہیں کہ اس کو مسیح نے بچایا جو خود مر چکا وہ کس کو بچا سکتا ہے اور جو مر گیا وہ قادر کیونکر اور خداوند کیونکر سچ تو یہ ہے کہ سچے اور کامل خدا کے خوف نے اس کو بچایا اگر اب نادان عیسائیوں کی تحریک سے بیباک ہو جائے گا تو پھر اسی کامل خدا کی طرف سے بیباکی کا ثمرہ چکھے گا ۔ الغرض اب ہم نے فیصلہ کی صاف طرح راہ بتادی اور جھوٹے سچے کے لئے ایک معیار پیش کر دیا ۔ اب جو شخص اس صاف فیصلہ کے برخلاف خباثت اور عناد کی راہ سے مجھ پر بکواس کرے گا اور اپنی شرارت سے باز نہ آئے گا کہ عیسائیوں کی فتح ہوئی اور کچھ شرم اور حیا کو کام نہیں لائے گا اور بغیر اس کے جو ہمارے اس فیصلہ کا انصاف کی رو سے جواب دے سکے انکار اور زبان درازی سے باز نہیں آئے گا اور ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو صاف سمجھا جاوے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں پس حلال زادہ بننے کے لئے واجب ہے کہ اگر وہ مجھے جھوٹا جانتا ہے اور

یہ حوالہ صفحہ 63 پر درج ہے انوار الاسلام صفحہ 30 مندرجہ روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 31 از مرزا قادیانی

صفحہ 494

حوالہ نمبر 23 نزول المسیح ۳۸۲

۷۲ جس زمانہ میں ان مولویوں اور اُن کے چیلوں نے میرے پر تکذیب اور بدزبانی کے حملے شروع کئے اُس زمانہ میں میری بیعت میں ایک آدمی بھی نہیں تھا۔ گو چند دوست جو انگلیوں پر شمار ہو سکتے تھے میرے ساتھ تھے۔ اور اس وقت خدا تعالیٰ کے فضل سے ستر ہزار کے

بقیہ حاشیہ ٹھہرایا ہے اور پھر دونوں سلسلوں کا تقابل پورا کرنے کے لئے یہ ضروری تھا کہ موسوی مسیح کے مقابل پر محمدی مسیح بھی شانِ نبوت کے ساتھ آوے تا اس نبوتِ عالمگیر کی کسرِ شان نہ ہو۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے میرے وجود کو ایک کامل ظلیت کے ساتھ پیدا کیا اور ظلی طور پر نبوت محمدی اس میں رکھ دی تا ایک معنے سے مجھ پر نبی اللہ کا لفظ صادق آوے اور دوسرے معنوں سے ختمِ نبوت محفوظ رہے۔

اس جگہ یہ بھی یاد رہے کہ خدائے حکیم علیم نے وضع دنیا دوہری رکھی ہے یعنی بعض نفوس بعض کے مشابہ ہوتے ہیں نیک نیکوں کے مشابہ اور بد بدوں کے مشابہ مگر بایں ہمہ یہ امر مخفی ہوتا ہے اور زورِ شور سے ظاہر نہیں ہوتا لیکن آخری زمانہ کے لئے خدا نے مقرر کیا ہوا تھا کہ وہ ایک عام رجعت کا زمانہ ہوگا تا یہ اُمّتِ مرحومہ دوسری اُمتوں سے کسی بات میں کم نہ ہو۔ پس اُس نے مجھے پیدا کر کے ہر ایک گذشتہ نبی سے مجھے اُس نے تشبیہ دی کہ وہی میرا نام رکھ دیا۔ چنانچہ آدم ابراہیم نوح موسیٰ داؤد سلیمان یوسف یحییٰ عیسیٰ وغیرہ یہ تمام نام براہین احمدیہ میں میرے رکھے گئے اور اس صورت میں گویا تمام انبیاء گذشتہ اس اُمت میں دوبارہ پیدا ہو گئے یہاں تک کہ سب کے آخر عیسیٰ پیدا ہو گیا اور جو میرے مخالف تھے اُن کا نام عیسائی اور یہودی اور مشرک رکھا گیا چنانچہ قرآن شریف میں اسی کیطرف اشارہ کرتا ہوا خدا فرماتا ہے اهدنا الصراط المستقيم صراط الذين انعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالين پس یہ آیت صاف کہہ رہی ہے کہ اس اُمت کے بعض افراد کو گذشتہ نبیوں کا کمال دیا جائے گا اور نیز یہ کہ گذشتہ کفار کی عادات بھی بعض منکروں کو دی جائیں گی اور بڑی شد و مد سے

۱؎ الفاتحہ : ۶ ، ۷

نزول المسیح (حاشیہ) صفحہ 4 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 382 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 63 پر درج ہے

صفحہ 495

حوالہ نمبر 24

۳۰۹

بالمقابل ایک جگہ بیٹھ کر زبان عربی میں میرے مقابلہ میں سات آیت قرآنی کی تفسیر لکھیں اور یا ایک سال تک ان تمام واقعات سے اطلاع پاوے تا اس کی بے خبری اس کی شفیع نہ ہو۔ پھر بعد اس کے قسم کھاوے کہ یہ خدا تعالےٰ کی طرف سے نہیں اور جھوٹی ہے۔ پھر اگر وہ ایک سال تک اس قسم کے وبال سے تباہ نہ ہو جائے اور کوئی فوق العادت مصیبت اُس پر نہ پڑے تو دیکھو کہ میں سب کو گواہ کر کے کہتا ہوں کہ اس صورت میں میں اقرار کروں گا کہ ہاں میں جھوٹا ہوں۔ اگر عبدالحق اِس بات پر اصرار کرتا ہے تو وہی قسم کھاوے اور اگر محمد حسین بٹالوی اس خیال پر زور دے رہا ہے تو وہی میدان میں آوے۔ اور اگر مولوی احمد اللہ امرتسری یا ثناء اللہ امرتسری ایسا ہی سمجھ رہا ہے۔ تو انہیں پر فرض ہے کہ قسم کھانے سے اپنا تقویٰ دکھا دیں اور یقیناً یاد رکھو کہ اگر ان میں سے کسی نے قسم کھائی کہ آتھم کی نسبت پیشگوئی پوری نہیں ہوئی اور عیسائیوں کی فتح ہوئی ۔ تو خدا اس کو ذلیل کرے گا۔ رُوسیاہ کرے گا۔ اور لعنت کی موت سے اس کو ہلاک کرے گا کیونکہ اس نے سچائی کو چھپانا چاہا۔ جو دین اسلام کے لئے خدا کے حکم اور ارادہ سے زمین پر ظاہر ہوئی۔

مگر کیا یہ لوگ قسم کھائیں گے؟ ہرگز نہیں۔ کیونکہ یہ جھوٹے ہیں۔ اور کتوں کیطرح جھوٹ کا مُردار کھا رہے ہیں۔

اب اگر کوئی سوال کرے کہ اگرچہ عبدالحق کے مباحثہ میں اس طرف سے کسی بددُعا کا ارادہ نہ کیا گیا۔ مگر جو صادق کے سامنے مباحثہ کے لئے آیا ہو۔ کسی قدر تو بعد مباحثہ ایسے اُمور کا پایا جانا چاہیئے جن پر غور کرنے سے اس کی ذلت اور نامرادی پائی جائے اور اپنی عزت دکھلائی دے۔

سو جاننا چاہیئے کہ وہ امور بہ تفصیل ذیل ہیں جو بحکم العاقبة للمتقین ہماری عزت کے موجب ہوئے۔ اوّل۔ آتھم کی نسبت جو پیشگوئی کی گئی تھی۔ وہ اپنے واقعی معنوں کے رُو سے پوری ہو گئی۔ اور اُس دن وہ پیشگوئی بھی پوری ہوئی۔ جو پندرہ برس پہلے براہین احمدیہ کے صفحہ ۲۴۱ میں لکھی گئی تھی۔ آتھم اصل منشاء الہام کے مطابق مرگیا۔ اور تمام مخالفوں کا مُنہ کالا ہوا۔ اور اُن کی تمام جھوٹی خوشیاں خاک میں مل گئیں۔ اس پیشگوئی کے واقعات پر اطلاع پاکر صدہا دلوں کا کفر ٹُوٹا اور ہزاروں خط اس کی تصدیق کے لئے پہنچے۔ اور جاہلوں اور کذّابوں پر وہ لعنت پڑی جو اب دم نہیں مار سکتے۔ دُوسرا وہ امر جو مباحثہ کے بعد میری عزت کا موجب ہوا وہ اُن عربی رسالوں کا مجموعہ ہے جو مخالف مولویوں اور پادریوں کے ذلیل کرنے کے لئے بلطف

۲۵ ۱؎ ھود : ۵۰

انجام آتھم (ضمیمہ) صفحہ 25 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 309 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 64 پر درج ہے

صفحہ 496

حوالہ نمبر 25

١٦٣

واشهد الاحرار والاسارى انى اضع البركة واللعنة امام النصارى ۳۳ اور میں آزادوں اور قیدیوں کو گواہ کرتا ہوں کہ میں آج برکت اور لعنت نصاریٰ کے آگے رکھتا ہوں اما البركة فينالهم بركة الدنيا عند مقابلة الكتاب وينالون انعاماً كثيرا برکت سے مراد دنیا کی برکت ہے کہ مقابلہ کے وقت اُن کو حاصل ہو گی اور وہ بہت سا انعام مع الفتح والغلاب او ينالهم بركة الآخرة عند التوبة وترك توهين مع فتح اور غلبہ کے پائیں گے یا برکت سے مُراد آخرت کی برکت ہے کہ توبہ اور ترک توہین قرآن القرآن و ترك صفة السر حان واما اللعنة فلا يرد عليهم الا عند سے اُن کو ملے گی مگر لعنت اُن پر صرف اس حالت میں وارد ہو گی کہ جب بالمقابل رسالہ نہ بنا سکیں اعراضهم عن الجواب ومع ذلك عدم امتناعهم عن الشتم والسب اور باوجود اس کے والقدح فى كتاب رب الارباب رب العالمين. قرآن شریف کی توہین اور تحقیر سے بھی باز نہ آویں۔ واعلم ان كل من هو من ولد الحلال وليس من ذرية البغايا اور جاننا چاہیئے کہ ہر یک شخص جو ولد الحلال ہے اور خراب عورتوں ونسل الدجال فيفعل امراً من أمرين اما كف اللسان بعده و ترك اور دجال کی نسل میں سے نہیں ہو وہ دو باتوں میں سے ایک بات ضرور اختیار کریگا یا تو بعد اسکے دروغگوئی الافتراء والمين واما تاليف الرسالة كرسالتنا وترصيع المقالة كمقالتنا اور افترا سے باز آجائے گا یا ہمارے اس رسالہ جیسا رسالہ بنا کر پیش کرے گا ولكن الذى ما از دجر من القدح فى بلاغة القرآن وما امتنع من الانكار مگر وہ شخص کہ جس نے نہ تو ہمارے رسالہ جیسا رسالہ بنایا اور نہ قرآن کریم کی جرح و قدح سے باز آیا من فصاحة الفرقان فعليه كلما قلنا وكتبنا فى هذا القرطاس عليه اور نہ فصاحت قرآنی پر حملہ بیجا کرنے سے اپنے تئیں روکا پس اُسپر وہ سب باتیں وارد ہونگی جو ہم اس رسالہ

١٦٣

یہ حوالہ صفحہ 64 پر درج ہے نور الحق صفحہ 163 مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 163 از مرزا قادیانی

صفحہ 497

حوالہ نمبر 26

چشمہ معرفت ۱۱۴

۱۰۹ تو مناسب تھا کہ وہ اس بحث میں اپنے تئیں نہ ڈالتے اور چپ ہی رہتے اور خواہ نخواہ اپنے موجودہ وید کی پردہ دری نہ کراتے ۔ جو کچھ وید نے اپنا فلسفہ اور علم طبعی ظاہر کیا ہے وہ یہی ہے کہ ہندوؤں کے پرمیشر کو ایک انسان کا فرزند قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اندر آریوں کا پرمیشر کُشتیا کا بیٹا ہے ۔ اور نیز یہ کہ عناصر اور اجرام سماویہ سب پرمیشر ہی ہیں اور نیز وہ تعلیم دیتا ہے کہ اِن تمام چیزوں سے مرادیں مانگی جائیں اور نیز یہ تعلیم جو نہایت گندی اور قابلِ شرم تعلیم ہے یعنے یہ کہ پرمیشر ناف سے دس انگُل نیچے ہے (سمجھنے والے سمجھ لیں) ہم یہ نہیں کہتے کہ کسی پہلے زمانہ میں یہی وید تھا ۔ بلکہ ہماری رائے یہ ہے کہ یہ ایک محرف و مبدل کتاب ہے کچھ تو باعتبار الفاظ کے اور کچھ باعتبار معنوں کے۔ اور ہمارے نزدیک مُمکِنِ اَغْلَب ہے کہ کوئی اصل کتاب خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوگی پھر کچھ کی کچھ کی گئی ہے اور کچھ زیادہ کی گئی۔ اور صورت بدلائی گئی ہے اور موجودہ وید بلا شبہ ایک گمراہ کرنیوالی کتاب ہے۔ جس میں پرمیشر کا بھی پتہ نہیں لگتا اور اس قدر مخلوق چیزوں کی اس میں پرستش کی تعلیم ہے کہ گویا وہ مخلوق پرستی کی ایک دوکان ہے۔ پس جس جگہ ہم وید پر کوئی حملہ کرتے ہیں یا اُسکی تکذیب کے دلائل پیش کرتے ہیں اُس جگہ یہی موجودہ وید مراد ہے جو سراسر محرف مبدل ہے نہ وہ اصل وید جو کسی زمانہ میں خدا کی طرف سے آیا تھا اور ہم خدا کی تمام کتابوں پر ایمان لاتے ہیں اور ایسا ہی اس وید پر جو کسی زمانہ میں ملک ہند کے کسی نبی پر نازل ہوا ہو گا مگر موجودہ وید کی نسبت ہم اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں کہہ سکتے کہ جس قدر گندے فتوے مخلوق پرستوں کے اس ملک میں پھیلے ہوئے ہیں یہ سب وید کی ہی مہربانی ہے اور انسانی پاکیزگی کی نسبت جو کچھ وید نے سکھایا ہے اس کا عمدہ نمونہ نیوگ ہے۔ یہ نیوگ کی ہی پاک کارروائیوں میں سے ہے کہ آریہ قوم میں اس بات کا ثبوت ملنا مشکل ہے کہ کون آریہ صاحب اصل باپ کے نطفہ میں سے ہے۔ اور کون آریہ

چشمہ معرفت صفحہ 106 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 114 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 64 پر درج ہے

صفحہ 498

حوالہ نمبر 27

۳۱۱

بقیہ حاشیہ صفحہ ۳۱۰

ایک برس تک انتظار کریں۔ اور یا مباہلہ کرلیں۔ ششم۔ اور اگر ان باتوں میں سے کوئی بھی نہ کریں تو مجھ سے کیا تم میں ایک بھی سوچنے والا نہیں جو اس بات کو سوچے ۔ کیا تم میں ایک بھی دل نہیں جو اس بات کو سمجھے ۔ زمین نے عزت دی۔ آسمان نے عزت دی اور قبولیت پھیل گئی۔

پانچواں وہ امر جو مباہلہ کے بعد میرے لئے عزت کا موجب ہوا ۔ علم قرآن میں اتمام حجت ہے ۔ میں نے یہ دعویٰ کیا کہ تمام مخالفوں کو کیا عبدالحق کا گروہ اور کیا بٹالوی کا گروہ ۔ غرض سب کو بمقابلہ اس بات کے لئے مدعو کیا کہ مجھے علم حقائق اور معارف قرآن دیا گیا ہے ۔ تم لوگوں میں سے کسی کی مجال نہیں کہ میرے مقابل پر قرآن شریف کے حقائق و معارف بیان کر سکے ۔ سو اس اعلان کے بعد میرے مقابل ان میں سے کوئی بھی نہ آیا ۔ اور اپنی جہالت پر جو تمام ذلتوں کی جڑ ہے انہوں نے مہر لگادی ۔ سو یہ سب کچھ مباہلہ کے بعد ہوا۔ اور اسی زمانہ میں کتاب کرامات الصادقین لکھی گئی ۔ اس کرامت کے مقابل پر کوئی شخص ایک حرف بھی نہ لکھ سکا ۔ تو کیا اب تک عبدالحق اور اس کی جماعت ذلیل نہ ہوئی۔ اور کیا اب تک یہ ثابت نہ ہوا۔ کہ مباہلہ کے بعد یہ عزت خدا نے مجھے دی۔

چھٹا امر جو مباہلہ کے بعد میری عزت اور عبدالحق کی ذلت کا موجب ہوا ۔ یہ ہے کہ عبدالحق نے مباہلہ کے بعد اشتہار دیا تھا کہ ایک فرزند اُس کے گھر میں پیدا ہوگا ۔ اور میں نے بھی خداتعالیٰ سے الہام پاکر یہ اشتہار انوارالاسلام میں شائع کیا تھا کہ خدا تعالیٰ مجھے لڑکا عطا کرے گا۔ سو خدا تعالیٰ کے فضل اور کرم سے میرے گھر میں تو لڑکا پیدا ہوگیا۔ جس کا نام شریف احمد ہے اور قریباً پونے دو برس کی عمر رکھتا ہے۔ اب عبدالحق کو ضرور پوچھنا چاہیے ۔ کہ اس کا وہ مباہلہ کی برکت کا لڑکا کہاں گیا۔ کیا اندھی اندھیڑی میں چھین لیا گیا یا پھر رجعت قہقری کر کے نطفہ بن گیا۔ کیا اس کے سوا کسی اور چیز کا نام ذلت ہے کہ جو کچھ اس نے کہا وہ پورا نہ ہوا۔ اور جو کچھ میں نے خدا کے الہام سے کہا خدا نے اس کو پورا کر دیا۔ چنانچہ ضیاء الحق میں بھی اسی لڑکے کا ذکر لکھا گیا ہے۔

ساتواں امر جو مباہلہ کے بعد میری عزت اور قبولیت کا باعث ہوا خدا کے راستباز بندوں کا وہ مخلصانہ جوش ہے جو انہوں نے میری خدمت کے لئے دکھلایا۔ مجھے کبھی یہ طاقت نہ ہوگی کہ میں خدا کے ان احسانات کا شکر ادا کر سکوں ۔ جو روحانی اور جسمانی طور پر مباہلہ کے بعد میرے شامل حال ہوگئے۔ روحانی انعامات کا نمونہ میں لکھ چکا

۲۷

انجام آتھم صفحہ 311، 317 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 311، 317 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 65 پر درج ہے

صفحہ 499

۳۹۷ حوالہ نمبر 27

یہ مباہلہ اسی قسم کا ہے کہ جیسے اللہ جلشانہ نے فرمایا ہے کہ فَمَنْ حَآجَّکَ فِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَکَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَنَا وَاَبْنَآءَکُمْ وَنِسَآءَنَا وَنِسَآءَکُمْ وَاَنْفُسَنَا وَاَنْفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَی الْکٰذِبِیْنَ

یعنی خدا تعالیٰ میرے ہاتھ سے وہ نشان ظاہر نہ کرے جس سے اسلام کا بول بالا ہو اور جس سے کہ عبدالحق نے مباہلہ کے بعد کونسی عزت دنیا میں پائی۔ کونسی قبولیت اس کی لوگوں میں پھیلی۔ کونسے مالی فتوحات کے دروازے اس پر کھلے۔ کون سی علمی فضیلت کی پگڑی اس کو پہنائی گئی۔ صرف فضول گوئی کے طور سے ایک بیٹا ہونے کا دعویٰ کیا تھا کہ تا یہی مباہلہ کا اثر سمجھا جائے۔ مگر اس کی بدبختی سے وہ دعوے بھی باطل نکلا۔ اور اب تک اس کی عورت کے پیٹ میں سے ایک بچہ یا بچی پیدا نہ ہوا۔ مگر اس کے مقابل پر خدا تعالیٰ نے میرے الہام کو پورا کر کے مجھے لڑکا عطا کیا *

یہ دس برکتیں مباہلہ کی بھی میں نے لکھی ہیں۔ پھر کیسے خبیث وہ لوگ ہیں جو اس مباہلہ کو بے اثر سمجھتے ہیں۔ فَعَلَیْهِمْ اَنْ یَّتَدَبَّرُوْا وَ یُفَکِّرُوْا فِیْ هٰذِهِ الْعَشَرَةِ الْکَامِلَةِ۔ بالآخر ہم دوبارہ ہر ایک مخالف مکفر مکذب پر ظاہر کرتے ہیں کہ وہ مباہلہ کے میدان میں آویں اور یقیناً سمجھیں کہ جس طرح خدا تعالیٰ نے عبدالحق کے مباہلہ کے بعد یہ دس قسم کا ہم پر انعام و اکرام کیا اور اس کو ذلیل کیا۔ اور اس کے بیٹے کا دعویٰ بھی جھوٹا نکلا۔ اور کوئی عزت اس کو حاصل نہ ہوئی۔ اور خدا تعالیٰ نے اس کے تمام دعاوی کو ردّ کیا۔ اس سے بڑھ کر قہر مباہلہ میں ہوگا۔ میں نے اُس روز یہ دُعا نہیں کی تھی۔ کیونکہ وہ شخص مباہلہ سے ڈر گیا تھا۔ اور اس کی جہالت اس کے حق میں رحم ٹھہرائی گئی تھی مگر اب میں بددعا کروں گا۔ سو چاہئے کہ ہر ایک مباہلہ کی درخواست کرنے والا اپنی طرف سے چھپا ہوا اشتہار شائع کرے۔ اور یہ ضروری ہوگا کہ مباہلہ کرنے والا صرف ایک نہ ہو۔ بلکہ کم سے کم دس ہوں۔ اور چونکہ مباہلہ کے لئے ہر ایک شخص بلایا گیا ہے خواہ پنجاب کا ہو یا ہندوستان کا۔ یا عرب کا یا بلاد فارس کا۔ اس لئے یہ مشقت مخالفوں پر جائز نہیں رکھی گئی کہ وہ دور دراز سفر کر کے پہنچیں۔ بلکہ حسب منطوق وَمَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ۔ یُرِیْدُ اللّٰهُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلَا یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ۔ یہ تجویز قرار پائی ہے کہ ہر ایک شخص اشتہارات کے ذریعہ سے مباہلہ کرے۔ مگر یہ شرط ضروری ہے کہ ان الہامات پر جو رسالہ انجام آتھم میں صفحہ ۵۱ سے صفحہ ۶۲ تک لکھے ہیں۔ وہ کل الہامات اپنے اشتہار مباہلہ میں لکھے۔ اور محض حوالہ نہ دے بلکہ کل الہامات صفحات مذکورہ کے اشتہار میں درج کرے۔ اور پھر بعد اس کے عبارت ذیل کی دُعا اس اشتہار میں لکھے۔ اور وہ یہ ہے

دُعا

اے خدا علیم خبیر میں جو فلاں ابن فلاں ساکن قصبہ فلاں ہوں اس شخص کو

* یعنی فریقین نے جو مباہلہ کیا تھا جس کا منشاء یہ تھا کہ جو جھوٹا ہے اس پر قہر الٰہی مباہلہ کے بعد برسے گا۔ پس چونکہ اشتہار مباہلہ کے بعد میں یقینی طور پر فتح یاب ہوا۔ اس لیے میری فتح یابی کا وہ بچہ بھی ایک نشان ہے جس کی بشارت پہلے دی گئی تھی۔ پس یہ امر اس جگہ ظاہر کرنا بے جا نہیں کہ بعض لوگ جن کے دلوں میں کبر ہے۔ گو اوّل تو چپ رہے مگر زندہ ہیں یہ بھی اسی مقولہ کے مصداق ہیں کہ کوئی بچہ پیدا نہیں ہو گا۔ بہت خوب یہ نشان دیکھ لے۔۔۔۔

یہ بہت سے حریف جو انجام آتھم کے اشتہار مباہلہ پر دستخط کر کے مر چکے ہیں مثلاً غلام دستگیر قصوری وغیرہ کیا ان کی موت مباہلہ کا اثر نہیں کہلائے گا کیا کوئی شخص اس کی کوئی نظیر لا سکتا ہے کہ کبھی اس طرح پر مباہلہ کر کے کوئی جھوٹا بچ گیا ہو۔ پھر باوجود اس کے بے حیاؤں کی طرح یہ کہنا کہ کوئی نشان ظاہر نہیں ہوا۔ کیا یہ طریق حق پسندوں کا ہے ۔ منہ

انجام آتھم صفحہ 311، 317 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 311، 317 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 65 پر درج ہے

صفحہ 500

حوالہ نمبر 28 تتمہ ۴۴۴ حقیقت الوحی

۱۲ نہ اُٹھایا مگر پادریوں کی اطاعت کا جُوا اُٹھالیا۔ پس اِن معنوں کے رُو سے بھی وہ ابتر ٹھہرا پھر جیسا کہ بیان کر چکا ہوں اِن معنوں کے رُو سے بھی ابتر ہوا کہ اُسوقت جبکہ اُسکی نسبت خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ گویا اُسی دم سے خدا تعالیٰ نے اُسکی بیوی کے رحم پر مہر لگا دی اور اُسکو یہ الہام کھلے کھلے لفظوں میں سُنایا گیا تھا کہ اب موتے دن تک تیرے گھر میں اولاد نہ ہوگی اور نہ آگے سلسلہ اولاد کا چلے گا اور یقیناً اُسنے اِس الہام کو توڑنے کے لئے اولاد حاصل کرنے کی غرض سے بہت کوشش کی ہوگی مگر وہ کوشش ضائع گئی ۔ آخر نامراد مرا۔ اور ابتر کے ہر ایک معنی اُسپر صادق آگئے ۔ اور دوسری طرف جو میری نسبت وہ بار بار بددعائیں کرتا تھا کہ یہ شخص مفتری ہے ہلاک ہو جائیگا اور اولاد بھی مریگی اور جماعت متفرق ہو جائیگی۔ اسکا نتیجہ یہ ہوا کہ اِس الہام کے بعد یعنے الہام اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ کے بعد تین لڑکے میرے گھر میں پیدا ہوئے اور تین لاکھ سے زیادہ جماعت ہو گئی اور کئی لاکھ روپیہ آیا اور کئی عیسائی اور ہندو میری دعوت سے مسلمان ہوئے ۔ پس کیا یہ نشان نہیں اور کیا یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی ۔ اور یہ کہنا کہ سعد اللہ کے لڑکے کی عبد الرحیم کی دختر سے نسبت ہو گئی ہے اور شادی ہو جائے گی اور اولاد بھی ہو گی یہ ایک خیالی پلاؤ ہے اور محض ایک کمینے چھچھورے پن کی لاف ہے اور اس کا جواب بھی یہی ہے کہ خدا کے وعدے ٹل نہیں سکتے ۔ یہ بات تو اُس وقت پیش کرنی چاہئیے کہ جب شادی ہو جائے اور اولاد بھی ہو جائے ۔ بالفعل تو ایمانداری کا یہ تقاضا ہے کہ اس بات کو غور سے سوچیں کہ جیسا کہ قرآن شریف کی یہ پیشگوئی پوری ہوئی کہ اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ

* حاشیہ :۔ یہ اسی طرح کی امید ہے جیسا کہ عبد الحق غزنوی نے مباہلہ کے بعد اس نسبت مباہلہ کا اثر یہ ظاہر کیا تھا کہ میرا بھائی مر گیا ہے اور اسکی بیوی کو میں نے نکاح کیا ہے اور اسکو حمل ہو گیا ہے اور اب اسکو لڑکا پیدا ہو گا اور وہ مباہلہ کا اثر سمجھا جائیگا مگر اُس حمل کا انجام یہ ہوا کہ کچھ بھی پیدا نہ ہوا اور اب تک وہ باجود گذرنے چودہ برس کے نامراد ہی اور ذلّت کی زندگی بھگت رہا ہے اور برخلاف اسکے مباہلہ کے بعد میرے گھر میں کئی لڑکے پیدا ہوئے اور کئی لاکھ انسان نے بیعت کی اور کئی لاکھ روپیہ آیا اور دُنیا کے کناروں تک عزّت کے ساتھ میری شہرت ہو گئی اور اکثر دُشمن مباہلہ کے بعد مر گئے اور ہزارہا نشان آسمانی میرے ہاتھ پر ظاہر ہوئے ۔ منہ

حقیقة الوحی تتمہ صفحہ 444 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 444 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 65 پر درج ہے

صفحہ 501

(حوالہ نمبر 29)

(آپ کے دوستوں میں سے کسی نے خط لکھا۔ جواب میں آپ نے تحریر فرمایا کہ میں نے تو اپنا سب کچھ خدا کے سپرد کر دیا ہے۔ اب میرا اس سے کیا تعلق۔)

مولوی محمد حسین بٹالوی کو

اگر معلوم ہوتا

میاں منظور محمد صاحب بتاتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ کی والدہ کسی بات پر سخت خفا ہوئیں۔ اور نہایت سختی سے کہنے لگیں کہ میں اس کو گھر سے نکال دوں گی۔ آپ کے والد صاحب اس وقت وہاں موجود تھے انہوں نے کہا کہ تم اسے کیوں نکالتی ہو۔ وہ تو میرا بیٹا ہے۔ تم اس کو کچھ نہ کہو۔ یہ سن کر آپ کی والدہ چپ ہو رہیں۔ اور اس کے بعد پھر کبھی ایسی بات نہیں کہی۔ تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے والد صاحب کے دل میں آپ کے لئے کیا قدر تھی۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ آپ کی والدہ صاحبہ نے آپ کو کسی بات پر سخت سست کہا۔ آپ اس وقت چھوٹے سے تھے۔ یہ سن کر آپ رونے لگے۔ آپ کے والد صاحب نے جو یہ سنا تو آپ کے پاس آئے اور آپ کو گود میں اٹھا لیا اور آپ کی والدہ سے کہا کہ تم اسے کیوں مارتی ہو۔ یہ میرا بیٹا ہے۔ اور پھر آپ کو پیار کیا۔ تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے والد صاحب آپ سے کس قدر محبت کرتے تھے۔ ایک دفعہ آپ بیمار ہو گئے۔ آپ کے والد صاحب کو جب یہ خبر پہنچی۔ تو وہ سخت بے قرار ہوئے۔ اور جلدی سے گھر آئے۔ اور آپ کو دیکھ کر رونے لگے۔ اور آپ کے لئے دعا کی۔ تو اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے والد صاحب کو آپ سے کیسی محبت تھی۔ ایک دفعہ آپ کی والدہ صاحبہ نے آپ کو کسی بات پر مارا ۔ آپ رونے لگے۔ آپ کے والد صاحب آئے اور آپ کو پیار کیا۔ اور آپ کی والدہ صاحبہ کو منع کیا کہ اسے نہ مارا کرو۔ تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے والد صاحب آپ سے کس قدر محبت کرتے تھے۔ غرض آپ کے والد صاحب آپ سے بہت محبت کرتے تھے۔ اور آپ کا بہت خیال رکھتے تھے۔

مقرر کئے ہیں اور ان کے لئے وقت مقرر کئے ہیں ۔ آپ کے بارے میں سن کر آپ کی والدہ کو سخت غصہ آیا۔ کہتے ہیں بعض اوقات سکول کی عمر سے ہی تھی تھی وہ لڑکوں کو مارتے پیٹتے نہ تھے۔ وہ ہر روز آکر اس کی ماں کو کہتی کہ تمہارا لڑکا آج بھی کچھ نہیں پڑھا ۔ اس پر والدہ کی طرف سے کبھی ناراضگی کا اظہار ہوتا اور کبھی ایسا ہوتا کہ وہ اسے سمجھاتیں۔ اور پھر اپنی طرف سے بھی مدرس کو بھیجا کہ تم اسے پڑھاتے۔ تو وہ کہتا کہ میں کیا کروں یہ تو پڑھتا ہی نہیں۔ اس سے یہ خبر میں معلوم نہ ہوئے تو اس کی تلاش میں۔ آپ کے والد کو آپ کے متعلق خدشہ لگا رہتا تھا۔ کہ اس کا کیا انجام ہونے والا ہے ۔ مگر ان کی عمر سے یہ بھی تھی ۔ تھا کہ انہوں نے کبھی بھی توجہ نہ کی۔ وہ ہر روز کہا کرتے تھے کہ یہ تو بس یوں ہی رہے گا۔ یہ تو کوئی نہیں ۔ یہ اس کے الفاظ تھے ۔ جن میں اس کے لئے ہدایت کی کوئی امید نہ تھی۔ اور پھر اپنی طرف سے بھی اس میں کوئی اہتمام بھی نہ کرتے تھے۔ تو آپ کی حالت کا یہ اثر بھی تھا ۔ کہ وہ اس صورت کو دیکھ کر سخت رنجیدہ ہوتے اور بے اختیار رو پڑتے۔ تو اس کے بعد معلوم نہ ہوا کہ کیا ہوا۔ ہاں یہ تو سنتے ہیں کہ اس معلوم نہ ہونے پر یہ خبر دیتے ہیں کہ ایک دن آپ کے والد نے اس بارے میں ناراضگی ظاہر کی ۔ آپ کی ایک عادت تھی کہ جب آپ کے سامنے کوئی ایسی بات پیش آتی جو آپ کی طبیعت کے خلاف ہوتی تھی ۔ تو آپ اس کے جواب میں کچھ نہ کہتے تھے ۔ بلکہ چپ کر رہتے تھے ۔ وہ غصے سے بھرے ہوئے تھے اور یہ کہتے تھے کہ اب کیا کروں ۔ اس کو خدا نے برکت نہ دی۔ بلکہ مادہ صالحہ سے بھی بیکار کر دیا ۔ اب میں کیا کروں ۔ اور پھر کہنے لگے کیا یہ میرے حق میں نہیں ہے کہ میں نے اس کو پیدا کیا ۔ اس کے کانوں میں یہ آواز پہنچی ۔ تو اس نے ہنسی کے ساتھ جواب دیا۔ کہ میں تو اس قابل بھی نہیں کہ کوئی میرا نام بھی لے سکے ۔ یہ سن کر ان کی طبیعت سب کے ساتھ بدل گئی ۔ وہ معلوم ہوتا تھا کہ کوئی پوشیدہ شے تھی۔ جس نے انہیں ایسا متاثر کیا ۔ کہ وہ بے اختیار رو پڑے۔ اور ان کے دل میں ایک نرمی پیدا ہو گئی۔ ان باتوں میں یہ بات بھی تھی کہ ان کے کانوں میں یہ آواز آتی تھی ۔ کہ یہ شخص کیا ہے ۔ کیا یہ کوئی ایسا ہے کہ جس پر کوئی اعتراض کر سکے۔ کیا یہ کوئی ایسا ہے جس کی نسبت کوئی یہ کہے۔ کہ اس نے مجھ سے کوئی بد سلوکی کی ہے ۔ یا کسی نے اس کا کوئی نقص دیکھا ہے ۔

بارہا دفعہ میں اس کی طرف توجہ کی گئی ۔ مگر اس کی حالت پرواہ نہ کرنے والوں کی سی رہی۔ اب اگر اس سے نامہ و پیام کیا جائے تو اس کا جواب اس کے سوا کچھ نہ ہو گا کہ وہ ان گالیوں کا جو وہ دیا کرتا ہے مجھ پر اعادہ کرے۔ یعنی یہ کہے کہ تم تو اس میں کاذب ہو اور میں سچا ہوں۔ تمہاری کیا سنوں۔ پس جو شخص اس درجہ پر پہنچ گیا ہو۔ اور جس کی حالت اس قدر بگڑ گئی ہو۔ اس کی نسبت سوائے اس کے کہ اس کے واسطے دعا کی جاوے اور کیا کیا جاوے۔

حضرت مسیح موعود کے طریق

کے علاج کا نتیجہ ۔

استاد بتاتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ کی ایک اور شخص سے بحث ہو گئی۔ دیکھئے یہ قصہ ہے۔ کہ فلاں کے سامنے بحث رہی۔ جس کے شاہد کے تیوریں ۔ وہ بتاتا ہے کہ مسئلہ پر ورنہ وہ بھی اس کی موٹی باتوں ہے ۔ کہ اب کوئی فیصلہ اور صدمہ پہنچے ۔ اور کیونکر نہ پہنچے تو اس کی تسلی اس میں غائب نہیں ہوتی ۔ اس کی یہ حالت صدق کے دعوے سے بہت دور ہے ۔ پس یہ شخص جو کچھے ۔ آپ کی ذات کے لئے کوئی تکلف رکھنا نہیں چاہتا ۔ تو اس وقت تک کہ معلوم تھا کہ فلاں وقت میں پیدا ہو گا ۔ میں نے کہا کیا وجہ ہے۔ یہ بات اس وقت تک کے نہیں میں آ سکتی تھی ۔ کہ وہ کچھ ہوس و ہوا کی رو میں بہہ چکا ۔ اس درجہ میں طمع اور حسد کی جنگ ہو رہی ہے ۔ یہ کیسی حسد و عداوت کے پتلے ہیں کیا بنتا ہے ۔ یہ رہے شرک کا نشان اور وہ رہے شرک آخرت ملیحہ حصہ وصرفہ کباختہ والے ۔ جو آپ کی ذات ستودہ صفات کے واسطے دلی ہمدردی نہ ہوتی۔ کیا اسے یہ خیال نہ گزرتا ہے ۔ کہ خداتعالیٰ اس درجہ سے زیادہ کیا جو آپ کی جانب سے صادر ہوئے نکلے گا نتیجہ نہیں۔ تو اس وقت کیا کر لیتا ہے کہ آج کر سکتا ہے ۔ کیا یہ کوئی

حضرت مسیح موعود کا والد کا پیا ۔ میں نے اپنے والد

مرزا بشیر الدین محمود کا خطبہ نکاح ۔ روزنامہ الفضل قادیان مورخہ 2 نومبر 1922ء جلد 10 شمارہ 35 یہ حوالہ صفحہ 65 پر درج ہے

صفحہ 502

حوالہ نمبر 30 حیات احمد ۳۵ ۲۱۷ لکھے گا۔ ورنہ خود لڑکے لڑکی کو پکارا ہے۔ بچہ بابل کے کو چھوڑا ہے۔ کون عاقل اس عذر کو سن سکتا ہے۔ کہ یہ کیسی کتاب ہے کہ تمہارا وید ناقص ہے۔ تم یہ احکام وید سے نکالو ورنہ ہم مانیں گے۔ تم یہ جواب دیتے ہو ہمیں فرصت نہیں۔ وید پامال ہو جاویں۔ بھلا یہ کیا ہو سکتا ہے اس جواب سے تو تم جھوٹے ٹھہرتے ہو جس حالت میں ہم پان سو روپیہ نقد دیا کرتے ہیں۔ تو نمونہ لکھ دیتے ہیں۔ رجسٹری کرا دیتے ہیں۔ تو پھر اگر تمہارا وید بھی کچھ چیز ہے۔ تو کس دن کے واسطے رکھا ہوا ہے۔ دس بیس روز کی ہم سے مہلت لے لو۔ پنڈت دیانند کو اپنا مددگار بنالو ہم کو وہ احکام نکال دو ورنہ ہم نیچے فرقان مجید سے نکال کر لکھیں گے۔ یا صاف لکھ دو۔ کہ یہ احکام ہمارے نزدیک ناجائز ہیں۔ تب پھر ان کو ناجائز کہہ کر تب وید سے حوالہ دو۔ غرض تم ہمارے ہاتھ سے کہاں بھاگ سکتے ہو۔ اور یہ جو تم محض شرارت سے یاوہ گوئیاں حضرت خاتم الانبیاء کی نسبت بدزبانی کرتے ہو یہ محض تمہاری بد اصلی ہے۔ اپنے وید میں ہی تم نے ایسی باتیں سب پیغمبروں کی نسبت لکھی ہے۔

ہم کو خدا نے یہ شرف بخشا ہے کہ ہم سب پیغمبروں کی تعظیم کرتے ہیں

اور جیسا کہ خدا نے ہم کو فرمایا ہے۔ نجات سب مخلوقات کی اسلام میں ہے۔ تاہم اگر حضرت خاتم الانبیاء پر کچھ اعتراض ہے۔ تو زبان تہذیب سے وہ اعتراض جو سب سے بھاری ہو تحریر کر کے پیش کرو۔ ہم تحریر کر دیتے ہیں۔ کہ اگر وہ اعتراض تمہارا صحیح ہوا۔ تو ہزار روپیہ (نقد) ہم تم کو دینگے۔ اور تم ایک تو نمونہ لکھ دو کہ اگر وہ اعتراض جھوٹا نکلا۔ تو سو روپیہ بطور جرمانہ تم ہم کو دوگے۔ اور اب اگر پادری یہ تحریر سنکر چپ ہو جاؤ۔ اور اس شرط پر بحث شروع نہ کرو۔ تو ہر ایک منصف سمجھ جائیگا۔ کہ وہ سب توہین تم نے بددیانتی سے کی تھی۔ اکثر لوگوں کا اکڑنا اور بے تحاشا بکنا یہ خصلت کتے کی ہے۔ اور باؤلا کتا جو کاٹنے اٹھے ہے۔ دنیا کو بڑی چیز سمجھ رکھا ہے۔ کہ موت سے ڈرتے نہیں۔ ورنہ ایسے آفتاب کی توہین کرنا جو نور دنیا کا ہے۔ نری خر دماغی ہے۔ جھوٹے آدمی کی یہ نشانی ہے۔ کہ جاہلوں کے روبرو ڈینگیں لاف گزاف مارتے ہیں۔ اور جب کوئی دامن پکڑ کر پوچھے کہ ذرا ثبوت دے جاؤ تو وہاں سے نکلتے بنیں۔ پاس نہیں ٹھہرتے۔ اب ہم نیچے وہ احکام فرقان مجید کے لکھتے ہیں۔ کہ جن میں ہمارا یہ دعویٰ ہے۔ کہ وید میں یہ تمام احکام ہرگز موجود نہیں۔ اسلئے وید ناقص تعلیم ہے۔ یا وہ تم کہتے ہو کہ ہیں اور ہم کہتے ہیں کہ ہر گز نہیں

اور لعنت اس شخص پر کہ جھوٹا ہے ۔

اوّل ۔ خدا تعالیٰ کی نسبت جو احکام فرقان مجید کے ہیں۔ خلاصہ آیات کا نیچے لکھتا ہوں۔

وہی تم سب کا خالق ہے۔ اس بن کوئی چیز موجود نہیں ہوئی۔

حیات احمد ، حضرت مسیح موعود کے سوانح حیات جلد دوم نمبر اول صفحہ 25 از یعقوب علی عرفانی ایڈیٹر الحکم قادیان | یہ حوالہ صفحہ 66 پر درج ہے

صفحہ 503

حوالہ نمبر 31

۵۴۷

ومنح لى من النعم الظاهرة والباطنة وجعلنى من المجذوبين - وكنت شابا وقد شخت وما استفتحت بابا الا فتحت - وما سألت من نعمة الا اعطيت وما استكشفت من امر الا كشفت - وما ابتهلت فى دعاء الا اجيبت - وكل ذالك من حبى بالقرآن وحب سيدى و امامى سيد المرسلين - اللهم صل و سلم عليه بعدد نجوم السموات وذرات الارضين ومن اجل هذا الحب الذى كان فى فطرتى كان الله معى من اوّل امرى حين ولدت وحين كنت رضيعا عند ظئرى وحين كنت اقرأ فى المتعلمين - وقد حبب الى منذ دنوت العشرين ان انصر الدين - واجادل البراهمة والقسيسين - وقد الفت فى هذه المناظرات مصنفات عديدة - ومؤلفات مفيدة منها كتابى البراهين - كتاب نادر ما نسج على منواله فى ايام خالية فليقرءه من كان من المرتابين - قد سللت فيه صارم الحجج القطعية على اقوال الملحدين - ورميت بشهبها الشياطين المبطلين - قد خفض هام كل معاند بذالك السيف المسلول - وتبينت فضيحتهم بين ارباب المنقول والمعقول - وبين المصنفين - فيه دقائق العلوم وشواردها والالهامات الطيبة الصحيحة و الكشوف الجليلة ومواردها - ومن كل ما يجلى درر معارف الدين المتين ولى كتب اخرى تشابهه فى الكمال - منها الكحل والتوضيح والازالة وفتح الاسلام وكتاب آخر سبق كلها الفته فى هذه الايام اسمه دافع الوساوس هو نافع جدا للذين يريدون ان يروا حسن الاسلام - ويلقمون افواه المخالفين - تلك كتب ينظر اليها كل مسلم بعين المحبة والمودة وينتفع من معارفها ويقبلنى ويصدق

آئینہ کمالات اسلام صفحہ 547، 548 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 547، 548 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 66 پر درج ہے

صفحہ 504

حوالہ نمبر 31

۵۴۸

دعوتى۔ الا ذرية البغايا الذين ختم الله على قلوبهم فهم لا يقبلون۔ ولما بلغت اشد عمری و بلغت اربعين سنة جاءتنى نسيم الوحى بريا عنايات ربى ليزيد معرفتى و يقينى و يرتفع حجبى واكون من المستيقنين فاول ما فتح علىّ بابه هو الرؤيا الصالحة فكنت لا ارى رؤيا الا جاءت مثل فلق الصبح وانى رايت فى تلك الايام رؤيا صالحة صادقة قريباً من الفين او اكثر من ذالك ۔ منها محفوظة فى حافظتى وكثير منها نسيتها ۔ ولعل الله يكررها فى وقت اخر ونحن من الآملين۔ ورايت فى غلواء شبابى وعند دواعى التصابى كانى دخلت فى مكان وفيه عقدتى وخدمى فقلت طهروا فراشى فان وقتى قد جاء ثم استيقظت وخشيت على نفسى وذهب وهلى الى اننى من المائتين۔ ورايت ذات ليلة وانا غلام حديث السن كانى فى بيت لطيف نظيف يذكر فيها رسول الله صلّى الله عليه وسلّم فقلت ايّها الناس اين رسول الله صلّى الله عليه وسلّم فاشاروا الى حجرة فدخلت مع الداخلين۔ فبشّ بى حين وافيته ۔ وحيانى باحسن ما حييته وما انسى حسنه وجماله وملاحته وتحننه الى يومى هذا۔ شغفنى حبّاً وجذبنى بوجه حسن قال ما هذا بيمينك يا احمد فنظرت فاذا كتاب بيدى اليمنى وخطر بقلبى انه من مصنفاتى قلت يا رسول الله كتاب من مصنفاتى قال ما اسم كتابك فنظرت الى الكتاب مرة اخرى وانا كالمتحيرين ۔ فوجدته يشابه كتاباً كان فى دار كتبى و اسمه قطبى قلت يا رسول الله اسمه قطبى قال ارنى كتابك القطبى فلما

آئینہ کمالات اسلام صفحہ 547 و 548 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 547 و 548 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 66 پر درج ہے

صفحہ 505

حوالہ نمبر 32

۱۸۷

کہ میں بیان نہیں کر سکتا اور عمداً چاہا کہ میں سخت ذلیل کیا جاؤں۔ سلطان احمد ان دو بڑے گناہوں کا مرتکب ہوا اول یہ کہ اُس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی مخالفت کرنی چاہی۔ اور یہ چاہا کہ دین اسلام پر تمام مخالفوں کا حملہ ہو۔ اور یہ اپنی طرف سے اس نے ایک بنیاد رکھی ہے اس اُمید پر کہ یہ جھوٹے ہو جائیں گے اور دین کی ہتک ہوگی۔ اور مخالفوں کی فتح ۔ اس نے اپنی طرف سے مخالفتانہ تلوار چلانے میں کچھ فرق نہیں کیا اور اس نادان نے نہ سمجھا کہ خدا وند قدیر و غیور اس دین کا حامی ہے اور اس عاجز کا بھی حامی۔ وہ اپنے بندہ کو کبھی ضائع نہ کریگا۔ اگر سارا جہان مجھے برباد کرنا چاہے تو وہ اپنی رحمت کے ہاتھ سے مجھ کو تھام لے گا۔ کیونکہ میں اس کا ہوں اور وہ میرا ۔ دوم سلطان احمد نے مجھے جو میں اس کا باپ ہوں سخت ناچیز قرار دیا اور میری مخالفت پر کمر باندھی اور قولی اور فعلی طور پر اس مخالفت کو کمال تک پہنچایا۔ اور میرے دینی مخالفوں کو مدد دی اور اسلام کی ہتک بدل و جان منظور رکھی ۔ سو چونکہ اس نے دونوں طور کے گناہوں کو اپنے اندر جمع کیا ۔ دین خدا کا تعلق بھی توڑ دیا اور اپنے باپ کا بھی ۔ اور ایسا ہی اس کی دونوں والدہ نے کیا ۔ سو جبکہ انہوں نے کوئی تعلق مجھ سے باقی نہ رکھا ۔ اس لیے میں نہیں چاہتا کہ اب ان کا کسی قسم کا تعلق مجھ سے باقی رہے اور ڈرتا ہوں کہ ایسے دینی دشمنوں سے پیوند رکھنے میں معصیت نہ ہو۔ لہٰذا میں آج کی تاریخ کہ دوسری مئی ۱۸۹۱ء ہے۔ عوام اور خواص پر بذریعہ اشتہار ہٰذا ظاہر کرتا ہوں کہ اگر یہ لوگ اس ارادہ سے باز نہ آئے۔ اور وہ تجویز جو اس لڑکی کے ناطہ اور نکاح کرنے کی اپنے ہاتھ سے یہ لوگ کر رہے ہیں اس کو موقوف نہ کر دیا ۔ اور جس شخص کو انہوں نے نکاح کے لیے تجویز کیا ہے اس کو رد نہ کیا بلکہ اسی شخص کے ساتھ نکاح ہو گیا تو اسی نکاح کے دن سے سلطان احمد عاق اور محروم الارث ہوگا اور اسی روز سے اس کی والدہ پر میری طرف سے طلاق ہے۔ اور اگر اس کا بھائی فضل احمد جس کے گھر میں مرزا احمد بیگ والد لڑکی کی بھانجی ہے اپنی اس بیوی کو اسی دن جو اسکو نکاح کی خبر ہو اور طلاق نہ دے تو پھر وہ بھی عاق اور محروم الارث ہوگا۔ اور آئندہ ان سب کا کوئی حق میرے پر نہیں رہے گا۔ اور اس نکاح کے بعد تمام تعلقات خویشی و قرابت و ہمدردی دور ہو جائے گی۔ اور کسی نیکی۔ بدی ۔ رنج راحت ۔ شادی اور ماتم میں ان سے شرکت نہیں رہے گی۔ کیونکہ انہوں نے آپ تعلق توڑ دیئے اور توڑنے پر راضی ہو گئے۔ سو اب ان سے کچھ تعلق رکھنا قطعاً حرام اور ایمان غیوری کے برخلاف اور ایک دیوثی کا کام ہے ۔ مومن دیوث نہیں ہوتا۔

چوں نہ بود خویش را دیانت و تقوے ٭ قطع رحم بہ از مودت قربے

والسلام علیٰ من اتبع الھدٰے

المشتہر مرزا غلام احمد لدیانہ ۲ مئی ۱۸۹۱ء حقانی پریس لودیانہ

مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 187 طبع جدید از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 67 پر درج ہے

صفحہ 506

(حوالہ نمبر 33)

القصيده

١٨٨

اتعصون بغيا من اتى من مليككم

کیا تم محض بغاوت کی راہ سے اس شخص کی نافرمانی کرتے ہو جو تمہارے بادشاہ کی طرف سے آیا ہو

وقد تمت الاخبار والاى تبهر

اور خبریں پوری ہو گئیں اور نشان چمک اُٹھے

وقد قيل منكم ياتين امامكم

اور تم میں سے پہلے ہی کہا گیا ہے کہ تمہارا امام تم میں سے ہی آئے گا

وذلك في القرآن نبا مكرر

اور یہ خبر تو قرآن میں کئی مرتبہ آچکی ہے ۔

پیر مہر علی شاہ آف گولڑہ

اتتنى كتاب من كذوب يزور

مجھے ایک کتاب کذاب کی طرف سے پہنچی ہے ۔

كتاب خبيث كالعقارب تابر

وہ خبیث کتاب اور بچھو کی طرح نیش زن ۔

فقلت لك الويلات يا ارض جولر

پس میں نے کہا کہ اے گولڑہ کی زمین تجھ پر لعنت ۔

لعنت بملعون فانت تدمر

تُو ملعون کی وجہ سے ملعون ہوگئی پس تو غارت کی جائے گی تباہ کی جائے گی ۔

تكلم هذا النمس كالبوم شاتماً

اس فرومایہ نے کینہ وروں کی طرح گالی کے ساتھ بات کی

وكل امرء عند اللئام سباب

اور ہر ایک کمینہ غصہ کے وقت برا بکتا ہے ۔

اتزعم يا شيخ الضلالة اننى

کیا تو اے گمراہی کے شیخ یہ گمان کرتا ہے کہ میں تیری

تقولّت فاعلم ان ذيلى مطهر

بنائی ہوئی باتوں سے ڈر گیا ۔ سو جان لے کہ میرا دامن جھوٹ سے پاک ہے ۔

اتنكر حقا جاء من خالق السما

کیا تو اس حق سے انکار کرتا ہے جو آسمان سے آیا۔

سيبدى لك الرحمن ما انت تمكر

خدا عنقریب تیرے پر ظاہر کریگا جس چیز کا تو نے مکر کیا ہے ۔

اذا ما رأينا ان قلبك قد قسا

جب ہم نے دیکھا کہ تیرا دل سیاہ ہو گیا۔

ففاضت دموع العين والقلب يضجر

تو آنکھوں کے آنسو جاری ہوئے اور دل بیقرار تھا ۔

اخذتم طريق الشرك مركز دينكم

تم نے شرک کے طریق کو اپنے دین کا مرکز بنا لیا ۔

اهذا هو الاسلام يا متكبر

کیا یہی اسلام ہے اے متکبر ۔

وما انا الا نائب الله فى الورى

اور میں مخلوق کے لئے خدا کا نائب ہوں ۔

ففروا الىّ وجانبوا البغى واحذروا

پس میری طرف بھاگو اور نافرمانی چھوڑو اور ڈرو

وان قضاء الله يأتي من السما

اور خدا کی تقدیر آسمان سے آئے گی ۔

وما كان ان يطوى ويلغى و يحجز

اور یہ ممکن نہیں کہ وہ لپیٹ دی جائے اور باطل کی جائے اور روکی جائے ۔

اعجاز احمدی صفحہ 75 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 188 از مرزا قادیانی | حوالہ صفحہ 68 پر درج ہے

صفحہ 507

حوالہ نمبر 34

ضمیمہ نزول المسیح ۱۹۶ القصيدة

عَلَى مِثْلِهَا لَمْ نَطَّلِعْ فِي مُكَلَّمٍ
وَإِنْ كَانَ عِيسَى أَوْ مِنَ الرُّسُلِ أُخَرُ

اُن تمام مصیبتوں کیلئے دوسرے نبی میں نظیر نہیں پائی جاتی۔ خواہ عیسیٰ ہو یا کوئی اور نبی ہو

فَفَكِّرْ أَ هَذَا كُلُّهُ كَانَ بَاطِلًا
وَمَا كَانَ شِرْكُ النَّاسِ شَيْئًا يُغَيَّرُ

پس سوچ کیا یہ تمام کارروائی باطل تھی۔ اور شرک کوئی ایسی چیز نہیں تھی جس کو بدلا جائے

أَلَا لَائِمِي عَارُ النِّسَاءِ أَبَا الْوَفَا
أَلَامُ كَفِتْيَانِ الْوَغَى تَتَنَمَّرُ

اے عورتوں کے عار ثناء اللہ کب تک مردانِ جنگ کی طرح طیش دکھلائیگا

أَرَدْتُ الْهُوَى مِنْ بَعْدِ سِتِّينَ حَجَّةً
وَذلِكَ رَأْي لَا يَرَاهُ الْمُفَكِّرُ

کیا میں نے ساٹھ برس کی عمر کے بعد ہویٰ پرستی کو اختیار کیا یہ تو کسی عقلمند کی رائے نہ ہو گی۔

أَرَيْنَاكَ آيَاتٍ فَلَا عُذْرَ بَعْدَهَا
وَإِنْ خِلْتَهَا تَخْفَى عَلَى النَّاسِ تَظْهَرُ

ہم تجھے ۱ نشان دکھلاتے ہیں اور اسکے بعد کوئی عذر باقی نہ رہیگا۔ اور اگر تو خیال کرے کہ وہ پوشیدہ ہے گا تو وہ ہرگز پوشیدہ نہ رہے گا

أَرَدْتَ بِمَكْرٍ ذِلَّتِي فِي أَحِبَّتِي
وَمَنْ لَا يُوَقِّرْ صَادِقًا لَا يُوَقَّرُ

تو نے مکارانہ تدبیر میری ذلت کو چاہا پس خود ذلت اُٹھائی۔ اور جو شخص صادق کی بے عزتی کرتا ہو وہ خود بے عزت ہو جاتا ہے

وَكَأَيِّنْ مِنَ الْآيَاتِ قَدْ مَرَّ ذِكْرُهَا
رَأَيْتُمُ فَأَعْرَضْتُمْ وَقُلْتُمْ تُزَوِّرُ

اور بہت سے نشان ہیں جن کا ہم ذکر کر چکے ہیں۔ تم نے وہ نشان دیکھے اور انکار کیا اور کہا کہ جھوٹ بولتا ہے

سَنَحَتْ لَنَا بَعْدَ التَّجَارِبِ حِيلَةٌ
لِنَكْتُبَ أَشْعَارًا بِهَا الْآنَ تَشْعُرُ

پس ہمارے لئے بہت تجارب کے بعد ایک حیلہ ظاہر ہوا۔ تا ہم یہ چند شعر لکھیں جن سے تمہیں یہ نشان معلوم ہو جائیں

فَهذَا هُوَ التَّبْكِيتُ مِنْ فَاطِرِ السَّمَا
وَهذَا هُوَ الْإِفْحَامُ مَتَى فَكَّرُوا

پس اسی ذریعہ سے تمہارا مُنہ خدا بند کرنا چاہتا ہے۔ اور یہی میری طرف سے اتمام حجت ہے۔

؂۱ سہو کاتب سے کئی کا لفظ چھوٹ گیا ہے۔ اصل ترجمہ یوں ہو گا۔ "ہم تجھے کئی ایک نشان دکھلاتے ہیں" (شمس)

* يُسْتَعْمَلُ لَفْظُ كَأَيِّنْ كَمَا يُسْتَعْمَلُ كَائِنْ فِي لِسَانِ الْعَرَبِ - مِنْهُ

۹۲

یہ حوالہ صفحہ 69 پر درج ہے اعجاز احمدی صفحہ 92 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 196 از مرزا قادیانی

صفحہ 508

حوالہ نمبر 35

۲۴۱

ومن المعترضين المذكورين - شيخ ضال بطالوى - وجار غوى - يقال له و یکی از اعتراض کنندگان شیخ گمراہ ساکن بٹالہ است که همسایہ گمراہ ما است ۔ او را محمد حسين - وقد سبق الكل فى الكذب والمين - وانه أبى محمد حسین می گویند ۔ واز ہمہ در دروغ و ناراستی سبقت برده است ۔ و او انکار کرد واستكبر - واشاع الكبر واظهر - حتى قيل انه امام المستكبرين - ورئيس و تکبر نمود ۔ و تکبر را شایع کردہ و ظاہر ساخت تا آنکہ گفتہ شد که او امام متکبرین است ۔ و رئیس المعتدين - ورئيس الغاوين - هو الذى كفرنى قبل ان يكفر الآخرون - واعترض تجاوز کنندگان ۔ و سرگروہ غویان است ۔ او ہماں شخص است کہ پیش از ہمہ مرا کافر گفت ۔ و برکتابہائے على كتبى واظهر جهله المكنون - فقال ان تلك الكتب مشحونة من الاغلاط من اعتراض کرد ۔ وجہل خود ظاہر نمود ۔ پس گفت کہ ایں کتابہا از غلطی ہا پر ہستند و در محل ومسقطة فى وحل الانحطاط - وليست كماء معين - وان هذا الرجل من انحطاط فرو افتادہ اند ۔ و ہمچو آب صافی نیست ۔ وایں شخص از جاہلان است الجاهلين - وكلما يوجد فى كتبه من ملحها وقوافيها - فليس قريحته حجر و ہر چہ از کلمات نمکین و قافیہ ہا در کلام او یافتہ می شود ۔ پس آں طبعزاد او اثافيها بل تلك كلم خرجت من اقلام الآخرين - وسنگ طبیعت او نیست بلکہ ایں کلمات از قلمہائے دیگراں برآمدہ اند ۔ فقلت يا شيخ النوكى - وعدو العقل والنهى - ان كتبى مبرءة مما پس گفتم کہ اے شیخ احمقاں و دشمن عقل و دانش ۔ بہ تحقیق کتاب ہائے من از آنچہ گماں کردی زعمت - ومنزهة عما ظننت - الا سهو الكاتبين - او زيغ القلم بتغافل منى لا بری ہستند ۔ واز آنچہ زعم تست منزہ ہستند ۔ مگر سہو کاتب یا کجی قلم از تغافل من نہ عن جہل من سهو الكاتب والصواب " منزهة " شمس

انجام آتھم صفحہ 241, 242 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 241, 242 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 69 پر درج ہے

صفحہ 509

حوالہ نمبر 35

۲۴۲

بجهل الجاهلين ۔ فان قلّت اربيت فيها عُثارا فخُذ مِنِّي بخطاء كل لفظ غلط پس اگر تو میدانی کہ دراں کتابہا لغزش ہا بہت کنی پس از من بمقابلہ ہر لفظ غلط دینارے بگیر دينارا ـ واجمع طريفا ونضارا ـ وكن من المتمولين ـ وهذا صلة تلايم هواك ـ و وسیم و زر را جمع کن ۔ و از مالداران بشو ۔ و ایں آں انعام است کہ مناسب خواہش تست ۔ و بدو چشم تو خنک خواہد شد۔ و ہر دو پائے تو ازاں آرام خواہند گرفت ۔ پس از سفر دائمي نجات خواہی یافت الهائم ـ وتقعد كالمتنعمين ـ وتغنى به عن جعائل اخرى ومكائد شتّى واشاعة و ہمچو سرگرداں آوارہ نخواہی گردید ۔ و روش متنعمین خواہی نشست۔ و بدیں مال از مزدوری ہائے دیگر و فریب ہائے گونا گوں عداوة السنة ـ ووعظ الدجل والفريّة ـ وتعيش كالمستريحين ـ واشاعۂ ادعائے کہ دالّ عداوت سنّہ است و از دجل و فریب بے نیاز خواہی شد۔ و ہمچو آرام یاباں زندگی خواہی گذانید۔ بيد اني اريد ان ارى قبله ريّا فصاحتك واشاهد ريح بلاغتك ـ لافهم مگر ایں است کہ می‌خواہم کہ قبل ازیں امر خوشبوئے فصاحت ترا بینم و بوئے بلاغت تو مشاہدہ کنم۔ انك من علماء هذه الصناعة ـ ومن اهل تلك الصّولة ـ ولست تا بہ بینم کہ تو از علمائے ایں صناعت ہستی ۔ و از آناں ہستی کہ اہلِ ایں حملہ ہستند ۔ و از من الجاهلين المحجوبين العَمين ـ جاہلان و محجوبان و نابینایان نیستی ۔ فاتفق لسوء حظه المنحوس ـ ونكد طالعه المتعوس ـ انه ما قبل پس بباعث کم نصیبی و بد بختی طالع منحوس او ایں اتفاق افتاد کہ او ایں انعام را قبول نکند هذه الصلة ـ وما هَيَّأ نفسه ليقبل هذه الشريطة ـ وخشى الذلة و خویشتن را برائے آمادگی نیاورد تا شرط را قبول کند۔ و از ذلّت و رسوائی

انجام آتھم صفحہ 241, 242 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 241, 242 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 69 پر درج ہے

صفحہ 510

(حوالہ نمبر 36)

۲۵۱ ثم اعلم ايها الشيخ الضال . والدجال البطال . ان الثمانية الذين هم باز اے شیخ گمراہ و دجال بطال بدانکہ آں ہشت کہ ثمار عودك ـ ووقود وقودك ـ الذين ادخلوا في التسعة المخاطبين ـ فمنهم میوہ ہائے شاخ تو۔ و ہیزم آتش افروختہ تو ہستند۔ آنانکہ در تسعہ مخاطباں داخل اند پس یکے از آنها شيخك الضال الكاذب نذير المبشرين ثم الدهلوى عبد الحق شیخ گمراہ و دروغگو تست کہ نذیر حسین است کہ بشارت یافتگاں را می ترساند۔ باز عبدالحق دہلوی کہ رئيس المتصلفين ـ ثم عبد الله التونكى ثم احمد على السهارنفورى المعتدين رئیس لاف زناں است۔ باز عبداللہ ٹونکی۔ باز مولوی احمد علی سہارنپوری از معتدیان ثم سلطان المتكبرين ـ الذى اضاع دينه بالكبر و التوهين ـ ثم الحسن باز مولوی سلطان الدین چتہ پوری است کہ از تکبر و توہین دین خود را ضائع کرد۔ باز محمد حسن الامروهى الذى اقبل علىّ اقبال من لبس الصفاقة . وخلع الصداقة امروہی کہ سوئے من ہمچو بے حیایاں متوجہ شد۔ واز راستی خود را دور افگند۔ + الحاشية ـ هذا الرجل لا يحسب العربية المباركة ام الالسنة . بل هى ایں شخص عربی مبارک را ام الالسنہ نمی پندارد ۔ بلکہ عربی عنده مستخرجة من العبرية ـ التى هى لها كالفضلة ـ ويستيقن ان اثبات نزدیک او از عبرانی خارج کردہ شدہ است ۔ حالانکہ عبرانی عربی را مثل فضلہ است۔ وایں شخص یقین می کند هذه النحلة عقد مستصعبة الافتتاح ـ او كزندة مستعسرة الاقتداح ـ مهلا کہ عربی را ام الالسنہ قرار دادن عقدے مشکل است کہ کشودہ نتواند شد ۔ یا مثل سنگے است کہ ازاں آتش نمی تواند بقدح فرغنا من فتح هذا الميدان . فى كتابنا منن الرّحمن ـ وسوف حال آنکہ ما از فتح ایں میدان فراغت یافتیم۔ و ایں فراغت در کتاب

انجام آتھم صفحہ 251 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 251 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 69 پر درج ہے

صفحہ 511

حوالہ نمبر 37

۲۵۲

بقیہ حاشیہ

واعتلقت الخطارة بعرضى كالذياب ـ ومخلبه بثوبى كالكلاب ـ ونطق بكلم و آویختہ شد ہلاکت بآبروئے من چو گرگ ۔ و پنجه او چو سگان بجامه من در آویخت ۔ و سخنانے بر زبان خود لا ينطق بمثلها الا شيطان لعين ـ ولا يفوه بها الشيطان الاغوى ـ والغول الاغوى ـ آورد کہ بجز شیطان لعین ہیچکس بداں گونہ تکلم نکند ۔ و نہ بگوید آں را شیطان گمراہ تر و دیو گمراہ ۔ يقال له رشيد الجنجوهى ـ وهو شقى كالامروهى ـ ومن الملعونين ـ کہ او را رشید احمد گنگوہی مے گویند ۔ و او ہمچو محمد حسن امروہی بدبخت است و از لعنت شدگاں است ۔ فهؤلاء تسعة رهط كفرونا وسبونا وكانوا مفسدين ـ ونذكر معهم الشيخين پس ایں نہ شخص اند کہ تکفیر ما کردند و دشنام ہا دادند ۔ و از مفسداں ہستند ۔ و ما با اوشاں دو شیخ را المشهورين ـ يعنى الشيخ اله بخش التونسوى والشيخ غلام نظام الدين نیز ذکر می کنیم ۔ یعنی شیخ الہ بخش تونسوی و شیخ غلام نظام الدین بیرموی البيرموى ـ حتى يشاع فى الديار والبلدان ـ فيومئذ تسود وجوه المنكرين ـ وايدنا فى افكارنا ـ کہ مدفون شدہ است ۔ و عنقریب ایں کتاب در شہر ہا شائع کردہ خواہد شد ۔ پس بداں روز روئے منکرین سیاہ وانظارنا ـ من عند رب العالمين ـ وسفهنا كل دعي ـ الذين يقولون خواہد گردید ۔ و در افکار خود و نظریات خود از خدا تعالیٰ تائید یافتیم ۔ و سفیہ ساختیم ہر مدعی را کہ میگویند کہ عربی ان العربية ما سبق غيره بطوس ـ بل هى كاللباس المستبذل او الدعلج در حسن خود بر غیر خود سبقت نبردہ است ۔ بلکہ آں مثل لباس ناکار آمدہ یعنی کہنہ و ظرف مستعمل یعنی المستعمل وكشىء هو سقط صلفة ودسسناه دسا ـ بیکار است و مثل چیزے ردی بے سود است کہ ہیچ نفع نہ بخشد در ایں کتاب بخوبی پامال کردیم ۔ وانا اثبتناه حقا حق الاثبات ـ وارينا الامر كالبديهيات ـ مبينين غير مستحين ـ و ما دعویٰ خود را چناں حق ثابت کردیم و حق اثبات ثابت کردیم ۔ و امر مقصود را مثل بدیہیات نمودیم ۔ و

یہ حوالہ صفحہ 69 پر درج ہے انجام آتھم صفحہ 252 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 252 از مرزا قادیانی

صفحہ 512

حوالہ نمبر 38

تتمہ ۴۴۵ حقیقۃ الوحی

ویسا ہی یہ پیشگوئی بھی ظہور میں آگئی جو خدا تعالیٰ نے میرے ذریعہ سے ظاہر فرمائی۔ کیونکہ جیسا کہ مَیں بیان کر چکا ہوں اُسی روز سے جبکہ خدا تعالیٰ نے اسکی نسبت مجھے یہ خبر دی کہ اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ جس کو آجتک بارہ برس گذر گئے اُسی وقت سے اولاد کا دروازہ سعداللہ پر بند کیا گیا اور اُس کی بددُعاؤں کو اُسی کے مُنہ پر مار کر خدا تعالیٰ نے تین لڑکے بعد اس الہام کے مجھ کو دیئے اور کروڑ ہا انسانوں میں مجھے عزت کے ساتھ شہرت دی اور اس قدر مالی فتوحات اور آمدنی نقد اور جنس اور طرح طرح کے تحائف مجھ کو دیئے گئے کہ اگر وہ سب جمع کئے جاتے تو کئی ص ۱۳ کوٹھے اُن سے بھر سکتے تھے۔ سعداللہ چاہتا تھا کہ مَیں اکیلا رہ جاؤں کوئی میرے ساتھ نہ ہو پس خدا تعالیٰ نے اس آرزو میں اُسکو نامراد رکھکر کئی لاکھ انسان میرے ساتھ کر دیا۔ اور وہ چاہتا تھا کہ لوگ میری مدد نہ کریں مگر خدا تعالیٰ نے اُسکی زندگی میں ہی اُسکو دکھلا دیا کہ ایک جہان میری مدد کیلئے میری طرف متوجہ ہو گیا اور خدا تعالیٰ نے وہ میری مالی مدد کی کہ صد ہا برس میں کسی کی ایسی مدد نہیں ہوئی۔ اور وہ چاہتا تھا کہ مجھ کو کوئی عزت نہ ملے مگر خدا نے ہر ایک طبقہ کے ہزارہا انسانوں کی گردنیں میری طرف جھکا دیں اور وہ چاہتا تھا کہ مَیں اُسکی زندگی میں ہی مرجاؤں اور میری اولاد بھی مرجائے مگر خدا تعالیٰ نے میری زندگی میں اُسکو ہلاک کیا اور الہام کے دن کے بعد تین لڑکے اور مجھ کو عطا کئے۔ پس یہ موت اُسکی بڑی نامرادی اور ذلّت کے ساتھ ہوئی۔ اور یہی پیشگوئی مَیں نے کی تھی جو خدا تعالیٰ کے فضل سے پوری ہو گئی۔ اور وہ پیشگوئی جس میں مَیں نے لکھا تھا کہ نامرادی اور ذلّت کے ساتھ میرے رُوبرو وہ مرے گا۔ وہ انجامِ آتھم میں عربی شعروں میں ہے اور وہ یہ ہے :۔

وَمِنَ اللِّئَامِ اَرٰی رَجِيلًا فَاسِقًا غُولًا لَعِينًا نُطْفَةَ السُّفَهَاءِ
اور لئیموں میں سے ایک فاسق آدمی کو دیکھتا ہوں کہ ایک شیطان ملعون ہے سفیہوں کا نطفہ
شَرِسٌ خَبِيثٌ مُفْسِدٌ وَمُزَوِّرٌ نَحْسٌ يَسُبُّ السَّعْدَ فِی الْجُهَلَاءِ
درشت بدطینت مفسد اور جھوٹ کو ملمع کر کے دکھلانے والا منحوس ہے جس کا نام جاہلوں نے سعداللہ رکھا ہے

یہ مَیں کہہ چکا ہوں کہ یہ چند شعر اُس وقت سخت اذیت سے لکھے گئے جبکہ خبیث سعداللہ کی بد زبانی حد سے زیادہ گذر گئی تھی۔ منہ

حقیقۃ الوحی تتمہ صفحہ 14 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 445 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 70 پر درج ہے

صفحہ 513

حوالہ نمبر 39

قادیان کے آریہ اور ہم ۴۵۸

اس راہ میں اپنے قصّے تم کو میں کیا سناؤں بکھیڑے کے ہیں جھگڑے سب ماجرا یہی ہے
دل کر کے پارہ پارہ دکھلاؤں اک نظارہ دیوانہ مت کہو تم عقل رسا یہی ہے
اے میرے یار جانی کر خود ہی مہربانی مت کہہ کہ تُو نے توڑی تجھ سے بجا یہی ہے
فرقت بھی کیا بنی ہے ہر دم یہ جانکنی ہے عاشق جہاں یہ مرتے وہ کربلا یہی ہے
تیری وفا ہے پوری ہم میں ہے عیب دوری طاعت بھی ہے ادھوری ہم پر بلا یہی ہے
تجھ میں وفا ہے یکسر سچے ہیں عہد سارے ہم جائیے کدھرے جائے پناہ یہی ہے
ہم نے نہ عہد پالا یاری میں رخنہ ڈالا پر تُو ہے فضل والا ہم پر نگاہ یہی ہے
اے میرے دل کے جانی ہجراں ہے تیرا سوزاں کہتے ہیں جس کو دوزخ وہ جاں گزا یہی ہے
اک دین کی الفت کا غم کھا گیا ہے مجھ کو سینہ پہ دشمنوں کے پتھر پڑا یہی ہے
کیونکر تباہ ہووے کیونکر فنا وہ ہووے ظالم جو حق کا دشمن وہ سوچتا یہی ہے
ایسا زمانہ آیا جس نے غضب ہے ڈھایا جو پیستی ہے دیں کو وہ آسیا یہی ہے
شادابی و طاقت اس دیں کی کیا کہوں میں سب خشک ہو گئے ہیں میوہ پھلا یہی ہے
آنکھیں ہر ایک دیں کی بے نور ہم نے پائیں تیری معرفت کا اک سرمہ سا یہی ہے
لعل یمن بھی دیکھے دُرّ عدن بھی دیکھے سب جوہروں کو دیکھا دل میں جچا یہی ہے
اٹھ کر گئے یہیں سے پچھتاؤ گے بہت تم بنتا ہے جس سے سونا وہ کیمیا یہی ہے
پر کوڑھیوں کی آنکھیں اندھی ہوئیں ہیں ایسی وہ گالیوں پر اترے دل میں پڑا یہی ہے
[ بدتر ہر ایک بد سے وہ ہے جو بد زبان ہے جس دل میں یہ نجاست بیت الخلا یہی ہے ]

۲۲

قادیان کے آریہ اور ہم صفحہ 61 مندرجہ روحانی خزائن، جلد 20 صفحہ 458 یہ حوالہ صفحہ 71 پر درج ہے

صفحہ 514

(حوالہ نمبر 40)

انوار خلافت ۸۰ انوار العلوم جلد - ۳

اور کچھ نصائح (جو اللہ تعالیٰ سمجھائے) کروں۔ لیکن آخر کار میری توجہ اس طرف پھری کہ جہاں نصیحتوں اور دیگر باتوں کی ضرورت ہے۔ وہاں یہ بھی ضرورت ہے کہ احباب کو ان مسائل سے بھی واقف کیا جائے جن سے انہیں روز مرہ واسطہ پڑتا ہے۔ اس لئے میں نے چاہا کہ ان کو بھی مختصراً بیان کردوں۔

پیغاموں کی بد زبانی

اس وقت جماعت احمدیہ میں اختلاف کی وجہ سے بہت جھگڑا پیدا ہو گیا ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ فریق ثانی نے تہذیب اور شرافت کو بالکل ترک کر دیا ہے اور ہمیں اس قدر گالیاں دی ہیں کہ غیر احمدی اخباروں نے بھی آج تک نہیں دی تھیں۔ میری نسبت اس وقت تک جو کچھ انہوں نے کہا ہے وہ تو ایک بہت بڑی فہرست ہے جس کا اس مختصر وقت میں بیان کرنا مشکل ہے لیکن اس میں سے کسی قدر میں بتاتا ہوں۔ وہ عام طور پر اور کثرت سے مجھے نوح کا بیٹا کہتے ہیں یعنی وہ جو حضرت نوح کے کشتی پر سوار ہونے کے وقت باوجود حضرت نوح کے بلانے کے ان کے پاس نہ آیا اور ان کو اس نے قبول نہ کیا اور طوفان میں غرق ہو گیا اور وہ جو کافروں میں سے تھا بلکہ کفار کا سردار تھا اور جو شرارت میں اس قدر بڑھا ہوا تھا کہ قرآن کریم میں بھی اس کا ذکر کیا گیا ہے۔ اور اپنے قول کی وہ یہ دلیل دیتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام چونکہ خدا تعالیٰ نے نوح رکھا ہے اور تم ان کے بیٹے ہو پس تم نوح کے بیٹے ہو۔ ہم کہتے ہیں حضرت مسیح موعود کو تو ابراہیم بھی کہا گیا ہے جن کا بیٹا اسماعیل تھا تو اگر تمہاری ہی دلیل درست ہے تو پھر مجھے اسماعیل کیوں نہیں کہتے پھر وہ میری نسبت کہتے ہیں کہ یہ دجال ہے، کذاب ہے، مفتری ہے، خائن ہے لوگوں کے مال کھا جاتا ہے، خدائے دور ہے، پوپ ہے وغیرہ وغیرہ۔ غرض یہ اور اسی قسم کے اور بہت سے الفاظ ہیں جو میری نسبت وہ استعمال کرتے ہیں لیکن مجھے ان کے اس طرح کہنے سے کچھ گھبراہٹ نہیں اور میرا دل ذرا بھی ان کی باتوں سے متاثر نہیں ہوتا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ جب انسان دلائل سے شکست کھاتا اور ہار جاتا ہے تو گالیاں دینی شروع کر دیتا ہے اور جس قدر کوئی زیادہ گالیاں دیتا ہے اسی قدر اپنی شکست کو ثابت کرتا ہے۔ آپ لوگوں نے کئی دفعہ دیکھا ہوگا کہ ایک کمزور شخص مار تو کھاتا جاتا ہے لیکن گالیاں بھی دے رہا ہوتا ہے تو اب چونکہ ہم ان کو شکست پر شکست دے رہے ہیں اور وہ ہار پر ہار کھاتے چلے جا رہے ہیں اس لئے وہ گالیوں پر اتر آئے ہیں ان کے آدمی ہم میں آکر مل رہے ہیں اور وہ دن بدن کم ہو رہے ہیں۔ ان کے

انوار خلافت صفحہ 20 مندرجہ انوار العلوم جلد 3 صفحہ 80 از مرزا بشیر الدین محمود ابن مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 80 پر درج ہے

صفحہ 515

حوالہ نمبر 41

ضرورۃ الامام ۴۹۵

یاد رہے کہ امام الزمان کے لفظ میں نبی، رسول، محدث، مجدد سب داخل ہیں۔ مگر جو لوگ ارشاد اور ہدایت خلق اللہ کیلئے مامور نہیں ہوئے اور نہ وہ کمالات اُن کو دیئے گئے۔ وہ گو ولی ہوں یا ابدال ہوں۔ امام الزمان نہیں کہلا سکتے۔ اب بالآخر یہ سوال باقی رہا کہ اس زمانہ میں امام الزمان کون ہے جس کی پیروی تمام عام مسلمانوں اور زاہدوں اور خواب بینوں اور ملہموں کو کرنی خدا تعالیٰ کی طرف سے فرض قرار دیا گیا ہو۔ سو میں اس وقت بے دھڑک کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے فضل اور عنایت سے وہ

اِمَامُ الزَّمَان مَیں ہُوں

اور مجھ میں خدا تعالیٰ نے وہ تمام علامتیں اور تمام شرطیں جمع کی ہیں اور اس صدی کے سر پر مجھے مبعوث فرمایا ہے۔ جس میں سے پندرہ برس گزر بھی گئے۔ اور ایسے وقت میں مَیں ظاہر ہوا ہوں کہ جب کہ اسلامی عقیدے اختلافات سے بھر گئے تھے اور کوئی عقیدہ اختلاف سے خالی نہ تھا۔ ایسا ہی مسیح کے نزول کے بارے میں نہایت غلط خیال پھیل گئے تھے اور اس عقیدے میں بھی اختلاف کا یہ حال تھا کہ کوئی حضرت عیسیٰ کی حیات کا قائل تھا اور کوئی موت کا۔ اور کوئی جسمانی نزول مانتا تھا اور کوئی بروزی نزول کا معتقد تھا۔ اور کوئی دمشق میں اُنکو اُتار رہا تھا اور کوئی مکہ میں۔ اور کوئی بیت المقدس میں اور کوئی اسلامی لشکر میں اور کوئی خیال کرتا تھا کہ ہندوستان میں اُتریں گے پس یہ تمام مختلف رائیں اور مختلف قول ایک فیصلہ کرنے والے حَکَم کو چاہتے تھے۔ سو وہ حَکَم مَیں ہوں۔ مَیں روحانی طور پر کسر صلیب کے لئے اور نیز ۲۵ اختلافات کے دُور کرنے کیلئے بھیجا گیا ہوں۔ اِن ہی دونوں امروں نے تقاضا کیا کہ میں بھیجا جاؤں میرے لئے ضروری نہیں تھا کہ مَیں اپنی حقانیت کی کوئی اور دلیل پیش کروں کیونکہ ضرورت خود دلیل ہے۔ لیکن پھر بھی میری تائید میں خدا تعالیٰ نے کئی نشان ظاہر کئے ہیں۔ اور مَیں جیسا کہ اور اختلافوں میں فیصلہ کرنے کے لئے حَکَم ہوں۔ ایسا ہی وفات حیات کے جھگڑے میں بھی حَکَم ہوں۔

ضرورۃ الامام صفحہ 25 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 495 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 83 پر درج ہے

صفحہ 516

حوالہ نمبر 42

ازالہ اوہام ۴۵۶ حصہ دوم

اب تم خود سمجھ سکتے ہو کہ اس حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جب جہل اور بے ایمانی اور ضلالت جو دوسری حدیثوں میں دخان کے ساتھ تعبیر کی گئی ہے دنیا میں پھیل جائے گی اور زمین میں حقیقی ایمانداری ایسی کم ہو جائے گی کہ گویا وہ آسمان پر اٹھ گئی ہوگی اور قرآنِ کریم ایسا متروک ہو جائے گا کہ گویا وہ خدا تعالیٰ کی طرف اٹھایا گیا ہوگا ۔ تب ضرور ہے کہ فارس کی اصل سے ایک شخص پیدا ہو اور ایمان کو ثریا سے لے کر پھر زمین پر نازل ہو۔ سو یقیناً سمجھو کہ نازل ہونے والا ابن مریم یہی ہے۔ جس نے عیسیٰ بن مریم ۱۴۱ کی طرح اپنے زمانہ میں کسی ایسے شیخ والد روحانی کو نہ پایا جو اس کی روحانی پیدائش کا موجب ٹھہرتا ۔ تب خدائے تعالیٰ خود اس کا متولیّ ہوا ۔ اور تربیت کی کنار میں لیا اور اس اپنے بندے کا نام ابن مریم رکھا ۔ کیونکہ اس نے مخلوق میں سے اپنی روحانی والدہ کا تو منّت اٹھایا جس کے ذریعہ سے اُس نے قالبِ اسلام پایا لیکن حقیقتِ اسلام کی اس کو بغیر انسانوں کے ذریعہ کے حاصل ہوئی تب وہ وجودِ روحانی پا کر خدائے تعالیٰ کی طرف اٹھایا گیا ۔ کیونکہ خدا تعالیٰ نے اپنے ماسوا سے اس کو موت دے کر اپنی طرف اُٹھا لیا اور پھر ایمان اور عرفان کے ذخیرہ کے ساتھ خلق اللہ کی طرف نازل کیا ۔ سو وہ ایمان اور عرفان کا ثریا سے دنیا میں تحفہ لایا اور زمین جو سخت اندھیری تھی اور تاریک تھی اس کے روشن اور آباد کرنے کے فکر میں لگ گیا یہی مثالی صورت کے طور پر یہی عیسیٰ ابن مریم ہے جو بغیر باپ کے پیدا ہوا کیا تم ثابت کر سکتے ہو کہ اس کا کوئی والدِ روحانی ہے ۔ کیا تم ثبوت دے سکتے ہو کہ تمہارے ۱۴۲ سلاسل اربعہ میں سے کسی سلسلہ میں داخل ہو۔ پھر اگر یہ ابن مریم نہیں تو کون ہے ؟ اور اگر اب بھی تمہیں شک ہے تو تمہیں معلوم ہو کہ مسلمانوں کے ساتھ ہر یک شقاق کی وجہ بجز لعنت بازی صدقِ قول کا کام نہیں ۔ مومن لعان نہیں ہوتا ۔ لیکن ایک طریق بہت آسان ہے اور وہ درحقیقت قائم مقام مباہلہ ہی ہے جس سے کاذب اور صادق کی بخوبی اور بدیہی تفریق ہو سکتی ہے ۔ اور وہ یہ ہے جو ذیل میں موٹی قلم سے لکھتا ہوں ۔

ازالہ اوہام صفحہ 660 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 456 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 84 پر درج ہے

صفحہ 517

حوالہ نمبر 43

مکتوبات احمد ۴۴۶ جلد اول

درج کراؤں گا۔ اور جیسا کہ آپ کا دعویٰ ہے کہ میں قرآن اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتا ہوں۔ یہی میرا دعویٰ ہے کہ میں بدل و جان اس پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اُس پیاری کتاب قرآن کریم پر ایمان رکھتا ہوں۔ اب اس نشانی سے آزمایا جائے گا کہ اپنے دعویٰ میں سچا کون ہے۔ اور جھوٹا کون ہے۔ اگر میں اُس علامت کی رو سے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم نے قرار دی ہے، مغلوب رہا تو پھر آپ سچے رہیں گے اور میں بقول آپ کے کافر، دجال، بے ایمان، شیطان اور کذاب اور مفتری ٹھہروں گا اور اس صورت میں آپ کے وہ تمام ظنون فاسدہ درست اور برحق ہوں گے کہ گویا میں نے ”براہین احمدیہ“ میں فریب کیا اور لوگوں کا روپیہ کھایا اور دُعا کی قبولیت کے وعدہ پر لوگوں کا مال خورد برد کیا اور حرام خوری میں زندگی بسر کی۔ اگر خدا تعالیٰ کی اس عنایت نے، جو مومنوں اور صادقوں اور راستبازوں کے شامل حال ہوتی ہے، مجھ کو سچا کر دیا تو پھر آپ فرماویں کہ یہ نام اس وقت آپ کی مولویانہ شان کے سزاوار ٹھہریں گے یا اس وقت بھی کوئی کنارہ کشی کا راہ آپ کے لئے باقی رہے گا؟ آپ نے مجھ کو بہت دکھ دیا اور ستایا۔ میں صبر کرتا گیا مگر آپ نے ذرہ اس ذات قدیر کا خوف نہ کیا جو آپ کی تہہ سے واقف ہے۔ اس نے مجھے بطور پیشگوئی آپ کے حق میں اور پھر آپ کے ہم خیال لوگوں کے حق میں خبر دی کہ اِنِّیْ مُهِيْنٌ مَنْ اَرَادَ اِهَانَتَکَ ۱؎ یعنی میں اس کو خوار کروں گا جو تیرے خوار کرنے کی فکر میں ہے۔

سو یقیناً سمجھو کہ اب وہ وقت نزدیک ہے جو خدا تعالیٰ ان تمام بہتانات میں آپ کا دروغگو ہونا ثابت کر دے گا اور جو بہتان تراش اور مفتری لوگوں کو ذلتیں اور ندامتیں پیش آتی ہیں اُن تمام ذلتوں کی مار آپ پر ڈالے گا۔ آپ کا دعویٰ ہے کہ میں قرآن کریم اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتا ہوں۔ پس اگر آپ اس قول میں سچے ہیں تو آزمائش کے لئے میدان میں آویں تا خدا تعالیٰ ہمارا اور تمہارا خود فیصلہ کرے اور جو کاذب اور دجال ہے رُوسیاہ ہو جائے۔ اور میرے دل سے اس وقت حق کی تائید کے لئے ایک بات نکلتی ہے اور میں اس کو روک نہیں سکتا کیونکہ وہ میرے نفس سے نہیں بلکہ القاء ربّانی ہے جو بڑے زور سے جوش مار رہا ہے اور وہ یہ ہے کہ جب کہ آپ نے مجھے کافر ٹھہرایا اور جھوٹ بولنا میری سرشت کا خاصہ قرار دیا تو اب آپ کو اللہ جل شانہ کی قسم ہے کہ حسب طریق

۱؎ تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ ۲۷

مکتوبات احمد جلد اول صفحہ 341، 342، 352، 353 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 84 پر درج ہے

صفحہ 518

حوالہ نمبر 43

مکتوبات احمد ۳۴۲ جلد اوّل

مذکورہ بالا میرے مقابلہ پر فی الفور آ جاؤ، تا دیکھا جائے کہ قرآن کریم اور فرمودہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رُو سے کون کاذب اور دجال اور کافر ثابت ہوتا ہے۔ اور اگر اس تبلیغ کے بعد ہم دونوں میں سے کوئی شخص متخلف رہا اور باوجود اشدّ غلو اور تکبّر اور تکذیب اور تفسیق کے میدان میں نہ آیا اور شغال کی طرح دُم دبا کر بھاگ گیا تو وہ مندرجہ ذیل انعام کا مستحق ہوگا۔

تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ

یہ وہ فیصلہ ہے جو خدا تعالیٰ آپ کر دے گا کیونکہ اس کا وعدہ ہے کہ مومن بہر حال غالب رہے گا چنانچہ وہ خود فرماتا ہے۔ لَنْ يَّجْعَلَ اللّٰهُ لِلْكٰفِرِيْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ سَبِيْلًا ۱؎ یعنی ایسا ہرگز نہیں ہوگا کہ کافر مومن پر راہ پاوے اور نیز فرماتا ہے۔ يٰاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا ۲؎ یعنی اے مومنو! اگر تم متقی بن جاؤ تو تم میں اور تمہارے غیر میں خدا تعالیٰ ایک فرق رکھ دے گا۔ وہ فرق کیا ہے کہ تمہیں ایک نور عطا کیا جائے گا جو تمہارے غیر میں ہرگز نہیں پایا جائے گا۔ یعنی نور الہام اور نور اجابت دُعا اور نور کرامات اصطفا۔

اب ظاہر ہے کہ جس نے جھوٹ کو کبھی ترک نہیں کیا وہ کیونکر خدا تعالیٰ کے آگے متقی ٹھہر سکتا ہے اور کیونکر اس سے کرامات صادر ہوسکتی ہیں۔ غرض اس طریق سے ہم دونوں کی حقیقت کھل جائے گی اور لوگ دیکھ لیں گے کہ کون میدان میں آتا ہے اور کون بموجب آیت کریمہ لَهُمُ الْبُشْرٰی ۳؎ اور حدیث نبوی اَصْدَقُكُمْ حَدِيثًا ۴؎ کے صادق ثابت ہوتا ہے۔ مع ہٰذا ایک اور بات بھی بذریعہ آزمائش ظاہر ہو جاتی ہے جس کو خدا تعالیٰ آپ ہی پیدا کرتا ہے اور وہ یہ

۱؎ النساء:۱۴۲ ۲؎ الانفال:۳۰ ۳؎ یونس:۶۵ ۴؎ مسلم کتاب الرؤیا باب فی کون الرؤیا من اللہ وانها جزء من النبوۃ حدیث نمبر ۵۹۰۵

مکتوبات احمد جلد اوّل صفحہ 341، 342، 352، 353 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 84 پر درج ہے

صفحہ 519

حوالہ نمبر 43

مکتوبات احمد ۳۵۲ جلد اوّل

اقول: اے حضرت! آپ کو آنے سے کس نے منع کیا تھا؟ یا میری ڈیوڑھی پر دربان تھے جنہوں نے اندر آنے سے روک دیا؟ کیا پہلے اس سے آپ پوچھ پوچھ کر آیا کرتے تھے؟ آپ کے تو والد صاحب بھی بیماری اور تپ کی حالت میں بھی بٹالہ سے افتان خیزاں میرے پاس آ جاتے تھے پھر آپ کو کبھی روک کونسی پیش آ گئی تھی؟ اور جب کہ آپ اپنے ذاتی بخل اور ذاتی حسد اور شیخ نجدی کے خصائل اور کبر اور نخوت کو کسی حالت میں چھوڑنے والے نہیں تھے تو میں آپ کو اپنے مکان پر بلا کر کیا ہمدردی اور رحمت کرتا؟ ہاں! میں نے آپ کے مکان پر بھی جانا خلاف مصلحت سمجھا کیونکہ میں نے آپ کے مزاج میں کبر اور نخوت کا مادہ معلوم کر لیا تھا اور میرے نزدیک یہ قرین مصلحت تھا کہ آپ کو ایک مسہل دیا جائے اور جہاں تک ہو سکے وہ مادہ آپ کے اندر سے باستفراغ نکال دیا جائے۔ سو اب تک تو کچھ تخفیف معلوم نہیں ہوتی۔ خدا جانے کس غضب کا مادہ آپ کے پیٹ میں بھرا ہوا ہے۔ اور اللہ جل شانہ جانتا ہے کہ میں نے آپ کی بدزبانی پر بہت صبر کیا۔ بہت ستایا گیا اور آپ کو روکے گیا اور اب بھی آپ کی بدگوئی اور تکبر اور تفسیق پر بہر حال صبر کر سکتا ہوں لیکن بعض اوقات محض اس نیت سے پیرایہ درشتی آپ کی بدگوئی کے مقابلہ میں اختیار کرتا ہوں کہ تا وہ مادہ خبث کہ جو مولویت کے باطل تصور سے آپ کے دل میں جما ہوا ہے اور جونک کی طرح آپ کو چمٹا ہوا ہے ۔ وہ بکلی نکل جائے۔ میں سچ سچ کہتا ہوں اور خدائے تعالیٰ جانتا ہے کہ میں علی وجہ البصیرت یقین رکھتا ہوں کہ آپ صرف استخوان فروش ہیں اور علم اور درایت اور تفقہ سے سخت بے بہرہ اور ایک غبی اور بلید آدمی ہیں جن کو حقائق اور معارف کے کوچہ کی طرف ذرہ بھی گزر نہیں اور ساتھ اس کے یہ بلا لگی ہوئی ہے کہ ناحق کے تکبر اور نخوت نے آپ کو ہلاک ہی کر دیا ہے۔ جب تک آپ کو اپنی اس جہالت پر اطلاع نہ ہو اور دماغ سے غرور کا کیڑا نہ نکلے تب تک آپ نہ کوئی دنیا کی سعادت حاصل کر سکتے ہیں نہ دین کی۔ آپ کا بڑا دوست وہ ہوگا جو اس کوشش میں لگا رہے جو آپ کی جہالتیں اور نخوتیں آپ پر ثابت کرے۔ میں نہیں جانتا کہ آپ کو کس بات پر ناز ہے۔

شرمناک فطرت کے ساتھ اور اس موٹی سمجھ اور سطحی خیال پر یہ تکبر اور یہ ناز نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ هٰذِهِ الْجَهَالَةِ وَالْحُمْقِ وَتَرْکِ الْحَيَاءِ وَالسَّخَافَةِ وَالضَّلَالَةِ۔

اور آپ کا یہ خیال کہ میں نے اب فساد کیلئے خط بھیجا ہے تا کہ بٹالہ کے مسلمانوں میں پھوٹ پڑے۔ عزیزم یہ آپ کے فطرتی توہمات ہیں۔ میں نے پھوٹ کیلئے نہیں بلکہ آپ کی حالتِ زار پر

مکتوبات احمد جلد اوّل صفحہ 341، 342، 352، 353 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 84 پر درج ہے

صفحہ 520

حوالہ نمبر 43

مکتوبات احمد ۳۵۳ جلد اوّل

رحم کر کے خط بھیجا تھا تا آپ لجۃ الھویٰ میں نہ گر جائیں اور قبل از موت حق کو سمجھ لیں ۔ مسلمانوں میں تفرقہ اور فتنہ ڈالنا تو آپ ہی کا شیوہ ہے یہی تو آپ کا مذہب اور طریق ہے ۔ جس کی وجہ سے آپ نے ایک مسلمان کو کافر اور بے ایمان اور دجال قرار دیا اور علماء کو دھوکے دے کر تکفیر کے فتوے لکھوائے اور اپنے استاد نذیر حسین پر موت کے دنوں کے قریب یہ احسان کیا کہ اس کے منہ سے کلمہ تکفیر کہلوایا اور اس کی پنجاہ سالی کے تقویٰ پر خاک ڈالی ۔ آفرین باد بریں ہمت مردانہ تو ! نذیر حسین تو ارذل عمر میں مبتلا اور بچوں کی طرح ہوش وحواس سے فارغ تھا۔ یہ آپ ہی نے شاگردی کا حق ادا کیا کہ اس کے اخیر وقت اور لب بام ہونے کی حالت میں ایسی مکروہ سیاہی اس کے منہ پر مل دی کہ اب غالباً وہ گور میں ہی اُس سیاہی کو لے جائے گا۔ خدا تعالیٰ کی درگاہ خالہ جی کا گھر نہیں ہے ۔ جو شخص مسلمان کو کافر کہتا ہے اس کو وہی نتائج بھگتنے پڑیں گے جن کا ناحق کے مکفرین کیلئے اس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وعدہ دے رکھا ہے ۔ جو ایسا عدل دوست تھا جس نے ایک چور کی سفارش کے وقت سخت ناراض ہو کر فرمایا تھا کہ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر فاطمہ بنت محمدؐ چوری کرے تو اس کا بھی ہاتھ کاٹا جائے گا۔

قولہ: (اس صورت میں قادیان پہنچ سکتا ہوں) کہ مسلمانوں پر آپ کا جھوٹ اور فریب کھولوں لیکن مجھے اندیشہ ہے کہ آپ میری جان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے ۔

اقول: اب آپ کسی حیلہ و بہانہ سے گریز نہیں کر سکتے ۔ اب تو دس لعنتیں آپ کی خدمت میں نذر کر دی ہیں اور اللہ جلشانہٗ کی قسم بھی دی ہے کہ آپ آسمانی طریق سے میرے ساتھ صدق اور کذب کا فیصلہ کر لیں ۔ اگر آپ مجھ کو جھوٹا سمجھتے ہیں سچے ہیں تو میری اس بات کو سنتے ہی مقابلہ کیلئے کھڑے ہو جائیں گے ورنہ ان تمام لعنتوں کو ہضم کر جائیں گے اور کچے اور بیہودہ عذرات سے ٹال دیں گے ۔ اور میں آپ کو ہلاک کرنا نہیں چاہتا ۔ ایک ہی ہے جو آپ کو در حالت نہ باز آنے کے ہلاک کرے گا اور اپنے دین کو آپ کے اس فتنہ سے نجات دے گا اور آپ کے قادیان آنے کی کچھ ضرورت نہیں ۔ اگر آپ اللہ اور رسول کے نشان کے موافق آزمائش کیلئے مستعد ہوں تو میں خود بٹالہ اور امرتسر اور لاہور میں آ سکتا ہوں ۔ تا سیہ روئے شود ہر کہ دروغش باشد ۱؎

۱؎ آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۳۰۳ تا ۳۱۰

مکتوبات احمد جلد اوّل صفحہ 341، 342، 352، 353 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 84 پر درج ہے

صفحہ 521

حوالہ نمبر 44

۱۵۸

المهلة منا ثلثة اشهر للمعارضين فان لم يبارزوا ولن يبارزوا فاعلموا تین مہینہ مہلت ہے اور اگر مقابل پر نہ آویں اور ہرگز نہ آوینگے پس یقینا جانو انهم كانوا من الكاذبين۔ کہ وہ جھوٹے ہیں۔ واعلموا ان هذا الانعام فى صورة اذا اتوا برسالة كمثل رسالتنا وبعجالة اور یاد رکھنا چاہیے کہ یہ انعام اس صورت میں ہے کہ جب بالمقابل رسالہ بعینہ ہمارے اس رسالہ کے كمثل عجالتنا واثبتوا انفسهم مماثلين ومشابهين. واما اذا ابوا وولوا مشابہ ہو اور مماثلت اور مشابہت کو ثابت کریں۔ لیکن اگر بنانے سے انکار کریں الدبر كا لثعالب ما استطاعوا على هذه المطالب وما تركوا عادة توهين القرآن اور لومڑیوں کی طرح پیٹھیں دکھلاویں اور ان مطالب پر قدرت نہ پاسکیں اور نہ توہین قرآن شریف کی وما امتنعوا من قدح كتاب الله الفرقان وما تابوا من ان يسموا انفسهم مولوين عادت کو چھوڑیں اور کتاب اللہ کی جرح و قدح سے باز نہ آویں وما ازدجروا من سب رسول الله صلى الله عليه وسلم خاتم النبيين وما ازدجروا اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دشنام دہی سے رکیں اور نہ اس بیہودگی کو اپنے تئیں من قولهم ان القرآن ليس بفصيح وما تركوا سبيل التحقير والتوهين فعليهم روکیں کہ قرآن فصیح نہیں ہے اور نہ توہین اور تحقیر کی راہوں کو چھوڑیں پس ان پر خدا تعالیٰ من الله الف لعنة فليقل القوم كلهم آمين۔ کی طرف سے ہزار لعنت ہے پس چاہیئے کہ تمام قوم کہے کہ آمین۔ ۱ لعنت ۲ لعنت ۳ لعنت ۴ لعنت ۵ لعنت ۶ لعنت ۷ لعنت ۸ لعنت ۹ لعنت ۱۰ لعنت ۱۱ لعنت ۱۲ لعنت ۱۳ لعنت ۱۴ لعنت ۱۵ لعنت ۱۶ لعنت ۱۷ لعنت ۱۸ لعنت ۱۹ لعنت ۲۰ لعنت ۲۱ لعنت ۲۲ لعنت ۲۳ لعنت ۲۴ لعنت

۱۵۸

یہ حوالہ صفحہ 85 پر درج ہے نور الحق صفحہ 118 تا 122 مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 158 تا 162 از مرزا قادیانی

صفحہ 522

حوالہ نمبر 44

۱۵۹

۱۱۹

۲۵ لعنت ۲۶ لعنت ۲۷ لعنت ۲۸ لعنت ۲۹ لعنت ۳۰ لعنت ۳۱ لعنت ۳۲ لعنت ۳۳ لعنت ۳۴ لعنت ۳۵ لعنت ۳۶ لعنت ۳۷ لعنت ۳۸ لعنت ۳۹ لعنت ۴۰ لعنت ۴۱ لعنت ۴۲ لعنت ۴۳ لعنت ۴۴ لعنت ۴۵ لعنت ۴۶ لعنت ۴۷ لعنت ۴۸ لعنت ۴۹ لعنت ۵۰ لعنت ۵۱ لعنت ۵۲ لعنت ۵۳ لعنت ۵۴ لعنت ۵۵ لعنت ۵۶ لعنت ۵۷ لعنت ۵۸ لعنت ۵۹ لعنت ۶۰ لعنت ۶۱ لعنت ۶۲ لعنت ۶۳ لعنت ۶۴ لعنت ۶۵ لعنت ۶۶ لعنت ۶۷ لعنت ۶۸ لعنت ۶۹ لعنت ۷۰ لعنت ۷۱ لعنت ۷۲ لعنت ۷۳ لعنت ۷۴ لعنت ۷۵ لعنت ۷۶ لعنت ۷۷ لعنت ۷۸ لعنت ۷۹ لعنت ۸۰ لعنت ۸۱ لعنت ۸۲ لعنت ۸۳ لعنت ۸۴ لعنت ۸۵ لعنت ۸۶ لعنت ۸۷ لعنت ۸۸ لعنت ۸۹ لعنت ۹۰ لعنت ۹۱ لعنت ۹۲ لعنت ۹۳ لعنت ۹۴ لعنت ۹۵ لعنت ۹۶ لعنت ۹۷ لعنت ۹۸ لعنت ۹۹ لعنت ۱۰۰ لعنت ۱۰۱ لعنت ۱۰۲ لعنت ۱۰۳ لعنت ۱۰۴ لعنت ۱۰۵ لعنت ۱۰۶ لعنت ۱۰۷ لعنت ۱۰۸ لعنت ۱۰۹ لعنت ۱۱۰ لعنت ۱۱۱ لعنت ۱۱۲ لعنت ۱۱۳ لعنت ۱۱۴ لعنت ۱۱۵ لعنت ۱۱۶ لعنت ۱۱۷ لعنت ۱۱۸ لعنت ۱۱۹ لعنت ۱۲۰ لعنت ۱۲۱ لعنت ۱۲۲ لعنت ۱۲۳ لعنت ۱۲۴ لعنت ۱۲۵ لعنت ۱۲۶ لعنت ۱۲۷ لعنت ۱۲۸ لعنت ۱۲۹ لعنت ۱۳۰ لعنت ۱۳۱ لعنت ۱۳۲ لعنت ۱۳۳ لعنت ۱۳۴ لعنت ۱۳۵ لعنت ۱۳۶ لعنت ۱۳۷ لعنت ۱۳۸ لعنت ۱۳۹ لعنت ۱۴۰ لعنت ۱۴۱ لعنت ۱۴۲ لعنت ۱۴۳ لعنت ۱۴۴ لعنت ۱۴۵ لعنت ۱۴۶ لعنت ۱۴۷ لعنت ۱۴۸ لعنت ۱۴۹ لعنت ۱۵۰ لعنت ۱۵۱ لعنت ۱۵۲ لعنت ۱۵۳ لعنت ۱۵۴ لعنت ۱۵۵ لعنت ۱۵۶ لعنت ۱۵۷ لعنت ۱۵۸ لعنت ۱۵۹ لعنت ۱۶۰ لعنت ۱۶۱ لعنت ۱۶۲ لعنت ۱۶۳ لعنت ۱۶۴ لعنت ۱۶۵ لعنت ۱۶۶ لعنت ۱۶۷ لعنت ۱۶۸ لعنت ۱۶۹ لعنت ۱۷۰ لعنت ۱۷۱ لعنت ۱۷۲ لعنت ۱۷۳ لعنت ۱۷۴ لعنت ۱۷۵ لعنت ۱۷۶ لعنت ۱۷۷ لعنت ۱۷۸ لعنت ۱۷۹ لعنت ۱۸۰ لعنت ۱۸۱ لعنت ۱۸۲ لعنت ۱۸۳ لعنت ۱۸۴ لعنت ۱۸۵ لعنت ۱۸۶ لعنت ۱۸۷ لعنت ۱۸۸ لعنت ۱۸۹ لعنت ۱۹۰ لعنت ۱۹۱ لعنت ۱۹۲ لعنت ۱۹۳ لعنت ۱۹۴ لعنت ۱۹۵ لعنت ۱۹۶ لعنت ۱۹۷ لعنت ۱۹۸ لعنت ۱۹۹ لعنت ۲۰۰ لعنت ۲۰۱ لعنت ۲۰۲ لعنت ۲۰۳ لعنت ۲۰۴ لعنت ۲۰۵ لعنت ۲۰۶ لعنت ۲۰۷ لعنت ۲۰۸ لعنت ۲۰۹ لعنت ۲۱۰ لعنت ۲۱۱ لعنت ۲۱۲ لعنت ۲۱۳ لعنت ۲۱۴ لعنت ۲۱۵ لعنت ۲۱۶ لعنت ۲۱۷ لعنت ۲۱۸ لعنت ۲۱۹ لعنت ۲۲۰ لعنت ۲۲۱ لعنت ۲۲۲ لعنت ۲۲۳ لعنت ۲۲۴ لعنت ۲۲۵ لعنت ۲۲۶ لعنت ۲۲۷ لعنت ۲۲۸ لعنت ۲۲۹ لعنت ۲۳۰ لعنت ۲۳۱ لعنت ۲۳۲ لعنت ۲۳۳ لعنت ۲۳۴ لعنت ۲۳۵ لعنت ۲۳۶ لعنت ۲۳۷ لعنت ۲۳۸ لعنت ۲۳۹ لعنت ۲۴۰ لعنت ۲۴۱ لعنت ۲۴۲ لعنت ۲۴۳ لعنت ۲۴۴ لعنت ۲۴۵ لعنت ۲۴۶ لعنت ۲۴۷ لعنت ۲۴۸ لعنت ۲۴۹ لعنت ۲۵۰ لعنت ۲۵۱ لعنت ۲۵۲ لعنت ۲۵۳ لعنت ۲۵۴ لعنت ۲۵۵ لعنت ۲۵۶ لعنت ۲۵۷ لعنت ۲۵۸ لعنت ۲۵۹ لعنت ۲۶۰ لعنت ۲۶۱ لعنت ۲۶۲ لعنت

۱۵۹

نور الحق صفحہ 118 تا 122 مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 158 تا 162 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 85 پر درج ہے

صفحہ 523

(حوالہ نمبر 44)

١٦٠

۱۳۰ | ۲۷۳ لعنت ۲۷۴ لعنت ۲۷۵ لعنت ۲۷۶ لعنت ۲۷۷ لعنت ۲۷۸ لعنت ۲۷۹ لعنت ۲۸۰ لعنت ۲۸۱ لعنت ۲۸۲ لعنت ۲۸۳ لعنت ۲۸۴ لعنت ۲۸۵ لعنت ۲۸۶ لعنت ۲۸۷ لعنت ۲۸۸ لعنت ۲۸۹ لعنت ۲۹۰ لعنت ۲۹۱ لعنت ۲۹۲ لعنت ۲۹۳ لعنت ۲۹۴ لعنت ۲۹۵ لعنت ۲۹۶ لعنت ۲۹۷ لعنت ۲۹۸ لعنت ۲۹۹ لعنت ۳۰۰ لعنت ۳۰۱ لعنت ۳۰۲ لعنت ۳۰۳ لعنت ۳۰۴ لعنت ۳۰۵ لعنت ۳۰۶ لعنت ۳۰۷ لعنت ۳۰۸ اللعنة ۳۰۹ اللعنة ۳۱۰ اللعنة ۳۱۱ اللعنة ۳۱۲ اللعنة ۳۱۳ اللعنة ۳۱۴ اللعنة ۳۱۵ اللعنة ۳۱۶ اللعنة ۳۱۷ اللعنة ۳۱۸ اللعنة ۳۱۹ اللعنة ۳۲۰ اللعنة ۳۲۱ اللعنة ۳۲۲ اللعنة ۳۲۳ اللعنة ۳۲۴ اللعنة ۳۲۵ اللعنة ۳۲۶ اللعنة ۳۲۷ اللعنة ۳۲۸ اللعنة ۳۲۹ اللعنة ۳۳۰ اللعنة ۳۳۱ اللعنة ۳۳۲ اللعنة ۳۳۳ اللعنة ۳۳۴ اللعنة ۳۳۵ اللعنة ۳۳۶ اللعنة ۳۳۷ اللعنة ۳۳۸ اللعنة ۳۳۹ اللعنة ۳۴۰ اللعنة ۳۴۱ اللعنة ۳۴۲ اللعنة ۳۴۳ اللعنة ۳۴۴ اللعنة ۳۴۵ اللعنة ۳۴۶ اللعنة ۳۴۷ اللعنة ۳۴۸ اللعنة ۳۴۹ اللعنة ۳۵۰ اللعنة ۳۵۱ اللعنة ۳۵۲ اللعنة ۳۵۳ اللعنة ۳۵۴ اللعنة ۳۵۵ اللعنة ۳۵۶ اللعنة ۳۵۷ اللعنة ۳۵۸ اللعنة ۳۵۹ اللعنة ۳۶۰ اللعنة ۳۶۱ اللعنة ۳۶۲ اللعنة ۳۶۳ اللعنة ۳۶۴ اللعنة ۳۶۵ اللعنة ۳۶۶ اللعنة ۳۶۷ اللعنة ۳۶۸ اللعنة ۳۶۹ اللعنة ۳۷۰ اللعنة ۳۷۱ اللعنة ۳۷۲ اللعنة ۳۷۳ اللعنة ۳۷۴ اللعنة ۳۷۵ اللعنة ۳۷۶ اللعنة ۳۷۷ اللعنة ۳۷۸ اللعنة ۳۷۹ اللعنة ۳۸۰ اللعنة ۳۸۱ اللعنة ۳۸۲ اللعنة ۳۸۳ اللعنة ۳۸۴ اللعنة ۳۸۵ اللعنة ۳۸۶ اللعنة ۳۸۷ اللعنة ۳۸۸ اللعنة ۳۸۹ اللعنة ۳۹۰ اللعنة ۳۹۱ اللعنة ۳۹۲ اللعنة ۳۹۳ اللعنة ۳۹۴ اللعنة ۳۹۵ اللعنة ۳۹۶ اللعنة ۳۹۷ اللعنة ۳۹۸ اللعنة ۳۹۹ اللعنة ۴۰۰ اللعنة ۴۰۱ اللعنة ۴۰۲ اللعنة ۴۰۳ اللعنة ۴۰۴ اللعنة ۴۰۵ اللعنة ۴۰۶ اللعنة ۴۰۷ اللعنة ۴۰۸ اللعنة ۴۰۹ اللعنة ۴۱۰ اللعنة ۴۱۱ اللعنة ۴۱۲ اللعنة ۴۱۳ اللعنة ۴۱۴ اللعنة ۴۱۵ اللعنة ۴۱۶ اللعنة ۴۱۷ اللعنة ۴۱۸ اللعنة ۴۱۹ اللعنة ۴۲۰ اللعنة ۴۲۱ اللعنة ۴۲۲ اللعنة ۴۲۳ اللعنة ۴۲۴ اللعنة ۴۲۵ اللعنة ۴۲۶ اللعنة ۴۲۷ اللعنة ۴۲۸ اللعنة ۴۲۹ اللعنة ۴۳۰ اللعنة ۴۳۱ اللعنة ۴۳۲ اللعنة ۴۳۳ اللعنة ۴۳۴ اللعنة ۴۳۵ اللعنة ۴۳۶ اللعنة ۴۳۷ اللعنة ۴۳۸ اللعنة ۴۳۹ اللعنة ۴۴۰ اللعنة ۴۴۱ اللعنة ۴۴۲ اللعنة ۴۴۳ اللعنة ۴۴۴ اللعنة ۴۴۵ اللعنة ۴۴۶ اللعنة ۴۴۷ اللعنة ۴۴۸ اللعنة ۴۴۹ اللعنة ۴۵۰ اللعنة ۴۵۱ اللعنة ۴۵۲ اللعنة ۴۵۳ اللعنة ۴۵۴ اللعنة ۴۵۵ اللعنة ۴۵۶ اللعنة ۴۵۷ اللعنة ۴۵۸ اللعنة ۴۵۹ اللعنة ۴۶۰ اللعنة ۴۶۱ اللعنة ۴۶۲ اللعنة ۴۶۳ اللعنة ۴۶۴ اللعنة ۴۶۵ اللعنة ۴۶۶ اللعنة ۴۶۷ اللعنة ۴۶۸ اللعنة ۴۶۹ اللعنة ۴۷۰ اللعنة ۴۷۱ اللعنة ۴۷۲ اللعنة ۴۷۳ اللعنة ۴۷۴ اللعنة ۴۷۵ اللعنة ۴۷۶ اللعنة ۴۷۷ اللعنة ۴۷۸ اللعنة ۴۷۹ اللعنة ۴۸۰ اللعنة ۴۸۱ اللعنة ۴۸۲ اللعنة ۴۸۳ اللعنة ۴۸۴ اللعنة ۴۸۵ اللعنة ۴۸۶ اللعنة ۴۸۷ اللعنة ۴۸۸ اللعنة ۴۸۹ اللعنة ۴۹۰ اللعنة ۴۹۱ اللعنة ۴۹۲ اللعنة ۴۹۳ اللعنة ۴۹۴ اللعنة ۴۹۵ اللعنة ۴۹۶ اللعنة ۴۹۷ اللعنة ۴۹۸ اللعنة ۴۹۹ اللعنة ۵۰۰ اللعنة ۵۰۱ اللعنة ۵۰۲ اللعنة ۵۰۳ اللعنة

١٦٠

یہ حوالہ صفحہ 85 پر درج ہے | نورالحق صفحہ 118 تا 122 مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 158 تا 162 از مرزا قادیانی

صفحہ 524

حوالہ نمبر 44

۱۶۱

۱۶۱ اللعنة ٥٠٥ اللعنة ٥٠٦ اللعنة ٥٠٧ اللعنة ٥٠٨ اللعنة ٥٠٩ اللعنة ٥١٠ اللعنة ٥١١ اللعنة ٥١٢ اللعنة ٥١٣ اللعنة ٥١٤ اللعنة ٥١٥ اللعنة ٥١٦ اللعنة ٥١٧ اللعنة ٥١٨ اللعنة ٥١٩ اللعنة ٥٢٠ اللعنة ٥٢١ اللعنة ٥٢٢ اللعنة ٥٢٣ اللعنة ٥٢٤ اللعنة ٥٢٥ اللعنة ٥٢٦ اللعنة ٥٢٧ اللعنة ٥٢٨ اللعنة ٥٢٩ اللعنة ٥٣٠ اللعنة ٥٣١ اللعنة ٥٣٢ اللعنة ٥٣٣ اللعنة ٥٣٤ اللعنة ٥٣٥ اللعنة ٥٣٦ اللعنة ٥٣٧ اللعنة ٥٣٨ اللعنة ٥٣٩ اللعنة ٥٤٠ اللعنة ٥٤١ اللعنة ٥٤٢ اللعنة ٥٤٣ اللعنة ٥٤٤ اللعنة ٥٤٥ اللعنة ٥٤٦ اللعنة ٥٤٧ اللعنة ٥٤٨ اللعنة ٥٤٩ اللعنة ٥٥٠ اللعنة ٥٥١ اللعنة ٥٥٢ اللعنة ٥٥٣ اللعنة ٥٥٤ اللعنة ٥٥٥ اللعنة ٥٥٦ اللعنة ٥٥٧ اللعنة ٥٥٨ اللعنة ٥٥٩ اللعنة ٥٦٠ اللعنة ٥٦١ اللعنة ٥٦٢ اللعنة ٥٦٣ اللعنة ٥٦٤ اللعنة ٥٦٥ اللعنة ٥٦٦ اللعنة ٥٦٧ اللعنة ٥٦٨ اللعنة ٥٦٩ اللعنة ٥٧٠ اللعنة ٥٧١ اللعنة ٥٧٢ اللعنة ٥٧٣ اللعنة ٥٧٤ اللعنة ٥٧٥ اللعنة ٥٧٦ اللعنة ٥٧٧ اللعنة ٥٧٨ اللعنة ٥٧٩ اللعنة ٥٨٠ اللعنة ٥٨١ اللعنة ٥٨٢ اللعنة ٥٨٣ اللعنة ٥٨٤ اللعنة ٥٨٥ اللعنة ٥٨٦ اللعنة ٥٨٧ اللعنة ٥٨٨ اللعنة ٥٨٩ اللعنة ٥٩٠ اللعنة ٥٩١ اللعنة ٥٩٢ اللعنة ٥٩٣ اللعنة ٥٩٤ اللعنة ٥٩٥ اللعنة ٥٩٦ اللعنة ٥٩٧ اللعنة ٥٩٨ اللعنة ٥٩٩ اللعنة ٦٠٠ اللعنة ٦٠١ اللعنة ٦٠٢ اللعنة ٦٠٣ اللعنة ٦٠٤ اللعنة ٦٠٥ اللعنة ٦٠٦ اللعنة ٦٠٧ اللعنة ٦٠٨ اللعنة ٦٠٩ اللعنة ٦١٠ اللعنة ٦١١ اللعنة ٦١٢ اللعنة ٦١٣ اللعنة ٦١٤ اللعنة ٦١٥ اللعنة ٦١٦ اللعنة ٦١٧ اللعنة ٦١٨ اللعنة ٦١٩ اللعنة ٦٢٠ اللعنة ٦٢١ اللعنة ٦٢٢ اللعنة ٦٢٣ اللعنة ٦٢٤ اللعنة ٦٢٥ اللعنة ٦٢٦ اللعنة ٦٢٧ اللعنة ٦٢٨ اللعنة ٦٢٩ اللعنة ٦٣٠ اللعنة ٦٣١ اللعنة ٦٣٢ اللعنة ٦٣٣ اللعنة ٦٣٤ اللعنة ٦٣٥ اللعنة ٦٣٦ اللعنة ٦٣٧ اللعنة ٦٣٨ اللعنة ٦٣٩ اللعنة ٦٤٠ اللعنة ٦٤١ اللعنة ٦٤٢ اللعنة ٦٤٣ اللعنة ٦٤٤ اللعنة ٦٤٥ اللعنة ٦٤٦ اللعنة ٦٤٧ اللعنة ٦٤٨ اللعنة ٦٤٩ اللعنة ٦٥٠ اللعنة ٦٥١ اللعنة ٦٥٢ اللعنة ٦٥٣ اللعنة ٦٥٤ اللعنة ٦٥٥ اللعنة ٦٥٦ اللعنة ٦٥٧ اللعنة ٦٥٨ اللعنة ٦٥٩ اللعنة ٦٦٠ اللعنة ٦٦١ اللعنة ٦٦٢ اللعنة ٦٦٣ اللعنة ٦٦٤ اللعنة ٦٦٥ اللعنة ٦٦٦ اللعنة ٦٦٧ اللعنة ٦٦٨ اللعنة ٦٦٩ اللعنة ٦٧٠ اللعنة ٦٧١ اللعنة ٦٧٢ اللعنة ٦٧٣ اللعنة ٦٧٤ اللعنة ٦٧٥ اللعنة ٦٧٦ اللعنة ٦٧٧ اللعنة ٦٧٨ اللعنة ٦٧٩ اللعنة ٦٨٠ اللعنة ٦٨١ اللعنة ٦٨٢ اللعنة ٦٨٣ اللعنة ٦٨٤ اللعنة ٦٨٥ اللعنة ٦٨٦ اللعنة ٦٨٧ اللعنة ٦٨٨ اللعنة ٦٨٩ اللعنة ٦٩٠ اللعنة ٦٩١ اللعنة ٦٩٢ اللعنة ٦٩٣ اللعنة ٦٩٤ اللعنة ٦٩٥ اللعنة ٦٩٦ اللعنة ٦٩٧ اللعنة ٦٩٨ اللعنة ٦٩٩ اللعنة ٧٠٠ اللعنة ٧٠١ اللعنة ٧٠٢ اللعنة ٧٠٣ اللعنة ٧٠٤ اللعنة ٧٠٥ اللعنة ٧٠٦ اللعنة ٧٠٧ اللعنة ٧٠٨ اللعنة ٧٠٩ اللعنة ٧١٠ اللعنة ٧١١ اللعنة ٧١٢ اللعنة ٧١٣ اللعنة ٧١٤ ۱۶۲ اللعنة ٧١٥ اللعنة ٧١٦ اللعنة ٧١٧ اللعنة ٧١٨ اللعنة ٧١٩ اللعنة ٧٢٠ اللعنة ٧٢١ اللعنة ٧٢٢ اللعنة ٧٢٣ اللعنة ٧٢٤ اللعنة ٧٢٥ اللعنة ٧٢٦ اللعنة ٧٢٧ اللعنة ٧٢٨

۱۶۱

نورالحق صفحہ 118 تا 122 مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 158 تا 162 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 85 پر درج ہے

صفحہ 525

حوالہ نمبر 44

١٦٢

اللهم ٧٤٧ اللهم ٧٤٨ اللهم ٧٤٩ اللهم ٧٥٠ اللهم ٧٥١ اللهم ٧٥٢ اللهم ٧٥٣ اللهم ٧٥٤ اللهم ٧٥٥ اللهم ٧٥٦ اللهم ٧٥٧ اللهم ٧٥٨ اللهم ٧٥٩ اللهم ٧٦٠ اللهم ٧٦١ اللهم ٧٦٢ اللهم ٧٦٣ اللهم ٧٦٤ اللهم ٧٦٥ اللهم ٧٦٦ اللهم ٧٦٧ اللهم ٧٦٨ اللهم ٧٦٩ اللهم ٧٧٠ اللهم ٧٧١ اللهم ٧٧٢ اللهم ٧٧٣ اللهم ٧٧٤ اللهم ٧٧٥ اللهم ٧٧٦ اللهم ٧٧٧ اللهم ٧٧٨ اللهم ٧٧٩ اللهم ٧٨٠ اللهم ٧٨١ اللهم ٧٨٢ اللهم ٧٨٣ اللهم ٧٨٤ اللهم ٧٨٥ اللهم ٧٨٦ اللهم ٧٨٧ اللهم ٧٨٨ اللهم ٧٨٩ اللهم ٧٩٠ اللهم ٧٩١ اللهم ٧٩٢ اللهم ٧٩٣ اللهم ٧٩٤ اللهم ٧٩٥ اللهم ٧٩٦ اللهم ٧٩٧ اللهم ٧٩٨ اللهم ٧٩٩ اللهم ٨٠٠ اللهم ٨٠١ اللهم ٨٠٢ اللهم ٨٠٣ اللهم ٨٠٤ اللهم ٨٠٥ اللهم ٨٠٦ اللهم ٨٠٧ اللهم ٨٠٨ اللهم ٨٠٩ اللهم ٨١٠ اللهم ٨١١ اللهم ٨١٢ اللهم ٨١٣ اللهم ٨١٤ اللهم ٨١٥ اللهم ٨١٦ اللهم ٨١٧ اللهم ٨١٨ اللهم ٨١٩ اللهم ٨٢٠ اللهم ٨٢١ اللهم ٨٢٢ اللهم ٨٢٣ اللهم ٨٢٤ اللهم ٨٢٥ اللهم ٨٢٦ اللهم ٨٢٧ اللهم ٨٢٨ اللهم ٨٢٩ اللهم ٨٣٠ اللهم ٨٣١ اللهم ٨٣٢ اللهم ٨٣٣ اللهم ٨٣٤ اللهم ٨٣٥ اللهم ٨٣٦ اللهم ٨٣٧ اللهم ٨٣٨ اللهم ٨٣٩ اللهم ٨٤٠ اللهم ٨٤١ اللهم ٨٤٢ اللهم ٨٤٣ اللهم ٨٤٤ اللهم ٨٤٥ اللهم ٨٤٦ اللهم ٨٤٧ اللهم ٨٤٨ اللهم ٨٤٩ اللهم ٨٥٠ اللهم ٨٥١ اللهم ٨٥٢ اللهم ٨٥٣ اللهم ٨٥٤ اللهم ٨٥٥ اللهم ٨٥٦ اللهم ٨٥٧ اللهم ٨٥٨ اللهم ٨٥٩ اللهم ٨٦٠ اللهم ٨٦١ اللهم ٨٦٢ اللهم ٨٦٣ اللهم ٨٦٤ اللهم ٨٦٥ اللهم ٨٦٦ اللهم ٨٦٧ اللهم ٨٦٨ اللهم ٨٦٩ اللهم ٨٧٠ اللهم ٨٧١ اللهم ٨٧٢ اللهم ٨٧٣ اللهم ٨٧٤ اللهم ٨٧٥ اللهم ٨٧٦ اللهم ٨٧٧ اللهم ٨٧٨ اللهم ٨٧٩ اللهم ٨٨٠ اللهم ٨٨١ اللهم ٨٨٢ اللهم ٨٨٣ اللهم ٨٨٤ اللهم ٨٨٥ اللهم ٨٨٦ اللهم ٨٨٧ اللهم ٨٨٨ اللهم ٨٨٩ اللهم ٨٩٠ اللهم ٨٩١ اللهم ٨٩٢ اللهم ٨٩٣ اللهم ٨٩٤ اللهم ٨٩٥ اللهم ٨٩٦ اللهم ٨٩٧ اللهم ٨٩٨ اللهم ٨٩٩ اللهم ٩٠٠ اللهم ٩٠١ اللهم ٩٠٢ اللهم ٩٠٣ اللهم ٩٠٤ اللهم ٩٠٥ اللهم ٩٠٦ اللهم ٩٠٧ اللهم ٩٠٨ اللهم ٩٠٩ اللهم ٩١٠ اللهم ٩١١ اللهم ٩١٢ اللهم ٩١٣ اللهم ٩١٤ اللهم ٩١٥ اللهم ٩١٦ اللهم ٩١٧ اللهم ٩١٨ اللهم ٩١٩ اللهم ٩٢٠ اللهم ٩٢١ اللهم ٩٢٢ اللهم ٩٢٣ اللهم ٩٢٤ اللهم ٩٢٥ اللهم ٩٢٦ اللهم ٩٢٧ اللهم ٩٢٨ اللهم ٩٢٩ اللهم ٩٣٠ اللهم ٩٣١ اللهم ٩٣٢ اللهم ٩٣٣ اللهم ٩٣٤ اللهم ٩٣٥ اللهم ٩٣٦ اللهم ٩٣٧ اللهم ٩٣٨ اللهم ٩٣٩ اللهم ٩٤٠ اللهم ٩٤١ اللهم ٩٤٢ اللهم ٩٤٣ اللهم ٩٤٤ اللهم ٩٤٥ اللهم ٩٤٦ اللهم ٩٤٧ اللهم ٩٤٨ اللهم ٩٤٩ اللهم ٩٥٠ اللهم ٩٥١ اللهم ٩٥٢ اللهم ٩٥٣ اللهم ٩٥٤ اللهم ٩٥٥ اللهم ٩٥٦ اللهم ٩٥٧ اللهم ٩٥٨ اللهم ٩٥٩ اللهم ٩٦٠ اللهم ٩٦١ اللهم ٩٦٢ اللهم ٩٦٣ اللهم ٩٦٤ اللهم ٩٦٥ اللهم ٩٦٦ اللهم ٩٦٧ اللهم ٩٦٨ اللهم ٩٦٩ اللهم ٩٧٠ اللهم ٩٧١ اللهم ٩٧٢ اللهم ٩٧٣ اللهم ٩٧٤ اللهم ٩٧٥ اللهم ٩٧٦ اللهم ٩٧٧ اللهم ٩٧٨ اللهم ٩٧٩ اللهم ٩٨٠ اللهم ٩٨١ اللهم ٩٨٢ اللهم ٩٨٣ اللهم ٩٨٤ اللهم ٩٨٥ اللهم ٩٨٦ اللهم ٩٨٧ اللهم ٩٨٨ اللهم ٩٨٩ اللهم ٩٩٠ اللهم ٩٩١ اللهم ٩٩٢ اللهم ٩٩٣ اللهم ٩٩٤ اللهم ٩٩٥ اللهم ٩٩٦ اللهم ٩٩٧ اللهم ٩٩٨ اللهم ٩٩٩ اللهم ١٠٠٠

١٦٣

نورالحق صفحہ 118 تا 122 مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 158 تا 162 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 85 پر درج ہے

صفحہ 526

حوالہ نمبر 45 ۳۲۹

اب دیکھو یہ تین سو تیرہ شخص جو اس کتاب میں درج ہیں یہ اسی پیشگوئی کا مصداق ہے جو احادیث رسول اللہ صلی علیہ وسلم میں پائی جاتی ہے پیشگوئی میں کہ کَدَعَہ کا لفظ بھی ہے جو صریح قادیان کے نام کو بتلا رہا ہے پس تمام مضمون اس حدیث کا یہ ہے کہ وہ مہدی موعود قادیان میں پیدا ہو گا۔ اور اس کے پاس ایک کتاب چھپی ہوئی ہو گی جس میں تین سو تیرہ اس کے دوستوں کے نام درج ہونگے۔ سو ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ یہ بات میرے قبضہ میں تو نہیں تھی کہ میں ان کتابوں میں جو اس زمانہ سے ہزار ہا پہلے دنیا میں شائع ہوچکی ہیں اپنے گاؤں قادیان کا نام لکھ دیتا۔ اور نہ میں نے چھاپہ کی کل نکالی ہے تا یہ خیال کیا جائے کہ مطبع اس غرض سے مطبع کو اس زمانہ میں ایجاد کیا ہے۔ اور نہ تین سو تیرہ شخص کا پیدا کرنا میرے اختیار میں تھا بلکہ یہ تمام اسباب خود خدا تعالیٰ نے پیدا کئے ہیں۔ تا وہ اپنے رسول کریم کی پیشگوئی کو پورا کرے۔

مگر اس زمانہ کے مولویوں کی حالت پر سخت افسوس ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ کوئی پیشگوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری ہو۔ آتھم کی نسبت کیسی صفائی سے پیشگوئی پوری ہوئی۔ خدا تعالیٰ کی الہامی شرط کے موافق اول آتھم سودائیوں کی طرح ڈرتا پھرا ۔ اور بباعث شدت خوف شرط سے فائدہ اُٹھایا۔ آخر کار کفر کی حالت میں خدا تعالیٰ کے قطعی الہام کے موافق داخل جہنم ہوا۔ اور یہی پیشگوئی تھی جس کی براہین احمدیہ کے صفحہ ۲۴۱ میں بھی عرصہ پیشتر خبر دی گئی تھی۔ سو جب کہ اس پیشگوئی کی تکذیب میں پادریوں نے جھوٹ کی قسمیں کھائیں۔ عبدالحق اور عبدالجبار غزنویان وغیرہ مخالف مولویوں نے بھی وہ نجاست کھائی اور عیسائی بن کر اسلام پر حملہ کیا۔ انہوں نے بھی اسلام پر حملہ کیا کیونکہ یہ نشان اسلام کی تائید میں تھا۔ سو ان لوگوں نے اسلام کی کچھ پروا نہ کی اور کچھ بھی حیا اور شرم اور تقویٰ سے کام نہ لیا۔ اسی لئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کا نام یہودی رکھا۔ اگر یہ لوگ آتھم کے بارے میں کوئی سچی نکتہ چینی کرتے تو ہمیں کچھ افسوس نہ تھا مگر ان لوگوں نے آفتاب سچائی پر تھوکا جو آفتاب کی طرح چمک رہی تھی۔ عبد الحق غزنوی بار بار لکھتا ہے کہ پادریوں کی فتح ہوئی ہم اس کے جواب میں بجز اس کے کیا کہیں اور کیا لکھیں کہ اے بدذات یہودی صفت پادریوں کا اس میں منہ کالا ہوا۔ اور ساتھ ہی تیرا بھی ۔ اور پادریوں پر ایک آسمانی لعنت پڑی اور ساتھ ہی وہ لعنت تجھ کو بھی کھا گئی اگر تو سچا ہے تو اب ہمیں دکھلا کہ آتھم کہاں ہے۔ اے خبیث کب تک تو جئے گا۔ کیا تیرے لئے ایک دن موت کا مقرر نہیں۔

۴۵

یہ حوالہ صفحہ 86 پر درج ہے انجام آتھم صفحہ 45 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 329، 330 از مرزا قادیانی

صفحہ 527

حوالہ نمبر 45

۳۳۰

ایسا ہی ذرہ انصاف کرنا چاہیئے کہ کس قوت اور چمک سے کسوف اور خسوف کی پیشگوئی پوری ہوئی ۔ اور ہمارے دعویٰ پر آسمان نے گواہی دی۔ مگر اس زمانہ کے ظالم مولوی اس سے بھی منکر ہیں ۔ خاص کر رئیس الدجالین عبدالحق غزنوی اور اس کا تمام گروہ علیھم نعال لعن الله الف الف مرۃ ۔ اپنے ناپاک اشتہار میں نہایت اصرار سے کہتا ہے کہ یہ پیشگوئی بھی پوری نہیں ہوئی اے پلید دجال ! یہ پیشگوئی تو پوری ہو گئی ۔ لیکن تعصب کے غبار نے تجھے اندھا کر دیا ۔ پیشگوئی کے اصل لفظ جو امام محمد باقر سے دارقطنی میں مروی ہیں یہ ہیں ۔ ان لمهدينا آيتين لم تكونا منذ خلق السموات والارض ينكسف القمر لاول ليلة من رمضان وتنكسف الشمس في النصف منه الخ ۔ یعنی ہمارے مہدی کی تائید اور تصدیق کے لئے دو نشان مقرر ہیں ۔ اور جب سے کہ زمین و آسمان پیدا کئے گئے وہ دو نشان کسی مدعی کے وقت ظہور میں نہیں آئے ۔ اور وہ یہ ہیں کہ مہدی کے دعوے کے وقت میں چاند کو اس کی پہلی رات میں گرہن ہوگا جو اُس کے خسوف کی تین راتوں میں سے پہلی رات ہے یعنی تیرہویں رات۔ اور سورج کو اس کے گرہن کے دنوں میں سے اُس دن گرہن ہو گا جو درمیان کا دن ہے یعنی اٹھائیسویں تاریخ کو اور جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے کسی مدعی کے لئے یہ اتفاق نہیں ہوا ۔ کہ اُس کے دعویٰ کیوقت میں خسوف کسوف رمضان میں ان تاریخوں میں ہوا ہو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا اس غرض سے نہیں تھا کہ وہ خسوف کسوف قانون قدرت کے برخلاف ظہور میں آئے گا۔ اور نہ حدیث میں کوئی ایسا لفظ ہے۔ بلکہ صرف یہ مطلب تھا کہ اِس مہدی سے پہلے کسی مدعی صادق یا کاذب کو یہ اتفاق نہیں ہوا ہو گا کہ اس نے مہدویت یا رسالت کا دعویٰ کیا ہو۔ اور اس کے وقت میں ان تاریخوں میں رمضان میں خسوف کسوف ہوا ہو ۔ پس ان مولویوں کو چاہیئے تھا ۔ کہ اگر اس پیشگوئی کی صحت میں شک تھا تو ایسی کوئی نظیر سابق زمانہ میں سے بحوالہ کسی کتاب کے پیش کرتے ۔ جس میں لکھا ہوتا کہ پہلے ایسا دعویٰ ہو چکا ہے۔ اور اُس کے وقت میں ایسا خسوف کسوف بھی ہو چکا ہے مگر اس طرف تو انہوں نے رُخ بھی نہیں کیا۔ اور یہ احمقانہ عذر پیش کر دیا ہے کہ اس پیشگوئی کے یہ معنی ہیں کہ چاند کو رمضان کی پہلی رات میں گرہن لگیگا ۔ اور پندرہ تاریخ کو سورج گرہن ہو گا ۔ لاحول ولا قوۃ۔ ان احمقوں نے یہ معنی کس لفظ سے سمجھ لئے اے دابۃ الارض کے اندھو ! مولویت کو بدنام کرنے والو ! ذرہ سوچو !

۴۶

انجام آتھم صفحہ 45 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 329، 330 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 86 پر درج ہے

صفحہ 528

حوالہ نمبر 46

۳۷ آسمانی فیصلہ

خشک کر دیتا ہے اور کاٹ دیتا ہے اور اُس کی جگہ اور ٹہنیاں پھلوں اور پھولوں سے لدی ہوئی پیدا کر دیتا ہے۔ بٹالوی صاحب یاد رکھیں کہ اگر اِس جماعت سے ایک نکل جائیگا تو خدائے تعالیٰ اُس کی جگہ بیس لائیگا۔ اور اس آیت پر غور کریں فَسَوْفَ يَأْتِي اللّٰهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَافِرِينَ ؎ بالاٰخر ہم ناظرین پر ظاہر کرتے ہیں کہ میر عباس علی صاحب نے ۱۲؍دسمبر ۱۸۹۱؁ء میں مخالفانہ طور پر ایک اشتہار بھی شایع کیا ہے جو ترکِ ادب اور تحقیر کے الفاظ سے بھرا ہوا ہے۔ سو اُن الفاظ سے تو ہمیں کچھ غرض نہیں جب دِل بگڑتا ہے تو زبان ساتھ ہی بگڑ جاتی ہے لیکن اُس اشتہار کی تین باتوں کا جواب دینا ضروری ہے :۔

اوّل یہ کہ میر صاحب کے دل میں دہلی کے مباحثات کا حال خلافِ واقعہ جم گیا ہے۔ سو اِس وسوسہ کے دُور کرنے کے لئے میرا یہی اشتہار کافی ہے بشرطیکہ میر صاحب اس کو غور سے پڑھیں ٭

دوم یہ کہ میر صاحب کے دل میں سراسر فاش غلطی سے یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ گویا مَیں ایک نیچری آدمی ہوں معجزات کا منکر اور لیلۃ القدر سے انکاری اور نبوت کا مدعی اور انبیاء علیہم السلام کی اہانت کرنے والا اور عقایدِ اسلام سے منہ پھیرنے والا۔ سو اِن اوہام کے دُور کرنے کیلئے مَیں وعدہ کر چکا ہوں کہ عنقریب میری طرف سے اِس بارہ میں رسالہ مستقلہ شائع ہوگا۔ اگر میر صاحب توجّہ سے اس رسالہ کو دیکھیں گے تو بشرط توفیقِ ازلی اپنی بے بنیاد اور بے اصل بدظنیوں سے سخت ندامت اُٹھائیں گے ٭

سوم یہ کہ میر صاحب نے اپنے اُس اشتہار میں اپنے کمالات ظاہر فرما کر تحریر فرمایا ہے کہ گویا اُنکو رسولِؐ نمائی کی طاقت ہے۔ چنانچہ وہ اِسی اشتہار میں اِس عاجز کی نسبت لکھتے ہیں کہ اِس بارہ میں میرا مقابلہ نہیں کیا۔ مَیں نے کہا تھا کہ ہم دونوں کسی ایک مسجد میں بیٹھ جائیں اور پھر یا تو مجھ کو رسول کریمؐ کی زیارت کرا کر اپنے دعاوی کی تصدیق کرا دیجئے اور یا مَیں زیارت کرا کر اس بارہ میں فیصلہ کرا دُوں گا۔ میر صاحب کی اِس تحریر نے نہ صرف مجھے ہی تعجّب میں ڈالا بلکہ ہر ایک واقفِ حال سخت متعجّب ہو رہا ہے کہ اگر میر صاحب میں

؎ مائدہ : ۵۵ ۳۴۷

آسمانی فیصلہ صفحہ 37 مندرجہ روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 347 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 86 پر درج ہے

صفحہ 529

حوالہ نمبر 47

۹۵

خیال کرتا ہوں ۔ کیونکہ یہ امر لَّا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ پر موقوف ہے ۔ پھر میں اُن کا حَکَم ہونا کس وجہ سے منظور کروں ۔ ہاں اگر چند منتخب مولوی ان میں سے بطور طالب حق قادیان میں آجاویں تو میں زبانی انکو تبلیغ کر سکتا ہوں ۔ ورنہ خدا کا کام چل رہا ہے کوئی مخالف اسکو روک نہیں سکتا۔ مخالف سے فتویٰ لینا کیا معنے رکھتا ہے۔ ہاں البتہ ہم حافظ صاحب کے اس اشتہار سے ندوہ کیلئے ایک موقع تبلیغ کا نکالتے ہیں۔ حافظ صاحب یاد رکھیں کہ جو کچھ رسالہ قطع الوتین میں جھوٹے مدعیان نبوت کی نسبت بے سرو پا حکایتیں لکھی گئی ہیں وہ حکایتیں اُسوقت تک ایک ذرہ قابل اعتبار نہیں جبتک یہ ثابت نہ ہو کہ مفتری لوگوں نے اپنے اس دعوے پر اصرار کیا اور توبہ نہ کی ۔ اور یہ اصرار کیونکر ثابت ہو سکتا ہے جبتک اُسی زمانہ کی کسی تحریر کے ذریعہ سے یہ امر ثابت نہ ہو کہ وہ لوگ اسی افتراء اور جھوٹے دعویٰ نبوت پر مرے اور اُن کا کسی اُسوقت کے مولوی نے جنازہ نہ پڑھا ۔ اور نہ مسلمانوں کے قبرستانوں میں دفن کئے گئے ۔ اور ایسا ہی یہ حکایتیں ہرگز ثابت نہیں ہو سکتیں جبتک یہ ثابت نہ ہو کہ انکی تمام عمر کے مفتریات جنکو انہوں نے بطور افتراء خدا کا کلام قرار دیا تھا وہ اب کہاں ہیں اور ایسی کتاب انکی وحی کی کسی کے پاس ہے تا اس کتاب کو دیکھا جائے کہ کیا کبھی اُنہوں نے کسی قطعی یقینی وحی کا دعویٰ کیا اور اس بناء پر اپنے تئیں ظلی طور پر یا اصلی طور پر نبی اللہ ٹھہرایا ہے اور ایسی وحی کو دوسرے انبیاء علیہم السلام کی وحی کے مقابل پر منجانب اللہ ہونے میں برابر سمجھا ہے تَقَوُّل کے معنے اُس پر صادق آویں۔ حافظ صاحب کو معلوم نہیں کہ تَقَوُّل کا حکم قطعی اور یقینی کے متعلق ہے۔ پس جیسا کہ میں نے بار بار بیان کر دیا ہے کہ یہ کلام جو میں سناتا ہوں یہ قطعی اور یقینی طور پر خدا کا کلام ہے جیسا کہ قرآن اور توریت خدا کا کلام ہے اور میں خدا کا ظلی اور بروزی طور پر نبی ہوں اور ہر ایک مسلمان کو دینی امور میں میری اطاعت واجب ہے اور مسیح موعود ماننا واجب ہے ۔ اور ہر ایک جس کو میری تبلیغ پہنچ گئی ہے گو وہ مسلمان ہو مگر مجھے اپنا حکم نہیں ٹھہراتا اور نہ مجھے مسیح موعود مانتا ہے اور نہ میری وحی کو خدا کی طرف سے جانتا ہے وہ آسمان پر قابل مواخذہ ہو کیونکہ جس امر کو اُس نے اپنے وقت پر قبول کرنا تھا اُس کو ردّ کر دیا میں صرف

۱؎ الواقعة : ۸۰

تحفہ الندوہ صفحہ 7 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 95 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 86 پر درج ہے

صفحہ 530

حوالہ نمبر 48

ازالہ اوہام ۵۰۱ حصہ دوم لیکن یہ بات صحیح بخاری سے بھی معلوم ہو چکی ہے کہ مسیح ابن مریم فوت شدہ جماعت میں داخل ہے اور یحییٰ بن زکریا کے ساتھ دوسرے آسمان میں موجود ہے۔ اور خدا تعالیٰ یہی فرماتا ہے کہ کوئی نفس میری طرف بغیر مرنے کے نہیں آسکتا۔ لیکن کچھ شک نہیں کہ مسیح اس کی طرف اُٹھایا گیا سو وہ ضرور مر گیا۔ خدا تعالیٰ نے اپنی پاک کلام میں اس کو اِنّی مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ سے پکارا ہے۔ سو لفظ متوفی جن عام معنوں سے تمام قرآن اور حدیثوں میں مستعمل ہے وہ یہی ہے کہ روح کو قبض کرنا اور جسم کو معطل چھوڑ دینا۔ یہ بڑے تعصب کی بات ہے کہ تمام جہان کے لئے تو توفّی کے یہی معنے روح قبض کرنے کے ہوں لیکن مسیح ابن مریم کے لئے جسم قبض کرنے کے معنے لئے جاویں۔ کیا ہم خاص عیسیٰ کے لئے کوئی نئی لغت بنا سکتے ہیں جو کبھی اللہ

صفحہ 531

حوالہ نمبر 49

۳۲۹

اب دیکھو یہ تین سو تیرہ مخلص جو اس کتاب میں درج ہیں یہ اسی پیشگوئی کا مصداق ہے جو احادیث رسول اللہ صلی علیہ وسلم میں پائی جاتی ہے۔ پیشگوئی میں کدعہ کا لفظ بھی ہے جو صریح قادیان کے نام کو بتلا رہا ہے پس تمام مضمون اس حدیث کا یہ ہے کہ وہ مہدی موعود قادیان میں پیدا ہوگا۔ اور اس کے پاس ایک کتاب چھپی ہوئی ہوگی جس میں تین سو تیرہ اس کے دوستوں کے نام درج ہونگے۔ سو ہر ایک شخص سوچ سکتا ہے کہ یہ بات میرے قبضہ میں تو نہیں تھی کہ میں ان کتابوں میں جو اس زمانہ سے ہزار برس پہلے دنیا میں شائع ہوچکی ہیں اپنے گاؤں قادیان کا نام لکھ دیتا۔ اور نہ میں نے چھاپہ کی کل نکالی ہے تا یہ خیال کیا جاوے کہ میں نے اس غرض سے مطبع کو اس زمانہ میں ایجاد کیا ہے۔ اور نہ تین سو تیرہ مخلص اصحاب پیدا کرنا میرے اختیار میں تھا بلکہ یہ تمام اسباب خود خدا تعالیٰ نے پیدا کئے ہیں، تا وہ اپنے رسول کریم کی پیشگوئی کو پورا کرے۔

مگر اس زمانہ کے مولویوں کی حالت پر سخت افسوس ہے۔ کہ وہ نہیں چاہتے کہ کوئی پیشگوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری ہو۔ آتھم کی نسبت کیسی صفائی سے پیشگوئی پوری ہوئی خدا تعالیٰ کی الہامی شرط کے موافق اول آتھم سودائیوں کی طرح ڈرتا پھرا۔ اور باعث شدت خوف شرط سے فائدہ اُٹھایا۔ آخری ایام کی حالت میں خدا تعالیٰ کے قطعی الہام کے موافق داخل جہنم ہوا۔ اور یہی پیشگوئی تھی جس کی براہین احمدیہ کے صفحہ ۲۴۲ میں بھی آجسے سترہ برس پہلے خبر دی گئی تھی سو جب کہ اس پیشگوئی کی تکذیب میں پادریوں نے جھوٹ کی نجاست کھائی۔ عبدالحق اور عبدالمجید غزنویان وغیرہ مخالف مولویوں نے بھی وہ نجاست کھائی اور جیسا کہ عیسائیوں نے اسلام پر حملہ کیا انہوں نے بھی اسلام پر حملہ کیا۔ کیونکہ یہ نشان اسلام کی تائید میں تھا سو ان لوگوں نے اسلام کی کچھ پروا نہ کی اور کچھ بھی حیا اور شرم اور تقویٰ سے کام نہ لیا۔ اسی لئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کا نام یہودی رکھا۔ اگر یہ لوگ آتھم کے بارے میں کوئی سچی نکتہ چینی کرتے تو ہمیں کچھ افسوس نہ تھا مگر ان لوگوں نے تو اُس سچائی پر غصہ نکالا جو آفتاب کی طرح چمک رہی تھی عبدالحق غزنوی بار بار لکھتا ہے کہ پادریوں کی فتح ہوئی ہم اس کے جواب میں بجز اس کے کیا کہیں اور کیا لکھیں کہ اے بدذات یہودی صفت پادریوں کا اس میں منہ کالا ہوا۔ اور ساتھ ہی تیرا بھی۔ اور پادریوں پر ایک آسمانی لعنت پڑی اور ساتھ ہی وہ لعنت تجھ کو بھی کھا گئی اگر تو سچا ہے تو اب ہمیں دکھلا کہ آتھم کہاں ہے۔ اے خبیث کب تک تو جیئے گا۔ کیا تیرے لئے ایک دن موت کا مقرر نہیں۔

۴۵ انجام آتھم صفحہ 45 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 329 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 89 پر درج ہے

صفحہ 532

حوالہ نمبر 50

۲۴۶

۶ جنوری ۱۸۹۱ء

(الف) "خواب میں دیکھا کہ میرے پاس مرزا غلام قادر میرے بھائی کھڑے ہیں اور میں یہ آیت شریفہ اِس شخص کو پڑھتا ہوں غُلِبَتِ ۱؎ الرُّوْمُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ اور کہتا ہوں کہ أَدْنَى الْأَرْضِ سے قادیان مُراد ہے اور میں کہتا ہوں کہ قرآن شریف میں قادیان کا نام درج ہے۔"

(مکتوب پیر سراج الحق صاحب نعمانی ؓ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دستِ مبارک کے لکھے ہوئے میں سے)

(ب) ”ایک دفعہ ہمیں یہ الہام ہوا کہ :۔ ” غُلِبَتِ الرُّوْمُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُوْنَ “ اور مجھے دکھایا گیا کہ اس وعدہ کی آخری آیت تک جس قدر حروف ہیں ان میں اکمل اور اخلص موافقین کے نام بھی مخفی ہیں اور جو اشد انکار و عناد و مخالفت میں اپنی قوم میں سے ہیں ان کے نام بھی اس میں پوشیدہ ہیں۔ پھر فرمایا ہم نے دیکھا کہ ایک شخص نے أَدْنَى الْأَرْضِ پر قرآن شریف میں ہاتھ رکھا ہوا ہے اور کہتا ہے کہ یہ قادیان کا نام ہے۔"

(تذکرہ المہدی حصہ دوم صفحہ ۲۷ و مکتوب پیر سراج الحق صاحب نعمانی ؓ)

۲۷ فروری ۱۸۹۱ء

”فِيْهِ تَبْرِيَّا لِلْكِتَابِ فَهُوَ مُؤَيَّدٌ“

(مکتوب پیر سراج الحق صاحب نعمانی ؓ البشریٰ ۲؎ صفحہ ۵۵)

۱۸۹۱ء

خواجہ حسن نظامی صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک خط شائع کیا ہے جس کا اقتباس درج ذیل ہے :۔ ”ہم نے آپ کی صحت کے لئے خدا سے دُعا مانگی اور ہم کو الہام ہوا کہ خواجہ حسن نظامی ابھی بہت دن زندہ رہیں گے اور مسلمانوں کے بڑے بڑے کام کریں گے۔"

(الفضل جلد ۳۱ نمبر ۱۴۶ مورخہ ۱۲ اکتوبر ۱۹۴۳ء صفحہ ۶ بحوالہ اخبار منادی دہلی بابت ماہ ستمبر ۱۹۴۳ء صفحہ ۲۴)

۱؎ (ترجمہ از مرتب) رومی مغلوب ہوئے ۔ (نوٹ) یہ الہام حضرت اقدس علیہ السلام کے دستِ مبارک کے لکھے ہوئے سے نقل کئے گئے ۔

۲؎ البشریٰ مجموعہ الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام مرتبہ ۔ مکرم پیر سراج الحق صاحب نعمانی ؓ ۔ (مرتب)

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 649 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 92 پر درج ہے

صفحہ 533

حوالہ نمبر 51

۱۴۱

لٹکا رہ جب تک میں زندہ ہوں، جہاں تک میری طاقت ہے میں تیرا ساتھ دوں گا۔"

(ازالہ اوہام صفحہ ۱۱۸۔۱۱۹، روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۱۱۷، ۱۱۸)

"یہ سب مضمون ابو طالب کے قصّہ کا اگرچہ کتابوں میں درج ہے مگر یہ تمام عبارت الہامی ہے جو خدائے تعالیٰ نے اِس عاجز کے دل پر نازل کی۔ صرف کوئی کوئی فقرہ تشریح کے لئے اِس عاجز کی طرف سے ہے ۔"

(ازالہ اوہام صفحہ ۱۱۸ حاشیہ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۱۱۷ حاشیہ)

۱۸۹۱ء "صحیح مسلم میں یہ جو لکھا ہے کہ حضرت مسیح دمشق کے منارہ سفید شرقی کے پاس اُتریں گے.... دمشق کے لفظ کی تعبیر میں میرے پر مُنکشف الہاماً یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس جگہ ایسے قصبہ کا نام دمشق رکھا گیا ہے جس میں ایسے لوگ رہتے ہیں جو یزیدی الطبع اور یزید پلید کی عادات اور خیالات کے پیرو ہیں.... پھر مجھ پر ظاہر کیا گیا ہے کہ دمشق کے لفظ سے در اصل وہ مقام مراد ہے جس میں یہ دمشق والی شوم خصلت پائی جاتی ہے اور خدائے تعالیٰ نے مسیح کے اُترنے کی جگہ جو دمشق کو بیان کیا تو یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مسیح سے مراد وہ اصلی مسیح نہیں ہے جس پر انجیل نازل ہوئی تھی بلکہ مسلمانوں میں سے کوئی ایسا شخص مراد ہے جو اپنی روحانی حالت کی رُو سے مسیح سے اور نیز امام حسینؓ سے بھی مشابہت رکھتا ہے کیونکہ دمشق پایہ تخت یزید ہو چکا ہے اور یزیدوں کا منصوبہ گاہ جس سے ہزارہا طرح کے ظالمانہ احکام نافذ ہوئے وہ دمشق ہی ہے.... سو خدا تعالیٰ نے اُس دمشق کو جس سے ایسے پُرظلم احکام نکلتے تھے اور جس میں ایسے سنگ دل اور سیاہ درون لوگ پیدا ہو گئے تھے اس غرض سے نشانہ بنا کر رکھا کہ اب تمثیلی دمشق عدل اور ایمان پھیلانے کا ہیڈکوارٹر ہو گا کیونکہ اکثر نبی ظالموں کی بستی میں ہی آتے رہے ہیں اور خدا تعالیٰ لعنت کی جگہوں کو برکت کے مکانات بناتا رہا ہے ۔"

(ازالہ اوہام صفحہ ۶۸ تا ۷۰ حاشیہ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۱۳۴۔۱۳۶ حاشیہ)

۱۸۹۱ء " قادیان کی نسبت مجھے یہ بھی الہام ہوا کہ

اُخْرِجَ مِنْهُ الْيَزِيْدِيُّوْنَ

یعنی اس میں یزیدی لوگ پیدا کئے گئے ہیں ۔"

(ازالہ اوہام صفحہ ۷۲ حاشیہ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۱۴۸ حاشیہ)

۱۸۹۱ء (نو) "ایک صاف اور صریح کشف میں مجھ پر ظاہر کیا گیا کہ ایک شخص حارث نام یعنی حَرَّاثْ آنے والا جو

۱؎ حارث کے معنے زمیندار کے ہیں اور حراث سے مراد بڑا زمیندار ہے اور یہ بات حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں پائی جاتی ہے۔ (مرتب)

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 141 طبع چہارم از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 93 پر درج ہے

صفحہ 534

حوالہ نمبر 52

۵۹

يَغِيْضُوْا وَيَقُوْلُوْا نَحْنُ عُصْبَةٌ ۔ وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنْفُسُهُمْ ۔ وَقَالُوْا لَاتَ حِيْنَ مَنَاصٍ ۔ فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْ ۔ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ ۔ وَلَوْ أَنَّ قُرْآنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ ۔

کیا کہتے ہیں کہ ہم ایک قومی جماعت ہیں جو جواب دینے پر قادر ہیں عنقریب یہ ساری جماعت بھاگ جائیگی اور پیٹھ پھیرلیں گے۔ اور جب یہ لوگ کوئی نشان دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ ایک معمولی اور قدیم سحر ہے حالانکہ اُنکے دل اُن نشانوں پر یقین کر گئے ہیں اور دلوں میں اُنہوں نے سمجھ لیا ہے کہ اب گریز کی جگہ نہیں۔ اور یہ خدا کی رحمت ہے کہ تو ان پر نرم ہوا اور اگر تو سخت دل ہوتا تو یہ لوگ تیرے نزدیک نہ آتے اور تجھ سے الگ ہو جاتے۔ اگرچہ قرآن معجزات ایسے رکھتے ہیں جن سے پہاڑ جنبش میں آجاتے۔

یہ آیات اُن بعض لوگوں کے حق میں بطور الہام القا ہوئیں جن کا ایسا ہی خیال اور حال تھا اور شاید ایسے ہی اور لوگ بھی نکل آویں جو اس قسم کی باتیں کریں اور بدرجہ یقین کامل پہنچ کر پھر منکر رہیں۔

(براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ ۴۹۷ ، ۴۹۸ حاشیہ در حاشیہ ۱؎ ۔ روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۵۹۳-۵۹۴)

۱۸۸۳ء

پھر بعد اس کے الہام پایا :-

إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ قَرِيْبًا مِّنَ الْقَادِيَانِ - وَبِالْحَقِّ أَنْزَلْنَاهُ وَبِالْحَقِّ نَزَلَ - صَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهُ - وَكَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا -

یعنی ہم نے ان نشانوں اور عجائبات کو اور نیز اس الہام پُر از معارف وحقائق کو قادیان کے قریب اُتارا ہے۔ اور ضرورتِ حقہ کے ساتھ اتارا ہے اور بضرورتِ حقہ اُترا ہے۔ خدا اور اُس کے رسول نے خبر دی تھی کہ جو اپنے وقت پر پوری ہوئی اور جو کچھ خدا نے چاہا تھا وہ ہونا ہی تھا۔ یہ آخری فقرات اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس شخص کے ظہور کے لئے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی

۱؎ (نوٹ از مرتب) اس جگہ یہ واضح رہے ۔ ۱۲

۲؎ ”پس الہام پر نظر غور کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قادیان میں خدا تعالیٰ کی طرف سے اس عاجز کا ظاہر ہونا الہامی نوشتوں میں بطور پیشگوئی کے پہلے سے لکھا گیا تھا ..... اب جو ایک نئے الہام سے یہ بات پایۂ ثبوت پہنچ گئی کہ قادیان کو خدائے تعالیٰ کے نزدیک دمشق سے مشابہت ہے تو اُس پہلے الہام کے معنے بھی اس سے کھل گئے ..... اس کی تفسیر یہ ہے کہ إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ قَرِيْبًا مِنْ دِمَشْقَ بِطَرَفِ شَرْقِيٍّ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ - کیونکہ اس عاجز کی سکونتی جگہ قادیان کے شرقی کنارہ پر ہے“ (ازالہ اوہام صفحہ ۷۳ - ۷۴ حاشیہ - روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۱۳۸، ۱۳۹)

۳؎ ازالہ اوہام میں یہ فقرہ یوں ہے وَكَانَ وَعْدُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا - (ازالہ اوہام صفحہ ۷۴)

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 59 طبع چہارم از مرزا قادیانی حوالہ صفحہ 93 پر درج ہے

صفحہ 535

حوالہ نمبر 53

نزول المسیح ۴۲۰

یعنی طاعون پڑیگی ٭ اور بعد اس کے دوسرے عذاب بھی نازل ہونگے اسلئے ضروری تھا کہ مسیح اسلام کی تائید میں بھی یہ باتیں ظہور میں آتیں۔ اور بھی دلائل اِس بات پر بہت ہیں کہ یہی دابۃ الارض جس کا قرآن شریف میں ذکر ہے طاعون ہے اور بلاشبہ یہ زمینی بیماری ہے اور زمین میں سے ہی نکلتی ہے اس سے محفوظ رہنے کیلئے بعد اسکے جو ایک شخص اس جماعت میں داخل ہو اور تقویٰ اختیار کرے تکرار سورۃ فاتحہ کا حضورِ دل سے اور اسکے معنوں پر قائم ہونے سے بہت مُؤثر ہے جو شخص طاعون کی ناگہانی آفت سے بچنا چاہتا ہو اسکے لئے اس سے بہتر اور کوئی ذریعہ نہیں جو خدائے قادر ذوالجلال پر سچا ایمان لائے اور اپنے تمام اعضاء کو معاصی سے بچالے اور دین کو اور دینی خدمات کو دُنیا پر مقدم کر لے اور اس سلسلہ حقہ میں صدق اور اخلاص کے ساتھ داخل ہو جائے اور دلی جوش کے ساتھ دعائیں مانگتا رہے اور اپنی عورتوں کو جن کے شر کے بد اثر میں وہ بھی شریک ہو سکتا ہے غافلانہ زندگی سے بچاوے اور کوشش کرے کہ اُسکے گھر میں ذکر الٰہی ہو پھر اسکے ساتھ قرآن شریف کے جمیع احکام کا پابند ہو کر ظاہری پلیدیوں اور ناپاکیوں سے بھی اپنے گھر کو صاف رکھے جو شخص ظاہری پلیدیوں سے نفرت نہیں رکھتا اور اس کا گھر اور اس کے گھر کا صحن ناپاک رہتے ہیں وہ اندرونی پاکیزگی میں بھی سُست ہو سکتا ہے سو تم کوشش کرو کہ تمہارے گھر کا کوئی بھی حصہ ناپاک نہ ہو اور نہ ناپاک پانی اور کیچڑ بدروؤں میں کھڑا رہے اور نہ کوڑے میلے پھیلے رہیں۔ یہ خدا تعالیٰ کا حکم ہے جو قرآن شریف میں آچکا ہے۔ ایسے احکام جو خدا تعالیٰ کی کتاب میں آئے ہیں وہ اسلئے آئے ہیں تا تم سمجھو کہ جسمانی سلسلہ

٭ زکریا ۱۲۔ باب میں مذکور ہے کہ آخری زمانہ میں مسیح موعود کے عہد میں سخت طاعون پڑیگی ۔ اس زمانہ میں تمام فرقے دُنیا کے متفق ہونگے کہ یروشلم کو تباہ کریں۔ تب انہی دنوں میں طاعون چھوٹے گی اور اُسی دن یوں ہو گا کہ جیسا پانی یروشلم سے جاری ہو گا یعنی خدا کا مسیح ظاہر ہو جائے گا۔ اور اس جگہ یروشلم سے مراد بیت المقدس نہیں ہے بلکہ وہ مقام ہے جس سے دین کے زندہ کرنے کے لئے الٰہی تعلیم کا چشمہ جوش مارے گا اور وہ قادیان ہے۔ جو خدا تعالیٰ کی نظر میں دارالامان ہے۔ خدا تعالیٰ نے جیسا کہ اس اُمت کے خاتم الخلفاء کا نام مسیح رکھا ایسا ہی اسکے خروج کی جگہ کا نام یروشلم رکھ دیا اور اُس کے مخالفوں کا نام یہود رکھ دیا ۔ منہ ٭

۴۲۰

نزول المسیح صفحہ 44 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 420 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 93 پر درج ہے

صفحہ 536

حوالہ نمبر 54

۳۴۱

من الضربة * ۔ فلا تهنوا ولا تحزنوا وان الله معكم ان كنتم معه بالصدق والطاعة ۔ ولقد نصركم الله ببدر وانتم اذلة ۔ والآن اعيد اليكم البدر فى المرة الثانية ۔ وان الفتح قريب ولكن لا بالسيف والملحمة ۔ بل بالتضرع وعقد الهمة والادعية ۔ فلا تظنوا ظن السوء واسعوا الي كالصحابة ۔ ولا تموتوا الا وانتم مسلمون وصلوا على محمد خير البرية ۔ وان هذه مائة كليلة البدر عدة ۔ وكليلة القدر مرتبة فابشروا ببدركم منہ وانتظروا ايام النصرة ۔

في ذكر اهل الجرائد والأخبار

لعلك تقول بعد ذلك ان اهل الجرائد والاخبار يستحقون ان يُصلحوا مفاسد البلدان والديار ۔ فاقول يرحمك الله انه خطأ فى الافكار ۔ اتبرء من هؤلاء امراض النفوس ۔ ووساوس القسوس ۔ نعم لا شك ان هذه الصناعات تفيد قوما لو رعوه حق المراعات ۔ و تكون كهاد الى مجاهل ۔ وتقود الى مناهل ۔ وتكون كناصر للدينيات ۔ وان الجرائد مرآة تُرى الغائب كالمشهود ۔ والغابر كالموجود ۔ وتكون الوصلة الى بعض الخفايا ۔ بل قد تعين على فصل القضايا ۔ وترمى

فى الحاشية - اول بلدة يأمن الناس فيها اسمها لدهيانه - وهى اول ارض قامت الاشرار فيها للاهانة ۔ فلما كانت بيعة المخلصين - حربة لقتل الدجال اللعين - باشاعة الحق المبين - اشير فى الحديث ان المسيح يقتل الدجال على باب اللد بالضربة الواحدة - فلذا تضمن من لفظ لدهيانه كما لا يخفى على ذوى الفطنة -

الہدٰی صفحہ 92 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 341 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 94 پر درج ہے

صفحہ 537

حوالہ نمبر 55

ازالہ اوہام ۴۹۲ حصہ دوم

بادل اس حالت میں چلتا ہے جب کہ پیچھے اس کے ہوا ہو۔ یہ ایک لطیف اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ دجال کا گدھا کوئی جاندار مخلوق نہیں ہو گا بلکہ کسی ہوائی مادہ کے زور سے چلے گا۔

ساتھ تقدیر کے موافق کر دے گا اور اس کے ہاتھ پر زمین کو اسکی مرضی کے موافق آباد کریگا۔

سے مشرق کی طرف ہے۔ متفق علیہ۔

خزانے باہر نکل آئیں گے اور دجال کے پیچھے پیچھے جائیں گے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دجال زمین سے بہت فائدہ اٹھائے گا۔ اور اپنی تدبیروں سے زمین ۷۳۶ کو آباد کرے گا اور ویرانے کو خزانہ کر کے دکھائے گا پھر آخر باب لُدّ پر قتل کیا جائیگا لُدّ اُن لوگوں کو کہتے ہیں جو بے جا جھگڑنے والے ہوں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہو

یہ کہ انہوں نے کہاں سے سیکھ لیا ہے۔ کتاب الٰہی کی غلط تفسیروں نے انہیں بہت خراب کیا جن کا دلی اور دماغی قویٰ پر بہت برا اثر اُن سے پڑا ہے۔ اس زمانہ میں جو مرتبہ کتاب الٰہی کے لئے ضروری ہے کہ اس کی ایک سچی اور صحیح تفسیر کی جائے کیونکہ حال میں جن تفسیروں کی تعلیم دی جاتی ہے وہ نہ اخلاقی حالت کو درست کر سکتی ہیں اور نہ ایمانی حالت پر نیک اثر ڈالتی ہیں بلکہ فطری سعادت اور نیک روشنی کی مزاحم ہو رہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دراصل اپنے اکثر عقائد کی وجہ سے قرآن کریم کی تفسیر نہیں ہے ۷۳۷ قرآنی تعلیم ایسے لوگوں کے دلوں سے مٹ گئی ہے کہ گویا قرآن آسمان پر اُٹھایا گیا ہے۔ وہ ایمان جو قرآن نے سکھلایا تھا اس سے لوگ بے خبر ہیں وہ عرفان جو قرآن نے بخشا تھا اس سے لوگ غافل ہوگئے ہیں۔ ہاں یہ سچ ہے کہ قرآن پڑھتے ہیں مگر قرآن اُن کے حلق سے نیچے نہیں اُترتا۔ انہی معنوں سے

ازالہ اوہام صفحہ 730 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 492 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 94 پر درج ہے |

صفحہ 538

حوالہ نمبر 56 خطبہ الہامیہ ۲۱

لاقصى الذی بارکنا حولہ ۔ اور جس کے منارہ کا ذکر حدیث میں بھی ہے کہ مسیح کا نزول منارہ کے پاس ہوگا۔ دمشق کا ذکر اس حدیث میں جو مسلم نے بیان کی ہے اس غرض سے ہے کہ تین خدا بنانے کی تجویز ہی اول دمشق سے شروع ہوئی ہے اور مسیح موعود کا نزول اس

بقیہ حاشیہ صفحہ گذشتہ قرآن شریف کی یہ آیت کہ سبحن الذی اسریٰ بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الی المسجد الاقصا الذی بارکنا حولہ معراج مکانی اور زمانی دونوں پر مشتمل ہے اور بغیر اس کے معراج ناقص رہتا ہے۔ پس جیسا کہ سیر مکانی کے لحاظ سے خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد الحرام سے بیت المقدس تک پہنچا دیا تھا۔ ایسا ہی سیر زمانی کے لحاظ سے آنجناب کو شوکت اسلام کے زمانہ سے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ تھا برکات اسلامی کے زمانہ تک جو مسیح موعود کا زمانہ ہے پہنچا دیا۔ * پس اس پہلو کے رو سے جو اسلام کے انتہاء زمانہ تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سیر کشفی ہے، مسجد اقصیٰ سے مراد مسیح موعود کی مسجد ہے جو قادیان میں واقع ہے جس کی نسبت براہین احمدیہ میں خدا کا کلام یہ ہے ۔ مبارک و مبارک و کل امر مبارک یجعل فیہ ۔ اور یہ مبارک کا لفظ جو بصیغہ مفعول اور فاعل واقع ہوا قرآن شریف کی آیت بارکنا حولہ کے مطابق ہے۔ پس کچھ شک نہیں جو قرآن شریف میں قادیان کا ذکر ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ سبحان الذی اسریٰ بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الی المسجد الاقصا الذی بارکنا حولہ ۔ اس آیت کے ایک تو وہی معنے ہیں جو علماء میں مشہور ہیں ۔ یعنی یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مکانی معراج کا یہ بیان ہے ۔ مگر

حاشیہ در حاشیہ * شوکت اسلامی کا زمانہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ تھا اس کا اثر غالب یہ تھا کہ حضرت موسیٰ کی طرح مومنوں کو کفار کے حملہ سے نجات دی ۔ اس لئے بیت اللہ کا نام بھی بیت الامن رکھا گیا لیکن زمانہ برکات کا جو مسیح موعود کا زمانہ ہے اس کا یہ اثر ہے کہ ہر قسم کے آرام زمین میں پیدا ہو جائیں اور نہ صرف امن بلکہ عیش رغد بھی حاصل ہو ۔ منہ

۱؎ بنی اسرائیل : ۲

خطبہ الہامیہ صفحہ 21 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 21 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 95 پر درج ہے

صفحہ 539

حوالہ نمبر 57

تتمہ ۵۸۳ حقیقۃ الوحی

۱۴۵ پر جس نے میرا گلہ کیا ہے مَیں اُسکو گھسیٹوں گا اور اُس کو دوزخ دکھلاؤں گا میرے نشان روشن ہو جائیں گے۔ میرا دشمن ہلاک ہوگا۔ یعنی ہلاک ہو جائے گا۔ ہُن اُس دا لیکھا خدا نال پیا ہے۔ خدا نے اس جگہ میرا نام موسیٰ رکھا جیسا کہ آج سے چھبیس برس پہلے براہین احمدیہ کے کئی مقامات میں میرا نام موسیٰ رکھا گیا۔ خلاصہ الہام یہ ہے کہ اس زمانہ میں موسیٰ ایک ہی ہے دو نہیں ہیں۔ اور وہ جو دُوسرا موسیٰ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے وہ کاذب ہے اور پھر فرمایا کہ وہ جو میری طرف سے موسیٰ ہے۔ وقت آگیا ہے کہ میں اُسکو ظاہر کروں اور لوگوں میں اُس کو عزت دُوں۔ پر جسنے میرا گلہ کیا ہے یعنی محض دروغگوئی کے طور پر موسیٰ بنا ہے مَیں اُس کو گھسیٹوں گا۔ یعنے ذلّت دکھلاؤں گا اور ذلّت کی موت دُوں گا۔ اور اُس کو دوزخ دکھلاؤں گا۔ یعنے وہ طاعون میں مبتلا ہو کر مرے گا۔

یہ پیشگوئی پوری تصریح کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف سے تھی کیونکہ اُس زمانہ میں میرے مقابل پر موسیٰ ہونے کا دعویٰ کرنیوالا صرف بابو الٰہی بخش تھا جس کو خدا نے طاعون سے ہلاک کیا اور ان کی بیماری اور موت سے پہلے عام طور پر اخبار بدر اور الحکم کے ذریعہ ہزاروں انسانوں میں یہ الہام الٰہی شائع کیا گیا۔ آخر ایسا ہی ظہور میں آیا۔ یاد رہے کہ میرے تمام الہامات میں جہنم سے مراد طاعون ہے۔ پس یہ عظیم الشان پیشگوئی تھی جس میں پیش از وقت بتلایا گیا تھا کہ بابو الٰہی بخش صاحب طاعون سے فوت ہوں گے۔ نمونہ کے طور پر ذکر کرتا ہوں کہ جہنم سے مراد میرے الہامات میں طاعون ہے جیسا کہ ایک مدّت گذری کہ ایک الہام مجھے ہو چکا ہے اور وہ مع تشریح بدر اور الحکم میں شائع ہو چکا ہے اور وہ یہ ہے: يَأْتِي عَلَى جَهَنَّمَ زَمَانٌ لَيْسَ فِيهَا أَحَدٌ اسکی تشریح یہ کی گئی ہے کہ ایک زمانہ طاعون پر ایسا آئے گا کہ اس ملک میں ایک بھی نہ ہوگا کہ اس میں داخل ہو۔ یعنی عام طور پر خدا لوگوں کو اس بلا سے نجات دیدے گا۔ اور پھر ایک اور الہام ہے جس میں آگ سے مراد طاعون

یہ حقیقۃ الوحی صفحہ 145 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 583 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 95 پر درج ہے Back

صفحہ 540

حوالہ نمبر 58

۹

" اے نادانو! میری مراد نبوت سے یہ نہیں کہ میں نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل پر کھڑا ہو کر نبوت کا دعویٰ کرتا ہوں ۔ یا کوئی نئی شریعت لایا ہوں ۔ صرف مراد میری نبوت سے کثرت مکالمت ومخاطبت الٰہیہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے حاصل ہے ۔ سو مکالمہ مخاطبہ کے آپ لوگ بھی قائل ہیں ۔ پس یہ صرف لفظی نزاع ہوئی ۔ یعنی آپ لوگ جس امر کا نام مکالمہ ومخاطبہ رکھتے ہیں میں اسکی کثرت کا نام بحکم الٰہی نبوت رکھتا ہوں ۔ دیکھئے اس اصطلاح ۔ اور میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے مجھے بھیجا ہے اور اُسی نے میرا نام نبی رکھا ہے ۔ اور اسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے ۔

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص۶۸)

پس آپ کے دعویٰ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ۔ اور نہ ہی آپ کا کوئی الہام یا آپ کی کوئی تحریر منسوخ ہوئی ۔ بلکہ نبوت کی مسلمانوں میں رائج تعریف کے پیش نظر سنہ ۱۹۰۱ء سے پہلے آپ نبی کے لفظ کو ظاہر سے پھیر کر بمعنی محدث لیتے تھے لیکن سنہ ۱۹۰۱ء کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ پر جو نبوت کی حقیقت کا انکشاف کیا اسی پہلی چیز کا نام بحکم الٰہی نبوت رکھا اور اس نئی تعریف کے ماتحت اپنے آپ کو نبی قرار دیا ۔

دافع البلاء ومعیار اھل الاصطفاء

یہ رسالہ آپ نے اپریل سنہ ۱۹۰۲ء میں شائع فرمایا ۔ جب کہ پنجاب میں طاعون کا بہت زور تھا اس رسالہ میں طاعون سے متعلق آپ نے ان الہامات کا ذکر فرمایا ہے جن میں طاعون کی وباء کے پھیلنے کے متعلق پیشگوئی تھی ۔ اور یہ بھی بتایا گیا تھا کہ طاعون دنیا میں اس لئے آئی ہے کہ خدا کے مسیح کا نہ صرف انکار کیا گیا بلکہ اس کو دُکھ دیا گیا ۔ اس کے قتل کرنے کے منصوبے کئے گئے ۔ اس کا نام کافر اور دجال رکھا گیا ۔ اور پہلی کتابوں میں پیشگوئی پائی جاتی تھی کہ مسیح موعود کے ظہور کے وقت سخت طاعون پڑے گی ۔ اور فرمایا کہ اس کا یقینی علاج تو یہی ہے کہ اس مسیح کو سچے دل اور اخلاص سے قبول کیا جائے اور اپنی زندگیوں میں ایک روحانی تبدیلی پیدا کی جائے ۔ نیز وحی الٰہی

روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 9 دیباچہ از جلال الدین شمس قادیانی یہ حوالہ صفحہ 95 پر درج ہے

صفحہ 541

حوالہ نمبر 59

تذکرۃ الشہادتین ۴۶

کیونکہ امتی نبی ہے۔ نبوت اس سے منفک نہیں ہو سکتی۔ اور ایک فقرہ یہ ذکر کیا کہ احادیث میں ہے کہ مسیح موعود دو ۴۲ زرد رنگ چادروں میں اُتریگا۔ ایک چادر بدن کے اُوپر کے حصّہ میں ہوگی اور دُوسری چادر بدن کے نیچے کے حصّہ میں۔ سو میں نے کہا کہ یہ اس طرف اشارہ تھا کہ مسیح موعود بیماریوں کے ساتھ ظاہر ہو گا کیونکہ تعبیر کے علم میں زرد کپڑے سے مراد بیماری ہے۔ اور وہ دونوں بیماریاں مجھ میں ہیں یعنی ایک سر کی بیماری اور دوسری کثرت پیشاب اور دستوں کی بیماری۔ ابھی وہ اِسی جگہ تھے کہ بوجہ یقین اور ہماری تصدیق کی وجہ سے اُن پر الہام اور وحی کا دروازہ کھولا گیا اور خدا تعالیٰ کیطرف سے کھلے لفظوں میں میری تصدیق کے بارے میں اُنہوں نے شہادتیں پائیں جنکی وجہ سے آخر کار اُنہوں نے اس شہادت کا شربت اپنے لئے منظور کیا جسکے مفصل لکھنے کیلئے اب وقت آ گیا ہے۔ یقیناً یاد رکھو کہ جس طرز سے انہوں نے میری تصدیق کی راہ میں مرنا قبول کیا۔ اِس قسم کی موت اسلام کے تیرہ سو برس کے سلسلہ میں بجز نمونہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے اور کسی جگہ نہیں پاؤ گے۔ پس بلاشبہ اس طرح انکار کرنا اور میری تصدیق میں نقد جان خدا تعالیٰ کے حوالہ کرنا یہ میری سچائی پر ایک عظیم الشان نشان ہے۔ مگر اُن کیلئے جو سمجھ رکھتے ہیں۔ انسان سُکھ چین کی حالت میں کب چاہتا ہے کہ اپنی جان دیوے۔ اور اپنی بیوی اور اپنے بچوں کو تباہی میں ڈالے۔ پھر تعجب تو یہ کہ یہ بزرگ معمولی انسان نہیں تھا۔ بلکہ ریاست کابل میں کئی لاکھ کی انکی اپنی جاگیر تھی اور انگریزی عملداری میں بھی بہت سی زمین تھی۔ اور طاقت علمی اس درجہ تک تھی کہ ریاست کے تمام مولویوں کا انکو سرغنہ قرار دیا تھا۔ وہ سب سے زیادہ عالم علم قرآن اور حدیث اور فقہ میں سمجھے جاتے تھے اور نئے امیر کی دستار بندی کی رسم بھی انہیں کے ہاتھ سے ہوتی تھی۔ اور اگر امیر فوت ہو جائے تو اُسکے جنازہ پڑھنے کیلئے بھی یہی مقرر تھے۔ یہ وہ باتیں ہیں جو ہمیں متواتر ذریعہ سے پہنچی ہیں ۔ اور انکی خاص زبان سے میں نے سُنا تھا کہ ریاست کابل میں پچاس ہزار کے قریب اُنکے معتقد اور ارادتمند ہیں جن میں سے بعض ارکانِ ریاست بھی تھے۔ غرض یہ بزرگ مُلک کابل میں ایک فرد تھا۔ اور کیا علم کے لحاظ سے اور کیا تقویٰ کے لحاظ سے اور کیا جاہ اور مرتبہ کے لحاظ سے اور کیا خاندان کے لحاظ سے اُس ملک میں اپنی نظیر نہیں رکھتا تھا۔ اور علاوہ مولوی کے خطاب کے صاحبزادہ اور اخوند زادہ اور شاہزادہ کے لقب سے اُس ملک میں مشہور تھے۔ اور شہید مرحوم ایک بڑا کتب خانہ حدیث اور

تذکرہ الشہادتین صفحہ 46 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 96 پر درج ہے

صفحہ 542

حوالہ نمبر 60

بعض اعتراضوں کے جواب ۳۲۰ حقيقة الوحى

کے لئے ضروری ہے پورے طور پر میسر آگیا۔ ہاں دو مرض میرے لاحق حال ہیں۔ ایک بدن کے اُوپر کے حصّہ میں ۔ اور دوسری بدن کے نیچے کے حصّہ میں ۔ اُوپر کے حصّہ میں دورانِ سر ہے اور نیچے کے حصّہ میں کثرتِ پیشاب ہے اور دونوں مرضیں اُسی زمانہ سے ہیں جس زمانہ سے میں نے اپنا دعویٰ مامور من اللہ ہونے کا شائع کیا ہو۔ میں نے ان کے لئے دُعائیں بھی کیں مگر منع میں جواب پایا اور میرے دِل میں القاء کیا گیا کہ ابتداء سے مسیح موعود کیلئے یہ نشان مقرر ہے کہ وہ دو زرد چادروں کے ساتھ دو فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے اُترے گا۔ سو یہ وہی دو زرد چادریں ہیں جو میری جسمانی حالت کے ساتھ شامل کی گئیں۔ انبیاء علیہم السلام کے اتفاق سے زرد چادر کی تعبیر بیماری ہے اور دو زرد چادریں دو بیماریاں ہیں جو دو حصہ بدن پر مشتمل ہیں اور میرے پر بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے یہی کھولا گیا ہے کہ دو زرد چادروں سے مراد دو بیماریاں ہیں اور ضرور تھا کہ خدا تعالیٰ کا فرمودہ پورا ہوتا۔

یاد رہے کہ مسیح موعود کی خاص علامتوں میں سے یہ لکھا ہے کہ (۱) وہ دو زرد چادروں کے ساتھ اُترے گا (۲) اور نیز یہ کہ دو فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے اُتریگا (۳) اور نیز یہ کہ کافر اُسکے دم سے مریں گے (۴) اور نیز یہ کہ وہ ایسی حالت میں دکھائی دیگا کہ گویا غسل کر کے حمام میں سے نکلا ہے اور پانی کے قطرے اُس کے سر پر سے موتیوں کے دانوں کی طرح ٹپکتے نظر آئیں گے (۵) اور نیز یہ کہ وہ دجال کے مقابل پر خانہ کعبہ کا طواف کریگا (۶) اور نیز یہ کہ وہ صلیب کو توڑیگا (۷) اور نیز یہ کہ وہ خنزیر کو قتل کریگا (۸) اور نیز یہ کہ وہ بیوی کریگا اور اُسکی اولاد ہوگی (۹) اور نیز یہ کہ وُہی ہے جو دجال کا قاتل ہوگا (۱۰) اور نیز یہ کہ مسیح موعود قتل نہیں کیا جائیگا بلکہ فوت ہوگا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں داخل کیا جائیگا۔ وتلك عشرة كاملة ۔ پس دو زرد چادروں کی نسبت ہم بیان کرچکے ہیں کہ وہ دو بیماریاں ہیں جو بطور

۳۲۰

یہ حوالہ صفحہ 96 پر درج ہے حقیقة الوحی صفحہ 320، مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 320 از مرزا قادیانی

صفحہ 543

(حوالہ نمبر 61)

اربعین نمبر ۴ ۴۷۰

دشمن ہو گئے مگر ہر ایک خدا کا فرستادہ جو بھیجا جاتا ہے ضرور ایک ابتلاء ساتھ لاتا ہے ۔ حضرت عیسیٰ جب آئے تو بدقسمت یہودیوں کو یہ ابتلاء پیش آیا کہ ایلیا دوبارہ آسمان سے نازل نہیں ہوا ۔ اور ضرور تھا کہ پہلے ایلیا آسمان سے نازل ہوتا تب مسیح آتا ۔ جیسا کہ ملاکی نبی کی کتاب میں لکھا ہے ۔ اور جب ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو اہل کتاب کو یہ ابتلاء پیش آیا کہ یہ نبی بنی اسرائیل میں نہیں آیا ۔ اب کیا ضرور نہ تھا کہ مسیح موعود کے ظہور کے وقت بھی کوئی ابتلاء ہو ۔ اور اگر مسیح موعود تمام باتیں اسلام کے تہتّر فرقہ کی مان لیتا تو پھر کن معنوں سے اس کا نام حَکَم رکھا جاتا ۔ کیا وہ باتوں کو ماننے آیا تھا یا منوانے آیا تھا ؟ تو اس صورت میں اسکا آنا بھی بے سود تھا ۔ سو اے قوم ! تم ضِدّ نہ کرو ۔ ہزاروں باتیں ہوتی ہیں جو قبل از وقت سمجھ نہیں آتیں ۔ ایلیا کے دوبارہ آنے کی اصل حقیقت حضرت مسیح سے پہلے کوئی نبی سمجھا نہ سکا تا یہود حضرت مسیح کے ماننے کے لئے تیار ہو جاتے ۔ ایسا ہی اسرائیلی خاندان میں سے خاتم الانبیاء آنے کا خیال جو یہود کے دل میں مرکوز تھا اس خیال کو بھی کوئی نبی پہلے نبیوں میں سے صفائی کے ساتھ دُور نہ کر سکا ۔ اسی طرح مسیح موعود کا مسئلہ بھی مخفی چلا آیا تا سُنّت اللہ کے موافق اس میں بھی ابتلاء ہو ۔ بہتر تھا کہ میرے مخالف اگر ان کو ماننے کی توفیق نہیں دی گئی تھی تو بارے کچھ مُدّت زبان بند رکھ کر اور کَفِّ لسان اختیار کر کے میرے انجام کو دیکھتے اب جس قدر عوام نے بھی گالیاں دیں یہ سب گناہ مولویوں کی گردن پر ہے افسوس یہ لوگ فراست سے بھی کام نہیں لیتے ۔ مَیں ایک دائم المرض آدمی ہوں اور وہ دو زرد چادریں جن کے بارے میں حدیثوں میں ذکر ہے کہ ان دو چادروں میں مسیح نازل ہو گا وہ دو زرد چادریں میرے شامل حال ہیں جن کی تعبیر علم تعبیر الرؤیا کے رُو سے دو بیماریاں ہیں ۔ سو ایک چادر میرے اوپر کے حصّہ میں ہے کہ ہمیشہ سر درد اور

١٢٨

یہ حوالہ صفحہ 97 پر درج ہے

(اربعین نمبر 3، 4 ضمیمہ صفحہ 4 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 470، 471 از مرزا قادیانی)

صفحہ 544

حوالہ نمبر 61

۴۷۱ اربعین نمبر ۴ دوران سر اور کمی خواب اور تشنج دل کی بیماری دورہ کے ساتھ آتی ہے ۔ اور دوسری بیماری جو میرے نیچے کے حصہ بدن میں ہے وہ بیماری ذیابیطس ہے کہ ایک مدت سے دامنگیر ہے اور بسا اوقات سو سو دفعہ رات کو یا دن کو پیشاب آتا ہے اور اس قدر کثرت پیشاب سے جس قدر عوارض ضعف وغیرہ ہوتے ہیں وہ سب میرے شامل حال رہتے ہیں ۔ بسا اوقات میرا یہ حال ہوتا ہے کہ نماز کے لئے جب زینہ چڑھکر اوپر جاتا ہوں تو مجھے اپنے ظاہر حالت پر امید نہیں ہوتی کہ زینہ کی ایک سیڑھی سے دوسری سیڑھی پر پاؤں رکھتے تک میں زندہ رہوں گا ۔ اب جس شخص کی زندگی کا یہ حال ہے کہ ہر روز موت کا سامنا اس کے لئے موجود ہوتا ہے اور ایسے مریضوں کے انجام کی نظیریں بھی موجود ہیں تو وہ ایسی خطرناک حالت کے ساتھ کیونکر افتراء پر جرات کرسکتا ہے اور وہ کس صحت کے بھروسے پر کہتا ہے کہ میری اسی برس کی عمر ہوگی ۔ حالانکہ ڈاکٹری تجارب تو اس کو موت کے پنجہ میں ہر وقت پھنسا ہوا خیال کرتے ہیں ۔ ایسی مرضوں والے مدقوق کی طرح گداز ہو کر جلد مرجاتے ہیں یا کاربنکل یعنی سرطان سے ان کا خاتمہ ہو جاتا ہے ۔ تو پھر جس زور سے میں ایسی حالت پُر خطر میں تبلیغ میں مشغول ہوں کیا کسی مفتری کا کام ہے ۔ جب میں بدن کے اوپر کے حصہ میں ایک بیماری ۔ اور بدن کے نیچے کے حصہ میں ایک دوسری بیماری دیکھتا ہوں تو میرا دل محسوس کرتا ہے کہ یہ وہی دو چادریں ہیں جن کی خبر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے ۔

میں محض نصیحتاً بوجہ مخالفت علماء اور ان کے ہمخیال لوگوں کو کہتا ہوں کہ گالیاں دینا اور بد زبانی کرنا طریق شرافت نہیں ہے ۔ اگر آپ لوگوں کی یہی طینت ہے تو خیر آپ کی مرضی ۔ لیکن اگر مجھے آپ لوگ کاذب سمجھتے ہیں تو آپ کو یہ بھی تو اختیار ہے کہ مساجد میں اکٹھے ہو کر یا الگ الگ میرے پر بددعائیں کریں

۴۲۹

(اربعین نمبر 3، 4 ضمیمہ) صفحہ 4 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 470، 471 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 97 پر درج ہے

صفحہ 545

(حوالہ نمبر 62)

۳۲

السلام علیکم۔ الہاماً خدا تعالیٰ کا فضل ہے۔ بندہ کی الہام میں فضیلت نہیں۔ بلکہ اعمال صالحہ میں فضیلت ہے۔ اور اصل یہ ہے کہ خدا تعالیٰ اس سے راضی ہو جائے سو نیک کاموں میں کوشش چاہیے تاکہ موجب نجات ہو۔ والسلام۔ مرزا غلام احمد

مسیح موعود کے لیے نمازیں جمع کی جائیں گی

چونکہ کچھ مدت سے حضرت کی طبیعت دن کے دوسرے حصہ میں اکثر خراب ہو جاتی ہے۔ اس لیے نماز مغرب اور عشاء گھر میں باجماعت پڑھ لیتے ہیں۔ باہر تشریف نہیں لاسکتے۔ ایک دن نماز مغرب کے بعد چند عورتوں کو مخاطب کر کے فرمایا جو سننے کے قابل ہے۔ (ایڈیٹر الحکم)

فرمایا : کوئی یہ نہ دل میں گمان کرے کہ یہ روز گھر میں جمع کر کے نماز پڑھا دیتے ہیں اور باہر نہیں جاتے۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی کی کہ آنیوالا شخص نماز جمع کیا کرے گا۔ سو چھ مہینے تک تو باہر جمع کرتا رہا۔ اور اب میں نے چاہا کہ عورتوں میں بھی اس پیشگوئی کو پورا کر دینا چاہیے۔ چونکہ بغیر ضرورت کے نماز جمع کرنا ناجائز ہے اس لیے خدا تعالیٰ نے مجھ کو بیمار کر دیا اور اس طرح سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کو پورا کر دیا۔ ہر ایک مسلمان کا فرض ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کو پورا کرے۔ کیونکہ وہ پورا نہ ہو تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ جھوٹے ٹھہرتے ہیں۔ اس لیے ہر ایک کو وہ بات جو اس کے اختیار میں ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کہنے کے موافق پوری کر دینی چاہیے اور خدا تعالیٰ خود بھی سامان مہیا کر دیتا ہے جیسا کہ مجھ کو بیمار کر دیا تاکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کو پورا کردے۔ جیسا کہ ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابیؓ سے فرمایا کہ تیرا اس وقت کیا حال ہو گا جبکہ تیرے ہاتھ میں کسریٰ کے سونے کے کڑے پہنائے جائیں گے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب کسریٰ کا ملک فتح ہوا۔ تو حضرت عمرؓ نے اس کو سونے کے کڑے جو لوٹ میں آئے تھے، پہنائے۔ حالانکہ سونے کے کڑے یا کوئی اور چیز سونے کی مردوں کے لیے ایسی ہی حرام ہے جیسا کہ اور حرام چیزیں۔ لیکن چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے یہ بات نکلی تھی اس لیے پوری کی گئی۔ اسی طرح ہر ایک دوسرے انسان کو بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کو پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

دو زرد چادروں سے مراد

فرمایا کہ : دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے

ملفوظات جلد پنجم ، صفحہ 32 ، 33 طبع جدید از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 98 پر درج ہے

صفحہ 546

حوالہ نمبر 62

۲۲

پیشگوئی کی تھی جو اسی طرح وقوع میں آئی۔ آپ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب اُترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی تو اسی طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں ایک اُوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی۔ یعنی مراق اور کثرت بول۔ ہمارے مخالف مولوی اس کے معنے یہ کرتے ہیں کہ وہ سچ مچ جوگیوں کی طرح دو چادریں اوڑھے ہوئے آسمان نیچے اُتریں گے لیکن یہ غلط ہے چونکہ معبروں نے ہمیشہ زرد چادر کے معنے بیماری کے ہی لکھے ہیں۔ ہر ایک شخص جو زرد چادر دیکھے یا کوئی اور زرد چیز تو اس کے معنے بیماری کے ہی ہوں گے اور ہر ایک شخص جو ایسا دیکھے آزما سکتا ہے کہ اس کے معنے یہی ہیں۔

صلح پسندی کے ساتھ

مذہب کی غیرت ضروری ہے

دو عورتوں کے جھگڑے پر فرمایا کہ : قرآن شریف میں آیا ہے وَالصُّلْحُ خَيْرٌ (النساء : ١٢٨) اس لیے اگر آپس میں کوئی لڑائی جھگڑا ہو جائے تو صلح کر لینی چاہیے کیونکہ اس میں خیر اور برکت ہے۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ غیر مذاہب کے ساتھ بھی یہ بات رکھی جائے بلکہ اُن کے ساتھ سخت مذہبی عداوت رکھنا چاہیے۔ بیشک مذہب کی غیرت نہ ہو انسان کا مذہب ٹھیک نہیں ہوتا ۔ اب یہ جو ہندو عیسائی ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نکالتے ہیں تو کیا ہم اُن کے ساتھ صلح رکھ سکتے ہیں بلکہ ان کی صفوں میں بیٹھنا اور ان کے ساتھ دوستی کرنا اور ان کے گھروں میں جانا تو معصیت میں داخل ہے

جھگڑوں کی بنیاد بدظنی ہوتی ہے

ہاں آپس میں جو ایک فرقہ میں ہوں تو لڑائی جھگڑا کی زیادہ تر بنیاد بدظنی ہوتی ہے۔ حدیث میں ہے کہ دوزخ میں دو تہائی آدمی بدظنی کی وجہ سے داخل ہوں گے۔ خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ قیامت کے دن میں لوگوں سے پوچھوں گا کہ اگر تم مجھ پر بدظنی نہ کرتے تو یہ کیوں ہوتا ۔ حقیقت میں اگر لوگ خدا تعالیٰ پر بدظنی نہ کرتے تو یہ کیوں ہوتا ۔ حقیقت میں اگر لوگ خدا تعالیٰ پر بدظنی نہ کرتے تو اس کے احکام پر کیوں نہ چلتے انہوں نے خدا تعالیٰ پر بدظنی کی اور کفر اختیار کیا۔ اور بعض تو خدا کے وجود تک کے منکر ہو گئے۔ تمام فسادوں اور لڑائیوں کی وجہ یہی بدظنی ہے۔

پیشگوئیوں کے مطابق زلزلوں کا وقوع

زلزلہ کی نسبت بطور خاص فرمایا کہ : قرآن شریف میں زلزلہ آنے کی خبر دی گئی ہے کہ مسیح کے وقت ایسے زلزلے آئیں گے کہ شدت میں نہایت ہی سخت ہوں گے۔ ابتک ان مولویوں نے

ملفوظات جلد پنجم ، صفحہ 32، 33 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 98 پر درج ہے

صفحہ 547

(حوالہ نمبر 63)

۵۵ تعلق کامل رکھتا ہے۔.... پس جاننا چاہیئے کہ جس جگہ ایک ہی دل میں ایک حالت اثنینیت کے ساتھ دو قسم کا رجوع پایا گیا ایک خدائے تعالیٰ کی طرف جو وجود قدیم ہے اور ایک اُس کے بندوں کی طرف جو وجود محدث ہے اور دونوں قسم کا وجود یعنی قدیم اور حادث ایک دائرہ کی طرح ہے جس کی طرف اعلیٰ وجوب اور طرف اسفل امکان ہے۔ اب جس دائرہ کے درمیان میں انسان کامل بوجہ اُتار اور ترقی کے دونوں طرف سے اتصال پکڑ کر کے یوں مشابہ بصورت پیدا کر لیتا ہے جیسے ایک وتر دائرہ کے دو قوسوں میں ہوتا ہے یعنی حق اور خلق میں واسطہ ٹھہر جاتا ہے۔ پہلے اس کو اُتار اور قرب الہی کی خلعتِ خاص عطا کی جاتی ہے اور قرب کے اعلیٰ مقام تک صعود کرتا ہے جو حقیقت کی طرف اُس کو لایا جاتا ہے۔ پس اس کا یہ صعود اور نزول دو قوسوں کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے اور نفسِ برزخ بمقتضائے انسانِ کامل اُن دونوں قوسوں میں قابِ قوسین کی طرح ہوتا ہے اور قاب عرب کے محاورہ میں کمان کے چلہ پر اطلاق پاتا ہے۔ پس آیت کے بظاہر تحت اللفظ یہ معنے ہوئے کہ نزدیک ہوا یعنی خدا سے پھر اُترا یعنی خلقت پر ۔ پس اپنے اِسی صعود اور نزول کی وجہ سے دو قوسوں کے لئے ایک ہی وتر ہو گیا ۔ اور چونکہ جس کا یہ تخلق پورا پختہ بصبغۃ تخلق باخلاق اللہ سے ہے اس لئے اُس کی توجہ بخلق توجہ بخالق کے عین ہے یا یوں سمجھو کہ چونکہ وہ بحقیقت یعنی غایت شفقت علی العباد کی وجہ سے اِس قدر بندوں کی طرف رجوع رکھتا ہے کہ گویا وہ بندوں کے پاس ہی خیمہ زن ہے پس جبکہ سالک سَیر اِلیٰ اللہ کرتا کرتا اپنی کمالِ سیر کو پہنچ گیا تو جہاں خدا تھا وہیں اُس کو ڈیرہ کرنا پڑا۔ پس اِس وجہ سے کمان وَتَر یعنی قُربِ تام اُس کی منزل یعنی ہبوط کا موجب ہو گیا “۔

(براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ ۵۵۸ تا ۵۶۰ حاشیہ در حاشیہ ۱۱

روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۶۶۸ تا ۶۷۰ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۱۱)

۱۸۸۳ء

يُحْيِ الدِّيْنَ وَيُقِيمُ الشَّرِيعَةَ زندہ کرے گا دین کو اور قائم کرے گا شریعت کو

يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ يَا مَرْيَمُ اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ يَا أَحْمَدُ اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ نَفَخْتُ فِيكَ مِنْ لَدُنِّي رُوْحَ الصِّدْقِ - اے آدم ، اے مریم ۱؎ ، اے احمد تو اور جو شخص تیرا تابع اور رفیق ہے جنت میں یعنی نجاتِ حقیقی کے وسائل میں داخل ہو جاؤ۔ مَیں نے اپنی طرف سے سچائی کی رُوح تجھ میں پھونک دی ہے۔

۱؎ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اِن الہامات کی تشریح فرماتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: ”اس میں مریم سے مَیں ہی مراد ہوں ۔ اور نہ آدم سے آدم ابوالبشر مراد ہے اور نہ احمد سے اِس جگہ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں اور ایسا ہی اِن الہامات کے تمام مقامات

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 56،55 طبع چہارم از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 98 پر درج ہے

صفحہ 548

حوالہ نمبر 63

۵۹

اس آیت میں بھی روحانی آدم کا وہی تسمیہ بیان کیا گیا یعنی جیسا کہ حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش بلا توسط اسباب ہے ایسا ہی روحانی آدم میں بلا توسط اسباب ظاہریہ نفخ روح ہوتا ہے۔ اور یہ نفخ روح حقیقی طور پر انبیاء علیہم السلام سے خاص ہے اور پھر بطور تبعیت اور وراثت کے بعض افراد خاصہ اُمتِ محمدیہ کو یہ نعمت عطا کی جاتی ہے۔“

(براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ ۴۹۶ ، ۴۹۷ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۲ ۔ روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۵۹۰ ، ۵۹۱)

۱۸۸۳ء

وَكُنْتُ نَسْيًا مَّنْسِيًّا ۔ (کشتی نوح صفحہ ۴۷ ۔ روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۵۱)

نسبت میری گھبراہٹ ظاہر کرنے کے لئے یہ الہام ہوا تھا۔

بقیہ حاشیہ: ہیں کہ جو عیسیٰ اور موسیٰ اور داؤد وغیرہ نام بیان کئے گئے ہیں اُن ناموں سے بھی وہ انبیاء مُراد نہیں ہے بلکہ ہر ایک جگہ یہی عاجز مُراد ہے اب جبکہ اس جگہ مریم کے لفظ سے کوئی مؤنث مراد نہیں ہے بلکہ ذکر تو مرد کا ہے تو قاعدہ یہی ہے کہ اس کے لئے صیغہ مذکر ہی لایا جائے یعنی يَا مَرْيَمُ اسْكُنْ کہا جائے ۔ ۔ ۔ اور زوج کے لفظ سے رُفقاء اور قُرباء مراد ہیں زوج مراد نہیں ہے اور لُغَت میں یہ لفظ دونوں طور پر اطلاق پاتا ہے اور جَنَّت کا لفظ اس عاجز کے الہامات میں کبھی اُس جنّت پر بولا جاتا ہے کہ جو آخرت سے تعلق رکھتا ہے اور کبھی دُنیا کی خوشی اور فتح یابی اور سُرور اور آرام پر بولا جاتا ہے ۔

(مکتوبات احمدیہ جلد اوّل صفحہ ۸۳ مکتوب مورخہ ۳۱؍ فروری ۱۸۸۴ء بنام میر عباس علی شاہ صاحب)

۱؎ کشتی نوح میں جو ۱۹۰۲ء کی تصنیف ہے حضرت اقدس تحریر فرماتے ہیں : ”پس جبکہ ایک مُدّت اُس پر گزر گئی ہے اور مجھے یاد نہیں کہ میں نے وہ الہام اپنے کسی رسالہ یا اشتہار میں شائع کیا ہے یا نہیں لیکن یہ یاد ہے کہ صدہا لوگوں کو میں نے سنایا تھا اور میری یادداشت کے احاطہ میں موجود ہے اور وہ اُس زمانہ کا ہے جبکہ خدا نے مجھے پہلے مریم کا خطاب دیا اور پھر عیسیٰ ہونے کا الہام کیا پھر بعد اس کے یہ الہام ہوا تھا فَاَجَاءَهَا الْمَخَاضُ اِلٰی جِذْعِ النَّخْلَةِ ۔ قَالَتْ يَا لَيْتَنِيْ مِتُّ قَبْلَ ھٰذَا وَكُنْتُ نَسْيًا مَّنْسِيًّا یعنی پھر مریم کو جو مُراد اِس عاجز سے ہے دردِ زہ تنہ کھجور کی طرف لے آئی یعنی عوام الناس اور جاہلوں اور بے سمجھ علماء سے واسطہ پڑا جن کے پاس ایمان کا پھل نہ تھا جنہوں نے تکفیر وتوہین کی اور گالیاں دیں اور ایک طوفان برپا کیا ۔ تب مریم نے کہا کہ کاش میں اس سے پہلے مرجاتی اور میرا نام و نشان باقی نہ رہتا۔ یہ اس شور کی طرف اشارہ ہے جو ابتداء میں مولویوں کی طرف سے بہ ہیجانِ جوش پڑا اور وہ اس دعوے کو برداشت نہ کرسکے اور مجھے ہر ایک حیلہ سے انہوں نے فنا کرنا چاہا تب اُس وقت جو کرب اور قلق ناسمجھوں کا شور و غوغا دیکھ کر میرے دل پر گزرا اُس کا اِس جگہ خدا تعالیٰ نے نقشہ کھینچ دیا ہے ۔“

(کشتی نوح صفحہ ۴۶ ، ۴۷ ۔ روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۵۱)

یہ حوالہ صفحہ 98 پر درج ہے | طبع چہارم از مرزا قادیانی | تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 55 ، 56

صفحہ 549

حوالہ نمبر 64

ازالہ اوہام ۱۷۴ حصہ اول

دعویٰ کیا ہے کہ اس سے بڑھ کر اور معنے نہیں ہو سکتے بلکہ وہ تو متوفیک کی تفصیل کو حوالہ بخدا کرتے رہے ہیں۔

پھر یہ بھی ہم بخوبی ظاہر کر چکے ہیں کہ اس پیشگوئی کو صرف غلبہ کے الفاظ تک محدود رکھنے میں بڑی بڑی مشکلات ہیں قبل اس کے جو مسیح آسمان سے آوے صد ہا اعتراض پہلے ہی سے اُتر رہے ہیں ان مشکلات میں پڑنے کی ضرورت ہی کیا ہے اور ہمیں اس بات کی کیا حاجت! کہ ابن مریم کو آسمان سے اُتارا جائے اور ان کا نزول ایک تماشہ کیا جائے اور ان کی اس طرح پر تحقیر کی جائے کہ دوسرا شخص امامت کرے اور وہ پیچھے مقتدی بنیں اور اور وہ دوسرا شخص اُن کے رُوبرو لوگوں سے بیعت امامت و خلافت لے اور وہ دیدۂ حسرت دیکھتے رہیں اور احاد المسلمین بن کر اپنی نبوت کا دم نہ مار سکیں اور ہم اس قدر شرک بلکہ سراسر شرک سے بھرے ہوئے کلمے کو کیوں منہ سے بولیں کہ دجال مجسم خدائے تعالیٰ کی طرح اپنے اقتدار سے مُردوں کو زندہ کرے گا اور صریح صریح خدائی کی علامتیں دکھلائے گا اور کوئی اُسے یہ نہیں کہیگا کہ اے یک چشم خدا پہلے تو اپنی آنکھ درست کر! کیا وہ توحید جو اسلام نے ہمیں سکھائی ہے ایسی قدرت کسی مخلوق میں روا رکھتی ہے کیا اسلام نے ان واہیات باتوں کو اپنے مذہب میں کہاں جگہ دی ہے ۔ یہ بڑی عجیب بات ہے کہ مسلمانوں کے نزدیک خود دجال بھی گویا ایک حصہ خدائی کا رکھتا ہے اور کہتے ہیں کہ اُس خدا نما کا نام دجال ہی ہے ۔ پھر جب کہ وہ دجال محیی و ممیت اور خالق بھی ہے تو اس کے خدا ہونے میں کسر کیا رہ گئی ؟ اور اس گدھے کی یہ تعریف کرتے ہیں کہ وہ مشرق و مغرب میں ایک روز میں سیر کر سکے گا مگر ہمارے نزدیک ممکن ہے کہ دجال سے مراد بااقبال قومیں ہوں اور گدھے سے ان کی ریل سواری ہو جنکو مشرق اور مغرب کے ملکوں میں ہزار ہا کوسوں تک چلتے دیکھتے ہو ۔ پھر مسیح کے بارے میں یہ بھی سوچنا چاہیئے کہ کیا طبعی اور فلسفی لوگ اس خیال پر نہیں ہنسیں گے کہ ایک خاکی جسم بلا طعام و شراب فلک پر زندہ رہے گا ۔ اور پھر قوت جاذبہ زمین کے برخلاف اوپر کی طرف جانا کیا ثبوت کا محتاج نہیں ۔ تو حضرت مسیح اس جسم عنصری کے ساتھ

یہ حوالہ صفحہ 99 پر درج ہے | ازالۃ الاوہام صفحہ 174 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 174 از مرزا قادیانی

صفحہ 550

(حوالہ نمبر 65)

۴۴۰

من عند يعصمك الله من عنده وان لم يعصمك الناس - واذ يمكر بك الذى كفر - اوقد لى يا هامان - لعلى اطلع الى اله موسى وانى لاظنه من الكاذبين - تبت يدا ابى لهب وتب ما كان له ان يدخل فيها الا خائفا - وما اصابك فمن الله - الفتنة ههنا فاصبر كما صبر اولوا العزم - الا انها فتنة من الله لِيُحَبَّ حُبًّا جَمًّا حُبًّا من الله العزيز الاكرم - عطاءً غير مجذوذ - شاتان تتناطحان - وكل من عليها فان - ولا تهنوا ولا تحزنوا - الم تعلم ان الله على كل شىء قدير - انا فتحنا لك فتحًا مبينًا ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك وما تاخر - اليس الله بكاف عبده - فبرأه الله مما قالوا وكان عند الله وجيهًا -

ترجمہ یعنی خدا تجھے بچائیگا ۔ اگرچہ لوگ نہ بچائیں ۔ میں سچ کہتا ہوں کہ خدا تجھے بچائیگا ۔ اگرچہ لوگ نہ بچائیں وہ زمانہ یاد کر کہ جب ایک شخص تجھ سے مکر کرے گا ۔ اور اپنے رفیق ہامان کو کہے گا کہ فتنہ انگیزی کی آگ بھڑکا ۔ اس جگہ فرعون سے مراد شیخ محمد حسین بٹالوی ہے اور ہامان سے مراد نو مسلم سعد اللہ ہے اور پھر فرمایا کہ وہ کہیگا کہ میں اس کے خدا کی حقیقت معلوم کرنا چاہتا ہوں اور میں اس کو جھوٹا سمجھتا ہوں یعنی خدا ہونے کا دعویٰ سراسر کذب ہے کوئی تعلق خدا تعالیٰ سے نہیں ۔ اور پھر فرمایا کہ یہ فرعون ہلاک ہوگیا ۔ اور دونوں ہاتھ اُس کے ہلاک ہو گئے یعنی یہ شخص دین و دنیا کھو بیٹھے گا اور ہاتھ جو کسب معاش کا ذریعہ ہیں ۔ نکمے ہو جائیں گے

حاشیہ ۔ محمد حسین بٹالوی کی فتنہ اندازی بھی موجب ہے کہ اس نے ایک دفعہ یہ پیشگوئی کی تھی کہ میں اس شخص کو یعنی اس عاجز کو ذلیل کر دونگا ۔ اور لوگوں کو رجوع سے بند کر دوں گا ۔ مگر اس کے برعکس ظہور میں آیا ۔ اس کی پیشگوئی کے وقت شاید سو کے قریب بھی ہماری جماعت نہیں تھی ۔ اب خدا تعالیٰ کے فضل سے آٹھ ہزار کے قریب ہیں ابھی قریب دھرمسالہ کے چمبہ میں ایک بھاری جماعت پیدا ہو گئی ہے ۔ جن کی ہمدرد دلی دوست میر ناظم مشن صاحب بہادر سے قبل ازاں بہت مدد ملی ہے۔ میر ناظم صاحب موصوف نے جس قدر اس سلسلہ کو مکمل طریقہ سے بڑھایا ہے کہ تمام مخالفین کی ناک کاٹ کر آ گئے ہیں۔ اس خوشی کے وقت میں اُن کی وہ مہربانیاں ہمیں یاد آرہی ہیں کہ جنہوں نے نہ صرف ایک دفعہ بلکہ عرصہ دراز سے برابر قادیان میں آکر اس سلسلہ کی تائید کے لئے روپیہ دیئے ہیں۔ جزاھم اللہ خیر الجزاء۔ منہ *

۵۶

پیام صلح ضمیمہ نمبر 66 جلد 16 ص 11 مورخہ 24 مئی 1930ء بحوالہ تجلیات الہٰیہ ص 20 طبع ربوہ

صفحہ 551

(حوالہ نمبر ۷۱) ٦٦١

۱۸؍ اکتوبر ۱۸۹۹ء لے " بفضل خدا تعالیٰ اِسی لئے میرے دِل میں یہی ڈالا ہے کہ بیعت کرنے والے دو قسم میں رکھے جائیں گے۔ ایک جو اعلیٰ اور صاف تر زندگی کے خواہشمند اور خدا تعالیٰ کے منشاء کی اطاعت کے لئے حاضر ہیں اور ایک وہ جو کسی قدر کمزور ہیں"

(اقتباس مکتوب محررہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مورخہ ۱۸؍ اکتوبر ۱۸۹۹ء

مندرجہ تشحیذ الاذہان جلد ۷ نمبر ۶۔ جون ۱۹۱۲ء صفحہ ۲۴۳، ۲۴۴)

۱۸۹۹ء "حضرت اقدس کو رؤیا ہوئی کہ حامد علی آکر کہتا ہے کہ باہر ایک ہندو کھڑا ہے اور دُعا کے لئے درخواست کرتا ہے۔ حضور اقدس اسے کہتے ہیں کہ بے نذر لئے ہم دُعا کرنے کے نہیں۔ پھر حامد علی دوبارہ واپس آتا ہے تو ایک چھٹانک اور دو چاولیں ہیں اُن میں روپیہ بھر کر لاتا ہے۔ فرمایا ہندو سے مُراد ایسا شخص ہوا کرتا ہے جو دُنیا کے غم و ہم میں مبتلا ہو اور چاہے کہ کسی طرح دُنیوی ابتلاؤں سے نجات ہو"

(مکتوب مولوی عبد الکریم صاحبؒ مندرجہ تشحیذ الاذہان جلد ۷ نمبر ۶۔ جون ۱۹۱۲ء صفحہ ۲۴۷)

۵؍ جنوری ۱۹۰۰ء

نماز میں جب مَیں التحیات کے لئے بیٹھا تو بجائے التحیات کے یہ دُعا پڑھنے لگ گیا صَلَّی اللّٰهُ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلَيْكَ وَيُبَرِّدُ دُعَاءُ اَعْدَائِكَ عَلَيْهِمْ ۲؎ حضرت صاحبؒ فرماتے تھے کہ مَیں نے خیال کیا کہ یہ کیا پڑھ رہا ہوں تو معلوم ہوا کہ الہام ہے۔

(روایت منشی فخر الدین صاحبؒ واصل باقی نویس۔ رجسٹر روایات صحابہ

جلد ۱ صفحہ ۱۴۔ و رجسٹر روایات صحابہ جلد ۴ صفحہ ۲۳۰)

"ایک روز مغرب کی نماز پڑھی گئی اور مَیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس کھڑا تھا۔ جب نماز کا سلام پھیرا گیا تو آپؑ نے بایاں ہاتھ میری دائیں ران پر رکھ کر فرمایا کہ صاحبزادہ صاحب ! اِس وقت مَیں التحیات پڑھتا تھا، طبعاً میری زبان پر جاری ہوا کہ :۔

صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْكَ وَعَلٰی مُحَمَّدٍ

(الحکم جلد ۲۶ نمبر ۱۹ مورخہ ۱۴؍ مئی ۱۹۲۲ء صفحہ ۵)

لے از مرتب : یہ مکتوب حضرت مولانا نے افریقہ کے ایک شخص کو لکھا۔ اور اس میں یہ بھی لکھا کہ "آپ کا وعدہ ارسال روپیہ آنے سے ایک ہفتہ قبل حضور اقدس کو رؤیا ہوئی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر جب نام بہ نام معہ چندہ پیشکش خط آیا تو تاویل و تصدیق واضح ہوگئی۔" (مکتوب مذکور)

۲؎ از مرتب : اللہ تعالیٰ محمد پر صلوٰۃ بھیجے اور تجھ پر بھی اور تیرے دشمنوں کی بد دُعا اُنہی پر لوٹا دی جائے گی۔

تذکرہ مجموعہ الہامات صفحہ 661 طبع چہارم ، از مرزا قادیانی یہ حوالہ نمبر 100 پر درج ہے

صفحہ 552

حوالہ نمبر 67 ۵۰۳

۱۴ جنوری ۱۹۰۶ء ۱؂ (۱) لَا يُقْبَلُ عَمَلٌ مِّثْقَالَ ذَرَّةٍ مِّنْ غَيْرِ التَّقْوَی (۲) زَلْزَلَةُ السَّاعَةِ وَنَهْدِمُ مَا يَعْمُرُوْنَ (۳) عَقَبَ الْمَوْبَا رَكَدَ كُوْنِی (۴) قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّی لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ۔ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۵۴)

۱۴ جنوری ۱۹۰۶ء (۱) كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِی (۲) سَلَامٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيْمٍ (۳) ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں۔ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۵۵)

(ترجمہ) خدا نے ابتداء سے مقدّر کر چھوڑا ہے کہ وہ اور اس کے رسول غالب رہیں گے (۲) خدائے رحیم کہتا ہے کہ سلامتی ہے یعنی خائب و خاسر کی طرح تیری موت نہیں ہے۔ اور یہ کلمہ کہ ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں، اس کے یہ معنی ہیں کہ قبل از موت مکّی فتح نصیب ہوگی۔ جیسا کہ وہاں دشمنوں کو قہر کے ساتھ مغلوب کیا گیا تھا اسی طرح یہاں بھی دشمن قہری نشانوں سے مغلوب کئے جائیں گے۔ دوسرے یہ معنے ہیں کہ قبل از موت مدنی فتح نصیب ہوگی۔ جو بدخو لوگوں کے دل ہماری طرف مائل ہو جائیں گے۔ فقرہ كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِی مکی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اور فقرہ سَلَامٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيْمٍ مدینہ کی طرف۔"

(بدر جلد ۲ نمبر ۳ مورخہ ۱۹ جنوری ۱۹۰۶ء صفحہ ۲۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲ مورخہ ۱۷ جنوری ۱۹۰۶ء صفحہ ۴)

۱۵ جنوری ۱۹۰۶ء ۲؂ "تزلزل در ایوانِ کسریٰ فُتادَ"

(بدر جلد ۲ نمبر ۳ مورخہ ۱۹ جنوری ۱۹۰۶ء صفحہ ۲۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲ مورخہ ۲۴ جنوری ۱۹۰۶ء صفحہ ۱)

۱؂ (ترجمہ از مرتب) (۱) کوئی عمل تقویٰ کے بغیر ذرّہ بھر قبول نہیں کیا جائے گا (۲) قیامت والا زلزلہ۔ اور جو عمارتیں بناتے جائیں گے ہم ان کو گراتے جائیں گے (۳) گھونٹ پائیں گے جیسا کہ میں پلا چکا ہوں (۴) کہہ دے کہ میرے ربّ کو تمہاری پروا ہی کیا ہے۔ اگر تم دعا نہیں کرو گے۔

۲؂ (ترجمہ از مرتب) شاہِ ایران کے محل میں تزلزل پڑ گیا۔

(نوٹ از مرتب) چنانچہ اس الہام کے بعد بالکل خلافِ توقّع ایران میں جلد ہی شورِ بغاوت برپا ہوا، اور مرزا محمد علی شاہ ایران نے مجبوراً بتاریخ ۱۵ جولائی ۱۹۰۹ء روس کے سفارت خانہ میں پناہ لی۔ آخر وہ تخت سے معزول کیا گیا اور پارلیمنٹ بنائی گئی۔ مفصل دیکھئے "دعوة الامیر" تصنیف حضرت سیّدنا امیر المومنین خلیفة المسیح الثانی ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اُردو ایڈیشن نمبر ۷ صفحہ ۲۰۴، ۲۰۵۔ فارسی ایڈیشن صفحہ ۲۲۶ تا ۲۲۹ میں دوسری پیشگوئی۔

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 503 طبع چہارم از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 100 پر درج ہے

صفحہ 553

حوالہ نمبر 68

۳۱

نہایت نجیب اور شریف اور عالی نسب ...... بزرگوار خاندانی سادات سے یہ تعلق قرابت اس عاجز کو پیدا ہوا اور اس نکاح کے تمام ضروری مصارف تیاری مکان وغیرہ تک ایسی آسانی سے خدا تعالیٰ نے بہم پہنچائے کہ ایک ذرہ بھی فکر کرنا نہ پڑا اور اب تک اسی اپنے وعدہ کو پورے کئے جاتا ہے۔"

(شحنہ حق صفحہ ۲۳، ۲۴۔ روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۴۶۸، ۴۶۹)

١٨٨١ء (تقریباً) ”وہی پیشگوئی کو دوسرے الہامات میں اور بھی تصریح سے بیان کی گئی ہے یہاں تک کہ اُس شہر کا نام بھی لیا گیا تھا جو دہلی ہے اور پیشگوئی بہت سے لوگوں کو سُنائی گئی تھی ...... اور جیسا کہ کہا گیا تھا ویسا ہی ظہور میں آیا کیونکہ بغیر سابق تعلقات قرابت اور رشتہ کے دہلی میں ایک شریف اور مشہور خاندانی سیادت میں میری شادی ہوگئی ...... سو چونکہ خدا تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ میری نسل میں سے ایک بڑی بنیا د حمایت اسلام کی ڈالے گا اور اس میں سے وہ شخص پیدا کرے گا جو آسمانی رُوح اپنے اندر رکھتا ہوگا اس لئے اُس نے پسند کیا کہ اس خاندان کی ڈالی میرے نکاح میں لاوے اور اس سے وہ اولاد پیدا کرے جو اُن نوروں کو جن کی میرے ہاتھ سے تخمریزی ہوئی ہے دنیا میں زیادہ سے زیادہ پھیلاوے اور عجیب اتفاق ہے کہ جس طرح سادات کی دادی کا نام خدیجہؓ تھا اسی طرح میری بیوی جو آئندہ خاندان کی ماں ہوگی اس کا نام نصرت جہان بیگم ہے۔ یہ تطابق کے طور پر اس بات کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے تمام جہان کی مدد کے لئے میرے آئندہ خاندان کی بنیاد ڈالی ہے۔ یہ خدا تعالیٰ کی عادت ہے کہ بعض ناموں میں بھی اُس کی پیشگوئی مخفی ہوتی ہے۔"

(تریاق القلوب صفحہ ۶۴، ۶۵۔ روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۲۷۴، ۲۷۵)

١٨٨١ء (تقریباً) ”تخمیناً اٹھارہ برس کے قریب عرصہ گذرا ہے کہ مجھے کسی تقریب سے مولوی محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر رسالہ اشاعۃ السنۃ کے مکان پر جانے کا اتفاق ہوا۔ اُس نے مجھ سے دریافت کیا کہ آجکل کوئی الہام ہوا ہے؟ میں نے اُس کو یہ الہام سُنایا جس کو میں کئی دفعہ اپنے مخلصوں کو سُنا چکا تھا اور وہ یہ ہے کہ

يَبْكُرُ وَ يُثَيِّبُ

جس کے یہ معنے ان کے آگے اور نیز ہر ایک کے آگے میں نے ظاہر کئے کہ خدا تعالیٰ کا ارادہ ہے کہ وہ دو عورتیں میرے نکاح میں لائے گا ایک بکر ہوگی اور دوسری بیوہ۔ چنانچہ یہ الہام جو بکر کے متعلق تھا پورا ہوگیا اور اس وقت بفضلہ تعالیٰ چار پسر اس بیوی سے موجود ہیں اور بیوہ کے الہام کی انتظار ہے۔"

(تریاق القلوب صفحہ ۳۱۔ روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۲۰۱)

١ ؎ خاکسار کی رائے میں یہ الہام اپنے دونوں پہلوؤں سے حضرت اُمّ جان کی ذات میں ہی پورا ہوا ہے جو پیشتر کنواری آئیں اور پھر بیوہ ہوئیں۔ واللہ اعلم ۔ (مرتب)

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 31 طبع چہارم از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 100 پر درج ہے

Back

صفحہ 554

حوالہ نمبر 69

نزول المسیح ۴۱۶

ہے اور یہی وہ دابۃ الارض ہے جس کی نسبت قرآن شریف میں وعدہ تھا کہ آخری زمانہ میں ہم اس کو نکالیں گے اور وہ لوگوں کو اس لئے کاٹے گا۔ کہ وہ ہمارے نشانوں پر ایمان نہیں لاتے تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ وَ اِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةً مِّنَ الْاَرْضِ تُكَلِّمُهُمُ اَنَّ النَّاسَ كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا لَا يُوْقِنُوْنَ ۱ اور جب مسیح موعود کے بھیجنے سے خدا کی حجّت اُن پر پوری ہو جائے گی تو ہم زمین میں سے ایک جانور نکال کر کھڑا کریں گے وہ لوگوں کو کاٹے گا اور زخمی کریگا اس لئے کہ لوگ خدا کے نشانوں پر ایمان نہیں لاتے تھے۔ دیکھو سورۃ النمل الجزء نمبر ۲۰۔

اور پھر آگے فرمایا ہے وَيَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ فَوْجًا مِّمَّنْ يُكَذِّبُ بِاٰيٰتِنَا فَهُمْ يُوْزَعُوْنَ ۔ حَتّٰى اِذَا جَاءُوْ قَالَ اَكَذَّبْتُمْ بِاٰيٰتِيْ وَلَمْ تُحِيْطُوْا بِهَا عِلْمًا اَمَّاذَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔ وَوَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ بِمَا ظَلَمُوْا فَهُمْ لَا يَنْطِقُوْنَ ۔ ۲ ترجمہ ۔ اُس دن ہم ہر ایک اُمت میں سے اس گروہ کو جمع کریں گے جو ہمارے نشانوں کو جھٹلاتے تھے اور اُن کو ہم جُدا جُدا جماعتیں بنادیں گے یہاں تک کہ جب وہ عدالت میں حاضر کئے جائیں گے تو خدائے عزوجل اُن کو کہے گا کہ کیا تم نے میرے نشانوں کی بغیر تحقیق کے تکذیب کی یہ تم نے کیا کیا اور اُن پر بوجہ اُن کے ظالم ہونے کے حجّت پوری ہو جائے گی ورنہ وہ بول نہ سکیں گے۔ سورۃ النمل الجزء نمبر ۲۰۔

اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہی دابۃ الارض جو ان آیات میں مذکور ہے جس کا مسیح موعود کے زمانہ میں ظاہر ہونا ابتدائے سے مقرر ہے یہی وہ مختلف صورتوں کا جانور ۲۹ ہے جو مجھے عالم کشف میں نظر آیا اور دل میں ڈالا گیا کہ یہ طاعون کا کیڑا ہے اور خدا تعالیٰ نے اس کا نام دابۃ الارض رکھا کیونکہ زمین کے کیڑوں میں سے ہی یہ بیماری پیدا ہوتی ہے۔ اسی لئے پہلے چوہوں پر اس کا اثر ہوتا ہے اور مختلف صورتوں

۱؎ النمل: ۸۳ ۲؎ النمل: ۸۴، ۸۵ ۱۲

نزول المسیح صفحہ 39 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 416 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 101 پر درج ہے

Back

صفحہ ۴۱۷

55 نزول المسیح

(حوالہ نمبر ۴۱)

میں ظاہر ہوتی ہے اور جب کہ انسان کو ایسا ہی ہر ایک جانور کو یہ بیماری ہوسکتی ہے اسی لئے کشفی عالم میں اسکی مختلف شکلیں نظر آئیں ۔ اور اس بیان پر کہ دابۃ الارض درحقیقت مادہ طاعون کا نام ہے جس سے طاعون پیدا ہوتی ہے مفصلہ ذیل قرائن اور دلائل ہیں

وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ أَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةً مِّنَ الْأَرْضِ یعنی جب ان پر آسمانی نشانوں اور عقلی دلائل کے ساتھ حُجّت پوری ہو جائیگی تب دابۃ الارض زمین میں سے نکالا جائے گا ۔ اب ظاہر ہے کہ دابۃ الارض عذاب کے موقعہ پر زمین سے نکالا جائیگا نہ یہ کہ یُوں ہی بیہودہ طور پر ظاہر ہو گا جس کا نہ کچھ نفع نہ نقصان ۔ اور اگر کہو کہ طاعون تو ایک مرض ہے مگر دابۃ الارض لغوی معنوں کے رُو سے ایک کیڑا ہونا چاہئے جو زمین میں سے نکلے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حال کی تحقیقات سے یہی ثابت ہوا ہے کہ طاعون کو پیدا کرنے والا وہی ایک کیڑا ہے جو زمین میں سے نکلتا ہے بلکہ ٹیکہ لگانے کے لئے وُہی کیڑے جمع کئے جاتے ہیں اور اُن کا عرق نکالا جاتا ہے اور خورد بین سے ثابت ہوتا ہے کہ اُن کی شکل یوں ہے (۰۰) یعنی بہ شکل دو نقطہ۔ گویا آسمان پر بھی نشان خسوف کسوف دو کے رنگ میں ظاہر ہوا اور ایسا ہی زمین میں ۔

اور ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن شریف میں جہاں کہیں یہ مرکب لفظ آیا ہے اس سے مراد کیڑا لیا گیا ہے مثلاً یہ آیت فَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلَى مَوْتِهِ إِلَّا دَابَّةُ الْأَرْضِ تَأْكُلُ مِنْسَأَتَهُ یعنی ہم نے سلیمان پر جب موت کا حکم جاری کیا تو جنّات کو کسی نے اُن کے مرنے کا پتہ نہ دیا ۔ مگر گھن کے کیڑے نے کہ جو سلیمان کے عصا کو کھاتا تھا۔ منہ سورۃ السبا ء الجز ء نمبر ۲۲ ۔ اب دیکھو اس جگہ بھی ایک کیڑے کا نام دابۃ الارض رکھا گیا پس اس سے زیادہ دابۃ الارض کے اصلی معنوں کی دریافت کیلئے اور کیا شہادت ہوگی

١؎ النمل: ٨٣ ٢؎ السبا: ١٥

نزول المسیح صفحہ 40، 41 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 417 ، 418 یہ حوالہ صفحہ 102 پر درج ہے

صفحہ 556

(حوالہ نمبر 70)

نزول المسیح

۴۱۸

کہ خود قرآن شریف نے اپنے دوسرے مقام میں دابۃ الارض کے معنے کیڑا کیا ہے۔ سو قرآن کے برخلاف اس کے معنی کرنا یہی تحریف اور الحاد اور جہل ہے۔

(۳) تیسرا قرینہ یہ ہے کہ آیت میں صریح معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے نشانوں کی تکذیب کے وقت میں کوئی امام الوقت موجود ہونا چاہیئے کیونکہ وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ کا فقرہ یہی ہے کہ اتمام حجت کے بعد یہ عذاب ہو اور یہ تو متفق علیہ عقیدہ ہے کہ خروج دابۃ الارض آخری زمانہ میں ہوگا جبکہ مسیح موعود ظاہر ہو گا تاکہ خدا کی حجت دُنیا پر پوری کرے۔ پس ایک منصف کو یہ بات جلد تر سمجھ آسکتی ہے کہ جبکہ ایک شخص موجود ہے جو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور آسمان اور زمین میں بہت سے نشان اس کے ظاہر ہوچکے ہیں تو اب بلاشبہ دابۃ الارض یہی طاعون ہے جس کا مسیح کے زمانہ میں ظاہر ہونا ضروری تھا اور چونکہ یاجوج ماجوج موجود ہے اور مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ ۱؎ کی پیشگوئی تمام دُنیا میں پوری ہورہی ہے اور دجالی فتنے بھی انتہا تک پہنچ گئے ہیں اور پیشگوئی يَتْرُكُنَّ الْقِلَاصَ فَلَا يُسْعٰى عَلَيْهَا بھی بخوبی ظاہر ہوچکی ہے۔ اور شراب اور زنا اور جھوٹ کی بھی کثرت ہو گئی ہے اور مسلمانوں میں یہودیت کی فطرت بھی جوش مار رہی ہے تو صرف ایک بات باقی تھی جو دابۃ الارض زمین میں سے نکلے سو وہ بھی نکل آیا۔ اس بات پر جھگڑنا جہالت ہے کہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ فلاں جگہ پھٹے گی اور دابۃ الارض وہاں سے سر نکالے گا پھر تمام دُنیا میں چکر ماریگا کیونکہ اکثر پیشگوئیوں پر استعارات کا رنگ غالب ہوتا ہے جب ایک بات کی حقیقت کھل جائے تو ایسے اوہام باطلہ کے ساتھ حقیقت کو چھوڑنا کمال جہالت ہے اسی باعث بد بخت یہودی قبول حق سے محروم رہ گئے۔

(۴) قرینہ چہارم دابۃ الارض کے طاعون ہونے پر یہ ہے کہ سورۃ فاتحہ میں ایک رنگ میں یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ کسی وقت بعض مسلمان بھی وہ یہودی بن جائینگے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام

۱؎ الانبیاء : ۹۶

۴۲

نزول المسیح صفحہ 41،40 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 418،417 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 102 پر درج ہے

صفحہ 557

(حوالہ نمبر 71)

ازالہ اوہام ۳۷۰ حصہ دوم

مراد ہے جو آسمانی روح اپنے اندر نہیں رکھتے لیکن زمینی علوم وفنون کے ذریعہ سے منکرین اسلام کو لاجواب کرتے ہیں اور اپنا علم کلام اور طریق مناظرہ تائید دین کی راہ میں خرچ کر کے بجان و دل خدمت شریعت غراء بجالاتے ہیں۔ سو وہ چونکہ درحقیقت زمینی ہیں آسمانی نہیں۔ اور ۵۰۱ آسمانی روح کامل طور پر اپنے اندر نہیں رکھتے اس لئے دابۃ الارض کہلاتے ہیں اور چونکہ کامل تزکیہ نہیں رکھتے باوصف کامل وفاداری۔ اس لئے چہرہ اُن کا انسانوں کا ہے مگر بعض اعضاء اُن کے بعض دوسرے حیوانات سے مشابہ ہیں۔ اسی طرف اللہ جلشانہ اشارہ فرماتا ہے وإذا وقع القول عليهم أخرجنا لهم دابة من الارض تكلمهم ان الناس كانوا بآياتنا لا يوقنون ۔ یعنی جب ایسے دن آئیں گے جو کفار پر عذاب نازل ہو اور ان کا وقت مقرر قریب آجائے گا تو ہم ایک گروہ دابۃ الارض کا زمین سے نکالیں گے جو متکلمین کا ہوگا جو اسلام کی حمایت میں تمام ادیان باطلہ پر حملہ کرے گا۔ یعنی وہ علماء ظاہر ہوں گے جن کو علم کلام اور فلسفہ میں ید طولیٰ ہوگا۔ وہ جابجا اسلام کی حمایت میں کھڑے ہو جائیں گے اور اسلام کی سچائیوں کو استدلالی طور پر مشارق مغارب میں پھیلا دینگے اور اس جگہ اخرجنا کا لفظ اس وجہ سے اختیار کیا کہ آخری زمانہ میں ان کا خروج ہوگا نہ حدوث یعنی خفی طور پر یا کم مقدار کے طور پر تو پہلے ہی سے تھوڑے بہت ہر یک زمانہ میں وہ پائے جائیں گے لیکن آخری زمانہ میں بکثرت اور نیز اپنے کمال لائق کے ساتھ ۵۰۲ پیدا ہوں گے اور حمایت اسلام میں جابجا واعظین کے منصب پر کھڑے ہو جائیں گے اور شمار میں بہت بڑھ جائیں گے ۔ واضح ہو کہ یہ خروج کا لفظ قرآن شریف میں دوسرے پیرایہ میں یاجوج ماجوج کیلئے بھی آیا ہے اور دخان کے لئے بھی قرآن شریف میں ایسا ہی لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ جس کے معنوں کا ماحصل خروج ہی ہے اور دجال کے لئے بھی حدیثوں میں یہی خروج کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ سو اس لفظ کے استعمال کرنے کی وجہ یہ ہے تا اس بات کی طرف

۲۷۰ ؂ النمل: ۸۳

ازالہ اوہام صفحہ 270 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 370 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 102 پر درج ہے

