رَدِّ قادیانیت
رسائل
حضرت مولانا ایم۔ ایس خالد وزیرآبادی رحمۃ اللہ علیہ
احتساب قادیانیّت
جلد ٢٣
عالمی مجلس تحفّظ ختم نبوّۃ
حضوری باغ روڈ، ملتان - فون : 4514122
تحفظ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
عرض مرتب
لیجیے احتساب قادیانیت کی جلد ٢٣ پیش خدمت ہے۔ وزیر آباد کے مولانا محمد شفیع خالد (ایم ۔ ایس خالد وزیرآبادی ) نے رد قادیانیت پر چار کتابیں شائع کیں ۔
- ١۔ صحیفہ تقدیر ( جو احتساب کی جلد ٢٢ پر مشتمل ہے )
- ٢۔ نوبت مرزا ۔
- ٣۔ تصویر مرزا ۔
- ٤۔ نوشتۂ غیب ۔
مؤخر الذکر تینوں کتابیں احتساب قادیانیت کی اس جلد (٢٣ ویں ) میں شامل ہیں ۔ یوں محض اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے مولانا وزیر آبادی مرحوم کے مجموعہ تصانیف رد قادیانیت کے کام سے فارغ ہو گئے ۔ فالحمد اللہ
افسوس ہے کہ کئی بار ارادہ کیا لیکن تکمیل ارادہ نہ ہو پائی کہ وزیر آباد جا کر مصنف مرحوم کے حالات زندگی حاصل کر پاتے جو یہاں شریک اشاعت ہو جاتے اللہ تعالیٰ نے توفیق رفیق فرمائی تو انشاء اللہ العزیز حالات زندگی معلوم کر کے ماہنامہ لولاک ملتان میں مستقل مضمون شائع کرنے کی سعادت حاصل کریں گے۔ اللہ تعالیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی ان خدمات کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت سے سرفراز فرمائے۔ آمین! بحرمۃ نبی الکریم۔
فقیر اللہ وسایا ٤ صفر ١٤٢٨ھ ١٢ فروری ٢٠٠٨ء
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
نوبتِ مرزا
ایس۔ ایم خالد وزیر آبادی
بسم الله الرحمن الرحيم!
التماس!
خاکسار نے موت مرزا سے پہلے ایک کتاب موسومہ بہ ”نوشتۂ غیب“ لکھی تھی۔ جس میں مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی کے مشہور رسوائے عالم آسمانی نکاح کا زندہ فوٹو معہ پرلطف و رنگین سوانح حیات، دلکش مزاحیہ مضامین کا پاکیزہ تسلسل ایک ایسے موثر و دلکش پیرایہ میں بطرز ناول بیان کیا گیا تھا جو آپ اپنی نظیر ہے۔
بحمداللہ اس پر طول و عرض ہندوستان سے خراج تحسین و مرحبا کے پھول نچھاور ہوئے اور خصوصاً علمائے کرام نے اس کو بے حد پسند فرمایا اور معزز مدیران نے ریویوز کئے۔
مجھے افسوس ہے کہ میں وہ تمام عقیدت کے پھول طوالت کی وجہ سے پیش نہیں کرسکتا۔
ہاں چند ایک تبرکاً ان پاکیزہ خیالات سے بطور نمونہ پیش کرتا ہوں۔ باقی ان تمام حضرات سے جن کے نام نامی و اسم گرامی ذیل میں درج ہیں معافی کا خواستگار ہوں کہ وہ مجھے مجبور سمجھتے ہوئے معاف فرمائیں گے اور یہ بھی وعدہ کرتا ہوں کہ انشاء اللہ عنقریب نوشتۂ غیب دور جدید میں طبع ہونے والا ہے۔ اس میں یہ کمی بھی پوری کردی جائے گی۔
- ١....... شمس العلماء جناب مولانا مولوی اشرف علی تھانویؒ
- ٢....... مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ
- ٣....... مولانا عبدالحنان لاہوریؒ
- ٤....... مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹیؒ
- ٥....... مولانا ابوالوفا ثناء اللہ امرتسریؒ
- ٦....... مولانا حبیب اللہ کلرک نہرؒ
- ٧....... مولانا ابوسعید محمد شفیعؒ صدر مدرس و مہتمم مدرسہ سراج العلوم سرگودھا
- ٨....... مولانا غلام محمد خطیب جامع خیر دین امرتسر
- ٩....... مولانا غلام مرشدؒ لاہور
- ١٠....... جناب حضرت پیر سید مہر علی شاہؒ سجادہ نشین گولڑہ شریف
- ١١...... مولانا ناظم مدرسہ تا
- ١٢...... مولانا عبدالرحمن صا
- ١٣...... الحاج مولانا حافظ
- ١٤...... مولانا سید حبیب ا
- ١٥...... مولانا عبدالمجید ایڈی
- ١٦...... مولانا غلام حسین
- ١٧...... مدیر جریدہ روزنامہ
- ١٨...... مولانا محمد الدین ص
فاضل اجل عالم بے بدل جن
شیخ التفسیر وا
بعد سلام مسنون، آنکہ خط اور ورو عدیم الفرصت ہوں۔ اس لئے جواب خط جزاکم اللہ خیرا۔ بڑی مفید اور دلچسپ کتاب دل نہیں چاہتا۔ دقیق علمی بحثوں سے زائد حق تعالیٰ مزید ہمت اور توفیق ارزانی فرما
علاّمہ عصر، فاضل بے
ناظم جمعیت
السلام علیکم! میں نے آپ کی افسوس ہے کہ بعض مشاغل کے باعث تما پڑھا ہے اس سے اس نتیجہ پر پہنچا ہوں استدلال کے اعتبار سے ایسی سلجھی ہوئی تص غیب سے امداد فرمائے اور آپ کی کتاب آپ کی تائید کی جائے۔ وقت کی سب س ہے کہ قادیانیوں کے استیصال میں پوری
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
التماس!
نے نوبت مرزا سے پہلے ایک کتاب موسومہ بہ ”نوشتہ غیب“ لکھی تھی۔ جس قادیانی آنجہانی کے مشہور رسوائے عالم آسمانی نکاح کا زندہ فوٹو معہ پرلطف ، دلکش مزاحیہ مضامین کا پاکیزہ تسلسل ایک ایسے موثر و دلکش پیرایہ میں بطرز جو آپ اپنی نظیر ہے۔
س پر طول و عرض ہندوستان سے خراج تحسین و مرحبا کے پھول نچھاور ہوئے م نے اس کو بے حد پسند فرمایا اور معزز مدیران نے ریویوز کئے۔
س ہے کہ میں وہ تمام عقیدت کے پھول طوالت کی وجہ سے پیش نہیں کر سکتا۔ پاکیزہ خیالات سے بطور نمونہ پیش کرتا ہوں۔ باقی ان تمام حضرات سے جن امی ذیل میں درج ہیں معافی کا خواستگار ہوں کہ وہ مجھے مجبور سمجھتے ہوئے وریہ بھی وعدہ کرتا ہوں کہ انشاء اللہ عنقریب نوشتہ غیب دورِ جدید میں طبع ہونے می بھی پوری کر دی جائے گی۔
شمس العلماء جناب مولانا مولوی اشرف علی تھانویؒ مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانویؒ مولانا عبدالحنان لاہوریؒ مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹیؒ مولانا ابوالوفا ثناء اللہ امرتسریؒ مولانا حبیب اللہ کلرک نہر مولانا ابوسعید محمد شفیعؒ صدر مدرس و مہتمم مدرسہ سراج العلوم سرگودھا مولانا غلام محمدؒ خطیب جامع خیر دین امرتسر مولانا غلام مرشدؒ لاہور جناب حضرت پیر سید مہر علی شاہؒ سجادہ نشین گولڑہ شریف
- ١١...... مولانا ناظمؒ مدرسہ تقویت الایمان فی تعلیم القرآن بہاولپور
- ١٢...... مولانا عبدالرحمٰنؒ خطیب جامع اہل حدیث صدر راولپنڈی
- ١٣...... الحاج مولانا حافظ عنایت اللہؒ جامع گجرات
- ١٤...... مولانا سید حبیبؒ ایڈیٹر سیاست لاہور
- ١٥...... مولانا عبدالمجیدؒ ایڈیٹر اخبار مسلمان سوہدرہ
- ١٦...... مولانا غلام حسینؒ مدیر اخبار البشیر حضرت کیلیانوالہ
- ١٧...... مدیر جریدہ روزنامہ احسان لاہور
- ١٨...... مولانا محمد الدینؒ خطیب جامع وزیر آباد
خاکسار! ایم۔ ایس۔ خالد وزیر آبادی
فاضل اجل عالم بے بدل جناب مولانا مولوی شبیر احمد صاحب عثمانیؒ
شیخ التفسیر والحدیث دیوبند کا ارشاد
بعد سلام مسنون، آنکہ خط اور دو نسخے نوشتہ غیب کے پہنچے۔ ممنون فرمایا میں آج کل سخت عدیم الفرصت ہوں۔ اس لئے جواب خط میں تاخیر ہوئی۔ نوشتہ غیب کو چند مقامات سے مطالعہ کیا جزاکم اللہ خیرا۔ بڑی مفید اور دلچسپ کتاب لکھی ہے۔ ایک مرتبہ شروع کر دی جائے تو چھوڑنے کو دل نہیں چاہتا۔ دقیق علمی بحثوں سے زائد اس طرح کے رسائل کی اشاعت سے نفع پہنچ سکتا ہے۔ حق تعالیٰ مزید ہمت اور توفیق ارزانی فرمائے اور آپ کے رسائل کو مقبول بنائے۔
علامہ عصر، فاضل بے بدل جناب مولانا احمد سعید دہلویؒ
ناظم جمعیت العلماء ہند دہلی کا ارشاد
السلام علیکم! میں نے آپ کی کتاب نوشتہ غیب بعض بعض مقامات سے پڑھی۔ مجھے افسوس ہے کہ بعض مشاغل کے باعث تمام کتاب کا مطالعہ نہ کر سکا۔ جس قدر میں نے اس کتاب کو پڑھا ہے اس سے اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ قادیانیوں کے رد میں بہترین کتاب ہے۔ زبان اور استدلال کے اعتبار سے ایسی سلجھی ہوئی تصنیف میری نظر سے کم گزری ہے۔ خدا تعالیٰ نوشتہ غیب کی غیب سے امداد فرمائے اور آپ کی کتاب کو عام مقبولیت حاصل ہو اور روح القدس کی جانب سے آپ کی تائید کی جائے۔ وقت کی سب سے بڑی ضرورت اور اسلام کی سب سے بڑی خدمت یہی ہے کہ قادیانیوں کے استیصال میں پوری سعی کی جائے۔
مولانا محمد مبارک حسین محمودیؒ ناظم و شیخ الحدیث میرٹھ کا ارشاد
کتاب نوشتہ غیب آج کی ڈاک میں پہنچی۔ آپ نے مرزا قادیانی کا کذب بہتر طریقہ سے ثابت کرتے ہوئے عوام کو اس کے دجل سے بچانے کی سعی فرمائی ہے اور اس کی پیش گوئیوں کو ایسے صحیح دلائل اور انکشاف حقائق سے بے نقاب کر دیا ہے کہ جسے ہر شخص سمجھ سکے گا اور اس کے (مرزا قادیانی) دجال اور کذاب ہونے میں کسی کو شک باقی نہیں رہے گا۔ مسلمانوں کا صحیح معنوں میں کوئی نظام نہیں ہے۔ بلکہ ہر مقام پر متعدد انجمنیں بنی ہوئی ہیں اور ان میں سے کوئی کام کر رہی ہے اور کوئی نہیں۔ میں نے آپ کا نوازش نامہ انجمن تبلیغ کے سیکرٹری کو دیا ہے وہ اس میں سعی کریں گے اور میں بھی حتی الوسع سعی کروں گا۔ اللہ تعالیٰ آپ کی مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔
جناب مولانا غلام بھیکؒ نیرنگ جنرل سیکرٹری
معتمد عمومی جمعیت مرکزیہ تبلیغ الاسلام انبالہ کا ارشاد
آپ کا مطبوعہ نوازش نامہ ایک نسخہ کتاب نوشتہ غیب پہنچا۔ کتاب کی خوبی میں شک نہیں اور اس قسم کی کتابیں جس قدر زیادہ شائع ہوں مفید ہوں گی۔
فاضل اجل، عالم بے بدل جناب مولانا سید احمدؒ
شمس العلماء ہند جامع مسجد شاہی دہلی کا ارشاد
کرم فرمائے بندہ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ! اول آپ کا شکریہ عرض کرتا ہوں کہ آپ نے کتاب نوشتہ غیب ارسال فرما کر مجھے ممنون فرمایا۔ میں نے اس کو تقریباً تمام و کمال مطالعہ کر لیا۔ مرزا قادیانی کے ابتدائی حالات مجھے ذاتی طور پر خود معلوم ہیں۔ اس لئے میں وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ جو آپ نے اپنی کتاب نوشتہ غیب میں لکھے ہیں وہ بالکل صحیح اور درست ہیں۔ اس کتاب کے متعلق میری مختصر رائے یہ ہے کہ یہ کتاب اس خوبی اور تحقیق و دلائل کے ساتھ لکھی گئی ہے کہ اگر اس کو بہ نظر انصاف و تامل اور نفسانیت و تعصب سے علیحدہ ہو کر محض تحقیق حق کے خیال سے مرزائی صاحبان بھی مطالعہ فرمائیں تو یقیناً راہ مستقیم پر آ جائیں گے۔ لہٰذا کوشش ہونی چاہئے کہ جس طرح بھی ممکن ہو مرزائی صاحبان اس کتاب کا مطالعہ فرمائیں تاکہ جو مقصد اصلی ہے کہ وہ لوگ راہ راست پر آ جائیں وہ حاصل ہو۔ والسلام!
مبارک حسین محمودی ناظم و شیخ الحدیث میرٹھ کا ارشاد
نوشتہ غیب آج کی ڈاک میں پہنچی۔ آپ نے مرزا قادیانی کا کذب بہتر طریقہ سے عوام کو اس کے دجل سے بچانے کی سعی فرمائی ہے اور اس کی پیش گوئیوں کو تحریف حقائق سے بے نقاب کر دیا ہے کہ جسے ہر شخص سمجھ سکے گا اور اس کے دجال اور کذاب ہونے میں کسی کو شک باقی نہیں رہے گا۔ مسلمانوں کی صحیح معنوں میں بلکہ ہر مقام پر متعدد انجمنیں بنی ہوئی ہیں اور ان میں سے کوئی کام کر رہی ہے میں نے آپ کا نوازش نامہ انجمن تبلیغ کے سیکرٹری کو دیا ہے وہ اس میں سعی حتی الوسع سعی کریں گے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔
جناب مولانا غلام بھیک نیرنگ جنرل سیکرٹری
مرکزی جمعیت مرکزیہ تبلیغ الاسلام انبالہ کا ارشاد
آپ کا نوازش نامہ ایک نسخہ کتاب نوشتہ غیب پہنچا۔ کتاب کی خوبی میں شک نہیں جس قدر زیادہ شائع ہوں مفید ہوں گی۔
شیخ اجل، عالم بے بدل جناب مولانا سید احمد
امام العلماء ہند جامع مسجد شاہی دہلی کا ارشاد
بندہ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ! اول آپ کا شکریہ عرض کرتا ہوں کہ آپ نے کتاب ارسال فرما کر مجھے ممنون فرمایا۔ میں نے اس کو تقریباً تمام و کمال مطالعہ کر لیا۔ حالات مجھے ذاتی طور پر خود معلوم ہیں۔ اس لئے میں وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ جو آپ نے اپنی کتاب نوشتہ غیب میں لکھے ہیں وہ بالکل صحیح اور درست ہیں۔ اس لئے میری رائے یہ ہے کہ یہ کتاب اس خوبی اور تحقیق و دلائل کے ساتھ لکھی گئی ہے کہ اگر بلا تکلف و تامل اور نفسانیت و تعصب سے علیحدہ ہو کر محض تحقیق حق کے خیال سے مطالعہ فرمائیں تو یقیناً راہ مستقیم پر آ جائیں گے۔ لہٰذا کوشش ہونی چاہئے کہ مرزائی صاحبان اس کتاب کا مطالعہ فرمائیں تاکہ جو مقصد اصلی ہے کہ وہ فائدہ حاصل ہو۔ والسلام!
جناب مولانا محمد حسین شیخ الحدیث فیروز پور چھاؤنی کا ارشاد
آپ کی کتاب نوشتہ غیب پہنچی میں نے اس کتاب کو شروع سے آخر تک بغور پڑھا۔ بے ساختہ آپ کے لئے دل سے دعا نکلتی ہے۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ، پیش گوئی نکاح محمدی بیگم کو جس لطیف اور دلکش پیرائے میں بیان کیا ہے یہ آپ کا ہی حق تھا۔ ایں کار از تو آید مرداں چنیں کنند۔ میں یقین کرتا ہوں کہ اگر کوئی قادیانی بھی اس کتاب کو پڑھے گا تو بشرطیکہ تعصب نے اس کو اندھا نہ کر دیا ہو وہ ضرور اس حقیقت کا قائل ہو جائے گا کہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنے جملہ دعاوی میں جھوٹے تھے۔ میں صاحب دولت حضرات کی خدمت میں پر زور سفارش کرتا ہوں کہ وہ اس کتاب کو مرزائی دوستوں میں مفت تقسیم کریں۔ انشاء اللہ ثواب عظیم حاصل ہوگا۔ ختم نبوت اور دعویٰ نبوت مرزا پر جو بحث آپ نے کی ہے۔ اگرچہ مختصر ہے۔ مگر جامع اس قدر ہے کہ واقعی آپ نے دریا کو کوزہ میں بند کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے اور خدمت اسلام کی مزید توفیق عطا فرمائے۔ فقط والسلام!
فخر سادات جناب محمد ابوالقاسم صاحب
سیف صدر آل انڈیا اہلحدیث بنارس کا ارشاد
جناب کی کتاب نوشتہ غیب جو اپنے باب میں بینظیر کتاب ہے موصول ہوئی۔ سرسری نظر ساری کتاب پر ڈال لی۔ زبان پر بے ساختہ مرحبا و جزاک اللہ کا جملہ آتا رہا۔ متنبّی قادیان کی حقیقت آپ نے خوب ہی کھولی ہے۔ اگر نوشتہ غیب کی بابت یہ عرض کیا جائے کہ اس کا مطالعہ تردید مرزائیت کے لئے دوسری کتابوں سے بے نیاز کر دیتا ہے تو اس میں مبالغہ مطلق نہ ہوگا۔ در حقیقت کتاب مذکور ایک جامع کتاب ہے۔ اس امر میں آپ کی کاوشیں قابل داد اور باعث صد شکریہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کی اس دینی خدمت کو قبول فرمائے۔ اس کی اشاعت کے لئے کافی پروپیگنڈا کیجئے۔ میں بھی اپنی تقریروں میں اس کا تذکرہ کیا کروں گا۔ انشاء اللہ آپ کی دوسری تصنیف رد مرزائیہ تیار ہونے پر ضرور بھیجیں ممنون ہوں گا۔
جناب مولانا عبدالغنی سہارنپوری گورداسپور کا ارشاد
السلام علیکم! میں نے جناب کے مرسلہ رسالہ نوشتہ غیب کے دستے اور بھالے کو اوّل آخر سے دیکھا بھالا۔ حرب قادیانی میں یہ حربہ ماشاء اللہ خوب کافی وافی ہے۔ اس صنعت کا جدید حربہ کسی نے تیار کیا۔ ایسی شدید شیطانی جنگ میں سیف اور حربہ کی ضرورت ہے ۔
خالد وزیر آبادی سیف کفر قادیاں
فخر ملت والدین جناب مولانا مولوی احمد علی لاہوریؒ
ناظم انجمن خدام الدین لاہور کا ارشاد
بندہ نے نوشتہ غیب کا مقامات عدیدہ سے نہایت ہی غور سے مطالعہ کیا۔ انشاء اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو فتنہ دجالیت سے بچانے کا کفیل ہے اور مرزائیوں کو کفر مرزائیت سے تائب بنانے اور دائرہ اسلام میں کھینچ کر لانے کے لئے حبل متین ہے۔ علاوہ اس کے مرزائیت کے قلعہ پر گولہ باری کرنے کے لئے ایک زبردست توپخانہ ہے۔ خدا تعالیٰ حضرت مصنف کی اس سعی بلیغ کو قبول فرمائے اور اسے ان کی نجات دارین کا ذریعہ بنائے ۔ آمین یا الہ العالمین !
زبدۃ الاماثل والافاضل شیخ الاسلام
جناب مولانا سید مہدی حسن مفتی راندھیر کا ارشاد
آپ کی کتاب نوشتہ غیب پہنچی اور اس کے مطالعہ سے محظوظ ہوا۔ واقعی بہت ہی سہل طریق سے نکاح قادیانی کو طشت از بام کیا ہے۔ زبان پیرایہ دلچسپ ایسا کہ ہر شخص اس کو پڑھے بغیر نہ چھوڑے اللہ تعالیٰ آپ کو مسلمانوں کی طرف سے جزائے خیر دے اور اس کے ذریعہ گمراہوں کی ہدایت کرے۔ آمین میں حتی الوسع دوستوں کو اس طرف متوجہ کروں گا۔ قلوب خدائے تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ دعاء کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مقاصد میں کامیاب کرے اور آپ کی تالیفات کو قبولیت عامہ بخشے۔
فاضل اجل جناب مولانا قاضی محمد علیؒ
خطیب مسجد سنہری لاہور کا ارشاد
آپ کا ارسال کردہ رسالہ نوشتہ غیب پہنچ گیا۔ احقر نے مطالعہ کیا طبیعت میں ازحد بشاشت پیدا ہوئی۔ جی چاہتا تھا کہ اس کو دیکھتا ہی رہوں۔ میری نظر سے بہت سے رسالے گزرے۔ مگر میں نے ایسا جامع اور مدلل رسالہ کبھی نہیں دیکھا۔ میں مصنف کی اس کوشش کی داد دیتا ہوا اس پاک لایزال کا شکریہ کرتا ہوں کہ اے رب العالمین اب بھی تیری مخلوق میں ایسی ہستیاں موجود ہیں جو باطل کا مقابلہ بخوبی کرتے ہیں اور خصوصاً اس فرقے مرزائیہ کے لئے ایسی ہی ایک جامع کتاب ہونی چاہئے تا کہ ان کا ناطقہ بند کر دیا جاوے۔ مجھے امید ہے کہ
اگر دوسرا ایڈیشن نوشتہ غیب تیار ہو تو بندہ کو فراموش نہ فرمائیں گے ضرور بالضرور بندے کے پاس ایک نسخہ بھیجیں گے اور میں اس بات میں کوشاں ہوں کہ اشاعت میں توسیع ہو اور آپ کا بازو مضبوط کر دیا جائے۔
جناب حضرت مولانا مولوی محمد عبدالعزیز
شیخ الحدیث و ناظم مدرسہ انوار العلوم گوجرانوالہ کا ارشاد
آپ کا ہدیہ سنیہ وعطیہ موصول ہو کر موجب بہجت و سرور ہوا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزاء خیر عطاء کرے کہ آپ نے خدمت اسلام میں اپنی ہمت صرف کر کے گروہ ناہنجار کے خسران کا سامان بہم پہنچا دیا۔ اس جگہ انشاء اللہ آپ کی کتاب کے متعلق مناسب عرض کیا جاوے گا۔ اپنی دعاؤں سے یاد فرماتے رہا کریں۔
فخر سادات بلبل پنجاب جناب ابوالحسنات سید محمد احمد قادری
خطیب مسجد وزیر خاں لاہور کا ارشاد
جناب کا مؤلفہ نوشتہ غیب میں نے پڑھا۔ مطالعہ نے مجھے اس نتیجہ پر پہنچایا کہ ایسی دلچسپ طرز میں ابھی تک شائد تردید مرزائیت نہیں کی گئی۔ طرز تحریر مضمون نگاری اور جوابات الزامی کا تسلسل نہایت پاکیزہ ہے۔
علامہ زمان مفتی دوراں شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد کفایت اللہ
صدر مدرسین مدرسہ امینیہ وصدر جمعیۃ العلماء ہند دہلی کا ارشاد
آپ کی کتاب نوشتہ غیب پہنچی تھی۔ مجھے افسوس ہے کہ اس کے متعلق اظہار رائے میں غیر معمولی تاخیر ہوئی۔ میری مشغولی اور ضروریات میں انہماک پر نظر رکھتے ہوئے معاف فرمائیں۔ کتاب جس نیک مقصد سے لکھی گئی ہے وہ آج کل مسلمانان ہند کے لئے نہایت اہم وارفع ہے۔ فرقہ ضالہ مرزائیہ نے مسلمانوں کو مذہبی، معاشرتی سیاسی گمراہی میں مبتلا کرنے کے تمام ذرائع اختیار کر رکھے ہیں اور طرح طرح کے دام و تزویر بچھا رکھے ہیں۔ آپ نے نوشتہ غیب کے ذریعہ امت مرحومہ محمدیہ کو امت مرزائیہ کے دجل و تلبیس کا شکار ہونے سے بچانے کا مبارک انتظام کیا ہے۔ اس کا اجر جزیل بارگاہ رب العزۃ جل شانہ سے آپ کو ملے گا۔ فقیر کی مخلصانہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی سعی مشکور فرمائے اور نوشتہ غیب کو مقبولیت عامہ عطاء کرے اور مسلمانان ہند
کومرزائیت کی تاریکیوں سے نکالنے اور راہ حق وصواب ان پر منکشف کرنے کے لئے نوشتہ غیب کو آفتاب ہدایت بنا کر نورافگن کرے۔ آمین!
فخر ملت والدین جناب مولانا مولوی محمد الدینؒ
خطیب جامع ملیہ وزیر آباد کا ارشاد
”هذه عجالة نافعة وعلالة بائعة تروى بها غليل طالبي البرهان وتشفى بها عليل امراض القاديان ، طالعته كرة بعد كرة ومرة بعد مرة لكن لا على سبيل الاستيعاب بل على سبيل الارتجال فوجد ته مصفانا لكدورة الخرافات المرزائية وكيد الكيدانية لا سيما لاهل الانگیزية ولله در المصنف حيث اتى بالدار المكنونية وهذا اخردعوانا وان الحمدلله رب العالمين ، آمين ثم آمين!“
عالم بے مثیل جناب مولانا مولوی محمد اسماعیلؒ
سیکرٹری آل انڈیا تنظیم اہل حدیث پنجاب گوجرانوالہ کا ارشاد
نوشتہ غیب جستہ جستہ مقامات سے دیکھا گیا۔ جناب کے ماحول کے لحاظ سے بہترین چیز ہے۔ جناب کی جستجو قابل تحسین ہے۔ الہم زدفزد امید ہے کہ نقش ثانی نقش اوّل سے بڑھ کر ہوگا اور یہ مشغلہ بھی دیر پا ہوگا۔
علامہ عصر جناب مولانا مولوی سید محمد مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ
طوطی ہند ناظم مدرسہ اسلامیہ عربیہ امدادیہ مراد آباد یوپی کا ارشاد
میں نے بعض مقامات سے نوشتہ غیب مؤلفہ ایم۔ ایس خالد وزیر آبادی کو دیکھا بہت مفید کتاب ہے۔ اللہ تعالیٰ مؤلف کو جزائے خیر عنایت فرمائے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ اس کتاب کو خریدیں اور خرید کر غرباء میں تقسیم کریں۔ خود پڑھیں اور دوسروں کو اس کے مضامین سنائیں۔ مسلمانوں کو اس فرقہ مرزائیہ کی رد کی طرف پوری توجہ فرمانی چاہئے۔ ہندوستان میں اسلام کے لئے بظاہر اس فتنہ سے زیادہ کوئی فتنہ قابل توجہ نہیں ہے۔ خداوند عالم جل وعلا شانہ کا فضل ہے کہ اب بہت مسلمان اس طرف متوجہ ہو گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے اور مسلمانوں کو نفع دے اور مرزائیوں کو بھی ہدایت فرمائے۔ آمین!
نکالنے اور راہ حق و صواب ان پر منکشف کرنے کے لئے نوشتۂ غیب کو کرے۔ آمین!
والدِ ماجد جناب مولانا مولوی محمد الدینؒ
خطیب جامع مسجد وزیر آباد کا ارشاد
رسالة نافعة وعلالة بالغة تروى بها غليل طالبي البرهان في دحض القاديان ، طالعته كرة بعد كرة ومرة بعد مرة لكن لا على الاستيعاب بل على سبيل الارتجال فوجدته مصفانا لكدورة القاديانية وكيد الكيدانية لا سيما لاهل الانكليزية ولله دره بالدرر المكنونية وهذا اخر دعوانا وان الحمدلله رب العالمين!“
بے مثل جناب مولانا مولوی محمد اسماعیلؒ
معتمد تنظیم اہل حدیث پنجاب گوجرانوالہ کا ارشاد
جستہ مقامات سے دیکھا گیا۔ جناب کے ماحول کے لحاظ سے بہترین تحسین ہے۔ اللّٰہم زِد فزِد امید ہے کہ نقشِ ثانی نقشِ اوّل سے بڑھ کر ہوگا
جناب مولانا مولوی سید محمد مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ
صدر مدرسہ اسلامیہ عربیہ امدادیہ مراد آباد یوپی کا ارشاد
بعض مقامات سے نوشتۂ غیب مؤلفہ ایم۔ ایس خالد وزیر آبادی کو دیکھا بہت اللّٰہ مؤلف کو جزائے خیر عنایت فرمائے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ اس کتاب کو مفت میں تقسیم کریں۔ خود پڑھیں اور دوسروں کو اس کے مضامین سنائیں۔ اس عقیدے کی رد کی طرف پوری توجہ فرمانی چاہئے۔ ہندوستان میں اسلام کے لئے اس سے کوئی فتنہ قابلِ توجہ نہیں ہے۔ خداوندِ عالم جل و علاء شانہ کا فضل ہے کہ متوجہ ہو گئے ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ ان کی مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے اور بھائیوں کو بھی ہدایت فرمائے۔ آمین!
جناب مولانا مولوی عبد الرحمن
خطیب جامع بازار والی وزیر آباد کا ارشاد
”بسم الله الرحمن الرحيم . الحمدلله وكفى وسلام على عباده الذين اصطفى . اما بعد! فانی طالعت الكتاب المستطاب الموسوم بنوشته غیب من تاليف الحبر الذكي التقى النقى الملقب بالخالد فوجدته كتابا لا يأتيه الباطل من بين يديه ولا من خلفه ومجموعاً من المسائل الواقعية لا يجترى الجاهل الاندلسي ولا الدمشقي على رده وقدحه ولا يحوم المتجدد ولا المتنبى حول حريمه وفصيله واوراقا جامعة للدلائل والبراهين وسطورا حاوية على انكشاف حقيقة الدجال الذى ادعى النبوة في القاديان واطال لسانه على ذوى الاديان وحرف النصوص القطعية الدالة على حيات عيسى ابن مريم وختم النبوة على سيد المرسلين عليهما الصلوة والسلام فبذل علماء الامة مساعيهم الجميلة في ترديد ذلك الشقى شكر الله سعيهم بالقلم والبيان فسلك اخي الخالد مسلكهم الا انه رجح التسهيل فى ضبط المسائل لفهم العوام واختار الارتباط بين مضامين الكتاب لنشاط الخواص وجمع اقوال المتنبى جميعها بيد انه اوضح النكاح السماوى الذى عليه مدار دائرة النبوة الكاذبة لتنكشف الحقيقة على وجهها فالرجاء من ناظري الكتاب ان يوسعوا اشاعته وتبليغه ويعينوا على طباعته الثانية وآخر دعوانا ان الحمدلله رب العالمين“
نذر عقیدت
صد شکر کہ آمدم بہ میان دو رحیم
خادم قوم نہایت ادب و احترام سے عجز وانکسار کے ساتھ جمیع فرزندانِ توحید کی طرف سے عموماً اور اپنے محترم بزرگ و قبلہ و قدوہ ہادیِ حقیقت و رئیس الطریقت الحاج الحرمین الشریفین حضرت جناب میاں محمد بڈھا صاحب دادوالی شریف کی طرف سے خصوصاً یہ ناچیز تصنیف موسومہ بہ نوشتہ غیب بحضور جناب سید الکونین فخر موجودات آقائے عالمیان سید ولد آدم سرکارِ مدینہ آقائے
نامہ ارجمند مصطفےٰ احمد مجتبےٰ خاتم النبیین و کافۃ للناس و روف الرحیم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت بابرکت میں خلوص نیت و حضور قلب کے ساتھ بطور ہدیہ پیش کرتا ہے۔
ایم۔ایس۔خالد مصنف: نوشتہ غیب، نوبت مرزا، تصویر مرزا
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
حمد باری تعالیٰ جل شانہ
تمام حمد و ستائش اور خوبیاں اس خالق دو جہاں اور مالک کون ومکاں اور رزاق انس و جان کو سزاوار ہیں۔ جس نے کائنات عالم کو کن کے ایک لفظ سے پیدا کیا اور اس کی ربوبیت فرمائی اور بے ستون آسمان بنائے اور ستاروں سے زینت دے کر اپنی عاجز مخلوق پر احسانِ عظیم فرمایا۔ تاکہ وہ اس کے بھیانک پن سے محفوظ رہیں اور یہ سماوی فوج شیاطین کو شکست اور حساب میں مدد کے لئے بھی بنی اور قمر کو ضیاء اس لئے دی کہ پھل پکیں اور اس سے کھٹاس ومٹھاس حاصل کریں اور سورج کو اس لئے منور کیا تاکہ نظامِ عالم کی بقاء رہے اور اجناس بڑھیں اور پکیں اور توازن صحت قائم رہے۔
اے خدائے لایزال تو نے زمین کی بنا پانی پر رکھی اور پانی کو قلزم ہستی کا ناخدا بنایا۔ اے بے مثال ہستی و بے نظیر ہستی تو نے وحوش وبہائم، چرند و پرند، شجر وحجر دریا و نالے، معدنیات ونباتات اور جمادات پیدا کیں اور ان پر تصرف کے لئے انسان کو پیدا کر کے اشرف المخلوقات کا خطاب دیا۔ مولا یہ شاداب وادیاں اور ان میں رنگ برنگ کے پھول اور پھل، یہ آبشار اور ان میں بہتا پانی اور اس کا راگ تیری عظمت کا پتہ دیتا ہے۔
اے ظاہر و باطن کے جاننے والے آقا۔ یہ کوہسار و مرغزار، یہ چٹانیں و پہاڑ اور ان کی سربلند چوٹیاں اور ان پر سبز و سفید پگڑیاں۔ تیری قدرت کا تماشہ ہیں۔ اے نظام عالم کی ربوبیت کرنے والے محسن، تو اپنی مخلوق سے کبھی غافل نہیں ہوتا اور تو اس ننھے کیڑے کو جو صدف میں تیری توحید کے گن گاتا ہے اور پتھر میں جو تیرے راگ الاپتا ہے سنتا ہے اور روزی دیتا ہے۔ مولا تیری جلالیت کے پرتو سے پہاڑوں کے سینے شق ہوئے اور ان سے ندیاں تیری وحدت کا ترانہ گاتی ہوئی رواں ہوئیں۔ اے ارحم الراحمین تیرے رحم سے تیرے کرم سے گلزار ہستی میں رنگ و بو ہے اور
تیری مئے وحدت سے گل لالہ، سرخ رو ہے اور نرگس بیمار تیرے ہی انتظار میں محو جستجو ہے اور غنچے چٹک کر موزون ہوئے اور پنکھڑیوں کی کٹوریاں شبنم پھولوں کے وضو کو لائیں۔ گل سوسن و چنبیلی، گل نرگس و جوہی ، یہ موتیا و بیلا، یہ گلنار و مکھیہ گلاب کی اقتداء میں مقتدی ہوئے اور تیری ثناء میں ترانے ترنم سے گانے میں محو ہوئے۔ سرو نے مجرا دیا اور بلبل ناشاد شاد ہوئی۔ کبوتر ہو ہو سے اور پپیہا تو تو سے وحدت کے ترانوں میں محو ہوئے اور قمری نے حق حق کے نعرے لگا کر تیری توحید کا پیغام باد صبا کو دیا۔ جو اٹھکیلیاں کرتی ہوئی پتہ پتہ اور شاخ شاخ کو مسرور کر گئی۔
اے پاک پروردگار تیری ذات ازلی وابدی ہے۔ تو نے مردہ زمین کو رحمت کے بادلوں سے زندہ کیا اور تیرے نور کی ادنیٰ سی وہ تجلی جو بجلی کی شکل میں کوندتی ہے اور جو نگاہوں کو خیرہ و چکا چوند کر دیتی ہے۔ کس کی مجال ہے کہ جو دیکھے۔ اے خالق حقیقی تو نے اپنی حمد و کبریائی کے لئے لاتعداد ملائک نور سے، جان کو نار سے، انس کو مٹی سے پیدا کیا۔ پرند و چرند، شجر و حجر تیری حمد و تعریف میں رطب اللسان ہیں اور زمین و آسمان کی باگ تیرے قبضہ قدرت میں ہے۔ جس کو تو ایک دم میں فنا کرنے اور نئی بسانے پر قادر ہے۔ تیرا نور زمانہ بھر پر محیط ہے اور تجھ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔
محمد خاتم النبیینﷺ
دل کو روشن کر دیا آنکھوں کو بینا کر دیا
خوش نصیب تھی وہ ساعت جو ربیع الاول میں آئی۔ جس میں ایک نور لازوال گوہر بے مثال ایک بیش قیمت لعل، ایک انمول جوہر، ایک نور علیٰ نور ہیرا۔ جس کی بے مثل روشنی سے شمس و قمر خجل ہو کر ماند ہوئے۔ جس کی ابدی و سرمدی خوشبو پر عنبر و کستوری فدا ہوئیں، اور جس کی معطر و دل آویز خوشبو کے تصدق میں پھولوں کو رعنائی ملی۔ جس کی زبان فیض ترجمان نے فصاحت و بلاغت کے دریا بہائے جو کرہ ارض پر لہریں اور موجیں مار کر دنیا کو سیراب کر گئے اور جس کے حسن لاجواب سے فردوس کی حوریں شرمائیں اور حسینان عالم خجل و شرمندہ ہوئے۔ چاند کی پیشانی عرق ریز اور ستارے بادل کے آنچل میں چھپے اور جس کے دید کی تصدیق میں آہو کو بے مثال آنکھیں ملیں اور جس کے قد رعنا سے سرو نے بلندی پائی اور جس کے اخلاق حمیدہ سے دنیا نے تہذیب سیکھی اور جس کے رحم و کرم سے ظالم و جاہل بدو، گلہ بان عالم بنے اور جس کے عدل و انصاف نے نوشیرواں
کو مات کیا اور جس کا ایک عالم مدح خواں ہوا۔ جس کے مبارک عہد میں شیر و بکری نے ایک گھاٹ پر پانی پیا۔ جس کی سخاوت کے صدقے میں ہزاروں حاتم بنے اور جس کی شجاعت میں رن کانپے اور دشمن ہمیشہ مغلوب ہوئے۔ جس کے رعب و جاہ و جلال سے قیصر و کسریٰ کے محل لرزہ بہ اندام ہوئے اور کنگرے سجدہ ریز ہوئے۔ جس کے نور سے جہان منور ہوا اور ظلمتیں کافور ہوئیں۔ حضور سرور دو عالمﷺ کا ظہور قدسی کائنات عالم کے لئے سب سے بڑی نعمت و مسرت ثابت ہوا۔ شب دیجور نے کروٹ بدلی اور سپیدۂ صبح نمودار ہوا۔ طائران خوش الحان اس در نایاب وازلی یتیم عبداللہ کی تشریف آوری کا مژدہ گانے میں محو ہوئے۔ باد صبا نے مبارک باد کا پیغام دیا اور خصوصاً فارس کے مجوسی آتشکدہ کو سنایا جو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے سرد ہوا۔ حضرت ابراہیم کے دنیا میں سب سے پہلے گھر کی وہ آگ توحید کے پیغام سے سرنگوں ہو کر تختوں سے گرے۔ نمرود کی بپا کی وہ آگ پھولوں کا لباس زیب تن کئے۔ عنبر وعود کی کشتی میں دعائے خلیل کو آنکھوں پر رکھے۔ ملائکہ کی فوج کے ساتھ نور کی مشعلیں لئے توحید و تمجید کے گلدستے ہاتھوں میں سنبھالے آمنہ کے درودیوار پر رحمتیں برساتی اور تعریف کے گن گاتی ہوئی نازل ہوئی۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے۔
امین بن کر امانت آمنہ کی گود میں آئی
مبارک باد کا غلغلہ نسیم صبح نے گایا۔ سبز سبز ڈالیاں فرطِ محبت سے گلو گیر ہوئیں اور پتے پتے نے خوش آمدید کہا بشارت مسیح محمدﷺ کے لباس میں باب نبوت کو بند کرتی ہوئی جلوہ افروز ہوئی۔ طاغوتی طاقتیں شرک و بت پرستی کو تاراج کرتی ہوئیں رحم وکرم، عفو وحلم، خلوص و صداقت کی رحمانی طاقتوں کے آگے سرنگوں ہوئیں۔ شیطان معہ اپنی ذریت کے پہاڑوں کو بھاگم بھاگ دوڑا اور دھاڑیں مار مار کر رویا۔ زمین و آسمان اس جلوۂ سبحانی سے مسرور ہوئے اور مبارک بادی کا ترانہ گایا؎
اس مصحف عنصر خاکی پر یہ نقش و نگار اللہ اللہ
اے عبداللہ کے در یتیم تیری پیدائش مبارک، تیرا تشریف لانا رحمت۔ اے انسانیت کا سبق یاد کرانے والے آقا۔ اے قلزم ہستی میں خلق ومروت کے دریا بہا دینے والے داتا۔ اے کفر وضلالت کو خس وخاشاک کی طرح بہا دینے والے مولا۔ اے اخوت و محبت کے بخشنے والے منعم۔ اے حلم وبردباری کے سبق کو ازبر کرانے والے رسول۔ اے
عفو و کرم کی مجسم تصویر، ہمارا لاکھ لاکھ سلام آ نغمہ ہے تیرا دلکش آ بلبل کے ترانے صل
انعام باری تعالیٰ
اللہ تعالیٰ بزرگ و برتر کا ہزار ہز و بہبود کے لئے، ہمارے نیک و بد کے سمجھا خاطر، وحوش و بہائم کو انسان بنانے کے لئے کے جگانے کو۔ ہمیں اپنا بندہ بنانے کی خاطر اسم گرامی ہی تشریف کیا گیا ہے۔ رحمت عال میں۔ اخوت و محبت کے قالب میں۔ اکسا مساوات کا علم دے کر۔ قران صامت بشر سے بالاتر ہے اور جس کی قیمت کے پاسنگ عنبر و عود سے زیادہ دل لبھا لینے والی ہے مبعو وہ قوانین ازل کا قاسم، وہ کلیم عاقب ہوا اور جس کی ضیا پاشی سے جہاں آب زر سے صفحہ دہر پر ہمیشہ درخشاں رہیں اور جن کے ٹھوکر نے پر زمانہ ک مستفیض ہو چکا تو خدا کے حکم پر دار ہندو ل اعلان فرمایا۔ جسے ادبی دنیا حجۃ الوداع کے جزیرۃ العرب میں نہ رہنے پائے اور کوئی پائے۔ مسلمان کا مال اور جان اور عزت تم نے اپنے دین کو کامل اور اکمل کر دیا اور تم ہو۔ تم میں دو چیزیں ایسی بیش قیمت چھوڑ ماتمسکتم بھما کتاب اللہ وسنة والسنة) ’’یعنی کتاب اللہ اور سنت رسو اور تمہیں کوئی گمراہ نہ کر سکے گا۔ پھر آپ
ایک عالم مدح خواں ہوا۔ جس کے مبارک عہد میں شیر و بکری نے ایک کی سخاوت کے صدقے میں ہزاروں حاتم بنے اور جس کی شجاعت میں رن مغلوب ہوئے۔ جس کے رعب و جاہ و جلال سے قیصر و کسریٰ کے محل لرزہ بر ے سجدہ ریز ہوئے۔ جس کے نور سے جہان منور ہوا اور ظلمتیں کافور ہوئیں۔ کا ظہور قدسی کائنات عالم کے لئے سب سے بڑی نعمت و مسرت ثابت وٹ بدلی اور سپیدۂ صبح نمودار ہوا۔ طائران خوش الحان اس درنایاب و ازلی آوری کا مژدہ گانے میں محو ہوئے۔ بادِ صبا نے مبارک باد کا پیغام دیا اور آتشکدہ کو سنایا جو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے سرد ہوا۔ حضرت ابراہیم کے دنیا میں ہ آگ توحید کے پیغام سے سرنگوں ہو کر تختوں سے گرے۔ نمرودی بتکدہ کی وہ زیب تن کئے۔ عنبر و عود کی کشتی میں دعائے خلیل کو آنکھوں پر رکھے۔ ملائکہ کی علیں لئے توحید و تمجید کے گلدستے ہاتھوں میں سنبھالے آمنہ کے در و دیوار ف کے گن گاتی ہوئی نازل ہوئی۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے۔
امین بن کر امانت آمنہ کی گود میں آئی
کا غلغلہ نسیم صبح نے گایا۔ سبز سبز ڈالیاں فرطِ محبت سے گلوگیر ہوئیں اور پتے بشارت مسیح، محمدﷺ کے لباس میں بابِ نبوت کو بند کرتی ہوئی جلوہ افروز شرک و بت پرستی کو تاراج کرتی ہوئیں رحم و کرم، عفو و حلم، خلوص و صداقت کے سرنگوں ہوئیں۔ شیطان معہ اپنی ذریت کے پہاڑوں کو بھاگم بھاگ کر رویا۔ زمین و آسمان اس جلوۂ سبحانی سے مسرور ہوئے اور مبارک باد کی
س مصحفِ عصرِ خالی پر یہ نقشِ و نگار اللہ اللہ
ند کے درِ یتیم تیری پیدائش مبارک، تیرا تشریف لانا رحمت۔ اے لانے والے آقا۔ اے قلزمِ ہستی میں خلق و مروت کے دریا بہا دینے و ضلالت کو خس و خاشاک کی طرح بہا دینے والے مولا۔ اے اخوت منعم۔ اے حلم و بردباری کے سبق کو از بر کرانے والے رسول۔ اے
عفو و کرم کی مجسم تصویر، ہمارا لاکھ لاکھ سلام آپ پر اور آپ کی آل پر؎
بلبل کے ترانے صل علیٰ پھولوں کی لطافت کیا کہنا
انعام باری تعالیٰ
اللہ تعالیٰ بزرگ و برتر کا ہزار ہزار احسان ہے۔ جس نے ہماری رشد و ہدایت و فلاح و بہبود کے لئے، ہمارے نیک و بد کے سمجھانے کی خاطر، ہمیں قعرِ مذلت میں گرنے سے بچانے کی خاطر، وحوش و بہائم کو انسان بنانے کے لئے، خواب گراں سے بیدار کرنے کو، ہماری سوئی قسمت کے جگانے کو۔ ہمیں اپنا بندہ بنانے کی خاطر اور نارِ جہنم سے بچانے کی خاطر۔ قرآنِ ناطق کو جس کا اسم گرامی ہی تعریف کیا گیا ہے۔ رحمت عالم کے لباس میں عفو و حلم کے پیکر میں۔ رحم و کرم کی تصویر میں۔ اخوت و محبت کے قالب میں۔ انکساری و تواضع کے مجسمے میں۔ فقر و غنا کے ڈھانچے میں۔ مساوات کا علم دے کر۔ قرآن صامت بیش قیمت صحیفہ دے کر۔ جس کی ضیا باری آبدار موتیوں سے بالاتر ہے اور جس کی قیمت کے پاسنگ لعل و جواہر نہیں ہو سکتے اور جس کی معطر دل آویز مہک عنبر و عود سے زیادہ دل لبھا لینے والی ہے مبعوث فرمایا ہے۔
وہ قوانین ازل کا قاسم، گلیم پوش و بوریہ نشین نبی جو رسولوں کا سرتاج اور نبوت کا عاقب ہوا اور جس کی ضیا پاشی سے جہاں مستنیر ہوا اور سراج المنیر کہلایا۔ جس کے مقدس احکام آب زر سے صفحہ دہر پر ہمیشہ درخشاں رہیں گے۔
اور جن کے ٹھکرانے پر زمانہ کبھی قادر نہ ہو سکے گا۔ جب خانہ خدا کی آخری زیارت سے مستفیض ہو چکا تو خدا کے حکم بردار بندوں کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کے سامنے ایک عام اعلان فرمایا۔ جسے ادبی دنیا حجۃ الوداع کے نام سے یاد کرتی ہے۔ آپﷺ نے فرمایا کوئی مشرک جزیرۃ العرب میں نہ رہنے پائے اور کوئی برہنہ مسجد حرام کا طواف نہ کرے۔ بلکہ پاس بھی پھٹکنے نہ پائے۔ مسلمان کا مال اور جان اور عزت تم پر قطعی حرام ہو چکا۔ خبردار کوئی کسی مسلم کو دکھ نہ دے۔ خدا نے اپنے دین کو کامل اور اکمل کر دیا اور تمام نعمتیں پوری ہو چکیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ میرا آخری حج ہو۔ تم میں دو چیزیں ایسی بیش قیمت چھوڑے جاتا ہوں ۔’ترکت فيکم امرين لن تضلوا ماتمسکتم بهما كتاب الله وسنة رسوله (مشکوة ص ٣١، باب الاعتصام بالكتاب والسنة)“ یعنی کتاب اللہ اور سنت رسول۔ اگر اس پر گامزن رہو گے تو شاد کام و بامراد رہو گے۔ اور تمہیں کوئی گمراہ نہ کر سکے گا۔ پھر آپ نے آسمان کی طرف دیکھا اور انگلی اٹھائی اور تین بار اعادہ
کیا۔ خداوند گواہ رہیو میں نے تیرے احکام تیری عاجز مخلوق کو پہنچا دیئے۔ اس کے بعد فرمایا یا معشر المسلمین تم میں جو حاضر ہیں وہ سن لیں اور جو غائب ہیں انہیں پہنچا دیا جائے۔ یثربی محبوب خدا کا حکم ہے کہ میرے نام لیوا وہی ہو سکتے ہیں اور جنت کی ضمانت انہیں ہی مل سکتی ہے جن کا نصب العین یہ ہو۔
”کل امن باللہ وملئکتہ وکتبہ ورسلہ لا نفرق بین احد من رسلہ ، وقالوا سمعنا واطعنا غفرانک ربنا والیک المصیر (البقرة:٢٨٥)“ ﴿ میں نے اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں کو (سچے دل سے مان لیا) یہ کہ ہم انبیاء میں کسی کے (مرسل من اللہ ہونے میں) فرق نہیں جانتے اور وہ (یوں) کہتے ہیں ہم نے سن اور مان لیا۔ اے ہمارے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں اور تیری طرف ہی ہمارا پھرنا ہے۔ ﴾
”قولوا امنا باللہ وما انزل الینا وما انزل الی ابراہیم واسماعیل واسحق ویعقوب والاسباط وما اوتی موسی وعیسی وما اوتی النبیون من ربہم لا نفرق بین احد منہم ونحن لہ مسلمون (البقرة:١٣٦)“ ﴿ اقرار کرو کہ ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور ایمان لائے اس وحی پر جو ہم پر بواسطہ نبی کریم نازل ہوئی اور ہم ایمان لائے اس وحی پر جو حضرت ابراہیم ، اسماعیل، اسحق، یعقوب علیہم السلام پر نازل ہوئی اور ہم ایمان لائے اس وحی پر جو ان نبیوں پر نازل ہوئی جو ان کی اولاد میں تھے اور اس وحی پر جو موسیٰ وعیسیٰ علیہم السلام کو دی گئی اور اس وحی پر جو دیگر تمام انبیاء علیہم السلام کو دی گئی اور ہم ان میں کسی میں کوئی تفریق نہیں کرتے۔ بلکہ ہم سب کو اللہ تعالیٰ کے برحق نبی تسلیم کرتے ہیں اور ہم اس کے بھیجے ہوئے تمام انبیاء علیہم السلام کو تسلیم کرتے ہیں۔ ﴾
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک عام حکم ایسا دیا جس کی تعمیل کرنے والوں کا نام مؤمن قرار دیا۔
مبارک ہیں وہ جنہیں آقائے زمان ،سید المعصومین ، سرکار مدینہﷺ کا پیام آج تک یاد ہے اور وہ اس پر دل و جان سے فدا اور عمل پیرا ہیں۔ خوش نصیب ہیں وہ جو رسولوں کی عزت و حرمت پہ کٹ مرتے ہیں اور دامن رسالت پہ آنچ نہ آنے سے اپنے جنت الفردوس کی زینت کو دوبالا کرتے ہیں۔
خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را
فرقان حمید شاہد ہے۔ ”ولا تقولوا لمن يقتل فى سبيل الله اموات بل احياء ولكن لا تشعرون (البقرة:١٥٤)“ الٰہی ہمیں مسلمان رکھیو اور اسی پر خاتمہ کیجیو ۔ مولا ہمیں یہ توفیق دے کہ ہم تیرے پیغمبروں کی عزت و احترام پر دل وجان سے فدا ہوں اور ان کے احکام کو جو تیری جانب سے نازل ہوئے ہیں حرز جان بنائیں اور ان کی خدمت پہ فدا ہوں۔ آمین یارب العالمین آمین!
خدا کے پسندیدہ دین کے قائد اعظم سید المرسلین ﷺ کی ذات گرامی کا امتیازی نشان ایک یہ بھی ہے کہ جو بھی احکام الٰہی وقتاً فوقتاً نازل ہوئے وہ صرف کتابی شکل میں ہی نہیں رہے بلکہ اس پاکوں کے پاک اور خاصوں کے خاص محبوب خدا نے اسے بذات خود عملی جامہ پہنا کر دنیا جہاں پر احسان عظیم فرمایا۔ یہی وجہ ہے کہ آج سے چودہ سو برس پیشتر کا مسلمان جو حضور ﷺ کی حیات طیبہ کا ناظر تھا اور آج کے مسلمان میں جس کے سامنے قرآن صامت نے ”لقد كان لكم فى رسول الله اسوة حسنة (احزاب:٢١)“ پیش کیا۔ ایک ہی رنگ میں رنگین ہیں ، اور یہی اسلام کی صداقت ہے۔ اگر احکام صرف کتابی شکل میں ہی ہوتے اور اس کے ساتھ عمل نہ ہوتا تو آج سخت مشکلات کا سامنا ہوتا اور ضرور آج کل کے منچلے پنجابی ، بروزی ، ظلی ، تشریعی ، غیر تشریعی ، رودر گوپال یا امین الملک ، جے سنگھ بہادروں کے زور قلم یا تحریف سے ردو بدل ہو کر ایک بھیانک اور نا قابل قبول لائحہ عمل بن جاتا۔ مگر چونکہ مشیت ایزدی کو یہ منظور تھا کہ اس کا پسندیدہ دین پھولے، پھلے، بڑھے اور بسے اور اس کے شاداب شجر برومند وتنومند ہوں اور حوادث زمانہ کے تھپیڑوں سے محفوظ رہیں اور نزہت بخش پھول اور کلیاں جہاں کو معطر کرتی رہیں۔ یہی وجہ تھی جو اس کی حفاظت کا ذمہ احسن الخالقین نے اپنے ذمہ قرار دے کر فرمایا ”انا نحن نزلنا الذكر وانا له لحافظون (حجر:٩)“
اور یہی وجہ تھی کہ حضور فضیلت مآب ﷺ نے ایک ایک حکم کی عملی تفسیر بذات خود فرمائی۔ حضور ﷺ کا وہ ارشاد صفحہ تاریخ پر درخشندہ ستارے کی طرح آب و تاب سے اب تک دمک رہا ہے کہ مجھ کو یونس بن متی پر فضیلت ایسے رنگ میں مت دو کہ ان کی تحقیر ہو۔ کیونکہ یہ سب خدا کے برگزیدہ رسول ایک ہی چشمہ سے سیراب ہو کر ایک ہی پاک مقصد لے کر خلق خدا کی ہدایت کے لئے اپنے اپنے وقت میں مبعوث ہوئے۔ چنانچہ فرمان رسالت ملاحظہ فرمائیں۔ ”عن ابن عباس وعن ابى هريرة قال قال رسول الله ﷺ ما ينبغى
لعبد ان يقول اني خير من يونس ابن متیٰ (مسلم ج٢ ص٢٦٨، باب من فضائل یونس، بخاری ج١ ص٤٨٥،٤٨٦، باب وان یونس لمن المرسلین) ” ابو ہریرہؓ سے روایت ہے اس نے کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی شخص کو یہ حق نہیں کہ یہ کہے کہ میں یونس بن متیٰ سے بہتر ہوں۔﴾
توہین انبیاء علیہم السلام
ذیل میں ہم کرشن قادیان، مسیلمہ ثانی، مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں سے چند ایسے اقتباسات پیش کرتے ہیں جن سے معلوم ہوگا کہ اس قادیانی مراقی نبوت کے ہاتھوں خدا کے وہ نہایت ہی محبوب پیامبر جو معصومیت کے منبع، صداقت کے شہزادے اور سچائی کے مجسمے تھے۔ جن کی غلامی معصیت سوز اور اطاعت جنت کی ضمانت ہے اور جو اخلاق کائنات نے دنیائے جہاں کی فلاح و بہبود کے لئے امن و سلامتی کو برسر اقتدار کرنے کی خاطر عدل وانصاف، عفو و حلم، محبت وآشتی کے دریا مساوات کی شیرینی سے لبریز کر کے ہماری تیرہ بختی و جہالت کے محو کرنے کو، شربت توحید کے خم کے خم لنڈھانے کو ایسے بہترین ساقی وحدت مبعوث فرمائے جن کے مقدس نام پر رہتی دنیا تک کے سعید الفطرت انسان سلام و درود بھیجتے رہیں گے۔ مگر آہ!
چودھویں صدی میں پنجاب کے خطے میں ایک ایسی ہستی بھی پیدا ہوئی جو درماندگی ومفلسی کا شکار ہوکر مجدد وقت کے لباس میں بتدریج ترقی کرتی ہوئی خدائی مراتب کی دعویدار ہوئی۔ چکر کاٹنے والے آسمان اور گردش کرنے والی زمین نے اتنے چکر نہ کاٹے ہوں گے اور رنگ بدلنے والے گرگٹ نے یوں رنگ نہ بدلے ہوں گے جس قدر ”خاکسار پیپر منٹ“ کے الہامی نے جدت دکھلائی۔
گورداسپور کے ضلع قادیان جیسی غیر معروف بستی میں ایک لڑکا مرزا غلام مرتضےٰ کے ہاں پیدا ہوا جو سندھی بیگ کے نام سے منسوب ہوکر غلام احمد کہلایا۔ ان حضرت کا دعویٰ ہے کہ میں تمام اولیاء، اقطاب، ابدال اور خدا کے پیاروں سے مرتبہ و وجاہت میں بلند تر ہوں اور ان کی حقیقت مرے سامنے پانی بھرتی ہے۔ تمام معصومیت کے سرچشمے یا خدا کے برگزیدہ رسول میرے پیراہن میں چھپے بیٹھے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے انعام واکرام مجھ پر بارش کی طرح برس رہے ہیں اور اگر یہ انعام ونشان ایک جگہ جمع کئے جائیں تو ان سے ایک ہزار نبیوں کی نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔ تمام انبیائے عظام ایک مردہ وجود کی طرح تھے۔ میری آمد نے ان کو زندہ کر دیا۔ قصر نبوت یا شجر اسلام نامکمل اور برگ وبار سے بے بہرہ تھا۔ میری آمد سے وہ شاداب و گلزار ہوا۔ میں آدم ہوں، میں
شیث ہوں، میں نوح و ابراہیم ہوں، میں یعقوب ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں عیسیٰ ہوں، میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں کرشن ہوں، رودر گوپال ہوں، میں آمین الملک جے سنگھ بہادر ہوں، میں آریوں کا بادشاہ ہوں، میں صور ہوں، میں مظہر و منصور ہوں، میں حکم ہوں، میں محدث ہوں، میں خدا کا پہلوان ہوں، نبیوں کے لباس میں۔ غرضیکہ میں معجون مرکب انبیاء ہوں۔ میرے لئے ہزارہا نہیں لاکھوں نشان آسمان نے دکھلائے۔ ہزاروں معجزے زمین نے پیش کئے۔ خدا میری مدد کے لئے ایک سپاہی کی حیثیت سے تیز تلوار لئے کھڑا ہے۔ وہ میرے منکر کے لئے طاعونی کیڑے پال کر ہماری زمین کی طرف آ رہا ہے۔ وہ میری عرش پر تعریف کرتا ہے اور سمندر کی طرح موجزنی کرتا ہے۔ وہ مجھ سے ہے میں اس سے ہوں۔ اس نے مجھے یہ بھی کہا کہ تو جو بھی چاہے کر ہم نے تجھ کو بخش دیا۔ میرا خدا نماز پڑھتا ہے اور روزہ رکھتا ہے۔ جاگتا ہے اور سوتا ہے۔ میرے خدا کا نام لاش ہے۔ یوں تو میرا نام ”مرزا“ خدا کا سب سے بڑا نام ہے اور کہا جاتا ہے اسی لئے مجھ کو فانی کرنے اور زندہ کرنے کی صفت دی گئی۔ میں نوح ہوں اور خدا کی قسم میں غالب ہوں اور عنقریب میری شان ظاہر ہو جائے گی اور ہر ایک ہلاک ہو گا۔ ہاں وہی بچے گا جو میری کشتی میں بیٹھ گیا اور اس قوم کی جڑ کاٹ دی جائے گی جو مجھ پر ایمان نہ لائے۔ میں ہی رحمۃ اللعالمین ہوں۔ میرا خدا اونچے آسمانوں کا بنانے والا ہے۔ اس نے مجھ کو یہ بھی وحی کی کہ اے مرزا کہہ دے اے تمام جہاں کے لوگو! میں تم سب کے لئے خدا کی طرف سے رسول بن کر آیا ہوں اور میں تو بس قرآن ہی کی طرح ہوں اور قریب ہے کہ میرے ہاتھ پر ظاہر ہو گا جو کچھ قرآن سے ظاہر ہوا اور قرآن شریف خدا کا کلام اور میرے منہ کی باتیں ہیں اور یہ مکالمہ جو مجھ سے ہوتا ہے یقین ہے اگر میں ایک دم کے لئے بھی اس میں شک کروں تو کافر ہو جاؤں اور میری آخرت تباہ ہو جائے۔ وہ کلام جو میرے پر نازل ہوا یقینی اور قطعی ہے اور جیسا کہ آفتاب اور اس کی روشنی کو دیکھ کر کوئی شک نہیں کر سکتا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر نازل ہوتا ہے اور میں اس پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں۔ جیسا کہ خدا کی کتاب پر اور مجھے یہ بھی کہا گیا کہ اے سردار تو مرسلین سے ہے اور تو سیدھی راہ پر ہے اور ہم نے تمہیں کوثر دیا اور رات کے تھوڑے حصہ میں سیر کرائی۔ مجھے یہ بھی بتلایا گیا کہ خدا عرش پر تیری حمد کرتا ہے اور تیری طرف چلا آتا ہے اور میرا قدم اس منارہ پر ہے جہاں تمام بلندیاں ختم ہیں اور مجھے وہ چیز عنایت ہوئی جو دنیا میں کسی دوسرے انسان کو نہ دی گئی اور مجھے یہ بھی کہا گیا اے مرزا تو علم کا شہر ہے اور میرا خدا یہ بھی کہتا ہے کہ میں اسباب کے ساتھ اچانک تیرے پاس آؤں گا۔ خطا کروں گا اور بھلائی کروں گا اور اس نے مجھے یہ بھی کہا کہ اے مرزا ہم نے تجھے تمام جہاں کے لئے
رحمت بنا کر بھیجا اور میرا مرتبہ اس کلام سے جانچو۔ آسمان سے کئی تخت اترے مگر میرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا اور میری پاسداری خدا یوں فرماتا ہے کہ مرزا جس پر تو ناراض اس پر میں ناراض ہوں اور خدا نے مجھ کو آدم بنایا اور مجھ کو وہ سب چیزیں بخش دیں جو ابوالبشر آدم کو دیں تھیں اور میرے بعد کوئی کامل انسان ماں کے پیٹ سے نہ نکلے گا اور مجھ کو خاتم النبیین اور سید المرسلین کا بروز بنایا اور مجھے یہ خطاب دیا كل لك ولا مرك یعنی سب تیرے لئے اور تیرے حکم کے لئے اور گر مجھے پیدا کرنا مشیت ایزدی کو نہ مطلوب ہوتا تو یہ دنیا اور اس کے اسباب پیدا ہی نہ کئے جاتے۔ بلکہ دنیا تو ہیچ ہے یہاں تک کہا گیا لولاك لما خلقت الافلاك یعنی اے مرزا اگر تو نہ ہوتا تو میں آسمانوں کو پیدا ہی نہ کرتا اور چند ایک عربی الہام یہ ہوئے ۔ ” انت منى وانا منك ، انت منى بمنزلة توحيدى وتفريدى، انت اسمى الاعلى ، انت منى بمنزلة ولدى ، انت من ماء ناوهم من فشل ، سرك سرى ، ظهورك ظهورى ، لاتخف انك انت الاعلى ، انما امرك اذا اردت شيئاً ان تقول له كن فيكون ، انت منى بمنزلة اولادى “ (تذکرہ والبشریٰ) غرض کہ میں ہی نجات کا اجارہ دار اور جنت کا ٹھیکیدار ہوں اور وہی اس میں جاسکتے ہیں جو مجھ پر ایمان لائیں۔ کیونکہ جو مجھ کو نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔ پھر وہ مؤمن کیونکر ہو سکتا ہے۔
” يقبلنى ويصدقنى الاذریت البغایا “ مجھ کو ہر ایک قبول کرتا ہے اور میری تصدیق کرتا ہے ہاں حرام زادے مجھے قبول نہیں کرتے۔ (آئینہ کمالات)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں
- ......١
اس سے بہتر غلام احمد ہے
(دافع البلاء ص٢٠، خزائن ج١٨ ص٢٣٠)
- ......٢ ” خدا نے اس امت میں مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان
میں بہت بڑھ کر ہے۔“
(حقیقت الوحی ص١٤٨، خزائن ج٢٢ ص١٥٢)
- ......٣ ”اے عیسائی مشنریو! اب ربنا لمسیح مت کہو اور دیکھو آج تم میں ایک ہے
جو اس مسیح سے بڑھ کر ہے۔“
(دافع البلاء ص١٣، خزائن ج١٨ ص٢٣٣)
- ......٤ ”میں سچ کہتا ہوں کہ مسیح کے ہاتھ سے زندہ ہونے والے مر گئے۔ مگر جو
مرا مرتبہ اس کلام سے جانچو۔ آسمان سے کئی تخت اترے مگر میرا تخت سب سے بالا ہے۔ باری خدا یوں فرماتا ہے کہ مرزا جس پر تو ناراض اس پر میں ناراض ہوں بنایا اور مجھ کو وہ سب چیزیں بخش دیں جو ابوالبشر آدم کو دیں تھیں اور میرے اس کے پیٹ سے نہ نکلے گا اور مجھ کو خاتم النبیین اور سید المرسلین کا بروز بنایا اور لك ولامرك یعنی سب تیرے لئے اور تیرے حکم کے لئے اور گر مجھے پیدا نہ مطلوب ہوتا تو یہ دنیا اور اس کے اسباب پیدا ہی نہ کئے جاتے۔ بلکہ دنیا تو لولاك لما خلقت الافلاك یعنی اے مرزا اگر تو نہ ہوتا تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا۔ ایک عربی الہام نازل ہوئے ۔ ”انت منى وانا منك . انت منى بمنزلة توحيدى . انت اسمى الاعلى . انت منى بمنزلة ولدى . انت من ماء ومهين . سرك سرى . ظهورك ظهوری . لاتخف انك انت الاعلى . اردت شيئاً ان تقول له كن فيكون . انت منى بمنزلة اولادى “ کہ میں ہی نجات کا اجارہ دار اور جنت کا ٹھیکیدار ہوں اور وہی اس میں جاسکتے ہیں ۔ کیونکہ جو مجھ کو نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔ پھر وہ مؤمن نہیں ۔ يكذبني الا ذريت البغايا ”مجھ کو ہر ایک قبول کرتا ہے اور میری حرام زادے مجھے قبول نہیں کرتے ۔ (آئینہ کمالات )
مسیح کے حق میں
اس سے بہتر غلام احمد ہے
( دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠ )
”خدا نے اس امت میں مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بڑھ کر ہے۔“
( حقیقت الوحی ص ١٤٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢)
’اے عیسائی مشنریو اب پرانا مسیح مت کہو اور دیکھو آج تم میں ایک ہے جو اس سے بڑھ کر ہے۔“
( دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)
’میں سچ کہتا ہوں کہ مسیح کے ہاتھ سے زندہ ہونے والے مر گئے۔ مگر جو
بلکہ ان کی تو تعریف میں مرزا قادیانی نے بہت کچھ لکھا ہے۔ ہاں یہ بازاری روایات یسوع کو جو عیسائیوں کا خدا اور ابن اللہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور جس کے متعلق قرآن شریف خاموش ہے الزامی رنگ میں اور وہ بھی محمدﷺ کی حمایت میں پیش کیا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ سب افسانے دجل دینے کو تراشے گئے ہیں۔ ورنہ مرزا قادیانی کے زاویہ نگاہ میں مسیح، یسوع اور عیسیٰ علیہ السلام ایک ہی مبارک ہستی کے نام تھے۔ اس کے ثبوت میں وہی مرزا قادیانی خود اقرار کرتے ہیں جیسا کہ ہم نے مندرجہ بالا آٹھ حوالوں سے ثابت کیا۔ صاحب فراست و علم کے لئے اس میں ایک نقطہ پیش کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی وحی ضرورت اور موقعہ محل اور خواہشات نفسانی کے مطابق آیا کرتی تھی۔ یعنی مرزا قادیانی یہ انداز کر لیا کرتے تھے کہ میرا روئے سخن اس وقت کون ہے۔ جہاں غریب پادری مقابل ہوئے۔ پارہ کی ڈگری جوش میں آئی اور پانی پی پی کر کوسنا شروع کیا اور جب جنابہ ملکہ وقت سے خطاب ہوا تو آپ ڈر کے مارے برف ہوئے اور آپ کو گویا رحم آگیا۔ پھر لگے تعریفوں کے پل باندھنے اور مشترکہ جائیداد کی یا جدی وراثت کی تشبیہات دینے۔ نقطہ کی بات جو یاد رکھنے کے قابل ہے وہ یہ ہے کہ آپ مراق کی وجہ سے مجبور ومعذور تھے۔ آپ کے کلام میں تناقض بہت پایا جاتا ہے۔ دراصل آپ کو یاد نہیں رہا کرتا تھا کہ پہلے کیا لکھا اور اب کیا لکھ رہے ہیں۔
مسیح قادیانی کی چہیتی بستی یعنی جہنمی قادیان کی خوش کلامی جس سے واضح طور پر مثیل مسیح کی زبان سے اعجازی شیرینی ٹپکتی ہے۔ دیکھ لی کیا یہی وہ الہامی نمونہ ہے جس کے متعلق آپ نے فرمایا تھا کہ ” يا احمد فاضت الرحمة على شفتيك “ (براہین احمدیہ حصہ چہارم ص ٥٢٧ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٦١٧) یعنی اے مرزا تیرے ہونٹوں سے شیرینی ٹپکتی ہے۔ اگر یہی شیرینی ہے تو مہربانی کر کے اس کو محفوظ رکھئے۔ کیونکہ یہ کام کی چیز کسی آڑے وقت میں داشتہ آید بکار ثابت ہوگی اور مثیل مسیح ہی کے کام آئے گی۔
عجب ثم العجب کہ دعویٰ مثیل مسیح اور مسیح کا خاکہ ایسا بھیانک کھینچا کہ شرافت و سنجیدگی شرم کی اوڑھنی لئے چپکے سے رخصت ہوئی اور حیا نے منہ ڈھانپ لیا۔ اب سوال تو یہ ہے کہ نقل کفر کفر نباشد کے مصداق اگر یہ باتیں نعوذ باللہ مسیح علیہ السلام میں بقول مرزا ہیں تو مثیل مسیح میں بھی بدرجہ اتم ضرور ہوں گی اور اصل سے کہیں زیادہ تب ہی تو مثیل مسیح کہا جاسکتا ہے۔ جب کہ یہ اوصاف ان میں پائے جائیں اور امت مرزائیہ کا یہ کہنا کہ یسوع کو گالیاں دیں گئیں۔ عجب مضحکہ خیز معاملہ ہے۔ دنیا کی فلاح و بہبود کے لئے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار مرسلین من اللہ مبعوث
شخص میرے ہاتھ سے جام پیے گا جو مجھے دیا گیا ہے وہ ہرگز نہیں مرے گا۔“
(ازالہ اوہام ص ٢، خزائن ج ٣ ص ١٠٤)
- ٥...... ”مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اگر مسیح
ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں وہ ہرگز دکھلا نہ سکتا۔“
(حقیقۃ الوحی ص ١٤٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢)
- ٦......
عیسیٰ کجاست تا ننہد پایہ منبرم
(ازالہ اوہام ص ١٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٠)
- ٧...... ”وہ خدا جو مریم کے بیٹے کے دل پر اترا تھا وہی میرے دل میں بھی اترا
ہے۔ مگر اپنی تجلّی میں اس سے زیادہ۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٢٧٤، خزائن ج ٢٢ ص ٢٨٦)
- ٨...... ”تم کہتے ہو مسیح کلمۃ اللہ ہے ہم کہتے ہیں ہمیں خدا نے اس سے بھی زیادہ
درجہ دیا۔“
(اخبار بدر ١٧ نومبر ١٩٠٢ء، ج ١ نمبر ٢ ص ١١، ملفوظات ج ٤ ص ٩٣)
- ٩...... ”ایسے ناپاک خیال اور متکبر اور راست بازوں کے دشمن کو ایک بھلا مانس
آدمی بھی قرار نہیں دے سکتے۔ چہ جائیکہ اسے نبی قرار دیں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٩ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩٣)
- ١٠...... ”آپ (عیسیٰ علیہ السلام) کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین
دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
- ١١...... ”یہ تو وہی بات ہوئی کہ جیسا کہ ایک شریر مکار نے جس میں سراسر یسوع
کی روح تھی۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)
- ١٢...... ”مریم کا بیٹا کوشلیا کے بیٹے (رامچندر) سے کچھ زیادت نہیں رکھتا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥١ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣٣٦)
- ١٣...... ”عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا
پرانی عادت کی وجہ سے۔“
(کشتی نوح ص ٦٥، خزائن ج ١٩ ص ٧٠)
خزائن ج ١٩ ص ٧٠) ٧)
سے جام پیئے گا جو مجھے دیا گیا ہے وہ ہرگز نہیں مرے گا۔“
(ازالہ اوہام ص ٢، خزائن ج ٣ ص ١٠٤)
”مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اگر مسیح زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ہرگز دکھلا نہ سکتا۔“
(حقیقت الوحی ص ١٤٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢)
عیسیٰ کجاست تا بنہد پایہ منبرم
(ازالہ اوہام ص ١٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٠)
”وہ خدا جو مریم کے بیٹے کے دل پر اترا تھا وہی میرے دل میں بھی اترا اس سے زیادہ۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٧٢، خزائن ج ٢٢ ص ٢٨٦)
”تم کہتے ہو مسیح کلمۃ اللہ ہے ہم کہتے ہیں ہمیں خدا نے اس سے بھی زیادہ
(اخبار بدر ٧؍ نومبر ١٩٠٢ء، ج ١ نمبر ٤٣ ص ١١، ملفوظات ج ٣ ص ٩٣)
”ایسے ناپاک خیال اور متکبر اور راست بازوں کے دشمن کو ایک بھلا مانس سکتے ۔ چہ جائیکہ اسے نبی قرار دیں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٩ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩٣)
”آپ (عیسیٰ علیہ السلام) کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
”یہ تو وہی بات ہوئی کہ جیسا کہ ایک شریر مکار نے جس میں سراسر یسوع
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)
”مریم کا بیٹا کوشلیا کے بیٹے (رامچندر) سے کچھ زیادت نہیں رکھتا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤١ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣٤١)
”عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا
(کشتی نوح ص ٦٥، خزائن ج ١٩ ص ٧٠)
- ١٤...... ”ایک لڑکی پر عاشق ہو گیا تھا بازاری عورت سے عطر ملواتا تھا۔“
(الحکم ٢١؍ فروری ١٩٠٢ء، ملفوظات ج ٣ ص ٢٧)
- ١٥...... ”آپ کا کنجریوں کے ساتھ میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ
جدی مناسبت درمیان ہے ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقعہ نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر ناپاک ہاتھ لگا دے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے۔ سمجھنے سمجھ لیں کہ ایسا آدمی کس چال چلن کا ہو سکتا ہے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
- ١٦...... ”خدا ایسے شخص کو دوبارہ دنیا میں نہیں لا سکتا جس کے پہلے فتنہ نے ہی دنیا
کو تباہ کیا ہو۔“
(دافع البلاء ص ١٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٥)
- ١٧...... ”آپ کو گالیاں دینے اور بد زبانی کرنے کی اکثر عادت تھی۔ ادنیٰ ادنیٰ
بات میں غصہ آ جاتا تھا۔ اپنے نفس کو جذبات سے روک نہیں سکتے تھے۔ مگر میرے نزدیک آپ کی یہ حرکت جائے افسوس نہیں کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔ یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)
- ١٨...... ”درماندہ انسان کی پیش گوئیاں کیا تھیں۔ صرف یہی کہ زلزلے
آئیں گے۔ قحط پڑیں گے۔ لڑائیاں ہوں گی۔...... نادان اسرائیلی نے ایسی معمولی باتوں کا پیش گوئی کیوں نام رکھا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤، خزائن ج ١١ ص ٢٨٨)
- ١٩...... ”آپ کی عقل بہت موٹی تھی۔ آپ جاہل عورتوں اور عوام الناس کی طرح
مرگی کو بیماری نہیں سمجھتے تھے۔ بلکہ جن کا آسیب خیال کرتے تھے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)
- ٢٠...... ”نہایت شرم کی بات ہے کہ آپ نے پہاڑی تعلیم کو جو انجیل کا مغز کہلاتی
ہے یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا ہے اور پھر ایسا ظاہر کیا کہ گویا یہ میری تعلیم ہے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)
- ٢١...... ”آپ کا ایک یہودی استاد تھا جس سے آپ نے تورات کو سبقاً سبقاً پڑھا
تھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ یا تو قدرت نے آپ کو زیرکی سے کچھ حصہ نہیں دیا تھا اور یا استاد کی شرارت ہے کہ اس نے آپ کو سادہ لوح رکھا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)
- ٢٢....... ”آپ علمی اور عملی قویٰ میں بہت کچے تھے اسی وجہ سے آپ ایک مرتبہ
شیطان کے پیچھے پیچھے چلے گئے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)
- ٢٣....... ”ایک فاضل پادری فرماتے ہیں کہ آپ کو اپنی تمام زندگی میں تین مرتبہ
شیطانی الہام ہوا۔ چنانچہ ایک مرتبہ آپ اسی الہام سے خدا کے منکر ہونے کے لئے بھی تیار ہو گئے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)
- ٢٤....... ”آپ کی انہیں حرکات سے آپ کے حقیقی بھائی آپ سے سخت ناراض
رہتے تھے۔ ان کو یقین تھا کہ آپ کے دماغ میں ضرور کچھ خلل ہے اور ہمیشہ چاہتے تھے کہ کسی شفاخانہ میں آپ کا باقاعدہ علاج ہو۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)
- ٢٥....... ”عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے
کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا اور اسی دن سے آپ نے معجزہ مانگنے والوں کو گندی گالیاں دیں اور ان کو حرام کار اور حرام کی اولاد ٹھہرایا۔ اسی روز سے شریفوں نے آپ سے کنارہ کیا اور نہ چاہا کہ معجزہ مانگ کر حرام کار اور حرام کی اولاد بنیں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)
- ٢٦....... ”چاہئے تھا کہ وہ ایسی لاف و گزاف سے اپنی زبان کو بچائے اور اسی پہلی
بات پر قائم رہے کہ میری بادشاہت دنیا کی بادشاہت نہیں۔ مگر نفسانی جذبات کی وجہ سے صبر نہ کر سکے اور اپنے پہلے پہلو میں ناکامی دیکھ کر ایک اور چال اختیار کی اور پھر جب باغی ہونے کے شبہ میں پکڑے گئے تو پھر اپنے تئیں بغاوت کے الزام سے بچنے کے لئے وہی پہلا پہلو اختیار کیا دعویٰ خدائی کا اور پھر یہ چال بازیاں جائے تعجب ہے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٣، خزائن ج ١١ ص ایضاً)
- ٢٧....... ”ساری رات آنکھوں میں رو رو کر نکالی پھر بھی دعا منظور نہ ہوئی۔ ایلی
ایلی کہتے جان دی۔ باپ کو کچھ بھی رحم نہ آیا۔ اکثر پیش گوئیاں پوری نہ ہوئیں معجزات پر تالاب نے دھبہ لگایا۔ فقیہوں نے پکڑا اور خوب پکڑا۔ کچھ پیش نہ گئی۔ ایلیاء کی تاویل میں کچھ عمدہ جواب بن نہ پڑا اور پیش گوئی کو آپ نے ظاہر الفاظ میں پورا کرنے کے لئے ایلیاء کو زندہ کر کے دکھلا نہ سکا اور لما سبقتنی کہہ کر بصد حسرت اس عالم کو چھوڑا ایسے خداؤں سے تو ہندوؤں کا رامچندر ہی اچھا ہے جس نے جیتے جی راون سے اپنا بدلہ لے لیا۔“
(نورالقرآن ص ٢٥ حاشیہ، خزائن ج ٩ ص ٣٥٤)
- ٢٨....... ”جس نے خود اقرار کیا کہ میں نیک نہیں۔ جس نے شراب خوری اور قمار
بازی کھلے طور پر دوسروں کی عورتوں کو دیکھنا جائز رکھ کر بلکہ آپ ایک بدکار کنجری سے اپنے سر پر
”آپ علمی اور عملی قوی میں بہت کچے تھے اسی وجہ سے آپ ایک مرتبہ پیچھے چلے گئے ۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦ حاشیہ ،خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)
”ایک فاضل پادری فرماتے ہیں کہ آپ کو اپنی تمام زندگی میں تین مرتبہ چنانچہ ایک مرتبہ آپ اسی الہام سے خدا کے منکر ہونے کے لئے بھی تیار
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦ حاشیہ ،خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)
”آپ کی انہیں حرکات سے آپ کے حقیقی بھائی آپ سے سخت ناراض یقین تھا کہ آپ کے دماغ میں ضرور کچھ خلل ہے اور ہمیشہ چاہتے تھے کہ کسی باقاعدہ علاج ہو۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦ حاشیہ ،خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)
”عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے فائدہ نہیں ہوا اور اسی دن سے آپ نے معجزہ مانگنے والوں کو گندی گالیاں دیں اور حرام کی اولاد ٹھہرایا۔ اسی روز سے شریفوں نے آپ سے کنارہ کیا اور نہ چاہا کہ زنا کار اور حرام کی اولاد بنیں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦ حاشیہ ،خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)
”چاہئے تھا کہ وہ ایسی لاف و گزاف سے اپنی زبان کو بچائے اور اسی پہلی میری بادشاہت دنیا کی بادشاہت نہیں۔ مگر نفسانی جذبات کی وجہ سے صبر نہ کر پہلو میں ناکامی دیکھ کر ایک اور چال اختیار کی اور پھر جب باغی ہونے کے شبہ کر اپنے تئیں بغاوت کے الزام سے بچنے کے لئے وہی پہلا پہلو اختیار کیا دعویٰ چال بازیاں جائے تعجب ہے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٣، خزائن ج ١١ ص ایضاً)
”ساری رات آنکھوں میں رو رو کر نکالی پھر بھی دعاء منظور نہ ہوئی۔ ایلی ۔ باپ کو کچھ بھی رحم نہ آیا۔ اکثر پیش گوئیاں پوری نہ ہوئیں معجزات پر تالاب والوں نے پکڑا اور خوب پکڑا۔ کچھ پیش نہ گئی۔ ایلیاء کی تاویل میں کچھ عمدہ جواب آئی تو آپ نے ظاہر الفاظ میں پورا کرنے کے لئے ایلیاء کو زندہ کر کے دکھلا نہ سکا صد حسرت اس عالم کو چھوڑا ایسے خداؤں سے تو ہندوؤں کا رامچندر ہی اچھا ہے خون سے اپنا بدلہ لے لیا۔“
(نور القرآن ص ٢٥ حاشیہ ،خزائن ج ٩ ص ٣٥٤)
”جس نے خود اقرار کیا کہ میں نیک نہیں۔ جس نے شراب خوری اور قمار بازوں کی عورتوں کو دیکھنا جائز رکھ کر بلکہ آپ ایک بدکار کنجری سے اپنے سر پر
حرام کی کمائی کا تیل ڈلوا کر اور اس کو یہ موقعہ دے کر کہ وہ اس کے بدن سے بدن لگاوے۔ اپنی تمام امت کو اجازت دے دی کہ ان باتوں میں کوئی بات بھی حرام نہیں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٣٨ ،خزائن ج ١١ ص ٣٨)
- .......٢٩ ”لیکن مسیح کی راست بازی اپنے زمانہ کے راست بازوں سے بڑھ کر
ثابت نہیں ہوئی۔ بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا۔ مگر مسیح کا نام نہ رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے اس کا نام رکھنے سے مانع تھے۔“
(دافع البلاء ص ٤ حاشیہ ،خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠)
- .......٣٠ ”یسوع (یعنی عیسیٰ علیہ السلام) نے ایک کنجری کو بغل میں لیا اور عطر
ملوایا۔“
(نور القرآن ص ٤ ملخص ،خزائن ج ٩ ص ٣٤٩)
- .......٣١ ”مسیح کی راست بازی اپنے زمانے کے راست بازوں سے بڑھ کر
ثابت نہیں ہوئی۔“
(دافع البلاء ص ٤ ،خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠)
- .......٣٢ ”مسیح کا بن باپ پیدا ہونا میری نگاہ میں کچھ عجوبہ بات نہیں۔ برسات
کے موسم میں باہر جا کر دیکھئے کتنے کیڑے مکوڑے بغیر ماں باپ پیدا ہوتے ہیں۔“
(جنگ مقدس ص ٩٨ ملخص ،خزائن ج ٦ ص ٢٨٠)
- .......٣٣ ”حضرت مسیح ہدایت توحید اور دینی استقامتوں کو دلوں میں قائم کرنے
میں قریب قریب نا کام رہے۔“
(ازالۃ اوہام ص ٣١٠ حاشیہ ،خزائن ج ٣ ص ٢٥٨)
- .......٣٤ ”ایک دفعہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین پر آئے تھے تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ
کئی کروڑ مشرک دنیا میں ہو گئے۔ دوبارہ آکر وہ دنیا میں کیا بنائیں گے کہ لوگ ان کے آنے کے خواہشمند ہوں۔“
(بدر ٩ مئی ١٩٠٧ء ،ملفوظات ج ٩ ص ٤٣٤)
- .......٣٥ ”مسیح کا چال چلن کیا تھا ایک کھاؤ پیو شرابی نہ زاہد نہ عابد نہ حق کا پرستار
متکبر خود بین خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔“
(مکتوبات احمدیہ ج ٣ ص ٢٣، ٢٤)
- .......٣٦ ”افسوس ہے کہ جس قدر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اجتہادات میں
غلطیاں ہیں۔ ان کی نظیر کسی اور نبی میں پائی نہیں جاتی ۔ شاید خدائی کے لئے یہ بھی ایک شرط ہوگی۔
مگر ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان کے بہت سے غلط اجتہادوں اور غلط پیش گوئیوں کی وجہ سے ان کی پیغمبری مشتبہ ہو گئی ہے۔ ہر گز نہیں۔“
(اعجاز احمدی ص ٢٥، خزائن ج ١٩ ص ١٣٥)
- ٣٧...... ”ممکن ہے کہ آپ نے معمولی تدبیر کے ساتھ کسی شب کور وغیرہ کو اچھا کیا
ہو یا کسی اور ایسی بیماری کا علاج کیا ہو۔ مگر آپ کی بدقسمتی سے اسی زمانہ میں ایک تالاب بھی موجود تھا جس سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے۔ خیال ہو سکتا ہے کہ اس تالاب کی مٹی آپ بھی استعمال کرتے ہوں گے۔ اس تالاب سے آپ کے معجزات کی پوری پوری حقیقت کھلتی ہے اور اسی تالاب نے فیصلہ کر دیا کہ اگر آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا ہو تو وہ معجزہ آپ کا نہیں بلکہ اسی تالاب کا معجزہ ہے اور آپ کے ہاتھ میں سوائے مکر و فریب کے کچھ نہیں تھا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
- ٣٨...... ”یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔ جن جن
پیش گوئیوں کا اپنی ذات کے متعلق پایا جانا آپ نے فرمایا ہے۔ ان کتابوں میں ان کا نام ونشان نہیں پایا جاتا۔ بلکہ وہ اوروں کے حق میں تھیں۔ جو آپ کے تولد سے پہلے پوری ہو گئیں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)
- ٣٩...... ”ہائے کس کے آگے یہ ماتم لے جائیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین
پیش گوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں اور آج کون زمین پر ہے جو اس عقدہ کو حل کر سکے۔“
(اعجاز احمدی ص ١٤، خزائن ج ١٩ ص ١٢١)
- ٤٠...... ”بہر حال مسیح کی یہ تربی کارروائیاں زمانہ کے مناسب حال بطور خاص
مصلحت کے تھیں۔ مگر یاد رکھنا چاہئے کہ یہ عمل ایسا قدر کے لائق نہیں۔ جیسا کہ عوام الناس اس کو خیال کرتے ہیں۔ اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدا تعالیٰ کے فضل وتوفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت مسیح ابن مریم سے کم نہ رہتا۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٠٩، خزائن ج ٣ ص ٢٥٨، ٢٥٧)
مسیح ، یسوع، عیسیٰ علیہ السلام
ایک ہی شخص کے تین نام اظہر من الشمس ہیں۔
- ١...... ”ڈوئی یسوع مسیح کو خدا جانتا ہے۔ مگر میں اس کو ایک بندہ عاجز مگر نبی
جانتا ہوں۔“
(رسالہ ریویو ستمبر ١٩٠٢ء)
یں کہ ان کے بہت سے غلط اجتہادوں اور غلط پیش گوئیوں کی وجہ سے ان کی پیغمبری ہرگز نہیں۔“
(اعجاز احمدی ص ٢٥، خزائن ج ١٩ ص ١٣٥)
...... ”ممکن ہے کہ آپ نے معمولی تدبیر کے ساتھ کسی شب کور وغیرہ کو اچھا کیا بیماری کا علاج کیا ہو۔ مگر آپ کی بدقسمتی سے اسی زمانہ میں ایک تالاب بھی موجود سے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے۔ خیال ہو سکتا ہے کہ اس تالاب کی مٹی آپ بھی لیں گے۔ اس تالاب سے آپ کے معجزات کی پوری پوری حقیقت کھلتی ہے اور اسی کر دیا کہ اگر آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا ہو تو وہ معجزہ آپ کا نہیں بلکہ اسی اور آپ کے ہاتھ میں سوائے مکر وفریب کے کچھ نہیں تھا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
...... ”یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔ جن جن زات کے متعلق پایا جانا آپ نے فرمایا ہے۔ ان کتابوں میں ان کا نام ونشان وہ اوروں کے حق میں تھیں۔ جو آپ کے تولد سے پہلے پوری ہو گئیں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)
...... ”ہائے کس کے آگے یہ ماتم لے جائیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین ور پر جھوٹی نکلیں اور آج کون زمین پر ہے جو اس عقدہ کو حل کر سکے۔“
(اعجاز احمدی ص ١٤، خزائن ج ١٩ ص ١٢١)
...... ”بہر حال مسیح کی یہ فریبی کارروائیاں زمانہ کے مناسب حال بطور خاص ر یاد رکھنا چاہئے کہ یہ عمل ایسا قدر کے لائق نہیں۔ جیسا کہ عوام الناس اس کو ریہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدا تعالیٰ کے فضل وتوفیق کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت مسیح ابن مریم سے کم نہ رہتا۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٠٩، خزائن ج ٣ ص ٢٥٨، ٢٥٧)
یا علیہ السلام
ں کے تین نام اظہر من الشمس ہیں۔ ”ڈوئی یسوع مسیح کو خدا جانتا ہے۔ مگر میں اس کو ایک بندہ عاجز مگر نبی
(رسالہ ریویو ستمبر ١٩٠٢ء)
- ......٢
من عجب تر از مسیح بے پدر
(ازالہ اوہام ص ٤٧٣، خزائن ج ٣ ص ٤٦٤)
- ......٣ ”جن نبیوں کا اس وجود عصری کے ساتھ آسمان پر جانا تصور کیا گیا ہے وہ
دو ہی ہیں۔ ایک یوحنا جس کا نام ایلیا اور ادریس بھی ہے۔ دوسرے مسیح ابن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔“
(توضیح المرام ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٥٢)
- ......٤ ”اس (خدا) نے مجھے اس بات پر اطلاع دی ہے کہ درحقیقت یسوع مسیح
خدا کے نہایت پیارے اور نیک بندوں میں سے ہے اور ان میں سے ہے جو خدا کے برگزیدہ لوگ ہیں اور ان میں سے ہے جن کو خدا اپنے ہاتھ سے صاف کرتا اور اپنے نور کے سایہ کے نیچے رکھتا ہے۔“
(تحفہ قیصریہ ص ٢٠، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٢)
- ......٥ ”جس قدر عیسائیوں کو حضرت یسوع مسیح سے محبت کرنے کا دعویٰ ہے وہی
دعویٰ مسلمانوں کو بھی ہے۔ گویا آنجناب کا وجود عیسائیوں اور مسلمانوں میں ایک مشترکہ جائیداد کی طرح ہے۔“
(تحفہ قیصریہ ص ٢٣، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٥)
- ......٦ ”ہم اس جگہ یہودیوں کے قول کو ترجیح دیتے ہیں جو کہتے ہیں کہ یسوع
یعنی عیسیٰ، حضرت موسیٰ علیہم السلام کے بعد عین چودھویں صدی میں مدعی نبوت ہوا تھا۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٨٨ حاشیہ، خزائن ج ٢١ ص ٣٥٩)
- ......٧ ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو یسوع اور جیزس، یا یوز آصف کے نام سے بھی
مشہور ہیں یہ ان کا مزار ہے۔“
(راز حقیقت ص ١٩، خزائن ج ١٤ ص ١٧١)
- ......٨ ”وہ نبی جو ہمارے نبی ﷺ سے چھ سو برس پہلے گزرا ہے وہ بگڑ کر یوز
آصف بننا نہایت قرین قیاس ہے۔ کیونکہ جبکہ یسوع کے لفظ کو انگریزی میں بھی جیزس بنالیا ہے تو یوز آصف میں جیزس سے کچھ زیادہ تغیر نہیں۔“
(راز حقیقت ص ١٥ حاشیہ، خزائن ج ١٤ ص ١٦٧)
ناظرین کرام! میں نے چالیس حوالے مرزا قادیانی کی اپنی کتابوں سے ایسے پیش کئے ہیں جن میں نہایت واضح طور پر مسیح علیہ السلام پر اوباشانہ اور سوقیانہ حملے اور بازاری باتوں کو بڑی فراخ دلی سے استعمال کیا گیا ہے۔ امت مرزائیہ اس کا یہ جواب دیا کرتی ہے کہ یہ الزامی جواب ہیں جو مرزا قادیانی نے عیسائیوں کو دیئے اور ان کا تعلق عیسیٰ علیہ السلام کی ذات گرامی سے نہیں
ہوئے۔ مگر فرقان حمید نے صرف پچیس سے ہمارا تعارف کرایا۔ اب کیا ہم دوسروں کو گالیاں دیں اور وہ بھی بلا سوچے سمجھے۔ چاند پر خاک جھونکنے سے اپنی پیشانی پر ہی پڑتی ہے۔ مرزا قادیانی کرشن کو نبی کہتے ہیں۔ حالانکہ قرآن کریم یہاں بھی خاموش ہے۔ پھر ذرا ان کے حق میں بھی تو ایسی فراخ دلی سے کام لیا ہوتا۔ مگر چونکہ جانتے تھے کہ اس کا نتیجہ تلخ ہوگا۔ اس لئے کہیں اہل ہنود چھٹی کا دودھ نہ یاد دلائیں۔ خاموش رہے اور برسنے کا نام نہیں لیا۔ بلکہ جھوٹی باتیں یہاں تک کہ سرکار مدینہ ﷺ کی حدیث بتا کر انہیں نبی قرار دے دیا اور پرے بھی توسیع کے حق میں ایسا برسے کہ اپنا اور اپنے نام لیواؤں کا ایمان ڈھانپ کر شمالی منارۃ المسیح میں پہنچا دیا اور وہ بھی اس کے حق میں جسے قرآن صامت وجيهاً في الدنيا والآخرة قرار دیتا ہے۔
الٰہی کہاں جائے بلبل غریب
حالانکہ مغالطہ دہی سے قطع نظر کرتے ہوئے مندرجہ ذیل حوالہ جات سے معاملہ روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ نہ یہاں کسی شاہد کی ضرورت ہے اور نہ ہی کسی اور کی۔ حیلہ طرازی کی حاجت کیونکہ جب کہ مرزا آنجہانی کے نقطہ نگاہ میں عیسیٰ علیہ السلام مسیح اور یسوع ایک ہی مبارک ہستی کے نام ہیں تو کسی باتونی کی لن ترانیاں اور دجل آمیزیاں چہ معنی دارد قاعدہ کلیہ ہے کہ آدمی اپنے قول وفعل سے خود پکڑا جاتا ہے۔ جب کہ مرزا قادیانی کو یہ تسلیم ہے کہ میں نے عمداً مسیح علیہ السلام کو گالیاں دیں تو اب باقی کون سی بات ایسی ہے۔ جس کو چھپانا جائے۔ کاش امت مرزائیہ تعصب کی عینک سے بے نیاز ہو کر ان کو پڑھے اور پھر رسول اکرم ﷺ کی وہ صحیح حدیث جس میں سرکار مدینہ ﷺ نے فرمایا ہے ”لو بدا لكم موسى فاتبعتموه وتركتموني لضللتم (مشكوة ص٣٢، باب الاعتصام بالكتاب والسنة) “ اگر موسیٰ علیہ السلام بھی آجائیں اور تم ان کی اتباع کرو اور میری پیروی چھوڑ دو تو البتہ ضرور گمراہ ہو جاؤ۔ دیکھیے اور قرآن ناطق کے بعد قرآن صامت کے حکم پر بلا چون و چرا سر تسلیم خم کرتا ہوا شیطانی جوئے کو تار تار کرتا ہوا رحمانی جوا زیب گلو کرے۔ ”آمـنـا بـالله وملئكته وكتبه ورسله لا نفرق بين احد من رسلـه وقالوا سمعنا واطعنا غفرانك ربنا واليك المصير (بقرة:٢٨٥)“ ایمان لائے ہم اللہ تعالیٰ پر اور فرشتوں پر اور کتابوں اس کی پر اور رسولوں اس کے پر نہیں فرق کرتے ہم درمیان پیغمبروں اس کے سے اور کہتے ہیں ہم کہ سنا ہم نے اور اطاعت کی۔ ہمیں بخش دے اے رب ہمارے، اور تیری طرف ہی ہم نے پھر جانا ہے۔ ﴿
مرزا قادیانی کا مسلمہ اصول
”منجملہ اصولوں کے جن پر مجھے قائم کیا گیا ہے۔ ایک یہ ہے کہ خدا نے مجھے اطلاع دی کہ دنیا میں جس قدر نبیوں کی معرفت مذہب پھیل گئے ہیں اور استحکام پکڑ گئے ہیں اور ایک حصہ دنیا پر محیط ہیں اور ایک عمر پا گئے ہیں اور ایک زمانہ ان پر گزر گیا ہے ان میں سے کوئی مذہب بھی اپنی اصلیت کی رو سے جھوٹا نہیں اور نہ ان نبیوں میں کوئی نبی جھوٹا ہے۔“
(تحفہ قیصریہ ص ٤، خزائن ج ١٢ص ٢٥٦)
”اس قاعدہ کے لحاظ سے ہمیں چاہئے کہ ہم ان تمام لوگوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھیں اور اس کو سچا سمجھیں۔ جنہوں نے کسی زمانہ میں نبوت کا دعویٰ کیا پھر وہ دعویٰ اس کا جڑ پکڑ گیا اور ان کا مذہب دنیا میں پھیل گیا اور استحکام پکڑ گیا اور ایک عمر پا گیا۔“
(تحفہ قیصریہ ص ٥، خزائن ج ١٢ص ٢٥٨)
آخری فیصلہ کسی نبی کو گالی مت دو
تحفہ قیصریہ میں تحریر فرماتے ہیں کہ:
”اگر ہمیں کسی مذہب کی تعلیم پر اعتراض ہو تو ہمیں نہیں چاہئے کہ اس مذہب کے نبی کی عزت پر حملہ کریں اور نہ یہ کہ اس کو برے لفظ سے یاد کریں۔ بلکہ چاہئے کہ صرف اس قوم کے موجودہ دستور العمل پر اعتراض کریں اور یقین رکھیں کہ وہ نبی جو خدا تعالیٰ کی طرف سے کروڑہا انسانوں میں عزت پا گیا اور صدہا برسوں سے اس کی قبولیت چلی آتی ہے یہی پختہ دلیل اس کی منجانب اللہ ہونے کی ہے۔ اگر وہ خدا کا مقبول نہ ہوتا تو اس قدر عزت نہ پاتا۔“
(تحفہ قیصریہ ص ٨، خزائن ج ١٢ ص ٢٦٠)
اس انوکھی منطق اور نرالے اصول سے امت مرزائی کو تمام وہ ادیان ماننے چاہئیں جن سے آئے دن طرح طرح کی چھیڑ خانیاں رہتی ہیں۔ مثلاً عیسائی، سکھ، اہل ہنود اور بقول مرزا یہ بہت مدت کے مذہب ہیں اور ان کے لاکھوں کروڑوں پیروکار ہیں۔ اس لئے ان کے ریفارمر سچے ہیں اور بقیہ مجوسی، گبر، زرتشتی، بہائی اور ہزاروں مذہب جن کے پیروکار ایک مدت سے ان کو تسلیم کر چکے ہیں تمام حق پر ہیں۔
امت مرزائیہ سے ایک سوال
مسیح قادیانی کے نونہالو! تمہارا مضحکہ خیز بودا اصول کہ عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں کوئی
توہین آمیز کلمہ نہیں کہا گیا۔ بلکہ یسوع کو کہا گیا ہے۔ اس پر ایک ایسا سوال ہے جو یقیناً حواس درست کر دے۔ مہربانی کر کے سینہ پر ہاتھ رکھ کر سنیں اور جواب کا یارا ہو تو نوازش ہوگی۔ وہ یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو متنبّی قادیان یا مسیلمہ ثانی وغیرہ خطابات سے اگر کوئی صاحب خفا بھی ہوں تو اس کے جواب میں اگر یہ کہہ دیا جائے کہ مرزا غلام احمد کو گالیاں نہیں دیں گئیں۔ بلکہ متنبّی قادیان کو دیں ہیں تو آپ کو کچھ اعتراض تو نہ ہوگا اور کیا اس جواب پر آپ کو یقین آجائے گا کہ مرزا قادیانی کو مخاطب نہیں کیا گیا بلکہ کسی اور کو۔
ہمارے خیال میں یقیناً آپ مرزا قادیانی کو ہی تصور کریں گے اور یہ موہوم جواب زیادہ زخموں پر نمک پاشی کرے گا اور آپ ضرور کہہ دیں گے کہ تو جھوٹا ہے اور اس پر بزدل و بدشعار بھی ہے۔ کیوں ایک تو تو نے گالیاں دیں اور عذر ایں اور اب قانون شکنجہ یا حکومت کی سخت گیری سے مرعوب ہو کر جھوٹ کا مرتکب ہو رہا ہے اور چونکہ یہ غیر کی آنکھ کا تنکا ہے۔ اس لئے ضرور کھٹکے گا، کاش اپنی آنکھ کا شہتیر بھی دکھلائی دیتا۔ حالانکہ تمہارے مرزا تو وہ تھے جنہوں نے کوئی بات ایسی نہیں کی جو ذو معنی نہ ہو اور اپنے کئے کی سزا خود تجویز نہ فرمائی ہو۔ مگر شاید قولہ تعالیٰ یقولون مالا یفعلون مرزا قادیانی کے لئے ہی مختص ہے۔ خود ہی تعلیم دیتے ہیں کہ کسی نبی کو برا نہ کہو اور گالیاں سن کے دعا دیتا ہوں کا بھی اعادہ کرتے ہیں اور پھر مماثلت تامّہ کے بھی دعویدار ہیں۔ مگر افسوس گالیاں بھی وہ دیں کہ لکھنؤ کی بھٹیاریاں استاد مانیں اور بازاری روایات کا ریکارڈ مات ہو جائے افسوس تو یہ ہے کہ وہ جس اولوالعزم ہستی کو پانی پی پی کر کوس رہے ہیں۔ اس سے متعدد دفعہ ملاقات بھی کر چکے ہیں۔ پھر خدا معلوم کہ توازنِ دماغ خواہ مخواہ کیوں درہم برہم ہوا جاتا ہے۔
مسیح بھیڑوں کے لئے وہ ملاقات کا نقشہ بھی ہم ہی پیش کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ حسن عقیدت کے غلام سوائے ہر بات پر واہ واہ اور آمنا کہنے کے عادی ہو چکے ہیں اور یہ بھی یاد دلائے دیتے ہیں کہ اس وقت ملکہ وقت سے خطاب ہوا ہے اس لئے پارہ کی ڈگری دسمبر کے آخری اوقات میں ہے اور ڈر ہے کہ کہیں نبوت کا قصر ملکہ معظمہ کے ایک اشارہ پر بنیادوں سے نہ مسمار کر دیا جائے۔
مرزا آنجہانی کی مسیح علیہ السلام سے ملاقات
قادیانی (تحفہ قیصریہ ص ٢١، ٢٢، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٣، ٢٧٤) پر فرماتے ہیں کہ:
”خدا کی عجیب باتوں سے جو مجھے ملی ہیں ایک یہ بھی ہے جو میں نے عین بیداری میں
کیا گیا۔ بلکہ یسوع کو کہا گیا ہے۔ اس پر ایک ایسا سوال ہے جو یقیناً حواس کو گم کر کے سینہ پر ہاتھ رکھ کر سنیں اور جواب کا یارا ہو تو نوازش ہوگی۔ وہ یہ ہے کہ متنبئ قادیان یا مسیلمہ ثانی وغیرہ خطابات سے اگر کوئی صاحب خفا بھی ہوں اگر یہ کہہ دیا جائے کہ مرزا غلام احمد کو گالیاں نہیں دیں گئیں۔ بلکہ متنبئ پر آپ کو کچھ اعتراض تو نہ ہوگا اور کیا اس جواب پر آپ کو یقین آجائے گا کہ یہ اعتراض ان پر نہیں کیا گیا بلکہ کسی اور پر۔
تو دل میں یقیناً آپ مرزا قادیانی کو ہی تصور کریں گے اور یہ موہوم جواب آپ کی تشفی کرے گا اور آپ ضرور کہہ دیں گے کہ تو جھوٹا ہے اور اس پر بزدل کہ ایک تو تو نے گالیاں دیں اور عمداً دیں اور اب قانون کے شکنجہ یا حکومت کی زد میں آ کر جھوٹ کا مرتکب ہو رہا ہے اور چونکہ یہ غیر کی آنکھ کا تنکا ہے۔ اس لئے اسے اپنی آنکھ کا شہتیر بھی نہیں دکھائی دیتا۔ حالانکہ تمہارے مرزا تو وہ تھے جنہوں نے کوئی گالی ایسی نہیں دی جو ذو معنی نہ ہو اور اپنے کئے کی سزا خود تجویز نہ فرمائی ہو۔ مگر شاید آیت لم تقولون ما لا تفعلون مرزا قادیانی کے لئے ہی مختص ہے۔ خود ہی تعلیم دیتے ہیں کہ گالیاں سن کے دعا دیتا ہوں کا بھی اعادہ کرتے ہیں اور پھر مماثلت کا دعوٰی ہے۔ مگر افسوس گالیاں بھی وہ دیں کہ لکھنؤ کی بھٹیاریاں استاد مانیں اور سن کر شرمائیں۔ افسوس تو یہ ہے کہ وہ جس اولوالعزم ہستی کو پانی پی پی کر کوسے۔ اس سے متعدد دفعہ ملاقات بھی کر چکے ہیں۔ پھر خدا معلوم کہ توازنِ دماغ کہاں گم ہوا جاتا ہے۔
خیر اس کے لئے وہ ملاقات کا نقشہ بھی ہم ہی پیش کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ حضرت تو ہر بات پر واہ واہ اور آمنا کہنے کے عادی ہو چکے ہیں اور یہ بھی یاد رہے کہ اس وقت ملکہ وقت سے خطاب ہوا ہے اس لئے پارہ کی ڈگری دسمبر کے مہینے میں گر گئی ہے۔ ورنہ ڈر ہے کہ کہیں نبوت کا قصر ملکہ معظمہ کے ایک اشارہ پر بنیادوں سے نہ اکھڑ جائے۔
مسیح علیہ السلام سے ملاقات
مرزا قادیانی (تحفہ قیصریہ ص ٢١،٢٢،خزائن ج ١٢ ص ٢٧٤،٢٧٣) پر فرماتے ہیں کہ: ان عجیب باتوں سے جو مجھے ملی ہیں ایک یہ بھی ہے جو میں نے عین بیداری میں
جو کشفی بیداری کہلاتی ہے یسوع مسیح سے کئی دفعہ ملاقات کی اور اس سے باتیں کر کے اس کے اصل دعوٰی اور تعلیم کا حال دریافت کیا۔ یہ ایک بڑی بات ہے جو توجہ کے لائق ہے کہ حضرت یسوع مسیح ان چند عقائد سے جو کفارہ اور تثلیث اور الوہیت ہے۔ ایسے متنفر پائے جاتے ہیں کہ گویا ایک بھاری افتراء ہے جو ان پر کیا گیا ہے وہ یہی ہے…… میں جانتا ہوں کہ جو کچھ آج کل عیسائیت کے بارے میں سکھایا جاتا ہے۔ یہ حضرت یسوع مسیح کی حقیقی تعلیم نہیں مجھے یقین ہے کہ اگر حضرت مسیح دنیا میں پھر آتے تو وہ اس تعلیم کو شناخت بھی نہ کر سکتے۔“
مرزا آنجہانی قادیانی باوجود یہ کہ مسیح علیہ السلام سے متعدد دفعہ بیداری میں ملاقی ہوئے اور انہیں تثلیث والوہیت سے متنفر پایا۔ پھر کس لئے ان کے حق میں ان کے خاندان کے حق میں بازاری روایات استعمال کیں اور اگر لاعلمی اور نالائقی سے اس کا اعادہ بھی ہو گیا تھا تو ملاقات کے بعد کیوں نہ اس کی تردید کی کہ سہواً و نادانستہ یہ بے لذت گناہ اور ناقابلِ عفو عصیاں ہوا۔ جس سے نوے کروڑ فرزندانِ تثلیث کے دل مجروح ہو گئے اور گورنمنٹ برطانیہ کی دل شکنی ہوئی اور چالیس کروڑ مسلمانوں کے دلوں پر نمک پاشی ہوئی اور غداروں میں شمار ہوا۔ اس لئے میں اپنے کئے پر پچھتاتا ہوں۔ بڑا بے ادب ہوں۔ سزا چاہتا ہوں۔
مگر افسوس ایسا نہیں کیا گیا۔ بلکہ معاملہ فہمی کے بعد عمداً وارادۃً اس غلط وطیرے پر ڈٹے رہے۔ حالانکہ اس کی سزا کے لئے جہنم کافی نہیں۔ کاش گورنمنٹ فرض شناس ہوتی۔ مگر ہمارے خیال میں ایک دیہاتی سمجھ کر باز پرس نہیں کی یا ایک مراقی سمجھ کر خاموش رہنے کو ترجیح دی گئی۔ اب اپنے کئے کی سزا بھی خود ہی تجویز فرماتے ہیں وہ بھی ملاحظہ کریں۔
مرزا آنجہانی مسیلمہ ثانی کا سرکلر
”پس ایسے عقیدے والے لوگ جو قوموں کے نبیوں کو کاذب قرار دے کر برا کہتے رہتے ہیں۔ ہمیشہ صلح کاری اور امن کے دشمن ہوتے ہیں۔ کیونکہ قوموں کے بزرگوں کو گالیاں نکالنا اس سے بڑھ کر فتنہ انگیز اور کوئی بات نہیں۔ بسا اوقات انسان مرنا بھی پسند کرتا ہے۔ مگر نہیں چاہتا کہ اس کے پیشوا کو برا کہا جائے۔“
(تحفہ قیصریہ ص ٨ ،خزائن ج ١٢ ص ٢٦٠)
دوسرا سرکلر
”جن لغزشوں کا انبیاء علیہ السلام کی نسبت خدا تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے۔ جیسا کہ آدم
علیہ السلام کا دانہ کھانا۔ اگر تحقیر کی راہ سے ان کا ذکر کیا جائے تو یہ موجب کفر اور سلب ایمان ہے۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٧١، خزائن ج ٢١ ص ٩١)
مرزائیو ! سینے پر ہاتھ رکھ کر کہو کہ تمہارے مرزا آنجہانی نے جو یہ بے لذت گناہ کئے اور طرح طرح کے افتراء جوڑے اور بے پر کے بہتان تراشے۔ ان کی کیا وجہ تھی۔ حالانکہ مرزا قادیانی کے نزدیک حضرت یسوع مسیح خدا تعالیٰ کے سچے پیغمبر ہیں اور فرزندان تثلیث جو کچھ بھی ان کی طرف منسوب کرتے ہیں وہ غلط ہے اور حضرت یسوع اس سے قطعاً بری الذمہ ہیں اور عیسائی تعلیم کی وجہ سے حضرت یسوع پر اعتراض کرنا ان کی اہانت ہے اور انبیاء علیہم السلام کی اہانت و تحقیر موجب کفر اور سلب ایمان ہے۔
ان حالات کی روشنی میں مرزا قادیانی کا فرزندان تثلیث کے مسیح کو گالیاں دینا اور اوباشانہ روایات استعمال کرنا اور پادریوں کی غلط تعلیم کو مسیح علیہ السلام کی طرف منسوب کرنا اور سلب ایمان کا یقینی باعث ہے اور ایسے انسان کے لئے جو ان روایات کا مرتکب ہو رب کعبہ کے ہاں حتمی وعدہ ہے کہ وہ ابدالآباد تک جہنم میں جلتا رہے گا۔
چٹکیاں اور گدگدیاں
مرزا قادیانی کا اقرار کہ میں نے مسیح علیہ السلام کو عمداً گالیاں دیں۔ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٨ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩٢) پر فرماتے ہیں کہ:
”کہ ہمیں پادریوں کے یسوع اور اس کے چال چلن سے کچھ غرض نہ تھی۔ انہوں نے ناحق ہمارے نبی ﷺ کو گالیاں دے کر ہمیں آمادہ کیا کہ ان کے یسوع کا کچھ تھوڑا سا حال ان پر ظاہر کریں۔ چنانچہ اسی پلید نالائق فتح مسیح نے اپنے خط میں جو میرے نام بھیجا ہے۔ آنحضرت ﷺ کو زانی لکھا ہے اور اس کے علاوہ بہت گالیاں دی ہیں۔ پس اس طرح اس نامراد خبیث فرقہ نے جو مردہ پرست ہیں ہمیں اس بات کے لئے مجبور کر دیا ہے کہ ہم بھی ان کے یسوع کے کسی قدر حالات لکھیں۔“
پھر (ضمیمہ انجام آتھم ص ٩ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩٢) پر تحریر کرتے ہیں کہ:
”پادری اب بھی اپنی پالیسی بدل دیں اور عہد کر لیں کہ آئندہ ہمارے نبی ﷺ کو گالیاں نہیں نکالیں گے تو ہم بھی عہد کریں گے کہ آئندہ نرم الفاظ کے ساتھ ان سے گفتگو ہوگی۔ ورنہ جو کچھ کہیں گے اس کا جواب سنیں گے۔“
کاش ، پنجابی نبی کو یہ معلوم ہوتا کہ اسلامی تعلیم اس کی ہرگز اجازت نہیں دیتی کہ اگر کسی
یہودی نے نادانی اور کمینگی سے ان پاکوں کے خطاب کیا تو اس کے جواب میں مسیح علیہ السلام کو ایسا خیال کرنا گناہ ہے۔ کیونکہ اس میں مسیح علیہ غیرت ایمانی ہوتی تو گالیاں دینے کی بجائے پادر کے معصوم پیغمبر کے حق میں بے نقط سناتے۔ اگر اور اپنے خسران کا سامان بہم پہنچایا تو کیا مرزا قاد پیدا؟ یقیناً دونوں نے خذلان وخسران حاصل کی حالانکہ مرزا قادیانی بھی اس غلط وطیر سفیہانہ اور جاہلانہ حرکت قرار دیتے ہیں۔ چ ت کے نام دیتے ہیں۔
مرزا قادیانی کا سر کھلا امت مرزائیہ کے ن
”واضح ہو کہ کسی شخص نے ایک کارڈ و اپنے تئیں میری جماعت کی طرف منسوب کر لاتے ہیں کہ نعوذ باللہ حسین بوجہ اس کے کہ اس اور یزید حق پر تھا۔ لعنۃ اللہ علی الکاذبین مجھے امید سے ایسے خبیث الفاظ نکلے ہوں ۔ مگر ساتھ اس کسی شیعہ نے اپنے دریدہ دہنی اور لعن طعن میں مجھ تو اس بے تمیز نے سفیہانہ بات کے جواب میں مسلمان کسی عیسائی کی بد زبانی کے مقابل پر جو آ علیہ السلام کی نسبت کچھ سخت الفاظ کہہ دیتے ہیں۔
مرزا قادیانی اس عبارت میں صاف اور عیسائی کے مقابل حضرت امام حسین اور عیسیٰ جاہلانہ حرکت قرار دیتے ہیں۔ اب سوال تو صرف کے تحت میں آ گئے یا بچ گئے۔ یقیناً اس کا جواب ا
قارئین کرام! اب ایک اور لطف
پادری نے نادانی اور کمینگی سے اس پاکوں کے پاک پر کوئی بہتان لگایا یا کسی اور سفیہانہ فعل کا ارتکاب کیا تو اس کے جواب میں مسیح علیہ السلام کو تختہ مشق بنایا جائے۔ یہ ایک ایسا غلط اصول ہے جس کا خیال کرنا گناہ ہے۔ کیونکہ اس میں مسیح علیہ السلام کا کیا قصور ہے۔ کاش مرزا قادیانی میں غیرت ایمانی ہوتی تو گالیاں دینے کی بجائے پادری فتح مسیح سے دو دو ہاتھ کرتے۔ نہ یہ کہ اپنے ہی ایک معصوم پیغمبر کے حق میں بے نقط سناتے۔ اگر پادری موصوف نے سرور کائنات کو گالیاں دے کر اپنے خسران کا سامان بہم پہنچایا تو کیا مرزا قادیانی نے مسیح علیہ السلام کو گالیاں دے کر جہنم کو نہ خریدا؟ یقیناً دونوں نے خذلان وخسران حاصل کیا۔
حالانکہ مرزا قادیانی بھی اس غلط وطیرہ کو صحیح طریق نہ سمجھتے ہوئے ایسے مرتکب کے حق میں سفیہانہ اور جاہلانہ حرکت قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی اس کے حق میں ایک اور سرکلر امت کے نام دیتے ہیں۔
مرزا قادیانی کا سرکلر امت مرزائیہ کے نام
”واضح ہو کہ کسی شخص کے ایک کارڈ کے ذریعہ مجھے اطلاع ملی ہے کہ بعض نادان آدمی جو اپنے تئیں میری جماعت کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ حضرت امام حسینؓ کی نسبت یہ کلمات منہ پر لاتے ہیں کہ نعوذ باللہ حسین بوجہ اس کے کہ اس نے خلیفہ وقت یعنی یزید سے بیعت نہیں کی باغی تھا اور یزید حق پر تھا۔ لعنۃ اللہ علی الکاذبین مجھے امید نہیں کہ میری جماعت کے کسی راست باز کے منہ سے ایسے خبیث الفاظ نکلے ہوں۔ مگر ساتھ اس کے میرے دل میں یہ بھی خیال گزرتا ہے کہ چونکہ اکثر شیعہ نے اپنے ورد تبرّے اور لعن طعن میں مجھے بھی شریک کر لیا ہے اس لئے کچھ تعجب نہیں کہ کسی نادان بے تمیز نے سفیہانہ بات کے جواب میں سفیہانہ بات کہہ دی ہو۔ جیسا کہ بعض جاہل مسلمان کسی عیسائی کی بدزبانی کے مقابل پر جو آنحضرتﷺ کی شان میں کرتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت کچھ سخت الفاظ کہہ دیتے ہیں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٤٤)
مرزا قادیانی اس عبارت میں صاف صاف بلا کسی ایچ پیچ کے غیر مبہم الفاظ میں شیعہ اور عیسائی کے مقابل حضرت امام حسینؓ اور عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں سخت کلامی سفیہانہ کلام اور جاہلانہ حرکت قرار دیتے ہیں۔ اب سوال تو صرف یہ ہے کہ کیا مرزا قادیانی اس خود ساختہ اصول کے تحت میں آگئے یا بچ گئے۔ یقیناً اس کا جواب اثبات میں ہو گیا۔
قارئین کرام! اب ایک اور لطف بیان مرزا قادیانی کا ملاحظہ فرمائیں۔ جس میں
مرزا قادیانی کی دورنگی چال دجل کی بھٹی میں ابال کھاتی ہوئی گورنمنٹ برطانیہ کے حضور میں جاں بلب نظر آتی ہے۔
مرزا قادیانی ایک درخواست گورنمنٹ عالیہ کی خدمت میں نہایت عاجزانہ لکھی اور جس میں یہ جتلایا گیا کہ مسیح علیہ السلام کے حق میں جو گستاخیاں میرے قلم سے سرزد ہوئیں وہ کن حالات کی بناء پر مبنی تھیں۔ چونکہ میں حضور کا ایک پرانا آبائی نمک خوار ہوں اور میری رگ رگ و تار تار میں آپ کی اطاعت بسی ہوئی ہے۔ اس لئے محض حضور کی خیر خواہی میں یہ جرم مجھ سے سرزد ہوا۔ اللہ اللہ یہ ہیں پنجابی نبوت کی صداقت کی دلیلیں۔ مندرجہ ذیل چٹھی انشاء اللہ مرزا قادیانی کی قلعی اس رنگ میں کھولے گی اور واقعات مہر تاباں کی طرح اس طرح انکشاف کریں گے کہ پھر کسی مرزائی کو مرزا کی فضیلت بیان کرنے کا یارا نہ ہوگا۔ افسوس اسی بودے سہارے اور ٹکے وسائل پر قصر نبوت کو کھڑا کیا گیا ہے اور اگر یہی معیار نبوت ہے تو توبہ ایسی نبوت سے سلام ہزار بار سلام۔
کاش! میرے محترم مرزائی دوست تعصب سے بے نیاز ہو کر اس کو پڑھیں اور ٹھنڈے دل اور فراخ حوصلگی کو کام میں لاتے ہیں۔ معاملہ کی تہ کو دیکھیں انشاء اللہ شیطانی جوش منٹوں سیکنڈوں میں اتر نہ جائے تو خالد نام نہیں۔ مرزائیو!
گرچہ ڈھونڈو گے چراغ رخ زیبا لے کر
حضور گورنمنٹ عالیہ میں ایک عاجزانہ درخواست
مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی نے مورخہ ٢٧ ستمبر ١٨٩٩ء کو ایک درخواست بعنوان مندرجہ بالا لکھی تھی۔ جس کو آپ نے اپنی مایہ ناز کتاب ”تریاق القلوب“ کے آخر میں بطور (ضمیمہ نمبر ٣ ص ب، خزائن ج ١٥ص٤٩٠، ٤٩١) نقل کیا جو حسب ذیل ہے۔ ملاحظہ فرماویں:
”میں اس بات کا بھی اقراری ہوں کہ جب کہ بعض پادریوں اور عیسائیوں مشنریوں کی تحریر نہایت سخت ہو گئی اور حد اعتدال سے بڑھ گئی اور بالخصوص پرچہ نور افشاں میں جو ایک عیسائی اخبار لدھیانہ سے نکلتا ہے۔ نہایت گندی تحریریں شائع ہوئیں اور ان مؤلفین نے ہمارے نبی ﷺ کی نسبت نعوذ باللہ ایسے الفاظ استعمال کئے کہ یہ شخص ڈاکو تھا، چور تھا، زنا کار اور صدہا پرچوں میں یہ شائع کیا کہ یہ شخص اپنی لڑکی پر ...... تھا اور بایں ہمہ جھوٹا تھا اور لوٹ مار اور خون کرنا اس کا کام تھا۔ تو مجھے ایسی کتابوں اور اخباروں کے پڑھنے سے یہ اندیشہ دل میں پیدا ہوا کہ مبادا مسلمانوں کے دل پر جو ایک جوش رکھنے والی قوم ہے ان کلمات کا کوئی سخت اشتعال دینے والا اثر
کی دورنگی چال دجل کی بھٹی میں ابال کھاتی ہوئی گورنمنٹ برطانیہ کے حضور میں آتی ہے۔
مرزا قادیانی ایک درخواست گورنمنٹ عالیہ کی خدمت میں نہایت عاجزانہ لکھی اور بتلایا گیا کہ مسیح علیہ السلام کے حق میں جو گستاخیاں میرے قلم سے سرزد ہوئیں وہ کن بناء پر مبنی تھیں۔ چونکہ میں حضور کا ایک پرانا آبائی نمک خوار ہوں اور میری رگ رگ و تار میں اس کی اطاعت بسی ہوئی ہے۔ اس لئے محض حضور کی خیر خواہی میں یہ جرم مجھ سے سرزد ہوا۔ یہ ہیں پنجابی نبوت کی صداقت کی دلیلیں۔ مندرجہ ذیل چٹھی انشاء اللہ مرزا قادیانی کی قلعی کھولے گی اور واقعات مہر تاباں کی طرح اس طرح انکشاف کریں گے کہ پھر کسی کو اس کی فضیلت بیان کرنے کا یارا نہ ہوگا۔ افسوس اسی بودے سہارے اور نکمے وسائل پر دعویٰ کیا گیا ہے اور اگر یہی معیار نبوت ہے تو توبہ ایسی نبوت سے سلام ہزار بار سلام۔ خوشا نصیب میرے محترم مرزائی دوست تعصب سے بے نیاز ہو کر اس کو پڑھیں اور ٹھنڈے دل سے انصاف کو کام میں لائیں۔ معاملہ کی تہ کو دیکھیں انشاء اللہ شیطان کے جالوں میں دھوکے نہ کھائیں گے تو خالد نام نہیں۔ مرزائیو!
گرچہ ڈھونڈو گے چراغ رخ زیبا لے کر
گورنمنٹ عالیہ میں ایک عاجزانہ درخواست
غلام احمد قادیانی آنجہانی نے مورخہ ٢٧ ستمبر ١٨٩٩ء کو ایک درخواست بعنوان ہذا۔ جس کو اس نے اپنی مایہ ناز کتاب ” تریاق القلوب “ کے آخیر میں بطور (ضمیمہ ج ١٥ ص ٤٩٠ ، ٤٩١) نقل کیا جو حسب ذیل ہے۔ ملاحظہ فرماویں:
”اس بات کا بھی اقراری ہوں کہ جبکہ بعض پادریوں اور عیسائی مشنریوں کی بدزبانی حد اعتدال سے بڑھ گئی اور بالخصوص پرچہ نور افشاں میں جو ایک عیسائی اخبار تھا۔ نہایت گندی تحریریں شائع ہوئیں اور ان مؤلفین نے ہمارے رسول ﷺ کے حق میں نعوذ باللہ ایسے الفاظ استعمال کئے کہ یہ شخص ڈاکو تھا، چور تھا، زناکار اور صدہا طرح کی گالیاں دیں کہ یہ شخص اپنی لڑکی پر...... تھا اور بایں ہمہ جھوٹا تھا اور لوٹ مار اور خون کرنا اس کا کام تھا۔ ایسی کتابوں اور اخباروں کے پڑھنے سے یہ اندیشہ دل میں پیدا ہوا کہ مبادا مسلمانوں پر جو ایک جوش رکھنے والی قوم ہے ان کلمات کا کوئی سخت اشتعال دینے والا اثر
پیدا ہو۔ تب میں نے ان جوشوں کو ٹھنڈا کرنے کے لئے اپنی صحیح اور پاک نیت سے یہی مناسب سمجھا کہ اس عام جوش کے دبانے کے لئے حکمت عملی یہی ہے کہ ان تحریرات کا کسی قدر سختی سے جواب دیا جائے تا سریع الغضب انسانوں کے جوش فرو ہو جائیں اور ملک میں کوئی بدامنی پیدا نہ ہو۔ تب میں نے بمقابل ایسی کتابوں کے جن میں کمال سختی سے بدزبانی کی گئی تھی۔ چند ایسی کتابیں لکھیں جن میں کسی قدر بالمقابل سختی تھی۔ کیونکہ میرے کانشنس نے قطعی طور پر مجھے فتویٰ دیا کہ اسلام میں بہت سے وحشیانہ جوش والے آدمی موجود ہیں۔ ان کی غیض و غضب کی آگ بجھانے کے لئے یہ طریق کافی ہوگا۔ کیونکہ عوض و معاوضہ کے بعد کوئی گلہ باقی نہیں رہتا۔ سو یہ میری پیش بینی کی تدبیر صحیح نکلی اور ان کتابوں کا یہ اثر ہوا کہ ہزارہا مسلمان جو پادری عمادالدین ، وغیرہ لوگوں کی تیز اور گندی تحریروں سے اشتعال میں آچکے تھے۔ یکدفعہ ان کے اشتعال فرو ہو گئے۔ کیونکہ انسان کی یہ عادت ہے کہ جب سخت الفاظ کے مقابل پر اس کا عوض دیکھ لیتا ہے تو اس کا وہ جوش نہیں رہتا۔ بایں ہمہ میری تحریر پادریوں کے مقابل پر بہت نرم تھی۔ گویا کچھ بھی نسبت نہ تھی۔ ہماری محسن گورنمنٹ خوب سمجھتی ہے کہ مسلمان سے یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ اگر کوئی پادری ہمارے رسول اللہ ﷺ کو گالی دے تو ایک مسلمان اس کے عوض میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالی دے۔ کیونکہ مسلمانوں کے دلوں میں دودھ کے ساتھ ہی یہ اثر پہنچایا گیا ہے کہ وہ جیسا کہ اپنے نبی ﷺ سے محبت رکھتے ہیں ویسا ہی وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے محبت رکھتے ہیں تو کسی مسلمان کا یہ حوصلہ ہی نہیں کہ تیز زبانی کو اس حد تک پہنچائے۔ جس حد تک ایک متعصب عیسائی پہنچا سکتا ہے اور مسلمانوں میں یہ ایک عمدہ سیرت ہے جو فخر کرنے کے لائق ہے۔ وہ تمام نبیوں کو جو آنحضرت ﷺ سے پہلے ہو چکے ہیں ایک عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور حضرت مسیح علیہ السلام سے بعض وجوہ سے ایک خاص محبت رکھتے ہیں جس کی تفسیر کے لئے اس جگہ پر موقعہ نہیں۔ سو مجھ سے پادریوں کے مقابل جو کچھ وقوع میں آیا ہے کہ حکمت عملی سے بعض وحشی مسلمانوں کو خوش کیا گیا ہے اور میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ میں تمام مسلمانوں میں سے اوّل درجہ کا خیر خواہ گورنمنٹ انگریزی کا ہوں۔ (چشم بدور خالد) کیونکہ مجھے تین باتوں نے خیر خواہی میں اوّل درجہ کا بنا دیا ہے۔ اوّل ...... والد مرحوم کے اثر سے۔ دوم ...... گورنمنٹ عالیہ کے احسانوں نے۔ سوم ...... خدا تعالیٰ کے الہام نے۔“ (یہی پاک تثلیث ہے خالد)
فنا فی الگورنمنٹ نبی کی قوت ایمانی ملاحظہ فرمائیں۔ جس پروانہ رسالت کو شمع پیاری ہو اور وہ اس پر نثار ہو جائے تو مرزا قادیانی کی درگاہ سے وحشی کا خطاب پائے۔ یہ ہے عشق محمدی کا
نمونہ اور محبت رسول کا صحیح فوٹو اور یہ جو گالیاں مسیح علیہ السلام کو دی گئیں ہیں یہ محبت رسول اور عشق محمد میں نہیں بلکہ نمک خواری اور غلامی حکومت کے جوش میں کہ کہیں وحشی مسلمان حکومت سے دست و گریباں نہ ہو جائیں اور میں چونکہ پرانا نمک خوار اور قدیمی غلام تھا اس لئے مناسب سمجھا کہ مسیح علیہ السلام کو گالیاں دے دے کر معاملہ برابر کر دوں اور اس طرح سے مسلمانوں کے ارمانوں کو مٹادوں تا کہ بقول شخص یہ کہ:
گورنمنٹ سے خطاب اور مربے اور سندات خوشنودی مل جائیں اور جی حضوریوں میں اوّل نمبر کا ٹوڈی شمار کیا جاؤں اور مسلمانوں سے چندہ کی رفتار نہ ٹوٹے اور جاہلوں سے خراج تحسین بھی حاصل ہو جائے کہ ہمارے مرزا قادیانی گورنمنٹ برطانیہ سے نہیں ڈرتے اور اس کا یہ ثبوت ہے کہ ان کے نبی کو پانی پی پی کر کوسا گیا ہے۔ اور بس یوں سمجھ کہ عیسائیوں کے چھکے چھڑا دیئے ہیں۔
مرزائیو! مرزا قادیانی کے حق میں درود پڑھو۔ کس قدر دیدہ دلیری اور سینہ زوری ہے کہ سب کچھ جانتے ہوئے ایسے بیباک ہوئے جاتے ہیں اور دیکھتے ہوئے یوں آنکھیں بند کئے بھاگ جاتے ہیں کہ لگام دینے پر بھی نہ رکیں۔ انبیاء علیہم السلام کی تعظیم کے لئے خود ہی سرنگوں رہتے ہیں اور خود ہی تحقیر کرتے ہیں۔ بدزبانی کرنے والے کو اوباش قرار دیتے ہیں۔ پھر خود ہی مرتکب ہوتے ہیں اور مثیل مسیح کا دعویٰ کرتے ہیں اور مسیح ہی کو کوستے ہیں۔ یہ مثال تو ایسی معلوم ہوتی ہے جیسے کہ سگے بھائی آپس میں بے وقوفی سے الجھتے ہوئے ایک دوسرے کو ماں کی گالیاں دیں اور نہ سمجھیں کہ اس کی زد کس پر پڑ رہی ہے۔ افسوس مرزا قادیانی کو مراق کا عارضہ لے ڈوبا اور رہتے سہتے حواس محمدی کے عشق میں جاتے رہے۔ ورنہ یہ بھی کوئی بات ہے کہ ایک ہی دماغ سے دو متضاد خیال ایک ہی زبان سے بیک وقت دو ایسے مسئلے جن میں تعارض ہو عجب شان کی پنجابی نبوت ہے۔ اسی منہ سے مسیح علیہ السلام کو شریف انسان کہنے سے گریز کرتے ہیں گھٹیا شرابی قرار دیتے ہیں اور کنبہ بھر پر عیب لگاتے ہیں اور معاً جوش اترنے کے بعد مسیح علیہ السلام کی تعریف میں رطب اللسان ہوتے ہیں۔ ایں عجب بوالعجب!
او زمانے کی طرح رنگ بدلنے والے
کا صحیح فوٹو اور یہ جو گالیاں مسیح علیہ السلام کو دی گئی ہیں یہ محبت رسول اور عشق کی خواری اور غلامی حکومت کے جوش میں کہ کہیں وحشی مسلمان حکومت سے ہو جائیں اور میں چونکہ پرانا نمک خوار اور قدیمی غلام تھا اس لئے مناسب سمجھا کو گالیاں دے دے کر معاملہ برابر کردوں اور اس طرح سے مسلمانوں کے تاکہ بقول شخصے کہ:
ت سے خطاب اور مرتبے اور سندات خوشنودی مل جائیں اور جی حضوریوں میں ہی شمار کیا جاؤں اور مسلمانوں سے چندہ کی رفتار نہ ٹوٹے اور جاہلوں سے حاصل ہو جائے کہ ہمارے مرزا قادیانی گورنمنٹ برطانیہ سے نہیں ڈرتے اور کہ ان کے نبی کو پانی پی پی کر کوسا گیا ہے۔ اور بس یوں سمجھ کہ عیسائیوں کے
-
مرزا قادیانی کے حق میں درود پڑھو۔ کس قدر دیدہ دلیری اور سینہ زوری ہے ہوئے ایسے بیباک ہوئے جاتے ہیں اور دیکھتے ہوئے یوں آنکھیں بند کئے لگام دینے پر بھی نہ رکیں۔ انبیاء علیہم السلام کی تعظیم کے لئے خود ہی سر کٹا دیتے کہتے ہیں۔ بدزبانی کرنے والے کو اوباش قرار دیتے ہیں۔ پھر خود ہی مرتکب مسیح کا دعویٰ کرتے ہیں اور مسیح ہی کو کوستے ہیں۔ یہ مثال تو ایسی معلوم ہوتی ہے گلیوں میں بے وقوفی سے الجھتے ہوئے ایک دوسرے کو ماں کی گالیاں دیں اور نہ ماں پر پڑ رہی ہے۔ افسوس مرزا قادیانی کو مراق کا عارضہ لے ڈوبا اور رہتے سہتے میں جاتے رہے۔ ورنہ یہ بھی کوئی بات ہے کہ ایک ہی دماغ سے دو متضاد سے بیک وقت دو ایسے سرکلر جن میں تعارض ہو نکلیں۔ عجب شان کی پنجابی نبوت علیہ السلام کو شریف انسان کہنے سے گریز کرتے ہیں کھاؤ پیو شرابی قرار دیتے گاتے ہیں اور معاً جوش اترنے کے بعد مسیح علیہ السلام کی تعریف میں رطب کیا عجب بوالعجیب!
اے زمانے کی طرح رنگ بدلنے والے
اصل میں مرزا قادیانی کی حقیقت کو ان کے مرید نہیں سمجھے کہ وہ کیا تھے اور ایسا کرنے سے ان کا کیا مقصد تھا۔
مرزا قادیانی ایک موقعہ شناس آدمی تھے اور وہ ہر اس ڈھانچے میں ڈھل جایا کرتے تھے۔ جس کا وقت متقاضی ہو۔ نہ انہیں اس میں کچھ عار تھی اور نہ ہی وہ اس کو معیوب خیال کرتے تھے۔ مثال کے طور پر محدث وہ بنے مجدد کا چولا انہوں نے پہنا۔ نبوت کے سرود الاپے اس پر بس نہیں۔ عیسیٰ بنے یہاں تک ہی ہوتا تو کچھ مضائقہ نہ تھا۔ جب وقت نے تقاضا کیا تو مریم کے روپ میں بھی آ دھمکے۔ طبقہ نسواں کے تمام وہ مرحلے مثلاً حیض و نفاس سے دوچار ہوئے۔ پردہ میں نشو و نما انہوں نے پائی۔ دس ماہ تک وہ حاملہ رہے۔ درد زہ میں دیدار عام انہوں نے دیا اور ان کے بالآخر چاند سا ہنستا دس سالہ سفید ریش بچہ جنا اور یہ تمام مشکل مرحلے طے کرنے کے بعد یعنی اس پاک حیثیت کے بعد پھر وہ واحد ہی رہے نہ فاعل رہا نہ فعل اور نہ ہی مفعول اور یہ سب باتیں صرف زبانی جمع خرچ کر کے تمام ڈگریاں قلمبند کرتے ہوئے مریدان باصفا کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کے لئے نبی اللہ کے لباس میں موجود ہوئے۔
اصل میں بات درون پردہ کچھ اور ہی تھی۔ جس کی حقیقت ناظرین کرام پر ہم واضح کرتے ہیں۔
سرکار مدینہ ﷺ نے آج سے ساڑھے تیرہ سو سال پہلے پیش گوئی فرمائی تھی کہ ”لا تقوم الساعة حتى يخرج ثلاثون دجالون كذابون كلهم يزعم انه نبي فمن قاله فاقتلوه ومن قتل منهم احدا فله الجنة
(كنز العمال ج ١٤ ص ١٩٩،
حدیث نمبر ٣٨٣٧٦) ”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ نہیں قائم ہوگی قیامت یہاں تک کہ ہوں گے تیس دجال بڑے جھوٹے ہر ایک ان میں سے دعویٰ نبوت کرے گا۔ پس جو شخص یہ کہے کہ میں نبی ہوں اس کو قتل کر دو۔ جو شخص ان میں سے کسی کو قتل کرے گا اس کے لئے جنت ہے۔
فضیلت مسیح علیہ السلام از روئے قرآن شریف
اللہ تعالیٰ جل جلالہ وعم نوالہ فرقان حمید میں ارشاد فرماتے ہیں کہ مسیح ابن مریم کس مرتبہ کا انسان اور ہماری بارگاہ میں کسی سیادت کا مالک تھا۔
ذیل میں وہ چند ایک آیات فرقان حمید سے قارئین کرام کے پیش کی جاتی ہیں اور فیصلہ اہل علم و صاحب فراست پر چھوڑا جاتا ہے۔ از راہ انصاف غور فرمائیں اور مقابلہ کر کے ایمان کی کسوٹی پر پرکھیں کہ خدا کا وہ نہایت ہی محبوب پیغمبر جس کی عزت رب کعبہ کے دربار میں ہے اور
جس کی شہادت کلام پاک میں آب زر سے لکھی ہوئی روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ مگر آہ افسوس خیرہ چشم اپنی کور باطنی کی وجہ سے یا دماغی عدم توازن کے سبب سے اگر نہ دیکھ سکے یا نہ سمجھ سکے تو مہر تاباں کا کیا قصور ہے یا کسی کی خباثت اس کا کیا بگاڑ سکتی ہے۔ چاند پر تھوکنے سے اپنا منہ ہی غلیظ ہوتا ہے۔ چاند کی تابانی میں کب فرق آتا ہے۔
ہادی برحق، رحمت کردگار کو تو یہ حکم ہوا کہ میرے حبیب ﷺ اپنی امت کو فرما دیجئے کہ کم عقلی و جہالت میں مشرکین کے بتوں کو بھی جو ان کے زعم باطل میں ان کے معبود ہیں۔ برا نہ کہا جائے کیونکہ وہ اس کے جواب میں تمہارے معبود برحق کو تعصب اور کور باطنی کی وجہ سے برا کہیں گے۔ اللہ اللہ، کیسی پاک تعلیم ہے۔ مگر افسوس مدعی نبوت نے کس قدر گھناؤنی صورت بنا ڈالی۔ کسی کی عیب جوئی کرنے سے اپنے جوہر عیاں نہیں ہوا کرتے۔ جیسا کہ گرجنے والے برسا نہیں کرتے۔
گڈریوں میں لعل پنہاں نہیں رہتے کیا اچھا ہوتا کہ خدا کے برگزیدوں کی تحقیر کرنے کی بجائے اپنے اخلاق و محاسن احسن طریق سے بیاں کئے جاتے نہ کہ معصومین کی پگڑیاں اچھالی جاتیں۔ مگر افسوس!