صفحہ 558

حصہ دوم ۳۷۳ ازالہ اوہام

دجال اسی دجال کے رنگ میں قوت کے ساتھ خروج کر رہا ہے اور گویا ثانی بعینہ دجال کے ساتھ وہی ہے اور عیسائی گروہ اول زمانہ میں گرجا میں جکڑا ہوا نظر آیا تھا اب وہ اس بند سے مخلصی پا کر عیسائیوں کے گرجا سے ہی نکلا ہے اور دنیا میں ایک آفت برپا کر رہا ہے۔

ایسا ہی یاجوج ماجوج کا حال بھی سمجھ لیجئے۔ یہ دونوں پرانی قومیں ہیں جو پہلے زمانوں میں دوسروں پر کھلے طور پر غالب نہیں ہو سکیں اور اُن کی حالت میں ضعف رہا۔ لیکن خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ آخری زمانہ میں یہ دونوں قومیں خروج کریں گی یعنی اپنی پوری قوت کے ساتھ ظاہر ہوں گی۔ جیسا کہ سورہ کہف میں فرماتا ہے و ترکنا بعضہم یومئذٍ یموج فی بعض یعنی یہ دونوں قومیں دوسروں کو مغلوب کر کے پھر ایک دوسرے پر حملہ کریں گی جو جس کو خدا تعالیٰ چاہے فتح دے گا۔ چونکہ ان دونوں قوموں سے مراد انگریز اور رُوس ہیں اس لئے ہر ایک سعادتمند مسلمان کو دعا کرنی چاہئیے ۵۰۹ کہ اُس وقت انگریزوں کی فتح ہو۔ کیونکہ یہ لوگ ہمارے محسن ہیں۔ اور سلطنت برطانیہ کے ہمارے سر پر بہت احسان ہیں۔ سخت جاہل اور سخت نادان اور سخت نالائق وہ مسلمان ہے۔ جو اِس گورنمنٹ سے کینہ رکھے۔ اگر ہم ان کا شکر نہ کریں تو پھر ہم خدا تعالیٰ کے بھی ناشکر گزار ہیں۔ کیونکہ ہم نے جو اس گورنمنٹ کے زیر سایہ آرام پایا اور پارہے ہیں وہ آرام ہم کسی اسلامی گورنمنٹ میں بھی نہیں پاسکتے۔ ہرگز نہیں پاسکتے۔

[ایسا ہی دابۃ الارض یعنی وہ علماء و واعظین جو آسمانی قوت اپنے اندر نہیں رکھتے ابتداء سے چلے آتے ہیں۔ لیکن قرآن کا مطلب یہ ہے کہ آخری زمانہ میں ان کی حد سے زیادہ کثرت ہو گی اور ان کے خروج سے مراد وہی ان کی کثرت ہے۔]

اور یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ جیسی ان چیزوں کے بارے میں جو آسمانی قوت

ازالہ اوہام صفحہ 273 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 373 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 103 پر درج ہے

صفحہ 559

حوالہ نمبر 7

۳۰۸

الكافرين وتشهد ان دين الاسلام حق حتي انها تقتل ابليس وتمزقه وبعض الاحاديث يدل على انها امرأة كافرة خادمة للشيطان و جساسة للدجال وليس فيها خير فلا يمكن التوفيق بينهما الا ان نقول ان المراد من دابة الارض علماء السوء الذين يشهدون باقوالهم ان الرسول حق والقرآن حق ثم يعملون الخبائث ويخدمون الدجال كأن وجودهم من الجزئين جزء مع الاسلام وجزء مع الكفر اقوالهم كاقوال المؤمنين وافعالهم كافعال الكافرين فاخبر رسول الله صلى الله عليه وسلم عن انهم يكثرون في آخر الزمان وسموا دابة الارض لانهم اخلدوا الى الارض وما ارادوا ان يرفعوا الى السماء واطمئنوا بالدنيا وشهواتها وما بقى لهم قلب كالانسان واجتمعت فيهم عادات السباع و الخنازير والكلاب تراهم مستكبرين متبخترين كانهم بلغوا السماء ومشوا بها ولم تخرج ارجلهم من الارض من شدة انتكاسهم الى الدنيا فهم كالذي شداه اسره وكالمسجونين يكلمون الناس من الاست لا من الافواه يعني ولا تجد في كلماتهم طهارة وبركة واستقامة و نورانية كلمات الصالحين *

* قال قائل لوكان هذا هو الحق ان دابة الارض هى طائفة علماء هذا الزمان فيلزم ان يكون تكفيرهم حقا وصدقا فان من شأن دابة الارض انها تسم المؤمن و الكافر فمن جعله الدابة كافرا يشير المعترض اليك فعليكم ان تقروا بكفره فأن التكفير بمنزلة الوسم من دابة الارض فيقال في جواب هذا المعترض ان المراد من الوسم اظهار كفر كافر وايمان مؤمن فهذا الاظهار على نوعين قد يكون بالاقوال وقد يكون بالافعال ونتائجها وقد جرت سنت الله انه قد يجعل الكافرين والفاسقين علة موجبة لظهور انوار ايمان انبياءه واولياءه ألا ترى الى سيدنا ونبينا محمد المصطفى صلعم كيف كانت

۱۴۲

حمامة البشرىٰ صفحہ 142 مندرجہ روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 308 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 103 پر درج ہے

صفحہ 560

حوالہ نمبر 74

تتمہ ۴۵۶ حقیقة الوحی

دنوں میں پادریوں کے دروازہ پر گداگری اختیار نہ کرنا جو لوگ اپنے کالجوں اور سکولوں میں لازمی طور پر خلاف اسلام تعلیم دیتے ہیں کسی سچے مسلمان کا طریق نہیں کہ اُنکی نوکری اختیار کرے۔ افسوس کہ یہ شخص سعد اللہ نام جو فوت ہو گیا ہے وہ بعض میری تقریری مباحثات بھی سُن چکا تھا اور اُس کو میری کتابیں دیکھنے کا بھی بہت موقعہ ملا تھا مگر تعصّب اور بغض ایک ایسی بلا ہے کہ وہ اُن سے کچھ فائدہ اُٹھا نہ سکا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وفات پانا کوئی مشتبہ امر نہ تھا خدا تعالیٰ قرآن شریف میں بیان کر چکا اور اُس کا رسول (معراج کی رات میں وفات یافتہ نبیوں میں اُنکو دیکھ چکا) تھا۔ دُوسری طرف قرآن اور حدیث سے یہ بھی ثابت تھا کہ سب خلیفہ اسلام کے اِسی اُمت میں پیدا ہونگے بلکہ حدیثوں میں یہ بھی آچکا ہے کہ نازل ہونیوالا عیسیٰ اسی اُمت میں سے ہو۔ پھر بھی وہ کمبخت سمجھ نہ سکا اور پہلی کتابوں اور احادیث صحیحہ میں بڑا نشان آخری مسیح کا یہ دیا گیا تھا کہ وہ دجّال کے ظہور کے وقت آئے گا۔ اور قرآن شریف نے ظاہر کر دیا کہ وہ دجّال پادریوں کا فرقہ ہے جن کا دن رات کام تحریف و تبدیل ہے کیونکہ دجّال کے یہی معنے ہیں جو تحریف و تبدیل کر کے حق کو چھپانے والا ہو اور اُسی کی طرف سورۃ فاتحہ اشارہ کرتی ہے۔ ایسا ہی قرآن شریف کی اِس آیت سے کہ جَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَةِ۔ ثابت ہوتا ہے کہ دجّال عیسائیوں کے سوا کوئی علیحدہ گروہ نہیں ہو گا کیونکہ جب کہ غلبہ اور سلطنت قیامت تک عیسائیوں

* دجال کے معنی بجز اسکے اور کچھ نہیں کہ جو شخص دجل کرنے والا اور گمراہ کرنیوالا اور خدا کے کلام کی تحریف کرنیوالا ہو اُسکو دجّال کہتے ہیں۔ سو ظاہر ہے کہ پادری لوگ اس کام میں سب سے بڑھ کر ہیں کیونکہ دُوسروں کا دجل اور فریب تو کمزور درجہ کا ہے مگر ان لوگوں کا دجل اسقدر ہے کہ ایک انسان کو خدا بنانے کے لئے کروڑ ہا روپیہ خرچ کیا ہے چھاپ چھاپ کر لاکھوں رسالے اور کتابیں دُنیا میں شایع کی ہیں اور اِسی غرض سے زمین کے کناروں تک سفر کرتے ہیں۔ پس سچا اور پکا دجّال اکبر یہی ہے اور خدا تعالیٰ کی پیشگوئی کے مطابق عجب نہیں کہ دجال کے گدھے کو قدم رکھنے کی جگہ نہ ملے کیونکہ لکھا ہے کہ دجال گرجا سے نکلے گا اور جس قوم میں سے ہو گا وہ قوم تمام دُنیا میں سلطنت کرے گی اور قیامت تک انکی طاقت اور قوّت رہیگی۔ پھر جبکہ یہ حال ہو تو کونسی زمین باقی رہی جس میں ہمارے مخالفوں کا فرضی دجّال ظہور کریگا۔ منہ

۱؎ آل عمران: ۵۶

حقیقت الوحی صفحہ 456 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 456 از مرزا قادیانی || یہ حوالہ صفحہ 104 پر درج ہے

صفحہ 561

حوالہ نمبر 75

نزول المسیح ۴۳۴

قابل اعتراض ٹھہر گیا۔ ایسا ہی اُدباء کو یہ اتفاق بھی پیش آجاتا ہے کہ بیسیوں شخص ایک مضمون کے ہی لکھنے والے ہوں جن میں سب ہی ادیب اور بلیغ ہوں مگر بعض صورتوں کے لحاظ سے بیان میں ایک ہی الفاظ اور ترکیب کے فقرہ پر ان کا توارد ہو جائیگا اور یہ باتیں ادبا کے نزدیک مسلمات میں ہیں جن میں کسی کو کلام نہیں۔ اور اگر غور کر کے دیکھو تو ہر ایک زبان کا یہی حال ہے اگر اُردو میں بھی مثلاً ایک فصیح شخص تقریر کرتا ہے اور اُس میں کہیں مثالیں لاتا ہے کہیں دلچسپ فقرے بیان کرتا ہے تو دوسرا فصیح بھی اُسی رنگ میں کہہ دیتا ہے اور بجز ایک پاگل آدمی کے کوئی خیال نہیں کرتا کہ یہ سرقہ ہے انسان تو انسان خدا کے کلام میں بھی یہی پایا جاتا ہے۔ اگر بعض پُر فصاحت فقرے اور مثالیں جو قرآن شریف میں موجود ہیں شعرائے جاہلیت کے قصائد میں دیکھی جائیں تو ایک لمبی فہرست طیار ہو گی اور ان امور کو محققین نے جائے اعتراض نہیں سمجھا بلکہ اسی غرض سے ائمہ فن نے جاہلیت کے ہزارہا اشعار کو حفظ کر رکھا تھا اور قرآن شریف کی بلاغت فصاحت کے لئے اُنکو بطور سند لاتے تھے۔

یہ بات بھی اس جگہ بیان کر دینے کے لائق ہے کہ میں خاص طور پر خدا تعالیٰ کی اعجاز نمائی کو انشاء پردازی کے وقت بھی اپنی نسبت دیکھتا ہوں کیونکہ جب میں عربی میں یا اُردو میں کوئی عبارت لکھتا ہوں تو میں محسوس کرتا ہوں کہ کوئی اندر سے مجھے تعلیم دے رہا ہے اور یہ کہ میری تحریر گو عربی ہو یا اُردو یا فارسی دو حصہ پر منقسم ہوتی ہے (۱) ایک تو یہ کہ بڑی سہولت سے سلسلہ الفاظ اور معانی کا میرے سامنے آتا جاتا ہے اور میں اُسکو لکھتا جاتا ہوں اور گو اُس تحریر میں مجھے کوئی مشقت اُٹھانی نہیں پڑتی مگر دراصل وہ سلسلہ میری دماغی طاقت سے کچھ زیادہ نہیں ہوتا یعنی الفاظ اور معانی ایسے ہوتے ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ کی ایک خالص رنگ میں تائید نہ ہوتی تب بھی اسکے فضل کے ساتھ ممکن تھا کہ اُسکی معمولی تائید کی برکت سے جو لازمہ فطرت حواس انسانی ہے کسی قدر مشقت اُٹھا کر اور بہت سا وقت لیکر اُن مضامین کو میں لکھ سکتا۔ واللہ اعلم۔ (۲) دوسرا حصہ میری تحریر کا محض خارق عادت کے طور پر ہے اور وہ یہ ہے کہ جب میں مثلاً ایک عربی عبارت

بقیہ حاشیہ صفحہ ۴۳۳ :۔ بعض امور جن کی خبر مجھ کو یا پہلے بعض اولیاء کو بذریعہ وحی معلوم ہوئی ہے قطع نظر اس سے کہ وہ پہلے مجھ سے جاہلیت کی کتاب میں لکھی گئی ہیں یا بقراط کی کتاب میں۔ ایسا ہی میری انشاء پردازی کا حال ہے ۔ جو عبارتیں تائید کے طور پر مجھے خدا تعالیٰ سے معلوم ہوتی ہیں مجھے اُن میں کچھ بھی پروا نہیں کہ وہ کسی اور کتاب میں جو مجھ سے دور ہے ملے اور ہر ایک کے لئے جو میرے حال سے ۴۳۴

واقف ہو معجزہ ہے اور اگر کسی کے نزدیک معجزہ نہ ہو تو اسپر پانی پینا حرام ہے جب تک بالمواجہہ بیٹھ کر بپابندی شرائط مشتہرہ مقابلہ نہ کرے۔ منہ

نزول المسیح صفحہ 56 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 434 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 104 پر درج ہے

صفحہ 562

حوالہ نمبر 76

چشمہ معرفت ۲۴۱ دوسرا حصہ

پھر ماسوا اس کے اگر اس وجہ سے انکار کیا جاتا ہے کہ یہ امر خارق عادت ہے ۔ تو کیا بموجب اصول آریوں کے وید کے بعد الہام الٰہی ہونا یہ خارقِ عادت امر نہیں ہے پس جبکہ لیکھرام کی موت نے اس بات کو ثابت کر دیا کہ وہ قادر خدا اس زمانہ میں بھی برخلاف وید کے مقرر کردہ قانونِ قدرت کے الہام کرتا ہے تو وید کا سارا قانونِ قدرت دریا بُرد ہو گیا اس صورت میں وید کی بات کا کوئی بھی اعتبار نہ رہا ۔ ظاہر ہے کہ جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اُس پر اعتبار نہیں رہتا اور اگر لیکھرام والی پیش گوئی

صفحہ 563

(حوالہ نمبر 66)

۴۲

آتھم کے مقدمہ میں دیکھ چکے ہو کہ باوجود اس کے بہت سے مفر ہو گئے پھر آخر حق ظاہر ہو گیا۔ کیا تمہارے دل قبول نہیں کر گئے کہ آتھم کا قسم سے انکار کرنا اور نالش سے انکار کرنا اور حملوں کا ثبوت دینے سے انکار کرنا صرف اسی وجہ سے تھا کہ اس نے ضرور الہامی شرط کے موافق حق کی طرف رجوع کر لیا تھا۔ تمہیں معلوم ہے کہ باوجود اس کے کہ ملامتی اشتہاروں کی بہت ہی اس کو مار پڑی مگر وہ الزام سے اپنے تئیں بری نہ کر سکا جو اس کے اقرار خوف اور بے ثبوت ہونے عذروں سے اس پر وارد ہو چکا تھا۔ یہاں تک کہ اس موت نے اُس کو آ پکڑا جس سے وہ ڈرتا رہا۔ اور ضرور تھا کہ وہ انکار کے بعد جلد مرتا۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کی پاک پیشگوئیوں کے رُد سے بھی سزا اس کے لئے ٹھہر چکی تھی۔ سو اُس خدا سے خوف کرو جس نے آتھم کو بڑی سرگردانیوں کے گرداب میں ڈال کر آخر اپنے وعدہ کے موافق ہلاک کر دیا۔ خدا کی کھلی کھلی پیشگوئیوں سے منہ پھیرنا یہ پلیتوں کا کام ہے۔ نہ نیک لوگوں کا۔ اور جھوٹ کے مردار کو کسی طرح نہ چھوڑنا۔ یہ کتوں کا طریق ہے نہ انسانوں کا۔ میاں حسام الدین عیسائی لکھتے ہیں کہ آتھم چار دن تک بیہوش رہا۔ مگر وہ اس کا سِرّ نہیں بیان کر سکے کہ کیوں چار دن تک بیہوش رہا۔ سو جاننا چاہیئے۔ کہ یہ چار دن کی سخت جان کندنی ان چار افتراؤں کی اسی دنیا میں اس کو سزا دی گئی جو اُس نے زہر خورانی کے اقدام کا افترا کیا۔ سانپ چھوڑنے کا افترا کیا۔ لدھیانہ اور فیروزپور کے حملہ کا افترا کیا اور عیسائیوں کے خوش کرنے کے لئے اصل وجہ خوف کو چھپایا۔ سو عیسائیوں کے لئے اس سے زیادہ اور کوئی شرم کی جگہ نہیں کہ آتھم ان کے مذہب کے جھوٹا ہونے پر گواہی دے گیا۔ اب اگر آتھم کی گواہی پر اعتبار نہیں تو اس نئے طریق سے دوبارہ حجت اللہ کو پورا کر لینا چاہیئے۔ اور اس نئے طریق میں کوئی شرط بھی نہیں۔ سیدھی بات ہے کہ اگر باہم دُعا کرنے کے بعد حسب تسلی ساتھ فریقین کی طرف سے آمین بھی ہوگی۔ میرے مقابل کا شخص ایک سال تک خدا تعالیٰ کے فوق العادت عذاب سے بچ گیا۔ تو جیسا کہ میں لکھ چکا ہوں تاوان مذکورہ بالا ادا کرونگا ۔ اور میں حضرات پادری صاحبان کو دوبارہ یاد دلاتا ہوں کہ اس طرح کا طریق دُعا اُن کے

انجام آتھم صفحہ 43 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 43 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 110 پر درج ہے

صفحہ 564

حوالہ نمبر 78

تتمہ ۴۵۹ حقیقۃ الوحی

خواب میں ایک شخص کی موت دیکھی جاتی ہو اور اسکی تعبیر زیادت عمر ہوتی ہو یہ ہی حال اُن مولویوں کا جو بڑے دیانتدار کہلاتے ہیں ۔ جھوٹ بولنے سے بدتر دُنیا میں اور کوئی بُرا کام نہیں۔ ایسے

۲۷

جھوٹ کو خدا نے رجس کے ساتھ مشابہت دی ہے مگر یہ لوگ رجس سے پرہیز نہیں کرتے ہم نے اُس قدر وضاحت سے سعد اللہ کا مرنا پیشگوئی کے مطابق ثابت کر کے لکھا ہو مگر کیا مولوی ثناء اللہ صاحب مان لینگے۔ نہیں بلکہ کوشش کرینگے کہ کسی طرح رد کریں ان لوگوں کا خدا تعالیٰ سے جنگ ہے۔ نہیں دیکھتے کہ اگر یہ منصوبہ انسان کا ہوتا تو یہ برکات اسکے شامل حال نہ ہوتیں کیا کوئی ایماندار خدائے عزوجل کی نسبت ان افعال کو منسوب کر سکتا ہے کہ ایک شخص کو وہ دعوائے الہام کے بعد تیس بتیس برس کی مہلت دے اور دن بدن اسکے سلسلہ کو ترقی بخشے اور ایسے وقت میں جبکہ اسکے ساتھ ایک آدمی بھی نہیں تھا یہ بشارت اسکو دی کہ لاکھوں انسان تیرے سلسلہ میں داخل کئے جائینگے اور کئی لاکھ روپیہ اور طرح طرح کے تحائف لوگ تجھے دینگے اور دُور دُور سے ہزار ہا لوگ تیرے پاس آئینگے یہانتک کہ وہ راہ گہرے ہو جائینگے اور اُن میں گڑھے پڑ جائینگے جن راہوں سے وہ آئیں گے ۔ تجھے چاہیے کہ اُنکی کثرت کی وجہ سے تُو تھک نہ جائے اور اُن سے بد اخلاقی نہ کرے خدا تجھے تمام دُنیا میں شہرت دیگا اور بڑے بڑے نشان تیرے لئے دکھلائیگا اور خدا تجھے نہیں چھوڑیگا جبتک وہ رُشد اور گمراہی میں فرق کر کے نہ دکھلاوے اور دشمن زور لگائینگے اور طرح طرح کے مکر و فریب اور منصوبے استعمال کرینگے مگر خدا اُنہیں نامراد رکھے گا۔ خدا ہر ایک قدم میں تیرے ساتھ ہوگا اور ہر ایک میدان میں تجھے فتح دے گا۔ اور تیرے ہاتھ پر اپنے نور کو پورا کریگا ۔ دُنیا میں ایک نذیر آیا پر دُنیا نے اُسکو قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کریگا اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کردے گا۔ میں اپنی چمکار دکھلاؤں گا اور اپنی قدرت نمائی سے تجھے اُٹھاؤنگا میں تجھے دشمنوں کے ہر ایک حملہ سے بچاؤں گا اگرچہ لوگ تجھے نہ بچائیں ۔ اگرچہ لوگ تیرے بچانے کی کچھ پروا نہ رکھیں مگر میں تجھے ضرور بچاؤں گا ۔

یہ اُس زمانہ کے الہام ہیں جس پر تیس برس سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے اور یہ تمام الہام

حقیقۃ الوحی صفحہ 27 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 459 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 110 پر درج ہے

صفحہ 565

حوالہ نمبر 79

ضمیمہ براہین احمدیہ ۲۹۶ حصہ پنجم

ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کوئی اعتقاد نہیں رکھتا کہ آپ بھی پھر آئیں گے۔ کیونکہ آنجناب نے اپنی زندگی میں ہی کافروں کو وہ ہاتھ دکھائے جو اب تک یاد کرتے ہیں اور پوری کامیابی کے ساتھ آپ کا انتقال ہوا۔ اور معلوم ہوتا ہے کہ ابن العربی صاحب نے آخر عمر میں اپنے پہلے اقوال سے رجوع کر لیا تھا۔ اس لئے ان کا آخری بیان پہلے بیان سے متناقض ہے۔ ایسا ہی بعض اور فرقے صوفیوں کے کھلے طور پر حضرت عیسیٰ کی وفات کے قائل ہیں۔ اور ہم ابھی بیان کر چکے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت صحابہ رضی اللہ عنہم کا اسی پر اجماع ہو گیا تھا جو کہ انبیاء گذشتہ جن میں ۱۴۶ حضرت عیسیٰ بھی شامل ہیں فوت ہو چکے ہیں۔ اُن میں سے ایک بھی زندہ نہیں۔ پھر جیسے جیسے مذہب اسلام میں جہالت اور بدعات پھیلتی گئیں یہ بدعت بھی دین کا ایک جزو ہو گئی کہ حضرت عیسیٰ مُردہ ارواح کی جماعت میں سے نکل کر پھر دنیا میں واپس آئیں گے۔ اِس عقیدے نے اسلام کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ کیونکہ تمام دنیا میں سے صرف ایک ہی انسان کو یہ خصوصیت دی ہے کہ وہ آسمان پر مع جسم چلا گیا اور کسی زمانہ میں مع جسم واپس آئیگا۔ یہ عقیدہ حضرت عیسیٰ کو خدا بنانے کی پہلی اینٹ ہے کیونکہ ان کو ایک خصوصیت دی گئی ہے جس میں کوئی دوسرا شریک نہیں۔ خدا جلد یہ داغ اسلام کے چہرہ سے دُور کرے۔ آمین

بالاٰخر میں مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب کو محض حسبۃً للہ نصیحت کرتا ہوں کہ آپ آخر عمر تک پہنچ گئے ہیں۔ اب خدا تعالیٰ کے مقابل پر بے ہودہ چالاکیوں کو چھوڑ دیں۔ آپنے بہت زور لگایا ہر ایک قسم کا مکر کیا اور نور کے بُجھانے کے لئے قابل شرم منصوبوں سے کام لیا مگر انجام کار نامراد رہے۔ اگر میں مفتری ہوتا تو آپ کا کہیں نہ کہیں ہاتھ پڑ جاتا اور میں کب کا تباہ ہو جاتا ایسا آدمی جو ہر روز خدا پر جھوٹ بولتا ہے اور آپ ہی ایک بات تراشتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ یہ خدا کی وحی ہے جو مجھ کو ہوئی ہے۔ ایسا بدذات انسان تو کُتوں اور سُوروں اور بندروں سے بدتر ہوتا ہے پھر کب ممکن ہے کہ خدا اس کی حمایت کرے۔ مگر یہ کار و بار

براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 126 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 292 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 110 پر درج ہے

صفحہ 566

حوالہ نمبر 80

ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ۵۶

ہونے کا دعویٰ کیا کہ قوم کا مصلح قرار نہیں دیتا اور نہ نبوت اور رسالت کا مدعی بنتا ہے۔ اور محض ہنسی کے طور پر یا لوگوں کو اپنا رسوخ جتانے کے لئے دعویٰ کرتا ہے کہ مجھے یہ خواب آئی۔ اور یا الہام ہوا اور جھوٹ بولتا ہے یا اس میں جھوٹ ملاتا ہے وہ اس نجاست کے کیڑے کی طرح ہے جو نجاست میں ہی پیدا ہوتا ہے اور نجاست میں ہی مر جاتا ہے۔ ایسا خبیث اس لائق نہیں کہ خدا اس کو یہ عزت دے کہ تو نے اگر میرے پر افتراء کیا تو میں تجھے ہلاک کر دوں گا بلکہ وہ بوجہ اپنی نہایت درجہ کی ذلت کے قابل التفات نہیں کوئی شخص اُس کی پیروی نہیں کرتا کوئی اُس کو نبی یا رسول یا مامور من اللہ نہیں سمجھتا۔ ماسوا اس کے یہ بھی ثابت کرنا چاہیئے کہ اِس مفتریانہ عادت پر بائیس برس گزر گئے۔ ہمیں حافظ محمد یوسف صاحب کی بہت کچھ واقفیت نہیں مگر یہ بھی امید نہیں خدا اُن کے اندرونی اعمال بہتر جانتا ہے۔ اُن کے دو قول تو ہمیں یاد ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ اب وہ ان سے انکار کرتے ہیں (۱) ایک یہ کہ چند سال کا عرصہ گذرا ہے کہ بڑے بڑے جلسوں میں انہوں نے بیان کیا تھا کہ مولوی عبداللہ غزنوی نے میرے پاس بیان کیا کہ آسمان سے ایک نور کا بادل ان پر گرا اور میری اولاد اس سے بے نصیب رہ گئی۔ (۲) دوسرے یہ کہ خدا تعالیٰ نے انسانی تمثل کے طور پر ظاہر ہو کر اُن کو کہا کہ مرزا غلام احمد حق پر ہے کیوں لوگ اس کا انکار کرتے ہیں۔ اب مجھے خیال آتا ہے کہ اگر حافظ صاحب ان دو واقعات سے اب انکار کرتے ہیں جن کو بار بار بہت سے لوگوں کے پاس بیان کر چکے ہیں تو نعوذ باللہ بے شک انہوں نے خدا تعالیٰ پر افتراء کیا ہے ٭ کیونکہ جو شخص سچ کہتا ہے اگر وہ مر بھی جائے تب بھی انکار نہیں کر سکتا

٭ میں ہرگز قبول نہیں کرونگا کہ حافظ صاحب ان ہر دو واقعات سے انکار کرتے ہیں۔ ان واقعات کا گواہ نہ صرف میں ہوں بلکہ مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت گواہ ہے اور کتاب نزل الابرار میں ان کی زبانی مولوی عبداللہ صاحب کا کشف درج ہو چکا ہے۔ میں تو یقیناً جانتا ہوں کہ حافظ صاحب ایسا کذب صریح ہرگز زبان پر نہیں لائیں گے گو قوم کی طرف سے ایک بڑی مصیبت میں گرفتار ہو جائیں۔ ان کے بھائی محمد یعقوب نے تو انکار نہیں کیا تو وہ کیونکر کرینگے۔ جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں۔ منہ

۲۰

یہ حوالہ صفحہ 110 پر درج ہے | تحفہ گولڑویہ ضمیمہ صفحہ 20 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 56 از مرزا قادیانی

صفحہ 567

حوالہ نمبر 81

۵۶

ضمیمہ تحفہ گولڑویہ

ہوتے کا دعویٰ کر کے قوم کا مصلح قرار نہیں دیتا اور نہ نبوت اور رسالت کا مدعی بنتا ہے۔ اور محض ہنسی کے طور پر یا لوگوں کو اپنا رسوخ جتلانے کے لئے دعویٰ کرتا ہے کہ مجھے یہ خواب آئی۔ اور یا الہام ہوا اور جھوٹ بولتا ہے یا اس میں جھوٹ ملاتا ہے وہ اس نجاست کے کیڑے کی طرح ہے جو نجاست میں ہی پیدا ہوتا ہے اور نجاست میں ہی مر جاتا ہے۔ ایسا خبیث اس لائق نہیں کہ خدا اس کو یہ عزت دے کہ تو نے اگر میرے پر افتراء کیا تو میں تجھے ہلاک کر دوں گا بلکہ وہ بوجہ اپنی نہایت درجہ کی ذلت کے قابل التفات نہیں کوئی شخص اُس کی پیروی نہیں کرتا کوئی اُس کو نبی یا رسول یا مامور من اللہ نہیں سمجھتا۔ ماسوا اس کے یہ بھی ثابت کرنا چاہئے کہ اس مفتریانہ عادت پر بارہ تیرہ برس گزر گئے ۔ ہمیں حافظ محمد یوسف صاحب کی بہت کچھ واقفیت نہیں مگر یہ بھی امید نہیں خدا اُن کے اندرونی اعمال بہتر جانتا ہے۔ اُن کے دو قول تو ہمیں یاد ہیں۔ اور سُنا ہے کہ اب وہ ان سے انکار کرتے ہیں (۱) ایک یہ کہ چند سال کا عرصہ گزرتا ہے کہ بڑے بھاری جلسہ میں انہوں نے بیان کیا تھا کہ مولوی عبداللہ غزنوی نے میرے پاس بیان کیا کہ آسمان سے ایک نور اترا یہاں پر گرا اور میری اولاد اس سے بے نصیب رہ گئی (۲) دوسرے یہ کہ خدا تعالیٰ نے انسانی تمثل کے طور پر ظاہر ہو کر اُن کو کہا کہ مرزا غلام احمد حق پر ہے کیوں لوگ اس کا انکار کرتے ہیں۔ اب مجھے خیال آتا ہے کہ اگر حافظ صاحب ان دو واقعات سے اب انکار کرتے ہیں جن کو بار بار بہت سے لوگوں کے پاس بیان کر چکے ہیں تو نعوذ باللہ بے شک انہوں نے خدا تعالیٰ پر افتراء کیا ہے + کیونکہ جو شخص سچ کہتا ہے اگر وہ مر بھی جائے تب بھی انکار نہیں کر سکتا

+ میں ہر گز قبول نہیں کرونگا کہ حافظ صاحب ان ہر دو واقعات سے انکار کرتے ہیں۔ ان واقعات کا گواہ نہ فقیر ہی ہوں بلکہ مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت گواہ ہے اور کتاب ازالة الاوہام میں ان کی زبانی مولوی عبداللہ صاحب کا کشف درج ہو چکا ہے۔ پس میں یقیناً جانتا ہوں کہ حافظ صاحب ایسا کذب صریح ہر گز زبان پر نہیں لائیں گے گو قوم کی طرف سے ایک بڑی مصیبت میں گرفتار ہو جائیں۔ اُن کے بھائی محمد یعقوب نے تو انکار نہیں کیا تو وہ کیونکر کرینگے۔ جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں۔ منہ

۲۰

تحفہ گولڑویہ ضمیمہ صفحہ 20 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 56 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 111 پر درج ہے

Back

صفحہ 568

حوالہ نمبر 82 ۶۰

عجیب قدرت دکھلاتا ہے کہ جب امام مذکور بحالت زار نزار گھر واپس آیا تو اثر الہام برعکس پایا یعنی لڑکے کے آثار راحت دیکھے غرض کہ منہ منحوس سے یہ کلمہ نکلنا ہی تھا کہ دم بدم لڑکے کو آرام ہونے لگا۔ جب لوگوں نے مجیب الدعوات صاحب ریویو (یہ لفظ ہندؤ کی لیاقت کا ہے) کی ہنسی اڑائی تو جواب دیا کہ الہام غلط نہیں ہو سکتا ۔ دائم یہ بچہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ تمام جزء قصہ پر افتراء کیا ۔

اب دیکھنا چاہیے کہ وہ کنجر جو ولدالزنا کہلاتے ہیں وہ بھی جھوٹ بولتے ہوئے شرماتے ہیں مگر اس آریہ میں اس قدر بھی شرم باقی نہ رہی جس قوم میں اس جنس کے شریف و امین لوگ ہیں وہ کیا کچھ بہتان نہیں کریں گے۔ اب اس نیک ذات آریہ پر فرض ہے کہ ایک جلسہ کرا کر ہمارے رو برو اس بہتان کی تصدیق کراوے تا اصل راوی کو حلف سے پوچھا جائے اور اس بے اصل بہتان کے لئے نہ صرف ہم اس راوی کو حلف دیں گے بلکہ آپ بھی حلف اٹھائیں گے فریقین کے حلف کا یہ مضمون ہو گا کہ اگر سچ سچ اپنے حافظہ کی پوری یادداشت سے بلا ذرہ کم و بیش میں نے بیان نہیں کیا تو اے خدائے قادر مطلق اور اے ہمیشہ رہنے والے ایک سال تک اپنے قہر عظیم سے ایسی میری بیخ کنی کر اور ایسا ہیبت ناک عذاب نازل فرما کہ دیکھنے والوں کو عبرت ہو اور پھر اگر ایک سال تک آسمانی عذاب سے اصل راوی محفوظ رہا تو ہم اپنے جھوٹا ہونے کا بخوشی اشتہار دیدیں گے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ خدا تعالے ایسے بہتان صریح کو بے فیصلہ نہیں چھوڑے گا۔ یہ تو ہمارے لئے اور ایک ملہم من اللہ کے لئے ممکن بلکہ کثیر الوقوع ہے جو کوئی خواب یا الہام مشتبہ طور پر معلوم ہو جس کے احتمالی طور پر کئی معنے کئے جائیں مگر یہ افترا کہ قطعی طور پر یہی الہام ہو گیا کہ :۔ میاں محمد جان حجام کا لڑکا اب مرے گا اس کی قبر کھودو

۳۱۶

یہ حوالہ صفحہ 111 پر درج ہے | شحنہ حق صفحہ 60 مندرجہ روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 386 از مرزا قادیانی

صفحہ 569

حوالہ نمبر 83

نصرۃ الحق ۲۱

میں مفتری ہوں اُن کی نگاہ و خیال میں دنیا کی خیر ہے مری موت و زوال میں
لعنت ہے مفتری پہ خدا کی کتاب میں عزت نہیں ہے ذرہ بھی اُس کی جناب میں
توریت میں بھی نیز کلامِ مجید میں لکھا گیا ہے رنگِ وعیدِ شدید میں
کوئی اگر خدا پہ کرے کچھ بھی افترا ہوگا وہ قتل ہے یہی اس جرم کی جزا
پھر یہ عجیب غفلتِ ربِّ قدیر ہے دیکھے ہے ایک کو کہ وہ ایسا شریر ہے
پچیس سال سے ہے وہ مشغولِ افترا ہر دن ہر ایک رات یہی کام ہے رہا
ہر روز اپنے دل سے بناتا ہے ایک بات کہتا ہے یہ خدا نے کہا مجھ کو آج رات
پھر بھی وہ ایسے شوخ کو دیتا نہیں سزا گویا نہیں ہے یاد جو پہلے سے کہہ چکا
پھر یہ عجیب تر ہے کہ جب حامیانِ دیں ایسے کے قتل کرنے کو فاعل ہوں یا معیں
کرتا نہیں ہے اُن کی مدد وقتِ انتقام تا مفتری کے قتل سے قصہ ہی ہو تمام
اپنا تو اُس کا وعدہ رہا سارا طاق پر اعدا کی سعی و جہد پہ بھی کچھ نہیں نظر
کیا وہ خدا نہیں ہے جو قرآں کا ہے خدا پھر کیوں وہ مفتری سے کرے اسقدر وفا
آخر یہ بات کیا ہے کہ ہے ایک مفتری کرتا ہے ہر مقام میں اُس کو خدا بری
جو دشمن اُسکو بیچ میں کوشش سے لاتے ہیں کوشش بھی اسقدر کہ عبث مر ہی جاتے ہیں
اِک اتفاق کر کے وہ باتیں بناتے ہیں سو جھوٹ اور فریب کی تہمت لگاتے ہیں
پھر بھی وہ نامراد مقاصد میں رہتے ہیں جاتا ہے بے اثر وہ جو سو بار کہتے ہیں
ذلت میں مرتے۔ یہاں اکرام ہوتا ہے کیا مفتری کا ایسا ہی انجام ہوتا ہے

نصرۃ الحق، براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 11 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 21 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 111 پر درج ہے

صفحہ 570

حوالہ نمبر 84

۲۰۹

زجر اور توبیخ کے ساتھ رد کی گئی۔ اور درحقیقت یہ سوال نہایت قابل شرم تھا کیونکہ سچ یہی ہے کہ نہ یہ شخص اور نہ اُس کا باپ رحیم بخش کبھی رئیسان کرسی نشین میں شمار کئے گئے اور اگر یہ یا اس کا باپ کرسی نشین تھے تو گویا سر لیپل گرپفن نے بہت بڑی غلطی کی کہ جو اپنی کتاب تاریخ رئیسان پنجاب میں ان دونوں کا نام نہیں لکھا۔ غضب کی بات ہے کہ کہلانا مولوی اور اس قدر فاش دروغگوئی اور پھر آپ اپنے خط میں کرسی نہ ملنے کا مجھ سے ثبوت مانگتے ہیں گویا اپنی ذلت کو کامل طور پر تمام لوگوں پر ظاہر کرنا چاہتے ہیں اور اپنے خط میں وعدہ کرتے ہیں کہ اگر یہ کذب نکلے تو اپنے تئیں شکست یافتہ تصور کریں گے اور پھر کبھی رد و قدح نہیں کریں گے۔ افسوس کہ اس شخص کو جھوٹ بولتے ذرہ شرم نہیں آئی۔ جھوٹ جو اکبر الکبائر اور تمام گناہوں کی ماں ہے کس طرح دلیری سے اس شخص نے اس پر زور دیا ہے۔ یہی دیانت اور امانت ان لوگوں کی ہے جس سے مجھے اور میری جماعت کو کافر ٹھہرایا اور دُنیا میں شور مچایا۔

واضح رہے کہ ہمارے بیان مذکورہ بالا کا گواہ کوئی ایک دو آدمی نہیں بلکہ اس وقت کچہری کے اور گرد و نواح کے آدمی موجود تھے جو کرسی کے معاملہ کی اطلاع رکھتے ہیں۔ صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر ! ڈیوس صاحب بہادر خود اس بات کے گواہ ہیں جنہوں نے بزبان کہہ کر مجھے کرسی نہیں دی تھی کہ بک بک مت کر اور پھر کپتان لیمارچنڈ صاحب ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ اس بات کے گواہ ہیں کہ کرسی مانگنے پر محمد حسین کو کیا جواب ملا تھا اور کیسی عزت کی گئی تھی۔ پھر منشی غلام حیدر خاں صاحب سپرنٹنڈنٹ ورنیکلر جو اب تحصیلدار ہیں اور مولوی فضل الدین صاحب پلیڈر اور لالہ رام بھج دت صاحب وکیل اور ڈاکٹر کلارک صاحب جن کی طرف سے یہ حضرت گواہ ہوکر گئے تھے اور صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر کے تمام اردلی یہ سب میرے بیان مذکورہ بالا کے گواہ ہیں اور اگر کوئی شخص اُن میں سے محمد حسین کی حالت پر رحم کرکے اس کی پردہ پوشی بھی چاہے، مگر میں خوب جانتا ہوں کہ کوئی شخص اس بات پر قسم نہیں کھا سکے گا کہ یہ واقعہ کرسی نہ ملنے اور جھرکیاں دینے کا جھوٹ

منہ خلاصہ خط یہ ہے : ”از مقام بٹالہ مورخہ ۲۸ ماہ فروری ۱۸۹۸ء ۔ میاں غلام احمد صاحب خدا آپ کو راہ راست پر لاوے اور ضلالت و عناد سے نجات بخشے ۔ والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ ۔ آپکا خط ۲۸ فروری ۱۸۹۸ء پہونچا ۔۔۔ آپ نے کتاب بریت کے صفحہ ۲۱۱ ، ۲۱۴ ، ۲۱۵ میں تین دعوٰی کئے ہیں۔ اوّل یہ کہ محمد حسین نے صاحب ڈپٹی کمشنر سے کرسی طلب کی اور اس کو عدالت میں کرسی ملتی تھی اور اس کے باپ کو عدالت میں کرسی ملتی تھی جس پر صاحب ڈپٹی کمشنر نے اس کو تین جھرکیاں دیں اور کہا کہ تو جھوٹا ہے بک بک مت کر ۔ یہ سراسر دعویٰ کذبہ ، بیہودہ اور نرے مکر ہیں ۔ بلکہ کرسی پر نہ بیٹھنا تو ایک اتفاقیہ بات تھی جس کی تفصیل کی ضرورت چھوڑی گئی ۔ ثانیاً یہ دعویٰ کہ اس کو کرسی سے اُٹھا دیا ۔ تیسرا یہ دعویٰ کہ جو وہ ایک شخص کی چادر لے کر اس پر بیٹھ گیا تو اس شخص نے چادر نیچے سے کھینچ لی ۔۔۔۔۔ میرے نزدیک یہ تینوں دعوے محض دروغ ہیں جن میں رتی کا عُشر عشیر اور شائبہ بھی نہیں ۔ الخ

یہ حوالہ صفحہ 111 پر درج ہے مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 208 طبع جدید از مرزا قادیانی

صفحہ 571

(حوالہ نمبر 85)

اربعین نمبر ۴ ۲۹۸

کہ ہم دونوں فریق میں سے جو جھوٹا ہے وہ مرجائے ۔ سو خدا نے اس کو بھی جلد تر اس جہان سے رخصت کر دیا ۔ اور ان وفات یافتہ مولویوں کا ایسی دعاؤں کے بعد مرجانا ایک خدا ترس مسلمان کے لئے تو کافی ہے مگر ایک پلید دل سیہ دل دنیا پرست کے لئے ہرگز کافی نہیں ۔ بھلا علیگڑھ تو بہت دُور ہے اور شاید پنجاب کے کئی لوگ مولوی اسماعیل کے نام سے بھی ناواقف ہونگے۔ مگر قصور ضلع لاہور تو دُور نہیں اور ہزاروں اہل لاہور مولوی غلام دستگیر قصوری کو جانتے ہونگے اور اس کی یہ کتاب بھی انہوں نے پڑھی ہوگی تو کیوں خدا سے نہیں ڈرتے ۔ کیا مرنا نہیں؟ کیا غلام دستگیر کی موت میں بھی لیکھرام کی موت کی طرح سازش کا الزام لگائیں گے؟ خدا کی جھوٹوں پر نہ ایک دم کے لئے لعنت ہے بلکہ قیامت تک لعنت ہے۔ کیا دنیا کے کیڑے محض سازش اور منصوبہ سے خدا کے مقدس مامورین کی طرح کوئی قطعی پیشگوئی کر سکتے ہیں؟ ایک چور جو چوری کے لئے جاتا ہے اس کو کیا خبر ہے کہ وہ چوری میں کامیاب ہو یا ماخوذ ہو کر جیلخانہ میں جائے ۔ پھر وہ اپنی کامیابی کی بڑے زور سے تمام دنیا کے سامنے دشمنوں کے سامنے کیا پیشگوئی کرے گا ؟ مثلاً دیکھو کہ ایسی پر زور پیشگوئی جو لیکھرام کے قتل کئے جانے کے بارے میں تھی جس کے ساتھ دن تاریخ وقت بیان کیا گیا تھا کیا کسی شریر بدباطن خونی کا کام ہے ؟ غرض ان مولویوں کی سمجھ پر کچھ ایسے پتھر پڑ گئے ہیں کہ کسی نشان سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ براہین احمدیہ میں قریباً سولہ برس پہلے بیان کیا گیا تھا کہ خدا تعالیٰ میری تائید میں خسوف کسوف کا نشان ظاہر کرے گا ۔ لیکن جب یہ نشان ظاہر ہو گیا اور حدیث کی کتابوں سے ۱۳ بھی کھل گیا کہ یہ ایک پیشگوئی تھی کہ مہدی کی صداقت کے لئے اس کے ظہور کے وقت میں رمضان میں خسوف کسوف ہوگا تو ان مولویوں نے اس نشان کو بھی گم کر دیا اور حدیث سے مُنہ پھیر لیا ۔ یہ بھی احادیث میں آیا تھا کہ مسیح کے وقت میں

۵۶

اربعین نمبر 3 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 398 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 111 پر درج ہے

صفحہ 572

حوالہ نمبر 86

نزول المسیح

۳۸۰

ص شروع کر کے حرف یا تک پہنچا دیا تھا یعنی ابوبکر سے یزید تک ۔ مگر یہ لوگ جو اہل حدیث اور سلفی کہلاتے ہیں انہوں نے اس کارروائی کو نا کامل سمجھ کر لعنت بازی کے دائرے کو اس طرح پر پورا کیا کہ جس شخص کو خدا نے آدم سے لیکر مسیح تک مظہر جمیع انبیاء قرار دیا تھا یعنی الف سے حرف یا تک اور پھر تکمیل دائرہ کی غرض سے الف آدم سے لیکر الف احمد تک صفت مظہریت کا خاتم بنایا تھا اُسی پر لعنتوں کی مشق کی۔

وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ ١؂

لیکن یاد رکھیں کہ یہ گالیاں جو اُن کے منہ سے نکلتی ہیں اور یہ تحقیر اور یہ توہین کی باتیں جو اُسکے ہونٹوں پر چڑھ رہی ہیں اور یہ گندے کاغذ جو حق کے مقابل پر وہ شائع کر رہے ہیں یہ اُن کے لئے ایک رُوحانی عذاب کا سامان ہے جس کو اُنہوں نے اپنے ہاتھوں سے طیار کیا ہے۔ دروغگوئی کی زندگی جیسی کوئی لعنتی زندگی نہیں ۔ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ اپنے منصوبوں سے اور اپنے بے بنیاد جھوٹوں سے اور اپنے افترائوں سے اور اپنی ہنسی ٹھٹھے سے خدا کے ارادے کو روک دیں گے یا دُنیا کو دھوکہ دیکر اس کام کو معرض التوا میں ڈال دیں گے جس کا خدا نے آسمان پر ارادہ کیا ہے۔ اگر کبھی پہلے بھی حق کے مخالفوں کو اِن طریقوں سے کامیابی ہوئی ہے تو وہ بھی کامیاب ہو جائیں گے ۔ لیکن اگر یہ ثابت شدہ امر ہے کہ خدا کے مخالف اور اُس کے ارادہ کے مخالف جو آسمان پر کیا گیا ہو ہمیشہ ذلت اور شکست اُٹھاتے ہیں تو پھر ان لوگوں کے لئے بھی ایک دن ناکامی اور نامرادی اور رسوائی در پیش ہے۔ خدا کا فرمودہ کبھی خطا نہیں گیا اور نہ جائیگا ۔ وہ فرماتا ہے :-

كَتَبَ اللهُ لَاَغْلِبَنَّ أَنَا وَ رُسُلِي ٢؂

یعنی خدا نے ابتدا سے لکھ چھوڑا ہے اور اپنا قانون اور اپنی سُنّت قرار دیدیا ہے کہ وہ اور اُسکے رسول ہمیشہ غالب رہیں گے۔ پس چونکہ مَیں اُس کا رسول یعنی فرستادہ ہوں مگر بغیر کسی نئی شریعت اور نئے دعوے اور نئے نام کے بلکہ اُسی نبی کریم خاتم الانبیاء

١؂ الشعراء : ۲۲۸ ٢؂ المجادلة : ۲۱

نزول المسیح صفحہ 2 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 380 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 112 پر درج ہے

صفحہ 573

(حوالہ نمبر 87)

۸۸

میں بیان کر رہا ہے اور سینکڑوں اور کتابوں کے حوالہ سے ہزاروں خوارق اُن کے بیان کئے جاتے ہیں لیکن سوال تو یہ ہے کہ ان قصّوں کا ثبوت کیا ہے اور کس کو ہم جھوٹا کہیں اور کس کو ہم سچا سمجھیں؟ اور اگر یہ قصّے صحیح تھے تو اب کیوں یہ مصیبت پیش آئی کہ ان لوگوں کے ہاتھ میں صرف قصّے ہی قصّے رہ گئے؟ سچوں کا نور ہمیشہ قائم رہتا ہے۔ ذرا خود انصاف کرو کہ کیا گزشتہ باتوں کا فیصلہ صرف باتوں سے ہو سکتا ہے؟ کوئی بُرا مانے یا بھلا مگر میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ان تمام مذہبوں میں سے سچ پر قائم وہی مذہب ہے جس پر خدا کا ہاتھ ہے اور وہی مقبول دین ہے جس کی قبولیت کے نور ہر ایک زمانہ میں ظاہر ہوتے ہیں۔ یہ منکر پیچھے رہ گئے ہیں۔ سو دیکھو میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ روشن مذہب اسلام ہے جس کے ساتھ خدا کی تائیدیں ہر وقت شامل ہیں۔ کیا ہی بزرگ قدر وہ رسول ہے جس سے ہم ہمیشہ تازہ بتازہ روشنی پاتے ہیں اور کیا ہی برگزیدہ وہ نبی ہے جس کی برکت سے رُوح القدس ہمارے اندر سکونت کرتی ہے تب ہماری دُعائیں قبول ہوتی ہیں اور عجائب کام ہم سے صادر ہوتے ہیں۔ زندہ خدا کا مزہ ہم اسی راہ میں دیکھتے ہیں۔ باقی سب مُردہ پرستیاں ہیں۔ کہاں ہیں مُردہ پرست کیا وہ بول سکتے ہیں؟ کہاں ہیں مخلوق پرست کیا وہ ہمارے آگے ٹھہر سکتے ہیں؟ کہاں ہیں وہ لوگ جو شرارت سے کہتے تھے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی پیشگوئی نہیں ہوئی اور نہ کوئی نشان ظاہر ہوا؟ دیکھو! میں کہتا ہوں کہ وہ شرمندہ ہوں گے اور عنقریب وہ چھپتے پھریں گے؟ اور وہ وقت آتا ہے بلکہ آگیا کہ اسلام کی سچائی کا نور منکروں کے منہ پر طمانچے مارے گا! اور انہیں نہیں دکھائی دے گا کہ کہاں چھپیں۔

یہ بھی یاد رہے کہ میں نے دو مرتبہ باوا نانک صاحب کو کشفی حالت میں دیکھا ہے اور ان کو اس بات کا اقراری پایا ہے کہ انہوں نے اِسی نُور سے روشنی حاصل کی ہے۔ فضولیاں اور جھوٹ بولنا مُردار خواروں کا کام ہے۔ میں وہی کہتا ہوں کہ جو میں نے دیکھا ہے۔ اسی وجہ سے مَیں باوا نانک صاحب کو عزّت کی نظر سے دیکھتا ہوں۔ کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ وہ اس چشمہ سے پانی پیتے تھے جس سے ہم پیتے ہیں۔ اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ مَیں اس معرفت سے بات کر رہا ہوں کہ جو مجھے عطا کی گئی ہے۔ اب اگر آپ کو اس بات سے انکار ہے کہ باوا صاحب مسلمان تھے اور نیز آپ کو اسی بات پر اصرار ہے کہ بقول آپ کے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ بدکار آدمی تھے تو میں آپ پر صرف منقولی استدلال سے اتمام حُجّت کرنا نہیں چاہتا بلکہ ایک اور طریق سے آپ پر خُدا کی حُجّت پوری کرنا چاہتا ہوں جو آگے چل کر بیان کروں گا اور منقولی استدلال پر اس لیے حصر رکھنا پسند نہیں کرتا کہ بوجہ قلّتِ استعداد یہ راہ آپ کے لیے نہایت مشکل ہے۔ آپ لوگ صرف نادان پادریوں اور

مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 88 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 112 پر درج ہے

صفحہ 574

حوالہ نمبر 88

حقیقۃ الوحی ۲۱۵ بعض اعتراضوں کے جواب

معلوم نہیں کہ کہاں تک خدا تعالیٰ کے علم میں میرے ایّام دعوت کا سلسلہ ہو اسلئے یہ لوگ باوجود مولوی کہلانے کے یہ کہتے ہیں کہ ایک خدا پر افتراء کرنیوالا اور جھوٹا ملہم بننے والا اپنے ابتدائے افتراء سے تئیس سال تک بھی زندہ رہ سکتا ہے اور خدا اُس کی نصرت اور تائید کر سکتا ہے اور اسکی کوئی نظیر پیش نہیں کرتے۔ اے بیباک لوگو ! جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا ایک برابر ہے۔ جو کچھ خدا نے اپنے لطف و کرم جو میرے ساتھ معاملہ کیا یہاں تک کہ لمبی مُدت دراز میں ہر ایک دن میرے لئے ترقی کا دن تھا ۔ اور ہر ایک مقدمہ جو میرے تباہ کرنے کے لئے اُٹھایا گیا خدا نے دشمنوں کو رسوا کیا ۔ اگر اس مدت اور اُس تائید اور نصرت کی تمہارے پاس کوئی نظیر ہے تو پیش کرو۔ ورنہ بموجب آیت لَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا یہ نشان بھی ثابت ہو گیا اور تم روسیاہ کئے جاؤ گے۔

١٩۔ انیسواں نشان یہ ہے کہ خواجہ غلام فرید صاحب نے جو نواب بہاولپور کے پیر تھے میری تصدیق کے لئے ایک خواب دیکھا جس کی بناء پر میری محبت خدا تعالیٰ نے اُنکے دل میں ڈالدی اور اسی بناء پر کتاب اشارات فریدی میں جو خواجہ صاحب موصوف کے ملفوظات ہیں جابجا میری نسبت

ص ۲۰۵

موصوف میری تصدیق فرماتے ہیں۔ اہل فقر کی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ ظاہری جھگڑوں میں بہت کم پڑتے ہیں اور جو کچھ خدا تعالیٰ کی طرف سے اُنکو بذریعہ خواب یا کشف یا الہام پتہ ملتا ہے اُس پر ایمان لاتے ہیں۔ پس چونکہ خواجہ غلام فرید صاحب پیر صاحبِ باطن تھے اسلئے خدا نے اُن پر میری سچائی کی حقیقت کھولدی اور کئی مولوی جیسے مولوی غلام دستگیر خواجہ صاحب کو میرا مکذب بنانے کیلئے اُنکے گاؤں میں پہنچے جیسا کہ کتاب اشارات فریدی میں خواجہ صاحب نے خود یہ حالات بیان کئے ہیں اور بعض غزنویوں کا بھی خواجہ صاحب موصوف کے پاس خط پہنچا مگر آپ نے

٭ یہ یادرہے کہ اگر میرے زمانہ الہام کو اس تاریخ سے لیا جائے جب اوّل حصّہ براہین احمدیہ کا لکھا گیا تھا تب تو اس سال سے میرے الہام کے زمانہ کو ستائیس سال کے قریب ہوتے ہیں اور جب براہین احمدیہ کے چہارم حصّہ سے شمار کیا جائے تو تب پچیس سال گزر گئے ہیں اور جب وہ زمانہ لیا جائے کہ جب پہلے الہام شروع ہوا تب تیس سال ہوتے ہیں ۔ منہ ؂

۲۱۵

حقیقۃ الوحی صفحہ 206 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 215 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 112 پر درج ہے

Back

صفحہ 575

(حوالہ نمبر 89)

کشتی نوح ۵ تقویۃ الایمان

طاعون کے حملہ سے بچا رہیگا اور وہ سلامتی جو ان میں پائی جائیگی اسکی نظیر کسی گروہ میں قائم نہیں ہوگی اور قادیان میں طاعون کی خوفناک آفت جو تباہ کر دے نہیں آئیگی الاّ کم اور شاذ و نادر۔ کاش اگر یہ لوگ دلوں کے سیدھے ہوتے اور خدا سے ڈرتے تو بالکل بچائے جاتے کیونکہ مذہب کے اختلاف کی وجہ سے دنیا میں عذاب کسی پر نازل نہیں ہوتا۔ اس کا مؤاخذہ قیامت کو ہوگا۔ دنیا میں محض شرارتوں اور شوخیوں اور کثرت گناہوں کی وجہ سے عذاب آتا ہے۔ اور یہ بھی یادرہے کہ قرآن شریف میں بلکہ توریت کے بعض صحیفوں میں بھی یہ خبر موجود ہے کہ مسیح موعود ؂ کے وقت طاعون پڑیگی۔ بلکہ حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی انجیل میں یہ خبر دی ہے اور ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیشگوئیاں ٹل جائیں۔ اور نیز یہ بھی یادرہے کہ ہمیں اس الٰہی وعدہ کے مقابل اس لئے انسانی تدبیروں سے پرہیز کرنا لازم ہو تا نشانِ الٰہی کو کوئی دشمن دوسری طرف منسوب نہ کرے۔ لیکن اگر ساتھ اس کے خدا تعالیٰ اپنی کلام کے ذریعہ سے خود کوئی تدبیر سمجھاوے یا کوئی دوا بتلا دے ۔ تو ایسی تدبیر یا دوا اس نشان میں کچھ حارج نہیں ہوگی۔ کیونکہ وہ اُس خدا کی طرف سے ہے جسکی طرف سے وہ نشان ہو۔ کسی کو یہ وہم نہ گزرے کہ اگر شاذ و نادر کے طور پر ہماری جماعت میں سے بذریعہ طاعون کوئی فوت ہو جائے تو نشان کے قدر و مرتبہ میں کوئی خلل آئیگا۔ کیونکہ پہلے زمانوں میں موسیٰ اور یشوع اور آخر میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوا تھا کہ جن لوگوں نے تلوار اُٹھائی اور صدہا انسانوں کے خون کئے انکو تلوار سے ہی قتل کیا جائے۔ اور یہ نبیوں کیطرف سے ایک نشان تھا جس کے بعد فتح عظیم ہوئی۔ حالانکہ مقابلہ میں کئی اہل حق بھی انکی تلوار سے قتل ہوتے تھے مگر بہت کم۔ اور اسقدر نقصان سے نشان میں کچھ فرق نہیں آتا تھا۔ پس ایسا ہی اگر شاذ و نادر کے طور پر ہماری جماعت میں سے بعض کو بباعث اسباب مذکورہ طاعون ہو جائے۔ تو ایسی طاعون نشانِ الٰہی میں کچھ بھی خلل انداز نہیں ہوگی۔ کیا یہ عظیم الشان نشان نہیں کہ میں بار بار کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اس پیشگوئی کو ایسے طور سے ظاہر کرے گا کہ ہر ایک طالب حق کو کوئی شک نہیں رہے گا۔ اور وہ سمجھ جائے گا کہ معجزہ کے طور پر خدا نے اس جماعت سے معاملہ کیا ہے۔ بلکہ بطور

؂ مسیح موعود کے وقت میں طاعون کا پڑنا انجیل کی بعض کتابوں میں موجود ہے۔ دیکھو۔ زکریا باب ۱۴۔ انجیل متی باب ۲۴۔ ملخصاً منہ

کشتی نوح صفحہ 5 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 5 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 113 پر درج ہے

صفحہ 576

(حوالہ نمبر 90)

ازالہ اوہام ۱۴۰ حصہ اول

حالانکہ وہ بجائے خود اپنے تئیں مجدد سمجھتے تھے کیونکہ اُن کی بائبل کے ظاہری الفاظ پر نظر تھی۔ ۷۷ افسوس کہ ہمارے مسلمان بھائی بھی اسی گرداب میں پڑے ہوئے ہیں اور حضرت مسیح کی نسبت یہودیوں کی طرح اُن کے دلوں میں بھی یہی خیال جما ہوا ہے کہ ہم انہیں سچ مچ آسمان پر آتے دیکھیں گے اور یہ اعجوبہ ہم بچشم خود دیکھیں گے کہ حضرت مسیح زرد رنگ کی پوشاک پہنے ہوئے آسمان سے اُترتے چلے آتے ہیں اور دائیں بائیں فرشتے اُن کے ساتھ ہیں اور تمام بازاری لوگ اور دیہات کے آدمی ایک بڑے میلہ کی طرح اکٹھے ہو کر دُور سے اُن کو دیکھ رہے ہیں اور فیہ اختلافا کثیراً ۔ قل لو اتبع اللہ اھواءہم لفسدت السموات والارض ومن فیھنَّ ولبطلت حکمتہ وکان اللہ عزیزاً حکیماً ۔ قل لو کان البحر ۷۸ مداداً لکلمات ربی لنفد البحر قبل ان تنفد کلمات ربی ولو جئنا بمثلہ مدداً ۔ قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ وکان اللہ غفوراً رحیماً ۔ پھر اس کے بعد الہام کیا گیا کہ ان علماء نے میرے گھر کو بدل ڈالا ۔ میری عبادت گاہ میں ان کے چولہے ہیں میری پرستش کی جگہ میں ان کے پیالے اور ٹھوٹھیاں رکھی ہوئی ہیں اور چوہوں کی طرح میرے نبی کی حدیثوں کو کتر رہے ہیں (ٹھوٹھیاں : چھوٹی پیالیاں ہیں جن کو ہندوستان میں کٹوریاں کہتے ہیں۔ عبادت گاہ سے مراد اس الہام میں زمانہ حال کے اکثر مولویوں کے دل ہیں جو دُنیا سے بھرے ہوئے ہیں) اس جگہ مجھے یاد آیا کہ جس روز وہ الہام مذکورہ بالا جس میں قادیان میں نازل ہونے کا ذکر ہے پورا تھا اس روز کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب مرحوم مرزا غلام قادر میرے ۷۹ قریب بیٹھ کر بآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انہوں نے ان فقرات کو پڑھا کہ انا انزلنہ قریباً من القادیان تو میں نے سنکر بہت تعجب کیا کہ کیا قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے ؟ تب انہوں نے کہا کہ یہ دیکھو لکھا ہوا ہے تب میں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ میں شاید قریب نصف کے موقع پر یہی الہامی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے اور میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے مکہ اور مدینہ اور قادیان یہ کشف تھا

ازالہ اوہام صفحہ 77 حاشیہ مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 140 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 114 پر درج ہے

صفحہ 577

حوالہ نمبر 91

اربعین نمبر ۴ ۴۴۲

اطلاع

میں نے اپنا ارادہ یہ ظاہر کیا تھا کہ اس رسالہ اربعین کے چالیس اشتہار جُدا جُدا شائع کروں ۔ اور میرا خیال تھا کہ مَیں صرف ایک ایک صفحہ کا اشتہار یا کبھی ڈیڑھ صفحہ یا غایت کار دو صفحہ کا اشتہار شائع کرونگا اور یا کبھی شاید تین یا چار صفحہ لکھنے کا اتفاق ہو جائیگا ۔ لیکن ایسے اتفاقات پیش آ گئے کہ اس کے برخلاف ظہور میں آیا ۔ اور نمبر دو اور تین اور چار رسالوں کی طرح ہو گئے ۔ چنانچہ اس رسالہ کی قریباً ستر صفحہ تک نوبت پہنچ گئی اور درحقیقت وہ امر پورا ہو چکا جس کا مَیں نے ارادہ کیا تھا اس لئے مَیں نے ان رسائل کو صرف چار نمبر تک ختم کر دیا اور آئندہ شائع نہیں ہوگا ۔ جس طرح ہمارے خدائے عزوجل نے اوّل پچاس نمازیں فرض کیں پھر تخفیف کر کے پانچ کو بجائے پچاس کے قرار دے دیا ۔ اِسی طرح مَیں بھی اپنے ربّ کریم کی سنت پر ناظرین کے لئے تخفیف تصدیع کر کے نمبر چار کو بجائے نمبر چالیس کے قرار دے دیتا ہوں اور اپنی اس تحریر کو اپنی جماعت کے لئے چند نصیحتوں پر ختم کرتا ہوں ۔

نصائح

اے عزیزو ! تم نے وہ وقت پایا ہے جس کی بشارت تمام نبیوں نے دی ہے اور اُس شخص کو یعنی مسیح موعود کو تم نے دیکھ لیا جس کے دیکھنے کے لئے بہت سے پیغمبروں نے بھی خواہش کی تھی ۔ اس لئے اب اپنے ایمانوں کو خوب مضبوط کرو اور اپنی راہیں درست کرو ۔ اپنے دلوں کو پاک کرو اور اپنے مولیٰ کو راضی کرو ۔ دوستو ! تم اس مسافر خانہ میں محض چند روز کے لئے ہو ۔ اپنے اصلی گھروں کو

۱۰۰

اربعین نمبر 4 صفحہ 100 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 442 از مرزا قادیانی || یہ حوالہ صفحہ 114 پر درج ہے

صفحہ 578

(حوالہ نمبر 92) ۲۰۷ لیکچر سیالکوٹ

روحانیت کی کیفیت اُن میں پھونک دی اور سچے خدا کے ساتھ ان کا تعلق پیدا کر دیا۔ وہ خدا کی راہ میں بکریوں کی طرح ذبح کئے گئے۔ اور چیونٹیوں کی طرح پیروں میں کچلے گئے مگر ایمان کو ہاتھ سے نہ دیا۔ بلکہ ہر ایک مصیبت میں آگے قدم بڑھایا۔ پس بلاشبہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم روحانیت قائم کرنے کے لحاظ سے آدم ثانی تھے۔ بلکہ حقیقی آدم وہی تھے جن کے ذریعہ اور طفیل سے تمام انسانی فضائل کمال کو پہنچے اور تمام نیک قوتیں اپنے اپنے کام میں لگ گئیں اور کوئی شاخ فطرتِ انسانی کی بے بار و بر نہ رہی۔ اور ختم نبوت آپ پر نہ صرف زمانہ کے تاخّر کی وجہ سے ہوا بلکہ اس وجہ سے بھی کہ تمام کمالات نبوت آپ پر ختم ہو گئے۔ اور چونکہ آپ صفاتِ الٰہیہ کے مظہر اتم تھے اس لئے آپ کی شریعت صفاتِ جلالیہ وجمالیہ دونوں کی حامل تھی۔ اور آپ کے دو نام محمد اور احمد صلی اللہ علیہ وسلم اسی غرض سے ہیں۔ اور آپ کی نبوتِ عامہ میں کوئی حصہ بخل کا نہیں۔ بلکہ وہ ابتداء سے تمام دنیا کے لئے ہے۔ اور ایک قوی دلیل آپ کے ثبوت نبوت پر یہ ہے کہ تمام نبیوں کی کتابوں سے اور ایسا ہی قرآن شریف سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے آدم سے لیکر اخیر تک دنیا کی عمر سات ہزار برس رکھی ہے اور ہدایت اور گمراہی کے لئے ہزار ہزار سال کے دَور مقرر کئے ہیں۔ یعنی ایک وہ دَور ہے جس میں ہدایت کا غلبہ ہوتا ہے اور دوسرا وہ دَور ہے جس میں ضلالت اور گمراہی کا غلبہ ہوتا ہے۔ اور جیسا کہ میں نے بیان کیا خدا تعالیٰ کی کتابوں میں یہ دونوں دَور ہزار ہزار برس پر تقسیم کئے گئے ہیں۔ اوّل دَور ہدایت کے غلبہ کا تھا۔ اس میں بُت پرستی کا نام و نشان نہ تھا۔ جب یہ ہزار سال ختم ہوا تب دوسرے دَور میں جو ہزار سال کا

صفحہ 579

(حوالہ نمبر 93)

ازالہ اوہام ۲۲۷ حصہ اول

ایک اور حدیث بھی مسیح ابن مریم کے فوت ہو جانے پر دلالت کرتی ہے اور وہ یہ ہے کہ آنحضرت صلعم سے پوچھا گیا کہ قیامت کب آئے گی تو آپ نے فرمایا کہ آج کی تاریخ سے سو برس تک تمام بنی آدم پر قیامت آجائے گی اور یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ سو برس کے عرصہ سے کوئی شخص زیادہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ اسی بناء پر اکثر علماء و فقہاء اسی طرف گئے ہیں کہ خضر بھی فوت ہو گیا کیونکہ محمدؐ کے کلام میں کذب جائز نہیں مگر افسوس کہ ہمارے علماء نے اس قیامت سے بھی مسیح کو باہر رکھ لیا تعجب کہ اور بنی اسرائیل کے انبیاء کی نسبت مسیح کو کیوں زیادہ عظمت دی جاتی ہے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ ہمارے بھائی مسلمان کسی ایسے زمانہ سے کہ جب سے بہت سے عیسائی دین اسلام میں داخل ہوئے ہوں گے اور کچھ کچھ حضرت مسیح کی نسبت اپنے مشرکانہ خیالات ساتھ لائے ہوں گے اس بے جا عظمت دینے کے عادی ہو گئے ہیں جس کو قرآن شریف تسلیم نہیں کرتا اس لئے خاص طور پر مسیح کی تعریف کے بارہ میں اُن میں حد موزون سے زیادہ غلو پایا جاتا ہے انصاف کی نظر سے دیکھنا چاہئے کہ کتاب براہین احمدیہ میں خدا تعالیٰ نے اس عاجز کو آدم سمی عیسٰی ۲۵۳ مثیل قرار دیا اور کسی علماء میں سے اس بات پر ذرہ رنج دل میں نہیں گزرا اور پھر مثیل نوح قرار دیا اور کوئی رنجیدہ نہیں ہوا اور پھر مثیل یوسف علیہ السلام قرار دیا اور کسی مولوی صاحب کو اس سے غصہ نہیں آیا اور پھر مثیل حضرت داؤد بیان فرمایا اور کوئی علماء میں سے رنجیدہ خاطر نہیں ہوا۔ اور پھر مثیل موسےٰ کر کے بھی اس عاجز کو پکارا تو کوئی فقیہوں اور محدثوں میں سے مشتعل نہیں ہوا یہاں تک کہ پھر اللہ تعالیٰ نے اس عاجز کو مثیل ابراہیم بھی کہا تو کسی شخص نے ایک

بقیہ حاشیہ یہ حدیث نبوی کا یہ فقرہ کہ پس چالیس برس تک قبر میں نہیں رہ سکتا یہ اس بات کی طرف اشارہ ہو گا کہ چونکہ وہ گویا اسی مقدس وادی جو قبر ہے اور اس عالم خاکی سے ایک ویسا ہی تعلق رکھتا ہے۔ کوئی دینی خدمات کے زمانہ میں اس کی روح سے اب کوئی توجہ نہیں رہتی اور پھر یہ تعلق ویسا کم ہو جاتا ہے کہ گویا صاحب قبر۔ قبر میں ۲۵۴ گھل جاتا ہے اور مُردہ کے بدن سڑنے کے بعد اُس عالم کے وجود سے بالکل واقف نہیں رہتا یعنی قصہ ہی اُٹھ جاتا ہے۔ منہ ۱۲

ازالہ اوہام صفحہ 127 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 227 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 115 پر درج ہے

صفحہ 580

(حوالہ نمبر 94)

ازالۃ الاوہام - ٦١ - حصہ دوم

فمعناه کل من کان فی صفتھما لقولہ تعالیٰ الا عبادک منھم المخلصین ص: ۸۳ یعنی علامہ زمحشری نے بخاری کی اس حدیث میں طعن کیا ہے اور اس کی صحت میں اسکو شک ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث معارض قرآن ہے اور فقط اس صورت میں صحیح تصور ہو سکتی ہے کہ اس کے یہ معنے کئے جاویں کہ مریم اور ابن مریم سے مراد تمام ایسے لوگ ہیں جو اُن کی صفت پر ہوں۔ ماسوا اس کے حسب آیت کریمہ فبای حدیث بعدہ یؤمنون ۱ اور بحسب آیت کریمہ فبای حدیث بعد اللہ واٰیاتہ یؤمنون ۲ ہر ایک حدیث جو صریح آیات کے معارض پڑے رد کرنے کے لائق ہے۔ اور آخری نصیحت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تھی کہ تم نے تمسک بکتاب اللہ کرنا۔ جیسا کہ بخاری کے صفحہ ۶۸۱ میں یہ حدیث درج ہے کہ اوصیٰ بکتاب اللہ۔ اسی وصیت پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انتقال کر گئے۔ پھر اسی بخاری کے صفحہ ۱۰۸۰ میں یہ حدیث ہے وھذا الکتاب الذی ھدی اللہ بہ رسولکم فخذوا بہ تھتدوا یعنی اسی قرآن سے تمہارے رسول نے ہدایت پائی ہے سو تم بھی اسی کو اپنا رہنما پکڑو۔ تا تم ہدایت پاؤ۔ پھر بخاری کے صفحہ ۱۰۵۰ میں یہ حدیث ہے ما عندنا شیء الا کتاب اللہ یعنی کتاب اللہ کے سوا ہمارے پاس اور کوئی چیز نہیں جس سے باستقلال تمسک پکڑیں۔ پھر بخاری کے صفحہ ۱۰۸۳ میں یہ حدیث ہے حسبکم القرآن یعنی تمہیں قرآن کافی ہے۔ پھر بخاری میں یہ بھی حدیث ہے کہ ما کان من شرط لیس فی کتاب اللہ فھو باطل قضاء اللہ احق دیکھو صفحہ ۳۶۰ و ۳۷۷ و ۳۴۸۔ اور یہی اصول محکم ائمہ کبار کا ہے۔ چنانچہ تاریخ میں لکھا ہے انما یرد خبر الواحد من معارضۃ الکتاب۔ پس جس صورت میں خبر واحد جس میں احادیث بخاری و مسلم بھی داخل ہیں بحالت معارضہ کتاب اللہ رد کرنے کے لائق ہے۔ تو پھر کیا یہ ایمانداری ہے کہ اگر کسی آیت کا کسی حدیث سے تعارض معلوم ہو تو آیت کے زیر و زبر کرنے کی فکر میں

صفحہ 581

حوالہ نمبر 95

۳۸۲

نے عظمت اور قبولیت انکی دنیا کے بعض حصوں میں پھیلادی ہے۔ یہ درحقیقت خدا کی طرف سے ہیں اور اُن کی آسمانی کتابوں میں گو دُور دراز زمانہ کی وجہ سے کچھ تبدل تغیر ہوگئی ہو ۔ یا اُن کے معنی خلاف حقیقت سمجھے گئے ہوں ۔مگر دراصل وہ کتابیں منجانب اللہ اور عزت اور تعظیم کے لائق ہیں۔ ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دوسرے ملکوں کے انبیاء کی نسبت سوال کیا گیا تو آپ نے یہی فرمایا کہ ہر ایک ملک میں خدا تعالیٰ کے نبی گزرے ہیں اور فرمایا کہ كَانَ فِي الْهِنْدِ نَبِيًّا أَسْوَدَ اللَّوْنِ اِسْمُهُ كَاهِنًا یعنی ہند میں ایک نبی گزرا ہے جو سیاہ رنگ تھا اور نام اُس کا کاہن تھا یعنی کنھیا جس کو کرشن کہتے ہیں۔ اور آپ سے پوچھا گیا کہ کیا زبان پارسی میں بھی کبھی خدا نے کلام کیا ہے۔ تو فرمایا کہ ہاں خدا کا کلام زبان پارسی میں بھی اُترا ہے۔ جیسا کہ وہ اُس زبان میں فرماتا ہے۔ "ایں مُشتِ خاک را گرنہ بخشم چہ کنم"۔ اور خدا نے قرآن شریف میں یہ بھی فرمایا ہے مِنْهُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَيْكَ وَمِنْهُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَيْكَ یعنی جس قدر دنیا میں نبی گزرے ہیں بعض کا اُن میں سے ہم نے قرآن شریف میں ذکر کیا ہے اور بعض کا ذکر نہیں کیا۔ اس قول سے مطلب یہ ہے کہ تا مسلمان حسن ظن سے کام لیں اور دنیا کے ہر ایک حصہ کے نبی کو جو گزر چکے ہیں عزت اور تعظیم سے دیکھیں اور بار بار قرآن شریف میں یہی ذکر کیا گیا ہے اس سے مقصود مسلمانوں کو یہ سبق دینا ہے کہ وہ دُنیا کے کسی حصہ کے ایسے نبی کی کسر شان نہ کریں جو ایک کثیر قوم نے اُس کو قبول کر لیا تھا۔ یہ اصول نہایت ہی پیارا اور دِلکش اصول ہے اور مسلمان اسکے ساتھ جس قدر فخر کریں وہ بجا ہے کیونکہ دوسری قومیں بوجہ اس کے کہ اِسی اصول کی پابند نہیں دُنیا کے اور انبیاء کی نسبت جو گزر چکے ہیں جن کی قبولیت کروڑہا لوگوں میں پھیل چکی ہے ادنیٰ ادنیٰ اختلاف کی وجہ سے زبان درازی کے لئے

لے المومن ۷۸

چشمہ معرفت صفحہ 11 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 382 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 116 پر درج ہے

صفحہ 582

حوالہ نمبر 96

ازالہ اوہام ۳۱۴ حصہ اوّل

پیدا ہونے کی وجہ سے یہودا کا پوتا ہی تھا اس وجہ سے اس کا نام سیلا ہی رکھ دیا گیا۔ اسی توریت پیدائش باب ۴۸ آیت پندرہ میں حضرت یعقوب کی یہ دعا ذکر کی ہے کہ اُس نے یوسف کے لئے برکت چاہی اور یوسف کے لڑکوں کے لئے دعا کر کے کہا کہ وہ خدا جس نے ساری عمر آج کے دن تک میری پاسبانی کی ان جوانوں کو برکت دیوے اور جو میرے اور میرے باپ دادوں ابراہیم اور اسحاق کا نام ہے سو اُن پر رکھا جاوے ۔ پس اللہ جلشانہ کی اس عادت قدیمہ سے انکار نہیں ہو سکتا کہ وہ روحانی مشابہت کی وجہ سے جو ایک کا نام ہے وہ دوسرے کا رکھ دیتا ہے مثلاً ابراہیمی المشرب اس کے نزدیک ابراہیم ہے اور موسوی المشرب اس کے نزدیک موسیٰ ہے اور عیسوی المشرب اس کے نزدیک عیسیٰ ہے اور جو ان تمام مشربوں سے حصہ رکھتا ہے وہ ان تمام ناموں کا مصداق ہے ۔ ہاں اگر کوئی امر بحث کے لائق ہے تو یہ ہے کہ ابن مریم کے لفظ کو اُس کے ظاہری اور متبادر معنوں سے کیوں پھیرا جاوے ؟ تو اس کا یہ جواب ہے کہ بوجہ قیام قرینہ قویہ کے کیونکہ قرآن کریم اور حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بوضاحت ناطق ہے کہ مسیح ابن مریم رسول اللہ جان بحق ہوا اور خدا تعالیٰ کی طرف اُٹھایا گیا اور اپنے بھائیوں میں جاملا ۔ اور رسول مقبول نبی آخر الزماں نے اپنی معراج کی رات میں یحییٰ نبی شہید کے ساتھ دوسرے آسمان میں اُس کو دیکھا یعنی گذشتہ اور وفات یافتہ لوگوں کی جماعت میں اُس کو پایا۔ قرآن کریم اور احادیث صحیحہ یہ امید و بشارت بتواتر دے رہی ہیں کہ مثیل ابن مریم اور دوسرے مثیل بھی آئیں گے مگر کسی جگہ یہ نہیں لکھا کہ کوئی گذشتہ اور وفات یافتہ نبی بھی پھر دنیا میں آ جائے گا۔ لہٰذا یہ بات ببداہت ثابت ہے کہ ابن مریم سے وہی ابن مریم رسول اللہ مراد نہیں ہے جو فوت ہو چکا اور فوت شدہ جماعت میں جا ملا اور خدا تعالیٰ کی اس حکمتِ حکیمیہ پر بھی نظر ڈالو کہ اُس نے آج سے قریباً دس برس پہلے اس عاجز کا نام عیسیٰ رکھا اور بتوفیقہ تعالیٰ خود براہین میں چھپوا کر ایک عالم میں اس نام کو مشہور کر دیا۔

ازالہ اوہام صفحہ 214 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 314 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 117 پر درج ہے

صفحہ 583

(حوالہ نمبر 97)

ازالہ اوہام ۳۸۸ حصہ دوم

بھائیو! کیوں کھسیانے بن کر بیہودہ باتیں کرتے ہو اور ناحق اپنے ذمہ گناہ لیتے ہو۔ خدا تعالیٰ قرآن کریم میں اُس مسیح ابن مریم کو مار چکا جو اسرائیلی نبی تھا جس پر انجیل نازل ہوئی تھی ۔ اب یہ فقرہ اپنے گھر سے حدیثوں میں زیادہ مت کرو۔ کہ وہی مسیح فوت شدہ پھر آئیگا۔ اے خدا کے بندو کچھ تو خدا سے ڈرو۔ کیا خدا تعالیٰ آپ کے نزدیک اس بات پر قادر نہیں *۳۸ کہ وہ اپنے ایک بندہ میں ایک ایسی روح ڈال دیوے جس سے وہ ابن مریم کے روپ میں ہی ہو جائے کیا اس کی مثالیں خدا تعالیٰ کی کتابوں میں نہیں کہ اس نے ایک نبی کا نام دوسرے پر رکھ دیا کیا حدیثوں میں یہ مذکور نہیں کہ تمثیل ابن مریم وغیرہ اِس اُمت میں پیدا ہوں گے تو پھر جب قرآن مسیح ابن مریم کو مارتا ہے اور حدیثیں تمثیل ابن مریم کے آنے کا وعدہ دیتی ہیں تو اس صورت میں کیا اشکال باقی رہا۔ کیا اس میں کچھ جھوٹ ہے کہ جو ابن مریم کی سیرت رکھتا ہے وہ ابن مریم ہی ہے۔

در آں ابن مریم خدائی نبود ز موت نز فوتش رہائی نبود
رہا کرد خود را ز شرک و دوئی تو ہم کن چنیں ابن مریم توئی

اے مولوی صاحبان! فضولی کو چھوڑو اور مجھے کوئی ایک ہی حدیث ایسی دکھلاؤ کہ جو صحیح ہو اور جو مسیح کا خاکی جسم کے ساتھ غائب ہونا اور اب تک آسمان پر زندہ ہونا ثابت کرتی ہو اور تواتر کی حد تک پہنچی ہو اور جس مقدار ثبوت تک پہنچ گئی ہو جو عند العقل مفید یقین قطعی ہو جائے اور صرف شک کی حد تک محدود نہ رہے۔ آپ جانتے ہیں کہ قرآن کریم کی تمام آیات بینہ کیسی مفید یقین ہیں۔ اب جبکہ ہمارا دعویٰ بھی بنصوص بینہ قرآنیہ ہے اور انکی تائید میں صحیح حدیثیں بھی ہمارے پاس ہیں اور ایسا ہی اقوال سلف و خلف بھی ہماری تائید پر کچھ تھوڑے نہیں اور الہامی شہادتیں ساتھ ہیں۔ پس انصاف کے ترازو لے کر بیٹھ جاؤ اور ایک پلہ میں اپنے خیالات رکھو اور دوسرے پلہ میں ہماری یہ سب وجوہات ۔ اور آپ ہی انصاف کر لو۔ خوب سوچ لو کہ اگر ہمارے پاس صرف نصوص قرآنیہ محکمہ ہی ہوتیں تو فقط وہی کافی تھیں ۔ اب جس حالت میں بعض حدیثیں بھی ان

بقیہ حاشیہ ص ۳۸۸

ازالہ اوہام صفحہ 536 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 388 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 117 پر درج ہے

صفحہ 584

حوالہ نمبر 98

اربعین نمبر ۳

۴۰۴

اور مکر سوچو جسقدر چاہو پھر یاد رکھو کہ عنقریب خدا تمہیں دکھلا دے گا کہ اُس کا ہاتھ غالب ہے ۔ نادان کہتا ہے کہ میں اپنے منصوبوں سے غالب ہو جاؤں گا۔ مگر خدا کہتا ہے کہ اے نطفتی دیکھ میں تیرے سارے منصوبے خاک میں ملا دونگا ۔ اگر خدا چاہتا تو ان مخالف مولویوں اور ان کے پیروؤں کو آنکھیں بخشتا اور وہ ان وقتوں اور موسموں کو پہچان لیتے جن میں خدا کے مسیح کا آنا ضروری تھا ۔ لیکن ضرور تھا کہ قرآن شریف اور احادیث کی وہ پیشگوئیاں پوری ہوتیں جن میں لکھا تھا کہ مسیح موعود جب ظاہر ہو گا تو اسلامی علماء کے ہاتھ سے دکھ اٹھائیگا ۔ وہ اس کو کافر قرار دیں گے اور اس کے قتل کے لئے فتوے دیئے جائیں گے اور اس کی سخت توہین کی جائیگی اور اس کو دائرہ اسلام سے خارج اور دین کا تباہ کرنے والا خیال کیا جائے گا ۔ سو ان دنوں میں وہ پیشگوئی انہی مولویوں نے اپنے ہاتھوں سے پوری کی ۔ افسوس یہ لوگ سوچتے نہیں کہ اگر یہ دعویٰ خدا کے امر اور ارادہ سے نہیں تھا تو کیوں اس مدعی میں پاک اور صادق نبیوں کی طرح بہت سے سچائی کے دلائل جمع ہو گئے ؟ کیا وہ رات دن کیلئے ماتم کی رات نہیں تھی جس میں میرے دعوے کے وقت رمضان میں خسوف کسوف عین پیشگوئی ۱۸ کی تاریخوں میں وقوع میں آیا ۔ کیا وہ دن ان پر مصیبت کا دن نہیں تھا جس میں لیکھرام کی نسبت پیشگوئی پوری ہوئی ۔ خدا نے بارش کی طرح نشان برسائے مگر ان لوگوں نے آنکھیں بند کر لیں تا ایسا نہ ہو کہ دیکھیں اور ایمان لائیں ۔ کیا یہ سچ نہیں کہ یہ دعویٰ غیر وقت پر نہیں بلکہ عین صدی کے سر پر اور عین ضرورت کے دنوں میں ظہور میں آیا۔ اور یہ امر قدیم سے اور جب سے کہ بنی آدم پیدا ہوئے سنت اللہ میں داخل ہے کہ عظیم الشان مصلح صدی کے سر پر اور عین ضرورت کے وقت میں آیا کرتے ہیں جیسا کہ ہمارے رسول صلے اللہ علیہ وسلم بھی حضرت مسیح علیہ السلام کے بعد ساتویں صدی کے سر پر جبکہ تمام دنیا تاریکی میں پڑی تھی ظہور فرما ہوئے اور جب سات کو دُگنا کیا جائے

۶۲

اربعین صفحہ 18 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 404 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 117 پر درج ہے

صفحہ 585

حوالہ نمبر 99

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

خدا تعالیٰ کی حجت پوری کرنے کے لئے یہ رسالہ

اربعین

لإتمام الحجۃ علی المخالفین

مؤلفہ مجدد وقت رسول دوراں سلطان قلم دوراں مسیح الزمان

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلوٰۃ والسلام

مطبوعہ ضیاء الاسلام پریس قادیان

Back

ٹائیٹل صفحہ کتاب اربعین از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 118 پر درج ہے

صفحہ 586

حوالہ نمبر 99

۲۳ اربعین نمبر ۲

ہے جس کی ایک آیت سنکر ایک لاکھ صحابہ نے سر جھکا دیا تھا ۔ اور بلا توقف مان لیا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تمام نبی عیسیٰ وغیرہ فوت ہوچکے ہیں اور اب وہی قرآن ہے جو بار بار تم لوگوں کے روبرو پیش کیا جاتا ہے اور آپ لوگوں کو کچھ بھی اس کی پرواہ نہیں۔ آپ لوگ میری بڑی بڑی کتابوں کو تو نہیں دیکھتے اور فرصت کہاں ہے ۔ لیکن اگر میرے رسالہ تحفہ گولڑویہ اور تحفہ غزنویہ کو ہی دیکھو جو پیر مہر علی شاہ اور غزنوی جماعت مولوی عبد الجبار و عبد الواحد و عبد الحق وغیرہ کی ہدایت کے لئے لکھی گئی ہیں جن کو آپ لوگ صرف دو گھنٹہ کے اندر بہت غور اور تامل سے پڑھ سکتے ہیں ۔ تو آپ کو معلوم ہو جائیگا کہ مسیح کی نسبت قرآن کیا کہتا ہے ۔ آپ یاد رکھیں کہ اس قدر حیات مسیح پر جو آپ زور دیتے ہیں یہ بر خلاف منشائے کلام الہی ہے ۔ اے عزیزو! یاد رکھو کہ جو شخص آنا تھا آ چکا اور صدی جس کے سر پر مسیح موعود آنا چاہیے تھا اس میں سے بھی سترہ برس گزر گئے اور اس صدی میں جس پر امت کے اولیاء کی نظریں لگی ہوئی تھیں ۔ اس میں بقول تمہارے ایک چھوٹا سا مجدد بھی پیدا نہ ہوا اور محض ایک دجال پیدا ہوا۔ کیا ان شوخیوں کا حضرت عزت کی درگاہ میں جواب دینا نہیں پڑیگا ۔ گو کیسے ہی دل سخت ہو گئے ہیں آخر اس قدر تو خوف چاہیے تھا کہ جو شخص صدی کے سر پر پیدا ہوا اور رمضان کے کسوف خسوف نے اس کی گواہی دی اور اسلام کے موجودہ ضعف اور دشمنوں کے متواتر حملوں نے اس کی ضرورت ثابت کی اور انبیاء گزشتہ کے کشوف نے اس بات پر قطعی مہر لگا دی کہ وہ چودھویں صدی کے سر پر پیدا ہوگا اور نیز یہ کہ پنجاب میں ہوگا ایسے شخص کی تکذیب میں جلدی نہ کرتے ۔ آخر ایک دن مرنا ہے اور

یہ حوالہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 428 پر درج ہے

اربعین نمبر 2 صفحہ 23 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 118 پر درج ہے

صفحہ 587

(حوالہ نمبر 100)

۳۷۱

اربعین نمبر ۲

کی درگاہ میں جواب دینا نہیں پڑے گا ؟ تو کیسے ہی دل سخت ہو گئے ہیں آخر اس قدر تو خوف چاہیے تھا کہ جو شخص صدی کے سر پر پیدا ہوا اور رمضان کے کسوف خسوف نے اس کی گواہی دی اور اسلام کے موجودہ ضعف اور دشمنوں کے متواتر حملوں نے اُس کی ضرورت ثابت کی اور اولیاء گذشتہ کے کشوف نے اس بات پر قطعی مہر لگا دی کہ وہ چودھویں صدی کے سر پر پیدا ہو گا اور نیز یہ کہ پنجاب میں ہو گا ایسے شخص کی تکذیب میں جلدی نہ کرتے ۔ آخر ایک دن مرنا ہے اور سب کچھ اسی جگہ چھوڑ جانا ہے۔ دیکھو اگر میں خدا کی طرف سے ہوا اور تم نے میری تکذیب کی اور مجھے کافر قرار دیا اور دجال نام رکھا تو جناب الٰہی کو کیا جواب دو گے ؟ کیا انہی کی مانند جواب ہیں جو یہودیوں اور عیسائیوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے انکار کرنے کے وقت اپنی کتابوں میں لکھے ہیں کہ توریت کے تمام نشان قرار دادہ پورے نہیں ہوئے اور کچھ رہ گئے ہیں ۔ سو مدت ہوئی کہ خدا تعالیٰ اُن کو جواب دے چکا کہ جو کچھ تمہارے ہاتھ میں ہے وہ سب کچھ صحیح نہیں ہے اور نہ وہ تمام معنے صحیح ہیں جو تم کر رہے ہو ۔ جو شخص حَکَم کر کے بھیجا

۲۲

گیا ہے اس کی بات کو سنو۔ سو یہی جواب خدا تعالیٰ کی طرف سے اب ہے چاہو تو قبول کرو ۔ آہ آپ لوگوں کو چاہیئے تھا کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے قصے سے عبرت پکڑتے ان لوگوں کی حضرت مسیح اور حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہی حجت تھی کہ ہم نہیں مانیں گے جب تک تمام علامتیں پوری نہ ہولیں اور بوجہ زمانہ دراز اور انواع تغیرات کے یہ غیر ممکن تھا اس لئے وہ کفر پر مرے ۔ سو تم اُسی طرح ٹھوکر مت کھاؤ ۔ جو یہودی اور نصرانی کھا چکے ۔ اگر تمہارا ذخیرہ سب کا سب صحیح ہوتا تو پھر حَکَم مجدد کے آنے کی کیا ضرورت تھی ! ہر ایک فرقہ کو یہی خیال ہے کہ جو کچھ میرے پاس ہے یہی صحیح ہے۔ اب یہ تمام فرقے تو سچ پر نہیں ۔ اس لئے سچ وہی ہے جو حَکَم کے منہ سے نکلے ۔ اگر ایمان ہو تو خدا کے مقرر کردہ حَکَم کے حکم سے بعض حدیثوں کا چھوڑنا یا

۲۹

اربعین نمبر 2 صفحہ 29 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 371 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 118 پر درج ہے

صفحہ 588

حوالہ نمبر 101

ضمیمہ براہین احمدیہ ۳۵۹ حصہ پنجم

عیسیٰ علیہ السلام حضرت موسیٰ سے چودھویں صدی میں پیدا ہوئے تھے۔ پس میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے چودھویں صدی میں ظاہر ہوا ہوں اور اس آخری زمانہ کی نسبت خدا تعالےٰ نے قرآن شریف میں یہ خبر بھی دی تھی کہ کتابیں اور رسالے بہت سے دنیا میں شائع ہو جائیں گے اور قوموں کی باہم ملاقات کے لئے راہیں کھل جائیں گی ۔ اور دریاؤں میں سے بکثرت نہریں نکلیں گی۔ اور بہت سی نئی کانیں پیدا ہو جائیں گی۔ اور لوگوں میں مذہبی امور میں بہت سے تنازعات پیدا ہونگے۔ اور ایک قوم دوسری قوم پر حملہ کرے گی۔ اور اسی اثناء میں آسمان سے ایک صور پھونکی جائیگی۔ یعنی خدا تعالٰی مسیح موعود کو بھیجکر اشاعت دین کے لئے ایک تجلّی فرمائیگا۔ تب دینِ اسلام کی طرف ہر ایک ملک میں سعید الفطرت لوگوں کو ایک رغبت پیدا ہو جائیگی۔ اور جس حد تک خدا تعالٰی کا ارادہ ہے تمام زمین کے سعید لوگوں کو اسلام پر جمع کریگا۔ تب آخر ہوگا۔ سو یہ تمام باتیں ظہور میں آگئیں۔ ایسا ہی احادیث صحیحہ میں آیا تھا کہ وہ مسیح موعود صدی کے سر پر آئیگا۔ اور وہ چودھویں صدی کا مجدّد ہوگا۔ سو یہ تمام علامات بھی اس زمانہ میں پوری ہو گئیں۔ اور لکھا تھا کہ وہ اپنی پیدائش کی رُو سے دوصدیوں میں اشتراک رکھے گا۔ اور دو نام پائے گا۔ اور اُسکی

بقیہ حاشیہ حاشیہ نمبر ۱

۱؎ یہاں یہ انہوں نے غلطی کی ہے۔ یہودیوں کی تاریخ سے بالاتفاق ثابت ہے کہ یسوع یعنی حضر عیسیٰ موسیٰ کے بعد چودھویں صدی میں ظاہر ہوا تھا اور وہی قول صحیح ہے اگرچہ مشابہت کے ثابت کرنے کیلئے پوری مطابقت ضروری نہیں ہوا کرتی جیسا کہ اگر کسی کو کہا جاوے کہ یہ شیر ہے تو یہ ضروری نہیں کہ شیر کے اس کے پنجے اور کھال منہ دم بھی ہو اور وہ غار بھی شیر کی طرح رکھتا ہو بلکہ ایک شخص کو دوسرے کا مثیل ٹہرانے میں ایک حد تک مشابہت کافی ہوتی ہے پس اگر عیسائیوں کا قول قبول کر لیں کہ حضر عیسیٰ حضر موسیٰ کے پندھویں صدی میں ہوئے تھے تاہم مضائقہ نہیں کیونکہ چودھویں اور پندھویں صدی باہم ملحق ہیں اور اسقدر فرق زمانہ کا مشابہت میں کچھ حرج نہیں ڈالتا مگر ہم اسجگہ یہودیوں کے قول کو ترجیح دیتے ہیں جو کہتے ہیں کہ یسوع یعنی حضر عیسیٰ حضر موسیٰ کے بعد چودھویں صدی میں مدعی نبوت ہوا تھا کیونکہ انکی وجہ علم عبرانی تورات سے زیادہ نسبت عیسائیوں کے فہم کے صحیح ہے۔ منہ

براہین احمدیہ حصہ پنجم (ضمیمہ) صفحہ 188 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 359 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 118 پر درج ہے

صفحہ 589

(حوالہ نمبر 102)

۱۶ ۴۱ حقیقت الوحی

لوگوں کی غلطی ثابت ہوتی ہے جو خواہ نخواہ حضرت عیسیٰ کو دوبارہ دُنیا میں لاتے ہیں اور درحقیقت جو الیاس نبی کی دوبارہ آنے کی تھی جو خود حضرت عیسیٰ کے بیان سے کھل گئی اُس سے کچھ عبرت نہیں پکڑتے بلکہ جس آنے والے مسیح موعود کا حدیثوں سے پتہ لگتا ہے۔ اُس کا انہیں حدیثوں میں یہ نشان دیا گیا ہے کہ وہ نبی بھی ہوگا اور امتی بھی۔ مگر کیا مریم کا بیٹا اُمتی ہوسکتا ہے؟ کون ثابت کریگا کہ اُس نے براہِ راست نہیں بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے درجہ نبوت پایا تھا؟ هٰذَا هُوَ الْحَقُّ وَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنْفُسَنَا وَأَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَةَ اللّٰهِ عَلَى الْكَاذِبِيْنَ۔ اور ہزار کوشش کی جائے اور تاویل کی جائے یہ بات بالکل غیر معقول ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ایسا نبی آئیگا جو کہ جب لوگ نماز کیلئے مساجد کیطرف دوڑیں گے تو وہ کلیسیا کی طرف بھاگے گا۔ اور جب لوگ قرآن شریف پڑھیں گے تو وہ انجیل کھول بیٹھے گا اور جب لوگ عبادت کے وقت بیت اللہ کی طرف منہ کرینگے تو وہ بیت المقدس کی طرف متوجہ ہوگا اور شراب پیئے گا اور سُؤر کا گوشت کھائے گا اور اسلام کے حلال و حرام کی کچھ پرواہ نہیں رکھیگا۔ کیا کوئی عقل تجویز کرسکتی ہے کہ اسلام کے لئے یہ مصیبت کا دن بھی باقی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ایسا نبی بھی آئے گا کہ جو مستقل نبوت کی وجہ سے آپؐ کی ختمِ نبوت کی مُہر کو توڑ دے گا۔ اور آپؐ کی فضیلت خاتم الانبیاء ہونے کی چھین لے گا۔

ثالثاً: حضرت عیسیٰ کے دوبارہ آنے کا مسئلہ عیسائیوں نے محض اپنے فائدہ کے لئے گھڑا تھا کیونکہ ان کی پہلی آمد میں اُن کی خدائی کا کوئی نشان ظاہر نہ ہوا۔ ہر دفعہ مار کھاتے رہے۔ کمزوری دکھلاتے رہے۔ پس یہ عقیدہ پیش کیا گیا کہ اب تو آکر ہی وہ خدائی کا جلوہ دکھائیں گے اور پہلی کسریں نکالیں گے۔ تا اس طرح پر پہلی آمد کے حالات کی پردہ پوشی کی جائے۔ مگر اب وہ زمانہ آچکا ہے کہ خود عیسائی ایسے عقائد سے منحرف ہوتے جاتے ہیں۔ میں یقین کرتا ہوں کہ جب اُن کی عقلیں ترقی کریں گی تو وہ بہت آسانی سے اس عقیدے کو چھوڑ دینگے۔ اور جیسا کہ مجھ پر الہام ہوا کہ بچہ مریم میں نہیں رہ سکتا اسی طرح وہ بھی تثلیث کے حجاب اور جہل سے باہر آجائیں گے۔ منه

۴۲

حقیقت الوحی صفحہ 31 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 31 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 119 پر درج ہے

صفحہ ۵۲۱

تتمہ حقیقۃ الوحی

اسکے نور کو نابود نہ کرسکی۔ سو خدا نے جو ہر ایک کام نرمی سے کرتا ہے اس زمانہ کے لئے سب سے پہلے میرا نام عیسیٰ ابن مریم رکھا کیونکہ ضرور تھا کہ میں اپنے ابتدائی زمانہ میں ابن مریم کی طرح قوم کے ہاتھ سے دُکھ اُٹھاؤں اور کافر اور ملعون اور دجّال کہلاؤں اور عدالتوں میں کھینچا جاؤں سو میرے لئے ابن مریم ہونا پہلا زینہ تھا مگر میں خدا کے دفتر میں صرف عیسیٰ ابن مریم کے نام سے موسوم نہیں بلکہ اور بھی میرے نام ہیں جو آج سے چھبیس برس پہلے خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں میرے ہاتھ سے لکھوائے ہیں اور دنیا میں کوئی نبی نہیں گذرا جس کا نام مجھے نہیں دیا گیا ۔ سو جیسا کہ براہین احمدیہ میں خدا نے فرمایا ہے۔ مَیں آدم ہوں ۔ میں نوح ہوں ۔ میں ابراہیم ہوں میں اسحاق ہوں ۔ میں یعقوب ہوں ۔ میں اسمٰعیل ہوں ۔ میں موسیٰ ہوں ۔ میں داؤد ہوں۔ ۸۵ میں عیسیٰ ابن مریم ہوں ۔ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں یعنی بروزی طور پر جیسا کہ خدا نے اسی کتاب میں یہ سب نام مجھے دیئے اور میری نسبت جری اللّٰہ فی حلل الانبیاء فرمایا یعنی خدا کا رسول نبیوں کے پیرایوں میں۔ سو ضرور ہو کہ ہر ایک نبی کی شان مجھ میں پائی جاوے اور ہر ایک نبی کی ایک صفت کا میرے ذریعہ سے ظہور ہو۔ سو خدا نے یہی پسند کیا کہ سب سے پہلے ابن مریم کے صفات مجھ میں ظاہر کرے۔ سو مَیں نے اپنی قوم سے وہ سب دُکھ اُٹھائے جو ابنِ مریم نے یہود سے اُٹھائے بلکہ تمام قوموں ہی اُٹھائے۔ یہ سب کچھ ہُوا مگر پھر خدا نے کسرِ صلیب کے لئے میرا نام مسیح قائم رکھا تا جس صلیب نے مسیح کو توڑا تھا اور اُسکو زخمی کیا تھا دوسرے وقت میں مسیح اُسکو توڑے مگر آسمانی نشانوں کے ساتھ نہ انسانی ہاتھوں کے ساتھ ۔ کیونکہ خدا کے نبی مغلوب نہیں رہ سکتے ۔ سو سنہ عیسوی کی بیسویں صدی میں پھر خدا نے ارادہ فرمایا کہ اُس مسیح کے ہاتھ سے مغلوب کرے۔ لیکن جیسا کہ میں ابھی بیان کر چکا ہوں مجھے اور نام بھی دیئے گئے ہیں اور ہر ایک نبی کا مجھے نام دیا گیا ہے چنانچہ ملک ہند میں کرشن نام ایک نبی گذرا ہے جس کو رُدّر گوپال بھی کہتے ہیں یعنی فناء کرنیوالا اور پرورش کرنیوالا اس کا نام بھی مجھے دیا گیا ہے پس جیسا کہ آریہ قوم کے لوگ کرشن کے ظہور کا ان دنوں میں انتظار کرتے ہیں وہ کرشن مَیں ہی ہوں

حقیقت الوحی صفحہ 86 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 521، 522 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 120 پر درج ہے

صفحہ 591

حوالہ نمبر 103

تتمہ ۵۲۲ حقیقۃ الوحی

اور یہ دعویٰ صرف میری طرف سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ نے بار بار میرے پر ظاہر کیا ہے کہ جو کرشن آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والا تھا وہ تُو ہی ہے آریوں کا بادشاہ ۔ اور بادشاہت سے مُراد صرف آسمانی بادشاہت ہے ۔ ایسے لفظ خدا کے کلام میں آجاتے ہیں مگر معنی رُوحانی ہوتے ہیں ۔ سو مَیں اِس تصدیق کے لئے کہ وَہی کرشن آریوں کا بادشاہ مَیں ہوں دِہلی کے ایک اشتہار کو جو بالمکُند نام ایک پنڈت نے اِن دنوں میں شایع کیا ہے معہ ترجمہ حاشیہ میں لکھتا ہوں جس سے معلوم ہوگا کہ آریہ ورت کے محقق پنڈت بھی کرشن اَوتار کا زمانہ یہی قرار دیتے ہیں اور اِس زمانہ میں اُسکے آنے کے منتظر ہیں گو وُہ لوگ ابھی مجھ کو شناخت نہیں کرتے مگر وُہ زمانہ آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ اُسے

شری نِشکلنک بھگوان کا اَوتار

(شری بھگوان جی کی جے)

سنساری پرشوں کو ودت ہو کہ آجکل جیسے جیسے اوپدرو ہمارے دیش میں ہو رہے ہیں وہ سب کو معلوم ہی ہیں مثلاً استریوں کا بیوہ ہونا اور ساتھ ہی اُن بُری باتوں کا بھی جو ناموں کو تُچھ پر ماننا پڑتی ہیں اور قحط وغیرہ کا اس قدر گراں ہونا اور علاوہ اسکے سینکڑوں قسم کی مصیبتیں ہمارے اُپر وقت پر آتی ہوتی ہیں کہ جن کا دُکھ بیان سے باہر ہے یہ آپ لوگوں کو خُوب روشن ہو کہ جو طاقت آپکے پِتا و دادا میں تھی وُہ اب آپ میں کہاں ۔ اور آپ میں جو حوصلہ طاقت و بُدھی ہے وُہ آپ کی اولاد میں کہاں بلکہ آیندہ ہو جانے کی امید ہو ۔ بس اَے سجنّو ! اگر آپ لوگوں کو اس مہا کشٹ سے چھُٹنے کی خواہش ہو اور نراکار وساکار کی اِچّھا اور پرماتما میں پریم اور بھگتی بڑھانے کی چاہت ہو تو شری نِشکلنک جی مہاراج کا ضرور سمرن و دھیان کیجئے۔ کیونکہ ایشور پرماتما ہمیشہ بھگتوں کے بس میں ہوتے ہیں ۔ اِن کو اپنے بھگتوں کو سُکھ دینے کی ہی اِچھّاسی خواہش رہتی ہے وُہ ضرور پرگھٹ ہو کر حال میں ہی ان سب اُو پدریوں اور دُشٹوں کو ناس کریں گے ۔ اگر کسی سجن کو یہ خیال ہووے کہ ابھی کلجگ کا بُڑھاپن ہی ہے اور مہاراج جی کا سمے کلجگ کے انت میں لکھا ہو تو آپ غور کیجئے کہ اِس سے زیادہ اور کیا کلجگ پَرتِیت ہو گا کہ استریاں اپنے پتیوں کو چھوڑ کر دُوسروں پر نگاہ رکھیں ۔ اور اولاد اپنے والدین کی وفاداری میں نہ رہے ۔ اور والدین اپنی اولاد کو اولاد کی طرح نہ سمجھیں۔ یہاں تک کہ آجکل سب ہی چیزیں اپنے اپنے دھرموں سے پھری ہُوئی ہیں ۔ تب کوئی صاحب یہ فرماویں کہ ابھی شاستر دَوارا

حقیقۃ الوحی صفحہ 86 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 521، 522 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 120 پر درج ہے

صفحہ 592

حوالہ نمبر 104

تحفہ گولڑویہ ۱۰۰

کی طرف چلا جا کہ یہ شریر یہودی تیری نسبت بد ارادے رکھتے ہیں۔ اور فرمایا کہ ایسا نہ ہو جن ملکوں سے تُو نکل جاتا تجھ کو شناخت کر کے یہ لوگ دُکھ دیویں ۔ اب دیکھو ۔ اس حدیث اور مرہم عیسیٰ کا نسخہ اور کشمیر کے قبر کے واقعہ کو باہم ملا کر کیسی صاف اصلیت اس مقولہ کی ظاہر ہو جاتی ہے۔ کتاب سوانح یوز آسف جس کی تالیف کو ہزار سال سے زیادہ ہو گیا ہے اس میں صاف لکھا ہے کہ ایک نبی یوز آسف کے نام سے مشہور تھا اور اس کی کتاب کا نام انجیل تھا۔ اور پھر اُسی کتاب میں اُس نبی کی تعلیم لکھی ہے۔ اور وہ تعلیم مسئلہ تثلیث کو باطل کر دیتی ہے اور انجیل کی تعلیم ہے۔ انجیل کی مثالیں اور بہت سی عبارتیں اُس میں بعینہ درج ہیں ۔ چنانچہ پڑھنے والے کو کچھ بھی اس میں شک نہیں رہ سکتا کہ انجیل اور اس کتاب کا مؤلف ایک ہی ہے اور طرفہ تر یہ کہ اس کتاب کا نام بھی انجیل ہی ہے ۔ اور استعارہ کے رنگ میں یہودیوں کو ایک ظالم باپ قرار دے کر ایک لطیف قصہ بیان کیا ہے جو عمدہ نصائح سے پُر ہے ۔ اور مدت ہوئی کہ یہ کتاب یورپ کی تمام زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہے اور یورپ کے ایک حصہ میں یوز آسف کے نام پر ایک گرجا بھی طیار کیا گیا ہے۔ اور جب میں نے اس قصہ کی تصدیق کے لئے ایک معتبر مرید اپنا جو خلیفہ نور الدین کے نام سے مشہور ہیں کشمیر سری نگر میں بھیجا تو انہوں نے کئی مہینے رہ کر بڑی آہستگی اور تدبّر سے تحقیقات کی ۔ آخر ثابت ہو گیا کہ فی الواقعہ صاحب قبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی ہیں۔ جو یوز آسف کے نام سے مشہور ہوئے ۔ یوز کا لفظ یسوع کا بگڑا ہوا یا اس کا مخفف ہے اور آسف حضرت مسیح کا نام تھا جیسا کہ انجیل سے ظاہر ہے جس کے معنے ہیں یہودیوں کے متفرق فرقوں کو تلاش کرنے والا یا اکٹھے کرنے والا ۔ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ کشمیر کے بعض باشندے اس قبر کا نام عیسیٰ صاحب کی قبر بھی کہتے ہیں ۔ اور اُنکی پرانی تاریخوں میں لکھا ہے کہ یہ ایک نبی شہزادہ ہے جو بلادِ شام کی طرف سے آیا تھا۔ جس کو قریباً انیس سو برس آئے ہوئے گزر گئے اور ساتھ اس کے بعض شاگرد تھے ۔ اور وہ کوہ سلیمان پر عبادت کرتا رہا ۔ اور اُس کی عبادت گاہ پر ایک کتبہ تھا جس کے یہ لفظ تھے کہ یہ ایک شہزادہ نبی ہے جو بلادِ شام

۱۲

تحفہ گولڑویہ صفحہ 14 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 100 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 120 پر درج ہے

صفحہ 593

حوالہ نمبر 105

ایام الصلح ۳۹۴

وَوَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى ۱؂ ۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اور نبیوں کی طرح ظاہری علم کسی اُستاد سے نہیں پڑھا تھا ۔ مگر حضرت عیسیٰ اور حضرت موسیٰ مکتبوں میں بیٹھے تھے ۔ اور حضرت عیسیٰ نے ایک یہودی اُستاد سے تمام توریت پڑھی تھی ۔ غرض اسی لحاظ سے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اُستاد سے نہیں پڑھا خدا آپ ہی اُستاد ہوا ۔ اور پہلے پہل خدا نے ہی آپ کو اِقْرَاْ کہا ۔ یعنی پڑھ ۔ آدمی نے نہیں کہا ۔ ہاں چونکہ آپ نے خاص خدا کے زیر تربیت تمام دینی ہدایت پائی اور دوسرے نبیوں کے دینی معلومات انسانوں کے ذریعہ سے بھی ہوئے ۔ سو آنے والے کا نام جو مہدی رکھا گیا ۔ سو اس میں یہ اشارہ ہے کہ وہ آنے والا علم دین خدا سے ہی حاصل کریگا ۔ اور قرآن اور حدیث میں کسی اُستاد کا شاگرد نہیں ہو گا ۔ سو میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرا حال یہی حال ہے ۔ کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہے ۔ یا کسی مفسّر یا محدّث کی شاگردی اختیار کی ہے ۔ پس یہی مہدویت ہے جو نبوّتِ محمّدیہ کے منہاج پر مجھے حاصل ہوئی ہے ۔ اور اسرارِ دین بلا واسطہ میرے پر کھولے گئے ۔ اور ۱۴ جس طرح مذکورہ بالا وجہ سے آنے والا مہدی کہلائے گا اسی طرح وہ مسیح بھی کہلائیگا کیونکہ اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روحانیت بھی اثر کرے گی ۔ لہٰذا وہ عیسیٰ ابن مریم بھی کہلائیگا اور جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت نے اپنے خاصۂ مہدویت کو اس کے اندر ظہور بخشا ۔

٭ چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام عبد بھی ہے اور اس لئے خدا نے عبد نام رکھا کہ اکمل عبودیت کا خضوع اور ذلّ ہے اور عبودیت کی حالت کاملہ وہ ہے جس میں کچھ نفس کا حظّ نہ ہو بلندی اور عُجب نہ رہے اور صاحب اس حالت کا اپنی عملی تکمیل محض خدا کی طرف سے دیکھے ۔ اور کوئی ہاتھ درمیان نہ دیکھے ۲؂ ۔ عرب کا محاورہ ہے کہ وہ کہتے ہیں مہر

٭ نوٹ ۱؂ ۔ یہ مرتبہ عبودیت کاملہ کا انسان اپنی سعی و عمل سے نہیں پاسکتا بلکہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک موہبت ہے پس اس کی تکمیل تمام و کمال محض خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے ہوتی ہے دوسرے کو میسّر نہیں آسکتا کیونکہ اپنی جدّ و جہد اور کوشش کا اثر ضرور ایک ایسا خیال پیدا کرتا ہے کہ جو عبودیت تامہ کے منافی ہے ۔ اس لئے مرتبہ عبودیت کاملہ بھی بوجہ اس کے جو مرتبہ مہدویت کاملہ کے تابع ہے بجز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی دوسرے کو بوجہ کمال حاصل نہیں ۔ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَآءُ فَاشْهَدُوا اَنَّا نَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُ اللّٰهِ وَرَسُوْلُہٗ ۔ منہ

۲؂ الضَّبِّی : ۸

۱۶۸

یہ حوالہ صفحہ 121 پر درج ہے | ایام الصلح صفحہ 147 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 394 از مرزا قادیانی

صفحہ 594

حوالہ نمبر 106

بعض اعتراضوں کے جواب ۳۲۰ حقیقة الوحی

۳۰۶ کے لئے ضروری ہے پورے طور پر میسر آ گیا۔ ہاں دو مرض میرے لاحق حال ہیں۔ ایک بدن کے اوپر کے حصہ میں۔ اور دوسری بدن کے نیچے کے حصہ میں۔ اوپر کے حصہ میں دوران سر ہے اور نیچے کے حصہ میں کثرت پیشاب ہے اور دونوں مرضیں اسی زمانہ سے ہیں جس زمانہ سے میں نے اپنا دعویٰ مامور من اللہ ہونے کا شائع کیا ہو۔ میں نے ان کے لئے دُعائیں بھی کیں مگر منع میں جواب پایا اور میرے دل میں القاء کیا گیا کہ ابتداء سے مسیح موعود کیلئے یہ نشان مقرر ہے کہ وہ دو زرد چادروں کے ساتھ دو فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے اُتریگا۔ سو یہ وہی دو زرد چادریں ہیں جو میری جسمانی حالت کے ساتھ شامل کی گئیں۔ انبیاء علیہم السلام کے اتفاق سے زرد چادر کی تعبیر بیماری ہے اور دو زرد چادریں دو بیماریاں ہیں جو دو حصہ بدن پر مشتمل ہیں اور میرے پر بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے یہی کھولا گیا ہے کہ دو زرد چادروں سے مراد دو بیماریاں ہیں اور ضرور تھا کہ خدا تعالیٰ کا فرمودہ پورا ہوتا۔

یاد رہے کہ مسیح موعود کی خاص علامتوں میں سے یہ لکھا ہے کہ (۱) وہ دو زرد چادروں کے ساتھ اُترے گا (۲) اور نیز یہ کہ دو فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے اُتریگا (۳) اور نیز یہ کہ کافر اُسکے دم سے مریں گے (۴) اور نیز یہ کہ وہ ایسی حالت میں دکھائی دیگا کہ گویا غسل کر کے حمام میں سے نکلا ہے اور پانی کے قطرے اس کے سر پر سے موتیوں کے دانوں کی طرح ٹپکتے نظر آئیں گے (۵) اور نیز یہ کہ وہ دجال کے مقابل پر خانہ کعبہ کا طواف کریگا (۶) اور نیز یہ کہ وہ صلیب کو توڑیگا (۷) اور نیز یہ کہ وہ خنزیر کو قتل کریگا (۸) اور نیز یہ کہ وہ بیوی کریگا اور اُسکی اولاد ہوگی (۹) اور نیز یہ کہ وہی ہے جو دجال کا قاتل ہوگا (۱۰) اور نیز یہ کہ مسیح موعود قتل نہیں کیا جائیگا بلکہ فوت ہوگا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں داخل کیا جائیگا۔ وتلك عشرة كاملة۔ پس دو زرد چادروں کی نسبت ہم بیان کر چکے ہیں کہ وہ دو بیماریاں ہیں جو بطور

۳۲۰

یہ حوالہ صفحہ 122 پر درج ہے حقیقة الوحی صفحہ 307 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 320 از مرزا قادیانی

صفحہ 595

(حوالہ نمبر 107)

۳۳۷

یہ چند احکام بطور نمونہ ہم نے لکھے ہیں اس میں ایک تھوڑی سی عقل کا آدمی بھی سوچ سکتا ہے کہ بظاہر یہ تمام خطاب صحابہ کیطرف ہو لیکن درحقیقت تمام مسلمان ان احکام پر عمل کرنے کے لئے مامور ہیں نہ یہ کہ صرف صحابہ مامور ہیں وبس۔ غرض قرآن کا اصلی اور حقیقی اسلوب جس سے سارا قرآن بھرا پڑا ہے یہ ہے کہ اسکے خطاب کے مورد حقیقی اور واقعی طور پر تمام وہ مسلمان ہیں جو قیامت تک پیدا ہوتے رہیں گے گو بظاہر صورت خطاب صحابہ کیطرف راجع معلوم ہوتا ہے پس جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ یہ وعدہ یا وعید صحابہ تک ہی محدود ہے وہ قرآن کے عام محاورہ سے عدول کرتا ہے اور جب تک پُورا ثبوت اس دعویٰ کا پیش نہ کرے تب تک وہ ایسے طریق کے اختیار کرنے میں ایک ملحد ہے کیا قرآن صرف صحابہ کے واسطے ہی نازل ہوا تھا۔ اگر قرآن کے وعد اور وعید اور تمام احکام صحابہ تک ہی محدود ہیں تو گویا جو بعد میں پیدا ہوئے وہ قرآن سے بکلی بے تعلق ہیں۔ نَعُوْذُ بِاللہِ مِنْ ھٰذِہِ الْخُرَافَاتِ ۔ اور یہ کہنا کہ حدیث میں آیا ہو کہ خلافت تیس سال تک ہوگی عجیب فہم ہے جس حالت میں قرآن کریم بیان فرماتا ہو کہ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ وَ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ لے تو پھر اس کے مقابل پر کوئی حدیث پیش کرنا اور اسکے معنی مخالف قرآن قرار دینا معلوم نہیں کہ کس قسم کی سمجھ ہے اگر حدیث کے بیان پر اعتبار ہو تو پہلے اُن حدیثوں پر عمل کرنا چاہیئے جو صحت اور وثوق میں اِس حدیث پر کئی درجہ بڑھی ہوئی ہیں مثلاً صحیح بخاری کی وہ حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی ہے خاصکر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہو کہ آسمان سے اسکی نسبت آواز آئے گی کہ ھٰذَا خَلِیْفَةُ اللّٰہِ الْمَھْدِيُّ۔ اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہو جو اَیسی کتاب میں درج ہو جو اَصَحُّ الکتب بعد کتاب اللہ ہو لیکن وہ حدیث جو معترض صاحب نے پیش کی ہو عُلماء کو اُس میں کئی طرح کا جرح ہو اور اسکی صحت میں کلام ہو کیا معترض نے غور نہیں کی جو آخری زمانہ کی نسبت بعض خلیفوں کے ظہور کی خبریں دی گئی ہیں کہ حارث آئیگا مہدی آئیگا۔ آسمانی خلیفہ آئیگا۔ یہ خبریں حدیثوں میں ہیں یا کسی اور کتاب میں۔ احادیث سے یہ ثابت ہے کہ زمانے تین ہیں۔

لے الواقعۃ : ۴۰ - ۴۱

شہادۃ القرآن صفحہ 41 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 337 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 122 پر درج ہے

صفحہ 596

(حوالہ نمبر 108)

پیغام صلح ۴۸۵

سے نظر آوے اور کوئی کسی کو نہ سنے۔ یہی حال اسلام کا ہے کہ اس کی آسمانی روشنی صرف ایک ہی طرف سے نظر نہیں آتی۔ بلکہ ہر ایک طرف سے اس کے ابدی چراغ نمایاں ہیں۔ اس کی تعلیم بجائے خود ایک چراغ ہے۔ اور اس کے ساتھ جو خدا کی نصرت کے نشان ہیں۔ وہ ہر ایک نشان چراغ ہے۔ اور جو شخص اس کی سچائی کے اظہار کے لئے خدا کی طرف سے آتا ہے۔ وہ بھی ایک چراغ ہوتا ہے۔ میرا بڑا حصہ عمر کا مختلف قوموں کی کتابوں کے دیکھنے میں گزرا ہے۔ مگر میں سچ سچ کہتا ہوں کہ میں نے کسی دوسرے مذہب کی تعلیم کو خواہ

۶۳

اُس کا عقائد کا حصہ ہو خواہ اخلاقی حصہ اور خواہ تدبیر منزلی اور سیاست مدنی کا حصہ اور خواہ اعمالِ صالحہ کی تفسیر کا حصہ ہو۔ قرآن شریف کے بیان کے ہم پہلو نہیں پایا۔ اور یہ قول میرا اس لئے نہیں کہ میں ایک مسلمان شخص ہوں۔ بلکہ سچائی مجھے مجبور کرتی ہے کہ میں گواہی دوں۔ اور یہ میری گواہی بے وقت نہیں۔ بلکہ ایسے وقت میں جب کہ دُنیا میں مذاہب کی کشتی شروع ہے۔ مجھے خبر دی گئی ہے کہ اس کشتی میں آخر اسلام کو فتح ہے۔ میں زمین کی باتیں نہیں کہتا۔ کیونکہ میں زمین سے نہیں ہوں۔ بلکہ میں وہی کہتا ہوں جو خدا نے میرے منہ میں ڈالا ہے۔ زمین کے لوگ خیال کرتے ہوں گے۔ کہ شاید انجام کار عیسائی مذہب دُنیا میں پھیل جائے یا بدھ مذہب دُنیا پر حاوی ہو جائے۔ مگر وہ اس خیال میں غلطی پر ہیں۔ یاد رہے کہ زمین پر کوئی بات ظہور میں نہیں آتی۔ جب تک وہ بات آسمان پر قرار نہ پائے۔ سو آسمان کا خدا مجھے بتلاتا ہے۔ کہ آخر اسلام کا مذہب دلوں کو فتح کریگا۔ اس مذہبی جنگ میں مجھے حکم ہے کہ میں حق کے طالبوں کو بُلاؤں۔ اور میری مثال اُس شخص کی ہے۔ کہ جو ایک خطرناک ڈاکوؤں کے گروہ کی خبر دیتا ہے۔ جو ایک گاؤں کی

۴۴

پیغام صلح صفحہ 47 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 485 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 123 پر درج ہے

صفحہ 597

حوالہ نمبر 109

۵۸۶

مرسل کی نافرمانی اور اس کے احکام کی ہتک کرنے والا کس طرح امن میں رہ سکتا ہے۔

صداقت مسیح موعود علیہ السلام

اگر میرے ساتھ خدا تعالیٰ کا کوئی نشان نہ ہوتا اور اس کی تائید اور نصرت میرے شامل حال نہ ہوتی اور میں نے قرآن سے الگ کوئی راہ نکالی ہوتی یا قرآنی احکام اور شریعت میں کچھ دخل و تصرف کیا ہوتا یا منسوخ کیا ہوتا یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کے باہر کوئی اور نئی راہ بتائی ہوتی تو البتہ حق تھا اور لوگوں کا عذر معقول اور قابلِ قبول ہوتا کہ واقعہ میں یہ شخص خدا اور خدا کے رسول کا دشمن اور قرآنی شریعت اور تعلیمِ قرآن کا منکر اور منسوخ کرنیوالا ہے۔ فاسق ہے۔ فاجر ہے۔ مرتد ہے۔ مگر جب میں نے قرآن میں کوئی تغیر کیا اور نہ سچی شریعت کا جس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لائے تھے ایک شوشہ اور نقطہ میں نے بدلا بلکہ میں قرآن اور احکامِ قرآنی کی خدمت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک مذہب کی خدمت کے واسطے کھڑا ہوں اور جان تک میں نے اپنی اسی راہ میں لگا دی ہے۔ اور میرا یقین کامل ہے کہ قرآن کے سوا جو کامل اکمل اور مکمل کتاب ہے اور اس کی پوری اطاعت اور بغیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کے نجات ممکن ہی نہیں اور قرآن میں کمی بیشی کرنے والے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا جوا اپنی گردن سے اتارنے والے کو کافر اور مرتد یقین کرتا ہوں تو پھر اس صورت میں اور باوجود میری صداقت کے ہزارہا نشان ظاہر ہو جانے کے جو کہ خدا تعالیٰ نے آج تک میری تائید میں آسمان اور زمین پر ظاہر کئے پھر مجھے جو شخص کاذب اور مفتری اور دجال کے نام سے پکارتا ہے یا جو میری پروا نہیں کرتا اور میری آواز کی طرف کان نہیں دھرتا یقیناً جانو کہ خدا تعالیٰ بغیر مؤاخذہ اسے ہرگز ہرگز نہ چھوڑے گا۔ اسلام کی کشتی غرق ہونے کو ہے۔ زمانہ شہادت دے رہا ہے اور وقت پکار پکار کر ضرورت کو محسوس کر رہا ہے۔ اندرونی حالت ایسی خطرناک ہے کہ اس سے ہرگز ہرگز کسی کا دل مطمئن اور خوش نہیں ہو سکتا۔ بیرونی حملے ایسے خطرناک ہیں کہ قریب ہے کہ اسلام کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکیں تو کیا اب بھی وہ وقت نہیں آیا کہ کسی کو خدا تعالیٰ اسلام کی حمایت کے واسطے مبعوث فرماتا اور کوئی مجدد بھیجتا جو اسلام کی ڈوبتی ناؤ کو سنبھال لیتا۔ صدی کا سر بھی گزر گیا مگر کل وعدے جھوٹے ہی ٹھہرنے تھے؟ تو پھر تم ہی بتاؤ کہ کیا ابھی وہ وقت نہیں کہ خدا اسلام کی خبر گیری کرتا، یا کیا کوئی اس سے بھی زیادہ خطرناک اور نازک حالت ہو گی؟ کیا جب اسلام بالکل مٹ ہی جاوے گا اور اس میں کوئی رمق باقی نہ رہے گا اُس وقت کوئی آوے گا؟ میرا پے در پے اللہ تعالیٰ سے مکالمہ اور مخاطبہ حاصل ہے یاد رکھو کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو میرا اسلام بھی جھوٹا ہے اور اگر اسلام بھی دوسروں کی طرح ایک مردہ مذہب ہے تو پھر اسلام میں کیا بڑائی ہے اور اس کی کیا خصوصیت ؟ توحید جس کا تم کو ناز ہے اس کے تو برہمو اور آریہ بھی دعوے دار ہیں۔ ایک شخص نے اسی لاہور میں ایک دفعہ لیکچر دیا تھا کہ ہم لوگ لا الہ الا اللہ کے قائل ہیں پھر ہمیں

ملفوظات جلد پنجم صفحہ 586 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 123 پر درج ہے

Back

صفحہ 598

حوالہ نمبر 110

۵۹۸

حضرت موسیٰ کی نسبت یہ کہے کہ نعوذ باللہ وہ مالِ حرام کھانیوالا تھا۔ یا حضرت مسیح کی نسبت یہ زبان پر لاوے کہ وہ طوائف کے گندہ مال کو اپنے کام میں لایا۔ یا حضرت ابراہیم کی نسبت یہ تحریر شائع کرے کہ مجھے جس قدر اُن پر بدگمانی ہے اسکی وجہ انکی دروغگوئی ہے تو ایسے خبیث کی نسبت اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ اُسکی فطرت اُن پاک لوگوں کی فطرت سے مغائر پڑی ہوئی ہو اور شیطان کی فطرت کے موافق اُس پلید کا مادہ خمیر ہے۔ سو حضرت بٹالوی صاحب یاد رکھیں کہ جسقدر آپ اس عاجز کی نسبت باعث اپنی نادانی کے دروغگوئی کے الزام لگاتے ہیں وہ اُسی قسم کے اعتراض ہیں جو پہلے ان نابکار لوگوں نے انبیاء علیہم السلام پر کئے ہیں مگر آپ تکبّر اور غرور اور خود پسندی کی خو بو اسی معلم الملکوت کا خاصہ ہے جو آپکا قرین دائمی ہے ۔ اگر کوئی کذب حقیقت میں ہم سے ظہور میں آیا ہو تو ہم اسکی سزا پا ئینگے ۔ اور اگر خلیل اللہ کے کلمات کی طرح ہمارا کوئی کلمہ کسی نادان کی نظر میں بصورت دروغ معلوم ہو تو یہ اُسکی نادانی ہوگی نہ ایک مامور کی رسوائی۔ خدا تعالیٰ ایسے لوگوں سے پناہ میں رکھے جو ابلیس کی چادر پہنکر اپنی نفسانی پندار سے ۔ ہمچو من دیگرے نیست کہتے ہوں اور اپنی کور باطنی سے دوسروں کی نکتہ چینی کریں۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ قیامت کے دن شرک کے بعد تکبر جیسی اور کوئی بلا نہیں۔ یہ ایک ایسی بلا ہے جو دونوں جہان میں انسان کو رُسوا کرتی ہے ۔ خدا تعالیٰ کا رحم ہر ایک موحد کا تدارک کرتا ہے مگر متکبر کا نہیں۔ شیطان بھی موحد ہونے کا دم مارتا تھا مگر چونکہ اُسکے سر میں تکبر تھا اور آدم کو جو خدا تعالیٰ کی نظر میں پیارا تھا حقارت کی نظر سے دیکھا اور اُسکی نکتہ چینی کی اسلئے وہ مارا گیا اور طوق لعنت اُسکی گردن میں ڈالا گیا۔ سو پہلا گناہ جس سے ایک شخص ہمیشہ کیلئے ہلاک ہوا تکبر ہی تھا۔ اب میں اللہ جلشانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جو بد کار مفتری کو بے سزا نہیں چھوڑ یگا کہ خدا تعالیٰ نے جیسے مجھے مسیح ابن مریم قرار دیا ایسا ہی آدم بھی قرار دیا اور فرمایا کہ اردت ان استخلف فخلقت آدم ۔ یعنے میں نے ارادہ کیا کہ دنیا میں اپنا خلیفہ مقرر کروں سو میں نے آدم کو پیدا کیا یعنے اس عاجز کو ۔ سو جبکہ میں آدم ٹھہرا تو میرے لئے ایک نکتہ چین بھی چاہئیے تھا۔ جو اوّل لوگوں کی نظر میں ملکوتیت میں داخل ہو اور پھر الیٰ یوم الدین رجیم بنے۔ سو اب معلوم ہوا کہ وہ آپ ہی ہیں۔ اور پھر میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ فقرہ جو میں اُوپر لکھ آیا ہوں یہ اللہ جلشانہ کا کلام ہے۔ اور اگر یہ اللہ جلشانہ کا کلام نہیں تو میں دُعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ایک رات بھی مجھ کو مہلت نہ دے اور میرے پر وہ سزا نازل کرے جو کسی پر نہ کی ہو۔ اے میرے خدا ۔ اے میرے ہادی ۔ رہنما ۔ اگر یہ تیرا کلام نہیں۔ اگر تو نے ہی مجھے خلیفہ مقرر نہیں کیا۔ اگر تو نے ہی میرا نام عیسیٰ نہیں رکھا اور تو نے ہی میرا نام آدم نہیں رکھا تو مجھے

آئینہ کمالات اسلام صفحہ 598 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 598 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 124 پر درج ہے

صفحہ 599

حوالہ نمبر 111

ازالہ اوہام ۱۹۷ حصہ اول

لازم ہے کیونکر جو لوگ خدائے تعالیٰ سے الہام پاتے ہیں وہ بغیر بلائے نہیں بولتے اور بغیر سمجھائے نہیں سمجھتے اور بغیر فرمائے کوئی دعویٰ نہیں کرتے اور اپنی طرف سے کسی قسم کی دلیری نہیں کر سکتے اسی وجہ سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب تک خدائے تعالیٰ کی طرف سے بعض عبادات کے ادا کرنے کے بارہ میں وحی نازل نہیں ہوتی

صفحہ 600

حوالہ نمبر 112

۱۷۶ جهلاتهم فى الجرائد - وكادوا كالصائد - وجاؤا بزور مبين - ولما رايت در اخبار ہا شائع کردند ۔ و ہمچو شکاریان مکرہا نمودند ۔ و دروغے صریح آوردند ۔ پس ہرگاہ کہ دیدیم انهم اخلوا كنانتهم - وقضوا من المفتريات لبانتهم - اشعت ما اشعت کہ اوشاں تیر دان خود را خالی نمودند ۔ واز مفتریات حاجت روائی خود کردند ۔ شائع کردم آنچہ شائع کردم كما هو فرض الصادقين - فاعرضوا عن نضالى - وفروا من عسّالى چنانچہ فرض صادقین است ۔ پس از مقابلہ من کنارہ بجوستند ۔ واز نیزہ من بگریختند وواروا وجوههم كالكاذبين - و رو ہائے خود را ہمچو کاذبان پوشانیدند ۔ ايها الناس ابقوا على انفسكم ولا تظلموا - وانتهوا ولا تفرطوا اے مردماں بر جانہائے خود رحم کنید ۔ و ظلم مکنید ۔ و باز ایستید و کار را بافراط واحذروا ولا تجترؤا - واذكروا الموت ولا تغفلوا - واذكروا اباءكم الغابرين - مرسانید ۔ و بترسید و دلیری مکنید ۔ مرگ خود را یاد کنید و غافل مباشید ۔ و پدران خود را کہ گذشتہ اند یاد کنید اتظنون انكم تتركون فى الدنيا ولذاتها - ولا تنقادون الى الحاقة ومجازاتها - آیا گمان می کنید کہ شما در دنیا و لذات آں گذاشتہ خواہید شد ۔ وسوئے قیامت و پاداش آں کشیدہ نخواہید شد ولا تساقون الى مالك يوم الدين - مالكم لا تنتهجون مهيع الاهتداء - وسوئے مالک یوم جزا ہمچو گرفتاران روانہ نخواہید شد ۔ چہ سبب است کہ راہ راست را نمی گیرید ۔ ولا تقلعون داء الاعتداء - وتمرون بالحق محقرين - و بیماری تجاوز از حد را علاج نمی کنید ۔ و بر حق چوں میگزرید بہ تحقیر می گزرید ۔ اعلموا ان فضل الله معى - وان روح الله ينطق فى نفسى بدانید کہ فضل خدا با من است ۔ و روح خدا در من سخن می کند ۔

یہ حوالہ صفحہ 128 پر درج ہے انجام آتھم صفحہ 176 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 176 از مرزا قادیانی

صفحہ 601

(حوالہ نمبر 113)

ازالہ اوہام ۲۲۰ حصہ اول

پر قتل کریں اور یہی ایک خدمت تھی جو ان کے سپرد کی گئی تھی۔ اس سوال کا جواب ہم بجز اس صورت کے اور کسی طور سے دے نہیں سکتے کہ آخری زمانہ میں دجال معہود کا آنا سراسر غلط ہے۔ اب حاصل کلام یہ ہے کہ وہ دمشقی حدیث جو امام مسلم نے پیش کی ہے خود مسلم کی دوسری حدیث سے ساقط الاعتبار ٹھہرتی ہے اور صریح ثابت ہوتا ہے کہ نواس راوی نے اُس حدیث کے بیان کرنے میں دھوکہ کھایا ہے۔ یہ فرض صاحب مسلم کے سر پر تھا۔ کہ وہ اپنی ذکر کردہ حدیث کا تعارض اپنی قلم سے رفع کرتے مگر انہوں نے جو ایسے تعارض کا ذکر تک نہیں کیا تو اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ محمد بن المکدر کی حدیث کو نہایت قطعی اور یقینی اور صاف اور صریح سمجھتے تھے اور نواس بن سمعان کی حدیث کو از قبیل استعارات وکنایات خیال کرتے تھے اور اُس کی حقیقت حوالہ بخدا کرتے تھے۔

غرض اے بھائیو! ان حدیثوں پر نظر ڈال کر ہر ایک آدمی سمجھ سکتا ہے کہ کسی عہد اول کے لوگوں نے دجال معہود کے بارہ میں ہرگز اس بات پر اتفاق نہیں کیا کہ وہ آخری زمانہ میں آئے گا اور مسیح ابن مریم ظہور فرما کر اُس کو قتل کرے گا بلکہ وہ تو ابن صیاد کو ہی دجال معہود سمجھتے رہے اور یہ بات خود ظاہر ہے کہ جب انہوں نے ابن صیاد کو دجال معہود یقین کیا اور پھر یہ بھی اپنی زندگی میں دیکھ لیا کہ وہ مشرف باسلام ہو گیا اور پھر یہ بھی دیکھ لیا کہ وہ مدینہ منورہ میں فوت بھی ہو گیا اور مسلمانوں نے اس کے جنازہ کی نماز پڑھی پھر ایسی صورت میں اُن بزرگوں کا اس بات پر کیونکر ایمان یا اعتقاد ہو سکتا تھا کہ مسیح ابن مریم آخری زمانہ میں دجال معہود کے قتل کرنے کے لئے آسمان سے اتریں گے کیونکہ وہ بزرگوار لوگ تو پہلے ہی دجال معہود کا فوت ہو جانا تسلیم کر چکے تھے پھر اس اعتقاد کے ساتھ یہ دوسرا اعتقاد کیونکر جوڑ کھا سکتا ہے کہ اُن کو مسیح ابن مریم کے آسمان سے اترنے اور دجال معہود کے قتل کرنے کی انتظار لگی ہوئی تھی یہ تو صریح اجتماع ضدین ہے اور کوئی دانشمند اور قائم الحواس آدمی ایسے دو متضاد اعتقاد ہرگز نہیں رکھ سکتا۔

ازالہ اوہام صفحہ 239 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 220 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 128 پر درج ہے

صفحہ 602

حوالہ نمبر 114

ضمیمہ براہین احمدیہ ۲۷۵ حصہ پنجم

گئی ہے درحقیقت میرے ہی قلم سے نکلی ہے۔ چنانچہ وہ عبارت جو آپ نے محض جعلسازی سے میری طرف منسوب کر دی ہے وہ یہ ہے ۔ " براہین احمدیہ کی پیشگوئی سے مجھے بہت صفائی سے خدا کی طرف سے یہ خبر مل چکی تھی کہ اس سے زلزلہ مراد ہے تاہم میں نے قوم کی بدگوئی اور بدظنی کے خوف سے اُس کو چھپایا اور عربی کا ترجمہ اردو میں کر کے شائع نہ کیا۔ اور میں اس فعل سے ایک گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوا۔ اور پچیس برس تک اسی گناہ پر قائم اور مُصِرّ رہا۔" اے مفتری نابکار ! کیا اب بھی ہم نہ کہیں کہ جھوٹے پر خدا کی لعنت جس نے آپ عبارت بنا کر میری طرف منسوب کر دی ۔ اے سخت دل ظالم ! تجھے مولوی کہلا کر شرم نہ آئی کہ تُو نے ناحق اس قدر میرے پر جھوٹ بولا ۔ کیا تُو دکھلا سکتا ہے کہ میرے اشتہار ۲۰ مئی ۱۹۰۵ء میں یا کسی اور اشتہار میں یا کسی رسالہ میں یہ عبارت موجود ہے جو تُو نے لکھی: لعنۃ اللہ علی الکاذبین ۔

اسجگہ ان لوگوں کو متنبہ رہنا چاہیئے کہ جو ایسے لوگوں کو مولوی اور دیانتدار سمجھ کر اُن کے قول پر عمل کرنے کو تیار ہوتے ہیں ۔ یہ حال ہے ان لوگوں کی دیانت کا اور جھوٹے کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔ اس لئے مولوی صاحب موصوف کا یہ بیان بھی تناقض سے بھرا ہوا ہے۔ چنانچہ وہ اخبار مذکور کے صفحہ پانچ کالم تیسرے میں پندرھویں سطر و چودھویں سطر میں میرے اشتہار کی عبارت یہ لکھتے ہیں کہ " میں نے براہین احمدیہ میں اس زلزلہ کی خبر دی تھی اور اگرچہ اس وقت اس خارق عادت بات کی طرف ذہن منتقل نہ ہو سکا۔ لیکن اب ان پیشگوئیوں پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آئندہ آنیوالے زلزلہ کی نسبت تھیں جو اُس وقت نظر سے مخفی رہ گئیں۔"

اب ناظرین خود دیکھ لیں کہ اس عبارت مذکورہ بالا کا یہی مطلب ہے کہ اُس زمانہ میں کہ جب براہین احمدیہ کے لکھنے کا زمانہ تھا ذہن اس طرف منتقل نہ ہو سکا کہ زلزلہ سے مراد درحقیقت زلزلہ ہے اور یہ امر اُسوقت نظر سے مخفی رہا اور اب پچیس برس

یہ حوالہ صفحہ 128 پر درج ہے

براہین احمدیہ ضمیمہ حصہ پنجم صفحہ 111 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 275 از مرزا قادیانی

صفحہ 603

(حوالہ نمبر 115)

حقیقة الوحی ۱۹۱ بعض اعتراضوں کے جواب

اب دیکھو کہ ایک طرف تو یہ شخص میرے مسیح موعود ہونے کا اقرار کرتا ہو اور نہ صرف اقرار بلکہ میری تصدیق کے بارہ میں ایک خواب بھی پیش کرتا ہے جو سچی نکلی۔ پھر اسی کتاب کے آخر میں اور نیز اپنے رسالہ المسیح الدجال میں میرا نام دجال اور شیطان بھی رکھتا ہو اور مجھے خائن اور حرامخور اور کذاب ٹھہراتا ہو۔ یہ عجیب بات ہو کہ عبدالحکیم خان نے اپنے ان دونوں متناقض بیانوں میں چند روز کا بھی فرق نہیں رکھا۔ ایک طرف تو مجھے مسیح موعود کہا اور اپنے خواب کے ساتھ میری تصدیق کی اور پھر ساتھ ہی دجال اور کذاب بھی کہہ دیا۔ مجھے اس بات کی پروا نہیں کہ ایسا کیوں کیا مگر ہر ایک کو سوچنا چاہیئے کہ اس شخص کی حالت ایک مخبّط الحواس انسان کی حالت ہو کہ ایک کُھلا کُھلا تناقض اپنے کلام میں رکھتا ہے۔ ایک طرف تو مجھے سچا مسیح قرار دیتا ہے۔ بلکہ میری تصدیق میں ایک سچی خواب پیش کرتا ہے جو پوری ہوگئی۔ اور دوسری طرف مجھے سب کافروں سے بدتر سمجھتا ہے کیا اِس سے بڑھ کر کوئی اور تناقض ہوگا۔ اور جن عیبوں کو وہ میری طرف منسوب کرتا ہو اُسکو خود سوچنا چاہیئے تھا کہ جب خواب کی رُو سے میری سچائی کی اُسکو تصدیق ہوچکی تھی بلکہ میری تصدیق کیلئے خدا نے حسن بیگ کو طاعون سے ہلاک بھی کر دیا تھا ٭ تو کیا ایک دجال کیلئے خدا نے اسکو مارا اور کیا خدا کو وہ عیب معلوم نہ تھے جو بیس سال کے بعد اُسکو معلوم ہوگئے۔ اور یہ عذر اُس کا قابل قبول نہ ہوگا کہ مجھ کو شیطانی خوابیں آتی ہونگی اور یہ بھی ایک شیطانی خواب تھی۔ کیونکہ یہ تو ہم قبول کرسکتے ہیں کہ اُس کو بوجہ فطرتی مناسبت کے شیطانی خوابیں آتی ہوں گی اور شیطانی الہام

٭ اب عبدالحکیم کیلئے لازم ہے کہ محمد حسن بیگ کی قبر پر جاکر رو وے کہ اے بھائی تُو ملہم سچا تھا اور میں جھوٹا۔ میرے گناہ معاف کر اور خدا سے معلوم کر کے مجھے بتا کہ ایک کذاب اور دجال کیلئے کیوں اُسنے تجھے ہلاک کردیا۔ منہ

٭ یہ بات بھی غور کے لائق ہو کہ جو شخص بیس سال تک تحریراً و تقریراً میری تائید کرتا اور مخالفوں کے ساتھ جھگڑتا رہا۔ اب بیس سال کے بعد کونسی نئی بات اُسکو معلوم ہوئی جو بیس سال میں نہ سوجھی جن سب کا جواب وہ آپ دِیا کرتا تھا۔ منہ

(۱۹۱)

یہ حوالہ صفحہ 128 پر درج ہے حوالہ صفحہ 191 از مرزا قادیانی حقیقة الوحی صفحہ 191 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 191

صفحہ 604

(حوالہ نمبر 116)

۱۴۳

کہتے ہیں اور ہم تسلیم کرلیں گے کہ شاید کسی مسلمان نے موقعہ پا کر گرنتھ میں داخل کر دیئے ہیں لیکن اگر دلائل قاطعہ سے یہ ثابت ہو جائے کہ باوا صاحب سچے اسلام کے عقاید قبول کر لئے تھے اور وید پر اُن کا ایمان نہیں رہا تھا تو پھر وہ چند اشعار جو باوا صاحب کے اکثر حصہ کلام سے مخالف پڑے ہیں جعلی اور الحاقی تسلیم کرنے پڑیں گے یا اُن کے ایسے معنے کرنے پڑیں گے جن سے تناقض دور ہو جائے اور ظاہر ہے کہ ایک دل سے دو متناقض باتیں نکل نہیں سکتیں۔ کیونکہ ایسے طریق سے یا انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔ پس بڑی بے ادبی ہو گی کہ متناقض باتوں کا مجموعہ باوا صاحب کی طرف منسوب کیا جائے۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ باوا صاحب نے ایسے مسلمانوں اور قاض

صفحہ 605

حوالہ نمبر 117

۱۴۲ کے رنگ میں ہیں اس لئے انہوں نے باوا صاحب کے اشعار میں اپنی طرف سے اشعار ملا دیئے جس کا یہ نتیجہ ہوا کہ ان اشعار میں تناقض پیدا ہو گیا۔ مگر صاف ظاہر ہے کہ کسی سچیار اور عقلمند اور صاف دل انسان کے کلام میں ہرگز تناقض نہیں ہوتا۔ ہاں اگر کوئی پاگل اور مجنوں یا ایسا منافق ہو کہ خوشامد کے طور پر ہاں میں ہاں ملا دیتا ہو۔ اس کا کلام بے شک متناقض ہو جاتا ہے۔ رہا یہ فیصلہ کہ ہم کیونکر ان تمام اشعار میں سے کھرے کھوٹے میں فرق کر سکیں اور کیونکر سمجھیں کہ ان میں سے یہ یہ اشعار باوا صاحب کے منہہ سے نکلے ہیں اور یہ یہ اشعار جو ان پہلے شعروں کی نقیض پڑے ہیں وہ کسی اور نے باوا صاحب کی طرف منسوب کر دیئے ہیں۔ تو واضح رہے کہ یہ فیصلہ نہایت آسان ہے چنانچہ طریق فیصلہ یہ ہے کہ ان تمام دلائل پر غور اور انصاف سے نظر ڈالی جاوے جو باوا صاحب کے مسلمان ہو جانے پر ناطق ہیں سو بعد غور اگر یہ ثابت ہو کہ وہ دلائل صحیح نہیں ہیں اور دراصل باوا صاحب ہندو ہی تھے اور وید کو مانتے تھے۔ اور اپنی عملی صورت میں انہوں نے اپنا اسلام ظاہر نہیں کیا بلکہ اسلام کی عداوت ظاہر کی تو اس صورت میں ہمیں از نو کرنا پڑے گا۔ کہ جو کچھ باوا صاحب کی نسبت مسلمانوں کا یہ پرانا خیال چلا آتا ہے کہ درحقیقت وہ مسلمان ہی تھے اور پانچ وقت نماز بھی پڑھتے تھے اور حج بھی کیا تھا یہ خیال صحیح نہیں ہے۔ اور اس صورت میں وہ تمام اشعار الحاقی ماننے جائیں گے جو باوا صاحب کے اسلام پر دلالت

بقیہ حاشیہ یہ فیصلہ لکھا ہے چاہیے کہ کوئی جلدی سے انکار نہ کرے یہی سچ ہے اور ماننا پڑے گا۔ پھر یہ بھی یاد رہے کہ صوفی لوگ بعضی زندگی میں ایک قسم کے اواگون کے قائل ہیں۔ اور ہر یک آن کو وہ ایک عالم سمجھتے ہیں اور نیز کہتے ہیں کہ انسان جب تک کمال تک نہیں پہنچتا وہ طرح طرح کے حیوانوں سے مشابہ ہوتا ہے اسی لئے اہل کشف کبھی خنزیر کبھی کتے کی صورت میں دیکھتے ہیں اور پھر دوسرے وقت میں بلی کی صورت پر اس کو پاتے ہیں ویسا ہی صوری معنے میں مانتے رہتے ہیں اور مدت کے بعد انسان بنتا ہے تب مجنوں کی حالت ٹوٹتی ہے۔ پس کیا تعجب کہ باوا صاحب کی بھی یہی مراد ہو ورنہ ہندوؤں کے تناسخ سے باوا صاحب بھی منکر نہیں۔

یہ حوالہ صفحہ 129 پر درج ہے 142 از مرزا قادیانی ست بچن صفحہ 30 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ

صفحہ 606

حوالہ نمبر 118 ۵۰ کرنے کے بارہ میں سوچتے چلے جائیں تب بھی اُن کو یہ دعویٰ نہیں پہنچتا کہ جس قدر اُن میں خواص تھے اُنہوں نے معلوم کر لئے ہیں۔ لیکن قرآن کریم کی عبارتیں صرف سطحی خیالات تک محدود ہیں جو ایک جاہل مُلّا اُسپر سرسری نظر ڈالکر دعویٰ کر سکتا ہے کہ جو کچھ قرآن میں تھا میں نے معلوم کر لیا۔ خدا تعالیٰ کا قانون قدرت ہرگز بدل نہیں سکتا اور اُسکی مخلوقات میں سے ایک پَتّہ بھی ایسا نہیں جسکو چند معلومہ خواص میں محدود کہہ سکیں بلکہ اسکی ہر ایک مخلوق خواصِ غیر محدودہ اپنے اندر رکھتی ہے اور اسی وجہ سے ہر ایک مخلوق میں صفتِ بے نظیری پائی جاتی ہے اور اگر تمام دُنیا اسکی نظیر بنانا چاہے تو ہرگز اُنکے لئے میسّر نہ ہو جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے آپ فرما دیا ہے کہ مکھی بنانے پر بھی کوئی قادر نہیں ہو سکتا۔ کیوں قادر نہیں ہو سکتا اسکی یہی تو وجہ ہے کہ مکھی میں بھی اِس قدر عجائباتِ صنعتِ صانع ہیں کہ انسانی طاقتوں بلکہ تمام مخلوق کی قوتوں سے بڑھ کر ہیں پھر خدا تعالیٰ کا کلام کیوں ایسا گرا ہؤا اور ادنیٰ درجہ کا سمجھا جاوے کہ جو اپنے خواص اور حقائق کے رُو سے مکھی کے درجہ پر نہیں۔ کیا یہ وہی کلام نہیں جسکے حق میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ لَئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلٰى اَنْ يَّأْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا يَأْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَ لَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيْرًا۔ یعنے اگر جن و انس اِس بات پر اتفاق کر لیں کہ اِس قرآن کی نظیر بناویں تو ہرگز بنا نہیں سکیں گے اگرچہ وہ ایک دُوسرے کی مدد بھی کریں۔ بعض نادان مُلّا خذلہم اللہ کہا کرتے ہیں کہ یہ بے نظیری صرف بلاغت کے متعلق ہے۔ لیکن ایسے لوگ سخت جاہل اور دلوں کے اندھے ہیں۔ اِس میں کیا کلام ہے کہ قرآن کریم اپنی بلاغت اور فصاحت کے رُو سے بھی بے نظیر ہے۔ لیکن قرآن کریم کا یہ منشاء نہیں ہے کہ اُس کی بے نظیری صرف اِسی وجہ سے ہے۔ بلکہ اُس پاک کلام کا یہ منشاء ہے کہ جن جن صفات سے وہ متصف کیا گیا ہے۔ اُن تمام

۱؎ بنی اسرائیل : ۸۹

یہ حوالہ صفحہ 130 پر درج ہے کرامت الصادقین صفحہ 8 مندرجہ روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 50 از مرزا قادیانی

صفحہ 607

حوالہ نمبر 119

چشمہ معرفت ۱۰۲

۹۶ کوئی قوت پیدا کر سکے یا کوئی ذرہ اجسام بنا سکے یا کوئی علم غیب اپنی شناخت کیلئے اپنی کتاب میں بیان کر سکے یا دلوں کو تسلی دینے کیلئے اپنا کوئی معجزہ دکھلا سکے تو پھر یہ کہنا کہ اُس کا کوئی قانون قدرت ہے سراسر لغو اور بے معنی بات ہے۔ قانون کا مرتب کرنا قدرت کے بعد ہے اور جب قدرت ہی نہیں تو یہ کہنا چاہئے کہ قانون عجز اور بے قدرتی نہ کہ قانون قدرت۔ وہ پرمیشر جو مکتی دائی نہیں دے سکتا اور کسی کا گنہ نہیں بخش سکتا اور اپنی ہستی ثابت کرنے کیلئے کوئی قدرت کا نمونہ دکھلا نہیں سکتا اسکی نسبت قانون قدرت کو کیونکر منسوب کر سکتے ہیں۔ یہ مضمون جو اِس نے بیان کیا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ خدا اپنے قانون کو بدل سکتا ہے۔ اِس کا جواب یہ ہے کہ کیا وہ اپنے صفات کو بھی بدل سکتا ہے۔ اب غور کرنا چاہئے کہ یہ کیسا بیہودہ جواب ہے۔ یہ تو سچ ہو کہ جیسا کہ خدا غیر متبدل ہو اسکے صفات بھی غیر متبدل ہیں۔ اِس سے کس کو انکار ہو مگر آجتک اُس کے کاموں کی حد بست کس نے کی ہو۔ اور کون کہہ سکتا ہو کہ وہ اسکی عمیق در عمیق اور بے حد قدرتوں کی انتہاء تک پہنچ گیا ہو بلکہ اُس کی قدرتیں غیر محدود ہیں اور اُسکے عجائب کام ناپیدا کنار ہیں اور وہ اپنے خاص بندوں کیلئے اپنا قانون بھی بدل لیتا ہو مگر وہ بدلنا بھی اس کے قانون میں ہی داخل ہو جب ایک شخص اُس کے آستانہ پر ایک نئی روح لے کر حاضر ہوتا ہو اور اپنے اندر ایک خاص تبدیلی محض اُسکی رضامندی کیلئے پیدا کرتا ہو تو تب خدا بھی اُسکے لئے ایک تبدیلی پیدا کر لیتا ہو کہ گویا اس بندے پر جو خدا ظاہر ہوا ہو وہ اور ہی خدا ہو۔ نہ وہ خدا جس کو عام لوگ جانتے ہیں۔ وہ ایسے آدمی کے مقابل پر جس کا ایمان کمزور ہو کمزور کی طرح ظاہر ہوتا ہو لیکن جو اسکی جناب میں ایک نہایت قوی ایمان کے ساتھ آتا ہو وہ اُسکو دکھا دیتا ہو کہ تیری مدد کیلئے میں بھی قوی ہوں۔ اس طرح انسانی تبدیلیوں کے مقابل پر اسکی صفات میں بھی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں جو شخص ایمانی حالت میں ایسا مفقود الطاقت ہے کہ گویا میت ہے خدا بھی اسکی تائید اور نصرت سے دستکش ہو کر ایسا خاموش ہو جاتا ہو کہ گویا نعوذ باللہ وہ مر گیا ہے۔ مگر یہ تمام تبدیلیاں وہ اپنے قانون کے اندر اپنے تقدس کے موافق

یہ حوالہ صفحہ 130 پر درج ہے چشمہ معرفت صفحہ 96 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 104 از مرزا قادیانی

صفحہ 608

حوالہ نمبر 120 ازالہ اوہام ۳۵۳ حصہ دوم

۳۷۴

قولہ

نور افشاں مطبوعہ ۲۳؍ اپریل کا اعتراض

پرچہ نور افشاں میں مسیح کے صعود کی نسبت یہ دلیل پیش کی گئی ہے کہ مسیح کے صعود کی نسبت گیارہ شاگرد چشم دید گواہ موجود ہیں جنہوں نے اُسے آسمان کو جاتے تک ملاحظہ کیا ۔ چنانچہ معترض صاحب نے اپنے دعوے کی تائید میں رسولوں کے اعمال باب ۱ کی یہ آیتیں پیش کی ہیں

(۳) ۔۔۔۔۔ اُس نے یعنی مسیح نے اپنے مرنے کے پیچھے آپ کو بہت سی قوی دلیلوں سے زندہ ثابت کیا کہ وہ چالیس دن تک انہیں نظر آتا رہا اور خدا کی بادشاہت کی باتیں کہتا رہا۔ اور اُن کے ساتھ ایک جا ہو کے حکم دیا کہ یروشلم سے باہر

۳۷۵

نہ جاؤ ۔ ۔ ۔ ۔ (۹) اور وہ یہ کہہ کے اُن کے دیکھتے ہوئے اوپر اُٹھایا گیا اور بدلی نے اُن کی نظروں سے چھپا لیا۔ اور اس کے جاتے ہوئے جب وہ آسمان کی طرف تک رہے تھے دیکھو دو مرد سفید پوشاک پہنے ہوئے اُن کے پاس کھڑے تھے (۱۱) اور کہنے لگے اے جلیلی مردو تم کیوں کھڑے آسمان کی طرف دیکھتے ہو یہی یسوع جو تمہارے پاس سے آسمان پر اُٹھایا گیا ہے اُسی طرح جس طرح تم نے اسے آسمان کو جاتے دیکھا پھر آوے گا۔

اب پادری صاحب صرف اس عبارت پر خوش ہو کر لکھ بیٹھے ہیں کہ درحقیقت اسی جسم خاکی کے ساتھ مسیح اپنے مرنے کے بعد آسمان کی طرف اُٹھایا گیا۔ لیکن انہیں معلوم ہو کہ یہ بیان لوقا کا ہے جس نے نہ مسیح کو دیکھا اور نہ اُس کے شاگردوں سے کچھ سُنا پھر ایسے شخص کا بیان کیونکر قابلِ اعتبار ہو سکتا ہے جو شہادتِ رویت نہیں اور نہ کسی دیکھنے والے کے نام کا اُس میں حوالہ ہے۔ ماسوا اس کے یہ بیان سراسر غلط فہمی سے بھرا ہوا ہے۔ یہ تو سچ ہے کہ مسیح اپنے وطن گلیل میں جا کر فوت ہو گیا۔ لیکن یہ ہرگز سچ نہیں کہ وہی جسم جو دفن ہو چکا تھا پھر زندہ ہو گیا۔ بلکہ اسی باب کی تیسری آیت ظاہر کر رہی ہے

یہ حوالہ صفحہ 130 پر درج ہے ازالہ اوہام صفحہ 472 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 353 از مرزا قادیانی

صفحہ 609

حوالہ نمبر 121

تقویۃ الایمان ۵۸ کشتی نوح

بقیہ فوت ہوا۔ اور تم سُن چکے ہو کہ سری نگر محلہ خان یار میں اُس کی قبر ہے۔ یہ سب پیلاطوس کی سعی کا نتیجہ تھا۔ لیکن تاہم اُس پہلے پیلاطوس کی کارروائی بزدلی کی رنگ آمیزی سے خالی نہ تھی۔ اگرچہ اپنے اس قول کا پاس کر کے کہ میں اِس شخص کا کوئی گناہ نہیں دیکھتا مسیح کو چھوڑ دیتا تو اُس پر کچھ مشکل نہ تھا۔ اور وہ چھوڑنے پر قادر تھا۔ مگر وہ قیصر کی دہائی سُن کر ڈر گیا۔ لیکن یہ آخری پیلاطوس پادریوں کے ہجوم سے نہ ڈرا۔ حالانکہ اِس جگہ بھی قیصر کی بادشاہی تھی۔ لیکن یہ قیصر تو اُس قیصر سے بدرجہا بہتر تھا۔ اِس لئے کسی کیلئے ممکن نہ تھا کہ حاکم پر دباؤ ڈالنے کے لئے اور انصاف چھڑانے کیلئے قیصر سے ڈرانے۔ بہرحال پہلے مسیح کی نسبت آخری مسیح پر بہت شور اور شغب اُٹھایا گیا تھا۔ اور میرے مخالف اور ساری قوموں کے سرگروہ جمع ہوگئے تھے۔ مگر آخری پیلاطوس نے سچائی سے پیار کیا اور اپنے اس قول کو پُورا کر کے دکھلایا کہ جو اس نے مجھے مخاطب کر کے کہا تھا کہ میں تم پر خون کا الزام نہیں لگاتا۔ سو اس نے مجھے بریت بخشی اور مردانگی سے بَری کیا اور پہلے پیلاطوس نے مسیح کے بچانے کیلئے حیلوں سے کام لیا۔ مگر اِس پیلاطوس نے جو کچھ عدالت کا تقاضا تھا۔ اس طور سے اس تقاضے کو پُورا کیا جس میں بزدلی کا رنگ نہ تھا۔ جس دن میں بَری ہوا اُس دن اس عدالت میں محکمہ فوج کا ایک چور بھی پیش ہوا۔ اسلئے وقوع میں آیا کہ پہلے مسیح کے ساتھ بھی ایک چور تھا لیکن اس آخری مسیح کے ساتھ کے چور کو جو پکڑا گیا۔ تو اس پہلے چور کی طرح جو پہلے مسیح کے ساتھ پکڑا گیا صلیب پر نہیں چڑھایا۔ اور نہ اس کی ہڈیاں توڑی گئیں۔ بلکہ صرف تین ماہ کی قید ہوئی۔

اب پھر ہم اپنے بیان کی طرف رجوع کر کے لکھتے ہیں کہ سورۃ فاتحہ میں اس قدر حقائق و دقائق و معارف جمع ہیں کہ اگر ان سب کو لکھا جائے تو وہ باتیں ایک دفتر میں بھی ختم نہیں ہوسکتیں۔ اس ایک حکیمانہ دُعا کو دیکھئے کہ جو اس سورۃ میں سکھائی گئی ہے یعنے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ ۔ یہ دُعا ایک ایسا مفہوم کُلی اپنے اندر رکھتی ہے جو تمام دین

۶۰

یہ حوالہ صفحہ 131 پر درج ہے کشتی نوح صفحہ 54 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 58 از مرزا قادیانی

صفحہ 610

حوالہ نمبر 122

براہین احمدیہ ۶۱۰ پہلی فصل

بقیہ حاشیہ نمبر ۱۱

۵۱۴ ان تمہیدات کے بعد دلائل حقانیت قرآن شریف کے لکھے جاتے ہیں۔ وَنَسْئَلُ اللّٰهَ التَّوْفِیْقَ وَالنُّصْرَةَ هُوَ نِعْمَ الْمَوْلٰی وَنِعْمَ النَّصِيْرِ ۔

۵۱۵ زیادہ تر کریم ہے کہ پھر اُس کو یہ جلتا ہوا دوزخ دکھائے۔ غرض یہ کامل استقامت وہ شے ہے کہ جس سے کارخانہ وجود بندہ کو بکلی شکست پہنچتی ہے اور ہوا اور شہوت اور ارادت اور ہر یک خودروی کے فعل سے یکبارگی دستکش ہونا پڑتا ہے اور یہ مرتبہ سیر و سلوک کے مراتب میں سے وہ مرتبہ ہے جس میں انسانی کوششوں کا بہت کچھ دخل ہے اور بشری مجاہدات کی بخوبی پیش رفت ہے اور اسی حد تک اولیاء اللہ کی ۵۱۶ کوششیں اور سائلین کی محنتیں ختم ہو جاتی ہیں۔ اور پھر بعد اس کے خاص مواہب سماوی حُبًّا مِّنَ اللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْاَكْرَمِ عَطَاءً غَيْرَ مَجْذُوْذٍ ۔ اس جگہ فتنہ ہے پس ہرگز جیسے اولوالعزم لوگوں نے صبر کیا ہے۔ خبردار ہو ۔ یہ فتنہ خدا کی طرف سے ہے تا وہ ایسی [ محبت کرے جو کامل محبت ہے۔ اُس خدا کی محبت جو نہایت عزت والا اور نہایت بزرگ ہے ] [ وہ بخشش جس کا کبھی انقطاع نہیں۔ شَاتَانِ تُذْبَحَانِ ۔ وَكُلُّ مَنْ عَلَیْهَا فَانٍ ۔ دو ] [ بکریاں ذبح کی جائیں گی اور زمین پر کوئی ایسا نہیں جو مرنے سے بچ جائیگا۔ یعنے ہر یک ] [ کے لئے قضا و قدر درپیش ہے اور موت سے کسی کو خلاصی نہیں۔ کوئی چار روز پہلے اِس ] دُنیا کو چھوڑ گیا اور کوئی پیچھے اُسے جا ملا۔

ہمیں مرگ است کہ یاران ہوشمندے ببرد ۔ بگریم من کہ وقتے خزان فصل بہاراں را

وَلَا تَهِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا ۔ اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ ۔ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰی كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ۔ وَجِئْنَا بِكَ عَلٰی هٰؤُلَاءِ شَهِيْدًا ۔ اور سُست مت ہو اور غم مت کرو۔ کیا خدا اپنے بندہ کو کافی نہیں ہے۔ کیا تُو نہیں جانتا کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے۔ اور خدا اُن لوگوں پر تجھ کو گواہ لائے گا۔ اُوْتِیَ اللّٰهُ اَجْرَكَ وَيُرْضٰی عَنْكَ رَبُّكَ وَيُتِمُّ اسْمَكَ وَعَسٰی اَنْ تُحِبُّوْا شَیْئًا وَّ هُوَ شَرٌّ لَّكُمْ وَعَسٰی اَنْ تَكْرَهُوْا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَاللّٰهُ

بقیہ در حاشیہ نمبر ۱۱

منہ

براہین احمدیہ جلد 1 صفحہ 610 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 610 حاشیہ در حاشیہ از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 131 پر درج ہے Back

صفحہ 611

حوالہ نمبر 123

تذکرۃ الشہادتین ۷۲

عالم کا مرتا ہے۔ اگر چند چوہڑے اور چمار مر گئے تو اُن کی موت سے کوئی خلل دنیا کے انتظام میں نہیں آسکتا۔ پس خدا تعالیٰ کی یہی سنت ہے کہ جب اُسکے مرسل کے مقابل پر ایک اور فریق کھڑا ہو جاتا ہے ۔ تو گو وہ اپنے خیال میں کیسے ہی اپنے تئیں نیک قرار دیویں انہیں کو خدا تعالیٰ تباہ کرتا ہے ! اور انہیں کی ہلاکت کا وقت آجاتا ہے۔ کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ جس غرض کیلئے اپنے کسی مرسل کو مبعوث فرماتا ہے اسکو ضائع کرے کیونکہ اگر ایسا کرے تو پھر وہ خود اپنی غرض کا دشمن ہوگا۔ اور پھر اپنی ہی اسکی کون عبادت کریگا۔ دنیا کثرت کو دیکھتی ہے اور خیال کرتی ہے۔ کہ یہ فریق بہت بڑا ہے۔ سو یہ اچھا ہے۔ اور نادان خیال کرتا ہے۔ کہ یہ لوگ ہزاروں لاکھوں مساجد میں جمع ہوتے ہیں کیا یہ بُرے ہیں۔ مگر خدا کثرت کو نہیں دیکھتا وہ دلوں کو دیکھتا ہے۔ خدا کے خاص بندوں میں محبت الٰہی اور صدق اور وفا کا ایک ایسا خاص نور ہوتا ہے کہ اگر میں بیان کرسکتا تو بیان کرتا ۔ لیکن میں کیا بیان کروں جیسے دنیا اندھی ہے اس راز کو کوئی نبی یا رسول بیان نہیں کر سکا۔ خدا کے باوفا بندوں کی اس طور پر آستانہ الٰہی پر روح گرتی ہے۔ کہ کوئی لفظ ہمارے پاس نہیں کہ اس کیفیت کو دکھلا سکے۔

اب بعد اسکے بقیہ ترجمہ کر کے اس مضمون کو ختم کرتا ہوں۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے ۔ کہ اگر چہ میں تجھے قتل سے بچاؤنگا۔ مگر تیری جماعت میں سے دو بکریاں ذبح کی جائیں گی۔ اور ہر ایک جو زمین پر ہے آخر فنا ہوگا یعنے بیگناہ اور معصوم ہونے کی حالت میں قتل کی جائیں گی۔ یہ خدا تعالیٰ کی کتابوں میں محاورہ ہے۔ کہ بیگناہ اور معصوم کو بکرے یا بکری سے تشبیہ دیجاتی ہے اور کبھی گایوں سے بھی تشبیہ دیجاتی ہے سو خدا تعالیٰ نے یہاں انسان کا لفظ چھوڑ کر بکری کا لفظ استعمال کیا۔ کیونکہ بکری میں دو صفتیں ہیں ایک دودھ بھی دیتی ہے ۔ اور پھر اُس کا گوشت بھی کھایا جاتا ہے ۔ اور یہ پیشگوئی شہید مرحوم مولوی محمد عبداللطیف اور اُن کے شاگرد عبدالرحمٰن کے بارے میں ہے کہ جو براہین احمدیہ کے لکھے جانے کے بعد پورے تئیس برس بعد پوری ہوئی ۔ اب تک لاکھوں کروڑوں انسانوں نے اس پیشگوئی کو میری کتاب براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۱۱ میں پڑھا ہوگا۔ اور ظاہر ہے کہ جیسا کہ الہام میں نے لکھا ہے بکری کی صفتوں میں سے ایک دودھ دینا ہے ۔ اور ایک اُس کا گوشت ہے جو کھایا جاتا ہے ۔ یہ دونوں بکری کی صفتیں مولوی عبداللطیف صاحب مرحوم کی شہادت سے پوری ہوئیں ۔ کیونکہ مولوی صاحب موصوف نے مباحثہ کے وقت انواع اقسام

۷۲

تذکرۃ الشہادتین صفحہ 72 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 72 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 131 پر درج ہے

صفحہ 612

حوالہ نمبر 124 ۳۴۱

اسلئے اُس پر تفرقہ کی مصیبت نازل ہوگی۔ اور اپنے مقاصد میں ناکام رہے گا اور رُسوا ہو جائے گا۔ اور پھر فرمایا کہ اس شخص کے دعویٰ اسلام اور مولویت کے لائق نہیں تھا کہ تکفیر اور تکذیب پر جرأت کرتا اور اس تگ و دو میں بیباکی کے ساتھ دخل دیتا۔ ہاں یہ چاہئے تھا کہ صحت نیت اور خوف دل کے ساتھ اپنے شکوک دفع کرتا۔ اور پھر فرمایا کہ اس شخص کے منصوبوں سے جو کچھ تجھے ضرر پہنچے گا۔ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور جب یہ تکفیر اور تکذیب کریگا تو اُس وقت ملک میں ایک بڑا فتنہ برپا ہوگا۔ وہ فتنہ انسان کی طرف سے نہیں بلکہ تیرے خدا نے ہی چاہا تا وہ تجھ سے نہایت درجہ کی محبت کرے کیونکہ ہر ایک اصطفاء ابتلاء کے بعد ہوتا ہے خدا کی محبت بڑی قدر کے لائق ہے کیونکہ وہ سب پر غالب اور سب سے زیادہ کریم ہے۔ پس جس سے وہ محبت کرے گا اس کی تمام امیدیں کامیابی کا انجام رکھتی ہیں۔ اور اُس کی یہ عطا غیر منقطع ہے۔ اس کے بعد یوں ہوگا کہ وہ پیشنگوئی جسکی پہلی کڑی سے مراد میرزا احمد بیگ ہوشیارپوری ہے۔ اور دوسری کڑی سے مراد اُس کا داماد ہے۔ اور پھر فرمایا۔ کہ تُم بشارت پاؤ اور نعمت کو دیکھ کہ ایسا ہی ظہور میں آئیگا۔ کیا تو نہیں جانتا کہ خدا ہر ایک چیز پر قادر ہے۔ اور پھر فرمایا کہ ہم نے تجھے کھلی کھلی فتح دی۔ یہ یعنی کھلی کھلی فتح دی گئی تاکہ تیرا خدا تیرے اگلے پچھلے گناہ بخشے یعنی کامل براءت اور قبولیت عطا کرے۔ کیونکہ یہاں گناہ بخشنا اس محاورہ پر استعمال پاتا ہے کہ وہ اعلیٰ درجہ پر راضی ہو جائیگا اور پھر فرمایا کہ خدا اپنے بندہ کے لئے کافی ہے۔ وہ اس کو اُن تمام الزاموں سے بری کریگا جو اس پر لگائے جاتے ہیں۔ اور وہ بندہ خدا کے نزدیک وجیہ ہے۔ اِن پیشگوئیوں میں علاوہ اور پیشگوئیوں کے جو اُن کے ضمن میں بیان کی گئی ہیں دو لڑکوں کے پیدا ہونے کی پیشگوئی احمد بیگ اور اُسکے داماد کی موت کی طرف اشارہ ہے جو آج سے ستّرہ برس پہلے براہین احمدیہ میں شائع ہو چکی ہے ایسا ہی مولویوں کی تکفیر پُر شور جو سولہ یا پندرہ سال سے بپا ہو رہا ہے آج سے ستّرہ برس پہلے اس فتنہ کی براہین میں خبر دی گئی ہے چنانچہ میں ابھی بیان کر چکا ہوں۔ اب سوچنا چاہئے کہ کیا یہ انسان کا کام ہے۔ کیا انسان کو یہ قدرت حاصل ہے کہ آئندہ واقعات کی خبر الہاماً پہلے ایسی صفائی سے بیان کر سکے۔ بڑے عظیم الشان فتنے میری نسبت دو وقوع میں آئے ہیں۔ ایک پادریوں کا ایک محمدیوں وغیرہ کی تکفیر کا سو ان دونوں فتنوں کی تصریح یکساتھ براہین احمدیہ میں صفحہ ۵۱۱ پر آج سے کئی برس پیشتر کی گئی ہے کوئی اور شخص ہو جس میں سچے نبی کی طرح ایسا عظیم الشان سلسلہ پیشگوئیوں کا پایا جائے یقیناً کوئی سخت بیحیا ہو گا جو اس قویٰ اور سلسلہ سے انکار کرے۔ اس جگہ تمام اہل ہوش کیلئے جو حق کے طالب ہیں یہ گواہی کفایت کرتی ہے۔ باایں ہمہ کہ یہ شریر مولوی کیسے کذاب اور مفتری ہیں۔ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر یہ تمام مولوی اور اُن کے ہمنوا شیاطین اور اُن کے ہم

یہ حوالہ صفحہ 132 پر درج ہے انجام آتھم صفحہ 57 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 341 از مرزا قادی مرزا قادیانی

صفحہ 613

حوالہ نمبر 125

۱۵ نشان آسمانی

ید بیضا کہ با او تابندہ | باز با ذوالفقار مے بینم

یعنی اُس کا وہ روشن ہاتھ جو اتمامِ حجت کی رُو سے تلوار کی طرح چمکتا ہے پھر مَیں اُس کو ذوالفقار کے ساتھ دیکھتا ہوں یعنے ایک زمانہ ذوالفقار کا تو وہ گذر گیا کہ جب ذوالفقار علی کرم اللہ وجہ کے ہاتھ میں تھی مگر خدا تعالیٰ پھر ذوالفقار اُس امام کو دے دے گا۔ اس طرح پر کہ اُس کا چمکنے والا ہاتھ وہ کام کریگا جو پہلے زمانہ میں ذوالفقار کرتی تھی سو وہ ہاتھ ایسا ہوگا کہ گویا وہ ذوالفقار علی کرم اللہ وجہہ ہے جو پھر ظاہر ہوگئی ہے یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ امام سلطان القلم ہو گا اور اُسکی قلم ذوالفقار کا کام دیگی ۔ یہ پیشگوئی بعینہ اِس عاجز کے اُس الہام کا ترجمہ ہے جو اِس وقت سے دس برس پہلے براہینِ احمدیہ میں چھپ چکا ہے اور وہ یہ ہے کتاب الولی ذوالفقار علی ۔ یعنی کتاب اس ولی کی ذوالفقارِ علی کی ہے یہ اس عاجز کی طرف اشارہ ہے ۔ اِسی بناء پر بارہا اِس عاجز کا نام مکاشفات میں غازی رکھا گیا ہے چنانچہ براہین احمدیہ کے بعض دیگر مقامات میں اِسی کی طرف اشارہ ہے ۔

غازیٔ دوست دار دُشمن کش | ہمدم و یار غار مے بینم

وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک غازی ہے دوستوں کو بچانے والا اور دشمنوں کو مارنے والا ۔

صُورت و سیرتش چو پیغمبر | علم و حلمش شعار مے بینم

یعنی ظاہر و باطن اپنا نبی کی مانند رکھتا ہے اور شانِ نبوّت اُس میں نمایاں ہے اور علم اور حلم اُس کا شعار ہے مُراد یہ کہ بباعث اپنی اتباعِ نبی کریم کے گویا وہی صُورت اور وہی سیرت اُسکو حاصل ہوگئی ہے یہ اُس الہام کے مطابق ہے جو اِس عاجز کے بارے میں براہین میں چھپ

۲۷۵

نشان آسمانی صفحہ 15 مندرجہ روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 375 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 132 پر درج ہے

صفحہ 614

حوالہ نمبر 126 ۴۰۸

کا نزول ہے وہ دمشق میں واقع ہے بلکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس منارہ سے اُسی مسجد اقصیٰ کا منارہ مراد لیا ہے جو دمشق کے شرقی طرف واقع ہے یعنی مسیح موعود کی مسجد جو حال میں وسیع کی گئی ہے اور عمارت بھی زیادہ کی گئی۔ اور یہ مسجد فی الحقیقت دمشق کے شرقی طرف واقع ہے۔ اور یہ مسجد صرف اس غرض سے وسیع کی گئی اور بنائی گئی ہے کہ تا دمشقی مفاسد کی اصلاح کرے اور یہ منارہ وہ منارہ ہے جس کی ضرورت احادیث نبویہ میں تسلیم کی گئی۔ اور اس منارۃ المسیح کا خرچ دس ہزار روپیہ سے کم نہیں ہے۔ اب جو دوست اس منارہ کی تعمیر کے لیئے مدد کریں گے مَیں یقیناً سمجھتا ہوں کہ وہ ایک بھاری خدمت کو انجام دیں گے۔ اور مَیں یقیناً جانتا ہوں کہ ایسے موقع پر خرچ کرنا ہرگز ہرگز ان کے نقصان کا باعث نہیں ہوگا۔ وہ خدا کو قرض دیں گے اور سو در سو واپس لیں گے۔ کاش ان کے دل سمجھیں کہ اس کام میں خدا کے نزدیک کس قدر عظمت ہے جس خدا نے منارہ کا حکم دیا ہے اس نے اس بات کی طرف اشارہ کر دیا ہے کہ اسلام کی مُردہ حالت میں اسی جگہ سے زندگی کی رُوح پھونکی جائے گی اور یہ فتح نمایاں کا میدان ہوگا مگر یہ فتح ان ہتھیاروں کے ساتھ نہیں ہوگی جو انسان بناتے ہیں بلکہ آسمانی حِربہ کے ساتھ ہے جس حِربہ سے فرشتے کام لیتے ہیں۔ آج سے انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا تھا خدا کے حکم کے ساتھ بند کیا گیا۔

اب اس کے بعد جو شخص کافر پر تلوار اٹھاتا اور اپنا نام غازی رکھتا ہے وہ اس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرتا ہے جس نے آج سے تیرہ سو برس پہلے فرما دیا ہے کہ مسیح موعود کے آنے پر تمام جہاد ختم ہو جائیں گے۔ سو اب میرے ظہور کے بعد تلوار کا کوئی جہاد نہیں۔ ہماری طرف سے امان اور صلح کاری کا سفید جھنڈا بلند کیا گیا ہے۔ خدا تعالیٰ کی طرف دعوت کرنے کی ایک راہ نہیں ۔ پس جس راہ پر نادان لوگ اعتراض کو اُٹھتے ہیں خدا تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت نہیں چاہتی کہ اسی راہ کو پھر اختیار کیا جائے۔ اُس کی ایسی ہی شان ہے کہ جیسے جن نشانوں کی پہلے تکذیب ہو چکی وہ میرے سید رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیئے گئے ۔ لہٰذا مسیح موعود اپنی فوج کو اس ممنوع مقام سے پیچھے ہٹ جانے کا حکم دیتا ہے۔ جو بدی کا بدی کے ساتھ مقابلہ کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ اپنے تئیں شریر کے حملہ سے بچاؤ مگر خود شریر نہ بنو۔ بد مت کہو جو شخص ایک

مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 408 طبع جدید از مرزا قادیانی | یہ اشتہار صفحہ 132 پر درج ہے

صفحہ 615

(حوالہ نمبر 127)

۴۰

امور ملکی مدنی و منزلی اور خود فرد فرد کے ذاتی ہیں۔ ان میں سے کسی میں بھی یہ بات نہیں ہے کہ ہر وقت اور ہر جگہ اُن کے رازوں کا افشا کرنا مصلحت ہو یا عدم افشا کا نام مکر اور فریب رکھا جائے۔ خدا تعالیٰ نے دل و زبان وغیرہ قوٰی انسان کو عطا فرما کر اُن کے مناسب استعمال کے لئے اُسے ذمہ دار بنایا ہے اور ہر ایک بات کی عمدگی اور خوبی دکھلانے کے لئے جُدا جُدا مواقع اور محل اور وقت اُس بات کے مقرر کئے ہیں کوئی خلق خواہ کیسا ہی عمدہ ہو مگر جب وہ بے محل اور بے وقت صادر ہوگا تو ساری خوبی اور خوبصورتی اُس کی خاک میں مل جائے گی اور کوئی مفید چیز اپنے فواید ہرگز ظاہر نہیں کرے گی جب تک وہ ٹھیک ٹھیک اپنے وقت پر استعمال میں نہ لائی جائے۔ خدا تعالیٰ کی سچی اطاعت اور نوع انسان کی حقیقی بھلائی وہی شخص بجا لا سکتا ہے جو وقت شناس ہو ورنہ نہیں۔ مثلاً ایک شخص گو راست گو ہے مگر اپنی راستی کو حکمت کے ساتھ ملا کر استعمال نہیں کرتا بلکہ لاٹھی کی طرح مارتا ہے اور بے تمیزی سے ایک شریف خصلت کو بے محل کام میں لاتا ہے تو وہ ایک حکیم منش کے نزدیک ہرگز قابل تعریف نہیں ٹھہرتا۔ ایسے کو جاہل نیک بخت کہیں گے۔ نہ دانا نیک بخت اگر کوئی اندھے کو اندھا اندھا کر کے پکارے اور پھر کسی کے منع کرنے پر یہ کہے کہ میاں کیا میں جھوٹ بولتا ہوں تو اُسے یہی کہا جائے گا کہ بے شک تو راست گو ہے مگر احمق یا شریر کہ جس راستی کے اظہار کی تجھے ضرورت ہی نہیں اُس کو واجب الاظہار سمجھتا ہے اور اپنے بھائی کے دل کو دُکھاتا ہے۔ اسی طرح اخلاقی امور کا تمام عقد جواہر اسی ایک ہی رشتہ سے

۳۶۶

شحنہ حق صفحہ 40 مندرجہ روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 366 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 133 پر درج ہے

صفحہ 616

حوالہ نمبر 128

۶۷۱

(۲۷۷)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم

احمدی مسیح کے ساتھ مباہلہ منظور

۷؍مئی ۱۹۰۶ء کی ڈاک میں مجھے دہلی کے اندھے عیسائی احمد مسیح کا وہ اشتہار ملا تھا جس میں عیسائی مذکور نے اسلام اور عیسائیت کے درمیان آخری فیصلہ کرنے کے واسطے مجھے مباہلہ کے واسطے طلب کیا۔ اس کے جواب میں پانچ مئی کے اشتہار میں میں نے اس دعوت کو قبول کیا۔ بدیں شرط کہ لاہور ، کلکتہ، مدراس اور بمبئی چار مقامات کے بشپ صاحبان اس مباہلہ میں شامل ہوں اور اس شمولیت کے واسطے ان کے لئے تکلیف سفر برداشت کرنے اور کسی ایک جگہ جمع ہونے کی بھی شرط قرار نہیں دی ۔ کیونکہ میرے نزدیک مباہلہ تحریری بھی ہو سکتا ہے ۔ چنانچہ یہ اشتہار علاوہ علیحدہ چھپنے کے اخبار بدر مورخہ ۱۰؍ مئی ۱۹۰۶ء کے صفحہ اول پر اور اخبار الحکم مورخہ ۱۰؍مئی ۱۹۰۶ء کے صفحہ ۱۱ پر بھی شائع ہو چکا ہے اور اس کے جواب کے واسطے تین ماہ کی لمبی مہلت بھی دی گئی ہے ۔ لیکن آج مجھے خیال آیا ہے کہ اس مباہلہ میں عیسائی صاحبان کو اور بھی سہولت دی جاوے تا کہ ان کا کوئی جھوٹا عذر بھی باقی نہ رہے ۔ اس واسطے میں اعلان کرتا ہوں کہ میں مباہلہ کے واسطے خود احمد مسیح نابینا کے بالمقابل ہی تیار ہوں بشپ صاحبان اگر پسند نہیں کرتے تو وہ بالمقابل اپنا نام پیش نہ کریں بلکہ اپنی تحریری سند دیکر بذریعہ چھپے ہوئے اشتہار کے اخبار پائونیر یا سول میں صرف یہ شائع کر دیں کہ احمد مسیح کا مغلوب ہونا ہر چہار بشپ صاحبان کا مغلوب ہونا سمجھا جاویگا ۔ یہ بات بھی ہم اس واسطے کہتے ہیں کہ احمد مسیح ایک گمنام آدمی ہے اور جب تک بشپ صاحبان اس کو اپنا قائمقام نہ بناویں قوم پر کچھ اثر نہیں ہو سکتا لیکن اب معاملہ بہت صاف کر دیا گیا ہے ۔ امید ہے کہ بشپ صاحبان پورے غور و فکر کے بعد اس مباہلہ کو منظور کر لیں گے۔

مکررًا یہ کہ اگر ہر چہار بشپ منظور نہ کریں تو صرف لاہور کے بشپ صاحب کی ہی تحریر کافی سمجھی جائے گی۔ وَالسَّلَام عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی

خاکسار : مرزا غلام احمد مسیح موعود قادیان ۱۱؍مئی ۱۹۰۶ء

مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 671 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 133 پر درج ہے

Back

صفحہ 617

حوالہ نمبر 129 ازالہ اوہام ۱۸۹ حصہ اول

آنے کا وقت تیرہویں صدی کا شروع سال بتلاتے ہیں چنانچہ شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی قدس سرہٗ کی بھی یہی رائے ہے اور مولوی صدیق حسن صاحب مرحوم نے بھی اپنے ایک رسالہ میں ایسا ہی لکھا ہے اور اکثر محدثین اس حدیث کے معنے میں کہ جو الآیات بعد المأتین ہے اسی طرف گئے ہیں۔ اگر یہ کہو کہ مسیح موعود کا آسمان پر دمشق کے منارہ کے پاس اُترنا تمام مسلمانوں کا اجماعی عقیدہ ہے تو اس کا جواب میں اسی رسالہ میں لکھ چکا ہوں کہ اس بات پر ہرگز اجماع نہیں قرآن شریف میں اس کا کہاں بیان ہے وہاں تو صرف موت کا ذکر ہے بخاری میں حضرت یحییٰ کی روح کے ساتھ حضرت عیسیٰ کی روح کو دوسرے آسمان پر بیان کیا ہے اور دمشق میں اترنے سے اعراض کیا ہے اور ابن ماجہ صاحب بیت المقدس میں اُن کو نازل کر رہے ہیں اور ان سب میں سے کسی نے یہ دعویٰ نہیں کیا ۱۷۱ کہ یہ تمام الفاظ و اسماء ظواہر پر ہی محمول ہیں بلکہ صرف صورت پیشگوئی پر ایمان لے آئے ہیں پھر اجماع کس بات پر ہے۔ ہاں تیرہویں صدی کے اختتام پر مسیح موعود کا آنا ایک اجماعی عقیدہ معلوم ہوتا ہے۔ سو اگر یہ عاجز مسیح موعود نہیں تو پھر کسی سچے مسیح موعود کو آسمان سے اُتار کر دکھلا دیں۔ صالحین کی اولاد ہو مسجد میں بیٹھ کر تضرع اور زاری کرو تاکہ عیسیٰ ابن مریم آسمان سے فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے تشریف لاویں اور تم سچے ہو جاؤ ورنہ کیوں ناحق بدظنی کرتے ہو اور زیر الزام آیت کریمہ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِہٖ عِلْمٌ آتے ہو خدائے تعالیٰ سے ڈرو۔

لطیفہ چند روز کا ذکر ہے کہ اس عاجز نے اس طرف توجہ کی کہ کیا اس حدیث کا کہ جو الآیات بعد المأتین ہے ایک یہ بھی منشاء ہے کہ تیرہویں صدی کے اواخر میں مسیح موعود کا ظہور ہو گا اور کیا اس حدیث کے مفہوم میں بھی یہ عاجز داخل ہے تو مجھے کشفی طور پر اس مندرجہ ذیل نام کے اعداد حروف کی طرف توجہ دلائی گئی کہ دیکھ یہی مسیح ہے کہ جو تیرہویں صدی کے پورے ہونے پر ظاہر ہونے والا تھا پہلے سے یہی تاریخ

۱؎ بنی اسرائیل : ۳۷

ازالہ اوہام صفحہ 185 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 189 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 134 پر درج ہے

صفحہ 618

حوالہ نمبر 130

ازالہ اوہام ۳۰۸ حصہ اول

اس وقت مجھے اپنے ایک دوست کی بات یاد آئی ہے۔ خدا اس کو غریق رحمت کرے نام اس مرحوم کا حافظ ہدایت علی تھا اور یہ کسی زمانہ میں ضلع گورکھپور کے اکسٹرا اسسٹنٹ تھے اور مدت تک شملہ میں تحصیلدار بھی رہے ۔ ایک جلسہ میں انہوں نے فرمایا کہ جس قدر بعض امور کے ظہور کا آخری زمانہ کے بارے میں وعدہ دیا گیا ہے اور بعض پیشگوئیاں فرمائی گئی ہیں ہمیں اُن کی نسبت یہ اعتقاد نہیں رکھنا چاہیئے کہ وہ ضرور اپنی ظاہری صورت میں ہی ظہور پذیر ہوں گی۔ تا اگر اُن کی حقیقت کسی اور طور پر کھلے تو ہم ٹھوکر نہ کھائیں۔ اور ہمارا ایمان سلامت رہ جائے۔ اور کہا کہ چونکہ ہم اُسی زمانہ میں پیدا ہوئے ہیں جس کو آج سے کچھ کم تیرہ سو برس پہلے آخری زمانہ کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ اس لئے کچھ تعجب نہیں کہ ان میں سے بعض پیشگوئیاں ہماری ہی زندگی میں ظاہر ہو جائیں۔ سو ہمیں اجمالی ایمان کا اصول محکم پکڑنا چاہئے اور کسی شق پر ایسا زور نہیں دینا چاہئے جیسا کہ اس حالت میں دیا جاتا ہے کہ جب ایک حقیقت کی تہ تک ہم پہنچ جاتے ہیں۔ تمت کلامہٗ

اور واقعی یہ سچ اور بالکل سچ ہے کہ اُمت کے اجماع کو پیشگوئیوں کے امور سے کچھ تعلق نہیں اور ہمارے حال کے مولویوں کو یہ سخت دھوکا لگا ہوا ہے کہ پیشگوئیوں کو بھی جن کی اصل حقیقت ہنوز در پردہ غیب ہے اجماع کے شکنجہ میں کھینچنا چاہتے ہیں۔

در اصل پیشگوئیاں حاملہ عورتوں سے مشابہت رکھتی ہیں اور مثلاً ہم ایک حاملہ عورت کی نسبت یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ اس کے پیٹ میں کوئی بچہ ضرور ہے اور یقیناً وہ نو مہینے اور دس دن کے اندر اندر پیدا بھی ہو جائے گا مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ کیا شکل رکھتا ہے اور اس کی حالت جسمیہ کیسی ہو اور اس کے نقوش چہرہ کس طرز کے واقع ہیں اور لڑکا ہے یا بلاشبہ لڑکی ہے۔

شاید اس جگہ کسی کے دل میں یہ اعتراض خلجان کرے کہ اگر پیشگوئیوں کا ایسا ہی

ازالہ اوہام صفحہ 402 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 308 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 134 پر درج ہے

صفحہ 619

حوالہ نمبر 131

دافع الوساوس ۶۸ مقدمۃ حقیقۃ الاسلام

اقتداری معجزہ میں اور خالص خدا کے کام میں ایک فرق ضرور ہوتا ہے ورنہ تشابہ

اُن افعال سے کم رتبہ پر رہیگا جو خود خدا تعالٰی علانیہ اور بالجبر اپنی قوت کاملہ سے ظہور میں لاتا ہے یعنی ایسا اقتداری معجزہ بنسبت دُوسرے الٰہی کاموں کے جو بلاواسطہ اللہ جلشانہٗ سے ظہور میں آتے ہیں ضرور کچھ نقص اور کمزوری اپنے اندر موجود رکھتا ہو گا تا سرسری نگاہ والوں کی نظر میں تَشَابَہَ فِی الْخَلْقِ واقع نہ ہو۔ اِسی وجہ سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا با وجود اِس کے کہ کئی دفعہ سانپ بنا لیکن آخر عصا کا عصا ہی رہا اور حضرت مسیحؑ کی چڑیاں باوجودیکہ معجزہ کے طور پر اُڑیں پر قرآن کریم سے ثابت ہے کہ پھر بھی مٹی کی مٹی ہی تھے۔ اور کہیں خدا تعالٰی نے یہ نہ فرمایا کہ وہ زندہ بھی ہو گئیں اور ہمارے

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اقتداری خوارق میں

چونکہ خلافت الٰہی سب سے زیادہ بھری ہوئی تھی کیونکہ وجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تجلیات الٰہیہ کے لئے اتم واعلیٰ وارفع واکمل نمونہ تھا اس لئے ہماری نظر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اقتداری خوارق کو کسی درجہ بشریت پر مقرّر کرنے سے قاصر ہیں مگر تاہم ہمارا اِسی پر ایمان ہے کہ اس جگہ بھی اللہ جلشانہ اور اُسکے رسولِ کریم کے فعل میں مخفی طور پر کچھ فرق ضرور ہو گا۔

اب اِن تحریرات سے ہماری غرض اِس قدر ہے کہ لقاء کا مرتبہ جب کسی انسان کو میسّر آتا ہے تو اُس مرتبہ کی تموّج کے اوقات میں اُس سے جو امر صادر ہوتے ہیں وہ ایسے شخص کی گہری صحبت میں جو شخص ایک حصّہ عمر کا بسر کرے تو ضرور کچھ نہ کچھ یہ اقتداری خوارق مشاہدہ کریگا کیونکہ اُس تموج کی حالت میں کچھ الٰہی صفات کا رنگ ظلّی طور پر انسان میں آجاتا ہے یہانتک کہ اُس کا رحم خدا تعالیٰ کا رحم اور اُس کا غضب خدا تعالیٰ کا غضب ہو جاتا ہے اور بسا اوقات وہ بغیر کسی دُعا کے کہتا ہے کہ فلاں چیز پیدا ہو جا تو وہ پیدا ہو جاتی ہے یا وہ کسی پر غضب کی نظر سے دیکھتا ہے تو اُسپر کوئی

اقتداری خوارق میں کامل بندے کا فعل اللہ جلشانہ کا فعل ہو جاتا ہے

آئینہ کمالات اسلام صفحہ 68 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 68 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 134 پر درج ہے

صفحہ 620

حوالہ نمبر 132

ازالۃ الاوہام ۲۵۶ حصہ اول

ہوسکتا ہے جس کو پیش کر کے ہم ہر ایک ملک کے آدمی کو خواہ ہندی ہو یا پارسی یا یوروپین یا

ص ۳۰۶

امریکن یا کسی اور ملک کا ہو ملزم و ساکت ولاجواب کر سکتے ہیں۔ وہ غیر محدود معارف و حقائق و علوم حکمیہ قرآنیہ ہیں جو ہر زمانہ میں اس زمانہ کی حاجت کے موافق کھلتے جاتے ہیں اور ہر ایک زمانہ کے خیالات کا مقابلہ کرنے کے لئے مسلح سپاہیوں کی طرح کھڑے ہیں اگر

ص ۳۰۷

قرآن شریف اپنے حقائق و دقائق کے لحاظ سے ایک محدود چیز ہوتی تو ہرگز وہ معجزہ تامہ نہیں ٹھہر سکتا تھا فقط بلاغت و فصاحت ایسا امر نہیں ہے جس کی اعجاز کی کیفیت ہر ایک خواندہ ناخواندہ کو معلوم ہو جائے کھلا کھلا اعجاز اس کا تو یہی ہے کہ وہ غیر محدود معارف و دقائق

سے بطور لہو و لعب نہ بطور حقیقت ظہور میں آسکیں کیونکہ عمل الترب میں جس کو زمانہ حال میں مسمریزم کہتے ہیں ایسے ایسے عجائبات ہیں کہ اس میں پوری پوری مشق کرنے والے اپنی روح کی گرمی دوسری چیزوں پر ڈال کر ان چیزوں کو زندہ کے موافق کر دکھاتے ہیں۔ انسان کی روح میں کچھ ایسی خاصیت ہے کہ وہ اپنی زندگی کی گرمی ایک جماد پر جو بالکل بے جان ہے ڈال سکتی ہے۔ تب جماد سے وہ بعض حرکات صادر ہوتی ہیں جو زندوں سے صادر ہوا کرتی ہیں۔ راقم رسالہ ہذا نے اس علم کے بعض مشق کرنے والوں کو دیکھا ہے جو انہوں

ص ۳۰۸

نے ایک لکڑی کی تپائی پر ہاتھ رکھ کر ایسا اپنی حیوانی روح سے اُسے گرم کیا کہ اس نے چار پایوں کی طرح حرکت کرنا شروع کر دیا اور کتنے آدمی گھوڑے کی طرح اس پر سوار ہوئے اور اسکی تیزی اور حرکت میں کچھ کمی نہ ہوئی۔ سو یقینی طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ اگر ایک شخص اس فن میں کامل مشق رکھنے والا مٹی کا ایک پرندہ بنا کر اس کو پرواز کرتا ہوا بھی دکھا وے تو کچھ بعید نہیں کیونکہ کچھ اندازہ نہیں کیا گیا کہ اس فن کے کمال کی کہاں تک انتہاء ہے۔ اور جبکہ ہم بچشم خود دیکھتے ہیں کہ اس فن کے ذریعہ سے ایک جماد میں حرکت پیدا ہو جاتی ہے اور وہ جانوروں کی طرح چلنے لگتا ہے تو پھر اگر اس میں پرواز بھی ہو تو بعید کیا ہے۔ مگر یاد رکھنا چاہیئے کہ ایسا جانور جو مٹی یا لکڑی وغیرہ سے بنایا

ص ۳۰۹

]جاوے اور عمل الترب سے اپنی روح کی گرمی اس کو پہنچائی جاوے وہ درحقیقت زندہ[ ]نہیں ہوتا بلکہ بدستور بے جان اور جماد ہوتا ہے صرف عامل کے روح کی گرمی بارُود کی طرح اُس کو[ ]جنبش میں لاتی ہے۔ اور یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ ان پرندوں کا پرواز کرنا قرآن شریف سے[

۱۵۹

یہ حوالہ صفحہ 135 پر درج ہے ازالۃ الاوہام صفحہ 308 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 257 از مرزا قادیانی

صفحہ 621

حوالہ نمبر 132 ازالہ اوہام ۲۵۷ حصہ اول

اپنے اندر رکھتا ہے جو شخص قرآن شریف کے اس اعجاز کو نہیں مانتا وہ ملہم قرآن کی معرفت سے بے نصیب ہے ومن لم یؤمن بھذا الاعجاز فوالله ما قدر القرآن حق قدره وما عرف الله حق معرفته وما وقر الرسول حق توقیره ۔ اے بندگانِ خدا ! یقیناً یاد رکھو کہ قرآن شریف میں غیر محدود معارف وحقائق کا اعجاز ایسا کامل اعجاز ہے جس نے ہر ایک زمانہ میں تلوار سے زیادہ کام کیا ہے اور ہر یک زمانہ میں نئی حالت کے ساتھ جو کچھ شبہات پیش کرتا ہے یا جس قسم کے اعلیٰ معارف کا دعویٰ کرتا ہے اس کی پوری مدافعت اور پورا الزام اور پورا پورا مقابلہ قرآن شریف میں موجود ہے کوئی شخص

ہرگز ثابت نہیں ہوتا بلکہ ان کا ہلنا اور جنبش کرنا بھی بپایہ ثبوت نہیں پہنچتا اور نہ درحقیقت ان کا زندہ ہو جانا ثابت ہوتا ہے۔ اس جگہ یہ بھی جاننا چاہئے کہ سلب امراض کرنا یا اپنی روح کی گرمی بیمار میں ڈال دینا درحقیقت یہ سب عمل الترب کی شاخیں ہیں۔ ہر یک زمانہ میں ایسے لوگ ہوتے رہے ہیں اور اب بھی ہیں جو اس روحانی عمل کے ذریعہ سے سلب امراض کرتے رہے ہیں ہپناٹزم ، مسمریزم، مقناطیسم وغیرہ ان کی توجہ سے اچھے ہوتے رہے ہیں جن لوگوں کی معلومات وسیع ہیں وہ میرے اس بیان پر شہادت دے سکتے ہیں کہ بعض فقراء نقشبندی یا سہروردی وغیرہ نے بھی ان مشقوں کی طرف دست توجہ کی تھی اور بعض ان میں یہاں تک مشاق گزرے ہیں کہ صدہا بیماروں کو اپنے یمین ویسار میں بٹھا کر صرف نظر سے اچھا کر دیتے تھے اور علی الیقین ابن عربی صاحب کو بھی اس میں خاص درجہ کی مشق تھی۔ اولیاء اور اہل سلوک کی تواریخ اور سوانح پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کاملین ایسے عملوں سے پرہیز کرتے رہے ہیں مگر بعض لوگ اپنی ولایت کا ایک ثبوت بنانے کی غرض سے یا کسی اور نیت سے ان مشغلوں میں مبتلا ہو گئے تھے۔ اور اب یہ بات قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ مسیح ابن مریم باذن و حکم الٰہی الیسع نبی کی طرح اس عمل الترب میں کمال رکھتے تھے گو الیسع کے درجہ کو طے کر نہ سکے تھے کیونکہ الیسع کی ہڈیوں نے بھی معجزہ دکھلایا کہ انکی ہڈیوں کے لگنے سے ایک مردہ زندہ ہو گیا مگر چوروں کی ہڈیاں مسیح کے جسم کے ساتھ لگنے سے ہرگز زندہ نہ ہو سکیں۔ یعنی وہ دو چور جو مسیح کے ساتھ مصلوب ہوئے تھے۔ بہرحال مسیح کی یہ تربی کارروائیاں زمانہ کے مناسب حال بطور خاص مصلحت کے تھیں مگر یاد رکھنا چاہئے کہ یہ عمل ایسی قدر کے لائق نہیں ۔ جیسا کہ

ازالہ اوہام صفحہ 308 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 257 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 135 پر درج ہے

صفحہ 622

(حوالہ نمبر 133)

ازالہ اوہام ۱۹۲ حصہ اول

۱۹۰ ۱۹۰

علمائے ہند کی خدمت میں نیاز نامہ

اے برادران دین و علمائے شرع متین! آپ صاحبان میری ان معروضات کو متوجہ ہو کر سنیں کہ اس عاجز نے جو مثیل موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں۔ یہ کوئی نیا دعویٰ نہیں جو آج ہی میرے منہ سے سنا گیا ہو بلکہ یہ وہی پرانا الہام ہے جو میں نے خدائے تعالیٰ سے پا کر براہین احمدیہ کے کئی مقامات پر تصریح درج کر دیا تھا جس کے شائع کرنے پر سات سال سے بھی کچھ زیادہ عرصہ گزر گیا ہو گا میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ میں مسیح بن مریم ہوں جو شخص یہ الزام میرے پر لگاوے وہ سراسر مفتری اور کذاب ہے۔ بلکہ میری طرف سے عرصہ سات یا آٹھ سال سے برابر یہی شائع ہو رہا ہے کہ میں مثیل مسیح ہوں یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعض روحانی خواص طبع اور عادت اور ۱۹۱ اخلاق وغیرہ کے خدائے تعالیٰ نے میری فطرت میں بھی رکھے ہیں اور دوسرے کئی امور میں جن کی تصریح انہیں رسائل میں کر چکا ہوں میری زندگی کو مسیح بن مریم کی زندگی سے اشد مشابہت ہے اور یہ بھی میری طرف سے کوئی نئی بات ظہور میں نہیں آئی کہ میں نے ان رسائل میں اپنے تئیں وہ موعود ٹھہرایا ہے جس کے آنے کا قرآن شریف میں اجمالاً اور احادیث میں تصریحاً بیان کیا گیا ہے کیونکہ میں تو پہلے بھی براہین احمدیہ میں تصریح لکھ چکا ہوں کہ میں وہی مثیل موعود ہوں جس کے آنے کی خبر روحانی طور پر قرآن شریف اور احادیث نبویہ میں پہلے سے وارد ہو چکی ہے۔ تعجب کہ مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی اپنے رسالہ اشاعۃ السنۃ نمبر ۶ جلد سات میں جس میں براہین احمدیہ کا ریویو لکھا ہے ان تمام الہامات کی اگرچہ ایمانی طور پر نہیں مگر امکانی طور پر تصدیق کر چکے اور بدل و جان مان چکے ہیں مگر پھر بھی سنا جاتا ہے کہ حضرت مولوی صاحب موصوف کو بھی اور لوگوں کا شور اور غوغا دیکھ کر

ازالہ اوہام صفحہ 190 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 192 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 135 پر درج ہے

صفحہ 623

۲۹۵ حوالہ نمبر 134 تحفہ گولڑویہ

ضمیمہ تحفہ گولڑویہ

ہم نے مناسب سمجھا ہے کہ اپنے دعوٰی کے متعلق جسقدر ثبوت ہیں اجمالی طور پر انکو یکجا اکٹھا کر دیا جائے سو اوّل تمہیدی طور پر اس بات کا لکھنا ضروری ہے کہ میرا دعوٰی یہ ہے کہ میں وہ مسیح موعود ہوں جس کے بارے میں خدا تعالٰی کی تمام پاک کتابوں میں پیشگوئیاں ہیں کہ وہ آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا ۔ ہمارے علماء کا یہ خیال ہے کہ وہی مسیح عیسٰی بن مریم جس پر انجیل نازل ہوئی تھی آخری زمانہ میں آسمان پر سے نازل ہوگا۔ لیکن ظاہر ہے کہ قرآن شریف اِس خیال کے مخالف ہے اور آیت فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم ۱؎ اور آیت کانا یاکلان الطعام ۲؎ اور آیت ما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل ۳؎ اور آیت فیھا تحیون وفیھا تموتون اور دوسری تمام آیتیں جن کا ہم اپنی کتابوں میں ذکر کرچکے ہیں اس امر پر قطعیۃ الدلالت ہیں کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں اور انکی موت کا انکار قرآن سے انکار ہے اور پھر اس کے بعد اگرچہ اس بات کی ضرورت نہیں کہ ہم احادیث سے حضرت مسیح کی وفات کی دلیل ڈھونڈیں لیکن پھر بھی جب ہم حدیثوں پر نظر ڈالتے ہیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ کافی حصہ اس قسم کی حدیثوں کا موجود ہے جن میں حضرت عیسٰی علیہ السلام کی ایک سو بیس برس عمر لکھی ہے اور جن میں بیان کیا گیا ہے کہ اگر عیسٰی اور موسٰی زندہ ہوتے تو میری پیروی کرتے ۔ اور جن میں لکھا گیا ہے کہ اب حضرت عیسٰی علیہ السلام وفات یافتہ روحوں میں داخل ہیں چنانچہ معراج کی تمام حدیثیں جو صحیح بخاری میں ہیں وہ اس بات پر گواہ ہیں کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام معراج کی رات میں وفات شدہ روحوں میں دیکھے گئے۔ اور سب سے بڑھ کر حدیثوں کے رو سے یہ ثبوت ملتا ہے کہ تمام صحابہ کا اس پر اجماع ہو گیا تھا کہ گذشتہ تمام نبی جن میں حضرت عیسٰی بھی داخل ہیں سب کے سب فوت ہوچکے ہیں۔ اس

۱؎ المائدۃ: ۱۱۸ ۲؎ المائدۃ: ۷۵ ۳؎ آل عمران: ۱۴۴ ۴؎ الاعراف: ۲۵

تحفہ گولڑویہ (ضمیمہ) صفحہ 118 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 295 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 135 پر درج ہے

Back

صفحہ 624

حوالہ نمبر 135

حصہ دوم ۴۳۶ ازالہ اوہام

حضرت عزیر اور حضرت مسیح ہیں اور اُن کا بہشت میں داخل ہو جانا اس سے ثابت ہوتا ہے جس سے اُن کی موت بھی بپایہ ثبوت پہنچتی ہے۔

(۲۸) اٹھائیسویں آیت اَیْنَ مَا تَکُوْنُوْا یُدْرِکْکُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ کُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَۃٍ۔ (الجزو نمبر ۵) یعنی جس جگہ تم ہو اُسی جگہ موت تمہیں پکڑ لے گی اگرچہ تم بڑے مرتفع بُرجوں میں بود و باش اختیار کرو۔ اس آیت سے بھی صریح ثابت ہوتا ہے کہ موت اور لوازم موت ہر ایک جگہ جسم خاکی پر وارد ہو جاتے ہیں۔ یہی سُنت اللہ ہے اور اس جگہ بھی استثناء کے طور پر کوئی ایسی عبارت بلکہ ایک ایسا کلمہ بھی نہیں لکھا گیا ہے جس سے مسیح باہر رہ جاتا۔ پس بلاشبہ یہ اشارۃ النص بھی مسیح ابن مریم کی موت پر دلالت کر رہے ہیں۔ موت کے تعاقب سے مراد زمانہ کا اثر ہے جو ضعف اور پیری یا امراض و آفات منجر الی الموت تک پہنچاتا ہے اس سے کوئی نفس مخلوق خالی نہیں۔

(۲۹) انتیسویں آیت مَا اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَمَا نَهٰکُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا۔ یعنی رسول جو کچھ تمہیں علم و معرفت عطا کرے وہ لے لو اور جس سے منع کرے وہ چھوڑ دو۔ لہٰذا اب ہم اس طرف متوجہ ہوتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارہ میں کیا فرمایا ہے۔ سو پہلے وہ حدیث سُنو جو مشکوٰۃ میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور وہ یہ ہے :- وَعَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ اَعْمَارُ اُمَّتِی مَا بَیْنَ السِّتِّیْنَ اِلٰی السَّبْعِیْنَ وَاَقَلُّهُمْ مَنْ یَجُوْزُ ذَالِکَ رَوَاهُ التِّرْمِذِی وَابْنُ مَاجَهْ ۔ یعنی اکثر عمریں میری اُمت کی ساٹھ سے ستر برس تک ہوں گی۔ اور ایسے لوگ کمتر ہونگے جو ان سے تجاوز کریں۔ یہ ظاہر ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم اس اُمت کے شمار میں ہی آگئے ہیں پھر اتنا فرق کیونکر ممکن ہے کہ اور لوگ ستر برس تک مشکل سے پہنچیں اور اُن کا یہ حال ہو کہ دو ہزار کے قریب اُن کی زندگی کے برس گذر گئے اور اب تک مرنے میں

۱؎ نساء: ۷۹ ۲۰۵ ۲؎ حشر: ۸

ازالہ اوہام صفحہ 623 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 436 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 136 پر درج ہے

صفحہ 625

حوالہ نمبر 136

ضمیمہ براہین احمدیہ ۳۶۴ حصہ پنجم

لیکن خدا تعالیٰ نے مجھے باپ کے لحاظ سے فارسی النسل قرار دیا ہے اور ماں کے لحاظ سے مجھے فاطمی ٹھہرایا ہے اور یہی حق ہے جو وہ کہتا ہے۔ اور چوتھا امر جو مجھ میں دو امر مشتمل کرتا ہے وہ یہ ہے کہ میں جوڑا پیدا ہوا تھا۔ ایک میرے ساتھ لڑکی تھی جو مجھ سے پہلے پیدا ہوئی تھی۔

پھر ہم اپنے پہلے مقصد کی طرف رجوع کر کے کہتے ہیں کہ یہ بالکل غلط اور دھوکا کھانا ہے کہ حدیثوں میں مسیح موعود کے بارے میں نبی کا نام دیکھ کر یہ سمجھا جائے کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی ہیں۔ کیونکہ انہیں حدیثوں میں اگرچہ آنے والے عیسیٰ کا نام نبی رکھا گیا ہے مگر اُس کے ساتھ ایک ایسی شرط لگا دی گئی ہے کہ اس شرط کے لحاظ سے ممکن ہی نہیں کہ اس نبی سے مراد حضرت عیسیٰ اسرائیلی ہوں کیونکہ باوجود نبی نام رکھنے کے اس عیسیٰ کو اُنہی حدیثوں میں امتی بھی قرار دیا ہے۔ اور جو شخص امتی کی حقیقت پر نظر غور ڈالیگا وہ بداہت سمجھ لیگا کہ حضرت عیسیٰ کو امتی قرار دینا ایک کفر ہے کیونکہ امتی اس کو کہتے ہیں کہ جو بغیر اتباع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور بغیر اتباع قرآن شریف محض ناقص اور گمراہ اور بے دین ہو اور جسپر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور قرآن شریف کی پیروی سے اُس کو ایمان اور کمال نصیب ہو۔ اور ظاہر ہے کہ ایسا خیال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت کرنا کفر ہے۔ کیونکہ گو وہ اپنے درجہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کیسے ہی کم ہوں مگر نہیں کہہ سکتے کہ جب تک وہ دوبارہ دنیا میں آکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں داخل نہ ہوں تب تک نعوذ باللہ وہ گمراہ اور بے دین ہیں یا وہ ناقص ہیں اور ان کی معرفت ناتمام ہے۔ پس میں اپنے مخالفوں کو یقیناً کہتا ہوں کہ حضرت عیسیٰ امتی ہرگز نہیں ہیں۔ گو وہ بلکہ تمام انبیاء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی پر ایمان رکھتے تھے مگر وہ ان ہدایتوں کے پیرو تھے جو اُن پر نازل ہوئی تھیں۔ اور براہِ راست خدا نے اُن پر سچائی اتاری تھی۔ ہرگز نہیں تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی تعلیم سے وہ نبی بنے تھے تا

۱۹۲

وہ امتی کہلاتے۔ اُن کو خدا تعالیٰ نے الگ کتابیں دی تھیں۔ اور ان کو ہدایت تھی کہ ان کتابوں پر عمل کریں اور کراویں، جیسا کہ قرآن شریف اسپر گواہ ہے۔ پس اس بدیہی شہادت کی رُو سے

براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 192 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 364 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 136 پر درج ہے

صفحہ 626

(حوالہ نمبر 137)

۴۱۵ نزول المسیح

جماعت اور ضالین یعنی عیسائیوں کے زمانہ ترقی کی خبر ہے۔ سو کس قدر شیخی کی بات ہے کہ وہ باتیں آج پوری ہوئیں : بالآخر میں ایک اور رؤیا لکھتا ہوں جو طاعون کی نسبت مجھے ہوئی اور وہ یہ کہ میں نے ایک جانور دیکھا جس کا قد ہاتھی کے قد کے برابر تھا مگر منہ آدمی کے منہ سے ملتا تھا اور بعض اعضاء دُوسرے جانوروں سے مشابہ تھے اور مَیں نے دیکھا کہ وہ یوں ہی قدرت کے ہاتھ سے پیدا ہو گیا اور میں ایک ایسی بڑ پر بیٹھا ہوں جس میں چاروں طرف بَن ہیں جن میں بیل گدھے گھوڑے کتے سور بھیڑیے اونٹ وغیرہ ہر ایک قسم کے موجود ہیں اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہ سب انسان ہیں جو بدعملیوں سے اِن صورتوں میں ہیں۔ اور پھر مَیں نے دیکھا کہ وہ ہاتھی کی ضخامت کا جانور جو مختلف شکلوں کا مجموعہ ہے جو محض قدرت سے زمین میں سے پیدا ہو گیا ہے وہ میرے پاس آبیٹھا ہے اور قطب کی طرف اُس کا منہ ہے خاموش صورت ہے آنکھوں میں بہت حیا ہے اور بار بار چند منٹ کے بعد اُن بَنوں میں سے کسی بَن کی طرف دوڑتا ہے اور جب بَن میں داخل ہوتا ہے تو اُس کے داخل ہونے کے ساتھ ہی شورِ قیامت اُٹھتا ہے اور ان جانوروں کو کھانا شروع کرتا ہے اور ہڈیوں کے چبانے کی آواز آتی ہے۔ تب وہ فراغت کر کے پھر میرے پاس آبیٹھتا ہے اور شاید دس منٹ کے قریب بیٹھا رہتا ہے اور پھر دُوسرے بَن کی طرف جاتا ہے اور وہی صورت پیش آتی ہے جو پہلے آئی تھی اور پھر میرے پاس آبیٹھتا ہے۔ آنکھیں اُس کی بہت لمبی ہیں اور میں اُس کو ہر ایک دفعہ جو میرے پاس آتا ہے خوب نظر لگا کر دیکھتا ہوں۔ اور وہ اپنے چہرہ کے اندازہ سے مجھے یہ بتلاتا ہے کہ میرا اِس میں کیا قصور ہے مَیں مامور ہوں اور نہایت شریف اور پرہیز گار جانور معلوم ہوتا ہے اور کچھ اپنی طرف سے نہیں کرتا بلکہ وہی کرتا ہے جو اسکو حکم ہوتا ہے۔ تب میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہی طاعون

۳۹

یہ حوالہ صفحہ 136 پر درج ہے نزول المسیح صفحہ 38 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 415، 416 از مرزا قادیانی

صفحہ 627

حوالہ نمبر 137

نزول المسیح ۴۱۶

[ ہے اور یہی وہ دَابَّةُ الْاَرْضِ ہے جس کی نسبت قرآن شریف میں وعدہ ] تھا کہ آخری زمانہ میں ہم اس کو نکالیں گے اور وہ لوگوں کو اس لئے کاٹے گا ۔ کہ وہ ہمارے نشانوں پر ایمان نہیں لاتے تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةً مِّنَ الْاَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ اَنَّ النَّاسَ كَانُوا بِاٰيٰتِنَا لَا يُوْقِنُوْنَ ١؎ اور جب مسیح موعود کے بھیجنے سے خدا کی حجت اُن پر پوری ہو جائے گی تو ہم زمین میں سے ایک جانور نکال کر کھڑا کریں گے وہ لوگوں کو کاٹے گا اور زخمی کریگا اس لئے کہ لوگ خدا کے نشانوں پر ایمان نہیں لاتے تھے۔ دیکھو سورۃ النمل الجزء نمبر ۲۰۔

اور پھر آگے فرمایا ہے وَيَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ فَوْجًا مِّمَّنْ يُّكَذِّبُ بِاٰيٰتِنَا فَهُمْ يُوْزَعُوْنَ ۔ حَتّٰى اِذَا جَاءُوْ قَالَ اَكَذَّبْتُمْ بِاٰيٰتِيْ وَلَمْ تُحِيْطُوْا بِهَا عِلْمًا اَمَّاذَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔ وَوَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ بِمَا ظَلَمُوْا فَهُمْ لَا يَنْطِقُوْنَ ٢؎ ۔ ترجمہ ۔ اُس دن ہم ہر ایک اُمت میں سے اس گروہ کو جمع کریں گے جو ہمارے نشانوں کو جھٹلاتے تھے اور اُن کو ہم جُدا جُدا جماعتیں بنا دیں گے یہاں تک کہ جب وہ عدالت میں حاضر کئے جائیں گے تو خدائے عزوجل اُن کو کہے گا کہ کیا تم نے میرے نشانوں کی بغیر تحقیق کے تکذیب کی یہ تم نے کیا کیا اور ان پر بوجہ اُن کے ظالم ہونے کے حُجت پوری ہو جائے گی اور وہ بول نہ سکیں گے۔ سورۃ النمل الجزء نمبر ۲۰۔

اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہی دابۃ الارض جو ان آیات میں مذکور ہے جس کا مسیح موعود کے زمانہ میں ظاہر ہونا ابتدا سے مقرر ہے یہی وہ مختلف صورتوں کا جانور ۳۹ ہے جو مجھے عالم کشف میں نظر آیا اور دل میں ڈالا گیا کہ یہ طاعون کا کیڑا ہے اور خدا تعالیٰ نے اس کا نام دابۃ الارض رکھا کیونکہ زمین کے کیڑوں میں سے ہی یہ بیماری پیدا ہوتی ہے اسی لئے پہلے چوہوں پر اس کا اثر ہوتا ہے اور مختلف صورتوں

١؎ النمل: ۸۳ ٢؎ النمل: ۸۴-۸۶ ۴۰

نزول المسیح صفحہ 38 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 415، 416 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 136 پر درج ہے

صفحہ 628

حوالہ نمبر 138

٣٠٨

الكافرين وتشهد ان دين الاسلام حق حتى انها تقتل ابليس وتمزقه وبعض الاحاديث يدل على انها امرأة كافرة خادمة للشيطان و جساسة للدجال وليس فيها خير فلا يمكن التوفيق بينهما الا ان نقول ان المراد من دابة الارض علماء السوء الذين يشهدون باقوالهم ان الرسول حق والقرآن حق ثم يعملون الخبائث ويخدمون الدجال كأن وجودهم من الجزئين جزء مع الاسلام وجزء مع الكفر اقوالهم كاقوال المؤمنين وافعالهم كافعال الكافرين فاخبر رسول الله صلى الله عليه وسلم عن انهم يكثرون فى آخر الزمان وسموا دابة الارض لانهم اخلدوا الى الارض وما ارادوا ان يرفعوا الى السماء واطمئنوا بالدنيا وشهواتها وما بقى لهم قلب كالانسان واجتمعت فيهم عادات السباع و الخنازير والكلاب تراهم مستكبرين متبخترين كانهم بلغوا السماء وسموها ولم تخرج ارجلهم من الارض من شدة انتكاسهم الى الدنيا فهم كالذى شدد اسره وكالمسجونين يكلمون الناس من الاست لا من الافواه يعنى ولا تجد فى كلماتهم طهارة وبركة واستقامة و نورانية كلمات المصلحين۔

ان يكون تكفيرهم حقا وصدقا فان من شأن دابة الارض انها تسم المؤمن والكافر فمن جعله الدابة كافر (ويشير المعترض الينا) فعليكم ان تقروا بكفره فان التكفير بمنزلة الوسم من دابة الارض فيقال في جواب هذا المعترض ان المراد من الوسم اظهار كفر كافر و ايمان مؤمن فهذا الاظهار على نوعين قد يكون بالاقوال وقد يكون بالافعال ونتائجها وقد جرت سنت الله انه قد يجعل الكافرين والفاسقين علة موجبة لظهور انوار ايمان انبياءه واولياءه ألا ترى الى سيدنا ونبينا محمد المصطفى صلعم كيف كانت

١۴٢

یہ حوالہ صفحہ 137 پر درج ہے حمامۃ البشریٰ صفحہ 142 مندرجہ روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 208 از مرزا قادیانی

صفحہ 629

حوالہ نمبر 139

ازالہ اوہام ۱۴۴ حصہ اول

افسوس کہ ہماری قوم کے لوگ استعارات کو حقیقت پر حمل کر کے سخت پیچاں میں پھنس گئے ہیں اور ایسی مشکلات کا سامنا انہیں پیش آگیا ہے کہ اب اُن سے بآسانی نکلنا ان لوگوں کیلئے سخت دشوار ہے اور جو نکلنے کی راہیں ہیں وہ انہیں قبول نہیں کرتے ۔ مثلاً صحیح مسلم کی حدیث میں جو یہ لفظ موجود ہے کہ حضرت مسیح جب آسمان سے اترینگے تو اُن کا لباس زرد رنگ کا ہوگا اس لفظ کو ظاہری لباس پر حمل کرنا کیسا لغو خیال ہے زرد رنگ پہننے کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی لیکن اگر اس لفظ کو ایک کشفی استعارہ قرار دے کر معبّرین کے مذاق اور تجارب کے موافق اسکی تعبیر کرنا چاہیں

ایک یہ کہ جب مسیح آئے گا تو مسلمانوں کی اندرونی حالت کو جو اُس وقت بغایت درجہ بگڑی ہوئی ہو گی اپنی عہ صحیح تعلیم سے درست کر دے گا اور اُن کے روحانی افلاس اور باطنی ناداری کو مبدل فرما کر جواہرات علوم وحقائق ومعارفِ الٰہی اُن کے سامنے رکھ دے گا یہاں تک کہ وہ لوگ اس دولت کو لیتے لیتے تھک جائینگے اور اُن میں سے کوئی طالب حق روحانی طور پر مفلس اور نادار نہیں رہے گا بلکہ جس قدر سچائی کے بھوکے پیاسے ہیں ان کو بکثرت طیب غذا صداقت کی اور شربت شیریں معرفت کا پلایا جائے گا اور علوم حقہ کے موتیوں سے اُن کی جھولیاں پُر کر دی جائیں گی اور جو تشنہ لب طالب ان شیریں چشموں کا ہے اس بحر کے بھرے ہوئے چشمے میں کودتے جائیں گے ۔ دوسری علامت خاصہ یہ ہے کہ جب وہ مسیح موعود آئے گا تو صلیب کو توڑے گا اور خنزیروں کو قتل کریگا اور دجالِ یک چشم کو قتل کر ڈالے گا اور جس کافر تک اس کے دم کی ہوا پہنچے گی وہ فی الفور مرجائیگا سوم علامت کی اصل حقیقت جو روحانی طور پر مراد رکھی گئی ہے یہ ہے کہ مسیح دنیا میں آکر صلیبی مذہب کی شان و شوکت کو اپنے پیروں کے نیچے کچل ڈالے گا اور اُن لوگوں کو جن میں خنزیروں کی بے حیائی اور عہ کتوں کی بے شرمی اور نجاست خوری ہے تباہ کر دے گا یعنی اُن پر دلائل کا ایسا ہتھیار چلائے گا کہ سب کا کام تمام کر دے گا اور وہ لوگ جو صرف دنیا کی آنکھ رکھتے ہیں مگر دین کی آنکھ انکی اندھی ہے ۔ بلکہ ایک بد نما پھلا اس میں نکلا ہوا ہے اُنکو یقینی حجتوں کی سیفِ قاطعہ سے ملزم کر کے اُن کی بیکار ہستی کا خاتمہ کر دے گا اور نہ صرف ایسے یک چشم لوگ بلکہ ہر ایک کافر جو دینِ محمدی کو بنظر استحقار دیکھتا ہے مسیحی دلائل کے جلالی دم سے روحانی طور پر مارا جائے گا ۔ غرض یہ سب عبارتیں استعارہ کے طور پر واقع ہیں جو اس عاجز پر

ازالہ اوہام صفحہ 81 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 142 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 137 پر درج ہے

صفحہ 630

حوالہ نمبر 140

۲۰۶

نحن متألمون فى أمر نزول المسيح من السماء ، ولا نسلم إنه ثابت من الكتاب والسنة ، و ان كان ثابتاً فلا ينبغى لنا ولا لاحد ان يأبى ويمتعض من قبوله ، فانه لا يفر من قبول الحق الا ظالم معتد لا يحب الصدق او ضال جاهل لا يعرف قدرها، و اما ان كان غير ثابت فلا ينبغى لصالح ان يبتكره لنفسه ، فكيف يدعو اليه رجلا يمشى على صراط مستقيم وكيف يحسبه من الكافرين ؟ وان امر الدين امر جليل الخطب عظيم القدر لا ينبغى لاحد ان يستعجل فيه بل اللازم الواجب على كل مسلم مؤمن ان يطرح من بينه البخل والشح ويدعو الله ويسأله بالتضرعات والابتهالات هداية من لدنه ، ومن يهدى الا الله وهو أحسن الهادين ـ ومن نظر فى القرآن وفكر فى الفرقان بالتدبر والامعان فيظهر عليه كل ما سولت للعلماء أنفسهم وقد عتوا عتوا كبيرا، وعاندوا الحق و أشاعوا كذبا وزورا، وان الهـ ـمة مبذولة فى تنقيدها وتميزها، و أنفدوا أعمارهم فيها وأضلوا أنفسهم فى سككها وما التفتوا الى مصحف الله واستنباط مسائلها، فبقى الفرقان كالمستقذر من أعينهم وبقيت أسراره كالدرر المكنونة او الخزائن المدفونة، ماعرفوها وما رعوها حق رعايتها و أكبوا على كتب أخرى كالمعرضين ـ ولو أنهم توجهو الى القرآن لكشف الله عليهم سر كل حقيقة و نجاهم من برارى الشبهات، ولكنهم ما شاؤا ان ينوروا واختاروا العمى وعادوا قوماً مبورين ، فمن أعظم خطيئاتهم انهم لم يفهموا حقيقة المسيح الموعود الذى أخبروا عنه وقالوا ان عيسى بن مريم عليه السلام ينزل من السماء وقد كانوا يقرؤن فى القرآن انه توفى ولحق باخوانه الذين خلوا من قبله، فنسوا ما كانوا يعلمون و اتبعوا ما قيل بعد المأتين، ونبذوا آيات الله وراء ظهورهم كأنهم ما وجدوا فى القرآن أثرا من أخبار وفاة المسيح وكأنهم كانوا من الغافلين ـ و اذا قيل لهم ان الله قد أخبر عن وفاة المسيح فى آياته المحكمات، وقال:

۴۰

حمامة البشرى صفحہ 40 مندرجہ روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 206 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 137 پر درج ہے

صفحہ 631

حوالہ نمبر 141

سراج منیر ۵۸ اپنی تحریروں اور چھپی ہوئی کتابوں کے ذریعہ سے مخالفوں اور موافقوں میں پیش از وقت شائع کر دیا ہو اور اپنی عظمت میں میری پیشگوئیوں کے مساوی ہوں اس زمانہ میں دکھا دیں۔ جن میں الٰہی قوت محسوس ہو تب بھی میں جھوٹا ہو جاؤں گا۔ اور قسم کیلئے ضروری ہو گا کہ جو صاحب قسم کھانے پر آمادہ ہوں وہ قادیان میں آکر میرے رُو برو قسم کھائیں میں کسی کے پاس نہیں جاؤں گا۔ یہ دین کا کام ہے پس جو لوگ باوجود مولویت کی لاف کے آئیں تسلی کریں تو خود کاذب ٹھہریں گے۔ اگر میرے جیسے شخص کو جس کا نام دجال رکھتے ہیں مغلوب کر لیں تو گویا تمام دُنیا کو بدی سے چھڑا لیں گے۔ اور قسم کے وقت یہ شرط نہایت ضروری ہو گی کہ میں انکی قسم سے پہلے پورے دو گھنٹے تک عام جلسہ میں ان پیشگوئیوں کی سچائی کے دلائل انکے سامنے بیان کرونگا تا وہ جلدی کر کے ہلاک نہ ہو جائیں اور نیز اتمامِ حجت پوری ہو اور اُن کا حق نہیں ہو گا کہ بجز قسم کھانے کے ایک کلمہ بھی منہ پر لائیں خاموشی سے دو گھنٹے تک میرے بیان کو سُنیں گے پھر حَسَبِ نمونہ مذکورہ قسم کھا کر اپنے گھروں میں جائینگے اور یاد رہے کہ میں نے سیّد احمد خان صاحب کے نام منکرین کی مد میں اسلئے لکھا ہے کہ اُنکو خدا کے اِس الہام بلکہ وحی پر بھی انکار ہے جو خدا سے نازل ہوتی اور علم غیب کی عظمت اپنے اندر رکھتی ہے چونکہ وہ بھی اب عمر کی منزل کو طے کر چکے ہیں میں نہیں چاہتا کہ وہ یورپ کے کورانہ خیالات کی پیروی کر کے اس غلطی کو قبر میں لیجائیں۔ اب کو وہ متوجہ نہ ہوں اور اس بات کو ٹھٹھے میں اڑائیں مگر میں نے تو جو تبلیغ کرنی تھی وہ کر چکا ہوں میں ڈرتا ہوں کہ کہیں پُوچھا نہ جاؤں کہ ایک بندۂ گمشدہ کو تم نے کیوں تبلیغ نہ کی۔

بعض نادان کہتے ہیں کہ ہر دفعہ عذاب اور موت کی پیشگوئیاں کیوں کی جاتی ہیں۔ یہ نادان نہیں جانتے کہ ہر ایک نبی انذاری پیشگوئیاں کرتا رہا ہے اگر یہ روا نہیں ہے تو اسکے کیا معنے ہیں کہ مسیح موعود کے دم سے مخالف مرینگے۔

غرض یہ نو صاحب ہیں جو قسم کھانے کیلئے منتخب کئے گئے ہیں کیونکہ ہر ایک ان میں سے ایک جماعت اپنے ساتھ رکھتا ہے پس اُس کے ساتھ فیصلہ کرنے سے جماعت کا فیصلہ خود ضمناً ہو جائیگا۔ قسم کا یہی مضمون ہو گا کہ یہ پیشگوئیاں پوری نہیں ہوئیں اور پہلے

۵۶ سراج منیر صفحہ 56 مندرجہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 58 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 138 پر درج ہے

صفحہ 632

حوالہ نمبر 142 ۱۸۹ کشف الغطاء

کچھ قصور ہوں۔ پس کیا نیک دل اور دانشمند انسان ایک دم کے لئے بھی ایسے شریر کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔ گورنمنٹ کے لئے یہ بات نہایت اطمینان بخش ہے کہ میری جماعت کے لوگ جاہل ۔ وحشی ۔ اوباش ۔ بدمعاش اور بد رویہ لوگ نہیں ہیں بلکہ وہ ایسے نیک انسان اور نیک چلنی میں شہرت یافتہ ہیں ۔ جو کئی اُن میں سے گورنمنٹ کی نظر میں نیک چلنی اور نیک مزاجی اور پاک دلی اور خیر خواہی سرکار میں مسلم ہیں ۔ اور گورنمنٹ کی طرف سے معزز عہدوں پر سرفراز ہیں ۔ سرسید احمد خاں صاحب کے ۔ سی ۔ ایس ۔ آئی نے جو اپنے آخری وقت میں یعنی موت سے تھوڑے دن پہلے میری نسبت ایک شہادت شائع کی ہے ۔ اس سے گورنمنٹ عالیہ سمجھ سکتی ہے کہ اس دانا اور مردم شناس شخص نے میرے طریق اور رویہ کو بدل پسند کیا ہے ۔ چنانچہ حاشیہ میں اُن کے کلمات کو درج کرتا ہوں ؔ ۔

حاشیہ ؔ ۔ ” مرزا غلام احمد صاحب قادیانی “ ٭ مرزا صاحب نے جو اشتہار ۲۵ جون ۱۸۹۹ء کو جاری کیا ہے اس اشتہار میں مرزا صاحب ؔ نے ایک نہایت لطیف عمدہ فقرہ گورنمنٹ انگریزی کی خیرخواہی اور وفاداری کی نسبت لکھا ہے ۔ ہمارے نزدیک ہر ایک مسلمان کو جو گورنمنٹ انگریزی کی رعیت ہے ایسا ہی ہونا چاہیئے جیسا مرزا صاحب نے لکھا ہے ۔ اس لئے ہم اس فقرہ کو اپنے اخبار میں چھاپتے ہیں مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ ”گورنمنٹ انگریزی کی خیر خواہی کی نسبت جو میرے پر حملہ کیا گیا ہے ۔ یہ حملہ بھی محض شرارت ہے۔ سلطان روم کے حقوق بجا ئے خود ہیں مگر اس گورنمنٹ کے حقوق بھی ہمارے سر پر ثابت شدہ ہیں ۔ اور ناشکر گزاری ایک بے ایمانی کی قسم ہے ۔ اے نادانو ! گورنمنٹ انگریزی کی تعریف تمہاری طرح میری قلم سے منافقانہ نہیں نکلتی بلکہ میں اپنے اعتقاد اور یقین سے جانتا ہوں کہ درحقیقت خدا تعالیٰ کے فضل سے اس گورنمنٹ کی پُر امن سلطنت ہونے کا امر ؔ میرے نزدیک ثبوت ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے

٭ یہ عبارت رسالہ انسٹیٹیوٹ گزٹ الہ آباد میں چھپی ہے مجھے اس کا نمبر یاد نہیں رہا ورنہ لکھتا ۱۳

کشف الغطاء صفحہ 13 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 189 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 138 پر درج ہے