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ
”اذ قالت الملئكة يمريم ان الله يبشرك بكلمة منه اسمه المسيح عيسى ابن مريم وجيها فى الدنيا والآخرة ومن المقربين ويكلم الناس فى المهد وكهلا ومن الصلحين قالت رب انى يكون لى ولد ولم يمسسنى بشر قال كذلك الله يخلق ما يشاء اذ قضى امراً فانما يقول له كن فيكون ويعلمه الكتاب والحكمة والتورة والانجيل ورسولا الى بنى اسرائيل انى قد جئتكم باية من ربكم انى اخلق لكم من الطين كهيئة الطير فانفخ فيه فيكون طيراً باذن الله وابرى الاكمه والابرص واحي الموتى باذن الله وانبئكم بما تاكلون وما تدخرون فى بيوتكم ٠ ان فى ذلك لاية لكم ان كنتم مؤمنين ٠ ومصدقاً لما بين يدى من التورة ولا حل لكم بعض الذى حرم عليكم وجئتكم باية من ربكم فاتقوا الله واطيعون ٠ ان الله ربى وربكم فاعبدوه
هذا صراط مستقيم (آل عمران : ٤٥ تا ٥١) ” جب فرشتوں نے مریم سے کہا اے مریم صرف خدا کے حکم سے ایک لڑکا تمہارے بطن سے پیدا ہوگا۔ خدا تم کو اپنے اس حکم کی خوشخبری دیتا ہے اور اس کا نام ہو گا عیسیٰ مسیح ابن مریم ، دنیا اور آخرت دونوں میں رو دار اور خدا کے مقرب بندوں سے ایک مقرب بندہ اور جھولے میں اور ادھیڑ عمر کا ہو کر لوگوں کے ساتھ یکساں کلام کرے گا اور اللہ کے نیک بندوں میں سے ہوگا۔ کہا مریم نے اے پروردگار میرے ہاں کیسے لڑکا ہو سکتا ہے۔ حالانکہ مجھ کو کسی مرد نے چھوا تک بھی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اسی طرح ہوگا۔ اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جب وہ کسی کام کو کرنا ٹھان لیتا ہے تو بس اسے فرما دیتا ہے کہ ہو اور وہ ہو جاتا ہے اور خدا تمہارے بیٹے عیسیٰ کو تمام کتب آسمانی اور عقل کی باتیں اور خاص کر تورات اور انجیل سب کچھ سکھاوے گا اور وہ ہمارا پیغمبر ہوگا۔ جس کو ہم بنی اسرائیل کی طرف مبعوث کریں گے اور وہ ان سے کہیں گے کہ میں تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانیاں یعنی معجزے لے کر آیا ہوں اور مجھ کو خدا نے یہ قدرت دی ہے کہ میں تمہارے اطمینان قلب کے لئے مٹی سے پرند کی شکل سا ایک جانور بناؤں پھر اس میں پھونک ماروں اور وہ خدا کے حکم سے اڑنے لگے اور خدا ہی کے حکم سے مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو بھلا چنگا اور مردوں کو زندہ کر دوں اور جو کچھ تم کھا کر آؤ اور جو کچھ تم نے اپنے گھروں میں چھپا رکھا ہے وہ سب تم کو بتا دوں۔ اگر تم میں ایک ایمان کی صلاحیت ہے تو بے شک ان باتوں میں تمہارے لئے قدرت خدا کی بڑی نشانی ہے اور ہاں تورات جو میرے زمانہ میں موجود ہے میں اس کی تصدیق کرتا ہوں اور میرے پیغمبر بنا کر بھیجنے سے ایک یہ بھی غرض ہے کہ بعض چیزیں جو تم پر حرام ہیں خدا کے حکم سے ان کو تمہارے لئے حلال کر دوں اور زبانی دعویٰ سے نہیں بلکہ تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانیاں یعنی معجزے لے کر آیا ہوں۔ تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔ بے شک اللہ ہی میرا پروردگار ہے اور وہی تمہارا پروردگار ہے تو اسی کی عبادت کرو کہ یہی نجات کا سیدھا راستہ ہے۔“
یوں تو اللہ کے برگزیدہ اور صاحب کتاب نبی عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں کلام مجید تواتر سے ثبوت پیش کرتا ہے۔ مگر ان سب آیات کریمہ کا یک جا جمع کرنا اور پھر ان پر تبصرہ کرنا کارے دارد ایک علیحدہ ضخیم حجم چاہتا ہے اور ہمارا اختصار اس کی اجازت نہیں دیتا اس لئے ہم صرف ان کے حوالوں پر ہی اکتفا کرتے ہیں اور چند ایک اہم امور کی طرف قدرے توجہ ناظرین کرام کو معاملہ فہمی کے لئے دلاتے ہیں۔
البقره : ١١، ١٦ ....... آل عمران: ٤، ٥، ١٦ ....... النساء: ٢٢، ٢٣ ....... المائده : ٧، ١٠، ١١، ١٦ ....... الانعام: ١٠ ....... التوبه: ٥ ....... مریم: ٢ ....... الانبیاء: ٦ ....... المؤمنون: ٣ ....... الزخرف: ٦ ....... الحدید: ٤ ....... الصف: ١، ٢ ....... التحریم: ٢
مسیح علیہ السلام کی وجاہت و سیادت ۔ انعام واکرام، علم وفضل، خوارق و معجزات ”قد جاء كم من الله نور وكتب مبين“ میں جابجا موقعہ بموقعہ مرقوم ومسطور ہیں۔ اللہ اللہ جس کے مرتبہ و شان کے متعلق خود خلاق کائنات شاہد ہو اور جس کے آبا واجداد اور خاندان رب کعبہ کا منظور نظر ہو۔ ”ان الله اصطفٰى آدم ونوحاً وآل ابراهيم وآل عمران على العالمين (آل عمران : ٣٣)“ اور جس کی والدہ ماجدہ منصہ شہود پر آنے سے پیشتر خدا کی فرمانبرداری اور مقبول بندی قرار دی جاچکی ہو اور بے نیاز مالک نے اسے اور اس کی ذریت کو اپنی پناہ میں حسب استدعا لے لیا ہو۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے ”اذ قالت امرات عمران رب اني نذرت لك ما في بطنى محرراً فتقبل منى انك انت السميع العليم (آل عمران: ٣٥)“ اور والدہ مریم کی وہ اخلاص سے لبریز دعا جو سعید الفطرت لوگوں کے لئے مشعل ہدایت ہے۔ یعنی ”وانى اعيذها بك وذريتها من الشيطن الرجيم (آل عمران: ٣٦)“ اہل علم وصاحب فراست ہستیوں سے فراموش نہیں ہوئی اور طرفہ یہ کہ پرورش مشیت ایزدی نے حضرت زکریا علیہ السلام کی کفالت میں اور وہ بھی بیت المقدس میں نور علی نور ہوئی۔ وہ کون سا ایسا خوش نصیب ہے جس کو جنت سے میوے اس فانی زندگی میں آتے ہوں اور جس کے ساتھ خدا کے فرستادہ فرشتے تکلم کرتے ہوں۔ چنانچہ فرقان حمید شاہد ہے ۔ ”اذ قالت الملئكة يمريم ان الله يبشرك بكلمة منه اسمه المسيح عيسى ابن مريم وجيهاً في الدنيا والآخرة (آل عمران: ٤٥)“ اور جن کی عفت مآبی اور بلندی مراتب کی زندہ گواہی قرآن صامت یوں بیان کرتا ہو۔ ”واذ قالت الملئكة يمريم ان الله اصطفك وطهرك واصطفك على نساء العالمين (آل عمران: ٤٢)“ اور جس کو اپنے زمانے بھر کی عورتوں سے افضل و اطہر کہا گیا ہو اور جس کو رب قدوس اپنی رحمت کاملہ و حکمت بالغہ سے یوں نوازے۔ ”ومريم ابنت عمران التي احصنت فرجها فنفخنا فيه من روحنا وصدقت بكلمت ربها وكتبه وكانت من القنتين (تحریم: ١٢)“ اور جس کے متعلق کریم جہاں یہ فرماتا ہو
وجعلنا ابن مريم اور اس کی مقدس ماں خدا کے نشانات میں سے ہیں اور ان کے آرام کے لئے ہم نے اونچی جگہ جس میں ٹھنڈے چشمے تھے عنایت کی۔ اور جس کی عفت و عصمت کا اعتراف رب قدیر یوں فرمائے۔ ”والتي احصنت فرجها فنفخنا فيها من روحنا وجعلنها وابنها آية للعالمين (انبیاء:٩١)“ مسیح علیہ السلام کی پیدائش ہی کو دیکھ لیجئے۔ خالق جہاں نے اپنی قدرت کا کرشمہ اور خالق ہونے کا ثبوت اور قادر ہونے کی دلیل مسیح کی اعجازی پیدائش میں پیش کی اور جب بد باطن یہود نے سوقیانہ اعتراض کئے تو ایسا دندان شکن مدلل جواب عنایت فرمایا کہ کسی بدبخت کو جواب کا یارا ہی نہ رہا اور ایسا حوصلہ پست ہوا کہ آج تک کوئی ان دلائل کو توڑ نہ سکا۔ ارشاد ہوا مسیح علیہ السلام کی بن باپ پیدائش کچھ اچنبہ خیز نہیں۔ ابوالبشر آدم علیہ السلام کی پیدائش کا چشم بصیرت سے مطالعہ کرو کہ وہ ماں اور باپ دونوں سے بے نیاز تھے۔ ارشاد ہوا ”ان مثل عيسٰى عند الله كمثل آدم خلقه من تراب ثم قال له كن فيكون (آل عمران:٥٩)“ خلاق کائنات ہماری طرح بے دست و پا نہیں۔ اسے ہماری طرح بودے سہارے اور نکمے وسائل کی ضرورت نہیں۔ اس کی ذات والا تبار کسی کی محکوم نہیں وہ کسی کا تابع فرمان نہیں اور اس کے کسی فعل پر کوئی پوچھنے والا نہیں۔ وہ قادر مطلق اور مختار کل ہے وہ تمام جہان کی ربوبیت بلا معاوضہ فرماتا ہے۔ وہ بد عمل جاہل سرکش و متکبر پر بھی رحم کرتا اور روزی دیتا ہے۔ کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں۔ یہاں تک کہ وہ اپنی اس ادنیٰ مخلوق کو جو پتھر اور صدف میں مقید و پنہاں ہے۔ نہیں بھولتا وہ یہ بھی فرماتا ہے کہ ایک اونس کے بودے دماغ اور اوندھی کھوپڑی والے گندے مادے کے ناپاک قطرے کے بنائے ہوئے ذلیل انسان تیری بساط ہی کیا ہے کہ تو کارخانہ الوہیت میں دخل دے سکے تو کیا اور تیری بساط کیا، پھوٹی عقل اور رذیل دماغ کہاں تک پہنچ سکے گا۔ کیا پدی اور کیا پدی کا شوربا تیرا تخیل اور مادہ برداشت، تیری عقل اور تیرا شعور صرف اتنی سی بات پر کہ مسیح ابن مریم بن باپ کیسے پیدا ہوئے۔ مختل و پراگندہ ہوا۔ حالانکہ ہم نے اپنی صداقت و واحدانیت کے لئے اس کو تمام زمانوں کے لئے ایک نشان اعجاز بنایا اور اس نشان کی بھی کوئی حقیقت ہے۔ جب کہ ہم تمام دنیا کو آن واحد میں برباد اور آباد کرنے پر قادر ہیں۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے۔ ”ان يشاء يذهبكم ويأت بخلق جديد ٠ وما ذلك على الله بعزيز (ابراهيم:١٩، ٢٠)“ ایک انسان کا مشیت ایزدی سے بن باپ پیدا کرنا تو کیا بلکہ ہماری قدرت اس بات پر محیط ہے کہ تمام جانداروں کو بغیر کسی لوازمات کے صرف ایک لفظ (کن) کے فرمانے سے ایک لمحہ میں
بہم کر دیں اور آن واحد میں تمہاری طرح کی اور مخلوق پیدا کر دیں اور ایسا کرنا تمہارے خیال میں محال ہی نہیں۔ غیر ممکن ہے مگر ہمارے لئے آسان تر اور خالق اور مخلوق میں بس یہی فرق ہے۔
مسیح علیہ السلام کا گود میں تکلم کرنا بھی آیات اللہ میں سے ہے اور اس میں ایک خاص فضل ربانی تھا اور مصلحت وقت یہی تھی۔ اگر عیسیٰ علیہ السلام ان لوگوں کو جو مریم علیہ السلام پر زبان طعن دراز کرتے تھے اور شدت سے پوچھتے تھے۔ ”یاخت هرون ماکان ابوك امراسوء وما كانت امك بغيا (مریم:٢٨)“ جواب نہ دیتے اور مشیت ایزدی اس کی مقتضی نہ ہوتی تو خلاق جہاں مریم کو یہ تعلیم نہ فرماتا۔
”فاما ترین من البشر احد فقولى انى نذرت للرحمن صوماً فلن اکلم اليوم انسيا (مریم:٢٦)“ پروردگار عالم کے علم میں تھا کہ جب یہ عفیفہ قانتہ بچے کو لے کر قوم میں آوے گی تو لوگ اچنبہ سے بچے کو گود میں دیکھ کر سوال کریں گے اور مریم کے جواب سے کسی کو تسلی نہ ہوگی۔ بلکہ زبان طعن دراز سے درازتر ہو جائے گی۔ اس لئے غفور جہاں نے یہ حکمت سکھلائی کہ جب ایسا وقت آئے تو اسی کلمۃ اللہ کی جانب اشارہ کر دیجیو۔ ”فاشارت الیه “ اور جب آپ نے ایسا کیا تو قوم کے لوگ مارے غصے کے آپے سے باہر ہو کر کہنے لگے۔ ”قالوا كيف نكلم من كان فى المهد صبيا (مریم:٢٩)“ گودی کا بچہ کس طرح ایسے اہم معاملہ پر روشنی ڈال سکے گا۔
مشیت ایزدی اسی بات پر مقتضی تھی کہ مریم علیہا السلام کی بریت ایسے احسن طریق پر کرائی جائے کہ بدبختوں کے منہ پر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تالے لگ جائیں اور زچہ کے دامن عصمت پر دھبہ باقی نہ رہے۔ چنانچہ اس سے بہتر اور کون سا طریقہ تھا کہ زچہ کی عصمت مآبی معصوم بچہ سے کرائی جائے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور جب مسیح علیہ السلام نے ان سے خطاب کیا کہ ”قال اني عبدالله ٠ اتنى الكتب وجعلنى نبياً وجعلنى مباركاً اين ماكنت ٠ واوصنى بالصلوٰة والزكوٰة مادمت حيا ٠ وبراً بوالدتى ولم يجعلنى جباراً شقياً (مریم:٣٠ تا ٣٢)“
تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ محو حیرت ہو گئے اور خدا کی قدرت کا اعجازی نشان سمجھ کر اس عقیدہ سے باز آئے اور ابن مریم اور اس کی والدہ کو آیات اللہ قرار دے کر چپکے ہو رہے۔
آقائے دو جہاںﷺ کا ارشاد ہے کہ تین بچوں نے ماں کی گود میں تکلم کیا۔ بد بخت نمرود نے خدائی کا دعویٰ کیا اور خدا کے نام لیواؤں پر انتہائی مظالم توڑے ۔ یہاں تک
واحد میں تمہاری طرح کی اور مخلوق پیدا کر دیں اور ایسا کرنا تمہارے خیال میں ہے مگر ہمارے لئے آسان تر اور خالق اور مخلوق میں بس یہی فرق ہے۔ السلام کا گود میں تکلم کرنا بھی آیات اللہ میں سے ہے اور اس میں ایک خاص مصلحت وقت یہی تھی۔ اگر عیسیٰ علیہ السلام ان لوگوں کو جو مریم علیہ السلام پر زبان شدت سے پوچھتے تھے۔ ”یاخت هرون ماكان ابوك امراسـوء بغیا (مریم:٢٨)“ جواب نہ دیتے اور مشیت ایزدی اس کی مقتضی نہ ہوتی تو تکلم نہ فرماتا۔
ترين من البشر احد فقولى انى نذرت للرحمن صوماً فلن (مریم:٢٦)“ پروردگارِ عالم کے علم میں تھا کہ جب یہ عفیفہ قانتہ بچے کو لے کر کے بچے کو گود میں دیکھ کر سوال کریں گے اور مریم کے جواب سے زبان طعن دراز سے درازتر ہو جائے گی۔ اس لئے غفور جہاں نے یہ حکمت میں آئیں تو اسی کلمۃ اللہ کی جانب اشارہ کر دیجیو۔ ”فاشارت اليه“ اور قوم کے لوگ مارے غصے کے آپے سے باہر ہو کر کہنے لگے ۔ ”قالوا فى المهد صبيا (مریم:٢٩)“ گودی کا بچہ کس طرح ایسے اہم معاملہ
اسی بات پر مقتضی تھی کہ مریم علیہا السلام کی بریت ایسے احسن طریق کے منہ پر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تالے لگ جائیں اور زچہ کے دامن ہے۔ چنانچہ اس سے بہتر اور کون سا طریقہ تھا کہ زچہ کی عصمت مآبی ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور جب مسیح علیہ السلام نے ان سے خطاب کیا کہ اتنى الكتب وجعلنى نبياً وجعلني مباركاً اين ماكنت ، الزكوة مادمت حيا ، وبراً بوالدتي ولم يجعلني جباراً
ہوا یہ کہ وہ محو حیرت ہو گئے اور خدا کی قدرت کا اعجازی نشان سمجھ کر اس مریم اور اس کی والدہ کو آیات اللہ قرار دے کر چپکے ہو رہے۔ ﷺ کا ارشاد ہے کہ تین بچوں نے ماں کی گود میں تکلم کیا۔ دعویٰ کیا اور خدا کے نام لیواؤں پر انتہائی مظالم توڑے ۔ یہاں تک
کہ جلتے ہوئے تیل میں اہل اللہ کو صرف اس قصور کے بدلے میں کہ وہ ایک اللہ کی عبادت کیوں کرتے ہیں ڈالا گیا۔ عاشقانِ ازلی خود ساختہ خدائی پر لعنت کرتے ہوئے جانِ جاں آفرین کے سپرد کر گئے۔ مگر بودے معبود کی اطاعت تسلیم کرنا موت سے بدتر سمجھے۔ ان ہی عاشقان مولیٰ میں ایک عورت ایسی بھی تھی جس کی گود میں ایک شیر خوار بچہ تھا اور جب اس سے کہا گیا کہ نمرود کو خدا مانو ورنہ تیل میں جلنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔ مامتا کی ماری ماں ، بچہ کی صغر سنی اور محبت اور ایمان کی حفاظت کے درمیان معلق ہوئی۔ کبھی بچہ کی محبت غالب ہوتی اور ایمان خطرے میں معلوم ہوتا اور کبھی عشقِ الٰہی غالب آتا تو بچہ کی مفارقت سینہ جلا دیتی۔ غرضیکہ کہ چند لمحے وہ اسی سوچ میں دوچار ہوئے اور چونکہ اللہ ولی المومنین ہے اس لئے کریم جہاں نے ذرہ نوازی کی اور وہ بچہ یوں گویا ہوا والدہ محترمہ تیل میں جلنے سے مت خوف کرو اور مجھ کو چھاتی سے لگا کر اس میں اللہ کے نام پر کود جاؤ۔ حوریں خلد میں وہ دیکھو تمہارا کس بے صبری سے انتظار کر رہی ہے۔
دوسرا بچہ وہ ہے جس نے یوسف علیہ السلام کی بریت پر شہادت دی۔ ”وشـهــــــــــد شاهدأ من اهلها (یوسف:٢٦)“ اور تیسرے مسیح ابن مریم ہیں۔
مسیح علیہ السلام کے معجزات و خوارق اور صدہا واقعات از ظہر من الشمس ہیں اور چونکہ میرا مضمون مسیلمہ ثانی کی بد زبانی کو از ظہر من الشمس کرنا ہے اس لئے صرف ایک اشارے پر اکتفا کرتا ہوں۔
کیا مؤمنین کے لئے مسیح علیہ السلام کے حق میں خلاقِ جہاں کو ”وجيهاً فـى الـدنـيـا والاخرة ومن المقربين (آل عمران:٤٥)“ فرمانا کافی نہیں ہے اور ضرور ہے۔ بس یہی دعا ہے کہ اسی راسخ عقیدہ پر استقامت رہے۔ آمین!
وما ارسلنك الا رحمة للعلمين
حضور آقائے نامدار محمد مصطفےٰ احمد مجتبےٰ ﷺ اور دیگر انبیاء علیہم السلام میں باہم مناسبت کی مثال جو خلاقِ جہاں نے بیان فرمائی۔ اس میں ایک عجیب و لطیف جاذبیت اور ارفع شان ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ: ”وما ارسلنك الا رحمة للعلمين (انبیاء:١٠٧)“ یعنی اے محمد ہم نے تمہیں تمام جہان کے لئے رحمت بنا کر بھیجا۔
یوں تو مرسلین من اللہ ، اللہ تعالیٰ کی برگزیدہ رسول ہیں اور وہ سبھی اللہ تعالیٰ کی جناب میں اس کے لطف و احسان سے صاحبِ مراتب وصاحبِ وجاہت ہیں ان کے معصوم اور مقبول
ہونے میں کسی سعید الفطرت کو شک نہیں۔ لیکن خیرہ چشم کور باطنی سے طلوع آفتاب اور اس کی درفشانی سے مستفیض ہونا تو کیا نامراد ہی رہا کرتے ہیں۔
خشک سالی میں جب مخلوق جہاں امساک باراں کی وجہ سے چند قطروں کے لئے آسمان کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ کر کلیجہ تھام کر رہ جاتی ہے اور خاور افق کی تابانی سے برداشت کا مادہ سلب ہو جاتا ہے۔ تو ہر متنفس کی گویا جان پر بن جاتی ہے۔ طیور خوش الحان نواسنجی کو فراموش کئے ہوئے بہار کو روتے ہوئے حسرت آلود نگاہوں سے چمن کی ویرانی کو دیکھ کر سینہ کوب ہو کر ننھی ننھی چونچیں کھولے ہوئے فضائے آسمان میں الحفیظ والامان پکار اٹھتے ہیں۔ رب قدیر کا عطاء کردہ وہ مخملی بچھونا جو سبز لباس میں ہمیشہ ملبوس رہا کرتا تھا۔ عریاں ہو جاتا ہے تو بہائم کی جان دوبھر ہو جاتی ہے۔ غریب کسان کے لئے صبح و شام چوبیس گھنٹوں میں سوائے محنت شاقہ کے اور کچھ سروکار نہیں ہوتا۔ مگر پھر بھی ہریاول زردی کا میزبان رہتا ہے۔ ایسی حالت میں کبھی کبھی کنوؤں کا پانی بھی دوستی سے منہ موڑ لیتا ہے تو اشرف المخلوقات کی زیست خطرے میں پڑ جاتی ہے۔
ایسی حالت میں جب کہ چیل انڈوں کو نہیں سیتی۔ مخلوق خالق سے خلوص دل سے گڑگڑا کر رحم کی بھیک مانگتی ہے۔
ستار جہاں کی ذرہ نوازی و کرم گستری سے ابر رحمت کے دریا جوش میں آتے ہیں تو مغرب سے سیاہ سیاہ روئی کے گالے فضائے آسمانی میں اڑتے افسردہ دلوں کی کلفت مٹانے کو نظر آتے ہیں۔ مگر جب وہ جلوہ محبوبیت دیتے ہوئے معشوق کی طرح بے وفائی کرتے ہیں تو دیدۂ حسرت وا کی وا ہی رہ جاتی ہیں اور وہ سر سے گزر جاتے ہیں تو اہل دہ دوسرے قریہ کے مکینوں سے پوچھا کرتے ہیں کہ کریم جہاں کی کریمی تم پر مہربان ہوئی تو وہ جواب دیا کرتے ہیں کہ ہاں خدا کی رحمت نے ہمیں ڈھانپ لیا۔
اسی طرح قریہ قریہ پر رحمت کے بادل مبعوث ہوئے اور اہل قریہ کو شاداب و گلزار بناتے گئے۔ مگر یہ بارش انفرادی حیثیت سے ہوتی رہی اور جب خلاق کائنات کی مشیت اس بات کی متقضی ہوئی کہ مجموعی حیثیت سے ایک ایسا ابر رحمت بھی بھیجا جائے جو کافۃ للناس ہو تو رحمۃ اللعالمین کو آفتاب مدینہ کے لباس میں مبعوث فرما کر دنیائے جہان کا قریہ قریہ، دہ دہ، کونہ کونہ اور چپہ چپہ سیراب و بامراد کر دیا۔
اس عالم گیر بارش کے مستفیض دریا اور نہریں ابدالآباد تک لہریں اور موجیں مار کر
بہتے رہیں گے اور کبھی خشک نہ ہوں گے۔ یہاں تک کہ نظام دنیا مشیت ایزدی سے درہم برہم ہو جائے۔ اس لئے حضور ختمی مآب ﷺ کو عاقب، حاشر، ماحی کے خطاب دے کر خاتم النبیین کے پیارے لقب سے نوازا اور حضور ﷺ نے خود خاتم کی تفسیر لا نبی بعدی سے کر کے باب نبوت کو مسدود کر دیا۔
امت مرزائیہ سے خطاب
مسیلمہ پنجاب کے مخلص چیلو، مسیح قادیانی کی چہیتی بھیڑو، خدا را انصاف کرو اور تعصب کی عینک اتار کر کہو کہ کیا آقائے دو جہاں سرکار مدینہ ﷺ کے ظل اور بروز کا یہی تقاضا ہے کہ آپ ﷺ کے احکام کی خلاف ورزی کی جائے۔ قرآن پاک کی تعلیم سے منہ موڑ کر دامن شرافت تک سے کنارہ کشی کی جائے۔ کیا یہی مسلمان کی شان ہے کہ خدائے واحد کی تعلیم پاک کے خلاف عمل ہو۔ پیارے نبی کے حکم پر لبیک کی بجائے روگردانی کرتے ہوئے امر کو نہی سے مبدل کر دیا جائے۔ یہ تو یقیناً مسلم کی شان سے بعید ہے۔ خدا کے پسندیدہ دین اور اس کے محبوب کے نام لیوا کی تو یہ شان ہے جب کوئی حکم پہنچے وہ طبیعت اور خواہش کے کتنا ہی خلاف ہو اس کے کانوں میں پڑ جائے وہ اس پر لبیک کہتا ہوا بلاچون و چرا سرتسلیم خم کر دے اور عرض کرے۔ "سمعنا واطعنا غفرانك ربنا واليك المصير (البقرة: ٢٨٥)" نہ یہ کہ کہا تو جائے مرسلین من اللہ کی توقیر و عزت کو جزو ایمان سمجھو، اور عمل یہ ہو کہ بجائے توقیر کے تحقیر کی جائے اور زبان طعن اس بیہودگی سے کھولی جائے کہ لگام دینے سے بھی بند نہ ہو۔ کیا ایسا شخص مسلمانی کا دعویدار اور نبوت کا علمبردار ہو سکتا ہے۔ یا وہ مجدد وقت کی بڑ ہانک سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ ہر وہ شخص جس کے دل میں اللہ اور اس کے پیارے رسول کی محبت اس کی اپنی جان سے بدرجہا زیادہ نہیں وہ مسلمان نہیں۔ "عن انس قال قال رسول الله ﷺ لا يؤمن احدكم حتى اكون احب اليه من والده وولده والناس اجمعين (بخاری ج ١ ص ٧، باب حب الرسول، مسلم ج ١ ص ٤٩، باب وجوب محبة رسول) " انسؓ سے روایت ہے اس نے کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی مؤمن نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ میں اس کے دل میں اس کے ماں باپ اس کی اولاد اور سب لوگوں سے زیادہ پیارا نہ ہو جاؤں۔
اور طرفہ یہ کہ اخلاق ہی معیار شرافت سے گر کر رذالت کے مرتبہ پر پہنچ چکا ہو اور خوش کلامی، بدکلامی میں بدل چکی ہو۔ چنانچہ ہمارے اس دعویٰ حقہ کی تصدیق خود مرزا قادیانی (ضرورت امام ص ٢٤، خزائن ج ١٣ ص ٤٧٨) پر کرتے ہیں۔ چھاتی پر ہاتھ رکھ کر پڑھو اور ایمان کی کسوٹی
فطرت کو شک نہیں۔ لیکن خیرہ چشم کور باطنی سے طلوع آفتاب اور اس کی ضیاء کو کیا نام رکھ دیا کرتے ہیں۔
دنیا میں جب مخلوق جہاں امساک باراں کی وجہ سے چند قطروں کے لئے تڑپتی ہے، آسمان کو دیکھ کر کلیجہ تھام کر رہ جاتی ہے اور خاور افق کی تابانی سے منہ موڑ لیتا ہے، تو ہر متنفس کی گویا جان پر بن جاتی ہے۔ طیور خوش الحان نواسنجی چھوڑ کر روتے ہوئے حسرت آلود نگاہوں سے چمن کی ویرانی کو دیکھ کر چونچیں کھولے ہوئے فضائے آسمان میں الحفیظ والامان پکار اٹھتے ہیں۔
وہ جنگلی بوٹا جو سبز لباس میں ہمیشہ ملبوس رہا کرتا تھا۔ عریاں ہو جاتا ہے تو ایک غریب کسان کے لئے صبح و شام چوبیس گھنٹوں میں سوائے آہ سرد کے کوئی کام نہیں ہوتا۔ مگر پھر بھی ہریاول زردی کا میزبان رہتا ہے۔ ایسی حالت میں آسمان کا پانی بھی دوستی سے منہ موڑ لیتا ہے تو اشرف المخلوقات کی زیست بھی جب کہ چیل انڈوں کو نہیں سہتی۔ مخلوق خالق سے خلوص دل سے گڑگڑا کر ذرہ نوازی و کرم گستری سے ابر رحمت کے دریا جوش میں آتے ہیں تو روئی کے گالے فضائے آسمانی میں اڑتے افسردہ دلوں کی کلفت مٹانے کو نظر آتے ہیں، جلوہ محبوبیت دیتے ہوئے معشوق کی طرح بے وفائی کرتے ہیں تو دیدہ و دل حسرتوں میں اڑ کر سر سے گزر جاتے ہیں تو اہل دہ دوسرے قریہ کے مکینوں سے پوچھتے ہیں کہ وہاں کیسی جم کر بارش ہوئی تو وہ جواب دیا کرتے ہیں کہ ہاں خدا کی قسم اس قریہ پر رحمت کے بادل مبعوث ہوئے اور اہل قریہ کو شاداب و گلزار بنا دیا۔ انفرادی حیثیت سے ہوتی رہی اور جب خلاق کائنات کی مشیت اس بات پر آئی کہ من حیث الکل ایک ایسا ابر رحمت بھی بھیجا جائے جو کافۃ للناس ہو تو رحمۃ للعالمین کے لباس میں مبعوث فرما کر دنیائے جہان کا قریہ قریہ، دہ دہ، کونہ کونہ اور گوشہ گوشہ کے مستفیض دریا اور نہریں ابد الآباد تک لہریں اور موجیں مار کر
پر پرکھو اور ایک دفعہ زبان سے اتنا کہہ دو کہ ”لعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین ، آمین!“
”چونکہ اماموں کو طرح طرح کے اوباشوں اور سفلیوں اور بدزبان لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے اس لئے ان میں اعلیٰ درجہ کی اخلاقی قوت کا ہونا ضروری ہے تا ان میں طیش نفس اور مجنونانہ جوش پیدا نہ ہو اور لوگ ان کے فیض سے محروم نہ رہیں۔ یہ نہایت قابل شرم بات ہے کہ ایک شخص خدا کا دوست کہلا کر پھر اخلاق رذیلہ میں گرفتار ہو اور درشت بات کا ذرا بھی متحمل نہ ہو سکے اور جو امام الزمان کہلا کر ایسی کچی طبیعت کا آدمی ہو کہ ادنیٰ بات پر منہ میں جھاگ آتا ہے۔ آنکھیں نیلی پیلی ہوتی ہیں وہ کسی طرح امام الزمان نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا اس پر آیت ”انک لعلیٰ خلق عظیم “ کا پورے طور پر صادق آجانا ضرور ہے۔“
لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا
پڑھو اور شرم کے سمندر میں ڈوب مرو۔
توہین انبیاء علیہم السلام
ظل اور بروز کی قلابازیاں
- ......١
منم محمد احمد کہ مجتبےٰ باشد
(تریاق القلوب ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ١٣٢)
- ......٢
نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار
(درثمین ص ٧٤، براہین احمدیہ حصہ پنجم، خزائن ج ٢١ ص ١٣٣)
- ......٣
ہر رسولے نہاں بہ پیراہنم
(درثمین ص ١٧٣، فارسی نزول المسیح ص ١٠٠، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٨)
زبان سے اتنا کہہ دو کہ ’’لعنة الله على الكاذبين . آمین!‘‘ اماموں کو طرح طرح کے اوباشوں اور سفلوں اور بدزبان لوگوں سے واسطہ میں اعلیٰ درجہ کی اخلاقی قوت کا ہونا ضروری ہے تا ان میں طیش نفس اور مجنونانہ ب ان کے فیض سے محروم نہ رہیں۔ یہ نہایت قابل شرم بات ہے کہ ایک شخص پھر اخلاق رذیلہ میں گرفتار ہو اور درشت بات کا ذرا بھی متحمل نہ ہو سکے اور جو ی کجی طبیعت کا آدمی ہو کہ ادنیٰ بات پر منہ میں جھاگ آتا ہے۔ آنکھیں نیلی رح امام الزمان نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا اس پر آیت ’’انك لعلى خلق عظيم‘‘ آ جانا ضرور ہے۔‘‘
لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا
رم کے سمندر میں ڈوب مرو۔
توہین انبیاء علیہم السلام
بازیاں
منم محمد احمد کہ مجتبےٰ باشد
(تریاق القلوب ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ١٣٣)
نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار
(درثمین ص ٧٤، براہین احمدیہ حصہ پنجم، خزائن ج ٢١ ص ١٣٣)
ر رسولے نہاں بہ پیراہنم
(درثمین ص ١٧٣، فارسی، نزول المسیح ص ١٠٠، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٨)
- ......٤
اس سے بہتر غلام احمد ہے
(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)
- ......٥
دیر آمدۂ زراہ دور آمدۂ
(تریاق القلوب ص ٤٢، خزائن ج ١٥ ص ٢١٩)
- ......٦
عیسیٰ کجا است تا بنہد پا بمنبرم
(ازالہ اوہام ص ١٨٠، خزائن ج ٣ ص ١٨٠)
- ......٧
من بعرفان نہ کمتر ز کسے
(درثمین ص ٧٨، نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
- ......٨
میرے آنے سے ہوا کامل بجملہ برگ و بار
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١١٣، خزائن ج ٢١ ص ١٤٢)
- .....٩
بدور انش رسولان ناز کردند
(البشریٰ ج ٢ ص ١٠٩، تذکرہ ص ٦٠٤ طبع سوم)
......١٠
داد آں جام را مرا بتمام
(درثمین ص ١٧١، نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
......١١
در برم جامۂ ہمہ ابرار
(درثمین ص ١٧١، نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
......١٢
ہجوم خلق سے ارض حرم ہے
(درثمین ص ٥٠)
فخر رسل ﷺ کی توہین
(حقیقت الوحی ص٣٩٠، خزائن ج٢٢ ص٤٠٥) ”کیا وہ اس بات کا ثبوت دے سکتے ہیں کہ جس قسم کا کوئی اعتراض انہوں نے ان پیش گوئیوں کی نسبت یا کسی اجتہادی غلطی کی نسبت کیا ہے دوسرے انبیاء کی پیش گوئیوں میں ان کی نظیر نہیں پائی جاتی۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ قطع نظر دوسرے انبیاء کے خود ہمارے نبی ﷺ جو سب نبیوں سے افضل واعلیٰ اور خاتم الانبیاء تھے۔ اس قسم کی اجتہادی غلطی سے محفوظ نہیں رہے۔ کیا حدیبیہ کا سفر اجتہادی غلطی نہ تھا۔ کیا یمامہ یا ہجر کو اپنی ہجرت کا مقام خیال کرنا اجتہادی غلطی نہ تھی کیا اور بھی اجتہادی غلطیاں نہ تھیں جن کا لکھنا تطویل ہے۔ پس اس قسم کے کمینے حملے جن کے دائرہ کے اندر آنحضرت ﷺ بھی آجاتے ہیں کسی مسلمان کا کام نہیں۔ بلکہ ان لوگوں کا کام ہے جو در حقیقت اسلام کے دشمن ہیں۔“
ناظرین کرام! کی خدمت میں چند ایک اشعار بہت سی نسلوں پر فخر کرنے والے پنجابی متنبیٔ قادیان، جے سنگھ بہادر قادیانی کے پیش کئے ہیں۔ جن سے واضح طور پر آپ کی نبوت لفاظی وجاہت سے ٹپکی پڑتی ہے اور کیوں نہ ٹپکے۔ جب کہ قادیان کا پلہ بقول مرزا ارض حرم سے بھاری ہے اور بھاری بھی کیوں نہ ہو جب کہ ایک غیر آباد بنجر زمین جس میں زراعت پیدا ہونے سے ڈرتی تھی میں ایک ہی وجود میں بطور تناسخ ایک لاکھ چوبیس ہزار مرسلین من اللہ کا بروز مرزا آنجہانی
کے وجود میں حلول کر گیا اور اسی پر بس نہیں ہوئی بلکہ اہل ہنود اور سکھ قوم کے ریفارمر بھی آموجود ہوئے اور یہاں تک کہ وہ ابدی میٹھی نیند میں سوتوں کو بیدار کرنے والا صور (نرسنگا) بھی آدھمکا اور اسی پر بس نہیں ہوئی بلکہ کان اللہ نزل من السماء بھی آپہنچا۔ یعنی خود خدا آسمان سے اتر آیا اور یہ بھی یادرہے کہ خالی ہاتھ نہیں آئے بلکہ ان کے تمام علوم و خوارق گیان وعرفان بھی حضرت صاحب کے وجود میں دخول کر گئے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر تمام مذاہب کے ہادی اور ان کی خوبیاں ایک ہی شخص میں جمع ہو کر وہی کام جو ہزاروں برس سے پایہ تکمیل کو پہنچ رہا ہے اور جس کے پورا کرنے کے لئے ہزاروں ہادیان برحق مبعوث ہوئے اور بقول مرزا پھر بھی وہ نامکمل و ناتمام ہی رہا ۔ ایک ہی آدمی سر انجام دے سکتا تھا۔ تو قادر و توانا کی ہستی جو سمیع بصیر ہے نے کیوں پہلے ہی اسے مبعوث نہ کیا۔ تاکہ دنیا صراط مستقیم سے نہ بھٹکتی اور یہ حضرت اپنے دیر سے آنے کے خود معترف ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں ۔
دیر آمدہ زراہ دور آمدہ
(تریاق القلوب ص ٤٢ ، خزائن ج ١٥ ص ٢١٩)
مگر افسوس یہ معلوم نہیں ہوا کہ رسولوں کے فخر یعنی مرزا قادیانی سے کون مخاطب ہو رہا ہے اور آپ کون سی دوری سے تشریف لا رہے ہیں اور وہ کون سے ایسے رسول ہیں جن سے مرزا کی آمد قابل فخر بنی کیا کوئی مرزا کا پٹھو، ان کے نام بتلانے کی زحمت گوارا کرے گا اور ایک اور اہم کڑی ایسی ہے جو سلجھائے جانے کے محتاج ہے۔ کیا کوئی جے سنگھ بہادر کا لال اسے بھی ناخن تدبیر سے کھولے گا۔ یعنی وہ کون سے مردہ ایسے نبی تھے جو مرزا کی آمد سے زندہ ہوئے اور جو مرزا کی آستین میں چھپے بیٹھے ہیں اور اس شعر میں لفظ ہر سے مراد تمام انبیاء علیہم السلام ہیں یا ہر کسی قادیان جیسی بنجر زمین کا نام ہے اور یہ رسول کون سے زمانہ میں آئے کیا نام تھے اور مرزا قادیانی بھی کوئی جیون بوٹی یا مداری کا تھیلا ہے جو مردوں کو زندہ کر رہا ہے اور کیوں نہ کریں۔ جب کہ چشم بد دور مثیل مسیح کا بھی تو دعویٰ آپ ہی نے کیا ہے اور ایک اور ایسی گتھی ہے جو سلجھانے کے قابل ہے کیا کوئی مسیح کی بھٹکتی ہوئی بھیڑ اس پر توجہ کرے گی وہ یہ ہے کہ وہ کون سے ایسے رسول ہیں جنہوں نے مرزا کی بعثت پر ناز کیا اور ناز بھی کیوں نہ کیا جاتا۔ جب کہ محمدی بیگم منکوحہ آسمانی جیسی عفیفہ قانتہ جس کے لئے بڑی تعدی سے بیسیوں الہام ہوئے اور جن میں بشر عیش کا الہام قابل قدر تھا۔ مگر افسوس کہ دھرے کے دھرے رہ گئے اور حرف غلط کی طرح مٹ گئے۔ مگر اس کا سایہ دیکھنا بھی نصیب نہ
ہوا۔ ایک اور ایسا مشکل مرحلہ ہے جسے سلجھانا کارے دارد۔ ہمارا خیال ہے کہ شاید اس کو مرزا قادیانی آنجہانی دوبارہ بھی آجائیں تو حل نہ کر سکیں۔ اس لئے جو مرزائی ایڑی چوٹی کا زور لگا کر سلجھائے صحیح معنوں میں وہی مرزا قادیانی کا سچا مرید ہے۔ وہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی ایک الہامی عبارت اپنے لئے تجویز فرماتے ہیں۔
”انا انزلناہ قریباً من القادیان وبالحق انزلناہ وبالحق نزل وکان وعداللہ مفعولا“ یعنی ہم نے اسے مرزا تجھے قادیان کے قریب اتارا اور حق کے ساتھ اتارا اور ایک دن وعدہ اللہ کا پورا ہونا تھا۔
(ملخص ازالہ اوہام حاشیہ ص ٧٣، خزائن ج ٣ ص ١٣٨)
اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ وہی سندھی بیگ صاحب ہی ہیں جو بعد میں منشی غلام احمد کے نام سے مشہور ہوئے اور مرزا غلام مرتضےٰ کے ہاں پیدا ہوئے۔ یا یہ کوئی اور صاحب ہیں جن کو قادیان کے قریب اتارا گیا۔ چونکہ مرزا قادیانی نہ تو قادیان کے قریب اترے بلکہ خاص قادیان میں پیدا ہوئے۔ اب معاملہ قابل غور اور مشکل حل طلب یہ ہے کہ وہ کون تھا جو قادیان کے قریب اتارا گیا۔ اگر اس کا جواب یہ ہے کہ مرزا قادیانی ہی ہیں تو یہ اور مشکل بنی کہ مرزا کا خدا جس کا نام قادیانی اصطلاح میں یلاش ہے تو یہ کہے کہ ہم نے قادیان کے قریب اتارا اور حق کے ساتھ اتارا اور یہ حق کے ساتھ اتارنا ہمارے وعدوں میں سے ایک وعدہ تھا۔ اگر مرزا قادیانی خاص قادیان میں پیدا ہوں اور پھر وہی اس کے مصداق ہوں تو کہنا پڑے گا کہ دونوں میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے اور ایک اور مشکل ایسی ہے جو مرزا قادیانی کے ان تمام اشعار پر خط تنسیخ پھیرتی ہوئی انہیں ردی کی ٹوکری میں گرا دیتی ہے اور جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ملہم صاحب کا توازن دماغ صحیح نہ تھا۔ وہ یہ ہے کہ حضرت صاحب یہ بھی تو فرماتے ہیں۔
ہر نبوت را برو شد اختتام
(درثمین ص ١١٤، سراج منیر ص ٩٣، خزائن ج ١٢ ص ٩٥)
یعنی رسول اکرمﷺ فداہ امی وابی پر تمام نبوتیں ختم ہوچکیں اور آپ کی بعثت پر باب نبوت مسدود ہوگیا۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر اس شعر کو صحیح الدماغ انسان سے منسوب کریں۔ کیونکہ یہ ایک راسخ عقیدہ کا اظہار ہے تو وہ تمام اشعار جن میں آپ تمام پیامبروں کے روپ میں دیدار عام دے رہے ہیں۔ غلط معلوم ہوتے ہیں اور اگر کثرت کو قلت پر ترجیح دی جائے تو یہ شعر غلط ٹھہرا غرض
مرزا کی زندگی اور اس کے واقعات ایسے ہیں کہ انہیں بھول بھلیاں کہنا از حد زیبا ہے۔ مرزا قادیانی اثبات میں پیش پیش ہیں اور نفی میں آگے آگے ہیں فرماتے ہیں میں نبی ہوں رسول ہوں اور ایسا نبی ہوں جس سے ہزار نبی بن سکتے ہیں اور پھر خود ہی نفی فرماتے ہیں کہ مجھ کو یہ کب جائز ہے کہ نبوت کا دعویٰ کر کے کافر ہو جاؤں اور مسلمانوں کی جماعت سے خارج ہو جاؤں اور مریدان باوفا کے لئے اور بھی سخت حکم دیتے ہیں کہ اے مسلمانوں کی ذریت کہلانے والو خدا سے ڈرو اور مجھ کو نبی مت کہو۔ مجھ کو نبی کہنے والے شیطان کی ذریت ہیں۔ گویم مشکل وگر نہ گویم مشکل۔ اسی طرح جو بھی دعویٰ آپ نے کیا بعد میں اس دعویٰ سے رجوع ہوا اور نفی کر دی گئی۔ مثلاً مسیح موعود کا دعویٰ بڑے زور شور سے کیا اور بعد میں اس کی نفی کر دی کہ جاہل اور کم فہم لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ میں نے مسیح موعود کا دعویٰ کیا ہے۔ حالانکہ میں نے مثیل مسیح کا دعویٰ کیا ہے اور پھر مثیل مسیح کی ایسی ارزانی دکھلائی کہ اہل علم اور سلیم الطبع طبقہ میں مثیل مسیح کی کچھ وقعت ہی نہ رہی۔ کیونکہ اس کے متعلق مرزا قادیانی نے سخاوت بھی کچھ ایسے ہی الفاظ میں کی ۔ فرماتے ہیں ” ہو سکتا ہے کہ میرے بعد اور دس ہزار مثیل مسیح بھی آجائیں اور ہو سکتا ہے کہ ان میں کسی پر ظاہر الفاظ حدیث کے بھی صادق آجائیں۔ مگر اس زمانہ کے لئے میں ہی مثیل مسیح ہوں ۔“ پھر آپ نے فارسی النسل ہونے کا اعلان کیا تو علمائے کرام نے اس کا ثبوت طلب کیا۔ کیونکہ دعویٰ بلا دلیل ہمیشہ باطل ہوا کرتا ہے تو آپ نے فرمایا ثبوت میرے الہام ہیں اور کچھ نہیں۔ اس کے بعد آپ نے چینی النسل ہونے کا دعویٰ بھی کر دیا اور اس کے بعد فاطمی النسل ہونے کی بڑھک ہانکی۔ ایک اور بھی مضحکہ خیز مسئلہ ہے جسے شاید حل تو کیا چھونا بھی کارے دارد۔ آپ فرماتے ہیں؎
نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار
(درثمین ص ٧٤، براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٠٢، خزائن ج ٢١ ص ١٣٣)
اس شعر میں تو کمال ہی کر دیا یہ شعر نیز ابراہیم ہوں، تک رہتا تو کچھ ٹھیک تھا۔ مگر یہ بہت سی نسلیں کیا بلا ہیں کیا یہ صحیح النسب ہونے کا ثبوت دیا جارہا ہے۔ کیا بہت سی نسلیں بھی قابل فخر وعزت ہوا کرتی ہیں۔ ہماری سمجھ میں تو یہ شعر خاک بھی نہ آیا۔ بہت سر پٹکا آخر اس نتیجہ پر پہنچا کہ قافیہ بندی کے لئے جو کچھ بھی ملا لگا لیا گیا۔ اگر یہ شعر اس طرح ہو جاتا تو زیادہ موزوں تھا اور حضرت صاحب کے حسب خیال بھی ہو سکتا تھا۔
نیز ابراہیم ہوں ہیں روپ میرے بے شمار
یا اس طرح سے بھی ہو سکتا تھا کیونکہ تناسخ اسلام میں مردود ہے اور آپ نے ہندوازم کے رشی ہونے کا بھی دم مارا ہے اور یہ لوگ بھی تو تناسخ کے پورے پورے قائل ہیں۔ اس لئے یہ شعر یوں موزوں معلوم ہوتا ہے۔
نیز امین الملک ہوں شعبدے ہیں میرے بے شمار
غرضیکہ مراق کی وجہ سے آپ مجبور تھے معذور تھے اس لئے سلامت روی اور صحت الفاظ کے لئے اور وعدہ ایفائی اور عہد شکنی کے لئے اس بیماری کے بیمار کا قصور تھوڑا ہی ہوتا ہے۔ کیونکہ مراق مانع تفہیم ہے۔
دیکھ کر آیا ہوں بندے کا خدا ہو جانا
ذیل میں ہم چند ایک اور ایسے حوالے پیش کرتے ہیں جن سے یہ معلوم ہو گا کہ دیگر انبیاء علیہم السلام کے حق میں مرزا قادیانی نے کیا کیا گوہر افشانی کی، واقعات شاہد ہیں کہ خدا کا کوئی محبوب شاید ہی ایسا باقی رہا ہو ۔ جس کی پگڑی مرزا قادیانی کے ہاتھوں نہ اچھالی گئی ہو ۔ یہاں تک کہ اس پاکوں کے پاک اور خاصوں کے خاص آفتاب نبوت و امامت کی ذات بابرکات تک بھی نہ بچ سکی اور پھر اس برتے پر ظل اور بروز کے لئے ٹرانا حماقت نہیں تو اور کیا ہے اور یہ ظل اور بروز کی رٹ جو آئے دن سمع خراش ہو رہی ہے کی بھی کوئی حقیقت ہے۔ اصطلاح عامہ میں ظل سائے کو کہتے ہیں اور سایہ اصل کو چاہتا ہے اور جب اصل ہی خدا کی امانت ہو چکا اور رحمت کردگار نے ڈھانپ لیا تو سایہ چہ معنی دارد اور اگر روحانی طور پر ظل کی رٹ لگائی بھی جائے تو وہ عمل و اوصاف چاہتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا مرزا قادیانی میں وہ اطوار و اوصاف پائے جاتے ہیں جو سرکار مدینہ ﷺ میں تھیں۔ مثلاً جہاد جو اعلائے کلمۃ الحق کے لئے مشیت ایزدی سے شہنشاہ عالم ﷺ نے بنفس نفیس عملاً کئے اور ان کی تعلیم اور شوق کے بے پناہ جذبہ سے نام لیواؤں کو سرشار کر دیا۔ چنانچہ بیت اللہ کی عظمت کے لئے خود طواف کئے اور امت کے ہر اس فرد کو جو اس کے خرچ کی استطاعت رکھتا ہے حج فرض قرار دے دیا۔ دنیا اور اس کی چاہت کو مردار سے تشبیہ دے کر اس کے تلاش کرنے والے کو کتا صرف اس لئے کہا کہ کہیں دنیا دین پر مقدم نہ کر لی جائے۔ ورنہ تجارت اور اس
نیز ابراہیم ہوں ہیں روپ میرے بے شمار
طرح سے بھی ہو سکتا تھا کیونکہ تناسخ اسلام میں مردود ہے اور آپ نے ہندوازم میں بھی دم مارا ہے اور یہ لوگ بھی تو تناسخ کے پورے پورے قائل ہیں۔ اس لئے یہ معلوم ہوتا ہے۔
نیز امین الملک ہوں شعبدے ہیں میرے بے شمار
مراق کی وجہ سے آپ مجبور تھے معذور تھے اس لئے سلامت روی اور صحت کا، وعدہ ایفائی اور عہد شکنی کے لئے اس بیماری کے بیمار کا قصور تھوڑا ہی ہوتا ہے۔
ہم ہیں
دیکھ کر آیا ہوں بندے کا خدا ہو جانا
ہم چند ایک اور ایسے حوالے پیش کرتے ہیں جن سے یہ معلوم ہوگا کہ دیگر حق میں مرزا قادیانی نے کیا کیا گوہر افشانی کی، واقعات شاہد ہیں کہ خدا کا ایسا باقی رہا ہو۔ جس کی پگڑی مرزا قادیانی کے ہاتھوں نہ اچھالی گئی ہو۔ یہاں کے پاک اور خاصوں کے خاص آفتاب نبوت و امامت کی ذات بابرکات تک اس برتے پر ظل اور بروز کے لئے ٹرانا حماقت نہیں تو اور کیا ہے اور یہ ظل اور دن سمع خراش ہو رہی ہے کی بھی کوئی حقیقت ہے۔ اصطلاح عامہ میں ظل سایہ اصل کو چاہتا ہے اور جب اصل ہی خدا کی امانت ہو چکا اور رحمت کردگار چہ معنی دارد اور اگر روحانی طور پر ظل کی رٹ الاپی بھی جائے تو وہ عمل و اوصاف یہ ہے کہ کیا مرزا قادیانی میں وہ اطوار و اوصاف پائے جاتے ہیں جو سرکار ثلا جہاد جو اعلائے کلمۃ الحق کے لئے مشیت ایزدی سے شہنشاہ عالم ﷺ نے ن کی تعلیم اور شوق کے بے پناہ جذبہ سے نام لیواؤں کو سرشار کر دیا۔ چنانچہ لئے خود طواف کئے اور امت کے ہر اس فرد کو جو اس کے خرچ کی استطاعت دے دیا۔ دنیا اور اس کی چاہت کو مردار سے تشبیہ دے کر اس کے تلاش اور اس لئے کہا کہ کہیں دنیا دین پر مقدم نہ کر لی جائے۔ ورنہ تجارت اور اس
کے فروغ کے لئے جس قدر شوق آپ نے دلایا اس کی نظیر نہیں۔ یہ حضور ختمی مآب ﷺ ہی کے فرمان کا صدقہ تھا۔ جو گنتی کے دنوں میں مٹھی بھر صحابی تمام کاروباری حلقہ کے مالک تھے اور ان کی امارت کا پتہ ان کے صدقات سے چلتا ہے کہ قحط سالی میں عبدالرحمن بن عوفؓ جو آپ کا ایک بے دام غلام تھا نے ایک ہزار اونٹ معہ غلہ کے راہ مولا میں اپنے آقا کی خوشنودی کے لئے لٹا دیئے۔ تفصیل اس واقعہ کی یوں ہے۔
عبدالرحمن بن عوفؓ بیان کرتے ہیں کہ مدینہ منورہ اور اس کے ماحول میں ایک دفعہ خدا کی امانت کے واپس چلے جانے کے بعد از حد قحط پڑا۔ یہاں تک کہ مخلوق خدا بھوک سے بلبلا اٹھی۔ اسی رات میرے آقا و مولا کا خواب میں دیدار ہوا اور یہ ارشاد میرے کانوں نے سنا کہ کون ہے جو راہ مولا میں اہل یثرب کو بھوک کی مصیبت سے نجات دلا کر جنت کی ضمانت ہم سے لے۔ میرا قافلہ جو شام کو بغرض تجارت گیا ہوا تھا۔ اسی صبح واپس آیا جو ایک ہزار اونٹوں پر مشتمل تھا۔ اونٹوں پر گندم کی بوریاں لدی ہوئی تھیں۔ میرے ملازم گندم کو لئے یثربی منڈی میں بغرض فروخت فروکش تھے اور بیوپاریوں کا ہجوم ان کو حلقہ زن کئے ہوئے تھا کہ سالار قافلہ میرے مکان پر مشورہ اور اجازت کے لئے حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا سیدی گندم کے بیوپاری سات گنا منافع پر غلہ لینا چاہتے ہیں بیع اچھی ہے دے دوں یا اور کچھ ارشاد ہے؟ اس کے جواب میں میں نے اسے یہ کہا کہ لینے والا تو اس سے زیادہ نفع دے کر لے گیا۔ وہ حیران ہوا کہ بیوپاری تو سبھی آ چکے تھے پھر یہ کون لے گیا؟ اور کیا نفع دیا؟ تو ہم نے جواب دیا کہ ستر گنا اور لینے والا وہ محبوب یزدانی ﷺ جو جنت کا دولہا بنا اور جس نے دنیائے جہاں کو تجارت سکھلائی ۔ سالار آقا کی دریا دلی اور رسول اکرم ﷺ کی محبت سے ایسی وابستگی کو دیکھ کر عش عش کر اٹھا اور عرض کیا اب میرے لئے کیا ارشاد ہے تو حکم ہوا کہ جاؤ اور تمام راہ مولا میں غرباء میں تقسیم کر دو۔ سالار کا بیان ہے کہ جب میں اس خدمت سے سبکدوش ہوا تو حاضر ہو کر عرض کیا کہ اونٹ کہاں بھیجوں تو ارشاد ہوا کہ اونٹ بھی راہ مولا میں تقسیم کر دو۔ سبحان اللہ اسی رات آقائے جہان نے ایک دوسرے صحابی کو شرف ملاقات بخشا وہ بیان کرتے ہیں کہ عرب وعجم کے مالک نورانی پوشاک پہنے تازی گھوڑے پر سوار جانے کی جلدی میں مصروف تھے میں نے عرض کیا۔ آقا مدت سے دیدار کا پیاسا تھا اور آنکھیں آپ ﷺ کے رخ انور کو دیکھنے کے لئے ترس رہی تھیں۔ آج ذرہ نوازی ہوئی۔ مگر یہ جلدی کیسی للہ چند لمحے آرام فرمائیے تو حضور ﷺ نے ہلکا سا تبسم فرماتے ہوئے ارشاد کیا کہ مجھے ایک نہایت ضروری کام پر بہت جلد پہنچنا ہے اس لئے رک نہیں سکتا۔ میں نے عرض کیا مولا وہ ایسا کیا کام ہے تو آپ ﷺ
نے فرمایا کہ عبدالرحمن کی سخاوت درگاہ ایزدی میں قبول ہوئی اور اللہ تعالیٰ اس پر راضی ہوا۔ آج جنت میں اس کے نکاح کی تقریب ہے۔ اس لئے مجھے جلدی جانا ہے۔
حضور ختمی مآب ﷺ کے محاسن اور اخلاق حمیدہ اور اوصاف ستودہ شمار ہی نہیں ہو سکتے اور نہ ہی میرا یہ مضمون ہے۔ میں تو اس وقت صرف ظل کی نقاب کو عریاں کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے سید المعصومین آفتاب مدینہ ﷺ کی مبارک سیرت سے صرف تین باتیں نمونتاً پیش کی ہیں۔ جہاد فی سبیل اللہ، فریضہ حج، دین کو دنیا پر مقدم رکھنا۔ اب ان ہی تین باتوں پر مدعی ظل کو پرکھنا ہے اور اگر وہ اس معیار پر پورے اتریں تو ہمیں ان کی خود ساختہ اصطلاح اور ضمیمہ نبوت کے ماننے میں عذر نہ ہوگا۔
مرزا قادیانی کا جہاد کو حرام قرار دینا
”اور یاد رکھو کہ (موجودہ) اسلام میں جو جہاد کا مسئلہ ہے میری نگاہ میں اس سے بدتر اسلام کو بدنام کرنے والا اور کوئی مسئلہ نہیں ہے۔“
(اشتہار ٧؍مئی ١٩٠٧ء، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٨٤)
اس کی تصدیق میں (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص٢٦، خزائن ج١٧ ص٧٧) پر چٹخارے لے لے کر فرماتے ہیں کہ:
دیں کے لئے حرام ہے اب جنگ اور جدال
اب آسماں سے نور خدا کا نزول ہے
اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد
منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد
مسیح قادیانی کی چہیتی بھیڑو۔ تمہارے ہاں جو فرقان حمید طاقچوں میں برکت کے لئے پڑے رہتے ہیں۔ ان میں جہاد کی آیات بحکم ضمیمہ نبوت منسوخ قرار دی جا چکی ہیں یا نہیں اور سورۂ توبہ وآل عمران کو تم نے ابھی تک حذف کیا ہے یا نہیں۔ کیونکہ کذاب قادیان نے جہاد فی سبیل اللہ کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے اس کے حق میں بازاری الفاظ استعمال کئے ہیں اور جہاد کو اپنے زاویہ نگاہ میں کلنک کا ٹیکا شمار کیا ہے۔ اگر یہ فعل قبیح آپ نے اب تک انجام نہیں دیا تو فوراً ہی خط تنسیخ پھیر دو ورنہ مرزا قادیانی کا حکم برسر بازار رسوا ہوگا اور اطاعت حکم کے بجا نہ لانے میں تم کافر
ہو جاؤ گے۔ ہے کوئی مسیح کا لال جو مرزا قادیانی کرے اور اپنے لئے دار جہنم خرید لے۔
نمبر: ١ جہاد فی سبیل اللہ
افسوس مرزا قادیانی کی ساری زند تلوار تو کیا سات انچ کا چاقو رکھنا بھی نصیب نہ اگر یہ دونوں آلات مل بھی جاتے تو مشکل یہ قوا ہی ایسے دیئے تھے اور وہ بھی مضمحل، دن ہمیشہ ڈھیلی ہی رہتی تھی اور سر درد کی وجہ سے او سے زیادہ قابل رحم یہ بات تھی کہ عشق کا آزا المرگ ہونے پر بھی نہ چھوٹا اور لطف یہ ہے کہ صد ہا پیش گوئیاں بتائی گئیں اور پورا نہ ہو ہوئے یہاں تک کہا گیا کہ اگر یہ پیش گوئی پور یہ تو حضرت صاحب کا اپنا طرز عمل کے لئے یہ حکم دیں۔
”عن ابی سعید الخذ افضل قال رجل یجاهد فی سب الشعاب یتقی ربه ویدع الناس مر ج١ ص٢٩٠، باب ماجاء ای الناس اکرم ﷺ سے سوال کیا کہ انسانوں میں س خدا کی راہ میں جہاد کرے پھر میں نے عرض ڈرے اور دنیا سے بھلائی کرے۔
ذیل میں چند ایک فرمان رسو ملاحظہ فرمائیں۔
”عن عبدالله بن عمر سبیل الله یکفر کل شئی الا الدین کفرت خطایاه الا الدین) ”عبداللہ بن عم
الرحمن کی سخاوت درگاہ ایزدی میں قبول ہوئی اور اللہ تعالیٰ اس پر راضی ہوا۔ آج کے نکاح کی تقریب ہے۔ اس لئے مجھے جلدی جانا ہے۔ شفیع مآبﷺ کے محاسن اور اخلاق حمیدہ اور اوصاف ستودہ شمار ہی نہیں ہو سکتے مضمون ہے۔ میں تو اس وقت صرف ظل کی نقاب کو عریاں کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے جناب محمدﷺ کی مبارک سیرت سے صرف تین باتیں نمونتاً پیش کی ہیں۔ جہاد روزہ اور حج ، دین کو دنیا پر مقدم رکھنا۔ اب ان ہی تین باتوں پر مدعی ظل کو پرکھنا ہے اور اگر یہ پورے اتریں تو ہمیں ان کی خود ساختہ اصطلاح اور ضمیمہ نبوت کے ماننے میں تامل نہ ہوگا۔
جہاد کو حرام قرار دینا
یاد رکھو کہ (موجودہ) اسلام میں جو جہاد کا مسئلہ ہے میری نگاہ میں اس سے بدتر واللہ اور کوئی مسئلہ نہیں ہے۔“
(اشتہار ٧؍مئی ١٩٠٧ء ، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٨٤)
تصدیق میں ( ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص٢٦، خزائن ج١٧ ص٧٧) پر چٹکارے لے لے کر
دیں کے لئے حرام ہے اب جنگ اور جدال
اب آسماں سے نور خدا کا نزول ہے
اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد
منکر نبیؐ کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد
بندوقیں بھی چھوڑ دو۔ تمہارے ہاں جو فرقان حمید طاقچوں میں برکت کے لئے پڑی ہے اس میں جہاد کی آیات بحکم ضمیمہ نبوت منسوخ قرار دی جاچکی ہیں یا نہیں اور سورۂ انفال وغیرہ ابھی تک حذف کیا ہے یا نہیں۔ کیونکہ کذاب قادیان نے جہاد فی سبیل اللہ کرنے والوں کو کتے اور خنزیر کہتے ہوئے ان کے حق میں بازاری الفاظ استعمال کئے ہیں اور جہاد کو اپنے لئے حرام شمار کیا ہے۔ اگر یہ فعل قبیح آپ نے اب تک انجام نہیں دیا تو فوراً ہی خط تنسیخ پھیر دو ورنہ کذاب قادیان کا حکم برسر بازار رسوا ہوگا اور اطاعت حکم کے بجا نہ لانے میں تم کافر
ہو جاؤ گے۔ ہے کوئی مسیح کا لال جو مرزا قادیانی کی مری مٹی پر احسان کرتا ہوا اس کار خیر میں سبقت کرے اور اپنے لئے دار جہنم خرید لے۔
نمبر: ١ جہاد فی سبیل اللہ
افسوس مرزا قادیانی کی ساری زندگی اس مقدس فرض سے نا آشنا بلکہ کوری ہی رہی ۔ تلوار تو کیا سات انچ کا چاقو رکھنا بھی نصیب نہ ہوا۔ تیر تو کیا تکلے کی صورت دیکھنا بھی گوارا نہ کی اور اگر یہ دونوں آلات مل بھی جاتے تو مشکل یہ ہے کہ وہ چلا بھی نہ سکتے تھے ۔ کیونکہ قدرت نے کچھ قویٰ ہی ایسے دیئے تھے اور وہ بھی مضمحل، دن میں سوسو بار تو صرف پیشاب ہی آتا تھا ۔ آزار بند ہمیشہ ڈھیلی ہی رہتی تھی اور سر درد کی وجہ سے اور مراق کی شدت سے سر چکراتا ہی رہتا تھا اور سب سے زیادہ قابل رحم یہ بات تھی کہ غش کا آزار بھی دم نہ لینے دیتا تھا اور یہ بے کسی کا ساتھی قریب المرگ ہونے پہ بھی نہ چھوٹا اور لطف یہ ہے کہ یہ آسمانی منکوحہ قرار دی جاچکی تھی اور اس کے لئے صدہا پیش گوئیاں بنائی گئیں اور پورا نہ ہونے کی صورت میں انتہائی ذلالت کی ذمہ داری لیتے ہوئے یہاں تک کہا گیا کہ اگر یہ پیش گوئی پوری نہ ہو تو مجھے بد سے بدتر سمجھو۔ یہ تو حضرت صاحب کا اپنا طرز عمل ہے۔ مگر افسوس تو یہ ہے کہ رسول اکرمﷺ تو جہاد کے لئے یہ حکم دیں۔ ”عن ابی سعید الخدریؓ قال سئل رسول اللہ ﷺ ای الناس افضل قال رجل یجاھد فی سبیل اللہ قالوا ثم من قال ثم مؤمن فی شعب من الشعاب یتقی ربہ ویدع الناس من شرہ. ھذا حدیث حسن صحیح (ترمذی ج١ ص٢٩٥، باب ماجاء ای الناس افضل) “ ابی سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اکرمﷺ سے سوال کیا کہ انسانوں میں سے افضل کون ہے تو فرمایا وہ آدمی سب سے بہتر ہے جو خدا کی راہ میں جہاد کرے ۔ میں نے عرض کیا اس کے بعد ؟ فرمایا وہ مؤمن جو گھاٹی میں اپنے خدا سے ڈرے اور دنیا کو اپنے شر سے محفوظ رکھے۔ ذیل میں چند ایک فرمان رسالت زیادۂ ایمان کے لئے اور پیش کئے جاتے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں۔ ”عن عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ ان النبی ﷺ قال القتل فی سبیل اللہ یکفر کل شیء الا الدین (مسلم ج٢ ص١٣٥، باب من قتل فی سبیل اللہ کفرت خطایاہ الا الدین) “ عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ سے روایت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل ہو جانے سے سوائے قرض کے باقی سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔
”عن ابی عبس قال قال رسول الله ﷺ ما غبرت قدما عبد فی سبیل الله فتمسه النار (بخاری ج ١ ص ٣٩٤، باب من اغبرت قدماہ فی سبیل اللہ) ”ابو عبسؓ سے روایت ہے کہ اس نے کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ انسان کے دو قدم اللہ تعالیٰ کی راہ میں غبار آلود ہوں ۔ پھر دوزخ میں جائیں یہ نہیں ہو سکتا۔
”عن انس قال قال رسول الله ﷺ لغدوة في سبيل الله او روحة خير من الدنيا وما فيها (بخاری ج ١ ص ٣٩٢ ، باب الغدوة والروحة في سبيل الله، مسلم ج ٢ ص ١٣٤) ”انسؓ سے روایت ہے اس نے کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی راہ (یعنی جہاد) میں ایک دن کی صبح یا ایک دن کی شام ساری دنیا سے زیادہ بہتر ہے۔
رب قدوس کا وہ پر از حکمت حکم جو سرکار مدینہ ﷺ کو ہوا تھا ملاحظہ کریں۔
”يأيها النبی جاهد الكفار والمنفقين واغلظ عليهم (توبه:٧٣)“ اے میرے محبوب کفار و منافقین کے ساتھ جہاد کرو اور ان پر سختی کرو۔
”الذين امنوا وهاجروا وجاهدوا في سبيل الله باموالهم وانفسهم اعظم درجة عندالله واولئك هم الفائزون ، يبشرهم ربهم برحمة منه ورضوان وجنت لهم فيها نعيم مقيم ، خلدين فيها ابدا ، ان الله عنده اجر عظيم (توبه: ٢٠ تا ٢٢) ”وہ لوگ جو ایمان لائے اور دین کے لئے انہوں نے ہجرت کی اور اپنے جان و مال سے اللہ کے رستے میں جہاد کئے وہ لوگ اللہ کے ہاں درجے میں کہیں بڑھ کر ہیں اور یہی ہیں جو منزل مقصود کو پہنچنے والے ہیں اور ان کا پروردگار اپنی مہربانی اور رضامندی سے ایسے باغوں میں رہنے کی خوشخبری دیتا ہے جن میں ان کو دائمی آسائش ملے گی اور یہ لوگ ان باغوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ بے شک اللہ کے ہاں ثواب کا بڑا ذخیرہ موجود ہے۔
یوں تو جہاد کے متعلق کتب احادیث میں علیحدہ باب ہیں اور ان میں سینکڑوں فرمان مصطفوی اس پاک مقصد کے لئے موجود ہیں ۔ جس میں بسط و شرح سے اس کے فضائل اور خوبیاں بیان کی گئی ہیں۔
دنیا میں زندہ رہنے کا حق صرف اسی قوم کو ہے جو اس پاک اصول کو لائحہ عمل بنائے اور سختی سے اس پر کار بند رہے۔
چشم بصیرت سے اقوام عالم کا مشاہدہ کر کے دیکھ لو جو قوم بھی اس پاک جذبہ سے
سرشار نہیں ۔ وہ بودی اور ذلیل ہے یہا غلام کہلاتی ہے اور اسی پر بس نہیں ۔ آزا کا کوئی حق نہیں ۔
یہی وہ مبارک جذبہ ہے جس جہاد کا صحیح مفہوم اگر نبی ہو کر آپ کی سمجھ میـ
فریضہ حج
”فمن اظلم ممن كذ جهنم مثوى للكفرين ، والذى لهم ما يشاء ون عند ربهم ذالك جـ مرزائیو! خدا لگتی کہنا کہ یہ آیـ مرزا قادیانی سلسلہ چل جانے کے بعد مـ کرتے تھے اور خرچ بھی بڑی فراخ دلی کستوری میں اٹھتے اور ٹانک وائن بھی آ آتا ۔ دعائیں مول بکا کرتیں جو اُمراء خرید کے ہزاروں روپیہ جمع کیا اور پچاس کی بجا عام و خاص سے بھی ہمیشہ کرم کیا ہی کرتے تک آ جاتا اور پانچ ہزار روپیہ تو آپ کو ر سینکڑوں واقعات طوالت کے ڈر سے چھـ بن چکے تھے اور آپ کی امارت کا اندازہ ا میں ہیرا پھیری کرتے ہوئے ہزاروں رو تعلق کرتے ہوئے صرف مولانا ثناء اللہ بات پر بطور انعام دیا کہ میری کتاب نزول کرنے پر یہ رقم آپ کے پیش کر دی جا کے عوض بلا مبالغہ اسی قدر گالیاں دی گئیں مزا جی قادیانی دجال
تل ہو جانے سے سوائے قرض کے باقی سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔
ابی عبسؓ قال قال رسول الله ﷺ ما غبرت قدما عبد فی سه النار (بخاری ج ١ ص ٣٩٤، باب من اغبرت قدماه فی سبیل سے روایت ہے کہ اس نے کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ انسان کے دو قدم غبار آلود ہوں۔ پھر دوزخ میں جائیں یہ نہیں ہو سکتا۔
انسؓ قال قال رسول الله ﷺ لغدوة فی سبیل اللہ اوروحة وما فیها (بخاری ج ١ ص ٣٩٦ ، باب الغدوة والروحة فی سبیل اللہ، ) ”انسؓ سے روایت ہے اس نے کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی راہ دن کی صبح یا ایک دن کی شام ساری دنیا سے زیادہ بہتر ہے۔ دین کا وہ پر از حکمت حکم جو سرکار مدینہ ﷺ کو ہوا تھا ملاحظہ کریں۔
النبی جاهد الکفار والمنفقین واغلظ علیهم (توبہ: ٧٣) ”اے نافقین کے ساتھ جہاد کرو اور ان پر سختی کرو۔
ن امنوا وهاجروا وجاهدوا فی سبیل اللہ باموالهم وانفسهم نداللہ واولئک هم الفائزون ، یبشرهم ربهم برحمة منه ت لهم فیها نعیم مقیم ، خلدین فیها ابدا ، ان اللہ عنده اجر (٢٢،٢٠) ”وہ لوگ جو ایمان لائے اور دین کے لئے انہوں نے ہجرت کی اور اللہ کے رستے میں جہاد کئے وہ لوگ اللہ کے ہاں درجے میں کہیں بڑھ کر ہیں مراد کو پہنچنے والے ہیں اور ان کا پروردگار اپنی مہربانی اور رضامندی سے ایسے خبری دیتا ہے جن میں ان کو دائمی آسائش ملے گی اور یہ لوگ ان باغوں میں بے شک اللہ کے ہاں ثواب کا بڑا ذخیرہ موجود ہے۔
د کے متعلق کتب احادیث میں علیحدہ باب ہیں اور ان میں سینکڑوں فرمان مد کے لئے موجود ہیں۔ جس میں بسط و شرح سے اس کے فضائل اور خوبیاں
ہ رہنے کا حق صرف اسی قوم کو ہے جو اس پاک اصول کو لائحہ عمل بنائے اور ہے۔
ے سے اقوام عالم کا مشاہدہ کر کے دیکھ لو جو قوم بھی اس پاک جذبہ سے
سرشار نہیں۔ وہ بودی اور ذلیل ہے یہاں تک کہ اس کی عزت و ناموس خطرے میں ہے اور وہ غلام کہلاتی ہے اور اسی پر بس نہیں۔ آزاد قوم کے جلسوں میں انہیں رائے دینے یا شامل ہونے کا کوئی حق نہیں۔
یہی وہ مبارک جذبہ ہے جس کے تصدق میں بدوی عرب شہنشاہ عالم ہوئے۔ ہاں جہاد کا صحیح مفہوم اگر نبی ہو کر آپ کی سمجھ میں نہ آوے تو تلك اذا قسمة ضیزی!
فریضہ حج
"فمن اظلم ممن کذب علی اللہ وکذب بالصدق اذجاء ه الیس فی جهنم مثوی للکفرین ، والذی جاء بالصدق وصدق به اولئک هم المتقون ، لهم ما یشاء ون عند ربهم ذالک جزاء المحسنین (الزمر: ٣٢، ٣٣) “
مرزا جیو! خدا لگتی کہنا کہ یہ آیات مرزا قادیانی کے کیسی حسب حال ہیں۔ سبحان اللہ!
مرزا قادیانی سلسلہ چل جانے کے بعد معمولی آدمی نہ تھے۔ بلکہ اپنے آپ کو رئیس قادیان لکھا کرتے تھے اور خرچ بھی بڑی فراخ دلی سے کیا کرتے تھے۔ سینکڑوں روپے تو کشتہ جات اور کستوری میں اٹھتے اور ٹانک وائن بھی آئے دن آتی ہی رہتی۔ لنگر خانہ کے نام پر ہزاروں کا مال آتا۔ دعائیں مول بکا کرتیں جو اُمرا خریدا کرتے۔ براہین احمدیہ کا چندہ پچاس جلدوں کا وعدہ کر کے ہزاروں روپیہ جمع کیا اور پچاس کی بجائے پانچ بھی بڑی مشکل سے دیں اور مریدان باوفا چندہ عام و خاص سے بھی ہمیشہ گرم کیا ہی کرتے اور بہشتی مقبرہ کی زمین کا روپیہ ایک ایک قبر کا ہزاروں تک آجاتا اور پانچ ہزار روپیہ تو آپ کو رہن بالوفا کا نصرت جہاں بیگم سے دستیاب ہوا اور ایسے سینکڑوں واقعات طوالت کے ڈر سے چھوڑتا ہوا اسی پر اکتفاء کرتا ہوں کہ آپ ماشاء اللہ کافی امیر بن چکے تھے اور آپ کی امارت کا اندازہ اس سے بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی اشتہار ایسا نظر نہیں آتا جس میں ہیرا پھیری کرتے ہوئے ہزاروں روپیہ انعام کا وعدہ دے دیا جاچکا ہو اور تمام واقعات سے قطع تعلق کرتے ہوئے صرف مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری کو پندرہ ہزار روپیہ کا وعدہ صرف اس بات پر بطور انعام دیا کہ میری کتاب نزول مسیح میں ڈیڑھ سو پیش گوئیاں لکھی ہیں۔ ان کو جھوٹا ثابت کرنے پر یہ رقم آپ کے پیش کر دی جائے گی۔ مگر افسوس جب وہ قادیان تشریف لائے تو روپیوں کے عوض بلا مبالغہ اسی قدر گالیاں دی گئیں اور گھر کی چار دیواری سے نکلنے کا یارا ہی نہ ہوا۔
قادیانی دجال کی ہرزہ سرائی دیکھ لی
آپ کا ایک الہام بھی ہے کہ ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں اور ایک اور جگہ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ میری قبر روضہ اطہر کے پاس ہو گی اور میں اس میں دفن کیا جاؤں گا۔
یہ ہیں آپ کی زندگی کے صحیح صحیح واقعات جو مختصراً عرض ہوئے۔ مگر افسوس انجام کیا ہوا کہ حج کی سعادت نصیب نہ ہوئی اور آپ کو بے نیل و مرام ملک عدم کو کوچ کرنا پڑا۔
دین کو دنیا پر مقدم رکھنا
اس ضمن میں بھی آپ ماشاء اللہ فیل ہی رہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ مرسل من اللہ کا پہلا فرض یہ ہے کہ وہ تبلیغ حقہ کے لئے تمام قوموں کو دعوت حق پہنچا دے خود تبلیغ کرے اور اعداء کے جور و رنج سہے ۔ مگر مرزا قادیانی کو یہ سعادت بھی نصیب نہ ہوئی۔ آپ نے گورنمنٹ برطانیہ کی مدح و ستائش میں بہت سا وقت کھویا آپ کا اپنا بیان ہے۔
کہ ”میری عمر کا بیشتر حصہ گورنمنٹ برطانیہ کی مدح و ستائش میں گزرا اور میں نے ان کی خدمت کے لئے اپنی محبوب امت کو ابدی غلامی کی تعلیم دی اور میں نے یہاں تک کیا کہ غیر ممالک میں لاکھوں ٹریکٹ اور اشتہار وقتاً فوقتاً بھیجے اور اگر ان کی مجموعی حیثیت کا اندازہ کیا جائے تو پچاس الماریاں بھی ان کے لئے ناکافی ہی رہیں گی ۔
(مفہوم تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥)
امیر حبیب اللہ والی افغانستان کو آپ نے نبوت کی دعوت دی۔ شاہی دماغ سے دو لفظوں میں اشتیاق ملاقات کا جواب موصول ہوا۔ والی افغانستان نے لکھا ”اینجا بیا“ مگر مرزا قادیانی سرحدی کالے کالے پہاڑوں سے یوں بھاگے جیسے گدھے کے سر سے سینگ اور پھر نام ہی نہ لیا۔
ڈپٹی کمشنر گورداسپور کی ایک ہی ڈانٹ پر ایسی بودی تحریری شرطیں آپ نے منظور کیں کہ آئندہ میں کسی کی مرگ اور غم و مصیبت کی پیش گوئیاں نہ کیا کروں گا اور نہ ہی کوئی خدا سے ایسی اپیل کروں گا۔ جس سے کسی شخص کی ذلت یا مورد عتاب الٰہی ہونے کا احتمال ہو۔ بلکہ اگر الہام بھی کوئی ایسا ہو جس کا یہ مطلب ہو کہ فلاں شخص مورد عتاب الٰہی ہوگا تو میں اس کو افشا نہ کروں گا اور میں کسی کو مباہلہ کے لئے بھی دعوت نہ دوں گا اور نہ ہی کسی کو برے لفظوں سے یاد کروں گا۔ غرضیکہ نبوت کا کاروبار چھوڑ کر بڑی مشکل سے یہ تبلیغی مرحلہ طے کر کے آرام سے گھر کی چار دیواری میں بیٹھ گئے۔
قرآن کریم شاہد ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام اپنی اپنی قوموں کو ”و لا اسئلکم
عليه من مالا ان اجرى الا على الله (هود ٢٩) “ یعنی اے لوگو میں اس تبلیغ رسالت پر تم سے اس کا کچھ بدلہ نہیں چاہتا۔ بلکہ اس کا اجر وہ ذات کردگار عنایت کرے گا۔
مگر مرزا قادیانی لنگر خانہ کے نام پر، ممبرز کی آن پر، کتابوں کی شان پر، چندہ خاص، چندہ عام، تبلیغی فنڈ، صدقہ جاریہ، خیرات، صدقات، حسنات، صدقہ فطر، صدقہ کھال، چندہ بہشتی مقبرہ، چندہ مسجد سالانہ، چندہ یتیمی، چندہ بیوگان، چندہ تبلیغ اشاعت، چندہ مینارۃ المسیح، چندہ تفسیر القرآن۔ غرض چندہ ہی چندہ کے عنوان سے غریب امت کو لوٹتے رہے۔
کون سے نبی نے محل بنوائے۔ جن کو فیشن ایبل کوچ اور میزوں سے آراستہ کیا اور قیمتی قالین پاؤں کی ٹھوکروں کی نظر کئے، قطعے اور تصویریں دیواروں کے ساتھ آویزاں کئے۔ قد آدم آئینے لگوائے اور بیش قیمت پردوں سے دروازوں کو ڈھانپ دیا۔ قصر نبوت کو ایک نظر دیکھنے سے شاہی ایوان کا دھوکہ ہوتا ہے۔ قادیان میں جاؤ اور امارت کی شان دیکھو، پوری بادشاہی کا نقشہ نظر آئے گا۔ وہاں پر پرائیویٹ سیکرٹری ملیں گے۔ محاسب خزانہ دکھائی دے گا۔ آڈٹ آفیسر موجود ہیں۔ ناظرین دعوت مال و تبلیغ بیٹھے ہیں۔ مسیح قادیانی کی چہیتی بھیڑیں دجل کی مشین میں سیقل ہو رہی ہیں۔ امیر مرزائیہ سے ملاقات کارے دارد ہے۔ نقیب و چاوش موجود ہیں۔ غرضیکہ شاہی سلسلہ بھی پانی بھرتا نظر آئے گا۔ غور فرمائیے کسی نبی کی سیرت میں بھی ایسی باتیں آپ کو مل سکتی ہیں؟ ہرگز نہیں اور طرفہ یہ ہے کہ ابھی مرزا قادیانی غربت اور درویشی کے رنگ میں آئے ہیں اور اپنے آپ کو عاجز قرار دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ دنیاوی محبت کا چولہ ہم نے نظر آتش کر دیا۔ سبحان اللہ اگر نہ کیا ہوتا تو شاہان جہاں یہاں سے فیشن سیکھتے اور سبق لیتے ظل کی تصویر کے بعد اصل کا بھی ملاحظہ کریں۔
ایسے ہی اور صد ہا واقعات صفحہ تاریخ پر رقم ہیں۔ جن سے آپ کی تبلیغ کا پتہ چلتا ہے اور یہ جو کتابیں سیاہ کر دی گئی ہیں اور کولہو کے بیل کی طرح ایک ہی چیز کا بار بار اعادہ کیا گیا ہے۔ ان میں سوائے ان باتوں کے کہ عیسیٰ علیہ السلام مر گئے میں مسیح موعود ہوں۔ کلام مجید کے معجزات محض مسمریزم ہیں اور جابجا اپنی تعریفوں کے پل اور چندہ دہندگان کی فہرستیں اور اپنی دعاؤں کی قبولیت اور ایسی ہی بے معنی باتیں جن سے اہل اسلام کو کچھ حاصل نہیں۔ بلکہ خیالات کو اور پراگندہ کرنے والی باتیں درج کرنے کے علاوہ اور کیا لکھا ہے اور ایسی کتابیں اسلامی دنیا کو کیا فائدہ پہنچا سکتی ہیں کوئی ایسی بات پیش کریں جس سے یہ معلوم ہو کہ آپ کی وجہ سے اسلامی دنیا کو یہ فیض حاصل ہوا۔ مگر یہ بات میں دعویٰ سے پیش کرتا ہوں کہ کوئی ایسی خوبی آپ نہ بتلا سکیں گے نہ بتلا سکیں گے۔
بہر حال ہمیں اصل اور فرع میں قاعدہ کلیہ کے مطابق ایک ہی چیز نظر آنی چاہئے۔ مثال کے طور پر شیشہ میں اپنی ہی شکل نظر آنی لازم ملزوم ہے۔ یہ غیر ممکن ہے کہ زنگی کافور دکھلائی دے۔
سرور کون و مکان ﷺ کی روحانی فوٹو ہمیں مرزا آنجہانی میں قطعا دکھلائی نہیں دیتی۔ آپ ﷺ کی بعثت سے لاکھوں مشرکین اسلام کی چوکھٹ پر جام توحید سے سرشار ہوئے اور مرزا کی بعثت سے کروڑوں مسلمان کافر ٹھہرائے گئے۔ یہ اچھی اسلام نوازی ہوئی۔ گھر کے آدمی ہی کافروں کے زمرے میں شمار ہوئے۔ فرقان حمید تو مسیح موعود کی بعثت پر یہ فرمائے۔ ”و ان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته (نساء:١٥٩)“ اور اہل کتاب سے کوئی ایسا باقی نہ رہے گا جو مسیح موعود کی بعثت پر اپنی موت سے پہلے ایمان نہ لائے۔ مگر افسوس عجیب عشق کا الٹا اثر نکلا کے مصداق نصاریٰ کالعدم کی بجائے ترقی کریں اور اس قدر ترقی کریں کہ ٤٠ فیصدی مردم شماری میں دوسری اقوام سے زیادہ ہوں۔
قطع نظر دیگر ممالک کے صرف ضلع گورداسپور میں مرزا قادیانی کے دعویٰ کسر صلیب کی برکت سے حسب ذیل اعداد و شمار ترقی کریں۔ اپنے ضلع کی یہ حالت ہو تو دوسروں کا اللہ ہی حافظ ہے۔ مرزائیو! گوش ہوش سے سنو اور پھوٹی آنکھوں سے دیکھو کہ مرزا قادیانی کی بعثت اسلام نواز ہے یا عیسائی پرور۔
ضلع گورداسپور میں ١٨٩١ء میں چوبیس صد عیسائیوں کی تعداد تھی۔ لیکن مرزا قادیانی کے عیسائیت کے ستون کو توڑنے سے ١٩٠١ء میں چار ہزار چار سو اکہتر ہوئی اور جب آپ نے اپنی آخری زندگی میں صلیب کو توڑنے کے لئے اپنے خدا سے دعا کی تو دعاء کا الٹا اثر نکلا کہ ١٩١١ء کی مردم شماری میں تئیس ہزار تین سو پینسٹھ تھی۔ اس کے بعد خلیفہ نور دین کی کوشش و ہمت سے اور کسر صلیب کی وصیت پر عمل کرتے ہوئے جو مرزا آنجہانی نے بوقت رحلت تاکیداً کی تھی تعداد بالکل ہی گھٹ گئی۔ کیا کہنے ہیں صدیق ثانی کی خلافت کے برعکس نہند نام زنگی کافور یعنی ١٩٢١ء کی مردم شماری میں بتیس ہزار آٹھ سو تئیس ہوئی۔ گویا مرزا قادیانی کی دعا کی برکت سے صرف آپ کے اپنے ضلع میں بیس برس کے عرصہ میں تیس ہزار چار سو تیس نفوس حلقہ تثلیث میں مقید ہوئے۔ کیا کسر صلیب امت مرزائیہ کی اصطلاح میں اسی جانور کا نام ہے۔
نامرادی میں ہوا ہے تیرا آنا جانا
یہ تو نصاریٰ نوازی ہوئی نہ کہ اسلام نوازی۔ کیا یہی مرزا قادیانی کا احسان ہے اور یہی مجدد کی شان ہے۔ اچھی تجدید ہو رہی ہے اور نبوت کی برکتیں اور رحمتیں نزول فرما رہی ہیں کہ گھر کے آدمی مرزا قادیانی کی برکت سے نصاریٰ کے غلام بن رہے ہیں۔ حالانکہ مرزا قادیانی اپنی سچائی کا معیار یہ فرماتے ہیں۔
معیار صداقت مسیح بقول مرزا آنجہانی
”طالب حق کے لئے یہ بات پیش کرتا ہوں کہ میرا کام جس کے لئے میں اس میدان میں کھڑا ہوا ہوں یہ ہے کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دوں اور بجائے تثلیث کے توحید پھیلا دوں۔ آنحضرت ﷺ کی جلالت وعظمت وشان دنیا پر ظاہر کردوں۔ پس مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آئے تو میں جھوٹا ہوں۔ پس دنیا مجھ سے کیوں دشمنی کرتی ہے۔ وہ میرے انجام کو کیوں نہیں دیکھتے۔ اگر اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھلایا جو مسیح موعود مہدی موعود کو کرنا چاہئے تھا تو پھر سچا ہوں ورنہ اگر کچھ نہ ہوا اور مر گیا تو پھر سب لوگ گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔ والسلام!
(البدر ١٩؍ جولائی ١٩٠٢ء مشمولہ مکتوبات احمدیہ ج٦ ،حصہ اول ص١٦٢)
مسیح قادیانی کی چیختی بھیڑو! خدارا انصاف کرو۔ تدبر سے کام لو۔ کیا تم میں صاحب بصیرت کوئی نہیں رہا۔ کیا تمہاری عقلوں کو گھاس چرنے سے کبھی فرصت بھی ملتی ہے؟ ہوش کی دوا لو اور دل کی آنکھوں سے دیکھو اور گئے گزرے ایمان کی کسوٹی پر پرکھو اور کہو کہ مرزا کی آمد سے عیسائیت کا خاتمہ ہو گیا اور اب تمہیں کوئی عیسائی دکھائی نہیں دیتا۔ کیا دنیائے جہاں کے گرجے مسجدوں میں مبدل ہوگئے کیا پادریوں کی لمبی لمبی صلیبیں توڑ دی گئیں۔ کیا گھنٹوں اور ناقوس کی جگہ کلمہ توحید نے لے لی۔ کیا تثلیث کی جگہ توحید کا جھنڈا لہرا اٹھا۔ کیا عیسیٰ پرستی کا ستون بیخ و بن سے برباد ہوا۔
آفتاب آمد دلیل آفتاب
عہد صدیقؓ کا ایک واقعہ
ہمدردی کی آنکھیں خون کے آنسو روتی ہیں اور محبت سے لبریز دل یاد محبوب میں بلیوں اچھلتا ہوا بے چین و بے قرار ہوتا ہے۔ آہ وہ انیس الغرباء و شفیق امت وہ گلیم پوش و بوریا نشین نبی ﷺ جو مشیت ایزدی سے خاتم النبیین وکافۃ للناس اور رحمت کردگار سے رحمت اللعالمین
ہوا اور جس نے اہل عالم کے سامنے اخوت و رحمت کی تصویر عملی رنگ میں کھینچی اور عفو و کرم کے دریا بہائے اور علم و عرفان کی بارش کی۔
رؤف الرحیم آقا کا وہ رؤف الرحیم غلام جب تک رہا۔ مساوات کا علمبردار اور حلم و انکساری کا قاسم رہا۔ آخر رب کعبہ کی مشیت مقتضی ہوئی اور ماہ کامل کی روشنی سے جہان مستفید ہو کر جگمگا اٹھا تو وہ سراج المنیر ابر رحمت کی آغوش شفقت میں ڈھانپ لیا گیا۔
صفحہ دہر پر اس نیلی فام کے نیچے سب سے پہلا وہ مصدق جو خادم دین ہوا اور جس نے اسلام کے لئے رسول اکرم ﷺ کی شان کے لئے اپنا گھر بار راہ مولا میں لٹایا اور مستعمل کپڑوں تک خرچ کر کے درختوں کے پتوں سے تن ڈھانپا گیا اور شراب وحدت سے سرشار ہو کر اسی کا ہو رہا اور غار ثور میں رفیق اور ابتلاء و مصیبت کا ساتھی ہو کر صدیق کے لقب سے ملقب ہوا۔
جب مسند خلافت پر حضور آقائے زمان ﷺ کا غلام ہوا تو اپنی لخت جگر ام المؤمنین عائشہ صدیقہؓ سے سب سے پہلے جو سوال کیا تھا وہ یہ تھا کہ بیٹی وہ تسلیم و رضا کا نورانی پیکر اور تیرے ایمان کا مالک تیرا پیارا شوہر جو جنت کا دولہا بنا اور جس کے لب مبارک ہمیشہ یہ دعاء فرمایا کرتے ”اللهم أحييني مسكينا وأمتني مسكينا (ابن ماجه ص ٣٠٤ ، باب مجالسة الفقراء) ‘‘ کون سا ایسا خاص عمل فرمایا کرتے جو میرے علم میں نہ ہو تو آپ نے جواب دیا کہ آپ ﷺ کا یہ معمول تھا کہ صبح حریرہ مجھ سے بنواتے اور دامن کوہ کے شمال کو تشریف لے جاتے۔ بس اس سے زیادہ نہیں جانتی کہ وہ اس کو کیا کرتے۔
عاشق رسول ﷺ کی دور بین نگاہیں حقیقت سے آشنا ہوئیں اور بوڑھے صدیق کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور دل وفور محبت سے تڑپ اٹھا تو شوق طلب دامنگیر ہوا۔ حریرہ لیا اور اللہ کا نام لے کر دامن کوہ کو چل دیا۔ راستہ بھر بنظر عمیق وہ یہ سوچتے جا رہے تھے کہ وہ کون سا ایسا خوش نصیب ہے جس کی مہمانی میں آقائے دو جہاں بنفس نفیس ہمیشہ میزبان رہے۔ غرضیکہ جویندہ یابندہ کے مصداق حصول مراد ہوا تو دیکھا تاریک غار ہے اور اس سے ایک خفیف سی کراہنے کی آواز آ رہی ہے۔ آپ اندر داخل ہوئے تو ایک نحیف البدن بیمار مشاہدہ کیا جو انتہائی کمزوری کے باعث ہاتھ اٹھانے کی سکت سے بھی معذور تھا۔ وہ گویا ہڈیوں کا ایک مرقع جھلری پڑے گوشت میں ملفوف تھا اور شاید موت کی آرزو میں دن گن کر گزار رہا تھا اور عدم صفائی کے باعث متعفن مادہ سے دماغ پھٹا پڑتا تھا۔ مگر صدیق کے لئے یہ سد راہ نہ ہو سکا۔ آپ نے کمال شفقت و مہربانی سے اس کا سر اپنے زانو پر رکھا اور حریرہ چمچہ سے اس کے منہ میں گرایا۔
بیمار نے ایک طویل سرد آہ لی اور شدت تکلیف سے کراہ اٹھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وفور غم سے اس کا گلا کٹ گیا۔ تاہم بھرائی ہوئی آواز سے بولا تم نے ظلم کیا مجھے سخت تکلیف ہوئی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دنیائے جہاں سے خدا نے اپنی رحمت کو اٹھا لیا۔ کیا رحمت عالم عالم جاودانی کو سدھارے آہ تو میز بانی کو کیا جانے کہ وہ انیس الغرباء جو میزبان جہاں ہوا۔ کس طرح سے نحیفوں کو نوازا کرتا آہ کس منہ سے بتاؤں اور کیسے کہوں کہ وہ محبوب یزدانی ﷺ پہلے اس لقمے کو اپنے دہن مبارک سے گداز کرتے اور پھر میرے منہ میں کر ڈال دیتے۔ افسوس اب رہنا بے سود اور جینا بے کار ہوا۔ آہ خدا نے ضعیفوں کا ملجاء چھین لیا۔ ایک سرد آہ کھینچی اور چند سسکیاں لیں اور جان جاں آفریں کے سپرد کر دی۔ غرضیکہ مرزا قادیانی کی بعثت اور عیسائیت کے ستون شکنی کی بلند بانگ دعاوی کی جدوجہد میں غریب مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ ہوا اور زیست مسلم کے لالے پڑ گئے اور جینا دو بھر ہوا۔ یہاں تک کہ آزاد اقوام کو محکومیت کے دیو استبداد کے مہیب چنگل میں لانے کے لئے مشین پرزوں میں حرکت ہوئی اور ارباب بست و کشاد نے انتہائی سوچ و بچار کے بعد مرد بیمار ترکی کا علاج فصد قرار دے کر نخل مسلم پر کلہاڑا تجویز کیا۔
مسلمانوں پر آپ کی برکت سے قیامت صغریٰ قائم ہوئی اور جہاں خدائے واحد کی پرستش ہوتی تھی اور پانچ وقت اذان کہی جاتی تھی وہاں تثلیث کے پوجاری گھنٹیاں بجانے لگے۔ سرتاپہ تثلیث کے مہیب بادل اس بے باکی سے چھائے اور خون مسلم کی اس قدر ارزانی ہوئی کہ بچے اور بوڑھے اس میں بہ گئے۔ ایک سمرنا کا ہی رونا نہیں طرابلس میں جو کچھ ہوا اس کے اعادہ کرنے کی تاب نہیں اور بلقان کا حشر اسلامی دنیا کبھی فراموش نہ کرے گی۔ لاکھوں بے خانماں برباد ہوئے۔ ہزاروں کے مکان راکھ کا ڈھیر ہوئے۔ سینکڑوں معصوم بچے ماؤں کی آغوش سے جبراً چھین کر دکھلا دکھلا کر قتل کئے گئے۔ بیسیوں عصمت مآب عفیفہ عورتوں کی عصمت دری ہوئی اور سینکڑوں خدا کے محبوب بندے لقمہ اجل ہوئے اور سب سے زیادہ قابل افسوس بات یہ ہے کہ اسلامی پھریرے کی جگہ تثلیثی جھنڈے نصب ہوئے اور مسلم درگاہ رب العزت میں الحفیظ والامان پکار اٹھے۔
مٹ جائیں گی قبل سحر شام خلافت کی ضیا
مرزا قادیانی کا یہ زرین اصول یا معیار صداقت معلوم ہوتا ہے کسی نہایت ہی مقبول گھڑی کا کہا ہوا ہے جس کی دنیا شاہد بنائی گئی ہے۔ چونکہ آپ عیسیٰ پرستی کے ستون کو
توڑنے کی بجائے استوار کرنے والے ثابت ہوئے ہیں۔ اس لئے اہل عالم ان کو جھوٹوں کا جھوٹا کہنے کے لئے حق بجانب ہیں۔
سیرت سرکار مدینہﷺ کا ایک ورق
آہ وہ شہنشاہی میں فقیری کرنے والا آقا۔ وہ فقر کو غنا پر ترجیح دینے والا مولا وہ گلیم پوش و بوریہ نشین نبی۔ وہ تاج سکندری سے کلاہ درویشی میں مست رہنے والا امین۔ وہ بھوکوں اور محتاجوں کا میزبان، وہ یتیموں اور بیکسوں کا والی جو رانڈوں اور بیواؤں کا دستگیر اور محتاجوں اور بیماروں کا ملجا و ماویٰ تھا۔ جس سے زیادہ حلم و بردباری کا نظارہ دنیا پھر کبھی نہ دیکھ سکے گی۔ جس سے بڑا سخی جہاں کبھی نہ پیدا کر سکے گا۔ جس سے بڑا بہادر صفحہ دہر پر پھر دیکھنا نصیب نہ ہوگا۔ اپنے عیال کے لئے کون سے دنیوی خزانے اور قصر و باغات چھوڑ کر رخصت ہوا۔ وہ دنیا میں شاہی حیثیت سے شادکام و بامراد جیا دنیا نے اس کی غلامی کو فخر سمجھا اور قوموں نے اس کے اصول سینے سے لگائے۔ وہ وفا و صدق میں ڈوبا ہوا تھا اور اسے کبھی ذاتی غرض کا خیال نہ آیا۔ لاکھوں دینار اس کے سامنے آئے۔ ہزاروں بیش قیمت تحائف پیش ہوئے۔ مگر وہ رے شان بے نیازی اپنے لئے ایک حبہ بھی نہ رکھا۔ بلکہ حضورﷺ کی رخصتی ایک عجیب شان جاذبیت رکھتی ہے۔ سرور کائناتﷺ کا آخری وقت یا شمع نبوت کی آخری صبح کسی قصر میں نہیں ہوئی۔ بلکہ وہی ام المومنین عائشہ صدیقہؓ کا حجرہ جس کی دیواروں میں سوراخ پڑے ہوئے تھے اور مٹی کی بنی ہوئی تھیں اور چھت کھجور کے پتوں سے اٹی ہوئی تھی آہ کیا بتاؤں شان پیغمبری دیکھو وہ آقا جس کے نام لیوا لاکھوں درہم زکوٰۃ نکالیں اور ہزار ہزار اونٹ معہ غلہ قربان کریں اور یہ تھے کون، وہی عرب کے بدو جن کو پیٹ بھر کر روٹی پہنے کو چیتھڑا رہنے کو جھونپڑا بھی میسر نہ تھا۔ آقائے نامدار محمد مصطفیٰﷺ کی برکت و رحمت سے ربع مسکون پر تسلط کے مالک اور استاد جہاں ہوئے۔ مگر اپنا یہ حال ہے کہ بوقت رحلت مٹی کا دیا بھی موجود نہ تھا۔ جو جلایا جاتا اور امت کی ماں روشنی میں سرور جہاںﷺ کو رخصت کرسکتی کسی نے کیا خوب کہا ہے۔
اور تین دن سے پیٹ پہ پتھر بندھا ہوا
ہیں دوسروں کے واسطے سیم و زر و گوہر
اور اپنا یہ حال ہے کہ ہے چولہا بجھا ہوا
پائے استوار کرنے والے ثابت ہوئے ہیں۔ اس لئے اہل عالم ان کو جھوٹوں کا لئے حق بجانب ہیں۔
ر مدینہﷺ کا ایک ورق
وہ شہنشاہی میں فقیری کرنے والا آقا۔ وہ فقر کو غنا پر ترجیح دینے والا مولا وہ گلیم پوش ۔ وہ تاج سکندری سے کلاہ درویشی میں مست رہنے والا امین۔ وہ بھوکوں اور محتاجوں کا وں اور بیکسوں کا والی جو رانڈوں اور بیواؤں کا دستگیر اور محتاجوں اور بیماروں کا ملجا و ماویٰ مادہ حلم و بردباری کا نظارہ دنیا پھر کبھی نہ دیکھ سکے گی۔ جس سے بڑا سخی جہاں کبھی نہ س سے بڑا بہادر صفحہ دہر پر پھر دیکھنا نصیب نہ ہوگا۔ اپنے عیال کے لئے کون سے ، قصر و باغات چھوڑ کر رخصت ہوا۔ وہ دنیا میں شاہی حیثیت سے شادکام رہا مگر جیا ی کو فخر سمجھا اور قوموں نے اس کے اصول سینے سے لگائے۔ وہ وفا و صدق میں ڈوبا ی ذاتی غرض کا خیال نہ آیا۔ لاکھوں دینار اس کے سامنے آئے۔ ہزاروں بیش ہوئے۔ مگر وہ رے شان بے نیازی اپنے لئے ایک حَبّہ بھی نہ رکھا۔ بلکہ حضورﷺ ب شان جاذبیت رکھتی ہے۔ سرور کائنات ﷺ کا آخری وقت یا شمع نبوت کی میں نہیں ہوئی۔ بلکہ وہی ام المومنین عائشہ صدیقہؓ کا حجرہ جس کی دیواروں میں ئے تھے اور مٹی کی بنی ہوئی تھیں اور چھت کھجور کے پتوں سے اٹی ہوئی تھی آہ کیا دیکھو وہ آقا جس کے نام لیوا لاکھوں درہم زکوۃ نکالیں اور ہزار ہزار اونٹ معہ یہ تھے کون، وہی عرب کے بدو جن کو پیٹ بھر کر روٹی پہنے کو چیتھڑا رہنے کو جھونپڑا ئے نامدار محمد مصطفیٰ ﷺ کی برکت و رحمت سے ربع مسکون پر ثلث کے مالک ے۔ مگر اپنا یہ حال ہے کہ بوقت رحلت مٹی کا دیا بھی موجود نہ تھا۔ جو جلایا جاتا اور ا سرور جہاں ﷺ کو رخصت کر سکتی کسی نے کیا خوب کہا ہے۔
دن سے پیٹ پہ پتھر بندھا ہوا
ہیں دوسروں کے واسطے سیم و زر و گوہر
اور اپنا یہ حال ہے کہ ہے چولہا بجھا ہوا
اور بوریا کھجور کا گھر میں بچھا ہوا
آقائے دو جہاں سرکار مدینہﷺ کی سیرت کا پہلو دنیا سے بے رغبتی اور مسکینی میں ڈوبا ہوا ہے۔ اور اپنے لئے کریم جہاں سے ہمیشہ ملتجی ہوئے۔ الٰہی غریبوں میں رکھیو اور انہیں میں لے جائیو اور انہیں کے ساتھ حشر کیجیو۔
ہمدردی کی آنکھیں خون کے آنسو روتی ہیں اور محبت سے لبریز دل یادِ محبوب میں تڑپ تڑپ کر بے قرار ہو جاتا ہے۔ جب آقائے زماںﷺ کی ایک دعاء یاد آتی ہے کیا عجیب دعاء ہے اہل اللہ کے لئے وجد کا سماں پیش کر دے گی۔ فرماتے ہیں الٰہی ایک دن بھوکا رہوں اور ایک دن کھانے کو بھوک میں تیرے سامنے گڑگڑاؤں تجھ سے مانگوں اور کھا کر پھر تیری حمد و ثناء کروں۔
واللہ! جب حضورﷺ سرور جن و انس کی بے لوث زندگی اور نیکی وطہارت میں ڈوبے ہوئے، اقعات پر نظر پڑتی ہے تو بے اختیار منہ سے نکل جاتا ہے کہ لاریب تو خدا کا رسول اور سچا نبی تھا۔ شان نبوت کی درخشانی دیکھو کہ آل پاک کے لئے رب کعبہ سے کیا مانگ رہے ہیں۔ اللہ اللہ کس چیز کی تمنا ہو رہی ہے۔ اس خدا کے پیارے پر دنیا کی تمام سلطنتیں قربان کردی جائیں تو بجا ہے۔
”عن أبي هريرة أن رسول الله ﷺ قال اللهم اجعل رزق ال محمد قوتا (مسند احمد ج٢ ص٤٤٦)“ ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اے اللہ محمد کی اولاد کا رزق بقدر کفایت ہو۔
اب ظل اور بروز کے دعویدار کو دیکھو تو ساری زندگی ان واقعات سے محض کوری ہی ملے گی۔ بلکہ آپ کو کستوری اور معجون و عنبر کے دھندوں میں ہی پاؤ گے اور اولاد کے لئے ایسی دعاء کے لئے کبھی لب کشا تو کیا ایسے پاک جذبہ کا خیال بھی ہوا ہوگا اور اگر ہوتا بھی تو ان پر عمل کرنے والے صابرہ ماں کے لال جنت کے مہماں ہوئے اب تو وہ ہیں جنہیں اتالیق کے لئے ولایت کی حسینہ چاہیئے اور چلنے کو موٹر اور رہنے کو اچھے اچھے محل اور کھانے کو مرغن غذائیں اور آرام کے لئے نرم بسترے وغیرہ کسی نے کیا خوب کہا ہے۔
وہاں قرآن اترا ہے یہاں انگریز اترے ہیں
حسن عقیدت کے غلام
سنت خیر الوریٰ کی پاسداری چاہئے
امت مرزائیہ ہمیشہ بال کی کھال اتارنے میں مشہور ہے اور بات بات پر دھوکہ دینا فرض سمجھتی ہے اور کوئی عبارت جس کے معنی سے واقعات کو دور کا بھی واسطہ نہ ہو۔ بلکہ کھلے کھلے الفاظ میں وہ روز روشن کی طرح بزور تردید کرتے ہوں تو یہ مرزائیت کے پروانے حسن عقیدت کی وجہ سے اس کو کشاں کشاں استعارہ کے رنگ میں لے جاتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی منچلا گورو کا لال ( جہاد فی سبیل اللہ ) فریضۂ حج ، دین کو دنیا پر مقدم رکھنا تین امور کو استعارہ کے رنگ میں نہ پیش کردے۔ کیونکہ وہ اس فن میں کامل مانے جاتے ہیں اور کیوں نہ ہوں۔ جب کہ کرشن قادیانی نے اس میں بھی کمال ہی کر دکھلایا ہے۔ بلکہ یہودیوں کے فن تحریف میں خاص کر ملکہ کے ریکارڈ کو بھی مات ہی کر دیا ہے۔ حدیث شریف میں جہاں مسیح موعود کے نشانات میں کرعہ بستی کا نام آیا تو مرزا قادیانی کو فکر دامن گیر ہوئی۔ مگر استعار خانے میں اس کی کیا کمی تھی۔ جھٹ کرعہ سے قادیان بنا دیا گیا۔ ایسا ہی کلام مجید کی وہ آیت جو آقائے کون ومکاں ﷺ کو شب معراج میں مشیت ایزدی سے مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ کی سیر کراتی ہے۔ ”سبحن الذی اسرى بعبده ليلاً من المسجد الحرام الى المسجد الاقصى الذی باركنا حوله لنريه من ايتنا انه هو السميع البصير (بنی اسرائیل: ١)“ کا خیال ہوا اور بروز کی سوجھی تو جھٹ یہ آیت اپنے اوپر چسپاں کر لی کوئی زور تھوڑا ہی لگتا تھا۔ مگر اب تاویل بھی ملاحظہ ہو مسجد حرام گھر کی چار دیواری کی مسجد بنالی گئی اور ایک مسجد کا نام مسجد اقصیٰ رکھ لیا گیا۔ مگر سوال تو یہ ہے کہ مسجدوں کے نام پر نام رکھ لینے سے معراج کا درجہ حاصل ہوگیا؟ مگر افسوس اس میں ایک سقم پھر بھی جلدی میں رہ گیا وہ یہ ہے کہ آپ یہ نہ بتلا سکے کہ یہ سعید رات کا حصہ کب اور کس ماہ میں میسر ہوا اور آپ نے کیا کیا چیزیں مشاہدہ کیں اور پھر اس کا کیا ثبوت ہے؟ اور یہی تو ایک چیز شب معراج کی امتیازی تھی کہ تھوڑے سے حصہ رات میں ایک ماہ کی مسافت کا طے کرنا اور مسجد اقصیٰ کا استفسار کرنے پر تسلی بخش جواب دینا۔ بلکہ یہاں تک ہوا کہ معترضین کے سامنے صحیح نقشہ کھینچ دیا اور ان کے قافلے جو بغرض تجارت شام کو گئے تھے۔ ان کے پورے پورے پتے بتا دیئے۔ ذیل میں قارئین کرام کو بروز کی ماہیت کے لئے چند ایک اور امثلے پیش کرتے ہیں۔
ت کے غلام
سنت خیر الوریٰ کی پاسداری چاہئے
مرزائیہ ہمیشہ بال کی کھال اتارنے میں مشہور ہے اور بات بات پر دھوکہ دینا ایسی عبارت جس کے معنی سے واقعات کو دور کا بھی واسطہ نہ ہو۔ بلکہ کھلے کھلے روز روشن کی طرح اسکی تردید کرتے ہوں تو یہ مرزائیت کے پروانے حسن عقیدت کی عینک پہن کر اسے کشاں کشاں استعارہ کے رنگ میں لے جاتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی منچلا گورو کا لال کہہ دے کہ فریضہ حج، دین کو دنیا پر مقدم رکھنا ان امور کو استعارہ کے رنگ میں نہ رکھ دے۔ اس فن میں کامل مانے جاتے ہیں اور کیوں نہ ہوں۔ جب کہ کرشن قادیانی نے اس میں کمال ہی کر دکھلایا ہے۔ بلکہ یہودیوں کے فن تحریف میں خاص کر ابلیس کے ریکارڈ کو مات کیا ہے۔ حدیث شریف میں جہاں مسیح موعود کے نشانات میں کسی بستی کا نام آیا تو مشکل دامنگیر ہوئی۔ مگر استعارہ خانے میں اس کی کیا کمی تھی۔ جھٹ کہہ دیا قادیان کلام مجید کی وہ آیت جو آقائے کون ومکاں ﷺ کو شب معراج میں مسجد حرام سے مسجد اقصی کی سیر کراتی ہے۔ ”سبحن الذی اسریٰ بعبدہ لیلاً من المسجد الحرام الی المسجد الاقصیٰ الذی بارکنا حولہ لنریہ من ایتنا انہ ہو السمیع البصیر (بنی اسرائیل:١)“ کا خیال ہوا اور بروز کی سوجھی تو جھٹ یہ آیت اپنے پر بھی کوئی زور تھوڑا ہی لگتا تھا۔ مگر اب تاویل بھی ملاحظہ ہو مسجد حرام گھر کی مسجد بنائی گئی اور ایک مسجد کا نام مسجد اقصی رکھ لیا گیا۔ مگر سوال تو یہ ہے کہ مسجدوں کے ناموں سے معراج کا درجہ حاصل ہو گیا؟ مگر افسوس اس میں ایک سقم پھر بھی جلدی میں رہ گیا کہ یہ نہ بتلا سکے کہ یہ سعید رات کا حصہ کب اور کس ماہ میں میسر ہوا اور آپ نے کیسے اور پھر اس کا کیا ثبوت ہے؟ اور یہی تو ایک چیز شب معراج کی امتیازی شان تھی کہ رات کے مختصر حصہ میں ایک ماہ کی مسافت کا طے کرنا اور مسجد اقصی کا استفسار کرنے پر اس کا نقشہ کھینچ دینا۔ بلکہ یہاں تک ہوا کہ معترضین کے سامنے صحیح نقشہ کھینچ دیا اور ان کے قافلے کو مل گئے تھے۔ ان کے پورے پورے پتے بتا دیئے۔ ذیل میں قارئین کرام کو لئے چند ایک اور امثلہ پیش کرتے ہیں۔
مثلاً سنت انبیاء علیہم السلام ہمیشہ سے چلی آئی ہے کہ وہ صاحب ہجرت ہوں۔ مگر مرزا قادیانی کو یہ بھی نصیب نہ ہوئی اور انبیاء جہاں فوت ہوئے وہیں دفن ہوئے۔ چنانچہ فخر دوعالم ﷺ کی ہجرت مشہور جہاں ہے اور ایسا ہی ان کی وفات حجرہ عائشہ صدیقہ میں ہوئی اور وہیں روضہ اطہر بنا۔ مگر بروز کو دیکھئے کہ لاہور میں جان نکلی اور قادیان میں دفن ہوئے۔ انبیاء کی وراثت علمی ذخیرے ہوا کرتی ہے۔ چنانچہ جب آقا ومولا کا وقت وصال ہوا تو ام المومنین عائشہ صدیقہؓ بیان فرماتی ہیں کہ میرے حجرے کی دیواریں جن میں سوراخ پڑے ہوئے تھے اور مٹی کی بنی ہوئی تھیں اور چھت کھجور کے پتوں سے اٹی ہوئی تھی۔ میرے پاس ایک مٹی کا دیا بھی موجود نہ تھا۔ جو جلایا جاتا اور امت کے والی کو رخصت کرتی۔ مگر ظل کو دیکھو کہ دنیا کا مال طرح طرح کے حیلوں سے اس قدر جمع کیا کہ بلا مبالغہ راجہ قادیان بن گئے اور شاید اسی غرض سے امین الملک جے سنگھ بہادر نام بھی تجویز کر لیا ہو تو تعجب نہیں۔ رسول اکرم ﷺ نے مسیح موعود کے نزول کا مقام دمشق قرار دیا اور یہ بھی فرمایا کہ وہ دو زرد چادروں میں ملبوس ہوں گے اور سفید مینارۂ مسجد پر دو فرشتوں کا سہارا لئے (ان کے کندھوں پر بازو رکھے ہوئے) اتریں گے۔ اس حدیث کو دیکھ کر مرزا قادیانی کے اوسان جاتے رہے۔ جیسے باتونی کے پیٹ میں بات کے چوہے کودا کرتے ہیں اور بے چین رہتا ہے یہاں تک کہ وہ ابلیسانہ تجویز جسے گھنٹوں سوچ بچار کے بعد بناتا ہے۔ مطمئن ہونے کا باعث بنتی ہے۔
مرزا قادیانی از حد دماغ سوزی اور سینہ کاوی کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ دمشق کو مسیح سے کیا نسبت مگر ہاں یاد آیا کہ یزید کا پایہ تخت رہا ہے اور مسیح علیہ السلام کو امام حسینؓ سے ایک گونہ مناسبت ہے۔ کیونکہ جس طرح اہل یہود نے مسیح کو تختہ مشق بنایا تھا اور آخر (بزعم خود) مصلوب کر دیا تھا۔ ایسا ہی یزیدی لوگوں کے ہاتھوں امام حسینؓ ستائے گئے اور ان کے عزیز واقارب کو طرح طرح کی اذیتیں دے کر قتل کیا گیا۔ اب چونکہ انہیں مدت ہوئی ایک الہام ہوا تھا جو (ازالہ اوہام ص ٧٢ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٣٨) میں مندرج ہے۔ ”اخرج منہ الیزیدیون“ یعنی قادیان میں یزیدی لوگ پیدا ہو گئے ہیں۔ قادیان میں بہت سے ایسے آدمی ہیں جن کے سینوں میں نور ایمان نہیں اور نبی کریم کو عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے اس لئے دمشق کو قادیان سے ایک قریب مناسبت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مثیل مسیح قادیان میں نازل ہوا۔ جیسا کہ یہ الہام ظاہر کرتا ہے۔ ”انا انزلناہ قریباً من القادیان وبالحق انزلناہ و بالحق نزل وکان وعد الله مفعولاً “ کیونکہ اس خاکسار کا مکان منارہ سے مشرق کی جانب ہے ..... اور اس کے متعلق ایک
الہام بھی ہوا تھا۔ ”انا انزلنا قریباً من دمشق بطرف شرقی عند المنارة البیضاء“ اور ہر ایک شخص جو اس دمشقی خصوصیت جو ہم نے بیان کی ہے بکمال انشراح ضرور قبول کرے گا اور نہ صرف قبول بلکہ اس مضمون پر نظر امعان کرنے سے گویا حق الیقین تک پہنچ جائے گا۔“
(ازالہ اوہام ص ٧١ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٤٧)
”اب اگرچہ میرا یہ دعویٰ تو نہیں اور نہ ایسے کامل تصریح سے خدا تعالیٰ نے میرے پر کھول دیا ہے کہ دمشق میں کوئی مثیل مسیح پیدا نہیں ہوگا۔ بلکہ میرے نزدیک ممکن ہے کہ کسی آئندہ زمانہ میں خاص کر دمشق میں کوئی مثیل مسیح پیدا ہو جائے۔ مگر خدا تعالیٰ خوب جانتا ہے وہ اس بات کا شاہد ہے کہ اس نے قادیان کو دمشق سے مشابہت دی ہے اور ان لوگوں کی نسبت یہ فرمایا ہے کہ یہ یزیدی الطبع ہیں۔ یعنی اکثر وہ لوگ جو اس میں رہتے وہ اپنی فطرت میں یزیدی لوگوں کے مشابہ ہیں اور یہ بھی مدت سے الہام ہوچکا ہے۔ ”انا انزلناه قریباً من القادیان وبالحق انزلناه وبالحق نزل وكان وعدالله مفعولا“ یعنی ہم نے اس کو قادیان کے قریب اتارا ہے اور سچائی کے ساتھ اتارا ہے اور سچائی کے ساتھ اترا اور ایک دن وعدہ اللہ کا پورا ہونا تھا۔ اس الہام پر نظر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قادیان میں خدا تعالیٰ کی طرف سے اس عاجز کا ظاہر ہونا الہامی نوشتوں میں بطور پیش گوئی کے پہلے ہی لکھا تھا۔ اب چونکہ قادیان کو اپنی ایک خاصیت کی رو سے دمشق سے مشابہت دی گئی تو اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ قادیان کا نام پہلے نوشتوں میں استعارہ کے طور پر دمشق رکھ کر یہ پیش گوئی بیان کی گئی ہو۔“
(ازالہ اوہام ص ٧٣، ٧٤ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٤٨، ١٤٩)
چنانچہ اس کی تصدیق حاشیہ (ازالہ اوہام ص ٦٧ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٤٦) پر حضرت مسیلمہ ثانی فرماتے ہیں۔
”اور خدا تعالیٰ نے مسیح کے اترنے کی جگہ جو دمشق کو بیان کیا تو یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مسیح سے مراد وہ اصلی مسیح نہیں۔ جس پر انجیل نازل ہوئی تھی۔ بلکہ مسلمانوں میں سے کوئی شخص مراد ہے۔ جو اپنی روحانی حالت کی رو سے مسیح سے اور نیز امام حسین سے بھی مشابہت رکھتا ہے۔ کیونکہ دمشق پایہ تخت یزید ہوچکا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٩ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٤٧، ١٤٩) پر تائید میں یوں فرمایا۔
”چونکہ امام حسین کا مظلومانہ واقعہ خدا تعالیٰ کی نظر میں بہت عظمت اور وقعت رکھتا ہے اور یہ واقعہ حضرت مسیح کے واقعہ سے ایسا ہم رنگ ہے کہ عیسائیوں کو بھی اس میں کلام نہیں ہوگی۔
انا انزلنا قریباً من دمشق بطرف شرقی عند المنارة ہر ایک شخص جو اس دمشقی خصوصیت جو ہم نے بیان کی ہے بکمال انشراح ضرور نہ صرف قبول بلکہ اس مضمون پر نظر امعان کرنے سے گویا حق الیقین تک پہنچ
(ازالہ اوہام ص ٧١ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٣٧)
اگر چہ میرا یہ دعویٰ تو نہیں اور نہ ایسے کامل تصریح سے خدا تعالیٰ نے میرے پر حق میں کوئی مثیل مسیح پیدا نہیں ہو گا ۔ بلکہ میرے نزدیک ممکن ہے کہ کسی آئندہ شق میں کوئی مثیل مسیح پیدا ہو جائے ۔ مگر خدا تعالیٰ خوب جانتا ہے وہ اس بات کا قادیان کو دمشق سے مشابہت دی ہے اور ان لوگوں کی نسبت یہ فرمایا ہے کہ یہ نی اکثر وہ لوگ جو اس میں رہتے وہ اپنی فطرت میں یزیدی لوگوں کے مشابہ سے الہام ہو چکا ہے ۔ ” انا انزلناہ قریباً من القادیان و بالحق نزل و کان وعداللہ مفعولا “ یعنی ہم نے اس کو قادیان کے قریب اتارا تارا ہے اور سچائی کے ساتھ اترا اور ایک دن وعدہ اللہ کا پورا ہونا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قادیان میں خدا تعالیٰ کی طرف سے اس عاجز کا ظاہر ہونا ر پیش گوئی کے پہلے ہی لکھا تھا۔ اب چونکہ قادیان کو اپنی ایک خاصیت کی رو ت دی گئی تو اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ قادیان کا نام پہلے نوشتوں میں ڑا رکھ کر یہ پیش گوئی بیان کی گئی ہو۔“
(ازالہ اوہام ص ٧٣، ٧٤ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٣٨، ١٣٩)
کی تصدیق حاشیہ (ازالہ اوہام ص ٧٦ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٤٦) پر حضرت الیٰ نے مسیح کے اترنے کی جگہ جو دمشق کو بیان کیا تو یہ اس بات کی طرف وہ اصلی مسیح نہیں ۔ جس پر انجیل نازل ہوئی تھی۔ بلکہ مسلمانوں میں سے اپنی روحانی حالت کی رو سے مسیح سے اور نیز امام حسین سے بھی مشابہت خت یزید ہو چکا ہے۔“
٤٦ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٤٧، ١٤٩) پر تائید میں یوں فرمایا۔ سین کا مظلومانہ واقعہ خدا تعالیٰ کی نظر میں بہت عظمت اور وقعت رکھتا ہے واقعہ سے ایسا ہم رنگ ہے کہ عیسائیوں کو بھی اس میں کلام نہیں ہوگی۔
اس لئے خدا تعالیٰ نے چاہا کہ آنے والے زمانہ کو بھی اس کی عظمت سے اور مسیحی مشابہت سے تنبیہ کرے۔ اس وجہ سے دمشق کا لفظ بطور استعارہ لیا گیا۔ تا پڑھنے والوں کی آنکھوں کے سامنے وہ زمانہ آجائے۔ جس میں لخت جگر رسول اللہ ﷺ حضرت مسیح کی طرح کمال درجہ کے ظلم اور جور و جفا کی راہ سے دمشقی اشقیاء کے محاصرہ میں آکر قتل کئے گئے۔ سو خدا تعالیٰ نے اسی دمشق کو جس سے ایسے پر ظلم احکام نکلتے تھے اور جس میں ایسے سنگ دل اور سیاہ دروں لوگ پیدا ہو گئے تھے۔ غرض سے نشانہ بنا کر لکھا کہ اب مثیل دمشق عدل اور ایمان پھیلانے کا ہیڈ کوارٹر ہوگا۔ کیونکہ اکثر نبی ظالموں کی بستی میں ہی آتے رہے ہیں اور خدا تعالیٰ لعنت کی جگہوں کو برکت کے مکانات بناتا رہتا ہے۔ اس استعارہ کو خدا تعالیٰ نے اس لئے اختیار کیا کہ تا پڑھنے والے دو فائدہ اس سے حاصل کریں۔“
(ازالہ اوہام ص ٧٧، ٧٨ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٤١، ١٤٠) میں لکھتے ہیں کہ:
”اللہ جل شانہ نے الہام کے طور پر اس عاجز کے دل پر القاء کیا ہے ’انا انزلناہ قریباً من القادیان“ اس کی تفسیر یہ ہے کہ ’انا انزلنا قریبا من دمشق بطرف شرقی عند المنارة البیضاء “ کیونکہ اس عاجز کی سکونتی جگہ قادیان کے شرقی کنارہ پر ہے۔ منارہ کے پاس بس یہ فقرہ الہام الٰہی کا کہ کان وعداللہ مفعولا اس تاویل سے پوری پوری تطبیق کھا کر یہ پیش گوئی واقعی طور پر پوری ہو جاتی ہے۔ اس عبارت تک یہ عاجز پہنچا تھا کہ یہ الہام ہوا ۔”قل لوکان الامر من عند غیر اللہ لوجدتم فیہ اختلافا کثیرا“......
اور اس جگہ مجھے یاد آیا کہ جس روز وہ الہام مذکورہ بالا جس میں قادیان میں نازل ہونے کا ذکر ہے ہوا تھا اسی روز کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب مرحوم مرزا غلام قادر میرے قریب بیٹھ کر بآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انہوں نے ان فقرات کو پڑھا کہ ”انا انزلناہ قریباً من القادیان“ تو میں نے سن کر بہت تعجب کیا کہ قادیان کا نام بھی قرآن مجید میں لکھا ہوا ہے۔ تب انہوں نے کہا یہ دیکھو لکھا ہوا ہے۔ تب میں نظر ڈال کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ پر شاید نصف کے قریب موقعہ پر یہی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے۔ تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے اور میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام بطور اعزاز کے قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے۔ مکہ، مدینہ اور قادیان ۔ یہ کشف تھا جو کئی سال ہوئے کہ مجھے دکھلایا گیا تھا اور اس کشف میں جو میں نے اپنے بھائی صاحب مرحوم کو جو کئی سال سے وفات پاچکے ہیں
قرآن شریف پڑھتے دیکھا اور اس الہامی فقرہ کو ان کی زبان سے قرآن شریف میں پڑھتے سنا تو اس میں یہ بھید مخفی ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے میرے پر کھول دیا کہ ان کے نام سے اس کشف کی تعبیر کو بہت کچھ تعلق ہے۔ یعنی ان کے نام میں جو قادر کا لفظ آتا ہے اس لفظ کو کشفی طور پر پیش کر کے یہ اشارہ کیا گیا ہے کہ یہ قادر مطلق کا کام ہے۔“
ناظرین! آپ نے مرزا آنجہانی قادیانی کی ابلہ فریبیاں اور بال کی کھال اتارتے دیکھ لی۔ دمشق اور قادیان میں فرق بعد المشرقین کس طرح سے دجل کی الہامی مشین میں صیقل ہوا، میں نے نہایت اختصار سے مرزا قادیانی کے مفہوم کو ان کے اپنے الفاظ میں قلمبند کیا اور اگر من وعن بیان کرتا تو ازالہ اوہام کے سیاہ اوراق اپنے بھیانک پن سے قارئین کرام کو یوں چکر میں ڈال کر اکتا دیتے اور حاصل کچھ بھی نہ نکلتا۔ بلکہ مطلب ہی فوت ہو جاتا۔ کیونکہ مرزا قادیانی سلطان القلم کا دم چھلا بھی ساتھ رکھتے ہیں۔ پھر کس طرح اس یونی چکر کے مریض کو شفا ہو سکتی ہے۔ جب کہ آپ کا کلام کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی کے مصداق ہوا کرتا ہے اور سچ تو یہ ہے کہ خود مرزا قادیانی کے پلے سوائے اوہام باطلہ کے کچھ نہیں پڑتا اور یہی وجہ ہے کہ آپ کو اپنے سیاق وسباق کی خبر نہیں رہتی اور آپ کے کلام میں تناقض کی نہریں موجزن رہتی ہیں اور ایسی حالت میں تیراک بھلا خاک کنارہ پاسکتا ہے تیرتے تیرتے بازو شل ہو جائیں۔ مگر ساحل مراد اور حصول مطلب کسی جانور کا نام ہے۔ ہر ایک واضح امر کو کشاں کشاں استعارات کے سمندر میں ڈبونا تو کچھ خوبی و حکمت نہیں۔ کسی اندھے نے اپنے بینا رفیق سے پوچھا کہ فیرنی کا کیا رنگ ہے۔ اس نے جواب دیا سفید مکرر استفسار ہوا۔ سفید کیسا رنگ ہوتا ہے تو جواب میں اس کے رفیق نے کہا جیسے دودھ نابینا بولا دودھ کا رنگ کس طرح ہوتا ہے تو جواب دیا گیا جیسے بگلا (یہ ایک سفید جانور لمبی چونچ والا دریا کے کنارے مچھلیاں کھایا کرتا ہے) اندھا بولا بھلا بگلا کس طرح ہوتا ہے تو اس کے رفیق نے اس کے ہاتھ کو پکڑ کر ٹیڑھا اونچا نیچا کر کے اس کا خاکہ سمجھایا تو نابینا چلا اٹھا کہ فیرنی کی شکل ایسی ہے تو میں کھانے سے باز آیا کہیں یہ میرے حلق میں نہ پھنس جائے اور غریب کی جان فیرنی کی بھینٹ نہ چڑھ جائے۔
بعینہ یہ مثال مرزا قادیانی کے کلام پر صادق آتی ہے کہ جب چاہتے ہیں انسان کو گدھا اور شیر کو چوہا بنا کر دکھا دیتے ہیں اور نبوت کی باسی کڑاہی کے ابال بھی دیکھئے اور اس عقل و فہم کا ماتم کیجئے۔
بھائی کے نام غلام قادر کے غلام کو حذف کر کے قادر بنا دیا اور اپنے نام غلام احمد کے غلام کو حذف کر کے احمد بنا دیا۔
اس نرالی منطق سے مرزا قادیانی کا احمد ہونا اور غلام قادر کا خدا ہونا امت مرزائیہ کو مبارک ہو۔ اگر یہی قاعدہ کلیہ ہے تو اس بیچارے چچا زاد بھائی کو جس کا نام امام دین ہے اور جو خاکروبوں کا پیر ہے امام حذف کرتے ہوئے دین کیوں نہیں بناتے اور اس پر آنکھ بند کر کے عمل کیوں نہیں کرتے۔ اس غریب کو خواہ مخواہ بدنام کرتے ہو کہ وہ ڈاکو تھا، چور تھا، قید ہوا۔ مگر ہماری وجہ سے سزا سے بچ گیا۔ بہتر ہے کہ کلیہ کے مطابق امام دین سے دین حذف کر کے اس کو امام بنالیں۔
کیا کہنے ہیں اس الہام بازی کے اور کیا شان ہے پنجابی نبوت کی۔
ایمان کے دشمن ہیں جلوے بت کافر کے
فتنے تو ذرا دیکھو ترکیب عناصر کے
یہ پاک تثلیث خوب جمی ایک صاحب خدا بن گئے۔ دوسرے رسول اور تیسرے دین۔ اگر ناگوار نہ گزرے تو مرزا غلام مرتضیٰ قادیانی کا غلام حذف کرتے ہوئے مرتضیٰ بھی بنالیں تو بہت بہتر ہوگا۔ کیونکہ چہار درویش ہونے سے معاملہ آسانی سے پایۂ تکمیل کو پہنچتا رہے گا۔
دیکھ کر آیا ہوں بندے کا خدا ہو جانا
قرآن کریم اور حدیث شریف کا مرتبہ
اور مکرر نزول مرزائے قادیان کے لئے (البشریٰ ج ٢ ص ١١٩، تذکرہ ص ٦٧٤) پر فرماتے ہیں۔ ”میں تو بس قرآن ہی کی طرح ہوں اور قریب ہے کہ میرے ہاتھ پر ظاہر ہوگا۔ جو کچھ قرآن سے ظاہر ہوا۔“
پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ:
”قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ٨٤، خزائن ج ٢٢ ص ٨٧)
(درثمین ص ١٧٢، فارسی، نزول المسیح ص ٩٩، ١٠٠، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧، ٤٧٨) پر ایک فارسی نظم سپرد قلم کرتے ہیں۔
بخدا پاک دانمش زخطا
ہمچوں قرآں منزہ اش دانم
از خطاہا ہمیں است ایمانم
آں یقین کہ بود عیسیٰ را
برکلامے کہ شد برو القا
واں یقین کلیم برتورات
واں یقین ہائے سید السادات
کم نیم زاں ہمہ بود یقیں
ہرکہ گوید دروغ ہست لعین
جو کچھ میں خدا کی وحی سے سنتا ہوں خدا کی قسم اسے خطا سے پاک سمجھتا ہوں۔ میرا ایمان ہے کہ میری وحی قرآن کی طرح تمام غلطیوں سے مبرا ہے۔ وہ یقین جو عیسیٰ کو انجیل پر ہے اور وہ یقین جو موسیٰ کو تورات پر ہے اور وہ یقین جو سید المرسلین کو قرآن پر ہے وہی یقین مجھے اپنی وحی پر ہے اور اس یقین میں کسی نبی سے کم نہیں ہوں جو جھوٹ کہتا ہے وہ لعین ہے۔
(تجلیات الہٰیہ ص ٢٠، خزائن ج ٢٠ ص ٤١٢) پر اس کی توضیح یوں فرماتے ہیں کہ:
”یہ مکالمہ الٰہیہ جو مجھ سے ہوتا ہے یقینی ہے۔ اگر میں ایک دم کے لئے بھی اس میں شک کروں تو کافر ہو جاؤں اور میری آخرت تباہ ہو جائے۔ وہ کلام جو میرے پر نازل ہوا یقینی اور قطعی ہے اور جیسا کہ آفتاب اور اس کی روشنی کو دیکھ کر کوئی شک نہیں کر سکتا کہ یہ آفتاب اور یہ اس کی روشنی ہے۔ ایسا ہی میں اس کلام میں شک نہیں کر سکتا۔ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے پر نازل ہوتا ہے اور میں اس پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں۔ جیسا کہ خدا کی کتاب پر۔“
(ازالہ اوہام ص ١٣٨، خزائن ج ٣ ص ١٠٩) پر لکھتے ہیں کہ:
”اگر ہر ایک سخت اور آزردہ تقریر کو محض بوجہ اس کی مرارت اور تلخی اور ایذاء رسانی کے دشنام کے مفہوم میں داخل کر سکتے ہیں تو پھر اقرار کرنا پڑے گا کہ سارا قرآن شریف گالیوں سے پر ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ١٧، خزائن ج ٣ ص ١١٠، ١١١) پر لکھتے ہیں کہ:
”ابوطالب نے آنحضرت ﷺ کو بلا کر کہا کہ اے میرے بھتیجے اب تیری دشنام دہی
سے قوم سخت مشتعل ہو گئی ہے اور قـ ھتکنڈوں کو سفیہ قرار دیا اور ان کے جہنم اور وقود النار رکھا اور عام طور پر خیر خواہی سے کہتا ہوں کہ اپنی زبان طاقت نہیں رکھتا۔ آنحضرت نے جـ اور نفس الامر کا عین محل پر بیان ہے ا
(ازالہ اوہام ص ١٨ حاشیہ خـ ”یہ سب مضمون ابوطالـ الہامی ہے جو خدا نے اس عاجز کے پھر وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ
(ضرورت امام ص ٢٦ خزاـ ”امام زماں ہوں اور خـ کھڑا ہے اور مجھے خبر کر دی گئی ہے جائے گا۔“
پھر (البشریٰ ج ٢ ص ١٠٥ ”قطع دابر القـ لائے۔“
فرقان حمید کا مکرر نزول
یوں تو فرقان حمید کی شـ مشق نہ بنی ہوگی۔ ذیل میں چند ایـ ”وما ارسلنک الا ”واتخذوا من مقـ ”یسین انک لمن ا
”انما امرک اذا ار
سے قوم سخت مشتعل ہو گئی ہے اور قریب ہے کہ مجھ کو ہلاک کریں اور ساتھ ہی مجھ کو بھی تو نے ان عقلمندوں کو سفیہ قرار دیا اور ان کے بزرگوں کو شرالبریہ کہا اور ان کے قابل تعظیم معبودوں کا نام ہیزم جہنم اور وقود النار رکھا اور عام طور پر ان سب کو رجس اور ذریت شیطان اور پلید ٹھہرایا۔ میں تجھے خیر خواہی سے کہتا ہوں کہ اپنی زبان کو تھام اور دشنام دہی سے باز آجا۔ ورنہ میں قوم کے مقابلے کی طاقت نہیں رکھتا۔ آنحضرتﷺ نے جواب دیا کہ اے چچا یہ دشنام دہی نہیں ہے بلکہ اظہار واقعہ ہے اور نفس الامر کا عین محل پر بیان ہے اور یہی تو کام ہے جس کے لئے میں بھیجا گیا ہوں ۔“
(ازالۃ اوہام ص ١٨ حاشیہ ، خزائن ج ٣ ص ١١١) پر کہتے ہیں کہ: ”یہ سب مضمون ابو طالب کے قصہ کا اگر چہ کتابوں میں درج ہے۔ مگر یہ تمام عبارت الہامی ہے جو خدا نے اس عاجز کے دل پر نازل کی۔“
پھر وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ:
(ضرورت امام ص ٢٤، خزائن ج ١٣ ص ٤٩٧) میں ہے کہ: ”امام زماں ہوں اور خدا میری تائید میں ہے اور وہ میرے لئے ایک تیز تلوار کی طرح کھڑا ہے اور مجھے خبر کر دی گئی ہے کہ جو شرارت سے میرے مقابل کھڑا ہو گا وہ ذلیل و شرمندہ کیا جائے گا۔“
پھر (البشریٰ ج ٢ ص ١٠٥، تذکرہ ص ٥٩٠، ٦٣٦) پر ایک حتمی وعدہ بیان کرتے ہیں کہ: ”قطع دابر القوم الذین لا یؤمنون اس قوم کی جڑ کاٹی گئی جو ایمان نہیں لاتے۔“
فرقان حمید کا مکرر نزول
یوں تو فرقان حمید کی شاید ہی کوئی ایسی آیت ہو جو مرزا قادیانی کی نظر عنایت سے تختۂ مشق نہ بنی ہوگی۔ ذیل میں چند ایک مثالیں پیش کی جاتی ہیں۔
”وما ارسلنك الا رحمۃ اللعالمین“
(اربعین نمبر ٣ ص ٢٣، خزائن ج ١٧ ص ٤١٠)
”واتخذوا من مقام ابراھیم مصلیٰ“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢١، خزائن ج ١٧ ص ٦٨)
”یٰسین انک لمن المرسلین علیٰ صراط المستقیم“
(حقیقت الوحی ص ١٠٧، خزائن ج ٢٢ ص ١١٠)
”انما امرک اذا اردت شیئاً ان تقول لہ کن فیکون“
(الحکم ج ٤، ١٠ دسمبر ١٩٠٠ء)
"لا تخف انك انت الاعلى"
(حقیقت الوحی ص ٨٩، خزائن ج ٢٢ ص ٩٢)
"ان اتينك الكوثر فصل لربك وانحر"
(اربعین نمبر ٤ ص ٢٥، خزائن ج ١٧ ص ٣٨٤)
"سبحان الذی اسرىٰ"
(حقیقت الوحی ص ٧٨، خزائن ج ٢٢ ص ٨١)
"قل يا ايها الناس انى رسول الله اليكم جميعا"
(میعار الاختیار ص ٣، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٠)
"داعياً الى الله وسراجاً منيرا"
(اربعین نمبر ٣ ص ٤، خزائن ج ١٧ ص ٣٥٠)
"يلقى الروح على من يشاء من عباده"
(تذکرہ ص ٦٥١، ٧٥١)
سورہ تحریم میں مخفی پیش گوئی سورہ الحمد میں مخفی پیش گوئی
(کشتی نوح ص ٤٥، خزائن ج ١٩ ص ٤٩)
"مارميت اذرميت ولكن الله مارمى"
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢١ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٦٨)
"يصنع الفلك باعيننا ووحينا"
(دافع البلاء ص ٦ حاشیہ، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٦)
"كذالك مننا على يوسف لنصرف عنه السوء والفحشاء"
(دافع البلاء ص ٨ حاشیہ، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٨)
"ان الذين يبايعونك انما يبايعون الله يد الله فوق ايديهم"
(دافع البلاء ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٦)
مکرر نزول کی تفسیر
عجب ثم العجب! مرزا قادیانی آنجہانی کی جدت طرازیاں دیکھ کر پرستار توحید کا زہرہ آب آب ہوتا ہے کہ مولا کریم جس کے خزانوں میں کسی چیز کی کمی نہیں اور جو مختار کل و قادر و توانا ہے اور جس کی باتیں اگر تمام دنیا کے درخت قلم اور دریا سیاہی بنا کر بھی رقم کی جائیں تو یہ ذخیرہ ختم ہونے پر بھی نہ ختم ہوں اور جس نے دنیا کی ہدایت وفلاح کے لئے ایک ایسی بے نظیر وجامع کتاب آسان ترین لفظوں میں کامل واکمل رسول اکرمﷺ کی وساطت سے بھیجی۔ جسے نور کے القاب سے یاد کیا اور بار بار فرمایا کہ تم کفر کی سیاہ تاریکیوں میں بے دست و پا کور باطنی میں پڑے تھے۔ ہم نے احسان کیا کہ سراج المنیر کو اپنے خاص فضل واحسان سے لطف وبخشش کے لباس میں عفووکرم کی تصویر میں رحم وحلم کے قالب میں مبعوث فرمایا کہ تم کو تاریک اندھیروں سے نکال کر شاہراہ ترقی
....... انك انت الا علے"
(حقیقت الوحی ص ٨٩، خزائن ج ٢٢ ص ٩٢)
....... نك الكوثر فصل لربك وانحر"
(اربعین نمبر ٢ ص ٣٥، خزائن ج ١٧ ص ٣٨٤)
....... ن الذی اسرى"
(حقیقت الوحی ص ٧٨، خزائن ج ٢٢ ص ٨١)
....... يها الناس انى رسول الله اليكم جميعا"
(میعار الاخیار ص ٣، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٠)
....... لى الله وسراجاً منيرا"
(اربعین نمبر ٢ ص ٣٤، خزائن ج ١٧ ص ٣٥٠)
....... روح على من يشاء من عباده"
(تذکرہ ص ٦٢١، ٦٥١)
میں مخفی پیش گوئی میں مخفی پیش گوئی
(کشتی نوح ص ٤٥، خزائن ج ١٩ ص ٤٩)
....... اذرميت ولكن الله مارمى"
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢١ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٦٨)
....... الفلك باعيننا ووحينا"
(دافع البلاء ص ٦ حاشیہ، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٦)
....... ننا على يوسف لنصرف عنه السوء والفحشاء"
(دافع البلاء ص ٨ حاشیہ، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٨)
....... ن يبايعونك انما يبايعون الله يد الله فوق ايديهم"
(دافع البلاء ص ٩، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٩)
ب ! مرزا قادیانی آنجہانی کی جدت طرازیاں دیکھ کر پرستار توحید کا زہرہ ولا کریم جس کے خزانوں میں کسی چیز کی کمی نہیں اور جو مختار کل وقادر و توانا تمام دنیا کے درخت قلم اور یا سیاہی بنا کر بھی رقم کی جائیں تو یہ ذخیرہ ختم ور جس نے دنیا کی ہدایت وفلاح کے لئے ایک ایسی بے نظیر و جامع کتاب کامل واکمل رسول اکرمﷺ کی وساطت سے بھیجی۔ جسے نور کے القاب کہ تم کفر کی سیاہ تاریکیوں میں بے دست و پا کور باطنی میں پڑے تھے۔ ہم غمبر کو اپنے خاص فضل واحسان سے لطف وبخشش کے لباس میں عفود کرم قالب میں مبعوث فرمایا کہ تم کو تاریک اندھیروں سے نکال کر شاہراہ ترقی
پر گامزن کردے۔ رسول اکرمﷺ نے تم وحشیوں کو جو گمراہی کے گڑھوں میں گرے ہوئے تھے اپنے پرتو سے منور کیا اور عبودیت کے فرائض سے شناسا کرا کر آپس میں بھائی بھائی بنادیا۔ حالانکہ تم ایک دوسرے کے جانی دشمن اور خون کے پیاسے تھے۔ اب سوال یہ ہے کہ خلاق جہاں بھی اپنے لئے نور کا مبارک نام پسند کرے اور قرآن ناطق کو بھی نور ہی قرار دے اور قرآن صامت کو بھی نور کے نام سے ہی منسوب کرے۔ ان تین نوروں کے ہوتے ہوئے یعنی خدا بھی نور، محمد مصطفے بھی نور، قرآن پاک بھی نور، اور محمد مصطفے کے لئے سراج المنیر سے تشبیہہ یعنی چمکتا ہوا سورج، اللہ اللہ مہر تاباں کے سامنے اب کوئی بے وقوف اور خدائی خوار آج اگر ایک مٹی کا ناپاک دیا۔ جس میں غلاظت کا تیل پڑا ہو جلا کر یہ کہے کہ اس کی روشنی سورج سے بدرجہا بہتر ہے اور یہ تمام جہاں کے منور کرنے کو کافی ہے اور دلیل یہ ہے کہ روشنی اسی سورج کی عنایت ہے تو اسے وہ کون سا لال بھجکڑ اور عقل کا اندھا اور پھوٹی قسمت اور جلے نصیب کا مالک ہے جو قبول کرے گا۔
قرآن کریم کا مکہ نزول تو ہوا مگر اللہ میاں کے خزانے میں خاکم بدہن، مرزا کے نام کی کمی تھی۔ جس طرح پر عام انبیاء علیہ السلام کے الہام چرائے گئے اور اپنے لئے تفویض بھی خود ہی کر لئے گئے کیا اچھا ہوتا کہ ان میں بجائے ابراھیم کے غلام احمد یا صرف مرزا ہی اطلاق کر لیا جاتا۔ مگر ایسا نہیں ہوا، کیا اللہ تعالیٰ دنیا کو ایسے لغو استعاروں میں ڈال کر گمراہی کے مہیب گڑھوں میں بذات نفسہ دھکیلنا چاہتا ہے۔ یہ تو سنت اللہ نہیں اور سیرت خیرالانام اس کے منافی ہے اور پر زور تردید کرتی ہے۔ حیرانگی ہوتی ہے کہ آج سے چوداں سو برس پیشتر واتخذوا من مقام ابراھیم مصلی سرور کونینﷺ کو بوقت امامت عین نماز کے وسط میں جب کہ وہ بیت المقدس کو قبلہ قرار دیئے ہوئے ہوں، تو صادق المصدوق نزول وحی پر ہی ایڑیوں پر گھوم کر تعمیل کریں۔ مگر افسوس پنجابی نبی چونکہ وحی الٰہی کو شاید یقین کے مرتبہ سے کم سمجھتا ہے جو اس کی تعمیل میں قادیان کی مسجد اقصیٰ کو قبلہ نہ قرار دیتا ہوا۔ آیت کریمہ کا مصداق تو بنتا ہے مگر عمل ندارد ہی کرتا ہے۔ اگر یہ آن واحد کے کروڑویں حصہ سے کم مان بھی لیا جائے تو یہ نعوذ باللہ کہ ابراھیم سے مراد مرزا ہی ہے۔ کیونکہ خدا کے خزانوں میں شاید امساک ہے جو ابراھیم ہی کے نام سے مرزا کو یاد کیا جا رہا ہے۔ تو بھی مرزا قادیانی نے اس میں وہ لغزش کھائی۔ جس کی تلافی قیامت تک نہ ہو سکے گی۔
بندہ خدا! جب آپ آدم بنے نوح ہوئے ابراھیم کا نام لیا موسیٰ وعیسیٰ کی بڑ ہانکی اور محمد احمد سے فضیلت جتانے پر خوف خدا نہ آیا تو وہ ابراھیمی اینٹوں اور پتھروں کا گھر جسے خدا کا گھر کہا جاتا ہے کو بدل دینے میں کون سا حجاب آ گیا۔ اچھا ہوتا کہ جس طرح دمشقی منارہ یعنی مقام نزول
عیسیٰ علیہ السلام میں جدت اختیار کی گئی تھی اور مکہ سے قادیان اور دمشق سے جو استعارہ لیا گیا تھا۔ یہاں بھی بیت الحرام کو مسجد اقصیٰ جو خود ساختہ مسجد قادیان میں آ چکی تھی۔ اس کو ملجا و ماویٰ قرار دیا ہوتا۔ پھر دھڑلے سے مرید اپنا دفاع کرتے اور اس طرح سے دین اسلام کا صفایا ہوتا مگر ؎
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
قارئین! اگر میں تمام آیات بیان کروں اور ان کی توجیہات سپرد قلم کروں تو یہ ایک ضخیم حجم اور علیحدہ باب چاہتی ہیں اور میرا اختصار اس کی اجازت نہیں دیتا۔ اس لئے اسی ایک نقطہ پر باقی آیات کو خود حل فرماویں اور میں بھی انشاء اللہ تصویر مرزا میں آپ کی ضیافت طبع کے لئے کچھ روکھا سوکھا سامان کروں گا۔ مرزائیو!
گرچہ ڈھونڈو گے چراغ رخ زیبا لے کر
فرمانِ رسالت کا مرتبہ
مرزا آنجہانی کے نزدیک
کہ بتائے کوئی جس قول کو ہمتائے حدیث
”میرے اس دعویٰ کی (مسیح موعود) حدیث بنیاد نہیں۔ بلکہ قرآن اور وہ وحی ہے۔ جو میرے پر نازل ہوئی۔ ہاں تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتے ہیں۔“
(اعجاز احمدی ص ٣٠، خزائن ج ١٩ ص ١٤٠)
کتاب اللہ کے پیچھے صحیح تر ان کو جانا ہے
زر خالص یہ بیشک پرکھ بازوں نے چھانا ہے
خریدے نقد جاں دے کر اسے جو مرد دانا ہے
یہاں ہر باب میں عمدہ صحیح اخبار ملتے ہیں
در درج نبی کیا بے بہا اے یار ملتے ہیں
ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور
رسول اکرم ﷺ کی شان میں مدح و ستائش کے وہ چند باب اور اعزازی مضامین اور اپنی انکساری اور عاجزی کی چند ایک بے ربط باتیں اور قصائد واشعار کی حقیقت اسی ایک اصول سے واضح ہو جاتی ہے۔ جہاں جہاں بھی آپ نے تعریف فرمائی وہ صرف مسلمانوں کے دھوکہ دینے اور چندہ بٹورنے کے لئے تھی۔ ورنہ اور کوئی مقصد نہ تھا۔ مرزا قادیانی کی یہ چال کسی گہری سازش کا نتیجہ ہوا کرتی ہے جو عام لوگوں کی نظر میں خال خال کھٹکتی ہے۔ وہ اسلام کے لئے ایک ایسے مرض کے مشابہ تھے جس کا ظاہر نفع نقصان سے بدتر تھا۔ وہ اسلامی وجود میں اس کیڑے کی طرح نیش زنی کرتے تھے۔ جس کا اثر مدتوں معلوم ہی نہ ہوسکے۔ آپ کا وجود اسلام کے لئے ایک ایسا زہر ہلاہل تھا جس کا اثر مدتوں معلوم ہی نہ ہوسکے۔ آپ کا وجود اسلام کے سرسبز و شاداب تنے میں گھن کی حیثیت سے تھے۔ جو برابر کام کر رہا ہو۔ اس کے زاویہ نگاہ میں ہر وہ چیز خار کی طرح کھٹکتی تھی۔ جو ان کے نفس مضمون کے معارض ہو۔ وہ فرمان رسالت تو کیا، فرمان خداوندی کی پرواہ نہ کرتے تھے اور ہر اس چیز کو جو ان کے راستہ میں حائل ہوتی ایڑی چوٹی کے زور سے ہر ممکن طریق سے کچل دینا اپنے مذہب میں جائز سمجھتے تھے اور مگس کی طرح پھول کا رس چوسنے اور اسے بے نور بنانے میں مشتاق تھے۔
وہ اپنی مطلب براری کے لئے فرمان خداوندی سے اشارۃً صرف ایک لفظ ہی لے کر اپنے مفید مطلب بنالیا کرتے تھے یا اسے استعارۃً پیش کرنے میں کوئی باک خیال نہ کرتے اور بیسیوں دفعہ جعلی پیش گوئی کے نام سے منسوب کر دیا کرتے تھے اور ایسا ہی فرمان رسالت کے سیاق وسباق سے قطع نظر کرتے ہوئے فائدہ اٹھا لیا کرتے تھے۔
آہ! مدعی نبوت اور دعویٰ ظل اور طرفہ یہ کہ مماثلت تامہ کا بھی اجارہ دار، افسوس فرمان مصطفوی کو کس نگاہ سے دیکھتا ہے۔ آہ! اس کے دل میں فخر دو عالم ﷺ کی محبت کا ثبوت یہ ہے کہ جو احادیث اس کی وحی کے معارض ہوں ان کا علاج اس کے زاویہ نگاہ میں یہ ہے کہ انہیں ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا جائے۔ ہاں وہ بعض قول ناقص اور وضعی حدیثیں بھی لے لیا کرتا ہے جو قابل ثقہ نہیں اور وہ بھی پوری کی پوری نہیں۔ بلکہ آدھی، پونی یا چوتھائی۔ اب سوال تو یہ ہے صادق المصدوق کی وحی رسالت نعوذ باللہ خاکم بدہن مرزا قادیانی کی وحی سے گویم زباں سوزد ہے۔ حالانکہ قرآن صامت اور حدیث صحیحہ میں اصولی لحاظ سے کوئی فرق نہیں۔ فرقان حمید الہام ہے اور
حدیث اس کی تفسیر ہے اور ملہم کی بیان کردہ تفسیر صحیح معنوں میں الہام کا لب لباب اور اصلی مغز ہے۔ پھر یہ ناممکن ہے کہ قرآن صامت اور قرآن ناطق میں تعارض ہو یہ غیر ممکن ہے۔ ہاں شپرہ چشم اپنی کور باطنی کی وجہ سے آفتاب کی روشنی سے بد نصیب ہی رہا کرتے ہیں۔ تلك اذ قسمة ضيزى!
مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ میرے مسیح موعود ہونے کی حدیث نبوی بنیاد نہیں بلکہ قرآن ہے۔ عجیب مضحکہ خیز اور بے تکی گپ محض ہے۔ کیونکہ قرآن وحدیث صحیحہ میں کچھ فرق نہیں اور اگر آپ کی نگاہ میں کچھ فرق ہو تو آپ نے کیوں فرمان رسالت بیسیوں تحریف کی مشین میں صیقل کر کے اپنی دعاوی میں بطور صداقت پیش کئے اور آپ کی وحی کے بھی کیا کہنے ہیں۔ حالانکہ ”آپ اسی وحی کو سرور عالم کی ذات گرامی کے لئے قیامت تک منقطع کر چکے ہیں۔“
(ازالہ ص ٤١٣ ملخص، خزائن ج ٣ ص ٤٣٢)
مگر چونکہ حافظہ جواب دے چکا ہے اس لئے یاد عزیز رفاقت نہیں کرتی۔ مندرجہ ذیل اصول آپ کے قلم کا ہی مرہون منت ہے۔ اپنا بیان کردہ اصول واپس لینا اگلی ہوئی قے کھانے کے مترادف ہے۔ چنانچہ حدیث نبوی اس کی تصدیق میں فرماتی ہے۔ ”عن ابي هريرة قال قال رسول الله ﷺ كفى بالمرء كذباً ان يحدث بكل ما سمع (مسلم ج ١ ص ٨، باب النهى عن الحديث بكل ماسمع)“ ابو ہریرہؓ سے روایت ہے اس نے کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ آدمی کے جھوٹا ہونے کے لئے یہ کافی ہے کہ جو بات سنے وہی نقل کر دے۔
مرزا قادیانی کا حنفی المذہب ہونے کا اقرار
(حقیقت المہدی ص ٨٩) میں مرزا محمود قادیانی فرماتے ہیں کہ: ”میں ان تمام امور کا قائل ہوں جو اسلامی عقائد میں داخل ہیں اور جیسا کہ سنت جماعت کا عقیدہ ہے ان سب باتوں کو مانتا ہوں جو قرآن وحدیث کی رو سے مسلم الثبوت ہیں اور سیدنا مولانا محمد مصطفےٰ ﷺ خاتم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت ورسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ ﷺ پر ختم ہوگئی۔“
مرزا قادیانی اپنے منہ سے کافر ہیں
(آسمانی فیصلہ ص ٣، خزائن ج ٤ ص ٣١٣) پر مرقوم ہے۔ ”خدا جانتا ہے کہ میں مسلمان ہوں اور ان سب عقائد پر ایمان رکھتا ہوں جو اہل سنت
بچاؤ اور ملہم کی بیان کردہ تفسیر صحیح معنوں میں الہام کا لب لباب اور اصلی مغز ہے۔ آن صامت اور قرآن ناطق میں تعارض ہو یہ غیر ممکن ہے۔ ہاں شپرہ چشم اپنی تاب کی روشنی سے بد نصیب ہی رہا کرتے ہیں۔ تلك اذ قسمة ضيزى! بانی کا یہ کہنا کہ میرے مسیح موعود ہونے کی حدیث نبوی بنیاد نہیں بلکہ قرآن اور بے تکی گپ محض ہے۔ کیونکہ قرآن وحدیث صحیحہ میں کچھ فرق نہیں اور اگر رق ہو تو آپ نے کیوں فرمان رسالت، بیسیوں تحریف کی مشین میں صیقل کر بطور صداقت پیش کئے اور آپ کی وحی کے بھی کیا کہنے ہیں۔ حالانکہ ”آپ ذات گرامی کے لئے قیامت تک منقطع کر چکے ہیں۔“
(ازالہ ص ٤١٤ ملخص، خزائن ج ٣ ص٣٣٤)
یہ حافظہ جواب دے چکا ہے اس لئے یاد عزیز رفاقت نہیں کرتی۔ مندرجہ ذیل ہی مرہون منت ہے۔ اپنا بیان کردہ اصول واپس لینا اگلی ہوئی قے کھانے نانچہ حدیث نبوی اس کی تصدیق میں فرماتی ہے۔ ابی ھریرة قال قال رسول الله ﷺ کفی بالمرء كذباً ان مع (مسلم ج ١ ص ٨، باب النهی عن الحديث بكل ماسمع) ”ابو ہریرہؓ نے کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ آدمی کے جھوٹا ہونے کے لئے یہ کافی ہے قل کردے۔
فی المذہب ہونے کا اقرار
الوصیت ص ٨٩) میں مرزا محمود قادیانی فرماتے ہیں کہ: یں تمام امور کا قائل ہوں جو اسلامی عقائد میں داخل ہیں اور جیسا کہ سنت ان سب باتوں کو مانتا ہوں جو قرآن وحدیث کی رو سے مسلم الثبوت ہیں اور ﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت ورسالت کو کاذب اور کافر ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول
پنے منہ سے کافر ہیں
بدلہ ص ٢٣، خزائن ج ٢١ ص ٣١٣) پر مرقوم ہے۔ نتا ہے کہ میں مسلمان ہوں اور ان سب عقائد پر ایمان رکھتا ہوں جو اہل سنت
والجماعت مانتے ہیں اور کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا قائل ہوں اور قبلہ کی طرف نماز پڑھتا ہوں اور ثبوت کا مدعی نہیں۔ بلکہ ایسے مدعی کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔“
اب سوال یہ ہے کہ آپ کی وحی کہاں سے ٹپک پڑی اور وہ بھی قرآن کریم کی وحی سے افضل نعوذ باللہ آپ کو یاد نہیں کہ قرآن ناطق کے لئے ارشاد ربانی تو یہ ہے کہ’ وما ينطق عن الهوى ان هو الا وحی یوحا (نجم: ٤،٣) ”حدیث کا مرتبہ تو قرآن کریم سے ثابت ہے۔ جس کو آپ ردی کی ٹوکری میں پھینکیں اور ایمان لائیں تو اس وحی پر جو جھوٹی و شیطانی ہے۔ بخدا اگر سابقہ انبیاء سے بھی کوئی مشیت ایزدی سے آجائے اور اس کو وحی ہو۔ حالانکہ یہ غیر ممکن ہے اور یہی آپ کا اصول ہے۔ جس پر گویا آپ کی بنیاد ہے تو اس کی وحی کا مرتبہ فرمان رسالت کے سامنے کچھ حقیقت نہیں رکھتا۔ نبی کریم ﷺ کو آپ کے دجل کی حقیقت بخوبی روشن تھی۔ اس لئے آپ کا وہ فرمان اہل بصیرت کو ابد الآباد تک مشعل ہدایت کا کام دیتا ہے۔
آنحضور ﷺ کا ارشاد ہے’ ولوكان موسى حياً ما وسعه الا اتباعی (مشكوة ص٣٠، باب الاعتصام بالكتاب والسنة، شعب الایمان ج ١ ص ٢٠٠ حدیث نمبر ١٧٦، مسند احمد ج ٣ ص ٣٣٨) ”اگر موسیٰ علیہ السلام بھی میرے زمانہ میں آجائیں تو بخدا ان کو بھی میری پیروی اختیار کئے بغیر چارہ نہ ہوگا۔
چہ جائیکہ مرزا قادیانی کی وحی اور فرمان رسالت کے سامنے آپ جیسے تیس کذابوں کی وحی اور خرافات اور اوہام باطلہ بھی کوئی حقیقت رکھتے ہیں۔ معاذ اللہ ! معاذ اللہ ! ایسا خیال بھولے سے بھی کسی مسلمان کو نہ کرنا چاہئے۔ ورنہ ایمان سے ہاتھ دھونے پڑیں گے اور خسر الدنیا والا خرہ ہو جائے گا۔
توہین جناب فاطمۃ الزہراؓ سیدۃ النساء بنت رسول اللہ ﷺ
(تحفہ گولڑویہ ص ١٩ خزائن ج ١٧ ص ١١٨،١١٧) میں مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ: ”الحمد للہ الذی جعل لکم صہرا والنسب اشکر نعمتی رأیت خدیجتی“ یعنی تمام حمد و تعریف اس خدا کے لئے ہے جس نے تمہیں فخر دامادی سادات اور فخر علو نسب جو دونوں مماثل اور مشابہ ہیں عطا فرمایا۔ یعنی تمہیں سادات کا داماد ہونے کی فضیلت عطاء کی اور نیز بنی فاطمہ امہات میں سے پیدا کر کے تمہارے نسب کو عزت بخشی اور میری نعمت کا شکر کر تو نے میری خدیجہ کو پایا۔ یعنی بنی اسحاق کی وجہ سے ایک تو آبائی عزت تھی اور دوسری بنی فاطمہ ہونے کی عزت اس کے ساتھ ملحق ہوئی اور سادات کی دامادی کی طرف اس عاجز کی بیوی کی
طرف اشارہ ہے۔ جو سیدہ سندی سادات دہلی میں سے ہیں۔ میر درد کے خاندان سے تعلق رکھنے والے اس فاطمی تعلق کی طرف اس کشف کی طرف اشارہ ہے جو آج سے تیس برس پہلے براہین احمدیہ میں شائع کیا گیا۔ جس میں میں نے دیکھا تھا کہ حضرت پنج تن، سید الکونین، حسنین، فاطمۃ الزہرا اور علیؓ عین بیداری میں آئے اور حضرت فاطمہؓ نے کمال محبت اور مادرانہ عطوفت کے رنگ میں اس خاکسار کا سر اپنی ران پر رکھ لیا اور عالم خاموشی میں ایک غمگین صورت بنا کر بیٹھے رہے۔ اسی روز سے مجھ کو اس خونی آمیزش کے تعلق پر یقین کلی ہوا۔ فالحمدلله علی ذلک!‘‘
مرزا کے خدا اور فرشتوں کے تین تین نام
مرزا قادیانی کے خدا کے تین نام ہیں۔ یلاش، مرزا اور عاج۔ یلاش کے معنی تو بھوسہ کے ہیں اور مرزا کے معنی مغل بچہ کے ہیں اور عاج کے معنی ہیں گوبر اور ایسا ہی مرزا قادیانی کے فرشتوں کے بھی تین ہی نام ہیں۔ ٹیچی خیراتی اور شیر علی۔ ٹیچی کے معنی عین وقت پر روپیہ لانے والا۔ یا مٹھی گرم کرنے والا یا عقل کا اندھا اور گانٹھ کا پورا۔ خیراتی کے معنی زکوٰۃ اور چندوں پر ڈاکہ ڈالنے والا یا چندہ بٹورنے والا۔ شیر علی کے معنی الہام پر الہام پھینکنے والا۔ مگر شیر علی ان دونوں سے بڑا ہی جلد باز ہے جو بھی کام کرتا ہے ادھورا ہی کرتا ہے۔ الہام تو آدھا پونا ہی چھوڑتا ہوا بھاگا جاتا ہے اور اور لا کر گرا دیتا ہے اور ابھی پہلا ہی سمجھ میں نہ آیا تھا کہ دوسرا اور لا گرایا اور ابھی اس کی تفہیم نہ ہوئی تھی کہ تیسرا بمشکل اس کو قابو ہی کیا تھا۔ چوتھا اور ابھی فراغت نہ ہوئی تھی کہ پانچواں۔ بس پانچوں پورے ہوئے ہی تھے کہ بارش کی طرح برسا اور ساون کی طرح گرجا اور اس قدر الہام برسائے کہ نالیاں بہ گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ سینکڑوں الہام تفہیم کو روتے ہیں اور ہزاروں ادھورے پڑے سوتے ہیں۔ کسی کا سر ندارد اور کسی کی ٹانگ اور بیسیوں ایسے ہیں کہ نیم مردہ پڑے ہیں اور بیسیوں نزع کی حالت میں ہیں اور سینکڑوں مر چکے اور ہزاروں مر رہے ہیں۔ ایک الہام بھی فضل ایزدی سے پورا نہیں ہوا۔ مگر مرزا قادیانی کے خدا ہیں کہ تعریفوں پر تعریفیں کئے جاتے ہیں اور مرزائی ہیں کہ سر دھنتے جاتے ہیں۔ غالب مرحوم نے کیا خوب کہا ہے۔
کہ مشق ناز کر خون دو عالم میری گردن پر
بھلے مانس کو کوئی پوچھے کہ بات کرنے کی تمیز تو سیکھی ہوتی ؎
۔ جو سیدہ سندی سادات دہلی میں سے ہیں۔ میر درد کے خاندان سے تعلق رکھنے والی ہستی کی طرف اس کشف کی طرف اشارہ ہے جو آج سے تیس برس پہلے براہین میں لکھا گیا۔ جس میں میں نے دیکھا تھا کہ حضرت پنج تن ، سیدالکونین ، حسنین، فاطمۃ بیداری میں آئے اور حضرت فاطمہؓ نے کمال محبت اور مادرانہ عطوفت کے رنگ میں میرا سر اپنی ران پر رکھ لیا اور عالم خاموشی میں ایک غمگین صورت بنا کر بیٹھے رہے۔ جس میں خونی آمیزش کے تعلق پر یقین کلی ہوا۔ فالحمدللہ علی ذلک!“
فرشتوں کے تین تین نام
قادیانی کے خدا کے تین نام ہیں۔ یلاش، مرزا اور عاج۔ یلاش کے معنی تو بھوسہ کے ہیں اور مرزا کے معنی مغل بچہ کے ہیں اور عاج کے معنی ہیں
قادیانی کے فرشتوں کے بھی تین ہی نام ہیں۔ ٹیچی خیراتی اور شیر علی۔ ٹیچی کے معنی پچ وقت پر روپیہ لانے والا۔ یا مٹھی گرم کرنے والا یا عقل کا اندھا اور گانٹھ کا پورا یعنی زکوٰۃ اور چندوں پر ڈاکہ ڈالنے والا یا چندہ بٹورنے والا۔ خیراتی کے معنی الہام پر الہام پھینکنے والا۔ مگر شیر علی ان دونوں سے بڑا ہی جلد باز ہے جو پورا ہی کرتا ہے۔ الہام تو آدھا پونا ہی چھوڑتا ہوا بھاگا جاتا ہے اور اور لا کر گرا دیتا ہے یہ سمجھ میں نہ آیا تھا کہ دوسرا اور لا گرایا اور ، بھی اس کی تفہیم نہ ہوئی تھی کہ تیسرا لایا گیا تھا۔ چوتھا اور ابھی فراغت نہ ہوئی تھی کہ پانچواں۔ بس پانچتن پورے بارش کی طرح برسا اور ساون کی طرح گرجا اور اس قدر الہام برسائے کہ نالیاں بہہ نکلیں کہ سینکڑوں الہام تفہیم کو روتے ہیں اور ہزاروں ادھورے پڑے سوتے ہیں۔ کسی کی ٹانگ اور بیسیوں ایسے ہیں کہ نیم مردہ پڑے ہیں اور بیسیوں نزع کی حالت میں سینکڑوں مر چکے اور ہزاروں مر رہے ہیں۔ ایک الہام بھی فضل ایزدی سے پورا نہ ہوا یہ قادیانی کے خدا ہیں کہ تعریفوں پر تعریفیں کئے جاتے ہیں اور مرزائی ہیں کہ مرزا غالب مرحوم نے کیا خوب کہا ہے ؎
کہ مشق ناز کر خون دو عالم میری گردن پر
کوئی پوچھے کہ بات کرنے کی تمیز تو سیکھی ہوتی ؎
فرقان حمید نبی مکرم کی بیویوں کو وازواجہ امھاتھم بیان فرماتا ہے کہ نبی کی بیویاں امھات المومنین ہیں۔ بھلا پھر وہ کس طرح سے یہ الہام کر سکتا ہے اور وہ بھی طفیلی بھروسے پر اشکر نعمتی رأیت خدیجتی حالانکہ وہ اولاد سے پاک ہے۔ ”لم یلد ولم یولد ٭ وقال اتخذ الرحمن ولدا سبحانہ ٭ بل عباد مکرمون (الانبیاء:٢٦)“ اور ایسے الاعمازار کو یاد نہیں کہ اس کی ذات گرامی کس قدر غصہ کرتی ہے۔ ”تکاد السمٰوٰت یتفطرن منہ وتنشق الارض وتخر الجبال ھدا ٭ ان دعوا للرحمن ولداً
(مریم: ٩٠، ٩١) “
حالانکہ کوئی اس کی بیٹی نہیں پھر اس کی بیٹی خدیجہ کس طرح ہوئی۔ ہاں ام المومنین خدیجۃ الکبریٰ کے لئے ایسا ناپاک خیال آتا ہو تو ؎
وہاں قرآن اترا ہے یہاں انگریز اترے ہیں
یہ بھی قرین قیاس نہیں جبکہ احکم الحاکمین نے تیس پاروں میں اس عفیفہ قانتہ کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ حالانکہ یہ فخر رسل ﷺ کی سب سے پہلی بیوی تھی۔ جو سارے عرب میں مالدار تھی اور عورتوں میں سب سے پہلے نبوت کی مصدق ہو کر آپ ﷺ کے نکاح میں چالیس برس کی عمر میں آئی۔ جب کہ در یتیم کی عمر ابھی پچیس برس کی تھی اور تمام مال حضور کی رفاقت میں راہ مولا میں تقسیم کیا۔ نرم بستروں پر آرام کرنے والی شہزادی فقر کی گدڑیوں میں سوئی اور روکھی سوکھی پر قناعت کی۔ انہیں کے مبارک بطن سے سیدۃ النساء پیدا ہوئیں جو نسل سادات کی دادی اماں ہیں اور باپ کی پگڑی سسر کی حمایت میں اتار کر تو جس بیوی کی حمایت کر رہا ہے وہ تو وہ عورت ہے جس نے تمہارا اعتبار دنیا بھر سے کھو دیا۔ شاذ و نادر ہی ایسا واقعہ ادبی دنیا میں ہوا ہوگا کہ میاں کے املاک کو بیوی نے رہن رکھا اور وہ بھی کسی قرضہ میں نہیں بلکہ رہن بالوفا میں، مقام افسوس ہے اور یہ بھی کوئی فخر کی چیز ہے کہ آپ کا نکاح ایک سید زادی سے ہوا۔ حالانکہ ہندوستان میں عام طور پر ضلع گجرات میں ایسے سینکڑوں بیاہ روزانہ ہوتے ہیں اور بیوی کی نسل سے نسل نہیں کہلایا کرتی۔ اسکی کوئی پیدائش کو کوئی سید نہ کہے گا اور حالانکہ فرقان حمید یہ حکم دیتا ہے۔ ”یا ایھا الناس ان خلقناکم من ذکر وانثٰی وجعلناکم شعوبا وقبائل لتعارفوا ان اکرمکم عنداللہ اتقاکم (الحجرات:١٦)“ اور فرمان مصطفوی سیدۃ النساء کو تو یہ ہوا کہ اے بیٹی اس
بات پر فخر مت کیجئے کہ میں نبی کی بیٹی ہوں اور صرف اتنی سی بات پر بخشی جاؤں گی۔ نہیں تیرے عمل تیرے کام آئیں گے۔ پھر اس بات میں فخر کیا رہا اور آپ کے کشف کے بھی کیا کہنے ہیں آپ کو یہ بھی کشف تو ہوا تھا ہی نا کہ کرشن مہاراج سالوے رنگ والے قادیان میں آئے تھے اور آپ کے اوپر سیدھے لیٹ گئے تھے اور ناک پر ناک رکھ دی تھی اور منہ چوم لیا تھا اور ایسے ہی کئی اور کشف ہیں۔ پنجتن پاک اور قادیان اور مرزا کا گھر عجب ثم عجب بے تکی گپ ہے یہ منہ اور مسور کی دال ”لا حول ولا قوۃ الا باللہ“ اور سیدۃ النساء اور تمہارا سرسوئے ادب مانع ہے ورنہ قلم تو جواب دینے کو پلا پڑتا ہے۔ واقعات شاہد ہیں کہ امام حسین کے حق میں گستاخیاں کرنے والے کے پاس پنجتن پاک نہیں آسکتے۔ آپ کو شاید مراق کی وجہ سے وہ حدیث نہ یاد ہو۔ جس میں سرکار دو عالم ﷺ فرماتے ہیں ۔
یا اللہ گواہ رہو کہ حسینؓ کا دوست میرا دوست ہے اور ان کا دشمن میرا دشمن ہے، اور تمہارے وہ اردو اور عربی کے شعر مسلمانوں کی چھاتیوں میں ناسور ڈالتے ہوئے کنداں ہیں بھولے نہیں یاد ہیں اور ابدالآباد تک نہ بھولیں گے۔ بلکہ یہ وہ زخم ہیں جو کبھی نہ بھریں گے اور اس کے گھائل صدا تڑپتے رہیں گے۔
- ١......
صد حسین است در گریبانم
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
- ٢...... ”انی قتیل الحب ولکن حسینکم قتیل العدی فالفرقان
اجلی واظہر“ ”میں محبت کا کشتہ ہوں مگر تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے۔ پس فرق بین وظاہر ہے۔“
(اعجاز احمدی ص ٨١ ، خزائن ج ١٩ ص ١٩٣)
- ٣......
فانی اؤید کل آن وانصروا
واما حسین فاذکروا دشت کربلا
الی ہذہ الایام تبکون فانظروا
کہ میں نبی کی بیٹی ہوں اور صرف اتنی سی بات پر بخشی جاؤں گی۔ عمل تیرے آئیں گے۔ پھر اس بات میں فخر کیا رہا اور آپ کے کشف کے بھی کیا کہنے ہیں کہ تو ہوا تھا ہی نا کہ کرشن مہاراج سانولے رنگ والے قادیان میں آئے تھے اور ننگے لیٹ گئے تھے اور ناک پر ناک رکھ دی تھی اور منہ چوم لیا تھا اور ایسے ہی کئی غوث پاک اور قادیان اور مرزا کا گھر عجب ثم عجب بے تکی گپ ہے یہ منہ اور مسور کی دال ولا قوة الا باللہ “ اور سیدۃ النساء اور تمہارا سرموئے ادب مانع ہے ورنہ اس کو پتہ پڑتا ہے۔ واقعات شاہد ہیں کہ امام حسینؓ کے حق میں گستاخیاں کرنے والے بچ نہیں سکتے۔ آپ کو شاید مراق کی وجہ سے وہ حدیث نہ یاد ہو۔ جس میں آپؐ فرماتے ہیں۔
”یاد رکھو کہ حسینؓ کا دوست میرا دوست ہے اور ان کا دشمن میرا دشمن ہے، اور اس پر عربی کے شعر مسلمانوں کی چھاتیوں میں ناسور ڈالتے ہوئے کنداں ہیں جن کو وہ ابد الآباد تک نہ بھولیں گے۔ بلکہ یہ وہ زخم ہیں جو کبھی نہ بھریں گے اور اس پر نمک چھڑکتے ہیں کہ۔
صد حسین است در گریبانم
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
”انی قتیل الحب ولكن حسينكم قتيل العدى فالفرقان کہ میں محبت کا کشتہ ہوں مگر تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے۔ پس فرق بین وظاہر
(اعجاز احمدی ص ٨١، خزائن ج ١٩ ص ١٩٣)
فانى اؤید كل آن وانصر
واما حسين فاذكروا دشت كربلا
الى هذه الايام تبكون فانظروا
مجھ میں اور تمہارے حسین میں بہت فرق ہے۔ کیونکہ مجھے تو ہر وقت خدا کی تائید اور مدد ملتی رہتی ہے۔ مگر حسین پس تم دشت کربلا کو یاد کرلو۔ اب تک روتے ہو پس سوچ لو۔
(اعجاز احمدی ص ٧٩، خزائن ج ١٩ ص ١٨١)
- ٤....... ”اے قوم شیعہ اس پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے کیونکہ میں سچ
سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک ہے جو حسین سے بڑھ کر ہے اور اگر میں اپنی طرف سے یہ باتیں کہتا ہوں تو میں جھوٹا ہوں۔ لیکن اگر میں ساتھ اس کے خدا کی گواہی رکھتا ہوں تو تم خدا سے مقابلہ مت کرو۔ ایسا نہ ہو کہ تم اس سے لڑنے والے ٹھہرو۔ اب میری طرف دوڑو کہ وقت ہے جو شخص اس وقت میری طرف دوڑتا ہے میں اس کو اس سے تشبیہ دیتا ہوں جو عین طوفان کے وقت جہاز پر بیٹھ گیا۔ لیکن جو شخص مجھے نہیں مانتا میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ طوفان میں اپنے تئیں ڈال رہا ہے اور کوئی بچنے کا سامان اس کے پاس نہیں سچا شفیع میں ہوں۔“
(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)
سینہ کوبی اور تمہارا گریبان چاک اور تمہارا منحوس گھر شرم کا سمندر بھی ایسے فاسد خیال کو ڈبونے سے قاصر ہے اور شب دیجور بھی ایسی سیاہی سے پناہ مانگتی ہے۔
آہ ! سیدہ کی خاموشی اور غمگینی کی وجہ کو تو کیا جانے کہ وہ معصومی کی تصویر اور صبر ورضا کی مورت بیماری میں کیوں خاموش رہی اور بات کرنا بھی تجھ سے گوارہ نہ کی اور طرفہ یہ کہ اس خاموشی کا ایسا غلط و بے ربط استنباط ، غلامی کا دعویٰ اور ایسی بیہودہ بڑ کہ پنجابی نبوت کو زیبا ہے۔ ورنہ اہل علم تو ایسے فاسد خیالات سے پناہ مانگتے ہیں۔
پنجتن پاک رضوان اللہ علیہم اجمعین کی واقعی عالم بالا میں حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی ہوگی۔ جب امت کے دلوں سے غم کا دھواں دل خراش آہوں کے ساتھ پہنچا ہوگا اور یزید ثانی کی بحث کی بوقلمیاں اور رنگینیاں جنہیں قلابازیوں سے تشبیہ دینا عین سعادت ہے دیکھی ہوں گی افسوس۔
در دلش سفاکی ابن زیاد
امیر المومنین علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ پر فضیلت
”پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑ دو۔ اب نئی خلافت لو۔ ایک زندہ علی تم میں موجود ہے اس کو تم چھوڑتے ہو اور مردہ علی کی تلاش کرتے ہو۔“
(اخبار الحکم قادیان نومبر ١٩٠٠ء ، ملفوظات ج ٢ ص ١٤٢)
مزے جو جو مجھے قاتل تیری تلوار میں آئے
آہ! فاطمۃ الزہرا جگر گوشہ رسول کے مالک، آہ سید الشہداء، شبیر شبر کا پیارا والد۔ دنیا میں سب سے پہلا ناموس الٰہی کا مصدق جس نے اپنی زندگی رسول اکرم ﷺ پر قربان کرتے ہوئے ہجرت کی رات کے موقعہ پر جب کہ سرکار مدینہ کفار مکہ میں محصور ہوچکے تھے۔ کافی، اللہ اللہ جسے اسد اللہ کا خطاب رب کعبہ عنایت فرمائے اور جبرائیل سلام عرض کرے اور جو تمام غزوات میں شمع رسالت کا پروانہ رہا اور صدہا چوٹیں رفاقت میں کھائیں اور جس نے اپنا ذاتی بدلہ کبھی نہ لیا اور جس کا مرتبہ مجھ جیسے کمزور کو کیا طاقت ہے۔ جو بیان کرے اور جس کو رسول اکرم ”انت اخی فی الدنیا والآخرۃ (ترمذی ج ٢ ص ٢١٣، باب مناقب علی بن ابی طالب) “ فرمائیں اور ”انت منی بمنزلۃ ہارون من موسیٰ (مسلم ج ٢ ص ٢٧٨، باب من فضائل علی بن ابی طالب)“ اور جس کو سرکار مدینہ ﷺ دنیا و آخرت میں بھائی قرار دے کر یہ فرمائے کہ تو مجھے ایسا ہے جیسا کہ موسیٰ کو ہارون، اس کی شان میں ایسے گندے الفاظ ایسے ناپاک کلمات۔
آہ! جسے رب قدیر زندہ کہے اسے پنجابی نبی مردہ قرار دے۔ کیا رعونت و تکبر نے اسے تاریخ اسلامی سے بالکل بے بہرہ بنا دیا۔ قرآن کریم کا ارشاد ”ولا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ اموات (البقرۃ:١٥٤)“ بھول گیا۔ آہ اس کی یاد اس قدر مردہ ہوچکی کہ بطل حریت نے ماہ صیام اور تہجد کے مقام محمود میں جبکہ وہ مسجد میں رب کعبہ کے حضور میں اس کے پاک نام کی تسبیح پڑھ رہا تھا۔ شہادت کے جام سے مولا کے دربار میں بلوایا جسے انہوں نے لبیک کہا۔
کس قدر ظلم ہے کتنا اندھیر ہے کیا تمہارا ناپاک قلم مردہ لکھتے وقت ٹوٹ نہ گیا تمہارے ہاتھ شل نہ ہوئے۔ بخدا اسد اللہ الغالب قیامت تک زندہ ہے اور زندہ رہے گا اور قیامت تک اس کے نام نامی پر رحمتیں اور صلواتیں پہنچتی رہیں گی۔ اے اللہ، رسول اکرم ﷺ کے چوتھے وزیر حضرت علیؓ اسد اللہ الغالب پر تمام اہل اسلام کی طرف سے کروڑ کروڑ رحمتیں برسا۔ آمین!
”فمن اظلم ممن کذب علی اللہ وکذب بالصدق اذ جاءہ الیس فی جہنم مثوی للکفرین (زمر:٣٢)“ اور اس سے بڑھ کر ظالم شخص کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے جب سچی بات اس کو پہنچے وہ اس کو جھٹلائے کیا کافروں کا ٹھکانا جہنم نہیں۔
سبحانک ھذا بھتان عظیم
(تتمہ حقیقة الوحی ص ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢٢،٥٢١) پر فرماتے ہیں کہ:
”ہر ایک نبی کا نام مجھے دیا گیا ہے۔ چنانچہ جو ملک ہند میں کرشن نام ایک نبی گزرا ہے جس کو ردر گوپال بھی کہتے ہیں۔ (یعنی فنا کرنے والا اور پرورش کرنے والا) اس کا نام بھی مجھے دیا گیا ہے۔ آریہ قوم کے لوگ ان دنوں میں کرشن کا انتظار کرتے تھے وہ کرشن میں ہی ہوں اور یہ دعویٰ صرف میری طرف سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ نے بار بار مجھ پر ظاہر کیا کہ جو کرشن آخری زمانہ میں ہونے والا تھا وہ تو ہی ہے آریوں کا بادشاہ۔“
بیں عقل ودانش بباید گریست
اللہ تبارک وتعالیٰ عزاسمہ کی ذات والا تبار پر ایک قبیح بہتان ہے اور ایسا رکیک حملہ ہے۔ جس کی نظیر ڈھونڈے سے نہ ملے گی۔ یہ ایک ایسا خیال فاسد ہے جس کے تصور سے مسلمان کی روح لرزہ براندام ہوتی ہے اور ایمان اعوذ باللہ کی گود میں استغفر اللہ کی پناہ میں سبحانک اللہ کی آغوش مرحمت میں منہ ڈھانپ لیتا ہے۔
خصوصاً آج کل کے انبیاء سے
رسول اکرم ﷺ پر ایک عظیم بہتان
(چشمہ معرفت ص ١٠، خزائن ج ٢٣ ص ٣٨٢) پر فرماتے ہیں کہ:
”ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ سے دوسرے ملکوں کے انبیاء کی نسبت سوال کیا گیا تو آپ نے یہی فرمایا کہ ہر ایک ملک میں خدا تعالیٰ کے نبی گزرے ہیں اور فرمایا ”کان فی الہند نبی اسود اللون اسمہ کاھناً“ یعنی ہند میں ایک نبی گزرا ہے جو سیاہ رنگ تھا اور نام اس کا کاہن تھا۔ یعنی کنہیا جس کو کرشن کہتے ہیں۔“
مندرجہ بالا عبارت مرزا قادیانی حدیث نبوی قرار دے کر پیش کی ہے۔ حالانکہ یہ عبارت تمام احادیث نبویہ میں ڈھونڈنے سے نہیں ملتی۔
مرزا قادیانی بلا کے دور اندیش تھے۔ آپ کو اپنی نبوت کا خیال آیا کہ لوگ اعتراض کریں گے کہ پنجاب میں نبوت اور وہ بھی سلسلہ ختم ہونے کے بعد حالانکہ ایک لاکھ چوبیس ہزار میں سوائے چند جھوٹوں کے کسی نے یہ دعویٰ نہیں کیا۔ اس لئے الہامی مشینری کو حرکت دینے کی سوجھی اور قلم سنبھالتے ہی دیدہ دانستہ یہ عربی عبارت بنا ڈالی۔ چونکہ یہ عبارت سرور کونین ﷺ کی طرف منسوب کی گئی ہے اس لئے اس کا جواب بھی فیض ترجمان ہی کے ارشاد میں سن لیجئے۔
مرے جو جو مجھے قاتل تیری تلوار میں آئے
سیدۃ الزہرا جگر گوشہ رسول کے مالک آہ سید الشہداء، شبر وشبیر کا پیارا والد ۔ دنیا میں ناموس الٰہی کا مصدق جس نے اپنی زندگی رسول اکرم ﷺ پر قربان کرنے ہجرت کے موقعہ پر جب کہ سرکار مدینہ کفار مکہ میں محصور ہو چکے تھے۔ لٹائی، اللہ اللہ جب رب کعبہ عنایت فرمائے اور جبرائیل سلام عرض کرے اور جو تمام غزوات میں ان گنت اور صد ہا چوٹیں رفاقت میں کھائیں اور جس نے اپنا ذاتی بدلہ کبھی نہ لیا اس کمزور کو کیا طاقت ہے ۔ جو بیان کرے اور جس کو رسول اکرم ”انت اخی فی الجنۃ (ترمذی ج ٢ ص ٢١٣، باب مناقب علی بن ابی طالب) “ فرمائیں اور ”انت بمنزلۃ ھارون من موسیٰ (مسلم ج ٢ ص ٢٧٨، باب من فضائل علی بن ابی طالب)“ اور جس کو سرکار مدینہ ﷺ دنیا و آخرت میں بھائی قرار دے کر یہ فرمائے کہ تو میرا بھائی ہے تو اس ذی وقار، اس کی شان میں ایسے گندے الفاظ ایسے ناپاک کلمات ۔ ان کو جب قدیر زندہ کہے اسے پنجابی نبی مردہ قرار دے ۔ کیا رعونت وتکبر نے اسے بالکل عقل و حواس سے بے بہرہ بنا دیا ۔ قرآن کریم کا ارشاد ”ولا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ امواتا (البقرۃ: ١٥٤) “ بھول گیا ۔ آہ اس کی یاد اس قدر مردہ ہو چکی کہ بطل حریت جس نے اپنے پاک لہو سے مقام محمود میں جبکہ وہ مسجد میں رب کعبہ کے حضور میں اس کے پاک نام کی ضربیں لگا رہا تھا شہادت کے جام پی کر مولا کے دربار میں بلایا جسے انہوں نے لبیک کہا ۔
آہ! کیسا ستم ہے کتنا اندھیر ہے کیا تمہارا ناپاک قلم مردہ لکھتے وقت ٹوٹ نہ گیا تمہارے منہ میں خاک علی اسد اللہ الغالب قیامت تک زندہ ہے اور زندہ رہے گا اور قیامت تک اس پر لاکھوں رحمتیں اور صلواتیں پہنچتی رہیں گی ۔ اے اللہ، رسول اکرم ﷺ کے چوتھے وزیر اور ہمارے خلیفہ پر تمام اہل اسلام کی طرف سے کروڑ کروڑ رحمتیں برسا ۔ آمین !
الا لعنۃ اللہ علی الظلمین فمن اظلم ممن کذب علی اللہ وکذب بالصدق اذ جآء ہ الیس فی جھنم مثوی للکفرین (زمر:٣٢) “ اور اس سے بڑھ کر ظالم شخص کون ہے جو اللہ پر جھوٹ بولے اور سچی بات اس کو پہنچے وہ اس کو جھٹلائے کیا کافروں کا ٹھکانا جہنم نہیں ۔
سبحانک هذا بهتان عظیم
" عن سمرة بن جندب والمغيرة ابن شعبة قالا قال رسول الله ﷺ من حدث عنى بحديث يرى انه كذب فهو احد الكاذبين " سمرہ بن جندب اور مغیرہ شعبہ سے روایت ہے انہوں نے کہا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص میری نسبت ایسی حدیث بیان کرے جسے وہ جھوٹا سمجھتا ہے وہ دو جھوٹوں میں سے ایک ہے۔
(مسلم ج ١ ص ٦، باب وجوب الرواية عن الثقات وترك الكذابين)
ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
کیا عرض کروں اور کس طرح نفس مضمون کو پیش کروں رونا آتا ہے اور دل میں ایک ہوک سی اٹھتی ہے۔ میرا رواں رواں لرزہ براندام ہے اور آنکھیں اندھیروں میں غوطہ زن ہیں۔ یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں۔ آہ! تعصب تیرا ستیاناس۔ اے عشق تیرا خانہ خراب ، اے ہوس تیرا برا ہو، خواہش نفسانی میں ضعیف انسان کیا کچھ کر گزرتا ہے۔ ہوس اسے اندھا بنا دیتی ہے اور دماغ میں جذبات کا تلاطم خیز طوفان اسے مجنوں بنائے بغیر نہیں رہتا۔ پھر سگ لیلیٰ بھی لیلیٰ ہی نظر آتی ہے اور بادہ پیمائی میں تصور محبوب کائنات ارضی کے ذرہ ذرہ میں وہی سماں پیش کرتا ہے۔ وہ پتھروں اور سنگریزوں کو مخاطب کرتا ہے اور درختوں اور پتوں سے ہم کلام ہوتا ہے اور باد صرصر کو پیغام دیتا ہے نہ اسے کھانے کی ہوش ہوتی ہے اور نہ پینے کا خیال۔ بس خیال محبوب اس کی غذا دیدار محبوب اس کی شراب وہ دلی خیالات کی ترجمانی میں محبوب کا نقش درختوں کے تنوں پر کھینچتا اور اظہار خیالات پتوں پر کرتا ہے۔
میرے خیال میں مرزا قادیانی کو مسیح موعود بننے کا ایک عشق تھا اور یہ ایک ایسا آزار تھا جو صبح سے شام تک ان کو بے چین بنائے رہتا اور وہ اسی موہوم خواہش میں صبح کو قلم سنبھالتے اور طرح طرح کے خیالات قلمبند کرتے کرتے شام کر دیتے اور کچھ مطمئن سے ہوتے کہ اب تو میں یقیناً مسیح موعود ہوں۔ مگر یقین کامل نہ بیٹھتا۔ اگلے روز یہ تماشہ پھر شروع ہوتا۔
دن بھر کی پریشانی اور خیالات کی پراگندگی سے رات کو متوحش خواب آتے۔ جن کو معذر خوابات سے تشبیہ دی جاتی۔ مگر صبح اس تیار کردہ عمارت میں کچھ سقم معلوم ہوتا تو اس کے ازالہ کے لئے پھر قلم سنبھالا جاتا اور لکھتے لکھتے دماغ تھک جاتا اور نیند سی آتی۔ چونکہ دماغ میں خیالات بسے ہوتے ۔ اس غنودگی میں بھی وہی منظر نظر آتے اور اس کو الہام سے تعبیر کیا جاتا اور بسا اوقات فنا
فی المسیح موعود کا خیال اس قدر ترقی پذیر ہوتا کہ آپ اس میں بت کی طرح ہوش و حواس کھو دیتے اور اس خیال میں ایسے غرق ہوتے کہ حواس خمسہ میں سوائے ایک خلط کے باقی گویا ندارد اور اس خیال یار کو کشف کہا جاتا۔ مرزا آنجہانی کی تمام تصانیف کا بغور مطالعہ کر کے دیکھ لیجئے۔ آپ کو عاشق ناکام کی طرح مسیح موعود کی دھن میں پیش پائیں گے اور آپ کی قلمی زندگی تقریباً ٤٢/٤٣ سالہ مسیح موعود بننے کے چکر میں نظر آئے گی کہ کسی طرح مسیح موعود بن جائیں۔ مگر وصال جاناں مر کر ہی ملتا ہے اور وہ بھی کسی خوش نصیب کو ہم آپ کی محنت اور ہمت کے معترف ہیں اور جذبے کی داد دیتے ہیں کہ مسیح موعود بننے کے شوق میں ہر مشکل سے مشکل مرحلہ اور کٹھن سے کٹھن موقعہ طے کرنے میں آپ نے کوئی کمی نہ کی اور جیسا موقعہ اور وقت دیکھا الہامی سانچے میں ڈھل گئے اور مذکر سے مؤنث بننے میں کوئی شرمندگی کی پرواہ نہ کی اور حائضہ اور حاملہ ہونے کا اعتراف بھی کیا اور درد زہ کا ذکر خیر کر کے خود ہی زچہ اور خود ہی ماشاء اللہ ہفتاد سالہ چاند سا بچہ بننے میں بھی وہ کمال دکھلایا کہ بھروپیوں کا ریکارڈ مات کر دیا اور اعتراض کے موقعوں پر کولہو کے بیل کی طرح ان الہامات کے گرد یوں گھومے کہ بڑے عقلاء کی لٹیا سرے سے ڈبو دی۔ چنانچہ مرزا قادیانی کے وہ لطیف مضامین برائے ملاحظہ درج ذیل ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں:
(کشتی نوح ص ٤٥، خزائن ج ١٩ ص ٥٠،٤٨) پر چٹخارے لے لے کر فرماتے ہیں کہ: ”یا مریم اسکن انت وزوجك الجنة نفخت فيك من لدنى روح الصدق“ یعنی اے مریم تو معہ اپنے دوستوں کے بہشت میں داخل ہو میں نے تجھ میں اپنے پاس سے صدق کی روح پھونک دی۔ یعنی اے مریم تو معہ اپنے دوستوں کے بہشت میں داخل ہو میں نے تجھ میں اپنے پاس سے صدق کی روح پھونک دی۔
خدا نے اس آیت میں میرا نام روح الصدق رکھا۔ یہ اس آیت کے مقابل پر ہے۔ ”نفخنا فيه من روحنا“ پس اس جگہ گویا استعارہ کے رنگ میں مریم کے پیٹ میں عیسیٰ کی روح جاپڑی جس کا نام روح الصدق ہے۔ پھر سب کے آخر ص ٥٥٦ براہین احمدیہ میں وہ عیسیٰ جو مریم کے پیٹ میں تھا اس کے پیدا ہونے کے بارے میں یہ الہام ہوا۔ ”یا عيسى اني متوفيك ورافعك الى وجاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفرو الى يوم القيمة“ اس جگہ میرا نام عیسیٰ رکھا گیا اور اس الہام سے ظاہر ہوا کہ وہ عیسیٰ پیدا ہو گیا۔ جس کی روح کا نفخ ص ٤٩٦ میں ظاہر کیا گیا تھا۔ پس اس لحاظ سے میں عیسیٰ بن
مریم کہلایا۔ کیونکہ میری عیسوی حیثیت مریمی حیثیت سے خدا کے نفخ سے پیدا ہوئی۔ دیکھو ص٤٩٦ اور ٥٥٦ براہین احمدیہ اور اس واقعہ کو سورۃ مریم تحریم میں بطور پیش گوئی کمال تصریح سے بیان کیا گیا ہے کہ عیسیٰ بن مریم اس امت میں اس طرح پیدا ہوگا کہ پہلے کوئی فرد اس امت کا مریم بنایا جائے گا اور پھر اس کے اسی مریم میں عیسیٰ کی روح پھونک دی جائے گی۔ پس وہ مریمیت کے رحم میں ایک مدت تک پرورش پا کر عیسیٰ کی روحانیت میں تولد پائے گا اور اس طرح پر وہ عیسیٰ بن مریم کہلائے گا۔ یہ وہ خبر عیسیٰ ابن مریم کے بارے میں ہے جو قرآن شریف یعنی سورہ تحریم میں اس زمانہ سے تیرہ سو برس پہلے بیان کی گئی ہے اور پھر براہین احمدیہ میں سورۃ التحریم کے ان آیات کی خدا تعالیٰ نے خود تفسیر فرمادی ہے۔ قرآن مجید موجود ہے ایک طرف قرآن شریف کو رکھو اور ایک طرف براہین احمدیہ کو۔ پھر انصاف اور عقل اور تقویٰ سے سوچو کہ وہ پیش گوئی جو سورہ تحریم میں تھی یعنی یہ کہ اس امت میں بھی کوئی فرد مریم کہلائے گا اور پھر مریم سے عیسیٰ بنایا جائے گا۔ گویا اس میں سے پیدا ہوگا۔ وہ کس رنگ میں براہین احمدیہ کے الہامات سے پوری ہوئی کیا یہ انسان کی قدرت ہے۔ کیا یہ میرے اختیار میں تھا۔ کیا میں اس وقت موجود تھا جب کہ قرآن شریف نازل ہورہا تھا۔ تا میں عرض کرتا کہ مجھے ابن مریم بنانے کے لئے کوئی آیت اتار دی جائے اور اس اعتراض سے مجھے سبکدوش کیا جائے۔ اس نے براہین احمدیہ میں تیسرے حصہ میں میرا نام مریم رکھا۔ پھر جیسا کہ براہین احمدیہ سے ظاہر ہے دو برس تک صفت مریمیت میں میں نے پرورش پائی اور پردہ میں نشو و نما پاتا رہا۔ پھر جب اس پر دو برس گزر گئے تو جیسا کہ براہین احمدیہ کے حصہ چہارم ص٤٩٦ میں درج ہے مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینے کے بعد جو دس ماہ سے زیادہ نہیں بذریعہ اس الہام جو سب سے آخر براہین احمدیہ کے حصہ چہارم ص٥٥٦ میں درج ہے مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ اس طرح سے میں ابن مریم ٹھہرا۔
”فاجاءها المخاض الى جذع النخلة قالت ياليتنى مت قبل هذا وكنت نسيا منسيا“ پھر یعنی مریم کو جو مراد اس عاجز سے ہے۔ درد زہ کھجور کی طرف لے آئی…… کاش میں اس سے پہلے مرجاتی اور میرا نام و نشان نہ رہتا۔“
فتنے تو ذرا دیکھو ترکیب عناصر کے
اس ساری عبارت کا مفہوم دو باتوں پر ختم ہے۔ مگر آپ اپنی عادت کی وجہ سے مجبور ہیں۔ اس لئے خواہ مخواہ طول دیا گیا ہے۔ سب سے پہلے فرقان حمید کی آیت کو محرف و مبدل کیا گیا ہے اور بجائے یا آدم اسکن کے یا مریم اسکن ٹھونسا گیا ہے۔ حالانکہ آدم مذکر ہے اور مریم مؤنث ہے۔ فرقان حمید کی اصطلاح میں زوج کا لفظ بیوی یا جوڑا کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ مگر یہ آج ہی معلوم ہوا کہ قادیانی لغت میں زوج کے معنی دوست ہیں اور اگر یہ معنی صحیح بھی تسلیم کر لئے جائیں تو بھی دوست مذکر کے صیغہ میں آئے گا۔
کس قدر ظلم ہے کہ مریم صدیقہ علیہ السلام کو جسے قرآن کریم تمام جہان کی عورتوں پر فضیلت دے رہا ہے اور جس کے عفیفہ ہونے کی بشارت مولا کریم بیان فرما رہا ہے اور جس کی پرورش کے بیشتر حصہ میں عنداللہ رزق آتا ہو اور جس کو صدیقہ کا خطاب دیا گیا ہو۔ اس کے حق میں آہ وہ بھی مسلمانی کی آڑ میں جو مدعی نبوت بنتا ہو اور اپنی بیوی کو ام المؤمنین کہلواتا ہو۔ حالانکہ ایسی کروڑ بیویاں مریم صدیقہ علیہ السلام کے پاؤں کی خاک پر قربان کر دی جائیں۔ ایسا حملہ جس سے شرافت پناہ مانگتی ہو کرتا ہے۔
کیا کوئی شریف عورت یہ برداشت کر سکتی ہے کہ اس کو ایک اجنبی شخص یہ کہے کہ اے فلاں عورت تم اور تمہارے دوست باغ میں رہو۔
فرض کرو ابھی چند ہی روز کا واقعہ ہے کہ لاہور اسٹیشن پر ایک غریب کلرک جو ڈی۔ ٹی۔ ایس کے دفتر میں نوکر تھا۔ گاڑی کے نیچے آ کر کٹ گیا۔ مگر خوش قسمتی سے ولایت کا ایک انگریز ڈاکٹر جو فن جراحی میں مشہور ہے اور جس کو مسٹر کلارک کہتے ہیں کہ کوشش سے بیچارے کلرک کی جان بچ گئی۔ اس نے کمال ہوشیاری سے ایک بکری کا نچلا دھڑ کلرک کے ساتھ عمل جراحی سے لگا دیا اور اس میں روح پھونک دی۔ جس کا یہ نتیجہ ہے کہ مجروح اچھا بھلا ہے اور باقاعدہ چھ گھنٹے دفتر میں کام کرتا ہے اور ٧٥ روپے تنخواہ پاتا ہے اور اڑھائی سیر روزانہ دودھ دیتا ہے۔
اہل علم اور صحیح الدماغ حیران ہوں گے اور اس واقعہ کو باور نہ کریں گے۔ مگر مرزائی پھر ضرور ایمان لاتے ہوئے لبیک کا نعرہ لگائیں گے اور اگر وہ بھی اہل علم کی طرح واقعہ بالا سے انحراف کریں تو میں حق بجانب ہوں کہ ان سے سوال کروں کہ کیا ایک ہی آدمی گرگٹ کی طرح رنگ بدل کر مذکر سے مؤنث اور مؤنث سے مذکر بن سکتا ہے اور کیا مرد کا بھی رحم اور اندام نہانی
وغیرہ ہوتا ہے اور کیا ان کو بھی کبھی حیض آتا ہے۔ کیا مرد بھی کبھی حاملہ ہوئے ہیں اور دروزہ کی کلفت میں پڑے ہیں۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کے ایک الہام پر آئندہ صفحوں میں ہم نے روشنی ڈالی ہے اور کیا مرد بھی بچے جنا کرتے ہیں اور دس ماہ تک برابر حمل کو اٹھائے پھرتے ہیں اور پھر لطف یہ کہ کولہو کے بیل کی طرح جہاں سے چلے تھے وہیں کے وہیں ہی براجے ہیں۔ یعنی زچہ بھی آپ اور بچہ بھی آپ ہیں۔ مگر ایک بات قابل قدر اور جواب طلب ہے کہ وہ دو برس کی مدت تک صفت مریمیت میں کس عمر میں اور کہاں پرورش پاتے رہے اور کون سے پردے میں عورتوں کی طرح نشو و نما پائی اور اس کی کیا سند اور دلیل ہے۔ مہربانی کر کے تفصیل سے بیان کریں۔
آپ کی یہ جدت بھی ملاحظہ ہو کہ براہین احمدیہ میں سورہ تحریم کی خدا تعالیٰ نے خود تفسیر کردی اور یہ چیلنج بھی ملاحظہ کریں کہ ایک طرح قرآن مجید کو رکھو اور ایک طرف براہین احمدیہ کو اور عقل و تدبیر سے سوچو۔
مرزائیو! سن رہے ہو۔ مسیلمہ ثانی صاحب کتاب وصاحب تفسیر نبی ہیں۔ آپ لوگوں کو مبارک ہو کہ کلام مجید کے عوض براہین احمدیہ آسمانی کتاب مل گئی اور لطف یہ ہے کہ اس کی تفسیر بھی خدا تعالیٰ نے خود کر دی اور ظلی اور بروزی جھمیلے سے بھی جان چھوٹی اور لاکھوں پائے جو نبی صاحب کتاب مل گیا۔ اب کلام مجید کی بجائے براہین احمدیہ کی ہی تلاوت کیا کرو۔ کیونکہ اسکی تفسیر بھی خدا تعالیٰ نے خود کی ہوئی ہے۔
اب ہم ناظرین کرام کو فرقان حمید کی سورہ تحریم کی اصل عبارت معہ ترجمہ کے پیش کرتے ہیں تاکہ آپ پر اس گپ جھل کی حقیقت بھی آشکارا ہو جائے۔
” ومریم ابنت عمران التی احصنت فرجها فنفخنا فيه من روحنا وصدقت بكلمت ربها وكتبه وكانت من القنتین (تحریم: ١٢) ” عمران کی بیٹی مریم کی جنہوں نے اپنی عصمت کو محفوظ رکھا تو ہم نے ان کے پیٹ میں اپنی ایک روح پھونک دی اور وہ اپنے پروردگار کے کلام اور اس کی کتابوں کی تصدیق کرتی رہیں اور وہ فرمانبردار بندوں میں سے تھیں۔﴿
اب مرزا قادیانی کی پیش گوئی اور دعویٰ کو ملاحظہ کریں تو آپ کو روز روشن کی طرح یہ ثابت ہو جائے گا کہ دجل دینے کے لئے افسانے اور گپیں تراشی گئی ہیں اور اصل میں دماغی فتور کی وجہ سے مجبور ہیں۔ آپ کو اچھی طرح سے یہ معلوم ہو گیا ہو گا کہ ان آیات میں جو مرزا قادیانی کی
کو بھی کبھی حیض آتا ہے۔ کیا مرد بھی کبھی حاملہ ہوئے ہیں اور درد زہ کی کلفت سے مرزا قادیانی کے ایک الہام پر آئندہ صفحوں میں ہم نے روشنی ڈالی ہے اور تے ہیں اور دس ماہ تک برابر حمل کو اٹھائے پھرتے ہیں اور پھر لطف یہ کہ کولہو سے چلے تھے وہیں کے وہیں ہی براجے ہیں۔ یعنی زچہ بھی آپ اور بچہ بھی یہ قابل قدر اور جواب طلب ہے کہ وہ دس برس کی مدت تک صفت مریمیت میں پرورش پاتے رہے اور کون سے پردے میں عورتوں کی طرح نشو و نما پائی ہا ہے۔ مہربانی کر کے تفصیل سے بیان کریں۔ جدت بھی ملاحظہ ہو کہ براہین احمدیہ میں سورہ تحریم کی خدا تعالیٰ نے خود تفسیر حفظ کریں کہ ایک طرح قرآن مجید کو رکھو اور ایک طرف براہین احمدیہ کو اور
ا رہے ہو۔ مسیلمہ ثانی صاحب کتاب وصاحب تفسیر نبی ہیں۔ آپ لوگوں کے عوض براہین احمدیہ آسمانی کتاب مل گئی اور لطف یہ ہے کہ اس کی تفسیر وحی اور ظنی اور بروزی جھمیلے سے بھی جان چھوٹی اور لاکھوں پائے جو نبی ب کلام مجید کی بجائے براہین احمدیہ کی ہی تلاوت کیا کرو۔ کیونکہ اسکی تفسیر ہوتی ہے۔
ین کرام کو فرقان حمید کی سورہ تحریم کی اصل عبارت معہ ترجمہ کے پیش س گپ محض کی حقیقت بھی آشکارا ہو جائے۔
ابنت عمران التى احصنت فرجها فنفخنا فيه من روحنا بها وكتبه وكانت من القنتين (تحریم:١٢) ”عمران کی بیٹی صمت کو محفوظ رکھا تو ہم نے ان کے پیٹ میں اپنی ایک روح پھونک دی لام اور اس کی کتابوں کی تصدیق کرتی رہیں اور وہ فرمانبردار بندوں میں
یانی کی پیش گوئی اور دعویٰ کو ملاحظہ کریں تو آپ کو روز روشن کی طرح یہ و دینے کے لئے افسانے اور گپیں تراشی گئی ہیں اور اصل میں دماغی فتور کی اچھی طرح سے یہ معلوم ہو گیا ہوگا کہ ان آیات میں جو مرزا قادیانی کی
طرف سے بطور دعویٰ پیش کی گئی ہیں ایک شمہ بھر بھی صداقت نہیں اور اشارہ و کنایہ تک بھی کسی پیش گوئی کا ذکر تک نہیں اور نہ ہی یہاں جو مرزا قادیانی کا دعویٰ کے الفاظ ہیں اور نہایت واضح الفاظ ہیں جو ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔ یعنی یہ کہ ”اس امت میں بھی کوئی فرد مریم کہلائے گا اور پھر مریم سے عیسیٰ بنایا جائے گا۔ گویا اسی میں سے پیدا ہوگا وہ کس رنگ میں براہین احمدیہ کے الہامات سے پوری ہوئی کیا یہ انسان کی قدرت ہے کیا یہ میرے اختیار میں تھا۔ کیا میں اس وقت موجود تھا۔ جب کہ قرآن مجید نازل ہو رہا تھا۔ تا میں عرض کرتا کہ مجھے ابن مریم بنانے کے لئے کوئی آیت اتار دی جائے اور اس اعتراض سے مجھے سبکدوش کیا جائے ۔“
(کشتی نوح ص ٤٦، خزائن ج ١٩ ص ٤٦)
ہمارے خیال میں مرزا قادیانی سید محمد جونپوری کے واقعی ہم مشرب بھائی تھے اور جو کچھ بھی انہوں نے لیا جونپور کی تعلیم سے لیا۔ سید محمد جونپوری نے ہندوستان میں مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ تذکرۃ الصالحین میں لکھا ہے سید محمد مہدی کو میراں سید محمد مہدی پکارتے تھے۔ اس کے باپ کا نام سید خاں تھا۔ جب علماء نے اس سے سوال کیا کہ حدیث شریف میں ہے کہ مہدی میرے نام اور میرے باپ کے نام سے موسوم ہوگا تو اس نے یہ جواب دیا کہ خدا سے پوچھو کہ اس نے سید خاں کے بیٹے کو کیوں مہدی کیا، دوئم کیا خدا اس بات پر قادر نہیں کہ سید خاں کے بیٹے کو مہدی بنائے۔
امت مرزائیہ ہوش میں آ !
مرزا قادیانی عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر جانے کے قائل صرف اس لئے نہیں کہ یہ قانون قدرت اور فطرت سلیمہ کے خلاف ہے اور چونکہ واللہ علیٰ کل شئی قدیر پر بھروسہ نہیں۔ اس لئے کرہ آتشیں و زمہریر محالات عقلی کے جال میں مقید کئے ہوئے ہے۔
ہم پوچھتے ہیں کہ کیا فطرت سلیمہ اس امر کی اجازت دیتی ہے کہ تن واحد بے پیندے کا لوٹا بن جائے اور فاعل فعل اور مفعول کی ترکیب کو حذف کرتے ہوئے زچہ کی مشکلات سے دو چار ہوتا ہوا۔ صنف نازک کے زمرے میں شامل ہو کر پردے میں نشو و نما پائے۔ حیض و نفاس کی ناپاکیوں میں ناپاک رہے۔ دس ماہ تک حاملہ رہے درد زہ کے مصائب میں برداشت کا مادہ نہ رہے اور غم و صبر کو ایسا تاراج کرے کہ زندگی کو موت پر ترجیح دی جائے اور آخر مر کر ہشتاد سالہ چاند سا سفید داڑھی اور گرے ہوئے دانت والا بچہ پیدا ہو۔ جس کا ٹیڑھا منہ اور جھریوں پڑا چہرہ ہو۔ کیا یہ
امت مرزائیہ کے لئے ممکن ہے کہ وہ اس اعجاز پر وجد میں آوے اور امنا وصدقنا کے نعرے بلند کرے اس لئے کہ یہ اپنی آنکھ کا شہتیر ہے۔ جو دکھلائی نہیں دیتا۔ مگر مسیح علیہ السلام کا وہ لطیف تنکا جو رب کعبہ کی مشیت سے انصرام پایا اور آیات اللہ قرار دیا گیا اور جس کا نزول قیامت کی نشانیوں سے ایک نشان ہے۔ جیسا کہ قرآن کریم کا ارشاد ہے "وانہ لعلم للساعۃ (زخرف:٦١)" اس کی نگاہ میں خار کی طرح کھٹکے۔ خلاق جہاں کو تو اس بات پر قادر نہ سمجھا جائے کہ وہ اپنی پیدا کردہ مخلوق کو جہاں چاہے لے جاسکے۔ مگر مرزا قادیانی کو اس کا مجاز سمجھا جائے کہ وہ جو چاہیں کہیں اور باتوں ہی باتوں میں زمین اور آسمان کے قلابے ملا دیں اور طرفہ یہ کہ سب زبانی ہی جمع خرچ ہو۔ ان فاسد اعتقادات کے رکھتے ہوئے تمام دنیا کو حقیر سمجھا جاتا ہے اور کافر کے خطاب سے یاد کیا جاتا ہے اور اس نبوت کے برتے پر دعوت دی جاتی ہے اور ڈنڈے کے زور پر اطاعت کے لئے مجبور کیا جاتا ہے اور نہ ماننے والوں کے حق میں پنجابی نبی چٹخارے لے لے کر بازاری روایات فراخدلی سے استعمال کرتا ہے کہ میرے مخالف جنگلوں کے سور ہیں اور ان کی عورتیں کتیوں سے بدتر ہیں اور پھر یہ بھی دعویٰ کرتا ہے کہ کسی انسان کو حیوان کہنا بھی گالی ہے اور یہ بھی کہتا ہے کہ میرے لبوں پر میرے خدا نے ایک شیریں چاشنی رکھ دی ہے۔ یعنی میرے بول بہت ہی میٹھے ہیں۔
نسائہم من دونہن الاکلب
(نجم الہدیٰ ص١٠، خزائن ج١٤ ص٥٣)
ہم کہتے ہیں کہ مہربانی کر کے ذرا منہ کو پونچھئے اس شعر کے کہنے سے شیرینی کی رال ٹپک کر ریش مبارک تر کر گئے۔ افسوس مسلم کی زبان سے اس تصویر کو دیکھ کر بے اختیار یہ شعر نکل گیا۔
اب تو رہنے دے یہ دنیا داریاں
سچے شفیع کی بھی خوب کہی جو اس دنیا میں کام نہ آیا۔ بلکہ جھوٹے وعدوں پر ہی ٹالتا رہا وہ دوسرے جہاں میں کیا خاک کام آئے گا۔ جب کہ تمام پیغمبر سوائے آنحضرت ﷺ کے نفسی نفسی پکار رہے ہوں گے اور امت مرزائیہ کو اس شفاعت پر بھروسہ رکھنا چاہئے ورنہ کلام مجید تو سوائے سرکار مدینہ ﷺ کے کسی دوسرے کو شفاعت کی اجازت نہیں دیتا۔
مکن ہے کہ وہ اس اعجاز پر وجد میں آوے اور امنا وصدقنا کے نعرے بلند نی آنکھ کا شہتیر ہے۔ جو دکھلائی نہیں دیتا۔ مگر مسیح علیہ السلام کا وہ لطیف تنکا ے انصرام پایا اور آیات اللہ قرار دیا گیا اور جس کا نزول قیامت کی نشانیوں سا کہ قرآن کریم کا ارشاد ہے ”وانہ لعلم للساعة (زخرف: ٦١)“ رح کھٹکے۔ خلاق جہاں کو تو اس بات پر قادر نہ سمجھا جائے کہ وہ اپنی پیدا کردہ ا جا سکے۔ مگر مرزا قادیانی کو اس کا مجاز سمجھا جائے کہ وہ جو چاہیں کہیں اور ن اور آسمان کے قلابے ملا دیں اور طرفہ یہ کہ سب زبانی ہی جمع خرچ ہو۔ رکھتے ہوئے تمام دنیا کو حقیر سمجھا جاتا ہے اور کافر کے خطاب سے یاد کیا کے برتے پر دعوت دی جاتی ہے اور ڈنڈے کے زور پر اطاعت کے لئے ننے والوں کے حق میں پنجابی نبی چٹخارے لے لے کر بازاری روایات ہے کہ میرے مخالف جنگلوں کے سور ہیں اور ان کی عورتیں کتوں سے بدتر تا ہے کہ کسی انسان کو حیوان کہنا بھی گالی ہے اور یہ بھی کہتا ہے کہ میرے شیریں چاشنی رکھ دی ہے۔ یعنی میرے بول بہت ہی میٹھے ہیں۔
سائهم من دونهن الا كلب
(نجم الہدی ص ١٠، خزائن ج ١٤ ص ٥٣)
مہربانی کر کے ذرا منہ کو پونچھئے اس شعر کے کہنے سے شیرینی کی رال گئے۔ افسوس مسلم کی زبان سے اس تصویر کو دیکھ کر بے اختیار یہ شعر
ب تو رہنے دے یہ دنیا داریاں
ا خوب کہی جو اس دنیا میں کام نہ آیا۔ بلکہ جھوٹے وعدوں پر ہی ٹالتا رہا خاک کام آئے گا۔ جب کہ تمام پیغمبر سوائے آنحضرت ﷺ کے نفسی ر امت مرزائیہ کو اس شفاعت پر بھروسہ رکھنا چاہئے ورنہ کلام مجید تو سی دوسرے کو شفاعت کی اجازت نہیں دیتا۔
اعلان عام یعنی مبلغ یک صد روپیہ انعام
میں امت مرزائیہ ہر دو جماعت کو وہ لاہوری ہوں یا قادیانی ببانگ دہل چیلنج دیتا ہوں کہ وہ سورہ تحریم سے یہ پیش گوئی ثابت کریں اور اس کو امیر جماعت سے تصدیق کرا کر ایک رسالہ کی شکل میں شائع کریں۔ اس کے جواب الجواب میں ہمارا ٹریکٹ بغرض فیصل مقررہ منصف کو بھیج دیا جائے گا رقم موعودہ بعد از فیصلہ منصف لینے کے حقدار ہیں۔ کسی میں ہمت ہے تو مرد میدان بنے اور انعام حاصل کرے۔ اس انعام کی میعاد تا قیام زمانہ ہے۔ ایم۔ ایس خالد!
دنیائے جہاں کی رشد و ہدایت کے لئے جس قدر ہادیانِ ملت والدین مبعوث ہوئے ان کی پاک زندگی و مبارک تعلیم میں سب سے انسب اور قابل ستائش ایک ایسا زریں اصول چشم بینا کے لئے بیان کیا گیا ہے۔ جس کے ہوتے ہوئے کوئی عمل پیرا راہ راست سے کبھی بھٹک نہیں سکتا اور اس کی تائید موقعہ بہ موقعہ واقعات کی روشنی میں جابجا یکے بعد دیگرے ملتی ہے۔ جن لوگوں نے صدق کو اپنا نصب العین بنایا اور جھوٹ سے نفرت کی وہ شاد کام جئے اور بامراد مرے۔ ان کی زندگی ابدی زندگی ہے۔ ان کے کارنامے اور مبارک نام صفحہ دہر پر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بڑی آب و تاب سے دمک رہے ہیں اور ابد الآباد تک چمکتے رہیں گے۔ اس لئے کہ انہوں نے دنیا کی وہ بدترین چیز جو ام الخبائث ہے۔ (جھوٹ) سے بڑی سختی سے نفرت دلائی اور سچائی کے محاسن کچھ اس شان سے پیش کئے کہ وہ جن کی گھٹی میں جھوٹ پڑا ہوا تھا اور جو اسی کے برتے پر خلق خدا کو لوٹتے اور دھوکہ دیتے تھے کچھ ایسے بیزار ہوئے کہ پھر ان کے منہ سے کبھی جھوٹی بات کا اعادہ نہ ہوا اور سچائی ان کے گھروں کی لونڈی ہو کر رہی۔
قرون اولیٰ کا چپہ چپہ پکار پکار کر یہ مناظر پیش کرتا ہے کہ ان خدا کے بندوں نے جھوٹ بولنا اس وقت بھی پسند نہ کیا۔ جب کہ وہ دارورسن سے گلوگیر ہوئے۔ جھوٹ بول کر جینا وہ بے حیائی سمجھے اور موت کو ترجیح دے کر اللہ تعالیٰ کے انعام واکرام کے مالک ہوئے۔
آقائے نامدار محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ کا سب سے وہ پہلا مصدق ابوبکرؓ سے صدیق ہوا۔ جب حضور ﷺ کی رفاقت میں پا بہ رکاب خدمت گار بموقعہ ہجرت ہوا۔ آہ! اسلام پر رسول اکرم ﷺ کی شان پر اس سے زیادہ مشکل وقت اور کوئی شاید نہ آیا ہوگا۔ سو اونٹ کے لالچ میں دنیاوی کتے ناموس الہیٰ کو صفحہ ہستی سے ناپید کرنے پر تلے ہوئے خوجی تھے اور یہ خدا کی امانت کو لئے ہوئے کشاں کشاں یثرب کو جا رہا تھا۔ یہاں تک کہ ان میں ایک متلاشی ابوبکرؓ سے راہ گیر ہوا
اور تلخ لہجہ میں بولا کہ اے ابوبکرؓ یہ تمہارے ١؎ ساتھ دوسرا کون ہے۔ کیونکہ وہ رسالت مآب کو نہیں جانتا تھا۔ چونکہ ابوبکرؓ کے لئے موقعہ گو مگو مشکل نہ گو مگو مشکل کا مصداق ہوا۔ اگر حضور کا نام نامی زبان پر آتا ہے تو خدا کی امانت خطرے میں پڑتی ہے اور اگر جھوٹ بولا جاتا ہے تو ایمان سے ہاتھ دھونے پڑتے ہیں۔ اف یہ ابوبکرؓ کے لئے کیسا مشکل مرحلہ اور نازک موقعہ تھا۔ ایسے کٹھن وقت میں مشیئت ایزدی کو گویا رفاقت و صداقت کا امتحان لینا منظور تھا۔ وہ صدق و وفا کا مجسمہ اس انوکھے سوال سے گھبرایا، رکا اور معاً بولا یہ آدمی مجھے ٢؎ سیدھا راستہ بتاتا ہے۔
(بخاری ج ١ ص ٥٥٦، باب ہجرۃ النبی واصحابہ الی المدینۃ)
عاشق محبوب یزدانی پر غم و مصیبت کے پہاڑ توڑ دیئے گئے اور متواتر فاقوں پہ فاقے دے کر پوچھا گیا کہ دامن محمد ﷺ سے کنارہ کش ہونے کو تیار ہے یا ابھی کسی اور خدمت کی ضرورت ہے۔ وہ بھنورا جو پھول سے کوسوں دور تھا۔ وہ چکور جو ماہتاب کو نہ دیکھ سکتا تھا مگر وہ پروانہ جس کا دل شمع ہدیٰ کی نورانیت سے لبالب لبریز تھا۔ یوں گویا ہوا؎
- ١؎ من معك۔
- ٢؎ رجل یہدی السبیل۔
آغاز ہجرت نبوی میں جب کہ وہ در یتیم ابھی صدف میں پنہاں تھا۔ وہ سراج المنیر جسے کفر کے گھٹا ٹوپ سیاہ بادل گھیرے ہوئے تھے وہ ماہتاب رسالت جو ابھی طلوع ہی ہوا چاہتا تھا اعداء میں یوں گھرا ہوا تھا۔ جیسے بتیس دانتوں میں زبان۔ یہ خدا کے پسندیدہ دین کے بچپن کا زمانہ تھا اور ابھی شجر اسلام برگ و گل سے بے بہرہ ہی تھا۔ ہاں ننھی ننھی پتیاں سبز منہ لئے اسلامی پیدائش کی مؤید تھیں۔ ان میں کی ایک معصوم پتی جسے خبیب بنی عدی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اعدا نے دھوکہ دہی سے اسیر کیا اور پابجولاں مکہ میں لائے۔ قریش مکہ دارالندوہ میں جمع تھے اور اس کی ایذا رسانی کے لئے صد ہا چہ میگوئیاں ہو رہی تھیں اور بالآخر یہ قرار پایا کہ اس بے گناہ کو جو پہلے ہی تختہ ظلم و جفا بنا ہوا ہے اور زیادہ سے زیادہ دکھ اور مصائب دیئے جائیں اور بھوک و پیاس کے عذاب سے دوچار کر کے دین مبین سے رشتہ اخوت چھڑایا جائے۔ وہ یہ گمان رکھتے تھے کہ ایسا کرنے سے یہ پروانہ شمع کو بھول جائے گا۔ مگر بقول شخصے کہ
اتنا ہی یہ ابھرے گا جتنا کہ دبا دیں گے
اے ابوبکرؓ یہ تمہارے ساتھ دوسرا کون ہے۔ کیونکہ وہ رسالت مآب کو نہیں کے لئے موقعہ گویم مشکل نہ گویم مشکل کا مصداق ہوا۔ اگر حضور کا نام نامی زبان انت خطرے میں پڑتی ہے اور اگر جھوٹ بولا جاتا ہے تو ایمان سے ہاتھ ف یہ ابوبکرؓ کے لئے کیسا مشکل مرحلہ اور نازک موقعہ تھا۔ ایسے کٹھن وقت یار فاقت وصداقت کا امتحان لینا منظور تھا۔ وہ صدق ووفا کا مجسمہ اس انوکھے برملا بولا یہ آدمی مجھے ؎ سیدھا راستہ بتاتا ہے۔
(بخاری ج ١ ص ٥٥٦، باب ہجرۃ النبی واصحابہ الی المدینۃ)
ب یزدانی پر غم ومصیبت کے پہاڑ توڑ دیئے گئے اور متواتر فاقوں پہ فاقے دامن محمد ﷺ سے کنارہ کش ہونے کو تیار ہے یا ابھی کسی اور خدمت کی ا جو پھول سے کوسوں دور تھا۔ وہ چکور جو ماہتاب کو نہ دیکھ سکتا تھا مگر وہ پروانہ رانیت سے لبالب لبریز تھا۔ یوں گویا ہوا ؎
ہدیٰ السبیل۔
ی نبوی میں جب کہ وہ دریتیم ابھی صدف میں پنہاں تھا۔ وہ سراج المنیر ہ بادل گھیرے ہوئے تھے وہ ماہتاب رسالت جو ابھی طلوع ہی ہوا چاہتا تھا نا۔ جیسے بتیس دانتوں میں زبان۔ یہ خدا کے پسندیدہ دین کے بچپن کا زمانہ ۔ دگل سے بے بہرہ ہی تھا۔ ہاں ننھی ننھی پتیاں سبز منہ لئے اسلامی پیدائش ا ایک معصوم پتی جیسے خبیب بن عدی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اعدانے ر پا بہ جولان مکہ میں لائے۔ قریش مکہ دارالندوہ میں جمع تھے اور اس کی چہ میگوئیاں ہو رہی تھیں اور بالآخر یہ قرار پایا کہ اس بے گناہ کو جو پہلے ہی بر زیادہ سے زیادہ دکھ اور مصائب دیئے جائیں اور بھوک وپیاس کے ، دین مبین سے رشتہ اخوت چھڑایا جائے۔ وہ یہ گمان رکھتے تھے کہ ایسا لو بھول جائے گا۔ مگر بقول شخصے کہ ؎
تنا ہی یہ ابھرے گا جتنا کہ دبا دیں گے
یہ ممکن ہے زمیں پر ٹیک دے سورج جبیں اپنی
یہ ممکن ہے نہ برسے ابر باراں کوہساروں میں
یہ ممکن ہے نمک بن جائے پانی رود باروں میں
یہ ممکن ہے جلانا آب کا دستور ہو جائے
یہ ممکن ہے حرارت آگ سے کافور ہو جائے
مگر ممکن نہیں اس دل سے الفت دور ہو جائے
آہ! محبوب سبحانی کی چاہت میں یہ کانٹے مجھے پھولوں سے زیادہ محبوب ہیں۔ یہ تکالیف مجھے راحت سے زیادہ مرغوب ہیں۔ یہ رنج ومحن اور فاقے میرے لئے ابدی خوشیاں ہیں۔ ستا لو جس قدر ستا سکتے ہو اور برسو جس قدر تمہارے بازوئے قوت میں زور ہے۔ یہاں تک کہ میرا رواں رواں تھرا اٹھے اور میری روح قالب سے بیزار ہو جائے۔
عاشق رسول کی توقیر اور دلی جذبات کی قدرومنزلت کو کفار مکہ بھلا کیا جانتے تھے اور زیادہ غیض وغضب میں بھڑک اٹھے اور دیوانہ وار یہ فیصلہ کیا کہ اس بے باک کو مصلوب کر دیا جائے۔
حضرت خبیبؓ نے یہ خوفناک فیصلہ خندہ پیشانی سے سنا اور برضائے مولا صابر وخاموش رہے اسی اثناء میں مالک مکان حارث بن عامر کا بچہ تیز چھری سے کھیلتا ہوا مکان کے اس حصہ میں جس میں خبیبؓ مقید تھے پہنچ گیا۔ انہوں نے بچہ کو زانو پر بٹھا لیا اور چھری زمین پر رکھ دی۔
بچہ کی ماں نے جب یہ منظر دیکھا اور عزیز کی جان دشمن کے بس میں پائی تو غم نے صبر کو تاراج کیا کہ بے اختیار چیخ نکل گئی اور اوساں خطاء ہو گئے۔
خبیبؓ نے اس واقعہ سے متاثر ہو کر کہا کہ یہ عورت سمجھتی ہے کہ میں بچہ کو قتل کردوں گا یہ نہیں جانتی کہ مسلمانوں کا کام غدر کرنا نہیں۔
مصلوب کرنے سے پیشتر ترک اسلام کی تلقین کی اور جاں بخشی کا وعدہ دیا تو خبیبؓ نے جواب دیا کہ جب اسلام ہی کھو دیا تو پھر جی کر کیا کریں گے ؎
خوب تھی موت سوائے موت کے چارہ کیا تھا
قریش نے تمنا پوچھی تو دو رکعت نماز کی آرزو نکلی اور جب فارغ ہوئے تو فرمایا میں نماز میں زیادہ وقت خرچ کرتا۔ لیکن یہ سوچا کہ کہیں اسلام کے نام پر یہ بدنما دھبہ نہ لگے کہ موت کے ڈر سے نماز لمبی کردی۔
اس انسانیت کش اور حیا سوز منظر کے لئے تمام قریش کے چھوٹے بڑے موجود تھے اور ان میں وہ بدبخت سفیان ہذلی بھی بیٹھا تھا۔ جس کے ناپاک ارادوں سے آفتاب نبوت کے آٹھ اصحابی شہید ہوئے اور خبیبؓ اور زیدؓ گرفتار ہوکر مکہ میں قریش کے پاس فروخت ہوئے۔
آہ! قلم رکتا ہے اور دل جلتا ہے کہ جب وہ عاشق محبوب یزدانی صرف اس قصور کے بدلے کہ وہ سرکار مدینہ ﷺ کے دامن رحمت سے کنارہ کش کیوں نہیں ہوتا۔ مصلوب کیا جاتا ہے اور نیزوں کی انیوں سے اس کے بدن کو کچوکے دیئے جاتے ہیں۔ اف ایسے مشکل ترین وقت میں اور اس بے بسی و بیکسی کی حالت میں غریب الوطن خبیبؓ کو مخاطب کر کے ایک نہایت ہی سنگ دل اور جاہل نا کندہ تراش یوں ہرزہ سرا ہوا کہ اے خبیبؓ اب تو تیرا دل بھی اس بات کا متقاضی ہوگا کہ تیری جگہ اس وقت محمد ہوتا اور تو آزاد ہوتا۔۔
مزے جو جو مجھے قاتل تیری تلوار میں آئے
عاشق محبوب یزدانی نے ایک طویل سرد آہ کھینچی اور بولا کم بخت تیرے بودے دماغ کی ترجمانی کے اظہار پر ہزار نفریں ہے۔ آقائے کون و مکان کے نام پر خبیبؓ کی ایک جان تو کیا ہزار جانیں ہوں تو یکے بعد دیگر نثار کرنا سعادت و فخر سمجھتا۔ لیکن آقائے عالمیان کے مبارک پاؤں میں ایک کانٹا چبھنے کو برداشت نہ کرتا۔۔
بیٹھے بیٹھے مجھے کیا جانے کیا یاد آیا
سعید بن عامر خلیفہ ثانی حضرت عمرؓ کے عمال میں سے تھے۔ ان کا یہ حال تھا کہ کبھی کبھی یکبارگی وہ بیہوش ہو جایا کرتے تھے۔ عمر فاروقؓ نے وجہ پوچھی تو بولے مجھے نہ کوئی مرض ہے اور نہ کچھ عارضہ۔ لیکن میرے تخیل میں جب کبھی وہ واقعہ جس کے تصور سے میری روح لرزہ براندام ہوتی ہے اور رواں رواں کانپ اٹھتا ہے یاد آجاتا ہے۔ جب کہ حضرت خبیبؓ کو مصلوب کیا گیا تھا۔ میں بھی بدقسمتی سے اس مجمع میں موجود تھا۔ بے گناہ، غریب الوطن عاشق رسول خبیبؓ کی رقت
آمیز باتیں اور تڑپا دینے والے اشعار۔ اس کی مخلصی اور ایثار اور قریش کا جوروظلم جب یاد آتا ہے دل میں ایک ہوک اٹھتی ہے اور کلیجہ منہ کو آتا ہے تو میں بیہوش ہو جاتا ہوں۔
چنانچہ حضرت مولانا ظفر علی خاں قبلہ نے اپنے مخصوص انداز میں اسی پر کیا اچھا کہا ہے۔
جب اس اسلام کے شیدا کو مقتل کی طرف لائے
قریش اپنے جلتے تن کے پھپھولے پھوڑنے نکلے
گھروں سے رقص بسمل کا تماشہ دیکھنے آئے
جبیں زیدؓ پر اس وقت وہ رونق برستی تھی
کہ صبح اولین کے نور کی بارش بھی شرمائے
یہ اطمینان خاطر دیکھ کر کفر اور جھلایا
دلوں کی تیرگی نے بدر کے داغ اور چمکائے
ابوسفیان پکارا کیا ہی اچھا ہو محمدؐ کو
تیرے بدلے یہاں جلاد خاک وخوں میں تڑپائے
تڑپ اٹھتا ہوں سن کر جب وہ فقرے یاد آتے ہیں
بوقت ذبح اس عاشق نے جو اس طرح دہرائے
مجھے ناز اپنی قسمت پر ہو گر نام محمدؐ پر
یہ سر کٹ جائے اور تیرا سراپا اس کو ٹھکرائے
یہ ہے سب کچھ گوارا پر یہ دیکھا جا نہیں سکتا
کہ ان کے پاؤں کے تلوے میں اک کانٹا بھی چبھ جائے
اب سوال یہ ہے کہ کیا حضرت خبیبؓ جھوٹ بول کر عزیز جان کو نہ بچا سکتے تھے بچا سکتے تھے اور ضرور بچا سکتے تھے۔ مگر جھوٹ بول کر جینا گناہ سمجھے اور لعنت کی زندگی کو موت پر ترجیح دے کر جاں جاں آفریں کے سپرد کر دی۔ مگر اس نجات سے دامن صداقت کو آلودہ نہ کیا۔ چرخ نیلی فام کے نیچے جس قدر ملل اور فرقے آباد ہیں اور ان میں جو بھی ریفارمر اور لیڈر ہوئے وہ سکھ ہوں یا پارسی، ہندو ہوں یا بدھ۔ وہ عیسائی ہوں یا یہودی غرضیکہ کوئی بھی ہو۔ جھوٹ کی مذمت کرتا ہے اور اس سے نفرت دلاتا ہے اور یہاں تک ہی نہیں جھوٹ کو ایمان کی قینچی
اور بولنے کو نجاست کھانے کے مترادف سمجھا گیا ہے۔ چنانچہ اسی اصول کو مرزا قادیانی بھی مانتے ہوئے اس کی مذمت میں ارشاد فرماتے ہیں۔
- ١...... ”جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں ۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ٢٠ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤٦٠)
- ٢...... ”جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں
بھی ان کا کوئی اعتبار نہیں رہتا۔“
(چشمہ معرفت ص ٢٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٢٣١)
- ٣...... ”جیسا کہ بت پوجنا شرک ہے جھوٹ بولنا بھی شرک ہے۔ ان دونوں
باتوں میں کوئی فرق نہیں۔“
(اخبار الحکم ١١ صفر ١٣٢٣ھ)
- ٤...... ”جھوٹ بولنے سے بدتر دنیا میں کوئی کام نہیں۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٢٦، خزائن ج ٢٢ ص ٤٥٩)
- ٥...... ”غلط بیانی اور بہتان طرازی نہایت ہی شریر اور بدذات آدمیوں کا کام
ہے۔“
(آریہ دھرم ص ١١، خزائن ج ١٠ ص ١٣)
- ٦...... ”نبی کے کلام میں جھوٹ جائز نہیں۔“
(مسیح ہندوستان میں ص ٢١، خزائن ج ١٥ ص ٢١)
- ٧...... ”اسلام میں کسی نبی کی بھی تحقیر کرنا کفر ہے اور سب پر ایمان فرض ہے۔“
(چشمہ معرفت ص ١٨، خزائن ج ٢٣ ص ٣٩٠)
قارئین کرام! کی دلچسپی کے لئے اب ہم مرزا قادیانی کی وہ کذب بیانیاں جو جھوٹے پیٹ پانی پی پی کر بولی گئیں اور ایسے ڈبل ڈبل جھوٹ جن کی نظیر ڈھونڈے سے نہ ملے اور وہ ابلہ فریبیاں جن سے رندان زمانہ ٹھوکریں کھائیں مشت نمونہ از خروارے بیان کرتے ہیں اور یقین دلاتے ہیں کہ کوئی مسیح کا لال اس کی تردید کسی رنگ میں نہ کر سکے گا اور ظل اور بروز استعارے اور تاویلات انشاء اللہ ہمارے اس مضمون کے سامنے قاصر وعاجز رہیں گے اور ناخن تدبیر عقل کے چکر میں افتاں وخیزاں نا تمام و ناکام ہی ثابت ہوں گے۔
یوں تو مرزا کے یہ پاک جھوٹ ہزاروں کی تعداد میں ہیں اور انشاء اللہ ہم کسی آئندہ اشاعت میں قلمبند کریں گے۔ مگر یہاں صرف چند ایک جھوٹ پر ہی اکتفا کرتے ہیں ہر ایک جھوٹ کے ساتھ مرزا آنجہانی کا مصدقہ خطاب یا بروز کی رنگینیاں ہوں گی۔ آپ کی جدت طرازیوں پر کسی نے کیا خوب کہا ہے۔
عدو سے کیا غرض آپس میں ہی دست و گریباں ہوں
خدا کے فضل سے بد بخت ہوں تنگ دل ہوں ناداں ہوں
میری گردن میں ہے طوق غلامی پا بجولاں ہوں
در آقا پہ سر ہے کفش برداری پہ نازاں ہوں
کرشن قادیاں ہوں جے سنگھ و مجنون مرکب ہوں
مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کا پہلا جھوٹ
(حقیقت الوحی ص ٣٩٠، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦) پر فرماتے ہیں کہ:
”مجدد صاحب سرہندی نے اپنے مکتوبات میں لکھا ہے کہ اگرچہ اس امت کے بعض افراد مکالمہ و مخاطبہ الٰہیہ سے مخصوص ہیں اور قیامت تک مخصوص رہیں گے۔ لیکن جس شخص کو بکثرت اس مکالمہ و مخاطبہ الٰہیہ سے مشرف کیا جائے اور بکثرت امور غیبیہ اس پر ظاہر کئے جائیں وہ شخص نبی کہلاتا ہے۔“
مسیح قادیانی مسیلمہ ثانی کی اندھی بھیڑ و خدارا چشم بصیرت وا کرو۔ ”یحرفون الکلم عن مواضعہ“ کے مصداق یہودیوں کے کان کاٹتے ہوئے مدعی نبوت نے خود ساختہ نبوت کی تائید میں حضرت مجدد صاحب سرہندی پر افتراء کیا کہ انہوں نے اپنے مکتوبات میں لکھا ہے کہ جس پر بکثرت امور غیبیہ ظاہر کئے جائیں وہ شخص نبی کہلاتا ہے۔ حالانکہ نبی کا لفظ تحریف کا مرہون منت ہے۔ وہاں تو یہ لکھا ہے کہ محدث کہلاتا ہے۔ روز روشن میں کس دیدہ دلیری سے دھوکہ دیا گیا ہے۔
مسیلمہ ثانی مسیح قادیانی کا دوسرا جھوٹ
(کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥١) پر ارشاد ہوتا ہے کہ:
”دیکھو زمین پر ہر روز خدا کے حکم سے ایک ساعت میں کروڑہا انسان مر جاتے ہیں اور کروڑہا افراد پیدا ہو جاتے ہیں ۔“
جعلی مسیح زماں، بناوٹی مہدی دوراں کے نام لیواؤ کیا تم میں کوئی چشم بصیرت بھی رکھتا ہے جو عقدۂ تعصب کو ناخن تدبر سے کھولے اور انبیائے سابقین کے کلمات طیبات پر اور ان کی مبارک سیرت پر ٹھنڈے دل سے غور کرے اور سوچے کہ جس افسانہ گوئی اور مبالغہ آرائی کا اظہار سلطان القلم نے کیا ہے اس کی کوئی ایک مثال بھی ایام سلف میں ملتی ہے۔ انبیائے صادقین کی
نے کے مترادف سمجھا گیا ہے۔ چنانچہ اسی اصول کو مرزا قادیانی بھی مانتے ہیں ارشاد فرماتے ہیں ۔
”جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں ۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ٢٠ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٠)
”جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں کیا اعتبار رہتا ہے۔“
(چشمہ معرفت ص ٢٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٢٣١)
”جیسا کہ بت پوجنا شرک ہے جھوٹ بولنا بھی شرک ہے۔ ان دونوں میں کچھ فرق نہیں۔“
(اخبار الحکم ص ١١ صفر ١٣٢٤ھ)
”جھوٹ بولنے سے بدتر دنیا میں کوئی کام نہیں ۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٢٦، خزائن ج ٢٢ ص ٤٥٩)
”غلط بیانی اور بہتان طرازی نہایت ہی شریر اور بدذات آدمیوں کا کام ہے۔“
(آریہ دھرم ص ٦٤، خزائن ج ١٠ ص ٤٣)
”نبی کے کلام میں جھوٹ جائز نہیں ۔“
(مسیح ہندوستان میں ص ٢١، خزائن ج ١٥ ص ٢١)
”اسلام میں کسی نبی کی بھی تحقیر کرنا کفر ہے اور سب پر ایمان فرض ہے۔“
(چشمہ معرفت ص ١٨، خزائن ج ٢٣ ص ٣٩٠)
ناظرین کرام! کی دلچسپی کے لئے اب ہم مرزا قادیانی کی وہ کذب بیانیاں جو بھونڈے گپوں کی طرح اور ایسے ڈبل ڈبل جھوٹ جن کی نظیر ڈھونڈے سے نہ ملے اور وہ ابلہ فریبی کہ جن پر زمانہ تھوکے مشت نمونہ از خروارے بیان کرتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ اس کا دجل اس کی تردید کسی رنگ میں نہ کر سکے گا اور ظل اور بروز استعارے اور مجاز کے تمام تر سہارے اس مضمون کے سامنے قاصر و عاجز رہیں گے اور ناخن تدبیر و عقل کے سامنے کوئی عذر لنگ یا اتمام حجت ناکام ہی ثابت ہوں گے۔ اگرچہ مرزا کے یہ پاک جھوٹ ہزاروں کی تعداد میں ہیں اور انشاء اللہ ہم کسی آئندہ موقعہ پر انہیں پیش کریں گے۔ مگر یہاں صرف چند ایک جھوٹ پر ہی اکتفا کرتے ہیں ہر ایک جھوٹ کے ساتھ مرزا آنجہانی کا مصدقہ خطاب یا بروز کی رنگینیاں ہوں گی۔ آپ کی جدت طبع نے کیا خوب کہا ہے۔
تحریرات میں تو کہاں ملیں گی۔ کسی ایرے غیرے افسانہ گو کی تصنیفات بھی مشکل سے اس کی نظیر شاذ و نادر ہی پیش کر سکیں گی۔ مسیح زماں، سلطان القلم صادق نبی اللہ قادیانی کی یہ سچی تحریر خدا نہ کرے صادق ہو۔ ورنہ ایک دن میں صفحہ ہستی پر کوئی ایک متنفس جیتا نظر نہ آئے گا اور بے چارا ہندوستان تو زیادہ سے زیادہ دو ساعت میں اللہ میاں کا مہمان ہوگا اور دوسرے ممالک تو اس سے بھی کم ایک ساعت یا اس کے نصف یا پون اور چوتھائی کے ہی مہمان ہوں گے۔ ہاں وہ بچے جو اس نئی پیدائش میں پیدا ہوں گے اور جن کی مائیں دودھ دینے سے پیشتر چل بسی ہوں گی مسیح زماں کی شان توتلی و گنگ زبان میں گاتے اور بلبلاتے ضرور نظر آئیں گے۔ مگر افسوس شاید سوائے سلطان القلم کے دیکھنے والا کوئی نہ ہوگا اور وہ بچے بھی تو ذخیرہ ہست ختم ہونے کے باعث نیست ہو جائیں گے۔ شاید اسی لئے آپ نے اپنے نام پر یہ بھی کہا ہے کہ میں اس زمانے کا صور ہوں۔ غرضیکہ اسی اصول کے مطابق دنیا آن واحد میں بنتی اور اجڑتی رہے گی اور یہ چکر شام سے پہلے پہلے ”کل من علیها فان“ نقارہ بجا کر رہے گا۔ مگر کسی نے کیا خوب کہا ہے ؎
کاذب ہے قادیانی اور ابلہ فریبی ساری
امین الملک جے سنگھ بہادر قادیانی مسیلمہ ثانی کا تیسرا جھوٹ
(دافع البلاء ص ١٨، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٨) پر فرماتے ہیں کہ:
”میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں مسیح موعود ہوں اور وہی ہوں جس کا نبیوں نے وعدہ دیا اور میری نسبت اور میرے زمانہ کی نسبت توریت اور انجیل میں نبیوں نے وعدہ دیا اور میری نسبت اور میرے زمانہ کی نسبت توریت اور انجیل اور قرآن شریف میں خبر موجود ہے۔“
اور اس کی تائید (کشتی نوح ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٥) پر یوں فرماتے ہیں کہ:
”اور یہ بھی یاد رہے کہ قرآن شریف میں بلکہ توریت کے بعض صحیفوں میں بھی یہ خبر موجود ہے کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی۔“
پھر اس کی تائید میں (اربعین نمبر ٣ ص ١٣، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٢) پر ارشاد ہوتا ہے کہ:
”اے عزیزو۔ تم نے وقت پایا ہے جس کی بشارت تمام نبیوں نے دی ہے اور اس شخص کو (مرزا قادیانی) تم نے دیکھ لیا ہے۔ جس کے دیکھنے کے لئے بہت سے پیغمبروں نے بھی خواہش ظاہر کی تھی۔“
اور اس کی وضاحت (سراج المنیر ص ٤، خزائن ج ١٢ ص ٦) پر یہاں تک کی ہے کہ:
”هو الفضل من بعض انبياء“ یعنی وہ مرزا بعض نبیوں سے بھی افضل ہوگا۔ امین الملک جے سنگھ بہادر قادیانی مرزا آنجہانی کے مخلص چیلے! کیا تم میں کوئی گرو کا لال ایسا بھی ہے جس نے کلام مجید کبھی دیکھا بھی ہو اور وہ اپنے گرو کی قسم کو سچا کرنے کے لئے وہ آیت دکھلائے جس میں مرزا آنجہانی کی بعثت لکھی ہوئی ہے اور انبیاء علیہم السلام اس کے مصدق ہیں اور اگر یہ قیامت تک نظر نہ آئے تو اسی قدر کافی ہے کہ وہ توریت اور انجیل سے مرزا کی بعثت ثابت کر دے اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو صرف اسی قدر ”انا انزلناه قريباً من القاديان“ ہی دکھلا دے اور اگر یہ بھی ناممکن ہے تو ان مصدقین مرسلین من اللہ کے اسمائے گرامی جنہوں نے مرزا کی بشارت اپنی اپنی امتوں کو دی یا جنہوں نے مرزا کے دیدار کی خواہش کی بتا سکے اور اگر اس سے بھی قاصر ہو تو صرف یہی کافی ہے کہ فرقان حمید میں کہاں لکھا ہے کہ مسیح موعود کی بعثت کب سے شروع ہوگی۔ اچھی سمجھ ہے کہ اچھے ہونے کی بجائے بیماری کا انکشاف ہو رہا ہے اور اگر اس میں بھی ڈوبتے کو تنکے کا سہارا نہ ملے تو کہو کہ لعنت اللہ علی الکاذبین اور صدق دل سے اللہ اور اس کے محبوب پیامبر پر ایمان لاتے ہوئے رسول اکرم ﷺ کے اس فرمان کے سامنے سر اطاعت کو خم کرو۔
”لا تقوم الساعة حتى يخرج ثلاثون دجالون كذابون كلهم يزعم انه نبى فمن قاله فاقتلوه ومن قتل منهم احدا فله الجنه“ رسول خدا ﷺ نے فرمایا کہ نہیں قائم ہوگی قیامت یہاں تک کہ ہوں گے تیس دجال بڑے جھوٹے ہر ایک ان میں سے دعویٰ کرے گا جو شخص یہ کہے کہ میں نبی ہوں اس کو قتل کرو۔ جو شخص اس سے کسی کو قتل کرے گا اس کے لئے جنت ہے۔
(کنز العمال ج ١٤ص ١٩٩، حدیث نمبر ٣٨٣٧٦)
بچھڑوں کو پھر ملا دیں نقش دوئی مٹادیں
کرشن قادیانی مسیلمہ ثانی کا چوتھا جھوٹ
(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥) پر فرماتے ہیں کہ: ”میری عمر کا اکثر حصہ گورنمنٹ برطانیہ کی تائید وحمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔“ پھر اس کی تائید مکرر (ستارہ قیصریہ ص ٣، ٤، خزائن ج ١٥ ص ١١٤، تحفہ قیصریہ ص ٣، خزائن ج ١٢
ص ٢٥٥) میں خلاصہ یوں ارشاد ہوتا ہے کہ: ”پچاس ہزار سے زیادہ کتابیں اور اشتہارات چھپوا کر میں نے اس ملک میں اور نیز بلاد اسلامیہ کے مقدس شہروں مکہ و مدینہ روم و قسطنطنیہ بلاد شام و مصر و کابل جہاں تک ممکن تھا شائع کئے۔ تیرے رحم کے سلسلہ نے آسمان پر ایک رحم کا سلسلہ پیدا کیا۔ خدا کی نگاہیں اسی ملک پر ہیں جس پر تیری ملکہ معظمہ ہے۔“
پھر اسی کی تائید میں (اربعین نمبر ٣ ص ٢٩، خزائن ج ١٧ ص ٤١٨) پر فرماتے ہیں کہ: ”میں نے چالیس کتابیں تالیف کی ہیں اور ساٹھ ہزار کے قریب اپنے دعوے کے ثبوت کے متعلق اشتہار شائع کئے ہیں وہ سب میری طرف سے بطور چھوٹے چھوٹے رسالوں کے ہیں۔“
حالانکہ مرزا قادیانی کی زندگی اور اس کے کارنامے اظہر من الشمس ہیں۔ کیونکہ ایک تو وہ بذات خود بات کا بتنگڑ بنانے کے عادی تھے اور دوسرا ان کے مرید حسن عقیدت میں مرزا قادیانی کی سوانح حیات کو سنہری الفاظ میں ایک ایک پہلو اور لفظ لفظ کو پمفلٹوں میں آئے دن پیش کرتے رہتے ہیں اور یہاں تک کہ ان کی تمام زندگی کا ایک ایک لفظ جمع کر کے تعویذ بنا ڈالے ہیں اور اسی طرح سے مرزا قادیانی کے وہ دوست جنہیں مرزا کی اصلی حیثیت و شخصیت کو عوام الناس کے سامنے پیش کرنا ہے بھی ان کے لئے آئے دن تردید میں کچھ نہ کچھ ہدیہ تبریک پیش کرتے ہی رہتے ہیں۔ اس لئے یہ کوئی مشکل مرحلہ نہیں جو قابل شمار ہو۔ مرزا آنجہانی نے جو اپنی زندگی میں اشتہار دیئے وہ انگلیوں پر شمار ہو سکتے ہیں۔ مگر مناسب یہ ہے کہ چیز بھی بلا شہادت کے نہ پیش کی جائے۔ چنانچہ میر قاسم علی ایڈیٹر فاروق نے تبلیغ رسالت کے نام سے دس حصے شائع کئے جن میں مرزا قادیانی کے تمام اشتہارات کو جمع کر دیا اور جن کی مجموعی تعداد دو صد اکسٹھ ہے۔
اب مرزا قادیانی کا یہ فرمانا کہ ساٹھ ہزار کے قریب اپنی صداقت میں اشتہارات شائع کئے کس قدر مبالغہ آمیزی اور دھوکہ دہی پر مبنی ہے۔
ہے کوئی مسیح کا لال جو مرزا قادیانی کے ساٹھ ہزار اشتہارات مختلف ناموں سے پمفلٹوں کی شکل میں ہمیں پیش کرے اور اگر یہ ثبوت بہم نہ پہنچ سکے تو وہ فراخ دلی سے یہ ہی تسلیم کرے کہ مرزا قادیانی کے قلم سے سہواً یہ جھوٹ نکل گیا ہے۔ گو بہت بڑے ہزاری نبی تھے۔ مگر آخر تھے تو انسان! انسان نسیان کا پتلا ہے۔ بھول جانا اس کا کام ہے کیا ہوا کہ یہ غیر معمولی چھوٹا سا جھوٹ نکل گیا اور اس میں کسی کا کون سا نقصان ہوا۔
بہر حال بات ختم کرنے کو یہ ہی کافی ہے کہ وفور محبت یا خبط مسیح موعود میں دنیا کو یقین دلانے کے لئے کہ میں ہی مسیح موعود ہوں یا مبالغہ آرائی کے طور پر عمداً نہیں سہواً کسی اور خیال میں نکل گیا تو ہوا کیا۔ معاملہ رفت گذشت کرو اور کوئی اور بات پیش کرو۔
مرزا قادیانی کا یہ فرمان کہ میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی حکومت کی تائید وحمایت میں خدا وندان لندن کی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہارات شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو ان سے پچاس الماریاں بھر سکتی ہیں۔
اللہ اللہ پنجابی نبی کا قلم جھوٹ گرانے کا ٹھیکیدار ہو چکا ہے۔ جب بھی لکھتا ہے جھوٹ ہی لکھتا ہے۔ سیدھی بات اور سچی تحریر شاذ و نادر ہی قلم سے نکل جائے تو نبوت کے نام پر شاید دھبہ لگتا ہے۔ اس تحریر میں جو سراسر کذب وافتراء کی تصویر ہے میں جس قدر مبالغہ آرائی اور ڈھٹائی سے کام لیا گیا ہے وہ اہل علم کے نزدیک اس قدر بھیانک اور لائق تحقیر تحریر ہے کہ جو حد ملامت سے متجاوز ہے۔
حالانکہ وہ اسی (٨٠) کے قریب کتابیں جو آپ کے نام سے منسوب اور جن میں کام کی ایک بات بھی نہیں جو اپنی مدح سرائی اور مسیح موعود بننے کے عشق میں طرح طرح دل کے بخار اور اوہام کو کولہو کے بیل کی طرح چکر کاٹنے میں سیاہ کر دیا گیا ہے اور جس میں ہندوازم پر پھبتیاں اور سکھ ازم پر آوازے اور دیگر مذاہب کی توہین اور چندے کا ہیر پھیر بھر رکھا ہے۔ اگر تمام اکٹھی بھی کی جائیں تو ان سے بمشکل ساڑھے تین ضرب پانچ کی مروجہ الماری (الماری) کا چوتھائی حصہ مرزا قادیانی کی تمام تصانیف کو ’ھل من مزید‘ کے لئے کافی سے زیادہ ہے۔ مگر صادق نبی اللہ اپنی جبلی عادت کی وجہ سے مجبور ہو کر پچاس الماریوں پر بھی اکتفا نہیں کرتے۔ اب یہ فرق خدا ہی میٹے تو میٹے۔ ہمارے اور آپ کے بس کی چیز تھوڑی ہے۔
مگر سوال تو یہ ہے کہ گورنمنٹ کے مدح و ستائش کرنا بھی نبوت کا فرض اولین ہے اور اگر اس کا جواب اثبات میں ہے تو واقعی مولانا ظفر علی خاں ایڈیٹر زمیندار لائق گردن زدنی ہے۔ کیونکہ وہ گورنمنٹ کی چوکھٹ پر ناک رگڑنے سے خداوند عالم کو ترجیح دیتا ہے۔
کذب وافتراء طوفان بے تمیزی
١٩٠٦ء میں مرزا قادیانی کی عمر چھیاسٹھ برس کی تھی اور یہ بھی آپ تسلیم کرتے ہیں کہ جب میری عمر چالیس برس کو پہنچی تو میں مکالمہ ومخاطبہ الٰہیہ سے سرفراز ہوا۔
اور یہ بھی اظہر من الشمس ہے کہ دعویٰ نبوت آپ نے اپنی باون سالہ عمر میں کیا۔ نبوت کے دعوے سے لے کر چھیاسٹھ برس کی عمر تک کل چوداں برس کا عرصہ ہوا۔ اس چوداں سالہ مدت میں حضرت صادق قادیانی نبی اللہ کا ایک لطیف حلفیہ بیان ملاحظہ فرماویں اور چونکہ یہ قسم کے اعادہ سے کیا گیا ہے۔ اس لئے اس کی تاویل ناممکن ہے۔ کیونکہ قسم کا فائدہ ساقط ہو جائے گا اور یہ اصول خود مرزا قادیانی کو قبول ہے۔ اس لئے اس میں دخل دینا حماقت ہے۔ پس غور سے سنیئے۔
(حقیقت الوحی ص ٦٧، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠) پر فرماتے ہیں کہ:
”اب میں بموجب آیت کریمہ واما بنعمة ربك فحدث اپنی نسبت بیان کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اس تیسرے درجے میں داخل کر کے وہ نعمت بخشی ہے جو میری کوشش سے نہیں بلکہ شکم مادر میں ہی مجھے عطاء کی گئی ہے۔ میری تائید میں اس نے وہ نشان ظاہر فرمائے ہیں کہ آج کی تاریخ سے جو ١٦؍ جولائی ١٩٠٦ء ہے۔ اگر میں ان کو فرداً فرداً شمار کروں تو میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ وہ تین لاکھ سے بھی زیادہ ہیں اور اگر کوئی میری قسم کا اعتبار نہ کرے تو میں اس کو ثبوت دے سکتا ہوں۔“
اس ضمن میں آپ کا ایک اور بیان بھی ملاحظہ فرماویں اور دونوں بیانوں کو اپنی اپنی جگہ پر چسپاں کرتے ہوئے مرتبہ وجاہت، سیادت و مراتب کو بھی دل میں سوچ کر فیصلہ دل میں محفوظ رکھیں اور جب تک ہمارا مکمل مضمون پڑھ نہ لیں خدارا کوئی لفظ زبان سے نہ نکالیں۔ بلکہ خاموشی سے نتیجہ کے منتظر رہیں۔
(مکتوبات احمدیہ ج ٣ نمبر ٢ ص ٤٩) پر مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ:
”آنحضرت ﷺ کے معجزات (نشانات) جو صحابہ کی شہادتوں سے ثابت ہیں وہ تین ہزار ہیں۔“
قبل اس کے کہ میں آپ کی خدمت میں کچھ عرض کروں مناسب سمجھتا ہوں کہ ایک اور الجھن جو اس کے جواب میں امت مرزائیہ بیان کیا کرتی ہے بھی دور کر دوں وہ یہ ہے کہ سادہ لوح انسانوں کو تسلی دینے کے لئے وہ کہہ دیا کرتی ہے کہ مرزا قادیانی نے نبی مکرم کے معجزات بیان کئے اور اپنے نشانات بتائے ایسا کہنے سے عام فہم لوگ بات میں آ جایا کرتے ہیں اور یہ فقرہ ان کا عموماً چل جایا کرتا ہے۔
نشانات اردو لفظ ہے عربی میں اس کو آیات کہتے ہیں اور اسی چیز کو معجزات کے نام پر منسوب کیا گیا ہے۔
نشانات و معجزات میں کوئی فرق نہیں۔ کیونکہ معجزہ کے معنی عاجز کر دینا اور یہ نشانات الٰہیہ کو ہی کہا جاسکتا ہے۔ ورنہ انسان تو کوئی چیز پیش نہیں کرسکتا۔ جس سے اعجاز نمائی کامل ہو جائے۔ کلام مجید کو دیکھ لو ہزاروں مثالیں موجود ہیں۔ جہاں بھی معجزہ نمائی ہوئی وہاں آیات اللہ ہی کے لفظ آئے۔
مرزا قادیانی کے اس حلفیہ بیان سے معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ سے آپ کو نعوذ باللہ من ذالک خاکم بدہن تین لاکھ نشانات زیادہ عطاء ہوئے۔
مرزا قادیانی کا ادعا صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ آنحضرت ﷺ سے اگر گویم زباں سوزد نقل کفر کفر نباشد۔ برتری چاہتے ہیں۔
مرزائیو! شرم کے سمندر میں ڈوب مرو اور ظل اور بروز کی آئے دن رٹ لگانے والو مرزا آنجہانی کو امتی کے اس تصور میں پرکھو اور چھاتی پر ہاتھ رکھ کر اس بیان کی حقیقت کو سوچو اور کہو کہ لعنت اللہ علی الکاذبین!
ہم صرف آپ کے سمجھانے کے لئے اس بیان کی تشریح کرتے ہیں۔ غور سے سنو اور تعصب کی عینک صرف چند منٹ کے لئے اتار لو تا کہ مرزائے آنجہانی کا صحیح فوٹو آپ کو نظر آجائے۔
مرزا قادیانی کا حلفیہ بیان ہے کہ تین لاکھ سے بھی زیادہ بڑے بڑے نشانات میری تائید میں خدا نے دنیا کے سامنے پیش کئے اور یہ بھی دعویٰ ہے کہ میں انہیں فرداً فرداً شمار کرسکتا ہوں۔
قاعدہ ہے کہ تین لاکھ بڑے بڑے نشانات کے ساتھ ساتھ چھ لاکھ چھوٹے چھوٹے نشانات بھی ہونے چاہئیں۔ کیونکہ بڑوں کے ساتھ چھوٹوں کا ہونا لازم ملزوم ہے۔ مگر چونکہ ہم بھی پنجابی ہیں اور آپ بھی اور علیٰ ہذا القیاس نبی بھی پنجابی ہے۔ اس لئے ہم بہت فراخ دلی سے چھ لاکھ نشانات میں سے چار لاکھ معاف کرتے ہوئے صرف دو لاکھ ہی لیتے ہیں۔ اب یہ تین لاکھ بڑے اور دو لاکھ چھوٹے پانچ لاکھ ہوئے تو گویا پانچ لاکھ نشانات چوداں برس کے عرصہ میں مرزا قادیانی کے خدا نے ان کی تائید میں دکھلائے۔
اس بیان کی رو سے یوں سمجھو کہ مرزا قادیانی کی صداقت میں ان کے عاجز خدا نے ہر سال اکیس ہزار چار سو اٹھائیس یا ہر ماہ میں ایک ہزار سات سو دس یا ہر دن میں ستاون یا ہر گھنٹہ میں پانچ نشان دکھلائے۔
مسیح قادیانی کی چاہتی بھیڑ و مرزا آنجہانی کا یہ کذب وافتراء کا پلندہ آپ کی نظروں میں کھلتا ہے یا نہیں۔
یہ تقریر پر از تحقیر ۔ کیسا بے لذت گناہ ہے اور مبالغہ ایسا جیسے مبالغہ کی جد امجد ۔ اس سے زیادہ جھوٹ اور کوئی کیا بولے گا۔ مراقی نبی نے غریب امت کی گردن پر یہ ایک ایسا بوجھ ڈالا جس سے کمر دوھری ہوئی جاتی ہوگی اور یہ بیان انہیں ہر میدان میں انشاء اللہ رسوا اور ذلیل کئے بغیر نہ چھوڑے گا۔
ہے کوئی مسیح کا لال اور مرزائیت کا دلدادہ جو صادق پنجابی نبی کے حلفیہ بیان کو صحیح ثابت کرے اور صرف اس قدر بتادے کہ مرزا قادیانی کے نشانات کے عنوانات کیا تھے۔ جو صاحب عنوانات ترتیب وار ٹریکٹ کی صورت میں بیان کریں۔ درحقیقت وہی مسیح کے سچے بہی خواہ ہیں اور اس کارکردگی پر ہم اپنی گرہ سے تین صد روپیہ نقد چہرہ شاہی دینے کو تیار ہیں۔ مرزائیو! ہمت کرو اور اس بیان کو شائع کر کے امیر جماعت سے مصدق کراؤ ورنہ تمہارا حشر بہت برا ہے۔
ایک اور بھی دریا دلی کا ثبوت صرف اس لئے دیتے ہیں کہ تمہاری چندھیائی ہوئی آنکھیں روشن ہو جائیں۔ وہ یہ ہے کہ ہم یہ بھی معاف کرتے ہیں کہ نشانات معیار صداقت پر پورے بھی اترے یا نہیں۔ ہمیں صرف اس قدر بتا دیا جائے کہ وہ پانچ لاکھ نشانات کے عنوانات کیا تھے۔ مثلاً سورج گرہن، چاند گرہن، ستارہ کا گرنا، زمین کا ہلنا، آسمان کا مینہ برسنا، بادل کا گرجنا، بجلی کا کڑکنا، آندھی کا چلنا، چندے کا بٹورنا، بشیر اوّل کا مرنا، عالم کباب کا پھلنا وغیرہ وغیرہ۔
مگر یہ یاد رہے کہ نشانات گناتے گناتے نبوت کے آٹے دال کے بھاؤ پر نہ آجانا اور اس کا بھی خیال رکھنا کہ مقابل کون ہے۔
کہ اس نواح میں سودا برہنہ پا بھی ہے
اور ایسا کرنے سے بھی تمہاری جان دو بھر ہوئی جاتی ہو تو خدارا سوچو کہ ایسے بے لذت گناہ اور جھوٹوں کے طوفان مرزا آنجہانی نے جوڑے اور ان پر قصر نبوت کا انحصار رکھا۔
لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں
مرزا قادیانی از روئے قرآن کافر تھے
”فقال الذین کفروا منھم ان ھذا الا سحر مبین (مائدہ:١١٠)“ اور
ان میں سے وہ لوگ جو کافر ہوئے۔ یعنی رسالت کا انکار کیا اور نبی کی تکذیب کی اور کہا یہ معجزہ کھلا ہوا جادو ہے۔
اب مرزا قادیانی ان تمام معجزات کو جو اللہ تعالیٰ نے بطور نشان مصلحۃً اور ضرورۃً انبیاء علیہم السلام کو عطا کئے اور جنہیں آیات اللہ قرار دیا جادو فرماتے ہیں اور اس کا نام ان کی اصطلاح میں علم ترب ہے۔
(دیکھو ازالۃ اوہام ص ٣٠١ تا ٣٠٥ بخزائن ج ٣ ص ٢٥٣ تا ٢٥٦ حاشیہ)
مگر قادیانی ڈکشنری کے سوا یہ لفظ اور کہیں دیکھنے میں نہیں آیا۔
دوسری دلیل ” والذین هم بآیات ربهم یؤمنون (مؤمنون:٥٨) “ یعنی ایماندار تو وہ ہیں جو خدا کے نشانات پر ایمان لاتے ہیں۔ مگر مرزا قادیانی ہیں کہ ان کو مسمریزم عمل ترب اور شعبدہ کے ناموں سے منسوب کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تو یہ فرمائے کہ آیات اللہ پر ایمان لاؤ اور نشانات الٰہیہ جو جزو ایمان کیا ایمان کی جان سمجھو اور ان کی توقیر کرو۔ مگر پنجابی نبی صاحب ایمان کی بجائے کفر کریں۔ صد ہا پھبتیاں اڑائیں آوازے کسیں اور انہیں قادیانی نبوت کی مشینوں میں کسیں اور حلیہ ہی بگاڑ دیں۔ یہ کیوں صرف اس لئے کہ واللہ علیٰ کل شی قدیر پر پورا پورا ایمان نہیں۔
آہ ! مسیح علیہ السلام کے تمام معجزات کی وہ وہ بودی تاویلیں ہوئیں کہ حیا شرم کے آنچل میں چھپی فطرت سلیمہ دل برداشتہ ہو کر چلی گئی۔ نمرودی چولہے کی وہ آگ جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے گلزار بنی کو تاویل کے رنگ میں ایسا ڈبویا کہ آیات اللہ کی قدر ومنزلت ہی دلوں سے جاتی رہے۔ چار پرندوں کی معجزہ نمائی کو مسمریزم اور کل دار فرنگ کے کھلونوں سے تشبیہ دے کر فرمایا کہ بمبئی اور کلکتہ میں سینکڑوں ایسے لوگ موجود ہیں جو مسیح علیہ السلام کی طرح سے چڑیاں بناتے ہیں اور جانوروں کو مطیع کر لینے میں مشاق ہیں۔ تمام مرسلین من اللہ کے معجزات پر بجائے ایمان لانے کا انکار کیا اور یہاں تک کہ فخر دو عالم کے معجزات کو بھی نہ چھوڑا۔ معراج جسمانی کو خواب قرار دیا۔ شق القمر کی توجیہہ کی رویائے صادقہ کی تشریح کی غرضیکہ کسی ایک پر پورا بھروسہ و اعتماد کرنے کی بجائے تحقیر و تذلیل کی نگاہوں سے دیکھا۔ آخر اس کا سبب کیا تھا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا۔ دراصل اس کے صرف تین وجوہات تھے۔
- ١...... آپ محالات عقلی کے جال میں مقید تھے اور اللہ تعالیٰ کو علیٰ کل شئی قدیر نہ
سمجھتے تھے۔
- ٢...... چونکہ ما بدولت کو اعجاز نمائی کا کروڑواں حصہ بھی تفویض نہ ہوا تھا۔ اس
لئے معجزات کو مسمریزم میں لے ڈوبے۔
- ٣....... رسول اکرم ﷺ کی پیش گوئی کو ہر حالت میں پورا ہو کر ہی رہنا تھا۔ آپؐ
نے فرمایا کہ: ”ثلاثون كذابون كلهم يزعم انه نبي الله وانا خاتم النبيين (مشکوٰۃ ص ٤٦٥، کتاب الفتن) ”میرے بعد تیس جھوٹے فریبی آئیں گے اور وہ اپنے آپ کو نبی قرار دیں گے۔ حالانکہ نبوت مجھ پر ختم ہوچکی ہے۔ آگاہ رہو کہ جھوٹے ہوں گے۔ مرزائیو!
گرچہ ڈھونڈو گے چراغ رخ زیبا لے کر
مرزا آنجہانی غلام احمد قادیانی کا پانچواں جھوٹ
(ازالہ اوہام ص ٤٧١، خزائن ج ٣ ص ٤٧٣) پر فرماتے ہیں کہ:
”کہ وہ صلیب کو توڑے گا اور خنزیروں کو قتل کرے گا اب جائے تعجب ہے کہ صلیب کو توڑنے سے اس کا کون سا فائدہ ہے اور اگر اس نے مثلاً دس بیس لاکھ صلیب توڑ بھی دی تو کیا عیسائی لوگ جن کو صلیب پرستی کی دھن لگی ہوئی ہے اور صلیبیں بنوا نہیں سکتے اور دوسرا فقرہ جو کہا گیا ہے کہ خنزیروں کو قتل کرے گا یہ بھی اگر حقیقت پر محمول ہے تو عجیب فقرہ ہے کیا حضرت مسیح کا زمین پر اترنے کے بعد عمدہ کام یہی ہوگا کہ وہ خنزیروں کا شکار کھیلتے پھریں گے اور بہت سے کتے ساتھ ہوں گے۔ اگر یہی سچ ہے تو پھر سکھوں اور چماروں اور سانسیوں اور گنڈھیلوں وغیرہ کو جو خنزیر کے شکار کو دوست رکھتے ہیں۔ خوشخبری کی جگہ ہے کہ ان کی خوب بن آئے گی۔ مگر شاید عیسائیوں کو ان کی اس خنزیر کشی سے چنداں فائدہ نہ پہنچ سکے۔ کیونکہ عیسائی قوم نے خنزیر کے شکار کو پہلے ہی کمال تک پہنچا رکھا ہے۔ بالفعل خاص لندن میں خنزیر کا گوشت فروخت کرنے کے لئے ہزار دکان موجود ہے اور بذریعہ معتبر خبروں کے ثابت ہوا ہے کہ صرف یہی ہزار دکان نہیں۔ بلکہ پچیس ہزار اور خنزیر ہر روز لندن میں سے مفصلات کے لوگوں کے لئے باہر بھیجا جاتا ہے۔“
مندرجہ بالا عبارت جو ناظرین کرام کے زیر مطالعہ ہے دراصل یہ ایک پیش گوئی اوپر میں بیان ہوئی۔ جو آقائے نامدار محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ نے بیان فرمائی۔ ہم قارئین کرام کی دلچسپی کے لئے حضور ﷺ کے اس اصلی فرمان رسالت کو پیش کرتے ہیں تاکہ معاملہ آسانی سے سمجھ میں آسکے۔
حدیث نبوی
”عن ابي هريرةؓ قال قال رسول الله ﷺ والذي نفسي بيده ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم حكما عدلا فيكسر الصليب ويقتل الخنزير
اکرم ﷺ کی پیش گوئی کو ہر حالت میں پورا ہوکر ہی رہنا تھا۔ آپ کذابون كلهم يزعم انه نبى الله وانا خاتم النبيين الفتن) ”میرے بعد تیس جھوٹے فریبی آئیں گے اور وہ اپنے آپ کو وت مجھ پر ختم ہوچکی ہے۔ آگاہ رہو کہ جھوٹے ہوں گے۔ مرزائیو!
رچہ ڈھونڈو گے چراغ رخِ زیبا لے کر
قادیانی کا پانچواں جھوٹ
(خزائن ج ٣ ص ١٢٣) فرماتے ہیں کہ: کو توڑے گا اور خنزیروں کو قتل کرے گا اب جائے تعجب ہے کہ صلیب کو فائدہ ہے اور اگر اس نے مثلاً دس بیس لاکھ صلیب توڑ بھی دی تو کیا ہتی کی دھن گئی ہوئی ہے اور صلیبیں بنوا نہیں سکتے اور دوسرا فقرہ جو کہا گیا گا یہ بھی اگر حقیقت پر محمول ہے تو عجیب فقرہ ہے کیا حضرت مسیح کا زمین یہی ہوگا کہ وہ خنزیروں کا شکار کھیلتے پھریں گے اور بہت سے کتے ساتھ تو پھر سکھوں اور چماروں اور سانسیوں اور گونڈ بھیلوں وغیرہ کو جو خنزیر ہیں خوشخبری کی جگہ ہے کہ ان کی خوب بن آئے گی۔ مگر شاید عیسائیوں کو نداں فائدہ نہ پہنچ سکے۔ کیونکہ عیسائی قوم نے خنزیر کے شکار کو پہلے ہی بالفعل خاص لنڈن میں خنزیر کا گوشت فروخت کرنے کے لئے ہزار دکان خبروں سے ثابت ہوا ہے کہ صرف یہی ہزار دکان نہیں۔ بلکہ پچیس ہزار سے مفصلات کے لوگوں کے لئے باہر بھیجا جاتا ہے۔“
ارت جو ناظرین کرام کے زیر مطالعہ ہے دراصل یہ ایک پیش گوئی اوپر نبی نامدار محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ نے بیان فرمائی۔ ہم قارئین کرام کی کے اس اصلی فرمانِ رسالت کو پیش کرتے ہیں تاکہ معاملہ آسانی سے سمجھ
هريرة قال قال رسول الله ﷺ والذى نفسي بيده بكم ابن مريم حكما عدلا فيكسر الصليب ويقتل الخنزير
ويضع الجزية ويفيض المال حتى لا يقبله احد حتى تكون السجدة الواحدة خيرا من الدنيا وما فيها ثم يقول ابوهريرة فاقرؤا ان شئتم وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته (مشكوة شريف ص ٤٧٩، باب نزول عيسى عليه السلام) ”ابو ہریرہؓ کہتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے قسم ہے اللہ پاک کی بہت جلد ابن مریم علیہ السلام منصف وحاکم ہوکر تم میں اتریں گے۔ پھر وہ عیسائیوں کی صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کر دیں گے اور کافروں سے جو جزیہ لیا جاتا ہے اسے موقوف کر دیں گے اور مال بکثرت لوگوں کو دیں گے۔ یہاں تک کہ کوئی اسے قبول نہ کرے گا۔ لوگ ایسے مستغنی اور عابد ہوں گے کہ ایک ایک سجدہ ان کو ساری دنیا کے مال ومتاع سے اچھا معلوم ہوگا۔“
حدیث کے یہ الفاظ سنا کر ابو ہریرہؓ کہتے تھے کہ تم اس حدیث کی تصدیق قرآن مجید سے چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھو ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته “ اور اہل کتاب میں سے (یہودی نصاریٰ) کوئی نہ ہوگا۔ یہاں تک کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آوے۔ یعنی بلا ایمان اور مصدق ہوئے وہ نہ مریں گے۔
وہ اوصاف انسانیت کا خاتم اور جمیع صفات آدمیت کا مظہر اتم وہ رحم و کرم اور عفو و حلم کا داتا۔ وہ اخلاقِ عظیم کا معدن اور علم وعرفان کا بحرِ ناپیدا کنار جو شرافت کا منبع وصداقت کی تصویر عدل کا پیکر اور انصاف کا مجسمہ تھا۔ آپ کے مبارک لب اور دہنِ اطہر جھوٹ کی آمیزش سے قطعاً نا آشنا تھا اور جس نے اس ناپاک چیز اور بری شے کو صفحہ ہستی سے ناپید کرنے کی حتی الامکان انتہائی کوشش کی اور اس کے عیوب اور برائیوں کو کچھ اس شان سے تشت از بام کیں کہ غلامانِ محمد خیر القرون میں جب تک جئے اس کے منہ پر بھی نہ تھوکا اور اس کے مرتکب کو نظر حقارت سے دیکھا اور اس کے قول کو سچائی کے دربار میں کبھی عزت نصیب نہ ہوئی۔ بلکہ جب نام آیا تو کذاب کے خطاب سے نفریں کیا گیا۔ چنانچہ صفحہ دہر پر تاریخ کے درخشندہ اوراق اس کے مؤید ہیں۔ اللہ اللہ وہ کس روئے انور سے قرآن صامت نے داعی کے خطاب سے یاد کیا اور جس کے پرتو سے ظلمات کے سیاہ پردے نور کے لباس میں ملبوس ہوئے اور جس کے سامنے کذابوں کا زہرہ آب آب ہوا اور کسی باتونی یا بوالہوس کو شیخی بگھارنے کا یارا نہ ہوا۔ وہ کوئی جھوٹی بات بولے تو یہ نعوذ باللہ ایسے فاسد خیال کے تصور سے روحِ عصیاں آلود ہوتی ہے اور حیا شرم کے دامن میں چھپتی ہے۔ وہ قرآنِ ناطق تو جھوٹ کے شائبہ سے بھی منزہ و پاک تھا۔ اس کا ایک ایک لفظ رب کعبہ کی زیرِ عاطفت تھا۔ کیونکہ خلاق جہاں کا وہ پاک قانون ”وما ينطق عن الهوى ان هو الا وحى يوحى
(نجم: ٣٠) ”یونہی بیان کرتا ہے اور طرفہ یہ ہے کہ اس کے مبارک قول دنیائے جہاں کی ممتاز قوموں کے دستور العمل ہوئے اور آج سے ساڑھے تیرہ سو برس پہلے جب فلسفہ ابھی کسی قبر کہنہ میں مدفون تھا اور سائنس نطفہ دروں کے پیٹ میں سوتی تھی اس امی استاد جہاں نے ہاں اس در یتیم نے آئندہ نسلوں کی رشد و ہدایت کے لئے مشیت ایزدی کے علم سے چند پیش گوئیاں فرمائیں جن میں ایک مسیح موعود مسیح ابن مریم علیہ السلام کے لئے تھی۔
اب دیکھنا ہے کہ صداقت کے منبع نے اس کے بیان کرنے سے پہلے حلف اور وہ بھی عزیز جان کی کیوں اٹھائی۔ حالانکہ اس کے بول ہی واجب التعظیم حکم تھے۔
حلف اٹھانا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ کوئی نہایت اہم واقعہ ہے اور نبی کریم ﷺ کی دور بین نگاہیں مسیلمہ ثانی کرشن قادیانی کے دل اور امت مرحومہ کی سادہ لوحی کو خوب جانتی تھیں اور کچھ عجب نہیں جو وفور محبت میں یقین امت کے لئے اٹھائی گئی ہو اور یہی قرین قیاس ہے اور اس پر اجماع امت کا ایمان ہے۔ یہ پیش گوئی جب سرکار مدینہ کو القا ہوئی تو حضور اکرم ﷺ چونکہ صادق المصدوق محبوب خدا وحی رسالت پر من وعن ایمان لائے اور یہ نہ پوچھا کہ مولا عیسیٰ علیہ السلام اب تک آسمان پر جیتے ہیں۔ وہ بھلا کیا کھاتے کیا پیتے کہاں سوتے اور حوائج ضروری اسے بہم پہنچاتے ہیں اور وہ جسد خاکی کرہ زمہریر سے بچانے میں کس طرح کامیاب ہوئے اور کرہ آتش سے سلامت روی کیونکر ہوئی کیا وہ ہماری طرح کپڑوں اور دیگر لوازمات کے محتاج نہیں اور اس قدر عرصہ کے بعد کیا وہ پیر فرتوت نہ ہو گئے ہوں گے۔ ایسی حالت میں وہ کام کر سکیں گے جب کہ ان کے قویٰ مضمحل اور کمزور ہو چکے ہوں گے وغیرہ وغیرہ۔ چونکہ یہ شیطانی وساوس ہیں اس لئے اس پاکوں کے پاک کو ان کا خیال بھی نہ ہوا اور نہ ان کے علم و فضل کے سامنے اور عقل و تدبیر کے مقابل کسی اور کو عقلمند کہا جاسکتا ہے توبہ نعوذ باللہ وہ فہم و فراست کے آقا تھے اور عقل ان کے گھر کی لونڈی تھی۔ آپ کے ادنیٰ اشاروں نے وہ وہ عقدے کشا کئے جنہیں مدبرین عقلاء ناک گھس گھس کر بھی حل نہ کر سکے۔ ان کا ایمان ان اللہ علیٰ کل شئی قدیر پر پورا پورا تھا اور قادر مطلق کو خود مختار جانتے تھے اور وحی رسالت کو کذب و افتراء کے درجے سے مبراء و منزہ خیال کرتے تھے۔
کیا اختیار تھا کہ مقدر بدل گیا
کائنات ارضی کا ذرہ ذرہ مٹ جائے۔ بساط جہاں درہم برہم ہو جائے۔ مگر آقائے نامدار مصطفیٰ ﷺ کا ایک لفظ بھی نہیں ٹلے گا اور جو فرما دیا گیا ہے ہو کر رہے گا وہ کبھی صورت صفحہ شہود
پر آنے سے نہیں رک سکتا۔ چہ جائیکہ ایک پیش گوئی اور وہ قسم اور وضاحت سے کی گئی ہو۔ جس میں عزیز جان تک کی ضمانت مولا کی کفایت میں سے ہو یہ اس میں رئیس الکذابین مسیلمہ ثانی مرزا غلام احمد قادیانی کی پیش گوئیاں نہیں کہ اس کا نکاح تو آسمان پر اللہ میاں پڑھے اور بچے دوسری جگہ جنے اور کنواری نہیں تو بیوہ ہی سہی اور یہ بھی نہیں تو تاویل کے شکنجوں میں کسی جائے یہ اس پاکوں کے پاک اور خاصوں کے خاص کی پیش خبری ہے۔ جس کے افسانوں سے نہیں رک سکتی۔ انشاء اللہ پوری ہو کر رہے گی اور کسی کی شیطانی کے ناپاک ارادے ہباء منثورا ہو جائیں گے۔
حضور ﷺ کے فرمانبردار جو خیر القرون میں شمع رسالت کے پروانے تھے ان کے ایمان تو یہ تھے کہ جب کسی امر کو سنا سر تسلیم خم کیا اور یہ نہ پوچھا کہ مہینہ بھر کی مسافت اور تھوڑے سے رات کے حصہ میں اور خواب میں نہیں بیداری میں اور جسد اطہر کے ساتھ آکر جب کفار مکہ کے استہزاء پر نہایت خندہ پیشانی اور استقلال سے جواب دیا وہ منہ ایسا نہیں کہ جھوٹ کہے۔ بخدا وہ جو بیان فرماتے ہیں صحیح ہے اور میرا اس پر ایمان ہے۔
سرکار مدینہ نے ایک یہودی سے کوئی سودا کیا۔ مگر اس وقت کوئی اور شاہد کوئی نہ تھا۔ یہودی نے دیدہ و دانستہ نبوت کی پرکھ کے لئے جھگڑا کیا۔ رسول اکرم ﷺ کو کچھ تشویش سی ہوئی کہ بات سچی ہے اور یہ خواہ مخواہ جھوٹا جھگڑا کرتا ہے۔ مگر حیران تھے کہ کوئی شہادت نہیں۔ جو یہودی کو فرض منصبی سے شناسا کرے۔
حلقہ ارادت سے ایک صحابی جس کا نام ابو خزیمہ تھا اٹھا اور عرض کیا یا رسول اللہ میں شاہد ہوں خدا کی قسم میں گواہی دوں گا۔ حضور ﷺ نے فرمایا تو تو اس وقت موجود نہ تھا۔ تو کس طرح شہادت دے گا۔ تو ہاتھ جوڑ کر عرض کیا قبلہ ہمیں کیا پتہ ہے کہ قرآن کب اور کہاں نازل ہوا۔ مگر آپ کے ارشاد پر قبول کرتے ہیں اور یہ بھی تو آپ ہی فرمارہے ہیں کہ یہودی کاذب ہے تو پھر اس پر کیوں نہ ایمان لائیں اور جب کہ یہ کامل بھروسہ ہے کہ آنحضور ﷺ صادق القول ہیں تو کیا آپ کے فرمان پر ایمان لانا ہمارا فرض منصبی نہیں۔ سبحان اللہ یہ تھا ایمان کامل
مگر آج اس بد بخت دور میں ایک کاذب مدعی نبوت ایسا بھی پیدا ہوا جو امتی کہلاتا ہوا فرمان رسالت کی پھبتیاں اڑاتا ہے اور مسیح علیہ السلام کی تحقیر کرتا ہوا یہاں تک کہہ گزرا کہ فخر رسل کو اس کی تفہیم نہیں ہوئی۔ گو زمانہ میں اب قحط الرجال فدایان شہ کونین ہے۔ لیکن پھر بھی ہزاروں ایسے ہوں گے جو موئے مبارک پر ماں باپ کو قربان کردیں گے۔ مگر اس کی یہ کچھ قیمت نہیں۔ اس کی قدر اویس قرنی اور بلال حبشی ہی خوب جانتے تھے۔ کاش کوئی عمر ثانی
ہوتا تو اس ہرزہ سرائی اور دیدہ دلیری کو مزہ چکھا دیتا۔
دل صد چاک شانہ بن کے گیسوئے محمدؐ کا
سیاہ کاران امت اور سب کڑیاں اٹھائیں گے
الٰہی سلسلہ چھوٹے نہ گیسوئے محمدؐ کا
صداقت کی تفسیر تیری زبان تھی اور توحید کی جان تیرے احکام تھے۔ عبودیت کا مرحلہ تیرا مرہون منت ہے اور انسانیت کا عقیدہ تیرا شکر گزار۔ نبوت کے منازل اور رسالت کے فرائض کا تو خاتم ہے تو نے عبد اور اللہ کا رشتہ محبت جوڑا اور سابقہ توہم سے اس کے بندوں کا منہ موڑا حیات انسان کا چپہ چپہ تیرے سامنے اطاعت کا مجرا کرتا ہے۔ چرخ نیلی فام اور نظام فلکی اب تک اسی دیرینہ نظارے کو ڈھونڈھتا ہے۔ تو نعمت پروردگار اور امانت کردگار تھا۔ تیری مبارک آمد رحمت پروردگار تھی۔ بیگانگت میں یگانگت قائم کر گئی۔ تیرے رحم سے تیرے کرم سے تیرے عفو سے تیرے حلم سے دنیا زیر و زبر ہوئی۔ کمزور شہ زور ہوئے۔ گداؤں نے تاج مملکت پہنا اور جاہلوں نے جامہ علم زیب تن کیا۔ دشمن دوست ہوئے اور کارخانہ حیات میں ایک ہیجان عظیم برپا ہوا۔
آقائے بحرو بر کی پیش گوئی پر تبصرہ کرنے سے پہلے یہ مناسب خیال کرتا ہوں کہ حضور ﷺ کے چند ایک فرمان جو بعثت مسیح موعود سے تعلق رکھتے ہیں۔ قارئین کرام کے پیش کردوں تاکہ معاملہ نہایت آسانی سے سمجھ میں آجائے۔
آقائے عالمیان فداہ روحی امی وابی نے مسیح موعود کی فیصلہ کن شناخت کے لئے دوسری خوشخبری حسب ذیل بیان فرمائی جو (صحیح مسلم ج ١ ص ٤٠٨، باب جواز التمتع فی الحج والقرآن) میں درج ہے۔
”عن البنی ﷺ والذی نفسی بیده لیهلن ابن مریم بفج الروحاء حاجاً او معتمرا اوليثنيهما“ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ ابن مریم (مسیح موعود) مقام فج الروحاء (یہ مقام مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان واقعہ ہے) سے حج کا احرام باندھیں گے۔
اس فرمان رسالت کی ابتداء بھی انہیں عزیز الفاظ کی ذمہ داری سے بیان ہوئی۔ یعنی آقائے نامدار فخر دو عالم نے فرمایا قسم ہے اس ذات والا تبار کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ ابن مریم مقام فج الروحاء سے احرام باندھ کر عازم فریضہ حج ہوں گے۔ مقام کے تعین
کرنے سے یہ معاملہ روز روشن کی طرح عیاں ہوا کہ مسیح موعود ضرور حج کریں گے اور ان الفاظ میں جو بیان ہوئے کوئی محاورہ یا استعارہ نہیں بلکہ مطلب نہایت صاف صاف ہے اور یہی وجہ ہے کہ مرزا آنجہانی اس حدیث سے یوں بھاگا۔ جیسے گدھے کے سر سے سینگ اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا کہ فرمان رسالت کیا ارشاد کرتا ہے اور اپنی تمام تصانیف میں اس حدیث کا نام بھی نہ لیا۔ کیونکہ یہ ان کے بطلان کے لئے ایک ایسا حربہ تھا جس کا ایک ہی وار کام تمام کر دے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شروع شروع میں آپ کا خیال تھا کہ یہ بھی بہروپ بھر لیا جائے۔ اسی لئے آپ کا وہ الہام (ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں) بصد حسرت دیدۂ وا سے پکار پکار کر زبان حال سے ایفا کا متمنی ہے۔ مگر افسوس!
وہ دکاں اپنی بڑھا گئے
کے مصداق مرزا قادیانی بے وقت چل بسے اور پچانوے سالہ مدت عمر کا الہام جوں کا توں روتا ہی چھوڑا اور آپ کا لین کلیر بی فورٹائم اٹھاسٹھ برس میں ہی مر گیا۔ مجھے اس موقعہ پر مرزا قادیانی کا ایک دلچسپ واقعہ ایسا یاد آیا جو ناظرین کرام کی دلچسپی کا موجب ہوگا۔ ملاحظہ فرمائیں۔
پنجابی نبی اللہ قادیانی کا ایک پر اسرار کشف
(اخبار الحکم ٢٤ ستمبر ١٩٠٣ء، تذکرہ ص ٤٩٧، طبع سوم) میں فرماتے ہیں کہ:
”ایک اور کشفی حالت میں ایک بزرگ صاحب کی قبر پر دعاء مانگ رہا تھا۔ (غالباً مرزا امام دین صاحب پیر خاکی وہاں کی ہی ہوگی ) وہ بزرگ ہر ایک دعاء پر آمین کہتے جاتے تھے۔ (دریں چہ شک) اس وقت خیال ہوا کہ اپنی عمر بھی بڑھالوں۔ (ہم اس خیال کی داد دیتے ہیں) تب میں نے دعاء کی میری عمر ١٥ سال اور بڑھ جائے۔ اس پر بزرگ نے آمین نہ کہی (بہت نالائق تھا) تب اس صاحب بزرگ سے کشتم کشتا ہوا (بزرگی کا بھاؤ معلوم ہوگیا) تب اسے مردے نے کہا مجھے چھوڑ دو میں آمین کہتا ہوں۔ (بیچارا تنگ آگیا ہوگا آخر مقابلہ بھی تو نبیوں کے پہلوان سے تھا) اس پر میں نے اس کو چھوڑ دیا (بڑی مہربانی فرمائی) اور دعاء مانگی کہ میری عمر اور ١٥ سال بڑھ جائے تب اس بزرگ نے آمین کہی۔ (مرتا کیا نہ کرتا)“
چنانچہ یہ مسلمہ بات ہے کہ حج کی سعادت مرزا قادیانی کو نصیب نہیں ہوئی اور اس سے آپ محروم ہی رہے۔ لہٰذا اس معیار مسیح موعود پر بھی آپ پورے نہیں اترے۔ ہاں یاد آیا کوئی منچلا
مسیح کا دلال اور استعاروں کا دلدادہ اور حسن عقیدت کا غلام آپ کے الہام کی عظمت کو برقرار رکھنے کے لئے یہ کہہ دے کہ چونکہ قادیان کے لئے اور اس کی حرمت کو برسر اقتدار کرنے کی خاطر مرزا قادیانی نے بیسیوں صفحات سیاہ کئے بلکہ دمشق سے استعارہ نسبت دی۔ مکہ بھی کہا اور اس کے زائرین کو جو سالانہ جلسہ پر تشریف لاتے ہیں بروزی حاجی اور جلسہ کو بروزی حج قرار دے کر یہ بھی تو فرمایا ہے۔
ہجوم خلق سے ارض حرم ہے
(درثمین ص٥٠)
”اور یہ بھی کہا کہ اب مثیل دمشق عدل وانصاف پھیلانے کا ہیڈکوارٹر ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٧٣ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٤٠)
آپ نے اپنی مکی زندگی اور مدنی زندگی بھی بیان کی اور یہ بھی فرمایا ”شخصے پائے من بوسید من گفتم که سنگ اسود منم“ (البشریٰ حصہ اوّل ص ٤٨، تذکرہ ص ٣٩ طبع سوئم) اس لئے ہو سکتا ہے کہ حدیث کے الفاظ لُجِّ الروحاء سے مراد استعارۃً منارۃ المسیح کے جانب شمال جو ڈھاب ہے وہی ہو۔ کیونکہ استعارۃً جب یہ ثابت ہوچکا ہے کہ دمشق سے مراد دمشق نہیں بلکہ قادیان ہے تو یہ کیوں نہیں ہو سکتا کہ لُجِّ الروحاء سے مراد ڈھاب شمالی ہے جو منارۃ المسیح سے شمال کی جانب واقعہ ہے۔
اور سنت اللہ ہمیشہ سے یہی جاری ہے۔ (بقول مرزا) کہ اللہ تعالیٰ پیش گوئیوں کو استعاروں کے رنگ میں اپنی مخلوق کے امتحان کے لئے بیان کر دیا کرتا ہے تا کہ یہ معلوم ہو کہ سعید الفطرت لوگ اپنے عقل وتدبر سے غور وخوض کر کے اس کو حاصل کرتے ہیں یا نہیں۔ کیونکہ عقل وفہم خدا نے اسی لئے انسان کو عطاء کئے وحوش وبہائم اور اشرف المخلوقات میں یہی ہے ایک فرق ہے۔ اس لئے قرآن کریم نے تدبر کے لئے بار بار تاکید کی بہر حال معاملہ نہایت واضح وصاف ہے کہ مرزا قادیانی نے بروزی حج کیا اور ڈھاب شمالی سے احرام باندھا اور آپ کی برکت اور فیض کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔ جس کے نتیجہ میں ہزاروں بروزی حاجی پیدا ہورہے ہیں اور یہ فیض عام خدائے دوجہاں کا احسان ہے جو حضور حجۃ القادر سلطان احمد مختار قادیانی کی طفیل امت مرزائیہ کو نصیب ہوا اور سفر کی صعوبتوں اور خرچ کی زیر باریوں سے نجات ملی۔ فالحمدلله علی ذلک!
چنانچہ قادیان کی عظمت اور کعبۃ اللہ ہونے کی تعریف میں حضرت صادق نبی اللہ
قادیان (ازالہ اوہام ص ١٣٥ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٦٨) پر یوں فرماتے ہیں کہ:
”میرے روحانی بھائی مسیح کا قول مجھے یاد آتا ہے کہ نبی بے عزت نہیں۔ مگر اپنے وطن میں میں سچ کہتا ہوں کہ اگر چہ لوگ امام حسین کا وقت پاتے تو میرے خیال میں ہے کہ یزید اور شمر سے پہلے ان کا قدم ہوتا اور اگر مسیح کے زمانے کو دیکھتے تو اپنی مکاریوں میں یہودا سکریوطی کو پیچھے ڈال دیتے۔ خدا تعالیٰ نے جو ان کو یزیدیوں سے مناسبت دی تو بے وجہ انہیں نہیں دی۔ اس نے ان کے دلوں کو دیکھا کہ سیدھے نہیں ان کے چلن پر نظر ڈالی کہ درست نہیں۔ تب اس نے مجھے کہا کہ لوگ یزیدی الطبع ہیں اور یہ قصبہ دمشق سے مشابہ ہے سو خدا تعالیٰ نے ایک بڑے کام کے لئے اس دمشق میں اس عاجز کو اتارا بطرف شرقی عند المنارة البيضاء من المسجد الذى من دخله كان آمنا فتبارك الذى انزلنى فى هذا المقام!“
امت مرزائیہ مبارک ہو اب تمہارے لئے فخر کا مقام اور ایمان لانے کی جا ہے اور اب امت مرزائیہ کے لئے ہر کہ شک آرد کافر گردد ہے۔ یہی سمجھو کہ کعبۃ اللہ کا بروز ملحقہ مسجد منارہ سفید ہے۔
مرزا قادیانی کی گھٹی میں خدا جانے جھوٹ بھرا ہوا تھا کہ قدم قدم پر آپ اس کے مرتکب ہوتے ہیں۔ میں پوچھتا ہوں کہ حضرت ذرا عقل کے ناخن تو لو اور یہ تو فرماؤ کہ آپ کہاں چڑھے ہوئے تھے جہاں سے آپ کا اترنا مبارک ہو رہا ہے۔ آپ کو شاید یاد نہیں کہ آپ کی والدہ چراغ بی بی نے ٩ ماہ پیٹ میں رکھنے کے بعد جنا تھا۔ آپ خواہ مخواہ اتر اور چڑھ رہے ہیں اور یہ ایک اور طرح سے بھی غلط ہے جس کی زد آپ کے خدا پر پڑتی ہے وہ یہ کہ جب آپ تولد ہوئے نہ مسجد تھی نہ منارہ کچھ بھی نہ تھا۔ یہ دونوں چیزیں آپ نے خود پچاس برس کی عمر میں چندہ اینٹھ اینٹھ کر بنائیں۔ پھر یہ تو بتانے کی زحمت گوارہ فرمائیں کہ آپ کہاں سے اترے۔ ذرا مہربانی کر کے پہلے اپنا چڑھنا بتائیے ہم خود بخود مان لیں گے کہ آپ شرقی سفید منارہ کے پاس اترے اور یہ بھی فرمائیں کہ ان دونوں میں آپ سچے ہیں یا آپ کا خدا۔ کیونکہ دونوں میں ایک تو ضرور جھوٹا ہے۔
قربان جاؤں آپ کی عقل پر خدا کی قسم تمہاری حالت پر رحم آتا ہے۔ کیا بے تکی گپیں سناتے ہو۔
منارہ کا نشان پچاس برس بعد بنتا ہے اور خدا ابھی ایسا جلد باز ہے کہ پچاس برس پیشتر الہام کر رہا ہے اور منارہ کی سفیدی بتا رہا ہے۔ حالانکہ یہاں سیاہی بھی نہیں، کمال ہے حضرت کیا کہنے ہیں۔
اور مسجد تو ابھی منصہ شہود سے غائب ہے۔ مگر داخل ہونے والے کو پہلے ہی امن مل رہا ہے۔ یہ پیمبری ہو رہی ہے یا بچوں کا کھیل۔
امت مرزائیہ! خدارا ذرا سوچو اور غور کرو کہ مرزا قادیانی کا یہ بیان صداقت کے کس قدر قریب ہے۔ کیا اسی کے بوتے پر مرزائیت کی بناء ہے۔ ہے کوئی سچ کا لال یا تمام سوگئے جو ہم کو اس کا جواب دے۔
کعبۃ اللہ کی تعریف میں
”قل صدق الله فاتبعوا ملة ابراهيم حنيفاً، وما كان من المشركين ان اول بيت وضع للناس للذى ببكة مباركاً وهدى للعلمين، فيه آيت بينت مقام ابراهيم، ومن دخله كان امنا، ولله على الناس حج البيت من استطاع اليه سبيلاً، ومن كفر فان الله غنى عن العلمين (آل عمران:٩٥ تا ٩٧)“
اے میرے حبیب، اہل یہود کو کہہ دو کہ بے شک اللہ نے سچ فرمایا سو ارشاد ربی کے مطابق ابراہیم کے طریقہ کی پیروی کرو۔ جو ایک خدا کے ہو رہے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔ لوگوں کی عبادت کے لئے جو پہلا گھر ٹھہرایا گیا۔ وہ یہی ہے جو شہر مکہ میں واقعہ ہے۔ برکت والا اور دنیائے جہان کے لوگوں کے لئے موجب ہدایت اس میں فضیلت کی بہت سی کھلی ہوئی نشانیاں ہیں۔ ازاں جملہ ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ اور جو اس گھر میں داخل ہوا امن میں آ گیا اور لوگوں پر فرض ہے کہ خدا تعالیٰ کے لئے خانہ کعبہ کا حج کریں جس کو اس تک پہنچنے کا مقدور ہے اور جو طاقت ہوتے ہوئے نعمت کی ناشکری کرے اور حج کو نہ جائے تو اللہ دنیائے جہاں سے بے نیاز ہے۔
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص٢١، خزائن ج١٧ ص٦٨، ٦٩) میں مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ: ”سلام علٰی ابراهيم صافيناه ونجيناه من الغم واتخذو من مقام ابراهيم مصلےٰ“ یعنی سلام ہے ابراہیم پر (یعنی اس عاجز پر) ہم نے اس سے خالص دوستی کی اور ہر ایک غم سے اس کو نجات دے دی اور تم جو پیروی کرتے ہو اپنی نماز گاہ ابراہیم کے قدموں کی جگہ بناؤ ...... ”واتخذو من مقام ابراهيم مصلیٰ“ قرآن شریف کی آیت ہے اور اس مقام میں اس کے یہ معنی ہیں کہ یہ ابراہیم (یعنی مرزا) جو بھیجا گیا ہے تم اپنی عبادتوں اور عقیدوں کو اس کی طرز پر بجالاؤ اور ہر ایک امر میں اس کے نمونہ پر اپنے تئیں بناؤ اور جیسا کہ آیت ”ومبشراً برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد“ میں یہ اشارہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کا آخر زمانہ میں ایک مظہر ہوگا گویا وہ اس کا ایک ہاتھ ہوگا۔ جس کا نام آسمان پر احمد ہوگا اور وہ حضرت مسیح کے رنگ
میں جمالی طور پر دین کو پھیلائے گا۔ ایسا ہی یہ آیت ’واتخذو من مقام ابراہیم مصلی‘ اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ جب امت محمدیہ میں بہت سے فرقے ہو جائیں گے تب آخر زمانہ میں ایک ابراہیم پیدا ہوگا اور ان سب فرقوں میں وہی فرقہ نجات پائے گا کہ اس ابراہیم (یعنی مرزا) کا پیرو ہوگا۔“
گوید دروغ دستاں در ملک ہندیانہ
طاعون وقحط یک جا در ہند گشت پیدا
پس مومناں بمیرند ہر جا ازیں بہانہ
دو کس بنام احمد گمراہ کنند بے حد
سازند از رائے خود تفسیر در قرآنہ
مندرجہ بالا پیش گوئی ولی نعمت اللہ نور اللہ مرقدہ نے ساتویں ہجری میں مسیلمہ ثانی مسیح قادیانی کے لئے کی تھی جو حرف بحرف صحیح ثابت ہوئی۔
مسیلمہ ثانی سابقہ مضمون میں حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے اتم واکمل بن چکے ہیں۔ اب آپ نے گرگٹ کی طرح ایک اور رنگ بدلا۔ یعنی ابراہیم علیہ السلام بھی بن گئے اور مولا کریم سے سلام کا خراج تحسین بھی لے چکے اور حکیم مطلق سے خاص دوستی بھی گانٹھ چکے۔ بلکہ اس دوستی کی پیش کش خدا نے خود کی اور وعدہ کیا کہ وہ تمام رنج ومحن تم سے دور کر دئے گئے اور فکر و الام سے مرزا کو نجات دے دی۔ دیکھیں حضرت احدیت کی یہ دوستی کی پینگ بڑھانے کی التجا آپ قبول بھی کرتے ہیں یا ٹھکرا دیتے ہیں۔ حالانکہ اس میں مرزا کی فضیلت بڑھانے کے لئے امت مرزائیہ پر ایک احسان عظیم کیا گیا ہے اور قادیان کا رتبہ مقام ابراہیم قرار دے کر سفر کی مصیبتوں اور خرچ کی صعوبتوں سے محفوظ کر لیا گیا ہے۔ کیونکہ قادیان میں مسجد اقصیٰ اور بہشتی مقبرہ اور منارۃ المسیح تو پہلے ہی موجود تھے اب مقام ابراہیم کا اضافہ کر کے حج کا سامان مکمل کر دیا گیا ہے۔ تا کہ امت مرزائیہ کو مکہ معظمہ جانے کی تکلیف نہ ہو اور ارکان حج ادا کرنے کے بعد مدینہ منورہ جانے کی بجائے بہشتی مقبرہ میں مسیلمہ ثانی کے مرقد پر انوار کی زیارت کر کے اس اہم فرض سے بلا تکلف سبکدوش ہو جائیں مرزائیو مبارک ہو۔
چنانچہ موسیومر زابشیرالدین محمود نے اس کی وضاحت بھی کر دی ہے وہ فرماتے ہیں کہ
”جلسہ سالانہ جو قادیان میں ہر سال ہوتا ہے اس میں تمام امت کو بہت ثواب ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ ایک ظلی حج ہے۔ (الفضل قادیان ج ٢٠ نمبر ٨٠ ص ٤، مورخہ ٥؍ جنوری ١٩٣٣ء) مبارک ہو اب تو تصدیق بھی ہو چکی۔
اور ویسے بھی قادیان کوئی معمولی جگہ نہیں۔ بلکہ وہ مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے ہم پلہ ہے۔ کیونکہ قرآن شریف میں بقول مرزا اس کا نام ان دونوں ناموں کے برابر درج کیا گیا ہے اور اسی مبارک بستی میں قرآن شریف نازل ہوا۔ بقول مرزا۔ لیکن ہمارے خیال میں براہین احمدیہ جو قرآن شریف کا بدل ہے بقول مرزا نازل ہوئی۔ چنانچہ مسیلمہ ثانی کا وہ ارشاد ذیل میں ملاحظہ کریں جو اس کی حرمت کے بارے میں ہے اور جو اس کی قدرومنزلت کو چار چاند لگاتا ہے۔
”انا انزلناہ قریباً من القادیان“
اور پھر (البشریٰ ج ١ حصہ دوم ص ١٩، تذکرہ ص ٧١ طبع سوم) پر کس قدر وثوق سے فرماتے ہیں اور ”میں کہتا ہوں کہ تین شہروں کا نام قرآن مجید میں درج ہے۔ مکہ، مدینہ اور قادیان۔“
امت مرزائیہ کو یہ بھی حسرت باقی نہ رہے کہ قادیان میں حجر اسود نہیں اور اس کو بوسہ دینا بھی تو سنت تھا۔ اس لئے مرزا قادیانی اس کے متعلق بھی آسانی کر دی اور بیت اللہ میں تو ہجوم کی وجہ سے اس سنت کو ادا کرنا کارے دارد ہے۔ مگر قادیان میں نہایت آسان ہو گیا۔ نبی قادیانی نے اپنی پیاری امت کے لئے ہر ممکن سہولتیں مہیا کر دی ہیں۔ دیکھئے محبوب امت کے کون کون سے لال بھجکڑ اس سعادت سے بہرور ہوتے ہیں۔
رستے پہ دیکھیں کتنے چلے اب کارواں ہیں
(البشریٰ ج ١ ص ٤٨، تذکرہ ص ٣٦ طبع سوم) پر فرماتے ہیں کہ:
”شخصے پائے من بوسید من گفتم کہ سنگ اسودم“
(ایک شخص نے میرے پاؤں کو بوسہ دیا تو میں نے کہا کہ سنگ اسود میں ہی ہوں) اب چونکہ پاؤں تو میسر نہیں ہو سکتا۔ اس لئے آپ کی قبر کی پائنتی کے بوسے چٹاخ چٹاخ لے کر دل کی بھڑاس نکالو اور اسی کو حجر اسود کا بروز یا نعم البدل سمجھو سنت ادا ہو جائے گی اور ثواب کا پتہ حشر کو ملے گا۔
پھر (درثمین ص ٥٠، اردو) پر فرماتے ہیں کہ:
ہجوم خلق سے ارض حرم ہے
امت مرزائیہ! مبارک ہو کہ پیر مغاں کے ارشاد میں ہرچہ شک آرد کافر گردد! ہاں ایک اور حسرت شاید باقی رہی ہوگی وہ یہ کہ آب زمزم نہ پیا تو وہ بھی پلائے دیتے ہیں۔ بلکہ آب زمزم سے پیاس کلیتہ نہیں بجھتی۔ آپ لوگوں کو وہ شربت پلاتے ہیں جس سے پیاس ہی نہ لگے اور دوبارہ پینے کی محنت ہی چھوٹے۔
(البشریٰ ج٢ ص١٠٩، تذکرہ ص٦٠٢ طبع سوم) میں ایک الہام ارشاد فرماتے ہیں کہ: ”انا اعطینک الکوثر“ اب ظل اور بروز کے طور پر استعارہ کے رنگ میں مسجد مبارک کی وہ نالی جس میں آپ وضو کیا کرتے تھے۔ آب کوثر سمجھ کر بلا تکلف پیتے جاؤ اللہ چاہے تو پیاس پھر کبھی نہ لگے گی۔
اور اگر بعض اہل علم و صاحب فراست مرزائی یہ اعتراض کریں کہ یہ آب کوثر کا بدل کس طرح ہو سکتا ہے تو ان کے اطمینان قلب کے لئے ہم ایک عجیب نسخہ جو مرزائے قادیانی کا فرمودہ ہے پیش کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ اس کے رٹنے سے ان کے شبہات دور اور ان کے قلوب مطمئن ہو جائیں گے۔
(تریاق القلوب ص٦ ،خزائن ج١٥ ص١٣٢) میں مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ:
منم محمد احمد کہ مجتبے باشد
اور اگر کسی کور باطن کو یہ نسخہ تسلی کے لئے کافی نہ ہو تو وہ مندرجہ ذیل شعر کو عقل کی کوٹھڑی میں گھوٹ کر تین روز تک متواتر پیے اور اگر پھر بھی اطمینان قلب نصیب نہ ہو تو کلمہ شریف پڑھ کر صدق دل سے مسلمان ہو جائے اور سچے دل سے خدا کے حضور میں گڑ گڑا کر مرزائیت سے توبہ کرے۔
(درثمین ص٧٣ فارسی، نزول المسیح ص١٠٠، خزائن ج١٨ ص٤٧٨) میں فرماتے ہیں کہ:
ہر رسولے نہاں بہ پیراہنم
میری تشریف آوری کی وجہ سے تمام نبی زندہ ہو گئے۔ تمام رسول میرے پیراہن میں چھپے ہوئے ہیں۔
جو صاحب صدق دل سے توبہ کریں اور پنجابی نبی کی بھول بھلیوں سے آزاد ہوں وہ مہربانی کر کے ظل اور بروز کی تصویر اور اس کی اصلی حقیقت اس شعر میں ملاحظہ کریں۔
داد آں جام را مرا بتمام
(نزول المسیح ص٩٩، خزائن ج١٨ص٤٧٧)
خدا نے جو علم کی پیالیاں فرداً فرداً نبیوں کو دیں ان تمام پیالیوں کو ایک پیالے میں جمع کر کے مجھے دے دیا۔
”واتخذو من مقام ابراهیم مصلی“ قرآن شریف کی آیت ہے۔ مگر اس مقام پر اس کے یہ معنی ہیں کہ یہ ابراہیم (یعنی مرزا) جو بھیجا گیا ہے تم اپنی عبادتوں اور عقیدوں کو اس کی طرز پر بجالاؤ اور ہر ایک امر میں اس کے نمونے پر اپنے تئیں بناؤ۔“
مرزائیو! سن رہے ہو کیا ارشاد ہورہا ہے۔ یہ کہ کلام مجید کی پیروی کو چھوڑ دو اور براہین احمدیہ پر ایمان لاکر کرشن ثانی کی پیروی میں آپ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اپنی عبادتیں اور عقیدے مرزا کے اسوہ پر بجالاؤ۔ اب نہ کلام مجید کی حاجت ہے اور نہ رسول عربی پر ایمان لانے کی ضرورت، اب تو صرف مرزا قادیانی کی پیروی سے مشکلیں آسان ہوتی ہیں اور نجات ملتی ہے۔ کیونکہ اب اگر کوئی جنت میں جانا چاہے تو سوائے کرشن ثانی کی غلامی کا فخر حاصل کرنے اور اس کے اسوہ پر عمل کرنے کے نہیں جاسکتا۔ نعوذ باللہ! آپ کی بعثت سے گویا قرآن کریم منسوخ ہو چکا اور شریعت محمدیہ قطع ہو چکی اور نبی کریم ﷺ کی نبوت کا مبارک دور ختم ہو گیا اور اس کے ساتھ ہی امت مرزائیہ کے لئے نیا رسول نئی شریعت اور نیا کعبہ مرجع خلائق بن گیا۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر مرزا قادیانی کی ظلیات پر ایمان لائیں تو رحمت عالم آقائے جہاں اشرف انبیاء کا دامن جو جان سے زیادہ عزیز ہے۔ چھوٹتا ہے اور اس رشتہ عزیز کے قطع ہونے پر ایمان سے ہاتھ دھونے پڑتے ہیں اور پھر وہ خدا کی فصاحت و بلاغت بھری کتاب جو تمام علوم کا معدن ہے اور جس کی سی ایک سورت باوجود یکہ ساڑھے تیرہ سو برس سے ایک عام چیلنج دیا گیا ہے کسی کو پیش کرنے کی آج تک جرات ہی نہیں ہوئی اور جس کا ایک شوشہ یا نکتہ کم و بیش نہیں ہوا اور جس کی حفاظت ابداً لآباد تک مالک حقیقی نے اپنے ذمے لے رکھی ہے سے کلیۃً انحراف کرنا پڑتا ہے اور خدائے واحد سے جو لاشریک ہے۔ کنارہ کش ہونا پڑتا ہے یہ ایک ایسا دقیق سوال ہے۔ جس کا جواب امت مرزائیہ تا قیامت نہیں دے سکتی۔
اور یہ جدت بھی ملاحظہ فرماویں کہ کس دیدہ دلیری سے اپنی خود ساختہ نبوت منوانے کے لئے کلام کی آیات سینہ زوری اور چوری کر کے الہامی شکل میں پیش کیں اور ان
کی غلط و بے ربط تفسیر بھی کی اور کیسی شاندار بڑ ہانکی۔
فرماتے ہیں 'واتخذوا من مقام ابراهيم مصلى' اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ جب امت محمدیہ میں بہت فرقے ہو جائیں گے۔ تب آخر زمانہ میں ایک ابراہیم پیدا ہوگا اور ان سب فرقوں میں وہی فرقہ نجات پائے گا کہ اس ابراہیم (یعنی مرزا) کا پیرو ہوگا ۔"
اب غور فرمائیں نبوت جو باعث رحمت تھی۔ امت مرحومہ کے لئے زحمت ہو گئی۔ دنیا میں اس وقت چالیس کروڑ مسلمان آقائے نامدار محمد مصطفےٰ کے غلام آباد ہیں۔ جو سلطان القلم کی ایک ہی جست سے یک قلم نجات سے محروم ہو گئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون!