صفحہ 633

حوالہ نمبر 143

۳۴۷

اور ثابت قدمی اور رُوحانی زندگی اور استقامت اور اخلاق نبوّت عطا کرتا ہے۔ اسلئے وہ معمولی دُنیا داروں کی طرح اس مالی صدمہ کی برداشت نہ کرسکے اور اسی غم میں دن بدن کوفتہ ہوکر انکی رُوح تحلیل ہوتی گئی۔ یہانتک کہ یہ مُردار دُنیا جسکو وہ بڑا مدعا سمجھتے تھے۔ ایک دم میں ان سے جُدا ہو گیا۔ گویا وہ کبھی دُنیا میں نہیں آئے تھے۔ مگر افسوس یہ ہے کہ جیسا کہ ہموم اور صدمۂ مالی کے وقت میں دلی کمزوری ان سے ظہور میں آئی۔ اور اس مصیبت سے غشی بھی ہو گئی اور آخر اسی میں انتقال فرما گئے۔ ایسا ہی دُوسرے پہلو کی وجہ سے یعنے جب انکو دُنیا کی عزّت اور مرتبت اور عروج اور ناموری حاصل ہوئی۔ تو ان ایّام میں بھی اُن سے اس دُوسرے رنگ میں سخت کمزوری ظہور میں آئی۔ انکے وقت میں خدا نے یہ آسمانی سلسلہ پیدا کیا۔ مگر اُنھوں نے اپنی دُنیوی عزّت کی وجہ سے اس سلسلہ کو ایک ذرہ عظمت کی نظر سے نہیں دیکھا۔ بلکہ اپنے ایک خط میں کسی اپنے رو آشنا کو لکھا کہ شخص جو ایسا دعویٰ کرتا ہے۔ بالکل ہیچ ہے اور اسکی تمام کتابیں لغو اور بے سود اور باطل ہیں۔ اور اس کی تمام باتیں ناراستی سے بھری ہوئی ہیں۔ حالانکہ سرسیّد صاحب اس بات سے بکلی محروم رہے کہ کبھی میرے کسی چھوٹے سے رسالہ کو بھی اوّل سے آخر تک دیکھیں۔ وہ غصّہ کے وقت میں دُنیوی رعونت سے ایسے مدہوش تھے کہ ہر ایک کو اپنے پیروں کے نیچے کچلتے تھے اور یہ دکھلاتے تھے کہ گویا انکو دُنیوی حیثیت کے رُو سے ایسا عروج ہے کہ انکا کوئی بھی ثانی نہیں۔ ہنسی اور ٹھٹھا کرنا اکثر انکا شیوہ تھا۔ جب میں ایکدفعہ علیگڑھ میں گیا۔ تو مجھ سے بھی اسی رعونت کی وجہ سے جس کا تخمِ غرور انکے دل میں مستحکم ہوچکا تھا ہنسی ٹھٹھا کیا۔ اور یہ کہا کہ آؤ میں مرید بنتا ہوں اور آپ مرشد بنیں اور حیدرآباد میں چلیں اور کچھ حُصولی کرامات

۳۴۹

تریاق القلوب صفحہ 340 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 468 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 138 پر درج ہے

صفحہ 634

حوالہ نمبر 143

۴۶۸ دکھائیں اور مَیں تعریف کرتا پھروں گا۔ تب ریاست اپنی سادہ لوحی کی وجہ سے ایک لاکھ روپیہ دے دیگی۔ اس میں دو حصے میرے اور ایک حصہ آپ کا ہوگا۔ ۱۵۱ گویا اس تقریر میں وہ ٹھگ جو سادھو کہلاتے ہیں مجھے قرار دیا۔ ایسا ہی اور کئی باتیں تھیں جن کا اب اُنکی وفات کے بعد لکھنا بے فائدہ ہے۔ اس قدر تحریر سے غرض یہ ہے کہ اس پہلو کی کمزوری بھی ان میں موجود تھی جو دولت اور عزت اور ناموری تک پہنچکر تکبّر اور نخوت اور رعونت اور خود پسندی کے رنگ میں ظہور میں آتی ہے۔ اور یہ اُن کا قصور نہیں ہے بلکہ ہر ایک دُنیا دار کا یہی حال ہے کہ وہ دو قسم کی کمزوری اپنے اندر رکھتا ہے۔ مثلاً ایک شخص جو مولوی کے خطاب سے مشہور ہے۔ وہ اپنے تئیں مولوی کہلا کر نہیں چاہتا کہ دوسرے کا عزت سے نام بھی لے۔ بلکہ اسکی بڑی مہربانی ہوگی۔ اگر وہ دوسرے کو منشی بھی کہہ دے۔ بہت سے دولتمند رئیس یا مسلمان حکام ہیں۔ وہ اس بات کو اپنے لئے سخت عار سمجھتے ہیں کہ کسی کو السلام علیکم کا جواب دیں اور اگر کوئی السلام علیکم کہے تو بہت بُرا مانتے ہیں۔ اور اگر ممکن ہو تو سزا دیدیں۔ یہ تمام کمزوری کے طریق ہیں۔ اور اس کو چراغ نبوت سے روشنی لینے والے اخلاقی کمزوری سے نامزد کرتے ہیں۔ غرض سید احمد خاں صاحب کی موت بھی آخر کمزوری کی وجہ سے ہوئی۔ خدا اُن پر رحم کرے۔

اب ہم اس اشتہار مورخہ ۱۲۔ مارچ ۱۸۹۷ء کو جس میں سید احمد خاں صاحب کی موت کی نسبت پیشگوئی ہے۔ بعینہٖ اس جگہ درج کردیتے ہیں۔ اور یہ اشتہار لاکھوں انسانوں میں مشتہر ہوچکا ہے۔ اور ہم بہت سے لوگوں کو قبل از وقت زبانی کہہ چکے ہیں کہ ہمیں خدا تعالیٰ نے معلوم کرا دیا ہے۔ کہ اب عنقریب سید صاحب فوت ہو جائیں گے۔ اور اشتہار ۲۰۔ فروری ۱۸۸۶ء

۴۲۰

یہ حوالہ صفحہ 138 پر درج ہے تریاق القلوب صفحہ 340 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 468 از مرزا قادیانی

صفحہ 635

حوالہ نمبر 144

۴۲۵

۵۳ اب انجمن نے جواب سے منہ پھیر کر اور ایک دوسرا پہلو اختیار کر کے دکھا دیا کہ یہ گمان اُن کا ٹھیک ہے اور انجمن کے حامی جیسا کہ پیسہ اخبار اور ابزرور دونو کہتے ہیں کہ رُدّ کی کچھ بھی ضرورت نہیں تھی پہلی کتابیں بہت ہیں۔ اب وہی بات ہوئی جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ولقد صدق علیھم ابلیس ظنہ ل اب کیا انجمن اُس صورت میں جو میموریل کا نشانہ خالی جائے یا ادھورا رہے اُس دوسرے پہلو کو اختیار کر سکتی ہے کہ رُدّ لکھا جائے اور ایسے ارادے کو بقیہ اخبار یا ابزرور وغیرہ اخباروں میں شائع کر سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ اب اہل اسلام دیکھ لیں کہ اِس انجمن کی شتاب کاری سے اسقدر اسلام کی حقیقی کارروائی کو ضرر پہنچا ہو اور کیسے اسلام کے مدافعت میں حرج واقع ہوا ہو۔ سرسید احمد خان مرحوم کیسا بہادر اور زیرک اور ان کاموں میں فراست رکھنے والا آدمی تھا انہوں نے آخری وقت میں بھی اس کتاب کا رُدّ لکھنا بہت ضروری سمجھا اور میموریل بھیجنے کی طرف ہرگز التفات نہ کیا۔ اگر وہ زندہ ہوتے تو آج وہ میری رائے کی ایسی ہی تائید کرتے جیسا کہ انہوں نے سلطان روم کے بارے میں صرف میری ہی رائے کی تائید کی تھی اور مخالفانہ راؤں کو بہت ناپسند اور قابلِ اعتراض قرار دیا تھا۔ اب ہم اس بزرگ پولیٹیکل مصالح شناس کو کہاں سے پیدا کریں تا وہ بھی ہم سے ملکر اِس انجمن کی شتاب کاری پر روویں۔ سچ ہے ”قدر مرداں بعد از مردن“

اگر اس انجمن کی طرف سے یہ عذر پیش ہو کہ ہم اسلئے رُدّ لکھنے کے مخالف ہیں کہ یہ لوگ گو کیسی ہی دلیری سے کام لیتے ہیں مگر پھر بھی شاہی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ لہٰذا اُن کا رُدّ لکھنا ادب کے مخالف ہے۔ تو ہم کہتے ہیں کہ کیا مواخذہ کرنے کے لئے اور سزا دلانے کے لئے میموریل بھیجنا یہ ادب میں داخل ہے۔ ہماری گورنمنٹ عالیہ نے نہایت عقلمندی اور بلند ہمتی سے یہ قانون ہر ایک کیلئے کھولا ہوا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کے مذہب پر اختلافِ رائے کی بنا پر حملہ کرے تو اُس دوسرے شخص کو بھی اختیار ہے کہ وہ اُس حملہ کی

ل سبا : ۲۱

البلاغ صفحہ 54 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 425 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 139 پر درج ہے

صفحہ 636

حوالہ نمبر 145 ۵۲۲ نزول المسیح

نمبر شمار پیشگوئی جس دعویٰ کی پیروی شروع کیگئی ہو اُسکی سچائی پر مندرجہ ذیل خارقِ عادت پیشگوئیاں میری تائید میں بیان فرمائیں نتیجہ ۱۵۵

۳۳ پیشگوئی نمبر ۳۳۔ آج سے نو برس پہلے الحالیکہ اس زمانہ میں جبکہ بمبئی میں بھی طاعون کا نام ونشان نہ تھا طاعون کے آنے کیلئے دُعا کی گئی اور وہ دُعا منظور ہوگئی چنانچہ رسالہ حمامۃ البشریٰ میں جس کو نو برس ہو گئے یہ دعائیہ شعر حمامۃ البشریٰ میں موجود ہے۔

فَلَمَّا طَغَوْا فِیْ فِسْقِهِمْ وَبِسُبْلِهِمْ : تَمَنَّیْتُ لَوْ کَانَ الْوَبَاءُ الْمُبَیِّرُ

دیکھو صفحہ اوّل قصیدہ حمامۃ البشریٰ یعنی جب فسق کا طوفان برپا ہوا تو میں نے خدا سے چاہا کہ طاعون آوے۔ چند سال کے بعد بمبئی میں طاعون پڑ گئی

۳۴ پیشگوئی نمبر ۳۴ ۱۸۹۷ء ایسا ہی طاعون کے بارے میں رسالہ سراج منیر صفحہ ۵۹ میں پیشگوئی کیگئی ہو کہ جن لوگوں نے لیکھرام کے متعلق کی پیشگوئی کو قبول نہیں کیا تھا اُن پر بھی طاعون کی بلا نازل ہوگی جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَیَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَذِلَّةٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا یعنی جنہوں نے گوسالہ کو عزت دی اور اُسکی پرستش کی اُن پر غضب آئیگا اور ذلت کی مار اُن پر پڑیگی سو دنیا میں غضب نازل ہونے سے مراد طاعون ہو اور اسی کتاب کے صفحہ ۶۰ میں طاعون کی نسبت یہ الہام بھی لکھا تھا یا مسیح الخلق عدواً یعنی طاعون کے غلبہ کے وقت لوگ کہیں گے کہ اے مسیح ہماری شفاعت کر۔ اور اس کتاب کے شائع کرنے پر آج سے جو ۱۸ جولائی ۱۹۰۶ء ہے پانچ برس گذر گئے اُس پیشگوئی کے چند سال بعد پنجاب میں طاعون پھیل گئی۔

زندہ گواہ بہت نمبر ۳۳ اور ۳۴ اِن دونوں پیشگوئیوں نمبر ۳۳، ۳۴ کے ثبوت میں سرکاری نقشجات کافی ہیں۔ جن کا ہم صفحہ ۱۵۳، ۱۵۴ میں ذکر کر آئے ہیں۔

۱۵۷

۷ الاعراف : ۱۵۳

نزول المسیح صفحہ 157 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 533 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 140 پر درج ہے

صفحہ 637

حوالہ نمبر 146

۵۴۹

الرعد : ۴۲) یعنی ہم دور دور سے زمین کو گھٹاتے چلے آتے ہیں یہ عادت اللہ ہے کہ اول عذاب ایسے لوگوں سے شروع ہوتا ہے جو دور دور ہوتے ہیں اور ضعیف اور کمزور ہوتے ہیں۔ بیوقوف یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ صرف انہیں کے لئے ہے ہمارے لئے نہیں مگر عذاب لپک کر ان تک پہنچتا ہے جن کو خبر نہیں ہوتی اور بے پروا ہوتے ہیں خدا تعالیٰ کی اس میں حکمتیں ہوتی ہیں وہ چاہتا ہے کہ یہ لوگ اور شوخی کر لیں لوگوں کو اس طاعون کی خبر نہیں ہے وہ مجھے لکھتے ہیں اور اشتہاروں میں شائع کرتے ہیں کہ یہ بھی ایک مرض ہے جس کا علاج ہو سکتا ہے اب ان پر لازم ہے کہ ڈاکٹروں سے علاج کروائیں۔ آخر سول (civil) نے لکھ دیا کہ ہم کہاں تک اس پر پردہ ڈالیں خود گورنمنٹ کو بھی اس جگہ سے تکلیف پہنچی ہے۔

طاعون کی اقسام

فرمایا :- طاعون تین قسم کی ہے ایک خفیف جس میں صرف گلٹی نکلتی ہے اور تپ نہیں ہوتا ۔ دوسری اس سے تیز کہ اس میں گلٹی کے ساتھ تپ بھی ہوتا ہے تیسری سب سے تیز اس میں تپ نہ گلٹی۔ بس آدمی سویا اور مر گیا ہندوستان کے بعض دیہات میں ایسا ہی ہوا ہے کہ دس آدمی رات کو سوئے تو صبح کو مرے ہوئے پائے گئے۔ اس کا اصل باعث طعن ہے۔ یہ لوگ طعنہ کرتے ہیں مگر ان کو پتہ لگ جائے گا جو مخالف بکواس کیا کرتے ہیں ان پر یک لخت پتھر نہیں پڑا کرتے اول ان کو دور سے آگ دکھائی جاتی ہے تاکہ وہ توبہ کریں۔

خدا تعالیٰ اس وقت اپنا چہرہ دکھلانا چاہتا ہے

شیخ نور احمد صاحب نے عرض کی حضور اب بھی مخالف کہتے ہیں کہ ہمیں طاعون کیوں نہیں ہوتی۔ فرمایا :-

قرآن میں بھی یہی لکھا ہے کہ وہ لوگ خود عذاب طلب کرتے تھے کمبخت یہ نہیں کہتے کہ دعا کرو کہ ہمیں ہدایت ہو جائے طاعون ہی مانگتے ہیں دراصل یہ لوگ دہریہ ہیں خدا پر ان لوگوں کو ایمان نہیں ہے خدا تعالیٰ اس وقت اپنا چہرہ دکھلانا چاہتا ہے۔ اس وقت جس قدر عیاشی، فسق و فجور، حقوق العباد میں غبن وغیرہ ہو رہے ہیں کیا اس کی کوئی حد ہے۔ ہمیں بعض لوگ کہتے ہیں کہ دکانداروں کی طرح ایک دکاندار ہے مگر عنقریب خدا تعالیٰ ان کو بتلا دے گا کہ دکان تو ہے مگر خدا تعالیٰ کی دکان ہے ایک صریح کشمکش آسمان سے ہے اور صریح خدا تعالیٰ کے ارادے معلوم ہیں کہ

یہ حوالہ صفحہ 140 پر درج ہے ملفوظات جلد دوم طبع جدید صفحہ 449 از مرزا قادیانی

صفحہ 638

حوالہ نمبر 147 ۲۳۶ مواہب الرحمن

اخر من کتب اولٰی ۔ اَتَکْفِیْکَ ھذہ الشواھد او نَاْتِیْکَ بامثال اُخْرٰی ۔ از کتاب ہائے پیشیں ۔ آیا کفایت کند ترا ایں گواہاں یا دیگر امثال ہا بیاریم ١٨ فَاِنْ فَکَّرْتَ فِیْمَا تلوت علیک من الامثال ذکرا ۔ فستعلم اِنَّکَ قد بلغت منی پس چوں فکر کنی درانچہ بر تو خواندیم از امثال برائے یاد دہانیدن پس عنقریب بدانی کہ از ما عذر کامل عذرا ۔ ھذا و سَاکْشِفُ علیک امرا لم تستطع علیہ صبرا ۔ شنیدی ایں است بطور مختصر و عنقریب مفصل بیاں کنم امرے کہ تو برو صبر نہ کردی ۔

البیان الشافی فی ھذا الباب و تفصیل مَا اَلْجَاَنِیْ

بیانِ شافی دریں باب و تفصیل آں امر کہ چرا برائے

الی ترک التطعیم و التوکل علی رب الارباب

ترک خال زدن مضطر گردیدم و بیان توکل بر خدائے خُداونداں ۔ اعلم ان موضوع امرنا ھذا ھو الدعوی الذی عرضت علٰی الناس و قلت انی بدانکہ موضوع ایں امر ما آں دعویٰ است کہ بر مردم پیش کردم و گفتم کہ من انا المسیح الموعود و الامام المنتظر المعھود ۔ حکمّنی اللّٰہ لرفع اختلاف الامۃ مسیح موعود ہستم و امام منتظر معہود ہستم خدا مرا حکم مقرر کردہ است برائے دفع اختلاف اُمت و علّمنی من لدنہ لادعو الناس علٰی البصیرۃ ۔ فما کان جوابھم الا السبّ و و از جناب خود مرا تعلیم داد تا مردم را بوجہ بصیرت بخوانم پس جواب اوشاں بجز ایں ہیچ نبود کہ دشنام ہا الشتم و الفحشاء ۔ و التکفیر و التکذیب و الایذاء ۔ وقد سبقونی بکل سبّ دادند و فحش ہا گفتند و کافر گفتند و دروغگو قرار دادند و ستم کردند و مرا در ہرگونہ سبّ و شتم پیشی گرفتند فرددت علیھم جوابھم ۔ و ما عبات بمقالھم و خطابھم ۔ ولم یزل پس جواب ایشاں دادم و پروائے سخنہا و خطاب ایشاں نداشتم و دشنام دہی

مواہب الرحمٰن صفحہ 18 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 236 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 140 پر درج ہے Back

صفحہ 639

حوالہ نمبر 148

11

میں پسند نہیں کرتا کہ ایسی درخواستوں پر کوئی انذاری پیشگوئی کی جائے بلکہ آئندہ ہماری طرف سے یہ اصول رہے گا کہ اگر کوئی ایسی انذاری پیشگوئیوں کے لئے درخواست کرے تو اس کی طرف ہرگز توجہ نہیں کی جائے گی جب تک وہ ایک تحریری حکم اجازت صاحب مجسٹریٹ ضلع کی طرف سے پیش نہ کرے ۔ یہ ایک ایسا طریق ہے جس میں کسی مکر کی گنجائش نہیں رہے گی ۔

یہ بات بھی میں تسلیم کرتا ہوں کہ مخالفوں کے مقابل پر تحریری مباحثات میں کسی قدر میرے الفاظ میں سختی استعمال میں آئی تھی۔ لیکن وہ ابتدائی طور پر سختی نہیں ہے بلکہ وہ تمام تحریریں نہایت سخت حملوں کے جواب میں لکھی گئی ہیں۔ مخالفوں کے الفاظ ایسے سخت اور دشنام دہی کے رنگ میں تھے جن کے مقابل پر کسی قدر سختی مصلحت تھی۔ اس کا ثبوت اس مقابلہ سے ہوتا ہے جو میں نے اپنی کتابوں اور مخالفوں کی کتابوں کے سخت الفاظ اکٹھے کر کے کتاب مسل مقدمہ مطبوعہ کے ساتھ شامل کئے ہیں جس کا نام میں نے کتاب البریہ رکھا ہے اور با ایں ہمہ میں نے ابھی بیان کیا ہے کہ میرے سخت الفاظ جوابی طور پر ہیں ابتداءً سختی کی مخالفوں کی طرف سے ہے ۔

اور میں مخالفوں کے سخت الفاظ پر بھی صبر کر سکتا تھا۔ لیکن دو مصلحت کے سبب سے میں نے جواب دینا مناسب سمجھا تھا۔ اوّل یہ کہ تا مخالف لوگ اپنے سخت الفاظ کا سختی میں جواب پا کر اپنی روش بدلیں اور آئندہ تہذیب سے گفتگو کریں۔ دوم یہ کہ تا مخالفوں کی نہایت ہتک آمیز اور غصہ دلانے والی تحریروں سے عام مسلمان جوش میں نہ آویں اور سخت الفاظ کا جواب بھی کسی قدر سخت پا کر اپنی پر جوش طبیعتوں کو اس طرح سمجھا لیں کہ اگر اُس طرف سے سخت الفاظ استعمال ہوئے تو ہماری طرف سے بھی کسی قدر سختی کے ساتھ اُن کو جواب مل گیا اور اس طرح وہ وحشیانہ انتقاموں سے باز رہیں۔ میں خوب جانتا ہوں کہ ایسی مذہبی تحریروں سے جیسا کہ لیکھرام اور اندرمن

کتاب البریہ [دیباچہ] صفحہ 11 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 11 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 140 پر درج ہے

صفحہ 640

حوالہ نمبر 149 نزول المسیح ۴۲۶

عہ کے راستباز بندوں میں سے تھے لیکن ایسے بندے تو کروڑہا دُنیا میں گزر چکے ہیں اور خدا جانے آگے کسقدر ہونگے۔ پس بلاوجہ انکو تمام انبیاء کا سردار بنادینا خدا کے پاک رسولوں کی سخت ہتک کرنا ہے۔ ایسا ہی خدا تعالیٰ نے اور اُسکے پاک رسول نے بھی مسیح موعود کا نام نبی اور رسول رکھا ہے اور تمام خدا کے نبیوں نے اُسکی تعریف کی ہے اور اسکو تمام انبیاء کے صفات کاملہ کا مظہر ٹھہرایا ہے۔

بقیہ حاشیہ کی طرف رجوع کیا ہو بلکہ وہ کیا کہتے ہیں جو اب تک اپنی تفسیروں کو دیکھتا ہو اور سنّی بھی اس آیت کی تفسیر میں مختلف اقوال ہیں ایک شخص یعنی مجاہد اور حاکم اور ابو نعیم کا حوالہ دیتا ہے اور ایک روایت یا واقعہ بیان کرتا ہے۔ دُوسرا اُسکے بالمقابل ترکش سے نکال کر خدا کا کلام پیش کرتا ہے اور اپنے دعوےٰ کے واسطے سنت صحیحہ اور حدیث پیش کرتا ہے ہم کس کو مانیں اور کس کو جانیں کیا وہ عالم اور عامل بالقرآن ہے۔ اسکے آگے آپ فرماتے ہیں کہ مسیح اور اسکے آباء اطہار کو انبیاء واوصیاء نے سخت تکلیف کے وقت خدا اور اپنے درمیان وسیلہ قرار دیا ہو جسکی وجہ سے انکی حاجتیں پوری ہوئیں۔ آپ اپنے زعم کی بنیاد مجاہد اور طبرانی اور حاکم وغیرہ کے قول قرار دیتے ہیں اور آیت فتلقّٰی آدم من ربّہ کلمات کو اپنے زعم کی تفسیر قرار دیتے ہیں گویا آپکا قول مجمل تھا جو پہلے سے کسی کتاب آسمانی میں درج چلا آتا تھا قرآن نے اسکی تصریح کردی ہو۔ بریں عقل و دانش بباید گریست ۔ اس فہم لطیف کے بعد ہم پر اپنے مخالف یہ طعن کرتے ہیں خدا انصاف کرے اور اپنی ہی کتابوں کو دیکھیں کہ کیا علماء اور مفسرین امامیہ نے کلمات کی تفسیر میں صرف انہی نامہائے مبارک پر حصر تفسیر رکھا ہے میرے پاس اسوقت تین تفسیریں امامیہ کی موجود ہیں۔ تفسیر عمدۃ البیان۔ خلاصۃ المنہج۔ مجمع البیان۔ ان میں بہت سے مختلف اقوال درج ہیں۔ پھر حیات القلوب نکال کر جلد اوّل صفحہ ۵۸ و ۵۹ میں روایات مختلفہ کا حال

بقیہ علی حائری صاحب نے اپنے رسالہ مبرۃ المقام میں اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ اہل بیت کے برابر فضیلت میں کوئی نہیں ہو سکتا۔ حالانکہ جواب یہ ہے کہ سادات کی فضیلت چونکہ وہ بنی فاطمہ ہیں، سو میں اگرچہ علوی نہیں ہوں مگر بنی فاطمہ میں سے ہوں میری بعض دادیاں مشہور اور صحیح النسب سادات میں سے تھیں ہمارے خاندان میں یہ طریق جاری رہا ہے کہ کبھی سادات کی لڑکیاں ہمارے خاندان میں آئیں اور کبھی ہمارے خاندان کی لڑکیاں ان میں گئیں بلکہ سوا اسکے یہ مرتبہ فضیلت جو ہمارے خاندان کو حاصل ہے صرف انسانی ذاتوں تک محدود نہیں بلکہ خدا نے اپنی پاک وحی سے اسکی تصدیق کی ہے۔ چنانچہ وہ عزوجل ایک الہام میں جو براہین احمدیہ میں ہے میرا نام سلمان رکھتا ہے اور فرماتا ہے سلمان منا اہل البیت علیٰ سنن اہل بیت یعنی اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ سلمان جو دو صلحوں کا موجب ہوگا یعنی دو صلح کا موجب ہوگا، یہی شخص ہے اور یہ اہل بیت میں سے ہے جس کے مشرب پر۔ اور پھر ایک اور وحی میں فرماتا ہے الحمد للہ الذی جعل لکم الصھر والنسب اُس خدا کی تعریف ہے جس نے تمہیں سادات میں داماد بنایا اور نیز نسب عالی بھی عطا کیا اسمیں خونِ فاطمی مراد ہے اور پھر ایک کشف میں جو براہین احمدیہ میں مندرج ہے یہ بھی ظاہر کیا گیا کہ میرا سر ایک بچہ کی طرح حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی ران پر ہے علاوہ اسکے جس شخص کو خدا نے مسیح موعود بنایا اور مجدد الزمان ٹھہرایا اور اُسکو کمال علم دے کر اہل بیت میں قرار دیا ہو اسکو مظہر صفات جمیع انبیاء ٹھہرایا گیا تا بہت سے زبان درازوں کا عذر دُور ہو

یہ حوالہ صفحہ 141 پر درج ہے از مرزا قادیانی نزول المسیح صفحہ 48 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 426

صفحہ 641

حوالہ نمبر 150

حقیقۃ الوحی ۲۰۹ بعض اعتراض کے جواب

مقرر تھا۔ کیونکہ مسیح موعود خاتم الخلفاء ہے اور آخر کو اوّل سے مناسبت چاہیے۔ اور چونکہ حضرت آدم چھٹے دن کے آخر میں پیدا کئے گئے ہیں اِس لئے بلحاظ مناسبت ضروری تھا، کہ آخری خلیفہ جو آخری آدم ہو وہ بھی چھٹے ہزار کے آخر میں پیدا ہو۔ وجہ یہ کہ خدا کے سات دنوں میں سے ہر ایک دن ہزار برس کے برابر ہے جیسا کہ خود وہ فرماتا ہے۔ اِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ ۱؂ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ۔ اور احادیث صحیحہ سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ مسیح موعود چھٹے ہزار میں پیدا ہوگا۔ اسی لئے تمام اہل کشف مسیح موعود کا زمانہ قرار دینے میں چھٹے ہزار پر متفق پائے گئے اور زیادہ سے زیادہ اُسکے ظہور کا وقت چودھویں صدی ہجری لکھا ہے۔ اور اہل اسلام کے اہل کشف نے مسیح موعود کو جو آخری خلیفہ اور خاتم الخلفاء ہے صرف اِس بات میں ہی آدم سے مشابہ قرار نہیں دیا کہ آدم چھٹے دن کے آخر میں پیدا ہوا اور مسیح موعود چھٹے ہزار کے آخر میں پیدا ہو گا بلکہ اِس بات میں بھی مشابہ قرار دیا ہے کہ آدم کی طرح وہ بھی جمعہ کے دن پیدا ہو گا اور اسکی پیدائش بھی توام کے طور پر ہوگی یعنے جیسا کہ آدم توام کے طور پر پیدا ہوا تھا پہلے آدم اور بعد میں حوا۔ ایسا ہی مسیح موعود بھی توام کے طور پر پیدا ہوگا۔ سو الحمد للہ والمنتہ کہ متصوفین کی اس پیشگوئی کا میں مصداق ہوں میں بھی جمعہ کے روز بوقت صبح توام پیدا ہوا تھا صرف یہ فرق ہوا کہ پہلے لڑکی پیدا ہوئی تھی جس کا نام جنت تھا۔ وہ چند روز کے بعد جنت میں چلی گئی اور بعد اس کے میں پیدا ہوا۔ اور اس پیشگوئی کو شیخ محی الدین ابن عربی نے بھی اپنی کتاب فصوص میں لکھا ہے اور لکھا ہے کہ وہ چینی الاصل ہوگا۔ بوجہ اس

* خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر فرمایا ہے کہ سورۃ العصر کے حروف حساب جمل کے رُو سے ابتدائے آدم سے لیکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک جس قدر برس گزرے ہیں انکی تعداد ظاہر کرتے ہیں۔ سورۃ ممدوحہ کی رُو سے جب اس زمانہ تک حساب لگایا جائے تو معلوم ہو گا کہ اب ساتواں ہزار لگ گیا ہے اور اسی حساب کے رُو سے میری پیدائش چھٹے ہزار میں ہوتی ہے کیونکہ میری عمر اس وقت قریباً ۶۸ سال کی ہے۔ منہ

+ اُس سے مطلب یہ ہے کہ اسکے خاندان میں ترک کا خون ملا ہوا ہو گا ہمارا خاندان جو اپنی شہرت کے لحاظ سے مغل خاندان کہلاتا ہے اس پیشگوئی کا مصداق ہے کیونکہ اگرچہ سچ وہی ہے کہ جو خدا نے فرمایا کہ یہ خاندان فارسی الاصل ہے مگر یہ تو یقیناً اور مشہور و محسوس ہے کہ اکثر مائیں اور دادیاں ہماری مغل خاندان سے ہوئی ہیں وہ چینی الاصل ہیں یعنے چین کے رہنے والی ۔ منہ +

* دیکھو یواقیت طبع مصری ص ۱۵۲ بالحاشیہ (محمد پال) منہ

۱؂ الحج : ۴۸

یہ حوالہ صفحہ 141 پر درج ہے حقیقۃ الوحی صفحہ 209 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 209 از مرزا قادیانی

صفحہ 642

154 (حوالہ نمبر 151)

ہجومِ مشکلات سے نجات حاصل کرنیکا طریق

ذیل میں جو نظم درج کی جاتی ہے یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک صاحب شیخ محمد بخش رئیس کرتار پور ضلع گجرات کو لکھ کر عطا فرمائی تھی جبکہ وہ سخت مالی مشکلات میں مبتلا تھے۔ خُدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دُعا کی برکت سے بفضلہٖ ان کی تکالیف دُور کر دیں۔

اک نہ اک دن پیش ہوگا تُو فنا کے سامنے چل نہیں سکتی کسی کی کچھ قضا کے سامنے
چھوڑنی ہوگی تجھے دُنیائے فانی ایکدن ہر کوئی مجبور ہے حُکمِ خُدا کے سامنے
مستقل رہنا ہے لازم اے بشر تجکو سدا رنج و غم یاس و الم فکر و بلا کے سامنے
بارگاہِ ایزدی سے تُو نہ یوں مایوس ہو مشکلیں کیا چیز ہیں مشکل کُشا کے سامنے
حاجتیں پُوری کریں گے کیا تری عاجز بشر کر بیاں سب حاجتیں حاجت روا کے سامنے
چاہیے تجھ کو مٹانا قلب سے نقشِ دُوئی سر جھکا بس مالکِ ارض و سما کے سامنے
چاہیے نفرت بدی سے اور نیکی سے پیار ایکدن جانا ہے تجکو بھی خُدا کے سامنے
راستی کے سامنے کب جھوٹ چلتا ہے بھلا
قدر کیا پتھر کی لعلِ بے بہا کے سامنے

اخبار ”الفضل“ ۱۳۔ جنوری ۱۹۳۵ء

درثمین صفحہ 157 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 142 پر درج ہے

صفحہ 643

حوالہ نمبر 152

۲۵۰

میرے اٹھارہ سال کی تالیفات سے ظاہر ہیں سب کی سب ضائع اور برباد نہ جائیں اور خدانخواستہ سرکار انگریزی اپنے ایک قدیم وفادار اور خیر خواہ خاندان کی نسبت کوئی تکدر خاطر اپنے دل میں پیدا کرے۔ اس بات کا علاج تو غیر ممکن ہے کہ ایسے لوگوں کا منہ بند کیا جائے جو اختلاف مذہبی کی وجہ سے یا نفسانی حسد اور بغض اور کسی ذاتی غرض کے سبب سے جھوٹی مخبری پر کمربستہ ہو جاتے ہیں صرف یہ التماس ہے کہ سرکار دولتمدار ایسے خاندان کی نسبت جسکو پچاس برس کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار جان نثار خاندان ثابت کر چکی ہے اور جسکی نسبت گورنمنٹ عالیہ کے معزز حکام نے ہمیشہ مستحکم رائے سے اپنی چٹھیات میں یہ گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے سرکار انگریزی کے پکے خیر خواہ اور خدمت گزار ہیں۔ اس خود کاشتہ پودہ کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔ ہمارے خاندان نے سرکار انگریزی کی راہ میں اپنے خون بہانے اور جان دینے سے فرق نہیں کیا اور نہ اب فرق ہے۔ لہٰذا ہمارا حق ہے کہ ہم خدمات گذشتہ کے لحاظ سے سرکار دولتمدار کی پوری عنایات اور خصوصیت توجہ کی درخواست کریں تا ہر ایک شخص بے وجہ ہماری آبرو ریزی کے لئے دلیری نہ کر سکے۔ اب کسی قدر اپنی جماعت کے نام ذیل میں لکھتا ہوں:۔

خاندان کی خدمات گورنمنٹ عالیہ کو معلوم ہیں۔

پینشنر ڈپٹی کلکٹر و نائب صدرالمہام ریاست بھوپال جنکی نمایاں خدمات پر سرکار سے لقب عطا ہوا۔ اور چٹھیاں خوشنودی ملیں۔

حال تحصیلدار علاقہ بابت محاصل کل علاقہ ریاست مالیر کوٹلہ

یہ حوالہ صفحہ 142 پر درج ہے

کتاب البریہ صفحہ 13 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 350 از مرزا قادیانی

صفحہ 644

(حوالہ نمبر 153)

نزول المسیح

۵۱۶

تاریخ ظہور پیشگوئی جس میں سے مجمل مشرف کیا گیا ہو یا اس کی خارق عادت پیشگوئیاں جو ظہور میں آچکیں پیشگوئی نمبر شمار دعویٰ بقیہ حاشیہ صفحہ ۱۹۱ تھے کہ یہ تمام کام ہو جائینگے اور ایک جماعت بھی ہو جائیگی چنانچہ منجملہ انکے بعض انگریزی الہامات ہیں اور میں انگریزی نہیں جانتا۔ اس وجہ سے بالکل ناواقف ہوں ایک فقرہ تک مجھے معلوم نہیں مگر خارق عادت طور پر مندرجہ ذیل الہامات ہوئے۔ آئی لویو۔ آئی ایم وِڈ یو۔ آئی شیل ہیلپ یو۔ آئی کین وٹ آئی ول ڈو۔ وی کین وٹ وی ول ڈو۔ صفحہ ۴۸۰ و ۴۸۱۔ گاڈ از کمنگ بائی ہِز آرمی صفحہ ۵۲۴۔ ہی از وِڈ یو ٹُو کل انیمی صفحہ ۵۴۴۔ وی ڈیسنٹل کپر دِین گاڈ شیل ہیلپ یو گلوری بی ٹُو دِس لارڈ۔ گاڈ میکر آف ارتھ اینڈ ہیون۔ صفحہ ۵۲۲۔ دِہ واک اِن سڈنلی اینگری رِٹ گاڈ از وِڈ یو ہی شیل ہیلپ یو۔ ورڈس آف گاڈ کین ناٹ ایکسچینج صفحہ ۵۵۴۔ آئی لویو۔ آئی شیل گو یو اے لارج پارٹی آف اسلام۔ ۵۵۶۔ بقیہ صفحات مذکورہ براہین احمدیہ ترجمہ۔ میں تم سے محبت رکھتا ہوں۔ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ میں تمہاری مدد کروں گا۔ میں کر سکتا ہوں جو چاہوں گا۔ ہم کر سکتے ہیں جو چاہیں گے۔ خدا ایک لشکر لیکر چلا آتا ہے۔ وہ تمہارے ساتھ ہے تا تمہارے دشمن کو ہلاک کرے۔ یعنی اُس کو مغلوب و مخذول کرے

بقیہ حوالہ رویت نمبر ۱۹۱ اور براہین کے زمانہ کو پیش نظر رکھ کر ہر ایک عاقل سوچ سکتا ہے کہ براہین کے وقت میں کیا حالت تھی اور بعد میں کیا حالت ہوئی اور جیسا کہ ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں ۔ یہ پیشگوئیاں جن میں یہ ذکر ہے کہ میں اس سلسلہ کو ایک بڑی قوم بناؤنگا انکا سنہ ۱۸۸۰ء و ۱۸۸۴ء میں پورا ہو جانا اظہر من الشمس ہے اوّل یہ بات ظاہر ہے کہ جس زمانہ میں براہین احمدیہ میں یہ پیشگوئیاں لکھی گئی ہیں کہ یہ ایک بڑی جماعت بنائی جائیگی۔ اُس

۱۴۰

یہ حوالہ صفحہ 142 پر درج ہے نزول المسیح صفحہ 140 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 516 از مرزا قادیانی

صفحہ 645

۱۵۵

حوالہ نمبر 154

کرتے تھے۔ اسواسطے مرزا صاحب کو بلوا کر حکم دیا کہ جو بات ہم کہیں۔ عرب صاحب سے پوچھو اور جو جواب وہ دیں اُردو میں ہمیں لکھواتے جاؤ۔ مرزا صاحب نے اس کام کو کماحقہ ادا کیا اور آپ کی لیاقت لوگوں پر منکشف ہوئی۔ اس زمانہ میں مولوی الٰہی بخش صاحب کی سعی سے جو چیف محرر مدارس تھے۔ (اب اس عہدہ کا نام ڈسٹرکٹ انسپکٹر مدارس ہے) کچہری کے ملازم منشیوں کے لیئے ایک مدرسہ قائم ہوا۔ کہ رات کو کچہری کے ملازم منشی انگریزی پڑھا کریں۔ ڈاکٹر امیر شاہ صاحب جو اسوقت اسسٹنٹ سرجن پشاور میں مستقر ہوئے مرزا صاحب نے بھی انگریزی شروع کی اور ایک دو کتابیں انگریزی کی پڑھیں۔ مرزا صاحب کو اس زمانہ میں بھی مذہبی مباحثہ کا بہت شوق تھا۔ چنانچہ پادری صاحبوں سے اکثر مباحثہ رہتا تھا۔ ایک دفعہ پادری الائینہ صاحب جو دیسی عیسائی پادری تھے اور حاجی پورہ کے جانب جنوب کی کوٹھیوں میں ہی ایک کوٹھی میں رہا کرتے تھے۔ مباحثہ ہوا۔ پادری صاحب نے کہا کہ عیسیٰ جی کو رب قبول کرلیجئے۔ بغیر نجات نہیں ہو سکتی۔ مرزا صاحب نے فرمایا، نجات کی تعریف کیا ہے؟ اور نجات سے آپ کیا مراد رکھتے ہیں؟ مفصل بیان کیجئے۔ پادری صاحب نے کچھ مفصل تقریر نہ کی اور مباحثہ ختم کر بیٹھے اور کہا۔ میں اس قسم کی منطق نہیں پڑہا۔ پادری بٹلر صاحب ایم۔ اے سے جو بڑے فاضل اور محقق تھے۔ مرزا صاحب کا مباحثہ بہت دفعہ ہوا۔ یہ صاحب موضع گورداسپور کے قریب رہتے تھے۔ ایک دفعہ پادری صاحب فرماتے تھے کہ مسیح کو بے باپ پیدا کرنے میں یہ سر تھا ۔ کہ وہ کنواری مریم کے بطن سے پیدا ہوئے اور آدم کی شرکت سے جو گنہگار تھا بری رہے۔ مرزا صاحب نے فرمایا۔ کہ مریم بھی تو آدم کی نسل سے ہے۔ پھر آدم کی شرکت کو تہنیت کیسے۔ اور علاوہ ازیں عورت ہی نے تو آدم کو ترغیب دی۔ جس سے آدم نے درخت ممنوع کا پھل کھایا اور گنہگار ہوا۔ پس چاہیئے تھا کہ مسیح عورت کی شرکت سے بھی بری رہتے۔ اسپر پادری صاحب خاموش ہو گئے۔ پادری بٹلر صاحب مرزا صاحب کی بہت عزت کرتے تھے اور بڑے ادب سے ان سے گفتگو کیا کرتے تھے۔ پادری صاحب کو مرزا صاحب سے بہت محبت تھی چنانچہ جب پادری صاحب ولایت جانے لگے تو مرزا صاحب کی ملاقات کے لیئے کچہری تشریف لائے۔ ڈپٹی کمشنر صاحب نے

سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 155 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 143 پر درج ہے

صفحہ 646

حوالہ نمبر 155 ۱۷۹

عبدالمجید بتلایا اور کہا کہ میں چھبڑ کا برہمن ہوں اور کہ میرا ہندو نام رلیا رام ہے اور والد کا نام رام چند ہے اور بھنڈاری دروازہ بٹالہ کا رہنے والا ہوں بیس سال کی عمر میں مرزا نے مجھے مسلمان کیا تھا جس کو سات سال گذرے ہیں ۔ وہ ایک ہندو دوست کی ترغیب سے مسلمان ہوا تھا۔ اور وہ دوست بھی اسی وقت مسلمان ہو گیا تھا۔ میرا دوست اروڑہ قوم کا تھا اور کرپا رام اُس کا نام تھا اب اس کا نام عبدالعزیز ہے اور بٹالہ میں کپور ی دروازہ کے اندر تمباکو فروشی کرتا ہے سات سال کے عرصہ میں مرزا صاحب کے یہاں طالب علم رہا اور قرآن کی تعلیم پاتا رہا ۔ حال میں جو مرزا صاحب کے دعاوی کی نسبت الہامات باطل ثابت ہوئے تو اس کو یقین ہوا کہ مرزا صاحب نبی نہیں ہیں۔ اور اس نے خیال کیا کہ مرزا صاحب اچھے آدمی نہیں ہیں فراڈیہ وغیرہ ہیں۔ میں سیدھے قادیان سے آیا ہوں۔ اور عام طور پر علانیہ میں نے مرزا صاحب کو گالیاں دی تھیں۔ جب میں وہاں سے چلا تھا میں اپنے ساتھ کچھ نہیں لایا ۔ خداوند مسیح کا قول ہے کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ پیچھے چلو۔ میں اور کچھ نہیں چاہتا صرف بپتسمہ لینا چاہتا ہوں ۔ اپنی معاش ٹوکری اُٹھا کر قلی گری کر کے بسر کروں گا ۔ ہم کو کوئی کافی وجہ اس نے نہ بتلائی کہ وہ امرتسر کیوں آیا ہے

حاشیہ حاشیہ اور ملک روم کی لپیٹی گئی اور وہ سلسلہ ہمارے وقت میں آکر بالکل ختم ہو گیا اور ایسا ہوا تاکہ خدا تعالیٰ نیا سلسلہ قائم کرے جیسا کہ براہین احمدیہ میں اس سبحانہ کی طرف سے یہ الہام ہے سبحان اللہ تبارک وتعالیٰ زاد مجدك ينقطع آباءك ويبدء منك یعنے خدا جو بہت برکتوں والا اور بلند اور پاک ہے اس نے تیری بزرگی کو تیرے خاندان کی نسبت زیادہ کیا۔ اب سے تیرے آبا کا ذکر قطع کیا جائے گا اور خدا تجھ سے شروع کرے گا۔ اور ایسا ہی اس نے مجھے بشارت دی کہ میں تجھے برکت دوں گا اور بہت برکت دوں گا۔ یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔ پھر میں پہلے سلسلہ کی طرف عود کر کے لکھتا ہوں کہ بچپن کے زمانہ میں میری تعلیم

۱۸۱

کتاب البریہ صفحہ 161 تا 163 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 179 تا 181 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 143 پر درج ہے

صفحہ 647

حوالہ نمبر 155

١٨٠

کیونکہ بٹالہ اور گورداسپور میں مشنری صاحب موجود ہیں اور نہ اس نے کوئی خاص وجہ بتلائی کہ وہ کیوں خاص کر میرے پاس آیا ہے۔ جب کہ اور بھی مشنری صاحب موجود ہیں۔ اس نے صرف یہ کہا کہ اتفاقیہ ایک شخص کے آپ کی کوٹھی بتلانے پر آیا ہوں جب ہم نے اس سے پوچھا کہ تم نے کرایہ ریل کا کہاں سے لیا تو وہ بتلا نہ سکا ۔ ان باتوں پر ہماری خاص توجہ غور کے واسطے ہوئی اور غور طلب معاملہ ہم نے سمجھا اور یہ میرے دل میں گذرا کہ اس کے بیانات لیکھرام کے قاتل کے بیانات سے عجیب تشبیہ رکھتے ہیں سو میں نے اس کی طرف خاص دھیان رکھا۔ پس اس سے گفتگو کر کے ہم نے قصد مذکور کیا۔ اس شخص نے واقفیت دین عیسوی سے ظاہر کی ہم نے پوچھا کہاں سے یہ واقفیت حاصل کی۔ اس نے کہا کہ قادیان میں ایک عیسائی بنگالہ کا رہتا ہے جو مسلمان ہو کر مرزا صاحب کے یہاں رہتا ہے نام اس کا ساتیاں ہے۔ اس کے پاس انجیل مقدس تھی اور مطالعہ کیا کرتا تھا جہاں سے مجھے شوق و رغبت ہوئی۔ میں نے اس نوجوان کو مہاں سنگھ گیٹ والے شفاخانہ میں بھیج دیا ۔ کہ وہاں طالب علموں کے پاس رہے اور تعلیم پائے۔ اور ہم نے اس کو بوتلوں کے صاف کرنے وغیرہ کا کام دیا۔ قریباً پانچ چھ یوم تک وہ اس جگہ رہا۔ اول اس میں قابل توجہ یہ بات تھی کہ وہ مرزا صاحب

اس طرح پر ہوئی کہ جب میں چھ سات سال کا تھا تو ایک فارسی خوان معلم میرے لئے نوکر رکھا گیا۔ جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھائیں اور اس بزرگ کا نام فضل الٰہی تھا۔ اور جب میری عمر تقریباً دس برس کے ہوئی تو ایک عربی خواں مولوی صاحب میری تربیت کے لئے مقرر کئے گئے جن کا نام فضل احمد تھا۔ میں خیال کرتا ہوں کہ چونکہ میری تعلیم خدا تعالیٰ کے فضل کی ایک ابتدائی تخم ریزی تھی اس لئے ان استادوں کے نام کا پہلا لفظ بھی فضل ہی تھا۔ مولوی صاحب موصوف جو ایک دیندار اور بزرگوار آدمی تھے۔ وہ بہت توجہ اور محنت سے پڑھاتے رہے اور میں نے صرف کی بعض کتابیں اور کچھ قواعد نحو اُن سے پڑھے اور بعد اس کے جب میں سترہ یا اٹھارہ سال کا ہوا تو ایک اور مولوی صاحب سے چند سال پڑھنے کا

١٦٣

کتاب البریہ صفحہ 161 تا 163 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 179 تا 181 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 143 پر درج ہے

صفحہ 648

حوالہ نمبر 155

١٨١

کے حق میں بہت ہی برا بکتا تھا۔ دوئم وہ بپتسمہ لینے کی از حد خواہش رکھتا تھا۔ اور سوم وہ بلاوجہ اور بلاطلبی ہمارے کوٹھی پر آکر گشت اور سیر اور ملاقات چاہتا تھا۔ اور باوجودیکہ ١٧ سال کی عمر میں وہ محمدی ہوا تھا۔ اپنی گوت (برہمن) سے ناواقف تھا اور ناگپوری سے ناواقف تھا۔ اور مختلف اشخاص سے مختلف قسم کی اپنی نسبت کہانی بیان کی۔ مثلاً ایک شخص سے اُس نے اپنے دوست الیگز داس نام کو بجائے کرپارام کے بتلایا۔ بعد انقضائے پانچ روز ہم نے اپنے ہسپتال واقع بیاس پر اُسے بھیج دیا۔ وہاں بھی میرے طالب علم پڑھتے ہیں جاتے ہی اس نے ایک خط مولوی نورالدین کے نام جو مرزا صاحب کا داہنے ہاتھ کا فرشتہ ہے لکھ دیا۔ اس شخص کی زبانی معلوم ہوا تھا کہ خط اُس نے لکھا ہے۔ مطلب اس خط کا یہ تھا کہ میں عیسائی ہونے لگا ہوں آپ روک سکتے ہیں تو روک لیں۔ یہ مطلب بھی اُس کی زبانی ہی معلوم ہوا تھا اور دیگر شہادت بھی ہے۔ باعث خط لکھنے کا یہ تھا کہ ہم نے اس کو کہا تھا۔ کہ یہ بہتر نہ ہوگا کہ ہم مرزا صاحب کو لکھیں کہ یہ شخص عیسائی ہونا چاہتا ہے۔ کل کو یہ نہ کہیں کہ تم اُن کے چور ہو۔ اُس نے کہا کہ نہیں میں خود ہی خط لکھتا ہوں۔ اور اس نے خط لکھ کر بیرنگ ڈاک میں ڈالا۔ اور مجھے خط کے ذریعہ سے خط لکھنے سے منع کیا تھا جب تک میرے بپتسمہ کا وقت ہو۔ وہ خط

بقیہ حاشیہ اتفاق ہوا۔ جن کا نام گل علی شاہ تھا۔ ان کو بھی میرے والد صاحب نے نوکر رکھ کر قادیان میں پڑھنے کے لئے مقرر کیا تھا۔ اور ان آخر الذکر مولوی صاحب سے میں نے نحو اور منطق اور حکمت وغیرہ علوم مروجہ کو جہاں تک خدا تعالیٰ نے چاہا حاصل کیا اور بعض طبابت کی کتابیں میں نے اپنے والد صاحب سے پڑھیں اور وہ فن طبابت میں بڑے حاذق طبیب تھے اور ان دنوں میں مجھے کتابوں کے دیکھنے کی طرف اس قدر توجہ تھی کہ گویا میں دنیا میں نہ تھا۔ میرے والد صاحب مجھے بار بار یہی ہدایت کرتے تھے کہ کتابوں کا مطالعہ کم کرنا چاہئے کیونکہ وہ نہایت ہمدردی سے ڈرتے تھے کہ صحت میں فرق نہ آوے اور نیز اُن کا یہ بھی مطلب تھا کہ میں اس شغل سے الگ

١٨٢

کتاب البریہ صفحہ 161 تا 163 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 179 تا 181 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 143 پر درج ہے

صفحہ 649

(حوالہ نمبر 156)

خاتم النبیین ٣٩٤

وَوَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى ۔ اِس کی تفصیل یہ ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمی نبیوں کی طرح ظاہری علم کسی اُستاد سے نہیں پڑھا تھا ۔ گو حضرت عیسیٰ اور حضرت موسیٰ مکتبوں میں بیٹھے تھے ۔ اور حضرت عیسیٰ نے ایک یہودی اُستاد سے تمام توریت پڑھی تھی ۔ غرض اسی لحاظ سے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اُستاد سے نہیں پڑھا خدا آپ ہی اُستاد ہؤا ۔ اور پہلے پہل خدا نے ہی آپ کو اِقْرَأْ کہا ۔ یعنی پڑھ ۔ اور کسی نے نہیں کہا۔ اِس لئے آپ نے خاص خدا کے زیرِ تربیت تمام دینی ہدایت پائی اور دوسرے نبیوں کے دینی معلومات انسانوں کے ذریعہ سے حاصل ہوئے ۔ سو آنے والے کا نام جو مہدی رکھا گیا ۔ سو اس میں یہ اشارہ ہے کہ وہ آنے والا علم دین خدا سے ہی حاصل کریگا ۔ اور قرآن اور حدیث میں کسی اُستاد کا شاگرد نہیں ہو گا ۔ سو میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرا حال یہی حال ہے ۔ کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہے ۔ یا کسی مفسّر یا محدّث کی شاگردی اختیار کی ہے ۔ پس یہی مہدویت ہے جو نبوّتِ محمّدیہ کے منہاج پر مجھے حاصل ہوئی ہے ۔ اور اسرارِ دین بلا واسطہ میرے پر کھولے گئے ۔ اور * جس طرح مذکورہ بالا وجہ سے آنے والا مہدی کہلائے گا اسی طرح وہ مسیح بھی کہلائیگا کیونکہ اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روحانیت بھی اثر کرے گی ۔ لہٰذا وہ عیسیٰ ابن مریم بھی کہلائیگا اور جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت نے اَپنے خاصّۂ مہدویت کو اس کے اندر منتقل کیا ۔

* یہ سِرّ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اُمی ہونا بھی ہے اور اس لئے خدا نے عبد نام رکھا کہ اِس میں عبودیت کا خضوع اور ذلّ ہے اور عبودیت کی حالت کا عمدہ درجہ ہے جس میں تکبّر کا علوّ اور بلندی اور عُجب نہ رہے اور صاحب اس حالت کا اپنی عملی محنتیں محض خدا کی طرف سے دیکھے ۔ اور کوئی ہاتھ درمیان نہ دیکھے ۔ عرب کا محاورہ ہے کہ وہ کہتے ہیں مُعَبَّد

* نوٹ :- یہ مرتبہ عبودیت کا ایسے انسان میں علیٰ اکمل تجلّی خدا تعالیٰ کی طرف سے دیکھے جسپر اُس عیسیٰ کی جس کی عملی تکمیل تمام وکمال محض خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے ہوئی ہو دوسرے کو میسر نہیں آسکتی کیونکہ اپنی جدوجہد اور کوشش کا اثر عبودیت میں خلل پیدا کرتا ہے کہ جو عبودیت تامہ کے منافی ہے ۔ اسی لئے مرتبہ عبودیت کا اور بھی بوجہ اس کے جو مرتبہ عبدیت کاملہ کے تابع ہے بجز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی دوسرے کو بوجہ کمال حاصل نہیں ۔ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَّشَآءُ فَاشْهَدُوا اَنَّا نَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُ اللّٰهِ وَرَسُولُهُ ۔ مِنْهُ

ایام الصلح : ١٦٨

ایام الصلح صفحہ 168 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 394 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 144 پر درج ہے

صفحہ 650

(حوالہ نمبر 157) ۱۵۷

ان دنوں میں پنجاب یونیورسٹی نئی نئی قائم ہوئی تھی۔ اس میں عربی استاد کی ضرورت تھی جسکی تنخواہ ایک سو روپیہ ماہوار تھی۔ میں نے ان کی خدمت میں عرض کی کہ آپ درخواست بھیج دیں، چونکہ آپکی لیاقت عربی زبان دانی کی نہایت کامل ہے آپ ضرور اس عہدہ پر مقرر ہو جائینگے۔ فرمایا:- ”میں مدرسی کو پسند نہیں کرتا۔ کیونکہ اکثر لوگ پڑھ کر بعد ازاں بہت شرارت کے کام کرتے ہیں۔ اور علم کو ذریعہ اور آلہ ناجائز کاموں کا بناتے ہیں۔ میں ایسی حیثیت و عہدے سے بہت ڈرتا ہوں۔ احشروا الذین ظلموا وازواجہم“ اس جواب سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کیسے نیک باطن تھے۔

ایک مرتبہ کسی نے پوچھا کہ انبیاء کو احتلام کیوں نہیں ہوتا ؟ آپ نے فرمایا۔ کہ چونکہ انبیاء سوتے جاگتے پاکیزہ خیالوں کے سوا کچھ نہیں رکھتے اور ناپاک خیالوں کو دل میں آنے نہیں دیتے اس واسطے ان کو خواب میں بھی احتلام نہیں ہوتا۔

ایک مرتبہ لباس کے بارہ میں ذکر ہو رہا تھا۔ ایک کہتا کہ بہت کھلی اور وسیع موہری کا پاجامہ اچھا ہوتا ہے۔ جیسا ہندوستانی اکثر پہنتے ہیں۔ دوسرے نے کہا کہ تنگ موہری کا پاجامہ بہت اچھا ہوتا ہے مرزا صاحب نے فرمایا کہ:- ”بلحاظ ستر عورت تنگ موہری کا پاجامہ بہت اچھا اور افضل ہے اور اس میں پردہ زیادہ ہوتا ہے۔ کیونکہ اسکی تنگ موہری کے باعث زمین سے بھی ستر عورت ہو جاتا ہے“۔ سب نے اس کو پسند کیا۔

آخر مرزا صاحب نوکری سے دل برداشتہ ہو کر استعفاء دیکر ۱۸۶۸ء میں قادیان تشریف لے گئے۔ ایک دفعہ بٹالہ میں آپ تشریف لائے اور لالہ بھیم سین صاحب کے مکان پر قیام کیا۔ اور بتقریب دعوت حکیم میر حسام الدین صاحب کے مکان پر تشریف لے گئے۔ اسی سال سرسید احمد خاں مرحوم نے قرآن شریف کی تفسیر شروع کی تھی جن کی یہ نئی تفسیر یہاں میرے پاس آچکی تھی جب میں اور شیخ الٰہی داد صاحب مرزا صاحب کی ملاقات کیلئے لالہ بھیم سین صاحب کے مکان پر گئے۔ تو اثناء گفتگو میں سرسید صاحب

سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 157 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 145 پر درج ہے

صفحہ 651

(حوالہ نمبر 158)

۲۴۲

۸۴۱ بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ خواجہ عبدالرحمن صاحب متوطن کشمیر نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام گھر میں جب رفع حاجت کے لئے پاخانہ میں جاتے تھے تو پانی کا لوٹا لازماً ساتھ لے جاتے تھے اور اندر طہارت کرنے کے علاوہ پاخانہ سے باہر آکر بھی ہاتھ صاف کرتے تھے خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کا طریق تھا کہ طہارت سے فارغ ہو کر ایک دفعہ سادہ پانی سے ہاتھ دھوتے تھے۔ اور پھر مٹی مل کر دوبارہ صاف کرتے تھے۔

۸۴۲ بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا ۔ کہ ایک شخص شیر سنگھ ریاست جموں کے تھے۔ وہ قادیان آکر مسلمان ہوگئے۔ نام ان کا شیخ عبدالرحیم رکھا گیا۔ ان کو لوگ اکثر کہتے تھے کہ ختنہ کرالو۔ وہ بیچارے چونکہ بڑی عمر کے ہو گئے تھے۔ اس لئے ہچکچاتے تھے۔ اور تکلیف سے بھی ڈرتے تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ذکر کیا گیا۔ کہ آیا ختنہ ضروری ہے فرمایا بڑی عمر کے آدمی کے لئے ستر عورت فرض ہے مگر ختنہ صرف سنت ہے۔ اس لئے ان کے لئے ضروری نہیں کہ ختنہ کروائیں۔

۸۴۳ بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا ۔ کہ حضرت صاحب کے خادم میاں حامد علی مرحوم کی روایت ہے کہ ایک سفر میں حضرت صاحب کو احتلام ہوا جب میں نے یہ روایت سنی تو بہت تعجب ہوا۔ کیونکہ میرا خیال تھا کہ انبیاء کو احتلام نہیں ہوتا ۔ پھر غور کرنے کے بعد طبعی طور پر اس مسئلہ پر غور کرنے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ احتلام تین قسم کا ہوتا ہے ایک فطرتی۔ دوسرا شیطانی خواہشات اور خیالات کا نتیجہ اور تیسرا مرض کی وجہ سے۔ انبیاء کو فطرتی اور بیماری والا احتلام ہوسکتا ہے ۔ مگر شیطانی نہیں ہوتا۔ لوگوں نے سب قسم کے احتلام کو شیطانی سمجھ رکھا ہے جو غلط ہے۔

خاکسار عرض کرتا ہے کہ میر صاحب مکرم کا یہ خیال درست ہے کہ انبیاء کو بھی بعض اقسام کا احتلام ہو سکتا ہے اور میرا ہمیشہ سے یہی خیال رہا ہے۔ چنانچہ مجھے یاد ہے کہ جب میں نے بچپن میں اس حدیث کو پڑھا تھا کہ انبیاء کو احتلام نہیں ہوتا ، تو اس وقت بھی میں نے دل میں یہی کہا تھا کہ اس سے شیطانی نظارہ والا احتلام مراد ہے نہ کہ ہر قسم کا احتلام ۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ میر صاحب نے جو فطرتی احتلام اور بیماری کے احتلام کی اصطلاح رکھی ہے۔ یہ غالباً ایک ہی قسم ہے جس میں فر

یہ حوالہ صفحہ 146 پر درج ہے | سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 242 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی

صفحہ 652

حوالہ نمبر 159 چشمہ معرفت ۲۱۸ دوسرا حصہ

میں تغییرات ڈالتا ہے اور یہ بالکل غیر معقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو جس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا کیونکہ اس میں تکلیف مالا یطاق ہے اور ایسے الہام سے فائدہ کیا ہوا جو انسانی سمجھ سے بالاتر ہے پس جب کہ بموجب اصول آریہ سماج کے وید کے رشیوں کی زبان ویدک سنسکرت نہیں تھی اور

صفحہ 653

(حوالہ نمبر 160)

۴۳۵

نزول المسیح

لکھتا ہوں اور سلسلہ عبارت میں بعض ایسے الفاظ کی حاجت پڑتی ہے کہ وہ مجھے معلوم نہیں ہیں تب اُن کی نسبت خداتعالیٰ کی وحی رہنمائی کرتی ہے اور وہ لفظ وحی متلو کی طرح رُوح القدس مجھ پر دل ۵۶ میں ڈالتا ہے اور زبان پر جاری کرتا ہے اور اسوقت میں اپنی حسّ سے غائب ہوتا ہوں۔ مثلاً عربی عبارت کے سلسلہ تحریر میں مجھے ایک لفظ کی ضرورت پڑی جو ٹھیک ٹھیک بسیاری عیال کا ترجمہ ہے اور وہ مجھے معلوم نہیں اور سلسلہ عبارت اُس کا محتاج ہو تو فی الفور دل میں وحی متلو کی طرح لفظ ضفف ڈالا گیا جس کے معنے ہیں بسیاری عیال ۔ یا مثلاً سلسلہ تحریر میں مجھے ایسے لفظ کی ضرورت ہوئی جس کے معنی ہیں غم وغصّہ سے چُپ ہو جانا اور مجھے وہ لفظ معلوم نہیں تو فی الفور دل پر وحی ہوئی کہ وجوم۔ ایسا ہی عربی فقرات کا حال ہے ۔ عربی تحریر وں کے وقت میں صد ہا نئے نئے فقرات وحی متلو کی طرح دل پر وارد ہوتے ہیں گویا یہ کہ کوئی فرشتہ ایک کاغذ پر لکھے ہوئے وہ فقرات دکھا دیتا ہے اور بعض فقرات آیات قرآنی ہوتے ہیں یا اُنکے مشابہ کچھ تھوڑے تصرّف سے ۔ اور بعض اوقات کچھ مدّت کے بعد پتہ لگتا ہے کہ فلاں عربی فقرہ جو خدائے تعالیٰ کی طرف سے بہ رنگ وحی متلو القا ہوا تھا وہ فلاں کتاب میں موجود ہے جو کہ ہر ایک چیز کا خدا مالک ہے اسلئے وہ یہ بھی اختیار رکھتا ہے کہ کوئی عمدہ فقرہ کسی کتاب کا یا کوئی عمدہ شعر کسی دیوان کا بطور وحی میرے دل پر نازل کرے۔ یہ تو زبان عربی کے متعلق بیان ہوا مگر اس سے زیادہ تر تعجب کی یہ بات ہے کہ بعض الہامات مجھے اُن زبانوں میں بھی ہوتے ہیں جن سے مجھے کچھ بھی واقفیت نہیں جیسے انگریزی یا سنسکرت یا عبرانی وغیرہ جیسا کہ براہین احمدیہ میں کچھ نمونہ اُس کا لکھا گیا ہے اور مجھے اُس خدا کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ یہی عادت اللہ میرے ساتھ ہے اور یہ نشانوں کی قسم میں سے ایک نشان ہے جو مجھے دیا گیا ہے جو مختلف پیرایوں میں امور غیبیہ میرے پر ظاہر ہوتے رہتے ہیں اور میرے خدا کو اسکی کچھ بھی پرواہ نہیں کہ کوئی کلمہ جو میرے پر بطور وحی القا ہو وہ کسی عربی یا انگریزی یا سنسکرت کی کتاب میں درج ہو کیونکہ جس نے چوبیس برس ہوئے یہ ملکہ بخشا قرآن شریف میں بہت نبیوں کے قصے بیان کر کے انکو علم غیب میں داخل کیا ہے کیونکہ وہ قصّے آنحضرت صلعم علیہ وسلم کیلئے علم غیب تھا گو یہودیوں کیلئے غیب نہ تھا پس یہی راز ہے جسکی وجہ سے میں ایک دنیا کو

۵۹

نزول المسیح صفحہ 59 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 435 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 146 پر درج ہے

Back

صفحہ 654

حوالہ نمبر 161

چشمہ معرفت ۸۳

مشرق سے مغرب کو اور مغرب سے مشرق بلاد کو آتی ہے اور اس پیشگوئی کے ساتھ قرآن شریف میں ایک اور بھی پیشگوئی ہے جو جسمانی اجتماع کے بعد رُوحانی اجتماع پر دلالت کرتی ہے اور وہ یہ ہے وترکنا بعضہم یومئذٍ یموج فی بعض ونفخ فی الصور فجمعناہم جمعاً ۱؂ یعنی اِن آخری دنوں میں جو یاجوج ماجوج کا زمانہ ہوگا دُنیا کے لوگ مذہبی جھگڑوں اور لڑائیوں میں مشغول ہو جائیں گے اور ایک قوم دوسری قوم پر مذہبی رنگ میں ایسے حملے کریگی جیسے ایک موج دریا دوسری موج پر پڑتی ہے اور دُوسری لڑائیاں بھی ہوں گی اور اس طرح پر دُنیا میں

٭ حاشیہ ۔ یہ آیت سورۃ کہف میں یاجوج ماجوج کے ذکر میں ہے۔ کتب سابقہ میں جو بنی اسرائیل کے نبیوں پر نازل ہوئی تھیں صاف اور صریح طور پر معلوم ہوتا ہے بلکہ نام لے کر بیان کیا ہے کہ یاجوج ماجوج سے مراد یورپ کی عیسائی قومیں ہیں اور یہ بیان ایسی صراحت سے ان کتابوں میں موجود ہے کہ کسی طرح اس سے انکار نہیں ہو سکتا ۔ اور یہ کہنا کہ وہ کتابیں محرف مبدل ہیں۔ ان کا بیان قابلِ اعتبار نہیں۔ ایسی بات وہی کہے گا جو خود قرآن شریف سے بے خبر ہے کیونکہ اللہ جلشانہ مومنوں کو قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ فاسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون ۲؂ یعنی فلان فلان باتیں اہلِ کتاب سے پوچھ لو اگر تم بے خبر ہو۔ پس ظاہر ہے کہ اگر ہر ایک بات میں اِن کتابوں کی گواہی ناجائز ہوتی تو خدا تعالیٰ کیوں مومنوں کو فرماتا کہ اگر تمہیں معلوم نہیں تو اہلِ کتاب سے پوچھ لو بلکہ اگر نبیوں کی کتابوں سے کچھ فائدہ اُٹھانا حرام ہے تو اس صورت میں یہ بھی ناجائز ہوگا کہ ان کتابوں میں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت بطورِ استدلال پیشگوئیاں پیش کریں۔ حالانکہ خود صحابہ رضی اللہ عنہم اور بعد اُن کے تابعین بھی اُن پیشگوئیوں کو بطور حجت پیش کرتے رہے ہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ کتب سابقہ کے بیان تین قسم کے ہیں۔

دوزخ کے وجود کی نسبت بیان۔ اگر ان کا انکار کریں تو ایمان جائے۔

۱؂ الکہف : ۱۰۰ ۲؂ النحل : ۴۳

چشمہ معرفت صفحہ 75 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 83 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 146 پر درج ہے

صفحہ 655

(حوالہ نمبر 162)

۲۳۹

ایک شخص ساکن جموں چراغ دین نام کی نسبت

اپنی تمام جماعت کو ایک عام اطلاع

۱۹

چونکہ اس شخص نے ہمارے سلسلہ کی تائید کا دعویٰ کر کے اور اس بات کا اظہار کر کے کہ میں فرقہ احمدیہ میں سے ہوں جو بیعت کر چکا ہوں طاعون کے بارے میں شاید ایک یا دو اشتہار شائع کئے ہیں اور میں نے سرسری طور پر کچھ حصّہ انکا سُنا تھا اور قابلِ اعتراض حصّہ ابھی سُنا نہیں گیا تھا اسلئے میں نے اجازت دی تھی کہ اسکے چھپنے میں کچھ مضائقہ نہیں۔ مگر افسوس کہ بعض غلطیاں لغو اور بیہودہ دعوے جو اسکے حاشئے میں تھے اس کو میں کثرتِ کام اور دوسرے خیالات کی وجہ سُن نہ سکا اور محض نیک ظنی سے ان کے چھپنے کے لئے اجازت دی گئی۔ اب جو رات اسی شخص چراغ دین کا ایک اور مضمون پڑھا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ مضمون بڑا خطرناک اور زہریلا اور اسلام کے لئے مُضر ہے اور سر سے پیر تک لغو اور باطل باتوں سے بھرا ہوا ہے۔ چنانچہ اس میں لکھا ہے کہ میں رسول ہوں اور رسول بھی اولو العزم اور اپنا کام یہ لکھا ہو کہ تا عیسائیوں اور مسلمانوں میں صلح کراوے اور قرآن اور انجیل کا تفرقہ باہمی دُور کرے اور ابن مریم ایک حواری بنکر یہ خدمت کرے اور رسول کہلاوے۔ اور ہر ایک شخص جانتا ہو کہ قرآن شریف نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ انجیل یا توریت سے صلح کریگا بلکہ ان کتابوں کو محرف مبدل اور ناقص اور ناتمام قرار دیا ہے اور تاجِ خاص اکملت لکم دینکم کا اپنے لئے رکھا ہے۔ اور ہمارا ایمان ہے کہ یہ سب کتابیں انجیل توریت قرآن شریف کے مقابل پر کچھ بھی نہیں اور ناقص اور محرف اور مبدل ہیں اور تمام بھلائی قرآن میں ہے جیسا کہ آج سے بائیس برس پہلے براہین احمدیہ میں یہ الہام موجود ہو۔ قل انما انا بشر مثلکم یوحٰی الی انما الهکم اله واحد والخير كله في القرآن لا يمسه الا المطهرون۔ دیکھو براہین احمدیہ ص۵۱۱ یعنے انکو کہہ دے کہ میں تمہارے جیسا ایک آدمی ہوں مجھ پر یہ وحی ہوتی ہو کہ خدا ایک ہے اُس کا کوئی ثانی نہیں اور تمام بھلائی قرآن میں ہے۔ پاک دل لوگ اس کی حقیقت

۲۳

۱؎ المائدۃ : ۴

دافع البلاء صفحہ 19 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 239 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 147 پر درج ہے

صفحہ 656

حوالہ نمبر 163

۹۴

۱۰۴ ہیں کہ جنہوں نے دلی انصاف سے عظمت شانِ اسلام کو قبول کر لیا ہے اور تثلیث کے مسئلہ کا غلط ہونا اور بہت سی بدعتوں کا عیسائی مذہب میں مخلوط ہو جانا اپنی تصنیفات میں بڑی شدّ و مدّ سے بیان کیا ہے۔ مگر افسوس کہ یہ انصاف ہمارے ہموطنوں آریہ قوم سے مٹتا جاتا ہے۔ اس قوم کو تعصّب نے اس قدر گھیرا ہے کہ انبیاء کا ادب سے نام لینا بھی ایک پاپ سمجھتے ہیں۔ اور تمام انبیاء کی کسرِ شان کرکے اور سب کو مفتری اور حیلہ ساز ٹھہرا کر یہ دعویٰ بلا دلیل پیش کرتے ہیں کہ ایک وید ہی خدا کی کلام ہے۔

بقیہ حاشیہ نمبر ۱۰۴

نے ان کو بہت خراب کر رکھا ہے کہ جیسے یہ لکھا گیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام سے جتنے پہلے نبی آئے۔ وہ سب چور اور ڈاکو تھے۔ سو یہ متکبرانہ الفاظ کسی حالت میں کسی نیک پاک آدمی کی طرف منسوب نہیں ہو سکتے۔ حضرت مسیح تو ایسے خدا کے متواضع اور حلیم اور عاجز اور بے نفس بندے تھے کہ انہوں نے یہ بھی روا نہ رکھا۔ کہ کوئی ان کو نیک آدمی بھی کہے۔ پھر کیونکر ان کی طرف کوئی غرور آمیز لفظ کہ جس میں اپنی شیخی اور دوسرے کی توہین پائی جاتی ہے۔ منسوب کیا جائے۔ بے شک اگر ہم خدا کے پاک نبیوں کو چور اور ڈاکو کہیں۔ تو ہم چوروں اور ڈاکوؤں سے ہزار درجہ بدتر ہیں۔ جن دلوں پر خدا کی کلام مقدس نازل ہوتی رہی ہے۔ اگر وہ دل مقدس نہیں تھے۔ تو ناپاک کو پاک سے کیا نسبت تھی۔ یہ نہایت ناپاکی ہے۔ جو خدا کے ستودہ بندوں کی شان میں بے جا الفاظ بولے جائیں۔ کیا افسوس کا مقام ہے۔ کہ جو لوگ اپنی خودی سے ایک دم باہر نہیں نکلتے۔ اور جنہوں نے دنیا سے ایسی ربط بڑھائی اور تعلق پیدا کئے۔ کہ اُن کے دلوں میں ہر دم دنیا ہی دنیا ہے۔ وہ خدا کے مقدس لوگوں کو تحقیر سے یاد کریں۔ اے بھائیو ! نبیوں کا پاک اور کامل اور راستباز ہونا تسلیم کرو۔ تا وہ کتابیں بھی پاک ٹھہریں جو نبیوں پر نازل ہوئیں۔ ورنہ جن دلوں سے وہ کتابیں نکلی ہیں۔ اگر وہ دل ہی پاک نہیں تو پھر کتابیں کیونکر پاک ہو سکتی ہیں۔ کیا ممکن ہے جو دھتورے کے درخت کو انگور کا پھل لگے۔ یا آک کو انجیر۔ جب چشمہ کا پانی صاف ہے تو چشمہ بھی صاف ہی سمجھو۔ اگر وہ لوگ چنیدہ اور برگزیدہ اور خدا کے کامل وفادار بندے نہیں تھے۔

براہین احمدیہ صفحہ 104 (حاشیہ) مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 94 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 147 پر درج ہے

صفحہ 657

(حوالہ نمبر 164)

۲۹۶

کو ایک خطِ مستقیم میں باہم رکھ دیا جاوے تو شاید ایک مسافر کی دو منزل طے کرنے تک بھی وہ دوکانیں ختم نہ ہوں ۔ عبادات سے فراغت ہے اور دن رات لہو ولعب اور عیاشی اور دنیا پرستی کے کام تمام ہیں پس اس تمام تحقیقات سے ثابت ہوا کہ یسوع کے مصلوب ہونے سے اس پر ایمان لانیوالے گناہ سے رک نہیں سکتے ۲؎ بلکہ جیسا کہ بند ٹوٹنے سے ایک تیز دھار دریا کا پانی ارد گرد کے دیہات کو تباہ کر جاتا ہے ایسا ہی کفارہ پر ایمان لانے والوں کا حال ہو رہا ہے اور میں جانتا ہوں کہ عیسائی لوگ اس پر زیادہ بحث نہیں کریں گے کیونکہ جس حالت میں ان نبیوں کا جن کے پاس خدا کا فرشتہ آتا تھا۔ یسوع کا کفارہ بدکاریوں سے روک نہ سکا تو پھر کیونکر جاہلوں اور پیشہ وروں اور خشک پادریوں کو ناپاک کاموں سے روک سکتا ہے۔ غرض عیسائیوں کے خدا کی کیفیت یہ ہے جو ہم بیان کر چکے۔

تیسرا مذہب ان دو مذہبوں کے مقابل پر جن کا ابھی ہم ذکر کر چکے ہیں اسلام ہے اس مذہب کی خدا شناسی نہایت صاف صاف اور انسانی فطرت کے مطابق ہے۔ اگر تمام مذہبوں کی کتابیں نابود ہو کر اُن کے سارے تعلیمی خیالات اور تصورات بھی محو ہو جائیں تب بھی وہ خدا جس کی طرف قرآن رہنمائی کرتا ہے۔ آئینہ قانونِ قدرت میں صاف صاف نظر آئیگا اور اس کی قدرت اور حکمت سے بھری ہوئی صورت ہر یک ذرہ میں چمکتی ہوئی دکھائی دے گی غرض وہ خدا جس کا پتہ قرآن شریف دیتا ہے اپنی موجودات پر فقط قہری حکومت نہیں رکھتا بلکہ موافق آیہ ۱؎ کریمہ اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوْا بَلٰی کے ہر یک ذرہ ذرہ اپنی طبیعت اور روحانیت سے اس کا حکم بردار ہے۔ اس کی طرف جھکنے کے لئے ہر یک طبیعت میں ایک کشش پائی جاتی ہے۔ اس کشش سے ایک ذرہ بھی خالی نہیں اور یہ ایک بڑی دلیل اس بات پر ہے کہ وہ ہر یک چیز کا خالق ہے کیونکہ فطرت اس بات کو مانتی ہے کہ کشش جو اس کی طرف جھکنے کیلئے تمام چیزوں میں پائی جاتی ہے وہ بلاشبہ اسی کی طرف سے ہے جیسا کہ قرآن شریف نے اس آیت میں اسی بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ وَاِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ یعنی ہر یک چیز اس کی پاکی اور اس کی حمد بیان کر رہی ہے اگر خدا ان چیزوں کا خالق نہیں تھا تو ان چیزوں میں خدا کی طرف کشش کیوں پائی جاتی ہے۔

لے یہ برکت وحی سے ایسا معلوم ہوتا ہے چنانچہ خدائی کا دعویٰ شرک کا ایک بد نتیجہ ہے ۔ منہ

حاشیہ ۲۔ یہاں یسوع سے مراد وہ یسوع ہے جس نے خدائی کا دعویٰ کیا اور جس کے حواریوں نے اس کو خدا بنایا جیسا کہ بائبل اور دیگر تواریخ عیسائیوں سے ظاہر ہوتا ہے پس یہ کلمات اس کے حق میں ہیں نہ کہ اس مسیح کے حق میں جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع ہو کر آئے گا یہ یسوع وہی ہے جس نے اپنے تئیں خدا کہا ہے اور جس کی تعلیم سے دنیا میں شرک پھیلا ہے اور جس نے اپنے تئیں خدا اور خدا کا بیٹا کہا ہے پس اس کی نسبت اگر میں کچھ سخت الفاظ استعمال کروں تو کیا مضائقہ ہے پس یہ باتیں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع ہو کر آنے والے مسیح کے حق میں نہیں ہیں ۱۲

یہ حوالہ صفحہ 148 پر درج ہے ست بچن صفحہ 172 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 296 از مرزا قادیانی

صفحہ 658

حوالہ نمبر 165 ازالہ اوہام ۲۰۹ حصہ اول تب وہ شخص زندہ ہو کر ایک روشن اور چمکتے ہوئے چہرہ کے ساتھ اس کے سامنے آجائیگا اور اس کی الوہیت سے انکار کرے گا سو دجال اسی قسم کی گمراہ کرنے کی کوششوں میں لگا ۲۱۱ ہوا ہوگا کہ ناگہاں مسیح ابن مریم ظاہر ہو جائے گا اور وہ ایک منارہ سفید کے پاس دمشق کے شرقی طرف اترے گا مگر ابن ماجہ کا قول ہے کہ بیت المقدس میں اترے گا اور بعض کہتے ہیں کہ نہ بیت المقدس اور نہ دمشق بلکہ مسلمانوں کے لشکر میں اتریگا جہاں حضرت مہدی ہونگے۔ اور پھر فرمایا کہ جس وقت وہ اترے گا اُس وقت اس کی زرد پوشاک ہوگی یعنی زرد رنگ کے دو کپڑے اُس نے پہنے ہوئے ہوں گے ویسا اس بات کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت اُس کی صحت کی حالت اچھی نہیں ہوگی اور دونوں ہتھیلیاں اس کی دو فرشتوں کے بازوؤں پر ہوں گی۔ مگر بخاری کی ایک دوسری حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن مریم کو بجائے دو فرشتوں کے دو آدمیوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر طواف کرتے دیکھا۔ پس اس حدیث کے لفظِ طواف سے یہ بات کھلتی ہے کہ دمشقی حدیث میں جو دو فرشتے لکھے ہیں وہ دراصل وہی دو آدمی ہیں کہ دوسری حدیث میں بیان کئے گئے ہیں اور اُن کے کندھوں پر ہاتھ رکھنے سے مطلب یہ ہے کہ وہ مسیح کے مددگار اور انصار ہو

صفحہ 659

(حوالہ نمبر 166)

ازالہ اوہام ۴۹۲ حصہ دوم

بادل اس حالت میں چلتا ہے جب کہ پیچھے اس کے ہوا ہو۔ یہ ایک لطیف اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ دجال کا گدھا کوئی جاندار مخلوق نہیں ہو گا بلکہ یہ کسی ہوائی یا بھاپ کے زور سے چلے گا۔

ساتھ تقدیر موافق کر دے گا اور اس کے ہاتھ پر زمین کو اس کی مرضی کے موافق آباد کریگا۔

سے مشرق کی طرف ہے۔ متفق علیہ ۔

خزانے باہر نکل آئیں گے اور دجال کے پیچھے پیچھے جائیں گے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دجال زمین سے بہت فائدہ اُٹھائے گا۔ اور اپنی تدبیروں سے زمین کو آباد کرے گا اور ویرانے کو خزانے کر کے دکھائے گا پھر آخر باب لُد پر قتل کیا جائیگا لُد اُن لوگوں کو کہتے ہیں جو بے جا جھگڑنے والے ہوں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہو

بسر کرنا انہوں نے کہاں سے سیکھ لیا ہے۔ کتاب الہی کی غلط تفسیروں نے انہیں بے توفیق کیا ہوا ہے انکے دلی اور دماغی قویٰ پر بہت بڑا اثر اُن سے پڑا ہے۔ اس زمانہ میں ہر طالب کتاب الہی کے لئے ضروری ہے کہ اس کی ایک نئی اور صحیح تفسیر کی جائے کیونکہ حال میں جن تفسیروں کی تعلیم دی جاتی ہے وہ نہ اخلاقی حالت کو درست کر سکتی ہیں اور نہ ایمانی حالت پر نیک اثر ڈالتی ہیں بلکہ فطرتی سعادت اور نیک اندیشی کی مزاحم ہو رہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دراصل اپنے اندر سچی قرآنی تعلیم نہیں رکھتیں۔ قرآنی تعلیم ایسے لوگوں کے دلوں سے مٹ گئی ہے کہ گویا قرآن آسمان پر اُٹھایا گیا ہے۔ وہ ایمان جو قرآن نے سکھلایا تھا اس سے لوگ بے خبر ہیں۔ وہ عرفان جو قرآن نے بخشا تھا اس سے لوگ غافل ہو گئے ہیں۔ ہاں یہ سچ ہے کہ قرآن پڑھتے ہیں مگر قرآن اُن کے حلق سے نیچے نہیں اُترتا۔ انہیں صفوں سے

یہ حوالہ صفحہ 148 پر درج ہے | ازالہ اوہام صفحہ 730 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 492، 493 از مرزا قادیانی

صفحہ 660

حوالہ نمبر 166

ازالہ اوہام ۴۹۳ حصہ دوم

کہ جب دجّال کے بے جا جھگڑے کمال تک پہنچ جائیں گے تب مسیح موعود ظہور کرے گا اور اس کے تمام جھگڑوں کا خاتمہ کر دے گا۔

ان دسوں علامتوں میں سے ایک بھاری علامت دجال معہود کی یہ بھی ہے کہ اس کا فتنہ تمام ان فتنوں سے بڑھ کر ہو گا کہ جو دنیا میں دین کے مٹانے کے لئے ابتدا سے لوگ کرتے آئے ہیں اور ہم اسی رسالہ میں ثابت کر چکے ہیں کہ یہ علامت عیسائی مشنوں میں بخوبی ظاہر و ہویدا ہے ۔

از انجملہ ایک بڑی بھاری علامت دجال کی اس کا گدھا ہے جس کے بین الاذنین کا اندازہ ستر باع کیا گیا ہے اور ریل کی گاڑیوں کا اکثر اسی کے موافق سلسلہ طولانی ہوتا ہے اور اس میں بھی کچھ شک نہیں کہ وہ دخان کے زور سے چلتی ہیں جیسے بادل ہوا کے زور سے تیز حرکت کرتا ہے۔ اس جگہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھلے کھلے طور پر ریل گاڑی کی طرف اشارہ فرمایا ہے چونکہ یہ مسافتیں طے کرتے ہیں جن کا امام وقت وہی دجّالی گروہ ہے اس لئے ان گاڑیوں کو دجال کا گدھا قرار دیا گیا۔ اب اس سے زیادہ اور کیا ثبوت ہو گا کہ علاماتِ خاصہ دجال کے انہیں لوگوں میں پائے جاتے ہیں۔ انہیں لوگوں نے مکروں اور فریبوں کا اپنے وجود پر خاتمہ کر دیا ہے اور دینِ اسلام کو وہ ضرر پہنچایا ہے جس کی نظیر دنیا کے ابتداء سے نہیں پائی جاتی اور انہیں لوگوں کے متبعین کے پاس وہ گدھا بھی ہے جو دخان کے کے زور سے چلتا ہے جیسے بادل ہوا کے زور سے ۔ اور انہیں لوگوں کے متبعین زمین کو

حاشیہ یہ کہا گیا ہے کہ آخری زمانہ میں قرآن آسمان پر اُٹھایا جائے گا۔ پھر انہیں حدیثوں میں لکھا ہے کہ پھر دوبارہ قرآن کو زمین پر لانے والا ایک مرد فارسی الاصل ہو گا جیسا کہ فرمایا لَوْ کَانَ الْاِیْمَانُ مُعَلَّقًا بِالثُّرَیَّا لَنَالَهُ رَجُلٌ مِّنْ فَارِسَ ۔ یہ حدیث درحقیقت اسی زمانہ کی طرف اشارہ کرتی ہے جو اٰیتِ وَاٰخَرِیْنَ مِنْهُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِهِمْ میں اشارۃً بیان کیا گیا ہے ۔ منہ

ازالہ اوہام صفحہ 730 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 492، 493 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 148 پر درج ہے

صفحہ 661

(حوالہ نمبر 167)

۵۴۷

ومنحنى من النعم الظاهرة والباطنة وجعلنى من المجذوبين۔ وكنت شابا وقد شخت وما استفتحت بابا الا فتحت۔ وما سألت من نعمة الا اعطيت۔ وما استكشفت من امر الا كشفت۔ وما ابتهلت فى دعاء الا اجيبت۔ وكل ذلك من حبّى بالقرآن وحبّ سيّدى وامامى سيّد المرسلين۔ اللّهم صل وسلم عليه بعدد نجوم السمٰوات وذرّات الارضين ومن اجل هذا الحبّ الذى كان فى فطرتى كان الله معى من اوّل امرى حين ولدت وحين كنت ضريعا عند ظئرى وحين كنت اقرء فى المتعلمين۔ وقد حبب الىّ منذ دنوت العشرين ان انصر الدين۔ واجادل البراهمة والقسيسين۔ وقد الفت فى هذه المناظرات مصنفات عديدة۔ ومؤلفات مفيدة منها كتابى البراهين۔ كتاب نادر ما نسج على منواله فى ايّام خالية فليقرءه من كان من المرتابين۔ قد سللت فيه صوارم الحجج القطعية على اقوال الملحدين۔ ورميت بشهبها الشياطين المبطلين۔ قد خفض هام كل معاند بذالك السيف المسلول۔ وتبيّنت فضيحتهم بين ارباب المنقول والمعقول۔ وبين المصنفين۔ فيه دقائق العلوم وشواردها والالهامات الطيبة الصحيحة و الكشوف الجليلة ومواردها۔ ومن كل ما يجلّى درر معارف الدين المتين ولى كتب اخرى تشابهه فى الكمال۔ منها الكحل والتوضيح والازالة وفتح الاسلام وكتاب آخر سبق كلّها الفته فى هذه الايام اسمه دافع الوساوس هو نافع جدّا للذين يريدون ان يروا حسن الاسلام ويكفون افواه المخالفين۔ تلك كتب ينظر اليها كل مسلم بعين المحبة والمودة وينتفع من معارفها ويقبلنى ويصدّقنى

آئینہ کمالات اسلام صفحہ 547 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 547، 548 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 153 پر درج ہے

صفحہ 662

حوالہ نمبر 167

۵۴۸

[ دعوتى۔ الا ذرية البغايا الذين ختم الله على قلوبهم فهم لا يقبلون۔ ولما ] بلغت اشد عمرى و بلغت اربعين سنة جاءتنى نسيم الوحى بريا عنايات ربى ليزيد معرفتى ويقينى ويرتفع حجبى واكون من المستيقنين فاول ما فتح علىّ بابه هو الرؤيا الصالحة فكنت لا ارى رؤيا الا جاءت مثل فلق الصبح و انى رايت فى تلك الايام رؤيا صالحة صادقة قريباً من الفين او اكثر من ذالك ۔ منها محفوظة فى حافظتى وكثير منها نسيتها۔ ولعل الله يكررها فى وقت اخر ونحن من الآملين۔ ورايت فى غلواء شبابى وعند دواعى التصابى كانى دخلت فى مكان وفيه حفرتى ولحدى فقلت طهروا فراشى فان وقتى قد جاء ثم استيقظت وخشيت على نفسى وذهب وهلى الى اننى من المائتين۔ ورايت ذات ليلة وانا غلام حديث السن كانى فى بيت لطيف نظيف يذكر فيها رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت ايّها الناس اين رسول الله صلى الله عليه وسلم فاشاروا الى حجرة فدخلت مع الداخلين۔ فبش بى حين وافيته۔ وحيّانى باحسن ما حييته وما انسى حسنه وجماله وملاحته وتحننه الى يومى هذا۔ شغفنى حبّاً وجذبنى بوجه حسين قال ما هذا بيمينك يا احمد فنظرت فاذا كتاب بيدى اليمنى وخطر بقلبى انه من مصنفاتى قلت يا رسول الله كتاب من مصنفاتى قال ما اسم كتابك فنظرت الى الكتاب مرة اخرى وانا كالمتحيرين۔ فوجدته يشابه كتاباً كان فى دار كتبى واسمه قطبى قلت يا رسول الله اسمه قطبى قال ارنى كتابك القطبى فلما

آئینہ کمالات اسلام صفحہ 547 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 547، 548 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 153 پر درج ہے

صفحہ 663

حوالہ نمبر 168

۴۱۵ کر دے کہ فرشتوں کا نزول اسی طرح ہوتا ہے کہ وہ اپنے وجود کو آسمان سے خالی کر دیں تو ہم بشوق اس ثبوت کو سنیں گے۔ اور اگر درحقیقت ثبوت ہو گا۔ تو ہم اس کو قبول کر لیں گے۔ جہاں تک ہمیں معلوم ہے فرشتوں کا وجود ایمانیات میں داخل ہے خدا تعالیٰ کا نزول سماء الدنیا کی طرف اور فرشتوں کا نزول دونوں ایسی حقیقتیں ہیں جو ہم سمجھ نہیں سکتے۔ ہاں کتاب اللہ سے اتنا ثابت ہوتا ہے کہ خلق جدید کے طور پر زمین پر فرشتوں کا ظہور ہو جاتا ہے دحیہ کلبی کی شکل میں جبرئیل کا ظاہر ہونا خلق جدید تھا یا کچھ اور تھا۔ پھر کیا یہ ضرور ہے کہ پہلی خلق کو نابود کر لیں پھر خلق جدید کے قائل ہوں بلکہ پہلی خلق بجائے خود آسمان پر ثابت اور قائم ہے اور دوسرا خلق خدا تعالیٰ کی وسیع قدرت کا ایک نتیجہ ہے کیا خدا تعالیٰ کی قدرت سے بعید ہے کہ ایک وجود دو جگہ دو جسموں سے دکھاوے ۔ حاشا و کلا ہرگز نہیں۔ الم تعلم ان اللہ علی کل شی قدیر۔

پھر شیخ بٹالوی صاحب نے اپنی دانست میں ہماری کتاب تبلیغ کی کچھ غلطیاں نکالی ہیں۔ اور ہم افسوس سے لکھتے ہیں کہ تعصب کے جوش سے یا نادانی کی وجہ سے صریح اور باقاعدہ ترکیبوں اور لفظوں کو بھی غلطی میں داخل کر دیا۔ اگر اس امر کے لئے کوئی خاص مجلس مقرر ہو تو ہم ان کو سمجھاویں کہ ایسی شتابکاری سے کیا کیا ندامتیں اٹھانی پڑتی ہیں قیامت کی نشانیاں ظاہر ہوگئیں یہ علم اور نام مولوی اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّآ اِلَیْهِ رَاجِعُوْنَ۔ وہ غلطیاں جو انہوں نے بڑی جانکاہی سے نکالی ہیں۔ اگر وہ تمام اکٹھی کر کے لکھی جائیں تو دو یا ڈیڑھ سطر کے قریب ہونگی۔ اور ان میں اکثر تو سہو کاتب ہیں اور تین ایسی غلطیاں جو بوجہ نہ میسر آنے نظر ثانی یا طفرہ نظر کے رہ گئی ہیں۔ اور باقی شیخ صاحب کی اپنی عقل کی کوتاہی اور سمجھ کا گھاٹا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ شخص نے کبھی لسان عرب کی طرف توجہ نہیں کی۔ بہتر تھا کہ چپ رہتے اور اور بھی اپنی پردہ دری نہ کراتے۔ ہمیں شوق ہی رہا کہ شیخ صاحب ہماری کتابوں کے مقابل پر کوئی فصیح بلیغ رسالہ نظم اور نثر میں نکالیں اور ہم سے انعام لیں اور ہم سے اقرار کرالیں کہ درحقیقت وہ مولوی اور عربی دان ہیں۔

میں کئی دفعہ بیان کر چکا ہوں کہ یہ رسائل جو لکھے گئے ہیں تائید الہی سے لکھے گئے ہیں۔

یہ حوالہ صفحہ 153 پر درج ہے سراج المنیر صفحہ 101، 102 مندرجہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 415، 416 از مرزا قادیانی

صفحہ 664

حوالہ نمبر 168

۴۱۶

میں ان کا نام وحی اور الہام تو نہیں رکھتا۔ مگر یہ تو ضرور کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی خاص اور خارق عادت تائید نے یہ رسالے میرے ہاتھ سے نکلوائے ہیں۔ میں نے کئی مرتبہ شائع کیا کہ اگر شیخ صاحب موصوف جن کی نسبت میرا اعتقاد ہے کہ وہ خذلان میں پڑے ہوئے ہیں اور علم عربیت سے کسی اتفاق سے محروم رہ گئے ہیں مقابلہ کر کے دکھلاویں تو وہ اس مقابلہ سے میرے ان تمام دعاوی کو نابود کر دیں گے۔ مگر شیخ صاحب کیوں اس طرف متوجہ نہیں ہوتے کونسی مصیبت ہے جو اُنکو مانع ہے۔ بس یہی مصیبت ہے کہ وہ لسانِ عربی سے بے بہرہ اور امّی محض خذلان کی حالت میں مبتلا ہیں۔ اُنکے لئے ہرگز ممکن نہ ہو گا کہ مقابلہ کر سکیں۔ یہ وہی الہام ہے جو ظہور کر رہا ہے کہ انی مھین من اراد اھانتک یہ وہی محمد حسین ہے جو اس عاجز کی نسبت جا بجا کہتا پھرتا تھا کہ یہ شخص سخت جاہل ہے۔ عربی کیا ایک صیغہ تک اسکو نہیں آتا۔ اور وہ اعلیٰ درجہ کے فاضل جو میرے ساتھ ہیں ان کو کہتا تھا کہ یہ لوگ صرف مُنشی ہیں۔ پس خدا تعالیٰ کی غیرت نے تقاضا کیا کہ اس کی پردہ دری کرے اور اس کے تکبر کو توڑے اور اسکو دکھلاوے کہ خود پسندی اور عُجُب کے یہ ثمرات ہیں۔ سو اس سے زیادہ اور کیا اہانت ہوگی کہ جس شخص کو جاہل سمجھتا تھا اور منبر پر چڑھ کر اور مجلسوں میں بیٹھ کر بکتا تھا کہ زبانِ عرب سے یہ شخص بالکل نا آشنا ہے اور اجہل ہے اُسی کے ہاتھ سے خدا تعالیٰ نے اس کو شرمندہ اور ذلیل کیا۔ اگر یہ نشان نہیں تو چاہئے تھا کہ محمد حسین اپنے تمام دوستوں سے مدد لیتا اور نورُ الحق اور کرامات الصادقین کا جواب لکھتا۔ اس شخص کو بڑے بڑے انعاموں کے وعدے دیئے گئے۔ ہزار لعنت کا ذخیرہ آگے رکھا گیا۔ مگر اس طرف توجہ نہ کی سو یہ نتیجہ مخالفت حق کا ہے۔ فاتقوا الله یا اولی الابصار۔

اور یاد رہے کہ یہ عُذر شیخ صاحب موصوف کا کہ نور الحق میں پادری بھی مخاطب ہیں اسلئے رسالہ بالمقابل لکھنے سے پہلو تہی کیا گیا نہایت مکارانہ عُذر ہے۔ گو یا ایک بہانہ ڈھونڈھا ہے کہ کسی طرح جان بچ جائے۔ لیکن دانا سمجھتے ہیں کہ یہ بہانہ نہایت کچّا اور فضول اور ایک

۱۰۲

سرالخلافہ صفحہ 101، 102 مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 415، 416 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 153 پر درج ہے

صفحہ 665

(حوالہ نمبر 169)

پیغام صلح ۴۶۵ اور حق پوشی میں حد سے گذر گئے ہیں۔ ہائے افسوس ان کو کیا ہو گیا کہ وہ عمداً صحیح واقعات سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم عرب کے ملک میں ایک بادشاہ کی حیثیت سے ظہور فرما نہیں ہوئے تھے۔ تا یہ گمان کیا جاتا۔ کہ چونکہ وہ بادشاہی جبروت اور شوکت اپنے ساتھ رکھتے تھے اسلئے لوگ جان بچانے کے لئے ان کے جھنڈے کے نیچے آ کھڑے تھے ۔

پس سوال تو یہ ہے کہ جب کہ آپ نے اپنی غریبی اور مسکینی اور تنہائی کی حالت میں خدا کی توحید اور اپنی نبوت کے بارے میں منادی شروع کی تھی تو اُسوقت کس تلوار کے خوف سے لوگ آپ پر ایمان لے آئے تھے۔ اور اگر ایمان نہیں لائے تھے تو پھر جبر کرنے کے لئے کس بادشاہ سے کوئی لشکر مانگا گیا تھا۔ اور مدد طلب کی گئی تھی۔ اے حق کے طالبو ! تم یقیناً سمجھو کہ یہ سب باتیں اُن لوگوں کی افتراء ہیں۔ جو اسلام کے سخت دشمن ہیں۔ تاریخ کو دیکھو۔ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہی ایک یتیم لڑکا تھا جس کا باپ پیدائش سے چند دن بعد ہی فوت ہوگیا۔ اور ماں صرف چند ماہ کا بچہ چھوڑ کر مرگئی تھی۔ تب وہ بچہ جس کے ساتھ خدا کا ہاتھ تھا۔ بغیر کسی کے سہارے کے خدا کی پناہ میں پرورش پاتا رہا۔ اور اس مصیبت اور یتیمی کے ایام میں بعض لوگوں کی بکریاں بھی چرائیں۔ اور بجز خدا کے کوئی متکفل نہ تھا اور پچیس برس تک پہنچ کر بھی کسی پہلو سے بھی آپ کو غنی نہ کیا۔ کیونکہ جیسا کہ بظاہر نظر آتا تھا۔ آپ اس لائق نہ تھے کہ خانہ داری کے اخراجات کے متکفل ہوسکیں۔ اور نیز محض اُمّی تھے۔ اور کوئی حرفہ اور پیشہ نہیں جانتے تھے۔ پھر جب آپ چالیسویں برس کے سن تک پہنچے تو یک دفعہ آپ کا دل خدا کی طرف کھینچا گیا۔ ایک غار مکہ سے چند میل کے فاصلہ پر ہے جس کا نام حرا ہے۔ آپ اکیلے وہاں جاتے اور غار کے اندر چھپ جاتے۔ اور اپنے خدا کو یاد کرتے۔ ایک دن اسی غار میں آپ

۲۷

پیغام صلح صفحہ 28 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 465 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 154 پر درج ہے

صفحہ 666

حوالہ نمبر 170

عقیدہ

عقیدہ پیدا ہو سکتا ہے کہ یہ تو محض باتیں بنائیں گے۔ ہم طرح طرح کے بتوں کو ناجائز جانے گالیاں دے تو ہر شخص برا سوچے گا کوئی اسے کذاب اور کہہ سکتا ہے کہ فقیر ہو جائے گا ، ذلیل ہو جائے گا۔ اس قسم کی باتوں سے کیا بن سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ لوگ جن کے دلوں میں یہ عقیدہ پیدا ہوتا ہے وہ نیاز التجا بھی نہیں کرتے ۔ انہیں یہ دیکھ کر دعا بھی مانگنی کہ کیا ہم نے تجھے یتیم نہیں پایا تھا، فآویٰ کیسا ہوتا یہ تو یہ نہیں تھا کہ ہم نے تجھے پناہ دی اور تجھے یتیم سمجھ کر تباہی سے بچایا۔

رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم ابھی رحم مادر میں ہی تھے کہ آپ کے والد فوت ہو گئے جب آپ کی پیدائش ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے دادا عبدالمطلب کے دل میں آپ کی غیر معمولی طور پر محبت پیدا کر دی۔ عام طور پر ایسے حالات میں انسان کی توجہ پوتوں کی بجائے اپنے دوسرے بیٹوں کی طرف ہوتی ہے مگر عبدالمطلب کی یہ حالت تھی کہ وہ اپنے بیٹوں کو تو ڈانٹ ڈپٹ لیتے مگر رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم سے ہمیشہ محبت اور پیار رکھتے، حالانکہ اُن کے لڑکے جوان تھے اور وہ اُن کی خدمت بھی کرتے رہتے تھے مگر اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی ایسی محبت پیدا کر دی کہ آپ اگر تھوڑی دیر کے لئے بھی اُن کی نظروں سے اوجھل ہو جاتے تو وہ بے چین ہو جاتے۔ آپ کو ہر وقت گودی میں بٹھائے رکھتے تھے، آپ کی محبت میں اشعار پڑھتے رہتے تھے اور اپنے بچوں کو ڈانٹتے رہتے تھے۔ کہ اس کی قدر کیوں نہیں کرتے پھر عربوں میں یہ رواج تھا کہ وہ بچے پالنے کے لئے دائیاں رکھا کرتے تھے آپ کی والدہ نے چاہا کہ انہیں بھی کوئی دائی مل جائے مگر غربت کے ڈر سے کوئی دائی نہ آئی، آخر اللہ تعالیٰ نے بنی سعد کی حلیمہ نامی عورت کو اس کے لئے منتخب فرمایا۔ حلیمہ وہ تھی جسے ہر دروازہ سے محض اس لئے رد کیا گیا تھا کہ وہ ایک غریب عورت تھی اگر اُسے بچہ دیا گیا تو وہ اُسے کھلائے گی کہاں سے، مگر چونکہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش کا سامان کرنا تھا، اس لئے اللہ تعالیٰ نے مکہ کے تمام بچے جو یتیم نہ تھے ، وہ جس گھر میں بھی گئی اُسے یہی کہا گیا کہ ہم تمہیں اپنا بچہ نہیں دے سکتے، تم بھوکی ننگی تو اُسے کھلائے گی کہاں سے۔ گویا سارے مکہ میں اُس روز ایک بچہ ایسا تھا جسے کوئی دودھ پلانے والی نہ ملی اور ایک دایہ ایسی تھی جسے کوئی بچہ نہ ملا جب شام ہو گئی اور اُدھر حلیمہ کسی بچہ کے ملنے سے مایوس ہو گئی اور رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی والدہ کسی دایہ کے ملنے سے مایوس ہو گئیں تو اللہ تعالیٰ نے حلیمہ کے دل میں ڈالا کہ اگرچہ یہ بچہ یتیم ہے اور اس کا والد فوت شدہ ہے مگر میرا خالی جانا دوسرے لوگوں کی ہنسی کا موجب ہو گا چلو میں اسی کو لے چلوں چنانچہ وہ آئی اور رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کو لے گئی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس کے دل میں رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی ایسی محبت ڈال دی کہ آپ کا دم بھر کے لئے آنکھوں سے اوجھل ہونا اُس پر سخت گراں گزرتا اور وہ چاہتی یہی تھی کہ آپ اس کے پاس ہی رہیں، ۲۱۱ تاریخوں میں آتا ہے کہ آپ ذرا بھی اُس کی آنکھ سے اوجھل ہوتے تو وہ اپنے بچوں کو ڈانٹنے لگ جاتی۔ کہ تم اُسے چھوڑ کر کیوں آگئے ہو اور پھر آپ کو ڈھونڈنے نکل پڑتی۔

غرض باپ کے بعد آپ کو پرورش کے لئے حلیمہ جیسی دائی ملی ، عبدالمطلب جیسا محبت کرنے والا دادا ملا اور پھر جب عبدالمطلب فوت ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے چچا ابو طالب کے دل میں آپ کی محبت ڈال دی۔ ابوطالب کو بھی آپ سے بے انتہا محبت تھی ایسی محبت کہ اپنے بچوں سے نہ تھی۔ دنیا میں بہت کم چچا ہوں گے جنہوں نے اپنے کسی بھتیجے کو اس محبت کے ساتھ پالا ہو، جوان ہونے پر اللہ تعالیٰ نے ایک مالدار عورت کے دل میں آپ کی محبت پیدا کر دی اور وہ اُس کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ میں ان سے شادی کر لوں کیونکہ یہ بہت ہی بلند اخلاق کے مالک ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے گھر کا سامان پیدا کر دیا۔ پھر انسان کے لئے دوستوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ماں باپ زندہ ہوتے ہیں، اُن کی خوشنودی کے لئے لوگ دوستیاں اختیار کرتے ہیں لیکن جب مر جاتے ہیں، اُن کے تمام تعلقات ٹوٹ جاتے ہیں اور دوستی کا خیال تک بھی اُن کے دل میں کبھی نہیں آتا۔ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے والدین چونکہ فوت ہو چکے تھے اس لئے طبعی طور پر آپ کو بھی ساتھیوں اور دوستوں کی ضرورت محسوس ہوتی تھی اللہ تعالیٰ نے مکہ اور طائف میں جو اس وقت کے متمدن

تفسیر کبیر صفحہ 97 جلد 9 از مرزا بشیر الدین محمود یہ حوالہ صفحہ 155 پر درج ہے

صفحہ 667

(حوالہ نمبر 171)

۴۱۱

یہ تو ہم نے قرآن شریف کی اُس زبردست طاقت کا بیان کیا ہے جو اپنے پیروی کرنے والوں پر اثر ڈالتی ہے لیکن وہ دُوسرے معجزات سے بھی بھرا ہوا ہے۔ اُس نے اسلام کی ترقی اور شوکت اور فتح کی اُس وقت خبر دی تھی جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے جنگلوں میں اکیلے پھرا کرتے تھے اور اُن کے ساتھ بجز چند غریب اور ضعیف مسلمانوں کے اور کوئی نہ تھا اور جب قیصر روم ایرانیوں کی لڑائی سے مغلوب ہو گیا اور ایران کے کسریٰ نے اُس کے ملک کا ایک بڑا حصہ دبا لیا تب بھی قرآن شریف نے بطور پیشگوئی کے یہ خبر دی کہ نو برس کے اندر پھر قیصر روم فتحیاب ہو جائے گا اور ایران کو شکست دے گا چنانچہ ایسا ہی ظہور میں آیا۔ ایسا ہی شق القمر کا عالیشان معجزہ ہمیں خدائی ہاتھ کو دکھلا رہا ہے قرآن شریف میں ذکر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی کے اشارہ سے چاند دو ٹکڑے ہو گیا اور کفار نے اس معجزہ کو دیکھا۔ اُس کے جواب میں یہ کہنا کہ ایسا وقوع میں آنا خلاف علم ہیئت ہے یہ سراسر فضول باتیں ہیں کیونکہ قرآن شریف تو فرماتا ہے کہ اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ ۔ وَ اِنْ يَّرَوْا اٰيَةً يُّعْرِضُوْا وَيَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ ۱؎ ۔ یعنی قیامت نزدیک آگئی اور چاند پھٹ گیا اور کافروں نے یہ معجزہ دیکھا اور کہا کہ یہ جادو ہے جس کا آسمان تک اثر چلا گیا ۔ اب ظاہر ہے کہ یہ نرا دعویٰ نہیں بلکہ قرآن شریف تو اس کے ساتھ ان کافروں کو گواہ قرار دیتا ہے جو سخت دشمن تھے اور کفر پر ہی مرے تھے۔ اب ظاہر ہے کہ اگر شق القمر وقوع میں نہ آیا ہوتا تو مکہ کے مخالف لوگ اور جانی دشمن کیونکر خاموش بیٹھ سکتے تھے وہ بلاشبہ شور مچاتے کہ ہم پر یہ تہمت لگائی ہے ہم نے تو چاند کو دو ٹکڑے ہوتے نہیں دیکھا عقل تجویز نہیں کر سکتی کہ وہ لوگ اس معجزہ کو سراسر جھوٹ اور افترا خیال کر کے پھر بھی چپ رہتے۔ بالخصوص جب کہ اُنکو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس واقعہ کا گواہ قرار دیا تھا تو اس حالت میں اُن کا فرض تھا کہ اگر یہ واقعہ صحیح نہیں تھا تو اس کا ردّ کرتے نہ یہ کہ خاموش رہ کر اس واقعہ کی صحت پر مہر لگا دیتے۔ پس یقینی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ ضرور ظہور میں آیا تھا اور اس کے مقابل پر کتنا بیہودہ ہے یہ کہنا

۱؎ القمر : ۲-۳

چشمہ معرفت صفحہ 42 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 411 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 155 پر درج ہے

صفحہ 668

حوالہ نمبر 172 قال فما خطبكم ۲۷ ۷۰۶ القمر ۵۴

سُوْرَةُ الْقَمَرِ مَكِّيَّةٌ وَّهِيَ مَعَ الْبَسْمَلَةِ سِتٌّ وَّ خَمْسُوْنَ اٰيَةً وَّ ثَلٰثُ رُكُوْعٍ

سورۃ قمر یہ سورۃ مکی ہے۔ اور بسم اللہ سمیت اس کی پچپن آیات ہیں اور تین رکوع ہیں

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ (شروع) اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔ (کفار کو ہوشیار کر دو کہ) قیامت قریب آگئی اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ ۝۱ اور عرب کی تباہی کی گھڑی آگئی ہے اور چاند پھٹ گیا ہے۔ وَ اِنْ يَّرَوْا اٰيَةً يُّعْرِضُوْا وَ يَقُوْلُوْا سِحْرٌ اور اگر وہ کوئی نشان دیکھیں گے تو منہ موڑ لیں گے اور کہیں گے کہ مُّسْتَمِرٌّ ۝۲ یہ محض ایک دھوکا ہے جو ہمیشہ سے چلا آتا ہے۔ وَ كَذَّبُوْا وَاتَّبَعُوْا اَهْوَاءَهُمْ وَكُلُّ اَمْرٍ اور انھوں نے جھٹلایا اور اپنی خواہشات کے پیچھے چل پڑے اور ہر کام کے لیے مُّسْتَقِرٌّ ۝۳ ایک وقت مقرر ہوتا ہے۔ وَ لَقَدْ جَاءَهُمْ مِّنَ الْاَنْۢبَاءِ مَا فِيْهِ مُزْدَجَرٌ ۝۴ اور ان کے پاس ایسے حالات پہنچ چکے ہیں جن میں تنبیہ کا سامان موجود تھا۔ حِكْمَةٌۢ بَالِغَةٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُ ۝۵ نیز ایسی حکمت کی باتیں بھی تھیں جو اثر کرنے والی تھیں۔ مگر نافرمانوں کو ڈرانے والے نے ان کو کوئی فائدہ نہیں دیا۔ فَتَوَلَّ عَنْهُمْ ۘ يَوْمَ يَدْعُ الدَّاعِ اِلٰى پس تو ان سے منہ پھیر لے۔ اور اس دن کا انتظار کر کہ بلانے والا ایک شَيْءٍ نُّكُرٍ ۝۶ ناپسندیدہ چیز (یعنی عذاب) کی طرف ان کو پکارے گا۔ خُشَّعًا اَبْصَارُهُمْ يَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ كَاَنَّهُمْ ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی۔ وہ قبروں سے نکلیں گے جس طرح کہ

۱؎ عربوں کے نزدیک چاند عرب حکومت کا نشان تھا۔ چنانچہ یہود بھی یہی عقیدہ رکھتے تھے حضرت صفیہؓ جو ایک یہودی سردار کی بیٹی تھیں اور بعد میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں داخل ہوئیں۔ انھوں نے ایک دفعہ خواب میں دیکھا کہ ان کی گود میں چاند آ گرا ہے ۔ ان کے خاوند نے انھیں خوب طمانچے لگائے اور کہا کہ تو بادشاہِ یثرب سے شادی کرنا چاہتی ہے (اصابہ) پس چاند پھٹنے یعنی شق القمر کے ایک معنی یہ ہیں کہ ساتھ ہی عرب کی تباہی کی ساعت آ گئی ہے۔ بدر و حنین میں عرب کی حکومت کا غرور پاش پاش ہو گیا ہے۔ مفسرین نے غلطی سے اس کے یہ معنی کیے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ معجزہ دکھایا تھا کہ چاند کی طرف اشارہ کیا تو وہ حقیقتاً جسمانی طور پر پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا۔ یہ محض ان کا مغالطہ ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو عرب کے سب حصوں میں اور دنیا کے سب حصوں میں ایسا نظر آتا بلکہ نظام شمسی کے لیے مہلک ثابت ہوتا۔ کیونکہ وہ اسی صورت میں قائم رہ سکتا ہے جبکہ اس کے سب سیارے اپنی اپنی جگہ ٹھیک ہیں پھر کسی صحابی نے بھی جو اس وقت اس مجلس میں موجود تھا یہ شہادت نہیں دی کہ چاند جسمانی طور پر پھٹ گیا تھا علامہ ابنِ رشد کا قول ہے کہ فطرتِ کائنات میں کوئی تغیر نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ خرقِ عادت ہمیشہ بے ثبوت کے مدعی کہتے چلے آئے ہیں۔ ۵؎ قرآن مجید نے ڈرانے والوں کو کہا ہے۔ حالانکہ ڈرانے والا ایک ہی تھا۔ یہ جمع باعتبارِ امت کے ہے یا اس لیے کہ آپؐ کی ذات میں سب رسول جمع ہیں۔

تفسیر صغیر صفحہ 706 از مرزا بشیر الدین محمود یہ حوالہ صفحہ 156 پر درج ہے

صفحہ 669

حوالہ نمبر 173

دافع الوساوس ۴۲ مقدمہ

مسیح اپنے خواص میں عام انسانوں کے خواص بلکہ تمام انبیاء کے خواص سے مستثنیٰ اور نِرالہ ہے کیونکہ جبکہ ایک افضل البشر جو مسیح سے چھ سو برس پیچھے آیا تھوڑی سی عمر پاکر فوت ہو گیا اور تیرہ سو برس اُس نبی کریمؐ کے فوت ہونے پر گزر بھی گئے مگر مسیح اب تک فوت ہونے میں نہیں آیا۔ تو کیا اِس سے یہی ثابت ہوا یا کچھ اور کہ مسیح کی حالت لوازمِ بشریّت سے بڑھی ہوئی ہے۔ پس حال کے علماء اگرچہ بظاہر صورتِ شرک سے بیزاری ظاہر کرتے ہیں مگر مشرکوں کو مدد دینے میں کوئی دقیقہ اُنہوں نے اُٹھا نہیں رکھا۔ غضب کی بات ہے کہ اللہ جلشانہ تو اپنی پاک کلام میں حضرت مسیح کی وفات ظاہر کرے اور یہ لوگ ابتک اُسکو زندہ سمجھکر ہزارہا اور بیشمار فتنہ اسلام کے لئے برپا کر دیں اور مسیح کو آسمان کا حی و قیوم اور سیّد الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو زمین کا مُردہ ٹھہراویں حالانکہ مسیح کی گواہی قرآن کریم میں اِس طرح پر لکھی ہے کہ مُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنۡ بَعْدِی اسْمُهٗ اَحْمَدُ یعنی میں ایک رسول کی بشارت دیتا ہوں جو میرے بعد یعنی میرے مرنے کے بعد آئے گا اور نام اُس کا احمد ہوگا۔ پس اگر مسیح اب تک اِس عالمِ جسمانی سے گذر نہیں گیا تو اِس سے لازم آتا ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اب تک اِس عالم میں تشریف فرما نہیں ہوئے کیونکہ نص اپنے کھلے کھلے الفاظ سے بتلا رہی ہے کہ جب مسیح اِس عالم جسمانی سے رخصت ہو جائے گا تب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اِس عالمِ جسمانی میں تشریف لائیں گے۔ وجہ یہ کہ آیت میں آنے کے مقابل پر جانا بیان کیا گیا ہے اور ضرور ہے کہ آنا اور جانا دونوں ایک ہی رنگ کے ہوں۔ یعنی ایک اُس عالم کی طرف چلا گیا اور ایک اِس عالم کی طرف سے آیا۔ پھر دوسری گواہی حضرت مسیح کی اُن کی وفات کے بارے میں آیت فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ میں بھی صریح درج ہے جس کی آنکھیں

؎ الصف : ۶

یہ حوالہ صفحہ 156 پر درج ہے آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 42 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 42 از مرزا قادیانی

صفحہ 670

حوالہ نمبر 174

انوار العلوم جلد ۳ ۸۷ انوار خلافت

ذریعہ سے یہ نام بتایا گیا ہوتا تو قرآن کریم میں جو وحی الٰہی ہے اول تو احمد نام ہی آتا اور اگر محمدؐ بھی آتا تو احمد بعض مقامات پر ضرور آتا۔ وہ عجیب الہامی نام تھا کہ قرآن کریم اس نام سے ایک دفعہ بھی آنحضرت ﷺ کو نہیں پکارتا۔ دوسری دلیل آپ کا نام احمد نہ ہونے کی یہ ہے کہ کسی حدیث سے یہ ثابت نہیں کہ آپ کا نام احمد تھا۔ کلمہ شہادت جس پر اسلام کا مدار و دار ہے اس میں بھی محمد رسول اللہ کہا جاتا ہے کبھی احمد رسول اللہ نہیں کہا جاتا حالانکہ اگر آپ کا نام احمد ہوتا تو کلمہ شہادت کی کوئی روایت تو یہ بھی ہوتی کہ اَشْہَدُ اَنَّ اَحْمَدَ رَّسُوْلُ اللّٰہِ پنجوقتہ اذان میں بھی بہ بانگ بلند مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ کہہ کر آپ کی رسالت کا اعلان کیا جاتا ہے۔ کبھی احمد رسول اللہ نہیں کہا جاتا۔ تکبیر میں بھی محمدؐ ہی آنحضرت کا نام آتا ہے اور درود میں بھی آنحضورؐ کو محمدؐ نام لے کر ہی یاد کیا جاتا ہے اور اسی نام کے رسول پر خدا تعالیٰ کی رحمتیں بھیجی جاتی ہیں۔ رسول کریم ﷺ کے خطوط کی نقلیں موجود ہیں ان سب میں آپ نے اپنے دستخط کی جگہ محمدؐ نام کی ہی مہر لگائی ہے۔ ایک خط میں بھی احمد اپنا نام تحریر نہیں فرمایا۔ پھر صحابہ کرامؓ کی گفتگو احادیث میں مذکور ہیں لیکن ایک دفعہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ کسی صحابی نے آنحضرت ﷺ کو احمد کہہ کر پکارا ہو اور نہ ان کی آپس کی گفتگو میں ہی یہ نام آتا ہے نہ تاریخ سے ثابت ہے کہ آپ کا نام احمد رکھا گیا تھا۔ بلکہ تاریخ سے بھی یہی ثابت ہے کہ آپ کا نام محمدؐ رکھا گیا تھا۔ آپ کے مخالف جس قدر تھے جن میں خود آپ کے رشتہ دار اور چچا بھی شامل تھے سب آپ کو محمد ﷺ نام سے پکارتے تھے یا شرارت سے مذمم کہہ کر پکارتے تھے کہ وہ بھی محمدؐ کے وزن پر ہے۔ غرض جس قدر بھی غور کریں اور فکر کریں آپ کا نام قرآن کریم سے، احادیث سے، کلمہ، اذان سے، تکبیر سے، درود سے، آپ کے خطوط سے، معاہدات سے، تاریخ سے، صحابہؓ کے اقوال سے محمدؐ ہی معلوم ہوتا ہے نہ کہ احمد۔ پھر اس قدر دلائل کے ہوتے ہوئے کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ آپ کا نام احمد تھا۔ اگر احمد بھی آپ کا نام ہوتا تو مذکورہ بالا مقامات میں محمدؐ نام کے ساتھ آپ کا نام احمد بھی آتا اور کچھ نہیں تو ایک ہی جگہ احمد نام سے آپ کو پکارا جاتا یا کلمہ شہادت میں بجائے اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدً رَّسُوْلُ اللّٰہِ کے احمد رسول اللہ بھی پڑھنا جائز ہوتا مگر ایسا نہیں ہے نہ یہ بات رسول کریمؐ سے ثابت ہے اور نہ صحابہؓ سے۔ اب ان واقعات کے ہوتے ہوئے ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ آپ کا نام احمد نہ تھا۔

پس اس آیت میں جس رسول احمد نام والے کی خبر دی گئی ہے وہ آنحضرت ﷺ نہیں

انوار خلافت صفحہ 23 مندرجہ انوار العلوم جلد 3 صفحہ 87 ، 88 از مرزا بشیر الدین محمود | حوالہ صفحہ 157 پر درج ہے

صفحہ 671

حوالہ نمبر 174

انوار العلوم جلد - ۲ ۸۸ انوار خلافت

ہو سکتے ہاں اگر وہ تمام نشانات جو اس احمد نام رسول کے ہیں آپ کے وقت میں پورے ہوں تب بیشک ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس آیت میں احمد نام سے مراد احمدیت کی صفت کا رسول ہے کیونکہ سب نشانات جب آپ میں پورے ہو گئے تو پھر کسی اور پر اس کے چسپاں کرنے کی کیا وجہ ہے لیکن یہ بات بھی نہیں جیسا کہ میں آگے چل کر ثابت کروں گا۔ دوسری صورت یہ تھی کہ اِسْمُہٗ اَحْمَدُ والی پیشگوئی میں کوئی ایسا لفظ ہوتا جس کی وجہ سے ہم کسی غیر پر اسے چسپاں نہ کر سکتے مثلاً یہ لکھا جاتا کہ وہ خاتم النبیین ہو گا اور چونکہ خاتم النبیین صرف رسول کریم ہی ہیں اور ایک ہی شخص خاتم النبیین ہو سکتا ہے اس لئے ہم کہہ سکتے تھے کہ گو بعض نشانات آپ کے وقت میں اپنے ظاہر الفاظ میں پورے نہیں ہوئے لیکن جبکہ ایک ایسی صریح علامت موجود ہے جو آپ کے سوا کسی اور میں پائی ہی نہیں جا سکتی تو ان باتوں کی کوئی اور تاویل ہو گی اور بہرحال یہ پیشگوئی آپ پر ہی چسپاں ہوتی ہے لیکن یہ بات بھی نہیں۔ اس پیشگوئی میں کوئی ایسا لفظ نہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ یہ پیشگوئی خاتم النبیین کے متعلق ہے۔ نہ کوئی اور ایسا لفظ ہے جس کی وجہ سے ہمیں یہ پیشگوئی ضرور آنحضرت ﷺ پر چسپاں کرنی پڑے۔ سوم باوجود آپ کا نام احمد نہ ہونے کے آپ پر یہ پیشگوئی چسپاں کرنے کی یہ وجہ ہو سکتی تھی کہ آپ نے خود فرمایا ہوتا کہ اس آیت میں جس احمد کا ذکر ہے وہ میں ہی ہوں لیکن احادیث سے ایسا ثابت نہیں ہوتا نہ سچی نہ جھوٹی نہ وضعی نہ قوی نہ ضعیف نہ مرفوع نہ مرسل کسی حدیث میں بھی یہ ذکر نہیں کہ آنحضرت ﷺ نے اس آیت کو اپنے اوپر چسپاں فرمایا ہو اور اس کا مصداق اپنی ذات کو قرار دیا ہو۔ پس جب یہ بھی بات نہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ ہم خلاف مضمون آیت کے اس پیشگوئی کو آنحضرت ﷺ پر چسپاں کریں۔ ایک چوتھی مجبوری بھی ہو سکتی تھی جس کی وجہ سے ہم یہ آیت رسول کریم ﷺ پر چسپاں کرنے کے لئے مجبور تھے اور وہ یہ کہ انجیل میں صرف ایک ہی نبی احمد کی خبر دی گئی ہوتی۔ اس صورت میں واقعہ میں مشکل تھی کہ اگر اس پیشگوئی کو ہم کسی اور شخص پر چسپاں کر دیتے تو رسول کریم مسیح کے موعود نہ رہتے حالانکہ قرآن کریم سے ثابت ہے کہ آپ حضرت مسیح ناصری کے موعود ہیں۔ لیکن انجیل میں ہم دو نبیوں کے آنے کی خبر پاتے ہیں۔ ایک وہ نبی جو تمام نبیوں کا موعود ہے اور جس کا آنا گویا خدا تعالیٰ کا آنا قرار دیا گیا ہے۔ اور دوسرے مسیح کی دوبارہ آمد۔ اور بتایا گیا ہے کہ پہلے ”وہ نبی“ آئے گا۔ پھر مسیح دوبارہ آئے گا اور ان دونوں پیشگوئیوں میں

یہ حوالہ صفحہ 157 پر درج ہے انوار خلافت صفحہ 23 مندرجہ انوار العلوم جلد 3 صفحہ 87، 88 از مرزا بشیر الدین محمود

صفحہ 672

حوالہ نمبر 175

ازالہ اوہام ۴۰۷ حصہ دوم

۵۱۵ پھر صفحہ ۵۳۹ میں فرماتے ہیں کہ اس بات پر تمام سلف وخلف کا اتفاق ہو چکا ہے کہ عیسیٰ جب نازل ہوگا تو اُمّتِ محمدیہ میں داخل کیا جائے گا۔ اور فرماتے ہیں قسطلانی نے بھی مواہب لدنیہ میں یہی لکھا ہے اور عجیب تر یہ کہ وہ اُمّتی بھی ہو گا اور پھر نبی بھی۔ لیکن افسوس کہ مولوی صاحب مرحوم کو یہ سمجھ نہ آیا کہ صاحبِ نبوتِ تامہ ہرگز اُمّتی نہیں ہو سکتا۔ اور جو شخص کامل طور پر رسول اللہ کہلاتا ہے وہ کامل طور پر دوسرے نبی کا مطیع اور اُمّتی ہو جانا نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کے رو سے بکلی ممتنع ہے اللہ جلّشانہ فرماتا ہے ومآ ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن اللہ لہ یعنی ہر ایک رسول مطاع اور امام بنانے کے لئے بھیجا جاتا ہے۔ اس غرض سے نہیں بھیجا جاتا کہ کسی دوسرے کا مطیع اور تابع ہو۔ ہاں محدّث جو مرسلین میں سے ہے اُمّتی بھی ہوتا ہے اور ناقص طور پر نبی بھی۔ اُمّتی وہ اس وجہ سے کہ وہ بکلی تابع شریعتِ رسول اللہ اور مشکوٰۃِ رسالت سے فیض پانے والا ہوتا ہے اور نبی اس وجہ سے کہ خدا تعالیٰ نبیوں کا سا معاملہ اس سے کرتا ہے اور محدّث کا وجود انبیاء اور اُمم میں بطور برزخ کے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔ وہ اگرچہ کامل ۵۱۶ طور پر اُمّتی ہے مگر ایک وجہ سے نبی بھی ہوتا ہے اور محدّث کے لئے ضروری ہے کہ وہ کسی نبی کا مثیل ہو اور خدا تعالیٰ کے نزدیک وہی نام پاوے جو اس نبی کا نام ہے۔

اب سمجھنا چاہئے کہ چونکہ مقدّر تھا کہ آخری زمانہ میں نصاریٰ اور یہود کے خیالات باطلہ زہرِ ہلاہل کی طرح تمام دنیا میں سرایت کر جائیں گے اور نہ ایک راہ سے بلکہ ہزاروں راہوں سے اُن کا بد اثر لوگوں پر پہنچے گا اور اس زمانہ کے لئے پہلے ہی احادیث میں خبر دی گئی تھی کہ عیسائیت اور یہودیت کی بُری خصلتیں یہاں تک غلبہ کریں گی کہ مسلمانوں پر بھی اس کا سخت اثر ہوگا مسلمانوں کا طریقہ مسلمانوں کا شعار مسلمانوں کی وضع بکلی یہود و نصاریٰ سے مشابہ ہو جائے گی اور جو عادتیں یہود اور نصاریٰ کو پہلے ہلاک کر چکی ہیں وہی عادتیں اسبابِ تباہی کے پیدا ہو جانے کیوجہ سے مسلمانوں میں آجائیں گی

لہ نساء : ۶۵

ازالہ اوہام صفحہ 569 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 407 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 157 پر درج ہے

صفحہ 673

حوالہ نمبر 176

انوار العلوم جلد ۲ ۴۷۲ حقیقۃ النبوۃ (حصہ اول)

اظہار علی الغیب کا درجہ یعنی جس درجہ محبت کو حاصل کر کے انسان کو غیب الٰہی پر غلبہ حاصل ہو جاتا ہے جس کے معنی کثرت کے ہیں اسی کا نام رسالت اور نبوت ہے اور کہہ سکتے ہیں کہ نبوت اظہار علی الغیب کے مقام کا نام ہے جس کا اردو میں ترجمہ رازدار ہو گا جس طرح کہہ سکتے ہیں کہ نبی کے سوا کسی کو اظہار علی الغیب کا رتبہ نہیں مل سکتا۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ نبوت کی تعریف اور اس کے حصول کا طریق اللہ تعالٰی نے قرآن کریم میں صاف طور پر بیان کر دیا ہے اور بتا دیا ہے کہ یہ ایک انسانی کمال کا رتبہ ہے جس پر پہنچ کر انسان غیب الٰہی سے واقف کیا جاتا ہے اور اس سے پہلے مراتب صالح شہید اور صدیق کے ہیں اور رسول اس درجہ کے پانے والے کو اس لئے کہتے ہیں کہ وہ خدا تعالٰی کی طرف سے بھیجا جاتا ہے اور نبی اس لئے کہ وہ غیب کی اخبار لوگوں کو بتاتا ہے اور چونکہ قوت ایمانی اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتی جب تک دلائل و براہین ساتھ نہ ہوں اس لئے بھی اللہ تعالٰی اپنے ایسے بندوں کو جن کو رسول کرتا ہے اظہار علی الغیب کا رتبہ دیتا ہے۔ اس طرح ان کے اپنے ایمان تازہ رہیں وہ لوگوں کے ایمان بھی تازہ کر سکیں۔

یہ باتیں میں نے بطور اختصار اس لئے بتائی ہیں تاکہ معلوم ہو جائے کہ قرآن کریم ایک کامل کتاب ہے اور اس نے ہر ایک ضروری بات بیان کر دی ہے۔ اور یہ بات غلط ہے کہ اس نے نبی کی تعریف نہیں کی اس نے خود نبی کی تعریف اور اس کے شرائط اور اس کا درجہ بیان کر دیا ہے اور جو کچھ اس نے بیان فرمایا ہے اس کی رو سے حضرت مسیح موعود کی نبوت ثابت ہے قرآن کریم میں اللہ تعالٰی نے ہرگز شریعت لانے یا نہ لانے کی شرط نہیں لگائی اور میں خیال کرتا ہوں کہ جو لوگ حضرت مسیح موعود کی نبوت کے منکر ہیں انہوں نے آج تک اس بات پر غور ہی نہیں کیا کہ نبوت چیز کیا ہے اور نبی کون ہوتا ہے؟ ورنہ اگر وہ قرآن کریم پر تدبر کرتے تو ان کو معلوم ہو جاتا کہ حضرت مسیح موعود نبی تھے اور ان کے نبی ہونے میں کوئی شک نہیں۔

بعض نادان کہہ دیا کرتے ہیں کہ نبی دوسرے نبی کا متبع نہیں ہو سکتا۔ اور اس کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ اللہ تعالٰی قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ (النساء: ۶۵) اور اس سے حضرت مسیح موعود کی نبوت کے خلاف استدلال کرتے ہیں۔ لیکن یہ سب سبب قلت تدبر ہے جب اللہ تعالٰی خود دوسری جگہ فرماتا ہے کہ اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنَا التَّوۡرٰىۃَ فِیۡہَا ہُدًی وَّ نُوۡرٌ ۚ یَحۡکُمُ بِہَا النَّبِیُّوۡنَ (المائدہ: ۴۵) یعنی ہم نے توریت اتاری ہے جس میں ہدایت و نور ہے اس

حقیقۃ النبوۃ حصہ اول مندرجہ انوار العلوم جلد 2 صفحہ 472 از مرزا بشیر الدین محمود یہ حوالہ صفحہ 158 پر درج ہے

صفحہ 674

حوالہ نمبر 177

۲۴۹

نشان ظاہر ہوئے تب اُنہوں نے کہا کہ اب قبول کرنے سے مرنا بہتر ہے۔ غرض فطرت سلیمہ کو صادق کے صدق کو شناخت کرنا سعید دل کا کام ہے اور نشان طلب کرنا نہایت منحوس طریق اور اشقیاء کا شیوہ ہے جسکی وجہ سے کروڑ ہا متکبر جہنمی ہو چکے ہیں خدائے تعالٰی اپنی سُنت کو نہیں بدلتا۔ وہ جیسا کہ اُس نے فرمادیا ہے اُنہی کو ایمان و ایقان بخشتا ہے جو زیادہ ضد نہیں کرتے۔ اور قرائنِ مرجحہ کو دیکھ کر اور علاماتِ صدق پا کر صادق کو قبول کر لیتے ہیں اور صادق کا کلام صادق کی راستبازی صادق کی استقامت اور خود صادق کا منہ اُن کے نزدیک اُس کے صدق پر گواہ ہوتا ہے۔ مبارک وہ جن کو مردم شناسی کی عقل دیجاتی ہے۔ ماسوا اسکے جو شخص ایک نبی متبوع علیہ السلام کا متبع ہے اور اُسکے فرمودہ پر اور کتاب اللہ پر ایمان لاتا ہو اُسکی آزمائش انبیاء کی آزمائش کی طرح کرنا ایک قسم کی ناسمجھی ہے کیونکہ انبیاء اسلئے آتے ہیں کہ تا ایک دین سے دوسرے دین میں داخل کریں اور ایک قبلہ سے دوسرا قبلہ مقرر کراویں اور بعض احکام کو منسوخ کریں اور بعض نئے احکام لاویں لیکن اسجگہ تو ایسے انقلاب کا دعویٰ نہیں ہے وہی اسلام ہے جو پہلے تھا۔ وہی نمازیں ہیں جو پہلے تھیں۔ وہی رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم جو پہلے تھا اور وہی کتابِ کریم ہے جو پہلے تھی۔ اصل دین میں سے کوئی ایسی بات چھوڑی نہیں پڑی جس سے اسقدر حیرانی ہو۔ مسیح موعود کا دعویٰ اِس حالت میں گراں اور قابلِ احتیاط ہوتا کہ جبکہ اِس دعویٰ کے ساتھ نعوذ باللہ کچھ دین کے احکام کی کمی بیشی ہوتی اور ہماری عملی حالت دوسرے مسلمانوں سے کچھ فرق رکھتی۔ اب جبکہ ان باتوں میں سے کوئی بھی نہیں۔ صرف مابہ النزاع حیاتِ مسیح اور وفاتِ مسیح ہے اور مسیح موعود کا دعویٰ اِس مسئلہ کی درحقیقت ایک فرع ہے اور اِس دعویٰ سے مراد کوئی عملی انقلاب نہیں اور نہ اسلامی اعتقادات پر اس کا کچھ مخالفانہ اثر ہے تو کیا اس دعویٰ کے تسلیم کرنے کیلئے کسی بڑے معجزہ یا کرامت کی حاجت ہے جس کا مانگنا رسالت کے دعویٰ میں منکروں کا قدیم شیوہ ہے۔ ایک مسلمان جسے تائیدِ اسلام کیلئے خدائے تعالٰی نے بھیجا جس کے مقاصد یہ ہیں کہ تا دینِ اسلام کی خوبیاں لوگوں پر ظاہر کرے اور آجکل کے فلسفی وغیرہ الزاموں سے اسلام کا پاک ہونا ثابت کر دیوے اور مسلمانوں کو اللہ اور رسول کی محبت کی طرف بجمع دل لائے کیا اس کا قبول کرنا ایک منصف مزاج اور خدا ترس آدمی پر کوئی مشکل امر ہے ؟ *

آئینہ کمالات اسلام صفحہ 339 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 339 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 158 پر درج ہے

صفحہ 675

حوالہ نمبر 178 انوار العلوم جلد ۲ ۴۵۴ حقیقت النبوۃ (حصہ اول)

کی ایک تعریف کر دی ہے تو نہایت نادان ہے وہ جو اب بھی ٹھوکر کھاتا ہے جب سورج چڑھ گیا تو پھر ٹھوکریں کھانا آنکھوں والوں کا کام نہیں۔ پس اپنی آنکھیں کھولو اور دیکھو کہ سورج نصف النہار میں آگیا۔ اللہ تعالیٰ اپنی عظمت کا اظہار کر رہا ہے اور اپنی طاقت کا جلوہ دکھاتا ہے اس کے جلال کا اقبال کرو اور اس کی پکار کا جواب دو جو اس کا نبی مسیح موعود ہے جس نے اپنے سب کمالات آنحضرت ﷺ کے طفیل سے اور آپ کے واسطہ سے پائے، پس کیا ہی مبارک ہے وہ جس نے اس قدر فیضان کا دریا بہا دیا۔ اور کیا ہی مبارک ہے وہ جس نے اس فیضان کو اپنے اندر لے لیا۔ اور اس قدر وسیع ہوا کہ ظلی طور پر کل کمالات محمدیہ کو پالیا۔

آہ ! کیا ہی قابل افسوس اور جائے تعجب وحیرت ہے یہ امر کہ وہ غلطی جو اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود کی معرفت دور کروائی تھی اور وہ حقیقت جو اس کے ذریعے دنیا پر روشن کی تھی اسی غلطی کا مرتکب احمدی جماعت کا ایک حصہ ہو رہا ہے اور اسی حقیقت کا منکر اس کے پیروؤں کا ایک گروہ ہو رہا ہے۔ نادان مسلمانوں کا خیال تھا کہ نبی کے لئے یہ شرط ہے کہ وہ کوئی نئی شریعت لائے یا پہلے احکام میں سے کچھ منسوخ کرے یا بلا واسطہ نبوت پائے لیکن اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود کے ذریعہ اس غلطی کو دور کر دیا اور بتایا کہ یہ تعریف قرآن کریم میں تو نہیں۔ قرآن کریم تو یہ فرماتا ہے کہ فَلَا يُظْهِرُ عَلٰى غَيْبِهٖ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ پھر تم کیوں نبی کے لئے ایسی شرائط مقرر کرتے ہو جو اس کے لئے خدائے تعالیٰ نے مقرر نہیں کیں اس نے قرآن کریم سے ثابت کیا کہ نبوت کی وہی تعریف ہے جو وہ کرتا ہے اس نے اعلان کیا کہ خدا کے حکم کے ماتحت میں یہ تعریف کرتا ہوں اس نے اس تعریف کے قبول نہ کرنے والوں کو ڈانٹا اور زجر کیا اور کہا کہ تم اپنی نادانی اور جہالت سے نبی کی غلط تعریف کر رہے ہو نبی کے لئے شریعت لانا ضروری نہیں نبوت تو ایک موہبت ہے جس میں شریعت لانے نہ لانے کا کوئی دخل نہیں اور لکھا کہ:

"نبی اس کو کہتے ہیں جو خدا کے الہام سے بکثرت آئندہ کی خبریں دے مگر ہمارے مخالف مسلمان مکالمہ الٰہیہ کے قائل ہیں لیکن اپنی نادانی سے ایسے مکالمات کو جو بکثرت پیشگوئیوں پر مشتمل ہوں نبوت کے نام سے موسوم نہیں کرتے"

(چشمہ معرفت صفحہ ۱۸۰، ۱۸۱ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۱۸۹)

لیکن افسوس کہ باوجود اس کے مسیح موعود نے اس باطل اور بلا دلیل عقیدہ کی تردید کر دی جس میں اس وقت کے مسلمانوں کا ایک کثیر حصہ مبتلاء تھا لیکن خود مسیح موعود کی جماعت میں سے

حقیقت النبوۃ (حصہ اول) مندرجہ انوار العلوم جلد 2 صفحہ 454 از مرزا بشیر الدین محمود

یہ حوالہ صفحہ 158 پر درج ہے

صفحہ 676

حوالہ نمبر 179

۴۹۸

نشان آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئے ہیں۔ اور اُن ہدایتوں کے بھیجنے والے کے منہ پر ہمیشہ کے لئے مہر لگ گئی ہے۔ مَیں جانتا ہوں کہ ہر ایک انسان جو سچی بھوک اور پیاس خدا تعالیٰ کی طلب میں رکھتا ہے وہ ایسا خیال ہرگز نہیں کریگا۔ اِس لئے ضروری ہے کہ سچے مذہب کی یہی نشانی ہو کہ زندہ خدا کے زندہ نمونے اور اُس کے نشانوں کے چمکتے ہوئے نُور اُس مذہب میں تازہ بتازہ موجود ہوں۔ اگر ہماری گورنمنٹ عالیہ ایسا جلسہ کرے تو یہ نہایت مبارک ارادہ ہے۔ اور اِس سے ثابت ہوگا کہ یہ گورنمنٹ سچائی کی حامی ہے۔ اور اگر ایسا جلسہ ہو تو ہر ایک شخص اپنے اختیار سے اور ہنسی خوشی سے اِس جلسہ میں داخل ہو سکتا ہے۔ قوموں کے پیشوا جنہوں نے مقدس کہلا کر کروڑہا روپیہ قوموں کا کھا لیا ہے۔ ان کے تقدس کو آزمانے کے لئے اِس سے بڑھ کر اور کوئی عمدہ طریق نہیں ہو سکتا یا اُن کے مذہب کا خدا کے ساتھ رشتہ ہے اِس رشتہ کا زندہ ثبوت مانگا جائے۔ یہ عاجز اپنے دلی جوش سے جو ایک پاک جوش ہے یہی چاہتا ہے کہ ہماری محسن گورنمنٹ کے ہاتھ سے یہ فیصلہ ہو۔ خدایا اِس عالی مرتبہ گورنمنٹ کو یہ الہام کر۔ تا وہ اِس قسم کے جلسوں میں سب سے پیچھے آکر سب سے پہلے ہو جائے۔ اور مَیں چونکہ مسیح موعود ہوں۔ اِس لئے حضرت مسیح کی عادت کا رنگ مجھ میں پایا جانا ضروری ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام وہ انسان تھے جو مخلوق کی بھلائی کے لئے صلیب پر چڑھے۔ گو خدا کے رحم نے اُن کو بچا لیا۔ اور مرہم عیسیٰ ؑ نے اُن کے زخموں کو اچھا کر کے آخر

٭ مرہم عیسیٰ ایک نہایت مبارک مرہم ہے جس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زخم اچھے ہوئے تھے جبکہ آپ نے خدا تعالیٰ کے فضل سے سُولی سے نجات پائی تو صلیب کی کیلوں کے جو زخم تھے جن کو آپ نے حواریوں کو بھی دکھلایا تھا وہ اِسی مرہم سے اچھے ہوئے تھے۔ یہ مرہم طب کی ہزار کتاب میں درج ہے اور قانون بوعلی سینا میں بھی مندرج ہے اور رومیوں اور یونانیوں اور عیسائیوں اور یہودیوں اور مسلمانوں غرض تمام فرقوں کے طبیبوں نے اِس مرہم کو اپنی کتابوں میں لکھا ہے۔ منہ

۳۷۰

تریاق القلوب صفحہ 371 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 498، 499 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 159 پر درج ہے

صفحہ 677

حوالہ نمبر 179

۴۹۹

کشمیر جنت نظیر میں اُن کو پہنچا دیا۔ سو انھوں نے سچائی کے لئے صلیب سے پیار کیا۔ اور اس طرح اُسپر چڑھ گئے جیسا کہ ایک بہادر سوار خوش عنان گھوڑے پر چڑھتا ہے۔ سو ایسا ہی میں بھی مخلوق کی بھلائی کے لئے صلیب سے پیار کرتا ہوں۔ اور میں یقین رکھتا ہوں کہ جس طرح خدا تعالیٰ کے فضل اور کرم نے حضرت مسیح کو صلیب سے بچا لیا۔ اور اُنکی تمام رات کی دُعا جو باغ میں کی گئی تھی قبول کر کے اُنکو صلیب اور صلیب کے نتیجہ سے نجات دی۔ ایسا ہی مجھے بھی بچائے گا۔ اور حضرت مسیح صلیب سے نجات پا کر نصیبین کی طرف آئے اور پھر افغانستان کے ملک میں ہوتے ہوئے کوہ نعمان میں پہنچے۔ اور جیسا کہ اُس جگہ شہزادہ نبی کا چبوترا ابتک گواہی دے رہا ہے۔ وہ ایک مدت تک کوہ نعمان میں رہے۔ اور پھر اس کے بعد پنجاب کی طرف آئے۔ آخر کشمیر میں گئے اور کوہ سلیمان پر ایک مدت تک عبادت کرتے رہے۔ اور سکھوں کے زمانہ تک اُنکی یادگار کا کوہ سلیمان پر کتبہ موجود تھا آخر سری نگر میں ایک سو بیس برس کی عمر میں وفات پائی اور خان یار کے محلہ کے قریب آپ کا مقدس مزار ہے۔ غرض جیسا کہ اس نبی نے سچائی کے لئے صلیب کو قبول کیا ایسا ہی میں بھی قبول کرتا ہوں۔ اگر اس جلسہ کے بعد جس کی گورنمنٹ محسنہ کو ترغیب دیتا ہوں ایک سال کے اندر میرے نشان تمام دُنیا پر غالب نہ ہوں تو میں خدا کی طرف سے نہیں ہوں۔ میں راضی ہوں کہ اس جُرم کی سزا میں سولی دیا جاؤں اور میری ہڈیاں توڑی جائیں۔ لیکن وہ خدا جو آسمان پر ہے جو دل کے خیالات کو جانتا ہے جس کے الہام سے میں نے اس عریضہ کو لکھا ہے۔ وہ میرے ساتھ ہوگا۔ اور میرے ساتھ ہے۔ وہ مجھے اس گورنمنٹ عالیہ اور قوموں کے سامنے شرمندہ نہیں کریگا۔ اُسی کی رُوح ہے جو میرے اندر بولتی ہے۔ میں نہ اپنی طرف سے بلکہ اُس کی طرف سے یہ پیغام پہنچا رہا ہوں تا حسب وعدہ اتمام حجت کیا جائے

۴۷۹

تریاق القلوب صفحہ 371 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 498، 499 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 159 پر درج ہے

صفحہ 678

حوالہ نمبر 180 تفسیر کبیر ۱۹۴

یہ بات غلط ہے کہ لوگوں نے اسے قتل کر دیا تھا یا صلیب پر لٹکا کر اُسے لعنتی ثابت کر دیا تھا۔ وہ قتل سے بھی محفوظ رہا تھا اور صلیب سے بھی محفوظ رہا تھا۔ بیشک دوست و دشمن نے اُسے لعنتی ثابت کرنا چاہا مگر خدا نے اُسے عزت دی اور دشمن کو اُنکے ارادوں میں ناکام کر دیا۔

آخر میں حضرت مسیح فرماتے ہیں۔ یہ اس لئے ہوگا ۔ کہ ” وہ میری چیزوں سے پاوے گا“ اور تمہیں دکھاوے گا۔ میری چیزوں سے پانے کا یہ مفہوم نہیں کہ وہ مسیح کا متبع ہوگا۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ اُسے وہ تعلیم ملے گی جس میں تمام انبیاء کی تعلیمیں شامل ہونگی۔ نوح کی تعلیم بھی اس میں موجود ہوگی ابراہیم کی تعلیم بھی اُس میں موجود ہوگی۔ موسیٰ کی تعلیم بھی اُس میں موجود ہوگی اور میری یعنی عیسیٰ کی تعلیم بھی اُس میں موجود ہوگی اور اس طرح اُس کی تعلیم جامع ہوگی تمام سابق انبیاء کی تعلیمات کی اور پھر وہ کتاب ایسی ہوگی جو ”تمہیں دکھاوے گی“ یعنی اُس میں صرف زبانی باتیں نہیں ہونگی بلکہ عملی طور پر وہ تمام سچائیوں کو روشن کر کے دنیا پر اُن کو واضح کر دیگی۔ یہ پیشگوئیاں صاف طور پر بتاتی ہیں کہ حضرت مسیح کے بعد ایک ایسے وجود نے ابھی آنا تھا جو مسیح سے زیادہ کامل ہوتا ۔ اور یہی مقدر یہ تھا کہ وہ ایک ایسی جامع اور بے مثل کتاب اپنے ساتھ لاتا جس میں تمام سچائیاں جمع ہوتیں۔ جس میں شروع سے لیکر آخر تک حقائق کا کلام ہوتا اور پھر عملی طور پر وہ کتاب تمام سچائیوں کو روشن کرنے والی ہوتی ۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر حضرت مسیح نے واقعہ میں ساری دنیا کے گناہ اٹھانے تھے ، مگر دنیا کی نجات کے لئے اُن پر ایمان لانا کافی تھا اور اگر انسانی نجات کا آخری نقطہ وہی تھے تو ساری سچائیاں انہیں بتانی چاہئیں تھیں ۔ مگر وہ تو کہتے ہیں میں سب سچائیاں نہیں بتا سکتا ۔ اُن کو میرے بعد آنے والا بتائیگا۔ جس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ حضرت مسیح ناصری کے نزدیک اُن کا اپنا وجود پیدائش عالم کا آخری نقطہ نہیں تھا۔ بلکہ بعد میں ایک اور وجود اس شرف اور عظمت کا مستحق تھا۔

پانچویں اگر حضرت مسیح کفارہ ہوئے ہیں تو اُن کا کفارہ ہونا اسی صورت میں تسلیم کیا جاسکتا ہے جب وہ خوشی اور انتہائی بشاشت کے ساتھ کفارہ ہوئے ہوں جس شخص کو بزور صلیب پر لٹکا دیا جائے اُس کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ اپنی خوشی سے لوگوں کے لئے قربان ہوا ہے۔ پھر حضرت مسیح واقعہ میں کفارہ ہونے کے لئے دنیا میں تشریف لائے تھے تو چاہئے تھا کہ وہ دوڑ کر صلیب پر چڑھتے اور خوش ہوتے کہ غرض جس کے لئے میں آیا تھا وہ آج پوری ہو رہی ہے۔ مگر بائیبل میں لکھا ہے جب انہیں پتہ لگا کہ آج مجھے صلیب پر لٹکایا جانے والا ہے تو انہوں نے ساری رات دعائیں کرتے ہوئے گزار دی اور اپنے حواریوں سے بھی بار بار کہا کہ ”جاگو اور دعا مانگو تا کہ امتحان میں نہ پڑو۔“ حضرت مسیح ایک بیقراری کی حالت میں بار بار نیچے آتے اور دیکھتے کہ حواری دعائیں کر رہے ہیں یا نہیں ۔ مگر جب بھی آتے ، دیکھتے کہ وہ سو رہے ہیں حضرت مسیح پھر اُن کو جگاتے اور چلے جاتے ۔ پھر نیچے آتے اور دیکھتے کہ حواریوں کی کیا حالت ہے مگر پھر اُن کو سوتا پاتے ۔ آخر حضرت مسیح اُن پر ناراض ہوئے اور کہا کہ ” کیا تم میرے ساتھ ایک گھنٹہ نہیں جاگ سکے “ مگر شاگردوں پر پھر بھی کوئی اثر نہ ہوا ۔ اس دوران میں حضرت مسیح نے جس بیقراری اور اضطراب کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کیں اُن کا ذکر انجیل میں اس طرح آتا ہے :۔

” پھر یسوع اُن کے ساتھ گتسمنی نامی ایک مقام میں آیا اور شاگردوں سے کہا یہاں بیٹھو جب تک میں وہاں جا کر دعا مانگوں ۔ تب اُس نے پطرس اور زبدی کے دو بیٹوں کو ساتھ لئے اور غمگین اور نہایت دلگیر ہونے لگا ۔ تب اُس نے اُن سے کہا کہ میرا دل نہایت غمگین ہے بلکہ میری موت کی سی حالت ہے تم یہاں ٹھہرو اور میرے ساتھ جاگتے رہو اور کچھ آگے بڑھ کے منہ کے بل گرا اور دعا مانگتے ہوئے کہا کہ اے میرے باپ ! اگر ہو سکے

تفسیر کبیر جلد 9 صفحہ 194 از مرزا بشیر الدین محمود یہ حوالہ صفحہ 159 پر درج ہے

صفحہ 679

(حوالہ نمبر 181)

براہین احمدیہ ۶۶۲ ۱- باب

وہ جسمانی یا روحانی حاجتوں کے وقت مدد فرماتا ہے یعنی جسمانی صعوبتوں کے وقت بارش وغیرہ سے اور روحانی صعوبتوں کے وقت اپنا شفا بخش کلام نازل کرنے سے عاجز بندوں کی دستگیری کرتا ہے۔ سو یہ مقدمہ بدیہی الصداقت ہے کیونکہ کسی عاقل کو اس سے انکار نہیں کہ یہ دونوں سلسلے روحانی اور جسمانی اسی وجہ سے ابتک صحیح وسالم چلے آتے ہیں کہ خداوندکریم ہمیشہ نابود ہونے سے اُنکو محفوظ رکھتا ہے مثلاً اگر خدائے تعالیٰ جسمانی سلسلہ کی حفاظت نہ کرتا اور سخت قحطوں کے وقت میں بارانِ رحمت سے دستگیری نہ فرماتا تو بالآخر نتیجہ اس کا یہی ہوتا کہ لوگ پہلی فصلوں کی کسی قدر پیداوار کھا پی کر سب ۲۵۵ کھا لیتے اور پھر آگے اناج کے نہ ہونے سے تڑپ تڑپ کر مرجاتے اور نوع انسان کا

حاشیہ نمبر ۱ قرآن شریف وہ کتاب ہے جس نے اپنی عظمتوں اپنی حکمتوں اپنی صداقتوں اپنی بلاغتوں اپنے لطائف و نکات اپنے انوار روحانی کا آپ دعویٰ کیا ہے اور اپنا بے نظیر ہونا آپ ظاہر فرمایا ہے۔ یہ بات ہرگز نہیں کہ صرف مسلمانوں نے فقط اپنے خیال میں اُس کی خوبیوں کو قرار دیدیا ہے بلکہ وہ تو خود اپنی خوبیوں اور اپنے کمالات کو بیان فرماتا ہے اور

بقیہ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۲ آبَاءُهُمْ فَهُمْ غَافِلُونَ۔ اور اسی طرح ہم نے یوسف پر احسان کیا۔ تا ہم اس سے بدی اور فحش کو روک دیں اور تا تو ان لوگوں کو ڈراوے۔ جن کے باپ دادوں کو کسی نے نہیں ڈرایا۔ سو وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ اس جگہ یوسف کے لفظ سے یہی عاجز مراد ہے کہ جو باعتبار کسی روحانی مناسبت کے اطلاق پایا۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔ بعد اس کے فرمایا۔ قُلْ عِنْدِيْ شَهَادَةٌ مِّنَ اللّٰهِ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّؤْمِنُوْنَ اِنْ مَّعِیَ رَبِّيْ سَيَهْدِيْنِ۔ رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ مِنَ السَّمَاءِ رَبَّنَا عَاجِم۔ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا يَدْعُوْنَنِیْ اِلَيْهِ۔ رَبِّ نَجِّنِيْ مِنْ غَمٍّ۔ ایل ایل لَمَا سَبَقْتَنِیْ۔ کہ لطفہائے تو مارا کرد گستاخ۔

یہ حوالہ صفحہ 160 پر درج ہے براہین احمدیہ صفحہ 557-554 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 664-662 از مرزا قادیانی

Back

صفحہ 680

حوالہ نمبر 181

براہین احمدیہ ۶۶۴ ۱۔ باب

۵۵۴ منصب اُسی کو پہنچتا ہے کیونکہ امراضِ روحانی پر اُسی کو اطلاع ہو اور ازالۂ مرض اور استردادِ صحت پر وُہی قادر ہو۔ پھر بعد اسکے بطور استدلال کے فرمایا کہ اللہ وُہ ذاتِ کامل الرّحمت ہے کہ اُس کا قدیم سے یہی قانونِ قدرت ہے کہ اُس تنگ حالت میں وہ ضرور مینہ برساتا ہو کہ جب لوگ نا امید ہوچکتے ہیں۔ پھر زمین پر اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے اور وُہی کارسازِ حقیقی اور ظاہر اور باطن قابلِ تعریف ہے یعنے جب سختی اپنی نہایت کو پہنچ جاتی ہو اور کوئی صورت مخلصی کی نظر نہیں آتی۔ تو اُس صورت میں اُس کا یہی قانونِ قدیم ہے کہ وہ ضرور عاجز بندوں

بقیہ حاشیہ نمبر ۳ ۵۵۶ نہیں جو اُس سے باہر ہو۔ کوئی حکمت نہیں جو اُس کے محیطِ بیان سے رہ گئی ہو۔ کوئی نور نہیں جو اُس کی متابعت سے نہ ملتا ہو۔ اور یہ باتیں بلا ثبوت نہیں۔ کوئی ایسا امر نہیں جو صرف زبان سے کہا جاتا ہے بلکہ یہ وہ محقق اور بدیہی الثبوت صداقت ہے کہ جو تیرہ سو برس سے برابر اپنی روشنی دکھلاتی چلی آئی ہے اور ہم نے بھی اِس صداقت کو اپنی اِس کتاب میں نہایت تفصیل سے لکھا ہے اور دقائق اور معارفِ قرآنی کو اِس قدر بیان کیا ہے کہ جو ایک طالبِ صادق کی تسلی اور تشفی کے لئے بحرِعظیم کی طرح

بقیہ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۳ ۵۵۷ تیری بخششوں نے ہم کو گستاخ کردیا۔ یہ سب اسرار ہیں کہ جو اپنے اپنے اوقات پر چسپاں ہیں جن کا علم حضرت عالم الغیب کو ہو پھر بعد اسکے فرمایا ھو شعنا نعسا۔ یہ دونوں فقرے شاید عبرانی ہیں مگر اِن کے معنے ابھی تک اِس عاجز پر نہیں کھلے۔ پھر بعد اسکے دو فقرے انگریزی ہیں جن کے الفاظ کی صحت بباعث سرعتِ الہام ابھی تک معلوم نہیں اور وُہ یہ ہیں آئی لَوِ یُو۔ آئی شیل گِویُو اِ لارج پارٹی اوف اسلام۔ چونکہ اُس وقت یعنے آج کے دن اِس جگہ کوئی انگریزی خواں نہیں اور نہ اسکے پورے پورے معنے کھلے ہیں١؎ اِسلے بغیر معنوں کے لکھا گیا ہے۔ پھر بعد اسکے یہ الہام ہو۔ يَا عِيسَى اِنِّي مُتَوَفِّيْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَيَّ (وَ مُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَ جَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا اِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِينَ وَ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَخِرِينَ ۔اے عیسیٰ میں تجھے

١؎ یہ فقرہ سہوِ کاتب سے بیچ میں رہ گیا ہے۔ (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۹۷ حاشیہ)

براہین احمدیہ صفحہ 554، 557 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 662، 664 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 160 پر درج ہے

صفحہ 681

(حوالہ نمبر 182)

مراسلات و ترسیل زر صیغہ الفضل قادیان ضلع گورداسپور کے نام ہو

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم

تو میں اس کی پروا نہیں کرتا۔ اس کی گالیاں مجھ پر کیا اثر کریں گی

اور بے ہودہ باتوں سے سچی باتوں کا مقابلہ کیونکر ہو سکے گا

تیرے مجھ پر جلا آئے

الفضل

قادیان

فہرست مضامین

حضرت مسیح موعود کا

تعلق باللہ کے متعلق

اور درگذشت کے متعلق

خلیفہ المسیح کا خطبہ جمعہ

ارشاد فرمودہ میاں

میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔ (الہام حضرت مسیح موعود)

جلد ۴ | قادیان دارالامان ۲۳؍ جنوری ۱۹۱۷ء | شنبہ مطابق ۲۸؍ ربیع الاول ۱۳۳۵ ہجری | نمبر ۵۸

بیشک اللہ نے اس وقت ہمیں ایسے پیرو دئیے ہیں

جو سچے دل سے صدق دکھا کر کام کریں۔ اور اللہ سے ہی

مدد مانگ کر اس صدق پر ہمہ تن متوجہ ہو جائیں

یہ دنیا ظاہر کر رہی ہے کہ شیطان کو ایک حیلہ مل گیا ہے۔

اور ہم کو درپردہ لاطینی قومیں اور بھیس بدلے وغیرہ وغیرہ

کلمہ گو نمازی اور حاجی کا روپ دھارے ہوئے ہیں

ان پر درد ناک اور خدانخواستہ...

اخبار احمدیہ

سیکرٹری انجمن احمدیہ گیمبو کا خط

مکرمی و محترمی ۔ یہ وہ زمین کا قطعہ جو ہم کو میونسپل بورڈ

نے دیا ہے کہ اس میں نماز پڑھیں۔ یہ خدا کا فضل

ہے اور ہم روز بروز ترقی پر ہیں۔ اور ہم نے

اس جگہ ایک مدرسہ بھی کھولا ہے۔

ایڈیٹوریل

سنا ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح ثانی ایدہ اللہ بنصرہ کی طبیعت

کچھ ناساز سی ہے۔ اس واسطے آپ واپس لوٹ آئے ہیں

خدا تعالیٰ آپ کی عمر دراز کرے۔ آمین

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور حضرت

ام المومنین مدظلہا کے خاندان میں بھی چند اور

عزیز مختلف امراض میں مبتلا ہیں خدا تعالیٰ سب کو

صحت دے۔ آمین۔ عزیزم میاں مظفر احمد سلمہ فرزند

میاں منظور احمد صاحب اور عزیزم میاں

طاہر احمد صاحب و میاں سمیع اللہ وغیرہ ان سب

بیماروں کو شفائے کامل عطا کرے۔

(از اہتمام شیخ عبدالرحمن صاحب قادیانی بروز چہارشنبہ ۔ مطبع قادیان میں چھپا)

روزنامہ الفضل 23 جنوری 1917ء صفحہ 13

یہ حوالہ صفحہ 160 پر ہے

Back

صفحہ 682

(حوالہ نمبر 182)

اخبار الفضل قادیان جلد ۴ نمبر ۸۰۔ ۲۳ جنوری ۱۹۱۷ء نمبر ۵۵، ۵۶

بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم

خطبہ جمعہ

خدا کے فضلوں کو دیکھ کر زیادہ شکرگزار بنو

حضرت امیرالمومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ

فرمودہ ۵؍ جنوری ۱۹۱۷ء

اللہ تعالیٰ کے احسانات کو ہم جس قدر اپنے پر نازل ہوتے دیکھیں گے ۔ اسی قدر ہمیں اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنی چاہیے۔ اگر ہماری جماعت کی ترقی ان احسانات کو گنیں جو ہم پر ان دنوں شروع ہیں تو کوئی حد اس کی نہیں۔ اور کوئی جماعت ان احسانات کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ جو احسانات کی بارش ہم پر ہو رہی ہے اس کی ہمیں شکر گزاری کرنی چاہیے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم خدا تعالیٰ کے فضلوں کو گنوگے۔ گن نہ سکوگے۔ ہر روز تم پر فضلوں کی بارش ہوتی ہے۔

اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ان گنت ہیں۔ ہم ان کا اندازہ نہیں کر سکتے۔ اگر ہم ان کو گننا چاہیں تو گن نہیں سکتے۔ انسان ہر وقت خدا تعالیٰ کی نعمتوں سے متمتع ہو رہا ہے۔

متفرق لوگوں پر خدا تعالیٰ کے مختلف قسم کے احسان ہوتے ہیں۔ ایک کے لئے جو نعمت بڑی نعمت کہلاتی ہے۔ وہی دوسرے کے لئے کوئی وقعت نہیں رکھتی۔ پس ان احسانات کا ذکر ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ ان کا تو ہر شخص شکر ادا کر سکتا ہے۔ لیکن ایک نعمت ایسی ہے کہ جس میں ہم سب شریک ہیں۔

وہ نعمت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں ایک ایسے کام کے لئے کھڑا کیا ہے جس کے لئے انبیاء کھڑے ہوتے تھے۔ اور کیا کوئی انسان اس سے بڑھ کر خدا تعالیٰ کے احسانات کا شکر ادا کر سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اسے ایک ایسے کام کے لئے کھڑا کیا ہے جو انبیاء کا کام ہے۔

شکر گزاری کا مادہ پیدا ہوتا ہے۔

جن لوگوں کے دلوں میں سچی ہمدردی اور سچی محبت پیدا ہو جاتی ہے ان کو خوشی ہوتی ہے کہ ہم اپنے دوست کے لئے کوئی کام کریں۔ ایک سچا دوست خوش ہوتا ہے کہ مجھے اپنے دوست کی خدمت کرنے کا موقع ملا۔ مگر جو سچا دوست نہیں ہوتا۔ وہ کہتا ہے کہ یہ کام مجھے کیوں کہا گیا ہے۔ تم نے فلاں کو کیوں نہیں کہا۔ پس جو سچا دوست ہوتا ہے اسے خوشی ہوتی ہے کہ مجھے اپنے دوست کی خدمت کا موقع ملا۔

اسی طرح جو لوگ خدا تعالیٰ سے سچی محبت رکھتے ہیں وہ اس بات سے خوش ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں اپنے کام کے لئے چنا ہے اور ہمیں اپنی راہ میں خدمت کرنے کا موقع دیا ہے۔ مگر جو لوگ سچی محبت نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں ہی کیوں تکلیف دی جاتی ہے۔ دوسروں کو کیوں نہیں کہا جاتا۔

پس تم خدا تعالیٰ کے فضلوں کو یاد کرو اور اس کے شکر گزار بنو۔ اگر تم اس کے فضلوں کو یاد رکھو گے تو تمہارے اندر سچی محبت پیدا ہوگی اور سچی محبت تمہیں خدا تعالیٰ کے کاموں کے لئے کھڑا کرے گی۔ اور تم اس کی راہ میں ہر قسم کی قربانی کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ گے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق دے۔ آمین۔

روزنامہ الفضل 23 جنوری 1917ء صفحہ 13 یہ حوالہ صفحہ 160 پر درج ہے

صفحہ 683

(حوالہ نمبر 183)

توضیح مرام ۵۹ مسیح کا دوبارہ دنیا میں آنا

مسیح اوّل اور مسیح ثانی میں مابہ الامتیاز قائم کرنے کے لئے صرف یہی نہیں فرمایا کہ مسیح ثانی ایک مرد مسلمان ہوگا اور شریعت قرآنی کے موافق عمل کرے گا اور مسلمانوں کی طرح صوم و صلوٰۃ وغیرہ احکام فرقانی کا پابند ہو گا اور مسلمانوں میں پیدا ہو گا اور اُن کا امام ہو گا اور کوئی جداگانہ دین نہ لائے گا اور کسی جداگانہ نبوت کا دعویٰ نہیں کرے گا۔ بلکہ یہ بھی ظاہر فرمایا ہے کہ مسیح اوّل اور مسیح ثانی کے حلیہ میں بھی فرق بیّن ہوگا۔ چنانچہ مسیح اوّل کا حلیہ جو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کو معراج کی رات میں نظر آیا وہ یہ ہے کہ درمیانہ قد اور سرخ رنگ اور گھنگروالے بال اور سینہ کشادہ ہے (دیکھو صحیح بخاری صفحہ ۴۸۹) لیکن اسی کتاب میں مسیح ثانی کا حلیہ جناب ممدوح نے یہ فرمایا ہے کہ وہ گندم گوں ہے اور اس کے بال گھنگروالے نہیں ہیں بلکہ کانوں تک لٹکتے ہیں۔ اب ہم سوچتے ہیں کہ کیا یہ دونوں متضاد علامتیں جو مسیح اوّل اور ثانی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی ہیں کافی طور پر یقین نہیں دلاتیں کہ مسیح اوّل اور ہے اور مسیح ثانی اور۔ ۱۷ ان دونوں کو ابن مریم کے نام سے پکارنا ایک لطیف استعارہ ہے جو باعتبار مشابہت طبع اور روحانی خاصیت کے استعمال کیا گیا ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ اندرونی خاصیت کی مشابہت کی رو سے دو نیک آدمی ایک ہی نام کے مستحق ہو سکتے ہیں اور ایسا ہی دو بد آدمی بھی ایک ہی بدمادہ میں شریک مساوی ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کے قائم مقام کہلا سکتے ہیں مسلمان لوگ جو اپنے بچوں کے نام احمد اور موسیٰ اور عیسیٰ اور سلیمان اور داؤد وغیرہ رکھتے ہیں تو درحقیقت اسی تفاؤل کا خیال انہیں ہوتا ہے جس سے نیک فال کے طور پر یہ ارادہ کیا جاتا ہے کہ یہ بچے بھی ان بزرگوں کی روحانی شکل اور خاصیت یا کسی تام و اکمل طور پر پیدا کرلیں کہ گویا انہیں کا رُوپ ہو جائیں۔ اس جگہ اگر یہ اعتراض پیش کیا جائے کہ مسیح کا مثیل بھی نبی چاہیئے کیونکہ مسیح نبی تھا۔ تو اس کا اوّل جواب تو یہی ہے کہ آنے والے مسیح کے لئے ہمارے سیّد و مولیٰ نے نبوت شرط نہیں ٹھہرائی بلکہ صاف طور پر یہی لکھا ہے کہ وہ ایک مسلمان ہوگا اور عام مسلمانوں کے موافق شریعت فرقانی کا پابند ہو گا اور اس سے ث

توضیح مرام صفحہ 17 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 59 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 160 پر درج ہے

صفحہ 684

حوالہ نمبر 184

انوار العلوم جلد ۲ ۵۰۴ حقیقت النبوۃ (حصہ اول)

جگہ تو صاف مسیح کا ذکر ہے اور ایک جگہ انجیل کا ذکر ہے۔ پس قرآن کریم سے ثابت ہے کہ اس آیت کا مسیح سے تعلق ہے اور چونکہ یہ آیت اپنے پہلے مظہر آنحضرت ﷺ کی رسالت کا ثبوت ہے۔ اس لئے اس کے دوسرے مظہر مسیح موعود کی رسالت کا بھی اس سے ثبوت نکلتا ہے دوسری آیت جس میں مسیح موعود کو رسول قرار دیا ہے۔ وَآخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ (الجمعہ:۴) کی آیت ہے۔ جس میں آنحضرت ﷺ کے دو بعث بتائے گئے ہیں۔ پس ضرور ہے کہ دوسرا بعث بھی رسالت کے ساتھ ہو۔ غرض کہ یہ چاروں آیات قرآن کریم کی مسیح موعود کی نبوت پر ایک گواہ کے طور پر ہیں جن کا انکار کوئی نہیں کر سکتا۔

(۲) دوسری دلیل حضرت مسیح موعود کے نبی ہونے پر یہ ہے کہ آپ کو آنحضرت ﷺ نے نبی کے نام سے یاد فرمایا۔ اور نواس بن سمعان کی حدیث میں نبی اللہ کہہ کے آپ کو پکارا گیا ہے۔ پس آنحضرت ﷺ شاہد ہیں اس امر کے کہ حضرت مسیح موعود نبی ہیں۔ اب ہم آنحضرت ﷺ کی شہادت کو کس طرح چھوڑ دیں۔ جسے خدا تعالیٰ قرآن کریم میں رسول کہتا ہے۔ اور هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدٰى میں اس کی نسبت پیشگوئی کرتا ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ اس کے نبی ہونے کی شہادت دیتے ہیں۔ اس کی نبوت کا انکار کرنا کسی مؤمن کے لئے جائز نہیں ہو سکتا۔ وہ شخص جو آنحضرت ﷺ کے قول کی عزت نہیں کرتا۔ اور اسے سن کر منہ پھیر لیتا ہے۔ اور اس کا سینہ نہیں کھل جاتا ہے۔ وہ اپنی روحانیت کا علاج کرے۔ کہ کوئی ایسا شخص مومن نہیں ہو سکتا۔ فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِى اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا (النساء:۶۶)

پس آنحضرت ﷺ کے فیصلہ کے قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں اگر آپ نے لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ فرمایا ہے تو مسیح کو نبی اللہ بھی فرمایا ہے۔ پس ان دونوں اقوال کو ملا کر یہ معنی کرنے پڑیں گے کہ ایک قسم کے نبی آپ کے بعد نہیں ہوں گے۔ اور ایک اور قسم کے ہوں گے۔ ورنہ ان میں سے ایک جھوٹا ہوگا۔ جو شخص آنحضرت ﷺ کے اقوال میں سے اس کو چن لیتا ہے جو اس کی خواہشات کے مطابق ہوں۔ اور دوسروں کو چھوڑ دیتا ہے وہ آپ کا متبع نہیں ہے۔ حضرت عائشہؓ نے ایسے ہی لوگوں سے ڈر کر شائد یہ فرمایا تھا کہ قُوْلُوْا خَاتَمُ النَّبِيّيْنَ وَلَا تَقُوْلُوْا لَا نَبِيَّ بَعْدَهٗ (الدر المنثور جلد ۵ صفحہ ۲۰۴) خاتم الانبیاء تو کہہ لو لیکن لا نبی بعدہ نہ کہو۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دل میں خیال پیدا ہوا ہو گا کہ کچھ دن کے بعد بعض لوگ نبوت کا دروازہ بالکل مسدود سمجھ لیں۔ اور وقت پر خدا

حقیقت النبوۃ (حصہ اول) صفحہ 189 مندرجہ انوار العلوم جلد 2 صفحہ 504 از مرزا بشیر الدین محمود یہ حوالہ صفحہ 160 پر درج ہے

صفحہ 685

(حوالہ نمبر 185)

ضمیمہ براہین احمدیہ ۳۶۴ حصہ پنجم

لیکن خدا تعالیٰ مجھے باپ کے لحاظ سے فارسی النسل قرار دیتا ہے اور ماں کے لحاظ سے مجھے فاطمی ٹھہراتا ہے اور وہی حق ہے جو وہ کہتا ہے ۔ اور چوتھا امر جو مجھے ذو پہلو مقرر کرتا ہے وہ یہ ہے کہ میں جوڑا پیدا ہوا تھا۔ ایک میرے ساتھ لڑکی تھی جو مجھ سے پہلے پیدا ہوئی تھی۔ پھر ہم اپنے پہلے مقصد کی طرف رجوع کر کے کہتے ہیں کہ یہ بالکل غلط اور دھوکا کھانا ہے کہ حدیثوں میں مسیح موعود کے بارے میں نبی کا نام دیکھ کر یہ سمجھا جائے کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی ہیں، کیونکہ انہیں حدیثوں میں اگرچہ آنے والے عیسیٰ کا نام نبی رکھا گیا ہے مگر اُس کے ساتھ ایک ایسی شرط لگا دی گئی ہے کہ اس شرط کے لحاظ سے ممکن ہی نہیں کہ اس نبی سے مراد حضرت عیسیٰ اسرائیلی ہوں کیونکہ باوجود نبی نام رکھنے کے، اس عیسیٰ کو انہی حدیثوں میں امتی بھی قرار دیا ہے۔ اور جو شخص امتی کی حقیقت پر نظر غور ڈالیگا وہ ببداہت سمجھ لے گا کہ حضرت عیسیٰ کو امتی قرار دینا ایک کفر ہے کیونکہ امتی اس کو کہتے ہیں کہ جو بغیر اتباع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور بغیر اتباع قرآن شریف محض ناقص اور گمراہ اور بے دین ہو اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور قرآن شریف کی پیروی سے اُس کو ایمان اور کمال نصیب ہو۔ اور ظاہر ہے کہ ایسا خیال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت کرنا کفر ہے۔ کیونکہ گو وہ اپنے درجہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کیسے ہی کم ہوں مگر نہیں کہہ سکتے کہ جب تک وہ دوبارہ دنیا میں آ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں داخل نہ ہوں تب تک نعوذ باللہ وہ گمراہ اور بے دین ہیں یا وہ ناقص ہیں اور ان کی معرفت ناتمام ہے۔ پس میں اپنے مخالفوں کو یقیناً کہتا ہوں کہ حضرت عیسیٰ امتی ہرگز نہیں ہیں۔ گو وہ بجملہ تمام انبیاء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی پر ایمان رکھتے تھے۔ مگر وہ ان ہدایتوں کے پیرو تھے جو اُن پر نازل ہوئی تھیں۔ اور براہِ راست خدا نے اُن پر تجلی کی تھی یہ ہرگز نہیں تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی تعلیم سے وہ نبی بنے تھے تا

۱۹۴

وہ امتی کہلاتے۔ اُن کو خدا تعالیٰ نے الگ کتابیں دی تھیں۔ اور اُن کو ہدایت تھی کہ اُن کتابوں پر عمل کریں اور کرا دیں، جیسا کہ قرآن شریف اسپر گواہ ہے۔ پس اس بدیہی شہادت کی رُو سے

"ضمیمہ براہین احمدیہ" حصہ پنجم صفحہ 188، مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 364، از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 161 پر درج ہے

صفحہ 686

حوالہ نمبر 186

وَكَلِمَةُ اللهِ هِيَ الْعُلْيَا وَالْحَقُّ يَعْلُوْ وَلَا يُعْلَى عَلَيْهِ

قُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا

رسالہ

تشحیذ الاذہان

مرتبہ قاضی ظہور الدین اکمل

جلد ۱۲ بابت ماہ اگست ۱۹۱۷ء مطابق شوال المکرم ۱۳۳۵ھ نمبر ۸

فہرست مضامین

محمدی ختم نبوۃ کی اصل حقیقت ۱ تا ۶۱ صفحہ

قیمت سالانہ

عوام ۴ روپیہ طلباء ۲ روپیہ غیر ممالک ۷ شلنگ

تمام خط و کتابت صیغہ انتظامیہ بنام مینیجر رسالہ تشحیذ الاذہان قادیان ہونی چاہئے یہ رسالہ ہر انگریزی مہینہ کی ۵ تاریخ کو قادیان ضلع گورداسپور سے شائع ہوتا ہے

”تشحیذ الاذہان“ قادیان شمارہ نمبر 8، جلد 12، صفحہ 28، اگست 1917ء یہ حوالہ صفحہ 161 پر درج ہے

صفحہ 687

حوالہ نمبر 186

اس کثرت سے مکالمہ کا شرف کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا

واضح ہو کہ احادیث نبویہ میں پیشگوئی کی گئی ہے کہ آنحضرت صلعم کی امت میں ایک ایسا شخص پیدا ہو گا جو عیسیٰ کے نام سے پکارا جائیگا اور نبی کے نام سے موسوم کیا جائیگا یعنے اس کثرت سے مکالمہ مخاطبہ کا شرف اس کو حاصل ہو گا اور اس کثرت سے امور غیبیہ اس پر ظاہر ہونگے کہ بجز نبی کے کسی پر ظاہر نہیں ہو سکتے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فلا یظہر علی غیبہ احدا .... الخ

حوالہ نمبر ۵۸ حقیقۃ الوحی صفحہ ۲۸

نبی وہی ہو سکتا ہے جس کی نبوت میں آپکی پیروی سے فیضان ہو

کسی حدیث صحیح سے اس بات کا پتہ نہیں لگتا کہ آنحضرت صلعم کے بعد کوئی ایسا نبی آنیوالا ہو جس کی نبوت میں آپکی پیروی سے فیضان نہ ہو

حوالہ نمبر ۵۹ ضمیمہ براہین احمدیہ صفحہ ۱۳۸

آنحضرت صلعم کی امت میں انبیاء علیہم السلام کی کثرت ہے

قرآن شریف سے ثابت ہے کہ ہر ایک نبی آنحضرت صلعم کی امت میں داخل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لتؤمنن بہ ولتنصرنہ پس اسطرح تمام انبیاء علیہم السلام آنحضرت صلعم کی امت ہوئے نوٹ ۔ ان لوگوں کو یہ بھی دھوکہ لگا ہے کہ نبی کوئی کسی کی امت نہیں ہو سکتا حالانکہ تمام انبیاء حضرت نبی کریم صلعم کی نص قرآنی کی رو سے امت ہیں پھر باوجود امت ہونے کے وہ نبی بھی ہیں اور ظاہر ہے کہ تمام انبیاء کا آنحضرت صلعم کی امت ہونا اصالۃً اور بالفعل طور سے نہیں پس لتؤمنن ولتنصرنہ کی گذشتہ انبیاء کی نسبت وحی کے یہ معنی ہونگے کہ تمام انبیاء گذشتہ بالفعل آنحضرت صلعم کی امت ہوینگے یعنے ان میں سے بعض دوبارہ مبعوث ہونگے اور اسی طرح اپنا امتی ہونا ثابت کرینگے اور وہ تمام انبیاء کا مظہر ہو کر مسیح موعود ہے جو ایک طرف آنحضرت کا امتی بالفعل ہو کر آنحضرت صلعم کو خاتم الانبیاء ثابت کرتا ہے اور دوسری طرف نفس مسیح کے رُو سے وہ رسل اور انبیاء ہو

حوالہ نمبر ۶۰ (نزول المسیح صفحہ ۴)

تمام انبیاء کے نام حضرت مسیح موعود پر صادق آتے ہیں

انبیاء میں سے ہر ایک کو خدا سے جو کچھ حکم ملے وقت و زمانہ کی رعایت سے بعض بعض کے مشابہ ہوتے ہیں نیک نیکوں کے مشابہ اور بد بدوں کے مشابہ مگر بایں ہمہ ہر عصر مختص ہوتا ہے اور زمانہ کی وجہ سے ظاہر نہیں ہوتا لیکن آخری زمانہ کے لئے خدا نے مقرر کیا ہے لہذا وہ ایک عام دعوت کا نام ہو گا تا امت مرحومہ دوسری امتوں پر کسی بات میں کم نہ ہو پس اس نے مجھے پیدا کر کے ہر ایک گزشتہ نبی سے مجھے تشبیہ دی کہ وہی میرا نام رکھ دیا چنانچہ آدم ، ابراہیم ، نوح ، موسیٰ ، داؤد ، سلیمان ، یوسف یحییٰ ، عیسیٰ وغیرہ یہ تمام نام براہین احمدیہ میں میرے رکھے گئے ہیں اس صندوقہ میں گویا تمام انبیاء گذشتہ اس

”تشحیذ الاذہان“ قادیان شمارہ نمبر 8، جلد 12، صفحہ 28، اگست 1917ء

یہ حوالہ صفحہ 161 پر درج ہے

صفحہ 688

حوالہ نمبر 187 ۲۹۷

کوئی کسی کے لئے اپنا ایمان ضائع نہیں کر سکتا۔ ان سے حلفاً پوچھو کہ کیا جیسا کہ لکھا گیا ایسا ہی پیشگوئی ظہور میں آئی تھی یا نہیں؟ اب برائے خدا یہ بھی ذرہ سوچو کہ کیا اس کثرت اور صفائی سے غیب کا علم اور وہ علم جو بموجب توریت اور قرآن کے سچے نبیوں اور مامورین کی نشانی ہے وہ کسی مفتری اور کاذب کو مل سکتا ہے؟ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جس کثرت اور صفائی سے غیب کا علم حضرت جل شانہ نے اپنے ارادہ خاص سے مجھے عنایت فرمایا ہے اگر بایں کثرت تعداد اور انکشاف تام کے لحاظ سے کوئی اور بھی میرے ساتھ شریک ہے تو میں جھوٹا ہوں ۔ لیکن اگر اس کثرت اور انکشاف تام کے رُو سے کوئی اور میرے ساتھ شریک ثابت نہیں ہو سکتا ۔ تو پھر میرے دعوے سے انکار کرنا سخت ظلم ہے۔

ایک شخص مسلمانوں میں سے یہ فتنہ برپا کرے گا کہ میری تکفیر کا فتویٰ لکھ کر ملک میں پھیلائیگا ۔ اور قریباً اس ملک کے تمام مولویوں کو اس خطا سے آلودہ کرے گا اور یہ تمام بوجھ اسکی گردن پر ہو گا ۔ چنانچہ وہ الہام جو اس بارے میں ہوا ۔ وہ براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۱۰ اور ۵۱۱ میں اس طرح پر مندرج ہے : ۔ اِذْ یَمْکُرُ بِكَ الَّذِیْ کَفَرَ ۔ اَوْقَدْ لِیْ یَا ہَامَانُ لَعَلِّیْ اَطَّلِعُ عَلٰی اِلٰہِ مُوْسٰی وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّہٗ مِنَ الْکَاذِبِیْنَ ۔ تَبَّتْ یَدَا اَبِیْ لَہَبٍ وَ تَبَّ ۔ مَا کَانَ لَہٗ اَنْ یَّدْخُلَ فِیْہَا اِلَّا خَائِفًا ۔ وَ مَا اَصَابَكَ فَمِنَ اللّٰہِ ۔ اَلْفِتْنَةُ ھٰہُنَا فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ ۔ اَلَا اِنَّہَا فِتْنَةٌ مِّنَ اللّٰہِ لِیُحِبَّ حُبًّا جَمًّا ۔ حُبًّا مِّنَ اللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْاَکْرَمِ ۔ عَطَاءً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ ۔ ترجمہ ۔ اس شخص کے مکر کو یاد کر جو تیرے ایمان کا منکر ہوا ۔ اور تجھے

۲۹۹

تریاق القلوب صفحہ 169 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 297 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 161 پر درج ہے

صفحہ 689

حوالہ نمبر 188

انوارِ علوم جلد ٦ ۱۲۴ آئینہ صداقت

مفتی محمد صادق صاحب و مولوی صدر الدین صاحب یکے از رفقائے مولوی محمد علی ایک تبلیغی دورہ پر بھیجے گئے تھے۔ اس دورہ کے دوران میں مولوی شبلی صاحب نعمانی بانی ندوہ سے بھی ان کو ملاقات کا موقع ملا۔ سلسلہ گفتگو میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت کا بھی ذکر آیا ۔ اور جناب مولوی شبلی صاحب کے سوال پر ان صاحبان نے جواب دیا کہ ہم مرزا صاحب کو لغوی معنوں میں نبی مانتے ہیں۔ گو یہ جواب درست تھا۔ کیونکہ لغوی معنے اور شرعی اصطلاح ایک ہی ہے۔ مگر چونکہ یہ جواب ایک رنگ اخفاء کا رکھتا تھا۔ اور اُس طرف اشارہ ہوتا تھا کہ گویا خدا تعالیٰ کے نزدیک نبی کے کچھ اور معنے ہیں۔ مجھے ناپسند ہوا اور مجھے خوف ہوا کہ یہ طریق جماعت میں عام نہ ہو جائے خصوصاً جبکہ میں نے دیکھا کہ اس سال چند دنیاوی تحریکوں (مثلاً مسلم یونیورسٹی) کی رو میں بہہ کر بعض احمدی اپنے مرکز سے ہٹ رہے ہیں۔ تو میں اس جواب سے اور بھی ڈرا ۔ اور میں نے چاہا کہ سالانہ جلسہ کے موقع پر خاص طور پر اپنی جماعت کو توجہ دلاؤں۔ حضرت خلیفہ اول اس تقریر کے موقع پر موجود نہ تھے۔ مگر خواجہ صاحب، مولوی محمد علی صاحب اور مولوی محمد احسن صاحب موجود تھے۔ ان لوگوں کی موجودگی میں تمام جماعت کے روبرو میں نے اس موضوع پر تقریر کی۔ اور میری یہ تقریر اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ میں ہمیشہ حضرت مسیح موعود کو نبی سمجھتا رہا ہوں۔ چند فقرات اس تقریر کے جو ۱۹ ؍ جنوری ۱۹۱۱ء کے پرچہ بدر میں شائع ہو چکی ہے میں ذیل میں درج کرتا ہوں۔ ”وہی خدا ہے جس نے اپنے فضل سے ہمیں توفیق دی کہ ہم ایک نبی کی اتباع کریں“

(بدر ۱۹ ؍جنوری ۱۹۱۱ء صفحہ ۶ کالم ۲)

پھر احمدیوں اور غیر احمدیوں کے متعلق لکھا ہے :۔

”سوداگروں کے درمیان بھی میں دیکھتا ہوں کہ اگرچہ ایک جنس ہی ہے تو بھی وہ کہتا ہے نہیں جی ہمارا غلہ خالص قسم کا ہے اور تم تو دونوں فریقوں میں بین فرق دیکھتے ہو اور پھر تم میں سے بعض ہیں جو کہہ دیتے ہیں کچھ فرق نہیں۔ کیا یہ فرق نہیں کہ تم ایک نبی کے متبع ہو اور دوسری قوم ایک نبی کی مکذب ہے ۔“ یہ بھی یاد رکھو کہ مرزا صاحب نبی ہیں اور بحیثیت رسول اللہ کے خاتم النبیین ہونے کے آپ کی اتباع سے آپ کو نبوت کا درجہ ملا ہے اور ہم نہیں جانتے کہ اور کتنے لوگ بھی درجہ پائیں گے۔ ہم انہیں کیوں نبی نہ کہیں جب خدا نے انہیں نبی کہا ہے ۔ چنانچہ آخری عمر کا الہام ہے کہ یَاَیُّھَا النَّبِیُّ اَطْعِمُوا الْجَائِعَ وَالْمُعْتَرَّ ۔ ”جو مسیح موعود کے ایک لفظ کو بھی جھوٹا سمجھتا ہے وہ خدا کی درگاہ سے مردود ہے کیونکہ خدا اپنے نبی کو وفات تک غلطی میں نہیں رکھتا ۔“

(بدر ۱۹ ؍جنوری ۱۹۱۱ء صفحہ ۷)

٭ بدر ۱۹ جنوری ۱۹۱۱ء صفحہ ۶ ٭٭ ”تذکرہ صفحہ ۴۰۹“ ایڈیشن چہارم

بدر 19 جنوری 1911ء صفحہ 7 : آئینہ صداقت صفحہ 40 مندرجہ انوار العلوم جلد 6 صفحہ 124 از مرزا بشیر الدین محمود | یہ حوالہ صفحہ 162 پر درج ہے

صفحہ 690

(حوالہ نمبر 189) ازالہ اوہام ۵۱۸ حصہ دوم

پیدا ہوا ہے جاتا رہے اور ایک بھاری شکست اور ناحق کی سبکی اور ناکامی کے ساتھ واپس ہوں۔ سو میری صَلاح یہ ہے کہ بجائے ان ڈھکوسلوں کے عمدہ عمدہ تالیفیں ان ملکوں میں بھیجی جائیں۔ اگر قوم بدل وجان میری مدد میں مصروف ہو تو میں چاہتا ہوں کہ ایک تفسیر بھی تیار کر کے اور انگریزی میں ترجمہ کرا کر اُن کے پاس بھیجی جائے۔ میں اس بات کو صاف صاف بیان کرنے سے رہ نہیں سکتا کہ یہ میرا کام ہے دوسرے سے ہرگز ایسا نہیں ہو گا جیسا مجھ سے یا جیسا اُس سے جو میری شاخ ہے اور مجھ ہی میں داخل ہے۔ ہاں اس قدر میں پسند کرتا ہوں کہ ان کتابوں کے تقسیم کرنے کے لئے یا اُن لوگوں کے خیالات اور اعتراضات کو ہم تک پہنچانے کی غرض سے چند آدمی ان ملکوں میں بھیجے جائیں جو امامت اور مولویت کا دعویٰ نہ کریں بلکہ ظاہراً کریں کہ ہم اس لئے بھیجے گئے ہیں کہ تا کتابوں کو تقسیم کریں اور اپنے معلومات کی حد تک سمجھا دیں اور مشکلات اور مباحث دقیقہ کا حل ان اماموں سے چاہیں جو اس کام کے لئے ملکِ ہند میں موجود ہیں۔

اس میں کچھ شک نہیں کہ اسلام میں اس قدر صداقت کی روشنی چمک رہی ہے اور اس قدر اس کی سچائی پر نورانی دلائل موجود ہیں کہ اگر وہ اہل تحقیق کے زیرِ توجہ لائی جاویں تو یقیناً وہ ہر یک سلیم العقل کے دل میں گھر کر جاویں لیکن افسوس کہ ابھی وہ دلائل اندرونی طور پر بھی اپنی قوم میں شائع نہیں چہ جائیکہ مخالفوں کے مختلف فرقوں میں شائع ہوں۔ سو انہیں براہین اور دلائل اور حقائق اور معارف کے شائع کرنے کے لئے قوم کی مالی امداد کی حاجت ہے کیا قوم میں کوئی ہے جو اس بات کو سُنے؟

جب سے میں نے رسالہ فتحِ اسلام کو تالیف کیا ہے ہمیشہ میرا اسی طرف خیال لگا رہا کہ میری اس تجویز کے موافق جو میں نے دینی چندہ کے لئے رسالہ مذکور میں لکھی ہے دلوں میں حرکت پیدا ہو گی۔ اسی خیال سے میں نے چار سو کے قریب

ازالہ اوہام صفحہ 774 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 518 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 166 پر درج ہے

صفحہ 691

(حوالہ نمبر 190)

ازالہ اوہام ۱۷۰ حصہ اول

خاتم النبیین وخیرالمرسلین ہیں جن کے ہاتھ سے اکمال دین ہوچکا اور وہ نعمت بمرتبہ اتمام پہنچ چکی جس کے ذریعہ سے انسان راہ راست کو اختیار کر کے خدائے تعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے اور ہم پختہ یقین کے ساتھ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن شریف خاتم کتب سماوی ہے اور ایک شوشہ یا نقطہ اس کی شرائع اور حدود اور احکام اور اوامر سے زیادہ نہیں ہوسکتا اور نہ کم ہوسکتا ہے اور اب کوئی ایسی وحی یا ایسا الہام منجانب اللہ نہیں ہوسکتا جو احکام قرآنی کی ترمیم یا تنسیخ یا کسی ایک حکم کے تبدیل یا تغیر کر سکتا ہو اگر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ ہمارے نزدیک جماعت مومنین سے خارج اور ملحد اور کافر ہے اور ہمارا اس بات پر بھی ایمان ہے کہ ادنیٰ درجہ صراط مستقیم کا بھی بغیر اتباع ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہرگز انسان کو حاصل نہیں ہوسکتا چہ جائیکہ راہ راست کے اعلیٰ مدارج بجز اقتداء اس امام الرسل کے حاصل ہوسکیں کوئی مرتبہ شرف و کمال کا اور کوئی مقام عزت اور قرب کا بجز سچی اور کامل متابعت اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم ہرگز حاصل کر ہی نہیں سکتے۔ ہمیں جو کچھ ملتا ہے ظلی اور طفیلی طور پر ملتا ہے اور ہم اس بات پر بھی ایمان رکھتے ہیں کہ جو راستباز اور کامل لوگ شرف صحبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرف ہوکر تکمیل منازل سلوک کر چکے ہیں ان کے کمالات کی نسبت بھی ہمارے کمالات اگر ہمیں حاصل ہوں بطور ظل کے واقع ہیں اور ان میں بعض ایسے جزئی فضائل ہیں جو اب ہمیں کسی طرح سے حاصل نہیں ہو سکتے۔ غرض ہمارا ان تمام باتوں پر ایمان ہے جو قرآن شریف میں درج ہیں اور جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خدائے تعالیٰ کی طرف سے لائے اور تمام محدثات اور بدعات کو ہم ایک فاحش ضلالت اور جہنم تک پہنچانے والی راہ یقینی رکھتے ہیں مگر افسوس کہ ہماری قوم میں ایسے لوگ بہت ہیں جو بعض حقائق اور معارف قرآنیہ اور دقائق آثار نبویہ کو جو اپنے وقت پر بذریعہ کشف و الہام زیادہ تر صفائی سے کھلتے ہیں محدثات اور بدعات میں ہی داخل کر لیتے ہیں حالانکہ معارف مخفیہ قرآن وحدیث ہمیشہ اہل کشف پر کھلتے رہے ہیں

ازالہ اوہام صفحہ 70 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 170 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 166 پر درج ہے

صفحہ 692

حوالہ نمبر 191

چشمہ معرفت ۲۰۴ دوسرا حصہ

اے اندر اور اگنی! بجر گھمانے والو شہروں کے غارت کرنے والو ہمیں دولت عطا کرو۔ لڑائیوں میں ہماری مدد کرو۔ یعنی بہت سا لُوٹ کا مال ہمیں دو۔ اے اندر جو سب دیوتاؤں میں اوّل درجہ کا دیوتا ہے ہم تجھے بلاتے ہیں تو نے لڑائیوں میں بہت سا لُوٹ کا مال حاصل کیا ہے اے اجیت اندر ایسی لڑائیوں میں ہماری حفاظت کر جہاں سے بہت لُوٹ ہمارے ہاتھ لگے ہم اندر کو جو ہمارے دشمنوں کے مقابل پر بجر گھماتا ہے اور جو ہمارا مددگار ہے بے شمار دولت

۱۹۵

حاصل کرنے کے لئے بلاتے ہیں۔ (وید کی تعلیم کی رُوسے لُوٹ کا مال اکثر اندر ہی دیا کرتا ہے ، اے اگنی ہم نے تجھے گھی کا ہوم کر کے بلایا ہے ہمارے دشمنوں کو جلا دے۔

اب کوئی آریہ صاحب بتلاویں کہ یہ شرتیاں وید میں ہیں یا قرآن شریف میں۔ قرآن شریف میں تو کہیں نہیں لکھا کہ اپنے دشمنوں کو آگ سے جلا دو اور اُن کا مال لُوٹ لو۔ یہ ایک سخت زیادتی ہے جو خدا تعالیٰ کی پاک کلام پر ناحق تہمت لگائی جاتی ہے۔ قرآن شریف میں صرف یہ حکم دیا گیا ہے کہ جن لوگوں نے مسلمانوں کو قتل کیا اور اُن کا مال لُوٹا اور اُن کو وطن سے نکالا تم بھی بعوض اس نقصان کے اُن کا مال لُوٹ لو۔ اور جب سے دُنیا پیدا ہوئی ہے ہمیشہ لڑائیوں کی وضع اسی طرح چلی آئی ہے کہ فتح کرنے والے مغلوب فریق کا مال لُوٹ لیتے ہیں بلکہ اُن کے ملک پر بھی قبضہ کر لیتے ہیں آج کل بھی فتح پانے والے بادشاہوں میں یہی رسم جاری ہے مگر قرآن شریف نے ظلم اور زیادتی کی تعلیم نہیں دی اور صرف مظلوموں کی نسبت لڑائی کرنا جائز رکھا ہے اور نیز یہ کہ جس طرح دشمن نے اُن کا مال لُوٹ لیا ہے وہ بھی لُوٹ لیں زیادتی نہ کریں پس کس قدر بیجائی بے شرمی ۔ بے ایمانی ہے کہ ناحق قرآن شریف پر یہ تہمت تھوپ دی جاتی ہے کہ گویا اُس نے آتے ہی بغیر اس کے کہ فریقِ ثانی سے مجرمانہ حرکتیں صادر ہوں لُوٹ اور قتل کرنے کا حکم دیدیا تھا ہمیں ایسی کوئی آیت سارے قرآن شریف میں نہیں ملتی اگر آریوں نے کوئی ایسی آیت دیکھی ہے جس میں یہ پایا جاتا ہو کہ بغیر فریقِ ثانی کے ظلم اور مجرمانہ حرکات کے اُن کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم ہو تو اُن پر کھانا حرام ہے جب تک وہ آیت پیش نہ کریں یا یوں ہی کسی آیت کا سر پیر کاٹ کر اور

چشمہ معرفت صفحہ 195 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 204، 203 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 167 پر درج ہے

صفحہ 693

(حوالہ نمبر 191)

چشمہ معرفت ۲۰۴ دوسرا حصہ

اپنے مطلب کے موافق بنا کر پیش کر دینا یہ تو ان لوگوں کا کام ہے جو سخت شریر اور بدمعاش اور گُنڈے کہلاتے ہیں۔ خدا تو قرآن شریف میں یہ فرماتا ہے اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقَاتَلُوْنَ بِاَنَّھُمْ ظُلِمُوْا وَ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصْرِھِمْ لَقَدِیْرٌ ۔ یعنی جن مسلمانوں پر ناحق قتل کرنے کے لئے چڑھائی کی جاتی ہے۔ خدا نے دیکھا کہ وہ مظلوم ہیں اس لئے خدا بھی اُن کو مقابلہ کرنے کے لئے اجازت دیتا ہے۔

١٩٦ مضمون پڑھنے والے نے ایک نشانی الہامی کتاب کی یہ بیان کی کہ پیدائش اور فنا کے بارہ میں اس میں صحیح صحیح حالات درج ہوں۔ واضح ہو کہ اس نشانی کی حقیقت بیان کرنے کے بارے میں ہم چنداں ضرورت نہیں دیکھتے کیونکہ پہلے بھی بوضاحت کے ساتھ ہم لکھ چکے ہیں کہ ان دونوں نشانیوں میں وید نے بڑی بھاری غلطی کھائی ہے کیونکہ بموجب قول آریہ سماج کے وید کی یہ تعلیم ہے کہ ارواح اور ذرات اجسام انادی اور غیر مخلوق اور قدیم ہیں پرمیشر کی طرح خود بخود ہیں اور ان کی تمام طاقتیں اور قوتیں بھی خود بخود ہیں۔ اور انسان کے مرنے کے وقت میں اُس کی رُوح آسمان کی فضا میں چلی جاتی ہے اور پھر شبنم کی طرح رات کے وقت کسی گھاس پات پر پڑتی ہے اور وہ گھاس کوئی کھا لیتا ہے اور اس طرح پر نطفہ کے اندر ہو کر وہ رُوح کسی عورت کے پیٹ میں چلی جاتی ہے۔ یہ ہے وید کی فلاسفی جو پیدائش اور

صفحہ 694

حوالہ نمبر 192

تتمہ ۴۵۶ حقیقت الوحی

دنوں میں پادریوں کے دروازہ پر گداگری اختیار نہ کرتا ہو لوگ اپنے کالجوں اور سکولوں میں لازمی طور پر خلاف اسلام تعلیم دیتے ہیں کسی سچے مسلمان کا طریق نہیں کہ اُنکی نوکری اختیار کرے۔ افسوس کہ یہ شخص سعد اللہ نام جو فوت ہو گیا ہے وہ بعض میری تقریری مباحثات بھی سُن چکا تھا اور اُس کو میری کتابیں دیکھنے کا بھی بہت موقعہ ملا تھا مگر تعصب اور بغض ایک ایسی بلا ہے کہ وہ ان سے کچھ فائدہ اُٹھا نہ سکا بیشک عیسیٰ علیہ السلام کا وفات پانا کوئی مشتبہ امر نہ تھا خدا تعالیٰ قرآن شریف میں بیان کر چکا اور اُس کا رسول معراج کی رات میں وفات یافتہ نبیوں میں اُسکو دیکھ چکا تھا۔ دُوسری طرف قرآن اور حدیث سے یہ بھی ثابت ہے کہ مسیح خلیفہ اسلام کے اِسی اُمت میں سے آئیگا بلکہ حدیثوں میں یہ بھی آچکا ہے کہ نازل ہونیوالا عیسیٰ اسی اُمت میں سے ہو۔ پھر بھی وہ بدبخت سمجھ نہ سکا اور پہلی کتابوں اور احادیث صحیحہ میں بڑا نشان آخری مسیح کا یہ دیا گیا تھا کہ وہ دجال کے ظہور کے وقت آئے گا ۔ اور قرآن شریف نے ظاہر کر دیا کہ وہ دجال پادریوں کا فرقہ ہے جن کا دن رات کام تحریف وتبدیل ہے کیونکہ دجال کے یہی معنے ہیں جو تحریف و تبدیل کر کے حق کو چھپانے والا ہو اور اسی کی طرف سورۃ فاتحہ اشارہ کرتی ہے۔ ایسا ہی قرآن شریف کی اِس آیت سے کہ جَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ ۱؂ ثابت ہوتا ہے کہ دجال عیسائیوں کے سوا کوئی علیحدہ گروہ نہیں ہو گا کیونکہ جب کہ غلبہ اور سلطنت قیامت تک عیسائیوں

* دجّال کے معنی بجز اسکے اور کچھ نہیں کہ جو شخص دھوکہ دینے والا اور گمراہ کرنیوالا اور خدا کے کلام کی تحریف کرنیوالا ہو اُسکو دجال کہتے ہیں ۔ سو ظاہر ہے کہ پادری لوگ اِسی کام میں سب سے بڑھ کر ہیں کیونکہ دُوسروں کا دجل اور فریب تو کمزور درجہ کا ہو مگر ان لوگوں کا دجل اسقدر ہے کہ خواہ نخواہ انسان کو خدا بنانے کے لئے کروڑ ہا روپیہ خرچ کر رہے ہیں اور لاکھوں رسالے اور کتابیں دُنیا میں شائع کی ہیں اور اسی غرض سے زمین کے کناروں تک سفر کرتے ہیں ۔ پس یہی وہ گروہ جو دجال اکبر ہے اور خدا تعالیٰ کی پیشگوئی کے مطابق بحروبر میں کسی دجال کو قدم رکھنے کی جگہ نہیں کیونکہ لکھا ہے کہ دجال گرجا سے نکلے گا اور جس قوم میں سے ہو گا وہ قوم تمام دُنیا میں سلطنت کرے گی اور قیامت تک اُسکی طاقت اور قوت رہے گی ۔ پھر جبکہ یہ حال ہو تو کونسی زمین باقی رہی جس میں ہمارے مخالفوں کا فرضی دجال ظہور کریگا ۔ منہ

۱؂ الِ عمران : ۵۶

حقیقت الوحی صفحہ 456 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 456 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 167 پر درج ہے

Back

صفحہ 695

حوالہ نمبر 193

۲۷۲

لهذه المباهلة ان كانوا من الصادقين وعلمت من ربى انهم من المغلوبين . و والله انى لست من العلماء ولا من اهل الفضل والدهاء وكلما اقول من انواع حسن البيان او من تفسير القرآن فهو من الله الرحمان وكلما اخطأت فيه فهو منى وكلما هو حق فهو من ربى وان ربى اروانى من كاس العرفان ومع ذلك ما ابرء نفسى من السهو والنسيان وان الله لا يتركنى على خطا طرفة عين و يعصمنى من كل شين ويحفظنى من سبل الشياطين . فيا اهل الاهواء و الدعاوى والرياء ان كنتم تحسبون انفسكم من اولى العلم والفضل والذكاء او من الصلحاء والاولياء والاتقياء او من الذين يسمع دعائهم كالاحباء فاتوا بمثل ذلك الكتاب فى جميع الانحاء وارونى علمكم وقدركم فى حضرة الكبرياء وان لم تفعلوا ولن تفعلوا يا معشر السفهاء فتادبوا مع اهل الحق والنهى والضياء ولا تعتدوا كل الاعتداء وما هذا الا صنيعة الرب القوى لا فعل المكر والتمحك وان الكرامات تظهر فى وقت توهين الاعداء وان عباد الله ينصرون عند انتهاء الجور من اهل الجفاء واذا بلغ الظلم غايته فيدركهم رب السماء فتوبوا من المعائب والعثرات وبادروا الى الحسنات والصالحات وان الحزامة كل الحزامة فى قبول الكرامة فاقبلوها قبل الندامة واتقوا سوء الخزى و الملامة ونكال القيامة فطوبى لكم ان جئتم كالتائبين المعتذرين هذه الخاتمة النصيحة وخاتمة اتمام العمل واتمام الحجة والسلام على من قبلنا قبل المذلة وترك سبيل المجرمين . وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين .

الراقم الحقير المفتقر الى الله الصمد غلام احمد عافاه الله وايد وكان هذا مكتوبا فى ذى القعدة ١٣١١ھ من هجرة نبى الحمد مقبول الاحد صلى الله عليه وسلم مِنَ الْاَزَلِ اِلَى الْاَبَدِ ۸۶

نورالحق صفحہ 86 حصہ دوئم مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 272 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 167 پر درج ہے

صفحہ 696

حوالہ نمبر 194 دافع الوساوس ۹۳ آئینہ کمالات اسلام

کے لئے ہمیشہ اور ہر دم کے لئے اُس کو قرین اور مصاحب مقرر کرے تا وہ اُس کے ایمان کی پختگی کے فکر میں رہیں اور ہر وقت اُس کے خون اور اُس کے دل اور دماغ اور رگ و ریشہ میں اور آنکھوں اور کانوں میں خنّاس کی طرح طرح کے وساوس ڈالتے رہیں۔ اور ہدایت کرنے کا ایسا قرین جو ہر دم انسان کے ساتھ رہ سکے ایک بھی انسان کو نہ دیا جائے۔ یہ اعتراض درحقیقت اُن کے عقیدہ مذکورہ بالا سے پیدا ہوتا ہے کیونکہ ایک طرف تو یہ لوگ بموجب آیت وما منا الا لہ مقام معلوم یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت جبرائیل اور عزرائیل یعنی ملک الموت کا مقام آسمان پر مقرر ہے جس مقام سے وہ نہ ایک بالشت نیچے اُتر سکتے ہیں نہ ایک بالشت اُوپر چڑھ سکتے ہیں اور پھر باوجود اس کے اُن کا زمین پر

ان دونوں شیخوں کے نزدیک قابل اعتبار نہیں ہوں گے کیونکہ وحی کی روشنی سے خالی ہیں اور ان کے نزدیک ان دنوں میں خوابوں کا سلسلہ بھی بالکل بند تھا۔ آپ منصفو! دیکھو کہ کیا ان دونوں شیخوں کی یہ جہالت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت انتہا کو پہنچ گئی یا نہیں۔ وہ آفتاب صداقت جس کا کوئی دل کا خطرہ بھی بغیر وحی کی تحریک کے نہیں اُس کے بارے میں ان لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ گویا وہ نعوذ باللہ مدّتوں ظلمت میں ہی پڑا رہتا تھا اور اُس کے ساتھ کوئی روشنی نہ تھی۔ اِس عاجز کو اپنے ذاتی تجربہ سے یہ معلوم ہے کہ رُوح القدس کی قدسیّت ہر وقت اور ہر دم اور ہر لحظہ بلا فصل ملہم کے تمام قویٰ میں کام کرتی رہتی ہے اور وہ بغیر رُوح القدس اور اُس کی تاثیر قدسیّت کے ایک دم بھی اپنے تئیں بچا نہیں سکتا۔ اور انوارِ دائمی اور استقامتِ دائمی اور محبّت دائمی اور عصمت دائمی اور برکات دائمی کا یہی سبب ہوتا ہے کہ رُوح القدس

یہ کیونکر معلوم ہوا کہ خدا نے ان کی عقل مار دی تھی۔ ظاہر ہے کہ ان کے قول اور فعل سے ۔

کیونکہ انہوں نے اس شخص کو جو آفتاب کی طرح روشن تھا۔ اپنی تاریک عقل کی وجہ سے

نہ پہچانا اور اپنے ہی ہلاک کرنے کی کوشش کی۔ پس اس سے ثابت ہوا کہ ان کی عقل

نہیں تھی۔ منہ

آئینہ کمالات اسلام صفحہ 93 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 93 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 167 پر درج ہے

صفحہ 697

(حوالہ نمبر 195)

ازالہ اوہام ۳۰۴ حصہ دوم

میں نے اس کتاب میں نہایت زبردست ثبوتوں سے مسیح کا فوت ہو جانا اور اموات میں داخل ہونا ثابت کر دیا ہے اور میں نے ہدایت کی حد تک اس بات کو پہنچا دیا ہے کہ مسیح زندہ ہو کر بجسمِ عنصری کے ساتھ ہرگز آسمان کی طرف اُٹھایا نہیں گیا بلکہ اور نبیوں کی موت کی طرح اُس پر بھی موت آئی اور دائمی طور پر وہ اس جہان سے رخصت ہوا ۔ اگر کوئی مسیح کا ہی پرستار ہے تو سمجھ لے کہ وہ مر گیا اور مرنے والوں کی جماعت میں ہمیشہ کے لئے داخل ہو گیا ۔ سو تم تائید حق کے لئے اس کتاب سے فائدہ اُٹھاؤ اور سرگرمی کے ساتھ پادریوں کے مقابل پر کھڑے ہو جاؤ۔ چاہیئے کہ یہی ایک مسئلہ ہمیشہ تمہارے زیر توجہ ہو اور پورا بھروسہ کرنیکے لائق ہو جو درحقیقت مسیح ابن مریم فوت شدہ گروہ میں داخل ہے۔ میں نے اس بحث کو اس کتاب میں بڑی دلچسپی کے ساتھ کامل اور قوی دلائل سے انجام تک

۵۶۳

پہنچایا ہے۔ اور خدا تعالیٰ نے اس تالیف میں میری وہ مدد کی ہے جو میں بیان نہیں کر سکتا ۔ اور میں بڑے دعوے اور استقلال سے کہتا ہوں کہ میں سچ پر ہوں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے اس میدان میں میری ہی فتح ہے۔ اور یہاں تک میں دُور بین نظر سے کام لیتا ہوں تمام دنیا اپنی سچائی کے تحتِ اقدام دیکھتا ہوں ۔ اور قریب ہے کہ میں ایک عظیم الشان فتح پاؤں کیونکہ میری زبان کی تائید میں ایک اور زبان بول رہی ہے۔ اور میرے ہاتھ کی تقویت کے لئے ایک اور ہاتھ چل رہا ہے جس کو دنیا نہیں دیکھتی مگر میں دیکھ رہا ہوں۔ میرے اندر ایک آسمانی روح بول رہی ہے جو میرے لفظ لفظ اور حرف حرف کو زندگی بخشتی ہے اور آسمان پر ایک جوش اور اُبال پیدا ہوا ہے جس نے ایک پتلی کی طرح اس مُشتِ خاک کو کھڑا کر دیا ہے۔ ہر یک وہ شخص جس پر توبہ کا دروازہ بند نہیں عنقریب دیکھ لے گا کہ میں اپنی طرف سے نہیں ہوں ۔ کیا وہ آنکھیں بینا ہیں جو صادق کو شناخت نہیں کر سکتیں۔ کیا وہ بھی زندہ ہے جس کو اس آسمانی صدا کا احساس نہیں ؟

یہ حوالہ صفحہ 168 پر درج ہے

ازالہ اوہام صفحہ 563 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 403 از مرزا قادیانی

Back

صفحہ 698

حوالہ نمبر 196 ازالہ اوہام ۱۹۷ حصہ اول

لازم ہے کیونکہ جو لوگ خدائے تعالیٰ سے الہام پاتے ہیں وہ بغیر بلائے نہیں بولتے اور بغیر سمجھائے نہیں سمجھتے اور بغیر فرمائے کوئی دعویٰ نہیں کرتے اور اپنی طرف سے کسی قسم کی دلیری نہیں کر سکتے اسی وجہ سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب تک

صفحہ 699

حوالہ نمبر 197

ازالہ اوہام ۴۹۳ حصہ دوم

کہ جب دجال کے بے جا جھگڑے کمال تک پہنچ جائیں گے تب مسیح موعود ظہور کرے گا اور اس کے تمام جھگڑوں کا خاتمہ کر دے گا۔

ان دسوں علامتوں میں سے ایک بھاری علامت دجال معہود کی یہ بھی ہے کہ اس کا فتنہ تمام ان فتنوں سے بڑھ کر ہو گا کہ جو ربّانی دین کے مٹانے کے لئے ابتدا سے لوگ کرتے آئے ہیں اور ہم اسی رسالہ میں ثابت کر چکے ہیں کہ یہ علامت عیسائی مشنوں میں بخوبی ظاہر ہو رہی ہے۔

ازاں جملہ ایک بڑی بھاری علامت دجال کی اُس کا گدھا ہے جس کے بین الاذنین کا اندازہ ستر باع کیا گیا ہے اور ریل کی گاڑیوں کا اکثر اسی کے موافق سلسلہ طولانی ہوتا ہے اور اس میں بھی کچھ شک نہیں کہ وہ دخان کے زور سے چلتی ہیں جیسے بادل ہوا کے زور سے تیز حرکت کرتا ہے۔ اس جگہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھلے کھلے طور پر ریل گاڑی کی طرف اشارہ فرمایا ہے چونکہ یہ مسلمہ قوم یہود ہے جن کا امام و مقتدا یہی دجالی گروہ ہے اس لئے ان گاڑیوں کو دجال کا گدھا قرار دیا گیا۔ اب اس سے زیادہ اور کیا ثبوت ہو گا کہ علاماتِ خاصہ دجال کے انہیں لوگوں میں پائے جاتے ہیں۔ انہیں لوگوں نے مکروں اور فریبوں کا اپنے وجود پر خاتمہ کر دیا ہے اور دین اسلام کو وہ ضرر پہنچایا ہے جس کی نظیر دنیا کے ابتداء سے نہیں پائی جاتی اور انہیں لوگوں کے متبعین کے پاس وہ گدھا بھی ہے جو دخان کے زور سے چلتا ہے جیسے بادل ہوا کے زور سے۔ اور انہیں لوگوں کے متبعین زمین کو

بقیہ کہا گیا ہے کہ آخری زمانہ میں قرآن آسمان پر اُٹھایا جائے گا۔ پھر انہیں حدیثوں میں لکھا ہے کہ پھر دوبارہ قرآن کو زمین پر لانے والا ایک مرد فارسی الاصل ہوگا جیسا کہ فرمایا لَو كَانَ الإيمَانُ مُعَلَّقاً بِالثُّرَيَّا لَنَالَهُ رَجُلٌ مِّنْ فَارِسَ ۔ یہ حدیث در حقیقت اسی زمانہ کی طرف اشارہ کرتی ہے جو آیۂ وَاٰخَرِیْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ میں اشارۃً بیان کیا گیا ہے۔ منہ

ازالہ اوہام صفحہ 393 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 493 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 168 پر درج ہے

صفحہ 700

حوالہ نمبر 198

ازالہ اوہام ۴۸۲ حصہ دوم

بہت فائدہ ہو گا چنانچہ تھوڑے دنوں کے بعد قحط پڑا اور بیوپاری لوگوں کو اس قحط میں بہت فائدہ ہوا۔ ویسی ہی اُن کی اور بھی کئی پیشگوئیاں تھیں جو پوری ہوتی رہیں۔ اس بزرگ نے ایک دفعہ جس بات کو عرصہ تیس سال کا گذرا ہو گا مجھ کو کہا کہ عیسیٰ اب جان ہو گیا ہے اور لدھیانہ میں آکر قرآن کی غلطیاں نکالے گا اور قرآن کی رو پر فیصلہ کرے گا اور کہا کہ مولوی اس سے انکار کریں گے پھر کہا کہ مولوی انکار کر جائیں گے تب میں نے تعجب کی راہ سے پوچھا کہ کیا قرآن میں بھی غلطیاں ہیں قرآن تو اللہ کا کلام ہے۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ تفسیروں پر تفسیریں ہو گئیں اور شاعری زبان پھیل گئی یعنی مبالغہ پر مبالغہ کر کے حقیقتوں کو چھپایا گیا جیسے شاعر مبالغات پر زور دے کر اصل حقیقت کو چھپا دیتا ہے پھر کہا کہ جب وہ عیسیٰ آئے گا تو فیصلہ قرآن سے کرے گا پھر اس مجذوب ۷۹ نے بات کو دوہرا کر یہ بھی کہا تھا کہ فیصلہ قرآنی پر کرے گا اور مولوی انکار کر جائیں گے اور پھر یہ بھی کہا کہ انکار کریں گے اور جب وہ عیسیٰ لدھیانہ میں آئے گا تو قحط بہت پڑے گا۔ پھر میں نے پوچھا کہ عیسیٰ اب کہاں ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ بیچ قادیان کے یعنی قادیان میں جب میں نے کہا کہ قادیان تو لدھیانہ سے تین کوس ہے وہاں عیسیٰ کہاں ہے (لدھیانہ کے قریب ایک گاؤں ہے جس کا نام قادیان ہے) اس کا انہوں نے کچھ جواب نہ دیا۔ اور مجھے کچھ معلوم نہ تھا کہ ضلع گورداسپورہ میں بھی کوئی گاؤں ہے جس کا نام قادیان ہے۔ پھر میں نے اُن سے پوچھا کہ عیسیٰ علیہ السلام نبی اللہ آسمان پر اُٹھائے گئے اور کب پھر اُتریں گے۔ تب انہوں نے جواب دیا۔ عیسیٰ ابن مریم نبی اللہ تو مر گیا ہے اب وہ نہیں آئے گا ہم نے اچھی طرح تحقیق کیا ہے کہ مر گیا ہے ہم بادشاہ ہیں جھوٹ نہیں بولیں گے اور کہا کہ جو آسمانوں والے صاحب ہیں وہ کسی کے پاس چل کر نہیں آیا کرتے * المُقِرّ میاں کریم بخش بمقام لدھیانہ محلہ اقبال گنج ۱۴ جون ۱۸۹۹ء روز شنبہ

ازالہ اوہام صفحہ 708 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 ص 482 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 169 پر درج ہے

صفحہ 701

حوالہ نمبر 199

براهین احمدیہ ۲۶۵ پہلی فصل

بقیہ حاشیہ نمبر ۱ اور ظاہر فرماتا ہے اور اُن دقائق علم الٰہی کو کہ جو صد ہا دفتروں اور طویل طویل کتابوں میں ۲۳۰ لکھے گئے تھے اور پھر بھی ناقص اور ناتمام تھے۔ باستيفا تمام لکھتا ہے اور آئندہ کسی عاقل لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَاتِ اللّٰهِ ۱؎ ذٰلِكَ اور کسی نوع کی تبدیل واقع نہیں ہوتی۔ یہی سعادت عظمیٰ ہے کہ جو ۲۳۱ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ۔ اِنَّ اللّٰهَ اُن لوگوں کو ملتی ہے کہ جو محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان وَمَلٰٓئِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ لاتے ۔ خدا اور اُسکے سارے فرشتے اُس نبی کریم پر درود بھیجتے يٰٓأَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ ہیں ۔ اے ایماندارو تم بھی اُسپر درود بھیجو۔ اور نہایت اخلاص وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ۔ اِنَّ الَّذِينَ اور محبت سے سلام کرو۔ جو لوگ اللہ اور اُسکے رسول کو دُکھ دیتے ہیں يُؤْذُونَ اللّٰهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اُن پر دنیا اور آخرت میں خدا کی لعنت ہے۔ دنیا میں یہ کہ بہزار تذلل و اللّٰهُ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَ رذالتوں میں مخذول رہیں گے۔ اور آخرت میں یہ کہ ذلت اور اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا ۲؎ اہانت کے ساتھ جہنم کے عذاب میں ڈالے جائیں گے :

بقیہ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۱ يَا اَحْمَدُ بَارَكَ اللّٰهُ فِيكَ مَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى ۔ اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ ۔ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اُنْذِرَ اٰبَآؤُهُمْ وَلِتَسْتَبِينَ سَبِيلُ الْمُجْرِمِينَ قُلْ اِنِّيْ أُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ ۔ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۲۳۹ اے اَوَّلِ تائب الی اللہ بامر اللہ فی ھٰذا الزمان و اوّل من یؤمن بھذا ۔ واللہ اعلم ۔ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا ۔ كُلُّ بَرَكَةٍ مِّنْ مُّحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ۔ فَتَبَارَكَ مَنْ عَلَّمَ وَتَعَلَّمَ قُلْ اِنِ افْتَرَيْتُهُ فَعَلَىَّ اِجْرَامِىْ هُوَ الَّذِيْ اَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدٰى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِ اللّٰهِ ظَلَمُوا بے حظ رہیں گے اور سلام باطنی جو حقیقت میں سلامت روی ہے اُن کو ہر گز نصیب نہیں ہو گا۔ اور ہمیشہ نفسانی ظلمتوں میں غرق رہیں گے اور انجام وَاِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ ۔ اِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ ۔ يَقُولُونَ اَنّٰى لَكَ هٰذَا اِنْ هٰذَا اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ وَاَعَانَهُ عَلَيْهِ قَوْمٌ اٰخَرُونَ ۔ اَفَتَاْتُونَ السِّحْرَ وَاَنْتُمْ تُبْصِرُونَ ۔ هَيْهَاتَ هَيْهَاتَ لِمَا تُوعَدُونَ مِنْ هٰذَا الَّذِيْ هُوَ مَهِينٌ وَّ لَا يَكَادُ يُبِينُ ۔ جَاهِلٌ اَوْ مَجْنُونٌ ۔ قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ ۔ هٰذَا مِنْ رَّحْمَةِ رَبِّكَ يُتِمُّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ لِيَكُونَ اٰيَةً لِلْمُؤْمِنِينَ ۔

۱؎ یونس : ۶۴ ۲؎ احزاب : ۵۸-۵۶

براهین احمدیہ صفحہ 239 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 265 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 169 پر درج ہے

Back

صفحہ 702

حوالہ نمبر 2(14)

تتمہ ۴۸۵ حقیقۃ الوحی

سے ایسا فیصلہ مانگ کر ہلاک ہو جاتا ہے تو دوسرا اُسکی کچھ بھی پروا نہیں کرتا اور اُس کا قائم مقام ہو کر گستاخی اور بدزبانی شروع کر دیتا ہے بلکہ اُس سے بھی آگے بڑھ جاتا ہے چنانچہ اب تک بیسیوں اُن میں سے ایسے مباہلات سے ہلاک ہو چکے ہیں اگر میں ہر یک کے حالات لکھوں تو کئی جزو کتاب کے اسی ذکر میں بھر جائیں میرے بہت سے دوستوں نے خط لکھے کہ فلاں شخص یکطرفہ مباہلہ کر کے چند روز میں مر گیا۔ اور فلاں شخص نے ہماری جماعت میں سے کسی کے ساتھ مباہلہ کیا تو صبح ہوتے ہی دُنیا سے کوچ کر گیا اور بعض نے خود آکر ایسے عجیب نشان بیان کئے چنانچہ کل ۲۰؍ فروری ۱۹۰۷ء کو بھی چند مہمانوں نے حالات مباہلہ کے بیان کئے مگر میں نے اسلئے کہ کتاب بہت بڑھ گئی ہے اور وہ واقعات بھی صرف زبانی ہیں انکا لکھنا غیرضروری سمجھا معلوم نہیں کہ خدا تعالیٰ کا کیا ارادہ ہے جو کوئی بھی ان میں سے یہ سوچتا نہیں کہ یہ تائیدات الٰہیہ کیسی ہو رہی ہیں کیا کاذبوں دجّالوں اور فاسقوں کے یہی نشان ہیں کہ انکے مقابل پر مباہلہ کی حالت میں خدا مومنوں متقیوں کو ہلاک کرتا جاوے۔ بالآخر یہ یاد رہے کہ اشعار مذکورہ قلمی مصنّف کا عکس لیکر اس کتاب کے ساتھ شامل کر دیا گیا ہو تا مخالفوں پر اتمام حجّت ہو اگر کسی کو انکار ہو کہ یہ اُسکے شعر نہیں ہیں تو اُسکی ایسی ہی تحریر کو اُسکی دُوسری تحریروں سے ملا سکتا ہے اور اصل بھی میرے پاس محفوظ ہے جس کا جی چاہے دیکھ لے اور جس شخص کے ذریعہ سے مجھے یہ تحریر ملی ہے وہ اُس کا شاگرد ہے اور اُس کا نام ہے شیخ محمد ولد علی محمد ساکن ڈھیری والہ ضلع گورداسپور۔ خدا تعالیٰ کی قدرت دیکھو اکثر مباہلہ کرنیوالے طاعون سے ہی مرے اور اکثر سخت مخالفوں کا طاعون نے ہی فیصلہ کیا۔ براہین احمدیہ میں طاعون اور زلزلہ کا خدا نے اُس زمانہ میں ذکر کیا ہے کہ جبکہ ان عذابوں کا اس ملک میں نام ونشان نہ تھا جیسا کہ براہین احمدیہ میں موت کی یہ پیشگوئی ہے کہ لا یصدق السفيه الا سيقۃ الهلاك ۔ اتٰی امر الله فلا تستعجلوہ یعنی سفلا آدمی بجُز موت کے نشان کے اور کسی نشان کی تصدیق نہیں کرتا اُسکو کہہ دے کہ وہ نشان بھی آنیوالا ہے پس تم مجھ سے جلدی مت کرو۔ پس موت کے نشان سے یہی طاعون کا نشان مُراد تھا ایسا ہی دُوسری جگہ اللہ تعالیٰ براہین احمدیہ میں فرماتا ہے الرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّا

حقیقۃ الوحی صفحہ 51 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 485 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 169 پر درج ہے

صفحہ 703

حوالہ نمبر 201

۳۸۴

مستعد ہو نشان آسمانی استخارہ کریں تو میں آپکے لئے دُعا کرونگا کیا خوب ہو کہ یہ استخارہ میرے رو برو ہو تا میری توجہ زیادہ ہو آپ پر کچھ بھی مشکل نہیں لوگ معمولی اور سفلی طور پر حج کرنے کو بھی جاتے ہیں مگر اس جگہ قطعی حج سے ثواب زیادہ ہے اور غافل رہنے میں نقصان اور خطرہ کیونکہ سلسلہ آسمانی ہے اور حکم ربانی ۔ سچی خواب اپنی سچائی کے آثار آپ ظاہر کر دیتی ہے وہ دلپر ایک نور کا اثر ڈالتی ہے اور یقیناً اپنی تسکین اندر رکھ جاتی ہے اور دل اُسکو قبول کرلیتا ہے اور اُسکی نورانیت اور ہیبت بال بال پر طاری ہو جاتی ہے میں آپ سے عہد کرتا ہوں کہ اگر آپ بہمہ وجوہ میری ہدایت اور تعلیم کے موافق اس کام میں مشغول ہوں تو میں آپکے لئے بہت کوشش کرونگا کیونکہ میرا خیال آپکی نسبت بہت نیک ہے اور خدا تعالیٰ سے چاہتا ہوں کہ آپکو ضائع نہ کرے اور رشد اور سعادت میں ترقی دے اب میں نے آپکا وقت بہت لے لیا ختم کرتا ہوں ۔ والسلام علیٰ من اتبع الھدیٰ ۔

آپ کا مکرر خط پڑھکر ایک بات کچھ زیادہ تفصیل کی محتاج معلوم ہوئی اور وہ یہ ہے کہ استخارہ کیلئے کیسی دعا ہونی چاہئے کہ ہر ایک شخص کا استخارہ شیطان کے دخل سے محفوظ ہو۔ عزیز من یہ بات خدا تعالیٰ کے قانون قدرت کے برخلاف ہے کہ وہ شیاطین کو اُنکے مواقع مناسب سے معطل کر دیوے اللہ جل شانہ قرآن کریم میں فرماتا ہے وما ارسلنا من رسول ولا نبی الا اذا تمنى القى الشيطان في امنيته فينسخ الله ما يلقى الشيطان ثم يحكم الله آياته والله علیم حکیم یعنے ہمنے کوئی ایسا رسول اور نبی نہیں بھیجا کہ اُسکی یہ حالت ہو کہ جب وہ کوئی تمنا کرے یعنے اپنے نفس سے کوئی بات چاہے تو شیطان اُسکی خواہش میں کچھ نہ ملادے یعنے جب کوئی رسول یا کوئی نبی اپنے نفس کے جوش سے کسی بات کو چاہتا ہے تو شیطان اس میں بھی دخل دیتا ہے تب سچی متلو وحی جو شوکت اور ہیبت اور روشنی تام رکھتی ہے اُس دخل کو اُٹھا دیتی ہے اور منشاء الٰہی کو مصفا کر کے دکھلا دیتی ہے۔ یہ اسبات کیطرف اشارہ ہے کہ نبی کے دل میں جو خیالات اُٹھتے ہیں اور جو کچھ خواطر اُسکے نفس میں پیدا ہوتی ہیں درحقیقت وہ تمام وحی ہوتی ہیں جیسا کہ قرآن کریم اسپر شاہد ہے۔ وما ينطق عن الهوى ان ھو الا وحی یوحى لیکن قرآن کریم کی وحی اور دوسری وحی سے جو صرف معانی منجانب اللہ ہوتی ہیں تمیز کلی رکھتی ہے اور نبی کے اپنے تمام اقوال وحی غیر متلو میں داخل ہوتے ہیں کیونکہ رُوح القدس کی برکت اور چمک ہمیشہ نبی کے شامل حال رہتی ہے اور ہر ایک بات اُسکی برکت سے بھری ہوئی ہوتی ہے اور وہ برکت روح القدس کی اُس کلام میں بھی جاتی ہے لہٰذا ہر ایک

آئینہ کمالات اسلام صفحہ 352 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 171 پر درج ہے

صفحہ 704

حوالہ نمبر 202 حقیقة الوحی ١٣٠

ترجمہ۔ جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال بجا لائے اور وہ کلام جو حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا اُس پر ایمان لائے اور وہی حق ہے ایسے لوگوں کے خدا گناہ بخش دیگا اور اُن کے دلوں کی اصلاح کریگا۔ اب دیکھو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی وجہ سے کس قدر خدا تعالیٰ اپنی خوشنودی ظاہر فرماتا ہے کہ ان کے گناہ بخشتا ہے اور ان کے تزکیہ نفس کا خود متکفل ہوتا ہے۔ پھر کیسا بدبخت وہ شخص ہے جو کہتا ہے کہ مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی ضرورت نہیں اور غرور اور تکبر سے اپنے تئیں کچھ سمجھتا ہے۔ سعدیؒ نے سچ کہا ہے:۔

محال است سعدی کہ راہِ صفا توان رفت جز در پئے مصطفےٰ
مرو برآں راہ سوئے بہشت حرام است برغیرِ وئے بہشت

(١٥) قوله تعالیٰ۔ الم یعلموا انہ من یحادد اللہ ورسولہ فان لہ نار جھنم خالداً فیھا ذٰلك الخزى العظیم (الجزء نمبر ١٠ سورۃ توبہ)

ترجمہ۔ کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ جو شخص خدا اور رسول کی مخالفت کرے خدا اس کو جہنم میں ڈالے گا اور وہ اس میں ہمیشہ رہیگا یہ ایک بڑی رسوائی ہے۔

اب بتاویں میاں عبدالحکیم خاں کہ ان کی کیا رائے ہے کیا خدا کے اس حکم کو قبول کرینگے یا بہادری سے ان آیتوں کے وعید کو اپنے سر پر لے لیں گے۔

(١٦) قوله تعالیٰ۔ وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ النَّبِيّٖنَ لَمَا اٰتَيْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّحِكْمَةٍ ثُمَّ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَلَتَنْصُرُنَّهٗ ؕ قَالَ ءَاَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلٰى ذٰلِكُمْ اِصْرِىْ ؕ قَالُوْٓا اَقْرَرْنَا ؕ قَالَ فَاشْهَدُوْا وَاَنَا مَعَكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِيْنَ ۔

(الجزء نمبر ٣) ترجمہ۔ اور یاد کر کہ جب خدا نے تمام رسولوں سے عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب اور حکمت دوں گا اور پھر تمہارے پاس آخری زمانہ میں میرا رسول آئیگا جو تمہاری کتابوں کی تصدیق کریگا تمہیں اس پر ایمان لانا ہوگا اور اس کی امداد کرنی ہوگی اور کہا کہ تم نے اقرار کر لیا اور اس عہد پر

حقیقة الوحی صفحہ 130 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 171 پر درج ہے

صفحہ 705

(حوالہ نمبر 203)

دافع الوسواس 177 مقدمہ حقیقۃ الاسلام

ہو جو علوم اور عقائد صحیحہ سے بے خبری اور نادانی اور بیہودہ باتوں میں مبتلا ہوتا ہے تو یہ تو صریح متقیوں کی صفت کے برخلاف ہے کیونکہ حقیقی تقویٰ کے ساتھ جاہلیت جمع نہیں ہو سکتی حقیقی تقویٰ اپنے ساتھ ایک نور رکھتی ہے جیسا کہ اللہ جلشانہ فرماتا ہے يَاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّيُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيَجْعَلْ لَّكُمْ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِهِ۔ یعنی اے ایمان لانے والو اگر تم متقی ہونے پر ثابت قدم رہو اور اللہ تعالیٰ کے لئے اتقاء کی صفت میں قیام اور استحکام اختیار کرو تو خدا تعالیٰ تم میں اور تمہارے غیروں میں فرق رکھ دیگا وہ فرق یہ ہے کہ تم کو ایک نور دیا جائیگا جس نور کے ساتھ تم اپنی تمام راہوں میں چلو گے یعنی وہ نور تمہارے تمام افعال اور اقوال اور قویٰ اور حواس میں آجائیگا تمہاری عقل میں بھی نور ہوگا اور تمہاری ایک اٹکل کی بات میں بھی نور ہوگا اور تمہاری

توضیح مرام ص 61 روحانی خزائن ج 3 ص 71 عالم ایک ہی ذات سے صادر ہیں اور اس ذات واحد لاشریک کا یہی تقاضا ہونا چاہئے کہ دونوں نظام ایک ہی شکل اور طرز پر واقع ہوں تا وہ قویٰ مل کر ایک ہی خالق اور صانع پر دلالت کریں کیونکہ توحید فی النظام توحید باری عزاسمہ کے مسئلہ کو مؤید ہے وجہ یہ کہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر کئی خالق ہوتے تو اس نظام میں اختلاف نظر آتا یا پایا جاتا۔ غرض یہ بات نہایت سیدھی اور صاف ہے کہ ایک الہ عالم کبیر کے لئے ایسے ہی ضروری ہے جیسے قویٰ روحانیہ و جسمانیہ نشاء انسانیہ کے لئے جو عالم صغیر ہے۔ اگر یہ اعتراض پیش کیا جائے کہ اگر ایک ہی حقیقت موجود ہے تو کیوں نظر نہیں

آئینہ کمالات اسلام ص 177 روحانی خزائن ج 5 ص 177 ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا فَكَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخَالِقِيْنَ۔ یعنی پہلے تو ہم نے انسان کو اس مٹی سے پیدا کیا جو زمین کے تمام

یہ عبارت آئینہ کمالات اسلام صفحہ 172 پر درج ہے

آئینہ کمالات اسلام صفحہ 177، از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 172 پر درج ہے

صفحہ 706

(حوالہ نمبر 214)

ازالہ اوہام ۵۳

پر گریں بلکہ اس جگہ زمین سے مراد زمین کے رہنے والے ہیں اور یہ عام محاورہ قرآن شریف کا ہے کہ زمین کے لفظ سے انسانوں کے دل اور ان کے باطنی قویٰ مراد ہوتی ہیں جیسا کہ اللہ جلشانہ ایک جگہ فرماتا ہے اعلموا ان الله يحي الارض بعد موتھا اور جیسا کہ فرماتا ہے والبلد الطيب يخرج نباتہ باذن ربہ والذی خبث لا يخرج الا نکداً۔ ایسا ہی قرآن شریف میں بیسیوں نظیریں موجود ہیں جو پڑھنے والوں پر پوشیدہ نہیں ماسوا اس کے روحانی واقعوں کا ظاہر ہونا اور ان کے ساتھ فرشتوں کا آنا ایک روحانی قیامت کا نمونہ ہوتا ہے جس سے مردوں میں حرکت پیدا ہو جاتی ہے اور جو قبروں کے اندر ہیں وہ باہر آ جاتے ہیں اور نیک و بد لوگ اپنی اپنی جزا پا لیتے ہیں سو اگر سورۃ الزلزال کو قیامت کے آثار میں سے قرار دیا جائے تو اس میں بھی شک نہیں کہ عیانا وقت روحانی طور پر ایک قسم کی قیامت ہی ہوتی ہے خدائے تعالیٰ کے تائید یافتہ بندے قیامت ہی کا روپ بن کر آتے ہیں اور انہیں کا وجود قیامت کے نام سے موسوم ہو سکتا ہے جنکے آنے سے رُوحانی مردے زندہ ہونے شروع ہو جاتے ہیں اور نیز اس میں بھی کچھ شک نہیں کہ جب عیسیٰ زمانہ آجائیگا کہ تمام انسانی طاقتیں اپنے کمالات کو ظاہر کر دکھائیں گی اور جس حد تک بشری عقول اور افکار کا پرواز ممکن ہے اس حد تک وہ پہنچ جائیں گی اور جن مخفی حقیقتوں کا ابتدا سے ظاہر کرنا مقدر ہے وہ سب ظاہر ہو جائیں گی تب اس عالم کا دائرہ پورا ہو کر یک دفعہ اس کی صف لپیٹ دی جائے گی۔

كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَّ يَبْقٰی وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ

بقیہ حاشیہ:- کے لیے دمشق میں اس عاجز کو اُتارا بطرف شرقی عند المنارۃ البیضاء مِنَ الْمَسْجِدِ الَّذِي مَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا فَتَبَارَكَ الَّذِي أَنْزَلَنِي فِي هٰذَا الْمَقَامِ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِهِ أَفْضَلِ الرُّسُلِ وَخَيْرِ الْأَنَامِ ۔ منہ

ازالہ اوہام صفحہ 53 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 172 پر درج ہے

صفحہ 707

حوالہ نمبر 205

نقل ٹائٹل پیج اول

حصہ اول

فرمایا اس نے کہ ایسا پودا جسے تو اب ہی دیکھتا ہے تو وہ ایک دن بڑا درخت ہو گا اور جملہ سچائیوں کی سچائی ظاہر کرے گا

ازالہ اوہام

فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ

الحمد والمنت کہ بماہ مبارک ذی الحجۃ ۱۳۰۸ھ کتاب جامع معارف قرآنی و شارح اسرار کلام ربانی از تالیفات مرسل یزدانی و مامور رحمانی حضرت جناب مرزا غلام احمد صاحب قادیانی باہتمام منشی شیخ نور احمد مالک مطبع ریاض ہند مطبوعہ گردید

قیمت بلا جلد ۱/۸ قیمت فی جلد ۲؍

یہ حوالہ صفحہ 173 پر درج ہے ازالہ اوہام، سر ورق، مندرجہ روحانی خزائن، جلد 3، صفحہ 101 از مرزا قادیانی

صفحہ 708

حوالہ نمبر 206

براہین احمدیہ ۵۸۰ پہلی فصل

۴۳

بقیہ حاشیہ در حاشیہ

قبول کر لیتے جو باعث تعلیم توحید کے تمام مشرکین کو برا معلوم ہوتا تھا اور اُس کے قبول کرنے والے ہر وقت چاروں طرف سے معرض ہلاکت اور بلا میں تھے پس جس چیز نے ان کے دلوں کو اسلام کی طرف پھیرا وہ یہی بات تھی جو اُنہوں نے آنحضرت کو محض اُمّی اور سراپا موٴید من اللہ پایا اور قرآن شریف کو بشری طاقتوں سے بالاتر دیکھا اور پہلی کتابوں میں اِس آخری نبی کے آنے کے لئے جو بشارتیں پڑھتے تھے سو خدا نے اُن کے سینوں کو ایمان لانے کے لئے کھول دیا۔ اور ایسے ایماندار نکلے جو خدا کی راہ میں اپنے خونوں کو بہایا اور جو لوگ عیسائیوں اور یہودیوں اور عربوں میں سے نہایت درجہ کے جاہل اور شریر اور

بقیہ حاشیہ ۱۱

عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّآلِّيْنَ رکھا ۔ کیونکہ امر مجازات مالک یوم الدین کے متعلق ہے۔ سو ایسا فقرہ جس میں جلب انعام اور عذاب سے بچنے کی درخواست ہے اُسی کے پیچھے رکھنا موزون ہے۔

۴۴

بقیہ حاشیہ در حاشیہ

چوتھا لطیفہ یہ ہے کہ سورۃ فاتحہ مجمل طور پر تمام مقاصدِ قرآن شریف پر مشتمل ہے گویا یہ سورۃ مقاصدِ قرآنیہ کا ایک اعجازِ لطیف ہے۔ اِسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے اِنَّا اٰتَيْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِيْ وَالْقُرْاٰنَ الْعَظِيْمَ ۔ یعنے ہم نے تجھے اے رسول سات آیتیں سورۃ فاتحہ کی عطا کی ہیں جو مجمل طور پر تمام مقاصدِ قرآنیہ پر مشتمل ہیں اور اُن کے مقابلہ پر قرآنِ عظیم بھی عطا فرمایا ہے جو مفصّل طور پر مقاصدِ دینیہ کو ظاہر کرتا ہے اور اِسی جہت سے اِس سورۃ کا نام

بقیہ حاشیہ ۱۲

ساتھ ہیں جیسے وہ میرے ساتھ ہیں۔ ھُوَ کا ضمیر واحد بتاویل مَا فِی السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ ہے۔ اور ان کلمات کا حاصل مطلب تلطفات اور برکات الٰہیہ ہیں جو حضرت خیر الرسل کی متابعت کی برکت سے ہر یک کامل مومن کے شامل حال ہو جاتی ہیں اور حقیقی طور پر مصداق ان سب عنایات کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور دوسرے سب طفیلی ہیں۔ اور اس بات کو ہر جگہ یاد رکھنا چاہیئے کہ ہر یک مدح و ثناء جو کسی مومن کے

براہین احمدیہ صفحہ 580 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 558 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 173 پر درج ہے

صفحہ 709

(حوالہ نمبر 207)

4

آریہ سماج :-

کے متعلق۔ ص ٩٤

اور موجد، بوجہ حقیقی ہیں۔ ص ٩٥

اور آریہ فرقہ کے تعصب اور جذبات کا ذکر۔ ص ٩٦

اور مفتری تھے۔ ص ٩٩

ہے یہ فرقہ کہ عبث ہے۔ ص ٩٩

آزادی :-

حقیقی آزادی (یعنی غلطی اور شک و شبہات سے نجات پا کر یقین کامل تک پہنچنا اور اپنے مرجع کو اسی دنیا میں دیکھ لینا) دنیا میں کامل اور خدا دوست مسلمانوں کو بوجہ سیر قرآن شریف حاصل ہے۔ اور بجز ان کے کسی برہمو وغیرہ کو حاصل نہیں۔ ص ٩٤ و ص ٩٥

آیاتِ قرآنیہ :-

اتخذوا احبارهم ص ٢١/٤

اعلموا ان الله يحيى الارض ص ٢٤٩/٧

انما يعلم حيث يجعل .... ص ١١٨/٦

اَصْدَقُ الَّذِينَ آمَنُوا ٦٢٥

اللَّهُ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضِ ٦١٢/١٧

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَانَا ١٠٩/٤

الْخَبِيثَاتُ لِلْخَبِيثِينَ ٢٤٠/٢٢

الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا ٥٩١/١٧

الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ ٥٢٥

اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ١٧٤/٦

اَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ اُوتُوا ٥٤٨

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللَّهَ ٢٨٨/١٠

الۤمّۤ . ذَلِكَ الْكِتٰبُ ٥٩/٢

اَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ ٦٣١

اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ ٥١٣/١٤

اِنَّا اَعْطَيْنَاكَ سَبْعًا ٢٤٢/٨

اِنَّا اَنْزَلْنَاهُ فِى لَيْلَةِ الْقَدْرِ ص ٣٩٤ و ص ٧١٥

اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْاَرْضِ ١٩٤

اِنَّ نِعْمَةَ اللَّهِ ٢٢٩/٧

اِنَّ فِى خَلْقِ السَّمَوَاتِ اِلَى بَاطِلًا ص ٣٩٥/١١

اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ ص ٨٣ و ص ٢١٧

اِنَّ اللَّهَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ ص ١٣٤ و ص ٤٠٣

اِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا } ٤٣٩/١٤ وَالَّذِينَ هَاجَرُوا

اِنَّ الَّذِينَ اُوتُوا الْعِلْمَ ٥٥٦

اِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ ٥٤٨

براہین احمدیہ صفحہ 6 ، مندرجہ روحانی خزائن جلد 1، صفحہ 6 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 173 پر درج ہے

صفحہ 710

حوالہ نمبر 208

اہل اسلام اور عیسائیوں میں مباحثہ ۲۷۶ ۵۔ جون ۱۸۹۳ء

ع ۔ قرآن کی یہ تعلیم ہو کہ یہ بہتان بکنے والے پکڑے جاویں ہم نے ڈپٹی صاحب کے قول کو ایسا سمجھا ہو۔ غ ۔ اگر یہی تعلیم ہو تو آئیے قرآن شریف کی پیش کیجئے بلکہ جنہوں نے تلواروں سے قتل کیا وہ تلواروں سے بھی مارے گئے ۔ جنہوں نے ناحق غریبوں کو لُوٹا وہ لُوٹے گئے جیسا کیا ویسا پایا بلکہ انکے ساتھ بہت نرمی کا برتاؤ ہوا جس پر آج اعتراض کیا جاتا ہے کہ کیوں ایسا برتاؤ ہوا سب کو قتل کیا ہوتا ۔ ع ۔ قرآن نے جائز رکھا کہ خوفزدہ ایمان کا اظہار نہ کرے۔ غ ۔ اگر قرآن کی یہی تعلیم ہو تو پھر اُسی قرآن میں یہ حکم کیوں ہو۔ ان یجاهدوا فی سبیل الله باموالهم وانفسهم (سورۃ توبہ رکوع ۶) اور كانهم بنيان مرصوص ع اور یہ کہ ولا يخشون احدا الا الله الخ ۔ اصل بات یہ ہے کہ ایمانداروں کے مراتب ہوتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے منهم ظالم لنفسه ومنهم مقتصد ومنهم سابق بالخيرات الخ یعنی بعض مسلمان تو ایسے ہیں جن پر نفسانی جذبات غالب ہیں اور بعض درمیانی حالت کے ہیں اور بعض وہ ہیں کہ انتہاء کمالات ایمانیہ تک پہنچ گئے ہیں پھر اگر اللہ تعالیٰ نے برعایت اُس طبقہ مسلمانوں کے جو ضعیف اور بُزدل اور ناقص الایمان ہیں یہ فرما دیا کہ کسی جان کے خطرہ کی حالت میں اگر وہ دل میں اپنے ایمان پر قائم رہیں اور زبان سے گو اس ایمان کا اقرار نہ کریں تو ایسے آدمی معذور سمجھے جاوینگے مگر ساتھ اسکے یہ بھی تو فرما دیا کہ وہ ایماندار بھی ہیں کہ بہادری سے دین کی راہ میں اپنی جانیں دیتے ہیں اور کسی سے نہیں ڈرتے اور پھر پولوس کا حال آپ پر پوشیدہ نہیں جو فرماتے ہیں کہ میں یہودیوں میں یہودی اور غیر قوموں میں غیر قوم ہوں اور حضرت پطرس صاحب نے بھی مخالفوں سے ڈر کر تین مرتبہ انکار کر دیا۔ بلکہ ایک دفعہ نقل کفر کفر نباشد۔ حضرت مسیح پر لعنت بھیجی کذاب بھی کہا۔ اب میں نے تحقیقاً سنا ہے کہ بعض انگریز اسلامی ملکوں میں بعض مصالح کیلئے جا کر اپنا مسلمان ہونا ظاہر کرتے ہیں ۔ ع ۔ قرآن میں لکھا ہے کہ ذوالقرنین نے آفتاب کو کیچڑ میں غروب ہوتے پایا۔ غ ۔ یہ صرف ذوالقرنین کے وجدان کا بیان ہے آپ بھی اگر جہاز میں سوار ہوں تو آپکو بھی

۱۹۴

جنگ مقدس، صفحہ 194 مندرجہ روحانی خزائن، جلد 6 صفحہ 276 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 174 پر درج ہے

صفحہ 711

حوالہ نمبر 2(14)

حقیقة وحی ۱۵۴

کہ ایک شخص کو محض بوجہ خدا بنایا گیا ہے جس کی چالیس کروڑ آدمی پرستش کر رہے ہیں۔ تب اُس نے مجھے ایسے زمانہ میں بھیجا کہ جب اس عقیدہ پر غلو انتہا تک پہنچ گیا تھا اور تمام نبیوں کے نام میرے نام رکھے مگر مسیح ابن مریم کے نام سے خاص طور پر مجھے مخصوص کر کے وہ میرے پر رحمت کیا عنایت کی گئی جو اس پر نہیں کی گئی تا لوگ سمجھیں کہ فضل خدا کے ہاتھ میں ہے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔ اگر میں اپنی طرف سے یہ باتیں کرتا ہوں تو جھوٹا ہوں لیکن اگر خدا میری نسبت اپنے نشانوں کے ساتھ گواہی دیتا ہو تو میری تکذیب تقویٰ کے برخلاف ہے اور جیسا کہ انبیا نے بھی لکھا ہے ۔ میرا آنا خدا کے کامل جلال کے ظہور کا وقت ہے اور میرے وقت میں فرشتوں اور شیاطین کا آخری جنگ ہے۔ اور خدا اس وقت وہ نشان دکھلائیگا جو اُس نے کبھی دکھائے نہیں گویا خدا زمین پر خود اُتر آئیگا جیسا کہ وہ فرماتا ہے یوم یأتی ربک فی ظلل من الغمام یعنی اُس دن بادلوں میں تیرا خدا آئیگا یعنی انسانی نظر کے ذریعہ سے اپنا جلال ظاہر کریگا اور اپنا چہرہ دکھلائیگا۔ کفر اور شرک نے بہت غلبہ کیا اور وہ خاموش رہا اور ایک مخفی خزانہ کی طرح ہو گیا اب چونکہ شرک اور انسان پرستی کا غلبہ کمال تک پہنچ گیا اور اسلام اس کے پاؤں کے نیچے کچلا گیا اسلئے خدا فرماتا ہے کہ میں زمین پر نازل ہونگا اور وہ قہری نشان دکھلاؤنگا کہ جب سے نسلِ آدم پیدا ہوئی ہے کبھی نہیں دکھلائے۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ مدافعت بقدر حملہ دشمن ہوتی ہے پس جس قدر انسان پرستوں کو شرک پر غلو ہے وہ غلو بھی انتہا تک پہنچ گیا ہے اسلئے اب خدا آپ لڑے گا اور نشانوں کو کوئی تلوار نہیں نکالے گا اور نہ کوئی جہاد ہوگا ہاں اپنا ہاتھ دکھلائیگا۔ بیوقوفوں کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ مسیح ظاہر ہوں گے اور آخری مسیح جو اس زمانہ کا مسیح موعود ہے پہلے مسیح سے افضل ہوگا۔ اور عیسائی ایک ہی مسیح کے قائل ہیں مگر کہتے ہیں کہ وہی مسیح ابن مریم جو پہلے ظاہر ہوا آخری زمانہ میں بڑی قوت اور جلال کے ساتھ ظاہر ہوگا اور دنیا کے فرقوں کا فیصلہ کریگا اور کہتے ہیں کہ اس قدر جلال کے ساتھ ظاہر ہوگا کہ آمد اول کو اس سے کچھ نسبت نہیں۔ بہر حال یہ دونوں فرقے قائل ہیں کہ آخری مسیح جو آخری زمانہ میں آئے گا اپنے

حقیقت الوحی صفحہ 154 ، از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 174 پر درج ہے

صفحہ 712

(حوالہ نمبر 210)

بعض اعتراضوں کے جواب ۱۵۸ حقیقت الوحی

تسلی دے رہی ہو اور ہزار ہا خدائی گواہیاں اور فوق العادت نشان اپنے ساتھ رکھتی ہو۔ خدا تعالیٰ کے کام مصلحت اور حکمت سے خالی نہیں۔ اُس نے دیکھا کہ ایک شخص کہ محض بے وجہ خدا بنایا گیا ہو جس کی چالیس کروڑ آدمی پرستش کر رہے ہیں۔ تب اُس نے مجھے ایسے زمانہ میں بھیجا کہ جب اس عقیدہ پر غلوّ انتہا تک پہنچ گیا تھا اور تمام نبیوں کے نام مٹ گئے مگر مسیح ابن مریم کے نام سے خاص طور پر مجھے مخصوص کر کے وہ میرے پر رحمت اور عنایت کی گئی جو اُس پر نہیں کی گئی تا لوگ سمجھیں کہ فضل خدا کے ہاتھ میں ہے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔ اگر میں اپنی طرف سے یہ باتیں کرتا ہوں تو جھوٹا ہوں لیکن اگر خدا میری نسبت اپنے نشانوں کے ساتھ گواہی دیتا ہے تو میری تکذیب تقویٰ کے برخلاف ہے۔ اور جیسا کہ دانیال نبیؑ نے لکھا ہے میرا آنا خدا کے کامل جلال کے ظہور کا وقت ہے۔ اور میرے وقت میں فرشتوں اور شیاطین کا آخری جنگ ہے۔ اور خدا اسوقت وہ نشان دکھائیگا جو اُس نے کبھی دکھائے نہیں گویا خدا زمین پر خود اُتر آئیگا جیسا کہ وہ فرماتا ہے هل ينظرون الا ان ياتيهم الله فى ظلل من الغمام ۱؎ یعنی اُس دن بادلوں میں تیرا خدا آئے گا یعنی انسانی مظہر کے ذریعہ سے اپنا جلال ظاہر کریگا اور اپنا چہرہ دکھلائیگا۔ کفر اور شرک نے بہت غلبہ کیا اور وہ خاموش رہا اور ایک مخفی خزانہ کی طرح ہو گیا۔ اب چونکہ شرک اور انسان پرستی کا غلبہ کمال تک پہنچ گیا اور اسلام ہر ایک کے پاؤں کے نیچے کچلا گیا اسلئے خدا فرماتا ہے کہ میں زمین پر نازل ہونگا اور وہ قہری نشانی دکھلاؤنگا کہ جب سے نسل آدم پیدا ہوئی ہے کبھی نہیں دکھلائی۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ مدافعت بقدر حملہ دشمن ہوتی ہے۔ پس جس قدر انسان پرستوں کو شرک پر غلوّ ہے وہ غلوّ بھی انتہا تک پہنچ گیا ہے۔ اسلئے اب خدا آپ لڑیگا وہ انسانوں کو کوئی تلوار نہیں دیگا اور نہ کوئی جہاد ہوگا ہاں اپنا ہاتھ دکھلائیگا۔ یہودیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ دو مسیح ظاہر ہونگے اور آخری مسیح جس سے اس زمانہ کا مسیح مراد ہے پہلے مسیح سے افضل ہوگا۔ اور عیسائی ایک ہی مسیح کے قائل ہیں مگر کہتے ہیں کہ وہی مسیح ابن مریم جو پہلے ظاہر ہوا آمد ثانی میں بڑی قوّت اور جلال کے ساتھ ظاہر ہوگا اور دُنیا کے فرقوں کا فیصلہ کریگا۔ اور کہتے ہیں کہ اس قدر جلال کے ساتھ ظاہر ہوگا کہ آمد اوّل کو اسکی کچھ نسبت نہیں۔

۱؎ البقرۃ : ۲۱۱

حقیقت الوحی صفحہ 158 روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 158 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 174 پر درج ہے

صفحہ 713

حوالہ نمبر 211

براہین احمدیہ ۶۰۱ پہلی فصل

نے منع کیا ہے اور اُسی کتاب کا پابند رہتا ہے جو اُس کے شارع نے دِی ہے تو برخلاف قسم دوم کے کہ اُس میں انفکاک جائز ہے اور یہانتک ولایت کسی ولی کی قسم سوم تک

۵۵

نہیں پہنچتی عارضی ہے اور خطرات سے امن میں نہیں ۔ وجہ یہ کہ جبتک انسان کی سرشت میں خدا کی محبت اور اُسکے غیر کی عداوت دخل نہیں کرتیکہ پھر رگ و ریشہ ظُلم کا اسمیں باقی نہ ہو کیونکر اُس حقِ ربوبیت کو خَلَقَ آدَمَ فَاَكْرَمَہُ ۔ پیدا کیا آدم کو پس اکرام کیا اُس کا ۔ يَجْرِي اللهُ فِي حُلَلِ الْأَنْبِيَاءِ جری اللہ نبیوں کے حُلل میں۔ اِس فقرہ الہامی کے یہ معنے ہیں کہ منصبِ ارشاد و ہدایت اور مورد وحی الٰہی ہونے کا دراصل محکمہ انبیاء ہے اور اُن کے غیر کو بطور مستعار ملتا ہے اور یہ حُلّہ انبیاء اُمّتِ محمدیہ کے بعض افراد کو بفرضِ تکمیلِ ناقصین عطا ہوتا ہے اور اِسی کی طرف اشارہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عُلَمَاءُ اُمَّتِیْ كَأَنْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ ۔ پس یہ لوگ اگرچہ نبی نہیں پر نبیوں کا کام اُن کو سُپرد کیا جاتا ہے ۔ وَكُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ فَأَنْقَذَكُمْ مِّنْهَا۔ اور تھے تم ایک گڑھے کے کنارہ پر سو اُس سے تم کو خلاصی بخشی یعنے خلاصی کا سامان عطا فرمایا عَسَى رَبُّكُمْ اَنْ يَّرْحَمَ عَلَيْكُمْ وَإِنْ عُدْتُمْ عُدْنَا وَجَعَلْنَا جَهَنَّمَ

۵۶

لِلْكَافِرِينَ حَصِيرًا ۔ خدائے تعالیٰ کا ارادہ اِس بات کی طرف متوجہ ہے جو تم پر رحم کرے۔ اور اگر تم نے گناہ اور سرکشی کی طرف رجوع کیا تو ہم بھی سزا اور عقوبت کی طرف رجوع کریں گے اور ہم نے جہنم کو کافروں کیلئے قید خانہ بنا رکھا ہے ۔ یہ آیت اِس مقام میں حضرت مسیح کے جلالی طور پر ظاہر ہونے کا اشارہ ہے یعنی اگر طریق رفق اور نرمی اور لطف احسان کو قبول نہیں کریں گے اور حق محض جو دلائل واضحہ اور آیات بیّنہ سے کھل گیا ہے ۔ اُس سے سرکش رہیں گے ۔ تو وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ جب خدائے تعالیٰ مجرمین کے لئے شدت اور عنف اور قہر اور سختی کو استعمال میں لائیگا اور حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا پر اُتریں گے اور تمام راہوں اور

براہین احمدیہ صفحہ 601 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 601 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 175 پر درج ہے

صفحہ 714

حوالہ نمبر 212

۴۲۵ اربعین نمبر ۳

اور تو میرا سب سے بڑا نام ہے۔ تجھے ان دنوں میں خوشخبری ہو ۔ اے ابراہیم ! تو مجھ سے ہے ۔ تو خدا کے نفس پر قائم ہے ۔ زندہ خدا کا مظہر ۔ اور تو مجھ سے امر مقصود کا مبدء ہے اور تُو ہمارے پانی سے ہے اور دوسرے لوگ فشل سے ۔ کیا یہ کہتے ہیں ۳۵ کہ ہم ایک بڑی جماعت ہیں انتقام لینے والے ۔ یہ سب بھاگ جائیں گے اور پیٹھ پھیر لیں گے ۔ وہ خدا قابل تعریف ہے جس نے تجھے دامادی اور آبائی عزت بخشی ۔ اپنی قوم کو ڈرا اور کہہ کہ میں خدا کی طرف سے ڈرانے والا ہوں ۔ ہم نے کئی کھیت تیرے لئے تیار کر رکھے ہیں اے ابراہیم ! اور لوگوں نے کہا کہ ہم تجھے ہلاک کرینگے مگر خدا نے اپنے بندہ کو کہا کہ کچھ خوف کی جگہ نہیں۔ میں اور میرے رسول غالب ہونگے۔ اور میں اپنی فوجوں کے ساتھ عنقریب آؤں گا۔ میں سمندر کی طرح موج زنی کرونگا خدا کا فضل آنے والا ہے اور کوئی نہیں جو اس کو ردّ کر سکے اور کعبہ خدا کی قسم یہ بات سچ ہے اس میں تبدیلی نہیں ہوگی اور نہ وہ چھپی رہے گی اور وہ امر نازل ہو گا جس سے تو تعجب کرے گا۔ یہ خدا کی وحی ہے جو اونچے آسمانوں کا بنانے والا ہے اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہر ایک چیز کو جانتا ہے اور دیکھتا ہے ۔ اور وہ خدا اُن کے ساتھ ہے جو اُس سے ڈرتے ہیں اور نیکی کو نیک طور پر ادا کرتے ہیں اور اپنے نیک عملوں کو خوبصورتی کے ساتھ انجام دیتے ہیں۔ وہی ہیں جن کے لئے آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے اور دنیا کی زندگی میں بھی ان کو بشارتیں ہیں تو نبی کی کنار عاطفت میں پرورش پا رہا ہے اور میں ہر حال میں تیرے ساتھ ہوں ۔ اور پھر فرمایا :۔ : قالوا ان ھذا الا اختلاق ۔ ان ھذا الرجل معوج الدین ۔ قل جاء الحق وزھق الباطل ۔ قل لوکان الامر من عند غیر اللّٰہ لوجدتم فیہ اختلافا کثیرا ۔ ھوالذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق وتهذیب الاخلاق ۔ قل ان افتریتہ فعلی اجرامی ۔ ومن اظلم

۸۳

اربعین نمبر 3 صفحہ 35 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 425 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 175 پر درج ہے

صفحہ 715

حوالہ نمبر 213

۵۵۱

وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیمۃ۔ انک الیوم لدینا مکین امین۔ انت منی بمنزلۃ توحیدی وتفریدی فحان ان تعان و تعرف بین الناس ویعلمک اللہ من عندہ تقیم الشریعۃ۔ وتحیی الدین انا جعلناک المسیح بن مریم۔ واللہ یعصمک من عندہ ولو لم یعصمک الناس۔ واللہ ینصرک ولو لم ینصرک الناس۔ الحق من ربک فلا تکونن من الممترین۔ یا احمدی انت مرادی ومعی۔ انت وجیہ فی حضرتی۔ اخترتک لنفسی۔ قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ ویغفر لکم ذنوبکم و یرحم علیکم وھو ارحم الراحمین۔ ھذہ نبذۃ من الھاماتی۔ ومن جملتھا الھام انا جعلناک المسیح بن مریم۔ و واللہ قد کنت اعلم من ایام مدیدۃ اننی جعلت المسیح ابن مریم وانی نازل فی منزلہ ولکن اخفیتہ نظرا الی تاویلہ۔ بل ما بدلت عقیدتی وکنت علیھا من المستمسکین وتوقفت فی الاظھار عشر سنین۔ وما استعجلت وما بادرت وما اخبرت حبّا ولا عدوا ولا احدا من الحاضرین۔ وان کنتم فی شک فاسئلوا علماء الھند کم مضت من مدۃ علی الھامی۔ یا عیسی انی متوفیک۔ او اقرءوا البراھین وکنت انتظر الخیرۃ والمرضاۃ و امر اللہ تعالی حتی تکرر ذالک الالھام۔ و رفع الظلام۔ وتواتر الاعلام۔ و بلغ الی عدۃ یعلمھا رب العلمین۔ وخوطبت للاظھار بقولہ۔ فاصدع بما تؤمر۔ وظھرت علامات تعرفھا حاسۃ الاولیاء۔ وعقل ارباب الاصطفاء وتجلی الصبح واکّد الامر۔ وشرح الصدر۔ واطمأن الجنان۔ وافتی القلب۔ وتبین انہ

آئینہ کمالات اسلام صفحہ 551 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 551 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 176 پر درج ہے

صفحہ 716

حوالہ نمبر 214 حقیقۃ الوحی 110 باب چہارم الحمد لله الذی جعل لکم الصھر و النسب الحمد لله الذی اذھب اُس خدا کی تعریف ہے جس نے داماد بنایا اور نسب کی وجہ سے تیرے پر احسان کیا۔ اُس خدا کی تعریف ہے جس نے میرا عنى الحزن و اتانى ما لم يؤت احدا من العالمين ۔ یٰسٓ۔ انك غم دُور کیا ۔ اور مجھ کو وہ چیز دی جو اس زمانہ کے لوگوں میں کسی کو نہیں دی گئی ۔ اے سردار تُو خدا کا لمن المرسلين على صراط مستقيم تنزيل العزيز الرحيم اردت مرسل ہے ۔ راہ راست پر اُس خدا کی طرف سے جو غالب رحم کرنیوالا ہے میں نے ارادہ کیا ان استخلف فخلقت ادم ۔ یحی الدین و یقیم الشریعۃ۔ کیا کہ اس زمانہ میں اپنا خلیفہ مقرر کروں سو میں نے آدم کو پیدا کیا ۔ وہ دین کو زندہ کریگا اور شریعت کو قائم کرے گا۔

چو دور خسروی آغاز کردند * مسلماں را مسلماں باز کردند

جب مسیح السلطانی کا دور شروع کیا گیا تو مسلمانوں کو جو صرف رسمی مسلمان تھے نئے سرے سے مسلمان بنانے لگے ان السموات والارض کانتا رتقا ففتقنھما ۔ قرب اجلک آسمان اور زمین ایک بند تھے ہم نے ان دونوں کو کھول دیا یعنی زمین پر بھی برکات اور آسمان پر بھی ۔ اب تیرا وقت المقدر ان ذا العرش یدعوک ۔ ولا نبقی لک من المخزیات موت قریب آگیا ۔ ذوالعرش تجھے بلاتا ہے اور ہم تیرے لئے کوئی رسوا کنندہ امر نہیں چھوڑیں گے ذکرًا ۔ قل میعاد ربک ولا نبقی لک من المخزیات شیئاً ۔ تیرا ذکر بلند کیا گیا ہے رب کا وعدہ آ گیا ہے اور ہم تیرے لئے کوئی امر رسوا کنندہ باقی نہیں چھوڑیں گے ۔ بہت تھوڑے دن رہ گئے ہیں اُس دن خدا کی طرف سے بہت تھوڑے دن تمہارے رہ گئے ہیں اُس دن سب جماعت دل پر داغشتہ سب پر اداسی چھا جائے گی ۔ یہ ہوگا ۔ یہ ہوگا ۔ یہ ہوگا۔ یعنی واقعات کے ظہور کے بعد جبکہ تو بے یار و مددگار اور بے وقار اور بے عزت تھا اور باوجود سخت مخالفین کے تجھے بچا لیا اور وہ تیرے حاسد تھے اپنے مقاصد میں نامراد رہے ۔ منہ لفظ رجفہ کے معنے کانپنا ہے ۔ دل کا کانپنا ہے ۔ اس سے مراد آسمانی تباہی ہے یعنی وہ ایک صدمہ جو مخالف قوم کو پہنچے گا جس سے تو اور تیرے پیرو بچیں گے ۔ منہ

بقیہ حاشیہ صفحہ 107 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 110 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 176 پر درج ہے

صفحہ 717

حوالہ نمبر 215

ازالہ اوہام ۱۴۰ حصہ اول

حالانکہ وہ بجائے خود اپنے تئیں مجذوب سمجھتے تھے کیونکہ اُن کی بائبل کے ظاہری الفاظ پر نظر تھی۔ افسوس کہ ہمارے مسلمان بھائی بھی اسی گرداب میں پڑے ہوئے ہیں اور حضرت مسیح کی نسبت یہودیوں کی طرح اُن کے دلوں میں بھی یہی خیال جما ہوا ہے کہ ہم انہیں کبھی بجسمہ آسمان سے اُترتے دیکھیں گے اور یہ اَجوُبہ ہم بچشم خود دیکھیں گے کہ حضور مسیح زرد رنگ کی پوشاک پہنے ہوئے آسمان سے اُترتے چلے آتے ہیں اور دائیں بائیں فرشتے اُن کے ساتھ ہیں اور تمام بازاری لوگ اور دیہات کے آدمی ایک بڑے میلہ کی طرح اکٹھے ہو کر دُور سے اُن کو دیکھ رہے ہیں اور

فیه اختلافا کثیرا۔ قل لو اتبع الحق اهواءهم لفسدت السموات والارض ومن فيهنّ ولـبطلت حكمته وكان الله عزيزا حكيما۔ قل لو كان البحر مدادا لكلمات ربی لنفد البحر قبل ان تنفد كلمات ربی ولو جئنا بمثله مدداً۔ قل ان كنتم تحبون الله فاتبعونی يحببكم الله وكان الله غفورا رحيماً۔ پھر اس کے بعد الہام کیا گیا کہ ان علماء نے میرے گھر کو بدل ڈالا۔ میری عبادت گاہ میں ان کے چولہے ہیں میری پرستش کی جگہ میں اُن کے پیالے اور ٹھوٹھیاں رکھی ہوئی ہیں اور چوہوں کی طرح میرے نبی کی حدیثوں کو کتر رہے ہیں (ٹھوٹھیاں بمعنی چھوٹی پیالیاں ہیں جن کو ہندستان میں کٹوریاں کہتے ہیں۔ عبادت گاہ سے مراد اس الہام میں زمانہ حال کے اکثر مولویوں کے دل ہیں جو دنیا سے بھرے ہوئے ہیں) اس جگہ مجھے یاد آیا کہ جس روز وہ الہام مذکورہ بالا جس میں قادیان میں نازل ہونے کا ذکر ہے ہوا تھا اس روز کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب مرحوم میرزا غلام قادر میرے قریب بیٹھ کر بآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انہوں نے ان فقرات کو پڑھا کہ انا انزلنہ قریباً من القادیان تو میں نے سُن کر تعجب کیا کہ کیا قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے تب انہوں نے کہا کہ یہ دیکھو لکھا ہوا ہے تب میں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ میں شاید دسویں نصف کے موقع پر یہی الہامی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے اور میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے مکہ اور مدینہ اور قادیان یہ کشف تھا

ازالہ اوہام صفحہ 77 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 140 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 177 پر درج ہے

صفحہ 718

حوالہ نمبر 216 براہین احمدیہ ۵۹۳ پہلی فصل

۴۹۸ تمہید ھشتم ۔ جو امر خارق عادت کسی ولی سے صادر ہوتا ہے۔ وہ حقیقت میں اس متبوع کا معجزہ ہے جس کی وہ امت ہے اور یہ بدیہی اور

بقیہ حاشیہ ۴۹۹ قادر مطلق کہ جس کے علم قدیم سے ایک ذرہ مخفی نہیں اور جس کی طرف کوئی نقصان اور خسران عاید نہیں ہو سکتا۔ اور جو ہر یک قسم کے جہل اور آلودگی اور ناتوانی اور غم اور حزن اور درد اور رنج اور گرفتاری سے پاک ہے وہ کیوں کر اس چیز کا معین ہو سکتا ہے کہ جو

بقیہ حاشیہ در حاشیہ بدرجہ یقین کامل پہنچ کر پھر مشکور ہیں۔ پھر بعد اسکے فرمایا ۔ اِنَّا اَنْزَلْنَاهُ قَرِيبًا مِّنَ الْقَادِيَانِ ۔ وَبِالْحَقِّ أَنْزَلْنَاهُ وَبِالْحَقِّ نَزَلَ ۔ صَدَقَ اللهُ وَرَسُوْلُهُ وَكَانَ أَمْرُ اللهِ مَفْعُوْلًا ۔ یعنے ہم نے ان نشانوں اور عجائبات کو اور نیز اس الہام پُر از معارف وحقائق کو قادیان کے قریب اُتارا ہے اور بضرورت حقہ کے ساتھ اُتارا ہے اور بضرورت حقہ اُترا ہے ۔ خدا اور اُسکے رسول نے خبر دی تھی کہ جو اپنے وقت پر پوری ہوئی اور جو کچھ خدا نے چاہا تھا وہ ہونا ہی تھا ۔ یہ آخری فقرات اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس شخص کے ظہور کیلئے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حدیث متذکرہ بالا میں اشارہ فرماچکے ہیں اور خدائے تعالیٰ اپنے کلام مقدس میں اشارہ فرماچکا ہے چنانچہ وہ اشارہ حصہ سوم کے الہامات میں بھی درج ہوچکا ہے اور قرآنی اشارہ اس آیت میں ہے ۔ هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ ۔ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیشگوئی ہے ۔ اور جس غلبۂ کاملہ دینِ اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا ۔ اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دُنیا میں تشریف لائینگے تو ۴۹۹ اُن کے ہاتھ سے دینِ اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا ۔ لیکن اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسار اپنی غربت اور انکسار اور توکل اور ایثار اور آیات اور انوار کے رُو سے مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے اور اس عاجز کی فطرت اور مسیح کی فطرت باہم نہایت ہی متشابہ واقع ہوئی ہے گویا ایک ہی جوہر کے دو ٹکڑے یا ایک ہی درخت کے دو پھل ہیں اور بحدی اتحاد ہے کہ نظرِ کشفی میں نہایت ہی باریک امتیاز ہے اور نیز ظاہری طور پر

الصف : ١٠

یہ حوالہ صفحہ 178 پر درج ہے | براہین احمدیہ صفحہ 571 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 593 از مرزا قادیانی

صفحہ 719

حوالہ نمبر 217

ضرورۃ الامام ۴۹۳

باوا صاحب کے ہاتھوں کی یادگار ہے۔ اور گرنتھ کے شبد تو بہت پیچھے سے اکٹھے کئے گئے ہیں۔ جس میں محققوں کو بہت کچھ کلام ہے۔ خدا جانے اس میں کیا کیا تصرفات ہوئے ہیں۔ اور کن کن لوگوں کے کلام کا ذخیرہ ہے۔ خیر یہ قصّہ اس جگہ کے لائق نہیں ہے۔ ہمارا اصل مطلب تو یہ ہے کہ بنی نوع انسان کا ایمان تازہ رکھنے کیلئے تازہ الہامات کی ہمیشہ ضرورت ہے۔ اور وہ الہامات اقتداری قوت سے شناخت کئے جاتے ہیں۔ کیونکہ خدا کے سوا کسی شیطان جنّ بھوت میں اقتداری قوت نہیں ہو۔ اور امام الزمان کے الہام سے باقی الہامات کی صحت ثابت ہوتی ہے۔

ہم بیان کر چکے ہیں کہ امام الزمان اپنی جبلّت میں قوّت امامت رکھتا ہے اور دستِ قدرت نے اسکے اندر پیشروی کا خاصہ رکھا ہوا ہوتا ہے۔ اور یہ سنّت اللہ ہے کہ وہ انسانوں کو متفرق طور پر چھوڑنا نہیں چاہتا۔ بلکہ جیسا کہ اُس نے نظامِ شمسی میں بہت سے ستاروں کو داخل کر کے سُورج کو اس نظام کی بادشاہی بخشی ہو۔ ایسا ہی وہ عالم روحانی کو ستاروں کی طرح حسب مراتب روشنی بخش کر امام الزمان کو اُنکا سُورج قرار دیتا ہے اور یہ سنّت الٰہی یہاں تک اسکی آفرینش میں پائی جاتی ہے کہ شہد کی مکھیوں میں بھی یہ نظام موجود ہے کہ ان میں بھی ایک امام ہوتا ہے جو یعسوب کہلاتا ہے۔ اور جسمانی سلطنت مثلاً میں بھی یہی خدا تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہو کہ ایک قوم میں ایک امیر اور بادشاہ ہو۔ اور خدا کی لعنت ان لوگوں پر ہے جو تفرقہ پسند کرتے ہیں۔ اور ایک امیر کے تحت حکم نہیں چلتے۔ حالانکہ اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے۔ اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْ ۱؎ اولی الامر سے مراد جسمانی طور پر بادشاہ اور روحانی طور پر امام الزمان ہے۔ اور جسمانی طور پر جو شخص ہمارے مقاصد کا مخالف نہ ہو اور اس سے مذہبی فائدہ ہمیں حاصل ہو سکے وہ ہم میں سے ہے۔ اسی لئے میری نصیحت اپنی جماعت کو یہی ہے کہ وہ انگریزوں کی بادشاہت کو اپنے اولی الامر میں داخل کریں اور دل کی سچائی سے انکے مطیع رہیں ۔

۱؎ النساء : ۶۰

ضرورۃ الامام صفحہ 23 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 493 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 179 پر درج ہے

صفحہ 720

حوالہ نمبر 218

م الفاتحة ١

اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ ۙ ہمیں سیدھے راستے پر چلا ۙ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ۙ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ اُن لوگوں کے رستے پر جن پر تُو نے انعام کیا ہے جن پر نہ تو (بعد میں) تیرا غضب عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّآلِّيْنَ ع نازل ہوا ہے اور نہ وہ (بعد میں) گمراہ (ہوگئے) ہیں ع

١؎ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ میں بتایا گیا ہے کہ رُؤیت کے بعد انسان کے اندر وصال کی شدید خواہش پیدا ہوتی ہے۔ رُؤیت کشفِ حجاب کی متقاضی ہوتی ہے اور وصال قربِ مقام کا متقاضی ہے پس اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ کے ساتھ ہی نمازی انسان کے دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے کہ میں خدا تعالیٰ کے قریب چلا جاؤں پس اِس آیت میں اس طرف دلالت کی گئی ہے کہ جب مومن اِيَّاكَ نَعْبُدُ کے مقام پر پہنچتا ہے تو بے اختیار ہو کر کہتا ہے کہ مجھے اپنے پاس آنے کا قریب ترین راستہ بتا۔

اَلصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ : یعنی سیدھا راستہ جو بھٹکنے سے بچاتا ہے۔ چونکہ چھوٹا رستہ خدا کی طرف جانے کا بھی ہو سکتا ہے اور جہنّم اور آگ اور شیطان کی طرف جانے کا بھی ہو سکتا ہے اس لیے اس کی تشریح اگلی آیت میں کی ہے کہ ۲؎ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ : منعم علیہ گروہ کا رستہ مجھے دکھا یعنی رستہ چھوٹا بھی ہو اور مجھ تک پہنچنے کا راستہ ہو اور نتیجہ سے دُور لے جانے والا راستہ نہ ہو۔

۳؎ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّآلِّيْنَ : اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کا بدل ہے پس اس کے معنے یہ ہوئے کہ اُن منعم علیہم لوگوں کا رستہ بتا جو مغضوب نہیں ہو گئے اور جو ضالّ نہیں بن گئے ۔ منعم علیہم تو مغضوب اور ضالّ ہو ہی نہیں کرتے پھر اس دعا کے معنے کیا ہوئے ؟ پس یاد رکھنا چاہیے کہ جیسا کہ پچھلی آیات کے ترجمہ سے ظاہر ہے یہ دعا اجتماعی اور قومی دُعا ہے اور ہر قوم ایک زمانہ تک منعم علیہ ہونے کے بعد مغضوب علیہم یا ضالّ دونوں بن جاتی ہے پس اس دُعا کا یہی مطلب ہے کہ ہماری ابتدا بھی منعم علیہ کی ہو اور ہماری انتہا بھی منعم علیہ کی ہو۔ ایسا نہ ہو کہ ہماری قوم آہستہ آہستہ منعم علیہم سے ہٹ کر مغضوب ہو جائے یا ضالّ ہو جائے۔ یہ مطلب نہیں کہ فرد مغضوب اور ضالّ نہ بنے بلکہ یہ مراد ہے کہ قوم مغضوب اور ضالّ نہ بنے جس کی طرف اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ میں جمع کا صیغہ استعمال کر کے اشارہ کیا گیا ہے۔ پس غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّيْنَ کی آیت بتاتی ہے کہ یہ آئندہ زمانہ کے متعلق دعا ہے نہ کہ صحابہؓ کے زمانہ کے متعلق اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کے یہی معنے کیے ہیں کیونکہ جب آپ سے صحابہؓ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ مغضوب علیہم اور ضالّین کون ہیں ؟ تو آپؐ نے فرمایا یہود اور نصاریٰ ۔ اُسی طرح آپ نے فرمایا کہ خدا کی قسم جس طرح جوتی جوتی سے ملتی ہے اسی طرح میری قوم کے لوگ ایک دن ان پہلی قوموں کے نقش قدم پر چلیں گے۔

(ترمذی)

پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتا دیا کہ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّآلِّيْنَ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے لوگوں کے متعلق نہیں بلکہ اس میں آئندہ زمانہ کے مسلمانوں کے انحطاط کی طرف اشارہ ہے۔ لیکن جہاں اس پیشگوئی نے خطرہ کا ایک پہلو پیش کیا ہے وہاں ایک اُمید کی کرن بھی اس نے چھپائی ہے۔ کیونکہ دعا ایسے ہی امر کے متعلق کی جاتی ہے جو ممکن ہو۔ غیر ممکن کے لیے دعا نہیں کی جاتی (خصوصاً قرآنی دعا تو غیرممکن کے لیے ہوتی ہی نہیں) پس اس دعا نے ایک اُمید کا پہلو ہمارے لیے قائم رکھا ہے کہ اگر کسی زمانہ کے مسلمان ایسی حالت میں جبکہ وہ منعم علیہم ہوں، یہ کوشش کریں کہ وہ مغضوب علیہم اور ضالّین نہ بن جائیں تو ان کی کوششوں کے کامیاب ہونے کا امکان ضرور موجود ہے اور کسی چیز کے دروازہ کے کھلا رہنے سے بھی بہت بڑی اُمید پیدا ہوتی ہے اور حوصلہ بڑھتا ہے۔

تفسیر صغیر صفحہ 4 از مرزا بشیر الدین محمود یہ حوالہ صفحہ 181 پر درج ہے

صفحہ 721

حوالہ نمبر 219

الٓمّ ١ ٥ البقرة ٢

سُورَةُ الْبَقَرَةِ مَدَنِيَّةٌ وَ هِیَ مَعَ الْبَسْمَلَةِ مِائَتَانِ وَ سَبْعٌ وَ ثَمَانُوْنَ اٰیَةً وَ اَرْبَعُوْنَ رُکُوْعًا

سورۃ بقرہ: یہ سورۃ مدنی ہے اور بسم اللہ سمیت اس کی دو سو ستاسی آیات ہیں اور چالیس رکوع ہیں

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۝ میں اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم فرمانے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے پڑھتا ہوں۔ الٓمّ ۝١ الٓمّ۔ ذٰلِكَ الْکِتٰبُ لَا رَیْبَ ۛ فِيْهِ ۛ هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَ ۝٢ یہ کامل کتاب ہے اس (امر) میں کوئی شک نہیں، متقیوں کو ہدایت دینے والی ہے۔ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا جو غیب پر ایمان لاتے اور نماز کو قائم رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ ۝٣ ہے اس میں سے خرچ کرتے رہتے ہیں۔ وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ اور جو تجھ پر نازل کیا گیا ہے یا جو تجھ سے پہلے نازل کیا گیا تھا اس پر ایمان لاتے قَبْلِكَ ۚ وَ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ ۝٤ ہیں اور آئندہ آنے والی (موعودہ باتوں) پر بھی یقین رکھتے ہیں۔ اُولٰٓئِكَ عَلٰی هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ یہ لوگ یقیناً اس ہدایت پر قائم ہیں جو ان کے رب کی طرف سے الْمُفْلِحُوْنَ ۝٥ آئی ہے اور یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔

یہاں تک سورۃ بقرہ کی ۵ آیات ہیں جن میں سے ۴ آیات میں مومنین کی صفات بیان کی گئی ہیں

؎١ الٓمّ اور اسی قسم کے اور حروف جو مختلف سورتوں کے شروع میں آتے ہیں مقطعات کہلاتے ہیں۔ یہ حروف الگ الگ بولے جاتے ہیں، ان میں سے ہر حرف ایک لفظ کا قائم مقام ہوتا ہے۔ مثلاً الٓمّ میں الف اَنَا کا قائم مقام ہے اور لام اللّٰہ کا قائم مقام ہے اور میم اَعْلَمُ کا۔ گو یہ الفاظ کے تین حروف ہیں کہ اَنَا اللّٰهُ اَعْلَمُ کے معنی دیتے ہیں یعنی میں اللہ سب سے زیادہ جاننے والا ہوں۔ ان حروف کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی کسی صفت کی طرف اختصاراً اشارہ ہوتا ہے جو اس سورۃ میں بیان ہوتی ہیں جن کے ابتداء میں یہ حروف آتے ہیں بعض اوقات بیان شدہ صفت کا پہلا حرف لے لیا جاتا ہے اور بعض اوقات کوئی اور اہم حرف۔ بعض سورتیں ایسی بھی ہیں جن سے پہلے کوئی مقطعہ نہیں رکھا گیا، ایسی سورتیں اپنے سے پہلی سورۃ کے تابع ہوتی ہیں جن میں کوئی مقطعہ ہوتا ہے، بعض مفسرین نے ان حروف سے علم الجفر کے مطابق اعداد نکالے ہیں اور ان سے بعض واقعات کی طرف اشارہ مراد لیا ہے جو ان سورتوں میں بیان ہوئے ہیں (تفصیل کے لیے دیکھیں تفسیر کبیر جلد اول)

؎٢ ذٰلِكَ کے معنی "وہ" کے ہوتے ہیں لیکن کبھی یہ لفظ اس چیز کے لیے بھی جو قریب ہو اور شان و درجہ میں بہت افضل ہو استعمال ہوتا ہے اور اس جگہ اس کے یہی معنی ہیں۔ چونکہ اردو میں ان معنوں کو پوری طرح ادا کرنے والا کوئی لفظ نہیں اس لیے یہی کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ دوسرے معنی اس کے یہ ہیں کہ ذٰلِكَ کا اشارہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ کی مشارٌ اِلیہ کتاب کی طرف ہے اور مطلب یہ ہے کہ جس ہدایت یا کتاب کے مانگنے کی سورۃ فاتحہ کے آخر میں دعا کی گئی ہے وہی یہ کامل کتاب ہے۔ اس صورت میں ذٰلِكَ کے معنی درجہ کی بلندی کے کرنے کی ضرورت نہیں سورۃ فاتحہ چونکہ دوسری سورۃ ہے اس لیے ذٰلِكَ بعید کے اشارہ کے لیے قائم رہے گا جیسا کہ اس کے اصل معنی ہیں۔

؎٣ آیت میں وَ مَا ہے جس کے معنی "اور" کے ہیں۔ ہم نے "اور" کی بجائے "یا" استعمال کیا ہے تاکہ مفہوم آسانی سے سمجھ آسکے۔

تفسیر صغیر صفحہ 5 از مرزا بشیر الدین محمود

یہ حوالہ صفحہ 181 پر درج ہے

صفحہ 722

(حوالہ نمبر 221)

۲۰۶

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ

ایک غلطی کا ازالہ

ہماری جماعت میں سے بعض صاحب جو ہمارے دعویٰ اور دلائل سے کم واقفیت رکھتے ہیں جنکو نہ بغور کتابیں دیکھنے کا اتفاق ہوا اور نہ وہ ایک معقول مدت تک صحبت میں رہ کر اپنے معلومات کی تکمیل کرسکے۔ وہ بعض حالات میں مخالفین کے کسی اعتراض پر ایسا جواب دیتے ہیں کہ جو سراسر واقعہ کے خلاف ہوتا ہے۔ اس لئے باوجود اہل حق ہونے کے انکو ندامت اُٹھانی پڑتی ہے۔ چنانچہ چند روز ہوئے ہیں کہ ایک صاحب پر ایک مخالف کی طرف سے یہ اعتراض پیش ہوا کہ جس سے تم نے بیعت کی ہے وہ نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کا جواب محض انکار کے الفاظ سے دیا گیا حالانکہ ایسا جواب صحیح نہیں ہے۔ حق یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے۔ اس میں ایسے الفاظ رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں نہ ایک دفعہ بلکہ صدہا دفعہ پھر کیونکر یہ جواب صحیح ہو سکتا ہے کہ ایسے الفاظ موجود نہیں ہیں۔ بلکہ اس وقت تو پہلے زمانہ کی نسبت بہت تصریح اور توضیح سے یہ الفاظ موجود ہیں اور براہین احمدیہ میں بھی جسکو طبع ہوئے بائیس برس ہوئے۔ یہ الفاظ کچھ تھوڑے نہیں ہیں۔ چنانچہ وہ مکالمات الٰہیہ جو براہین احمدیہ میں شائع ہوچکے ہیں ان میں سے ایک یہ وحی اللہ ہے۔ ھُوَ الَّذِيْ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰی وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلٰی الدِّيْنِ کُلِّهٖ (دیکھو صفحہ ۴۹۸ براہین احمدیہ) اس میں صاف طور پر اس

۲

ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 2، 3 روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 206، 207 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 182 پر درج ہے

صفحہ 723

(حوالہ نمبر 220)

۲۰۷

عاجز کو رسول کر کے پکارا گیا ہے۔ پھر اسکے بعد اسی کتاب میں میری نسبت یہ وحی اللہ ہے جری اللّٰہ فی حلل الانبیاء یعنی خدا کا رسول نبیوں کے حلوں میں (دیکھو براہین احمدیہ ص۵۰۴) پھر اسی کتاب میں اس مکالمہ کے قریب ہی یہ وحی اللہ ہے محمد رسول اللّٰہ والذین معہ اشدآء علی الکفار رحماء بینھم اس وحی الہٰی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔ پھر یہ وحی اللہ ہے جو ص۵۵۵ براہین میں درج ہے۔ ’’دنیا میں ایک نذیر آیا‘‘ اس کی دوسری قراءت یہ ہے کہ دنیا میں ایک نبی آیا۔ اسی طرح براہین احمدیہ میں اور کئی جگہ رسول کے لفظ سے اس عاجز کو یاد کیا گیا۔ سو اگر یہ کہا جائے کہ آنحضرتؐ تو خاتم النبیین ہیں۔ پھر آپ کے بعد اور نبی کس طرح آ سکتا ہے۔ اس کا جواب یہی ہے کہ بیشک اس طرح سے تو کوئی نبی نیا ہو یا پُرانا نہیں آسکتا۔ جس طرح سے آپ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آخری زمانہ میں اُتارتے ہیں اور پھر اس حالت میں انکو نبی بھی مانتے ہیں۔ بلکہ چالیس برس تک سلسلہ وحیِ نبوت کا جاری رہنا اور زمانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بڑھ جانا آپ لوگوں کا عقیدہ ہے۔ بیشک ایسا عقیدہ تو معصیت ہے اور آیت ولکن رسول اللّٰہ وخاتم النبیین اور حدیث لا نبی بعدی اس عقیدہ کے کذب صریح ہونے پر کامل شہادت ہے۔ لیکن ہم اس قسم کے عقاید کے سخت مخالف ہیں۔ اور ہم اس آیت پر سچا اور کامل ایمان رکھتے ہیں جو فرمایا کہ ولکن رسول اللّٰہ وخاتم النبیین اور اس آیت میں ایک پیشگوئی ہے جس کی ہمارے مخالفوں کو خبر نہیں اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پیشگوئیوں کے دروازے قیامت تک بند کر دیئے گئے۔ اور ممکن نہیں کہ اب کوئی ہندو یا یہودی یا عیسائی یا کوئی رسمی مسلمان نبی کے لفظ کو اپنی نسبت ثابت کر سکے۔ نبوت کی تمام کھڑکیاں بند کی گئیں مگر ایک کھڑکی سیرۃ صدیقی کی کھلی ہے یعنی فنا فی الرسول کی۔ پس جو شخص اس کھڑکی کی راہ سے خدا کے پاس آتا ہے

لہ الاحزاب : ۴۱

ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 2-3 روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 206-207 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 182 پر درج ہے

صفحہ 724

حوالہ نمبر 221

انوار العلوم جلد ۳ ۸۶ انوار خلافت

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس واقعہ کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ایک واقعہ بیان فرمایا ہے کہ جب عیسیٰ بن مریم نے بنی اسرائیل کو کہا کہ اے بنی اسرائیل میں اللہ کا رسول ہو کر تمہاری طرف آیا ہوں اور ان باتوں کی تصدیق کرتا ہوں جو مجھ سے پہلے کی کتاب تورات ہے۔ اور تمہیں خوشخبری دیتا ہوں اس رسول کی جو میرے بعد آئے گا اور اس کا نام احمد ہو گا۔ اب یہاں سوال ہوتا ہے کہ وہ کون سا رسول ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد آیا اور اس کا نام احمد ہے۔ میرا اپنا دعویٰ ہے اور میں نے یہ دعویٰ یونہی نہیں کر دیا بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں میں بھی اسی طرح لکھا ہوا ہے اور حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے بھی یہی فرمایا ہے کہ مرزا صاحب احمد ہیں۔ چنانچہ ان کے درس کے نوٹوں میں یہی چھپا ہوا ہے اور میرا ایمان ہے کہ اس آیت کے مصداق حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہی ہیں ہاں پہلے پہل جب حضرت خلیفہ اول سے یہ بات میں نے سنی تو ابتداءً اسے قبول نہ کیا اور بہت کچھ اس کے متعلق بحثیں ہوتی رہیں لیکن جب میں نے اس پر غور کیا تو خدا تعالیٰ نے اس کے متعلق میرا سینہ کھول دیا اور دلائل قاطعہ اور براہین ساطعہ عنایت فرما دیئے اور میں نے اس خیال کو قبول کر لیا۔

ان آیات میں خدا تعالیٰ نے اول حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر فرمایا ہے کہ جب وہ اپنی قوم میں آئے اور ان کی قوم نے انہیں دکھ دیئے تو انہوں نے کہا کہ میں خدا کی طرف سے تمہارے پاس رسول ہو کر آیا ہوں مجھے قبول کر لو لیکن جب انہوں نے قبول نہ کیا اور کجی اختیار کی تو خدا تعالیٰ نے بھی ان کے دلوں کو کج کر دیا۔ اس ذکر کے بعد خدا تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد کے تمام انبیاء کا ذکر چھوڑ دیا ہے اور صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر کیا ہے۔ اس کی غرض سوائے اس کے اور کچھ نہیں ہے کہ جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تیرہ سو سال بعد حضرت مسیحؑ آئے تھے اسی طرح آنحضرت ﷺ کے تیرہ سو سال بعد جو مثیل موسیٰ ہیں مسیح موعودؑ آئے گا اور اِسْمُہٗ اَحْمَدُ کا جملہ اس کو صاف کر دیتا ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ کا نام احمد نہ تھا بلکہ محمدؐ تھا۔ چنانچہ اس آیت زیر بحث کو چھوڑ کر جس میں رسول اللہ ﷺ کو احمد کہہ کر مخاطب نہیں فرمایا بلکہ صرف حضرت مسیحؑ کی ایک پیشگوئی بیان فرمائی ہے جو خود زیر بحث ہے کسی جگہ بھی قرآن کریم میں آنحضرت ﷺ کو احمد نام سے یاد نہیں کیا گیا۔ اگر آنحضرت ﷺ کا نام احمد ہوتا اور جیسا کہ لوگ بیان کرتے ہیں والدہ کو الہام کے

یہ حوالہ صفحہ 183 پر درج ہے انوار خلافت صفحہ 21 مندرجہ انوار العلوم جلد 3 صفحہ 86 از مرزا بشیر الدین محمود

صفحہ 725

حوالہ نمبر 222

۲۳۵

اَهٰذَا الَّذِيْ بَعَثَ اللّٰهُ. قُلْ اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحٰى اِلَىَّ اِنَّمَا اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي الْقُرْاٰنِ. وَلَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهِ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ. وَقِيْلَ اِنَّ هٰذَا اِلَّا افْتِرَاءٌ. قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى. اَلَا اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْغَالِبُوْنَ. اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا لِّيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَاَخَّرَ. اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ. فَبَرَّاَهُ اللّٰهُ مِمَّا قَالُوْا وَكَانَ عِنْدَ اللّٰهِ وَجِيْهًا. وَاللّٰهُ مُوْهِنُ كَيْدِ الْكَافِرِيْنَ. وَلِنَجْعَلَهُ اٰيَةً لِّلنَّاسِ وَرَحْمَةً مِّنَّا. وَكَانَ اَمْرًا مَّقْضِيًّا. قَوْلُ الْحَقِّ الَّذِيْ فِيْهِ تَمْتَرُوْنَ. يَا اَحْمَدُ فَاضَتِ الرَّحْمَةُ عَلٰى شَفَتَيْكَ. اِنَّا اَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ. فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ. اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ. يُلْقَى قَمَرُ الْاَنْبِيَاءِ وَاَمْرُكَ يَتَاَتّٰى. بِيَدِهِ بِيَدِهِ الْحُسْنٰى وَ

چاہا کہ شناخت کیا جاؤں۔ زمین و آسمان بندھے ہوئے تھے سو ہم نے دونوں کو کھول دیا۔ اور تجھے انہوں نے ایک ہنسی کی جگہ بنا رکھا ہے۔ کیا یہی ہے جو خدا کی طرف سے بھیجا گیا۔ کہہ میں ایک آدمی ہوں تم جیسا، مجھے خدا سے الہام ہوتا ہے کہ تمہارا خدا ایک خدا ہے۔ اور تمام بھلائی قرآن میں ہے۔ اور میں اس سے پہلے ایک مدت سے تم میں ہی رہتا تھا، کیا تمہیں یہ سچے حالات معلوم نہیں۔ اور انہوں نے کہا کہ یہ باتیں افترا ہیں۔ کہہ حقیقی ہدایت جس میں غلطی نہ ہو خدا کی ہدایت ہے۔ اور خبردار ہو کہ خدا کا گروہ ہی آخر کار غالب ہوتا ہے۔ ہم نے تجھے کھلی کھلی فتح دی ہے تا تیرے اگلے اور پچھلے گناہ معاف کئے جائیں۔ کیا خدا اپنے بندہ کے لئے کافی نہیں ہے۔ سو خدا نے ان کے الزاموں سے اس کو بَری کیا۔ اور وہ خدا کے نزدیک وجیہ ہے۔ اور خدا کافروں کے مکر کو سُست کرے گا۔ اور ہم اس کو لوگوں کے لئے نشان بنائیں گے اور رحمت کا نمونہ ہوگا۔ اور یہی مقدر تھا۔ یہ وہ سچا قول ہے جس میں لوگ شک کرتے ہیں۔ اے احمد ! رحمت تیرے لبوں پر جاری ہو رہی ہے۔ ہم نے تجھے بہت سے حقائق اور معارف اور برکات بخشے ہیں ، اور ذریت نیک عطا کی ہے ، سو خدا کے لئے نماز پڑھ اور قربانی کر۔ تیرا بدگو بے پسر ہے یعنی خدا اسے بے نشان کرے گا۔ اور وہ نامراد مرے گا، نبیوں کا چاند آئے گا

۱؎ "یہ الہام کہ اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ اس وقت اس عاجز پر خدا تعالیٰ کی طرف سے القا ہوا کہ جب ایک شخص نومسلم سعد اللہ نام نے ایک نظم گالیوں سے بھری ہوئی اس عاجز کی طرف بھیجی تھی اور اس میں اس عاجز کی نسبت اس ہندوزادہ نے وہ الفاظ استعمال کئے کہ جب تک ایک شخص درحقیقت شقی، خبیث طینت، فاسد القلب نہ ہو ایسے الفاظ استعمال نہیں کرسکتا ۔ سو یہ الہام اس کے اشتہار اور رسالہ کے پڑھنے کے وقت ہوا کہ اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ ۔ سو اگر اس ہندوزادہ بدفطرت کی نسبت ایسا وقوع میں نہ آیا اور وہ نامراد اور ذلیل و رسوا نہ مرا تو سمجھو کہ یہ خدا کی طرف سے نہیں۔" (انجام آتھم حاشیہ صفحہ ۵۸ ، ۵۹ ۔ روحانی خزائن جلد ۱۱ صفحہ ۵۸ ، ۵۹)

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 235 طبع چہارم از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 184 پر درج ہے

صفحہ 726

حوالہ نمبر 223

۵۰۹

نزول المسیح

پیشگوئی نمبر ۱

۱۸۸۰ء

جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائی ہیں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ فَبَرَّاَہُ اللّٰہُ مِمَّا قَالُوْا وَ کَانَ عِنْدَ اللّٰہِ وَجِیْھًا۔ دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۵۱۰۔ ترجمہ۔ کیا خدا اپنے بندہ کیلئے کافی نہیں۔ پس وہ اُسکو ان تمام الزاموں سے بری کریگا جو اسپر لگائے جائینگے اور وہ خدا کے نزدیک وجاہت رکھتا ہے۔ یہ پیشگوئی اسطرح پوری ہوئی کہ کپتان ڈگلس ڈپٹی کمشنر کے وقت میں میرے پر خوں کا الزام لگایا گیا خدا نے اُس سے مجھے بری کر دیا اور پھر مسٹر ڈوئی ڈپٹی کمشنر کے وقت میں مجھ پر الزام لگایا گیا اُس سے بھی خدا نے مجھے بری کر دیا اور پھر مجھ پر جاہل ہونے کا الزام لگایا سو مخالف مولویوں کی خود جہالت ثابت ہوئی اور پھر مہر علی نے مجھ پر سارق ہونے کا الزام لگایا سو اُسی کا خود سارق ہونا ثابت ہوا۔ ایسا ہی یہ دن بھی نہیں گزرینگے جبتک خدا کج دل انسانوں کو نہ دکھلاوے کہ یہ میرا بندہ میری طرف سے تھا تب بہتوں کی آنکھیں کھلیں گی مگر کیا فائدہ۔ اَکْنُوْں ہزار عُذْر بیاری گناہ را + مرشوے کردہ را نبود زیب دختری

یہ پیشگوئی اُس وقت کی ہے جب میں نے دعویٰ بھی نہیں کیا تھا اور نہ کوئی میرے ساتھ تھا بلکہ چاروں طرف سے سخت مخالفت تھی سو خدا نے وہی کیا جو فرمایا

پیشگوئی نمبر ۲

۱۸۸۰ء

اِنَّا اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ یعنی ہم تجھے بہت سے ارادتمند عطا کرینگے اور ایک کثیر جماعت تجھے دی جائے گی۔ دیکھو اس پیشگوئی کو بیس برس گزر گئے۔ اور اب وہ کثیر جماعت ہوئی اور نہ صرف ستر ہزار بلکہ اب تو یہ جماعت لاکھ کے قریب ہو گئی اور اُن دنوں میں ایک بھی نہ تھا۔

مخالفوں نے زبانوں کو قینچیوں کی طرح چلایا مگر خدا نے اپنا کام پورا کیا

جن مقدمات میں خدا نے مجھے بری کیا جو بڑے افترا اور اتفاق سے پیدا کئے گئے تھے اُن کے لکھنے کی کچھ ضرورت نہیں سرکاری کاغذات موجود ہیں اور جن صدہا نشانوں کے ساتھ تہمت اور کذب اور افترا اور جہل سے خدا نے مجھے بری کیا اُن نشانوں میں سے بطور نمونہ اِسی فہرست میں موجود ہیں اور منصف کے لئے کافی ہو سکتی ہیں۔

۱۳۳

نزول المسیح صفحہ 133 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 509 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 184 پر درج ہے

صفحہ 727

(حوالہ نمبر 224)

۲۴۶

يَنْفَعُ الصِّدْقُ وَيَخْسَرُ الْخَاسِرُوْنَ . اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِیْ . اَنْتَ مَعِیْ وَ اَنَا مَعَكَ سِرُّكَ سِرِّیْ . وَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ الَّذِیْ اَنْقَضَ ظَهْرَكَ . وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ . يُخَوِّفُوْنَكَ مِنْ دُوْنِهٖ . اَئِمَّةُ الْكُفْرِ . لَا تَخَفْ اِنَّكَ اَنْتَ الْاَعْلٰی . غُرِسَتْ لَكَ بِيَدِیْ رَحْمَتِیْ وَ قُدْرَتِیْ . لَنْ يَّجْعَلَ اللّٰهُ لِلْكَافِرِيْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِيْنَ سَبِيْلًا . يَنْصُرُكَ اللّٰهُ فِیْ مَوَاطِنَ . كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیْ . لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ . اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَكَ الْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ . قُلْ هٰذَا فَضْلُ رَبِّیْ وَ اِنِّیْ اُجَرِّدُ نَفْسِیْ مِنْ ضُرُوْبِ الْخَطَابِ . يَا عِيْسٰی اِنِّیْ مُتَوَفِّيْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَیَّ وَ جَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا اِلٰی يَوْمِ الْقِيٰمَةِ . نَظَرَ اللّٰهُ اِلَيْكَ مَنْظَرًا . وَ قَالُوْا اَتَجْعَلُ فِيْهَا مَنْ يُّفْسِدُ فِيْهَا . قَالَ اِنِّیْ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ . وَ قَالُوْا كَذَّابٌ مُّفْتَرِیْ . سَيُبَيِّنُ الْمُفْتَرِیْ مِنَ الْمُكَذِّبِ . قُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَاءَنَا وَ اَبْنَاءَكُمْ وَ نِسَاءَنَا وَ نِسَاءَكُمْ وَ اَنْفُسَنَا وَ اَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَةَ اللّٰهِ عَلَی الْكَاذِبِيْنَ . سَلَامٌ عَلٰی اِبْرَاهِيْمَ صَافَيْنَاهُ وَ نَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ . تَفَرَّدْنَا بِذٰلِكَ . يَا دَاوُدُ عَامِلْ بِالنَّاسِ رِفْقًا وَّ اِحْسَانًا . تَمُوْتُ وَ اَنَا رَاضٍ عَنْكَ . وَ اللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ . كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَ كَانُوْا بِهَا يَسْتَهْزِءُوْنَ .

اور تیرا کام تجھے حاصل ہو جائے گا۔ اس دن حق آئے گا اور سچ کھل جائے گا۔ اور جو خسران میں ہیں اُن کا خُسران ظاہر ہو جائے گا۔ میری یاد میں نماز کو قائم کر۔ تو میرے ساتھ اور میں تیرے ساتھ ہوں۔ تیرا بھید میرا بھید ہے۔ ہم نے تیرا وہ بوجھ اُتار دیا جس نے تیری کمر توڑ دی، اور تیرے ذکر کو ہم نے بلند کیا۔ تجھے خدا کے سوا اوروں سے ڈراتے ہیں۔ یہ کفر کے پیشوا ہیں۔ مت ڈر غلبہ تجھی کو ہے، میں نے اپنی رحمت اور قدرت کے درخت تیرے لئے اپنے ہاتھ سے لگائے۔ خدا ہرگز ایسا نہیں کرے گا کہ کافروں کا مومنوں پر کچھ الزام ہو۔ خدا تجھے کئی میدانوں میں فتح دے گا۔ خُدا کا یہ اٹل نوشتہ ہے کہ میں اور میرے رسول غالب رہیں گے۔ اس کے کلموں کو کوئی بدل نہیں سکتا۔ وہ خدا جس نے تجھے مسیح ابن مریم بنایا۔ کہہ یہ خدا کا فضل ہے اور میں تو کسی خطاب کو نہیں چاہتا۔ اے عیسیٰ ! میں تجھے وفات دوں گا اور اپنی طرف اُٹھاؤں گا، اور تیرے تابعداروں کو تیرے مخالفوں پر قیامت تک غلبہ بخشوں گا۔ خدا نے تیرے پر خوشنوداً نظر کی۔ اور لوگوں نے دلوں میں کہا کہ اے خدا! کیا تو ایسے شخص کو اپنا خلیفہ بنائے گا۔ خُدا نے کہا کہ جو کچھ میں جانتا ہوں تمہیں معلوم نہیں۔ اور لوگوں نے کہا کہ یہ کذاب مُفتری اور کذب سے بھری ہوئی ہے۔ ان کو کہہ دے کہ آؤ ہم اور تم اپنے بیٹوں اور عورتوں اور عزیزوں سمیت ایک جگہ اکٹھے ہوں پھر مباہلہ کریں اور جھوٹوں پر لعنت بھیجیں۔ ابراہیم (یعنی اِس عاجز پر) سلام ہم نے اس سے دلی دوستی کی اور غم سے نجات دی۔ یہ ہمارا ہی کام تھا جو ہم نے کیا۔ اے داؤد ! لوگوں سے نرمی اور احسان کے ساتھ معاملہ کر۔ تو اُس حالت میں مرے گا کہ میں تجھ سے راضی ہوں گا۔ اور خدا تجھ کو لوگوں کے شر سے بچائے گا۔ اُنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور وہ اُن سے ہنسی کیا کرتے تھے۔

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 236 طبع چہارم، از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 185 پر درج ہے

صفحہ 728

حوالہ نمبر 225 ۵۳۸

۱۰ جولائی ۱۹۰۶ء "دیکھ میں آسمان سے تیرے لئے برساؤں گا اور زمین سے نکالوں گا، پر وہ جو تیرے مخالف ہیں پکڑے جائیں گے "

(بدر جلد ۸ نمبر ۳۳ مورخہ ۱۶ اگست ۱۹۰۶ء صفحہ ۲، الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲۹ مورخہ ۱۷ اگست ۱۹۰۶ء صفحہ ۱)

۱۹۰۶ء يَا اَحْمَدُ بَارَكَ اللهُ فِيْكَ ، مَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلٰكِنَّ اللهَ رَمٰى، اے احمد خدا نے تجھ میں برکت رکھ دی ہے۔ جو کچھ تو نے چلایا ، وہ تو نے نہیں چلایا بلکہ خدا نے چلایا۔ اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّا اُنْذِرَ اٰبَاؤُهُمْ وَلِتَسْتَبِيْنَ خدا نے تجھے قرآن سکھلایا۔ یعنی اس کے صحیح معنے تجھے ظاہر کئے۔ تاکہ تو ان لوگوں کو ڈراوے جن کے باپ دادے ڈرائے نہیں گئے اور تاکہ سَبِيْلُ الْمُجْرِمِيْنَ ، قُلْ إِنِّيْ أُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِيْنَ، مجرموں کی راہ کھل جائے یعنی معلوم ہو جائے کہ کون تجھ سے برگشتہ ہوتا ہے۔ کہہ مجھے حکم ہوا ہے اور میں سب سے پہلا ماننے والا ہوں۔ قُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا ، كُلُّ بَرَكَةٍ مِّنْ مُّحَمَّدٍ کہہ حق آیا اور باطل بھاگ گیا۔ اور باطل بھاگنے والا ہی تھا۔ ہر ایک برکت محمد صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَبَارَكَ مَنْ عَلَّمَ وَتَعَلَّمَ ، وَقَالُوْا إِنْ هٰذَا صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہے۔ پس بڑا مبارک وہ ہے جس نے تعلیم دی اور جس نے تعلیم پائی۔ اور جاہل کہتے ہیں إِلَّا اخْتِلَاقٌ ، قُلِ اللهُ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِيْ خَوْضِهِمْ يَلْعَبُوْنَ ، قُلْ کہ یہ منصوبے کے کلمات تُو نے اپنی طرف سے بنائے ہیں۔ اُن کو کہہ دے خدا ہے جس نے یہ کلمات نازل کئے۔ پھر اُن کو چھوڑ دے کہ اپنی بحث میں کھیلتے رہیں۔ تُو کہہ اِنِ افْتَرَيْتُهُ فَعَلَيَّ اِجْرَامِيْ ، وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى کہ یہ کلمات میرا افتراء ہے اور خدا کا کلام نہیں تو مجھ پر میرا جرم ہے۔ اور اُس انسان سے زیادہ تر کون ظالم ہے عَلَى اللهِ كَذِبًا ، هُوَ الَّذِيْ اَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ جس نے خدا پر افترا کیا۔ اور جھوٹ باندھا۔ خدا وہ ہے کہ جس نے اپنا رسول معہ ہدایت اور دینِ حق دے کر بھیجا۔ لِيُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهٖ ، لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ ، يَبْكُوْنَ كُلَّ مَبْكٰى تا اُس دین کو تمام دینوں پر غالب کرے۔ خدا کی باتیں پوری ہو کر رہتی ہیں کوئی اُن کو بدل نہیں سکتا۔ وہ لوگ روئیں گے کہ

یہ کلمات پہلے براہین احمدیہ حصہ پنجم میں متفرق طور پر چھپ چکے ہیں۔ روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۶۰۳، میں یہ سب الہام یکجا تحریر فرمائے گئے ہیں۔ اور ان کی تاریخ ۱۰ جولائی ۱۹۰۶ء تحریر فرمائی ہے۔ اس لئے اسے یہاں درج کیا گیا۔ (مرتب)

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 538 طبع چہارم از مرزا قادیانی || یہ حوالہ صفحہ 185 پر درج ہے

صفحہ 729

حوالہ نمبر 226

۳۲۱

نفس پر قائم ہے ۔ زندہ خدا کا مظہر اور تو مجھ سے ہے مقصود کا مبدء ہے ۔ اور تو ہمارے پانی سے ہے ۔ اور دوست لوگ تمثیل سے۔ کیا یہ کہتے ہیں کہ ہم ایک بڑی جماعت ہیں۔ انتقام لینے والے ۔ یہ سب بھاگ جائیں گے ۔ اور پیٹھ پھیریں گے ۔ وہ خدا قاہر لم یزل ہے جس نے تجھے پناہ دی اور باقی عزت بخشی ۔ بنی قوم کو ڈرا اور کہہ کہ میں خدا کی طرف سے ڈرانے والا ہوں ۔ ہم نے مکہ کی تجلیات تیرے لئے تیار کر رکھے ہیں اے ابراہیم اور لوگوں نے کہا کہ ہم تجھے ہلاک کریں گے مگر خدا نے اپنے بندہ کو بچا لیا کچھ خوف کی جگہ نہیں ہیں اور ہمیشہ رسول غالب ہوں گے ۔ اور میں اپنی فوجوں کے ساتھ عنقریب آؤں گا میں سمندر کی طرح موجزنی کروں گا ۔ خدا کا فضل آنے والا ہے اور کوئی نہیں جو اس کو رد کر سکے ۔ اور کہہ خدا کی قسم یہ بات سچ ہے اس میں تبدیلی نہیں ہوگی اور نہ وہ چھپی رہے گی ۔ اور وہ زلزلہ جو آیا جس سے تو تعجب کرے گا ۔ یہ خدا کی وحی ہے جو اُونچے آسمانوں کا بنانے والا ہے ۔ اس سوا کوئی خدا نہیں ۔ ہر ایک چیز کو جانتا ہے اور دیکھتا ہے ۔ اور وہ خدا اُن کے ساتھ ہے جو اُس سے ڈرتے ہیں اور نیکی کو نیک طور پر ادا کرتے ہیں اور اپنے نیک عملوں کو خوبصورتی کے ساتھ انجام دیتے ہیں ۔ وہی ہیں جن کے لئے آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے ۔ اور دنیا کی زندگی میں بھی اُن کو بشارتیں ہیں ۔ وحی کی کنارِ عاطفت میں پرورش پا رہا ہے.... الخ اور میں ہر حال میں تیرے ساتھ ہوں ۔

اور پھر فرمایا :- قَالُوْا اِنْ هٰذَا اِلَّا اخْتِلَاقُ ۔ اِنْ هُوَ الرَّحْمٰنُ يَحُوْمُ الَّذِيْنَ ۔ قُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۔ قُلْ لَّوْ كَانَ الْاَمْرُ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللّٰهِ لَوَجَدْتُّمْ فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيْرًا ۔ هُوَ الَّذِيْ اَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ وَتَهْذِيْبِ الْاَخْلَاقِ ۔ قُلْ اِنِ افْتَرَيْتُهُ فَعَلَيَّ اِجْرَامِيْ ۔ وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا ۔ سَيُبَيِّنُ لَكَ اللّٰهُ الْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُ ۔ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّا اُنْذِرَ اٰبَاؤُهُمْ ۔ وَلِتَدْعُوَ قَوْمًا اٰخَرِيْنَ ۔ عَسَى اللّٰهُ اَنْ يَجْعَلَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ الَّذِيْنَ عَادَيْتُمْ مَّوَدَّةً ۔ يَخِرُّوْنَ عَلَى الْاَذْقَانِ سُجَّدًا رَّبِّ اغْفِرْ لَنَا اِنَّا كُنَّا خَاطِئِيْنَ ۔ لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ ۔ يَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ وَهُوَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِيْنَ ۔ اِلٰى اَنَّ اللّٰهَ فَاعْبُدْنِيْ وَلَا تَنْسَنِيْ وَاجْتَهِدْ اَنْ تَعْبُدَنِيْ وَاسْتَعِنْ بِرَبِّكَ وَكُنْ صَبُوْرًا ۔ اِنَّهُ وَلِيٌّ مَّانَّ عَنْهُ الْقُرْاٰنَ ۔ فَبِاَيِّ حَدِيْثٍ بَعْدَهُ تُعَلِّمُوْنَ ۔ نَزَّلْنَا عَلٰى هٰذَا الْعَبْدِ رَحْمَةً وَّمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى ۔ اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى ۔ دَنٰى فَتَدَلّٰى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى ۔ وَلِيٌّ وَّ نَذِيْرٌ مِّنْ وَّلِيٍّ مَّعَ الرَّسُوْلِ اَقُوْمُ ۔ اِنَّ فَضْلَهُ تَفَضُّلٌ عَظِيْمٌ ۔ وَاِنَّكَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ ۔ وَرَبُّنَا يُرِيْكَ بَعْضَ الَّذِيْ “

۱؎ ترجمہ از مرتب :۔ اور تو پہاڑوں کی چوٹیوں پر رہتا ہے۔

یہ حوالہ صفحہ 185 پر درج ہے تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 321 طبع چہارم از مرزا قادیانی

صفحہ 730

حوالہ نمبر 227

۵۲۴

فَامْسِكْ بِرَحْمَةٍ عَلَى شَفَتَيْكَ وَرُبِّيْتَ بِاَعْيُنِنَا، سَمَّيْتُكَ الْمُتَوَكِّلَ : تیرے لبوں پر رحمت جاری کی گئی۔ تو میری آنکھوں کے سامنے ہے۔ پس میں نے تیرا نام متوکل رکھا۔ يَرْفَعُ اللهُ ذِكْرَكَ، وَيُتِمُّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ بُوْرِكَ خدا تیرا ذکر بلند کرے گا۔ اور اپنی نعمت دنیا اور آخرت میں تیرے پر پوری کرے گا۔ اے احمد ! تو يَا اَحْمَدُ، وَكَانَ مَا بَارَكَ اللهُ فِيكَ حَقًّا فِيكَ ، شَأْنُكَ عَجِيْبٌ وَّ اَجْرُكَ برکت دیا گیا اور جو کچھ تجھے برکت دی گئی وہ تیرے ہی حق تھا۔ تیری شان عجیب ہے اور تیرا اجر قَرِيْبٌ، اَلْاَرْضُ وَالسَّمَاءُ مَعَكَ كَمَا هُمَا مَعِي، اَنْتَ وَجِيْهٌ فِيْ حَضْرَتِي قریب ہے۔ آسمان اور زمین تیرے ساتھ ہیں جیسے کہ وہ میرے ساتھ ہیں۔ تو میری درگاہ میں وجیہہ ہے۔ اِخْتَرْتُكَ لِنَفْسِيْ، سُبْحَانَ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی زَادَ مَجْدَكَ میں نے تجھے اپنے لئے چنا۔ خدا جو پاک برکتوں والا اور بڑا بزرگ ہے وہ تیری بزرگی کو زیادہ کرے گا۔ يَنْقَطِعُ اٰبَآؤُكَ وَيُبْدَءُ مِنْكَ وَمَا كَانَ اللهُ لِيَتْرُكَكَ. حَتّٰی تیرے باپ دادوں کا ذکر منقطع ہو جائے گا ١؎ اور تیرے سلسلہ خاندان کا تجھ سے شروع ہو گا اور خدا ایسا نہیں کہ تجھے چھوڑ دے يَمِيْزَ الْخَبِيْثَ مِنَ الطَّيِّبِ، اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ وَ تَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ جب تک کہ پاک و پلید میں فرق کر کے نہ دکھلاوے۔ اور جب خدا تعالیٰ کی مدد اور فتح آئے گی اور خدا کا وعدہ پورا ہوگا هٰذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُوْنَ ط اَرَدْتُ اَنْ اَسْتَخْلِفَ فَخَلَقْتُ تب کہا جائے گا کہ یہ وہی امر ہے جس کیلئے تم جلدی کرتے تھے۔ میں نے ارادہ کیا کہ اپنا خلیفہ بناؤں سو میں نے اس آدم کو اٰدَمَ، دَنٰی فَتَدَلّٰی فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰی. يُحْيِ الدِّيْنَ وَ پیدا کیا۔ وہ خدا سے نزدیک ہوا پھر مخلوق کی طرف جھکا اور خدا اور مخلوق کے درمیان ایسا ہو گیا جیسا کہ دو قوسوں کے درمیان کا خط ہوتا ہے۔ يُقِيْمُ الشَّرِيْعَةَ، يَا اٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ، يَا مَرْيَمُ دین کو زندہ کرے گا اور شریعت کو قائم کرے گا۔ اے آدم تو اور تیری دوست بہشت میں داخل ہو۔ اے مریم اسْكُنْ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ. يَا اَحْمَدُ اسْكُنْ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ تو اور تیری دوست بہشت میں داخل ہو۔ اے احمد ! تو اور تیری دوست بہشت میں داخل ہو۔

١؎ یادرہے کہ ظاہری بزرگی اور وجاہت کے لحاظ سے اس خاکسار کا خاندان بہت شہرت رکھتا تھا بلکہ اس زمانہ تک بھی اس خاندان کی دنیوی شوکت زوال کے قریب قریب تھی۔ میرے دادا صاحب کے پاس نواح میں پچاس گاؤں اپنی ملکیت کے تھے اور اپنے گرد و نواح میں امیر کہلاتے تھے۔ مگر سکھوں کی سلطنت کے وقت نہ رہے اور پھر رفتہ رفتہ حکمت اور مشیت ایزدی سے غریب ہو گئے یعنی چند پیڑھیوں کے بعد سب کچھ کھو بیٹھے اور صرف چھ گاؤں ان کے قبضہ میں رہے۔ اور پھر وہ گاؤں اور باغ

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 542 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 185 پر درج ہے

Back

صفحہ 731

(حوالہ نمبر 228)

۲۹۲

نے فرمایا :” ابھی میں نے صریح الفاظ میں لکھا دیکھا ہے کہ

مبارک

یہ گویا قبولیت کا نشان ہے۔“

(الحکم جلد ۴ نمبر ۱۷ مورخہ یکم مئی ۱۹۰۰ء صفحہ ۱)

۷ اپریل ۱۹۰۰ء ”ایک دفعہ عزیز میاں منظور محمد کی بیماری میں بکثرت اس کی شفا کے لئے دعا کی۔ تب خواب میں دیکھا کہ ایک سڑک ہے، گویا وہ چاند کے ٹکڑے اکٹھے کر کے بنائی گئی ہے اور ایک شخص ایوب بیگ۱؎ کو اس سڑک پر سے لے جا رہا ہے اور وہ سڑک آسمان کی طرف جاتی ہے اور نہایت خوشنما و رنگین ہے۔ گویا زمین پر چاند بچھایا گیا ہے۔ میں نے یہ خواب اپنی جماعت میں بیان کی اور تفاؤل کے طور پر یہ کہا کہ یہ صحت کی طرف اشارہ ہے لیکن دل نہیں مانتا تھا کہ اس خواب کی تعبیر صحت ہو۔ سو اب اس خواب کی تعبیر ظہور میں آئی۔ اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّا اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ ؎“

(از مکتوب بنام ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب مندرجہ الحکم جلد ۴ نمبر ۱۷ مورخہ ۱۰ مئی ۱۹۰۰ء صفحہ ۳)

۲۵ اپریل ۱۹۰۰ء ”اس خط کے لکھنے کے وقت میں جو ایوب بیگ۲؎ مرحوم کی طرف توجہ تھی کہ وہ کیونکر جلد ہماری آنکھوں سے ناپدید ہو گیا اور تمام تعلقات کو خواب و خیال کر گیا کہ یک دفعہ الہام ہوا :

مبارک وہ آدمی جو اس دروازہ کی راہ سے داخل ہو

یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عزیزی ایوب بیگ کی موت نہایت نیک طور پر ہوئی ہے، اور خوش نصیب وہ ہے جس کی ایسی موت ہو۔“

(از مکتوب بنام ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب مندرجہ الحکم جلد ۴ نمبر ۱۷ مورخہ ۱۰ مئی ۱۹۰۰ء صفحہ ۳)

۱۹۰۰ء ”خدا نے مجھے کہا کہ اُٹھ اور ان لوگوں کو کہہ دے کہ میرے پاس خدا کی گواہی ہے پس کیا تم خدا کی گواہی رَدّ کرو گے۔ خدا کا کلام جو مجھ پر نازل ہوا اس کے یہ الفاظ ہیں :

قُلْ عِنْدِيْ شَهَادَةٌ مِّنَ اللّٰهِ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّؤْمِنُوْنَ. قُلْ عِنْدِيْ شَهَادَةٌ مِّنَ اللّٰهِ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ. قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ. وَقُلْ يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعًا. اِنِّيْ مُرْسَلٌ مِّنَ اللّٰهِ.“

(از اشتہار معیار الاخیار صفحہ ۲ مورخہ ۲۵ مئی ۱۹۰۰ء ، مجموعہ اشتہارات جلد ۳ صفحہ ۲۶۹ ، ۲۷۰)

(ترجمہ) ان کو کہہ کہ میرے پاس خدا کی گواہی ہے پس کیا تم ایمان لاؤ گے یا نہیں۔ ان کو کہہ کہ میرے

۱؎ مرزا ایوب بیگ صاحب (مرتب) ۲؎ مرزا ایوب بیگ صاحب (مرتب)

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 292 طبع چہارم از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 185 پر درج ہے

صفحہ 732

حوالہ نمبر 229 ۵۴۱

مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ يَّأْتُوْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ يَّنْصُرُكَ اللهُ مِنْ عِنْدِهِ کی راہ سے تجھے پہنچے گی اور ایسی راہوں سے پہنچے گی کہ وہ راہ لوگوں کے بہت چلنے سے جو تیری طرف آئیں گے گہرے ہو جائیں گے پس تجھے نصرت يَنْصُرُكَ رِجَالٌ نُّوْحِيْ اِلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاءِ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِ اللهِ دیں گے۔ تیری طرف آئیں گے جن پر ہم الہام کریں گے وہ تیری مدد کریں گے کوئی بھی خدا کی باتوں کو بدل نہیں سکتا اور تیری مدد وہ لوگ کریں گے جن پر ہم قَالَ رَبُّكَ اِنَّهُ نَازِلٌ مِّنَ السَّمَاءِ مَا يُرْضِيْكَ : اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا اپنی طرف سے الہام کریں گے۔ خدا کی باتیں ٹل نہیں سکتیں تیرا رب فرماتا ہے کہ ایک ایسا امر آسمان سے نازل ہو گا جس سے تو خوش ہو جائیگا۔ ہم مُّبِيْنًا . فَتْحُ دِلِّيْ فَتْحٌ ، بَغْتَةً اَخَذْنَاهُ ، يُحِبُّكَ اَشْجَعُ النَّاسِ : وَلَوْ كَانَ ایک کھلی کھلی فتح تجھ کو عطا کریں گے ۔ دلی کی فتح ایک بڑی فتح ہے اور ہم نے اسکو یک بیک پکڑ لیا جبکہ ہم جوانی میں بیدار یا بیدار جوانی میں تیرا الْاِيْمَانُ مُعَلَّقًا بِالثُّرَيَّا لَنَالَهُ ، اَنَارَ اللهُ بُرْهَانَهُ . كُنْتُ كَنْزًا بہادر ہے ۔ اور اگر ایمان ثریا سے معلق ہوتا تو وہ وہیں جا کر اس کو لے لیتا۔ خدا اُس کی حجت روشن کرے گا ۔ میں ایک خزانہ مَخْفِيًّا فَاَحْبَبْتُ اَنْ اُعْرَفَ . يَا قَمَرُ يَا شَمْسُ اَنْتَ مِنِّيْ وَاَنَا پوشیدہ تھا پس میں نے چاہا کہ ظاہر کیا جاؤں ۔ اے چاند اور اے سُورج ! تُو مجھ سے ہے اور مَیں مِنْكَ . اِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَانْتَهَى اَمْرُ الزَّمَانِ اِلَيْنَا وَتَمَّتْ كَلِمَةُ تجھ سے۔ جب خدا کی مدد آئے گی اور زمانہ ہماری طرف رجوع کرے گا تب کہا جائے گا کہ کیا یہ سچ جو کہا رَبِّكَ : اَلَيْسَ هَذَا بِالْحَقِّ وَلَا تُصَعِّرْ لِخَلْقِ اللهِ وَلَا تَسْأَمْ گیا حق پر نہ تھا۔ اور چاہیے کہ تُو مخلوق الٰہی کے ملنے کے وقت چیں بجبیں نہ ہو اور چاہئے کہ تُو لوگوں کی کثرت ملاقات سے تھک مِنَ النَّاسِ : وَوَسِّعْ مَكَانَكَ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا اَنَّ لَهُمْ قَدَمَ نہ جائے اور تجھے لازم ہے کہ اپنے مکان کو وسیع کرلے تا لوگ جو تیرے پاس آئیں گے۔ تکلیف نہ پائیں کوئی تنگی پیش نہ ہو (غالباً) اور یہ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ ، وَاتْلُ عَلَيْهِمْ مَّا اُوْحِيَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ : خوشخبری دے کہ خدا کے حضور میں مقام صدق پر ہے ۔ اور جو کچھ تیرے ربّ کی طرف تیرے پر وحی نازل کی گئی ہے وہ ان لوگوں کو سنا جو اَصْحَابُ الصُّفَّةِ وَمَا اَدْرَكَ مَا اَصْحٰبُ الصُّفَّةِ تَرَى اَعْيُنَهُمْ تیرے حجرہ میں داخل ہوں گے صفہ کے رہنے والے ۔ اور تو کیا جانتا ہے کہ کیا ہیں صفہ کے رہنے والے تُو دیکھے گا کہ اُنکی آنکھیں تَفِيْضُ مِنَ الدَّمْعِ يُصَلُّوْنَ عَلَيْكَ : رَبَّنَا اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًّا آنسُو جاری ہوں گے ۔ وہ تیرے پر درُود بھیجیں گے اور کہیں گے کہ اے ہمارے خدا ہم نے ایک منادی کرنے والے يُنَادِيْ لِلْاِيْمَانِ وَدَاعِيًا اِلَى اللهِ وَسِرَاجًا مُّنِيْرًا يَا اَحْمَدُ کی آواز سُنی ہے جو ایمان کی طرف بلاتا ہے اور خدا کی طرف بلاتا ہے اور ایک چمکتا ہُوا چراغ ہے ۔ اے احمد ! لَهُ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ ۔ اور خدا کا وعدہ پورا ہو گا (ترجمہ از مرتب)

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 541 طبع چہارم از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 185 پر درج ہے

صفحہ 733

حوالہ نمبر 230

۶۳

يَحْمَدُكَ اللهُ وَيَمْشِيْ اِلَيْكَ خدا تیری تعریف کرتا ہے اور تیری طرف چلا آتا ہے

اَلَا اِنَّ نَصْرَ اللهِ قَرِيْبٌ خبردار ہو خدا کی مدد نزدیک ہے

سُبْحٰنَ الَّذِيْ اَسْرٰی بِعَبْدِهٖ لَيْلًا پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندہ کو رات کے وقت میں سیر کرایا۔ یعنی ضلالت اور گمراہی کے زمانہ میں جو رات سے مشابہ ہے مقامات معرفت اور یقین تک اُسکی توجہ سے پہنچایا۔

خَلَقَ اٰدَمَ فَاَكْرَمَهٗ پیدا کیا آدم کو پس اکرام کیا اس کا

جَرِيُّ اللهِ فِيْ حُلَلِ الْاَنْبِيَاءِ جری اللہ نبیوں کے حلوں میں

اس فقرہ الہامی کے یہ معنے ہیں کہ منصب ارشاد اور ہدایت اور مورد وحی الٰہی ہونے کا دراصل حُلّہ انبیاء ہے اور اُن کے غیر کو بطور استعارہ ملتا ہے اور یہ حُلّہ انبیاء اُمّتِ محمدیہ کے بعض افراد کو بفرض تکمیل ناقصین عطا ہوتا ہے اور اُسی کی طرف اشارہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عُلَمَاءُ أُمَّتِي كَأَنْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ ۔ پس یہ لوگ اگرچہ نبی نہیں پر نبیوں کا کام اُن کو سپرد کیا جاتا ہے۔

وَكُنْتُمْ عَلٰی شَفَا حُفْرَةٍ فَاَنْقَذَكُمْ مِّنْهَا اور تھے تم ایک گڑھے کے کنارے پر سو اُس سے تم کو خلاصی بخشی۔ یعنی خلاصی کا سامان عطا فرمایا۔

عَسٰی رَبُّكُمْ اَنْ يَّرْحَمَ عَلَيْكُمْ ج وَاِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا وَجَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِيْنَ حَصِيْرًا خدا تعالیٰ کا ارادہ اِس بات کی طرف متوجہ ہے جو تم پر رحم کرے۔ اور اگر تم نے گناہ اور سرکشی کی طرف رجوع کیا تو ہم بھی سزا اور عقوبت کی طرف رجوع کریں گے اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لئے قید خانہ بنا رکھا ہے۔ ......

تُوْبُوْا وَ اَصْلِحُوْا وَ اِلَی اللهِ تَوَجَّهُوْا وَعَلَی اللهِ تَوَكَّلُوْا وَاسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ توبہ کرو اور فسق اور فجور اور کفر اور معصیت سے باز آؤ اور اپنے حال کی اصلاح کرو اور خدا کی طرف متوجہ ہو جاؤ اور اُس پر توکّل کرو اور صبر اور صلوٰۃ کے ساتھ اس سے مدد چاہو کیونکہ نیکیوں سے بدیاں دُور ہو جاتی ہیں۔

بُشْرٰی لَكَ يَا اَحْمَدِيْ ۔ اَنْتَ مُرَادِيْ وَمَعِيْ ۔ غَرَسْتُ كَرَامَتَكَ بِيَدِيْ ۔

لے حضرت اقدس نے یہی الہام براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۶۲ حاشیہ در حاشیہ خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۴۹۲ پر اور اس کے علاوہ کئی اور مقامات پر بھی بحوالہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ ۹۷ میں درج فرمایا ہے (ملاحظہ ہو خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۴۸۰) جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حُلَلِ کا لفظ سہوِ کتابت ہے۔ (مرتب)

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 63 طبع چہارم از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 185 پر درج ہے

صفحہ 734

حوالہ نمبر 231

۵۴۹

وَ إِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِيْ كَفَرَ ۱؎ أَوْ يُؤْذِيَ يَا هَامَانُ ۲؎ لَعَلِّيْ اَطَّلِعُ اِلٰى پر ہے۔ اور یاد کرو وہ وقت جو تجھ سے وہ شخص مکر کرتا تھا ۔ جو پیشتر سے منکر تھا۔ اور تجھے دکھ دیتا تھا۔ یہ حوالہ ہامان جو ایک شخص کا نام ہے اِلٰهِ مُوْسٰی ۔ وَ إِنِّيْ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الْكَاذِبِيْنَ ۔ تَبَّتْ يَدَا أَبِيْ لَهَبٍ موسیٰ کے خدا پر اطلاع پاؤں اور میں اُس کو جھوٹا سمجھتا ہوں ۔ ہلاک ہوئے دونوں ہاتھ ابی لہب کے وَّ تَبَّ ۔ مَا كَانَ لَهُ أَنْ يَّدْخُلَ فِيْهَا اِلَّا خَائِفًا ۔ وَمَا أَصَابَكَ فَمِنَ اللّٰهِ ۔ اور وہ آپ بھی ہلاک ہو گیا۔ اُس کو نہیں چاہیئے تھا کہ اس معاملہ میں دخل دیتا مگر ڈرتے ڈرتے۔ اور جو کچھ تجھے پہنچے پس وہ تو خدا کی اَلْفِتْنَةُ هٰهُنَا ۔ فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ ۔ اَلْبَقِيَّةُ مِنَ اللّٰهِ ۔ طرف سے ہے۔ اور یہ ایک فتنہ ہے ۔ سو تُو صبر کر جیسا کہ اولوالعزم نبیوں نے صبر کیا ۔ وہ بقیہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو گا۔ يُحِبُّكَ حُبًّا جَمًّا ۔ حُبًّا مِّنَ اللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْاَكْرَمِ ۔ شَاتَانِ تُذْبَحَانِ ۔ وَكُلُّ مَنْ تا وہ تجھ سے محبت کرے۔ وہ اس خدا کی محبت ہے جو بہت غالب اور بہت بزرگ ہے۔ دو بکریاں ذبح کی جائیں گی۔ اور ہر ایک عَلَيْهَا فَانٍ ۔ وَلَا تَهِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا ۔ اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ ۔ أَلَمْ تَعْلَمْ جو زمین پر ہے آخر وہ فنا ہو گا ۔ تم کچھ غم مت کرو اور اندوہ گین مت ہو۔ کیا خدا اپنے بندے کیلئے کافی نہیں ؟ کیا تو نہیں جانتا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ۔ وَاِنْ يَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا ۔ اَهٰذَا الَّذِيْ کہ خدا ہر ایک چیز پر قادر ہے۔ اور تجھے اُنہوں نے ٹھٹھے کی جگہ بنا رکھا ہے۔ وہ ہنسی کی راہ سے کہتے ہیں کیا یہی ہے بَعَثَ اللّٰهُ ۔ قُلْ اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحٰۤى اِلَيَّ أَنَّمَا اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ جس کو خدا نے مبعوث فرمایا ؟ ان کو کہہ کہ میں تو ایک انسان ہوں ۔ میری طرف یہ وحی ہوتی ہے کہ تمہارا خدا ایک خدا ہے وَالْخَيْرُ كُلُّهٗ فِي الْقُرْاٰنِ ۔ لَا يَمَسُّهٗ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ ۔ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ اور تمام بھلائی اور نیکی قرآن میں ہے۔ کسی دوسری کتاب میں نہیں۔ اس کے اسرار تک وہی پہنچتے ہیں جو پاک دل ہیں۔ کہہ ہدایت

۱؎ منکر سے مراد مولوی ابو سعید محمد حسین بٹالوی ہے کیونکہ اس نے استفتاء لکھ کر نذیر حسین کے سامنے پیش کیا اور اس ملک میں تکفیر کی آگ بھڑکانے والا نذیر حسین ہی تھا۔ عَلَيْهِ مَا يَسْتَحِقُّهٗ ۔ منہ

(حقیقة الوحی صفحہ ۱۰۱ حاشیہ ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۰۴)

۲؎ ہامان سے مراد ایک دہلوی مولوی ہے جو فوت ہو چکا ہے اور پیشگوئی ۲۵ برس کی ہے جو براہین احمدیہ میں درج ہے اور یہ اُس زمانہ میں شائع ہوچکی ہے جبکہ میری نسبت تکفیر کا فتویٰ بھی ان مولویوں کی طرف سے نکلا تھا ۔ تکفیر کے فتویٰ کا بانی بھی وہی دہلوی مولوی تھا جس کا نام خدا تعالیٰ نے ہامان رکھا اور تکفیر سے ایک مدّت دراز پہلے یہ خبر دے دی جو براہین احمدیہ میں درج ہے۔ منہ

(حقیقة الوحی صفحہ ۱۰۱ حاشیہ ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۰۴)

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 546 طبع چہارم از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 185 پر درج ہے

صفحہ 735

۵۲۷

حوالہ نمبر 232

هُوَ الْهُدٰی وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ عَلٰی رَجُلٍ مِّنْ قَرْيَتَيْنِ عَظِيْمٍ ؃ وہ اصل ہدایت ہی ہے۔ اور کہیں گے کہ یہ وحی الٰہی کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہیں ہوئی جو دو شہروں میں سے کسی ایک شہر کا باشندہ وَقَالُوْا اَنّٰی لَكَ هٰذَا ؕ اِنْ هٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوْهُ فِی الْمَدِيْنَۃِ ؕ يَنْظُرُوْنَ ہے۔ اور کہیں گے کہ تجھے یہ مرتبہ کہاں سے حاصل ہو گیا۔ یہ تو ایک مکر ہے جو تم لوگوں نے مل کر بنایا۔ یہ لوگ تیری طرف دیکھتے ہیں اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ؕ قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ مگر تُو انہیں دکھلائی نہیں دیتا۔ ان کو کہہ کہ اگر تم خدا سے محبت کرتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تا خدا بھی تم سے محبت کرے۔ عَسٰی رَبُّكُمْ اَنْ يَّرْحَمَكُمْ ۚ وَاِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا ۘ وَجَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِيْنَ قریب ہے تم پر رحم کرے۔ اور اگر تم پھر شرارت کی طرف عود کرو گے تو ہم بھی عذاب دینے کی طرف عود کریں گے اور ہم نے جہنم کو حَصِيْرًا ؕ وَمَا اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ ؕ قُلِ اعْمَلُوْا عَلٰی مَكَانَتِكُمْ کافروں کیلئے قید خانہ بنایا ہے اور ہم نے تجھے تمام دُنیا پر رحمت کرنے کیلئے بھیجا ہے، تو کہہ کہ تم اپنے مکانوں پر اپنے طور پر عمل کرو اِنِّیْ عَامِلٌ ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ؕ لَا يُقْبَلُ عَمَلٌ مِّثْقَالُ ذَرَّةٍ مِّنْ اور میں اپنے طور پر عمل کر رہا ہوں پھر تھوڑی دیر کے بعد تم دیکھ لو گے کہ کس کی خدا مدد کرتا ہے کوئی عمل بغیر تقویٰ کے ایک ذرہ غَيْرِ التَّقْوٰی ۚ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِيْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ ؕ قبول نہیں ہو سکتا۔ خدا ان کے ساتھ ہوتا ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، اور ان کے ساتھ جو نیک کاموں میں مشغول ہیں قُلْ اِنِ افْتَرَيْتُهٗ فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ ۚ وَلَقَدْ لَبِثْتُ فِیْكُمْ عُمُرًا مِّنْ کہہ اگر میں نے افترا کیا ہے تو میری گردن پر میرا گناہ ہے۔ اور میں پہلے اس سے ایک مُدت تک تم میں ہی رہا قَبْلِهٖ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ؕ اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ ؕ وَ لِنَجْعَلَهٗۤ اٰيَةً تھا کیا تم کو سمجھ نہیں؟ کیا خدا اپنے بندہ کے لئے کافی نہیں ہے۔ اور ہم اس کو لوگوں کے لئے لِّلنَّاسِ وَرَحْمَةً مِّنَّا ۚ وَكَانَ اَمْرًا مَّقْضِيًّا ؕ قَوْلُ الْحَقِّ الَّذِیْ فِيْهِ ایک نشان اور ایک نمونہ رحمت بنائیں گے، اور یہ ابتداء سے مقدر تھا، یہ وہی امر ہے جس میں تم تَمْتَرُوْنَ ؕ سَلٰمٌ عَلَيْكَ ؕ جُعِلْتَ مُبَارَكًا ؕ اَنْتَ مُبَارَكٌ فِی الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ؕ شک کرتے تھے تیرے پر سلام ، تُو مبارک کیا گیا۔ تُو دُنیا اور آخرت میں مبارک ہے

وغیرہ میں مبعوث نہ ہوا جو سر زمینِ اسلام ہے۔ منہ (حقیقۃ الوحی صفحہ ۷۰ حاشیہ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۷۸)

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 547 طبع چہارم از مرزا قادیانی حوالہ صفحہ 186 پر درج ہے

صفحہ 736

(حوالہ نمبر 233)

۵۲۷ هُوَ الْهُدَى ، وَقَالُوا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيْمٍ؞ وہ اصل ھدیٰ و ہدایت یہی ہے اور کہیں گے کہ یہ وحی الٰہی کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہیں ہوئی جو دو شہروں میں سے کسی ایک شہر کا باشندہ ۱؎ وَقَالُوا أَنَّى لَكَ هٰذَا ؕ اِنَّ هٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوْهُ فِي الْمَدِيْنَةِ ؕ يَنْظُرُوْنَ ہے۔ اور کہیں گے کہ تجھے یہ رتبہ کہاں سے حاصل ہو گیا۔ یہ تو ایک مکر ہے جو تم لوگوں نے مل کر بنایا ہے ۲؎ ۔ لوگ تیری طرف دیکھتے ہیں اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ؕ قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ مگر تُو انہیں دکھائی نہیں دیتا۔ ان کو کہہ کہ اگر تم خدا سے محبت کرتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تا خدا بھی تم سے محبت کرے۔ عَسَى رَبُّكُمْ أَنْ يَّرْحَمَكُمْ ۚ وَإِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا ۚ وَجَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكَافِرِيْنَ خدا آیا ہے تاکہ تم پر رحم کرے۔ اور اگر تم پھر شرارت کی طرف عود کرو گے تو ہم بھی عذاب دینے کی طرف عود کریں گے اور ہم نے جہنم کو حَصِيرًا . وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِيْنَ ؕ قُلِ اعْمَلُوْا عَلَى مَكَانَتِكُمْ کافروں کیلئے قید خانہ بنایا ہے اور ہم نے تجھے تمام دُنیا پر رحمت کرنے کیلئے بھیجا ہے۔ تُو کہہ کہ تم اپنے مکانوں پر اپنے طور پر عمل کرو إِنِّيْ عَامِلٌ ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ؕ لَا يُقْبَلُ عَمَلٌ مِّثْقَالُ ذَرَّةٍ مِّنْ اور میں اپنے طور پر عمل کر رہا ہوں پھر تھوڑی دیر کے بعد تم دیکھ لو گے کہ کس کو خدا مدد کرتا ہے کوئی عمل بَغیر تقویٰ کے ایک ذرہ غَيْرِ التَّقْوىٰ ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِيْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ ؕ قبول نہیں ہو سکتا۔ خدا ان کے ساتھ ہوتا ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور ان کے ساتھ جو نیک کاموں میں مشغول ہیں قُلْ اِنِ افْتَرَيْتُهُ فَعَلَيَّ اِجْرَامِيْ ؕ وَلَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِّنْ کہہ اگر میں نے افتراء کیا ہے تو میری گردن پر میرا گناہ ہے۔ اور میں پہلے اس سے ایک مُدت تک تم میں ہی رہتا قَبْلِهِ ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ؕ أَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ ؕ وَلِنَجْعَلَهُ آيَةً تھا کیا تم کو سمجھ نہیں ، کیا خدا اپنے بندہ کے لئے کافی نہیں ہے ۔ اور ہم اس کو لوگوں کے لئے لِّلنَّاسِ وَرَحْمَةً مِّنَّا ۚ وَكَانَ اَمْرًا مَّقْضِيًّا ؕ قَوْلُ الْحَقِّ الَّذِيْ فِيْهِ ایک نشان اور ایک نمونہ رحمت بنا ئیں گے۔ اور یہ ابتداء سے مقدّر تھا۔ یہ وہی اَمر ہے جس میں تم تَمْتَرُوْنَ . سَلَامٌ عَلَيْكَ ؕ جُعِلْتَ مُبَارَكًا ؕ اَنْتَ مُبَارَكٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ . شک کرتے تھے۔ تیرے پر سلام ۔ تو مبارک کیا گیا ۔ تُو دُنیا اور آخرت میں مبارک ہے

۱؎ یعنی اس شخص کو مہدی موعود ہونے کا دعویٰ ہے جو پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں قادیان کا رہنے والا ہے ۔ کیوں مہدی معہود مکہ یا مدینہ میں مبعوث نہ ہوا جو حرمینِ اسلام ہے ۔ منہ (حقیقۃ الوحی صفحہ ۷۰ حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۷۵)

۲؎ الہام کے الفاظ فِی الْمَدِيْنَةِ کا ترجمہ "شہر میں" حقیقۃ الوحی کے پہلے ایڈیشن میں بھی موجود نہیں ہے ۔ (مرتب)

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 547 طبع چہارم از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 186 پر درج ہے

صفحہ 737

حوالہ نمبر 234

۳۹

وَكُنْ مَّعِيْ اَيْنَمَا كُنْتَ ۔ كُنْ مَّعَ اللّٰهِ حَيْثُمَا كُنْتَ ۔ اَيْنَمَا تَكُوْنُوْا يَأْتِ بِكُمُ اللّٰهُ ۔ كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ وَافْتِخَارًا لِّلْمُؤْمِنِيْنَ ۔ وَلَا تَيْئَسْ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اَلَا اِنَّ رَوْحَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ ۔ اَلَا اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ ۔ يَأْتِيْكَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ ۔ يَأْتُوْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ ۔ يَنْصُرُكَ اللّٰهُ مِنْ عِنْدِہٖ ۔ يَنْصُرُكَ رِجَالٌ نُّوْحِيْ اِلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاءِ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِ اللّٰهِ ۔ اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا۔ فَتَحَ الْوَلِيُّ فَتْحًا وَّ قَرَّبْنَاهُ نَجِيًّا ۔ اَشْجَعُ النَّاسِ ۔ وَلَوْ كَانَ الْاِيْمَانُ مُعَلَّقًا بِالثُّرَيَّا لَنَالَهُ ۔ اَنَارَ اللّٰهُ بُرْهَانَهُ ۔ يَا اَحْمَدُ فَاضَتِ الرَّحْمَةُ عَلَى شَفَتَيْكَ ۔ اِنَّكَ بِاَعْيُنِنَا يَرْفَعُ اللّٰهُ ذِكْرَكَ وَيُتِمُّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ فِی الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۔ وَجَدَكَ ضَالًّا فَهَدٰی ۔ وَنَفَخْتُ فِیْكَ وَقُلْنَا يَا نَارُ كُوْنِيْ بَرْدًا وَّسَلَامًا عَلَى اِبْرَاهِيْمَ حُرِّرْتُ نِعْمَةِ رَبِّكَ ۔ يَا اَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَاَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ ۔ يَا اَحْمَدُ يَبْقٰی اِسْمُكَ

ان کو عذاب کرے ۔ میں تیرے ساتھ ہوں سو تو ہر ایک جگہ میرے ساتھ رہ ۔ تم بہترین اُمت ہو جو لوگوں کے فائدہ کیلئے نکالے گئے ہو ۔ تم مومنوں کا فخر ہو ۔ اور تم خدا کی رحمت سے نومید مت ہو ۔ خبردار ہو کہ خدا کی رحمت قریب ہے ۔ خبردار ہو کہ خدا کی مدد تجھ سے قریب ہے ۔ وہ مدد ہر ایک دُور کی راہ سے تجھے پہنچے گی اور ایسی راہوں سے پہنچے گی کہ وہ راہ لوگوں کے بہت چلنے سے جو تیری طرف آئیں گے گہرے ہو جائیں گے ۔ اور اس کثرت سے لوگ تیری طرف آئیں گے کہ جن راہوں پر وہ چلیں گے وہ عمیق ہو جائیں گے ۔ خدا اپنی طرف سے تیری مدد کرے گا ۔ تیری مدد وہ لوگ کریں گے جن کے دلوں میں ہم اپنی طرف سے الہام کریں گے ۔ خدا کی باتوں کو کوئی ٹال نہیں سکتا ۔ ہم ایک کھلی کھلی فتح تجھ کو عطا کریں گے ۔ ولی کی فتح ایک بڑی فتح ہے اور ہم نے اس کو ایک ایسا قرب بخشا کہ ہمراز اپنا بنا دیا ۔ وہ تمام لوگوں سے زیادہ بہادر ہے ۔ اور اگر ایمان ثریا سے معلق ہوتا تو وہیں سے جاکر اس کو لے لیتا ۔ خدا اس کی حجت روشن کرے گا ۔ اے احمد تیرے لبوں پر رحمت جاری کی گئی ۔ تو میری آنکھوں کے سامنے ہے خدا تیرا ذکر بلند کرے گا اور اپنی نعمت دُنیا اور آخرت میں تیرے پر پوری کریگا ۔ اور ہم نے

۱؎ ترجمہ از مرتب : تو بحیثیت نبی ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ رہ ۔ تم لوگ جو میری مدد کرو گے اُدھر ہی اللہ تعالیٰ کی توجہ ہوگی ۔ ۲؎ ترجمہ از مرتب : اور اُس نے تجھے طالبِ ہدایت پایا پس اُس نے تیری رہنمائی کی ۔ ۳؎ ترجمہ از مرتب : تیرے ربّ کی رحمت کے (ہر قسم کے) خزانے تجھے دیئے جائیں گے ، اے کپڑا اوڑھنے والے اُٹھ اور لوگوں کو آنے والے خطرات سے ڈرا ، اور اپنے ربّ کی بڑائی بیان کر ۔

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 39 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 186 پر درج ہے

صفحہ 738

حوالہ نمبر 235 ضمیمہ براہین احمدیہ ۳۵۹ حصہ پنجم

عیسیٰ علیہ السلام حضرت موسیٰ سے چودھویں صدی میں پیدا ہوئے تھے۔ پس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے چودھویں صدی میں ظاہر ہوا ہوں اور اس آخری زمانہ کی نسبت خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں یہ خبریں بھی دی تھیں کہ کتابیں اور رسالے بہت سے دنیا میں شائع ہو جائیں گے اور قوموں کی باہمی ملاقات کے لئے راہیں کھل جائیں گی ۔ اور دریاؤں میں سے بکثرت نہریں نکلیں گی ۔ اور بہت سی نئی کانیں پیدا ہو جائیں گی ۔ اور لوگوں میں مذہبی امور میں بہت سے تنازعات پیدا ہونگے۔ اور ایک قوم دوسری قوم پر حملہ کرے گی ۔ اور اسی اثنا میں آسمان سے ایک صُور پھونکی جائیگی ۔ یعنی خدا تعالیٰ مسیح موعود کو بھیجکر اشاعت دین کے لئے ایک تجلّی فرمائیگا ۔ تب دین اسلام کی طرف ہر ایک ملک میں سعید الفطرت لوگوں کو ایک رغبت پیدا ہو جائیگی۔ اور جس حد تک خدا تعالیٰ کا ارادہ ہے تمام زمین کے سعید لوگوں کو اسلام پر جمع کریگا ۔ تب آخر ہوگا ۔ سو یہ تمام باتیں ظہور میں آگئیں ۔ ایسا ہی احادیث صحیحہ میں آیا تھا کہ وہ مسیح موعود صدی کے سر پر آئیگا ۔ اور وہ چودھویں صدی کا مجدد ہو گا ۔ سو یہ تمام علامات بھی اس زمانہ میں پوری ہو گئیں ۔ اور لکھا تھا کہ وہ اپنی پیدائش کی رُو سے دو صدیوں میں اشتراک رکھے گا ۔ اور دو نام پائے گا ۔ اور اسکی

بقیہ حاشیہ صفحہ ۳۵۸ پڑا تھا مگر یہ انہوں نے غلطی کی ہے یہودیوں کی تاریخ سے بالاتفاق ثابت ہے کہ یسوع یعنی حضرت عیسیٰ موسیٰ کے بعد چودھویں صدی میں ظاہر ہوا تھا اور یہی قول صحیح ہے اگرچہ مشابہت کے ثابت کرنے کیلئے پوری مطابقت ضروری نہیں ہوا کرتی جیسا کہ اگر کسی آدمی کو کہیں کہ یہ شیر ہے تو یہ ضروری نہیں کہ شیر کی طرح اس کے پنجے اور کھال ہو اور دُم بھی ہو اور آواز بھی شیر کی طرح رکھتا ہو بلکہ ایک شخص کو دُوسرے کا مثیل ٹھہرانے میں ایک حد تک مشابہت کافی ہوتی ہے پس اگر عیسائیوں کا قول قبول کر لیں کہ حضرت عیسیٰ حضرت موسیٰ کے بعد پندرہویں صدی میں ہوئے تھے ہم پر شرعاً کفر نہیں کیونکہ چودھویں اور پندرہویں صدی میں تخمینی اور اشتراکی زمانہ کا مشابہت میں کچھ حرج نہیں ڈالتا مگر ہم اس جگہ یہودیوں کے قول کو ترجیح دیتے ہیں جو کہتے ہیں کہ یسوع یعنی حضرت عیسیٰ حضرت موسیٰ کے بعد چودھویں صدی میں مدعی نبوت ہوا تھا کیونکہ ان کی بات تواریخ پر مبنی ہے بہ نسبت عیسائیوں کی تواریخ کے صحیح ہے ۔ منہ

یہ حوالہ صفحہ 186 پر درج ہے براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 188 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 360-359 از مرزا قادیانی

صفحہ 739

حوالہ نمبر 235

ضمیمہ براہین احمدیہ ۳۶۰ حصہ پنجم

پیدائش دُو خاندان سے اشتراک رکھیگی۔ اور چوتھی دو گونہ صفت یہ کہ پیدائش میں بھی جوڑے کے طور پر پیدا ہو گا۔ سو یہ سب نشانیاں ظاہر ہوگئیں۔ کیونکہ دُو صدیوں سے اشتراک رکھنا یعنی ذوالقرنین ہونا میری نسبت ایسا ثابت ہے کہ کسی قوم کی مقرر کردہ صدی ایسی نہیں ہے جس میں میری پیدائش اس قوم کی دُو صدیوں پر مشتمل نہیں۔ اِسی طرح خدا تعالیٰ کی طرف سے دُو نام مَیں نے پائے۔ ایک میرا نام اُمّتی رکھا گیا جیسا کہ میرے نام غلام احمد سے ظاہر ہے۔ دوسرے میرا نام ظلی طور پر نبی رکھا گیا۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ نے حصص سابقہ براہین احمدیہ میں میرا نام احمد رکھا۔ اور اسی نام سے بار بار مجھ کو پکارا اور یہ اسی بات کی طرف اشارہ تھا کہ مَیں ظلی طور پر نبی ہوں۔ پس مَیں اُمّتی بھی ہوں اور ظلی طور پر نبی بھی ہوں۔ اسی کی طرف وہ وحی الٰہی بھی اشارہ کرتی ہے جو حصص سابقہ براہین احمدیہ میں ہے۔ کُلُّ بَرَکۃٍ مِن مُحمّدٍ صلّی اللّہ علیہ وسلّم فَتَبَارَکَ مَن عَلَّمَ وَ تَعَلَّمَ۔ یعنی ہر ایک برکت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہے۔ ۱۸۹ پَس بہت برکت والا وہ انسان ہے جس نے تعلیم کی یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم۔ اور پھر بعد اس کے بہت برکت والا وہ ہے جس نے تعلیم پائی یعنی یہ عاجز۔ پس اتباعِ کامل کی وجہ سے میرا نام امتی ہوا۔ اور پورا عکسِ نبوت حاصل کرنے سے میرا نام نبی ہوگیا۔ پس اس طرح پر مجھے دُو نام حاصل ہوئے۔ جو لوگ بار بار اعتراض کرتے ہیں کہ صحیح مسلم میں آنے والے عیسیٰ کا نام نبی رکھا گیا ہے اُن پر لازم ہے کہ یہ ہمارا بیان توجہ سے پڑھیں کیونکہ صحیح مسلم میں آنیوالے عیسیٰ کا نام نبی رکھا گیا ہے اُسی مسلم میں آنیوالے عیسیٰ کا نام اُمّتی بھی رکھا گیا ہے۔ اور

* اور کوئی شخص امتی نبی ہونے کے لفظ سے دھوکا نہ کھاوے۔ مَیں بارہا لکھ چکا ہوں کہ یہ وہ نبوت نہیں ہے جس کو مستقل نبوت کہتے ہیں۔ کیونکہ مستقل نبی امتی نہیں کہلا سکتا۔ مگر مَیں امتی ہوں۔ پس یہ نبوت خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک بندہ کا نام ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے حاصل ہوا تا آنحضرت صلعم سے تکمیل مشابہت ہو ۔ منہ

براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 188 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 359، 360 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 186 پر درج ہے

صفحہ 740

حوالہ نمبر 236

اربعین نمبر ۳ ۴۰۴

اور مکر سوچو جسقدر چاہو مگر یاد رکھو کہ عنقریب خدا تمہیں دکھلاوے گا کہ اُس کا ہاتھ غالب ہے ۔ نادان کہتا ہے کہ میں اپنے منصوبوں سے غالب ہو جاؤں گا۔ مگر خدا کہتا ہے کہ اے لعنتی دیکھ میں تیرے سارے منصوبے خاک میں ملا دوں گا۔ اگر خدا چاہتا تو اِن مخالف مولویوں اور ان کے پیرووں کو آنکھیں بخشتا اور وہ ان وقتوں اور موسموں کو پہچان لیتے جن میں خدا کے مسیح کا آنا ضروری تھا۔ لیکن ضرور تھا کہ قرآن شریف اور احادیث کی وہ پیشگوئیاں پوری ہوتیں جن میں لکھا تھا کہ مسیح موعود جب ظاہر ہو گا تو اسلامی علماء کے ہاتھ سے دکھ اٹھائیگا ۔ وہ اس کو کافر قرار دیں گے اور اس کے قتل کے لئے فتوے دیئے جائیں گے اور اس کی سخت توہین کی جائیگی اور اس کو دائرہ اسلام سے خارج اور دین کا تباہ کرنے والا خیال کیا جائے گا۔ سو ان دنوں میں وہ پیشگوئی انہی مولویوں نے اپنے ہاتھوں سے پوری کی ۔ افسوس یہ لوگ سوچتے نہیں کہ اگر یہ دعویٰ خدا کے امر اور ارادہ سے نہیں تھا تو کیوں اس مدعی میں پاک اور صادق نبیوں کی طرح بہت سے سچائی کے دلائل جمع ہو گئے ؟ کیا وہ رات ان کیلئے ماتم کی رات نہیں تھی جس میں میرے دعوے کے وقت رمضان میں خسوف کسوف عین پیشگوئی ۱۵۸ کی تاریخوں میں وقوع میں آیا۔ کیا وہ دن ان پر مصیبت کا دن نہیں تھا جس میں لیکھرام کی نسبت پیشگوئی پوری ہوئی ۔ خدا نے بارش کی طرح نشان برسائے مگر ان لوگوں نے آنکھیں بند کر لیں تا ایسا نہ ہو کہ دیکھیں اور ایمان لاویں۔ کیا یہ سچ نہیں کہ یہ دعویٰ غیر وقت پر نہیں بلکہ عین صدی کے سر پر اور عین ضرورت کے دنوں میں ظہور میں آیا۔ اور یہ امر قدیم سے اور جب سے کہ بنی آدم پیدا ہوئے سنّت اللہ میں داخل ہے کہ عظیم الشان مصلح صدی کے سر پر اور عین ضرورت کے وقت میں آیا کرتے ہیں جیسا کہ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی حضرت مسیح علیہ السلام کے بعد ساتویں صدی کے سر پر جبکہ تمام دنیا تاریکی میں پڑی تھی ظہور فرما ہوئے اور جب سات کو دگنا کیا جائے

۹۲

اربعین 3 صفحہ 17 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 404 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 186 پر درج ہے

صفحہ 741

(حوالہ نمبر 237)

۵۲۵

۴ مئی ۱۹۰۶ء "اِنِّيْ مَعَ الْاَفْرَادِ ۔ لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الْاَفْلَاكَ ١؂"

(بدر جلد ۲ نمبر ۱۹ مورخہ ۱۰ مئی ۱۹۰۶ء صفحہ ۲۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۱۶ مورخہ ۱۰؍ مئی ۱۹۰۶ء صفحہ ۱)

۵ مئی ۱۹۰۶ء رؤیا: ایک شخص نے ایک دوائی کولا واٹن کی ایک بوتل دی جو سُرخ رنگ کی دوائی ہے اور بوتل بند کی ہوئی ہے اور اس پر پٹیاں لپیٹی ہوئی ہیں۔ ظاہر دیکھنے میں تو بوتل ہی نظر آتی ہے مگر جس شخص نے دی ہے وہ کہتا ہے کہ یہ کتاب دیتا ہوں۔ دیکھنے میں تو بوتل ہی نظر آتی تھی لیکن کہنے میں وہ شخص اس کا نام کتاب رکھتا ہے۔ اس وقت میں کہتا ہوں کہ اس کا وقت آگیا ہے، اس کو نوکر رکھا جائے۔ اور میں نے اس کتاب پر دستخط کر دیئے ہیں۔ پھر الہام ہوا:۔ یہ میری کتاب ہے اس کو کوئی ہاتھ نہ لگاوے مگر وہی جو میرے خاص خدمت گار ہیں۔ پھر الہام ہوا:۔

اَللّٰهُ يُعْلِيْنَا وَ لَا نُعْلٰی ٢؂

فرمایا۔ اس سے مطلب یہ ہے کہ ہم دشمنوں پر غالب ہوں گے اور دشمن سے مغلوب نہ ہوں گے ۔

(بدر جلد ۲ نمبر ۱۹ مورخہ ۱۰ مئی ۱۹۰۶ء صفحہ ۲۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۱۶ مورخہ ۱۰؍ مئی ۱۹۰۶ء صفحہ ۱)

۵ مئی ۱۹۰۶ء "پھر بہار آئی، تو آئے ثلج کے آنے کے دن" ثلج کا لفظ عربی ہے۔ اس کے ایک تو یہ معنے ہیں کہ وہ برف جو آسمان سے پڑتی ہے اور شدتِ سردی کا موجب ہو جاتی ہے اور بارش اس کے لوازم سے ہوتی ہے، اس کو عربی میں ثلج کہتے ہیں۔ ان معنوں کی بناء پر اس پیشگوئی کے یہ معنے معلوم ہوتے ہیں کہ بہار کے دنوں میں آسمان سے ہمارے ملک میں خدا تعالیٰ غیر معمولی طور پر یہ آفتیں نازل کرے گا اور برف اور اس کے لوازم سے شدتِ سردی اور کثرتِ بارش ظہور میں آئے گی اور دوسرے معنے اس کے عربی میں اطمینانِ قلب حاصل کرنا ہے یعنی انسان کو کسی امر پر ایسے دلائل اور شواہد میسر آجاویں جس سے اس کا دل مطمئن ہو جائے۔ اسی وجہ سے کہتے ہیں کہ فلاں امر موجب ثلج قلب ہو گیا یعنی ایسے دلائلِ قاطعہ بیان کئے گئے جن سے تسلی اطمینان ہو گیا۔ اور یہ لفظ کبھی خوشی اور راحت پر بھی استعمال کیا جاتا ہے جو اطمینانِ قلب کے بعد پیدا ہوتی ہے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ جب انسان کا دل کسی

١؂ (ترجمہ) تحقیق میں بزرگوں کے ساتھ ہوں۔ اگر تو نہ ہوتا تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا۔ ٢؂ (ترجمہ) اللہ تعالیٰ ہمیں اونچا کرے گا ہم نیچے نہیں کئے جائیں گے۔

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 525 طبع چہارم ، از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 187 پر درج ہے

صفحہ 742

حوالہ نمبر 240 ۶۹۱

۱۸؍اکتوبر ۱۸۹۹ء

"بالفعل خدا تعالیٰ نے بندہ کے دل میں یہی ڈالا ہے کہ بیعت کرنے والے دو قسم میں رکھے جائیں گے ۔ ایک جو اعلیٰ اور صاف تر زندگی کے خواہشمند اور خدا تعالیٰ کے منشاء کی اطاعت کے لئے حاضر ہیں اور ایک وہ جو کسی قدر کمزور ہیں ۔"

(اقتباس مکتوب نمبر ۴ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مورخہ ۱۸؍اکتوبر ۱۸۹۹ء

مندرجہ تشحیذ الاذہان جلد ۶ نمبر ۶۔ جون ۱۹۱۱ء صفحہ ۲۴۳ ، ۲۴۴)

۱۸۹۹ء

"حضرت اقدس کو رؤیا ہوئی کہ حامد علی آ کر کہتا ہے کہ باہر ایک ہندو کھڑا ہے اور دُعا کے لئے درخواست کرتا ہے حضور اقدس اسے کہتے ہیں کہ اسے اندر لے ہم دُعا کرینگے سُنیں، پھر حامد علی دوبارہ واپس آتا ہے تو ایک چھوٹا بیگ اور دو چادریں ہیں اُن میں روپیہ بھر کر لاتا ہے۔ فرمایا ہندو سے مُراد ایسا شخص ہوّا کرتا ہے جو دُنیا کے غم و ہم میں مبتلا ہو اور چاہے کہ کسی طرح دُنیوی ابتلاؤں سے نجات ہو۔"

(مکتوب بنام مولوی عبدالکریم صاحبؒ مندرجہ تشحیذ الاذہان جلد ۶ نمبر ۶۔ جون ۱۹۱۱ء صفحہ ۲۴۷) ۱؎

۵؍جنوری ۱۹۰۰ء

(الف) ۵؍جنوری ۱۹۰۰ء کو صبح کی نماز کے وقت حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ پرسوں کی نماز میں جب مَیں التحیات کے لئے بیٹھا تو بجائے التحیات کے یہ دُعا پڑھنے لگ گیا صَلِّ اللهُ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلَيْكَ وَبَارِكْ وَعَادَ اَعْدَآئِکَ عَلَيْكَ ۲؎ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ مَیں نے خیال کیا کہ یہ کیا پڑھ رہا ہوں تو معلوم ہوا کہ الہام ہے۔

(روایت منشی فخر الدین صاحبؒ واصل باقی نویس ۔ رجسٹر روایات صحابہ

جلد ۱ صفحہ ۱۴۔ و رجسٹر روایات صحابہ جلد ۱۳ صفحہ ۱۴۶)

(ب) صاحبزادہ پیر سراج الحق صاحب نعمانی نے بیان کیا کہ :۔ "ایک روز مغرب کی نماز پڑھی گئی اور مَیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس کھڑا تھا۔ جب نماز کا سلام پھیر گیا تو آپ نے بایاں ہاتھ میری دائیں ران پر رکھ کر فرمایا کہ صاحبزادہ صاحب ! اِس وقت مَیں التحیات پڑھتا تھا اتفاقاً میری زبان پر جاری ہوا کہ :۔ صَلِّ اللهُ عَلَيْكَ وَعَلٰی مُحَمَّدٍ ؂

(الحکم جلد ۶ نمبر ۱۹ مورخہ ۲۴؍ مئی ۱۹۰۲ء صفحہ ۵)

۱؎ (نوٹ از مرتب) یہ مکتوب حضرت مولانا نے افریقہ کے ایک شخص کو لکھا اور اس میں یہ بھی لکھا کہ ’’آپ کا وعدہ ارسال روپیہ آنے سے ایک ہفتہ قبل حضور اقدسؑ کو رؤیا ہوئی ۔۔۔۔۔ پھر جب نام بنام فہرست چندہ پر مشتمل خط آیا تو تاویل و تصدیق واضح ہو گئی ‘‘ ۔ (مکتوب مذکور)

۲؎ (ترجمہ از مرتب) اللہ تعالیٰ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر اور تجھ پر بھی رحمتیں بھیجے اور تیرے دشمنوں کی بددُعا اُن پر لوٹا دی جائے گی۔

یہ حوالہ صفحہ 189 پر درج ہے تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 661 طبع چہارم از مرزا قادیانی

صفحہ 743

حوالہ نمبر 241

۲۰۸

خاکسار عرض کرتا ہے کہ کپور تھلہ کی جماعت ایک خاص جماعت تھی ۔ اور نہایت مخلص تھی۔ ان میں سے تین دوست خاص طور پر ممتاز تھے ۔ یعنی میاں محمد خاں صاحب مرحوم ، منشی اروڑے خاں صاحب مرحوم اور منشی ظفر احمد صاحب ۔ اوّل الذکر بزرگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں فوت ہو گئے تھے اور ثانی الذکر خلافت ثانیہ میں فوت ہوئے اور موخرالذکر ابھی تک زندہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں تادیر سلامت رکھے اور ہر طرح حافظ و ناصر ہو۔ آمین ۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ مکرم منشی ظفر احمد صاحب کے اس اخلاص کے اظہار میں تین لطافتیں ہیں ایک تو یہ کہ جو رقم جماعت سے مانگی گئی تھی وہ انہوں نے خود اپنی طرف سے پیش کر دی ، دوسرے یہ کہ پیش بھی اس طرح کی کہ نقد موجود نہیں تھا تو زیور فروخت کر کے روپیہ حاصل کیا ۔ تیسرے یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جتا یا تک نہیں کہ میں خود اپنی طرف سے زیور بیچکر لایا ہوں ۔ بلکہ حضرت صاحب یہی سمجھتے رہے کہ جماعت نے چندہ جمع کر کے یہ رقم بھجوائی ہے ۔ دوسری طرف منشی اروڑے خاں صاحب کا اخلاص بھی ملاحظہ ہو کہ اس قصہ میں منشی ظفر احمد صاحب سے چھ ماہ ناراض رہے کہ اس خدمت کے موقعہ کی اطلاع مجھے کیوں نہیں دی ۔ یہ نظارے کس درجہ روح پرور کس درجہ ایمان افروز ہیں۔ اے محمدی سلسلہ کے برگزیدہ مسیح ! تجھ پر خدا کا لاکھ لاکھ درود اور لاکھ لاکھ سلام ہو کہ تیرا سحر کیسا شیرین ہے ۔ اور اے محمدی مسیح کے حلقہ بگوشو ! تم پر خدا کی لاکھ لاکھ رحمتیں ہوں کہ تم نے اپنے عہد اخلاص و وفا کو کس خوبصورتی اور جاں نثاری کے ساتھ نبھایا ہے ۔

۷۷۷ بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ اوائل میں جب میں قادیان جاتا تو اس کمرے میں ٹھہرتا تھا۔ جو مسجد مبارک سے ملحق ہے اور جس میں سے ہو کر حضرت صاحب مسجد میں تشریف لے جاتے تھے ایک دفعہ ایک مولوی جو ذی علم شخص تھا ۔ قادیان آیا ۔ بارہ تیرہ اس کے ساتھ تھے ۔ وہ مناظرہ وغیرہ نہیں کرتا تھا بلکہ صرف حالات کا مشاہدہ کرتا تھا ایک مرتبہ رات کو تنہائی میں میرے پاس اس کمرہ میں وہ آیا ۔ اور کہا کہ ایک بات مجھے بتائیں کہ مرزا صاحب کی عربی تصانیف ایسی ہیں کہ ان جیسی کوئی فصیح بلیغ عبارت نہیں لکھ سکتا۔ ضرور مرزا صاحب کچھ علماء سے مدد لے کر لکھتے ہونگے ۔ اور وہ وقت رات کا ہی ہو سکتا ہے تو کیا رات کو کچھ آدمی ایسے آپ کے پاس رہتے ہیں جو اس کام میں مدد دیتے ہوں۔ میں نے کہا مولوی

سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 208 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 189 پر درج ہے

صفحہ 744

حوالہ نمبر 242

حضرت امیرالمومنین ایّدہ اللہ بنصرہ العزیز کی دعا کا معجزانہ اثر

اللہ تعالیٰ کے ہزار ہا ہزار شکر ہے کہ اُس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعہ دوبارہ انسانوں کے لئے اپنا دروازہ کھول دیا ۔ اور کمزور و بے کس انسان جس آستانہ پر گر سکتا ۔ اور جس چوکھٹ پر اپنے دُکھ درد کی فریاد لے کر جاتا۔ اب من ھٰذہ شق و علٰی ھٰذہ النھج الا موعود آج ایک عالم مادیت کی بھول بھلیوں میں سرگرداں ہے۔ اور اُس روحانیت کے چشمہ صافی سے بے خبر ہے ۔ جو ربّ رحمان نے اپنے بندہ بندوں کے لئے جاری فرمایا ہے ۔ احباب مندرجہ ذیل واقعہ پر غور فرما کر کہ جب عالم اسباب کی ساری کڑیاں ٹوٹ ختم ہو چکی تھیں ۔ کس وقت سیدنا حضرت امیرالمومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی دُعا نے کیا مسیحائی کی ۔ میرے خسر شاہ حمید صاحب جو اس وقت تک غیر احمدی ہیں۔ یکم اپریل ۱۹۳۷ء کو خطرناک طور پر بیمار ہوئے دیہات میں تھے ۔ وہاں کا ڈاکٹر مرض کی تشخیص نہ کر سکا ۔ حالت نازک نازک ہوتی جاتی تھی۔ ڈسکہ میڈیکل کالج ہسپتال میں ہم لوگ انہیں لے آئے ۔ یہاں آکر پتہ چلا ۔ کہ کئی امراض کا ایک دفعہ حملہ ہوا ہے ۔ اسہال بہت آتے تھے۔ قے چُھٹ گئی تھی ۔ جس میں خون کی قئی سمیت انتہا درجہ کی تھی ۔ پیشاب بالکل بند ہو گیا تھا۔ نبض کئی دفعہ ڈوبتی اور چھن جاتی تھی۔ آخر کار پیشاب میں خون آنا اور مکمل طور پر برآمدہ ہو چکے تھے۔ پیشاب کے اسٹول کے بعد پتہ چلا ۔ کہ گردوں نے بالکل کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔ Albumen پیشاب میں تھا ۔ اور ۔۔۔ Uraemia کے زہر سے ڈاکٹر گھبرا گئے تھے۔ قے کی بُو سے پتہ چلتا تھا ۔ مندرجہ بالا علامات تو یہی بتا رہی تھیں ۔ کہ زہر سارے جسم میں پھیل چکا تھا۔ دل کی حرکت کمزور ہو چکی تھی ۔ مریض پسینہ ۔ پسینہ تھا غشی کے دورے بھی پیدا ہو گئے تھے۔ ڈاکٹروں نے مایوسی کے عالم میں ہاتھ اور پاؤں کی رگوں کو کاٹ کر پانی اتارنا شروع کیا ۔ اس میں بھی پوری کامیابی نہیں ہوئی ۔ آخر تیسرے روز تو یہ حالت ہو گئی ۔ کہ پیشاب ۷۲ گھنٹے سے بالکل بند تھا۔ سدہ بذریعہ سلائی نکالا گیا ۔ سینہ پر پسینہ تک آگیا ۔ نبض پورے طور پر ساقط ہو گئی ۔ دل کی دھڑکن محض غائب ۔ نبض ملنے کے لئے پاس ڈاکٹر صاحبان موجود تھے۔ اور چونکہ میں میڈیکل کالج کا اس وقت طالبعلم رہ چکا تھا۔ ڈاکٹر صاحبان میرے اُستاد تھے ۔ لہٰذا میرے خسر صاحب کا لحاظ خیال رکھتے تھے۔ سب نے ہت ہتھیار ڈال دئیے ڈاکٹر رانا محمد دین صاحب (ایم۔ آر۔ سی۔ پی لندن) جو امر تسر میں ہیں ۔ نے ایک آہ بھر کر کہا ڈاکٹر کو بلاؤ ۔ پیشاب بند کرو ۔ اور انہیں آرام سے مرنے دو ۔ ایک تیسرے ڈاکٹر صا حب جو ایم ۔ آر ۔ سی ۔ پی ہیں کہنے لگے ڈاکٹر سمجھ گئے ۔ کہ مریض کی موت کے لئے دل کو تیار کر لو ۔ اور صدموں کو بھی ابھی سے اس کے لئے آمادہ کر لو ۔ بس گھنٹہ کے اندر فوت ہو جائیں گے ہم سب لوگ زمین پر لیٹ لوٹ کر دُعائیں کرنے لگے ۔ اور اپنے مالک کے آگے جھک گئے۔ میری بیوی نے صبح ہی ایک تار حضور خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں روانہ کیا تھا ۔ اور دوپہر کو قطعی مایوس ہو کر ایک اور خط حضور حضور امیر المومنین کی خدمت میں روانہ کیا گیا ۔ یوں تو روز ایک تار اپنے پیارے آقا کی خدمت میں ہم لوگ روانہ کرتے رہتے تھے ۔ اور خطوط بھی لکھتے تھے۔ مگر اس روز عجیب عالم تھا ۔ مایوسی عودت کر ایک سمت پڑی لمبیاں لیتی تھی ۔ اور قیا م کا سکہ ۔ اور موت کے افق پر چمکتا تھا ۔ دوسرا تار مدراس میں ڈاکٹر رگھو ناتھ کو بھیجنے کی تیاری میں ملازم کو ڈاکخانہ کو روانہ کیا ۔ کہ ہم لوگ نزع کی ہچکیوں میں گرفتار تھے ۔ کہ ۴ بجے شام تار کا جواب آگیا ۔ اور ساتھ ہی پیشاب خوب ہوا ۔ دوسرے روز سے حالت سنبھلنی شروع ہو گئی ۔ گزشتہ روز پانی تھا یعنی وقت پیشاب آیا ۔ اور قئی سب بند ہو گئے۔ دوسرے روز جب ڈاکٹروں نے دوبارہ ٹیسٹ کیا ۔ تو Albumen غائب تھا۔ Uraemia کا زہر جسم سے بالکل غائب تھا۔ ڈاکٹر حیران تھے کہ یہ کیا ہوا ۔ ہم تو ناامید تھے۔ یہ اب کیا ہے ؟ اب دن بہ دن مریض اچھا ہونا شروع ہوا۔ اور ایک ہفتہ کے بعد کامل صحت ہو گئی۔ سنا ہے اس بیماری نے چھوٹے بڑے کئی جھوٹے بھی اگلوا دئے ۔ الحمدللہ میرے خسر صاحب اب

خیال تھا یقین میں بدل سکتا تھا ۔ وہ فرما رہے ہیں ۔ کہ جو ہماری جماعت میں ہی یہ خیال پیدا ہوتا ہے ۔ اس لئے میں نے عزیزی محمد احمد کے نام تار میں دیا کہ وہ دعا کرائیں۔ ہم عاجز ہیں۔ اور بتائیں ۔ کہ

خدا تعالٰے کے فضل سے ہم
کڑیل جوان ہیں

اور نہائیت متقن کر کے اُس امر کو ثابت کر دیں ۔ کہ موت اپنے بھائیوں کے اتمام کے لئے ہر طرح کی قربانی کر سکتے ہیں۔

روزنامہ الفضل قادیان 31 جولائی 1937ء صفحہ 5 کالم 2 | یہ حوالہ صفحہ 189 پر درج ہے

صفحہ 745

حوالہ نمبر 243

نعت

سیدنا حضرت خاتم النبیین پر سلام

اے امام الہدیٰ سلام علیک
اے بدر الدجیٰ سلام علیک
اے مہرِ ہدیٰ سلام علیک
اے نورِ ہدیٰ سلام علیک
خاتم الانبیاء سلام علیک
ہوئے شمس الضحیٰ سلام علیک
تیرے صدقے سے سب نبی آئے
مظہر الانبیاء سلام علیک
مقتدائے ہمہ جلی و خفی
سید الاتقیاء سلام علیک
مجھ کو قیدِ غم و الم سے چھڑا
منزلِ سدرۃ المنتہیٰ سلام علیک
مانتے ہیں تیری رسالت کو
اے رسولِ خدا سلام علیک
اہلِ عالم کا تو مطاع ہوا
مظہرِ کبریا سلام علیک
گرچہ امتوں میں بہت نبی ہوئے
اے شہِ انبیاء سلام علیک
ہے یہ مہدی تیرا غلامِ فدا
اے مرے پیشوا سلام علیک
تیرے عشق میں مٹ گیا جو گدا
اپنے حق میں سنا سلام علیک
خاکِ درگاہِ سید الکونین
بندہ پرور شہا سلام علیک

خط

مکرم جناب منشی محمد قاسم صاحب سیکرٹری جماعت احمدیہ شملہ نے ایک خط میں تحریر فرمایا ہے ۔ کہ مولوی محمد علی صاحب لاہوری کا ناظر صاحب دعوت و تبلیغ قادیان کے نام ایک خط آیا ہے جس میں وہ لکھتے ہیں ۔ کہ ہماری اور تمہاری صلح اس بات پر ہو سکتی ہے ۔ کہ تم لوگ مرزا صاحب کو نبی ماننا چھوڑ دو ۔ اس پر جناب مولوی صاحب ممدوح نے ان کو جواب دیا ہے ۔ کہ ہم مرزا صاحب کو نبی مانتے ہیں ۔ اور نبی ماننے سے ہم کسی صورت میں باز نہیں آ سکتے ۔ تم مرزا صاحب کو نبی نہیں مانتے ۔ پس ہم تم سے صلح نہیں کر سکتے ۔ یہ خط ناظر صاحب ممدوح نے شملہ میں سنایا ۔ تو قریباً سب لوگوں نے کہا کہ ہم تو مولوی محمد علی صاحب کے عقیدہ پر ہیں ۔ اور ہم انہیں سچا سمجھتے ہیں ۔

خلافت کا انقطاع

نیز جناب منشی محمد قاسم صاحب سیکرٹری جماعت احمدیہ شملہ نے ایک اور خط میں تحریر فرمایا ہے ۔ کہ ہم نے خلیفہ قادیان کی بیعت سے انقطاع کر لیا ہے ۔

دعا

شاید ہم بھی کسی وقت کہہ دیں ۔ اے خدا ہم تیرا شکر ادا کرتے ہیں ۔ کہ تو نے ہمیں اس فتنہ سے بچا لیا ۔ آمین ۔

معلوم ہوتا ہے کہ میاں محمود احمد صاحب ابتداء میں لوگوں کو اپنی طرف کھینچنے کے لئے کہتے تھے کہ نبی ہیں ۔ لیکن اب لوگوں کا رجوع ان کی طرف کم ہو گیا تو کہتے ہیں کہ نبی کے معانی نبی کے نہیں ہیں بلکہ لغوی ہیں اس لئے جناب میر قاسم علی صاحب کو بھی یہ ماننا پڑا ہے کہ میاں محمود احمد صاحب کے الہام میں غلطی ہو سکتی ہے ۔ اور وہ غلطی کر سکتے ہیں ۔ حالانکہ اس سے پہلے وہ ان کو نبی مانتے تھے ۔

وقتاً فوقتاً ترمیم عقائد

اس سے پیشتر بھی میاں محمود احمد صاحب اپنے عقائد میں وقتاً فوقتاً ترمیم کرتے رہے ہیں ۔ اس لئے ان کی کسی بات کا اعتبار نہیں کیا جا سکتا ۔ کہ وہ اپنے عقیدے پر قائم رہیں گے ۔ اور نہ یہ امید کی جا سکتی ہے کہ وہ آئندہ اپنے عقیدے میں ترمیم نہیں کریں گے ۔

قاضی محمد یوسف قادیانی کی قلمی یادداشت، ماخوذ از الفضل قادیان جلد 7 شمارہ نمبر 100، مورخہ 30 جون 1920ء

یہ حوالہ صفحہ 189 پر درج ہے

صفحہ 746

حوالہ نمبر 244

۳۴۹

اربعین نمبر ۴

وہ غیب میں داخل ہیں یا چند ایسی پیشگوئیاں پیش کریں جو ان کے نزدیک وہ پوری نہیں ہوئیں۔ مگر وہ امور ایسے ہوں جو انبیاء کے سوانح یا اُنکی پیشگوئیوں میں اُن کی نظیر مل سکے۔ مگر یاد رہے کہ اگر وہ ایسی مہذب اور دانشمند مجلس میں یہ تصفیہ کرنا چاہیں تو ضرور ثابت ہو جائیگا کہ وہ صرف بہتان اور افتراء کرنے والے ہیں۔ غائبانہ ذکر تو صرف غیبت کہلاتا ہے ۔ اس سے زیادہ نہیں اور اُس سے کچھ ثابت نہیں ہوتا کیونکہ اس میں شخص غیبت کنندہ کو بوجہ اکیلا ہونے کے ہر ایک کذب اور افتراء کی بہت گنجائش ہوتی ہے پس بلاشبہ ایسی غیبت جس مجلس میں سُنی جاتی ہے وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک صلحاء کی مجلس نہیں ہے۔ اگر انسان اپنے دل میں سچائی کی طلب رکھتا ہے تو جو بات اس کو سمجھ نہ آوے اس کو پوچھ لینا چاہئے ۔ اگر میرے پر یہ الزام لگایا جائے کہ کوئی پیشگوئی میری پوری نہیں ہوئی یا پورا ہونے کی اُمید جاتی رہی تو اگر میں نے بحوالہ انبیاء علیہم السلام کی پیشگوئیوں کے یہ ثابت نہ کر دیا کہ درحقیقت وہ تمام پیشگوئیاں پوری ہو گئی ہیں یا بعض انتظار کے لائق ہیں اور وہ اُسی رنگ کی ہیں جیسا کہ نبیوں کی پیشگوئیاں تھیں ۔ تو بلاشبہ میں ہر ایک مجلس میں جھوٹا ٹھہرونگا۔ لیکن اگر میری باتیں نبیوں کی باتوں سے مشابہ ہیں تو جو مجھے جھوٹا کہتا ہے اُس کو خدا تعالیٰ کا خوف نہیں ہے۔ بعض بے خبر ایک یہ اعتراض بھی میرے پر کرتے ہیں کہ اس شخص کی جماعت اس پر فقرہ علیہ الصلوٰۃ والسلام اطلاق کرتے ہیں اور ایسا کرنا حرام ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ میں مسیح موعود ہوں۔ اور دوسروں کا صلوٰۃ یا سلام کہنا تو ایک طرف خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص اس کو پاوے۔ میرا سلام اُس کو کہے۔ اور احادیث اور تمام شروح احادیث میں مسیح موعود کی نسبت صدہا جگہ صلوٰۃ اور سلام کا لفظ لکھا ہوا موجود ہے۔ پھر جبکہ میری نسبت نبی علیہ السلام نے یہ لفظ کہا صحابہ نے کہا بلکہ خدا نے کہا تو میری جماعت کا میری نسبت یہ فقرہ بولنا کیوں حرام ہو گیا ۔ خود عام طور پر تمام مومنوں کی نسبت قرآن شریف میں

۷

اربعین نمبر 2 صفحہ نمبر 6 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 349 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 190 پر درج ہے

صفحہ 747

حوالہ نمبر 245

براہین احمدیہ ۶۵۲ ۱- باب

اُن کے گناہوں کا مؤاخذہ کرتا تو زمین پر ایک بھی زندہ نہ چھوڑتا اور خدا وہ ذات کریم و رحیم ہے کہ جو بارش سے پہلے ہواؤں کو چھوڑتا ہے پھر ہم ایک پاک پانی آسمان سے اُتارتے ہیں تا اُس سے مری ہوئی بستی کو زندہ کریں اور پھر بہت سے آدمیوں اور اُن کے چارپایوں کو پانی پلاویں اور ہم پھیر پھیر کر مثالیں بتلاتے ہیں تا لوگ یاد کر لیں کہ نبیوں کے بھیجنے کا یہی اصول ہے۔ اور اگر ہم چاہتے تو ہر ایک بستی کے لئے جُدا جُدا رسول بھیجتے مگر یہ اس لئے کیا گیا کہ تا تجھ سے ہماری کوششیں ظہور میں آویں یعنے جب ایک مرد ہزاروں کا کام کریگا تو بلاشبہ وہ بڑا اجر پائیگا اور

۵۳۵ بقیہ حاشیہ نمبر ۱۱

یہ ہم نے کامل طور پر منکرین پر اِس حجت کو پورا کر دیا ہے اور وہ یہ ہے وَاِنْ كُنْتُمْ فِيْ رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فَأْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ ۖ فَإِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَلَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِيْ وَقُوْدُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ ۝

حاشیہ در حاشیہ

۵۳۶ بقیہ حاشیہ در حاشیہ

الہامات پائے ہوں مگر مصلحتِ وقت سے عام طور پر اُنکو شائع نہیں کیا۔ اور خدائے تعالیٰ کو ہر یک کے زمانہ میں نئے نئے مصالح ہیں پس چونکہ اس مصلحتِ ربانی کا یہی تقاضا تھا کہ جو غیر نبی ہے اُسکے الہامات نبی کے وحی کی طرح قلمبند نہ ہوں تا غیر نبی کا نبی کے کلام سے تناقض واقع نہ ہو جائے لیکن اِس زمانہ کے بعد جس قدر اولیاء اور صاحبِ کمالاتِ باطنیہ گزرے ہیں اُن سب کے الہامات مشہور و متعارف ہیں کہ جو ہر یک عصر میں قلمبند ہوتے چلے آئے ہیں۔ اِس کی تصدیق کے لئے شیخ عبد القادر جیلانی اور مجدّد الف ثانی کے مکتوبات احمدیہ و دیگر اولیاء اللہ کی کتابیں دیکھنی چاہئیں کہ کس کثرت سے اُن کے الہامات پائے جاتے ہیں بلکہ امام ربانی صاحب اپنے مکتوبات کی جلد ثانی میں جو مکتوب پنجاہ و یکم ہے اُس میں صاف لکھتے ہیں کہ غیر نبی بھی مکالمات و مخاطبات حضرت احدیت سے مشرف ہو جاتا ہے اور ایسا شخص محدث کے نام سے موسوم ہے اور انبیاء کے مرتبہ سے اُس کا مرتبہ قریب واقع ہوتا ہے ایسا ہی شیخ عبد القادر جیلانی ؒ

۱؎ سورہ بقرہ : ۲۴

براہین احمدیہ صفحہ 630 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 652 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 191 پر درج ہے

Back

صفحہ 748

(حوالہ نمبر 246)

۲۸

وتب ، ما كان له أن يدخل فيها الا خائفا، وما اصابك فمن الله و اعلم أن العاقبه للمتقين ، و أنذر عشيرتك الأقربين انا سنريهم آية من آياتنا في الغيبة و نردها اليك ، أمر من لدنا انا كنا فاعلين، انهم كانوا يكذبون بآياتي و كانوا بي من المستهزئين، فبشرى لك في النكاح، الحق من ربك فلا تكونن من الممترين ، انا زوجناكها ، لا مبدل لكلمات الله ، و انا رآدوها اليك ، ان ربك فعال لما يريد ، فضل من لدنا ليكون آية للناظرين، شاتان تذبحان وكل من عليها فان ، ونريهم آياتنا في الآفاق وفي انفسهم ونريهم جزاء الفاسقين ۔ اذ جاء نصر الله والفتح وانتهى أمر الزمان

م ۱ (بقية الحاشية) ولا فرق فى نزول الوحى بين أن يكون الى نبى او ولى، ولكل حظ من مكالمات الله تعالى ومخاطباته على حسب المدارج، نعم لوحى الأنبياء شأن أتم وأكمل، وأقوى أقسام الوحى وحى رسولنا خاتم النبيين۔ وقال المجدد الإمام السرهندى الشيخ أحمد رضى الله عنه فى مكتوب يكتب فيه بعض الوصايا الى مريده محمد صديق : اعلم أيها الصديق! أن كلامه سبحانه مع البشر قد يكون شفاهاً وذلك لأفراد من الانبياء وقد يكون ذلك لبعض الكمل من متابعيهم، واذا كثر هذا القسم من الكلام مع واحد منهم يسمى محدثاً، وهذا غير الالهام وغير الالقاء فى الروع وغير الكلام الذى مع الملك، انما يخاطب بهذا الكلام الانسان الكامل، والله يختص برحمته من يشاء۔ تم كلامه ، فارجع الى كلامه ان كنت من المنكرين، واذكر قصة من قال :

تحفہ بغداد صفحہ 21 (حاشیہ) مندرجہ روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 28 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 191 پر درج ہے

صفحہ 749

(حوالہ نمبر 247)

حقیقة الوحی ۴۰۶ نشانات صداقت

کہلاتے ہیں۔ کسی مسلمان کا کام نہیں۔ بلکہ ان لوگوں کا کام ہے جو درحقیقت اسلام کے دشمن ہیں۔ اور پھر ایک اور نادانی یہ ہے کہ جاہل لوگوں کو بھڑکانے کیلئے کہتے ہیں کہ اس شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے حالانکہ یہ انکا سراسر افترا ہے۔ بلکہ جس نبوت کا دعویٰ کرنا قرآن شریف کے رُو سے منع معلوم ہوتا ہے ایسا کوئی دعویٰ نہیں کیا گیا صرف یہ دعویٰ ہے کہ ایک پہلو سے میں امتی ہوں اور ایک پہلو سے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض نبوت کی وجہ سے نبی ہوں اور نبی سے مراد صرف اس قدر ہے کہ خدا تعالٰی سے بکثرت شرف مکالمہ و مخاطبہ پایا ہو۔ بات یہ ہے کہ جیسا کہ مجدّد صاحب سر ہندی نے اپنے مکتوبات میں لکھا ہے کہ اگرچہ اس امّت کے بعض افراد مکالمہ و مخاطبہ الٰہیہ سے مخصوص ہیں اور قیامت تک مخصوص رہیں گے لیکن جس شخص کو بکثرت اس مکالمہ و مخاطبہ سے مشرف کیا جائے اور بکثرت امور غیبیہ اسپر ظاہر کئے جائیں وہ نبی کہلاتا ہے۔ اب واضح ہو کہ احادیث نبویہ میں یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امّت میں سے ایک شخص پیدا ہو گا جو عیسٰی اور ابن مریم کہلائیگا اور نبی کے نام سے موسوم کیا جائیگا یعنی اس کثرت سے مکالمہ و مخاطبہ کا شرف اس کو حاصل ہوگا اور اس کثرت سے امور غیبیہ اسپر ظاہر ہونگے کہ بجز نبی کے کسی پر ظاہر نہیں ہو سکتے جیسا کہ اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے فَلَا يُظْهِرُ عَلٰى غَيْبِهِ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ یعنی خدا اپنے غیب پر کسی کو پوری قدرت اور غلبہ

۳۹۱

نہیں بخشتا جو کثرت اور صفائی سے حاصل ہو سکتا ہو بجز اس شخص کے جو اس کا برگزیدہ رسول ہو۔ اور یہ بات ایک ثابت شدہ امر ہے کہ جسقدر خدا تعالٰی نے مجھ سے مکالمہ و مخاطبہ کیا ہے اور جس قدر امور غیبیہ مجھ پر ظاہر فرمائے ہیں تیرہ سو برس ہجری میں کسی شخص کو آج تک بجز میرے یہ نعمت عطا نہیں کی گئی اگر کوئی منکر ہو تو بار ثبوت اس کی گردن پر ہے۔ غرض اس حصہ کثیر وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس امّت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امّت میں سے گزر چکے ہیں انکو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کیلئے

١؂ الجن: ۲۷ - ۲۸

حقیقة الوحی صفحہ 390 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 406 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 191 پر درج ہے

صفحہ 750

حوالہ نمبر 248

۶۳۰

۱۷؍ مئی ۱۹۰۸ء "مکن تکیہ برعمر ناپائیدار ۱؂"

(بدر جلد ۷ نمبر ۲۲ مورخہ ۲ جون ۱۹۰۸ء صفحہ ۴)

۲۰؍ مئی ۱۹۰۸ء "اَلرَّحِیْلُ ثُمَّ الرَّحِیْلُ وَالْمَوْتُ قَرِیْبٌ ۲؂"

(بدر جلد ۷ نمبر ۲۲ مورخہ ۲ جون ۱۹۰۸ء صفحہ ۴)

٭ ٭ ٭

۱؂ (ترجمہ از مرتب) ناپائیدار عمر پر بھروسہ مت کر۔ نوٹ: یہ مصرعہ الہامی مادہ تاریخ بھی ہے چنانچہ اس کے اعداد (۱۳۲۶) ہیں۔ (مرتب) ۲؂ (ترجمہ) اب کوچ کا وقت آگیا، ہاں کوچ کا وقت آگیا اور موت قریب ہے۔

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 640 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 193 پر درج ہے

صفحہ 751

حوالہ نمبر 249

۶۳۸ (۱۲) رحمت اور فضل کا کام مشترکہ کام ہے

(بدر جلد ۷ نمبر ۱۴ مورخہ ۲۳ اپریل ۱۹۰۸ء صفحہ ۸۔ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲۷ مورخہ ۱۴ اپریل ۱۹۰۸ء صفحہ ۴)

۱۸؍ اپریل ۱۹۰۸ء ؎۱

(۱) اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا۔ (۲) زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ ۔ تَحْتَ الْاَقْدَامِ وَتَدَلّٰى (۳) بُشْرىٰ ؎

(الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲۹ مورخہ ۲۶ اپریل ۱۹۰۸ء صفحہ ۱)

۲۴؍ اپریل ۱۹۰۸ء

(۱) ”میرے لئے ایک نشان آسمان پر ظاہر ہوا۔ (۲) خیر و خوبی کا نشان۔ (۳) میری مُرادیں پوری ہوئیں“

(بدر جلد ۷ نمبر ۱۵ مورخہ ۳۰ اپریل ۱۹۰۸ء صفحہ ۴۔ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲۹ مورخہ ۲۶ اپریل ۱۹۰۸ء صفحہ ۱)

۲۶؍ اپریل ۱۹۰۸ء

”مَبَاش اِیمن از بازیٔ روزگار ؎۲“

(بدر جلد ۷ نمبر ۱۵ مورخہ ۳۰ اپریل ۱۹۰۸ء صفحہ ۷۔ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۰ مورخہ ۲۶ اپریل ۱۹۰۸ء صفحہ ۱)

۲۹؍ اپریل ۱۹۰۸ء

”اِنِّیْ اُحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ ؎۳“

(بدر جلد ۷ نمبر ۱۷ مورخہ ۷ مئی ۱۹۰۸ء صفحہ ۵۔ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۱ مورخہ ۸ مئی ۱۹۰۸ء صفحہ ۱)

۱۹۰۸ء

”جو کچھ خدا نے مجھے خبر دی ہے وہ یہی ہے کہ اگر دُنیا اپنی بدعملی سے باز نہیں آئے گی اور بُرے کاموں سے توبہ نہیں کرے گی تو دُنیا پر سخت سخت بلائیں آئیں گی اور ایک بلا ابھی ٹلنے نہیں پائے گی کہ دوسری ظاہر ہو جائے گی۔ آخر انسان نہایت تنگ ہو جائیں گے کہ یہ کیا ہونے والا ہے اور بہتیرے مصیبتوں کے بیچ میں آکر دیوانوں کی طرح ہو جائیں گے“ (پیغام صلح صفحہ ۹۔ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۴۴۳)

؎۱ ترجمہ از مرتب: ہم نے تجھے کھلی فتح دی ہے۔ (۲) زمین پر زلزلہ آئے گا پس عذاب واقع ہو گا اور اُتر آئے گا۔ (۳) بشارت ہے۔

؎۲ ترجمہ از مرتب: زمانے کے کھیل سے بے خوف نہ رہ۔

؎۳ ترجمہ از مرتب: میں ان تمام لوگوں کی حفاظت کروں گا جو اس دار میں ہیں۔

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 638 طبع چہارم از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 193 پر درج ہے

صفحہ 752

حوالہ نمبر 250

۴۳۳

بعض لوگ اس کی راہ پر بیٹھ گئے ہیں۔ اتنے میں وہ حاکم نکلا ہے۔ گھوڑے پر سوار ہے اور بہت ناراض ہے۔ کہتا ہے یہ لوگ میری راہ پر کیوں بیٹھ گئے۔ اتنی قید اور اتنے غریب بد معاش۔"

(کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۹)

۱۸ جون ۱۹۰۳ء

" در شید بو بلائے وے بپڑ گڑ تڑپ ۔ إِنَّمَآ أَمْرُكَ إِذَآ أَرَدْتَ شَيْئًا أَنْ تَقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ ۔ كُلُّ بَرَكَةٍ فِيْ هٰذَا ۔ كُلُّ أَمْرٍ مُّبَدَّلُ ۔ سَأَجْعَلُ لَكَ سُهُوْلَةً فِيْ كُلِّ أَمْرٍ ۔ ۱؎

(کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۹)

۱۹ جون ۱۹۰۳ء

والدہ محمود کی طرف سے۔ أُرِيْدُ أَنْ أَتَخَلَّصَ ۲؎ منجانب اللہ ۔ أُرِيْدُ أَنْ أُخَلِّصَ ۳؎

(کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۹)

۲۱ جون ۱۹۰۳ء

" أَنَا الرَّحْمٰنُ فَاطْلُبْنِيْ تَجِدْنِيْ ۴؎

(کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۹)

۲۲ جون ۱۹۰۳ء

" أَحْسِنْ وِدَادَكَ ۔ سَأَجْعَلُ لَكَ سُهُوْلَةً فِيْ أَمْرِكَ ۵؎ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ۶؎

(کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۹)

اور اُسے کہے کہ ہو جا تو وہ ہو جاتی ہے۔ تمام برکت اس میں ہے۔ ہر بات بدلی ہوئی ہے۔ عنقریب میں تیرے لئے ہر امر میں سہولت کر دوں گا۔

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 434 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 193 پر درج ہے

صفحہ 753

حوالہ نمبر 251

١٠٤

کے کام میں بیجا افسوس کہ ہماری قوم دیکھتی ہے پھر آنکھ بند کرلیتی ہے“

(مکتوب مورخہ ۲۰ جون ۱۸۹۹ء بنام سیٹھ عبدالرحمن صاحب مدراسی ۔ مکتوبات احمدیہ جلد پنجم حصہ اول صفحہ ۴۶‘ ۴۷)

(ب) عرصہ چودہ برس کا ہوا ہے کہ ایک خواب آئی تھی کہ چار لڑکے ہوں گے اور چوتھے لڑکے کا عقیقہ پیر کے دن ہوگا۔ (از مکتوب بنام ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مورخہ ۲۶ جون ۱۸۹۹ء)

۱۸۸۵ء

”میاں عبداللہ سنوری جو علاقہ پٹیالہ میں پٹواری ہیں ایک مرتبہ ان کو ایک کام پیش آیا جس کے ہونے کے لئے انہوں نے ہر طرح سے کوشش کی اور بعض وجوہ سے ان کو اس کام کے ہو جانے کی امید بھی ہوگئی تھی۔ پھر انہوں نے دعا کے لئے ہماری طرف التجا کی ہم نے جب دعا کی تو بالہاتف الہام ہوا :-

”اے بسا آرزو کہ خاک شدہ“

تب میں نے اُن کو کہہ دیا کہ یہ کام ہرگز نہیں ہوگا اور وہ الہام سنا دیا اور آخر کار ایسا ظہور میں آیا اور کچھ ایسے موانع پیش آئے کہ وہ کام ہوتا ہوتا رہ گیا“ (نزول المسیح صفحہ ۲۲۴- روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۶۱۲)

۲۸؍نومبر ۱۸۸۵ء

”۲۸؍نومبر ۱۸۸۵ء کی رات کو یعنی اُس رات کو جو ۲۸؍نومبر ۱۸۸۵ء کے دن سے پہلے آئی ہے اس قدر شہب کا تماشا آسمان پر تھا جو میں نے اپنی تمام عمر میں اس کی نظیر کبھی نہیں دیکھی اور آسمان کی فضا میں اس قدر ہزارہا شعلے ہر طرف چل رہے تھے جو اُس رنگ کا دُنیا میں کوئی بھی نمونہ نہیں تا میں اُس کو بیان کرسکوں۔ مجھ کو یاد ہے کہ اُس وقت یہ الہام بکثرت ہوا تھا کہ مَارَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى لے سو اُس دن کو رمی شہب سے بہت مناسبت تھی۔

یہ شہب ثاقبہ کا تماشا جو ۲۸؍نومبر ۱۸۸۵ء کی رات کو دُنیا وسیع طور پر ہوا جو یورپ اور امریکہ اور ایشیا کی عام اخباروں میں بڑی حیرت کے ساتھ چھپ گیا لوگ خیال کرتے ہوں گے کہ یہ بے فائدہ تھا لیکن خدا وند کریم جانتا ہے کہ سب سے زیادہ غور سے اِس تماشا کے دیکھنے والا اور پھر اس سے حظ اور لذت اُٹھانے والا میں ہی تھا میری آنکھیں بہت دیر تک اس تماشا کے دیکھنے کی طرف لگی رہیں اور وہ سلسلہ اُسی شب کا شام سے ہی شروع ہو گیا تھا جس کو میں صرف الہامی بشارتوں کی وجہ سے بڑے سرور کے ساتھ دیکھتا رہا کیونکہ میرے دل میں الہاماً ڈالا گیا تھا کہ یہ تیرے لئے نشان ظاہر ہوا ہے۔

اور پھر اُس کے بعد یورپ کے لوگوں کو وہ ستارہ دکھائی دیا جو حضرت مسیح کے ظہور کے وقت میں نکلا تھا۔

لے ”جو کچھ تُونے چلایا وہ تُونے نہیں چلایا بلکہ خُدا نے چلایا“ (حقیقۃ الوحی صفحہ ۷۰۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۷۳۔

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 104 طبع چہارم از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 193 پر درج ہے

صفحہ 754

حوالہ نمبر 252

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

اربعین

لإتمام الحجۃ علی المخالفین

مؤلفہ

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی

ٹائیٹل صفحہ کتاب اربعین از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 194 پر درج ہے

Back

صفحہ 755

حوالہ نمبر 252 ۲۳ اربعین نمبر ۲

ہے جس کی ایک آیت سنکر ایک لاکھ صحابہ نے سر جھکا دیا تھا ۔ اور بلا توقف مان لیا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تمام نبی عیسیٰ وغیرہ فوت ہوچکے ہیں اور اب وہی قرآن ہے جو بار بار آپ لوگوں کے روبرو پیش کیا جاتا ہے اور آپ لوگوں کو کچھ بھی اس کی پروا نہیں ۔ آپ لوگ میری بڑی بڑی کتابوں کو تو نہیں دیکھتے اور فرصت کہاں ہے ۔ لیکن اگر میرے رسالہ تحفہ گولڑویہ اور تحفہ غزنویہ کو ہی دیکھو جو پیر مہر علی شاہ اور غزنوی جماعت مولوی عبدالجبار و عبدالواحد و عبدالحق وغیرہ کی ہدایت کے لئے لکھی گئی ہیں جن کو آپ لوگ صرف دو گھنٹہ کے اندر بہت غور اور تامل سے پڑھ سکتے ہیں ۔ تو آپ کو معلوم ہو جائیگا کہ مسیح کی نسبت قرآن کیا کہتا ہے ۔ آپ یاد رکھیں کہ اس قدر حیات مسیح پر جو آپ زور دیتے ہیں یہ برخلاف منشائے کلام الٰہی ہے ۔ اے عزیزو ! یاد رکھو کہ جو شخص آنا تھا آچکا اور صدی جس کے سر پر مسیح موعود آنا چاہیئے تھا اس میں سے بھی تیرہ برس گزر گئے اور اس صدی میں جس پر امت کے اولیاء کی نظریں لگی ہوئی تھیں ۔ اس میں بقول تمہارے ایک چھوٹا سا مجدد بھی پیدا نہ ہوا اور محض ایک دجال پیدا ہوا ۔ کیا ان شوخیوں کا حضرت عزت کی درگاہ میں جواب دینا نہیں پڑے گا ۔ گو کیسے ہی دل سخت ہوگئے ہیں آخر اس قدر تو خوف چاہیئے تھا کہ جو شخص صدی کے سر پر پیدا ہوا اور رمضان کے کسوف خسوف نے اس کی گواہی دی اور اسلام کے موجودہ ضعف اور دشمنوں کے متواتر حملوں نے اس کی ضرورت ثابت کی اور انبیاء گزشتہ کے کشوف نے اس بات پر قطعی مہر لگا دی کہ وہ چودھویں صدی کے سر پر پیدا ہوگا اور نیز یہ کہ پنجاب میں ہوگا ایسے شخص کی تکذیب میں جلدی نہ کرتے ۔ آخر ایک دن مرنا ہے اور

یہ رسالہ اس وقت لکھا گیا تھا

اربعین نمبر 2 صفحہ 23 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 194 پر درج ہے

صفحہ 756

حوالہ نمبر 253

اربعین نمبر ۲ ۳۷۱

کی درگاہ میں جواب دینا نہیں پڑے گا؟ تو کیسے ہی دل سخت ہو گئے ہیں آخر اس قدر تو خوف چاہئے تھا کہ جو شخص صدی کے سر پر پیدا ہوا اور رمضان کے کسوف خسوف نے اس کی گواہی دی اور اسلام کے موجودہ ضعف اور دشمنوں کے متواتر حملوں نے اُس کی ضرورت ثابت کی اور اولیاء گذشتہ کے کشوف نے اس بات پر قطعی مہر لگا دی کہ وہ چودھویں صدی کے سر پر پیدا ہو گا اور نیز یہ کہ پنجاب میں ہو گا ایسے شخص کی تکذیب میں جلدی نہ کرتے۔ آخر ایک دن مرنا ہے اور سب کچھ اسی جگہ چھوڑ جانا ہے۔ دیکھو اگر میں خدا کی طرف سے ہوا اور تم نے میری تکذیب کی اور مجھے کافر قرار دیا اور دجال نام رکھا تو جناب الٰہی کو کیا جواب دو گے؟ کیا انہی کی مانند جواب دیں جو یہودیوں اور عیسائیوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے انکار کرنے کے وقت اپنی کتابوں میں لکھے ہیں کہ توریت کے تمام نشان قرار دادہ پورے نہیں ہوئے اور کچھ رہ گئے ہیں۔ سو مدت ہوئی کہ خدا تعالیٰ اُن کو جواب دے چکا کہ جو کچھ تمہارے ہاتھ میں ہے وہ سب کچھ صحیح نہیں ہے اور نہ وہ تمام معنے صحیح ہیں جو تم کر رہے ہو۔ جو شخص حکم کر کے بھیجا ۲۳۰ گیا ہے اس کی بات کو سنو۔ سو یہی جواب خدا تعالیٰ کی طرف سے اب ہے چاہو تو قبول کرو۔ آہ آپ لوگوں کو چاہئے تھا کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے قصّے سے عبرت پکڑتے ان لوگوں کی حضرت مسیح اور حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہی حجت تھی کہ ہم نہیں مانیں گے جب تک تمام علامتیں پوری نہ ہولیں اور بوجہ زمانہ دراز اور انواع تغیرات کے یہ غیر ممکن تھا اس لئے وہ کفر پر مرے۔ سو تم اُسی طرح ٹھوکر مت کھاؤ۔ جو یہودی اور نصرانی کھا چکے۔ اگر تمہارا ذخیرہ سب کا سب صحیح ہوتا تو پھر حکم مجدد کے آنے کی کیا ضرورت تھی؟ ہر ایک فرقہ کو یہی خیال ہے کہ جو کچھ میرے پاس ہے یہی صحیح ہے۔ اب یہ تمام فرقے تو سچ پر نہیں۔ اس لئے سچ وہی ہے جو حَکَم کے مُنہ سے نکلے۔ اگر ایمان ہو تو خدا کے مقرر کردہ حَکَم کے حکم سے بعض حدیثوں کا چھوڑنا یا

۲۹

اربعین نمبر 2 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 371 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 194 پر درج ہے

صفحہ 757

(حوالہ نمبر 254)

براہین احمدیہ ۶۱۳ ۱۔ باب

إِنَّ فِي ذٰلِكَ لَآيَةً لِّقَوْمٍ يَّسْمَعُوْنَ ۔ الجزو نمبر ۱۴ سورہ النحل وَهُوَ الَّذِي يُرْسِلُ الرِّيٰحَ بُشْرًۢا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهٖ حَتّٰى إِذَا أَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنٰهُ لِبَلَدٍ مَّيِّتٍ فَاَنْزَلْنَا بِهِ الْمَاءَ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ كَذٰلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتٰى لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ ۔ وَالْبَلَدُ

۵۱۴

بقیہ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۱

تمام منعم علیہ پر رکھا گیا ہے کہ وہ بباعث غلبہ محبت آلام کو برنگ انعام دیکھتے ہیں اور ہر یک رنج یا راحت جو دوست حقیقی کی طرف سے اُنکو پہنچتی ہے بوجہ مستی عشق اُس سے لذت اُٹھاتے ہیں پس یہ ترقّی فِی الْقُرْبِ کی دُوسری قسم ہے جس میں اَپنے محبوب کے جمیع افعال سے لذّت آتی ہے اور جو کچھ اُسکی طرف سے پہنچے انعام ہی انعام نظر آتا ہے اور اصل موجب اِس حالت کا ایک محبّتِ کاملہ اور تعلّقِ صادق ہوتا ہے جو اَپنے محبوب سے ہو جاتا ہے اور یہ ایک موہبت عظمٰی ہے ذوق جس میں

بقیہ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۲

عنقریب وہ تیرا راہ کھول دیگا۔ اے میرے خُدا آسمان سے رحم اور مغفرت کر۔ میں مغلوب ہوں میری طرف سے مقابلہ کر۔ اے میرے خُدائے میرے خُدائے مجھے کیوں چھوڑ دیا آخری فقرہ اِس الہام کا یعنے اِیلِی آوَس بِمَا عُثْ سُرْيَتْ پر وہ مشتبہ رہا ہے اور نہ اسکے کچھ معنے کھلے۔ وَاللہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔

۵۱۵

اے خالقِ ارض و سما بیں درِ رحمت کشا
دانی تو ایں دردِ مرا کز دیگراں پنہاں کنم
از بس لطیفی دلبرا در ہر رگِ ما جا ہُوا
تا چوں بجویم ترا دل خوشتر از بستان کنم
در عاشقی اے پاک خو جاں برکفم در ہجر تو
زانساں ہمی گریم کز و یک عالمے گریاں کنم
خویشم ہمی تقویم کن حیوان ہمی طعنہ زنند
غواصِ بحرِ عشقِ تو ام کے ترکِ آں جاناں کنم

یہ سب اشارات متضمنِ الہامات ہیں جن کی تشریح اِس جگہ ضروری نہیں۔ يَا عَبْدَ الْقَادِرِ إِنِّيْ مَعَكَ اَسْمَعُ وَاَرىٰ غَرَسْتُ لَكَ بِيَدِيْ رَحْمَتِيْ وَقُدْرَتِيْ وَنَجَّيْنَاكَ مِنَ الْغَمِّ وَفَتَنَّاكَ فُتُوْنًا ۔ لِتَآتِيَكَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ اَلَآ اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْغَالِبُوْنَ ۔ وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَاَنْتَ فِيْهِمْ وَمَا كَانَ اللّٰهُ

لے النحل : ۶۶ - ۶۷

براہین احمدیہ صفحہ 591، 592 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 613، 614 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 194 پر درج ہے

صفحہ 758

(حوالہ نمبر 254)

براہین احمدیہ ۶۱۴ ۱- باب

الطَّيِّبُ يَخْرُجُ نَبَاتُهٗ بِاِذْنِ رَبِّهٖ وَالَّذِي خَبُثَ لَا يَخْرُجُ اِلَّا نَكِدًا ؕ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّشْكُرُوْنَ۔ الجزء نمبر ۸ سورہ الاعراف ۔ اَللّٰهُ الَّذِي يُرْسِلُ الرِّيَاحَ فَتُثِيْرُ سَحَابًا فَيَبْسُطُهٗ فِي السَّمَاءِ كَيْفَ يَشَاءُ وَ يَجْعَلُهٗ كِسَفًا فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ ۚ فَاِذَا اَصَابَ بِهٖ

۵۱۵ بقیہ حاشیہ حاشیہ نمبر ۳ حیلہ اور تدبیر کو کچھ دخل نہیں بلکہ خدا ہی کی طرف سے آتی ہے۔ اور جب آتی ہے۔ تو پھر سالک ایک دوسرا رنگ پکڑ لیتا ہے اور تمام بوجھ اُس کے سر سے اُتارے جاتے ہیں اور ہر یک ایلام انعام ہی معلوم ہوتا ہے اور شکوہ اور شکایت کا نشان نہیں ہوتا۔ پس یہ حالت ایسی ہوتی ہے کہ گویا انسان بعد موت کے زندہ کیا گیا ہے کیونکہ اُن تلخیوں سے کلّی تسلّی آمد ہے جو پہلے درجہ میں تھیں۔ جن سے ہر یک وقت موت کا

لِيُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ۔ اے عبدالقادر میں تیرے ساتھ ہوں سُنتا ہوں اور دیکھتا ہوں۔ تیرے لئے میں نے رحمت اور قدرت کو اپنے ہاتھ سے لگایا اور تجھ کو غم سے نجات دی اور تجھ کو خالص کیا۔ اور تم کو میری طرف سے مدد آئے گی۔ خبردار۔ ہوشیار خدا کا ہی غالب ہوتا ہے۔ اور خدا ایسا نہیں جو اُنکو عذاب پہنچاوے جبتک تو اُنکے درمیان ہے یا جب وہ استغفار کریں۔ اَنَا بَدْءُكَ الْاَزَمُ اَنَا مُحْيِيْكَ نَفَخْتُ فِيكَ مِنْ لَّدُنِّيْ رُوْحَ

۵۱۶ الصِّدْقِ وَاَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِّنِّيْ وَلِتُصْنَعَ عَلٰى عَيْنِيْ كَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْاَهٗ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰى عَلٰى سُوْقِہٖ۔ میں تیرا حامی لازم ہوں میں تیرا زندہ کرنیوالا ہوں مَیں نے تجھ میں سچائی کی رُوح پھونکی ہے اور اپنی طرف سے تجھ میں محبّت ڈالی ہے تاکہ میرے رُوبرو تیری پرورش کی جاوے۔ سوتُو اُس بیج کی طرح ہے جس نے اپنا سبزہ نکالا پھر موٹا ہوتا گیا یہانتک کہ اپنے ساقوں پر قائم ہو گیا۔ اِن آیات میں خدائے تعالٰی کی ان تائیدات اور احسانات کی طرف اشارہ ہے اور نیز اُس عروج اور اقبال اور عزّت اور عظمت کی خبر دی گئی ہے کہ جو آہستہ آہستہ اپنے کمال کو پہنچے گی۔ اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا لِّيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا

له اعراف : ۵۸ - ۵۹

براہین احمدیہ صفحہ 592۔591 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 614۔613 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 194 پر درج ہے

صفحہ 759

حوالہ نمبر 255 ۵۰۸ نزول المسیح

جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائی ہیں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں۔

براہین احمدیہ حصہ ۴ ص ۴۸۶ و ۵۸۸ یہ پیشگوئی وغیرہ

اردو الہام جو براہین میں

یہ پیشگوئی سنہ ۱۸۸۰ء میں جبکہ احمدیت کے ظہور کا زمانہ بھی نہیں آیا تھا شائع ہوئی تھی۔

يا عبد القادر انى معك اسمع وارى غرست لك بيدى (رحمتى وقدرتى ۔ والقيت عليك محبة منى ۔ ولتصنع على عينى ۔ كزارع اخرج شطاه فاستغلظ فاستویٰ علیٰ سوقه ۔ یعجب الزراع لیغیظ بہم

ترجمہ ۔ اے قادر کے بندے میں تیرے ساتھ ہوں۔ میں دیکھتا ہوں اور سنتا ہوں میں نے اپنی رحمت تیرے پر ڈالی تاکہ تُو میری آنکھوں کے روبرو پرورش کیا جائے۔ تُو ایک بیج کی طرح ہے یعنی اکیلا ہے جس کی ابھی کوئی شاخ نہیں نکلی۔ صرف ایک سبزہ نکلا مگر بعد اسکے ایسا ہو گا کہ وہ سبزہ موٹا ہو جاوے گا اور اسکی شاخیں تنہ پر قائم ہونگی اور وہ ایک بڑا درخت بن جاوے گا یہانتک کہ یہ پیشگوئی کس قدر صفائی سے پوری ہوئی کہ باوجود سخت مخالفتوں کی سخت مزاحمتوں کے یہ سلسلہ ایک عظیم بزرگی کے ساتھ قائم ہو گیا اور جیسا کہ پیشگوئی کا منشاء تھا اس تخم کی بہت سی شاخیں نکل آئیں اور پنجاب اور ہندوستان میں پھیل گئیں اور پھیلتی جاتی ہیں۔ براہین احمدیہ میں بار بار ذکر آچکا ہے کہ تو اسوقت اکیلا ہے اور تیرے ساتھ کوئی نہیں جیسا کہ ایک جگہ میری دعا کا خود خدا تعالیٰ ذکر فرماتا ہے کہ رَبِّ لَا تَذَرْنِیْ فَرْدًا وَ أَنْتَ خَیْرُ الْوَارِثِیْنَ یعنی اے خدا مجھے اکیلا مت چھوڑ اور تُو بہترین وارث ہے۔ پس اسجگہ خدا گواہی دیتا ہے کہ اس الہام کے وقت میں اکیلا تھا سو خدا نے وعدہ دیا کہ تُو اکیلا نہیں رہیگا اور ایک جہان تیری شاخوں میں داخل ہو جائیگا۔

براہین احمدیہ ان تمام پیشگوئیوں کی گواہ ہے اور کوئی اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ یہ اُس زمانہ کی پیشگوئیاں ہیں کہ جبکہ اُس اقبال اور عزت اور کامیابی کے کچھ بھی آثار نہیں تھے کہ جو اب سنہ ۱۹۰۱ء و سنہ ۱۹۰۲ء میں ظہور میں آئے۔

۱۴۳

نزول المسیح صفحہ 230 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 508 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 195 پر درج ہے

صفحہ 760

حوالہ نمبر 256

براہین احمدیہ ۶۱۹ ا- باب

بقیہ نمبر ۱ حاشیہ در حاشیہ وَ بِالْحَقِّ اَنْزَلْنَاهُ وَ بِالْحَقِّ نَزَلَ *۱؎ ۗ *۲؎ يٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ ۵۱۸ عَلٰى فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَاءَنَا مِنْۢ بَشِيْرٍ وَّ لَا نَذِيْرٍ فَقَدْ جَاءَكُمْ بَشِيْرٌ وَّ نَذِيْرٌ ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِيْرٌ۔ الجزء نمبر ۶ سورۃ مائدہ۔ ۵۱۹ وَ كُنْتُمْ عَلٰى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَكُمْ مِّنْهَا كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ ۵۲۰ میں داخل نہیں ہوتی۔ بلکہ اُس میں محفوظ ہوتی ہے۔ اور تیسری ترقی جو قربت کے میدانوں میں چلنے کے لئے انتہائی قدم ہے۔ اس

بقیہ نمبر ۲ حاشیہ در حاشیہ عبادت میں مصروف ہیں۔ ایک صفت رفق اور لطف اور احسان ہے اِس کا نام جمال ہے اور دوسری صفت قہر اور سختی ہے اس کا نام جلال ہے یہ عادت اللہ اِسی طرح پر جاری ہے کہ جو لوگ اُس کی درگاہ عالی میں بُلائے جاتے ہیں اُن کی تربیت کبھی جمالی صفت سے اور کبھی جلالی صفت سے ہوتی ہے اور جہاں حضرت احدیت کے تلطفاتِ عظیمہ مبذول ہوتے ہیں وہاں ہمیشہ صفتِ جمالی کے تجلّیات کا غلبہ رہتا ہے مگر کبھی کبھی بندگانِ خاص کی صفاتِ جلالیہ سے بھی تادیب اور تربیت منظور ہوتی ہے۔ جیسے انبیاء کرام کے ساتھ بھی خدائے تعالیٰ کا یہی معاملہ رہا ہے کہ ہمیشہ صفاتِ جمالیہ حضرت احدیت کے اُن کی تربیت میں مصروف رہے ہیں لیکن کبھی کبھی اُن کی استقامت اور اخلاق فاضلہ کے ظاہر کرنے کیلئے جلالی صفتیں بھی ظاہر ہوتی رہی ہیں اور اُن کو شریر لوگوں کے ہاتھ سے انواع اقسام کے دُکھ ملتے رہے ہیں تا اُن کے وہ اخلاق فاضلہ جو بغیر تکالیف شاقہ کے پیش آنے کے ظاہر نہیں ہو سکتے وہ سب ظاہر ہو جائیں اور دُنیا کے لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ وہ کچے نہیں ہیں بلکہ سچے وفادار ہیں۔ وَ قَالُوْا اَنّٰى لَكَ [هٰذَا اِنْ هٰذَا اِلَّا سِحْرٌ يُّؤْثَرُ۔ لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ جَهْرَةً۔ لَا يُصَدِّقُ السَّفِيْهُ اِلَّا سَيْفُ الْهَلَاكِ۔ عَدُوٌّ لِّيْ وَعَدُوٌّ لَّكَ قُلْ اَتٰى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ۔ اِذَا جَاءَ نَصْرُ اللّٰهِ اَلَسْتُ بِرَبِّكَ قَالُوْا بَلٰى۔] منہ اور کہیں گے یہ تجھے کہاں سے حاصل ہوا۔ یہ تو ایک سحر ہے جو اختیار کیا جاتا ہے۔ ہم

*۱؎ سورۃ بنی اسرائیل : ۱۰۶ *۲؎ مائدہ : ۱۹۔

براہین احمدیہ صفحہ 597، 598 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 619، 620 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 195 پر درج ہے

Back

صفحہ 761

حوالہ نمبر 256

براہین احمدیہ ۶۲۰ ا۔ باب

اٰيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ ؎١ الجزء نمبر ۴ سورہ اٰل عمران۔ وَ لَوْ لَا اَنْ تُصِيْبَهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَیَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِكَ وَ نَکُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۔ ؎٢ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ ۵۷۴ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ ذُوْ فَضْلٍ ۵۷۵ آیت میں تعلیم کی گئی ہے۔ جو فرمایا ہے۔ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ۔ یہ وہ مرتبہ ہے جس میں انسان کو خدا کی محبت اور اس کے غیر کی عداوت سرشت میں داخل ہو جاتی ہے۔ اور بطریق طبعیت اُس میں قیام پکڑتی ہے۔

بقیہ حاشیہ ۵۷۴ و ۵۷۵ مندرجہ صفحہ ہٰذا

ہرگز نہیں مانیگا جب تک خدا کو بچشم خود دیکھ نہ لے۔ حقیر بدخو بندۂ بے باک گستاخ چیز کو باور نہیں کرتا میرا اور تیرا دشمن ہے۔ کہہ خدا کا امر آیا ہے سو تم جلدی مت کرو۔ جب خدا کی مدد آئیگی تو کہا جائیگا کہ کیا میں تمہارا خدا نہیں۔ کہیں گے کہ کیوں نہیں۔ اِنِّیْ مُتَوَفِّیْكَ وَرَافِعُكَ اِلَیَّ وَ جَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْۤا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَةِ ۚ وَ لَا تَهِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ کَانَ اللّٰهُ بِكُمْ رَءُوْفًا رَّحِیْمًا ۔ اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ ۔ تَمُوْتُ وَ اَنَا رَاضٍ مِّنْكَ فَادْخُلُوْا الْجَنَّةَ اِنْشَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَ ۔ سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْهَا خٰلِدِیْنَ ۔ سَلَامٌ عَلَیْكَ جُعِلْتَ مُبَارَکًا ۔ سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ ۔ سَمِیْعُ الدُّعَآءِ اَنْتَ مُبَارَكٌ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ ۔ رَحْمَتُ اللّٰهِ عَلَیْکُمْ وَبَرَکَاتُهٗ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ ۔ اُذْکُرْ نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكَ وَ اِنِّیْ فَضَّلْتُكَ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ ۔ یٰۤاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِیْۤ اِلٰی رَبِّكِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةً فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْ وَ ادْخُلِیْ جَنَّتِیْ ۔ مَنْ رَّدَّکُمْ عَلَیْکُمْ وَ اَحْسَنَ اِلٰی اَحِبَّآئِكُمْ وَ عَلَّمَکُمْ مَّا لَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ ۔ وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا ۔ میں تجھ کو اپنی نعمت دُونگا اور اپنی طرف اُٹھاؤں گا۔ اور جو لوگ تیری متابعت اختیار کریں۔ یعنی حقیقی طور پر اللہ و رسول کے متبعین میں داخل ہو جائیں۔ اُن کو اُن کے مخالفوں پر کہ جو انکاری ہیں۔ قیامت تک غلبہ بخشوں گا۔ یعنے

؎١ اٰل عمران : ١٠۴ ؎٢ القصص : ۴۸

براہین احمدیہ صفحہ 597-598 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 619-620 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 195 پر درج ہے

صفحہ 762

حوالہ نمبر 257 نزول المسیح ۵۱۰

۱۳۲

براہین احمدیہ حصہ سوم ۱۸۸۰ء و ۱۸۸۲ء پیشگوئی نمبر ۱۱ جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائی ہیں جو دنیا پر ظاہر ہو چکی ہیں جس وقت سے کہ یہ عاجز مامور ہوا ہے

يا احمد فاضت الرحمت على شفتيك ۔ براہین احمدیہ صفحہ ۵۱۰ ۔ ترجمہ ۔ اے احمد تیرے لبوں پر رحمت جاری کی جاوے گی ۔ بلاغت اور فصاحت اور حقائق اور معارف تجھے عطا کئے جاوینگے سو ظاہر ہے کہ میری کلام نے وہ معجزہ دکھلایا کہ کوئی مقابلہ نہیں کر سکا ۔ اس الہام کے بعد میں نے پچاس سے زیادہ کتابیں اور رسائل مَیں نے عربی بلیغ فصیح میں شائع کئے مگر کوئی مقابلہ نہ کر سکا۔ خدا نے اُن سے زبان اور دل دونوں چھین لئے اور مجھے دے دئے۔

براہین احمدیہ ۱۸۸۰ء و ۱۸۸۲ء پیشگوئی نمبر ۱۲ وقالوا انی لک ھذا ان ھذا الا سحر یوثر۔ لن نومن لک حتی نری اللہ جھرۃ لا یصدق السفیہ الا صیحۃ الھلاک عدولی وعدولک ۔ قل انی امر اللہ فلا تستعجلوہ ۔ دیکھو صفحہ ۵۱۸ و ۵۱۹ براہین احمدیہ ۔ ترجمہ ۔ اور کہتے ہیں کہ یہ مقام تجھے کہاں سے ملا یہ تو ایک فریب ہے ۔ ہم تیرے پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک خدا کو نہ دیکھ لیں یہ لوگ تو بجز موت کے نشان کے کبھی نہیں مانیں گے۔ ان کو کہہ دے کہ مری یعنی طاعون چلی آتی ہے سو تم مجھ سے جلدی مت کرو۔ یہ پیشگوئی بیس برس پہلے طاعون کے کی گئی تھی۔ طاعون کے دنوں میں جب کہ پیشگوئی پوری ہوئی ۔

" پیشگوئی نمبر ۱۳ امراض الناس و برکاتہ ۔ لوگوں کی مرضیں اور خدا کی برکتیں ۔ دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۵۱۹ ۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایک طاعون کی پیشگوئی

زندہ گواہ رہیں گے جیسا کہ ہم اُوپر لکھ آئے ہیں یہ تمام پیشگوئیاں براہین احمدیہ میں درج ہیں اور وہ گواہ بھی آج زندہ ہیں جن کے رُوبرو یہ بعض پیشگوئیاں پوری ہوئیں اور طاعون پھیلنے کی خبر جو براہین احمدیہ میں تھی وہ اب مُلک میں پھیل رہی ہے اِس وقت بھی جو ۳۰ اگست ۱۹۰۲ء ہے بعض حصوں پنجاب میں

۱۴۳

نزول المسیح صفحہ 132 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 510 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 196 پر درج ہے

Back

صفحہ 763

حوالہ نمبر 258

براہین احمدیہ ۵۹۳ پہلی فصل

۴۹۸

تمهید هشتم۔ جو امر خارق عادت کسی ولی سے صادر ہوتا ہے

وہ حقیقت میں اُسی متبوع کا معجزہ ہے جس کی وہ اُمت ہے اور یہ بدیہی اور

۴۹۹

بقیہ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۲

کوتاہ ۔ مطلق کہ جس کے علمِ قدیم سے ایک ذرّہ مخفی نہیں اور جس کی طرف کوئی نقصان و نسیان عاید نہیں ہو سکتا۔ اور جو ہر یک قسم کے جہل اور آلودگی اور ناتوانی اور غم اور حزن اور درد اور رنج اور گرفتاری سے پاک ہے وہ کیوں کر اُس چیز کا عین ہو سکتا ہے کہ جو

بقیہ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۳

یہ جو بائیں طرف حاشیہ میں الہامات ہیں یہ درحقیقت براہین احمدیہ کے

بدرجہ غایت کمال پہنچ کر جو ممکن ہیں ۔ پھر بعد اسکے فرمایا ۔ اِنَّآ اَنْزَلْنَاهُ قَرِيبًا مِّنَ الْقَادِيَانِ ۔ وَبِالْحَقِّ اَنْزَلْنَاهُ وَبِالْحَقِّ نَزَلَ ۔ صَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُولُهُ وَكَانَ أَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُولًا ۔ یعنے ہم نے ان نشانوں اور عجائبات کو اور نیز اس الہام پُر از معارف وحقائق کو قادیان کے قریب اُتارا ہے اور ضرورتِ حقہ کے ساتھ اُتارا ہے اور بضرورتِ حقہ اُترا ہے۔ خدا اور اُسکے رسول نے خبر دی تھی کہ جو اپنے وقت پر پوری ہوئی اور جو کچھ خدا نے چاہا تھا وہ ہونا ہی تھا ۔ یہ آخری فقرہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس شخص کے ظہور کیلئے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حدیث متذکرہ بالا میں اشارہ فرما چکے ہیں اور خدا نے قرآنی اپنے کلامِ مقدّس میں اشارہ فرما چکا ہے چنانچہ وہ اشارہ حصہ سوم کے الہامات میں لکھا جا چکا ہے اور قرآنی اشارہ اس آیت میں ہے هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ ۔ یہ آیت جسمانی اور سیاستِ ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیشگوئی ہے۔ اور جس غلبہ کاملہ دینِ اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے

۴۹۹

ظہور میں آئے گا۔ اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دُنیا میں تشریف لائینگے تو اُن کے ہاتھ سے دینِ اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔ لیکن اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسار اپنی غربت اور انکسار اور توکل اور ایثار اور آیات اور انوار کے رُو سے مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے اور اس عاجز کی فطرت اور مسیح کی فطرت باہم نہایت ہی متشابہ واقع ہوئی ہے گویا ایک ہی جوہر کے دو ٹکڑے یا ایک ہی درخت کے دو پھل ہیں اور بغایت اتحاد ہے کہ نظر کشفی میں نہایت ہی باریک امتیاز ہے اور نیز ظاہری طور پر

١ الصف : ١٠

براہین احمدیہ صفحہ 571 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 593 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 196 پر درج ہے

Back

صفحہ 764

حوالہ نمبر 259

خطبہ الہامیہ

۲۰

تب اے دوستو! یہ منارہ اس لئے تیار کیا جاتا ہے کہ تا حدیث کے موافق مسیح موعود کے زمانہ کی یاد گار ہو ۔ اور نیز وہ عظیم پیشگوئی پوری ہو جائے جس کا ذکر قرآن شریف کی اِس آیت میں ہے کہ سبحان الذی اسرى بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الى المسجد

بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ

الاقصیٰ ہے کہ تمام چندوں سے اونچا ہو۔ کیونکہ یہ منارہ مسیح موعود کے اخلاص حق اور صدق ہمت اور اتمام حجت اور اعلاء کلمتہ کی جسمانی طور پر تصویر ہے۔ پس جیسا کہ اس کی سچائی مسیح موعود کے ہاتھ سے اعلیٰ درجہ کے مرتفع تک پہنچ گئی ہے اور مسیح کی ہمت ثریا سے اپنا گم گشتہ کو واپس لا رہی ہے اسی کے مطابق یہ مینار بھی روحانی امور کی عظمت ظاہر کر رہا ہے۔ وہ آواز جو دنیا کے ہر چہار گوشہ میں پہنچائی جائے گی وہ روحانی طور پر بڑے اونچے منار کو چاہتی ہے قریباً بیس برس ہوئے کہ میں نے اپنی کتاب براہین احمدیہ میں خدا تعالیٰ کا یہ کلام جو میری زباں پر جاری کیا گیا لکھا تھا۔ یعنی یہ کہ انا انزلناہ قریبا من القادیان وبالحق انزلناہ وبالحق نزل صدق الله ورسوله وكان امر الله مفعولا ۔ دیکھو براہین احمدیہ ص ۴۹۸ یعنی ہم نے اس مسیح موعود کو قادیان میں اتارا ہے۔ اور وہ ضرورت حقہ کے ساتھ اُتارا گیا۔ اور ضرورت حقہ کے ساتھ اترا ۔ خدا نے قرآن میں اور رسول نے حدیث میں جو کچھ فرمایا تھا وہ اُس کے آنے سے پورا ہوا ۔ اس الہام کے وقت جیسا کہ میں کئی دفعہ لکھ چکا ہوں مجھے کشفی طور پر یہ بھی معلوم ہوا تھا کہ یہ الہام قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے اور اس وقت عالم کشف میں میرے دل میں اس بات کا یقین تھا کہ قرآن شریف میں تین شہروں کا ذکر ہے۔ یعنی مکہ اور مدینہ اور قادیان کا۔ اس بات کو قریباً بیس برس ہو گئے جبکہ میں نے براہین احمدیہ میں لکھا تھا ۔ اب اس رسالہ کی تحریر کے وقت میرے پر یہ منکشف ہوا کہ جو کچھ براہین احمدیہ میں قادیان کے بارے میں کشفی طور پر میں نے لکھا یعنی یہ کہ اس کا ذکر قرآن شریف میں موجود ہے درحقیقت یہ صحیح بات ہے۔ کیونکہ یہ یقینی امر ہے کہ

خطبہ الہامیہ صفحہ 20 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 20 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 196 پر درج ہے

صفحہ 765

۱۴۹ ۵۲۷ حوالہ نمبر 260 نزول المسیح

نمبر شمار پیشینگوئی جس کے لئے پیشگوئی کی گئی ہو یعنی کوئی خارق عادت پیشگوئیاں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں سنہ پیشگوئی ہجری ۱۳۱۹

بقیہ پیشینگوئی نمبر ۲۸ اور قریباً تمام مولوی مخالف ہو گئے اور کوئی ذلیل سے ذلیل منصوبہ نہ چھوڑا جو میرے تباہ کرنے کیلئے نہ کیا گیا مگر نتیجہ برعکس ہوا اور یہ سلسلہ فوق العادت ترقی کر گیا۔

پیشینگوئی نمبر ۲۹ وَلَنْ تَرْضٰی عَنْكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارٰی حَتّٰی تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ وَحَرَّفُوْا لَهُ بَرَاهِیْنَ وَبَیِّنَاتٍ یَّعْلَمُہَا اللّٰہُ قُلْ هُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ اَللّٰہُ الصَّمَدُ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَّهُ کُفُوًا اَحَدٌ ۔ وَیَمْکُرُوْنَ وَیَمْکُرُ اللّٰہُ وَاللّٰہُ خَیْرُ الْمَاکِرِیْنَ ۔ اَلْفِتْنَةُ هٰهُنَا فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ ۔ دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۵۲۴ ۔ ترجمہ یعنی یہودی صفت عیسائی جو اپنے زعم میں عیسائیوں کے ناصر ہیں اور یہودی صفت مسلمان جو اپنے زعم میں یہودیوں کی طرح عامل بالحدیث ہیں ہرگز راضی نہیں ہونگے جب تک تو اُنکے مذہب میں داخل نہ ہو۔ کہہ وہ خدا ایک ہے اور بے نیاز ہے نہ وہ کسی کا بیٹا ہے نہ کوئی اُس کا بیٹا اور یہ لوگ باہم ملکر کچھ مکر کریں گے اور خدا بھی مکر کریگا اور خدا بہتر مکر کرنیوالا ہے اور اُس وقت تیرے لئے ایک فتنہ برپا ہو گا سو صبر کر جیسا کہ اولو العزم نبیوں نے صبر کیا۔ پس یہ پیشگوئی اِس فتنہ کے متعلق ہے کہ جو عیسائیوں اور مسلمانوں نے اتفاقاً آتھم کے وقت کیا۔ اور پھر کلارک کے دعویٰ اقدام قتل کے وقت کیا۔ اور ۲۷ مارچ ۱۸۸۰ء ۱۸۹۵ء

زندہ گواہ رویت نمبر ۲۶ براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۲۶ میں مجھے مخاطب کر کے یہ پیشگوئی موجود ہے کہ یادرکھ کہ یہودی صفت مسلمان ملکر کوئی مکر کرینگے اور تم پر ایک فتنہ برپا کرینگے مگر خدا اصلیت ظاہر کردے گا سو اوّل آتھم کے مقدمہ میں ایسا ہی ہوا کہ ان لوگوں نے ملکر پیشگوئی کو جھوٹی قرار دینا چاہا مگر خدا نے اُسکی سچائی ظاہر کر دی۔ آتھم نے پیشگوئی کی شرط کے موافق دجال کہنے سے مجمع میں رجوع کیا اور بہت سا ہراساں اور خائف ہوا۔

۱۵۱

نزول المسیح صفحہ 149 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 527 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 197 پر درج ہے

صفحہ 766

حوالہ نمبر 261

براہین احمدیہ ۲۶۶ پہلی فصل

بقیہ حاشیہ نمبر ۱ کیلے کسی نئے دقیقہ کے پیدا کرنے کی جگہ نہیں چھوڑتا۔ حالانکہ وہ اسقدر قلیل الحجم کتاب ہے آیات مندرجہ بالا میں جس قدر خداوند قادر مطلق نے تمام دنیا کے مقابلہ پر تمام مخالفوں کے مقابلہ پر تمام دشمنوں کے مقابلہ پر تمام منکروں کے مقابلہ پر تمام دولتمندوں کے مقابلہ پر تمام زور آوروں کے مقابلہ پر تمام بادشاہوں کے مقابلہ پر تمام حکیموں کے مقابلہ پر تمام فلاسفروں کے مقابلہ پر تمام اہل تدبیر کے مقابلہ پر ایک عاجز ناتوان بے زور بے زر اور اُمی ناتوان بے علم بے تربیت کو ۲۳۷ اَنْتَ عَلٰی بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ فَبَشِّرْ وَمَا اَنْتَ بِمُصْمِتٍ رَبُّكَ بِمُصْمِتِیْ ۔ قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ اِنَّا كَفَیْنٰكَ الْمُسْتَهْزِءِیْنَ ۔ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ عَلٰی مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیٰطِیْنُ ۔ تَنَزَّلُ عَلٰی كُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍ ۔ قُلْ عِنْدِیْ شَهَادَةٌ مِّنَ اللّٰهِ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّؤْمِنُوْنَ ۔ قُلْ عِنْدِیْ شَهَادَةٌ مِّنَ اللّٰهِ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ۔ اِنَّ مَعِیْ رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ ۔ رَبِّ اَرِنِیْ كَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰی ۔ رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ مِّنَ السَّمَاءِ ۔ رَبِّ لَا تَذَرْنِیْ فَرْدًا وَّاَنْتَ خَیْرُ الْوَارِثِیْنَ ۔ رَبِّ اَصْلِحْ اُمَّةَ مُحَمَّدٍ ۔ رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَاَنْتَ خَیْرُ الْفَاتِحِیْنَ ۔ وَقُلِ اعْمَلُوْا عَلٰی مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ۔ وَلَا تَقُوْلَنَّ لِشَیْءٍ اِنِّیْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًا ۔ وَیُخَوِّفُوْنَكَ مِنْ دُوْنِهِ ۔ لِاَنَّكَ بِاَعْیُنِنَا سَمَّیْتُكَ الْمُتَوَكِّلَ ۔ یَحْمَدُكَ اللّٰهُ مِنْ عَرْشِهِ ۔ نَحْمَدُكَ وَنُصَلِّیْ ۔ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِؤُا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَاللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُوْنَ ۔ سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ ۔ اِذَا جَاءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَالْفَتْحُ وَانْتَھٰی اَمْرُ الزَّمَانِ اِلَیْنَا ۔ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ ۔ هٰذَا تَاْوِیْلُ رُؤْیَایَ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّیْ حَقًّا ۔ وَقَالُوْا اِنْ هٰذَا اِلَّا اخْتِلَاقٌ ۔ قُلِ اللّٰهُ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِیْ خَوْضِهِمْ یَلْعَبُوْنَ ۔ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهُ فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ وَ ۲۴۱ اَنَا بَرِیْءٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ ۔ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰهِ كَذِبًا ۔ وَلَنْ تَرْضٰی عَنْكَ الْیَهُوْدُ وَلَا النَّصٰرٰی وَخَرَقُوْا لَهُ بَنِیْنَ وَبَنَاتٍ بِغَیْرِ عِلْمٍ ۔ قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ ۔ اَللّٰهُ الصَّمَدُ ۔ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَكُنْ لَّهُ كُفُوًا اَحَدٌ ۔ وَمَكَرُوْا وَ

براہین احمدیہ صفحہ 256 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 266 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 197 پر درج ہے

صفحہ 767

حوالہ نمبر 262

براہین احمدیہ ۶۶۴ ا۔ باب

۵۵۶ منصب اسی کو پہنچتا ہو کیونکہ امراضِ روحانی پر اُسی کو اطلاع ہو اور ازالۂ مرض اور استرداد صحت پر وہی قادر ہو۔ پھر بعد اسکے بطور استدلال کے فرمایا کہ اللہ وہ ذات کامل الرحمت ہے کہ اُس کا قدیم سے یہی قانونِ قدرت ہے کہ اُس تنگ حالت میں وہ ضرور مینہ برساتا ہے کہ جب لوگ نا امید ہو چکتے ہیں۔ پھر زمین پر اپنی رحمت پھیلا دیتا ہو اور وُہی کارسازِ حقیقی اور ظاہر اور باطناً قابل تعریف ہو یعنے جب سختی اپنی نہایت کو پہنچ جاتی ہو اور کوئی صورت مخلصی کی نظر نہیں آتی تو اس صورت میں اُس کا یہی قانونِ قدیم ہے کہ وہ ضرور عاجز بندوں

۵۵۷ بقیہ حاشیہ نمبر ۱۱ نہیں جو اُس سے باہر ہو۔ کوئی حکمت نہیں جو اُس کے محیطِ بیان سے رہ گئی ہو۔ کوئی نور نہیں جو اُس کی متابعت سے نہ ملتا ہو۔ اور یہ باتیں بلا ثبوت نہیں۔ کوئی ایسا امر نہیں جو صرف زبان سے کہا جاتا ہے بلکہ یہ وہ محقق اور بدیہی الثبوت صداقت ہے کہ جو تیرہ سو برس سے برابر اپنی روشنی دکھلاتی چلی آئی ہے اور ہم نے بھی اِس صداقت کو اپنی اِس کتاب میں نہایت تفصیل سے لکھا ہے اور حقائق اور معارفِ قرآنی کو اِس قدر بیان کیا ہے کہ جو ایک طالبِ صادق کی تسلی اور تشفی کے لئے بحرِ عظیم کی طرح

۵۵۸ بقیہ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۱۱ تیری بخششوں نے ہم کو گستاخ کر دیا۔ یہ سب اسرار ہیں کہ جو اپنے اپنے اوقات پر چسپاں ہیں جن کا علم حضرت عالم الغیب کو ہی پھر بعد اسکے فرمایا ھو شعنا نعسا۔ یہ دونوں فقرے شاید عبرانی ہیں اور ان کے معنے ابھی تک اِس عاجز پر نہیں کھلے۔ پھر بعد اِسکے دو فقرے انگریزی ہیں جن کے الفاظ کی صحت بباعث سرعتِ الہام ابھی تک معلوم نہیں اور وہ یہ ہیں آئی لوُ یوُ۔ آئی شیل گو وِد یو لارج پارٹی آف اسلام۔ چونکہ اِس وقت یعنے آج کے دن اِس جگہ کوئی انگریزی خواں نہیں، ورنہ اسکے پورے پُورے معنے لکھتے اسلئے بغیر معنوں کے لِکھا گیا ہے۔ پھر بعد اسکے یہ الہام ہو ۔ يَا عِيْسٰى اِنِّي مُتَوَفِّيْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَيَّ (وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا) وَجَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ وَ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ۔ اے عیسیٰ میں تجھے

عہ یہ فقرہ سہوِ کاتب سے براہین میں رہ گیا ہے۔ (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۷۴ حاشیہ)

براہین احمدیہ صفحہ 557، 558 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 ص 664، 665 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 197 پر درج ہے

صفحہ 768

حوالہ نمبر 262

براہین احمدیہ ۶۶۵ ۱- باب

کی خبر لیتا ہو اور اُنکو ہلاکت سے بچاتا ہو اور جیسے وہ جسمانی سختی کے وقت رحم فرماتا ہو اُسی طرح جب کہ روحانی سختی یعنی ضلالت اور گمراہی اپنی حد کو پہنچ جاتی ہو اور لوگ راہِ راست پر قائم نہیں رہتے تو اُس حالت میں بھی وہ ضرور اپنی طرف سے کسی کو مشرف بوحی کر کے اور اپنے نورِ خاص کی روشنی عطا فرما کر ضلالت کی تاریکی کو اسکے ذریعہ سے اُٹھاتا ہو اور چونکہ جسمانی رحمتیں عام لوگوں کی نگاہ میں ایک واضح امر ہو اسلئے اللہ تعالیٰ نے آیت ممدوحہ میں اوّل ضرورتِ فرقان مجید

۵۵۵

حاشیہ در حاشیہ نمبر ۳ جو پیش آرہے ہیں اب یہ کیونکر ہو سکے کہ کوئی شخص صرف مؤلف کی واہیات باتوں سے اِس نُورِ بُزرگ کی کسرِ شان کرے۔ ہاں اگر کسی کے دل کو یہ وہم پکڑتا ہے کہ یہ تمام دقائق و معارف و لطائف و غوامض کہ جو قرآن شریف میں ثابت کر کے دکھلائے گئے ہیں کسی دُوسری

۵۵۸

بقیہ حاشیہ بقیہ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۲ کو باہر نکالونگا یا وفات دونگا اور اپنی طرف اُٹھائونگا یعنی رفع درجات کرونگا یا دُنیا سے اپنی طرف اُٹھائوں گا اور تیرے تابعین کو اُن پر جو منکر ہیں قیامت تک غلبہ بخشوں گا یعنی تیرے ہم عقیدہ اور ہم مشربوں کو حُجت اور بُرہان اور برکات کے رُو سے دُوسرے لوگوں پر قیامت تک غالب رکھونگا۔ پہلوں میں سے بھی ایک گروہ ہے اور پچھلوں میں سے بھی ایک گروہ ہے، اس جگہ صیغہ کے نام سے بھی یہی عاجز مراد ہے اور پھر بعد اسکے اُردو میں الہام فرمایا، میں اپنی چمکار دکھلاؤنگا۔ اپنی قدرت نمائی سے تجھ کو اُٹھاؤں گا، دُنیا میں ایک نذیر آیا پر دُنیا نے اُس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کریگا اور بڑے زور آور حملوں سے اُسکی سچائی ظاہر کر دے گا۔ اَلْفِتْنَةُ هٰهُنَا فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ۔ اِس جگہ ایک فتنہ ہے سو اولو العزم نبیوں کی طرح صبر کر۔ فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَکًّا۔ جب خدا مشکلات کے پہاڑ پر تجلی کریگا تو اُنہیں پاش پاش کر دے گا۔ قُوَّةُ الرَّحْمٰنِ لِعَبْدِ اللهِ الصَّمَدِ۔ یہ خدائی قوّت ہے کہ جو اپنے بندہ کے لئے وہ غنی مطلق ظاہر کرے گا مَقَامٌ لَا تُدْرَكُ فِي الْعَبْدِيَّةِ بِسَعْيِ الْاَعْمَالِ۔ یعنی عبداللہ الصمد ہونا ایک مقام ہو کہ جو بطریق موہبت خاص عطا ہوتا ہے کوششوں سے حاصل نہیں ہو سکتا۔ یَكَادُ ذَرُّ عَمَلِ بِالرَّابِ۔ رَفَقًا وَاِحْسَانًا وَ اِذَا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْهَا۔ وَاَمَّا بِنِعْمَتِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ۔

۵۵۸

براہین احمدیہ صفحہ 557 ، 558 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 ص 664 ، 665 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 197 پر درج ہے

صفحہ 769

(حوالہ نمبر 263)

۴۴

سراج منیر

اس کے ہاتھ سے دین اسلام کو تمام دینوں پر غلبہ بخشے اور ابتداء میں ضرور ہے کہ اس مامور اور اسکی جماعت پر ظلم ہو لیکن آخر میں فتح ہوگی اور یہ دین اس مامور کے ذریعہ سے تمام ادیان پر غالب آجائیگا اور دُوسری تمام ملتیں بیّنہ کے ساتھ ہلاک ہو جائینگی۔ دیکھو! یہ کسقدر عظیم الشان پیشگوئی ہے اور یہ وہی پیشگوئی ہے جو ابتدا سے اکثر علماء کہتے آئے ہیں کہ مسیح موعود کے حق میں ہو اور اسکے وقت میں پوری ہوگی اور براہین احمدیہ میں تیرہ برس سے مسیح موعود کے دعوے سے پہلے درج ہے تا خُدا اُن لوگوں کو شرمندہ کرے کہ جو اس عاجز کے دعویٰ کو انسان کا افترا خیال کرتے ہیں۔ براہین خود گواہی دیتی ہے کہ اُس وقت اس عاجز کو اپنی نسبت مسیح موعود ہونے کا خیال بھی نہیں تھا اور پُرانے عقیدہ پر نظر تھی لیکن خدا کے الہام نے اسی وقت گواہی دی تھی کہ تُو مسیح موعود ہے۔ کیونکہ جو کچھ آثار نبویہ نے مسیح کے حق میں فرمایا تھا الہام الٰہی نے اس عاجز پر جما دیا تھا۔ یہاں تک کہ اُسی براہین احمدیہ میں نام بھی عیسیٰ رکھ دیا۔ چنانچہ صفحہ ۵۵۹ براہین احمدیہ میں یہ الہام موجود ہے یَا عِیْسٰی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَیَّ وَ جَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَةِ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ۔ یعنے اے عیسیٰ میں تجھے طبعی وفات دُونگا اور اپنی طرف اُٹھاؤنگا اور تیرے تابعین کو اُن لوگوں پر غلبہ بخشونگا جو مخالف ہونگے اور تیرے تابعین دو قسم کے ہوں گے پہلا گروہ اور پچھلا گروہ۔ یہ آیت حضرت مسیح پر اسوقت نازل ہوئی تھی کہ جب اُنکی جان یہودیوں کے منصوبوں سے نہایت گھبراہٹ میں تھی اور یہودی اپنی خباثت سے اُنکے مصلوب کرنے کی فکر میں تھے تا مجرمانہ موت کا داغ اُنپر لگ کر توریت کی ایک آیت کے موافق انکو ملعون ٹھہراویں کیونکہ توریت میں لکھا تھا کہ جو لکڑی پر لٹکایا جائے وہ لعنتی ہو۔ چونکہ صلیب کو جرائم پیشہ سے قدیم طریق سزا دہی کی وجہ سے ایک مناسبت پیدا ہو گئی تھی اور ہر ایک خونی اور نہایت درجہ کا بدکار صلیب کے ذریعہ سے سزا پاتا تھا اسلئے خدا کی تقدیر نے راستبازوں پر صلیب کو حرام کر دیا تھا تا پاک کو پلید سے مشابہت پیدا نہ ہو۔ پس یہ عجیب بات ہے کہ کوئی نبی مصلوب نہیں ہُوا تا انکی سچائی عوام کی نظر

۴۱

سراج منیر صفحہ 41 مندرجہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 43 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 198 پر درج ہے

صفحہ 770

۶۰۱

حوالہ نمبر 264

اس میں ابتدائی حروف کچھ اور تھے جو یاد نہیں رہے مگر مفہوم یہی تھا“

(بدر جلد ۶ نمبر ۱۴ مورخہ ۴۔اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ ۴۔الحکم جلد ۱۱ نمبر ۱۲ مورخہ ۱۰۔اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ۲)

۲۔اپریل ۱۹۰۷ء اِنِّیْ مَعَ الرَّسُوْلِ اَقُوْمُ وَاَلُوْمُ مَنْ یَّلُوْمُ۔ وَاُعْطِیْکَ مَا یَدُوْمُ۔ ؎۱

(بدر جلد ۶ نمبر ۱۴ مورخہ ۴۔اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ ۴۔الحکم ۱۱ نمبر ۱۲ مورخہ ۱۰۔اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ ۲)

۴۔اپریل ۱۹۰۷ء "(۱) لائف آف پین ؎۲ ۔ (۲) یا اللہ رحم کر۔ (۳) اِنِّیْ مَعَ اللهِ فِیْ کُلِّ حَالٍ۔ ؎۳ (۴) اِخْتَرَطْنَا سَيْفَہٗ۔ ؎۴ (۵) خدا کے سات خوں خوار بندے ہر جگہ پر بیٹھے ہیں۔

(بدر جلد ۶ نمبر ۱۵ مورخہ ۱۱۔اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ ۲۔الحکم جلد ۱۱ نمبر ۱۲ مورخہ ۱۰۔اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ ۲)

۵۔اپریل ۱۹۰۷ء "(۱) حم۔ تِلْکَ اٰیَاتُ الْکِتٰبِ الْمُبِیْنِ۔ ؎۵ (۲) راز کھل گیا۔ تفسیر : وہ جو طسم ہے۔ اس میں خدا کے نوشتہ کے کئی نشان ہیں جو ظاہر ہونے والے ہیں طسم مقطعات میں کسی کا نام ہے۔ یہی تفسیر ہے۔ (۳) اَلَّذِیْنَ اشْتَرَوْا مِثْکُمْ فِی التَّبَایُعِ۔ ؎۶ یہ قومِ مخالفت کی طرف اشارہ ہے۔ ساتھ کا فقرہ بھول گیا۔ واللہ اعلم“

(بدر جلد ۶ نمبر ۱۵ مورخہ ۱۱۔اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ ۲۔الحکم جلد ۱۱ نمبر ۱۲ مورخہ ۱۰۔اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ ۲)

۵۔اپریل ۱۹۰۷ء "(۱) مُتْ اَیُّهَا الْخَوَّانُ۔ ؎۷ ؎۸ (۲) تَمَّتْ کَلِمَةُ اللهِ۔ (۳) اِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا۔ (۴) اَلَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اللهَ قِیَامًا وَّقُعُوْدًا۔ (۵) رَحِمَهُ اللهُ

؎۱ میں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا اور جو اُسے ملامت کرتا ہے اسے ملامت کروں گا اور تجھے وہ چیز دوں گا جو ہمیشہ رہے۔

؎۲ (۱) Life of pain (ترجمہ) تلخ زندگی۔ ؎۳ (۲) میں ہر حال میں اللہ کے ساتھ ہوں۔

؎۴ (۳) ہم نے اس کی تلوار کو کھینچا ہے۔ ؎۵ (ترجمہ از مرتب) حم۔ یہ کھول کر بیان کرنے والی کتاب کے نشان ہیں۔

؎۶ (ترجمہ) وہ لوگ جنہوں نے بیعت کے معاملہ میں زیادتی کی۔

؎۷ (ترجمہ) اے بڑے خیانت کرنے والے مرجا۔ اللہ کی بات پوری ہوئی۔ اللہ تعالیٰ اُن کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کریں۔ وہ جو اللہ کو یاد کرتے ہیں کھڑے اور بیٹھے۔ اللہ نے رحم کیا۔

؎۸ (نوٹ از مرتب) منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی کی روایت ہے کہ یہ الہام ایڈیٹر اخبار شحنہ ہند میرٹھ کے متعلق تھا۔ اُسے

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 601 طبع چہارم از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 198 پر درج ہے

صفحہ 771

حوالہ نمبر 265

ضرورة الامام ۴۹۶

اور میں امام مالک اور ابن حزم اور معتزلہ کے قول کو مسیح کی وفات کے بارے میں صحیح قرار دیتا ہوں اور دوسرے اہلسنت کو غلطی کا مرتکب سمجھتا ہوں ۔ سو میں بحیثیت حَکَم ہونے کے ان جھگڑا کرنیوالوں میں یہ حکم صادر کرتا ہوں کہ نزول کے اجمالی معنوں میں یہ گروہ اہلسنت کا سچا ہے کیونکہ مسیح کا بروزی طور پر نزول ہونا ضروری تھا۔ ہاں نزول کی کیفیت بیان کرنے میں ان لوگوں نے غلطی کھائی ہے۔ نزول صفت بروزی تھا نہ کہ حقیقی اور مسیح کی وفات کے مسئلہ میں معتزلہ اور امام مالک اور ابن حزم وغیرہ ہمکلام اُن کے سچے ہیں کیونکہ بموجب نَصّ صریح آیت کریمہ یعنی آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى کے مسیح کا عیسائیوں کے بگڑنے سے پہلے وفات پانا ضروری تھا۔ یہ میری طرف سے بطور حَکَم کے فیصلہ ہے اب جو شخص میرے فیصلہ کو قبول نہیں کرتا وہ اُس کو قبول نہیں کرتا جس نے مجھے حَکَم مقرر فرمایا ہے۔ اگر یہ سوال پیش ہو کہ تمہارے حَکَم ہونے کا ثبوت کیا ہے؟ اِس کا یہ جواب ہے کہ جس زمانہ کیلئے حَکَم کا آنا چاہیئے تھا وہ زمانہ موجود ہے۔ اور جس قوم کی صلیبی غلطیوں کی حَکَم نے اصلاح کرنی تھی وہ قوم موجود ہے۔ اور جن نشانوں نے اِس حَکَم پر گواہی دینی تھی وہ نشان ظہور میں آچکے ہیں۔ اور اب بھی نشانوں کا سلسلہ شروع ہے۔ آسمان نشان ظاہر کررہا ہے۔ زمین نشان ظاہر کررہی ہے اور مبارک وہ جن کی آنکھیں اب بند نہ رہیں۔

مَیں یہ نہیں کہتا کہ پہلے نشانوں پر ہی ایمان لاؤ۔ بلکہ میں کہتا ہوں کہ اگر میں حَکَم نہیں ہوں تو میرے نشانوں کا مقابلہ کرو۔ میرے مقابل پر میں اختلاف عقائد کے وقت آیا ہوں اور سب بحثیں نکمی ہیں۔ صرف حَکَم کی بحث میں ہر ایک کا حق ہے جس کو میں پورا کرچکا ہوں۔ خدا نے مجھے چار نشان دیئے ہیں۔

۲۶ کوئی نہیں کہ جو اِس کا مقابلہ کرسکے۔

ضرورة الامام صفحہ 26 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 496، 497 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 198 پر درج ہے

صفحہ 772

حوالہ نمبر 265

ضرورۃ الامام ۴۹۷

جو اس کا مقابلہ کر سکے۔

کہہ سکتا ہوں کہ میری دُعائیں تیس ہزار کے قریب قبول ہو چکی ہیں اور انکا میرے پاس ثبوت ہے۔

گواہیاں میرے پاس ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیاں میرے حق میں چمکتے ہوئے نشانوں کی طرح پوری ہوئیں ؎

آسماں بارد نشان الوقت مے گوید زمیں + ایں دو شاہد از پئے تصدیق من استادہ اند

مُدت ہوئی کسوف خسوف رمضان میں ہو گیا۔ حج بھی بند ہوا۔ اور بموجب حدیث کے طاعون بھی ملک میں پھیلی اور بہت سے نشان مجھ پر ظاہر ہوئے جسکے صدہا ہندو اور مسلمان گواہ ہیں جن کا میں نے ذکر نہیں کیا۔ ان تمام وجوہ سے میں امام الزمان ہوں اور خدا میری تائید میں ہو۔ اور وہ میرے لئے ایک تیز تلوار کی طرح کھڑا ہو۔ اور مجھے خبر دی گئی ہے کہ جو شرارت سے میرے مقابل پر کھڑا ہو گا وہ ذلیل اور شرمندہ کیا جائیگا۔ دیکھو میں نے وہ حکم پہنچا دیا جو میرے ذمہ تھا۔ اور یہ باتیں میں اپنی کتابوں میں کئی مرتبہ لکھ چکا ہوں مگر جس واقعہ نے مجھے ان اُمور کے مکرر لکھنے کی تحریک کی وہ میرے ایک دوست کی اجتہادی غلطی ہے جس پر اطلاع پانے سے مَیں نے ایک نہایت دردناک دل کیساتھ اس رسالہ کو لکھا ہے۔ تفصیل اس واقعہ کی یہ ہے کہ ان دنوں میں یعنی ماہ ستمبر ۱۸۹۸ء میں جو مطابق جمادی الاول ۱۳۱۶ھ ہے۔ ایک میرے دوست جن کو مَیں ایک بیحد شریف انسان اور نیک بخت اور متقی اور پرہیز گار جانتا ہوں اور انکی نسبت ابتدا سے میرا بہت نیک گمان ہے وَاللّٰهُ حَسِیبُہ۔ مگر بعض خیالات میں غلطی میں پڑا ہوا سمجھتا ہوں۔ اور اس غلطی کے ضرر سے انکی نسبت اندیشہ بھی رکھتا ہوں وہ تکالیف سفر اُٹھا کر اور ایک اور میرے عزیز دوست کو ہمراہ لیکر قادیان میں میرے پاس پہنچے اور بہت سے الہامات اپنے مجھ کو سُنائے پس اس سے مجھ کو بہت خوشی ہوئی کہ خدا تعالیٰ نے انکو الہامات کا ۲۷ شرف بخشا ہو۔ مگر انہوں نے سلسلہ الہامات میں ایک یہ خواب بھی اپنی مجھے سنائی کہ مَیں نے

ضرورۃ الامام صفحہ 26 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 497,496 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 198 پر درج ہے

صفحہ 773

حوالہ نمبر 266

۲۹۱

ہے تو بس یہی کہ انکی فطرت میں یہودیوں کی صفات کا خمیر بھی موجود ہے ورنہ یہ کسی نیک بخت آدمی کا کام نہیں ہے کہ قرآن کریم کی ظاہر ترکیب کو توڑ مروڑ کر اور آیات کے غیر منفک تعلقات کو ایک دوسری سے الگ کر کے اور بعض فقرے اپنی طرف سے زائد کر کے کوئی امر ثابت کرنا چاہے اگر ایسی بات کا نام ثبوت ہے تو کونسا امر ہے جو ثابت نہیں ہو سکتا۔ بلکہ ہر ایک ملحد اور بے ایمان اپنے مقاصد اسی طرح ثابت کر سکتا ہے۔ اس بات کو کون نہیں جانتا کہ ایک کتاب کے معنے اُسی صورت میں اس کتاب کے معنے کہلاتے ہیں کہ جب اسکی ترتیب اور تعلقات فقرات اور سیاق سباق محفوظ رکھ کر کئے جائیں۔ لیکن اگر اس کتاب کی ترکیب کو ہی زیر و زبر کیا جائے اور عبارت کے اعضاء کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا جائے اور نہایت دلیری کر کے بعض فقرات اپنی طرف سے ملا دیئے جائیں تو پھر ایسی خود ساختہ عبارت سے اگر کوئی مُدعا ثابت کرنا چاہیں تو کیا یہ وہی یہودیانہ تحریف نہیں ہے جس کی وجہ سے قرآن کریم میں ایسے لوگ سُور اور بندر کہلائے جنہوں نے اسی طرح توریت میں ملحدانہ کارروائیاں کی تھیں۔ اگر ایسے ہی خائنانہ تصرفات اور تحریفات سے حضرت مسیح کی زندگی ثابت ہو سکتی ہے تو پھر ہمیں تو اقرار کرنا چاہئیے کہ حضرت مسیح کی زندگی ثابت ہو گئی۔ مگر اس بات کا کیا علاج کہ خدا تعالیٰ نے ایسے محرفوں کا نام خنزیر اور بوزنہ رکھا ہے اور اُن پر لعنت بھیجی ہے اور اُن کی صحبت سے پرہیز اور اجتناب کرنے کا حکم ہے۔ یہ بات یاد رکھنی چاہئیے کہ ہم الٰہی کلام کی کسی آیت میں تغییر اور تبدیل اور تقدیم اور تاخیر اور فقرات تراشی کے مجاز نہیں ہیں مگر صرف اُس صورت میں کہ جب خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا ہو اور یہ ثابت ہو جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ بذات خود ایسی تغییر اور تبدیل کی ہو اور جبتک ایسا ثابت نہ ہو تو ہم قرآن کی ترصیع اور ترتیب کو زیر و زبر نہیں کر سکتے اور نہ اُس میں اپنی طرف سے بعض فقرات ملا سکتے ہیں۔ اور اگر ایسا کریں تو عند اللہ مجرم اور قابل مواخذہ ہیں۔ اب ناظرین خود مولوی صاحب موصوف کی کتاب کو دیکھ لیں کہ کیا وہ ایسی ہی کارروائیوں سے پُر ہے یا کہیں انہوں نے ایسا بھی کیا ہے کہ قرآن کریم کی کوئی آیت ایسے طور سے پیش کی ہے کہ اپنی طرف سے نہیں بلکہ ثابت کر کے دکھلا دیا ہے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے اس

١٩

اتمام الحجہ صفحہ 19 مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 291 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 189 پر درج ہے

صفحہ 774

(حوالہ نمبر 267)

ازالہ اوہام ۱۷۰ حصہ اول

خاتم النبیین و خیر المرسلین ہیں جن کے ہاتھ سے اکمال دین ہو چکا اور وہ نعمت بتمامہ تمام پہنچ چکی جس کے ذریعہ سے انسان راہ راست کو اختیار کر کے خدائے تعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے اور ہم پختہ یقین کے ساتھ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن شریف خاتم الکتب الٰہی ہے اور ایک شوشہ یا نقطہ اس کی شرائع اور حدود اور احکام اور اوامر سے زیادہ نہیں ہو سکتا اور نہ کم ہو سکتا ہے اور اب کوئی ایسی وحی یا ایسا الہام منجانب اللہ نہیں ہو سکتا جو احکام قرآنی کی ترمیم یا تنسیخ یا کسی ایک حکم کے تبدیل یا تغییر کر سکتا ہو اگر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ ہمارے نزدیک جماعت مومنین سے خارج اور ملحد اور کافر ہے اور ہمارا اس بات پر بھی ایمان ہے کہ ادنیٰ درجہ صراط مستقیم کا بھی بغیر اتباع ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہرگز انسان کو حاصل نہیں ہو سکتا چہ جائیکہ راہ راست کے اعلیٰ مدارج بجز اقتداء اس امام الرسل کے حاصل ہو سکیں کوئی مرتبہ شرف و کمال کا اور کوئی مقام عزت اور قرب کا بجز سچی اور کامل متابعت اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم ہرگز حاصل کر ہی نہیں سکتے ہاں جو کچھ ملتا ہے ظلی اور طفیلی طور پر ملتا ہے اور ہم اس بات پر بھی ایمان رکھتے ہیں کہ جو راستباز اور کامل لوگ شرف صحبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرف ہو کر تکمیل منازل سلوک کر چکے ہیں اُن کے کمالات کی نسبت بھی ہمارے کمالات اگر ہمیں حاصل ہوں بطور ظل کے واقع ہیں اور اُن میں بعض ایسے جزئی فضائل ہیں جو اب ہمیں کسی طرح سے حاصل نہیں ہو سکتے۔ غرض ہمارا اُن تمام باتوں پر ایمان ہے جو قرآن شریف میں درج ہیں اور جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خدائے تعالیٰ کی طرف سے لائے اور تمام محدثات اور بدعات کو ہم ایک فاحش ضلالت اور جہنم تک پہنچانے والی راہ یقین رکھتے ہیں مگر افسوس کہ ہماری قوم میں ایسے لوگ بہت ہیں جو بعض حقائق اور معارف قرآنیہ اور دقائق آثار نبویہ کو جو اپنے وقت پر بذریعہ کشف و الہام زیادہ تر صفائی سے کھلتے ہیں محدثات اور بدعات میں ہی داخل کر لیتے ہیں حالانکہ معارف مخفیہ قرآن و حدیث ہمیشہ اہل کشف پر کھلتے رہے ہیں