اس کی کیا دلیل ہے کہ آپ ہی آخری ابراہیم ہیں اور آپ کا ہی فرقہ نجات پائے گا۔ حالانکہ جو آیت آپ نے اس کے ثبوت میں پیش کی ہے اس کا یہ مطلب نہیں اور اس میں اشارہ تو کیا کنایہ تک بھی نہیں اور اس کا کیا ثبوت ہے اور کہاں لکھا ہے کہ آخری زمانہ میں ایک ابراہیم پیدا ہوگا اور اسی کا فرقہ نجات پائے گا اور باقی جہنمی ہوں گے۔ ہم قارئین کرام کی خدمت میں اس کا شان نزول بھی پیش کئے دیتے ہیں تا کہ آپ کے فریب دینے کی حقیقت بھی واضح ہو جائے۔
'واتخذوا من مقام ابراهيم مصلى' یہ آیت کریمہ قرآن شریف کی ابھی نازل بھی نہ ہوئی تھی کہ حضرت عمرؓ نے اپنی خواہش رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کی کہ مقام ابراہیم کو مصلےٰ بنا لیا جائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت فرقان حمید میں نازل کی۔
تمام قرآن شریف گالیوں سے پر ہے
چنانچہ نبی صاحب (ازالہ اوہام ص ١٣، خزائن ج ٣ ص ١٠٩) پر فرماتے ہیں کہ: "اگر ہر ایک سخت اور آزار دہ تقریر کو محض بوجہ اس کے حرارت اور تلخی اور ایذا رسانی کے دشنام کے مفہوم میں داخل کر سکتے ہیں تو پھر اقرار کرنا پڑے گا کہ سارا قرآن شریف گالیوں سے پر ہے۔"
استغفر اللہ ربی! یہ ظل و بروز کے سائن بورڈ یہ مظہریت کے دعویٰ اور یہ اعجاز شریں کلامی اور قرآنی محبت کا فوٹو ہے کہ تمام فرقان حمید میں نعوذ باللہ من ذالک گالیاں بھری ہیں۔
شکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعور
سرور دو جہاں آقائے نامدار رحمۃ للعلمین
حضور فخر رسل محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ کے حق میں بد زبانی
جے سنگھ بہادر قادیانی اپنے اوہام باطلہ میں جن کا دعویٰ ہے کہ میرے ہونٹوں سے شیرینی ٹپکتی ہے اور میں سلطان القلم ہوں چاہے اردو لکھنا بھی نہ آتا ہو۔ (ازالہ ص ١٧، خزائن ج ٣ ص ١١١) پر ارشاد چرتے ہیں۔
”ابو طالب نے آنحضرت ﷺ کو بلا کر کہا کہ اے میرے بھتیجے اب تیری دشنام دہی سے قوم سخت مشتعل ہو گئی ہے اور قریب ہے کہ تجھ کو ہلاک کریں اور ساتھ ہی مجھ کو بھی تو نے ان عقلمندوں کو سفیہ قرار دیا اور ان کے بزرگوں کو شر البریہ کہا اور ان کے قابل تعظیم معبودوں کا نام ہیزم جہنم وقود النار رکھا اور عام طور پر ان سب کو رجس اور ذریت شیطان اور پلید ٹھہرایا میں تجھے خیر خواہی سے کہتا ہوں کہ اپنی زبان کو تھام اور دشنام دہی سے باز آجا۔ ورنہ میں قوم کے مقابلے کی تاب نہیں رکھتا۔ آنحضرت نے جواب دیا کہ اے چچا یہ دشنام دہی نہیں ہے۔ بلکہ اظہار واقعہ اور نفس الامر کا عین محل پر بیان ہے اور یہی تو کام ہے جس کے لئے میں بھیجا گیا ہوں۔“
(ازالہ اوہام ص ١٩، خزائن ج ٣ ص ١١١، ١١٢) پر اسی کے ضمن میں بیان فرماتے ہیں کہ:
”یہ سب مضمون ابو طالب کے قصہ کا اگرچہ کتابوں میں درج ہے۔ مگر یہ تمام عبارت الہام ہے جو خدا تعالیٰ نے اس عاجز کے دل پر نازل کی“
وہاں قرآن اترا ہے یہاں انگریز اترے ہیں
آہ! قلم رکتا ہے اور دل جلتا ہے۔ جب اس خاصہ خاصان رسل کے حق میں جو جہاں کے لئے رحمت کردگار ہے اور جس کے لئے خالق حقیقی نے ”انك لعلى خلق عظيم“ فرمایا اور جس کی ذات بابرکات باعث تکوین روزگار ہوئی اور جس کے دل میں تمام جہان کی بہتری و بہبودی کے لئے ایک ایسا درد بھر دیا گیا تھا۔ جس کی شہادت قرآن کریم ابدالآباد تک دیتا رہے گا۔ ”لعلك باخع نفسك الا يكونوا مؤمنين“ اور جس کے لئے شق القمر ہوا اور جس کے اخلاق حمیدہ اور صفات ستودہ شمار ہی نہیں ہو سکتے اور جس کی نگاہ لطف سے بہیمیت و بربریت وہ ماحول جن کو پیٹ بھر کر روٹی میسر نہ ہوتی تھی اور جن کا لباس ان کی غربت کی چغلی کھاتا تھا۔ سلاطین عالم ہوئے۔
وہ سلطان دو جہاں جو درہم و دینار کے روزانہ انبار لٹاتے اور اپنے لئے ایک حبہ تک بھی نہ رکھتے اور ہزاروں من غلہ تقسیم کرتے۔ مگر خود روزہ دار رہتے اور افطاری توکل علی اللہ پر چھوڑ دی جاتی۔
اور تین دن سے پیٹ پہ پتھر بندھا ہوا
ہیں دوسروں کے واسطے سیم و زر و گوہر
اور اپنا ہے یہ یہ حال کہ چولہا بجھا ہوا
کسریٰ کا تاج روندنے کو پاؤں کے تلے
اور بوریا کھجور کا گھر میں بچھا ہوا
وہ رؤف الرحیم جس کے مبارک منہ سے پتھر کھانے پر بھی بددعا نہ نکلی بلکہ سوائے ایک درد انگیز دعاء کے حرف شکایت ہی لب پر نہ لایا۔ ”اللهم اهد قومي فانهم لا يعلمون“ خدا وند میری قوم کو ہدایت دے کہ وہ مجھ کو پہچان جائیں۔
کسی میں یہ شان حلم بھی ہے اور ایسا کوئی حلیم بھی ہے
اللہ اللہ ایسی مبارک ہستی جس کے لئے صدہا پیارے پیارے القاب طه، یسین، مزمل، مدثر، رحمة للعالمين، كافة للناس، بشير ونذير، رؤف رحيم ہیں اور طرفہ یہ کہ جس کو شفیع محشر قرار دیا گیا ہو۔
اس کے حق میں اس کی شان میں ایسا ناپاک خیال ایسا رکیک حملہ اور طرفہ یہ کہ غلامی کا دعویٰ اور نبوت کی علمبرداری کچھ مرزا جیسے کرشن ثانی کو ہی زیب دیتی ہے۔
سیرت النبی کے جلسوں کے علمبردارو! گندم نما جو فروشو شرم کے سمندر میں ڈوب مرو۔
وہ قوم جس کا یہ ایمان ہو کہ سارا قرآن شریف گالیوں سے پر ہے اور نبی برحق سرور دو جہاں کے متعلق یہ عقیدہ ہو کہ وہ نعوذ باللہ دشنام دہی کے لئے بھیجے گئے تھے وہ سیرت کیا خاک بیان کر سکتی ہے۔ یہ منہ اور مسور کی دال ۔ لا حول ولا قوۃ الا بالله!
اس کی کیا دلیل ہے کہ ابوطالب کا یہ قصہ رودر گوپال قادیانی کے دل پر خدا کی طرف سے القاء ہوا۔ ایسا لغو الہام اور باطل عقیدہ اور بھونڈی تحریر تو صرف راندہ درگاہ کی طرف سے ہی ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان عقائد باطلہ سے محفوظ رکھے۔ آمین!
تڑپے ہے مرغِ قبلہ نما آشیانے میں
"الارض والسماء معک کما ھو معی قل لی الارض والسماء قل لی سلام . فی مقعد صدق عن ملیک مقتدر . ان اللہ مع الذین اتقوا والذین ھم محسنون . یاتی نصراللہ انا سننذر العالم کلہ انا سننزل انا اللہ لا الہ الا انا"
"یعنی آسمان اور زمین تیرے ساتھ ہے۔ جیسا کہ وہ میرے ساتھ ہے۔ کہہ آسمان اور زمین میرے لئے ہے کہہ میرے لئے سلامتی ہے۔ وہ سلامتی جو خدا قادر کے حضور میں سچائی کی نشست گاہ میں ہے۔ خدا اس کے ساتھ ہے جو اس سے ڈرتے ہیں۔ جن کا اصول یہ ہے۔ خلق اللہ سے نیکی کرتے ہیں۔ خدا کی مدد آتی ہے۔ ہم تمام دنیا کو متنبہ کریں گے ہم زمین پر اتریں گے میں ہی کامل سچا خدا ہوں۔"
(سراج منیر ص ٨٢، خزائن ج ١٢ ص ٨٤، ٨٣)
بہت خوب مرزائے قادیانی کی ترقی حیرت انگیز طریقہ سے تمام انبیائے کرام کی فضیلت کے بعد خدائی صفات میں بڑی صفائی سے دخیل ہوگئی اور چونکہ یہ رشتہ محبت ساجھی گیر کے مراتب سے بلند تر واقع ہو گیا۔ اس لئے زمین و آسمان میں نصف نصف کی شراکت ہوئی اور آخر اللہ میاں، مرزا قادیانی کے حق میں دست بردار ہوگئے اور زمین پر اتر آئے اور مرزا قادیانی سے یہ کہلوا ہی دیا کہ اب آسمان و زمین بلا شرکت غیرے میری واحد ملکیت ہے۔ مرزائیو مبارک ہو۔
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٦، ١٧، خزائن ج ١٧ ص ٦٢) پر ارشاد ہوتا ہے کہ:
"میں نے ارادہ کیا کہ زمین پر اپنا جانشین پیدا کروں۔ سو میں نے اس آدم کو پیدا کیا یہ (مرزا) شریعت کو قائم کرے گا اور دین کو زندہ کرے گا۔ یہ خدا کا رسول ہے۔ نبیوں کے لباس میں دنیا اور آخرت میں مرتبے والا اور خدا کے مقربوں میں ہے۔ میں ایک پوشیدہ خزانہ تھا۔ پس میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں اے مرزا خدا تیری عرش پر حمد کرتا ہے اور عرش پر تیری تعریف کرتا ہے۔"
دیکھ کر آیا ہوں بندے کا خدا ہو جانا
مرزائیو! سن رہے ہو اب تو مرزا قادیانی کا خدا بھی ریٹائر ہو چکا اور تمہارے سجدوں اور عبادتوں کے لئے اپنا جانشین یا ولی عہد بھی قائم کر چکا۔ جو خدائی فوجدار کی حیثیت سے جدید قوانین نافذ کرے گا اور دین کو زندہ کرے گا۔ یہ کوئی ایسا ویسا رسول نہیں بلکہ دنیا تو کیا آخرت میں بھی
تمہارے یہی کام آئے گا اور اس کا احسان خدا کی ذات پر بھی ہے۔ کیونکہ وہ چھپا خزانہ تھا جو مرزا کی آمد کی وجہ سے پہچانا گیا۔ اسی لئے وہ عرش پر اس کی حمد بیان کرتا ہے اور اس کی تعریف میں رطب اللسان ہے۔ اس لئے تم بھی اسی کی عبادت کرو۔
حضور ختمی مآب ﷺ نے تیسری دلیل مسیح موعود کے لئے ایسی فیصلہ کن بیان فرمائی جس میں دوست دشمن دونوں کو اتفاق ہے۔ یعنی مرزا قادیانی بھی اس کو قبول کرتے ہوئے یہی حدیث اپنی صداقت میں پیش کرتے ہیں۔ اس لئے قصہ ہی ختم ہے۔ کیونکہ مدعی اور مدعاعلیہ اس حدیث کو بالاتفاق مانتے ہیں اور اس میں چند ایک اوصاف مسیح موعود کی شناخت کے لئے درج ہیں۔ شکر ہے کہ ایک صحیح لائن پر مبحث تو قائم ہوا اب انشاء اللہ جھگڑا ہی ختم ہوا چاہتا ہے۔ فرمان رسالت پر مرزا قادیانی آنجہانی کو پورا اترنا ہے۔ اگر وہ ان صفات کے حامل ہیں تو وہی مسیح موعود اور لاریب وہ صادق نبی اللہ اور اگر یہ صفات ان میں نہ پائی جائیں تو وہ کذاب اور جھوٹوں کے بادشاہ ہیں۔
بس اک نگاہ پہ ٹھہرا ہے فیصلہ دل کا
جدھر دیکھوں نظر آئے مجھے جلوہ محمدؐ کا
توسن قلم فرمان مصطفوی کے حضور میں سجدے کرتا ہوا پیش ہوتا ہے۔ یہ وہ عالی دربار ہے جس کے سامنے جابر ومتکبر غرور ونخوت کو بھول جاتے ہیں اور سلاطین کا زہرہ آب آب ہوتا ہے۔ فلاسفران عالم کاسۂ گدائی لئے اسی کوچہ میں پھرتے نظر آتے ہیں اور نقطہ وران جہاں کی عقدہ کشائی یہاں ہی ہوتی ہے۔ شہ زور یہاں کمزور دکھائی دیتے ہیں اور کمزور جس کی زبان طاقتور کے سامنے التجا کرتے کرتے تھک جاتی تھی۔ یہاں شہ زور ہیں۔
آقا تیرے جمال جہاں آرا سے شمس وقمر مستنیر ہوئے اور ستاروں نے ضیا پائی مولا تیرے فروغ حسن سے حیات عالم کو بقا ملی اور حوروں نے پاکیزگی سیکھی داتا تیرا فیض عام زمانہ بھر کے لئے جاری وساری ہے اور تیری نگاہ لطف کاسر مصائب اور غیرت ابر نوبہار ہے۔
اے راز نہانی اور اسرار یزدانی کے جاننے والے معلم۔ اے فصاحت و بلاغت اور علم و عرفان کے سلطان۔ اے حکمت و دانائی کے بادشاہ، اے عدل و انصاف کے والی اے اخوت و محبت کے قاسم، پیکر کرم و بخشش کی تصویر اور عفت و پاکیزگی کے چشمہ اے رحمت و فضل کے پیکر تجھ سے تیری محبوب امت اپنی درماندگی اور بے چارگی کا دکھڑا سناتی ہے اور لا تقنطوا من رحمۃ اللہ کا سہارا لئے تیرے اعجاز روحانی کی طالب ہے۔ مولا کفر کی تیرہ و تار آندھی تیرے سمندر پار
دور افتادہ امت پر محیط ہے۔ آقا مسیلمہ کذاب کا بروز تیری غریب امت پر ارتداد کی ناپاک فضا مسلط کر رہا ہے۔ ایمان صدیق دے غیرت عمرؓ عطاء کر حیاء عثمانؓ دے اور قوت حیدرؓ عنایت کر تا کہ تیرا غریب و بے کس ناتواں و کمزور خالد کے نام کی برکت سے کفر کا تختہ الٹ دے اور قلمی جہاد سے ارتداد کی مہیب فضا کو بہار محمدی میں بدل دے۔
تیرے کرم سے مل گیا ان کو شکوہ قیصری
کفر لرز لرز گیا شرک کی ظلمتیں مٹیں
تیرے در اقدس سے ساری کثافتیں مٹیں
شرق میں تجھ سے زندگی غرب ہے تجھ سے فیضیاب
تیری نوازشوں سے ہے ہر دو جہاں کو انتساب
بخش دے تاب زندگی پھر وہی سوز و ساز دے
میری فسردہ آرزو رحمتوں سے نواز دے
میرا سلام ہو قبول مظہر تجلیات
تجھ پر درود کائنات تجھ پر سلام شش جہات
تیسرا فرمان رسالت۔ ”قال رسول اللہ ﷺ ینزل عیسیٰ ابن مریم الی الارض فیتزوج ویولد لہ ویمکث خمساً واربعین سنۃ ثم یموت فیدفن معی فی قبری فاقوم انا وعیسیٰ ابن مریم فی قبر واحد بین ابی بکر وعمر (مشکوٰۃ ص ٤٨٠، باب نزول عیسیٰ) ”رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ عیسیٰ ابن مریم زمین پر اتریں گے پھر نکاح کریں گے اور ان کے ہاں اولاد پیدا ہوگی اور پینتالیس سال زمین پر رہیں گے۔ پھر فوت ہوکر میرے مقبرہ میں میرے ساتھ دفن ہوں گے۔ پھر میں اور عیسیٰ ایک ہی مقبرہ سے قیامت کو اٹھیں گے۔ ابوبکرؓ و عمرؓ کے درمیان۔“
چنانچہ جن لوگوں کو حج کی سعادت نصیب ہوئی اور سرکار مدینہ کے دربار والا تبار کی زیارت سے مشرف ہوئے وہ اس حدیث کے عینی شاہد ہیں کہ روضۂ اطہر میں تین قبریں سبز گنبد کے اندر موجود ہیں اور ایک قبر کی خالی جگہ عیسیٰ ابن مریم کے لئے ابھی تک موجود ہے۔ جس میں مسیح ابن مریم علیہ السلام فرمان رسالت کے مطابق انشاء اللہ دفن کئے جائیں گے۔
چنانچہ اس حدیث کو مرزا قادیانی آنجہانی ایک عجیب انداز سے اپنی سچائی میں پیش کرتے ہیں۔ مشہور رسوائے عالم آسمانی نکاح (محمدی بیگم) کے ضمن میں (تتمہ حقیقت الوحی ص١٣٢ خزائن ج٢٢ ص ٥٧٠) پر فرماتے ہیں کہ:
”یہ امر کہ الہام میں یہ بھی تھا کہ اس عورت کا نکاح آسمان پر میرے ساتھ پڑھا گیا درست ہے۔“
اس حدیث کو آپ نے (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣ ، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧) کے حاشیہ میں یوں بیان فرمایا۔
محمدی بیگم کے آسمانی نکاح کی تصدیق سرکار مدینہ سے
”اس پیش گوئی کی تصدیق کے لئے جناب رسول اللہ ﷺ نے بھی پہلے سے ایک پیش گوئی فرمائی ہے۔ 'یتزوج ویولد لہ' یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور صاحب اولاد ہوگا۔ تزوج اور اولاد کا ذکر عام طور پر مقصود نہیں۔ کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ اس میں کچھ خوبی نہیں۔ مگر تزوج سے مراد خاص تزوج ہے۔ (محمدی بیگم) جو بطور نشان ہوگا اور اولاد سے مراد خاص اولاد ہے۔ جس کی نسبت اس عاجز کی پیش گوئی موجود ہے۔ گویا اس میں رسول اللہ ﷺ ان سیہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔“
محمدی بیگم کے نکاح کی تصدیق سرکاری عدالت میں
ضلع گورداسپور کی عدالت میں مرزا قادیانی کا اپنے چچا زاد بھائیوں سے ایک دیوار کے متعلق مقدمہ تھا۔ جس میں انہوں نے مرزا قادیانی پر چند سوال کئے جن کے جواب میں مرزا قادیانی نے حلفیہ بیان دیا فرماتے ہیں کہ:
”احمد بیگ کی دختر محمدی بیگم کی نسبت جو پیش گوئی ہے وہ اشتہار میں درج ہے اور ایک مشہور امر ہے وہ مرزا امام الدین کی ہمشیرہ زادی ہے۔ جو خط بنام مرزا احمد بیگ کلمہ فضل رحمانی میں ہے۔ وہ میرا ہے اور سچ ہے وہ عورت میرے ساتھ بیاہی نہیں گئی۔ مگر میرے ساتھ اس کا بیاہ ضرور ہوگا۔ جیسا کہ پیش گوئی میں درج ہے وہ سلطان محمد سے بیاہی گئی۔ جیسا کہ پیش گوئی میں تھا۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس عدالت میں جہاں ان باتوں پر جو میری طرف سے نہیں ہیں بلکہ خدا کی طرف سے ہیں۔ ہنسی کی گئی ہے۔ ایک وقت آتا ہے کہ عجب اثر پڑے گا اور سب کے ندامت سے سر نیچے ہوں گے۔ پیش گوئی کے الفاظ سے صاف معلوم ہوتا ہے اور یہی پیش گوئی تھی کہ وہ اس کے
ساتھ ضرور بیاہی جائے گی اور اس لڑکی کے باپ کے مرنے اور خاوند کے مرنے کی پیشین گوئی شرطی تھی اور شرط توبہ اور رجوع الی اللہ کی تھی۔ لڑکی کے باپ نے توبہ نہ کی اس لئے وہ بیاہ کے بعد چھ مہینوں کے اندر مر گیا اور پیش گوئی کی دوسری جزو پوری ہو گئی۔ اس کا خوف اس کے خاندان پر پڑا اور خصوصاً شوہر پر پڑا جو پیش گوئی کا ایک جزو تھا۔ انہوں نے توبہ کی چنانچہ اس کے رشتہ داروں اور عزیزوں کے خط بھی آئے اس لئے خدا تعالیٰ نے اس کو مہلت دی۔ عورت اب تک زندہ ہے۔ میرے نکاح میں وہ عورت ضرور آئے گی۔ امید کیسی یقین کامل ہے خدا کی باتیں ہیں ٹلتی نہیں ہو کر رہیں گی۔“
(اخبار الحکم ١٠ اگست ١٩٠١ء ص ١٤ کالم نمبر ٤)
سچ ہے رقابت جلا کر سرمہ کر دیتی ہے اور پھر ایسا خوفناک وغیور رقیب جو منکوحہ آسمانی کو بھی غصب کرے اور تحدی کی پیش گوئی کا تمسخر اڑائے اور طرفہ یہ کہ چھاتی پر بیٹھ کر مونگ دلے اور الہامات کی قدر گوز شتر سے زیادہ نہ سمجھے اور موت کی پیش خبری پر قہقہ لگائے اور سخت جان ایسا کہ فرانس کی جان گداز جنگ میں سر میں گولی کھائے اور فضل ایزدی سے سلامت رہے اور مشیت ایزدی سے ایسا نڈر ہو کر مرزا کے الہاموں کی دھجیاں فضائے آسمانی میں اڑانے کے لئے فروری ١٩٣٥ء تک زندہ و سلامت ہو۔ حالانکہ بقول پیش گوئی اس کو ٢١ اگست ١٨٩٢ء کے بعد دنیا میں سانس لینے اور زندہ رہنے کا کوئی حق حاصل نہ ہو اور راسخ ایمان ایسا کہ کوہ پیکر کی طرح عقیدہ سلف پر قائم ہو، اور یہ جو مرزا قادیانی نے اپنے بیان میں بے پر کی اڑائی ہے کہ وہ تائب ہوا اور اس کے عزیز اقارب نے معذرت نامے بھیجے۔ یہ گپ محض ہے اور اس کی اصلیت وحقیقت کا پتہ مرزا آنجہانی کے اس دکھڑا رونے سے معلوم ہوتا ہے جو آپ نے ناکامی و نامرادی کے وقت عین یاس کی حالت میں بھرے دل اور اجڑتی امیدوں کے وقت رویا تھا۔ چنانچہ آپ کے وہ الفاظ حسب ذیل ہیں۔ (اشتہار انعامی چار ہزار ص ٢ حاشیہ، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٩٥) پر فرماتے ہیں کہ:
”احمد بیگ کے داماد (مرزا سلطان محمد) کا یہ قصور تھا کہ اس نے تخویف کا اشتہار دیکھ کر اس کی ذرہ پرواہ نہ کی۔ خط پر خط بھیجے گئے۔ ان سے کچھ نہ ڈرا پیغام بھیج کر سمجھایا گیا کسی نے اس کی طرف ذرہ التفات نہ کی۔“
اتمام حجت کے لئے ہم امت مرزائیہ کو ڈنکے کی چوٹ چیلنج دیتے ہیں کہ وہ معذرت نامے اور توبہ کے خطوط مرزا آنجہانی نے جو رائی کا پہاڑ بنا کر دکھلانے کے عادی تھے کیوں نہ شائع کئے اور اگر تب نہیں تو اب ہی کوئی مسیح کا لال پیش کرے۔ مگر بقول شخصے کہ ؎
ڈرنے کی بھی خوب کہی ۔
وہ ڈرتا بھی تو کیا ڈرتا۔ یہی نا کہ اپنی منکوحہ بیوی چھوڑ دیتا اور توبہ تو ترک معاصی اور آئندہ محتاط رہنے کا ایک عہد ہے اور یہاں قصور تو یہی ہے کہ منکوحہ آسمانی سے کیوں نکاح ہوا اور اگر توبہ کی (بقول مرزا) تو کیا محمدی بیگم کو چھوڑ دیا گیا اور اس کا نکاح ثانی مرزا قادیانی ہوا؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ وہ محترمہ اب تک زندہ و سلامت مرزا سلطان محمد زاد عمرہ کی منکوحہ بیوی ہے۔
ذیل میں ہم ایک خط مرزا سلطان محمد صاحب بیگ رئیس پٹی رقیب مرزا کا پیش کرتے ہیں جس سے قارئین کرام پر اس کے ڈرنے کی کیفیت انشاء اللہ کھل جائے گی وہ تحریر فرماتے ہیں۔
”جناب مرزا غلام احمد قادیانی نے جو میری موت کی پیش گوئی فرمائی تھی میں نے اس میں ان کی تصدیق کبھی نہیں کی نہ میں اس پیش گوئی سے کبھی ڈرا میں ہمیشہ اور اب بھی اپنے بزرگان اسلام کا پیرو رہا ہوں ۔“ سلطان محمد بیگ ساکن پٹی ٣؍ مارچ ١٩٢٣ء
مرزا قادیانی نے جو حلفیہ بیان عدالت میں دیا کہ پیش گوئی یہی تھی کہ اس کا نکاح مرزا سلطان محمد سے ہوگا غلط ہے۔ جھوٹ ہے دجل ہے اور اس میں شبہ بھر بھی صداقت نہیں۔ کیونکہ اگر پیش گوئی کا اصلی مفہوم اور مغز یہی تھا تو مرزا قادیانی کا اس مبارک تقریب کو اپنے ہاتھوں سے سرانجام دینا فرض تھا۔ کیونکہ ان کی پیش گوئی کی یہ ایک شق پوری ہو رہی تھی اور آپ کے لئے یہ ایک خوشی کا موقعہ تھا نہ کہ حسد و بغض کا مقام آپ نے بلکہ آپ کے سارے کے سارے اینڈ کو نے انتہائی کوشش کی اور ایڑی چوٹی تک کا زور لگانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔ لالچ دیا۔ ہزاروں کی زمین ہبہ کرنے کو تیار ہوئے۔ انتہائی ذلالت اور چاپلوسی سے خط لکھے۔ قاصد و نامہ بر بھیجے اور آخر موت کی دھمکیاں بھی دیں اور اہل قلم کے آوازے جو اس کی تگ و دو میں آپ پر کسے گئے تھے سنے اور مجبوراً خون کا گھونٹ پی کر خاموش رہ گئے۔ چنانچہ اس کی تصدیق سے پتہ چلتا ہے جس سے یہ صاف معلوم ہوتا ہے پیش گوئی میں یہ نہ تھا کہ وہ پہلے مرزا سلطان محمد بیگ سے بیاہی جائے گی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے یہ بات نکاح کے بعد بنائی گئی اور ایک اور اہم بات ایسی ہے جو ہمارے بیان کی ایسی مؤید ہے۔ جیسے سورج کا نصف النہار پر ہونا وہ یہ ہے کہ اگر پیش گوئی میں یہ الفاظ ہوتے کہ وہ پہلے مرزا سلطان محمد صاحب سے بیاہی جائے گی تو آپ اپنی بے گناہ بہو کو طلاق نہ دلواتے اور اپنے حقیقی بیٹے فضل احمد کو بے گناہ عاق نہ کرتے اور بیع بالوفا کی ضرورت پیش نہ آتی اور آپ نصرت جہاں بیگم زوجۂ خود کے مقروض نہ ہوتے ۔ یہ سب باتیں اور واقعات روز
روشن کی طرح پکار پکار کر بتا رہے ہیں کہ آپ کا حلفیہ بیان غلط ہے۔
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
عجب ثم العجب! ناکامی محبت نے وہ ستم ڈھایا کہ بنا بنایا گھر برباد کر دیا اور قصر نبوت کی بنیادیں ہلا دیں۔ افسوس ایک محمدی کی کنارہ کشی نے قیامت صغریٰ بپا کی۔ مرزا قادیانی آنجہانی کا توازن دماغ ایسا درہم برہم ہوا اور غم نے صبر کو ایسا تاراج کیا کہ گویا حواس خمسہ میں فرق آ گیا تو قدرت نے وہ وہ کام آپ سے کروائے جن کی نظیر ڈھونڈنے سے انبیاء عظام کی زندگی میں نہ ملے گی اور جو اس معصوم مشن کے سراسر منافی ہے۔ اللہ اللہ قاطع رحم اور نبوت کا علمبردار، معاذ اللہ سنت اللہ کا دشمن اور پیامبری کا دعویدار، عیاذ باللہ یوں بدحواسی اور مرسلین من اللہ کا ٹھیکیدار اور طرفہ یہ کہ بلا قصور و بے گناہ حقیقی بیٹے اور پاکدامن بہو اور رفیقہ حیات۔ صرف اس گناہ کے بدلے جو ایک معمولی لغزش سے زیادہ وقعت نہیں رکھتی کہ ان کے عزیز واقارب نے زبردستی وسینہ زوری سے محمدی کا نکاح مرزا قادیانی کیوں نہیں کیا۔ بیٹوں کو عاق اور بہو اور بیوی کو طلاق ۔ گویا بنا بنایا گھر برباد کر دیا ۔ بستی امید اجڑی اور رونق و چہل پہل کی جگہ الو بول گیا ۔
مگر حیرانگی ہے کہ مرزا قادیانی نے ایسا کیوں کیا۔ کیا وہ اور کوئی احسن طریقہ اختیار نہ کر سکتے تھے ۔ آخر اس ناقابل عفو جرم میں اور کوئی سزا نہ دی جا سکتی تھی۔ حیرت ہے آپ کے اس فعل پر، حیرانگی ہے آپ کے اس عمل پر، آپ نے یہ کیا کیا اور کیوں کیا۔ مرزا بشیر احمد مرزا کے منجھلے صاحب زادہ ہیں اس کی وجہ سے یہ بتلاتے ہیں کہ ان کے عزیز واقارب دیندار نہ تھے اور اگر یہ بیان صحیح ہے اور یہی وجہ ہے تو بے دینوں کی لڑکی لینے کے لئے اتنی کوشش کیوں کی گئی اور اگر وہ بے دین ہی تھے تو مرزا قادیانی کی بیوی کا کیا قصور تھا۔ اس کے رشتہ دار بے دین ہوا کریں مگر وہ تو نہ تھی اور اگر وہ بھی ایسی ہی تھیں تو کیا مرزا قادیانی کو ایک کافی عمر بسر کرنے کے بعد جب کہ وہ ڈپٹی سلطان محمد ومرزا فضل احمد تیس چالیس برس کے بچوں کی ماں بن چکی تھی۔ پتہ چلا کہ یہ بے دین ہے اس سے کنارہ کشی کرنی چاہئے ۔ عجب مضحکہ خیز بات ہے اور کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسا کیوں ہوا۔ یہ تو جو ہوا اچھا ہوا یا برا ہوا یہاں تک ہی بس نہیں ۔ شومی قسمت مصیبت آتی ہے تو چہار طرف سے آتی ہے اور پتہ پتہ دشمن ہی دشمن نظر آتا ہے۔ مرزا قادیانی کا حقیقی چھوٹا بیٹا بد نصیب فضل احمد بیمار ہوا ۔ بیوی کو حسب خواہش مرزا قادیانی طلاق دے چکا تھا۔ مگر حالت یہ تھی کہ اس کارکردگی سے مرزا قادیانی کی محمدی کے انتقام کی آگ نہ بجھی لہٰذا وہ عاق کر دیا گیا ۔ امیروں کا بیٹا مفلسی کا مہمان
بنا اسی صدمے سے صاحب فراش ہوا اور زندگی کے آخری لمحوں پر نوبت پہنچی۔ مگر افسوس نہ دوا دینے والا پاس ہے نہ دعاء کرنے والا قریب کس مپرسی کا عالم اور بے قراری کی گھڑیاں نہ لیٹے چین اور نہ بیٹھے آرام غرضیکہ انہیں مصائب میں اس کی حالت ایسی ناگفتہ بہ ہوئی۔ جس پر اہل محلہ کے شریف لوگ متاثر ہونے سے نہ رہ سکے۔ مرزا آنجہانی کی خدمت میں ایک وفد کی صورت میں یہ لوگ پہنچے اور عرض کیا کہ آپ کا بیٹا جواں مرگ دنیا سے اٹھ رہا ہے۔ چند ساعتوں کا مہمان ہے اس کی خبر گیری آپ پر فرض ہے۔ جواب ملا نالائق ہے، مرتا ہے تو مرنے دو۔ صلہ رحمی ملاحظہ فرمائیے؟ وفد واپس آیا تو غریب کی روح پرواز کر چکی تھی۔ مرزا قادیانی کو اپنے حقیقی لخت جگر کی بے وقت موت پر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی صدمہ نہ ہوا نہ ہی آپ نے تجہیز و تکفین میں حصہ لیا اور نہ ہی نماز جنازہ پڑھائی۔ بیچارا مسافروں کی طرح چند در دول اور خوف خدا رکھنے والوں کی مہربانی سے لحد میں آرام کی ابدی نیند سویا مرزا قادیانی کا خون معلوم نہیں ہوتا کہ اس قدر کیوں سفید ہوا۔ شاید یہ بھی پنجابی نبوت کی کوئی نشانی ہوگی۔ چنانچہ اس کے متعلق حدیث مرزا جو ثقہ کے راویوں سے مروی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں!
عن محمود قال قال مرزا آنجہانی ! ”آپ کا ایک بیٹا فوت ہو گیا جو آپ کی زبانی طور پر تصدیق کرتا تھا۔ جب وہ مرا تو مجھے یاد ہے تو آپ (مرزا قادیانی ) ٹہلتے جاتے اور فرماتے کہ اس نے کبھی شرارت نہیں کی تھی۔ بلکہ میرا فرمانبردار ہی رہا۔ ایک دفعہ میں بیمار ہوا اور شدت مرض میں مجھے غش آ گیا۔ جب مجھے ہوش آیا تو میں نے دیکھا کہ میرے پاس کھڑا نہایت درد سے رو رہا ہے اور یہ بھی فرماتے کہ یہ میری بڑی عزت کیا کرتا تھا۔ لیکن آپ نے اس کا جنازہ نہ پڑھا۔ حالانکہ وہ اتنا فرمانبردار تھا کہ بعض احمدی بھی اتنے نہ ہوں گے۔ محمدی بیگم کے متعلق جب جھگڑا ہوا تو اس کی بیوی اور اس کے رشتہ دار بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔ حضرت صاحب نے ان کو فرمایا کہ تم اپنی بیوی کو طلاق دے دو۔ اس نے طلاق لکھ کر حضرت صاحب کو بھیج دی کہ آپ کی جس طرح مرضی ہے اسی طرح کریں۔ باوجود اس کے جب وہ مرا تو آپ نے اس کا جنازہ نہ پڑھا۔“
انوار خلافت ص ٩١، مصنفہ بشیر الدین محمود
حدیث مرزا
”بسم الله الرحمن الرحیم ! بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے حضرت مسیح موعود کی اوائل سے ہی مرزا فضل احمد کی والدہ سے جن کو عام طور پر پچھے دی ماں کہا کرتے تھے بے تعلقی سی تھی۔ ( پنجابی نبی کی شاید یہ بھی سنت ہوگی ) جس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت صاحب کے رشتہ
داروں کو دین سے سخت بے رغبتی تھی ۔ ( خود ساختہ نبوت پر ایمان نہ لاتے ہوں گے ) اور اس کا ان کی طرف میلان تھا ۔ ( یعنی میاں کی نبوت سے انکاری تھیں ) اور وہ اس رنگ میں رنگین تھیں ۔ ( عجب مضحکہ خیزی ہے کہ گھر کے لوگ بھی صحبت رسالت سے فیضیاب نہ ہو سکے ) اس لئے مسیح موعود نے ان سے مباشرت ترک کر دی تھی ۔ ( اچھی سزادی ) ہاں آپ اخراجات باقاعدہ دیا کرتے تھے ۔ ( وہ بھی شاید پندرہ روپیہ تنخواہ میں سے ) والدہ صاحبہ نے فرمایا ( حرم ثانی ) کہ میری شادی کے بعد انہیں کہلا بھیجا کہ آج تک تو جس طرح ہوتا رہا سو ہوتا رہا ۔ اب میں نے دوسری شادی کر لی ہے اس لئے میں اب دونوں بیویوں میں برابری نہیں رکھوں گا تو گنہگار ہوں گا ۔ اس میں اب دو باتیں ہیں یا تو تم مجھ سے طلاق لے لو ۔ ( کس قصور کے بدلے ) یا مجھے اپنے حقوق چھوڑ دو ۔ ( آپ کی امارت ) میں تمہیں خرچ دیئے جاؤں گا ۔ انہوں نے کہلا بھیجا میں اپنے باقی حقوق چھوڑتی ہوں ۔ ( بیچاری کی شرافت دیکھو ) والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ پھر ایسا ہی ہوتا رہا حتیٰ کہ پھر محمدی بیگم کا سوال اٹھا اور آپ کے رشتہ داروں نے مخالفت کر کے محمدی بیگم کا نکاح دوسری جگہ کرا دیا اور فضل احمد کی والدہ نے ان سے قطع نہ کیا ۔ بلکہ ان کے ساتھ رہی ۔ ( بیچاری اپنی عافیت سے خوب واقف تھی ) تب حضرت نے اس کو طلاق دے دی ۔ خاکسار عرض کرتا ہے ( اب بیٹے کی بھی سنئے ) کہ حضرت صاحب کا یہ طلاق دینا آپ کے اس اشتہار کے مطابق تھا ...... جو آپ نے ٢ مئی ١٨٨١ء کو شائع کیا اور جس کی سرخی تھی ۔ ”اشتہار نصرت دین و قطع تعلق از اقارب مخالف دین“ ( حضرت پتہ چل جائے گا کہ سرخی تھی یا سپیدی ) اس میں آپ نے بیان فرمایا تھا کہ اگر مرزا سلطان احمد اور ان کی والدہ اس امر میں ( محمدی بیگم کے نکاح میں ) مخالفانہ کوششوں سے الگ نہ ہوئے ( مرزا قادیانی کا پہلوٹھی کا بیٹا جو ڈپٹی سلطان احمد کے نام سے مشہور ہے اور جو باپ کا سخت مخالف رہا ) تو پھر آپ کی طرف سے مرزا سلطان احمد عاق اور محروم الارث ہوں گے اور اس کی والدہ کو آپ کی طرف سے طلاق ہوگی ۔ ( یہی وجہ تھی جو آپ نے بیع بالوفا کی ) والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ فضل احمد نے اس وقت اپنے آپ کو عاق ہونے سے بچا لیا ( جانتا کہاں تھا آخر وہ بھی نبی تھے کوئی ان سے بھاگ تھوڑا سکتا تھا ) مگر بالآخر وہ بھی عاق کر دیا گیا تھا ۔“
(سیرت المہدی ص ٣٣، ٣٤، روایت نمبر ٤١، مصنفہ مرزا بشیر احمد پسر دوئم)
قارئین کرام ! ایک محمدی بیگم کے نکاح میں نہ آنے سے بنا بنایا کھیل ہی بگاڑ دیا یا یوں سمجھے کہ نبوت کی لٹیا ہی ڈبو دی ۔ وہ حقیقی لائق اور برسر روزگار بیٹے اور عابدہ بیوی اور عفت مآب بہو طلاق اور عاق کے شکار بنائے گئے ۔ مگر آپ آج صدہا ملمع سازیاں اور رنگینیاں واقعات کے
چہرے کو نقاب پوش بنانے کے باوجود بھی ؎
کہ خوشبو آ نہیں سکتی کبھی کاغذ کے پھولوں سے
آہ! یہ واقعات ہیں جن پر پنجابی نبوت کا انحصار ہے اور جس کے لئے دعوت بزور گھونسہ دی جا رہی ہے اور نہ ماننے والوں کو خنزیر اور کتیا کا خطاب مل رہا ہے اور حرام کار عورتوں کی اولاد ٹھہرایا جا رہا ہے۔ حالانکہ فخر رسل کی تعلیم اس کے از حد منافی ہے اور حدیث شریف میں آیا ہے کہ لعنت اور گالی کا مصداق وہ نہ ہو جس کو دی گئی ہے تو یہ الٹ کر گالی دینے والے پر پڑتی ہے۔ اس لئے ہمیں صبر اور خاموشی سے کام لینا چاہئے۔
قارئین کرام کی دلچسپی کے لئے اور امت مرزائیہ کی کور باطنی پر ایک ایسا لطیف سرمہ جو فخر موجودات سرکار مدینہ کی زبان فیض ترجمان کا بتایا ہوا ہے پیش کرتے ہیں اور بخدا یہ خواہش رکھتے ہیں کہ کوئی امت خیر الانام کا بھولا ہوا انسان مرزائی چنگل سے نکل کر آہنی زنجیروں کو توڑتا ہوا سرکار دوعالم کی غلامی اختیار کرے۔
"عن انسؓ قال قال رسول الله ﷺ من أحب ان يبسط له في رزقه وينسا له في اثره فليصل رحمه (مشكوة ص٤١٩، باب البر والصلة)" انسؓ سے روایت ہے اس نے کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص چاہے کہ اس کے رزق میں کشادگی ہو اور اس کی عمر دراز ہو تو صلہ رحمی کرے۔
"عن جبير بن مطعمؓ قال قال رسول الله ﷺ لا يدخل الجنة قاطع (مشكوة ص٤١٩، باب البر والصلة)" جبیر بن مطعمؓ سے روایت ہے اس نے کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قطع رحم کرنے والا بہشت میں داخل نہیں ہوگا۔
فرمان رسالت کے مطابق مرزا قادیانی آنجہانی باغ جناں میں نہ جاسکیں گے۔ شاید اسی لئے بہشتی مقبرہ میں اس حسرت کو مٹا رہے ہیں۔ مگر یہ اچھا بہشت ہے کہ آپ کی قبر پر ایک پتہ کا سایہ نہیں اور تمازت آفتاب بہشتی مقبرہ کو تانبہ کی طرح سرخ بنا رہی ہے۔ اگر اسی کا نام بہشت ہے تو اس سے یارب دوزخ اچھی۔
ناظرین!! اگر آپ اس پیش گوئی کے اسرار و حقائق سے بہرہ اندوز ہونا چاہتے ہوں تو ہماری تصنیف موسومہ "نوشتہ غیب" ملاحظہ فرماویں۔ جس میں تقریباً ١٥٠ صفحات اسی ایک پیش گوئی
کے لئے وقف کئے گئے۔ (احتساب قادیانیت میں وہ بھی شامل ہے۔ مرتب!)
بہر حال ہم قارئین کرام کی دلچسپی کے لئے صرف ایک اور حوالے پر جو مندرجہ بالا واقعات کی تائید کرتا ہے اکتفا کرتے ہوئے اس قصہ کو ختم کرتے ہیں۔ کیونکہ ہمارا مضمون مسیح موعود کی شناخت کے دلائل سے ہے اور یہ جملہ معترضہ برسبیل تذکرہ آ گیا تھا:۔ جس کا جواب دینا ہم نے مناسب خیال کیا۔ ابھی حلفیہ بیان میں ایک جھوٹ باقی ہے۔ وہ بھی لگے ہاتھ مختصر عرض کئے ہی دیتا ہوں اس حوالے کے بعد وہی شروع ہوگا۔ ناظرین غور سے پڑھیں اور انصاف فرمائیں۔
مرزا قادیانی اپنی مایہ ناز کتاب (حقیقت الوحی ص ١٩١، خزائن ج ٢٢ ص ١٩٨) پر فرماتے ہیں کہ: ”یہ کہنا کہ پیش گوئی کے بعد احمد بیگ (خسر آسمانی) کی لڑکی کے نکاح کے لئے کوشش کی گئی۔ طمع دی گئی اور خط لکھے گئے۔ یہ عجیب اعتراض ہے۔ سچ ہے انسان شدت تعصب کی وجہ سے اندھا ہو جاتا ہے۔ کوئی مولوی اس بات سے بے خبر نہ ہوگا کہ اگر وحی کوئی بات بطور پیش گوئی ظاہر فرمادے اور ممکن ہو کہ انسان بغیر کسی فتنہ کے اور جائز طریق سے اس کو پورا کر سکے تو اپنے ہاتھ سے اس پیش گوئی کو پورا کرنا نہ صرف جائز بلکہ مسنون ہے۔“
مگر افسوس آسمانی منکوحہ کی آرزو دل کی دل میں ہی رہی اور الہاموں کی وہ مٹی پلید ہوئی کہ الامان، مگر سب سے زیادہ خرابی جو آج تک امت مرزائیہ کی رسوائی کا باعث ہے وہ مرزا قادیانی کا اپنا تسلیم کردہ معیار ہے۔ جو جائے رفتن نہ پائے ماندن کے مصداق شرم و ضلالت رسوائی و روسیاہی میں منکوحہ آسمانی کا نام آتے ہی ڈبو دیتا ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کے وہ الفاظ ہی کچھ ایسے دلپذیر ہیں جن پر ندامت و شرمساری عاشق ہے۔ اپنے رقیب کے متعلق (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٨) پر فرماتے ہیں کہ:
”یاد رکھو کہ اس پیش گوئی کی دوسری جزو پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ اے احمقو یہ انسان کا افتراء نہیں نہ یہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار ہے۔ یقیناً سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں ۔“
پھر اس کی تائید میں (انجام آتھم ص ٣١، خزائن ج ١١ ص ایضاً حاشیہ) پر فرماتے ہیں کہ: ”میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیش گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے۔ (قطعی) اس کی انتظار کرو اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہ ہوگی اور میری موت آجائے گی۔ اگر میں سچا ہوں تو خدا تعالیٰ اس کو ضرور پورا کرے گا۔“
مگر افسوس کیا ہوا کہ مرزا قادیانی ١٩٠٨ء میں ہی لڑھک گئے اور اپنی بطالت پر آپ
شاہد ہوئے اور رقیب اب تک فضل ایزدی سے سلامت ہے۔
زلیخا نے کیا خود چاک دامن ماہ کنعاں کا
اور منکوحہ آسمانی کے متعلق (انجام آتھم ص٢٢٣، خزائن ج١١ ص٢٢٣) پر فرماتے ہیں کہ: ”میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ یہ کام نکاح کا ختم ہو گیا۔ بلکہ یہ کام ابھی باقی ہے۔ اس کو کوئی بھی کسی حیلہ سے رد نہیں کر سکتا اور یہ تقدیر مبرم ہے۔ (یقینی و قطعی ہے) اس کا وقت آئے گا خدا کی قسم جس نے حضرت محمدﷺ کو بھیجا ہے یہ بالکل سچ ہے۔ تم دیکھ لوگے اور میں اس خبر کو اپنے سچ یا جھوٹ کا معیار بناتا ہوں اور میں نے جو کہا ہے یہ خدا سے خبر پا کر کہا ہے۔“
اور پھر اس کی تائید میں (اشتہار انعامی چار ہزار روپیہ، مجموعہ اشتہارات ج٢ ص١١٥، ١١٦) میں فرماتے ہیں کہ: ”میں بالآخر دعا کرتا ہوں کہ اے خدائے قادر علیم اگر آتھم کا عذاب مہلک میں گرفتار ہونا اور احمد بیگ کی دختر کلاں کا اس عاجز کے نکاح میں آنا تیری طرف سے نہیں ہیں تو مجھے نامرادی اور ذلت کے ساتھ ہلاک کر۔“
چنانچہ حضرت مرزا قادیانی ذلت و نامرادی کے ساتھ چل بسے اور اپنی بطالت پر آپ شاہد ہوئے۔ مگر بے شرمی کی بھی کوئی حد ہے۔ جو امت مرزائیہ اب تک ناکام بودی تاویلوں سے دوچار ہے اور شرم سے پیشانی عرق ریز ہے۔
الہام مرزا ”یتزوج ویولد لہ“
یہ وہ پیارے الفاظ ہیں جو مرزا قادیانی کو بہت ہی محبوب تھے۔ تزوج کی تفسیر اختصاراً قارئین کرام کے پیش ہوئی۔ اب یولد لہ کی تفسیر ملاحظہ فرماویں۔ اپنی مایہ ناز کتاب (ازالہ اوہام ص١٥٥، ١٥٦، خزائن ج٣ ص١٧٩، ١٨٠) پر فرماتے ہیں کہ: ”بالآخر ہم یہ بھی ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ ہمیں اس سے انکار نہیں کہ ہمارے بعد کوئی اور بھی مسیح کا مثیل بن کر آوے۔ کیونکہ نبیوں کے مثیل ہمیشہ دنیا میں ہوتے رہتے ہیں۔ بلکہ خدا تعالیٰ نے ایک قطعی اور یقینی پیش گوئی میں ظاہر کر رکھا ہے کہ میرے ذریت سے ایک شخص پیدا ہوگا۔ جس کو کئی باتوں میں مسیح سے مشابہت ہوگی۔ وہ آسمان سے اترے گا اور زمین والوں کی راہ
سیدھی کرے گا اور اسیروں کو رستگاری بخشے گا اور ان کو جو شبہات کے زنجیروں میں مقید ہیں رہائی دے گا۔ ”فرزند دلبند گرامی و ارجمند مظهر الحق والعلاء كان الله نزل من السماء “لیکن یہ عاجز ایک خاص پیش گوئی کے مطابق جو خدا تعالیٰ کی مقدس کتابوں میں پائی جاتی ہے مسیح موعود کے نام پر آیا ہے۔“
پیش گوئی! باالہام اللہ تعالیٰ واعلیٰ عزوجل خدائے رحیم و کریم بزرگ و برتر نے جو ہر چیز پر قادر ہے۔ (جل شانہ وعزاسمہ ) مجھ کو اپنے الہام سے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں تمہیں ایک رحمت کا نشان دیتا ہوں۔ اس کے موافق جو تو نے مجھ سے مانگا۔ سو میں نے تیری تضرعات کو سنا اور تیری دعاؤں کو اپنی رحمت سے پایہ قبولیت جگہ دی اور تیرے سفر کو جو ہوشیار پور اور لدھیانہ کا سفر ہے تیرے لئے مبارک کر دیا۔ سو قدرت اور رحمت اور قربت کا نشان تجھے دیا جاتا ہے فضل اور احسان کا نشان تجھے عطاء ہوتا ہے اور فتح اور ظفر کی کلید تجھے ملتی ہے۔ اے مظفر تجھ پر سلام۔ خدا تعالیٰ نے یہ کہا تا کہ وہ جو زندگی کے خواہاں ہیں۔ موت کے پنجے سے نجات پاویں اور وہ جو قبروں میں دبے پڑے ہیں باہر آویں اور تادین اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہو اور تاحق اپنی تمام برکتوں کے ساتھ آجائے اور باطل اپنی تمام نحوستوں کے ساتھ بھاگ جائے اور تالوگ سمجھیں کہ میں قادر ہوں ۔ جو چاہتا ہوں سو کرتا ہوں اور تا وہ یقین لائیں کہ میں تیرے ساتھ ہوں اور تا انہیں جو خدا کے وجود پر ایمان نہیں لاتے اور خدا اور خدا کے دین اور اس کی کتاب اور اس کے پاک رسول محمد مصطفیٰ کو انکار اور تکذیب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ایک کھلی نشان ملے (سلطان القلم ) اور مجرموں کی راہ ظاہر ہو جائے سو تجھے بشارت ہو کہ ایک وجیہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا۔ ایک زکی غلام تجھے ملے گا ...... وہ لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے۔ اس کا نام عنموائیل اور بشیر بھی ہے۔ اس کو مقدس روح دی گئی ہے اور وہ رجس سے پاک ہے اور وہ نور اللہ ہے۔ مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے اور اس کے ساتھ فضل ہے جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گا۔ وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہوگا۔ وہ دنیا میں آئے گا اور اپنے مسیحی نفس اور روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔ وہ کلمتہ اللہ کیونکہ خدا کی رحمت اور غیوری نے اسے کلمہ تمجید سے بھیجا ہے۔ وہ سخت ذہین اور فہیم ہوگا اور دل کا حلیم اور علوم ظاہرہ وباطنی سے پر کیا جائے گا۔ وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا اس کے معنی سمجھ میں نہیں آئے۔ دوشنبہ ہے مبارک دوشنبہ۔ ”فرزند دلبند گرامی ارجمند مظهر الاول والآخر، مظهر الحق والعلا كان
الله نزل من السماء جس کا نزول بہت مبارک اور جلال الٰہی کے ظہور کا موجب ہوگا۔ نور آتا ہے نور جس کو خدا نے اپنی رضامندی کے عطر سے ممسوح کیا۔ ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے اور خدا کا سایہ اس کے سر پر ہوگا۔ وہ جلد جلد بڑھے گا اور اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔ تب اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اٹھایا جائے گا۔ وکان امراً مقضیاً”
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٠٠ تا ١٠٢)
الٰہی پناہ! الہام ہے یا شیطان کی آنت لکھتے لکھتے ہاتھ تھک گیا اور تعریف سنتے سنتے کان تھک گئے۔ مگر ختم ہونے کو نام ہی نہ لیتا تھا۔ مقام شکر ہے کہ مرزا قادیانی کا ہونے والا بچہ ایسا بچہ جو تمام انبیاء و اولیاء متقدمین و متاخرین کا مظہر ہے اور طرفہ یہ کہ خدا اور اس کی صفات کا مظہر ہے۔ یہاں تک ہی بس نہیں بلکہ یوں سمجھو اور حقیقتاً ایمان کی آنکھوں سے دیکھو تو خود خدا مولود موعود کے وجود میں اتر آیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام رسول اکرم ﷺ کی پیش گوئی کے مطابق آسمان سے نہیں اتر سکتے۔ کیونکہ راستہ میں کرہ زہریر اور آتشیں موجود ہے۔ مگر آسکتا ہے تو مرزا کا بیٹا اور خدا کا قربت دار بشر ہے۔ (کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے) یہ تو تسلیم ہوا کہ آسمان سے پسر مرزا اترے گا۔ شاید منارۃ المسیح اسی پسر موعود کا پیش خیمہ ہے اور نزول کا مقام امت مرزائیہ کے لئے بطور یادگار قائم کیا گیا ہے اور تعریف و توصیف کے تمام وہ الفاظ جو لغت میں موجود تھے افسانہ نویسی اور مبالغہ گوئی میں صرف ہوچکے ہیں۔ چونکہ یہ صادق نبی اللہ قادیانی کی تعلیم سے نکلے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو لفظ لفظ پر ضامن قرار دیا جاچکا ہے۔ اس لئے منتظر رہنا فرض ہے کہ کب وہ مولود موعود نازل ہو۔ ولیکن تعریفوں کے پل باندھنے میں خفیف سا سقم رہ گیا ہے وہ یہ کہ یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ دن کو اترے گا یا رات کو اور کیا آسمان پر بھی مرزا قادیانی کا کوئی حرم اور قادیانی امت کی ام المومنین رہتی ہے۔ جس کے مبارک بطن سے یہ لڑکا پیدا ہو کر نازل ہوگا اور وہ بھلا آسمان پر زچگی کے مصائب کو کس طرح سرانجام دینے میں کامیاب ہوئی۔
بہر حال کچھ بھی ہو ہمیں تو اس میں کوئی شک نہیں اور ہمارے خیال میں خصوصاً امت مرزائیہ سے کسی کو شک کرنے کا وہم و خیال نہ کرنا چاہئے۔ کیونکہ کرشن قادیانی کے قول اور وہ بھی الہامی جھوٹے تھوڑے ہی ہوتے ہیں اور پھر ایسی پیش خبری تو بہ تو بہ ہر کہ شک آرد کافر گرد!
اس لاف و گزاف کے طبع سے بعض لوگوں کو یہ خیال ہوا کہ ہو سکتا ہے کہ مرزا قادیانی کے ہاں لڑکا پیدا ہوچکا ہو اور مخفی رکھا گیا ہو۔ اس لئے مرزا قادیانی کو ضرورت محسوس ہوئی اور آپ نے اس کے جواب میں ایک اشتہار شائع کیا جو حسب ذیل ہے۔
اشتہار واجب الاظہار
بسم اللہ الرحمن الرحیم ، نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم!
چونکہ اس عاجز کے اشتہار مورخہ ٢٠؍فروری ١٨٨٦ء پر جس میں ایک پیش گوئی دربارہ تولد ایک فرزند صالح ہے جو بصفات مندرجہ اشتہار پیدا ہوگا۔ دو شخص سکنہ قادیان یعنی حافظ سلطانی کشمیری وصابر علی نے روبروئے مرزا نواب بیگ ومیاں شمس الدین ومرزا غلام علی ساکنان قادیان یہ دروغ بے فروغ برپا کیا ہے کہ ہماری دانست میں عرصہ ڈیڑھ ماہ سے صاحبِ مشتہر کے گھر میں لڑکا پیدا ہو گیا ہے۔ حالانکہ یہ قول نامبردگان کا سراسر افتراء ودروغ وبمقتضائے کینہ وحسد وعناد جبلی ہے۔ جس سے وہ نہ صرف مجھ پر بلکہ تمام مسلمانوں پر حملہ کرنا چاہتے ہیں۔ اس لئے ہم ان کے رَدّ قولِ دروغ کا واجب سمجھ کر عام اشتہار دیتے ہیں کہ ابھی تک جو ٢٢؍مارچ ١٨٨٦ء ہے۔ ہمارے گھر میں کوئی لڑکا بجز پہلے دولڑکوں کے جن کی ٢٠، ٢٢ سال سے زیادہ عمر ہے۔ پیدا نہیں ہوا لیکن ہم جانتے ہیں کہ ایسا لڑکا بموجب وعدہ الٰہی ٩ برس کے عرصہ تک ضرور پیدا ہوگا۔ خواہ جلد ہو خواہ دیر سے ہو۔ بہر حال اس عرصہ کے اندر پیدا ہو جائے گا اور یہ اتہام کہ گویا ڈیڑھ ماہ سے پیدا ہو گیا ہے۔ سراسر دروغ ہے ہم اس دروغ کے ظاہر کرنے کے لئے لکھتے ہیں کہ آج کل ہمارے گھر کے لوگ بمقام چھاؤنی انبالہ صدر بازار اپنے والدین کے پاس یعنی اپنے والد میر ناصر نواب صاحب نقشہ نویس دفتر نہر کے پاس بودوباش رکھتے ہیں اور ان کے گھر کے متصل منشی مولا بخش صاحب ملازم ڈاک ریلوے اور بابو محمد صاحب کلرک دفتر نہر رہتے ہیں۔ معترضین یا جس شخص کو شبہ ہو اس پر واجب ہے کہ اپنا شبہ رفع کرنے کے لئے وہاں چلا جاوے اور اس جگہ اردگرد سے خوب دریافت کر لے۔ اگر کرایہ آمد ورفت موجود نہ ہو ہم اس کو دے دیں گے۔ لیکن اگر اب بھی جا کر دریافت نہ کرے اور نہ دروغگوئی سے باز آوے تو بجز اس کے ہمارے اور حق پسندوں کی نظر میں لعنۃ اللہ علی الکاذبین کا لقب پاوے اور نیز زیر عتاب حضرت احکم الحاکمین کے آوے اور کیا ثمرہ اس یاوہ گوئی کا ہوگا۔ خدا تعالیٰ ایسے شخصوں کو ہدایت دیوے جو محض حسد میں آکر اسلام کی کچھ پرواہ نہیں رکھتے اور اس دروغ گوئی کے مآل کو بھی نہیں سوچتے۔ اس جگہ اس وہم کا دور کرنا بھی قرینِ مصلحت ہے۔ جو بمقام ہوشیار پور ایک آریہ صاحب نے اس پیش گوئی پر صورت اعتراض پیش کیا تھا کہ لڑکا لڑکی کے پیدا ہونے کی شناخت دائیوں کو بھی ہوتی ہے۔ یعنی دائیاں بھی معلوم کر سکتی ہیں کہ لڑکا پیدا ہو گا یا لڑکی۔ واضح رہے ایسا اعتراض کرنا معترض صاحب کی سراسر حیلہ سازی وحق پوشی ہے۔ کیونکہ اوّل تو کوئی دائی ایسا دعویٰ نہیں کر سکتی۔ بلکہ ایک حاذق طبیعت بھی ایسا
دعویٰ ہرگز نہیں کر سکتا کہ اس امر میں میری رائے قطعی اور یقینی ہے۔ جس میں تخلف کا امکان نہیں صرف ایک اٹکل ہوتی ہے کہ جو بار ہا خطا جاتی ہے۔ علاوہ اس کے یہ پیش گوئی آج کی تاریخ سے دو برس پہلے کئی آریوں اور مسلمانوں اور بعض مولویوں اور حافظوں کو بھی بتلائی گئی تھی۔ چنانچہ آریوں میں سے ایک شخص ملاوا مل نام جو سخت مخالف اور شرم پت ساکنان قادیان ہیں۔ ماسوا اس کے ایک نادان بھی سمجھ سکتا ہے کہ مفہوم پیش گوئی کو بنظر یکجائی دیکھا جائے تو ایسا بشری طاقتوں سے بالا تر ہے۔ جس کے نشان الٰہی ہونے میں کسی کو شک نہیں رہ سکتا۔ اگر شک ہو تو ایسی قسم کی پیش گوئی جو ایسے ہی نشانات پر مشتمل ہو پیش کرے۔ اس جگہ آنکھیں کھول کر دیکھ لینا چاہئے کہ یہ صرف پیش گوئی ہی نہیں بلکہ عظیم الشان نشان آسمانی ہے۔ جس کو خدائے کریم جل شانہ نے ہمارے نبی کریم رؤف الرحیم محمد مصطفےٰ ﷺ کی صداقت وعظمت ظاہر کرنے کے لئے ظاہر فرمایا ہے اور در حقیقت یہ نشان ایک مردہ کے زندہ کرنے سے صدہا درجہ اعلیٰ واکمل وافضل واتم ہے۔ کیونکہ مردہ کے زندہ کرنے کی حقیقت یہی ہے کہ جناب الٰہی میں دعاء کر کے ایک روح واپس منگایا جاوے اور ایسا مردہ زندہ کرنا حضرت مسیح اور بعض دیگر انبیاء علیہم السلام کی نسبت بائبل میں لکھا گیا ہے۔ جس کے ثبوت میں معترضین کو بہت سی کلام ہے۔ پھر باوصف ان سب عقلی ونقلی جرح قدح کے یہ بھی منقول ہے کہ ایسا مردہ صرف چند منٹ کے لئے زندہ رہتا تھا اور پھر دوبارہ اپنے عزیزوں کو دوہرے ماتم میں ڈال کر اس جہان سے رخصت ہو جاتا تھا۔ جس کے دنیا میں آنے سے نہ دنیا کو کچھ فائدہ پہنچتا تھا نہ خود اس کو آرام ملتا تھا اور نہ اس کے عزیزوں کو کوئی سچی خوشی حاصل ہوتی تھی۔ سو اگر حضرت مسیح علیہ السلام کی دعاء سے بھی کوئی روح دنیا میں آئی تو درحقیقت اس کا آنا نہ آنا برابر تھا اور بفرض محال اگر ایسی روح کئی سال جسم میں باقی بھی رہے تب بھی ایک ناقص روح کسی رذیل یا دنیا پرست کی جو احد من الناس ہے دنیا کو کیا فائدہ پہنچا سکتی تھی۔ مگر اس جگہ بفضل تعالیٰ واحسانہ وبرکت حضرت خاتم الانبیاء ﷺ خداوند کریم نے اس عاجز کی دعاء قبول کر کے ایسی بابرکت روح بھیجنے کا وعدہ فرمایا۔ جس کی ظاہری وباطنی برکتیں تمام زمین پر پھیلیں گی۔ سو اگرچہ بظاہر یہ نشان احیاء موتیٰ کے برابر معلوم ہوتا مگر غور کرنے سے معلوم ہوگا۔ یہ نشان مردوں کے زندہ کرنے سے صدہا درجہ بہتر ہے۔ مردہ کی بھی روح ہی دعاء سے واپس آتی ہے اور اس جگہ بھی دعاء سے ہی ایک روح ہی منگائی گئی ہے۔ مگر ان روحوں اور اس روح میں لاکھوں کوسوں کا فرق ہے۔ جو لوگ مسلمانوں میں چھپے ہوئے مرتد ہیں۔ وہ آنحضرت ﷺ کے معجزات کا ظہور دیکھ کر خوش نہیں ہوتے۔ بلکہ ان کو بڑا رنج پہنچتا ہے کہ ایسا کیوں ہوا۔ اے لوگو! میں کیا چیز ہوں
اور کیا حقیقت جو کوئی مجھ پر حملہ کرتا ہے۔ وہ درحقیقت میرے پاک متبوع پر جو نبی کریمﷺ ہے حملہ کرنا چاہتا ہے مگر اس کو یاد رکھنا چاہئے کہ وہ آفتاب پر خاک نہیں ڈال سکتا۔ بلکہ وہی خاک اس کے سر پر اس کی آنکھوں پر اس کے منہ پر گر کر اس کو ذلیل و رسوا کرے گی اور ہمارے نبی کریم کی شان و شوکت اس کی عداوت اور اس کے بخل سے کم نہیں ہوگی۔ بلکہ زیادہ سے زیادہ خدا تعالیٰ ظاہر کرے گا۔ کیا تم فجر کے قریب آفتاب کو نکلنے سے روک سکتے ہو۔ ایسے ہی تم آنحضرتﷺ کے آفتاب صداقت کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ خدا تعالیٰ تمہارے کینوں اور بخلوں کو دور کرے۔ والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ!
(از قادیان ضلع گورداسپور ٢٢؍ مارچ ١٨٨٦ء دوشنبہ، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١١٤ تا ١١٦)
ناظرین! یہ سلسلہ لا انتہائی حقیقت نفس الامری ہے کہ مجھے کوہ ہمالہ سے ہم پلہ معلوم ہوتا تھا اور اس کے نقل کرنے سے میں از حد گریز کرتا رہا۔ مگر ناچار لکھنا ہی پڑا۔ اس کا لب لباب سوائے اس مولود کی بشارت اور طول نویسی و اعجاز نمائی اور عوام کی سمع خراشی کے کچھ بھی نہیں بات تو صرف اس قدر تھی کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی بیوی ایک بچہ جنے گی۔
معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کو پرائمری کے طالب علم کی طرح مشق کرنے کی عادت ہے اور یہ عادت سودا کے مراتب تک ترقی پذیر ہو چکی ہے۔ ورنہ دو لفظوں میں اتنا ہی کافی تھا کہ یہ بچہ ایسا بچہ ہوگا۔ جو تمام بنی نوع انسان اور خود ما بدولت سے ہر لحاظ سے بہتر و افضل ہوگا اور تمام انبیاء کی معجزہ نمائی اس اعجاز کے سامنے پانی بھرتی ہوگی اور یہ بچہ ٩ سالہ میعاد کے اندر ضرور پیدا ہو جائے گا اور ایسا دعویٰ بشری طاقت سے بالا تر ہے۔ بلکہ یہ خدا کے فضل و کرم سے الہاماً میری دعا کا نتیجہ ہے۔
سلطان القلم کو شاید یہ بھی معلوم نہیں کہ بہت باتیں کرنے والا باتونی اور یاوہ گو کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور طول نویسی عیبوں میں داخل سمجھی گئی ہے۔ کم بولنے والا انسان ہمیشہ عزت کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے اور قلیل الکلامی بزرگی میں شمار ہوتی ہے۔ جس کلام میں فصاحت و بلاغت ہو وہ ہمیشہ ادبی دنیا میں عزت و وقار کے مرتبہ پر پسندیدہ نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ قادر الکلامی اور خوش بیانی رسول اکرمﷺ کے اقوال کے مرہون منت ہے۔ ایک ایک اشارے میں وہ وہ نکات پنہاں ہیں جن کی نظیر اقوام عالم میں نہیں چھوٹے چھوٹے احکام بھی اس قدر دلپذیر ہیں کہ مفسرین نے ان کی شرح میں دفتر قلمبند کئے لفظ لفظ میں وہ وہ نفاست بھری ہے کہ چوم
لینے کو بے اختیار دل چاہتا ہے۔ نقطہ نقطہ ایسے ایسے معارف پیش کرتا ہے کہ کوزہ میں دریا موجیں مارتا ہوا نظر آتا ہے اور پھر احکام ایسے ہیں جو بلاتمیز ملت اپنے اور پرائے کے لئے از بس مفید ہیں۔ فضل ایزدی سے آنحضورﷺ بھی صاحب اولاد تھے اور فصاحت و بلاغت تو ان کی لونڈی تھی۔ قدر و منزلت اور وجاہت و سیادت کے وہ آقا تھے۔ جاہ و حشم کے وہ والی تھے۔ سلاطین جہاں ان کے غلام تھے اور طرفہ یہ کہ خاص محبوب یزدانی تھے۔ مگر آپ کی ساری زندگی ایسی بے جا تعریفوں کے کرنے سے خالی ہے اور خلفائے راشدینؓ میں سے حضور اکرمﷺ کے داماد، خاتون جنت کے ایمان کے مالک، شیر خدا، فاتح خیبر جن کی عظمت و سیادت اس فرمان رسالت سے عیاں ہیں۔ ”انت اخی فی الدنیا والآخرة (مشکوۃ ص٥٦٤، باب مناقب علیؓ) “ ”انت منی بمنزلة ہارون من موسیٰ الا انہ لا نبی بعدی (مشکوۃ ص٥٦٣، باب مناقب علیؓ) “ مظہر العجائب والغرائب امیر المومنین علی ابن طالبؓ بھی صاحب اولاد تھے۔ عالم اجل و فاضل بے بدل تھے اور ان کی اولاد اللہ اللہ امام المعصومین سید الشہداء رسول اکرمﷺ کے ناز پروردہ جن کی زندگی کا باب اسلام کے لئے کھلا اور اسلام کے لئے بند ہوا۔ امام المسلمین حسن و حسین رضوان اللہ علیہم کے لئے اسد اللہ الغالبؓ نے کبھی کوئی ایسی پیش گوئی نہ فرمائی اور نہ ہی ایسی لاف و گزاف و کذب و افتراء بھری دعاء مانگی سوال تو یہ ہے کہ جب اصل میں یہ باتیں کالعدم ہیں تو ظل میں کیوں دکھلائی دیتی ہیں؟ اوّل تو یہ ظل اور بروز کا سلسلہ ہی سرے سے غلط ہے اور یہ جدت طبع کا ایک خود تراشیدہ قانون ہے۔ مگر اس قانون کے مطابق جو چیز اصل میں ہے وہی نقل میں آنی چاہئے۔ نہ یہ کہ داڑھی سے مونچھیں بڑھ جائیں۔ اس لئے ایسے ایسے صدہا واقعات ثابت کرتے ہیں کہ یہ دجل دینے کے لئے افسانے تراشے ہیں۔ بہر حال ہمیں مرزا قادیانی کے بتائے ہوئے اصول پر مرزا قادیانی کو پورا اترتے دیکھنا ہے اور اس چھوٹے خدا کو انسانی پیکر میں نازل ہوتے دیکھنا ہے اور یہ اوصاف جو بیان شدہ ہیں منظر عام پر یکجائی نظر سے مشاہدہ کرتے ہیں۔ اس لئے ہم بھی سردست اگر گویم زباں سوزد کے مصداق چپ سادھنے پر مجبور ہیں۔
تمام عقلمندوں کے نزدیک یہ قاعدہ کلیہ ہے کہ جھوٹ بولنا بدترین چیز ام الخبائث ہے۔ چنانچہ تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ جب کبھی بھی کسی اہل اللہ نے کسی بد بخت انسان کو انسان بنانے کی سعی فرمائی تو صرف اسی ایک نقطہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے سچ بولنے اور جھوٹ سے کنارہ کش ہونے کی تلقین فرمائی اور جس کسی نے بھی جھوٹ کو ترک کیا تو گویا اس نے تمام برائیوں سے نجات پائی۔ آدمی جب کسی گناہ کا مرتکب ہوتا ہے تو جھوٹ کی چادر اس پر پردہ پوشی کرتی ہے۔ مگر چونکہ جھوٹ
کی بنا پانی پر ہوتی ہے۔ اس لئے اس کی بناوٹ کامیاب نہیں رہتی اور چونکہ فطرت سلیمہ جھوٹ سے بذات خود متنفر ہے۔ اس لئے قدرت اس کی پردہ پوشی کی ملمع سازی کو پاش پاش کر دیتی ہے۔ مگر پھر وہ اس ملمع سازی کو چھپانے کے لئے ایک اور حیلہ سازی کرتا ہوا ایک اور پردہ ڈال دیتا ہے اور جب تک وہ اپنے مطمح نظر میں کامیاب نہیں ہوتا۔ اس فعل معاصی پر پردے پر پردہ ڈالے ہی جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اس فعل پر لعنت فرمائی۔ کیوں؟ اس لئے کہ گناہ کرنے کے بعد اگر وہ ندامت اور توبہ کرتا تو احکم الحاکمین اس کے گناہ کو بخش دیتے۔ مگر گناہ عذر گناہ سے بدتر ہے۔ ایک تو فعل مذموم کیا اور اس پر پے در پے جھوٹ بولے۔
اب ہی ایک الہام کو ملاحظہ فرماویں کہ ایک بچہ جو ابھی ماں کے شکم میں بھی نہیں آیا۔ اس کے لئے کتابوں کی کتابیں سیاہ ہو رہی ہیں کہ وہ ایسا ہوگا یہ ہوگا وہ ہوگا۔ آپ کی اس لاف و گزاف سے ایک دنیا مضحکہ خیزی کر رہی ہے۔ مگر آپ ان مضحکوں کے جواب میں اشتہار پر اشتہار نکال رہے ہیں اور چونکہ آپ اپنی جبلی عادت کی وجہ سے مجبور ہیں۔ اس لئے اختصار کو نظر انداز کر دیا گیا ہے اور زیادہ سے زیادہ الجھن سے میدان کشادہ کئے جاتے ہیں اور یہ قاعدہ کلیہ ہے کہ دروغ گورا حافظہ نباشد اور لمبی تحریر میں ہمیشہ یہ نقص ہوتا ہیکہ وہ تصحیح اوقات کے علاوہ کئی ایک مشکلیں پیدا کر دیتی ہے۔
چنانچہ اس لمبے اشتہار کی خامہ فرسائی کے بعد ان صدہا بے ترتیبیوں سے آپ دوچار ہوئے اور مراد آباد سے منشی اندرمن نے اس بے تکی گپ پر یہ اعتراض کیا کہ واہ جی واہ یہ بھی کوئی الہام ہوا کہ ٩ برس کے عرصہ میں وہ مولود پیدا ہوگا۔ اس لمبے عرصے میں تو کوئی اعجازی امتیازی نشان نہیں ہوسکتا۔ چونکہ بات معقول تھی اور مرزا قادیانی کو بھی متاثر کئے بغیر نہ رہی تو مرزا قادیانی نے ایک اور اشتہار بسنت مخصوصہ کے مطابق سپرد قلم فرمایا۔ جس کے بعض اقتباسات ہم ناظرین کرام کے پیش کرتے ہیں۔ اس لئے کہ ہمیں کولہو کے بیل کی طرح گھومنا پسند نہیں آتا۔ نہ ہم سلطان القلم ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور نہ ہی ہمیں یہ جتلانا مقصود ہے کہ ہم نے اتنی ضخیم کتاب لکھی۔ جس سے کوئی کچھ نہ سمجھ سکا۔
اس اشتہار پر طرح طرح کی چہ میگوئیاں ہوئیں اور اعتراضات بھی ہوئے۔ مگر طول نویسی کے مرض میں چونکہ ایک ایسی خرابی مضمر ہے کہ کوئی نہ کوئی بات بے ربط اور کچی نکل جاتی ہے جو سنبھالے سے بھی نہیں سنبھل سکتی اور بجائے لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں۔ بلکہ بسا اوقات انسان اپنے قول سے خود پکڑا جاتا ہے اور ایسا قابو آتا ہے اور بے بس ہوتا ہے کہ الامان۔ پھر وہ
مخلصی اور بریت کے ذرائع و وسائل سوچتا ہے۔ مگر جوں جوں وہ سعی بلیغ کرتا ہے اور طول نویسی کے حلقے اور زیادہ مضبوط ہوتے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ اس کے ڈھول کا پول کھل جاتا ہے اور بدحواسی اس کے حواس خمسہ پر اپنا پورا پورا تسلط جما لیتی ہے پھر جو بھی بیان دیتا ہے۔ قدم قدم پر لغزش اس کے قدم چومتی ہے۔ چنانچہ اسی اصول کے مطابق ہمارے مرزا قادیانی دام طول نویسی میں پھنسے ہوئے ہاتھ پاؤں مارتے ہوئے فرماتے ہیں۔
”اشتہار صداقت آثار“
بسم الله الرحمن الرحيم . نحمده ونصلی علی رسوله الکریم!
واضح ہو کہ اس خاکسار کے اشتہار ٢٠ مارچ ١٨٨٦ء پر بعض صاحبوں نے جیسے منشی اندر من صاحب مراد آبادی نے یہ نکتہ چینی کی ہے کہ نو برس کی حد جو پسر موعود کے لئے کی گئی ہے یہ بڑی گنجائش کی جگہ ہے۔ ایسی لمبی میعاد تک کوئی نہ کوئی لڑکا پیدا ہو سکتا ہے۔ سو اول تو اس کے جواب میں یہ واضح ہو کہ جن صفات خاصہ کے ساتھ لڑکے کی بشارت دی گئی ہے۔ کسی لمبی میعاد سے گو نو برس سے بھی دو چند ہوتی ۔ اس کی عظمت اور شان میں کچھ فرق نہیں آسکتا۔ بلکہ صریح دلی انصاف پر ہر ایک انسان کا شہادت دیتا ہے ( سلطان القلمی ) کہ ایسے عالی درجہ کی خبر جو ایسے نامی اور اخص آدمی کے تولد پر مشتمل ہے۔ انسانی طاقتوں سے بالاتر ہے اور دعا کی قبولیت ہو کر ایسی خبر کا ملنا بے شک یہ بڑا بھاری آسمانی نشان ہے۔ (دریں چہ شک ) نہ یہ کہ صرف پیش گوئی ہے ماسوا اس کے اب بعد اشاعت اشتہار مندرجہ بالا دوبارہ اس امر کے انکشاف کے لئے جناب الٰہی میں توجہ کی گئی تو آج ٨ اپریل ١٨٨٦ء میں اللہ جل شانہ کی طرف سے اس عاجز پر اس قدر کھل گیا کہ ایک لڑکا بہت ہی قریب ہونے والا ہے جو مدت حمل سے تجاوز نہیں کر سکتا۔ اس سے ظاہر ہے کہ ایک لڑکا ابھی ہونے والا ہے یا بالضرور اس کے قریب حمل میں۔ لیکن یہ ظاہر نہیں کیا گیا کہ جو اب پیدا ہوگا۔ یہ وہی لڑکا ہے یا وہ کسی اور وقت میں ٩ برس کے عرصہ میں پیدا ہوگا اور پھر بعد اس کے یہ بھی الہام ہوا کہ انہوں نے کہا کہ آنے والا یہی ہے یا ہم دوسرے کی راہ تکیں۔ ( روکو مت جانے دو ) چونکہ یہ عاجز ایک بندہ ضعیف مولیٰ کریم جل شانہ کا ہے۔ اس لئے اسی قدر ظاہر کرتا ہے۔ (اعتبار ہے جناب ) جو من جانب اللہ ظاہر کیا گیا آئندہ جو اس سے زیادہ منکشف ہوگا وہ بھی شائع کیا جاوے گا۔ والسلام علی من اتبع الهدی!
المشتہر خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور
(٨ اپریل ١٨٨٦ء، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١١٦، ١١٧)
اس شاندار ذو معنی بناوٹ پر ہی شاید کسی نے کیا اچھا کہا ہے گو اس کا تخیل کچھ اور ہے اور محبت کی چاشنی میں ڈوبا ہوا ہے۔ مگر استعارہ کے رنگ میں یہاں بھی چونکہ ایسی ہی وضع حمل کی قید لگائی ہے۔ جو مضحکہ خیز ہے۔ کس صفائی سے ارشاد فرماتے ہیں اس پیش گوئی کے انکشاف کے لئے توجیہ کی گئی ہے۔ جس کے یہ معنی ہیں کہ وحی کا سلسلہ بھی نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ سے ایک ٹیلیفون کی طرح سے ہے۔ جب چاہا قائم کرلیا اور جب چاہا توڑ دیا۔ حالانکہ حضور فخر رسل ﷺ کی مبارک سیرت اس کے منافی ہے اور الفاظ کی بندش ملاحظہ ہو۔ بہت ہی قریب پیدا ہونے والا ہے یا بالضرور اس کے قریب حمل میں یا کسی اور وقت میں ٩ برس کے عرصہ میں یعنی جب بھی ہوا۔ یار لوگوں کے پوں باراں ہیں۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ؎
بجائے گل میری تربت پہ ہوں خار کہ الجھا ہی کرے دامن کسی کا
خیرالقرون قرنی کے مبارک الفاظ سیرت النبی کے صفحات پر آب زر سے لکھے ہوئے ماہ کامل کی طرح درخشانی فرمارہے ہیں۔ ان آبدار موتیوں کی چمک سعید الفطرت لوگوں کے لئے مشعل ہدایت کا کام ابدالآباد تک دیتی رہے گی۔ ہاں خیرہ چشم اپنی کور باطنی کی وجہ سے آفتاب کے نکلنے کے شک میں رہیں تو "تلك اذ قسمة ضيزى"
مل ہی جاتے ہیں تیری یاد دلانے والے
اللہ اللہ! وہ مبارک زمانہ جس میں نورِ عرفاں کی بارش ہورہی تھی اور آقائے نامدار سرورِ دو جہاں رحمتہ العالمین بنفسِ نفیس ان انمول موتیوں سے ان اعرابیوں کی جھولیاں بھر رہے تھے۔ جن کو پیٹ بھر کر روٹی، رہنے کو جھونپڑا اور پہننے کو چیتھڑا بھی میسر نہ ہوتا تھا۔ وہ بہیمیت و بربریت کے پتلے جو تمدن سے نا آشنا و معاشرت سے کورے اور انسانیت سے کوسوں دور جن کو وحوش و بہائم سے تشبیہ دینا کچھ نازیبا نہ ہوگا۔ وہ شراب کے دلدادہ اور جوئے کے عادی، قتل و غارت کے شیدا اور خونریزی کے عاشق جو اپنی لڑکیوں کو زندہ درگور کرنا سعادت عظمیٰ تصور کرتے تھے اور جن کی شقاوت قلبی کے انسانیت سوز مظاہرے جن سے بدن لرزہ بہ اندام ہوتا ہے اور رواں رواں الامان والحفیظ پکار اٹھتا ہے۔ تاریخ میں خون سے لکھے ہیں۔
واقف تیری رحمت سے کیا سب کو گھٹا نے
مگر قربان جاؤں اس امت کے غمخوار اور انسانیت کا سبق دینے والے آقائے دو جہاں ﷺ کے نام نامی سے جس نے ان درندہ صفات وحشیوں کو جو بربریت کے لباس میں ملبوس تھے اور ناخواندگی کے مہیب دیو کے تابع فرمان ہو چکے تھے۔ کچھ اس شان سے انسانیت سے شناسا کیا اور اس آن سے کایا پلٹ کی کہ فلسفہ جہاں انگشت حیرت در دہاں اور تاریخ جہاں اس کی نظیر پیش کرنے سے قاصر و عاجز ہے۔
اللہ تعالیٰ کا وہ برگزیدہ رسول جب صاحب معراج ہوا اور مولا کریم نے مسجد اقصیٰ کی سیر کرائی۔ ”سبحان الذي اسرى بعبده ليلا من المسجد الحرام الى المسجد الاقصى الذي باركنا حوله (بنی اسرائیل: ١) ”پاک ہے وہ مولا جو لے گیا اپنے بندے کو خانہ کعبہ سے مسجد اقصیٰ تک۔“
مولا کریم کے اس انعام کو سرور دو جہاں آقائے نامدار ﷺ نے جب بیان فرمایا کہ وہ بیت المقدس جو شام میں ہے۔ گذشتہ شب مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و احسان سے اس کی سیر کرائی۔
کفار مکہ نے کمال استہزاء سے بغلیں جھانکیں اور پھبتیاں اڑائیں اور آوازے کسے کیونکہ وہ اچھی طرح سے یہ جانتے تھے کہ آقائے نامدار محمد مصطفےٰ احمد مجتبےٰ ﷺ کبھی شام کو تشریف فرما نہیں ہوئے اور ان کے زعم باطل میں یہ خبط سمایا کہ حضور ﷺ کے بطلان کے لئے یہی ایک دلیل کافی ہے۔
چنانچہ کفار مکہ کے چند وہ نفوس جو ایذا رسانی میں یدطولیٰ رکھتے تھے اور جنکے دل صداقت کی روشنی سے محروم تھے۔ حضرت رسول ﷺ کی خدمت میں ہنسی اڑانے کے لئے آرہے تھے کہ راستہ میں ابوبکر صدیق کو آتے دیکھ کر رکے اور ذرا ٹھہر کر ان میں کا وہ بدبخت و بدنصیب جو ابو جہل کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ صدیق اکبرؓ سے یوں ہمکلام ہوا کہ لو تمہارا دوست آج ایک اور بے پر کی اڑاتا ہے کہ گذشتہ شب وہ بیت المقدس اور آسمانوں کی سیر بجسد عنصری کر آیا ہے۔ صدیق اکبرؓ نے جواب دیا۔ خدا کی قسم وہ رخ انور ایسا ہے جو جھوٹ سے نا آشنا ہے جو بھی کہتا ہے صحیح ہے اور میرا اس پر ایمان ہے۔ اس مسکت جواب سے وہ کچھ مبہوت سے رہ گئے۔ مگر چونکہ ایمان کی صداقت سے بہرہ ور نہ تھے۔ اس لئے اس کو رحمت کردگار کے سحر سے تعبیر کیا اور چل دیئے۔
رحمت عالم ﷺ ہاں اس خلق عظیم کے منبع کے گرداگرد کفار مکہ بیٹھے ہیں اور طنزاً طرح
طرح کے سوالات پیش کرتے ہوئے خوش گپیاں جو استہزاء سے لبریز ہیں۔ اڑا رہے ہیں۔ شفیق عالم کمال شفقت و مہربانی سے ان کی تسلی و تشفی فرمائے جاتے ہیں۔ مگر ان کے دل جو پتھر سے زیادہ سخت واقع ہوئے تھے اور چراغ کے نیچے عموماً اندھیرا ہی کی مثال دی جاتی ہے اور ہدایت کسی کے بس کا روگ نہیں کسی نے کیا خوب کہا ہے۔
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ
اسی طرح ایک دوسرے وقت میں چند سرکش قریش مکہ، حضور فخر رسل ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر یوں گویا ہوئے کہ اے محمدﷺ اگر تو سچا رسول ہے تو ہمارے سوالات کا جواب دے۔ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا بیان کرو۔ وہ کون سے سوالات ہیں۔ قریش مکہ نے حسب ذیل سوالات کئے۔
- ١....... روح کیا چیز ہے؟
- ٢....... اصحاب کہف جو دقیانوس بادشاہ کے زمانہ میں غار میں چھپے تھے ان کی
کیا تعداد تھی؟
- ٣....... ذوالقرنین کون تھا؟
سرور عالمﷺ نے ان کے جواب میں فرمایا اس کا جواب کل دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کا برگزیدہ رسول جانتا تھا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ وحی کے ذریعہ سے ان کے جوابات بتا دے گا جو بتا دیئے جائیں گے اور یونہی ہو بھی رہا تھا۔ مگر خالق حقیقی کو یہ بات ناپسند ہوئی کہ وعدہ دیتے وقت ہماری مہربانی کا ذکر خیر کیوں نہیں ہوا۔ اپنے حبیب ﷺ کو ایک خفیف سی تنبیہ فرماتے ہوئے سلسلہ وحی کئی روز تک منقطع کر دیا۔
کفار مکہ کی بن آئی وہ کم بخت پہلے ہی بھرے پڑے تھے۔ ہنس دیئے اور ایسا ہنسے کہ صحابہ کرامؓ پر خدا کی زمین تنگ آگئی۔ جدھر سے چلتے ہیں آوازوں پر آوازے کسے جاتے ہیں اور پھبتیاں اڑائی جاتی ہیں اور راہ چلنا تو کیا گزرنا بھی محال ہو گیا ہے۔ چنانچہ حضورﷺ کا وہ غلام جو خلیفہ ثانی ہوا اپنے آقاﷺ کی خدمت میں بڑے ادب سے ان کے جواب کا متمنی ہوا تو حضورﷺ نے فرمایا کہ وحی کا تشریف لانا میرے بس کی بات نہیں۔ جب اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا جواب دیا جائے گا۔ چنانچہ یہ آیت شریف جو مولائے کریم کی واحدانیت کی ایک درخشاں دلیل ہے۔ جبرائیل علیہ السلام لے کر آئے اور اس کی تعلیم فرمائی۔ ’ولا تقولن لشئی انی فاعل ذالك
غداً الا ان يشاء الله (کہف:٢٣) ”کہ اے میرے حبیب یوں مت کہو کہ میں یہ کام کرنے والا ہوں۔ بلکہ کہو کہ اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا تو ایسا کروں گا۔
چنانچہ اس کے بعد آپ ﷺ ہمیشہ اسی پر عمل پیرا ہوتے رہے اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے وہ احکام جو اس کے جوابات میں تھے نازل فرمائے۔ دیکھو سورۂ کہف:
جس گل کو سونگھتا ہوں آتی ہے بو تمہاری
دوسری دلیل ملاحظہ ہو:
مسلمانوں کی وہ پاک ماں جو عائشہ صدیقہؓ کے نام نامی سے یاد کی جاتی ہے اور خلیفہ اوّل کی لخت جگر ہیں۔ جن پر رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی سلول نے تہمت تراشی کی تو حضور ﷺ اس قدر متفکر ہوئے کہ قلم کو طاقت نہیں کہ بیان کرے اور ام المؤمنینؓ اس بہتان سے اس قدر خائف ہوئیں کہ بستر علالت پر دراز ہوگئیں اور بخار لازم ہو چکا اور قریب المرگ ہوگئیں۔
اگر توجہ کرنے سے وحی کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہوتا تو حضور ﷺ کی ذات والا تبار سے بڑھ کر اس انعام کا اور زیادہ کون مستحق تھا۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ حضور ﷺ بہت روز تک اسی رنج و محن میں رہے۔ حالانکہ وہ ہمہ وقت اس کی جناب میں حاضر رہتے۔ یہاں تک کہ ساری ساری رات نوافل میں گزر جاتی اور پاؤں متورم کر جاتے اور دن اللہ تعالیٰ کے احکام سنانے میں تمام ہوتا اور اسی تبلیغی سلسلہ میں صدہا چوٹیں وجود اطہر پر آتیں اور دل لہولہان ہو جاتا۔ مگر وہ خدا کا برگزیدہ رسول، اللہ تعالیٰ سے منہ نہ موڑتا اور توجہ تو کیا ایسے منہمک ہوتے کہ دنیا و مافیہا سے بے نیاز اسی کی یاد میں اسی کے ہو رہتے۔
آقائے کون و مکاں ﷺ کی سیرت کا ورق ورق اور نقطہ نقطہ پکار پکار کر زبان حال سے بیان کر رہا ہے کہ گو وہ خدا کے نہایت محبوب اور افضل الرسل تھے۔ مگر وہ اپنی مشیت سے سلسلہ وحی شروع کرنے کے مجاز نہ تھے۔ بلکہ یہ کرم حضرت احدیت ہی کو سزاوار ہے کہ جب اس کی مشیت مقتضی ہو۔ جیسا کہ مندرجہ بالا واقعہ میں جب اس کو منظور ہوا تو جب اپنے حبیب ﷺ کو چاہا نوازا اور تسلی فرمائی۔ ”ان الذين جآءو بالافك عصبة منكم ، لاتحسبوه شراً لكم بل هو خير لكم ، لكل امرى منهم ما اكتسب من الاثم والذى تولى كبره منهم له عذاب عظيم (نور:١١)“
اللہ اللہ وہ مبارک ہستی جو باعث تکوین روزگار اور کافۃ للناس ہوئی وہ تو اللہ تعالیٰ کے
لطف و احسان کی محتاج ہو اور جب تک مشیت ایزدی کو منظور نہ ہو۔ جبرائیل امین نہ آسکیں اور یہ سلسلہ وحی جب تک اس کی مشیت مقتضی نہ ہو بند ہی رہے اور یہی تو ایک خالق اور مخلوق میں فرق ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات گرامی کو جب منظور ہو شروع کرے اور جب چاہے منقطع کر دے۔ کیونکہ وہ کسی کا تابع فرمان نہیں۔ اس کی ذات اس سے منزہ و برتر ہے۔ ہاں انبیاء علیہم السلام پر جب چاہے لطف و کرم کی بارش پہ بارش برسائے۔ مگر کسی نبی کی یہ جرات نہیں کہ وہ جب چاہے سلسلہ الہام کو شروع کر دے اور جب چاہے بند کر دے۔
اب پنجابی نبی صاحب کو وحی بھی ملاحظہ ہو کسی نے کیا حسب حال کہا ہے۔
جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی
یہاں تو مشکل ہی نہیں ذرا توجہ کی اور الہامی سلسلہ شروع ہو گیا اور وہ بھی اس تیزی وخیزی سے ساون کی بارش کی طرح کہ ادھورے ہی پیغام پہ پیغام جن کا نہ سر ہے نہ پیر۔ آنے لگے اور جن کی تفہیم ہی نہیں ہوتی اور جو واقعات کے بعد چسپاں کئے جاتے ہیں اور جن پر حاشیہ آرائی کی جاتی ہے نہ معلوم یہ کہاں سے آتے ہیں اور ان سے دنیا کو کون سا فائدہ پہنچتا ہے اور یہ سلسلہ ربانی ٹیلی فون تھوڑا ہے کہ ہیلو کرتے ہی شروع ہو گیا اور Receiver رکھتے ہی بند ہو چکا۔ نہیں بلکہ یہ ایک ایسا پاک اور منزہ سلسلہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے۔
ہمدم بھی میری آج تسلی نہیں کرتے
اللہ اللہ ! اس قدر دعوے اور یہ شیرین سخنی مولود مسعود کی بشارت مگر نیرنگی قدرت ملاحظہ ہو کہ الہام دھرے کے دھرے رہ گئے اور وضع حمل میں لڑکی پیدا ہوئی۔
غیر تو غیر ہی تھے اپنے بھی بدگمان ہو گئے۔ یہ نبوت ہو رہی ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون! یگانوں اور بیگانوں نے قصر نبوت کو متزلزل کر دیا تو مرزا قادیانی نے کمال ہوشیاری سے ڈوبتی ناؤ کو کندھا دیا اور قریب کے حمل پر بصد مشکل جان چھڑائی۔ انتظار کی گھڑیاں گزرنے کو تو گزر گئیں۔ مگر ایک عجیب انداز سے گزریں۔ نہ سوتے چین نصیب ہوا اور نہ جاگتے فرصت حاصل ہوئی اور جانبین کی نگاہیں آسمان سے نازل ہونے والی دعائیہ روح کی بے صبری سے منتظر رہیں۔
زچہ کی گود بھر چکی تھی اور مرزا قادیانی کا وہ الہام قریب آ چکا تھا۔ (مولود موعود) جس
کی انتظار میں دنیا بے صبری ہوئی جاتی تھی۔ آخر خدا کی مہربانی سے وہ سعید ساعت آ ہی پہنچی۔ جس میں مرزا قادیانی کی مراد منصہ شہود پر آئی۔ جس سے مرزا قادیانی کی ڈھارس بندھی اور غریب امت کی جان میں جان آئی۔ پھر تو مبارک کے شادمانے بجے اور نغمۂ جانفزا کا غلغلہ بلند ہوا اور مبارکبادی کا ترانہ امت میں بلند ہوا۔ گھی کے چراغ جلائے گئے اور مرزا قادیانی کی تعریف و توصیف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہوئے شکرانہ کے نوافل ادا کئے کہ مسلمانوں کی لاج مرزا قادیانی نے رکھ لی۔ چنانچہ قارئین کرام کی خدمت میں مرزا قادیانی کا وہ لطف اندوز پیغام جو شراب محبت سے سرشار ہے پیش کرتے ہیں تاکہ وہ بھی اس سے بہرہ ور ہو کر ہماری محنت کی داد دیں۔
خوش خبری
”اے ناظرین! میں آپ کو بشارت دیتا ہوں کہ وہ لڑکا جس کے تولد کے لئے میں نے اشتہار ٨؍اپریل ١٨٨٦ء میں پیش گوئی کی تھی اور خدا تعالیٰ سے اطلاع پا کر اپنے کھلے کھلے بیان میں لکھا تھا کہ اگر وہ حمل موجودہ میں پیدا نہ ہوا تو دوسرے حمل میں جو اس کے قریب ہے۔ ضرور پیدا ہو جائے گا۔ آج ١٦؍ذیقعد ١٣٠٤ھ مطابق ٧؍اگست ١٨٨٧ء میں ١٢ بجے کے بعد ڈیڑھ بجے کے قریب وہ مولود مسعود پیدا ہو گیا۔ فالحمدللہ علی ذالک! اب دیکھنا چاہئے کہ یہ کس قدر بزرگ پیش گوئی ہے جو ظہور میں آئی۔ آریہ لوگ بات بات میں یہ سوال کرتے ہیں کہ ہم وہ پیش گوئی منظور کریں گے۔ جس کا وقت بتلایا جائے۔ سو اب یہ پیش گوئی انہیں منظور کرنی پڑی۔ کیونکہ اس پیش گوئی کا مطلب یہ ہے کہ حمل دوئم بالکل خالی نہیں جائے گا۔ ضرور لڑکا پیدا ہوگا اور وہ حمل بھی کچھ دور نہیں بلکہ قریب ہے۔ یہ مطلب اگرچہ اصل الہام میں مجمل تھا۔ لیکن میں نے اسی اشتہار میں لڑکا پیدا ہونے سے ایک برس چار مہینے پہلے روح القدس سے قوت پا کر مفصل طور پر مضمون مذکور بالا لکھ دیا۔ یعنی یہ کہ اگر لڑکا اس حمل میں پیدا نہ ہوا تو دوسرے حمل میں ضرور پیدا ہوگا۔ آریوں نے حجت کی تھی کہ یہ فقرہ الہامی جو ایک مدت حمل سے تجاوز نہیں کرے گا۔ حمل موجودہ سے خاص تھا جس سے لڑکی ہوئی میں نے ہر ایک مجلس اور ہر ایک تحریر و تقریر میں انہیں جواب دیا کہ یہ حجت تمہاری فضول ہے۔ کیونکہ کسی الہام کے وہ معنی ٹھیک ہوتے ہیں کہ ملہم آپ بیان کرے اور ملہم کے بیان کردہ معنوں پر کسی اور کی تشریح اور تفسیر ہرگز فوقیت نہیں رکھتی۔ کیونکہ ملہم اپنے الہام سے اندرونی واقفیت رکھتا ہے اور خدا تعالیٰ سے خاص طاقت پا کر اس کے معنی کرتا ہے۔ پس جس حالت میں لڑکی پیدا ہونے سے کئی دن پہلے عام طور پر کئی سو اشتہار چھپوا کر میں نے
شائع کر دیئے اور بڑے بڑے آریوں کی خدمت میں بھی بھیج دیئے تو الہامی عبارت کے وہ معنی قبول نہ کرنا جو خود ایک مخفی الہام میں میرے پر ظاہر کئے اور پیش از ظہور مخالفین تک پہنچا دیئے گئے۔ کیا ہٹ دھرمی ہے یا نہیں کیا ملہم کا اپنے الہام کے معنی بیان کرنا یا مصنف کا اپنی تصنیف کے کسی عقیدہ کو ظاہر کرنا تمام دوسرے لوگوں کے بیانات سے عندالعقل زیادہ معتبر نہیں ہے۔ بلکہ خود سوچ لینا چاہئے کہ مصنف جو کچھ پیش از وقوع کوئی امر غیب بیان کرتا ہے اور صاف طور پر ایک بات کی نسبت دعویٰ کر لیتا ہے تو وہ اپنے اس الہام اور اس تشریح کا آپ ذمہ دار ہوتا ہے اور اس کی باتوں میں دخل بے جا دینا ایسا ہے۔ جیسے کوئی کسی مصنف کو کہے کہ تیرے تصنیف کے یہ معنی نہیں بلکہ یہ ہیں۔ جو میں نے سوچے ہیں۔ اب ہم اصل اشتہار ٨؍اپریل ١٨٨٦ء ناظرین کے ملاحظہ کے لئے ذیل میں لکھتے ہیں تا ان کو اطلاع ہو کہ ہم نے پیش از وقوع اپنی پیش گوئی کی نسبت کیا دعویٰ تھا اور پھر وہ کیسا اپنے وقت پر پورا ہوا۔‘‘
المشتہر خاکسار! غلام احمد قادیانی از قادیان ضلع گورداسپور (٧؍اگست ١٨٨٧ء، مجموعہ اشتہارات ج١ ص ١٤١،١٤٢)
ناپائیدار دنیا کی بے ثبات گھڑیاں جلد جلد گزر رہی تھیں اور چمن جہاں میں ہزاروں کلیاں خلاق دو جہاں کے نام کو بلند کرتی ہوئیں چٹک کر پھول بنی۔ سینکڑوں بلبلیں اس کی حمد کے ترانے گا کر گلوں پر نثار ہوئیں۔ ہزاروں کونپلیں پھوٹیں اور لاکھوں درخت برگ و بر سے ملبوس ہو کر یگانگت کے ترانوں میں ثمر کے بوجھ سے اس کی جناب میں سر بسجود ہوئے۔ کروڑوں پتے صفحہ شہود پر سبز لباس زیب تن کئے۔ فلسفہ جہاں کو محو حیرت بنا کر زرد ہو کر چل دیئے۔ پھولوں کی آفرینش سے چمن جہاں لہلہا اٹھا تو گلچیں کے ہاتھوں کو بھی حرکت ہوئی۔ طیور خوش الحان گلا پھاڑ پھاڑ کر نوحہ خوانی کر رہے تھے اور بلبلیں سینہ فگاری میں محو ہو رہی تھیں۔ مگر آہ گلچیں کے کان محض نا آشنا تھے۔ وہ گویا سن ہی نہ رہا تھا اور باغ جہاں کی بہار جو شاید اسے ناپسند آتی تھی کو بڑی بے دردی سے لوٹ رہا تھا۔ جب وہ کسی شگفتہ پھول کو دیکھتا بلبل کا دل خون ہو کر رہ جاتا اور جب توڑتا وہ سینہ کوب ہو کر اڑ جاتی۔ گویا گلچیں کے اس فعل کو جو وہ کھیل سمجھے ہوئے تھا دیکھ نہ سکتی۔ ان پھولوں اور غنچوں میں ایک ننھی سی کلی ایسی بھی تھی۔ جسے گلچیں دیکھ کر ہنسا اور بولا گو تیرے ننھے ننھے قوی مضمحل اور کمزور ہیں اور تیری بے بسی پر بھی رحم آتا ہے اور تیرے توڑ لینے سے مجھے کوئی خاص ذاتی فائدہ نہیں۔ مگر چونکہ تیری شگفتگی پر ایک دنیائے جہاں کی امیدیں وابستہ ہیں۔ اس لئے تیرا توڑ لینا ہی بہتر ہے۔ کیونکہ تیرے دم سے ہو سکتا ہے کہ ایک جہاں کے سعید لوگ بھی شاید دھوکہ میں ہوں اور چونکہ باغ جہاں کے اس واحد مالی کا ارشاد ہے۔
”جاء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقاً“ اس لئے چونکہ تیری وجہ سے اس کی ہمسری کا دعویٰ کیا جاتا ہے اور ”کان اللہ نزل من السماء“ کہا جاتا ہے کی وجہ سے مجبور ہوکر میں تجھے توڑتا ہوں۔ آہ! جب یہ کلی ٹوٹی امت مرزائیہ کے گھروں میں صف ماتم بچھ گئی اور نبوت کے پرزوں میں ایک ہیجان آگیا اور خاکسار نبی کو تاویلیں بنانے سے دوچار ہونا پڑا۔ مگر بے وقت کی راگنی کو کون پسند کرتا ہے۔
بنتی بھی بگڑ جاتی ہے جب منظور خدا ہوتا ہے
ہمیں اس صدمہ جانکاہ میں امت مرزائیہ کے ساتھ دلی ہمدردی ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے۔
کسی کی عمر کا لبریز جام ہوتا ہے
عجب سرا ہے یہ دنیا کہ جس میں شام وسحر
کسی کا کوچ کسی کا قیام ہوتا ہے
افسوس یہ موعود بچہ کلی سے پھول بننے سے پیشتر سولہ ماہ کی عمر میں مرزا قادیانی کو یہ داغ مفارقت دیتا ہوا چل بسا؎
حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے
مرزا قادیانی کو یہ صدمہ ایسا شاق گزرا کہ اس کا تصور احاطہ تحریر سے باہر ہے۔ آپ کی بندھی امیدیں اجڑ گئیں اور کارخانہ نبوت میں ایک ہیجان عظیم ایسا اٹھا جس کا تصور احاطہ تفکر سے بالاتر ہے۔ اس صدمہ جانکاہ نے آپ کو دیوانہ بنا دیا اور مراق کے دورے اسی غم سے شروع ہوئے اور آپ کی طبیعت پر ایک ایسا بار پڑا جس سے آپ مجموعہ امراض کا گلدستہ بن گئے۔ مگر تاہم نبوت کے فرائض گرتے پڑتے بھی انجام دیتے رہے اور سچ تو یہ ہے کہ توازن دماغ کے صحیح نہ رہنے کے باعث یہاں سے ہی بے ترتیبیاں شروع ہوئیں۔ مگر مجبور تھے کیونکہ غم نے صبر کو ایسا تاراج کیا تھا کہ ہوش وحواس کھو دیئے تھے۔ چنانچہ ہمارے اس بیان کی تصدیق مرزا بشیر احمد صاحب ذیل الفاظ میں فرماتے ہیں۔
”بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو پہلی دفعہ دوران سر اور ہسٹیریا کا دورہ بشیر اوّل کی وفات کے چند دن بعد ہوا تھا۔“
(سیرت المہدی حصہ اول ص١٦، روایت١٩)
چنانچہ مرزا قادیانی کی تصدیق جو انہوں نے اپنی قلم سے بیان فرمائی ناظرین کی ضیافت طبع کے لئے حسب ذیل ہے۔
حقانی تقریر بر واقعہ وفات بشیر
”واضح ہو کہ اس عاجز کے لڑکے بشیر احمد کی وفات جو ٧ اگست ١٨٨٧ء روز یکشنبہ میں پیدا ہوا تھا۔ ٤ نومبر ١٨٨٨ء کو اسی روز یکشنبہ میں ہی اپنی عمر کے سولہویں مہینہ میں بوقت نماز صبح اپنے معبود حقیقی کی طرف واپس بلایا گیا۔ عجیب طور پر شور و غوغا خام خیال لوگوں میں اٹھا اور رنگا رنگ کی باتیں خویشوں وغیرہ نے کیں اور طرح طرح کی نافہمی اور کج دلی کی رائیں ظاہر کی گئیں۔ مخالفین مذہب جن کا شیوہ بات بات میں خیانت وافتراء ہے انہوں نے اس بچے کی وفات پر انواع واقسام کی افتراء گھڑنی شروع کی۔ سو ہر چند ابتداء میں ہمارا ارادہ نہ تھا کہ اس پسر معصوم کی وفات پر کوئی اشتہار یا تقریر شائع کریں اور نہ شائع کرنے کی ضرورت تھی۔ کیونکہ کوئی ایسا امر درمیان نہ تھا کہ کسی فہیم آدمی کو ٹھوکر کھانے کا موجب ہو سکے۔ لیکن جب یہ شور و غوغا انتہا کو پہنچ گیا اور کچے اور ابلہ مزاج مسلمانوں کے دلوں پر بھی اس کا مضر اثر پڑتا ہوا نظر آیا تو ہم نے محض للہ یہ تقریر شائع کرنا مناسب سمجھا۔ اب ناظرین پر منکشف ہو کہ بعض مخالفین پسر متوفی کی وفات کا ذکر کر کے اپنے اشتہار واخبارات میں طنز سے لکھتے ہیں کہ یہ وہی بچہ ہے جس کی نسبت اشتہار ٢٠ فروری ١٨٨٦ء اور ٨ اپریل ١٨٨٦ء اور ٧ اگست ١٨٨٧ء میں یہ ظاہر کیا گیا تھا کہ وہ صاحب شکوہ عظمت ودولت ہوگا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔ بعضوں نے اپنی طرف سے افتراء کر کے یہ بھی اپنے اشتہار میں لکھا کہ اس بچے کی نسبت یہ الہام بھی ظاہر کیا گیا تھا کہ یہ بادشاہوں کی بیٹیاں بیاہنے والا ہوگا۔ لیکن ناظرین پر منکشف ہو کہ جن لوگوں نے یہ نکتہ چینی کی ہے۔ انہوں نے بڑا دھوکہ کھایا ہے یا دھوکہ دینا چاہا ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ ماہ اگست ١٨٨٧ء تک جو پسر متوفی کی پیدائش کا مہینہ ہے۔ جس قدر اس عاجز کی طرف سے اشتہار چھپے ہیں جن کا لیکھرام پشاوری وجہ ثبوت کے طور پر اپنے اشتہار میں حوالہ دیا ہے۔ انہیں میں سے کوئی شخص ایک ایسا حرف بھی پیش نہیں کر سکتا۔ جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہو کہ مصلح موعود اور عمر پانے والا یہی لڑکا تھا۔ جو فوت ہو گیا۔ بلکہ ٨ اپریل ١٨٨٦ء کا اشتہار اور نیز ٧ اگست ١٨٨٧ء کا اشتہار جو
٨ اپریل ١٨٨٦ء کی بنا پر اور اس کے حوالہ سے بروز تولد بشیر شائع کیا گیا تھا۔ صاف بتلا رہا ہے کہ ہنوز الہامی طور پر یہ تصفیہ نہیں ہوا کہ آیا یہ لڑکا مصلح موعود اور عمر پانے والا ہے یا کوئی اور ہے۔ تعجب کہ لیکھرام پشاوری نے جوش تعصب میں آکر اپنے اس اشتہار میں جو اس کی جبلی خصلت بد گوئی و بد زبانی سے بھرا ہوا ہے۔ اشتہارات مذکورہ کے حوالہ سے اعتراض تو کر دیا مگر آنکھیں کھول کر ان تینوں اشتہاروں کو پڑھ نہ لیا تا جلد بازی کی ندامت سے بچ جاتا۔ نہایت افسوس ہے کہ ایسے دروغ باف لوگوں کو آریوں کے وہ پنڈت کیوں دروغ گوئی سے منع نہیں کرتے جو بازاروں میں کھڑے ہوکر اپنا اصول یہ بتلاتے ہیں کہ جھوٹ کو چھوڑنا اور تیاگنا اور سچ کو ماننا اور قبول کرنا آریوں کا دھرم ہے۔ پس عجیب بات یہ ہے کہ دھرم قول کے ذریعہ سے تو ہمیشہ ظاہر کیا جاتا ہے۔ مگر فعل کے وقت ایک مرتبہ بھی کام میں نہیں آتا۔ افسوس ہزار افسوس ۔ اب خلاصہ کلام یہ کہ ہر دو اشتہار ٨ اپریل ١٨٨٦ء اور ٧؍اگست ١٨٨٨ء مذکورہ بالا اس ذکر و حکایت سے بالکل خاموش ہیں کہ لڑکا پیدا ہونے والا کیسا اور کن صفات کا ہے۔ بلکہ یہ دونوں اشتہار صاف شہادت دیتے ہیں کہ ہنوز یہ امر الہام کی رو سے غیر مفصل اور غیر مصرح ہے۔ ہاں یہ تعریفیں جو اوپر گزر چکی ہیں ایک آنے والے لڑکے کی نسبت عام طور پر بغیر کسی تخصیص و تعین کے اشتہار ٢٠ فروری ١٨٨٦ء میں ضرور بیان کی گئیں ہیں۔ لیکن اس اشتہار میں تو کسی جگہ نہیں لکھا کہ جو ٧؍اگست ١٨٨٨ء کو لڑکا پیدا ہوگا۔ وہی مصداق ان تعریفوں کا ہے۔ بلکہ اس اشتہار میں اس لڑکے کے پیدا ہونے کی کوئی تاریخ مندرج نہیں کہ کب اور کس وقت ہوگا۔ پس ایسا خیال کرنا کہ ان اشتہارات میں مصداق ان تعریفوں کا اسی پسر متوفی کو ٹھہرایا گیا تھا۔ سراسر ہٹ دھرمی اور بے ایمانی ہے۔ یہ سب اشتہارات ہمارے پاس موجود ہیں اور اکثر ناظرین کے پاس موجود ہوں گے۔ مناسب ہے کہ ان کو غور سے پڑھیں اور پھر آپ ہی انصاف کریں جب یہ لڑکا جو فوت ہو گیا ہے پیدا ہوا تھا تو اس کی پیدائش کے بعد صد ہا خطوط اطراف مختلفہ سے بدیں استفسار پہنچے تھے کہ کیا یہی مصلح موعود ہے۔ جس کے ذریعہ سے لوگ ہدایت پاویں گے۔ تو سب کو یہی جواب لکھا گیا تھا کہ اس بارے میں صفائی سے اب تک کوئی الہام نہیں ہوا۔ ہاں اجتہادی طور پر یہ گمان کیا جاتا ہے کہ کیا تعجب کہ مصلح موعود یہی لڑکا ہو اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اس پسر متوفی کی بہت سی ذاتی بزرگیاں الہامات میں بیان کی گئی تھیں۔ جو اس پاکیزگی روح اور بلندی فطرت اور علو استعداد اور روشن جوہری اور سعادت جبلی کے متعلق تھیں اور اس کی کاملیت استعدادی سے علاقہ رکھتی تھیں۔ سو چونکہ وہ استعدادی بزرگیاں ایسی نہیں تھیں جن کے لئے بڑی عمر پانا ضروری ہوتا۔ اسی باعث سے یقینی طور پر کسی الہام کی بناء پر اس رائے کو ظاہر
نہیں کیا گیا تھا کہ ضرور یہ لڑکا پختہ عمر تک پہنچے گا اور اسی خیال اور انتظار میں سراج منیر چھاپنے میں توقف کی گئی تھی۔ تا جب اچھی طرح الہامی طور پر لڑکے کی حقیقت کھل جائے تب اس کا مفصل اور مبسوط حال لکھا جائے سو تعجب اور نہایت کہ جس حالت میں ہم اب تک پسر متوفی کی نسبت الہامی طور پر کوئی رائے قطعی ظاہر کرنے سے بکلی خاموش اور ساکت رہے اور ایک ذرا سا الہام بھی اس بارے میں شائع نہ کیا تو پھر ہمارے مخالفوں کے کانوں میں کسی نے پھونک مار دی کہ ایسا اشتہار ہم نے شائع کر دیا۔ بالآخر یہ بھی اس جگہ واضح رہے کہ ہمارا اپنے کام کے لئے تمام و کمال بھروسہ اپنے مولا کریم پر ہے اس بات سے کچھ غرض نہیں کہ لوگ ہم سے اتفاق رکھتے ہیں یا نفاق اور ہمارے دعویٰ کو قبول کرتے ہیں یا رد اور ہمیں تحسین کرتے ہیں یا نفرین۔ بلکہ ہم سب سے اعراض کر کے اور غیر اللہ کو مردہ کی طرح سمجھ کر اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں۔ گو بعض ہم سے اور ہماری ہی قوم میں سے ایسے بھی ہیں کہ وہ ہمارے اس طریق کو نظر حقیر سے دیکھتے ہیں۔ مگر ہم ان کو معذور رکھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ جو ہم پر ظاہر کیا گیا ہے وہ ان پر نہیں اور ہمیں پیاس لگا دی گئی ہے وہ انہیں نہیں ”کل یعمل علی شاکلتہ“ اس محل میں یہ بھی لکھنا مناسب سمجھتا ہوں کہ مجھے بعض اہل علم احباب کی ناصحانہ تحریروں سے معلوم ہوا ہے کہ وہ بھی اس عاجز کی یہ کارروائی پسند نہیں کرتے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٦٣ تا ١٨١)
یہ اشتہار سنت قدیمہ کے مطابق ابھی بہت لمبا ہے۔ مگر چونکہ سنت خاص کے مطابق علمائے کرام کی شان میں آپ برس پڑے ہیں۔ اس لئے ہم اسی پر اکتفا کرتے ہیں۔
اندھیر نگری اور اس کی حکومت
اوائل زمانہ میں چھوٹی چھوٹی حکومتیں ہوا کرتی تھیں اور ان کے بادشاہ بھی وزیر چنیں شہر یار چناں کے مصداق ہی ہوا کرتے تھے۔
چنانچہ اندھیر نگری میں ہر چیز ٹکے کی سیر تھی۔ غریب رعایا کا ناک میں دم آ چکا تھا۔ تجارت کا ستیہ ناس اور تاجروں کا برا حال تھا۔ رشوت ستانی گرم بازاری پر تھی۔ کسی کی فریاد کو کوئی نہ سنتا تھا۔
ایک مہاپرش تپسوی سادھو جس کے دو چیلے بھی تھے۔ صحرانوردی کرتا ہوا شہر میں داخل ہوا اور بڑ کے ایک بڑے پیڑ کے نیچے آسن جما کر بیٹھ گیا اور رام نام کی مالا دے منکے پہ منکا چلانے میں محو ہوا اور چیلوں کو بھوجن کے لئے شہر میں بھیج دیا۔
چیلوں کی حیرت کی کوئی انتہاء ہی نہ رہی کہ جو چیز بھی وہ کسی دوکاندار سے پوچھتے
ہیں۔ دودھ دو پیسے سیر، مکھن دو پیسے، چنے دو پیسے سیر، غرضیکہ جو بھی وہ کسی دوکاندار سے پوچھتے ہیں دو پیسے سیر ہی بتاتا ہے۔ وہ بلا کچھ خرید کئے گرو کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا مہاراج یہ نگری تو رام نگری ہے جو چیز پوچھو دو پیسے سیر ملتی ہے۔ اس لئے ہم آپ سے پرارتھنا کرنے کو آئے ہیں کہ مکئی اور چنے کھا کھا کر ہم تنگ آچکے ہیں رام نگر میں دودھ اور بالائی کھانے کی اجازت عطا فرمائیں۔
مہاراج بولے! یہ رام نگر نہیں اندھیر نگری ہے۔ بوریا بستر سنبھالو اور رام بھروسے چپکے کسی دوسری بستی میں بھوجن کرو۔
چیلے ہاتھ جوڑ کر ملتجی ہوئے مہاراج یہاں چند دن تشریف رکھو اور پرماتما کی دعا سے اچھی اچھی چیزیں بھوجن کرنے کی اجازت دو۔
مہاراج بولے مجھے یہ لچھن کچھ بھلے معلوم نہیں ہوتے۔ بیٹا خطا کھاؤ گے ابھی چلے چلو۔ چیلے پاؤں پڑ کر بضد ہوئے تو مہاراج کو بھی مجبوراً چپ سادھنی پڑی۔
اندھیر نگری سادھووں کے لئے عیش پور تھا کھا کھا کر اس قدر موٹے اور تازے ہوئے کہ شہر میں ان کی نظیر نہ ملتی تھی۔
اندھیر نگر کے راجہ تخت پر براجمان ہیں اور غصے سے لال پیلے ہو رہے ہیں اور منہ سے کف نکل رہی ہے۔ دو قیدی پابہ زنجیر سامنے کھڑے ہیں۔
حضور یہی وہ دونوں نمک حرام ہیں۔ جو موتی کے قاتل ہیں۔ (کتے کا نام ہے) کوتوال نے کہا جو پاس ہی کھڑا تھا۔
راجہ: ان دونوں کو پھانسی پر لٹکا دو۔
کوتوال: بہت اچھا حضور۔
پھانسیاں تیار ہوئیں اور کتے کے قاتل دار پر چڑھانے کے لئے لائے گئے۔ اتفاق سے وزیر صاحب بھی موقعہ پر پہنچ گئے۔ جن کی مٹھی اقربا نے گرم کر دی تھی۔ کہا دیکھو کوتوال ان کو پھانسی مت دو اور میری بادشاہ سے واپسی ملاقات تک حکم کی انتظار کرو۔
کوتوال: بہت اچھا حضور۔
وزیر صاحب بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ حضور وہ آدمی نحیف البدن ہیں اور پھانسی کے رسے کشادہ ہیں۔ کیا کیا جائے وہ تو اس میں نہ آسکیں گے۔
راجہ: ان کو چھوڑ دو اور جو موٹے تازے ہوں ان کی جگہ ان کو پھانسی پر لٹکا دو۔ اندھیر
نگری میں دونوں سادھو کانٹے کی طرح کھٹکتے تھے۔ حکم سنتے ہی سپاہی کتیا کو روانہ ہوئے اور دونوں کو گرفتار کر لیا۔
مہاراج برہم ہوئے اور بولے کہ ان بیچاروں کا کیا قصور ہے۔ یہ بے گناہ کیوں لئے جاتے ہو۔
سپاہی: مہاراج بے گناہ اور قصور وغیرہ کو تو تم جانو یہ تھوڑے موٹے ہیں۔ اگر یہ پھانسی نہ دیئے جائیں تو اور کیا تم دیئے جاؤ گے۔
بیداد نگری کا اندھا راجہ
پنجابی کی ایک مثل مشہور ہے نونڈئیے اور تیراں لاگی وہ شاید اسی بستی کے لئے حقیقت حال ہے۔ راجہ کے حضور میں ایک منیم (منشی) کی جو از حد رشوت لیتا تھا۔ شکایت ہوئی۔ جس پر اسی کی طلبی ہوئی اور وہ حاضر کیا گیا۔
راجہ: کیوں بے نالائق پہلے جہاں بھی تو تعین ہوا سرکاری چوریاں کر لیا کرتا تھا۔ اسی لئے تمہیں مال خانہ اور خزانہ سے موقوف کر کے کاغذی کام پر لگایا۔ اب یہاں بھی رعایا کو لوٹتا ہے جاؤ ہم تمہیں نوکری سے ہی معزول کرتے ہیں۔
منیم: حضور کا اقبال قائم چھوٹی چھوٹی عیالداری ہے رحم فرمایا جائے۔ پرانا نمک خوار ہوں۔
راجہ: بہت اچھا جا تو دریا کی لہریں شمار کیا کر تنخواہ مل جایا کرے گی۔ ہم پاپ سے بہت ڈرتے ہیں۔
منیم: بہت اچھا حضور۔
منیم دعائیں دیتا ہوا دریا کے پتن پر چلا جاتا ہے اور جو بھی دریا سے گزرنا چاہتا ہے منیم جی یہ کہہ کر سد راہ ہوتے ہیں کہ ہماری لہر شماری میں فرق آتا ہے اور جب تک مٹھی گرم نہ ہو کیا مجال کوئی گزر سکے۔
غریب رعایا جس طرح بھی ہو سکا رام بھروسے وقت گزارتی رہی۔ اتفاق سے راجکمار کی شادی ہوئی اور دلہن کا ڈولا بھی دریا پار سے آیا۔ منیم جی نے مزاحمت کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ ہماری لہر شماری میں فرق آتا ہے۔ اس لئے ہم گزرنے نہ دیں گے۔
شاہی سوار غصہ سے برہم ہوئے اور بولے ابے تو کون ہے جو راج کمار کا ڈولا روکتا ہے۔ منیم جی نے جواب دیا میں رانی کا سالہ ہوں۔ شاہی سپاہی اس مسکت جواب سے مرعوب ہوئے اور معاملہ دربار تک پہنچا۔
راجہ تخت پر بیٹھا ہے اور درباری قرینے سے دست بستہ کھڑے ہیں۔ سپاہی فریادی ہوتا ہے کہ حضور دریا کے پتن پر جو شاہی خیم پہرہ داری پر تعین کیا گیا تھا اور جو اپنے آپ کو رانی کا سالہ کہتا ہے راج کمار کا ڈولا گزرنے نہیں دیتا وہ کہتا ہے۔ چونکہ میری پہرہ داری میں فرق آتا ہے اس لئے ڈولا گزرنے نہ دیا جائے گا۔
راجہ ایک تحریری حکم دیتا ہے کہ روکو مت، جانے دو۔
سپاہی حکم لے کر بڑی عجلت سے پتن پر پہنچتا ہے اور خیم کو شاہی حکم تعمیل کے لئے پیش کرتا ہے۔ خیم حکم کو دیکھ کر اور زیادہ سدراہ ہوتا ہے۔ جس پر شاہی ملازم بگڑ جاتے ہیں اور نوبت دھینگا مشتی تک پہنچ جاتی ہے۔ مگر خیم عیاری کرتا ہوا عقل سے کام لیتا ہے اور شاہی ملازموں کو یہ کہہ کر ٹھنڈا کر دیتا ہے کہ صاحبو عقل سے کام لو اور رانی کے سالے کی بات توجہ سے سنو۔ شاہی حکم جو تم لائے ہو اس میں صاف لکھا ہے کہ:
روکو....... مت جانے دو! شاہی حکم کی تعمیل کرنا میرا اور آپ کا فرض ہے۔ اس لئے یہ ڈولا گزرنے نہ دیا جائے گا۔ اس قانونی خشک منطق بات پر مٹھی گرم کی جاتی ہے اور ڈولا گزر جاتا ہے۔
ناظرین! یہی حال ہمارے مرزا قادیانی کا ہے۔ الہام ٹکے سیر وہ کسی کی ہجو میں ہو یا تعریف میں، عذاب کے ہوں یا خوشخبری کے، قہر الٰہی کے ہوں یا رحم کے غرضیکہ جس امر کے بھی ہوں دو پیسے سیر ہی ہیں اور دعاء کرانی چاہو تو روپیہ، مسلمان بننا چاہو تو چندہ جہاد کی آرزو کرو تو چندہ جیتے بھی چندہ اور مرتے بھی چندہ اور الہام ایسے ہیں کہ جدھر چاہو لگا لو اور جہاں چاہے چسپاں کرلو اور اگر ظاہری الفاظ خلاف پڑتے ہوں تو استعارہ کے رنگ میں پیش کرلو۔ یا ظل اور بروز کے ڈھکونسلے میں ڈھال لو۔ یا کسی ایک لفظ کو ہی لے کر ظنی پیش گوئی کے رنگ میں بیان کرلو اور ایسا کرنے سے گناہ نہیں بلکہ سنت مرزا ہے۔
اب اسی مولود کی پیش گوئیاں اور الہام ملاحظہ ہوں۔ آپ سنت مخصوصہ کے مطابق پینترے بدلتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ہم نے یہ کب کہا تھا۔ پسر متوفی ہی ان صفات کا حامل ہے یہ سراسر ہٹ دھرمی اور بے ایمانی ہے۔
حالانکہ الہامی الفاظ ”فبشرناہ بغلام حلیم“ تھے۔ یعنی ایک حلیم لڑکے کی ہم تمہیں بشارت دیتے ہیں۔ اس کے بعد جو اشتہار دیا اس میں فرماتے ہیں۔
”سو تجھے بشارت ہو ایک وجیہہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا۔ اس کا نام عموئیل اور بشیر ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٠١)
اس کے بعد اشتہار واجب الاظہار کے ہیڈنگ سے جو اشتہار دیا اس میں فرماتے ہیں۔
”یہ نشان مردوں کے زندہ کرنے سے صدہا درجہ بہتر ہے۔ مردہ کی بھی روح ہی دعا سے واپس آتی ہے اور اس جگہ بھی دعاء سے ہی ایک روح منگائی گئی ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١١٥)
یہ وہ روح تھی جو غلطی سے آئی اور لڑکی پیدا ہوئی تو آپ نے قریب کے حمل پر دنیا کو ٹال دیا۔
اس کے بعد اشتہار صداقت آثار کے ہیڈنگ سے شائع کر کے روکو مت جانے دو کے مصداق فرماتے ہیں۔
”یہ بھی الہام ہوا کہ انہوں نے کہا کہ آنے والا یہی ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١١٧)
اس کے بعد خوشخبری کے ہیڈنگ سے ایک اشتہار شائع کر کے فرماتے ہیں۔
”اے ناظرین میں آپ کو بشارت دیتا ہوں کہ وہ لڑکا جس کے تولد کے لئے میں اشتہار ٨؍ اپریل ١٨٨٦ء میں پیش گوئی کی تھی اور خدا تعالیٰ سے اطلاع پا کر کھلے کھلے بیان میں لکھا تھا کہ اگر وہ حمل موجودہ میں پیدا نہ ہوا تو دوسرے حمل میں جو اس کے قریب ہے ضرور پیدا ہو جائے گا۔ آج ١٦؍ ذیقعد ١٣٠٤ھ مطابق ٧؍ اگست ١٨٨٧ء میں بارہ بجے رات کے بعد ڈیڑھ بجے کے قریب وہ مولود مسعود پیدا ہو گیا۔ فالحمدلله على ذالك!“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٤١)
کیا وعدہ تمہیں کر کے مکرنا نہیں آتا
کامل سولہ (١٦) ماہ تک وہ حلیم لڑکا جس کا الہامی نام بشیر رکھا گیا۔ جیتا رہا اور مرزا قادیانی جن کا یہ دعویٰ ہے کہ توجہ کی تو جھٹ الہام ہوا یہ معلوم ہی نہ کر سکے۔ حالانکہ الہامی سلسلہ ٹکے سیر کے مصداق ہی رہا اور برابر شیر علی خیراتی اور چپکے چپکے تابڑ توڑ الہام پر الہام بارش کی طرح وہ مٹکے پر مٹکا لاتے رہے اور آپ کو یہ معلوم نہ ہو سکا کہ یہ مولود وہی ہے یا دوسرا اور جب کہ ایک بین و صاف بیان میں آپ تسلیم کر چکے ہیں کہ انہوں نے کہا آنے والا یہی ہے تو اب تاویل بے کار ہے۔ مگر چونکہ آپ کو دعویٰ نبوت ہے اس لئے آپ کو شاید اس برے زمانے میں اور ہندوستان میں جھوٹ بولنا پیتل پر سونے کی ملمع سازیاں کرنا جائز ہے۔ ورنہ اس لاف و گزاف کے منبع کو یا جھوٹ کے سمندر کو دیکھ کر کون عقلمند کہہ سکتا ہے کہ ایسا مولود قیامت تک آسکتا ہے۔ جھوٹ بولے تو پیٹ بھر کر
بولے کہ کہاوت سنی ہوئی تھی۔ مگر آج آنکھوں سے مشاہدہ کر لی ورنہ اہل بصیرت تو پہلے روز اس نتیجہ سے بے نیاز نہ تھے اور آپ کی کرشمہ سازیوں کے یوں تو ہم بھی قائل ہیں۔
ہم بھی قائل ہیں تیری نیرنگیوں کے یاد رہے
او زمانے کی طرح رنگ بدلنے والے
ہمارے ضلع گوجرانوالہ میں ایک مولوی صاحب منگا نام کے ہوئے ہیں وہ کوئی عالم و فاضل نہ تھے۔ مگر لیکچر اس خوبی وعمدگی سے دیا کرتے تھے کہ علمائے کرام بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہا کرتے تھے اور خاص وعام مرحبا و تحسین کہنے پر مجبور ہوتے تھے۔ وزیر آباد میں ان کے چند دوست ایسے بھی تھے جو بہت ہی بے تکلف تھے۔
انہوں نے مولوی صاحب سے پوچھا کہ آپ کا مبلغ علم تو وہی ہے جو ہمارا ہے۔ کیونکہ جہالت کے کالج میں ایک ہی کلاس میں تعلیم پائی ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ہم تو ایک لفظ بھی اس فصاحت سے ادا نہیں کر سکتے اور آپ ہیں کہ ماشاء اللہ محو حیرت کر دیتے ہیں۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے تو آپ نے جواب دیا۔ اس کا شافی جواب چاہتے ہو تو میرے ساتھ سیر کو باہر چلو۔ چونکہ یہ انکشاف حقائق تھا اس لئے وہ مولانا کے ساتھ ہولئے۔ شہر کے باہر ایک بڑا سرسبز کھیت لہلہا رہا تھا۔ جس میں غالباً گوبھی اُگی ہوئی تھی۔
مولوی صاحب اس کے کنارہ پر کھڑے ہو گئے اور رفیقوں کو مخاطب کر کے فرمایا۔
بھائیو! میرے وعظ کی کیفیت یونہی سمجھو کہ یہ گوبھیوں کے پودے بڑی بڑی پگڑیاں باندھے عوام الناس بیٹھے ہیں اور یہ کھیت جلسہ گاہ ہے۔ آپ میں سے کوئی میری جگہ چلا آئے اور یہاں کھڑے ہو کر جو کچھ اس کے دل میں آئے بے حجابانہ کہتا جائے اور دیکھے کہ کوئی اسے مزاحم ہوتا ہے یا کسی بات کا حوالہ پوچھتا ہے کچھ بھی نہیں۔ پھر بے باک کہنے سے کیوں رکوں جب کہ یہ میں اچھی طرح سے جانتا ہوں کہ عوام الناس جاہل مطلق ہیں۔
بعینہ اسی قاعدہ کلیہ پر مرزا قادیانی کا نصب العین ہے فرماتے ہیں کہ:
”بالآخر یہ بھی اس جگہ واضح رہے کہ ہمارا اپنے کام کے لئے تمام وکمال بھروسہ مولا کریم پر ہے ....... اس بات سے کچھ غرض نہیں کہ لوگ ہم سے اتفاق رکھتے ہیں یا نفاق اور ہمارے دعویٰ کو قبول کرتے ہیں یا رد اور ہمیں تحسین کرتے ہیں یا نفرین ۔ بلکہ ہم سب سے اعراض کر کے غیر اللہ کو مردہ کی طرح سمجھ کر اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں۔ گو بعض ہم سے اور ہماری قوم
میں سے ایسے بھی ہیں کہ ہمارے اس طریق کو نظر تحقیر سے دیکھتے ہیں۔ مگر ہم ان کو معذور سمجھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ جو ہم پر ظاہر کیا گیا ہے وہ ان پر نہیں اور جو ہمیں پیاس لگا دی گئی ہے وہ انہیں نہیں ”كل يعمل على شاكلته“ اس محل میں یہ بھی لکھنا مناسب سمجھتا ہوں کہ مجھے بعض اہل علم اصحاب کی ناصحانہ تحریروں سے معلوم ہوا ہے کہ وہ بھی اس عاجز کی یہ کارروائی پسند نہیں کرتے۔“
(اشتہار یکم دسمبر ١٨٨٨ء ، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٨٠، ١٨١)
ناظرین! مرزا قادیانی تمام بنی نوع انسان کو مردہ سمجھتے ہوئے اپنے کام میں لگے ہوئے تھے۔ وہ کسی کی نفرین اور تحسین کی پرواہ تھوڑا ہی کرتے تھے۔ ہدایت و گمراہی نفاق و اتفاق قبولیت و عدم قبولیت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے غیر اللہ کو مردہ سمجھ کر ہمہ تن اپنے مسیح موعود بننے کے شغل میں محو تھے کہ کسی طرح مسیح موعود بن جائیں اور یہ ایسی پیاس لگی ہوئی تھی کہ باوجودیکہ ہزاروں صفحات اسی دھن میں سیاہ کئے۔ مگر ایسا کرنے سے چونکہ فاش غلطیاں بھی ہو جاتی تھیں۔ جس کے لئے آئے دن احباب فہمائش کیا کرتے کہ خواب گراں میں آپ کے منہ سے کیا کیا نکل گیا۔ ہوش کی دوا لو اور ہماری ان حرکات سے وہ نالاں تھے اور چونکہ ہم غیر اللہ کو مردہ سمجھتے تھے۔ اس لئے وہ ہمارے اس طریق کو نظر حقارت سے دیکھتے تھے۔ مگر چونکہ وہ ہمارے مقصد سے نابلد تھے۔ اس لئے ہم ان کو معذور سمجھتے تھے اور جو ہم جانتے تھے وہ بھلا کیا جانیں ہم اپنی پیاس کی قدر خود ہی کرتے تھے اور بعض اہل علم احباب کی ناصحانہ تحریریں جو مجھے اس فعل مذموم پر موصول ہوئیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی میری اس کارروائی کو پسند نہیں کرتے۔ مگر ہم تو اپنے مبلغ علم میں ان کی حقیقت کو مچھروں سے زیادہ نہ سمجھتے تھے۔
بڑھاپے میں مسیحیت پر طبیعت آ ہی جاتی ہے
کے مصداق ہم اپنے مشاغل میں ہمہ تن مصروف تھے۔
حسن بن صباح کا ایک واقعہ مجھے یاد آیا وہ یہ ہے کہ یہ حضرت بھی صاحب الہام ہونے کا دعویٰ کیا کرتے تھے اور ایک مذہب جدید ایسا جاری کیا تھا۔ جس میں ہزاروں بندگان خدا مقید ہو چکے تھے۔ ایک دفعہ وہ معہ اپنے مریدوں کے جہاز میں سوار تھے کہ طوفان آ گیا اور جان کے لالے پڑ گئے۔ مدعی الہام نے سوچا اور ایسی عیاری سے مطالعہ کیا کہ اگر طوفان سے بچ گئے تو ریا لوگوں کے پوں باراں ہیں فوراً ایک الہام مریدان باوفا کو سنا دیا کہ مطمئن رہو۔ خدا نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ جہاز نہیں ڈوبے گا۔ کیونکہ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ اگر ڈوب گیا تو پوچھنے والا کون ہوگا۔
مرزا قادیانی کا مفتریانہ غلام حلیم بچہ اگر زندہ بھی رہتا تو یہ ظاہر ہے کہ وہ ان صفات کا حامل کبھی نہ ہو سکتا تھا۔ مگر مرزا قادیانی کی عمر نے اس کے چالیس برس تک وفا تھوڑی ہی کرنی تھی۔ جیتا رہتا تو ایک معجزہ نمائی کی بین دلیل ٹھہرتا اور ہزاروں اس سے ٹھوکریں کھاتے اور کارخانہ نبوت کی شان ہوتی اور صفات کے متعلق استفسار کنندگان کو یہ کہہ کر خاموش کر دیا جاتا کہ واقعات سنت اللہ کے مطابق چالیس برس کے بعد ظہور ہوں گے۔ مگر افسوس قدرت کو یہ بھی منظور نہ ہوا۔
جن پہ تقویٰ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے
شہد شاہد من اہلہا
مرزا قادیانی کی تحدی کی پیش گوئیاں جن پر نبوت امامت، حق و باطل ، صدق و کذب کا انحصار تھا اور جو بڑے طمطراق سے شائع ہوئیں اور جن پر پورا پورا بھروسہ اور ناز تھا۔ اللہ رے تیری شان! برسر بازار رسوائی اور روسیاہی کی مہیب تصویریں بن گئیں اور ان کے تصور سے اب تک غریب امت کی جان دو بھر ہے اور روح ترساں ولرزاں ہے۔ مگر واہ رے حسن عقیدت تیرا ستیاناس۔ تیرے دام ہوس میں جب کوئی غریب پھنس جائے اور پھر غیر ممکن ہے کہ تیرے سیاہ گیسو جنہوں نے دجل کی گود میں پرورش پائی اور جھوٹ کے جھولے میں کھیلے اور فریب کی گھٹی کا مزہ چکھا اسے جیتا جاگتا چھوڑ دیں۔
فریب کی کان کی دیوی اور جھوٹ کی ماتا تو ہے۔ تیرا چنگل فولادی گرفت سے کہیں زیادہ ہے۔ تیرے ہتھکنڈے وہ وہ کرشمہ سازیاں دکھلاتے ہیں کہ عاقل عقل کو بھول جاتے ہیں اور دانا جاہلوں کی طرح بے بس ہو کر دانائی کو خیر باد کہتے ہوئے تیری خوفناک لہروں میں بہ جاتے ہیں۔ ہاں الا ماشاء اللہ کوئی خوش نصیب تیرے طلسمی جال کو جو در حقیقت عنکبوتی تاروں سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا توڑ کر فضل ایزدی سے نکل جاتا ہے۔ ورنہ ناصح شفیق تیرے دجل کو بقول شخصے
باز مے گوئی کہ دامن تر مکن ہوشیار باش
کے عین مصداق ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے محفوظ رکھے۔ آمین!
ذیل میں ایک خط جناب محمد علی خاں صاحب رئیس مالیر کوٹلہ کا درج کیا جاتا ہے۔ جس
سے امت کی بدحواسی اور تحدی کی پیش گوئیوں کی بربادی کا فوٹو منظر عام ہوگا۔ قرینہ وہ بھی حلقۂ ارادت مرزا ہے۔ اس لئے یہ تحریر لطف سے خالی نہ ہوگی اور مرزا قادیانی کی بطالت پر مہر کذب ثبت کرنے میں پیش پیش رہے گی۔ اس پیش گوئی پر بھی عنقریب روشنی ڈالی جائے گی۔ کتاب تصویر مرزا زیر طبع ہے انتظار فرماویں۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم ! مولانا (نور الدین صاحب) مکرم سلمہ اللہ تعالیٰ ! السلام علیکم ! آج ٧؍ ستمبر ہے اور پیش گوئی کی معیاد مقررہ ٥؍ ستمبر ١٨٩٤ء تھی۔ گو پیش گوئی کے الفاظ کچھ ہی ہوں۔ لیکن آپ نے جو الہام کی تشریح کی ہے وہ یہ ہے۔ میں اس وقت اقرار کرتا ہوں کہ اگر پیش گوئی جھوٹی نکلی یعنی وہ فریق جو خدا کے نزدیک جھوٹ پر ہے وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کے اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جائے ، روسیاہ کیا جائے ۔ میرے گلے میں رسہ ڈالا جائے ۔ مجھ کو پھانسی دیا جائے اور ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں اور میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ضرور وہ ایسا ہی کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ زمین و آسمان ٹل جائیں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔ اب کیا یہ پیش گوئی آپ کی تشریح کے موافق پوری ہو گئی۔ ہر گز نہیں ۔ عبداللہ آتھم اب تک صحیح و سلامت موجود ہے اور اس کو بسزائے موت ہاویہ میں نہیں گرایا گیا۔ اگر یہ سمجھو کہ پیش گوئی الہام کے الفاظ کے موجب پوری ہو گئی جیسا کہ مرزا خدا بخش صاحب نے لکھا ہے اور ظاہری معنی جو سمجھے گئے ٹھیک نہ تھے۔ اوّل تو کوئی بات ایسی نظر نہیں آتی کہ جس کا اثر عبداللہ آتھم صاحب پر پڑا ہو۔ دوسرا پیش گوئی کے الفاظ بھی یہ ہیں۔ اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور سچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے وہ انہیں دنوں کے مباحثے کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک ماہ لے کر یعنی پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور جو شخص سچ پر ہے خدا کو مانتا ہے۔ اس کی اس سے عزت ظاہر ہوگی اور اس وقت جب پیش گوئی ظہور میں آئے گی بعض اندھے سوجاکھے کئے جائیں گے۔ بعض لنگڑے چلنے لگیں گے۔ بعض بہرے سننے لگیں گے۔ پس اس پیش گوئی میں ہاویہ کے معنی اگر آپ کی تشریح کے بموجب نہ لئے جائیں اور
صرف ذلت اور رسوائی لی جا عیسائی مذہب سچا۔ جو خوشی اس وقت گوئی کو سچا سمجھا جائے تو عیس اب رسوائی مسلمانوں کو ہوئی ہوسکتی ہے تو یہ بڑی مشکل با لڑکے کی پیش م بھی غلطی ہوئی۔ اب اس معرکہ جائے کہ احد میں فتح کی با سے معرکہ کی پیش گوئی نہ تو ہوئی۔ کیا کوئی ایسی نظیر ۔ و باطل ٹھہرا کر ایسی شکست ! اب تک جہاں تک غور کر دعاوی کے متعلق تو بہت ہی الواقعہ سچے ہیں تو خدا کر۔ فرمائیں۔ (پلومر کی دوکان سے تسلی کلی ہو۔ باقی جیسا یہی کہہ دیں گے کہ ہاویہ۔ بدلائل تحریر فرماویں۔ ورنہ خالد ) ہم لوگوں کو کیا منہ دک
از مرزا قادیانی
صرف ذلت اور رسوائی لی جائے تو بے شک ہماری جماعت ذلت اور رسوائی کے ہاویہ میں گر گئی اور عیسائی مذہب سچا۔
جو خوشی اس وقت عیسائیوں کو ہے وہ مسلمان (مرزائیوں) کو کہاں۔ پس اگر اس پیش گوئی کو سچا سمجھا جائے تو عیسائیت ٹھیک ہے۔ کیونکہ جھوٹے فریق کو رسوائی اور سچے کو عزت ہوگی۔ اب رسوائی مسلمانوں کو ہوئی۔ (حضرت مرزائیوں کو ہوئی) میرے خیال میں اب کوئی تاویل نہیں ہو سکتی ہے تو یہ بڑی مشکل بات ہے کہ ہر پیش گوئی کے سمجھنے میں غلطی ہو۔
لڑکے کی پیش گوئی میں تفاؤل کے طور پر ایک لڑکے کا نام بشیر رکھا وہ مر گیا تو اس وقت بھی غلطی ہوئی۔
اب اس معرکہ کی پیش گوئی کے اصل مفہوم کے نہ سمجھنے نے تو غضب ڈھایا۔ اگر یہ کہا جائے کہ احد میں فتح کی بشارت دی گئی تھی۔ آخر شکست بھی تو اس میں ایسے زور سے اور قسموں سے معرکہ کی پیش گوئی نہ تھی اور اس میں لوگوں سے غلطی ہو گئی تھی اور آخر پھر جب مجتمع ہو گئے تو فتح ہوئی۔ کیا کوئی ایسی نظیر ہے کہ اہل حق کو بالمقابل کفار کے ایسے صریح وعدے ہو کر اور معیار حق و باطل ٹھہرا کر ایسی شکست ہوئی ہو۔ مجھ کو اب اسلام پر شبہے پڑنے شروع ہو گئے۔ لیکن الحمدللہ! کہ اب تک جہاں تک غور کرتا ہوں اسلام بالمقابل دوسرے ادیان کے اچھا ہے۔ لیکن آپ کے دعاوی کے متعلق تو بہت ہی شبہ ہو گیا۔ پس میں نہایت بھرے دل سے التجا کرتا ہوں کہ آپ اگر فی الواقعہ سچے ہیں تو خدا کرے کہ میں آپ سے علیحدہ نہ ہوں اور اس زخم کے لئے کوئی مرہم عنایت فرمائیں۔ (پلومر کی دوکان سے مرزا قادیانی کے نقش قدم پر ٹانک وائن منگوائیے۔ خالد) کہ جس سے تسلی کلی ہو۔ باقی جیسا کہ لوگوں نے پہلے ہی مشہور کیا تھا کہ اگر یہ پیش گوئی پوری نہ ہوئی تو آپ یہی کہہ دیں گے کہ ہاویہ سے مراد موت نہ تھی۔ الہام کے مفہوم سمجھنے میں غلطی ہوئی۔ برائے مہربانی بدلائل تحریر فرماویں۔ ورنہ آپ نے مجھے ہلاک کر دیا۔ (زندوں کو مارنے کے مسیح زمان جو ہوئے۔ خالد) ہم لوگوں کو کیا منہ دکھائیں۔ برائے استفادہ نہایت دلی رنج سے یہ تحریر کر رہا ہوں۔ راقم! محمد علی خاں از مالیر کوٹلہ
(اصحاب احمد حصہ دوم ص ٨٠، ٨١ حاشیہ)
زلیخا نے کیا خود چاک دامن ماہ کنعاں کا
مرزا قادیانی اپنی اس ناکامی و نامرادی کا دکھڑا روتے ہوئے اپنی بطالت پر خود بذات }
فی نفسہ مہر کذابت ثبت فرماتے ہوئے حکیم نور دین صاحب کو مندرجہ ذیل خط تحریر کرتے ہیں۔ جس میں مخالفین کے اعتراضوں سے جان عزیز کا قبل از وقت سراسیمگی سے دوچار ہونا اور موافقین کا شبہات کے سمندر میں بہنا بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس کا اندازہ کرنا کہ کس قدر شبہات پیدا ہوئے۔ میرے احاطہ تخیل سے باہر ہے۔
مخدومی مکرمی مولوی حکیم نور دین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!