ازالہ اوہام صفحہ 70 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 170 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 199 پر درج ہے

صفحہ 775

(حوالہ نمبر 268)

۲۴۱

ومن المعترضين المذكورين شيخ ضال بطالوى - وجار غوى - يقال له ویکے از اعتراض کنندگان شیخ گمراہ ساکن بٹالہ است کہ ہمسایہ گمراہ است۔ او را محمد حسين - وقد سبق الكل فى الكذب والمين - وانه أبى محمد حسین مے گویند ۔ واز ہمہ در دروغ و ناراستی سبقت بردہ است ۔ واو انکار کرد واستكبر- واشاع الكبر واظهر حتى قيل انه امام المستكبرين - وبئس و تکبر نمود ۔ وتکبر را شائع کرد و ظاہر ساخت تا آنکہ گفتہ شد کہ او امام متکبرین است ۔ و بئس المعتدين - وبئس الغاوين- هو الذى كفرنى قبل أن يكفر الأخرون - واعترض تجاوز کنندگان ۔ و بدترین گمراہان است ۔ او ہماں شخص است کہ پیش از ہمہ مرا کافر گفت ۔ وبر کتابہائے على كتبى واظهر جهله المكنون - فقال ان تلك الكتب مشحونة من الاغلاط من اعتراض کرد ۔ و جہل خود ظاہر نمود ۔ پس گفت کہ ایں کتابہا از غلطی ہا پُر ہستند و درمحل وساقطة فى وحل الانحطاط - وليست كماء معين - وان هذا الرجل من انحطاط فرو افتادہ اند۔ و ہمچو آب صافی نیست ۔ وایں شخص از جاہلاں است الجاهلين - وكلما يوجد فى كتبه من لحن او قافيه - فليس قريحته حجر وہرچہ از کلمات نحوی و قافیہ ہا در کلام او یافتہ مے شود ۔ پس آں طبعزاد او اثافيها بل تلك كلم خرجت من اقلام الأخرين - و سنگ طبعیت او نیست بلکہ ایں کلمات از قلمہائے دیگراں برآمدہ اند ۔ فقلت يا شيخ النوكى - وعدو العقل والنهى ان كتبى مبرءة ممّا پس گفتم کہ اے شیخ احمقاں ودشمن عقل و دانش ۔ بہ تحقیق کتاب ہائے من از آنچہ گماں کردہ زعمت - ومُنزَّهة عمّا ظننت - الا سهو الكاتبين - او زيغ القلم بتغافل منى لا بری ہستند ۔ واز آنچہ زعم تست منزہ ہستند ۔ مگر سہو کاتب یا کجی قلم از تغافل من نہ عن جہل

من سهو كاتب والصواب منزهة عس

انجام آتھم صفحہ 241، 242 روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 241، 242 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 199 پر درج ہے

صفحہ 776

(حوالہ نمبر 268)

۲۴۲

لجهل الجاهلين - فان قدرت ان تثبت فيها عثار المحن وتربحنی من كل لفظ غلط پس اگر تو میتوانی کہ دریں کتابہا لغزش ثابت کنی پس از من بر مقابلہ ہر لفظ غلط دینارے بگیر

دينارًا ۔ واجمع حريقا ونضارًا - وكن من المتمولين ۔ وهذا صلة يلائم هواك - و و سیم و زر را جمع کن ۔ و از مالداران بشو ۔ و ایں آں انعام است کہ مناسب حال خواہش

تقر به عيناك - وتستريح به رجلاك - فتنجو من السفر الدائم - ولا تتيه كالشحاذ تست ۔ وبدو چشم تو خنک خواہد شد۔ و ہر دو پائے تو از اں آرام خواہند گرفت ۔ پس از سفر دائم نجات خواہی یافت

الهائم - وتقعد كالمتنعمين - وتغنى به عن جعائل اخرى ومكائد شتى واشاعة و چوں سرگرداں آوارہ نخواہی گردید۔ ومثل منعماں خواہی نشست۔ و بدیں مال از مزدوری ہا دگر و فریب ہا گوناگوں

عدو السنة - ووعظ الدجل والفرية - وتعيش كالمستريحين - و اشاعۂ عقائدے کہ دراں عداوة السنۃ است واز دجل و فریب بے نیاز خواہی شد و بنحو آرام یاباں زندگی خواہی گذرانید۔

بيد انى اريد ان ارى قبله ريا فصاحتك واشاهد ريح بلاغتك - لاعلم مگر ایں است کہ مى خواہم کہ قبل ازیں امر خوشبوئے فصاحت ترا بینم وبوئے بلاغت تو مشاہدہ کنم ۔

انك من علماء هذه الصناعة - ومن اهل تلك الصولة - ولست تا بہ بینم کہ تو از علمائے ایں صناعت ہستى ۔ و از آناں ہستى کہ اہل ایں حملہ ہستند ۔ و از

من الجاهلين المحجوبين العمين - جاہلان و محجوبان و نابینایان نیستی ۔

فاتفق لسوء حظه المنحوس - ونكد طالعه المتعوس - انه ما قبل پس بباعث کم نصیبی و بد بختی طالع منحوس او ایں اتفاق افتاد کہ او ایں انعام را قبول نکرد

هذه الصلة - وما سَنَّى نفسه ليقبل هذه الشريطة - وخشي الذلة و خویشتن را بر بلندی آمادگی نیاورد تا شرط ما را قبول کند ۔ واز ذلت و رسوائی

انجام آتھم صفحہ 241، 242 روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 241، 242 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 199 پر درج ہے

صفحہ 777

(حوالہ نمبر 269)

دافع الوسواس ۲۸۸ آئینہ کمالات اسلام

شائع کر دیا اور شائع بھی ایسا کیا کہ شاید ایک یا دو ہفتہ تک دس ہزار مرد و عورت تک ہماری درخواست نکاح اور ہمارے مضمون الہام سے بخوبی اطلاع یاب ہو گئے ہونگے اور پھر زبانی اشاعت پر اکتفاء نہ کر کے اخباروں میں ہمارا خط چھپوایا اور بازاروں میں ان کے دکھلانے سے وہ خط جابجا پڑھا گیا اور عورتوں اور بچوں تک اس خط کے مضمون کی منادی کی گئی ۔ اب جب مرزا نظام الدین کی کوشش سے وہ خط ہمارا نور افشاں میں بھی چھپ گیا۔ اور عیسائیوں نے اپنے مادہ کے موافق یہی افترا کرنا شروع کیا تو ہم پر فرض ہو گیا کہ اپنے قلم سے اصلیت کو ظاہر کریں۔ یہ خیال لوگوں کو واضح ہو کہ ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیشگوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہو سکتا اور نیز یہ پیشگوئی ایسی بھی نہیں کہ جو پہلے پہل اسی وقت میں ہم نے ظاہر کی ہے بلکہ مرزا امام الدین ونظام الدین اور اس جگہ کے تمام آریا اور نیز لیکھرام پشاوری اور صدہا دوسرے لوگ خوب جانتے ہیں کہ کئی سال ہوئے کہ ہم نے اسی کے متعلق مجملاً ایک پیشگوئی کی تھی یعنے یہ کہ ہماری برادری میں سے ایک شخص احمد بیگ نام فوت ہونیوالا ہے۔ اب منصف آدمی سمجھ سکتا ہے کہ وہ اس پیشگوئی کا ایک شعبہ تھی یا یوں کہو کہ یہ تفصیل اور وہ اجمال تھی اور اس میں تاریخ اور مدت ظاہر کی گئی اور اُس میں تاریخ اور مدت کا کچھ ذکر نہ تھا۔ اور اس میں شرائط کی تصریح کی گئی اور وہ ابھی اجمالی حالت میں تھی سمجھدار آدمی کیلئے یہ کافی ہو کہ پہلی پیشگوئی اُس زمانہ کی ہے کہ جبکہ ہنوز وہ لڑکی نابالغ تھی اور جبکہ یہ پیشگوئی بھی اُسی شخص کی نسبت ہے جس کی نسبت اب سے پانچ برس پہلے کی گئی تھی یعنے اُس زمانہ میں جبکہ اُس کی یہ لڑکی آٹھ یا نو برس کی تھی تو اسپر نفسانی افترا کا گمان کرنا اگر حماقت نہیں تو اور کیا ہے والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ ۔

خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور پنجاب۔ ۱۰ جولائی ۱۸۸۸ء ۔

آئینہ کمالات اسلام صفحہ 288 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 288 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 207 پر درج ہے

صفحہ 778

حوالہ نمبر 270

۴۶۱ اربعین نمبر ۴

اصلاح کے لئے اور خدمات ضروریہ کے مناسب حال ایک بندہ بھیجا اور اُس کا نام مسیح موعود رکھا ۔ یہ خدا کا فعل تھا جو عین ضرورت کے دنوں میں ظہور میں آیا۔ اور آسمان نے اس پر گواہی دی۔ اور بہت سے نشان ظہور میں آئے لیکن تب بھی اکثر مسلمانوں نے اس کو قبول نہ کیا ۔ بلکہ اس کا نام کافر اور دجال اور بے ایمان اور مکار اور خائن اور دروغگو اور عہد شکن اور مال خور اور ظالم اور لوگوں کے حقوق دبانے والا اور انگریزوں ۲۵ کی خوشامد کرنے والا رکھا۔ اور جو چاہا اس کے ساتھ سلوک کیا اور بہتوں نے یہ عذر پیش کیا کہ جو الہامات اس شخص کو ہوتے ہیں وہ سب شیطانی ہیں یا اپنے نفس کا افترا ہے۔ اور یہ بھی کہا کہ

* اس کے داماد کی نسبت اور پسروں میں سے تین مر گئے اور ایک باقی ہے جس کی نسبت شرعی پیشگوئی ہے جیسا کہ آتھم کی شرطی تھی ۔ اب بار بار شور مچانا کہ یہ پیشگوئی کیوں جلدی پوری نہیں ہوتی ۔ اور اسوجہ سے تمام پیشگوئیوں کی تکذیب کرنا کیا یہ اُن لوگوں کا کام ہے جو خدا سے ڈرتے ہیں ؟ اے متعصب لوگو ! اس قدر جھوٹ بولنا تمہیں کس نے سکھایا ؟ ایک شخص مثلاً شملہ میں مقرر کرو اور پھر شیطانی جذبات سے دُور ہو کر میری تقریر سنو۔ پھر اگر ثابت ہو کہ میری تمام پیشگوئیوں میں سے ایک بھی جھوٹی نکلی ہو تو میں اقرار کروں گا کہ میں کاذب ہوں۔ اور اگر یوں بھی خدا سے لڑنا ہے تو صبر کرو اور اپنا انجام دیکھو ۔ منہ

۱۱۹

اربعین نمبر 4 صفحہ 119 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 461 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 208 پر درج ہے

صفحہ 779

حوالہ نمبر 271

۲۸۲

تو ہر ایک سزا بھگتنے کے لئے میں تیار ہوں اور اس بات پر راضی ہوں کہ مجھے گلے میں رسّہ ڈال کر کسی سولی پر کھینچا جائے ۔ اور باوجود میرے اِس اقرار کے یہ بات بھی ظاہر ہے کہ کسی انسان کا اپنی پیشگوئی میں جھوٹا نکلنا خود تمام رُسوائیوں سے بڑھ کر رُسوائی ہے ۔ زیادہ اس سے کیا لکھوں ۔ اب آریوں کو چاہئے کہ سب ملکر دُعا کریں کہ یہ عذاب اُن کے اِس وکیل سے ٹل جائے ۔ فقط

اور صفحہ ایک کے اشعار اسی ضمیمہ میں جو لیکھرام کی صُورتِ موت پر بلند آواز سے دلالت کرتے ہیں یہ ہیں :-

عجب نوریست در جانِ محمدؐ تجلّی ست در کانِ محمدؐ
ز غفلتہا دلے آنگہ شود صاف کہ گردد از محبّانِ محمدؐ
عجب دارم دلِ آں ناقصاں را کہ رُو تابند از خوانِ محمدؐ
ندانم ہیچ فضلے در دو عالم کہ دارد شوکت و شانِ محمدؐ
خُدا زاں سینہ بیزارست صد ہا کہ ہست از کینہ دارانِ محمدؐ
خُدا خود سوزد آں کرم دنی را کہ باشد از عدُوّانِ محمدؐ
اگر خواہی نجات از مستی نفس بیا در ذیل مستانِ محمدؐ
اگر خواہی کہ حق گوید ثنایَت بشو از دل ثنا خوانِ محمدؐ
اگر خواہی دلیلے عاشقش باش محمدؐ ہست بُرہانِ محمدؐ
سرے دارم فدائے خاک احمدؐ دلم ہر وقت قربانِ محمدؐ
بگیسوئے رسول اللہ کہ ہستم نثارِ رُوئے تابانِ محمدؐ
دریں رہ کُشتہ ام گر بسوزند نتابم رُو ز ایوانِ محمدؐ
بکارِ دیں نترسم از جہانے کہ دارم رنگِ پیمانِ محمدؐ

۲۵۴

تریاق القلوب صفحہ 254 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 382 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 208 پر درج ہے

صفحہ 780

حوالہ نمبر 272 ٣٢٦

ٹھہر سکتا ۔ کیا یہ پیشگوئی جو پوری ہو گئی کوئی ایسا اتفاقی امر ہے جسکی خدا تعالیٰ کو کچھ بھی خبر نہیں کیا بغیر اُسکے علم اور ارادہ کے ایک دجّال کی تائید میں خود بخود یہ پیشگوئی وقوع میں آگئی کیا یہ سچ نہیں کہ مدعی کاذب کی پیشگوئی ہرگز پوری نہیں ہوتی۔ یہی قرآن کی تعلیم ہے اور یہی توریت کی۔ اگر آپ میں انصاف کا کچھ حصہ ہے اور تقویٰ کا کچھ ذرّہ ہے تو اب زبان کو بند کرلیں خدا تعالیٰ کا غضب آپکے غضب سے بہت بڑا ہے۔ مَا یَفْعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمْ اِنْ شَكَرْتُمْ وَاٰمَنْتُمْ ۔ وَالسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰی وما استکبر وما ابیٰ ۔

عاجز غلام احمد عفی اللہ عنہ

ذیل میں ہم خط محبّی نواب سید محمد علیخان صاحب کا لکھتے ہیں یہ خط نواب صاحب موصوف نے کسی اور طالب حق کی تحریک سے لکھا ہے۔ ورنہ خود نواب صاحب عاجز سے ایک خاص تعلق اخلاص و محبت رکھتے ہیں اور اس سلسلہ کے حامی بدل و جان ہیں۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

طبیب روحانی مکرم معظم سلمہ اللہ تعالیٰ

السلام علیکم ۔ بندہ بہ سبب علالت طبع کے جواب سے قاصر رہا ۔ الحمد للہ کہ اب خیریت سے ہوں اُمید ہے کہ جناب بھی خیریت سے ہونگے۔ روپیہ بمرسلت مرزا خدا بخش صاحب ارسال کیا گیا ہے اُمید کہ مرزا صاحب نے آپ سے کل حال بیان کر دیا ہو گا۔ جب سے کہ دعوٰی مثیل المسیح کی اشاعت ہوئی ہے ہر ایک آدمی ایک عجیب خلجان میں ہو رہا ہے گو بعض خواص کی یہ حالت ہو کہ اُن کو کوئی شک پیدا نہ ہوا ہو۔ بندہ

آئینہ کمالات اسلام صفحہ 326 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 326 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 208 پر درج ہے

صفحہ 781

حوالہ نمبر 273 کشتی نوح ۵ بقیہ حاشیہ

طاعون کے حملہ سے بچا رہیگا اور وہ سلامتی جو ان میں پائی جائیگی اسکی نظیر کسی گروہ میں قائم نہیں ہوگی اور قادیان میں طاعون کی خوفناک آفت جو تباہ کرنے نہیں آئیگی الاّ کم اور شاذ و نادر۔ کاش اگر یہ لوگ دلوں کے سیدھے ہوتے اور خدا سے ڈرتے تو بالکل بچائے جاتے کیونکہ مذہب کے اختلاف کی وجہ سے دُنیا میں عذاب کسی پر نازل نہیں ہوتا۔ اس کا مؤاخذہ قیامت کو ہوگا۔ دنیا میں محض شرارتوں اور شوخیوں اور کثرت گناہوں کی وجہ سے عذاب آتا ہے۔ اور یہ بھی یاد رہے کہ قرآن شریف میں بلکہ توریٰت کے بعض صحیفوں میں بھی یہ خبر موجود ہے کہ مسیح موعود ؎ ۵ کے وقت طاعون پڑیگی۔ بلکہ حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی انجیل میں یہ خبر دی ہے اور ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیشگوئیاں ٹل جائیں۔ اور نیز یہ بھی یاد رہے کہ ہمیں اس الٰہی وعدہ کے مقابل اِس لئے انسانی تدبیروں سے پرہیز کرنا لازم پڑا تا نشان الٰہی کو کوئی دشمن دُوسری طرف منسوب نہ کرے۔ لیکن اگر ساتھ اس کے خدا تعالیٰ اپنی کلام کے ذریعہ سے خود کوئی تدبیر سمجھاوے یا کوئی دوا بتلا دے۔ تو ایسی تدبیر یا دوا اس نشان میں کچھ حارج نہیں ہوگی۔ کیونکہ وہ اُس خدا کی طرف سے ہے جسکی طرف سے وہ نشان ہو۔ کسی کو یہ وہم نہ گزرے کہ اگر شاذ و نادر کے طور پر ہماری جماعت میں سے بذریعہ طاعون کوئی فوت ہو جائے تو نشان کے قدر و مرتبہ میں کوئی خلل آئیگا۔ کیونکہ پہلے زمانوں میں موسیٰ اور یشوع اور آخر میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہُوا تھا کہ جن لوگوں نے تلوار اُٹھائی اور صدہا انسانوں کے خون کئے انکو تلوار سے ہی قتل کیا جائے۔ اور یہ فعل اُنکی طرف سے ایک نشان تھا جس کے بعد فتح عظیم ہوئی۔ حالانکہ بمقابل مجرموں کے اہل حق بھی اُنکی تلوار سے قتل ہوتے تھے مگر بہت کم۔ اور اسقدر نقصان سے نشان میں کچھ فرق نہیں آتا تھا۔ پس ایسا ہی اگر شاذ و نادر کے طور پر ہماری جماعت میں سے بعض کو بباعث اسباب مذکورہ طاعون ہو جائے۔ تو ایسی طاعون نشانِ الٰہی میں کچھ بھی حرج انداز نہیں ہوگی۔ کیا یہ عظیم الشان نشان نہیں کہ میں بار بار کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اِس پیشگوئی کو ایسے طور سے ظاہر کرے گا کہ ہر ایک طالب حق کو کوئی شک نہیں رہے گا۔ اور وہ سمجھ جائے گا کہ معجزہ کے طور پر خدا نے اس جماعت سے معاملہ کیا ہے۔ بلکہ بطور

؎ ۵ مسیح موعود کے وقت میں طاعون کا پڑنا انجیل کی ذیل کی کتابوں میں موجود ہے۔ دیکھو۔ زکریا ۱۴۔ انجیل متی ۲۴۔ مکاشفات ۶

کشتی نوح صفحہ 5 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 5 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 208 پر درج ہے

صفحہ 782

حوالہ نمبر 274

١١١

اصرار سے لکھوائی تھی اور چونکہ مجھے خدا تعالیٰ کے وعدوں پر وثوق تھا اسلئے میں نے بھی اسکو قبول کر لیا تھا اب وہ مشکل جس کیلئے اس استفتاء کی ضرورت پڑی۔ صرف اسی قدر نہیں کہ آریہ صاحبوں نے اس راقم پر خفیہ سازش کا الزام لگایا۔ بلکہ ہماری قوم کے بعض بزرگ لوگوں نے بھی ان سے اتفاق کر لیا اور یہ چاہا کہ ایسی عظیم الشان پیشگوئی جسکی تکذیب کا نتیجہ معاہدہ کے کاغذات کی رو سے اسلام کی تکذیب ہے کسی طرح باطل ٹھہرائی جائے۔ چنانچہ مولوی ابوسعید محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر اشاعۃ السنۃ اور ایسا ہی بعض اور چند مولویوں نے عام طور پر یہ رائے شائع کر دی ہے کہ یہ پیشگوئی جھوٹی نکلی چنانچہ انہوں نے ایک خط میری طرف بھی بھیجا، جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ ہم نے اپنی نیک نیتی سے یہ فیصلہ کیا ہے کہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی یعنی لیکھرام کی موت صرف ایک اتفاقی امر تھا۔ جسمیں خدا کا کچھ دخل نہیں۔ اور اس بات پر زور دیا کہ کیوں یہ امر ثابت شدہ مان لیا جائے کہ پیشگوئی سچی ہوئی۔ اور کیوں یہ قبول نہ کیا جائے کہ یہ ایک اتفاقی موت ہے جو پیشگوئی کے زمانہ میں وقوع میں آگئی۔ اس تکذیب کی ہمیں اپنے ذاتی اغراض کیلئے تو کچھ پرواہ نہ تھی لیکن چونکہ معاہدہ کے کاغذات ثالثی کورٹ میں پیش کئے گئے اور مسٹر کلوڈ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ بہادر کے حضور میں پڑھے گئے اور ہر ایک دشمن دوست کو ان سے اطلاع ہو گئی۔ تو اب ایسی سچائی جس میں فروگذاشت کرنے سے اسلام پر بیجا حملہ ہوتا ہو قابل درگزر نہیں۔ اسلئے ضرورت پڑی کہ یہ تمام روئداد اہل الرائے کی خدمت میں پیش کرنی پڑی تاکہ وہ دیکھیں کہ کسقدر ظلم کا ارادہ کیا گیا ہے۔ افسوس کہ ان لوگوں نے ان خیالات کے ظاہر کرنیکے وقت یہ نہیں سوچا کہ ان کا یہ قول تو دنیا میں کسی نبی کی پیشگوئی قائم نہیں رہنے دیگا کیونکہ ہر ایک جگہ اس وہم کا دروازہ کھلا ہے کہ یہ اتفاقی واقعہ ہو۔ پس اگر یہی رائے سچی ہے تو انہیں اقرار کرنا چاہیے کہ تمام نبیوں کی نبوت پر کوئی قطعی ثبوت نہیں اور سب اتفاقی واقعات ہیں۔ توریت اور قرآن نے بڑا ثبوت نبوت کا صرف پیشگوئی کو قرار دیا ہے اور ایک مفسد آدمی کسی سچی پیشگوئی کو بڑی آسانی سے اتفاقی امر کہہ سکتا ہے لیکن میں زور سے کہتا ہوں کہ یہ تمام شبہات اس قسم کے ہیں کہ جیسے ایک دہریہ مصنوعات کو ایک نکما سلسلہ ٹھہرا کر خدا تعالیٰ کے وجود کی نسبت شبہات پیدا کرتا ہے اور دنیا کے تمام نظام کو اتفاقی امر ٹھہراتا ہے اور پھر یہ بھی کہتا ہے کہ خدا کا فعل اس میں شامل نہیں ہے۔ حالانکہ اس عالم کی ترتیب ابلغ اور محکم کو مشاہدہ کرتا ہے اور دقائق صنعت باری اور اسکی لطیف حکمتوں پر اطلاع پاتا ہے تو ناچار پہلی رائے اسکو چھوڑنی پڑتی ہے سو یقیناً سمجھنا چاہیے کہ یہ اعتراضات بھی ایسے ہی ہیں اور یہ اعتراض اسی وقت تک دل میں اٹھتے ہیں کہ جبتک ایک پیشگوئی کے باریک پہلوؤں پر نظر نہیں پڑتی اور خدا تعالیٰ کی خدائی کے انتظام کو ناقص سمجھا جاتا ہو۔ اصل بات یہ ہے کہ ایسے شبہے ہمیشہ ان لوگوں کے دلوں

۲

یہ حوالہ صفحہ 209 پر درج ہے | استفتاء صفحہ 3 مندرجہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 111 از مرزا قادیانی

صفحہ 783

تقویۃ الایمان 4

حوالہ نمبر 275

کشتی نوح

نشان الہی کے نتیجہ میں ہو گا کہ طاعون کے ذریعہ سے یہ جماعت بہت بڑھے گی اور خارق عادت ترقی کریگی اور انکی یہ ترقی تعجب سے دیکھی جائیگی اور مخالف جو ہر ایک موقعہ پر شکست پاتے رہے ہیں جیسا کہ کتاب نزول المسیح میں میں نے لکھا ہے اگر اس پیشگوئی کے مطابق خدا نے اس جماعت اور دوسری جماعتوں میں کچھ فرق نہ دکھلایا تو انکا حق ہو گا کہ میری تکذیب کریں۔ اب تک جو انہوں نے تکذیب کی ہے اس میں تو مفت میں ایک لعنت کو خریدا ہے مثلاً بار بار شور مچایا کہ آتھم پندرہ مہینہ کے اندر نہیں مرا۔ حالانکہ پیشگوئی نے صاف لفظوں میں کہہ دیا تھا کہ اگر وہ حق کی طرف رجوع کریگا تو پندرہ مہینے میں نہیں مریگا۔ سو اس نے عین جلسہ مباحثہ پر ستر معزز لوگوں کے روبرو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دجال کہنے سے رجوع کیا اور رجوع ہی نہیں بلکہ اس نے پندرہ مہینہ تک اپنی خاموشی اور خوف سے اپنے رجوع ثابت کر دیا اور پیشگوئی کی بناء یہی تھی کہ اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دجال کہا تھا۔ لہٰذا اُسکے رجوع پر صرف اسقدر فائدہ اُسنے اُٹھایا کہ پندرہ مہینے کے بعد مرا مگر مر گیا۔ یہ اسلئے ہوا کہ پیشگوئی میں یہ بیان تھا کہ فریقین میں سے جو شخص اپنے عقیدہ کے رُو سے جھوٹا ہو وہ پہلے مریگا سو وہ مجھ سے پہلے مر گیا۔ اسی طرح وہ غیب کی باتیں جو خدا نے مجھے بتلائی ہیں اور پھر اپنے وقت پر پوری ہوئیں وہ دس ہزار سے کم نہیں مگر کتاب نزول المسیح میں جو چھپ رہی ہے نمونہ کے طور پر صرف ڈیڑھ سو انہیں سے مع ثبوت اور گواہوں کے لکھی گئی ہیں۔ اور کوئی ایسی پیشگوئی میری نہیں ہے کہ وہ پوری نہیں ہوئی یا اسکے دو حصوں میں سے ایک حصہ پورا نہیں ہو چکا۔ اگر کوئی تلاش کرتا کرتا مر بھی جائے تو ایسی کوئی پیشگوئی جو میرے منہ سے نکلی ہو اسکو نہیں ملے گی جسکی نسبت وہ کہہ سکتا ہو کہ خالی گئی۔ مگر بے شرمی سے یا بیخبری سے جو چاہے کہے۔ اور میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ ہزارہا میری ایسی کھلی کھلی پیشگوئیاں ہیں جو نہایت صفائی سے پوری ہوئیں جن کے لاکھوں انسان گواہ ہیں۔ اسکی نظیر اگر گذشتہ نبیوں میں تلاش کی جائے تو بجز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی اور جگہ انکی مثل نہیں ملے گی۔ اگر میرے مخالف اسی طریق سے فیصلہ کرتے تو کبھی سے اُنکی آنکھیں کھل جاتیں اور میں انکو ایک کثیر انعام دینے کو تیار تھا اگر وہ دُنیا میں کوئی

کشتی نوح صفحہ 8 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 6 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 209 پر درج ہے

صفحہ 784

حوالہ نمبر 276 دافع الوساوس ۲۸۱ حصہ حقیقت اسلام

باز آجائیں ۔ جو شخص صادق سے لڑتا ہے وہ اُس سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ سے لڑتا ہے۔ والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ ۔

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نحمدہ ونصلی یا معین برحمتک نستعین

ایک پیش گوئی پیش از وقوع کا اشتہار

پیشگوئی کا جب انجام ہویدا ہوگا قدرت حق کا عجب ایک تماشا ہوگا
جھوٹ اور سچ میں جو ہو فرق وہ پیدا ہوگا کوئی پا جائیگا عزت کوئی رسوا ہوگا

اخبار نور افشاں ۱ مئی ۱۸۸۸ء میں جو اِس راقم کا ایک خط متضمن درخواست نکاح چھاپا گیا ہے۔ اُس خط کو صاحب اخبار نے اپنے پرچہ میں درج کر کے عجیب طرح کی زبان درازی کی ہے اور ایک صفحہ اخبار کا سخت گوئی اور دشنام دہی میں ہی سیاہ کیا ہے۔ یہ کیسی بے انصافی ہے کہ جن لوگوں کے مقدس اور پاک نبیوں نے سینکڑوں بیویاں ایک ہی وقت میں رکھی ہیں وہ دو یا تین بیویاں کا جمع کرنا ایک کبیرہ گناہ سمجھتے ہیں بلکہ اُس فعل کو زنا یا حرامکاری خیال کرتے ہیں۔ کسی خاندان کا سلسلہ صرف ایک ایک بیوی سے ہمیشہ کے لئے جاری نہیں رہ سکتا بلکہ کسی نہ کسی فردِ سلسلہ میں یہ وقت آپڑتی ہے کہ ایک جورو عقیمہ اور ناقابل اولاد نکلتی ہے۔ اس تحقیق سے ظاہر ہے کہ در اصل بنی آدم کی نسل ازواج مکررہ سے ہی قائم و دائم چلی آتی ہے۔ اگر ایک سے زیادہ بیوی کرنا منع ہوتا تو ابتک نوع انسانی قریب قریب خاتمہ تک پہنچ جاتی۔ تحقیق سے ظاہر ہوگا کہ اس مبارک اور مفید طریق نے انسان کی کہانتک حفاظت کی ہے اور کیسے اُس نے اُجڑے ہوئے گھروں کو بیک دفعہ آباد کر دیا ہے اور انسان کے تقویٰ کے لئے یہ فعل کیسا زبردست

یہ حوالہ صفحہ 209 پر درج ہے آئینہ کمالات اسلام صفحہ 281 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 281 از مرزا قادیانی

صفحہ 785

(حوالہ نمبر 277)

۱۲

کہ دروغ گو اس کے گھر تک پہنچا دیں کیونکہ مکاروں اور خیانت پیشوں کی سزا دہی یہی ہے کہ اُن کے خیانت کے طریقوں کو ہوشیارانہ دکھلاوے اور سَتّ اور اَسَتّ کو نکھیڑا جائے اِسی غرض سے ہم نے اس رسالہ کو لکھا ہے تا غلط بیانی کے بیجا الزام کا فیصلہ ہو جائے کیونکہ تین بد زبانیاں جو میری نسبت کی گئیں اور کہا گیا کہ یہ شخص غلط بیان اور غابی متعصب اور خبیث النفس ہے یہ بدیہی خباثت سے بھرا ہوا بہتان ہے کہ کوئی صادق القول اس پر جرات نہیں کر سکتا اور نیز اس میں بغض و عناد کے تعفن سے جو بُو آتی ہے وہ پوشیدہ نہیں کذب و غلط بیانی اور بہتان طرازی راست بازوں کا کام نہیں بلکہ نہایت شریر اور بدذات آدمیوں کا کام ہے کہ جو نہ خدا سے ڈریں اور نہ خلقت کے لعن وطعن کی پروا رکھیں اور چونکہ ناحق ان لوگوں نے گالیاں دیں اور بدزبانی کی

میرے خیال میں انسانی شرم نے ان کو مہلت نہیں دی اور جب میرے بعض مخلصوں نے ان کو وہ مقام پڑھ کر سنایا تو پھر بمجرد سننے کے طریق مکابرہ میں آگئے کہ جب خاوند ہرگز عورت کے پاس نہ جا سکے۔

پھر کھول کر ستیارتھ پرکاش میں یہ بات لکھ دی ہے کہ ایسا نامرد جو اصلاً ناقابل اولاد ہو پس اس میں مضائقہ کیا ہے۔ یہ دعویٰ باطل ہے کہ شرتی میں نیوگ کی ممانعت ہے کیونکہ ستیارتھ پرکاش میں کہیں ممانعت نہیں لکھی ہے۔ یہ نہیں لکھا کہ ایسا مرد ہو کہ ہرگز صحبت نہ کر سکتا ہو بلکہ یہ تو لکھ دیا ہے کہ اگر وہ قابل اولاد ہو مگر کوئی بچہ نہ پیدا ہوا ہو تب بھی نیوگ ہو سکتا ہے۔ تو یہ جواب سن کر وہ لوگ خاموش ہو گئے اور ان میں سے ایک پنڈت جی بولے کہ بے شک ہمیں تسلیم ہے کہ نیوگ کی رسم میں مضائقہ نہیں اور ہم ایسے نیوگ پر راضی ہیں۔ غرض اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ عام ہدایت دی گئی ہے کہ کن ضرورتوں کے وقت مرد اپنی بیویاں دوسروں سے نیوگ کرایا کریں۔ سچ کہا ہے کہ خَذَلَهُمُ اللهُ فِي كُلِّ مَوَاطِنْ اُن کی فطرت میں خباثت بھری ہوئی ہے۔ ہر ایک سلیم فطرت اس کام پر لعنت بھیجتی ہے اور انسان تو انسان ایک مرغ بھی اپنی مرغیوں کے لئے غیرت رکھتا ہے۔ پس حاصل کلام یہ ہے کہ اگر اس بارہ میں کوئی اور آریہ صاحب بھی بحث کرنا چاہتے ہوں تو ہم اپنے خرچ سے اُن کو اُن کی درخواست پر قادیان میں بلا سکتے ہیں اور ہر ایک شبہ کا صحیح جواب دے سکتے ہیں۔

راقم مرزا غلام احمد ۹ جولائی ۱۸۹۹ء بمقام قادیان ضلع گورداسپور

آریہ دھرم صفحہ 13 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 13 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 209 پر درج ہے

صفحہ 786

حوالہ نمبر 278

۳۲۲

کیا گیا ہے یعنے یہ کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا ہوں اور مکالمہ الٰہیہ سے مشرف ہوں۔ اور مامور من اللہ ہوں اور میری صداقت کا نشان یہ پیشگوئی ہے۔ اب آپ اگر کچھ بھی اللہ جلشانہ کا خوف رکھتے ہیں تو سمجھ سکتے کہ ایسی پیشگوئی جو منجانب اللہ ہونے کیلئے بطور ثبوت کے پیش کی گئی ہے اُسی حالت میں سچی ہو سکتی تھی کہ جب درحقیقت یہ عاجز منجانب اللہ ہو، کیونکہ خدا تعالیٰ ایک مفتری کی پیشگوئی کو جو ایک جھوٹے دعوےٰ کے لئے بطور شاہد صدق بیان کی گئی ہرگز سچی نہیں کر سکتا۔ وجہ یہ کہ اس میں خلق اللہ کو دھوکا لگتا۔ یہ جیسا کہ اللہ جلشانہ خود مدعی صادق کیلئے یہ علامت قرار دیکر فرماتا ہے و ان يك صادقًا يصبكم بعض الذي يعدكم ۱؎ اور فرماتا ہے فلا يظهر على غيبه احدًا ۲؎ الا من ارتضى من رسول ۳؎ رسول کا لفظ عام ہے جس میں رسول اور نبی اور محدّث داخل ہیں۔ پس اس پیشگوئی کے الہامی ہونے کیلئے ایک مسلمان کیلئے یہ دلیل کافی ہے جو منجانب اللہ ہونے کے دعویٰ کے ساتھ یہ پیشگوئی بیان کی گئی اور خدا تعالیٰ نے اس کو سچا کر کے دکھلا دیا اور اگر آپکے نزدیک یہ ممکن ہے کہ ایک شخص در اصل مفتری ہو اور سراسر دروغگوئی سے کہے کہ میں خلیفۃ اللہ اور مامور من اللہ اور مجدد وقت اور مسیح موعود ہوں اور میرے صدق کا نشان یہ ہے کہ اگر فلاں شخص مجھے اپنی بیٹی نہیں دیگا اور کسی دوسرے سے نکاح کر لے گا تو نکاح کے بعد تین برس تک بلکہ اس سے بہت قریب فوت ہو جائے گا اور پھر ایسا ہی واقعہ ہو جائے تو برائے خدا اس کی نظیر پیش کرو۔ ورنہ یاد رکھو کہ مرنے کے بعد اِس انکار اور تکذیب اور تکفیر سے [ پوچھے جاؤ گے۔ خدا تعالیٰ صاف فرماتا ہے ان الله لا يهدى من هو مسرف ] [ کذّاب ۴؎ سوچ کر دیکھو کہ اس کے یہی معنی ہیں جو شخص اپنے دعوٰی میں کاذب ہو اُسکی ]

۱؎ مومن : ۲۹ ۲؎ الجن : ۲۸ ۴؎ مومن : ۲۹

آئینہ کمالات اسلام صفحہ 322، 323 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 322، 323 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 210 پر درج ہے

صفحہ 787

حوالہ نمبر 278

۳۲۳

پیشگوئی ہرگز پوری نہیں ہوتی۔ شیخ صاحب اب وقت ہے سمجھ جاؤ اور اُس دن سے ڈرو جس دن کوئی شیخی پیش نہیں جائے گی۔ اور اگر کوئی نجومی یا رمال یا جفری اس عاجز کی طرح دعویٰ کر کے کوئی پیشگوئی دکھلا سکتا ہے تو اس کی نظیر پیش کرو اور چند اخباروں میں درج کرا دو۔ اور یاد رکھو کہ ہرگز پیش نہیں کر سکو گے اور ایسا نجومی ہلاک ہوگا۔ خدا تعالیٰ تو اپنے نبی کو فرماتا ہے کہ اگر وہ ایک قول بھی اپنی طرف سے بناتا تو اُس کی رگ جان قطع کی جاتی۔ پھر یہ کیونکر ہو کہ بجائے رگ جان قطع کی جانے کے اللہ جلشانہ اس عاجز کو جو آپ کی نظر میں کافر مفتری دجّال کذّاب ہے دشمنوں کے مقابل پر یہ عزت دے کہ تائید دعوے میں پیشگوئی پوری کرے۔ کبھی دُنیا میں یہ ہوا ہے کہ کاذب کی خدا تعالیٰ نے ایسی مدد کی ہو کہ وہ گیارہ برس خدا تعالیٰ پر یہ افتراء کرتا ہو کہ اُس کی وحی ولایت اور وحی محدثیت میرے پر نازل ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ اُس کی رگِ جان نہ کاٹے بلکہ اُس کی پیشگوئیوں کو پورا کر کے آپ جیسے دشمنوں کو منفعل اور نادم اور لاجواب کرے اور آپ کی کوشش کا نتیجہ یہ ہو کہ آپ کی تکفیر سے پہلے تو کل ۷۵ آدمی سالانہ جلسہ میں شریک ہوں اور بعد آپ کی تکفیر اور جانکاہی اور لوگوں کے روکنے کے تین سو ستائیس احباب اور مخلص جلسہ اشاعتِ حق پر دوڑے آویں۔ اب اس سے زیادہ کیا لکھوں میں اِس خط کو انشاء اللہ چھاپ کر شائع کر دوں گا اور مجھے اس بات کی ضرورت نہیں کہ اس الہامی پیشگوئی کی آزمائش کے لئے بٹالہ میں کوئی مجلس مقرر کروں مناسب ہے کہ آپ بھی اپنے اشاعۃ السنہ میں میرے اس خط کو شائع کر دیں اور یہ بات بھی ساتھ لکھ دیں کہ اب آپ کو قبول کرنے میں کیا عُذر ہے خود منصف لوگ دیکھ لیں گے کہ وہ عُذر صحیح یا غلط ہے۔

آئینہ کمالات اسلام صفحہ 322، 323 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 322، 323 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 210 پر درج ہے

صفحہ 788

حوالہ نمبر 279

۱۱۱

ظہور کا موجب ہوگا۔ نور آتا ہے نور جس کو خدا نے اپنی رضامندی کے عطر سے ممسوح کیا۔ ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے اور خدا کا سایہ اس کے سر پر ہوگا۔ وہ جلد جلد بڑھے گا اور اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔ تب اپنے تئیں نقطہ آسمان کی طرف اُٹھایا جائے گا۔ وَکَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا ۔

(اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء مندرجہ تبلیغ رسالت جلد اول صفحہ ۵۹ ۔ ۶۰ و مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ ۱۰۰ تا ۱۰۲)

۱۸۸۶ء "میرے خدائے کریم نے مجھے بشارت دے کر کہا کہ تیرا گھر برکت سے بھرے گا اور میں اپنی نعمتیں تجھ پر پوری کروں گا اور خواتین مبارکہ سے جن میں سے تُو بعض کو اس کے بعد پائے گا تیری نسل بہت ہوگی اور میں تیری ذریت کو بہت بڑھاؤں گا اور برکت دوں گا مگر بعض ان میں سے کم عمری میں فوت بھی ہوں گے اور تیری نسل کثرت سے ملکوں میں پھیل جائے گی اور ہر ایک شاخ تیرے جدّی بھائیوں کی کاٹی جائے گی اور وہ جلد لاولد رہ کر ختم ہو جائے گی ۲؎ اگر وہ توبہ نہ

۱؎ "یہ صرف پیشگوئی ہی نہیں بلکہ ایک عظیم الشان نشانِ آسمانی ہے جس کو خدائے کریم جل شانہ نے ہمارے نبی کریم رؤف و رحیم محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت وعظمت ظاہر کرنے کے لئے ظاہر فرمایا ہے اور درحقیقت یہ نشان ایک مُردہ کے زندہ کرنے سے صدہا درجہ اعلیٰ و اولیٰ و اکمل و افضل و اتم ہے کیونکہ مُردہ کے زندہ کرنے کی حقیقت یہی ہے کہ جناب الٰہی میں دعا کر کے ایک رُوح واپس منگوایا جاوے ..... جس کے ثبوت میں مُعترضین کو بہت سا کلام ہے ..... مگر اِس جگہ بفضلہ تعالیٰ و احسانہ و ببرکت حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خداوند کریم نے اس عاجز کی دعا کو قبول کر کے ایسی بابرکت رُوح بھیجنے کا وعدہ فرمایا جس کی ظاہری و باطنی برکتیں تمام زمین پر پھیلیں گی۔ سو اگرچہ بظاہر یہ نشانِ احیاءِ موتیٰ کے برابر معلوم ہوتا ہے مگر غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ یہ نشان مُردوں کے زندہ کرنے سے صدہا درجہ بہتر ہے۔ مُردوں کی بھی رُوح ہی دعا سے واپس آتی ہے اور اس جگہ بھی دعا سے ایک رُوح ہی منگائی گئی ہے مگر ان رُوحوں اور اس رُوح میں لاکھوں کوسوں کا فرق ہے۔"

(اشتہار ۲۲ مارچ ۱۸۸۶ء مندرجہ مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ ۱۱۴ ، ۱۱۵)

۲؎ "جس وقت حضور نے دعویٰ کیا اُس وقت آپ کے خاندان میں ستر کے قریب مرد تھے لیکن اب ان کے سوا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جسمانی یا روحانی اولاد ہیں ان ستر میں سے کسی ایک کی بھی اولاد موجود نہیں۔"

(حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کا لکچر فرمودہ لاہور مورخہ ۲۲؍مئی ۱۹۲۱ء ریویو جولائی ۱۹۲۱ء صفحہ ۱۰)

یہ حوالہ صفحہ 212 پر درج ہے

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 111 از مرزا قادیانی

صفحہ 789

حوالہ نمبر 280

۱۱۴

زندہ رہنے کا یہی حال معلوم نہیں۔ اور نہ یہ معلوم کہ اس عرصہ تک کسی قسم کی اولاد خواہ مخواہ پیدا ہو گی ۔ چہ جائیکہ لڑکا پیدا ہونے پر کسی حمل سے تصریح اور یقین کیا جائے ۔ نیز یہ امر ہم ناظرین پر بھی ظاہر کرتے ہیں ۔ کہ ان دنوں مذکورہ بالا میں منشی محمد رمضان صاحب نے تہذیب سے گفتگو نہیں کی بلکہ دُنی مخالفتوں کی طرح جا بجا محض افتراء پردازی سے اس عاجز کو نسبت دی ہے۔ اور ایک جگہ پر جہاں اس عاجز نے ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں یہ پیشگوئی خدائے تعالیٰ کی طرف سے بیان کی تھی۔ کہ اس نے مجھے بشارت دی ہے کہ بعض بابرکت عورتیں اس اشتہار کے بعد بھی تیرے نکاح میں آئیں گی اور ان سے اولاد پیدا ہو گی۔ اس پیشگوئی پر منشی صاحب فرماتے ہیں کہ الہام کئی قسم کا ہوتا ہے۔ نیکوں کو نیک باتوں کا اور زانیوں کو عورتوں کا۔ ہم اس جگہ کچھ کہنا نہیں چاہتے ۔ ناظرین منشی صاحب کی تہذیب کا آپ اندازہ کر لیں ۔ پھر ایک اور صاحب ملازم دفتر ۱؎ لوکو سپرنٹنڈنٹ صاحب ریلوے لاہور کے جو اپنا نام نبی بخش ظاہر کرتے ہیں۔ اپنے خط مرسلہ ۳ جون ۱۸۸۶ء میں اس عاجز کو لکھتے ہیں کہ تمہاری پیشگوئی جھوٹی نکلی اور دُختر پیدا ہوئی اور تم حقیقت میں بڑے شریر اور مکار اور دوزخ کے آدمی ہو۔ ہم اس کے جواب میں بجز اس کے کیا کہہ سکتے ہیں کہ اے خدائے قادر مطلق ۔ یہ لوگ اندھے ہیں ان کو آنکھیں بخش یہ نادان ہیں ان کو سمجھ عطا کر۔ یہ شرارتوں سے بھرے ہوئے ہیں ان کو نیکی کی توفیق دے۔ بھلا کوئی اس بزرگ سے پوچھے کہ وہ فقرہ یا لفظ کہاں ہے جو کسی اشتہار میں اس عاجز کے قلم سے نکلا ہے جس کا یہ مطلب ہے کہ لڑکا اسی حمل میں پیدا ہوگا۔ اس سے ہرگز تخلف نہیں کرے گا۔ اگر میں نے کسی جگہ ایسا لکھا ہے تو میاں نبی بخش صاحب پر واجب ہے کہ اس کو کسی اخبار میں چھپوا دیں۔ اس عاجز کے اشتہارات پر اگر کوئی منصف آنکھ کھول کر نظر ڈالے تو اسے معلوم ہوگا کہ ان میں کوئی بھی ایسی پیشگوئی درج نہیں جس میں ایک ذرہ خفی کی بھی گرفت ہو سکے بلکہ وہ سب سچی ہیں اور عنقریب اپنے اپنے وقت پر ظہور پکڑ کر مخالفین کی ذلت اور رسوائی کا موجب ہوں گی۔ دیکھو ہم نے ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء میں جو یہ پیشگوئی اجمالی طور پر لکھی تھی کہ ایک امیر نووارد پنجابی الاصل کو کچھ ابتلا در پیش ہے کیسی وہ سچی نکلی۔ ہم نے صدہا ہندؤں اور مسلمانوں کو مختلف شہروں میں بتلا دیا تھا کہ اس شخص پنجابی الاصل سے مراد دلیپ سنگھ ہے جس کی پنجاب میں آنے کی خبر مشہور ہو رہی ہے۔ لیکن اس ارادہ سکونت پنجاب میں وہ ناکام رہے گا۔ بلکہ اس سفر میں اس کی عزت و آسائش یا جان کا خطرہ ہے اور یہ پیشگوئی ایسے وقت میں لکھی گئی اور عام طور پر بتلائی گئی تھی۔ یعنی ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کو جبکہ اس ابتلاء کا کوئی اثر و نشان ظاہر نہ تھا۔ بالآخر اس کو مطابق اسی پیشگوئی کے بہت حرج اور تکلیف اور سبکی اور خجالت اٹھانی پڑی اور اپنے مدعا سے محروم رہا۔ سو دیکھو اس پیشگوئی کی صداقت کیسی کھل گئی۔ اسی طرح سے اپنے اپنے وقت پر سب پیشگوئیوں کی سچائی ظاہر ہو گی اور دشمن روسیاہ نہ ایک دفعہ بلکہ کئی دفعہ رسوا ہوں گے یہ خدائے تعالیٰ کا فعل ہے جو ابھی تک انہیں اندھا کر رکھا ہے۔ ان کے دلوں کو سخت کر دیا اور ہمارے دل میں درد اور خیر خواہی کا

۱؎ یہ صاحب بعد میں احمدیت میں داخل ہو گئے اور بہت مخلص ثابت ہوئے (المرتب)

مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 113 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 212 پر درج ہے

صفحہ 790

حوالہ نمبر 281

۳۱۱

ایک برس تک انتظار کریں۔ اور یا مباہلہ کر لیں۔ ششم ۔ اور اگر ان باتوں میں سے کوئی بھی نہ بنیں تو مجھ سے کیا تم میں ایک بھی سوچنے والا نہیں جو اس بات کو سوچے۔ کیا تم میں ایک بھی دل نہیں جو اس بات کو سمجھے۔ زمین نے عزت دی۔ آسمان نے عزت دی اور قبولیت پھیل گئی۔

حاشیہ در حاشیہ

پانچواں وہ امر جو مباہلہ کے بعد میرے لئے عزت کا موجب ہوا۔ علم قرآن میں اتمام حجت ہے۔ میں نے یہ علم پا کر تمام مخالفوں کو کیا عبدالحق کا گروہ اور کیا بٹالوی کا گروہ۔ غرض سب کو بلند آواز سے اس بات کے لئے مدعو کیا کہ مجھے مسلم حقائق اور معارف قرآن دیا گیا ہے۔ تم لوگوں میں سے کسی کی مجال نہیں کہ میرے مقابل پر قرآن شریف کے حقائق و معارف بیان کر سکے۔ سو اس اعلان کے بعد میرے مقابل ان میں سے کوئی بھی نہ آیا۔ اور اپنی جہالت پر جو تمام ذلتوں کی جڑ ہے انہوں نے مہر لگا دی۔ سو یہ سب کچھ مباہلہ کے بعد ہوا۔ اور اسی زمانہ میں کتاب کرامات الصادقین لکھی گئی۔ اس کرامت کے مقابل پر کوئی شخص ایک حرف بھی نہ لکھ سکا۔ تو کیا اب تک عبدالحق اور اس کی جماعت ذلیل نہ ہوئی۔ اور کیا اب تک یہ ثابت نہ ہوا۔ کہ مباہلہ کے بعد یہ عزت خدا نے مجھے دی۔

چھٹا امر جو مباہلہ کے بعد میری عزت اور عبدالحق کی ذلت کا موجب ہوا۔ یہ ہے کہ عبدالحق نے مباہلہ کے بعد اشتہار دیا تھا کہ ایک فرزند اُس کے گھر میں پیدا ہوگا۔ اور میں نے بھی خدا تعالیٰ سے الہام پا کر یہ اشتہار انوارالاسلام میں شائع کیا تھا کہ خدا تعالیٰ مجھے لڑکا عطا کرے گا۔ سو خدا تعالیٰ کے فضل اور کرم سے میرے گھر میں تو لڑکا پیدا ہو گیا۔ جس کا نام شریف احمد ہے اور قریباً پونے دو برس کی عمر رکھتا ہے۔ اب عبدالحق کو ضرور پوچھنا چاہیئے کہ اس کا وہ مباہلہ کی برکت کا لڑکا کہاں گیا۔ کیا اندر ہی اندر پیٹ میں تحلیل پا گیا یا پھر رجعت قہقری کر کے نطفہ بن گیا۔ کیا اس کے سوا کسی اور چیز کا نام ذلت ہے کہ جو کچھ اس نے کہا وہ پورا نہ ہوا۔ اور جو کچھ میں نے خدا کے الہام سے کہا خدا نے اس کو پورا کر دیا۔ چنانچہ ضیاء الحق میں بھی اسی لڑکے کا ذکر لکھا گیا ہے۔

ساتواں امر جو مباہلہ کے بعد میری عزت اور قبولیت کا باعث ہوا خدا کے راستباز بندوں کا وہ مخلصانہ جوش ہے جو انہوں نے میری خدمت کے لئے دکھلایا۔ مجھے کبھی یہ طاقت نہ ہوگی کہ میں خدا کے ان احسانات کا شکر ادا کر سکوں۔ جو روحانی اور جسمانی طور پر مباہلہ کے بعد میرے پر وارد حال ہو گئے۔ روحانی انعامات کا نمونہ میں لکھ چکا

انجام آتھم صفحہ 27 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 311 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 212 پر درج ہے

صفحہ 791

حوالہ نمبر 282

۵۰۳

۱۳ جنوری ۱۹۰۶ء ۱؂ (۱) لَا يُقْبَلُ عَمَلٌ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ مِّنْ غَيْرِ التَّقْوَى (۲) زَلْزَلَةُ السَّاعَةِ وَ نَهْدِمُ مَا يَعْمَرُونَ (۳) عَفَتِ الدِّيَارُ لِذُنُوبِي (۴) قُلْ مَا يَعْبَؤُ بِكُمْ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ۔ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۵۴)

۱۴ جنوری ۱۹۰۶ء (۱) كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِي (۲) سَلَامٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيمٍ (۳) ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں۔ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۵۵) ترجمہ : خدا نے ابتداء سے مقدر کر چھوڑا ہے کہ وہ اور اس کے رسول غالب رہیں گے (۲) خدائے رحیم کہتا ہے کہ سلامتی ہے یعنی خائب و خاسر کی طرح تیری موت نہیں ہے۔ اور یہ کلمہ کہ ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں، اس کے یہ معنی ہیں کہ قبل از موت مکّی فتح نصیب ہوگی۔ جیسا کہ وہاں دشمنوں کو قہر کے ساتھ مغلوب کیا گیا تھا اسی طرح یہاں بھی دشمن قہری نشانوں سے مغلوب کئے جائیں گے۔ دوسرے یہ معنی ہیں کہ قبل از موت مدنی فتح نصیب ہوگی۔ خود بخود لوگوں کے دل ہماری طرف مائل ہو جائیں گے۔ فقرہ كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِي مکہ کی طرف اشارہ کرتا ہے اور فقرہ سَلَامٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيمٍ مدینہ کی طرف۔" (بدر جلد ۱ نمبر ۴ مورخہ ۱۹ جنوری ۱۹۰۶ء صفحہ ۲۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲ مورخہ ۱۷ جنوری ۱۹۰۶ء صفحہ ۴)

۱۵ جنوری ۱۹۰۶ء ۲؂ "تزلزل در ایوانِ کسریٰ فتاد" (بدر جلد ۱ نمبر ۴ مورخہ ۱۹ جنوری ۱۹۰۶ء صفحہ ۲۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۳ مورخہ ۲۴ جنوری ۱۹۰۶ء صفحہ ۱)

۱؂ (ترجمہ از مرتب) (۱) کوئی عمل تقویٰ کے بغیر ذرہ بھر قبول نہیں کیا جائے گا (۲) قیامت والا زلزلہ ۔ اور جو عمارتیں بناتے جائیں گے ہم ان کو گراتے جائیں گے (۳) گھر مٹ جائیں گے جیسا کہ میں بتا چکا ہوں (۴) کہہ دے کہ میرے ربّ کو تمہاری پروا ہی کیا ہے۔ اگر تم دُعا نہیں کرو گے۔ ۲؂ (ترجمہ از مرتب) شاہِ ایران کے محل میں تزلزل پڑ گیا۔ (نوٹ از مرتب) چنانچہ اس الہام کے بعد بالکل خلافِ توقع ایران میں جلد ہی شورِ بغاوت برپا ہوا اور مرزا محمد علی شاہ ایران نے مجبور ہو کر تاریخ ۱۹ جولائی ۱۹۰۹ء کو روس کے سفارت خانہ میں پناہ لی۔ آخر وہ تخت سے معزول کیا گیا۔ اور پارلیمنٹ بنائی گئی۔ مفصل دیکھئے "دعوۃ الامیر" تصنیف حضرت سیّدنا امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا ایڈیشن نمبر ۶ صفحہ ۲۰۴، ۲۰۵ ۔ فارسی ایڈیشن صفحہ ۲۲۶ تا ۲۲۹ میں دوسری پیشگوئی۔

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات طبع چہارم صفحہ 503 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 213 پر درج ہے

صفحہ 792

حوالہ نمبر 283 تحفہ گولڑویہ ١٦١

اور چوں نہیں کریں گے اور بخاری اور مسلم اور ابن ماجہ اور ابو داؤد اور نسائی اور موطا غرض تمام ذخیرہ حدیثوں کو جس طرح پر حضرات محدثین مانتے ہیں سر تسلیم جھکا کر سب کو مان لیں گے اور اگر کوئی عرض کرے گا کہ حضرت آپ تو حَکَم ہو کر آئے ہیں کچھ تو ان علماء سے اختلاف کیجئے تو نہایت عاجزی اور مسکینی سے کہیں گے کہ حَکَم کیسے ۔ ہماری کیا مجال کہ ہم صحاح ستہ کی کچھ مخالفت کریں ۔ یا حضرت مولانا شیخ اجل نذیر حسین اور حضرت مولانا مولوی ابو سعید محمد حسین بٹالوی اور یا حضرت مولانا امام المقلدین رشید احمد گنگوہی کے اجتہادات اور اُنکے اکابر کی تشریحات کی مخالفت کریں ۔ یہ حضرات جو کچھ فرما چکے سب ٹھیک اور بجا ہے۔ ہم کیا اور ہمارا وجود کیا ۔ ظاہر ہے کہ جبکہ مہدی اس طرح پر تسلیم محض ہو کر آئیں گے تو کوئی وجہ نہیں کہ علماء اُن کو کافر کہیں یا اُن کا نام دجال رکھیں ۔ اکثر یہ لوگ جو مولوی کہلاتے ہیں عوام کالانعام کے آگے محض دھوکا دہی کے طور پر یہ بیان کیا کرتے ہیں کہ دیکھو مسلم میں یہ کیسی واضح حدیث ہے کہ مسیح موعود دمشق کے مشرقی منارہ کے نزدیک آسمانوں سے اُترے گا اور جماعت کے ساتھ نماز پڑھے گا ۔ اور اس پیشگوئی کے ظاہر الفاظ میں دمشق اور اس کے مشرقی طرف ایک منارہ کا بیان ہے جس کے نزدیک مسیح موعود کا آسمان سے اُترنا ضروری ہے ۔ پس اگر ان تمام الفاظ کی تاویل کی جائے گی تو پھر پیشگوئی کچھ بھی نہ رہے گی ۔ بلکہ مخالف کے نزدیک ایک باعث تمسخر ہو گا ۔ کیونکہ پیشگوئی کی تمام شوکت اور اس کا اثر اپنے ظاہر الفاظ کے ساتھ ہوتا ہے اور پیشگوئی کرنے والے کا مقصود یہ ہوتا ہے کہ لوگ ان علامتوں کو یاد رکھیں اور اُنہی کو مدعی صدق کا معیار ٹھہرائیں ۔ مگر تاویل میں تو وہ سارے نشان مقرر کردہ گم ہو جاتے ہیں ۔ اور یہ امر مقبول اور مسلم ہے کہ نصوص کو ہمیشہ اُنکے ظاہر پر حمل کرنا چاہیے اور ہر ایک لفظ کی تاویل مخالف کو تسکین نہیں دے سکتی کیونکہ اس طرح تو کوئی مقدمہ فیصلہ ہی نہیں ہو سکتا بلکہ اگر ایک شخص تاویل کے طور پر اپنے مطلب کے موافق کسی حدیث کے معنے کر لیتا ہے اور الفاظ کے معنے کو تاویل کے طور پر اپنے مطلب

۷۵

تحفہ گولڑویہ صفحہ 75 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 161 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 214 پر درج ہے

صفحہ 793

حوالہ نمبر 284

۲۰۱

کلمے اس کی طرف چڑھتے ہیں۔ ابراہیم پر سلام (یعنی اس عاجز پر) ہم نے اس سے محبت کی اور غم سے نجات دی ہم نے ہی برگزیدہ کیا، سچ ہے تو ابراہیم کے قدم پر چل۔" (اربعین نمبر ۳ صفحہ ۳۶ وحاشیہ در حاشیہ و روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۴۲۵ و ۴۲۸)

۱۹۰۴ء سُبْحَانَ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی زَادَ مَجْدُكَ يَنْقَطِعُ اٰبَاؤُكَ وَيُبْدَءُ مِنْكَ شُقَّتْ ذُقَيْرُ مَجْدُ ذُقْ۔ سَلَامٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيْمٍ۔ وَقِيْلَ بُعْدًا لِلْقَوْمِ الظَّالِمِيْنَ۔ تَرٰی نَسْلًا بَعِيْدًا وَ لَنُحْيِيَنَّكَ حَيٰوةً طَيِّبَةً۔ ثَمَانِيْنَ حَوْلًا أَوْ قَرِيْبًا مِّنْ ذٰلِكَ أَوْ تَزِيْدُ عَلَيْهِ سِنِيْنَ۔ وَ كَانَ وَعْدُ اللهِ مَفْعُوْلًا۔ هٰذَا مِنْ رَّحْمَةِ رَبِّكَ۔ يُتِمُّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ لِيَكُوْنَ اٰيَةً لِّلْمُؤْمِنِيْنَ۔ يَنْصُرُكَ اللهُ فِيْ مَوَاطِنَ۔ وَ اللهُ مُتِمُّ نُوْرِهِ وَ لَوْ كَرِهَ الْكَافِرُوْنَ۔ وَيَمْكُرُوْنَ وَ يَمْكُرُ اللهُ وَ اللهُ خَيْرُ الْمَاكِرِيْنَ۔ أَلَا إِنَّ رُوْحَ اللهِ قَرِيْبٌ۔ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللهِ قَرِيْبٌ۔ يَأْتِيْكَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ۔ يَأْتُوْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ۔ يَنْصُرُكَ رِجَالٌ نُّوْحِيْ إِلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاءِ۔ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِ اللهِ۔ إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ۔ هُوَ الَّذِيْ أَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدٰی وَ دِيْنِ الْحَقِّ وَ تَهْذِيْبِ الْأَخْلَاقِ۔ وَ قَالُوْا سَيُغْلَبُ الْأَمْرُ وَ مَا كَانُوْا عَلَى الْغَيْبِ مُطَّلِعِيْنَ۔ أَنَّا أَعْطَيْنَاكَ الدُّنْيَا وَ خَزَائِنَ مِّنْ رَّحْمَةِ رَبِّكَ وَ إِنَّكَ مِنَ الْمَنْصُوْرِيْنَ۔ إِنِّيْ جَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا إِلٰی يَوْمِ الْقِيَامَةِ۔

لہ (ترجمہ از مرتب) وہ خدا بہت پاک اور بہت مبارک اور بہت اونچا ہے جس نے تیری بزرگی کو زیادہ کیا۔ وہ وقت آتا ہے کہ تیرے باپ دادے کا ذکر کوئی بھی نہیں کرے گا اور سلسلہ خاندانی تجھ سے شروع ہوگا۔ یہ وہ عطا ہے جو کبھی منقطع نہیں ہوگی۔ تجھ پر خدا کا سلام جو رحیم ہے۔ اور کہا جائے گا کہ ظالموں کے لئے ہلاکت ہے۔ تو دور کی نسل بھی دیکھے گا اور ہم تجھے خوش زندگی عطا کریں گے۔ اسّی سال یا اس کے قریب یا اس سے چند سال زیادہ۔ اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا۔ یہ تیرے ربّ کی رحمت سے ہے۔ وہ اپنی نعمت کو تجھ پر پورا کرے گا تاکہ مومنوں کے لئے نشان ہو۔ اللہ تعالیٰ کئی معرکوں میں تیری نصرت کرے گا۔ اور اللہ اپنا نور پورا کرے گا اگرچہ کافر ناپسند کریں۔ اور وہ مکر کرتے ہیں ۔ اللہ انہیں ان کے مکر کی سزا دے گا اور اللہ سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔ دیکھ اللہ تعالیٰ کی رحمت تجھ سے قریب ہے۔ اس کی مدد تجھ سے قریب ہے۔ اس کی مدد ہر ایک دور کی راہ سے تجھے پہنچے گی۔ دور کی راہ سے مدد کرنے والے آئیں گے۔ ایسے لوگ تیری مدد کریں گے جن پر ہم آسمان سے وحی نازل کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کی باتوں کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ وہ غالب اور عظمت والا ہے۔ وہ وہ خدا ہے جس نے اپنا رسول اپنی ہدایت ، اپنے سچے دین اور اخلاق کی درستی کے لئے بھیجا۔ اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ عنقریب یہ معاملہ درہم برہم کر دیا جائے گا حالانکہ انہیں غیب پر کوئی اطلاع نہیں ۔ ہم نے تجھے دُنیا اور تیرے ربّ کی رحمت کے خزانے دیئے اور تو ان لوگوں میں

یہ حوالہ صفحہ 215 پر درج ہے | تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات طبع چہارم صفحہ 301 از مرزا قادیانی

صفحہ 794

حوالہ نمبر 285

ضمیمہ براہین احمدیہ ۲۵۸ حصہ پنجم

بارے میں اس قدر کافی سمجھا گیا ہے کہ وہ خارق عادت اور انسانی طاقتوں سے بالاتر ہو یا یہ کہ کسی ایسے غیب پر مشتمل ہو جو انسانی پیش بینی سے بلندتر ہو۔ جب ایک پیشگوئی خارق عادت کے طور پر بیان کی جائے جس کے بیان کرنے کے وقت کسی عقل اور فہم کو یہ خیال نہ ہو کہ ایسا امر ہونے والا ہے اور صریح وہ ایک غیر معمولی بات ہو جس کی گذشتہ صدہا سال میں کوئی نظیر نہ پائی جائے اور نہ آئندہ اس کے ظہور کے لئے آثار ظاہر ہوں اور وہ پیشگوئی سچی نکلے عہ تو عقل سلیم حکم دیتی ہے کہ ایسی پیشگوئی ضرور منجانب اللہ سمجھی جائیگی ورنہ تمام نبیوں کی پیشگوئیوں سے انکار کرنا پڑیگا۔ اب تم کان کھول کر سن لو کہ آئندہ زلزلہ کی نسبت جو میری پیشگوئی ہے اُس کو ایسا خیال کرنا کہ اُس کے ظہور کی کوئی بھی حد مقرر نہیں کی گئی یہ خیال سراسر غلط ہے کہ جو محض قلت تدبر اور کثرت تعصب اور جلد بازی سے پیدا ہوتا ہے۔ کیونکہ بارہا وحی الٰہی نے مجھے اطلاع دی ہے کہ وہ پیشگوئی میری زندگی میں اور میرے ہی ملک میں اور میرے ہی فائدہ کے لئے ظہور میں آئیگی۔ اور اگر وہ صرف معمولی بات ہو جس کی نظیریں آگے پیچھے صدہا موجود ہوں اور اگر کوئی ایسا خارق عادت امر نہ ہو جو قیامت کے آثار ظاہر کرے تو پھر میں خود اقرار کرتا ہوں کہ اس کو پیشگوئی مت سمجھو۔ اس کو بقول اپنے تمسخر ہی سمجھ لو۔ اب میری عمر ستر برس کے قریب ہے اور بیس برس کی مدت گذر گئی کہ خدا تعالیٰ نے مجھے صریح لفظوں میں اطلاع دی تھی کہ تیری عمر اسی برس کی ہوگی اور یا یہ کہ پانچ چھ سال زیادہ یا پانچ چھ سال کم۔ پس اس صورت میں اگر خدا تعالیٰ نے اس آفت شدیدہ کے ظہور میں بہت ہی تاخیر ڈال دی تو زیادہ سے زیادہ سولہ سال ہیں اس سے زیادہ نہیں کیونکہ ضرور ہے کہ یہ حادثہ میری زندگی میں ظہور میں آئے۔*

* خدا تعالیٰ کا الہام ایک یہ بھی ہے۔ عیمر ہیلو آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زلزلہ موعودہ کے وقت بہار کے دن ہونگے۔ اور جیسا کہ بعض الہامات سے سمجھا جاتا ہے غالباً وہ صبح کا وقت ہوگا یا اس کے قریب اور غالباً وہ وقت نزدیک ہے جبکہ وہ پیشگوئی ظہور میں آجائے اور ممکن ہے کہ خدا اس میں کچھ تاخیر ڈال دے۔ منہ

براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 97 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 258 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 215 پر درج ہے

صفحہ 795

حوالہ نمبر 286

ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ۴۴

مگر یہ دلیل ٹوٹ نہ سکی۔ حافظ صاحب علم سے بے بہرہ ہیں۔ اُن کو خبر نہیں کہ ہزار ہا نامی علماء اور اولیاء ہمیشہ اسی دلیل کو کفار کے سامنے پیش کرتے رہے اور کسی عیسائی یا یہودی کو طاقت نہ ہوئی کہ کسی ایسے شخص کا نشان دے جس نے افتراء کے طور پر مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ کر کے زندگی کے تیس برس پورے کئے ہوں۔ پھر حافظ صاحب کی کیا حقیقت اور سرمایہ ہے کہ اس دلیل کو توڑ سکیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ اسی وجہ سے بعض جاہل اور نا فہم مولوی میری ہلاکت کے لئے طرح طرح کے حیلے سوچتے رہے ہیں تا یہ مدت پوری نہ ہونی پاوے جیسا کہ یہودیوں نے نعوذ باللہ حضرت مسیح کو رفع سے بے نصیب ٹھیرانے کے لئے صلیب کا حیلہ سوچا تھا تا اس سے دلیل پکڑیں کہ عیسیٰ بن مریم اُن صادقوں میں سے نہیں ہے جن کا رفع الی اللہ ہوتا رہا ہے۔ مگر خدا نے مسیح کو وعدہ دیا کہ میں تجھے صلیب سے بچاؤں گا اور اپنی طرف تیرا رفع کرونگا۔ جیسا کہ ابراہیم اور دوسرے پاک نبیوں کا رفع ہوا۔ سو اس طرح اُن لوگوں کے منصوبوں کے برخلاف خدا نے مجھے وعدہ دیا کہ میں اسّی برس یا دو تین برس کم یا زیادہ تیری عمر کروں گا تا لوگ کمی عمر سے کاذب ہونے کا نتیجہ نہ نکال سکیں۔ جیسا کہ یہودی صلیب سے نتیجہ عدم رفع کا نکالنا چاہتے تھے۔ اور خدا نے مجھے وعدہ دیا کہ میں تمام خبیث مرضوں سے بھی تجھے بچاؤں گا، جیسا کہ اندھا ہونا تا اس سے بھی کوئی بد نتیجہ نہ نکالیں اور خدا نے مجھے اطلاع دی کہ بعض ان میں سے تیرے پر بددعائیں بھی کرتے رہیں گے مگر ان کی بد دعائیں میں انہی پر ڈالوں گا۔ اور درحقیقت لوگوں نے اس خیال سے کہ کسی طرح دفعہ قتل کے نیچے مجھے لے آئیں منصوبہ بازی میں کچھ کمی نہیں کی، بعض مولویوں نے قتل کے فتوے دیئے بعض مولویوں نے جھوٹے قتل کے مقدمات بنانے کے لئے میرے پر گواہیاں دیں۔ بعض مولوی

+ الہام الہی آنکھ کے بارے میں یہ ہے۔ تنزل الرحمۃ علی ثلث العینین وعلی الاخریین ۔ یعنی تیرے تین عضووں پر خدا کی رحمت نازل ہوگی ۔ ایک آنکھ اور باقی دو اور ۔ منہ ٭

۸

تحفہ گولڑویہ [ضمیمہ] صفحہ 8 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 44 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 216 پر درج ہے

صفحہ 796

حوالہ نمبر 287 ۶۹ ضمیمہ تحفہ گولڑویہ

نام آسمان پر احمد ہو گا۔ اور وہ حضرت مسیح کے رنگ میں جسمانی طور پر دین کو پھیلائے گا ویسا ہی یہ آیت واتخذوا من مقام ابراھیم مصلیٰ اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ جب اُمتِ محمدیہ میں بہت فرقے ہو جائیں گے تب آخر زمانہ میں ایک ابراہیم پیدا ہوگا اور ان سب فرقوں میں وہ فرقہ نجات پائیگا کہ اس ابراہیم کا پیرو ہوگا۔ اب ہم بطور نمونہ چند الہامات دوسری کتابوں میں سے لکھتے ہیں چنانچہ ازالۃ الاوہام میں صفحہ ۶۳۲ سے اخیر تک اور نیز دوسری کتابوں میں یہ الہام ہیں جعلناک المسيح ابن مریم۔ ہم نے تجھ کو مسیح ابن مریم بنایا ۔ یہ کہینگے کہ ہم نے پہلوں سے ایسا نہیں سُنا سو تو ان کو جواب دے کہ تمہارے معلومات وسیع نہیں تم ظاہر لفظ اور ابہام پر قانع ہو۔ اور پھر ایک اور الہام ہے اور وہ یہ ہے الحمد لله الذی جعلك المسيح ابن مریم انت بمنزلة المسيح الذی لا يضاع وقته كمثلك درّ لا يضاع ۔ یعنی خدا کی سب حمد ہے جس نے تجھ کو مسیح ابن مریم بنایا ۔ تو وہ شفیع مسیح ہے جس کا وقت ضائع نہیں کیا جاوے گا۔ تیرے جیسا موتی ضائع نہیں کیا جاتا ۔ اور پھر فرمایا لتمتعنّ حيوة طيبة ثمانين حولا او قريبا من ذالك - وترى نسلا بعيدا مظهر الحق والعلاء كان الله نزل من السماء ۔ یعنی ہم تجھے ایک پاک اور آرام کی زندگی عنایت کرینگے ۔ اسّی برس یا اس کے قریب قریب یعنی دو چار برس کم یا زیادہ اور تُو ایک دور کی نسل دیکھے گا۔ بلندی اور غلبہ کا مظہر گویا خدا آسمان سے نازل ہوا ۔ اور پھر فرمایا ۔ یأتی قمر الانبیاء وامرك يتأتی ما انت ان تترك الشيطان قبل ان تغلبه ۔ الفوق معك و التحت مع اعداءك ۔ یعنی نبیوں کا چاند چڑھے گا ۔ اور تو کامیاب ہو جائیگا ۔ تو ایسا نہیں کہ شیطان کو چھوڑ دے قبل اس کے کہ اُس پر غالب ہو ۔ اور اوپر رہنا تیرے حصہ میں ہے اور نیچے رہنا تیرے دشمنوں کے حصّہ میں ۔ اور پھر فرمایا ۔ انی مهین من اراد اهانتك ۔ وما كان الله ليتركك حتى يميز الخبيث من الطیب ۔ سبحان الله انت معی ۔ فكيف

۳۳

یہ حوالہ صفحہ 216 پر درج ہے تحفہ گولڑویہ صفحہ 33 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 69 از مرزا قادیانی

صفحہ 797

حوالہ نمبر 288

۵۲۷

رکھوں گا اور اُن میں ترقی اور عروج دوں گا۔

میں اس بات کو کیونکر انکار کر سکتا ہوں۔ میں بخوبی جانتا ہوں کہ ایک وقت آنے والا ہے کہ ملوک، امراء، تاجر اور ہر قسم کے معزز لوگ یہی ہوں گے۔ لوگوں کے نزدیک یہ انہونی بات ہے مگر میں یقیناً جانتا ہوں کہ یہی ہو گا وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے بلکہ مجھے وہ بادشاہ دکھائے بھی گئے ہیں جو گھوڑوں پر سوار تھے۔ یہ خوش قسمتی کی بات ہے کہ جو اس سلسلہ میں داخل ہوتا ہے اب اس وقت کوئی اس کو باور نہیں کرتا۔ لیکن میں جانتا ہوں کہ ایسا ہو گا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تھا کہ دین و دنیا ان میں ہی آجائیں گے اس وقت کسی کو خیال ہو سکتا تھا کہ مکہ اتنے آدمی صرف آپ کے ساتھ تھے جو ایک چھوٹے حجرہ میں آسکتے تھے اور لوگ ایسی باتوں کو سنکر اور مسکرا کر استہزاء کرتے تھے کہ گھر سے نکلنے کا موقعہ نہیں ملتا اور یہ دعوے ہیں۔ آخر سب کو معلوم ہو گیا کہ جو فرمایا تھا وہ سچ تھا۔

مامور اپنی ابتدائی حالت میں ہلال کی طرح ہوتا ہے۔ ہر ایک شخص اس کو نہیں دیکھ سکتا لیکن جو تیز نظر ہوتے ہیں وہ دیکھ لیتے ہیں اسی طرح پر سعید الفطرت مومن مامور کو اس کی ابتدائی حالت میں جبکہ وہ ابھی مخفی رہتا ہے شناخت کر لیتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ماننے والوں کا نام سابقین رکھا ہے لیکن جب بہت سے مسلمان فوج در فوج اسلام میں داخل ہوئے تو ان کا نام صرف ناس رکھا گیا جیسے فرمایا اِذَا جَاءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَالْفَتْحُ وَرَاَیْتَ النَّاسَ يَدْخُلُوْنَ فِی دِيْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًا (النصر:٢،٣) حقیقت یہی ہے کہ جب حق کھل جاتا ہے پھر انکار کی گنجائش نہیں رہتی جیسے جب دن چڑھا ہو تو پھر بجز خفاش کے کون انکار کرے گا۔ اصل بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ ہیں جن پر حق کھل جاتا ہے مگر دنیا کے تعلقات اور مجبوریوں کو اپنا معبود بنا لیتے ہیں اور اس حق سے محروم رہتے ہیں پس ہمیشہ خدا تعالیٰ سے دعا مانگنی چاہیئے کہ وہ ان ظلمات سے بچاتا رہے اور قبول حق کے لیے کوئی روک اس کے واسطے نہ ہو۔

نواب صاحب :۔ آپ میرے لیے ایمان کی دعا کریں۔ دنیا سے تو آخر ایک دن سفر ہی جانا ہے۔

حضرت اقدس :۔ اچھا میں تو دعا کروں گا مگر آپ کو بھی ان آداب اور شرائط کا لحاظ رکھنا چاہیئے جو دعا کے واسطے ضروری ہیں۔ میرے دعا کرنے سے کیا ہو گا جب آپ توجہ نہ کریں۔ بیمار کو چاہیئے کہ طبیب کی ہدایتوں اور پرہیز پر بھی تو عمل کرے۔ پس دعا کرانے کے واسطے ضروری ہے کہ آدمی خود اپنی اصلاح بھی کرے۔

مشیرِ اعلیٰ :۔ کیا جناب کو یہ بھی اطلاع دی گئی ہے کہ آپ کی عمر کتنی ہو گی۔

حضرت اقدس :۔ ہاں عمر کے متعلق مجھے الہاماً یہ بتایا گیا تھا کہ وہ اسی کے قریب ہوگی۔ اور حال میں ایک رویا کے ذریعہ

ملفوظات جلد سوم صفحہ 537، 538 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 216 پر درج ہے

صفحہ 798

حوالہ نمبر 288

۸۳۸

یہ بھی معلوم ہوا کہ ۱۵ سال اور بڑھانے کے واسطے دُعا کی ہے۔ (اس پر حضرت اقدس نے رؤیا سنایا جو الحکم میں درج ہو چکا ہے۔ ایڈیٹر)

مشیر علی:۔ جناب کی عمر کیا ہوگی ؟

حضرت اقدس:۔ ۶۵ یا ۶۶ سال ۔

جب ایک عقیدہ پُرانا ہو جاتا ہے اور دیر سے انسان اس پر رہتا ہے تو پھر اسے اس کے چھوڑنے میں بڑی مشکلات پیش آتی ہیں۔ وہ اس کے خلاف سُن نہیں سکتا بلکہ خلاف سُننے پر وہ خون تک کرنے کو تیار ہو جاتا ہے کیونکہ پُرانی عادت طبیعت کے رنگ میں ہو جاتی ہے۔ اس لیے مَیں جو کچھ کہتا ہوں اس کی مخالفت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ایک جمے ہوئے خیال کو یہ لوگ چھوڑنا پسند نہیں کرتے۔

مشیر علی:۔ اصل میں یہ کام جو آپ کر رہے ہیں ، ہے بھی عظیم الشان ۔

حضرت اقدس:۔ یہ میرا کام نہیں ہے، یہ تو خلافتِ الٰہی ہے، جو میری مخالفت کرتا ہے وہ میری نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرتا ہے، اس وقت مسلمانوں کی اخلاقی اور عملی حالت بہت خراب ہو چکی ہے، خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا ہے، کہ اس فسق و فجور کی آگ سے ایک جماعت کو بچائے اور مخلص اور متقی گروہ میں شامل کرے۔

یہ انقلابِ عظیم الشان جو مسلمانوں کی اس حالت میں ہونے والا ہے اگر یہ انقلاب ہوا تو سمجھ لو کہ یہ سلسلہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے ورنہ جھوٹا ٹھہرے گا کیونکہ خدا تعالیٰ نے ایسا ہی ارادہ کیا ہے اور خدا تعالیٰ کے کام کو کوئی روک نہیں سکتا۔

مسیح موعود جو نام رکھا ہے اور کسر الصلیب اس کا کام مقرر فرمایا ہے، یہ اس لیے ہے کہ عیسائیت کا زمانہ ہو گا اور عیسائیت نے اسلام کو بہت نقصان پہنچایا ہو گا چنانچہ اب دیکھ لو کہ تیس لاکھ کے قریب آدمی مُرتد ہو چکے ہیں۔ اور پھر ان مرتدین میں شیخ، سید، مغل، پٹھان ہر قوم ہر طبقہ کے لوگ ہیں۔ عورتیں بھی ہیں اور مرد بھی ہیں اور بچے بھی ہیں۔ کوئی شہر نہیں جہاں ان کی چھاؤنی نہ ہو اور انہوں نے اپنا سکہ نہ جمایا ہو۔ یہ چھوٹی سی بات نہیں ہے کہ حقیقی خدا کو چھوڑ کر ایک بناوٹی اور مصنوعی خدا بنایا جاوے اور اس کی پرستش ہو۔ پھر یہی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے سچے نبی اور افضل الرسل پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دی گئیں آپ کی شانِ پاک میں ہر قسم کی گستاخیاں اور ہرزہ گوئیاں روا رکھی گئیں جن کو سُنکر بدن پر لرزہ پڑ جاتا ہے اور کوئی نیک انسان ان کو سُن ہی نہیں سکتا۔ جب ہم ان باتوں کو برداشت نہیں کر سکتے تو خدا تعالیٰ کی غیرت

ملفوظات جلد سوم صفحہ 537، 538 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 216 پر درج ہے

صفحہ 799

حوالہ نمبر 289

۴۷۱ اربعین نمبر ۴

دوران سر اور کمی خواب اور تشنج دل کی بیماری دورہ کے ساتھ آتی ہے ۔ اور دوسری بیماری جو میرے نیچے کے حصہ بدن میں ہے وہ بیماری ذیابیطس ہے کہ ایک مدت سے دامنگیر ہے اور بسا اوقات سو سو دفعہ رات کو یا دن کو پیشاب آتا ہے اور اس قدر کثرت پیشاب سے جس قدر عوارض ضعف وغیرہ ہوتے ہیں وہ سب میرے شامل حال رہتے ہیں ۔ بسا اوقات میرا یہ حال ہوتا ہے کہ نماز کے لئے جب زینہ چڑھکر اوپر جاتا ہوں تو مجھے اپنے ظاہر حالت پر امید نہیں ہوتی کہ زینہ کی ایک سیڑھی سے دوسری سیڑھی پر پاؤں رکھنے تک میں زندہ رہوں گا ۔ اب جس شخص کی زندگی کا یہ حال ہے کہ ہر روز موت کا سامنا اس کے لئے موجود ہوتا ہے اور ایسے مریضوں کے انجام کی نظیریں بھی موجود ہیں تو وہ ایسی خطرناک حالت کے ساتھ کیونکر افتراء پر جرأت کر سکتا ہے اور وہ کس صحت کے بھروسے پر کہتا ہے کہ میری اسی برس کی عمر ہوگی ۔ حالانکہ ڈاکٹری تجارب تو اس کو موت کے پنجہ میں ہر وقت پھنسا ہوا خیال کرتے ہیں ۔ ایسی مرضوں والے مدقوق کی طرح گداز ہو کر جلد مر جاتے ہیں یا کاربنکل یعنی سرطان سے اُن کا خاتمہ ہو جاتا ہے ۔ تو پھر جس زور سے میں ایسی حالت پُر خطر میں تبلیغ میں مشغول ہوں کیا کسی مفتری کا کام ہے ۔ جب میں بدن کے اوپر کے حصہ میں ایک بیماری ۔ اور بدن کے نیچے کے حصہ میں ایک دوسری بیماری دیکھتا ہوں تو میرا دل محسوس کرتا ہے کہ یہ وہی دو بیماریاں ہیں جن کی خبر جناب رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم نے دی ہے ۔

میں محض نصیحتاً للّٰہ مخالف علماء اور ان کے ہمخیال لوگوں کو کہتا ہوں کہ گالیاں دینا اور بدزبانی کرنا طریق شرافت نہیں ہے ۔ اگر آپ لوگوں کی یہی طینت ہے تو خیر آپ کی مرضی ۔ لیکن اگر مجھے آپ لوگ کاذب سمجھتے ہیں تو آپ کو یہ بھی تو اختیار ہے کہ مساجد میں اکٹھے ہو کر یا الگ الگ میرے پر بددعائیں کریں

۱۲۹

اربعین نمبر 4 صفحہ 129 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 471 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 216 پر درج ہے

صفحہ 800

حوالہ نمبر 290 ۹۳

میری طرف بناوٹ سے منسوب کر دیتا تو میں اُسے پکڑتا اور اُسکی رگ جان قطع کر دیتا۔ گویا یہ تمام آیات بسان قطع الوتین سے ردّ ہوگئیں۔ اور اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ گویا یہ تمام وعید خدا تعالیٰ کی جو اُوپر کی تمام آیتوں میں مفتریوں کے متعلق ہیں یہ بالکل خلاف واقع باتیں تھیں اور یہ انبیاء علیہم السلام اگر نعوذ باللہ افتراء کرنیوالے ہوتے تب بھی بقول حافظ صاحب ہلاک نہ کئے جاتے تو گویا خدا کی گورنمنٹ میں مفتریوں کیلئے کوئی انتظام نہیں اور وہاں ہر ایک فریب چل جاتا ہے۔ اور یہ امکان باقی رہتا ہے کہ اگر خدا پر کوئی نبی افتراء بھی کرتا تو دنیا کی زندگی میں اس کے لئے کوئی عذاب نہ تھا۔ گویا خدا کے قانون سے انسانی گورنمنٹ کے قانون بڑھکر ہیں کہ ان میں جھوٹی دستاویز بنانے والے دست بدست پکڑے جاتے اور سزا پاتے ہیں۔ اسی جگہ یہ مسئلہ بھی حل ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کی تکمیل تک جو تئیس برس کی مدّت تھی مہلت ملنا اور مخالفانہ کوششوں سے جو ہلاک کرنے کے لئے تھیں محفوظ رہنا اور زندگی پوری کر کے خدا کے حکم کے ساتھ جانا جیسا کہ میرے لئے بھی اتنے برس کی زندگی کی پیشگوئی ہو چکی ہے سب کچھ ہیچ ہے۔ اور یہ باتیں حافظ صاحب کی نظر میں معجزہ کے رنگ میں نہیں ہیں اور نہ ایسی پیشگوئیوں کے پورا ہونے پر کوئی شخص صادق سمجھا جاتا ہے۔ غرض کیا میں اور کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، حافظ صاحب کے مذہب کے رُو سے اس حفاظت اور عصمت الہی کو اپنی سچائی کی دلیل نہیں ٹھہرا سکتے بلکہ کاذب بھی اس میں شریک ہو سکتا ہے۔ مگر اس طرح پر تو قرآن شریف کا تمام بیان غلط ٹھہرتا ہے۔ کیونکہ قرآن شریف سے ثابت ہے کہ ہر ایک مفتری پکڑا جائیگا۔ ذلیل ہوگا۔ ہلاک ہوگا۔

*جبکہ حافظ صاحب کے نزدیک جھوٹے پیغمبروں کی بھی اس قدر تائید ہو سکتی ہے کہ باوجود دشمنوں کی جان توڑ کوششوں کے، وہ اسوقت تک زندہ رہ سکتے ہیں کہ اپنے دین کو زمین پر جمادیں۔ تو اس اصول سے سچے نبی سب خاک میں مل گئے اور جھوٹ اور سچ میں سخت گڑبڑ پڑ گیا۔ اور ظاہر ہے کہ ہزاروں دشمنوں کے عہد و پیمانوں اور فریبوں اور کوششوں کے مخالف ایک مدعی کو زندہ رکھنا اور دین کو زمین پر جما دینا یہ خدا تعالیٰ کا بڑا معجزہ ہے جو سچے نبیوں کو دیا جاتا ہے۔ پس جبکہ اس معجزہ میں جھوٹے پیغمبر بھی شریک ہیں تو اس مقدس معجزہ پر کیا اعتبار نہ رہا اور سچے نبی کی سچائی پر کوئی علامت قائم نہ رہی۔ واہ۔ واہ رے حافظ صاحب آپ نے اسلام کا ہی خاتمہ کیا۔ حافظ ہوں تو ایسے ہوں۔ منہ

یہ حوالہ صفحہ 217 پر درج ہے حاشیہ صفحہ 93 از مرزا قادیانی تحفہ الندوہ

صفحہ 801

حوالہ نمبر 291

۱۷۷

۱۱ عبداللہ آتھم صاحب کو ایک ہزار انعام کا وعدہ دیا گیا تھا۔ شرطیہ طور پر (تسلیم کیا گیا) ۔ ۱۲ عبداللہ آتھم صاحب کو دو ہزار روپیہ کے انعام کا وعدہ دیا گیا ۔ ۱۳ ایضاً تین ہزار ایضاً۔ ۱۴ ایضاً چار ہزار ایضاً ۔ ۱۵ انجام آتھم شائع کیا گیا (تسلیم ہوا) ۱۶ انجام آتھم میں مرزا صاحب نے پیش گوئی کی تھی کہ ۹۴ مولوی اور ۹۸ چھاپہ والے اگر ہمارے پر ایمان نہیں لاویں گے تو مرجائیں گے (مرزا صاحب نے اس کو تسلیم نہیں کیا) ۱۷ اس پیش گوئی میں لیکھرام کے مرنے کی بابت وہ لوگوں کو بتلاتے ہیں کہ مباہلہ کریں (تسلیم کیا گیا) ۱۸ گنگا بشن کو مباہلہ کے واسطے بلایا گیا (تسلیم کیا) ۱۹ مولوی محمد حسین بٹالوی کو مباہلہ کے واسطے بلایا گیا (تسلیم کیا گیا) ۲۰ داتے ہندرسنگھ کو مباہلہ کے واسطے بلایا گیا (تسلیم کیا گیا) ۲۱ پیشگوئی بابت مرنے لیکھرام کی ۔ (تسلیم کیا گیا) ۲۲ نسبت

بقیہ حاشیہ

سواروں کے اپنی گرہ سے خرید کر دیئے تھے اور آئندہ گورنمنٹ کو اس قسم کی مدد کا عندالضرورت وعدہ بھی دیا ۔ اور سرکار انگریزی کے حکام وقت سے بصلہ خدمات عمدہ عمدہ چٹھیاں خوشنودی مزاج ان کو ملی تھیں۔ چنانچہ سرلیپل گرفن صاحب نے بھی اپنی کتاب تاریخ رئیسان پنجاب میں ان کا تذکرہ کیا ہے۔ غرض وہ حکام کی نظر میں بہت ہر دلعزیز تھے۔ اور بسا اوقات ان کی دلجوئی کے لئے حکام وقت ڈپٹی کمشنر کمشنر ان کے مکان پر آکر ان کی ملاقات کرتے تھے۔ یہ مختصر میرے خاندان کا حال ہے میں ضروری نہیں دیکھتا کہ اس کو بہت طول دوں۔ اب میرے ذاتی سوانح یہ ہیں کہ میری پیدائش ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی ہے اور میں ۱۸۵۷ء میں سولہ برس کا یا سترہویں برس میں تھا۔ اور ابھی ریش و بروت کا آغاز نہیں تھا۔ میری پیدائش سے پہلے میرے والد صاحب نے بڑے بڑے مصائب دیکھے۔ ایک دفعہ ہندوستان کا پیادہ پا سیر بھی کیا۔ لیکن میری پیدائش

(نوٹ :۔ میں توام پیدا ہوا تھا ایک لڑکی جو میرے ساتھ تھی وہ چند دن کے بعد فوت ہو گئی تھی۔ میں خیال کرتا ہوں کہ اس طرح پر خدا تعالیٰ نے تانیث کا مادہ مجھ سے بکلی الگ کر دیا۔ منہ)

۱۵۹

کتاب البریہ صفحہ 159 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 177 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 217 پر درج ہے

صفحہ 802

حوالہ نمبر 292 ١٩٢

کوئی کوشش مجھ پر حملہ کرنے کی نہیں کی تھی اور جولائی ۹۷ء کو اُس نے اقبال کیا تھا میں خالص اُس کام کے واسطے وہاں اس روز گیا تھا اور اُس کو کہا کہ سچ سچ بتلا۔ اسنے اپنے آپکو دو چار دفعہ دلیارام بھی بتلایا بعد میں اقبال کیا۔ بغیر کسی دباؤ اُس نے اقبال کیا تھا۔ اور کہا تھا کہ اگر مجھے کوئی خطرہ نہ ہو وے تو بتلاتا ہوں۔ اور پھر میرے وعدہ پر کہ تمہارا نقصان نہ ہو گا اقبال کیا تھا۔ پانچ آدمی موجود تھے۔ پرمداس ۔ وارث دین ۔ عبد الرحیم ۔ دیال چند اور ایک اور آدمی نام یاد نہیں۔ وارث دین میرے ماتحت نہیں ہے وہ عیسائی نہیں ہے ٭ ۔ بیاس میں ہماری کوٹھی کے کھانے والے کمرہ میں یہ گفتگو عبدالحمید سے ہوئی تھی اور اسی وقت اسکی قلم سے اقبال لکھوایا تھا۔ اسکی قلم کا لکھا ہوا بھی کاغذ ہمنے دیا تھا۔ اول ایک اور کاغذ بطور مسودہ لکھا تھا۔ پھر اس کاغذ حرف H پر نقل کیا تھا۔ جہانتک مجھے علم ہے ہم نے یا ہمارے متعلقین نے کوئی لفظ یا حرف اسکو نہیں بتلایا تھا۔ ۴ اور ۵ بجے شام کے درمیان کا یہ واقعہ ہے ۵ بجے کے بعد ۵ بجے سے پہلے لکھا گیا تھا۔ تین کس دیگر تھے۔ ایک سب پوسٹماسٹر ۔ پوسٹماسٹر و تار بابو بلائے گئے تھے۔ اور اُنکو کہا گیا تھا کہ اس نوجوان سے پوچھ لو۔ اور انہوں نے دریافت کیا تھا اور اُن سے کہا تھا کہ میں اپنی خوشی سے لکھتا ہوں اور یہ امر سچ ہے۔ یہ تینوں گواہ ہندو ہیں۔ ہم کو معلوم نہیں کہ آریہ ہیں یا نہ ۔ چونی لال کو ہم پیش کرینگے۔ ہماری کوٹھی پر تینوں

بقیہ حاشیہ صفحہ گذشتہ

آخر اس حسرت کو ساتھ لیجا ئینگے حسرتیں سب فنا ہو گئے۔ میری عمر قریباً پینتیس یا چھتیس برس کے ہوگی جب حضرت والد صاحب کا انتقال ہوا۔ مجھے ایک خواب میں بتلایا گیا تھا کہ اب ان کے انتقال کا وقت قریب ہے۔ میں اسوقت لاہور میں تھا جب مجھے یہ خواب آیا تھا۔ تب میں جلدی سے قادیان پہنچا اور انکو مرض زحیر میں مبتلا پایا۔ لیکن یہ امید ہرگز نہ تھی کہ وہ دُوسرے دن میرے آنے سے فوت ہو جائینگے۔ کیونکہ مرض کی شدت کم ہو گئی تھی اور وہ بڑے استقلال سے بیٹھے رہتے تھے۔ دُوسرے دن شدت دوپہر کے وقت ہم سب عزیز انکی خدمت میں حاضر تھے کہ مرزا صاحب نے مہربانی سے مجھے فرمایا کہ اسوقت تم ذرا آرام کر لو۔ کیونکر جون کا مہینہ تھا اور

٭ یہ بات غلط ہے بلکہ وارث دین عیسائی ہے ۔ منہا

کتاب البریہ صفحہ 174 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 192 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 218 پر درج ہے

صفحہ 803

حوالہ نمبر 293

۵۶۹

اس جماعت میں سے ایک شخص دُنیا سے رُخصت ہو جائے گا اور پیٹ پھٹ جائے گا اور شعبان کے مہینہ میں وہ فوت ہوگا۔

(تتمہ حقیقۃ الوحی صفحہ ۳)

۸؍ ستمبر ۱۹۰۶ء رؤیا ۔ دیکھا کہ حضرت مولوی نور الدین صاحب نے ایک کاغذ بھیجا ہے جو پروف کی طرح ہے جو لڑکا لے کر آیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اس کے حاشیہ پر سطر ہے ذرا پڑھ لینا۔ اُس کاغذ کے دائیں طرف کے حاشیہ پر لکھا ہے :-

دشمن نہایت اضطراب میں ہے

(بدر جلد ۲ نمبر ۳۷ مورخہ ۱۳؍ ستمبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۲۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۳۲ مورخہ ۱۷؍ ستمبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۱)

۱۵؍ ستمبر ۱۹۰۶ء فرمایا۔ گھر میں ایک چوکھٹ کے اندر ایک قطعہ لگا ہوا ہے جس پر لکھا ہے :-

رَبِّ كُلِّ شَيْءٍ خَادِمُكَ

ہم نے آج کشفی نگاہ میں دیکھا کہ وہ الفاظ مٹے ہوئے ہیں مگر اس پر لکھا ہے ۔ خیر۔

(بدر جلد ۲ نمبر ۳۸ مورخہ ۲۰؍ ستمبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۳۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۳۲ مورخہ ۲۴؍ ستمبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۱)

۱۷؍ ستمبر ۱۹۰۶ء لے "(۱) قَالَ رَبُّكَ إِنَّهُ نَازِلٌ مِّنَ السَّمَاءِ مَا يُرْضِيْكَ وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بِأَمْرِ رَبِّكَ ۔ (۲) قَدْ سَمِعَ اللهُ ۔ اُجِيْبَتْ دَعْوَتُكَ ۔ إِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِيْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ ۔ (۳) بَارَكَ اللهُ فِيْ إِلْهَامِكَ وَوَحْيِكَ وَرُؤْيَاكَ ۔"

لے یہ الہام ۲۰؍ جولائی ۱۹۰۶ء کو ہوا تھا۔ دیکھئے صفحہ ۵۶۳۔ (مرتب)

۲؎ (ترجمہ از مرتب) (۱) تیرے ربّ نے فرمایا ہے کہ تیرے لئے آسمان سے وہ چیز اُترنے والی ہے جو تجھے خوش کر دے گی اور ہم تیرے ربّ کے حکم کے سوا فرشتے کبھی نازل نہیں ہوتے۔

۳؎ (ترجمہ) (۲) اللہ تعالیٰ نے تیری دُعا سُن لی۔ تیری دُعا قبول کی گئی۔ اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور وہ جو نیکی کرتے ہیں۔

۴؎ (۳) برکت دی اللہ تعالیٰ نے تیرے الہام میں اور تیری وحی میں اور تیری خوابوں میں۔

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 569 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 218 پر درج ہے

صفحہ 804

حوالہ نمبر 294

نشان آسمانی ۱۴

گلشن شرع را ہمے بویم گل دیں را ببار مے بینم

یعنی اُس سے شریعت تازہ ہو جائیگی اور دین کے شگوفوں کو پھل لگیں گے۔ یہ اُس الہام کے مطابق ہے جو براہین احمدیہ کے صفحہ ۴۹۸ میں درج ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ہر یک دین پر بذریعہ اس عاجز کے دین اسلام غالب کیا جائیگا اور پھر صفحہ ۴۹۱ براہین میں یہ الہام ہے کہ خدا تجھ کو ترک نہیں کریگا جبتک کہ خبیث اور پاک میں فرق کر کے دکھلاوے۔

تا چہل سال اے برادر من دور آں شہسوار مے بینم

یعنی اُس روز سے جو وہ امام ملہم ہو کر اپنے تئیں ظاہر کریگا چالیس برس تک زندگی کریگا۔ اب واضح رہے کہ یہ عاجز اپنی عمر کے چالیسویں برس میں دعوتِ حق کے لئے بالہامِ خاص مامور کیا گیا اور بشارت دی گئی کہ ۸۰ برس تک یا اسکے قریب تیری عمر ہے سو اس الہام سے چالیس برس تک دعوت ثابت ہوتی ہے جن میں سے دس برس کامل گزر بھی گئے دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۲۳۸ واللہ علیٰ کل شئی قدیر اگرچہ ابتک حضرت مسیح کی طرح دعوت حق کے آثار نمایاں نہیں لیکن اپنے وقت پر تمام باتیں پوری ہونگی۔

عاصیاں از امام معصومم خجل و شرمسار مے بینم

اس بیت میں اِس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اُس امام کی جو چودھویں صدی کے سر پر آئیگا مخالفت اور نافرمان بھی ہونگے جنکے لئے آخر خجالت اور شرمساری مقدر ہے اِسی کی طرف اِس الہام میں اشارہ ہے جو فیصلہ آسمانی میں چھپ چکا ہے اور وہ یہ ہے کہ مَیں فتاح ہوں تجھے فتح دُونگا ایک عجیب مدد تو دیکھے گا اور سجدہ گاہوں میں گریں گے یعنے مخالف لوگ یہ کہتے ہوئے کہ خدایا ہمیں بخش کہ ہم خطاوار تھے۔

۲۷۳

نشان آسمانی صفحہ 14 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 374 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 219 پر درج ہے

صفحہ 805

حوالہ نمبر 295

۸۱۰

یہ خیال گذرتا ہے۔ واللہ اعلم کہ کوئی شخص زنانہ طور پر مکر کرے یعنی مرد میدان بن کر کاروائی نہ کرے بلکہ چھپ کر عورتوں کی طرح کوئی نقصان پہنچانا چاہے۔ جس کا نتیجہ آخر ہزیمت ہو۔ مگر یہ صرف اجتہادی رائے ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے اس کے کیا معنے ہیں۔ ایک مردوں کی چال ہوتی ہے اور ایک زنانہ چال ہوتی ہے۔ جو گمنام ہو کر کوئی بدی کرتا ہے یا عورت کی طرح چھپ کر کوئی حملہ کرتا ہے۔ اور آخری فقرے کے یہ معنے ہیں کہ فرعون کے شر سے ہم نے بنی اسرائیل کو بچا لیا۔ ۱؎ (بدر جلد ۲ نمبر ۸ مورخہ ۲۴ فروری ۱۹۰۶ء صفحہ ۲۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۷ مورخہ ۲۴ فروری ۱۹۰۶ء صفحہ ۱)

۱۹ فروری ۱۹۰۶ء ”دیکھا کہ منظور محمد صاحب کے ہاں لڑکا پیدا ہوا ہے اور دریافت کرتے ہیں کہ اس لڑکے کا کیا نام رکھا جائے۔ تب خواب سے حالت الہام کی طرف چلی گئی اور معلوم ہوا :۔ ”بشیرالدولہ“ فرمایا : کئی آدمیوں کے واسطے دعا کی جاتی ہے معلوم نہیں کہ منظور محمد کے خط سے کس کی طرف اشارہ ہے۔ ممکن ہے کہ بشیر الدولہ کے لفظ سے یہ مراد ہو کہ ایسا لڑکا میاں منظور محمد کے پیدا ہوگا جس کا پیدا ہونا موجب خوشحالی اور دولتمندی ہو جائے۔ اور یہ بھی قرین قیاس ہے کہ وہ لڑکا خود اقبالمند اور صاحب دولت ہو

بقیہ حاشیہ:۔ نے قاضی صاحب کو بعض امور تحقیق طلب کے متعلق تفصیلات دریافت کرنے کے لئے لکھا۔ انہوں نے جواباً مفصل خط بھیج دیا جس میں جمال الدین کی بیوی کے متعلق بھی الفاظ ذیل لکھ دیئے ”اس کی عورت پر لوگ یاری آشنائی کے الزام لگاتے تھے ممکن ہے کہ وہ اس کی زندگی میں ہی خراب ہو۔“ یہ خط بدر ۱۶ اپریل ۱۹۰۶ء صفحہ ۲ میں شائع ہو گیا۔ اس خط کے شائع ہونے پر معاندین نے قاضی صاحب کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ کھڑا کرنا چاہا اور پیروی مقدمہ کے لئے ایک بڑی کمیٹی مقرر ہوئی۔ اس پر قاضی صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں تفصیل دیتے ہوئے دعا کے لئے لکھا اور اس میں بھی لکھا کہ ۱۶ فروری کا الہام ”عورت کی چال۔ ایلی ایلی لما سبقتانی“ شاید یہی چال ہو۔ حضور اقدس نے اس خط پر اپنے دست مبارک سے فرمایا: ”اس خط کو بہت محفوظ رکھا جائے اور اس کا جواب لکھ دیا جائے کہ اب صبر سے خدا تعالیٰ پر توکل کریں۔ دعا کی جائے گی ۔“ (پھر) اس مقدمہ کے متعلق یوں ہوا کہ عین اس تاریخ کو جس دن ڈگری ہونا تھا اور سب تیاری ہر طرح سے مکمل ہو چکی تھی اسی دن علی الصبح پتہ لگا کہ وہ عورت اپنے آشنا کے ساتھ غائب ہو گئی اور اس طرح ان مخالفوں کی ساری کارستانی پر پانی پھر گیا اور میرے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قبولیت دعا اور پیشگوئی کے پوری ہونے کا ایک روشن نشان ظاہر ہوا۔ تفصیلی حالات کے لئے دیکھئے اصحاب احمد جلد ۴ صفحہ ۱۴۱ تا ۱۴۶۔ ۱؎ (ترجمہ از مرتب) اسے خدا ! اسے خدا ! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔ میرے دشمن کو تباہ اور برباد کرو جب میں نے بنی اسرائیل سے (دشمن کو) باز رکھا۔

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات طبع چہارم صفحہ 510، 511 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 220 پر درج ہے

صفحہ 806

حوالہ نمبر 295

۵۱۱

لیکن ہم نہیں کہہ سکتے کہ کب اور کس وقت یہ لڑکا پیدا ہو گا، خدا نے کوئی وقت ظاہر نہیں فرمایا ممکن ہے کہ جلد ہو یا خدا اس میں کئی برس کی تاخیر ڈال دے ۔"

(بدر جلد ۲ نمبر ۸ مورخہ ۲۲؍فروری ۱۹۰۶ء صفحہ ۲۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۷ مورخہ ۲۴؍فروری ۱۹۰۶ء صفحہ ۱)

۲۴؍فروری ۱۹۰۶ء

"شد جہانِ عشق بروئے آشکار"۱؎

(کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۵۸)

۲۵؍فروری ۱۹۰۶ء

(الف) "دردناک دُکھ اور دردناک واقعہ"

(بدر جلد ۲ نمبر ۹ مورخہ ۱؍ مارچ ۱۹۰۶ء صفحہ ۲۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۷ مورخہ ۲۴؍فروری ۱۹۰۶ء صفحہ ۱)

(ب) نواب محمد علی خان صاحب رئیس مالیرکوٹلہ کی نسبت جیسے کہ پہلے خدا تعالیٰ نے یہ ظاہر کیا کہ اُن کی بیوی عنقریب فوت ہو جائے گی اور موت کی خبر دے کر یہ بھی فرمایا کہ دردناک دُکھ اور دردناک واقعہ .... اور یہ اُس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے مجھے خبر دی تھی جبکہ نواب صاحب موصوف کی بیوی ہر طرح تندرست اور صحیح و سالم تھی۔ پھر تخمیناً چھ ماہ کے بعد نواب محمد علی خان صاحب کی بیوی کو سِل کی مرض ہو گئی ..... آخر رمضان ۱۳۲۳ھ میں وہ مرحومہ اُسی مرض سے اِس ناپائیدار دُنیا سے گزر گئیں۔ اِس پیشگوئی سے نواب صاحب کو بھی قبل از وقت خبر دی گئی تھی۔۲؎

(تتمہ حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۴۳، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۵۷۴، ۵۷۵)

۲۵؍فروری ۱۹۰۶ء

(۱) "اس کے بعد رؤیا میں دیکھا کہ کوئی خادمہ عورت جو اپنے تعلق والوں میں سے کسی گھر کی ہے، آئی ہے اور کہتی ہے کہ میری بیوی یکایک مر گئی۴؎ ۔ یہ سُن کر میں اُٹھا ہوں کہ اپنے گھر میں اطلاع کروں کہ پہلا الہام پورا ہو گیا اور چھڑی اور عصا ہاتھ میں لیا اور چلنے کو تھا کہ بیداری ہو گئی ۔"

(بدر جلد ۲ نمبر ۹ مورخہ ۱؍ مارچ ۱۹۰۶ء صفحہ ۲۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۷ مورخہ ۲۴؍فروری ۱۹۰۶ء صفحہ ۱)

۲۵؍فروری ۱۹۰۶ء

۳؎ "اِس الہام کے علاوہ مرثیہ کے متعلق حضرت اقدس کو ایک الہام یہ بھی ہوا تھا کہ استریا لخفیظ

۱؎ (ترجمہ از مرتب) عشق کا جہان اس پر ظاہر ہوا۔ ۲؎ کاپی الہامات صفحہ ۵۸ میں اس کی تاریخ ۲۳؍فروری درج ہے۔ (مرتب) ۳؎ یعنی الہام "دردناک دُکھ دردناک واقعہ" (مرتب) ۴؎ یعنی نواب محمد علی خان صاحب کی بیوی۔ (مرتب)

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات طبع چہارم صفحہ 510، 511 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 220 پر درج ہے

صفحہ 807

حوالہ نمبر 296

۵۳۴

میرے ہاتھ میں آیا اور اُس نے اپنے تئیں میرے حوالہ کر دیا اور میں نے کہا کہ یہ ہمارا آسمانی رزق ہے جیسا کہ بنی اسرائیل پر آسمان سے رزق اُترا کرتا تھا۔"

(مکتوب حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵ جون ۱۹۰۶ء مکتوبات احمدیہ جلد ہفتم حصہ اوّل صفحہ ۴۱ مرتبہ ملک

صلاح الدین صاحب ایم ۔ اے۔ قادیان)

۵ جون ۱۹۰۶ء لہ

(بدر جلد ۲ نمبر ۲۴ مورخہ ۱۴ جون ۱۹۰۶ء صفحہ ۲۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲۱ مورخہ ۱۰ جولائی ۱۹۰۶ء صفحہ ۱)

۷ جون ۱۹۰۶ء

"بذریعہ الہام الٰہی معلوم ہوا کہ میاں منظور محمد صاحب کے گھر میں یعنی محمدی بیگم کا ایک لڑکا پیدا ہو گا جس کے دو نام ہوں گے۔

(۱) بشیر الدولہ (۲) عالم کباب

یہ ہر دو نام بذریعہ الہام الٰہی معلوم ہوئے اور ان کی تعبیر اور تفسیر یہ ہے :۔

ہونے کے بعد (یا اس کے ہوش سنبھالنے کے بعد) زلزلہ عظیمہ کی پیشگوئی اور دوسری پیشگوئیاں ظہور میں آئیں گی اور گروہ کثیر مخلوقات کا ہماری طرف رجوع کرے گا اور عظیم الشان فتح ظہور میں آئے گی۔

لہ ترجمہ (۱) کوئی نبی نہیں بھیجا گیا مگر خدا نے اُس کی وجہ سے ایک قوم کو رسوا کیا جو ایمان نہیں لاتے تھے۔ (۲) خدا اپنے بندوں سے جس کو چاہتا ہے نبوت کی رُوح اس پر ڈالتا ہے۔

۲؂ "اس کے یہ معنے ہیں کہ خدا نے اس زمانہ میں محسوس کیا کہ یہ ایسا فاسد زمانہ آگیا ہے جس میں ایک عظیم الشان مصلح کی ضرورت ہے اور خدا کی مہر نے یہ کام کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے والا اس درجہ کو پہنچا کہ ایک پہلو سے وہ اُمتی ہے اور ایک پہلو سے نبی۔ کیونکہ اللہ جل شانہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو صاحب خاتم بنایا یعنی آپ کو افاضہ کمال کے لئے مہر دی جو کسی اور نبی کو ہرگز نہیں دی گئی اسی وجہ سے آپ کا نام خاتم النبیین ٹھہرا یعنی آپ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے اور آپ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے اور یہ قوت قدسیہ کسی اور نبی کو نہیں ملی۔"

(حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۹۶، و حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۹۹، ۱۰۰)

FEELING ٭

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات طبع چہارم صفحہ 533 ، 534 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 220 پر درج ہے

صفحہ 808

حوالہ نمبر 296

۵۳۴

(۲) عالم کباب سے یہ مراد ہے کہ اُس کے پیدا ہونے کے بعد چند ماہ تک یا جب تک کہ وہ اپنی بُرائی بھلائی شناخت کرے دُنیا پر ایک سخت تباہی آئے گی، گویا دُنیا کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اِس وجہ سے اِس لڑکے کا نام عالم کباب رکھا گیا۔ غرض وہ لڑکا اس لحاظ سے کہ ہماری دولت اور اقبال کی ترقی کے لئے ایک نشان ہو گا بشیر الدولہ کہلائے گا اور اِس لحاظ سے کہ مخالفوں کے لئے قیامت کا نمونہ ہو گا عالم کباب کے نام سے موسوم ہوگا۔

(بدر جلد ۶ نمبر ۲۴ مورخہ ۱۳ جون ۱۹۰۷ء صفحہ ۶۔ الحکم جلد ۱۱ نمبر ۲۰ مورخہ ۱۰ جون ۱۹۰۷ء صفحہ ۱)

۷ جون ۱۹۰۶ء "اس کے بعد معلوم ہوا کہ اس لڑکے کے دو نام اور ہیں (۱) ایک شادی خان کیونکہ وہ اس جماعت کے لئے شادی کا موجب ہو گا (۲) دوسرے کلمتہ اللہ خان کیونکہ وہ خدا کا کلمہ ہو گا جو ابتدا سے مقرر تھا اس زمانہ میں پورا ہو جائے گا اور ضرور ہے کہ خدا اس لڑکے کی والدہ کو زندہ رکھے جب تک یہ پیشگوئی پوری ہو اور گذشتہ الہام اے وَارْڈِ اَینْڈ ٹُو گَرْلِ ۱ے اِسی پیشگوئی کو بیان کرتا ہے جس کے معنے ہیں ایک کلمہ اور دو لڑکیاں، کیونکہ میاں منظور محمد کی دو لڑکیاں ہیں اور جب کلمتہ اللہ پیدا ہو گا تب بات پوری ہو جائے گی ایک کلمہ اور دو لڑکیاں۔" (بدر جلد ۶ نمبر ۲۴ مورخہ ۱۳ جون ۱۹۰۷ء صفحہ ۶ حاشیہ)

۷ جون ۱۹۰۶ء "(۱) رَبِّ أَرِنِي أَنْوَارَكَ الْكُلِّيَّةَ ۲ے (۲) إِنِّي أَعْزَزْتُكَ وَاخْتَرْتُكَ (۳) يَنْزِلُ نَازِلٌ مِنَ السَّمَاءِ مَا يُرْضِيْكَ (۴) دو نشان ظاہر ہوں گے ۳ے (۵) اللہ تعالیٰ اُس کو سلامت رکھنا نہیں چاہتا۔ (یہ کسی طرف اشارہ ہے۔ ۱۲) اِنَّا اَخَذْنَاهُ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ ۴ے (۷) ہندالیں"

۱ے بدر ۲۴ فروری ۱۹۰۶ء اور الحکم ۳۱ جنوری ۱۹۰۶ء میں یہ الہام "اے ورڈ اینڈ ٹو گرلز" (A word and two girls) اور اس کا اردو ترجمہ "ایک کلام اور دو لڑکیاں" درج ہے۔ (دیکھئے تذکرہ صفحہ ۵۰۵)

۲ے (ترجمہ از مرتب) (۱) اے میرے ربّ مجھے اپنے وہ انوار دکھا جو محیط کُل ہوں (۲) مَیں نے تجھے عزت دی اور تجھے برگزیدہ کیا (۳) اور آسمان سے ایک ایسا امر اترنے والا ہے جو تجھے خوش کرے گا۔

۳ے (نوٹ از مرتب) اس میں سعد اللہ لدھیانوی اور ڈاکٹر ڈوئی امریکن کی ہلاکت کی طرف اشارہ ہے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:۔ "ممالک مشرقیہ میں تو سعد اللہ لدھیانوی میری پیشگوئی اور مباہلہ کے بعد جنوری کے پہلے ہفتہ میں ہی نمونیا پلگ سے مر گیا یہ تو پہلا نشان تھا اور دوسرا نشان اس سے بہت ہی بڑا ہو گا جس میں فتح عظیم ہو گی سو وہ ڈوئی کی موت ہے جو ممالک مغربیہ میں ظہور میں آئی۔۔۔اس سے خدا تعالیٰ کا وہ الہام پورا ہوا کہ میں دو نشان دکھاؤں گا"

(تتمہ حقیقتہ الوحی حاشیہ صفحہ ۷۲، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۵۱۰)

۴ے (ترجمہ از مرتب) ہم اُسے دردناک عذاب کے ساتھ پکڑیں گے۔

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات طبع چہارم صفحہ 534،533 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 220 پر درج ہے

صفحہ 809

حوالہ نمبر 297

۵۳۴

(۷) عالم کباب سے یہ مراد ہے کہ اُس کے پیدا ہونے کے بعد چند بارہ یک بایک ایک مکروہ اپنی کڑکتی ہوئی شناخت کرائے دُنیا پر ایک سخت تباہی آئے گی گویا دُنیا کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اس وجہ سے اس لڑکے کا نام عالم کباب رکھا گیا۔ غرض وہ لڑکا اس لحاظ سے کہ ہماری دولت اور اقبال کی ترقی کے لئے ایک نشان ہو گا بشیرالدولہ کہلائے گا اور اس لحاظ سے کہ مخالفوں کے لئے قیامت کا نمونہ ہو گا عالم کباب کے نام سے موسوم ہوگا۔

(بدر جلد ۲ نمبر ۲۴ مورخہ ۲۴ جون ۱۹۰۶ء صفحہ ۲۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲۱ مورخہ ۱۰ جون ۱۹۰۶ء صفحہ ۱)

۷ جون ۱۹۰۶ء "اس کے بعد معلوم ہوا کہ اس لڑکے کے دو نام اور ہیں (۱) ایک شادی خان کیونکہ وہ اس جماعت کے لئے شادی کا موجب ہو گا (۲) دوسرے کلمۃ اللہ خان کیونکہ وہ خدا کا کلمہ ہوگا جو ابتدا سے مقرر تھا اس زمانہ میں پورا ہو جائے گا اور ضرور ہے کہ خدا اس لڑکے کی والدہ کو زندہ رکھے جب تک یہ پیشگوئی پوری ہو اور گذشتہ الہام اے وَرْڈ اَیْنْڈ ٹُوْ گَرَلْز اسی پیشگوئی کو بیان کرتا ہے جس کے معنے ہیں ایک کلمہ اور دو لڑکیاں۔ کیونکہ میاں منظور محمد کی دو لڑکیاں ہیں اور جب کلمۃ اللہ پیدا ہوگا تب یہ بات پوری ہو جائے گی ایک کلمہ اور دو لڑکیاں"

(بدر جلد ۲ نمبر ۲۷ مورخہ ۲۴ جون ۱۹۰۶ء صفحہ ۲ حاشیہ)

۷ جون ۱۹۰۶ء "(۱) رَبِّ اَرِنِیْ اَنْوَارَكَ الْکُلِّیَّةَ (۲) اِنِّیْ اُتَرِّبُكَ وَاَخْتَرْتُكَ (۳) وَاِنَّہُ نَازِلٌ مِّنَ السَّمَاءِ مَا یُرْضِیْكَ (۴) دو نشان ظاہر ہوں گے (۵) اللہ تعالیٰ اُس کو سلامت رکھنا نہیں چاہتا۔ (یہ کسی طرف اشارہ ہے)۔ (۶) اِنَّا اَخَذْنَاہُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ (۷) ھوائیں

۱؎ بدر ۲۴ فروری ۱۹۰۶ء اور الحکم ۳۱/ جنوری ۱۹۰۶ء میں یہ الہام ”اے ورڈ اینڈ ٹو گرلز“ (A word and two girls) اور اس کا اردو ترجمہ ”ایک کلام اور دو لڑکیاں“ درج ہے۔ (دیکھئے تذکرہ صفحہ ۵۰۵)

۲؎ (ترجمہ از مرتب) (۱) اے میرے ربّ مجھے اپنے وہ انوار دکھا جو محیط کل ہوں (۲) میں نے تجھے روشن کیا اور تجھے برگزیدہ کیا (۳) اور آسمان سے ایک ایسا امر اُترنے والا ہے جو تجھے خوش کر دے گا۔

۳؎ (نوٹ از مرتب) اس میں سعد اللہ لدھیانوی اور ڈاکٹر ڈوئی امریکہ کی ہلاکت کی طرف اشارہ ہے چنانچہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:۔ "خاکسار کے مقابلہ میں تو سعد اللہ لدھیانوی میری پیشگوئی اور مباہلہ کے بعد حتمی دعوے کے پہلے ہفتہ میں ہی نمونیا پلیگ سے مر گیا یہ تو پہلا نشان تھا اور دوسرا نشان اس سے بہت ہی بڑا ہو گا جس میں فتح عظیم ہوگی۔ سو وہ ڈوئی کی موت ہے جو ممالک مغربیہ میں ظہور میں آئی۔۔۔ اس سے خدا تعالیٰ کا وہ الہام پورا ہو گا کہ اِنِّیْ اُتَرِّبُکَ وَاَخْتَرْتُکَ"

(حقیقۃ الوحی حاشیہ صفحہ ۷۳ ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۷۶)

۴؎ (ترجمہ از مرتب) ہم اُسے دردناک عذاب کے ساتھ پکڑیں گے۔

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 534 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 221 پر درج ہے

صفحہ 810

حوالہ نمبر 298 ۵۴۷

19 جون 1906ء " میاں منظور محمد صاحب کے اُس بیٹے کے نام جو بطور نشان ہو گا بذریعہ الہام الٰہی مفصلہ ذیل معلوم ہوئے :- (1) کلمۃ العزیز (2) کلمۃ اللہ خاں (3) وارڈ 1 (4) بشیر الدولہ (5) شادی خاں (6) عالم کباب (7) ناصر الدین (8) فاتح الدین (9) ھٰذَا يَوْمٌ مُّبَارَكٌ 2 ۔

(بدر جلد 2 نمبر 25 مورخہ 21 جون 1906ء صفحہ 3۔ الحکم جلد 10 نمبر 22 مورخہ 24 جون 1906ء صفحہ 1)

جولائی 1906ء " (1) اُدْعُوْنِيْ اَسْتَجِبْ لَكُمْ 3 (2) اِنِّيْ مَعَ الْاَفْوَاجِ اٰتِيْكَ بَغْتَةً "

(بدر جلد 2 نمبر 28، 29 مورخہ 12 جولائی 1906ء صفحہ 4۔ الحکم جلد 10 نمبر 24 مورخہ 10 جولائی 1906ء صفحہ 1)

8 جولائی 1906ء 5 " میرا لڑکا مبارک احمد خسرہ کی بیماری سے سخت گھبراہٹ اور اضطراب میں تھا۔ ایک رات تو شام سے صبح تک تڑپ تڑپ کر اُس نے بسر کی اور ایک دَم نیند نہ آئی اور دوسری رات میں اُس سے سخت تر آثار ظاہر ہوئے اور بیہوشی میں اپنی بوٹیاں توڑتا تھا اور ہذیان بکتا تھا اور ایک سخت خارش بدن میں تھی۔ اس وقت میرا دل دَرد مند ہوا اور الہام ہوا :-

اُدْعُوْنِيْ اَسْتَجِبْ لَكُمْ 4

تب سجدہ کے بعد مجھے کشفی حالت میں معلوم ہوا کہ اس کے بستر پر چِچڑوں کی شکل پر بہت سے جانور پڑے ہیں اور وہ اُس کو کاٹ رہے ہیں اور ایک شخص اُٹھا اور اُس نے تمام وہ جانور اکٹھے کر کے ایک چادر میں باندھ دیئے اور کہا اس کو باہر پھینک آؤ اور پھر وہ کشفی حالت جاتی رہی اور میں نہیں جانتا کہ پہلے وہ کشفی حالت دُور ہوئی یا پہلے مرض دُور ہو گئی اور لڑکا فوراً ہی آرام سے سویا رہا۔"

(حقیقت الوحی صفحہ 88، حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 91، حاشیہ)

2 (ترجمہ از مرتب) یہ مبارک دن ہے۔ 1 Word (کلمہ) 4 (ترجمہ از مرتب) میرے حضور دعا کرو میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ 3 (ترجمہ) (1) مجھ سے دعا مانگ میں قبول کروں گا (2) میں فوجوں سمیت تیرے پاس اچانک آؤں گا۔ (بدر و الحکم)

5 بدر جلد 2 نمبر 26، 28 مورخہ 12 جولائی 1906ء صفحہ 2۔ الحکم جلد 10 نمبر 24 مورخہ 10 جولائی 1906ء صفحہ 1 پر یہ الہام 8 جون 1906ء کا لکھا گیا ہے جو درست نہیں۔ صحیح تاریخ 8 جولائی 1906ء ہے جو حقیقۃ الوحی میں درج ہے۔ (مرتب)

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 537 طبع چہارم از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 222 پر درج ہے

صفحہ 811

(حوالہ نمبر 299)

۵۵۷

مُسَمًّى ١؎ تَرى نَصْرًا عَجِيْبًاo وَيَخِرُّوْنَ عَلَى الْاَذْقَانِo کے زلزلہ کے ظہور میں ایک نصرت عجیبہ تم دیکھو گے۔ تو ایک عجیب مدد دیکھے گا اور بقیہ علامات ظہور پذیر ہوں گے۔ گرے پڑیں گے رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا اِنَّا كُنَّا خَاطِئِيْنَo يَا نَبِيَّ اللّٰهِ كُنْتُ لَا اَعْرِفُكَ ہوئے کہ اے خدا ہمیں بخش دے یا اے گناہ معاف کر ہم خطاء پر تھے۔ اور زمین کہے گی کہ اے خدا کے نبی میں تجھے شناخت نہیں لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ يَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ وَهُوَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِيْنَo کرتی تھی۔ اے خطا کارو! آج تم پر کوئی ملامت نہیں خدا تمہارے گناہ بخش دے گا۔ وہ ارحم الراحمین ہے۔ تَلَطَّفْ بِالنَّاسِ وَتَرْحَمْ عَلَيْهِمْo اَنْتَ فِيْهِمْ بِمَنْزِلَةِ مُوْسَىo يَاْتِیْ لوگوں کے ساتھ لطف اور مدارات سے پیش آ۔ تُو مجھ سے بمنزلہ موسیٰ کے ٹھہرا ہے۔ تیرے پر

١؎ پہلے یہ وحی الٰہی ہوئی تھی کہ وہ زلزلہ جو نمونہ قیامت ہوگا بہت جلد آنے والا ہے اور اُس کے لئے یہ نشان دیا گیا تھا کہ پیشتر ظہور اُس کے کوئی بچہ میری بیوی کے پیٹ سے پیدا ہوگا اور وہ لڑکا اُس زلزلہ کے ظہور کے لئے ایک نشان ہوگا اِس لئے اُس کا نام بشیر الدّولہ ہوگا کیونکہ وہ ہماری ترقیاتِ سلسلہ کے لئے بشارت دے گا ۔ اِسی طرح اُس کا نام عالم کباب ہو گا کیونکہ اگر لوگ توبہ نہیں کریں گے تو بڑی بڑی آفتیں دُنیا میں آئیں گی۔ ایسا ہی اُس کا نام کلمۃ اللہ اور کلمۃ العزیز ہوگا کیونکہ وہ خدا کا کلمہ ہوگا جو وقت پر ظاہر ہوگا اور اس کے لئے اور نام بھی ہوں گے مگر بعد اس کے میں نے دعا کی کہ اُس زلزلہ نمونہ قیامت میں کچھ تاخیر ڈال دی جائے۔ اس دعا کا اللہ تعالیٰ نے اس وحی میں جو اوپر فرمایا اور جواب بھی دیا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے رَبِّ اَخِّرْ وَقْتَ هٰذَا ٭ اَخَّرَهُ اللّٰهُ اِلَى وَقْتٍ مُّسَمًّى ۔ یعنی خدا نے دعا قبول کر کے اس زلزلہ کو کسی اور وقت پر ڈال دیا ہے اور یہ وحی الٰہی قریباً چار ماہ سے اخبار بدر اور الحکم میں چھپ کر شائع ہو چکی ہے۔ اور چونکہ زلزلہ نمونہ قیامت آنے میں تاخیر ہو گئی اِس لئے ضرور تھا کہ لڑکا پیدا ہونے میں بھی تاخیر ہوتی۔ لہٰذا میاں منظورِ محمد کے گھر میں ۱۷؍ جولائی ۱۹۰۶ء میں بروز شنبہ لڑکی پیدا ہوئی اور یہ دعا کی قبولیت کا ایک نشان ہے اور نیز وحی الٰہی کی سچائی کا ایک نشان ہے جو لڑکی پیدا ہونے سے قریباً چار ماہ پہلے شائع ہو چکی تھی مگر یہ ضرور ہو گا کہ کم درجہ کے زلزلے آتے رہیں گے ۔ اور ضرور ہے کہ زمین نمونہ قیامت زلزلہ سے رُکی رہے جب تک وہ موعود لڑکا پیدا ہو۔ یاد رہے کہ یہ خدا تعالیٰ کی بڑی رحمت کی نشانی ہے کہ لڑکی پیدا کر کے آئندہ بلا یعنی زلزلہ نمونہ قیامت کی نسبت تسلی دے دی کہ اس میں بموجب وعدہ اَخَّرَهُ اللّٰهُ اِلَى وَقْتٍ مُّسَمًّى ابھی تاخیر ہے۔ اور اگر ابھی لڑکا پیدا ہو جاتا تو ہر ایک زلزلہ اور ہر ایک آفت کے وقت سخت غم اور اندیشہ دامنگیر ہوتا کہ شاید وہ وقت آ گیا اور تاخیر کا کچھ اعتبار نہ ہوتا۔ اور اَب تو تاخیر ایک شد مد کے ساتھ مشروط ہو کر متعین ہو گئی ۔ منہ (حقیقة الوحی صفحہ ۱۰۰ حاشیہ ) ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۰۳ حاشیہ )

٭ نقل مطابق اصل (مرتب)

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 557 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 222 پر درج ہے

صفحہ 812

حوالہ نمبر 300 چشمہ معرفت ۲۳۱ دُوسرا حصہ

پھر ماسوا اس کے اگر اس وجہ سے انکار کیا جاتا ہے کہ یہ امر خرق عادت ہے۔ تو کیا بموجب اصول آریوں کے وید کے بعد الہام الٰہی ہونا یہ خرق عادت امر نہیں ہے۔ پس جبکہ لیکھرام کی موت نے اس بات کو ثابت کر دیا کہ وہ قادر خدا اس زمانہ میں بھی برخلاف وید کے مقرر کردہ قانون قدرت کے الہام کرتا ہے تو وید کا سارا قانون قدرت دریا بُرد ہو گیا۔ اس صورت میں وید کی بات کا کوئی بھی اعتبار نہ رہا۔ ظاہر ہے کہ جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا اور اگر لیکھرام والی پیش گوئی سے تسلی نہیں ہوئی تو پھر درخواست کرنے سے اور کوئی ذریعہ تسلی کا پیدا ہو سکتا ہے اور خدا تعالیٰ کی صدہا الہامی پیشگوئیاں جو پوری ہو چکی ہیں تسلی دے سکتی ہیں غرض وید کا قانون قدرت ایسا جھوٹا ثابت ہوا کہ ساتھ ہی وید کو بھی لے ڈوبا۔ پھر اسی بناء پر اعتراض کرنا حیا سے بعید ہے۔ ظاہر ہے کہ وید نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے بعد خدا کی قُدرت تکلّم ہمیشہ کے لئے مسلوب ہے مگر ہم نے چمکتے ہوئے نشانوں کے ساتھ ثابت کر دیا کہ وید نے جو کچھ دعویٰ کیا ہے اور جو کچھ آئندہ کے لئے خدا کے الہام کے بارہ میں لکھا ہے کہ وہ محال اور قانون قدرت کے برخلاف ہے وہ سراسر جھوٹ اور خلاف حق ہے بلکہ خدا ہمیشہ اپنے بندوں کو الہام کرتا ہے تو پھر بتلاؤ کہ اس کے بعد بار بار اُسی وید کو پیش کرنا جس کے قانون قدرت کا ہم بھرم کھو چکے ہیں۔ کس قدر خلاف حیا و شرم ہے۔

غرض لیکھرام کی موت نے ثابت کر دیا کہ وید کی یہ تعلیم سراسر غلط ہے کہ اس کے بعد الہام ۲۲۳ نہیں ہے تو پھر وید کے مقرر کردہ قانون قدرت پر اعتبار کیا رہا۔ خدا تعالیٰ کے کروڑہا قانون قدرت ابھی مخفی ہیں اور آہستہ آہستہ ظاہر ہو رہے ہیں مگر افسوس ان لوگوں پر کہ دانستہ آنکھ بند کر لیتے ہیں اگر یورپ کا کوئی شخص یہ بات ظاہر کرے کہ میں پتھر میں سے پانی نکال سکتا

صفحہ 813

حوالہ نمبر 301

۳۴۲

ترجمہ بس یہ ہے تمام تعریفیں اس خدا کیلئے ہیں جو رب الارباب ہے ۔ اور درود اس رسول مقبول پر جو یوم الحساب کا شفیع ہے اور نیز اس کی آل اور اصحاب پر۔ اور تم پر سلام اور ہر یک پر جو راہ صواب میں کوشش کرنیوالا ہو ۔ اسکے بعد واضح ہو کہ مجھے آپ کی وہ کتاب پہنچی جس میں مباہلہ کیلئے جواب طلب کیا گیا ہے اور اگرچہ میں عدیم الفرصت تھا تاہم میں نے اس کتاب کی ایک جز کو جو حسن خطاب اور طرق عتاب پر مشتمل تھی پڑھی ہے سو اے ہر یک عیب سے عزیز تر تجھے معلوم ہو کہ میں ابتدائے تیرے لئے تعظیم کرنے کے مقام پر کھڑا ہوں ۔ تا مجھے ثواب حاصل ہو اور کبھی میری زبان پر بجز تعظیم اور تکریم اور رعایت آداب کے تیرے حق میں کوئی کلمہ جاری نہیں ہوا۔ اور اب میں مطلع کرتا ہوں کہ میں بلاشبہ تیرے نیک حال کا متمنی ہوں ۔ اور میں یقین رکھتا ہوں کہ تو خدا کے صالح بندوں میں سے ہے اور تیری سعی عنداللہ قابل شکر ہے جس کا اجر ملے گا اور خدائے بخشندہ بادشاہ کا تیرے پر فضل ہے۔ بجز اسکے عاقبت بالخیر کی دُعا کر اور میں اپکے لئے انجام خیر و خوبی کی دُعا کرتا ہوں۔ اگر مجھے طول کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں زیادہ لکھتا۔ والسلام علیٰ من سلک سبیل الصواب ۔ تمت تمام ہوا یہیں

ایک اور پیشگوئی کا پورا ہونا

چونکہ حدیث صحیح میں آچکا ہے کہ مہدی موعود کے پاس ایک چھپی ہوئی کتاب ہوگی جس میں اُسکے تین سو تیرہ اصحاب کا نام درج ہوگا۔ اس لئے یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ وہ پیشگوئی آج پوری ہو گئی۔ یہ تو ظاہر ہے کہ پہلے اس سے اس اُمت مرحومہ میں کوئی ایسا شخص پیدا نہیں ہوا کہ جو مہدویت کا مدعی ہوتا اور اُس کے وقت میں چھاپہ خانہ بھی ہوتا۔ اور اس کے پاس ایک کتاب بھی ہوتی جس میں تین سو تیرہ نام لکھے ہوئے ہوتے۔ اور ظاہر ہے کہ اگر یہ کام انسان کے اختیار میں ہوتا تو اس سے پہلے کئی جھوٹے اپنے تئیں اس کا مصداق بنا سکتے۔ مگر اصل بات یہ ہے کہ خدا کی پیشگوئیوں میں ایسی فوق العادۃ شرطیں ہوتی ہیں کہ کوئی جھوٹا ان سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتا۔ اور اس کو وہ سامان اور اسباب نہیں دئیے جاتے جو سچے کو عطا کئے جاتے ہیں۔

شیخ علی حمزہ بن علی ملک الطوسی اپنی کتاب جواہر الاسرار میں جو ۸۴۰ھ میں تالیف ہوئی تھی مہدی موعود کے بارے میں مندرجہ ذیل عبارت لکھتے ہیں ۔ " در اربعین آمدہ است کہ خروج مہدی

۲۰

یہ حوالہ صفحہ 224 پر درج ہے

انجام آتھم (ضمیمہ) صفحہ 41 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 324، 325 از مرزا قادیانی

صفحہ 814

حوالہ نمبر 301

۳۲۵

از تحریر مؤلف ۔ قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم یخرج المهدی من قرية يقال لها كدعة و يصدقه الله تعالى ويجمع اصحابه من اقصى البلاد على عدة اهل بدر بثلاث مائة وثلاثة عشر رجلا ومعه صحيفة مختومة (ای مطبوعة) فيها عدد اصحابه باسمائهم وبلادهم وخلالهم یعنی مہدی اس گاؤں سے نکلے گا جس کا نام کدعہ ہے (یہ نام دراصل قادیان کے نام کو معرب کیا ہوا ہے) اور پھر فرمایا کہ خدا اس مہدی کی تصدیق کریگا ۔ اور دُور دُور سے اس کے دوست جمع کریگا جن کی تعداد بدر کے شہداء کے برابر ہو گی یعنی تین سو تیرہ ہونگے اور اُن کے نام معہ مسکن و خصلت چھپی ہوئی کتاب میں درج ہوں گے ۔

اب ظاہر ہے کہ کسی شخص کو یہاں ایسا اتفاق نہیں ہوا۔ کہ وہ مہدی موعود ہونے کا دعویٰ کرے اور اس کے پاس چھپی ہوئی کتاب ہو جس میں اس کے دوستوں کے نام ہوں لیکن میں پہلے اس سے بھی آئینہ کمالات اسلام میں تین سو تیرہ نام درج کرچکا ہوں اور اب تا اتمام حجت کیلئے تین سو تیرہ نام ذیل میں درج کرتا ہوں تاکہ ہر یک منصف سمجھ لے کہ یہ پیشگوئی بھی میرے ہی حق میں پوری ہوئی اور ثبوت پیشگوئی حدیث کے لیے یہ پہلے سے ضروری ہے کہ یہ تمام اصحاب خصلتِ صدق و صفا رکھتے ہیں اور حسب مراتب جس کو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے بعض بعض سے محبت اور انقطاع الی اللہ اور سرگرمی دین میں سبقت لے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سب کو اپنی رضا کی راہوں میں ثابت قدم کرے اور وہ یہ ہیں ۔

بھیروی ...... بھیرہ ... ضلع شاہ پور

سابق مولوی صدر جمعیت

پنشنر وارڈ نمبر ۱۲ چھاؤنی سیالکوٹ

۴۱

انجام آتھم (ضمیمہ) صفحہ 41 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 324 ، 325 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 224 پر درج ہے

صفحہ 815

حوالہ نمبر 302

۳۲۷

بھگیاں ۔ محلہ فرخ آباد

صاحب قاضی کوٹ ۔ گوجرانوالہ

برہان الدین صاحب جہلمی - -

الہدایۃ حصہ ششم (ضمیمہ) صفحہ 43 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 327 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 224 پر درج ہے

صفحہ 816

حوالہ نمبر 303

ازالہ اوہام ۵۳۷ حصہ دوم

ہمدرد اور محض للہ محبت رکھنے والا دوست اور غریب مزاج ہے۔ دین کو ابتدا سے غریبوں سے مناسبت ہے کیونکہ غریب لوگ تکبر نہیں کرتے اور پوری تواضع کے ساتھ حق کو قبول کرتے ہیں۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ دولت مندوں میں ایسے لوگ بہت کم ہیں کہ اس سعادت کا عشر بھی حاصل کر سکیں جس کو غریب لوگ کامل طور پر حاصل کر لیتے ہیں فطوبی للفقراء میاں عبدالحق باوجود اپنے افلاس اور کمی مقدرت کے ایک عاشق صادق کی طرح محض للہ خدمت کرتا رہتا ہے اور اس کی یہ خدمات اس آیت کا مصداق اس کو ٹھہرارہی ہیں یؤثرون علی انفسہم ولو کان بہم خصاصۃ۔ ۱ ؎

پختہ نیک آدمی ہے۔ ان میں فطرتی طور پر مادہ اطاعت اور اخلاص اور حسن ظن اس قدر ہے جس کی برکت سے وہ بہت سی ترقیاں اس راہ میں کر سکتے ہیں۔ اُن کی مزاج میں غربت اور رعب بھی ازحد ہے اور اُن کے چہرہ سے علامات سعادت ظاہر ہیں۔ حتی الوسع وہ خدمات میں لگے رہتے ہیں۔ خدا تعالیٰ کشاکش مکروہات سے انہیں بچا کر اپنی محبت کی حلاوت سے حصہ وافر بخشے۔ آمین ثم آمین

چہرے سے نمایاں ہیں۔ زیرک اور فہیم آدمی ہے۔ انگریزی زبان میں عمدہ مہارت رکھتے ہیں میں امید رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کئی خدمات اسلام اُن کے ہاتھ سے پوری کرے۔ وہ باوجود زمانہ طالب علمی اور تفرقہ کی حالت کے ایک روپیہ ماہواری بطور چندہ اس سلسلہ کے لئے دیتے ہیں اور ایسا ہی اُن کا دوست خلیفہ رشید الدین صاحب ایک اہل آدمی اور اُنہیں کے ہم رنگ ہیں اسی قدر چندہ محض للہی محبت کے جوش سے ماہ بماہ ادا کرتے ہیں۔ جزاہم اللہ خیر الجزاء۔

۱ ؎ سورۃ حشر : ۱۰

ازالہ اوہام صفحہ 809 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 537 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 224 پر درج ہے

صفحہ 817

حوالہ نمبر 304

۶۷۲

بے خوف ہو کر اس پر جھوٹ باندھتا ہوں اور اس کی مخلوق کے ساتھ بھی میرا یہ معاملہ ہے کہ میں لوگوں کا مال بد دیانتی اور حرامخوری کے طریق سے کھاتا ہوں اور خدا کی مخلوق کو اپنی بدکرداری اور نفس پرستی کے جوش سے دکھ دیتا ہوں تو اس صورت میں خنزیروں سے بڑھ کر سزا کے لائق ہوں، تا لوگ میرے صدمہ سے نجات پاویں۔ اور اگر میں ایسا نہیں ہوں جیسا کہ میاں عبدالحکیم خاں نے سمجھا ہے تو میں اُمید رکھتا ہوں کہ خدا مجھ کو بچالیگا، میری بریت ظاہر کریگا، میرے آگے بھی نصرت اور میرے پیچھے بھی ۔ میں خدا کی آنکھ سے مخفی نہیں ۔ مجھے کون جانتا ہے مگر وہی۔ اس لئے میں اس وقت دونوں پیشگوئیاں یعنی میاں عبدالحکیم خان کی میری نسبت پیشگوئی اور اس کے مقابل پر جو خدا نے میرے پر ظاہر کیا ذیل میں لکھتا ہوں اور اس کا انصاف خدائے قادر پر چھوڑتا ہوں اور وہ یہ ہیں ۔

میاں عبدالحکیم خان صاحب اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ کی میری نسبت پیشگوئی

جو انہوں نے مولوی ثناء اللہ صاحب کی طرف اپنے خط میں لکھتے ہیں ۔ ان کے اپنے الفاظ یہ ہیں ۔

”مرزا کے خلاف ۱۲؍ جولائی ۱۹۰۶ء کو یہ الہامات ہوتے ہیں۔ مرزا مسرف کذّاب اور عیار ہے۔ صادق کے سامنے شریر فنا ہو جائے گا اور اس کی میعاد تین سال بتائی گئی ہے“ ۱؎

اس کے مقابل پر وہ پیشگوئی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے میاں عبدالحکیم خاں صاحب اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ کی نسبت مجھے معلوم ہوئی ۔ جس کے الفاظ یہ ہیں ،

”خدا کے مقبولوں میں قبولیت کے نمونے اور علامتیں ہوتی ہیں اور وہ سلامتی کے شہزادے کہلاتے ہیں۔ ۲؎ ان پر کوئی غالب نہیں آ سکتا۔ فرشتوں کی کھینچی ہوئی تلوار تیرے آگے ہے ۳؎ پر تو نے وقت کو نہ پہچانا نہ دیکھا“ ۴؎

۱؎ اس میں میاں عبدالحکیم خاں نے خدا کے اصل لفظ بیان نہیں کئے بلکہ یہ کہا کہ تین سال میعاد بتائی گئی ۔ منہ

۲؎ خدا تعالیٰ کا یہ فقرہ کہ وہ سلامتی کے شہزادے کہلاتے ہیں۔ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے عبدالحکیم خان کے اس فقرہ کا رُدّ ہے کہ جو مجھے کاذب اور شریر قرار دیکر کہتا ہے کہ صادق کے سامنے شریر فنا ہو جائیگا ۔ گویا میں کاذب ہوں اور وہ مرد صادق ہے اور میں شریر۔ اور خدا تعالیٰ اس کے رُدّ میں فرماتا ہے کہ جو خدا کے خاص لوگ ہیں وہ سلامتی کے شہزادے کہلاتے ہیں۔ ذلت کی موت اور ذلت کا عذاب اُن کو نصیب نہیں ہوگا۔ اگر ایسا ہو تو دنیا تباہ ہو جائے اور صادق اور کاذب میں کوئی امر فارق نہ رہے ۔ منہ

۳؎ اس فقرہ میں عبدالحکیم خاں مخاطب ہے اور فرشتوں کی کھینچی ہوئی تلوار سے آسمانی عذاب مراد ہے کہ جو بغیر ذریعہ انسانی ہاتھوں کے ظاہر ہوگا۔

۴؎ یعنی تو نے یہ نہ دیکھا کہ کیا اس زمانہ میں اور اس نازک وقت میں اُمت محمدیہ کے لیے کسی دجال کی ضرورت ہے یا کسی مصلح اور مجدد کی۔

مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 673 طبع جدید از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 225 پر درج ہے

صفحہ 818

حوالہ نمبر 305

چشمہ معرفت ۳۲۲ خصوصیت اسلام

غلام دستگیر تھا اور مولوی کہلاتا تھا اُس نے مجھے کاذب ٹھہرا کر دُعا کے ذریعہ سے میری ہلاکت چاہی اور جھوٹے پر خدا کا عذاب مانگا اور اس بارہ میں ایک رسالہ بھی لکھا مگر اس رسالہ کو ابھی شائع کرنا نہ پایا تھا کہ وہ اپنی اُسی بد دُعا کے اثر سے ہلاک ہو گیا اور اُ

صفحہ 819

حوالہ نمبر 305

چشمہ معرفت ۳۳۷ ضمیمہ

اُس کی زندگی میں ہی ۴؍ اگست ۱۹۰۶ء تک ہلاک ہو جاؤں گا۔ اور یہ اُس کی سچائی کے لئے ایک نشان ہوگا۔ یہ شخص الہام کا دعویٰ کرتا ہے اور مجھے دجّال اور کافر اور کذّاب قرار دیتا ہے۔ پہلے اُس نے بیعت کی اور برابر بیس برس تک میرے مریدوں اور میری جماعت میں داخل رہا پھر ایک نصیحت کی وجہ سے جو مَیں نے محض للّٰہ اُس کو کی تھی مرتد ہو گیا۔ نصیحت یہ تھی کہ اُس نے یہ مذہب اختیار کیا تھا کہ بغیر قبول اسلام اور پیروی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ۳۳۷ کے نجات ہو سکتی ہے۔ گو کوئی شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کی خبر بھی رکھتا ہو۔ چونکہ یہ دعویٰ باطل تھا اور عقیدہ جمہور کے بھی برخلاف اس لئے مَیں نے منع کیا مگر وہ باز نہ آیا آخر مَیں نے اُسے اپنی جماعت سے خارج کر دیا۔ تب اُس نے یہ پیشگوئی کی کہ مَیں اُس کی زندگی میں ہی ۴؍ اگست ۱۹۰۶ء تک اُس کے سامنے ہلاک ہو جاؤں گا مگر خدا نے اُس کی پیشگوئی کے مقابل پر مجھے خبر دی کہ وہ خود عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اور خدا اُس کو ہلاک کرے گا اور مَیں اس کے شرّ سے محفوظ رہوں گا۔ سو یہ وہ مقدمہ ہے جس کا فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔ بلاشبہ یہ سچ بات ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کی نظر میں صادق ہے خدا اُس کی مدد کرے گا۔

یہ تو بطور نمونہ وہ نشان لکھے گئے ہیں جو دشمنوں کے متعلق تھے لیکن میں مناسب دیکھتا ہوں کہ کچھ نمونہ کے طور پر وہ نشان بھی لکھے جائیں کہ جو دوستوں کے متعلق ہیں اور وہ یہ ہیں ؎

ایک دفعہ ایسا اتفاق ہوا کہ میرے ایک مخلص دوست ہیں جن کا نام ہے حافظ مولوی حکیم نور الدین اُن کا ایک بیٹا تھا وہ فوت ہو گیا۔ تب ایک شریر دشمن نے اپنے ایک اشتہار کے ذریعہ سے اس لڑکے کی موت پر بڑی خوشی ظاہر کی اور مولوی صاحب ممدوح کا نام ابتر رکھا۔ میرا

صفحہ 820

حوالہ نمبر 306 نمبر ۳ ریویو آف ریلیجنز ۱۲۵

سو اگر ہم حضرت مسیح موعود کی شروع کی کتابوں میں کسی ایسی تحریر کو پڑھیں جس میں لکھا ہو کہ میرے انکار سے کفر لازم نہیں آتا تو ہم کو دھوکا نہ کھانا چاہیے کیونکہ بعد میں حضرت مسیح موعود کی اس رائے کو اللہ تعالیٰ نے اپنے الہام سے بدل دیا جیسا کہ خود حضرت مسیح موعود عبدالحکیم خان مرتد کے ایک خط کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں :-

"بہر حال جبکہ خدا تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جسکو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے اور خدا کے نزدیک قابل مواخذہ ہے تو یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ اب میں ایک شخص کے کہنے سے جس کا دل ہزاروں تاریکیوں میں مبتلا ہے خدا کے حکم کو چھوڑ دوں ۔ اس سے سہل تر بات یہ ہے کہ ایسے شخص کو اپنی جماعت سے خارج کرتا ہوں ۔ ہاں اگر کسی وقت میری مخالفت میں اپنی توبہ شائع کریں اور اس خبیث عقیدہ سے باز آجاویں تو رحمت الٰہی کا دروازہ کھلا ہے۔ وہ لوگ جو میری دعوت کے روکنے کے وقت قرآن شریف کی نصوص صریحہ کو چھوڑتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے کھلے کھلے نشانوں سے منہ پھیرتے ہیں انکو راستباز قرار دینا اسی شخص کا کام ہے جس کا دل شیطان کے پنجے میں گرفتار ہے"

حضرت مسیح موعود کی اس تحریر سے بہت سی باتیں حل ہو جاتی ہیں اوّل یہ کہ حضرت صاحب کو اللہ تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ اطلاع دی کہ تیرا انکار کرنے والا مسلمان نہیں اور نہ صرف یہ اطلاع دی بلکہ حکم دیا کہ تو اپنے منکروں کو مسلمان نہ سمجھ دوسرے یہ کہ حضرت صاحب نے عبدالحکیم خان کو جماعت سے اسواسطے خارج کیا کہ وہ غیر احمدیوں کو مسلمان کہتا تھا۔ تیسرے یہ کہ مسیح موعود کے منکروں کو مسلمان کہنے کا عقیدہ ایک خبیث عقیدہ ہے۔ چوتھے یہ کہ جو ایسا عقیدہ رکھے اسکے لیئے رحمت الٰہی کا دروازہ بند ہے ۔ پانچویں یہ کہ جو شخص مسیح موعود کی دعوت کو ردّ کرتا ہے وہ قرآن شریف کی نصوص صریحہ کو چھوڑتا ہے اور خدا کے کھلے نشانات سے منہ پھیرتا ہے ۔ چھٹے یہ کہ جو مسیح موعود کے منکروں کو راستباز قرار دیتا ہے اس کا دل شیطان کے پنجے میں گرفتار ہے۔ اب کون ہے جو مسیح موعود کی کسی پہلی تحریر کو پیش کر کے آپ کے انکار کی اہمیت کو گرانا چاہے۔ کیا وہ ایسے شخص کے

کلمتہ الفصل صفحہ 125 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 226 پر درج ہے

صفحہ 821

حوالہ نمبر 307

٦٧٢

(۲۷۸)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّيْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ

خُدا سچّے کا حامی ہوٴ

آمین

اس امر سے اکثر لوگ واقف ہوں گے کہ ڈاکٹر عبدالحکیم خاں صاحب جو پٹیالہ میں مدت تک میرے مریدوں میں داخل رہے، چند دنوں سے مجھ سے برگشتہ ہو کر سخت مخالف ہو گئے ہیں اور اپنے رسالہ المسیح الدجال میں میرا نام کذاب ۔ مکار شیطان ۔ دجال شریر۔ حرام خور رکھا ہے اور مجھے خائن اور نفس پرست اور مفسد اور مفتری اور خدا پر افتراء کرنے والا قرار دیا ہے اور کوئی ایسا عیب نہیں ہے جو میرے ذمہ نہیں لگایا ۔ گو یا جب سے دُنیا پیدا ہوئی ہے ان تمام بدیوں کا مجموعہ میرے سوا کوئی نہیں گزرا۔ اور پھر اسی پر کفایت نہیں کی بلکہ پنجاب کے بڑے بڑے شہروں کا دورہ کر کے میری عیب شماری کے بارہ میں لیکچر دیئے اور لاہور اور امرت سر اور پٹیالہ اور دوسرے مقامات میں انواع و اقسام کی بدیاں عام جلسوں میں میرے ذمہ لگائیں اور میرے وجود کو دُنیا کے لئے ایک خطرناک اور شیطان سے بدتر ظاہر کر کے ہر ایک لیکچر میں مجھ پر ہنسی اور ٹھٹھا اُڑایا ۔ غرض ہم نے اُس کے ہاتھ سے وہ دُکھ اُٹھایا جس کے بیان کی حاجت نہیں۔ اور پھر میاں عبدالحکیم صاحب نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ ہر ایک لیکچر کے ساتھ یہ پیشگوئی بھی صدہا آدمیوں میں شائع کی کہ مجھے خدا نے الہام کیا ہے کہ یہ شخص تین سال کے عرصہ میں فنا ہو جائے گا اور اس کی زندگی کا خاتمہ ہو جائے گا کیونکہ کذّاب اور مفتری ہے ۔ مَیں نے اس کی ان پیشگوئیوں پر صبر کیا مگر آج جو ۱۴؍ اگست ۱۹۰۶ء ہے۔ پھر اس کا خط ہمارے دوست فاضل جلیل مولوی نور الدین صاحب کے نام آیا ۔ اس میں بھی میری نسبت کئی قسم کی عیب شماری اور گالیوں کے بعد لکھا ہے کہ مرزا قادیانی کذاب کو خدا تعالیٰ نے اس شخص کے ہلاک ہونے کی خبر مجھے دی ہے کہ اس تاریخ سے تین برس تک ہلاک ہو جائے گا ۔ جب اس حد تک نوبت پہنچ گئی تو اب میں بھی اس بات میں کچھ مضائقہ نہیں دیکھتا کہ جو کچھ خدا نے اس کی نسبت میرے پر ظاہر فرمایا ہے میں بھی شائع کر دوں اور درحقیقت اس میں قوم کی بھلائی ہے کیونکہ اگر درحقیقت میں خدا تعالیٰ کے نزدیک کذّاب ہوں اور پچیس برس سے دن رات خدا پر افتراء کر رہا ہوں اور اس کی عظمت اور جلال سے

مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 674،673،672 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 226 پر درج ہے

صفحہ 822

حوالہ نمبر 307 ٦٧٣

بے خوف ہوکر اس پر جھوٹ باندھتا ہوں اور اس کی مخلوق کے ساتھ بھی میرا یہ معاملہ ہے کہ میں لوگوں کا مال بددیانتی اور حرامخوری کے طریق سے کھاتا ہوں اور خدا کی مخلوق کو اپنی بدکرداری اور نفس پرستی کے جوش سے دُکھ دیتا ہوں تو اس صورت میں تمام بدکاروں سے بڑھ کر سزا کے لائق ہوں تا لوگ میرے فتنہ سے نجات پاویں۔ اور اگر میں ایسا نہیں ہوں جیسا کہ میاں عبدالحکیم خاں نے سمجھا ہے تو میں اُمید رکھتا ہوں کہ خدا مجھ کو ایسی لعنت کی موت نہیں دیگا کہ میرے آگے بھی لعنت اور میرے پیچھے بھی ۔ میں خدا کی آنکھ سے مخفی نہیں ۔ مجھے کوئی بچا نہیں سکتا مگر وہی ۔ اس لئے میں اس وقت دوگونہ پیشگوئیاں ۱؂ یعنی میاں عبدالحکیم خاں کی میری نسبت پیشگوئی اور اس کے مقابل پر جو خدا نے میرے پر ظاہر کیا ذیل میں لکھتا ہوں اور اسی کا انصاف خدائے قادِر پر چھوڑتا ہوں اور وہ یہ ہیں ۔

میاں عبدالحکیم خاں صاحب اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ کی میری نسبت پیشگوئی

جو انہوں نے مولوی نورالدین صاحب کی طرف اپنے خط میں لکھے ہیں۔ ان کے اپنے الفاظ یہ ہیں ۔ "مرزا کے خلاف ۱۲ جولائی ۱۹۰۶ء کو یہ اعلانات ہوئے ہیں۔ مرزا سخت کذّاب اور عیار ہے۔ صادق کے سامنے شریر فنا ہو جائے گا اور اس کی میعاد تین سال بتائی گئی ہے" ۲؂

اس کے مقابل پر وہ پیشگوئی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے میاں عبدالحکیم خاں صاحب اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ کی نسبت مجھے معلوم ہوئی جس کے الفاظ یہ ہیں : "خدا کے مقبولوں میں قبولیت کے نمونے اور علامتیں ہوتی ہیں اور وہ سلامتی کے شہزادے کہلاتے ہیں۔ ۳؂ ان پر کوئی غالب نہیں آ سکتا ۔ فرشتوں کی کھینچی ہوئی تلوار تیرے آگے ہے ۴؂ مگر تو نے وقت کو پہچانا ۵؂ نہ دیکھا"

۲؂ اس میں میاں عبدالحکیم خاں نے خدا کے اصل لفظ بیان نہیں کئے بلکہ یہ کہا کہ تین سال میعاد بتائی گئی ۔ منہ ۳؂ خدا تعالیٰ کا یہ فقرہ کہ وہ سلامتی کے شہزادے کہلاتے ہیں۔ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے عبدالحکیم خاں کے اس فقرہ کا ردّ ہے کہ جو مجھے کاذب اور شریر قرار دے کر کہتا ہے کہ صادق کے سامنے شریر فنا ہو جائیگا ۔ گویا میں کذاب ہوں اور وہ صادق اور وہ مردِ صالح ہے اور میں شریر۔ اور خدا تعالیٰ اس کے ردّ میں فرماتا ہے کہ جو خدا کے خاص لوگ ہیں وہ سلامتی کے شہزادے کہلاتے ہیں۔ ذلّت کی موت اور لعنت کا عذاب اُن کو نصیب نہیں ہوگا۔ اگر ایسا ہو تو دُنیا تباہ ہو جائے اور صادق اور کاذب میں کوئی امر فارق نہ رہے ۔ منہ ۴؂ اس فقرہ میں عبدالحکیم خاں مخاطب ہے اور فرشتوں کی کھینچی ہوئی تلوار سے آسمانی عذاب مراد ہے کہ جو بظاہر ذریعہ انسانی ہاتھوں کے ظاہر ہوگا۔ ۵؂ یعنی تو نے بغور نہ کیا کہ کیا اس زمانہ میں اور اس نازک وقت میں اُمّتِ محمدیّہ کے لیے کسی مجدّد کی ضرورت ہے یا کسی مصلح اور مہدی کی۔

مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 672، 673، 674 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 226 پر درج ہے

صفحہ 823

(حوالہ نمبر 307)

۶۷۴

تربّھا۔ ربّ فرق بین صادق وکاذب۔ انت تریٰ کل مصلح وصادق ۔عہ

المشتھر :۔ میرزا غلام احمد مسیح موعود قادیانی

۱۶ اگست ۱۹۰۶ء مطابق ۲۴ جمادی الثانی ۱۳۲۴ھ

مطبعہ انوار احمدیہ پریس قادیان دارالامان (یہ اشتہار ۱۹۰۶ء کے درمنثور پر ہے)

اور حقیقۃ الوحی میں بھی درج ہے

عہ یعنی اے میرے خدا صادق اور کاذب میں فرق کر کے دکھلا تو جانتا ہے کہ صادق اور مصلح کون ہے۔ اس فقرہ الہامیہ میں عبدالحکیم خاں کے اس قول کا ردّ ہے جو وہ کہتا ہے کہ صادق کے سامنے شریر فنا ہو جائیگا۔ پس چونکہ وہ اپنے تئیں صادق ٹھہراتا ہے۔ خدا فرماتا ہے کہ تو صادق نہیں ہے، مَیں صادق اور کاذب میں فرق کر کے دکھلاؤں گا۔ منہ

مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 674،673،672 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 226 پر درج ہے

صفحہ 824

حوالہ نمبر 308

چشمہ معرفت ۴۴۷ حصہ دوم

اُس کی زندگی میں ہی ۱۴۔ اگست ۱۹۰۷ء تک ہلاک ہو جاؤں گا۔ اور یہ اُس کی سچائی کے لئے ایک نشان ہوگا۔ یہ شخص الہام کا دعویٰ کرتا ہے اور مجھے دجّال اور کافر اور کذّاب قرار دیتا ہے۔ پہلے اُس نے بیعت کی اور برابر تئیس برس تک میرے مریدوں اور میری جماعت میں داخل رہا پھر ایک نصیحت کی وجہ سے جو مَیں نے محض للہ اُس کو کی تھی مرتد ہو گیا۔ نصیحت یہ تھی کہ اُس نے یہ مذہب اختیار کیا تھا کہ بغیر قبولِ اسلام اور پیروی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نجات ہو سکتی ہے۔ گو کوئی شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کی خبر بھی رکھتا ۳۴۹ ہو۔ چونکہ یہ دعویٰ باطل تھا اور عقیدہ جمہور کے بھی برخلاف اِس لئے میں نے منع کیا مگر وہ باز نہ آیا آخر میں نے اُسے اپنی جماعت سے خارج کر دیا۔ تب اُس نے یہ پیشگوئی کی کہ مَیں اُس کی زندگی میں ہی ۱۴۔ اگست ۱۹۰۷ء تک اُس کے سامنے ہلاک ہو جاؤں گا۔ مگر خدا نے اُس کی پیشگوئی کے مقابل پر مجھے خبر دی کہ وہ خود عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اور خدا اُس کو ہلاک کرے گا اور میں اُس کے شر سے محفوظ رہوں گا۔ سو یہ وہ مقدمہ ہے جس کا فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔ بلا شبہ یہ سچ بات ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کی نظر میں صادق ہے خدا اُس کی مدد کرے گا۔

یہ تو بطورِ نمونہ وہ نشان لکھے گئے ہیں جو دشمنوں کے متعلق تھے لیکن میں مناسب دیکھتا ہوں کہ کچھ نمونہ کے طور پر وہ نشان بھی لکھے جائیں کہ جو دوستوں کے متعلق ہیں اور وہ یہ ہیں ؎

ایک دفعہ ایسا اتفاق ہوا کہ میرے ایک مخلص دوست ہیں جن کا نام ہے حافظ مولوی حکیم نور الدین اُن کا ایک بیٹا تھا وہ فوت ہو گیا۔ تب ایک شریر دشمن نے اپنے ایک اشتہار کے ذریعہ سے اس لڑکے کی موت پر بڑی خوشی ظاہر کی اور مولوی صاحب م

صفحہ 825

حوالہ نمبر 309

۷۲۰

چونکہ تیرے ربّ نے تجھے کبھی نہیں چھوڑا۔ اور پھر اردو میں فرمایا کہ ہر ایک حال میں تمہارے ساتھ موافق ہوں اور تیرے منشاء کے مطابق ۔ اور پھر فرمایا : لَكُمُ الْبُشْرٰی فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ۔ خیر و نصرت و فتح انشاء اللہ تعالیٰ ۔ وَوَضَعْنَا عَنْکَ وِزْرَکَ ۔ اَلَّذِیْ اَنْقَضَ ظَهْرَکَ وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِکْرَکَ ۔ اِنِّی مَعَکَ ذَکَّرْتُکَ فَاذْکُرْنِیْ وَسِّعْ مَکَانَکَ حَانَ اَنْ تُعَانَ وَتُرْفَعَ بَیْنَ النَّاسِ اِنِّی مَعَکَ یَا اِبْرَاهِیْمُ ۔ اِنِّی مَعَکَ وَمَعَ اَھْلِکَ اِنَّکَ مِنِّی وَ اَھْلُکَ اِنِّی اَنَا الرَّحْمٰنُ فَانْتَظِرْ قَبْلَ اَنْ یَّاْخُذَکَ اللّٰہُ۔ یعنی تمہارے لیے دُنیا اور آخرت میں بشارت ہے۔ تیرا انجام نیک ہے۔ خیر ہے اور نصرت اور فتح انشاء اللہ تعالیٰ ۔ ہم تیرا بوجھ اتار دیں گے جس نے تیری کمر توڑ دی اور تیرے ذکر کو اونچا کر دیں گے میں تیرے ساتھ ہوں۔ میں نے تجھے یاد کیا ہے سو تُو مجھے بھی یاد کر اور اپنے مکان کو وسیع کردے۔ وہ وقت آتا ہے کہ تُو مدد دیا جائے گا اور لوگوں میں تیرا نام عزت اور بلندی سے لیا جائے گا۔ میں تیرے ساتھ ہوں اے براہیم اور ایسا ہی تیرے اہل کے ساتھ اور تُو میرے ساتھ ہے اور ایسا ہی تیرے اہل ۔ میں رحمان ہوں۔ میری مدد کا منتظر رہ اور اپنے دشمن کو کہہ دے کہ خدا تجھ سے مواخذہ لے گا۔ اور پھر آخر میں اردو میں فرمایا کہ میں تیری عمر کو بھی بڑھا دوں گا۔ یعنی دشمن جو کہتا ہے کہ صرف جولائی ۱۸۹۶ء سے چودہ مہینے تک تیری عمر کے دن رہ گئے ہیں یا ایسا ہی جو دوسرے دشمن پیشگوئی کرتے ہیں ان سب کو میں جھوٹا کروں گا اور تیری عمر کو بڑھا دوں گا تا معلوم ہو کہ میں خدا ہوں اور ہر ایک امر میرے اختیار میں ہے۔

یہ عظیم الشان پیشگوئی ہے جس میں میری فتح اور دشمن کی شکست اور میری عزت اور دشمن کی ذلت اور میرا اقبال اور دشمن کا ادبار بیان فرمایا ہے اور دشمن پر غضب اور عقوبت کا وعدہ کیا ہے ۔ مگر میری نسبت کہا ہے کہ دُنیا میں تیرا نام بلند کیا جائے گا اور نصرت اور فتح تیرے شامل حال ہوگی اور دشمن جو میری موت چاہتا ہے وہ خود میری آنکھوں کے روبرو اصحاب الفیل کی طرح نابود اور تباہ ہوگا۔ خدا ایک قہری تجلی کریگا اور وہ جو جھوٹھ اور شوخی سے باز نہیں آتے ان کی ذلت اور تباہی ظاہر کرے گا۔ مگر میری طرف ایک دُنیا کو جھکائے گا اور عزت و عظمت کے ساتھ دُنیا کے ہر ایک کنارہ میں پھیلا دے گا۔ سو چاہیئے کہ میری جماعت کے لوگ اس پیشگوئی کے منتظر رہیں اور تقویٰ وطہارت سے پاک نمونہ دکھائیں۔

اس پیشگوئی کے ساتھ یہ پیشگوئی بھی ہے کہ ایک سخت طاعون اس ملک میں اور دوسرے ممالک میں بھی آنے والی ہے جس کی نظیر پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی ۔ وہ لوگوں کو دیوانہ کی طرح کر دے گی معلوم نہیں کہ اسی سال یا آئندہ سال میں ظاہر ہوگی۔ مگر خدا مجھے مخاطب کرکے فرماتا ہے کہ میں تجھے اور تمام ان لوگوں کو جو تیری چار دیواری کے

مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 720 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 229 پر درج ہے

صفحہ 826

حوالہ نمبر 310

۶۶۷

(۲۷۵)

بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم

تمام جماعت احمدیہ کے لئے اعلان

چونکہ ڈاکٹر عبدالحکیم اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ نے جو پہلے اس سلسلہ میں داخل تھا نہ صرف یہ کام کیا کہ ہماری تعلیم سے اور ان باتوں سے جو خدا نے ہم پر ظاہر کیں مونہہ پھیر لیا بلکہ اپنے خط میں وہ سختی اور گستاخی دکھلائی اور وہ گندے اور ناپاک الفاظ میری نسبت استعمال کئے کہ بجز ایک سخت دشمن اور سخت کینہ ور کے کسی کی زبان اور قلم سے نکل نہیں سکتے اور صرف اسی پر کفایت نہیں کی بلکہ بیجا تہمتیں لگائیں اور اپنے صریح لفظوں میں مجھ کو ایک حرام خور اور بندۂ نفس اور شکم پرور اور لوگوں کا مال فریب سے کھانے والا قرار دیا اور محض تکبر کی وجہ سے مجھے پیروں کے نیچے پامال کرنا چاہا اور بہت سی ایسی گالیاں دیں جو ایسے مخالف دیا کرتے ہیں جو پورے جوش عداوت سے ہر طرح سے دوسرے کی ذلت اور توہین چاہتے ہیں اور یہ بھی کہا کہ پیشگوئیاں جن پر ناز کیا جاتا ہے کچھ چیز نہیں مجھ کو ہزار ہا ایسے الہام اور خوابیں آتی ہیں جو پوری ہو جاتی ہیں۔ غرض اس شخص نے محض توہین اور تحقیر اور دل آزاری کے ارادہ سے جو کچھ اپنے خط میں لکھا ہے اور جس طرح اپنی ناپاک بدگوئی کو انتہا تک پہنچا دیا ہے ان تمام تہمتوں اور گالیوں اور عیب گیریوں کے لکھنے کے لئے اس اشتہار میں گنجائش نہیں علاوہ اس کے میری تحقیر کی غرض سے جھوٹ بھی پیٹ بھر کے بولا ہے مگر مجھے ایسے مفتری اور بدگو لوگوں کی کچھ پرواہ نہیں کیونکہ اگر جیسا

یہ حوالہ صفحہ 229 پر درج ہے | طبع جدید از مرزا قادیانی | مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 667، 668

صفحہ 827

حوالہ نمبر 310

۶۶۸

کہ مجھے اس نے دغا باز حرام خور مکار فریبی اور جھوٹ بولنے والا قرار دیا ہے اور طریق اسلام اور دیانت اور پیروی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے باہر مجھے کرنا چاہا ہے اور میرے وجود کو محض فضول اور اسلام کے لئے مضر ٹھہرایا ہے۔ بلکہ مجھے محض شکم پرور اور دشمن اسلام قرار دیا ہے۔ اگر یہ باتیں سچ ہیں تو میں اس کیڑے سے بھی بدتر ہوں جو نجاست سے پیدا ہوتا اور نجاست میں ہی مرتا ہے لیکن اگر یہ باتیں خلاف واقعہ ہیں تو میں اُمید نہیں رکھتا کہ خدا ایسے شخص کو اس دنیا میں بغیر مواخذہ کے چھوڑے گا جو مرید ہو کر اور پھر مرتد ہو کر اس درجہ تک پہنچ گیا ہے کہ جو ذلیل سے ذلیل زندگی بسر کرنے والے جیسے چوہڑے اور چمار جو شکم پرور کہلاتے ہیں اور مُردار کھانے سے بھی عار نہیں رکھتے ان کی مانند مجھے بھی محض شکم پرست اور بندہ نفس اور حرام خور قرار دیتا ہے۔

اب میں ان باتوں کو زیادہ طول دینا نہیں چاہتا اور خدا کی شہادت کا منتظر ہوں اور اس کے ہاتھ کو دیکھ رہا ہوں اور اس اشارہ پر ختم کرتا ہوں اِنَّمَا اَشْکُوْا بَثِّيْ وَحُزْنِیْ اِلَی اللّٰهِ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ۱؎

اب چونکہ یہ شخص اس درجہ پر میرا دشمن معلوم ہوتا ہے جیسا کہ عمرو بن ہشام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور جان کا دشمن تھا اس لئے میں اپنی تمام جماعت کو متنبہ کرتا ہوں کہ اس سے بکلی قطع تعلق کر لیں اس کے ساتھ ہرگز واسطہ نہ رکھیں ورنہ ایسا شخص ہرگز میری جماعت میں سے نہیں ہو گا رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَیْرُ الْفَاتِحِیْنَ ۲؎ آمین آمین آمین۔

المشتہر خاکسار مرزا غلام احمد مسیح موعود از قادیان ضلع گورداسپور پنجاب (الحکم ۳۰ اپریل ۱۹۰۶ء صفحہ ۱)

۱؎ یوسف: ۸۷ ۲؎ الاعراف: ۹۰

مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 667، 668 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 229 پر درج ہے

صفحہ 828

(حوالہ نمبر 311)

۶۷۹

کرتا ہے اور بیج بوتا اور پانی دینے وغیرہ کی محنت برداشت کرتا ہے، کیا اُسے کسی کفارہ کی ضرورت ہے؟ نہیں بلکہ اُسے محنت اور عمل کی ضرورت ہے۔ اس بات کو ہم مانتے ہی نہیں کہ بجز کفارہ کے کوئی راہِ نجات ہی نہیں۔ یہ کفارہ تو انسانی ترقیات کی راہ میں ایک روک اور پتھر ہے۔

سوال :۔ پاکیزگی سے کیا مراد ہے؟ جواب:۔ پاکیزگی سے یہ مراد ہے کہ انسان کو جو اس کے جذبات نفسانیہ خدا تعالیٰ سے دُور گرا کر کے اپنی خواہشات میں محو کرنا چاہتے ہیں ان کا مغلوب نہ ہو، اور کوشش کرے کہ خدا تعالیٰ کی مرضی کے موافق اس کی رفتار ہو۔ یہاں تک کہ اس کا کوئی قول فعل خدا تعالیٰ کی رضامندی کے بغیر سرزد ہی نہ ہو۔ خدا تعالیٰ قدوس اور پاک ہے وہ اپنی صفات کے مطابق ہی انسان کو بھی چلانا چاہتا ہے۔ وہ رحیم ہے انسان سے بھی رحم چاہتا ہے۔ وہ کریم ہے انسان سے بھی کرم چاہتا ہے، خدا تعالیٰ کی صفات خدا تعالیٰ کے قانونِ قدرت میں ظاہر ہیں جسمانی طور سے ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا مدت ہائے دراز سے چلی آتی ہے۔ ان کو اناج، پانی، لباس اور رُوشنی وغیرہ تمام حوائج ضروریہ اور لوازم انسانیہ ہمیشہ سے بہم پہنچاتا چلا آیا ہے اور ہمیشہ ہی اس کے رحم اور کرم کی علامات اور اسماء حسنہ کے تقاضے ساتھ ساتھ مخلوق کی دستگیری کرتے چلے آئے ہیں۔ پس غرض یہ ہے کہ خدا تعالیٰ انسان کو اپنی صفات کے رنگ میں رنگین کرنا چاہتا ہے۔

اس کے بعد پروفیسر اور لیڈی نے حضرت اقدس علیہ السلام کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہم مشکور ہیں کہ آپ نے گفتگو کی زحمت بخشی اور ہماری معلومات میں ایک مفید اضافہ فرمایا اور ہمارا وقت بہت اچھی طرح سے گزرا۔ ؎

۱۹؍ مئی ۱۹۰۸ء

عبدالحکیم پٹیالوی کا ذکر

عبدالحکیم کی کتاب کا ذکر تھا کہ بہت سے اعتراض کئے ہیں۔ فرمایا :۔ ہم نے جو کچھ کہنا تھا کہہ چکے، پیشینگوئیاں بھی مفصل لکھی جا چکی ہیں۔ اب بحث میں پڑنا فضولیوں میں داخل ہے۔

لے الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۵ صفحہ ۴ تا ۵ مورخہ ۳۰؍ مئی ۱۹۰۸ء

ملفوظات جلد پنجم صفحہ 679، 680 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 231 پر درج ہے

صفحہ 829

(حوالہ نمبر 311)

۶۸۰

فرمایا :۔

ہر ایک کی فطرت جدا ہوتی ہے۔ ہمیں تو سمجھ میں نہیں آتا کہ کس طرح کوئی شخص ایک آدمی کی تیس سال نوکری کرنے کے بعد اور اس کے ماتحت تعلیم حاصل کرنے کے بعد اور اس سے فائدہ اُٹھانے کے بعد پھر اُس کے حق میں ایسی گندی گالیاں بول سکتا ہے۔ ہماری تو سمجھ میں نہیں آسکتا۔ مگر ہر ایک شخص کی فطرت جدا ہوتی ہے۔

میاں صاحب عبدالحق نے عرض کیا کہ میں پٹیالہ سے آیا ہوں۔ عبدالحکیم نے آپ کے متعلق پیشگوئی کی ہے کہ آنے والی ۱۴؍ ساون کو آپ کی وفات ہو جاوے گی۔ لیکن پٹیالہ کے لوگ خوب جانتے ہیں کہ وہ ایک مجنون آدمی ہے۔

حضرت نے فرمایا :۔

كُلٌّ يَّعْمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖ (بنی اسرائیل : ۸۵) اللہ تعالیٰ ظرف دیکھ کر راستباز کو چنتا ہے۔

دعویٰ رسالت کی ماہیت

فرمایا :۔

ہم نے ان معنوں میں کوئی دعویٰ رسالت نہیں کیا جیسا کہ مخالف لوگ لوگوں کو بہکاتے ہیں اور جو کچھ ہمارا دعویٰ مسیح اور مہدی ہونے کا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کی متابعت کا ہے وہی ہمیشہ سے ہے آج کوئی نئی بات نہیں چوبیس سال سے یہ الہام ہے جَرِيُّ اللّٰهِ فِي حُلَلِ الْاَنْبِيَاءِ ۱؎

۲۰ مئی ۱۹۰۸ء

بوقت عصر

صلح کا فائدہ

صلح سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں صلح کی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب جنگ موقوف ہوئی تو مسلمانوں کے ساتھ کفار کا میل جول ہو گیا اور انہیں اسلام کی صداقتوں پر نظر کرنے کا موقعہ مل گیا۔ پھر ان میں سے کئی سعید رُوحیں اسلام کے لیے تیار ہوگئیں۔

۱؎ بدر جلد ۷ نمبر ۱۹-۲۰ صفحہ ۷ مورخہ ۲۴ مئی ۱۹۰۸ء

یہ حوالہ صفحہ 231 پر درج ہے

ملفوظات جلد پنجم صفحہ 680، 679 طبع جدید از مرزا قادیانی

صفحہ 830

(حوالہ نمبر 312)

ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ۵۰

ملک پنجاب میں کفر کے لشکر کا ایک سپاہی تھا جو کام آیا ۔ اب ان لوگوں میں سے اس کی مثل بھی کوئی نکلنا محال اور غیر ممکن ہے ۔ اے لوگو ! تم یقیناً سمجھ لو کہ میرے ساتھ وہ ہاتھ ہے جو آخر وقت تک مجھ سے وفا کرے گا ۔ اگر تمہارے مرد اور تمہاری عورتیں اور تمہارے جوان اور تمہارے بوڑھے اور تمہارے چھوٹے اور تمہارے بڑے سب مل کر میرے ہلاک کرنے کے لئے دُعائیں کریں یہاں تک کہ سجدے کرتے کرتے ناک گل جائیں اور نڈھال ہو جائیں تب بھی خدا ہرگز تمہاری دُعا نہیں سُنے گا اور نہیں رُکے گا جب تک وہ اپنے کام کو پورا نہ کرلے ۔ اور اگر انسانوں میں سے ایک بھی میرے ساتھ نہ ہو تو خدا کے فرشتے میرے ساتھ ہونگے ۔ اور اگر تم گواہی کو چھپاؤ تو قریب ہے کہ پتھر میرے لئے گواہی دیں ۔ پس اپنی جانوں پر ظلم مت کرو ۔ کاذبوں کے اور مُنہ ہوتے ہیں اور صادقوں کے اور ۔ خدا کسی امر کو بغیر فیصلہ کے نہیں چھوڑتا ۔ میں اس زندگی پر لعنت بھیجتا ہوں جو جھوٹ اور افترا کے ساتھ ہو ۔ اور نیز اس حالت پر بھی کہ مخلوق سے ڈر کر خالق کے امر سے کنارہ کشی کی جائے ۔ وہ خدمت جو عین وقت پر خداوند قدیر نے میرے سپرد کی ہے اور اسی کے لئے مجھے پیدا کیا ہے ہرگز ممکن نہیں کہ میں اس میں سُستی کروں مگر یہ آفتاب ایک طرف سے اور زمین ایک طرف سے باہم مل کر کچلنا چاہیں ۔ انسان کیا ہے محض ایک کیڑا ۔ اور بشر کیا ہے محض ایک مضغہ ۔ پس کیونکر میں حیّ و قیّوم کے حکم کو ایک کیڑے یا ایک مضغہ کے لئے ٹال دوں ۔ جس طرح خدا نے پہلے مامورین اور مکذبین میں آخر ایک دن فیصلہ کر دیا اسی طرح وہ اس وقت بھی فیصلہ کرے گا ۔ خدا کے مامورین کے آنے کے لئے بھی ایک موسم ہوتے ہیں اور پھر جانے کے لئے بھی ایک موسم پس یقیناً سمجھو کہ میں نہ بے موسم آیا ہوں اور نہ بے موسم جاؤں گا ۔ خدا سے مت لڑو ! یہ تمہارا کام نہیں کہ مجھے تباہ کر دو ÷

اب اس اشتہار سے میرا یہ مطلب ہے کہ جس طرح خدا تعالیٰ نے اور نشانوں میں

۱۴

تحفہ گولڑویہ [ضمیمہ] صفحہ 14 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 50 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 231 پر درج ہے

صفحہ 831

حوالہ نمبر 313

نزول المسیح

۴۴۹

۷۲

ہونگے تو پھر بلاشبہ ہمارا یہ دعویٰ باطل ہو جائیگا کہ اعجاز کی طاقت جو انشاء پردازی اور نظم اور نثر میں ہے یہ بھی خدا کا ایک نشان ہے جو ہمارے سچے موعود ہونے پر ایک گواہ ہے بلکہ ہم خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر حلفی وعدہ کرتے ہیں کہ اگر اس عرصہ میں اسی تعداد کے لحاظ سے انہیں مضامین کی پابندی سے ان کے اشعار مقرر کردہ منصفوں کی شہادت سے جو اہل علم ہونگے ہمارے اشعار سے فصاحت بلاغت کے رُو سے بہتر ثابت ہوں تو دونوں مخاطبین کو ایک

بقیہ حاشیہ:۔ کہ جو اسکا ارادہ کرے گا وہی نامراد رہے گا۔ سو اسکی زیادہ کیا نامرادی ہے کہ وہ اپنی لغو کتاب کو چھاپ ہی نہ سکا اور مر گیا۔ اور پھر اس کے مُردار کو پیر مہر علی نے اپنی کتاب میں کھایا اور وہ بھی نامراد رہا۔ کیونکہ مہر علی کی غرض یہ تھی کہ اس کتاب کے لکھنے سے اپنی مشیخت ظاہر کرے کہ مَیں بھی عربی خوان ہوں اور ادیب ہوں مگر بجائے ناموری کے اس کا چور ہونا ثابت ہوا۔ کون اس سے تعجب نہیں کریگا کہ چور بھی ایسا دلیر چور نکلا کہ مُردہ کی ساری کتاب کو نگل گیا اور ڈکار نہ لیا اور محمد حسن بدقسمت کا ایک دفعہ بھی ذکر نہ کیا۔ اور ایک دُوسرا نشان یہ ہے کہ اسی کتاب اعجاز المسیح کے صفحہ ۱۹۹ میں مَیں نے یہ دُعا کی تھی ربّ ان کنت تعلم ان اعدائی ھم الصادقون المخلصون فأھلکنی کما تھلک الکذّابون۔ وان کنت تعلم انی منک ومن حضرتک فقم لنصرتی۔ ترجمہ یعنی اے میرے خدا اگر تو جانتا ہے کہ میرے دشمن سچے ہیں اور مخلص ہیں پس تُو مجھے ہلاک کر جیسا کہ تُو جھوٹوں کو ہلاک کرتا ہے۔ اور اگر تُو جانتا ہے کہ مَیں تیری طرف سے ہوں تو دشمن کے مقابل پر میری مدد کرنے کے لئے تُو کھڑا ہو جا۔ پس صاف ظاہر ہے کہ اس کتاب اعجاز المسیح کے شائع ہونے کے بعد محمد حسن یہیں مقابلہ کے لئے میدان میں نکلا۔ اس لئے بموجب اس مباہلہ کی دُعا کے مارا گیا۔

۷۳

نزول المسیح صفحہ 72 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 449 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 232 پر درج ہے

صفحہ 832

حوالہ نمبر 314

ضرورۃ الامام ۴۸۳

راہب عیسائی دین کے مرنے کے بعد اکثر ایسے ہی تھے۔ چھٹے کشوف اور الہامات کا سلسلہ ہے جو امام الزمان کیلئے ضروری ہوتا ہے۔ امام الزمان اکثر بذریعہ الہامات کے خدا تعالیٰ سے علوم اور حقائق اور معارف پاتا ہے۔ اور اسکے الہامات عام ملہموں پر قیاس نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ وہ کیفیت اور کمیت میں اس اعلیٰ درجہ پر ہوتے ہیں جس سے بڑھ کر انسان کے لئے ممکن نہیں۔ اور انکے ذریعہ سے علوم کھلتے ہیں اور قرآنی معارف معلوم ہوتے ہیں اور دینی عقدے اور معضلات حل ہوتے ہیں اور اعلیٰ درجہ کی پیشگوئیاں جو مخالف قوموں پر اثر ڈال سکیں ظاہر ہوتی ہیں غرض جو لوگ امام الزمان ہوں انکے کشوف اور الہام صرف ذاتیات تک محدود نہیں ہوتے۔ بلکہ نصرتِ دین اور تقویتِ ایمان کیلئے نہایت مفید اور مبارک ہوتے ہیں۔ اور خدا تعالیٰ اُن سے نہایت ۱۳ صفائی سے مکالمہ کرتا ہے اور اُنکی دُعا کا جواب دیتا ہے۔ اور بسا اوقات سوال اور جواب کا ایک سلسلہ منعقد ہو کر ایک ہی وقت میں سوال کے بعد جواب اور پھر سوال کے بعد جواب اور پھر سوال کے بعد جواب ایسے صفا اور لذیذ اور فصیح الہام کے پیرایہ میں شروع ہوتا ہے کہ صاحبِ الہام خیال کرتا ہے کہ گویا وہ خدا تعالیٰ کو دیکھ رہا ہو۔ اور عام ملہموں کا ایسا الہام نہیں ہوتا کہ جیسے ایک کلوخ انداز در پردہ ایک کلوخ پھینک جائے اور بھاگ جائے۔ اور معلوم نہ ہو کہ وہ کون تھا۔ اور کہاں گیا۔ بلکہ خدا تعالیٰ اُن سے بہت قریب ہو جاتا ہے اور کسی قدر پردہ اپنے پاک اور روشن چہرہ پر سے جو نور محض ہو اتار دیتا ہے۔ اور یہ کیفیت دُوسروں کو میسر نہیں آتی۔ بلکہ وہ تو بسا اوقات اپنے تئیں ایسا پاتے ہیں کہ گویا اُن سے کوئی ٹھٹھا کر رہا ہے۔ اور امام الزمان کی الہامی پیشگوئیاں اظہار علی الغیب کا مرتبہ رکھتے ہیں۔ یعنی غیب کو ہر ایک پہلو سے اپنے قبضہ میں کر لیتے ہیں۔ جیسا کہ چابک سوار گھوڑے کو قبضہ میں کرتا ہے اور یہ قوّت اور انکشاف اسلئے اُنکے الہام کو دیا جاتا ہے کہ تا انکے پاک الہام شیطانی الہامات سے مشتبہ نہ ہوں اور تا دُوسروں پر حجت ہو سکیں۔ واضح ہو کہ شیطانی الہامات ہونا حق ہے اور بعض ناتمام سالک لوگوں کو ہوا کرتے ہیں۔ اور حدیث النفس بھی ہوتی ہے جسکو اضغاث احلام کہتے ہیں۔ اور جو شخص اس سے انکار کرے ۔ وہ

ضرورۃ الامام صفحہ 13 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 483 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 232 پر درج ہے

صفحہ 833

(حوالہ نمبر 315)

اہل اسلام اور عیسائیوں میں مباحثہ ۲۹۱ ۵ جون ۱۸۹۳ء

تباہ نہیں ہو گا۔ یہ ایک بڑے درخت کی طرح ہو جائیگا اور پھیل جائیگا اور اسمیں بادشاہ ہونگے اور جیسا کہ کزرع اخرج شطأہ ۱؎ میں اشارہ ہو اور پھر فصاحت بلاغت کے بارہ میں فرمایا : بلسان عربی مبین ۲؎ اور پھر اسکی نظیر مانگی اور کہا کہ اگر تم کچھ کر سکتے ہو اسکی نظیر دو۔ پس عربی مبین کے لفظ سے فصاحت بلاغت کے سوا اور کیا معنی ہو سکتے ہیں ؟ خاصکر جب ایک شخص کہے کہ میں یہ تقریر ایسی زبان میں کرتا ہوں کہ تم اسکی نظیر پیش کرو۔ تو بجز اس کے کیا سمجھا جائیگا کہ وہ کمال بلاغت کا مدعی ہے اور مبین کا لفظ بھی اسی کو چاہتا ہے۔ بالآخر چونکہ ڈپٹی عبداللہ آتھم صاحب قرآن شریف کے معجزات عمداً منکر ہیں اور اسکی پیشینگوئی سے بھی انکاری ہیں اور مجھ سے بھی اسی مجلس میں تین بیمار پیش کر کے ٹھٹھا کیا گیا کہ اگر دین اسلام سچا ہے اور تم فی الحقیقت ملہم ہو تو ان تینوں کو اچھا کر کے دکھاؤ حالانکہ میرا یہ دعوٰی نہ تھا کہ میں قادر مطلق ہوں نہ قرآن شریف کے مطابق مواخذہ تھا۔ بلکہ یہ تو عیسائی صاحبوں کے ایمان کی نشانی ٹھہرائی گئی تھی کہ اگر وہ سچے ایماندار ہوں تو وہ ضرور لنگڑوں اور اندھوں اور بہروں کو اچھا کریں گے۔ مگر تاہم میں اسی کے لئے دعا کرتا رہا اور

آج رات جو مجھ پر کھلا وہ یہ ہے کہ جب کہ میں نے بہت تضرع اور ابتہال سے جناب الٰہی میں دُعا کی کہ تُو اِس امر میں فیصلہ کر اور ہم عاجز بندے ہیں تیرے فیصلہ کے سوا کچھ نہیں کر سکتے تو اُس نے مجھے یہ نشان بشارت کے طور پر دیا ہے کہ اِس بحث میں دونوں فریقوں میں سے

۱؎ الفتح : ۲۹ ۲؎ الشعراء : ۱۹۶

جنگ مقدس صفحہ 209، 210 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 291، 292 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 234 پر درج ہے

صفحہ 834

حوالہ نمبر 315

اہل اسلام اور عیسائیوں میں مباحثہ ۲۹۲ ۵ جون ۱۸۹۳ء

جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور سچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے۔ وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لیکر یعنی ۱۵ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جاویگا اور اسکو سخت ذلت پہنچیگی بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور جو شخص سچ پر ہو اور سچے خدا کو مانتا ہو اُسکی اس سے عزت ظاہر ہوگی اور اُسوقت جب یہ پیشینگوئی ظہور میں آویگی بعض اندھے سوجاکھے کئے جائیں گے اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے اور بعض بہرے سُننے لگیں گے ۔

اسی طرح پر جس طرح اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے سو الحمد للہ والمنۃ کہ اگر یہ پیشینگوئی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظہور نہ فرماتی تو ہمارے یہ پندرہ دن ضائع گئے تھے۔ انسان ظالم کی عادت ہوتی ہے کہ باوجود دیکھنے کے نہیں دیکھتا اور باوجود سُننے کے نہیں سُنتا اور باوجود سمجھنے کے نہیں سمجھتا۔ اور جُرأت کرتا ہے اور شوخی کرتا ہے اور نہیں جانتا کہ خدا ہے لیکن اب مَیں جانتا ہوں کہ فیصلہ کا وقت آگیا۔ مَیں حیران تھا کہ اس بحث میں کیوں مجھے آنے کا اتفاق پڑا۔ معمولی بحثیں تو اور لوگ بھی کرتے ہیں۔ اب یہ حقیقت کھلی کہ اس نشان کیلئے تھا۔ مَیں اسوقت یہ اقرار کرتا ہوں ۲۱۰

جنگ مقدس صفحہ 209، 210 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 291، 292 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 234 پر درج ہے

صفحہ 835

حوالہ نمبر 316

۱۶۳

كان يسب نبي الله ويتكلم في شأنه بكلمات خبيثة فدعوت عليه فبشرني ربي بموته في ست سنة ان في ذلك لآية للطالبين - ومنها ما وعدني ربي اذ جادلني رجل من المتنصرين الذي اسمه عبدالله اثم الاثيم سوى انه كان اراد ان يبثث جراثيم الحيل على دين النصارى ويواري سوأته فصال على الاسلام وكان من المتشددين - وباحثني في حلقة مغتصة بالانام مختصة بالزحام وزخرف مكائده لارضاء الكافرين - فثنيت اليه عناني وابثثته من معارف بياني وجعلته من المفحمين - فما وجم من قلة الحياء وكان يجمع في حملاته ويسدر في الغواء وامتدت المباحثة الى نصف الشهر وكنا نغدو اليه بعد صلوة الفجر ونرجع في وقت الهجير عند اشتداد حر الظهيرة وتركنا الاستراحة كالمجاهدين - فبينما انا في فكر لاجل ظفر الاسلام وافحام اللئام فاذا بشرني ربي بعد دخولي بحجرته الخالصة بخمسة عشر شهرا من يوم خاتمة البحث فاستيقظت وكنت من المطمئنين ثم جئناه واجتمعت الخلقة وحضر الخاص والعام واحضرت الدواة والاقلام فما لبثت ان قعدت وانبأت من كل ما اخبرت من رب الارباب امليته في الكتاب ثم ارتحلت من ديار خويش وحسبت ذلك البحث افضل قربتي وحسبت ذلك النبأ ونعمة من نعماء رب العلمين - فتفكر يا هائما كمه الله ولا تعجل في تكفيري ولا تسبوا ولا تقذفوا وان كنتم في شك فانتظروا هذه الانباء المذكورة فانها معيار لصدقي وكذبي وان لم تنتهوا فقد تمت عليكم حجة الله وجهتي ولن تضروني شيئا وستسئلون عند مالك يوم الدين وان تتوبوا وتتقوا فالله لا يضيع اجر المحسنين

کرامات الصادقین ص ۱۲۱ مندرجہ

شهر ستمبر ۱۸۹۳ء ایام مباحثه سلطان محمد ابن محمد بیگ ختنه احمد بیگ ابن نظام الدین واسم عمه جلال محمد بیگ وهم سكان قرية قاديان توفي في ضلع لاهور واميرزا احمد بیگ توفي بعد الحاق هذا في ميعاده كما الهم ولهذا نجا سلطان محمد لحينه وبقى من ميعاد موته قريباً من السنة وربنا افتح بيننا وبين قومنا بالحق وانت

کرامات الصادقین صفحہ 121 مندرجہ روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 163 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 234 پر درج ہے

صفحہ 836

(حوالہ نمبر 317)

اہل اسلام اور عیسائیوں میں مباحثہ ۲۹۲ ۵ جون ۱۸۹۳ء

جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور سچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے۔ وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لیکر یعنی ۱۵ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جاویگا اور اسکو سخت ذلت پہنچیگی بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرلے اور جو شخص سچ پر ہو اور سچے خدا کو مانتا ہو اُسکی اس سے عزت ظاہر ہوگی اور اُسوقت جب یہ پیشینگوئی ظہور میں آویگی بعض اندھے سُوجاکھے کئے جائیں گے اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے اور بعض بہرے سُننے لگیں گے ۔

اسی طرح پر جس طرح اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے سو الحمد للہ والمنۃ کہ اگر یہ پیشینگوئی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظہور نہ فرماتی تو ہمارے یہ پندرہ دن ضائع گئے تھے۔ انسان ظالم کی عادت ہوتی ہو کہ باوجود دیکھنے کے نہیں دیکھتا اور باوجود سننے کے نہیں سنتا اور باوجود سمجھنے کے نہیں سمجھتا۔ اور جُرأت کرتا ہوا اور شوخی کرتا ہے اور نہیں جانتا کہ خدا ہے لیکن اب مَیں جانتا ہوں کہ فیصلہ کا وقت آگیا۔ مَیں حیران تھا کہ اس بحث میں کیوں مجھے آنے کا اتفاق پڑا۔ معمولی بحثیں تو اور لوگ بھی کرتے ہیں۔ اب یہ حقیقت کھلی کہ اِس نشان کیلئے تھا۔ مَیں اُسوقت یہ اقرار کرتا ہوں

۲۱۰

جنگ مقدس صفحہ 211 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 292-293 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 235 پر درج ہے

صفحہ 837

حوالہ نمبر 317

اہل اسلام اور عیسائیوں میں مباحثہ ۲۹۲ ۵۔ جون ۱۸۹۳ء

کہ اگر یہ پیشینگوئی جھوٹی نکلی یعنی وہ فریق جو خدا تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کے اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جاوے۔ رُو سیاہ کیا جاوے۔ میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جاوے مجھ کو پھانسی دیا جاوے۔ ہر ایک بات کیلئے تیار ہوں اور میں اللہ جلشانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کریگا۔ ضرور کریگا۔ ضرور کریگا۔ زمین آسمان ٹل جائیں پر اُس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔

اب ڈپٹی صاحب سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ نشان پورا ہو گیا تو کیا یہ سب آپکے منشاء کے موافق کامل پیشینگوئی اور خدا کی پیشینگوئی ٹھہرے گی یا نہیں ٹھہرے گی اور رسول اللہ صلعم کے سچے نبی ہونے کے بارہ میں چونکہ اندرون بائبل میں دجال کے لفظ سے آپ نامزد کرتے ہیں محکم دلیل ہو جائیگی یا نہیں ہو جائے گی۔ اب اس سے زیادہ میں کیا لکھ سکتا ہوں جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ ہی فیصلہ کر دیا ہو۔ اب ناحق ہنسنے کی جگہ نہیں اگر میں جھوٹا ہوں تو میرے لئے سولی تیار رکھو۔ اور تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے زیادہ مجھے لعنتی قرار دو۔ لیکن اگر میں سچا ہوں ۔ تو انسان کو خدا مت بناؤ۔ توریت کو پڑھو کہ اس کی اوّل اور کھلی تعلیم کیا ہے اور تمام نبی کیا تعلیم دیتے آئے اور تمام دنیا کس طرف جھک گئی۔ اب میں آپ سے رخصت ہوتا ہوں اس سے زیادہ نہ کہونگا۔ والسلام علی من اتبع الہدیٰ ۔

دستخط بحروف انگریزی ہنری مارٹن کلارک پریزیڈنٹ از جانب عیسائی صاحبان

دستخط بحروف انگریزی غلام قادر فصیح پریزیڈنٹ از جانب اہل اسلام

تمام شد

۲۱۱

یہ حوالہ صفحہ 235 پر درج ہے جنگ مقدس صفحہ 211 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 292، 293 از مرزا قادیانی

صفحہ 838

حوالہ نمبر 318

اہل اسلام اور عیسائیوں میں مباحثہ ۲۹۳ ۵۔ جون ۱۸۹۳ء

کہ اگر یہ پیشگوئی جھوٹی نکلی یعنی وہ فریق جو خدا تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کے اٹھانے کے لئے تیار ہوں مجھ کو ذلیل کیا جاوے۔ رُوسیاہ کیا جاوے۔ میرے گلے میں رسّہ ڈالا جاوے مجھ کو پھانسی دیا جاوے۔ ہر ایک بات کیلئے تیار ہوں اور میں اللہ جلشانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کریگا۔ ضرور کریگا۔ ضرور کریگا۔ زمین و آسمان ٹل جائیں پر اُس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔

اب ڈپٹی صاحب سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ نشان پُورا ہو گیا تو کیا یہ سب آپکے منشاء کے موافق کامل پیشگوئی اور خدا کی پیشگوئی ٹھہر یگی یا نہیں ٹھہر یگی اور رسول اللہ صلعم کے سچے نبی ہونے کے بارہ میں جسکو اندرون بائبل میں دجال کے لفظ سے آپ نامزد کرتے ہیں محکم دلیل ہو جائیگی یا نہیں ہو جائے گی۔ اب اس سے زیادہ میں کیا لکھ سکتا ہوں جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ ہی فیصلہ کر دیا ہو۔ اب ناحق ہنسنے کی جگہ نہیں اگر میں جھوٹا ہوں تو میرے لئے سُولی تیار رکھو۔ اور تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے زیادہ مجھے لعنتی قرار دو۔ لیکن اگر میں سچا ہوں۔ تو انسان کو خدا مت بناؤ۔ توریت کو پڑھو کہ اس کی اوّل اور کھلی تعلیم کیا ہے اور تمام نبی کیا تعلیم دیتے آئے اور تمام دُنیا کس طرف جھک گئی۔ اب میں آپ سے رخصت ہوتا ہوں اس سے زیادہ نہ کہونگا۔ والسّلام علٰی من اتّبع الھدٰی *

دستخط بحروف انگریزی دستخط بحروف انگریزی غلام احمد پریذیڈنٹ ازجانب ہنری مارٹن کلارک پریذیڈنٹ ازجانب اہل اسلام عیسائی صاحبان

تمام شد

۲۱۱

یہ حوالہ صفحہ 236 پر درج ہے جنگ مقدس صفحہ 211 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 293 از مرزا قادیانی

صفحہ 839

حوالہ نمبر 319

۱۷۸

کرتا ہے کہ خاص حالت کی باتیں ہیں انبیاء جنہوں نے لوگوں کیلئے اسوہ حسنہ بننا ہوتا ہے اور حقوق العباد کی بھی بہترین مثال قائم کرنی ہوتی ہے عموماً ایسا طریق اختیار نہیں کرتے ۔

(۱۶۰) بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ جب چلہ کی میعاد میں صرف ایک دن باقی رہ گیا ۔ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھ سے اور میاں حامد علی مرحوم سے فرمایا کہ اتنے چنے (مجھے تعداد یاد نہیں رہی کہ کتنے چنے آپ نے بتائے تھے ) لے لو اور ان پر فلاں سورۃ کا وظیفہ اتنی تعداد میں پڑھو (مجھے وظیفہ کی تعداد بھی یاد نہیں رہی ۔ میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ مجھے وہ سورۃ یاد نہیں رہی مگر اتنا یاد ہے کہ وہ کوئی چھوٹی سی سورۃ تھی جیسے الم تر کیف فعل ربک باصحب الفیل الخ ہے اور ہم نے یہ وظیفہ قریباً ساری رات صرف کر کے ختم کیا تھا ۔ وظیفہ ختم کرنے پر ہم وہ دانے حضرت صاحب کے پاس لے گئے ۔ کیونکہ آپ نے ارشاد فرمایا تھا ۔ کہ وظیفہ ختم ہونے پر یہ دانے میرے پاس لے آنا اسکے بعد حضرت صاحب ہم دونوں کو قادیان سے باہر غالباً شمال کی طرف لے گئے ۔ اور فرمایا یہ دانے کسی غیر آباد کنوئیں میں ڈالے جائینگے۔ اور فرمایا کہ جب میں دانے کنوئیں میں پھینک دوں ۔ تو ہم سب کو سرعت کیساتھ منہ پھیر کر واپس لوٹ آنا چاہیئے اور مڑ کر نہیں دیکھنا چاہیئے ۔ چنانچہ حضرت صاحب نے ایک غیر آباد کنوئیں میں ان دانوں کو پھینکدیا ۔ اور پھر جلدی سے منہ پھیر کر سرعت کے ساتھ واپس لوٹ آئے ۔ اور ہم بھی آپکے ساتھ جلدی جلدی واپس چلے آئے اور کسی نے مڑ کر پیچھے کیطرف نہیں دیکھا ۔

( اس روایت میں جس طرح دانوں کے اوپر وظیفہ پڑھنے ۔ اور پھر ان دانوں کو کنوئیں میں ڈالنے کا ذکر ہے ۔ اسکی تشریح حصہ دوم کی روایت نمبر ۳۷۷ میں کی جا چکی ہے۔ جہاں پیر سراج الحق صاحب مرحوم کی روایت سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ یہ کام ایک شخص کی خواب کو ظاہر میں پورا کرنے کے لئے کروایا گیا تھا ۔ ورنہ ویسے اس قسم کا فعل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عادت اور سنت کے خلاف ہے اور دراصل اس خواب کے تصویری زبان میں ایک خاص معنی تھے۔ جو اپنے وقت پر پورے ہوئے )

(۱۶۱) بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک

سیرت المہدی جلد اول صفحہ 178 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 236 پر درج ہے

صفحہ 840

حوالہ نمبر 320

بسم الله الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم الفضل THE DAILY ALFAZL QADIAN. جلد ۲۸ ٹیلیفون نمبر ۱ دارالامان قادیان رجسٹرڈ نمبر ایل ۳۰ مورخہ ۱۳؍ ماہ وفا ۱۳۱۹ ہش مطابق ۱۳ جمادی الاخری ۱۳۵۹ھ ۲۰ جولائی ۱۹۴۰ء نمبر ۱۶۴

قبولیت دعا کے خلاف ایک ٹریکٹ کا جواب

از حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز

(فرمودہ ۱۲؍ ماہ وفا ۱۳۱۹ ہش مطابق ۱۲ جولائی ۱۹۴۰ء) (نوٹ :۔ مرتبہ مولوی محمد یعقوب صاحب مولوی فاضل)

سیدنا خلیفۃ المسیح نے فرمایا :۔ مجھے یہاں ایک ٹریکٹ دیا گیا ہے جس میں میری اس تقریر پر اعتراضات کئے گئے ہیں ۔ جو میں نے مصلح موعود ہونے کے متعلق کی ہے۔ جس میں میں نے ذکر کیا تھا کہ اگر تاریخوں سے تم یہ دھوکا کھاؤ کہ خدا کے وعدے ٹلتے ہوتے ہیں ۔ تو اللہ تعالیٰ اس مصیبت کے ایام کو ان کے پورا ہونے تک لمبا کر دے گا ۔ اور ان کی تباہی اور موت کے سامان پیدا کر دے گا ۔

خدا تعالیٰ کی تصدیق

اور چونکہ اللہ کے فضل نے ہی ان دشمنوں

کا منہ کالا کیا ہے ۔ پس مناسب یہی ہے کہ ہم کہیں ۔ کہ ہم میں سے ایک بھی نہیں کہتا ۔ کہ ہم ایسا منصب رکھتے ہیں کہ اللہ کی دعا کے ساتھ ملنے والے ہیں ۔ ہاں کہوں ؟

ٹریکٹ کا لکھنے والا

ایک ایسا شخص ہے ۔ جو دین سے قطعاً ناواقف ہے ۔ اور اس کو خدا کی پاک و مطہر شے سے کوئی ادنیٰ مناسبت نہیں ۔ اس نے اپنے اس ٹریکٹ میں چند روایات ایسی لکھی ہیں ۔ جن کے متعلق اس کا خیال ہے ۔ کہ اُن کے ہوتے ہوئے میری دعائیں قبول نہیں ہوسکتیں ۔ مگر وہ نادان اس بات کو نہیں سمجھتا کہ اُس نے اس میں جو چھاپا

ہے وہ تو خود کہتا ہے ۔ کہ ان کے متعلق میں نے دعائیں کیں ۔ اور پھر آپ ہی یہ فرض کر لیا ہے ۔ کہ میری دعائیں قبول نہیں ہوئیں ۔ اور پھر آپ ہی یہ نتیجہ نکالتا ہے ۔ کہ چونکہ ان دعاؤں کے متعلق میری دعائیں قبول نہیں ہوتیں اس لئے تیرا یہ دعویٰ کرنا کہ اگر تو مانگے گا تو تیری دعا کا قبول ہونے کے دعوے کی کوئی حقیقت نہیں ۔ اے نادان ! تو اس بات کو نہیں سمجھتا۔ کہ اس نے چند روز پہلے کہہ دیا تھا ۔ کہ کل غضب ہے ۔ یہ تو الٰہی تقدیر ہے۔ جس پر ہم ایمان لاتے ہیں ۔ ورنہ تیرے جیسے ہی رسوا ہوں گے ۔ میں تیری طرف سے ان

دعاؤں کا جواب

دیا جا چکا ہے ۔ چنانچہ میں ادھر بھی کئی بیان کر چکا ہوں ۔ کہ کسی شخص کا یہ دعوےٰ کرنا کہ اس کی فلاں دعا ضرور قبول ہوگی ۔ یہ اسے نبیوں کے برابر کر دے گا جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے ۔ چنانچہ میں نے کہا کہ مجھے اللہ تعالٰی نے یہ بھی سمجھایا ہے ۔ غرض یہ ہے کہ تم اگر سچے ہوتے تو کل میں وفات کروں ۔ تو اُس طرح ہو جائے ۔ اسی لئے زور کوئی حقیقت رکھتا ہے ۔ تو تم پر طاعون مصیبت کیوں آئی ۔ اور تم اس سے کیوں ہلاک ہوئے کیا تمہاری کوئی

یہ حوالہ صفحہ 237 پر درج ہے (قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کی تقریر، روزنامہ الفضل قادیان 20 جولائی 1940ء)

صفحہ 841

حوالہ نمبر 320 ۴ روزنامہ الفضل قادیان دارالامان ۲۰ جولائی ۱۹۴۰ء

ہوتے ۔ اور نہ ان میں شرک کا شائبہ بھی پایا جاتا ۔ تو آپ ان بے دینوں پر لعنت کرتے ۔ جنہوں نے مرنے والوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا ۔ اور فرماتے کہ لعنۃ اللہ علی الیہود والنصاریٰ اتخذوا قبور انبیائھم مساجد ۔ کہ یہود و نصاریٰ پر خدا کی لعنت ہو۔ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنا لیا ۔ اگر خدانخواستہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں بھی شرک کا کوئی شائبہ ہوتا۔ اور آپ سمجھتے کہ میں کوئی خدا ہوں۔ تو آپ ان لوگوں کو جو آپ کے بعد آپ کی قبر کو سجدہ گاہ بناتے ۔ ہرگز لعنت نہ کرتے ۔

اللہ تعالیٰ کی محبت

غالب آتی ۔ اور وہی کام جو اس نے چاہا تھا۔ یک لخت کر دیا۔ پھر شانتی اس کی طرف سے گزر رہی تھی۔ کہ آپ نے ایک بڑھیا کو دیکھا ۔ کہ وہ ایک لکڑی پر چل رہی تھی ۔ آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیٹھے ۔ اور فرمایا ۔ فرمایا کیا ہے ۔ اس کے متعلق بھی غور کرنا چاہیئے ۔ رسول کریم صلی اللہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو ایسا کرتا ہے۔ کہ میں کسی طرح اس کی مانند بنوں ۔ اس میں تکبر ۔ تو کیا تمہیں دیکھا تھا۔ کہ کوئی شخص اس سے باتیں کر رہا ہے ۔ اور کہہ رہا ہے کہ یہ بھی ہماری باتوں میں آکر پھسل ہی گیا۔ مگر اس نے روتے ہوئے ۔ اور اپنے سر کو جھکائے ہوئے چلا ہے۔ آپ نے رسول کریم سے کہا کہ میں تو رویا نہیں تھا۔ مجھے کل رات سردی کے مارے چھینکیں آتی رہی تھیں۔ اور میں نے دل کو لگن سے یہی مانگا ہے ۔ کہ یہ درد سر کیوں سخت ہو گیا ہے۔ اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ کیا تم نے کسی اور چیز کا نام لیا ہے۔ اور یہ کہہ کر آپ اپنے مکان کی طرف تشریف لے گئے۔ یہاں کسی نے اسے بتایا کہ یہ عورت تو تو ہوتی کہ جیسے اللہ عز وجل نے اسے بخشنے کی روزی فرمائی آپ کے پاس ہو گئی ۔ یا بچے کی ۔ رسول اللہ فرماتے ہیں کیا اپنے پروردگار جل شانہ و عم نوالہ تو وہی ہے جو تجھ میں میں کیا جائے۔ اور ہمارے کرتوت کچھ میرا بتاتا ہے۔ ایک دفعہ آپ کا ایک اور واقعہ ہو گیا۔ جس کی وجہ سے آپ کو ہجرت سے

اسے روکا تو آپ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ آپ نے رسول کریم کی قبر پر صلی اللہ علیہ وسلم درود پڑھا کی تلقین کی ہوئی ہے۔ اور فرمایا کہ اے نبی ! رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ میری امتیں روتی ہیں۔ اور یہ امت کی علامت ہے۔ اگر خدانخواستہ یہ کام آپ کے اپنے کئے سے ثابت ہوتا ہے تو میں کیوں کر فرض اور آپ کے دل میں بھی تھا ۔ اور اس وجہ سے کوئی آپ کو شرک کی طرف نہیں بلاتا۔ بلکہ آپ کو توحید کی اپنے بچوں کے لئے دعائیں کیں ۔ اور لوگ کو باوجود اس کے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے سامنے دعا کی تھی۔ آگے پیچھے گئے ۔ ایسے وقت ہو گئے ۔ اور وہابی سے بھی اخوت پیدا ہوئی جو مکہ میں ان کو نہ کرے۔ اس کی سمجھانے کے لئے رسول میرے بھی گناہ بخشیں ۔ پس خدانخواستہ اگر آپ کے دل میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد آپ کے لئے قبروں پر جانے کے لئے بھی کہا جائے ۔ تو آپ کے لئے نے انہیں سمجھایا کہ میں تو ایسا چاہتا ہوں کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چلی جائے جن کی محبت کے لئے آپ تڑپتے تھے ۔ پھر رسول کریم کے وفات کے خالی دل ہو گئے۔ لوگ ان کی طرف صاحب خدمت ہوتے۔ اور کیا ہی کے لئے آپ نے اپنا کلام کا دیا ہے جس کے لئے

قبولیت دعا کا معجزہ

بیان کیا ہے ۔ کہ ایک شخص بیمار ہوا۔ اس کو لوگ رسول کریم کی کوئی حاجت کی باتیں نہ بتا سکے۔ اس کو آپ سے بھی دکھ ہوا ۔ جب اس نے آپ کی باتیں نہ مانی ۔ تو آپ نے فرمایا خدا کی لعنت ہو۔ تمہارے کہنے کے مطابق کس طرح سے آیا ۔ تو کیا اس کی بات

مشرق ہوئی۔ حالانکہ واقعہ یہ ہے۔ کہ آپ نے حضرت موسیٰ کے لئے بھی کی محبت کے لئے بیتاب تھے۔ اور اور آپ کو ان سے جو رشتہ اخوت کا کو آپ نے فرمایا ہے۔ کہ تو کیا اپنے لانے میں بے جا عجلت کی ہے ۔ تو آپ ہمیشہ غریب کی امداد کے لئے مستعد ہیں۔ اس لئے آپ وقت کے وقت بھی اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے۔ اور موسیٰ اور آپ نے وفات سے کچھ عرصہ پہلے آپ کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ نے جب موسیٰ اور عیسیٰ کی وفات پر تو آپ نے آپ نے غریب کے لئے ہمیشہ بند کر دیا۔ ایک دفعہ آپ کی وفات کی خبر سن کر آپ کے صحابہ جو تشریف لے گئے تھے۔ اور

کشف دقیق مسائل

بیان کیا کرتے تھے۔ جن بے پناہ روپے عیسائی اور دوسرے لوگوں کو دیئے جاتے ہیں۔ مگر انہوں نے اس لئے بیان نہ کیا کہ پادری ہمیشہ اپنے کاموں میں مصروف رہتے۔ جیسے لوگوں کے سامنے ہے۔ پہلے لوگوں سے بیت نہیں لیتے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے۔ میں نے ہمیشہ اس وقت اس لئے کیا کہ جب میری عمر کا وقت آتا ہے۔ میں سواری پر کھڑا ہو کر بیٹھا کرتا تھا۔ تو میں نے دیکھا کہ تکلیف ہوتی ہے۔ اس لئے میں یوں ہی

مساویانہ مرتبہ

حاصل تھا۔ اور جب صحابہ رضی اللہ صاحب خدمت ہوتے۔ اور کیا ہی نے اس کے متعلق جو باتیں کی ہیں ان باتوں کے باوجود وقت پر کئی گنا زیادہ محنت کی تھی۔ اس کے کہ اس کی وجہ سے بھی باتوں میں شرک کوئی بات نہ تھی۔ آپ نے ان کو گھر میں تبدیل نہ کریں۔ اور نہ اس سے وقت کے بعد ہی ان میں سے آپ نے وفات کی خبر سن کر شرک ۔۔ مبارک موت ہو۔ اس حالت میں دنیا کو پیچھے ۔ لے کر موسیٰ

(قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کی تقریر، روزنامہ الفضل قادیان 20 جولائی 1940ء) یہ حوالہ صفحہ 237 پر درج ہے

صفحہ 842

حوالہ نمبر 321 الزلزال ٩٩ ۴۳۲ عَمَّ

انذاری پیشگوئیوں میں اپنی غلطی یا خدا پر منڈھ دی یا بندہ پر ڈال دی جاتی ہے۔ اُسے ایک لمحہ بھر کے لئے بھی اپنے الہامات کی صداقت میں کوئی شک نہیں ہوتا۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب آتھم والی پیشگوئی کی اور میعاد کے ختم ہونے کا دن آیا تو مجھے وہ نظارہ اب تک یاد ہے کہ آج کل جہاں حکیم مولوی قطب الدین صاحب کا مطب ہے وہاں لوگ جمع ہوئے اور چیخیں مار مار کر دعائیں کرنے لگے کہ الٰہی یہ پیشگوئی ضرور پوری ہو جائے۔ ایک بے قرار سا اور دیوانہ پنا طاری تھا اور وہ دیوار کے ساتھ بے تحاشا اپنا سر مارتا اور کہتا خدایا اب یہ بیڑہ نہ ڈوبے جب تک آتھم نہ مر جائے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس کا علم ہوا تو آپ باہر تشریف لائے اور فرمایا اِن لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ چیخیں مار مار کر انہوں نے آسمان سر پر اُٹھا لیا ہے اگر جھوٹے ہوں گے تو ہم ہوں گے ان کو کس بات کا فکر ہے۔

یہ جھوٹی پیشگوئیاں سراج منیر صفحہ ۷۳، روحانی خزائن ص ۷۴ ج ۱۲ پر درج ہیں

اب دیکھو جماعت کو تو یہ فکر ہے مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو رتی بھر گھبراہٹ نہیں تھی۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ لوگوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زبان سے صرف کلام سُنا تھا ملائکہ کے نزول کی وجہ سے جو ثباتِ قلب عطا کیا جاتا ہے وہ انکو حاصل نہیں تھا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قلب کو غیر معمولی ثبات حاصل تھا اور آپ سمجھتے تھے کہ سچ وہی ہے یعنی یہ کہ جس خدا کا کلام مجھ پر نازل ہوا ہے وہ اپنے کلام کو آپ پورا کرے گا اور اگر کسی شرط کی وجہ سے دنوں میں تاخیر بھی ہو تو انذاری پیشگوئیوں کے متعلق جو سنت چلی آرہی ہے بہر حال اسی کے مطابق ہو گا اس لئے گھبراہٹ اور فکر کی کوئی بات نہیں۔

پس اللہ تعالیٰ کے کلام کے ساتھ خواہ وہ الہاماً نازل ہو فرشتوں کا آنا ضروری ہوتا ہے۔ مگر یہ خیال کر لینا کہ ہر کلام کے ساتھ فرشتہ آکر یہ کہتا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے فلاں بات پہنچاتا ہوں بالکل غلط ہے۔ حدیثوں میں بھی صرف پانچ سات ایسی مثالیں مل سکتی ہیں جن میں انا جبریل کے الفاظ آتے ہوں مگر اور کہیں ذکر نہیں آتا یا رمضان کے متعلق آتا ہے کہ

ان ایام میں جبرائیل آتے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر قرآن کریم کی تلاوت کرتے مگر یہ صورت بالکل اور ہے۔ اس میں جبریلؑ کا آنا اس لئے ضروری تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے قرآن کریم کا ہر لفظ یاد رکھنا ضروری تھا۔ باقی لوگ اگر قرآن کریم پڑھنے میں کوئی غلطی کرتے تو اور لوگ اس کی اصلاح کر سکتے تھے لیکن اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی غلطی کرتے تو لوگ کس طرح درست کرتے۔ وہ سمجھتے کہ شاید رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اسی طرح نیا کلام نازل ہوا ہے یا پہلے کلام میں کوئی تبدیلی ہو گئی ہے اس لئے خدا تعالےٰ نے جبریل کو سامع بنا دیا۔ تا کہ اگر تلاوت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی غلطی ہو جائے تو جبریل آپکو بتا دیں اور آپ اس کی اصلاح کرلیں۔ پس یہ صورت بالکل اور ہے اس سے یہ استدلال نہیں ہو سکتا کہ ہر کلام کے ساتھ اس رنگ میں فرشتے کا نازل ہونا ضروری ہے کیونکہ اگر یہ کہے کہ مجھے اللہ تعالےٰ نے فلاں بات آپ کو پہنچانے کا حکم دیا ہے۔ یہ عام طریق صرف بعض الہامات میں اختیار کیا جاتا ہے باقی الہامات کے ساتھ فرشتوں کا نزول صرف اتنا مفہوم رکھتا ہے کہ اللہ تعالےٰ اپنا کلام فرشتوں کی حفاظت میں نازل فرماتا ہے۔

پھر ہم دیکھتے ہیں کہ قولہ : وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِىَ اِلَىَّ وَ لَمْ يُوْحَ اِلَيْهِ شَىْءٌ ؕ اِس کو پڑھ کر کہے کہ اور کون ظالم ہو سکتا ہے جو اللہ تعالےٰ پر بے دھڑک جھوٹ باندھے یا کہے کہ میری طرف وحی کی گئی ہے حالانکہ اُس کی طرف کوئی وحی نہ ہوئی ہو۔ اس کے متعلق اِن معترضین کو کہنا چاہئیے کہ یہاں جبرائیل کا نام کیوں نہیں لیا اگر وحی کے لئے جبرائیل کا آنا ضروری ہے تو خدا تعالےٰ کو فرمانا چاہئیے تھا کہ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ قَالَ جَآءَنِىْ جِبْرِيْلُ وَ لَمْ يَاْتِهِ جِبْرِيْلُ مگر اللہ تعالےٰ نے ایسا نہیں فرمایا بلکہ فرمایا کہ جو شخص یہ کہے کہ مجھ پر وحی نازل ہوئی ہے اور اس پر وحی نازل نہ ہوئی ہو وہ ظالم ہے اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالےٰ کے نزدیک کلام کا نازل ہونا اور ہے اور فرشتے کا آنا اور ہے اگر کلام کے ساتھ فرشتے کا آنا بھی ضروری ہوتا تو اللہ تعالےٰ فرماتا اَوْ قَالَ جَآءَنِىْ جِبْرِيْلُ

تفسیر کبیر جلد 9 صفحہ 432 از مرزا بشیر الدین محمود یہ حوالہ صفحہ 238 پر درج ہے

صفحہ 843

حوالہ نمبر 322

روحانی خزائن ۲ جلد ۹

اب یادرہے کہ پیشگوئی میں فریق مخالف کے لفظ سے جس کے لئے ہاویہ یا ذلت کا وعدہ تھا ایک گروہ مراد ہے جو اس بحث سے تعلق رکھتا تھا خواہ خود بحث کرنے والا تھا یا معاون یا حامی یا سرگروہ تھا۔ ہاں مقدم سب سے ڈپٹی عبداللہ آتھم تھا ۔ کیونکہ وہی دوسرے عیسائیوں کی طرف سے منتخب ہو کر چندہ دن جھگڑا تھا مگر درحقیقت اس نقطہ کے حصہ دار دوسرے معاون اور محرک اور سرگروہ بھی تھے کیونکہ ہر فریق اس تمام گروہ کا نام ہے جو ایک کام بالمقابل کرنے والا یا اس کام کا معاون یا اس کام کا بانی یا مجوّز یا حامی ہو اور پیشگوئی کی کسی عبارت میں یہ نہیں لکھا گیا کہ فریق سے مراد صرف عبداللہ آتھم ہے۔ ہاں میں نے جہاں تک الہام کے معنے سمجھے وہ یہ تھے کہ جو شخص اس فریق میں سے بالمقابل باطل کی تائید میں متعصب و خبیث گزرنے والا ہے اس کے لئے ہاویہ سے مراد سزائے موت ہے لیکن الہامی لفظ صرف ہاویہ ہے اور ساتھ یہ بھی شرط ہے کہ حق کی طرف رجوع کرنے والا نہ ہو۔ اور حق کی طرف رجوع نہ کرنے کی قید ایک الہامی شرط ہے جیسا کہ میں نے الہامی عبارت میں صاف لفظوں میں اس شرط کو لکھا تھا اور یہ بات بالکل سچ اور یقینی اور الہام کے مطابق ہے کہ اگر مسٹر عبداللہ کا دل جیسا کہ پہلے تھا ویسا ہی توہین اور تحقیرِ اسلام پر قائم رہتا اور اسلامی عظمت کو قبول کر کے حق کی طرف رجوع کرنے کا کوئی حصہ نہ لیتا تو اسی میعاد کے اندر اس کی زندگی کا خاتمہ ہو جاتا لیکن خدا تعالیٰ کے الہام نے مجھے بتلا دیا کہ ڈپٹی عبداللہ آتھم نے اسلام کی عظمت اور اس کے رعب کو تسلیم کر کے حق کی طرف رجوع کرنے کا کسی قدر حصہ لے لیا جس حصہ نے اس کے وعدہ موت اور کامل طور کے ہاویہ میں تاخیر ڈال دی اور ہاویہ میں تو گرا لیکن اس بڑے ہاویہ سے تھوڑے دنوں کے لئے بچ گیا جس کا نام موت ہے اور یہ ظاہر ہے کہ الہامی لفظوں اور شرطوں میں سے کوئی ایسا لفظ یا شرط نہیں ہے جو بے تاثیر ہو یا جس کا کسی قدر ثمرہ نہ ہو یا اپنی تاثیر پیدا نہ کرے۔ لہٰذا ضرور تھا کہ جس قدر مسٹر عبداللہ آتھم کے دل نے حق کی عظمت کو قبول کیا اس کا فائدہ اس کو پہنچ جائے سو خدا تعالیٰ نے ایسا ہی کیا اور مجھے فرمایا اطلع اللہ علی ھمّہ و غمہ۔ ولن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا ولا تحویلا ولن ترضی عنھم الاخیار ان کنتم مؤمنین و یحزق و یھلک و یبث الاخلۃ و نمزق الاعداء کل ممزق و حلوا و ذاقوا حوبھم و من نکشف الدم عن ساقیہ یشل و یخرج ولہ نحیب ۔ ثلۃ من الاولین و ثلۃ من الآخرین جعل عند کل آیۃ فمن شاء اتخذ الی ربہ سبیلا۔ ترجمہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس کے ھمّ و غم پر اطلاع پائی اور اس کو مہلت دی جب تک کہ وہ بیباکی اور سخت گوئی اور

انوار الاسلام صفحہ 2 مندرجہ روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 2 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 239 پر درج ہے

صفحہ 844

حوالہ نمبر 323

THE AL-HAKAM

Qadian

سلسلہ عالیہ احمدیہ کا سب سے پہلا اور مشہور و معروف اخبار وَاتَّقُوا اللهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللهُ وَاللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ

بیا در بزم ما و حُسن تیاری جائے دگر
ببیں دروے میں در آوئے دگر

ایڈیٹر: شیخ یعقوب علی عرفانی

یہ پرچہ قادیان دارالامان سے ہر انگریزی ماہ کی ۷، ۱۴، ۲۱، ۲۸ تاریخ کو خدا کے فضل اور کرم سے شائع ہوتا ہے۔ چندہ سالانہ با ڈاک ۴ روپے ششماہی ۲ روپے فی پرچہ ۲ آنے

زبان فریادے دارد کہ شاید بشنود سرت

مسلمانوں کی زندگی اور موت کا سوال

یہ ایک مسلمہ صداقت ہے کہ دنیا کی تمام قوموں کی زندگی ان کے مذاہب پر ہے۔ وہ قومیں جن کا اپنا کوئی مذہب نہیں اور جن کے سامنے کوئی اخلاقی نمونہ نہیں وہ مردہ ہیں۔ اور ان کے مقاصد دنیاوی ترقیات سے وابستہ ہیں اور وہ اپنی زندگی کو انہیں مقاصد کے لئے وقف کر دیتیں ہیں۔ مگر اسلام نے ایک ایسی صاف اور پاک زندگی اپنے متبعین کے لئے بتائی ہے جو سراسر روحانی ہے۔ ہندوستان کے سیاسی لیڈر فرض اور انصاف کی مستقل اور بیدار روُحوں کے لئے یہ واضح اور روشن کر دیا ہے کہ حریت تامہ کے لئے ایک خاص مقام قائم کرنا چاہئے۔ جو اپنی آزادانہ آواز کو ہمیشہ بلند کر سکیں اور فرعونی طاقتوں کے سامنے سچائی کا کلمہ کہنے سے دریغ نہ کریں

الحمد للہ والمنۃ کہ تمام سلسلہ احمدیہ کو مبارک

ان مسلم سیاسی لیڈروں پر ہے جنہوں نے باوجود تمام لغو خیالات (فرضی پروپیگنڈا) کے جو ہندو پریس براہِ عداوت کر رہا ہے۔ زیادہ پسند نہ کیا بلکہ اپنی خاموشی سے اپنے بھائیوں کی روحانی قوت کی تنظیم میں حصہ لیا ہے۔ یہ مقام دنیا سے جنگ مٹانیکے لئے آیا تھا۔ دنیا کو امن کی ضرورت تھا۔ اور اس صلح کے بانی نے جو خدا کی طرف سے مامور ہو کر آیا تھا بہت شاندار اور بہترین ثمرات اس میں بھی پیدا کئے۔ کہ ہر سوختہ جان اور خستہ تن کو ٹھنڈی دعائیں دیں آج دنیا میں صلح کا کام کرنے والوں میں ہندوستان کے سیاسی لیڈر بھی حصہ لے رہے ہیں مگر اُن کی آواز اس وقت تک صدا بصحرا ہو گی جب تک وہ اپنی بیداری اور حسنِ عمل سے اس امن کے رسولوں کے طریقہ کو اپنا شعار نہ بنا لیں گے جو خدا کے اذن سے دنیا

اس وقت جب کہ تمام دنیا ایک مرکز پر جمع ہو رہی ہے ہمارا ہے کہ ہندو قوم اپنے بچاؤ کے لئے ان کی طرف سے امیدیں وابستہ کر رہی ہے وہ کیا ہے شاید ان کو اپنی عمارت کی تعمیر کے لئے وہ بنات الا طہروہی ہیں اور جس سے حریت تامہ ... یہ مقام قادیان ہے یہاں سے پیغام پہنچا کر دنیا کے تمام قوموں کو ایک آواز پر جمع کرنا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں سے وہ شاندار عمارت کی جس کے لئے وہ بنات الا خون دل کی ترکیب سے تیار کیا گیا کا معاملہ ہو گیا ہے اور دل کے نثاروں کی استقامت میں ... کو پکارا جاوے شاید

"رحیم بخش صاحب ایم۔اے اور ماسٹر قادر بخش صاحب" کا مضمون مندرجہ اخبار الحکم قادیان جلد 25 نمبر 34 مورخہ 7 ستمبر 1923ء یہ حوالہ صفحہ 239 پر درج ہے

صفحہ 845

حوالہ نمبر 323

محمد قادیانی کا امتحان حصہ دوم صفحہ نمبر 66

صاحب موصوف کا عجز و انکسار اس قدر تھا کہ جب چلتے تو تمام سے آخر میں ہوتے۔ اور یہ معلوم ہوتا تھا کہ کوئی بہت ہی مسکین آدمی جا رہا ہے۔ راستے میں اگر کوئی دوسرا مل جاتا۔ تو اس سے باتیں کرنے لگ جاتے۔ اور اس کو پیغام حق سنانے اور سمجھانے سے باز نہ رہتے۔ باوجود ضعف کی اس قدر محنت اور مشقت کے سبب ان کا یہ حال تھا کہ جس دن گھر ہوتے اسی دن سے بخار آ کر گرا تھا آپ آرام کریں۔ آپ کو جانے کی ضرورت نہیں چنانچہ ان کی غرض یہ تھی کہ کام نہیں کرتے رہا۔ اور ہر طرح ان کی خدمت کرتے رہتے۔ اور وہ آپ سے بہت ہی خوش تھے۔ سعد اللہ مذہب پر بڑی تڑپ کے ساتھ بحثیں کرتا۔ اور ہو ہو جاتا تھا۔ سعد اللہ صاحب کے شبہات و پورا رہتا تھا۔ والد صاحب فرمایا کرتے تھے کہ وہ آپ سے دبتا کرتا تھا۔ سعد اللہ لدھیانوی کو ہم نے جس دن عبداللہ آتھم کی پیشین گوئی کا پورا ہونے کا انتظار تھا ۔ آپ قادیاں تھے۔ فرمایا کرتے تھے کہ حضرت صاحب اس دن یہ فرماتے تھے کہ آج سورج غروب نہیں ہو گا کہ آتھم مر جائے گا۔ مگر جب سورج غروب ہو گیا تو لوگوں کے دل ڈوبتے تھے۔ آپ فرماتے تھے کہ مجھے اسوقت کوئی گھبراہٹ نہیں ہوئی میں نے کہا وہ عیسائی ضرور مرے گا مگر جس وقت حضور نے تقریر فرمائی اور مسلمانوں کی خفت دِکھائی تو طبعیت میں بشاشت اور انشراح صدر پیدا ہو گیا۔ اور ایمان تازہ ہو گیا۔ فرماتے تھے کہ میں نے اس وقت ایک عجیب قسم کا نور دیکھا ۔ عیسائیوں سے ایک گاڑی میں جا کر بحث کرتے رہے مولانا روم صاحب کے بازاروں میں لیے پھرتے تھے۔ جس میں اُسے دیکھ کر یہ کہتی کہ وہ تو ہیں وہ دیوانہ سعد اللہ ہے ۔ ورنہ سعد اللہ تو ایسا تھا کہ جس نے میرے

میں نے خود کئی دفعہ سنا ہے کہ میاں صاحب کہا کرتے تھے کہ حضرت صاحب کو اس کا بہت افسوس تھا۔ اور فرماتے تھے کہ ہم اس کو منع کرتے تھے۔ کہ مت آیا کرو۔ وہ بہت ضعیف تھا۔ مگر وہ پھر بھی آ جاتا تھا۔ اور کہا کرتا تھا کہ مجھے یہاں آنے سے ثواب ملتا ہے۔ اس لئے میں آتا ہوں۔ آپ اس کو کہتے تھے کہ تم یہاں احمد نگر میں ہی رہا کرو۔ آپ اس لئے اس کو احمد نگر میں رہنے کی تاکید کرتے تھے۔ اور کبھی فرماتے کہ تم کو احمد نگر بھیجا ہے۔ تم بیمار ہو جاؤ گے ۔ میں نے خود کئی دفعہ سنا ہے کہ میاں صاحب نے مجھ سے فرمایا کہ اگرچہ قادیان میں بخار تھا اور حضرت صاحب اس دن فرماتے کہ آج تو میں نے دیکھا ہے کہ بخار طواف کر رہا ہے اور کل بخار کی باری تھی۔ میں نے یہ سن کر ارادہ کر لیا کہ میں ضرور جاؤں گا تاکہ مجھے ثواب ملے۔ اگر بخار ہو گیا تو حضرت صاحب خوش ہوں گے چنانچہ اس دن میں بخار کی حالت میں قادیان گیا اور مجھے بخار ہو گیا۔ میں نے سمجھا کہ اب حضرت صاحب خوش ہوں گے۔ مگر وہ تو مجھ سے خفا ہو گئے۔ اور مجھ پر غصہ ہو کر فرمایا کہ ہم تو تمہیں منع کرتے تھے کہ مت آؤ۔ مگر تم نہ مانے ۔ اب لوگوں کو کیا کہیں گے۔ کہ یہ ہمارے ہاں آ کر بیمار ہو گیا حضرت صاحب کے اس فرمانے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو ان سے کتنی محبت تھی اور کس قدر آپ ان کا خیال رکھتے تھے۔ مجھے یہ بھی یاد ہے کہ جب سعد اللہ صاحب کو جو حضور کی پیشین گوئی کے مطابق مرا تھا۔ اس کا والد جو کہ عیسائی تھا جب اس کو یہ خبر پہنچی کہ سعد اللہ مر گیا ہے۔ تو وہ قادیان آیا۔ اور سعد اللہ کی لاش کو لے کر امرتسر گیا۔ اس کے جنازہ پر بہت سے عیسائی جمع تھے۔ میں بھی امرتسر گیا ہوا تھا میں نے اس کے جنازہ کو دیکھا کہ اس کے منہ پر ایک کپڑا ڈالا ہوا تھا۔ اور وہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے سور کا منہ ہوتا ہے ۔ اور اس کے منہ سے بدبو آ رہی تھی حالانکہ وہ ابھی مرا تھا۔ اس کے جنازہ کے ساتھ