میرا لڑکا بشیر احمد تیس روز بیمار رہ کر بمقتضائے رب عزوجل انتقال کر گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون! اس واقعہ سے جس قدر مخالفین کی زبانیں دراز ہوں گی اور موافقین کے دلوں میں شبہات پیدا ہوں گے ان کا اندازہ نہیں ہو سکتا۔ والسلام!
خاکسار! غلام احمد از قادیان ٤ نومبر ١٨٨٨ء
(مکتوبات احمدیہ ج ٥، حصہ دوم، ص ١٢٨، ١٢٧)
بھلے آدمی سے کوئی پوچھے کہ الہام یابی کے موقع پر فرار کی راہیں سوچنے میں آپ نے کافی سے زیادہ سعی فرمائی تھی۔ مگر آپ نے یہ بھی سوچ لیا ہوتا کہ وہ سمیع بصیر علیم بذات الصدور ہستی جس سے کسی کا کوئی مکر وفریب پوشیدہ نہیں رہتا اور جس کے قبضہ قدرت میں عزت وذلت ہے آپ کے اس دجل کو دیکھ رہی ہے۔
مرزا قادیانی کا دعویٰ کہ میں مسیح ابن مریم ہوں
”وكنت اظن بعد هذه التسمية ان المسيح الموعود خارج وماكنت اظن انه انا حتى ظهر السر المخفى الذى اخفاه الله على كثيرا من عباده ابتلاء من عنده وسمانى ربى عيسى ابن مريم فى الهام من عنده وقال يا عيسى انى متوفيك ورافعك الىّ ومطهرك من الذين كفروا وجاعل الذين كفروا الى يوم القيمة انا جعلناك عيسى ابن مريم وانت منى بمنزلة لا يعلمها الخلق وانت منى بمنزلة توحيدى وتفريدى وانك اليوم لدينا مكين امين فهذا هو الدعوى الذى يجادلنى قومى فيه ويحسبوننى من المرتدين“
(حمامتہ البشریٰ ص ٨، خزائن ج ٧ ص ١٨٤)
”خدا نے میرا نام متوکل رکھا۔ میں بعد اس کے بھی سمجھتا رہا کہ مسیح موعود آئے گا اور
میں نہیں سمجھتا تھا کہ میں ہی ہوں گا۔ یہاں تک کہ مخفی بھید مجھ پر کھل گیا۔ جو بہت سے لوگوں پر نہیں کھلا اور میرے پروردگار نے اپنے الہام میں میرا نام عیسیٰ ابن مریم رکھا اور فرمایا اے عیسیٰ ہم نے تجھے عیسیٰ بن مریم کہا اور تو مجھ سے ایسے مقام میں ہے کہ مخلوق اس کو نہیں جانتی اور اے مرزا تو آج ہمارے نزدیک بڑی عزت والا ہے۔ پس یہی دعویٰ ہے جس میں مسلمان قوم مجھ سے جھگڑتی ہے اور مجھ کو مرتد جانتی ہے۔“
ناظرین کرام! ضمنی پیش گوئیاں مرزا قادیانی کی صداقت پر چار چاند لگاتی ہوئیں رسول اکرم ﷺ کے فرمان پر پھول چڑھاتی ہوئیں اہل بصیرت کے لئے درس عبرت چھوڑ گئیں۔ سرکار دوعالم نے ایسے ہی دجالین کے لئے فرمایا تھا۔ ”لا تقوم الساعۃ حتی یخرج ثلاثون دجالون (کنز العمال ج ١٤ ص ١٩٩، حدیث نمبر ٣٨٣٧٦)“ آقائے دوجہاں کا فرمان ہے کہ اے میرے نام لیواؤ آگاہ رہو کہ قیامت تب تک بپا نہ ہو گی جب تک یہ دجال نہ آچکیں۔ ایک اور ارشاد میں فرمایا میری امت آگاہ رہو۔ ”کذابون ثلاثون کلہم یزعم انہ نبی الله وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی (مشکوۃ ص ٤٦٥)“ ایسے ہی اور بیسیوں ارشادات فیض ترجمان نے رقم فرمائے اور تمام انبیاء علیہم السلام اپنی اپنی امتوں کو دجال کے آنے سے متنبہ کرتے ہوئے ڈراتے گئے اور چونکہ یہ باب مسیح موعود کے نشانات وعلامات کے لئے ہی مختص ہے۔ اس لئے انسب ہے کہ مسیح علیہ السلام کا وہ پیغام جو ایسے افراد کے لئے دیا گیا تھا قارئین کرام کے لطف وحقائق کے لئے پیش کردوں۔ (انجیل لوقا باب: ٢١، آیت: ٧ تا ١١) میں ہے:
”انہوں نے اس سے پوچھا کہ اے استاد پھر یہ باتیں کب ہوں گی اور جب وہ ہونے کو ہوں اس وقت کا کیا نشان ہے۔ اس نے کہا خبردار گمراہ نہ ہونا۔ کیونکہ بہتیرے میرے نام پر آئیں گے اور کہیں گے کہ میں وہی ہوں اور یہ کہ وقت نزدیک آ پہنچا ہے۔ تم اس کے پیچھے نہ چلے جانا اور جب لڑائیوں اور فسادوں کی افواہیں سنو تو گھبرا نہ جانا۔ کیونکہ ان کا پہلے ہونا ضروری ہے۔ لیکن اس وقت فوراً خاتمہ نہ ہوگا۔ پھر اس نے ان سے کہا کہ قوم پر قوم اور بادشاہت پر بادشاہت چڑھائی کرے گی اور بڑے بڑے بھونچال آئیں گے اور جابجا پلیگ اور مری پڑے گی اور آسمان پر بڑی بڑی دہشت ناک باتیں اور نشانیاں ظاہر ہوں گی۔“
مرزا قادیانی نے دعویٰ مسیح موعود ہونے کا ١٨٨٠ء میں کیا اور پلیگ (طاعون) دوسال بعد ١٨٨٢ء میں پڑی اور ایسے جھوٹے نبی نزول مسیح سے پہلے جب آئیں گے تو مری پڑے گی۔ بھونچال آئیں گے۔ بادشاہت پر بادشاہت چڑھائی کرے گی یہ تو نشانات مسیح کاذب کے وقت
کے ہیں۔ جو مرزا قادیانی کی بعثت سے پورے ہوئے۔ انجیلی رو سے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی جھوٹے ہیں۔
دوسرا حوالہ بھی ملاحظہ فرمادیں۔ انجیل متی باب ٢٤، آیت نمبر ٢٩
اور فوراً ان دنوں کی مصیبت کے بعد سورج تاریک ہو جائے گا اور چاند اپنی روشنی نہ دے گا اور ستارے آسمان سے گریں گے اور آسمان کی قوتیں ہلائی جائیں گی۔ اس وقت ابن آدم کا نشان آسمان پر دکھلائی دے گا۔ اس وقت زمین کی ساری قومیں چھاتی پیٹیں گی ...... اور وہ نرسنگے کی بڑی آواز کے ساتھ اپنے فرشتوں کو بھیجے گا اور وہ اس کے برگزیدوں کو چاروں طرف سے آسمان کے اس سرے سے اس سرے تک جمع کریں گے۔‘‘
ظاہر ہے کہ یہ واقعات بھی مرزا قادیانی کے خلاف ہیں۔ نظام فلکی میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہوا اور نہ ہی ابن آدم کو آسمان پر کسی نے آتے دیکھا اور نہ ہی نظام ارضی نے چھاتی پیٹی اور نہ ہی آواز صور کسی نے سنی۔ ہاں مرزا قادیانی نے صور ہونے کا دعویٰ ضرور کیا۔ مگر وہ بھیانک اور کرخت آواز سنائی نہیں دی۔ شاید ضلع گورداسپور میں کہیں سنی گئی ہو تو تعجب نہیں اور نہ ہی بنی آدم کو کسی نے جمع کیا۔ اس لئے بھی مرزا قادیانی جھوٹے ہوئے۔
قبل اس کے کہ میں مسیح موعود کے مبحث پر کچھ عرض کروں میں یہ بھی مناسب خیال کرتا ہوں کہ دجال قادیان مرزا غلام احمد قادیانی کے اقوال بھی پیش کر دوں تا کہ معاملہ نہایت آسانی سے سمجھ میں آسکے اور کوئی الجھن باقی نہ رہے۔
مرزا قادیانی اپنی مایہ ناز کتاب (مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٤٣٠) پر فرماتے ہیں کہ:
’’سیدنا و مولانا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب و کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم علیہ السلام صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ محمد مصطفیٰ ﷺ پر ختم ہو گئی۔‘‘
مسیح علیہ السلام کے آنے کا اقرار
(ازالہ اوہام ص ١٩٩، ٢٠٠، خزائن ج ٣ ص ١٩٧، ١٩٨) پر فرماتے ہیں کہ:
’’جس قدر حال کے بعض مولوی صاحبوں نے مجھے اپنی دیرینہ رائے کا مخالف ٹھہرایا ہے۔ غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ درحقیقت اتنی بڑی مخالفت نہیں جس پر اتنا شور مچایا گیا۔ میں نے صرف مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور میرا یہ بھی دعویٰ نہیں کہ صرف مثیل ہونا میرے پر ہی ختم
ہو گیا ہے۔ بلکہ میرے نزدیک ممکن ہے کہ آئندہ زمانوں میں میرے جیسے اور دس ہزار بھی مثیل مسیح آ جائیں۔ ہاں اس زمانہ کے لئے میں ہی مثیل مسیح ہوں اور دوسرے کی انتظار بے سود ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ یہ کچھ میرا ہی خیال نہیں کہ مثیل مسیح بہت ہو سکتے ہیں۔ بلکہ احادیث نبویہ کا یہی منشا پایا جاتا ہے۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ دنیا کے اخیر تک قریب تیس کے دجال پیدا ہوں گے۔ اب ظاہر ہے کہ جب تیس دجال کا آنا ضروری ہے تو بحکم لکل دجال عیسیٰ تیس مسیح بھی آنے چاہئے۔ پس اس بیان کی رو سے ممکن اور بالکل ممکن ہے کہ کسی زمانہ میں کوئی ایسا مسیح بھی آجائے جس پر حدیثوں کے بعض ظاہری الفاظ صادق آسکیں۔ کیونکہ یہ عاجز اس دنیا کی حکومت اور بادشاہت کے ساتھ نہیں آیا۔ بلکہ درویشی اور غربت کے لباس میں آیا ہے اور جب کہ یہ حال ہے تو پھر علماء کے لئے اشکال حل ہی کیا ہے ممکن ہے کہ ان کی یہ مراد بھی کسی وقت پوری ہو جائے۔“
عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کا اقرار کہ وہ دمشق میں نازل ہوں گے
(ازالہ اوہام ص ٢٩٤، خزائن ج ٣ ص ٢٥١) پر مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ:
”اس عاجز کی طرف سے یہ دعویٰ نہیں کہ مسیحیت کا میرے وجود پر ہی خاتمہ ہے اور آئندہ کوئی مسیح نہیں آئے گا۔ بلکہ میں تو مانتا ہوں اور بار بار کہتا ہوں کہ ایک کیا دس ہزار سے بھی زیادہ مسیح آسکتا ہے اور ممکن ہے کہ ظاہری جلال اور اقبال کے ساتھ بھی آویں اور ممکن ہے کہ اول وہ دمشق میں ہی نازل ہو۔“
دعوائے مسیح موعود سے حضرت مرزا قادیانی کا انکار
(ازالہ اوہام ص ١٩٠، خزائن ج ٣ ص ١٩٢) پر تحریر کرتے ہیں کہ:
”اے برادران دین و علمائے شرع متین آپ صاحبان میری معروضات کو متوجہ ہو کر سنیں۔ اس عاجز نے جو مثیل موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں۔ یہ کوئی نیا دعویٰ نہیں جو آج ہی میرے منہ سے سنا گیا ہو۔ بلکہ یہ وہی پرانا الہام ہے جو میں نے خدا تعالیٰ سے خبر پا کر براہین احمدیہ میں کئی مقام پر تصریح درج کر دیا تھا۔ جس کو شائع کرنے پر سال سے بھی کچھ زیادہ عرصہ گذر گیا ہوگا۔ میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ میں مسیح بن مریم ہوں جو شخص یہ الزام مج مجھ پر لگاوے وہ سراسر مفتری اور کذاب ہے۔ بلکہ میری طرف سے عرصہ سات یا آٹھ سال سے برابر یہی شائع ہو رہا ہے کہ میں مثیل ہوں۔ یعنی حضرت عیسیٰ کے بعض روحانی خواص ، طبع اور عادت اور اخلاق وغیرہ خدا تعالیٰ نے میری فطرت میں بھی رکھی ہیں ۔“
میں مسیح موعود نہیں ہوں صرف مسلمان ہوں
(توضیح المرام ص ١٧، خزائن ج ٣ ص ٥٩) پر فرماتے ہیں کہ: ”اگر یہ اعتراض پیش کیا جائے کہ مسیح کا مثیل بھی نبی چاہیے۔ کیونکہ مسیح نبی تھا تو اس کا اوّل تو جواب یہی ہے کہ آنے والے مسیح کے لئے ہمارے سید ومولیٰ نے نبوت شرط نہیں ٹھہرائی۔ بلکہ صاف طور پر یہی لکھا ہے کہ وہ ایک مسلمان ہوگا اور عام مسلمانوں کے موافق شریعت فرقانی کا پابند ہوگا اور اس سے زیادہ کچھ بھی ظاہر نہیں کرے گا۔ میں مسلمان ہوں اور مسلمانوں کا امام ہوں ۔“
میں مسیح موعود نہیں ہوں بلکہ مجدد وقت ہوں
”اور مصنف کو اس بات کو بھی علم دیا گیا ہے کہ وہ مجدد وقت ہے اور روحانی طور پر اس کے کمالات مسیح ابن مریم کے کمالات سے مشابہ ہیں اور ایک دوسرے سے بشدت مناسبت و مشابہت ہے۔“
(تبلیغ رسالت ج ١ ص ١٥، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٤)
مسیح موعود کے آنے کا اقرار
”میں اس سے ہرگز انکار نہیں کرسکتا اور نہ کروں گا کہ شاید مسیح موعود کوئی اور بھی ہوں اور شاید یہ پیش گوئیاں جو میرے حق میں روحانی طور پر ہیں۔ ظاہری طور پر اس پر جمتی ہوں اور شاید سچ مچ دمشق میں کوئی مثیل مسیح نازل ہو۔“
(تبلیغ رسالت ج ١ الملحق ص ٣٢ و ١٥٩، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٠٨)
قارئین کرام! ان تحریرات کی موجودگی میں مرزا قادیانی کے پلے باقی کیا رہا۔ نہ نبوت رہی نہ مماثلت نہ مسیح موعود کی رٹ نہ مثیل مسیح کا ڈھکوسلہ۔ ہاں امام کی ایک ٹانگ اور لگا دی۔ جسے سیرۃ النعمان کا ایک ہی ورق ملیا میٹ کرنے کے لئے کافی ہے۔ مگر افسوس ہے کہ ہم اس موقعہ پر اس بطل حریت اور اسلام کے سچے شیدائی اور رسول اکرم ﷺ کے سچے جانشین کا تفصیل سے کچھ بھی ذکر نہ لکھ سکیں گے۔ اس کی یہ وجہ ہے کہ ہمارا اختصار اس کی اجازت نہیں دیتا اور دنیا جانتی ہے کہ اس محمدی غلام نے دین کی جس قدر خدمت کی وہ دراصل انہیں کا حق تھا اور ان کی مبارک زندگی اور اس کے واقعات نام لیوان سرکار مدینہ کو یاد ہیں۔ ہم مختصراً تبرکاً چند ایک واقعات کی دھندلی سی تصویر پیش کرتے ہیں۔
حیات امام اعظم کا ایک ورق
آپ کا نام نامی واسم گرامی نعمان اور کنیت ابو حنیفہؒ ہے اور آپ کا لقب گرامی امام اعظم
ہے آپ کے والد ماجد کا اسم گرامی ثابت اور جدامجد کو زوطی ابن ماہ کے نام نامی سے یاد کیا جاتا ہے۔ آپ عجمی النسل اور ایران کے شاہی خاندان سے دیرینہ تعلق رکھنے والے ہیں۔ حضرت امام کے جدامجد جن کا قبل از اسلام نام زوطی بیان ہوا ۔ آغوش اسلام میں آئے اور اپنے لئے نعمان کا نام پسند فرمایا۔ سلطان عبدالعزیز والی ترکی نے سیرۃ النعمان خود تالیف کی جس میں مفصل شرح وبسط سے یہ بتایا گیا ہے کہ حضرت نعمان کس طرح وزیر خزانہ ایران کے فرائض ادا کرتے رہے اور کن حالات کی بنا پر سبکدوش ہوئے۔ حضرت نعمان اوائل اسلام کے ایسے شیدائی تھے کہ محبت دین اور جذبہ رسول اور عشق نبی کی برکت انہیں کشاں کشاں مدینہ منورہ کھینچ لائی۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ آپ کی بہت خاطر و مدارات فرماتے اور اکثر ملکی معاملات میں مشورہ لیتے تھے۔ شیر خدا کی محبت کی وجہ سے جد امام کوفہ میں مستقل قیام پذیر ہوئے۔ کیونکہ یہ ان دنوں دارالخلافہ تھا۔ چنانچہ کوفہ میں رشتہ محبت زیادہ استوار ہوا اور عموماً شیر خدا اور جد امام کا میل جول اور دوستانہ تعلقات یہاں تک بڑھے کہ اکثر کھانا ایک ہی دسترخوان پر کھایا جاتا اور امیر المؤمنین کی اکثر دعوتیں جد نعمان نے اپنے غریب خانہ پر کیں۔ مختصراً حضرت امام کے والد ماجد کی پیدائش بھی کوفہ میں ہی ہوئی اور وہ دعاء کے لئے شیر خدا کی آغوش شفقت میں ڈالے گئے۔ جناب امیر نے بہت دیر تک گود میں رکھا اور سر پر دست شفقت پھیرا اور یہ دعا فرمائی۔ خدا کرے اے بچہ تو سعادت دارین حاصل کرے اور تو اور تیری نسل سے آئندہ لوگ اسلام کے پرجوش مددگاروں میں سے بنیں۔
چمنستان زہرا کے اس شہنشاہ کی دعاء کا اثر اللہ اللہ داماد رسول کے الفاظ خلاق جہاں نے یوں منظور کئے جس طرح سرکار مدینہ کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دعائیہ کلمات کو منظوری سے سرفراز فرمایا تھا۔ گویا شیر خدا کی آرزو کو رب جہاں نے ٨٠ھ میں جناب ثابت کی قسمت اوج کو منور فرماتے ہوئے حضرت امام ابوحنیفہؒ کی ولادت سے مشرف فرمایا۔ چنانچہ جناب امام نے سات برس کی عمر میں زانوئے تلمذ علامہ عبداللہ کے سامنے تہ کئے اور تھوڑے ہی عرصہ میں قرآن مجید حفظ کرلیا۔
جناب امام کے والد ماجد چونکہ ایک بھاری تاجر تھے۔ اس لئے امام صاحب کو تجارت میں باپ کا ہاتھ بٹانا پڑا اور آپ نے صرف گیارہ برس کی عمر میں ایسی سلیقہ شعاری پیش کی کہ چھوٹی سی عمر میں تمام اصول تجارت اعلیٰ درجے پر سیکھ لئے اور اپنے والد ماجد کو لین دین اور اس کے پیچیدہ کاروبار کے بوجھ سے سبکدوش کر دیا اور خود عبادت میں مشغول ہوئے۔
جناب امام کو حسن یوسفی سے خاصہ حصہ ملا تھا اور صورت کے ساتھ ساتھ سیرت بھی ایسی ہی تفویض ہوئی یہ نور علی نور ایسا جگمگایا کہ جناب امام کی تجارت صرف اپنے والد ماجد کے حلقہ تک نہیں رہی۔ بلکہ اتنا فروغ ہوا کہ آپ کی تجارت نہایت وسیع پیمانہ پر متعدد منڈیوں میں آپ کے ملازموں پر پھیل گئی۔
مگر تجارت ایسی کہ جس کی نظیر ڈھونڈے سے نہ ملے اور جس کی لوگ آج تک قسمیں کھائیں۔ آپ نے کبھی کسی کو دھوکہ نہ دیا۔ کبھی جھوٹ نہ بولا کبھی کم نہ ماپا اور اپنے ملازموں کو اس کی تاکید کی اور کار بند بنایا۔
آپ نے تجارت کو رسول اکرم ﷺ کے اس فرمان پر پورا ثابت کیا۔
"عن ابی سعیدؓ قال قال رسول الله ﷺ التاجر الصدوق الامين مع النبيين والصديقين والشهداء" (ابی سعید بیان کرتے ہیں کہ جناب سرکار مدینہ کا ارشاد ہے کہ وہ تاجر جو سچائی کا دلدادہ و عمل پیرا ہوگا۔ جھوٹ نہ بولے گا کم نہ تولے گا اور اس پر امانت دار بھی ہوگا تو وہ قیامت کے روز نبیوں اور صادقوں اور شہیدوں کے برابر ہوگا ۔) (رواہ
ترمذی، ج ١ ص ٢٢٩، باب ماجاء فی التجار وتسمية النبى ﷺ اياهم)
جناب امام ابو حنیفہؒ کے بچپن کے دوست دشمنوں نے تعریف کی۔ جن لوگوں کو حسن خداوندی سے کچھ حصہ ملا ہے وہ جانتے ہیں کہ جمیل آدمی ایک ایسا انسان ہے کہ جس میں خدا کے نور کا جلوہ پایا جاتا ہے۔ امام صاحب کا پاکیزہ بچپن اس ننھی سی عمر میں ایسی خوش کلامی جو پھولوں کے گرنے کا دھوکہ دیتی تھی۔ وہ حسن سلوک جس میں خلق و مروت کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ ادب واخلاق تو گویا ان کی گھٹی میں تھا۔ جس کسی نے دیکھا اور چند لمحے شرف ملاقات کا موقعہ ملا۔ بس گرویدہ ہو گیا۔ ایسا پیارا بچپن جس پر سلجھی ہوئی جوانیاں اور بڑھاپے قربان کر دی جائیں۔
آہ! یہ کس کے تصدق میں اس خوبی و عمدگی کا بچپن نصیب ہوا۔ اس کا جواب تاریخ کی روشنی میں دیکھئے۔ گو چند کور چشموں نے جناب امام کے متعلق کچھ اپنی کم مائیگی کے ثبوت میں لکھا ہے۔ مگر اس کے جواب میں کیا یہ کم ہے کہ امیر المؤمنین سلطان عبدالعزیزؒ جیسے متقی و بیدار مغز جسے خلفائے راشدینؓ کے بعد اول نمبر پر خلیفہ وقت تسلیم کیا گیا ہے۔ جناب امام کی تاریخ لکھتے ہوئے ان کے محاسن ایسے اچھے طریقہ اور اعلیٰ پیمانہ پر بیان کئے ہیں کہ دوست دشمن کو سر تسلیم خم کرنے کا
چاروناچار معاملہ پیش آتا ہے۔ ہاں جویائے حق کے دل میں خوف خدا اور محبت رسول ہو اور اس کا دل تعصب نے اندھا نہ بنا دیا ہو۔
تاریخ موجود ہے واقعات حاضر ہیں اور دنیا شاہد ہے اور زمانہ ببانگ دہل منادی کر رہا ہے اور تاریخ دان اس سے انکار نہیں کر سکتے کہ جناب امام کی پرنور عقیدت مندانہ بصارت سے بھری ہوئی آنکھیں صحابہ کرام کے منور جمال کی تابانی میں فیضیاب رہیں۔ جناب امام نے ایک مدت تک ان پروانوں کی صحبت میں فیض حاصل کیا جو شمع رسالت کے ناظر تھے اور جن میں سے حضرت انس بن مالک کا نام نامی قابل ذکر ہے۔ اس لئے جناب امام تابعی تھے اور آپ کی تابعیت سنہری حروف سے تاریخ میں لکھی موجود ہے۔
جناب امام نے جو خدمت اسلام کی وہ اظہر من الشمس ہے اور اسی کا ثمرہ ہے جو تیرہ سو برس سے دنیا ابو حنیفہ کی نسبت کو اپنے لئے فخر سمجھتی ہے اور انہیں اپنا پیارا امام تسلیم کرتی ہے اور امام اعظم کے لقب گرامی سے یاد کرتی ہے۔
مگر افسوس معلوم نہیں ہوتا کہ قادیانی بہروپیا رسول اور طفیلی نبی اب امامت کی بڑ کیوں ہانکتا ہے۔ کیا نبیوں کی صف میں عدم گنجائش کی وجہ سے کھڑا ہونے کی ہمت تو نو دو گیاراں ہو گئی۔ کیا مثیل مسیح کا بخار اتر گیا۔ کیا نبیوں کے بروز عالم بالا کو سدھارے اور خالی ڈھانچے کا ڈھانچہ رہ گیا اور نبیوں کی پہلوانی کا لباس اتر گیا۔ یا بوسیدہ ہونے کی وجہ سے دھوبی کے حوالے ہوا۔ آخر سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ حضرت ایک بات پر کیوں نہیں جمتے۔ مگر کیا وہی مقولہ صحیح بیٹھتا ہے۔
کوئی بھی نہیں۔ شیدائیان محمدﷺ کے لئے اللہ پاک ایک، قرآن پاک، نبی کریم ایک، قبلہ ایک، کعبہ ایک، امام بھی ایک ہی کی ضرورت ہے اور چونکہ ان کے واجب التعظیم فرمان آج بھی وہی کام دے رہے ہیں جب سے بیان ہوئے تھے اور ہماری عقیدت بھی ابھی نو بہ نو ہے اور اس میں ذرہ بھر تزلزل نہیں تو کس لئے مرزا جیسے بے پیندے کے لوٹے کو امام بنائیں؟ ہرگز نہیں یہ غلطی ہم نہ کریں گے اور کوئی عقلمند و ذی ہوش سونا چھوڑ کر پیتل کو پسند نہ کرے گا اور جنہوں نے غلامی کا ارتکاب کیا۔ انہیں اس وقت پتہ چلے گا جب ان کے عمل اس اعلیٰ و برتر صراف کے ترازو میں جانچے جائیں گے اور عدل کی کسوٹی پر کسے جائیں گے تو پیتل والوں کو غلطی کا احساس ہوگا۔
مسیلمہ ثانی کا قرآن
"يا احمد بارك الله فيك مارميت اذرميت ولكن الله رمى الرحمن علم القران لتنذر قوماً انذر اباؤهم لتسبين سبيل المجرمين قل انى امرت وانا اول المؤمنين . ياعيسى انى متوفيك ورافعك الى وجاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفروا الى يوم القيمة هو الذى ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله لا مبدل لكلمات الله انا انزلناه قريبا من القاديان وبالحق انزلناه وبالحق نزل صدق الله ورسوله وكان امر الله مفعولا وقالوا ان هو الا افك افترى وما سمعنا بهذا فى ابائنا الاولين قل هو الله عجيب يجتبى من يشاء من عباده لا يسئل عما يفعل وهم يسئلون سنلقى فى قلوبهم الرعب قل جاءكم نور من الله قل اتكفروا ان كنتم مؤمنين والذين امنوا ولم يلبسوا ايمانهم بظلم اولئك لهم الامن وهم مهتدون ويخوفونك من دونه ائمة الكفر تبت يدى ابى لهب وتب ما كان له ان يدخل فيها الا خائفاً وما اصابك فمن الله الفتنة ههنا فاصبر كما صبر اولوالعزم الا انها فتنة من الله ليحب حباً جماً حباً من الله العزيز الاكرم فى الله اجرك ويرضى عنك ربك ويتم اسمك وان لم يعصمك الناس فيعصمك الله من عنده وما كان الله ليتركك حتى يميز الخبيث من الطيب وعسى ان تكرهوا شيئاً فيو خير لكم والله يعلم وانتم لا تعلمون رب اغفر وارحم من السماء رب انى مغلوب فانتصر ايلى ايلى لما سبقتنى رب ارنى كيف يحيى الموتى رب لا تذرنى فرداً وانت خير الورثين ربنا افتح بيننا وبين قومنا بالحق وانت خير الفاتحين بشرى لك يا احمدى انت مرادى ومعى غرست كرامتك بيدى انت وجيه فى حضرتى اخترتك لنفسى شانك عجيب واجرك قريب الارض والسماء معك كما هو معى جرى الله فى حلل الانبياء لا تخف ان انت الا على ينصرك الله فى موطن ان يومى لفضل عظيم كتب الله لا غلبن انا ورسلى الا ان حزب الله هم الغالبون“
(ازالۃ اوہام ص ١٩٢ تا ١٩٧ و خزائن ج ٣ ص ١٩٣ تا ١٩٦)
”اے احمد! اللہ نے تم میں برکت ڈالی۔ جو کچھ تو نے چلایا۔ جب کہ چلایا یہ تو نے بلکہ
خدا نے چلایا ہے رحمن نے تجھے فرمائے گئے اور تاکہ مجرموں کا ر اس پر ایمان لاتا ہوں۔ اے عیسی اوروں کو قیامت تک غالب رکھوں دین حقہ کے ساتھ بھیجا۔ تاکہ تر بدل سکتا۔ ہم نے مرزا کو قادیان ورسول کا وعدہ سچا ہوا اور کہتے ہیں کہہ دے اے مرزا اللہ عجیب ۔ کرنے پر کوئی پوچھنے والا نہیں اور تعالیٰ کی طرف سے نور آیا ہے او لوگ جو مرزا پر ایمان لائے اور ا ہدایت یافتہ ہیں اور منکرین کے ہاتھ ابی لہب کے اور خود بھی ہلاک تکلیف اسے مرزا جی تمہیں رسا ہے۔ مرزا جی صبر کرو۔ جیسا کہ تا کہ وہ تجھ سے محبت کرے۔ تی تجھ سے راضی ہوگا۔ (شاید ابھی اے مرزا تیرا خدا خبیث اور طی لئے بہتر ہو۔ اللہ جانتا ہے مگر تم آ پس مدد کر اے میرے خدا اے؟ ١؎ ابی لہب سے مراد میاں صاحب دہلوی حضرت مر اپنے زمانہ میں اور کوئی نہ تھا۔ ہندوستان بھر میں آپ کے شاکر ایسے صالح انسان کو ابولہب کہنا
خدا نے چلایا ہے رحمٰن نے تجھے قرآن سکھایا۔ تاکہ ان لوگوں کو ڈراوے جن کے باپ دادا نہیں ڈراۓ گئے اور تاکہ مجرموں کا راستہ صاف کھل جاۓ۔ کہہ دے اے مرزا میں حکم کیا گیا ہوں اور اس پر ایمان لاتا ہوں۔ اے عیسیٰ میں تجھے وفات دوں گا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا اور تیرے تابعد اروں کو قیامت تک غالب رکھوں گا۔ وہ پاک ذات ہے جس نے (مرزے) رسول کو ہدایت اور دین حقہ کے ساتھ بھیجا۔ تاکہ تمام ادیان پر ظاہر ہو جاۓ۔ خدا کی باتیں نہیں بدلتیں یا کوئی نہیں بدل سکتا۔ ہم نے مرزا کو قادیان کے قریب اتارا اور حق کے ساتھ اترا اور حق کے ساتھ اتارا اور اللہ ورسول کا وعدہ سچا ہوا اور کہتے ہیں کہ یہ جھوٹ وافتراء ہے اور ہم نے اپنے باپ دادوں سے نہیں سنا کہہ دے اے مرزا اللہ مجیب ہے اپنے بندوں سے جس کو چاہتا ہے۔ چن لیتا ہے اور اس کے کرنے پر کوئی پوچھنے والا نہیں اور ان کے دلوں پر ہم رعب ڈال دیں گے۔ کہہ دے اے مرزا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نور آیا ہے اور اگر تم مؤمن ہو تو کفر مت کرو۔ بلکہ مرزا پر ایمان لے آؤ اور وہ لوگ جو مرزا پر ایمان لاۓ اور اپنے ایمان میں کسی ظلم کو نہیں ملایا وہ امن کی حالت میں ہیں اور وہی ہدایت یافتہ ہیں اور منکرین کے مولوی اور سجادہ نشین تجھے ڈرائیں گے۔ ہلاک ہوۓ لے دونوں ہاتھ ابی لہب کے اور خود بھی ہلاک ہوا۔ اسے نہیں چاہئے تھا کہ اس میں دخل دیتا۔ مگر ڈرتا ہوا اور جو تکلیف اے مرزا جی تمہیں رسالت میں پہنچے گی وہ اللہ کی طرف سے ہے یہ ایک آزمائش کا مقام ہے۔ مرزا جی صبر کرو۔ جیسا کہ تمہارے اولوالعزم رسولوں نے صبر کیا یہ منجانب اللہ امتحان ہے۔ تاکہ وہ تجھ سے محبت کرے۔ تیرا اجر خدا دے گا (چندہ لینے سے پیٹ نہیں بھرتا) اور مرزا تیرا رب تجھ سے راضی ہوگا۔ (شاید ابھی ناراض ہے) اور تیرا نام پورا کرے گا اور اے مرزا تجھے بچاۓ گا اے مرزا تیرا خدا خبیث اور طیب میں فرق کر دکھاۓ گا۔ قریب کہ تم ایک چیز کو لو اور وہ تمہارے لئے بہتر ہو۔ اللہ جانتا ہے مگر تم نہیں جانتے اے اللہ بخش اور رحم کر آسمان سے اے خدا میں ہار گیا۔ پس مدد کر اے میرے خدا اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔ اے خدا تو مردے کس طرح
لے ابی لہب سے مراد مرزا قادیانی بذات خود ہیں۔ مگر وہ شمس العلماء حضرت مولانا قبلہ میاں صاحب دہلوی حضرت مولانا سید نذیر حسین کو کہتے ہیں اور میاں صاحب کے پلے کا عالم اپنے زمانہ میں اور کوئی نہ تھا۔ کیا بلحاظ عمل اور عمر آپ شیخ الحدیث تھے اور نہایت سادہ تھے۔ ہندوستان بھر میں آپ کے شاگرد موجود ہیں۔ جو آج بڑے بڑے علماء کی شکل میں نظر آتے ہیں۔ ایسے صالح انسان کو ابولہب کہنا گند کھانے کے مصداق ہے۔
زندے کرتا ہے۔ اے اللہ تو مجھ کو اکیلا نہ چھوڑ اور تو بہتر ہے، اے خدا میرے اور میری قوم کے درمیان سچا فیصلہ کر اور تو بہتر ہے۔ فیصلہ کرنے والا اے میرے احمد (مرزا جی یوں ہاراں) تجھے بشارت ہو تو میری مراد اور میرے ساتھ ہے۔ تیرے ہاتھوں میں مرزا جی کرامتیں ہیں تو میرے دربار میں چنا ہوا ہے میں نے اے مرزا تجھے اپنی جان کے لئے چنا۔ تیری شان اے مرزا عجیب ہے اور پھل نزدیک زمین و آسمان تیرے ساتھ ہیں۔ جیسے کہ میرے ساتھ (معاملہ واحد ہے) مرزا تو میرا پہلوان ہے نبیوں کے حلون میں اے مرزا مت خوف کر غلبہ تمہیں کو ہے۔ خدا کئی میدانوں میں تیری ہی مدد کرے گا۔ مرزا صاحب میرا دن بڑے فیصلہ کا دن ہے میں نے لکھ چھوڑا ہے کہ ہمیشہ میں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے۔ خبردار خدا کا لشکر غالب رہتا ہے۔‘‘
مومن تو وہ ہے جو خدا کے نشانات پر ایمان لاتا ہے۔ ”ولا تكونن من الذين كذبوا بايت الله فتكون من الخسرين (یونس: ٩٥)“ اور نہ ان لوگوں کے زمرے میں ہونا جنہوں نے خدا کی آیتوں کو جھٹلایا ایسا کرو گے تو آخر کار تم بھی نقصان اٹھانے والے ہو جاؤ گے۔
ناظرین! مسیح علیہ السلام کو مولا کریم نے اپنی نشانیوں میں سے ایک نشانی قرار دیا جو شخص کم عقلی یا نادانی کی وجہ سے مسیح علیہ السلام کے نزول کو مشتبہ سمجھے گا اور محال عقل و فہم خیال کرے گا وہ گویا اللہ تعالیٰ کے قادر ہونے کی نفی کر کے اپنے ایمان سے یقیناً ہاتھ دھو لے گا وہ تمام امور جو ہمارے نزدیک مشکل و محال ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے لئے آسان تر ہیں۔ کیونکہ وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور خالق اور مخلوق میں یہی امتیازی فرق ہے۔
حضرت مسیح ابن مریم آسمان سے نازل ہوں گے
پھر اس کی تائید میں (ازالہ اوہام ص ١٨٢، خزائن ج ٣ ص ١٨٨،١٨٧) پر ایک اور فیصلہ کن بیان فرماتے ہیں۔
”یہ عاجز بار بار یہی کہتا ہے کہ اے بھائیو میں کوئی نیا دین یا نئی تعلیم لے کر نہیں آیا۔ بلکہ میں بھی تم میں سے اور تمہاری طرح ایک مسلمان ہوں اور ہم مسلمانوں کے لئے بجز قرآن
١؎ مگر وہ نازک کلائی تو تلوار بھی نہ اٹھا سکتی تھی اور اسی لئے عاجز قادیانی نام رکھا اور جب خدا پہلوان کہتا ہے دونوں میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے یا دونوں ہی بودے ہیں کیونکہ یہ وحی شیطانی ہے۔
شریف اور کوئی دوسری کتاب نہیں اور بجز جناب ختم المرسلین احمد عربی کہ آپ کی پھر کیا ضرورت ہے۔ ایک متدین مسلمان کے لئے میر تم کچھ بھی نہیں تو تم پر ایمان لانا اندیشہ کی جگہ ہے۔ بفرض محال اگ سمجھنے میں میں نے دھوکہ کھایا۔ ایمان لایا اور خسرالدنیا والآخرہ ہ میں کوئی رخنہ پیدا ہو سکتا ہے۔ ( سیدھا جہنم میں جائے گا) اگر آئے تو دل ما شاد اور چشم ما روش برسرِ بازار جوتوں میں دال بٹے قبول کرلے گا۔ (نہیں حضرت کہ دوسرے کی ضرور تکذیب کر کیونکہ مسیح موعود تو ایک ہی ہے۔ ثواب پائے گا۔ (دجال مسیح ۔ ثواب سے محروم رکھے یہ ثواب سے اس نے قدم اٹھایا تھا۔ بہ ثواب کا قدم آگے ہی رہا اور ہم
( نہ خدا ہی
جادو وہ جو سر پر چڑھ کر ب یوں تو مرزا قادیا ہیں ولیکن اختصار کو ملحوظ رکھتے حوالہ ہے اور اس بحث پر از بس
(حمامتہ البشریٰ ص
فرماتے ہیں۔
شریف اور کوئی دوسری کتاب نہیں جس پر عمل کریں یا عمل کرنے کے لئے دوسروں کو ہدایت دیں اور بجز جناب ختم المرسلین احمد عربی ﷺ کے اور کوئی ہمارے لئے ہادی اور مقتدا نہیں۔ (یہ فرمائیے کہ آپ کی پھر کیا ضرورت ہے۔ خالد ) جس کی پیروی ہم کریں یا دوسروں سے کرانا چاہیں تو پھر ایک متدین مسلمان کے لئے میرے اس دعوے میں ایمان لانا (تو کون میں خواہ مخواہ بھائی ۔ جب تم کچھ بھی نہیں تو تم پر ایمان لانا جہالت اور بے سود ہے ) جس کے الہام الٰہی پر بنا ہے۔ کون سی اندیشہ کی جگہ ہے۔ بفرض محال اگر میرا یہ کشف اور الہام غلط ہے جو کچھ مجھے حکم ہو رہا ہے۔ اس کے سمجھنے میں میں نے دھوکہ کھایا ہے۔ تو ماننے والے کا اس میں حرج ہی کیا ہے۔ (یہی کہ دجال پر ایمان لایا اور خسر الدنیا والاخرہ ہوا) کیا اس نے کوئی ایسی بات مان لی جس کی وجہ سے اس کے دین میں کوئی رخنہ پیدا ہو سکتا ہے۔ (ہاں صاحب رسول اکرم کی قسم اور فرمان سے منہ موڑ کر انشاء اللہ سیدھا جہنم میں جائے گا) اگر ہماری زندگی میں سچ مچ حضرت مسیح ابن مریم ہی آسمان سے اتر آئے تو دل شاد اور چشم ما روشن (حضرت دجالی افسانے روتے رہ جائیں گے اور امت کے ساتھ برسر بازار جوتوں میں دال بٹے گی مگر افسوس تم نہ ہو گے) ہم اور ہمارا گروہ سب سے پہلے ان کو قبول کرلے گا۔ (نہیں حضرت آپ کے دجل اور حلف مانع ہوں گے اور وہ مسیح موعود ایک دفعہ مان کر دوسرے کی ضرور تکذیب کریں گے اور اگر وہ اسے قبول کریں گے۔ تو آپ کو کیا کہیں گے۔ کیونکہ مسیح موعود تو ایک ہی ہے پھر آپ کذاب بنیں گے) اور اس پہلی بات کے قبول کرنے کا بھی ثواب پائے گا۔ (دجال مسیح کے قبول کرنے سے ثواب کی امید لاحول ولا قوۃ الا باللہ اللہ تعالیٰ اس ثواب سے محروم رکھے یہ ثواب ہے یا عذاب) جس کی طرف محض نیک نیتی اور خدا تعالیٰ کے خوف سے اس نے قدم اٹھایا تھا۔ بہر حال اس غلطی کی صورت میں بھی (اگر فرض کیا جائے) ہمارے ثواب کا قدم آگے ہی رہا اور ہمیں دو ثواب ملے۔“
جادو وہ جو سر پر چڑھ کر بولے
یوں تو مرزا قادیانی کے سینکڑوں حوالے ایسے موجود ہیں جو ان کی بطالت پر آپ شاہد ہیں لیکن اختصار کو ملحوظ رکھتے ہوئے صرف ایک اور حوالے پر اکتفا کرتا ہوں۔ کیونکہ یہ ایک اصولی حوالہ ہے اور اس بحث پر از بس مفید ہے۔ (حمامۃ البشریٰ ص١٤، خزائن ج٧ ص١٩٢) پر مرزا قادیانی ایک اصول کو قائم کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
”جہاں رسول اکرم ﷺ حلفا بیان کریں۔ اس کی کوئی تاویل نہیں کرنی چاہئے قسم اخبار میں ظاہر پر دلالت کرتی ہے اور قسم کا فائدہ بھی یہی ہے کہ کلام کو ظاہر پر حمل کیا جائے اور اس میں تاویل اور استثناء نہ کیا جائے۔ اگر اس میں بھی تاویل اور استثناء روا ہو تو قسم کا فائدہ ہی کیا ہے۔“
اور مرزا قادیانی کا اصول بھی ملاحظہ فرماویں۔
”کسی الہام کے وہ معنی ٹھیک ہوتے ہیں کہ ملہم آپ بیان کرے اور ملہم کے بیان کردہ معنوں پر کسی اور کی تشریح اور تفسیر ہرگز فوقیت نہیں رکھتی۔ کیونکہ ملہم اپنے الہام سے اندرونی واقفیت رکھتا ہے اور خدا تعالیٰ سے خاص طاقت پا کر اس کے معنی کرتا ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٤٢)
ناظرین کرام! تینوں فرمان رسالت ملاحظہ فرما چکے ہیں۔ ان کی ابتداء قسم سے کی گئی ہے اور علمائے بلاغت کے نزدیک یہ مسلمہ اصول ہے کہ جہاں حلف آجائے اس کی تاویل نہ کی جائے۔ بلکہ ظاہری الفاظ پر محمول کیا جائے اور اس میں قطعاً تاویل نہ کی جائے۔ کیونکہ ایسا کرنے سے قسم کا فائدہ ساقط ہو جائے گا۔ چنانچہ یہی اصول مرزا قادیانی بھی تسلیم کرتے ہیں۔ اب فرمان مصطفوی ﷺ مسیح موعود کے لئے حسب ذیل بشارات دیتا ہے۔ جن پر مرزا قادیانی کو پورا اترنا چاہئے اور چونکہ فرمان رسالت حلف سے شروع ہوا اس لئے اس میں تاویل یا استعارہ نہ کرنا چاہئے۔
بشارت مسیح موعود
- ١...... مسیح ابن مریم (مسیح موعود) عدل و حکومت کے ساتھ آئے گا۔
- ٢...... مسیح ابن مریم (مسیح موعود) کسر صلیب کرے گا۔ یعنی موجودہ عیسائیت
کالعدم ہو جائے گی۔
- ٣...... مسیح ابن مریم (مسیح موعود) خنزیر کو قتل کرے گا۔
- ٤...... مسیح ابن مریم (مسیح موعود) کے مبارک وقت میں لوگ اس قدر مستغنی اور
عابد ہوں گے کہ ایک ایک سجدہ کو ہزاروں دیناروں سے بہتر سمجھیں گے۔
- ٥...... مسیح ابن مریم جزیہ جو مشرکین سے لیا جاتا ہے معاف کر دیں گے۔ اس کی
وجہ یہ ہے کہ فرقان حمید کی وہ آیت جو ابوہریرہؓ نے اس کے استدلال میں پیش کی ہے۔ بتلاتی ہے مشرک کوئی باقی ہی نہ ہوگا۔ بلکہ سب کے سب عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئیں گے۔ یعنی دین حنیف کو قبول کرلیں گے۔ پھر جزیہ کیسا۔
- ٦...... مسیح ابن مریم (مسیح موعود) مقام فج الروحاء سے احرام باندھیں گے۔
- ٧...... ابن مریم حج کریں گے۔
- ٨...... مسیح ابن مریم آسمان سے اتریں گے۔ کیونکہ حدیث کے الفاظ ہیں زمین
پر اتریں گے اس سے یہ صاف ظاہر ہوا کہ وہ اس وقت زمین پر نہیں کیونکہ زمین کی ضد آسمان ہے۔
- ٩...... مسیح ابن مریم پینتالیس برس زمین پر رہیں گے۔ نکاح کریں گے اور
صاحب اولاد ہوں گے۔
- ١٠...... مسیح ابن مریم مدینہ منورہ میں فوت ہوں گے۔ کیونکہ اس کی تصدیق
نمبر ١١ سے ہوتی ہے۔
- ١١...... مسیح ابن مریم میرے مقبرہ میں میرے ساتھ دفن ہوں گے۔
- ١٢...... مسیح ابن مریم قیامت کے دن میرے مقبرہ سے میرے ساتھ
اٹھیں گے۔ ابوبکرؓ اور عمرؓ کے درمیان ہوں گے۔ ان بارہ اوصاف میں سے ایک بھی مرزا قادیانی کے حق میں نہیں۔
- اوّل...... آپ فرماتے ہیں کہ میں (مرزا قادیانی) درویشی اور غربت کے لباس
میں آیا ہوں۔ فیل!
- دوم...... کسر صلیب نہیں ہوئی بلکہ نصاریٰ ترقی پر ہیں۔ فیل!
- سوم...... خنزیر کا کھانا حرام قرار نہیں دیا گیا۔ بلکہ مرزا قادیانی نے تو از
حد ارزانی کردی ہے۔ فیل!
- چہارم...... لوگ زر و درہم کے بھوکے ہیں اور خود ذات شریف کی چندوں کی فکر
میں کٹی۔ فیل!
- پنجم...... جزیہ معاف نہیں ہوا۔ فیل!
- ششم...... مقام فج الروحاء ایک آنکھ دیکھنا بھی نصیب نہیں ہوا۔ فیل!
- ہفتم...... آپ کو حج کی سعادت نصیب نہیں ہوئی۔ (حالانکہ حج کے متعلق الہام
ہو رہا ہے)۔ فیل!
- ہشتم...... آپ قادیان میں مرزا غلام مرتضیٰ کے ہاں پیدا ہوئے۔ فیل!
- نہم...... آپ نے نکاح کی از حد کوشش کی مگر پھر ناکامی و نامرادی نصیب ہوئی۔ فیل!
- دہم...... آپ نے لاہور میں پران توڑے ۔ مدینہ منورہ کی زیارت بھی نصیب
نہیں ہوئی۔ فیل!
یاز دہم....... آپ قادیان کی بنجر زمین میں دفن ہوئے روضہ نبوی میں ابھی تک قبر کی جگہ خالی پڑی ہے۔ فیل !
دواز دہم....... مرزا قادیانی قادیان سے اپنی امت کے ساتھ خروج کریں گے نہ کہ روضہ اطہر سے اٹھیں گے۔ فیل !
قارئین کرام ! جھوٹ نمبر ٥ کو پھر ایک دفعہ ملاحظہ فرماویں تا کہ الزامی جواب آسان سے آسان تر ہو جائے۔
مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ ”وہ صلیب کو توڑے گا اور اگر دس بیس لاکھ صلیبیں اس نے توڑ بھی دیں تو عیسائی جن کو صلیب پرستی کی دھن لگی ہوئی ہے اور بنوا نہیں سکتے۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٧١، ٤٧٢ خزائن ج ٣ ص ٣٤٣)
مرزا قادیانی دیدہ و دانستہ جھوٹ کے قدم قدم پر مرتکب ہوتے ہیں اور بات بات میں دھوکہ دینا فرض سمجھتے ہیں۔ فرمان رسالت میں واحد کا صیغہ ہے۔ فیکسر الصلیب یعنی وہ صلیب کو توڑیں گے۔ یہ ایک عام مسلمہ محاورہ ہے۔ مثلاً فلاں کے نام سے ہندو ازم کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکا ہے۔ فلاں کی آمد سے اسلام زندہ ہو گیا۔ اسی طرح کسر صلیب کا محاورہ مسلمہ اصول ہے۔ جس کا مطلب عیسائیت کا خاتمہ ہے۔ آپ خواہ مخواہ صلیبوں کے توڑ موڑ میں عمداً چلے گئے۔ جس سے سوائے دھوکہ دہی کے اور کچھ مطلوب نہیں۔ صلیبوں کے توڑنے نہ توڑنے میں کچھ فائدہ نہیں۔ بلکہ اس کا مقصود وہی ہے جو ہم نے بیان کیا۔ یعنی موجودہ عیسائیت کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اسی طرح آپ نے دوسرا دجل دیا وہ یہ کہ نقل کفر کفر نباشد فرماتے ہیں اور یہ بھی یاد رہے کہ وجیھاً فی الدنیا والآخرہ کی شان میں اور پھر مماثلت تامہ کے بھی مدعی ہیں۔ غور سے سنیں ”ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور“ اور دعویٰ بھی دیکھئے کہ لبوں سے شیرینی ٹپک رہی ہے۔ یا احمد فضت رحمۃ علی شفتیک مگر مہربانی کر کے ذرا منہ کو پونچھئے۔ کیونکہ رال ٹپک رہے ہیں اور اس مصرعہ کو اس وقت نظر انداز کر دیجئے گو آپ کا ہی کہا ہوا ہے۔
واہ صاحب واہ! کیا کہنے ہیں آپ کے اور کیا شان ہے پنجابی نبوت کی۔ فرماتے ہیں کہ ”اور دوسرا فقرہ جو کہا گیا ہے کہ خنزیروں کو قتل کرے گا۔ یہ بھی اگر حقیقت پر محمول ہے تو عجیب فقرہ ہے۔ کیا حضرت مسیح کا زمین پر اترنے کے بعد عمدہ کام یہی ہوگا کہ وہ خنزیروں کا شکار کھیلتے پھریں گے اور بہت سے کتے ساتھ ہوں گے۔ اگر یہی سچ ہے تو پھر سکھوں اور چماروں اور
سانسیوں اور گنڈیلوں وغیرہ جو خنزیر کے شکار کو دوست رکھتے ہیں۔ خوشخبری کی جگہ ہے کہ ان کی خوب بن آئے گی ۔‘‘
(ازالۃ الاوہام ص٤١، ٤٢، خزائن ج ٣ ص ١٢٣)
حضرت آنکھوں میں محمدی سرمہ لگائیں اور اگر چندھیا نہ گئیں ہوں تو فرمان رسالت کو تعصب کی عینک سے بے نیاز ہو کر دیکھیں تو یہاں بھی واحد کا ہی صیغہ ہے۔ آپ اپنی جبلی عادت کی وجہ سے دھوکہ دینے پر مجبور ہیں اور مرسلین کی پگڑی اچھالنا آپ کا گویا نصب العین ہے اور ان قوموں سے آپ کے خاندان کو گہری محبت ہے۔ آپ کو یاد نہیں کہ آپ کا عزیز چچیرا بھائی مرزا امام دین پیر خناکروباں اور ویسی ہی اقوام کا پیشوا ہو چکا ہے اور آپ بھی تو ماشاء اللہ مثیل مسیح ہیں اور اگر فرمان رسالت آپ کی منشاء کے مطابق تو کتے اور گدھے لے کر اس عزیز شکار کی تلاش میں دریائے بیاس کے کناروں پر صحرانوردی کیجئے۔ ورنہ شرم کا دامن منہ پر لیتے ہوئے فرمان رسالت کو مسلمہ اصولی قانون کے مطابق دیکھئے جو بھی جانور غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا جائے یا قتل کر دیا جائے ۔ ”وما اھل بہ لغیر اللہ “ حرام قرار دیا جاتا ہے۔ جیسا کہ جھٹکہ سے سرتن سے جدا کرنے سے دین حنیف میں کھانا حرام ہو جاتا ہے اور یہاں بھی تو فرمان رسالت ویقتل الخنزیر ہی بیان کرتا ہے۔ اگر آپ ایچ پیچ کو چھوڑتے ہوئے سلیس ترجمہ یہی کر دیتے کہ مسیح علیہ السلام خنزیر کو قتل کریں گے تو معاملہ الجھن میں نہ پڑتا۔ بلکہ مطلب صاف نکل آتا کہ خنزیر کا کھانا حرام کر دیں گے۔ نہ سانسیوں کو خوشخبری ہوتی اور نہ مسیح علیہ السلام کی عزت پر بٹہ لگتا۔ مگر چونکہ دام تزویر میں سادہ لوح مرغ پھنسانے منظور تھے۔ اس لئے آپ نے عمداً یہ وطیرہ اختیار کیا اور کیوں نہ کرتے۔ آخر پنجابی نبی ہیں۔ جدت نہ ہو تو نبوت کے نام پر حرف آتا ہے۔ کچھ نہ کچھ امتیازی نشان تو ہونا چاہئے۔ حالانکہ (چشمہ معرفت ص ٧٦، خزائن ج ٢٣ ص ٨٤) میں آپ نے اپنی صداقت میں فرمایا ہے کہ:
”میرے زمانے میں دنیا کی تمام قومیں ایک مسلم قوم کی شکل بن جائے گی۔“
مگر کیا ہوا دنیا دیکھ رہی ہے اور جھوٹے پر خدا کی لعنت برس رہی ہے۔ اب ہم اصل چیز کو لیتے ہیں۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ:
”خاص لندن میں ہزار دوکان خنزیر بیچنے کی موجود ہے اور صرف یہی نہیں بلکہ پچیس ہزار اور خنزیر روزانہ لندن سے مفصلات کے لئے بھیجا جاتا ہے۔“
(ازالہ ص ٤١، ٤٢، خزائن ج ٣ ص ١٢٣)
مبالغہ آرائی کی حد کر دی گئی ہے اور پیٹ بھر کر جھوٹ بولا گیا ہے۔ جس سے آپ کا
صرف اس قدر مقصد معلوم ہوتا ہے کہ عوام کو نرا دھوکہ دے کر الو بنایا جائے کہ مسیح علیہ السلام خنزیروں کو قتل کرنے میں کب پورے اتر سکتے ہیں۔ حالانکہ یہ کوئی قصہ ہی نہیں بات تو صرف اس قدر تھی کہ مسیح ابن مریم خنزیر کو حرام قرار دیں گے۔
مگر کون جانتا تھا کہ ایک دن خالد کے نام کی برکت سے سرزمین وزیرآباد سے ایسا بھی پیدا ہوگا۔ جو دجل کا تختہ الٹ دے گا اور جھوٹے کو اس کے گھر تک پہنچا کر باہر سے تالا لگا کر ہی دم لے گا۔ لکل دجال عیسیٰ کی حدیث کا یہی ترجمہ ہے۔ ہر فرعونے را موسیٰ کی تفسیر یہی ہے۔ سنا حضرت؟ مرزا قادیانی کی یہ گپ محض کس قدر مبالغہ آرائی پر مبنی ہے۔ پیغمبر قادیانی کی تاریخ دانی قابل قدر ہے۔ کیونکہ وہ ایسے دقائق وحقائق کا انکشاف کرتی ہے جس کی نظیر ڈھونڈے سے پتہ بتانے پر بھی نہ ملے اور ایسے ایسے اعداد و شمار بیان کرتی ہے جسے دیکھ کر ہنسی ضبط نہ ہو سکے۔ اس ارشاد کی رو سے اگر دس خنزیر کے حساب ہر دکان لیا جائے تو دس ہزار خنزیر روزانہ یہ ہوئے اور پچیس ہزار مفصلات کے ہوئے۔ گویا پینتیس ہزار یومیہ ٹھہرے۔ اس حساب سے گویا ہر سال صرف لندن سے ایک کروڑ ستائیس لاکھ پچھتر ہزار یا ہر ماہ میں دس لاکھ پچاس ہزار یا ہر دن میں پینتیس ہزار یا ہر گھنٹہ میں چودہ سو اٹھاون یا ہر منٹ میں چوبیس یا ہر ڈھائی سیکنڈ میں ایک خنزیر اہل لندن کے کام آیا۔ یہ اعداد و شمار جو ضمیر نبوت نے بیان فرمائے صداقت سے کوسوں دور ہیں۔ ہے کوئی مسیح کا لال اور نوزائیدہ نبوت کا دلدادہ جو مرزا آنجہانی کے اس بیان کو واقعات سے صحیح ثابت کرے۔ ہم دعویٰ سے کہتے ہیں کہ یہ بیان صداقت سے کوسوں دور ہے اور جو صاحب اس کو صحیح ثابت کریں وہ مبلغ یکصد روپیہ چہرہ شاہی کابلی نقد انعام میں پائیں۔
کہ اس نواح میں سودا برہنہ پا بھی ہے
جھوٹ نمبر ٦
مرزا قادیانی کا پر دادا تھا یا قلعہ انٹورپ
(ازالہ اوہام ص ١٢٩، خزائن ج ٣ ص ١٦٤) پر فرماتے ہیں۔
”راقم نے مرزا گل محمد مرحوم کے بعض خارق عادت ان سکھوں کے منہ سے سنے ہیں۔ جن کے باپ دادا مخالف گروہ میں شامل ہو کر لڑتے تھے۔ اکثر آدمیوں کا بیان ہے کہ بسا اوقات
مرزا (گل محمد) مرحوم صرف اکیلے ہزار ہزار آدمی کے مقابل پر میدان جنگ میں نکل کر ان پر اکیلے فتح پالیتے تھے اور کسی کی مجال نہیں ہوتی تھی کہ ان کے نزدیک آسکے اور ہر چند جان توڑ کر دشمن کا لشکر کوشش کرتا تھا کہ توپوں یا بندوقوں کی گولیوں سے ان کو ماردیں۔ مگر کوئی گولی یا گولہ ان پر کارگر نہیں ہوتا تھا۔ یہ کرامت ان کی صدہا موافقین اور مخالفین بلکہ سکھوں کے منہ سے سنی گئی ہے۔“
تھوڑا آگے چل کر تحریر فرماتے ہیں کہ:
”اس زمانہ میں قادیان میں وہ نور اسلام چمک رہا تھا کہ ارد گرد کے مسلمان اس قصبہ کو مکہ کہتے تھے۔“
(ازالہ ص ١٤٠ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٦٤)
قارئین کرام! مرزا قادیانی کا پردادا جن کا نام مرزا گل محمد تھا۔ ایک عجیب الخلقت انسان اور بلا کے جوان تھے کہ ہزار جوان کی متفقہ یورش ان کے سامنے کچھ حقیقت ہی نہ رکھتی تھی۔ بلکہ ہمیشہ ناکامی کا منہ دیکھتی تھی اور کہا جاتا ہے کہ پورا پورا بٹالین اور توپ خانہ، توپوں اور بندوقوں سے دھواں دھار آتش کا مینہ برساتا ہوا یلغار کرتا۔ مگر مرزا گل محمد کا ایک بال بھی بیکا نہ کر سکتا۔ بلکہ مرزا قادیانی کے پدرم سلطان بود سے خائف ہو کر مقابلہ کی تاب نہ لاتا ہوا بری طرح سے پسپا ہوتا اور حضرت پدرم سلطان بود شیر غراں کے رعب و جاہ و جلال سے تمام فوجی گیدڑ کی طرح دم دبا کر ڈربوں میں گھس جاتے اور مقابلہ کی تاب تو کیا سامنے آنے سے لرزتے بلکہ شیر قالین کا سامنا ہوتے ہی پیشاب نکل جاتا۔ مرزا قادیانی مرحوم (مرزا قادیانی کے دادا) بلا کے جوان اور آفت کے پرکالے تھے۔ ان کی ہیبت سے شیر غراں سہمے جاتے تھے۔ ایسی ایسی زطلیات اور وہ بھی گھر سے آیا ہے معتبر نائی ، کے مصداق یعنی سکھوں کی زبانی سن کر ہمارے مرزا قادیانی ایمان کا جزو قرار دیدیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔ کیونکہ یہ آپ کے جدامجد کی مدح و ستائش کے باب میں ہے۔ ولیکن نہ قبول کریں اور مضحکہ اڑائیں تو قہرمان رسالت کا۔
کس قدر مبالغہ آرائی کرنے کا مادہ مرزا قادیانی کی طبیعت میں بھرا پڑا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ توپوں کے گولے قلعہ انٹورپ کو ایک دن میں پائمال کردیں اور لاکھوں انسان لقمہ اجل ہوں اور جرمنی گولوں کے ڈر سے نئی تہذیب کے مالک پیرس میں بیٹھے ہوئے گھر کی چار دیواری میں روشنی سے محروم رہیں کہ مبادا گولہ پروانہ کی طرح شمع پر نثار نہ ہو جائے۔ مگر واہ رے مرزا گل محمد کے فولادی وجود کہ توپوں کے گولے تیری وجہ سے بے کار ثابت ہوئے۔
عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر جانا محال ہی نہیں غیرممکن ہے۔ کیونکہ یہ بات بعید از عقل ہے۔ مگر مرزا گل محمد صاحب کا گولوں کا منہ پھیر دینا اور ذات شریف پر مطلقاً اثر پذیر نہ ہونا۔ قرین
قیاس کیا بلکہ ممکن ہے اور مرزا قادیانی آنجہانی کا اس پر ایمان ہے۔ مسیح قادیانی کی اندھی بھیڑو تدبر کرو اور سوچو کہ مرزا قادیانی کا یہ جھوٹ آپ کی نگاہوں میں کھٹکتا ہے یا نہیں؟ اور اگر اس کا جواب نفی میں ہو تو بتاؤ کہ وہ توپیں پیسہ پیسہ والی تصویریں تھیں یا فی الحقیقت توپیں تھیں اور اگر اصلی توپیں تھیں تو ان میں بارود کی بجائے روئی کے لطیف لطیف گالے تو نہ تھے۔
توپ کے سامنے انسان کی حقیقت ہی کیا ہے اور پھر پہلے زمانے کے لوگ جو ریل گاڑی کو جادو کا کرشمہ بتاتے تھے اور اس پر سوار ہونے سے ڈرتے تھے۔ اگر اعتبار نہ ہو تو صرف ایک بندوق کی گولی کو مرزا قادیانی کی عصبہ پر آزما کر دیکھ لیں۔ یقین آجائے گا کہ حضرت صاحب کا بیان صداقت سے کوسوں دور ہے۔ جن لطیف الفاظ میں مرزا قادیانی نے اپنے جد امجد کا نقشہ کھینچا ہے۔ گو وہ خاکہ تخیل سے بالاتر ہے۔ مگر پھر بھی مرزا قادیانی کی افسانہ نویسی اور سلطان القلمی کی ہم داد دیتے ہوئے صرف اس قدر پوچھتے ہیں کہ ذات والا میں جوانمردی اور بہادری کا نقشہ دادا ابا سے کچھ کم تو نہ تھا، بلکہ بیش بیش تھا۔ ہاں دماغی کمزوری کے باعث اگر ذات شریف کو یاد نہ رہا ہو تو ہم پیش کئے دیتے ہیں۔
جب پنڈت لیکھرام صاحب آپ کی عنایت سے سورگ باش ہوئے اور ان کے حسن عقیدت کے پروانوں کے گم نام خط جن میں دھمکی تھی۔ ذات شریف کو موصول ہوئے تو آپ نے بھی تو کمال جرات و استقلال کا ثبوت اور پنجابی نبوت کی شان دکھلانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا تھا۔ ہمارے خیال میں آپ کی یاد عزیز سے مضمون نگاری کے وقت سہواً اتر گیا۔ ورنہ وہ کوئی معمولی واقعہ اور فراموش ہونے والی بات تھوڑی تھی۔ دادا ابا کے صحابی تو ملک عدم میں جابسے ہاں تبع تابعین سے آپ کو روایت منقول کرنے کی تکلیف ہوئی۔ مگر آپ کی اولوالعزمی اور بہادری کے تماشائی تو اس وقت موجود ہیں۔ گڑے مردے اکھاڑنا اور پدرم سلطان بود کی رٹ لگانے سے کیا فائدہ ہے۔ جب ہم بذات خود اس بات کے شاہد ہیں کہ آپ نے خطوط کے آنے پر طرح طرح کے وسائل ایسے اختیار کئے جن میں جواناں عالم کے لئے ایک عبرت آموز سبق ہے۔
- .......١ حفاظت جان عزیز کے لئے سپرنٹنڈنٹ سے درخواست کی کہ پولیس کے
چند سپاہی قادیان میں بھیج دیجئے۔
- .......٢ سیر و تفریح حسب عادت معمولہ ترک کر دی گئی کہ مبادا کوئی دل جلا دلی
کلفت نہ مٹا سکے۔
- ٣...... جب تک ایک کافی جم غفیر ساتھ نہ ہو نقل و حرکت غیر ممکن ہے۔
- ٤...... بلا اجازت کوئی آدمی سامنے آنے نہ پائے۔
- ٥...... قدم قدم پر قصر نبوت پر مسلح پہروں کی تعیناتی کر دی گئی۔
گر یہ نہیں ہیں بابا تو وہ سب کہانیاں ہیں
پدرم سلطان بود! میں پوچھتا ہوں ترا چہ! اس کے بعد ایک اور سوال امت مرزائیہ سے ایسا ہے۔ جس کا جواب دینا ان پر اخلاقاً فرض ہے۔ کیا مہربانی کر کے کوئی صاحب یہ بتانے کی زحمت گوارا کریں گے کہ مرزا قادیانی کا یہ فرمان کہ ”اس زمانہ میں قادیان میں وہ نور اسلام چمک رہا تھا کہ ارد گرد کے لوگ اس قصبہ کو مکہ کہتے تھے۔“
(ازالہ اوہام ص ١٣٠ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٦٤)
اس کا کیا ثبوت ہے تاریخ ہند موجود ہے۔ قادیان کے ماحول اور مفصلات کے لوگ اب بھی موجود ہیں۔ تذکرۃ الاولیا پر بیسیوں مؤرخین کے رشحات قلم موجود ہیں۔ مگر افسوس نہ تو مرزا گل محمد صاحب کو کوئی جانتا ہے اور نہ ہی قادیان کا کسی نے تذکرہ کیا۔ یہ سب مرزا قادیانی کے دماغ کا افتراء ہے۔ ورنہ قادیان تو وہ نامراد بستی ہے۔ جس میں بقول مرزا یزیدی لوگ پیدا ہوئے جو یزید کے ہم طبع تھے اور قاتلان چمنستان زہرا تھے یا ان یہودیوں کی طرح تھے۔ جنہوں کے ناپاک ہاتھوں سے ابن مریم ستائے گئے اور بقول مرزا مصلوب ہوئے۔
مرزا قادیانی کو جب یہ ضرورت محسوس ہوئی کہ قادیان کو مکہ بنایا جائے اور اس کی عظمت ہندوستان بھر پر فوقیت لے جائے تو آپ نے منارۃ المسیح ، بہشتی مقبرہ، مسجد اقصیٰ، مسجد حرام بنا کر یہ شعر اس کی توصیف میں کہہ دیا۔
ہجوم خلق سے ارض حرم ہے
(درثمین ص ٥٠)
اور جب قادیان کو نظروں سے گرانا مقصود ہوا اور مسیح موعود بننے کا شوق آیا تو اخرج منہ الیزیدون کا الہام سنا دیا اور یزید کے تخت سے مشابہت دے دی اور ابن مریم کو مثیل سید الشہدا بنا کر بذات شریف مثیل مسیح بن گئے۔ غرضیکہ آپ جب چاہے ایک ہی چیز سے مطلب براری کر لیتے۔ کبھی چوہے کو شیر بنا لیتے اور کبھی شیر کو چوہے سے ادنیٰ قرار دے کر حقارت کی نظروں سے یک دم گرا دیتے۔
جھوٹ نمبر ٧
مسیح قادیانی کا ایک زمینی نشان
(تحفہ گولڑویہ ص ٦٤ وخزائن ج ١٧ ص ١٩٤، ١٩٥) پر فرماتے ہیں کہ:
”واذا العشار عطلت آیت کریمہ قرآن شریف کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ جس کی تصدیق میں مسلم میں یہ حدیث موجود ہے۔ ”ویترك القلاص فلا یسعیٰ علیھا“ خسوف وکسوف نشان تو کئی سال ہوئے جو دو مرتبہ ظہور میں آگیا اور اونٹوں کے چھوڑے جانے اور نئی سواری کا استعمال اگرچہ بلاد اسلامیہ میں قریباً سو برس سے عمل میں آ رہا ہے۔ لیکن یہ پیش گوئی اب خاص طور پر مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کی ریل تیار ہونے سے پوری ہو جائے گی۔ کیونکہ وہ ریل جو دمشق سے شروع ہو کر مدینہ میں آئے گی وہی مکہ معظمہ میں آئے گی اور امید ہے کہ بہت جلد اور صرف چند سال تک یہ کام تمام ہو جائے گا۔ تب وہ اونٹ جو تیراں سو برس سے حاجیوں کو لے کر مکہ سے مدینہ کی طرف جاتے ہیں یک دفعہ بیکار ہو جائیں گے اور ایک انقلاب عظیم عرب اور بلاد شام کے سفروں میں آ جائے گا۔ چنانچہ یہ کام بڑی سرعت سے ہو رہا ہے اور تعجب نہیں کہ تین سال کے اندر اندر یہ ٹکڑا مکہ اور مدینہ کی راہ کا تیار ہو جائے اور حاجی لوگ بجائے بدووں کے پتھر کھانے کے طرح طرح کے میوے کھاتے ہوئے مدینہ منورہ میں پہنچا کریں۔ بلکہ غالباً معلوم ہوتا ہے کہ کچھ تھوڑی ہی مدت میں اونٹ کی سواری تمام دنیا میں سے اٹھ جائے گی اور یہ پیش گوئی ایک چمکتی ہوئی بجلی کی طرح تمام دنیا کو اپنا نظارہ دکھائے گی اور تمام دنیا اس کو بچشم خود دیکھے گی۔“
مسیح قادیانی کی چہیتی بھیڑو گو تمہارے مطمح نظر میں ارکان حج کی سعادت بروزی حج کی وجہ سے کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتی اور مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کی زیارت جو گناہوں سے پاک کر دیتی ہے کی بجائے مدینہ المسیح کے منار کے طواف پر ہی اکتفا کیا جاتا ہے۔ گو تمہیں ’الفضل‘، ’فاروق‘ اور ’پیغام صلح‘ کے مرزائی گزٹوں سے فرصت نہیں ملتی اور تمہاری جیبوں پر طرح طرح کے چندوں کا عنوان بنا کر دن دہاڑے ڈاکہ ڈال لیا جاتا ہے۔ یہ واقعات ہیں کہ تمہارے مصارف تمہیں کوئی اسلامی جریدہ خرید کرنے کی اجازت نہیں دیتے اور یہی وجہ ہے کہ اس مینڈک کی طرح جو ایک بوسیدہ اندھیرے کنوئیں میں مقید تھا اور اپنے زعم باطل میں یہ سمجھتا تھا کہ اس سے بڑا اور آرام دہ اور کوئی چشمہ نہ ہوگا۔ حالانکہ یہ محض خیال ہی خیال تھا۔ بخدا ہم آپ لوگوں کے ان حالات کو جب دیکھتے ہیں تو ہمیں آپ کی حالت پر رحم آتا ہے۔ اب اسی ایک پیش گوئی کو جس کو
آپ نے اپنی صداقت میں زمینی نشان قرار دیا تھا اور بڑے وثوق سے یہ فرمانے کی زحمت گوارہ فرمائی تھی ملاحظہ فرماویں۔ ”کہ یہ پیش گوئی ایک چمکتی ہوئی بجلی کی طرح تمام دنیا کو اپنا نظارہ دکھائے گی اور تمام دنیا اس کو بچشم خود دیکھ لے گی ۔“
افسوس یہ آج تک پوری نہ ہوئی اور اس پر ایک ایسی بجلی گری جو پنجابی نبی کے دامن کو بھی اپنے ساتھ خاکستر کرتی گئی اور یہ معمہ ہماری سمجھ میں آج تک نہ آیا کہ ریل تو مکہ سے مدینہ تک چلے اور ساری دنیا بچشم خود دیکھے ۔ ہاں شاید امت مرزائیہ کو چلتی ہوئی نظر آتی ہو تو کوئی مضائقہ نہیں۔ کیونکہ مسیحا کے بے مثل اعجاز کی مماثلت کا دعویٰ بھی تو مرزا قادیانی کا ہی رہین منت ہے اور ممکن ہے کہ قادیانی اعجاز نے جدت طرازی میں کوئی مسیحائی سرمہ ایسا بھی ایجاد فرمایا ہو جو امت کی چندھیائی ہوئی آنکھوں میں ٹپکانے سے مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ کی مابین ریل گاڑی یا خر دجال کا نظارہ غریب امت کو دکھلا دیتا ہو اور یہ کچھ تعجب بھی نہیں ۔ کیونکہ مسیح ابن مریم بھی تو مادر زاد اندھوں کو اچھا کر دیا کرتے تھے اور مثیل مسیح کا اگر یہ اعجاز بھی نہ ہو تو مماثلت کیا خاک ٹھہر سکتی ہے۔ اسی پیش گوئی کے ضمن میں تائیدی طور پر مرزا قادیانی ایک دوسری جگہ اور وضاحت کے ساتھ فرماتے ہیں ۔
مسیح موعود کی شناخت کا ایک چمکتا ہوا نشان
اپنی مایہ ناز کتاب (اعجاز احمدی ص ٢، خزائن ج ١٩ ص ١٠٨) پر فرماتے ہیں کہ:
”آسمان نے بھی میرے لئے گواہی دی اور زمین نے بھی۔ مگر دنیا کے اکثر لوگوں نے مجھے قبول نہ کیا۔ میں وہی ہوں جس کے وقت میں اونٹ بیکار ہو گئے اور پیش گوئی آیت کریمہ و اذ العشار عطلت ! پوری ہوئی اور پیش گوئی حدیث ولیترکن القلاص فلا یسعی علیھا ! نے اپنی پوری پوری چمک دکھلا دی۔ یہاں تک کہ عرب اور عجم کے ایڈیٹران اور جرائد والے بھی اپنے پرچوں میں بول اٹھے کہ مکہ اور مدینہ کے درمیان جو ریل تیار ہو رہی ہے یہی اسی پیش گوئی کا ظہور ہے۔ جو قرآن وحدیث میں ان لفظوں سے کی گئی تھی ۔ جو مسیح موعود کے وقت کا نشان ہے ۔“
شعراء کے متعلق مبالغہ آرائی مشہور تھی ۔ مگر اب پنجابی نبوت میں بھی منتقل ہوئی۔ مگر شعراء کے کلام میں تشبیہات کے طور پر افسانہ گوئی کو قابل قدر سمجھا گیا تھا۔ مگر پنجابی نبوت نے اس کی بھی نفی کر دی ذیل میں شعراء کی افسانہ گوئی اور تشبیہات کا ایک نمونہ ملاحظہ کریں ۔
پہن کر پوستیں نکلا ہے گھر سے
چبھے تھے پاؤں میں نکلے ہیں سر سے
گو ان اشعار میں از حد مبالغہ ہے۔ مگر چونکہ قیس صحرا نورد تھا اور دشت و جبل میں لیلٰی کی چاہت میں مدتوں بھٹکتا رہا اور مجنوں ہو گیا۔ اس لحاظ سے استعارہً اس کی مبالغہ آمیز تعریف کی گئی۔ مگر مرزا قادیانی کی شہادت میں زمین و آسمان کا شاہد ہونا ہماری سمجھ میں آج تک نہیں آیا۔
زمینی نشان تو آپ نے یہ فرمایا تھا کہ مکہ اور مدینہ کے درمیان ریل کا رائج ہونا ہے اور یہ نشان مسلمانوں کے لئے مختص تھا اور چونکہ آپ سب قوموں کی ہدایت کے لئے مبعوث ہوئے تھے اور مکہ مدینہ میں بہت سے لوگ نہیں جاتے۔ اس لئے دوسری اقوام کے لئے اونٹوں کا بے کار ہونا بطور نشان تھا۔ مگر افسوس کیا ہوا نہ تو آج تک ریل بن سکی اور نہ ہی دنیا سے اونٹ بے کار ہوئے۔
ہم قارئین کرام کی خدمت میں مرزائی الہام بانی اور پیش گوئی کی حقیقت واضح طور پر پیش کرتے ہیں مرزا قادیانی کی دوربین نگاہ نے کسی معتبر ذریعہ سے بھانپ لیا کہ خلیفہ المسلمین سلطان ترکی جلد سے جلد ایک ایسی کمیٹی بنانے والے ہیں۔ جو مکہ اور مدینہ کے درمیان ریل کو جلد رائج کرے۔ بس یہ یقین مراتب کے معیار پر پہنچا ہی تھا کہ فوراً الہامی مشین کو حرکت ہوئی اور پیش گوئی بنا ڈالی گئی۔ سلطان عبدالحمید خاں کی وہ کمیٹی جو ریل کی تیاری کے لئے بنائی گئی تھی کامیاب بھی ہو جاتی۔ تب بھی اونٹ بے کار نہ ہو سکتے تھے۔ اس کے ثبوت ہزاروں ملکوں میں جہاں ریل بھی بن چکی ہے موجود ہیں۔ اہل علم و صاحب بصیرت جانتے ہیں کہ اسی ہندوستان میں جہاں چپہ چپہ اور قریہ قریہ میں ریل مدت ہوئی رائج ہو چکی ہے۔ اونٹ بے کار نہیں ہوئے۔ بلکہ وہ ویسے کے ویسے ہی چل رہے ہیں۔ ہندوستان کی سرحدوں کو ہی دیکھ لو کہ اونٹ کی کیا قدر ومنزلت ہے۔ وہ بے کار ہیں یا با کار ہیں۔ اسی طرح سے صفحہ دہر میں کوئی ایسی بستی نہیں جہاں اونٹ بے کار چھوڑ دیئے گئے ہوں ہاں کلام مجید کی آیت کریمہ کا مطلب شاید آپ نبی ہونے کی وجہ سے نہ سمجھ سکے ہوں تو وہ آیت کریمہ اور حدیث نبویہ اونٹوں کی بیکاری قیامت کے قرب میں بیان کرتی ہیں اور انشاء اللہ العزیز ایسا ہو کر رہے گا۔
امت مرزائیہ کے ان نونہالوں سے گذارش ہے جو صاحب فراست ہیں اور اندھا دھند تقلید کرنا معیوب خیال کرتے ہیں وہ خدارا بتانے کی زحمت گوارا کریں کہ یہ ریل جو مسیح موعود کی صداقت کا ایک بین نشان تھا۔ اب تک صفحہ شہود پر کیوں نہیں آئی اور وہ کون سا ملک ہے جہاں
اونٹ بے کار کر دیئے گئے اور اگر وہ کریں۔ یہ وہ مسیح موعود نہیں جسے وہ الدجال کی دھوکہ دہی سے بچے اور خسر الدنیا والآخرۃ ہونا پڑے گا۔
مسیلمہ ثانی کا قرآن اور درود
(سراج منیر ص ٥٩، خزائن
”أصحاب الصـ تفيض من الدمع يصلو وداعياً الى الله وسراجاً مـ ہم نشیں تو دیکھے گا کہ ان کی آ کہیں گے کہ اے ہمارے خدا ہم لوگوں کو ایمان کی طرف بلاتا ہے ہوا چراغ ہے۔ لکھ لو۔“
اسی بحر پر مسیلمہ کذاب جو ناظرین کی دلچسپی کے لئے پیش
”الفيل ما الفـ طـويـل “ اور اب اسی بحر پر مسـ
اس میں مرزا نے ایک جدت بھی یعنی اپنی ذات گرامی اب دیکھیں کون کون اس سعادت
اک تـ رسـتـے
آقائے نامدار محمد مـ اپنے آپ پر چسپاں کر لئے گئے
پہلو۔ زاغ
اونٹ بے کار کر دیئے گئے اور اگر وہ بتلانے سے قاصر ہوں تو مسیح موعود کے نازل ہونے کا انتظار کریں۔ یہ وہ مسیح موعود نہیں جسے وہ سمجھ رہے ہیں۔ بلکہ وہ اپنے وقت پر انشاء اللہ ضرور آئے گا۔ مسیح الدجال کی دھوکہ دہی سے بچئے اور اپنے ایمانوں کی حفاظت فرمان مصطفوی کے زیر سایہ کیجئے ورنہ خسر الدنیا والآخرۃ ہونا پڑے گا۔
مسیلمہ ثانی کا قرآن اور درود بھیجنے کا جواز
(سراج منیر ص ٥٩، خزائن ج ١٢ ص ٦١) پر مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ:
”اصحاب الصفه وما ادراك ما اصحاب الصفه، ترى اعينهم تفيض من الدمع يصلون عليك ربنا اننا سمعنا منا دياً ينادى للايمان، وداعياً الى الله وسراجاً منيراً“ ”حجرہ کے ہم نشیں اور تو کیا جانتا ہے کہ کیا ہیں حجرہ کے ہم نشیں تو دیکھے گا کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوں گے۔ تجھ پر درود بھیجیں گے اور کہیں گے کہ اے ہمارے خدا ہم نے ایک منادی کرنے والے کو سنا جو تیرے نام کی منادی اور لوگوں کو ایمان کی طرف بلاتا ہے اور خدائے واحد لا شریک کی طرف دعوت دیتا ہے اور ایک چمکتا ہوا چراغ ہے۔ لکھ لو۔“
اسی بحر پر مسیلمہ کذاب نے فرقان حمید کی کاپی کرتے ہوئے ایک گھریلو سورۃ تیار کی تھی جو ناظرین کی دلچسپی کے لئے پیش کی جاتی ہے۔
”الفيل ما الفيل وما ادراك ما الفيل، ذنبه قصير وخرطومه طويل“ اور اب اسی بحر پر ضمیمہ نبوت قادیانی نے بھی کاپی کرتے ہوئے ایک سورۃ پیش کی ۔ مگر اس میں مرزا نے ایک جدت بھی کی اور ایک ہی نشانے سے دو شکار کئے۔
یعنی اپنی ذات گرامی پر سلسلہ درود بھی جاری کرنے کا حکم قادیانی بھیڑوں کو دے دیا۔ اب دیکھیں کون کون اس سعادت سے بہرہ اندوز ہوتا ہے۔
رستے پہ دیکھیں چلتے اب کتنے کارواں ہیں
آقائے نامدار محمد مصطفے ﷺ کے خطابات رحمانیہ پر دن دہاڑے ڈاکہ ڈال کر سب اپنے آپ پر چسپاں کر لئے گئے ہیں۔ مگر گدھے کو لعل وجواہر کا ہار کب زیب دیتا ہے۔ لکھ لو!
زاغ کی چونچ میں انگور خدا کی قدرت
مرزا قادیانی کا ایک زریں قول
(نزول المسیح ص ٢، خزائن ج ١٨ ص ٣٨٠) پر فرماتے ہیں کہ: ”دروغ گوئی کی زندگی جیسی کوئی لعنتی زندگی نہیں۔“
آسمانی نشان
(حقیقت الوحی ص ١٩٤، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٢) پر مسیلمہ ثانی مرزا غلام احمد قادیانی فرماتے ہیں کہ: ”دارقطنی میں امام محمد باقر صاحب فرماتے ہیں۔ 'ان للمھدينا آيتين لم تكونا منذ خلق السموت والارض ينكسف القمر لاول ليلة من رمضان وتنكسف الشمس فى نصف منه ' 'ہمارے مہدی کے لئے دو نشان ہیں اور جب سے زمین آسمان خدا نے پیدا کیا یہ دو نشان کسی اور مامور اور رسول کے وقت میں ظاہر نہیں ہوئے۔ ان میں سے ایک یہ ہے مہدیِ معہود کے زمانہ میں رمضان کے مہینہ میں چاند گرہن اس کی اوّل رات ہوگا۔ یعنی تیرھویں تاریخ میں اور سورج کا گرہن اس کے دنوں میں سے بیچ کے دن میں ہوگا۔ پس یہ نشان صداقت ہے جو میرے زمانہ میں ہے۔ جس کو عرصہ قریباً بارہ سال کا گزرا ہے۔ اسی صفت کا چاند اور سورج کا گرہن رمضان کے مہینہ میں وقوع میں آیا۔“
کمر پتلی صراحی دار گردن
مرزا قادیانی اپنی عادت کی وجہ سے مجبور ہیں اور بات بات پر دھوکہ دینا فرض سمجھتے ہیں اور حرف حرف پر دجل کو ثواب خیال فرماتے ہیں۔ نقطہ نقطہ پر فریب دینا اور تحریف کرنا سنت مخصوصہ میں جائز سمجھتے ہیں اور اس پر ماشاء اللہ مدعی نبوت ہیں اور دنیا کو شاید کور چشم خیال کرتے ہیں اور روز روشن میں دجل دینا اور چشم بینا کو اندھا سمجھنا شاید یہ اعجازی نشان آپ کا ہی مرہون منت ہے اور کیوں نہ ہو جبکہ چشم بددور آپ امین الملک جے سنگھ بہادر بھی ہیں۔ ناظرین تحریف حدیث ملاحظہ فرمادیں۔ ان الفاظ کو آپ نے بالکل نظر انداز ہی کردیا۔ حالانکہ یہ تاکیدی الفاظ دوبارہ تھے۔
”ولم تكون منذ خلق السموت والارض “ جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوا۔ جب سے خدا نے آسمان و زمین پیدا کئے۔
(کتاب الاشاعة لاشراط الساعة : مطبوعہ مصر ص ١٧٥)
اب یہ بھی ملاحظہ فرمائیں کہ اس چھوٹی سی عبارت میں کس قدر باتیں اپنے پاس سے
زائد ڈال دیں۔ حالانکہ عربی الفاظ میں اس کا ذکر تک نہیں ملاحظہ کریں۔
- ١....... یہ دو نشان کسی اور امام اور رسول کے وقت میں ظاہر نہیں ہوئے۔
- ٢....... مہدی معہود کے زمانے میں۔
- ٣....... بیچ کے دن۔
- ٤....... یعنی تیرہویں تاریخ کو۔
اب مندرجہ بالا امام محمد باقر صاحب کے قول کا صحیح ترجمہ ملاحظہ فرماویں۔ ”ہمارے مہدی کے واسطے دو نشان ہیں جو کہ جب سے زمین و آسمان پیدا ہوئے ایسا کبھی نہیں ہوا۔ یعنی قمر کو اوّل رمضان کی گرہن لگے گا اور سورج کو نصف رمضان میں لگے گا اور جب سے خدا نے زمین و آسمان پیدا کئے ایسا کبھی نہیں ہوا۔“
مرزا قادیانی کا یہ قاعدہ کلیہ ہے کہ آپ ہمیشہ اپنی مطلب براری کو مدنظر رکھتے ہوئے مستند حدیث اور اقوال صحیحہ کو نظر انداز کر دیا کرتے ہیں اور اپنے مفید مطلب کے لئے ایک ضعیف سے ضعیف بلکہ وضعی حدیث جس کے راوی اجماع امت کے نزدیک کذاب ہوں لے کر روزِ روشن میں دلیل دینے کے لئے ڈنکے کی چوٹ نقل کر دیا کرتے ہیں اور اسی پر بس نہیں بلکہ معیار صداقت سے گرے ہوئے قول کو تحریف کی مشین میں قطع و برید کر کے اس کے تراجم میں بہت سی مفید مطلب باتیں ملا دیا کرتے ہیں اور اس فعل قبیح کو شاید آپ گناہ و عیب میں شمار نہیں کرتے اور کیوں کریں جب کہ آپ کا یہ خیال ہوتا ہے کہ عوام الناس میں اوّل تو علمی فقدان ہے اور پھر کسی کو ایسی کیا پڑی ہے جو گڑے مردے اکھاڑے اور جھوٹے کے گھر تک پہنچے اور شاید آپ کے زاویہ نگاہ میں دنیا شپرہ چشم آپ کو دکھلائی دیتی ہے۔ مگر افسوس اپنی کور باطنی اور حیلہ سازی کی کرشمہ سازیاں ہم چوں ما دیگرے نیست ایسا کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔
اب یہ قول امام محمد باقر صاحب کا جو لیا گیا ہے اس کے دونوں راوی عمرو جابر کذاب ہیں۔ اس لئے یہ قول محدثین کے نزدیک قابل اعتبار نہیں۔ مگر مرزا قادیانی کی مطلب پرستی ان باتوں کو کب دیکھتی ہے اور طرفہ یہ کہ مضمون حدیث خلاف قانون قدرت ہے۔ یعنی وہ امر جو ابتدائے آفرینش سے نہیں ہوا وہ مہدی کے زمانہ میں ہوگا اور یہ قاعدہ مرزا قادیانی کے اپنے مذہب کے نزدیک بھی خلاف ہے۔ کیونکہ وہ محال عقلی اور خلاف قانون قدرت کے جال میں پھنسے ہوئے تھے اور یہ ہی دلائل تو ان کو حضرت مسیح کے آسمان پر جانے سے مانع تھے۔ کیونکہ وہ مولا کریم کو محالات عقلی پر قادر نہ سمجھتے تھے۔
اور جھوٹ تو گویا مرزا قادیانی کی گھٹی میں تھا۔ اسی قول کو آپ نے (اربعین نمبر ٣ ص ٢٧، خزائن ج ١٧ ص ١٣٣) پر حدیث نبوی لکھ کر عوام کو دھوکہ دیا اور خدا کا خوف محرف کلام میں نہ آیا۔ حالانکہ یہ قول حدیث کی کتاب صحاح ستہ میں نہیں بلکہ فرمان رسالت اس کے خلاف ہے۔ جب کہ آنحضرت ﷺ نے صاف صاف فرما دیا کہ چاند گرہن اور سورج گرہن کسی کے غم وخوشی کے نشان نہیں۔ یعنی کسی کی موت وحیات سے تعلق نہیں رکھتے۔ صرف اللہ تعالیٰ کے قادر مطلق ہونے کے دو نشان ہیں۔ جب یہ قول اس حدیث کے متعارض ہے تو مردود ہے۔ حالانکہ مرزا قادیانی مدعی نبوت تھے اور نبی کی نیت ہمیشہ بخیر ہوا کرتی ہے وہ مغالطہ دہی کو نظر حقارت سے دیکھتے ہوئے ایسے مذموم فعل کے کبھی مرتکب نہیں ہوتے۔ بلکہ وہ تو اصلاح عامہ کی بہبودی کے لئے ایسی باتوں کا شدت سے قلع وقمع کرتے ہیں۔ چنانچہ فرمان رسالت اہل بصیرت کے لئے آج بھی زبانِ قال سے پکار پکار کر درس عبرت دے رہا ہے۔
”عن ابی ھریرةؓ قال قال رسول اللہ ﷺ کفیٰ بالمرء کذباً ان یحدث بکل سمع (رواہ مسلم ج ١ ص ٨)“ ﴿ابوہریرةؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آدمی کے جھوٹا ہونے کے لئے یہ کافی ہے کہ جو بات سنے وہی نقل کردے۔﴾
پنجابی نبی کی ایک بڑ
غسا القمران المشرقان اتنکر
اس (تاجدار مدینہ) کے لئے چاند کا خسوف ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا اب کیا تو انکار کرے گا۔
(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)
ہمارے خیال میں مراقی نبی کے اوسان خطا ہیں۔ اس لئے اس کا جواب لعنت اللہ علیٰ الکاذبین ہے اور یہ تیسرا خسف ہے جو سیاہ ہوا۔
مرزا قادیانی کا یہ فرمانا کہ پہلے کبھی رمضان میں سورج اور چاند کو گرہن نہیں ہوا۔ غلط ہے حالانکہ تاریخ شاہد ہے کہ ایسے گرہن بیسیوں دفعہ ہوئے۔
مدعیان کذابوں کے زمانوں میں برابر رمضان میں حسب معمول ١٣، ٢٨ کو شمس وقمر کو گرہن لگا پھر اس میں اچنبہ و سراسیمگی کیسی؟ اور یہ اصول تو مرزا قادیانی کے اپنے ہی خلاف ہے۔ یعنی جو قول آپ نے اپنی صداقت میں پیش کیا وہی بطالت پہ شاہد ہوا۔
امام محمد باقر صاحب کا قول تو یہ تھا کہ رمضان شریف کی پہلی اور چودھویں تاریخ کو گرہن لگے گا۔ مگر مرزا قادیانی کے وقت سابقہ کذابوں کے مطابق ١٣ اور ٢٨ کو ہوا۔ پھر اگر یہ آپ کی صداقت پر دال ہے تو پہلے کذاب بھی صادق ماننے پڑیں گے۔ یہ دوسرا آسمانی نشان بھی آپ کی بطالت پر آپ شاہد ہے۔
ضمیمہ نبوت کے مخلص چیلو۔ کیا تم میں کوئی صاحب عقل ایسا بھی ہے۔ جس کی عقل سلیم ابھی جواب نہ دے چکی ہو۔ خدارا غور کرو اور سوچو یہ نبوت کے کس قدر منافی ہے کہ مدعی نبوت اور جھوٹ کا علمبردار مجددیت کا ڈھونگ اور تحریف و خیانت کا ارتکاب۔
اس کافر بے فیض سے دل تو بھی لگا دیکھ
یہ تو نبی کی شان سے بعید ہے۔ بلکہ اس پاک خطاب رحمانیہ کی تذلیل ہے۔ ڈرو اس قادر مطلق سے جس نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر باب نبوت کو مسدود کر دیا اور کافۃ للناس ورحمۃ اللعالمین کر کے بھیجا اور نبی کریم نے خاتم النبیین کی تفسیر لا نبی بعدی سے فرمائی اور یاد کرو متنبی قادیان کا وہ قول کہ جس میں صداقت چھپائے سے بھی نہ چھپ سکی اور بے اختیار مشیت ایزدی نے یہ الفاظ بطور شہادت نکلوا دیئے۔
”مسلمانوں کی ذریت کہلانے والو دشمن قرآن نہ بنو اور خاتم النبیین کے بعد وحی نبوت کا سلسلہ جاری نہ کرو اور اس خدا سے شرم کرو۔ جس کے سامنے حاضر کئے جاؤ گے۔“
(فیصلہ آسمانی ص ٢٥، خزائن ج ٣ ص ٣٣٥)
زلیخا نے کیا خود چاک دامنِ ماہ کنعاں کا
قادیانی مرزائی گزٹ کا سرکلر
”انبیاء عظام حضرت مسیح موعود (مرزا) کے خادموں میں پیدا ہوں گے۔“
(الفضل ج ١٥ نمبر ٩٦، ٩٧ ص ١٥۔١٢/ جون ١٩٢٨ء)
مقام غور ہے کہ امکان نبوت محال ہی نہیں غیر ممکن ہے اور مدعی کانوں پر ہاتھ دھرتا ہوا نبوت کے نام سے سہم جاتا ہے اور خدائے واحد کی دوہائی دیتا ہوا کہتا ہے کہ اے مسلمانوں کی ذریت کہلانے والو دشمن قرآن نہ بنو اور حضور رحمت عالم سرکار مدینہ ﷺ کے بعد وحی نبوت کا سلسلہ جاری نہ کرو۔
مگر حسن عقیدت کے غلام ہیں کہ مینڈو آندھی کی طرح کچھ نہیں سنتے اور دیکھتے ہوئے کچھ دکھلائی نہیں دیتا۔ قلب ایسے مسخ ہوئے ہیں کہ ان میں احساس کا نام نہیں اور دماغ ایسے مختل ہیں کہ عقل کا مادہ ان سے گویا سلب ہو چکا۔ ایسی حالت میں سوائے انا للہ کے اور کیا کہا جاوے اور جب سے مرزا قادیانی آنجہانی نے نبوت کا پھاٹک کھولا ہے اور مجددیت کی سر الاپی ہے۔ شیدایان مرزا آپے سے ایسے باہر ہوئے ہیں کہ کپڑوں میں پھولے نہیں سماتے اور آئے دن مسیحی بھیڑوں سے کوئی نہ کوئی پالتو بھیڑ نبوت کے راگ الاپتی ہوئی میں میں کی مؤثر ودلکش آواز میں بلبلاتی نظر آتی ہے اور اس کا باعث مرزا آنجہانی کے بعد حکیم نور دین صاحب ہیں۔ جنہیں خلیفہ اوّل بھی کہا جاتا ہے۔ مگر افسوس میاں بشیر الدین صاحب خلف مرزا آنجہانی نے تو حد ہی کر دی۔ جب سے ان کا سرکلر امت کی نظروں سے گزرا ہے ہر ایک مرزائی کے پیٹ میں نبوت کے چوہے دوڑ رہے ہیں اور الہامات ہیں کہ سونے نہیں دیتے۔ آئے دن غسل کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیونکہ طہارت ایک اچھی چیز ہے۔
قادیان کے نبی
قادیانی نبوت یا پنجابی بہروپ کی کھڑکی کھلنے کی وجہ سے امت مرزائی کی رشد وہدایت کے لئے ١٩٠٨ء سے لے کر یعنی روز وفات مرزا آنجہانی اس وقت تک مبلغ دس پیغمبر دھماچوکڑی مچا رہے ہیں اور نبوت کے پاک نام کی پھبتیاں اڑا رہے ہیں اور اس تمام تذلیل وتحقیر کی ذمہ داری حضرت پہلوان قادیانی کی برکت سے ہے۔ کیونکہ یہ سبھی مرزا کی امت سے ہیں۔ ذیل میں قارئین کرام کی دلچسپی کے لئے ان کے نام پیش کئے جاتے ہیں اور ایک دو کا مختصر تعارف بھی کرایا جاتا ہے۔
- ١....... مولوی عبداللہ تیجاپوری ریاست دکن حیدرآباد۔
- ٢....... میر عابد شاہ صاحب۔
- ٣....... یار محمد وکیل نور پور۔
- ٤....... عبداللطیف گناچوری ضلع جالندھر۔
- ٥....... نبی بخش پنشنر سارجنٹ۔
- ٦....... حکیم ظہیر الدین اروپی۔
- ٧....... احمد نور کابلی مقیم قادیاں۔
- ٨....... مولوی فضل محمد ساکن چنگا بنگیال ضلع راولپنڈی۔
- ٩ ...... شیخ غلام محمد لا
- ١٠...... فضل شاہ۔
مولوی عبداللطیف گ
ہے اور نبوت کی ساکھ مرزا قادیانی کے پائے جاتے ہیں۔ دیکھئے غریب کی طر
مولوی عبداللہ تیجاپو
چشم بد دور آپ باقاعدہ ان کے پیشوا کی ملاقات کے لئے جب گئے تو ان بلکہ باہر گاؤں میں تبلیغ کیا کرتے ہیں بٹیر الہام اس خوبی وعمدگی سے بن ڈالا یا ایہا النبی ! تیجاپو جلوہ افروز رہو۔
احمد نور کابلی : مقیم
دیکھا۔ سبحان اللہ کس شان کا نبی ڈھانچے میں ایک کریہہ المنظر ایہ قرآن کھولے بیٹھا تھا اور آیات ر مرزائی مرسلین کے لئے لازمی ہوگی بدشکل ناک گری ہوئی ا میں بولتا ہے۔ میں نے پوچھا آپ اللہ تعالیٰ سے مل آیا ہوں تم مانو نہ مانو کیا کہ نبوت کے پاک نام کی اور تو راستہ بھر مجھے اس کی حماقت پر افسوس
مولوی فضل احمد ص
عمرہ کی حیات اور مرزا آنجہانی کی خیالی نبی بنائی گئی۔ ساون کے اندھے عجیب ہی مضحکہ خیز ہوتا ہے۔ مرزا ق
- ٩...... شیخ غلام محمد لاہوری۔
- ١٠...... فضل شاہ۔
مولوی عبداللطیف گنا چوری: نئی نبوت کا اظہار باقاعدہ کتاب کی شکل میں کیا ہے اور نبوت کی ساکھ مرزا قادیانی کے نقش قدم پر پوری پوری جمائی ہے۔ کچھ کامیابی کے آثار بھی پائے جاتے ہیں۔ دیکھئے غریب کی طرف امت مرزائیہ کے نیک نہاد افراد کب توجہ کرتے ہیں۔
مولوی عبداللہ ہتیا پوری: ان حضرت نے تو ایک جماعت بھی پیدا کر لی ہے اور چشم بد دور آپ باقاعدہ ان کے پیشوا مانے جاتے ہیں۔ ہمارے ضلع کے ایک مولوی صاحب ان کی ملاقات کے لئے جب گئے تو ان سے کہا حضرت جی تو گھر کی چاردیواری میں نہیں بیٹھا کرتا۔ بلکہ باہر گاؤں میں تبلیغ کیا کرتے ہیں تو جھٹ الہامی مشین میں حرکت ہوئی اور ایک آدھا تیتر آدھا بٹیر الہام اس خوبی وعمدگی سے بن ڈالا جو ضیافت طبع کے لئے پیش کیا جاتا ہے۔
یا ایہا النبی ! ہتیا پور میں رہو: یعنی اے نبی تمہیں بس یہی حکم ہے کہ ہتیا پور میں ہی جلوہ افروز رہو۔
احمد نور کابلی: مقیم قادیان کو میں نے تبلیغ کانفرنس قادیان میں بذات خود دیکھا۔ سبحان اللہ کس شان کا نبی ہے۔ کیا بتاؤں کہ وہ انسانی لباس میں بھیڑیا یا انسانی ڈھانچے میں ایک کریہہ المنظر ایسا شیطان تھا۔ جس سے انسانیت پناہ مانگتی تھی۔ یوں تو وہ قرآن کھولے بیٹھا تھا اور آیات ربانی ایک کاغذ پر نقل کر رہا تھا۔ مگر ایسی شکل وشباہت شاید مرزائی مرسلین کے لئے لازمی ہوگی۔
بدشکل ناک گری ہوئی اب شاید ربڑ کی استعمال کرتا ہے۔ منہ پر برص کے داغ ناک میں بولتا ہے۔ میں نے پوچھا آپ کون ہیں تو کہنے لگا میں نبی اللہ ہوں۔ آسمان پر گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ سے مل آیا ہوں تم مانو نہ مانو میں نبی ہوں۔ مجھے وحی آتی ہے۔ میری غیرت نے تقاضہ نہ کیا کہ نبوت کے پاک نام کی اور توہین سنوں ایک سرد آہ لی لاحول پڑھتا ہوا پنڈال کو روانہ ہوا راستہ بھر مجھے اس کی حماقت پر افسوس آتا رہا۔
مولوی فضل احمد صاحب ساکن چنگا بنگیال : کو مولانا ابوالوفا ثناء اللہ زادہ عمرہ کی حیات اور مرزا آنجہانی کی وفات اور چھوٹے بچے کی قید کی ایسی فکر لاحق ہوئی کہ آپ کو خیالی نبی بناتی گئی۔ ساون کے اندھے کو ہریاول ہی سوجھتی ہے۔ اب جو بھی آپ سر ٹکر دیتے ہیں عجیب ہی مضحکہ خیز ہوتا ہے۔ مرزا قادیانی کے دامن نبوت کا وہ بدنما دھبہ جو آخری فیصلہ کے نام
سے مشہور ہے اور جس کے لئے غریب امت آج تک ناکام تاویلیں سوچا کرتی ہے۔ ایک ایسی دلیل تاویل امت مرزائیہ کے لئے پیش کرتا ہے جو یقیناً ایمان لانے والوں کے لئے ایک ایسا حربہ ثابت ہوگی کہ ثناء اللہ اور مرزا کا آخری فیصلہ جو دعاء مرزا نے خدا سے کی تھی کہ جھوٹے کو سچے کی زندگی میں ہلاک کر مرزا کی حیات اور ثناء اللہ کی وفات ثابت کر دیتی ہے غور سے سنیں۔
”ثناء اللہ ایڈیٹر اہل حدیث کے آخری فیصلہ میں مرنے اور مسیح قادیانی کے تین سو نو سال تک زندہ رہنے کا سوال۔ خدا کے مامور و رسول آسمان و زمین پر باتیں کرتے اور جلی نبوت کے زمانہ میں وہ تین سو نو سال تک برزخ میں سنت اللہ کے موافق اصلاح عالم باطن وظاہر کے لئے زندہ رہتے ہیں۔ مندرجہ ذیل نمبردار باتیں پڑھ کر عبرت پکڑو۔“
”مردے بولا نہیں کرتے۔ دیکھو مسیح مجھے بول کر تعلیم فرما رہے ہیں۔ میں وہی مسیح ہوں جس کے بارے میں الہامات مسیح ہیں۔ یدنی منك الفضل ودنی منیک الفضل ! آیا ہے۔ مسیح کے وجود کے دو حصے ہیں۔ فضل اور احمد، احمد بطون عالم میں، فضل ظاہر میں موجود۔ واللہ یہ واقعہ راست ہے مسیح زندہ ہے مسیح نہیں مرا۔ ثناء اللہ مر گیا۔ واللہ میں خدا تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ مسیح موعود علیہ السلام سنت اللہ کے موافق دنیا میں زندہ موجود ہیں۔ (دریں چہ شک) بموجب حدیث نبوی جو مشکوٰۃ میں عمر آدم اور داؤد کا واقعہ لکھا ہے۔ میں نے حضرت مسیح موعود سے مورخہ ١٨؍ مئی ١٩٠٨ء کو ٢١ سال عمر قرض لی تھی اور خدا تعالیٰ سے مزید ٢٥ سال عمر حاصل کر کے مورخہ ١٩؍ مئی ١٩٣١ء کو آسمان پر جا کر ٢٥ سال عمر دے کر آسمان سے زمین پر امداد کے لئے لے آیا ہوں۔ اب وہ ٢٥ سال ماہ کاتک تک زمین پر اتمام حجت کے لئے ہم جیسے لوگوں کے ذریعے باتیں کرتے رہیں گے۔ مورخہ ٢٢؍ نومبر ١٩٣٢ء کو مسیح قادیان نے فرمایا میں دنیا میں ہوں۔ مگر دنیا مجھے نہیں دیکھتی۔ میں اس خدا کے ہاتھ میں ہوں۔ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ ادانجا نو (مرزا نیو! بولو بھی دیکھو وہ تمہیں بلا رہا ہے۔ خالد) دیکھو جس کو تم مردہ کہتے ہو وہ کلام کر رہا ہے۔“
(ٹریکٹ یکم فروری ١٩٣٣ء ص٤)
خصوصاً آج کل کے انبیاء سے
ہاں امت مرزائیہ کو مبارک ہو انہیں فوراً لبیک کہنی چاہئے اور کوشش کرنی چاہئے کہ کوئی اور صاحب اپنی جدت سے مرزا قادیانی کے آسمان پر واپسی کے موقعہ پر پھر جا کر اور عمر دے کر واپس لے آوے۔ تاکہ دیر تک وہ سلسلہ کی مدد فرماتے رہیں۔ یہاں تک کہ غریب امت کے
پاس ایک پھوٹی کوڑی نہ رہے اور اسی بہشتی مقبرہ کے ریوڑی کے ہیر پھیر میں قادیان دارالامان میں پہنچ جائے۔
شیخ غلام محمد صاحب لاہوری: جماعت میں سے ہیں اور وہ اپنے ملہم ہونے کی بنیاد مرزا قادیانی کے دعاویٰ پر قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میرے لئے مرزا آنجہانی نے بشارت دی تھی کہ میرے عصبہ سے ایک لڑکا ہوگا جو مصلح ہوگا۔ قادیانی موسیو بشیر الدین کو مصلح قرار دیتے ہیں۔ مگر پادری محمد علی صاحب خاموش ہیں۔ شاید وہ سختی سے یہ مطالعہ کر رہے ہیں کہ دونوں میں کون ہے یا کہ ابھی تیسرے کی راہ دیکھیں۔ بہر حال شیخ موصوف بلا کے پیغمبر اور دھڑلے کے نبی ہیں اور وہ یہ بھی قید لگاتے ہیں کہ میرے ساتھ وہ گفتگو کرنے کا حق رکھتا ہے۔ جس نے لیلۃ القدر کا مشاہدہ کیا ہو۔ قارئین کرام کے لئے ان کا اپنا بیان شائع کرتے ہیں جو امید ہے دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔
”میں آپ کی خدمت میں اللہ تعالیٰ کا ایک پیغام پہنچاتا ہوں۔ جس کا مجھے گذشتہ ماہ رمضان کی ستائیسویں رات بروز دوشنبہ مطابق ٢٣ جنوری ١٩٣٣ء ڈیڑھ بجے سے لے کر چھ بجے تک نمازِ فجر سے پیشتر لیلۃ القدر میں حکم دیا گیا ہے اور میں اس کی بروقت اطلاع اسی وقت جماعت کے تین بزرگوں کو دے چکا ہوا ہوں۔ جن کو میری آنکھ نے اس قابل سمجھا کہ وہ امانت و دیانت کا حق ادا کر سکیں گے اور حسب ضرورت وقت آنے پر اس امر کی سچی گواہی دے سکیں گے۔ کیونکہ میری شناخت کئی لحاظ سے تین کو چار کرنے والا نشان رکھا ہوا ہے۔ میں نے گزشتہ سے گزشتہ سال مارچ ١٩٣١ء حضرت اقدس مرزا قادیانی کے ظاہری تین بیٹوں کو جمع کرنے کا حق ادا کیا تھا۔ لیکن انہوں نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا۔ اگرچہ اب بھی میرے ذمے ہے کہ ان ہر سہ ظاہری بیٹوں کو بھی اکٹھا کر کے چھوڑوں۔ لیکن ایسا کرنے کے سامان اللہ تعالیٰ نے بدلا دئے ہیں اور ان کا علم بروقت انشاء اللہ کھولا جاوے گا۔ میں خدا تعالیٰ کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اور جو شاہ رگ سے بھی زیادہ نزدیک ہے قسم کھا کر اپنے دلی ایمان پر یقین سے یہ عرض کرتا ہوں کہ پہلی بار بھی ١٩٣١ء میں ستائیسویں رات دوشنبہ کے دن اور اس کے چند ماہ بعد تک جو کچھ میں نے دیکھا لکھا اور کہا وہ سب لیلۃ القدر کا اثر تھا اور میرے اس بیان میں ذرہ بھی جھوٹ اور خطا ونسیان یا دھوکہ یا شک وشبہ نہیں۔“
(اشتہار مطبوعہ ١٧ فروری ١٩٣٣ء)
گورو جنہاندے ٹپنے چیلے جان شڑپ
مرزا قادیانی نے بھی ہزاروں روپے انعام کے اعلان نکالے جو عام فہم یا سادہ لوح
انسانوں کو محیر العقل بناتے گئے ۔ مگر ان میں کچھ نہ کچھ ایسی رنگینی وجدت ہوا کرتی تھی کہ کیا مجال کوئی پھوٹی کوڑی کا بیسواں حصہ بھی لے سکے۔ اب شیخ غلام محمد صاحب بھی جنہوں نے مصلح موعود کا دعویٰ کیا ہے اسی چکر میں ایک چیلنج دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ مگر چونکہ اس کا تعلق امت مرزائیہ سے ہے۔ اس لئے اب مقابل کی چوٹ کا جواب وہی دیں گے۔ ہم تو صرف ہاتھ جوڑی کرانا چاہتے ہیں کہ مسیح موعود کے حواریو مصلح موعود کی لن ترانی سنو اور اگر ہو سکے تو جواب بھی دے دو۔ مرزا قادیانی کو بھی ایک الہام ہوا تھا کہ: ”تمہیں لوگ دیوانہ ومجنوں بھی کہیں گے۔“
سو یہ حضرت بھی پیش قدمی کرتے ہوئے یہی بڑ ہانک رہے ہیں۔ گویا ان کے اس فعل پر فطرت سلیمہ رہنمائی کر رہی ہے فرماتے ہیں کہ:
”میں ہر اس شخص کو جو مجھے اس بیان میں نیک نیتی سے یا عمداً یا کسی دماغی عارضہ کی وجہ سے غلطی پر ہوتا سمجھتا ہے۔ چیلنج کرتا ہوں کہ وہ میرے ساتھ تحریری فیصلہ کر کے اور مناسب وموزوں گواہوں کی شہادتیں قلمبند کر کے خانہ خدا میں داخل ہو کر میری غلطی پر ہونے یا جھوٹا ہونے کی قسم مؤکد بعذاب کھائے جسے میں تجویز کروں گا اور ساتھ ہی یہ بھی قسم کھائے کہ اسے خود ساری عمر میں ایک یا ایک سے زیادہ مرتبہ لیلۃ القدر نصیب ہو چکی ہے۔ کیونکہ مجھ سے اس بارہ میں وہی شخص جھگڑنے یا بحث کرنے کا حق رکھتا ہے جس کی آنکھ اور دل اور روح اور ظاہر و باطن ہر چیز اس نظارہ کو خود دیکھ اور محسوس کر چکی ہوئی ہو اور وہ خود لیلۃ القدر کا عینی شاہد ہو۔ ورنہ اس کے بغیر اس بارہ میں مجھ سے جھگڑنے والا انسان غلطی کرتا ہے اور وہ قدم اٹھاتا ہے جو اس کی تباہی کا موجب ہوگا۔ خواہ کتنا ہی بڑے سے بڑا دنیا کے انسانوں میں ہو۔“ (اشتہار مذکور ١٧؍فروری ١٩٣٣ء)
اس قلیل مدت میں اس قدر ہادیان مرزائیت کا مبعوث ہونا اور جسے دیکھو زکام نبوت میں گرفتار پانا۔ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ قوم بنی اسرائیل سے کہیں زیادہ اجڈ اور جاہل واقع ہوئی ہے۔ خیال واثق ہے کہ ایسی سخت جان قوم کا حشر بنی اسرائیل سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہوگا۔ مگر سوال تو یہ ہے کہ جب نبوت کا سلسلہ فراخ دلی سے رائج کر دیا گیا اور نبوت کی نالیاں کثرت سے بہنے لگیں تو ان سے سیراب ہونا امت کا فرض اولین تھا۔ مگر افسوس امت مرزائیہ پھر بھٹک گئی اور ایسا بھٹکی کہ مرزا قادیانی کو نبوت کا خاتم سمجھی اور آپ کی ذات پر نبوت کو محدود کرتے ہوئے ایک ایسے جرم کا ارتکاب کیا جس کی تلافی غیر ممکن ہی نہیں محال ہے۔ کیونکہ جب یہ تسلیم کیا گیا کہ آمد نبوت باعث رحمت ہے اور وہ مردہ ادیان ہیں جن میں نبوت مسدود ہو گئی اور اب جب کہ مبلغ دس عدد مراقی پنجابی پیغمبر ممیاتے پھرتے ہیں تو کلیہ کے مطابق انہیں
فورا تسلیم کر لینا چاہئے تھا کیونکہ مامور من اللہ اور وہ بھی نبی کے انکار سے کفر لازم آتا ہے اور یہی رٹ آئے دن امت مرزائیہ خیر الامت سے لگایا کرتی ہے اور کہا کرتی ہے کہ تم مرزا قادیانی کو قبول نہ کرنے کی وجہ سے کافر ٹھہرے۔
عجیب بے تکی منطق اور بودا سوال ہے کہ امت محمدیہ بھلا کیوں کافر ٹھہری۔ جب کہ ان کا الحاق سرکار مدینہ سے ویسا ہی وابستہ ہے اور ان کی عقیدت میں شمہ بھر فرق نہیں آیا۔
اور اگر خدانخواستہ بفرض محال تمہارا الزامی سوال قبول بھی کر لیا جائے تو تمہارا تو بہت ہی برا حال اور مردہ خراب ہے اور تمہارے لئے مرجانا زندہ رہنے سے بہت بہتر ہے۔ اس لئے کہ تم نے ایک مسلمہ اصول کو مانتے ہوئے دو جرموں کا ارتکاب کیا۔ ایک تو نبی اللہ قادیانی کے حکم کی تکذیب کی جو جزو ایمان قرار دیا جا چکا تھا اور دوسرا مبلغ دس عدد قادیانی اصطلاحی پیغمبروں کی تکذیب و تکفیر کرنے کے باعث پورے ساڑھے دس دفعہ کافر بلکہ اکفر ٹھہرے۔ حالانکہ مرزا آنجہانی کی تو حقیقت ہی کیا ہے۔ کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ نہ تیرہوں میں نہ تینوں میں طفیلی نبی اور بہروپیا رسول اور اس کی نبوت اور اس کے انکار و اقرار پر مدار نجات کا سوال اور وہ بھی سرور انبیاء کے تقابل میں ایک مضحکہ خیز بات اور بودا اصول اور نکما سوال ہے۔ हमारा تو اس بات پر ایمان ہے کہ آقائے نامدار محمد مصطفیٰ ﷺ کے مبارک دور میں وہ تمام سابق انبیاء علیہم السلام بھی اللہ تعالیٰ کے فضل واحسان اور حکمت و بلاغت سے آ جائیں تو وہ سب بجز پیروی آنحضرت ﷺ کے اور کوئی راہ اختیار نہیں کر سکتے اور جو کوئی بھی کسی اور مرسل کی پیروی کرے گا وہ راہ راست سے کوسوں دور جا پڑا اور ایماندار نہیں ہو سکتا۔ اس کی تائید فرمان رسالت میں ملاحظہ فرماویں۔
خصائص الکبری ج ٢ ص ١٣٢، باب اختصاصہ ﷺ بانہ خاتم النبیین
”عن عمر ابن الخطاب قال اتيت النبي ﷺ ومعی کتاب اصبته من بعض اهل الكتاب فقال والذى نفس محمد بيده لو ان موسى كان حياً اليوم ما وسعه الا ان يتبعنی “ ﴿ عمر ابن خطاب فرماتے ہیں کہ میں رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں ایک کتاب جو اہل کتاب سے ملی تھی لے کر حاضر ہوا تو فرمایا قسم ہے اللہ تعالیٰ کی جس کے قبضہ قدرت میں محمد کی جان ہے۔ اگر موسیٰ بھی زندہ ہو کر میرے زمانے میں آتے تو بجز میری اتباع کے اور انہیں کوئی راہ نہ ہوتی۔ ﴾
دوسری حدیث (سنن دارمی ج ١ ص ١١٥، باب فی الحدیث عن الثقات)
”حضرت جابر سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب جناب رسول اللہ ﷺ کے
پاس توریت کا ایک نسخہ لے کر حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ یہ توریت کا نسخہ ہے۔ حضور اکرم ﷺ خاموش رہے اور حضرت عمرؓ توریت پڑھنے لگے۔ سرکار مدینہ کا رخ انور کچھ متغیر ہوا تو حضرت ابوبکر صدیقؓ نے کہا اے عمرؓ کیا تم آنحضرت ﷺ کے رخ اطہر کو نہیں دیکھتے تو حضرت عمرؓ نے قرآن ناطق کو دیکھا اور عرض کیا۔ میں خدا کی پناہ پکڑتا ہوں اس کے غصے سے اور راضی ہوئے ہم ساتھ اللہ کے جو پالنے والا ہے اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے جو نبی مکرم ہے اور اسلام کے ساتھ جو پسندیدہ دین ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا خدا کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر تمہارے لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی ظاہر ہو جائیں اور تم اس کی پیروی اختیار کر لو تو تم گمراہ ہو جاؤ۔ صراطِ مستقیم سے لوكان موسى حيا وادرك نبوتى لاتبعنى! اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے اور میری نبوت کو پاتے تو ضرور میری اتباع کرتے۔‘‘
امت مرزائیہ اور خود مرزا آنجہانی بھی ایک حدیث عیسیٰ علیہ السلام کی موت پر دیا کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ:
”لوکان موسیٰ وعیسیٰ حیین لما وسعهما الا اتباعی “ اگر موسیٰ و عیسیٰ علیہم السلام زندہ ہوتے تو سوائے اتباع محمد رسول اللہ ﷺ کے انہیں کوئی چارہ کار نہ ہوتا۔
حالانکہ حدیث کی کسی مستند کتاب میں یہ الفاظ قطعاً بیان نہیں ہوئے اور اگر کسی کتاب میں یہ الفاظ درج بھی ہیں تو مفسرین کے نزدیک ان کی کچھ بھی وقعت نہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی نے احادیث کو عمداً نظر انداز کرتے ہوئے محض اپنی مطلب براری کے لئے یہ الفاظ لے لئے ہیں ورنہ صحاح ستہ میں تو یہ حدیث نہیں ملتی۔
اور حدیث صحیح کا معیار صداقت قرآن شریف سے تطبیق و تصدیق ہے۔ چنانچہ فرقان حمید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
عہد میثاق
”واذ اخذ الله میثاق النبیین لما اتیتکم من کتب وحکمة ثم جاء کم رسول مصدق لما معکم لتؤمنن به ولتنصرنه ، قال ء اقررتم واخذتم على ذلكم اصرى، قالوا اقررنا ، قال فاشهدوا وانا معکم من الشاهدين ، فمن تولىٰ بعد ذلک فاولئک ھم الفسقون (آل عمران: ٨٢،٨١) “ اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں سے عہد لیا کہ ہم جو تم کو اپنی کتاب اور عقل سلیم دیں اور پھر کوئی پیغمبر تمہارے پاس آئے اور جو کتاب تمہارے پاس ہے۔ اس کی تصدیق بھی کرے تو دیکھو ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور اس کی
مدد کرنا اور فرمایا کیا تم نے اقرار کر لیا اور ان باتوں پر جو ہم نے تم سے عہد و پیمان لیا ہے۔ اس کو تسلیم کیا۔ پیغمبروں نے عرض کیا ہاں ہم اقرار کرتے ہیں تو خدا نے فرمایا آج کے قول و اقرار کے گواہ رہو اور تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ایک گواہ ہم بھی ہیں۔ تو بات کے اس قدر پکے ہونے پر جو کوئی قول سے منحرف ہو تو وہی نافرمان ہے۔﴾
یہ اقرار اس وقت لیا گیا جب آدم علیہ السلام کے وجود باجود کی مٹی ہی گوندھی ہوئی تھی اور ابھی پتلا بھی تیار نہ ہوا تھا۔ یعنی عالم برزخ میں ارواح انبیاء سے اقرار لیا گیا۔ کیوں اس لئے کہ رسول اکرم ﷺ خاتم النبیین رحمۃ للعالمین کافۃ للناس ساری دنیا کے لئے مبعوث فرمائے گئے ہیں اور عقلی طریق سے بھی اس کی صدہا تائیدیں مل سکتی ہیں۔
مثلاً ایک گورنر جو اپنے زمانہ کو گزار کر دوبارہ انڈیا میں آتا ہے۔ یعنی ریٹائرڈ شدہ آفیسر تو چاہے وہ گورنر اور ڈپٹی کمشنر صرف چند روز پہلے اسی ہندوستان میں رہ چکا ہے اور صدہا احکام کی تعمیل کرا چکا ہے۔ مگر اپنے اوقات کے ختم ہونے پر اسے گورنر جدید کی اطاعت و فرمانبرداری کے سوا اور کوئی چارہ کار نہیں ہے۔ وہ اس بات کا اب مجاز نہیں کہ کوئی حکم بطور افسر اب تعمیل کراسکے یا کوئی حکم موجودہ وقت میں منسوخ کر سکے۔ کیوں کہ اس کا زمانہ ختم ہو چکا یہ تو عام دنیاوی قانون ہے۔ جو بطور امثلہ کے بیان ہوا۔ ایسا ہی پیٹنٹ دوائیاں جو ولایت سے آتی ہیں اور ان پر تاریخ لکھی ہوتی ہے کہ فلاں تاریخ تک استعمال کر سکتے ہیں اور مقررہ وقت کے بعد وہ ناقابل استعمال ہو کر زہر بن جاتی ہیں۔ وہ ہی ادویات جو صرف چند روز پیشتر آب حیات تھیں مدت میعاد گزرنے کے بعد پیام فنا بن گئیں۔ اختصاراً سلیم الطبع حضرات کے لئے اسی قدر کافی ہے۔
اب جب کہ مرسلین من اللہ کے لئے کوئی گنجائش باقی نہیں اور ان کی پیروی موجودہ دور میں مدار نجات نہیں اور یہ بھی قرآن شریف اور حدیث صحیحہ سے ثابت ہو چکا ہے کہ آنحضور فخر دو عالم سرکار مدینہ ﷺ ہی قصر نبوت کی آخری اینٹ کے مثالی طور پر بیان ہوئے اور باب نبوت تا قیام زمانہ منقطع ہوا اور جبرائیل علیہ السلام کا آنا بند ہوا تو ایسی حالت میں ایک طفیلی نبی اور بہروپئے رسول کی ضرورت کیا معنی و حقیقت رکھتی ہے۔ ہاں خادمیت کا سنہری تمغہ جو آئے دن دیا جاتا ہے اور مجددیت کا ڈھکوسلہ جو پیش کیا جاتا ہے غلط ہے۔ کیونکہ مجدد کے انکار سے کفر لازم نہیں آتا اور نہ ہی مجدد اپنے نام پر کوئی امت بناتے ہیں۔ مرزا قادیانی سے پیشتر بھی مجدد اپنے نام پر کوئی امت نہیں بناتے۔ مرزا قادیانی سے پیشتر بھی صدہا مجدد ہوئے ہیں مگر وہ سب خادم دین کہلائے۔ کسی نے یوں الہام بازی نہ کی اور نہ ہی کارخانہ نبوت کھولا اور نہ ہی پیش گوئیوں کی مشین گن چلائی۔ کسی نے
اپنے نام پر کوئی امت پیدا نہ کی اور نہ ہی کوئی امتیازی نشان (منارہ) بنایا۔
مرزا قادیانی نے تو حد ہی کر دی تمام انبیاء کے نام اپنے نام پر رکھے خدائی کے دعوے دار ہوئے۔ مسیح موعود بننے کا شوق اس قدر مراتب پر پہنچا کہ ساون کے اندھے کو ہریاول ہی نظر آیا۔ عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کی، فخر رسل کے معجزات سے منکر ہوئے۔ اپنی ذات کے منوانے پر انحصار اسلام رکھا۔ منکرین کو حرام کاری کی اولاد کا خطاب دیا اور نہ ماننے والوں کو سور اور لومڑ اور سانپ اور کتے کہا۔ اپنی بیویوں کو امہات المومنین کا خطاب دیا۔ اپنے خلفاء کو رسول اکرم سے تشبیہ دے کر نسبتاً فائق الفاظ سے یاد کیا۔ اپنے زمانہ کو خیرالقرون سے بہتر بتایا اور مریدان کو صحابی کا نام دیا۔ جنگ بدر کی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے تین سو تیرہ کی لسٹ تیار کی اور قلت کی وجہ سے مرے ہوئے مریدوں کے نام بھی درج کئے اور بتدریج ترقی کی سب سے پہلے عاجز پھر خاکسار، پھر رئیس قادیان، پھر مبلغ پھر سلطان القلم پھر مناظر پھر حجۃ اللہ القادر پھر حکم پھر مثیل مسیح، پھر مسیح موعود پھر آدم، شیث، نوح، ابراہیم، موسیٰ، یعقوب، یوسف، عیسیٰ، محمد احمد۔ پھر ہندوؤں کی طرف توجہ منعطف کی رودر گوپال، جے سنگھ بہادر، آریوں کا بادشاہ، امین الملک، کرشن پھر ملائکہ کی طرف خیال آیا۔ تو اپنا نام میکائیل، صور، مظفر، منصور رکھ لیا۔ پھر ایک خدائی کا درجہ باقی رہ گیا تھا وہ بھی جا لیا۔
میں نے مختصراً مرزا قادیانی کے مراتب اور نام گنے ہیں اگر تفصیل سے نام لکھوں تو شاید سو نام سے بھی زیادہ ہوں گے۔
غرضیکہ مرزا قادیانی کسی صورت میں بھی سوائے گلدستہ امراض کے اور کچھ نہ تھے اور ان تمام بیماریوں میں مراق بادشاہ تھا۔ جو آپ کے دل و دماغ پر حکمرانی کر رہا تھا۔
دیکھ کر آیا ہوں بندے کا خدا ہو جانا
جھوٹ نمبر ٨
(ریویو آف ریلیجنز نمبر ٩ ص ٣٣٩، ماہ ستمبر ١٩٠٢ء) میں فرماتے ہیں کہ:
”اب تک میرے ہاتھ پر ایک لاکھ کے قریب انسان بدی اور بدعقیدگی اور بداعمالی سے توبہ کر چکا ہے۔“
مندرجہ بالا اقتباس کے قریباً تین سال بعد تحریر فرماتے ہیں۔
”میرے ہاتھ پر چار لاکھ کے قریب لوگوں نے معاصی اور گناہوں اور شرک سے توبہ کی۔“
(تجلیات الٰہیہ ص ٢٤ مرقومہ ١٥؍ مارچ ١٩٠٦ء)
مندرجہ بالا سنہری جھوٹ اور کذب وافتراء کے بیان پر تبصرہ کرنے سے پیشتر میں یہ انسب سمجھتا ہوں کہ مرزا آنجہانی کی صحتِ خبر کا مختصر تذکرہ کردوں تاکہ معاملہ نہایت آسانی سے سمجھ میں آسکے اور اس کے بعد اس جھوٹ کی گٹھڑی کو آسانی سے کھول کر منظرِ عام کردوں۔ یہ اس لئے کہ میرے فاضل دوست مولانا مولوی عبدالرحمن صاحب خطیب جامع صدر راولپنڈی کا مکتوبِ گرامی یونہی ہدایت کرتا ہے۔
آنجناب کے وہ الفاظ جو میری توجہ کو اس طرف منعطف کرنے کا باعث ہوئے حسبِ ذیل ہیں ملاحظہ فرماویں فرماتے ہیں۔
”جناب چونکہ خالد ہیں اور دوسری طرف مخاطب دعویٰ مماثلت کا قائل ہے۔ لہٰذا خالد کی طرف کفریہ عقائد کو نابود کرنا اور اپنے مخاطب کا منتظر ....... خالدین فیها ابدا ! عوام کو واضح کر کے بتانا اسم با مسمّیٰ ہونے کے مطابق تھا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو توفیق دی اور ایک نیک کام آپ سے کروالیا۔ یفعل ما یشاء!“
(١٦؍ ستمبر ١٩٣٣ء، عبدالرحمن از راولپنڈی)
مرزا قادیانی کی بیماریاں
”میں ایک دائم المرض آدمی ہوں ...... ہمیشہ سر درد، دورانِ سر، کمی خواب، تشنجِ دل کی بیماری دورے سے آتی ہے اور دوسری چادر جو میرے نیچے کے حصہ بدن میں ہے وہ بیماری ذیابیطس ہے کہ ایک مدت سے دامنگیر ہے اور بسا اوقات سو سو دفعہ رات کو یا دن کو پیشاب آتا ہے اور اس کثرت پیشاب سے جس قدر عوارض ضعف وغیرہ ہوتے ہیں وہ سب میرے شاملِ حال رہتے ہیں۔“
(ضمیمہ اربعین نمبر ٣، ٤ ص ٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٧١)
اس بیان کی تصدیق میں یوں تائید ارشاد ہوتا ہے۔
”دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرتﷺ نے پیش گوئی کی تھی جو اس طرح وقوع میں آئی۔ آپ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان سے جب اترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوں گی تو اس طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی یعنی مراق اور کثرتِ بول۔“
(اخبار البدر قادیان ٧؍ جون ١٩٠٦ء، ملفوظات ج ٨ ص ٤٤٥)
اور یوں تو مرزا قادیانی کی بیماریاں شمار نہیں ہوسکتیں اور ایک علیحدہ ضخیم باب چاہتی ہیں اور بعض ایسی بھی ہیں جنہیں تہذیب بے نقاب کرنے سے مانع ہے۔ اس لئے انہیں دو حوالوں پر
سردست اکتفا کرتا ہوا نفس مضمون کو پیش کرتا ہوں۔
مرزا قادیانی آنجہانی کوئی معمولی رسول نہیں بلکہ معجون مرکب انبیاء ہیں اور ان کے خدا کے ہاں ان کا بڑا سخت مرتبہ ہے۔ یقین جانئے کہ ساجھی گیر سے کچھ کم مراتب کسی صورت میں نہیں ہو سکتا۔
مرزا قادیانی کے خدا بلاش قادیانی دربار میں ہدیہ
(ازالہ اوہام ص ١٩٦، ١٩٧، خزائن ج ٣ ص ١٩٦،١٩٥) پر فرماتے ہیں کہ:
”بشرى لك يا احمدى انت مرادى ومعى غرست وكرامتك بيدى انت وجيه فى حضرتى اخترتك لنفسى شانك عجيب واجرك قريب الارض والسماء معك كما هو معى جرى الله فى حلل الانبياء لا تخف انك انت الاعلى ينصرك الله فى مواطن ان يوحى لفضل عظيم كتب الله لا غلبن ورسلى الا ان حزب الله هم الغالبون“ ”اے مرزا تجھے بشارت ہو تو میری مراد اور میرے ساتھ ہے۔ مرزا جی تمہارے ہاتھ میں کرامتیں ہیں تو میری سرکار میں چنا ہوا ہے۔ میں نے مرزا تجھے اپنی جان کے لئے چنا تیری شان اے مرزا عجیب ہے اور پھر نزدیک زمین و آسمان مرزا جی تمہارے ساتھ ہیں۔ جیسے کہ وہ میرے ساتھ مرزا تو میرا پہلوان ہے۔ نبیوں کے لباس میں اے مرزا مت خوف کر غلبہ تمہیں کو ہے۔ مرزا جی خدا کئی میدانوں میں تیری مدد کرے گا۔ مرزا جی میرا دن بڑے فیصلہ کا دن ہے۔ مرزا جی میں نے لکھ چھوڑا ہے میں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے۔ خبردار خدا کی فوج غالب رہتی ہے۔“
عجب ثم العجب! مرزا قادیانی کا خدا بھی عجیب خدا ہے جو مرزا پر ایسا لٹو ہوا کہ اپنی خدائی کو بھول گیا اور مرزا کی تعریف وتوصیف میں ایسا رطب اللسان ہوا کہ مرزا کو اپنی سرکار میں چن لیا اور وہ بھی اپنی جان کے لئے اور بشارت بھی دی تو کن الفاظ میں کہ مرزا تو میری مراد ہے اور تیری میری ساجھی گیری ہے اور وہ بھی زمین و آسمان میں اور اس میں بھی ایک اور فضیلت ظاہر کی کہ تمام معجزات تیرے ہاتھ میں ہیں اور ایک اور عطاء جتلائی کہ تیری شان عجیب ہے۔ کیونکہ تو نبیوں کا پہلوان ہے اور تیرے وجود میں تمام نبی چھپے بیٹھے ہیں۔
الٰہی پناہ! مرزا ہے یا نبیوں کا پٹارہ عجیب مضحکہ خیزی ہے۔ مرزا قادیانی کا وجود ہے یا نبیوں کا آماجگاہ۔ عجب بے تکی بات ہے کہ مرزا کے تھیلے میں کچھ کمی ہی نہیں۔ جو چاہو سو حاضر جو مانگو وہ موجود نہ میاں عاجز و خاکسار پیر منٹ کی کمی ہے اور نہ جے سنگھ و ردر گوپال کا کال۔ آریوں
کا بادشاہ حاضر کرشن مہارا مہتر، مظفر منصور کے خطا بھلا وہ کون سے ولی کا نام جناب ہیں۔ شیخ عبدالقادر تذلیل کی آدم آپ بنے یعقوب و یوسف کی سر آپ نے کی۔ بھلا باقی کیار ہا کہ اس یونی چکر لگاتے ہوئے پیغمبر آخرالز نبوت کی تالیاں قیامت تک قارئین کرام حسب ذیل ملاحظہ فرماویں ایک دائم المر یوں سمجھئے کہ یک انار وصد دوچار ہو اور مرقع مجموعہ ا و ٹھگسار ہو۔ دوران سفر رفی یار غار ہو۔ طبیعت مضمحل کستوری اور کچلوں کے چ سیمتن کی زلف گرہ گیر کا لئے جان جاتی ہو اور بوق میں بخل نہ کریں۔ مگر واہ ری چاپلوس ہونے پر، الہام لالچ پر اور منت و خوشامد پر۔ فریبندوں اور قاصد شاقہ اور وہ بھی پوری بی
کا بادشاہ حاضر کرشن مہاراج موجود ، حجۃ اللہ القادر اور رئیس قادیان کے لقب، سلطان القلم، احمد مختار ، مظفر ومنصور کے خطاب، میکائیل و ٹیچی کے القاب اور نام تو اس قدر ہیں کہ شمار نہیں ہو سکتے ۔ بھلا وہ کون سے ولی کا نام ہے جو آپ نے اپنے لئے تجویز نہیں کیا۔ زندہ علی آپ ہیں۔ امام حسن جناب ہیں ۔ شیخ عبدالقادرؒ پر آپ نے ہاتھ صاف کیا مرسلین من اللہ کے اسمائے گرامی کی آپ نے تذلیل کی آدم آپ بنے شیث کا چولا آپ نے پہنا، نوح وابراہیم کی رٹ آپ نے لگائی۔ یعقوب ویوسف کی سر آپ نے الاپی،موسیٰ وعیسیٰ کا ترانہ آپ نے گایا۔ محمد واحمد پہ سینہ زوری آپ نے کی۔ بھلا باقی کیا رہا ایک ذات کردگار اس کے لئے بھی بہرہ لذت آپ نے حاصل کی ۔ اس یونی چکر کے کاٹتے ہوئے شریعت محمدیہ پر ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالا اور بروز کی رٹ لگاتے ہوئے پیغمبر آخرالزمان بن بیٹھے اور اعلان کر دیا گیا کہ میری ذریت اور امت سے آئندہ نبوت کی نالیاں قیامت تک جاری رہیں گی۔ بہت خوب!