ایسے شخص کو دیکھا چاہئیے ۔ کہ پھر آپ قادیان میں گاہے بگاہے آتے اور ہمیں ان چشم دید واقعات سناتے چنانچہ ایک دفعہ فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو مردوں کو جلاتے تھے مگر میں کہتا ہوں کہ اگر اب بھی کوئی انکا سچا پیرو ہو تو وہ بھی مردوں میں سانس پھونک کر ان کو زندہ کر سکتا ہے یہ بات حضور نے بڑے جوش میں فرمائی تھی۔ آپ کے دل میں اس قدر درد تھا کہ بعض دفعہ آپ سجدہ میں پڑے رویا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ یا اللہ ان لوگوں کو ہدایت دے ۔ آپ نے ہم کو بھی ہدایت کی کہ تم لوگ بھی ان لوگوں کے لئے دعا کیا کرو۔

حصول گفتگو کرتے ہوئے مکان پر آئے۔ یہاں بھی تک ساری گالیاں دیتے ہی گئے۔ اور سامنے آ کر عرض کی کہ حضور میری گائے بیمار ہے۔ دعا فرمائیے ۔ حضور نے فرمایا کہ اچھا گائے بھی بیمار ہوتی ہے نے کہا کہ تم تو کہتے ہو یہ سب دجال کی کارروائی ہے پس سوچو اور خجالت و شرمندگی سے کہنے لگا کہ جی ہاں پٹھے تو دجال کے سعد اللہ لدھیانوی آپ نے جو براہین احمدیہ کے دعوٰی کو سُن کر سلامتی طبعیت پر آپ نے خط لکھے مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بہت ہی عمدہ فائدہ اٹھایا میں داخل ہو گئے ۔ جب آپ کو یہ معلوم ہوا کہ آپ نے بیعت کر لی ہے تو انہوں نے آپ کو سخت تنگ کرنا شروع کر دیا۔ اور یہاں تک نوبت پہنچی کہ انہوں نے آپ کو گھر سے نکال دیا۔ آپ نے قادیان آ کر حضرت صاحب سے سارا ماجرا بیان کیا۔ تو آپ نے فرمایا کہ تم فکر نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے بہتر گھر دے گا۔

رہے ۔ فراست کا یہ عالم تھا کہ جالندھر کا ایک کٹر آریہ اور پیشین گوئی کا پورا ہونے کا انتظار تھا۔ مگر جب آپ کی والد صاحب کے ساتھ سخت بحث ہوئی۔ امرتسر کی بحث کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک دفعہ ہو چکے تھے تبھی تو میں حضرت صاحب کے ساتھ تھا کے فرزند تھے عبداللہ آتھم اور جو فارم تصدیق اسکے ساتھ بھیجے تھے وہ والد صاحب نے پر کیا ہے۔ اور اس وقت میں یہ الفاظ پڑھے ہوئے ہیں۔ پیشین گوئی میں صفائی نہ خوشی یا معمولی سے پوری ہوئی ہے کہ اس کی فکر میری فکر میں تو کوئی نہیں ہے۔ آپ کا نام ذوالقرنین احمد ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے یہ نام کی صفات اپنے اندر پیدا کرنے چاہئیں اس میں بڑی کارروائی ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ میری تو یہ حالت ہے کہ اگر آپ سے شادی نہ فرمائی ہوتی تو میں اس کے

یہ تمام حوالہ سیرت المہدی حصہ اول صاحب کا مضمون اخبار الفضل دارالامان قادیان جلد 25 نمبر 34 مورخہ 7 ستمبر 1923ء یہ حوالہ صفحہ 239 پر درج ہے

صفحہ 846

حوالہ نمبر 324

۲۸

ماسوا اس کے اگر محمد حسین کی دانست میں میرے الہامات میرے ہی افترا تھے تو اس کو چاہیے تھا کہ بجائے ایسی بے ہودہ باتوں کے یہ مضمون لکھتا کہ گورنمنٹ کو یہ تحقیق کرنا چاہیئے کہ یہ شخص ملہم من اللہ ہونے کے دعوے میں سچا ہے یا جھوٹا۔ اور طریق آزمائش یہ ہے کہ گورنمنٹ عام طور پر اس سے کوئی پیشگوئی مانگے پھر اگر وہ پیشگوئی اپنے وقت پر پوری نہ ہو تو گورنمنٹ یقین کر لے کہ یہ شخص جھوٹا اور مفتری ہے اور اس سے یہ نتیجہ نکال لے کہ لیکھرام کا قاتل بھی یہی ہو گا۔ کیونکہ ایک جھوٹا شخص جب کسی اپنی پیشگوئی میں دیکھتا ہے کہ میرا جھوٹ کھل جائے گا تو بے شک وہ ناجائز طریقوں کی طرف توجہ کرتا ہے اور اُس کی خبیث ذات سے کچھ بعید نہیں ہوتا کہ ایسی ایسی ناپاک حرکات اس سے صادر ہوں۔ اگر اس تقریر کے ساتھ گورنمنٹ کو لیکھرام کے مقدمہ میں میری نسبت توجہ دلاتا تو کچھ تعجب نہ تھا کہ یہ تقریر قبول کے لائق ٹھہرتی اور انصاف پسند لوگ بھی اس کو پسند کرتے اور مجھے بھی ایسے مواخذہ میں کچھ عذر نہیں ہو سکتا تھا۔ کیونکہ اگر میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوں اور میری پیشگوئیاں میری طرف سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں تو بے شک میری بریت کے لئے اس قدر خدا تعالیٰ کی مدد چاہیے کہ وہ کسی الہامی پیش خبری سے جو ایک محکمہ گورنمنٹ کو اُس کے مطالبہ کے وقت مطمئن کر دیوے اور وہ سمجھ جائے کہ درحقیقت یہ کار و بار خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے نہ انسان کی طرف سے ۔

لیکن اس بات پر زور دینا کہ میں لیکھرام کے قاتل کا نام بیان کروں صحیح نہیں ہے خدا تعالیٰ اپنے مصالح میں کسی کا محکوم نہیں ہو سکتا۔ اگر اُس نے ایک بات کو مخفی کرنا چاہا ہے تو ہم اُس پر زور نہیں ڈال سکتے کہ وہ ضرور اس بات کو ظاہر کرے ۔ جو شخص خدا تعالیٰ پر ایسی حکومت چلانا چاہتا ہے یا چلانے کے لئے درخواست کرتا ہے تو وہ عبودیت کے آداب سے بالکل بے نصیب ہے۔ خدا عالم غیب اپنی مرضی سے ظاہر کرتا ہے انسان کی مرضی سے ظاہر نہیں کرتا دیکھو حضرت یعقوب علیہ السلام کو اس بچہ کے ملانے کی کیسی قدر ضرورت تھی کہ اُن کا بیٹا

۲۰

کتاب البریہ صفحہ 20 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 38 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 241 پر درج ہے

صفحہ 847

حوالہ نمبر 325

۲۰۱

نور احمد نے کہا کہ خدا کی قدرت سے کیا تعجب کہ وہ لڑکا ملے۔ اس سے قریباً تین برس کے بعد جیسا کہ ابھی لکھتا ہوں دہلی میں میری شادی ہوئی اور خدا نے وہ لڑکا بھی دیا اور تین اور عطا کئے۔ اِس بیان کی تمام یہ لوگ تصدیق کریں گے بشرطیکہ قسم نمونہ نمبر ۲ دے کر پوچھا جائے۔ اور حافظ نور احمد سخت مخالف ہے مگر نمونہ نمبر ۲ کی قسم اس کو بھی سچ بولنے پر مجبور کرے گی۔

بٹالوی ایڈیٹر رسالہ اشاعۃ السنۃ کے مکان پر جانے کا اتفاق ہوا۔ اُس نے مجھ سے دریافت کیا کہ آجکل کوئی الہام ہوا ہے ؟ مَیں نے اُسکو یہ الہام سُنایا۔ جس کو مَیں کئی دفعہ اپنے مخلصوں کو سُنا چکا تھا۔ اور وہ یہ ہے کہ بِکْرٌ وَّ ثَیِّبٌ ۔ جس کے یہ معنے اُن کے آگے اور نیز ہر ایک کے آگے مَیں نے ظاہر کئے کہ خدا تعالیٰ کا ارادہ ہے کہ وہ دو عورتیں میرے نکاح میں لائے گا۔ ایک بکر ہوگی اور دوسری بیوہ۔ چنانچہ یہ الہام جو بکر کے متعلق تھا پُورا ہوگیا۔ اور اسوقت بفضلہ تعالیٰ چار پسر اِس بیوی سے موجود ہیں اور بیوہ کے الہام کی انتظار ہے مَیں نہیں یقین کر سکتا کہ مولوی محمد حسین بوجہ شدّتِ عناد اور تعصب اِس پیشگوئی کی نسبت اپنی واقفیت بیان کر سکے۔ لیکن اگر حلف مطابق نمونہ نمبر ۲ دیجائے تو اُس صورت میں اُمید ہے کہ سچ بول دے۔

قادیان اور لالہ ملاوامل کھتری ساکن قادیان اور جان محمد مرحوم ساکن قادیان اور ۳۵ بہت سے اَور لوگوں کو یہ خبر دی تھی کہ خدا نے اپنے الہام سے مجھے اطلاع دی ہے کہ

۷۲

یہ حوالہ صفحہ 242 پر درج ہے تریاق القلوب صفحہ 73 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 201 از مرزا قادیانی

صفحہ 848

حوالہ نمبر 326 ۳۱

نہایت نجیب اور شریف اور عالی نسب ..... بزرگوار خاندان سادات سے یہ تعلق قرابت اس عاجز کو پیدا ہُوا اور اس نکاح کے تمام ضروری مصارف تیاری مکان وغیرہ تک ایسی آسانی سے خدا تعالیٰ نے بہم پہنچائے کہ ایک ذرہ بھی فکر کرنا نہ پڑا اور اب تک اسی اپنے وعدہ کو پورے کئے چلا جاتا ہے۔

(ضمیمہ شحنہ حق ص ۴۳، ۴۴۔ روحانی خزائن جلد ۸ صفحہ ۳۸۲، ۳۸۳)

۱۸۸۱ء (قریباً) "اس پیشگوئی کو دوسرے الہامات میں اور بھی تصریح سے بیان کیا گیا ہے یہاں تک کہ اُس شہر کا نام بھی لیا گیا تھا جو دہلی ہے، اور پیشگوئی بہت سے لوگوں کو سنائی گئی تھی ..... اور جیسا کہ لکھا گیا تھا ایسا ہی ظہور میں آیا کیونکہ بغیر سابق تعلقات قرابت اور رشتہ کے دہلی میں ایک شریف اور مشہور خاندانی سیادت میں میری شادی ہوگئی ..... سو چونکہ خدا تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ میری نسل میں سے ایک بڑی بنیاد حمایت اسلام کی ڈالے گا اور اس میں سے وہ شخص پیدا کرے گا جو آسمانی رُوح اپنے اندر رکھتا ہوگا اِس لئے اُس نے پسند کیا کہ اس خاندان کی لڑکی میرے نکاح میں لاوے اور اس سے وہ اولاد پیدا کرے جو اُن نوروں کو جن کی میرے ہاتھ سے تخمریزی ہوئی ہے دُنیا میں زیادہ سے زیادہ پھیلاوے اور عجیب اتفاق ہے کہ جس طرح سادات کی دادی کا نام فاطمہ تھا اسی طرح میری یہ بیوی جو آئندہ خاندان کی ماں ہوگی اس کا نام نصرت جہاں بیگم ہے یہ تفاؤل کے طور پر اس بات کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے تمام جہان کی مدد کے لئے میرے آئندہ خاندان کی بنیاد ڈالی ہے یہ خدا تعالیٰ کی عادت ہے کہ کبھی ناموں میں بھی اُس کی پیشگوئی مخفی ہوتی ہے۔

(تریاق القلوب صفحہ ۶۳، ۶۵۔ روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۲۷۵، ۲۷۶)

۱۸۸۴ء (تخمیناً) "تخمیناً اٹھارہ برس کے قریب عرصہ گذرا ہے کہ مجھے کسی تقریب سے مولوی محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر رسالہ اشاعۃ السنہ کے مکان پر جانے کا اتفاق ہوا۔ اُس نے مجھ سے دریافت کیا کہ آجکل کوئی الہام ہوا ہے یا نہیں اُس کو یہ الہام سنایا جس کو میں کئی دفعہ اپنے مخلصوں کو سنا چکا تھا اور وہ یہ ہے کہ بِکْرٌ وَّ ثَیِّبٌ جس کے یہ معنے ان کے آگے اور نیز ہر ایک کے آگے میں نے ظاہر کئے کہ خدا تعالیٰ کا ارادہ ہے کہ وہ دو عورتیں میرے نکاح میں لائے گا ایک بکر ہوگی اور دوسری بیوہ۔ چنانچہ پہلا الہام جو بکر کے متعلق تھا پورا ہوگیا اور اس وقت بفضلہ تعالیٰ چار پسر اس بیوی سے موجود ہیں اور بیوہ کے الہام کی انتظار ہے۔"

(تریاق القلوب صفحہ ۳۴۔ روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۲۰۱)

۱؎ خاکسار کی رائے میں یہ الہام الہی اپنے دونوں پہلوؤں سے حضرت اماں جان کی ذات میں ہی پورا ہُوا ہے سو بکر یعنی کنواری آئیں اور ثیب یعنی بیوہ رہ گئیں۔ واللہ اعلم۔ (مرتب)

یہ حوالہ صفحہ 242 پر درج ہے تذکرہ مجموعہ الہامات طبع چہارم صفحہ 31 از مرزا قادیانی

صفحہ 849

حوالہ نمبر 327

تتمہ ۴۳۸ حقیقۃ الوحی

بیہودہ گوئی اور حماقت ہو۔ اس مقدمہ کی یہ صورت تو نہیں ہو کہ پیشگوئی کے بعد لڑکا پیدا ہو گیا بلکہ وہ لڑکا جو اب موجود ہے پیشگوئی کے وقت میں پندرہ یا چودہ برس کا تھا اور اب تیس بتیس برس کا ہو گا پس جبکہ پیشگوئی کے زمانہ میں یہ لڑکا موجود تھا تو ایک عقلمند صاف سمجھ سکتا ہے کہ اس پیشگوئی کا یہ مطلب ہے کہ یہ لڑکا کالمعدوم ہو اور اسکے بعد نسل کا خاتمہ ہو اور یہی خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھے تفہیم ہوئی تھی۔ ملہم سے زیادہ کوئی الہام کے معنی نہیں سمجھ سکتا اور نہ کسی کا حق ہو جو اسکے مخالف کہے پس جبکہ خدا تعالیٰ نے اس پیشگوئی کے یہی معنی کھولے کہ یہ لڑکا کالمعدوم ہے اور اسکے بعد سعد اللہ کی نسل نہیں چلے گی اور اسی پر سعد اللہ کی نسل کا خاتمہ ہو جائیگا تو پھر کسی قدر ہٹ دھرمی ہو کہ یہ کہنا کہ سعد اللہ اپنی موت کے بعد لڑکا چھوڑ گیا۔

اے نادان ! یہ لڑکا تو پیشگوئی کے وقت موجود تھا اور محاورات عرب کو بالاستقصاء دیکھنے سے معلوم ہو گا کہ ابتر کے لفظ میں یہ شرط نہیں ہو کہ کوئی شخص صاحب اولاد اس حالت میں مرے کہ جب اسکی زندگی میں اسکی اولاد فوت ہو جائے بلکہ نسل کی جڑ کٹ جانا شرط ہے جیسا کہ بتر کے معنی لغت عرب میں یہ لکھے ہیں کہ البتر استیصال الشئ قطعا یعنی بتر کہتے ہیں کسی چیز کو جڑ سے کاٹ دینے کو۔ پس اس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ پیشگوئی آئندہ نسل کیلئے تھی یعنی یہ کہ موجودہ لڑکے سے آئندہ نسل نہیں چلے گی جیسا کہ ہم آئندہ تصریح سے بیان کرینگے پس جس شخص کی فطرت میں ایک ذرہ عقل اور حیا ہے وہ سمجھ سکتا ہو کہ خدا تعالیٰ کا کسی کی نسبت یہ پیشگوئی کرنا کہ فلاں شخص منقطع النسل ہو جائیگا۔ اس پیشگوئی کیلئے یہ ضروری نہیں کہ اسکی زندگی میں وہ تمام نسل مر جائے کیونکہ اگر یہی شرط ہو تو پھر ایسی صورت میں کسی قطع نسل کا کیا نام رکھنا چاہیئے کہ ایک انسان ایک یا دو ولد چھوڑ کر مر جائے اور بعد اسکے کسی وقت وہ لڑکے بھی مرجائیں اور کچھ نسل باقی نہ رہے کیا عرب کے محاورات میں بجز ابتر کے لفظ کے ایسی صورت میں کوئی اور لفظ بھی موجود ہے جو کہیا یہ کہنا جائز ہو گا کہ ایسا شخص منقطع النسل نہیں اور لفظ استیصال الشئ قطعا اسپر لازم نہیں آتا پس ظاہر ہے کہ ایسا خیال حماقت اور دیوانگی ہے۔ اور زبان عرب میں اس قسم کے قطع نسل کے لئے

حقیقۃ الوحی [تتمہ] صفحہ 7 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 438 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 243 پر درج ہے

صفحہ 850

حوالہ نمبر 328 ۳۲۲

کیا گیا ہے یعنے یہ کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا ہوں اور مکالمہ الٰہیہ سے مشرف ہوں۔ اور مامور من اللہ ہوں اور میری صداقت کا نشان یہ پیشگوئی ہے۔ اب آپ اگر کچھ بھی اللہ جلشانہٗ کا خوف رکھتے ہیں تو سمجھ سکتے کہ ایسی پیشگوئی جو منجانب اللہ ہونے کیلئے بطور ثبوت کے پیش کی گئی ہے اِسی حالت میں سچی ہو سکتی تھی کہ جب درحقیقت یہ عاجز منجانب اللہ ہو۔ کیونکہ خدا تعالیٰ ایک مفتری کی پیشگوئی کو جو ایک جھوٹے دعوےٰ کے لئے بطور شاہد صدق بیان کی گئی ہو ہرگز سچی نہیں کر سکتا۔ وجہ یہ کہ اِس میں خلق اللہ کو دھوکا لگتا ہے جیسا کہ اللہ جلشانہٗ خود مدعیِ صادق کیلئے یہ علامت قرار دیکر فرماتا ہے و ان يك صادقاً یصبکم بعض الذی یعدکم ١؎ اور فرماتا ہے فلا یظھر علیٰ غیبہ احداً ٢؎ الّا من ارتضیٰ من رسول ؎ یعنے رسول کا لفظ عام ہے جس میں رسول اور نبی اور محدّث داخل ہیں پس اس پیشگوئی کے الہامی ہونے کیلئے ایک مسلمان کیلئے یہ دلیل کافی ہے جو منجانب اللہ ہونے کے دعویٰ کے ساتھ یہ پیشگوئی بیان کی گئی اور خدا تعالیٰ نے اُس کو سچی کر کے دکھلا دیا اور اگر آپکے نزدیک یہ ممکن ہے کہ ایک شخص در اصل مفتری ہو اور سراسر دروغگوئی سے کہے کہ میں خلیفۃ اللہ اور مامور من اللہ اور مجدّدِ وقت اور مسیح موعود ہوں اور میرے صدق کا نشان یہ ہے کہ اگر فلاں شخص مجھے اپنی بیٹی نہیں دیگا اور کسی دوسرے سے نکاح کرلے گا تو نکاح کے بعد تین برس تک بلکہ اِس سے بہت قریب فوت ہو جائے گا اور پھر ایسا ہی واقعہ ہو جائے تو برائے خدا اِس کی نظیر پیش کرو۔ ورنہ یاد رکھو کہ مرنے کے بعد اِس انکار اور تکذیب اور تکفیر سے پوچھے جاؤ گے۔ خدا تعالیٰ صاف فرماتا ہے کہ ان اللہ لا یہدی من ھو مسرف کذّاب ٣؎ سوچکر دیکھو کہ اِس کے یہی معنی ہیں جو شخص اپنے دعویٰ میں کاذب ہو اُسکی

١؎ مومن : ٢٨ ٢؎ الجن : ٢٨ ٣؎ مومن : ٢٨

آئینہ کمالات اسلام صفحہ 322 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 322-323 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 244 پر درج ہے

صفحہ 851

حوالہ نمبر 328

۳۲۳

پیشگوئی ہرگز پوری نہیں ہوتی۔ شیخ صاحب اب وقت ہے سمجھ جاؤ اور اُس دن سے ڈرو جس دن کوئی شیخی پیش نہیں جائے گی۔ اور اگر کوئی نجومی یا رمال یا جفری اس عاجز کی طرح دعویٰ کر کے کوئی پیشگوئی دکھلا سکتا ہے تو اس کی نظیر پیش کرو اور چند اخباروں میں درج کرا دو۔ اور یاد رکھو کہ ہرگز پیش نہیں کر سکو گے اور ایسا نجومی ہلاک ہوگا۔ خدا تعالیٰ تو اپنے نبی کو فرماتا ہے کہ اگر وہ ایک قول بھی اپنی طرف سے بناتا تو اُس کی رگ جان قطع کی جاتی۔ پھر یہ کیونکر ہو کہ بجائے رگ جان قطع کی جانے کے اللہ جلشانہ اس عاجز کو جو آپ کی نظر میں کافر مفتری دجال کذاب ہے دشمنوں کے مقابل پر یہ عزت دے کہ تائید دعوے میں پیشگوئی پوری کرے۔ کبھی دنیا میں یہ ہوا ہے کہ کاذب کی خدا تعالیٰ نے ایسی مدد کی ہو کہ وہ گیارہ برس سے خدا تعالیٰ پر یہ افترا کر رہا ہو کہ اُس کی وحی ولایت اور وحی محدثیت میرے پر نازل ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ اُس کی رگ جان نہ کاٹے بلکہ اُس کی پیشگوئیوں کو پورا کر کے آپ جیسے دشمنوں کو منفعل اور نادم اور لاجواب کرے اور آپ کی کوشش کا نتیجہ یہ ہو کہ آپ کی تکفیر سے پہلے تو کل ۷۵ آدمی سالانہ جلسہ میں شریک ہوں اور بعد آپ کی تکفیر اور جانکاہی اور لوگوں کے روکنے کے تین سو ستائیس اصحاب اور مخلص جلسہ اشاعت حق پر دوڑے آویں۔ اب اس سے زیادہ کیا لکھوں میں اِس خط کو انشاء اللہ چھاپ کر شائع کر دوں گا اور مجھے اس بات کی ضرورت نہیں کہ اس الہامی پیشگوئی کی آزمائش کے لئے بٹالہ میں کوئی مجلس مقرر کروں مناسب ہے کہ آپ بھی اپنے اشاعۃ السنہ میں میرے اس خط کو شائع کر دیں اور یہ بات بھی ساتھ لکھ دیں کہ اب آپ کو قبول کرنے میں کیا عذر ہے خود منصف لوگ دیکھ لیں گے کہ وہ عذر صحیح یا غلط ہے۔

آئینہ کمالات اسلام صفحہ 322 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 322، 323 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 244 پر درج ہے

صفحہ 852

حوالہ نمبر 329

ازالہ اوہام ۳۴۴ حصہ دوم

حدیثیں پیش کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ سو برس کے بعد کوئی شخص زمین پر زندہ نہیں رہ سکتا۔ سو سُنّت جماعت کا یہ مذہب ہے کہ امام محمد مہدی فوت ہوگئے ہیں اور آخری زمانہ میں انہیں کے نام پر ایک اور امام پیدا ہوگا۔ لیکن محققین کے نزدیک مہدی کا آنا کوئی یقینی امر نہیں ہے۔

اس جگہ مجھے غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ درحقیقت اس مسئلہ میں شیعہ اور سُنّت جماعت میں جو اختلاف ہے اُس میں کسی تاریخی غلطی کو دخل نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ شیعہ کی روایات ہی بعض سادات کرام کے کشف لطیف پر مبنی معلوم ہوتی ہے چونکہ ائمہ اثنا عشر نہایت درجہ کے مقدّس اور راستباز اور اُن لوگوں میں سے تھے جن پر کشف صحیح کے دروازے کھولے جاتے ہیں اِس لئے ممکن اور بالکل قرین قیاس ہے جو بعض اکابر ائمہ نے خدا تعالیٰ سے الہام پاکر اس مسئلہ کو اُسی طَرز اور اُسی اصل سے بیان کیا ہو جیسا کہ ملاکی کی کتاب میں ملاکی نبی نے ایلیاہ نبی کے دوبارہ آنے کا حال بیان کیا تھا اور جیسا کہ مسیح کے دوبارہ آنے کا شور مچا ہوا ہے اور درحقیقت مراد بنابر منہ کشف یہ ہوگی کہ کسی زمانہ میں اُس امام کے ہمرنگ ایک اور امام آئے گا جو اُس کا ہمنام اور ہم قوت اور ہم خاصیت ہوگا گویا وہی آئے گا۔ پھر یہ لطیف نکتہ جب جسمانی خیالات کے لوگوں میں پھیلا تو اُن لوگوں نے موافق اپنی موٹی سمجھ کے سچ مچ یہی اعتقاد کر لیا ہوگا کہ وہ امام صدہا برس سے کسی غار میں چھپا ہوا ہے اور آخری زمانہ میں باہر نکل آئے گا مگر حق یہ ہے کہ ایسا خیال صحیح نہیں ہے۔ یہ عام محاورہ کی بات ہے کہ جب کوئی شخص کسی کا ہمرنگ اور ہم خاصیت ہو کر آتا ہے تو کہتے ہیں کہ گویا وہی آگیا متصوفین بھی ان باتوں کے عام طور پر قائل ہیں اور کہتے ہیں کہ بعض اولیاء گذشتہ کی روحیں اُن کے بعد میں آنے والے ولیوں میں سماتی رہی ہیں اور اس قول سے اُن کا مطلب یہ ہے کہ بعض ولی بعض اولیاء کی قوت اور طبع لیکر آتے ہیں گویا وہی ہوتے ہیں۔

ازالہ اوہام صفحہ 457 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 344 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 245 پر درج ہے

صفحہ 853

حوالہ نمبر 330

ازالۃ الاوہام ۳۷۹ حصہ دوم

دوسرے مہدی کی ضرورت ہی کیا ہے اور یہ صرف امامین موصوفین کا ہی مذہب نہیں۔ بلکہ ابن ماجہ اور حاکم نے بھی اپنی صحیح میں لکھا ہے لا مہدی الا عیسیٰ یعنی بجز عیسیٰ کے اُس وقت کوئی مہدی نہ ہوگا۔ اور یوں تو ہمیں اس بات کا اقرار ہے کہ پہلے بھی کئی مہدی آئے ہیں اور ممکن ہے کہ آئندہ بھی آویں اور ممکن ہے کہ امام محمد کے نام پر بھی کوئی مہدی ظاہر ہو لیکن جس طرز سے عوام کے خیال میں ہے اس کا ثبوت پایا نہیں جاتا۔ چنانچہ یہ صرف ہماری ہی رائے نہیں اکثر محقق یہی رائے ظاہر کرتے آئے ہیں۔

بعض کہتے ہیں کہ اچھا مہدی کا قصہ جانے دو لیکن یہ جو بار بار حدیثوں میں بیان کیا گیا ہے کہ عیسیٰ آئے گا۔ مسیح ابن مریم نازل ہوگا۔ ان صریح لفظوں کی کیوں تاویل کی جائے۔ اگر اللہ جلشانہ کے علم اور ارادہ میں ابن مریم سے مراد ابن مریم نہیں تھا تو اس نے لوگوں کو دانستہ ان مشکلات میں کیوں ڈالا اور سیدھا کیوں نہ کہہ دیا کہ کوئی مثیل مسیح آئے گا۔ بلکہ کون سی ضرورت اس بات کی طرف داعی تھی جو ضرور مثیل مسیح آنا کوئی اور نہ آتا۔ اب کھلے کھلے لفظوں سے کیونکر انکار کریں یہ انکار تو دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب ہے اور درپردہ اس انکار کے یہ معنے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشگوئی غلط ہے۔

لیکن واضح ہو کہ یہ تمام اوہام باطلہ ہیں۔ قرآن کریم اور احادیث میں بغرض آزمائش خلق اللہ ایسے ایسے استعارات کا مستعمل ہونا کوئی انوکھی اور بے اصل بات نہیں ۔ اور پہلی کتابوں میں ایسے استعارات کی نظیر موجود ہے فاسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون۔ ایلیا کے قصہ کو دیکھو جس کو یوحنا ۱؎ کہا گیا ہے جبکہ قرآن کریم نے قطعی اور یقینی طور پر ظاہر کر دیا کہ حضرت مسیح ابن مریم فوت ہو گئے ہیں تو اب اس سے بڑھ کر ضرورت تاویل کے لئے اور کیا قرینہ ہوگا۔ مثلاً فرض کے طور پر بیان کرتا ہوں کہ مستند خط کے ذریعہ سے معلوم ہوا کہ ایک شخص کلکتہ میں رہنے والا عبدالرحمٰن نام جس کی شہادت کسی مقدمہ کے لئے طلبی تھی فوت ہو گیا ہے۔ پھر بعد اس کے ہم نے ایک ایسا کاغذ مشتبہ دیکھا جس پر

۱؎ متی ۱۱ : ۱۴

ازالۃ الاوہام صفحہ 519 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 379 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 245 پر درج ہے

صفحہ 854

(حوالہ نمبر 331)

۴۴۹ حقیقت المہدی

مہدی کے متعلق عقیدے

یہ ضروری ہے کہ میں گورنمنٹ عالیہ انگلشیہ پر ظاہر کروں کہ مہدی موعود کے بارے میں فرقہ وہابیہ کا جو اپنے تئیں اہل حدیث کے نام سے موسوم کرتے ہیں جن کا سرگروہ مولوی ابو سعید محمد حسین بٹالوی اپنے تئیں خیال کرتا ہے کیا عقیدہ ہے اور اس بارے میں میرا اور میری جماعت کا کیا عقیدہ ہے۔ کیونکہ اس تمام اختلاف اور باہمی عداوت کی جڑ یہی ہے کہ میں ایسے مہدی کو نہیں مانتا اس لئے میں ان لوگوں کی نظر میں کافر ہوں۔ اور میری نظر میں یہ لوگ غلطی پر ہیں۔ سو میں ذیل میں بمقابل اپنے عقیدہ کے ان لوگوں کا عقیدہ لکھتا ہوں جو مہدی کے بارے میں رکھتے ہیں۔ اگرچہ یہ عقیدہ جو مہدی کی نسبت اہلحدیث کا ہے جن کا اصلی نام وہابی ہے اُن کے صدہا رسالوں اور کتابوں میں پایا جاتا ہے لیکن میں مناسب دیکھتا ہوں کہ نواب صدیق حسن خان کی کتابوں میں سے اس عقیدہ کا کچھ حال بیان کروں۔ کیونکہ مولوی محمد حسین جو ان کا سرگروہ ہے صدیق حسن خان کو اس صدی کا مجدّد مان چکا ہے (دیکھو اشاعۃ السنہ) اور اس کی کتابوں کو ایک مجدّد کی ہدایات کی حیثیت سے ہر ایک اہل حدیث کے لئے واجب العمل سمجھتا ہے اور وہ یہ ہے :۔

ہمارے مخالف مولویوں کا عقیدہ

مہدی کی نسبت

نواب صدیق حسن خاں اپنی کتاب حجج الکرامہ کے صفحہ ۳۶ میں اور نیز اس کا بیٹا سید نور الحسن خان اپنی کتاب اقتراب الساعۃ کے صفحہ ۶۴ میں مہدی کی نسبت اہلحدیث کے عقیدہ کو اس طرح بیان

میرا اور میری جماعت کا عقیدہ

مہدی کی نسبت

مہدی اور مسیح موعود کے بارے میں جو میرا عقیدہ اور میری جماعت کا عقیدہ ہے وہ یہ ہے کہ اس قسم کی تمام حدیثیں جو مہدی کے آنے کے بارے میں ہیں ہرگز قابل وثوق و قابل اعتبار

۳

حقیقۃ المہدی صفحہ 3 روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 429، 430 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 246 پر درج ہے

صفحہ 855

حوالہ نمبر 331

حقیقت المہدی ۴۳۰

کرتے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ مہدی ظاہر ہو تو یہی اس قدر عیسائیوں کو قتل کرے گا کہ جو اُن میں سے باقی رہ جائینگے اُن کو حکومت اور بادشاہت کا حوصلہ نہیں رہے گا۔ اور ریاست کی قوت اُن کے دلوں سے نکل جائیگی۔ اور ذلیل ہوکر بھاگ جائینگے۔ “ پھر اسی حجج الکرامہ کے ۳۷۱ صفحہ میں لکھتا ہے کہ ”اس فتح کے بعد مہدی ہندوستان پر چڑھائی کریگا اور ہندؤں کو فتح کرلیگا اور ہندوستان کے بادشاہ کو گردن میں طوق ڈالکر اُسکے سامنے حاضر کیا جائیگا اور تمام خزانے اور اُسکے ملک کے لوٹ لینگے۔“ اور پھر اسی کی زیادہ تشریح کتاب اقتراب الساعۃ کے ص ۶۴ پر اس طرح کی ہے جو صفحہ مذکور میں ص ۷۶ کے تیرھویں سطر سے ظاہر ہے جس سطر تک یہ عبارت ہے ۔” ہندوستان کے بادشاہوں کو گردن میں طوق ڈال کر اُسکے یعنی مہدی کے سامنے لائینگے۔ اُن کے خزائن بیت المقدس کا زیور کئے جائینگے ۔“ (پھر اس کے بعد اپنی رائے بیان کرتا ہے اور اس رائے کی تائید میں اس کے اپنے نسخہ کے لفظ یہ ہیں :” میں کہتا ہوں ہند میں اب تو کوئی بادشاہ بھی نہیں ہے۔ یہی چند رئیس ہنود یا مسلمان ہیں سو وہ کچھ حاکم مستقل نہیں ہیں ۔ بلکہ برائے نام ہیں اصل ولایت کے بادشاہ یورپین ہیں ۔ غالباً اس وقت تک یعنی

نہیں ہیں۔ میرے نزدیک اُن پر تین قسم کا جرح ہوتا ہے یا یوں کہو کہ وہ تین قسم سے باہر نہیں ۔

ہیں اور اُن کے راوی خیانت اور کذب سے متہم ہیں اور کوئی دیندار مسلمان اُن پر اعتماد نہیں کرسکتا۔

اور باہم تناقض اور اختلاف کی وجہ پایۂ اعتبار سے ساقط ہیں ۔ اور حدیث کے نامی اماموں نے یا تو ان کا قطعاً ذکر ہی نہیں کیا اور یا جرح اور بے اعتباری کے لفظ کے ساتھ ذکر کیا ہے اور توثیق روایت جس کی یعنی راویوں کے صدق اور دیانت پر شہادت نہیں دی ۔ (۳) تیسری وہ حدیثیں ہیں جو درحقیقت صحیح تو ہیں اور طرق متعددہ سے ان کی صحت کا پتہ ملتا ہے لیکن یا تو وہ کسی پہلے زمانہ میں پوری ہوچکی ہیں اور مدت ہوئی کہ اُن لڑائیوں کا خاتمہ ہوچکا ہے اور اب کوئی حالت منتظرہ باقی نہیں اور یا یہ بات ہے کہ اُن میں ظاہری خلافت اور ظاہری لڑائیوں کا کچھ بھی ذکر نہیں بلکہ ایک مہدی یعنی ہدایت یافتہ انسان کے آنے کی خوشخبری دی گئی ہے اور اشارات سے بلکہ صراحتاً لفظوں میں بھی بیان کیا گیا ہے کہ اس کی ظاہری بادشاہت اور خلافت نہیں ہوگی اور نہ وہ لڑیگا اور نہ خونریزی

۴

حقیقۃ المہدی صفحہ 3 روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 430,429 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 246 پر درج ہے

صفحہ 856

حوالہ نمبر 332

۶۳

ضمیمہ تحفہ گولڑویہ

ہیں کہ یہ تو جھوٹا افتراء ہے جو اس شخص نے کیا ہے ۔ ہم نے اپنے باپ دادوں سے ایسا نہیں سنا ۔ یہ نادان نہیں جانتے کہ کسی کو کوئی مرتبہ دینا خدا پر مشکل نہیں ۔ ہم نے انسانوں میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ پس اسی طرح اس شخص کو یہ مرتبہ عطا فرمایا تھا تا کہ مومنوں کیلئے نشان ہو مگر خدا کے نشانوں سے لوگوں نے انکار کیا ۔ دل تو مان گئے مگر انکا تکبّر اور ظلم کی وجہ تھا ۔ انکو کہہ دے کہ میرے پاس خاص خدا کی طرف سے گواہی ہے پس کیا تم قبول نہیں کرتے ۔ اور جب نشان دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ تو ایک معمولی سحر ہے جو قدیم سے چلا آتا ہے ۔ ( واضح ہو کہ آخری فقرہ اس الہام کا وہ آیت ہے جس کا یہ مطلب ہے کہ جب کفار نے شق القمر دیکھا تھا تو یہی عذر پیش کیا تھا کہ یہ ایک کسوف کی قسم ہے ہمیشہ ہوا کرتا ہے کوئی نشان نہیں ۔ اب اس پیشگوئی میں خدا تعالیٰ نے اس کسوف خسوف کی طرف اشارہ فرمایا جو اس پیشگوئی سے کئی سال بعد میں وقوع میں آیا جو کہ مہدی موعود کے لئے قرآن شریف اور حدیث دارقطنی میں بطور نشان مندرج تھا ۔ اور یہ بھی فرمایا کہ اس کسوف خسوف کو دیکھ کر منکر لوگ یہی کہیں گے کہ یہ کچھ نشان نہیں ۔ یہ ایک معمولی بات ہے ۔ یادرہے کہ قرآن شریف میں اس کسوف خسوف کی طرف آیت جُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ ۱؎ میں اشارہ ہے ۔ اور حدیث میں اس کسوف وخسوف کے بارے میں امام باقر کی روایت ہے ۔ جس کے یہ لفظ ہیں کہ اِنَّ لِمَهْدِیْنَا آیَتَیْنِ ۔ اور عجیب تر بات یہ کہ براہین احمدیہ میں واقعہ کسوف خسوف سے قریباً پندرہ برس پہلے اس واقعہ کی خبر دی گئی اور یہ بھی بتلایا گیا کہ اس کے ظہور کے وقت ظالم لوگ اس نشان کو قبول نہیں کرینگے اور کہیں گے کہ یہ ہمیشہ ہوا کرتا ہے ۔ حالانکہ ایسی صورت جب سے کہ دنیا ہوئی کبھی پیش نہیں آئی کہ کوئی مہدی کا دعویٰ کرنے والا ہو اور اس کے زمانہ میں کسوف خسوف ایک ہی مہینہ میں یعنی رمضان میں ہو ۔ اور یہ فقرہ جو دو مرتبہ فرمایا گیا کہ قُلْ عِنْدِىْ شَهَادَةٌ مِّنَ اللّٰهِ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّؤْمِنُوْنَ ۔ وَقُلْ عِنْدِىْ شَهَادَةٌ مِّنَ اللّٰهِ الخ

۱؎ القیامۃ : ۱۰

۲۷

تحفہ گولڑویہ صفحہ 27 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 63 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 246 پر درج ہے

صفحہ 857

حوالہ نمبر 333

- ٦٥ -

دينار الطاحي عن يونس عن الحسن ، عن أبي بكرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : « إن الله عز وجل إذا تجلى لشيء من خلقه خشع له » تابعه نوح بن قيس عن يونس ابن عبيد .

١٠ - حدثنا أبو سعيد الأصطخري ثنا محمد بن عبد الله بن نوفل ثنا عبيد بن يعيش ، ثنا يونس بن بكير عن عمرو (۷) بن شمر عن جابر ، عن محمد بن علي قال : إن لمهدينا آيتين لم تكونا منذ خلق السماوات والأرض ، ينكسف القمر لأول ليلة من رمضان ، وتنكسف الشمس في النصف منه ، ولم تكونا منذ خلق الله السماوات والأرض .

١١ - حدثنا ابن أبي داود ثنا أحمد بن صالح ومحمد بن سلمة قالا نا ابن وهب ، عن عمرو ابن الحارث أن عبد الرحمن بن القاسم حدثه عن أبيه ، عن عبد الله (۸) بن عمر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : « إن الشمس والقمر آيتان من آيات الله لا ينخسفان لموت أحد ولا لحياته ، ولكنهما آيتان من آيات الله ، فإذا رأيتموهما فصلوا » .

الأخيرة أعني : ولكن الله إذا تجلى لشيء إلخ وإنما في سنن النسائي من حديث قبيصة الهلالي ومن حديث النعمان بن بشير ولفظه : إن الله عز وجل إذا بدا لشيء من خلقه خشع له ، وقد أطال الحافظ ابن القيم الكلام في معنى هذه الزيادة في كتابه مفتاح دار السعادة بما لا مزيد عليه ، قوله : عمرو (۷) بن شمر عن جابر ، كلاهما ضعيفان لا يحتج بهما . قوله : عن عبد الله (۸) ابن عمر ، الحديث أخرجه الشيخان ، وأعلم أنه ثبت عن النبي صلى الله عليه وسلم في الكسوف والخسوف في كل ركعة بركوع ، وفي كل ركعة ركوعان ، وفي كل ركعة ثلاث ركوعات ، وأربعة ركوعات ، وخمسة ركوعات ، قال الحافظ في فتح الباري : وجمع بعضهم بين هذه الأحاديث بتعدد الواقعة ، وأن الكسوف وقع مراراً فيكون كل من هذه الأوجه جائزاً ، وإلى ذلك ذهب إسحاق بن راهويه ، لكن لم يثبت عنده الزيادة على أربع ركوعات ، وقال ابن خزيمة وابن المنذر والخطابي وغيرهم : يجوز العمل بجميع ما ثبت من ذلك ، وهو من الاختلاف المباح ، وقواه النووي في شرح مسلم ، والله أعلم .

( م ٥ ج ٢ - سنن الدارقطني )

سنن دارقطنی از امام علی بن عمر الدارقطنی جلد اوّل صفحہ 65، بیروت یہ حوالہ صفحہ 246 پر درج ہے

صفحہ 858

حوالہ نمبر 334

۳۳۰

ایسا ہی ذرہ انصاف کرنا چاہیئے کہ کس قوت اور چمک سے کسوف اور خسوف کی پیشگوئی پوری ہوئی۔ اور ہمارے دعویٰ پر آسمان نے گواہی دی۔ مگر اس زمانہ کے ظالم مولوی اس سے بھی منکر ہیں۔ خاص کر رئیس الدجالین عبدالحق غزنوی اور اس کا تمام گروہ علیہم انعال لعن الله الف الف مرۃ۔ اپنے ناپاک اشتہار میں نہایت حوصلہ سے کہتا ہے کہ یہ پیشگوئی بھی پوری نہیں ہوئی اے پلید دجال ! پیشگوئی تو پوری ہوگئی۔ لیکن تعصب کے غبار نے تجھ کو اندھا کردیا۔ پیشگوئی کے اصل لفظ جو امام محمد باقر سے دارقطنی میں مروی ہیں یہ ہیں: ان لمھدینا آیتین لم تکونا منذ خلق اللہ السماوات والارض ینکسف القمر لاول لیلۃ من رمضان وتنکسف الشمس فی النصف منہ الخ۔ یعنی ہمارے مہدی کی تائید اور تصدیق کے لئے دو نشان مقرر ہیں۔ اور جب سے کہ زمین و آسمان پیدا کئے گئے وہ دو نشان کسی مدعی کے وقت ظہور میں نہیں آئے۔ اور وہ یہ ہیں کہ مہدی کے ادّعا کے وقت میں چاند کو اس پہلی رات میں گرہن ہوگا جو اس کے خسوف کی تین راتوں میں سے پہلی رات ہے یعنی تیرھویں رات۔ اور سورج کو اس کے گرہن کے دنوں میں سے اُس دن گرہن ہوگا جو درمیانی دن ہے یعنی اٹھائیسویں تاریخ کو اور جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے کسی مدعی کے لئے یہ اتفاق نہیں ہوا کہ اُس کے دعویٰ کے وقت میں خسوف کسوف رمضان میں ان تاریخوں میں ہوا ہو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا اس غرض سے نہیں تھا کہ وہ خسوف کسوف قانون قدرت کے برخلاف ظہور میں آئے گا۔ اور نہ حدیث میں کوئی ایسا لفظ ہے۔ بلکہ صرف یہ مطلب تھا کہ اُس مہدی سے پہلے کسی مدّعی صادق یا کاذب کو یہ اتفاق نہیں ہوا ہوگا کہ اُس نے مہدویت یا رسالت کا دعویٰ کیا ہو۔ اور اس کے وقت میں ان تاریخوں میں رمضان میں خسوف کسوف ہوا ہو۔ پس ان مولویوں کو چاہیئے تھا ۔ کہ اگر اس پیشگوئی کی صحت میں شک تھا تو ایسی کوئی نظیر سابق زمانہ میں سے بحوالہ کسی کتاب کے پیش کرتے۔ جس میں لکھا ہوتا کہ پہلے ایسا دعویٰ ہوچکا ہے۔ اور اُس کے وقت میں ایسا خسوف کسوف بھی ہوچکا ہے مگر اس طرف تو انہوں نے رُخ بھی نہیں کیا۔ اور یہ احمقانہ عذر پیش کردیا ہے کہ اس پیشگوئی کے یہ معنی ہیں کہ چاند کو رمضان کی پہلی رات میں گرہن لگیگا۔ اور پندرہ تاریخ کو سورج گرہن ہوگا۔ لاحول ولا قوۃ۔ ان احمقوں نے یہ معنی کس لفظ سے سمجھ لئے اے نادانو! آنکھوں کے اندھو! مولویت کو بدنام کرنے والو! ذرہ سوچو !

۴۶

انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 46 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 330 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 247 پر درج ہے

صفحہ 859

(حوالہ نمبر 335)

ضمیمہ براہین احمدیہ ۳۵۶ حصہ پنجم

اقول ۔ میرا یہ دعویٰ نہیں ہے کہ مَیں وہ مہدی ہوں جو مصداق من ولد فاطمۃ و من عترتی وغیرہ ہے بلکہ میرا دعویٰ تو مسیح موعود ہونے کا ہے۔ اور مسیح موعود کے لئے کسی حدیث کا قول نہیں کہ وہ بنی فاطمہ وغیرہ میں سے ہوگا۔ ہاں ساتھ اس کے جیسا کہ تمام محدثین کہتے ہیں میں بھی کہتا ہوں کہ مہدی موعود کے بارے میں جس قدر حدیثیں ہیں تمام مجروح اور مخدوش ہیں اور ایک بھی ان میں سے صحیح نہیں۔ اور جسقدر افتراء ان حدیثوں میں ہوا ہے کسی اور حدیث میں ایسا افتراء نہیں ہوا خلفاء عباسی وغیرہ کے عہد میں خلیفوں کو اس بات کا بہت شوق تھا کہ اپنے تئیں مہدی موعود قرار دیں۔ پس اس وجہ سے بعض حدیثوں میں مہدی کو بنی عباس میں سے قرار دیا اور بعض میں بنی فاطمہ میں سے اور بعض حدیثوں میں یہ بھی ہے کہ رجل من امتی کہ وہ ایک آدمی میری اُمت میں سے ہوگا۔ مگر درحقیقت تمام حدیثیں کسی اعتبار کے لائق نہیں یہ نرا میرا ہی قول نہیں بلکہ بڑے بڑے علماء اہل سنت یہی کہتے چلے آئے ہیں۔ اور ان حدیثوں کے مقابل پر یہ حدیث بہت صحیح ہے جو ابن ماجہ نے لکھی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ لا مہدی الا عیسیٰ یعنی کوئی مہدی نہیں صرف عیسیٰ ہی مہدی ہے جو آنے والا ہے۔

قولہ پیشین گوئیاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جن میں علماء نے بھی تاویل کی ہے اکثر ایسی پائی جاتی ہیں جو بطور رؤیا کے منکشف ہوئی ہیں۔ الخ

اقول ۔ اس اعتراض کو میں نہیں سمجھ سکا اس لئے جواب سے مجبوری ہے ۔

قولہ اہل ظاہر تو چشم باطن نہیں رکھتے اس لئے ان لوگوں کا حضرت مسیح موعود کو نہ پہچاننا کچھ تعجب نہیں۔ مگر جو لوگ اہل اللہ و اہل باطن ہیں ان لوگوں کو تو حضرت کو

۱۸۹

بذریعہ الہام وغیرہ پہچاننا ضروری ہے جیسا کہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی مرحوم رسالہ تذکرۃ المعاد میں امام مہدی موعود کے حال میں لکھتے ہیں کہ ابدال از شام و عصائب از عراق آمدہ باوے بیعت کنند ۔

اقول ۔ یہ تمام اقوال اس بناء پر ہیں کہ مہدی موعود بنی فاطمہ سے یا بنی عباس سے آئے گا اور ابدال اور قطب اس کی بیعت کرینگے مگر میں ابھی لکھ چکا ہوں کہ اکابر محدثین کا یہی مذہب ہے

براہین احمدیہ (ضمیمہ) حصہ پنجم صفحہ 186 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 356 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 251 پر درج ہے

صفحہ 860

حوالہ نمبر 336

بعض اعتراضوں کے جواب ۲۰۲ حقیقۃ الوحی

ایک وہ وقت تھا کہ خدا کے سچے مسیح کو صلیب پر چڑھایا اور اس کو زخمی کیا تھا اور آخری زمانہ میں یہ مقدّر تھا کہ مسیح صلیب کو توڑے گا یعنی آسمانی نشانوں سے کفارہ کے عقیدہ کو دُنیا سے اُٹھا دے گا۔ عوض معاویہ ضمیمہ گلہ ندارد * ۲۔ نشان ۔ صحیح دارقطنی میں یہ ایک حدیث ہے کہ امام محمد باقر فرماتے ہیں اِنَّ لِمَهْدِينا آيَتَيْنِ لَمْ تَكُوْنَا مُنْذُ خَلْقِ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ يَنْكَسِفُ الْقَمَرُ لِاَوَّلِ لَيْلَةٍ مِّنْ رَمَضَانَ وَتَنْكَسِفُ الشَّمْسُ فِى النِّصْفِ مِنْهُ ترجمہ یعنی ہمارے مہدی کیلئے دو نشان ہیں اور جب سے کہ زمین و آسمان خدا نے پیدا کیا یہ دو نشان کسی اور مامور اور رسول کے وقت میں ظاہر نہیں ہوئے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ مہدی موعود کے زمانہ میں رمضان کے مہینہ میں چاند کا گرہن اُسکی اوّل رات میں ہوگا یعنی تیرھویں تاریخ میں اور سُورج کا گرہن اُسکے دنوں میں سے بیچ کے دن میں ہوگا یعنی اسی رمضان کے مہینہ کی اٹھائیسویں تاریخ کو اور ایسا واقعہ ابتدائے دنیا سے کسی رسول یا نبی کے وقت میں کبھی ظہور میں نہیں آیا صرف مہدی موعود کے وقت اُس کا ہونا مقدّر ہے۔ اب تمام انگریزی اور اُردو اخبارات جملہ ماہرین ہیئت اِس بات کے گواہ ہیں کہ میرے زمانہ میں ہی جس کو عرصہ قریباً بارہ سال کا گزر چکا ہے اِسی صفت کا چاند اور سُورج کا *۱۹۴ گرہن رمضان کے مہینہ میں وقوع میں آیا ہے اور جیسا کہ ایک اور حدیث میں بیان کیا گیا ہے ۔ یہ گرہن دو مرتبہ رمضان میں واقع ہو چکا ہے ۔ اوّل اس ملک میں دُوسرے امریکہ میں اور دونوں مرتبہ انھیں تاریخوں میں ہوا ہے جن کی طرف حدیث اشارہ کرتی ہے اور چونکہ اس گرہن کے وقت میں مہدی موعود ہونے کا مدعی کوئی زمین پر بجز میرے نہیں تھا اور نہ کسی نے میری طرح اِس گرہن کو اپنی مہدویت کا نشان قرار دیکر صدہا اشتہار اور رسالے اُردو اور فارسی اور عربی میں دُنیا میں شائع کئے اِس لئے یہ نشانِ آسمانی میرے لئے متعین ہوا۔ دُوسری بڑی دلیل یہ ہے کہ بارہ برس پہلے اِس نشان کے ظہور سے خدا تعالیٰ نے اِس نشان کے بارے میں مجھے خبر دی تھی کہ ایسا نشان ظہور میں آئیگا اور وہ خبر براہین احمدیہ میں درج ہو کر قبل اِسکے جو یہ نشان ظاہر ہو۔ لاکھوں آدمیوں میں مشہور ہو چکی تھی۔

۲۰۲

حقیقت الوحی صفحہ 194 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 202 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 252 پر درج ہے

صفحہ 861

حوالہ نمبر 337

حقیقة الوحی ۲۰۳ بعض اعتراضوں کے جواب

اور بڑا افسوس ہے کہ ہمارے مخالف سراسر تعصب سے یہ اعتراض کرتے ہیں۔ اول یہ کہ حدیث کے لفظ یہ ہیں کہ چاند گرہن پہلی رات میں ہوگا اور سورج گرہن بیچ کے دن میں مگر ایسا نہیں ہوا یعنی اُن کے زعم کے موافق ”چاند گرہن شب ہلال کو ہونا چاہئے تھا جو قمری مہینہ کی پہلی رات ہے اور سورج گرہن قمری مہینہ کے پندرھویں دن کو ہونا چاہئے تھا جو مہینہ کا بیچواں دن ہے“۔ مگر اس خیال میں سراسر ان لوگوں کی نافہمی ہے کیونکہ دُنیا جب سے پیدا ہوئی ہے چاند گرہن کیلئے تین راتیں خدا تعالیٰ کے قانون قدرت میں مقرر ہیں یعنے تیرہویں چودھویں پندرھویں ۔ اور چاند گرہن کی پہلی رات جو خدا تعالیٰ کے قانون قدرت کے مطابق ہو وہ قمری مہینے کی تیرہویں رات ہے اور سورج کے گرہن کیلئے تین دن خدا کے قانون قدرت میں مقرر ہیں یعنی قمری مہینے کا ستائیسواں اٹھائیسواں اور انتیسواں دن ۔ اور سورج کے تین دن گرہن میں سے قمری مہینہ کے رُو سے اٹھائیسواں دن بیچ کا دن ہو ۔ سو انہی تاریخوں میں یعنی حدیث کے منشاء کے موافق سورج اور چاند کا رمضان میں گرہن ہوا۔ یعنے چاند گرہن رمضان کی تیرہویں رات میں ہوا اور سورج گرہن اسی رمضان کے اٹھائیسویں دن ہوا۔

١٩٦

اور عرب کے محاورہ میں پہلی رات کا چاند قمر کبھی نہیں کہلاتا بلکہ تین دن تک اُس کا نام ہلال ہوتا ہے اور بعض کے نزدیک سات دن کا ہلال کہلاتا ہے ۔ دُوسرا یہ اعتراض ہو کہ اگر ہم قبول کر لیں کہ چاند کی پہلی رات سے مُراد تیرہویں رات ہے اور سورج کے بیچ کے دن سے مُراد اٹھائیسواں دن ہو تو اس میں خارق عادت کونسا امر ہوا کیا رمضان کے مہینہ میں کبھی چاند گرہن اور سورج گرہن نہیں ہوا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ رمضان کے مہینہ میں کبھی یہ دونوں گرہن جمع نہیں ہوئے بلکہ یہ مطلب ہے کہ کسی مدعی رسالت یا نبوۃ کے وقت میں کبھی یہ دونوں گرہن جمع نہیں ہوئے جیسا کہ حدیث کے ظاہر الفاظ اسی پر دلالت کر رہے ہیں۔ اگر کسی کا یہ دعویٰ ہو کہ کسی مدعی نبوت یا رسالت کے وقت میں یہ دونوں گرہن رمضان میں کبھی کسی زمانہ میں جمع ہوئے ہیں تو اس کا فرض ہے کہ اس کا ثبوت دے۔ خاصکر یہ امر کہ کسی

۲۰۳

حقیقة الوحی صفحہ 196 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 203 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 253 پر درج ہے

صفحہ 862

حوالہ نمبر 338

حقيقة الوحی ۲۰۳ بعض اعتراضوں کے جواب

اور بڑا افسوس یہ کہ ہمارے مخالف سراسر تعصب سے یہ اعتراض کرتے ہیں۔ اول یہ کہ حدیث کے لفظ یہ ہیں کہ چاند گرہن پہلی رات میں ہو گا اور سورج گرہن بیچ کے دن میں مگر ایسا نہیں ہوا یعنی اُن کے زعم کے موافق ”چاند گرہن شب ہلال کو ہونا چاہئے تھا جو قمری مہینہ کی پہلی رات ہے اور سورج گرہن قمری مہینہ کے پندھویں دن کو ہونا چاہئے تھا جو مہینہ کا بیچواں دن ہے“۔ مگر اس خیال میں سراسر ان لوگوں کی ناسمجھی ہے کیونکہ دُنیا جب سے پیدا ہوئی ہو چاند گرہن کیلئے تین راتیں خدا تعالیٰ کے قانونِ قدرت میں مقرر ہیں یعنے تیرھویں چودھویں پندرھویں ۔ اور چاند گرہن کی پہلی رات جو خدا تعالیٰ کے قانونِ قدرت کے مطابق ہو وہ قمری مہینے کی تیرھویں رات ہے اور سُورج کے گرہن کیلئے تین دن خدا کے قانونِ قدرت میں مقرر ہیں یعنی قمری مہینے کا ستائیسواں اٹھائیسواں اور انتیسواں دن ۔ اور سُورج کے تین دن گرہن میں سے قمری مہینہ کے رُو سے اٹھائیسواں دن بیچ کا دن ہے۔ سو انہی تاریخوں میں یعنی حدیث کے منشاء کے موافق سُورج اور چاند کا رمضان میں گرہن ہوا۔ یعنے چاند گرہن رمضان کی تیرھویں رات میں ہوا اور سُورج گرہن اسی رمضان کے اٹھائیسویں دن ہوا۔

اور عرب کے محاورہ میں پہلی رات کا چاند قمر کبھی نہیں کہلاتا بلکہ تین دن تک اُس کا

۱۹۷

نام ہلال ہوتا ہے اور بعض کے نزدیک سات دن کا ہلال کہلاتا ہے۔ دُوسرا یہ اعتراض ہو کہ اگر ہم قبول کر لیں کہ چاند کی پہلی رات سے مُراد تیرھویں رات ہے اور سورج کے بیچ کے دن سے مُراد اٹھائیسواں دن ہو تو اس میں خارقِ عادت کونسا امر ہوا کیا رمضان کے مہینہ میں کبھی چاند گرہن اور سُورج گرہن نہیں ہوا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ رمضان کے مہینہ میں کبھی یہ دونوں گرہن جمع نہیں ہوئے بلکہ یہ مطلب ہے کہ کسی مدعی رسالت یا نبوت کے وقت میں کبھی یہ دونوں گرہن جمع نہیں ہوئے جیسا کہ حدیث کے ظاہر الفاظ اِسی پر دلالت کر رہے ہیں۔ اگر کسی کا یہ دعویٰ ہو کہ کسی مدعی نبوت یا رسالت کے وقت میں یہ دونوں گرہن رمضان میں کبھی کسی زمانہ میں جمع ہوئے ہیں تو اس کا فرض ہے کہ اس کا ثبوت دے۔ خلاصہ کہ یہ امر کہ کسی

۲۰۳

یہ حوالہ صفحہ 255 پر درج ہے حقیقۃ الوحی صفحہ 195 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 203 از مرزا قادیانی

صفحہ 863

حوالہ نمبر 339 روحانی خزائن ۴۸ جلد

اے علمائے مکفرین! اُن آئمہ اور ابدال کی نسبت کیا کہتے ہو جن کو امام عبدالوہاب شعرانی اور دوسرے اکابر متقدمین نے اپنی اپنی کتابوں میں بصیغہ جزم یہ نقل کیا ہے جن میں سے کچھ حصہ مولوی صدیق حسن خاں بھوپالوی نے اپنی فارسی کتابوں یعنی حجج الکرامہ وغیرہ میں بطور اختصار لکھا ہے کہ مہدی موعود کے چند نشان خاص ہیں جن میں اُس کا غیر شریک نہیں

اور تمام مل کر اس کی تکذیب کریں گے اور اُس کی تحقیر اور سبّ و شتم کے لئے کمر باندھیں گے اور اُس کی نسبت نہایت سخت کینہ پیدا کریں گے اور اُس کو ملحد اور مرتد خیال کریں گے اور اُس کی نسبت مشہور کریں گے کہ یہ تو اسلام کی بیخ کنی کر رہا ہے یہ مہدی کیسا ہے۔ اور لعنت اور کافر کافر کہنے کو موجب ثواب خدا سمجھیں گے اور اُس کو اس زمانہ کے مولوی ہرگز قبول نہیں کریں گے۔ مگر آخری دنوں میں جب اُس کی حقیقت کھل جائے گی بعض نفاق سے مان لیں گے دل سے نہیں اور مہدی کو قبول کرنے والے اکثر عوام یا گوشہ گزیں یا پاک دل فقرا ہوں گے جو اپنی صحیح مکاشفات سے اُس کو شناخت کر لیں گے۔ مگر مولویوں کو بجز اس کے اور کوئی حصہ نہیں ملے گا کہ اُس کو بے دین اور کافر اور دجال کہیں گے۔ اور اُس وقت کے مولوی ان سب سے بدتر ہوں گے جو زمین پر رہتے ہیں۔ ان کی زیرکی اور فراست جاتی رہے گی وہ عمیق باتوں کو سُن کر فی الفور انکار کر دیں گے کہ یہ باتیں تو ہمارے قدیم عقائد کے مخالف ہیں۔

کسوف ہوگا اور پہلے اس سے جیسا کہ منطوق حدیث صاف بتلا رہا ہے کبھی کسی رسول یا نبی یا محدث کے وقت میں خسوف کسوف کا اجتماع رمضان میں نہیں ہوا اور جب سے کہ دنیا پیدا ہوئی ہے کسی مدعی رسالت یا نبوت یا محدثیت کے وقت میں کبھی چاند گرہن اور سورج گرہن اکٹھے نہیں ہوئے۔ اور اگر کوئی کہے کہ اکٹھے ہوئے ہیں تو بلاثبوت اس کے ذمہ ہے مگر حدیث کا مفہوم یہ نہیں کہ مہدی کے ظہور سے پہلے چاند گرہن اور سورج گرہن ماہِ رمضان میں ہوگا۔ کیوں کہ اس صورت میں تو ممکنات میں سے تھا کہ چاند گرہن اور سورج گرہن کو ماہِ رمضان میں دیکھ کر

۱؎ یہ کہنا بے جا ہو گا کہ یہ احادیث ضعیف ہیں یا بعض روایات مجروح ہیں یا حدیث منقطع اور مرسل ہے۔ کیونکہ جس حدیث کی پیشگوئی واقعہ طور پر سچی نکلی اس کا درجہ تو غایت درجہ صحت تک پہنچ گیا اور گو اس کی سند انتہاء درجہ مجروح ہو۔ پر ظاہر ہو گئی غرض جب حدیث کی پیشگوئی سچی نکلی تو پھر کیسا اس میں شک کہ وہ مرتبہ یقین پر ہے۔

انوار الاسلام صفحہ 47 مندرجہ روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 48 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 257 پر درج ہے

صفحہ 864

حوالہ نمبر 340

روحانی خزائن ۵۰ جلد ۹

صرف کافر بلکہ اکفر کہا گیا۔ ایسا ہی ممکن ہے کہ پہلے بھی کسی مہینہ میں چاند گرہن اور سورج گرہن اکٹھے ہو گئے ہوں مگر یہ کبھی نہیں ہوا اور ہرگز نہیں ہوا کہ بجز ہمارے اس زمانہ کے دنیا کی ابتداء سے آج تک کبھی چاند گرہن اور سورج گرہن رمضان کے مہینہ میں ایسے طور سے اکٹھے ہو گئے ہوں کہ اس وقت کوئی مدعی رسالت یا نبوت یا محدثیت بھی موجود ہو۔ ایسا ہی اگرچہ پہلے بھی نصاریٰ سے مباحثات مذہبی ہوتے رہے ہیں لیکن جو نصاریٰ نے اب شوخیاں دکھلائیں اور تمام ملک میں شیطانی آوازیں سنائیں اور گالیوں پر سوار ہوئے اور ہیرو بن گئے ہیں یہ انتہا ان کی طرف سے کبھی ظہور میں نہیں آیا اور نہ اس استہزاء کا بدل جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہونے والا ہے جو ربّانی آواز ہے کبھی ایسا ظاہر ہوا جیسا کہ بعد اس کے ظاہر ہو گا۔ سننے والے یاد رکھیں۔ ایسا ہی اگرچہ بعض مسلمان جو منافق طبع ہیں پادریوں کے ساتھ اس سے پہلے بھی درجہ کے ساتھ پیش آتے رہے ہیں مگر جو اب مولویوں اور ان کے تابعین نے اسفل و اسفل سے ان پادریوں اور عیسائیوں کی ہاں کے ساتھ ہاں ملائی اور ان کو فتحیاب قرار دیا اور ان کی خوشی کے ساتھ خوشی منائی اور شوخی اور چالاکی سے صدہا اشتہار لکھے اور اہل حق پر تہمتیں لگائیں۔ اور ان خصلتوں سے نصاریٰ کو خوش کیا اور نصاریٰ کو غالب قرار دیا اس کی نظیر تیرہ صدیوں میں کسی صدی میں نہیں پائی جاتی۔ پس یہ اسی پیشگوئی کا ظہور ہے کہ جو حدیثوں میں آیا ہے کہ ستر ہزار مسلمان ۴۹ کہلانے والے دجّال کے ساتھ مل جائیں گے۔ اب علمائے مکفرین بتلاویں کہ یہ باتیں پوری ہو گئیں یا نہیں۔ جبکہ یہ دو علامتیں یعنی مہدی ہونے کے مدعی کو بڑے زور و شور سے کافر اور دجّال کہنا اور نصاریٰ کی تائید کرنا اور ان کو فتحیاب قرار دینا اپنے فتوے مولویوں نے ایسے طور سے پورے کئے جن کی نظیر پہلے زمانوں میں نہیں پائی جاتی۔ اور اس سے پہلے بالعموم مشورہ کر کے سوچ و بچار اس طور سے کہ ہم دو نشانیوں کا آپ ہی ثبوت دے دیں گے جس شور و شر سے اس عاجز کی تکفیر کی گئی ہے اگر پہلے بھی کسی مہدی ہونے کے مدعی کی اس زور و شور سے تکفیر ہوئی ہے اور یہ لعن وطعن کی بارش اور کافر اور دجال کہنا اور دین کا بیخ کن قرار دینا اور تمام ملک کے علماء کا اس پر اتفاق کرنا اور تمام ممالک میں اس کو شہرت دینا پہلے بھی وقوع میں آیا ہے تو اس کی نظیر پیش کریں جو لائق الفضل بالفعل کا مصداق ہو ورنہ مہدی موعود کی ایک خاص نشانی انہوں نے اپنے ہاتھ سے قائم کر دی اور اگر پہلے بھی ایسا اتفاق ہو کر انہوں نے فساد بپا کیا ہے اور ان کو غالب قرار دیا ہے تو اس کی بھی نظیر بتلادیں۔ اور اگر پہلے بھی کسی ایسے شخص کے

انوار الاسلام صفحہ 48 مندرجہ روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 50 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 257 پر درج ہے

صفحہ 865

حوالہ نمبر 341

حقیقۃ الوحی ٢٠٣ بعض اعتراضوں کے جواب

اور بڑا افسوس ہے کہ ہمارے مخالف سراسر تعصب سے یہ اعتراض کرتے ہیں۔ اوّل یہ کہ حدیث کے لفظ یہ ہیں کہ چاند گرہن پہلی رات میں ہو گا اور سورج گرہن بیچ کے دن میں مگر ایسا نہیں ہوا یعنی اُن کے زعم کے موافق "چاند گرہن شب ہلال کو ہونا چاہیئے تھا جو قمری مہینہ کی پہلی رات ہے اور سورج گرہن قمری مہینہ کے پندرھویں دن کو ہونا چاہیئے تھا جو مہینہ کا بیچواں دن ہے"۔ مگر اس خیال میں سراسر ان لوگوں کی نافہمی ہے کیونکہ دُنیا جب سے پیدا ہوئی ہے چاند گرہن کیلئے تین راتیں خدا تعالیٰ کے قانون قدرت میں مقرر ہیں یعنے تیرھویں چودھویں پندرھویں ۔ اور چاند گرہن کی پہلی رات جو خدا تعالیٰ کے قانون قدرت کے مطابق ہو وہ قمری مہینے کی تیرھویں رات ہے اور سورج کے گرہن کیلئے تین دن خدا کے قانون قدرت میں مقرر ہیں یعنی قمری مہینے کا ستائیسواں اٹھائیسواں اور انتیسواں دن ۔ اور سورج کے تین دن گرہن میں سے قمری مہینہ کے رُو سے اٹھائیسواں دن بیچ کا دن ہو۔ سو انہی تاریخوں میں عین حدیث کے منشاء کے موافق سورج اور چاند کا رمضان میں گرہن ہوا ۔ یعنے چاند گرہن رمضان کی تیرھویں رات میں ہوا اور سورج گرہن اسی رمضان کے اٹھائیسویں دن ہوا ۔ اور عرب کے محاورہ میں پہلی رات کا چاند قمر کبھی نہیں کہلاتا بلکہ تین دن تک اُس کا

١٩٦

نام ہلال ہوتا ہے اور بعض کے نزدیک سات دن کا ہلال کہلاتا ہے۔ دُوسرا یہ اعتراض ہے کہ اگر ہم قبول کر لیں کہ چاند کی پہلی رات سے مراد تیرھویں رات ہے اور سورج کے بیچ کے دن سے مراد اٹھائیسواں دن ہو تو اس میں خارق عادت کونسا امر ہوا کیا رمضان کے مہینہ میں کبھی چاند گرہن اور سورج گرہن نہیں ہوا ۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ رمضان کے مہینہ میں کبھی یہ دونوں گرہن جمع نہیں ہوئے بلکہ یہ مطلب ہے کہ کسی مدعی رسالت یا نبوۃ کے وقت میں کبھی یہ دونوں گرہن جمع نہیں ہوئے جیسا کہ حدیث کے ظاہر الفاظ اسی پر دلالت کر رہے ہیں۔ اگر کسی کا یہ دعویٰ ہو کہ کسی مدعی نبوت یا رسالت کے وقت میں یہ دونوں گرہن رمضان میں کبھی کسی زمانہ میں جمع ہوئے ہیں تو اس کا فرض ہے کہ اس کا ثبوت دے۔ خاصکر یہ امر کہ

حقیقۃ الوحی صفحہ 196 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 203 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 258 پر درج ہے

صفحہ 866

حوالہ نمبر 342 بعض اعتراض کے جواب ۲۰۲ حقیقۃ الوحی

ایک وہ وقت تھا کہ خدا کے سچے مسیح کو صلیب نے توڑا اور اس کو زخمی کیا تھا اور آخری زمانہ میں یہ مقدر تھا کہ مسیح صلیب کو توڑے گا یعنی آسمانی نشانوں سے کفارہ کے عقیدہ کو دنیا سے اُٹھاوے گا ۔ عوض معاوضہ گلہ ندارد ۔

ایتین لم تکونا منذ خلق السموات والارض ینکسف القمر لاول لیلۃ من رمضان وتنکسف الشمس فی النصف منه ترجمہ یعنی ہمارے مہدی کیلئے دو نشان ہیں اور جب سے کہ زمین و آسمان خدا نے پیدا کیا یہ دو نشان کسی اور مامور اور رسول کے وقت میں ظاہر نہیں ہوئے ان میں سے ایک یہ ہے کہ مہدی موعود کے زمانہ میں رمضان کے مہینہ میں چاند کا گرہن اُسکی اوّل رات میں ہوگا یعنی تیرہویں تاریخ میں اور سورج کا گرہن اسکے دنوں میں سے بیچ کے دن میں ہوگا یعنی اسی رمضان کے مہینہ کی اٹھائیسویں تاریخ کو اور ایسا واقعہ ابتدائے دُنیا سے کسی رسول یا نبی کے وقت میں کبھی ظہور میں نہیں آیا صرف مہدی موعود کے وقت اس کا ہونا مقدر ہے۔ اب تمام انگریزی اور اُردو اخبار اور جملہ ماہرین ہیئت اِس بات کے گواہ ہیں کہ میرے زمانہ میں ہی جس کو عرصہ قریباً بارہ سال کا گزر چکا ہے اسی صفت کا چاند اور سورج کا گرہن رمضان کے مہینہ میں وقوع میں آیا ہے اور جیسا کہ ایک اور حدیث میں بیان کیا گیا ہے ۔

۱۹۵

یہ گرہن دو مرتبہ رمضان میں واقع ہو چکا ہے ۔ اوّل اس ملک میں دُوسرے امریکہ میں اور دونوں مرتبہ انھیں تاریخوں میں ہوا ہے جن کی طرف حدیث اشارہ کرتی ہے اور چونکہ اس گرہن کے وقت میں مہدی موعود ہونے کا مدعی کوئی زمین پر بجز میرے نہیں تھا اور نہ کسی نے میری طرح اس گرہن کو اپنی مہدویت کا نشان قرار دیکر صد ہا اشتہار اور رسالے اُردو اور فارسی اور عربی میں دُنیا میں شائع کئے اِس لئے یہ نشانِ آسمانی میرے لئے متعین ہوا۔ دُوسرا امر یہ دلیل ہے کہ بارہ برس پہلے اس نشان کے ظہور پر خدا تعالیٰ نے اس نشان کے بارے میں مجھے خبر دی تھی کہ ایسا نشان ظہور میں آئیگا۔ اور وہ خبر براہین احمدیہ میں درج ہو کر قبل اسکے جو یہ نشان ظاہر ہو۔ لاکھوں آدمیوں میں مشتہر ہو چکی تھی۔

۲۰۲

یہ حوالہ صفحہ 258 پر درج ہے حقیقۃ الوحی صفحہ 195 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 202 از مرزا قادیانی

صفحہ 867

حوالہ نمبر 243

تحفہ گولڑویہ ۱۵۴

مکرر فرماتے ہیں ؎

ندارد بصد نکتۂ نغز گوش چو رخنے بہ بیند برآرد خروش

یہ نادان نہیں جانتے کہ پیشگوئی ایک علم ہے اور خدا کی وحی ہے اس میں بعض وقت تشابہات بھی ہوتے ہیں۔ اور بعض وقت ملہم تعبیر کرنے میں خطا کرتا ہے جیسا کہ حدیث ذھب وھلی اس پر شاہد ہے۔ پھر احمد بیگ کے داماد کا اعتراض کرنا اور احمد بیگ کی وفات کو بھول جانا کیا یہی ایمانداری ہے۔ اسجگہ تو پیشگوئی کی دوٹانگوں میں سے ایک ٹانگ ٹوٹ گئی اور ایک حصہ پیشگوئی کا یعنی احمد بیگ کا میعاد کے اندر فوت ہو جانا حسب منشائے پیشگوئی صفائی سے پورا ہو گیا اور دوسرے کی انتظار ہے مگر یونس نبی کی قطعی پیشگوئی میں کونسا حصہ پورا ہو گیا ؟ اگر شرم ہے تو اس کا کچھ جواب دو۔ آپ لوگ اگر بہت ہی کم فرصت ہوں اور اُن تمام نشانوں کو جو سو سے زیادہ ہیں غور سے نہ دیکھ سکیں تو نمونہ کے طور پر ایک نشان آسمان کا لے لیں یعنی مہینہ رمضان کا خسوف کسوف اور ایک نشان زمین کا یعنی لیکھرام کا پیشگوئی کے مطابق مارا جانا ۔ اور پھر سوچ لیں کہ نشان نمائی میں درحقیقت یہ دو گواہیاں طالب صادق کے لئے کافی ہیں۔ ہاں اگر طالب صادق نہیں تو اس کے لئے تو ہزار معجزہ بھی کافی نہیں ہو گا۔ دیکھنا چاہیئے کہ چاند اور سورج کا رمضان شریف میں گرہن ہونا کس قدر ایک مشہور پیشگوئی تھی یہاں تک کہ جب ہندوستان میں یہ نشان ظاہر ہوا تو مکہ معظمہ کی ہر ایک گلی اور کوچہ میں اس کا تذکرہ تھا کہ مہدی موعود پیدا ہو گیا۔ ایک دوست نے جو اُن دنوں میں مکہ میں تھا خط میں لکھا کہ جب مکہ والوں کو سورج اور چاند گرہن کی خبر ہوئی کہ رمضان میں حدیث کے الفاظ کے مطابق گرہن ہو گیا تو وہ سب خوشی سے اُچھلنے لگے کہ اب اسلام کی ترقی کا وقت آگیا اور مہدی پیدا ہو گیا۔ اور بعض نے قدیم مہدوی غلطیوں کی وجہ سے اپنے ہتھیار صاف کرنے شروع کر دیئے کہ اب کافروں سے لڑائیاں ہونگی۔ غرض متواتر سُنا گیا ہے کہ نہ صرف مکہ میں بلکہ تمام بلادِ اسلام

۶۸

یہ حوالہ صفحہ 258 پر درج ہے تحفہ گولڑویہ صفحہ 68 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 154 از مرزا قادیانی

صفحہ 868

(حوالہ نمبر 344) ۳۳۲

نشان کو اُس کے لئے خاص کر دیا جائے یہ پیشگوئی کا بھی مفہوم یہی ہے کہ یہ نشان کسی دوسرے مدعی کو نہیں دیا گیا خواہ صادق ہو یا کاذب صرف مہدی موعود کو دیا گیا ہے۔ اگر یہ ظالم مولوی اِس قسم کا خسوف کسوف کسی اور مدعی کے زمانہ میں پیش کر سکتے ہیں تو پیش کریں۔ اس سے بیشک میں جھوٹا ہو جاؤں گا۔ ورنہ میری عداوت کے لئے اس قدر عظیم الشان معجزہ سے انکار نہ کریں۔ اے اسلام کے عالمو و مولویو ! ذرہ آنکھیں کھولو۔ اور دیکھو کہ کس قدر تم نے غلطی کی ہے۔ جہالت کی زندگی سے تو موت بہتر ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ اس حدیث میں کسوف خسوف کو بنظیر نہیں ٹھہرایا گیا بلکہ اس نسبت کو بنظیر ٹھہرایا گیا ہے جو مہدی کے ساتھ اس کو واقع ہے یعنی مطلب یہ ہے کہ اس طور کا خسوف کسوف جو اپنی تاریخوں اور مہینے کے لحاظ سے مہدی کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ یہ تعلق اس کا پہلے اس سے کبھی کسی دوسرے کے ساتھ نہیں ہوا۔ اور تفسیر اس قول کی اس طرح پر ہے کہ اِنَّ لِمَهْدِيْنَا اٰيَتَيْنِ لَمْ تَكُوْنَا لِاَحَدٍ مِّنْ خَلْقِ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ پس اس جگہ غرض تو یہ ہے کہ یہ دو نشان اس مخصوص کے ساتھ مہدی کو دیئے گئے ہیں پہلے اس سے کسی کو نہیں دیئے گئے اور لَمْ تَكُوْنَا کا لفظ اٰيَتَيْنِ کی تشریح کرتا ہے کہ وہ مہدی کے ساتھ خاص کئے گئے ہیں یہ خسوف کسوف کی کوئی نرالی حالت بیان کرنا منظور نہیں بلکہ اس عبارت میں دونوں نشانوں کی مہدی کے ساتھ تخصیص منظور ہے۔ نہ یہ کہ خسوف کسوف کی کوئی نرالی حالت بیان کی جائے۔ اور اگر نرالی حالت بیان کرنا منظور ہوتا۔ تو عبارت یوں چاہئے تھی۔ کہ یَنْکَسِفُ القمر والشمس علیٰ وُجُوہٍ مَا انْکَسَفَا مُنْذُ خَلْقِ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ یعنی ایسے طور سے چاند اور سورج کا گرہن ہوگا۔ کہ پہلے اس سے جب سے آسمان و زمین پیدا کئے گئے ہیں۔ ایسا خسوف کسوف کبھی نہیں ہوا۔ اب میں نے خوب تشریح کر کے اصل معنوں کو ننگا کر کے دکھلا دیا ہے۔ اب بھی اگر کوئی نہ سمجھے گا۔ تو وہ پاگل کہلائے گا۔ اور اگرچہ پیشگوئی کے لفظوں سے یہ بات ہرگز نہیں نکلتی کہ خسوف کسوف کوئی نرالی طور پر ہوگا۔ مگر خدا تعالیٰ نے ان مولویوں کا مُنہ کالا کرنے کے لئے اس خسوف کسوف میں بھی ایک امر خارق عادت رکھا ہے چنانچہ مارچ ۱۸۹۴ء ؁ پائیونیر اور سول ملٹری گزٹ

۴۸

انجام آتھم صفحہ 48 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 332 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 258 پر درج ہے

صفحہ 869

(حوالہ نمبر 345)

ضمیمہ ۱۸۳ نزول المسیح

اتزعم ان رسولنا سید الوری علی زعم شانئه توفی ابتر

کیا تو گمان کرتا ہے کہ ہمارا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بے اولاد ہونے کی حالت میں وفات پاگیا جیسا کہ دشمن بدگو کا خیال ہے

فلا والذی خلق السماء لاجله له مثلنا ولد الی یوم یحشر

مجھے اس کی قسم جس نے آسمان بنایا کہ ایسا نہیں ہے۔ بلکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے میری طرح ایک بیٹا ہے جو قیامت تک رہے گا ۔

و انا ورثنا مثل ولد متاعه فای ثبوت بعد ذلک یحضر

اور ہم نے اولاد کی طرح اس کی وراثت پائی۔ پس اس سے بڑھ کر اور کونسا ثبوت ہے جو پیش کیا جائے۔

له خسف القمر المنیر وان لی غسا القمران المشرقان اتنکر

اس کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا اب کیا تو انکار کریگا۔

وکان کلام معجز آیة له کذلک لی قول علی الکل یبھر

اور اُس کے معجزات میں سے معجزانہ کلام بھی تھا۔ اسی طرح مجھے وہ کلام دیا گیا جو سب پر غالب ہے

اذا القوم قالوا یدعی الوحی عامدا عجبت فانی ظل بدر ینور

جب قوم نے کہا کہ یہ تو عمداً وحی کا دعویٰ کرتا ہے۔ میں نے تعجب کیا کہ میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظل ہوں

و انی لظل ان یخالف اصله فما فیه فی وجھی یلوح و یزھر

اور سایہ کیونکر اپنے اصل سے مخالف ہو سکتا ہے پس جو روشنی جو اُس میں ہے وہ مجھ میں چمک رہی ہے

و انی لذو نسب کاصل الطبیعه و من طینة المعصوم طینی مخمر

اور میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح ذو نسب ہوں اور اس کی پاک مٹی کا مجھ میں خمیر ہے ۔

کفی العبد تقوی القلب عند سیدہ و لیس لنسب ذو صلاح معیر

اور بندہ کو دلی کا تقویٰ کافی ہے۔ اور ایک صالح کو اس لئے سرزنش نہیں کر سکتے کہ اسکی نسب اعلیٰ نہیں ۔

و لکن قضی رب السماء لائمة لھم نسب کیلا یھیج التنفر

مگر خدا نے اماموں کے لئے چاہا کہ وہ ذو نسب ہوں تاکہ لوگوں کو اُنکی کمی نسب کا تصور کر کے نفرت پیدا نہ ہو

و من کان ذا نسب کریم و لم یکن له حسب فهو اللئیم المحقر

اور جو شخص اچھی نسب رکھتا ہے مگر اُس میں ذاتی صفات کچھ نہیں وہ کمینہ اور حقیر ہے ۔

۷۹

اعجاز احمدی صفحہ 71 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 183 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 274 پر درج ہے

صفحہ 870

حوالہ نمبر 346

نزول المسیح

۱۵۶

هذا الشعر من وحی الله تعالیٰ جل شانہ

فقد سرّنی فی ھذه الصّور صورة لیدفع ربّی کلّما کان یحشر
پس ان صورتوں میں مجھے ایک طریق اچھا معلوم ہوا تا میرا خدا اس طوفان کو دُور کرے جو اکٹھا کیا گیا ہو
فالقیت ھذا النظم اعنی قصیدتی لیخزی ربّی کلّ من کان یھذر
پس میں نے یہ نظم یعنی یہ قصیدہ اپنا تالیف کیا تا میرا خدا اُن لوگوں کو رسوا کرے جو بکواس کرتے ہیں
وھذا علیٰ اصرارہ فی سواله فکیف بھذا الشتم اغضو وانھر
اور یہ قصیدہ اُس کے اصرار مقابلہ پر بنایا گیا ہے پس میں باوجود اسکی بیہودہ گالیوں کے کیونکر چشم پوشی کروں اور کیونکر سنائی چھوڑ دوں
ولیس علینا فی الجواب جریمة فنھدی له کالاکل ما کان یبذر
اور اس جواب میں ہم پر کوئی گناہ نہیں اور ہم اُسکو یہ تحفہ دیویں جیسا کہ پھل ویسے بیج کا جو اُس نے بویا تھا
فان اک کذّاباً فیاتی بمثلھا وان اک من ربّی فیخزیٰ ویثبر
پس اگر میں جھوٹا ہوں تو ایسا قصیدہ بنا لاوے گا اور اگر میں خدا کی طرف سے ہوں تو پس وہ رسوا کیا جاوے گا اور ہلاک کیا جاوے گا
وھذا قضاء الله بینی وبینھم لیظھر آیته وما کان یخبر
اور یہ خدا کا فیصلہ ہے ہم میں اور اُن میں تا اپنے نشانوں کو ظاہر کرے اور اُس نشان کو ظاہر کرے جو پہلے سے خبر دی گئی ہے
قطعنا بھذا دابر القوم کلھم وغادرھم ربی لغصص تجذّر
ہم نے اس نشان سے سب کا فیصلہ کر دیا ہے اور میرے ربّ نے انکو بمنزلہ شاخوں کے کر دیا جو کاٹ دی جاتی ہیں
وفی ارض مکہ قد اریٰنی تبارھا وغادرھم ربی لغصص تجذّر
میں مکہ کی زمین دیکھتا ہوں کہ اُسکی تباہی نزدیک آ گئی اور میرے ربّ نے اُن کو کٹی شاخوں کی طرح کر دیا
ایا شاتمی بالحمق والجھل والردیٰ رویدک لا تبطل صنیعک احذر
اے میرے گالی دینے والے حماقت اور جہالت اور ہلاکت کے طَور والے ذرا تھم باز آ جا اور اپنے احسان کو باطل نہ کر
اتشتم بعد العون والمن والندیٰ اتنسی ندیٰ عمّی وما کنت تبصر
کیا تو مدد اور احسان اور بخشش کے بعد گالیاں دے گا کیا تو اُس بخشش کو بھلا دیگا جو میں نے مدام تیرے حق میں کی اور تو اندھا تھا
تریٰ کیف اغبرت السماء بآیھا اذا القوم آذونی وجاوا وغبروا
تو دیکھتا ہے کہ کیونکر آسمان نشانوں کی رُو سے غبار آلود ہو گیا جبکہ قوم نے مجھے دُکھ دیا اور بھاگ نکلے اور گَرد اُڑائی

یہ حوالہ صفحہ 276 پر درج ہے

اعجاز احمدی صفحہ 45 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 156 از مرزا قادیانی

صفحہ 871

(حوالہ نمبر 347)

۱۴۱ نزول المسیح

افسوس کہ سادہ لوح حجرہ نشین مولویوں کی نظر محدود ہے انکو معلوم نہیں کہ پہلی کتابوں میں اسی ساعت کا وعدہ تھا جو طیطوس کے وقت یہودیوں پر وارد ہوئی اور قرآن شریف صاف کہتا ہے کہ عیسیٰ کی زبان پر انپر لعنت پڑی اور عذاب عظیم کے واقعہ کو ساعت کے لفظ سے بیان کرنا نہ صرف قرآن شریف کا محاورہ ہے بلکہ یہی محاورہ پہلی آسمانی کتابوں میں پایا جاتا ہے اور بکثرت پایا جاتا ہے۔ پس نہ معلوم ان سادہ لوح مولویوں نے کہاں سے یاد کیا یا سن لیا کہ ساعت کا لفظ ہمیشہ قیامت پر ہی بولا جاتا ہے۔ افسوس یہ لوگ حیوانات کی طرح ہو گئے۔ قدم بقدم پر اپنی غلطیوں پر ذلت اُٹھاتے ہیں پھر غلطیوں کو نہیں چھوڑتے کیا غلطیوں کی کوئی حد بھی ہو۔ قرآن کے منشاء کو ہرگز یہ لوگ نہیں سمجھتے۔ آسمان پر تو حضرت عیسیٰ کو مع جسم چڑھا دیا مگر جو الزام یہودیوں کا تھا اُس کا کچھ جواب نہ دیا۔ خدا جو فرماتا ہے کہ یہود کہتے تھے اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیحَ عیسیٰ ابْنَ مَرْیَمَ ۱ اور جواب دیتا ہے کہ نہیں بلکہ ہم نے اُسکو اُٹھا لیا یہ کس بات کا ردّ ہو کیا صرف قتل کا۔

سُنو کہ یہودیوں کا بار بار یہ شور مچانا کہ ہم نے عیسیٰ کو صلیب کے ذریعہ سے مار دیا اُس کا اِس سے یہ مطلب تھا کہ وہ ملعون ہوا اور اُسکی رُوح موسٰی اور دوسروں کی طرح خدا کی طرف نہیں اُٹھائی گئی پس خدا کا جواب یہ چاہئے تھا کہ نہیں درحقیقت اُسکی رُوح کا رفع ہوا نہ جسم کا آسمان پر اُٹھانا۔ یا یہ اُٹھانا متنازعہ فیہ امر نہ تھا پس نعوذ باللہ خدا کی یہ خوب سمجھ ہے کہ انکار تو رُوح کے رفع سے ہے جو خدا کی طرف ہوتا ہے مگر خدا اس اعتراض کا یہ جواب دیتا ہے کہ میں نے عیسیٰ کو زندہ بجسم عنصری دوسرے آسمان پر بٹھا دیا۔ خوب جواب ہے اور ابھی مرنا اور قبض روح ہونا باقی ہے۔ خدا جانے بعد اسکے رفع رُوحانی ہو یا نہ ہو۔ جو اصل جھگڑے کی بات ہے۔ ۲۳

ایسا ہی یہ لوگ عقل کے نور سے میری بعض پیشگوئیوں کو جھوٹا ٹھہرا کر اپنے ہی دل کو خوش کر کے یہ بھی کہا کرتے ہیں کہ جب بعض پیشگوئیاں جھوٹی ہیں یا اجتہادی غلطی ہے تو پھر صریح دعوٰی کیا اعتبار شاید وہ بھی غلط ہو۔ اس کا اول جواب تو یہی ہے کہ لَعْنَتُ اللّٰهِ عَلَی الْکٰذِبِینَ۔ اور مولوی ثناء اللہ نے موضع مُڈ میں بحث کے وقت یہی کہا تھا کہ سب پیشگوئیاں جھوٹی نکلیں اسلئے ہم اُنکو

۱ النساء: ۱۵۸

اعجاز احمدی (ضمیمہ نزول المسیح) صفحہ 28-27 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 131، 132 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 276 پر درج ہے

Back

صفحہ 872

حوالہ نمبر 347

نزول المسیح ۱۳۲ ضمیمہ

مدعو کرتے ہیں اور خدا کی قسم دیتے ہیں کہ وہ اس تحقیق کیلئے قادیان میں آویں اور تمام پیشگوئیوں کی پڑتال کریں اور ہم قسم کھا کر وعدہ کرتے ہیں کہ ہر ایک پیشگوئی کی نسبت جو منہاج نبوت کی رو سے جھوٹی ثابت ہو ایک ایک سو روپیہ انکی نذر کرینگے۔ ورنہ ایک طوق لعنت کا اُنکے گلے میں رہیگا۔ اور ہم آمد و رفت کا خرچ بھی دینگے۔ اور کل پیشگوئیوں کی پڑتال کرنی ہوگی۔ تا آئندہ کوئی جھگڑا باقی نہ رہ جائے۔ اور اسی شرط سے روپیہ ملیگا۔ اور ثبوت ہمارے ذمہ ہوگا۔ یاد رہے کہ رسالہ نزول المسیح میں ڈیڑھ سو پیشگوئی میں نے لکھی ہے تو گویا جھوٹ ہونے کی حالت میں پندرہ ہزار روپیہ مولوی ثناء اللہ صاحب کو ملینگے اور در بدر گدائی کرنے سے نجات ہوگی۔ بلکہ ہم اور پیشگوئیاں بھی معہ ثبوت انکے سامنے پیش کر دینگے اور اسی وعدہ کے موافق فی پیشگوئی سو روپیہ دیتے جائینگے۔ اسوقت ایک لاکھ سے زیادہ میری جماعت ہے۔ پس اگر میں مولوی صاحب موصوف کیلئے ایک ایک روپیہ بھی اپنے مریدوں سے لوں گا تب بھی ایک لاکھ روپیہ ہو جائیگا وہ سب انکی نذر ہو گا جس حالت میں وہ دو آنہ کیلئے در بدر خراب ہوتے پھرتے ہیں اور خدا کا قہر نازل ہو اور مردوں کے کفن یا وعظ کے پیسوں پر گزارہ ہے ایک لاکھ روپیہ حاصل ہو جانا اُن کیلئے ایک بہشت ہے لیکن اگر میرے اس بیان کی طرف توجہ نہ کریں اور اس تحقیق کے لئے بپابندی شرائط مذکورہ جس میں بشرط ثبوت تصدیق ورنہ تکذیب دونوں شرطیں ہیں۔ قادیان میں نہ آئیں تو پھر لعنت ہو اس لاف و گزاف پر جو اُنہوں نے موضع مدّ میں مباحثہ کے وقت کی اور سخت بے حیائی سے جھوٹ بولا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ۱ مگر اُنہوں نے بغیر علم اور پوری تحقیق کے عام لوگوں کے سامنے تکذیب کی کیا یہی ایمانداری ہے۔ وہ انسان کتوں سے بدتر ہوتا ہے کہ جو بے وجہ بھونکتا ہو اور وہ زندگی لعنتی ہے جو بے شرمی

۲۴۷

سے گذرتی ہے۔

اور جس کا یہ خیال ہو کہ اگر کسی الہام کے سمجھنے میں غلطی ہو جائے تو ایمان اُٹھ جاتا ہے اور شک پڑ جاتا ہے کہ شاید اس نبی یا رسول یا محدث نے اپنے دعوٰی میں بھی دھوکا کھایا ہو۔

۲۸

۱؂ بنی اسرائیل : ۳۷

اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح صفحہ 27-28 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 131، 132 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 276 پر درج ہے

صفحہ 873

حوالہ نمبر 348

حقیقت المہدی

۴۴۱

یہی اعتراض کرتے ہیں کہ وہ پوری نہیں ہوئیں ۔ مگر یہ سراسر ان کا افتراء ہے اور سچ اور واقعی یہی بات ہے کہ میری کوئی ایسی پیشگوئی نہیں کہ جو پوری نہیں ہوگئی ۔ اگر کسی کے دل میں شک ہو تو وہ سیدھی نیت سے ہمارے پاس آجائے اور بالمواجہ کوئی اعتراض کر کے اگر شافی کافی جواب نہ سنے تو ہم ہر ایک تاوان کے سزا وار ٹھہر سکتے ہیں حقیقت یہی ہے کہ ایسے لوگ بخل سے اعتراض کرتے ہیں نہ انصاف سے ۔ اگر یہ لوگ انبیاء علیہم السلام کے وقتوں میں ہوتے تو ان پر بھی ایسے ہی اعتراض کرتے جو مجھ پر کرتے ہیں ۔ جو شخص آنکھیں رکھتا ہے اُس کو ہم راہ دکھلا سکتے ہیں ۔ مگر جو بخل اور خود غرضی اور تکبّر سے اندھا ہو گیا ہو اُس کو کیا دکھا سکتے ہیں ۔ تین ہزار یا اس سے بھی زیادہ اس عاجز کے الہامات کی مبارک پیشگوئیاں جو امن عامہ کے مخالف نہیں پوری ہو چکی ہیں۔ صد ہا نیک دل انسان گواہ ہیں بہت سی تحریریں پیش از وقت شائع ہو چکی ہیں۔ پھر بھی اگر کوئی بخل کی راہ سے خواہ نخواہ شکوک اور اعتراضات پیش کرتا ہے اور سیدھے طور پر صحبت میں رہ کر تجربہ نہیں کرتا ۔ اور نہ اہل تجربہ سے دریافت کرتا ہے اور دجل اور خیانت کی راہ سے دھوکا دینے والے افتراءات مشہور کرتا ہے اور خیانت اور دروغگوئی سے باز نہیں آتا ۔ وہ اُن منکرین کا وارث ہے جو اس سے پہلے خدا کے پاک نبیوں کے مقابل پر گزر چکے ہیں ۔ خدا اپنے بندوں کو ایسے منصوبہ باز لوگوں کے بہتانوں سے اپنی پناہ میں رکھے ۔ اس بات کا کیا موجب ہے کہ یہ لوگ چوروں کی طرح دُور دُور سے اعتراض کرتے ہیں اور صاف باطن لوگوں کی طرح بالمقابل آکر اعتراض نہیں کرتے اور نہ جواب سننا چاہتے ہیں ۔ اس کا یہی سبب ہے کہ یہ لوگ اپنے دجل اور بد دیانتی سے واقف ہیں اور اُن کا دل اُنکو ہر وقت جلاتا ہے کہ اگر تم نے ایسے بیہودہ اور جہالت اور خیانت سے بھرے ہوئے اعتراض رو برو پیش کئے تو اس صورت میں تمہاری سخت پردہ دری ہوگی ۔ اور تمہاری دھوکا دینے والی باتیں یکدفعہ کالعدم ہو جائیں گی۔ تب اس وقت ندامت اور خجالت اور رسوائی رہ جائیگی

۱۵

حقیقت المہدی صفحہ 15 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 441 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 277 پر درج ہے

صفحہ 874

حوالہ نمبر 349

نزول المسیح ۱۳۲ مدعو کرتے ہیں اور خدا کی قسم کھاتے ہیں کہ وہ اس تحقیق کیلئے قادیان میں آویں اور تمام پیشگوئیوں کی پڑتال کریں اور ہم قسم کھا کر وعدہ کرتے ہیں کہ ہر ایک پیشگوئی کی نسبت جو منہاج نبوت کی رُو سے جھوٹی ثابت ہو ایک ایک سو روپیہ اُنکی نذر کرینگے۔ ورنہ ایک خاص تمغہ لعنت کا اُنکے گلے میں رہیگا۔ اور ہم آمد و رفت کا خرچ بھی دینگے۔ اور کل پیشگوئیوں کی پڑتال کرنی ہوگی۔ تا آئندہ کوئی جھگڑا باقی نہ رہ جائے۔ اور اسی شرط سے روپیہ ملے گا اور ثبوت ہمارے ذمہ ہوگا۔

یاد رہے کہ رسالہ نزول المسیح میں ڈیڑھ سو پیشگوئی میں نے لکھی ہو تو گویا جھوٹ ہونے کی حالت میں پندرہ ہزار روپیہ مولوی ثناء اللہ صاحب لے جائینگے اور در بدر گدائی کرنے سے نجات ہوگی۔ بلکہ ہم اور پیشگوئیاں بھی بمعہ ثبوت اُنکے سامنے پیش کر دینگے اور اسی وعدہ کے موافق فی پیشگوئی سو روپیہ دیتے جائینگے۔ اسوقت ایک لاکھ سے زیادہ میری جماعت ہے۔ پس اگر مَیں مولوی صاحب موصوف کیلئے ایک ایک روپیہ بھی اپنے مریدوں کو لکھواؤں تب بھی ایک لاکھ روپیہ ہو جائیگا وہ سب اُنکی نذر ہوگا جس حالت میں وہ دو آنے کیلئے در بدر خراب ہوتے پھرتے ہیں اور خدا کا قہر نازل ہو اور مُردوں کے کفن یا وعظ کے پیسوں پر گزارہ ہو ایک لاکھ روپیہ حاصل ہو جانا اُن کیلئے ایک بہشت ہے لیکن اگر میرے اس بیان کی طرف توجہ نہ کریں اور اس تحقیق کے لئے بپابندی شرائط مذکورہ جس میں بشرط ثبوت تصدیق ورنہ تکذیب دونوں شرط ہیں۔ قادیان میں نہ آئیں تو پھر لعنت ہو اُس لاف و گزاف پر جو اُنہوں نے موضع مُڈ میں مباحثہ کے وقت کی اور سخت بے حیائی سے جھوٹ بولا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ۱ مگر اُنہوں نے بغیر علم اور پوری تحقیق کے عام لوگوں کے سامنے تکذیب کی کیا یہی ایمانداری ہے ۔ وہ انسان کتوں سے بدتر ہوتا ہے کہ جو بے وجہ بھونکتا ہو اور وہ زندگی لعنتی ہو جو بے شرمی ۲۲ سے گزرتی ہے۔

اور بعض کا یہ خیال ہو کہ اگر کسی الہام کے سمجھنے میں غلطی ہو جائے تو ایمان اُٹھ جاتا ہے اور شک پڑ جاتا ہے کہ شاید اُس نبی یا رسول یا محدث نے اپنے دعوٰی میں بھی دھوکا کھایا ہو۔

۲۸

۱؂ بنی اسرائیل : ۳۷

اعجاز احمدی [نزول المسیح ضمیمہ] صفحہ 23 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 132 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 277 پر درج ہے

صفحہ 875

(حوالہ نمبر 350)

نزول المسیح ۱۴۸ ضمیمہ

مولوی ثناء اللہ صاحب اور اُنکے رفیقوں کو ناحق کے افتراؤں کی حاجت نہیں رہیگی اور مفت میں اُنکی فتح ہو جائیگی ورنہ انکا حق نہیں ہو گا کہ پھر کبھی مجھے جھوٹا کہیں یا میرے نشانوں کی تکذیب کریں۔ دیکھو میں آسمان اور زمین کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں کہ آج کی تاریخ سے اس نشان پر حصر رکھتا ہوں اگر میں صادق ہوں اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ میں صادق ہوں تو کبھی ممکن نہیں ہوگا کہ مولوی ثناء اللہ اور اُنکے تمام مولوی پانچ دن میں ایسا قصیدہ بنا سکیں اور اُردو مضمون کا ردّ لکھ سکیں کیونکہ خدا تعالیٰ اُن کی قلموں کو توڑ دیگا اور اُنکے دلوں کو غبی کر دے گا۔ اور مولوی ثناء اللہ کو اس بدگمانی کی طرف راہ نہیں ہو کہ وہ یہ کہے کہ قصیدہ پہلے سے بنا رکھا تھا کیونکہ وہ ذرا آنکھ کھولکر دیکھے کہ مباحثہ ہٰذا کا جس میں ذکر ہی نہیں اگر میں نے پہلے بنایا تھا تب تو انھیں ماننا چاہئیے کہ میں عالم الغیب ہوں۔ بہر صورت یہ بھی ایک نشان ہوا۔ اِس لئے اب انکو کسی طرف فرار کی راہ نہیں اور آج وہ الہام پورا ہوا جو خدا نے فرمایا تھا۔

"قادر کے کار و بار نمودار ہو گئے "
"کافر جو کہتے تھے وہ گرفتار ہو گئے "

۳۰ اور واضح رہے کہ مولوی ثناء اللہ کے ذریعہ سے عنقریب تین نشان میرے ظاہر ہوں گے۔ (۱) وہ قادیان میں تمام پیشگوئیوں کی پڑتال کیلئے میرے پاس ہرگز نہیں آئیں گے اور سچی پیشگوئیوں کی اپنے قلم سے تصدیق کرنا اُن کیلئے موت ہوگی (۲) اگر اس چیلنج پر وہ مستعد ہوئے کہ کاذب صادق کے پہلے مرجائے تو ضرور وہ پہلے مرینگے (۳) اور سب سے پہلے اِس اُردو مضمون اور عربی قصیدہ کے مقابلہ سے عاجز رہ کر جلد اُنکی رُوسیاہی ثابت ہو جائیگی۔ اور چونکہ ان دنوں میں مولوی محمد حسین نے رسائل میں پیر مہر علی گولڑوی کی حمایت کی ہے بلکہ اشتہار میں بہت ہی تعریف کی ہے اور علی حائری صاحب شیعہ اپنی تعریف میں پھول رہے ہیں اسلئے میں اُنکو بھی اس مقابلہ کیلئے بلاتا ہوں۔ گالیاں دینے اور ٹھٹھا کرنے میں ان لوگوں کی زبان چالاک ہے لیکن اب میں دیکھونگا کہ خدا سے انکو کسقدر مدد مل سکتی ہے۔ میں نے ان لوگوں کی نسبت بھی اس قصیدہ میں کچھ لکھا ہے تا انکی خُبث کو حرکت دُوں یہ ایک آخری فیصلہ ہے محمد حسین سے مدد لیں اور گولڑوی صاحب کسی اپنے

۳۴

اعجاز احمدی یا ضمیمہ نزول المسیح صفحہ 37 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 148 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 278 پر درج ہے

صفحہ 876

حوالہ نمبر 351 ۲۲۹ مواہب الرحمٰن

تَرْجَمَةُ مَا كَتَبْنَا اِلَى ثَنَاءِ اللّٰهِ ترجمہ خطے کہ سُوئے ثناء اللہ امرت سری نوشتیم الْاَمْرِتْسَرِىِّ اِذْ جَاءَ قَادِيَانَ وَ وقتے کہ بہ قادیان آمد و طَلَبَ رَفْعَ الشُّبُهَاتِ بِعَطَشٍ بہ تشنگی در دفع ازالہ شبہات خود بخواست سنہ ۱۳۲۰ھ قَوِيٍّ ۔ وَكَانَ هٰذَا عَاشِرَ شَوَّالٍ و بود ایں تاریخ دہم شوال ۱۳۲۰ ہجری اِذْ جَاءَ هٰذَا الدَّجَّالُ چوں ایں دجال بہ قادیان آمد ۔

بَلَغَنِى كُتُبُكَ بِاَسْرِهَا وَمَطْلُوبُكَ اَنَّكَ اسْتَدْعَيْتَ اَنْ اُزِيلَ شُبُهَاتِكَ الَّتِى حَصَلَتْ مرا نامہ تو رسید ومطلوب تو ظاہر گشت تو درخواست کردی کہ بعض شبہات تو کہ متعلق بعض بِهَا عَلَى بَعْضِ اَنْبَائِى الْغَيْبِيَّةِ ۔ فَاعْلَمْ اَنَّكَ اِنْ كُنْتَ جِئْتَنِى بِصِفَةِ اللَّيِّنَةِ وَلَيْسَ فِى پیشگوئیہا ہستند دُور کنم پس بداں کہ اگر بصفت لینہ نزدم آمدی ونیست در قَلْبِكَ شَىْءٌ مِنَ الْمَفْسَدَةِ، فَلَكَ اَنْ تَقْبَلَ بَعْضَ شُرُوطِى قَبْلَ هٰذَا الِاسْتِفْسَارِ ۔ دل تو چیزے از فساد پس بر تو واجب است کہ قبل ازیں استفسار بعض شرطہائے من قبول کنی۔ وَلَا تَخْرُجْ مِنْهَا بَلْ تَثْبُتُ عَلَيْهَا كَالْاَخْيَارِ ۔ وَاِنْ كُنْتَ لَا تَقْبَلُ تِلْكَ الشُّرُوطَ و ازاں شرطہا خارج نشوی بلکہ ہمچو نیک مرداں برآں ثابت بمانی و اگر تو آں شرائط را قبول نمی کنی

۱۱۳

مواہب الرحمٰن صفحہ 113 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 329 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 279 پر درج ہے

صفحہ 877

حوالہ نمبر 352

۶۸۴

دوسرا ثبوت نشانات ہیں جن سے بہت صفائی سے استنباط ہوتا ہے وہی ثبوت ہمارے ساتھ بھی ہیں اور جس قاعدہ سے خدا تعالیٰ نے یہ نشانات دکھلائے ہیں اگر اسی طرح شمار کریں تو یہ بیس لاکھ سے بھی زیادہ ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ يَأْتُوْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ اور يَأْتِيْكَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ کی تحت میں اگر ہر ایک شخص جو ہمارے پاس آتا ہے ہر ایک ہدیہ اور نذر جو پیش ہوتی ہے ایک ایک نشان الگ الگ ہے مگر ہم نے صرف ایک سو پچاس نشان نزول المسیح میں درج کئے ہیں جن کے ہزارہا گواہ موجود ہیں۔ پھر دیکھو یہ کس وقت کی خبر ہے۔ قرآن کے نصوص، حدیث کی اخبار اور مکاشفات اور رویاء وغیرہ سب ہماری تائید میں ہیں۔ پھر اس کے علاوہ خدا تعالیٰ کے نشانات۔ پھر زمانہ کی موجودہ ضرورت، یہ سب ثبوت پیش کرنے کے قابل ہیں۔ اس وقت خدا تعالیٰ کا منشاء ہے کہ لوگوں کو غلطیوں سے نکالے اور تقویٰ پر قائم کرے۔ خدا تعالیٰ جس کو چاہے گا بلاتا جاوے گا۔ یہ اس کی طرف سے ایک دعوت ہے جو بلایا جاتا ہے۔ اسے فرشتے کھینچ کھینچ کر لے آتے ہیں۔

۱۰؍ جنوری ۱۹۰۳ء

مولوی ثناء اللہ صاحب کا قادیان آنا

عصر کے وقت خدا تعالیٰ کے برگزیدہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ خبر ہوئی کہ مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری قادیان آئے ہوئے ہیں مگر آپ نے اس کے متعلق صرف یہی فرمایا کہ ہزاروں لوگ راہرو آتے ہیں ہمیں اس سے کیا؟

مغرب کی نماز باجماعت ادا کر کے جب حضرت اقدس دولت سرا کو تشریف لے چلے تو ایک شخص نے ہاتھ میں قلم دوات لئے ہوئے حضرت اقدس کی خدمت میں کچھ کاغذات پیش کئے۔ اس قلم دوات سے اس کی یہ غرض تھی کہ حضرت سے رقعہ کی رسید لے مگر حضرت نے توجہ نہ کی اور اس کے وہ کاغذات لے کر تشریف لے گئے اور جب عشاء کی نماز کے واسطے تشریف لائے تو فرمایا کہ ایک ہی مضمون کے دو رقعے مولوی ثناء اللہ صاحب کی طرف سے پہنچے ہیں۔ نہ معلوم دو رقعوں

۱؎ البدر جلد ۲ نمبر ۲ صفحہ ۲۶ تا ۲۹ مورخہ ۱۳؍ فروری ۱۹۰۳ء

ملفوظات جلد دوم صفحہ 683، 684 طبع جدید از مرزا قادیانی | حوالہ صفحہ 280 پر درج ہے

صفحہ 878

حوالہ نمبر 352

۶۸۴

کی کیا غرض تھی۔

اس وقت یہ عقدہ حل ہوا کہ غالباً دوسرا رقعہ دستخط یعنی رسید رقعہ لینے کی غرض سے تھا۔ مگر قاصد کو رسید مانگنے کی جرأت نہ ہوئی اور وہ رقعہ اس وقت سید سرور شاہ صاحب کے حوالہ کیا گیا۔ کہ وہ اسے پڑھ کر اہل مجلس کو سنا دیویں۔

اس کے بعد حضرت اقدس نے فرمایا :۔

ہم تیار ہیں وہ بصد عز و آرام سے سب باتیں سنے اور اگر اس کا منشاء مباحثہ کا ہو تو یہ اس کی غلطی ہے کیونکہ اب مدت ہوئی کہ ہم مباحثات کو بند کر چکے ہیں۔ اگر اس کو طلب حق کی ضرورت ہے تو وہ رفق اور آہستگی سے اپنی غلطی دور کروائے۔ طالب حق کے لئے ہمارا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ ہاں جو شخص ایک سٹینڈ بن کر چلا جانا چاہتا ہے اور اسے فتح اور شکست اور ہار اور جیت کا خیال ہے وہ مستفید نہیں ہو سکتا۔ بجز ایسے شخص کے جو نیک نیت بن کر آوے ہم تو دوسرے کے ساتھ کلام کرنا بھی تضیع اوقات خیال کرتے ہیں۔ ہمیں تعجب ہے کہ وہ کیوں تمہار کے ہاں جا کر اترے۔ چاہیے تھا کہ مستفیدوں کی طرح آتا اور ہمارے مہمان خانہ میں اترتا۔

پھر فرمایا۔ ہم اس رقعہ کا صبح کو جواب دیں گے۔

اس کے بعد حضرت اقدس نماز سے فارغ ہو کر تشریف لے چلے تو ثناء اللہ صاحب کے قاصد نے آواز دی کہ حضرت جی۔ مولوی ثناء اللہ صاحب کے رقعہ کا کیا جواب ہے حضرت نے فرمایا کہ صبح کو دیا جائے گا۔

قاصد نے کہا کہ میں آکر جواب لے جاؤں یا آپ بذریعہ ڈاک روانہ کریں گے۔ حضرت اقدس نے فرمایا۔ خواہ تم آکر لے جاؤ خواہ ثناء اللہ آکر لے جاوے۔ پھر آپ نے قاصد کا نام پوچھا۔ اس نے کہا محمد صدیق ۱؎ ۔

۱۱ جنوری ۱۹۰۳ء بروز یکشنبہ

مولوی ثناء اللہ کے رقعہ کا جواب

ظہر کی نماز کو جب حضرت اقدس تشریف لائے تو قبل از نماز آپ نے وہ رقعہ جو مولوی

۱؎ البدر جلد اول نمبر ۵ مورخہ ۱۶؍ جنوری ۱۹۰۳ء

ملفوظات جلد دوم صفحہ 683، 684 طبع جدید از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 280 پر درج ہے

صفحہ 879

حوالہ نمبر 353

۶۸۴

کی کیا غرض تھی۔

اس وقت یہ عقدہ حل ہوا کہ غالباً دوسرا رقعہ دستخط یعنی رسید رقعہ لینے کی غرض سے تھا۔ مگر قاصد کو رسید مانگنے کی جرأت نہ ہوئی اور وہ رقعہ اس وقت سید سرور شاہ صاحب کے حوالہ کیا گیا۔ کہ وہ اسے پڑھ کر اہل مجلس کو سنا دیویں۔

اس کے بعد حضرت اقدس نے فرمایا :۔

ہم تیار ہیں وہ بصد غور و آرام سے سب باتیں سنے اور اگر اس کا منشاء مباحثہ کا ہو تو یہ اس کی غلطی ہے کیونکہ اب مدت ہوئی کہ ہم مباحثات کو بند کر چکے ہیں۔ اگر اس کو طلب حق کی ضرورت ہے تو وہ رفق اور آہستگی سے اپنی غلطی دور کروائے۔ طالب حق کے لئے ہمارا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ ہاں جو شخص ایک منٹ رہ کر چلا جانا چاہتا ہے اور اسے فتح اور شکست اور ہار اور جیت کا خیال ہے وہ مستفید نہیں ہو سکتا۔ بجز ایسے شخص کے جو نیک نیت بن کر آوے ہم تو دوسرے کے ساتھ کلام کرنا بھی تضیع اوقات خیال کرتے ہیں۔ ہمیں تعجب ہے کہ وہ کیوں گھمار کے ہاں جاکر اترے۔ چاہیے تھا کہ مستفیدوں کی طرح آتا اور ہمارے مہمان خانہ میں اترتا۔

پھر فرمایا۔ ہم اس رقعہ کا صبح کو جواب دیں گے۔

اس کے بعد حضرت اقدس نماز سے فارغ ہو کر تشریف لے چلے تو ثناء اللہ صاحب کے قاصد نے آواز دی کہ حضرت جی۔ مولوی ثناء اللہ صاحب کے رقعہ کا کیا جواب ہے حضرت نے فرمایا کہ صبح کو دیا جائے گا۔

قاصد نے کہا کہ میں آکر جواب لے جاؤں یا آپ بذریعہ ڈاک روانہ کریں گے۔ حضرت اقدس نے فرمایا۔ خواہ تم آکر لے جاؤ خواہ ثناء اللہ آکر لے جاوے۔ پھر آپ نے قاصد کا نام پوچھا۔ اس نے کہا محمد صدیق ہے۔

۱۱؍جنوری ۱۹۰۳ء بروز یکشنبہ

مولوی ثناء اللہ کے رقعہ کا جواب

فجر کی نماز کو جب حضرت اقدس تشریف لائے تو قبل از نماز آپ نے وہ رقعہ جو مولوی

۱؎ البدر جلد اول نمبر ۱۲ مورخہ ۱۶؍ جنوری ۱۹۰۳ء

یہ حوالہ صفحہ 281 پر درج ہے ملفوظات جلد دوم طبع جدید صفحہ 684 تا 686 از مرزا قادیانی

صفحہ 880

حوالہ نمبر 353

۶۸۵

ثناء اللہ صاحب کے رقعہ کے جواب میں تحریر فرمایا تھا۔ احباب کو سنایا۔ وہ رقعہ یہ تھا۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهٗ وَنُصَلِّيْ عَلٰي رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ

از طرف عاجز باللہ الصمد غلام احمد عافاہ اللہ وایدہ بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب۔

آپ کا رقعہ پہنچا۔ اگر آپ لوگوں کی صدق دلی سے یہ نیت ہو۔ کہ اپنے شکوک و شبہات پیشگوئیوں کی نسبت یا ان کے ساتھ اور امور کی نسبت بھی جو دعویٰ سے تعلق رکھتے ہوں، رفع کروایں تو یہ آپ لوگوں کی خوش قسمتی ہوگی اور اگرچہ میں کئی سال ہوئے کہ اپنی کتاب انجام آتھم میں شائع کر چکا ہوں۔ کہ میں اس گروہ مخالف سے ہرگز مباحثات نہ کروں گا کیونکہ اس کا نتیجہ بجز گندی گالیوں اور اوباشانہ کلمات سننے کے اور کچھ نہیں ہوا مگر میں ہمیشہ طالب حق کے شبہات دور کرنے کے لئے تیار ہوں۔ اگرچہ آپ نے اس رقعہ میں دعویٰ تو کر دیا ہے کہ طالب حق ہوں مگر مجھے تامل ہے کہ اس دعویٰ پر آپ قائم رہ سکیں۔ کیونکہ آپ لوگوں کی عادت ہے کہ ایک بات کو کشاں کشاں بے ہودہ اور مباحثات کی طرف لے آتے ہیں اور میں خدا تعالیٰ کے سامنے وعدہ کرچکا ہوں کہ ان لوگوں سے مباحثات ہرگز نہیں کروں گا۔ سو وہ طریق جو مباحثات سے بہت دور ہے کہ آپ اس مرحلہ کو صاف کرنے کے لئے اول یہ اقرار کریں کہ آپ منہاج نبوت سے باہر نہیں جائیں گے۔ اور وہی اعتراض کریں گے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر یا حضرت عیسٰیؑ پر یا حضرت موسٰیؑ پر یا حضرت یونسؑ پر عائد نہ ہوتا ہو اور حدیث اور قرآن شریف کی پیشگوئیوں پر زد نہ ہو۔ دوسری شرط یہ ہوگی کہ آپ زبانی بولنے کے مجاز نہ ہوں گے۔ صرف آپ مختصر ایک سطر یا دو سطر تحریر دے دیں گے کہ میرا یہ اعتراض ہے۔ پھر آپ کو عین مجلس میں مفصل جواب سنایا جائے گا۔ اعتراض کے لئے لمبا لکھنے کی ضرورت نہیں ایک سطر یا دو سطر کافی ہیں۔ تیسری یہ شرط ہوگی کہ ایک دن میں صرف ایک ہی آپ اعتراض پیش کریں گے کیونکہ آپ اطلاع دے کر نہیں آئے۔ چوروں کی طرح آگئے۔ اور ہم ان دنوں بباعث کم فرصتی اور کام طبع کتاب کے تین گھنٹہ سے زیادہ صرف نہیں کرسکتے۔ یاد رہے کہ یہ ہرگز نہ ہوگا کہ عوام کالانعام کے روبرو آپ واعظ کی طرح ہم سے گفتگو شروع کردیں بلکہ آپ نے بالکل منہ بند رکھنا ہوگا۔ جیسے صم بکم۔ یہ اس لئے کہ تا گفتگو مباحثہ کے رنگ میں نہ ہو جاوے۔ اور صرف ایک پیشگوئی کی نسبت سوال کریں۔ میں تین گھنٹہ تک اس کا جواب دے سکتا ہوں اور ایک ایک گھنٹہ کے بعد آپ کو متنبہ کیا جاوے گا۔ کہ اگر ابھی تسلی نہیں ہوئی تو اور لکھ کر پیش کرو۔ آپ کا کام نہیں ہوگا کہ اس کو سناویں ہم خود

ملفوظات جلد دوم طبع جدید صفحہ 684 تا 686 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 281 پر درج ہے

صفحہ 881

(حوالہ نمبر 353)

۶۸۶

پڑھ لیں گے۔ مگر چاہیے کہ دو تین سطر سے زیادہ نہ ہو۔ اس طرز میں آپ کا کچھ حرج نہیں ہے کیونکہ آپ تو شبہات دور کرانے آئے ہیں۔ یہ طریق شبہات دور کرانے کا بہت عمدہ ہے۔ میں بآواز بلند لوگوں کو سنا دوں گا کہ اس پیشگوئی کی نسبت مولوی ثناء اللہ صاحب کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا ہے اور اس کا یہ جواب ہے۔ اس طرح تمام وساوس دور کر دیئے جائیں گے۔ لیکن اگر چاہو کہ بحث کے رنگ میں آپ کو بات کا موقعہ دیا جاوے تو ہرگز نہ ہوگا۔ ۱۳ جنوری ۱۹۰۳ء تک میں اس جگہ ہوں۔ بعد میں ۱۵ جنوری کو ایک مقدمہ پر جہلم جاؤں گا۔ سو اگرچہ بہت کم فرصتی ہے۔ لیکن ۱۳ جنوری تک آپ کے لئے تین گھنٹے تک خرچ کر سکتا ہوں۔ اگر آپ لوگ کچھ نیک نیتی سے کام لیویں تو یہ ایسا طریق ہے کہ اس سے آپ کو فائدہ ہوگا۔ ورنہ ہمارا اور آپ لوگوں کا آسمان پر مقدمہ ہے خود خدا تعالیٰ فیصلہ کرے گا۔ والسلام علی من اتبع الھدیٰ۔ سوچ کرو کیونکر یہ بہتر ہوگا کہ آپ بذریعہ تحریر جو سطر دو سطر سے زیادہ نہ ہو ایک ایک گھنٹہ کے بعد اپنا شبہ پیش کرتے جاویں گے اور میں وہ وسوسہ دور کرتا جاؤں گا۔ ایسے ہی صدہا آدمی آتے ہیں اور وسوسہ دور کرا لیتے ہیں۔ ایک بھلا مانس شریف آدمی ضرور اس بات کو پسند کرے گا۔ اس کو وساوس دور کرانے ہیں اور کچھ غرض نہیں۔ لیکن وہ لوگ جو خدا سے نہیں ڈرتے ان کی تو نیتیں ہی اور ہوتی ہیں۔ میرزا غلام احمد

اور فرمایا کہ یہ طریق بہت امن کا ہے۔ اگر یہ نہ کیا جاوے تو بدامنی اور بد نتیجہ کا اندیشہ ہے۔ پھر فرمایا کہ

ایک رؤیا

ابھی فجر کو میں نے ایک خواب دیکھا۔ کہ میرے ہاتھ میں ایک کاغذ ہے۔ اس کے ایک طرف کچھ اشتہار ہے اور دوسری طرف ہماری طرف سے کچھ لکھا ہوا ہے جس کا عنوان یہ ہے

بقیۃ الطاعون

اس کے بعد فجر کی نماز ہوئی تو حضرت اقدس نے قلم دوات طلب فرمائی اور فرمایا کہ تھوڑا سا اور اس رقعہ پر لکھنا ہے۔ اتنے میں مولوی ثناء اللہ صاحب کے قاصد پھر آ موجود ہوئے اور جواب طلب کیا۔

ملفوظات جلد دوم طبع جدید صفحہ 684 تا 686 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 281 پر درج ہے

صفحہ 882

حوالہ نمبر 354

۶۸۶

پڑھ لیں گے۔ مگر چاہئے کہ دو تین سطر سے زیادہ نہ ہو۔ اس طرز میں آپ کا کچھ حرج نہیں ہے کیونکہ آپ تو شبہات دور کرانے آئے ہیں۔ یہ طریق شبہات دور کرانے کا بہت عمدہ ہے۔ میں بآواز بلند لوگوں کو سنادوں گا کہ اس بدشگونی کی نسبت مولوی ثناء اللہ صاحب کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا ہے اور اس کا یہ جواب ہے۔ اس طرح تمام وساوس دور کر دیئے جائیں گے لیکن اگر چاہو کہ بحث کے رنگ میں آپ کو بات کا موقعہ دیا جاوے تو ہرگز نہ ہوگا۔ ۳؍ جنوری ۱۹۰۳ء تک میں اس جگہ ہوں۔ بعد میں ۱۵؍ جنوری کو ایک مقدمہ پر جہلم جاؤں گا۔ سو اگرچہ بہت کم فرصتی ہے۔ لیکن ۱۴؍ جنوری تک آپ کے لئے تین گھنٹے تک خرچ کر سکتا ہوں۔ اگر آپ لوگ کچھ نیک نیتی سے کام لیویں تو یہ ایسا طریق ہے کہ اس سے آپ کو فائدہ ہوگا۔ ورنہ ہمارا اور آپ لوگوں کا آسمان پر مقدمہ ہے خود خدا تعالیٰ فیصلہ کرے گا۔ والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ۔ سوچ کر دیکھ لو کہ یہ بہتر ہو گا کہ آپ بذریعہ تحریر جو سطر دو سطر سے زیادہ نہ ہو ایک ایک گھنٹہ کے بعد اپنا شبہ پیش کرتے جاویں گے اور میں وہ وسوسہ دور کرتا جاؤں گا۔ ایسے ہی صدہا آدمی آتے ہیں اور وسوسہ دور کرا لیتے ہیں۔ ایک بھلا مانس شریف آدمی ضرور اس بات کو پسند کرے گا۔ اس کو وساوس دور کرانے ہیں اور کچھ غرض نہیں۔ لیکن وہ لوگ جو خدا سے نہیں ڈرتے ان کی تو نیتیں ہی اور ہوتی ہیں۔

میرزا غلام احمد

اور فرمایا کہ

یہ طریق بہت امن کا ہے۔ اگر یہ نہ کیا جاوے تو بدامنی اور بد نتیجہ کا اندیشہ ہے۔

پھر فرمایا کہ

ایک رؤیا

ابھی فجر کو میں نے ایک خواب دیکھا۔ کہ میرے ہاتھ میں ایک کاغذ ہے۔ اس کے ایک طرف کچھ اشتہار ہے اور دوسری طرف ہماری طرف سے کچھ لکھا ہوا ہے جس کا عنوان یہ ہے

بقیۃ الطاعون

اس کے بعد فجر کی نماز ہوئی تو حضرت اقدس نے قلم دوات طلب فرمائی اور فرمایا کہ تھوڑا سا اور اس رقعہ پر لکھنا ہے۔

اتنے میں مولوی ثناء اللہ صاحب کے قاصد پھر آ موجود ہوئے اور جواب طلب کیا۔

(ملفوظات جلد دوم صفحہ 686 تا 688 طبع جدید از مرزا قادیانی) یہ حوالہ صفحہ 283 پر درج ہے

صفحہ 883

حوالہ نمبر 354

۶۸۷

حضرت اقدس نے فرمایا کہ ابھی لکھ کر دیا جاتا ہے۔ پھر بقیہ حصہ آپ نے لکھ کر اپنے خدام کے حوالہ کیا کہ اس کی نقل کر کے روانہ کرو۔ وہ حصہ رقعہ کا یہ ہے۔

"بالآخر اس غرض کے لئے اب آپ اگر شرافت اور ایمان رکھتے ہیں تو قادیان سے بغیر تصفیہ کے خالی نہ جاویں۔

دو قسموں کا ذکر ہوتا ہے (۱) اول چونکہ میں الہام آتھم میں خدا سے قطعی عہد کرچکا ہوں کہ ان لوگوں سے قطعی بحث نہیں کروں گا۔ اس وقت پھر اسی عہد کے مطابق قسم کھاتا ہوں کہ میں زبانی آپ کی کوئی بات نہیں سنوں گا۔ صرف آپ کو یہ موقعہ دیا جاوے گا کہ آپ اول ایک اعتراض جو آپ کے نزدیک سب سے بڑا اعتراض کسی پیشگوئی پر ہو ایک سطر یا دو سطر یا حد تین سطر تک لکھ کر پیش کریں جس کا یہ مطلب ہو کہ یہ پیشگوئی پوری نہ ہوئی اور منہاج نبوت کی رو سے قابل اعتراض ہے اور پھر چپ رہیں اور میں مجمع عام میں اس کا جواب دوں گا جیسا کہ مفصل لکھ چکا ہوں۔ پھر دوسرے دن دوسری پیشگوئی اسی طرح لکھ کر پیش کریں۔ یہ تو میری طرف سے خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ میں اس سے باہر نہیں جاؤں گا اور کوئی زبانی بات نہیں سنوں گا اور آپ کی مجال نہیں ہوگی کہ کوئی کلمہ بھی زبانی بول سکیں اور آپ کو بھی خدا تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں کہ اگر آپ سچے دل سے آئے ہیں تو اس کے پابند ہو جاویں اور ناحق فتنہ و فساد میں عمر بسر نہ کریں۔ اب ہم دونوں میں سے ان دونو قسموں میں سے جو شخص اعراض کرے گا اس پر خدا کی لعنت ہو اور خدا کرے کہ وہ اس لعنت کا پھل بھی اپنی زندگی میں دیکھ لے۔ آمین۔ سو میں دیکھوں گا کہ آپ سنت نبویہ کے موافق اس قسم کو پورا کرتے ہیں یا قادیان سے نکلتے ہوئے اس لعنت کو ساتھ لے جاتے ہیں چاہیے کہ اول آپ اس عہد موکد قسم کے آج ہی ایک اعتراض دو تین سطر کا لکھ کر بھیج دیں اور پھر وقت مقرر کر کے مسجد میں مجمع کیا جائے گا۔ اور آپ کو بٹھایا جاوے گا اور عام مجمع میں آپ کے شیطانی وساوس دور کر دئے جائیں گے۔"

رقعہ دے کر آپ تشریف لے گئے اور اندر سے حضور نے کہلا بھیجا کہ رقعہ وہاں ان کو جاکر سنا دیا جاوے اور پھر ان کے حوالہ کیا جاوے۔

چنانچہ یہ رقعہ مولوی ثناء اللہ صاحب کو پہنچا دیا گیا۔ تھوڑے عرصہ کے بعد پھر مولوی ثناء اللہ صاحب کی طرف سے جواب الجواب آیا۔ ؎۱

؎۱ البدر جلد اول نمبر ۱۲ مورخہ ۲۱ جنوری ۱۹۰۳ء

ملفوظات جلد دوم صفحہ 686 تا 688 طبع جدید از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 283 پر درج ہے

صفحہ 884

حوالہ نمبر 354

۶۸۸

یہ نامعقول اور اصل بحث سے بالکل دور جواب سنکر حضرت اقدس کو بہت رنج ہوا اور آپ نے فرمایا کہ

ہم نے جو اسے خدا کی قسم دی تھی اس سے فائدہ اٹھاتا یہ نظر نہیں آتا۔ اب خدا کی لعنت لے کر واپس جانا چاہتا ہے۔ جس بات کو ہم بار بار لکھتے ہیں کہ ہم مباحثہ نہیں کرتے جیسا کہ ہم انجام آتھم میں اپنا عہد دنیا میں شائع کر چکے ہیں۔ تو اب اس کا منشا ہے کہ ہم خدا کے اس عہد کو توڑ دیں۔ یہ ہرگز نہ ہوگا۔ اور پھر اس رقعہ میں کس قدر افتراء سے کام لیا گیا ہے کیونکہ جب ہم اسے اجازت دیتے ہیں کہ ہر ایک گھنٹہ کے بعد وہ دو تین سطریں ہماری تقریر پر اپنے شبہات کی لکھ دیوے تو اس طرح سے خواہ اس کی دن میں تیس سطور ہو جاویں ہم کب گریز کرتے ہیں اور خواہ ایک ہی بتنگوئی پر وہ ہم سے دس دن تک سنتا رہتا اور اپنے وساوس اس طرز سے پیش کرتا رہتا۔ اسے اختیار تھا۔ پھر ایک دوسرا جھوٹ یہ بولا ہے کہ لکھتا ہے کہ آپ مجمع پسند نہیں کرتے۔ بھلا ہم نے کب لکھا ہے کہ ہم مجمع پسند نہیں کرتے بلکہ ہم تو عام جلسہ چاہتے ہیں۔ کہ تمام قادیان کے لوگ اور دوسرے بھی جس قدر ہوں جمع ہوں تاکہ ان لوگوں کی بے ایمانی کھلے کہ کس طرح یہ لوگوں کو فریب دے رہے ہیں۔ اگر اسے حق کی طلب ہوتی تو اسے ہمارے شرائط ماننے میں کیا عذر تھا مگر یہ بد نصیب واپس جاتا نظر آتا ہے۔

پھر مولوی محمد احسن صاحب کو حضور نے فرمایا کہ آپ اس کا جواب لکھ دیں مجھے فرصت نہیں۔ میں کتاب لکھ رہا ہوں۔ یہ کہہ کر حضور تشریف لے گئے اور مولوی محمد احسن صاحب نے رقعہ کا جواب تحریر فرمایا اس کے بعد کوئی جواب مولوی ثناء اللہ صاحب کی طرف سے نہ آیا۔ اور وہ قادیان سے چلے گئے ۱؎

۱۲ جنوری ۱۹۰۳ء بروز دوشنبہ

اللہ تعالیٰ کے راستے میں زمین دینے کا ایک طریق

ظہر کے وقت ایک شخص نے حضرت اقدس سے عرض کی کہ میرے پاس کچھ زمین ہے۔

۱؎ البدر جلد ۲ نمبر ۳ مورخہ ۲۳؍ جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۸

ملفوظات جلد دوم صفحہ 686 تا 688 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 283 پر درج ہے

صفحہ 885

حوالہ نمبر 355 ۱۳۱ براہین احمدیہ حصہ پنجم

کیا خدا بھولا دیا تم کو حقیقت مل گئی کیا رہا وہ بے خبر لو تم نے دیکھا حال زار
بدگمانی نے تمھیں مجنون و اندھا کر دیا ورنہ تھے میری صداقت پر براہین بیشمار
جہل کی تاریکیوں اور سوء ظن کی تند لو جب اکٹھے ہوں تو پھر امڈیں اڑے جیسے غبار
زہر کے پینے سے کیا انجام جز موت و فنا بدگمانی زہر ہے اس سے بچو اے دیں شعار
کانٹے اپنی راہ میں بوتے ہیں ایسے بدگمان جن کی عادت میں نہیں شرم و شکیب و اصطبار
یہ خدا ماری بشر کی بد نصیبی کی ہے جڑ پر مقدر کو بدل دینا ہے کس کے اختیار
سخت جاہل ہیں ہم کسی کے بغض کی پروا نہیں دل قوی رکھتے ہیں ہم صدموں کی پیہم کو سہار
جو خدا کا ہے اُسے للکارنا اچھا نہیں ہاتھ شیروں پر نہ ڈال اے روبہ زرد و نزار
ہے مرے پردے میں وہ خود کھڑا سوئے یمین پس نہ چھیڑو میری رو میں اے شریران دیار
سخت غصہ ہے کہ وہ خود فرق کو رکھتا ہے تا عیاں ہو کون پاک اور کون ہے مردار خوار
مجھ کو پردے میں نظر آتا ہے اک میرا معین تیغ کو کھینچے ہوئے اُسپر کہ جو کرتا ہے وار
دشمن غافل اگر دیکھے وہ بازو وہ سلاح ہوش ہو جائیں خطا اور بھول جائے سب وقار
اس جہاں کا کیا کوئی داور نہیں اور داد گر پھر شریر النفس ظالم کو کہاں جائے فرار
کیوں تعجب کرتے ہو گر میں آ گیا ہو کر مسیح مردہ عیسیٰ کی آمد پر پھرتی ہے یہ باد بہار
آسمان پر دعوت حق کے لئے اک جوش ہے ہو رہا ہے نیک طبعوں پر فرشتوں کا اُتار
آ رہا ہے اس طرف احرار یورپ کا مزاج نبض پھر چلنے لگی مُردوں کی ناگہ زندہ وار
کہتے ہیں تثلیث کو اب اہل دانش الوداع پھر ہوئے ہیں چشمۂ توحید پر از جاں نثار
باغ میں ملت کے ہے کوئی گل رعنا کھلا آئی ہے باد صبا گلزار سے مستانہ وار
آتی ہے یہ عطر و خوشبو میرے یوسف کی مجھے گو کہو دیوانہ میں کرتا ہوں اُس کا انتظار

براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 101 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 131 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 285 پر درج ہے

صفحہ 886

حوالہ نمبر 356

باب چہارم ۷۹ حقیقۃ الوحی

لنفسي ۔ سُبْحَانَ اللّٰهِ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی زَادَ مَجْدُكَ اپنے لئے چنا۔ خدائے پاک بڑا برکتوں والا اور بڑا بزرگ ہے وہ تیری بزرگی کو زیادہ کرے گا۔ ۱۷ يَنْقَطِعُ اٰبَاءُكَ وَيَبْدَءُ مِنْكَ ۱؎ تیرے باپ دادے کا ذکر منقطع ہو جائیگا اور تیرے بعد سلسلہ خاندان کا تجھ پر شروع ہو گا۔ وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيَتْرُكَ حَتّٰى يَمِيْزَ الْخَبِيْثَ مِنَ الطَّيِّبِ اور خدا ایسا نہیں کہ تجھ کو چھوڑ دے جب تک کہ پاک اور پلید میں فرق کر کے نہ دکھلا دے۔ اِذَا جَاءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَالْفَتْحُ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ هٰذَا اور جب خدا تعالیٰ کی مدد اور فتح آئے گی اور خدا کا وعدہ پورا ہو گا تب کہا جائے گا کہ یہ الَّذِيْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ ۔ اَرَدْتُ اَنْ اَسْتَخْلِفَ فَخَلَقْتُ وہی امر ہے جس کے لئے تم جلدی کرتے تھے۔ میں نے ارادہ کیا کہ اپنا خلیفہ بناؤں سو میں نے اٰدَمَ ۔ دَنٰی فَتَدَلّٰی فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰی ۔ اس آدم کو پیدا کیا۔ وہ خدا سے نزدیک ہوا پھر مخلوق کی طرف جھکا اور خدا اور مخلوق کے درمیانی ایسا يُحْيِي الدِّيْنَ وَيُقِيْمُ الشَّرِيْعَةَ ط يَا اٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ ہو گیا جیسا کہ دو قوسوں کے درمیان کا خط ہوتا ہے دین کو زندہ کریگا اور شریعت کو قائم کریگا اے آدم وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ ط يَا مَرْيَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ تو اور تیرے دوست بہشت میں داخل ہو۔ اے مریم تو اور تیرے دوست بہشت میں داخل ہو۔

(حاشیہ) ۱؎ یاد رہے کہ ظاہری بزرگی اور وجاہت کے لحاظ سے اس خاکسار کا خاندان بہت شہرت رکھتا تھا بلکہ اس زمانہ تک بھی کہ اس خاندان کی دنیوی شوکت زوال کے قریب قریب تھی۔ میرے دادا صاحب کے اس نواح میں ۸۵ گاؤں اپنی ملکیت تھے اور پہلے اس سے وہ والیانِ ملک کے رنگ میں بسر کرتے تھے اور کسی سلطنت کے ماتحت نہ تھے اور پھر رفتہ رفتہ محن اور مشیت ایزدی سے سکھوں کے زمانہ میں چند لڑائیوں کے بعد سب کچھ کھو بیٹھے اور صرف چھ گاؤں اُنکے قبضہ میں رہے اور وہ ۶ گاؤں بھی ہاتھ سے جاتے رہے اور صرف چار گاؤں رہ گئے ۷۹

یہ حوالہ صفحہ 285 پر درج ہے

حقیقۃ الوحی صفحہ 76 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 79 از مرزا قادیانی

صفحہ 887

(حوالہ نمبر 357)

حقیقۃ الوحی ۱۸۱ بعض اعتراضوں کے جواب

اتمام حجت کو کون جانتا ہے اسلئے اپنے نبی کریم کی سچائی ثابت کرنے کیلئے زمین و آسمان کو نشانوں سے بھر دیا ہے اور اب اس زمانہ میں بھی خدا نے اس ناچیز خادم کو بھیجکر ہزار ہا نشان آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کے لئے ظاہر فرمائے ہیں جو بارش کی طرح برس رہے ہیں تو پھر اتمام حجت میں کونسی کسر باقی ہو۔ جس شخص کو مخالفت کرنے کی عقل ہو وہ کیوں موافقت کی راہ کو سوچ نہیں سکتا اور جو بات کو دیکھتا ہے کیوں اُسکو روز روشن میں نظر نہیں آتا۔ حالانکہ تکذیب کی راہوں کی نسبت تصدیق کی راہ بہت سہل ہے ہاں جو شخص مسلوب العقل

۱۷۲

کی طرح ہے اور انسانی قوتوں سے کم حصہ رکھتا ہو اس کا حساب خدا کے سپرد کرنا چاہیئے اسکے بارہ میں ہم کلام نہیں کر سکتے۔ وہ اُن انسانوں کی طرح ہے جو خوردسالی اور بچپن میں مرجاتے ہیں مگر ایک شریر مکذب یہ عذر نہیں کر سکتا کہ میں نیک نیتی سے تکذیب کرتا ہوں ۔ دیکھنا چاہیئے کہ اسکے حواس اس لائق ہیں یا نہیں کہ مسئلہ توحید اور رسالت کو سمجھ سکے۔ اگر معلوم ہوتا ہو کہ سمجھ سکتا ہے مگر شرارت سے تکذیب کرتا ہے تو وہ کیونکر معذور رہ سکتا ہے۔ اگر کوئی آفتاب کی روشنی کو دیکھ کر یہ کہے کہ دن نہیں بلکہ رات ہے تو کیا ہم اُسکو معذور سمجھ سکتے ہیں۔ اسی طرح جو لوگ دانستہ کج بحثی کرتے ہیں اور اسلام کے دلائل کو توڑ نہیں سکتے کیا ہم خیال کر سکتے ہیں کہ وہ معذور ہیں۔ اور اسلام تو ایک زندہ مذہب ہے جو شخص زندہ اور مُردہ میں فرق کر سکتا ہو وہ کیوں اسلام کو ترک کرتا اور مردہ مذہب کو قبول کرتا ہے۔ خدا تعالیٰ اس زمانہ میں بھی اسلام کی تائید میں بڑے بڑے نشان ظاہر کرتا ہے اور جیسا کہ اس بارہ میں مَیں خود صاحب تجربہ ہوں اور میں دیکھتا ہوں کہ اگر میرے مقابل پر تمام دُنیا کی قومیں جمع ہو جائیں اور اس بات کا بالمقابل امتحان ہو کہ کس کو خدا غیب کی خبریں دیتا ہے اور کس کی دُعائیں قبول کرتا ہے اور کس کی مدد کرتا ہے اور کس کیلئے بڑے بڑے نشان دکھاتا ہے تو مَیں خدا

جو شخص بے دلیل ایک انسان کو خدا بناتا ہے یا بے دلیل خدا کے قائل ہونے سے جواب دیتا ہے ۔ کیا وہ اسلام کی سچائی کے صاف صاف دلائل سمجھ نہیں سکتا ۔ منہ

حقیقۃ الوحی صفحہ 176 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 181-182 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 285 پر درج ہے

صفحہ 888

حوالہ نمبر 357

بعض اعتراضوں کے جواب ۱۸۲ حقیقۃ الوحی

کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ہی غالب رہونگا۔ کیا کوئی ہے ؟ ! کہ اس امتحان میں میرے مقابل پر آوے۔ ہزار ہا نشان خدا نے محض اسلئے مجھے دیئے ہیں کہ تا دشمن معلوم کرے کہ دین اسلام سچا ہے۔ میں اپنی کوئی عزت نہیں چاہتا بلکہ اُسکی عزت چاہتا ہوں جس کے لئے میں بھیجا گیا ہوں ۔ بعض نادان کہتے ہیں کہ فلاں فلاں پیشگوئی پوری نہیں ہوئی اور اپنی جہالت سے ایک دو پیشگوئیوں کا ذکر کرتے ہیں کہ وہ پوری نہیں ہوئیں جیسا کہ شریر آدمی پہلے نبیوں کے وقت میں ایسا ہی کرتے آئے ص ۱۷۷ ہیں ۔ مگر وہ آفتاب پر تھوکنا چاہتے ہیں اور اپنے جھوٹ اور افترا سے اپنی بات کو رنگ دیکر لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ اُنکو خدا تعالیٰ کی سُنت کی خبر نہیں۔ اُنکو خدا تعالیٰ کی کتابوں کا علم نہیں یا کسی کو علم ہو اور محض شرارت سے ایسا کرتا ہو۔ اُنکے نزدیک تو گویا یونس نبی بھی جھوٹا تھا جس کی قطعی پیشگوئی جسکے ساتھ کوئی شرط نہ تھی پوری نہ ہوئی ۔ مگر میری دو پیشگوئیاں جن کو وہ بار بار پیش کرتے ہیں یعنی آتھم اور احمد بیگ کے داماد کی نسبت وہ اپنے شرائط کے لحاظ سے پوری ہوگئی ہیں۔ کیونکہ اُن کے ساتھ شرطیں تھیں ۔ ان شرطوں کے لحاظ تاخیر ہوئی ۔ ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ وعید کی پیشگوئیوں میں ضروری نہیں ہوتا کہ وہ پوری ہوجائیں۔ اسپر تمام انبیاء کا اتفاق ہے اور میں اس بارہ میں زیادہ لکھنا نہیں چاہتا کیونکہ اس کی تفصیل میں میری کتابیں بھری پڑی ہیں۔ آتھم تو بموجب پیشگوئی کے فوت ہو گیا اور احمد بیگ بھی بموجب پیشگوئی کے فوت ہوگیا ۔ اب اُس کے داماد کی نسبت روتے ہیں اور وعید کی پیشگوئیوں کی نسبت جو سُنت اللہ ہے اُس کو بھول جاتے ہیں۔ اگر شرم اور حیا اور انصاف ہے تو دُو فردیں بنا کر ایک فرد میں وہ پیشگوئیاں لکھیں جو اُنکی دانست میں پوری نہیں ہوئیں اور دُوسری فرد میں وہ پیشگوئیاں ہم تحریر کرینگے جن سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ تب انکو معلوم ہوگا کہ وہ ایک دریا کے مقابل پر جو نہایت مصفّا ہے ایک قطرہ پیش کرتے ہیں جو اُن کے نزدیک مصفّا نہیں ۔

۱۸۲

حقیقۃ الوحی صفحہ 176 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 181 ، 182 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 285 پر درج ہے

صفحہ 889

(حوالہ نمبر 358)

۵۱۲

ان تین سال میں جو اخیر دسمبر ۱۹۰۲ء تک ختم ہو جائیں گے۔ کوئی ایسا نشان دکھلا جو انسانی ہاتھوں سے بالا تر ہو۔ جبکہ تُو نے مجھے مخاطب کر کے کہا کہ میں تیری ہر ایک دُعا کو قبول کرونگا مگر شرکاء کے بارے میں نہیں۔ تبھی سے میری رُوح دُعاؤں کی طرف دوڑتی ہے۔ اور مَیں نے اپنے لئے یہ قطعی فیصلہ کر لیا ہے کہ اگر میری یہ دُعا قبول نہ ہو تو مَیں ایسا ہی مردود اور ملعون اور کافر اور بے دین اور خائن ہوں جیسا کہ مجھے سمجھا گیا ہے۔ اگر میں تیرا مقبول ہوں تو میرے لئے آسمان سے ان تین برسوں کے اندر گواہی دے تا ملک میں امن اور صلحکاری پھیلے اور تا لوگ یقین کریں کہ تُو موجود ہے اور دُعاؤں کو سُنتا اور اُنکی طرف جو تیری طرف جھکتے ہیں جھکتا ہے۔ اَب تیری طرف اور تیرے فیصلہ کی طرف ہر روز میری آنکھ رہے گی جب تک آسمان سے تیری نصرت نازل ہو۔ اور مَیں کسی مخالف کو اِس اشتہار میں مخاطب نہیں کرتا اور نہ اُن کو کسی مقابلہ کے لئے بلاتا ہوں۔

یہ میری دُعا تیری ہی جناب میں ہے کیونکہ تیری نظر سے کوئی صادق یا کاذب غائب نہیں ہے۔ میری رُوح گواہی دیتی ہے کہ تُو صادق کو ضائع نہیں کرتا اور کاذب تیری جناب میں کبھی عزت نہیں پا سکتا۔ اور وہ جو کہتے ہیں کہ کاذب بھی نبیوں کی طرح تحدّی کرتے ہیں اور انکی تائید اور نصرت بھی ایسی ہی ہوتی ہے جیسا کہ سچے نبیوں کی۔ وہ جھوٹے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تُو انکے سُفسطہ کو مشتبہ کردیں۔ بلکہ تیرا قہر تلوار کی طرح مُفتری پر پڑتا ہے اور تیرے غضب کی بجلی کذاب کو بھسم کر دیتی ہے۔ مگر صادق تیرے حضور میں زندگی اور عزت پاتے ہیں۔ تیری نصرت اور تائید اور تیرا فضل اور رحمت ہمیشہ ہمارے شامل حال رہے۔ آمین ثم آمین۔

المشتہر مرزا غلام احمد از قادیان ۵؍نومبر ۱۸۹۹ء تعداد ۳۰۰۰ مطبوعہ ضیاء الاسلام پریس قادیان ۳۸۴

تریاق القلوب صفحہ 384 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 512 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 285 پر درج ہے

صفحہ 890

حوالہ نمبر 359 ضمیمہ ۱۲۱ نزول المسیح

صلبوہ ولٰکن شبّہ لھم ۱؂ (الجزو ۵ سورہ نساء) اس آیت میں دونوں حملوں کا جواب ہے اور خلاصہ آیت کا یہ ہے کہ نہ تو عیسیٰ کی ناجائز ولادت ہے اور نہ وہ صلیب پر مرا۔ بلکہ دھوکے سے سمجھ لیا گیا کہ مر گیا ہے۔ اس لئے وہ مقبول ہے اور اس کا اور نبیوں کی طرح خدا کی طرف رفع ہو گیا ہے۔ اب کہاں ہیں وہ مولوی جو آسمان پر حضرت عیسیٰ کا جسم پہنچاتے ہیں یہاں تو سب جھگڑا اُن کی رُوح کے متعلق تھا جسم سے اس کو

صفحہ 891

حوالہ نمبر 360

نزول المسیح ۱۴۲ ضمیمہ

یہ خواہشیں دل سے ظاہر کی ہیں نفاق کے طور پر نہیں تو اس سے بہتر کیا ہو اور وہ اس اُمت پر اِس تفرقہ کے زمانہ میں بہت ہی احسان کرینگے کہ وہ مردِ میدان بنکر ان دونوں ذریعوں سے حق و باطل کا فیصلہ کر لیں۔ یہ تو انہوں نے اچھی تجویز نکالی اب اس پر قائم رہیں تو بات ہے۔ اگر ایک کذاب دُنیا سے کُوچ کر جائے اور باقی لوگوں کو ہدایت ہو جائے تو یہ ایسے مقابلہ والا نبی کا اجر پائیگا۔ لیکن ہم موت کے مباہلہ میں اپنی طرف سے کوئی چیلنج نہیں کرسکتے کیونکہ حکومت کا معاہدہ ایسے چیلنج سے ہمیں مانع ہے۔ ہاں مولوی ثناء اللہ صاحب اور دوسرے مخالفوں کو منع نہیں کہ ایسے چیلنج سے ہمیں جواب دینے کیلئے مجبور کریں خواہ وہ مولوی ثناء اللہ ہوں یا اور کوئی ایسا مولوی ہو جو مشاہیر میں سے اور اپنی جماعت میں عزت رکھتا ہو جسکے بارے میں کم سے کم پچاس معزز آدمی اُس کے اشتہار پر تصدیقی شہادت ثبت کر دیں۔ اور چونکہ مولوی ثناء اللہ صاحب اپنی تحریر کی رُو سے ایسے چیلنج کے لئے طیار بیٹھے ہوئے معلوم ہوتے ہیں پس ہمیں اس سے کوئی انکار نہیں کہ وہ ایسا چیلنج دیں بلکہ ہماری طرف سے اُن کو اجازت ہے۔ کیونکہ اُن کا چیلنج ہی فیصلہ کے لئے کافی ہے مگر شرط یہ ہوگی کہ کوئی موت قتل کے رُو سے واقع نہ ہو بلکہ محض بیماری کے ذریعہ سے ہو۔ مثلاً طاعون سے یا ہیضہ سے یا اور کسی بیماری سے تا ایسی کارروائی حکام کے لئے تشویش کا موجب نہ ٹھہرے۔ اور ہم یہ بھی دُعا کرتے رہیں گے کہ ایسی موتوں سے ۱۵ فریقین محفوظ رہیں۔ صرف وہ موت کاذب کو آوے جو بیماری کی موت ہوتی ہو اور یہی مسلک فریق ثانی کو اختیار کرنا ہوگا۔ اور یاد رہے کہ ہماری قتل کی پیشگوئی ایک خاص پیشگوئی تھی۔ جو لیکھرام کے متعلق تھی۔ اس میں خدا نے یہی ظاہر کیا تھا کہ وہ قتل کے ذریعہ سے مریگا۔ اور ایسا ہی شائع کیا گیا۔ اور میں خیال کرتا ہوں کہ اُسکے قتل کئے جانے کا بھید یہ تھا ۔ کہ اُس نے سخت زبان درازی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام نبیوں کی نسبت اختیار کی۔ اور خدا نے دیکھا کہ اُسکی زبان درازی انتہا تک پہنچ گئی ہے اور اس نے گالیاں دینے

۱۸

یہ حوالہ صفحہ 286 پر درج ہے اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح صفحہ 14 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 122 از مرزا قادیانی

Back

صفحہ 892

حوالہ نمبر 361 تتمہ حقیقۃ الوحی ۵۲

یقین کریں ۔ افسوس کا مقام ہے کہ میرے دعوٰی کی نسبت جب میں نے مسیح موعود ہونے کا دعوٰی کیا مخالفوں نے نہ آسمانی نشانوں سے فائدہ اٹھایا اور نہ زمینی نشانوں سے کچھ ہدایت حاصل کی ۔ خدا نے ہر ایک پہلو سے نشان ظاہر فرمائے پر دنیا کے فرزندوں نے ان کو قبول نہ کیا ۔ اب خدا کی اور ان لوگوں کی ایک کشتی ہے یعنی خدا چاہتا ہے کہ اپنے بندہ کی جس کو اُس نے بھیجا ہے روشن دلائل اور نشانوں کے ساتھ سچائی ظاہر کرے اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ وہ تباہ ہو ۔ اس کا انجام بد ہو اور وہ ان کی آنکھوں کے سامنے ہلاک ہو۔ اور اس کی جماعت متفرق اور نابود ہو تب یہ لوگ ہنسیں اور خوش ہوں اور ان لوگوں کو تمسخر سے دیکھیں جو اس سلسلہ کی حمایت میں تھے اور اپنے دل کو کہیں کہ تجھے مبارک ہو کہ آج تُو نے اپنے دُشمن کو ہلاک ہوتے دیکھا اور اس کی جماعت کو تتر بتر ہوتے مشاہدہ کر لیا ۔ مگر کیا اُن کی مرادیں پوری ہو جائیں گی اور کیا ایسا خوشی کا دن اُن پر آئے گا ؟ اس کا یہی جواب ہے کہ اگر اُن کے امثال پر آیا تھا تو ان پر بھی آئیگا ۔ ابو جہل نے جب بدر کی لڑائی میں یہ دُعا کی تھی کہ اللھم من کان منا کاذبا فاحنہ فی ھٰذا الموطن ۔ یعنی اے خدا ہم دونوں میں سے جو محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور میں ہوں جو شخص تیری نظر میں جھوٹا ہے اُس کو اسی موقعہ قتال میں ہلاک کر۔ تو کیا اِس دُعا کے وقت اُس کو گمان تھا کہ میں جھوٹا ہوں نعوذ باللہ ۔ جب لیکھرام نے کہا کہ میری بھی مرزا غلام احمد کی موت کی نسبت ایسی ہی پیشگوئی ہے جیسا کہ اس کی اور میری پیشگوئی پہلے پوری ہو جائیگی اور وہ مرے گا تو کیا اُس کو اس وقت اپنی نسبت گمان

٭ ایسا ہی جب مولوی غلام دستگیر قصوری نے کتاب تالیف کر کے تمام پنجاب میں مشہور کر دیا تھا کہ میں نے یہ طریق فیصلہ قرار دے دیا ہے کہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ پہلے مرجائیگا تو کیا اُس کو خبر تھی کہ یہی فیصلہ اس کے لئے لعنت کا نشانہ ہو جائے گا ۔ اور وہ پہلے مر کر دوسرے ہم مشربوں کا بھی منہ کالا کرے گا ۔ اور آئندہ ایسے مقابلات میں اُن کے مُنہ پر مہر لگا دے گا اور بُزدل بنا دے گا ۔ منہ

تحفہ گولڑویہ [ضمیمہ] صفحہ 10 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 52 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 286 پر درج ہے

صفحہ 893

(حوالہ نمبر 362)

نزول المسیح ۱۲۲ ضمیمہ

یہ خواہشیں دل سے ظاہر کی ہیں نفاق کے طور پر نہیں تو اس سے بہتر کیا ہو اور وہ اس اشتہار پر اس تفرقہ کے زمانہ میں بہت ہی احسان کرینگے کہ وہ مردِ میدان بنکر ان دونوں فریقوں کے حق و باطل کا فیصلہ کر لیں۔ یہ تو انہوں نے اچھی تجویز نکالی اب اسپر قائم رہیں تو بات ہے۔ اگر ایک کذاب دُنیا سے کوچ کر جائے اور باقی لوگوں کو ہدایت ہو جائے تو ایسے غازی والا ثواب پائیگا۔ لیکن ہم موت کے مباہلہ میں اپنی طرف سے کوئی چیلنج نہیں کر سکتے کیونکہ حکومت کا معاہدہ ایسے چیلنج سے ہمیں مانع ہے۔ ہاں مولوی ثناء اللہ صاحب اور دُوسرے مخالفوں کو منع نہیں کہ ایسے چیلنج سے ہمیں جواب دینے کیلئے مجبور کریں خواہ وہ مولوی ثناء اللہ ہوں یا اور کوئی ایسا مولوی ہو جو مشاہیر میں سے ہو اور اپنی جماعت میں عزت رکھتا ہو جسکے بارے میں کم سے کم پچاس معزز آدمی اس کے اشتہار پر تصدیقی شہادت ثبت کر دیں۔ اور چونکہ مولوی ثناء اللہ صاحب اپنی تحریر کے رُو سے ایسے چیلنج کے لئے طیار بیٹھے ہوئے معلوم ہوتے ہیں پس ہمیں اس سے کوئی انکار نہیں کہ وہ ایسا چیلنج دیں بلکہ ہماری طرف سے اُن کو اجازت ہے۔ کیونکہ اُن کا چیلنج ہی فیصلہ کے لئے کافی ہے مگر شرط یہ ہوگی کہ کوئی موت قتل کے رُو سے واقع نہ ہو بلکہ محض بیماری کے ذریعہ سے ہو۔ مثلاً طاعون سے یا ہیضہ سے یا اور کسی بیماری سے تا ایسی کارروائی حکام کے لئے تشویش کا موجب نہ ٹھہرے۔ اور ہم یہ بھی دُعا کرتے رہیں گے کہ ایسی موتوں سے ۱۵ فریقین محفوظ رہیں۔ صرف وہ موت کاذب کو آوے جو بیماری کی موت ہوتی ہے اور یہی مسلک فریق ثانی کو اختیار کرنا ہوگا۔ اور یاد رہے کہ ہماری قتل کی پیشگوئی ایک خاص پیشگوئی تھی۔ جو لیکھرام کے متعلق تھی۔ اس میں خدا نے یہی ظاہر کیا تھا کہ وہ قتل کے ذریعہ سے مریگا۔ اور ایسا ہی شائع کیا گیا۔ اور میں خیال کرتا ہوں کہ اُسکے قتل کئے جانے کا بھید یہ تھا۔ کہ اُس نے سخت زبان درازی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام نبیوں کی نسبت اختیار کی۔ اور خدا نے دیکھا کہ اُسکی زبان درازی انتہا تک پہنچ گئی ہے۔ اور اُس نے گالیاں دینے ۱۸

یہ حوالہ صفحہ 287 پر درج ہے اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح صفحہ 15 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 122 از مرزا قادیانی

صفحہ 894

حوالہ نمبر 363

۷۰۵

(۲۸۵)

مولوی ثناء اللہ صاحب (امرتسری) کے ساتھ آخری فیصلہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّيْ عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ

يَسْتَنْبِئُوْنَكَ أَحَقُّ هُوَ قُلْ اِيْ وَرَبِّيْ اِنَّهُ لَحَقٌّ ۱؎

بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب السلام علیٰ من اتبع الہدیٰ ۔ مدّت سے آپ کے پرچہ اہلحدیث میں میری تکذیب اور تفسیق کا سلسلہ جاری ہے۔ ہمیشہ مجھے آپ اپنے اس پرچہ میں مردود کذّاب دجّال مفسد کے نام سے منسوب کرتے ہیں اور دُنیا میں میری نسبت شہرت دیتے ہیں کہ یہ شخص مفتری اور کذّاب اور دجّال ہے اور اس شخص کا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا سراسر افتراء ہے۔ میں نے آپ سے بہت دکھ اُٹھایا اور صبر کرتا رہا۔ مگر چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ میں حق کے پھیلانے کے لیے مامور ہوں اور آپ بہت سے افتراء میرے پر کر کے دُنیا کو میری طرف آنے سے روکتے ہیں اور مجھے ان گالیوں اور ان تہمتوں اور ان الفاظ سے یاد کرتے ہیں۔ کہ جن سے بڑھ کر کوئی لفظ سخت نہیں ہو سکتا اگر میں ایسا ہی کذّاب اور مفتری ہوں جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذّاب کی بہت عمر نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے اشدّ دشمنوں کی زندگی میں ہی ناکام ہلاک ہو جاتا ہے اور اس کا ہلاک ہونا ہی بہتر ہوتا ہے تا خدا کے بندوں کو تباہ نہ کرے۔ اور اگر میں کذّاب اور مفتری نہیں ہوں اور خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں اور مسیح موعود ہوں تو میں خدا کے فضل سے اُمید رکھتا ہوں کہ سُنّت اللہ کے موافق آپ مکذّبین کی سزا سے نہیں بچیں گے پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے جیسے طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی میں ہی وارد نہ ہوئی تو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں۔ یہ کسی الہام یا وحی کی بناء پر پیشگوئی نہیں محض دُعا کے طور پر میں نے خدا سے فیصلہ چاہا ہے اور میں خدا سے دُعا کرتا ہوں کہ اے میرے مالک بصیر و قدیر جو علیم و خبیر ہے جو میرے دل کے حالات سے واقف ہے اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذّاب ہوں اور دن رات افتراء کرنا میرا کام ہے تو اے میرے پیارے مالک میں عاجزی سے تیری جناب میں دُعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت

؎ ۱ یونس ۵۳

مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 705 ، 706 طبع جدید از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 287 پر درج ہے

صفحہ 895

حوالہ نمبر 363

۷۰۶

سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے۔ آمین۔ مگر اے میرے کامل اور صادق خدا ۔ اگر میں تیری نگاہ میں ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے حق پر نہیں تو میں عاجزی سے تیری جناب میں دُعا کرتا ہوں کہ میری زندگی میں ہی مجھ کو نابود کر۔ مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون و ہیضہ وغیرہ امراض مہلکہ سے بجز اس صورت کے کہ وہ کھلے کھلے طور پر میرے رُوبرو اور میری جماعت کے سامنے ان تمام گالیوں اور بد زبانیوں سے توبہ کرے جن کو وہ فرض منصبی سمجھ کر ہمیشہ مجھے دُکھ دیتا ہے ۔ آمین ۔ رَبِّ العالمین۔ میں ان کے ہاتھ سے بہت ستایا گیا اور صبر کرتا رہا۔ مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ ان کی بد زبانی حد سے گزر گئی۔ وہ مجھے ان چوروں اور ڈاکوؤں سے بھی بدتر جانتے ہیں جن جن کا وجود دنیا کے لیئے سخت نقصان رساں ہوتا ہے اور انہوں نے ان تہمتوں اور بد زبانیوں میں آیت لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِہٖ عِلْمٌ پر بھی عمل نہیں کیا اور تمام دُنیا سے مجھے بدتر سمجھ لیا اور دُور دُور ملکوں تک میری نسبت یہ پھیلا دیا کہ یہ شخص درحقیقت مفسد اور ٹھگ اور دکاندار اور کذّاب اور مفتری اور نہایت درجہ کا بد آدمی ہے۔ سو اگر ایسے کلمات حق کے طالبوں پر بد اثر نہ ڈالتے تو میں ان تہمتوں پر صبر کرتا۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ انہی تہمتوں کے ذریعہ سے میرے سلسلہ کو نابود کرنا چاہتا ہے اور اس عمارت کو منہدم کرنا چاہتا ہے جو تُو نے اے میرے آقا اور میرے بھیجنے والے اپنے ہاتھ سے بنائی ہے۔ اس لیئے اب میں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں درحقیقت مفسد اور کذّاب ہے اس کو صادق کی زندگی میں ہی دُنیا سے اُٹھا لے یا کسی اور نہایت سخت آفت میں جو موت کے برابر ہو مبتلاء کر۔ اے میرے پیارے مالک تو ایسا ہی کر۔ آمین ثم آمین۔ رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَ بَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَيْرُ الْفَاتِحِيْنَ ۔ آمین ۔

بالاخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ وہ میرے اس تمام مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔

الراقم

عبداللہ الصمد مرزا غلام احمد مسیح الموعود عافاہ اللہ وایدہ مرقومہ تاریخ ۱۵۔ اپریل ۱۹۰۷ء مطابق یکم ربیع الاول ۱۳۲۵ھ روز دوشنبہ

۱؎ بنی اسرائیل : ۳۶ ۲؎ الاعراف : ۸۹

مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 705، 706 طبع جدید از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 287 پر درج ہے

صفحہ 896

(حوالہ نمبر 364)

۲۰۶

۱۴؍ اپریل ۱۹۰۷ء (قبل عصر)

صداقتِ اسلام کیلئے طاعون کی تلوار

ابوسعید عرب صاحب نے ذکر کیا کہ رنگون میں بندروں میں بھی طاعون کی وبا پڑی تھی، حضرت نے فرمایا کہ :

براہین کے لکھنے کے زمانے میں خدا تعالیٰ نے ہم کو اس طاعون کے پڑنے کی خبر دی تھی۔ بدقسمت کفار کی ہمیشہ سے یہ عادت ہے کہ وہ انبیاء کے مقابلہ میں اپنی موت کا نشان مانگا کرتے ہیں۔ اب ہمارے مخالفوں کا بھی یہی حال ہے۔ اس واسطے خدا تعالیٰ نے ان کے واسطے یہ تلوار بھیج دی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ براہین میں جو دلائل کا وعدہ دیا گیا تھا وہ پورا نہیں ہوا۔ حالانکہ براہین میں صداقتِ اسلام کے واسطے کئی لاکھ دلیل ہے۔ خدا تعالیٰ نے پہلے سے اس میں یہ باتیں لکھوا دی ہیں، کیا ہی شان ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے کہ پہلے زمانہ میں جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفوں کو نامراد اور ذلیل کر کے ہلاک کیا جاتا تھا ویسا ہی آخر میں بھی ہو رہا ہے۔ جس وقت شریروں کی سزا کے واسطے تلوار آنحضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہاتھ میں دی گئی تھی اور اُس زمانہ میں تلوار خدا خود چلا رہا ہے جو لوگ جہاد پر اعتراض کرتے ہیں وہ دیکھ لیں کہ بدقسمت کفار اس وقت بھی اپنی شامتِ اعمال کے سبب اسی طرح ہلاک ہوتے تھے جیسے کہ اب ہو رہے ہیں۔ دینِ اسلام کی خاطر اگر اس وقت تلوار چلی تھی تو اس وقت بھی دینِ اسلام ہی کی خاطر تلوار چل رہی ہے۔

سب سے بڑی کرامت استجابتِ دعا ہے

فرمایا : یہ زمانہ عجائبات ہے۔ رات کو ہم سوتے ہیں تو کوئی خیال نہیں ہوتا کہ اچانک ایک الہام ہوتا ہے اور پھر وہ اپنے وقت پر پورا ہوتا ہے۔ کوئی ہفتہ عشرہ نشان سے خالی نہیں جاتا ، ثناء اللہ کے متعلق جو لکھا گیا ہے یہ دراصل ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ ہی کی طرف سے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ ایک دفعہ ہماری توجہ اس کی طرف ہوئی اور رات کو توجہ اس کی طرف تھی اور رات کو الہام ہوا کہ اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ (البقرۃ : ۱۸۶) صوفیاء کے نزدیک بڑی کرامت استجابتِ دعا ہی ہے۔ باقی سب اس کی شاخیں ہیں۔

ملفوظات جلد پنجم طبع جدید صفحہ 206 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 289 پر درج ہے

صفحہ 897

(حوالہ نمبر 365)

۵۵۲

إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِينَ هُمْ مُحْسِنُونَ ط هَلْ اَتٰكَ عمل میں قوت پیدا ہوتی ہے۔ خدا انکے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور انکے ساتھ جو نیک کاموں میں مشغول ہیں۔ کیا تجھے حَدِيْثُ الزَّلْزَلَةِ ط اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا لا وَاَخْرَجَتِ الْاَرْضُ آنے والے زلزلہ کی خبر نہیں ملی؟ یاد کر جبکہ سخت طور پر زمین ہلائی جائے گی۔ اور زمین جو کچھ اُس کے اندر ہے باہر اَثْقَالَهَا لا وَقَالَ الْإِنْسَانُ مَا لَهَا ط يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَا لا بِاَنَّ رَبَّكَ پھینک دیگی۔ اور انسان کہے گا کہ زمین کو کیا ہو گیا کہ یہ غیرمعمولی ہلاکت اس میں پیدا ہوگئی۔ اس دن زمین اپنی باتیں بیان کریگی کہ تیرا اس پر اَوْحٰى لَهَا ط اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُتْرَكُوْا ط وَمَا يَاْتِيْهِمْ اِلَّا بَغْتَةً ط گزرنا۔ خدا اس کیلئے اپنے رسول پر وحی نازل کریگا کہ نصیحت پیش آئی ہے۔ کیا لوگ خیال کرتے ہیں کہ یہ زلزلہ نہیں آئیگا؟ ضرور آئیگا يَسْئَلُوْنَكَ اَحَقٌّ هُوَ ط قُلْ اِيْ وَرَبِّيْ اِنَّهٗ لَحَقٌّ ط وَلَا يُرَدُّ عَنْ اور ایسے وقت آئیگا کہ وہ بالکل غفلت میں ہونگے۔ اور ہر ایک اپنے دُنیا کے کام میں مشغول ہوگا۔ آخر زلزلہ کو سچا جانینگے یہ جو پوچھتے ہیں کہ قَوْمٍ يُفْسِدُوْنَ ط اَلرَّحٰى يَدُوْرُ وَيَنْزِلُ الْقَضَاءُ ط لَمْ يَكُنِ الَّذِيْنَ کیا ایسے زلزلہ کا آنا سچ ہے۔ کہہ کہ خدا کی قسم یہ سچ ہے۔ اور یہ ٹلنے والا نہیں ہے۔ عذاب کی چکی پھرے گی اور قضا نازل ہوگی۔ وہ لوگ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَالْمُشْرِكِيْنَ مُنْفَكِّيْنَ حَتّٰى تَاْتِيَهُمُ اس دنیا میں بُرے کام کیوجہ سے جو وہ کرتے ہیں ہلاک ہونگے۔ وہ توہین میں پکڑے جائینگے۔ پس یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ قضا ٹل نہیں سکتی اور قضا الْبَيِّنَةُ ط اگر خدا ایسا نہ کرتا تو دُنیا میں اندھیر پڑ جاتا۔ اُرِيْكَ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ نازل ہو گی جو اہل کتاب اور مشرکوں میں سے منکر ہو گئے وہ تو اس نشان عظیم کے بغیر باز آنیوالے نہ تھے مگر وہ ایسا زلزلہ کہ تو دُنیا میں اندھیر پڑ يُرِيْكُمُ اللّٰهُ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ ط لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ط لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ جاتا۔ میں تجھے قیامت کا وہ زلزلہ دکھاؤں گا۔ خدا تجھے قیامت کا وہ زلزلہ دکھائے گا۔ اُس دن کہا جائیگا آج کس کا مُلک ہے؟ کیا اُس خدا کا مُلک چمک دکھلاؤں گا تم کو اس نشان کی پنج بار ۔ اگر چاہوں تو اس دن خاتمہ ۔ اِنِّيْ نُحَافِظُ نہیں جو سب پر غالب ہے۔ اور میں اس زلزلہ کے نشان کو پانچ دفعہ تجھے دکھاؤں گا۔ اگر چاہوں تو اُس دن دنیا کا خاتمہ کر دوں ۔ میں تیرا محافظ

بقیہ حاشیہ:- زمین پھٹ گئی ہے۔ اب آسمان اسکے ساتھ جنگ کریگا۔ منہ (حقیقۃ الوحی صفحہ ۹۶ حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۹۸ حاشیہ)

؎ ۱۶۔ وحی الٰہی سے معلوم ہوتا ہے کہ پانچ زلزلے آئیں گے جو پہلے چار زلزلے بہت مبہم اور خفیف ہونگے۔ اور دُنیا اُن کو معمولی سمجھے گی اور پھر پانچواں زلزلہ قیامت کا نمونہ ہوگا کہ لوگوں کو سودائی اور دیوانہ کردے گا۔ یہاں تک کہ وہ تمنا کریں گے کہ وہ اس دن سے پہلے مر جاتے۔ اب یاد رہے کہ اس وحی الٰہی کے بعد اس وقت تک جو ۲۲؍ جولائی ۱۹۰۶ء ہے اس ملک میں تین زلزلے آچکے ہیں یعنی ۲۸؍ فروری ۱۹۰۶ء اور ۲۸؍ مئی ۱۹۰۶ء اور ۲۱؍ جولائی ۱۹۰۶ء مگر غالباً خدا کے نزدیک یہ زلزلوں میں داخل نہیں ہیں کیونکہ بہت ہی خفیف ہیں ۔ شاید چار زلزلے پہلے ایسے ہوں گے جیسا کہ ۴؍ اپریل ۱۹۰۵ء کا زلزلہ تھا اور پانچواں قیامت کا نمونہ ہوگا۔ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ۔ منہ

(حقیقۃ الوحی صفحہ ۹۴ حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۹۶ حاشیہ)

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 552, 553 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 291 پر درج ہے

صفحہ 898

حوالہ نمبر 365

۵۵۳

كُلَّ مَنْ فِي الدَّارِ - أُرِيكَ مَا يُرْضِيكَ ، زِلْزَالُ السَّاعَةِ، وَعَجَائِبُ جو تیرے گھر میں ہو گا اسکی حفاظت کرونگا۔ اور میں تجھے وہ کرشمہ قدرت دکھاؤنگا جس سے تو خوش ہو جائیگا۔ زلزلہ کی ساعت اور عجائب کام دکھلانے کا وقت آگیا ہے۔ اِنَّا فَتَحْنَالَكَ فَتْحًا مُّبِينًا لِيَغْفِرَ لَكَ اللهُ مَا تَقَدَّمَ ۱ پس ایک عظیم فتح تجھ کو عطا کرونگا جو کھلی کھلی فتح ہو گی۔ تاکہ تیرا خدا تیرے تمام مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَاَخَّرَ - اِنِّي اَنَا التَّوَّابُ ، وَمَنْ جَاءَ كَ جَاءَنِي - سَلَامٌ عَلَيْكُمْ گناہ بخش دے جو پہلے ہیں اور پچھلے ہیں میں توبہ قبول کرنے والا ہوں جو شخص تیرے پاس آئیگا وہ گویا میرے پاس آئیگا طِبْتُمْ ، نَحْمَدُكَ وَنُصَلِّي ، صَلوةُ الْعَرْشِ اِلَى الْفَرْشِ ، نَزَلَتْ لَكَ تیرے پر سلام تم پاک ہو۔ ہم تیری تعریف کرتے ہیں اور تیرے پر درود بھیجتے ہیں۔ عرش سے فرش تک تیرے پر درود ہے یعنی تیرے لئے وَلَكَ نُرِئُ ايَاتٍ - الْاَمْرُ اُمِرَ اِشَاعَ - وَالنُّفُوسُ تُضَاعَ - وَمَا كَانَ اللهُ آتا ہوں اور تیرے لئے اپنے نشان دکھلاؤں گا۔ ملک میں بیماریاں پھیلیں گی۔ اور بہت جانیں ضائع ہو جائیں گی۔ اور خدا ایسا نہیں ہے لِيُغَيِّرَ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِاَنْفُسِهِمْ - إِنَّهُ اوْحَى ٢ الْقَرْيَةَ - کہ وہ اپنی تقدیر کو بدل دے جب تک وہ قوم اپنے دلوں کے خیالات کو نہ بدل لیویں۔ وہ اس قریہ میں تجھ کو بتکلیف کے بعد یعنی لَوْلَا الْإِكْرَامُ لَهَلَكَ الْمَقَامُ - إِنِّي اُحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِي الدَّارِ - مَا كَانَ اللهُ پناہ میں لے گا۔ اگر تجھے تیری عزت کا پاس نہ ہوتا تو اس تمام گاؤں کو میں ہلاک کر دیتا۔ میں ہر ایک کو جو اس گھر کی چاردیوار کے اندر ہے لِيُعَذِّبَهُمْ وَاَنْتَ فِيهِمْ ۔ اِين است در مکانِ جنت سرائے ما ۔ یعنی بحال بچا لونگا۔ کوئی ان میں طاعون یا ہیضہ میں ہلاک نہ ہوگا۔ جب تک تو ان میں ہے خدا ان کو ہلاک نہیں کرے گا۔ ہماری جنت کا گھر اسی کا گھر ہے

۱؎ ظالم انسان کا قاعدہ ہے کہ وہ خدا کے رسولوں اور نبیوں پر یہی بالکثرت بہتان کرتا ہے اور طرح طرح کے عیب ان میں نکالتا ہے۔ گویا دنیا کے تمام مجرموں اور ملزموں اور جرائم اور معاصی اور خباثتوں کا ایک ہی مجموعہ ہیں۔ اور ان وساوس کا گمان تک خواب و خیال میں بھی نہیں ہوتا بلکہ نفس کی شرارت کے ساتھ مخلوط ہیں۔ پس جب وہ شقاوت شدیدہ میں بڑھتے ہیں تو خدا تعالیٰ اُن سبھوں کو اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے۔ اور کوئی ایسا عظیم الشان نشان ظاہر کرتا ہے جس سے اس نبی کی بریت ظاہر ہوتی ہے۔ پس لِيَغْفِرَ لَكَ اللہ کے یہی معنے ہیں۔ منہ

(حقیقۃ الوحی صفحہ ۷۲ حاشیہ ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۹۶ حاشیہ)

۲؎ اُوْحَی کا لفظ عرب کی زبان میں اس موقعہ پر استعمال پاتا ہے جبکہ کسی قدر تکلیف کے بعد کسی شخص کو اپنی پناہ میں لیا جائے جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًا فَاٰوٰی اور جیسا کہ فرماتا ہے اٰوَيْنٰهُ اِلَى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِينٍ ۱۲ منہ

(حقیقۃ الوحی صفحہ ۷۳ حاشیہ ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۹۷ حاشیہ)

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 553,552 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 291 پر درج ہے

صفحہ 899

(حوالہ نمبر 366)

لاہوری نے آپکی چھاتی میں پستان کے پاس انجکشن یعنی دوائی کی پچکاری کی جس سے وہ جگہ کچھ اُبھر آئی۔ مگر کچھ افاقہ محسوس نہ ہوا۔ بلکہ بعض لوگوں نے بُرا منایا ۔ کہ اس حالت میں آپ کو کیوں یہ تکلیف دی گئی ہے تھوڑی دیر تک خرخر کا سلسلہ جاری رہا۔ اور ہر آن سانسوں کے درمیان کا وقفہ لمبا ہوتا گیا۔ حتیٰ کہ آپ نے ایک لمبا سانس لیا اور آپ کی روح رفیق اعلیٰ کی طرف پرواز کر گئی۔ اللّٰہم صل علیہ وعلیٰ آل محمد وبارک وسلم ۔ خاکسار نے والدہ صاحبہ کی یہ روایت جو شروع میں درج کی گئی ہے جب دوبارہ والدہ صاحبہ کے پاس برائے تصدیق بیان کی۔ اور حضرت مسیح موعود کی وفات کا ذکر آیا۔ تو والدہ صاحبہ نے فرمایا۔ کہ حضرت مسیح موعود کو پہلا دست کھانا کھانے کے وقت آیا تھا۔ مگر اسکے بعد تھوڑی دیر تک ہم لوگ آپ کے پاؤں دباتے رہے۔ اور آپ آرام سے لیٹ کر سو گئے۔ اور میں بھی سو گئی۔ لیکن کچھ دیر کے بعد آپ کو پھر حاجت محسوس ہوئی اور غالباً ایک یا دو دفعہ رفع حاجت کے لیے آپ پاخانہ تشریف لے گئے اسکے بعد آپ نے زیادہ ضعف محسوس کیا۔ تو اپنے ہاتھ سے مجھے جگایا۔ میں اُٹھی تو آپ کو اتنا ضعف تھا کہ آپ میری چارپائی پر ہی لیٹ گئے اور میں آپکے پاؤں دبانے کے لیے بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب نے فرمایا۔ تم اب سو جاؤ۔ میں نے کہا۔ نہیں میں دباتی ہوں۔ اتنے میں آپکو ایک اور دست آیا۔ مگر اب اسقدر ضعف تھا۔ کہ آپ پاخانہ نہ جاسکتے تھے۔ اسلیے میں نے چارپائی کے پاس ہی انتظام کر دیا اور آپ وہیں بیٹھ کر فارغ ہوئے اور پھر اُٹھ کر لیٹ گئے اور میں پاؤں دباتی رہی۔ مگر ضعف بہت ہو گیا تھا اسکے بعد ایک اور دست آیا اور پھر آپ کو ایک قے آئی۔ جب آپ قے سے فارغ ہو کر لیٹنے لگے۔ تو اتنا ضعف تھا کہ آپ لیٹتے لیٹتے پشت کے بل چارپائی پر گر گئے ۔ اور آپ کا سر چارپائی کی لکڑی سے ٹکرایا اور حالت

سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 11،12 از مرزا بشیر احمد ایم اے

یہ حوالہ صفحہ 291 پر درج ہے

صفحہ 900

حوالہ نمبر 366

۱۲

دگرگوں ہوگئی۔ اسپر میں نے گھبرا کر کہا ” اب یہ کیا ہونے لگا ہے“ تو آپنے فرمایا ” یہ وہی ہے جو میں کہا کرتا تھا “ خاکسار نے والدہ صاحبہ سے پوچھا ۔ کیا آپ سمجھ گئی تھیں ۔ کہ حضرت صاحب کا کیا منشاء ہے ؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا۔ ’ ہاں ‘ والدہ صاحبہ نے یہ بھی فرمایا ۔ کہ جب حالت خراب ہوئی اور ضعف بہت ہو گیا۔ تو میں نے کہا کیا مولوی صاحب (حضرت مولوی نورالدین صاحب) کو بلالیں ؟ آپ نے فرمایا بلا لو نیز فرمایا ۔ محمود کو جگا لو ۔ پھر میں نے پوچھا محمد علی خاں یعنی نواب صاحب کو بلا لوں ۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں ۔ کہ مجھے یاد نہیں کہ حضرت صاحب نے اس کا کچھ جواب دیا یا نہیں اور دیا تو کیا دیا ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حدیث شریف میں آتا ہے ۔ کہ مرض موت میں آنحضرت صلعم کو بھی سخت کرب تھا ۔ اور نہایت درجہ بے چینی اور گھبراہٹ اور تکلیف کی حالت تھی اور ہم نے دیکھا ہے ۔ کہ حضرت مسیح موعود کا بھی بوقت وفات قریباً ایسا ہی حال تھا ۔ یہ بات ناواقف لوگوں کے لیئے موجب تعجب ہوگی۔ کیونکہ دوسری طرف وہ یہ سنتے اور دیکھتے ہیں کہ صوفیاء اور اولیاء کی وفات نہایت اطمینان اور سکون کی حالت میں ہوتی ہے سو دراصل بات یہ ہے ۔ کہ نبی جب فوت ہونے لگتا ہے۔ تو اپنی امت کے متعلق اپنی تمام ذمہ داریاں اسکے سامنے ہوتی ہیں۔ اور ان کے مستقبل کا فکر مزید برآں اسکے دامنگیر ہوتا ہے ۔ تمام دنیا سے بڑھ کر اس بات کو نبی جانتا اور سمجھتا ہے کہ موت ایک دروازہ ہے جس سے گزر کر انسان نے خدا کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔ پس موت کی آمد جہاں اس لحاظ سے اس کو مسرور کرتی ہے۔ کہ وصال محبوب کا وقت قریب آن پہنچا ہے۔ وہاں اسکی عظیم الشان ذمہ داریوں کا احساس اور اپنی امت کے متعلق آیندہ کا فکر اسکو غیر معمولی کرب میں مبتلا کر دیتے ہیں ۔ مگر صوفیاء اور اولیاء ان فکروں سے آزاد ہوتے ہیں ۔ ان پر صرف ان کے نفس کا بار ہوتا ہے مگر نبیوں پر ہزاروں

سیرت المہدی جلد اول صفحہ 11، 12 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 291 پر درج ہے

صفحہ 901

حوالہ نمبر 367

حیات ناصر ۱۴

بچشم خود دیکھے۔ بلکہ خود میری ذات اور میرے گھر والوں اور بچوں پر ان کا اثر ہوا۔ زلزلہ کے وقت نہایت اندیشہ ہوا کہ خدا جانے لڑکا اسمعیل کیسا حال ہو۔ ممکن ہے۔ زلزلہ میں کہیں کسی مکان کے نیچے دب کر مرگیا ہو۔ حضرت صاحبؒ فرمایا کرتے ہیں ۔ مجھے الہام ہوا ہے ۔ کہ ڈاکٹر محمد اسمعیل وہ ڈاکٹر ہو گا۔ محمد اسحاق کو دو دفعہ طاعون ہوا۔ آپ کی دُعا سے اچھا ہوا۔ اور آپنے پہلے ہی فرما دیا تھا۔ کہ یہ مرے گا نہیں ایک دفعہ تین چار گھنٹے میں بخار بھی جاتا رہا اور گلٹیاں بھی دور ہو گئیں

دھلی میں علالت اور

حضرت کی دُعاء صحت

مجھے ایک دفعہ سخت گردہ کا درد ہوا۔ میں نے جب آپ کو بلایا تو دیکھ کر فوراً واپس ہوگئے۔ تنہائی میں جاکر دعاء شروع کر دی۔ جس کا اثر فوراً ہوا۔ اور یہ عاجز اچھا ہو گیا۔ ایک دفعہ ہم سب حضرت مرزا صاحبؒ ہمراہ دہلی گئے۔ وہاں میں سخت بیمار ہو گیا۔ ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب اور محمد اسمعیل میرا بیٹا سخت پریشان ہو گئے۔ حضرت صاحبؒ نے مولوی حکیم نور الدین صاحب کو تار دیا۔ کہ (تم چلے آؤ۔ وہ فوراً دہلی چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے شفاء فرمادی۔ اور حضرت صاحب میرے تندرست ہونے سے بہت خوش ہوئے۔ ابتداء

حضرت اقدس کی خدمت

میں جب کہیں حضرت صاحب باہر تشریف لے جاتے تھے۔ تو مجھے ہمراہ حفاظت اور قادیان کی خدمت کے لئے چھوڑ جاتے تھے۔ اور آخر زمانہ میں جب کہیں سفر کرتے تھے اور گھر کے لوگ ہمراہ ہوتے تھے۔ تو بندہ بھی ہمراہ ہوتا تھا۔ چنانچہ جب آپ لاہور میں تشریف لے گئے جس سفر میں آپ کو سفر آخرت پیش آیا۔ تب بھی بندہ آپکے ہمراہ تھا۔ اور اس شام کی سیر میں بھی شریک تھا۔ جس کے دوسرے روز آپنے قبل از دوپہر انتقال فرمایا۔ اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَیْهِ رَاجِعُوْنَ ط

اب بڑی اور سخت تبدیلی میرے حال میں پیدا ہوئی۔ اور ایسی سخت مصیبت نازل ہوئی۔ کہ جس کی تلافی بہت مشکل ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا میری تکلیف کو کوئی نہیں جان سکتا۔ حضرت صاحب جس رات کو بیمار ہوئے۔ اس رات کو میں اپنے مقام پر جاکر سو چکا تھا۔ جب آپ کو بہت تکلیف ہوئی۔ تو مجھے جگایا گیا تھا۔ جب میں حضرت صاحب کے پاس پہنچا۔ اور آپ کا حال دیکھا۔ تو آپ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا۔ میر صاحب مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے۔ اس کے بعد آپ نے کوئی ایسی صاف بات میرے خیال میں نہیں فرمائی۔ یہاں تک کہ دوسرے روز دس بجے کے بعد آپ کا انتقال ہو گیا۔ ایک طرف تو میں ہمراہ آپکے

حیات ناصر صفحہ 14 از شیخ یعقوب علی عرفانی قادیانی یہ حوالہ صفحہ 292 پر درج ہے

صفحہ 902

حوالہ نمبر 368

ضمیمہ ۱۴۴ نزول المسیح

منظور ہو تو پرائیویٹ خطوط کے ذریعہ سے اس کا تصفیہ کرنا ہوگا۔ اور پھر ایسے اشتہار مباحثہ پر کم سے کم پچاس معزّز آدمیوں کے دستخط ثبت ہونے چاہئیں اور کم سے کم اس مضمون کے سات سو اشتہار ملک میں شائع ہونا چاہئے اور یہی اشتہار بذریعہ رجسٹری مجھے بھی بھیج دیں۔ مجھے کچھ ضرورت نہیں کہ میں انہیں مباحثہ کیلئے چیلنج کروں یا اُنکے بالمقابل مباحثہ کروں۔ اُن کا اپنا مباحثہ جس کیلئے انہوں نے مستعدی ظاہر کی ہو میری صداقت کیلئے کافی ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ کے زمانہ سے جسکی تالیف پر تخمیناً تئیس سال گزر چکے ہیں میرے لئے یہ نشانی قائم کر رکھی ہے کہ میں اقرار کرتا ہوں کہ اگر میں اس مقابلہ میں مغلوب رہا تو میری جماعت کو چاہیئے جو ایک لاکھ سے بھی اب زیادہ ہے کہ سب مجھ سے بیزار ہو کر الگ ہو جائیں کیونکہ جب خدا نے مجھے جھوٹا قرار دیکر ہلاک کیا تو پھر جھوٹے ہونے کی حالت میں کسی پیشوائی اور امامت کو نہیں چاہتا بلکہ اس حالت میں ایک یہودی سے بھی بدتر ہونگا اور ہر ایک کے لئے جائے عار و ننگ۔ اور جو شخص ایسے چیلنج سے فتنہ کو فرو کریگا بشرطیکہ وہ صادق نکلے گا صفحہ روزگار میں بڑی عزت کے ساتھ اس کا نام منقوش رہیگا۔ اور جو شخص دجال بے ایمان مفتری ہوگا اُسکی ہلاکت سے مقولہ مشہورہ کی رُو سے کہ خس کم جہان پاک دُنیا کو راحت حاصل ہوگی اِس زیادہ میں کیا لکھ سکتا ہوں اور اگر کوئی ضروری امر مجھ سے رہ گیا ہے جسکو انصاف چاہتا ہے تو مجھے اطلاع دیجائے میں خوشی سے اُسکو قبول کرونگا بشرطیکہ بیہودہ نہ ہو اور حیلہ و بہانہ کی اُس میں بُو نہ آئے اور تقویٰ کی بناء پر ہو۔ نہ دُنیا داروں کی چالُبازی کے رنگ میں۔ اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ کسی طرح حق کھل جائے۔ اگر چہ میں خدا کے نشانوں کو ایسا دیکھ رہا ہوں جیسا کہ کوئی آفتاب کو دیکھتا ہے۔ اور میں خدا کی اس وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر۔ مگر میں ہر ایک پہلو سے مُنکر پر اتمام حُجّت چاہتا ہوں۔ یا الٰہی تُو جو ہمارے کاروبار کو دیکھ رہا ہے اور ہمارے دلوں پر تیری نظر ہے اور تیری عمیق نگاہوں سے ہمارے اسرار پوشیدہ نہیں۔ تُو ہم میں اور مخالفوں میں فیصلہ کردے۔ اور وہ جو تیری نظر میں صادق ہو۔ اُس کو ضائع مت کر کہ صادق کے ضائع ہونے سے

۲۰

اعجاز احمدی کا ضمیمہ نزول المسیح صفحہ 18 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 124 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 293 پر درج ہے

صفحہ 903

حوالہ نمبر 369

۲۰۰

۱۱؍ اپریل ۶۱۹۰۷ء (بقیہ)

غلام دستگیر قصوری کا مباہلہ

غلام دستگیر قصوری کے بارے میں ذکر تھا کہ بعض مخالفین کہتے ہیں، اس نے کب مباہلہ کیا ؟

حضور نے فرمایا کہ :۔

یہ جو اس نے لکھا فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا (الانعام : ۴۶) اس کا مصداق بنا ۔ اس فقرے کے اس کے سوا اور کیا معنے ہو سکتے ہیں کہ وہ ظالم کی ہلاکت کو خدا تعالیٰ سے خواستگار ہے اب حُکمِ تعالیٰ کے عمل نے بتا دیا کہ ظالم کون ہے۔ قرآن مجید میں بھی لَعْنَتُ اللهِ عَلَی الْكَاذِبِیْنَ (آل عمران : ۶۲) آیا ہے۔ یوں کہوں کہ تو نہیں کہا گیا کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر اور اگر وہ جھوٹا ہے تو اس پر عذاب نازل ہو۔ گو اس کا مفہوم یہی ہے مگر یہ عبارت نہیں ۔ ہماری وہاں جو قصوری نے اپنی کتاب میں لکھا تو اس کا مطلب یہی تھا۔ پھر بطریق تنزل ہم مان لیتے ہیں کہ اس نے صرف ہمارے لیے بد دُعا کی مگر اب بتاؤ کہ اس کی دُعا کا اثر کیا ہوا ؟ کیا وہ الفاظ جو میرے حق میں کہے اور رو رو کر میرے بر خلاف کی اُس کا اُلٹا اثر اُسی پر ہی پڑا ۔ اب بتاؤ کہ کیا مقہورین الٰہی کا یہی نشان ہے کہ جو دعاء وہ نہایت تضرع و ابتہال سے کریں اس کا الٹا اثر ہو اور اثر بھی یہ کہ خود ہی ہلاک ہو کر اپنے کاذب ہونے پر مہر لگا جاویں۔ خصوصاً ایسے شخص کے مقابل میں جسے وہ مفتری اور کذاب سمجھتا ہے۔ دراصل وہ سب اخبار والے کو شہ دے کر خود اس کا تماشا بننا چاہتا تھا اور اگر مجھے کوئی نقصان پہنچ جاتا تو بڑے لمبے لمبے اشتہار شائع ہوتے لیکن خدا تعالیٰ نے دشمن کو بالکل موقعہ نہ دیا کہ وہ کسی قسم کی خوشی منائے ۔ اس بات کو خوب سمجھ لینا چاہیئے کہ اس نے میرے بر خلاف بد دُعا کی اور خدا تعالیٰ سے میری جلد پکڑ کی درخواست کی۔ لیکن اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کی ہلاکت ہو گئی اور مجھے روز افزوں ترقی حاصل ہوئی ۔ کیا یہ متعصب جماعت کے لیے عبرت کا مقام نہیں ؟ افسوس کہ یہ لوگ ذرا بھی غور و فکر سے کام نہیں لیتے ۔ قرآن مجید کی آیت یہاں کیسی صادق آ رہی ہے یَتَرَبَّصُ بِکُمُ الدَّوَائِرَ عَلَیْهِمْ دَائِرَةُ السَّوْءِ (التوبہ : ۹۸) " مانگتے ہیں تم پر زمانے کی گردشیں انہی پر آوے گردش بُری"

مامور کے مخالفین کا انجام

خدا تعالیٰ کے مامور کے جو مقابل میں آتا ہے سب دُعائیں اور لعنتیں اسی پر اُلٹ کر پڑتی ہیں جیسا کہ سب نے دیکھ لیا ۔ یہ امر چونکہ خدا تعالیٰ نے پسند نہیں کیا کہ اس کے مکر و تلبیسات میں کوئی ہم پر افتراء کرے ۔ واقعی یہ بڑی خیانت کا کام ہے کہ اپنی آنکھوں سے نشان دیکھیں اور پھر نہ صرف خود انکار کریں بلکہ اوروں کو بھی بہکائیں۔ یہ سخت بُرا

ملفوظات جلد پنجم صفحہ 200 طبع جدید از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 293 پر درج ہے

صفحہ 904

حوالہ نمبر 370

۱۵۸

۱۸۹۲ء

"بار ہا اس عاجز کا نام مکاشفات میں غازی رکھا گیا ہے ۔"

(نشان آسمانی صفحہ ۱۵۔ روحانی خزائن جلد ۴ صفحہ ۳۷۵)

۱۸۹۲ء

"یہ عاجز خدائے تعالیٰ کے احسانات کا شکر ادا نہیں کر سکتا کہ اس تحقیر کے وقت میں کہ ہر یک طرف سے اس زمانہ کے علماء کی آوازیں آ رہی ہیں کہ لَسْتَ مُؤْمِنًا۔ اللہ جل شانہ کی طرف سے یہ ندا ہے کہ

قُلْ اِنِّيْ أُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِيْنَ ؂

ایک طرف حضرات مولوی صاحبان کہہ رہے ہیں کہ کسی طرح اس شخص کی بیخ کنی کرو۔ اور ایک طرف الہام ہوتا ہے

يَمْكُرُوْنَ عَلَيْكَ الدَّوَائِرَ عَلَيْهِمْ دَائِرَةُ السَّوْءِ ؂

اور ایک طرف وہ کوشش کر رہے ہیں کہ اس شخص کو سخت ذلیل اور رسوا کریں اور ایک طرف خدا وعدہ کر رہا ہے :-

اِنِّيْ مُهِيْنٌ مَّنْ اَرَادَ إِهَانَتَكَ - اَللهُ يَجُرُّكَ - اَللهُ يُعْطِيْكَ جَلَالَكَ ؂

اور ایک طرف مولوی لوگ فتوے پر فتوے لکھ رہے ہیں کہ اس شخص کی ہم کلامی اور پیروی سے انسان کافر ہو جاتا ہے اور ایک طرف خدا تعالیٰ اپنے اس الہام پر تواتر زور دے رہا ہے ۔

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ یُحْبِبْكُمُ اللهُ ؂

غرض یہ تمام مولوی صاحبان خدا تعالیٰ سے لڑ رہے ہیں۔ اب دیکھئے کہ فتح کس کی ہوتی ہے۔"

(نشان آسمانی صفحہ ۴۸ ، ۴۹۔ روحانی خزائن جلد ۴ صفحہ ۳۹۸ ، ۳۹۹)

۲۵ جولائی ۱۸۹۲ء

۲۵ جولائی ۱۸۹۲ء مطابق ۲۷ ذی الحجہ ۱۳۰۹ھ روز دوشنبہ ۔ آج میں نے بوقت

؂ (ترجمہ از مرتب) کہہ مجھے مامور کیا گیا ہے اور میں سب سے پہلے ایمان لاتا ہوں۔

؂ (ترجمہ از مرتب) وہ تجھ پر حوادث کے نزول کا انتظار کر رہے ہیں۔ بُری گردش انہی پر پڑے گی۔

؂ (ترجمہ از مرتب) جو تیری ذلت چاہے میں اسے ذلیل کروں گا۔ اللہ تجھے اجر دے گا۔ اللہ تجھے تیرا جلال عطا کرے گا۔ نوٹ از مرتب :- الہام اِنِّيْ مُهِيْنٌ مَّنْ اَرَادَ إِهَانَتَكَ حضرت اقدس کو ۱۸۹۳ء میں بمقام لاہور شَیخ مُحَمَّد حُسَیْن بٹالوی کی نسبت بھی ہوا تھا۔ (دیکھئے الحکم جلد ۱ نمبر ۱ مورخہ ۲۰ نومبر ۱۸۹۷ء صفحہ ۲)۔

؂ (ترجمہ از مرتب) کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی اختیار کرو اللہ بھی تم سے محبت کرے گا۔

یہ حوالہ صفحہ 294 پر درج ہے تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 158 از مرزا قادیانی

صفحہ 905

حوالہ نمبر 371

۱۲۶

مجھے کوئی نشان نہیں دکھلاتے اور معقول جواب نہیں دیتے۔ حالانکہ بحث کیلئے یہ صاف طریق اسکے سامنے پیش کیا گیا کہ وہ وید کی پابندی سے اور اسکی شروتیوں کے حوالہ سے بحث کرے اور ہم قرآن شریف کی پابندی سے اور اسکی آیتوں کے حوالہ سے بحث کریں۔ پس چونکہ وہ محض جاہل تھا اور یہ بھی اسمیں طاقت نہیں تھی کہ ہر ایک مقام میں وید کی شروتی پیش کر سکے۔ اسلئے وہ چلاکی سے ہمارے اصل مطلب کو تحریر میں ہی نہیں لاتا تھا۔ ہاں ٹھٹھے اور ہنسی سے بار بار آسمانی نشان مانگتا تھا۔ غرض ہم اسجگہ اپنا آخری خط نقل کر دیتے ہیں جو اس کے آخری رقعہ کے جواب میں لکھا گیا تھا اور وہ یہ ہے:۔

جناب پنڈت صاحب۔ آپکا خط میں نے پڑھا۔ آپ یقیناً سمجھیں کہ ہمیں بحث سے انکار نہیں اور نہ نشان دکھلانے سے۔ مگر آپ سیدھی نیت سے طلب حق نہیں کرتے۔ بیجا شرائط زیادہ کر دیتے ہیں۔ آپکی زبان بد زبانی سے رُکتی نہیں۔ آپ لکھتے ہیں کہ اگر بحث نہیں کرنا چاہتے تو ربّ العرش خیر الماکرین سے میری نسبت کوئی آسمانی نشان مانگیں۔ یہ کسقدر ہنسی ٹھٹھے کے کلمے ہیں گویا آپ اس خدا پر ایمان نہیں لاتے جو بندوں کو تنبیہ کر سکتا ہے۔ باقی رہا یہ اشارہ کہ خدا عرش پر ہے اور مکر کرتا ہے یہ خود آپکی ناسمجھی ہے مکر لطیف اور مخفی تدبیر کو کہتے ہیں۔ جس کا اطلاق خدا پر ناجائز نہیں اور عرش کا کلمہ خدا تعالیٰ کی عظمت کیلئے آتا ہے۔ کیونکہ وہ سب اُونچوں سے زیادہ اُونچا اور جلال رکھتا ہے یہ نہیں کہ وہ کسی مکان کا یا کسی تخت کا محتاج ہے خود قرآن میں ہے کہ ہر ایک چیز کو اُس نے تھاما ہوا ہے اور وہ قیوم ہے جو کسی

بقیہ حاشیہ کا موجب ہو جاتے ہیں۔ قانونِ قدرت صاف گواہی دیتا ہے کہ خدا کا یہ فعل بھی دُنیا میں پایا جاتا ہے کہ وہ بعض اوقات بے حیا اور سخت دل مجرموں کی سزا انکے ہاتھ سے دلواتا ہے سو وہ لوگ اپنی ذلّت اور تباہی کے سامان اپنے ہاتھ سے جمع کر لیتے ہیں۔ اور انکی نظر سے وہ امر اس وقت تک مخفی رکھے جاتے ہیں جب تک خُدا تعالیٰ کی قضا و قدر نازل ہو جائے۔ پس اس مخفی کارروائی کے لحاظ سے خدا کا نام ماکر ہے دُنیا میں ہزاروں نمونے اسکے پائے جاتے ہیں۔ سو لیکھرام کے معاملہ میں خدا کا مکر یہ ہوا کہ اوّل اُسی کے منہ سے کہلوایا کہ میں خیر الماکرین سے اپنی نسبت نشان مانگتا ہوں۔ سو اس درخواست میں اس نے ایسا عذاب مانگا جسکے اسباب مخفی ہوں اور ایسا ہی وقوع میں آیا۔ کیونکہ جس شخص کو اُسکے مارنے کے لئے اُس کو خُدا نے مقرر کیا تھا اور اتوار کے دن آریوں کا ایک خوشی کا جلسہ قرار پایا تھا جیسا کہ عید کا دن ہوتا ہے۔ تا اُس شخص کو شُبہ نہ کیا جائے۔ سو اُسی خوشی کے اسباب اُس کیلئے اور اس کی قوم کیلئے ماتم کے اسباب ہو گئے اور خیر الماکرین کے نام کو خدا تعالیٰ نے تمام آریوں کو خوب سمجھا دیا۔ منہ

استفتاء صفحہ 8 مندرجہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 116 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 294 پر درج ہے

صفحہ 906

حوالہ نمبر 372

۴۱۶

۳؍ دسمبر ۱۹۰۳ء مطابق ۱۳؍ رمضان المبارک۔ جب یہ توجہ کی گئی کہ حمل والدہ محمود نکالنا بہتر ہے یا نہیں تو اس وقت بوقت قریب اڑھائی بجے رات کے یہ الہام ہوا :۔ اِنَّ اللّٰهَ مُخْرِجٌ مَّا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ ۱؎ ۔ تَبَلَّجَ وَاَنْوَارٌ۔ اِنِّيْ اَنَا الرَّحْمٰنُ تَعْرِفُنِيْ اَنَا الرَّحْمٰنُ۔ خوش باش کہ عاقبت نکو خواہد بود۔ خوش باش کہ عاقبت نکو خواہد بود۔ شُبْرَمِیْش۔

(کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۰)

۵؍ دسمبر ۱۹۰۳ء خواب :۔ ’’ہمارے مکان کے متصل ایک ڈابڑوترہ ہے ہم چاہتے ہیں کہ اس جگہ ایک لمبا دالان مہمانوں کے واسطے بنایا جائے۔ پھر ہم نے دعا کی کہ بن جاوے‘‘ ۲؎

(الحکم جلد ۷ نمبر ۴۶، ۴۷ مورخہ ۱۷، ۲۴؍ دسمبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵۔ البدر جلد ۲ نمبر ۴۶، ۴۷ مورخہ ۱۶، ۲۴؍ دسمبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۶ حاشیہ)

۵؍ دسمبر ۱۹۰۳ء حضرت حجۃ اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بمقام گورداسپور اپنی جماعت کے موجود اور غیر موجود خدام کے لئے عام طور پر دعائیں کیں جو موجود تھے یا جن کے نام یاد آگئے ان کا نام لے کر اور کل جماعت کیلئے عام طور پر دعا کی جس پر یہ الہام ہوا :۔ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِيْنَ ۳؎

(البدر جلد ۲ نمبر ۴۶، ۴۷ مورخہ ۱۶، ۲۴؍ دسمبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۶ حاشیہ۔ الحکم جلد ۷ نمبر ۴۶، ۴۷ مورخہ ۱۷، ۲۴؍ دسمبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵)

۱؎ ترجمہ از مرتب : اللہ تعالیٰ نکالنے والا ہے جو کچھ کہ تم چھپاتے ہو۔ اجالہ اور انوار۔ مَیں وَہِی خُدا ہوں۔ پھر (مَیں کہتا ہوں کہ) مَیں وَہِی خدا ہوں۔ خوش ہو کہ انجام نیک ہوگا۔

٭ اس الہام کی شرح میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں:۔ آج ۱۵؍ جون ۱۹۰۴ء بروز شنبہ کو یعنی اس رات کو جو جمعہ کا دن گزرنے کے بعد آتی ہے مطابق ۳۰؍ ربیع الثانی ۱۳۲۲ھ اور دہم ہاڑ ۱۹۶۱ بکرمی میرے گھر میں لڑکی پیدا ہوئی اور اس کا نام امۃ الحفیظ رکھا گیا۔ یہی وہ لڑکی ہے جس کے متعلق الہام ہوا تھا ’’اِنَّ اللّٰهَ مُخْرِجٌ مَّا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۰)

٭ نیز دیکھئے البدر جلد ۲ نمبر ۴۶، ۴۷ مورخہ ۱۶، ۲۴؍ دسمبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۶ اور الحکم جلد ۷ نمبر ۴۶، ۴۷ مورخہ ۱۷، ۲۴؍ دسمبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵ میں ان کی تاریخ نہیں۔

۲؎ سوائے یہی ہوا ۔ بجائے ایک دالان کے اسی پلیٹ فارم پر قریباً سارا مہمان خانہ اور مدرسہ احمدیہ تعمیر ہوگیا۔ (مرتب)

۳؎ ترجمہ از مرتب : ان مومنوں کے لئے خوشخبری ہے۔

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 416 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 295 پر درج ہے

صفحہ 907

حوالہ نمبر 373

۱۵۹

صبح صادق ساڑھے چار بجے دن کے خواب میں دیکھا کہ ایک حویلی ہے۔ اس میں میری بیوی والدہ محمود اور ایک عورت بیٹھی ہے۔ تب میں نے ایک مشک سفید رنگ میں پانی بھرا ہے اور اس مشک کو اُٹھا کر لایا ہوں اور وہ پانی لا کر ایک اپنے گھڑے میں ڈال دیا ہے، پس پانی کو ڈال چکا تھا کہ وہ عورت جو بیٹھی ہوئی تھی یکا یک سُرخ اور خوش رنگ لباس پہنے ہوئے میرے پاس آگئی۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک جوان عورت ہے پیروں سے سر تک سُرخ لباس پہنے ہوئے شاید جالی کا کپڑا ہے۔ میں نے دل میں خیال کیا کہ وہی عورت ہے جس کے لئے اشتہار دئے تھے لیکن اس کی صورت میری بیوی کی صورت معلوم ہوئی۔ گویا اس نے کہا یا دل میں کہا کہ میں آگئی ہوں۔ میں نے کہا یا اللہ آجا وے اور پھر وہ عورت مجھ سے بغلگیر ہوئی۔ اس کے بغلگیر ہوتے ہی میری آنکھ کھل گئی۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلَى ذَالِكَ۔

اس سے دو چار روز پہلے خواب میں دیکھا تھا کہ روشن بی بی میرے دالان کے دروازہ پر آکھڑی ہوئی ہے اور میں دالان کے اندر بیٹھا ہوں۔ تب میں نے کہا کہ آ روشن بی بی اندر آجا۔"

(رجسٹر متفرق یادداشتیں صفحہ ۴۴ از حضرت مسیح موعود علیہ السلام)

ماہ اگست ۱۸۹۲ء

"مجھے تین چار روز ہوئے ایک متوحش خواب آئی تھی جس کی یہ تعبیر تھی کہ ہمارے ایک دوست پر دشمن نے حملہ کیا ہے اور کچھ ضرر پہنچاتا ہے مگر معلوم ہوتا ہے کہ دشمن کا بھی کام تمام ہو گیا۔"

(مکتوب بنام حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ مورخہ ۲۶؍ اگست ۱۸۹۲ء مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر ۱ صفحہ ۱۲۶)

لے (نوٹ از مرتب) یہ متوحش خواب حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ سے متعلق تھی اور اس میں ایک دوست سے مراد بھی آپ ہی ہیں۔ چنانچہ حضرت اقدسؑ اسی مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں۔

"کل کی ڈاک میں آج مکرّم کا محبت نامہ پہنچ کر بوجہ بشریت اس کے پڑھنے سے ایک حیرت دل پر طاری ہوئی مگر ساتھ ہی دل پھر کھل گیا۔ یہ خداوند حکیم و کریم کی طرف سے ایک ابتلاء ہے۔ انشاء اللہ القدیر کوئی خوف کی جگہ نہیں۔ ....... مجھے معلوم نہیں کہ ایں ایام انتقالِ حکم کس اشتعال کی وجہ سے دیا گیا۔ کیا یہ تہمت وہ ریاست ہے جس سے ایسے مبارک قدم نیک بخت اور سچے خیر خواہ نکالے جائیں اور معلوم نہیں کہ کیا ہونے والا ہے ۔"

(مکتوب مذکور - مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر ۱ صفحہ ۱۲۱ تا ۱۲۳)

حضرت مولانا مفتی محمد علی صاحب لاہوریؒ اس پر انتقالِ حکم کے سبب پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں کہ حضرت حکیم الامت اور مولوی غلام علی پینشنر مرحوم پر ایک سیاسی الزام آپ کے دشمنوں نے لگایا تھا۔ راجہ امر سنگھ صاحب کو حضرت حکیم الامت سے بہت محبت تھی اور وہ آپ کی عملی زندگی اور صداقت پسندی کا عاشق تھا اور وہ ایک بیدار اور صائب الرائے نوجوان تھا۔ وہ سیاسی

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 159 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 295 پر درج ہے

صفحہ 908

حوالہ نمبر 374

۵۲۸

سلامت رکھے (۸) يَنْصُرُكَ رِجَالٌ نُوحِيْ اِلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاءِ (۹) يَأْتُوْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ . يَأْتِيْكَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ (۱۰) سَلَامٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ (۱۱) وَلَا تُصَعِّرْ لِخَلْقِ اللّٰهِ وَلَا تَسْئَمْ مِنَ النَّاسِ۔" (بدر جلد ۲ نمبر ۴۴ مورخہ ۱۴؍ جون ۱۹۰۴ء صفحہ ۲۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲۱ مورخہ ۱۷؍ جون ۱۹۰۶ء صفحہ ۱)

۷؍ جون ۱۹۰۴ء

"اِنِّيْ اُرِيْتُ مَا يُرْضِيْكَ " (الاستفتاء صفحہ ۷۷ ضمیمہ حقیقۃ الوحی ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۷۰۲)

۱۱؍ جون ۱۹۰۴ء

رؤیا :" دیکھا کہ پندرہ سولہ نوجوان عورتیں خوبصورت اور نہایت خوش لباس پہنے ہوئے میرے سامنے آئی ہیں میں نے اس خیال سے کہ یہ جوان عورتیں ہیں منہ اُن سے چھپ لیا اور اُن سے پوچھا کہ تم کیسے آئی ہو؟ انھوں نے کہا کہ ہم تو آپ کے پاس ہی آئی ہیں۔ پھر انھوں نے وہیں ہمارے دالان میں ڈیرے لگا دیئے۔

فرمایا۔ رؤیا میں عورت سے مُراد اقبال اور فتحمندی اور تائید الٰہی ہوتی ہے۔ اس رؤیا میں یہ بھی معلوم ہوا کہ انھیں عورتوں میں وہ بھی ایک عورت تھی جو پہلے بھی آئی تھی۔ فرمایا اس میں اشارہ ایک پُرانے رؤیا کی طرف تھا جو حضرت والدہ صاحب کی وفات کے چند یوم بعد میں نے دیکھا کہ میں ایک پیڑھی پر بیٹھا ہوں، تو ایک عورت نوجوان عمدہ لباس پہنے ہوئے تیس پینتیس سال کی عورت سامنے آئی اور اس نے کہا کہ میرا ارادہ اب اس گھر سے چلے جانے کا تھا مگر تمہارے لئے رہ گئی ہوں۔" (بدر جلد ۲ نمبر ۴۴ مورخہ ۱۴؍ جون ۱۹۰۴ء صفحہ ۲۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲۱ مورخہ ۱۷؍ جون ۱۹۰۶ء صفحہ ۱)

١؎ (ترجمہ از مرتب) (۸) وہ لوگ تیری مدد کریں گے جن کو ہم آسمان سے وحی کریں گے (۹) وہ ہر ایک دُور کی راہ سے آئیں گے ہر ایک دُور کی راہ سے تیرے پاس تحائف آئیں گے (۱۰) تم پر سلام ہو خوشحال رہو (۱۱) اور جو لوگ تیرے پاس آئیں گے تجھے چاہیے کہ اُن سے تُرش رُوئی نہ کرے اور ان کی کثرت کو دیکھ کر تھک نہ جائے۔

٢؎ (ترجمہ از مرتب) میں تجھے وہ دکھاؤں گا جو تجھے راضی کر دے گا۔

٣؎ دیکھئے رؤیا ۱۸۸۲ء ۔ تذکرہ صفحہ ۴۰ ۔ ازالہ اوہام صفحہ ۱۴۲،۱۴۳ طبع اول ۔ روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۱۷۰، ۱۶۹ ۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۲۳ مورخہ ۱۰؍ جولائی ۱۹۰۴ء صفحہ ۱۲۔

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 535 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 296 پر درج ہے

صفحہ 909

۵۲۵ حوالہ نمبر 375

سلامت رکھے (۸) يَنْصُرُكَ رِجَالٌ نُّوْحِيْ إِلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاءِ (۹) يَأْتُوْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ يَأْتِيْكَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ (۱۰) سَلَامٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ (۱۱) وَلَا تُصَعِّرْ لِخَلْقِ اللّٰهِ وَلَا تَسْأَمْ مِنَ النَّاسِ “

(بدر جلد ۲ نمبر ۲۴ مورخہ ۱۶؍ جون ۱۹۰۶ء صفحہ ۴۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲۱ مورخہ ۱۰؍ جون ۱۹۰۶ء صفحہ ۱)

۷؍ جون ۱۹۰۶ء “اِنِّيْ أُرِيْكَ مَا يُرْضِيْكَ” ۲؎

(الاستفتاء صفحہ ۲۷ ضمیمہ حقیقۃ الوحی۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۶۴۲)

۱۱؍ جون ۱۹۰۶ء رؤیا : دیکھا کہ پندرہ سولہ نوجوان عورتیں خوبصورت اور نہایت خوش لباس پہنے ہوئے میرے سامنے آئی ہیں میں نے اس خیال سے کہ یہ جوان عورتیں ہیں مُنہ اُن سے پھیرا اور اُن سے پوچھا کہ تم کیسے آئی ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہم تو آپ کے پاس ہی آئی ہیں۔ پھر انہوں نے وہیں ہمارے دالان میں ڈیرے لگا دیئے۔

فرمایا۔ رؤیا میں عورت سے مُراد اقبال اور عقلمندی اور تائید الٰہی ہوتی ہے۔ اِس رؤیا میں یہ بھی معلوم ہوا کہ انہیں عورتوں میں وہ بھی ایک عورت تھی جو پہلے کبھی آئی تھی۔ فرمایا اس میں اشارہ ایک پُرانے رؤیا ۳؎ کی طرف تھا جو حضرت والدہ صاحب کی وفات کے چند ایام بعد میں نے دیکھا کہ میں ایک پیڑھی پر بیٹھا ہوں، تو ایک عورت نوجوان عمدہ لباس پہنے ہوئے بتیس تینتیس سال کی میرے سامنے آئی اور اس نے کہا کہ میرا ارادہ اب اِس گھر سے چلے جانے کا تھا مگر تمہارے لئے رہ گئی ہوں۔“

(بدر جلد ۲ نمبر ۲۴ مورخہ ۱۶؍ جون ۱۹۰۶ء صفحہ ۲۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲۱ مورخہ ۱۰؍ جون ۱۹۰۶ء صفحہ ۱)

۱؎ (ترجمہ از مرتب) (۸) وہ لوگ تیری مدد کریں گے جن کو ہم آسمان سے وحی کریں گے (۹) وہ ہر ایک دُور کی راہ سے آئیں گے ہر ایک دُور کی راہ سے تیرے پاس تحائف آئیں گے (۱۰) تم پر سلام ہو خوشحال رہو (۱۱) اور جو لوگ تیرے پاس آئیں گے تجھے چاہیئے کہ اُن سے بدخُلقی نہ کرے اور اُن کی کثرت کو دیکھ کر تھک نہ جائے۔

۲؎ (ترجمہ از مرتب) میں تجھے وہ دکھاؤں گا جو تجھے راضی کر دے گا۔

۳؎ دیکھئے رؤیا ۱۸۶۸ء جو کہ صفحہ ۲۰ پر حوالہ ایام صلح صفحہ ۳۴ حاشیہ طبع اول ۔ روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۲۷۵، ۲۷۶۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۲۳ مورخہ ۱۰؍ جولائی ۱۹۰۴ء صفحہ ۱۲۔

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 535 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 296 پر درج ہے

صفحہ 910

حوالہ نمبر 376

۲۳۲

(۲۲۶)

بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مرزا سلطان احمد صاحب نے کہ دادا صاحب نے طب کا علم حافظ روح اللہ صاحب باغباں پورہ لاہور سے سیکھا تھا اسکے بعد دہلی جا کر تکمیل کی تھی ۔

(۲۲۷)

بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے مولوی رحیم بخش صاحب ایم ۔ اے نے کہ ان سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بیان کیا کہ دادا صاحب کی ایک لائبریری تھی جو بڑے بڑے بکسوں میں رہتی تھی۔ اور اُس میں بعض کتابیں ہمارے خاندان کی تاریخ کے متعلق بھی تھیں۔ میری عادت تھی کہ میں دادا صاحب اور والد صاحب کی کتابیں وغیرہ چوری نکال کر لے جایا کرتا تھا۔ چنانچہ والد صاحب اور دادا صاحب بعض وقت کہا کرتے تھے۔ کہ ہماری کتابوں کو یہ ایک چوہا لگ گیا ہے ۔

(۲۲۸)

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ مرزا سلطان احمد صاحب سے مجھے حضرت مسیح موعود کی ایک شعروں کی کاپی ملی جو بہت پرانی معلوم ہوتی ہے۔ غالباً نوجوانی کا کلام ہے۔ حضرت صاحب کے اپنے خط میں چونکہ میں پہچانتا ہوں بعض بعض شعر بطور نمونہ درج ذیل ہیں ؎

عشق کا روگ ہے کیا پوچھتے ہو نام خدا ایسے بیمار کا مرنا ہی دوا ہوتا ہے
کچھ مزا پایا میرے دل ! ابھی کچھ پاؤ گے تم بھی کہتے تھے کہ اُلفت میں مزا ہوتا ہے
آہ کیوں ہجر کے الم میں پڑے مفت بیٹھے بٹھائے غم میں پڑے
اسکے جانے سے صبر دل سے گیا ہوش بھی ورطۂ عدم میں پڑے
سبب کوئی خدا وندا بنائے کسی صورت سے وہ ستودہ لقا آوے
کرم فرما کے آوے میرے جانی بہت دن ہوتے ہیں اَب غم کو مٹاوے
کبھی نکلے گا آخر تنگ ہو کر دلا اک بار شور و غل مچاوے

سیرت المہدی جلد اول صفحہ 232 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 296 پر درج ہے

صفحہ 911

(حوالہ نمبر 377)

۱۱۳

کریں گے تو خدا ان پر بلائیں نازل کرے گا یہاں تک کہ وہ نابود ہو جائیں گے۔ اُنکے گھر بیواؤں سے بھر جائیں گے اور ان کی دیواروں پر غضب نازل ہو گا لیکن اگر وہ رجوع کریں گے تو خدا رحم کے ساتھ رجوع کرے گا۔ خدا تیری برکتیں چوگنہ پھیلائے گا اور ایک اُجڑا ہوا گھر تجھ سے آباد کرے گا اور ایک ویرانہ گھر برکتوں سے بھر دے گا۔ تیری ذریت منقطع نہیں ہو گی اور آخری دنوں تک سر سبز رہے گی۔ خدا تیرے نام کو اس روز تک جو دُنیا منقطع ہو جائے عزت کے ساتھ قائم رکھے گا اور تیری دعوت کو دُنیا کے کناروں تک پہنچا دے گا۔ میں تجھے اُٹھاؤں گا اور اپنی طرف بلا لوں گا پر تیرا نام صفحہ ہستی سے کبھی نہیں مٹے گا اور ایسا ہو گا کہ سب وہ لوگ جو تیری ذلت کی فکر میں لگے ہوئے ہیں اور تیرے ناکام رہنے کے درپے اور تیرے نابود کرنے کے خیال میں ہیں وہ خود ناکام رہیں گے اور ناکامی اور نامرادی میں مریں گے لیکن خدا تجھے بکلی کامیاب کرے گا اور تیری ساری مرادیں تجھے دے گا۔ میں تیرے خالص اور دلی محبوں کا گروہ بھی بڑھاؤں گا اور ان کے نفوس و اموال میں برکت دوں گا اور اُن میں کثرت بخشوں گا اور وہ مسلمانوں کے اس دوسرے گروہ پر تا بروز قیامت غالب رہیں گے جو حاسدوں اور معاندوں کا گروہ ہے۔ خدا انہیں نہیں بھولے گا اور فراموش نہیں کرے گا اور وہ علیٰ حسب الاخلاص اپنا اپنا اجر پائیں گے۔ تو مجھ سے ایسا ہے جیسے انبیاء بنی اسرائیل (یعنی ظلی طور پر اُن سے مشابہت رکھتا ہے) تو مجھ سے ایسا ہے جیسی میری توحید۔ تو مجھ سے اور میں تجھ سے ہوں۔ اور وہ وقت آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ خدا بادشاہوں اور امیروں کے دلوں میں تیری محبت ڈالے گا یہاں تک کہ وہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔ اے منکرو اور حق کے مخالفو! اگر تم میرے بندہ کی نسبت شک میں ہو۔ اگر تمہیں اُس فضل و احسان سے کہ انکار ہے جو ہم نے اپنے بندہ پر کیا تو اس نشان رحمت کی مانند تم بھی اپنی نسبت کوئی سچا نشان پیش کرو اگر تم سچے ہو اور اگر تم پیش نہ کر سکو اور یاد رکھو کہ ہرگز پیش نہ کر سکو گے، تو اس آگ سے ڈرو کہ جو نافرمانوں اور جھوٹوں اور حد سے بڑھنے والوں کیلئے تیار ہے۔ فقط۔"

(از اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء تبلیغ رسالت جلد اول صفحہ ۶۰، ۶۲ مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ ۱۰۳، ۱۰۴)

۱۸۸۶ء "شاید چار ماہ کا عرصہ ہوا کہ اس عاجز پر ظاہر کیا گیا تھا کہ ایک فرزند ذی الصلاحیتین کامل العیار مَظْہَرُ الْحَقِّ تم کو عطا کیا جائے گا سو اُس کا نام بشیر ہو گا۔ اب تک میرا قیاسی طور پر خیال تھا کہ شاید وہ فرزند مبارک اسی اہلیہ

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 112 ، 113 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 297 پر درج ہے

صفحہ 912

(حوالہ نمبر 377)

۱۱۳ سے ہو گا۔ اب زیادہ تر الہام اس بات میں ہو رہے ہیں کہ عنقریب ایک اور نکاح تمھیں کرنا پڑے گا اور جناب الٰہی میں یہ بات قرار پا چکی ہے کہ ایک پارسا طبع اور نیک سیرت اہلیہ تمھیں عطا ہو گی۔ وہ صاحب اولاد ہو گی۔ اس میں تعجب کی بات یہ ہے کہ جب الہام ہوا تو ایک کشفی عالم میں چار پھل مجھ کو دئے گئے تین ان میں سے تو آم کے تھے مگر ایک پھل سبز رنگ بہت بڑا تھا۔ وہ اس جہان کے پھلوں سے مشابہ نہیں تھا۔ اگرچہ ابھی یہ الہامی بات نہیں مگر میرے دل میں یہ پڑا ہے کہ وہ پھل جو اس جہان کے پھلوں میں سے نہیں ہے وہی مبارک لڑکا ہے کیونکہ کچھ شک نہیں کہ پھلوں سے مراد اولاد ہے۔ اور جبکہ ایک پارسا طبع اہلیہ کی بشارت دی گئی اور ساتھ ہی کشفی طور پر چار پھل دئے گئے جن میں سے ایک پھل الگ وضع کا ہے تو یہی سمجھا جاتا ہے۔ وَاللهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَاب"

(از مکتوب مورخہ ۸ جون ۱۸۸۶ء بنام حضرت خلیفہ المسیح اول مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر ۲ صفحہ ۲۷)

۱۸۸۶ء

ان دنوں میں اتفاقاً نئی شادی کے لئے دو شخصوں نے تحریک کی تھی مگر جب ان کی نسبت استخارہ کیا گیا تو ایک عورت کی نسبت جواب ملا کہ اس کی قسمت میں ذلّت ومحتاجی وبے عزتی ہے اور اس لائق نہیں کہ تمہاری اہلیہ ہو اور دوسری کی نسبت اشارہ ہوا کہ اس کی نسل اچھی نہیں۔ گویا یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ صاحب صورت وصاحب سیرت لڑکا جس کی بشارت دی گئی ہے وہ برعایت مناسبت ظاہری اہلیہ جمیلہ و پارسا طبع سے پیدا ہو سکتا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب :

(از مکتوب ۸ جون ۱۸۸۶ء بنام حضرت خلیفہ المسیح اوّل، مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر ۲ صفحہ ۷)

مارچ ۱۸۸۶ء

"اس عاجز کے اشتہار مورخہ ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء ۔۔۔۔ میں ایک پیشگوئی دربارہ تولّد ایک فرزند صالح ہے جو بصفات مندرجہ اشتہار پیدا ہو گا ۔۔۔۔۔ ایسا لڑکا بموجب وعدہ الٰہی نو برس کے عرصہ تک ضرور

میں کچھ فرق نہیں آسکتا بلکہ سچا دلی انصاف ہر ایک انسان کا شہادت دیتا ہے کہ ایسے عالی درجہ کی خبر جو ایسے نامی اور بافضل لڑکے کے تولّد پر مشتمل ہے انسانی طاقتوں سے بالاتر ہے اور دعا کی قبولیت ہو کر ایسی خبر کا ملنا بے شک یہ بڑا بھاری آسمانی نشان ہے نہ یہ کہ صرف پیشگوئی ہے“ (اشتہار ۸ اپریل ۱۸۸۶ء تبلیغ رسالت جلد اوّل صفحہ ۵۷ ، مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ ۱۱۶ ، ۱۱۷)

ٹلنا ممکن نہیں“ (سبز اشتہار مورخہ یکم دسمبر ۱۸۸۸ء صفحہ ۲ ، حاشیہ تبلیغ رسالت جلد اوّل صفحہ ۱۲۶ ، مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ ۱۷۰)

موعود لڑکے کے پیدا ہونے کا وقت نہیں آیا تو دوسرے وقت میں وہ ضرور پیدا ہو گا اور اگر مدّتِ مقررہ سے ایک دن بھی باقی

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 112 ، 113 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 297 پر درج ہے

صفحہ 913

حوالہ نمبر 378 دافع الوساوس ۲۸۵ مقدمہ حقیقت اسلام

نشان آسمانی کے طالب تھے۔ اور طریقہ اسلام سے منحرف اور عناد رکھتے تھے اور اب بھی رکھتے ہیں۔ پس چونکہ پیشتر میرے پوشیدہ اس امر خفیہ میں ان کی طرف سے اشتہار چھپا تھا۔ یہ درخواست ان کی اس اشتہار میں بھی مندرج ہے ان کو نہ محض مجھ سے بلکہ خدا اور رسول سے بھی دشمنی ہے۔ اور والد اُس دُختر کا بباعث شدت تعلق قرابت ان لوگوں کی رضا جوئی میں محو اور اُنکے نقش قدم پر دل و جان سے فدا اور اپنے اختیارات سے قاصر و عاجز بلکہ اُنہیں کا فرمانبردار ہو رہا ہے۔ اور اپنی لڑکیوں کو اُنہیں کی لڑکیاں خیال کرتا ہے اور وہ بھی ایسا ہی سمجھتے ہیں اور ہر باب میں اُسکے دارالمہام اور ملجاء و ماویٰ اُس کیلئے ہو رہے ہیں تبھی تو نقارہ بجا کر اُسکی لڑکی کے بارہ میں آپ ہی شہرت دے دی یہانتک کہ عیسائیوں کے اخباروں کو اس قصہ سے بھردیا۔ آفریں بریں عقل و دانش ۔ ماموں ہونے کا خوب ہی حق ادا کیا ۔ ماموں ہوں تو ایسے ہی ہوں ۔ غرض یہ لوگ جو مجھ کو میرے دعوٰی الہام میں مکار اور دروغگو خیال کرتے تھے۔ اور اسلام اور قرآن شریف پر طرح طرح کے اعتراض کرتے تھے اور مجھ سے کوئی نشانِ آسمانی مانگتے تھے۔ تو اس وجہ سے کئی دفعہ اُن کے لئے دُعا بھی کی گئی تھی۔ سو وہ دُعا قبول ہو کر خدا تعالیٰ نے یہ تقریب قائم کی کہ والد اُس دُختر کا ایک اپنے ضروری کام کے لئے ہماری طرف ملتجی ہوا۔ تفصیل اُسکی یہ ہے کہ نامبردہ کی ایک ہمشیرہ ہمارے ایک چچازاد بھائی غلام حسین نام کو بیاہی گئی تھی۔ غلام حسین عرصہ پچیس سال سے کہیں چلا گیا ہے اور مفقود الخبر ہے۔ اس کی زمین ملکیت جس کا ہمیں حق پہنچتا ہے۔ نامبردہ کی ہمشیرہ کے نام کاغذات سرکاری میں درج کرا دی گئی تھی۔ اَب حال کے بندوبست میں جو ضلع گورداسپور میں جاری ہے نامبردہ یعنے ہمارے خط کے مکتوب الیہ نے اپنی ہمشیرہ کی اجازت سے یہ چاہا کہ وہ زمین جو چار ہزار یا پانچ ہزار روپیہ کی قیمت کی ہے اپنے بیٹے محمد بیگ کے نام بطور ہبہ منتقل کرا دیں چُنانچہ اُن کی ہمشیرہ کی طرف

آئینہ کمالات اسلام صفحہ 285 تا 287 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 285 تا 287 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 300 پر درج ہے

صفحہ 914

حوالہ نمبر 378

دافع الوساوس ۲۸۶ مقدمہ حقیقت اسلام

سے یہ ہبہ نامہ لکھا گیا ۔ چونکہ وہ ہبہ نامہ بجز ہماری رضا مندی کے بیکار تھا اسلئے مکتوب الیہ نے بتمامتر عجز و انکسار ہماری طرف رجوع کیا۔ کہ ہم اُس ہبہ پر راضی ہو کر اُس ہبہ نامہ پر دستخط کر دیں۔ اور قریب تھا کہ دستخط کر دیتے لیکن یہ خیال آیا کہ جیسا کہ ایک مُدّت سے بڑے بڑے کاموں میں ہماری عادت ہے جناب الٰہی میں استخارہ کر لینا چاہئیے۔ سو یہی جواب مکتوب الیہ کو دیا گیا ۔ پھر مکتوب الیہ کے متواتر اصرار سے استخارہ کیا گیا وہ استخارہ کیا تھا گویا آسمانی نشان کی درخواست کا وقت آپہنچا تھا۔ جس کو خدائے تعالیٰ نے اس پیرایہ میں ظاہر کر دیا ۔ اُس خدائے قادر حکیم مطلق نے مجھے فرمایا کہ اس شخص کی دختر کلاں کے نکاح کیلئے سلسلہ جنبانی کر اور اُنکو کہہ دے کہ تمام سلوک اور مروّت تم سے اِسی شرط سے کیا جائیگا ۔ اور یہ نکاح تمہارے لئے موجب برکت اور ایک رحمت کا نشان ہو گا اور اُن تمام برکتوں اور رحمتوں سے حصّہ پاؤ گے جو اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء میں درج ہیں لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی بُرا ہو گا اور جس کسی دُوسرے شخص سے بیاہی جائیگی وہ روزِ نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اُس دختر کا تین سال تک فوت ہو جائیگا ٭ اور اُنکے گھر پر تفرقہ اور تنگی اور مصیبت پڑے گی اور درمیانی زمانہ میں بھی اُس دختر کیلئے کئی کراہت اور غم کے امر پیش آئیں گے ۔

پھر ان دنوں میں جو زیادہ تصریح اور تفصیل کیلئے بار بار توجہ کی گئی تو معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے یہ مقرر کر رکھا ہے کہ وہ مکتوب الیہ کی دختر کلاں کو جس کی نسبت درخواست کی گئی تھی ہر ایک روک دور کرنے کے بعد انجام کار اِسی عاجز کے نکاح میں لاوے گا ۔ اور بیدینوں کو مسلمان بناوے گا اور گمراہوں میں ہدایت پھیلائے گا ۔ چنانچہ عربی الہام اس بارے میں یہ ہے ۔ کذّبوا بآیاتنا وكانوا بها يستهزؤن فسيكفيكهم الله ويردّها اليك لا تبديل لكلمات الله

٭ یعنی تین سال تک فوت ہونا روزِ نکاح کے حساب سے ہے مگر یہ ضروری نہیں کہ کوئی واقعہ اور حادثہ اس سے پہلے نہ آوے بلکہ بعض مکاشفات کے رُو سے مکتوب الیہ کا دام حوادث میں گرفتار ہونا نزدیک پایا جاتا ہے ۔ واللہ اعلم ۔ منہ

یہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے جو مجھ پر نازل ہوا اس میں بعض باتیں بطور پیشگوئی کے ہیں اور بعض میں اس کا انجام ظاہر کیا گیا ہے اگر اس میں سے ایک حرف بھی خطا جائے تو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ۔ منہ

یہ حوالہ صفحہ 300 پر درج ہے آئینہ کمالات اسلام صفحہ 285 تا 287 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 285 تا 287 از مرزا قادیانی

صفحہ 915

حوالہ نمبر 378

دافع الوسواس ۲۸۷ مقدمہ حقیقت اسلام

اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيْدُ ۔ اَنْتَ مَعِىْ وَ اَنَا مَعَكَ عَسٰى اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا ۔ یعنے اُنہوں نے ہمارے نشانوں کو جھٹلایا اور وہ پہلے سے ہنسی کر رہے تھے سو خدا تعالیٰ اُنکی سبکے تدارک کے لئے جو اِس کام کو روک رہے ہیں تمہارا مددگار ہوگا اور انکی مکار اُسکی اِس لڑکی کو تمہاری طرف واپس لائیگا۔ کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو ٹال سکے۔ تیرا ربّ وہ قادر ہے کہ جو کچھ چاہے وہی ہو جاتا ہے۔ تو میرے ساتھ اور میں تیرے ساتھ ہوں اور عنقریب وہ مقام تجھے دیگا جس میں تیری تعریف کی جائیگی یعنے گو اوّل میں احمق اور نادان لوگ بد باطنی اور بدظنی کی راہ سے بدگوئی کرتے ہیں اور نالائق باتیں منہ پر لاتے ہیں لیکن آخر خدا تعالیٰ کی مدد کو دیکھ کر شرمندہ ہونگے اور سچائی کے کھلنے سے چاروں طرف سے تعریف ہوگی۔