قارئین کرام! ان ہر سہ مضامین کو ذہن نشین رکھتے ہوئے مرزا قادیانی کا صحیح فوٹو حسب ذیل ملاحظہ فرمادیں ۔
ایک دائم المریض ضعیف انسان جو بڑھاپے کی منزلیں چراغ سحری کی طرح گزار رہا ہو یا یوں سمجھئے کہ یک انار وصد بیمار کی طرح گلدستہ امراض ہو اور جو جولان گاہ امراض کی ردوکد سے دوچار ہو اور مرقع مجموعہ امراض پر ایک نہیں بیسیوں بیماریاں عاشق زار ہوں ۔ مثلاً درد سر مونس وغمگسار ہو۔ دوران سر رفیق زندگی کا آزار ہو۔ کم خوابی کواکب شمار ہو۔ بے چینی کروٹ کروٹ پر یار غار ہو۔ طبیعت مضمحل و بے قرار ہو۔ ذیابیطس سو سو دفعہ بیت الخلاء کا طواف کرائے۔ نامردی کستوری اور کچلوں کے چکر کٹوائے اور لیٹنے کی حالت میں نعوظ بکلی فرار ہو جائے اور دل کسی شوخ سیمتن کی زلف گرہ گیر کا اسیر ہو اور بڑھاپے میں طبیعت میدان عشق میں اتر آئی ہو اور محبوب کے لئے جان جاتی ہو اور بوقت نزع بھی خیال جاناں نہ چھوٹے اور فرشتے بستر عیش کے الہام لانے میں بخل نہ کریں ۔
مگر واہ ری شومی قسمت حالات ایسے ناگفتہ بہ ہوں کہ گھر بار لٹانے پر انتہائی چاپلوس ہونے پر، الہاموں کی گرمی اور موت کی دھمکی دیئے جانے پر، ہزاروں کی زمین کے لالچ پر اور منت وخوشامد کے خطوط کے لکھنے پر بیوی بہو کی طلاق اور جوان بیٹوں کو عاق کرنے پر۔ فرزندوں اور قاصدوں کے چکر کاٹنے پر محبوب کا آنچل بھی دیکھنا نصیب نہ ہو۔ بلکہ محنت شاقہ اور وہ بھی پوری بیس سالہ محبت پر ناکامی ونامرادی ہی پاؤں چومے بھری امیدیں اجڑیں
اور ولولے اٹھنے سے پہلے مایوسی کی گود میں کھیلیں۔ مگر عشق کا مہیب دیو خواہشات کے تلاطم کو موجزن کرتا ہوا دل پر صدہا کچوکے لگائے اور فعل ناروا پر مجبور کرتا ہوا انتہائی ضلالت کے دعوے بے اختیار منہ سے نکلوائے۔ قلبی کیفیت کی اضطرابی سیماب سے زیادہ بے قرار ہو اور ان حالات کی روشنی میں جب کہ نیند کلیہ کے مطابق پھانسی پر بھی آنے سے نہ شرمائے۔ مگر بیمار عشق پر ترس نہ کھائے بلکہ بقول شخصیکہ ۔
چھوڑ کر بے چین مجھ کو آپ سو جاتی ہے نیند
ہاں بخت رسا سے جب کبھی طالع بیدار ہو اور قسمت یاوری کرے اور نسیم صبح مہربان ہو جائے اور تخیل پرواز کرتے کرتے تھک جائیں اور حساسات چور ہو کر موہوم کا لباس پہنیں تو طرفۃ العین کے لئے پلک سے پلک لگ جانے میں چنداں مضائقہ نہیں۔ مگر آہ شومی قسمت سوتے میں بھی چین کی نیند اور آرام کا وقت گزارنے نہیں دیتی۔ بلکہ خواب میں بھی قلبی کیفیت کا یہ عالم ہے کہ مراق کی وجہ سے ایسے ہولناک توہم خیالی لباس میں یا شیطانی پیکر میں نظر آتے ہیں۔ جن سے دل بیٹھتا اور گھٹتا جاتا ہے اور بسا اوقات ایسے بھیانک اور متوحش منظر پیش ہوتے ہیں جن سے رواں رواں کانپ اٹھتا ہے اور زبان بے ساختہ اس شعر کو دہراتی ہے۔
دوست سمجھے تھے جسے جان کا دشمن نکلا
ایسی گری ہوئی صحت اور بدتر حالت میں مرزا قادیانی کا بیعت لینا عجب مضحکہ خیز ہے اور وہ بھی اس بہتات سے بعید از قیاس و وہم ہے۔ جب کہ ان کی صحت کا یہ عالم ہو لمحہ لمحہ پر خطر ناک بیماریاں اور عوارض قدم بوسی کریں۔
اچھی مسیحائی ہے کہ نہند نام زنگی کافور ہو رہا ہے۔ کبھی مسیح دم سے مردے زندہ ہوا کرتے تھے۔ بیمار شفا پایا کرتے تھے اور عوارض کافور ہوتے تھے۔ مگر اب غریب مسیح کی اپنی جان دو بھر ہو رہی ہے اور صدہا بیماریوں کے نرغے میں پھنسی ہوئی ہے۔ شان بے نیازی ہے۔ کبھی مسیح کا نام بیماروں کا تریاق سمجھا جاتا تھا۔ مگر اس بدبخت دور میں مسیح کے نام پر بیماریاں پڑتی ہیں اور آئے دن کوئی نہ کوئی حملہ نیا ہی ہوتا ہے۔ مرزا قادیانی کا وجود گویا ایک مسافر خانہ امراض ہے جہاں کوئی نہ کوئی کارواں اترا ہی رہتا ہے۔ غرضیکہ مرزا قادیانی کیا تھے۔ امراض مرکب کا گلدستہ تھے یا مجموعی عوارضات کی معجون۔ سبحان اللہ پنجابی نبوت پر بیماریاں یوں عاشق تھیں جیسے قند سیاہ پر مگس کا چھتا۔
یا ہریاول پر ٹڈی دل، اور سب سے زیادہ تکلیف دہ مرض ذیابیطس کے دورے تھے۔ جو ہر سات منٹ کے بعد بیت الخلاء کا طواف کرانے پر مجبور کرتے۔ کیونکہ بسا اوقات دن میں سو سو مرتبہ تو پیشاب ہی آتا تھا۔ جس کی وجہ سے آزار بند ڈھیلی ہی رہتی تھی۔
امت مرزائیہ سے ایک سوال
اور اس کے حل کرنے پر ایک سو روپیہ نقد انعام
استغفر اللہ ربی! وہ بیماریوں کا گلدستہ نبی جو صدہا عوارض سے دوچار تھا اور جس کو ہر سات منٹ کے بعد پیشاب کی حاجت ہوتی تھی اور دورہ سر باؤلہ کئے دیتا تھا اور مراق کے باعث توازن درہم برہم تھا۔ بے خوابی کے باعث سر دیوار سے ہمکنار ہوا چاہتا تھا۔ قلبی کیفیت سیماب سے زیادہ مضطرب تھی۔ نقاہت و کمزوری مونس و غمگسار ہوچکی تھی اور تشنج دل دوروں سے رفیق حیات ہو چکا تھا۔ ایسی بے بسی اور بے کسی کی حالت میں جب کہ کمزوری کے باعث قدم اٹھانا بھی کارے دارد تھا۔ وہ کتابیں جو آپ کے نام سے منسوب ہیں کس طرح لکھی گئیں؟ اور اگر وہ آپ کے قلم کی ہی رہین منت ہیں تو یہ ناممکن ہے کہ ایک دائم المرض آدمی انہیں تصنیف کر سکے۔ بلکہ دن میں سو سو مرتبہ پیشاب کا آنا تو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ آپ کے پاس کھانا کھانے اور نماز پڑھنے کا کوئی وقت ہی نہیں۔ اس لئے یہ ماننا پڑے گا کہ دونوں باتوں سے ایک ضرور جھوٹی ہے یا تو بیماریاں محض مبالغہ آرائی اور دھوکہ دہی کے اصول پر بتائی گئی ہیں یا تصانیف صرف آپ کے نام سے منسوب ہیں اور کرایہ پر لکھوائی گئی ہیں اور اگر بفرض محال ایک منٹ کے لئے ان کو صحیح بھی قرار دے دیا جائے تو ایک اور ایسی مشکل ہے جس سے چھٹکارا غیر ممکن ہے۔ مرزا قادیانی کے بیانات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ تین سال پانچ ماہ گیارہ دن کے عرصہ میں آپ کے ہاتھ پر تین لاکھ انسانوں نے توبہ کی یعنی ستمبر ١٩٠٢ء سے مارچ ١٩٠٦ء تک تین لاکھ مسیحی بھیڑیں دام تزویر میں مقید ہوئیں۔ امت مرزائیہ تو سوائے سبحان اللہ کہنے اور ایمان کا جزو قرار دینے کے اور کچھ نہ کرے گی۔ بلکہ وفور محبت میں بعض بوڑھی بھیڑیں رو بھی دیں گی۔ مگر واللہ ہم کو ان کے حال زار پر رحم آتا ہے اور ہمیں اوّل ہی قدرت نے کچھ ایسا دل تفویض کیا جو ہمدرد بنی نوع انسان ہے اور یہ اس لئے کہ آقائے عالمیان فداہ امی وابی کا مداح خوان ہوں اور سیرت محمدیہ میں ایسے لاکھوں پھول شگفتہ ہیں۔ جو اہل بصیرت کے لئے مایۂ ایمان کے مصداق ہیں۔ استاد امیر مینائی نے کیا خوب کہا ہے ؎
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے
قادیانی نبی فرماتے ہیں کہ ساڑھے تین سال کے عرصہ میں تین لاکھ انسانوں نے میرے ہاتھ پر معاصی سے توبہ کی۔ یعنی مرزا قادیانی متواتر صبح سے شام تک گنہگاروں کو حق کی تلقین فرماتے ہوئے لگاتار بیعت کی شرائط پر مستعد کرتے ہوئے مرزائی ڈربے میں مقید کرتے ہوئے مرید بناتے رہے۔ جس کا حساب یوں لگایا جا سکتا ہے کہ آپ ہر ماہ میں ٧١٤٣ یا ہر دن میں ٢٣٨ یا فی گھنٹہ ١٩ یا ہر تین منٹ کے عرصہ میں ایک اور پھر ہر ایک سے دس شرائط بیعت سن کر اور عمل کا وعدہ لے کر مرید پھانستے رہے۔ مرزا قادیانی کا وہ حلف نامہ بیعت جس میں مبلغ دس عدد لمبی چوڑی شرائط درج ہیں اور طرفہ یہ کہ ایک بیمار آدمی کے منہ سے اٹک اٹک کر سنانا اور مرید کا اس کو اعادہ کرنا ایک کافی وقت چاہتا ہے۔ جو کم از کم پانچ منٹ سے کم کسی صورت میں نہیں ہو سکتا اور یہاں تو تین منٹ میں بھیڑ پر بھیڑ آ رہی ہیں۔ اس لئے یہ بیان صداقت سے کوسوں دور اور سچائی سے میلوں دور ہے اور شان ربی کے قربان جاؤں کہ مرزا قادیانی ١٩٠٦ء تک اپنے ان مریدوں کی تعداد چار لاکھ بتاتے ہیں۔ جو ان کے دام تزویر کا شکار ہوئے اور قادیانی بیعت میں منسلک ہوئے۔ مگر یہ تعداد تو آج فروری ١٩٣٥ء تک نصیب بھی نہیں ہوئی۔ بلکہ حکومت وقت کی مردم شماری سے مرزائی اعداد و شمار ملاحظہ فرماویں تو کل پچاس ہزار نفوس معلوم ہوتے ہیں اور اس میں طفل نوزائیدہ سے لے کر پیر فرتوت اور صنف نازک بھی شامل ہیں اور حضرت صادق قادیانی کی وہ تحریر پر از تحقیر جو ١٩٠٦ء تک چار لاکھ بتاتی ہے کس قدر مبالغہ آمیزی اور حاشیہ آرائی پر مبنی ہے؟ اور ہم دعویٰ سے کہتے ہیں کہ غلط ہے۔ جھوٹ ہے اور انشاء اللہ یہ تعداد تو تا قیام زمانہ بھی نام بنام قادیانی شائع نہ کریں گے۔ کیونکہ ہر کمال را زوال اور اب تو مرزائیت کے تنزل و ادبار کے دن ہیں۔ کوئی دن شاید ہی ایسا خالی ہو جس میں کوئی نہ کوئی واپسی کا ٹکٹ نظر نہ آئے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں جب یہ سب کے سب مرزائی راہ راست پر آجائیں گے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت کے لئے بہت سے سامان مہیا کر دیئے ہیں۔ تعجب ہے کہ مرزا آنجہانی قادیانی کس درجہ جھوٹ کے کس قدر شیدائی ہیں اور کس لطیف انداز میں مبالغہ آرائی کی گئی ہے۔ روز روشن میں دھڑلے سے دجل کو ترتیب دینا اور دھوکہ دہی کو خوبصورتی سے نبھانا گویا سلطان القلم کا ہی مرہون منت ہے۔ مگر تاڑنے والے بھی قیامت کی نظر رکھتے ہیں کے مصداق جھوٹ آخر جھوٹ ہی ہے چاہے سنہری پردوں میں ہی کیوں نہ پوشیدہ ہو کسی نے کیا خوب کہا ہے۔
کہ خوشبو آ نہیں سکتی کبھی کاغذ کے پھولوں سے
مرزا قادیانی کا خدا جس کا مرزاجی کی اصطلاح میں الہامی نام یلاش ہے۔ اچھا دوستانہ نبھا رہا ہے۔ سب سے پہلے بشارت دی اور یہ بشارت بھی کوئی معمولی بشارت نہیں بلکہ یہ فرمایا کہ مرزا قادیانی تو تو میری مراد ہے اور میرے ساتھ ہے۔ یعنی کارخانہ الوہیت میں ہم دونوں برابر کے ساجھی گیر ہیں اور ساجھی والی کی شرائط یہ ہیں مرزاجی تمام اعجاز نمائی تمہارے قبضہ قدرت میں رہی اور اس کام کے لئے تو میری جناب میں چن لیا گیا اور یہ انتخاب میں نے اپنی جان کے لئے کیا یعنی آرام کے لئے اور کیوں چنا اس کی وجہ یہ ہے کہ تیری شان عجیب ہے جو مجھے پسند آئی اور اپنی جان کے لئے چننے کا باعث ہوئی اور پھل نزدیک اس کا مطلب جو کچھ میری سمجھ میں آیا وہ یہ ہے کہ ایک کہاوت ہے کہ تمہارے کتوں کو روٹیاں مگر تمہارے لئے شائد نہیں یا ایک پنجابی میں مثال عموماً دی جاتی ہے۔ بیٹا تیری لکھاں اتے قلم۔ مگر جیب خالی اور پھل نزدیک کا مطلب شائد یہ ہے کہ ہر ایک چیز تمہیں قریب ہی نظر آئے گی۔ یعنی جو بھی پیش گوئی آپ کریں گے وہ آپ کو بس پوری ہوتی ہی نظر آئے گی۔ اس سے زیادہ تفہیم نہیں ہوئی۔ شائد کوئی نیا میوہ نہ دکھایا گیا ہو اور یہ تو پہلے ہی فیصلہ ہو چکا ہے۔ نصف نصف کی شراکت ہوگی ہاں ذرا وضاحت کر دی گئی ہے تا کہ بعد میں کوئی جھگڑا نہ اٹھے اور ایک جان و دو قالب میں بدمزگی پیدا ہونے کا احتمال نہ ہو۔ کہ زمین و آسمان مرزاجی تمہارے ساتھ بھی ویسے ہی رہیں گے جیسے کہ وہ میرے ساتھ ہیں۔ جیسا کہ ایک اور الہام میں ارشاد ہوا ”انت منی وانا منك“
(حقیقت الوحی ص ٧٤، خزائن ج ٢٢ ص ٧٧)
یعنی تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے۔ یعنی مرزا میں اور خدا میں کوئی امتیازی فرق باقی نہیں۔ مرزا فنا فی اللہ ہے اور اللہ فنا فی المرزا ہے اور ایسا ہی مرزا قادیانی کا ایک اور الہام واضح طور پر اس امر کی وضاحت کرتا ہے کہ مرزا خدا کا سب سے بڑا نام ہے اور کیوں نہ ہو جب کہ وہ بھی الہام ہو چکا کہ ”انت من مائنا و ہم من فشل“
(اربعین نمبر ٣ ص ٣٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٣)
یعنی تو ہمارے پانی سے ہے اور دوسرے لوگ خشکی سے۔ پانی کی تفہیم اہل بصیرت خوب سمجھتے ہیں۔ اس لئے وضاحت کی ضرورت نہیں اور یہی تو باعث ہے۔ جو مرزا خدا کا پہلوان ہے نبیوں کے لباس میں مگر یہ مجموعہ امراض یا گلدستہ عوارضات ہونے کی وجہ سے شائد پہلوانی کو ہی ظاہر کرتی ہے۔ نہند نام زنگی کافور مگر شاید اس میں بھی کوئی حکمت ہو۔ آخر آپ خدائی کے دعویدار ہیں اور یہ بیماریاں بھی تو شاید آپ نے ہی بنائی ہیں۔ پھر ان سے محبت مرزا قادیانی نہ کریں تو اور کون کرے گا اور شاید ان بیماریوں کے باعث ہی کہا گیا ہے کہ اے مرزا تو خوف بالکل نہ کر کیونکہ پہلوان کے نام کی خوف کرنے میں تذلیل ہوتی ہے۔ مطمئن رہو کہ غلبہ تمہیں کو ہے۔ بدنام اگر
ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا۔ غلبہ نہ سہی ندامت ہی سہی تصور کے دونوں رخ ہوا کرتے ہیں۔ یہ کون سی بڑی بات ہے کبھی وہ کبھی یہ، اور غم کرنے کا مقام نہیں کیونکہ ہم کئی میدانوں میں تمہاری کافی سے زیادہ مدد کریں گے۔ مگر افسوس جہاد تو حرام ہو چکا۔ میدان نہ سہی چٹانوں میں مدد ہو جائے گی اور اگر یہاں بھی نہ ہوسکی تو میرا دن بڑے فیصلہ کا دن ہے۔ اس دن دیکھی جائے گی۔ بہرحال مدد ہی کرنی ہے کسی وقت ہو ہی جائے گی اور یہ تو مسلمہ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہمیشہ کامیاب رہتے ہیں اور اس میں کچھ شک نہیں کی خداوند کریم غالب حکمت والا واللہ علیٰ کل شی قدیر ہے۔ مندرجہ بالا مضمون (ازالہ اوہام ص ١٩٦، ١٩٧، خزائن ج ٣ ص ١٩٥، ١٩٦) کے اس الہام کی تفسیر میں عام فہم کر دیا گیا جو اسی مضمون میں درج ہے۔
جھوٹ نمبر ٩
مسیلمہ ثانی کرشن قادیانی مرزا غلام احمد اپنی مایہ ناز کتاب (حقیقت الوحی ص ٢٩، خزائن ج ٢٢ ص ٣١) پر فرماتے ہیں کہ:
’’یہ غیر معقول ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی ایسا نبی آنے والا ہے کہ جب لوگ نماز کے لئے مساجد کی طرف دوڑیں گے تو وہ کلیسا کی طرف بھاگے گا اور جب قرآن شریف پڑھیں گے تو وہ انجیل کھول بیٹھے گا اور جب عبادت کے وقت بیت اللہ کی طرف منہ کریں گے تو وہ بیت المقدس کی طرف متوجہ ہوگا اور شراب پیئے گا اور سور کا گوشت کھائے گا اور اسلام کے حلال وحرام کی کچھ پرواہ نہ کرے گا ...... آپ کی ختم نبوت کی مہر کو توڑ دے گا اور آپ کی فضیلت خاتم الانبیاء ہونے کی چھین لے گا۔‘‘
مسیلمہ ثانی کی دریدہ دہنی اور بدلگامی سے میرا رواں رواں کانپ اٹھا۔ کاش گورنمنٹ برطانیہ ایسی فضول کتابیں بحق ملک معظم ضبط کر لیتی۔ جس سے مسلمانان عالم کے دل چھلنی اور سینے پاش پاش ہوتے ہیں افسوس کیا کہوں۔ تہذیب جواب دینے سے مانع ہے اور بے بسی اور مجبوری کے آہنی سنگل اور غلامی کی بیڑیاں ضمیر کو مقید کئے ہوئے ہیں اور زبان پر حکومت نے تالے لگا رکھے ہیں۔ ورنہ قوت ایمانی مزہ چکھانے میں کب چوکنے والی تھی۔ اللہ اللہ اس بزرگ و برتر ہستی کی شان میں ایسی بیہودہ ہرزہ سرائی کچھ مثیل مسیح قادیانی کو ہی زیبا ہے۔ ورنہ اہل بصیرت تو ایسی لغو تحریر ایک آنکھ دیکھنا بھی گوارہ نہیں کرتے۔
ہمارے خیال میں یہ مسیح علیہ السلام کا فوٹو نہیں بلکہ مثیل مسیح کے دعویدار کی تصویر ہے جو
عملی رنگ میں ہم قارئین کرام کے پیش کرتے ہیں۔ واقعی یہ غیر معقول اور بیہودہ امر ہے کہ رسول اکرمﷺ کے بعد کوئی ایسا نبی آنے والا ہے کہ جب لوگ نماز کے لئے بیت اللہ کو جائیں گے تو وہ قادیان کی طرف بلائے گا۔ لوگ مسجد نبوی اور روضہ رسول کو دوڑیں گے تو وہ بہشتی مقبرہ کی طرف بھاگے گا اور حجرۂ مبارک حجرۂ اقصیٰ کو بلائے گا اور جب لوگ قرآن شریف پڑھیں گے تو وہ براہین کھول بیٹھے گا اور جب لوگ عبادت مخصوصہ حج میں بیت اللہ کی طرف منہ کریں گے تو وہ قادیان منارۃ المسیح کی طرف توجہ دلائے گا اور پلومر کی دوکان سے ٹانک وائن منگائے گا اور گوشت کھائے گا اور اسلام کے ارشادات کی کچھ پرواہ نہ کرے گا۔ واطیعوا الله واطیعوا الرسول کی بجائے واطیعوا المرزا کا راگ الاپے گا اور آپ کی ختم نبوت کی مہر کو عملی رنگ میں ایسا توڑے گا کہ قیامت تک نبوت کی نالیاں بہا دے گا۔ چنانچہ اس وقت بھی مسیح قادیانی کی نو دس بھیڑیں نبوت کی منمناتی ہوئی نظر آتی ہیں اور یہ حقیقت نفس الامری ہے کہ اس کی فضیلت خاتم الانبیاء ہونے کی توڑنے کی جس قدر مرزا آنجہانی نے کوشش کی اور آیات قرآنی کو توڑ موڑ کر اپنے اوپر چسپاں کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا وہ محتاج بیان نہیں۔ جیسے ”ومبشراً برسول یاتی من بعدی اسمه احمد (الصف:٦)“ کو بذات شریف زعم باطل میں اپنے لئے مختص سمجھے اور طرح طرح کے دجل سے ہر فضیلت کو روشنی میں توڑا لیکن چاند پر خاک ڈالنے سے اپنے ہی منہ پر پڑی۔
ہم ڈنکے کی چوٹ امت مرزائیہ کو چیلنج دیتے ہیں اور ایک سو روپیہ کا نقد انعام پیش کرتے ہیں کہ وہ ایسی تحریر کسی اسلامی کتب مقدسہ سے پیش کرے ورنہ یہ تسلیم کرے کہ مرزا آنجہانی نے یہ جھوٹ سینہ زوری سے اس عظیم الشان ہستی کے حق میں بولا جو ”وجیها فی الدنیا والآخرة (آل عمران:٤٥)“ ہے اور جس پر امت خیر الانام کا ایمان ہے۔ حالانکہ خود مرزا قادیانی نے کئی ایک مقامات پر حدیث نبویہ کے مطابق معنی کئے ہیں کہ حضرت مسیح کا فرض کسر صلیب وقتل خنزیر ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ عیسائیت کو باطل کرے گا اور خنزیر کا کھانا حرام قرار دے گا۔ پھر نامعلوم ایسی واہیات زطلیات کیوں بیان کی گئیں یا دماغی توازن کی نادرستی کے باعث یا سہواً ظہور پذیر ہوئیں۔
ہم انشاء اللہ اس کتاب کے خاتمے پر اس بات کو ثابت کر دیں گے کہ مراق کی وجہ سے ان کا قلم ایسی ایسی لغو تحریریں لکھنے کا عادی ہو چکا تھا اور یہ بھی سفارش کرتے ہیں کہ انہیں مجبور سمجھ
کہ معاف کر دیا جائے اور ایسی ایسی لغو عبارات کو حذف کر دیا جائے تو بہتر ہے۔ مجبوری میں انسان کیا کیا نہیں کرتا
جھوٹ نمبر ١٠
مسیلمہ ثانی مسیح قادیانی اپنی مایہ ناز کتاب (حقیقت الوحی ص ٢٨ حاشیہ ، خزائن ج ٢٢ ص ٣٠) پر فرماتے ہیں کہ:
”اس امت میں آنحضرت ﷺ کی پیروی کی برکت سے ہزار ہا اولیا ہوئے ہیں اور ایک وہ بھی ہوا جو امتی بھی ہے اور نبی بھی ۔“
اور اس کی تائید (حقیقت الوحی ٢٩، خزائن ج ٢٢ ص ٣١) پر یوں فرماتے ہیں۔
”جس آنے والے مسیح موعود کا حدیثوں میں پتہ لگتا ہے اس کا انہیں حدیثوں میں یہ نشان دیا گیا ہے کہ وہ نبی ہوگا اور امتی بھی۔“
اور اس کی تائید مزید میں (حقیقت الوحی ص ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣،١٥٤) پر فرماتے ہیں کہ:
”اسی طرح اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت وہ خدا کے بزرگ اور مقربین میں سے ہے۔ اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزوی فضیلت قرار دیتا مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔ مگر اس طرح سے کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی ۔“
وہاں قرآن اترا ہے یہاں انگریز اترے ہیں
قارئین کرام! آپ نے مندرجہ بالا بیانات ملاحظہ فرمائے ہیں۔ جن میں مرزا قادیانی دو کشتیوں پر قدم جمائے براجمان ہیں۔ ایک پاؤں نبوت کی کشتی پر ہے تو دوسرا امتی کی بیڑی پر اور جو دو کشتیوں اس طریق سے کھڑا ہوتا ہے۔ اس کو بہت جلد کشتیوں کی حرکت یہ پتہ بتا دیا کرتی ہے کہ ساحل مراد پر سلامت روی سے پہنچنا کارے دارد۔ ہنوز دہلی دور است کے عین مصداق ہے۔
مرزا قادیانی نے بیک وقت ایک نشانے سے دو شکار کئے۔ یعنی امتی بھی اور نبی بھی اب ہم امتی اور نبی میں فرق امتیاز بتاتے ہیں۔ حضور اکرم ﷺ کو ارشاد باری ہوتی ہے۔ ”قل انما انا بشر مثلکم یوحٰی الیٰ (الکہف:١١٠)“ یعنی اعلان کرو کہ اے میرے حبیب ﷺ
کہ میں بھی تمہاری طرح سے ایک انسان ہوں۔ فرق صرف یہ ہے کہ میں وحی کیا جاتا ہوں۔ یعنی مجھ سے بہ وساطت جبرائیل امین خدا سے ہم کلامی ہوتی ہے۔ مولانا حالی نے کیا خوب کہا ہے۔
نہ کرنا مری قبر پر سر کو خم تم
نہیں بندہ ہونے میں کچھ مجھ سے کم تم
کہ بیچارگی میں برابر ہیں ہم تم
مجھے دی ہے حق نے بس اتنی بزرگی
کہ بندہ بھی ہوں اس کا اور ایلچی بھی
گویا صرف ایک امتیازی نشان سرور عالم ﷺ نے فرمایا کہ میں بھی تمہاری طرح سے ایک انسان ہوں۔ ہاں مجھے مشیت ایزدی نے بذریعہ وحی ہم کلامی بخشی اور اپنی رحمتوں کا مجھے قاسم بنایا۔ مرزا قادیانی کے بطلان کے لئے یہی ایک دلیل کافی ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار مرسلین من اللہ سے کسی نے یہ متضاد دعویٰ نہیں کیا کہ امتی بھی ہوں اور نبی بھی، میں حیران ہوں کہ مرزا قادیانی یا تو علم الکلام سے قطعاً بے بہرہ تھے اور بصورت دیگر دجل دینے کے لئے تجاہل عارفانہ کرتے تھے یہ ایک ایسی فاش غلطی ہے جو علمی دنیا میں ناقابل معافی سمجھی جاتی ہے۔ یعنی مرزا قادیانی اجتماع نقیض کرتے ہیں کہ امتی بھی ہوں اور صاحب وحی بھی ہوں۔ یہی دلیل مرزا قادیانی کی نبوت کو باطل کرتی ہے۔ کیونکہ نبی دعویٰ نبوت میں کمزوری نہیں دکھاتے۔ جب مرزا قادیانی کو وحی کا دعویٰ ہے اور وہ بھی بارش کی طرح اور یہی علامت نبی اور رسول کی ہے اور جب کہ وہ اس کی وضاحت میں یہاں تک کہہ گزرے ہیں کہ ”وما ینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحی“ اور ”قل انی رسول اللہ الیکم جمیعا“ اور ”یسین انک لمن المرسلین . قل انما انا بشر مثلکم یوحی الی“ پس یہ آیات میں بین وظاہر مابین رسول وامتی ما بہ الامتیاز ہیں۔ یعنی امتی صاحب وحی نہیں ہوتا اور نبی صاحب وحی ہوتا ہے۔ اس لئے دونوں دعوؤں میں ایک ضرور جھوٹا ہے یا تو آپ امتی ہیں اور وحی نہیں آتی اور بصورت دیگر آپ نبی ہیں تو امتی نہیں اور یہ بھی عرض کئے دیتا ہوں کہ امتی امتی کی رٹ صرف اس لئے نبوت کے ساتھ لگائی جاتی ہے کہ کہیں مسلمان ناراض نہ ہو جائیں اور چندہ دینا بند نہ کردیں اور ایسا ہونے سے کارخانہ نبوت تک درہم برہم ہونے کا احتمال ہے۔ مثل مشہور ہے۔
اسی نقطہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے ساتھ ساتھ امتی امتی بھی ہانکتے جاتے ہیں۔ مگر ان کو معلوم نہیں کہ اہل بصیرت کے نزدیک جب ایک شخص دو متضاد دعویٰ کرتا ہے تو دونوں میں جھوٹا ہوتا ہے۔ کیونکہ جب وہ اپنے آپ کو امتی کہے گا تو اس کی تردید دعویٰ وحی نبوت کر دے گا اور نبوت کا دعویٰ کرے گا۔ تو امتی ہونے کا دعویٰ اس کی تردید کرے گا۔ پس دونوں میں وہ جھوٹا ہوگا۔
اور مرزا قادیانی کی مہربانیوں کے ہم مشکور ہیں کہ وہ ہم کو بیرونی شہادتوں کی تکلیف سے معاف رکھا کرتے ہیں اور اپنے کئے کی سزا خود ہی تجویز فرمالیا کرتے ہیں۔ اب ہم ناظرین کرام کی خدمت میں ایک اور اعجوبہ خیز بیان مرزا قادیانی کا پیش کرتے ہیں جس میں نبوت کی قلعی انشاء اللہ ایسی کھولی گئی ہے جیسے سورج کا نصف النہار پہ ہونا۔ ہاں خیرہ چشم طلوع آفتاب کے شک میں رہیں تو سورج کا گناہ نہیں۔
لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا
مرزا قادیانی اپنے منہ سے دائرہ اسلام سے خارج ہیں
(حمامۃ البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧) پر فرماتے ہیں کہ:
”ماکان لی ان ادعی النبوۃ واخرج من الاسلام والحق بقوم کافرین“ یعنی یہ جائز نہیں کہ میں نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام سے خارج ہو جاؤں اور کافروں سے جاملوں۔
(حمامۃ البشریٰ ص ٢٠، خزائن ج ٧ ص ١٩٩ حاشیہ) پر اس کی تائید میں یوں فرماتے ہیں کہ:
”ولا یجئ نبی بعد رسول اللہ ﷺ وھو خاتم النبیین“ رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔ کیونکہ آپ خاتم النبیین ہیں۔
اس کی تائید مزید میں (حمامۃ البشریٰ ص ٣٩، خزائن ج ٧ ص ٢٤٤) پر یوں فرماتے ہیں کہ:
”فلا حاجۃ لنا الی نبی بعد محمدﷺ وقد احاطت برکاتہ کل ازمنۃ“ اور ہم کو محمد ﷺ کے بعد کسی نبی کی حاجت نہیں۔ کیونکہ آپ کی برکات ہر زمانہ پر محیط ہیں۔
مدعی نبوت امت سے خارج ہے
مرزا قادیانی (نشان آسمانی ص ٣٠، خزائن ج ٤ ص ٣٩٠) پر یوں فرماتے ہیں کہ:
”نہ مجھے دعویٰ نبوت نہ خروج از امت نہ میں منکر معجزات وملائکہ لیلۃ القدر سے انکاری ہوں اور آنحضرت ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کا قائل اور یقین کامل سے جانتا ہوں اور
اس بات پر محکم ایمان رکھتا ہوں کہ ہمارے نبی ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور آنجناب کے بعد اس امت کے لئے کوئی نہیں آئے گا۔“
مدعی نبوت لعنتی ہے
”مولوی غلام دستگیر: کو واضح رہے کہ ہم بھی نبوت کے مدعی پر لعنت بھیجتے ہیں اور لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے قائل ہیں اور آنحضرت ﷺ کے ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔“
(غلام احمد قادیانی مجموعہ اشتہارات حصہ دوم ص ٢٩٧)
مرزا قادیانی کا آخری پیغام اپنی امت کے نام
(فیصلہ آسمانی ص ٢٥، خزائن ج ٣ ص ٣٣٥) پر فرماتے ہیں کہ: ”اے لوگو! اے مسلمانوں کی ذریت کہلانے والو دشمن قرآن نہ بنو اور خاتم النبیین کے بعد وحی نبوت کا سلسلہ جاری نہ کرو اور اس خدا سے شرم کرو جس کے سامنے حاضر کئے جاؤ گے۔“
مرزا قادیانی اپنے منہ سے جھوٹے تھے
(ازالہ اوہام ص ٥٦٩، خزائن ج ٣ ص ٤٠٧) پر فرماتے ہیں کہ: ”صاحب نبوت تامہ ہرگز امتی نہیں ہو سکتا اور جو شخص کامل طور پر رسول اللہ کہلاتا ہے اس کا دوسرے نبی کا مطیع اور امتی ہو جانا نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کی رو سے بکلی ممتنع ہے۔ اللہ جل شانہ فرماتا ہے ”وما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن اللہ “ یعنی ہر رسول مطاع اور امام بنانے کے لئے بھیجا جاتا ہے اور اس غرض سے نہیں کہ دوسرے کا مطیع اور تابع ہو۔“
یقین واثق ہے کہ مندرجہ بالا حوالہ میرے محترم مرزائی دوستوں کے اطمینان قلب کے لئے کافی ہوگا اور اس کو دیکھ لینے کے بعد امتی بھی اور نبی بھی کی سمع خراش رٹ نہ لگائی جایا کرے گی۔
رستے پہ دیکھیں چلتے اب کتنے کارواں ہیں
مرزا قادیانی فرمان رسالت کے موجب کذاب ہیں
”سیکون فی امتی کذابون ثلاثون کلہم یزعم انہ نبی اللہ وانا خاتم النبیین (مشکوۃ ص ٤٦٥، کتاب الفتن) “
آقائے زمان کا ارشاد ہے کہ میری امت میں تیس بڑے جھوٹے فریبی پیدا ہوں گے
اور وہ اپنے زعم باطل میں اپنے کو نبی سمجھتے ہوئے نبوت کا دعویٰ کریں گے۔ حالانکہ نبوت مجھ پر ختم ہوچکی میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔
سبحان اللہ فرمان مصطفوی کیسے لطیف الفاظ میں اپنا مطلب واضح طور پر زبان حال سے سعید الفطرت لوگوں کے لئے پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ میرے بعد تیس جھوٹے فریبی میری امت میں ایسے بھی پیدا ہوں گے جو اپنے زعم باطل میں یہ سمجھتے ہوں گے کہ ہم نبی اللہ ہیں۔ حالانکہ میں نبوت کا ختم کرنے والا ہوں۔
مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ کہ ”میں نبی بھی ہوں اور امتی بھی ہوں۔“
(چشمہ مسیحی ص ٤١ حاشیہ، خزائن ج ٢٠ ص ٣٨٣)
فرمان رسالت کی تصدیق کرتا ہے کہ ضرور آپ جھوٹے ہیں سو یہ فرمان رسالت یہی بیان کرتا ہے کہ وہ نبی اور امتی دونوں کا دعویٰ کرے گا۔
جے سنگھ بہادر قادیانی کے مخلص چیلے خدا را خیال کرو اور سوچو کہ یہ ذائقہ جھوٹ اور بے لذت گناہ یا کذب وافتراء کے نوکدار خار کبھی آپ کی نگاہوں میں بھی کھٹکے ہیں یا قدرت نے نگاہیں ہی ایسی عنایت کی ہیں۔ جن میں غیر کی آنکھ کا تنکا شہتیر دکھلائی دیتا ہے اور ذات شریف کی کور باطنی چشم بینا کا دھوکہ دیتی ہے۔ خدا کا خوف کرو اور اس احکم الحاکمین کو اور روز حساب کو نہ بھولو اور کہو مرزا آنجہانی کے کلام میں تناقض کی وجہ مراق تو نہ تھی؟ اور اگر یہی ہے تو اپنی عاقبت کی فکر کر لو ابھی موقعہ ہے اور توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔ ورنہ پھر پچھتانا پڑے گا اور یہ بے سود ہوگا۔ وما علینا الا البلاغ!
گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں
جھوٹ نمبر ١١
مرزا قادیانی کا ظاہر و باطن یکساں نہ تھا
نبی کا ظاہر و باطن یکساں ہوتا ہے۔ ان کے دل میں جو بات ہو وہی ان کی زبان سے ہمیشہ نکلا کرتی ہے۔ مگر مرزا قادیانی کے جو دل میں ہے وہ زبان پر نہیں اور اس کے ساتھ ہی جھوٹ نمبر ١١ بھی اس کے آخر میں ملاحظہ فرماویں۔
مرزا قادیانی کی دورنگی چال بھی غضب کی تھی ایک طرف انگریزوں کو دجال اور اپنے
آپ کو اس کا قاتل قرار دیتے ہیں اور اپنے معیار صداقت میں یہاں تک کہہ گزرے ہیں کہ اگر مجھ سے ہزار نشان بھی سرزد ہوں مگر عیسائیت کا ستون بیخ و بن سے نہ اکھاڑ سکوں تو یہ سمجھو کہ میں خدا کی طرف سے نہیں بلکہ جھوٹوں کا جھوٹا ہوں۔
رسالہ (انجام آتھم (دعوت قوم ) ص ٤٧ ، خزائن ج ١١ ص ٤٧) پر فرماتے ہیں کہ: ”دجال اکبر یہی پادری لوگ ہیں اور یہی قرآن وحدیث سے ثابت ہے اور مسیح موعود کا کام ان کو قتل کرنا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٩٧ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٤٩) پر فرماتے ہیں کہ: ”کشفی طور پر اس عاجز نے دیکھا کہ انسان کی صورت پر دو شخص ایک مکان میں بیٹھے ہیں ایک زمین پر ایک چھت کے قریب بیٹھا ہے۔ تب میں نے اس شخص کو جو زمین پر تھا، مخاطب کر کے کہا مجھے ایک لاکھ فوج کی ضرورت ہے۔“
(انجام آتھم ص ٤١، خزائن ج ١١ ص ٤١)
”مریم کا بیٹا کوشلیا کے بیٹے (رام چندر ) سے کچھ زیادت نہیں رکھتا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ ، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
”حضرت مسیح کے ہاتھ میں سوائے مکر و فریب کے کچھ نہیں تھا۔“
یہ اظہر من الشمس ہے کہ مرزا قادیانی جس قوم کے نبی کی یہ عزت کرتے ہیں اور ان کے ہادیان دین کو دجال اکبر جانتے ہیں ان کی مرزا قادیانی کے دل میں ہرگز عزت نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس قوم کو ہمیشہ اپنا دشمن سمجھتے تھے اور اس قوم کو یک چشم قرار دیا۔ یعنی ان کی دنیا کی آنکھ تو بینا ہے۔ مگر دین کی آنکھ اندھی ہے اور ٹوپی و ہیٹ کی تشبیہات بھی ادبی دنیا سے مخفی نہیں۔ مگر چاپلوسی اور کاسہ لیسی بھی ملاحظہ فرماویں۔
در دلش سفاکی ابن زیاد
(ازالہ اوہام ص ١٤٢ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٦٩) پر فرماتے ہیں کہ: ”خدا ابر رحمت کی طرح ہمارے لئے انگریزی سلطنت کو دور سے لایا اور وہ تلخی اور مرارت جو سکھوں کے عہد میں ہم نے اٹھائی تھی۔ گورنمنٹ برطانیہ کے زیر سایہ آ کر ہم بھول گئے اور ہم پر اور ہماری ذریت پر فرض ہو گیا کہ اس مبارک گورنمنٹ برطانیہ کے ہمیشہ شکر گزار رہیں۔“
(ضرورۃ الامام ص ٢٦، خزائن ج ١٣ ص ٤٩٧) میں ارشاد ہوتا ہے کہ:
”امام زمان ہوں اور خدا میری تائید میں ہے اور وہ میرے لئے ایک تیز تلوار کی طرح کھڑا ہے اور مجھے خبر کر دی گئی ہے کہ جو شرارت سے میرے مقابل کھڑا ہوگا۔ ذلیل و شرمندہ کیا جائے گا۔“
اچھی تیزی ہے اور خاصہ محافظ ہے کہ ایک بال بھی بیکا نہیں کر سکتا اور ضلالت و شرمندگی تو گویا پروانے کی طرح مرزا قادیانی پر عاشق ہو چکی ہے پھر بھلا یہ معشوق کو چھوڑ کر کب جدا ہو سکتی ہے۔
(ستارہ قیصریہ ص ١٢ ملخص، خزائن ج ١٥ ص ١١٢، تحفہ قیصریہ ص ٣، خزائن ج ١٢ ص ٢٥٥) میں تحریر کرتے ہیں۔ خلاصہ ملاحظہ فرماویں۔
”پچاس ہزار سے زیادہ کتابیں اور اشتہارات چھپوا کر میں نے اس ملک اور بلادِ اسلامیہ تمام ملکوں میں یہاں تک کہ اسلام کے مقدس شہروں، مکہ، مدینہ، روم و قسطنطنیہ، بلاد شام، مصر کابل وافغانستان جہاں تک ممکن تھا شائع کئے۔ تیرے رحم کے سلسلہ نے آسمان پر ایک رحم کا سلسلہ برپا کیا خدا کی نگاہیں اس ملک پر ہیں جس پر تیری ملکہ رہتی ہے۔“
پھر فرماتے ہیں کہ:
”عیب اور غلطیاں مسلمانوں میں ہیں۔ ایک تلوار کے جہاد کو اپنے مذہب کا رکن سمجھتے ہیں دوسرا خونی مہدی اور خونی مسیح کے منتظر ہیں۔ ایک غلطی عیسائیوں میں بھی ہے وہ یہ ہے کہ مسیح جیسے مقدس اور بزرگوار کی نسبت جس کو انجیل میں بزرگ کہا گیا ہے نعوذ باللہ لعنت کا لفظ اطلاق کرتے ہیں۔“
(ستارہ قیصریہ ص ١٠، خزائن ج ١٥ ص ١٢١)
قارئین کرام ! کس قدر تملق و جھوٹی خوشامد ہے ایک جگہ تو مسیح کو بھلا مانس بھی نہیں مانتے اور فرماتے ہیں کہ ایسے چال چلن کے آدمی کو ایک بھلا مانس بھی نہیں کہہ سکتے۔ چہ جائیکہ نبی مانا جائے اور اس جگہ مقدس مسیح کہا گیا ہے۔ انگریزی حکومت کو ایک مقام پر ابر رحمت کہا گیا ہے اور دوسرے پر دجال اکبر۔ یہ ایک ایسی لغو اور بیہودہ بات ہے کہ ایک شخص جو مسیح علیہ السلام کی توہین کرنا کار ثواب اور باعث فخر سمجھتا ہے اور اس کی قوم ایک نہایت ہی حقیر اور معیار شرافت سے گری ہوئی ہستی خیال کرتا ہے اور اپنے آپ کو اس قوم کا قاتل و نیست نابود کرنے والا ٹھہراتا ہے اور عیسائیت کے ستون کو بیخ و بن سے اکھاڑنے کا اجارہ دار قرار دیتا ہے۔ شرم کا
مقام ہے کہ قانونی شکنجہ سے ڈرتا ہوا اس کے بادشاہ کی تعریف کرتا ہے۔ پنجابی مثال سنی ہوئی تھی آج پوری ہوتی دیکھ لی۔
اگر ایسی تحریر کا نام نفاق نہیں تو اور کیا ہے اور گورنمنٹ بھی آخر کوئی بچہ نہیں۔ شاہی دماغ ہے ان چاپلوسوں میں آنے والی تھوڑی ہی تھی۔ سمجھتی تھی اور اچھی طرح جانتی کہ اس شخص کا ظاہر و باطن یکساں نہیں۔ مگر رحم دلی اور اخلاق اور مراقی بیمار کے توازن دماغ کا قصور سمجھ کر خاموش رہی۔
”واذا خاطبهم الجاهلون قالوا سلاما“ کے مطابق کچھ تعرض نہ کیا کہ دہقانی صاحب کیا کیا کہہ گزرے ہیں۔
لطیف جھوٹ
قارئین کرام! جن لوگوں نے مرزا قادیانی کی زندگی کا مطالعہ کیا ہے وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ آپ نے تقریباً اسی کتابیں لکھی ہیں جن میں اپنی ذات شریف وعصبہ اور اجداد کی تعریف میں تقریباً نصف سے زیادہ صفحات سیاہ کر دیئے ہیں اور بقیہ ١/٣ حصہ میں گورنمنٹ برطانیہ کی تعریف اور عیسیٰ علیہ السلام پر بازاری آوازے اور توہین انبیاء اور دجال کے من گھڑت قصے اور بزرگان دین کے اقوال کی تحریف اور مخالفین خود کو جھوٹا، گالی گلوچ مسیحی، آریہ و بدھ و سکھ مذہب پر غیر شریفانہ حملے اور قادر مطلق کو محالات عقل پر قادر نہ سمجھنا اور ایسی ہی اور باتوں پر خرچ کئے ہیں۔ ان تمام تصانیف مرزا کے لئے زیادہ سے زیادہ مروجہ الماری کا ١/٥ حصہ ٣×٢ ١/٢ فٹ کافی سے زیادہ ہے۔ مگر سلطان القلمی اور لطیف جھوٹ ملاحظہ فرمائیں کہ کس دیدہ دلیری سے کیا دعویٰ کیا جاتا ہے اور وہ صداقت کے کس قدر قریب ہے۔
چنانچہ (تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥) پر پینترے لے کر فرماتے ہیں کہ:
”میری عمر کا بیشتر حصہ گورنمنٹ برطانیہ کی مدح و ستائش (تائید و حمایت) میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔“
افسوس تو یہ ہے کہ نبوت کی علمبرداری کے ساتھ ساتھ غلامی کے منحوس جوئے کو بھی بری طرح سے زیب گلو کرتے ہوئے غریب امت کی لٹیا بھی اسی رنگ میں ڈبوئی جاتی ہے اور انہیں
مقدس جہاد کو ترک کرنے کی تلقین کرتے ہوئے غلامی کے محاسن اور خوبیاں اس شان سے پیش کی جاتی ہیں جو سنگریزوں کو جواہرات کا دھوکہ دیں اور جہاد کے فضائل کی مقدس تصویر پر دجل کا پردہ اس شان سے دیا جاتا ہے کہ وہ ایک بھیانک اور مذموم ہیئت اختیار کر جائے۔
نبوت ہمیشہ باعث رحمت ہوا کرتی تھی۔ وہ کمزور کو طاقت ور پر، مظلوم کو ظالم پر، فتح کا باعث بنتی اور اس کی آمد اس کا ظہور گو غربت وافلاس سے ہوتا۔ مگر اس کے عروج کے سامنے بڑے بڑے اکھڑ و جابر جھک جاتے اور درماندہ و مفلوک الحال قومیں بام رفعت پر گامزن ہوتیں۔ اقلیت واکثریت کی تمیز بڑے اور چھوٹے کا درجہ سفید اور سیاہ کے فرق کو کوئی نہ جانتا۔
مثلاً ملک مصر میں ایک جابر متشدد بادشاہ فرعون نام خدا بنا بیٹھا تھا۔ وہ دھڑلے سے خدائی دعویٰ کرتا اور دنیا اسے خدا مانتی تھی۔ اس وقت مصر میں دو قومیں آباد تھیں۔ قبطی اور سبطی ۔ یہ مؤخر الذکر نہایت کمزور مفلس اور تھوڑے تھے اور یہ قبطیوں کی غلامی میں ان کے رحم پر موقوف تھے۔ ان پر طرح طرح کے مظالم کے علاوہ ایک ایسا ظلم ایجاد کیا گیا جسے قرآن حکیم نے ان الفاظ میں یاد کیا ہے:
”يذبحون ابناءهم ويستحيون نساءهم (البقره:٤٩)“ ﴿ان کے لڑکے ذبح کر دیئے جاتے تھے اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رکھا جاتا تھا۔﴾
اس قہر مانی حکم کی تعمیل مدتوں ہوتی رہی۔ ہزاروں سبطی قتل ہوتے رہے۔ مگر آخر تا بہ کے صبر کا پیالہ لبریز ہوا۔ رحمت کردگار جوش میں آئی۔ انتقام کی بے پناہ فوج موسیٰ علیہ السلام کے لباس میں بلند ہوئی اور سبطیوں میں خدا کا فرستادہ مبعوث ہوا اور جب سبطیوں کی مرادیں جوان ہوئیں یا بنی اسرائیل کے دن بھلے آئے تو موسیٰ علیہ السلام سن بلوغ کو پہنچے پھر کیا ہوا کیا انہوں نے قوم کو غلامی کی تعلیم دی؟۔ کیا تبلیغ حق کے لئے ان کے ارادوں پر فرعونی شکوہ غالب ہوا؟۔ کیا ناک گھسی اور کاسہ لیسی کی گئی۔ نہیں۔ توبہ توبہ یہ نبوت کے منافی ہے۔ انہوں نے نہایت فراخ دلی اور وقار و رعب سے برسر دربار فرعونی خدائی کے بخیے اس خوبی وعمدگی سے ادھیڑے کہ بادشاہ ساقط اور دربار صامت ہوا۔ مگر مرزا قادیانی کی نبوت عجب بے پیندے کا لوٹا ہے جسے قرار ہی نہیں اور سب سے زیادہ خرابی تو یہ ہے کہ یہ قصر خیالی جس کے لئے تعمیر کیا گیا وہ بھی تو کم بخت ہاتھ نہ لگا۔ رسوائی اور جگ ہنسائی مفت میں مول لی۔
نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے
اس قدر چاپلوسیاں اور کاسہ لیسیاں یہ خوشامدیں اور تذللیں کیوں اختیار کی گئیں۔ کیا یہ بھی پنجابی نبوت کا ایک جزو تھا یا مسیح موعود کے نشانات میں ایک رکن تھا؟۔ نہیں ۔ افسوس یہ صرف ایک بودے خطاب کے لئے جدوجہد تھی جس میں طرح طرح سے جی حضوریاں اور نمک خوریاں ظاہر کرنے کے بعد انتہائی لجاجت، اور ذلالت کے لباس میں خوشنودی حکومت کے لئے جہاد پاک کو حرام قرار دینے کے بعد الہامی مشین کو بھی حرکت دی جس کے نتیجہ میں الہامی انڈے نیم بئل یوں برآمد ہوئے لك الخطاب العزة لك الخطاب العزة لك الخطاب العزة یعنی ایک عزت کا خطاب ایک عزت کا خطاب ایک عزت کا خطاب (البشریٰ ج ٢ ص ٥٧، تذکرہ ص ٣٣٩ طبع سوم) مرزا قادیانی کا خیال تھا کہ یہ کارکردگی رنگ لائے بغیر نہ رہے گی۔ ضرور کوئی خطاب حکومت وقت عطا کرے گی اور فی الحقیقت خداوندان لندن کو یہ لازم تھا کہ اس ایمان فروشی کے بدلے میں سر یا نائٹ کا خطاب دیا جاتا اور اگر اس کے وہ مستحق نہ تھے تو خان بہادر یا خان صاحب ہی بنا دیئے جاتے۔ مرزا قادیانی کی توجہ ان دنوں خطاب کے لئے نہایت بے قرار تھی۔ وہ بڑی بے صبری سے صبح و شام اس کی راہ دیکھ رہے تھے اور ہر اچھے لفافہ پر ان کی حالت سیماب سے زیادہ بے قرار ہوتی اور وہ لفافہ چاک کرنے سے پہلے بہت دیر تک بنظر عمیق مطالعہ فرماتے اور آخر اضطرار کے عالم میں جبکہ دل قالب بلیوں اچھلتا کانپتے ہوئے ہاتھوں سے کھولتے۔ مگر آہ خلاف توقع چہرہ پر مردنی چھا جاتی اور اپنی عقیدت اور کارگزاری پر گھنٹوں سوچتے رہتے۔ کبھی یہ خیال ہوتا کہ جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند جیسی نیک دل اور شرافت کی دیوی سے یہ غیر ممکن ہے کہ میری اٹھارہ سالہ محنت اور اخلاص بھری آرزو کا یوں خون ہو۔ بالآخر وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ ایک عریضہ یاد ہانی کے لئے بھیجنا ضروری ہے۔ چنانچہ اسی خبط میں خبط الحواسی کا ایک اور ثبوت دیا گیا۔ چونکہ تمام دن اسی تگ و دو میں تمام ہوتا اس لئے رات کو سوتے میں وہی خیالات عود کرتے اور مرزائی اصطلاح میں انہیں الہام کا مرتبہ دیا جاتا۔ چنانچہ مرزا قادیانی کو ایک اور الہام شائع کرنے کی تکلیف ہوئی جو ناظرین کی ضیافت طبع کے لئے ہم پیش کرتے ہیں۔
(البشریٰ ص ٥٧ جلد دوم ، تذکرہ ص ٣٤١ طبع سوم)
”قیصر ہند کی طرف سے شکریہ۔“ مگر افسوس کیا ہوا ؎
اب آرزو ہے یہ کہ کوئی آرزو نہ کرے
آخر اس کی کیا وجہ تھی کہ مرزا قادیانی کو خطاب سے بے نیل و مرام ہی رہنا پڑا۔ ہمارے خیال میں اس کی بظاہر دو وجوہات تھیں۔ اول یہ کہ گورنمنٹ کے دانا اور بیدار مغز ارکان نے پرانے ریکارڈ کا گوشہ گوشہ چھان مارا۔ مگر انہیں نبی کے لئے کوئی ایسا خطاب نظر نہ آیا جو کسی موقعہ پر دیا گیا ہو۔ وہ مجبور ہوئے کہ خدائی خطاب کے ہوتے ہوئے جب طالب دنیا کا پیٹ نہیں بھرا تو یہ خطاب بھلا کیا خاک اس کی تسلی کریں گے؟۔ اس لئے خاموش رہے۔
دوسری وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ ارکان شاہی نے یہ تاڑ لیا کہ یہ شخص خطاب کا دل و جان سے متمنی ہے اور صرف اسے حاصل کرنے کے لئے وہ یہ دکھاوے اور پینترے بدل رہا ہے۔ ورنہ درحقیقت اس کے دل میں ہماری کچھ بھی قدر و منزلت نہیں۔ یہ جھوٹی طبع سازیاں اور کار کردگیاں اگر حقیقت ہوتیں تو وہ ہمیں یوں خطاب نہ کرتا:
”نافرمان (جیسا کہ گورنمنٹ برطانیہ بھی جو عیسائی مذہب رکھتی ہے عندالمرزا نافرمان ہے) کا مال اور اس کی جان اس کے ملک سے خارج ہو کر خدا کے ملک میں داخل ہو جاتے ہیں پھر خدا تعالیٰ کو اختیار ہوتا ہے کہ چاہے تو بلا واسطہ رسولوں کے ان کے مال کو تلف کرے اور ان کی جانوں کو معرض عدم میں پہنچائے یا کسی رسول کے واسطہ سے یہ تجلی قہری نازل کرے۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٦٠١، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
عاشق اعزاز آنریبل سر مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی کی اندھی بھیڑو خدارا توجہ کرو اور ٹھنڈے دل سے چھاتی پہ ہاتھ رکھ کر خدا کو حاضر ناظر جان کر کہو کہ مرزا قادیانی کے بیانات میں تناقض کیوں پایا جاتا ہے؟۔ اور کیسی عزت وہ بھی دنیاوی حکومتوں سے اور یوں گڑگڑا کر اور ناک رگڑ کر کسی پیغمبر نے ایسے بودے خطاب کے لئے بھیک مانگی ہے؟ اور مقام افسوس اور باعث قلق تو یہ ہے کہ ایسا کرنے پر بھی دامن مراد گوہر مقصود سے خالی ہی رہا۔ حالانکہ الہام کا مرتبہ جانتے ہو کیا ہے۔ ان وعد الله حق (تذکرہ ص ١٥٩) لا تبدیل لکلمات اللہ (تذکرہ ص ٣٧١) اب یہ الہام شیطانی ہیں یا رحمانی۔ انصاف سے کہو اور ایمان سے پرکھو۔ خدا کے لئے سوچو اور وقت کی قدر کرو اور زندگی کو فانی سمجھو۔ ابھی وقت ہے اور توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔ توبہ کرو خلوص نیت سے اور گڑ گڑاؤ اس احکم الحاکمین کے دربار میں جس نے اس پاکوں کے پاک پر نبوت کو ختم کیا اور رحمت کردگار نے نبوت کی نفی لا نبی بعدی سے کر کے تا قیام زمانہ اس عہدہ جلیلہ کو اسی ذات رحمت اللعالمین پر کافۃ للناس کے لئے بند کر دیا۔
ہم حکومت کے ارباب بست و کشاد سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اگر تب نہیں تو اب ہی مری مٹی پر احسان کریں اور قادیانی کی اس دیرینہ خواہش کو عملی جامہ پہنائیں اور انہیں از راہ لطف و کرم کوئی ایک خطاب مثلاً ستون شکن، کوہ پر وقار، امیر الجیش، قائد الفریق مسلم، تفویض فرمایا جائے تو بہت بہتر ہے اور اگر اس دیرینہ خواہش کو عملی جامہ نہ پہنایا گیا تو ضرور مرزا قادیانی کے حق میں وہی ثنائی نسخہ صادق آئے گا:
نامرادی میں ہوا ہے تیرا آنا جانا
جھوٹ نمبر ١٢
جب پورے بارہ بجتے ہیں تو نوبت گونجتی ہے
(حقیقت الوحی ص ٢٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٧) پر رئیس قادیان مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی فرماتے ہیں کہ:
”ایک دفعہ تمثیلی طور پر مجھے خدا تعالیٰ کی زیارت ہوئی اور میں نے اپنے ہاتھ سے کئی ایک پیشگوئیاں لکھیں۔ جن کا یہ مطلب تھا کہ ایسے واقعات ہونے چاہئیں۔ تب میں نے وہ کاغذ دستخط کرانے کے لئے خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کیا اور اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی تامل کے سرخی کی قلم سے اس پر دستخط کئے اور دستخط کرنے کے وقت قلم کو جھڑکا۔ جیسا کہ جب قلم پر زیادہ سیاہی آ جاتی ہے تو اسی طرح پر جھاڑ دیتے ہیں اور میرے اوپر اس وقت نہایت رقت کا عالم تھا۔ اسی خیال سے کہ کس قدر خدا تعالیٰ کا میرے پر فضل اور کرم ہے کہ جو کچھ میں نے چاہا بلا توقف اللہ تعالیٰ نے اس پر دستخط کر دیئے اور اس وقت میری آنکھ کھل گئی اور اسی وقت میاں عبداللہ سنوری مسجد کے حجرہ میں میرے پاؤں دبا رہا تھا کہ اس کے اوپر غیب سے سرخی کے قطرے میرے کرتے اور اس کی ٹوپی پر گرے اور عجیب بات یہ ہے کہ اس سرخی کے قطرے گرنے اور قلم جھاڑنے کا ایک وقت تھا۔ ایک سیکنڈ کا بھی فرق نہ تھا۔ ایک غیر آدمی اس راز کو نہیں سمجھے گا اور شک کرے گا کہ کیونکر ہوا۔ اس کو صرف ایک خواب کا معاملہ محسوس ہوگا۔ مگر جس کو روحانی امور کا علم ہو وہ اس میں شک نہیں کر سکتا۔ اس طرح خدا نیست سے ہست کر سکتا ہے۔ غرض میں نے یہ سارا قصہ میاں عبداللہ کو سنایا اور اس وقت میری آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ عبداللہ جو ایک روایت کا گواہ ہے اس پر بہت اثر ہوا اور اس نے میرا کرتہ بطور تبرک اپنے پاس رکھ لیا جو اب تک اس کے پاس موجود
ہے ۔‘‘ (لاریب ایں عجیب کرامت است ۔ خالد ) قارئین کرام ! اگر آپ غور سے مندرجہ بالا اور مندرجہ ذیل بیانوں کو دیکھیں گے تو یقیناً آپ کو بہت سی باتیں ملیں گی جن میں تعارض ہے ۔ گو یہ بیان مرزا قادیانی کا اپنا ہی ہے مگر دروغ گو را حافظہ نباشد کے مصداق بہت سی کمی بیشی ظاہر ہو رہی ہے ۔ حالانکہ یہ دونوں بیان ایک ہی چیز کے لئے دیئے گئے ۔
(حاشیہ سرمہ چشم آریہ ص ١٣٢، ١٣١ ، خزائن ج ٢ ص ١٨٠، ١٨٩) پر لکھتے ہیں : ”ایک مرتبہ مجھے یاد ہے کہ میں نے عالم کشف میں دیکھا کہ بعض احکام قضا و قدر میں نے اپنے ہاتھ سے لکھے کہ آئندہ زمانوں میں ایسا ہوگا اور پھر اس کو دستخط کرانے کے لئے خداوند قادر مطلق جل شانہ کے سامنے پیش کیا اور یاد رکھنا چاہئے کہ مکاشفات اور رویا صالحہ میں ایسا ہوتا ہے کہ بعض صفات جمالیہ یا جلالیہ الہیہ انسان کی شکل میں متمثل ہو کر صاحب کشف کو نظر آ جاتے ہیں اور مجازی طور پر وہ یہی خیال کرتا ہے کہ وہی خداوند قادر مطلق ہے اور یہ امر ارباب کشوف شائع و متعارف و معلوم الحقیقت ہے جس سے کوئی صاحب کشف انکار نہیں کر سکتا۔ غرض وہی صفت جمالی جو بحالت کشف قوت متخیلہ کے آگے ایسی دکھلائی دی تھی جو خداوند قادر مطلق ہے اس ذات بیچون و بے چگون کے آگے وہ کتاب قضا و قدر پیش کی گئی اور اس نے جو ایک حاکم کی شکل پر متمثل تھا اپنے قلم کو سرخی کی دوات میں ڈبو کر اوّل اس سرخی کو اس عاجز کی طرف چھڑکا اور بقیہ سرخی کا قلم کے منہ پر رہ گیا۔ اس سے اس کتاب پر دستخط کر دیئے اور ساتھ ہی وہ حالت کشفیہ دور ہو گئی اور آنکھ کھول کر جب خارج میں دیکھا تو کئی قطرے سرخی کے تازہ بتازہ کپڑوں پر پڑے۔ چنانچہ ایک صاحب عبداللہ نام جو سنور ریاست پٹیالہ کے رہنے والے تھے اور اس وقت اس عاجز کے نزدیک ہو کر بیٹھے ہوئے تھے دو یا تین قطرے سرخی کے ان کی ٹوپی پر پڑے۔ پس وہ سرخی جو ایک امر کشفی تھا وجود خارجی پکڑ کر نظر آ گئی ۔“
جو بات کی خدا کی قسم لاجواب کی
واہ صاحب واہ خوب بے پر کی اڑائی ۔ اچھی تجویز سوجھی کیا کہنے ہیں پنجابی نبوت اور اس کے دلائل کے معجزہ بھی تو دیکھو کس شان کا ہے۔ پھڑکتا ہوا معجزہ واللہ اس کی نظیر ڈھونڈنے سے نہ ملے گی۔ مرزا قادیانی خدا جانے دنیا کو الو سمجھتے تھے یا جاہل نا کندہ تراش۔ ان کے خیال میں دنیا مرد بیمار سے زیادہ وقعت نہ رکھتی تھی ۔ جو بھی اناپ شناپ ان کے دل میں آتا یا دماغ میں سماتا
اسے نہایت فراخ دلی سے نبوت کی مارکیٹ میں ہنڈی بنا کر اس اخبار البدر کے توسل سے بڑے زور و شور سے اشاعت پذیر کیا جاتا اور گاہے گاہے یہی فرائض الحکم بجالاتا۔ سرزمین قادیان پر چار فرشتے مرزا قادیانی کی خدمت پر مامور تھے جن کے نام شیر علی، خیراتی، مچھی اور آئل تھے۔ مگر ان میں مچھی بڑا ہی جلد باز تھا۔ جو بھی الہام اس کے توسل سے آیا کم بخت نے ایک بھی سلامت نہ پہنچایا اور ایسی آدھی پونی مقطع عبارت کو جس کا مفہوم ملہم کی عقل کے بالاتر ہے۔ وحی رسالت کا مرتبہ دیا جاتا ہے۔
تکیوں میں پوتی اور ایلچی پنچی عالم غیب میں بے پر کی اڑایا کرتے تھے۔ افسوس اب ان کی روایات پنجابی نبوت میں نقل ہونے لگی۔
مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ تمثیلی طور پر مجھے خدا تعالیٰ کی زیارت ہوئی اور ساتھ یہ بھی آپ کا دعوے ہے کہ قرآن کریم کے حقائق و معارف صرف مجھ پر کھولے گئے۔ عجب ثم العجب عجیب ماجرا ہے۔ حالانکہ قرآن حکیم لیس کمثلہ شیئا کا اعلان کرتا ہے کہ وہ ذات کردگار ایسی منزہ و برتر ہے کہ اس کی مثال کسی چیز کے ساتھ دی ہی نہیں جاسکتی اور فرمان رسالت اس کی تائید کرتا ہوا ببانگ دہل اعلان کرتا ہے ولا مثال لہ ولا نظیر لہ یعنی اس کی نہ تو کوئی مثال ہے اور نہ ہی اس کی کوئی نظیر ہے۔ اب مرزا قادیانی کو لیجئے وہ کہتے ہیں کہ ہم نے خدا کو دیکھا بھی۔ کس صورت میں ایک معمولی حاکم کی صورت میں جس کو یہ بھی تمیز نہیں کہ سرخی کی قلم سے دستخط اور وہ بھی طفل مکتب کی طرح دستخط کرنا یعنی سارا قلم دوات کے نذر کرتے ہوئے چھڑکنا اور اس کا لحاظ نہ رکھنا کہ کسی شریف پنجابی نبی کے کپڑے خراب ہورہے ہیں اور ساتھ ہی گواہ کی ٹوپی کا ستیاناس ہوا جاتا ہے۔ اللہ اللہ کس قدر دیدہ دلیری کہ وہ بات جو شعائر اسلام کے خلاف ہے اور جس میں دین حنیف پر دھبہ پڑتا ہے کس طرح وقوع پذیر ہوئی۔
چلئے مرزا قادیانی کی خاطر سے ایک منٹ کے کروڑویں حصہ کے لئے ہم بھی مان لیتے ہیں کہ آپ کو زیارت ہوئی۔ مگر یہ تو فرمائیے کہ پیشگوئی وہ بھلا خاک ہوئی جو آپ نے خود لکھ لی اور اس کی تعمیل کے لئے یہ حکم دیا کہ فلاں کام یوں ہونے چاہئیں۔ اس طریق سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی اس وقت خدائی فرائض انجام دیتے ہوئے خدا کو رسالت کا مرتبہ دے کر یہ احکام نافذ فرمارہے ہیں کہ دیکھو یہ کام یوں ہونے چاہئیں۔ حالانکہ معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ پیشگوئی تو اس کا نام ہے کہ خدا خلاق جہاں کوئی امر جتلائے اور رسول اس کی تعمیل کرے۔ نہ کہ نبی پیشگوئی کرے اور خدا اس کی تعمیل کرے۔
اور ایک لحاظ سے یہ بھی وطیرہ غلط ہے۔ وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کسی کا محکوم نہیں۔ وہ جو چاہتا ہے اپنی مشیت سے کرتا ہے۔ حیرانگی ہے کہ مرزا قادیانی جو بھی چاہیں خدا من وعن بلا چون وچرا قبول کرے اور اس کی تعمیل فرض سمجھے۔ کیا یہی مجددیت اور مہدویت ہو رہی ہے کہ نعوذ باللہ خدا بھی مرزا قادیانی کا محکوم بن گیا۔ حیرت ہے اور سخت تعجب ہے کہ کس بل بوتے نبوت پر اترایا جاتا ہے اور ذرا جذبہ بھی ملاحظہ فرمائیے کہ وہ کاغذ جس پر پیشگوئیاں حسب خواہش لکھی ہوئی تھیں جونہی خدا کے سامنے پیش کیا بلا عذر و بلا تامل خدا نے اس پر دستخط کر دیئے اور معلوم ہوتا ہے کہ خدا اس قدر مرزا قادیانی کے رعب سے خائف ہوا کہ وہ عجلت میں سرخی اور سیاہی میں تمیز نہ کرتا ہوا جھٹ قلم سنبھال دستخط کرنے پر مجبور ہوا اور جلدی میں قلم کو دوات میں ایسا غوطہ دیا کہ وہ سیاہی میں غرق ہوئی۔ جس سے اس قدر قطرے گرے کہ مرزا قادیانی کے کرتے اور عبداللہ سنوری کی ٹوپی کو اپنی لیاقت کا شاہد بناتے ہوئے محو حیرت واستعجاب کر گئے۔ سبحان اللہ! کس شان کا معجزہ ہے۔ اس سے بڑھ کر دلیل بھلا اور کیا ہو سکتی ہے۔ جس نے مرزا قادیانی کو اس قدر متاثر کیا کہ وہ بے چارے رونے پر مجبور ہوئے۔ مسیح قادیانی کے نونہالو یہ تو کہو کہ تمہارے مرزا قادیانی بہ نفس نفیس آسمان پر گئے یا اللہ میاں ملاقات کے لئے قادیان میں آیا اور پیشگوئیاں اللہ میاں کو دیکھ کر لکھی گئیں تھیں یا مرزا قادیانی نے ٹیلی گرام کے ذریعہ خدا کو دعوت دی تھی کہ فوراً پہنچو۔ پیشگوئیاں تیار ہیں ان کی تعمیل کے لئے دستخط کر جاؤ اور خواجہ کا مینڈک گواہ بھی پاؤں دباتا اور ناز اٹھاتا آسمان پر ساتھ ہی گیا تھا یا حجرہ میں ہی وصال محبوب کی خواہش سے منتظر تھا۔
اور اللہ میاں پہلی جماعت کے طالب علم کی طرح سیاہی کو جھاڑنے میں جو قطرے گراتے تھے وہ مرزا قادیانی کے کرتے اور عبداللہ کی ٹوپی پر پڑنے کا قصہ ہماری سمجھ میں نہ آسکا۔ کیونکہ مرزا قادیانی کا بیان ہے کہ وہ حجرہ میں میرے پاؤں دبا رہا تھا اور اگر ٹوپی پر قطروں کا پڑنا صحیح تصور کریں تو مرزا قادیانی کے پاجامہ پر پڑنے چاہئے تھا نہ کہ کرتے پر اور وہ پیشگوئیاں جو لکھی گئی تھیں کیا تھیں۔ کن کے متعلق تھیں اور مرزا قادیانی کا خدا بھی عجب بدھو تھا جو بلا سوچے سمجھے ایک معمولی سررشتہ دار سے کم تر انسان کی خواہش پر اور وہ بھی قضا و قدر کی باتوں پر دستخط کر دیئے۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ ٹوپی اور کرتے پر سیاہی کے قطرے موجود ہیں اور رویت کا گواہ بھی موجود ہے۔ اس لئے ایک سوال ہے جس کے حل کرنے میں ہر کوئی مسیح بھیڑ توجہ کرے اور مبلغ یک صد روپیہ نقد انعام پاوے۔ جبکہ کرتے اور ٹوپی پر قطرات موجود ہیں تو لازمی بات ہے کہ قضا و قدر
کی پیشگوئی پر بھی دستخط موجود ہوں گے۔ کیونکہ جب قطرے اصلی ہیئت میں موجود ہیں تو دستخط بھی اصلی حیثیت میں موجود ہونے چاہئے۔ وہ کاغذ جس پر دستخط ہوئے اور بلا تامل ہوئے کہاں ہے؟ اور اللہ میاں کے دستخط کونسے علم الحروف میں ہیں اور پیشگوئیاں کیا تھیں اور وہ من وعن پوری ہوئیں یا ادھوری ہی رہیں۔ اگر کوئی صاحب ان باتوں کا جواب دے کر یہ صداقت تک پہنچا سکیں تو وہ انعام کے مستحق ہونے کے علاوہ مرزائے قادیانی کے صحیح بہی خواہ اور سچے مرید ہیں۔ کیونکہ ایک ہی نشان کی دو متضاد باتیں نہیں ہوسکتیں۔ جبکہ تمثیلی طور پر ایک چیز موجود ہے تو دوسری کا موجود نہ ہونا کس علت غائی پر ہے؟۔
اور اگر کوئی صاحب یہ جواب دیں کہ کشفی رنگ میں یہ ایک خواب تھا تو وہ سیاہی کے قطرے جو کرتہ اور ٹوپی کا ستیاناس کر گئے کہاں سے آگئے۔ وہ بھی تو کشفی رنگ میں ہونے لازم ملزوم تھے۔ نہ کہ اصلی ہیئت میں اور یہ آدھا تیتر اور آدھا بٹیر کس طرح سے بن گیا۔ میرا خیال ہے اور یہی قرین قیاس بھی ہے کہ یزیدی لوگ جو قادیان میں پیدا ہو گئے ہیں ان میں سے کسی ایک نے مذاقاً سرخی کی دوات سے چند ایک قطرے عمداً آپ پر ٹپکائے ہوں اور آپ اس کو الہٰی قطرات پر محمول کر رہے ہوں۔ ورنہ یہ خیال موہوم فی نفسہ مضحکہ خیز ہے جو آپ اہل بصیرت کے لئے پیش کرتے ہیں اور کلام مجید اس کو مردود وافتراء قرار دیتا ہے۔ لیس کمثلہ شیئاً اور وہ چیز جو ابتدائے آفرینش سے کسی کو نصیب نہیں ہوئی وہ آپ کی قسمت میں کہاں۔
خدا کا فضل واحسان تو جس قدر مرزا قادیانی کی ذات پر تھا وہ محتاج بیان نہیں کسی نے کسی کو پوچھا تم روتے کیوں ہو تو جواب ملا شکل ہی ایسی ہے۔ خدا کا احسان وکرم ہوتا تو آپ کے آنسو کیوں نکلتے اور آدم علیہ السلام سے لے کر پیغمبر آخر الزمان ﷺ تک کسی ایک مرسل من اللہ کی زندگی میں کوئی ایسا واقعہ اس کی نظیر میں پیش کر سکتے ہو کہ جو کچھ انہوں نے چاہا وہ بلا دیکھے بھالے سنے سنائے اللہ میاں نے منظور کر لیا۔ سابقہ اوراق میں نبی کریم ﷺ کا واقعہ اسی غرض سے پیش کر چکا ہوں۔ صرف انشاء اللہ کے ایک لفظ نہ کہنے سے سرکار مدینہ ﷺ کو کئی روز تک حیران رہنا پڑا اور سلسلہ وحی بند رہا۔ وہ پاکوں کا پاک اور خاصوں کا خاص تو یہ مجال نہ رکھ سکے کہ ایک سوال کا جواب اپنی مرضی سے دے سکے۔ دیکھو پارہ سولہواں بنی اسرائیل آیت ٨٥۔ ”ویسئلونک عن الروح ....... الخ!“
اور اگر مراق کی وجہ سے حضور ﷺ کا کوئی واقعہ یاد نہ ہو اور حافظہ بھی جواب دے چکا ہو تو گوش ہوش سے سنو۔
سرور عالمﷺ فداہ ابی وامی کا وہ پرورش کنندہ اور بعد از خدا نگران عم محترم جو ابوطالب کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور جس نے صدہا تکالیف حضورﷺ کی رفاقت میں بسر کیں۔ فاقے کئے اور بچوں کو بھوکا ترسایا مگر بارے جبراً اور مجبوراً پہاڑ کی گھاٹی پر زندگی بسر کرنے کو رفاقت سے منہ موڑنے پر ترجیح دی اور حرف شکایت زبان پر نہ لائے۔ بلکہ ہمیشہ سرکار مدینہ کی مدح وستائش میں قصائد اور اشعار کہے اور ہجو کرنے والوں کی مذمت کی اور ہر خدمت کو مستعدی سے سرانجام دیا۔ جب اس جہان فانی سے عالم جاودانی کو جانے کی تیاریاں کر رہا تھا تو حضور اکرمﷺ اس وقت عم محترم کے سر بالین پر رونق افروز تھے اور کچھ افسردہ و مغموم سے تھے۔ رحمت عالمﷺ کے دل میں ایک ایسی سچی تڑپ موجزن تھی جو رہ رہ کر بے چین کئے دیتی تھی۔ آنحضورﷺ فداہ ابی وامی چند ایک بار عم محترم پر جھکے اور کان میں کچھ فرمایا۔ ابوطالب نے جواب دیا کہ اے میرے لخت جگر میں جانتا ہوں کہ لاریب تو خدا کا برگزیدہ رسول اور امانت گزار ہے۔ مگر قبائل کے طعنہ سے ڈرتا ہوں کہ میرے پیچھے استہزاء کریں گے کہ جہنم کے خوف سے بھتیجے کی رسالت کو مان لیا۔ حضور ختمی مآبﷺ نے فرمایا چچا صرف ایک بار میرے کان میں کلمۂ شہادت کا اعادہ کردو تا کہ قیامت کے روز تمہاری شفاعت کرسکوں۔ اللہ تعالیٰ نے فرقان حمید میں یہ آیت اتاری جو جبریل امین لے کر حاضر ہوئے۔
”انک لا تھدی من احببت ولکن اللہ یھدی من یشاء (القصص: ٥٦)“ یعنی اے میرے حبیبﷺ جس سے تو محبت کرے اور چاہے کہ وہ ہدایت یافتہ ہو جائے صرف تیری محبت اسے ہدایت نہیں کرسکتی۔ جب تک میری مشیت اس کی ہدایت کی مقتضی نہ ہو۔
”لیس لک من الامر شئ اویتوب علیہم اویعذبہم (آل عمران: ١٢٨)“ رسول اکرمﷺ جو افضل الرسل ہیں وہ تو اس بات کے مجاز نہیں ولیکن مرزا قادیانی ہیں کہ جو چاہیں لکھ لیں اور خدا کی کیا طاقت ہے جو دیکھ ہی سکے کہ کیا لکھا ہے اور کس کس کی قسمت کا کیا کیا فیصلہ ہورہا ہے۔ بلکہ بلا چون و چرا دستخط کردیئے۔ حالانکہ دستخط کے بعد ایفا کا آنا لازم ہے۔
مرزا قادیانی کی تحریر میں جھوٹ در جھوٹ ہوا ہی کرتا ہے کوئی نہ کوئی سقم ایسا بھی رہ جایا کرتا ہے جس سے بہ آسانی دجل کے عنکبوتی تار روز روشن کی طرح جاء الحق وزھق الباطل کا نظارہ پیش کررہے ہیں۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ:
”عجیب بات ہے کہ اس سرخی کے قطرے گرنے اور قلم جھاڑنے کا ایک ہی وقت تھا ایک سیکنڈ کا بھی فرق نہ تھا۔“
بہت خوب اب خود تسلیم کرتے ہیں کہ دستخط کرنے کے بعد میری نیند کھل گئی اور اس وقت عبداللہ سنوری میرے پاؤں دبا رہا تھا۔ ہم پوچھتے ہیں کہ قادیانی اصطلاح میں سیکنڈ کتنے عرصہ کا نام ہے۔ آپ کی نیند اچاٹ بھی ہوئی اور آپ بے ہوشی سے ہوش میں آئے۔ آپ کو یہ بھی معلوم ہوا کہ وفور محبت میں میرے آنسو رواں ہیں اور عبداللہ پاؤں دبا رہا ہے اور قلم تو مدت کا نیند کی حالت میں دستخط کر چکا تھا اور قلم کے جھاڑنے کا وقت اس سے پہلے کا تھا۔ مگر آپ نے اور عبداللہ نے بعد میں قطرے پڑتے دیکھے یہ عجب معاملہ ہے کہ اس میں ایک سیکنڈ کا فرق نہ پڑے اور اگر ایسا ہی ہے تو یہ آپ کی عجب کرامت اور پھڑکتا ہوا معجزہ ہے واہ کیا کہنے ہیں اس ہتھکنڈے کے۔
اور یہ بات بھی تو خلاف عقل اور بعید از قیاس ہے۔ کیونکہ اسی اصول میں آپ مقید ہیں مسیح علیہ السلام کے آسمان پر نہ جانے کے جو دلائل آپ دیا کرتے ہیں کہ وہ واللہ علیٰ کل شئی قدیر تو ہے۔ ولیکن ایسا اس نے کبھی نہیں کیا۔ لا تبدیل لکلمات اللہ تو ہے۔ ولیکن ایسا کبھی نہیں ہوا۔
ہم پوچھتے ہیں کہ میٹھا میٹھا ہپ اور کڑوا کڑوا تھو کے مصداق آپ کے لئے یہ ہو سکتا ہے کہ اللہ میاں ایک معمولی سب جج کی حیثیت سے آپ کے حجرے میں قلم دوات سنبھالے قطرے گرانے کو آ جائے اور روحانی طور پر نہیں بلکہ مادی طور پر آئے اور طرفہ یہ کہ آپ پاؤں دبوانے میں ہی مشغول رہیں اور تمثیلی طور پر نظر آنے پر بھی استقبال کے لئے نہ اٹھیں یا آپ بذات خود قلم دوات لئے آسمان پر پہنچ جائیں اور جو دل میں آوے پیش گوئی کے طور پر لکھ لیں اور جس کی مشیت اور قدرت سے واقعات نے بعد میں پورا ہونا ہے اور بلا تامل بلا توقف دستخط کر دے واطیعوا اللہ کی بجائے خود واطیعوا لمرزا بن جائے۔ اگر آپ یہ قبول کریں کہ میں آسمان پر نہیں گیا اور نہ میرا خدا بالکل قادیان میں نازل ہوا بلکہ یہ صرف ایک خواب تھا جس میں تمثیلی طور پر مندرجہ واقعہ کا انکشاف ہوا تو اہل علم آپ سے پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ وہ قطرے اور ان کی رفتار اور رویت کے گواہ کا قصہ غلط تمام چیزیں روحانی طور پر ہونی چاہئیں نہ یہ کہ اصل چیز پیش گوئی کے کاغذ اور اللہ میاں کے دستخط تو روحانی کہہ دئے جائیں۔ کیونکہ وہ دجل کا بھانڈا پھوڑنے کے لئے ایک مہیب بم کا کام دیتے ہیں اور عوارض کا ذکر کر دیا جائے۔ چلو صاحب یہ بھی ایک منٹ کے لئے مان لیتے ہیں کہ یہ واقعہ آدھا تیتر آدھا بٹیر ہی کے مصداق تھا۔ اس لئے روحانی حصہ کو چھوڑتے
ہوئے جسمانی حصہ میں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر جس حجرہ میں آپ لیٹے تھے وہ ضرور مسقف ہوگا اور جب تک جسمانی چیز کے لئے کوئی راستہ قرار نہ دیا جائے کہ کس راہ سے نازل ہوئی تب تک کوئی اعتبار ہی نہ کرے گا۔ آپ یہ فرمائیے کہ چھت میں اس وقت سوراخ قدرت نے ڈال دیئے تھے یا چھت چند لمحوں کے لئے اڑ گئی تھی۔ کیونکہ قطرے ٹپکنے کا واقعہ آپ نے اور عبداللہ سنوری دونوں نے دیکھا تھا اور اگر چھت میں معاً سوراخ ہوئے تو آپ نے ان کا ذکر کیوں نہیں کیا اور اگر چھت اڑی تھی تو یہ تو قطروں کی اعجاز نمائی سے زیادہ دلپذیر اور اچنبہ خیز واقعہ ہے اور اگر دونوں باتوں کا جواب نفی میں ہو تو ہمارے خیال میں کسی گرگٹ کے اندام نہانی میں سے کسی عارضہ کے باعث وہ چند بوندیں ٹپکنا قرین قیاس اور نہایت انسب معلوم ہوتی ہیں اور دستخط کرنے کی بھی خوب کہی بھلا یہ بھی کوئی کام ہے ہو سکتا ہے کہ آپ کے خدا نے بھی کوئی دستخط آپ سے کروائے ہوں۔ جب کہ آپ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا تھا۔ میرے خیال میں چونکہ مراق مانع تفہیم ہے اس لئے یاد عزیز سے سہواً اتر چکا ہے کچھ ہرج نہیں ہم یاد کرائے دیتے ہیں۔
او زمانے کی طرح رنگ بدلنے والے
”رأيتنى فى المنام عين الله وتيقنت اننى هو ...... فخلقت السمٰوات والارض ...... وقلت انا زينا السماء الدنيا بمصابيح“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤ خزائن ج ٥ ص ٥٦٤، ٥٦٥)
میں نے خواب میں اپنے آپ کو ہو بہو دیکھا کہ خدا ہوں۔ میں نے یقین کیا کہ میں سچ مچ خدا ہوں۔ پھر میں نے زمین و آسمان بنائے اور میں نے کہا کہ ہم نے آسمان کو ستاروں کے ساتھ سجایا ہے۔
ہمارے خیال میں چونکہ آپ کی اور آپ کے خدا یلاش کی بھائیوالی ہو چکی تھی۔ جس میں یہ شرط قائم ہوئی تھی کہ زمین و آسمان تیرے ساتھ ہیں۔ جیسا کہ وہ میرے ساتھ ہیں یہ اسی خواب کی بنا پر ہوئی تھی۔ کیونکہ پہلے کا زمین و آسمان بہت پھٹا پرانا ہو چکا تھا۔ اللہ میاں کی التجا پر آپ نے نیا بنا دیا اور ستاروں سے جگمگ جگمگ کر دیا۔ اس لئے آپ کا خدا آپ کا سخت مشکور تھا اور ساجھی پنا اس کو مجبور کر رہا تھا کہ وہ قضا و قدر کی پیش گوئی پر دستخط بلا دیکھے کر دے اور کیوں نہ کرے۔ جب کہ وہ عرش پر تمہاری تعریف کے گن گاتا ہے اور یک جان دو قالب ہے۔ الہام
”انت منی وانا منك“ تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔ مگر آپ یہ رو کیوں دیئے۔ شاید وفور محبت میں بھی آنسو نکل آیا کرتے ہیں۔ سو کچھ مضائقہ نہیں۔ آخر دوست ہی ہیں نا۔ ہاں یہ بتانے کی زحمت گوارہ کریں کہ پہلے زمین و آسمان کہاں چھپکے تھے یا اسی کو پیوند لگا دیئے گئے تھے۔
قارئین کرام ! اب ہم مرزا قادیانی کا اصلی فوٹو بے نقاب کرتے ہیں غور سے ملاحظہ فرمائیں اور ہماری محنت کی داد دیں۔
اللہ میاں اور مرزا قادیانی کی محبت کی پینگ
- ١...... ”ربـنـــا عـــاج “
(براہین احمدیہ ص٥٥٢ حاشیہ، خزائن ج١ ص٦٦٢)
”مرزا قادیانی کا خدا ہاتھی دانت یا گوبر کا ہے۔“ (معاذ اللہ)
- ٢...... ”انت من مائنا وهم من فشل“
(اربعین نمبر٣ ص٣٤، خزائن ج١٧
ص٤٢٤) ”اے مرزا تو ہمارے پانی سے ہے اور لوگ خشکی سے۔“
- ٣...... ”انت منی وانا منك“ (تذکرہ ص٤٢٢) ”اے مرزا تو مجھ سے ہے اور
میں تجھ سے ہوں۔“
- ٤...... ”انت منى بمنزلة توحيدى وتفريدی“
(اربعین نمبر٢ ص٣٤،
خزائن ج١٧ ص٤٢٨) ”اے مرزا تو مجھ سے میری توحید و وحدت کے بمنزلہ ہے۔“
- ٥...... ”انت وجيه فى حضرتى“
(اربعین نمبر٣ ص٢٣، خزائن ج١٧ ص٤١٠)
”اے مرزا تو میرے دربار میں چنا ہوا ہے۔“
- ٦...... ”الارض والسموت معك كما هو معى“
(اربعین نمبر٢ ص٦، خزائن
ج١٧ ص٣٥٣) ”اے مرزا زمین و آسمان تیرے ساتھ ہیں جیسا کہ وہ میرے ساتھ ہیں۔“
- ٧...... ”اخترتك لنفسى شانك عجيب واجرك قريب“
(ازالہ اوہام
ص١٩٦، خزائن ج٣ ص١٩٦) ”اے مرزا میں نے تجھے اپنی جان کے لئے چن لیا تیری شان عجیب ہے اور پھل تیرا نزدیک ہے۔“
- ٨...... ”ينصرك الله فى مواطن“
(اربعین نمبر٢ ص٣١، خزائن ج١٧ ص٤٨٠)
”اے مرزا ہم تمہاری کئی میدانوں میں مدد کریں گے۔“
- ٩...... ”لا تخف انك انت اعلیٰ “
(حقیقت الوحی ص٨٩، خزائن ج٢٢ ص٩٢)
”اے مرزا نہ خوف کر تحقیق تو ہی غالب رہے گا۔“
- ١٠...... ”بشری لك يا احمدى انت مرادى ومعی“ (حقیقت الوحی
ص ٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ٨٢) ”اے مرزا تجھے بشارت ہو اے میرے احمد تو تو میری مراد ہے اور میرے ساتھ ہے۔“
- ١١...... ”جرى الله فى حلل الانبياء“ (اربعین نمبر ٢ ص ٧، خزائن ج ١٧
ص ٣٥٤) ”اے مرزا تو خدا کا پہلوان ہے۔ نبیوں کے لباس میں۔“
- ١٢...... ”غرست كرامتك بیدی“ (اربعین نمبر ٢ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٣٥٢)
”اے مرزا تیرے ہاتھ میں کرامتیں ہیں۔“
- ١٣...... ”يا احمد بارك الله فيك ما رميت اذ رميت ولكن الله
رمى“ (حقیقت الوحی ص ٧٠، خزائن ج ٢٢ ص ٧٣) ”اے مرزا اللہ برکت کرے نہیں چلایا جو کچھ چلایا لیکن اللہ ہی نے چلایا۔“
- ١٤...... ”الرحمن علم القرآن “ (حقیقت الوحی ص ٧٠، خزائن ج ٢٢ ص ٧٣)
”اے مرزا رحمن نے تمہیں قرآن سکھایا۔“
- ١٥...... ”لتنذر قوماً ما انذر ابائهم “ (اربعین نمبر ٣ ص ٢٣، خزائن ج ١٧
ص ٤١٠) ”اے مرزا ہم نے تمہیں اس لئے بھیجا کہ اس قوم کو ڈراوے جس کے باپ دادا ڈرائے گئے ہیں۔“
- ١٦...... ”قل انى امرت وانا اول المؤمنين “ (اربعین نمبر ٢ ص ٣٣، خزائن
ج ١٧ ص ٣٨٢، ٤١٠) ”کہہ دے اے مرزا میں یہ حکم کیا گیا ہوں کہ میں پہلا مومن ہوں۔“
- ١٧...... ”يا عيسى انى متوفيك ورافعك الى “ (حقیقت الوحی ص ٨٣، خزائن
ج ٢٢ ص ٨٧) ”اے مرزا ہم تمہیں پورا پورا بھر لیں گے اور تیری رفع جسمی آسمان کی طرف کریں گے۔“
- ١٨...... ”جاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفروا الى يوم القيمة “
(اربعین نمبر ٢ ص ٣٢، خزائن ج ١٧ ص ٣٨٠) ”اے مرزا تیرے جانشین کو کافروں پر قیامت تک غلبہ“
- ١٩...... ”هو الذى ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على
الدين كله “ (حقیقت الوحی ص ٧١، خزائن ج ٢٢ ص ٧٤) ”وہی مولا ہے جس نے اے مرزا تمہیں پیغمبر بنا کر ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ تمہیں تمام ادیان پر سچا ثابت کر دے۔“
- ٢٠...... "لا تبدیل لکلمات الله" (تذکرہ ص١٥٩) ”اے مرزا خدا کی باتیں ٹلتی
نہیں ہو کر رہیں گی ۔“
- ٢١...... "انا انزلناه قریباً من القادیان" (حقیقت الوحی ص ٨٨، خزائن ج ٢٢
ص ٩١) ”اے مرزا ہم نے تمہیں قادیان کے قریب اتارا۔“
- ٢٢...... "وبالحق انزلناه وبالحق نزل صدق الله ورسولہ وکان
امر الله مفعولا" (حقیقت الوحی ص ٨٨، خزائن ج ٢٢ ص ٩١) ”اے مرزا تو حق کے ساتھ اترا اور ہم نے حق کے ساتھ اتارا اللہ سچا ہے اور رسول سچا ہے اور خدا کا کام پورا ہی ہونا تھا۔“
- ٢٣...... "قل ہو الله عجیب" (تذکرہ ص ٦١) ”کہہ دے اے مرزا اللہ عجیب
ہے۔“
- ٢٤...... "قل جاء کم نور من الله" (اربعین نمبر ٢ ص ٧، خزائن ج ١٧ ص ٣٥٤)
”کہہ دے اے مرزا اللہ کی طرف سے نور آیا ہے۔“
- ٢٥...... "اتکفر وان کنتم مؤمنین" (ازالہ اوہام ص ١٩٤، خزائن ج ٣ ص ١٩٤)
”کہہ دے اے مرزا اگر تم مومن ہو تو میرے ماننے میں کفر مت کرو۔“
- ٢٦...... "ان جعلناک عیسیٰ ابن مریم وانت منی بمنزلة لا یعلمها
الخلق" (حمامة البشری ص ٨، خزائن ج ٧ ص ١٨٢) ”ہم نے اے مرزا تمہیں عیسیٰ ابن مریم بنایا اور تم ہمارے نزدیک اس مرتبے کو ہے۔ لا یعلمها الخلق ! جس کو خلقت نہیں جانتی“
- ٢٧...... "وانک الیوم لدینا مکین امین" (اربعین نمبر ٢ ص ٧، خزائن ج ١٧
ص ٣٥٤) ”اے مرزا تو ہمارے نزدیک بڑی عزت والا ہے۔“
- ٢٨...... "انت اسم اعلی" (اربعین نمبر ٣ ص ٣٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٣) ”مرزا تو
میرا سب سے بڑا نام ہے۔“
- ٢٩...... "الله بحمدک من العرش" (ایضاً) ”اے مرزا اللہ تیری عرش پر
تعریف کرتا ہے۔“
١؎ میرے خیال میں تو شاید براہین احمدیہ ہوگی کیونکہ سرکار مدینہ کو قرآن کریم کے لئے یہ ارشاد ہوا تھا۔
مرزا قادیانی کا آخری حکم
٣٠....... "فهذا هو الدعوى الذى يجادلنى قومى فيه ويحسبوننى من المرتدين" (حمامة البشریٰ ص ٨، خزائن ج ٧ ص ١٨٤) ”پس یہ میرا دعویٰ ہے۔ جس میں مسلمان قوم مجھ سے جھگڑتی ہے اور مجھ کو مرتد جانتی ہے۔“
ناظرین کرام! میں بلا مبالغہ واللہ باللہ عرض کرتا ہوں کہ مرزا قادیانی کے ایسے کلمات ہزاروں کی تعداد میں پیش کرسکتا ہوں جن میں مرزا قادیانی کا خدا مرزا قادیانی کی تعریف وتوصیف میں رطب اللسان نظر آتا ہے۔
یہ کفریہ کلمات ایسے ہیں جنہیں ایک مومن پڑھنا بھی پسند نہ کرے میں حیران ہوں کہ مرزائی ایسی تعلیم کے بوتے پر غیر ممالک میں تبلیغ اسلام کے لئے جاتے ہیں۔ ایں چہ بوالعجبیست!
قارئین کرام! میں یہ دعویٰ سے کہتا ہوں کہ جو سلیم الطبع یورپ میں مسلمان ہوئے یقیناً انہوں نے اس بھیانک چیز کو نہ دیکھا ہوگا اور اگر وہ اسے دیکھتے تو کبھی یقیناً وہ حلقہ بگوش اسلام نہ ہوتے۔
میرے بزرگ اچھی طرح سے یاد رکھیں کہ جو لوگ اسلام کے آغوش شفقت میں آرہے ہیں یا آچکے ہیں وہ نبی کریم ﷺ کی تصویر رحمت کو دیکھ کر آتے ہیں اور انشاء اللہ آتے رہیں گے میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ کسی انگریز یا صحیح الدماغ انسان کے سامنے اگر مرزا قادیانی کی صحیح فوٹو اور ان کے خیالات کو رکھا جائے تو سر پر پاؤں رکھ کر بھاگ جائے گا۔ ایسی بھیانک سپرٹ کو ایک آنکھ دیکھنا گوارہ نہ کرے گا۔ جس میں یہ بھی پتہ نہیں چلتا کہ مرزا قادیانی خدا تھے یا ان کا خدا خدا تھا اور یہاں تو بقول شخصے کہ؎
تا کس نگوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری
کا نظارہ نظر آتا ہے میں نے چند نمونے جو پیش کئے ہیں ان کے ثبوت اسی کتاب میں موجود ہیں اور بقیہ انشاء اللہ تصویر مرزا جو زیر طبع ہے میں پیش کروں گا۔ مرزائیو!
گرچہ ڈھونڈو گے چراغ رخ زیبا لے کر
خالد وزیر آبادی!
تمت بالخیر!
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
تصویرِ مرزا
ایس۔ ایم خالد وزیر آبادی
تقریضات
علامہ عصر، فاضل بے بدل، جناب مولانا مولوی احمد سعید صاحب
ناظم جمعیت العلماء ہند دہلی کا ارشاد
نوشتۂ غیب کے بعد آپ کی دوسری تصنیف نوبت مرزا کا شکریہ! رمضان المبارک کے باعث جواب میں تاخیر ہوئی۔ اس دفعہ بھی پوری کتاب کے مطالعہ سے قاصر رہا۔ لیکن کتاب کو جس قدر بھی پڑھ سکا اس سے آپ کے انداز بیاں اور طریقہ استدلال کو سمجھ لیا۔ آپ نے مرزا قادیانی کے رد کا جو طریقہ اختیار کیا ہے وہ نہایت صاف، واضح اور سہل ہے۔ عوام مسلمانوں کے لئے یہ طریقہ بہت مفید ہے اور اس سے بہت زیادہ نفع پہنچنے کی امید ہے۔ میری دعا ہے کہ خدا تعالیٰ آپ کی تصانیف کو عام و خاص میں مقبولیت کا درجہ عطا فرمائے اور آپ کو مزید عمل خیر کی توفیق میسر ہو۔
ضیغم اسلام، فاتح قادیان، قائد حریت، امیر شریعت
حضرت مولانا جناب سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری کا ارشاد
کتاب نوبت مرزا جو اپنے باب میں بے نظیر کتاب ہے موصول ہوئی۔ مگر افسوس کہ مشاغل کے باعث میں اس کا باہتمام مطالعہ نہ کرسکا۔ جستہ جستہ مقامات سے میں نے اس کو دیکھا ماشاء اللہ مرزائیوں کے رد میں بہترین کتاب ہے اور حرب قادیانی میں یہ حربہ ماشاء اللہ کافی و وافی ہے۔ مضامین کا تسلسل ہر خوبی وعمدگی سے نبھایا گیا ہے۔ جو آپ اپنی نظیر ہے۔ مسلمانوں کا کوئی گھر اس سے خالی نہیں رہنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ مصنف کی عمر میں برکت دے اور کتاب کو قبولیت عامہ بخشے۔ آمین!
فخر ملت والدین جناب مولانا مولوی حبیب الرحمٰن صاحب لدھیانوی
صدر مجلس احرار کا ارشاد گرامی
عزیزی میاں خالد وزیر آبادی عرصے سے فتنہ مرزائیت کے استیصال کے لئے بہترین کتابیں تصنیف کر رہے ہیں۔ نوشتۂ غیب کے بعد نوبت مرزا مرزائیت کی تردید میں یہ دوسری بہترین تصنیف ہے۔ میں نے اس کتاب کے اکثر چیدہ چیدہ مقامات کا مطالعہ کیا ہے۔ میرے نزدیک اس کتاب کا مطالعہ ہر اس شخص کے لئے نہایت ضروری ہے جو مرزائیت کی
٢
اندرونی خباثتوں سے ناواقف ہو ۔ میں امید کرتا ہوں کہ مسلمان خالد صاحب کی تصانیف خرید کر ان کی حوصلہ افزائی کریں گے ۔
فیض مآب ، فخر سادات ، جناب مولانا سید محمد داؤد صاحب غزنوی
کا ارشاد گرامی
آپ کی ارسال کردہ کتاب نوبت مرزا جو اپنے باب میں بے نظیر کتاب ہے موصول ہوئی ۔ اس کے مطالعہ نے طبیعت میں از حد بشاشت پیدا کی ۔
نوشتہ غیب کے بعد نوبت مرزا سونے پر سہاگہ ثابت ہوئی ۔ ہر دو کتب مذکورہ اس قدر جامع ہیں کہ تردید مرزائیت کے لئے دوسری تمام کتابوں کے مطالعہ سے بے نیاز کر دیتی ہیں ۔ میری مختصر یہ رائے ہے کہ اگر چشم بصیرت سے مرزائی اصحاب بھی اس کا مطالعہ فرمائیں تو وہ بھی انشاء اللہ راہ راست پر آ جائیں گے ۔ اس لئے میں صاحب ثروت احباب سے پرزور سفارش کرتا ہوں کہ وہ ان کو خرید کر مرزائی اصحاب میں مفت تقسیم کر کے ثواب دارین حاصل کریں ۔
شیخ الحدیث والتفسیر جناب مولانا مولوی محمد ابراہیم صاحب میر سیالکوٹی
کا ارشاد گرامی
آپ کی ارسال کردہ کتاب نوبت مرزا موصول ہوئی ۔ ماشاء اللہ خوب کتاب ہے اور نرالے ڈھنگ پر لکھی اور ایک ہی طرز پر ختم کی گئی ہے ۔ خدائے تعالیٰ آپ کو توفیق مزید عنایت کرے ۔ آمین ! ہاں اتنی اصلاح کی ضرورت ہے کہ دامن متانت ہاتھ سے نہ چھوٹنے پائے ۔ اس میں شک نہیں کہ مرزائے قادیانی کی تحریرات کو دیکھ کر جواب لکھتے وقت مقام متانت پر قائم رہنا مشکل ہے اور ان کے متبعین کو بھی بغیر ترکی بترکی جواب سنے کے آرام نہیں آتا ۔ لیکن پھر بھی ہم پیروان رسول مقبول ﷺ کو چاہئے کہ دوسروں کی تلخ کلامی کے مقابلہ میں نرمی سے جواب دیں ۔
خدا تعالیٰ آپ کو اس نیک کام کا اجر جمیل عطاء کرے ۔ آمین !
شفیق ملت جناب مولانا مظہر علی صاحب اظہر ایم ۔ ایل ۔ سی کا ارشاد گرامی
میں نے کتاب نوبت مرزا مؤلفہ ایم ۔ ایس خالد وزیر آباد کو بغور مطالعہ کیا ۔ کتاب مذکور جامع کتاب ہے اور ایسی دلچسپ ہے کہ ایک دفعہ شروع کر دیجائے تو چھوڑنے کو دل نہیں چاہتا ۔ میری مختصر یہ رائے ہے کہ تردید مرزائیت پر اس خوبی وعمدگی سے آج تک کوئی کتاب تصنیف نہیں ہوئی ۔ خدا تعالیٰ حضرت مصنف کی مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے ۔ آمین !
٣
رئیس الاحرار، فدائے قوم، جناب مولانا صاحبزادہ سید پیر فیض الحسن صاحب
بی۔ اے سجادہ نشین آلو مہار شریف کا ارشاد گرامی
میرے عزیز دوست ایم۔ ایس خالد وزیر آبادی نے رد مرزائیت پر چند بے نظیر کتابیں تحریر کی ہیں۔ یعنی نوشتہ غیب، نوبت مرزا، تصویر مرزا۔ ان ہر سہ مذکورہ کتب میں قادیانیوں کے پوشیدہ رازوں اور بستہ انکشافوں کا بہترین ذخیرہ موجود ہے اور حضرت مصنف کے زور قلم نے اس خوبی وعمدگی سے انکشاف کیا ہے جو قابل دید ہے۔ مرزائیت کی دھجیاں فضائے آسمانی میں گو دوسرے احباب نے بھی بکھیریں۔ مگر اس کا سہرا خالد کے لئے ہی قسام ازل نے لکھا تھا۔ کتابیں کیا ہیں رد مرزائیت کی جیتی جاگتی تصویر ہیں۔ میں تمام مسلمانوں سے پر زور سفارش کرتا ہوں کہ وہ ان کو خریدیں اور میرے خیال میں مسلمانوں کا کوئی گھر ان تینوں نسخوں سے خالی نہیں رہنا چاہئے۔
فخر زمان جناب مولانا مولوی ظہور احمد صاحب بگوی
صدر مجلس مرکزیہ حزب الانصار بھیرہ کا ارشاد گرامی
میں نے کتاب نوشتہ غیب و نوبت مرزا مؤلفہ ایم۔ ایس خالد وزیر آبادی کو چیدہ چیدہ مقامات سے دیکھا، ہر دو کتب جس نیک مقصد کے لئے لکھی گئیں ہیں وہ اس قابل ہے کہ مسلمانوں کا کوئی گھر ان سے خالی نہیں رہنا چاہئے۔ مرزائیت کے دام تزویر کی تردید جس خوبی و عمدگی سے خالد صاحب نے کی ہے وہ قابل ستائش ہے۔ میرے خیال میں تردید مرزائیت پر ایسی دلچسپ و آسان کتابیں تصنیف نہیں ہوئیں دعا ہے اللہ تعالیٰ حضرت مصنف کی سعی جمیلہ کو قبول کرے اور ان کی کتابوں کو قبولیت عامہ بخشے۔
فاضل اجل، عالم بے بدل، جناب مولانا محمد ابو القاسم صاحب سیف بنارسی
صدر آل انڈیا اہل حدیث کا ارشاد گرامی
حمد ونعت کے بعد واضح ہو کہ کتاب لاجواب نوبت مرزا کا مطالعہ بغور کیا۔ مصنف کے زور قلم اور معلومات کی ہمہ گیری کا کیا کہنا۔ نوشتہ غیب کے بعد نوبت مرزا سونے پر سہاگہ ہے۔ مثیل مسیلمہ پیر قادیان کی پرفن چالوں کا تار و پود خوب بکھیرا ہے۔ فللّٰہ درہ وعلی اللّٰہ اجرہ!
ہوا دودھ کا دودھ پانی کا پانی
مسلمانوں کا کوئی گھر دونوں مذکورہ کتب سے خالی نہیں رہنا چاہئے۔
٤
بلبل شیریں نوا، فخر پنجاب جناب مولانا غلام فرید صاحب فاروقی
کا ارشاد گرامی
میرے نہایت ہی محترم دوست مبلغ اسلام جناب ایم ۔ایس خالد وزیر آبادی نے نہایت سادہ، عام فہم اور سلیس عبارت میں از حد دلچسپ پیرایہ میں بطرز ناول رد مرزائیت پر چند مدلل و مبسوط کتابیں تصنیف کی ہیں۔ یعنی نوشتہ غیب، نوبت مرزا، تصویر مرزا۔ ان کتب میں قادیانیت کے معلومات اور پوشیدہ رازوں کے انکشاف کے متعلق نہایت اچھا ذخیرہ موجود ہے اور ان کی کتابت اور طباعت وغیرہ بھی نہایت دیدہ زیب اور دلفریب ہے۔ میری دانست میں مرزائیت کے دجل وفریب سے کماحقہ، آگاہی حاصل کرنے کے لئے مذکورہ بالا کتب کا مطالعہ نہایت ضروری ہے اور حق تو یہ ہے کہ قابل مصنف نے دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے۔ اس لئے میں جمیع مسلمان ہند سے عموماً اور اپنے احباب سے خصوصاً درخواست کرتا ہوں کہ وہ مذکورہ بالا کتب جلد از جلد خالد بک ڈپو وزیر آباد سے منگوا کر فرقہ ضالہ مرزائیہ سے واقفیت حاصل کریں اور میرے مخلص دوست خالد صاحب کی محنت و جانفشانی کی داد دیں۔
شمس العارفین قدوۃ السالکین جناب سید پیر محمد مظہر قیوم صاحب
سجادہ نشین مکان شریف کا ارشاد گرامی
آپ کی ارسال کردہ ہر دو کتب یعنی نوشتہ غیب، نوبت مرزا میں نے مطالعہ کیں۔ آپ نے نہایت سادہ، عام فہم، سلیس عبارت، پیرایہ از حد دلچسپ، بطرز ناول تالیف فرمائی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان تالیف سے بہت حد تک قادیانی دجل کی قلعی کھل گئی ہے۔ جو دوست بھی مطالعہ کرے گا اس پر قادیانی دجالیت واضح ہو جاوے گی۔ اس واسطے سب مسلمانوں کو ہر دو کتب کا مطالعہ از بس ضروری ہے۔ لہٰذا سب ایمانداروں کا فرض ہے کہ دونوں کتابوں کو اپنے زیر نظر رکھیں اور اپنے حلقہ اثر میں ان کی اشاعت اپنا فریضہ مذہبی خیال فرماویں۔
مجاہد ملت جناب مولانا مولوی عبدالمجید صاحب سوہدروی کا ارشاد گرامی
ایم ۔ایس خالد وزیر آبادی کی دوسری تصنیف نوبت مرزا جو اپنے باب میں بے نظیر کتاب ہے۔ مرزائیت کے لئے پیغام فنا، ثابت ہورہی ہے۔ آپ نے اس سے پہلے نوشتہ غیب نامی ایک کتاب لکھی تھی جو بہت مقبول ہوئی۔ مگر یہ دوسری تصنیف ہے جو پہلی سے بھی بہت بڑھ چڑھ کر نکلی ہے۔ سچ ہے۔
٥
اس کتاب کو تردید مرزائیت کا گلدستہ سمجھئے۔ خود مرزا قادیانی کی تصنیفات اور تحریرات ہی سے ان کا قلع قمع کیا گیا ہے اور طرز بیان نہایت سلیس اور دلکش ہے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
حمد باری تعالیٰ
تیرا رنگ رخ لالہ زاروں میں پنہاں تیری خندہ روئی بہاروں میں پنہاں
ہے غنچوں کے لب پر تیری مسکراہٹ
ستاروں کے رخ پر تیری جھلملاہٹ
تیرا نور شمع فروزاں میں پیدا تیرا حسن ماہ درخشاں میں پیدا
تیری شوخیاں برق خنداں میں پیدا تیری گونج ابر بہاراں میں پیدا
گلوں میں نفاست تیری آشکارا
صبا سے لطافت تیری آشکارا
تیری دلربائی حسینوں میں پنہاں تیرے عشق کی آگ سینوں میں پنہاں
تیرا ذوق سجدہ جبینوں میں پنہاں تیرا نام دل کے نگینوں میں پنہاں
تیری ناخدائی سفینوں میں یارب
تیری لامکانی مکینوں میں یارب
محامد خاتم النبیین ﷺ
ہنوز نام تو گفتن کمال بے ادبیست
خاک پاک بطحا سے ایک بے کس و یتیم بچہ جس کے سر پر باپ کا سایہ ہے نہ ماں کی آغوش شفقت۔ جس کا کوئی رفیق ہے نہ ساتھی بے یار و مددگار۔ مفلسی و کس مپرسی کی حالت میں یکا و تنہا دعوت حق کی صدائیں بلند کرتا ہے۔ اس نے کسی کالج یا سکول میں زانو ادب تہ نہیں کیا۔ وہ کسی معلم سے پرائیویٹ طور پر بھی ایک لفظ نہیں پڑھا۔ اس کا عزیز وقت مطالعہ کتب بینی سے ہمیشہ بے نیاز رہا۔ وہ کسی درسگاہ تمدن و اخلاق کا کبھی رہین منت نہیں ہوا۔ ان حالات کی روشنی میں ان واقعات کے ہوتے ہوئے وہ تمام کفرستان عرب کو جہاں گھر گھر اصنام پرستی
٦
کا مرض اور کوچہ کوچہ اوہام پرستی کا چرچا تھا۔ ایک دعوت عام دیتا ہے۔ جو اس زمانہ میں نہایت ہی اچنبہ خیز تھی اور جس نے سامعین کو جو سالہا سال سے توحید سے کوسوں دور اور بندہ حرص و آز ہو چکے تھے ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔
یتیم مکہ نے بڑے وقار و تمکنت سے اور ایک عجیب شان بے نیازی کے ساتھ اعلان فرمایا۔ ”من قال لا اله الا الله فدخل الجنة (مشکوۃ ص ١٠، کتاب الایمان)“ ﴿جس کسی نے بھی خدا کی وحدانیت کا اقرار کر لیا۔ پس وہ جنت میں داخل ہو گیا۔﴾ مولانا حالی نے کیا خوب کہا ہے۔
عرب کی زمیں جس نے ساری ہلا دی
یہ اعلان کیا ہوا۔ گویا پرستاران لات وعزٰی کے ہیجان میں ایک تلاطم عظیم بپا ہوا۔ یا کفرستان عرب کے چپہ چپہ سے آگ کے وہ خوفناک شعلے بلند ہوئے۔ جن میں انتقام کی بے پناہ موج اس تیزی سے بھڑکی۔ جو بظاہر یہ معلوم دیتی تھی کہ داعی توحید کوئی دم کا مہمان ہے۔ ریگستان عرب کا ذرہ ذرہ اور نخلستان عجم کا پتہ پتہ اس کی مخالفت میں پہاڑ بن کر سامنے آتا ہے۔ مگر وقار نبوت اور رعب رسالت سے منہ کی کھاتا ہوا پاش پاش ہو جاتا ہے۔ ان کے ارادے اور ناپاک تجاویز ناکامیوں اور نامرادیوں کا لباس پہنتی ہوئیں یاس حسرت کی تصویریں بن کر رہ جاتی ہیں۔
رئیسان مکہ نے متفقہ طور پر اس کے سدباب کے لئے ہر ممکن کوششیں کیں اور ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور جب وہ بری طرح سے ناکام ہوئے تو انہوں نے ایک آخری حربہ ایک سنہری ورق پہنی تجویز ایسی سوچی جو دل کی عمیق ترین گہرائیوں کا آخری نتیجہ تھی اور جس سے یقیناً بڑے سے بڑے بہادر کے پائے استقلال میں لغزش آئے اور مدبران جہاں ٹھوکریں کھاتے ہوئے عقل وتدبر فہم و ادراک کو خیر باد کہہ جائیں۔
چنانچہ وہ اس آخری سوچ و بچار کے نتیجہ سے نبوت ورسالت کو مات کرنے کے لئے بڑے ادب سے یوں ملتجی ہوئے کہ اے امین مکہ ہم تمہیں اپنا سردار تسلیم کرتے ہیں اور تخت حکومت اور زر و جواہر تیرے قدموں میں پیش کرتے ہیں اور جس قدر دوشیزہ وجمیل لڑکیاں تو پسند کرے تیرے باندی اور لونڈی بنائے دیتے ہیں اور اس کے عوض صرف ایک التجاء کا شرف قبولیت چاہتے ہیں وہ یہ کہ ہمارے بتوں کو جو زمانہ قدیم سے ہمارے معبود چلے آتے ہیں برا کہنا چھوڑ دے اور ہم لات وعزٰی کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ تو ہمیں اس عہد میں ہمیشہ صادق القول پائے گا اور ہم سب
٧
معززین تیری تابعداری کو حرز جان بناتے ہوئے اپنے لئے باعث فخر سمجھیں گے۔ چرخ نیلی فام کے نیچے جس قدر کشت و خون اور برائیاں مضمر ہیں وہ انہیں حصول مراتب کے لئے ہیں۔ کائنات عالم میں ثبات و پامردی کے امتحان کے لئے یہ انتہائی آزمائش کا موقعہ ہے۔
در یتیم نے اس کے جواب میں نہایت استقلال و جرأت سے ایک ہلکا سا تبسم فرماتے ہوئے کہا، تم یہ سمجھتے ہو کہ میں نے یہ پاک مشن جلب زر یا دنیوی جاہ وحشم کے لئے جاری کر رکھا ہے یا ان چیزوں کی قدر و وقعت سمجھتا ہوا ان کی خواہش رکھتا ہوں۔ بخدا اگر یہ خیال و وہم ہے تو یقیناً غلط۔ یہ تو کیا اگر میرے داہنے ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند بھی رکھ دیا جائے اور مجھے اس پاک مقصد سے روکا جائے تو واللہ تم مجھے ان چیزوں سے بے نیاز ہی پاؤگے۔
اس مسکت جواب سے قریش مکہ کا ماتھا ٹھنکا اور وہ طرح طرح کے خیالات کے خلجان میں راہ گیر ہوئے۔
راستہ بھر آپس میں چہ میگوئیاں ہوتی رہیں۔ کسی نے ساحر کہا، کوئی مجنون بولا، کسی نے شاعر کہا۔ مگر کسی نے یہ نہ کہا کہ تو (نعوذ باللہ) جھوٹا ہے۔ بحمد اللہ دروغگوئی کے الزام سے آپ کا دامن کسی نے داغدار نہیں کیا۔
آہ! سرکار مدینہ کو توسیع رسالت میں وہ کون سا دکھ ہے جو نہ دیا گیا ہو۔ کونسا آزار ہے جو باقی رکھا گیا۔ گالیاں آپ کو دی گئیں۔ مارنے کی دھمکیاں آپ نے سنیں۔ راستوں میں کانٹے آپ کے بچھائے گئے۔ پتھروں اور اینٹوں سے آپ کی تواضع ہوئی۔ دیہاتی چھوکروں سے آوازے آپ پر کسے گئے۔ سجدہ میں نجاست کے بھرے ہوئے اوجھ آپ پر ڈالے گئے۔ گلے میں پھندے آپ نے سہے ۔ شہر بدر آپ ہوئے۔ سر اقدس کی قیمت سو اونٹ آپ کی مقرر ہوئی اور بیسیوں متفقہ یورشیں آپ نے برداشت کیں اور کوئی ایسا فتنہ یا دقیقہ فروگزاشت نہ ہوا۔ جو آپ کی ذات والا تبار پر استعمال نہ کیا گیا ہو۔ لیکن با ایں ہمہ وہ صبر و رضا کا پیکر عفو و حلم کے قالب میں سراپا آرائے رسالت رہا۔ اس کے مبارک لب زبان پہ کبھی حرف شکایت نہ لائے اور اس کے پاک ارادوں میں کبھی شبہ نہ ہوا اور عزم میں فرق نہ آیا۔ اس نے ہر اس تکلیف کو خندہ پیشانی سے لبیک کہا اور ہر برے سے برے ارادے پر صبر عظیم کا سبق سکھلایا اور انتہائی دکھ اور تکالیف کے موقعوں پر پائے استقلال میں کبھی لغزش کو موقعہ نہ دیا۔
وہ امن کا شہزادہ جو رہتی دنیا کو یکجہتی و درس وحدت کی تعلیم سے بہرہ ور کرنے کو مبعوث
٨
ہوا۔ جانتا تھا کہ قدم قدم پر دشمنوں کے نرغے میں ہے اور جس طرح یہ سخت زمین سنگریزوں کو لئے پڑی ہے اس سے کہیں زیادہ سخت اس کے مکین ہیں اور ان کے دل پتھروں سے کہیں زیادہ سخت واقع ہوئے ہیں۔
تاریخ شاہد ہے اور واقعات بتا رہے ہیں کہ یہ وحشی و جاہل لوگ یہ اجڈ و سنگ دل قبائل بنی نوع انسان کی ہمدردی سے کوسوں دور تھے۔ جوا اور شراب ان کی گھٹی میں پڑی تھی۔ ڈکیتی و رہزنی ان کا ادنیٰ مشغلہ تھا۔ جہالت و تعصب گویا ان کے رہبر ہو چکے تھے۔ وہ اس قدر ظالم و بے رحم واقع ہوئے تھے کہ خوف شماتت سے اپنی نوزائیدہ بچیوں کو اپنے ہاتھوں زندہ درگور کرنا کار ثواب اور باعث فخر سمجھتے اور معمولی معمولی باتوں پر آپس میں الجھ جانا ان کے داہنے ہاتھ کا کرشمہ تھا اور اس معمولی خراش کی پاداش میں ہزاروں موت کے آغوش میں سوتے اور ایک ایک نزاع کی طوالت پچاس پچاس برس تک بھی ختم ہونے کو نہ آتی تھی اور یہ جھگڑا کوئی ملک گیری یا کسی اور اہم وجوہ کی بناء پر نہ ہوا کرتا۔ بلکہ اونٹوں کے لب جو پر آنے اور پانی پینے پلانے پر حماقت اور کم علمی کے مظاہروں کے تصدق میں رونما ہوا کرتا تھا۔
خلاق جہاں نے ان درندہ صفات وحوش وبہائم کے لئے ایک ایسی بے نظیر ہستی کو مبعوث فرمایا۔ جس کے قلب میں ان کی بہتری کے لئے اس شدت سے درد موجزن کر رکھا تھا کہ وہ ایک آن واحد کے لئے بھی یہ نہ چاہتا تھا کہ وہ جہالت کے بے پناہ گھٹا ٹوپ اندھیروں میں مقید رہیں۔ اس کی دلی تڑپ اسے لمحہ لمحہ اسی فکر میں دامنگیر رکھتی اور وہ گھنٹوں ان کی بہتری کے وسائل سوچا کرتا۔ جس قدر شدت تکالیف و مصائب آتے۔ اسی قدر دلی محبت اور جذبہ ایثار زیادہ مہربان ہوتا۔ وہ دکھ دیتے اور ستاتے یہ ان کی بہتری اور خوشحالی کی دعائیں کرتا۔ وہ سر اقدس کو جدا کرنے کے حیلے کرتے اور نوع واقسام کے آزار تراشتے اور شمع رسالت کے گل کرنے کی تدبیریں سوچا کرتے اور یہ ان کی سرفرازیاں اور بلند اقبالیاں کے خواب دیکھتا ہوا خلاق جہاں سے دعاء کرتا۔ ”اللهم اهد قومی فانهم لا یعلمون“ ”الہیٰ میری قوم کو ہدایت دے کہ وہ مجھ سے مانوس ہو جائیں۔“ مولائے کریم نے اسی بلند خیالی اور اعلیٰ فطرتی کی بناء پر سرکار مدینہ کو رحمتہ اللعالمین وانک لعلیٰ خلق عظیم کے پاک القاب سے نوازا اور حضور نے اس خطاب رحمانیہ کی عملی تصویر کافۃً للناس کے لئے ابدالآباد تک کر دی۔
اقوام عالم سے پوشیدہ نہیں اور تاریخ دان اس سے انکار نہیں کر سکتے کہ ایک نہایت ہی قلیل زمانہ بھی گزرنے نہ پایا تھا کہ اس کی تعلیم اقطار واکناف میں اس خوبی وعمدگی سے پھیلی اور
٩
اس کو ایسا فروغ حاصل ہوا کہ سارے جزیرۃ العرب میں اس کے غلام عزت کی زندگی اور وقار کا جینا جیتے تھے اور عوام کے دلوں پر یہ نقش کالحجر ہو چکا تھا کہ محمدﷺ کے غلام جھوٹ نہیں بولتے ، کم نہیں تولتے۔ بلکہ جب مسلم کا نام آتا تھا تو سچائی کی گارنٹی سمجھی جاتی تھی۔
کفار عرب سے یا دشمنان شمع رسالت سے انتقام لینے کا وقت یا بدلہ لینے کا موقعہ اس سے اچھا اور کیا ہو سکتا تھا۔ جب کہ وہ در یتیم جسے مکہ سے دھکے دے کر جبراً نکالا گیا تھا۔ ایک لاکھ جان نثاروں کی معیت میں ایک پر شکوہ اور جرار لشکر کی سپہ سالاری کرتا ہوا پرچم توحید یا اسلامی پھریرے ہوا میں اڑاتا ہوا فاتحانہ حیثیت سے مکہ میں داخل ہوا۔
اشرف المخلوقات کے توشہ اخلاق میں سب سے زیادہ نادر و نایاب چیز عفو و درگزر ہے۔ بہت ہی کم وہ لوگ ہیں جنہیں اس اخلاق فاضلانہ سے کچھ بہرہ تفویض ہوا۔ لیکن سرکار مدینہ کی ذات بابرکت میں اس کی اسی قدر فراوانی اور ارزانی تھی۔ جیسے عفو کا ایک سمندر ہے جو ٹھاٹھیں اور موجیں مار رہا ہے۔ درگزر کا ایک بحر بے پایاں ہے کہ لہریں لے رہا ہے۔
گو یہ انسانی تقاضہ میں ایک مسلمہ قانون ہے کہ دشمن سے انتقام لینا ایک انسانی فرض ہے۔ مگر میرے آقا و مولا نے کبھی کوئی ذاتی بدلہ نہیں لیا اور ایسے انتقام کی کبھی خواہش ہی پیدا نہیں ہوئی۔
فتح مکہ کے دن انتقام لینے کا عمدہ موقعہ تھا اور وہ سب کینہ خواہ موجود تھے۔ جو خون کے پیاسے اور جان کے دشمن اور جن کے دست ظلم سے دانت شہید ہوئے۔ سترہ زخم وجود اطہر پہ آئے۔ جان سے زیادہ عزیز چچا شہید ہوا اور شمع رسالت کے سینکڑوں پروانے تہ تیغ کر دیئے گئے اس موقعہ پر کسی کی معذرت خواہی ناممکن اور اعتراف فضول تھا۔ یہ وہ موقعہ ہے جب کہ ہر سیاست دان مجرم کی سزا کا فتویٰ دیتا ہے۔ مگر آپ کے دریائے حلم کے سامنے موج انتقام کی بھلا کیا ہستی تھی۔ گو آپ نے طرح طرح کی اذیتیں اور مصیبتیں اٹھائی تھیں۔ مگر آپ نے یہ کہہ کر سب کو آزاد کر دیا۔
”لا تثريب عليكم اليوم اذهبوا فانتم الطلقاء (زاد المعاد ج ٣ ص ٢٩٥، فصل في الفتح الاعظم) ﴿جاؤ آج تم پر کوئی ملامت نہیں تم سب آزاد ہو۔﴾
جناب فخر دو عالمﷺ کی حیات طیبہ ایسی بے نظیر و بے لوث زندگی تھی جس کی مثال ڈھونڈنے سے نہ ملے۔ چمنستان محمدی کا پتہ پتہ درس وحدت دیتا ہے تو شاخ شاخ درس حریت پیش کرتی۔ اس کے فرحت بخش شگفتہ پھول پژمردہ دلوں میں تازگی و فرحت پیدا کرتے تو کلیاں اطمینان کی ڈھارس بندھاتیں۔ اس کے مقدس شجر اپنے سایہ عاطفت میں قوموں کو لئے ہوئے انبساط کی زندگی پیدا کرتے تو شیریں نہریں مساوات سے سیراب کرتیں۔
١٠
باغ وحدت کی قمریاں اور بلبلیں اس آن سے ترانہ وحدت گاتیں کہ سامعین وجد کی حالت میں جھومتے اور شراب وحدت سے ایسے مخمور ہوتے کہ گھر بار بھول جاتے۔ نہ وہاں صیاد کا خطرہ تھا نہ رہزن کا ڈر۔
گلستان وحدت کا بے نظیر مالی ایسا خوش مقال اور شیریں سخن واقع ہوا تھا کہ اس کے مبارک منہ سے کبھی کسی کو جھڑکی یا گالی نصیب نہ ہوئی۔
وہ کبھی کسی کے در پئے آزار نہ ہوا اور کبھی برے لفظ سے کسی کو یاد نہ کیا۔ اس کی شیریں کلامی اور خوش خلقی کی یہاں تک انتہا ہو چکی تھی کہ اس کی مجلس میں کوئی کسی کی عیب جوئی نہ کرتا اور چغلی نہ کھاتا اور لعنت نہ بھیج دیتا۔ وہ جانوروں پر بھی برے القاب سے یاد کرنے کو برا سمجھتا اور سختی سے اس کو روکتا۔ اسی لئے قرآن مجید نے آپ کو ” انك لعلى خلق عظیم (قلم: ٤)“ کے خطاب سے یاد فرمایا۔ یعنی اے محمدﷺ تم اخلاق کے انتہائی درجہ پر ہو۔ سرکار مدینہ نہایت نرم دل، خندہ جبیں، شیریں بیان، لطیف خو، مہربان طبع، خوش اخلاق اور نیکو سیرت تھے۔ ان کی ذات بابرکات میں سخت مزاجی اور عیب جوئی اور تنگ گیری نہ تھی۔ آپ عموماً ان چیزوں سے اجتناب کرتے۔ بحث و مباحثہ ضرورت سے زیادہ بات کرنا کسی کو برا کہنا کسی کی عیب گیری کرنا۔ کسی کے اندرون حالات کی تہ کو ٹٹولنا۔ غرضیکہ آپ اس قدر نرم خو تھے کہ کسی دوسرے کی تکلیف سے اس قدر متاثر ہوتے کہ جب تک اس کو رفع نہ فرما لیتے چین نہ آتا۔ آپ کے سامنے کوئی کسی کی ہجو کرتا تو منع فرماتے اور کوئی چغلی کھاتا تو فرماتے ”ايحب احدكم ان يأكل لحم اخيه ميتا (حجرات: ١٢)“ کیا تم میں یہ کوئی پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھاوے۔ ﴾
سرکار مدینہ کی ذات والا تبار میں انکساری کی اس قدر فراوانی تھی کہ کبھی زندگی بھر غرور نہ کیا، نخوت نہ جتائی، پیوند خود لگائے ، اونٹوں کو چارہ خود ڈالا ، گھر کے کام خود انجام دیئے ، آٹا گوندھا، آگ جلائی، جنگل سے لکڑیاں خود لائے۔ اس کے علاوہ رانڈوں اور بیواؤں کو سودا سلف لا کر دیئے۔
آپ کا یہ بھی معمول تھا کہ ملاقات کے وقت ہمیشہ پہلے السلام علیکم کہتے اور مصافحہ فرماتے اور جب تک وہ ہاتھ نہ کھینچتا آپ ہاتھ نہ ہٹاتے۔ کہاں تک قلم بند کروں اور کس کو طاقت ہے کہ شمار کرے۔ حضور کے محاسن اس قدر ہیں کہ وہ شمار ہی نہیں ہو سکتے۔ اس لئے صرف اسی پر اکتفا کرتا ہوں کسی نے کیا خوب کہا ہے۔
نہ ہوتا قفل گر منہ پہ تو بتلاتے کہ کیا تو تھا
١١
تمہید
قادیان کے پنجابی نبی مرزا غلام احمد قادیانی کی تاریخ کی اوراق گردانی سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ان کا خاندان فلک بے پیر کی مہربانیوں سے تختہ جورو جفا بن کر مفلوک الحال اور تنگ دستی کی آماجگاہ بن چکا تھا۔ اس کے افراد اکثر زمانہ کی چکی نے پیس دیئے تھے اور جو باقی تھے وہ مظلومیت وفاقہ مستی کی تصویریں نظر آتے تھے۔ مرزا قادیانی کے دادا ابا جن کا نام عطاء محمد تھا۔ حکومت برطانیہ کی مہربانی سے سات سو روپیہ سالانہ اعزازی پنشن پاتے تھے اور کہا جاتا ہے کہ یہ پنشن کسی جدی خدمات یا جاگیر کی ضبطی کی صورت میں تھی۔ وہ جب تک جیتے رہے یہ صلہ وفاداری برابر ملتا رہا۔ مگر جب مر گئے تو حکومت نے ان کے بھائی پر اسی مناسبت کے لحاظ سے فراخ دلی کا ثبوت دیتے ہوئے یک صد اسی روپیہ سالانہ پنشن مقرر کر دی۔ مرزا قادیانی کے تایا صاحب برابر خزانہ عامرہ سے پندرہ روپیہ ماہوار لیتے رہے۔ ان دنوں میں مرزا قادیانی اور ان کے بھائی غلام قادر چھوٹے چھوٹے تھے۔ مگر تایا صاحب کی فوتیدگی پر یہ پنشن بھی حکومت نے بند کر دی اور اس کی وجہ بظاہر تو یہ معلوم ہوتی ہے کہ مرزا قادیانی اور ان کے بھائی اب جوان ہو چکے تھے اور مرزا قادیانی کے والد حکیم غلام مرتضیٰ تھوڑی بہت حکمت، پنشن اور زمینداری سے ان کے نان ونفقہ کا انتظام کر سکتے تھے۔ چونکہ یہ خاندان آبائی حیثیت سے گورنمنٹ برطانیہ کی خیر خواہی کا دم بھرتا آتا تھا۔ اس لئے بھی کہ وہ زمانہ تعلیم سے بے بہرہ تھا اور خواندہ لوگ خال خال تھے۔ رموز مملکت کی سیاسی تدبیروں کے تصدق میں اسی علاقہ میں قرعہ فال بنام مرزا غلام مرتضیٰ پڑا اور کہا جاتا ہے کہ ان کو گورنری دربار میں کرسی نشین کی سند عطاء ہوئی اور فی الواقعہ وہ اس کے مستحق بھی تھے۔ سیدھے سادھے سفید پوش حکومت کے سچے جان نثار اور عاشق زار تھے۔ خدا بخشے اپنی عمر اچھی گزار کر داعی ملک عدم ہوئے اور یہ وہ زمانہ تھا۔ جب کہ حکومت برطانیہ ایسٹ انڈین کمپنی کے نام سے ہندوستان میں سریر آرا تھی اور حسن تدبیر و تنظیم کے تصدق میں رفتہ رفتہ حکمرانی کے مراتب تک پہنچی۔ ان دنوں میں زبان انگریزی کا ہندوستان میں ایک ایسا قحط تھا جس کی مثال آج ڈھونڈے سے نہیں ملتی۔ آج بی۔اے اور ایم۔اے کی ڈگریاں لئے خراب وخستہ حال تلاش روزگار میں دربدر بھٹک رہے ہیں۔ مگر اس زمانہ میں علمی فقدان کے باعث حکومت پریشان تھی کہ کس طرح حکومت کی اسامیاں پر کرے۔
چنانچہ عوام پر تسلط قائم کرنے کے لئے اور رعیت کے دلوں میں گھر کرنے کے لئے ١٢
حکومت کو سخت ضرورت محسوس ہوئی کہ کچھ ایسے ہندوستانی تلاش کئے جائیں ۔ جو حکومت کے دلی خیر خواہ اور سچے عقیدت کیش ہوں اور جن کی وساطت سے عوام الناس کو یہ یقین دلا دیا جائے کہ ہماری حکومت ، عدل و انصاف ، قانون و مساوات کے اصولوں پر قائم کی گئی ہے اور وہ ہر ممکن طریق سے رعایا کی خوشحالی و بہبودی کے لئے کوشاں رہے گی ۔
چنانچہ مدبران حکومت نے تمام علاقوں سے اردو، فارسی، عربی خواندہ اصحاب تلاش کئے اور ان کے مختصر خاندانی حالات کو قلمبند کر کے حکومت کے ارباب بست و کشاد کی خدمت میں پیش کیا ۔ حکومت نے انہیں حسب مراتب عہدے اور خطاب دیئے اور بعض کو جاگیریں اور وظائف سے مالا مال کر کے حکومت کا سچا بہی خواہ اور نمک خوار ٹوڈی بننے پر مجبور کر دیا ۔ چنانچہ اسی زمرے میں مرزا قادیانی کے دادا بھی آگئے ۔ اس کے بعد عنان حکومت ملکی بہبودی کی طرف مبذول ہوئی ۔ جابجا علمی درسگاہیں اور مدرسے ، شفا خانے اور پولیس سٹیشن کھول دیئے ۔ اسی جہالت کے دور میں یا علمی قحط کے زمانے میں ( بقول نیولائٹ ) مسلمانوں کی بدقسمتی سے ان کی باگ ڈور ایسے خشک ملاؤں کے ہاتھ میں تھی ۔ جنہیں سیاست میں بہت کم حصہ ملا تھا اور جو اتنا بھی نہ سمجھ سکے کہ وقت کا سگنل یہ تقاضہ کرتا ہے کہ حکومت کے خواب گراں سے جب بری طرح بیدار ہو چکے ۔ پھر آنکھیں بند کرنے سے خواب تصور کرنا حماقت ہے۔ دور حاضر میں جو رو بہہ رہی ہے تم بھی اسی میں کود جاؤ ۔ مگر افسوس انہوں نے ایسا نہیں کیا ۔ بلکہ انگریزی زبان کے خلاف ایک جہاد بالقلم شروع کر دیا اور ہر چہار طرف سے فتویٰ دیئے گئے کہ انگریزی پڑھنے سے کافر ہو جاؤ گے ۔ یہ ایسی افتاد پڑی جس کی تلافی کی سزا ہم آج تک بھگت رہے ہیں ۔ مگر خدا جانے کہ اس کی شام کب ہو گی ۔
اصل میں مسلمان قوم شاہی دماغ کی بو سے معطر تھی ۔ وہ حکمرانی ایک دو برس نہیں ہزاروں برس کر چکی تھی ۔ اس کے سامنے اسلاف کے کارنامے موجود تھے اور ان کی یادگاریں زبان حال سے یہ پتہ دے رہی تھیں ۔
پتہ دیتی ہے شوخی نقش پا کی
بہر حال برادران عزیز مفتوح ہونے پر بھی فاتحانہ نشہ نہ بھولے اور اسی لے میں مگن رہے ۔ مگر ہمسایہ قوم جسے حکومت کا خواب مدتوں سے محو ہو چکا تھا اور جن کے سامنے اسلامی سربفلک عمارتیں مسلمانوں کا ماتم کرتے دکھائی دیتی تھیں ۔ وقت کی نزاکت کو محسوس کئے بغیر نہ
١٣
رہے۔ انہوں نے حکومت کی آواز کا خیر مقدم کیا اور بلا سوچے اس میں کود پڑے۔ ان دنوں میں چونکہ حکومت کو ہزاروں اسامیوں کے پُر کرنے کی فوری ضرورت تھی۔ پرائمری کے طالب علم غنیمت سمجھے جاتے تھے اور مڈل اور انٹرنس تو گویا آج کل کی بی۔ اے۔ بی۔ ٹی سے کم نہ تھی۔
چنانچہ ایسے قیمتی زمانہ میں جب کہ علمی قحط الرجال ہو۔ کسی کا کرسی نشین ہو جانا یا اعزازی پنشن حاصل کر لینا کون سا اچنبہ خیز معاملہ ہے اور یہ تو وہ زمانہ تھا کہ چار پانچ جماعت کی قابلیت کے آدمی ریلوے گارڈ کے فرائض سرانجام دیا کرتے تھے۔ جنہیں گلابی انگریزی بولنا بھی نہ آتا تھا۔ ذیل کا افسانہ دلچسپی کے لئے پیش کیا جاتا ہے۔
ایام سلف کا ایک افسانہ
سردار نہال سنگھ وجیہ نوجوان تھے اور تعلیم سے بھی کچھ افادہ حاصل کر چکے تھے۔ ریلوے گارڈ کی اسامی پر تعین کئے گئے۔ اس زمانہ میں برقی قمقمے نہ ہوا کرتے تھے۔ بلکہ تیل کے معمولی لیمپ جلا کرتے تھے اور چونکہ پبلک اس قدر تیز رفتاری سے مانوس نہ تھی۔ بلکہ اس مہیب بھاری بھرکم سیاہ انجن کو دیکھ کر سہم جایا کرتی تھی۔ یا دیوتا سمجھ کر اس کے آگے پرنام ڈنڈوت کر دیا کرتی تھی۔
سوء اتفاق سمجھو یا کوئی طوفان باد کہو ہوا کی شدت سے یا آندھی کی کثرت سے گاڑی کے لیمپ بیک جنبش گل ہوئے۔ گھٹا ٹوپ اندھیرا جونہی طاری ہوا ایک کہرام مچ گیا۔ خلقت یوں گھبرائی، گویا قیامت صغریٰ ہے جو بپا ہو گئی۔ اس شور و غوغا اور ہا ہا ہی سے گارڈ صاحب کی عنان توجہ بھی مبذول ہونے سے نہ رہ سکی۔ وہ بھی پگڑی سنبھالتے گرتے پڑتے وقت کی نزاکت کا مطالعہ کرنے لگے۔ مگر طوفان باد کے سامنے ان کی حقیقت ہی کیا تھی اور وہ کر ہی کیا سکتے تھے۔ بہر حال وہ خاموش نہیں رہے۔ ایسے بہت کچھ تسلی و تشفی کرتے ہوئے فرمانے لگے۔ گھبراؤ نہیں ہم اس کا خاطر خواہ انتظام کئے دیتے ہیں۔ میں ابھی افسران بالا کو تار کرتا ہوں۔
چنانچہ آپ نے بڑی پھرتی سے یہ تار لکھی۔
سر دی لیمپس آر بھوجنگ بائی دی ہوا ۔ اف اینی حرج مرج ٹو ٹرین نہالا گاڈ از ناٹ ذمے دار
اوائل زمانہ کے ایسے ہی حالات اکثر سننے میں آئے ہیں۔ چنانچہ مرزائی تاریخ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ مرزا قادیانی کا خاندان ایک معمولی زمیندار کی حیثیت سے تھا۔ مرزا غلام احمد قادیانی خاندانی ادبار کی وجہ سے مجبور ہوئے کہ تلاش معاش میں وطن عزیز کو خیر باد کہیں اور کہیں پیٹ کے دھندے کا خاطر خواہ انتظام کریں۔ چنانچہ سیالکوٹ میں بڑی مشکل سے خاندانی وجاہت
١٤
کے لحاظ سے پندرہ روپیہ ماہوار کی اسامی کچہری میں مل گئی۔ جسے ایک کافی مدت تک مرزا قادیانی کے ساتھ رفیق رہنا پڑا۔ مرزا قادیانی اچھے خاصے منشی آدمی تھے اور انہوں نے بڑی محنت سے متعدد استادوں سے تعلیم حاصل کی تھی اور جن میں سے فضل الٰہی، فضل احمد اور گل علی شاہ قابل ذکر ہیں اور ویسے بھی مرزا قادیانی نکمے اور کوڑ مغز نہ تھے۔ بلکہ نہایت ذہین اور محنتی تھے۔ چنانچہ وہ جس زمین پر مطالعہ کیا کرتے تھے اور سبق کو یاد فرمایا کرتے تھے وہ پاؤں کے بار بار پڑنے کی وجہ سے دب گئی تھی۔ باوجودیکہ اس قدر انہماک تعلیم اور محنت شاقہ کے وہ ایک معمولی سے امتحان مختاری میں فیل ہوئے۔ جس کی وجہ سے ان کی کمر ہمت ٹوٹ گئی اور نوکری سے طبیعت متنفر ہوئی اور بسر اوقات کی مشکلات نے دل ایسا کھٹا کیا کہ مجبوراً کوئی اور شغل اختیار کرنا پڑا۔
وطن کی یاد اور عزیز واقارب کی مفارقت سے دل بھر آیا تو زمانہ کی کج رفتاری کا ماتم کرتے ہوئے قادیان مراجعت فرما ہوئے۔
قادیان میں بھلا کیا دھرا تھا گو وطن تھا۔ مگر روزگار نہ تھا اور کنبہ بھر کی عیالداری کی ضروریات سامنے تھیں۔ اس لئے یہ وطنی محبت بھی کچھ بھلی معلوم نہ ہوتی تھی۔ گو تھوڑا سا دسترس حکمت میں بھی آپ رکھتے تھے۔ تھوڑی بہت زمینداری بھی تھی۔ مگر زمانے کی ضرورت اس سے کہیں زیادہ تھیں۔ بہت سوچا اور بہتیرا سر پٹکا مگر کم بخت غربت کا برا ہو۔ کوئی علاج کارگر نظر نہ آیا۔ حیران تھے کیا کریں پریشان تھے۔ کس کو کہیں، مضطرب تھے۔ کہاں جائیں، غرضیکہ دن بھر اسی سوچ و بچار میں ہوائی قلعوں کی ادھیڑ بن اور شکست وریخت میں غلطان وپیچان رہتے اور رات کروٹیں بدلتے تمام ہوتی۔ عجیب پراگندگی کا زمانہ تھا۔ نہ دن کو چین نہ رات کو آرام نصیب ہوتا تھا۔
المختصر ! رائے صاحب سیالکوٹی کی تجویز کو عملی جامہ پہنانے کی ٹھانتے ہوئے براہین احمدیہ کی ترتیب میں مشغول ہوئے اور اسلامی خدمت کو نصب العین قرار دیتے ہوئے اسلامی مصنف کی شان میں مناظرہ کا علم بلند کرتے ہوئے خادم دین کی تصویر میں نمودار ہوئے۔
آپ کی پیدائش ١٨٤٠ء میں ہوئی اور اس تاریخ سے لے کر کامل ١٩٠٠ء تک یعنی اس ساٹھ سالہ مدت عمر میں آپ کو کبھی نبوت کا وہم بھی نہ گزرا اور آپ کا دماغ اس خبط نابکار سے آلودہ نہ ہوا۔ بلکہ آپ کا ایمان عقائد صحیحہ پر رہا۔ چنانچہ قارئین کرام کی ضیافت طبع کے لئے مبلغ پانچ عدد سرکلر مرزا آنجہانی کے پیش کئے جاتے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں۔
تصویر مرزا کا ایک رخ
- ١...... ”وہ تمام امور جن میں سلف صالح کا اعتقادی اور علمی طور پر اجتماع تھا اور
وہ امور جو اہل سنت کی اجماعی رائے سے اسلام کہلاتے ہیں۔ ان سب کا ماننا فرض ہے اور ہم آسمان اور زمین کو اس بات پر گواہ کرتے ہیں کہ یہی ہمارا مذہب ہے۔“
(ایام صلح ص ٨٧، خزائن ج ١٤ ص ٣٢٣)
اعلان عام ٢ اکتوبر ١٨٩١ء ختم نبوت کا اقرار
- ٢...... ”میں ان تمام امور کا قائل ہوں جو اسلامی عقائد میں داخل ہیں اور جیسا
کہ سنت جماعت کا عقیدہ ہے اور ان سب باتوں کو مانتا ہوں جو قرآن وحدیث کی رو سے مسلم الثبوت ہیں اور سیدنا مولانا حضرت محمد مصطفے ﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ ﷺ پر ختم ہوگئی۔ اس میری تحریر پر ہر ایک شخص گواہ رہے۔“
(تبلیغ رسالت ج ٢، مجموعہ اشتہارات ج ١ص٢٣٠، ٢٣١)
انکساری و عاجزی کے رنگ میں
- ٣...... ”ہم اس بات پر بھی ایمان رکھتے ہیں کہ جو راستباز اور کامل لوگ شرف
صحبت آنحضرت ﷺ سے مشرف ہو کر تکمیل منازل کا سلوک کر چکے ہیں۔ ان کے کمالات کی نسبت بھی ہمارے کمالات اگر ہمیں حاصل ہوں۔ تو بطور ظل کے واقعہ ہیں اور ان میں بعض ایسے جزئی فضائل ہیں۔ جو اب ہمیں کسی طرح حاصل نہیں ہو سکتے ۔“
(ازالہ اوہام ص ١٣٨، خزائن ج ٣ ص ١٧٠)
میں تو صحابہ کرام کا خاک پا بھی نہیں ہوں
- ٤...... ”میرے لئے کافی فخر ہے کہ میں ان لوگوں (صحابہ کرام) کا مداح اور
خاک پا ہوں جو جزئی فضیلت خدا تعالیٰ نے انہیں بخشی ہے۔ وہ قیامت تک کوئی اور شخص نہیں پاسکتا۔ کیا دوبارہ محمد ﷺ دنیا میں پیدا ہوں اور پھر کسی کو ایسی خدمت کا موقعہ ملے جو جناب شیخین علیہما السلام کو ملا۔“
(اخبار الحکم قادیان ج ٣ نمبر ٢٩ مورخہ ١١؍ اگست ١٨٩٩ء، ملفوظات ج ١ ص ٣٢٦)
جو شخص شریعت محمدی میں ذرہ بھی دخیل ہو وہ لعنتی ہے
- ٥...... ”میرا اعتقاد یہ ہے کہ میرا کوئی دین بجز اسلام کے نہیں اور میں کوئی کتاب
بجز قرآن کے نہیں رکھتا اور میر اور برکتیں نازل کی ہیں اور ا ہے اور رسول اللہ ﷺ کی حد کو قبول کرتا ہوں جو کہ اس ہوں اور نہ ان میں کوئی کمی او جو شخص ذرہ بھر بھی شریعت محمد فرشتوں اور تمام انسانوں کی
تعجب نہیں حیر
ساٹھواں سال آخری ساعـ صد ہا بیماریوں کی وہ جولانـ درہم برہم نہ ہوا تھا۔ بلکہ عقـ سے پکے مسلمان تھے۔ گو ان ہر ایک انسان اپنے اعمال کیوں براہین احمدیہ کی بچا ہمیں اس سے کچھ بھی سروکـ انگریزی تفسیر کلام مجید کا وعـ حالانکہ اس کے متعلق ڈاکـ ثابت ہوئی۔ ہمیں یہ سوال اللہ والوں کی آمد رحمت الـ وسعت کے لئے چندہ مانـ جیسوں سے دن دہاڑے باتوں سے کچھ غرض نہیں اور ابھی تک براہین احمد ہوئی تھیں اور نہ ہی کھلم کھلا
خدا جانے اِس کی تابڑ توڑ کوششیں اور لگـ
بجز قرآن کے نہیں رکھتا اور میرا کوئی پیغمبر بجز محمد مصطفے ﷺ کے نہیں۔ جس پر خدا نے بے شمار رحمتیں اور برکتیں نازل کی ہیں اور اس کے دشمنوں پر لعنت بھیجی ہے۔ گواہ رہ کہ میرا تمسک قرآن شریف ہے اور رسول اللہ ﷺ کی حدیث کی جو چشمہ حق و معرفت ہے۔ میں پیروی کرتا ہوں اور تمام باتوں کو قبول کرتا ہوں جو کہ اس خیرالقرون باجماع صحابہ صحیح قرار پائی ہیں۔ نہ ان پر کوئی زیادتی کرتا ہوں اور نہ ان میں کوئی کمی اور اسی اعتقاد پر میں زندہ رہوں گا اور اسی پر میرا خاتمہ اور انجام ہوگا اور جو شخص ذرہ بھر بھی شریعت محمدیہ میں کمی بیشی کرے یا کسی اجماعی عقیدہ کا انکار کرے اس پر خدا اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہو۔
(انجام آتھم ص ١٤٣، ١٤٤، خزائن ج ١١ ص ایضاً)
تعجب نہیں حیرت ہے افسانہ نویسی نہیں حقیقت ہے۔ گو مرزا قادیانی کی عمر کا یہ ساٹھواں سال آخری ساعتوں پر قریب الاختتام تھا اور جوانی کے ماتم کی یہ بیسیوں نوبت تھی گو صد ہا بیماریوں کی وہ جولانگاہ قرار پاچکے تھے۔ مگر توازن دماغ ابھی قائم تھا۔ وہ اس وقت تک درہم برہم نہ ہوا تھا۔ بلکہ عقیدہ سلف پر آپ بڑی سختی سے کاربند تھے اور وہ اسلامی عقائد کے لحاظ سے پکے مسلمان تھے۔ گو ان کا طرز عمل کچھ اور تھا۔ مگر ہمیں اس میں دخل دینے کی ضرورت نہیں۔ ہر ایک انسان اپنے اعمال کی وجہ سے جواب دہ ہوگا۔ ہمیں اس سے کچھ غرض نہیں کہ انہوں نے کیوں براہین احمدیہ کی پچاس جلدوں کا وعدہ دے کر روپیہ اینٹھا اور صرف پانچ جلدیں دیں۔ ہمیں اس سے کچھ بھی سروکار نہیں کہ لنگر کے نام پر بہت کچھ سمیٹا۔ ہمیں اس سے بھی تعلق نہیں کہ انگریزی تفسیر کلام مجید کا وعدہ کیا اور انگریزی کو اپنی تین تہجدوں کی مار بتایا۔ مگر وعدہ ایفاء ہی نہ کی۔ حالانکہ اس کے متعلق ڈاکٹر عبدالحکیم خان نے بہت سے خطوط میں توجہ دلائی۔ مگر صدا بہ صحرا ہی ثابت ہوئی۔ ہمیں یہ سوال کرنے کا کوئی حق نہیں کہ طاعون کے لئے کیوں دعاء کی گئی۔ حالانکہ اللہ والوں کی آمد رحمت الٰہی کے مترادف ہوا کرتی ہے۔ ہمیں یہ بھی جتلانا منظور نہیں کہ مکان کی وسعت کے لئے چندہ مانگنے کی وجہ پلیگ بتا کر کشتی نوح کیوں قرار دیا اور سادہ مزاج لوگوں کی جیبوں سے دن دہاڑے ڈاکے ڈال کر دو ہزار روپیہ کیوں اینٹھ لیا گیا۔ ہمیں ایسی اور سینکڑوں باتوں سے کچھ غرض نہیں۔ بہر حال وہ ١٩٠٠ء تک عقائد کی رو سے اسلامی برادری میں شامل تھے اور ابھی تک براہین احمدیہ کا مداری پٹارہ نہ کھلا تھا اور اس کی مقفہ عبارتیں شہادت میں نہ پیش ہوئی تھیں اور نہ ہی کھلم کھلا کوئی دعویٰ تراشا گیا تھا۔
خدا جانے اس کے بعد کیا سوجھی اور کمبخت کچپچی کیوں ہاتھ دھو کر پیچھے پڑ گیا۔ جس کی تابڑ توڑ کوششیں اور لگا تار الہام باری ساون کی بارش کے مترادف ہوئی اور جو عقیدہ سلف کو اپنی
اس رو میں بہا لے گئی۔ چنانچہ موسیو بشیر الدین کا ایک مضمون اسی ضمن میں ملاحظہ فرمائیں۔ جو انشاء اللہ دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔
موسیو بشیر الدین محمود خلیفہ ثانی کے سرکلر
نمبر ١: حقیقت النبوۃ ص ١٢١ پر فرماتے ہیں کہ ”اس میں ثابت ہوتا ہے کہ ١٩٠١ء میں آپ نے اپنے عقیدے میں تبدیلی کی ہے اور ١٩٠٠ء ایک درمیانی عرصہ ہے جو دونوں خیالات کے درمیان برزخ کے طور پر حد فاصل ہے۔ پس یہ ثابت ہے کہ ١٩٠١ء سے پہلے کے وہ حوالے جن میں آپ نے نبی ہونے سے انکار کیا۔ اب منسوخ ہیں اور ان سے حجت پکڑنا غلطی ہے ۔“
مرزائیو! زور سے کہو آمنا باللہ و بروزی رسول!
سرکلر نمبر ٢
القول الفصل ص ٢٤ پر فرماتے ہیں۔
”غرض مذکورہ بالا حوالہ سے ثابت ہے کہ تریاق القلوب کی اشاعت تک آپ کا عقیدہ یہی تھا کہ آپ کو حضرت مسیح پر جزوی فضیلت ہے اور آپ کو جو نبی کہا جاتا ہے تو یہ ایک قسم کی جزوی فضیلت ہے اور ناقص نبوت لیکن بعد میں جیسا کہ نقل کردہ عبارت فقرہ دو اور تین سے ثابت ہے۔ آپ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے معلوم ہوا کہ آپ ہر ایک شان میں مسیح سے افضل ہیں اور کسی جزوی نبوت کے پانے والے نہیں بلکہ نبی ہیں۔ ہاں ایسے نبی جن کو آنحضرت ﷺ کے فیض سے نبوت ملی۔ پس ١٩٠٢ء سے پہلے کی کسی تحریر سے حجت پکڑنا بالکل جائز نہیں ہو سکتا ۔“
مرزائیو ! بلند آواز سے کہو لبیک یا خلیفۃ المسیح
تریاق القلوب مصنفہ مرزا ١٨٩٩ء میں شروع ہوئی۔ ١٩٠٢ء میں پایہ تکمیل کو پہنچی۔ چنانچہ یہ مسلمہ بات ہے کہ ١٩٠١ء میں امت مرزائیہ ان عقائد کی پابند ہوئی اور اسی پر بنائے ایمان قرار دی گئی اور آج جو یہ دوسری شاخ ڈیڑھ اینٹ کی خانقاہ لئے کھڑی ہے اور جس کے پادری محمد علی صاحب امیر رہے ہیں۔ ان کے بھی یہی عقائد تھے اور اب تک ہیں اس کے لئے کافی سے زیادہ ثبوت ہمارے پاس موجود ہیں اور آج کل کا قصہ عقائد کی بنا پر نہیں۔ یہ تو ہاتھی کے دانت ہیں رونا تو سارا خلافت کا تھا کہ حکیم نور الدین کیوں خلیفہ بنائے گئے اور یار لوگ انتظار جاناں ہی میں رہے۔ مگر موسیو بشیر الدین محمود بھی کوئی کچی گولیاں نہ کھیلے تھے اور مرزا قادیانی کی اس قدر محنت شاقہ کو وہ جانتے تھے کہ یہ سلسلہ کس لئے قائم کیا گیا اور اس کے نتائج کیا ہوں گے۔ بہر حال انہوں نے عقل مندی سے کام لیا اور ہار خلافت ایک مرد بیمار اور
١٨
بوڑھے کے کندھوں پر رکھا۔ جس سے یہ مقصود تھا۔
چنانچہ نتیجہ ان کے حسب خواہش ہوا اور دیرینہ تمنائیں بر آئیں اور یہی وہ چاہتے تھے۔ چنانچہ وہ پادری محمد علی صاحب کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں۔
سرکلر نمبر ٣
”تبدیلی عقیدہ مولوی (محمد علی) صاحب تین امور کے متعلق بیان کرتے ہیں۔ اوّل...... یہ کہ میں نے مسیح موعود کے متعلق یہ خیال پھیلایا ہے کہ آپ فی الواقعہ نبی ہیں۔ دوئم...... یہ کہ آپ ہی آیت و مبشراً برسول یاتی من بعدی اسمه احمد کی پیش گوئی مذکورہ کلام مجید کے مصداق ہیں۔ سوئم...... یہ کہ کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا۔ وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ میرے یہ عقائد ہیں۔ لیکن اس بات کو تسلیم نہیں کرتا کہ ١٩١٤ء یا اس سے تین چار سال پہلے سے میں نے یہ عقائد اختیار کئے ہیں۔“
(آئینہ صداقت ص ٣٥، مصنفہ بشیر الدین محمود خلیفہ قادیان)
حالانکہ پادری محمد علی صاحب کا بھی یہی اعتقاد ہے وہ بھی مرزا کو خاتم النبیین اور اسی زمانے کا رسول مانتے ہیں۔ مگر مصلحتاً ١٩١٤ء کے بعد وہ اپنے رویہ کو ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور کے مصداق صرف غریب مسلمانوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کے لئے ان عقائد کو بظاہر تسلیم نہیں کرتے۔ ورنہ درحقیقت وہ بقول شخصیکہ؎
ایک ہے نسل یزید اور دوسرا ابن زیاد
چنانچہ ان کے اپنے قلمی عقائد قارئین کرام کی دلچسپی کے لئے پیش کئے جاتے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں۔
مسیح موعود کا انکار آنحضرت ﷺ کا انکار ہے
”جو مسیح موعود کا انکار کرتا ہے۔ وہ گویا آنحضرت ﷺ کا انکار کرتا ہے۔“
(پیغام صلح اپریل ١٩٣٣ء)
اعلان
”ہمارا ایمان ہے کہ حضرت مسیح موعود مہدی معہود علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے سچے رسول
١٩
تھے اور اس زمانہ کی ہدایت کے لئے دنیا میں نازل ہوئے اور آج آپ کی متابعت میں ہی دنیا کی نجات ہے اور ہم اس امر کا اظہار ہر میدان میں کرتے ہیں اور کسی کی خاطر ان عقائد کو بفضل تعالیٰ نہیں چھوڑ سکتے ۔"
(پیغام صلح ٧ ستمبر ١٩١٦ء)
ایک غلط فہمی کا ازالہ
"معلوم ہوا ہے کہ بعض احباب کو کسی نے غلط فہمی میں ڈالا ہے کہ اخبار ہذا پیغام صلح کے ساتھ تعلق رکھنے والے احباب یا ان میں سے کوئی ایک سیدنا و ہادینا حضرت مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مدارج عالیہ کو اصلیت سے کم یا استخفاف کی نظر سے دیکھتا ہے۔ ہم تمام احمدی جن کا کسی نہ کسی صورت میں پیغام صلح سے تعلق ہے۔ خدا تعالیٰ کو جو دلوں کے بھید جاننے والا ہے۔ حاضر ناظر جان کر علی الاعلان کہتے ہیں کہ ہماری نسبت اس قسم کی غلط فہمی بہتان ہے۔ ہم حضرت مسیح موعود و مہدی معہود کو اس زمانہ کا نبی رسول اور نجات دہندہ مانتے ہیں اور جو مقام حضرت نے اپنا بیان فرمایا ہے اس سے کم و بیش کرنا موجب سلب ایمان سمجھتے ہیں۔ ہمارا ایمان ہے کہ اب دنیاوی نجات حضرت نبی کریم ﷺ اور آپ کے غلام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ایمان لائے بغیر نہیں ہوسکتی۔"
(پیغام صلح ١٦ اکتوبر ١٩١٣ء)
خاکساران مولوی محمد علی ۔ صدر الدین بی ۔ اے۔ بی ٹی۔ خان صاحب، ڈاکٹر سید محمد حسین، محمد منظور الٰہی مرزا، ڈاکٹر یعقوب بیگ۔ یعقوب خان بی ۔ اے۔ بی ٹی۔ سید غلام مصطفےٰ ہیڈ ماسٹر ، محمد دین جان بی ۔ اے۔ ایل ۔ ایل ۔ بی، ڈاکٹر سید طفیل حسین ۔ عزیز بخش بی ۔ اے وغیرہ۔
- ١....... "حضرت مرزا صاحب کو منہاج نبوت پر پرکھو۔"
(ریویو ج ٢ نمبر ٧ بابت ماہ جولائی ١٩٠٧ء ص ٢٧٤)
- ٢....... "حضرت مرزا صاحب کو انبیاء سابقین کے معیار پر پرکھو۔"
(ریویو ج ٤ نمبر ١٢ بابت ماہ دسمبر ١٩٠٥ء ص ٤٦٩)
"جب ہم کسی شخص کو مدعی نبوت کہیں گے تو اس سے مراد یہ ہوگی کہ وہ واقعی نبوت کا مدعی ہے یا بالفاظ دیگر کامل نبوت کا مدعی ہے۔"
(النبوۃ فی الاسلام ص ٢٣٠)
- ٣....... "حضرت مرزا صاحب مدعی نبوت ہیں۔"
(ریویو ج ٤ نمبر ١٢ بابت ماہ دسمبر ١٩٠٥ء ص ٤٦٤)
- ٤....... "حضرت مرزا صاحب غلام احمد قادیانی ہندوستان کے مقدس نبی ہیں۔"
(ریویو ج ٤ نمبر ١١ ص ٤١١، ریویو ج ٦ نمبر ٣ ص ٩٦ ، مارچ ١٩٠٧ء)
٢٠
- ٥....... ”حضرت مرزا صاحب نبی آخرالزمان پیغمبر آخرالزمان ہیں۔“
(ریویو ج٦ نمبر٣ ص٩٠،٩٩، مارچ ١٩٠٧ء)
آنحضرت ﷺ کے بعد ایک نبی کے آنے کی پیشین گوئی فارسی الاصل رجل من ابناء فارس کے متعلق جو پیشین گوئی وارد ہوئی ہے اس کی خبر قرآن شریف میں ہے۔ چنانچہ سورہ جمعہ میں آیا ہے۔ ”هو الذی بعث ......تا......هو العزيز الحکیم“ ”خدا تو وہ ہے جس نے انہیں لوگوں میں سے یہ رسول مبعوث کیا کہ انہیں اس کی آیات سنائے اور انہیں پاک بنائے اور کتاب وحکمت کی انہیں تعلیم دے۔“ گو وہ پہلے صریح غلطی میں پڑے ہوئے تھے اور نیز آخری زمانہ میں ایک ایسی قوم ہوگی جو ابھی ان میں شامل نہیں ہوئی۔ وہ قوم بھی انہی لوگوں کے ہم رنگ ہوگی اور ان میں بھی اسی طرح نبی مبعوث ہوگا۔ جو اس کی آیات سنائے گا اور انہیں پاک بنائے گا اور ان کو کتاب وحکمت کی تعلیم دے گا۔“
(ریویو ج٦ نمبر٣ ص٩٦، بابت ماہ مارچ ١٩٠٧ء)
چالیس کروڑ مسلمان یہودی ہیں
”سلسلہ احمدیہ اسلام کے ساتھ وہی تعلق رکھتا ہے جو عیسائیت یہودیت کے ساتھ ہے۔“
(ریویو ج١ ص٨١)
ناظرین کرام آپ نے تصویر کا ایک پہلو اختصاراً ملاحظہ فرمالیا۔ اب دوسرا پہلو بھی ملاحظہ فرمائیں۔
دیکھ کر آیا ہوں بندے کا خدا ہو جانا
تصویر مرزا کا دوسرا رخ مرزا قادیانی کے لئے تین لاکھ معجزے
”میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے مجھے بھیجا ہے اور اس نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے اور اس نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہر کئے ہیں جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)
مرزا آنجہانی ہزار نبیوں کے مصداق تھے
”خدا تعالیٰ نے اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں۔ اس قدر نشان دکھلائے کہ وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔ لیکن
٢١
پھر بھی وہ لوگ جو انسان میں سے شیطان ہیں نہیں مانتے۔‘‘
(چشمہ معرفت ص ٣١٧، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢)
میری شان کے بہت کم نبی ہوئے
’’خدا نے میرے ہزار ہا نشانوں سے میری وہ تائید کی ہے کہ بہت ہی کم نبی گزرے ہیں۔ جن کی یہ تائید کی گئی ہو۔ لیکن پھر بھی جن کے دلوں پر مہریں ہیں۔ وہ خدا کے نشانوں سے کچھ بھی فائدہ نہیں اٹھاتے ۔‘‘
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٩، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨٧)
مرزا آنجہانی کا کھلم کھلا نبوت کا اعلان
’’پس میں جب کہ اس مدت تک ڈیڑھ سو پیش گوئی کے قریب خدا کی طرف سے پاکر بچشم خود دیکھ چکا ہوں کہ صاف طور پر پوری ہوگئیں تو میں اپنی نسبت نبی یا رسول کے نام سے کیونکر انکار کر سکتا ہوں اور جب کہ خود خدا تعالیٰ نے یہ میرے نام رکھے ہیں۔ (نبی اور رسول) تو میں کیونکر رد کردوں یا اس کے سوا کسی سے ڈروں۔‘‘
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢١٠)
خصوصیت کا قرب مرزا آنجہانی کی خدا سے بکثرت ہمکلامی
’’جس بناء پر میں اپنے تئیں نبی کہلاتا ہوں۔ وہ صرف اس قدر ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی ہمکلامی سے مشرف ہوں اور وہ میرے ساتھ بکثرت بولتا اور کلام کرتا ہے اور میری باتوں کا جواب دیتا ہے اور بہت سی غیب کی باتیں میرے پر ظاہر کرتا ہے اور آئندہ زمانوں کے وہ راز میرے پر کھولتا ہے کہ جب تک انسان کو اس کے ساتھ خصوصیت کا قرب نہ ہو دوسرے پر وہ اسرار نہیں کھولتا اور انہی امور کی کثرت کی وجہ سے اس نے میرا نام نبی رکھا ہے۔ سو میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں اور اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہوگا اور جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے تو میں کیونکر انکار کر سکتا ہوں۔ میں اس پر قائم ہوں اس وقت تک جو اس دنیا سے گزر جاؤں۔‘‘
(مرزا آنجہانی کا ایک خط ٢٣ مئی ١٩٠٨ء بنام اخبار عام لاہور، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٩٧)
مرزا آنجہانی ہی خاتم النبیین ہیں
’’نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں اور ضرور تھا کہ ایسا ہی ہوتا۔ جیسا کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ ایسا شخص ایک ہی ہوگا۔ وہ پیش گوئی پوری ہو جائے ۔‘‘
(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٧)
٢٢
پہلا سرکلر: بڑے میاں تو بڑے میاں، چھوٹے میاں سبحان اللہ
موسیو بشیر الدین محمود خلیفہ قادیان باپ کی حمایت میں
"اگر کوئی شخص مخلی بالطبع ہو کر اس بات پر غور کرے گا تو روز روشن کی طرح اس پر ظاہر ہو جائے گا کہ مسیح موعود ضرور نبی ہے۔ کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ اس شخص کا نام قرآن کریم نبی رکھے۔ آنحضرت ﷺ نبی رکھیں، کرشن نبی رکھے، زرتشت نبی رکھے، دانیال نبی رکھے اور ہزاروں سالوں سے اس کے آنے کی خبریں دی جارہی ہوں۔ لیکن باوجود ان شہادتوں کے وہ پھر بھی غیر نبی کا غیر نبی ہی رہے۔"
(حقیقۃ النبوۃ ص ١٩٨)
دوسرا سرکلر: مرزا آنجہانی بروزی نہیں حقیقی نبی تھے
"پس شریعت اسلامی نبی کے جو معنے کرتی ہے اس کے معنی سے حضرت صاحب ہرگز مجازی نبی نہیں بلکہ حقیقی نبی ہیں۔"
(حقیقۃ النبوۃ ص ١٧٤)
چھوٹے میاں سو چھوٹے میاں منجلے میاں اعیاذا باللہ ابا کی حمایت میں
"پس اس لئے امت محمدیہ میں صرف ایک شخص نے نبوت کا درجہ پایا اور باقیوں کو یہ رتبہ نصیب نہیں ہوا۔"
(کلمۃ الفصل ص ١١٦، مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی)
غریب امتی کی بھی سنئے ۔
مرزا آنجہانی مسیح علیہ السلام سے افضل ہیں
"حضرت مسیح موعود رسول اللہ اور نبی اللہ جو کہ اپنی ہر ایک شان میں اسرائیلی مسیح سے کم نہیں اور ہر ایک طرح بڑھ چڑھ کر ہے۔"
(کشف الاختلاف ص ٧ مصنفہ سید محمد سرور شاہ قادیانی)
مرزائی گزٹ کیا سر الاپتا ہے
یہی کہ مرزا آنجہانی ہی خاتم النبیین تھے۔
"آنحضرت ﷺ کے بعد صرف ایک ہی نبی کا ہونا لازم ہے اور بہت سارے انبیاء کا ہونا خدا تعالیٰ کی بہت سی حکمتوں میں رخنہ واقع ہوتا ہے۔"
(تشحیذ الاذہان قادیان ج ١٢ نمبر ٨ ص ١١، اگست ١٩١٧ء)
ناظرین کرام! کی خدمت میں مرزا غلام احمد قادیانی مسیح قادیانی کے چند ایک ایسے دعاوی جن میں نہایت صاف اور واضح طور پر اعلان نبوت ہے پیش کئے ہیں اور ان میں ظل اور بروز، تشریعی اور غیر تشریعی کی دھوکہ بازیاں اور مغالطہ آمیزیاں مفقود ہیں۔ بلکہ مجازی نبوت کی نفی
٢٣
کرتے ہوئے حقیقی نبوت اور وہ بھی ایسی جو بہت کم دیگر انبیاء عظام کو نصیب ہوئی۔ بس یوں سمجھئے کہ مرزا قادیانی کیا تھے۔ گویا ایک ہزار نبیوں کا بنڈل اور وہ بھی ایک ہی قالب میں ۔ سبحان اللہ! اور یہ کیوں اس کی بھی خاص وجہ تھی۔ وہ یہ کہ آپ کے وجود پر اللہ میاں نے تمام ابحاث النبوۃ ہی ختم کر دیا اور آئندہ کے لئے ان کے خزانوں میں گویا نبوت کا کال پڑ گیا۔ کیونکہ اب سوائے مرزا قادیانی کے اور کوئی نبی نہ آئے گا۔ گویا آپ ہی خاتم النبیین ہیں۔ چشم بد دور۔
اور خاتم ہونے کے قرآنی دلائل و براہین قاطعہ بھی ملاحظہ فرمائیں۔ یوں تو مرزا قادیانی نے ہزاروں پیشگوئیاں کیں ۔ مگر ان میں سے ڈیڑھ سو تو وہ کم بخت تھیں جو لفظ بلفظ پوری اتریں اور خوارق و معجزات کا تو کچھ نہ پوچھئے ۔ اجی کچھ شمار ہی نہیں ۔ بھلا کون سر دردی لے اور گنتا رہے۔ مگر ہاں ان میں تین لاکھ بڑے بڑے اور بھاری بھرکم وہ معجزات ہیں جن کا ایک زمانہ شاہد ہے اور جو یاد عزیز سے محو کرنے پر بھی از بر ہی رہیں ۔ بلکہ سوتے میں بھی ان کی رفعت و بلندی اور قدرومنزلت کروٹ کروٹ پر یاد رہے اور عظمت منوائے ۔ سبحان اللہ ! کس شان کی پنجابی نبوت تھی ۔ واللہ اس کی نظیر ڈھونڈنے سے نہ ملے گی ۔ جو چیز بھی کارخانہ نبوت میں دیکھو نرالی ہے۔ مرزا کی روح الامین یعنی حضرت ٹیچی کی جدت طرازیاں تو مشہور زماں ہیں۔ وہ ان تھک و چالاک فرشتہ جو بارش کی طرح الہام برسانے میں مشاق تھا اور جو سودیشی نبوت کا ہمدم وہمراز مونس وغمگسار تھا۔ مگر اس قدر فدائی وشیدائی ہونے پر بیوقوف دوست کا مصداق تھا۔ ورنہ اس کی نجابت وشرافت اس کی مستعدی و ہر دل عزیزی میں کس کو کلام ہے۔ وہ مرزا قادیانی کا ایسا رفیق و دمساز تھا کہ اس کی غیرت وحمیت یہ قطعاً گوارہ نہ کرتی کہ وہ مرزا قادیانی کی حسب خواہش الہام لانے میں بخل کرے۔ وہ ہمیشہ آندھی و بگولے کی طرح نمودار ہوا اور مینہ کی طرح برسا۔ اس کے لطف واحسان سے کارخانہ نبوت کے چھوٹے بڑے گڑھے الہام سے پر ہوئے تو کائنات نبوت کی زمین الہامی بارش سے اٹ گئی اور اس میں ایک ایسا تلاطم بپا ہوا اور الہامی بارش کی شدت سے کارخانہ نبوت میں ایک زبردست ہیجان تلاطم اٹھا کہ پنجابی نبی کی قوت ایمانی کو ناچار اس میں بہنا پڑا۔ یا یوں سمجھئے کہ مرزا قادیانی کا ایمان اس میں ڈوبتا تیرتا رہا۔ کم بخت ٹیچی ٹیچی کو یہ سوجھی کہ پنجابی نبی جی مشرکانہ زندگی بسر کر رہے ہیں ۔
اور غلط فہمی نبوت کا ستیاناس کر رہی ہے۔ یعنی مرزا قادیانی کو اپنی ساٹھ سالہ مدۃ العمر تک یہ پتہ ہی نہ چلا کہ عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر بجسد عنصری زندہ ماننا شرک فی التوحید ہے۔
افسوس مرزا آنجہانی ساٹھ برس تک مشرکانہ زندگی بسر کرتے رہے اور یہ نہ سمجھے کہ مسیح
٢٤
علیہ السلام کشمیر میں جا کر مر گئے اور ان کی قبر محلہ خان یار میں یوز آسف کے نام سے مشہور ہے۔ مگر اس کو بھولا مت جانئے جو پھر آئے شام، کے مصداق۔ جب قصر نبوت کی بنیادیں ریت پر کھڑی دکھائی دیں اور صداقت وامانت کا سیلاب شان بے نیازی سے آتا ہوا دکھائی دیا تو ہوش اڑ گئے اور قصر نبوت کے دھڑام سے گرنے کا نقشہ تصور میں آنکھوں کے سامنے آیا تو جان عزیز اضطراب و بے چینی کی گہرائیوں میں غرق ہوئی تو مرزا قادیانی نے بھی پینترا بدلا اور مجبور ہوئے کہ اپنی ساٹھ سالہ مشرکانہ زندگی سے تائب ہوں۔ کیونکہ جو شخص بھی عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر زندہ مانے اور اللہ تعالیٰ کو اس بات پر قادر سمجھے کہ وہ اپنے بندے کو اٹھا کر لے جاسکتا ہے اور ایک معین وقت تک زندہ رکھ سکتا ہے۔ مشرک ہے۔ ہم تو بھلا امتی ٹھہرے اور فرمان رسالت پہ ایمان لاتے ہوئے اس عقیدہ کو جزو ایمان قرار دیا۔ مگر حیرت ہے اس شخص پر جو نزول بارش سے زیادہ وحی کا اقرار کرے اور جس کے فرشتے منی آرڈروں، وی پیوں، چکوں اور رجسٹریوں کی تفصیل بتاویں کہ فلاں الو پچاس بھیج رہا ہے۔ وہاں سے سو آ رہا ہے۔ یہ پانچ فلاں نے بھیجے ہیں۔ وی پیوں، منی آرڈروں کی تفصیل بتانا فرض منصبی خیال کریں۔ مگر یہ نہ بتادیں تو وہ جو ایمان کا دیوالیہ ہی نکال دے۔ یعنی عقائد میں شرک کا اقرار کرائے۔
مرزا قادیانی کا خدا بھی عجب سادہ خدا ہے۔ باوجود یکہ وہ روز مرزا قادیانی سے بکثرت ہم کلامی کرتا ہے اس کی سنتا اور اپنی سناتا ہے۔ مگر مرزا قادیانی کو مشرکانہ عقائد سے نہیں روکتا اور نہیں کہتا کہ اے میرے پنجابی رسول تمہارے اس عقیدہ سے کہ مسیح علیہ السلام زندہ آسمان پر موجود ہیں میری توحید میں فرق آتا ہے اور تمہاری رسالت کا ستیاناس ہوتا ہے۔ کیونکہ اگر مسیح علیہ السلام آسمان پر موجود ہے تو وہ ضرور آئے گا اور اس حالت میں بھلا تم کیا ٹھہرو گے؟۔ کیونکہ بشارت تو صرف ایک ہی کے لئے دی گئی ہے۔
ہمارے خیال میں مرزا قادیانی کو جب یہ خیالی حق الیقین کا مرتبہ حاصل ہوا کہ فرمان رسالت کی رو سے صرف ایک ہی مسیح علیہ السلام ناصری کے آسمان سے نزول کے متعلق بشارت ہے تو آپ کو کچھ قدر خویش شناس ہوئی۔ آپ بہت سٹ پٹائے اور آپ نے اپنی تمام توجہ صرف اسی ایک مسئلے میں صرف کر دی اور یہی وجہ ہے کہ وہ وفات مسیح علیہ السلام پر آپے سے باہر نظر آتے ہیں۔ کیونکہ اصل کے ہوتے ہوئے نقل کو کون قبول کرتا ہے۔ وہ یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح اصل کو کالعدم کر دیں اور پھر پانچوں گھی میں اور سر کڑاہی میں کے مصداق بن جائیں۔
مگر تعجب تو یہ ہے کہ اگر مرزا قادیانی من جانب خدا تھے تو وہ کیوں پچاس سال سے
٢٥
زائد اس لغو عقیدہ پر قائم رہے اور بیسیوں دفعہ اس کی تائید فرمائی۔ حالانکہ مرزا قادیانی کا تعلق باللہ ایک دوستانہ تعلق معلوم ہوتا ہے اور مرزا قادیانی کا خدا سوائے مرزا آنجہانی کے گویا اور سب کچھ بھول گیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ مرزا قادیانی کا عاشق ہوگیا ہے۔
مرزا قادیانی کے خدا کی عادت
”یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کی مجھ سے یہ عادت ہے کہ اکثر جو نقد روپیہ آنے والا ہو یا اور چیزیں تحائف کے طور پر ہوں ان کی خبر قبل از وقت بذریعہ الہام یا خواب مجھ کو دے دیتا ہے اور اس قسم کے نشان پچاس ہزار سے کچھ زیادہ ہوں گے۔“
(حقیقت الوحی ص٣٣٣، خزائن ج٢٢ ص٣٤٦)
مندرجہ بالا حوالہ یہ ثابت کرتا ہے کہ مرزا قادیانی کی نبوت کی بھینٹ پچاس ہزار سے زیادہ منی آرڈر چڑھائے گئے اور جو مٹھی میں دیئے گئے ان کا شمار بھی اس عکس میں ملاحظہ فرمائیں اور تحائف کی تعداد لاتعداد ہے۔ اس لئے اس کا حساب نہ پوچھئے۔ سیروں تو کستوری ہی آئی اور خدا جانے کیا الا بلا آئی ہوگی۔
مرزا قادیانی کی غربت
کوئی نہ جانتا تھا کہ ہے قادیان کدھر
لوگوں کو اس طرف کو ذرا بھی نظر نہ تھی
میرے وجود کی بھی کسی کو خبر نہ تھی
اب دیکھتے ہو کیسے رجوع جہاں ہوا
اک مرجع خواص ہی قادیان ہوا
(درثمین اردو ص٦١، نصرۃ الحق ص١١، خزائن ج٢١ ص٢٠)
مرزا قادیانی کی قیاس آرائیاں
”مجھے اپنی حالت پر خیال کر کے اس قدر بھی امید نہ تھی کہ دس روپیہ ماہوار بھی آئیں گے۔ مگر خدا تعالیٰ جو غریبوں کو خاک سے اٹھاتا ہے اور متکبروں کو خاک میں ملاتا ہے۔ اس نے میری دستگیری کی کہ میں یقیناً کہہ سکتا ہوں کہ اب تک تین لاکھ کے قریب روپیہ آچکا ہے اور شاید اس سے بھی زیادہ۔“
(حقیقت الوحی ص٢١١، خزائن ج٢٢ ص٢٢١)
مرزا قادیانی کی نبوت کے ثمر
”اگر میرے اس بیان کا اعتبار نہ ہو تو بیس برس کے سرکاری رجسٹروں کو دیکھو۔ تاکہ
٢٦
معلوم ہو کہ کس قدر آمدنی کا دروازہ اس مدت میں کھولا گیا ہے۔ حالانکہ یہ آمدنی صرف ڈاک کے ذریعہ تک محدود نہیں رہی۔ بلکہ ہزار ہا روپیہ کی آمدنی اس طرح بھی ہوتی ہے کہ لوگ خود قادیان میں آکر دیتے ہیں اور نیز ایسی آمدنی جو لفافوں میں نوٹ بھیجے جاتے ہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ٢١٢، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢١)
ناظرین کرام! غور فرمائیں۔ وہی مرزا قادیانی جو مدعی نبوت کو لعنتی قرار دیتے ہوئے صلواتیں سناتے اور رسالت کے نام سے کانوں پر ہاتھ دھرتے ہوئے سہمے جاتے تھے کس دھڑلے سے مسند نبوت پر براجمان ہوئے اور نبوت بھی وہ لی جو ہزار نبیوں سے افضل اور جس میں تین لاکھ تو بڑے بڑے نشانات ہیں اور لاکھوں پیشگوئیاں اور کروڑوں الہام اور اسی پر بس نہیں۔ ہم کلامی کی افراط کا کچھ نہ پوچھئے۔ وہ تو اس کثرت سے ہوتی ہے کہ پڑوسی پنبہ در گوش ہیں۔ دوسری باتوں سے قطع نظر کرتے ہوئے ہم مرزا قادیانی کی ایک ایسی فضیلت پیش کرتے ہیں جو سابقہ انبیاء علیہم السلام کو قطعا نصیب نہیں ہوئی اور گویا یہ سعادت صرف مرزا قادیانی کے لئے ہی روز ابد سے لکھی ہوئی تھی اور یہ خاص اعجاز نمائی دوسرے مرسلین پر مرزا قادیانی کے لئے طرہ امتیاز ہے۔ کیونکہ سابقین تو یہی تعلیم دیتے ہوئے معبود حقیقی کے مہمان ہوئے کہ: ”وما اسئلكم عليه من اجر ان اجرى الا على رب العالمين (شعراء:١٠٩)“ یعنی ہم تم لوگوں سے تعلیم حقہ کے پہنچانے کا کچھ معاوضہ نہیں چاہتے۔ بلکہ اس کا بدلہ ہمیں رب قدوس ہی دے گا۔
مگر مرزا قادیانی کے لئے ان فدائی وشیدائی معبود نے اس کا بدلہ دنیا میں دلوایا اور وہ بھی چند ٹکوں کے عوض میں اور چونکہ مرزا قادیانی کو جلب زری کی خواہش جان سے زیادہ عزیز تھی۔ اس لئے وہ ہمہ وقت یہی خواب دیکھتے اور ان کا خدا بھی یہی مراقبہ کرتا۔ غرضیکہ ادھر کسی کی لٹیا قادیانی نبوت کے دجل میں ڈوبی۔ مرزا قادیانی کے خدا نے فٹ مرزا قادیانی کو الہام کیا کہ اکیس آئے۔ کسی اور نے توجہ کی تو جھٹ رویائے صادق ہوا کہ گیارہ آئیں گے۔ غرضیکہ ایک دن میں بیسوں نہیں۔ سینکڑوں الہام تو محض روپیہ کی آمدن کے ہوتے تھے کہ منی آرڈر پہ منی آرڈر، رجسٹریاں اور بیمہ جات۔ غرضیکہ روپیہ سنبھالنے کی ہوش جاتی رہی اور مٹھی گرم کرنے والوں کا ہجوم اس کثرت سے رہتا کہ اندازہ لگانا مشکل نہیں محال ہے۔
نبوت کے منازل طے ہو رہے ہیں اور شجر نبوت کی شاخیں دھڑا دھڑ روپیہ کے ثمر سے دوہری ہوئی جاتی ہیں۔ کاش مشیت ایزدی چندے اور مہلت دیتی تو دنیا دیکھتی کہ پنجابی نبوت چند
٢٧
ہی سالوں میں ایک چھوٹی کوڑی کسی مسیحی بھیڑ کے پاس نہ رہنے دیتی۔ بلکہ وہ تمام کی تمام سمٹ کر نبوت کی توند کی زینت ہوتی۔
مرزا قادیانی کے خدا نے پچاس ہزار سے زائد الہام اور خوابیں صرف اسی امر کے ضمن میں مرزا قادیانی کے پیش کیں کہ فلاں جگہ سے منی آرڈر آ رہا ہے۔ فلاں لفافے میں بھیج رہا ہے۔ فلاں نے دس کی نیت کی۔ فلاں پانچ بھیجے گا۔ فلاں رجسٹری میں پچاس ہوں گے۔ وہاں سے آئیں گے۔ یہاں سے آئیں گے۔ یہ آئے۔ یہ آ رہے ہیں۔ یہ آتے ہیں۔ یہ آنے کو ہیں۔ رجسٹری سنبھالئے۔ یہ منی آرڈر پر دستخط کیجئے۔ فلاں سے مصافحہ کیجئے۔ نوٹ جیب میں رکھئے۔ پونڈ آتے ہیں پونڈ۔ نوٹ آئیں گے نوٹ۔
حیرانگی ہے یہ نبوت ہو رہی ہے۔ یا امپریل بینک کا خزانچی روپیہ سنبھال رہا ہے۔ صرف سات برس کے عرصہ میں تین لاکھ روپیہ اور وہ بھی اس کو جس کو دس روپیہ ماہوار کی بھی امید نہ تھی۔
اس بے پناہ آمدنی کے باعث وہ نبوت تو معمولی چیز ہے۔ خدا بھی بن جاتے تو کچھ مضائقہ نہ تھا۔ کیونکہ روپیہ ہی ایک ایسی بری چیز ہے جو سب کچھ کروا دیتا ہے اور پھر ایسا روپیہ جو بلا مشقت حاصل ہو۔ بہت سے لوگ ادنیٰ طبقہ کے ایسے مشاہدے میں آئے دن آتے رہتے ہیں جو غریب تھے اور نان و نفقہ کو محتاج تھے۔ مگر قدرت جب مہربان ہوئی تو مالدار ہوئے۔ مگر افسوس آزمائش میں ایسے فیل ہوئے کہ جس کے سامنے نان جویں کے لئے گھنٹوں سجدے میں سسکیاں لیتے ہوئے رحم کے طالب ہوا کرتے تھے اس کی ہستی کے منکر ہو گئے۔ ان کے اخلاق رذالت کے لباس میں بھیڑیوں کی خصلت میں مبدل ہوئے۔
اگر مرزا قادیانی کی اصطلاح میں نبوت کے معنی روپیہ اینٹھنا ہے تو دنیوی لحاظ سے یہ اچھی چیز ہے اور آپ کی اس تحریر کی ہم داد دیتے ہیں۔ خدا کی قسم اچھی سوجھی اور اس کے تصدق میں لاکھوں پائے۔ یہ دنیا تو خوشحالی سے بسر ہو۔ دوسری دنیا کا دیکھا جائے گا۔ آخر یہ نہ کرتے تو کیا بھوکے مرتے اور ہم نے کیا ہی کیا۔ کونسا کلام مجید نیا بنایا یا کعبہ کی بنیاد رکھی۔ بلکہ ہم نے مسلمانوں کی بہتری کے لئے کہ وہ اپنے بال بچوں میں سکھ سے رہیں۔ جہاد کو بند کر دیا۔ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ اول تو ہم اس کی صلاحیت ہی نہ رکھتے تھے اور دوسرا ہم ایک جابر حکومت کے زیر سایہ بستے تھے اور حکومت بھی وہ حکومت جس نے ہمارے پردادا سے لے کر ہم کو نوازا اور جس کے پاس ایسے ایسے آلات جنگ موجود ہیں جن کے سامنے ہماری ہستی ہی صفر کے مطابق ہے۔ پس
٢٨
مصلحت وقت کا تقاضا ہے
مرزا قادیانی مجرب نسخہ ہے کہ جہاد کو حر دے یا اعزازی پینشن مقر خاکسار لکھتے لکھتے تو قلم ٹو آئے دن سبھی جی حضور یا اس قدر عزیز جماعت کے مرزا تمہیں ایک عزت کا کوئی خطاب تو ضرور ملا فتوے سے قبل اپنی حیثیت میری روحانیت کو کون مان ہوں۔ من آنم کہ من دا ہوتی۔ یہ نہ تھا تو عامل ہی پریشان ہوں کہ کونسی چال اور اس کی تعمیل کس طرح کی قدر کریں۔ نہ علم میں کہ پہلے کوئی خطاب ایس تمام سیڑھیاں تو میں طے کام نہیں نکلے گا۔ جبکہ ط فضیلت کا دم بھی بھر لیا۔ ہی لی تو اب ظل و بروز کا ہیں۔ چنانچہ آپ نے ا ماہ ہی زندگی نصیب ہوئی اڑنے بھی نہ پائے کے مصداق جو نیو لائٹ کی جان ہے
مصلحت وقت کا تقاضا ہے کہ جہاد حرام ہے۔
مرزا قادیانی کو خیال تھا کہ حکومت کی خوشنودی اور اپنی فارغ البالی کے لئے یہ ایک مجرب نسخہ ہے کہ جہاد کو حرام قرار دے دیں۔ ہو سکتا ہے کہ اس کے صلہ میں حکومت کوئی جاگیر دے دے یا اعزازی پنشن مقرر کردے اور اگر یہ دونوں کرم نہ ہوئے تو خطاب تو ضرور مل جائے گا۔ خاکسار لکھتے لکھتے تو قلم گھس گئے۔ اب کم از کم خان صاحب کا خطاب تو کچھ مشکل نہیں۔ یہ تو آئے دن سبھی جی حضوریوں کو ملتا ہی رہتا ہے۔ یہ تو مل ہی جائے گا۔ چنانچہ آپ کو اس خطاب کی اس قدر عزیز چاہت کے پیدا ہونے سے خدا نے الہام بھی کر دیا۔ لک خطاب العزت۔ یعنی اے مرزا تمہیں ایک عزت کا خطاب ملے گا اور شاید ملا بھی ہو۔ مگر ہمارے کان محض نا آشنا ہیں۔ غالباً کوئی خطاب تو ضرور ملا ہو گا۔ ورنہ الہام جھوٹا ہوا۔ خیر کچھ مضائقہ نہیں۔ مرزا قادیانی نے اس فتوے سے قبل اپنی حیثیت کو سوچا کہ میرا حکم دنیا میں کون قبول کرے گا اور میں کیا ہوں۔ افسوس میری روحانیت کو کون مانے گا اور مجھ میں ایسی قابلیت بھی کونسی ہے۔ اپنے مبلغ علم سے میں خود آشنا ہوں۔ من آنم کہ من دانم۔ کاش کہ میں سید ہی ہوتا اور کوئی چھوٹی موٹی خانقاہ میرے قبضہ میں ہوتی۔ یہ نہ تھا تو عامل ہی ہوتا جو رہی سہی شہرت ہی ہوتی۔ حیران ہوں کہ کیا کروں اور کیا نہ کروں۔ پریشان ہوں کہ کونسی چال اختیار کروں اور کونسی چھوڑوں۔ آخر میرا فتویٰ اور اس کی قبولیت میرا حکم اور اس کی تعمیل کس طرح پایہ تکمیل کو پہنچے گی۔ نہ حکمت میں یکتائے زمان ہوں کہ لوگ میری دانائی کی قدر کریں۔ نہ علم میں بحر عرفان ہوں کہ دنیا میری روحانیت کی قائل ہو۔ اس لئے ضروری ہے کہ پہلے کوئی خطاب ایسا تجویز کروں جو دنیا کو متاثر کرے۔ مگر وہ کونسا خطاب ہو سکتا ہے۔ دنیا کی تمام سیڑھیاں تو میں طے کر چکا۔ مگر نتیجہ مرغ کی ایک ٹانگ ہی نکلا۔ یہ جب تک دوسری پیدا نہ ہو۔ کام نہیں نکلے گا۔ جبکہ مثیل انبیاء کا دعویٰ کر چکا۔ مسیح موعود ڈرتے ڈرتے کہہ لیا۔ صدیق اکبر پر فضیلت کا دم بھی بھر لیا۔ رسول اکرم ﷺ کا بھروپیا بھی بنا اور علی المرتضیٰ پر فوقیت بھی لگے ہاتھ لے ہی لی تو اب ظل و بروز کا جھمیلہ کب تک رکھا جائے۔ کیوں نہ صاف صاف کہہ دیا جائے کہ ہم نبی ہیں۔ چنانچہ آپ نے ایک ایسا اعلان کیا جو قابل داد ہے۔ مگر افسوس اس کے بعد صرف چند ایک ماہ ہی زندگی نصیب ہوئی۔
کے مصداق جواب دہی کے لئے فوراً طلب کر لئے گئے۔ مرزا قادیانی کا وہ سرکلر جو نیو لائٹ کی جان ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:
٢٩
اعلان عام مرزا قادیانی کا مذہب
”ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ جس دین میں نبوت کا سلسلہ نہ ہو وہ مردود ہے۔ یہودیوں، عیسائیوں، ہندوؤں کے دین کو ہم مردہ کہتے ہیں۔ تو اسی لئے کہ ان میں اب کوئی نبی نہیں ہوتا۔ اگر اسلام کا بھی یہی حال ہوتا تو پھر بھی قصہ گو ٹھہرے۔ کس لئے اس کو دوسرے نبیوں سے بڑھ کر کہتے ہیں۔ صرف سچے خوابوں کا آنا کافی نہیں کہ یہ تو چوہڑے اور چماروں کو بھی آجاتے ہیں۔ مکالمہ مخاطبہ الہیہ ہونا چاہئے اور وہ بھی ایسا کہ جس میں پیش گوئیاں ہوں۔ ہم پر کئی سال سے وحی نازل ہو رہی ہے اور اللہ تعالیٰ کے کئی نشان اس کے صدق کی گواہی دے چکے ہیں۔ اس لئے ہم نبی ہیں۔ امر حق کے پہنچانے میں کسی قسم کا اخفاء نہ رکھنا چاہئے۔“
(اخبار البدر ٥ مارچ ١٩٠٨ء)
مندرجہ بالا عبارت مرزا قادیانی کی تصویر کا دوسرا رخ بتا رہی ہے کہ آپ کو چونکہ اللہ تعالیٰ کے نشانات مجبور کرتے تھے اور وحی منت گزاریاں کرتی تھی۔ اس لئے خیال پیدا ہوا کہ اب کیوں یہ راز پردہ راز میں رکھیں۔ صاف کیوں نہ یہ کہہ دیں کہ نبی ہیں۔ چنانچہ آپ نے صاف اعلان نبوت کر ہی دیا کہ ہم نبی ہیں اور وہ نشانات بھی کوئی معمولی نشان نہ تھے بلکہ بڑے معرکۃ الآراء نشان تھے۔ بطور نمونہ ہم چند ایک قارئین کی ضیافت طبع کے لئے پیش کرتے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں۔
قصر نبوت کیونکر بنا؟
اپنی مایہ ناز کتاب (حقیقت الوحی ص ٣٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ٣٩٣) پر فرماتے ہیں کہ:
”میرے مکان کے ملحق دو مکان تھے جو میرے قبضہ میں نہیں تھے اور بباعث تنگی مکان توسیع مکان کی ضرورت تھی۔ ایک دفعہ مجھ کو کشفی طور پر دکھلایا گیا کہ اس زمین پر ایک بڑا چبوترا ہے اور مجھے خواب میں دکھلایا گیا کہ اس جگہ ایک لمبا دالان بن جائے گا اور مجھے دکھایا گیا کہ اس زمین کے مشرقی حصہ نے ہماری عمارت بننے کے لئے دعا کی ہے اور مغربی حصہ کی زمین افتادہ نے آمین کہی ہے۔ چنانچہ فی الفور یہ کشف اپنی جماعت کے صدہا آدمیوں کو سنایا گیا اور اخباروں میں درج کیا گیا۔ بعد اس کے ایسا اتفاق ہوا کہ وہ دونوں مکان بذریعہ خریداری اور وراثت کے ہمارے حصہ میں آگئے اور ان کے بعض حصوں میں مکانات مہمانوں کے لئے بنائے گئے۔ حالانکہ ان سب کا ہمارے قبضہ میں آنا محال تھا اور کوئی خیال نہیں کر سکتا تھا کہ ایسا حکم آئے گا۔“
قربان جائیں ایسے الہامات اور ان کی مہملات سے۔ یہ بڑا زبردست معجزہ ہے۔
٤٠
پتھر ڈبونے اور بھوسہ ترانے میں آپ کی نبوت کو کمال ہے۔ گھر تو بن گیا اب دیگر لوازمات کی ضرورت یوں پوری ہوئی:
دجال کے گدھے پر الہام آیا
”ایک دفعہ ہم ریل گاڑی پر سوار تھے اور لدھیانہ کی طرف جارہے تھے کہ الہام ہوا نصف ترا نصف عمالیق را اور اس کے ساتھ یہ تفہیم ہوئی کہ امام بی بی جو ہمارے جدی شرکاء میں سے ایک عورت تھی مرجائے گی اور اس کی زمین نصف ہمیں اور نصف دوسرے شرکاء کو مل جائے گی۔ یہ الہام ان دوستوں کو جو ہمارے ساتھ تھے سنایا گیا۔ چنانچہ بعد میں ایسا ہی ہوا کہ عورت مذکور مرگئی اور اس کی نصف زمین ہمیں نصف بعض دیگر شرکاء کو مل گئی۔“
(نزول المسیح ص ٢١٣ خزائن ج ١٨ص٥٩١، ٥٩٢)
یہ معجزہ بھی کوئی معمولی چیز نہیں۔ ہاں صاحب واقعی بڑا زبردست اور پھڑکتا ہوا معجزہ ہے:
بڑا وزنی الہام ہے اور وہ بھی ریل کا ایسے الہام اس لائق ہیں کہ موٹے لفظوں میں امت کے پیش نظر کمروں میں آویزاں رہیں۔ تاکہ جب کبھی امت میں یہ مبارک موقعہ آئے اور کسی کا کوچ ہونے پر کچھ ملے تو مرزا کی یاد خراج تحسین کی حق دار رہے۔
قارئین کرام ! اب رفیقہ حیات کی ضرورت تھی۔ وہ کس طرح پوری ہوئی۔ کیونکہ پہلی بیوی جسے قادیانی اصطلاح میں پھجے دی ماں کر کے پکارا جاتا تھا اس سے مرزا قادیانی کی نہ بنتی تھی۔ کیونکہ وہ بہت بوڑھی ہو چکی تھی۔ اس لئے نئی کی ضرورت تھی اور وہ کس طرح پوری ہوئی۔ یہ بھی ایک وزنی معجزہ شمار کیا گیا ہے۔ اس لئے یہ ضیافت طبع میں پیش ہوتا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:
مرزا قادیانی جی کی امید برآئی
”ستائیسواں نشان یہ پیشگوئی ہے کہ میری اس شادی کے بارہ میں جو دہلی میں ہوئی تھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے یہ الہام ہوا تھا ”الحمد للّٰہ الذی جعل لکم الصہر والنسب“ یعنی اسی خدا کی تعریف ہے جس نے تمہیں دامادی اور نسب دونوں طرف سے عزت دی۔ یعنی تمہارے نسب کو بھی شریف بنایا اور تمہاری بیوی بھی سادات سے آئے گی۔ یہ الہام شادی کے لئے ایک پیشگوئی تھی جس سے مجھے یہ فکر پیدا ہوا کہ شادی کے اخراجات کیونکر میں انجام دوں گا کہ اس وقت میرے پاس کچھ نہیں اور نیز کیونکر میں ہمیشہ کے لئے اس بوجھ کا متحمل ہو سکوں گا تو میں نے جناب الٰہی میں دعا کی کہ ان اخراجات کی مجھ میں طاقت نہیں۔ تب یہ الہام ہوا:
٣١
وآں آنچہ مطلوب شما باشد عطائے آں کنم
(تذکرہ ص ٤٨)
یعنی جو کچھ تمہیں شادی کے لئے درکار ہوگا تمام سامان اس کا میں آپ کر دوں گا جو کچھ تمہیں وقتاً فوقتاً حاجت ہوتی رہے گی آپ دیتا رہوں گا۔
”چنانچہ ایسا ہی ظہور میں آیا۔ شادی کے لئے جو کسی قدر مجھے روپیہ درکار تھا ان ضروری اخراجات کے لئے منشی عبدالحق صاحب اکونٹنٹ لاہوری نے پانسو روپیہ مجھے قرض دیا اور ایک اور صاحب حکیم محمد شریف نام ساکن کلانور نے جو امرتسر میں طبابت کرتے تھے دوسو روپیہ یا تین سو روپیہ بطور قرضہ دیا و اس وقت منشی عبدالحق صاحب اکونٹنٹ نے مجھے کہا کہ ہندوستان میں شادی کرنا ایسا ہے جیسا کہ ہاتھی کو اپنے دروازہ پر باندھنا میں نے ان کو جواب دیا کہ ان اخراجات کا خدا نے خود وعدہ فرمایا ہے۔ پھر شادی کرنے کے بعد سلسلہ فتوحات کا شروع ہو گیا اور یہ وہ زمانہ تھا کہ بباعث تفرقہ وجوہ معاش پانچ سات آدمی کا خرچ بھی میرے پر ایک بوجھ تھا اور اب وہ وقت آگیا کہ بحساب اوسط تین سو آدمی ہر روز معہ عیال واطفال اور ساتھ اس کے کئی غرباء اور درویش اس لنگر خانہ میں روٹی کھاتے ہیں اور یہ پیشگوئی لالہ شرمپت مل آریہ اور ملاوا مل آریہ ساکنان قادیان کو بھی قبل از وقت سنائی گئی تھی اور شیخ حامد علی اور چند اور وقف کاروں کو اس سے اطلاع دی گئی تھی اور منشی عبدالحق اکونٹنٹ لاہوری اگر چہ اس وقت مخالفین کے زمرہ میں ہیں مگر میں امید نہیں رکھتا کہ وہ اس سچی شہادت کا اخفاء کریں۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٣٥، خزائن ج ٢٢ ص ٢٤٧)
عجیب معجزہ نمائی ہے کہ مرزا قادیانی کے خدا کو بھی نعوذ باللہ وعدہ ایفائی سے شرم آتی ہے۔ وعدہ تو یہ رہا کہ اے میرے مرزا میں تیری شادی خود کروں گا اور اسی پر بس نہیں۔ تمہاری آئندہ کی ضروریات کا بھی میں ہی متکفل رہوں گا۔ مگر پھر غریب مرزا ہی کو جو ان اخراجات سے بچنا چاہتا تھا قرضہ برداشت کرنا پڑتا ہے اور طرفہ یہ کہ یہ بھی یاد نہیں کہ دوسو لئے ہیں یا تین سو۔ عجب عیاش دماغ تھا اور شاید آج کل کے پیغمبروں کے ایسے ہی حافظے ہوا کرتے ہیں اور مرزا قادیانی کا یہ کہنا بھی کیسا خوبصورت ہے اور دیکھئے پیغمبری لفظ لفظ سے ٹپک رہی ہے کہ شادی ہوتے ہی سلسلہ فتوحات شروع ہو گیا۔ گویا غریب امت کی گاڑھے پسینے کی کمائی پر ڈاکہ ڈالنا بھی فتوحات میں شمار ہوا۔ اچھی جنگ ہے جس میں کاغذی گھوڑے اور ہوائی سپاہی پرواز کرتے ہیں اور گواہ بھی ملاحظہ فرمائیں۔ دو اہل ہنود۔ کیا قادیان میں مسلمان کوئی باقی نہ رہا تھا اور نشان بھی اچھا پیش ہو رہا ہے
٣٢
جن نیک نام کی یہ عقیدت تھی کہ پانچ صد روپیہ قرضہ حسنہ بلا سوچے سمجھے اس شخص کو دے دیا جس کا بیوی نے بھی اعتبار نہ کیا اور جس کے پاس سوائے الہام بازی کے اور کچھ نہ تھا اور جس کو یہ بھی امید نہیں کہ وہ دس روپیہ ماہوار پیدا کر سکے گا۔ مگر اچھا نشان ظاہر ہو رہا ہے کہ وہی سعید الفطرت منشی عبدالحق ہی نبوت کے جھانسے سے آزاد ہوا۔ دشمن ہو گیا۔ آخر اس کی کیا وجہ تھی۔ کیا اس کو آپ کی اصلی تصویر تو نہ دکھلائی دی گئی تھی۔ ہمارے خیال میں کچھ ایسا ہی دال میں کالا تھا۔ اس لئے ہم مرزا قادیانی کا وہ صحیح فوٹو جو منشی عبدالحق نے دیکھا پیش کرتے ہیں:
مرزا غلام احمد قادیانی کی عملی تصویر
”یہ مولف یعنی مرزا غلام احمد تاج عزت عالی جناب حضرت مکرمہ ملکہ معظمہ قیصر ہند دام اقبالہا کا واسطہ ڈال کر (یعنی ہاتھ جوڑ کر) بخدمت گورنمنٹ عالیہ انگلشیہ کے اعلیٰ افسروں اور معزز حکام کے باادب گزارش کرتا ہے کہ براہ غریب پروری و کرم گستری اس رسالہ کو اول سے آخر
(کشف الغطاء ٹائٹل، خزائن ج ١٤ ص ١٧٧ غلام احمد قادیانی)
تک پڑھا جائے یا سن لیا جائے۔“
صرف اتنی سی بات تھی جس کے لئے یوں کاسہ لیسی کرتے ہوئے ناک رگڑی جارہی ہے۔ مرزا قادیانی کی التجا قابل قدر ہے۔ اس لئے وہ تو شاید ہی سنیں۔ ہم ہی سر دست تکلیف کئے دیتے ہیں۔ ہاں صاحب کہئے اور شوق سے فرمائیے۔
خاندانی تعارف
”میں ایک ایسے خاندان سے ہوں جو کہ اس گورنمنٹ کا پکا خیر خواہ ہے (بلکہ بے دام غلام ہے) میرا والد مرزا غلام مرتضیٰ گورنمنٹ کی نظر میں ایک وفادار اور خیر خواہ آدمی تھا جس کو دربار گورنری میں کرسی ملی تھی اور جن کا ذکر مسٹر لیپل گریفن صاحب کی تاریخ رئیسان پنجاب میں ہے اور ١٨٥٧ء میں انہوں نے اپنی طاقت سے بڑھ کر سرکار انگریزی کو مدد دی تھی۔ ان خدمات کی وجہ سے جو چٹھیاں خوشنودی حکام ان کو ملی تھیں مجھے افسوس ہے کہ بہت سی ان میں سے گم ہوگئیں (انا للہ وانا الیہ راجعون) مگر تین چٹھیاں جو مدت سے چھپ چکی ہیں (الحمد للہ کہ یاد تو تازہ ہے) ان کی نقلیں حاشیہ میں درج کی گئیں ہیں۔ پھر میرے والد صاحب کی وفات کے بعد میرا بڑا بھائی مرزا غلام قادر خدمات سرکاری میں مصروف رہا۔ (مقام شکر ہے) اور جب تمون کی گزر پر مفسدوں کا سرکار انگریزی کی فوج سے مقابلہ ہوا تو وہ سرکار انگریزی کی طرف سے لڑائی میں شریک تھا۔ (دریں چہ شک)
٣٣
باپ اور بھائی کی موت کے بعد
پھر میں اپنے والد اور بھائی کی وفات کے بعد ایک گوشہ نشین آدمی تھا۔ تاہم سترہ برس سے سرکار انگریزی کی امداد (شاید وہ سی آئی ڈی کے فرائض ہی ہوں گے) و تائید میں اپنے قلم سے کام لیتا ہوں (گویا کہ پکا نمک حلال اور سچا ٹوڈی ہوں) اس سترہ برس کی مدت میں جس قدر میں نے کتابیں تالیف کیں ان سب میں سرکار انگریزی کی اطاعت و ہمدردی کے لئے لوگوں کو ترغیب دی اور جہاد کی مخالفت کے بارہ میں نہایت مؤثر تقریریں لکھیں ( نبوت ہو رہی ہے ) اور پھر میں نے قرین مصلحت سمجھ کر اس مخالفت جہاد کو عام ملکوں میں پھیلانے کے لئے عربی اور فارسی میں کتابیں تالیف کیں۔ جن کی چھپوائی اور اشاعت پر ہزار ہا روپے خرچ ہوئے۔ (مگر گرہ سے نہیں تاہم بڑا احسان کیا ) اور وہ تمام کتابیں عرب اور بلاد شام اور روم اور مصر اور بغداد اور افغانستان میں شائع کیں۔ یقین رکھتا ہوں (یعنی میرا ایمان ہے) کسی نہ کسی وقت ان کا اثر ہوگا۔ اگر میں نے یہ اشاعت گورنمنٹ انگریزی کی سچی خیر خواہی سے نہیں کی تو مجھے ایسی کتابیں عرب اور بلاد شام اور روم وغیرہ بلاد اسلامیہ میں شائع کرنے سے کس انعام کی توقع تھی۔“ (اعتبار ہے جناب پکے بے دام غلام ہو)
(کتاب البریہ اشتہار مورخہ ٢٠ ستمبر ١٨٩٧ء، خزائن ج١٣ ص٣ تا ٧)
ناظرین کرام! پنجابی نبوت کی کرشمہ سازیاں ایسی جاذب ہیں کہ دل چاہتا ہے کہ کچھ اور بھی بیان کروں۔ سبحان اللہ! واہ رے نبیوں کے پہلوان اچھی نبوت کے محاسن بیان ہو رہے ہیں اور جہاد کے حرام کرنے کی وجہ خوشنودی سرکار بتائی جارہی ہے۔ مرزائیو! ٹھنڈے دل سے پڑھو اور خدارا غور کرو۔
بے مثال خدمت گزاری
”میں پوچھتا ہوں کہ جو کچھ میں نے سرکار انگریزی کی امداد اور محض امن اور جہادی خیالات کے روکنے کے لئے برابر سترہ سال تک پورے جوش سے پوری استقامت سے کام کیا اس کام کی اور اس خدمت نمایاں کی اور اس مدت دراز کی دوسرے مسلمانوں میں جو میرے مخالف ہیں کوئی نظیر ہے“ (آخر آپ نبی تھے یہ نظیر تو ڈھونڈھے نہ ملے گی۔ خوب جواں مردی کے جوہر دکھلائے۔ بہت خوب)
(کتاب البریہ خزائن ج١٣ ص٨)
پنجابی نبوت کا ایک امتیازی پھول
”والد صاحب کے انتقال کے بعد یہ عاجز مرزا غلام احمد دنیا کے شغلوں سے بلکلی علیحدہ ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف مشغول ہوا اور مجھ سے سرکار انگریزی کے حق میں جو خدمت ہوئی وہ
٣٤
یہ تھی کہ میں نے پچاس ہزار کے قریب کتابیں اور رسائل اور اشتہارات چھپوا کر اس ملک اور نیز دوسرے بلاد اسلامیہ میں اس مضمون کے شائع کئے کہ گورنمنٹ انگریزی ہم مسلمانوں کی محسن ہے۔ لہٰذا ہر ایک مسلمان کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ اس گورنمنٹ کی سچی اطاعت کرے اور دل سے اس دولت کا شکر گزار اور دعا گو رہے اور یہ کتابیں میں نے مختلف زبانوں میں یعنی اردو، فارسی، عربی میں تالیف کر کے اسلام کے تمام ملکوں میں پھیلا دیں۔ (اس سے اچھی عبادت اور کیا ہو سکتی ہے۔ خوب کیا) یہاں تک کہ اسلام کے دو مقدس شہروں مکہ اور مدینہ میں (خود جاتے تو بہتر تھا) بھی بخوبی شائع کر دیں اور روم کے پایۂ تخت قسطنطنیہ اور بلاد شام اور مصر اور کابل اور افغانستان کے مختلف شہروں میں جہاں تک ممکن تھا اشاعت کر دی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لاکھوں انسانوں نے جہاد کے وہ غلط خیالات چھوڑ دیے۔ جو نا فہم ملاؤں کی تعلیم سے ان کے دلوں میں تھے۔ یہ ایک ایسی خدمت مجھ سے ظہور میں آئی (جو عبادت سے بدرجہا بہتر تھی) کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ برٹش انڈیا کے تمام مسلمانوں میں سے اس کی نظیر کوئی مسلمان نہیں دکھلا سکا۔‘‘
(ستارہ قیصریہ ص٣، خزائن ج١٥ ص١١٤)
واقعی جناب آپ کی رگ رگ و تار تار میں حکومت انگلشیہ کے لئے جان نثاری و وفاداری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی اور تمام مسلمانوں میں یہ سہرا صرف پنجابی نبوت کے علمبردار کا طغراء امتیاز رہا۔ مبارک ہو مرزائیو۔ زور سے کہو آمین۔
مگر آہ ایک ہی لغزش نے تمام محنت کو رائیگاں کیا برباد کر دیا اور اسی وجہ سے آپ کی پیشانی پر وہ بد نما دھبہ ہے جسے توہین مسیح علیہ السلام کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور جس کے اعادہ سے جہنم ملتی ہے:
نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے
اگر یہ فحش غلطی یا معصیت کی تصویر یا جہنم کا ایندھن آپ سے سرزد نہ ہوتا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ آپ کو حکومت عملی رنگ میں نہ نوازتی۔ بخدا آپ نے نبی ہو کر وہ کیا جو ایک جاہل امتی بھی نہ کر سکے۔ کلام مجید کے خلاف امر کو نہی قرار دیا۔ فرمان رسالت کو پس پشت ڈالتے ہوئے صرف اتنی سی بات پر کہ حکومت میرے اس فعل پر خوش ہو جائے اور میری ضبط شدہ املاک واپس کر دے۔ خدا کو چھوڑا۔ رسول عربی سے کنارہ کش ہوئے۔ دنیا میں دجال اور کذاب کا نام پایا اور آخرت میں خدا جانے اس کا کیا مواخذہ لیا جائے گا اور لطف یہ کہ اس فعل شنیع پر اترانا حماقت نہیں تو اور کیا ہے۔ بہر حال ایک اور بھی مزے کی چیز ملاحظہ فرمائیں:
٣٥
مرزا قادیانی کا اولین فرض
”میں نے مناسب سمجھا کہ اس رسالہ کو بلاد عرب یعنی حرمین اور شام اور مصر وغیرہ میں بھی بھیج دوں۔ کیونکہ اس کتاب کے ص ٥٢ میں جہاد کی مخالفت میں ایک مضمون لکھا گیا ہے۔ اور میں نے بائیس برس سے اپنے ذمہ فرض کر رکھا ہے کہ ایسی کتابیں جن میں جہاد کی مخالفت ہو اسلامی ممالک میں ضرور بھیج دیا کرتا ہوں ۔“
(تبلیغ رسالت ج ١٠ ص ٢٦، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٤٤)
جوانی کی دو چار نادانیاں ہیں
ایک اور بھی نظیر ملاحظہ فرمائیں:
انگریزی حکومت اسلامی سلطنت سے افضل ہے
”ہمیں اس گورنمنٹ کے آنے سے وہ دینی فائدہ پہنچا کہ سلطان روم کے کارناموں میں اس کی تلاش عبث ہے۔“
(تبلیغ رسالت جلد ہشتم، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٩٥)
وہاں قرآن اترا ہے یہاں انگریز اترے ہیں
مرزا قادیانی کا دیکھنا، خدا کا مہربان ہونا
”میں اپنے کام کو نہ مکہ میں اچھی طرح چلا سکتا ہوں نہ مدینہ میں نہ روم میں نہ شام و ایران میں نہ کابل میں (اچھا کام ہے جسے کوئی ملک اجازت ہی نہیں دیتا) مگر اس گورنمنٹ میں جس کے اقبال کے لئے دعاء کرتا ہوں۔ (مرزائیو زور سے آمین کہو) لہٰذا وہ اس الہام میں اشارہ فرماتا ہے کہ اس گورنمنٹ کے اقبال اور شوکت میں تیرے وجود اور تیری دعاء کا اثر ہے اور اس کی فتوحات تیرے سبب سے ہیں۔ کیونکہ جدھر تیرا منہ ادھر خدا کا منہ ہے۔ (ماشاء اللہ میرے پنجابی نبی جی تمہاری کیا شان ہے)
(تبلیغ رسالت ج ٦ ص ٦٩، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٣٧٠)
مرے تھے جن کے لئے وہ رہے وضو کرتے
جلے دل کا دھواں
”بارہا بے اختیار دل میں یہ بھی گذرتا ہے کہ جس گورنمنٹ کی اطاعت اور خدمت
٣٦
گزاری کی نیت سے ہم نے کئی کتابیں مخالفت جہاد اور گورنمنٹ کی اطاعت میں لکھ کر دنیا میں شائع کیں اور کافر وغیرہ اپنے نام رکھوائے۔ (آنسو پونچھ دیجئے) اس گورنمنٹ کو اب تک معلوم نہیں کہ ہم دن رات کیا خدمت کررہے ہیں۔“
نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے
”یقین رکھتا ہوں کہ ایک دن یہ گورنمنٹ عالیہ میری ان خدمات کا قدر کرے گی۔“ (اس جہاں میں تو نہیں کیا شاید روز حشر سفارش کرے)
(تبلیغ رسالت ج ١٠ ص ٢٨، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٤٥)
”ایسی کتابیں چھاپنے اور شائع کرنے میں ہزارہا روپیہ خرچ کیا گیا۔ مگر باایں ہمہ میری طبیعت نے کبھی نہیں چاہا کہ ان متواتر خدمات کا اپنے حکام کے پاس ذکر بھی کروں۔“ (شکر ہے ایسی دلیری نہیں کی ورنہ)
(تبلیغ رسالت ج ٧ ص ٢٠، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١١)
اف اس قدر ظلم کہ توجہ سے دیکھا بھی نہ گیا
”افسوس مجھے معلوم ہوتا ہے کہ اس لمبے سلسلہ اٹھارہ برس کی تالیفات کو (میری ساری زندگی کا نچوڑ) جن میں بہت سی پر زور تقریریں ۔ اطاعت گورنمنٹ کے بارے میں ہیں۔ کبھی ہماری گورنمنٹ محسنہ نے توجہ سے نہیں دیکھا۔ (کچھ فکر نہ کیجئے گا) اور کئی مرتبہ میں نے یاد دلایا مگر اس کا اثر محسوس نہیں ہوا۔“ (یہ شاید نسیان کی برکت اور شیرینی لب کی وجہ سے ہوگا)
(تبلیغ رسالت ج ٧، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٣)
عاجز مرزا، ملکہ وکٹوریہ کے حضور میں
”اس عاجز مرزا غلام احمد قادیانی کو وہ اعلیٰ درجہ کا اخلاص اور محبت اور جوشِ اطاعت حضور ملکہ معظمہ اور اس کے معزز افسروں کی نسبت حاصل ہے جو میں ایسے الفاظ نہیں پاتا۔ جن میں ان اخلاص کا اندازہ بیان کرسکوں۔ اس سچی محبت اور اخلاص کی تحریک سے جشن شصت سالہ جوبلی کی تقریب پر میں نے ایک رسالہ حضرت قیصرِ ہند دام اقبالہا کے نام سے تالیف کر کے اور اس کا نام تحفہ قیصریہ رکھ کر جناب ممدوحہ کی خدمت میں بطور درویشانہ تحفہ کے ارسال کیا تھا اور مجھے قوی یقین تھا کہ اس کے جواب سے مجھے عزت دی جائے گی اور امید سے بڑھ کر میری سرفرازی کا موجب ہوگا۔...... مگر مجھے نہایت تعجب ہے کہ ایک کلمہ شاہانہ سے بھی میں ممنون نہیں کیا گیا۔ (صبر
٣٧
کیجئے) اور میرا کانشنس ہرگز اس بات کو قبول نہیں کرتا کہ وہ ہدیہ عاجزانہ یعنی رسالہ تحفہ قیصریہ حضور ملکہ معظمہ میں پیش ہوا ہو اور پھر میں اس کے جواب سے ممنون نہ کیا جاؤں۔ یقیناً کوئی اور باعث ہے جس میں جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کے ارادہ اور مرضی اور علم کو کچھ دخل نہیں۔ لہٰذا اس حسن ظن نے جو میں حضور ملکہ معظمہ دام اقبالہا کی خدمت میں رکھتا ہوں۔ دوبارہ مجھے مجبور کیا کہ میں اس تحفہ قیصریہ کی طرف جناب ممدوحہ کو توجہ دلاؤں اور شاہانہ منظوری کے چند الفاظ سے خوشی حاصل کروں۔ اس غرض سے یہ عریضہ روانہ کرتا ہوں۔"
(ستارہ قیصریہ ص ٢، خزائن ج ١٥ ص ١١٢)
اور سنئے انتظار کا برا ہو نبی صاحب بیقرار ہو رہے ہیں۔
عاجزانہ تحفہ جو کمال اخلاص خون دل سے لکھا گیا
"میں نے تحفہ قیصریہ میں جو حضور قیصر ہند کی خدمت میں بھیجا گیا۔ یہ حالات اور خدمات اور دعوات گذارش کئے تھے اور اپنی جناب ملکہ معظمہ کے اخلاق وسیعہ پر نظر رکھ کر ہر روز جواب کا امیدوار تھا اور اب بھی ہوں میرے خیال میں یہ غیرممکن ہے کہ میرے جیسے دعا گو کا وہ عاجزانہ تحفہ جو بوجہ کمال اخلاص خون دل سے لکھا گیا تھا۔ اگر وہ حضور ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کی خدمت میں پیش ہوتا تو اس کا جواب نہ آتا بلکہ ضرور آتا ، ضرور آتا۔ اس لئے مجھے بوجہ اس یقین کے کہ:
جناب قیصرہ ہند کے پر رحمت اخلاق
پر کمال وثوق سے حاصل ہے کہ اس یاد دہانی کے عریضہ کو لکھنا پڑا اور اس کو نہ صرف میرے ہاتھوں نے لکھا ہے۔ بلکہ میرے دل نے یقین کا بھرا ہوا زور ڈال کر ہاتھوں کو اس پر ارادت خط کے لکھنے کے لئے چلایا ہے۔ پس دعاء کرتا ہوں کہ خیر وعافیت اور خوشی کے وقت میں خدا تعالیٰ اس خط کو حضور قیصرہ ہند دام اقبالہا کی خدمت میں پہنچاوے اور پھر جناب ممدوحہ کے دل میں الہام کرے کہ وہ اس سچی محبت اور سچے اخلاق کو جو حضرت موصوفہ کی نسبت میرے دل میں ہے اپنی پاک فراست سے شناخت کر لیں اور رعیت پروری کی رو سے مجھ پر مرحمت جواب سے ممنون فرمائیں۔"
(ستارہ قیصریہ ص ٤، خزائن ج ١٥ ص ١١٥)
حضرت مرزا قادیانی کی بیقراری
اس عاجزانہ تحفہ کے جواب میں مرزا قادیانی مدّتوں بے قرار رہے نہ دن کو چین نہ رات کو آرام۔ عجب اضطراری کا زمانہ تھا۔ بیقرار دل خط کی انتظار میں بلیوں اچھلا۔ مہینوں ڈاک کی انتظار کی۔ ہر اچھے لفافہ پر جان جاتی کہ قیصرہ ہند کا عطیہ آیا۔ مگر آرزو نے انفعال کا جامہ زیب تن
٣٨
کرنے سے پہلے چند ایک بے ضابطگیاں بھی کرا کے ہی چھوڑا۔ چنانچہ جناب قیصریہ کے جواب کے منتظر کو الہام شروع ہوئے کہ شکریہ سے نوازا گیا۔ آپ نے قبل از وقت اس پر رائے زنی بھی کردی۔ چنانچہ قارئین کرام کی ضیافت طبع کے لئے وہ بھی پیش کی جاتی ہے ملاحظہ فرمائیں۔
"قیصر ہند کی طرف سے شکریہ"
(البشریٰ ج ٢ ص ٧٥)
تشریح: الہام متشابہات میں سے ہے اور یہ ایسا لفظ ہے کہ حیرت میں ڈالتا ہے۔ کیونکہ میں ایک گوشہ نشین آدمی ہوں اور ہر ایک قابل پسند خدمت سے عاری اور قبل از موت اپنے تئیں مردہ سمجھتا ہوں۔ میرا شکریہ کیسا۔
خود ہی التجا کرتے ہیں اور شکریہ کے لئے جان نکل رہی ہے اور الہام ہورہے ہیں۔ مگر الہامی عبارت کی تشریح میں دجل کا دم چھلا بھی لگا دیا گیا ہے کہ اگر شکریہ نہ آئے تو نادم ہونا پڑے۔ بلکہ کہہ دیا جائے کہ ہم نے پہلے ہی نفی کردی ہے۔ دوم: مبشروں کا زوال نہیں آتا۔ گورنر جنرل کی پیش گوئیوں کے پورا ہونے کا وقت آگیا۔
گورنر جنرل مرزا کی ایک عاجزانہ درخواست گورنمنٹ انگلشیہ کے حضور میں
"اے ملکہ معظمہ قیصرہ ہند ہم (مرزا اور میری امت) عاجزانہ ادب کے ساتھ تیرے حضور میں کھڑے ہو کر عرض کرتے ہیں کہ تو اس خوشی کے وقت جو شصت سالہ جوبلی کا وقت ہے یسوع کے چھوڑنے کے لئے کوشش کر۔"
(تحفہ قیصریہ ص ٢٧، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٧)
جس گل کو سونگھتا ہوں آتی ہے بو تمہاری
سیرت خیر البشر کا پتہ پتہ و شاخ شاخ واقعات کی روشنی میں درس عبرت کے لئے ایسے شگفتہ پھول پیش کرتی ہے جن کی بھینی بھینی خوشبو اور لبھا لینے والا رنگ اب بھی ویسا ہی موجود ہے۔ جیسا کہ آج سے تیرہ سو برس پیشتر تھا۔ چنانچہ اس سیہ بختی کے زمانہ میں جب کے دنیا تاریکی کے عالم میں بے دست و پا ٹھوکریں کھا رہی تھی اور کفر کے گھٹا ٹوپ بادل ماہ انور کو گھیرے ہوئے پڑے تھے۔ جب کہ جہالت کا پرتو اقوام عالم پہ چھایا جا رہا تھا اور رذالت کی آندھیاں اور خباثت کے طوفان نجابت و شرافت پہ امنڈ آئے تھے۔ جب کہ پتھر کی مورتیاں گھر گھر بنتی اور بکتی تھیں اور خدا کی وحدانیت کو کوئی نہ جانتا تھا۔ لات و عزّیٰ کے پجاری خانہ خدا پر قابض تھے اور وہ بتوں سے پٹا پڑا تھا۔ جن پر جہل حکمرانی کر رہا تھا۔ خدا
٣٩
کے بندے بتوں کے پھندے میں پھنسے پڑے تھے اور وہ وہ حیا سوز حرکات کے مرتکب ہو رہے تھے جنہیں کوئی مہذب انسان ایک آنکھ دیکھنا بھی پسند نہ کرے۔ جوا و شراب قمار بازی و ڈکیتی مکاری اور حرامکاری و عصمت دری ان کی رگ رگ و نس نس میں پیوست ہو چکی تھی۔ بس یوں سمجھئے کہ شریفوں کی دنیا اور نیکوں کی نیکی کی عافیت تنگ ہو چکی تھی۔ مولانا حالی نے کیا خوب کہا ہے۔
اندھیرا تھا فاران کی چوٹیوں پر
اور اس بدبخت و بدترین دور میں جس کا بھیانک تصور رونگٹے کھڑے کرتا اور روح لرزہ براندام رہتی۔ آخر مشیت حق یا غیرت کردگار جوش رحمت میں آئی تو آمنہ کے لال کو مبعوث فرمایا۔ چنانچہ چچا حالی کیا خوب کہہ گئے۔
بڑھا جانب بوقبیس ابر رحمت
ادا خاک بطحاء نے کی وہ ودیعت
چلے آتے تھے جس کی دیتے شہادت
ہوئی پہلوئے آمنہ سے ہویدا
دعائے خلیل اور نوید مسیحا
ہوئے محو عالم سے آثار ظلمت
کہ طالع ہوا ماہ برج سعادت
نہ چھٹکی مگر چاندنی ایک مدت
کہ تھا ابر میں ماہتاب رسالت
یہ چالیسویں سال لطف خدا سے
کیا چاند نے کھیت غار حرا سے
وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
مرادیں غریبوں کی بر لانے والا
مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا
وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا
فقیروں کا ملجا ضعیفوں کا ماوٰی
یتیموں کا والی غلاموں کا مولیٰ
خطا کار سے درگزر کرنے والا
بداندیش کے دل میں گھر کرنے والا
مفاسد کا زیر و زبر کرنے والا
قبائل کا شیر و شکر کرنے والا
اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا
اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا
٤٠
چنانچہ سرکار مدینہ نے جب وطن عزیز کو خیر باد کہی تو کعبۃ اللہ کے سامنے خاموشی اور حسرت کو شاہد بناتے ہوئے یہ کلمات فرمائے تھے۔ اے خدا کے پاک گھر تجھ سے میں ایک لمحہ کے لئے بھی جدا ہونا پسند نہ کرتا۔ مگر افسوس مجھے جدا ہونے پر مجبور کیا گیا۔ غرضیکہ راہ خدا میں وطن کو چھوڑا، گھر چھوڑا، عزیز واقارب چھوڑے، مال واملاک چھوڑا، سبھی کچھ چھوڑ کر یکہ وتنہا ناموس رسالت مدینہ طیبہ پہنچے۔ یہ زمانہ رسالت غریب الوطنی کا زمانہ تھا اور اس نورانی شمع کے خوش نصیب پروانے بھی کس مپرسی کی حالت میں وطن کو خیر باد کہہ کر شمع رسالت کے بھنورے بن چکے تھے۔ غربت تھی، افلاس تھا۔ فاقہ مستی تھی۔ مگر یہ سب کچھ گوارا تھا۔ ریشم کی پوستین اور اطلس کے لباس پہننے والے کمبل اور گدڑیوں میں وہ لطف حاصل کر رہے تھے جو امارت میں کبھی نصیب نہ ہوا۔ وہ رفاقت محبوب میں فاقوں کو ان مرغن کھانوں پر ترجیح دیتے دیدار محبوب ان کی خوراک تھی اور شراب وحدت ان کا پینا تھا۔
اس غربت وافلاس کے زمانے میں وہ کفار مکہ کے تختہ مشق بھی تھے اور کوئی ایسی مصیبت نہ تھی جو ان پر ڈھائی نہ گئی ہو۔ مگر جوانمردی واستقلال نے ہمیشہ ان کے قدم چومے اور ظفر کا سہرا ہمیشہ ان کے سروں پر لہرایا۔ ناموس الٰہی نے انہیں ایام میں تبلیغی احکام دینوی بادشاہوں کو بھیجے۔ چنانچہ ہرقل اعظم جس کی نصف سے زیادہ دنیا پر حکومت تھی اور جس کی ساکھ کی سلطنت آج تک کسی بادشاہ کو نصیب نہیں ہوئی۔ محمد عربی فداہ ابی وامی نے کن الفاظ میں دعوت اسلام کی۔ کیا چاپلوسی اور کاسہ لیسی کو استعمال کیا گیا۔ کیا منت وسماجت سے گڑگڑا کر اپیل کی گئی۔ نہیں شان نبوت کے یہ باتیں منافی تھیں۔ اس لئے بھی کہ وہ آسمانی بادشاہت کے نائب تھے اور ذات کردگار کے دنیوی بادشاہ ایک ادنیٰ غلام کی حیثیت سے ہیں۔ فرقان حمید اس پر شاہد ہے۔
”يٰاَيُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ اِلَى اللّٰهِ (فاطر:١٥) ”اے تمام جہان کے لوگو۔ تم سب میری بارگاہ کے محتاج ہو۔ میری ذات ہی بادشاہ ہے۔ تعریف کے لائق ہے“
چنانچہ فرمان رسالت یوں جاری ہوئے۔ شاہ ہرقل کو لکھا گیا۔ یہ فرمان ہے اللہ کے بندے محمد رسول اللہ کی طرف سے، اسلم تسلم، ایمان لے آؤ، سلامت رہے گا۔
مگر آہ قادیانی نبی نے تو نبوت کی لٹیا ہی ڈبو دی۔ مرسلین من اللہ دنیاوی بادشاہوں سے یوں ہمکلام نہیں ہوا کرتے۔ ان کے دل یوں مرعوب نہیں ہوتے اور وہ ایسے الفاظ صرف بارگاہ ایزدی میں ہی جو سب بادشاہوں کا شہنشاہ ہے۔ پکارا کرتے ہیں اور تبلیغ رسالت کس شان سے ہوا کرتی ہے۔
٤١
غرضیکہ مرزا قادیانی کی ایک اور بھی دیرینہ آرزو ہے۔ جو قابل ستائش ہے۔ اس لئے اسے بھی ملاحظہ فرماتے ہوئے پنجابی نبوت کے اخلاق کی داد دیجئے اور مرزا قادیانی کا اپنے حق میں آیت کریمہ کے مصداق ”وما ارسلناک الا رحمۃ اللعالمین (انبیاء:١٠٧)“ یعنی اے مرزا! ہم نے تجھ کو تمام جہان کے لئے رحمت بنا کر بھیجا، بھی ملاحظہ فرمائیں۔
حضور گورنمنٹ عالیہ میں مرزا قادیانی کی درخواست
”اب میں اس گورنمنٹ محسنہ کے زیر سایہ ہر طرح سے خوش ہوں۔ صرف ایک رنج اور درد غم مجھے لاحق حال ہے۔ جس کا استغاثہ پیش کرنے کے لئے اپنی محسن گورنمنٹ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں اور وہ یہ ہے کہ اس ملک کے مولوی مسلمان اور ان کی جماعتوں کے لوگ حد سے زیادہ مجھے ستاتے اور دکھ دیتے ہیں۔“
(تبلیغ رسالت ج٨ ص٥٣، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص١٤٣)
مرزا قادیانی کو یقین واثق اور خیال غالب تھا کہ میری خدمت گزاریوں کی وجہ سے حکومت وقت میرے آلہ کار بن کر غریب مسلمان مولویوں کو تختہ مشق جور و ستم بنا دے گی اور اس طرح سے یہ لوگ میری نبوت میں مخل ہونے سے اجتناب کر لیں گے۔ کیونکہ وہ اور کسی تدبیر سے باز نہیں آتے۔ میں نے طرح طرح کے ان سے مباحثے۔ مجادلے کی دھمکیاں دیں۔ مباہلے کئے بلایا۔ سخت الفاظی کو استعمال کیا۔ مگر ان مولویوں کا ستیاناس ہو کہ یہ پیچھا ہی نہیں چھوڑتے اور جو بھی بناتا ہوں یہ اس کو دھڑام سے گرا دیتے ہیں۔ قصر نبوت کی بنیادیں اٹھنے ہی نہیں دیتے۔ اب یہ مولویت کے شتر مرغ میری محسن گورنمنٹ کے تو قابو آئیں گے اور ہو سکتا ہے کہ مجھے سفارش کے لئے یاد کریں۔ مگر حکومت کے تدبر و فہم کے قربان کہ مرزا قادیانی کی عاجزانہ درخواست بھی صدا بصحرا ہی ثابت ہوئی اور کسی نے اس پر ذرا التفات نہ کیا۔ پڑھنا بھی گوارا نہ کیا۔ تو آپ نے ایک اور پہلو بدلا وہ بھی ملاحظہ فرمائیں۔
مرزا آنجہانی سی۔ آئی۔ ڈی کے لباس میں
”قرین مصلحت ہے کہ سرکار انگریزی کی خیر خواہی کے لئے ایسے نافہم مسلمانوں کے نام بھی نقشہ جات میں درج کئے جائیں جو درپردہ اپنے دلوں میں برٹش انڈیا کو دارالحرب قرار دیتے ہیں....... ہم امید رکھتے ہیں کہ ہماری گورنمنٹ حکیم مزاج بھی ان نقشوں کو ایک ملکی راز کی طرح اپنے کسی دفتر میں محفوظ رکھے گی۔ ایسے لوگوں کے نام پتہ و نشان یہ ہیں۔“
(تبلیغ رسالت ج٥ ص١١، مجموعہ اشتہارات ج٢ ص٢٢٧)
مرزا قادیانی نے فن جاسوسی میں غریب مسلمانوں کے نام معہ مختصر خاکے کے خود بخود پیش
٤٤
بڑے عذاب کا مزہ چکھو۔
اسی طرح سورۃ حم سجدہ میں ہے کہ:
(وَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوْا فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوْا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ۖ أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً ۖ وَكَانُوْا بِاٰيَاتِنَا يَجْحَدُوْنَ فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيْحًا صَرْصَرًا فِيْ أَيَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِيْقَهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَلَعَذَابُ الْآخِرَةِ أَخْزَى ۖ وَهُمْ لَا يُنْصَرُوْنَ)
اور بہرحال عاد، سو انہوں نے زمین میں ناحق تکبر کیا اور کہنے لگے کہ ہم سے بڑھ کر قوت میں کون ہے؟ کیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ جس اللہ نے ان کو پیدا کیا ہے وہ ان سے قوت میں بڑھ کر ہے اور وہ ہماری آیتوں کا انکار ہی کرتے رہے، سو ہم نے ان پر منحوس دنوں میں ایک نہایت تیز ہوا بھیجی تاکہ ہم ان کو دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب چکھائیں اور آخرت کا عذاب تو اس سے بھی زیادہ رسوا کرنے والا ہے اور ان کی مدد نہیں کی جائے گی۔
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے عاد پر عذابِ استیصال نازل کرنے کو ان کے انکارِ آیات کا نتیجہ اور سزا قرار دیا ہے، اب اگر عذابِ استیصال کے بعد عذاب کے خوف سے ان کا ایمان لانا معتبر ہوتا اور اس سے عذاب ان کے اوپر سے ٹل جاتا تو ان کی سزا موت نہ ہوتی، جب کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
(فَهَلْ تَرٰى لَهُمْ مِّنْ بَاقِيَةٍ)
سو کیا آپ کو ان میں سے کوئی باقی بچا ہوا نظر آتا ہے؟
(فَأَصْبَحُوْا لَا يُرٰى إِلَّا مَسَاكِنُهُمْ)
سو وہ ایسے ہو گئے کہ سوائے ان کے مکانوں کے کچھ اور نظر نہ آتا تھا۔
ان آیات سے یہ قطعی طور پر ثابت ہو گیا کہ عذاب کے آنے کے بعد کا
محض جھوٹی اور دکھاوا تھا۔ کیونکہ آپ کو اپنا بھانڈا پھوٹتا نظر آتا تھا کہ حکومت وقت کی جان سے زیادہ عزیز مسیح کے حق میں ہماری کم بختی سے کیا کیا نقل کیا۔ بہر حال عیب ڈھانپنے کے لئے خوشنودی حکام میں ایک نبی کی قلم سے کیا کیا ظہور ہوا۔ ذیل کی درخواست جو جناب لفٹنٹ گورنر کی خدمت میں دی گئی۔ یہ پتہ چلے گا کہ مسیح موعود اور مہدی معہود بننے کا خبط کیوں پیدا ہوا اور اصلی غرض وغایت کیا تھی۔ ناظرین کرام غور سے ملاحظہ فرمائیں اور یہی تصویر مرزا کا ایک درخشاں رخ ہے۔
مرزا آنجہانی کو مسیح اور مہدی مان لینا بھی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے
”میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے۔ کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔“
(درخواست مرزا آنجہانی بحضور نواب لفٹنٹ بہادر تبلیغ رسالت ج ٧ ص ١٧، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٩)
قارئین کرام! آپ نے بخوبی سمجھ لیا کہ جہاد کیوں حرام قرار دیا گیا۔ صرف اس لئے کہ کسی طرح حکومت وقت اس گناہ عظیم سے (توہین مسیح) پردہ پوشی کرتی ہوئی قانونی شکنجہ میں نہ کسے۔ بلکہ اپنا ادنیٰ خدمتگار اور بے دام غلام تصور کرتی ہوئی شاہی حوصلے اور جگرے سے معاف کر دے۔ اس کے بعد ایک اور سچی تڑپ جو فانی حکومت سے تھی ملاحظہ فرمائیں۔
مرزا آنجہانی گورنمنٹ کی راہ میں جان دینے کو سعادت عظمیٰ سمجھتے تھے
”جناب عالی! التماس ہے کہ سرکار دولت مدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس برس کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار جان نثار خاندان ثابت کر چکی ہے...... اس خود کاشتہ پودا کی نسبت حزم اور احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔
خود کاشتہ پودہ کی تعریف
ہمارے خاندان نے سرکار انگریزی کی راہ میں اپنے خون بہانے اور جان دینے سے دریغ نہیں کیا اور نہ اب دریغ ہے۔“
(درخواست مرزا آنجہانی بحضور نواب لفٹنٹ گورنر بہادر، تبلیغ رسالت ج ٧ ص ٢٠، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢١)
خصوصاً آج کل کے انبیاء سے
مسیح قادیانی کی چاپلوسی، پھر یہ غدارانہ بکواس اور ٹھنڈے دل سے سوچو کہ نبوت کے
٤٤
پاک نام کی تذلیل رسالت کی توہین اور پیامبری کے نام پہ بٹہ لگانے کا کام تو یقیناً اللہ والوں کا کام نہیں۔ اللہ اللہ نبیوں کے پہلوان خاکسار پیپرمنٹ کی زورِ قلم کا کیا کہنا۔ گورنر جنرل مرزا آنجہانی کی بطلان القلمی کا انحصار کیا اسی بات پر موقوف ہے کہ کاسہ لیسی وخوشامد، چاپلوسی، حماقت کی حد کر دی جائے۔ جا و بیجا الفاظ کے تعین کی تمیز باقی نہ رہے اور وہ وہ ذمہ دار الفاظ سہواً کہوں یا عمداً منہ سے نکلیں جن کے واپس لینے اور معذرت خواہ ہونے پر بھی بدنامی کا بدنما دھبہ یا کلنک کا ٹیکہ پیشانی پر درخشاں رہے۔ یہ بات کیا ہے۔ آخر یہ خود کاشتہ پودا کیا بلا ہے۔ کبھی اس کا مطلب بھی سوچا۔ کبھی اس معمّہ کا حل بھی تلاش کیا۔ مگر کس کو فرصت ہے کہ سوچے اور کیا ضرورت ہے۔ جو یونہی سردردی مول لے۔ اس لئے بھی کہ چندوں کے دھندے اور مرزا کے پھندے عقل کی لٹیا مدت ہوئی ڈبو چکے اور رہے سہے حواس بخاری ڈنڈے کی نذر ہوئے۔ میاں سوچو اور سمجھنے کی کوشش کرو۔ مرزا قادیانی اپنے لئے فخریہ حکومت کا خود کاشتہ پودا بیان کرتے ہیں اور اس کی آبیاری وحفاظت کا ٹھیکیدار حکومت وقت کو گردانتے ہیں۔ اب ٹھنڈے دل سے سینہ پر ہاتھ رکھ کر سوچیں کہ جس پودے کو اس کا پرورش کنندہ بٹھاوے اور پچاس سال اس کی نگرانی میں خون پسینہ ایک کردے وہ درخت کس کا ہوگا اور اس کا پھل پھول کس کے کام آئے گا اور جب کہ پودا خود زبان حال سے پکار پکار کر یہ کہہ رہا ہو۔
آئیرنیکل سرکاری نبی نے اپنے اس بیان میں کمال ہی کر دیا۔ واہ صاحب واہ اس سے زیادہ وضاحت اور کیا ہوسکتی ہے۔ یہ بیان تو گویا قادیانی مذہب کا نچوڑ ہے۔ اس میں یوں تو تمام الفاظ ہی قابل قدر ہیں۔ مگر وہ فقرہ جس میں اپیل کی گئی ہے کہ بڑی بی ذرا اپنی ماماؤں اور خواصوں کو کہہ دو کہ یہ بیگانہ نہیں یگانہ اور اپنا ہی ہے۔ گو بھیڑ کی پوستین پہنے ہے۔ مگر پھر بھی اپنا ہی ہے۔ اللہ اللہ سرکار مدنی تو یہ فرمائیں۔
”قل ان صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی للّٰہ رب العلمین (انعام: ١٦٢) ”میری نماز اور قربانی میرا جینا اور مرنا اللہ کے لئے ہے جو صاحب سارے جہان کا ہے۔“
ظل اور بروز کا دعویدار کہتا ہے ”قل ان صلاتی ونسکی محیای ومماتی لملوکان لندن“ ”میری نماز اور قربانی میرا جینا اور مرنا خداوندان لندن کے لئے ہے۔“
نہ قاصد کی ضرورت ہے نہ حاجت ہے کبوتر کی
٤٥
میٹھی چھری مرزائی بدعقلی اور حماقت کی انتہاء
(از رشحات قلم چوہدری افضل حق صاحب ایم۔ایل۔سی لاہور)
دہقان کی حسرتناک سادہ لوحی پر کون خون کے آنسو نہ بہائے۔ جو کھیت کی جھاڑ بوٹیوں کو اپنی محنت کا حاصل اور قابل ذخیرہ جنس قرار دے لے اس مسلمان کی بدعقلی اور حماقت اس سے زیادہ کیا ہے۔ جو مرزائیوں جیسی اسلام دشمن جماعت کو اپنا قوت بازو سمجھ لے کسی کی ریا کاری سے انسان فریب کھا سکتا ہے۔ لیکن اسلام کی بیخ کنی کے کھلے عزائم رکھنے والی جماعت کو سینہ سے لگائے رکھنا، سانپوں کو آستینوں میں پرورش کرنے کے برابر ہے۔ مرزائی کو اسلام دوست سمجھنا دھوکہ کھا جانے کی بات نہیں۔ بلکہ حقائق کو اپنی ہٹ دھرمی پر قربان کرنا ہے میں مانتا ہوں کہ مجھے مذہبی علوم پر عبور نہیں۔ مگر مذہب کے علمبردار ان کی دیں دشمنی سے نالاں ہیں اور وہ کون سا مسلمان ہے جس سے ان کی دشمنی نہیں۔ ہمارے معاصر ان کو لاکھ اپناؤ۔ مگر ان کا فتویٰ یہی رہے گا۔
”ساری دنیا ہماری دشمن ہے۔ بعض لوگ جب ان کو ہم سے مطلب ہوتا ہے تو ہمیں شاباش کہتے ہیں۔ جس سے بعض احمدی یہ خیال کر لیتے ہیں کہ وہ ہمارے دوست ہیں۔ حالانکہ جب تک ایک شخص خواہ وہ ہم سے کتنی ہمدردی کرنے والا ہو۔ پورے طور پر احمدی نہیں ہو جاتا۔ ہمارا دشمن ہے۔“
(تقریر خلیفہ قادیانی ٢٥؍ اپریل ١٩٣٠ء)
خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اسلامی دنیا میں کوئی دین کا عالم ایسا نہیں جو سانپوں کو دودھ پلانے کا فتویٰ دے سکے۔ البتہ بعض سیاسین مذہب جن کے نزدیک مذاق ہے۔ سعی لاحاصل میں مصروف ہیں کہ مرزائی کو سیاسی مسلمان سمجھ لیا جائے۔ حالانکہ یہ گروہ اسلام کا شدید مخالف ہے تو اسلامی سیاست کا شدید ترین دشمن ہے۔ لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ مرزائیوں کے دوست دار لیڈروں کے پیش نظر اسلامی سیاست نہیں۔ بلکہ پنجابی سیاست ہے۔ وہ پنجاب میں کسی قیمت پر اپنے وہم کا اطمینان چاہتے ہیں۔ انہیں خوف ہے کہ وہ پنجاب کے پانیوں میں ڈوب رہے ہیں۔ اس لئے بچھو کو تنکا سمجھ کر سہارے کے لئے ہاتھ ڈالنا چاہتے ہیں۔ انہیں وہ تنکا سہارا بھی نہ دے گا۔ بلکہ اپنی طبیعت سے باز نہ آئے گا۔ اوّل تو پنجاب کے سیاسی فارمولا کو پیش نظر رکھنا چاہئے کہ حکومت نے تقسیم کے دو گروہ تسلیم کئے ہیں۔ مسلم اور غیر مسلم۔ مسلم کو جو ملنا تھا مل چکا غیر مسلم کو جو دیا جانا تھا دیا جاچکا۔ اس کے علاوہ اڑھائی کروڑ کی آبادی میں پچاس ہزار مرزائیوں کا پاسنگ موجودہ توازن کو آئندہ بھی بدلنے کے ناقابل ہے۔ اگر آپ کے نزدیک مرزائی ہی حل المشکلات
٤٤
ہیں تو یہ سہاگ دو دن کا مہمان ہے۔ کیا اعتبار کہ یہ میٹھی چھری کلیجے سے لگ کر کب جدا ہو جائے۔ مرزائیت سے اتحاد کے متمنی مسلمان اس حقیقت کبریٰ کو کیوں نظر انداز کر دیتے ہیں کہ اس مذہب کی بنیاد افتراق پر ہے۔ حضور ﷺ سرور کائنات نے خدا سے حکم پا کر ختم نبوت کا دعویٰ کیا۔ تاکہ آئندہ ملت اسلامیہ مختلف نبیوں کے دعوؤں کی بناء پر تقسیم در تقسیم ہونے سے بچ رہے اور ہر مسلمان کو مبلغ قرار دیا۔ تاکہ باقی مذاہب کے پیرو بتدریج اسلام قبول کر کے لوائے محمدی کے نیچے جمع ہو جائیں۔ کون نہیں جانتا کہ ملک اور مذہب کی حد بندیوں کے علاوہ اختلاف مذہب سب سے بڑی حد بندی ہے۔ جو نسل انسانی کی تفریق کا باعث ہے۔ مذہبی حد بندی مختلف نبیوں اور رسولوں کی پیروی کی بناء پر ہے۔ قادیانی مذہب کا دعویٰ درحقیقت تاج مصطفوی ﷺ پر ہاتھ ڈالنے کا چور دروازہ ہے۔ تعجب ہے کہ فرزندان اسلام اس اسلامی ہتک کو تو خوشی سے برداشت کر لیں اور فتنہ پرداز کو اسلامی شیرازہ بکھیرنے کی کھلی اجازت دیں۔ لیکن پنجاب کی اکثریت کے موہوم خطرے سے بے تاب ہو جائیں۔ خدا حکم فرمائے محمد رسول اللہ ﷺ تمام انسان کے لئے کافی ہیں۔ غضب خدا کا مرزا قادیانی درمیان سے ہانک لگا دے کہ؎
منم محمد واحد کہ مجتبےٰ باشد
(تریاق القلوب ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ١٣٣)
مرزا غلام احمد قادیانی کی ایسی جسارت پر احتجاج کرنے کی بجائے خود آنکھیں نیچی کر لی جائیں۔ مبادا ان کے دل تمہارے اقدام سے مجروح ہو جائیں۔ وہ ملت اسلامیہ کو نقصان پہنچائیں۔ سرور عالم محمد رسول اللہ ﷺ کے منہ آئیں۔ بالکل معاف مگر پنجاب میں تمہاری اکثریت کو موہوم خطرہ لاحق نہ ہو جائے۔ اگر مذہب کی ذلت اور ملت کی بربادی کو خاطر میں نہ لا کر مرزائیوں کو ساتھ ملانے پر کسی کو اصرار ہے تو مجلس احرار کا ایسی قوتوں سے مقابلہ کرتے رہنا سب سے بڑا جہاد ہے۔ ہاں اگر کوئی شخص مرزائیوں کی اسلام کے خلاف گہری منصوبہ بازی سے ناواقف ہو تو آگاہ کرنا ضروری ہے۔
مرزائیوں کے مرکز قادیان میں ان کے سیاسی اخلاق کا نظارہ دیکھو۔ برسوں سے مسلمانوں کو بدترین مصیبتوں میں مبتلا کر رکھا ہے۔ محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت میں مرزا غلام احمد قادیانی کو ساجھی نہ کرنے کے جرم میں اراضی سے بے دخل کر دیا جاتا ہے۔ غریب مسلمانوں کا کوئی سانس خطرے سے خالی نہیں جاتا۔ لاہور میں بیٹھ کر مرزائیوں کو امن پسندی کی سند کوئی عطاء
٤٧
کرتا ہے۔ مگر انگریزی عدالت کا فیصلہ شاہد عادل ہے۔
انہوں نے اپنے دلائل دوسروں سے منوانے اور اپنی جماعت کو ترقی دینے کے لئے ایسے حربوں کا استعمال شروع کیا۔ جنہیں ناپسندیدہ کہا جائے گا۔ جن لوگوں نے قادیانیوں کی جماعت میں شامل ہونے سے انکار کیا۔ انہیں مقاطعہ قادیان سے اخراج اور بعض اوقات اس سے بھی مکروہ تر مصائب کی دھمکیاں دے دے کر دہشت انگیزی کی فضا پیدا کی۔ بلکہ بسا اوقات انہوں نے ان دھمکیوں کو عملی جامہ پہنا کر اپنی جماعت کے استحکام کی کوشش کی۔ (فیصلہ مسٹر کھوسلہ)
خدا بہتر جانتا ہے کہ واقعات کے اظہار میں تنکے کے برابر مبالغہ نہیں کیا گیا۔ ایسے بے فیض گروہ سے فیض کی امید اور ان سے دوستی کی توقع آزمائے ہوئے کو آزما کر ذلت کا منہ دیکھنا ہے۔ ان وحشی اور المناک شورہ پشتی کی داستان مباہلہ والوں سے پوچھو۔ شہید محمد حسین کے پسماندگاں سے دریافت کرو۔ مسلمانوں کی جان پر چھریاں چلانے والوں کو اخبار کے دفتر میں قلم چلا کر بری الذمہ نہیں کیا جاسکتا۔ مجلس احرار کی قادیان کے مخالف سرگرمیوں پر کوئی کتنی پھبتیاں اڑائے۔ لیکن مجلس احرار موجودہ مرزا کی تعلی کو بھول نہیں سکتی کہ جب اس نے برملا کہا۔
”قادیان میں ایک غیر احمدی کا وجود اس کے لئے باعث تردد ہے۔“ اس کے ساتھ کوئی شوق سے محبت کی پینگیں بڑھائے۔ مگر کسی ایک شخص کی راہ و رسم مرزائیوں کے خطرناک عزائم کو روک نہیں سکتی۔
وہ مسلمان اخبار نویس جو مرزائیوں کے خلاف آواز سنتے ہی اندھے کا لٹھ گھمانا شروع کر دیتے ہیں اور جو بولے اس کی تواضع کرنے میں بخل نہیں کرتے۔ شاید اس حقیقت سے بے خبر ہیں کہ مسلمانوں کو مرزائی نہ صرف مذہبی لحاظ سے کافر اور سیاسی لحاظ سے دشمن سمجھتے ہیں۔ بلکہ اقتصادی طور پر دشمن کا سا سلوک کرتے ہیں۔ ہر مرزائی مرزائی سے خرید و فروخت پر مجبور ہے۔ خلاف ورزی کرنے والا سخت سزا کا مستوجب ہے۔ مرزائیوں کے بائیکاٹ کا معاملہ سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاریؒ کے مقدمہ میں زیر بحث رہا ہے۔ مرزائی سرکلر کی نقل شاید ہمارے کوتاہ بین مخالفوں کی آنکھیں کھول دے اور وہ مجلس احرار کی دور بینی کے قائل ہو جائیں۔
نقل اقرار نامہ
”سودا احمدیوں سے خریدوں گا“
قادیان کی احمدیہ جماعت نے جو معاہدہ ترقی تجارت تجویز کیا ہے۔ مجھے منظور ہے میں
٤٨
اقرار کرتا ہوں کہ ضروریات جماعت قادیان کا خیال رکھوں گا اور قادیانی مدیر تجارت جو حکم کسی چیز کے بہم پہنچانے کا دیں گے۔ اس کی تعمیل کروں گا اور جو حکم ناظر امور عامہ دیں گے۔ اس کی بلا چون و چرا تعمیل کروں گا۔ نیز جو اور ہدایات وقتاً فوقتاً جاری ہوں گی ان کی پابندی کروں گا۔ اگر میں کسی حکم کی خلاف ورزی کروں گا تو جو جرمانہ تجویز ہوگا وہ ادا کروں گا۔ میں عہد کرتا ہوں کہ جو میرا جھگڑا احمدیوں سے ہوگا اس کے لئے امام جماعت احمدیہ (مرزا بشیر) کا فیصلہ میرے لئے حجت ہوگا۔ ہر قسم کا سودا احمدیوں سے خریدوں گا۔ معاہدہ کی خلاف ورزی کی صورت میں ٢٠ روپے سے لے کر ١٠٠ روپے تک جرمانہ ادا کروں گا اور میں روپیہ پیشگی جمع کراؤں گا۔ اگر میرا جمع شدہ روپیہ ضبط ہوجائے تو مجھے اس کی واپسی کا حق نہ ہوگا۔ نیز میں عہد کرتا ہوں کہ احمدیوں کی مخالف مجلس میں کبھی شریک نہ ہوں گا۔
دیکھا آپ نے بیوی بڑے پیار محبت سے نتھ کی فرمائش کر رہی ہے اور میاں ناک کاٹنے کی فکر میں لگا ہوا ہے۔ مسلمان مرزائیوں کو ساتھ ملانے کے لئے بے تاب ہیں اور مرزائی مسلمانوں کے بائیکاٹ پر تل بیٹھے ہیں۔
کوئی صاحب عقل ایک بدعقل کے پاس سے گزرا۔ دیکھا کہ وہ قیمتی جواہرات کو گھر کے باہر پھینک رہا ہے اور کوئلوں کو سات پردوں میں چھپا کر احتیاط سے الماری میں بند کر رہا ہے۔ عقلمند کا دل اس کی حماقت کو دیکھ کر پسیج گیا۔ بولا عقل کے اندھے ان لعل و جواہر کو سمیٹ ان میں سے ایک ایک درّ شاہوار ہے۔ تیرے آباؤ اجداد نے خون پسینہ ایک کر کے یہ دولت جمع کی ہوگی۔ تجھ سے زیادہ بدعقل اور پر از حماقت اور کون ۔ جو......
صاحب ہوش کی بات ختم نہ ہوئی تھی کہ وہ عقل سے عاری پلٹ کر بولا۔ اے صاحب علم وعقل، مجھ بدعقل کی پھبتی نہ اڑا۔ بدعقلی اور حماقت کے بھی مدارج ہیں۔ بے عقل مقدسین میں ان کا درجہ مجھ سے بلند ہے۔ جو قادیان کی چولی کو مکہ کے دامن سے باندھنا چاہتے ہیں اور پنجاب کی اکثریت کے موہوم خطرہ کی بنا پر قادیانیوں کا سر سینے سے لگا کر اسلام اور دنیائے اسلام کے متعلق ان کے خوفناک ارادوں کو بھول جاتے ہیں۔
عبرت مسلمانوں کے حال پر خون کے آنسو کیوں نہ رووے۔ جن کی مؤمنانہ فراست سلب کر لی گئی اور کھوٹے کھرے کی پہچان ان سے چھین لی گئی۔ وہ دوست جو کل اسلامی سلطنتوں کی اینٹ سے اینٹ بجتی دیکھ کر بے تاب ہوگئے تھے اور حکومت کے غصہ کا شکار ہوکر پابند سلاسل کر دیئے گئے تھے۔ آج وہی قادیانی اتحاد کے علمبردار بن گئے۔ ان کے کفر پر
٤٩
قرار دینے کے باوجود اس شجر خبیثہ کو بار آور کرنے میں مدد دے رہے ہیں۔ حالانکہ مرزائی سیاسی طور سے اسلام کا سب سے بڑا حریف ہے اور انہیں ان دولتوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔ جن کا قصر وسطوت اسلامی سلطنتوں کے کھنڈرات پر تعمیر ہوا ہے۔
جنگ فرنگ کا وہ الم آفرین زمانہ جب دامان خلافت تار تار ہو کر اسلامی عظمت کا علم سرنگوں ہورہا تھا اور صلیب، ہلال کے خلاف کامیاب جنگ کر کے صدیوں کے بعد بیت المقدس واپس لینے میں مصروف تھی اور مشرق و مغرب میں ہر اسلامی گھر غم کدہ بنا ہوا تھا۔ عین اس زمانہ میں مرزائیت اسلام کی شکست پر اپنے مرکز قادیان میں جشن شادمانی منارہی تھی۔
قادیان میں جشن مسرت
”١٣؍ تاریخ جس وقت جرمنی کے شرائط منظور کر لینے اور التوائے جنگ کے کاغذ پر دستخط ہو جانے کی اطلاع قادیان پہنچی تو خوشی اور انبساط کی ایک لہر برقی سرعت کے ساتھ تمام لوگوں کے قلوب میں سرایت کرگئی اور جس نے اس خبر کو سنا نہایت شاداں وفرحاں ہوا۔ دونوں سکولوں انجمن ترقی اسلام اور صدر انجمن احمدیہ کے دفاتر میں تعطیل کر دی گئی۔ بعد نماز عصر مسجد مبارک میں ایک جلسہ ہوا۔ جس میں مولانا مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب نے تقریر کرتے ہوئے جماعت احمدیہ کی طرف سے گورنمنٹ برطانیہ کی فتح ونصرت پر دلی خوشی کا اظہار کیا اور اس فتح کو جماعت احمدیہ کے اغراض ومقاصد کے لئے نہایت فائدہ بخش بتایا۔
حضرت خلیفۃ المسیح ثانی ایدہ اللہ کی طرف سے مبارک باد کے تار بھیجے گئے اور حضور نے پانچ سو روپے اظہار مسرت کے طور پر ڈپٹی کمشنر صاحب بہادر گورداسپور کی خدمت میں بھجوایا کہ آپ جہاں پسند فرمائیں۔ خرچ کریں۔ پیشتر ازیں چند روز ہوئے کہ ترکی اور ...... کے ہتھیار ڈالنے کی خوشی میں حضور نے پانچ ہزار روپے جنگی اغراض کے لئے ڈپٹی کمشنر صاحب کی خدمت میں بھجوایا تھا۔“
(الفضل مورخہ ج٦ نمبر ٣٧ ص ١، ١٦؍نومبر ١٩١٨ء)
ارباب بصیرت میں سے کوئی یوں نہ سمجھ لے کہ یہ جشن ، جشن نوروز تھا کہ اس میں سب نے رنگ کھیلا اور ارباب غرض سب ہی شامل ہوئے۔ نہیں یہ بات نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انگریزی سیاست کا اس شجر خبیثہ کے ساتھ خاص پیوند ہے۔ اسی لئے ان کی ریشہ دوانیاں اسلام کی جڑ پر کلہاڑا ثابت ہورہی ہیں۔ اسلام میں فرقے بے شک ہیں۔ لیکن مرزائیت گلشن اسلام کے لئے ”امر بیل“ ہے۔ جو کوئی دشمن راہ جاتے ہمارے ہرے بھرے باغ میں پھینک گیا ہے۔ یاد رکھو جوں جوں یہ بیل بڑھے گی۔ توں توں اسلام کمزور ہوگا۔
٥٠
مرزا محمود کا اعلان ضروری
”ایک بات جس کا فوراً آپ لوگوں تک پہنچانا ضروری ہے۔ اس وقت کہنی چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ سلسلہ احمدیہ کا گورنمنٹ برطانیہ سے جو تعلق ہے۔ وہ باقی تمام جماعتوں سے نرالا ہے۔ ہمارے حالات ہی اس قسم کے ہیں کہ گورنمنٹ اور ہمارے فوائد ایک ہوئے ہیں۔ گورنمنٹ برطانیہ کی ترقی کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی آگے قدم بڑھانے کا موقعہ ہے اور اس کو خدانخواستہ اگر کوئی نقصان پہنچے تو اس صدمہ سے ہم بھی محفوظ نہیں رہ سکتے۔ اس لئے شریعت اسلام اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے احکام کے ماتحت اور خود اپنے فوائد کی حفاظت کے لئے اس وقت جب کہ جنگ و جدل جاری ہے۔ ہماری جماعت کا فرض ہے کہ وہ ہر ممکن طریق سے گورنمنٹ کی مدد کرے۔“
(الفضل ج ٦ نمبر ٤٨، ص ١، ٢٧ جولائی ١٩١٨ء)
کون نہیں جانتا کہ انگریز کا نزلہ مسلمان کے عضو ضعیف پر گرتا ہے۔ اس لئے مرزا للکار کر کہتا ہے کہ سرکار کا سایہ ہر جگہ پڑے۔ جہاں سرکار جائے گی۔ وہاں اس کا خودکاشتہ پودا جائے گا۔ اس پودے کی نگہبانی کے لئے انگریز کی مالی کی تمنا رہتی ہے۔ باوا اپنی تمناؤں میں مرگیا۔ بیٹا اپنی خواہشوں پر بسر اوقات کر رہا ہے۔ ایک عاقبت نااندیش مسلمان ہے کہ دشمن کی چھری اپنے گلے پر پھیر رہا ہے۔
انگریزوں کی فتح ہماری فتح ہے
”جماعت احمدیہ کے لئے نہایت خوشی کا مقام ہے کہ جنگ میں انگریزوں کی سلطنت فاتح ہوئی اور اس خوشی کی پہلی وجہ یہ ہے کہ انگریزوں کی قوم ہماری محسن ہے اور اس کی فتح ہماری فتح ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ہمارے مسیح علیہ السلام کی دعا نہایت زبردست رنگ میں قبول ہوئی اور صحابہ کی طرح یومئذ یفرح المؤمنون بنصر اللّٰہ کا انعام ہمیں عطاء ہوا۔“
(ریویو ج ١٧ نمبر ١٢ ص ٤٦١، دسمبر ١٩١٨ء)
کون بداندیش ہے جو اپنوں کو بیگانہ کہے۔ مگر ہر بیگانہ کو اپنا جان لینا دنیا و دین کا خطرہ ہے۔ ممکن ہے تمہاری مصلحت شناس عقل میری معروضات کو پائے استحقار سے ٹھکرائے۔ لیکن کسی کی مصلحت مرزائی کی اسلام دشمنی کو کم نہ کر سکے گی۔ وہ بدستور سقوط بغداد پر چراغاں کرے گا اور مسلمانوں کے ہاتھوں بیت المقدس نکل جانے پر جشن منائے گا۔
مرزا قادیانی عورت تھے یا مرد
ان حالات کی موجودگی میں ان واقعات کی روشنی میں ایسے قوی دلائل کے ہوتے
٥١
ہوئے ایسے منور براہین کے ملتے ہوئے کسی کو انکار کا موقعہ یا نہ ماننے کی گنجائش ہو سکتی ہے کہ پنجابی نبوت کن حالات کی بناء پر مبنی تھی اور کس بھولے پن اور سادگی و عمدگی سے اس سلسلہ رسالت کو نبھایا گیا۔
مرزا قادیانی کی زندگی بھی ایک عجیب زندگی تھی۔ اس میں بیسوں ایسے نادرہ واقعات ملتے ہیں۔ جن کے مطالعہ سے بے اختیار ہنسی آتی ہے اور ضبط کرنے پر بھی ضبط نہیں ہوتی۔ ان کی تاریخ اور مشاہدات سے یہ پتہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ عورت تھے یا مرد، حیرانگی آتی ہے کہ کیا لکھیں اور کیا کہیں۔ مرزا قادیانی کے واقعات ہم کس طرح قلمبند کریں اور کس حیثیت سے انہیں قوم کے سامنے پیش کریں۔ امید ہے کہ اس صورت حالات کے مشاہدہ کے بعد قوم کے بزرگ ہمیں یہ بتانے کی زحمت گوارا فرمائیں گے کہ وہ صنف نازک تو نہ تھے۔ کیونکہ ہمیں طبقہ نسواں کے بعض خواص خصوصی مجبور کرتے ہیں کہ ہم انہیں عورت کا درجہ دیں۔ چنانچہ قارئین کرام کی واقفیت کے لئے ہم تصویر مرزا کا یہ رخ بھی پیش کرتے ہیں۔
مرزا قادیانی کا پردے میں نشوونما پانا
فتنے تو ذرا دیکھو ترکیب عناصر کے
(کشتی نوح ص ٤٦، خزائن ج ١٩ ص ٥٠) پر فرماتے ہیں کہ: ”دو برس تک میں نے صفت مریمیت میں پرورش پائی اور پردے میں نشوونما پاتا رہا۔“ توبہ توبہ مرزا اور پردے میں مقید عیاذ باللہ صفات صدیقہؓ اور متبنٰی قادیان ان کا حامل ۔ مریمؑ نہیں ہندہ و جعدہ ہوگی ۔ ہے کوئی مسیح کا لال سوگئے جو کہ ہمیں یہ بتانے کی زحمت گوارا کرے کہ وہ کون سے زمانے میں مرزا قادیانی پر نسوانیت آئی اور پردہ نشین ہوئے اور وہ بھی کامل دو برس تک ۔
مرزا قادیانی حائضہ عورت کے روپ میں
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١) میں مرزا قادیانی لکھتا ہے۔ ”بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کہ کسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع پائے۔ مگر خدا تعالٰی تجھے اپنے انعامات دکھلائے گا جو متواتر ہوں گے اور تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ بچہ ہو گیا۔“
مندرجہ بالا عبارت کسی مزید تشریح کی محتاج نہیں۔ بلکہ وضاحت سے اس بات کا اقرار کر لیا گیا ہے کہ وہ حیض نہیں رہا۔ بلکہ اب تو صاف بچہ بن گیا ہے۔ سبحان اللہ یہ ہیں پنجابی رسالت
٥٢
کے کرشمے اور نبوت کے دلائل
کم بخت بابو الٰہی بخش کو سوجھی بھی تو کیا سوجھی اور دیکھا بھی تو کیا دیکھا۔ مرزا قادیانی کا حیض و نفاس، اور وہ بھی کن دنوں میں جب کہ بیچارے پنجابی نبی ایام ماہواری کی مصیبت میں دو چار تھے۔ تف ہے ظالم تیرے دیکھنے اور پردہ دری کرنے پر۔ مقام شکر ہے کہ تیری پھوٹی آنکھیں کسی پلیدی و ناپاکی کو کما حقہ، نہ دیکھ سکیں۔ ورنہ سرکاری نبی جی کا خدا جو مرزا قادیانی سے اظہار رجولیت کرتا ہے۔ (الہام) تیری انگشت زنی کو خاک میں ملا دیتا۔
ظالم دیکھنے کی چیز تو انعامات ہیں وہ دیکھ۔ بھلا میاں کیا رکھا ہے اب حیض کے دن گئے اب تو گود بھر چکی اور چاند سا بچہ ہونے کو ہے اور پھر وہ بچہ جو مرزا جی کی بھول بھلیوں سے منصہ شہود پر آیا ہوا غائب ہو جائے۔
بچہ معہ زچہ کے غائب
مرزا قادیانی کس طرح حاملہ ہوئے
آپ کے ایک مخلص مرید جناب قاضی یار محمد صاحب بی۔اے۔ ایل۔ایل۔بی اپنے ٹریکٹ موسومہ اسلامی قربانی ص ١٢ میں رقمطراز ہیں کہ:
”آپ پر (مرزا آنجہانی) اس طرح حالت طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا۔“
یہ مرزا کی امت کو کیا ہو گیا اور پڑھے لکھوں کی عقلیں گھاس چرنے لگیں یہ بے چارے مرزا کو عورت بنا کر ہی چھوڑا۔ کم بختوں کا برا ہو کہ کستوری اور کچلے کھانے والے ساٹھ سالہ پیر مرد کو عورت کے فرائض اور وہ بھی محبوبہ خدا میں ادا کرنے پڑے۔ نعوذ باللہ! اللہ معاف کرے۔ اصل میں بیچارے مرید کیا کریں جب کہ نبوت ہی بے پیندے کا لوٹا بن رہی ہو۔ اب نبی صاحب نے نہانی تعلق کا اور ناقابل اظہار کا ٹانکہ بھی جڑ دیا۔ میرے خیال میں مرزا قادیانی کا یہ ہرگز دلی منشا معلوم نہیں ہوتا کہ ان کے مرید انہیں عورت کا درجہ دیں۔ بلکہ آپ کا مطلب تقدس جمانا تھا کہ مرید یہ سمجھیں کہ مرزا اور خدا میں ایک ایسا گہرا تعلق ہے۔ جو بقول شخصیکہ
تا کس نگوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری
اور اس کی تصدیق اس کے اللہ میاں نے خود کر دی۔
٥٣
الہامات
”انت منی وانا منك“ (حقیقت الوحی ص ٨٧، خزائن ج ٢٢ ص ٧٧) ”تو مجھ سے اور میں تجھ سے ہوں۔“
”انت من مائنا وهم من فشل“ (اربعین نمبر ٣ ص ٣٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٣) ”تو ہمارے پانی سے ہے اور باقی لوگ خشکی سے۔“
”انت اسمی اعلیٰ“ (اربعین نمبر ٣ ص ٣٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٣) ”اے مرزا تو میرا سب سے بڑا نام ہے۔ اسم اعظم۔“
”اسمع ولدی“ (البشریٰ ج ١ ص ٤٩) ”اے میرے بیٹے سن۔“
”انت منی بمنزلة توحیدی وتفریدی“ (اربعین نمبر ٢ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٣٥٣) ”تو مجھ سے ایسا ہے جیسا میری توحید۔“
ان تعلقات مخصوصہ کی بناء پر مرزا قادیانی کو خدا سے گہرا تعلق تھا۔ وہ خدا کی وحدت تھے۔ وہ خدا کے پانی سے تھے۔ لڑکے تھے خدا ان میں سے تھا۔ وہ خدا سے تھے۔ وہ خدا کے اسم اعظم تھے۔ مگر کم بخت مرید یہ سمجھے کہ نہانی تعلق و ناقابل بیان یہی ہوسکتا ہے کہ وہ محبوبہ خدا تھے۔ خدا سمجھے ان لوگوں کو، اصل میں مرزا قادیانی کا کلام سلطان القلم پر مبنی ہے۔ اس کو ایرا غیرا نتھو خیرا نہیں سمجھ سکتا۔ ہاں صاحب بڑا دماغ چاہئے یا بڑا صاحب چاہئے۔
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
تہذیب مانع ہے کہ رجولیت کی تشریح بیان کروں۔ بہر حال اتنا کہنے سے نہیں رک سکتا کہ اس سے بڑھ کر کمینہ حملہ اور اوباشانہ بہتان اور کیا ہوسکتا ہے۔ نعوذ باللہ! خدا کی ذات والا تبار بھی مرزا کی امت سے نہ بچ سکی۔ ایسا فاسد خیال ایسا لغو عقیدہ بخدا میں نے کسی منہ پھٹ زبان دراز سے آج تک نہیں سنا اور آئندہ کے لئے بھی مولا کریم ان خرافات سے محفوظ رکھے۔
ہنس کے بولی آپ ہی کی دلربا سالی ہوں میں
مرزا قادیانی کا خدا سے ایک نہانی تعلق جو قابل بیان نہیں
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٦٣، خزائن ج ٢١ ص ٨١) پر ارشاد ہوتا ہے کہ: ”مجھے خدا سے ایک نہانی تعلق ہے جو قابل بیان نہیں۔“
٥٤
اللہ اللہ ایسا پیچیدہ اور مخفی تعلق اور وہ بھی ناقابل اظہار کہیں یہی تو نہیں جس کی پردہ دری قاضی صاحب کے ہاتھوں ہوئی۔ عیاذاً باللہ!
الہامات مرزا
مرزا قادیانی کی سوانح حیات بھی کیا مزے کی زندگی تھی۔ اسے بھول بھلیاں کہا جائے تو زیادہ موزوں اور انسب معلوم ہوتا ہے۔ آپ کی حیات میں عجب بے تکی گپیں ملتی ہیں۔ جن کا نہ سر ہے نہ پاؤں، نہ آغاز ہے نہ انجام۔ ایک سلسلہ لامتناہی ہے جو ختم ہونے کو نہیں آتا۔ ایک بے ربط افسانہ ہے جس کا نتیجہ سوائے سمع خراش اور تضییع اوقات کے کچھ نہیں نکلتا۔ ایک بے مدعا آرزو، ایک بے لذت گناہ۔ ایک بے معنی کلام جو خود ملہم کے لئے سوہان روح ہو، اور جس کی تفہیم واقعات کی رونمائی کے بعد چسپاں کی جائے۔ کیا خاک الہام ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر چند ایک امثلہ پیش نظر ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں:
خاکسار پیپرمنٹ (تذکرہ ص ٥٢٧) ہماری قسمت اتوار (تذکرہ ص ٥٢٠) کترین کا بیڑا غرق (البشریٰ ج ٢ ص ١٢١) میں سوتے سوتے جہنم میں پڑ گیا۔ (البشریٰ ج ٢ ص ٩٥) ایک بے شرم لاہور میں ہے۔ (تذکرہ ص ٧٠٢) دو پل ٹوٹ گئے۔ (تذکرہ ص ٦٩٤) دو شہتیر ٹوٹ گئے ۔
(البشریٰ ج ٢ ص ١٠٠)
یہ سلسلہ ہزاروں کی تعداد میں مرزا کی مقدس کتابوں میں بھرا پڑا ہے اور ان ہی مقطع اور مقطع عبارتوں کو الہام کا مرتبہ نصیب ہوا۔ جن پر امت مرزائیہ آج ناز کر رہی ہے اور یہی خوبیاں ہیں جن کی خوشی میں امت باولی ہو رہی ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا وہ اسے کیا سمجھ چکی اور کس پر کپڑے پھاڑ کر آپے سے باہر ہوئی جاتی ہے۔
مرزا قادیانی کی تصویر ایک اور پہلو سے بھی دیکھئے یقیناً یہ سادگی آپ کو پسند آئے گی اور وجد میں لائے گی۔
معجزہ گرگابی
مرزا قادیانی کے منجھلے صاحبزادے بشیر احمد نے ابا کی سیرت لکھی ہے۔ اس میں وہ تحریر فرماتے ہیں کہ:
”ایک دفعہ کوئی شخص آپ کے لئے (مرزا قادیانی) گرگابی لے آیا۔ آپ نے پہن لی۔ مگر اس کے الٹے سیدھے پاؤں کا آپ کو پتہ نہیں لگتا تھا۔ کئی دفعہ الٹی پہن لیتے تھے اور پھر تکلیف ہوتی تھی۔ بعض دفعہ آپ کا الٹا پاؤں پڑ جاتا تو تنگ ہو کر فرماتے ہیں۔ ان (انگریزوں)
٥٥
کی کوئی چیز بھی اچھی نہیں۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میں نے آپ کی سہولت کے لئے الٹے سیدھے پاؤں کی شناخت کے لئے نشان لگا دیئے تھے۔ مگر باوجود اس کے آپ الٹا سیدھا پہن لیتے تھے۔
(رواہ بشیر، ام مرزا، سیرت المہدی حصہ اول ص ٦٧ روایت نمبر ٨٣)
مندرجہ بالا حوالہ سے نشان نبوت ٹپکتی ہے اور حافظہ اور ذہانت کا پتہ چلتا ہے۔ اور کیوں نہ چلے آخر آپ تمام بھٹکی ہوئی دنیا کو راہ راست پر لانے کے لئے مامور کئے گئے تھے۔ ایک اور شیرینی بھی چکھئے۔ آخر یہ حدیث مرزا ہے بڑی ہی متبرک اور مزے کی چیز ہے۔
رومالی گھڑی معجزہ
”بسم اللہ الرحمن الرحیم ! بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ سنوری نے ایک دفعہ کسی شخص نے حضرت صاحب کو ایک جیبی گھڑی تحفہ دی۔ حضرت صاحب اس کو رومال میں باندھ کر جیب میں رکھتے تھے۔ زنجیر نہیں لگاتے تھے اور جب وقت دیکھنا ہوتا تھا تو گھڑی نکال کر ایک کے ہندسے یعنی عدد سے گن کر وقت کا پتہ لگاتے تھے اور انگلی رکھ کر ہندسے گنتے تھے اور منہ میں بھی گنتے جاتے تھے۔ گھڑی دیکھتے ہی پہچان نہ سکتے تھے۔ میاں عبداللہ صاحب نے بیان کیا کہ آپ کا جیب سے گھڑی نکال کر اس طرح شمار کرنا مجھے بہت ہی پیارا معلوم ہوتا تھا۔“
(سیرت المہدی حصہ اول ص ١٨٠ روایت نمبر ١٦٥)
سبحان اللہ قادیانی نبوت کے کیا ہی کرشمے تھے۔ کس قدر سادگی ہے۔ ہمارے خیال میں امت کو لازم ہے کہ سنت مرزا پر پورا پورا عمل کر کے ثواب حاصل کریں۔ پاپوش عموماً الٹا ہی پہنا کریں اور کہیں پاؤں ٹل جائے تو سعادت عظمیٰ تصور کریں اور گھڑی کو بھی اسی صورت انداز میں استعمال کیا کریں۔ ایک اور شگوفہ بھی تماشہ کیجئے۔
افکار و حوادث
”ایک دفعہ کی حالت یاد آئی کہ انگریزی میں یہ الہام ہوا۔ ”آئی لو یو“ یعنی میں تم سے محبت کرتا ہوں۔ پھر یہ الہام ہوا۔ ”آئی ایم ود یو“ یعنی میں تمہارے ساتھ ہوں۔ پھر یہ الہام ہوا۔ ”آئی شیل ہیلپ یو“ یعنی میں تمہاری مدد کروں گا۔ پھر الہام ہوا ”آئی کین وہاٹ، آئی ول ڈو“ یعنی میں کر سکتا ہوں جو چاہوں گا۔ پھر اس کے بعد بہت ہی زور سے جس سے بدن کانپ اٹھا الہام ہوا ”وی کین وہاٹ وی ول ڈو“ یعنی ہم کر سکتے ہیں جو چاہیں گے اور اس کا ایسا لہجہ اور تلفظ معلوم ہوا کہ گویا ایک انگریز ہے جو سر پر کھڑا بول رہا ہے۔“
(براہین احمدیہ ص ٤٨٠، حاشیہ در حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٥٧١)
٥٦
کم بخت ٹیچی ٹیچی بڑا گستاخ تھا۔ کیا اسے یہ معلوم نہ تھا کہ:
مرزا خدا کی بیوی بن گئی
”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی آنجہانی) نے ایک موقعہ پر اپنی حالت یہ فرمائی ہے کہ کشف کی حالت مجھ پر ایسی طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا۔“
(اسلامی قربانی ص ١٢، مصنفہ قاضی یار محمد قادیانی مطبوعہ ریاض ہند پریس امرتسر)
مرزائیو! ایمان سے خدا لگتی کہو کہ مرزا قادیانی صنف نازک تو نہ تھے۔ مگر یہ محبوبہ خدا بننے کا خبط کیا سمایا۔ کیا یہ پنجابی نبوت کی صحیح الدماغی کی بین دلیل نہیں۔ خدارا سوچو کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔
مرزائی خدا
قبل اس کے کہ میں مرزا قادیانی کا نقاب عریاں کروں اور صحیح تصویر مرزا پیش کروں میں یہ مناسب سمجھتا ہوں کہ مرزائی خدا کا فوٹو بھی لگے ہاتھ قارئین کرام کی ضیافت طبع کے لئے پیش کردوں۔ پس مہربانی کر کے اس کو بھی ملاحظہ فرمائیں۔
مرزا خدا کا کان
”انت منی بمنزلة سمعی“ اے مرزا تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ بمنزلہ میرے کانوں کے۔
(اخبار البدر قادیان ٢٦؍ جنوری ١٩٠٨ء، البشریٰ ج ٢ ص ١٢٩)
مرزا خدا کے لئے چمکتا ہوا ستارہ
”انت منی بمنزلة النجم الثاقب“ اے مرزا تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ ثاقب ستارہ۔
(اخبار البدر قادیان ٢؍ دسمبر ١٩٠٧ء، البشریٰ ج ٢ ص ١٣٧)
”انت منی بمنزلة موسیٰ“ اے مرزا تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام۔
(البشریٰ ج ٢ ص ١٢٩، اخبار البدر ١٥؍ اپریل ١٩٠٧ء)
تو اور نہیں میں اور نہیں
”انت منی وانا منك ظهورك ظهوری“ اے مرزا تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔ اے مرزا تیرا ظاہر ہونا گویا میرا ظاہر ہونا ہے۔ (معاملہ واحد ہے)
(اخبار البدر قادیان ١٢؍ مارچ ١٩٠٧ء، البشریٰ ج ٢ ص ١٢٦)
٥٧
مرزا خدا کا اہل بیت
اردو الہام : ”اے میرے اہل بیت خدا تمہیں شر سے محفوظ رکھے ۔“
(اخبار البدر قادیان ٢/ مارچ ١٩٠٧ء ، البشریٰ ج ٢ ص ١٢٥)
مرزا سے زیادہ کوئی سعادت مند نہیں
”من الذى هو اسعد منك“ ”اے مرزا وہ کون ہے جو تجھ سے زیادہ سعادت مند ہے ۔“
(اخبار البدر قادیان ١٥/فروری ١٩٠٧ء ، البشریٰ ج ٢ ص ١٢٤)
مرزا خدا کے بروز میں
”انت منی بمنزلة بروزی“ ”اے مرزا تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میں ہی ہوں ۔“
(اخبار البدر ١٥/ مارچ ١٩٠٦ء ، البشریٰ ج ٢ ص ١٠٩)
مرزا کا دیکھنا خدا کا دیکھنا ہے
”اینما تولوا فثم وجه الله“ ”اے مرزا جس طرف تیرا منہ ہو گا اس طرح خدا بھی منہ کرے گا ۔“
(البشریٰ ج ٢ ص ١٠٨)
اردو الہام کیا کہتا ہے
”جس سے تو (مرزا) پیار کرتا ہے میں اس سے بہت پیار کروں گا۔ جس سے تو ناراض ہے میں اس سے ناراض ہوں گا ۔“
(اخبار البدر قادیان ٩/ مارچ ١٩٠٦ء ، البشریٰ ج ٢ ص ١٠٨)
مرزا چاند مرزا سورج
”یا قمر یا شمس انت منی وانا منك“ ”اے میرے چاند اے میرے سورج تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں ۔“
(اخبار البدر قادیان ٢٦/ دسمبر ١٩٠٥ء ، البشریٰ ج ٢ ص ١٠٢)
مرزا خدا کا عرش تھا
”انت منی بمنزلة لا يعلمها الخلق انت منى بمنزلة عرشی“ ”اے مرزا تیری منزلت میرے نزدیک ایسی ہے جسے خلقت نہیں جانتی۔ تو مجھ سے بمنزلہ میرے عرش کے ہے ۔“
(اخبار البدر قادیان ٢٠/اپریل ١٩٠٤ء ، البشریٰ ج ٢ ص ٩٠)
مرزا کا جاگتا ، سوتا اور نماز پڑھتا خدا
”اصلی واصوم اسهر وانام واجعل لك انوار القدوم واعطينك ما يدوم“ ”میں نماز پڑھوں گا، روزہ رکھوں گا، جاگتا ہوں، سوتا ہوں اور تیرے لئے اپنے آنے کے
٥٨
نور عطا کروں گا اور وہ چیز تجھے دوں گا جو تیرے ساتھ ہمیشہ رہے گی۔“
(البشریٰ ج ٢ ص ٧٩، اخبار الحکم قادیان ٣ فروری ١٩٠٣ء)
مرزا کا خدا خطا کرتا ہے اور بھلائی کرتا ہے
”انی مع الاسباب اتیک بغتۃ انی مع الرسول اجیب اخطی واصیب انی مع الرسول محیط“ ”اے مرزا میں اسباب کے ساتھ اچانک تیرے پاس آؤں گا، خطا کروں گا اور بھلائی کروں گا اور میں رسول (مرزا) کے ساتھ احاطہ کئے ہوئے ہوں۔“
(اخبار البدر قادیان ٩ فروری ١٩٠٣ء، البشریٰ جلد دوم ص ٧٩)
بجلی مرزا کا خدا ہے
”انی انا الصاعقہ“ ”اے مرزا میں ہی بجلی ہوں۔“
(اخبار البدر قادیان ٢ دسمبر ١٩٠٢ء، البشریٰ جلد دوم ص ٧٦)
”انی اجهز الجيش“ ”اے مرزا میں اپنے لشکر تیار کر رہا ہوں۔“
(اخبار الحکم ١٠ دسمبر ١٩٠٢ء، البشریٰ جلد دوم ص ٧٦)
مرزا خدا کا بیٹا
”انت منی بمنزلۃ اولادی“ ”اے مرزا تو مجھ سے میری اولاد کے مانند ہے۔“
(اخبار الحکم قادیان ٢٤ دسمبر ١٩٠٠ء، البشریٰ جلد دوم ص ٢٥)
”ھو منی بمنزلۃ توحیدی وتفریدی فکاد ان یعرف بین الناس“ ”یعنی وہ مرزا مجھ سے ایسا ہے جیسے میری توحید وتفرید۔ سو عنقریب یہ لوگوں میں ظاہر کیا جائے گا۔“
(براہین احمدیہ حصہ سوئم ص ٢٥٤، خزائن ج ١ ص ٢٨١)
ناظرین کرام! آپ نے مرزا قادیانی کے اللہ میاں کی مختصر سوانح یا دھندلی سی تصویر ملاحظہ کر لی۔ ان خرافات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ گویا مرزا قادیانی میں اور ان کے خدا میں کوئی خاص فرق نہیں۔ بلکہ یگانگت ہے اور معاملہ ہی واحد ہے۔ مرزا قادیانی کیا ہیں۔ گویا کہ خدا ہیں اور خدا کیا ہے۔ گویا کہ نعوذ باللہ مرزا:
رکھ لیا نام مرزا تاکہ رسوائی نہ ہو
حرم والوں سے کیا نسبت بھلا اس قادیانی کو
وہاں قرآن اترا ہے یہاں انگریز اترے ہیں
٥٩
مشکی نبی قادیان کی درویشی
اللہ رے شان حسن بھی وہ وقت تھا کہ پندرہ روپے کی چاکری کو نعمت عظمیٰ خیال کیا جاتا تھا اور روٹی کے فکر میں گھنٹوں سوچ و بچار میں کٹتے تھے اور ٨ آنہ یومیہ پر وطن کو خیر باد کہتے ہوئے عزیزوں سے دور غریب الوطنی کو ترجیح دی جاتی تھی۔
دن بھر حکومت کی غلامی میں چاپلوسیاں کرنی پڑتیں اور محنت شاقہ سے خون و پسینہ ایک کرنے کے نتیجہ میں نان جویں ملتا۔ طبیعت پریشان اور مضمحل رہتی۔ جلب منفعت کے لئے صدہا وظائف اور چلے کاٹے جاتے۔ مگر نتیجہ کچھ نہ نکلتا۔ بہتیرا وقت کیمیا گری اور رمل جفر میں بھی ضائع کر کے دیکھ لیا۔ مگر قسمت سوتی کی سوتی ہی رہی۔ آخر بارہ برس کے بعد تو خداروڑی (گوبر خشک کرنے کی جگہ) کی بھی سنتا ہے۔ بڑی مشکل سے فن تصنیف ہاتھ لگا تو کہیں جا کر قسمت نے یاوری کی۔ پھر تو بخت ایسے بیدار ہوئے کہ گویا دوبارہ سونا بھول گئے۔ مندرجہ ذیل خطوط شائع کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ مرزا قادیانی کیوں سیروں کستوری منگایا کرتے تھے۔ یا ٹانک وائن اور سائے بان اور کناتوں کے لئے کیوں پنجابی نبوت میں ضرورت پڑتی تھی۔ آخر ایسی چیزیں بھی منگایا کرتے ہیں۔ اس میں اچنبہ خیزی کونسی ہے۔ آخر رئیس قادیان تھے اور اگر کستوری رئیس نہ منگائیں تو کیا غریب منگائیں گے۔ (ہمت تیرے کی)
مرزا قادیانی کے دعوے تو یہ ہیں کہ میں غربت اور درویشی کے لباس میں آیا ہوں۔ دنیاوی محبت کو چونکہ ہم نے نظر آتش کر دیا اور سب سے بڑھ کر یہ دعویٰ ہے کہ میں ظلی طور پر محمدﷺ ہوں۔ اب جنت میرے ماننے سے اور مجھ پر کامل طور پر ایمان لانے سے مل سکتی ہے۔ کیونکہ نہ ماننے والوں کے لئے مرزا قادیانی کا خدا یہ وعید کر چکا ہے ”فقطع دابر قوم الذین لا یؤمنون“ اس قوم کی جڑ کاٹ دی جائے گی جو مجھ پر ایمان نہ لائے گا ”یقبلنی ویصدقنی الا ذریۃ البغایا“ مجھے ہر کوئی قبول کرتا ہے اور مانتا ہے۔ ہاں حرام زادے ہی انکار کرتے ہیں۔ قبل اس کے کہ میں وہ خطوط پیش کروں۔ میں یہ مناسب سمجھتا ہوں کہ مرزا قادیانی کی سوانح سے ایک ورق جس میں ان کی سادگی اور امارت کا پتہ ملتا ہے پیش کردوں۔ امید ہے کہ یہ بھی قارئین کرام کے لئے لطف کا موجب ہوگا۔
پنجابی نبی کی یاد میں
”حضور (مرزا قادیانی) جب مسجد میں تشریف لاتے تو تمام لباس زیب تن فرما کر کوٹ پگڑی اور ایک کھونڈا گویا ”خذ وا زینتکم عند کل مسجد “ پر پورا عمل تھا۔ جب
٦٠
ایک کھڑکی سے باہر نکلتے تو وہاں ہمارے مکرم حافظ ابراہیم صاحب نابینا علی العموم گیارہ بجے سے ہی بیٹھے ہوتے۔ وہ ضرور سب سے پہلے اسلام علیکم کہتے یا اس کا جواب دیتے۔ پھر لباس مبارک کو مس کر کے برکت حاصل کرتے اور دعا کے لئے عرض کرتے۔ صرف ایک بار میں نے حضور کی زیارت ایسے لباس میں کی جبکہ شیخ رحمت اللہ صاحب وغیرہ احباب لاہور کے آنے پر حضور مسجد مبارک میں تشریف لے آئے۔ سر پر ترکی ٹوپی تھی جو بہت پرانی فرسودہ سی بلا پھندے کی اور مہندی لگائے ہوئے تھے۔ غالباً صرف اندر کرتا تھا۔ کوٹ نہ تھا۔ شیخ صاحب نے عرض کیا حضور گھڑی تو اچھی چلتی ہے۔ آپ نے ایک رومال کو فرش پر رکھ کر اور ایک دو گانٹھیں کھول کر اس میں سے گھڑی نکالی۔ معلوم ہوا بند ہے۔ چابی دی گئی۔ وقت درست کیا گیا۔ مولوی محمد علی صاحب نے حضور سے کہا کہ اب جس دن پھر آؤ گے چابی دے دینا۔ حضور نے یہ معلوم کر کے مسرت ظاہر کی کہ ایک گھڑی ایسی ہے جسے سات روزہ چابی دی جاتی ہے۔“
(یاد ایام از قاضی محمد ظہور الدین، الحکم قادیان ٢١ مئی ١٩٣٤ء)
مرزا قادیانی کی سادگی ملاحظہ ہوئی۔ اب ذرا حکمت بھی ملاحظہ فرمائیں:
تریاق اول
”حضرت مسیح موعود فرمایا کرتے تھے کہ بعض اطباء کے نزدیک افیون نصف طب ہے۔ حضرت مسیح موعود نے تریاق الٰہی دوا خدا تعالیٰ کے ہدایت کی ماتحت بنائی اور اس کا ایک بڑا جزو افیون تھا اور یہ دوا کسی قدر افیون کی زیادتی کے بعد حضرت خلیفہ اول کو چھ ماہ سے زائد تک دیتے رہے اور خود بھی وقتاً فوقتاً مختلف امراض کے دوران میں استعمال کرتے رہے۔“
(اخبار الفضل قادیان ج ٧ نمبر ٤٦ ص ٢، ١٩ جولائی ١٩٢٩ء)
تریاق جدید
مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر ٤ ص ١٠٥ ”محبّی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، کسی قدر تریاق جدید کی گولیاں ہم دست مرزا خدا بخش صاحب آپ کی خدمت میں ارسال ہیں اور کسی قدر اس وقت دے دوں گا جب آپ قادیان آئیں گے۔ یہ دوا تریاق الٰہی سے فوائد میں بہت بڑھ کر ہے۔ اس میں بڑی قابل قدر دوائیں پڑی ہیں۔ جیسے مشک و عنبر، زہر مہرہ، مروارید، سونے کا کشتہ، فولاد، یاقوت احمر، کونین، فاسفورس، کھریا، مرجان، صندل، کیوڑہ، زعفران، یہ تمام دوائیں قرب سو کے ہیں اور بہت سا فاسفورس اسی میں داخل کیا گیا ہے۔ یہ دوا علاج طاعون کے علاوہ مقوی دماغ مقوی جگر مقوی معدہ، مقوی باہ اور مراق کو فائدہ کرنے
٦١
والی مصفی خون ہے۔ مجھ کو اس کے تیار کرنے میں اول تامل تھا کہ بہت سے روپیہ پر اس کا تیار کرنا موقوف تھا۔ لیکن چونکہ حفظ صحت کے لئے یہ دوا مفید ہے۔ اس لئے اس قدر خرچ گوارا کیا۔ خوراک اس کی اول استعمال میں دو رتی سے زیادہ نہیں ہونی چاہئے۔ تاکہ گرمی نہ کرے۔ نہایت درجہ مقوی اعصاب ہے اور خارش اور بثورات اور جذام اور انواع و اقسام کے خطرناک امراض کے لئے مفید ہے اور قوت باہ میں اس کا ایک عجیب اثر ہے۔
(خاکسار غلام احمد عفی عنہ ٢٨/اگست ١٨٩٩ء)
پہلا مسیح تو شرابی تھا دوسرا افیونی
”مجھے اس وقت اپنا ایک سرگذشت واقعہ یاد آیا ہے اور وہ یہ کہ مجھے کئی سال سے ذیابیطس کی بیماری ہے۔ پندرہ بیس مرتبہ روز پیشاب آتا ہے اور بوجہ اس کے کہ پیشاب میں شکر ہے کبھی کبھی خارش کا عارضہ بھی ہو جاتا ہے اور کثرت پیشاب سے بہت ضعف تک نوبت پہنچتی ہے ایک دفعہ ایک دوست نے مجھے یہ صلاح دی کہ ذیابیطس کے لئے افیون بہت مفید ہوتی ہے۔ پس علاج کی غرض سے مضائقہ نہیں کہ افیون شروع کر دی جائے۔ میں نے جواب دیا کہ یہ آپ نے بڑی مہربانی کی کہ ہمدردی فرمائی۔ لیکن اگر میں ذیابیطس کے لئے افیون کھانے کی عادت کرلوں تو میں ڈرتا ہوں کہ لوگ ٹھٹھا کر کے یہ نہ کہیں کہ پہلا مسیح تو شرابی تھا اور دوسرا افیونی۔“
(نسیم دعوت ص ٦٩، خزائن ج ١٩ ص ٤٣٤، ٤٣٥)
مرزا قادیانی کو افیون خوردنی سے صرف اس لئے خدشہ تھا کہ کہیں لوگ تمسخر نہ اڑائیں کہ اچھا نبی ہے جو منہیات کا شیداء ہے۔ افیون کی گولی کھاتے ہی خدا نظر آتا ہے اور فرشتے الہام لے کر دوڑتے ہیں۔ حالانکہ نبی کی شان تو یہ ہے کہ وہ خدا کے حکم کے سامنے دنیا کو ایک پرکاہ کا درجہ بھی نہیں دیتے۔ بلکہ وہ جو کام بھی کرتے ہیں اس میں رضائے مولا ہی مدنظر ہوتی ہے۔ وہ دنیا کے استہزاء کی قطعاً پرواہ نہیں کرتے اور نہ ہی ان کے دل میں یہ وہم ہوتا ہے کہ اطاعت کردگار پر دنیا کیا نظریہ رکھے گی۔ اب مرزا قادیانی کی حیرت انگیز چالاکی ملاحظہ فرمائیں کہ کس عیاری سے جناب مسیح علیہ السلام کو شرابی کا خطاب دیا گیا۔ حالانکہ شراب خود پیا کرتے تھے۔ افیون کی نفی کس رنگ میں دکھلائی گئی۔ حالانکہ ہمہ وقت اس پینک میں مگن رہتے تھے۔
فعل بد تو خود کرے لعنت کرے شیطان پر
مگر یاد رکھئے کہ مرزا قادیانی کوئی معمولی دیسی گھٹیا شراب نہ منگایا کرتے تھے۔ بلکہ خالص ولایتی اور وہ سربند بوتلوں میں جس کی قیمت کم از کم ٥/٨ فی بوتل ہے۔
٦٢
شراب کے لئے مرزا کی فرمائش
محبّی اخویم حکیم محمد حسین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ، اس وقت میاں یار محمد بھیجا جاتا ہے۔ آپ اشیاء خوردنی خریدیں اور ایک بوتل ٹانک وائن کی پلومر کی دکان سے خریدیں۔ مگر ٹانک وائن چاہئے۔ اس کا لحاظ رہے۔ باقی خیریت۔ والسلام!
(مرزا غلام احمد عفی عنہ خطوط امام بنام غلام ص ٥)
جناب مسیح علیہ السلام کے حق میں گستاخیاں
مسیح قادیانی کی چاہتی بھیڑو خدارا تدبر کرو۔ سوچو اور فکر کرو کہ اللہ تعالیٰ کے اس برگزیدہ رسول اور اولوالعزم نبی کی شان میں تمہارے مرزا آنجہانی نے کیا کیا بہتان تراشے اور کیا کیا گل کھلائے۔
شریعت اسلامیہ میں وہ شقی القلب مردود ازلی ہے جو کسی نبی کی شان میں گستاخی کرے اور چہ جائے کہ دریدہ دہنی اور وہ بھی بدگمانی سے۔
یقیناً وہ شخص جو انبیاء علیہم السلام کے حق میں ادب کو ملحوظ نہ رکھتا ہو اپنی بدگوہری اور کمینگی کا مظاہرہ کرے گا یا ان کی شان میں دیدہ و دانستہ ایک برے لفظ کا اعادہ کرے گا یا ان کی بے لوث و پاک زندگی پر بدباطنی کی وجہ سے کوئی ایک حرف رکھے گا۔ روسیاہ و ذلیل ہوگا اور ایسے کذاب کے لئے خلاق جہاں نے جہنم کے ایک ایسے حصے کو مختص کر رکھا ہے جس میں بڑے دردناک عذاب ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ جمیع فرزندان توحید کو ایسے قبیح فعل سے محفوظ رکھے۔ آمین ! ثم آمین !