یہاں ایک اور اعتراض فوراً دفع کرنے کے لائق پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ اگر یہ الہام خدائے تعالیٰ کی طرف سے تھا اور اُسپر اعتماد کلّی تھا تو پھر پوشیدہ کیوں رکھا اور کیوں اپنے خط میں پوشیدہ رکھنے کیلئے تاکید کی ٭ اِس کا جواب یہ ہے کہ یہ ایک خانگی معاملہ تھا اور جن کیلئے یہ نشان تھا اُنکو تو پہنچا دیا گیا تھا اور یقین تھا کہ والد اُس دُختر کا اسکی اشاعت سے رنجیدہ ہوگا۔ اِسلئے ہم نے دل شکنی اور رنجدہی سے گریز کی۔ بلکہ یہ بھی نہ چاہا کہ در حالتِ ردّ و انکار وہ بھی اِس امر کو شائع کریں اور گو ہم شائع کرنے کیلئے مامور تھے مگر ہم نے مصلحتاً دُوسرے وقت کی انتظار کی۔ یہاں تک کہ اِس لڑکی کے ماموں مرزا نظام الدین نے جو مرزا امام الدین کا حقیقی بھائی ہے بشدّت غیض و غضب میں آکر اِس مضمون کو آپ ہی

٭ یہ الہام جو شرطی طور پر مکتوب الیہ کی موت فوت پر دلالت کرتا تھا ہم کو بالطبع اسکی اشاعت سے کراہت تھی بلکہ ہمارا دل یہ بھی نہیں چاہتا تھا کہ اس سے مکتوب الیہ کو مطلع کریں مگر اُسکے کمالِ اصرار سے جو اُس نے زبانی اور کئی اپنے خطوں کے بھیجنے سے ظاہر کیا۔ ہم نے سراسر سچی خیرخواہی اور نیک نیتی سے اُسپر یہ امر سربستہ ظاہر کرنا چاہا۔ اُسنے اور اُسکے عزیز مرزا نظام الدین نے اِس الہام کے مضمون کی خُوب شہرت دی۔ منہ

آئینہ کمالات اسلام صفحہ 285 تا 287 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 285 تا 287 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 300 پر درج ہے

صفحہ 916

حوالہ نمبر 379

۱۱۴

عشق کی سی حالت ہو گئی تھی۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی

: ۱۴۶

حقیقی ہمشیرہ مراد بی بی مرزا محمد بیگ ہوشیار پوری کے ساتھ بیاہی گئی تھیں۔ مگر مرزا محمد بیگ جلد فوت ہو گئے اور ہماری پھوپھی کو باقی ایام زندگی بیوگی کی حالت میں گزارنے پڑے۔ ہماری پھوپھی صاحب رویا و کشف تھیں۔ مرزا محمد بیگ مذکور کے چھوٹے بھائی مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چچیرے بھائیوں یعنی مرزا نظام الدین وغیرہ کی حقیقی بہن عمرا نسا ء بیاہی گئی تھیں ان کے بطن سے محمدی بیگم پیدا ہوئی۔ مرزا نظام الدین و مرزا امام الدین وغیرہ پہلے درجہ کے بیدین اور دہریہ طبع لوگ تھے۔ اور مرزا احمد بیگ مذکور ان کے سخت زیر اثر تھا اور انہیں کے رنگ میں رنگین رہتا۔ یہ لوگ ایک عرصہ سے حضرت مسیح موعود سے نشان آسمانی کے طالب رہتے تھے کیونکہ اسلامی طریق سے انحراف اور عناد رکھتے تھے اور والد محمدی بیگم یعنے مرزا احمد بیگ ان کے اشارہ پر چلتا تھا۔ اب واقعہ یوں ہوا کہ حضرت مسیح موعود کا ایک اور چچازاد بھائی مرزا غلام حسین تھا۔ جو عرصہ سے مفقود الخبر ہو چکا تھا۔ اور اسکی جائداد اس کی بیوی امام بی بی کے نام ہوچکی تھی۔ یہ امام بی بی مرزا احمد بیگ مذکور کی بہن تھی۔ اب مرزا احمد بیگ کو یہ خواہش پیدا ہوئی ۔ کہ مسمات امام بی بی اپنی جائداد اسکے لڑکے مرزا محمد بیگ برادر کلاں محمدی بیگم کے نام ہبہ کر دے۔ لیکن قانوناً امام بی بی اس جائداد کا ہبہ بنام محمد بیگ مذکور بلا رضا مندی حضرت مسیح موعود نہ کر سکتی تھی۔ اسلیئے مرزا احمد بیگ بتمام عجز و انکساری حضرت مسیح موعود کیطرف متوجہ ہوا کہ آپ ہبہ نامہ پر دستخط کردیں۔ چنانچہ حضرت صاحب قریباً تیار ہو گئے۔ لیکن پھر اس خیال سے رُک گئے۔ کہ دریں بارہ مسنون استخارہ کر لینا ضروری ہے۔ چنانچہ آپ نے مرزا احمد بیگ کو یہی جواب دیا کہ میں استخارہ کرنیکے بعد دستخط کرنے ہونگے۔ تو کر دونگا۔ چنانچہ اسکے بعد مرزا احمد بیگ کے متواتر اصرار سے استخارہ کیا گیا۔ وہ استخارہ کیا تھا۔ گویا آسمانی نشان کے دکھانے کا وقت آن پہنچا تھا۔ جس کو خدا تعالیٰ نے اس پیرایہ میں

سیرت المہدی جلد اول صفحہ 114، 115 از مرزا بشیر احمد ایم اے

یہ حوالہ صفحہ 302 پر درج ہے

Back

صفحہ 917

حوالہ نمبر 379

115

ظاہر کر دیا۔ چنانچہ استخارہ کے جواب میں خداوند تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود سے یہ فرمایا کہ : ”اس شخص کی دختر کلاں کے نکاح کے لئے سلسلہ جنبانی کر اور ان کو کہہ دے کہ تمام سلوک اور مروت تم سے اسی شرط سے کیا جائیگا۔ اور یہ نکاح تمہارے لئے موجب برکت اور ایک رحمت کا نشان ہوگا۔ اور ان تمام برکتوں اور رحمتوں سے حصہ پاؤ گے جو اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء میں درج ہیں۔ لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی بُرا ہوگا۔ اور جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائیگی وہ روزِ نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس دختر کا تین سال تک فوت ہو جائیگا۔ اور انکے گھر پر تفرقہ اور تنگی اور مصیبت پڑے گی۔ اور درمیانی زمانہ میں بھی اس دختر کے لئے کئی کراہت اور غم کے امر پیش آئینگے“ اس وحیِ الٰہی کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نوٹ دیا کہ : تین سال تک فوت ہونا روز نکاح کے حساب سے ہے۔ گویا ضروری نہیں کہ کوئی واقعہ اور حادثہ اس سے پہلے نہ آوے، بلکہ مکاشفات کے رو سے مکتوب الیہ (یعنی مرزا احمد بیگ) کا زمانہ حوادث جن کا انجام معلوم نہیں نزدیک پایا جاتا ہے۔ واللہ اعلم“ جب استخارہ کے جواب میں یہ وحی ہوئی تو حضرت مسیح موعودؑ نے اسے شایع نہیں فرمایا۔ بلکہ صرف ایک پرائیویٹ خط کے ذریعہ سے والد محمدی بیگم کو اس سے اطلاع دیدی، کیونکہ آپ کو یقین تھا ،کہ وہ اسکی اشاعت سے رنجیدہ ہوگا لہٰذا آپ نے اشاعت کے لئے مصلحتاً دوسرے وقت کی انتظار کی۔ لیکن جلدی خود لڑکی کے ماموں مرزا نظام الدین نے شدّت غضب میں آکر اس مضمون کو آپ ہی شایع کر دیا اور علاوہ زبانی اشاعت کے اخباروں میں بھی اس خط کی خوب اشاعت کی۔ تب پھر حضرت مسیح موعود کو بھی اظہار کا عمدہ موقعہ مل گیا ۔

(۱۴۳)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔ خاکسار عرض کرتا ہے، کہ ہمارے آباء میں سے وہ بزرگ جو ابتداءً ہندوستان میں آکر آباد ہوئے ان کا نام مرزا ہادی بیگ تھا انکے ہندوستان میں آکر آباد ہونیکا زمانہ ۱۵۳۰ء کے قریب کا معلوم ہوتا ہے یعنی ایسا پتہ چلتا ہے کہ یا تو وہ بابر بادشاہ کے ساتھ آئے تھے یا کچھ عرصہ بعد۔ مرزا ہادی بیگ حاجی برلاس کی اولاد میں

سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 114، 115 از مرزا بشیر احمد ایم اے | یہ حوالہ صفحہ 302 پر درج ہے

صفحہ 918

حوالہ نمبر 380

۹۶

ہی ذریت ونسل ہوگا۔ خوبصورت پاک لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے۔ اس کا نام عمانوائیل اور بشیر بھی ہے۔ اس کو مقدس رُوح دی گئی ہے اور وہ رجس سے پاک ہے اور وہ نور اللہ ہے۔ مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے۔ اس کے ساتھ فضل ہے جو اس کے آنے کیساتھ آئیگا وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہوگا۔ وہ دنیا میں آئے گا اور اپنے مسیحی نفس اور رُوح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔ وہ کلمۃ اللہ ہے کیونکہ خدا کی رحمت وغیوری نے اسے کلمہ تمجید سے بھیجا ہے۔ وہ سخت ذہین و فہیم ہوگا اور دل کا حلیم اور علوم ظاہری وباطنی سے پُر کیا جائے گا اور وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا۔ (اس کے معنی سمجھ میں نہیں آئے) دوشنبہ ہے مبارک دوشنبہ۔ فرزند دلبند گرامی ارجمند مظہر الاول و الآخر۔ مظہر الحق والعلاء کانّ اللہ نزل من السماء۔ جس کا نزول بہت مبارک اور جلال الٰہی کے ظہور کا موجب ہوگا۔ نور آتا ہے نور جس کو خدا نے اپنی رضامندی کے عطر سے ممسوح کیا۔ ہم اس میں اپنی رُوح ڈالیں گے اور خدا کا سایہ اس کے سر پر ہوگا۔ وہ جلد جلد بڑھے گا۔ اور اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔ تب اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اُٹھایا جائے گا۔ وَکَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا ؁

پھر خدائے کریم جلشانہٗ نے مجھے بشارت دے کر کہا کہ تیرا گھر برکت سے بھرے گا۔ اور میں اپنی نعمتیں تجھ پر پوری کروں گا اور خواتین مبارکہ سے جن میں سے تو بعض کو اس کے بعد پائے گا۔ تیری نسل بہت ہوگی اور میں تیری ذریت کو بہت بڑھاؤں گا اور برکت دوں گا۔ مگر بعض ان میں سے کم عمری میں فوت بھی ہوں گے اور تیری نسل کثرت سے ملکوں میں پھیل جائے گی اور ہر ایک شاخ تیرے جدّی بھائیوں کی کاٹی جائیگی اور وہ جلد لاولد رہ کر ختم ہو جائے گی۔ اگر وہ توبہ نہ کریں گے تو خدا اُن پر بلا پر بلا نازل کرے گا۔ یہاں تک کہ وہ نابود ہوجائیں گے۔ اُن کے گھر بیواؤں سے بھر جائیں گے اور اُن کی دیواروں پر غضب نازل ہوگا، لیکن اگر وہ رجوع کریں گے تو خدا رحم کے ساتھ رجوع کرے گا۔ خدا تیری برکتیں اردگرد پھیلائے گا اور ایک اُجڑا ہوا گھر تجھ سے آباد کرے گا ؂ اور ایک ڈراؤنا گھر برکتوں سے بھر دے گا۔ تیری ذریت منقطع نہیں ہوگی اور آخری دنوں تک

؂ یہ ایک پیشگوئی کی طرف اشارہ ہے جو ۲۰؍جولائی ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں شایع ہوچکی، جس کا ماحصل یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس عاجز کے مخالف اور منکر رشتہ داروں کے حق میں نشان کے طور پر یہ پیشگوئی ظاہر کی ہے کہ ان میں سے جو ایک شخص احمد بیگ نام ہے۔ اگر وہ اپنی بڑی لڑکی اِس عاجز کو نہیں دے گا تو تین برس کے عرصہ تک بلکہ اس سے قریب فوت ہوجائے گا اور وہ جو نکاح کرے گا وہ روز نکاح سے اڑھائی برس کے عرصہ میں فوت ہوگا۔ اور آخر وہ عورت اس عاجز کی بیویوں میں داخل ہوگی۔ سو اس جگہ اُجڑے ہوئے گھر سے وہ اُجڑا ہوا گھر مراد ہے۔ ۱۲ منہ

مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 96 طبع جدید از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 304 پر درج ہے

صفحہ 919

حوالہ نمبر 381

۱۱۳

زندہ رہنے کا ہی حال معلوم نہیں۔ اور نہ یہ معلوم کہ اس عرصہ تک کسی قسم کی اولاد خواہ مخواہ پیدا ہوگی۔ چہ جائیکہ لڑکا پیدا ہونے پر کسی اٹکل سے قطع اور یقین کیا جائے۔ خیر یہ وہم ہم بھی ظاہر کرتے ہیں۔ کہ اخبار مذکورہ بالا میں منشی محمد رمضان صاحب نے تہذیب سے گفتگو نہیں کی بلکہ دینی مخالفتوں کی طرح حیا باختہ ہو کر افتراء پردازی سے اس عاجز کو نسبت دی ہے۔ اور ایک جگہ پر جہاں اس عاجز نے ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں یہ پیشگوئی خدائے تعالیٰ کی طرف سے بیان کی تھی۔ کہ اس نے مجھے بشارت دی ہے کہ بعض بابرکت عورتیں اس اشتہار کے بعد بھی تیرے نکاح میں آئیں گی اور ان سے اولاد پیدا ہوگی۔ اس پیشگوئی پر منشی صاحب فرماتے ہیں کہ الہام کئی قسم کا ہوتا ہے۔ نیکوں کو نیک باتوں کا اور زانیوں کو عورتوں کا۔ ہم اس جگہ کچھ لکھنا نہیں چاہتے۔ ناظرین منشی صاحب کی تہذیب کو آپ اندازہ کرلیں۔ پھر ایک اور صاحب خادم قوم محرر اخبار سفیر ہند مطبوعہ لاہور کے جو اپنا نام جناب نبی٭ بخش ظاہر کرتے ہیں۔ اپنے خط مرسلہ ۱۴؍ جون ۱۸۸۶ء میں اس عاجز کو لکھتے ہیں کہ تمہاری پیشگوئی جھوٹی نکلی اور دُختر پیدا ہوئی اور تم حقیقت میں بڑے فریبی اور مکار اور دروغ گو آدمی ہو۔ ہم اس کے جواب میں بجز اس کے کیا کہہ سکتے ہیں کہ اے خدائے قادر مطلق۔ یہ لوگ اندھے ہیں ان کو آنکھیں بخش۔ نادان ہیں ان کو سمجھ عطا کر۔ یہ شرارتوں سے بھرے ہوئے ہیں ان کو نیکی کی توفیق دے۔ بھلا کوئی اس بزرگ سے پوچھے مگر وہ فقرہ یا جملہ کہاں ہے جو کسی اشتہار میں اس عاجز کے قلم سے نکلا ہے جس کا یہ مطلب ہے کہ لڑکا اسی حمل میں پیدا ہوگا۔ اس سے ہرگز تخلف نہیں کرے گا۔ اگر میں نے کسی جگہ ایسا لکھا ہے تو جناب نبی بخش صاحب پر واجب ہے کہ اس کو کسی اخبار میں چھپوا دیں۔ اس عاجز کے اشتہارات پر اگر کوئی منصف آنکھ کھول کر نظر ڈالے تو اسے معلوم ہوگا کہ ان میں کوئی بھی ایسی پیشگوئی درج نہیں جس میں ایک ذرہ غلطی کی جگہ گرفت ہو سکے بلکہ وہ سب سچی ہیں اور عنقریب اپنے اپنے وقت پر ظہور پکڑ کر مخالفین کی ذلت اور رسوائی کا موجب ہوں گی۔ دیکھو ہم نے ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ء میں جو یہ پیشگوئی اجمالی طور پر لکھی تھی کہ ایک امیر ثروتمند پنجابی الاصل کو کچھ ابتلاء درپیش ہے کیسی وہ سچی نکلی۔ ہم نے صدہا ہندوؤں اور مسلمانوں کو مختلف شہروں میں بتلا دیا تھا کہ اس شخص پنجابی الاصل سے مراد دلیپ سنگھ ہے جس کی پنجاب میں آنے کی خبر مشہور ہو رہی ہے۔ لیکن اس ارادہ سکونت پنجاب میں وہ ناکام رہے گا۔ بلکہ اس سفر میں اس کی عزت و آسائش یا جان کا خطرہ ہے اور یہ پیشگوئی ایسے وقت میں لکھی گئی اور عام طور پر بتلائی گئی تھی یعنی ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ء کو جبکہ اس ابتلاء کا کوئی اثر و نشان ظاہر نہ تھا۔ بالآخر اس کو مطابق اسی پیشگوئی کے بہت حرج اور تکلیف اور سبکی بعد خجالت اٹھانی پڑی اور اپنے مدعا سے محروم رہا۔ سو دیکھو اس پیشگوئی کی صداقت کیسی کھل گئی۔ اسی طرح سے اپنے اپنے وقت پر سب پیشگوئیوں کی سچائی ظاہر ہوگی اور دشمن روسیاہ نہ ایک دفعہ بلکہ کئی دفعہ رسوا ہوں گے یہ خدائے تعالیٰ کا فعل ہے جو ابھی تک انہیں اندھا کر رکھا ہے۔ ان کے دلوں کو سخت کر دیا اور ہمارے دل میں درد اور خیر خواہی کا

٭ یہ صاحب بعد میں احمدیت میں داخل ہو گئے اور بہت مخلص ثابت ہوئے (المرتب)

مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 113 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 304 پر درج ہے

صفحہ 920

حوالہ نمبر 382 ۵۷۴

ومودة الاقارب وحقوق الوصلة وتجدنى ناصرا واثبتك وحاملا اثقالك فلا تضيع وقتك فى الاباء ولا تستنكر حبك ولا تكونن من الممترين۔ وهذا انا كتبت مكتوبى هذا من امر ربّى لاعلن امرى فاحفظ مكتوبى هذا فى صندوقك فانه من صدوق أمين والله يعلم اننى فيه صادق و كلّ ما وعدت فهو من الله تعالى وما قلت اذ قلت ولكن انطقنى الله تعالى بالهامه۔ وكانت هذه وصية من ربّى فقضيتها ما كان لى حاجة اليك و الى بنتك وما ضيق الله علىّ النساء سواها كثيرة والله يتولّى الصالحين۔ فلا تنظر الى مكتوبى بعين الارتياب۔ فانه كتبته بمحض النصح والتزام الصدق والصواب۔ ودع الجدال وانتظر الآجال۔ فان مضى الاجل وما حصحص الصدق فاجعل حبلا فى جيدى وسلاسل فى ارجلى وعذبنى بعذاب لم يعذب به احد من العالمين۔ كنتم قد طلبتم آية من ربّى فهذه آية لكم انه ياخذ المنكرين من مكان قريب ويختار ما كان اقرب التعذيبات فى حقهم و ادنى من افهامهم واشدّ اثرا فى اعراضهم ۔ و اجسامهم ليرى المختالين ضعفهم و يكسر كبر الضائمين۔ هذا ما كتبت الى احمد بيك فى سنة ۱۳۰۲ فاعرض وابى و استكبر وعتا وصدف وصدنى وضاق ذرعا من نصيحتى وكان من المعادين۔ ومعه عادانى قومه وعشيرته الذين كانوا اقربين۔ وكانوا يخافون ان يزوّجوا بناتهم اقارب مثلى او يزوّجوا امراة تحته امراة اخرى وكانت بنته هذه المخطوبة جارية حديثة السن عذراء وكنت حينئذٍ جاوزت الخمسين۔ وكان عذره

یہ حوالہ صفحہ 305 پر درج ہے آئینہ کمالات اسلام صفحہ 574 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 574 از مرزا قادیانی

صفحہ 921

حوالہ نمبر 383

آسمانی فیصلہ ۴۰

ہوکہ رسول اللہ صلعم کی زیارت ہوئی اور آپ نے اپنی زیارت کی علامت فلاں فلاں پیشگوئی اور قبولیت دُعا اور انکشاف حقائق و معارف کو بیان فرمایا۔ پھر بعد اس کے رسول نمائی کی دعوت کریں اور یہ عاجز حق کی تائید کی غرض سے اِس بات کے لئے بھی حاضر ہے کہ میر صاحب رسول نمائی کا معجزہ بھی دکھلا دیں۔ قادیان میں آ جائیں ۔ مسجد موجود ہے ۔ اُن کے آنے جانے اور خوراک کا تمام خرچ اِس عاجز کے ذمہ ہو گا اور یہ عاجز تمام ناظرین پر ظاہر کرتا ہے کہ یہ صرف لاف و گزاف ہے اور کچھ نہیں دکھلا سکتے ۔ اگر آئیں گے تو اپنی پردہ دری کرائیں گے۔ عقلمند سوچ سکتے ہیں کہ جس شخص نے بیعت کی ۔ مُریدوں کے حلقہ میں داخل ہوا اور مُدّت دس سال سے اِس عاجز کو خلیفۃ اللہ اور امام اور مجدّد کہتا رہا اور اپنی خوابیں سناتا رہا ۔ کیا وہ اِس دعویٰ میں صادق ہے ۔ میر صاحب کی حالت نہایت قابلِ افسوس ہے خدا اُن پر رحم کرے ۔ پیشگوئیوں کے منتظر رہیں جو ظاہر ہوں گی ۔ ازالہ اوہام کے صفحہ ۸۵۵ کو دیکھیں ازالہ اوہام کے صفحہ ۶۴۵ ۔ اور ۳۹۶ کو بغور مطالعہ کریں ۔ اشتہار دہم جولائی ۱۸۸۸ء کی پیشگوئی کا انتظار کریں ۔ جس کے ساتھ یہ بھی الہام ہے ویَسْئَلُوْنَکَ اَحَق ھو قُل ای وربّی اِنّہ لحقّ ومَا اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ۔ زَوّجْنٰکَھَا لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمَاتِی۔ وان یروا ایۃ یعرضوا ویقولوا سحر مستمر ۔ اور تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ بات سچ ہے ۔ کہہ ہاں مجھے اپنے ربّ کی قسم ہے کہ یہ سچ ہے اور تم اس بات کو وقوع میں آنے سے روک نہیں سکتے۔ ہم نے خود اس سے تیرا عقد نکاح باندھ دیا ہے۔ میری باتوں کو کوئی بدل نہیں سکتا ۔ اور نشان دیکھ کر مُنہ پھیر لینگے اور قبول نہیں کرینگے اور کہیں گے کہ یہ کوئی پکا فریب یا پکا جادو ہے۔ ۱۱-۱۵-۲-۱-۲۷-۲-۲۶-۲-۱۳-۲۴-۲۷-۲۸ ۱-۶-۱۴-۲۷-۱۰-۲۷-۱۶-۱۱-۳۴-۱۴-۱-۶ ۷-۱-۵-۲۲-۲۳-۳-۱۱-۱۳-۷-۲۳-۱۴-۱-۱۰ ۱۳-۵-۲۸-۷-۱-۳۲-۱۱-۱۰-۱۶-۱-۲-۷-۱-۲-۱۳-۲ ۱۳-۱-۲۸-۱-۷

فقط والسّلام علٰی من اتّبع الھدٰی ۔ الناصح المشفق خاکسار غلام احمد قادیانی ۔ ۲۷۔ دسمبر ۱۸۹۱ء

۲۵۰

یہ حوالہ صفحہ 305 پر درج ہے آسمانی فیصلہ صفحہ 40 مندرجہ روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 350 از مرزا قادیانی

صفحہ 922

حوالہ نمبر 384

ازالہ اوہام ۳۰۵ حصہ اول

راقم رسالہ ہذا اس مقام میں خود صاحب تجربہ ہے۔ عرصہ قریباً تین برس کا ہوا ہے کہ بعض تحریکات کی وجہ سے جن کا مفصل ذکر اشتہار دہم جولائی ۱۸۸۸ء میں مندرج ہے خدائے تعالیٰ نے پیشگوئی کے طور پر اس عاجز پر ظاہر فرمایا کہ مرزا احمد بیگ ولد مرزا گاماں بیگ ہوشیار پوری کی دختر کلاں انجامکار تمہارے نکاح میں آئے گی اور وہ لوگ بہت عداوت کریں گے اور بہت مانع آئیں گے اور کوشش کرینگے کہ ایسا نہ ہو لیکن آخر کار ایسا ہی ہوگا اور فرمایا کہ خدا تعالیٰ ہر طرح سے اس کو تمہاری طرف لائے گا باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے اور ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھا دے گا ۳۰۴ اور اس کام کو ضرور پورا کرے گا کوئی نہیں جو اُس کو روک سکے۔ چنانچہ اس پیشگوئی کا مفصل بیان مع اس کی میعاد خاص اور اس کے اوقات مقررہ شدّہ کے اور مع اس کے اُن تمام لوازم کے جنہوں نے انسان کی طاقت سے اُس کو باہر کر دیا ہے اشتہار دہم جولائی ۱۸۸۸ء میں مندرج ہے اور وہ اشتہار عام طبع ہو کر شائع ہو چکا ہے جس کی نسبت آریوں کے بعض منصف مزاج لوگوں نے بھی شہادت دی کہ اگر یہ پیشگوئی پوری ہو جائے تو بلا شبہ یہ خدا تعالیٰ کا فعل ہے۔ اور یہ پیشگوئی ایک سخت مخالف قوم کے مقابل پر ہے جنہوں نے گویا دشمنی اور عناد کی تلواریں کھینچی ہوئی ہیں اور ہر ایک جو ان کے حال سے خبیر ہو گا وہ اس پیشگوئی کی عظمت خوب سمجھتا ہوگا۔ ہم نے اس پیشگوئی کو اس جگہ مفصل نہیں لکھا تا بار بار کسی متعلق پیشگوئی کی دلشکنی نہ ہو لیکن جو شخص اشتہار پڑھے گا وہ گو کیسا ہی متعصب ہو گا اس کو اقرار کرنا پڑے گا کہ مضمون اس پیشگوئی کا انسان کی قدرت سے بالاتر ہے اور اس بات کا جواب بھی کامل اور مسکت طور پر اسی اشتہار سے ملے گا کہ خدا تعالیٰ نے کیوں یہ پیشگوئی بیان فرمائی اور اس میں کیا مصالح ہیں۔ اور کیوں اور کس دلیل سے یہ انسانی طاقتوں سے بلندتر ہے۔ اب اس جگہ مطلب یہ ہے کہ جب یہ پیشگوئی معلوم ہوئی اور ابھی پوری نہیں ہوئی تھی ۳۰۵

ازالہ اوہام صفحہ 305 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 305 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 305 پر درج ہے

صفحہ 923

حوالہ نمبر 385

ازالہ اوہام ۳۰۶ حصہ اوّل

(وہم سا کہ اب تک بھی جو ۱۶؍اپریل ۱۸۹۱ء ہے پوری نہیں ہوئی) تو اس کے بعد اس عاجز کو ایک سخت بیماری آئی یہاں تک کہ قرب موت کی نوبت پہنچ گئی بلکہ موت کو سامنے دیکھ کر وصیت بھی کر دی گئی۔ اُس وقت گویا پیشگوئی آنکھوں کے سامنے آگئی۔ اور یہ معلوم ہو رہا تھا کہ اب آخری دم ہے اور کل جنازہ نکلنے والا ہے۔ تب میں نے اس پیشگوئی کی نسبت خیال کیا کہ شاید اُس کے اور معنے ہوں گے جو میں سمجھ نہیں سکا۔ تب اُسی حالتِ قریب الموت میں مجھے الہام ہوا الحق من ربک فلا تکونن من الممترین یعنی یہ بات تیرے رب کی طرف سے سچ ہے تو کیوں شک کرتا ہے۔ سو اُس وقت مجھ پر یہ بھید کھلا کہ کیوں خدا تعالیٰ نے اپنے رسولِ کریم کو قرآن کریم میں کہا کہ تو شک مت کر۔ سو میں نے سمجھ لیا کہ درحقیقت یہ آیت ایسے ہی نازک وقت سے خاص ہے جیسے یہ وقت تنگی اور نومیدی کا میرے پر ہے اور میرے دِل میں یقین ہو گیا کہ جب نبیوں پر بھی ایسا ہی وقت آجاتا ہے جو میرے پر آیا تو خدا تعالیٰ تازہ یقین دلانے کے لئے اُن کو کہتا ہے کہ تو کیوں شک کرتا ہے اور مصیبت نے تجھے کیوں ناامید کر دیا تو ناامید مت ہو۔

خلف میں سے اس کی یہ تاویل نہیں کی کہ ابنِ مریم کے لفظ سے کوئی بروزی طور پر خصلت مسیحی سمجھا جاوے درحقیقت یہ مراد نہیں ہے بلکہ کوئی اُس کا مثیل مراد ہے۔ ماسوا اس کے اس بات پر اجماع ہے کہ نصوص کو ظاہر پر محمول کیا جاوے اور بغیر قرینہ قویہ کے باطن کی طرف نہیں پھیرنا چاہئے۔

الجواب ۔ پس واضح ہو کہ سلف اور خلف کے لئے یہ ایک ایمانی امر تھا جو پیشگوئی کو اجمالی طور پر مان لیا جاوے اُنہوں نے ہرگز یہ دعویٰ نہیں کیا کہ ہم اس پیشگوئی کی تہ تک پہنچ گئے ہیں اور درحقیقت ابنِ مریم سے ابنِ مریم ہی مراد ہے۔ اگر اُن کی طرف سے ایسا دعویٰ ہوتا تو وہ دجّال کے فوت ہو جانے کے قائل نہ ہوتے اور نہ قرآنی شریعت کے

ازالہ اوہام صفحہ 306 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 306 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 306 پر درج ہے

صفحہ 924

حوالہ نمبر 386

۵۷۲

فقلت له والله ما زاغ قلبى وما مال ۔ وما انا من الذين يحبون المال ۔ بل من الذين يتذكرون المآل والاجال ۔ ولست شحيحًا على النعم كالذين هم كالنعم ۔ واننى ارحم عليك وسأحسن اليك واعلم ان انفس القربات تنفيس الكربات ۔ و امتن اسباب النجاة ۔ مواساة ذوى الحاجات ۔ وكنت لنصرتك من المتأهبين ۔ ولكن ايم الله لقد عاهدت الله على اننى لا اميل الى امر فيه شبهة ۔ ولا اضع قدمًا فى موضع فيه زلة ولا اتلوا المتشابهات ولا امارى فيها فالآن افعل كذلك وارجو من الله خيرا فلا تكونن من القانطين ۔ وانى ارى ان المؤاخرة اقرب للتقوى لان الوارث مفقود وما نتيقن انه مات او هو حى موجود فلا يجوز ان يستعجل فى ماله كمال الميتين فالا ولى ان تقصر عن القيل والقال ۔ حتى اوامر ربى عالم الغيب ذا الجلال ۔ واستقرى سبل اليقين ۔ قال ما منى خلاف ۔ فلا يكن لوعدك اخلاف ۔ قلت كل وعدى مشروط بامر ربّ العلمين ۔ فذهب وكان من وجده الذى تيمه كالمعتوهين ۔ فتيممت حجرتى ۔ والتزمت زاوية بقعتى ۔ اتجشم الى الله تعالى ليظهر على امره ۔ ويفلق حب الحقيقة من نواتها ويرى لبّ الامر وقشرة ۔ فو الله ما امسكت ريثما يعقد شسع ۔ او يشدّ نسع ۔ اذ الوسن اسرى الى آماقى ۔ والهمتُ من الله الباقى ۔ وانبئتُ من اخبار ما ذهب وهلمّ اليها وما كنت اليها من المستدنين ۔ فاوحى الله الى ان اخطب صبى الكبارة لنفسك ۔ وقل له ليصاهرك اولاً ثم ليقتبس من قبسك ۔ وقل انى امرت لاهبك ما طلبت من الارض وارضًا اخرى معها واحسن اليك

آئینہ کمالات اسلام صفحہ 572، 573 روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 572، 573 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 306 پر درج ہے

صفحہ 925

حوالہ نمبر 386

۵۷۲

بِاحسانات اخرى على ان تنكحنى احدى بناتك التى هى كبيرتها و ذلك بينى و بينك فان قبلت فستجدنى من المتقبلين ـ وان لم تقبل فاعلم ان الله قد اخبرنى ان انكحها رجلا اخر لا يبارك لها ولا لك فان لم تزوجنى فيصب عليك مصائب وآخر المصائب موتك فتموت بعد النكاح الى ثلث سنين ـ بل موتك قريب ويرد عليك وانت من الغافلين ـ وكذلك يموت بعلها الذى يصير زوجها الى حولين وستة اشهر ـ قضاءً من الله فاصنع ما انت صانعه وانى لك لمن الناصحين ـ فعبس وتولى وكان من المعرضين ـ ثم كتبت اليه مكتوباً بايماءٍ مِنّانى ـ واشارة رحمانى ـ ونمقت فيه بسم الله الرحمن الرحيم اما بعد فاسمع ايها العزيز فانك اتخذت جدى عبثا ـ وحسبت تبرى خبثا ـ ووالله ما اريد ان اشق عليك وستجدنى انشاء الله من المحسنين ـ وها انا اكتب بعهد موثق فانك ان قبلت قولى على رغم انف قبيلتى فافرض لك حصة فى ارضى وضيعتى ـ ويرتفع الخلاف والنزاع بهذه الوصلة من بيننا ويصلح الله قلوب شعبى وعشيرتى ـ وفى كل منيتك اقتفى عفوك وازيل قشفك فتكون من الفائزين ـ لا من الفائزين ۱؎ والحق والحق اقول انى لاكتب هذا المكتوب بخلوص قلبى وجنانى ـ فان قبلت قولى وبيانى فقد صنعت لطفاً الىّ ـ وكان لك احساناً علىّ ـ ومعروفاً لدىّ ـ فاشكرك وادعو زيادة عمرك من ارحم الراحمين ـ وانى اقيم معك عهدى ـ انى اعطى بنتك ثلثا من ارضى ومن كل ما ملكته يدى ـ ولا تستثنى خطةً الا اعطيك اياها وانى من الصادقين ـ ولن تجد مثلى فى رعاية الصلة

۱؎ اى الهالكين ـ شمس

آئینہ کمالات اسلام صفحہ 572-573 روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 572-573 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 306 پر درج ہے

صفحہ 926

حوالہ نمبر 387 ۵۷۲

باحسانات اخرى على ان تنكحنى احدى بناتك التى هى كبيرتهنّ وذلك بينى و بينك فان قبلت فستجدنى من المتقبلين. وان لم تقبل فاعلم ان الله قد اخبرنى ان نكاحها رجلا اخر لا يبارك لها ولا لك فان لم تردّجى فيصب عليك مصائب و آخر المصائب موتك فتموت بعد النكاح الى ثلث سنين. بل موتك قريب و يرد عليك وانت من الغافلين. وكذلك يموت بعلها الذى يصاهر زوجها الى حولين و ستة اشهر. قضاء من الله فاصنع ما انت صانعه وانى لك لمن الناصحين. فعبس وتولى وكان من المعرضين. ثم كتبت اليه مكتوبا بايماء منّانى. واشارة رحماني. ونصت فيه بسم الله الرحمن الرحيم اما بعد فاسمع ايها العزيز مالك اتخذت جدّى عبثا. وحسبتني تبدى خبثا. ووالله ما اريد ان اشق عليك وستجدنى انشاء الله من المحسنين. وها انا اكتب بعهد موثّق فانك ان قبلت قولى على رغم انف قبيلتى فافرض لك حصّة فى ارضى ونخيلتى. ويرتفع الخلاف والنزاع بهذه المواصلة من بيننا ويصلح الله قلوب شعبى وعشيرتى. وفى كل منيتك اقتفى صفوك ولا يزل قشفك فتكون من الفائزين. لا من الفاترين ١ والحق والحق اقول انى اكتب هذا المكتوب بخلوص قلبى وجنانى. فان قبلت قولى وبيانى. فقد صنعت لطفاً الىّ. وكان لك احساناً عاجلا. ومعروفا لدى. فاشكرك وادعو زيادة عمرك من ارحم الراحمين. وانى اقيم معك عهدى. انى اعطى بنتك ثلثا من ارضى ومن كل ما ملكته يدى. ولا تستثنى خطة الا اعطيك اياها وانى من الصادقين. ولن تجد مثلى فى رعاية الصلة

۱؎ ای المهالکین ۔ شمس

یہ حوالہ صفحہ 309 پر درج ہے آئینہ کمالات اسلام صفحہ 573، 574 روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 573، 574 از مرزا قادیانی

صفحہ 927

(حوالہ نمبر 387)

۵۷۴

ومودۃ الاقارب وحقوق الوصلۃ وتجدنی ناصر نوائبك وحامل اثقالك فلا تضیّع وقتك فی الاباء ولا تستنکر حبك ولا تکونن من الممترین۔ وھا انا کتبت مکتوبی ھذا من امر ربّی لاعلن امری فاحفظ مکتوبی ھذا فی صندوقك فانہ من صدوق امین واللہ یعلم اننی فیہ صادق و کل ما وعدت فھو من اللہ تعالیٰ وما قلت اذ قلت ولکن انطقنی اللہ تعالیٰ بالھامہ۔ وکانت ھذہ وصیۃ من ربّی فقضیتھا ما کان لی حاجۃ الیك و الی بنتک وما ضیق اللہ علیّ النساء سواھا کثیرۃ واللہ یتولی الصالحین۔ فلا تنظر الی مکتوبی بعین الارتیاب ۔ فانہ کتبتہ بمحض النصح والتزام الصدق والصواب ۔ ودع الجدال وانتظر الآجال ۔ فان مضٰی الاجل وما حصحص الصدق فاجعل حبلاً فی جیدی وسلاسل فی ارجلی وعذبنی بعذاب لم یعذب بہ احد من العالمین۔ کنتم قد طلبتم آیۃ من ربّی فھذہ آیۃ لکم انہ یاخذ المنکرین من مکان قریب ویختار ما کان اقرب التعذیبات فی حقھم و ادنی من افھامھم واشد اثراً فی اعراضھم۔ و اجسامھم لیری المحتالین ضعفھم و یکسر کبر العتائین۔ ھذا ماکتبت الی احمد بیگ فی سنۃ ۱۳۰۲ فاعرض وابی و سکت وبکت و عاث وصلق وصلتی وضاق ذرعاً من نعیقتی وکان من المعادین۔ ومعہ عادنی قومہ وعشیرتہ الذین کانو اقربین، وکانوا یعاقون ان یزوجوا بناتھم اقارب مثلی او یزوّجوا امرءً تحتہ امرأۃ اخری وکانت بنتہ ھذہ المخطوبۃ جاریۃ حدیثۃ السن عذراء وکنت حینئذٍ جاوزت الخمسین۔ وکان جذوۃ

آئینہ کمالات اسلام صفحہ 573 ، 574 روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 573 ، 574 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 309 پر درج ہے

صفحہ 928

حوالہ نمبر 388

142

حجت نہیں ہو سکتا۔ ہاں البتہ آپ لوگ مسیح کے معجزے اس رنگ میں تسلیم کرتے ہیں اور دوسری طرف آپکا یہ بھی ایمان ہے کہ جس شخص میں ایک رائی کے برابر بھی ایمان ہو وہ وہی کچھ دکھا سکتا ہے۔ جو مسیح دکھاتا تھا۔ پس میں آپکو بڑا تھکاتا رہا ہوں کہ آپنے لیے اندھوں اور بہروں اور لنگڑوں کی تلاش کی بجائے اب آپ ہی کا تحفہ آپکے سامنے پیش کیا جاتا ہے کہ یہ اندھے بہرے اور لنگڑے حاضر ہیں۔ اگر آپ میں ایک رائی کے برابر بھی ایمان ہے تو مسیح کی سنت پر آپ انکو اچھا کر دیں۔ میر صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت صاحب نے جب یہ فرمایا۔ تو پادریوں کی ہوائیاں اڑ گئیں اور انہوں نے جھٹ اشارہ کر کے ان لوگوں ........ کو وہاں سے رخصت کرا دیا۔ میر صاحب بیان کرتے ہیں۔ کہ وہ نظارہ بھی نہایت عجیب تھا۔ کہ پہلے تو عیسائیوں نے اتنے شوق سے ان لوگوں کو پیش کیا اور پھر ان کو خود ہی ادھر اُدھر چھپانے لگ گئے۔

(۱۷۷)

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ بیان کیا مجھ سے خلیفہ نور الدین صاحب جمونی نے کہ آتھم کے مباحثہ میں میں بھی سننے والوں میں سے تھا آخری دن جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آتھم کے متعلق پیشگوئی کا اعلان فرمایا۔ تو آتھم نے خوف زدہ ہو کر کانوں کیطرف ہاتھ اٹھائے اور دانتوں میں انگلی دی اور کہا کہ مینے تو دجال نہیں کہا۔

(۱۷۸)

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ بیان کیا مجھ سے ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے کہ ایک دفعہ میاں محمود خلیفہ المسیح ثانی، دالان کے دروازے بند کر کے چڑیاں پکڑ رہے تھے۔ کہ حضرت صاحب نے جمعہ کی نماز کیلئے باہر جاتے ہوئے انکو دیکھ لیا اور فرمایا۔ میاں گھر کی رقم چڑیاں نہیں پکڑا کرتے۔ جس میں رحم نہیں اس میں ایمان نہیں خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ بعض باتیں چھوٹی ہوتی ہیں۔ مگر ان سے کرنے والے کے اخلاق پر بڑی روشنی پڑتی ہے۔

(۱۷۹)

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ سنوری نے کہ ایک دفعہ حضرت صاحب جالندھر جا کر قریباً ایک ماہ ٹھہرے تھے۔ اور ان دنوں میں محمدی بیگم کے ایک حقیقی ماموں نے محمدی بیگم کا حضرت صاحب سے رشتہ کر دینے کی کوشش کی تھی۔ مگر کامیاب نہیں ہوا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے کہ جب محمدی بیگم کا والد مرزا احمد بیگ

سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 192 ، 193 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 316 پر درج ہے Back

صفحہ 929

حوالہ نمبر 388

۱۹۳

ہوشیار پوری بندہ تھا۔ اور ابھی محمدی بیگم کا مرزا سلطان محمد سے رشتہ نہیں ہوا تھا۔ محمدی بیگم کا یہ ماموں جالندھر اور ہوشیار پور کے درمیان یکے میں آیا جایا کرتا تھا۔ اور وہ حضرت صاحب سے کچھ انعام کا بھی خواہاں تھا۔ اور چونکہ محمدی بیگم کے نکاح کا عقدہ زیادہ تر اسی شخص کے ہاتھ میں تھا اس لئے حضرت صاحب نے اس سے کچھ انعام کا وعدہ بھی کر لیا تھا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ شخص اس معاملہ میں بد نیت تھا۔ اور حضرت صاحب سے فقط کچھ روپیہ اڑانا چاہتا تھا۔ کیونکہ بعد میں یہی شخص اور اس کے دوسرے ساتھی اس لڑکی کے دوسری جگہ بیاہے جانے کا موجب ہوئے۔ گو مجھے والد صاحب سے معلوم ہوتا ہے۔ کہ حضرت صاحب نے بھی اس شخص کو روپیہ دینے کے متعلق پیشگی نقداً احتیاطیں ملحوظ رکھی ہوئی تھیں۔ والدہ صاحبہ نے یہی بیان کیا ۔ کہ اسکے ساتھ محمدی بیگم کا بیاہ اس لئے بھی نہ ہوا۔

خاکسار عرض کرتا ہے کہ بعض لوگ اعتراض کیا کرتے ہیں ۔ کہ جب خدا کی طرف سے پیشگوئیاں تھیں تو حضرت صاحب خود ان کے پورا کرنے کی کیوں کوشش کیا کرتے تھے۔ گو یہ ایک محض جہالت کا اعتراض ہے۔ کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے باوجود خدائی وعدوں کے اپنی پیشگوئیوں کو پورا کرنے کیلئے ہر جائز طریق پر کوشش نہ کی ہو۔ پس خدا کے ارادوں کو پورا کرنے کی کوشش کرنے سے یہ مراد نہیں ہوتا۔ کہ نعوذ باللہ خدا انسان کی امداد کا محتاج ہے۔ بلکہ اس سے بعض اور باتیں مقصود ہوتی ہیں ۔ مثلاً اول ۔ اگر انسان خود ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاوے اور یہ سمجھ لے کہ خدا کا وعدہ ہے وہ خود پورا کرے گا۔ اور باوجود طاقت رکھنے کے کوشش نہ کرے تو یہ بات خدا کی استغنائے ذاتی کو برانگیخت کرنے کا موجب ہوتی ہے اور یہ وہ مقام ہے۔ جس سے انبیاء تک کانپتے ہیں۔ دوئم یہ کہ یہ ایک محبت کا طبعی تقاضا ہوتا ہے کہ انسان اپنے محبوب کے ارادوں کے پورا کرنے میں اپنی طرف سے کوشش کرے اور یہ محبت کا جذبہ اسقدر طاقت ور ہوتا ہے کہ باوجود اس علم کے کہ خدا کو انسانی نصرت کی ضرورت نہیں عاشق انسان چپ نہیں بیٹھ سکتا۔ سوئم چونکہ خدا کے تمام ارادوں میں دین کا غلبہ مقصود ہوتا ہے۔ اسلئے نبی اپنے فرض منصبی کے لحاظ سے بھی اس میں ہاتھ پاؤں ہلانے سے باز نہیں رہ سکتا۔ چہارم۔ خدا کی یہ سنت ہے کہ سوائے بالکل استثنائی صورتوں کے اپنے کاموں میں اسباب کے سلسلہ کو ملحوظ رکھتا ہے۔ پس نبی کی کوشش بھی ان اسباب

یہ حوالہ صفحہ 316 پر درج ہے سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 192، 193 از مرزا بشیر احمد ایم اے

صفحہ 930

(حوالہ نمبر 389)

۱۸۶

۶۰

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهٗ وَنُصَلِّيْ لَا يُحِبُّ اللّٰهُ الْجَهْرَ بِالسُّوْءِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنْ ظُلِمَ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ سَمِيْعًا عَلِيْمًا ١؂

اشتہار نصرت دین و قطع تعلق

از اقارب مخالف دین

عَلٰى مِلَّةِ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا

چوں بدنداں تو کرمے رہ اُفتاد
آں بن دنداں بکن ای اوستاد

ناظرین کو یاد ہوگا کہ اس عاجز نے ایک دینی خصومت کے پیش آجانے کی وجہ سے ایک نشان کے مطالبہ کے وقت اپنے ایک قریبی مرزا احمد بیگ ولد مرزا گاماں بیگ ہوشیار پوری کی دختر کلاں کی نسبت بحکم و الہام الہی یہ اشتہار دیا تھا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہی مقدر اور قرار یافتہ ہے کہ وہ لڑکی اس عاجز کے نکاح میں آئے گی۔ خواہ پہلے ہی باکرہ ہونے کی حالت میں آجائے اور یا خدا تعالیٰ بیوہ کر کے اس کو میری طرف لے آوے۔ چنانچہ تفصیل ان کل امور مذکورہ بالا کی اس اشتہار میں درج ہے۔ اب باعث تحریر اشتہار ہذا یہ ہے کہ میرا بیٹا سلطان احمد نام جو نائب تحصیلدار لاہور میں ہے اور اس کی تائی صاحبہ جنہوں نے اس کو بیٹا بنایا ہوا ہے، وہی اس مخالفت پر آمادہ ہو گئے ہیں۔ اور یہ سارا کام اپنے ہاتھ میں لے کر اس تجویز میں ہیں کہ عید کے دن یا اس کے بعد اس لڑکی کا کسی سے نکاح کیا جائے۔ اگر یہ اوروں کی طرف سے مخالفتانہ کارروائی ہوتی تو ہمیں درمیان میں دخل دینے کی کیا ضرورت اور کیا غرض تھی۔ امر ربی تھا۔ اور وہی اس کو اپنے فضل و کرم سے ظہور میں لاتا۔ مگر اس کام کے مدبرالمہام وہ لوگ ہوگئے جن پر اس عاجز کی اطاعت فرض تھی اور ہرچند سلطان احمد کو سمجھایا اور بہت تاکیدی خط لکھے کہ تو اور تیری والدہ اس کام سے الگ ہو جائیں۔ ورنہ میں تم سے جدا ہو جاؤں گا اور تمہارا کوئی حق نہیں رہے گا۔ مگر انہوں نے میرے خط کا جواب تک نہ دیا۔ اور کھلی طور سے بیزاری ظاہر کی۔ مگر ان کی طرف سے ایک تیز تلوار کا مجھ پر زخم پہنچتا تو بخدا میں اس پر صبر کرتا، لیکن انہوں نے دینی مخالفت کر کے اور دینی مقابلہ سے آزار دے کر مجھے بہت ستایا۔ اور اس حد تک میرے دل کو توڑ دیا

١؂ النساء: ١٤٩

مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 186 ، 187 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 317 پر درج ہے

صفحہ 931

حوالہ نمبر 389

١٨٧

کہ میں یہ بھی نہیں کر سکتا اور عمداً چاہا کہ میں سخت ذلیل کیا جاؤں۔ سلطان احمد ان دو بڑے گناہوں کا مرتکب ہوا اول یہ کہ اُس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی مخالفت کرنی چاہی۔ اور یہ چاہا کہ دین اسلام پر تمام مخالفوں کا حملہ ہو۔ اور یہ اپنی طرف سے اس نے ایک بنیاد رکھی ہے اِس اُمید پر کہ یہ جھوٹے ہو جائیں گے اور دین کی ہتک ہوگی۔ اور مخالفوں کی فتح۔ اس نے اپنی طرف سے مخالفتانہ تلوار چلانے میں کچھ فرق نہیں کیا اور اس نادان نے نہ سمجھا کہ خداوند قدیر و غیور اس دین کا حامی ہے اور اس عاجز کا بھی حامی۔ وہ اپنے بندہ کو کبھی ضائع نہ کریگا۔ اگر سارا جہان مجھے برباد کرنا چاہے تو وہ اپنی رحمت کے ہاتھ سے مجھ کو تھام لے گا۔ کیونکہ میں اس کا ہوں اور وہ میرا۔ دوم سلطان احمد نے مجھے جو میں اس کا باپ ہوں سخت ناچیز قرار دیا اور میری مخالفت پر کمر باندھی اور قولی اور فعلی طور پر اس مخالفت کو کمال تک پہنچایا۔ اور میرے دینی مخالفوں کو مدد دی اور اسلام کی ہتک بدل و جان منظور رکھی۔ سو چونکہ اس نے دونوں طور کے گناہوں کو اپنے اندر جمع کیا۔ اپنے خدا کا تعلق بھی توڑ دیا اور اپنے باپ کا بھی۔ اور ایسا ہی اس کی دونوں والدہ نے کیا۔ جو جبکہ انہوں نے کوئی تعلق مجھ سے باقی نہ رکھا۔ اس لیے میں نہیں چاہتا کہ اب ان کا کسی قسم کا تعلق مجھ سے باقی رہے اور ڈرتا ہوں کہ ایسے دینی دشمنوں سے پیوند رکھنے میں معصیت نہ ہو۔ لہٰذا میں آج کی تاریخ کہ دوسری مئی ١٨٩١ء ہے ۔ عوام اور خواص پر بذریعہ اشتہار ہٰذا ظاہر کرتا ہوں کہ اگر یہ لوگ اس ارادہ سے باز نہ آئے۔ اور وہ تجویز جو اس لڑکی کے ناتہ اور نکاح کرنے کی اپنے ہاتھ سے یہ لوگ کر رہے ہیں اس کو موقوف نہ کر دیا۔ اور جس شخص کو انہوں نے نکاح کے لیے تجویز کیا ہے اس کو ردّ نہ کیا بلکہ اسی شخص کے ساتھ نکاح ہوگیا تو اسی نکاح کے دن سے سلطان احمد عاق اور محروم الارث ہوگا اور اسی روز سے اس کی والدہ پر میری طرف سے طلاق ہے۔ اور اگر اس کا بھائی فضل احمد جس کے گھر میں مرزا احمد بیگ والد لڑکی کی بھانجی ہے اپنی اس بیوی کو اسی دن جو اسکو نکاح کی خبر ہو اور طلاق نہ دیوے تو پھر وہ بھی عاق اور محروم الارث ہوگا۔ اور آئندہ ان سب کا کوئی حق میرے پر نہیں رہے گا۔ اور اس نکاح کے بعد تمام تعلقات خویشی و قرابت و ہمدردی دور ہو جائے گی۔ اور کسی نیکی ۔ بدی۔ رنج و راحت ۔ شادی اور ماتم میں ان سے شراکت نہیں رہے گی۔ کیونکہ انہوں نے آپ تعلق توڑ دیئے اور توڑنے پر راضی ہو گئے۔ سو اب ان سے کچھ تعلق رکھنا قطعاً حرام اور ایمانی غیوری کے برخلاف اور ایک دیوثی کا کام ہے۔ مومن دیوث نہیں ہوتا۔

چوں نہ یابد خویش را دیانت و تقوائے ، قطع رحم بہ از مودت قربائے

وَالسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْہُدٰی

المشتہر مرزا غلام احمد لدھیانہ مورخہ ۲ مئی ۱۸۹۱ء حقانی پریس لدھیانہ

مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 186، 187 طبع جدید یہ حوالہ صفحہ 317 پر درج ہے

صفحہ 932

حوالہ نمبر 390

۲۸

(۳۵) بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام قادیان سے گورداسپور جاتے ہوئے بٹالہ ٹھہرے وہاں کوئی مہمان جو آپ کی تلاش میں قادیان سے ہوتا ہوا بٹالہ واپس آیا تھا آپ کے پاس کچھ پھل بطور تحفہ لایا۔ پھلوں میں انگور بھی تھے۔ آپ نے انگور کھائے۔ اور فرمایا انگور میں ترشی ہوتی ہے۔ مگر یہ ترشی نزلہ کے لئے مضر نہیں ہوتی۔ پھر آپ نے فرمایا ابھی میرا دل انگور کو چاہتا تھا۔ سو خدا نے بھیج دیئے۔ فرمایا۔ کئی دفعہ میں نے تجربہ کیا ہے۔ کہ جس چیز کو دل چاہتا ہے۔ اللہ اُسے مہیا کر دیتا ہے۔ پھر ایک واقعہ سُنایا۔ کہ میں ایک سفر میں جا رہا تھا۔ کہ میرے دل میں پونڈے چوسنے کی خواہش پیدا ہوئی۔ مگر وہاں راستہ میں کوئی گنا میسر نہیں تھا۔ مگر اللہ کی قدرت کہ تھوڑی دیر کے بعد ایک شخص ہم کو مل گیا جس کے پاس پونڈے تھے۔ اس سے ہم کو پونڈے ملگئے ۔

(۳۶) بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ اوائل میں ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سخت دورہ پڑا ۔ کسی نے مرزا سلطان احمد اور مرزا فضل احمد کو بھی اطلاع دیدی اور وہ دونوں آگئے ۔ پھر ان کے سامنے بھی حضرت صاحب کو دورہ پڑا۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں۔ اس وقت میں نے دیکھا ۔ کہ مرزا سلطان احمد تو آپکی چارپائی کے پاس خاموشی کے ساتھ بیٹھے رہے۔ مگر مرزا فضل احمد کے چہرہ پر ایک رنگ آتا تھا۔ اور ایک جاتا تھا۔ اور وہ کبھی اِدھر بھاگتا تھا۔ اور کبھی اُدھر۔ کبھی اپنی پگڑی اُتار کر حضرت صاحب کی ٹانگوں کو باندھتا تھا۔ اور کبھی پاؤں دبانے لگ جاتا تھا۔ اور گھبراہٹ میں اسکے ہاتھ کانپتے تھے ۔

(۳۷) بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب محمدی بیگم کی شادی دُوسری جگہ ہو گئی اور قادیان کے تمام رشتہ داروں نے حضرت صاحب کی سخت مخالفت کی اور خلاف کوشش کرتے رہے اور سب نے

سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 28، 29 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 319 پر درج ہے

صفحہ 933

(حوالہ نمبر 390)

۲۹

احمد بیگ والد محمدی بیگم کو اس نے دغا دیا اور خود کوشش کر کے لڑکی کی شادی دوسری جگہ کرادی۔ تو حضرت صاحب نے مرزا سلطان احمد اور مرزا فضل احمد دونوں کو الگ الگ خط لکھا کہ ان سب لوگوں نے میری سخت مخالفت کی ہے اب انکے ساتھ ہمارا کوئی تعلق نہیں رہا۔ اور ان کے ساتھ اب ہماری قبریں بھی اکٹھی نہیں ہوسکتیں لہٰذا اب تم اپنا آخری فیصلہ کرو اگر تم نے میرے ساتھ تعلق رکھنا ہے۔ تو پھر ان سے قطع تعلق کرنا ہوگا اور اگر ان سے تعلق رکھنا ہے تو پھر میرے ساتھ تمہارا کوئی تعلق نہیں رہ سکتا۔ میں اس صورت میں تم کو عاق کرتا ہوں۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ مرزا سلطان احمد کا جواب آیا کہ مجھ پر تائی صاحبہ کے احسانات ہیں۔ ان سے قطع تعلق نہیں کرسکتا۔ مگر مرزا فضل احمد نے لکھا کہ میرا تو آپکے ساتھ ہی تعلق ہے ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ حضرت صاحب نے مرزا فضل احمد کو جواب دیا کہ اگر یہ بات ہے تو اپنی بیوی بنت مرزا علی شیر کو جو سخت مخالف تھی اور مرزا احمد بیگ کی بھانجی تھی طلاق دے دو۔ مرزا فضل احمد نے فوراً طلاق نامہ لکھ کر حضرت صاحب کے پاس روانہ کر دیا۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ پھر فضل احمد باہر سے آکر ہمارے پاس ہی ٹھیرتا تھا مگر اپنی دوسری بیوی کی فتنہ پردازی سے آخر پھر آہستہ آہستہ اُدھر جا ملا۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ فضل احمد بہت شریر تھا۔ حضرت صاحب کے سامنے آنکھ نہیں اُٹھاتا تھا۔ حضرت صاحب اسکے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ فضل احمد سیدھی طبیعت کا ہے۔ اور اس میں خباثت کا مادہ ہے۔ مگر دُوسروں کے کہلانے سے ادھر جا ملا ہے۔ نیز والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ جب فضل احمد کی وفات کی خبر آئی تو اس رات حضرت صاحب قریباً ساری رات نہیں سوئے۔ اور دو تین دن تک مغموم سے رہے۔ خاکسار نے پوچھا کہ کیا حضرت صاحب نے کچھ فرمایا بھی تھا؟ والدہ صاحبہ نے کہا کہ صرف اس قدر فرمایا تھا۔ کہ ہمارا اسکے ساتھ تعلق تو نہیں تھا۔ مگر مخالف اسکی موت کو بھی اعتراض کا نشانہ بنائیں گے۔ خاکسار عرض

سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 28، 29 از مرزا بشیر احمد ایم اے | یہ حوالہ صفحہ 310 پر درج ہے

صفحہ 934

حوالہ نمبر 391

۲۲

اور میں نے بہت استغفار پڑھا ۔ یہ قصہ سنا کر مجھے خواجہ صاحب نے کہا کہ خواجہ صاحب آپ کی موت بھی کہیں اسی طریق کی نہ ہو۔ چنانچہ میں آپ کو سناتا ہوں کہ رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی آتا ہے کہ آپ بعض ایمان والوں اور منافقوں کی بہت خاطر تواضع کیا کرتے تھے۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ آپ نے کچھ مال تقسیم کیا ۔ مگر ایک ایسے شخص کو چھوڑ دیا جسکے متعلق سعد بن ابی وقاص کہتے ہیں کہ وہ میرے خیال میں مومن تھا ۔ اور ان لوگوں کی نسبت زیادہ حقدار تھا جن کو آپ نے مال دیا۔ چنانچہ سعد نے اسکی طرف آپ کو توجہ دلائی ۔ مگر آپ خاموش رہے۔ پھر توجہ دلائی ۔ مگر آپ پھر خاموش رہے ۔ سعد نے پھر تیسری دفعہ توجہ دلائی ۔ اس پر آپ نے فرمایا سعد تم مجھ سے جھگڑا کرتا ہے۔ خدا کی قسم بات یہ ہے کہ بعض وقت میں کسی کو کچھ دیتا ہوں۔ حالانکہ غیر اس کا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہوتا ہے۔ مگر میں اسے اسلئے دیتا ہوں کہ کہیں وہ منہ کے بل آگ میں نہ جا پڑے۔ یعنی تالیف قلب کے طور پر دیتا ہوں۔ کہ کہیں اسے ابتلاء نہ آجائے قاضی صاحب نے بیان کیا کہ جسکے ایمان کی حالت مطمئن ہو اسے ظاہری عزت اور خاطر مدارات کی ضرورت نہیں ہوتی اسکے ساتھ اور طریق پر معاملہ ہوتا ہے ۔

(۳۹۱)

بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اوائل سے ہی مرزا فضل احمد کی والدہ سے جن کو لوگ عام طور پر پھجے دی ماں کہا کرتے تھے بے تعلقی سی تھی جس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت صاحب کے رشتہ داروں کو دین سے سخت بے رغبتی تھی اور الحاد کی طرف میلان تھا اور وہ اسی رنگ میں رنگین تھیں ۔ اسلئے حضرت مسیح موعودؑ نے ان سے مباشرت ترک کر دی تھی بایں ہمہ اخراجات وغیرہ باقاعدہ دیا کرتے تھے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میری شادی کے بعد حضرت صاحب نے انہیں کہلا بھیجا کہ آجتک تو جس طرح ہوتا رہا ہوتا رہا اب میں نے دوسری شادی کر لی ہے اسلئے اب اگر دونوں بیویوں میں برابری نہیں کرونگا تو میں گنہگار ہونگا۔ اسلیے اب دو باتیں ہیں۔ یا تو تم مجھ سے طلاق لے لو اور یا مجھے اپنے حقوق چھوڑ دو ۔ میں تم کو خرچ دیتے جاؤنگا ۔ انہوں نے کہلا بھیجا کہ اب میں

سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 33 ، 34 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 320 پر درج ہے ۔

صفحہ 935

حوالہ نمبر 391

۲۴

بڑہاپے میں کیا طلاق لونگی۔ میں مجھے خرچ ملتا ہے۔ میں اپنے باقی حقوق چھوڑتی ہوں۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں چنانچہ پھر ایسا ہی ہوتا رہا۔ حتیٰ کہ محمدی بیگم کا سوال اُٹھا اور آپ کے رشتہ داروں نے مخالفت کر کے محمدی بیگم کا نکاح دوسری جگہ کرا دیا اور فضل احمد کی والدہ نے ان سے قطع تعلق نہ کیا۔ بلکہ ان کے ساتھ رہیں تب حضرت صاحب نے ان کو طلاق دیدی خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کا یہ طلاق دینا آپ کے اس اشتہار کے مطابق تھا۔ جو آپ نے ۲ مئی ۱۸۹۱ء کو شائع کیا تھا اور جسکی سُرخی تھی "اشتہار نصرت دین و قطع تعلق از اقارب مخالف دین" ہے اس میں آپ نے بیان فرمایا تھا کہ اگر مرزا سلطان احمد اور ان کی والدہ اس امر میں مخالفانہ کوشش سے الگ نہ ہو گئے۔ تو پھر آپ کی طرف سے مرزا سلطان احمد عاق اور محروم الارث ہونگے اور ان کی والدہ کو آپ کی طرف سے طلاق ہو گی والدہ صاحبہ فرماتی تھیں ۔ کہ فضل احمد نے اس وقت اپنے آپ کو عاق ہونے سے بچا لیا۔ نیز والدہ صاحبہ نے فرمایا ۔ کہ اس واقعہ کے بعد ایک دفعہ مرزا سلطان احمد کی والدہ بیمار پڑیں تو چونکہ حضرت صاحب کی طرف سے مجھے اجازت تھی۔ میں انہیں دیکھنے کے لیئے گئی۔ وہیں آکر میں نے حضرت صاحب سے ذکر کیا ۔ کہ پچھلے کی ماں بیمار ہے۔ اور یہ تکلیف ہے۔ آپ خاموش رہے۔ میں نے دوسری دفعہ کہا تو فرمایا میں تمہیں دو گولیاں دیتا ہوں۔ یہ دے آؤ۔ مگر اپنی طرف سے دینا میرا نام نہ لینا والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ اندر بھی بعض اوقات حضرت صاحب نے اشارۃً کنایۃً مجھ پر ظاہر کیا کہ میں ایسے طریق پر کہ حضرت صاحب کا نام درمیان میں نہ آئے اپنی طرف سے کبھی کچھ مدد کر دیا کروں سو میں کیا کرتی تھی ۔

(۱۴۶)

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ بیان کیا مجھ سے شیخ عبدالرحمٰن صاحب مصری نے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نماز ظہر کے بعد مسجد میں بیٹھ گئے۔ ان دنوں میں آپ نے شیخ سعد اللہ لدھیانوی کے متعلق لکھا تھا ۔ کہ یہ ابتر رہیگا اور اُس کا بیٹا جو اب موجود ہے ۔ وہ نامرد ہے۔ گویا اس کی اولاد آگے نہیں چلیگی

سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 33، 34 از مرزا بشیر احمد ایم اے | یہ حوالہ صفحہ 320 پر درج ہے

صفحہ 936

(حوالہ نمبر 392)

۵۴۷

ومنح لى من النعم الظاهرة والباطنة وجعلنى من المجددين ۔ وكنت شاباً وقد شخت وما استفتحت باباً الا فتحت ۔ وما سألت من نعمة الا اعطيت وما استكشفت من امر الا كشفت ۔ وما ابتهلت فى دعاء الا اجيبت ۔ وكل ذالك من حبّى بالقرآن وحبّ سيدى وامامى سيّد المرسلين ۔ اللهم صل وسلم عليه بعدد نجوم السموت وذرّات الارضين ومن اجل هذا الحبّ الذى كان فى فطرتی كان الله معى من اوّل امرى حين ولدت وحين كنت صريعا عند ظئرى وحين كنت اقرأ فى المتعلمين ۔ وقد حبّب الىّ منذ فوت العشرين ان انصر الدين ۔ واجادل البراهمة والقسيسين ۔ وقد الفت فى هذه المناظرات مصنفات عديدة ۔ ومؤلفات مفيدة منها كتابى البراهين ۔ كتاب نادر ما نسج على منواله فى ايام خالية فليقرأه من كان من المرتابين ۔ قد سللت فيه صوارم الحجج القطعية على اقوال الملحدين ۔ ورميت بشهبها الشياطين المبطلين ۔ لدحض هام كل معاند بحدذالك السيف المسلول ۔ وتبينت فضيحتهم بين ارباب المنقول والمعقول ۔ وبين المصنفين ۔ فيه دقائق العلوم وشواردها والالهامات القطعية الصحيحة و الكشوف الجليلة ومواردها ۔ ومن كل ما يجلى غدر مكرى المدعين المنتين ولى كتب اخرى تشابهه فى الكمال ۔ منها الكحل والتوضيح والازالة وفتح الاسلام وكتاب آخر سبق كلها الفته فى هذه الايام اسمه حمامة البشرى هو نافع جداً للذين يريدون الهدى وحسن الاسلام ويكفينى انّى امكنّك للذين ۔ تلك كتب ينظر اليها كل مسلم بعين المحبّة والمودّة وينتفع من معارفها ويقبلنى ويصدّق

یہ حوالہ صفحہ 321 پر درج ہے | آئینہ کمالات اسلام صفحہ 547-548 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 547-548 از مرزا قادیانی

صفحہ 937

(حوالہ نمبر 392)

۵۴۸

] دعوتی۔ الا ذریة البغایا الذین ختم الله علی قلوبهم فهم لا یقبلون ـ ولما [ بلغت اشد عمری و بلغت اربعین سنة جاءتنی نسیم الوحی بریّا عنایات ربّی لیزید معرفتی ویقینی ویرتفع حجبی واکون من المستیقنین فاول ما فتح علیّ بابه هو الرؤیا الصالحة فکنت لا اری رؤیا الا جاءت مثل فلق الصبح وانی رایت فی تلک الایام رؤیا صالحة صادقة قریباً من الفین او اکثر من ذلک ـ منها محفوظة فی حافظتی وکثیر منها نسیتها ـ ولعل الله یکررها فی وقت آخر ونحن من الآملین ـ ورایت فی غلواء شبابی وعند دواعی التصابی کأنی دخلت فی مکان وفیه عقدتی وخدمی فقلت طهروا فراشی فان وقتی قد جاء ثم استیقظت وخشیت علی نفسی وذهب وهلی الی اننی من المائتین ـ ورایت ذات لیلة وانا غلام حدیث السن کأنی فی بیت لطیف نظیف یذکر فیه رسول الله صلی الله علیه وسلم فقلت ایّها النّاس این رسول الله صلی الله علیه وسلم فاشاروا الی حجرة فدخلت مع الداخلین ـ فبشّ بی حین وافیته ـ وحیانی باحسن ما حییت وما انسی حسنه وجماله وملاحته وتحنّنه الی یومی هذا ـ شغفنی حبا وجذبنی بوجه حسین قال ما هذا بیمینک یا احمد فنظرت فاذا کتاب بیدی الیمنی وخطر بقلبی انه من مصنفاتی قلت یا رسول الله کتاب من مصنفاتی قال ما اسم کتابک فنظرت الی الکتاب مرة اخری وانا کالمتحیرین ـ فوجدته یشابه کتاباً کان فی دار کتبی واسمه قطبی قلت یا رسول الله اسمه قطبی قال ارنی کتابک القطبی فلما

آئینہ کمالات اسلام صفحہ 548-547 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 548-547 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 321 پر درج ہے

صفحہ 938

حوالہ نمبر 393

۱۶۰

۶؍ اگست ۱۸۹۲ء

”میں نے رات کو جس قدر آنِ مکرم کے لئے دعا کی اور جس حالتِ پُر سوز میں دعا کی اُس کو خداوند کریم خوب جانتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ دعا کی حالت میں یہ الفاظ منجانب اللہ زبان پر جاری ہوئے :-

لَوَی عَلَیْهِ (اَوْ) لَا وَلِیَّ عَلَيْهِ ؎

اور یہ خدا تعالیٰ کا کلام تھا اور اُس کی طرف سے تھا۔“

(مکتوب بنام حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل ؓ مورخہ ۶؍اگست ۱۸۹۲ء مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر ۲ صفحہ ۱۲۲)

۱۴؍اگست ۱۸۹۲ء

مورخہ ۱۴؍اگست ۱۸۹۲ء بمطابق ۲۱؍محرم ۱۳۱۰ھ :

” آج خواب میں میں نے دیکھا کہ محمدی بیگم جس کی نسبت پیشگوئی ہے باہر کسی جگہ میں معہ چند کُنبہ کے بیٹھی ہوئی ہے اور سر اس کا شاید منڈا ہوا ہے اور بدن سے ننگی ہے اور نہایت مکروہ شکل ہے۔ میں نے اُس کو تین مرتبہ کہا ہے کہ تیرے سرمنڈی ہونے کی یہ تعبیر ہے کہ تیرا خاوند مرجائے گا اور میں نے دونوں ہاتھ اس کے سر پر پھیرے ہیں اور پھر خواب میں میں نے یہی تعبیر کی ہے۔ اور اسی رات والدہ محمود نے خواب میں دیکھا کہ محمدی بیگم) سے میرا نکاح ہو گیا ہے اور ایک کاغذ میرے ہاتھ میں ہے جس پر ہزار روپیہ مہر لکھا ہے اور شیرینی منگوائی گئی ہے اور عمر میرے پاس وہ خواب میں کھڑی ہے“

(رجسٹر متفرق یادداشتیں صفحہ ۴۴ از حضرت مسیح موعود علیہ السلام)

۲۰؍اگست ۱۸۹۲ء

” آج رات بوقت ڈیڑھ بجے میں نے دیکھا کہ ایک سانپ صاحبزادہ محمود کے گھر میں پھرتا ہے۔ پھر وہ زمین پر بیٹھ گیا اور محمد سعید نے اس کے سر پر انگلی رکھی تا اس کو قتل کرے ۔ پھر میں نے بھی انگلی رکھ دی تب اس کے سر میں آگ لگ گئی مگر مجھے معلوم ہوا کہ میری اُنگلی کو اس نے کاٹا ہے ۔ انگلی دہنی طرف کی سبابہ تھی متورم ہو گئی اور اندیشہ رہا کہ اس کا اثر دل کو نہ پہنچے مگر پہنچنا معلوم نہیں ہوا اور اسی خواب میں معلوم ہوا کہ یہ تکالیف

بقیہ حاشیہ:- جماعت جو مہاراجہ پرتاپ سنگھ کی حالت سے واقف اور ان پر قابو یافتہ تھی تدبیریں کر رہی تھی کہ جس وقت مہاراجہ پرتاپ سنگھ کو معزول کر دیا جائے گا اور اس کی جگہ مہاراجہ امرسنگھ جو بلاشبہ گرے ہوئے اخلاق کا آدمی تھا بٹھایا جائے ۔ ۔ ۔ اس کو مذہب کا رنگ دیا گیا کہ حضرت مولوی صاحب راجہ امرسنگھ کو جب وہ مہاراجہ ہو جائیں گے مسلمان کر لیں گے۔ اس قسم کی سازش کر کے آپ کو بوجہ اس تحریک مشن کے جو یہاں سے چل رہی تھی جموں سے نکال دیا گیا۔ آپ نے حضرت اقدس کو اطلاع دی۔ اس کے جواب میں حضرت اقدس نے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خط لکھا۔“ (حیات احمد جلد چہارم صفحہ ۴۲۲)

؎ ترجمہ از مرتب : اس پر مہربان ہوا (یا) اس کے مقابلہ میں کوئی دوست نہیں۔

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات طبع چہارم صفحہ 160 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 321 پر درج ہے

Back

صفحہ 939

(حوالہ نمبر 394)

سو اسکا جواب اسلام کی حقانیت کا ثبوت دینا ہے نہ یہ کہ لوگوں پر تلوار چلانا۔ لہٰذا خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کی حالت کے ہم رنگ پاکر اُنکے لئے حضرت مسیح کی مانند بغیر سیف و سنان کے مصلح بھیجا اور اُس مصلح کو دنیا میں ظاہر کرنے کے لئے صرف آسمانی حربہ دیا اور جیسا کہ عیسیٰ عند منارۃ دمشق کے مشرقی حصہ میں ظاہر ہوا تھا۔ وہ یہی مصلح موعود چودھویں صدی کے سر پر آیا اور جیسا کہ آخرین منھم لما یلحقوا بھم کے وعدہ سے مبعوث کئے گئے ہیں اسی زمانہ میں وہ اصلاح خلق کے لئے ظاہر کیا گیا۔ اور جیسا کہ قرآن کریم نے بشارت دی کہ اسطرح فتن نصارٰی کے وقت میں مسیح ظاہر ہو گا ایسا ہی اسکا ظہور ہوا اور کئی بندگان خدا نے الہام پا کر اُسکے ظہور سے پہلے اُسکے آنے کی خبر دی بلکہ بعض نے بتیس برس پہلے اسکے ظہور کا وقت اور اسکا نام بتلایا اور یہ کہا کہ مسیح موعود یہی ہے اور اصل عیسیٰ فوت ہو چکا ہے اور بہت سے صاحب مکاشفات نے چودھویں صدی کو مسیح موعود کے آنے کا زمانہ قرار دیا اور اپنے الہامات لکھ گئے۔ اب اسکے بعد ایسے اُمور میں کیا ان باتوں میں کسی شک کی بھی کچھ گنجائش رکھ لینی چاہیئے اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے۔ پھر ماسوا اسکے بعض اور عظیم الشان نشان جو منجانب اللہ اسکی طرف سے معرض امتحان میں ہیں۔ جیسا کہ منشی عبداللہ آتھم صاحب امرتسری کی نسبت پیشگوئی جسکی میعاد ۵ جون ۱۸۹۳ء سے پندرہ مہینہ تک اور پنڈت لیکھرام پشاوری کی موت کی نسبت پیشگوئی جسکی میعاد ۱۸۹۳ء سے چھ سال تک ہے اور پھر مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کے داماد کی موت کی نسبت پیشگوئی جو اب فعلاً ہو چکا یا ہونیوالا ہے جسکی میعاد آج کی تاریخ سے جو اکیس ستمبر ۱۸۹۳ء ہے قریباً گیارہ مہینے باقی رہ گئی ہے یہ تمام اُمور جو انسانی طاقتوں سے بالکل باہر ہیں ایک صادق یا کاذب کی شناخت کے لئے کافی ہیں کیونکہ احیاء یا اماتت دونوں خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہیں اور جبتک کوئی شخص نہایت درجہ کا مقبول نہ ہو خدا تعالیٰ اسکی خاطر سے کسی اُسکے دشمن کو اُسکی دُعا سے ہلاک نہیں کر سکتا خصوصاً ایسے موقع پر کہ وہ شخص اپنے تئیں منجانب اللہ قرار دیوے اور اپنی اُس کرامت کو اپنے صادق ہونے کی دلیل ٹھہراوے۔ سو پیشگوئیاں کوئی معمولی بات نہیں کوئی ایسی بات نہیں جو تتمہ

شہادۃ القرآن صفحہ 79 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 375 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 322 پر درج ہے

صفحہ 940

حوالہ نمبر 395

۲۹۷

اپنی پہلی عادت کی طرف پھر رجوع کر لے۔ یہی سُنت اللہ ہے کہ قرآن کریم اور دوسری الہی کتابوں سے ثابت ہوتی ہے اور چونکہ یہ سُنت مستمرہ اور عادت قدیمہ حضرت باری جل اسمہ کی ہے جس کا ذکر اس کی تمام کتابوں میں پایا جاتا ہے اس لیے انذار اور تخویف کے الہامات میں کچھ ضروری نہیں ہوتا کہ شرط کے طور پر اس سُنت اللہ کا الہام میں ذکر بھی کیا جائے ۔ کیونکہ کوئی الہام اس سُنت اللہ کے مخالف ہو ہی نہیں سکتا جو خدا تعالیٰ کی پاک کتابوں میں دائمی طور پر پائی جاتی ہے۔ وجہ یہ کہ ہر ایک الہام کے لیے کتاب الٰہی بطور امام اور مہیمن کے ہے اور ضرور ہے کہ الہام اپنے امام کی سنن اور حدود سے تجاوز نہ کرے ورنہ وہ الہام الٰہی نہیں ہو سکتا۔

اب بعد اس تمہید کے جاننا چاہیے کہ یہ پیشگوئی بھی بطور انذار اور تخویف کے تھی۔ اور بیٹی کا وعدہ بھی بطور عذاب کے وعدہ کے تھا۔ کیونکہ اس کی بنیاد یہ تھی کہ جو دختر احمد بیگ مسمیٰ سلطان محمد سے بیاہی گئی۔ اس کا والد اور اس کے اقارب اور خاوند بہت بددین تھے اور تکذیب حق میں حد سے بڑھے ہوئے تھے اور ایک ان میں سے سخت دہریہ تھا جو اسلام سے مرتد ہو کر اسلام کے مخالف اشتہار چھاپتا اور خدا تعالیٰ کے پاک دین کی بے ادبیاں کرتا تھا اور دوسرے سب اس کے موافق اور محب تھے۔ سو الہام الٰہی ہوا کہ چونکہ اس نے دانستہ ٹھٹھا کیا اور اسلام کی بہت توہین کی اور اس عاجز سے اسلام کی صداقت کے لیے نشان چاہا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبعث پر ٹھٹھا کیا اور دوسرے اس سے الگ نہیں ہوئے بلکہ اس کے ساتھ رہے اس لیے خدا تعالیٰ نے چاہا کہ ان کو وہ نشان دکھلاوے جس سے وہ ذلیل ہوں پس اُس نے اس تمام عدو گروہ کے حق میں مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ كَذَّبُوْا بِاٰيَاتِنَا وَكَانُوْا بِهَا يَسْتَهْزِؤُوْنَ فَسَيَكْفِيْكَهُمُ اللّٰهُ وَيَرُدُّهَا اِلَيْكَ لَا تَبْدِيْلَ لِكَلِمَاتِ اللّٰهِ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيْدُ۔ یعنی ان لوگوں نے ہمارے نشانوں کی تکذیب کی اور ان سے ٹھٹھا کیا۔ سو خدا اِن کے شرور دور کرنے کے لیے تیرے لیے کافی ہوگا اور انہیں یہ نشان دکھلائے گا کہ احمد بیگ کی بڑی لڑکی ایک جگہ بیاہی جائے گی اور بعد اس کو پھر تیری طرف واپس لائے گا یعنی آخر وہ تیرے نکاح میں آئے گی۔ اور خدا سب بدیاں درمیان سے اُٹھا دے گا۔ خدا کی باتیں ٹل نہیں سکتیں۔ تیرا ربّ ایسا قادر ہے کہ جس کام کا وہ ارادہ کرے اس کام کو وہ اپنے

نوٹ :۔ اس عادت اللہ سے تو سارا قرآن اور سب سماوی کتابیں بھری ہوئی ہیں کہ عذاب کی پیشگوئیوں کے بعد توبہ اور استغفار سے اور حق کی عظمت کا خوف اپنے دل پر ڈالنے سے ٹلتی رہی ہے۔ جیسا کہ یونس نبی کی قوم۔ جن کو آیاتِ قطعیہ اور براہین بلیغہ بغیر شرط کے سنا کر انہیں عذاب کی میعاد بتلائی گئی تھی۔ لیکن حضرت آدم سے لے کر ہمارے نبی صلعم تک اس کی نظیر کسی نبی کے عہد میں نہیں ملے گی اور نہ کسی ربانی کتاب میں اس کا پتہ ملے گا کہ کسی شخص یا کسی قوم نے عذاب کی خبر سُن کر اور اس کی میعاد سے مطلع ہو کر قبل نزول عذاب توبہ اور خوف الٰہی کی طرف رجوع کیا ہو اور پھر بھی ان پر پتھر برسے ہوں یا اور کسی عذاب سے وہ ہلاک کئے گئے ہوں اور اگر کسی کی نظر میں کوئی بھی نظیر ہو تو پیش کرے اور یاد رکھے کہ وہ ہرگز دکھا نہ سکے گا اور جب اسے پیش نہیں کر سکے گا پس احمق ایک متفق علیہ صداقت سے انکار کر کے اپنے تئیں جہنم کا ہیزم نہ بناویں۔ منہ

مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 397، 398 طبع جدید از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 323 پر درج ہے

صفحہ 941

حوالہ نمبر 395

۳۹۸

منشاء کے موافق ضرور پورا کرتا ہے۔ سو خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ اس قوم کے لئے نشان تھا جو بیباکی اور نافرمانی اور غصے میں حد سے زیادہ بڑھ گئے تھے اور اس الہام کی تفصیل یعنی فَیَکْفِیْکَہُمُ اللّٰہُ کی شرح دوسرے الہاموں سے یہ معلوم ہوئی تھی کہ خدا تعالیٰ احمد بیگ کو تھوڑی مدت میں یعنی تین سال کے اندر بلکہ بہت قریب موت دے گا اور اس کے داماد کو اڑھائی سال کے اندر روز نکاح سے وفات دے گا اور جیسا کہ ہم لکھ چکے ہیں احمد بیگ میعاد کے اندر یعنی روز نکاح سے چھ ماہ بعد وفات پاگیا اور اس نے ڈرانے والے الہام کی کیفیت دیکھ لی جو اس کو سنایا گیا تھا۔ ویسا ہی اس کے بعد ان اقارب کو اس کے مرنے کا صدمہ کامل طور پر پہنچ گیا لیکن اس کا داماد جو ڈھائی سال کے اندر فوت نہ ہوا تو اس کی یہی وجہ تھی جو اس عبرت انگیز واقعہ کے بعد جو احمد بیگ اس کے خسر کی وفات تھی ایک شدید خوف اور حزن اس کے دل پر وارد ہو گیا۔ اور نہ صرف اس کے دل پر بلکہ اس کے تمام متعلقین کو اس خوف اور حزن نے گھیر لیا اور یہ بات ظاہر ہے کہ جب دو آدمی کی موت ایک ہی پیشگوئی میں بیان کی گئی ہو اور ایک ان میں سے میعاد کے اندر مر جائے تو وہ جو دوسرا باقی ہے اس کی بھی کمر ٹوٹ جاتی ہے کیونکہ ایک ہی موت کے دونوں بچے تھے۔ پس جو زندہ رہ گیا ہے وہ جب ایسی موت کو دیکھتا ہے ایک ایسا جانکاہ غم اس کو پکڑ لیتا ہے کہ اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے یعنی وہ بھی قریب قریب میت ہی کے ہوتا ہے۔ سو ایک دانا سوچ سکتا ہے کہ احمد بیگ کے مرنے کے بعد جس کی موت پیشگوئی کی ایک جزو تھی دوسری جزو والے کا کیا حال ہوا ہوگا گویا وہ جیتا ہی مر گیا ہوگا۔ چنانچہ اس کے بزرگوں کی طرف سے دو خط ہمیں بھی پہنچے جو ایک حکیم صاحب باشندہ لاہور کے ہاتھ سے لکھے ہوئے تھے جن میں انہوں نے اپنے توبہ اور استغفار کا حال لکھا ہے سو ان تمام قرائن کو دیکھ کر ہمیں یقین ہو گیا تھا کہ تاریخ وفات سلطان محمد قائم نہیں رہ سکتی کیونکہ الٰہی تاریخیں جو تخویف اور انذار کے نشانوں میں سے ہوتی ہیں ہمیشہ بطور تقدیر معلق کے ہوتی ہیں اور سلطان محمد اور اس کے اقارب اس لیے بھی ڈر گئے کہ انہوں نے یہ گمان کیا کہ ان کو ہم نے بواسطہ بعض مخلصوں اور نیز خطوط کے ذریعہ سے بہت کھول کر سنا دیا تھا کہ یہ پیشگوئی ایک قوم سرکش کے لیے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے تم ان کے ساتھ مل کر ویسے ہی مستوجب عذاب مت بنو مگر چونکہ وہ بھی سخت دل اور دنیا پرست تھے اس لیے انہوں نے نہ مانا اور اسی طرح ٹھٹھا اور ہنسی کی اور اپنی بیباکی سے اس رشتہ سے دست کش نہ ہوئے۔ بلکہ احمد بیگ کی وفات کے بعد ان کے دلوں پر سخت رعب طاری ہوا۔ اور انہوں نے ربانی پیشگوئی کے خوف و غم کو کسی قدر اپنے دلوں پر غالب کر لیا۔ اور اگرچہ سخت دل بہت تھے لیکن احمد بیگ کے مرنے نے ان کی کمر توڑ دی اور اسی وجہ سے انکی طرف سے عذر اور پشیمانی کے خط بھی پہنچے اور جبکہ وہ اپنے دلوں میں بہت ڈرے اور سخت ہراساں ہوئے پس ضرور تھا کہ خدا تعالیٰ اپنی سُنتِ قدیمہ کے موافق ہر عذاب مقدر کو کسی قدر رجوع پر ٹال دے یعنی ان دنوں میں جبکہ وہ لوگ اپنی حالت بیباکی اور تکبر اور غفلت سے کامل طور سے رجوع کریں کیونکہ عذاب کی میعاد ایک تقدیر معلق ہوتی ہے

مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 397، 398 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 323 پر درج ہے

صفحہ 942

حوالہ نمبر 396

۳۹۹

جو خوف اور رجوع سے دوسرے وقت پر جا پڑتی ہے جیسا کہ تمام قرآن اس پر شاہد ہے لیکن نفسِ پیشگوئی یعنی اس عورت کا اس عاجز کے نکاح میں آنا یہ تقدیر مبرم ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی کیونکہ اس کے لئے الہام الہی میں یہ فقرہ موجود ہے کہ لا تبدیل لکلمات اللہ یعنی میری یہ بات ہرگز نہیں ٹلے گی۔ پس اگر ٹل جائے تو خدا تعالیٰ کا کلام باطل ہوتا ہے۔ سو ان دنوں کے بعد جب خدا تعالیٰ ان لوگوں کے دلوں کو دیکھے گا کہ سخت ہو گئے اور انہوں نے اس ڈھیل اور مہلت کا قدر نہ کیا جو چند روز تک ان کو دی گئی تھی تو وہ اپنی پاک کلام کی پیشگوئی پوری کرنے کے لئے متوجہ ہوگا اور اسی طرح کریگا جیسا کہ اس نے فرمایا کہ میں اس عورت کو اس کے نکاح کے بعد واپس لاؤں گا اور تجھے دوں گا اور میری تقدیر کبھی نہیں بدلے گی اور میرے آگے کوئی بات انہونی نہیں اور میں سب روکوں کو اُٹھا دوں گا جو اس حکم کے نفاذ سے مانع ہوں۔ اب اس عظیم الشان پیشگوئی سے قہقہہ کرنے والیا دیکھ کہ کیا ہوتا ہے اور کون کون سی غیبی قدرت دکھائے گا اور کس کس شخص کو روک کی طرح سمجھ کر اس دنیا سے اُٹھا لے گا۔ یہ وہ پیشگوئی ہے جو قریباً سات برس سے شائع ہو چکی ہے اور اس وقت سے بذریعہ اشتہارات شائع ہے جبکہ احمد بیگ کی دختر کا سلطان محمد سے ناطہ بھی نہیں ہوا تھا بلکہ کسی کے خیال میں بھی نہیں تھا کہ اس جگہ ناطہ ہوگا۔ سو خدائے غیور نے دیکھو تو اس عورت کے نکاح کے بعد اُٹھا لیا احمد بیگ اور اس کی وہ ہمشیرہ کہ جو سخت مانع تھی اس دُنیا سے اُٹھا لیا۔ باقی جو کچھ خدا تعالیٰ کریگا لوگ دیکھیں گے۔ یہ نشان ہے جو ایسے لوگوں کو دیا جائے گا جو ہماری قوم اور کنبہ میں سے خدا اور خدا کے دین سے منکر اور اس غفلت خانہ سے محبت لگائے بیٹھے ہیں لیکن اب بہتیرے جاہل اس میعاد گذرنے کے بعد ہنسی کریں گے طعنے دیں گے اور اپنی بد نصیبی سے صادق کا نام کاذب رکھیں گے لیکن وہ دن جلد آتے ہیں کہ جب یہ لوگ شرمندہ ہوں گے اور حق ظاہر ہوگا اور سچائی کا نور چمکے گا اور خدا تعالیٰ کے غیر متبدل وعدے پورے ہو جائیں گے۔ کیا کوئی زمین پر ہے جو ان کو روک سکے ؟ بدبخت انسان بدظنی کی طرف جلدی کرتا ہے۔ اور سلیم طبیعت اور عمیق فکر کے ساتھ نہیں سوچتا۔ اے بدفطرتو! اپنی فطرتیں دکھلاؤ، لعنتیں بھیجو، ٹھٹھے کرو اور صادقوں کا نام کاذب اور دروغگو رکھو، لیکن عنقریب دیکھو گے کہ کیا ہوتا ہے۔ تم ہم پر لعنت کرو تا فرشتے تم پر لعنت کریں، میں نے

۱؎ نوٹ :۔ جاننا چاہیئے کہ اسلامی پیشگوئیاں بھی منجملہ سماوی علوم کے ایک عظیم الشان علم ہے جو ربانی کتاب کی نسبتوں اور تعلقوں سے بہم پہنچتی ہیں اور جو لوگ ان کی نسبت کچھ رائے ظاہر کریں اُن پر فرض ہے کہ پہلے ربانی کتاب کا علم ان کو حاصل ہو کیونکہ یہ پیشگوئیاں اُسی کتاب کے زیر سایہ چلتی ہیں۔ منہ

مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 399 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 323 پر درج ہے

صفحہ 943

حوالہ نمبر 397

١٦٢

تواترت ريح غدرهم - ففهمت ان النصح لا ينفع فيكم ولا ينفعكم قولي فانصحكم كما لا ينفع المتمردين - فتاوهت آهة الثكلى وعيناي تهملان ودعوت الله اياماً سجداً و قياماً وخررت امام حضرته واستطرحت بين يديه مجاذبا اليه اذيال وسيلته ورفعت صرختي كعقيرة المتألمين - فرثى الله بحالي واغترابي واعتزالي وقلة اخلائي وبشرني بفتوحات وأيادي و كرامات ومن علي بتأييده المبين - فمنها ما وعدني ربي في عشيرتي الاقربين - انهم كانوا يكذبون بآيات الله وكانوا بها يستهزؤن ويكفرون بالله ورسوله وقالوا لا حاجة لنا الى الله ولا الى كتابه ولا الى رسوله خاتم النبيين وقالوا لا نتقبل آية حتى يرينا الله آية في انفسنا وانا لا نؤمن بالفرقان ولا نعلم ما الرسالة وما الايمان وانا من الممترين فدعوت ربي بالتضرع والابتهال ومددت اليه ايدي السؤال فالهمني ربي وقال ساريهم آية من انفسهم واخبرني وقال انني سأجعل بنتاً من بناتهم آية لهم - فسماها وقال انها سيجعل ثيبة ويموت بعلها وابوها الى ثلث سنة من يوم النكاح ثم نردها اليك بعد موتهما ولا يكون احد هما من العاصين وقال انا رادوها اليك لا تبديل لكلمات الله ان ربك فعال لما يريد فقد ظهر احد وعديه ومات ابوها في وقت موعود فكونوا لموعده الآخر من المنتظرين فتأملوا في هذا تأمل المنتقد وانظروا بالمصباح المنتقد هل هو فعل الله تعالى او كيد المفترين - وهل يجوز ان يستجيب الله دعاء ملحد كافر كما يستجيب دعاء المقبولين - وكيف يخفى امر رجل يميت الله لاجل اعزازه واجلاله رجلين ويجعله في انباءه الغيبية من الصادقين ان الله لا يظهر على غيبه احداً الا من ارتضى من رسول الذي ارسله لاصلاح الخلق في زي الانبياء والمحدثين - ومنها ما وعدني ربي واستجاب دعائي في رجل مفسد عدو الله ورسوله المسمى ليكهرام الفشاوري واخبرني انه من الهالكين - انه

مرزا قادیانی کا الہام حصہ عربی تالیف "کرامات الصادقین" مندرجہ روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 162 | یہ حوالہ صفحہ 324 پر درج ہے I have provided the full transcribed text, exactly matching the original layout and wording, properly tagged according to your instructions. No further actions are required. Let me know if you need any other pages transcribed!

صفحہ 944

حوالہ نمبر 398

۳۴۴

مکرر یہ کہ اللہ جل شانہٗ خوب جانتا ہے کہ مَیں اپنے دعوےٰ میں صادق ہوں نہ مفتری ہوں نہ دجال نہ کذاب۔ اِس زمانہ میں کذاب اور دجال اور مفتری پہلے اِس سے کچھ تھوڑے نہیں تھے تا خدا تعالیٰ صدی کے سر پر بھی بجائے ایک مجدّد کے جو اُسکی طرف سے مبعوث ہو۔ ایک دجال کو قائم کرکے اور بھی فتنہ اور فساد ڈال دیتا مگر جو لوگ سچائی کو نہ سمجھیں اور حقیقت کو دریافت نہ کریں اور تکفیر کی طرف دوڑیں مَیں اُنکا کیا علاج کروں مَیں اُس بیمار دار کی طرح جو اپنے عزیز بیمار کے غم میں مبتلا ہوتا ہے اِس ناشناس قوم کے لئے سخت اندوہگین ہوں اور دُعا کرتا ہوں کہ اے قادر و ذوالجلال خدا۔ اے ہادی اور رہنما اِن لوگوں کی آنکھیں کھول اور آپ اِن کو بصیرت بخش اور آپ اِن کے دلوں کو سچائی اور راستی کا الہام بخش اور یقین رکھتا ہوں کہ میری دُعائیں خطا نہیں جائیں گی کیونکہ مَیں اُس کی طرف سے ہوں اور اُس کی طرف بُلاتا ہوں یہ سچ ہے کہ اگر مَیں اُس کی طرف سے نہیں ہوں اور ایک مفتری ہوں تو وہ بڑے عذاب سے مجھ کو ہلاک کرے گا۔ کیونکہ وہ مفتری کو کبھی وہ عزت نہیں دیتا کہ جو صادق کو دیجاتی ہے۔ پس مَیں نے جو ایک پیشگوئی جسپر آپنے میرے صادق اور کاذب ہونے کا حصر کر دیا آپکی خدمت میں پیش کی ہے یہی میرے صدق اور کذب کی شناخت کیلئے ایک کافی شہادت ہے کیونکہ ممکن نہیں کہ خدا تعالیٰ کذاب اور مفتری کی مدد کرے۔ لیکن ساتھ اِس کے مَیں یہ بھی کہتا ہوں کہ اِس پیشگوئی کے متعلق دو پیشگوئی اور ہیں جن کو مَیں اشتہار ۲۰؍ جولائی ۱۸۸۸ء میں شائع کر چکا ہوں جن کا مضمون یہی ہے کہ خدا تعالیٰ اُس عورت کو بیوہ کرکے میری طرف ردّ کریگا۔ اب انصاف سے دیکھیں کہ نہ کوئی انسان اپنی حیات پر اعتماد کر سکتا ہے اور نہ کسی دُوسرے کی نسبت دعوےٰ کر سکتا ہے کہ وہ فلاں وقت تک زندہ رہے گا۔ یا فلاں

آئینہ کمالات اسلام صفحہ 324-325 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 324-325 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 325 پر درج ہے

صفحہ 945

(حوالہ نمبر 398)

۳۲۵

وقت تک مرجائیگا ۔ مگر میری اس پیشگوئی میں نہ ایک بلکہ چھ دعوے ہیں ۔ اوّل نکاح کے وقت تک میرا زندہ رہنا ۔ دوم نکاح کے وقت تک اس لڑکی کے باپ کا یقیناً زندہ رہنا۔ سوم پھر نکاح کے بعد اُس لڑکی کے باپ کا جلدی سے مرنا جو تین برس تک نہیں پہنچے گا۔ چہارم اُس کے خاوند کا اڑھائی برس کے عرصہ تک مرجانا ۔ پنجم اُس وقت تک کہ میں اُس سے نکاح کروں اُس لڑکی کا زندہ رہنا ۔ ششم پھر آخر بیوہ ہونے کی تمام رسموں کو توڑ کر با وجود سخت مخالفت اُسکے اقارب کے میرے نکاح میں آجانا۔ اب آپ ایماناً کہیں کہ کیا یہ باتیں انسان کے اختیار میں ہیں اور ذرہ اپنے دل کو تھام کر سوچ لیں کہ کیا ایسی پیشگوئی سچے ہو جانے کی حالت میں انسان کا فعل ہو سکتی ہے ۔ پھر اگر اس پیشگوئی پر جو لڑکی کے باپ کے متعلق ہے جو ۳۰ ستمبر ۱۸۹۲ء کو پوری ہو گئی آپکا دل نہیں ٹھہرتا تو آپ اشاعۃ السنہ میں ایک اشتہار حسب اپنے اقرار کے دیدیں کہ اگر یہ دوسری پیشگوئیاں بھی پوری ہوگئیں تو اپنے ظنون باطلہ سے توبہ کرونگا اور دعوے میں سچا سمجھ لونگا اور ساتھ اس کے خدا تعالیٰ سے ڈر کر یہ بھی اقرار کر دیں کہ ایک تو ان میں سے پوری ہوگئی اور اگر اس پیشگوئی کے پورا ہو جانے کا آپکے دل میں زیادہ اثر نہ ہو تو اس قدر تو ضرور چاہیئے کہ جبتک اخیر ظاہر نہ ہو کف لسان اختیار کریں جب ایک پیشگوئی پوری ہوگئی تو اُسکی کچھ تو ہیبت آپ کے دل پر چاہیئے ۔ آپ تو میری ہلاکت کے منتظر اور میری رسوائی کے دنوں کے انتظار میں ہیں اور خدا تعالیٰ میرے دعویٰ کی سچائی پر نشان ظاہر کرتا ہے اگر آپ اب بھی نہ مانیں تو میرا آپ پر زور ہی کیا ہے لیکن یاد رکھیں کہ انسان اپنے اوائل ایام انکار میں بباعث کسی اشتباہ کے معذور ٹھہر سکتا ہے لیکن نشان دیکھنے پر ہرگز معذور نہیں

آئینہ کمالات اسلام صفحہ 324-325 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 324-325 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 325 پر درج ہے

صفحہ 946

حوالہ نمبر 399

۲۸۵

شاہی خاندان ہے اور بنی فارس اور بنی فاطمہ کے خون سے ایک معجون مرکب ہے۔ یا شہرت عام کے لحاظ سے یوں کہو کہ وہ خاندان مغلیہ اور خاندان سادات سے ایک ترکیب یافتہ خاندان ہے۔ مگر میں اسپر ایمان لاتا اور اسی پر یقین رکھتا ہوں کہ ہمارے خاندان کی ترکیب بنی فارس اور بنی فاطمہ سے ہے۔ کیونکہ اِسی پر الہام الٰہی کے تواتر نے مجھے یقین دلایا ہے اور گواہی دی ہے۔

نِعْمَتِیْ رَأَیْتَ خَدِیْجَتِیْ اِنَّکَ الْيَوْمَ لَدَیَّ حَظِیٌّ عَظِیْمٌ ۔ ترجمہ۔ میری نعمت کا شکر کر۔ تو نے میری خدیجہ کو پایا آج تو ایک حظِ عظیم کا مالک ہے۔ براہین احمدیہ صفحہ ۵۵۸۔ اور اِسی زمانہ کے قریب ہی یہ بھی الہام ہوا تھا بِكْرٌ وَّ ثَيِّبٌ یعنے ایک کنواری اور ایک بیوہ تمہارے نکاح میں آئے گی۔ یہ موخر الذکر الہام مولوی محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر اشاعۃ السنۃ کو بھی سنا دیا گیا تھا۔ لیکن الہام مذکورہ بالا جس میں خدیجہ کے پانے کا وعدہ ہے۔ براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۵۸ میں درج ہوکر نہ صرف محمد حسین بلکہ لاکھوں انسانوں میں اشاعت پا چکا تھا۔ ہاں شیخ محمد حسین مذکور ایڈیٹر اشاعۃ السنۃ کو سب سے زیادہ اس پر اطلاع ہے۔ کیونکہ اُس نے براہین احمدیہ کے چاروں حصوں کا ریویو لکھا تھا اور اسکو خوب معلوم تھا کہ ان صفات کی ایک بکر و بیوہ کا وعدہ دیا گیا ہے۔ جو خدیجہ کی اولاد میں سے یعنے سیّد ہوگی۔ جیسا کہ الہام موصوفہ بالا میں آیا ہے۔ کہ تو میرا شکر کر اِس لئے کہ تو نے خدیجہ کو پایا یعنے تو خدیجہ کی اولاد کو پائے گا۔ اِسی کی تائید میں وہ الہام ہے جو براہین احمدیہ کے صفحہ ۴۹۲ حاشیہ دوم اور صفحہ ۴۹۶ میں درج ہے اور وہ یہ ہے۔ اَرَدْتُ اَنْ اَسْتَخْلِفَ فَخَلَقْتُ آدَمَ۔

۱۵۹

تریاق القلوب صفحہ 159 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 287 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 325 پر درج ہے

صفحہ 947

حوالہ نمبر 400

۲۷۶

انسان کے اختیار میں ہو بلکہ محض اللہ جلشانہ کے اختیار میں ہیں سو اگر کوئی طالب حق ہے تو ان پیشگوئیوں کے وقتوں کا انتظار کرے۔ یہ تینوں پیشگوئیاں ہندوستان اور پنجاب کی تینوں بڑی قوموں پر حاوی ہیں یعنی ایک مسلمانوں پر تعلق رکھتی ہے اور ایک ہندوؤں کو اور ایک عیسائیوں سے لہ اور انمیں سے وہ پیشگوئی جو مسلمان قوم کو تعلق رکھتی ہے بہت ہی عظیم الشان ہے کیونکہ اسکے اجزاء یہ ہیں (۱) کہ مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری تین سال کی میعاد کے اندر فوت ہو (۲) اور پھر داماد اُس کا جو اُسکی دختر کلاں کا شوہر ہے اڑھائی سال کے اندر فوت ہو (۳) اور پھر یہ کہ مرزا احمد بیگ تا روز شادی دختر کلاں فوت نہ ہو (۴) اور پھر یہ کہ وہ دختر بھی تا نکاح اور تا ایام بیوہ ہونے اور نکاح ثانی کے فوت نہ ہو (۵) اور پھر یہ کہ یہ عاجز بھی ان تمام واقعات کے پورے ہونے تک فوت نہ ہو (۶) اور پھر یہ کہ اس عاجز سے نکاح ہو جائے۔ اور ظاہر ہے کہ یہ تمام واقعات انسان کے اختیار میں نہیں۔

اور اگر اب بھی یہ تمام ثبوت میاں عطا محمد صاحب کے لئے کافی نہ ہوں تو پھر طریق سہل یہ ہے کہ اس تمام رسالہ کو غور سے پڑھنے کے بعد بذریعہ کسی چھپے ہوئے اشتہار کے مجھ کو اطلاع دیں کہ میری تسلی ان اُمور سے نہیں ہوئی اور میں ابھی تک افترا سمجھتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ میری نسبت کوئی نشان ظاہر ہو تو میں انشاء اللہ القدیر اُنکے بارہ میں توجہ کرونگا اور میں یقین رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کسی مخالف کے مقابل پر مجھے مغلوب نہیں کریگا کیونکہ میں اُسکی طرف سے ہوں اور اُسکے دین کی تجدید کیلئے اُسکے حکم سے آیا ہوں لیکن چاہیے کہ وہ اپنے اشتہار میں مجھے عام اجازت دیں کہ جس طور سے میں اُنکے حق میں الہام پاؤں اُسکو شائع کر دوں اور مجھے تعجب ہے کہ جس حالت میں مسلمانوں کو کسی مجدّد کے ظاہر ہونے کے وقت خوش ہونا چاہیے یہ پیچ و تاب کیوں ہو اور کیوں اُنکو بُرا لگا کہ خدا تعالیٰ نے اپنے دین کی حُجت پوری کرنے کیلئے ایک شخص کو مامور کر دیا ہے لیکن مجھے معلوم ہوا ہے کہ حال کے اکثر مسلمانوں کی ایمانی حالت نہایت ردی ہوگئی ہے اور فلسفہ کی موجودہ زہر نے اُنکے اعتقاد کی بیخکنی کر دی ہے انکی زبانوں پر بیشک اسلام ہو لیکن دل اسلام سے بہت دُور جا پڑے

لہ از سے لیکر رکھتی ہے تک طبع بار دوم میں موجود نہیں۔ شمس

شہادت القرآن صفحہ 81 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 376 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 328 پر درج ہے

صفحہ 948

حوالہ نمبر 401

۳۱

اگر اب بھی عیسائی باز نہ آویں تو بہتر ہے کہ ہم اور اُن کے چند سرگروہ مباہلہ کے طور پر میدان میں آکر خدا کے انصاف سے فتویٰ لے لیں۔ جھوٹے پر بغیر تخصیص کسی فریق کے لعنت کرنا کسی مذہب میں ناجائز نہیں نہ ہم میں نہ عیسائیوں میں نہ یہودیوں میں۔ یہی وجہ ہے کہ پادری وایٹ برخشت شملہ جانے سے کچھ عرصہ پہلے چند اپنے عیسائیوں کے ساتھ قادیان میرے پاس آئے اور مجھے کہا کہ آتھم نہیں مرا۔ میں نے کہا کہ اُس نے اسلامی پیشگوئی سے ڈر کر پیشگوئی کی شرط سے فائدہ اُٹھایا۔ اور خود اقرار کیا کہ میں ڈرتا رہا اور ان حیلوں کا ثبوت نہ دے سکا جو ڈرنے کی وجہ ٹھہرائی۔ وایٹ نے کہا کہ لعنت اللہ علی الکاذبین۔ یعنی جھوٹوں پر لعنت ہو۔ میں نے کہا کہ بیشک جھوٹوں پر لعنت وارد ہوگی۔ اگر آتھم جھوٹا ہے یا میں تو خدا اس کا فیصلہ کر دیگا۔ چنانچہ تھوڑے عرصہ کے بعد اس لعنت کا اثر آتھم پر وارد ہو گیا۔

بقیہ حاشیہ کہ میں کذاب کہلا کر اپنی قوم کی طرف واپس نہیں جاؤں گا اور دوسری یہ دلیل ۔ دیکھو تفسیر در منثور تحت تفسیر آیت اذ ذهب مغاضبا ۔ اور دیکھو صفحہ ۱۲ اشتہار چہارم انعامی چار ہزار روپیہ * ہم اس جگہ حضرت میر صاحب کی منصف طبع سے پوچھتے ہیں کہ کیا آپ کہہ سکتے ہیں۔ کہ خدا کا یہ الہام جھوٹا نکلا اور نعوذ باللہ یونس کذاب تھا۔ اصل بات یہ ہے کہ قرآن کریم کا علم اکثر لوگوں سے جاتا رہا ہے اور بظاہر بعض ملّا بھی کہلاتے ہیں۔ مگر حدیثوں کے مغز سے ناواقف ہیں۔ ہم بار بار لکھ چکے ہیں ۔ کہ انہی قصوں کے لحاظ سے اہل سنت کا یہ عام عقیدہ ہے کہ وعید کی میعاد کی تاخیر کسی سبب توبہ یا خوف کی وجہ سے جائز ہے۔ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ مسلمان کہلا کر اور ان احادیث کو پڑھ کر پھر اُس پیشگوئی کی تکذیب کی جائے جو یونس کی پیشگوئی سے ہم شکل ہے اور ایسے امور میں اس عاجز کو کذاب ٹھہرایا جائے جن میں دوسرے انبیاء بھی شریک ہیں * میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیشگوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے اس کی انتظار کرو۔ اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی۔ اور اگر میں سچا ہوں تو خدا تعالیٰ ضرور اس کو بھی ایسا ہی پوری کر دے گا جیسا کہ احمد بیگ اور آتھم کی پیشگوئی پوری ہو گئی۔ اصل مدعا تو نفس مفہوم ہے۔ اور وقتوں میں تو کبھی امتداد تاخیر بھی دخل ہو جاتا ہے یہانتک کہ نبی کی بعض پیشگوئیوں میں دسوں سال بتلائے گئے ہیں۔ جو بات خدا کی طرف سے ٹھہر چکی ہے کوئی اس کو روک نہیں سکتا۔ ذرا شرم کرنی چاہیے کہ جس حالت میں خود احمد بیگ اس پیشگوئی کے مطابق میعاد کے اندر فوت ہو گیا اور وہ پیشگوئی کا اول جزو پورا ہوا تو پھر اگر ذرا بھی خوف ہو تو اس پیشگوئی کے نفس مفہوم میں شک نہ لاؤ۔ کیونکہ ایک وقوع یافتہ امر کی یہ دوسری شاخ ہے۔ جس حالت میں خدا اور رسولؐ

انجام آتھم صفحہ 31 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 31 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 328 پر درج ہے

صفحہ 949

(حوالہ نمبر 402)

۳۳۸

انّ البلاء علی عقبك ۱۸۹۳ء میں ہوا تھا۔ اس میں بھی شرط توبہ کی موجود تھی۔ اور الہام کذّبوا بآيٰتنا میں شرط کی طرف ایماء کر دیا تھا۔ پس جبکہ بغیر کسی شرط کے یونس کی قوم کا عذاب ٹل گیا۔ تو شرطی پیشگوئی میں ایسے خوف کے وقت میں کیوں تاخیر ظہور میں نہ آتی۔ یہ اعتراض کیسی بے ایمانی ہے جو تعصب کی وجہ سے کیا جاتا ہے۔ میں نے نبیوں کے حوالے بیان کر دیئے۔ حدیثوں اور آسمانی کتابوں کو آگے رکھ دیا۔ مگر یہ نابکار قوم ابھی تک حیا اور شرم کی طرف رُخ نہیں کرتی۔

یاد رکھو کہ اس پیشگوئی کی دوسری جز پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے

بدتر ٹھہروں گا۔ اے احمقو! یہ انسان کا افترا نہیں۔ یہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار نہیں۔ یقیناً سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں۔ وہی رب ذوالجلال جس کے ارادوں کو کوئی روک نہیں سکتا۔ اس کی سنتوں اور طریقوں کا تم میں علم نہیں رہا۔ اس لئے تمہیں یہ ابتلاء پیش آیا۔

براہین احمدیہ میں بھی اس وقت سے سترہ برس پہلے اس پیشگوئی کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ جو اسوقت میرے پر کھولا گیا ہے اور وہ یہ الہام ہے جو براہین کے صفحہ ۴۹۶ میں مذکور ہے ۔ يا آدم اسكن انت وزوجك الجنة ـ يا مريم اسكن انت وزوجك الجنة ـ يا احمد اسكن انت وزوجك الجنة ۔ اس جگہ تین جگہ زوج کا لفظ آیا۔ اور تین نام اس عاجز کے رکھے گئے۔ پہلا نام آدم ۔ یہ وہ ابتدائی نام ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے اس عاجز کو روحانی وجود بخشا۔ اس وقت پہلی زوجہ کا ذکر فرمایا۔ پھر دوسری زوجہ کے وقت میں مریم نام رکھا کیونکہ اس وقت مبارک اولاد دی گئی جس کو مسیح سے مشابہت ملی۔ اور نیز اس وقت مریم کی طرح کئی ابتلاء پیش آئے۔ جیسا کہ مریم کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے وقت یہودیوں کی بدظنیوں کا ابتلاء پیش آیا اور تیسری زوجہ جس کی انتظار ہے۔ اُس کے ساتھ احمد کا لفظ شامل کیا گیا۔ اور یہ لفظ احمد اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس وقت حمد اور تعریف ہوگی۔ یہ ایک چھپی ہوئی پیشگوئی ہے۔ جس کا بھید اسوقت خدا تعالیٰ نے مجھ پر کھول دیا۔ غرض یہ تین مرتبہ زوج کا لفظ تین مختلف نام کے ساتھ جو بیان کیا گیا ہے وہ اسی پیشگوئی کی طرف اشارہ تھا۔

۵۶

یہ حوالہ صفحہ 329 پر درج ہے انجام آتھم (ضمیمہ) صفحہ 54 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 338 از مرزا قادیانی

صفحہ 950

حوالہ نمبر 403

روحانی خزائن جلد 9 ۸۰

کو نہیں سمجھتے۔ انسان کی فطرت میں یہ بھی ایک خاصہ ہے کہ وہ باوجود شقی ازلی ہونے کے شدت خوف اور ہول کے وقت میں خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرلیتا ہے۔ لیکن اپنی شقاوت کی وجہ سے پھر دلاسا اور پانی پاکر اُس کا دل سخت ہو جاتا ہے جیسے فرعون کا دل ہر یک رہائی کے وقت سخت ہوتا رہا سو ایسے رجوع کا نام خدا تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں منافقانہ رجوع نہیں رکھا کیونکہ منافق کے دل میں کوئی سچا خوف نازل نہیں ہوتا اور اُس کے دل پر حق کا رعب اثر نہیں ڈالتا۔ لیکن اُس شقی کے دل میں راہ راست کی عظمت کو خیال میں لا کر ایک سچا خوف پیشگوئی کے سننے کے وقت میں بال بال میں بھر جاتا ہے گو چونکہ شقی ہے اس لئے یہ خوف اُسی وقت تک رہتا ہے جب تک نزول عذاب کا اُس کو اندیشہ ہوتا ہے اِس کی مثالیں قرآن کریم اور بائبل میں بکثرت ہیں چونکہ ہم نے رسالہ انوار الاسلام میں تفصیل لکھ دیا ہے غرض منافقانہ رجوع درحقیقت رجوع نہیں ہے لیکن جو خوف کے وقت میں ایک شقی کے دل میں وقتی طور پر ایک ہراس اور اندیشہ پیدا ہو جاتا ہے اُس کو خدا تعالیٰ نے رجوع میں ہی داخل رکھا ہے اور سُنت اللہ نے ایسے رجوع کو دنیوی عذاب میں تاخیر پڑنے کا موجب ٹھہرایا ہے گو اُخروی عذاب ایسے رجوع سے ٹل نہیں سکتا مگر دنیوی عذاب ہمیشہ ٹلتا رہا ہے اور دوسرے وقت پر پڑتا رہا ہے قرآن کو غور سے دیکھو اور جہالت کی باتیں مت کرو اور یاد رہے کہ آیۃ لَنْ یُّؤَخِّرَ اللّٰہُ نَفْسًا الخ اس مقام سے کچھ تعلق نہیں اس آیت کا تو وہ محل ہے کہ جب تقدیر مبرم آجاتی ہے ٹلتی نہیں کبھی اس جگہ بحث تقدیر معلق میں ہے جو مشروط بشرایط ہے جبکہ خدا تعالیٰ قرآن کریم میں آپ فرماتا ہے کہ میں استغفار اور تضرع اور خوف کے وقت میں عذاب کو کفار کے سر پر سے ٹال دیتا ہوں اور ٹالتا رہا ہوں پس اُس سے بڑھ کر سچا گواہ اور کون ہے جس کی شہادت قبول کی جائے :۔

(۷) ساتواں اعتراض یہ ہے اگر رجوع کے بعد عذاب ٹل سکتا ہے تو اب بھی

۱۰

انوار الاسلام صفحہ 10 مندرجہ روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 80 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 329 پر درج ہے

صفحہ 951

(حوالہ نمبر 404)

۴۵۲

کذاب ٹھہر چکا۔ جبکہ وہ سُن چکے تھے کہ قوم نے توبہ کی اور ایمان لے آئی ۔ پس اگر یہ شرط بھی ان کی وحی میں داخل ہوتی تو ان کو خوش ہونا چاہیے تھا کہ پیشگوئی پوری ہوئی نہ یہ کہ وہ وطن چھوڑ کر ایک بھاری مصیبت میں اپنے تئیں ڈالتے ۔ قرآن کا لفظ لولا اسی پر دلالت کر رہا ہے کہ وہ سخت ابتلا میں پڑے اور حدیث نے کیفیت ابتلا کی یہ بتلائی۔ پس اب بھی اگر کوئی شیخ و شاب منکر ہو تو یہ صریح اس کی گردن کشی ہے۔

اور ہم اس مضمون کو اس پر ختم کرتے ہیں کہ اگر ہم سچے ہیں تو خدا تعالیٰ ان پیشگوئیوں کو پورا کر دے گا اور اگر یہ باتیں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں تو ہمارا انجام نہایت بد ہوگا۔ اور ہرگز یہ پیشگوئیاں پوری نہیں ہوں گی رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنْتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ ۱؎ ۔ اور میں بالآخر دعا کرتا ہوں کہ اے خدائے قادر و علیم اگر آتھم کا عذاب مہلک میں گرفتار ہونا اور احمد بیگ کی دختر کلاں کا آخر اس عاجز کے نکاح میں آنا یہ پیشگوئیاں تیری طرف سے ہیں تو اُن کو ایسے طور سے ظاہر فرما جو خلق اللہ پر حجت ہو اور کور باطن حاسدوں کا منہ بند ہو جائے اور اگر اے خداوند یہ پیشگوئیاں تیری طرف سے نہیں ہیں تو مجھے نامرادی اور ذلت کے ساتھ ہلاک کر۔ اگر میں تیری نظر میں مردود اور ملعون اور دجال ہی ہوں جیسا کہ مخالفوں نے سمجھا ہے اور تیری وہ رحمت میرے ساتھ نہیں جو تیرے بندہ ابراہیم کے ساتھ اور اسحق کے ساتھ اور اسمعیل کے ساتھ اور یعقوب کے ساتھ اور موسیٰ کے ساتھ اور داؤد کے ساتھ اور عیسیٰ بن مریم کے ساتھ اور خیر الانبیاء محمد صلعم کے ساتھ اور اس اُمت کے اولیاء کرام کے ساتھ تھی تو مجھے فنا کر ڈال اور ذلتوں کے ساتھ مجھے ہلاک کر دے اور ہمیشہ کی لعنتوں کا نشانہ بنا اور تمام دشمنوں کو خوش کر اور ان کی دعائیں قبول فرما ، لیکن اگر تیری رحمت میرے ساتھ ہے اور تو ہی ہے جس نے مجھ کو مخاطب کر کے کہا أَنْتَ وَجِيْهٌ فِي حَضْرَتِي اخْتَرْتُكَ لِنَفْسِی اور تُو ہی ہے جس نے مجھ کو مخاطب کر کے کہا يَحْمَدُكَ اللهُ مِنْ عَرْشِہ ۔ اور تُو ہی ہے جس نے مجھ کو مخاطب کر کے کہا يَا عِيْسَى إِنِّيْ لَا يُضَاعُ وَقْتُكَ ۔ اور تو ہی ہے جس نے مجھ کو مخاطب کر کے کہا۔ أَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَہُ اور تو ہی ہے جس نے مجھ کو مخاطب کر کے کہا قُلْ إِنِّيْ أُمِرْتُ وَأَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ اور تُو ہی ہے جو غالباً مجھے ہر روز کہتا رہتا ہے أَنْتَ مَعِيْ وَ أَنَا مَعَكَ تو میری مدد کر اور میری حمایت کے لیے کھڑا ہو جا۔ رَبِّ اِنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ۔

راقم خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور مورخہ ۲۷؍ اکتوبر ۱۸۹۴ء

(تعداد اشاعت ۴۰۰۰) طبع بصیغہ رجسٹری (یہ اشتہار ۳۳۰/۲ کے صفحوں پر ہے)

۱؎ الاعراف: ۹۰

مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 452 طبع جدید از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 330 پر درج ہے

صفحہ 952

حوالہ نمبر 405 ۳۳۷

رکھتی تھی کہ ان لوگوں کو احمد بیگ کی وفات کے بعد اپنے عزیز داماد کی موت کا فکر کھانے لگا۔ اور اس طرح ہراساں ہو کر رجوع الی الحق کرتے۔ کیا انسان میں یہ خاصیت نہیں کہ چشم دید تجربہ اس پر سخت اثر ڈالتا ہے۔ سو در حقیقت ایسا ہی ہوا۔ احمد بیگ کی موت نے اس کے وارثوں کو خاک میں ملا دیا۔ اور ایسے غم میں ڈالا کہ گویا وہ مرگئے اور سخت خوف میں پڑگئے اور دعاؤں اور تضرع میں لگ گئے۔ سو ضرور تھا۔ کہ خدا تعالیٰ اس جگہ بھی تاخیر ڈالتا۔ جیسا کہ آتھم کے متعلق کی پیشگوئی میں تاخیر ڈالی۔ ہم عربی مکتوب میں لکھ چکے ہیں کہ یہ پیشگوئی بھی مشروط بہ شرط تھی اور ہم یہ بھی بار بار بیان کرچکے ہیں کہ وعید کی پیشگوئی بغیر شرط کے بھی تخلف پذیر ہو سکتی ہے جیسا کہ یونس کی پیشگوئی میں ہوا۔ ۱۲

سو چاہیئے تھا کہ ہمارے نادان مخالف انجام کے منتظر رہتے اور پہلے ہی سے اپنی بدگوہری تمام کرتے۔ بھلا جس وقت یہ سب باتیں پوری ہو جائیں گی۔ تو کیا اس دن یہ احمق مخالف جیتے ہی رہیں گے اور کیا اس دن یہ تمام اڑنے والے سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہوجائیں گے ان بیوقوفوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہیں رہے گی۔ اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی۔ اور ذلت کے سیاہ داغ اُن کے منحوس چہروں کو بندروں اور سؤروں کی طرح کر دیں گے۔ سُنو! اور یاد رکھو! کہ میری پیشگوئیوں میں کوئی ایسی بات نہیں کہ جو خدا کے نبیوں اور رسولوں کی پیشگوئیوں میں ان کا نمونہ نہ ہو۔ بیشک یہ لوگ میری تکذیب کریں۔ بیشک گالیاں دیں۔ لیکن اگر میری پیشگوئیاں نبیوں اور رسولوں کی پیشگوئیوں کے نمونہ پر ہیں تو اُن کی تکذیب اُنہیں پر لعنت ہے۔ چاہیئے کہ اپنی جانوں پر رحم کریں اور رُوسیاہی کے ساتھ نہ مریں۔ کیا یونس کا قصّہ اُنہیں یاد نہیں کہ کیونکر وہ عذاب ٹل گیا جس میں کوئی شرط بھی نہ تھی۔ اور اس جگہ تو شرطیں موجود ہیں۔ اور احمد بیگ کے جملہ وارث جن کی تنبیہ کے لئے یہ نشان تھا اُس کے مرنے کے بعد پیشگوئی سے ایسے متاثر ہوئے تھے کہ اس پیشگوئی کا نام لے لے کر روتے تھے اور پیشگوئی کی عظمت دیکھ کر اس گاؤں کے تمام مرد عورت کانپ اُٹھے تھے اور عورتیں چیخیں مار کر کہتی تھیں کہ ہائے وہ باتیں سچ نکلیں چنانچہ وہ لوگ اُس دن تک غم اور خوف میں تھے جبتک اُن کے داماد سلطان کی میعاد گذر گئی۔ پس اس تاخیر کا یہی سبب تھا جو خدا کی قدیم سنت کے موافق ظہور میں آیا۔ خدا کے الہام میں جو قویٰ قویٰ

* حاشیہ۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جیسا کہ احمد بیگ کے داماد کا مرنا شرط سے وابستہ تھا اور اس کے ڈرنے کی وجہ سے اس کی موت میں تاخیر پڑ گئی ۔ ایسا ہی آتھم کی موت بھی شرط سے وابستہ تھی۔ اور اس کے ڈرنے کی وجہ سے اس کی موت میں بھی تاخیر پڑگئی۔ منہ

* یہ اس پیشگوئی کی تصدیق کے لئے ہے جو رسالہ سراج منیر صفحہ ۴ میں طبع ہوچکی ہے کہ پیشگوئی فرمائی ہے کہ یتزوج و یولد لہ۔ یعنی وہ صحیح سلامت رہے گا اور نیز وہ صاحب اولاد ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ تزویج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں کیونکہ عام طور پر ہر ایک آدمی کرتا ہے اور اولاد

انجام آتھم صفحہ 337 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 337 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 330 پر درج ہے

صفحہ 953

حوالہ نمبر 406

۳۳۸

اِنْ لَمْ تَرْتَدَّ عَلٰی عَقِبَيْكَ ۱۸۹۳ء میں ہوا تھا، اس میں صریح شرط توبہ کی موجود تھی۔ اور الہام کَذٰلِكَ اَوْمَأْنَا اس شرط کی طرف ایماء کر رہا تھا۔ پس جبکہ بغیر کسی شرط کے یونس کی قوم کا عذاب ٹل گیا۔ تو شرطی پیشگوئی میں ایسے خوف کے وقت میں کیوں تاخیر ظہور میں نہ آتی۔ یہ اعتراض کیسی بے ایمانی ہے جو تعصب کی وجہ سے کیا جاتا ہے۔ میں نے نبیوں کے حوالے بیان کر دیئے۔ حدیثوں اور آسمانی کتابوں کو آگے رکھ دیا۔ مگر یہ نابکار قوم ابھی تک حیا اور شرم کی طرف رخ نہیں کرتی۔

یاد رکھو کہ اس پیشگوئی کی دوسری جزو پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے

بدتر ٹھہروں گا۔ اے احمقو یہ انسان کا افترا نہیں۔ یہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار نہیں۔ یقیناً سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں۔ وہی رب ذوالجلال جس کے ارادوں کو کوئی روک نہیں سکتا۔ اس کی سنتوں اور طریقوں کا تم میں علم نہیں رہا۔ اس لئے تمہیں یہ ابتلاء پیش آیا۔ براہین احمدیہ میں بھی اس وقت سے سترہ برس پہلے اس پیشگوئی کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ جو اسوقت میرے پر کھولا گیا ہے اور وہ یہ الہام ہے جو براہین کے صفحہ ۴۹۶ میں مذکور ہے ۔ يَا اٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ ۔ يَا مَرْيَمُ اسْكُنْ اَنْتِ وَزَوْجِكِ الْجَنَّةَ۔ يَا اَحْمَدُ اسْكُنْ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ ۔ اس جگہ تین جگہ زوج کا لفظ آیا۔ اور تین نام اس عاجز کے رکھے گئے۔ پہلا نام آدم۔ یہ وہ ابتدائی نام ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے اس عاجز کو روحانی وجود بخشا۔ اس وقت پہلی زوجہ کا ذکر فرمایا۔ پھر دوسری زوجہ کے وقت میں مریم نام رکھا کیونکہ اس وقت مبارک اولاد دی گئی جس کو مسیح سے مشابہت تھی۔ اور نیز اس وقت مریم کی طرح کئی ابتلاء پیش آئے جیسا کہ مریم کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے وقت یہودیوں کی نکتہ چینیوں کا ابتلاء پیش آیا اور تیسری زوجہ جس کی انتظار ہے۔ اُس کے ساتھ احمد کا لفظ شامل کیا گیا ۔ اور یہ لفظ احمد اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس وقت حمد اور تعریف ہوگی۔ یہ ایک چھپی ہوئی پیشگوئی ہے۔ جس کا سِتر اسوقت خدا تعالیٰ نے مجھ پر کھول دیا غرض یہ تین مرتبہ زوج کا لفظ تین مختلف نام کے ساتھ جو بیان کیا گیا ہے وہ اسی پیشگوئی کی طرف اشارہ تھا۔

۵۶

انجام آتھم صفحہ 54 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 338 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 331 پر درج ہے

صفحہ 954

حوالہ نمبر 407

۲۴۷

کہتی تھی کہ ان لوگوں کو احمد بیگ کی وفات کے بعد اپنے عزیز داماد کی موت کا فکر کھانے لگا ۔ اور اس طرح ہراساں ہو کر رجوع الی الحق کرتے ۔ کیا انسان میں یہ خاصیت نہیں کہ چشم دید تجربہ اس پر سخت اثر ڈالتا ہے ۔ سو در حقیقت ایسا ہی ہوا ۔ احمد بیگ کی موت نے اس کے وارثوں کو خاک میں ملا دیا ۔ اور ایسے غم میں مبتلا کر دیا کہ وہ مرگئے اور سخت خوف میں پڑ گئے اور دعاؤں اور تضرع میں لگ گئے ۔ سو ضرور تھا کہ خدا تعالیٰ اس جگہ بھی تاخیر ڈالتا ۔ جیسا کہ آتھم کے متعلق کی پیشگوئی میں تاخیر ڈالی ۔ ہم عربی مکتوب میں لکھ چکے ہیں کہ یہ پیشگوئی بھی مشروط بہ شرط تھی اور ہم یہ بھی بار بار بیان کر چکے ہیں کہ وعید کی پیشگوئی بغیر شرط کے بھی تخلف پذیر ہو سکتی ہے جیسا کہ یونس کی پیشگوئی میں ہوا ۔ ٭

سو چاہئے تھا کہ ہمارے نادان مخالف انجام کے منتظر رہتے اور پہلے ہی سے اپنی بدگوہری ظاہر نہ کرتے ۔ بھلا جس وقت یہ سب باتیں پوری ہو جائیں گی۔ تو کیا اس دن یہ احمق مخالف جیتے ہی رہیں گے اور کیا اس دن یہ تمام لڑنے والے سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہو جائیں گے جن بیوقوفوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہیں رہے گی ۔ اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی ۔ اور ذلت کے سیاہ داغ اُن کے منحوس چہروں کو ہندوؤں اور چماروں کی طرح کر دیں گے۔ سنو! اور یاد رکھو کہ میری پیشگوئیوں میں کوئی ایسی بات نہیں کہ جو خدا کے نبیوں اور رسولوں کی پیشگوئیوں میں ان کا نمونہ نہ ہو۔ بیشک یہ لوگ میری تکذیب کریں۔ بیشک گالیاں دیں۔ لیکن اگر میری پیشگوئیاں نبیوں اور رسولوں کی پیشگوئیوں کے نمونہ پر ہیں تو اُن کی تکذیب جہنم میں لیجانے کا رستہ ہے۔ چاہئے کہ اپنی جانوں پر رحم کریں اور رُوسیاہی کے ساتھ نہ مریں۔ کیا یونس کا قصہ انہیں یاد نہیں۔ کیا وہ عذاب ٹل گیا جس میں کوئی شرط بھی نہ تھی۔ اور اس جگہ تو شرطیں موجود ہیں۔ اور احمد بیگ کے احمق وارث جن کی تنبیہ کے لئے یہ نشان تھا اُس کے مرنیکے بعد پیشگوئی سے ایسے متاثر ہوئے تھے کہ اس پیشگوئی کا نام لے لے کر روتے تھے اور پیشگوئی کی عظمت دیکھ کر اس گاؤں کے تمام مرد عورت کانپ اُٹھے تھے۔ اور عورتیں چیخیں مار کر کہتی تھیں کہ ہائے وہ باتیں سچ نکلیں۔ چنانچہ وہ لوگ اُس دن تک غم اور خوف میں تھے جب تک اُن کے داماد سلطان محمد کی میعاد گذر گئی۔ پس اس تاخیر کا یہی سبب تھا جو خدا کی قدیم سنت کے موافق ظہور میں آیا ۔ خدا کے الہام میں جو تعلیق تھی

٭ اس پیشگوئی کی تصدیق کے لئے جناب مولوی عبداللہ صاحب غزنوی نے اپنے مکاشفہ سے ایک پیشگوئی فرمائی ہے کہ یہ یقیناً پوری ہو گی ۔ یعنی وہ پیشگوئی پوری کر دیگا اور نیز وہ صاحبزادہ جو غائب ہے ۔ ظاہر ہے کہ تدرج اور ارادہ کا ذکر کہ عاطفہ پر مقصود نہیں کیونکہ عام طور پر ہر ایک شے کی حرکت اور ارادہ

ہو سکتی ہے مگر وعید کی پیشگوئی میں کسی تاخیر کا ظہور یا کسی وقت کا ملتوی ہو جانا اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ وہ پیشگوئی جھوٹی ہے بلکہ وہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس میں توبہ یا استغفار یا صدقہ یا دعا نے کچھ اثر کیا ہے اور وعید کی پیشگوئی میں یہ بات ضروری نہیں کہ وہ اپنے وقت پر پوری ہو جائے بلکہ اس میں تاخیر ہو سکتی ہے ۔ چنانچہ یونس علیہ السلام کی پیشگوئی اس کی ظاہر دلیل ہے۔

انجام آتھم صفحہ 337 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 337 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 331 پر درج ہے

صفحہ 955

حوالہ نمبر 408

۲۹۹

جو خوف اور رجوع سے دوسرے وقت پر جا پڑتی ہے جیسا کہ تمام قرآن اس پر شاہد ہے لیکن نفس پیشگوئی یعنی اس عورت کا اس عاجز کے نکاح میں آنا یہ تقدیر مبرم ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی کیونکہ اس کے لیے الہام الٰہی میں یہ فقرہ موجود ہے کہ لا تبدیل لکلمات اللہ یعنی میری یہ بات ہرگز نہیں ٹلے گی۔ پس اگر ٹل جائے تو خدا تعالیٰ کا کلام باطل ہوتا ہے۔ سو ان دنوں کے بعد جب خدا تعالیٰ ان لوگوں کے دلوں کو دیکھے گا کہ سخت ہو گئے اور انہوں نے اس ڈھیل اور مہلت کا قدر نہ کیا جو چند روز تک ان کو دی گئی تھی تو وہ اپنی پاک کلام کی پیشگوئی پوری کرنے کے لیے متوجہ ہوگا اور اسی طرح کریگا جیسا کہ اس نے فرمایا کہ میں اس عورت کو اس کے نکاح کے بعد واپس لاؤں گا اور تجھے دوں گا اور میری تقدیر کبھی نہیں بدلے گی اور میرے آگے کوئی بات انہونی نہیں اور میں سب روکوں کو اُٹھا دوں گا جو اس حکم کے نفاذ سے مانع ہوں۔ اب اس عظیم الشان پیشگوئی سے ظاہر ہے کہ وہ کیا کیا کرے گا اور کون کون سی قہری قدرت دکھلائے گا اور کس کس شخص کو روک کی طرح سمجھ کر اس دُنیا سے اُٹھائے گا۔ یہ وہ پیشگوئی ہے جو قریباً سات برس سے شائع ہو چکی ہے اور اس وقت سے بذریعہ اشتہارات شائع ہے جبکہ احمد بیگ کی دختر کا سلطان محمد سے نامزد بھی نہیں ہوا تھا بلکہ کسی کے خیال میں بھی نہیں تھا کہ اس جگہ ناطہ ہوگا۔ سو خدا نے دو روکیں تو اس عورت کے نکاح کے بعد اُٹھا لیں یعنی احمد بیگ اور اس کی وہ ہمشیرہ کو جو سخت مانع تھی اس دُنیا سے اُٹھا لیا۔ باقی جو کچھ خدا تعالیٰ کریگا لوگ دیکھیں گے۔ یہ نشان ہے جو ایسے لوگوں کو دیا جائے گا جو ہماری قوم اور کنبہ سے خدا سے اور خدا کے دین سے منکر اور اس غفلت خانہ سے محبت لگائے بیٹھے ہیں لیکن اب بہتیرے جاہل اس میعاد گزرنے کے بعد ہنسی کریں گے اور اپنی بد نصیبی سے صادق کا نام کاذب رکھیں گے لیکن وہ دن جلد آتے جاتے ہیں کہ جب یہ لوگ شرمندہ ہوں گے اور حق ظاہر ہوگا اور سچائی کا نور چمکے گا اور خدا تعالیٰ کے غیر متبدل وعدے پورے ہو جائیں گے۔ کیا کوئی زمین پر ہے جو ان کو روک سکے یا بد بخت انسان بدبختی کی طرف جلدی کرتا ہے۔ اور حلیم طبیعت اور عمیق فکر کے ساتھ نہیں سوچتا۔ اے بدفطرتو! اپنی فطرتیں دکھلاؤ ۔ تہمتیں بھیجو، ٹھٹھے کرو اور صادقوں کا نام کاذب اور دروغگو رکھو، لیکن عنقریب دیکھو گے کہ کیا ہوتا ہے۔ تم ہم پر لعنت کرو تا فرشتے تم پر لعنت کریں ۔ میں نے

لے نوٹ:۔ جاننا چاہیے کہ اسلامی پیشگوئیوں میں منجملہ سماوی علوم کے ایک علم تعبیر کا بھی ہے جو دنیا کی ہستیوں اور علامتوں سے باہر نہیں ہوسکتیں اور جو لوگ دین کی نسبت کچھ دعوے ظاہر کریں ان پر فرض ہے کہ ہمہ تن طالبانہ فہم ان کو حاصل ہو کیونکہ پیشگوئیاں الٰہی سنت کے زیر سایہ چلتی ہیں۔ منہ

یہ حوالہ صفحہ 332 پر درج ہے مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 399 طبع جدید از مرزا قادیانی

صفحہ 956

حوالہ نمبر 409 (۸)

۱۸۹۳ء " وَ فَعَلَ الرَّبُّ وَقَالَ إِنَّا مُهْلِكُوْا اَهْلِهَا كَمَا اَهْلَكْنَا آبَاءَهَا وَرَادُّوْهَا اِلَيْكَ . اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ . وَمَا نُؤَخِّرُهُ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ. قُلْ تَرَبَّصُوا الْاَجَلَ وَاِنِّي مَعَكُمْ مِّنَ الْمُتَرَبِّصِيْنَ . وَاِذَا جَاءَ وَعْدُ الْحَقِّ اَهٰذَا الَّذِيْ كُذِّبْتُمْ بِهِ اَوْ كُنْتُمْ عَمِيْنَ “

(آئینہ کمالات اسلام صفحہ ۵۷۹ - روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۵۷۹)

۱۸۹۳ء اِنِّي رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَاَنِّي اَسْرَجْتُ جَوَادِي لِبَعْضِ مَرَامِي وَمَا اَدْرِي اَيْنَ تَرْمِي بِي وَ اَنّى اُتِمُّ مَطْلَبِي. وَ كُنْتُ اُحِسُّ فِي قَلْبِي اَشْيَاءَ لِاَمْرٍ مِّنَ الْمُتَشَوِّقِيْنَ - فَامْتَطَيْتُ الْجَوَادَ بِامْتِشَاقِ بَعْضِ السِّلَاحِ مُتَوَكِّلًا عَلَى اللّٰهِ كَسِيْرَةِ اَهْلِ الصَّلَاحِ - وَلَمْ اَكُنْ بِالْمُتَبَاطِئِيْنَ . ثُمَّ وَجَدْتُ فِيْ قَلْبِي كَاَنِّي عَثَرْتُ عَلَى خَبَرِ قَصْدٍ مِّنْ مُّتَسَلِّحِيْنَ دَارِي لِاِهْلَاكِي وَتَبَارِي وَ كَاَنَّهُمْ يَجِيْشُوْنَ لِاِضْرَارِي مُتَحَزِّبِيْنَ وَ كُنْتُ وَحِيْدًا مَّعَ ذٰلِكَ وَاَيْقَنْتُ اَنِّي لَا اَلْبَسُ مِنْ خَوْذٍ غَيْرَ عُدَدٍ وَّجَدْتُهَا مِنَ اللّٰهِ تَعَوُّذًا . وَقَدْ اَنِفْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْقَاعِدِيْنَ وَالْمُتَخَلِّفِيْنَ الْخَاطِئِيْنَ فَانْطَلَقْتُ مُجِدًّا اِلَى جِهَةٍ مِّنَ الْجِهَاتِ -

۱؎ (ترجمہ از مرتب) اور میرے ربّ نے مجھے مبارکباد دی اور فرمایا، ہم اس کے خاندان کو (بھی) ہلاک کریں گے جیسا کہ ہم نے اس کے باپ کو ہلاک کیا اور اس (لڑکی) کو تیری طرف لوٹائیں گے، تیرے ربّ کی طرف سے (یہ) سچ ہے۔ پس تو شک کرنے والوں میں سے نہ ہو۔ اور ہم اسے صرف گنتی کی مدّت کے لئے تاخیر کر رہے ہیں۔ کہہ اس عرصہ تک تم اور میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔ اور جب خدا کا وعدہ آئے گا (تب کہا جائے گا) کیا یہ وہی ہے جس کو تم نے جھٹلایا تھا یا تم اندھے تھے۔

۲؎ (ترجمہ از مرتب) اور ایک مرتبہ میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میں نے کسی مقصد کے لئے جانے کی غرض سے اپنے گھوڑے پر زین ڈالی ہے اور یہ بات میں نہیں جانتا تھا کہ کدھر اور کس مقصد کے لئے جانے کی تیاری کر رہا ہوں۔ ہاں میں اپنے دل میں محسوس کر رہا تھا کہ میں کسی خاص بات کے شغف اور اشتیاق کی وجہ سے یہ تیاری کر رہا ہوں۔ اور میں نے کچھ ہتھیار لگا لئے اور صالحین کے طریق کے مطابق اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کر کے چستی کے ساتھ گھوڑے پر سوار ہو گیا۔ اس کے بعد میں نے ایسا محسوس کیا کہ گویا مجھے کچھ دشمنوں کا پتہ لگا ہے جو مسلح ہیں اور مجھے ہلاک کرنے کی غرض سے میرے مکان پر چڑھائی کر کے آئے ہیں اور میں تنہا ہوں اور ان کی جمعیت سے سوا ان کے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے پناہ کے طور پر دئے گئے تھے کوئی خود وغیرہ بچاؤ کا سامان میرے پاس نہیں تھا۔ اور میرا ارادہ مقابلہ سے پیچھے ہٹ رہنا اور بزدلانہ اندیشوں میں رہنا بھی گوارا نہ ہوا۔ اس لئے میں اپنے اس اہم مقصد کے لئے جو میرے پیشِ نظر

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 181 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 332 پر درج ہے

صفحہ 957

حوالہ نمبر 410

۱۹۸

مِنَ الْغَيْبِ ۔ اَنْظُرْ اِلٰی یُوْسُفَ وَاِقْبَالِہٖ ۔ وَاللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰۤی اَمْرِہٖ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ ۔ اَرَدْتُّ اَنْ اَسْتَخْلِفَ فَخَلَقْتُ اٰدَمَ لِیُقِیْمَ الشَّرِیْعَةَ وَیُحْيِیَ الدِّیْنَ ۔ كِتَابُ الْوَلِیِّ ذُوْ الْفَقَارِ عَلِيٌّ ۔ وَلَوْ كَانَ الْاِيْمَانُ مُعَلَّقًا بِالثُّرَیَّا لَنَالَهُ رَجُلٌ مِّنْ اَبْنَاءِ الْفَارِسِ ۔ یَكَادُ زَیْتُہٗ یُضِیْءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ ۔ جُنْدِيُّ اللّٰهِ فِيْ حُلَلِ الْمُرْسَلِیْنَ ۔ قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ ۔ وَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ سَیِّدِ وُلْدِ اٰدَمَ وَخَاتَمِ النَّبِیّٖنَ ۔ یَرْحَمُكَ رَبُّكَ وَیَعْصِمُكَ مِنْ عِنْدِہٖ وَاِنْ لَّمْ یَعْصِمْكَ النَّاسُ ۔ یَعْصِمُكَ اللّٰهُ مِنْ عِنْدِہٖ وَاِنْ لَّمْ یَعْصِمْكَ اَحَدٌ مِّنْ اَهْلِ الْاَرْضِیْنَ ۔ تَبَّتْ یَدَا اَبِيْ لَهَبٍ وَّتَبَّ ۔ مَا كَانَ لَہٗ اَنْ یَّدْخُلَ فِیْهَا اِلَّا خَائِفًا وَمَا اَصَابَكَ فَمِنَ اللّٰهِ وَاعْلَمْ اَنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِیْنَ ۔ وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَكَ الْاَقْرَبِیْنَ ۔ اِنَّا سَنُرِيْهِمْ اٰیَةً مِّنْ اٰیَاتِنَا فِي الْقُبَّةِ وَنُورِدُهَا اِلَیْكَ اَمْرًا مِّنْ لَّدُنَّا اِنَّا كُنَّا فَاعِلِیْنَ ۔ اِنَّهُمْ كَانُوْا یُكَذِّبُوْنَ بِاٰیَاتِيْ وَكَانُوْا لِيْ مِنَ الْمُسْتَهْزِئِیْنَ ۔ فَبُشْرٰی لَكَ فِي النِّكَاحِ ۔ اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ ۔ اِنَّا تَزَوَّجْنَاهَا ۔ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِ اللّٰهِ ۔ وَاِنَّا رَادُّوْهَا اِلَیْكَ اِنَّ رَبَّكَ

کہ پاک اور پلید میں فرق کر کے نہ دکھلاوے۔ یوسف اور اس کے اقبال کی طرف دیکھ ۔ اللہ تعالیٰ اپنے امر پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ میں نے چاہا کہ میں خلیفہ بناؤں پس میں نے آدم کو پیدا کیا تاکہ وہ شریعت کو قائم کرے اور دین کو زندہ کرے۔ ولی کی کتاب علی کی ذوالفقار ہے۔ اور اگر ایمان ثریا سے لٹکا ہوتا تو ابناءِ فارس میں سے ایک شخص اُسے وہاں سے بھی لے آتا۔ قریب ہے کہ اس کا تیل روشن ہو جائے اگرچہ آگ اُسے چھوئی بھی نہ ہو۔ اللہ کا رسول تمام رسولوں کے لباس میں۔ کہہ اگر تم خدا سے محبت رکھتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تا خدا بھی تم سے محبت رکھے۔ اور محمد پر اور محمد کی آل پر درود بھیج جو تمام بنی آدم کا سردار اور خاتم النبیین ہے۔ تیرا ربّ تجھ پر رحمت کرے گا اور اپنی جناب سے تیری حفاظت کا سامان کرے گا اگرچہ لوگ تیری حفاظت نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ اپنی جناب سے تیری حفاظت کرے گا اگرچہ رُوئے زمین کے لوگوں میں سے کوئی بھی تیری حفاظت نہ کرے۔ ابو لہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ ہلاک ہو گیا۔ اس کو نہیں چاہیئے تھا کہ وہ اس کام میں (یعنی تکفیر اور تکذیب میں) دخل دیتا مگر ڈرتے ہوئے۔ جو مجھ پر آئے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور جان لے کہ نیک انجام متقیوں کا ہوتا ہے۔ اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو آنے والے عذاب سے ڈرا۔ ہم انہیں اس قُبہ کے متعلق بھی اپنا ایک نشان دکھائیں گے اور اسے تیری طرف لائیں گے یہ امر ہماری جناب سے مقدر ہو چکا ہے اور ہم ہی کرنے والے ہیں۔ یہ لوگ میرے نشانوں کو جھٹلاتے تھے اور مجھ پر تمسخر کرتے تھے۔ پس تجھے نکاح کے متعلق بشارت ہو۔ حق بات تیرے ربّ کی طرف سے ہے پس تو شک کرنے والوں میں سے مت ہو۔ ہم نے اس کو تیرے ساتھ ملا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی باتیں ٹل نہیں سکتیں اور ہم اسے

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 198 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 332 پر درج ہے

صفحہ 958

حوالہ نمبر 411

روحانی خزائن جلد۹

۱۲۴

سے ٹل گیا اب فرمائیے شیخ جی ابھی تسلی ہوئی یا کچھ کسر ہے ظاہر ہے کہ اگر وحی قطعی عذاب کی نہ ہوتی اور کوئی دوسرا پہلو ایمان لانے کا قوم کو بتلایا ہوتا تو وہ میدان میں ایسی درد ناک صورت اپنی نہ بناتے بلکہ شرط کے ایفاء پر عذاب ٹل جانے کے وعدہ پر مطمئن ہوتے ایسا ہی اگر حضرت یونس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے علم ہوتا کہ ایمان لانے سے عذاب ٹل جائے گا تو وہ کیوں کہتے کہ اب میں اُس قوم کی طرف نہیں جاؤں گا کیونکہ میں اُن کی نظر میں کذاب ٹھہر چکا جبکہ وہ سُن چکے تھے کہ قوم نے توبہ کی اور ایمان لے آئی پس اگر یہ شرط بھی اُن کی وحی میں داخل ہوتی تو اُن کو خوش ہونا چاہیئے تھا کہ پیشگوئی پوری ہوئی نہ یہ کہ وہ وطن چھوڑ کر ایک بھاری مصیبت میں اپنے تئیں ڈالتے قرآن کا لفظ فظن اسی پر دلالت کر رہا ہے کہ وہ سخت ابتلا میں پڑے اور حدیث نے کیفیت ابتلا کی یہ بتلائی پس اب بھی اگر کوئی شیخ و شاب منکر ہو تو یہ صریح اُس کی گردن کشی ہے۔

اور ہم اس مضمون کو اِس پر ختم کرتے ہیں کہ اگر ہم سچے ہیں تو خدا تعالیٰ ان پیشگوئیوں کو پورا کر دے گا۔ اور اگر یہ باتیں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں تو ہمارا انجام نہایت بد ہو گا اور ہرگز یہ پیشگوئیاں پوری نہیں ہوں گی۔ ربنا افتح بيننا وبين قومنا بالحق وانت خير الفاتحين اور میں بالآخر دعا کرتا ہوں کہ اے خدائے قادر و علیم اگر آتھم کا عذاب مہلک میں گرفتار ہونا اور احمد بیگ کی دختر کلاں کا آخر اس عاجز کے نکاح میں آنا یہ پیشگوئیاں تیری طرف سے نہیں تو ان کو ایسے طور پر ظاہر فرما جو خلق اللہ پر حجت ہو اور کور باطن حاسدوں کا منہ بند

بقیہ حاشیہ: اپنے انجام کو نہیں سوچتا اور یاد رہے کہ اسی معنی سے عیسائیوں کے کفارہ کی بھی بیخ کٹ گئی کیونکہ یونس کی قوم پیشتر اپنی توبہ اور استغفار سے بچ گئی اور یونس تو یہی چاہتا تھا کہ اُن پر عذاب نازل ہو۔ منہ

۱؎ الاعراف : ۹۰

۲۸

یہ حوالہ صفحہ 333 پر درج ہے انوارالاسلام صفحہ 28، 29 مندرجہ روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 124، 125 از مرزا قادیانی

صفحہ 959

روحانی خزائن جلد 9

حوالہ نمبر 411

۱۲۵

ہو جائے۔ اور اگر اے خدا وند یہ پیشگوئیاں تیری طرف سے نہیں ہیں تو مجھے نامرادی اور ذلت کے ساتھ ہلاک کر اگر میں تیری نظر میں مردود اور ملعون اور دجال ہی ہوں جیسا کہ مخالفوں نے سمجھا ہے اور تیری وہ رحمت میرے ساتھ نہیں جو تیرے بندہ ابراہیم کے ساتھ اور اسحاق کے ساتھ اور اسمٰعیل کے ساتھ اور یعقوب کے ساتھ اور موسیٰ کے ساتھ اور داؤد کے ساتھ اور مسیح ابن مریم کے ساتھ اور خیر الانبیاء محمدؐ کے ساتھ اور اس امت کے اولیاء کرام کے ساتھ تھی تو مجھے فنا کر ڈال اور ذلتوں کے ساتھ مجھے ہلاک کر دے اور ہمیشہ کی لعنتوں کا نشانہ بنا اور تمام دشمنوں کو خوش کر اور ان کی دعائیں قبول فرما لیکن اگر تیری رحمت میرے ساتھ ہے اور تو ہی ہے جس نے مجھ کو مخاطب کر کے کہا انت وجیہ فی حضرتی اخترتک لنفسی اور تو ہی ہے جس نے مجھ کو مخاطب کر کے کہا یحمدک اللہ من عرشہ اور تو ہی ہے جس نے مجھ کو مخاطب کر کے کہا یا عیسیٰ الذی لا یضاع وقتہ اور تو ہی ہے جس نے مجھ کو مخاطب کر کے کہا الیس اللہ بکاف عبدہ اور تو ہی ہے جس نے مجھ کو مخاطب کر کے کہا قل انی امرت وانا اول المومنین اور تو ہی ہے جو غالباً مجھے ہر روز کہتا رہتا ہے انت معی وانا معک تو میری مدد کر اور میری حمایت کے لئے کھڑا ہو جا وانی مغلوب فانتصر۔

راقم خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور ۲۷؍ اکتوبر ۱۸۹۷ء

۲۹

انوار الاسلام صفحہ 28، 29 مندرجہ روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 124، 125 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 333 پر درج ہے

صفحہ 960

(حوالہ نمبر 412)

يُرِيدُونَ اَنْ يُطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَاللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُوْنَ

چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں مگر اللہ اس کو پورا کر کے چھوڑیگا گو کافر برا مانیں

۸۹۴۵

۱۴۴۵

مَنْظُورِ اِلٰهِي

سیدنا و مرشدنا حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی

مسیح موعود و مہدی معہود مجدد صدی چہار دہم علیہ الصلوٰۃ والسلام

کے ملفوظات بترتیب تاریخ

مرتبہ و شائع کردہ

خاکسار محمد منظور الٰہی ممبر احمدیہ انجمن اشاعت اسلام

احمدیہ بلڈنگس لاہور

۱۳۴۴ ھ

تعداد جلد ۱/پانصدم

مطبوعہ مفید عام پریس لاہور باہتمام لالہ موتی رام منیجر چھپی

اخبار الحکم قادیان 10 اگست 1901ء صفحہ 14 کالم 3، کتاب منظور الٰہی صفحہ 244 تا 246 از محمد منظور الٰہی قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 334 پر درج ہے

صفحہ 961

حوالہ نمبر 412

۲۴۴

نہیں کر سکتا جس کے لئے میں بھیجا گیا ہوں ۔ برسات میں تو راستہ گزرنے کے قابل بھی نہیں ہوتا ۔ مطبع کے پروف اور کاپیاں میں خود ہی دیکھتا ہوں ۔ کاتب دونوں کو دن میں چار پانچ مرتبہ میرے پاس آنا پڑتا ہے ۔ اس بیماری کی وجہ سے پابندی نہیں ہو سکتی جس سے حرج ہوتا ہے ۔ کام میں توقف ہوتا ہے میرے لنگر خانہ کا خرچ کبھی ہزار کبھی پندرہ سو اور کبھی دو ہزار روپیہ ماہانہ ہوتا ہے ۔ اور مطبع کا مستقل خرچ اڑھائی سو روپیہ ماہوار ہے۔ میں ازروئے حلف کہتا ہوں یاد رہے باہر جانے کا راستہ اسی طرف سے تھا ۔ جہاں دیوار ہے ۔ میں استغاثہ کو عموماً پسند نہیں کرتا ہوں کیونکہ باتوں میں جھوٹ ضرور مل جایا کرتا ہے اس لحاظ سے کہ مبنی بر علم و دلیل کسی حال میں ہو ہمیشہ اوپر ہی رہتا ہے ۔ مدعا علیہ چونکہ میرے ساتھ قریباً انیس بائیس سال سے عداوت ہے ۔ عداوت کی ایک وجہ یہ ہے ۔ کہ مرزا امام الدین کی ہمشیرہ میرزا اعظم بیگ کے لڑکے مرزا اکبر بیگ سے بیاہی گئی تھی ۔ اور میرزا اعظم بیگ قادیان کی اراضی کا حصہ دار ہوا تھا ۔ اُس نے اُن لوگوں کے حصے خریدے ۔ جو بے دخل تھے۔ ایک وجہ عداوت کی یہ بھی ہے جو بڑی وجہ ہے۔ کہ مرزا نظام الدین خدا اور رسول کے خلاف کتابیں لکھتا ہے ۔ چنانچہ وہ محض مفسد ہے و کافر ۔ جس میں مجھکو اور صحابہؓ کو برا کہا گیا ہے۔ اُس میں چھوٹی مسجد کا ذکر ہے ۔ اُسکے حاشیہ صفحہ ۳۳ پر یہ بات میں اسی مسجد کا ذکر ہے۔ یہ کتاب ۱۸۸۴ء میں لکھی گئی ۔ شحنہ حق بھی میری کتاب ہے ۔ آریوں کے خلاف ہے ۔ ست بچن اور آریہ دھرم میری تصنیف ہیں ۔ یہ اشتہار مورخہ ۲ جمادی الثانی ۱۳۱۵ھ میرا ہی ہے ۔ جو مرزا نظام الدین کے خلاف ہے ۔ یہ اشتہار ۲۸ مئی ۱۸۹۹ء امہات المومنین کے متعلق جسے گورنمنٹ میں بھیجا تھا۔ اور شائع کیا تھا ۔ در سوال مدعا علیہ یہ کہا کہ کبھی سیر کو جاتا ہوں اور کبھی نہیں جاتا ۔ عموماً صبح کے وقت جاتا ہوں شام کو کبھی شاذ و نادر ہی جاتا ہوں ۔ میری بیوی کو مراق کی بیماری ہے ۔ کبھی کبھی وہ میرے ساتھ ہوتی ہے ۔ کیونکہ طبی اصول کے مطابق اُسکے لئے کھلی ہوا مفید ہے۔ اُن کے ساتھ چند خادمہ عورتیں بھی ہوتی ہیں اور پردہ کا پورا التزام ہوتا ہے ۔ خادمہ عورتیں مراد خدمتگار عورتیں ہیں ۔ پندرہ سولہ عورتیں ہیں ۔ چند فارغ خدمتگار مل کر ساتھ لے لیتی ہیں یہ بات عام نہیں ہے۔ بلکہ علاج کے طور پر ہے ۔ اس میں دو چار مرتبہ ایسا اتفاق ہوتا ہے ۔ کبھی کوئی اور ضعیفہ عورتیں بھی ساتھ چلی جاتی ہیں ۔ تو ہم مانع نہیں ہوتے ۔ ہم باغ میں رات کو نہیں لیجاتے ۔ ہاں میں نے اپنے لڑکوں کو حکم دیا کہ وہ بندوقیں لیجاویں ۔ ہم باغ تک جاتے ہیں۔ اور پھر واپس آجاتے ہیں ۔ احمد بیگ کی دختر کی نسبت جو پیشینگوئی ہے وہ اشتہار میں درج ہے اور ایک مطبوعہ امر ہے

اخبار الحکم قادیان 10 اگست 1901ء صفحہ 14 کالم 3 و کتاب منظور الہی صفحہ 244 تا 246 از محمد منظور الہی قادیانی یہ حوالہ صفحہ 334 پر درج ہے

صفحہ 962

حوالہ نمبر 412

۲۴۵

وہ مرزا امام الدین کی ہمشیرہ زادی ہے۔ جو خط بنام مرزا احمد بیگ کلمنشیلا ۔ حمامی میں ہے۔ وہ میرا ہے کہ اور سچ ہے۔ وہ عورت میرے سے نکاح میں نہیں گئی ۔ مگر میرے ساتھ اُسکا بیاہ ضرور ہو گا ۔ جیسا کہ پیشگوئی میں درج ہے۔ وہ سلطان محمد سے بیاہی گئی جب کہ پیشگوئی میں تھا ۔ میں سچ کہتا ہوں کہ اِسی عدالت میں جہاں اُن باتوں پر جو میری طرف سے نہیں ہیں بلکہ خدا کی طرف سے ہیں ہنسی کی گئی ہے۔ ایک وقت آتا ہے کہ عجیب اثر پڑیگا۔ اور سبکے ندامت سے سرنیچے ہونگے پیشگوئی کے الفاظ سے صاف معلوم ہوتا ہے۔ اور یہی پیشگوئی تھی۔ کہ وہ دوسرے کے ساتھ بیاہی جائیگی ۔ اُس لڑکی کے باپ کے مرنے اور خاوند کے مرنے کی پیشگوئی شرطی تھی ۔ اور شرط توبہ اور رجوع الی اللہ کی تھی ۔ لڑکی کے باپ نے توبہ نہ کی ۔ اسلئے وہ بیاہ کے بعد چند مہینوں کے اندر مرگیا ۔ اور پیشگوئی کی دوسری جز پوری ہو گئی ۔ اسکا خوف اسکے خاندان پر پڑا۔ اور خصوصاً شوہر پر پڑا ۔ جو پیشگوئی کا ایک جز تھا اُنہوں نے توبہ کی ۔ چنانچہ اسکے رشتہ داروں اور عزیزوں کے خط بھی آئے ۔ اسلئے خدا تعالیٰ نے اُسکو مہلت دی ۔ عورت ابتک زندہ ہے ۔ میرے نکاح میں وہ عورت ضرور آئیگی ۔ کیونکہ یہی یقین کامل ہے ۔ یہ خدا کی باتیں ہیں ۔ ٹلتی نہیں۔ ہو کر رہینگی ۔ اُنکو عزائیل کی نسبت موت کا الہام تھا ۔ عبداللہ آتھم ۔ لیکھرام ۔ احمد بیگ ۔ سلطان محمد ۔ ان میں سے اب صرف سلطان محمد زندہ ہے ۔ عبداللہ آتھم اگرچہ ظاہری نگاہ میں میعاد کے اندر نہیں مرا اُسکی نسبت شرطیہ الہام تھا۔ چونکہ اُسنے ظاہری میعاد کے اندر توبہ کر لی ۔ اُسکو مہلت دی گئی ۔ اُسکے بعد اُسنے اخفائے حق کیا ۔ پھر میرے اشتہار کے بعد وہ بہت جلد مر گیا ۔ اب آتھم کہاں ہے ۔ اُسے لاؤ ۔ احمد بیگ اپنی میعاد کے اندر مرگیا ۔ لیکھرام بھی میعاد کے اندر مرگیا ۔ مَیں نے ڈپٹی کے سامنے لکھ دیا تھا ۔ کہ آئندہ کسی کی نسبت موت کا الہام شائع نہیں کروں گا ۔ جبتک کہ وہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سے اجازت نہ لے لیوے ۔ وہ آریہ جسکا نام میرے اشتہار میں متعلقہ پیشگوئی مرزا نظام الدین درج ہے۔ اُس کا نام یاد نہیں ہے ۔ ایک شاید بشنداس ہے دوسرے کا نام شاید بھارمل ہے ۔ بعض علماء نے میری نسبت کفر کا فتویٰ دیا ہے ۔ اور ہندوؤں نے مجھے مطعون کیا ہے ۔ اور اُن میں سے بھی جنہوں نے کفر کا فتویٰ دیا تھا ۔ بعض توبہ کر کے میرے پاس آتے جاتے ہیں ۔ ( الحکم جلد ۷ نمبر ۴۲ ) ۔

مندرجہ بالا بیان دے چکنے کے بعد جب آپ کٹہرہ عدالت سے باہر تشریف لائے تو فرمایا :- معلوم ہوتا ہے ۔ کہ اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا زمانہ آگیا ۔ اگر ہم ہزار روپیہ بھی خرچ کرتے اور آرزو

اخبار الحکم قادیان 10 اگست 1901ء صفحہ 14 کالم 3 ۔ کتاب منظور الٰہی صفحہ 244 تا 246 از محمد منظور الٰہی قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 334 پر درج ہے

صفحہ 963

حوالہ نمبر 412

۲۶۶

کہتے۔ کہ یہ عدالت کے کاغذات میں درج ہو جاوے۔ اور اس طرح پر تین پیشینگوئیاں ہو جاویں تو کبھی بھی نہ ہوتا۔ یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے۔ اور اسکی باتیں عجیب ہوتی ہیں۔ اب عدالت کے کاغذات سے کون اسکو مٹا سکے گا۔ جب پیشگوئی پوری ہو گی۔ کیا ان دو پیشینگوئیوں پر اس کا اثر نہ پڑیگا۔ ضرور ہی پڑیگا۔ جیسے لیکھرام کی پیشگوئی کی بہت شہرت ہو گئی تھی ۔ اسی طرح اسکی شہرت ہو گئی ہے۔ اور یہ بہت ہی اچھا ہوا۔ کہ عدالت کے کاغذات میں درج ہو گئی۔ (الحکم جلد ۵ نمبر ۴۱) ۔

اُسی دن شام کو سیر کے وقت ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب نے عرض کی۔ کہ مہتہ جی جسونت رام سیٹھی پلیڈر اور اُسکے چند دوست آپ سے کچھ دریافت کرنا چاہتے ہیں اگر اجازت ہو ۔ تو وہ شام کے بعد آ جائیں آپنے فرمایا۔ ہاں بیشک اُن کو بُلا لو۔ مغرب و عشا کی نمازیں جمع کر کے پڑھ لینے کے بعد مہتہ جی جسونت صاحب تحصیلدار امیر سنگھ صاحب معہ سر رشتہ دار ڈسٹرکٹ جج ومنشی فیض الرحمٰن صاحب ٹریژری کلرک و دو ایک اور کے ہمراہ آ گئے (الحکم جلد ۵ عدد ۲۲) اپنے دعوٰی پر سلسلہ گفتگو شروع کرنے سے پیشتر آپنے فرمایا :۔ دو دن سے مجھے سخت تکلیف ہیضہ و پیچش کی وجہ سے اگرچہ میں اِس قابل نہ تھا۔ کہ کوئی گفتگو کر سکوں۔ مگر زندگی کا کوئی اعتبار نہیں۔ اِس لئے میں نے مناسب سمجھا۔ کہ آپکو اپنی شہادت ادا کرنے میں مدد دوں اور وہ بات آپ تک پہنچا دوں جو میں لیکر آیا ہوں۔ اصل میں بات یہ ہے کہ خدا تعالےٰ کے کام دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک تو وہ جو ہر روز لوگوں کی نظر میں ہوتے ہیں۔ اور جنکو وہ دیکھتے ہیں۔ اور دوسری ایک اور قسم بھی خدا تعالٰے کے کاموں کی ہے۔ جو کبھی کبھی ظاہر ہوتی ہے چونکہ وہ کام کبھی کبھی ہوتے ہیں اسلئے لوگوں کی نظروں میں عجیب ہوتے ہیں۔ اور ان کا سمجھنا لوگوں کے لئے مشکل نظر آتا ہے۔ مگر سمجھدار آدمی تعصب سے خالی ہو کر اُن پر غور کرتے ہیں۔ تو خدا تعالٰے بھی اُنکے لئے ایک راہ پیدا کر دیتا ہے۔ اور وہ اُن کو سمجھ لیتے ہیں اور ان سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ کج فہم ۔ ضدی اور متعصب اُن پر توجہ نہیں کرتے ۔ اور خدا تعالےٰ کے خوف کو مدنظر رکھ کر اُن پر غور کرنے کی ضرورت نہیں سمجھتے نتیجہ یہ ہوتا ہے۔ کہ وہ ان فوائد سے محروم رہ جاتے ہیں۔ خدا تعالےٰ کے ان عجیب و غریب کاموں میں سے سب سے بڑا کام اُسکے نبیوں ۔ رسولوں اور ماموروں کا آنا ہے۔ یہ لوگ ایسی زمین پر چلتے پھرتے ہیں۔ اور عام آدمیوں کی طرح بشری حوائج اور کمزوریوں سے مستثنےٰ نہیں ہوتے۔ کوئی اوپری اور انوکھی بات اُن میں ایک زمانہ تک پائی نہیں جاتی ۔ اسلیئے جب وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں۔ کہ ہم خدا تعالےٰ کی طرف سے آئے ہیں۔ اور خدا تعالیٰ ہم سے کلام کرتا ہے۔ یا وہ واقعات آئندہ کے متعلق غیبی طور سے خبر پا کر کچھ بولتے ہیں ۔ تو لوگ اُن کی ان باتوں پر تعجب کرتے ہیں۔ سعادت مند اور رشید لوگ

اخبار الحکم قادیان 10 اگست 1901ء صفحہ 14 کالم 3، کتاب منظور الٰہی صفحہ 244 تا 246 از محمد منظور الٰہی قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 334 پر درج ہے

صفحہ 964

حوالہ نمبر 413 سراج منیر ۲۷

عمداً اپنے ایمان کو برباد کرنا نہیں چاہتا۔ پھر اگر ایسی سازش میں بفرض محال کوئی مُرید شریک ہو تو تمام مُریدوں میں یہ بات کیونکر پوشیدہ رہ سکتی ہے۔ اور ظاہر ہے کہ ہماری جماعت میں بڑے بڑے معزز داخل ہیں بی اے۔ اور ایم اے اور تحصیلدار اور ڈپٹی کلکٹر اور اکسٹرا اسسٹنٹ اور بڑے بڑے تاجر۔ اور ایک جماعت علماء و فضلاء تو کیا یہ تمام اُمّیّوں اور بدمعاشوں کا گروہ ہے ؟ ہم بآواز بلند کہتے ہیں کہ ہماری جماعت نہایت نیک چلن اور مہذب اور پرہیزگار لوگ ہیں۔ کہاں ہے کوئی ایسا پلید اور لعنتی ہمارا مُرید جس کا یہ دعویٰ ہو کہ ہم نے اُس کو لیکھرام کے قتل کے لئے مامور کیا تھا ؟ ہم ایسے مُرشد کو اور ساتھ ہی ایسے مُرید کو کتّوں سے بدتر اور نہایت ناپاک زِندگی والا خیال کرتے ہیں کہ جو اپنے گھر سے پیشگوئیاں بنا کر پھر اپنے ہاتھ سے اپنے مکر سے اپنے فریب سے اُن کے پُوری ہونے کے لئے کوشش کرے اور کرا وے ۔

پس افسوس کہ اخبار پنجاب سماچار مطبوعہ ۱۰ مارچ میں سازش کا الزام جو ہم پر لگایا ہے یہ کس قدر سچائی کا خون ہے۔ مَیں صاحبِ اخبار سے پوچھتا ہوں کہ آپ لوگوں میں بھی بڑے بڑے اَوتار گزرے ہیں۔ جیسے راجہ رامچندر صاحب۔ اور راجہ کرشن صاحب۔ کیا آپ لوگ اُن کی نسبت یہ گمان کر سکتے ہیں کہ اُنہوں نے پیشگوئی کر کے پھر اپنی عزّت رکھنے کے لئے ایسا حیلہ کیا ہو کہ کسی اپنے چیلہ کی منّت خوشامد کی ہو کہ اُس کو اپنی کوشش سے پُوری کر کے میری عزّت رکھ لے اور پھر اُن کے چیلے اُن کو اچھا آدمی سمجھتے ہوں ۔ ہاں یہ تو ہو سکتا ہے کہ ایک بدمعاش ڈاکو کے ساتھ اور چند بدمعاش جمع ہوں اور ایسے کام خفیہ طور پر کریں ۔ لیکن اِس میرے مُریدوں کے سلسلے میں جسکے ساتھ مہدی موعود اور مسیح موعود ہونے کا دعویٰ بھی بڑے زور سے ہے یہ حرامزدگی کے کام میل نہیں کھا سکتے ۔ ہر ایک مُرید اس بلند دعوے کو دیکھ کر نہایت اعلیٰ سے اعلیٰ پرہیز گاری کا نمونہ دیکھنا چاہتا ہے۔ پس کیونکر ممکن ہے کہ دعویٰ تو یہ ہو کہ مَیں وقت کا عیسیٰ ہوں اور جھوٹی پیشگوئیوں کو اِس طرح پر پُورا کرانا چاہے کہ مُریدوں کے آگے ہاتھ جوڑے کہ مجھ سے قصور ہو گیا میری پردہ پوشی کرو جاؤ آپ مرو اور کسی طرح میری پیشگوئی سچی کرو۔ کیا ایسا مُردار ایک پاک جماعت

۲۵

یہ حوالہ صفحہ 336 پر درج ہے سراج منیر صفحہ 25 مندرجہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 27 از مرزا قادیانی

صفحہ 965

حوالہ نمبر 414

۲۸۹

چنگا بھلا پھرتا تھا لیکن آسمان پر اس کے لیے ہلاکت کا حکم ہو چکا تھا۔ اس واسطے یہ بات ایسے طور پر بیان کی گئی کہ یہ کام ہو چکا ہے۔ پہلے ایک معاملہ آسمان پر ہو جاتا ہے اور پھر زمین پر اس کا ظہور ہوتا ہے۔ ایسا ہی ہمارا الہام عَفَّتِ الدِّيَارُ مَحَلُّهَا وَمُقَامُهَا کے متعلق ہے مگر اگرچہ گیارہ ماہ پہلے یہ زلزلہ کی پیشگوئی تھی تاہم چونکہ آسمان پر یہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ زلزلہ ضرور آئے گا اس واسطے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مکانات عارضی اور مستقل سب گر گئے اور نشان مٹ گئے۔ جو لوگ مثلاً یہ عیسائیوں کے ہمدرد نکلد وغیرہ اعتراض کرتے ہیں وہ اس محاورہ سے ناواقف اور جاہل ہیں یا جان بوجھ کر تعصب کے ساتھ ضد کرتے ہیں۔ اور یہ محاورہ سب زبانوں میں پایا جاتا ہے۔ آتھم کے متعلق جب ہم نے پیشگوئی کی تھی تو اس نے اس مجلس میں کہا تھا کہ میں تو مر گیا۔ باوجود عیسائی ہونے کے وہ ادب کا بہت لحاظ رکھتا تھا اور یہی سبب تھا کہ وہ خوفزدہ رہا اور میعاد کے اندر مرنے سے بچ گیا۔ ابولہب کے متعلق صریح پیشگوئی کی گئی تھی کہ وہ ہلاک ہو گیا۔ حالانکہ وہ جنگ بدر کے بعد طاعون سے مرا تھا۔

فرمایا :

روح و ریحان سے مراد ہر قسم کی آسائش اور آسودگی ہوتی ہے۔

مبارک منہ سے مبارک الفاظ سننا

(مورخہ ۴؍ جولائی ۱۹۰۵ء)

بوقت ۸ بجے آپ باہر تشریف لائے۔ شیخ رحمت اللہ صاحب نو وارد اور مولوی صاحبان اور دیگر احباب محفل موجود تھے۔ ادھر اُدھر کی باتوں میں آپ نے فرمایا کہ :

دیکھو خدا کے مرسلین اور مامورین کبھی بزدل نہیں ہوا کرتے بلکہ سچے مومن بھی بزدل نہیں ہوتے بزدلی ایمان کی کمزوری کی نشانی ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم پر مصیبتوں نے ہجوم کئے۔ مگر انہوں نے کبھی بزدلی نہیں دکھائی۔ خدا تعالیٰ اُن کی نسبت فرماتا ہے : مِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهُ وَ مِنْهُمْ مَّنْ يَّنْتَظِرُ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِيْلًا (الاحزاب: ۲۳) یعنی جس پیمان پر انہوں نے مُہرِ دستِ بیعت دی تھی اس کو بعض نے تو نبھا دیا اور بعض منتظر ہیں کہ کب موقعہ ملے اور

۱؎ یہ عبارت بدر نمبر ۱۸ صفحہ ۳ مورخہ ۵ مئی ۱۹۰۵ء - (یہ حصہ بتاتا ہے کہ یہ پرچہ ۴ اپریل کے بعد شائع ہوا ہے جس وجہ سے کہ کانگڑہ کی تباہی کی خبر اس میں چھپی ہے۔ (مرتب)

۲؎ اصل ڈائری پر تاریخ نہیں لکھی۔ اندازاً ۴ یا ۵ یا ۶ مئی ۱۹۰۵ء معلوم ہوتی ہے۔ ان دنوں میں شیخ رحمت اللہ صاحب گجراتی بھی موجود تھے۔ (مرتب)

یہ حوالہ صفحہ 342 پر درج ہے ملفوظات جلد چہارم صفحہ 286 طبع جدید از مرزا قادیانی

صفحہ 966

حوالہ نمبر 415

۶۵۰

فروری ۱۸۹۲ء

حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول بیان فرماتے تھے کہ :۔

"ایک دفعہ کسی بحث کے دوران میں حضرت مسیح موعودؑ سے کسی محدث نے کوئی حوالہ طلب کیا ...... حضرت صاحبؑ نے بخاری کا ایک نسخہ منگوایا اور جونہی اس کی ورق گردانی شروع کر دی ، اور جلد جلد ایک ایک ورق اُس کا اُلٹانے لگ گئے اور آخر ایک جگہ پہنچ کر آپ ٹھہر گئے اور کہا یہ لو ، دیکھنے والے سب حیران تھے کہ یہ کیا ماجرا ہے اور کسی نے حضرت صاحبؑ سے دریافت بھی کیا جس پر حضرت صاحبؑ نے فرمایا کہ ”جب میں نے کتاب ہاتھ میں لے کر ورق اُلٹانے شروع کئے تو مجھے کتاب کے صفحات ایسے نظر آتے تھے کہ گویا وہ خالی ہیں اور اُن پر کچھ نہیں لکھا ہوا اسی لئے میں اُن کو جلد جلد اُلٹاتا گیا ، آخر مجھے ایک صفحہ نظر آیا جس پر کچھ لکھا ہوا تھا اور مجھے یقین ہوا کہ یہ وہی حوالہ ہے جس کی مجھے ضرورت ہے“

(سیرت المہدی حصہ دوم روایت ۳۳۸ صفحہ ۴۶۷)

۱۸۹۷ء

(الف) حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے خطبہ جمعہ میں فرمایا

”ملکہ وکٹوریہ کے زمانہ میں خدا تعالیٰ نے خبر دے دی :۔

"سلطنت برطانیہ تا ہشت سال + بعد ازاں ضعف و فساد و اختلال"

اور یہ آٹھ سال جاکر ملکہ وکٹوریہ کی وفات پر پورے ہوگئے“

(الفضل جلد ۱۶ نمبر ۸۶ مورخہ ۱۵؍ اپریل ۱۹۲۹ء صفحہ ۵)

(ب) حافظ حامد علی صاحب نے مجھ سے کہا کہ ...... ان دنوں میں حضرت صاحب کو الہام ہوا ہے :۔

"سلطنت برطانیہ تا ہشت سال + بعد ازاں ایام ضعف و اختلال"

(سیرت المہدی حصہ اوّل صفحہ ۷۹ روایت نمبر ۹۶ ایڈیشن دوم)

۱؎ مکرم شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی لکھتے ہیں : جہاں تک میری یاد مساعدت کرتی ہے ...... یہ واقعہ لاہور میں ہوا تھا مولوی عبدالحکیم صاحب کلانوری سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ”محدثیت اور نبوت“ پر بحث ہورہی تھی ...... حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے محدثیت کی حقیقت بیان کرتے ہوئے بخاری کی اس حدیث کا حوالہ دیا جس میں حضرت عمرؓ کی محدثیت پر استدلال تھا ۔ مولوی عبدالحکیم صاحب کے ساتھیوں میں سے مولوی احمد علی صاحب نے حوالہ کا مطالبہ کیا اور بخاری خود کھینچ لی۔ مولوی محمد احسن صاحب نے حوالہ نکالنے کی کوشش کی مگر نہ نکلا ۔ آخر حضرت مسیح موعودؑ نے خود نکال کر پیش کیا ...... جب حضرت صاحب نے یہ حدیث نکال کر دکھا دی تو فریق مخالف پر گویا ایک بُہت وارد ہوگئی ...... اسی پر مباحثہ ختم کردیا “

(سیرت المہدی حصہ سوم صفحہ ۲۰۵)

۲؎ ملکہ وکٹوریہ کا انتقال ۲۲؍ جنوری ۱۹۰۱ء میں ہوا ۔ (مرتب)

یہ حوالہ صفحہ 343 پر درج ہے

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات طبع چہارم صفحہ 650 از مرزا قادیانی

صفحہ 967

حوالہ نمبر 416

ٹائیٹل طبع اول ۱۷۷ کشف الغطاء

اے قادرِ خدا ! اِس گورنمنٹ عالیہ انگلشیہ کو ہماری طرف سے نیک جزا دے اور اِس سے نیکی کر جیسا کہ اس نے ہم سے نیکی کی۔ آمین۔

كَشْفُ الغِطَاءِ

یعنے

ایک اسلامی فرقہ کے پیشوا مرزا غلام احمد قادیانی کی طرف سے

بحضور گورنمنٹ عالیہ اس فرقہ کے حالات اور خیالات کے بارے میں اطلاع اور نیز اپنے خاندان کا کچھ ذکر اور اپنے مشن کے اصولوں اور ہدایتوں اور تعلیموں کا بیان اور نیز ان لوگوں کی خلاف واقعہ باتوں کا ردّ جو اِس فرقہ کی نسبت غلط خیالات پھیلانا چاہتے ہیں

اور یہ مؤلّف

تاجِ عزّت جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کا واسطہ ڈال کر بحضرت گورنمنٹ عالیہ انگلشیہ کے اعلیٰ افسروں اور معزز حکام سے بادب گذارش کرتا ہے کہ براہِ غریب پروری و کرم گستری اس رسالہ کو اوّل سے آخر تک پڑھا یا سُن لیا جائے۔

یہ رسالہ تالیف ہو کر ۲۷؍ دسمبر ۱۸۹۸ء کو مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں باہتمام حکیم فضل الدین صاحب مالک مطبع کے مطبوع ہوا۔

تعداد ۲۵۰

کشف الغطاء صفحہ 38 تا 40 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 177 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 343 پر درج ہے

صفحہ 968

(حوالہ نمبر 417) کشف الغطاء ۲۱۴

ضمیمہ رسالہ ہذا

قابل توجہ گورنمنٹ

مجھے اس رسالہ کے لکھنے کے بعد محمد حسین بٹالوی صاحب اشاعۃ السنہ کے ایڈیٹر کی تالیف ایک رسالہ ملا جس کو اُس نے مطبع وکٹوریہ پریس لاہور میں چھاپ کر بماہِ ستمبر ۱۸۹۸ء میں شائع کیا ہے ۔ اس رسالہ کے دیکھنے سے مجھے بہت افسوس ہوا کیونکہ اس نے اس میں میری نسبت اور نیز اپنے اعتقاد مہدی کے آنے کی نسبت نہایت قابل شرم جھوٹ سے کام لیا ہے اور سراسر افتراء سے کوشش کی ہے کہ مجھے گورنمنٹ عالیہ کی نظر میں باغی ٹھہراوے لیکن اس صحیح اور سچے مقولہ کے رو سے کہ کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں جو آخر ظاہر نہ ہو میں یقین رکھتا ہوں کہ ہماری زیرک اور روشن دماغ گورنمنٹ جلد معلوم کرلے گی کہ اصل حقیقت کیا ہے۔

اوّل امر جو محمد حسین نے خلاف واقعہ اپنے اس رسالہ میں میری نسبت گورنمنٹ میں پیش کیا ہے یہ ہے کہ وہ گورنمنٹ عالیہ کو اطلاع دیتا ہے کہ یہ شخص گورنمنٹ عالیہ کیلئے خطرناک ہے یعنی بغاوت کے خیالات دل میں رکھتا ہے۔ لیکن میں زور سے کہتا ہوں کہ اگر میں ایسا ہی ہوں تو اس نمکحرامی اور بغاوت کی زندگی سے اپنے لئے موت کو ترجیح دیتا ہوں۔ میں ادب سے توجہ دلاتا ہوں کہ گورنمنٹ عالیہ میری نسبت اور میری تعلیم کی نسبت جہاں تک ممکن ہو کامل تحقیقات کرے اور میری جماعت کے ان معزز عہدہ داروں اور دیسی افسروں اور رئیسوں اور دوسرے معزز اور تعلیمیافتہ لوگوں سے جن کی ایک لاکھ تک تعداد ہے

یہ ص 344 پر درج ہے

صفحہ 969

حوالہ نمبر 417

۲۱۵ کشف الغطاء

مطلقاً دریافت کرے کہ میں نے اس محسن گورنمنٹ کی نسبت کیا کیا ہدایتیں ان کو دی ہیں اور کس کس تاکید سے اس گورنمنٹ کی اطاعت کے لئے وصیتیں کی ہیں اور نیز گورنمنٹ اس مولوی یعنی محمد حسین کی اس شہادت کو غور سے دیکھے جو اس نے اپنی اشاعۃ السنہ میں جس کا ذکر اس رسالہ میں ہو چکا ہے میری کتاب براہین احمدیہ کے ریویو کی تقریب پر میرے خیالات اور میرے والد صاحب مرزا غلام مرتضیٰ کے خیالات کی نسبت جو گورنمنٹ انگریزی کے متعلق ہیں اپنے ہاتھ سے لکھی ہے۔ اور نیز میری ان تحریروں کو جو برابر انیس سال سے گورنمنٹ عالیہ کی تائید میں شائع ہو رہی ہیں غور سے ملاحظہ فرماوے اور ہر ایک پہلو سے میری نسبت تحقیقات کرے۔ پھر اگر میرے حالات گورنمنٹ کی نظر میں مشتبہ ہوں تو میں بدل چاہتا ہوں کہ گورنمنٹ سخت سے سخت سزا مجھ کو دیوے لیکن اگر بغیر ان حالات کے برخلاف یہ تمام رپورٹیں گورنمنٹ میں محمد حسین مذکور نے پہنچائی ہیں تو میں ایک وفادار اور خیر خواہ جان نثار رعیت ہونے کی وجہ سے گورنمنٹ عالیہ میں تمامتر ادب دادخواہ ہوں کہ محمد حسین سے مطالبہ ہو کہ کیوں اُس نے ان صحیح واقعات کے برخلاف گورنمنٹ کو خبر دی ۔ جن کو وہ اپنے ریویو براہین احمدیہ میں تسلیم کر چکا ہے۔ یہاں تک کہ اُس نے بارہ سال تک برابر اس پہلی رائے کے برخلاف کوئی رائے ظاہر نہ کی اور اب دشمنی کے ایام میں مجھے باغی قرار دیا ہے حالانکہ میں نے اس محسن گورنمنٹ کی خیر خواہی میں اُنیس سال تک اپنے قلم سے وہ کام لیا ہے اور ایسے طور سے ممالک دور دراز تک گورنمنٹ کی انصاف بخشی کی تعریفوں کو پہنچایا ہے کہ میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ اس کارروائی کی نظیر دوسروں کے کارناموں میں ہرگز نہیں ملے گی۔ میرے پاس وہ الفاظ نہیں جن سے میں اپنی عاجزانہ عرض گورنمنٹ پر ظاہر کروں کہ مجھے اس شخص کے ان خلاف واقعہ کلمات سے کس قدر صدمہ پہنچا ہے اور کیسے درد رسان زخم لگے ہیں۔ افسوس کہ اس شخص نے عمداً اور دانستہ گورنمنٹ کی خدمت میں میری نسبت نہایت ظلم سے بھرا ہوا جھوٹ بولا ہے۔ اور میری تمام خدمات کو برباد کرنا چاہا ہے۔ اس دعوے کی میرے پاس پختہ وجوہات اور کامل شہادتیں اور گواہ موجود ہیں۔ میں امید رکھتا ہوں کہ بوجہ اس کے کہ میں ایک

۲۹

کتاب کشف الغطاء ص 38، 40 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 214 تا 216 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 344 پر درج ہے

صفحہ 970

حوالہ نمبر 417

کشف الغطاء ۲۱۶

وفادار خاندان میں سے ہوں جنہوں نے اپنے مال سے اور جان سے گورنمنٹ پر اپنی اطاعت ثابت کی ہے ۔ میری اس درد ناک فریاد کو یہ محسن گورنمنٹ غور سے توجہ فرمائیگی اور جھوٹ بولنے والے کو تنبیہ کرے گی ۔

دوسرا امر جو اسی رسالہ میں محمد حسین نے لکھا ہے وہ یہ ہے کہ گویا میں نے کوئی الہام اس مضمون کا شائع کیا ہے کہ گورنمنٹ عالیہ کی سلطنت آٹھ سال کے عرصہ میں تباہ ہو جائے گی ۔ میں اس بہتان کا جواب بجز اس کے کیا لکھوں کہ خدا جھوٹے کو تباہ کرے ۔ میں نے ایسا الہام ہرگز شائع نہیں کیا ۔ میری تمام کتابیں گورنمنٹ کے سامنے موجود ہیں میں بادب گذارش کرتا ہوں کہ گورنمنٹ اس شخص سے مطالبہ کرے کہ کس کتاب یا خط یا اشتہار میں میں نے ایسا الہام شائع کیا ہے ؟ اور میں امید رکھتا ہوں کہ گورنمنٹ عالیہ اُس کے اس فریب سے خبردار رہے گی کہ یہ شخص اپنے اس جھوٹے بیان کی تائید کے لئے یہ تدبیر نہ کرے کہ اپنی جماعت اور اپنے گروہ میں سے ہی جو مجھ سے اختلاف مذہب کی وجہ سے دلی عناد رکھتے ہیں جھوٹے بیان بطور شہادت گورنمنٹ تک پہنچا دے ۔ اس شخص اور اس کے ہم خیال لوگوں کی میرے ساتھ کچھ آمد و رفت اور ملاقات نہیں، تا میں نے ان کو کچھ زبانی کہا ہو ۔ میں جو کچھ کہنا چاہتا ہوں ۔ اپنی کتابوں میں اور اشتہاروں میں شائع کرتا ہوں ۔ اور میرے خیالات اور میرے الہامات معلوم کرنے کے لئے میری کتابیں اور اشتہارات متکفل ہیں اور میری جماعت کے بقیہ حاشیہ ۲۹ معززین گواہ ہیں ۔ غرض میں بادب التماس کرتا ہوں کہ ہماری گورنمنٹ عالیہ اس خلاف واقعہ مخبری کا اس شخص سے مطالبہ کرے ۔ کپتان ڈگلس صاحب سابق ڈپٹی کمشنر ضلع گورداسپور مقدمہ ڈاکٹر کلارک میں جو میرے پر دائر ہوا تھا لکھ چکے ہیں کہ یہ شخص مجھ سے عداوت رکھتا ہے اسی لئے جھوٹ بولنے سے کچھ بھی پرہیز نہیں کرتا ۔

تیسرا امر جو اسی رسالہ میں محمد حسین نے لکھا ہے یہ ہے کہ یہ شخص مسیح موعود ہونے کا جھوٹا دعویٰ کرتا ہے ۔ اس کے جواب میں اتنا لکھنا کافی ہے کہ جس طرح انبیاء علیہم السّلام

۴۰

کشف الغطاء صفحہ 38 تا 40 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 214 تا 216 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 344 پر درج ہے

صفحہ 971

حوالہ نمبر 418

۷۵

درخت کے پتوں کیطرف دیکھئے کیسے خوشنما ہیں۔ حاجی صاحب کہتے ہیں کہ شیخ اس وقت دیکھا کہ آپکی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں۔

491) بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ بیان کیا ہم سے حاجی عبدالمجید صاحب نے کہ ایک دفعہ جب ازالہ اوہام شایع ہوئی ہے۔ حضرت صاحب لدھیانہ میں باہر چہل قدمی کے لئے تشریف لے گئے ۔ میں اور حافظ حامد علی ساتھ تھے۔ رات میں حافظ حامد علی نے مجھ سے کہا کہ آج رات یا کل یا ان دنوں میں حضرت صاحب کو الہام ہوا ہے کہ سلطنت برطانیہ تاہشت سال بعد ازاں ایام ضعف و اختلال ۔ خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ اس مجلس میں جس میں حاجی عبدالمجید صاحب نے یہ روایت بیان کی میاں عبداللہ صاحب سنوری نے بیان کیا کہ میرا خیال میں یہ الہام اس زمانہ سے بھی پرانا ہے حضرت صاحب نے خود مجھے اور حافظ حامد علی کو یہ الہام سنایا تھا۔ اور مجھے الہام اس طرح پر یاد ہے :۔ سلطنت برطانیہ تا ہشت سال ۔ بعد ازاں ایام خلاف و اختلال ۔ "میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے تھے کہ دوسرا مصرع تو مجھے پتھر کی لکیر کی طرح یاد ہے کہ یہی تھا۔ اور ہشت کا لفظ بھی یاد ہے۔ جب یہ الہام ہمیں حضرت صاحب نے سنایا تو اسوقت مولوی محمد حسین بٹالوی مخالف نہیں تھا۔ شیخ حامد علی نے اسے بھی جا سنایا۔ پھر جب وہ مخالف ہوا۔ تو اسنے حضرت صاحب کے خلاف گورنمنٹ کو بدظن کرنے کے لئے اپنے رسالہ میں شایع کیا۔ کہ مرزا صاحب نے یہ الہام شایع کیا ہے خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ میاں عبداللہ صاحب اور حاجی عبدالمجید صاحب کی روایت میں جو اختلاف ہے۔ وہ اگر کسی صاحب کے ضعف حافظہ پر مبنی نہیں۔ تو یہ بھی ممکن ہے کہ یہ الہام حضور کو دو وقتوں میں دو مختلف قرأتوں پر ہوا ہو۔ واللہ اعلم۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس الہام کے مختلف معنی کئے گئے ہیں۔ بعضوں نے تاریخ الہام سے میعاد شمار کی ہے۔ بعضوں نے کہا ہے کہ ملکہ وکٹوریہ کی وفات کے بعد سے اسکی میعاد شمار ہوتی ہے۔ کیونکہ ملکہ کے لیئے حضور نے بہت دعائیں کی تھیں۔ بعض اور معنے کرتے ہیں۔ میاں عبداللہ صاحب کہتے تھے ۔ کہ میرے نزدیک آغاز صدی بیسویں سے اسکی میعاد شروع ہوتی ہے۔ چنانچہ وہ کہتے تھے۔ کہ واقعات اسکی تصدیق کرتے ہیں۔ اور

سیرت المہدی حصہ اول صفحہ 76,75 از مرزا بشیر احمد ایم اے

یہ حوالہ صفحہ 347 پر درج ہے

صفحہ 972

حوالہ نمبر 418

۷۹

واقعات کے ظہور کے بعد ہی میں نے اسکے یہ معنے سمجھے ہیں۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ میرے نزدیک یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ حضرت صاحب کی وفات سے اسکی میعاد شمار کی جاوے۔ کیونکہ حضرت صاحب نے اپنی ذات کو گورنمنٹ برطانیہ کے لئے بطور حرز کے بیان کیا ہے۔ پس حرز کی موجودگی میں میعاد کا شمار کرنا میرے خیال میں درست نہیں۔ اس طرح جنگ عظیم کی ابتداء اور ہفت یا ہشت سالہ میعاد کا اختتام آپس میں مل جاتے ہیں۔ واللہ اعلم ۔ خاکسار عرض کرتا ہے ۔ کہ گورنمنٹ برطانیہ کے ہم لوگوں پر بڑے احسانات ہیں۔ ہمیں دعا کرنی چاہئیے ۔ کہ اللہ تعالے اسے فتنوں سے محفوظ رکھے ۔

(نیز اس روایت کی مزید تشریح کے لیئے دیکھو حصہ دوم - روایت ۲۴۳) ×

(۹۷)

بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۱۸۸۶ء میں لدھیانہ میں بیعت کا اعلان کیا تو بیعت لینے سے پہلے آپ شیخ مہر علی رئیس ہوشیار پور کے بلانے پر اسکے لڑکے کی شادی پر ہوشیار پور تشریف لے گئے ۔ میں اور میر عباس علی اور شیخ حامد علی ساتھ تھے ۔ راستہ میں یکہ پر حضور نے ہم کو اپنے اس چلہ کا حال سنایا جس میں آپ نے برابر چھ ماہ تک روزے رکھے تھے حضرت صاحب فرماتے تھے کہ میں ایک چھینکا رکھا ہوا تھا۔ اُسے میں اپنے چوبارے سے نیچے لٹکا دیتا تھا۔ تو اس میں میری روٹی رکھ دی جاتی تھی ۔ پھر میں اوپر کھینچ لیتا تھا میاں عبداللہ صاحب کہتے تھے کہ شیخ مہر علی نے یہ انتظام کیا تھا ۔ کہ دعوت میں کھانے کے وقت رؤسا کیواسطے الگ کمرہ تھا۔ اور اُن کے ساتھیوں اور خدام کیواسطے الگ تھا۔ مگر حضرت صاحب کا یہ قاعدہ تھا کہ اپنے ساتھ والونکو ہمیشہ اپنے ساتھ بٹھایا کرتے تھے۔ چنانچہ اس موقعہ پر بھی آپ ہم تینوں کو اپنے داخل ہونے سے پہلے کمرہ میں داخل کرتے تھے اور پھر خود داخل ہوتے تھے۔ اور اپنے دائیں بائیں ہمکو بٹھاتے تھے۔ انہی دنوں میں ہوشیار پور میں مولوی محمود شاہ چشتی ہزاروی کا وعظ تھا۔ جو نہایت مشہور اور نامور اور مقبول واعظ تھا۔ حضرت صاحب نے میرے ہاتھ بیعت کا اشتہار دیکر انہیں کہلا بھیجا کہ آپ جمعہ کے وقت کسی مناسب موقعہ پر میرا یہ اشتہار بیعت پڑھ کر سنا دیں اور میں خود بھی آپکے

سیرت المہدی حصہ اول صفحہ 75 ، 76 از مرزا بشیر احمد ایم اے حوالہ نمبر 347 پر درج ہے

صفحہ 973

(حوالہ نمبر 419)

۷۵

درخت کے پتوں کیطرف دیکھتے کیسے خوشنما ہیں۔ حاجی صاحب کہتے ہیں کہ نیز اس وقت دیکھا کہ آپکی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں ۔

(۹۹)

بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے حاجی عبدالمجید صاحب نے کہ ایک دفعہ جب انذار عام شایع ہوئی ہے۔ حضرت صاحب لدھیانہ میں باہر چہل قدمی کے لیئے تشریف لے گئے۔ میں اور حافظ حامد علی ساتھ تھے۔ راستہ میں حافظ حامد علی نے مجھ سے کہا کہ آج رات یا کیا ان دنوں میں حضرت صاحب کو الہام ہوا ہے کہ سلطنت برطانیہ تا ہشت سال بعد ازاں ایام ضعف و اختلال" خاکسار عرض کرتا ہے ۔ کہ اس مجلس میں جس میں حاجی عبدالمجید صاحب نے یہ روایت بیان کی میاں عبداللہ صاحب سنوری نے بیان کیا کہ میرے خیال میں یہ الہام اس زمانہ سے بھی پرانا ہے حضرت صاحب نے خود مجھے اور حافظ حامد علی کو یہ الہام سنایا تھا۔ اور مجھے الہام اس طرح یاد ہے " سلطنت برطانیہ تا ہشت سال ۔ بعد ازاں ایام ضعف و اختلال " میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے تھے کہ دوسرا مصرع تو مجھے پتھر کی لکیر کی طرح یاد ہے کہ یہی تھا۔ اور ہشت کا لفظ بھی یاد ہے۔ جب یہ الہام ہمیں حضرت صاحب نے سنایا تو اسوقت مولوی محمد حسین بٹالوی مخالف نہیں تھا۔ شیخ حامد علی نے اسے بھی جا سنایا۔ پھر جب وہ مخالف ہوا۔ تو اسنے حضرت صاحب کے خلاف گورنمنٹ کو بدظن کرنے کے لئے اپنے رسالہ میں شایع کیا۔ کہ مرزا صاحب نے یہ الہام شایع کیا ہے خاکسار عرض کرتا ہے ۔ کہ میاں عبداللہ صاحب اور حاجی عبدالمجید صاحب کی روایت میں جو اختلاف ہے۔ وہ اگر کسی صاحب کے ضعف حافظہ پر مبنی نہیں۔ تو یہ بھی ممکن ہے کہ یہ الہام حضور کو دو وقتوں میں دو مختلف قِرانوں پر ہوا ہو۔ واللہ اعلم۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس الہام کے مختلف معنی کئے گئے ہیں۔ بعضوں نے تاریخ الہام سے میعاد شمار کی ہے۔ بعضوں نے کہا ہے کہ ملکہ وکٹوریہ کی وفات کے بعد سے اسکی میعاد شروع ہوتی ہے۔ کیونکہ ملکہ کے لئے حضور نے بہت دُعائیں کی تھیں بعض اور معنے کرتے ہیں۔ میاں عبداللہ صاحب کہتے تھے ۔ کہ میرے نزدیک آٹھویں صدی عیسویں سے اسکی میعاد شروع ہوتی ہے۔ چنانچہ وہ کہتے تھے ۔ کہ واقعات اسکی تصدیق کرتے ہیں۔ اور

سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 75 از مرزا بشیر احمد یہ حوالہ صفحہ 349 پر درج ہے

صفحہ 974

حوالہ نمبر 420

۷۵

درخت کے پتوں کیطرف دیکھتے کیسے خوشنما ہیں ۔ حاجی صاحب کہتے ہیں کہ نیز اس وقت دیکھا کہ آپکی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں ۔

(۹۹۱)

بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے حاجی عبدالمجید صاحب نے کہ ایک دفعہ جب ازالہ اوہام شایع ہوئی ہے۔ حضرت صاحب لدھیانہ میں باہر چہل قدمی کے لئے تشریف لے گئے ۔ میں اور حافظ حامد علی ساتھ تھے ۔ راستہ میں حافظ حامد علی نے مجھ سے کہا کہ آج رات یا کل ان دنوں میں حضرت صاحب کو الہام ہوا ہے کہ ”سلطنت برطانیہ تا ہشت سال بعد ازاں ایام ضعف و اختلال“ خاکسار عرض کرتا ہے ۔ کہ اس مجلس میں جس میں حاجی عبدالمجید صاحب نے یہ روایت بیان کی میاں عبداللہ صاحب سنوری نے بیان کیا کہ میرے خیال میں یہ الہام اس زمانہ سے بھی پرانا ہے حضرت صاحب نے خود مجھے اور حافظ حامد علی کو یہ الہام سنایا تھا۔ اور مجھے الہام اس طرح پر یاد ہے ” سلطنت برطانیہ تا ہشت سال ۔ بعد ازاں ایام ضعف و اختلال “ میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے تھے کہ دوسرا مصرع تو مجھے پتھر کی لکیر کی طرح یاد ہے کہ یہی تھا ۔ اور ہشت کا لفظ بھی یاد ہے ۔ جب یہ الہام ہمیں حضرت صاحب نے سنایا تو اسوقت مولوی محمد حسین بٹالوی مخالف نہیں تھا۔ شیخ حامد علی نے اسے بھی جا سنایا۔ پھر جب وہ مخالف ہوا۔ تو اسنے حضرت صاحب کے خلاف گورنمنٹ کو بدظن کرنے کے لئے اپنے رسالہ میں شایع کیا۔ کہ مرزا صاحب نے یہ الہام شایع کیا ہے خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ میاں عبداللہ صاحب اور حاجی عبدالمجید صاحب کی روایت میں جو اختلاف ہے ۔ وہ اگر کسی صاحب کے ضعف حافظہ پر مبنی نہیں ۔ تو یہ بھی ممکن ہے کہ یہ الہام حضور کو دو وقتوں میں دو مختلف قرائتوں پر ہوا ہو ۔ واللہ اعلم ۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس الہام کے مختلف معنی کئے گئے ہیں ۔ بعضوں نے تاریخ الہام سے میعاد شمار کی ہے۔ بعضوں نے کہا ہے کہ ملکہ وکٹوریہ کی وفات کے بعد سے اسکی میعاد شمار ہوتی ہے۔ کیونکہ ملکہ کے لئے حضور نے بہت دعائیں کی تھیں۔ بعض اور معنے کرتے ہیں۔ میاں عبداللہ صاحب کہتے تھے ۔ کہ میرے نزدیک آغاز صدی بیسویں سے اسکی میعاد شروع ہوتی ہے۔ چنانچہ وہ کہتے تھے۔ کہ واقعات اسکی تصدیق کرتے ہیں ۔ اللہ

سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 75 از مرزا بشیر احمد یہ حوالہ صفحہ 349 پر درج ہے

صفحہ 975

حوالہ نمبر 421

۶۵۰

فروری ۱۸۹۲ء حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اوّلؓ بیان فرماتے تھے کہ :۔ " ایک دفعہ کسی بحث کے دوران میں حضرت مسیح موعودؑ سے کسی مخالف نے کوئی حوالہ طلب کیا.... حضرت صاحبؑ نے بخاری کا ایک نسخہ منگوایا اور یونہی اس کی ورق گردانی شروع کر دی اور جلد جلد ایک ایک ورق اُس کا اُلٹانے لگ گئے اور آخر ایک جگہ پہنچ کر آپ ٹھہر گئے اور کہا لو یہ لکھ لو۔ دیکھنے والے سب حیران تھے کہ یہ کیا ماجرا ہے اور کسی نے حضرت صاحب سے دریافت بھی کیا جس پر حضرت صاحب نے فرمایا کہ "جب میں نے کتاب ہاتھ میں لے کر ورق اُلٹانے شروع کئے تو مجھے کتاب کے صفحات ایسے نظر آتے تھے کہ گویا وہ خالی ہیں اور اُن پر کچھ نہیں لکھا ہوا اسی لئے میں ان کو جلد جلد اُلٹاتا گیا۔ آخر مجھے ایک صفحہ ملا جس پر کچھ لکھا ہوا تھا اور مجھے یقین ہوا کہ یہ وہی حوالہ ہے جس کی مجھے ضرورت ہے"

(سیرت المہدی حصہ دوم روایت ۳۴۹ صفحہ ۳۴)

۱۸۹۲ء (الف) حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایّدہ اللہ بنصرہ العزیز نے خطبہ جمعہ میں فرمایا : "ملکہ وکٹوریہ کے زمانہ میں خدا تعالیٰ نے خبر دے دی :۔

"سلطنتِ برطانیہ تا ہشت سال ؏ بعد ازاں ضُعف و فساد و اختلال"

اور یہ آٹھ سال جا کر ملکہ وکٹوریہ کی وفات پر پورے ہو گئے " (الفضل جلد ۱۹ نمبر ۹۸ مورخہ ۱۵ اپریل ۱۹۳۲ء صفحہ ۵)

(ب) حافظ حامد علی صاحب نے مجھ سے کہا کہ ...... ان دنوں میں حضرت صاحب کو الہام ہوا ہے :۔

"سلطنتِ برطانیہ تا ہشت سال ؏ بعد ازاں ایّامِ ضُعف و اختلال"

(سیرت المہدی حصہ اوّل صفحہ ۷۵ روایت نمبر ۹۶ ایڈیشن دوم)

۱؂ مکرم شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی لکھتے ہیں جہاں تک میری یاد مساعدت کرتی ہے..... یہ واقعہ لاہور میں ہوا تھا مولوی عبدالحکیم صاحب کلانوری سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی "محدثیت اور نبوت" پر بحث ہوئی تھی.... حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے محدثیت کی حیثیت بیان کرتے ہوئے بخاری کی اس حدیث کا حوالہ دیا جس میں حضرت عمرؓ کی محدثیت پر استدلال تھا۔ مولوی عبدالحکیم صاحب کے مددگاروں میں سے مولوی احمد علی صاحب نے حوالہ کا مطالبہ کیا اور بخاری خود بھیج دی۔ مولوی محمد احسن صاحب نے حوالہ نکالنے کی کوشش کی مگر نہ نکلا۔ آخر حضرت مسیح موعودؑ نے خود نکال کر پیش کیا..... جب حضرت صاحب نے یہ حدیث نکال کر دکھا دی تو فریق مخالف پر گویا ایک موت وارد ہو گئی..... اسی پر مباحثہ ختم کر دیا"

(سیرت المہدی حصہ سوم صفحہ ۲۱۵)

۲؂ ملکہ وکٹوریہ کا انتقال ۲۲ جنوری ۱۹۰۱ء میں ہوا۔ (مرتب)

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات طبع چہارم صفحہ 650، 651 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 349 پر درج ہے

صفحہ 976

حوالہ نمبر 421

۶۵۱

(ج) میاں عبداللہ صاحب سنوری نے بیان کیا کہ :۔ "مجھے (یہ) الہام اس طرح پر یاد ہے :۔

"سلطنت برطانیہ تا بہشت سال ٭ بعدازاں باشد ضلالت و اختلال"

(سیرت المہدی حصہ اوّل صفحہ ۷۵ روایت نمبر ۹۶ ایڈیشن دوم)

(د) صاحبزادہ پیر سراج الحق صاحب نعمانیؒ نے بیان کیا :۔ "میں نے حضرت سے یہ الہام اس طرح پر سُنا ہے :۔

"قوّتِ برطانیہ تا ہشت سال ٭ بعدازاں ایّامِ ضعف و اختلال"

(سیرت المہدی حصہ دوم صفحہ ۹ روایت نمبر ۳۱۴)

غالبًا ۱۲؍جولائی ۱۸۹۲؁ء (خواب میں) "لَهُ تَبٌّ وَّ سَبٌّ وَّ افْتِضَاحٌ ۱؎"

(یہ بیاض۲؎ حضرت خلیفۃ المسیح اوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ)

۱۲؍اکتوبر ۱۸۹۲؁ء "يُصْلِحُ اللّٰهُ جَمَاعَتِيْ اِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالٰی ۳؎"

(یہ بیاض حضرت خلیفۃ المسیح اوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ)

۲۱؍مارچ ۱۸۹۳؁ء "کل شب کو ایک خواب اور کچھ تحریری طور پر لکھا ہوا پیش ہوا۔ لکھا ہوا تو سوائے بعض کے اور کچھ پڑھا نہ گیا اور خواب بھی سارا یاد نہیں رہا آخری فقرہ یاد رہا وہ یہ تھا :۔ "اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ ۴؎"

(مکتوب مرزا خدا بخش صاحب مندرجہ "اصحاب احمد" مؤلفہ ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے حصہ دوم صفحہ ۲۱۱ تا ۲۱۲)

۱؎ (ترجمہ از مرتب) اس کے لئے ہلاکت اور گالیاں اور ذلت ہے۔

۲؎ یہ بیاض مرزا خدا بخش صاحب پنشنر کارکن صدر انجمن احمدیہ ربوہ کے پاس موجود تھی جو ان کے والد مرحوم ماسٹر نعمت اللہ صاحبؒ کو مرزا محمود بیگ صاحب کی ہمشیرہ نے دی تھی اور ان کا بیان ہے کہ یہ بیاض انہیں حضرت خلیفۃ المسیح اوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عطا فرمائی تھی۔ اس کی فوٹو کاپی خلافت لائبریری میں موجود ہے۔ (مرتب)

۳؎ (ترجمہ از مرتب) اللہ تعالیٰ میری جماعت کی اصلاح کر دے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔

۴؎ (ترجمہ از مرتب) یقیناً اللہ تعالیٰ علیم حکیم ہے۔

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات طبع چہارم صفحہ 650، 651 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 349 پر درج ہے

صفحہ 977

حوالہ نمبر 422

۲۲۵

کشف الغطاء

پس جبکہ ہم محمد حسین کی طرح یہ اعتقاد رکھیں کہ ہم صرف پولیٹیکل طور پر اور ظاہری مصلحت کے لحاظ سے یعنی منافقانہ طور پر انگریزوں کے مطیع ہیں ورنہ دل ہمارے سلطان کے ساتھ ہیں کہ وہ خلیفہ اسلام اور دینی پیشوا ہے اس کے خلیفہ ہونے کے انکار سے اور اس کی نافرمانی سے انسان کافر ہو جاتا ہے تو اس اعتقاد سے بلاشبہ ہم گورنمنٹ انگریزی کے چھپے باغی اور خدا تعالیٰ کے نافرمان ٹھہریں گے۔ تعجب ہے کہ گورنمنٹ ان باتوں کی تہ تک کیوں نہیں پہنچتی اور ایسے منافق پر کیوں اعتبار کیا جاتا ہے کہ جو گورنمنٹ کو کچھ کہتا ہے اور مسلمانوں کے کانوں میں کچھ پھونکتا ہے یعنی گورنمنٹ عالیہ کی خدمت میں ادب سے عرض کرتا ہوں کہ گورنمنٹ عالیہ غور سے اس شخص کے حالات پر نظر کرے یہ کیسے منافقانہ طریقوں پر چل رہا ہے اور جن باغیانہ خیالات میں آپ مبتلا ہے وہ میری طرف منسوب کرتا ہے۔ بالآخر یہ بھی لکھنا ضروری ہے کہ جس قدر اس شخص نے مجھے گندی گالیاں دیں اور محمد بخش جعفر زٹلی سے دلائیں اور طرح طرح کے افتراء سے میری ذلت کی اس میں میری فریاد جناب الٰہی میں ہے جو دلوں کے خیالات کو جانتا ہے۔ اور جس کے ہاتھ میں ہر ایک کا انصاف ہے ۔ میں خدا سے یہی چاہتا ہوں کہ جس قسم کی میری ذلّت جھوٹے بہتانوں سے اس شخص نے کی۔ یہاں تک کہ گورنمنٹ عالیہ کی خدمت میں مجھے باغی ٹھہرانے کے لئے خلاف واقعہ باتیں بیان کیں وہی ذلّت اس کو پیش آوے۔ میرا ہرگز یہ مدعا نہیں ہے کہ بجز طریق جزاء سیئۃ بمثلھا کے کسی اور ذلّت میں یہ مبتلا ہو ۔ بلکہ میں مظلوم ہونے کی حالت میں یہی چاہتا ہوں کہ جو کچھ میرے لئے اس نے ذلّت کے سامان کئے ہیں اگر میں ان تہمتوں سے پاک ہوں تو وہ ذلّتیں اس کو پیش آویں۔ اگرچہ میں جانتا ہوں کہ یہ گورنمنٹ بہت حلیم اور حتّی المقدور چشم پوشی کرنے والی ہے لیکن اگر فی الواقع محمد حسین باغی ہو یا جیسا کہ میں نے معلوم کیا ہے کہ خود محمد حسین کے ہی باغیانہ خیالات ہیں ۱۴ تو گورنمنٹ کا فرض ہے کہ کامل تحقیقات کر کے جو شخص ہم دونوں میں سے درحقیقت مجرم ہے

۲۹

له یونس : ۲۷

کشف الغطاء صفحہ 49 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 225 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 349 پر درج ہے

صفحہ 978

حوالہ نمبر 423

۲۲۱ کشف الغطاء

میں گورنمنٹ کو یقین دلاتا ہوں کہ اس مسئلہ میں اس شخص کے کھانے کے دانت اور اور دکھانے کے اور ہیں ۔ اپنے ہمجنس مولویوں پر ان کے خیال کے موافق اپنا عقیدہ ظاہر کرتا ہے اور پھر جب گورنمنٹ کے دکھانے کے لئے تحریر کرتا ہے تو وہاں گورنمنٹ کو خوش کرنے کے لئے یہ عقیدہ بیان کر دیتا ہے کہ "میں نہیں مانتا کہ کوئی مہدی آئیگا اور لڑائیاں کرے گا ۔" لیکن اگر یہ مہدی کو نہیں مانتا تو دوسرے مولویوں کا جو مانتے ہیں کیونکر سرگروہ اور ایڈوکیٹ کہلاتا ہے ؟ ان باتوں کا انصاف گورنمنٹ عالیہ کے ہاتھ میں ہے ۔ میرے نزدیک گورنمنٹ ہم دونوں کی اصلیت تک اس صورت میں بآسانی پہنچے گی کہ ہم دونوں کے اپنے روبرو اور دوسرے مولویوں کے روبرو اس مقدمہ میں اظہار لے ۔ اس وقت جو منافقانہ طرز کا آدمی ہو گا اس کی تمام حقیقت کھل جائیگی لہٰذا

باادب التماس ہے

کہ یہ فیصلہ ضرور کیا جائے جبکہ یہ فاش جھوٹ اس نے اختیار کیا ہے تو کیونکر اطمینان ہو کہ جو دوسری باتیں گورنمنٹ تک پہنچاتا ہے اُن میں سچ بولتا ہے ۔ منہ

تــــمــــت

۴۵

کشف الغطاء صفحہ 45 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 221 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 349 پر درج ہے

صفحہ 979

(حوالہ نمبر 424)

۴۰۰

میں تو بار بار یہی کہتا ہوں کہ ہمارا طریق تو یہ ہے کہ نئے سرے سے مسلمان بنو۔ پھر اللہ تعالیٰ اصل حقیقت خود کھول دے گا۔ میں سچ کہتا ہوں کہ اگر وہ امام جن کے ساتھ یہ اس قدر محبت کا غلو کرتے ہیں زندہ ہوں، تو اُن سے سخت بیزاری ظاہر کریں۔

جب ہم ایسے لوگوں سے اعراض کرتے ہیں تو پھر کہتے ہیں کہ ہم نے ایسا اعتراض کیا، جس کا جواب نہ آیا اور پھر بعض اوقات اشتہار دیتے پھرتے ہیں۔ مگر ہم ایسی باتوں کی کیا پروا کر سکتے ہیں، ہم کو تو وہ کرنا ہے، جو ہمارا کام ہے۔

اس لیے یاد رکھو کہ پُرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑو۔ اب نئی خلافت لو۔ ایک زندہ علی تم میں موجود ہے اُس کو چھوڑتے ہو اور مُردہ علی کی تلاش کرتے ہو ۱؎

۱۲؍ دسمبر ۱۹۰۲ء

ایک الہام اور اپنی وحی پر یقین

فرمایا: کل رات میری پسلی کے پونے میں دَرد تھا اور اس شدّت کے ساتھ درد تھا کہ مجھے خیال آیا تھا کہ رات کیونکر بسر ہو گی، آخر ذرا سی غنودگی ہوئی اور الہام ہوا، كُوْنِیْ بَرْداً وَّسَلَامًا ۔ اور سَلَامًا کا لفظ ابھی ختم نہ ہونے پایا تھا کہ سارا دَرد جاتا رہا ایسا کہ کبھی ہوا ہی نہیں تھا ۲؎

نیز فرمایا کہ :

”ہم کو تو خدا تعالیٰ کے اس کلام پر جو ہم پر وحی کے ذریعہ نازل ہوتا ہے۔ اس قدر یقین اور علٰی وجہ البصیرۃ یقین ہے کہ بیت اللہ میں کھڑا کر کے جس قسم کی چاہو قسم دے دو۔ بلکہ میرا تو یقین یہاں تک ہے کہ اگر میں اس بات کا انکار کروں، یا وہم بھی کروں کہ یہ خدا کی طرف سے نہیں تو سَٹّا کافر ہو جاؤں“ ؎

۱۳؍ دسمبر ۱۹۰۲ء

نصرتِ الٰہی فیصلہ کُن قاضی ہے

الٰہی بخش لاہوری مخالف کی تالیف ”عصائے موسیٰؔ “ نامی کتاب پڑھ کر حضرت اقدس نے فرمایا :

”اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ اس کی فضولیات کو پڑھ کر چند گھنٹوں کا کام ہے اس کا جواب دے دینا لیکن مَیں

۱؎ الحکم جلد ۶ نمبر ۴۵ صفحہ ۱۰، مورخہ ۱۷؍ دسمبر ۱۹۰۲ء ۲؎ الحکم جلد ۶ نمبر ۴۵ صفحہ ۶ مورخہ ۱۷؍ دسمبر ۱۹۰۲ء

ملفوظات جلد اول صفحہ 400 طبع جدید از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 350 پر درج ہے

صفحہ 980

حوالہ نمبر 425

۹۷

کام بھی انہیں مولویوں میں سے بعض سے ظہور میں آئے۔ میرے پر جھوٹی مخبریاں بھی کی گئیں اور خواہ نخواہ گورنمنٹ کو خلاف واقعہ باتوں کے ساتھ اکسایا گیا۔ مگر کچھ خبر ہے کہ انجام ان کا کیا ہوا ؟ یہ ہوا کہ میں ترقی کرتا گیا جب یہ لوگ میری تکفیر اور تکذیب کے لئے کھڑے ہوئے اور خود بخود پیشگوئیاں کیں کہ جلد تر ہم اس شخص کو نابود کر دینگے۔ اُس وقت میرے ساتھ کوئی بڑی جماعت نہ تھی۔ بلکہ صرف چند آدمی تھے جن کو اُنگلیوں پر گن سکتے تھے۔ بلکہ براہین احمدیہ کے زمانہ میں جب براہین احمدیہ چھپ رہی تھی۔ میں صرف اکیلا تھا۔ کوئی ثابت کر سکتا ہے کہ اُس وقت میرے ساتھ کوئی ایک بھی تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ جبکہ خدائے تعالیٰ نے پچاس سے زیادہ پیشگوئیوں میں مجھے خبر دی تھی کہ اگرچہ تو اسوقت اکیلا ہے مگر وہ وقت آتا ہے کہ تیرے ساتھ ایک دُنیا ہوگی۔ اور پھر وہ وقت آتا ہے جو تیرا اس قدر عروج ہو گا کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے کیونکہ تُو برکت دیا جائیگا۔ خدا پاک ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ وہ تیرے سلسلہ کو اور تیری جماعت کو زمین پر پھیلائیگا اور انہیں برکت دیگا اور بڑھائے گا اور انکی عزت زمین پر قائم کریگا جبتک کہ وہ اسکے عہد پر قائم ہونگے۔ اب دیکھو کہ براہین احمدیہ کی ان پیشگوئیوں کا جس کا ترجمہ لکھا گیا وہ زمانہ تھا جبکہ میرے ساتھ دُنیا میں ایک بھی نہیں تھا جبکہ خدا نے مجھے یہ دُعا سکھلائی کہ رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْدًا وَّ أَنْتَ خَيْرُ الْوَارِثِيْنَ ۱؎ یعنی اے خدا مجھے اکیلا مت چھوڑ اور تُو سب سے بہتر وارث ہے۔ یہ دُعا الہامی براہین میں بھی ہے۔ غرض اسوقت کے لئے تو براہین احمدیہ خود گواہی دے رہی ہے کہ مَیں اُس وقت ایک گمنام آدمی تھا۔ مگر آج باوجود مخالفت اور کوششوں کے ایک لاکھ سے بھی زیادہ میری جماعت مختلف مقامات میں موجود ہے۔ پس کیا یہ معجزہ ہے یا نہیں۔ کہ میری مخالفت اور میرے گرانے میں ہر قسم کے فریب خرچ کئے۔ منصوبے کئے۔ مگر یہ سب مولوی اور اُنکے رفیق چھوٹے بڑے سب کے سب نامراد رہے۔ اگر یہ معجزہ نہیں تو پھر معجزہ کی تعریف معاند چشم پوش خود ہی کریں کہ کس چیز کا نام ہے۔ [ اگر میں صاحب معجزہ نہیں تو جھوٹا ہوں۔ اگر قرآن سے ابن مریم کی وفات ثابت نہیں تو میں جھوٹا ہوں۔ اگر حدیث معراج نے ابن مریم کو مُردہ رُوحوں میں نہیں بٹھا دیا تو میں جھوٹا ہوں۔ اگر قرآن نے سُورۂ نُور میں نہیں کہا کہ اس اُمّت کے خلیفے اسی اُمّت میں سے ]

۱؎ الانبیاء : ۹۰

یہ حوالہ صفحہ 350 پر درج ہے تحفۃ الندوہ صفحہ 5 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 97، 98 از مرزا قادی مرزا قادیانی

صفحہ 981

حوالہ نمبر 425

۹۸

ہونگے تو میں جھوٹا ہوں ۔ اگر قرآن نے میرا نام ابن مریم نہیں رکھا تو میں جھوٹا ہوں ۔ اے فانی انسانو! ہوشیار ہو جاؤ ۔ اور سوچو کہ یہ معجزہ کیسا ہوتا ہے کہ اس قدر مخالفوں کے جنگ وجدل کے بعد بھی براہین احمدیہ کی وہ پیشگوئیاں سچی نکلیں جو آج سے بائیس برس پہلے کی گئی تھیں ۔ تم ثابت نہیں کر سکتے کہ اس زمانہ میں ایک فرد انسان بھی میرے ساتھ تھا مگر اسوقت اگر میری جماعت کے لوگ ایک جگہ آباد کئے جاویں تو میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ شہر امرتسر سے بھی کچھ زیادہ ہو گا ۔ حالانکہ براہین کے زمانہ میں جب یہ پیشگوئی کی گئی میں صرف اکیلا تھا۔ پھر اگر مولویوں کی مزاحمت درمیان نہ ہوتی ۔ تو براہین احمدیہ کی پیشگوئی پر دوہرا رنگ نہ چڑھتا۔ لیکن اب تو مولویوں اور اُنکے تابعداروں کی مخالفتانہ کوششوں نے اس اعجاز پر دوہرا رنگ چڑھا دیا اور بجائے اسکے کہ حسب مضمون اِنْ یَّکُ کَاذِبًا فَعَلَیْہِ کَذِبُہٗ مجھے صرف صادق ہونے کی وجہ سے اس آیت کی مقرّرہ علامت سے بریت مل جاتی ۔ اب تو اسکے علاوہ براہین احمدیہ کی عظیم الشان پیشگوئیاں جو اس زمانہ سے یعنی بائیس برس پہلے دُنیا میں شائع ہوچکی ہیں وہ پوری ہوگئیں اور ہزار ہا اہل فضل وکمال میرے ساتھ ہو گئے ۔ اب ملا دُوسرا جُزو اِس آیت کا دیکھو وَاِنْ یَّکُ صَادِقًا یُصِبْکُمْ بَعْضُ الَّذِیْ یَعِدُکُمْ یہ معیار بھی کیسا اعجازی رنگ میں پُورا ہُوا ۔ خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ انی مھین من اراد اھانتک ہر ایک شخص جو تیری اہانت کریگا وہ نہیں مریگا جبتک وہ اپنی اہانت نہ دیکھ لے ۔ اب ان مولویوں سے پوچھو تو کہ اُنہوں نے میرے مقابل پر خدا کے حکم کو کوئی ذلت بھی دیکھی ہو یا نہیں ۔ اب کون میری توہین کرنیوالا باقی رہ سکتا ہے کہ قرآن کی پیشگوئی جو یصبکم بعض الذی یعدکم ہے میری تائید کیلئے ظہور میں نہیں آئی بلکہ قرآن شریف نے بعض کے لفظ سے جسقدر بڑی وعید کی پیشگوئی کیلئے بعض کا نمونہ کافی ہواور اس جگہ نمونے تھوڑے نہیں ۔ کیا مخالفوں کی اس میں کچھ تھوڑی ذلت ہے کہ غلام دستگیر لے اپنی کتاب فتح رحمانی میں میری نسبت مکہ میں میرے پر عالموں سے بددعا مانگی تھی اور یہ یقین کیا تھا کہ اس پر بددعا پڑے گی سو وہ بددعا کر کے خود ہی چند روز کے بعد مرگیا ۔ محمد حسن

لے دیکھو کہ کیا یہ معجزہ نہیں کہ جس مولوی نے مکہ کے بعض نادان ملاؤں سے میرے پر فتویٰ کفر کا لکھوایا تھا۔ وہ مباہلہ کر کے خود ہی مرگیا۔ منہ

سورۃ المومن : ۲۹ ۱۰ - ۵۸۵

تحفۃ الندوہ صفحہ 5 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 97، 98 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 350 پر درج ہے

صفحہ 982

حوالہ نمبر 426 چشمہ معرفت ۲۳۱ دوسرا حصہ

پھر ماسوا اس کے اگر اس وجہ سے انکار کیا جاتا ہے کہ یہ امر خارق عادت ہے ۔ تو کیا بموجب اصول آریوں کے وید کے بعد الہام الہی ہونا یہ خارق عادت امر نہیں ہے پس جبکہ لیکھرام کی موت نے اس بات کو ثابت کر دیا کہ وہ قادر خدا اس زمانہ میں بھی برخلاف وید کے مقرر کردہ قانون قدرت کے الہام کرتا ہے تو وید کا سارا قانون قدرت دریا برد ہو گیا اس صورت میں وید کی بات کا کوئی بھی اعتبار نہ رہا ۔ ظاہر ہے کہ جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اُس پر اعتبار نہیں رہتا اور اگر لیکھرام والی پیش گوئی سے تسلی نہیں ہوئی تو پھر درخواست کرنے سے اور کوئی ذریعہ تسلی کا پیدا ہو سکتا ہے اور خدا تعالیٰ کی صدہا الہامی پیش گوئیاں جو پوری ہو چکی ہیں تسلی دے سکتی ہیں ۔ غرض وید کا قانون قدرت ایسا جھوٹا ثابت ہوا کہ ساتھ ہی وید کو بھی لے ڈوبا ۔ پھر اسی بناء پر اعتراض کرنا حیا سے بعید ہے ۔ ظاہر ہے کہ وید نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے بعد خدا کی قوت تکلم ہمیشہ کے لئے مسلوب رہے گی مگر ہم نے چمکتے ہوئے نشانوں کے ساتھ ثابت کر دیا کہ وید نے جو کچھ دعویٰ کیا ہے اور جو کچھ آئندہ کے لئے خدا کے الہام کے بارہ میں لکھا ہے کہ وہ محال اور قانون قدرت کے برخلاف ہے وہ سراسر جھوٹ اور خلاف حق ہے بلکہ خدا ہمیشہ اپنے بندوں کو الہام کرتا ہے تو پھر بتلاؤ کہ اس کے بعد بار بار اسی وید کو پیش کرنا جس کے قانون قدرت کا نمونہ ہم دیکھ چکے ہیں ۔ کس قدر خلاف حیا و شرم ہے ۔

۲۳۳

غرض لیکھرام کی موت نے ثابت کر دیا کہ وید کی یہ تعلیم سراسر غلط ہے کہ اس کے بعد الہام نہیں ہے تو پھر وید کے مقرر کردہ قانون قدرت پر اعتبار کیا رہا۔ خدا تعالیٰ کے کروڑ ہا قانون قدرت ابھی مخفی ہیں اور آہستہ آہستہ ظاہر ہو رہے ہیں مگر افسوس ان لوگوں پر کہ دانستہ آنکھ بند کر لیتے ہیں اگر یورپ کا کوئی شخص یہ بات ظاہر کرے کہ میں پتھر میں سے پانی نکال سکتا ہوں یا تمام پتھر کو پانی بنا سکتا ہوں تو اس کے مقابل پر یہ لوگ دم بھی نہ ماریں اور فی الفور آمنا و صدقنا کہنے لگیں مگر خدا کے کلام نے جو کچھ بیان کیا اُس کو نہیں مانتے ۔

چشمہ معرفت صفحہ 222 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 231 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 351 پر درج ہے

صفحہ 983

(حوالہ نمبر 427)

ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ۵۶

ہونے کا دعویٰ کر کے قوم کا مصلح قرار نہیں دیتا اور نہ نبوت اور رسالت کا مدعی بنتا ہے ۔ اور محض ہنسی کے طور پر یا لوگوں کو اپنا رسوخ جتلانے کے لئے دعویٰ کرتا ہے کہ مجھے یہ خواب آئی۔ اور یا الہام ہوا اور جھوٹ بولتا ہے یا اس میں جھوٹ ملاتا ہے وہ اس نجاست کے کیڑے کی طرح ہے جو نجاست میں ہی پیدا ہوتا ہے اور نجاست میں ہی مر جاتا ہے ۔ ایسا خبیث اس لائق نہیں کہ خدا اس کو یہ عزت دے کہ تو نے اگر میرے پر افترا کیا تو میں تجھے ہلاک کر دوں گا بلکہ ۳۰ وہ بوجہ اپنی نہایت درجہ کی ذلت کے قابل التفات نہیں کوئی شخص اس کی پیروی نہیں کرتا کوئی اس کو نبی یا رسول یا مامور من اللہ نہیں سمجھتا ۔ ماسوا اس کے یہ بھی ثابت کرنا چاہیے کہ اس مفتریانہ عادت پر بتیس برس گزر گئے ۔ ہمیں حافظ محمد یوسف صاحب کی بابت کچھ واقفیت نہیں مگر یہ بھی امید نہیں ۔ خدا اُن کے اندرونی اعمال بہتر جانتا ہے۔ اُن کے دو قول تو ہمیں یاد ہیں۔ اور سُنا ہے کہ اب وہ ان سے انکار کرتے ہیں (۱) ایک یہ کہ چند سال کا عرصہ گزرتا ہے کہ بڑے بڑے جلسہ میں انہوں نے بیان کیا تھا کہ مولوی عبداللہ غزنوی نے میرے پاس بیان کیا کہ آسمان سے ایک نور کا ٹکڑا مجھ پر گرا اور میری اولاد اس سے بے نصیب رہ گئی ۔ (۲) دوسرے یہ کہ خدا تعالیٰ نے انسانی تمثل کے طور پر ظاہر ہو کر اُن کو کہا کہ مرزا غلام احمد حق پر ہے کیوں لوگ اس کا انکار کرتے ہیں ۔ اب مجھے خیال آتا ہے کہ اگر حافظ صاحب ان دو واقعات سے اب انکار کرتے ہیں جن کو بار بار بہت سے لوگوں کے پاس بیان کر چکے ہیں تو نعوذ باللہ بے شک انہوں نے خدا تعالیٰ پر افتراء کیا ہے۔ کیونکہ جو شخص سچ کہتا ہے اگر وہ مر بھی جائے تب بھی انکار نہیں کر سکتا

+ میں ہرگز قبول نہیں کرونگا کہ حافظ صاحب ان ہر دو واقعات سے انکار کرتے ہیں۔ ان واقعات کا گواہ نہ صرف میں ہوں بلکہ مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت گواہ ہے اور کتاب ازالۃ الاوہام میں ان کی زبانی مولوی عبداللہ صاحب کا کشف درج ہو چکا ہے۔ میں تو یقیناً جانتا ہوں کہ حافظ صاحب ایسا کذب صریح ہرگز زبان پر نہیں لائیں گے گو قوم کی طرف سے ایک بڑی مصیبت میں گرفتار ہو جائیں ۔ اُن کے بھائی محمد یعقوب نے تو انکار نہیں کیا تو وہ کیونکر کرینگے۔ جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں ۔ منہ

۲۰

یہ حوالہ صفحہ 351 پر درج ہے تحفہ گولڑویہ ضمیمہ صفحہ 20 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 56 از مرزا قادیانی

صفحہ 984

حوالہ نمبر 428

۶۰

عجیب قدرت دکھلاتا ہے کہ جب امام مذکور بحالت زار نزار گھر واپس آیا تو اثر الہام برعکس پایا یعنے لڑکے کے آثار رو بصحت دیکھے غرض کہ منہ منحوس سے یہ کلمہ نکلنا ہی تھا کہ دم بدم لڑکے کو آرام ہونے لگا۔ جب لوگوں نے مجیب الدعوات صاحب (یہ وہی لفظ ہندو کی لیاقت کا ہے) کی ہنسی اُڑائی تو جواب دیا کہ الہام غلط نہیں ہو سکتا۔ دائم یہ بچہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ تمام جو افترا پر افترا آریہ کا۔

اب دیکھنا چاہیے کہ وہ کنجر جو ولدالزنا کہلاتے ہیں وہ بھی جھوٹ بولتے ہوئے شرماتے ہیں مگر اس آریہ میں اس قدر بھی شرم باقی نہ رہی جس قوم میں اس جنس کے شریف و امین لوگ ہوں وہ کیا کچھ ترقیاں نہیں کریں گے۔ اب اس نیک ذات آریہ پر فرض ہے کہ ایک جلسہ کرا کر ہمارے روبرو اس بہتان کی تصدیق کراوے تا اصل راوی کو حلف سے پوچھا جائے اور اس بے اصل بہتان کے لئے نہ صرف ہم اس راوی کو حلف دیں گے بلکہ آپ بھی حلف اُٹھائیں گے فریقین کے حلف کا یہ مضمون ہو گا کہ اگر سچ سچ اپنے حافظہ کی پوری یادداشت سے بلا ذرہ کم و بیش میں نے بیان نہیں کیا تو اے خدائے قادر مطلق اور اے پرمیشر سرب شکتی مان ایک سال تک اپنے قہر عظیم سے ایسی میری بیخ کنی کر اور ایسا ہیبت ناک عذاب نازل فرما کہ دیکھنے والوں کو عبرت ہو اور پھر اگر ایک سال تک آسمانی عذاب سے اصل راوی محفوظ رہا تو ہم اپنے جھوٹا ہونے کا خود اشتہار دے دیں گے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ایسے بہتان صریح کو بے فیصلہ نہیں چھوڑے گا۔ یہ تو ہمارے لئے اور ایک ملہم من اللہ کے لئے ممکن بلکہ کثیر الوقوع ہے جو کوئی خواب یا الہام مشتبہ طور پر معلوم ہو جس کی احتمالی طور پر کئی معنے کئے جائیں مگر یہ افترا تو قطعی طور پر عین الہام ہو گیا کہ دین محمد جان محمد کا لڑکا اب مرے گا اس کی قبر کھودو

۲۸۶

یہ حوالہ صفحہ 351 پر درج ہے شحنہ حق صفحہ 60 مندرجہ روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 386 از مرزا قادیانی

صفحہ 985

حوالہ نمبر 429

حقیقۃ الوحی ۲۱۵ بعض اعتراضوں کے جواب

معلوم نہیں کہ کہاں تک خدا تعالیٰ کے علم میں میرے ایامِ دعوت کا سلسلہ ہو۔ اسلئے یہ لوگ باوجُود مولوی کہلانے کے یہ کہتے ہیں کہ ایک خدا پر افترا کرنیوالا اور جھوٹا ملہم بننے والا اپنے ابتدائے افترا سے تیس سال تک بھی زندہ رہ سکتا ہے اور خدا اُس کی نصرت اور تائید کر سکتا ہے اور اسکی کوئی نظیر پیش نہیں کرتے۔ اے پلید لوگو ! جھوٹ بولنا اور گُوہ کھانا ایک برابر ہے۔ جو کچھ خدا نے اپنے لطف وکرم سے میرے ساتھ معاملہ کیا یہاں تک کہ اِس مُدتِ دراز میں ہر ایک دن میرے لئے ترقی کا دن تھا ! اور ہر ایک مقدمہ جو میرے تباہ کرنے کے لئے اُٹھایا گیا خدا نے دشمنوں کو رُسوا کیا۔ اگر اس مُدت اور اُس تائید اور نصرت کی تمہارے پاس کوئی نظیر ہے تو پیش کرو۔ ورنہ بموجب آیت لَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا یہ نشان بھی ثابت ہو گیا اور تم اسکے نیچے چلے جاؤ گے۔

کے لئے ایک خواب دیکھا جس کی بنا پر میری محبت خدا تعالیٰ نے اُنکے دل میں ڈالدی اور اُسی بنا پر

۲۰۶

کتاب اشارات فریدی میں جو خواجہ صاحب موصوف کے ملفوظات ہیں جا بجا خواجہ صاحب موصوف میری تصدیق فرماتے ہیں۔ اہلِ فقر کی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ ظاہری جھگڑوں میں بہت کم پڑتے ہیں اور جو کچھ خدا تعالیٰ کی طرف سے اُنکو بذریعہ خواب یا کشف یا الہام پتہ ملتا ہے اُسپر ایمان لاتے ہیں۔ پس چونکہ خواجہ غلام فرید صاحب بڑے صاحبِ علم کی طرح پاک باطن تھے اسلئے خدا نے اُن پر میری سچائی کی حقیقت کھولدی اور کئی مولوی جیسے مولوی غلام دستگیر خواجہ صاحب کو میرا مکذب بنانے کیلئے اُنکے گاؤں میں پہنچے جیسا کہ کتاب اشارات فریدی میں خواجہ صاحب نے خود یہ حالات بیان کئے ہیں اور بعض غزنویوں کا بھی خواجہ صاحب موصوف کے پاس خط پہنچا مگر آپ نے

اِس سال سے میرے الہام کے زمانہ کو ستائیس ۲۷ سال کے قریب ہوتے ہیں اور جب براہین احمدیہ کے چہارم حصّہ سے شمار کیا جائے تو تب پچیس ۲۵ سال گزر گئے ہیں اور جب وہ زمانہ لیا جائے کہ جب پہلے الہام شروع ہوا تب تیس ۳۰ سال ہوتے ہیں۔ منہ

۲۱۵

حقیقۃ الوحی صفحہ 206 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 215 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 351 پر درج ہے

Back

صفحہ 986

حوالہ نمبر 430 ۴۰۸

کا نزول ہے وہ دمشق میں واقع ہے بلکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس منارہ سے اُسی مسجد اقصیٰ کا منارہ مراد لیا ہے جو دمشق کے شرقی طرف واقع ہے یعنی مسیح موعود کی مسجد جو حال میں وسیع کی گئی ہے اور عمارت بھی زیادہ کی گئی۔ اور یہ مسجد فی الحقیقت دمشق کے شرقی طرف واقع ہے اور یہ مسجد صرف اس غرض سے وسیع کی گئی اور بنائی گئی ہے کہ تا دمشقی مفاسد کی اصلاح کرے اور یہ منارہ وہ منارہ ہے جس کی ضرورت احادیث نبویہ میں تسلیم کی گئی۔ اور اس منارۃ المسیح کا خرچ دس ہزار روپیہ سے کم نہیں ہے۔ اب جو دوست اس منارہ کی تعمیر کے لیے مدد کریں گے میں یقیناً سمجھتا ہوں کہ وہ ایک بھاری خدمت کو انجام دیں گے اور میں یقیناً جانتا ہوں کہ ایسے موقع پر خرچ کرنا ہرگز ہرگز ان کے نقصان کا باعث نہیں ہوگا۔ وہ خدا کو قرض دیں گے اور صدہا واپس لیں گے۔ کاش ان کے دل سمجھیں کہ اس کام کی خدا کے نزدیک کس قدر عظمت ہے جس خدا نے منارہ کا حکم دیا ہے اس نے اس بات کی طرف اشارہ کر دیا ہے کہ اسلام کی مُردہ حالت میں اُسی جگہ سے زندگی کی رُوح پھونکی جائے گی اور یہ فتح نمایاں کا میدان ہو گا مگر یہ فتح ان ہتھیاروں کے ساتھ نہیں ہو گی جو انسان بناتے ہیں بلکہ آسمانی حربہ کے ساتھ ہے جس حربہ سے فرشتے کام لیتے ہیں۔ آج سے انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا تھا خدا کے حکم کے ساتھ بند کیا گیا۔ اب اس کے بعد جو شخص کافر پر تلوار اٹھاتا اور اپنا نام غازی رکھتا ہے وہ اس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرتا ہے جس نے آج سے تیرہ سو برس پہلے فرما دیا ہے کہ مسیح موعود کے آنے پر تمام تلوار کے جہاد ختم ہو جائیں گے۔ سو اب میرے ظہور کے بعد تلوار کا کوئی جہاد نہیں۔ ہماری طرف سے امان اور صلحکاری کا سفید جھنڈا بلند کیا گیا ہے۔ خدا تعالیٰ کی طرف دعوت کرنے کی ایک راہ نہیں۔ پس جس راہ پر نادان لوگ اعتراض کر چکے ہیں خدا تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت نہیں چاہتی کہ اُسی راہ کو پھر اختیار کیا جائے اس کی ایسی ہی شان ہے کہ جیسے جن نشانوں کی پہلے تکذیب ہو چکی وہ ہمارے سیّد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیئے گئے۔ لہٰذا مسیح موعود اپنی فوج کو اس ممنوع مقام سے پیچھے ہٹ جانے کا حکم دیتا ہے۔ جو بدی کا بدی کے ساتھ مقابلہ کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ اپنے تئیں شریر کے حملہ سے بچاؤ مگر خود شریرانہ مقابلہ مت کرو۔ جو شخص ایک

مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 408 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 352 پر درج ہے

صفحہ 987

(حوالہ نمبر 431)

۲۰۱

نور احمد نے کہا کہ خدا کی قدرت سے کیا تعجب کہ وہ لڑکا بنے۔ اس سے قریباً تین برس کے بعد جیسا کہ ابھی لکھتا ہوں دہلی میں میری شادی ہوئی اور خدا نے وہ لڑکا بھی دیا اور تین اور عطا کئے۔ اِس بیان کی تمام یہ لوگ تصدیق کریں گے بشرطیکہ قسم نمونہ نمبر ۲ دے کر پوچھا جائے۔ اور حافظ نور احمد سخت مخالف ہے مگر نمونہ نمبر ۲ کی قسم اس کو بھی سچ بولنے پر مجبور کرے گی۔

بٹالوی ایڈیٹر رسالہ اشاعۃ السنّۃ کے مکان پر جانے کا اتفاق ہوا۔ اُس نے مجھ سے دریافت کیا کہ آجکل کوئی الہام ہوا ہے؟ میں نے اسکو یہ الہام سنایا۔ جس کو میں کئی دفعہ اپنے مخلصوں کو سنا چکا تھا۔ اور وہ یہ ہے کہ بِکْرٌ وَّ ثَیِّبٌ۔ جس کے یہ معنے اُن کے آگے اور نیز ہر ایک کے آگے مَیں نے ظاہر کئے کہ خدا تعالیٰ کا ارادہ ہے کہ وہ دو عورتیں میرے نکاح میں لائے گا۔ ایک بکر ہوگی اور دوسری بیوہ۔ چنانچہ یہ الہام جو بکر کے متعلق تھا پورا ہوگیا۔ اور اسوقت بفضلہ تعالیٰ چار پسر اِس بیوی سے موجود ہیں اور بیوہ کے الہام کی انتظار ہے مَیں نہیں یقین کر سکتا کہ مولوی محمد حسین بوجہ شدّتِ عناد اور تعصّب اس پیشگوئی کی نسبت اپنی واقعیت بیان کر سکے لیکن اگر حلف مطابق نمونہ نمبر ۲ دیجائے تو اِس صورت میں اُمید ہے کہ سچ بول دے۔

قادیان اور لالہ ملاوا مل کھتری ساکن قادیان اور جان محمد مرحوم ساکن قادیان اور ۴۵ بہت سے اور لوگوں کو یہ خبر دی تھی کہ خدا نے اپنے الہام سے مجھے اطلاع دی ہے کہ

۷۲

تریاق القلوب صفحہ 73 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 201 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 352 پر درج ہے

صفحہ 988

حوالہ نمبر 432 ۱۵۵

ہمارا کوئی الہام پیش کرنا چاہئیے۔ اجتہادی غلطی نبیوں اور رسولوں سے بھی ہو جاتی ہے۔ جسپر وہ قائم نہیں رکھے جاتے۔ ذرہ صحیح بخاری کو کھولو اور حدیث ذھب دھلی کو غور سے پڑھو۔ ایسا اعتراض کرنا جو دوسرے پاک نبیوں پر بلکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی وہی اعتراض آئے۔ مسلمانوں اور نیک آدمیوں کا کام نہیں ہے بلکہ لعنتیوں اور شیطانوں کا کام ہے۔ اگر دل میں فساد نہیں تو قوم کا تفرقہ دور کرنے کے لئے ایک جلسہ کرو۔ اور مجلس عام میں میرے پر اعتراض کرو کہ فلاں پیشگوئی جھوٹی نکلی۔ پھر اگر حاضرین نے قسم کھا کر کہہ دیا کہ فی الواقع جھوٹی نکلی اور میرے جواب کو سُنکر مدلل بیان اور شرعی دلیل سے ردّ کر دیا تو اُسی وقت میں توبہ کرونگا۔ ورنہ چاہئیے کہ سب توبہ کر کے اِس جماعت میں داخل ہو جائیں اور درندگی اور بدزبانی چھوڑ دیں۔

اے مسلمانوں کی ذرّیت! میں نے آپ لوگوں کا کیا گناہ کیا ہے کہ آپ لوگ انواع اقسام کے منصوبوں سے میری ایذا کے در پے ہو گئے تم میں سے جو مولوی ہیں وہ ہر وقت یہی وعظ کرتے ہیں کہ یہ شخص کافر بیدین دجّال ہے اور انگریزوں کی سلطنت کی حد سے زیادہ تعریف کرتا ہے اور رُومی سلطنت کا مخالف ہے۔ اور تم میں سے جو ملازمت پیشہ ہیں وہ اِس کوشش میں ہیں کہ مجھے اِس محسن سلطنت کا باغی ٹھہراویں۔ میں سُنتا ہوں کہ ہمیشہ خلافِ واقعہ خبریں میری نسبت پہنچانے کے لئے ہر طرف سے کوشش کی جاتی ہے حالانکہ آپ لوگوں کو خوب معلوم ہے کہ میں باغیانہ طریق کا آدمی نہیں ہوں۔ میری عُمر کا اکثر حصّہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعتِ جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالکِ عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچا دیا ہے۔ میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیرخواہ ہو جائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے

تریاق القلوب صفحہ 27، 28 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 155، 156 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 353 پر درج ہے

صفحہ 989

حوالہ نمبر 432

۱۵۶

جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں۔ انکے دلوں سے معدوم ہو جائیں پھر کیونکر ممکن تھا کہ میں اس سلطنت کا بدخواہ ہوتا یا کوئی ناجائز باغیانہ منصوبہ میں اپنی جماعت میں پھیلاتا جبکہ میں بیس برس تک یہی تعلیم اطاعت گورنمنٹ انگریزی کی دیتا رہا۔ اور اپنے مریدوں میں یہی ہدایتیں جاری کرتا رہا۔ تو کیونکر ممکن تھا کہ ان تمام ہدایتوں کے برخلاف کسی بغاوت کے منصوبے کی میں تعلیم کروں۔ حالانکہ میں جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے میری اور میری جماعت کی پناہ اس سلطنت کو بنا دیا ہے۔ یہ امن جو اس سلطنت کے زیر سایہ ہمیں حاصل ہے نہ یہ امن مکہ معظمہ میں مل سکتا ہے نہ مدینہ میں۔ اور نہ سلطان روم کے پایہ تخت قسطنطنیہ میں۔ پھر میں خود اپنے آرام کا دشمن بنوں۔ اگر اس سلطنت کے بارے میں کوئی باغیانہ منصوبہ دل میں مخفی رکھوں اور جو لوگ مسلمانوں میں سے ایسے بد خیال جہاد اور بغاوت کے دلوں میں مخفی رکھتے ہیں میں انکو سخت نادان اور بد بخت ظالم سمجھتا ہوں۔ کیونکہ ہم اس بات کے گواہ ہیں کہ اسلام کی دوبارہ زندگی انگریزی سلطنت کے امن بخش سایہ سے پیدا ہوئی ہے۔ تم چاہو دل میں مجھ کو کچھ کہو۔ گالیاں نکالو۔ یا پہلے کی طرح کافر کا فتویٰ لکھو۔ مگر میرا اصول یہی ہے کہ ایسی سلطنت سے دل میں بغاوت کے خیالات رکھنا۔ یا ایسے خیال جن سے بغاوت کا احتمال ہو سکے سخت بدذاتی اور خدا تعالیٰ کا گناہ ہے۔ بہتیرے ایسے مسلمان ہیں جن کے دل کبھی صاف نہیں ہوں گے جب تک اُن کا یہ اعتقاد نہ ہو کہ خونی مہدی اور خونی مسیح کی حدیثیں تمام افسانہ اور کہانیاں ہیں۔

اے مسلمانو! اپنے دین کی ہمدردی تو اختیار کرو مگر سچی ہمدردی۔ کیا اس معقولیت کے زمانہ میں دین کے لئے یہ بہتر ہے کہ ہم تلوار سے لوگوں کو مسلمان کرنا چاہیں۔ کیا جبر کرنا اور زور اور تعدی سے اپنے دین میں داخل کرنا اس بات کی دلیل ہو سکتی ہے کہ وہ دین خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے؟ خدا سے ڈرو اور یہ بیہودہ الزام دین اسلام پر مت لگاؤ کہ اسنے جہاد کا مسئلہ سکھایا ہے اور زبردستی اپنے مذہب میں داخل کرنا اسکی تعلیم ہے۔ معاذ اللہ ہرگز

۲۸

تریاق القلوب صفحہ 27، 28 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 155، 156 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 353 پر درج ہے

صفحہ 990

حوالہ نمبر 433

اربعین نمبر ۳ ۴۱۸

اور فتویٰ دینے والے کا نام جس نے اوّل فتویٰ دیا ہامان ۔ پس تعجب نہیں کہ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ ہامان اپنے کفر پر مرے گا لیکن فرعون کسی وقت جب خدا کا ۳۹ ارادہ ہو کہے گا اٰمَنْتُ اَنَّہٗ لَا اِلٰہَ اِلَّا الَّذِیْ اٰمَنَتْ بِہٖ بَنُوْا اِسْرَآئِیْلَ ۱ اور پھر فرمایا کہ یہ فتنہ خدا کی طرف سے ہوگا تا وہ تجھ سے بہت محبت کرے جو دائمی محبت ہے جو کبھی منقطع نہیں ہوگی اور خدا میں تیرا اجر ہے خدا تجھ سے راضی ہوگا اور تیرے نام کو پورا کرے گا۔ بہت ایسی باتیں ہیں کہ تم چاہتے ہو مگر وہ تمہارے لئے اچھی نہیں اور بہت ایسی باتیں ہیں کہ تم نہیں چاہتے اور وہ تمہارے لئے اچھی ہیں۔ اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تکفیر ضروری تھی۔ اور اس میں خدا کی حکمت تھی۔ مگر افسوس ان پر جن کے ذریعہ سے یہ حکمت اور مصلحت الٰہی پوری ہوئی۔ اگر وہ پیدا نہ ہوتے تو اچھا تھا۔

اس قدر الہام تو ہم نے بطور نمونہ کے براہین احمدیہ میں سے لکھے ہیں لیکن اس اکیس برس کے عرصہ میں براہین احمدیہ سے لیکر آجتک میں نے چالیس کتابیں تالیف کی ہیں۔ اور ساٹھ ہزار کے قریب اپنے دعویٰ کے ثبوت کے متعلق اشتہارات شائع کئے ہیں اور وہ سب میری طرف سے بطور چھوٹے چھوٹے رسالوں کے ہیں۔ اور ان سب میں میری مسلسل طور پر یہ عادت رہی ہے کہ اپنے جدید الہامات ساتھ ساتھ شائع کرتا رہا ہوں اس صورت میں ہر ایک عقلمند سوچ سکتا ہے کہ یہ ایک مدت دراز کا زمانہ ابتداء دعویٰ مامور من اللہ ہونے سے آج تک کیسی شبانہ روزی سرگرمی سے گذرا ہے۔ اور خدا نے نہ نرا اس وقت تک مجھے زندگی بخشی بلکہ ان تالیفات کے لئے صحت بخشی مال عطا کیا۔ وقت عنایت فرمایا۔ اور الہامات میں خدا تعالیٰ کی مجھ سے یہ عادت نہیں کہ صرف معمولی مکالمہ الٰہیہ ہو بلکہ اکثر الہامات میرے پیشگوئیوں سے بھرے ہوئے ہیں اور دشمنوں کے بد ارادوں کا اُن میں جواب ہے۔ مثلاً چونکہ خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ دشمن میری موت کی تمنا کرینگے تا یہ نتیجہ نکالیں کہ جھوٹا تھا تبھی جلد مرگیا۔ اس لئے پہلے ہی سے اُس نے

۷۶

۱؎ یونس : ۹۱

اربعین 3 صفحہ 35 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 418 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 353 پر درج ہے

صفحہ 991

حوالہ نمبر 434

ازالہ اوہام ۱۴۰ حصہ اوّل

حالانکہ وہ بجائے خود اپنے تئیں محدّث سمجھتے تھے کیونکہ اُن کی بائیبل کے ظاہر ہی الفاظ پر نظر تھی۔ ؂ افسوس کہ ہمارے مسلمان بھائی بھی اسی گرداب میں پڑے ہوئے ہیں اور حضرت مسیح کی نسبت یہودیوں کی طرح اُن کے دلوں میں بھی یہی خیال جما ہوا ہے کہ ہم اُنہیں سچ مچ آسمان پر اترتے دیکھیں گے اور یہ اعجوبہ ہم بچشم خود دیکھیں گے کہ حضرت مسیح زرد رنگ کی پوشاک پہنے ہوئے آسمان سے اترتے چلے آتے ہیں اور دائیں بائیں فرشتے اُن کے ساتھ ہیں اور تمام بازاری لوگ اور دیہات کے آدمی ایک بڑے میلہ کی طرح اکٹھے ہو کر دور سے اُن کو دیکھ رہے ہیں اور فيه اختلافا كثيرا ـ قل لو اتبع الله اهواءكم لفسدت السموات والارض ؂۲ و من فيهن ولَبطلت حكمته وكان الله عزيزا حكيما ـ قل لو كان البحر مدادا لكلمات ربى لنفد البحر قبل ان تنفد كلمات ربى ولو جئنا بمثله ؂۳ مددا ـ قل ان كنتم تحبون الله فاتبعونى يحببكم الله وكان الله غفورا رحيما ۔ پھر اس کے بعد الہام کیا گیا کہ ان علماء نے میرے گھر کو بدل ڈالا۔ میری عبادت گاہ ؂۴ میں ان کے چولھے ہیں میری پرستش کی جگہ میں اُن کے پیالے اور ٹھوٹھیاں رکھی ہوئی ہیں اور چوہوں کی طرح میرے نبی کی حدیثوں کو کتر رہے ہیں (ٹھوٹھیاں وہ چھوٹی پیالیاں ہیں جن کو ہند کی زبان میں کٹوریاں کہتے ہیں۔ عبادت گاہ سے مراد اس الہام میں زمانہ حال کے اکثر مولویوں کے دل ہیں جو دنیا سے بھرے ہوئے ہیں) اس جگہ مجھے یاد آیا کہ جس روز وہ الہام مذکورہ بالا جس میں قادیان میں نازل ہونے کا ذکر ہے ہوا تھا اس روز کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب مرحوم میرزا غلام قادر میرے ؂۵ قریب بیٹھ کر بآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انہوں نے ان فقرات کو پڑھا کہ انا انزلنہ قریبا من القادیان تو میں نے سنکر بہت تعجب کیا کہ کیا قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے؟ تب انہوں نے کہا کہ یہ دیکھو لکھا ہوا ہے تب میں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ میں شاید قریب نصف کے موقع پر یہی الہامی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے اور میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے مکہ اور مدینہ اور قادیان یہ کشف تھا

ازالہ اوہام [حاشیہ] حصہ اوّل صفحہ 140 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 140 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 354 پر درج ہے

صفحہ 992

حوالہ نمبر 435

۵۵۵

(۱۴۹)

قابل توجہ گورنمنٹ از طرف مہتمم کاربار تجویز تعطیل جمعہ

میرزا غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور پنجاب

چونکہ قرین مصلحت ہے کہ سرکار انگریزی کی خیر خواہی کے لیے ایسے نافہم مسلمانوں کے نام بھی نقشہ جات میں درج کئے جاویں جو درپردہ اپنے دلوں میں برٹش انڈیا کو دارالحرب قرار دیتے ہیں اور ایک چھپی ہوئی بغاوت کو اپنے دلوں میں رکھ کر اسی اندرونی بیماری کی وجہ سے فرضیت جمعہ سے منکر ہوکر اس کی تعطیل سے گریز کرتے ہیں۔ لہٰذا یہ نقشہ اسی غرض کے لیے تجویز کیا گیا کہ تا اس میں ان ناحق شناس لوگوں کے نام محفوظ رہیں کہ جو ایسے باغیانہ سرشت کے آدمی ہیں۔ اگرچہ گورنمنٹ کی خوش قسمتی سے برٹش انڈیا میں مسلمانوں میں ایسے آدمی بہت ہی تھوڑے ہیں جو ایسے مفسدانہ عقیدہ کو اپنے دل میں پوشیدہ رکھتے ہوں لیکن چونکہ اس امتحان کے وقت بڑی آسانی سے ایسے لوگ معلوم ہوسکتے ہیں جن کے نہایت مخفی ارادے گورنمنٹ کے برخلاف ہیں اس لیے ہم نے اپنی محسن گورنمنٹ کی پولیٹیکل خیر خواہی کی نیت سے اس مبارک تقریب پر یہ چاہا کہ جہانتک ممکن ہو ان شریر لوگوں کے نام ضبط کئے جائیں جو اپنے عقیدہ سے اپنی مفسدانہ حالت کو ثابت کرتے ہیں کیونکہ جمعہ کی تعطیل کی تقریب پر ان لوگوں کا شناخت کرنا ایسا آسان ہے کہ اس کی مانند ہمارے ہاتھ میں کوئی بھی ذریعہ نہیں۔ وجہ یہ کہ جو ایک ایسا شخص ہو جو اپنی نادانی اور جہالت سے برٹش انڈیا کو دارالحرب قرار دیتا ہے۔ وہ جمعہ کی فرضیت سے ضرور منکر ہوگا اور اسی علامت سے شناخت کیا جائے گا کہ وہ درحقیقت اس عقیدہ کا آدمی ہے لیکن ہم گورنمنٹ میں با ادب اطلاع کرتے ہیں کہ ایسے نقشے ایک پولیٹیکل راز کی طرح اس وقت تک ہمارے پاس محفوظ رہیں گے جب تک گورنمنٹ ہم سے طلب کرے۔ اور ہم اُمید رکھتے ہیں کہ ہماری گورنمنٹ حلیم مزاج بھی اُن نقشوں کو ایک ملکی راز کی طرح اپنے کسی دفتر میں محفوظ رکھے گی۔ اور بالفعل یہ نقشے جن میں ایسے لوگوں کے نام مندرج ہیں گورنمنٹ میں نہیں بھیجے جائیں گے۔ صرف اطلاع دہی کے طور پر ان میں سے ایک سادہ نقشہ چھپا ہوا جس پر کوئی نام درج نہیں فقط یہی مضمون درج ہے ہمراہ درخواست بھیجا جاتا ہے اور ایسے لوگوں کے نام معہ پتہ و نشان یہ ہیں :-

مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 555 تا 557 طبع جدید از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 356 پر درج ہے

صفحہ 993

حوالہ نمبر 435

۵۵۶

نمبر شمار نام معہ لقب و عہدہ سکونت ضلع کیفیت

ہدایت۔ اگر اس نقشہ کی دستخطوں سے خانہ پوری ہو چکے تو چاہئے کہ اسی طرح کے اور اسی نمونہ کے اور قلمی نقشے بنا کر ان پر جہاں تک ممکن ہو دستخط کرائے جائیں مگر یہ یاد رہے کہ ہر ایک صاحب اپنا نام اور پتہ خوشخط لکھیں کہ تا پڑھنے میں دقت نہ ہو اور ہر ایک نقشہ کے آخر پر کل دستخطوں کی میزان لکھ دیں۔

مطبع ضیاء الاسلام قادیان

(یہ اشتہار ۲۶/۳ کے چار صفحوں پر معہ نقشہ درج ہے)

مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 555 تا 557 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 356 پر درج ہے

صفحہ 994

حوالہ نمبر 435

۵۵۷

ان وفادار رعایا کے دستخط اور مواہیر جو حسب تفصیل عرضداشت منسلکہ نقشہ ہذا گورنمنٹ عالیہ انگریزی میں اس بات کے لئے ملتجی ہیں کہ آئندہ کل دفاتر محکمہ جات اور سرکاری مدارس اور کالجوں کے لئے اتوار کے ساتھ جمعہ کی تعطیل بھی دی جائے۔

نمبر شمار نام معہ لقب و عہدہ سکونت ضلع کیفیت

مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 555 تا 557 طبع جدید از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 356 پر درج ہے

صفحہ 995

حوالہ نمبر 436

سیرۃ المہدی حصہ سوم ١٠١

۶۳۴ بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ مولوی غلام حسین صاحب ڈنگوی سابق کلرک محکمہ ریلوے لاہور نے بواسطہ مولوی عبد الرحمٰن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا ۔ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک دفعہ ایک سفر میں لاہور اسٹیشن پر اترے تو ایک مسجد میں جو ایک چبوترے کی شکل میں تھی۔ آرام کے لئے بیٹھ گئے۔ یہ مسجد اس جگہ تھی جہاں اب پلیٹ فارم نمبر ۳ ہے۔ پنڈت لیکھرام وہاں آیا۔ اور اس نے حضرت صاحب کو جھک کر سلام کیا۔ تو حضور نے اس سے منہ پھیر لیا۔ دوسری مرتبہ پھر اس نے اسی طرح کیا۔ پھر بھی آپ نے توجہ نہ فرمائی۔ اس پر بعض خدام نے عرض کیا۔ کہ حضور ! پنڈت لیکھرام سلام کے لئے حاضر ہوا ہے۔ آپ نے فرمایا۔ ہمارے سید و مولیٰ محمد مصطفےٰ ؐ کو گالیاں دینے والے کا ہم سے کیا تعلق ہے؟ اسی طرح وہ سلام کا جواب حاصل کرنے میں ناکام چلا گیا۔

خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ اسی واقعہ کا ذکر بروایت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کی روایت نمبر ۲۲۱ میں بھی ہو چکا ہے۔

۶۳۵ بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ مولوی غلام حسین صاحب ڈنگوی نے بواسطہ مولوی عبد الرحمٰن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا۔ کہ ایک دفعہ شیخ رحمت اللہ صاحب گجراتی مرحوم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعوت کی۔ اور دعوت کا اہتمام خاکسار کے سپرد کیا۔ پلاؤ نرم پکا۔ غفلت باورچی کی تھی۔ شیخ صاحب کھانا کھلانے کے وقت عذر خواہی کرنے لگے۔ کہ بھائی غلام حسین کی غفلت سے پلاؤ خراب ہو گیا ہے۔ آپ نے فرمایا۔ کہ گوشت، چاول، مصالحہ اور گھی سب کچھ اس میں ہے۔ اور میں گلے ہوئے چاولوں کو پسند کرتا ہوں۔ یہ آپ کی ذرّہ نوازی کی دلیل ہے۔ کہ غلطی پر بھی خوشی کا اظہار فرمایا۔ ممکن ہے کہ حضور دانہ دار چاولوں کو پسند فرماتے ہوں۔ لیکن خاکسار کو ملامت سے بچانے کے لئے ایسا فرمایا ہو۔

۶۳۶ بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ مرزا دین محمد صاحب ساکن لنگر وال ضلع گورداسپور نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ ایک مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے صبح کے قریب جگایا۔ اور فرمایا کہ مجھے ایک خواب آیا ہے۔ میں نے پوچھا کیا خواب ہے۔ فرمایا۔ میں نے دیکھا ہے کہ میرے تخت پوش کے چاروں طرف رنگ چُنا ہوا ہے۔ میں نے تعبیر پوچھی۔ تو کتاب دیکھ کر فرمایا۔ کہ کہیں سے بہت سا روپیہ آئیگا۔ اس کے بعد تین چار دن یہاں رہا میرے سامنے ایک منی آرڈر آیا جس میں ہزار سے زائد روپیہ تھا۔

سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 101, 102 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 358 پر درج ہے

صفحہ 996

حوالہ نمبر 436 ١٠٢

مجھے اصل رقم یاد نہیں۔ جب مجھے خواب سُنائی۔ تو ملا واصل اور منشی پت کو بھی بلا کر سُنائی۔ جب منی آرڈر آیا۔ تو ملا واصل و منشی پت کو بلایا۔ اور فرمایا۔ کہ لو بھئی یہ منی آرڈر آیا ہے جا کر ڈاکخانہ سے لے آؤ۔ ہم نے دیکھا تو منی آرڈر بھیجنے والا کا پتہ اس پر درج نہیں تھا۔ حضرت صاحب کو بھی پتہ نہیں لگا کہ کس نے بھیجا ہے۔

خاکسار عرض کرتا ہے کہ آجکل کے قواعد کے رُو سے رقم ارسال کنندہ کا اپنا پتہ درج کرنا ضروری ہوتا ہے ممکن ہے اس زمانہ میں یہ قاعدہ نہ ہو۔ یا مرزا دین محمد صاحب کو پتہ نہ لگا ہو۔

۹۲۷ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۔ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا۔ کہ ایک دفعہ میں اپنے گاؤں سیکھواں سے قادیان آیا۔ حضور علیہ السلام کی عادت تھی۔ کہ گرم موسم میں عموماً شام کے وقت مسجد مبارک کے شاہ نشین پر تشریف فرما ہوتے اور حضور کے اصحاب بھی حاضر رہتے۔ اس روز عشاء کی نماز کے بعد آپ شاہ نشین پر تشریف فرما ہوئے۔ میر ناصر نواب صاحب نے قادیان کے بعض گنوار طبقہ کی بیعت کا ذکر کیا۔ اور کہا کہ یہ لوگ حضرت صاحب سے کوئی خاص تعلق پیدا نہیں کرتے مولوی عبد الکریم صاحب نے میر صاحب موصوف کے کلام کے جواب میں کہا۔ کہ دیہاتی لوگ اسی طرح کے ہوتے ہیں۔ اسی اثنا میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی توجہ ہو گئی ۔ تو آپ نے فرمایا ۔ کہ کیا بات ہے۔ مولوی صاحب نے میر صاحب اور اپنی گفتگو کا تذکرہ کر دیا۔ اس پر حضرت صاحب نے مولوی عبد الکریم صاحب کی تائید فرمائی اور فرمایا۔ کہ میر صاحب دیہات کے لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں۔ میں اس وقت مجلس میں اپنی کمزوریوں کو یاد کر کے اور یہ خیال کر کے کہ میں بھی دیہاتی ہوں مغموم و محزون بیٹھا ہوا تھا لیکن اسی وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ کہ میاں جمال الدین و میاں امام الدین و میاں خیر الدین تو ایسے نہیں ہیں۔ جب حضور نے ہم تین بھائیوں کو عام دیہاتیوں سے مستثنیٰ کر دیا ۔ تو میرے تمام ہم و غم دور ہو گئے۔ اور میرا دل خوشی سے بھر گیا۔

خاکسار عرض کرتا ہے کہ آنحضرت صلعم کے زمانہ میں بھی اعراب لوگوں کا ایمان اسی طرح کا ہوتا تھا۔ مگر ان سے وہ لوگ مستثنیٰ ہوتے ہیں۔ جو نبی کی صحبت سے مستفید ہوتے رہتے ہیں۔ اور خدا کے فضل سے ہماری جماعت کے اکثر دیہاتی نہایت مخلص ہیں۔ دراصل ایمان کی پختگی کا مدار شہری یا دیہاتی ہونے پر نہیں۔ بلکہ صحبت اور استفاضہ اور پھر علم و عرفان پر ہے۔ لیکن چونکہ نبی سے دُور رہنے والے

سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 101, 102 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 358 پر درج ہے

صفحہ 997

(حوالہ نمبر 437)

۳۳۷

یہ چند احکام بطور نمونہ ہم نے لکھے ہیں اس میں ایک تھوڑی سی عقل کا آدمی بھی سوچ سکتا ہے کہ بظاہر یہ تمام خطاب صحابہ کیطرف ہو لیکن درحقیقت تمام مسلمان ان احکام پر عمل کرنے کے لئے مامور ہیں نہ یہ کہ صرف صحابہ مامور ہیں وبس۔ غرض قرآن کا اصلی اور حقیقی اسلوب جس سے سارا قرآن بھرا پڑا ہے یہ ہے کہ اسکے خطاب کے مورد حقیقی اور واقعی طور پر تمام وہ مسلمان ہیں جو قیامت تک پیدا ہوتے رہیں گے گو بظاہر صورت خطاب صحابہ کیطرف راجع معلوم ہوتا ہے پس جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ یہ وعدہ یا وعید صحابہ تک ہی محدود ہے وہ قرآن کے عام محاورہ سے

صفحہ 998

حوالہ نمبر 438

۵۴۷

ومنح بى من النعم الظاهرة والباطنة وجعلنى من المجددين۔ وكنت شابا وقد شخت وما استفتحت بابا الا فتحت ۔ وما سألت من نعمة الا اعطيت وما استكشفت من امر الا كشفت ۔ وما ابتهلت فى دعاء الا اجيبت ۔ وكل ذالك من حبى بالقرآن وحب سيدى وامامى سيد المرسلين ۔ اللهم صل وسلم عليه بعدد نجوم السموت وذرات الارضين ومن اجل هذا الحب الذى كان فى فطرتى كان الله معى من اول امرى حين ولدت وحين كنت ضريعا عند ظئرى وحين كنت اقرء فى المتعلمين ۔ وقد حبب الى منذ دلوك العشرين ان انصر الدين ۔ واجادل البراهمة والقسيسين ۔ وقد الفت فى هذه المناظرات مصنفات عديدة ۔ ومؤلفات مفيدة منها كتابى البراهين ۔ كتاب نادر ما نسج على منواله فى ايام خالية فليقرءه من كان من المرتابين ۔ قد سللت فيه صوارم الحجج القطعية على اقوال الملحدين ۔ ورميت بشهبها الشياطين المبطلين ۔ قد خفض هام كل معاند بذالك السيف المسلول ۔ وتبينت فضيحتهم بين ارباب المنقول والمعقول ۔ وبين المصنفين ۔ فيه دقائق العلوم وشواردها والالهامات الطيبة الصحيحة و الكشوف الجلية ومواردها۔ ومن كل ما يجلى درر معارف الدين المتين ولى كتب اخرى تشابهه فى الكمال ۔ منها الكحل والتوضيح والازالة وفتح الاسلام وكتاب آخر سبق كلها الفته فى هذه الايام اسمه دافع الوساوس هو نافع جدا للذين يريدون ان يروا حسن الاسلام ويكفون افواه المخالفين ۔ تلك كتب ينظر اليها كل مسلم بعين المحبة والمودة وينتفع من معارفها ويقبلنى ويصدق

آئینہ کمالات اسلام صفحہ 547، 548 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 547، 548 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 359 پر درج ہے

صفحہ 999

حوالہ نمبر 438

۵۴۸

دعوتى۔ الا ذرية البغايا الذين ختم الله على قلوبهم فهم لا يقبلون ۔ ولما بلغت اشد عمرى و بلغت اربعين سنة جاءتنى نسيم الوحى بريّا عنايات ربّى ليزيد معرفتى و يقينى و يرتفع حجبى واكون من المستيقنين فاول ما فتح على بابه هو الرؤيا الصالحة فكنت لا ارى رؤيا الا جاءت مثل فلق الصبح وانى رايت فى تلك الايام رؤيا صالحة صادقة قريباً من الفين او اكثر من ذالك ۔ منها محفوظة فى حافظتى وكثير منها نسيتها ۔ ولعل الله يكررها فى وقت اخر ونحن من الآملين ۔ ورايت فى غلواء شبابى وعند دواعى التصابى كانى دخلت فى مكان وفيه حفدتى وخدمى فقلت طهروا فراشى فان وقتى قد جاء ثم استيقظت وخشيت على نفسى وذهب وهلى الى اننى من المائتين ۔ ورايت ذات ليلة وانا غلام حديث السن كانى فى بيت لطيف نظيف يذكر فيها رسول الله صلّى الله عليه وسلّم فقلت ايّها النّاس اين رسول الله صلّى الله عليه وسلّم فاشاروا الى حجرة فدخلت مع الداخلين ۔ فبشّ بى حين وافيته ۔ وحيّانى باحسن ماحيّيته وما انسى حسنه وجماله وملاحته وتحننه الى يومى هذا ۔ شغفنى حبّاً وجذبنى بوجه حسين قال ما هذا بيمينك يا احمد فنظرت فاذا كتاب بيدى اليمنى وخطر بقلبى انه من مصنفاتى قلت يا رسول الله كتاب من مصنفاتى قال ما اسم كتابك فنظرت الى الكتاب مرة اخرى وانا كالمتحيّرين ۔ فوجدته يشابه كتاباً كان فى دار كتبى واسمه قطبى قلت يا رسول الله اسمه قطبى قال ارنى كتابك القطبى فلما

آئینہ کمالات اسلام صفحہ 547،548 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 547،548 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 359 پر درج ہے

صفحہ 1000

حوالہ نمبر 439 ۲۸

(۴۵) بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام قادیان سے گورداسپور جاتے ہوئے بٹالہ ٹھیرے وہاں کوئی مہمان جو آپ کی تلاش میں قادیان سے ہوتا ہوا بٹالہ واپس آیا تھا آپ کے پاس کچھ پھل بطور تحفہ لایا ۔ پھلوں میں انگور بھی تھے۔ آپ نے انگور کھائے۔ اور فرمایا انگور میں ترشی ہوتی ہے۔ مگر یہ ترشی نزلہ کے لیے مضر نہیں ہوتی۔ پھر آپ نے فرمایا ابھی میرا دل انگور کو چاہتا تھا۔ سو خدا نے بھیج دیئے۔ فرمایا۔ کئی دفعہ میں نے تجربہ کیا ہے۔ کہ جس چیز کو دل چاہتا ہے۔ اللہ اُسے مہیا کر دیتا ہے۔ پھر ایک واقعہ سُنایا۔ کہ میں ایک سفر میں جا رہا تھا۔ کہ میرے دل میں پونڈے گنّے کی خواہش پیدا ہوئی۔ مگر وہاں راستہ میں کوئی گنّا میسر نہیں تھا۔ مگر اللہ کی قدرت کہ تھوڑی دیر کے بعد ایک شخص ہم کو مل گیا جس کے پاس پونڈے تھے۔ اس سے ہم کو پونڈے ملگئے ۔

(۴۶) بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ اوائل میں ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سخت دورہ پڑا ۔ کسی نے مرزا سلطان احمد اور مرزا فضل احمد کو یہی اطلاع دی ۔ وہ دونوں آگئے ۔ پھر آپکے سامنے بھی حضرت صاحب کو دورہ پڑا۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں۔ اس وقت میں نے دیکھا ۔ کہ مرزا سلطان احمد تو آپکی چارپائی کے پاس خاموشی کے ساتھ بیٹھے رہے۔ مگر مرزا فضل احمد کے چہرہ پر ایک رنگ آتا تھا۔ اور ایک جاتا تھا اور وہ کبھی ادھر بھاگتا تھا۔ اور کبھی اُدھر ۔ کبھی اپنی پگڑی اُتار کر حضرت صاحب کی ٹانگوں کو باندھتا تھا۔ اور کبھی پاؤں دبانے لگ جاتا تھا۔ اور گھبراہٹ میں اسکے ہاتھ کانپتے تھے ۔

[ (۴۷) بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب محمدی بیگم کی شادی دوسری جگہ ہو گئی اور قادیان کے تمام رشتہ داروں نے حضرت صاحب کی سخت مخالفت کی اور خلاف کوشش کرتے رہے اور سب نے ]

سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 28، 29 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 360 پر درج ہے

صفحہ 1001

حوالہ نمبر 439

۲۹

احمد بیگ والد محمدی بیگم کا ساتھ دیا اور خود کوشش کر کے لڑکی کی شادی دوسری جگہ کرا دی۔ تو حضرت صاحب نے مرزا سلطان احمد اور مرزا فضل احمد دونوں کو الگ الگ خط لکھا کہ ان سب لوگوں نے میری سخت مخالفت کی ہے اب انکے ساتھ ہمارا کوئی تعلق نہیں رہا ۔ اور ان کے ساتھ اب ہماری قبریں بھی اکٹھی نہیں ہو سکتیں لہٰذا اب تم اپنا آخری فیصلہ کرو اگر تم نے میرے ساتھ تعلق رکھنا ہے۔ تو پھر ان سے قطع تعلق کرنا ہو گا اور اگر ان سے تعلق رکھنا ہے تو پھر میرے ساتھ تمہارا کوئی تعلق نہیں رہ سکتا ۔ میں اس صورت میں تم کو عاق کرتا ہوں ۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ مرزا سلطان احمد کا جواب آیا کہ مجھ پر تائی صاحبہ کے احسانات ہیں ۔ ان سے قطع تعلق نہیں کر سکتا ۔ مگر مرزا فضل احمد نے لکھا کہ میرا تو آپکے ساتھ ہی تعلق ہے ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ حضرت صاحب نے مرزا فضل احمد کو جواب دیا کہ اگر یہ بات ہے تو اپنی بیوی بنت مرزا علی شیر کو (جو سخت مخالف تھی اور مرزا احمد بیگ کی بھانجی تھی ) طلاق دے دو ۔ مرزا فضل احمد نے فوراً طلاق نامہ لکھ کر حضرت صاحب کے پاس روانہ کر دیا ۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں ۔ کہ میر فضل احمد باہر سے آ کر ہمارے پاس ہی ٹھہرتا تھا مگر اپنی دوسری بیوی کی فتنہ پردازی سے آخر پھر آہستہ آہستہ اُدھر جا ملا ۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں ۔ کہ فضل احمد بہت شرمیلا تھا۔ حضرت صاحب کے سامنے آنکھ نہیں اُٹھاتا تھا۔ حضرت صاحب اسکے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ فضل احمد سیدھی طبیعت کا ہے ۔ اور اس میں محبت کا مادہ ہے ۔ مگر دوسروں کے بہکانے سے ادھر جا ملا ہے۔ نیز والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ جب فضل احمد کی وفات کی خبر آئی ۔ تو اس رات حضرت صاحب قریباً ساری رات نہیں سوئے ۔ اور دو تین دن تک مغموم سے رہے ۔ خاکسار نے پوچھا کہ کیا حضرت صاحب نے کچھ فرمایا بھی تھا ؟ والدہ صاحبہ نے کہا کہ صرف اس قدر فرمایا تھا ۔ کہ ہمارا اسکے ساتھ تعلق تو نہیں تھا ۔ مگر مخالف اسکی موت کو بھی اعتراض کا نشانہ بنا لینگے۔ خاکسار عرض

سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 28، 29 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 360 پر درج ہے

صفحہ 1002

حوالہ نمبر 440

۱۸۶

(۶۰)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ

لَا یُحِبُّ اللّٰهُ الْجَھْرَ بِالسُّوْءِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنْ ظُلِمَ وَ کَانَ اللّٰہُ سَمِیْعًا عَلِیْمًا ۱؂

اشتہار نصرت دین و قطع تعلق

از اقارب مخالف دین

عَلٰی مِلَّةِ اِبْرٰھِیْمَ حَنِیْفًا

بحل بدندان تو کرمے او اُفتاد ؂ آں بنہ دنداں بکن ای اوستاد

ناظرین کو معلوم ہو کہ اِس عاجز نے ایک دینی خصومت کے پیش آجانے کی وجہ سے ایک نشان کے مطالبہ کے وقت اپنے ایک قریبی مرزا احمد بیگ ولد مرزا گاماں بیگ ہوشیار پوری کی دختر کلاں کی نسبت بحکم و الہام الٰہی یہ اشتہار دیا تھا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہی مقدر اور قرار یافتہ ہے کہ وہ لڑکی اس عاجز کے نکاح میں آئے گی ۔ خواہ پہلے ہی باکرہ ہونے کی حالت میں آجاوے اور یا خدا تعالیٰ بیوہ کر کے اس کو میری طرف لے آوے ۔ چنانچہ تفصیل ان کل امور مذکورہ بالا کی اس اشتہار میں درج ہے ۔ اب باعث تحریر اشتہار ہٰذا یہ ہے کہ میرا بیٹا سلطان احمد نام جو نائب تحصیلدار لاہور میں ہے اور اس کی تائی صاحبہ جنہوں نے اس کو بیٹا بنایا ہوا ہے، وہی اس مخالفت پر آمادہ ہو گئے ہیں ۔ اور یہ سارا کام اپنے ہاتھ میں لے کر اس تجویز میں ہیں کہ عید کے دن یا اس کے بعد اس لڑکی کا کسی سے نکاح کیا جائے۔ اگر یہ اوروں کی طرف سے مخالفانہ کارروائی ہوتی تو ہمیں درمیان میں دخل دینے کی کیا ضرورت اور کیا غرض تھی۔ امر ربی تھا، اور وہی اس کو اپنے فضل و کرم سے ظہور میں لاتا ۔ مگر اس کام کے مدّارالمہام وہ لوگ ہو گئے جن پر اس عاجز کی اطاعت فرض تھی اور ہرچند سلطان احمد کو سمجھایا اور بہت تاکیدی خط لکھے کہ تو اور تیری والدہ اس کام سے الگ ہو جائیں ۔ ورنہ میں تم سے جدا ہو جاؤں گا اور تمہارا کوئی حق نہیں رہے گا ۔ مگر انہوں نے میرے خط کا جواب تک نہ دیا ۔ اور اُلٹا مجھ سے بڑی سرکشی ظاہر کی ۔ مگر ان کی طرف سے ایک تیر تو درکنار تلوار سے مجھے زخم پہنچتا تو بخدا میں اس پر صبر کرتا ۔ لیکن انہوں نے دینی مخالفت کر کے اور دینی مقابلہ سے آزار دے کر مجھے بہت ستایا ۔ اور اس حد تک میرے دل کو توڑ دیا

۱؂ النساء : ۱۴۹

مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 186 ، 187 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 361 پر درج ہے

صفحہ 1003

حوالہ نمبر 440

١٨٧

کہ میں بیان نہیں کر سکتا اور عمداً چاہا کہ میں سخت ذلیل کیا جاؤں۔ سلطان احمد ان دو بڑے گناہوں کا مرتکب ہوا اوّل یہ کہ اُس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی مخالفت کرنی چاہی۔ اور یہ چاہا کہ دین اسلام پر تمام مخالفوں کا حملہ ہو۔ اور یہ اپنی طرف سے اس نے ایک بنیاد رکھی ہے اس اُمید پر کہ یہ جھوٹے ہو جائیں گے اور دین کی ہتک ہوگی۔ اور مخالفوں کی فتح۔ اس نے اپنی طرف سے مخالفت کی تلوار چلانے میں کچھ فرق نہیں کیا اور اس نادان نے نہ سمجھا کہ خدا وند قدیر و غیور اس دین کا حامی ہے اور اس عاجز کا بھی حامی۔ وہ اپنے بندہ کو کبھی ضایع نہ کریگا۔ اگر سارا جہان مجھے برباد کرنا چاہے تو وہ اپنی رحمت کے ہاتھ سے مجھ کو تھام لے گا۔ کیونکہ میں اس کا ہوں اور وہ میرا۔ دوم سلطان احمد نے مجھے جو میں اس کا باپ ہوں سخت ناچیز قرار دیا اور میری مخالفت پر کمر باندھی اور قولی اور فعلی طور پر اس مخالفت کو کمال تک پہنچایا۔ اور میرے دینی مخالفوں کو مدد دی اور اسلام کی ہتک بدل و جان منظور رکھی۔ سو چونکہ اس نے دونوں طور کے گناہوں کو اپنے اندر جمع کیا۔ اپنے خدا کا حق بھی توڑ دیا اور اپنے باپ کا بھی۔ اور ایسا ہی اس کی سگی والدہ نے کیا۔ سو جبکہ انہوں نے کوئی تعلق مجھ سے باقی نہ رکھا۔ اس لیے میں نہیں چاہتا کہ اب ان کا کسی قسم کا تعلق مجھ سے باقی رہے اور ڈرتا ہوں کہ ایسے دینی دشمنوں سے پیوند رکھنے میں معصیت نہ ہو۔ لہٰذا میں آج کی تاریخ جو دوسری مئی ۱۸۹۱ء ہے۔ عوام اور خواص پر بذریعہ اشتہار ہٰذا ظاہر کرتا ہوں کہ اگر یہ لوگ اس ارادہ سے باز نہ آئے۔ اور وہ تجویز جو اس لڑکی کے خاطر اور نکاح کرنے کی اپنے ہاتھ سے یہ لوگ کر رہے ہیں اس کو موقوف نہ کر دیا۔ اور جس شخص کو انہوں نے نکاح کے لیے تجویز کیا ہے اس کو ردّ نہ کیا بلکہ اسی شخص کے ساتھ نکاح ہو گیا تو اسی نکاح کے دن سے سلطان احمد عاق اور محروم الارث ہوگا اور اسی روز سے اس کی والدہ پر میری طرف سے طلاق ہے۔ اور اگر اس کا بھائی فضل احمد جس کے گھر میں مرزا احمد بیگ والد لڑکی کی بھانجی ہے اپنی اس بیوی کو اسی دن جو اسکو نکاح کی خبر ہو اور طلاق نہ دیوے تو پھر وہ بھی عاق اور محروم الارث ہوگا۔ اور آئندہ ان سب کا کوئی حق میرے پر نہیں رہے گا۔ اور اس نکاح کے بعد تمام تعلقات خویشی و قرابت و ہمدردی دور ہو جائیں گے۔ اور کسی نیکی۔ بدی۔ رنج راحت۔ شادی اور ماتم میں ان سے شرکت نہیں رہے گی کیونکہ انہوں نے آپ تعلق توڑ دیئے اور توڑنے پر راضی ہو گئے۔ سو اب ان سے کچھ تعلق رکھنا قطعاً حرام اور ایمانی غیوری کے برخلاف اور ایک دیوث کا کام ہے۔ سو میں دیوث نہیں ہوتا۔

کہ چوں نہ بود خویش را دیانت و تقویٰ ٭ قطع رحم بہ از مودت قربےٰ

والسلام علےٰ من اتبع الہدیٰ

المشتہر ۲ مئی ۱۸۹۱ء مرزا غلام احمد لدھیانہ حقانی پریس لدھیانہ

مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 186 ، 187 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 361 پر درج ہے

صفحہ 1004

حوالہ نمبر 441

۱۵۳ تحفہ گولڑویہ

اور جس تاریخ میں لیکھرام کا قتل ہونا بیان کیا گیا تھا اسی طرح سے لیکھرام قتل ہوا اور کئی سو لوگوں نے گواہی دی کہ وہ پیشگوئی بہت صفائی سے پوری ہو گئی۔ چنانچہ اب تک وہ محضر نامہ میرے پاس موجود ہے جس پر ہندوؤں کی گواہیاں بھی ثبت ہیں ویسا ہی پیشگوئی کے مطابق میرے گھر میں چار لڑکے پیدا ہوئے اور پسر چہارم کی پیدائش تک پیشگوئی کے مطابق عبدالحق غزنوی زندہ رہا۔ اِس میں کیسی قدرت الٰہی پائی جاتی ہے ایسا ہی لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ مکرمی اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب کے گھر میں ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا بدن پھوڑوں سے بھرا ہوا تھا اور وہ پھوڑے ایک سال سے بھی کچھ زیادہ دنوں تک اس لڑکے کے بدن پر رہے جو بڑے بڑے اور خطرناک اور بد نما اور موٹے اور ناقابلِ علاج معلوم ہوتے تھے جن کے اب تک داغ موجود ہیں۔ کیا یہ طاقتیں بجز خدا کے کسی اور میں بھی پائی جاتی ہیں؟ پھر یہ پیشگوئیاں کچھ ایک دو پیشگوئیاں نہیں بلکہ اسی قسم کی سو سے زیادہ پیشگوئیاں ہیں جو کتاب تریاق القلوب میں درج ہیں۔ پھر ان سب کا کچھ بھی ذکر نہ کرنا۔ اور بار بار احمد بیگ کے داماد یا آتھم کا ذکر کرتے رہنا کس قدر مخلوق کو دھوکہ دینا ہے۔ اس کی ایسی ہی منہ مثل ہے کہ مثلاً کوئی شریر النفس اُن تین ہزار معجزات کا کبھی ذکر نہ کرے جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ظہور میں آئے اور حدیبیہ کی پیشگوئی کو بار بار ذکر کرے کہ وہ وقت اندازہ کردہ پر پوری نہیں ہوئی۔ یا مثلاً حضرت مسیح کی صاف اور صریح پیشگوئیوں کا کبھی کسی کے پاس نام تک نہ لے اور بار بار ہنسی ٹھٹھے کے طور پر لوگوں کو یہ کہے کہ کیوں صاحب کیا وہ وعدہ پورا ہو گیا جو حضرت مسیح نے فرمایا تھا کہ ابھی تم میں سے کئی لوگ زندہ ہونگے کہ میں پھر واپس آؤنگا۔ یا مثلاً شرارت کے طور پر داؤد کا تخت دوبارہ قائم کرنے کی پیشگوئی کو بیان کر کے پھر ٹھٹھے سے کہے کہ کیوں صاحب کیا یہ سچ ہے کہ حضرت مسیح بادشاہ بھی ہوگئے تھے اور داؤد کا تخت اُن کو مل گیا تھا۔ یا شیخ سعدیؒ کی نسبت

۶۷

یہ حوالہ صفحہ 364 پر درج ہے تحفہ گولڑویہ صفحہ 67 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 153 از مرزا قادیانی

صفحہ 1005

حوالہ نمبر 442

نعرۃ الحق ٧٢

شہرت دی جائیگی ۔ اور تو اس سے کیوں تعجب کرتا ہے کہ خدا ایسا کرے گا ۔ کیا تیرے پر وہ وقت نہیں آیا کہ تو محض معدوم تھا اور تیرے وجود کا دنیا میں نام و نشان نہ تھا۔ پھر کیا خدا کی قدرت سے یہ بعید ہے کہ تیری ایسی تائیدیں کرے۔ اور یہ وعدے پورے کر کے دکھلا دے ۔ اور تو اُن لوگوں کو جو ایمان لائے یہ خوشخبری سُنا کہ اُن کا قدم خدا کے نزدیک صدق کا قدم ہے۔ سو اُن کو وہ وحی سُنا دے جو تیری طرف تیرے رب سے ہوئی ۔ اور یاد رکھ کہ وہ زمانہ آتا ہے کہ لوگ کثرت سے تیری طرف رجوع کریں گے ۔ سو تیرے پر واجب ہے کہ تُو اُن سے بدخلقی نہ کرے اور تجھے لازم ہے کہ تُو اُن کی کثرت کو دیکھ کر تھک نہ جائے ۔ اور ایسے لوگ بھی ہونگے جو اپنے وطنوں سے ہجرت کر کے تیرے صحنوں میں آکر آباد ہونگے ۔ وہی ہیں جو خدا کے نزدیک اصحاب الصفّہ کہلاتے ہیں ۔ اور تو جانتا ہے کہ وہ کس شان اور کس ایمان کے لوگ ہونگے جو اصحاب الصفّہ کے نام سے موسوم ہیں۔ وہ بہت قوی الایمان ہونگے۔ تو دیکھے گا کہ اُن کی آنکھوں سے آنسو جاری ہونگے ۔ وہ تیرے پر درود بھیجیں گے اور کہیں گے کہ اے ہمارے خدا ! ہم نے ایک آواز دینے والے کی آواز سُنی جو ایمان کی طرف بلاتا ہے۔ سو ہم ایمان لائے ہیں تمام پیشگوئیوں کو تم سن لو کہ وقت پر واضح ہونگی۔

ان چند سطروں میں جو پیشگوئیاں ہیں وہ اس قدر نشانوں پر مشتمل ہیں جو دس لاکھ سے زیادہ ہونگے۔ اور نشان بھی ایسے کھلے کھلے ہیں جو اوّل درجہ پر خارق عادت ہیں۔ سو ہم اوّل صفائی بیان کے لئے ان پیشگوئیوں کے اقسام بیان کرتے ہیں بعد اس کے یہ ثبوت دیں گے کہ یہ پیشگوئیاں پوری ہو گئی ہیں ۔ اور درحقیقت یہ خارق عادت نشان ہیں اور اگر بہت ہی سخت گیری اور زیادہ سے زیادہ احتیاط سے بھی ان کا شمار کیا جائے تب بھی یہ نشان جو ظاہر ہوئے دس لاکھ سے زیادہ ہونگے۔

پیشگوئیوں کے اقسام میں سے اوّل وہ پیشگوئی ہے جس کی طرف وحی الٰہی یأتیك امر الزمان الینا میں اشارہ ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مخالف لوگ تجھے مٹانا چاہیں گے

یہ حوالہ صفحہ 364 پر درج ہے براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 72، مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 72 از مرزا قادیانی

صفحہ 1006

حوالہ نمبر 443 حقیقۃ الوحی ۴۰۷ نشانات صداقت

میں ہی مخصوص کیا گیا اور دُوسرے تمام لوگ اِس نام کے مستحق نہیں کیونکہ کثرتِ وحی اور کثرتِ امور غیبیہ اِس میں شرط ہے اور وہ شرط اُن میں پائی نہیں جاتی اور ضرور تھا کہ ایسا ہوتا تاکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی صفائی سے پوری ہو جاتی۔ کیونکہ اگر دُوسرے صلحاء جو مجھ سے پہلے گذر چکے ہیں وہ بھی اِسی قدر مکالمہ ومخاطبہ الٰہیہ اور امور غیبیہ سے حصہ پالیتے تو وہ بھی کہلانے کے مستحق ہو جاتے تو اِس صورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی میں ایک رخنہ واقع ہو جاتا اِس لئے خدا تعالیٰ کی مصلحت نے ان بزرگوں کو اس نعمت کو پورے طور پر پانے سے روک دیا جیسا کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ ایسا شخص ایک ہی ہوگا وہ پیشگوئی پُوری ہو جائے اور یاد رہے کہ ہم نے محض نمونے کے طور پر چند پیشگوئیاں اس کتاب میں لکھی ہیں مگر دراصل وہ کئی لاکھ پیشگوئی ہیں جن کا سلسلہ ابھی تک ختم نہیں ہوا اور خدا کا کلام اِس قدر مجھ پر ہُوا ہے کہ اگر وہ تمام لکھا جائے تو بیس جزو سے کم نہیں ہوگا۔ اب ہم اُسی قدر پر کتاب کو ختم کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ سے چاہتے ہیں کہ اپنی طرف سے اِس میں برکت ڈالے۔ اور لاکھوں دلوں کو اِسکے ذریعہ سے ہماری طرف کھینچے ۔ آمین ۔ واٰخردعوانا ان الحمد للہ ربّ العٰلمین ۔

تمّت

چونکہ خدا کے کلام میں یہ امر قرار یافتہ تھا کہ دوسرا حصہ اِس اُمّت کا وہ ہو گا جو مسیح موعود کی جماعت ہو گی۔ اِسی لئے خدا تعالیٰ نے اِس جماعت کو دُوسروں سے علیحدہ کر کے بیان کیا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے وآخرین منہم لما یلحقوا بھم یعنی اُمّت محمدیہ میں جو ایک اور فرقہ بھی ہے جو بعد میں آخری زمانہ میں آنیوالے ہیں اور حدیث صحیح میں ہے کہ اس آیت کے نزول کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ سلمان فارسی کی پشت پر مارا اور فرمایا لوکان الایمان معلقًا بالثریّا لنالہ رجلٌ من فارس اور یہ میری نسبت پیشگوئی تھی۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں اس پیشگوئی کی تصدیق کیلئے وہی حدیث بطور وحی میرے پر نازل کی اور وحی کی رُو سے مجھ کو پہلے اس کا کوئی مصداق معین نہ تھا اور خدا کی وحی نے مجھے معین کر دیا ۔ فالحمد للّٰہ منہ

۴۰۷

حقیقت الوحی صفحہ 407 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 407 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 365 پر درج ہے

صفحہ 1007

حوالہ نمبر 444

۶۴ نصرۃ الحق

محض جلاہوں سے دھوکا بھی کھا لیتے ہیں۔ لیکن حکیم مطلق نے سونے میں ایک امتیازی نشان رکھا ہے جس کو صرّاف فی الفور شناخت کر لیتے ہیں۔ اور بہتیرے سفید اور چمکتے ہوئے پتھر ایسے ہیں کہ جو ہیرے سے بہت ہی مشابہ ہیں اور بعض نادان اُن کو ہیرا سمجھ کر ہزار ہا روپیہ کا نقصان اٹھاتے ہیں۔ لیکن صانع عالم نے ہیرے کے لئے ایک امتیازی نشان رکھا ہوا ہے جس کو ایک دانشمند جوہری شناخت کر سکتا ہے۔ ایسا ہی دنیا کے کل جواہرات اور عمدہ چیزوں کو دیکھ لو کہ اگرچہ بظاہر نظر کئی ردی اور ادنیٰ درجہ کی چیزیں اُن سے مل جل ہی جاتی ہیں مگر ہر ایک پاک اور قابلِ قدر جوہر اپنے امتیازی نشان سے اپنی خصوصیت کو ظاہر کر دیتا ہے۔ اور اگر ایسا نہ ہوتا تو دنیا میں اندھیر پڑ جاتا۔ اور خود انسان کو دیکھو کہ اگرچہ وہ صورت میں بہت سے حیوانات سے مشابہت رکھتا ہے جیسا کہ بندر سے تا ہم اُس میں ایک امتیازی نشان ہے جس کی وجہ سے ہم کسی بندر کو انسان نہیں کہہ سکتے۔ پھر جبکہ اس مادی دنیا میں جو ناپائیدار اور بے ثبات ہے اور جس کا نقصان بھی بمقابل آخرت کے کچھ چیز نہیں ہے ہر ایک عمدہ اور نفیس جوہر کیلئے حکیم مطلق نے امتیازی نشان قائم کر دیا ہے جس کی وجہ سے وہ جوہر بسہولت شناخت کیا جاتا ہے۔ تو پھر مذہب جس کی غلطی جہنم تک پہنچاتی ہے اور ایسا ہی ایک راستباز اور اہل اللہ کا وجود جس کا انکار شقاوت ابدی کے گڑھے میں ڈالتا ہے کیونکر یقین کیا جائے کہ اُن کی شناخت کے لئے کوئی بھی یقینی اور قطعی نشان نہیں پس ایسے شخص سے زیادہ کون احمق اور نادان ہے کہ جو خیال کرتا ہے کہ سچے مذہب اور سچے راستباز کے لئے کوئی امتیازی نشان خدا نے قائم نہیں کیا۔ حالانکہ خدا تعالیٰ قرآن شریف میں آپ فرماتا ہے کہ کتاب اللہ جو مذہب کی بنیاد ہے امتیازی نشان اپنے اندر رکھتی ہے جس کی نظیر ۵۰ کوئی پیش نہیں کر سکتا۔ اور نیز فرماتا ہے کہ ہر ایک مومن کو فرقان عطا ہوتا ہے یعنی امتیازی نشان جس سے وہ شناخت کیا جاتا ہے۔ پس یقینا سمجھو کہ سچا مذہب اور حقیقی راستباز ضرور اپنے ساتھ امتیازی نشان رکھتا ہے اور اسی کا نام دوسرے لفظوں میں معجزہ اور کرامت اور خوارق عادت امر ہے۔

براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 63 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 63 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 365 پر درج ہے

صفحہ 1008

حوالہ نمبر 445 نزول المسیح ۴۳۸

عبارتیں طالمود کی پیش کی ہیں جو بعینہ بغیر کسی تغیر تبدل کے انجیل میں موجود ہیں اور یہ عبارتیں محض ۶۰ ایک دو فقرے نہیں ہیں بلکہ ایک بڑا حصہ انجیل کا ہے اور وہی فقرات اور وہی عبارتیں ہیں جو انجیل میں موجود ہیں اور اس کثرت سے وہ عبارتیں ہیں جن کے دیکھنے سے ایک محتاط آدمی بھی شک میں پڑے گا کہ یہ کیا معاملہ ہے اور دل میں ضرور کہے گا کہ کیا شک اسکو تو بادی النظر میں ہی رد کرتا جاؤں اور اس یہودی فاضل نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ بقیہ حصہ انجیل کی نسبت اُسنے ثابت کیا ہے کہ یہ عبارتیں دوسرے نبیوں کی کتابوں میں سے لی گئی ہیں اور بعینہ وہ عبارتیں بائبل میں سے نکال کر پیش کی ہیں۔ اور ثابت کیا ہے کہ انجیل سب کی سب مسروقہ ہے اور یہ شخص خدا کا نبی نہیں ہے بلکہ اِدھر اُدھر سے فقرے چُرا کر ایک کتاب بنالی اور اس کا نام انجیل رکھ لیا۔ اور اس فاضل یہودی کی طرف سے یہ اس قدر سخت حملہ کیا گیا ہے کہ ابتک کوئی پادری اس کا جواب نہیں دے سکا۔ یہ کتاب ہمارے پاس موجود ہے جو ابھی ملی ہے۔ اب چونکہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ حضرت مسیح نے ایک یہودی اُستاد سے باقاعدہ توریت پڑھی تھی اور طالمود کو بھی پڑھا تھا اس لئے ایک شکی مزاج کے انسان کو اس شبہ سے نکالنا مشکل ہے کہ کیوں اس قدر عبارتیں پہلی کتابوں کی انجیل میں بلفظہا داخل ہو گئیں اور نہ صرف وہی عبارتیں جو خدا کی کلام میں تھیں بلکہ وہ عبارتیں بھی جو انسانوں کے کلام میں تھیں مگر اس سنت اللہ پر نظر کرنے سے جسکو ابھی ہم لکھ چکے ہیں یہ شبہ ہیچ ہے کیونکہ خدا تعالیٰ بباعث اپنی مالکیت کے اختیار رکھتا ہے کہ دُوسری کتابوں کی بعض عبارتیں اپنی جدید وحی میں داخل کرے اسپر کوئی اعتراض نہیں چنانچہ براہین احمدیہ کے دیکھنے سے ہر ایک پر ظاہر ہوگا کہ اکثر قرآنی آیتیں اور بعض انجیل کی آیتیں اور بعض اشعار کسی غیر ملہم کے اس وحی میں داخل کئے گئے ہیں جو براہِ راست مجھکو خدا سے وحی ہوئی ہے جس کے منجانب اللہ ہونے پر یہ قوی شہادت ہے کہ تمام پیشگوئیاں اسکی آج پوری ہوگئیں اور پوری ہو رہی ہیں۔ غرض خدائے تعالیٰ کی یہ قدیم سے عادت ہے کہ وہ اپنی وحی کی عبارتوں اور مضمونوں کو دُوسرے مقام سے بھی لے لیتا ہے اور پھر جاہلوں کو اعتراض پیدا ہوتے ہیں چنانچہ ان دنوں میں ایک اور شخص نے تالیف کی چوری پکڑی ہے۔ وہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ توریت کی کتاب پیدائش جو گویا

۶۲

نزول المسیح ص 60 مندرجہ روحانی خزائن ج 18 ص 438 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 366 پر درج ہے

Back

صفحہ 1009

(حوالہ نمبر 446)

اربعین نمبر ۲ ۳۵۸

اندھے کو راہ نہیں دکھا سکتا ۔ اور یہ صفت مہدویت اگرچہ تمام نبیوں میں پائی جاتی ہے کیونکہ وہ سب خدا تعالیٰ کے شاگرد ہیں لیکن ہمارے نبی صلے اللہ علیہ وسلم میں خاص طور پر اور اکمل اور اتم تھی ۔ وجہ یہ کہ دوسرے نبیوں نے انسانوں سے بھی تعلیم پائی ہے چنانچہ حضرت موسیٰ نے گویا شاہزادگی کی حیثیت میں زیر نگرانی فرعون تعلیم پائی ۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا استاد ایک یہودی تھا جس سے انہوں نے ساری بائیبل پڑھی اور لکھنا بھی سیکھا ۔ ایسا ہی اگر ایک انسان مہدی اور خدا سے تعلیم پانے والا ہو لیکن روحانی بیماریوں کے دُور کرنے کے لئے اس کو رُوح القدس عطا نہ کیا گیا ہو تب بھی وہ لوگوں پر حجت پوری نہیں کر سکتا اور رُوح القدس کی تائید کا متقدم بالزمان نمونہ حضرت مسیح ہیں ۔ سو اس زمانہ میں عقلی پہلو سے بھی رُوح القدس کی تائید کی ضرورت ہے کیونکہ ہر ایک انسان طبعاً عقلی اور نقلی دلائل سے ایسا متأثر ہو جاتا ہے کہ اگر ان کے مخالف کوئی معجزہ بھی دکھایا جائے تو کچھ اثر نہیں کرتا ۔ اس لئے کامل مصلح کیلئے ہمیشہ سے یہ ضروری شرطیں ہیں کہ وہ ان دونوں صفتوں سے متصف ہو یعنی وہ خدا کا خاص شاگرد ہو اور پھر ہر ایک میدان میں رُوح القدس سے تائید پاتا ہو ۔ اور مہدی آخر الزمان کیلئے جسکا دوسرا نام

+ یاد رہے کہ اگرچہ ہر ایک نبی میں مہدی ہونے کی صفت پائی جاتی ہے کیونکہ سب نبی تو مہدی ہوتے ہیں اور نیز اگرچہ ہر ایک نبی میں مؤید بروح القدس ہونے کی صفت بھی پائی جاتی ہے کیونکہ تمام نبی رُوح القدس سے تائید یافتہ ہیں لیکن پھر بھی یہ دو نام دو نبیوں کیلئے خصوصیت رکھتے ہیں یعنی مہدی کا نام ہمارے نبی صلے اللہ علیہ وسلم سے خاص ہے ۔ اور مسیح یعنی مؤید بروح القدس کا نام حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کچھ خصوصیت رکھتا ہے ۔ گو ہمارا نبی صلے اللہ علیہ وسلم اس نام کے رو سے بھی فائق ہیں کیونکہ اُن کو شدید القویٰ کا دائمی الہام دیا گیا ہے لیکن رُوح القدس کے مرتبہ میں جو شدید القویٰ سے کم مرتبہ ہے حضرت

۱۶

(اربعین نمبر 2 صفحہ 11 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 358 از مرزا قادیانی ) یہ حوالہ صفحہ 366 پر درج ہے

صفحہ 1010

حوالہ نمبر 447 ۴۳۰

۹ مئی ۱۹۰۳ء

فرمایا ۔ رؤیا میں کسی نے بیروں کا ایک ڈھیر چارپائی پر لا کر رکھ دیا ہے ۔

(البدر جلد ۲ نمبر ۱۷، ۱۹ مورخہ ۸ مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱ حاشیہ ۔ الحکم جلد ۷ نمبر ۱۶ مورخہ ۱۷ مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۵)

۹ مئی ۱۹۰۳ء

فرمایا ۔ رؤیا میں ایک جنت دکھائی گئی پھر الہام ہوا :

(البدر جلد ۲ نمبر ۱۶، ۱۷ مورخہ ۸ مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱ حاشیہ ۔ الحکم جلد ۷ نمبر ۱۶ مورخہ ۱۷ مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۵)

۱۰ مئی ۱۹۰۳ء

مُحْسِنِ كِرَامٍ ؎٤

(البدر جلد ۲ نمبر ۱۶، ۱۷ مورخہ ۸ مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱ حاشیہ ۔ الحکم جلد ۷ نمبر ۱۶ مورخہ ۱۷ مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۵)

۱۵ مئی ۱۹۰۳ء

(البدر جلد ۲ نمبر ۱۶، ۱۷ مورخہ ۸ مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱ حاشیہ ۔ الحکم جلد ۷ نمبر ۱۶ مورخہ ۱۷ مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۵)

امۃ الحفیظ بیگم صاحبہ ہیں جو ۲۵ جون ۱۹۰۴ء کو پیدا ہوئیں اور نواب محمد عبداللہ خان صاحب کے عقد میں آئیں ۔

ساتھ ہوں ۔ (۳) اے میرے ربّ اسے پوری پوری جزا دے ۔ (۴) چست اور ہوشیار لڑکا پیدا ہوگا ۔ (۵) یقیناً خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے ۔

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 430 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 367 پر درج ہے

صفحہ 1011

حوالہ نمبر 448

۲۰۷

عاجز کو رسول کر کے پکارا گیا ہے۔ پھر اسکے بعد اسی کتاب میں میری نسبت یہ وحی اللہ ہے جری اللہ فی حلل الانبیاء یعنی خدا کا رسول نبیوں کے حلوں میں (دیکھو براہین احمدیہ ص ۵۰۴) پھر اسی کتاب میں اس مکالمہ کے قریب ہی یہ وحی اللہ ہے محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم اِس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔ پھر یہ وحی اللہ ہے جو ص ۵۵۷ براہین میں درج ہے "دنیا میں ایک نذیر آیا" اِس کی دُوسری قراءت یہ ہے کہ دُنیا میں ایک نبی آیا۔ اسی طرح براہین احمدیہ میں اور کئی جگہ رسول کے لفظ سے اس عاجز کو یاد کیا گیا۔ سو اگر یہ کہا جائے کہ آنحضرت تو خاتم النبیین ہیں پھر آپ کے بعد اور نبی کس طرح آ سکتا ہے۔ اس کا جواب یہی ہے کہ بیشک اس طرح سے تو کوئی نبی نیا ہو یا پُرانا نہیں آسکتا۔ جس طرح سے آپ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آخری زمانہ میں اُتارتے ہیں اور پھر اس حالت میں اُنکو نبی بھی مانتے ہیں۔ بلکہ چالیس برس تک سلسلۂ وحیِ نبوت کا جاری رہنا اور زمانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بڑھ جانا آپ لوگوں کا عقیدہ ہے۔ بیشک ایسا عقیدہ تو معصیت ہے اور آیت ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین ۱؎ اور حدیث لا نبی بعدی اِس عقیدہ کے کذب صریح ہونے پر کامل شہادت ہے۔ لیکن ہم اِس قسم کے عقائد کے سخت مخالف ہیں۔ اور ہم اس آیت پر سچا اور کامل ایمان رکھتے ہیں جو فرمایا کہ ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین اور اس آیت میں ایک پیشگوئی ہے جس کی ہمارے مخالفوں کو خبر نہیں اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اِس آیت میں فرماتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پیشگوئیوں کے دروازے قیامت تک بند کر دیئے گئے۔ اور ممکن نہیں کہ اب کوئی ہندو یا یہودی یا عیسائی یا کوئی رسمی مسلمان نبی کے لفظ کو اپنی نسبت ثابت کر سکے۔ نبوت کی تمام کھڑکیاں بند کی گئیں مگر ایک کھڑکی سیرۃ صدیقی کی کھلی ہے یعنی فنا فی الرسول کی۔ پس جو شخص اس کھڑکی کی راہ سے خدا کے پاس آتا ہے

۱؎ الاحزاب : ۴۱

ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 4، مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 207 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 367 پر درج ہے

صفحہ 1012

حوالہ نمبر 449

۹ اخبار الفضل قادیان ۲۲ فروری ۱۹۲۴ء نمبر ۲۲ جلد ۱۱

ضلع مظفر گڑھ میں مباحثہ

یہاں پر ۲۰ فروری کو مولوی قمر الدین صاحب بانی نے تقریر کی ۔ اور مولوی جلال الدین صاحب شمس ناظم تبلیغ نے تقریر فرمائی ۔ مباحثہ کا رنگ بہت اچھا رہا جس کی روئیداد مختصراً درج ذیل ہے :۔ اول روز مولوی قمر الدین صاحب کے مقابلہ پر ایک اور احمدی کھڑے ہوئے جن کا نام مولوی سید عالم شاہ ہے ۔ مولوی صاحب کے پیش ہوتے ہی جنہیں دیکھ کر ہی معترضین نے غل مچانا شروع کر دیا کہ ہم تمہاری بات نہیں سنتے ۔ مگر خدا کے فضل و کرم کے ساتھ مولوی سید عالم شاہ صاحب نے ایک اعتراض کا ایسا دندان شکن جواب دیا ۔ جسے سن کر پبلک دنگ رہ گئی اور حقانیت کا اقرار کرتی رہ گئی ۔ دوسرے روز مولوی جلال الدین صاحب شمس کے مقابلہ میں ایک مولوی عبدالغنی صاحب فاضل مصطفیٰ آباد سے آئے اور مولوی جلال الدین صاحب شمس نے صداقت مسیح موعود پر قرآنی دلائل پیش کر کے ان کو ایسا لاجواب و منفعل کیا کہ ایک حرف بھی منہ سے نہ نکال سکے ۔ اور اس کے بعد انہوں نے مباحثہ میں نہایت غل مچا ۔ اور اس نے یہ کہا کہ میرے لئے الٹے سوال کرنے لگا ۔ اگر اس سے کہا جائے کہ یہ بتاؤ ہمارا جواب دو ۔ تو مسکرا کر رہ گیا اور جواب نہ دے سکا ۔ آخر احمدیوں نے اس کو کہا کہ جواب تو نہ دیا ۔ مگر مولوی جلال الدین صاحب نے اس کے اعتراضات بوجہ جہالت کے تھے ۔ اس لئے تردید میں مولوی صاحب کا ایک ایک لفظ گرز کا کام دیتا تھا ۔ جس کا اثر سامعین پر بہت اچھا پڑا ۔ اور وہ کہنے لگے کہ احمدی سچے ہیں اور یہ لوگ صرف ضد کرتے ہیں کہ ہم نے قائل کر لیا ۔ سچ تو یہ ہے کہ سچ مچ ہم نے شکست کھائی ہے ۔ پھر اس کے بعد ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا کہ کیا یہ شخص جس کا نام محمد دین ہے ایماندار

ہو سکتا ہے۔ یہ سن کر پھر وہی غل مچا ۔ مگر مولوی صاحب کے ایک مطالبہ کا جواب تک نہ دیا ۔ سوائے کفر فتوؤں کے ۔ آخر اس پر بحث شروع ہوئی کہ انبیاء کے واسطے ماننا ضروری ہے ۔ اور بعد ظہر کے پھر مولوی جلال الدین صاحب نے اسٹیج پر کھڑے ہو کر مولوی صاحب کے ثبوت پیش کئے۔ پھر اثنائے بحث میں قمر الدین صاحب نے کہا کہ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے یہ بات نہیں کہی ۔ مولوی صاحب نے کہا کہ آپ نے یہ بات کہی ہے ۔ آخر بات بڑھ گئی ۔ یہاں تک کہ قمر الدین صاحب نے کہا کہ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر میں نے یہ بات کہی ہو تو مجھ پر خدا کی لعنت اور اگر تم نے جھوٹ کہا ہو تو تم پر ۔ مولوی صاحب نے فوراً کہا کہ آمین ۔ اس پر مولوی قمر الدین صاحب کی حالت متغیر ہو گئی اور رنگ فق ہو گیا ۔ پھر جلسہ میں مولوی صاحب نے کہا کہ یہ بات میں نے نہیں کہی بلکہ فلاں شخص نے کہی ہے۔ پھر اس پر بھی بحث ہوئی کہ کیا یہ بات سچ ہے ۔ غرضکہ یہ جلسہ نہایت کامیابی سے ختم ہوا ۔

اس علاقہ میں یہ پہلا جلسہ ہے جس میں احمدی کامیاب رہے ہیں ۔ حق تو یہ ہے کہ یہ سب کچھ خدا کے فضل سے ہوا ۔ ورنہ ہماری کیا طاقت تھی ۔ ان لوگوں نے تو اپنی پوری طاقت خرچ کر دی ۔ اس مباحثہ کے لئے پندرہ دن پہلے سے اشتہار دے رکھے تھے۔ الحمد للہ کہ ہماری جماعت کا ایمان اس سے بہت مضبوط ہو گیا ۔ اور مخالفین کو احمدیت پر غور کرنے کا موقعہ ملا ۔ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دے گا ۔ آخر کار احمدی مولوی صاحب کی مدلل تقریروں نے پبلک پر حقانیت احمدیت کا ایسا عمدہ ثبوت دیا ۔ اور ہم کو جو اس مباحثہ سے

حضرت مسیح موعودؑ کا ایک نادر مکتوب

یہ مکتوب جو کمال مہربانی سے ہمارے مکرم و محترم دوست جناب منشی محمد قاسم صاحب نے بغرض طبع ارسال فرمایا ہے نہایت ہی قابل قدر ہے ۔ ہم اسے ناظرین کے استفادہ کے لئے ذیل میں درج کرتے ہیں : ۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم محبّی اخویم جناب منشی محمد قاسم صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ آپ کا خط پہنچا ۔ اور ساتھ ہی دس روپے کا منی آرڈر موصول ہوا ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے ۔ میں نے آپ کے لئے بہت دعا کی ہے ۔ اللہ تعالیٰ آپ کی تمام مشکلات حل کرے ۔ اور ہر دکھ سے بچائے ۔ بھائی جان ! مجھے اس وقت پیسوں کی سخت ضرورت تھی ۔ کیونکہ مہمانوں کی کثرت ہے ۔ اور لنگر خانہ کا خرچ بہت بڑھ گیا ہے ۔ ایسے وقت میں آپ نے میری مدد کی ۔ خدا تعالیٰ اس کا اجر دے گا ۔ اور دنیا و آخرت میں آپ کے ساتھ ہو گا ۔ میں نے خاص طور پر آپ کے لئے دعا کی ہے ۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے ۔ والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ از قادیان

مرزا قادیانی کا مکتوب ، اخبار الفضل قادیان 22 فروری 1924ء | حوالہ صفحہ 367 پر درج ہے

Back

صفحہ 1013

حوالہ نمبر 450

اخبار الفضل قادیان دار الامان مورخہ ۱۷ جولائی ۱۹۲۲ء نمبر ۵ جلد ۱۰

حضرت خلیفۃ المسیح کی ڈائری

(از ۳ جون تا ۶ جون)

ایک مبشر رویا:

ایک دوست نے قادیان کی ترقی کے متعلق اپنی رویا سنائی جس میں بعض مکانات کا نقشہ ہے ۔ یہ میری بڑی عمر کا کام تھا ۔

ہر ایک کو خود باشہ کیا کرنا چاہئے:

فرمایا کہ جو لوگ دین اشاعت کے میدان میں کام کرتے ہیں ان کو فرمایا، بات اچھی ہے ہر ایک کو خود باشہ کیا کرنا چاہئے۔ عہدہ داروں اور دوسروں پر بھروسہ نہ کرنا چاہئے تاکہ یہ کام چلے اور زمانہ کے کام نہ رکے۔

ایک بیمار کی تلقین:

فرمایا میرا دل چاہتا ہے کہ اس کے متعلق ایک بات عرض کی جائے ۔ گو ایک بیمار کی عیادت کے لئے میں گیا تو میں نے اسے کہا کہ ہم نے اپنے لئے جو بات تجویز کی ہے یہ ہونا چاہئے ۔ اور یہ ملک کے میدان میں ایک بہترین ذریعہ ہے۔ اگر خدا کرے کہ تمام کا تمام کیمپ ایک خاص نیج پر آجاتا ۔ اور اس کی تائید کرتے تو بہت کوئی بھی رکاوٹ اس میں نہ ہوتی۔ لیکن جو طاقتیہ اس میں پڑی ہوئی ہیں ۔ ان کو میں دور نہیں کر سکتا یہ میرا کام نہیں ۔ اور یہ خدا کا کام ہے۔ اس لئے میں چپ ہوں۔ خدا تعالیٰ اس کی تکمیل خود کرے گا۔ اور یہ ولایت کے اشاروں میں سے ایک نشان ہے۔ میں نے دل میں سنا ہے خیر ہم دعا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے۔ جب وہ یہاں سے گیا تو میں نے دعا کی ۔ اور دل میں ایک بات پیدا ہوئی۔ وہ یہ کہ ایک شخص جو یہاں آیا تھا اور اس نے یہ کام نہ کیا تو اس سے مجھے یہ سبق ملا کہ اس کام کی نسبت فرمایا کہ تم یہ کام کرو۔

حدیث کی تشریح کے متعلق:

ایک صاحب نے ایک حدیث کی تشریح پوچھی اور عرض کیا کہ میں چاہتا ہوں کہ فلاں حدیث کا ترجمہ کروں اور یہ حدیث جو بخاری میں ہے۔

کوئی غلاظت یا گندگی نہ ہو۔ بلکہ ہم نے اس پر پورا ایمان لانا ہے۔ اور اسے پورا کرنا ہے۔ ورنہ یہ دعویٰ کرنا کہ ہم نے اس کی پوری اطاعت کی ہے، سراسر غلط ہے۔ فرمایا کہ انسان کے اندر ایک نور ہوتا ہے جس سے وہ حق اور باطل میں تمیز کرتا ہے۔ اور اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص کسی بازار میں جائے۔ اور وہاں اسے بہت سی چیزیں نظر آئیں۔ اور وہ ان میں سے ایک چیز کو پسند کرے۔ اور دوسری کو چھوڑ دے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ چیزیں خراب تھیں۔ بلکہ یہ کہ اس کی پسند کے موافق نہ تھیں۔

(الفضل جلد ۱۰ نمبر ۵)

بعض صورتوں کے متعلق:

ایک دوست نے عرض کیا کہ حضور بعض اوقات کچھ لوگ ایسی صورتیں بنا لیتے ہیں ۔ کہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کیا ہیں۔ حضور نے فرمایا کہ یہ سچ ہے کہ بعض حصے کے لوگ ایسی صورتیں بنا لیتے ہیں ۔ کہ پہچانے نہیں جاتے۔ لیکن یہ ان کی غلطی ہے ۔ اور فرمایا کہ ہمارے نزدیک بھی یہی ہے کہ شریعت میں جو کام منع ہیں ان سے بچنا چاہیے۔ اور فرمایا کہ یہ کام تو خدا تعالیٰ کا ہے ۔ اور وہ اس کو خود پورا کرے گا ۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ کام کسی انسان کے سپرد کرے۔ اور پھر وہ اس کو پورا نہ کرے۔ فرمایا کہ ہم نے تو اس کام کو خدا تعالیٰ کا کام سمجھ کر شروع کیا ہے ۔ اور ہم اس پر قائم ہیں۔ اور فرمایا کہ یہ کام ایک ایسا کام ہے ۔ جس میں خدا تعالیٰ کی رضا ہے اور اس میں کسی اور کو دخل نہیں ہے۔

(الفضل جلد ۱۰ نمبر ۵)

مسلمانوں کی حالت پر غور:

فرمایا کہ آج کل مسلمانوں کی حالت پر غور کیا جائے تو وہ بڑی ابتر حالت میں ہیں۔ ان میں کوئی زندگی کا شائبہ نہیں پایا جاتا۔ فرمایا کہ جب تک کوئی قوم اپنے اعمال سے یہ ثابت نہ کرے۔ کہ وہ سچی قوم ہے ۔ اور اس کے کام سچے ہیں ۔ اس وقت تک وہ قوم زندہ نہیں رہ سکتی۔ اور فرمایا کہ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ مسلمانوں کی حالت اس وقت تک درست نہیں ہو سکتی جب تک کہ وہ اپنے اعمال کو درست نہ کریں۔

اپنے اندر پیدا کرے۔ اور ثابت کرے کہ ہم نے اپنے اندر اس نصیحت کا رعب پیدا کیا ہے۔ اور فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ ہم میں بھی ایسا ہی ہونا چاہیے۔ اگر مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہو تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام کو پورے طور پر بجا لانا چاہیے۔ اور فرمایا کہ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ مسلمانوں کی حالت اس وقت تک درست نہیں ہو سکتی جب تک کہ وہ اپنے اعمال کو درست نہ کریں۔

روحانی ترقی کا میدان:

فرمایا کہ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ روحانی ترقی کا میدان ایک ایسا میدان ہے جو سب کے لیے کھلا ہے۔ اور اس میں ہر ایک انسان ترقی کر سکتا ہے۔ فرمایا کہ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ جس قوم میں روحانی ترقی نہیں ہوتی وہ قوم زندہ نہیں رہ سکتی۔ اور فرمایا کہ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ روحانی ترقی ہی وہ چیز ہے جو انسان کو خدا تعالیٰ کے قریب کرتی ہے۔ اور فرمایا کہ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ روحانی ترقی کے بغیر انسان کی زندگی بیکار ہے ۔

ظہور مسیح کے متعلق:

ایک دوست نے ظہور مسیح کے متعلق سوال کیا کہ یہ کس طرح ہوگا۔ فرمایا کہ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ظہور مسیح کے متعلق جو احادیث میں آیا ہے ۔ وہ بالکل سچ ہے ۔ اور اس پر ایمان لانا چاہیے۔ فرمایا کہ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ظہور مسیح ایک ایسا واقعہ ہے جس کا ہونا ضروری ہے ۔ اور فرمایا کہ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ظہور مسیح کے بغیر دنیا کی اصلاح نہیں ہو سکتی ۔ اور فرمایا کہ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ظہور مسیح کے متعلق جو کچھ احادیث میں آیا ہے ۔ وہ بالکل سچ ہے۔

مرزا بشیر الدین محمود کی ڈائری اخبار الفضل قادیان نمبر 5 جلد 10 ، 17 جولائی 1922ء یہ حوالہ صفحہ 368 پر درج ہے

صفحہ 1014

(حوالہ نمبر 451) ۱۵۸ کلمۃ الفصل جلد ۱۴

معترض کا یہ خیال ہے کہ کلمہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم مبارک اس غرض سے رکھا گیا ہے کہ وہ آخری نبی ہیں جبھی تو یہ اعتراض کرتا ہے کہ اگر محمد رسول اللہ کے بعد کوئی اور نبی آیا تو اس کا کلمہ بناؤ۔ نادان اتنا نہیں سوچتا کہ محمد رسول اللہ کا نام کلمہ میں تو اس لئے رکھا گیا ہے کہ آپ نبیوں کے سرتاج اور خاتم النبیین ہیں اور آپ کا نام لینے سے باقی سب نبی خود اندر آجاتے ہیں ہر ایک کا علیحدہ نام لینے کی ضرورت نہیں ہے ہاں حضرت مسیح موعود کے آنے سے ایک فرق ضرور پیدا ہو گیا ہے اور وہ یہ کہ مسیح موعود کی بعثت سے پہلے تو محمد رسول اللہ کے مفہوم میں صرف آپ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء شامل تھے مگر مسیح موعود کی بعثت کے بعد محمد رسول اللہ کے مفہوم میں ایک اور رسول کی زیادتی ہو گئی لہٰذا مسیح موعود کے آنے سے نعوذ باللہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا کلمہ باطل نہیں ہوتا بلکہ اور بھی زیادہ شان سے چمکنے لگ جاتا ہے (غرض اب بھی اسلام میں داخل ہونے کے لئے یہی کلمہ ہے صرف فرق اتنا ہے کہ مسیح موعود کی آمد نے محمد رسول اللہ کے مفہوم میں ایک رسول کی زیادتی کر دی ہے اور بس۔ علاوہ اسکے اگر ہم بفرض محال یہ بات مان بھی لیں کہ کلمہ شریعت میں نبی کریم کا اسم مبارک اس لیئے رکھا گیا ہے کہ آپ آخری نبی ہیں تو تب بھی کوئی حرج واقع نہیں ہوتا اور ہم کو نئے کلمہ کی ضرورت پیش نہیں آتی کیونکہ مسیح موعود نبی کریم سے کوئی الگ چیز نہیں ہے جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے صار وجودی وجودہ نیز من فرق بینی و بین المصطفے فما عرفنی و مارئی اور یہ اس لیئے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو دنیا میں مبعوث کرے گا جیسا کہ آیت آخرین منھم سے ظاہر ہے پس مسیح موعود خود محمد رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے ۔ اس لیئے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں ہاں اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی ۔ فتدبروا ۔

چھٹا اعتراض یہ ہے کہ لا نفرق بین احد من رسلہ کے لفظ رسل کے مفہوم میں صرف وہی رسول شامل ہیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے گزر چکے ہیں اور اس کا ثبوت یہ دیا جاتا ہے کہ سورۃ بقر کے پہلے رکوع میں متقی کی شان میں

یہ حوالہ صفحہ 368 پر درج ہے کلمۃ الفصل صفحہ 158 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی

صفحہ 1015

اخبار بدر قادیان جلد ۲ ۲۵ اکتوبر ۱۹۰۶ء حوالہ نمبر 452 ۱۴

شعر و سخن

نظم

(از اکمل آف گولپکے)

امام اپنا عزیزو اس زمان میں غلام احمد ہوا دارالامان میں
غلام احمد ہے عرش رب اکرم مکان اس کا ہے گویا لامکان میں
غلام احمد رسول اللہ ہے برحق شرف پایا ہے نوع انس و جان میں
غلام احمد مسیحا سے ہے افضل بروز مصطفیٰ ہر کہ جہان میں
غلام احمد کا خادم ہے جو دل سے بلاشک جائیگا باغ جنان میں
تسلی دل کو ہو جاتی ہے حاصل یہ ہے اعجاز احمد کی زبان میں
بھلا اس معجزے سے بڑھکے کیا ہو خدا اک قوم کا مارا ۔ جہان میں
قلم سے کام جو کر کے دکھایا کہاں طاقت تھی یہ سیف وسنان میں
محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں اور آگے سے ہیں بڑھکر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیان میں
غلام احمد محمد ہو کر یہ رتبہ تو نے پایا ہے جہان میں
تری مدحت سرائی مجھ سے کیا ہو کہ سب کچھ لکھ دیا راز نہان میں
ــــــ خدا ہے تو ۔ فدا تجھ پہ ہی واللہ ترا رتبہ نہیں آتا بیان میں

انصار بدر

حکیم فضل دین صاحب قادیانی حال وارد امروہہ۔ بدر اخبار کے حال پر ہمیشہ مہربانی کی نظر رکھتے ہیں۔ اور اسکے واسطے نئے خریدار پیدا کرتے ہیں۔ راقم کے اس

روز نامہ بدر قادیان 25 اکتوبر 1906ء یہ حوالہ صفحہ 368 پر درج ہے

صفحہ 1016

حوالہ نمبر 453

۲۰۸

آپ کو دیئے کہ کوئی بھی خوبی کسی دوسرے نبی میں ایسی نہیں جو کہ آپ کو نہ دی گئی ہو ؎

آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری

کیا تم یہ قبول کرتے ہو کہ ایک کے پاس بہت سے مہمان ہوں تو ان میں سے ایک کو وہ متکلف کھانا پلاؤ وغیرہ دیوے اور دوسرے کو معمولی کھانا شوربہ یا روٹی وغیرہ تو باقی مہمان کہیں گے کہ کاش ہم اس گھر میں مہمان نہ ہوتے۔ اسی طرح ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر جو گزرے ہیں انہوں نے کیا گناہ کیا کہ جو فضیلت اور رتبہ عیسیٰ علیہ السلام کو دیا جاتا ہے ان میں سے ایک کو بھی وہ نہ ملا۔ ان سب کو فوت مانتے ہو اور ایک عیسیٰ کو زندہ اور وہ بھی آسمان پر۔ قرآن فرماتا ہے رَبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا (طہٰ : ۱۱۴) اور حضرت تو اس دعا کو برابر مانگتے رہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر ۶۳ برس کی ہوئی۔ دوسرے تمام پیغمبروں کو گھٹانا اور مسیح کو سب سے بڑھ کر فضیلت دینا جس سمجھ میں آتی کہ کونسی فضیلت مسیح کو دوسروں پر ہے؟ انہوں نے نہ ساری دنیا کی اصلاح کا دعویٰ کیا۔ نہ کوئی دُکھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح اُن کو پہنچا نہ مقابلہ کی نوبت آئی۔ نہ کوئی شکست اُٹھانی پڑی۔ چند آدمی صرف ایمان لائے وہ بھی پکڑے گئے۔ اس کے مقابلہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھو۔ آپ کا دعویٰ کل جہان کے لیے اور سخت سے سخت دُکھ اور تکالیف آپ کو پہنچے۔ جنگیں بھی آپ نے کیں، ایک لاکھ سے زیادہ صحابہ آپ کی زندگی میں موجود تھے پھر ان باتوں کے ہوتے ہوئے جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کوئی ایسا کلمہ زبان پر لائے گا جس سے آپ کی ہتک ہو وہ حرامی نہیں تو اور کیا ہے؟ ان کم بختوں سے کوئی پوچھے کہ پھر تم محمد رسول اللہ کیوں کہتے ہو عیسیٰ رسول اللہ ہی کہو۔

اب تم کو چاہیئے کہ جہانتک ہو سکے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت دو۔ اگر تم یہ کہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آسمان پر زندہ ہیں تو ہم آج مانتے ہیں مگر جس سے تم کو فیض اور فائدہ کچھ بھی حاصل نہ ہوا، اُس کو خدا بنا لینے سے تم کو کیا حاصل؟

تمام فیضوں کا سرچشمہ قرآن ہے نہ انجیل نہ تورات۔ جو قرآن کو چھوڑ کر ان کی طرف جھکتا ہے وہ مرتد ہے اور کافر مگر جو قرآن کی طرف جھکتا ہے وہ مسلمان ہے۔ کیا ان کو شرم نہیں آتی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب مخالفت پیش آئی تو خدا تعالیٰ نے آپ کو غار میں جگہ دی اور عیسیٰ کو جب وہ موقعہ پیش آیا تو آسمان پر جا بٹھایا۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر ۶۳ برس کی کہتے ہیں اور عیسیٰ کو اب تک زندہ مانتے ہیں۔ ان تمام باتوں کا آخری نتیجہ یہ ہے کہ عیسائیوں کا دین غالب ہے۔ آج مسلمان کم ہیں اور عیسائی زیادہ۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ یہی دلائل بیان کر کے پادریوں نے مسلمانوں کو عیسائی بنایا ہے۔

خدا تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ عیسیٰ مر گیا فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کی آیت موجود ہے۔ مگر تمہارا مذہب قرآن سے تو اس پر

ملفوظات جلد سوم صفحہ 208 طبع جدید از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 369 پر درج ہے

صفحہ 1017

حوالہ نمبر 454

۱۷۷

ملا عبداللہ آتھم صاحب کو ایک ہزار انعام کا وعدہ دیا گیا تھا۔ شرطیہ طور پر (تسلیم کیا گیا)۔ ۲؂ عبداللہ آتھم صاحب کو دو ہزار روپیہ کے انعام کا وعدہ دیا گیا۔ ۳؂ ایضاً تین ہزار ایضاً۔ ۴؂ ایضاً چار ہزار ایضاً۔ ۵؂ انجام آتھم شائع کیا گیا (تسلیم ہوا) ۶؂ انجام آتھم میں مرزا صاحب نے پیش گوئی کی تھی کہ ۱۴ مولوی اور ۲۸ چھاپہ والے اگر ہمارے پر ایمان نہیں لائیں گے تو مرجائیں گے (مرزا صاحب نے اس کو تسلیم نہیں کیا) ۷؂ اس پیش گوئی میں لیکھرام کے مرنے کی بابت لوگوں کو بتلاتے ہیں کہ مباہلہ کریں (تسلیم کیا گیا) ۸؂ گنگا بشن کو مباہلہ کے واسطے بلایا گیا (تسلیم کیا) ۹؂ مولوی محمد حسین بٹالوی کو مباہلہ کے واسطے بلایا گیا (تسلیم کیا گیا) ۱۰؂ لڑکے عبدالحکیم کو مباہلہ کے واسطے بلایا گیا (تسلیم کیا گیا) ۱۱؂ پیشگوئی بابت مرنے لیکھرام کی (تسلیم کیا گیا) ۱۲؂ نسبت

بقیہ حاشیہ سواروں کے اپنی گرہ سے خرید کر دئے تھے اور آئندہ گورنمنٹ کو اس قسم کی مدد کا عندالضرورت وعدہ بھی دیا۔ اور سرکار انگریزی کے حکام وقت سے بوجہ ان خدمات عمدہ عمدہ چٹھیاں خوشنودی مزاج ان کو ملی تھیں۔ چنانچہ سرلیپل گریفن صاحب نے بھی اپنی کتاب تاریخ رئیسان پنجاب میں ان کا تذکرہ کیا ہے۔ غرض وہ حکام کی نظر میں بہت ہر دلعزیز تھے۔ اور بسا اوقات ان کی دلجوئی کے لئے حکام وقت ڈپٹی کمشنر کمشنر ان کے مکان پر آکر ان کی ملاقات کرتے تھے۔ یہ مختصر میرے خاندان کا حال ہے میں ضروری نہیں دیکھتا کہ اس کو بہت طول دوں۔ اب میرے ذاتی سوانح یہ ہیں کہ میری پیدائش ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی ہے اور میں ۱۸۵۷ء میں سولہ برس کا یا سترھویں برس میں تھا۔ اور ابھی ریش و بروت کا آغاز نہیں تھا۔ میری پیدائش سے پہلے میرے والد صاحب نے بڑے بڑے مصائب دیکھے۔ ایک دفعہ ہندوستان کا پیادہ پا سیر بھی کیا۔ لیکن میری پیدائش

حاشیہ میں توأم پیدا ہوا تھا ایک لڑکی جو میرے ساتھ تھی وہ چند روز کے بعد فوت ہو گئی تھی۔ میں خیال کرتا ہوں کہ اس طرح پر خدا تعالٰے نے انثیت کا مادہ مجھ سے بکلی الگ کر دیا۔ منہ

۱۵۹

”کتاب البریہ“ (حاشیہ) صفحہ 159 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 177 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 369 پر درج ہے

صفحہ 1018

حوالہ نمبر 455

۱۵۰

یہ فرماتے ہیں کہ میں تو خدا کے سارے رسولوں کو مانتا ہوں ۔ اللہ جلّ شانہ کی کیا شان دلربائی ہے ۔ (۴۷۶) بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ جہاں تک مینے تحقیق کی ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کے مندرجہ ذیل واقعات ذیل کے سنین میں وقوع پذیر ہوئے ہیں، واللہ اعلم :۔ ۱۸۳۶ء یا ۱۸۳۷ء ۔ ولادت حضرت مسیح موعود علیہ السلام :۔ ۱۸۴۲ء یا ۱۸۴۳ء ۔ ابتدائی تعلیم از منشی فضل الٰہی صاحب :۔ ۱۸۴۶ء یا ۱۸۴۷ء ۔ صرف و نحو کی تعلیم از مولوی فضل احمد صاحب :۔ ۱۸۵۲ء یا ۱۸۵۳ء ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پہلی شادی (غالباً) :۔ ۱۸۵۳ء یا ۱۸۵۴ء ۔ نحو و منطق و حکمت و دیگر علوم مروجہ کی تعلیم از مولوی گل علی شاہ صاحب اور اسی زمانہ کے قریب بعض کتب طب اپنے والد ماجد سے :۔ ۱۸۵۵ء یا ۱۸۵۶ء ۔ ولادت خان بہادر مرزا سلطان احمد صاحب (غالباً) :۔ ۱۸۶۰ء یا ۱۸۶۱ء ۔ ولادت مرزا فضل احمد (غالباً) :۔ ۱۸۶۴ء تا ۱۸۶۵ء ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو رویا میں آنحضرت صلعم کی زیارت اور اشارات ماموریت :۔ ۱۸۶۴ء تا ۱۸۶۸ء ۔ ایام ملازمت بمقام سیالکوٹ :۔ ۱۸۶۸ء ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی والدہ ماجدہ کا انتقال :۔ ۱۸۶۸ء یا ۱۸۶۹ء ۔ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے ساتھ بعض مسائل میں مباحثہ کی تیاری اور الہام ”بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے“ جو غالباً سب سے پہلا الہام ہے :۔ ۱۸۷۴ء یا ۱۸۷۵ء ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا آٹھ یا نو ماہ تک لگاتار روزے رکھنا (غالباً) ۱۸۷۶ء ۔ تعمیر مسجد اقصیٰ ۔ الہام الیس اللہ بکاف عبدہ ۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے والد ماجد کا انتقال :۔ ۱۸۷۷ء ۔ اخبارات میں مضامین بھجوانے کا آغاز (غالباً) مقدمہ از جانب محکمہ ڈاک خانہ (غالباً) سفر سیالکوٹ :۔

سیرت المہدی ، جلد دوم صفحہ 150 از مرزا بشیر احمد ایم اے | یہ حوالہ صفحہ 369 پر درج ہے

صفحہ 1019

حوالہ نمبر 456

۷۶

تاریخ سن عیسوی تاریخ چاند سن ہجری دن تاریخ ہندی عہد سموت بکرمی ۱۹ فروری ۱۸۸۶ء ۲۰ ذیقعدہ ۱۳۰۳ ہجری جمعہ ۷ پھاگن ۱۹۴۲ بکرم یکم فروری ۱۸۸۹ء ۱۸ ذیقعدہ ۱۳۰۶ ہجری جمعہ ۲۰ پھاگن ۱۹۴۵ بکرم ۲۱ فروری ۱۸۹۸ء ۱۰ ذیقعدہ ۱۳۱۵ ہجری جمعہ ۱۰ پھاگن ۱۹۵۴ بکرم

(اس کے لئے دیکھو توثیقات الہامیہ ص ۷۱ از قمر مطہر ہندی)

اس نقشہ کی رو سے ۱۸۸۶ء عیسوی کی تاریخ بھی درست سمجھی جاسکتی ہے۔ مگر دوسرے قرائن جو جن میں سے بعض اوپر بیان ہوچکے ہیں۔ اور بعض آگے بیان کئے جائیں گے صحیح یہی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پیدائش ۱۸۳۹ء عیسوی میں ہوئی تھی۔ پس ۱۹ فروری ۱۸۳۹ء عیسوی مطابق ۱۴ شوال ۱۲۵۴ ہجری بروز جمعہ والی تاریخ صحیح قرار پاتی ہے۔ اور اس حساب کی رو سے وفات کے وقت جو ۲۶ ربیع الثانی ۱۳۲۶ ہجری (اخبار الحکم ضمیمہ مورخہ ۲۸ مئی ۱۹۰۸ء) میں ہوئی آپ کی عمر پورے ۶۹ سال ۱۰ ماہ اور دس دن کی بنتی ہے۔ پس امید کرتا ہوں کہ اب جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیدائش کی تاریخ معین طور پر معلوم ہو گئی ہے۔ ہمارے احباب اپنی تحریر و تقریر میں ہمیشہ اسی تاریخ کو بیان کیا کریں گے۔ تاکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تاریخ پیدائش کے متعلق کوئی ابہام اور اشتباہ کی صورت نہ رہے اور ہم لوگ اس بارہ میں ایک معین بنیاد پر قائم ہو جائیں۔

اس نوٹ کے ختم کرنے سے قبل یہ ذکر بھی ضروری ہے۔ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو الہام الٰہی میں یہ بتایا گیا تھا کہ آپ کی عمر اسی یا اس سے پانچ چار کم یا پانچ چار زیادہ ہوگی (حقیقۃ الوحی صفحہ ۹۶) اگر اس الہام الٰہی کے لفظی معنے لئے جائیں۔ تو آپ کی عمر پچھتر، چھہتر، یا اسی یا چوراسی پچاسی سال کی ہونی چاہیئے۔ بلکہ اگر اس الہام کے معنے کرنے میں زیادہ کھلی پابندی اختیار کی جائے تو آپ کی عمر پورے ساڑھے پچھتر (۷۵ ۱/۲) یا اسی یا ساڑھے چوراسی (۸۴ ۱/۲) سال کی ہونی چاہیئے۔ اور یہ ایک عجیب قدرت نمائی ہے کہ مندرجہ بالا تحقیق کی رو سے آپ کی عمر پورے ساڑھے پچھتر (۷۵ ۱/۲) سال کی بنتی ہے۔

اسی ضمن میں یہ بات بھی قابل نوٹ ہے۔ کہ ایک دوسری جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنی پیدائش کے متعلق بحث کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت آدم سے لیکر ہزار ششم میں سے ابھی گیارہ سال باقی رہتے تھے کہ میری ولادت ہوئی۔ اور اسی جگہ یہ بھی تحریر فرماتے ہیں کہ خدا تعالےٰ نے مجھے بظاہر توام پیدا کیا

سیرت المہدی ، جلد سوم صفحہ 76 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 370 پر درج ہے

صفحہ 1020

حوالہ نمبر 457

۷۴

محترم صاحب سے اس بارہ میں بات کروں گا۔ چنانچہ والد صاحب حضرت صاحب سے ملے ۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ شیخ صاحب ہم نے آپ کے بیٹے کو یہاں رہنے کے لئے کہا ہے۔ کیونکہ میاں حامد علی کے والد نے بھی ان کو یہاں ہی چھوڑ دیا ہے۔ والد صاحب نے عرض کیا کہ جناب جس مکان میں چھ سات چراغ جل رہے ہوں۔ اگر وہاں سے ایک اٹھا لیا جائے۔ تو وہاں روشنی میں کوئی خاص کمی واقع نہ ہو گی اور جس گھر میں فقط ایک چراغ ہو۔ اور اس کو اٹھا دیا جائے تو بالکل اندھیرا ہو جائیگا۔ اس طرح میرے والد صاحب نے ہنس کر بات ٹال دی۔ کیونکہ میاں حامد علی کے پانچ چھ بھائی تھے۔ اور میں گھر میں والد کا ایک ہی بیٹا تھا۔ لیکن مجھ کو اس بات پر سخت افسوس ہوا اور اب تک ہے۔ کہ والد صاحب نے حضرت کی بات کو قبول کیوں نہ کرلیا۔ اور مجھے اس موقعہ سے مستفید کیوں نہ ہونے دیا۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تاریخ ۵۱۴ پیدائش اور عمر بوقت وفات کا سوال ایک عرصہ سے زیر غور چلا آتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تصریح فرمائی ہے۔ کہ حضور کی تاریخ پیدائش معین صورت میں محفوظ نہیں ہے۔ اور آپ کی عمر کا صحیح اندازہ معلوم نہیں (دیکھو ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ ۱۹۴) کیونکہ آپ کی پیدائش سکھوں کی حکومت کے زمانہ میں ہوئی تھی۔ جبکہ پیدائشوں کا کوئی ریکارڈ نہیں رکھا جاتا تھا۔ البتہ حضور مسیح موعود علیہ السلام نے بعض ایسے امور بیان فرمائے ہیں جن سے ایک حد تک آپ کی عمر کی تعیین کی جاتی رہی ہے۔ ان اندازوں میں سے بعض اندازوں کے لحاظ سے آپ کی پیدائش کا سال ۱۸۳۹ء بنتا ہے ] اور بعض کے لحاظ سے ۱۸۴۰ء تک پہونچتا ہے۔ لہٰذا اسی لئے یہ سوال ابھی تک زیر بحث چلا آیا ہے۔ کہ [ صحیح تاریخ پیدائش کیا ہے؟

میں نے اس معاملہ میں کئی جہت سے غور کیا ہے اور اپنے اندازوں کو سیرۃ المہدی کے مختلف حصوں میں بیان کیا ہے لیکن حق یہ ہے کہ گو مجھے یہ خیال غالب رہا ہے۔ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیدائش کا سال ۱۸۳۹ء عیسوی یا اس کے قریب قریب ہے۔ مگر ابھی تک کوئی تاریخ معین نہیں کی جاسکی تھی۔ لیکن اب بعض حوالے اور بعض روایات ایسی ملی ہیں۔ جن سے معین تاریخ کا پتہ لگ گیا ہے۔ جو بروز جمعہ ۱۴ شوال ۱۲۵۵ ہجری مطابق ۱۳؍ فروری ۱۸۴۰ء عیسوی مطابق یکم پھاگن ۱۸۹۷ بکرمی ہے۔ اس تعیین کی وجوہ یہ ہیں۔

سیرت المہدی ، جلد سوم صفحہ 74 از مرزا بشیر احمد ایم اے | یہ حوالہ صفحہ 370 پر درج ہے

صفحہ 1021

(حوالہ نمبر 458)

۳۴

کا وقت تھا۔ اور قمری حساب سے چاند کی چودھویں رات تھی۔ یہی بات اخی مکرمی حضرت ڈاکٹر مفتی محمد صادق صاحب نے اپنی کتاب ذکر حبیب کے صفحہ ۲۴۱ پر لکھی ہے۔ جس کو ناظرین دیکھ سکتے ہیں اگرچہ یہ بات مجھے یاد بھی تھی۔ لیکن حال میں ذکر حبیب کے مطالعہ سے مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وہ رؤیا مستحضر ہو گیا۔ اور میں نے تحقیق کرنا شروع کر دی۔ کیونکہ میرے دل میں تحقیق کرنے کی زور سے تحریک پیدا ہوئی۔ خوش قسمتی سے میری مرتبہ کتاب تقویم قمری جو ایک سو پچیس برس کی جنتری کے نام سے بھی موسوم ہے، میرے سامنے آ گئی اور میں نے غور سے اس کا مطالعہ کیا یہ کتاب بھی میں نے ان دنوں میں ہی چھپائی تھی، جب براہین احمدیہ چھپائی تھی، یہ استخراج اور تطابق جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی ولادت کے سال و وقت کے متعلق فرمایا ہے۔ اس کی تلاش سے یہ نتیجہ حاصل ہوا کہ آپ کی ولادت جس جمعہ کو ہوئی تھی وہ ۱۴؍ ماہ رمضان المبارک ۱۲۵۴ھ ہجری کا دن تھا۔ اور بحساب سمت بکرمی یکم پھاگن ۱۸۹۶؁ کے مطابق تاریخ تھی جو عیسوی سن کے حساب سے ۱۷؍ فروری ۱۸۳۹ء کے مطابق ہوتی ہے۔ پس اس طریق سے حضور موصوف کی عمر ہر ایک حساب سے حسب ذیل ثابت ہوتی ہے۔

(الف) بحساب سمت ہندی بکرمی آپ یکم پھاگن ۱۸۹۶؁ بکرمی کو پیدا ہوئے اور جیٹھ ۱۹۶۵؁ بکرمی کو آپ کا رفع ہوا، گویا ہندی بکرمی سالوں کی رُو سے آپ کی عمر ۶۹ سال چار ماہ ہوئی۔

(ب) عیسوی سال ۱۷؍ فروری ۱۸۳۹ء کو آپ کی ولادت ہوئی اور ۲۶؍ مئی ۱۹۰۸ء کو آپ اپنے خالق حقیقی رفیق اعلیٰ سے جاملے پس اس حساب سے آپ نے ۶۹ سال دو ماہ اور ۹ دن عمر پائی۔

(ج) سن ہجری مقدس کے مطابق آپ ۱۴؍ رمضان المبارک ۱۲۵۴ھ کو پیدا ہوئے اور ۲۴؍ ربیع الثانی ۱۳۲۶ھ کو خدا سے جاملے۔ اس حساب سے آپ کی عمر ۷۱ سال ۵ ماہ اور ۲۵ دن ہوئے۔ یعنی پورے ۷۱ سال ہوئی۔

اس سے اب صاف طور پر واضح ہو جاتا ہے، کہ آنحضور کی عمر الٰہی الہام کے مطابق ۸۰ سال کے قریب ہوئی۔

خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں اپنی تحقیق روایت ۵۱۹ میں درج کر چکا ہوں۔ میاں معراج الدین صاحب عمر کی تحقیق اس سے مختلف ہے لیکن چونکہ دوستوں کے سامنے ہر قسم کی رائے آجانی چاہئیے

سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 302 از مرزا بشیر احمد ایم اے | یہ حوالہ صفحہ 370 پر درج ہے

صفحہ 1022

حوالہ نمبر 459

۱۹۴

سید احمد علی صاحب نے درج کیا ہے۔ اس کے مطابق آپ کی تاریخ پیدائش ۱۸۳۹ء بنتی ہے اور مولوی ثناء اللہ صاحب کے حوالوں سے ۱۸۳۹ء اور ۱۸۳۳ء پیدائش کے سن نکلتے ہیں لیکن میرے نزدیک ان سے بڑھ کر جس مخالف کا علم ہونا چاہیے۔ وہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ہیں ۔ جن کو بچپن سے ہی آپ سے ملنے کا موقعہ ملتا رہا ہے۔ ان کے اشاعت السنہ ۱۸۹۳ء کے حوالہ سے آپ کی پیدائش ۱۸۳۹ء کے قریب بنتی ہے۔

غرض ۱۸۳۹ء انتہائی حد ہے۔ اس کے بعد کا کوئی سن ولادت تجویز نہیں کیا جا سکتا بحیثیت مجموعی زیادہ تر میلان ۱۸۳۹ء اور ۱۸۴۰ء کی طرف معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ شرف مکالمہ مخاطبہ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ معین ہیں ۔ اور یہ واقعی ایک اہم واقعہ ہے۔ جس پر تاریخ پیدائش کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے ۔ ۱۸۹۰ء ایک معین تاریخ ہے اور اس حساب سے ۱۸۳۹ء کی پیدائش ثابت ہوتی ہے۔ دوسرا اہم واقعہ آپ کے والد ماجد کا انتقال کا ہے۔ انسانی فطرت کو مد نظر رکھتے ہوئے اس وقت کے متعلق جو رائے ہے وہ بھی زیادہ وزن دار گننی چاہیے۔ سوسال کے متعلق آپ واضح الفاظ میں فرماتے ہیں کہ والد ماجد کی وفات کے وقت آپ کی عمر چالیس سال کے قریب تھی۔ اور اپنے والد صاحب کی وفات ۱۸۷۶ء میں معین فرما دی۔ خلاصہ میرے نزدیک یہ نکلا کہ ۱۸۳۹ء صحیح سن ولادت قرار دیا جا سکتا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ اس جگہ درد صاحب کا مضمون ختم ہوا۔

خاکسار عرض کرتا ہے کہ مکرمی مولوی عبد الرحیم صاحب درد ایم ۔ اے مبلغ لندن نے یہ مضمون حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عمر اور تاریخ پیدائش کی تعیین کے متعلق لندن سے ارسال کیا تھا اور یہ مضمون اخبار الفضل ۳؍ ستمبر ۱۹۳۲ء میں شائع ہو چکا ہے۔ مضمون بہت محنت اور تحقیق کے ساتھ لکھا ہوا ہے۔ مگر جیسا کہ میں روایت ۱۱۵ میں لکھ چکا ہوں مجھے اس تحقیق سے اختلاف ہے کیونکہ میری تحقیق میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تاریخ پیدائش ۱۳؍ فروری ۱۸۳۵ء بنتی ہے۔ اور درد صاحب نے جو ہمارے والد صاحب کی تاریخ وفات ۱۸۷۶ء لکھی ہے۔ یہ بھی میری تحقیق میں درست نہیں ۔ بلکہ صحیح تاریخ ۱۸۷۶ء ہے۔ جیسا کہ حضرت صاحب نے سرکاری ریکارڈ کے حوالہ سے کشف الغطاء میں لکھی ہے۔ لیکن ایسے تحقیقی مضامین میں رائے کا اختلاف بھی بعض لحاظ سے مفید ہوتا ہے اس لئے

سیرت المہدی ، جلد سوم صفحہ 194 از مرزا بشیر احمد ایم اے یہ حوالہ صفحہ 370 پر درج ہے

صفحہ 1023

(حوالہ نمبر 460)

١٦

میں جود و سخا اور مہمان نوازی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ اپنے شہر کے غرباء ضعفاء کا خصوصاً بہت سا خیال رکھتی تھیں۔ اور غرباء کے مُردوں کو کفن اُن کے ہاں سے ملتا تھا۔ بہن بھائی حضرت مرزا غلام احمد صاحب سب ملا کر پانچ بہن بھائی تھے ۔ سب سے بڑی آپ کی ہمشیرہ مراد بی بی صاحبہ تھیں جن کی شادی مرزا محمد بیگ ہوشیار پوری سے ہوئی تھی۔ مگر وہ عین جوانی میں بیوہ ہو گئی تھیں ۔ وہ نہایت عابدہ اور زاہدہ تھیں اور تمام عمر یاد الٰہی میں گزار دی ۔ ان سے بعض خوارق و کرامات کا ظہور بھی ہوتا ۔ مراد بی بی صاحبہ سے چھوٹے مرزا غلام قادر صاحب تھے ان سے چھوٹا ایک اور لڑکا تھا جو بچپن میں ہی فوت ہو گیا ۔ ان سے چھوٹی جنت بی بی تھی جو حضرت صاحب کے ساتھ توام پیدا ہوئی تھیں اور پیدا ہوتے ہی فوت ہو گئی تھیں ۔ گویا بھائی بہنوں میں سب سے چھوٹے حضرت مرزا غلام احمد صاحب تھے۔

ولادت ، طفولیت اور تعلیم

سنہ ولادت : حضرت مرزا غلام احمد صاحب کی سنہ ولادت کے متعلق کوئی تحریری یادداشت تو ہمارے ہاتھ میں نہیں ۔ اس لئے اس امر میں اختلاف ہونا لازمی امر تھا ۔ مگر تحقیقات سے سنہ ولادت ۱۸۳۹ء صحیح معلوم ہوتا ہے ۔ یہ سچ ہے کہ آپ نے کتاب البریہ میں اپنی پیدائش کا سنہ ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء لکھا ہے، لیکن ظاہر ہے کہ آپ نے یہ کسی تحریری یادداشت کی بناء پر نہیں لکھا محض تخمیناً یا اندازہ سے قیاس کر کے ایسا لکھ دیا۔ اسی لئے کوئی سنہ متعین نہیں کیا ۔ ورنہ ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء کا کیا معنی؟ آپ کو ایک سنہ متعین کر کے لکھنا چاہئے تھا ، اور پھر اسی کتاب البریہ میں اسی سلسلہ مضمون میں آگے چل کر آپ تحریر فرماتے ہیں "غرض میری زندگی قریب قریب چالیس برس کے زیر سایہ والد بزرگوار کے گزری" اب یہ ایک حقیقت ہے کہ آپ کے والد بزرگوار کی وفات ۱۸۷۶ء میں ہوئی تو اس سے پھر یہ نتیجہ نکلا کہ آپ کا سنہ ولادت تخمیناً ۱۸۳۶ء تھا ۔ دوم حضرت اقدس مرزا صاحب نے کتاب التبلیغ آئینہ کمالات اسلام میں لکھا ہے جس کا ملخص یہ ہے کہ حضرت مرزا صاحب کی والدہ محترمہ آپ کو مخاطب کر کے فرمایا کرتی تھیں کہ "ہمارے خاندان کے مصیبت کے دن تیری ولادت کے ساتھ پھر گئے تھے اور فراخی میسر آگئی تھی" اور اسی لئے وہ آپ کی پیدائش کو مبارک سمجھا کرتی تھیں ۔ اب یہ قطعی طور پر یقینی بات ہے کہ راجہ رنجیت سنگھ کے زمانہ میں اس خاندان کے مصائب کے دن دور ہو کر فراخی شروع ہوئی تھی ۔ اور قادیان اور اس کے ارد گرد کے بعض مواضعات

مجدد اعظم جلد اول صفحہ 16 از ڈاکٹر بشارت احمد لاہوری قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 370 پر درج ہے

صفحہ 1024

حوالہ نمبر 461

٣١

ایک شخص معزز کے گھر میں اولاد نہیں ہوتی دوسری شادی کر نہیں سکتا کہ وید کی رو سے حرام ہے آخر نیوگ کی ٹھہرتی ہے یار دوست مشورہ دیتے ہیں کہ لالہ صاحب نیوگ کرالے اولاد پیدا ہونا نیکی ہے ایک حل نکلتا ہے کہ مہر سنگھ جو اسی محلہ میں رہتا ہے اس کام کے بہت لائق ہے لالہ جی کے اس دلال نے اس سے نیوگ کرانا ٹھہرا قرار دیا گیا یہ امر طے ہو گیا۔ وہ اس کا نام سن کر باغ باغ ہو گیا۔ کہا مہاراج آپ ہی نے سب کام کرنے ہیں میں تو مہر سنگھ کا واقف بھی نہیں۔ مہاراج شرماتے ہوئے بولے کہ ہاں ہم سمجھا دیں گے رات کو آ جائے گا۔ مہر سنگھ کو خبر دی گئی وہ محلہ میں ایک مشہور قمار باز اول نمبر کا بدمعاش اور زنا کار تھا سنتے ہی بہت خوش ہو گیا اور انہیں کاموں کو وہ چاہتا تھا پھر اس سے زیادہ اس کو کیا چاہئے تھا۔ ایک نوجوان عورت اور پھر خوبصورت شام ہوتے ہی موجود ہوئی۔ لالہ صاحب نے پہلے ہی روز اچھی طرح ایک کوٹھڑی میں نرم بستر بچھا رکھا تھا اور کچھ دودھ اور حلوا بھی دولہا کی طرح مہر سنگھ کی خاطر رکھ دیا تھا تا کہ بیچارہ تھکا ہو تو کھا پی لیوے پھر کیا تھا آتے ہی بیج بونے والے نے اس کے نام پر ہوس کا شیشہ توڑ دیا اور وہ بدبخت عورت تمام رات اُس سے منہ کالا کراتی رہی اور اس پلید نے جو شہوت کا مارا تھا نہایت قابل شرم اس عورت سے حرکتیں کیں اور لالہ باہر کے دالان میں سوئے اور تمام رات اپنے کانوں سے یہ بے حیائی کی باتیں سنتے رہے بلکہ کتوں کی آوازوں سے مشابہہ حرکتیں کرتے رہے۔ صبح وہ خبیث اچھی طرح لالہ کی ناک کاٹ کر کوٹھڑی سے باہر نکلا لالہ تو منتظر ہی تھے دیکھ کر اُس کی طرف دوڑے اور بڑے ادب سے اس پلید بدمعاش کو کہا سر دار صاحب رات کیا کیفیت گذری اُس نے مسکرا کر تھپکی مار دی اور اشاروں میں جتا دیا کہ حمل ٹھہر گیا لالہ یہ نوید سُن کر بہت خوش ہوئے اور کہا کہ مجھے تو اُسی دن سے آپ پر یقین ہو گیا تھا جبکہ میں نے بہاری لال کے گھر کی کیفیت سُنی تھی اور سچ کہا وید حقیقت میں دانائی سے بھرا ہوا ہے کیا عمدہ تدبیر لکھی ہے جو خطا نہ گئی۔ مہر سنگھ نے کہا کہ ہاں لالہ صاحب سب سچ ہے کیا وید کی آگیا کبھی خطا بھی جاتی ہے میں تو انہی باتوں کے خیال سے وید کو سوامی دیانند کا پستک مانتا ہوں اور دراصل مہر سنگھ ایک شہوت پرست آدمی تھا۔ اُس کو کسی وید شاستر اور شرتی سمرتی کی پرواہ نہ تھی اور نہ اُن اُلوؤں پٹھوں پر اُسے کچھ عقیدہ ہی نہ تھا اور نہ وہ ان کی کسی بات کی پرواہ کرتا تھا بس اسے تو اپنی مزدوری لینی ہے بھاڑ میں جائے وید کی جے۔

آریہ دھرم صفحہ 31 تا 34 مندرجہ ذیل روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 31 تا 34 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 371 پر درج ہے

صفحہ 1025

حوالہ نمبر 461

۳۲

پر کچھ اعتقاد رکھتا تھا اُس نے صرف اس عورت کی حماقت کی باتیں سُن کر اُس کے خوش کرنے کے لئے ہاں میں ہاں ملا دی مگر اپنے دل میں بہت ہنسا کہ اس بیوقوف کی تسلی دینے کے لئے کہاں تک نوبت پہنچ گئی پھر اس کے بعد میر سنگھ تو رخصت ہوا اور ملاہ گھر کی طرف خوش خوش گیا اور اُسے یقین تھا کہ اُس کی استری رام دئی بہت ہی خوشی کی حالت میں ہو گی کیونکہ مراد پوری ہوئی۔ لیکن اُس نے اپنے گمان کے برخلاف اپنی عورت کو روتے پایا اور اس کو دیکھ کر تو وہ بہت ہی روئی یہانتک کہ ہچکیاں لگ گئیں۔ اور ہچکی آنی شروع ہوئی۔ ملاہ نے حیران سا ہو کر اپنی عورت کو کہا کہ تجھے بھلا کیا ہوا آج تو خوشی کا دن ہے کہ دل کی مرادیں پوری ہوئیں اور بیج ٹھہر گیا پھر تو روتی کیوں ہے ؟ وہ بولی میں کیوں نہ روؤں تو نے سارے کنبہ میں میری مٹی پلید کی اور اپنی ناک کاٹ ڈالی اور ساتھ ہی میری بھی اس سے بہتر تھا کہ میں پہلے ہی مرجاتی۔ ملاہ بیوقوف بولا کہ یہ سب کچھ ہوا مگر اب بچہ ہونے کی بھی کس قدر خوشی ہوگی وہ خوشیاں بھی تو تو ہی کرے گی مگر رام دئی شاید کوئی نیک اصل کی تھی اُس نے تُرّت جواب دیا کہ حرام کے بچہ پر کوئی حرام کار ہی ہو تو خوشی مناوے ملاہ دیوث ہو کر بولا کہ رنڈی کیا بک دیا یہ تو وید آگیا ہے عورت کو یہ بات سن کر آگ لگ گئی بولی میں نہیں سمجھ سکتی کہ یہ کیسا وید ہے جو بدکاری سکھلاتا اور زنا کاری کی تعلیم دیتا ہے یوں تو دنیا کے مذاہب ہزاروں باتوں میں اختلاف رکھتے ہیں مگر یہ کسی نے نہیں سُنا کہ کسی مذہب نے وید کے سوا یہ تعلیم بھی دی ہو کہ اپنی پاکدامن عورتوں کو دوسروں سے ہمبستر کراؤ۔ آخر مذہب پاکی سکھلانے کے لئے ہوتا ہے نہ بدکاری اور حرام کاری میں ترقی دینے کے لئے۔ جب رام دئی یہ سب باتیں کہہ چکی تو ملاہ نے کہا کہ چُپ رہو اب جو ہوا سو ہوا ایسا نہ ہو کہ شریک سُنیں اور میرا ناک کٹیں۔ رام دئی نے کہا کہ اے بے حیا کیا ابھی تک تیرا ناک تیرے مُنہ پر باقی ہے ساری رات تیرے شریک نے جو تیرا پکا دشمن ہے تیری آنکھوں کے دیکھتے میری جیسی عزت کے خاندان والی سے تیرے ہی بستر پر چڑھ کر تیرے ہی گھر میں خرابی کی اور ہر یک ناپاک حرکت کے وقت جتنا بھی وہ بکا کہ میں نے خوب بدلا لیا۔ سو کیا اس بے غیرتی کے بعد بھی تو جیتا ہے۔ کاش تو اس سے پہلے ہی مرا ہوتا۔ اب وہ شریک اور پھر دشمن باتیں بنانے اور طعنہ مارنے سے کب باز رہے گا بلکہ وہ تو کہہ گیا ہے

آریہ دھرم صفحہ 31 تا 34 مندرجہ ذیل روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 31 تا 34 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 371 پر درج ہے

صفحہ 1026

حوالہ نمبر 461

۲۳

کہ میں اس فتح عظیم کو چھپا نہیں سکتا کہ جو آج وسادامل کے مقابل پر مجھے حاصل ہوئی۔ میں ضرور رام دئی کا سارا قصہ محلہ کے لوگوں پر ظاہر کروں گا۔ سو یاد رکھ کہ وہ ہر ایک مجلس میں تیرا ناک کاٹے گا اور ہر ایک لڑائی میں یہ قصہ تجھے جتائے گا اور اُس سے کچھ تعجب نہیں کہ وہ دعوے کر دے کہ رام دئی میری ہی عورت ہے کیونکہ وہ اشارہ سے یہ کہہ بھی گیا ہے کہ آیندہ بھی میں تجھے کبھی نہیں چھوڑونگا۔ اور دیوث نے کہا کہ نکاح کا دعویٰ ثابت ہونا تو مشکل ہے البتہ یارانہ کا اظہار کرے تو کرے تا ہماری اور بھی رسوائی ہو بہتر تو یہ ہے کہ ہم دیس ہی چھوڑ دیں ۔ بیٹا ہونے کا خیال تھا وہ تو ایشر نے دے ہی دیا ۔ بیٹے کا نام شنکر ۔ عورت زہر خندہ ہنسی اور کہا کہ تجھے کس طرح اور کیونکر یقین ہوا کہ ضرور بیٹا ہو گا اول تو پیٹ ہونے میں ہی شک ہے اور پھر اگر ہو بھی تو اس بات پر کوئی دلیل نہیں کہ لڑکا ہی ہوگا کیا بیٹا ہونا کسی کے اختیار میں رکھا ہے کیا ممکن نہیں کہ حمل ہی ضائع ہو جاوے یا لڑکی پیدا ہو جاوے۔ دیوث بولے کہ اگر حمل ضائع گیا تو میں کہونگا ۔ شنکر کو جو اسی محلہ میں رہتا ہے نیوگ کے لئے بُلا لاؤں گا عورت نہایت غصہ سے بولی کہا کہ بھرک سنگھ بھی کچھ نہ کر سکا تو پھر کیا کریگا۔ دیوث بولا کہ تو جانتی ہے کہ دیوان سنگھ دیووں سے کم نہیں اس کو بُلا لاؤں گا۔ پھر اگر ضرورت پڑی تو جیل سنگھ۔ مہنا سنگھ۔ بوٹا سنگھ۔ جیون سنگھ مہیا سنگھ۔ شیرین سنگھ ۔ امرتن سنگھ۔ رام سنگھ ۔ کشی سنگھ۔ دیال سنگھ سب اس محلہ میں رہتے ہیں اور زور اور قوت میں ایک دوسرے سے بڑھ کر ہیں میرے کہنے پر سب حاضر ہو سکتے ہیں عورت بولی کہ میں اس سے بہتر تجھے صلاح دیتی ہوں کہ مجھے بازار میں ہی بٹھا دے تب دس بیس کیا ہزاروں لاکھوں آ سکتے ہیں منھ کالا جو ہونا تھا وہ تو ہو چکا مگر یاد رکھ کہ بیٹا ہونا پھر بھی اپنے بس میں نہیں اور اگر ہوا بھی تو تجھے اُس سے کیا جس کا وہ نطفہ ہے تخم وہ اُسی کا ہوگا اور اُسی کی خُو بو ہوئے گی کیونکہ درحقیقت وہ اُسی کا بیٹا ہے اس کے بعد رام دئی نے کچھ سوچ کر پھر رونا شروع کیا اور دھاڑیں ماریں۔ اڑوس پڑوس نے آواز سُن کر ایک پنڈت نہال چند نام دوڑا آیا اور آتے ہی کہا کہ لالہ خیر تو ہے یہ کیسی رونے کی آواز آئی۔ لالہ ناک کٹا سا ہوتا تو نہیں تھا کہ نہال چند کے آگے قصہ بیان کرے مگر اس خوف سے کہ رام دئی اس وقت غصہ میں ہے اگر میں بیان نہ کروں تو وہ ضرور بیان کر دے گی کچھ کھسیانا سا ہو کر بیان کرنے لگا۔

آریہ دھرم صفحہ 31 تا 34 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 31 تا 34 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 371 پر درج ہے

صفحہ 1027

حوالہ نمبر 461

۳۴

کہنے لگا کہ مہاراج آپ جانتے ہیں کہ وید میں وقت ضرورت نیوگ کیلئے آگیا ہے سو میں نے بہت دنوں سوچ کر رات کو نیوگ کر لیا تھا مجھ سے یہ غلطی ہوئی کہ میں نے نیوگ کے لئے مہر سنگھ کو بلا لیا مجھے معلوم نہوا کہ وہ میرے دشمن کرم سنگھ کا بیٹا اور نہایت شریر آدمی ہے وہ مجھے اور میری استری کو ضرور خراب کریگا اور وہ وعدہ کر گیا ہے کہ میں یہ ساری کیفیت خوب شایع کروں گا نہال چند بولا کہ در حقیقت بڑی غلطی ہوئی اور پھر بولا کہ دسا مال تیری سمجھ پر نہایت ہی افسوس ہے کیا تجھے معلوم نہ تھا کہ نیوگ کے لئے پہلا حق برہمنوں کا ہے اور غالباً یہ بھی تجھ پر پوشیدہ نہیں ہوگا کہ اس محلہ کی تمام کھترانی عورتیں مجھ سے ہی نیوگ کراتی ہیں اور میں دن رات اسی سیوا میں لگا ہوا ہوں پھر اگر تجھے نیوگ کی ضرورت تھی تو مجھے بلا لیا ہوتا سب کام ستھرا ہو جاتا اور کوئی بات نہ کھلتی اس محلہ میں ابتک تین ہزار کے قریب ہندو عورتوں نے نیوگ کرایا ہے مگر کیا کبھی تم نے اس کا ذکر بھی سُنا پردہ کی باتیں ہیں سب کچھ ہوتا ہے پھر ذکر نہیں کیا جاتا لیکن مہر سنگھ تو ایسا نہیں کریگا ذرا دو چار گھنٹوں تک دیکھنا کہ سارے شہر میں رام دئی کے نیوگ کا شور و غوغا ہوگا۔ لالہ دیوث بولا کہ در حقیقت مجھ سے سخت غلطی ہوئی اب کیا کروں۔ اس وقت شریر پنڈت نے جو بیمار نہ ہونے پر پردے سے رام دئی کو دیکھ چکا تھا کہ جوان اور خوش شکل ہے نہایت بیحیائی کا جواب دیا کہ اگر اسی وقت رام دئی مجھ سے نیوگ کرے تو میں ذمہ دار ہوتا ہوں کہ مہر سنگھ کے فتنہ کو دبا لوں گا اور پہلا حمل نیک شگونی کی بات ہے اب بہر حال یقینی ہو جائے گا تب دسا مال دیوث تو اس بات پر بھی راضی ہو گیا مگر رام دئی نے سُن کر سخت گالیاں اُس کو نکالیں تب دسا مال نے پنڈت کو کہا کہ مہاراج اس کا یہی حال ہے ہر گز نیوگ کو چت نہیں دھرتی پہلے بھی مشکل سے کرایا تھا جس کو یہ اب تک رو رہی ہے کہ میرا منہ کالا کیا اسی سے تو اس نے چیخیں ماری تھیں جن کو آپ سُن کر دوڑے آئے تب وہ شہوت پرست پنڈت دسا مال کی یہ بات سُن کر رام دئی کی طرف متوجہ ہوا اور کہا نہیں بھاگوان نیوگ کو بُرا نہیں ماننا چاہئیے یہ وید آگیا ہے مسلمان بھی تو عورتوں کو طلاق دیتے ہیں اور وہ عورتیں کسی دوسرے سے نکاح کر لیتی ہیں سو جیسے طلاق ویسے نیوگ بات ایک ہی ہے

آریہ دھرم صفحہ 31 تا 34 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 31 تا 34 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 371 پر درج ہے

صفحہ 1028

(حوالہ نمبر 462)

۲۴۹

الْاَمْرُ ۖ اَنْتَ مِنْ مَّآءِنَا وَهُمْ مِّنْ فَشَلٍ ۚ إِذَا الْتَقَى الْفِئَتٰنِ ۚ يَاْتِيْ مَعَ الرَّسُوْلِ اَقْوَامٌ ۚ تَنْصُرُهُ الْمَلٰٓئِكَةُ ۚ اِنِّيْ اَنَا الرَّحْمٰنُ ذُوالْمَجْدِ وَالْعُلٰى ۚ وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى ۚ اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى ۚ اَرَدْتَّ اَنْ اَسْتَخْلِفَ فَخَلَقْتُ اٰدَمَ ۚ وَلِلّٰهِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَ مِنْ بَعْدُ ۚ يَا عَبْدِىْ لَا تَخَفْ ۚ اِنَّكَ تُرٰى ۗ نَاْتِى الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا ۚ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ۖ

(البدر جلد ۲ نمبر ۴۳ صفحہ ۳۳۰ ۔ روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۳۸۵ تا ۳۸۶)

سنه ۱۹۰۰ء ۱؎ فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِىْ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا ۖ (الحكم جلد ۴ نمبر ۳۴ مورخہ ۲۴؍اگست ۱۹۰۰ء صفحہ ۷)

سنه ۱۹۰۰ء (الف) ”تحفہ گولڑویہ میں بڑے بڑے دقائق معارف بیان فرمائے ہیں۔ آج فرماتے تھے خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک الہام ہوا ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ یہ رسالہ بڑا بابرکت ہوگا، اسے پورا کرو۔ اور پھر الہام ہوا: قُلْ رَبِّ زِدْنِيْ عِلْمًا“

(از مکتوب مرزا عبدالکریم صاحبؒ مورخہ ۲۴؍ستمبر ۱۹۰۰ء مندرجہ الحکم جلد ۴ نمبر ۳۵ مورخہ ۱۰؍اکتوبر ۱۹۰۰ء صفحہ ۶)

(ب) ”اس رسالہ میں عجیب عجیب نکات و اسرار لکھے جا رہے ہیں اور اس تحفہ ۲؎ کی نسبت یہ وحی حضرت اقدس قلم پر جاری ہے۔“ * زِندہ خُدا کا مظہر اور تیری ہی طرف سے امر مجرد ہے۔ اَوْر تُو ہمارے پانی میں سے ہے اور وہ فشل سے ہیں۔ جب دو گروہ آمنے سامنے ہوں گے۔ تو میں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا اور ملائکہ اُس کی مدد کریں گے۔ میں سچا رحمان ہوں بزرگی اور بلندی والا۔ اور وہ اپنی خواہش کے ماتحت نہیں بولتا بلکہ وحی ہے جو نازل کی جاتی ہے۔ میں نے ارادہ کیا کہ میں خلیفہ بناؤں پس میں نے آدم کو پیدا کیا۔ اَور شروع میں بھی اور بعد میں بھی اللہ ہی کی حکومت ہے۔ اے میرے بندے مت ڈر۔ کیا تو نہیں دیکھتا کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے کم کرتے چلے آتے ہیں۔ کیا تو نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ ہر شے پر قادر ہے۔

۱؎ (ترجمہ از مرتب) تیرے ربّ کی قسم ہے وہ مومن نہیں ہوں گے جب تک تجھے اپنے تمام جھگڑوں میں حَکَم نہ بنائیں۔ پھر جو تُو فیصلہ کرے اس سے اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ پائیں اور اُسے بشراحت سے تسلیم کریں۔ ۲؎ تحفہ گولڑویہ۔ الحکم ۱۰ ستمبر ۱۹۰۰ء صفحہ ۱۰۔ (مرتّب)

* نوٹ از مرتّب: یہ ترجمہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہے۔ (دیکھئے براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ ۴۴۔ روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۴۴۷)

تذکرہ مجموعہ وحی الہامات طبع چہارم ص 309 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 375 پر درج ہے

صفحہ 1029

حوالہ نمبر 463

۲۶۰

۱۸۹۸ء

(الف) ”وَ أَوْحٰی إِلَیَّ رَبِّیْ وَوَعَدَنِیْ أَنَّہٗ سَیَنْصُرُنِیْ حَتّٰی یَبْلُغَ أَمْرِیْ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا۔ وَتَتَسَوَّبُ بُحُوْرُ الْحَقِّ حَتّٰی يَعْجَبَ النَّاسُ عُبَابَ مَوَادِیْھَا“

(حجۃ اللہ صفحہ ۶۹۔ روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحہ ۲۰۸)

(ب) حضرت اقدس امام الزمان بقیۃ الرحمٰن کو اللہ کریم نے وعدہ دیا ہے کہ مَیں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا مَیں دیکھتا ہوں کہ اس مقدس الہام کے پورا ہونے کی بہت سی صورتیں نکلتی آتی ہیں“

(الحکم جلد ۲ نمبر ۵،۶ مورخہ ۲۷ مارچ و ۶ اپریل ۱۸۹۸ء صفحہ ۱۴)

(الحکم جلد ۱ نمبر ۱۴، ۱۵ مورخہ ۲۰، ۳۰ اگست ۱۸۹۸ء صفحہ ۱۴)

۲۱ جنوری۴ ۱۸۹۸ء

”مَیں نے تہجد میں اِسّی۳ سے متعلق دُعا کی تو الہام ہوا :۔ إِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ اَب خیال ہوتا ہے کہ وہ الہام جو ہوا تھا کہ

کون کر سکتا ہے اِسے مبطل ! آسمان سے مت گر

شاید اِسی سے متعلق ہو“

(الحکم جلد ۵ نمبر ۲۷ مورخہ ۲۴ جولائی ۱۹۰۱ء صفحہ ۱)

۱؎ (ترجمہ از مرتب) میرے ربّ نے میری طرف وحی بھیجی اور وعدہ فرمایا کہ وہ مجھے مدد دے گا یہاں تک کہ میرا کلام مشرق و مغرب میں پہنچ جائے گا اور راستی کے دریا موج میں آئیں گے یہاں تک کہ اس کی موجوں کے حباب لوگوں کو تعجب میں ڈالیں گے۔

۲؎ یعنی ایڈیٹر الحکم۔ (مرتب)

۳؎ یعنی طاعون کے متعلق۔ (مرتب)

۴؎ نواب محمد علی خان صاحب آف مالیر کوٹلہ کی ڈائری سے معلوم ہوتا ہے کہ اس الہام کے نزول کی تاریخ ۱۴ جنوری ہے۔ دیکھئے اصحاب احمد حصہ ۴ / ۱۵۶ ۔ (مرتب)

یہ حوالہ صفحہ 375 پر درج ہے

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 260 طبع چہارم، از مرزا قادیانی

Back

صفحہ 1030

حوالہ نمبر 464 بعض اعتراضوں کے جواب ۲۰۰ حقیقۃ الوحی

اُس کی سچائی ظاہر کردے گا۔ یہ پچیس برس کا الہام ہے جو براہین احمدیہ میں لکھا گیا۔ اور ان دنوں میں پورا ہوگا جسکے کان سُننے کے ہیں وہ سُنے ۔ ؂ یہ تو ہم نے وہ دو تین پیشگوئیاں لکھی ہیں جن پر ہمارے مخالف مولوی اور انہیں کا نیا چیلا عبدالحکیم خان بار بار اعتراض کرتے ہیں۔ اب ہم اُن کے مقابل یہ دکھلانا چاہتے تھے کہ خدا تعالیٰ کے آسمانی نشان ہماری شہادت کیلئے کس قدر ہیں لیکن افسوس کہ اگر وہ سب کے سب لکھے جائیں تو ہزار جزو کی کتاب میں بھی انکی گنجائش نہیں ہو سکتی اسلئے ہم محض بطورِ نمونہ کے ایک سو پچاس نشان ان میں سے لکھتے ہیں۔ اُن میں سے بعض وہ پہلے نبیوں کی پیشگوئیاں ہیں جو میرے حق میں

۱۹۴

پوری ہوئیں۔ اور بعض اس اُمّت کے اکابر کی پیشگوئیاں ہیں اور بعض وہ نشان خدا تعالیٰ کے ہیں جو میرے ہاتھ پر ظہور میں آئے اور چونکہ میری پیشگوئیوں پر اُن پیشگوئیوں کو تقدّم زمانی ہے اس لئے مناسب سمجھا گیا کہ تحریری طور پر بھی اُنھیں کو مقدّم رکھا جائے اور یہ تمام پیشگوئیاں ایک ہی سلسلہ میں نمبر وار لکھی جائیں گی۔ اور وہ یہ ہیں :۔

علیٰ رأس کل مائۃ سنۃ من یجدد لھا دینھا۔ رواہ ابوداؤد یعنی خدا ہر ایک صدی کے سر پر اُس امّت کے لئے ایک شخص مبعوث فرمائیگا جو اُس کیلئے دین کو تازہ کریگا۔ اور اب اس صدی کا جو چودھویں ہے ۲۳ سال جاتا ہے اور ممکن نہیں کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے فرمودہ میں تخلّف ہو۔ اگر کوئی کہے کہ اگر یہ حدیث صحیح ہے تو بارہ صدیوں کے مجدّدوں کے نام بتلاؤ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حدیث

؂ خدا تعالیٰ نے مجھے صرف یہی خبر نہیں دی کہ پنجاب میں زلزلے وغیرہ آفات آئیں گی کیونکہ میں صرف پنجاب کے لئے مبعوث نہیں ہوا بلکہ جہاں تک دُنیا کی آبادی ہے ان سب کی اصلاح کیلئے مامور ہوں پس میں سچ سچ کہتا ہوں کہ یہ آفتیں اور یہ زلزلے صرف پنجاب سے مخصوص نہیں ہیں بلکہ تمام دُنیا ان آفات سے حصّہ لیگی اور جیسا کہ امریکہ وغیرہ کے بہت حصّے تباہ ہو چکے ہیں یہی گھڑی کسی دن یورپ کے لئے درپیش ہو بعد پھر یہ ہولناک دن پنجاب اور ہندوستان اور ہر ایک حصّہ ایشیا کے لئے مقدّر ہے جو شخص زندہ رہیگا وہ دیکھ لے گا ۔ منہ

حقیقة الوحی صفحہ 193 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 200 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 376 پر درج ہے

Back

صفحہ 1031

حوالہ نمبر 465

حقیقۃ الوحی ۲۰۱ بعض اعتراضوں کے جواب

علماءِ اُمت میں مسلّم چلی آئی ہے اب اگر میرے دعوے کے وقت اس حدیث کو بوجہ حقد قدح و باطل ٹھہراویں تو ان مولوی صاحبوں سے یہ بھی بعید نہیں بعض اکابر محدثین نے اپنے اپنے زمانہ میں خود مجدد ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ بعض نے کسی دوسرے کے مجدد بنانے کی کوشش کی ہو۔ پس اگر یہ حدیث صحیح نہیں تو انہوں نے دیانت سے کام نہیں لیا اور ہمارے لئے یہ ضروری نہیں کہ تمام مجددین کے نام ہمیں یاد ہوں یہ علم محیط تو خاصہ خدا تعالیٰ کا ہے ہمیں عالم الغیب ہونے کا دعویٰ نہیں مگر اُسی قدر جو خدا بتلاوے ماسوا اسکے یہ اُمت ایک بڑے حصہ دنیا میں پھیلی ہوئی ہے اور خدا کی مصلحت کبھی کسی ملک میں مجدد پیدا کرتی ہے اور کبھی کسی ملک میں۔ پس خدا کے کاموں کا کون پورا علم رکھ سکتا ہے اور کون اُس کے غیب پر احاطہ کر سکتا ہے۔ بھلا یہ تو بتلاؤ کہ حضرت آدم سے لیکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک ہر ایک قوم میں نبی کتنے گزرے ہیں۔ اگر تم یہ بتلا دو گے تو ہم مجدد بھی بتلا دیں گے۔ ظاہر ہے کہ عدم علم سے عدم شے لازم نہیں آتا۔ اور یہ بھی اہلِ سُنّت میں متفق علیہ امر ہے کہ آخری مجدد اِس اُمت کا مسیح موعود ہے جو آخری زمانہ میں ظاہر ہو گا۔ اب تنقیح طلب یہ امر ہے کہ یہ آخری زمانہ ہے یا نہیں یہود و نصاریٰ دونوں قومیں اسپر اتفاق رکھتی ہیں کہ یہ آخری زمانہ ہے اگر چاہو تو پوچھ کر دیکھ لو۔ مری ٹڈی جوع زلزلے ۱۹۳ آرہے ہیں۔ ہر ایک قسم کی خوارق عادت تباہیاں شروع ہیں پھر کیا یہ آخری زمانہ نہیں؟ اور صلحاء اسلام نے بھی اِس زمانہ کو آخری زمانہ قرار دیا ہے اور چودھویں صدی میں سے بھی چھبیس سال گزر گئے ہیں۔ پس یہ قوی دلیل اِس بات پر ہے کہ یہی وقت مسیح موعود کے ظہور کا وقت ہے اور میں ہی وہ ایک شخص ہوں جس نے اِس صدی کے شروع ہونے سے پہلے دعویٰ کیا۔ اور میں ہی وہ ایک شخص ہوں جس کے دعوے پر چھبیس برس گزر گئے اور اب تک زندہ موجود ہوں۔ اور میں ہی وہ ایک ہوں جس نے عیسائیوں اور دوسری قوموں کو خدا کے نشانوں کے ساتھ ملزم کیا۔ پس جبتک میرے اِس دعوے کے مقابل پر انھیں صفات کے ساتھ کوئی دُوسرا مدعی پیش نہ کیا جائے تب تک میرا یہ دعویٰ ثابت ہے کہ وہ مسیح موعود جو آخری زمانہ کا مجدد ہے وہ میں ہی ہوں۔ زمانہ میں خدا نے قوتیں رکھی ہیں۔

۲۰۱

حقیقۃ الوحی صفحہ 193 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 201 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 376 پر درج ہے

صفحہ 1032

حوالہ نمبر 466 ۳۵۷

بعض وحشی مسلمانوں کو خوش کیا گیا۔ اور میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ میں تمام مسلمانوں میں سے اوّل درجہ کا خیر خواہ گورنمنٹ انگریزی کا ہوں ۔ کیونکہ مجھے تین باتوں نے خیر خواہی میں اوّل درجہ پر بنا دیا ہے (۱) اوّل والد مرحوم کے اثر نے (۲) دوم اس گورنمنٹ عالیہ کے احسانوں نے (۳) تیسرے خدا تعالیٰ کے الہام نے۔ اب میں اس گورنمنٹ محسنہ کے زیر سایہ ہر طرح سے خوش ہوں۔ صرف ایک رنج اور درد و غم ہر وقت مجھے لاحق حال ہے جس کا استغاثہ پیش کرنے کے لیے اپنی محسن گورنمنٹ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں۔ اور وہ یہ ہے کہ اس ملک کے مولوی مسلمان اور ان کی جماعتوں کے لوگ حد سے زیادہ مجھے ستاتے اور دُکھ دیتے ہیں۔ میرے قتل کے لیے ان لوگوں نے فتوے دیئے ہیں۔ مجھے کافر اور بے ایمان ٹھہرایا ہے اور بعض ان میں سے حیا اور شرم کو ترک کر کے اس قسم کے اشتہار میرے مقابل پر شائع کرتے ہیں کہ یہ شخص اس وجہ سے بھی کافر ہے کہ اس نے انگریزی سلطنت کو سلطنتِ روم پر ترجیح دی ہے اور ہمیشہ سلطنت انگریزی کی تعریف کرتا ہے اور ایک باعث یہ بھی ہے کہ یہ لوگ مجھے اس وجہ سے بھی کافر ٹھہراتے ہیں کہ میں نے خدا تعالیٰ کے سچے الہام سے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور اس خونی مہدی کے آنے سے انکار کیا ہے جس کے یہ لوگ منتظر ہیں۔ بیشک میں اقرار کرتا ہوں کہ میں نے ان لوگوں کا بڑا نقصان کیا ہے کہ میں نے ایسے خونی مہدی کا آنا سراسر جھوٹ ثابت کر دیا ہے جس کی نسبت ان لوگوں کا خیال تھا کہ وہ آ کر بے شمار روپیہ ان کو دے گا مگر میں معذور ہوں۔ قرآن اور حدیث سے یہ بات پایۂ ثبوت نہیں پہنچتی کہ دُنیا میں کوئی ایسا مہدی آئے گا جو زمین کو خون میں غرق کر دے گا میں ہی نے ان لوگوں کا بجز اس کے کوئی گناہ نہیں کیا کہ اس خیالی لُوٹ مار کے روپیہ سے میں نے ان کو محروم کر دیا ہے میں خدا سے پاک الہام پا کر یہ چاہتا ہوں کہ ان لوگوں کے اخلاق اچھے ہو جائیں اور وحشیانہ عادتیں دُور ہو جائیں اور نفسانی جذبات سے پاک ہو کر سچے مسلمان ہو جائیں اور ان میں آشتی اور سنجیدگی اور حلم اور میانہ روی اور انصاف پسندی پیدا ہو جائے اور یہ اپنی اس گورنمنٹ کی ایسی اطاعت کریں کہ دوسروں کے لیے نمونہ بن جائیں اور یہاں تک کہ کوئی بھی فساد کی رگ ان میں باقی نہ رہے۔ چنانچہ کسی قدر یہ مقصود مجھے حاصل بھی ہو گیا ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ دس ہزار یا اس سے بھی زیادہ ایسے لوگ پیدا ہو گئے ہیں جو میری ان پاک تعلیموں کے دل سے پابند ہیں۔ اور یہ نیا فرقہ اس گورنمنٹ کے لیے نہایت مبارک فرقہ برٹش انڈیا میں روز بروز ترقی کر رہا ہے اگر مسلمان ان تعلیموں کے پابند ہو جائیں تو میں قسم کھا کر

۱؎ میں نے اپنی کسی کتاب میں لکھا تھا کہ میری جماعت تین سو آدمی ہیں، لیکن اب وہ شمار بہت بڑھ گیا ہے کیونکہ روز سے ترقی ہو رہی ہے۔ اب میں یقین رکھتا ہوں کہ میری جماعت کے لوگ دس ہزار سے بھی کچھ زیادہ ہوں گے۔ اور میری فراست یہ پیشگوئی کرتی ہے کہ تین سال تک ایک لاکھ تک میری اس جماعت کا عدد پہنچے گا۔ منہ

مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 357 طبع جدید یہ حوالہ صفحہ 377 پر درج ہے

صفحہ 1033

حوالہ نمبر 467

۵۵۱

وجاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفروا الى يوم القيمة - انك اليوم لدينا مكين امين - انت منى بمنزلة توحيدى وتفريدى فحان ان تعان و تعرف بين الناس ويعلمك الله من عنده تقيم الشريعة - وتحيى الدين انا جعلناك المسيح بن مريم - والله يعصمك من عنده ولو لم يعصمك الناس - والله ينصرك ولو لم ينصرك الناس - الحق من ربّك فلا تكونن من الممترين - يا احمدى انت مرادى ومعى - انت وجيه فى حضرتى - اخترتك لنفسى - قل ان كنتم تحبون الله فاتبعونى يحببكم الله ويغفر لكم ذنوبكم و يرحم عليكم وهو ارحم الراحمين - هذه نبذة من الهاماتى - ومن جملتها الهام انا جعلناك المسيح بن مريم - ووالله قد كنت اعلم من ايام مديدة اننى جُعلت المسيح ابن مريم وانى نازل فى منزله ولكن اخفيته نظرًا الى تاويله - بل ما بدلت عقيدتى وكنت عليها من المستمسكين وتوقفت فى الاظهار عشر سنين - وما استعجلت وما بادرت وما اخبرت حبًّا ولا عدوا ولا احدًا من الحاضرين - وان كنتم فى شك فاسئلوا علماء الهند كم مضت من مدة على الهامى - يا عيسى انى متوفيك - اذا قرءوا البراهين وكنت انتظر الخيرة والى ضياء وامر الله تعالى حتى تكرر ذالك الالهام - ورفع الظلام - وتواتر الاعلام - وبلغ الى عدة يعلمها رب العلمين - وخوطبت للاظهار بقوله - فاصدع بما تؤمر - وظهرت علامات تعرفها حاسة الاولياء - وعقل ارباب الاصطفاء وجلى الصبح واكد الامر - وشرح الصدر - واطمان الجنان - وافتى القلب - وتبين انه

آئینہ کمالات اسلام صفحہ 551 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 551 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 377 پر درج ہے

صفحہ 1034

حوالہ نمبر 468

ضمیمہ حقیقۃ الوحی ٦۵۷ الاستفتاء

يا قوم لم تتعامون وانتم تبصرون۔ ولم تتجاهلون وانتم تعلمون۔ اما علمتم عاقبة الذين كانوا يستهزؤن۔ تلدغون كالزنبور۔ وتؤذون رجلا اغتنم كالسراج بالنور۔ وتهزون برؤية البدور۔ وابدر الصلحاء و استمر تظلمون۔ وجاء الناس وانتم تهربون۔ وكم من مستهزئ اخبروا بموتی كانهم الهموا من الله العلام۔ واصروا عليه واشاعوه فی الاقوام۔ فاذا الامر بالضد۔ ورد الله مزاحهم عليهم كالجد۔ وماتوا فی أسرع وقت بعد الهامهم وتركوا حشيش ندامة وذلة لانعامهم۔ ولم يتب مؤذ مما أذونی الا ليظهر الله بهم بعض الايات۔ وقد قصصنا قصصهم فی حقيقة الوحی لتكون تبصرة للطالبين والطالبات۔ و اقرب القصص من هذا الوقت قصة رجل مات فی ذی القعدة۔ وكان يلعننی و يسبنی وكان اسمه سعدالله وكان سبه كالصعقة۔ واذا بلغ شتمه الی منتهاه وسبق فی الايذاء كل من سواه۔ اوحی الی ربی فی امر موته و خزيه و قطع نسله بما قضاه وقال ان شانئك هو الابتر۔ فاشعت بين الناس ما اوحی ربی الاكبر۔ ثم بعد ذالك صدق الله الهامی۔ فاردت ان افصله فی كلامی۔ واشيع ما صنع الله بذالك الفتان۔ وعادی عبادالله الرحمن۔ فمنعنی من ذالك وكيل كان من جماعتی وخوفنی من ارادة اشاعتی۔ وقال لو اشعتها لا تامن مقت الحكام ويجرک القانون الی الاثام۔ ولاسبيل الی الخلاص۔ ولات حين مناص۔ وتلزمك المصائب ملازمة الغريم۔ والمآل معلوم بعد التعب العظيم۔ وليست الحكومة تارك المجرمين۔ فالخیر فی اخفاء هذا الوحی كالمحتاطين۔ فقلت انی ادعی الصواب فی تعظيم الالهام۔ وان الاخفاء معصية عندی و من سير اللئام۔ وما كان لاحد ان يفر من دون بارئ الانام۔ ولا ابالی بمؤاخذة الحكام۔

ترجمہ: الاستفتاء صفحہ 36 ملحقہ حقیقۃ الوحی ص 657 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 ص 657 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 378 پر درج ہے

Back

صفحہ 1035

١٨

حوالہ نمبر 469

یہی مسئلہ پیش کیا ۔ کہ آپ کی بعض تحریروں سے ایسا معلوم ہوتا ہے ۔ کہ آپ نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں ۔ اس لئے لوگوں کو ٹھوکر لگتی ہے ۔ حضرت صاحب نے اسکی تشریح فرمائی ۔ کہ میری مُراد اس سے کیا ہے ۔ جس پر اُن مولوی صاحب نے کہا ۔ کہ اچھا آپ تحریر کر دیں ۔ کہ آپ کی تحریرات میں جہاں کہیں نبوت کا لفظ ہے ، وہ ایسا نہیں ۔ کہ جو ختمِ نبوت کے منافی ہو۔ اور اس سے مراد محدثیت ہے ۔ حضرت صاحب نے فرمایا ۔ کہ بیشک میں لکھ دیتا ہوں ۔ چنانچہ اُسی وقت حضور نے ایک تحریر لکھ کر مولوی صاحب کو دیدی ۔ جو کہ اُنہوں نے اپنے پاس رکھ لی ۔ تاکہ اُن لوگوں کو دکھائیں ۔ جو اس وجہ سے حضرت صاحب پر کفر کا فتویٰ لگاتے تھے۔ انہی دنوں میں ایک دن بعض شریر لوگ مخالف مولویوں کے بہکانے سے اُس مکان پر حملہ کر کے آگئے۔ جہاں پر ہم ٹھہرے ہوئے تھے ۔ اور مکان کے اوپر زنانہ میں گھسنا چاہتے تھے ۔ مگر چند احمدیوں نے جو ساتھ تھے ۔ بڑی ہمت سے سیڑھیوں میں کھڑے ہوکر اُن لوگوں کو روکا ۔ اور بعد میں پولیس کے پہنچ جانے سے وہ لوگ منتشر ہوئے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے امرتسر جانے کی خبر سے بعض اور احباب بھی مختلف شہروں سے وہاں آگئے ۔ چنانچہ کپور تھلہ سے محمد خاں صاحب مرحوم اور منشی ظفر احمد صاحب بہت دنوں وہاں ٹھہرے رہے ۔ گرمی کا موسم تھا ۔ اور منشی صاحب اور میں ہر دو نحیف البدن اور چھوٹے قد کے آدمی ہونے کے سبب ایک ہی چارپائی پر دونوں لیٹ جاتے تھے ۔ ایک شب دس بجے کے قریب میں تھیٹر میں چلا گیا ۔ جو مکان کے قریب ہی تھا ۔ اور تماشہ ختم ہونے پر دو بجے رات کو واپس آیا صبح منشی ظفر احمد صاحب نے میری عدم موجودگی میں حضرت صاحب کے پاس میری شکایت کی ۔ کہ مفتی صاحب رات تھیٹر چلے گئے تھے حضرت صاحب نے فرمایا ۔ ایک دفعہ ہم بھی گئے تھے ۔ تاکہ معلوم ہو ۔ کہ وہاں کیا ہوتا ہے ۔ اس کے سوا اور کچھ نہیں فرمایا منشی ظفر احمد صاحب نے خود ہی مجھ سے ذکر کیا ۔ کہ میں تو حضرت صاحب کے پاس آپکی شکایت لیکر گیا تھا ! اور میرا خیال تھا ۔ کہ حضرت صاحب آپکو بلا کر تنبیہ کریں گے ۔ مگر حضور نے تو صرف یہی فرمایا ۔ کہ ایک دفعہ ہم بھی گئے تھے ۔ اور اس سے معلومات حاصل ہوتے ہیں ۔ میں نے کہا کہ

ذکر حبیب صفحہ 18 از مفتی محمد صادق قادیانی یہ حوالہ صفحہ 378 پر درج ہے

صفحہ 1036

حوالہ نمبر 470 دیباچہ 9 براہین احمدیہ حصہ پنجم

کہ باوجود صدہا عوائق اور موانع کے محض خدا تعالیٰ کی نصرت اور مدد نے اس حصہ کو خلعت وجود بخشا۔ چنانچہ اس حصہ کے چند اوائل ورق کے ہر ایک صفحہ کے سر پر نصرت الحق لکھا گیا مگر پھر اس خیال سے کہ تا یاد دلایا جائے کہ یہ وہی براہین احمدیہ ہے جس کے پہلے چار حصے طبع ہو چکے ہیں بعد اسکے ہر ایک صفحہ پر براہین احمدیہ کا حصہ پنجم لکھا گیا۔ پہلے پچاس حصے لکھنے کا ارادہ تھا مگر پچاس سے پانچ پر اکتفاء کیا گیا۔ اور چونکہ پچاس اور پانچ کے عدد میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے اسلئے پانچ حصوں سے وہ وعدہ پورا ہو گیا۔

دوسرا سبب اس التوا کا جو بتیس برس تک حصہ پنجم لکھا نہ گیا یہ تھا کہ خدا تعالیٰ کو منظور تھا کہ اُن لوگوں کے دلی خیالات ظاہر کرے جن کے دل مرض بدگمانی میں مبتلا تھے اور ایسا ہی ظہور میں آیا۔ کیونکہ اسقدر دیر کے بعد خام طبع لوگ بدگمانی میں بڑھ گئے۔ یہاں تک کہ بعض ناپاک فطرت گالیوں پر اُتر آئے اور چار ۵ حصے اس کتاب کے جو طبع ہو چکے تھے کچھ تو مختلف قیمتوں پر فروخت کئے گئے تھے اور کچھ مفت تقسیم کئے گئے تھے پس جن لوگوں نے قیمتیں دی تھیں اکثر نے گالیاں بھی دیں اور اپنی قیمت بھی واپس لی۔ اگر وہ اپنی جلد بازی سے ایسا نہ کرتے تو اُن کے لئے اچھا ہوتا۔ لیکن اس قدر دیر سے اُن کی فطری حالت آزمائی گئی ۔

اس دیر کا ایک یہ بھی سبب تھا کہ تا خدا تعالیٰ اپنے بندوں پر ظاہر کرے کہ یہ کاروبار اُس کی مرضی کے مطابق ہے اور یہ تمام الہام جو براہین احمدیہ کے حصص سابقہ میں لکھے گئے ہیں یہ اُسی کی طرف سے ہیں نہ انسان کی طرف سے۔ کیونکہ اگر یہ کتاب خدا تعالیٰ کی مرضی کے مطابق نہ ہوتی اور یہ تمام الہام اُس کی طرف سے نہ ہوتے تو یہ امر خدائے عادل مقتدر کی عادت کے برخلاف تھا کہ جو شخص

براہین احمدیہ حصہ پنجم دیباچہ صفحہ 7 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 9 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 380 پر درج ہے

صفحہ 1037

(حوالہ نمبر 471)

۱۳۸

کے لئے ایک حکایت بھی بیان کیا کرتے تھے کہ ایک دفعہ مہاراجہ شیر سنگھ نے اپنے ایک باورچی کو کھانے میں نمک زیادہ ڈالنے کی سزا میں حکم دیا ۔کہ اس کی سب جائیداد ضبط کر کے اسے قید خانہ میں ڈال دیا جائے ۔ اس پر کسی اہلکار نے حاضر ہو کر عرض کیا ۔ کہ مہاراج اتنی سی بات پر عتاب بہت سخت ہے راجہ کہنے لگا ۔ کہ تم نہیں جانتے۔ یہ صرف نمک کی سزا نہیں۔ اس کم بخت نے میرا سوجی بھسم کیا ہے۔

(۷۲۷) بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ ایک دفعہ گرمیوں میں مسجد مبارک میں مغرب کی نماز پیر سراج الحق صاحب نے پڑھائی۔ حضور علیہ السلام بھی اس نماز میں شامل تھے۔ تیسری رکعت میں رکوع کے بعد انہوں نے بجائے مشہور دعاؤں کے حضور کی ایک فارسی نظم پڑھی جس کا یہ مصرع ہے ؂ اے خدا اے چارۂ آزار ما

خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ فارسی نظم نہایت اعلیٰ درجہ کی مناجات ہے جو رُوحانیت سے پُر ہے مگر معروف مسئلہ یہ ہے کہ نماز میں صرف مسنون دعائیں یا عربیہ پڑھنی چاہئیں۔ باقی دل میں پڑھنی جائز ہیں پس اگر یہ روایت درست ہے تو حضرت صاحب نے اس وقت خاص کیفیت کے رنگ میں اس پر تعرض نہیں فرمایا ہو گا ۔ اور چونکہ ویسے بھی یہ واقعہ صرف ایک منفرد واقعہ ہے اس لئے میری رائے میں حضرت صاحب کا یہ منشاء ہرگز نہیں ہوگا۔ کہ لوگ اس طرح کر سکتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت صاحب نے اس وقت سکوت اختیار کر کے بعد میں پیر صاحب کو علیحدہ طور پر سمجھا دیا ہو۔ کہ یہ مناسب نہیں۔ کیونکہ پیر صاحب کی طرف سے اس کی تکرار ثابت نہیں۔ واللہ اعلم۔

(۷۲۸) بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ مولوی عبداللہ صاحب مولوی فاضل سابق مدرس ڈیرہ بابا نانک نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مندرجہ ذیل خط شیخ فتح محمد صاحب کے پاس دیکھا تھا۔ یہ خط حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اولؓ کے نام تھا۔ مگر خط کا مضمون شیخ فتح محمد صاحب کے متعلق تھا۔ اور لفافہ پر حضرت خلیفہ اوّلؓ کا جموں والا پتہ درج تھا۔

مکرمی اخویم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ :-

فتح محمد حصولِ بشارت کے لئے دو رکعت نماز وقت عشاء پڑھ کر اکتالیس دفعہ سورۂ فاتحہ پڑھے اور اس کے اوّل اور آخر گیارہ گیارہ دفعہ درود شریف پڑھے اور اپنے مقصد کے لئے دُعا کر کے قبلہ رُو با وضو سو رہے۔ جس دن سے شروع کریں۔ اکیس دن تک اس کو ختم کریں۔ انشاء اللہ العزیز وہ

سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 138 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 381 پر درج ہے

صفحہ 1038

براہین احمدیہ حصہ پنجم ۱۲۷

حوالہ نمبر 472

۹۷

اے خدائے کارساز و عیب پوش و کردگار اے مرے پیارے مرے محسن مرے پروردگار
کس طرح تیرا کروں اے ذوالمنن شکر و سپاس وہ زباں لاؤں کہاں جس سے ہو یہ کاروبار
بدگمانوں سے بچایا مجھ کو خود بن کر گواہ کر دیا دشمن کو اک حملہ سے مغلوب اور خوار
کام جو کرتے ہیں تیری راہ میں پاتے ہیں جزا مجھ سے کیا دیکھا کہ یہ لطف و کرم ہے بار بار
تیرے کاموں سے مجھے حیرت ہے اے میرے کریم کس عمل پر مجھ کو دی ہے خلعتِ قرب و جوار
کرم خاکی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد ہوں ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار
یہ نرا فضل و احساں ہے کہ میں آیا پسند ورنہ درگہ میں تیری کچھ کم نہ تھے خدمتگزار
دوستی کا دم جو بھرتے تھے وہ سب دشمن ہوئے پر نہ چھوڑا ساتھ تو نے اے میرے وفادار
اے مرے یار یگانہ اے مری جاں کی پناہ بس ہے تو میرے لئے مجھ کو نہیں تجھ بن بکار
میں تو سرگرداں ہوتا گر نہ ہوتا تیرا لطف پھر خدا جانے کہاں یہ بھٹکتا پھرتا غبار
اے خدا ہو تیری راہ میں میرا ہمہ جان و دل غیر ممکن تھا کہ تجھ سا کوئی کرتا ہو پیار
ابتدا سے تیرے ہی سایہ میں میرے دن کٹے گود میں تیری رہا میں مثلِ طفلِ شیر خوار
نسلِ انساں میں نہیں دیکھی وفا جو تجھ میں ہے تیرے بن دیکھا نہیں کوئی بھی یارِ غمگسار
لوگ کہتے ہیں کہ نادیدہ نہیں ہوتا قبول میں تو نادیدہ پر ہی ہو گیا صدقے مرے یار
اس قدر مجھ پر ہوئیں تیری عنایات و کرم جن کا مشکل ہے کہ تا روزِ قیامت ہو شمار
آسماں میرے لئے تو نے بنایا اک گواہ چاند اور سورج ہوئے میرے لئے تاریک و تار
تو نے طاعون کو بھی بھیجا میری نصرت کیلئے تا وہ پورے ہوں نشاں جو ہیں سچائی کا مدار
ہو گئے بیکار سب حیلے جب آئی وہ بلا ساری تدبیروں کا کاغذ اُڑ گیا مثلِ غبار
سرزمین ہند میں ایسی ہے شہرت مجھ کو دی جیسے چمکے برق کا اک دم میں ہر جا اشتہار

براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 97 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 127 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 382 پر درج ہے

Back

صفحہ 1039

(حوالہ نمبر 473)

اربعین نمبر ۳

۴۰۴

اور مکر سوچو جسقدر چاہو پھر یاد رکھو کہ عنقریب خدا تمہیں دکھلا دے گا کہ اُس کا ہاتھ غالب ہے۔ نادان کہتا ہے کہ مَیں اپنے منصوبوں سے غالب ہو جاؤں گا۔ مگر خدا کہتا ہے کہ اے احمق دیکھ مَیں تیرے سارے منصوبے خاک میں ملا دونگا۔ اگر خدا چاہتا تو اِن مخالف مولویوں اور ان کے پیروؤں کو آنکھیں بخشتا اور وہ ان وقتوں اور موسموں کو پہچان لیتے جن میں خدا کے مسیح کا آنا ضروری تھا۔ لیکن ضرور تھا کہ قرآن شریف اور احادیث کی وہ پیشگوئیاں پوری ہوتیں جن میں لکھا تھا کہ مسیح موعود جب ظاہر ہو گا تو اسلامی علماء کے ہاتھ سے دکھ اُٹھائیگا۔ وہ اس کو کافر قرار دیں گے اور اس کے قتل کے لئے فتوے دیئے جائیں گے اور اس کی سخت توہین کی جائیگی اور اس کو دائرہ اسلام سے خارج اور دین کا تباہ کرنے والا خیال کیا جائے گا۔ سو ان دنوں میں وہ پیشگوئی انہیں مولویوں نے اپنے ہاتھوں سے پوری کی۔ افسوس یہ لوگ سوچتے نہیں کہ اگر یہ دعویٰ خدا کے امر اور ارادہ سے نہیں تھا تو کیوں اس مدعی میں پاک اور صادق نبیوں کی طرح بہت سے سچائی کے دلائل جمع ہو گئے؟ کیا وہ رات ان کیلئے ماتم کی رات نہیں تھی جس میں میرے دعوے کے وقت رمضان میں خسوف کسوف عین پیشگوئی ۱۵ کی تاریخوں میں وقوع میں آیا۔ کیا وہ دن ان پر مصیبت کا دن نہیں تھا جس میں لیکھرام کی نسبت پیشگوئی پوری ہوئی۔ خدا نے بارش کی طرح نشان برسائے مگر ان لوگوں نے آنکھیں بند کر لیں تا ایسا نہ ہو کہ دیکھیں اور ایمان لائیں۔ کیا یہ سچ نہیں کہ یہ دعویٰ غیر وقت پر نہیں بلکہ عین صدی کے سر پر اور عین ضرورت کے دنوں میں ظہور میں آیا۔ اور یہ امر قدیم سے اور جب سے کہ بنی آدم پیدا ہوئے سنّت اللہ میں داخل ہے کہ عظیم الشان مصلح صدی کے سر پر اور عین ضرورت کے وقت میں آیا کرتے ہیں جیسا کہ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی حضرت مسیح علیہ السلام کے بعد ساتویں صدی کے سر پر جبکہ تمام دنیا تاریکی میں پڑی تھی ظہور فرما ہوئے اور جب سات سو وکسر گزر گئے

٦٢

اربعین صفحہ 18 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 404 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 382 پر درج ہے

صفحہ 1040

حوالہ نمبر 474 ۴۳

غصہ پر خود قابض ہو گئے۔ مرزا غلام حسین کی چونکہ نسل نہیں چلی اسلیئے ان کا حصہ پسران مرزا غلام مرتضیٰ صاحب و پسران مرزا غلام محی الدین کو آگیا۔

خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ اس وقت مرزا تصدق جیلانی اور مرزا قاسم بیگ کی تمام شاخ معدوم ہو چکی ہے۔ علیٰ ھٰذا القیاس مرزا غلام حیدر کی بھی شاخ معدوم ہے۔ ہمارے تایا مرزا غلام قادر صاحب اور مرزا امام الدین اور مرزا کمال الدین بھی لاولد فوت ہوئے۔ ہاں مرزا نظام الدین کا ایک لڑکا مرزا گل محمد موجود ہے۔ مگر وہ احمدی ہو کر حضرت صاحب کی روحانی اولاد میں داخل ہو چکا ہے۔ قال اللہ تعالیٰ ینقطع أبائك ويبدأ منك اور یہ الہام اس وقت کا ہے۔ جب آپکے شجرہ خاندانی کی یہ تمام شاخیں سرسبز تھیں۔

(۴۹) بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایکدفعہ اپنی جوانی کے زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام تمہارے دادا کی پینشن وصول کرنے گئے تو پیچھے پیچھے مرزا امام الدین بھی چلا گیا۔ جب آپ نے پینشن وصول کر لی۔ تو وہ آپکو پھسلا کر اور دھوکہ دیکر بجائے قادیان لانے کے باہر لیگیا اور ادھر اُدھر پھراتا رہا پھر جب اُسنے سارا روپیہ اُڑا کر ختم کر دیا تو آپ کو چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا حضرت مسیح موعود اس شرم سے واپس گھر نہیں آئے۔ اور چونکہ تمہارے دادا کا منشا رہتا تھا کہ آپ کہیں ملازم ہو جائیں اس لیئے آپ سیالکوٹ شہر میں ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں قلیل تنخواہ پر ملازم ہو گئے۔ اور کچھ عرصہ تک وہاں ملازمت پر رہے۔ پھر جب تمہاری دادی بیمار ہوئیں۔ تو تمہارے دادا نے آدمی بھیجا۔ کہ ملازمت چھوڑ کر آ جاؤ۔ جسپر حضرت صاحب فوراً روانہ ہو گئے۔ امرتسر پہنچکر قادیان آنے کے واسطے یکہ کرایہ پر لیا۔ اس موقعہ پر قادیان سے ایک اور آدمی بھی آپ کے لینے کے لیئے امرتسر پہنچ گیا۔ اس آدمی نے کہا یکہ جلدی چلاؤ کیونکہ ان کی حالت بہت نازک تھی پھر تھوڑی دیر کے بعد کہنے لگا۔ بہت ہی نازک حالت تھی جلدی کرو کہیں فوت نہ ہو گئی ہوں۔ والدہ صاحبہ بیان کرتی تھیں کہ حضرت صاحب فرماتے تھے۔ کہ میں اسی

سیرت المہدی، جلد اول صفحہ 43، 44 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 383 پر درج ہے

صفحہ 1041

۴۴

حوالہ نمبر 474

وقت سمجھ گیا ۔ کہ دراصل والدہ فوت ہو چکی ہیں۔ کیونکہ اگر وہ زندہ ہوتیں تو وہ شخص ایسے الفاظ نہ بولتا۔ چنانچہ قادیان پہنچے تو پتہ لگا کہ واقعی وہ فوت ہو چکی تھیں۔ والدہ صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ حضرت صاحب فرماتے تھے ۔ کہ ہمیں چھوڑ کر پھر مرزا امام الدین ادھر اُدھر پھرتا رہا۔ آخر اُس نے چائے کے ایک قافلہ پر ڈاکہ مارا اور پکڑا گیا مگر مقدمہ میں رہا ہو گیا۔ حضرت صاحب فرماتے تھے۔ کہ معلوم ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری وجہ سے ہی اسے قید سے بچا لیا ورنہ خواہ مخواہ کیسا ہی آدمی تھا ہمارے مخالف یہی کہتے کہ ان کا ایک چچا زاد بھائی جیل خانہ میں رہ چکا ہے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیالکوٹ کی ملازمت ۱۸۶۴ء تا ۱۸۶۸ء کا واقعہ ہے۔

(اس روایت سے یہ نہیں سمجھنا چاہیئے۔ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا سیالکوٹ میں ملازم ہونا اس وجہ سے تھا۔ کہ آپ سے مرزا امام الدین نے دادا صاحب کی پنشن کا روپیہ دھوکا دے کر اُڑا لیا تھا۔ کیونکہ جیسا کہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تصنیفات میں تصریح کی ہے۔ آپ کی ملازمت اختیار کرنیکی وجہ صرف یہ تھی۔ کہ آپ کے والد صاحب ملازمت کے لیئے زور دیتے رہتے تھے۔ ورنہ آپکی اپنی رائے ملازمت کے خلاف تھی۔ اسی طرح ملازمت چھوڑ دینے کی بھی اصل وجہ یہی تھی۔ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ملازمت کو ناپسند فرماتے تھے۔ اور اپنے والد صاحب کو ملازمت ترک کر دینے کی اجازت کے لیئے لکھتے رہتے تھے۔ لیکن دادا صاحب ترک ملازمت کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ مگر بالآخر جب دادی صاحبہ بیمار ہوئیں۔ تو دادا صاحب نے اجازت بھجوا دی۔ کہ ملازمت چھوڑ کر آ جاؤ۔)

(۵۰)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ طبابت کا علم ہمارا خاندانی علم ہے۔ اور ہمیشہ سے ہمارا خاندان اس علم میں ماہر رہا ہے۔ دادا صاحب نہایت ہی نامور اور مشہور حاذق طبیب تھے۔ تایا صاحب نے بھی طب پڑھی تھی۔ حضرت مسیح موعود بھی علم طب میں خاصی دسترس رکھتے تھے۔ اور گھر میں ادویہ کا ایک ذخیرہ رکھا کرتے تھے

سیرت المہدی، جلد اوّل صفحہ 43، 44 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 383 پر درج ہے

صفحہ 1042

حوالہ نمبر 475

حقیقة الوحی ۳۴۶ نشانات صداقت

اس لئے دُعا کی گئی۔ ۵؍ مارچ ۱۹۰۶ء کو مَیں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص جو فرشتہ معلوم ہوتا تھا میرے سامنے آیا اور اُس نے بہت سا روپیہ میرے دامن میں ڈال دیا۔ مَیں نے اُس کا نام پوچھا۔ اُس نے کہا نام کچھ نہیں۔ مَیں نے کہا آخر کچھ تو نام ہوگا۔ اُس نے کہا میرا نام ہے ٹیچی ٹیچی۔ پنجابی زبان میں وقت مقررہ کو کہتے ہیں یعنی عین ضرورت کے وقت پر آنیوالا۔ تب میری آنکھ کھل گئی۔ بعد اس کے خدا تعالیٰ کی طرف سے کیا ڈاک کے ذریعہ سے اور کیا براہ راست لوگوں کے ہاتھوں سے اس قدر مالی فتوحات ہوئیں جن کا خیال و گمان نہ تھا اور کئی ہزار روپیہ آگیا چنانچہ جو شخص اسکی تصدیق کیلئے صرف ڈاک خانہ کے رجسٹر ہی ۵؍ مارچ ۱۹۰۶ء سے ۳۴۷ اخیر سال تک دیکھے اُس کو معلوم ہو گا کہ کس قدر روپیہ آیا تھا۔

یاد رہے کہ خدا تعالیٰ کی مجھ سے یہ عادت ہے کہ اکثر جو نقد روپیہ آنیوالا ہو۔ یا اور چیزیں تحائف کے طور پر ہوں اُن کی خبر قبل از وقت بذریعہ الہام یا خواب کے مجھ کو دیدیتا ہے اور اس قسم کے نشان پچاس ہزار سے کچھ زیادہ ہوں گے۔

۳۴۸ نشان۔ ایک دفعہ ایسا اتفاق ہوا کہ مَیں نعمت اللہ ولی کا وہ قصیدہ دیکھ رہا تھا جس میں اُس نے میرے آنے کی بطور پیشگوئی خبر دی ہے اور میرا نام بھی لکھا ہے اور بتلایا ہے کہ تیرہویں صدی کے اخیر میں وہ مسیح موعود ظاہر ہوگا اور میری نسبت یہ شعر لکھا ہے کہ:۔

مہدی وقت و عیسیٰ دوراں ہر دو را شہسوار می بینم

یعنی وہ آنیوالا مہدی بھی ہوگا اور عیسیٰ بھی ہو گا دونوں ناموں کا مصداق ہوگا اور دونوں طور کے دعوے کریگا۔ پس اِس اثناء میں کہ مَیں یہ شعر پڑھ رہا تھا عین پڑھنے کے وقت مجھے یہ الہام ہوا :۔

از پئے آں محمد احسن را تارک روزگار می بینم

یعنی مَیں دیکھتا ہوں کہ مولوی سید محمد احسن امروہی اسی غرض کیلئے اپنی نوکری سے جو ریاست بھوپال میں تھی علیحدہ ہو گئے تا خدا کے مسیح موعود کے پاس حاضر ہوں اور اُسکے دعوے کی تائید کے لئے خدمت بجا لاویں۔ اور یہ ایک پیشگوئی تھی جو بعد میں نہایت صفائی سے ظہور میں آئی۔

۳۴۹

حقیقة الوحی صفحہ 332 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 346 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 384 پر درج ہے

صفحہ 1043

(حوالہ نمبر 476)

۲۷۷

وہ دو قسم کے ہوتے ہیں۔ (۱) ایک وہ جو دوسروں کی اصلاح کے لئے مامور نہیں ہوتے بلکہ اُن کا کار و بار اپنے نفس تک ہی محدود ہوتا ہے۔ اور اُن کا کام صرف یہی ہوتا ہے کہ وہ ہر دم اپنے نفس کو ہی زہد اور تقویٰ اور اخلاص کا صیقل دیتے رہتے ہیں اور اسی طرح خدا تعالیٰ کی ادق سے ادق رضامندی کی راہوں پر چلتے اور اُس کے باریک وصایا کے پابند رہتے ہیں۔ اور اُنکے لئے ضروری نہیں ہوتا کہ وہ کسی ایسے عالی خاندان اور عالی قوم میں سے ہوں جو علو نسب اور شرافت اور نجابت اور امارت اور ریاست کا مجموعہ ہو بلکہ حسب آیہ کریمہ اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰکُمْ ؎ صرف اُنکی تقویٰ دیکھی جاتی ہے گو وہ دراصل چوہڑوں میں سے ہوں یا چماروں میں سے۔ یا مثلاً کوئی اُن میں سے ذات کا کنجر ہو جس نے اپنے پیشہ سے توبہ کر لی ہو۔ یا اُن قوموں میں سے ہوں۔ جو اسلام میں دوسری قوموں کے خادم اور نیچی قومیں سمجھی جاتی ہیں۔ جیسے حجام۔ موچی۔ تیلی۔ ڈوم۔ میراسی۔ سقے۔ قصائی۔ جولاہے۔ کنجڑی۔ تنبولی۔ ڈومنی۔ کنجڑے۔ بھڑبھونجے۔ نانبائی وغیرہ۔ یا مثلاً ایسا شخص ہو کہ اُسکی ولادت میں ہی شک ہو کہ آیا حلال کا ہے یا حرام کا۔ یہ تمام لوگ بوجہ تصوف کے اولیاء اللہ میں داخل ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ درگاہ کریم ہے اور فیضان کی موجیں بڑے جوش سے جاری ہیں۔ اور اس قدوس ابدی کے دریائے محبت میں غرق ہو کر طبعی طرح کے میلوں والے اُن تمام میلوں سے پاک ہو سکتے ہیں جو حرفہ اور عادت کے طور پر اُن پر لگائے جاتے ہیں۔ اور پھر بعد اس کے کہ وہ اُس خدائے قدوس سے مل گئے۔ اور اس کی محبت میں محو ہو گئے اور اُسکی رضا میں کھوئے گئے۔ سخت بدذاتی ہوتی ہے کہ اُن کی کسی نیچ ذات کا ذکر بھی کیا جائے۔ کیونکہ اب وہ وہ نہیں رہے اور اُنہوں نے اپنی شخصیت کو چھوڑ دیا اور خدا میں جاملے اور اس لائق ہو گئے کہ

٭ ترجمہ۔ تم میں سے خدا تعالیٰ کے نزدیک مکرم و زیادہ بزرگ وہ ہے جو سب سے زیادہ تقویٰ کی راہوں پر چلتا ہے۔ منہ

۱؎ الحجرات : ۱۳ ۴۹ : ۱۳

تریاق القلوب صفحہ 149 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 277 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 385 پر درج ہے

صفحہ 1044

حوالہ نمبر 477

۴۹۸

نشان آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئے ہیں۔ اور اُن ہدایتوں کے بھیجنے والے کے منہ پر ہمیشہ کے لئے مُہر لگ گئی ہے۔ پس جاننا چاہئے کہ ہر ایک انسان جو سچی بھوک اور پیاس خدا تعالیٰ کی طلب میں رکھتا ہے وہ ایسا خیال ہرگز نہیں کریگا۔ اِس لئے ضروری ہے کہ سچے مذہب کی یہی نشانی ہو کہ زندہ خدا کے زندہ نمونے اور اُس کے نشانوں کے چمکتے ہوئے نُور اُس مذہب میں تازہ بتازہ موجود ہوں۔ اگر ہماری گورنمنٹ عالیہ ایسا جلسہ کرے تو یہ نہایت مبارک ارادہ ہے۔ اور اِس سے ثابت ہو گا کہ یہ گورنمنٹ سچائی کی حامی ہے۔ اور اگر ایسا جلسہ ہو تو ہر ایک شخص اپنے اختیار سے اور ہنسی خوشی سے اس جلسہ میں داخل ہو سکتا ہے۔ قوموں کے پیشوا جنہوں نے مقدس کہلا کر کروڑہا روپیہ قوموں کا کھا لیا ہے۔ ان کے تقدس کو آزمانے کے لئے اس سے بڑھ کر اور کوئی عمدہ طریق نہیں ہو سکتا یا اُن کے مذہب کا خدا کے ساتھ رشتہ ہے اس رشتہ کا زندہ ثبوت مانگا جائے۔ یہ عاجز اپنے دلی جوش سے جو ایک پاک جوش ہے یہی چاہتا ہے کہ ہماری محسن گورنمنٹ کے ہاتھ سے یہ فیصلہ ہو۔ خدا یا اِس عالی مرتبہ گورنمنٹ کو یہ الہام کر۔ تا وہ اِس قسم کے جلسوں میں سب سے پیچھے آکر سب سے پہلے ہو جائے۔ اور مَیں چونکہ مسیح موعود ہوں۔ اس لئے حضرت مسیح کی عادت کا رنگ مجھ میں پایا جانا ضروری ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام وہ انسان تھے جو مخلوق کی بھلائی کے لئے صلیب پر چڑھے۔ گو خدا کے رحم نے اُن کو بچا لیا۔ اور مرہم عیسیٰؑ نے اُن کے زخموں کو اچھا کر کے آخر

٭ مرہم عیسیٰ ایک نہایت مبارک مرہم ہے جس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زخم اچھے ہوئے تھے جبکہ آپ نے خدا تعالیٰ کے فضل سے سُولی سے نجات پائی تو صلیب کی میخوں کے جو زخم تھے جن کو آپ نے حواریوں کو بھی دکھلایا تھا وہ اسی مرہم سے اچھے ہوئے تھے۔ یہ مرہم طب کی ہزار کتاب میں درج ہے اور قانونِ بوعلی سینا میں بھی مندرج ہے اور رومیوں اور یونانیوں اور عیسائیوں اور یہودیوں اور مسلمانوں غرض تمام فرقوں کے طبیبوں نے اس مرہم کو اپنی کتابوں میں لکھا ہے ۔ منہ

۲۷۰

تریاق القلوب صفحہ 370، 371 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 498، 499 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 386 پر درج ہے

صفحہ 1045

(حوالہ نمبر 477)

۴۹۹

کشمیر جنت نظیر میں اُن کو پہنچا دیا۔ سو انھوں نے سچائی کے لئے صلیب سے پیار کیا۔ اور اُس طرح اُس پر چڑھ گئے جیسا کہ ایک بہادر سوار خوش عنان گھوڑے پر چڑھتا ہے۔ سو ایسا ہی میں بھی مخلوق کی بھلائی کے لئے صلیب سے پیار کرتا ہوں۔ اور میں یقین رکھتا ہوں کہ جس طرح خدا تعالیٰ کے فضل اور کرم نے حضرت مسیح کو صلیب سے بچا لیا۔ اور اُنکی تمام رات کی دُعا جو باغ میں کی گئی تھی قبول کر کے اُنکو صلیب اور صلیب کے نتیجہ سے نجات دی۔ ایسا ہی مجھے بھی بچائے گا۔ اور حضرت مسیح صلیب سے نجات پا کر نصیبین کی طرف آئے اور پھر افغانستان کے مُلک میں ہوتے ہوئے کوہِ نعمان میں پہنچے۔ اور جیسا کہ اُس جگہ شہزادہ نبی کا چبوترا ابتک گواہی دے رہا ہے۔ وہ ایک مُدّت تک کوہِ نعمان میں رہے۔ اور پھر اس کے بعد پنجاب کی طرف آئے۔ آخر کشمیر میں گئے اور کوہِ سلیمان پر ایک مُدّت تک عبادت کرتے رہے۔ اور سکھوں کے زمانہ تک اُن کی یادگار کا کوہِ سلیمان پر کتبہ موجود تھا آخر سرینگر میں ایک سو پچیس برس کی عمر میں وفات پائی اور خان یار کے محلہ کے قریب آپ کا مقدّس مزار ہے۔ غرض جیسا کہ اس نبی نے سچائی کے لئے صلیب کو قبول کیا ایسا ہی میں بھی قبول کرتا ہوں۔ اگر اس جلسہ کے بعد جس کی گورنمنٹ مُحسنہ کو ترغیب دیتا ہوں ایک سال کے اندر میرے نشان تمام دُنیا پر غالب نہ ہوں تو میں خدا کی طرف سے نہیں ہوں۔ میں راضی ہوں کہ اس جُرم کی سزا میں سُولی دیا جاؤں اور میری ہڈیاں توڑی جائیں۔ لیکن وہ خدا جو آسمان پر ہے جو دل کے خیالات کو جانتا ہے جس کے الہام سے مَیں نے اس عریضہ کو لِکھا ہے۔ وہ میرے ساتھ ہو گا۔ اور میرے ساتھ ہے۔ وہ مجھے اس گورنمنٹ عالیہ اور قوموں کے سامنے شرمندہ نہیں کریگا۔ اُسی کی رُوح ہے جو میرے اندر بولتی ہے۔ میں نہ اپنی طرف سے بلکہ اُس کی طرف سے یہ پیغام پہنچا رہا ہوں تا سب کچھ جو اتمام حُجّت کیلئے چاہئیے

۴۶۱

تریاق القلوب صفحہ 370، 371 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 498، 499 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 386 پر درج ہے

صفحہ 1046

حوالہ نمبر 478 ۳۷۰

کہ حضرت مسیح موعود کا نام احمد تھا۔ اور ہم پر جو اعتراض کئے جاتے ہیں وہ صرف دکھانے کے دانت ہیں اور ان کے کھانے کے دانت اور ہیں ۔ نواں ثبوت نواں ثبوت حضرت مسیح موعود کا نام احمد ہونے کا یہ ہے کہ خود آپ نے اس آیت کا مصداق اپنے آپ کو قرار دیا ہے۔ چنانچہ آپ انوار اوہام ص ۱۸ ص ۱۹ ایڈیشن اوّل میں تحریر فرماتے ہیں :۔ "اور اس آنیوالے کا نام جو احمد رکھا گیا ہے وہ بھی اس کے مثیل ہونے کی طرف اشارہ ہے کیونکہ محمد جلالی نام ہے اور احمد جمالی۔ اور احمد اور عیسیٰ اپنے جمالی معنوں کے رو سے ایک ہی ہیں۔ اس کی طرف یہ اشارہ ہے وَمُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْ بَعْدِی اسْمُہٗ اَحْمَدُ مگر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فقط احمد ہی نہیں بلکہ محمد بھی ہیں یعنے جامع جلال و جمال ہیں۔ لیکن آخری زمانہ میں طبق پیشگوئی مجرّد احمد جو اپنے اندر حقیقت عیسویت رکھتا ہے بھیجا گیا۔" +

اس عبارت سے ظاہر ہے کہ آپ اس آیت کا مصداق اپنے آپ کو ہی قرار دیتے ہیں کیونکہ آپ نے اس میں دلیل کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس جگہ مراد ہوتے تو مجرّد احمد کی پیشگوئی ہوتی۔ لیکن یہاں صرف احمد کی پیشگوئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی اور شخص ہے جو مجرّد احمد ہے پس یہ حوالہ صاف طور پر ثابت کر رہا ہے کہ آپ احمد تھے بلکہ یہ کہ اس پیشگوئی کے آپ ہی مصداق ہیں اور اگر کسی دوسری جگہ پر آپ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس آیت کا مصداق قرار دیا ہے تو اس کے یہی معنے ہیں کہ بوجہ اس کے کہ کل فیضان جو حضرت مسیح موعود کو پہنچا ہے آپ ہی سے پہنچا ہے اس لئے جو خبر آپ کی نسبت دیگئی ہے اس کے مصداق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ضرور ہیں کیونکہ جو خوبیاں ظل میں ہوں اصل میں ضرور ہونی چاہئیں پس عکس کی خبر دینے والا ساتھ ہی اصل کی خبر بھی دیتا ہے پس اس آیت میں ضمنی طور پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی خبر دیگئی ہے اور اس بیان سے یہ واجب نہیں آتا۔ کہ اس پیشگوئی کے مصداق حضرت مسیح موعود نہ ہوں۔ اس کے اصل مصداق حضرت مسیح موعود ہیں اور اس لحاظ سے کہ آپ کے سب کمالات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کئے ہوئے ہیں

انوار خلافت صفحہ 37 مرزا بشیر الدین محمود ابن مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 388 پر درج ہے Back

صفحہ 1047

حوالہ نمبر 479

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم روزنامہ الفضل قادیان

مدینتہ المسیح قادیان دارالہجرت میں سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ارشاد پر ایک کمیٹی بنام مدینتہ المسیح حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا کی زیر صدارت قائم ہے ۔ احباب اس میں دل کھول کر حصہ لیں ۔ احباب دعا سے امداد فرمائیں۔

جلد 35 قادیان دارالہجرت 16 جمادی الثانی 1366ھ 16 مئی 1947ء نمبر 114

حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کا پیغام

آپ کی جماعت کی طرف سے وقف جائیداد اور وقف وقت کی رپورٹ کیوں نہیں آئی؟

رقم فرمودہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ

برادران ۔ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللهِ وَبَرَکَاتُہٗ

دن گزر رہے ہیں وقت گزر رہا ہے ۔ لیکن وقف جائیداد اور وقف وقت کی رپورٹ اب تک آپ کی جماعت کی طرف سے نہیں آئی یا آپ جماعت سے الگ رہتے ہیں ۔ تو آپ اپنا نام ہمیں بھجوا دیں ۔

وہ قربانی جو پہلے انبیاء کی جماعتوں نے کی اس کا وقت اب ہمارے لئے آ گیا ہے ۔ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ایک دنیا اس وقت مٹ گئی اور لاکھوں گھرانے تباہ ہو چکے ہیں ۔ کیا اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند آئے گی کہ جس قربانی کو آپ ہی کے زمانہ میں آپ ہی کے ملک میں آپ ہی کے حالات میں آپ کے بھائیوں نے پیش کی، آپ وہ پیش نہ کر سکیں ۔

یاد رکھیں کہ صرف کسی مقامی فہرست کا ممبر رہنا کافی نہیں ہوتا ۔ کیا کوئی احمدی جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ جماعت احمدیہ کا ممبر ہو، مگر اس کا نام ان فہرستوں میں نہ ہو جو حصہ لینے والے ہوں۔ مجھے افسوس کے ساتھ لکھنا پڑتا ہے کہ جائیداد کا کل یا ایک حصہ کسی نے اپنے اللہ کی راہ میں وقف نہ کیا ہو۔ بعض احمدی دوستوں نے لکھا ہے کہ یہ حصہ نہیں دے سکتے۔ اور جس نے معذرت کی ہو، اس کے آگے لکھا ہو کہ یہ مقدور ہی نہیں کہ دے سکیں ۔ انسانیت کے لحاظ سے یہ کوئی معافی کی درخواست نہیں ہے۔

اس طرح متمول افراد کو یہ حصہ لینا چاہئے یا معذرت کرنی چاہئے ۔ کسی نہ کسی لسٹ میں ہر فرد کا نام ضرور ہونا چاہئے۔ ورنہ پھر انجام وہی ہونا ہے۔

اللہ تعالیٰ جماعت کا حامی و ناصر ہو اور ایمان کے اعلیٰ مقام تک پہنچنے کی توفیق بخشے اور ہر امتحان میں کامیاب کرے ۔ والسلام خاکسار مرزا محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی

ابوالنور رفیق احمد خاں منتظم صیغہ جائیداد

قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کی تقریر، روزنامہ الفضل قادیان 16 مئی 1947ء صفحہ 2 | یہ حوالہ صفحہ 390 پر درج ہے

صفحہ 1048

حوالہ نمبر 479

۲ روزنامہ الفضل قادیان (دارالامان) مورخہ ۱۶ مئی ۱۹۴۷ء نمبر ۱۱۲

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

سیدنا حضرۃ امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی کی مجلس عرفان

ہماری جماعت کو نازک الفاظ کے استعمال سے بچنا چاہئیے

قادیان ۱۵ مئی ۴۷ء۔ حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے آج بعد نماز مغرب و عشاء مسجد مبارک میں درج ذیل ارشادات فرمائے۔ جن کو ایک دوست نے قلمبند کیا اور ہدیہ ناظرین کیا جاتا ہے :۔

فرمایا:۔ میں نے ایک مضمون اخبار میں دیکھا تھا جس میں بعض عبارتیں ایسی تھیں جن کی وجہ سے مجھے شبہ پیدا ہوا کہ مصنف نے جان بوجھ کر شرارت کی ہے۔ یا اسے پہلوؤں کے متعلق سمجھ نہیں آئی۔

انسان بعض اوقات ایک بات کہتا ہے۔ اور وہ اس وقت کی مصلحت کے لحاظ سے تو بظاہر ٹھیک ہوتی ہے مگر مستقبل میں اس کے برے نتائج پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ہماری جماعت کا یہ شیوہ ہونا چاہیے کہ کوئی لفظ منہ سے ایسا نہ نکالیں جو بعد میں ہمارے لیے یا ہماری جماعت کے لیے نقصان دہ ہو۔

آج کل چونکہ ملک میں سیاسی ہیجان پیدا ہو چکا ہے اس لیے ہر شخص کی زبان پر سیاسی باتیں آ جاتی ہیں۔ اگرچہ میں نے ہمیشہ جماعت کو اس سے روکا ہے مگر پھر بھی لوگ باز نہیں آتے۔ اگر کوئی شخص احمدیت کا دعویٰ کرتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے الفاظ کو سوچ سمجھ کر استعمال کرے۔ اور کوئی ایسی بات منہ سے نہ نکالے جس سے ہماری جماعت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔ بعض لوگ بلا سوچے سمجھے کوئی بات کہہ دیتے ہیں جس کا نتیجہ بعض اوقات اچھا نہیں ہوتا۔ اور جماعت کو اس سے نقصان پہنچنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ جب وہ کوئی بات کہے تو سوچ سمجھ کر کہے۔ اور جب کوئی بات لکھے تو خوب غور و خوض کے بعد لکھے۔

صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کی علالت اور دعا کی درخواست

آج مکرم محمود احمد صاحب امیر جماعت احمدیہ بمبئی کا تار آیا ہے جس میں وہ لکھتے ہیں کہ طبیعت بہت خراب ہے۔ بخار بھی زیادہ ہو گیا ہے۔ جب طبیعت کسی دن ٹھیک ہو جاتی ہے۔ اور کسی دن پھر خراب ہو جاتی ہے۔ آج کل پھر طبیعت خراب ہے۔ مورخہ ۱۳ مئی ابھی تک کوئی خط نہیں پہنچا۔ تار سے معلوم ہوتا ہے کہ طبیعت میں کچھ افاقہ ہے۔ نیک محمد ، جنرل سیکرٹری ، قادیان

ایک کی حماقت کا دوست پر برا اثر پڑتا ہے

آج کل کے حالات میں ہماری جماعت کو بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ بعض لوگ نادانی سے ایسی باتیں کہہ دیتے ہیں جن کا نتیجہ برا نکلتا ہے۔ اس لیے میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنے الفاظ کو سوچ سمجھ کر استعمال کریں اور کوئی ایسی بات منہ سے نہ نکالیں جس سے جماعت کو نقصان پہنچے۔

یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ دوست کی حماقت کا اثر اس کے دوست پر بھی پڑتا ہے۔ اگر ایک شخص کسی کا دوست ہے مگر اس کی عقل کی یہ حالت ہے کہ وہ اپنے دشمن کو دوست اور دوست کو دشمن سمجھتا ہے۔ اور اسے برے بھلے کی تمیز نہیں۔ تو یہ بڑی حماقت کی بات ہے۔ کسی دوست کے لیے یہ بڑا صدمہ کا موجب ہے کہ اسے معلوم ہو کہ اس کا ایک دوست کسی سے دوستی کا دعویٰ کرتا ہے مگر اس کے دشمنوں کی وہ امداد کرتا ہے۔

قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کی تقریر، روزنامہ الفضل قادیان 16 مئی 1947ء صفحہ 2 | یہ حوالہ صفحہ 390 پر درج ہے

صفحہ 1049

حوالہ نمبر 480

حدیث النبی صلی اللہ علیہ وسلم

قادیان ۳۱ مارچ ۔ سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی اطلاع پر کہ حضور کی طبیعت بفضلہ تعالیٰ اب روبہ صحت ہے احباب دعائیں کریں ۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کو صحت کاملہ و عاجلہ عطا فرمائے ۔ امین آج نماز جمعہ کے بعد دعائیں بھی اس وقت قادیان دارالامان میں شروع ہوگئی ہے۔

رجسٹرڈ نمبر ایل ۳۵ بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم

روزنامہ الفضل

قادیان دارالامان جلد ۳۵ | ۵ ماہ شہادت ۱۳۲۶ھ ش | ۲۱ جمادی الاول ۱۳۶۶ھ | ۵ اپریل ۱۹۴۷ء | نمبر ۸۱

قادیان میں مجلس مشاورت بابت ۱۹۴۷ء کا افتتاح

پہلے روز کی کارروائی

قادیان ۳۱ مارچ ۔ سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے نماز جمعہ کے بعد فرمایا ۔ میری حالت بفضلہ تعالیٰ اب پہلے سے اچھی ہے کوئی دس پندرہ روز کی سخت تکلیف کے بعد آج مجھے خدا تعالیٰ نے مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ کے لئے آنے کی توفیق بخشی ہے اور میں نے یہاں آکر کثرت سے دعائیں کی ہیں اور احباب کو بھی تلقین کی کہ وہ بھی دعائیں کریں ۔ نماز جمعہ و عصر کے جمع کرنے کے بعد حضور نے فرمایا کہ چونکہ مجلس مشاورت کا افتتاح ہونے والا ہے اس لئے حضور نے کثرت سے دعائیں کیں ۔ اور کارروائی شروع فرمائی ۔ مکرم مولوی غلام محی الدین صاحب نے قرآن کریم کی تلاوت کی ۔ اور اس کے بعد سیدنا حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے بجائے خطبہ کے حسب ذیل مختصر سی افتتاحی تقریر فرمائی :۔ آج ہم اس اہم کام کے لئے جمع ہوئے ہیں ۔ ہماری ذمہ داریاں چاہتی ہیں کہ کام کی وسعت کو دیکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم اللہ تعالیٰ سے دعائیں کریں کہ وہ ہماری مدد کرے ۔ اور اپنے فضل و رحم سے ہماری مشکلات کو آسان بنائے ۔ پس میں احباب سے کہتا ہوں کہ اس کام کو سرانجام دینے کے لئے پوری کوشش کریں تاکہ وہ ہماری کامیابی کا موجب ہوں ۔ اور کوئی ایسا قدم نہ اٹھائیں ۔ جو ہماری دقت کا باعث ہو ۔ سب دوست دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ اس وقت کو ہمارے لئے مبارک کرے ۔ اور وہ تمام مشکلات جو رکاوٹیں پیدا کر سکتی ہیں ۔ وہ دور ہوں ۔ اور ہمارے لئے آسانیاں پیدا فرمائے ۔ اس کے بعد حضور نے کثرت سے دعائیں کیں ۔ اور پھر مشاورت کا کام شروع کرنے کے لئے حضور نے تقریر شروع فرمائی ۔ مگر میں یہ کام اوروں کے سپرد کر کے خود جا رہا ہوں ۔ اگر میں صحت یاب ہوتا تو میں خود کارروائی میں حصہ لیتا ۔ مگر چونکہ میری طبیعت ابھی روبہ صحت ہے اس لئے میں اس قابل نہیں ۔ کہ زیادہ دیر تک بیٹھ سکوں ۔ اس لئے مجھے جانے کی اجازت دیں ۔ پھر حضور نے ہدایت فرمائی کہ مکرم مرزا بشیر احمد صاحب کارروائی کی نگرانی کریں ۔ اور ان کی مدد کے لئے دوسرے اصحاب کام کریں گے ۔

صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی تحریک پر مکرم چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کو مجلس نے بالاتفاق صدر منتخب کیا ۔ پھر مکرم چوہدری اسد اللہ خاں صاحب نے مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب کو نائب صدر کے لئے تجویز کیا ۔ مکرم چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب نے فرمایا کہ چونکہ میں جلدی تھک جاتا ہوں اس لئے مجھے ایک اور نائب صدر کی ضرورت ہے ۔ اس پر مکرم چوہدری اسد اللہ خاں صاحب نے مکرم سید ولی اللہ شاہ صاحب کا نام تجویز کیا ۔ اور مجلس نے بالاتفاق ان دونوں اصحاب کو نائب صدر منتخب کر لیا ۔ اس کے بعد مکرم صدر صاحب کی اجازت سے مکرم مرزا بشیر احمد صاحب نے درج ذیل تجاویز پیش کیں ۔ جو متفقہ طور پر منظور کر لی گئیں :۔ مکرم چوہدری اسد اللہ خاں صاحب ۔ مکرم سید ولی اللہ شاہ صاحب ۔ مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب ۔ مکرم شیخ بشیر احمد صاحب ۔ مکرم مولوی غلام محی الدین صاحب ۔ مکرم ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب ۔ مکرم چوہدری عبد السلام صاحب ۔ مکرم مولوی عبد الرحمٰن صاحب ۔ مکرم شیخ فضل الرحمٰن صاحب ۔ مکرم مولوی عبد الغفور صاحب ۔ مکرم مولوی محمد علی صاحب ۔ مکرم چوہدری محمد شفیع صاحب ۔ مکرم شیخ محمد احمد صاحب ۔ مکرم مولوی محمد اسحاق صاحب ۔ مکرم میاں عبد الرحیم صاحب ۔ مکرم قریشی محمد یوسف صاحب ۔ مکرم مولوی جلال الدین صاحب شمس ۔ مکرم میاں محمد شفیع صاحب ۔ مکرم شیخ رحمت اللہ صاحب ۔ مکرم قریشی فضل الرحمٰن صاحب ۔ مکرم چوہدری محمد حسین صاحب ۔ یہ اصحاب مل کر ان تجاویز پر غور کریں گے جو مجلس کے سامنے پیش ہونے والی ہیں ۔ اور پھر اپنی رپورٹ مجلس کے سامنے پیش کریں گے ۔ اس کے بعد مجلس کی کارروائی کل صبح آٹھ بجے تک کے لئے ملتوی کر دی گئی ۔ (باقی صفحہ ۸ پر)

قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کی تقریر ، روزنامہ الفضل قادیان 5 اپریل 1947 ، صفحہ 3 | حوالہ صفحہ 390 پر درج ہے

صفحہ 1050

(حوالہ نمبر 480)

نمبر ۳۸ جلد ۳۵ روزنامہ الفضل قادیان دارالامان مورخہ ۵ اپریل ۱۹۴۷ء

یاد رہے بعض احباب کہتے ہیں کہ تینوں قومیں اگر صرف ہندوستان میں ہی بیعت کر لیں پھر زمانہ کا رخ پلٹانا کوئی مشکل نہیں ہندوستان بہت وسیع ملک ہے۔ اور اتنے مربیوں کا ملنا بہت مشکل کام ہے مگر میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ کام کے نتائج شاندار ہیں۔ چنانچہ بعض علاقوں اور بستیوں میں ہم نے اس پر عملی پڑتال کی ہے۔ اس لئے یہ عادت بھی بنالی جائے بن سکتی ہے۔ مگر سارا ہندوستان احمدی ہو جائے۔ تو باقی دنیا کو احمدی بنانے کے لئے ایک احمدی کے حصہ میں صرف تین یا چار افراد آتے ہیں جس پر وہ نہایت آسانی سے اثر ڈال سکتا ہے۔ اور کوئی مشکل نہیں

حقیقت یہی ہے کہ جو تم ہندوستـان میں مسلمانوں میں گھل مل گئے ہو۔ اس کی کامیابیاں کوئی شک نہیں بہت ہیں مگر اس حیثیت سے کہ تم نے احمدیت کے لئے دلی وسعتیں پیدا کی ہیں یا تم نے کسی نئے میدان میں احمدیت پھیلائی ہے۔ کچھ وقعت نہیں رکھتا۔ اور جب ملک گیر میں احمدیت کا نام نمایاں چاہتا ہے۔ بغیر کوشش کے نہیں ہو سکتا ۔ کہ خدا ہمیں ایسی صورت پیدا ہو۔ کہ ساری قومیں احمدی ہو گئیں۔ ایک کے حصے میں تو سو سے دوگنا کام ہونا مشکل ہے۔ تو اس کے نتائج بھی بہت شاندار ہیں۔ تو اشاعت نہ پائی ہو۔ کہ ساری قومیں احمدی ہوں۔ تا احمدیت ایک وسیع میں نہ ترقی کر چکی ہو۔ اس دباؤ میں وہی طرف اشارہ ہے محض بے فائدہ ہے۔ پر اثر قرآنی پیدا ہوا اور کچھ وقت کے لئے دلوں میں قومی بیداری پیدا ہو۔ مگر یہ وقت عارضی ہو گی۔ اور ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ جلد وہ دن آجائے۔

اگر خدا کو ہم سے ایسی صورت پیدا تو مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ہمیں باقی دنیا کا بھی خیال رکھنا چاہئے۔ بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ مسلمانوں نے ہم پر بہت مظالم ڈھائے ہیں ہمیں ان کے پاس نہیں جانا چاہئے۔ میں ہمیشہ ان کو کہتا ہوں ۔ دنیا امیدوں پر وابستہ ہوتی ہے۔ ضعیف ہیں پس میں تمام ترقی حاصل

ہوئے۔ یہ وہ وسعتیں اور قربانیاں ہیں جن نے بظاہر تو ہمیں گھیر رکھا ہے۔ لیکن ہم مسلمانوں کے خلاف نہیں ۔ کسی سے تو دشمنی نہیں۔ ہم ان کے بھی خادم ہیں اور ان کے بھی۔ پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس میں اشارۃً ہندوؤں اور سکھوں کے متعلق ہو۔ اور حقیقت میں بھی احمدیت کے لئے بہتر ہے کہ ان میں بھی ترقی ہو۔

اپنی اولادوں کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تابعدار

نہ کر سکنے والے والدین مجرم ہونگے

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے اپنے ایک خطبہ جمعہ میں والدین کو ان کے فرائض کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ایک جگہ فرمایا :۔ "پس میں آپ لوگوں سے کہتا ہوں کہ آپ لوگ اپنے فرض کو سمجھیں مسلمانوں کا حال تو آپ دیکھتے ہی ہیں کہ وہ کیا کررہے ہیں، ان کی حالت پر افسوس تو کر سکتے ہیں مگر یہ تو دیکھو کہ دنیا کا حال کیا ہے اور پھر اس سے آگے بڑھ کر یہ تو دیکھو کہ آپکا اپنا حال کیا ہے۔ اپنی ذات میں، اپنے گھر میں اپنے خاندان میں، اپنے محلہ میں اور اپنی بستی میں آپ آپ نے تبلیغ کا کیا حق ادا کیا ہے۔ میں نے کئی دفعہ کہا ہے کہ ہر احمدی کو اپنی طرف سے مبلغ ہونا چاہئے۔ اور اسے یہ دیکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جن ذمہ داریوں سے وابستہ کیا ہے ان کے متعلق ہمیں کیا حکم دیا ہے۔ کیا ہم نے ان احکام کو صحیح رنگ میں پورا کیا ہے یا نہیں۔ آج ہمیں معلوم ہے کہ دنیا کی حالت کیا ہے۔ لوگ دین کی پرواہ نہیں کرتے، دین کی پرواہ نہیں کرتے، اور جو کچھ ان کے پاس ہے اس پر قناعت کئے بیٹھے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے سارا دین کما لیا ہے۔ حالانکہ دین تو ایک وسیع سمندر ہے۔ جس کی گہرائیوں میں جتنا بھی کوئی غوطہ زنی کرے اتنے ہی اسے موتی ملتے ہیں۔ اس لئے دین کی خدمت کرنے والے کو تو ہمیشہ چست اور ہوشیار رہنا چاہئے۔ جو شخص سوتا رہے وہ کیا ترقی کر سکتا ہے۔ دین کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ انسان کو اپنے فرائض کا احساس ہو اور وہ اسے پورا کرنے کی کوشش کرے۔"

قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کی تقریر روزنامہ الفضل قادیان 5 اپریل 1947ء صفحہ 3 یہ حوالہ صفحہ 390 پر درج ہے

صفحہ 1051

حوالہ نمبر 481

۵۶

شایع ہونے کے باعث سے ہم لوگوں کے لیے بڑی بڑی دقتیں پیش آگئی ہیں۔ سوفسطائی تقریروں نے تو یورپ کی طبائع میں طرح طرح کی پیچیدگیاں پیدا کر دی ہیں۔ جو امور نہایت معقولیت میں تھے وہ ان کی آنکھوں سے چھپ گئے ہیں۔ جو باتیں بغایت درجہ نامعقول ہیں ان کو وہ اعلیٰ درجہ کی صداقتیں سمجھ رہے ہیں۔ وہ حرکات جو شیوہ انسانیت سے مغائر ہیں ان کو وہ تہذیب خیال کئے بیٹھے ہیں۔ اور جو حقیقی تہذیب ہے اس کو وہ نظر استخفاف و احتقار سے دیکھتے ہیں۔ پس ایسے وقت میں اور ان لوگوں کے علاج کے لیے جو اپنے ہی زعم میں محقق بن بیٹھے ہیں اور اپنے ہی منہ سے میاں مٹھو کہلاتے ہیں۔ ہم نے کتاب براہین احمدیہ کو جو تین سو براہین قطعیہ عقلیہ پرمشتمل ہے بغرض اثبات حقانیت قرآن شریف جس سے یہ لوگ کمال نخوت میں بھرے رہے ہیں تالیف کیا ہے۔ کیونکہ یہ بات اعلیٰ بدیہیات سے ہے جو سرگشتہ عقل کو عقل ہی سے تسلی ہو سکتی ہے اور جو عقل کا زہر خوردہ ہے وہ عقل ہی کے ذریعہ سے راہ پر آسکتا ہے۔

اب ہر ایک مومن کے لیے خیال کرنے کا مقام ہے کہ جس کتاب کے ذریعہ سے تین سو دعوٰی متعلق حقانیت قرآن شریف پر ثابت ہو جاویں اور تمام مخالفین کے شبہات کو دفع اور دُور کیا جائے گا۔ وہ کتاب کیونکر بندگانِ خدا کو فائدہ نہ پہنچائے گی اور کیسا فروغ اور جاہ و جلال اسلام کا اس کی اشاعت سے چمکے گا۔ ایسے ضروری امر کی اعانت سے وہی لوگ لاپروا رہتے ہیں۔ جو حالت موجودہ زمانہ پر نظر نہیں ڈالتے اور مفاسد منتشرہ کو نہیں دیکھتے اور عواقب امور کو نہیں سوچتے یا وہ لوگ کہ جن کو دین سے کچھ غرض ہی نہیں اور خدا اور رسول سے کچھ محبت ہی نہیں۔ اے عزیزو! اس پُر آشوب زمانہ میں دین اسی سے برپا رہ سکتا ہے جو بمقابلہ زور طوفانِ گمراہی کے دین کی سچائی کا زور بھی دکھایا جاوے۔ اور ان بیرونی حملوں کے جو چاروں طرف سے ہو رہے ہیں حقانیت کی قوی طاقت سے مدافعت کی جاوے۔ یہ سخت تاریکی جو چہرہ زمانہ پر چھا گئی ہے۔ یہ تب ہی دُور ہوگی کہ جب دین کی حقانیت کے براہین دنیا میں بکثرت چمکیں اور اس کی صداقت کی شعاعیں چاروں طرف سے پھوٹتی نظر آویں۔ اس پراگندہ وقت میں وہی متذکرہ کتاب روحانی بصیرت بخش سکتی ہے کہ جو دقیقہ تحقیق عمیق سے اس ماہیت کے باریک دقیقہ کی تہ کو کھولتی ہو۔ اور اس حقیقت کے اصل نور اعظم تک پہنچاتی ہو کہ جس کے جاننے پر دلوں کی تشفی موقوف ہے۔

اے بزرگو! اب یہ وہ زمانہ آگیا ہے کہ جو شخص بغیر اعلیٰ درجہ کے عقلی ثبوتوں کے اپنے دین کی خیر مناتا ہے تو یہ خیال محال اور طمع خام ہے۔ تم آپ ہی نظر اُٹھا کر دیکھو کہ کیسی طبیعتیں خودآرائی اختیار کرتی جاتی ہیں اور کیسے خیالات بگڑتے جاتے ہیں۔ اس زمانہ کی ترقی علوم عقلیہ نے یہی الٹا اثر کیا ہے۔ حال کے تعلیم یافتہ لوگوں کی طبائع میں ایک عجب طرح کی آزاد منشی بڑھتی جاتی ہے۔ اور وہ سعادت جو سادگی اور غربت اور صفاء طینت میں ہے وہ ان کے مغرور دلوں سے بالکل جاتی رہی ہے اور جن جن خیالات کو وہ سیکھتے ہیں وہ اکثر ایسے ہیں کہ جن سے ایک

مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 56 طبع جدید از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 395 پر درج ہے

صفحہ 1052

حوالہ نمبر 482 ۳۲۸

والا سچے کی زندگی میں ہی ہلاک ہوا کرتا ہے۔ ایسے ہی ہمارے مخالف بھی ہمارے مرنے کے بعد زندہ رہیں گے اور مخالفوں کے وجود کا قیامت تک ہونا ضروری ہے جیسے وَجَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ (آل عمران : ۵۶) سے ظاہر ہے۔

ہم تو ایسی باتیں سُن سُنکر حیران ہوتے ہیں۔ دیکھو ہماری باتوں کو کیسے اُلٹ پلٹ کر پیش کیا جاتا ہے اور تحریف کرنے میں وہ کمال حاصل کیا ہے کہ یہودیوں کے بھی کان کاٹ دیتے ہیں۔ کیا یہ کسی نبی، ولی، قطب، غوث کے زمانہ میں ہوا کہ اس کے سب اعداء مر گئے ہوں، بلکہ کافر خلق باقی رہ گئے تھے۔ ہاں اتنی بات صحیح ہے کہ سچے کے ساتھ جو جھوٹے مباہلہ کرتے ہیں تو وہ سچے کی زندگی میں ہی ہلاک ہوتے ہیں۔ جیسے کہ ہمارے ساتھ مباہلہ کرنیوالوں کا حال ہو رہا ہے۔

جماعت کو خود سوچکر عام سوالوں کا جواب دینا چاہیئے

مجھے تو اپنی جماعت پر افسوس ہوتا ہے کہ ان میں اتنی عقل بھی نہیں کہ ایسے اعتراض کرنے والے سے پوچھیں کہ یہ ہم نے کہاں لکھا ہے کہ بغیر مباہلہ کرنے کے ہی جھوٹے سچے کی زندگی میں تباہ اور ہلاک ہو جاتے ہیں۔ وہ جگہ تو نکالو جہاں یہ لکھا ہے ہماری جماعت کو چاہیئے کہ عقل میں فہم میں ہر طرح سے ترقی کریں اور ایسی باتوں کا خود سوچ کر جواب دیا کریں اور اپنی ایمانی روشنی سے ان باتوں کو حل کیا کریں۔ مگر دنیا داری کے دھندوں میں مت ماری جاتی ہے۔ اتنا نہیں کر سکتے کہ معترض سے ہماری کتب کی وہ جگہ ہی پوچھیں جہاں یہ لکھا ہے کہ سچے کی زندگی میں سب جھوٹے مر جاتے ہیں۔ بلکہ جھوٹے تو قیامت تک رہیں گے۔

مبلغین کیلئے حضرت اقدس کی کتب کے مطالعہ کی اہمیت

فرمایا:۔ اس تحریک سے مجھے یہی یاد آگیا ہے کہ وہ لوگ جو اشاعت اور تبلیغ کے واسطے باہر جاویں۔ وہ ایسے نہ ہوں کہ اُلٹ پلٹ کر دیویں باتوں کو کچھ اور کا اور ہی بناتے رہیں اور بات تو کچھ اور ہو اور سمجھاتے کچھ اور لگ جاویں۔ دوسروں کو تو ہمارے دعویٰ سے آگاہ کریں اور خود ہماری کتابوں کو کبھی پڑھا بھی نہ ہو۔ اس طرح سے ہی تحریف ہوا کرتی ہے۔ ایسے وقتوں میں صرف زبانی فیصلہ نہیں ہونا چاہیئے بلکہ تحریر پیش کرنی چاہیئے ۔"

ہم پر الزام لگائے جاتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور امام حسینؑ کی توہین کی جاتی ہے حالانکہ ہم ان کو راستباز اور متقی سمجھتے ہیں۔ اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بہت بے عزتی کی جاتی ہے اور ان کو گالی دی جاتی ہے حالانکہ ہم ان کو ایک اولوالعزم نبی اور خدا تعالیٰ کا راستباز بندہ سمجھتے ہیں۔ ہاں اگر عیسیٰ کا مر جانا

ملفوظات جلد پنجم صفحہ 328 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 395 پر درج ہے

صفحہ 1053

حوالہ نمبر 483

۲۵۵

ملفوظات

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام

* ۳۱؍ اگست ۱۸۹۹ء کو جناب پیر غلام مصطفیٰ صاحب میونسپل کمشنر وزیر آباد‘ قادیان دارالامان آئے تھے اس تقریب پر حضرت حجتہ اللہ علی الارض علیہ السلام نے بطور تبلیغ مندرجہ ذیل تقریر فرمائی۔ جو الحکم کی اس اور اگلی اشاعتوں میں درج ہوئی ہے (وباللہ التوفیق و ھو خیرالرفیق۔ ایڈیٹر)

نئی بات سنتے ہی اس کی مخالفت نہ کریں

اصل بات یہ ہے کہ جب تک انسان کسی بات کو خالی الذہن ہو کر نہیں سوچتا اور تمام پہلوؤں پر توجہ نہیں کرتا اور غور سے نہیں سنتا اس وقت تک پرانے خیالات نہیں چھوڑ سکتا اس لئے جب آدمی کسی نئی بات کو سنے تو اسے یہ نہیں چاہئے کہ سنتے ہی اسکی مخالفت کے لئے تیار ہو جاوے بلکہ اس کا فرض ہے کہ اس کے سارے پہلوؤں پر پورا غور کرے اور انصاف اور دیانت اور سب سے بڑھ کر خدا تعالیٰ کے خوف کو مد نظر رکھ کر تنہائی میں اس پر سوچے۔ میں جو کچھ اس وقت کہنا چاہتا ہوں وہ کوئی معمولی اور سرسری نگاہ سے دیکھنے کے قابل بات نہیں بلکہ بہت بڑی اور عظیم الشان بات ہے میری اپنی بنائی ہوئی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی بات ہے اس لئے جو اس کی تکذیب کے لئے جرأت اور دلیری کرتا ہے وہ میری تکذیب نہیں کرتا بلکہ اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کرتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی تکذیب پر دلیر ہوتا ہے مجھے اس کی تکذیب سے کوئی رنج نہیں ہو سکتا البتہ اس پر رحم ضرور آتا ہے کہ نادان اپنی نادانی سے خدا تعالیٰ کے غضب کو بھڑکاتا ہے۔

ہر صدی کے سر پر مجدد کا ظہور

یہ بات مسلمانوں میں ہر شخص جانتا ہے اور غالباً کسی کو بھی اس سے بے خبری نہ ہو گی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر صدی کے سر پر ایک مجدد کو بھیجتا ہے

* یہاں سے لے کر اگلی کاپی کی چند سطر تک چھوڑی گئی ہے۔

ملفوظات جلد دوم صفحہ 355 طبع جدید، از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 395 پر درج ہے

صفحہ 1054

حوالہ نمبر 484 ۳۲۵

حافظ صاحب نے فی الفور یہ قول منظور کیا کہ میں اس بارہ میں مباہلہ کروں گا۔ کیونکہ میرا یقین ہے کہ حق بجانب میرے ہے۔ تب اسی بات پر حافظ صاحب نے عبدالحق سے مباہلہ کیا۔ اور گواہان مباہلہ منشی محمد یعقوب اور میاں نبی بخش صاحب اور میاں عبدالمولٰی صاحب اور میاں عبدالرحمٰن صاحب عمر پوری قرار پائے اور جب حسب دستور مباہلہ فریقین اپنے اپنے نفس پر لعنتیں ڈال چکے اور اپنے منہ سے کہہ چکے کہ یا الٰہی اگر ہم اپنے بیان میں سچائی پر نہیں تو ہم پر تیری لعنت نازل ہو۔ یعنی کسی قسم کا عذاب ہم پر وارد ہو۔ تب حافظ صاحب نے عبدالحق سے دریافت کیا کہ اس وقت میں بھی اپنے آپ پر بحالت کاذب ہونے کے لعنت ڈال چکا اور خدا تعالیٰ سے عذاب کی درخواست کر چکا اور ایسا ہی تم بھی اپنے نفس پر اپنے ہی منہ سے لعنت ڈال چکے اور بحالت کاذب ہونے کے عذاب الٰہی کی اپنے لیے درخواست کر چکے۔ لہٰذا اب میں تو اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ اگر اس لعنت اور اس عذاب کی درخواست کا اثر مجھ پر وارد ہوا۔ اور کوئی ذلت اور رسوائی مجھ کو پیش آگئی تو میں اپنے اس عقیدہ سے رجوع کر لوں گا۔ سو اب تم بھی اس وقت اپنا ارادہ بیان کرو کہ اگر تم خدا تعالیٰ کے نزدیک کاذب ٹھہرے اور کچھ لعنت اور عذاب کا اثر تم پر وارد ہو گیا تو تم بھی اپنے اس تکفیر کے عقیدہ سے رجوع کرو گے یا نہیں۔ فی الفور عبدالحق نے صاف جواب دیا کہ اگر میں اپنی اس بددعا سے سُؤر اور بندر اور ریچھ بھی ہو جاؤں۔ تب بھی میں اپنا یہ عقیدہ تکفیر ہرگز نہ چھوڑوں گا اور کافر کافر کہنے سے باز نہیں آؤں گا۔ تب حاضرین کو نہایت تعجب ہوا کہ جس مباہلہ کو حق اور باطل کے آزمانے کے لیے اس نے معیار ٹھہرایا تھا اور جو قرآن کریم کی رُو سے بھی حق اور باطل میں فرق کرنے کے لیے ایک معیار ہے کیونکر اور کس قدر جلد اس معیار سے یہ شخص پھر گیا اور زیادہ تر ظلم اور تعصب اس کا اس سے ظاہر ہوا کہ وہ اس بات کے لیے تو تیار ہے کہ فریق مخالف پر مباہلہ کے بعد کسی قسم کا عذاب نازل ہو اور وہ اس کے اس عذاب کو اپنے صادق ہونے کے لیے بطور دلیل اور حُجّت کے پیش کرے۔ لیکن وہ اگر آپ ہی مورد عذاب ہو جائے تو پھر مخالف کے لیے اس کے کاذب ہونے کی یہ دلیل اور حُجّت نہ ہو۔ اب خیال کرنا چاہیے کہ یہ قول عبدالحق کا کس قدر امانت اور دیانت اور ایمانداری سے دُور ہے۔ گویا مباہلہ کے بعد ہی اس کی اندرونی حالت کا مسخ ہونا کھل گیا۔ یہودی لوگ جو مورد لعنت ہو کر بندر اور سُؤر ہو گئے تھے۔ ان کی نسبت بھی تو بعض تفسیروں میں یہی لکھا ہے کہ بظاہر وہ انسان ہی تھے لیکن ان کی باطنی حالت بندروں اور سوروں کی طرح ہو گئی تھی اور حق کے قبول کرنے کی توفیق کلّی اُن سے سلب ہو گئی تھی اور مسخ شدہ لوگوں کی یہی تو علامت ہے کہ اگر حق کھُل بھی جائے تو اس کو قبول نہیں کر سکتے۔ جیسا کہ قرآن کریم اسی طرف اشارہ فرما کر کہتا ہے ۔ وَقَالُوا قُلُوْبُنَا غُلْفٌ بَلْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِيْلًا مَّا يُؤْمِنُوْنَ ۔ وَقَوْلِهِمْ قُلُوْبُنَا غُلْفٌ بَلْ طَبَعَ اللّٰهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِيْلًا ۔ یعنی کافر کہتے ہیں کہ ہمارے دل غلاف میں ہیں۔ ایسے رقیق اور پگھلے دل نہیں کہ حق کا انکشاف دیکھ کر اس کو قبول کریں۔ اللہ جلشانہٗ اس کے جواب میں فرماتا ہے کہ یہ کچھ خوبی کی بات نہیں بلکہ لعنت

۱؎ البقرۃ: ۸۹ ۲؎ النساء: ۱۵۶

مجموعہ اشتہارات طبع جدید ج اوّل ص 325 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 396 پر درج ہے

صفحہ 1055

حوالہ نمبر 485

۴۲۸

بہت سے اعتراضات محض نادانی اور ناسمجھی سے قرآن شریف پر کئے گئے ہیں حالانکہ وہ تمام باتیں حق اور حکمت کا سرچشمہ ہیں۔ مگر تعصب ایک ایسی بلا ہے جو غور کرنے نہیں دیتا۔ اس مضمون کے لکھنے کے وقت مندرجہ ذیل مجھے ال

PDF 1056

Saboot Hazir Han Volume 1 Contents

ترتیب عنوانات

PDF 1057

عقیدۂ ختم نبوت 91

نبوت بند ہے 153

PDF 1058

نبوت جاری ہے 171

PDF 1059
PDF 1060

اللہ تعالیٰ کی توہین 191

PDF 1061

حضور نبی کریم حضرت محمد ﷺ کی توہین 211

PDF 1062
PDF 1063

انبیائے کرام علیہم السلام کی توہین 241

PDF 1064

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین 255

PDF 1065

حضرت مریم علیہا السلام کی توہین 281

PDF 1066

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم و اہل بیت کی توہین 293

PDF 1067

قرآن وسنت کی توہین 307

حرمین شریفین کی توہین 319

PDF 1068

حضرت اولیائے عظامؒ وعلمائے کرامؒ کی توہین 327

مسلمانوں کو گندی گالیاں اور کفر کا فتویٰ 335

PDF 1069
PDF 1070

مسلمانوں سے نفرت اور معاشرتی بائیکاٹ 359

دینے کے متعلق احکامات 364

مرزا قادیانی کے دعوے 369

PDF 1071
PDF 1072

مرزا قادیانی مرد یا عورت؟ 389

PDF 1073

مرزا قادیانی کے فرشتے 399

مرزا قادیانی کے الہامات اور خواب 405

PDF 1074

مرزا قادیانی...... امیر الجہلا 423

PDF 1075

متفرقات

455

* ....... * ....... *

PDF 1076

Saboot Hazir Han Volume 2 Contents

ترتیب عنوانات

مرزا قادیانی کے حالات زندگی 41

PDF 1077
PDF 1078
PDF 1079
PDF 1080

مرزا قادیانی کے خانگی حالات 105

PDF 1081

مرزا قادیانی اور غیر محرم عورتیں 125

PDF 1082

شرمناک قادیانی تحریریں 141

PDF 1083
PDF 1084
PDF 1085
PDF 1086

مرزا قادیانی بحیثیت ایک طبیب 207

PDF 1087

مرزا قادیانی اور شاعری 223

PDF 1088

مرزا قادیانی ایک ڈرپوک اور بزدل شخص 235

قادیان 245

PDF 1089

بہشتی مقبرہ 253

مرزا قادیانی کے استاد 265

PDF 1090

مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ”فیض یافتہ“ مرید 273

قادیانی جماعت، قادیانی قیادت کی نظر میں 285

PDF 1091

مرزا قادیانی کی بیماریاں 303

PDF 1092
PDF 1093

مرزا قادیانی کا عبرتناک انجام 321

عکسی شہادتیں 331

PDF 1094

Saboot Hazir han Volume 4 Contents

ترتیب عنوانات

قادیانیت انگریز کا خودکاشتہ پودا 51

PDF 1095
PDF 1096
PDF 1097
PDF 1098
PDF 1099
PDF 1100
PDF 1101

حیات و نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام 183

PDF 1102

(احادیث مبارکہ کی روشنی میں) 252

PDF 1103
PDF 1104
PDF 1105

حیات ونزول عیسیٰ علیہ السلام اور قادیانیت 337

ریشہ میں داخل ہے 346

بزرگوں کا عقیدہ تھا 347

PDF 1106

روپے انعام 349

کر سمجھائے گئے ہیں 358

PDF 1107
PDF 1108
PDF 1109
PDF 1110
PDF 1111
PDF 1112
PDF 1113
PDF 1114
PDF 1115
PDF 1116

حیات ونزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر

قادیانی اعتراضات اور اُن کے جوابات 495

PDF 1117
PDF 1118

حق کے متلاشی قادیانیوں سے ایک 549

دردمندانہ درخواست

عکسی شہادتیں 599