- نمبر١...... ”یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے اس کا سبب تو
یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔“
(کشتی نوح حاشیہ ص ٧٣، خزائن ج ١٩ ص ٧١)
- نمبر٢...... ”جس شخص کے نمونہ کو دیکھ کر پرہیزگاری میں لوگوں نے ترقی کرنا تھا بلکہ
وہی (یعنی جناب حضرت عیسیٰ علیہ السلام) شراب کا مرتکب ہوا پھر ان بے جا حرکات میں اوروں کا کیا گناہ ہے۔ جس حالت میں مسیحی لوگ یقیناً جانتے ہیں کہ ہمارا رہبر اور ہادی شراب پینے کا شائق تھا۔ بلکہ عشاء ربانی سے اس نے شراب خوری کو دین کی جزو ٹھہرایا تو اس صورت میں کسی دوسرے کی تقریر سے ان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔“
(اخبار الحکم قادیان ج ٦ نمبر ٢٦ ص ١٢، ٢٤ جولائی ١٩٠٢ء)
جناب مسیح علیہ السلام کے چال چلن پر کمینہ حملہ
”میرے نزدیک اس شخص سے بڑھ کر کوئی خطرناک حالت میں نہیں ہے جو ایک
٦٣
طرف تو شراب پیتا ہے جو شہوتوں کو ابھارتی ہے اور جوش دیتی ہے اور دوسری طرف اس کی کوئی بیوی نہیں ہے۔ جس سے وہ ان متحرک شدہ شہوتوں کو محل پر استعمال کر سکے۔“
(اخبار الحکم ج ٦ نمبر ٢٦ ص ١٣، ٢٤ جولائی ١٩٠٢ء)
مسیح کی معصومیت سے انکار
”میں نے خوب غور کر کے دیکھا ہے اور جہاں تک فکر کام کرتی ہے خوب سوچا ہے میرے نزدیک جبکہ شراب سے پرہیز رکھنے والا نہیں تھا اور کوئی اس کی بیوی بھی نہ تھی۔ تو گو میں جانتا ہوں کہ خدا نے اس کو برے کام سے بچایا۔ لیکن میں کیا کروں۔ میرا تجربہ اس بات کو نہیں مانتا کہ وہ عصمت میں ایسا کامل ہو سکے کہ وہ دوسرا شخص جو کہ نہ شراب پیتا ہے اور نہ حلال وجہ کی عورتوں سے اس کو کچھ کمی ہے۔“
(اخبار الحکم ج ٦ نمبر ٢٦ ص ١٣، ٢٤ جولائی ١٩٠٢ء)
گناہوں کا منبع و مبداء عیسیٰ علیہ السلام ہیں
”عیسائی قوم میں شراب نے بڑی بڑی خرابیاں پیدا کیں اور بڑی بڑی مجرمانہ حرکات ظہور میں آئی ہیں۔ لیکن ان تمام گناہوں کا منبع اور مبداء مسیح علیہ السلام کی تعلیم اور مسیح علیہ السلام کے اپنے حالات ہیں۔“
(اخبار الحکم ج ٦ نمبر ٢٥ ص ١٦، ١٧ جولائی ١٩٠٢ء)
پنجابی نبی کستوری کے چکر میں
”عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ، میں باعث علالت طبع چند روز جواب لکھنے سے معذور رہا۔ میری کچھ ایسی حالت ہے کہ ایک دفعہ ہاتھ پاؤں سرد ہو کر اور نبض ضعیف ہو کر غشی کے قریب قریب حالت ہوتی ہے اور دوران خون ایک دفعہ ٹھہر جاتا ہے جس میں اگر خدا تعالیٰ کا فضل نہ ہو تو موت کا اندیشہ ہوتا ہے۔ تھوڑے دنوں میں یہ حالت دو دفعہ ہو چکی ہے۔ آج رات پھر اس کا سخت دورہ ہوا۔ اس حالت میں صرف عنبر یا مشک فائدہ کرتا ہے۔ رات دس خوراک کے قریب مشک کھایا پھر بھی دیر تک مرض کا جوش رہا۔ میں خیال کرتا ہوں کہ صرف خدا تعالیٰ کے بھروسہ پر زندگی ہے۔ ورنہ جو دل جو رئیس بدن ہے بہت ضعیف ہو گیا ہے۔“
(خاکسار غلام احمد عفی عنہ ٢٠ جون ١٨٩٩ء، مکتوبات احمدیہ ج ٥ نمبر ٢ ص ٩٨)
”مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ، کل سے میری طبیعت علیل ہو گئی ہے۔ کل شام کے وقت مسجد میں اپنے تمام دوستوں کے روبرو جو حاضر تھے۔ سخت درجہ کا عارضہ لاحق ہوا اور ایک دفعہ تمام
بدن سرد اور نبض کمزور اور طبیعت میں سخت گھبراہٹ شروع ہوئی اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا زندگی میں ایک دو دم باقی ہیں۔ بہت نازک حالت ہو کر پھر صحت کی طرف عود ہوا۔ مگر اب تک کلی اطمینان نہیں۔ کچھ کچھ آثار عود مرض کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فضل و رحم فرمائے۔
ایسے وقتوں میں ہمیشہ مشک کام آتی ہے۔ اس وقت مشک جو بمبئی سے آپ نے منگوا کر بھیجی تھی۔ لیکن طبیعت کی سخت سرگردانی اور دل کے اضطراب کی وجہ سے وہ مشک کھولنے کے وقت زمین پر متفرق ہو کر گر گئی اور گرنے کے سبب سے خشک تھی اور ہوا چل رہی تھی۔ ضائع ہوگئی۔ اس لئے مجھے دوبارہ آپ کو تکلیف دینی پڑی۔ یہ مشک بہت عمدہ تھی۔ اس دکان سے ایک تولہ مشک لے کر جہاں تک ممکن ہو جلد ارسال فرمائیں کہ دورہ مرض کا سخت اندیشہ ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل پر بھروسہ ہے۔“ (پھر کستوری کاہے کو منگوا رہے ہو۔ خالد)
(مکتوبات احمدیہ ج ٥ نمبر ١ ص ٢٨)
”مخدومی مکرمی سیٹھ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، عنایت نامہ پہنچا۔ اب بفضل تعالیٰ میری طبیعت ٹھہر گئی ہے۔ دورہ مرض سے امن ہے۔ حقیقت میں یہ عمر جب انسان ساٹھ پینسٹھ سال کا ہو جاتا ہے۔ مرنے کے لئے ایک بہانہ چاہتی ہے۔ جیسا کہ ایک بوسیدہ دیوار۔ یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس قدر سخت حملوں سے وہ بچا لیتا ہے۔ کل کی تاریخ عنبر بھی پہنچ گیا۔ میری طرف سے آپ اس مہربان دوست کی خدمت میں شکریہ ادا کر دیں جنہوں نے میری بیماری کا حال سن کر اپنی عنایت اور ہمدردی محض للہ ظاہر کی۔ خدا تعالیٰ اس کو اس خدمت کا اجر بخشے اور ساتھ ہی آپ کو۔ آمین ثم آمین۔“
(مکتوب نمبر ٦٧ خاکسار غلام احمد قادیانی مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر ١ ص ٢٦)
”مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، مہربانی کر کے آج ہی کچھ عنبر روانہ فرمائیں۔ کیونکہ عنبر سفید درحقیقت بہت ہی نافع معلوم ہوا۔ تھوڑی خوراک سے بھی دل کو قوت دیتا ہے اور دوران خون تیز کر دیتا ہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ ایسی بیماری دامن گیر ہے کہ ان چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے۔“
(خاکسار غلام احمد مکتوب نمبر ٦٨ مکتوبات احمدیہ ج ٥ نمبر ١ ص ٢٧)
”مخدومی مکرمی حضرت مولوی صاحب اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، اور اس عاجز کی طبیعت آج بہت علیل ہورہی ہے۔ ہاتھ پاؤں بھاری اور زبان بھی بھاری ہو رہی ہے۔ مرض کے غلبہ سے نہایت لاچاری ہے۔ مجھ کو آن مکرم نے کسی قدر مشک دیا تھا۔ وہ نہایت خالص تھا اور مجھ کو بہت فائدہ اس سے ہوا تھا۔ اب میں نے
٦٥
کچھ عرصہ ہوا لاہور سے مشک منگائی تھی اور استعمال بھی کی۔ مگر بہت کم فائدہ ہوا۔ بازاری چیزیں مغشوش ہوتی ہیں۔ خاص کر مشک یہ تو مغشوش ہونے سے خالی نہیں ہوتی۔ چونکہ میری طبیعت گری جاتی ہے اور ایک سخت کام کی محنت سر پر ہے۔ اس لئے تکلیف دیتا ہوں کہ ایک خاص توجہ اس طرف فرمائیں اور مشک کو ضرور دستیاب کریں۔ بشرطیکہ وہ بازاری نہ ہو۔“
(غلام احمد مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر ٣ ص ١٢١)
”مکتوب نمبر ١...... اخویم حکیم محمد حسین صاحب قریشی مالک دواخانہ رفیق صحت لاہور اسلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ، آپ برائے کرم ایک تولہ مشک خالص جس میں ریشہ اور جھلی اور صوف نہ ہوں اور تازہ اور خوشبودار ہو بذریعہ ویلیو پی ایبل پارسل ارسال فرمائیں۔ کیونکہ پہلی مشک ختم ہو چکی ہے اور باعث دورہ مرض ضرورت رہتی ہے۔“
(خطوط امام بنام غلام ص ٦)
”مکتوب نمبر ٢..... پہلی مشک ختم ہو چکی ہے۔ اس لئے پچاس روپیہ بذریعہ منی آرڈر آپ کی خدمت میں ارسال ہیں۔ آپ ٢ تولہ مشک خالص ٢ شیشیوں میں علیحدہ علیحدہ یعنی تولہ تولہ ارسال فرمائیں۔“
(خطوط امام بنام غلام ص ٦)
”مکتوب نمبر ٣..... آپ بے شک ایک تولہ مشک قیمت چھبیس روپے خرید کر بذریعہ وی پی بھیج دیں۔ ضرور بھیج دیں۔“
(خطوط امام بنام غلام ص ٣)
”مکتوب نمبر ٤..... پہلی مشک جو لاہور سے آپ نے بھیجی تھی۔ اب وہ نہیں رہی۔ آپ جاتے ہی ایک تولہ مشک خالص جن میں کچرا نہ ہو اور بخوبی جیسا کہ چاہئے۔ خوشبودار ہو۔ ضرور ویلیو کرا کر بھیج دیں جس قدر قیمت ہو مضائقہ نہیں۔ مگر مشک اعلیٰ درجہ کی ہو۔“
(خاکسار غلام احمد خطوط امام بنام غلام ص ٦)
ناظرین کرام! کستوری نبی کی سوانح حیات کستوری و عنبر سے بھری پڑی ہے۔ اس میں بڑے بڑے بیش قیمت نسخہ جات جن پر سینکڑوں روپیہ خرچ آتے اور جو صرف قوت باہ کے لئے تیار ہوتے موجود ہیں۔ ولیکن نہ ہمارا یہ مضمون ہے اور نہ ہی ہمارے پاس گنجائش ہے۔ اس لئے صرف اس قدر اور عرض کئے دیتے ہیں کہ اگر زندگی نے وفا کی تو انشاء اللہ کسی دوسرے وقت ایک مفصل اور مدلل باب میں پیش کئے جائیں گے۔
سابقہ اوراق میں مرزا آنجہانی کی عقیدت گورنمنٹ برطانیہ سے آپ نے ملاحظہ کی۔ ایک خطاب کے لئے یا صرف معمولی سے شکریہ کے لئے مہینوں جان پر بنی رہی اور خوابیں اور الہاموں تک نوبت پہنچی۔ مگر آخر بقول شخصے کہ:
٦٦
اب آرزو یہ ہے کہ کوئی آرزو نہ ہو
اس جھوٹی عقیدت اور منافقانہ چاپلوسی کے لئے مسیلمہ پنجاب کی داد دیجئے۔ خوشامد میں بھی وہ کیں جو کوئی دوسرا نہ کرسکے۔ مگر وہ بھی حلق سے اوپر اوپر اور طریقہ بھی وہ اختیار کیا جو نہایت عاجزانہ معلوم ہوتا ہے اور پھر عرض داشت کے وقت دانتوں کو یوں گھسا کہ ٹوٹ جانے کا احتمال ہوا۔ مگر واہ رے پنجابی نبوت تو تو حکومت وقت کی بھی مار آستین نکلی تو نے وہ وہ جھانسے دیئے اور ایسے مکر کئے کہ جن کی نظیر ڈھونڈنے سے نہ ملے۔ وہ وہ عیاریاں دکھلائیں کہ شاطران زماں کا ریکارڈ مات ہوا۔ وہ وہ دجل دیئے کہ کذاباں جہاں کا زہرہ آب آب ہوا۔ مگر بالآخر دل کی بات اور چھپا بھید عیاں ہونے سے نہ رہ سکا۔ آہ! آج فرزندان توحید و تثلیث دونوں تیرے ہتھکنڈوں سے نالاں نظر آتے ہیں۔ تو نے دونوں کی رفاقت کا خوب ہی حق ادا کیا۔ نہ اپنوں کو چھوڑا اور نہ بیگانوں کی پگڑی کو برقرار رہنے دیا۔ اقوام عالم تیری جدت کا رونا رو رہی ہیں اور شرافت کی دنیا تجھ سے بیزار ہو رہی ہے۔
بخدا قلم کی طاقت رفتار سلب ہوئی جاتی ہے اور دل حیرت و استعجاب کی انتہائی گہرائیوں میں غوطہ زن ہے۔ تعجب نہیں حیرت ہے۔ مضمون نگاری نہیں۔ اظہار حقیقت ہے، کہ مرزا قادیانی نے حکومت سے کس قدر جھوٹی خوشامد کا اظہار کیا اور چاپلوسی بام انتہاء سے متجاوز کرتی ہوئی کہاں سے کہاں نکل گئی۔
افسوس اس قدر تعریف وتوصیف، محاسن و فضائل بیان کرنے کا نتیجہ مرغ کی ایک ٹانگ ہی برآمد ہوا۔ انگریزی حکومت کی تو تعریف ہوئی۔ مگر اسقف و پادری دجال قرار دیئے گئے۔ عیسائیت کے ستون کو ذلت ورسوائی کے وعید کی ذمہ داری لیتے ہوئے بیخ و بن سے اکھاڑنے کا ٹھیکہ آپ نے لیا اور اسے اپنی صداقت کا نشان قرار دیا اور بانی عیسویت کے حق میں وہ کونسا رذیل حربہ ہے جو استعمال نہ کیا گیا۔ گو نقل کفر کفر نباشد ہے۔ مگر بخدا میرا ضمیر اس کے اعادہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ میں حیران ہوں کہ حکومت کو کیا ہو گیا وہ کیوں خاموش رہی۔ حالانکہ بد لگام و دریدہ دہن کو وہ نہایت آسانی سے اس کے کیفر کردار کو پہنچا سکتی تھی۔
قصر نبوت کی تکمیل چودہ سو برس سے ہو چکی۔ چند ایک سرپھرے خبط الحواس مدت ہوئی کمینگی کا مظاہرہ آفتاب نبوت کے سامنے کر چکے۔ مگر وقار رسالت کی ایک ہی ٹھوکر سے فنا فی اللہ ہوئے۔ اس کے بعد کسی پر پھر کبھی کم بختی کا بھوت جو سوار ہوا تو نبوت کے آٹے دال کا بھاؤ جلد
٢٧
معلوم ہو گیا اور رسالت کا بخار آناً فاناً اتار دیا گیا۔ اس کے بعد ایک کافی عرصہ اور مدت دراز گزر گئی کہ کسی اسلامی دنیا میں کوئی بد بخت زکام نبوت سے نہ ٹرایا۔ گویا متنبئ اس وباء سے دست بردار ہو چکے کم بختی سے اب ہندوستان کی باری آئی۔ کیونکہ یہ زمین نبوت کے لئے عمدگی سے تیار کی گئی۔ آہ! مسلمانوں کی حکومت لٹ چکی۔ ثروت مٹ چکی۔ وقار جاتا رہا۔ مگر بایں ہمہ ان کے دل و دماغ میں اس کی بو ابھی باقی ہے اور اس کا باعث قرآن عزیز اور اسلاف کے کارنامے ہیں۔ اغیار کو یہ بھی پسند نہیں کہ غلام آباد میں کوئی ایسے خواب دیکھے اس لئے ضرورت محسوس ہوئی کہ مسلم تخیل بدل دیا جائے اور ایک میٹھی چھری ان کے سینے میں گھونپ دی جائے۔ جموں کی پہاڑیوں میں نبوت کا بیج بویا گیا اور اس کی آبیاری منظم طریق سے کی گئی۔
مگر آہ ! سادہ لوح مسلم خواب گراں میں مدہوش مزے کی نیند سویا ہوا تھا۔ وہ مدتوں یہ محسوس ہی نہ کر سکا کہ قادیان کا متنبئ جسے وہ باعث رحمت سمجھتا ہے کیا ہے۔ آہ زہر ہلاہل کو وہ تریاق سمجھتا اور شدت سے اس کی پیروی میں حد سے گزرتا رہا۔ بالآخر یہ خودکاشتہ پودا جوان ہوا اور ڈال پات نکالے۔ جہاد حرام ہوا اور اسے بدترین فعل قرار دیا گیا۔ انگریز کو اولوالامر اور معجزات کو مسمریزم گردانتے ہوئے رسالت پر ڈاکہ ڈالا گیا اور صاف الفاظ میں کہہ دیا گیا:
منم محمد احمد کہ مجتبیٰ باشد
(تریاق القلوب ص ١٣٠، خزائن ج ١٥ ص ١٥٨)
مگر اس کی کیا وجہ ہے کہ اسلامی دنیا میں کوئی بد بخت زکام نبوت میں مبتلا نہیں ہوتا۔ کیا نبوت اسلامی ممالک سے ڈرتی ہے اور آتی ہے تو پنجاب میں۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے کہ نبوت پنجاب ہی پر کیوں عاشق ہو گئی۔ جدھر دیکھو نبی ، جہاں دیکھو رسول ۔ کوئی جلال پور میں دھرنا مارے بیٹھا ہے تو کوئی اروپ میں دم توڑ رہا ہے۔ کسی کی عقل لاہور میں ڈوب رہی ہے تو کوئی چنگا بنگیال میں باولہ ہو رہا ہے۔ کوئی قادیان میں دجل کی دوکان کا ٹھیکیدار ہے تو کوئی جلال پور کا چوہدری بنا بیٹھا ہے۔ آخر یہ کیا مصیبت ہے کہ کابل میں کسی کو یہ عارضہ نہیں ہوتا۔ کیا ظاہر شاہ کے پاس اس کے آباؤ اجداد کا بتلایا ہوا تریاق موجود ہے۔ اس لئے متنبئ پیدا ہونے سے ڈرتے ہیں۔ ایران میں بھی یہ بیماری نہیں۔ ترکستان میں بھی یہ بخار نہیں ہوتا۔ عراق میں بھی یہ وبا نہیں آتی۔ حجاز بھی اس کی دست برد سے پاک ہے۔ ترکی بھی اس موذی مرض کے جراثیم سے مبرا ہے۔ مصر و شام پر بھی اللہ کا فضل ہے۔ مگر یہ جنگلی جانور کثرت سے ملتے ہیں شمالی ہندوستان میں۔ نہ ان الوؤں کو چین میں
٦٨
عجائب نہ جاپان میں۔ نہ یہ وبا افریقہ وحبشہ میں۔ آخر کوئی خاص وجہ ہے جو اس کی پیدائش بودوباش سر زمین غلام آباد میں کثرت سے ہوتی ہے۔ راز کی چیز اور پتے کی بات یہی ہے کہ یہ حکومت کا خودکاشتہ پودا ہے۔
مثال کے طور پر ایک اور نقطہ پیش کرتا ہوں۔ وہ یہ ہے کہ اگر کوئی خدائی خوار و سر پھرا ٹرکی یا حجاز میں ایسا نبی پیدا ہو جو امیر المومنین کی بے حد تعریف کرے کہ آپ ایسے ہیں۔ آپ کی حکومت عدل و انصاف کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔ آپ ظل اللہ ہیں۔ یہ ہیں۔ وہ ہیں۔ مگر ساتھ ہی ساتھ نعوذ باللہ بانی اسلام پر پھبتیاں اڑائے اور آوازے کسے تو کیا حکومت اس کو بھی خیر خواہ ملک وقوم یا وفادار تاج سمجھے گی۔ ہرگز نہیں۔ بلکہ اسے أئمۃ الکفر اور منافق سمجھ کر قرار واقعی سزا دے گی۔ کیونکہ اگر اس کے دل میں سچا اخلاص ہوتا تو یہ غیر ممکن تھا کہ وہ اس کے آقا ومولا پر زبان طعن دراز کرتا یا اس کے آئمہ دین یا شیخ الاسلام کو دجال و کذاب کے نام سے یاد کرتا۔ سمجھ لیا جائے گا کہ یہ خوشامدی ٹٹو ضرور غدار وطن وقوم ہے۔ حکومت کی تعریف اس لئے کرتا ہے کہ کہیں جیل خانہ میں نہ بھیج دیا جائے۔
نقل
بیٹھے بیٹھے مجھے کیا جانئے کیا یاد آیا
مسیح قادیانی کی اندھی بھیڑو خدارا تدبر و تفکر سے دل کی گہرائیوں میں سوچو اور کہو کہ کس برتے پر تمہارے پنجابی نبی سرکار مدینہ کے ظل کا دعویٰ کرتے ہیں۔ آنجناب کی سوانح حیات اپنوں نے لکھی۔ بیگانوں نے شائع کی۔ مگر سیرت خیرالانام میں تفریح طبع کے لئے کب کوئی ایسا واقعہ ملتا ہے کہ عنبر کا دور یا کستوری کا چکر ہی چلتا جائے اور یہ سلسلۂ لا انتہا کبھی ختم ہونے کو ہی نہ آئے۔
ہم اگر کوئی واقعہ پیش کریں گے تو تعصب کی وجہ سے وہ آپ کو اعتبار کے مراتب تک سچے نظر نہ آئیں گے۔ اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ کسی طرح تمہارے دل میں بینائی پیدا ہو اور کھلی ہوئی سچائی پذیرائی کرے اور تمہارے قلوب مطمئن ہو جائیں۔ اس لئے قادیان کے ہزماسٹر وائس اخبار الفضل سے باغ وحدت کا ایک پھول پیش کرتے ہیں۔ یہ صرف اس لئے کہ تمہیں اصلی ونقلی سچ و جھوٹ میں امتیازی نشان پیدا کر دے۔ حوالہ مذکور ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور کھانے کے اور کا مصداق ہے اور اس کی دلیل مرزا قادیانی کی زندگی ہے۔ آنحضور سرکار مدینہ ﷺ سے بھی واصل
٦٩
الی الحق ہوئے اور مرزا قادیانی بھی چل دیا۔ آنحضور ﷺ کا اثاث البیت تمہارے اپنے گزٹ سے ظاہر ہے اور مرزا قادیانی کا پس اندوختہ ہم عموماً پیش کریں گے۔ دونوں کو ترازو میں وزن کرو۔ اگر تول پورا اترے تو خوشی سے ظل اور بروز کی رٹ لگائے جاؤ اور اگر فرق بعد المشرقین ہو تو خدارا سوچو کہ کدھر جارہے ہیں اور صراط مستقیم کدھر ہے۔
”آنحضرت ﷺ کے پاس ایک مرتبہ حضرت عمرؓ آئے۔ آپ حجرے میں تشریف رکھتے تھے۔ حضرت عمرؓ اجازت لے کر اندر گئے تو دیکھا کہ ایک کھجور کی چٹائی بچھی ہوئی ہے جس پر لیٹنے سے پہلوؤں پر ان پتوں کے نشان ہوگئے ہیں۔ حضرت عمرؓ نے گھر کی جائیداد کی طرف نگاہ کی تو صرف ایک تلوار ایک گوشہ میں لٹکی ہوئی نظر آئی۔ یہ دیکھ کر ان کے آنسو جاری ہوگئے۔ آنحضرت ﷺ نے رونے کی وجہ پوچھی تو عرض کیا کہ خیال آیا ہے قیصر و کسریٰ کا جو کافر ہیں۔ ان کے لئے اس قدر تنعم ہے اور آپ ﷺ کے لئے کچھ بھی نہیں۔ فرمایا میرے لئے دنیا کا اسی قدر حصہ کافی ہے کہ جس سے میں حرکت و سکون کر سکوں۔“
(منقول از اخبار الفضل قادیان مورخہ ٦ نومبر ١٩٣٢ء)
رحلت سرکار دو عالم ﷺ
کائنات عالم میں ہزاروں پھول کھلے۔ لاکھوں غنچے چٹکے۔ کروڑوں پتیاں جذبۂ وحدت سے سرشار ہوئیں۔ باغ عالم اخوت و محبت کا ایک بے نظیر لہلہاتا اور پھلتا پھولتا گلزار ہوا تو بلبلوں نے وحدت کے ترانے گائے۔ قمریوں نے حمد کے نغموں سے ایک کیف اور سرور پیدا کیا تو کوئل نے کوکو کے مسرت انگیز نعروں سے وجد کا سماں پیش کر دیا۔ کبوتر ہو ہو سے اور پپیا تو تو سے اس شان سے ترنم ریز ہوئے کہ گلچیں و صیاد کے دل پر ایک ایسا رعب طاری ہوا کہ وہ گویا اپنی فطرت بھول گیا۔
باغ وحدت کا وہ بے نظیر مالی چمن کی آبادی و شادابی کو دیکھ دیکھ کر باغ باغ ہوتا اور پھولا نہ سماتا۔ قدرت نے اس کے سینے میں ایک ایسا دل ودیعت فرمایا تھا جس میں عفو و حلم کے سمندر رحم و کرم کے بحر نا پیدا کنار موجزن تھے۔ وہ باغ رحمت کی چھوٹی سے چھوٹی تکلیف ادنیٰ سے ادنیٰ دکھ بھی دیکھ نہ سکتا۔ وہ ایک ایک پتی سے ہمدردی کرتا۔ دکھ لیتا اور سکھ دیتا۔
آہ! وہ چمن کے ذرے ذرے کا فدائی و شیدائی جب مشیت ایزدی سے نظام عالم کو مکمل و اکمل کر چکا تو کل من علیھا فان کو لبیک کہتا ہوا عالم جاودانی کا دولہا بنا۔ مگر آہ! حضور کی رخصتی ہاں ہاں اس شاہ دوسرا کا دم واپسین جس نے شہنشاہی میں فقیری کی اور کروڑوں درہم لٹائے
٧٠
اور ہزاروں غلام آزاد کئے۔ سینکڑوں لونڈیاں عفت مآب خاتونیں بنائیں۔ گرتوں کو سنبھالا اور چلتوں کو سہارا دیا۔ بیواؤں کا دستگیر محتاجوں کا والی۔ ضعیفوں کا ملجا۔ غلاموں کا مولیٰ۔ جب اس شاداب و گلزار چمن سے جدا ہوا تو مسلمانوں کی وہ پاک ماں عائشہ صدیقہؓ رو کر بیان کرتی ہیں کہ آہ میرے حجرے کی دیواریں جن میں سوراخ پڑے ہوئے تھے اور چھت کھجور کے پتوں سے اٹی ہوئی تھی۔ میرے پاس ایک مٹی کا دیا بھی موجود نہ تھا جو جلا لیا جاتا اور شہنشاہ دوسرا کا دم واپسین دیکھتی۔
آیئے اب ذرا قادیان کے پنجابی نبی جی کا بھی پس اندوختہ ملاحظہ کیجئے اور خدارا چھاتی پر ہاتھ رکھ کر ٹھنڈے دل سے غور کیجئے:
آنے والے دور کی دھندلی سی ایک تصویر دیکھ
زبانی جمع خرچ کر کے ظل و بروز کے سائن بورڈ آویزاں کر لینا تو کچھ خوبی و حکمت نہیں ۔ ظل و بروز کے لئے عملی زندگی درکار ہے اور وہ بھی ایسی جس میں ہو بہو مشارُ الیہ کا نقشہ نظر آئے۔ یہ تیس مار خانی کی حقیقت اوصاف چاہتی ہے۔ اسد نام رکھ لینا شیر کے اوصاف کی ضمانت نہیں۔ ظل کا تقاضہ تو یہ ہے کہ وہ اصل کا پورا پورا نقشہ پیش کرے۔ مثال کے طور پر عرض کرتا ہوں۔ سنئے:
ایک سیاہ فام حبشی جس کے موٹے ہونٹ اور چپٹی ناک، ڈراؤنی سرخ آنکھیں، بد نما چہرہ اور نہایت قبیح المنظر جوان صحرا نوردی کرتا ہوا کہیں جا رہا تھا کہ اچانک اس کی نظر ایک نہایت چمکدار مگر چھوٹی سی چیز پر پڑی۔ اس کی خوبصورتی و دمک دیکھ کر وہ بہت خوش ہوا اور جلدی سے اس کو اٹھا لیا۔ بڑی احتیاط سے اس کی گرد و غبار کو دور کیا۔ دل میں صدہا امنگیں پیدا ہوئیں اور اسے غربت و افلاس کا واحد علاج تصور کیا۔ زنگی اس بیش قیمت پس افتادہ سے بہت خوش تھا اور طرح طرح کے ولولے اس کے دل میں رہ رہ کر اٹھتے تھے۔ وہ یہ سمجھتا تھا کہ گویا قارون کا خزانہ ہاتھ لگا۔ بالآخر وہ اس نعمت عظمیٰ کو لے کر کسی آرامدہ جگہ کی تلاش میں چل دیا کہ اطمینان سے اس کی کیفیت کو سمجھ سکے۔
افسوس اس کی انتہائی خوشی اور دلی جذبات کا تلاطم ایک نظر دیکھ لینے سے کافور ہو گیا۔ اس نے نہایت حقارت سے یہ الفاظ کہے اور چل دیا کہ کم بخت کوئی بڑا ہی بدصورت آدمی تھا جو تمہیں پھینک گیا۔ یہ کہا اور پتھر پر دے مارا اور چل دیا۔
ناظرین! یہ تھا ظل و بروز۔ اب ذرا جے سنگھ بہادر قادیانی کی درویشانہ زندگی کا پس اندوختہ بھی ملاحظہ کریں:
١٧
کچھ ایسی ہوائیں گرم چلیں پھولا بھی کبھی تو پھل نہ سکا
نوٹس بنام مرزا محمود احمد قادیان تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور
”جناب من بمقدمہ مرزا اعظم بیگ بنام مرزا بشیر الدین محمود و مرزا بشیر احمد و مرزا شریف احمد صاحبان حسب ہدایت مرزا اعظم بیگ ولد مرزا اکرم بیگ معرفت مرزا عبدالعزیز کوچہ حسین شاہ لاہور میں آپ کو مفصلہ ذیل نوٹس دیتا ہوں:
- ١...... بروئے بیعنامہ مورخہ ٢١/ جون ١٩٢٠ء رجسٹری شدہ مورخہ ٥/ جولائی
١٩٢٠ء مرزا اکرم بیگ ولد مرزا افضل بیگ و خاتون سردار بیگم صاحبہ بیوہ مرزا افضل بیگ ساکنان قادیان نے کل جائیداد غیر منقولہ از قسم سکنی و اراضیات زرعی و غیر زرعی ہر قسم اندروں و بیروں سرخ لکیر واقعہ موضع قادیان معہ حصہ شاملات وہ حقوق داخلی و خارجی متعلقہ جائیداد مذکور آپ کے و مرزا بشیر احمد و شریف احمد صاحبان کے حق میں بیع کردی اور زر قیمت مبلغ ایک لاکھ اڑتالیس ہزار روپیہ بیعنامہ میں درج کیا گیا ہے۔
- ٢...... کہ مرزا اعظم بیگ پسر مرزا اکرم بیگ نابالغ ہے اور بوقت بیع یعنی
٢١/ جون ١٩٢٠ء کو نابالغ تھا اور وہ یکم جولائی ١٩١٠ء کو پیدا ہوا تھا اور یکم جولائی ١٩٢٨ء کو بالغ ہوا تھا اور اپنے ماموں مرزا عبدالعزیز صاحب کے ہاں پرورش پاتا رہا۔
- ٣...... کہ جائیداد مبیعہ مندرجہ فقرہ (١) جدی جائیداد ہے اور خاتون سردار بیگم
صاحبہ کو کوئی حق نسبت جائیداد مذکورہ نہیں جو قابل بیع ہوتا۔
- ٤...... اور مرزا اکرم بیگ کو بلا ضرورت جائز جائیداد مبیعہ مذکورہ کو بیع کرنے کا حق
حاصل نہ تھا۔
- ٥...... جائیداد مذکورہ بالا بلا ضرورت جائز فروخت ہوئی۔
- ٦...... کہ ادائیگی زر بدل کے بارہ میں سردست مرزا اعظم بیگ کو کوئی ثبوت
حاصل نہیں ہوا۔
- ٧...... مرزا اعظم بیگ جائیداد مبیعہ مذکورہ کو واپس لینے کا مستحق ہے اور اس غرض
کے لئے آپ کو نوٹس دیا جاتا ہے کہ آپ جائیداد مبیعہ مذکور اعظم بیگ کو واپس کردیں۔
- ٨...... اگر آپ نے جائیداد مذکورہ واپس نہ کی تو بعد از انقضائے ایک ماہ قانونی
چارہ جوئی کی جائے گی اور آپ خرچہ مقدمہ کے ذمہ دار ہوں گے۔
٧٢
- ٩....... میں نے نوٹس ہذا کی ایک ایک نقل مرزا بشیر و شریف صاحبان کو بذریعہ
رجسٹری بھیج دی ہے۔
- ١٠....... یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ آئندہ تعمیرات وانتقالات نسبت جائیداد مذکور
بند کر دیئے جائیں۔
صاحبان یہ ہیں بروز و ظل کے کرشمے اور دنیا سے قطع تعلق و خاکساری و عاجزی کے اسباب اور مرزا قادیانی کے کمالات کہ ڈیڑھ لاکھ کی ایک ہی رجسٹری خاندان نبوت میں منتقل ہورہی ہے۔ قادیان میں جائیے اور دیکھئے کہ ان پیغمبر زادوں کے آرام کے لئے کس قدر عالی شان کوٹھیاں اور سر بفلک عمارتیں بنی کھڑی ہیں جن میں ہزاروں روپے کے فرنیچر اور دیگر لوازمات بڑی خوبی وعمدگی سے آویزاں ہیں۔ یہاں تک ہی بس نہیں۔ آہ! رونا تو یہ ہے کہ نبی کی پوتیاں مغربی تہذیب و تعلیم کی اس قدر دلدادہ ہیں کہ پچھلے دنوں ہمارے محترم خلیفہ جی میاں محمود کو ان کی تربیت کے لئے ایک نہایت ہی خوبصورت پری جمال حور شمائل مس روفو جو ایک اٹالین حسینہ تھی سیسل ہوٹل لاہور سے بصد منت قادیان اپنی موٹر میں دائیں بازو لانا پڑا۔
مرزا قادیانی کے اس ہونہار ولائق بچے کی ایک دلنواز بیوی سیدہ سارہ بیگم جو خیر سے پانچوں وقت کی نمازی تھی اور جو خلیفہ صاحب کے دورے کے ایام میں ہی چل بسی اور جس کا صدمہ جانکاہ و داغ مفارقت خلیفہ جی کو خصوصاً اور امت مرزائیہ کو عموماً مدتوں اٹھانا پڑا۔
قادیان کا ہز ماسٹر وائس اخبار بے چارہ الفضل مدتوں مرثیے اور تعزیت ناموں سے کالم کے کالم سیاہ کرتا اور ٹسوے بہاتا رہا اور دور دور سے لوگ خوابی ملاقات کی دلچسپ کہانیاں بیان کرتے رہے جنہیں سن سن کر خلیفہ جی کا دل کپکپا جاتا اور لب سے بے اختیار آہ سارہ نکل جاتا۔
مختصراً مرزا محمود صاحب مدتوں اس کے فراق میں تڑپا کئے۔ آخر رفتہ رفتہ یہ رستا ہوا ناسور کچھ کم ہوا تو یہ چوتھی خانہ پری کرنے کے لئے ایک اور جمیل دوشیزہ مل گئی جس سے حال ہی میں نکاح ہوا ہے۔
چنانچہ ہمارے محترم دوست سند باد جہازی نے اس پر ایک فکاہی مضمون جریدہ احسان مورخہ ١٣؍اکتوبر ١٩٣٥ء میں لکھا اور اسی پر حاجی لق لق نے خامہ فرسائی فرمائی۔ ہر دو مضمون قارئین کی ضیافت طبع کے لئے پیش کئے جاتے ہیں۔
ایسے کو تیسا
خلیفہ قادیان کو حاجی لق لق کی دعوت مباہلہ (خود حاجی لق لق کے قلم سے)
آج کل مجلہ ”احسان“ اور احرار کی طرف سے قادیانیوں کو دعوت مباہلہ دینے کا کام
٧٣
آلوؤں کی شدھی کی طرح بڑے زوروں پر ہے۔ اس لئے ہم جو پتنگ بازی تک کی قومی تحریک میں کسی سے پیچھے نہ رہے۔ مناسب خیال کرتے ہیں کہ اس میدان میں قدم بڑھائیں اور ہمیں خلیفہ قادیان کو دعوت مباہلہ دینے کی زیادہ ضرورت اس لئے محسوس ہوئی کہ ”الرجل“ مدیر ”احسان“ کو مرزا بشیر الدین محمود سے کم رتبہ کا انسان سمجھتا ہے اور چاہتا ہے کہ خلیفہ قادیان کو وہ شخص دعوت دے جو اس کا ہم رتبہ ہو۔
ہم مرزا محمود کے ہم رتبہ تو کیا ان سے بھی چار درانتی آگے بڑھے ہوئے ہیں۔ مثلاً اطالیہ کی ایک حسینہ مس روفو نے اگر قادیان کے قصر خلافت کو اپنے قدوم میمنت لزوم سے عزت بخشی تو حاجی لق لق کی درانتی نے پیرس کی ایک مشہور رقاصہ کو اپنی صحبت سے سرفراز کیا۔ مرزا بشیر الدین محمود اگر گورنر پنجاب اور وائسرائے ہند سے خفیہ ملاقاتیں کرنے پر نازاں ہیں تو حاجی لق لق کی درانتی نے موسیو پوانکار صدر جمہوریت فرانس سے ملاقات کی۔ اگر مرزا محمود کے پاس حکومت برطانیہ کے پروانہ ہائے خوشنودی موجود ہیں تو حاجی لق لق کی درانتی نے خود موسیو پوانکار کا سرٹیفیکٹ حاصل کیا۔ اگر خلیفہ قادیان کی شان ”الحکم“ اور ”الفضل“ قصائد لکھتے ہیں تو ہماری درانتی کے کارنامے فرانسیسی اور انگریزی اخبارات میں چھپتے ہیں۔
یہ تو ہیں صرف ہماری درانتی کے فضائل۔ اس سے آپ ہماری عظمت کا اندازہ لگا لیجئے اور خود ہی فیصلہ کیجئے کہ ہم رتبہ کے لحاظ سے خلیفہ قادیان کو دعوت مباہلہ دے سکتے ہیں یا نہیں۔
بہر حال اگر خلیفہ صاحب مباہلہ سے خوف نہیں کھاتے تو انہیں اس بات پر خوش ہونا چاہئے کہ ہندوستان میں کم از کم ایک شخص ایسا پیدا ہو گیا ہے جس سے مباہلہ کرنا ان کی شان کے خلاف نہیں اور یہاں ہم یہ ذکر بھی کر دیتے ہیں کہ ہم پتنگ بازوں کے خلیفہ جی بھی ہیں۔ اس لئے اس مباہلہ میں خلیفہ بمقابلہ خلیفہ ہوگا۔
اب ہم ذیل میں تحریری دعوت نامہ پیش کرتے ہیں:
”ہم کہ حاجی لق لق ولد والد بزرگوار مرحوم ساکن موضع جہازی بلڈنگ بیرون دہلی دروازہ لاہور کا ہوں اور بقائمی ہوش و حواس و ہندو مسلم بائیکاٹ ہم مرزا بشیر الدین محمود کو دعوت دیتے ہیں کہ اگر ان کا باپ نبی۔ الہی توبہ کیجئے اور جھوٹوں پر لعنت بھیجئے۔ اگر ان کا باپ کم از کم مسلمان بھی تھا تو مسمی مذکور ہمارے ساتھ مباہلہ کرلے جس کی صورت حسب ذیل ہوگی۔
ہم لاہور سے روانہ ہوں اور خلیفہ صاحب قادیان سے چلیں۔ دونوں دریائے بیاس کے کنارے پہنچ جائیں۔ لیکن تاریخ مقرر کرنے میں اس امر کی احتیاط کی جائے کہ چاندنی رات
٧٤
ہو۔ پھر دریائے بیاس کے کنارے ایک بزم نشاط قائم کی جائے جس میں مس روفو اور مختار بیگم کو بھی شامل کیا جائے۔ رات بھر محفل رقص و سرود قائم رہے اور نور کے تڑکے سب حاضرین و حاضرات وضو کریں اور بہتر ہو کہ غسل کریں۔ پھر خلیفہ صاحب بدرگاہ قاضی الحاجات دعا کریں کہ اے خدا اگر میرا باپ سچا تھا تو مس روفو اور مس مختار بیگم اپنے اپنے گھروں کو جانے کی بجائے میرے ہمراہ قادیان چلیں اور ہم دعا کریں گے کہ اے خدا اگر مرزا غلام احمد قادیانی سچا تھا تو اس کے فرزند دلبند کی آرزو پوری کر۔
لیکن اتمام حجت کے طور پر خلیفہ صاحب دعا مانگنے سے پہلے مس روفو کو سمجھائیں کہ دیکھو سیسل ہوٹل اور فلیٹیز ہوٹل بھول جاؤ گی۔ تنخواہ کی تو بات ہی نہ کرو۔ قادیان کا بیت المال تمہارا ہوگا اور کام بھی برائے نام محض میرے بچوں کی دیکھ بھال۔ وہ بھی گاہے گاہے صرف لوگوں کو دکھانے کے لئے اور کبھی کبھی انہیں انگریزی کے دو چار لفظ سکھا دینا اور بس۔
اس کے بعد مس مختار بیگم کو بھی سمجھا دیا جائے کہ آغا حشر مرحوم کا صدمہ فراموش ہو جائے گا۔ فلم کی زندگی سے اچھی نہ رہو گی تو بری بھی نہ رہو گی۔ ادبی شوق کے پورا کرنے کے لئے لائبریری موجود ہے۔ وغیرہ۔
اتمام حجت کے بعد مذکورہ بالا دعائیں کی جائیں۔ اس کے بعد خلیفہ صاحب قادیان کی طرف چل پڑیں اور ہم لاہور کی طرف۔ اگر دونوں مسماتیں مرزا بشیر محمود کے پیچھے پیچھے چل پڑیں تو وہ سچے۔ ان کا باپ سچا۔ اگر ہمارا پیچھا نہ چھوڑیں تو ہم سچے۔
ہم نے یہ چند سطور بطور دعوت نامہ تحریر کر دی ہیں۔ اب مرزا صاحب کا فرض ہے کہ وہ میدان مباہلہ میں تشریف لائیں اور خواہ مخواہ مدیر ”الدجل“ جیسے اناڑیوں کو آگے نہ دھکیلیں۔
(الرقم حاجی لق لق عفی عنہ)
خلیفہ جی کی شادی (سندباد جہازی کی قلم سے)
مولانا مظہر علی اظہر نے للکارا کہ خلیفہ جی ذرا شبستان خلافت سے باہر تو نکلئے۔ ہمارے اور آپ کے دو دو ہاتھ ہو جائیں۔ یعنی دونوں اٹھا کر ہم بھی دعاء مانگیں اور آپ بھی پھر دیکھیں کہ کس پر خدا کے قہر کی بجلی گرتی ہے۔ آقائے مرتضےٰ احمد خان دامن گردانے آستینیں چڑھائے البرز شکن لئے نکلے اور کہنے لگے کہ ذرا ہمارے گرز حیدری مردی کی ضرب مباہلہ تو ملاحظہ فرمائیے۔ اشرف صاب پکارے کہ میں بھی آیا۔ خلیفہ جی جانے نہ پائیں۔ لیکن خلیفہ جی کو مباہلہ کی فرصت کہاں۔ ان دنوں حریم خلافت میں کچھ ایسی گہما گہمی ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ ایک
٧٥
طرف دیکھیں چڑھی ہوئی ہیں دوسری طرف ایک پرانے حکیم جی جن کی بھویں تک سپید ہو چکیں ہیں۔ لعوق کبیر، ضماد سرخ اور خدا جانے کیا کیا تیار کرارہے ہیں۔ سامنے اپلوں کا ڈھیر لگا ہے۔ کھرل میں دوائیں پس رہی ہیں۔ جند بیدستر کی تلاش میں کوئی ایسی تکلیف نہیں ہوئی۔ مایہ شتر اعرابی بھی آسانی سے ہاتھ آ گیا۔ البتہ عقنقر کے لئے سات سمندر کھنگال ڈالے۔ ظالم کا کہیں پتہ نہ ملا۔
آپ سمجھے یہ سارا اہتمام کس لئے ہے۔ اجی حضرت خلیفہ جی کا بیاہ ہو رہا ہے۔ وہ تو آپ کو معلوم ہوگا کہ خلیفہ جی کی چار بیویاں تھیں۔ لیکن پچھلے دنوں ایک بیوی کا انتقال ہو گیا۔ اب یہ اسامی پر کی جارہی ہے۔ شادی کی ساری تیاریاں ہو چکیں۔ اب خلیفہ جی دلہا بنیں گے۔ سہرا باندھیں گے اور جوان ہوتے تو یہ خلفائن بیاہ لائیں گے اور باپ دادا کا نام روشن کریں گے۔ یہ لوگ جو ابھی تک مباہلہ مباہلہ پکارے جارہے ہیں عجب بدذوق انسان ہیں۔ یہ موقع دیکھتے ہیں نہ محل۔ جب جی میں آیا پکار اٹھے کہ مباہلہ کر لیجئے۔ اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ خلیفہ جی کے پاؤں میں مہندی رچائی جارہی ہے۔ وہ مباہلہ کیسے کریں۔ بہر حال گذشت آنچہ گذشت اب مناسب یہی ہے کہ اس مبارز طلبی کے بجائے مبارک باد عرض کیجئے اور یہ شعر پڑھ کر دل کو تسلی دے لیجئے۔
واں وہ فرق نازیب بالش مخواب تھا
ابھی راقم الحروف یہیں تک پہنچا تھا اتنے میں خبر آئی کہ عقد ثانی کی رسم کب سے ادا ہو چکی۔ خطبہ نکاح مفتی محمد صادق نے پڑھا۔ چھوہارے اور شیرینی تقسیم کی گئی اور خلیفہ جی خلفائن صاحبہ کو لے کر ٹھنڈے ٹھنڈے گھر سدھارے۔ ہمارا تو ارادہ تھا کہ اس موقع پر قادیان چل کے سہرا پڑھتے اور داد لیتے۔ لیکن خلیفہ جی نے اپنے پرانے نیاز مندوں کو اس موقع پر یاد ہی نہیں کیا۔ حالانکہ ایسے موقعوں پر دشمنوں کو بھی فراموش نہیں کیا جاتا اور ہماری ان کی دشمنی تھوڑی ہی ہے۔ یونہی بس یاد اللہ کی ہے۔
قادیان جانے اور محفل عروسی میں سہرا پڑھنے کا تو موقع نہیں رہا۔ البتہ یہ باسی سہرا علمی و ادبی نمبر میں شائع کر دیا جائے گا۔ خلیفہ جی ہمیں بھول جائیں ہم تو انہیں بھولنے کے نہیں۔ سہرے لکھیں گے تہنیت نامے شائع کریں گے۔ دفتر احسان میں رت جگا ہوگا۔ چراغاں کیا جائے گا۔ اڈیٹر اور کاتب کلرک اور چپراسی مبارک سلامت کا شور مچائیں گے۔ چاند سورج کی جوڑی برقرار کے نعرے لگائیں گے۔ اس پر قادیان والے ہم سے ناراض رہیں تو ان سے خدا سمجھے۔
مولانا مظہر علی اظہر تو ہمارا کہا کب مانیں گے۔ البتہ ہم نے مولانا مرتضےٰ احمد خان اور
٧٦
مولوی اشرف صاحب کو سمجھا دیا ہے کہ خلیفہ جی کی خانہ آبادی بلکہ چوتھی شادی کی رعایت سے خانہ پری انہیں دنوں ہوئی ہے۔ اس لئے مباہلہ مباہلہ کا شور مچا کر ان کا عیش منغض نہ کیجئے۔ کہیں دلہن بی نے سن لیا کہ میاں مباہلہ کے ڈر سے گھر میں چھپے ہوئے ہیں تو بڑی ہنسی ہوگی۔
الفضل کے ایڈیٹر خواجہ غلام نبی یا محل سرائے خلافت کے کوئی دوسرے خواجہ اگر اس حجلہ ناز تک پہنچ سکے تو ہمارا یہ پیغام جناب خلافت پناہی تک پہنچا دیں کہ مباہلہ کے ڈر سے خواہ مخواہ اپنی جان ہلکان نہ کیجئے۔ جب تک حجلہ عروسی سے نہیں نکلتے۔ ہم ان مبارز طلبوں کو روکے رکھیں گے۔ آپ مزے کیجئے اور داد عیش دیجئے۔
جیسے روح ویسے فرشتے
اللہ اللہ مرزا قادیانی کے الہام، مکاشفات، رؤیات، روپیہ اینٹھنے کے چکر میں کٹے اور مرزائی فرشتے بھی اسی ڈیوٹی کو بجالاتے رہے۔ مگر وہ تو جس طرح ہوا سورگباش ہوئے۔ اب نہ وہ رہے نہ ان کے فرشتے۔ ہاں خیر ۔ یہ ان کی نشانی ابا کی یاد دلانے کے لئے ابھی باقی ہے۔ گو اس کے پاس فرشتے نہیں اور نہ ہی الہام بافی کی مشینیں ہیں اور ایسے بھی اب ان چیزوں کی چنداں ضرورت نہیں۔ کیونکہ پہلا سٹاک ہی اس قدر ہے جو نا قابل اختتام ہے۔
بہر حال وہ کام جو مرزا قادیانی کی جدت طبع کی کمزوری سے رہ گئے تھے وہ پنجابی نبی کے اس ہونہار لاڈلے بیٹے نے جس کی یہ چھٹی شادی شاردا ایکٹ کے ہوتے ہوئے ابھی ہوئی ہے پایہ تکمیل کو پہنچائے۔ ذیل میں قارئین کرام کی دلچسپی کے لئے دو خوابات بیان کرتے ہیں۔ جن سے یہ اندازہ آسانی سے لگایا جاسکے گا کہ یہ کمپنی اللہ والوں کا ٹولہ ہے یا دنیا داروں کا گروہ رحمانی ہے یا شیطانی۔
مسٹر لارڈ جارج گھبرا گیا کہ محمود کی فوجوں نے عیسائیوں کو شکست دے دی
”رؤیا میں میں نے دیکھا کہ میں لنڈن میں ہوں اور ایک ایسے جلسہ میں ہوں۔ جس میں پارلیمنٹ کے بڑے بڑے ممبر اور نواب اور وزراء اور دوسرے بڑے آدمی ہیں۔ ایک دعوتی قسم کا جلسہ ہے۔ اس میں میں بھی شامل ہوں۔ مسٹر لارڈ جارج اس میں تقریر کر رہے ہیں۔ تقریر کرتے کرتے ان کی حالت بدل گئی اور انہوں نے ہال میں ٹہلنا شروع کردیا۔ لارڈ کرزن صاحب نے آگے بڑھ کر ان کے کان میں کچھ کہا۔ قاضی عبداللہ صاحب میرے پاس کھڑے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ انہوں نے کیا کہا ہے۔ قاضی صاحب نے مجھے جواب دیا کہ مسٹر لارڈ جارج نے لارڈ کرزن سے یہ کہا کہ میں پاگل نہیں ہوں۔ بلکہ میں اس وجہ سے ٹہل رہا ہوں کہ
٧٧
مجھے ابھی خبر آئی ہے کہ مرزا محمود احمد امام جماعت احمدیہ کی فوجیں عیسائی لشکر کو دبائے چلی آتی ہیں اور مسیحی لشکر شکست کھا رہا ہے۔
(الفضل ٢٤؍ جون ١٩٢٤ء)
ولیم دی کنکر فاتح انگلستان
’’میں نے دیکھا کہ انگلستان کے ساحل سمندر پر کھڑا ہوں۔ جس طرح کوئی شخص تازہ وارد ہوتا ہے اور میرا لباس جنگی ہے۔ میں ایک جرنیل کی حیثیت میں ہوں اور میرے پاس ایک اور شخص کھڑا ہے اس وقت میں یہ خیال کرتا ہوں کہ کوئی جنگ ہوئی ہے اور اس میں مجھے فتح ہوئی ہے اور میں اس کے بعد میدان کو ایک مدبر جرنیل کی طرح اس نظر سے دیکھ رہا ہوں کہ اب مجھے اس فتح سے زیادہ فائدہ کس طرح حاصل کرنا چاہئے۔ ایک لکڑی کا موٹا شہتیر زمین پر گرا ہوا پڑا ہے۔ ایک پاؤں میں نے اس پر رکھا ہوا ہے اور ایک پاؤں زمین پر ہے۔ جس طرح کوئی شخص کسی دور کی چیز کو دیکھنا چاہئے تو ایک پاؤں کسی اونچی چیز پر رکھ کر اونچا ہو کر دیکھتا ہے۔ اسی طرح میری حالت ہے اور چاروں طرف نگاہ ڈالتا ہوں کہ کیا کوئی جگہ ایسی ہے جس طرف مجھے توجہ کرنی چاہئے کہ اتنے میں ایک آواز جو ایک شخص کے منہ سے نکل رہی ہے جو مجھے نظر نہیں آتا۔ مگر میں اسے پاس ہی کھڑا ہوا سمجھتا ہوں اور وہ آواز کہتی ہے ولیم دی کنکر یعنی ولیم فاتح ولیم ایک پرانا بادشاہ ہے جس نے انگلستان کو فتح کیا تھا۔ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔‘‘
(الفضل ٢٤؍ جون ١٩٢٤ء)
یہ ہر دو رویات صادقہ ایک پیغمبر زادے کے منہ سے نکل رہی ہیں۔ جو بظاہر انگریزی کفش برداری کو باعث فخر سمجھتا ہے۔ مگر حلق سے اوپر اوپر اور دلی ارادے اور تمنائیں جو خود ساختہ ہیں وہ خوابی شکل میں بیان ہو رہی ہیں۔
بہر حال خاندان نبوت کے سب سے بڑے ستون کی بات جس پر نبوت کا انحصار ہے اور جو کاروبار رسالت کو بڑی خوش اسلوبی سے نباہ رہا ہے۔ اعتبار نہ کرنا انتہائی ظلم ہے۔ اس لئے انتظار کرنا چاہئے کہ کب یہ مرزاجی کا لاڈلہ سپوت ولیم دی کنکر کے لباس میں ایک کامیاب و فاتح جرنیل کی حیثیت سے پیش ہوتا ہے۔ مگر آہ!
استغراق
’’مرزا قادیانی کے والد غلام مرتضےٰ کہا کرتے تھے کہ مجھے تو غلام احمد کا فکر ہے۔ یہ کہاں سے کھائے گا اور اس کی عمر کس طرح کٹے گی۔ بلکہ بعض دوستوں کو بھی کہا کرتے تھے کہ آپ ہی اس کو سمجھاؤ کہ وہ اس استغراق کو چھوڑ کر کمانے کے دھندے میں لگے۔ اگر کوئی کبھی اتفاق سے
٧٨
ان سے دریافت کرتا کہ مرزا غلام احمد کہاں ہیں تو وہ یہ جواب دیتے کہ مسجد میں جا کر سقاوہ کی ٹونٹی میں تلاش کرو۔ اگر وہاں نہ ملے تو مایوس ہو کر واپس مت آنا کسی صف میں دیکھنا کہ کوئی اس کو لپیٹ کر کھڑا کر گیا ہوگا۔ کیونکہ وہ تو زندگی میں مرا ہوا ہے۔ اگر کوئی اسے صف میں لپیٹ دے تو وہ آگے سے حرکت بھی نہیں کرے گا...... آپ کو شیرینی سے بہت پیار ہے اور مرض بول بھی عرصہ سے آپ کو لگی ہوئی ہے۔ اس زمانہ میں آپ مٹی کے ڈھیلے بعض وقت جیب میں بھی رکھتے تھے اور اسی جیب میں گڑ کے ڈھیلے بھی رکھ دیا کرتے تھے۔‘‘
(حضرت مسیح موعود کے مختصر حالات ص ٢٧ ملحقہ براہین احمدیہ مصنفہ معراج دین عمر)
امت مرزائیہ کے نونہالو خدارا سوچو سمجھو اور ٹھنڈے دل سے جواب دو کہ یہ مبالغہ آرائی جو استہزائیہ رنگ میں بیان ہوئی کہ مرزا قادیانی زندگی میں مرے ہوئے تھے اور وہ ہمہ وقت مسجد کی ٹونٹی یا صف میں لیٹے رہتے۔ کہاں تک درست ہے۔ حالانکہ واقعات اس کے بالکل خلاف ہیں اور وہ بزور اس کی تردید کرتے ہیں۔ آپ کی تاریخ سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ تحصیل علم میں اس قدر منہمک تھے کہ جس زمین پر آپ ٹہل کر مطالعہ فرمایا کرتے تھے وہ دب کر رہ جاتی اور آپ کا اکثر بیشتر حصہ عمر تکمیل مقدمات میں صرف ہوا اور ایک کافی عرصہ ایک معمولی کلرک کی حیثیت سے گزرا اور بقیہ زندگی گورنمنٹ کی مدح وستائش کے چکر میں کٹی اور جلب زر کے لئے کولہو کے بیل کی طرح مسیح بننے کی دھن میں کتابوں کے سیاہ کرنے میں کٹی اور اکثر وقت مباحثوں میں صرف ہوا۔ ہاں اس سارے بیان میں ایک عجیب پھڑکتا ہوا معجزہ ہے کہ کثرت بول کے باعث چونکہ آپ مجبور تھے۔ اس لئے کہ آزار بند ہمیشہ ڈھیلی ہی رہتی تھی۔ دن میں سو سو مرتبہ تو پیشاب ہی آتا تھا۔
غرض اس عقدہ کشائی کے لئے آپ اپنی جیب میں مٹی کے ڈھیلے رکھا کرتے تھے۔ چونکہ شیرینی بھی از حد مرغوب تھی اور اس کو عموماً نوش فرمانا آپ کی عادت میں داخل ہو چکا تھا۔ اس لئے قند سیاہ کی ڈلیاں بھی اسی جیب میں ہی پڑی رہتیں۔ کم بخت ذیابیطس کا برا ہو یہ مریض کو ایسا سوہان روح عارضہ ہے جو منٹوں سیکنڈوں میں بیت الخلاء کا طواف کرانے پر مجبور کرتا ہے۔ اب مرزا قادیانی ہیں کہ اس عارضے کے ساتھ ساتھ قند خوری کے مرض میں بھی بری طرح محبوس ہیں۔ بس یوں سمجھئے کہ پیشاب کی فوری حاجت ہوئی اور آپ نے جھٹ جیب میں ہاتھ ڈالا بجائے مٹی کے ڈھیلے کے گڑ کا ڈھیلا آ گیا اور جلدی میں وہی استعمال ہوا اور اگر استعمال کرنے سے پیشتر قوت حافظہ نے یاری کی تو غلطی کرنے سے بچ گئے۔
٧٩
عادت کوئی بھی ہو بری ہے اور پھر ایسی عادت جو عشق کے مراتب پر پہنچ چکی ہو غرضیکہ جب عادت نے مجبور کیا مرزا قادیانی نے جیب میں قوت لامسہ سے مدد لیتے ہوئے قند کا لڈو تلاش کیا مگر کم نصیبی سے مٹی کا ڈھیلا کا اس وقت احساس ہوا۔ جب آدھا منہ میں گھل چکا تھا۔ غرضیکہ ایسے سہو الطیفوں کا آئے دن پیش آنا امکان میں ہے۔
حالانکہ خلاق جہاں کی تعلیم اس کے بالکل برعکس حکم دیتی ہے۔ رب جہاں تو ارشاد فرماتا ہے ”کلوا من الطیبات (البقره: ١٧٢)“ مگر یہاں طہارت بھلا کیا خاک رہ سکتی ہے جس جیب میں کھانے اور استعمال کرنے میں کوئی تمیز نہیں وہی ہاتھ مٹی کے ڈھیلا کو استعمال کر رہا ہے اور اپنے منہ کو جا رہا ہے اور اسی ہاتھ سے مٹی اور گڑ میں تمیز ہو رہی ہے اور عادت کی مجبوری اور مرزا کی معذوری کو بھی دیکھئے کہ ذیابیطس میٹھا کھانے سے ہی پیدا ہوتی ہے۔ مگر مرزا قادیانی ہیں کہ موتے بھی جارہے ہیں اور کھاتے بھی سیر نہیں ہوتے۔
اب ذرا میں تفصیل میں جاتا ہوں کہ اس غریب کا کیا قصور ہے جسے مرض ذیابیطس نے تنگ کر رکھا ہو اور ہر پانچ سات منٹ کے بعد اس کا کم بخت دورا بیت الخلاء کا طواف کراتا ہو۔ تو ایسی حالت میں جب کہ آزار بند ڈھیلا ہی رہتا ہو اور طرفہ یہ کہ اس پر قند سیاہ کے نوش فرمانے کا عشق بھی بام ترقی پر پہنچ رہا ہو۔ تو ایسی حالت میں اگر اس سے کوئی سہواً بدعنوانی ہو جائے تو قابل تعجب ولائق مذمت نہیں۔ کیونکہ شاید نبوت کی تکمیل میں یہ بھی کوئی مرحلہ ہو۔ یا اللہ میاں امتحان لے رہا ہو۔ آخرش تمام اللہ کے پیارے آزمائے ہی جاتے ہیں۔ مثلاً مرزاجی کو کمبخت دورے نے یاد کیا۔ آپ فوراً ادائے فرض کے لئے بیت الخلاء کو چلے۔ پیشاب کے چند قطرے ٹپکے اور قصہ ختم ہوا۔ آپ نے مٹی ڈھیلے کے لئے ہاتھ جیب میں ڈالا اور جلدی میں قند کا لڈو غلطی سے آگیا اور محسوس کرنے کے بعد دھوکے کا احساس ہوا فوراً تبدیل کر لیا گیا۔
میں یہ مانتا ہوں کہ قند کے ڈھیلے سے خشک طہارت نہ کی گئی ہوگی۔ کیونکہ یہ تو کھانے کی چیز تھی۔ مگر مرزا قادیانی کا ہاتھ جو اس وقت ناپاک ہوا کرتا تھا وہ عموماً ڈھیلوں کے تمیز کے لئے ٹٹولتا ہوگا اور قوت احساس ان کی مدد کرتی ہوگی۔ ایسی حالت میں اللہ تبارک کا وہ ارشاد جو انبیاء عظام کے لئے فرقان حمید میں ہے۔ ”يايها الرسل کلوا من الطيبات واعملوا صالحاً (المؤمنون: ٥١)“ یعنی اے میرے پیامبروں پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو۔ یہ مرزا قادیانی کا چلن پورا نہ اترا۔ بلکہ معیار انبیاء سے ہی گر گیا۔ کیونکہ وہ تمام قند کی ڈلیاں ناپاک ہو جاتی تھیں اور کبھی قوت متخیلہ یہ بھی دھوکا دے جاتی ہوگی کہ قند کی بجائے مٹی کا ڈھیلا نوش فرمانے
٨٠
کے منہ میں گیا اور قوت لامسہ جھٹ پکار اٹھی ہوجی حضرت یہ قند نہیں بلکہ مٹی ہے۔ عقل حیران ہے کہ آخر یہ امت مرزائیہ کیا سمجھ کر ایسی ایسی باتیں منظر عام پر لاتی ہے اور اس سے کیا مقصود تھا۔ یہ پنجابی محاسن بھی نرالے ہی ڈھنگ کے ہیں۔ اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی۔
کیا پنجابی فرشتے بھی جھوٹ بولتے ہیں
جناب مرزا آنجہانی اپنی مایہ ناز کتاب (حقیقت الوحی ص ٣٣٢، خزائن ج ٢٢ ص ٣٤٥) پر بیان کرتے ہیں کہ ”ایک دفعہ مارچ ١٩٠٥ء کے مہینے میں بوجہ قلت آمدنی لنگر خانہ کے مصارف میں بہت دقت ہوئی۔ کیونکہ کثرت سے مہمانوں کی آمد تھی اور اس کے مقابل پر روپیہ آمدنی کم اس لئے دعاء کی گئی۔ ٥۔ مارچ ١٩٠٥ء کو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص جو فرشتہ معلوم ہوتا تھا۔ میرے سامنے آیا (حجاب تھوڑا ہی تھا) اور اس نے بہت سا روپیہ میرے دامن میں ڈال دیا۔ میں نے اس کا نام پوچھا (بڑی شفقت فرمائی) اس نے کہا نام کچھ نہیں میں نے کہا کچھ نام تو ہوگا۔ اس نے کہا میرا نام ٹیچی، ٹیچی پنجابی زبان میں وقت مقررہ کو کہتے ہیں۔ یعنی عین ضرورت کے وقت کام آنے والا۔“
کیا پنجابی نبی جھوٹ بھی بولتے ہیں
ذیل میں ایک نہایت دلچسپ واقعہ ایسا پیش کیا جاتا ہے جو مرزا قادیانی کی سچائی و پارسائی کی انتہائی دلیل ہے۔ گو امت مرزائیہ نے اسے صداقت مرزا میں کمال ہوشیاری سے پیش کیا ہے کہ مرزا قادیانی ایک سادہ مزاج سیدھے سادھے اللہ والے تھے۔ وہ خدا کا حکم تو کیا اپنے بچے کے حکم تک کی تعمیل اپنے لئے فرض سمجھتے۔ باوجودیکہ اس کی شدت درد و کرب بے چین رکھتی۔ مگر تعمیل ارشاد میں وہ سب کچھ گوارا کرتے ہوئے برداشت کرتے۔ ایک دن اپنے کسی خادم سے جب کہ تکلیف کی برداشت کا پیالہ لبریز ہو گیا تو کہنے لگے بھائی فلاں دیکھو تو میری پسلی میں درد کیوں ہوتا ہے۔ پھر خود ہی یہ بھی کہہ دیا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی چیز چبھتی ہے۔
میں پوچھتا ہوں اجی حضرت بھلا وہ کمبخت پسلی کے اندرونی درد کو کیا دیکھے گا۔ جسے بیرونی پورے سوا پانچ سیر کی اینٹ دکھائی نہ دی۔ کس قدر مبالغہ ہے اور کتنا بڑا سفید جھوٹ ہے کہ ایک بڑی اینٹ مرزا قادیانی کی جیب کو کئی روز تک زینت بخشے اور وہ کسی کو نظر نہ آئے۔ حالانکہ مریدان باوفا کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ ہمہ وقت جلوت و خلوت میں رہیں۔ سبحان اللہ یہ پنجابی نبوت کے شاندار کرشمے یا بے مثال معجزے ہیں۔ مرزائیو! ذیل کا مضمون چشم بصیرت سے پڑھو اور جھوٹے پر لعنت بھیجو۔
٨١
تعمیل حکم
”جاڑے کا موسم تھا۔ آپ کے ایک بچے نے آپ کی واسکٹ کی ایک جیب میں ایک بڑی اینٹ ڈال دی۔ آپ جب لیٹتے تو وہ اینٹ چبھتی۔ کئی دن ایسا ہی ہوتا رہا۔ ایک دن اپنے ایک خادم کو کہنے لگے کہ میری پسلی میں درد ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی چیز چبھتی ہے۔ وہ حیران ہوا اور آپ کے جسد مبارک پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ اس کا ہاتھ اینٹ پر جالگا۔ جھٹ جیب سے نکال لی۔ مرزا قادیانی دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا کہ چند روز ہوئے محمود نے میری جیب میں اینٹ ڈال دی تھی اور کہا تھا کہ اسے نکالنا نہیں میں اس سے کھیلوں گا۔“
(سوانح حضرت مسیح موعود ص ٦٧)
واہ صاحب واہ کہ مرزا قادیانی کے لال کو کھلونا بھی ملا تو اینٹ جیسا نایاب تحفہ جو ابا کی پسلیاں توڑے اور درد پیدا کرے اور سوتے میں محمود کی یاد کو تازہ رکھے۔ مگر قربان جاؤں آپ کی اطاعت شعاری اور فرمانبرداری پر کہ بیٹے کی ناز برداری کے لئے حکم کی تعمیل بھی وہ کی کہ جان کا آرام کھو دیا سمجھ میں نہیں آتا کہ امت مرزائیہ کیا سمجھ کر یہ عجوبہ نمائی پیش کرتی ہے اور اس میں کون سی اعجازی کرشمہ سازیاں مضمر ہیں اور حقیقتاً یہ ہے بھی کیا، بچوں کا کھیل ہے یا پیامبری کے منازل کی تکمیل یا پنجابی نبی کی امت نبوت کے پاک نام کی تذلیل کر رہی ہے جو یوں جذبات رسالت سے کھیلا جا رہا ہے۔ افسوس تو یہ ہے کہ نبیوں کی مطہرہ زندگی امت کے لئے اصول وضوابط پیش کیا کرتی ہے اور یاران طریقت اس کو اپنا صحیح نصب العین بنایا کرتے ہیں۔ جیسا کہ فرقان حمید نبی مکرم فداہ ابی وامی کے لئے بیان فرماتا ہے۔ ”لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ
(احزاب: ٢١)“
اب سوال تو یہ ہے کہ کیا سنت مرزا پر عمل کرتے ہوئے امت مرزائیہ مرزا کے اسوہ پر چلے گی اور اپنی جیبوں میں اینٹ اور پتھر رکھ کر اجسام کی تواضع کرتے ہوئے میٹھی نیند کو خیر باد کہہ کر ثواب اخروی کی آرزو میں یاد مرزا کو تازہ کرے گی۔ اگر یہ نظریہ ہو تو یقیناً مبارک ہے۔
بہر حال ایک اور بھی پنجابی نبوت کا چٹکلہ اور سنت مرزا کا کرشمہ جو قابل بیان ہے ملاحظہ فرمائیں۔ بخدا یہی ایک مزے کی چیز اور عمل کا موقعہ ہے دیکھیں کون لبیک کہتا ہوا میری مٹی پر احسان کرتا ہے۔
مرزا قادیانی کی نامردی کس طرح دور ہوئی
اپنی مایہ ناز کتاب (تریاق القلوب ص ٣٥، خزائن ج ١٥ ص ٢٠٣) پر فرماتے ہیں کہ:
٨٢
”ایک ابتلاء مجھ کو اس شادی کے وقت یہ پیش آیا کہ بباعث اس کے میرا دل اور دماغ سخت کمزور تھا اور میں بہت سی امراض کا نشانہ رہ چکا تھا...... اس لئے میری حالت مردی کالعدم تھی اور پیرانہ سالی کے رنگ میں میری زندگی تھی۔ اس لئے میری اس شادی پر میرے بعض دوستوں نے افسوس کیا...... غرض اس ابتلاء کے وقت میں نے جناب الٰہی میں دعاء کی اور مجھے اس نے دفع مرض کے لئے اپنے الہام کے ذریعے دوائیں بتلائیں اور میں نے کشفی طور پر دیکھا کہ ایک فرشتہ وہ دوائیں میرے منہ میں ڈال رہا ہے۔ چنانچہ وہ دوائیں نے تیار کی...... میں اس زمانہ میں اپنی کمزوری کی وجہ سے ایک بچہ کی طرح تھا اور پھر اپنے تئیں خداداد طاقت میں پچاس مرد کے قائم مقام دیکھا۔“
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٤)
راز و نیاز
حضرت موسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر موجود ہیں
”وكلمہ ربہ علیٰ طور سینین وجعلہ من المحبوبین ھٰذا ھو موسیٰ فتی اللّٰہ الذی اشار اللّٰہ فی کتابہ الیٰ حیاتہ وفرض علینا ان نؤمن بانہ حی فی السماء ولم یمت ولیس من المیتین“ اور اس کا (موسیٰ کا) خدا کوہ سینا میں اس سے ہمکلام ہوا اور اس کو پیارا نبی بنایا۔ یہ وہی موسیٰ مرد خدا ہے جس کی نسبت قرآن میں اشارہ ہے کہ وہ زندہ ہے اور ہم پر فرض ہو گیا کہ ہم اس بات پر ایمان لاویں کہ وہ زندہ آسمان میں موجود ہے اور ہرگز نہیں مرا اور مردوں میں سے نہیں۔
(نور الحق ج١ ص٥٠، خزائن ج٨ ص٦٨، ٦٩)
مسیح قادیانی کی چہیتی بھیڑو تمہارے گھروں میں جو کلام مجید بطور تبرک جزدانوں میں لپٹا ہوا طاقچوں کی زینت بنا رہتا ہے اور مرزا قادیانی کی تالیفات کی وجہ سے تمہارا قیمتی وقت اوہام باطلہ کی اوراق گردانی میں ضائع ہو جاتا ہے اور وقتِ عزیز تمہیں اس بابرکت صحیفہ کے پڑھنے کی اجازت نہیں دیتا اور آئے دن مرزائی گزٹ کے لئے نئے سرکلر جن میں میاں بشیر الدین محمود خلیفہ قادیان کی حواس باختگیاں اور سراسیمگیاں اور ان کے ساتھ ساتھ جبر و استبداد کے بے ربط قصے اور آخر میں فرعونِ بے سامان کے حکم جن میں تیاری کے احکام نافذ ہوتے ہیں تمہارے رہے سہے اوقاتِ فرصت کو کھوتے ہوئے تمہیں بدحواس بنانے میں ممد و معاون بنتے ہیں۔ جس کی وجہ سے تم مجبور ہو۔ معذور ہو اور بدقسمتی سے چونکہ علمی فقدان ہے اس لئے عموماً اردو خواندہ ہونے کی حیثیت سے کلام مجید کا پڑھنا بھی محال معلوم ہوتا ہے اور اکثر طبقہ تو صرف تراجم تک ہی اکتفا کرتا ہے اور وہ بھی بدبختی
٨٣
سے ان کا کیا ہوا۔ جن کے دلوں میں نور ایمان نہیں اور جو فنا فی المرزا ہو چکے ہیں۔ پھر اس ترجمہ کے ساتھ ساتھ دلیل دینے کے لئے تفسیر بھی ہوتی ہے اور وہ بھی شارع اسلام کی تفسیر سے متضاد اور واقعات صحیحہ کے مخالف اور نئی روشنی کی چاشنی میں ڈوبی ہوئی اور دہریت نیچریت کی روح رواں۔ لیکن جب کبھی بخت یاور ہوتا ہے اور فطرت سلیمہ رہنمائی کرتی ہے تو دل میں کوئی شبہ پیدا ہوتا ہے۔ مگر بقول شخصے ملاں کی دوڑ مسجد تک۔ وہی کرائے کے مبلغ اور دجل کی مشین کی صیقل شدہ تفسیریں اطمینان قلب کر دیتی ہیں۔ پھر وہ ایسے راسخ الایماں ہو جاتے ہیں کہ کیا مجال جو ایک انچ پیچھے ہٹیں یا کسی سچی بات کو سنیں پھر تو وہ عالم بالا کے راز دان اور دنیا کو ہمچوں دیگر نیست سمجھتے ہوئے سنت مرزا میں مست و بے نیاز ہو جاتے ہیں۔
اب مرزا قادیانی کس وضاحت سے موسیٰ علیہ السلام کی زندگی کو جزو ایمان قرار دے رہا ہے اور اس کی صداقت میں قرآن کریم کو شاہد گردان رہا ہے اور صاف لفظوں میں تاکیداً کہہ رہا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں وہ نہیں مرے۔
اب سوال یہ ہے کہ تمہارا یہ کہنا کہ مسیح علیہ السلام کا زندہ ماننا کفر ہے تو کیا موسیٰ علیہ السلام کا زندہ ماننا جزو ایمان ہے۔ یہ کفر نہیں۔ حالانکہ اول الذکر کو آپ خود اپنی باون سالہ زندگی تک مانتے چلے آئے ہیں اور جو جو اعتراضات مسیح علیہ السلام پر آئے دن تمہاری تقریروں اور تحریروں میں ہوتے رہتے ہیں اور جو مرزا آنجہانی نے اپنی تالیفات میں درج کئے ہیں کہ وہ کیا کھاتے، کیا پیتے، کہاں سوتے اور کیا کیا کرتے ہیں۔ کیا یہی ان تمام کا جواب صحیح نہیں کہ جو کچھ موسیٰ علیہ السلام کی زندگی سے وابستہ ہے۔ وہی مسیح علیہ السلام کے لئے سمجھو اور کیا فرقان حمید کی کسی ایک آیت سے کوئی مرزائی ہمیں موسیٰ علیہ السلام کی زندگی بتا سکتا ہے۔ ہمارے خیال میں مرزا آنجہانی سے غلطی ہوئی اور وہ یہ کہ بجائے عیسیٰ علیہ السلام کے سہواً موسیٰ علیہ السلام لکھ دیا گیا۔ بہر حال جس کو امت مرزائیہ موسیٰ علیہ السلام سمجھتی ہے اسی کو پیروان سرکار مدینہ، عیسیٰ علیہ السلام تصور کرتے ہیں اور وہی مسیح موعود ہے اور اسی کے لئے اس عرب کے در یتیم کملی پوش نے حلف اٹھاتے ہوئے آمد کا وعدہ دیا ہے اور جس پر دنیا کے ڈیڑھ ارب انسانوں کا ایمان ہے۔
زلیخا نے کیا خود چاک دامن ماہ کنعاں کا
٨٤
اور حیات مسیح کے ضمن میں مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ یہ امر قانون قدرت کے خلاف ہے اور ایسے واقعہ کو عقل تسلیم نہیں کرتی کہ مسیح علیہ السلام بجسد عنصری آسمان پر تشریف لے جائیں۔ دراصل یہ کم علمی اور جہالت کے درجے ہیں۔ یا مرزا قادیانی عمداً تجاہل عارفانہ فرما رہے ہیں۔ ورنہ کلام مجید میں ایسے بیسوں واقعات موجود ہیں جو ہمارے عقل و فکر میں نہیں آتے۔ مثلاً حضرت عزیر علیہ السلام کا سو سال کے بعد زندہ ہونا اصحاب کہف کا تین سو برس تک سونا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا جانوروں کو ذبح کرنے کے بعد زندہ ہوتے دیکھنا۔ مسیح علیہ السلام کا مردے زندہ کرنا شق القمر کا رسول اکرم ﷺ کے لئے گواہی دینا وغیرہ وغیرہ۔
قانون قدرت
مخلوق کے لئے ہے نہ کہ خالق کے لئے۔ اس کی پیروی ہمارے لئے ہے نہ کہ خلاق کائنات کے لئے۔ ہاں یہ صحیح اور درست ہے کہ ہم اس کو نہیں توڑ سکتے۔ ہماری تدبیریں اس کو نہیں بدل سکتیں۔ مگر وہ ذات کردگار جس نے اس کو پیدا کیا۔ وہ موجد اعلیٰ جس نے ان کو ایجاد کیا، بدل بھی سکتا ہے اور توڑ بھی سکتا ہے۔ وہ ان کا مطیع و فرمانبردار نہیں اور یہی خالق اور مخلوق میں فرق ہے وہ جہاں لا تبديل لكلمات الله فرماتا ہے۔ وہاں والله على كل شى قدير کا بھی حکم دیتا ہے۔ خدا کے قانون کو عاجز مخلوق کی کیا طاقت ہے کہ توڑ سکے یا بدل سکے؟۔ ہاں وہ جب چاہے اپنی مشیت سے ایسا کرنے پر قادر ہے۔ ”يفعل ما يشاء“ کرتا ہے جو چاہتا ہے۔
اور لطف یہ ہے کہ خود مرزا قادیانی بھی اس پر صاد کرتے ہیں اور طرفہ یہ کہ مثالیں دے دے کر قانون قدرت کو انسانی ہاتھوں سے تڑواتے ہیں اور پھر خود ہی معترض ہوتے ہیں۔ قارئین کرام کی ضیافت طبع کے لئے ذیل میں ہم چند ایک بطور امثلہ پیش کرتے ہیں۔ ملاحظہ کریں:
(سرمہ چشم آریہ ص ٥١، خزائن ج ٢ ص ٩٩) پر فرماتے ہیں کہ ”تھوڑا عرصہ گزرا ہے کہ مظفر گڑھ میں ایک ایسا بکرا پیدا ہوا کہ جو بکریوں کی طرح دودھ دیتا تھا۔ جب اس کا شہر میں بہت چرچا پھیلا تو مکالیف صاحب ڈپٹی کمشنر مظفر گڑھ کو بھی اطلاع ہوئی تو انہوں نے یہ ایک عجیب امر قانون قدرت کے برخلاف سمجھ کر وہ بکرا اپنے روبرو منگوایا۔ چنانچہ وہ بکرا جب ان کے روبرو دوہا گیا تو شاید قریب ڈیڑھ سیر دودھ اس نے دیا اور پھر وہ بکرا بحکم صاحب ڈپٹی کمشنر عجائب خانہ لاہور میں بھیجا گیا ۔“ تب ایک شاعر نے اس پر ایک شعر بھی بنایا اور وہ یہ ہے کہ:
یہاں تک فضل باری ہے کہ بکرا دودھ دیتا ہے
٨٥
کیا مرزائی مرد بھی دودھ دیتے ہیں
اس کے بعد تین معتبر اور ثقہ اور معزز آدمی نے میرے پاس بیان کیا کہ ہم نے بچشم خود چند مردوں کو عورتوں کی طرح دودھ دیتے دیکھا ہے۔ بلکہ ایک نے ان میں سے کہا کہ امیر علی نام ایک سید کا لڑکا ہمارے گاؤں میں اپنے باپ کے دودھ سے ہی پرورش پاتا تھا۔ کیونکہ اس کی ماں مر گئی تھی۔ (سرمہ چشم آریہ ص ٣٠، خزائن ج ٢ ص ٩٩) ایسا ہی بعض لوگوں کا تجربہ ہے کہ کبھی ریشم کے کیڑے کی مادہ بے نر کے انڈے دیتی ہے اور ان میں سے بچے نکلتے ہیں۔ بعض نے یہ بھی دیکھا کہ چوہا مٹی خشک سے پیدا ہوا۔ جس کا آدھا دھڑ تو مٹی کا تھا اور آدھا چوہا بن گیا۔ حکیم فاضل قرشی یا شاید علامہ نے ایک جگہ لکھا ہے کہ ایک بیمار ہم نے دیکھا جس کا کان ماؤف ہو کر بہرہ ہو گیا تھا۔ پھر کان کے نیچے ایک ناسور سا پیدا ہو گیا جو آخر وہ سوراخ سے ہو گئے۔ اس سوراخ کی راہ سے وہ برابر سن لیتا تھا۔ ان دونوں طبیبوں میں سے ایک نے اور غالباً قرشی نے خود اپنی اڑی میں سوراخ ہو کر اور پھر اس راہ سے مدت تک براز یعنی پاخانہ آتے رہنا تحریر کیا ہے۔
(سرمہ چشم آریہ ص ٤٠، خزائن ج ٢ ص ٩٩)
ہے اتنی حقیقت قادیان کی
حرام پور کی بارش
یوں تو حرام پور میں خدا کا دیا سب کچھ موجود تھا۔ بڑا بارونق شہر اور پختہ محل عالی شان عمارتیں سرائیں ہوٹل قہوہ خانے اور سب سے قابل بیان وہ باغ تھے جو شہر کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے تھے۔ بس یوں سمجھو کہ ستاروں میں چاند یا گوپیوں میں کاہن بس رہا تھا۔ سرشام بازار میں وہ رونق کا عالم ہوتا کہ میلے کا گماں ہوتا اور کھوئے سے کھوا چھلتا
نیرنگی قدرت کہیئے یا حوادث زمانہ لکھئے امساک باراں کی وجہ سے قحط عظیم بپا ہوا۔ ہرے بھرے درخت کملا گئے اور تمازت آفتاب نے اہل شہر کی جان پر ایک آفت بنادی۔ گویا چہل پہل کی جگہ الو بول گیا۔ جہاں ٹھٹھ کے ٹھٹھ لگے رہتے تھے وہاں بات پوچھنے والا بھی کوئی نہ رہا تھا۔ غرضیکہ خدا کی زمین دنیا پر تنگ آگئی تو ایک مہاپرش تپسوی بھی کہیں سے آ نازل ہوئے۔ اہل شہر نے ان کی طرف رجوع کیا اور بارش کے لئے پراتھنا کی۔ وہ بولے یہ بھی کوئی بات ہے کہ بارش نہیں ہوتی۔ تم دھیرج رکھو رام بھروسے ہو ہی جائے گی۔ انتظار کرتے کرتے اور آسمان کی طرف دیکھتے دیکھتے آنکھیں پتھرا گئیں۔ مگر بارش نہ ہونی تھی اور نہ ہوئی۔ تو اہل دہ نے مہاراج کی طرف
٨٦
دوبارہ رجوع کیا۔ وہ ہنسے اور بولے تم دھیرج رکھو رام بھرو سے بارش ہو ہی جائے گی۔ مگر قحط باراں کی وجہ سے شہریوں کا برا حال ہو رہا تھا۔ وہ بضد ہوئے کہ مہاراج ہمارا قافیہ تنگ اور جینا محال ہو چکا۔ جلد مہربانی کیجئے تو آپ نے ان کی تسلی و تشفی کے لئے فرمایا کہ عدم نگر میں میرے دو چیلے ایسے ہیں جن کے پاس بارش برسانے کا کافی انتظام ہے۔ وہ عنقریب آنا ہی چاہتے ہیں۔ لوگوں کو کمال اشتیاق ہوا کہ آخر ان کے پاس کیا ایسا سامان ہے جس سے وہ بارش برسانے پر حاوی ہیں تو مہاراج نے کہا سنو میرے دونوں چیلوں کے پاس لاکھوں عجائبات ہیں اور کرامات و مکاشفات کا تو کچھ ٹھکانہ ہی نہیں۔ مگر ان میں دو چیزیں ایسی ہیں جو قابل قدر و لائق حمد ہیں وہ یہ کہ ایک کے پاس ایک بھینس ایسی ہے جس کے دونوں سینگوں کی درازی ہزاروں میل تک پہنچتی ہے اور دوسرے کے پاس ایک اتنا لمبا اونچا بانس ہے جس کی بلندی آسمان تک پہنچتی ہے۔ جب کبھی بارش کی ضرورت ہوتی ہے وہ جھٹ آسمان کو ایک چرکا لگا دیتا ہے۔ بس رام بھرو سے بارش ہو ہی جاتی ہے۔
ناظرین کرام! آپ حیران ہوں گے اور مندرجہ بالا واقعہ کو صداقت کے مراتب سے کوسوں دور تصور کریں گے۔ مگر میرے محترم مرزائی دوست خصوصاً وہ بڑی سی توند والے شیخ محمد جان صاحب وزیر آبادی واقعہ بالا پر نعرہ لبیک لگاتے ہوئے آمنا و صدقنا یا مسیح موعود ظل قادیانی پکاریں گے۔ اور اگر فطرت سلیمہ کو گھاس چرنے سے فراغت ہوئی تو شاید دل میں کچھ شبہ سا پیدا ہو جائے۔ اس لئے میں ان کی خدمت میں اپیل کروں گا کہ اگر یہ واقعہ گپ محض ہے تو خدارا یہ تو بتائیں کہ مرزا قادیانی آنجہانی کا کہنا کہ بکرا ڈیڑھ سیر دودھ دیتا ہے اور مرد کی چھاتی سے دودھ بہہ نکلتا ہے اور ریشم کے کیڑے کی مادہ بلانر کے انڈے دیتی ہے اور کان کے بجائے سوراخ قوت سامعہ پیدا کر سکتے ہیں اور اوڈی کے سوراخ سے پاخانہ اور وہ بھی مدتوں آ سکتا ہے۔ کیا یہ چیزیں ممکنات سے ہیں اور اگر ہیں تو مندرجہ بالا واقعہ بھی ممکن اور اگر یہ بھی محض گپیں فقط دماغ کی تراشیدہ ہیں تو وہ بھی گپ ہی ہو گی۔
اک اک خرافات کے خرمن میں لگادوں
اور پھر ناممکنات پر بس نہیں بلکہ مرزا قادیانی کا اقرار موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کے لئے عام قانون توڑ دیا کرتا ہے۔ چنانچہ دلچسپی کے لئے یہ بھی ملاحظہ فرمائیں:
خدا تعالیٰ اپنے بندوں کے لئے عام قانون کو توڑ دیتا ہے
(سرمہ چشم آریہ ص ٥٧، خزائن ج٢ ص ١٠٥) پر ارشاد ہوتا ہے:
٨٧
”کہ جب انسان اپنی بشری عادتوں کو جو اس میں اور اس کے رب میں حائل ہیں۔ شوق توصل الہی میں توڑتا ہے تو خدا تعالیٰ بھی اپنی عام عادتوں کو اس کے لئے توڑ دیتا ہے اور یہ توڑنا بھی عادت ازلیہ میں ہے۔ کوئی امر محدث نہیں جو مورد اعتراض ہو سکے۔ گویا قدیم قانون حضرت احدیت جل شانہ اسی طور پر چلا آتا ہے۔“
سچی تبدیلی
(سرمہ چشم آریہ ص ٥٧، خزائن ج ٢ ص ١٠٦) پر فرماتے ہیں کہ:
”خوارق کی کل جس سے عجائبات قدرت حرکت میں آتے ہیں انسان کی تبدیلی یافتہ روح ہے اور وہ سچی تبدیلی یہاں تک آثار نمایاں دکھاتی ہے کہ بعض اوقات ایک ایسے طور سے شور محبت دل پر استیلا پکڑتا ہے اور عشق الٰہی کے پرزور جذبات اور صدق اور یقین کی سخت کشش ایسے مقام پر انسان کو پہنچا دیتی ہے کہ اسی عجیب حالت میں اگر وہ آگ میں ڈال دیا جائے تو آگ اس پر کچھ اثر نہیں کر سکتی۔ اگر وہ شیروں اور بھیڑوں اور ریچھوں کے آگے پھینکا جائے تو وہ اس کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔“
قارئین کرام! آپ نے مرزا قادیانی آنجہانی کے دو مسلمہ اصول ملاحظہ فرمالئے اور اس سے قبل دو تین عملی مثالیں بھی ملاحظہ کیں۔ اس میں کوئی ایسی مشکل قابل حل نہیں اور نہ ہی کوئی ایچ پیچ ہے۔ بلکہ مطلب نہایت صاف صاف اور واضح ہے۔ اب اسی اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے مرزا قادیانی کی عملی تصویر قال اور حال کو دیکھئے۔
وہ تمام معجزات جو انبیاء علیہ السلام کو تفویض ہوئے۔ مثلاً حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ واقعہ چار جانوروں کو ذبح کرنے کے بعد اطمینان قلب کے لئے زندہ ہونا دیکھنا۔ حضرت عزیر علیہ السلام اور ان کے گدھے کا واقعہ وغیرہ وغیرہ۔ کسی ایک معجزہ کو آپ صرف اس لئے قبول نہیں کرتے کہ سنت اللہ نہیں اور کہتے ہیں اللہ تعالیٰ قادر تو ہے لیکن وہ اپنے قوانین کو نہیں بدلتا۔
ہم پوچھتے ہیں کہ کیا بکرے کا دودھ دینا اور مرد کی چھاتی سے مہینوں دودھ کا بہنا اور آگ کی حرارت کا مفقود ہونا اور وحشی درندوں کا وحشت کو بھول جانا۔ کس طرح اور کس لئے اب جائز قرار دیا گیا ہے۔ جب کہ پہلے آپ اس کی کافی سے زیادہ تردید کر چکے اور ان معجزات کی تاویلیں اسی ذیل میں کر چکے۔ کیا اب سنت اللہ نہیں بدلی۔ آخر یہ کیا ہو رہا ہے اور ایسے سرپھروں کی اب کیا ضرورت ہے۔ جب کہ آپ نے اس کی تردید میں ہزاروں صفحات سیاہ کئے اور مسیح علیہ السلام کا آسمان پر بجسد عنصری جانا صرف اسی ایک دلیل کی بنا پر نہ ٨٨
قبول کیا کہ کرۂ زمہریر و آتشین سے گزرنا محال ہی نہیں غیر ممکن ہے اور یہ سنت اللہ کے منافی ہے اور صرف اسی اصول کو برقرار رکھنے کے لئے مریم علیہا السلام پر بہتان تراشے اور نامہ اعمال کو سیاہ کیا کہ وہ یوسف نجار کے بیٹے تھے۔ کیونکہ یہ بھی سنت اللہ کے بر خلاف ہے کہ بلا مرد کے چھوئے عورت استقرار حمل پائے ۔ جیسا کہ پادری محمد علی صاحب کا ایمان ہے۔ مندرجہ ذیل آپ ہی کی قلم کا رہین منت ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:
مریم صدیقہ پر بہتان
”مفتری ہے وہ شخص جو مجھے کہتا ہے کہ میں مسیح ابن مریم کی عزت نہیں کرتا ۔ بلکہ مسیح تو مسیح میں اس کے چاروں بھائیوں کی بھی عزت کرتا ہوں ۔ کیونکہ پانچوں ایک ہی ماں کے بیٹے ہیں۔ نہ صرف اس قدر بلکہ میں تو حضرت مسیح کی دونوں حقیقی ہمشیرہ کو بھی مقدسہ سمجھتا ہوں کہ یہ بزرگ مریم بتول کے پیٹ سے ہیں اور مریم کی وہ شان ہے کہ جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا ۔ پھر بزرگان قوم کے اصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کر لیا ۔ گو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ برخلاف تعلیم توریت عین حمل میں کیونکر نکاح کیا گیا اور بتول ہونے کے عہد کو کیوں ناحق توڑا گیا اور تعدد ازواج کی کیوں بنیاد ڈالی گئی ۔ یعنی باوجود یوسف نجار کے پہلی بیوی ہونے کے مریم کیوں راضی ہوئی کہ یوسف نجار کے نکاح میں آوے ۔ مگر میں کہتا ہوں کہ سب مجبوریاں تھیں جو پیش آگئیں ۔ اس صورت میں وہ لوگ قابل رحم تھے نہ قابل اعتراض۔“
(کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٨)
قارئین کرام ! غور فرمائیں کہ قادیان کے مسیلمہ ثانی نے کس عیاری سے مریم صدیقہ پر بہتان لگائے ۔ حالانکہ رسول اکرم ﷺ نے مریم صدیقہ کی پاک دامنی پر یہ فرمایا کہ حضرت مریم صدیقہ مومن ، قانت ، زاہد عورتوں کی جنت میں سردار ہوگی ۔
اللہ اللہ، خبطی نبی کی بدبختی کا اس سے زیادہ اور کیا نمونہ ہوگا ۔ نعوذ باللہ خاکم بدہن کہ جناب مریم صدیقہ قبل از نکاح حاملہ ہو چکی تھیں ۔ گویا ..... تھیں اور جب قوم نے ان کو اس حالت میں دیکھا تو فوراً ان کا نکاح کر دیا۔
حالانکہ فرقان حمید ان دونوں باتوں کو نہایت شدت سے دندان شکن جواب دیتا ہوا باطل قرار دیتا ہے۔ ” قَالَتْ اَنّیٰ یَکُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّلَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ وَّلَمْ اَکُ بَغِیًّا (مریم : ٢٠) “ ﴿کہا اس نے کیونکر ہوگا میرے ہاں لڑکا حالانکہ نہیں چھوا مجھے کسی آدمی نے اور نہیں ہوں میں بدکار﴾
٨٩
ق
اب جب کہ فرقان حمید نکاح اور مس انسان کی تردید کرے کہ یہ دونوں باتیں قطعاً نہیں ہوئیں اور شارع اسلام پر زور تائید فرمائیں کہ مرزا آنجہانی جو نہ تیرہوں میں نہ تینوں میں فضول لچر یا کسی اور بیہودہ خیالات کی بناء پر دامن عصمت پر دھبہ لگانے کی ناکام کوشش کرے۔ تو ان کی عقل کا ماتم کرنا چاہئے۔ یہ سوقیانہ اور اوباشانہ خرافات بد باطن یہود کا وطیرہ تھا۔ افسوس مرزا قادیانی نے اس کو کیسے اختیار کیا اور یہ پاک قصص کلام مجید کے بیان کرنے کا یہی مقصد تھا کہ تمہارے لچر و فضول بکواسات ہیں۔ جو خدائے پاک کے بندوں پر ذاتی اغراض کی بناء پر کور باطنی و لاعلمی جہالت و تعصب پر مبنی ہیں۔ مگر افسوس تو یہ ہے کہ دعوٰی مثیل کا کرتا اور روحانی والدہ کی عصمت پر حرف رکھنا کسی شریف اور صحیح الدماغ انسان کا فعل نہیں۔ ہاں سر پھرے اور بدبخت اور وہ بھی خال خال اس کے مرتکب ہوا کرتے ہیں۔
اور مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ میں تو مسیح کے چاروں بھائیوں کی اور دونوں بہنوں کی بھی وہی تعظیم کرتا ہوں۔ جو مسیح علیہ السلام کی۔ بندہ خدا جب نکاح ہی نہیں ہوا اور نعوذ باللہ کسی ناجائز طریق کا استعمال بھی نہیں ہوا تو چار بھائی اور دو بہنیں کہاں سے ٹپک پڑیں اور مسیح علیہ السلام تو آیات اللہ قرار دیتے ہوئے ظہور پذیر ہوئے اور قادر توانا ذات باری نے مثال دے کر ان کی ولادت اپنی خدائی اور فعل خود مختاری کی ایک دلیل پیش کی اور یہ بھی تمہارے خیال کے بد باطن یہود کا سوقیانہ اعتراض تھا کہ مسیح علیہ السلام بن باپ کیسے پیدا ہوئے اور جیسا کہ پادری محمد علی لاہوری کا خیال ہے تو اللہ جل جلالہ نے فرمایا کہ گندے مادے کے ناپاک قطرہ اتنی سی بات پر تمہاری بد باطنی اور خباثت کی ہنڈیاں ابال میں آ گئی کہ مسیح علیہ السلام بن باپ کیسے پیدا ہوئے۔ حالانکہ ہم نے ابوالبشر آدم علیہ السلام کو جب پیدا کیا وہ ماں اور باپ دونوں نہ رکھتے تھے۔
”ان مثل عیسی عند اللہ کمثل آدم خلقہ من تراب ثم قال لہ کن فیکون (آل عمران:٥٩)“ اور مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ مفتری ہے وہ شخص جو مجھے کہتا ہے کہ میں مسیح ابن مریم کی عزت نہیں کرتا۔
ہم پوچھتے ہیں کہ کیا خاک قادیان کو یہ شرف حاصل ہے کہ جھوٹے نبی پیدا کرے اور وہ بھی مخبوط الحواس اور کیا پنجابی نبوت میں عزت کے نام سے یہی چیز یاد کی جاتی ہے کہ نہ بہن چھوٹے نہ ماں اور نہ دادی نہ نانی۔ عیاذاً باللہ!
آہ! اگر عزت اسی مہیب تصویر کا نام ہے تو ہمارا سو بار سلام ہے۔ یہ مرزا اور اس کی عزیز امت ہی کو مبارک ہو۔ ہم ایسی عزت سے باز آئے۔
٩٠
نبوت کی دو چار نادانیاں ہیں
میٹھا میٹھا ہپ اور کڑوا کڑوا تھو
آخر اس کی اب کیا ضرورت پیش آئی۔ جو یہ سرکلر دیئے گئے کہ قانون قدرت بھی تبدیل ہو جایا کرتے ہیں اور حیوانات و معدنیات بھی اپنے خواص بدل دیا کرتی ہیں۔ قارئین کرام کے لئے مرزا قادیانی کے اس تناقض کی تصویر بھی ہم ہی بے نقاب کرتے ہیں۔ چنانچہ آپ کا وہ لطیف بیان جو ضرورت ایجاد کی ماں کا مصداق ہوا ملاحظہ فرمائیں۔
(سرمہ چشم آریہ ص ١٣١، خزائن ج ٢ ص ١٧٩)
”راقم رسالہ ہذا نے اس عالم ثالث کے عجائبات اور نادر مکاشفات کو قریب پانچ ہزار بچشم خود دیکھا اور اپنے ذاتی تجربہ سے مشاہدہ کیا اور اپنے نفس پر انہیں وارد ہوتے پایا۔ اگر ان سب کی تفصیل لکھی جائے تو ایک بڑا بھاری کتاب تالیف ہو سکتی ہے۔“
مرزا قادیانی کو نبوت کی تکمیل کے لئے معجزات کی لازماً ضرورت درپیش ہوئی تو آپ گھبرائے کیونکہ آپ کو سابقہ اوراق کی مہیب تصویر جس میں معجزات کو مسمریزم اور شعبدہ بازی کے نام سے منسوب کیا گیا تھا۔ یاد آئی اس کا تصور کرتے ہی پیشانی عرق ریز ہوئی اور آپ گھنٹوں اسی سوچ میں محو حیرت رہے۔ آخر خیالات کے تلاطم میں ایسے غرق ہوئے کہ خرد و ادراک کو خیر باد کہتے ہوئے پنجابی نبوت کے محاسن اور دلائل کو بام اوج پر پہنچانے کے لئے یہ تناقض آلود بیان جو خود ساختہ نبوت کے ڈھول کے پول کھولنے اور دجل کی ہنڈیا کو عین چوراہے میں پھوڑنے کا سامان ہے پیش کر دیا۔
مقام شکر ہے کہ مرزا قادیانی ان کی تفصیل میں نہیں پڑے ورنہ نبوت کی باسی کڑاہی میں وہ وہ ابال آتا کہ دنیا دیکھتی۔ کیونکہ یہ عالم ثالث کے عجائبات ہی کچھ ایسے دلفریب اور دیدہ زیب ہیں جن کا تصور لرزہ براندام کرے اور ان نادیدہ مکاشفات کی بلندی افسانہ آزاد اور الف لیلے کے قصص سے کہیں بالاتر ہے۔ مقام حیرت ہے کہ اچھی تکمیل نبوت ہو رہی ہے۔ جس کے معجزات ہی سوائے مرزا آنجہانی کے دوسرے کو معلوم نہ ہوں اور نبی بھی وہ بخل کرے کہ غریب امت تک کو ان سے محروم ہی رکھے۔ اچھے معجزات ہیں جن کو گدوں میں لپیٹ کر رکھا جاتا ہے کہ بیرونی ہوا سے محفوظ رہیں ورنہ شاید پگھل جانے کا اندیشہ ہے یہ مکاشفات ہیں۔ یا موسم گرما کے اولے، الہی پناہ تعداد بھی بہت ہی کم بتائی میں تو کہتا ہوں کہ احسان کیا کہیں ٥ لاکھ کہہ دیتے تو ان کو کوئی دیکھنے والا
٩١
تھوڑا ہی تھا۔ ہاں بھئی آخر نبی بھی تو ڈبل ہیں۔ ان سے مقابلہ بھلا کون کرے۔ مگر یہ آج کل کے نبیوں پر خدا کی مار کیوں پڑ رہی ہے۔ جسے دیکھو شیخ چلی کا باوا ڈینگیں دیکھو تو تیس مار خان کے دادا کو بھی نہ سوجھی ہوں گی۔ مگر عمل ندارد قال ہی قال نظر آئے گا۔ حال کسی جانور کا نام ہوگا۔
میں پوچھتا ہوں اجی حضرت یہ تو بتائیے۔ وہ معجزہ جو منصہ شہود سے اوجھل رہا۔ کیا خاک معجزہ ہوا۔
معجز کے معنی عاجز کرنے کے ہیں اور جب کوئی مدعا علیہ ہی نہیں۔ تو عاجز کون ہوا۔ کیا بہشتی مقبرہ کے کتے یا جنگل کے درخت۔
مقام حیرت ہے کہ مرزا قادیانی کا خدا پورے پانچ ہزار عجائبات اور وہ بھی اقسام نادرہ سے پنجابی نبوت کی صداقت میں پیش کرے۔ مگر افسوس نبوت ایسی بخیل وممسک واقع ہوئی کہ اس قدر مکاشفات کی بہتات کو ہضم کر جائے اور ڈکار تک نہ لے۔
سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کیا عجائبات تھے۔ جو مرزا قادیانی کے نفس پر وارد ہوئے۔ کس رنگ کے تھے کس حجم کے تھے۔ چھوٹے تھے یا بڑے کالے تھے یا گورے۔ عقل حیران ہے کہ وہ آخر کیا تھے۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ عجائبات تھے ہم کہتے ہیں کہ غرائبات کا لشکر یا ٹڈی دل بیچارے پنجابی نبی پر کیوں ٹوٹ پڑا۔ شیخ محمد جان صاحب وزیر آبادی بدری مرزائی اصحابی ہیں وہ اس کا فلسفہ یہ بتاتے ہیں کہ میں نے تو اس قدر جم غفیر عجائبات کا مرزا قادیانی کو گھیرے ہوئے کبھی نہیں دیکھا۔ ہاں سنا ضرور ہے کہ ایسی یورشیں حضرت صاحب پر نازل ہوتی رہی ہیں۔ اتنا کہا اور وفور محبت میں آنکھیں پرنم ہوئیں۔ تو یاد مرزا میں رو دیئے چلو چھٹی ہوئی۔
ہمارے خیال میں یہ عجوبہ نمایاں جو مرزا قادیانی کے نفس ناطقہ پر وارد ہوتی رہیں۔ پنجابی نبی کی بیماریاں ہیں۔ گو اس میں تھوڑا سا مبالغہ ہے۔ مگر حساب کون رکھتا ہے۔ کہہ دیا پانچ ہزار ہیں اب کون بیوقوف ہے جو اعتبار نہ کرے اور گنتا رہے۔
قادیانی فلسفہ
اس امر میں مرزا قادیانی کا جواب یہ ہے کہ عجائبات و کرامات دکھانے سے جو لوگ ایمان لاتے ہیں ان کا ایمان لانا بے سود ہے۔ کیونکہ خدا اسے قبول نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ مابدولت نے وہ مکاشفات وعجائبات دکھانے سے پرہیز کیا کہ کہیں میری امت ان کو دیکھ کر ایمان سے ہاتھ دھو نہ بیٹھے۔ ورنہ یہ بھی کوئی بات تھی کہ پانچ ہزار سے دس بیس بھاری بھاری عجائبات نہ دکھائے جاتے۔ اس لئے یہی بہتر ومناسب معلوم ہوا کہ امت کو صرف خوشخبری سنادوں کہ مبلغ پانچ
٩٢
ہزار بقلم خود چشم خود اس نحیف و نزار کے نفس پر وارد ہوئے۔ مندرجہ ذیل مضمون چشم بصیرت سے مرزائی صاحبان پڑھیں اور زور سے مرزا قادیانی پر درود بھیجیں۔ شوم شوم جائے!
معجزہ طلب کرنا مورد عتاب الہی ہے
اے کہ تجھ کو نہ رہا یاد مآل پرویز
”دوسری قسم کے وہ انسان ہیں جو معجزہ اور کرامت طلب کرتے ہیں۔ ان کے حالات خدا تعالیٰ نے تعریف کے ساتھ بیان نہیں کئے اور غضب ظاہر کیا ہے۔ جیسا کہ ایک جگہ فرماتا ہے۔ ”واقسموا بالله جهد ايمانهم لئن جآء تهم اية ليومنن بها قل انما الايات عند الله وما يشعر كم انها اذا جاء ت لا يومنون“ یعنی یہ لوگ سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر کوئی نشان دیکھیں تو ضرور ایمان لے آئیں گے۔ ان کو کہہ دے کہ نشان تو خدا تعالیٰ کے پاس ہیں اور تمہیں خبر نہیں کہ جب نشان بھی دیکھیں گے تو کبھی ایمان نہ لائیں گے پھر فرماتا ہے۔ ”يوم يأتى بعض ايات ربك لا ينفع نفسا ايمانها لم تكن امنت من قبل“ یعنی جب بعض نشان ظاہر ہوں گے تو اس دن ایمان لانا بے سود ہوگا اور جو شخص صرف نشان کے دیکھنے کے بعد ایمان لایا ہے اس کو وہ ایمان نفع نہیں دے گا۔ پھر فرماتا ہے کہ ”ويقولون متى هذا الوعد ان كنتم صادقين قل لا املك لنفسى ضرا ولا نفعا الا ما شاء الله لكل امة اجل“ یعنی کافر کہتے ہیں کہ وہ نشان کب ظاہر ہوں گے اور یہ وعدہ کب پورا ہوگا۔ سو ان کو کہہ دے کہ مجھے ان باتوں میں دخل نہیں نہ میں اپنے نفس کے لئے ضرر کا مالک ہوں نہ نفع کا۔ مگر جو خدا چاہے ہر ایک گروہ کے لئے ایک وقت مقرر ہے جو ٹل نہیں سکتا اور پھر اپنے رسول کو فرماتا ہے۔ ”وان كان كبر عليك اعراضهم فان استطعت ان تبتغى نفقا فى الارض او سلما فى السما فتاتيهم بايه ولو شاء الله لجمعهم على الهدى“ یعنی اگر تیرے پر ان کافروں کا اعتراض بھاری ہو۔ سو اگر تجھے طاقت ہے تو زمین میں سرنگ کھود کر آسمان پر زینہ لگا کر چلا جا اور ان کے لئے کوئی نشان لے آ، اور اگر خدا چاہتا تو ان سب کو جو نشان مانگتے ہیں ہدایت دے دیتا۔ پس تو جاہلوں سے مت ہو اب تمام آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلعم کے عہد مبارک میں کافر نشان مانگا کرتے تھے۔ بلکہ قسمیں بھی کھاتے تھے کہ ہم ایمان لائیں گے۔ گو اللہ جل شانہ کی نظر میں وہ مورد غضب تھے اور ان کے سوالات بیہودہ
٩٣
تھے۔ بلکہ اللہ جل شانہ صاف صاف فرماتا ہے کہ جو شخص نشان دیکھنے کے بعد ایمان لاوے اس کا ایمان مقبول نہیں۔ جیسا کہ ابھی آیت ”لا ينفع نفساً ايمانها“ تحریر ہو چکی ہے اور اس کے قریب قریب ایک دوسری آیت ہے۔ ”ولقد جاء تهم رسلهم بالبينات فما كانوا ليؤمنوا بما كذبوا من قبل كذلك يطبع الله على قلوب الكافرين“ یعنی پہلی آیتوں میں جب ان کے نبیوں نے نشان دکھلائے تو نشانوں کو دیکھ کر بھی لوگ ایمان نہ لائے۔ کیونکہ وہ نشان دیکھنے سے پہلے تکذیب کر چکے تھے۔ اس طرح خدا ان لوگوں کے دلوں پر مہریں لگا دیتا ہے۔ جو اس قسم کے کافر ہیں۔ جو نشان سے پہلے ایمان نہیں لاتے۔ یہ تمام آیتیں اور ایسی ہی اور بہت سے آیتیں قرآن کریم کی جس کا اس وقت لکھنا موجب طوالت ہے۔ بالاتفاق بیان فرما رہی ہیں کہ نشان کو طلب کرنے والے مورد عتاب الٰہی ہوتے ہیں اور جو شخص نشان دیکھنے سے ایمان لاوے اس کا ایمان منظور نہیں۔“
(آئینہ کمالات ص ٣٣٢ تا ٣٣٤، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
مندرجہ بالا بیان مسیلمہ ثانی نے صرف اس لئے توڑ مروڑ کر بیان کیا کہ مابدولت چونکہ آیات اللہ سے کورے ہیں۔ اس لئے رسول اکرم ﷺ بھی نعوذ باللہ خالی تھے۔
مرزائیو! پڑھو اور شرم کے سمندر میں ڈوب مرو۔ ”لعنت الله علی الکاذبین، لا حول ولا قوة الا بالله“
ہنس کے بولی آپ ہی کی دلربا سالی ہوں میں
تناقض مرزا
ولو كان من عند غير الله لوجدوا فيه اختلافا كثيرا (النساء: ٨٢)
- ١....... ”انی احافظ كل من في الدار من هذه المرض الذی
هو ساری یعنی میں تمام گھر والوں کو اس بیماری (طاعون) سے بچاؤں گا ۔“
(البشریٰ جلد دوئم ص ١٤٠)
اس کے خلاف: ”طاعون کے دنوں میں جب قادیان میں طاعون زوروں پر تھا۔ میرا لڑکا شریف احمد بیمار ہوا۔“
(حقیقت الوحی حاشیہ ص ٨٤، خزائن ج ٢٢ ص ٨٧)
- ٢....... ” قادیان طاعون سے اس لئے محفوظ رکھی گئی کہ وہ خدا کا رسول اور فرستادہ
قادیان میں تھا۔“
(دافع البلاء ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٦)
٩٤
اس کے خلاف: ”ایک دفعہ کسی قدر شدت سے طاعون قادیان میں ہوئی۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٣٢، خزائن ج ٢٢ ص ٢٤٤)
- ٣...... ”قادیان کے چاروں طرف دو دو میل کے فاصلے پر طاعون کا زور رہا۔ مگر
قادیان طاعون سے پاک ہے۔ بلکہ آج تک جو شخص طاعون زدہ قادیان میں آیا وہ بھی اچھا ہو گیا۔“
(دافع البلاء ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٦)
اس کے خلاف: ”جب صبح ہوئی تو میر صاحب کے بیٹے اسحاق کو تپ تیز ہوا اور سخت گھبراہٹ شروع ہو گئی اور دونوں طرف ران میں گلٹیاں نکل آئیں۔“
(حقیقت الوحی ص ٣٢٩، خزائن ج ٢٢ ص ٣٤٢)
- ٤...... ”یہ امر ممنوع ہے کہ طاعون زدہ لوگ اپنے دیہات کو چھوڑ کر دوسری جگہ
جائیں۔ اس لئے میں اپنی جماعت کے تمام لوگوں کو جو طاعون زدہ علاقہ میں ہیں منع کرتا ہوں کہ وہ اپنے علاقہ سے قادیان یا کسی دوسری جگہ جانے کا ہرگز قصد نہ کریں اور دوسروں کو بھی روکیں اور اپنے مقامات سے نہ ہلیں۔“
(اشتہار لنگر خانہ انتظام حاشیہ، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٦٧)
اس کے خلاف: ”مجھے معلوم ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب کسی شہر میں وبا نازل ہو تو اس شہر کے لوگوں کو چاہئے کہ بلا توقف اس شہر کو چھوڑ دیں۔ ورنہ خدا تعالیٰ سے لڑائی لڑنے والے ٹھہریں گے۔“
(ریویو جلد ٦ ص ٣٦٥، نمبر ٩ ستمبر ١٩٠٧ء)
- ٥...... ”قادیان طاعون سے اس واسطے محفوظ رہے گا کیونکہ یہ اس کے رسول کی
تخت گاہ ہے اور تمام امتوں کے لئے نشان ہے۔“
(دافع البلاء ص ١٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠)
اس کے خلاف: ”اللہ تعالیٰ کے امر و منشاء کے ماتحت قادیان میں طاعون مارچ کی آخیر تاریخوں میں پھوٹ پڑی ۔ ٤/٦ کے درمیان روزانہ موتوں کی ۔“
(اخبار الحکم ١٠ اپریل ١٩٠٤ء)
- ٦...... ”عیسائیوں نے یسوع کے بہت معجزے لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے کہ
کوئی معجزہ ظہور میں نہیں آیا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٦، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)
اس کے خلاف: ”اور صرف اس قدر سچ ہے کہ یسوع نے بھی بعض معجزات دکھلائے۔ جیسا کہ اور نبی دکھلاتے تھے۔“
(ریویو ج ١ نمبر ٩ ماہ ستمبر ١٩٠٢ء ص ٣٤٢)
- ٧...... ”مجھے ایک عربی الہام ہوا کہ اے مرزا ہم تم کو اسی سال کی عمر دیں گے یا
اس کے قریب۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٣٥، خزائن ج ٣ ص ٤٤٣)
اس کے خلاف: ”خدا نے مجھے صریح لفظوں میں خبر دی کہ تیری اسی برس عمر ہو گی اور یا
٩٥
٤/٥ زیادہ یا ٤/٥ سال کم۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ضمیمہ حاشیہ ص ٩٧، خزائن ج ٢١ ص ٢٥٨)
- ٨...... ”تیس سال سے زیادہ عرصہ گزرتا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے صاف لفظوں
میں فرمایا کہ تیری عمر اسی سال یا دو چار سال اوپر یا نیچے ہوگی۔“
(منظور الہی ص ٢٢٨)
اس کے خلاف: ”سو اسی طرح ان لوگوں کے منصوبوں کے خلاف خدا نے مجھے وعدہ دیا کہ میں ٨٠ برس یا ٢/٣ برس کم یا زیادہ تیری عمر کروں گا۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ١٠، خزائن ج ١٧ ص ٣٩٤)
- ٩...... ”مولوی غلام دستگیر پر واضح ہو کہ ہم بھی نبوت کے مدعی پر لعنت بھیجتے
ہیں اور کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے قائل ہیں اور آنحضرت ﷺ کے ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔“
(تبلیغ رسالت ج ٦ ص ٣، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٩٧)
اس کے خلاف: ”قل یا ایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا ای الرسل من اللہ (تذکرہ ص ٣٥٢ طبع سوم) کہہ دے اے مرزا تمام جہان کے لوگو میں تمہاری سب کی طرف خدا کی طرف سے ایلچی بن کر آیا ہوں۔ ہے کوئی میرے سوا رسول اللہ کا ”قطع دابر القوم الذین لا یؤمنون“ یعنی جو قوم مرزا پر ایمان نہ لاوے گی اس کی جڑ بنیاد کاٹ دی جاوے گی۔“
(تذکرہ ص ٤٢٦ طبع سوم، اخبار بدر قادیان ١٩؍ جنوری ١٩٠٦ء)
- ١٠...... ”ابتداء سے میرا یہی مذہب ہے کہ میرے دعوے کے انکار کی وجہ سے
کوئی شخص کافر یا دجال نہیں ہو سکتا۔ یہ نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اپنے دعوے کے انکار کرنے والے کو کافر کہنا یہ صرف ان نبیوں کی شان ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکام جدید لاتے ہیں۔ لیکن صاحب شریعت کے سوا اور جس قدر محدث ہیں گو وہ کیسے ہی جناب الٰہی میں شان رکھتے ہوں اور خلعت مکالمہ الٰہیہ سے سرفراز ہوں۔ ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جاتا۔“
(تریاق القلوب ص ١٣٠، خزائن ج ١٥ ص ٤٣٢)
اس کے خلاف: ”مجھے الہام ہوا جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا۔ وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے۔“
(تبلیغ رسالت ج ٩ ص ٢٧، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٥)
- ١١...... ”زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض الہامات مجھے ان زبانوں میں ہوئے
ہیں جن سے مجھے کچھ بھی واقفیت نہیں۔ جیسے انگریزی یا سنسکرت یا عبرانی۔“
(نزول المسیح ص ٥٧، خزائن ج ١٨ ص ٤٣٥)
اس کے خلاف: ”اور یہ بالکل غیر معقول اور بے ہودہ امر ہے کہ انسان کی اصلی زبان
٩٦
تو کوئی ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو جس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا۔ کیونکہ اس میں تکلیف مالا یطاق ہے۔"
(چشمہ معرفت ص ٢٠٩، خزائن ج ٢٣ ص ٢١٨)
- ١٢....... "خدا ایک پہاڑ پر موسیٰ سے ہم کلام ہوا اور ایک پہاڑ پر شیطان عیسیٰ علیہ
السلام سے ہم کلام ہوا۔ سو اس دونوں قسم کے مکالمہ میں غور کر۔ اگر غور کرنے کا مادہ ہے۔"
(نور الحق ص ٥٠، حاشیہ خزائن ج ٨ ص ٦٨)
(ہمیں اعتبار ہے آپ مثیل مسیح ہیں۔ آپ سے ضرور شیطان سینکڑوں دفعہ ہم کلام ہوتا ہے۔ خالد)
اس کے خلاف: "اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسار (مرزا) اپنی غربت وانکسار اور توکل و ایثار اور آیات و انوار کے رو سے مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے اور اس عاجز کی فطرت اور مسیح کی فطرت باہم نہایت ہی مشابہ واقع ہوئی ہے۔ گویا ایک جوہر کے دو ٹکڑے ہیں یا ایک ہی درخت کے دو پھل ہیں اور بے حد اتحاد ہے کہ نظر کشفی میں نہایت ہی باریک امتیاز ہے۔"
(براہین احمدیہ ص ٤٩٩ حاشیہ در حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٥٩٣)
- ١٣....... "ایسے ناپاک خیال متکبر اور راست بازوں کے دشمن کو ایک بھلا مانس
آدمی بھی قرار نہیں دے سکتے۔ چہ جائیکہ اسے نبی قرار دیں۔"
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٩، حاشیہ خزائن ج ١١ ص ٢٩٣)
اس کے خلاف: "ہم اس بات کے لئے بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سچا اور راستباز نبی مانیں اور ان کی نبوت پر ایمان لاویں۔ ہماری کسی کتاب میں کوئی ایسا لفظ بھی نہیں ہے جو ان کی شان بزرگ کے برخلاف ہو۔"
(ایام صلح ٹائٹل ص ٢، خزائن ج ١٤ ص ٢٢٨)
- ١٤....... "خدا تعالیٰ کا قانون قدرت ہرگز نہیں بدل سکتا۔"
(کرامات الصادقین ص ٨، خزائن ج ٧ ص ٥٠)
اس کے خلاف: "خدا اپنے خاص بندوں کے لئے اپنا قانون بھی بدل دیتا ہے۔"
(چشمہ معرفت ص ٩٦، خزائن ج ٢٣ ص ١٠٤)
- ١٥....... "حضرت مسیح کی چڑیاں باوجودیکہ معجزہ کے طور پر ان کا پرواز کرنا قرآن
کریم سے ثابت ہے۔ مگر پھر بھی مٹی کی مٹی ہی تھیں۔" (آئینہ کمالات اسلام ص ٦٨، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
اس کے خلاف: "اور یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ان پرندوں کا پرواز قرآن شریف سے
٩٧
ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٠٧، حاشیہ خزائن ج ٣ ص ٢٥٦)
- ١٦....... ”خدا تعالیٰ اپنے اذن اور ارادہ سے کسی شخص کو موت اور حیات اور ضرر
اور نفع کا مالک نہیں بناتا۔“
(ازالہ اوہام ص ٣١٥ حاشیہ خزائن ج ٣ ص ٢٦٠)
اس کے خلاف: ”واعطیت صفۃ الافناء والاحیاء من رب الفعال اور مجھ کو فانی کرنے اور زندہ کرنے کی صفت دی گئی اور یہ صفت خدا کی طرف سے مجھ کو ملی ہے۔“
(خطبہ الہامیہ ص ٥٥،٥٦ خزائن ج ١٦ ص ایضاً)
- ١٧....... ”وید گمراہی سے بھرا ہوا ہے۔“
(البشریٰ جلد اول ص ٥٠)
اس کے خلاف: ”ہم وید کو بھی خدا کی طرف سے مانتے ہیں۔“
(پیغام صلح ص ٢٣، خزائن ج ٢٣ ص ٤٥٣)
- ١٨....... ”یسوع درحقیقت بوجہ بیماری مرگی دیوانہ ہو گیا تھا۔“
(ست بچن ص ١٧١ حاشیہ خزائن ج ١٠ ص ٢٩٥)
اس کے خلاف: ”ہم تو قرآن شریف کے فرمودہ کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سچا نبی مانتے ہیں۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ١٠١، خزائن ج ٢١ ص ٢٦٢)
- ١٩....... ”پھر دجال ایک قوم کی طرف جائے گا اور اپنی الوہیت کی طرف ان کو
دعوت دے گا۔“
(ازالہ اوہام ص ٢١٨ جلد اول، خزائن ج ٣ ص ٢٠٨)
اس کے خلاف: ”دجال خدا نہیں کہلائے گا۔ بلکہ خدا تعالیٰ کا قائل ہوگا۔ بلکہ بعض انبیاء کا بھی۔“
(ازالہ اوہام ص ٧٣٠، خزائن ج ٣ ص ٤٩٣)
- ٢٠....... ”حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اتباع میں اس امت میں ہزاروں نبی
ہوئے۔“
(الحکم ٢٤؍ نومبر ١٩٠٢ء)
اس کے خلاف: ”بنی اسرائیل میں اگرچہ بہت سے نبی آئے مگر ان کی نبوت موسیٰ علیہ السلام کی پیروی کا نتیجہ نہ تھا۔“
(حقیقت الوحی ص ٩٧ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٠)
- ٢١....... ”ہمارے نبی ﷺ نے اور نبیوں کی طرح ظاہری علم کسی استاد سے نہیں
پڑھا تھا۔ مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام مکتبوں میں بیٹھے تھے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ایک یہودی سے تمام تورات پڑھی تھی۔ غرض اس لحاظ سے کہ ہمارے نبی ﷺ نے کسی استاد سے نہیں پڑھا تھا۔ خدا آپ ہی استاد ہوا اور پہلے پہل خدا نے ہی آپ کو اقراء کہا۔ یعنی پڑھ اور کسی نے نہیں کہا۔ اس لئے آپ نے خاص خدا کے زیر تربیت تمام دینی
٩٨
ہدایت پائی اور دوسرے نبیوں کے دینی معلومات انسانوں کے ذریعہ سے بھی حاصل ہوئے۔ سو آنے والے کا نام جو مہدی رکھا گیا سو اس میں یہ اشارہ ہے کہ وہ آنے والا علم دین خدا سے ہی حاصل کرے گا اور قرآن اور حدیث میں کسی استاد کا شاگرد نہیں ہوگا۔ سو میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرا حال یہ ہے کہ کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہے۔“
(ایام الصلح ص ١٤٧، خزائن ج ١٤ ص ٣٩٤)
اس کے خلاف: ”بچپن کے زمانہ میں میری تعلیم اس طرح پر ہوئی کہ جب میں چھ سال کا تو ایک فارسی معلم میرے لئے نوکر رکھا گیا۔ جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھائیں اور اس بزرگ کا نام فضل تھا اور جب میری عمر قریباً دس برس کے ہوئی تو ایک عربی خواں مولوی صاحب میری تربیت کے لئے مقرر کئے گئے جن کا نام فضل احمد تھا۔ مولوی صاحب موصوف جو ایک دیندار اور بزرگوار آدمی تھے۔ وہ بہت توجہ اور محنت سے پڑھاتے رہے اور میں نے صرف کی بعض کتابیں اور کچھ قواعد نحو ان سے پڑھے اور بعد اس کے جب میں سترہ یا اٹھارہ سال کا ہوا تو ایک اور مولوی صاحب سے چند سال پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ ان کا نام گل علی شاہ تھا۔ ان کو بھی میرے والد نے نوکر رکھ کر قادیان میں پڑھانے کے لئے مقرر کیا اور ان آخرالذکر مولوی صاحب سے میں نے نحو اور منطق اور حکمت وغیرہ علوم مروجہ کو جہاں تک خدا تعالیٰ نے چاہا حاصل کیا اور بعض طبابت کی کتابیں میں نے اپنے والد صاحب سے پڑھیں۔“
(کتاب البریہ ص ١٦١ تا ١٦٣، حاشیہ خزائن ج ١٣ ص ١٧٩ تا ١٨١)
- ٢٢....... ”حضرت عیسیٰ علیہ وسلم نے سری نگر کشمیر میں وفات پائی اور آپ کا مزار
مقدس سری نگر محلہ خانیار میں موجود ہے۔“
(کشف الغطاء ص ٤، خزائن ج ١٤ ص ١٩٥)
اس کے خلاف: ”اور لطف تو یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بھی بلاد شام میں قبر موجود ہے اور ہم نے زیادہ صفائی کے لئے اس جگہ حاشیہ میں اخویم جی فی اللہ سید مولوی محمد سعید طرابلسی کی شہادت درج کرتے ہیں کہ وہ طرابلس اور بلاد شام کے رہنے والے ہیں اور انہی کی حدود میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر ہے اور کہو کہ وہ قبر جعلی ہے تو اس جعل کا ثبوت دینا چاہئے کہ کس وقت یہ جعل بنایا گیا اور اس صورت میں دوسرے انبیاء کی قبروں کی نسبت بھی تسلی نہ رہے گی اور ایمان اٹھ جائے گا اور کہنا پڑے گا کہ تمام قبریں جعلی ہوں گی۔“
(اتمام الحجۃ ص ١٨، ١٩، خزائن ج ٨ ص ٢٩٦، ٢٩٧)
اختلاف بیانی کی پر زور داد دیجئے اور توازن دماغ کا مراق کی وجہ سے مختل ہونا یقین
٩٤
کیجئے۔ ورنہ ٹھنڈے دل سے تعارض کو دور فرمائیے:
او زمانے کی طرح رنگ بدلنے والے
٢٣...... ”بعد اس کے مسیح اس زمین سے پوشیدہ طور پر بھاگ کر کشمیر کی طرف آگیا اور وہیں فوت ہوا۔“
(کشتی نوح ص ٥٣، خزائن ج ١٩ ص ٧٥)
اس کے خلاف: ”سچ تو یہ ہے کہ مسیح اپنے وطن گلیل میں جاکر فوت ہو گیا۔“
(ازالۃ اوہام ص ٤٧٣، خزائن ج ٣ ص ٣٥٣)
٢٤...... ”حضرت مریم علیہا السلام کی قبر زمین شام میں کسی کو معلوم نہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ١٠١ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٢)
اس کے خلاف: ”حضرت مریم صدیقہ کی قبر بیت المقدس کے بڑے گرجے میں ہے۔“
(اتمام حجت حاشیہ ص ١٩، ٢١، خزائن ج ٨ ص ٢٩٧ تا ٢٩٩)
٢٥...... ”حضرت مسیح کی حقیقت نبوت یہ ہے کہ وہ براہ راست بغیر اتباع آنحضرت ﷺ کے ان کو حاصل۔“
(اخبار بدر ١٨؍شعبان ١٣٢١ھ ص ٢٨)
اس کے خلاف: ”حضرت مسیح کو جو کچھ بزرگی ملی وہ بوجہ تابعداری حضرت محمد ﷺ کے ملی۔“
(مکتوبات احمدیہ جلد سوئم ص ١٢)
٢٦...... ”میں حضرت یسوع مسیح کی طرف سے ایک سچے سفیر کی حیثیت میں کھڑا ہوں۔“
(تحفہ قیصریہ ص ٢٢، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٤)
اس کے خلاف: ”میں نے خوب غور کر کے دیکھا ہے اور جہاں تک فکر کام کر سکتی ہے خوب سوچا ہے۔ میرے نزدیک جبکہ مسیح شراب سے پرہیز رکھنے والا نہیں تھا اور کوئی اس کی بیوی بھی نہ تھی تو گو میں جانتا ہوں کہ خدا نے اس کو بھی برے کام سے بچایا۔“
(اخبار الحکم ج ٦ نمبر ٢٦، ٢٤؍جولائی ١٩٠٢ء ص ١٣)
٢٧...... ”بائبل اور ہماری احادیث اخبار کی کتابوں کی رو سے جن نبیوں کا اسی وجود عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا تصور کیا گیا۔ وہ دو نبی ہیں۔ ایک یوحنا جس کا نام ایلیا ہے اور ادریس بھی ہے۔ دوسرے مسیح بن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔“
(توضیح المرام ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٥٢)
اس کے خلاف: ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اور ان کا زندہ آسمان پر جانا
١٠٠
اور اب تک زندہ ہونا اور پھر کسی وقت معہ جسم عنصری زمین پر آنا یہ سب ان پر تہمتیں ہیں۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ٢٣٠، خزائن ج ٢١ ص ٤٠٦)
- ٢٨...... ”لوگوں نے جو اپنے نام حنفی، شافعی وغیرہ رکھے ہیں یہ سب بدعت
ہیں۔“
(از ڈائری ١٩٠١ء ص ٤)
اس کے خلاف: ”ہمارے ہاں جو آتا ہے اسے پہلے ایک خفیف سا رنگ چڑھانا پڑتا ہے۔ یہ چاروں مذہب اللہ تعالیٰ کا فضل ہیں اور اسلام کے واسطے ایک چار دیواری۔“
(از ڈائری ١٩٠١ء ص ٤٧)
- ٢٩...... ”اور اس شخص کا مجھ کو وہابی کہنا غلط نہ تھا۔ کیونکہ قرآن شریف کے بعد صحیح
حدیث پر عمل کرنا ہی ضروری سمجھتا ہوں۔“
(بدر ج ٦ نمبر ٢٧ ص ٧، ٤؍ جولائی ١٩٠٧ء)
اس کے خلاف: ”ہمارا مذہب وہابیوں کے برخلاف ہے۔“
(از ڈائری ١٩٠١ء ص ٤٦)
- ٣٠...... ”بعض الہامات مجھے ان زبانوں میں ہوتے ہیں جن سے مجھے کچھ
واقفیت نہیں۔ جیسے انگریزی یا سنسکرت یا عبرانی وغیرہ۔“
(نزول المسیح ص ٥٧، خزائن ج ١٨ ص ٤٣٥)
اس کے خلاف: ”یہ بالکل غیر معقول اور بے ہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو جس کو وہ سمجھ بھی نہ سکتا ہو۔ کیونکہ اس میں مالا یطاق ہے اور ایسے الہام سے فائدہ کیا ہوا جو انسانی سمجھ سے بالاتر ہے۔“
(چشمہ معرفت ص ٢٠٩، خزائن ج ٢٣ ص ٢١٨)
- ٣١...... ”میں نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ میں نے انہیں کہا ہے کہ میں نبی
ہوں۔ لیکن ان لوگوں نے جلدی کی اور میرے قول کے سمجھنے میں غلطی کھائی۔“
(حمامۃ البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٦)
اس کے خلاف: ”سچا خدا وہ ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیج دیا۔“
(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)
- ٣٢...... ”اب اس تمام تقریر سے ظاہر ہے کہ عیسائی قوم میں شراب نے بڑی بڑی
خرابیاں پیدا کیں اور بڑی بڑی مجرمانہ حرکات ظہور میں آئی ہیں۔ لیکن ان تمام گناہوں کا منبع اور مبداء مسیح کی تعلیم اور اس کے اپنے حالات ہیں۔“
(الحکم ج ٦ نمبر ٢٥ ص ١٦، ١٧؍ جولائی ١٩٠٦ء)
اس کے خلاف: ”اسلام میں کسی نبی کی تحقیر کرنا کفر ہے اور سب پر ایمان لانا فرض ہے۔“
(چشمہ معرفت ص ١٨، خزائن ج ٢٣ ص ٣٩٠)
١٠١
٣٣...... ”نبی کریم ﷺ کے گیارہ لڑکے فوت ہوئے۔“
(تجلیات الہیہ ص ٢٢، خزائن ج ٢٠ ص ٤١٤)
جواب: تاریخ اسلام کہتی ہے لعنت اللہ علی الکاذبین (خالد)
٣٤....... ”ایک سائل نے یہی سوال مندرجہ الذکر الحکم ص ٢٣ مرزا قادیانی کے پیش کیا اور پوچھا کہ آپ کے بیان اور پہلی کتابوں کے بیان میں تناقض ہے۔ یعنی پہلے آپ تریاق القلوب وغیرہ میں لکھ چکے ہیں کہ میرے نہ ماننے سے کوئی کافر نہیں ہوتا اور اب آپ لکھتے ہیں کہ میرے انکار سے کافر ہو جاتا ہے۔
الجواب! یہ عجیب بات ہے کہ آپ کافر کہنے والے اور نہ ماننے والے کو اور قسم کے انسان ٹھہراتے ہیں۔ حالانکہ خدا کے نزدیک ایک ہی قسم ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧)
اس کے خلاف: ”بہر حال خدا نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ ہر وہ شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں اور خدا کے نزدیک قابل مواخذہ ہے۔“
(مرزا قادیانی کا خط مندرجہ الذکر الحکم نمبر ٤ ص ٢٣)
٣٥...... ”مسیح کا چال چلن کیا تھا۔ ایک کھاؤ پیو، شرابی، نہ زاہد، نہ عابد، نہ حق کا پرستار خود بین۔ خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔“
(مکتوبات احمدیہ جلد سوم ص ٢٣، ٢٤)
اس کے خلاف: ”انہوں نے (مسیح) اپنی نسبت کوئی ایسا دعویٰ نہیں کیا جس سے وہ خدائی کے مدعی ثابت ہوں۔“
(لیکچر سیالکوٹ ص ٣٣، خزائن ج ٢٠ ص ٢٣٦)
٣٦...... ”اس عاجز نے جو مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ١٩٠، خزائن ج ٣ ص ١٩٢)
اس کے خلاف: ”میرا یہ دعویٰ ہے کہ میں وہ مسیح موعود ہوں جس کے بارہ میں خدا تعالیٰ کی پاک کتابوں میں پیشگوئیاں ہیں کہ وہ آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ١٨، خزائن ج ١٧ ص ٤٩٥)
٣٧...... ”وہ ابن مریم جو آنے والا ہے کوئی نبی نہیں ہوگا۔“
(ازالہ اوہام ص ٢٩١، خزائن ج ٣ ص ٢٤٩)
اس کے خلاف: ”جس آنے والے مسیح موعود کا حدیثوں میں پتہ چلتا ہے اس کا انہی حدیثوں میں یہ بیان دیا گیا ہے کہ وہ نبی ہوگا۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٩، خزائن ج ٢٢ ص ٣١)
١٠٢
- ٣٨...... ”خدا نے مسیح کو بن باپ پیدا کیا ۔“
(البشریٰ جلد دوم ص ٦٨)
اس کے خلاف: ”حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ ٢٢ برس تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے ۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٠٣ حاشیہ ،خزائن ج ٣ ص ٢٥٤)
- ٣٩...... ”مسیح ایک کامل اور عظیم الشان نبی تھا ۔“
(البشریٰ جلد اول ص ٤٤)
اس کے خلاف: ”پس نادان اسرائیلی نے ان معمولی باتوں کا پیش گوئی کیوں نام رکھا ۔ محض یہودیوں کے تنگ کرنے سے اور جب معجزہ مانگا گیا تو یسوع صاحب فرماتے ہیں کہ حرام کار اور بدکار لوگ مجھ سے معجزہ مانگتے ہیں ۔ ان کو کوئی معجزہ دکھایا نہیں جائے گا ۔ دیکھو یسوع کو کیسی سوجھی اور کیسی پیش بندی کی ۔ اب کوئی حرام کار اور بدکار بنے تو اس سے معجزہ مانگے ۔ یہ تو وہی بات ہوئی جیسا کہ ایک شریر مکار نے جس میں سراسر یسوع کی روح تھی لوگوں میں یہ مشہور کیا کہ میں ایک ایسا ورد بتا سکتا ہوں جس کے پڑھنے سے پہلی رات میں خدا نظر آجائے گا۔ بشرطیکہ پڑھنے والا حرام کی اولاد نہ ہو۔ اب بھلا کون حرام کی اولاد بنے اور کہے کہ مجھے وظیفہ پڑھنے سے خدا نظر نہیں آیا ۔ آخر ہر ایک وظیفہ خواں کو یہ کہنا پڑا کہ ہاں صاحب نظر آ گیا۔ سو یسوع کی بندشوں اور تدبیروں پر قربان ہی جائیں ۔ اپنا پیچھا چھڑانے کے لئے کیسا داؤ کھیلا ۔ یہی آپ کا طریق تھا ۔ ایک مرتبہ کسی یہودی نے آپ کی قوت شجاعت آزمانے کے لئے سوال کیا کہ اے استاد قیصر کو خراج دینا روا ہے یا نہیں ۔ آپ کو یہ سوال سنتے ہی جان کی پڑ گئی کہ کہیں باغی کہلا کر پکڑا نہ جاؤں ۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥،٤، خزائن ج ١١ ص ٢٨٨، ٢٨٩)
”ہماری قلم سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت جو کچھ خلاف شان نکلا ہے وہ الزامی جواب کے رنگ میں ہے۔“
(مقدمہ چشمہ مسیحی ص ج حاشیہ، خزائن ج ٢٠ ص ٣٣٦)
- ٤٠...... ”کیونکہ حسب تصریح قرآن مجید رسول اس کو کہتے ہیں جس نے احکام
وعقائد دینی جبرائیل کے ذریعے حاصل کئے ہوں ۔ لیکن وحی نبوت پر تیرہ سو برس سے مہر لگ چکی ۔ کیا یہ مہر اس وقت ٹوٹ جائے گی ۔“
(ازالہ اوہام ص ٥٣٤، خزائن ج ٣ ص ٣٨٧)
اس کے خلاف: ”هو الذى ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله ان الله قد من علينا وہ اللہ جس نے اپنے رسول کو ہدایت کے ساتھ بھیجا اور دین حق کے ساتھ تا کہ اسے تمام ادیان پر غالب ثابت کر دے ۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے ۔“
(البشریٰ جلد دوم ص ١١٠)
- ٤١...... ”اول تو یہ جاننا چاہئے کہ مسیح موعود کے نزول کا عقیدہ کوئی ایسا عقیدہ نہیں
١٠٣
ہے جو ہماری ایمانیات کا کوئی جزو یا ہمارے دین کے رکنوں میں سے کوئی رکن ہو۔ بلکہ صدہا پیشگوئیوں میں سے ایک پیشگوئی ہے جس کو حقیقت اسلام سے کچھ بھی تعلق نہیں جس زمانہ تک یہ پیشگوئی بیان نہیں کی گئی تھی۔ اس زمانہ تک اسلام کچھ ناقص نہیں تھا اور جب بیان کی گئی تو اس سے اسلام کچھ کامل نہیں ہو گیا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص ١٤٠، خزائن ج ٣ ص ١٧١)
اس کے خلاف: ’’چند ہی منٹ گزرے تھے کہ مسیح کو صلیب پر سے اتار لیا گیا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص ٣٨١، خزائن ج ٣ ص ٢٩٦)
- ٤٢...... ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر یہ ایک تہمت ہے کہ گویا وہ معہ جسم عنصری
آسمان پر چلے گئے۔‘‘
(نصرۃ الحق ص ٤٥، خزائن ج ٢١ ص ٥٨)
اس کے خلاف: ’’حضرت مسیح تو انجیل کو ناقص کی ناقص چھوڑ کر آسمان پر جابیٹھے۔‘‘
(براہین احمدیہ ص ٣٦١، حاشیہ در حاشیہ خزائن ج ١ ص ٤٣١)
- ٤٣...... ’’مسیح آسمان پر سے جب اترے گا تو دو چادریں اس نے پہنی ہو
گی۔‘‘
(تشحیذ الاذہان ج ١ نمبر ٢ ص ٥ ماہ جون ١٩٠٦ء)
اس کے خلاف: ’’ہاں بعض احادیث میں عیسیٰ بن مریم کے نزول کا لفظ پایا جاتا ہے۔ لیکن کسی حدیث میں یہ نہیں پاؤ گے کہ اس کا نزول آسمان سے ہوگا۔‘‘
(حمامتہ البشریٰ ص ٧ حاشیہ، خزائن ج ٧ ص ١٩٧)
- ٤٤...... ’’گالیاں سن کے دعا دیتا ہوں۔‘‘
(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٢٥، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
اس کے خلاف: ’’یقبلنی ویصدق دعوتی الا ذریۃ البغایا یعنی حرام زادہ اور ولد الزنا کے ماسوا ہر شخص مجھے قبول کرے گا۔‘‘
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
- ٤٥...... ’’میرے مخالف جنگلوں کے سور اور ان کی عورتیں کتیوں سے بدتر ہیں۔‘‘
(نجم الہدیٰ ص ١٠، خزائن ج ١٤ ص ٥٣)
اس کے خلاف: ’’کسی انسان کو حیوان کہنا بھی ایک قسم کی گالی ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام حاشیہ ص ٢٦، خزائن ج ٣ ص ١١٥)
- ٤٦...... ’’جہاں تک مجھے معلوم ہے میں نے ایک لفظ بھی ایسا استعمال نہیں کیا جس
کو دشنام دہی کہا جائے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص ١٣، خزائن ج ٣ ص ١٠٩)
١٠٤
اس کے خلاف:
کوئی ہے روباہ کوئی خنزیر اور کوئی ہے مار
(درثمین بحوالہ براہین پنجم)
- ٤٧...... ”مسیح بنی اسرائیل میں سے نہیں آیا تھا۔ وجہ یہ کہ بنی اسرائیل میں کوئی اس
کا باپ نہ تھا۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٣٦، خزائن ج ٢١ ص ٣٠٣)
اس کے خلاف: ”بنی اسرائیل کے خاتم الانبیاء کا نام عیسیٰ علیہ السلام ہے۔“
(خاتمہ ضمیمہ براہین احمدیہ ص ب، خزائن ج ٢١ ص ٤١٢)
- ٤٨...... ”میرے دعوے کے انکار کی وجہ سے کوئی شخص کافر یا دجال نہیں ہو سکتا۔“
(تریاق القلوب ص ١٣٠، خزائن ج ١٥ ص ٤٣٢)
اس کے خلاف: ”دوسرا یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا“ (یعنی مرزا قادیانی کو)
(حقیقت الوحی ص ١٧٩)
- ٤٩...... ”یہ ظاہر ہے کہ مسیح ابن مریم اس امت کے شمار میں آگئے۔“
(ازالہ اوہام حصہ دوم ص ٦٢٣، خزائن ج ٣ ص ٤٣٦)
اس کے خلاف: ”حضرت عیسیٰ کو امتی قرار دینا ایک کفر ہے۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ١٩٢، خزائن ج ٢١ ص ٣٦٤)
- ٥٠...... ”یہ قرآن شریف کا مسیح اور اس کی والدہ پر احسان ہے کہ کروڑہا انسانوں کو
یسوع کی ولادت کے بارہ میں زبان بند کر دی اور ان کو تعلیم دی کہ تم یہی کہو کہ وہ بے باپ پیدا ہوا۔“
(ریویو ج ٢ نمبر ٣، ٤، اپریل ١٩٠٣ء ص ١٥٩)
اس کے خلاف: ”خدا تعالیٰ نے یسوع کی قرآن شریف میں کچھ خبر نہیں دی کہ وہ کون تھا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٩ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩٣)
- ٥١...... ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر بلدہ قدس میں ہے۔“
(اتمام الحجۃ حاشیہ ص ١٩، خزائن ج ٨ ص ٢٩٧)
اس کے خلاف: ”مسیح تو انجیل کو ادھوری چھوڑ کر آسمان پر جا بیٹھا۔“
(براہین احمدیہ ص ٣٦١، خزائن ج ١ ص ٣٣١)
- ٥٢...... ”ہم ایسے ناپاک خیال اور متکبر اور راست بازوں کے دشمن کو ایک
١٠٥
بھلا مانس آدمی بھی قرار نہیں دے سکتے۔ چہ جائیکہ نبی قرار دے دیں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص٩، خزائن ج١١ ص٢٩٣)
اس کے خلاف: ”یہ عریضہ مبارک ہادی اس شخص کی طرف سے ہے جو یسوع کے نام پر طرح طرح کی بدعتوں سے دنیا کو چھڑانے کے لئے آیا۔“
(تحفہ قیصریہ ص٢١، خزائن ج١٢ ص٢٥٣)
ایضاً ...... ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔“
(اخبار بدر ٥؍مارچ ١٩٠٨ء، ملفوظات ج١٠ ص ١٢٧)
ایضاً ...... ”چونکہ اس نے مجھے یسوع کے رنگ میں پیدا کیا تھا اور توارث طبع کے لحاظ سے یسوع کی روح میرے اندر رکھی تھی۔ اس لئے ضرور تھا کہ کشفی ریاست میں بھی مجھے یسوع کے ساتھ مشابہت ہوتی۔“
(تحفہ قیصریہ ص٢٠، خزائن ج١٢ ص٢٧٢)
ایضاً ...... ”میں وہ ہوں جس کی روح میں بروز کے طور پر یسوع مسیح کی روح سکونت رکھتی ہے۔“
(تحفہ قیصریہ ص٢١، خزائن ج١٢ ص٢٧٣)
- ٥٣ ...... ”٢٧؍دسمبر ١٨٨٩ء کو (رسالہ کشف الغطاء ص٣) پر فرماتے ہیں۔ انیس سال
سے گورنمنٹ کی خدمت کر رہا ہوں۔“
اس کے خلاف: ٢٧؍اگست ١٨٩٠ء کو رسالہ (ستارہ قیصریہ ص٩، خزائن ج١٥ ص١٢٠) میں فرماتے ہیں تیس سال سے خدمت کر رہا ہوں۔ ”مسیح علیہ السلام کی نہ بیوی تھی اور نہ بچے۔“
(مواہب الرحمٰن ص٧٦، خزائن ج١٩ ص٢٩٥، تریاق القلوب حاشیہ ص١٥٧، خزائن ج١٥ ص٣٦٣)
- ٥٤ ...... ”افغانوں میں ایک قوم عیسیٰ خیل کہلاتے ہیں۔ کیا تعجب کہ وہ عیسیٰ علیہ
السلام کی اولاد ہو۔“
(مسیح ہندوستان میں ص ٧٠، خزائن ج ١٥ ص ایضاً)
اگر یہی قاعدہ کلیہ لیا جائے تو موسیٰ خیل، لودی خیل، سلمان خیل، داؤد خیل وغیرہ سب نبیوں کی اولاد ہے۔ مرزا قادیانی نے ایک لطیف غلطی کھائی کہ پڑوسیوں سے سبق نہ لیا۔ ورنہ ان کی امت غلام خیل کے نام سے منسوب کی جاتی تو بہتر ہے۔ اس تک بندی کے برتے پر نبوت ہو رہی ہے۔ حضرت یہ بھی الہامی عبارت ہی ہوگی۔ ورنہ کونسے جاہل کو ماننے میں انکار ہے۔ کیونکہ آپ کو ”وما ینطق عن الھویٰ، ان ھو الا وحی یوحٰی“ کا بھی تو دعویٰ ہے۔“ (خالد)
١٠٦
٥٥....... ”حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد بائیسویں صدی میں آنحضرتﷺ پیدا ہوئے تھے۔“
(ازالہ اوہام ص ٢٧٨، خزائن ج ٣ ص ٢٤١)
اس کے خلاف: ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان چودہ سو سال کا زمانہ تھا۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٩٢، خزائن ج ٣ ص ٤٧٤)
ایضاً....... مرزا قادیانی کو ہر بات میں کمال حاصل ہے۔ تاریخ دانی تو ان سے ولایت والے سیکھتے ہیں۔ ادھر سے قلم ہی ایسا تفویض ہوا جو جھوٹ گڑھنے کا عادی ہے۔ ورنہ کون جاہل نہیں جانتا کہ سرور دوعالمﷺ مسیح علیہ السلام سے چھ سو برس بعد پیدا ہوئے۔ مگر مرزا قادیانی ہیں کہ دو سو سال بھوک کی بے تابی میں ہضم کئے جاتے ہیں یا توازن دماغ صحیح نہ ہونے کے باعث مجبور ہیں۔ حالانکہ ذات شریف بذات خود ہمارے خیال کی موید ہے۔ ملاحظہ فرمائیے اور چونکہ بڑے آدمی ہیں۔ اس لئے انہیں کچھ نہ کہئے۔ آخر نبوت ایسے ہی حساب دانوں کو ملا کرتی ہے۔ مگر خطہ پنجاب میں۔ کوئی مضائقہ نہیں۔ غلطی ہوئی تو ہوا کیا۔ خط تنسیخ کھینچ دو۔ فرماتے ہیں: ”حضرت عیسیٰ ہمارے نبیﷺ سے چھ سو سال پہلے گزرے ہیں۔“
(راز حقیقت حاشیہ ص ١٥، خزائن ج ١٤ ص ١٦٧)
مسیح علیہ السلام کی اہانت
”لیکن جب چھ سات مہینے کا حمل نمایاں ہو گیا تب حمل کی حالت میں ہی قوم کے بزرگوں نے مریم کا یوسف نام ایک نجار سے نکاح کر دیا اور اس کے گھر جاتے ہی ایک دو ماہ کے بعد مریم کو بیٹا ہوا۔ وہ عیسیٰ یا یسوع کے نام سے موسوم ہوا۔“ (چشمہ مسیحی ص ٢٦، خزائن ج ٢٠ ص ٣٥٥)
”بزرگوں نے بہت اصرار کر کے بسرعت تمام مریم کا اس (یوسف نجار) سے نکاح کروایا اور مریم کو ہیکل سے رخصت کر دیا۔ تاکہ خدا کے مقدس گھر پر نکتہ چینیاں نہ ہوں۔ کچھ تھوڑے دنوں کے بعد وہ لڑکا پیدا ہو گیا۔ جس کا نام یسوع رکھا۔“
(اخبار الحکم ج ٦ نمبر ٢٦ ص ١٦، ٢٤ / جولائی ١٩٠٢ء)
٥٦....... ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے باپ کی رو سے اس قوم میں سے نہیں تھا۔ کیونکہ اس کا کوئی باپ نہ تھا۔ جس وجہ سے وہ حضرت موسیٰ سے اپنی شاخ ملا سکتا۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ٢٣، خزائن ج ١٧ ص ١٢٤)
اس کے خلاف: ”یہ اعتقاد رکھنا پڑتا ہے کہ جب کہ ایک بندہ خدا کا عیسیٰ نام جس کو عبرانی میں یسوع کہتے ہیں تیس برس تک موسیٰ رسول اللہ کی شریعت کی پیروی کر کے خدا کا مقرب
١٠٧
بنا۔“
(چشمہ مسیحی ص ٦٧ حاشیہ، خزائن ج ٢٠ ص ٣٨١)
صاحب نبوت ہرگز امتی نہیں ہوسکتا اور جو شخص کامل طور پر رسول اللہ کہلاتا ہے۔ اس کا دوسرے نبی کا مطیع اور امتی نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کے رو سے بکلی ممتنع ہے۔ اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔ ”وما ارسلنا من رسول الا ليطاع باذن الله یعنی ہر رسول مطاع اور امام بنانے کے لئے بھیجا جاتا ہے۔ اس غرض سے نہیں کہ کسی دوسرے کا مطیع ہو اور تابع ۔“
(ازالہ کلاں ص ٥٦٩ ، خزائن ج ٣ ص ٤٧٠)
”یسوع مسیح کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں۔ یہ سب یسوع کے حقیقی بھائی اور حقیقی بہنیں تھیں۔ یعنی سب یوسف اور مریم کی اولاد تھی۔“
(کشتی نوح ص ١٦ حاشیہ ، خزائن ج ١٩ ص ١٨)
”ہم نے مریم اور اس کے بیٹے کو بنی اسرائیل کے لئے اور ان سب کے لئے جو سمجھیں ایک نشان بنایا اور یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر باپ کے پیدا کر کے بنی اسرائیل کو سمجھا دیا کہ تمہاری بداعمالی کے سبب نبوت بنی اسرائیل سے جاتی رہی۔ کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام باپ کی رو سے بنی اسرائیل میں سے نہیں ۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ١٢٠، خزائن ج ١٧ ص ٢٩٨)
مرزا قادیانی کا اقرار کہ میں نے عیسیٰ علیہ السلام کو گالیاں دیں
”ہمارے قلم سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت جو کچھ خلاف شان ان کے نکلا ہے وہ الزامی جواب کے رنگ میں ہے وہ دراصل یہودیوں کے الفاظ ہم نے نقل کئے ہیں۔ افسوس اگر پادری صاحبان تہذیب اور خدا ترسی کریں اور بس تو ہمارے نبی ﷺ کو گالیاں نہ دیں تو دوسری طرف مسلمانوں کی طرف سے بھی ان سے بیس حصے زیادہ ادب کا خیال رہے۔“
(مقدمہ چشمہ مسیحی ص ب حاشیہ ، خزائن ج ٢٠ ص ٣٣٦)
امت مرزائیہ پر ایک احسان
ڈر اسکی دیر گیری سے کہ ہے سخت انتقام اس کا
مرزا قادیانی کے وہ نادرہ مکاشفات و کرامات جو ان کے نفس پر وارد ہوئے اور جن کی تعداد انہوں نے پانچ ہزار فرمائی۔ صحیح ہیں اور سچ ہیں۔ کیونکہ مزے سے پتہ چلتا ہے۔
بتا دیتی ہے شوخ نقش پا کی
١٠٨
اس لئے ہم نے کمال احتیاط والتزام کے ساتھ پہروں سردردی وعرق ریزی کے نتیجہ میں وہ گوہر مقصود پا ہی لیا۔ جو امت سے مخفی رکھا گیا تھا۔ یقین ہے کہ ہمارے دوست شیخ نیاز احمد صاحب قادیانی ہماری اس محنت کی داد دیں گے۔ مندرجہ ذیل مکاشفات وعجائبات وکرامات کے عنوان سے صاحب عقل نتیجہ خود نکال لیں گے۔
سلطان القلم کے بے لذت الہام
الہام معہ ترجمے کے غائب
- ......١ "ایلی ایلی لما سبقتنی ایلی اوس" میرے خدا میرے خدا مجھے
کیوں چھوڑ دیا۔ آخری فقرہ اس الہام ایلی اوس بباعث ورود مشتہر رہا اور نہ اس کے کچھ معنی نکلے۔ "واللہ اعلم بالصواب"
(البشریٰ ج ١ ص ٣٦)
- ......٢ "ھوشعنا نعسا" یہ دونوں فقرے شاید عبرانی ہیں اور اس کے معنی
ابھی تک اس عاجز پر نہیں کھلے۔
(براہین احمدیہ ص ٥٥٦، خزائن ج ١ ص ٦٦٤)
- ......٣ "پریشن عمر براطوس" پرانوس، بباعث سرعت الہام دریافت
نہیں ہوا۔ عمر عربی لفظ ہے۔ اس جگہ براطوس پریشن کے معنی دریافت کرنے ہیں کہ کیا اور کس زبان کے یہ لفظ ہیں۔"
(مکتوبات احمدیہ ج ١ ص ٦٨)
- ......٤ "آسمان ایک مٹھی بھر رہ گیا۔"
(البشریٰ ج ٢ ص ١٣٩، مطلب ندارد تفہیم نہیں ہوئی)
- ......٥ "لاہور میں ایک بے شرم ہے۔"
(البشریٰ ج ٢ ص ١٤٦، مطلب ندارد تفہیم نہیں ہوئی)
- ......٦ "ایک دانہ کس کس نے کھانا۔"
(البشریٰ ج ٢ ص ١٠٧، مطلب ندارد تفہیم نہیں ہوئی)
- ......٧ "ایک عربی الہام ہوا۔ الفاظ مجھے یاد نہیں رہے۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ
مکذوبوں کو نشان دکھایا جائے گا۔"
(البشریٰ ج ٢ ص ٩٤، مطلب ندارد تفہیم نہیں ہوئی)
- ......٨ "غشم غشم غشم"
(البشریٰ ج ٢ ص ٥٠، مطلب ندارد تفہیم نہیں ہوئی)
- ......١١ "انشاء اللہ"
(البشریٰ ج ٢ ص ٦٥، مطلب ندارد تفہیم نہیں ہوئی)
- ......١٢ "بہتر ہوگا کہ شادی کرلیں۔"
(البشریٰ ج ٢ ص ١٢٢، مطلب ندارد تفہیم نہیں ہوئی)
- ......١٣ "خدا اس کو پانچ بار ہلاکت سے بچائے گا۔"
(البشریٰ ج ٢ ص ١١٩، مطلب ندارد تفہیم نہیں ہوئی)
- ......١٤ "خاکسار پچر منٹ۔"
(البشریٰ ج ٢ ص ٩٤، مطلب ندارد تفہیم نہیں ہوئی)
١٠٩
- ١٥...... ”لنگر اٹھا دو۔“ (تذکرہ ص ٥٥٠)
- ١٦...... ”پیٹ پھٹ گیا۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ١١٩، مطلب ندارد تفہیم نہیں ہوئی)
- ١٧...... ”میں سوتے سوتے جہنم میں پڑ گیا۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ٩٥، مطلب ندارد تفہیم نہیں ہوئی)
- ١٨...... ”ایسوسی ایشن۔“ (تذکرہ ص ٧٢٤)
- ١٩...... ”اے ازلی و ابدی خدا بیڑیوں کو پکڑ کے آ۔“
(البشریٰ ج ٢ ص ٧٩، مطلب ندارد تفہیم نہیں ہوئی)
- ٢٠...... ”افسوس صد افسوس۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ٧١، مطلب ندارد تفہیم نہیں ہوئی)
- ٢١...... ”دو شہتیر ٹوٹ گئے۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ١٠٠، مطلب ندارد تفہیم نہیں ہوئی)
- ٢٢...... ”دو پل ٹوٹ گئے۔“ (تذکرہ ص ٦٩٢)
- ٢٣...... ”بالفعل نہیں۔“ (البشریٰ ج ١ ص ١١، مطلب ندارد تفہیم نہیں ہوئی)
- ٢٤...... ”دشمن کا بھی خوب وار نکلا جس پر بھی وہ پار نکلا۔“
(البشریٰ ج ٢ ص ١٥، مطلب ندارد تفہیم نہیں ہوئی)
- ٢٥...... ”زندگی کے فیشن سے دور جائیے۔“ (تذکرہ ص ٥٠٩)
- ٢٦...... ”آسمان سے دودھ اترا ہے محفوظ رکھو۔“
(البشریٰ ج ٢ ص ١١٤، مطلب ندارد تفہیم نہیں ہوئی)
- ٢٧...... ”کمترین کا بیڑا غرق ہو گیا۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ١٤١، مطلب ندارد تفہیم نہیں ہوئی)
- ٢٨...... ”پوری ہو گئی۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ١٤٠، مطلب ندارد تفہیم نہیں ہوئی)
- ٢٩...... ”راز کھل گیا۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ١٢٩، مطلب ندارد تفہیم نہیں ہوئی)
- ٣٠...... ”تمہاری قسمت اتوار۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ٩٢، مطلب ندارد تفہیم نہیں ہوئی)
- ٣١...... ”غلام احمد کی جے۔“ (تذکرہ ص ٧٢٤)
- ٣٢...... ”عالم کباب۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ١١٦، مطلب ندارد تفہیم نہیں ہوئی)
- ٣٣...... ”تمہارے نام کی۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ١٤٩، مطلب ندارد تفہیم نہیں ہوئی)
- ٣٤...... ”واللہ واللہ سدھا ہو یا الٹا۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ١٣٨، مطلب ندارد تفہیم نہیں ہوئی)
- ٣٥...... ”کل واحد منھم ثلج۔“ (تذکرہ ص ٧٠٩)
- ٣٦...... ”ایک ہفتہ تک ایک باقی نہ رہے گا۔“
(البشریٰ ج ٢ ص ١٤٢، مطلب ندارد تفہیم نہیں ہوئی)
١١٠
- ٣٧...... "ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں۔"
(البشریٰ ج ٢ ص ١٠٥)
- ٣٨...... "آسمان ٹوٹ پڑا سارا کچھ معلوم نہیں کہ کیا ہونے والا ہے۔"
(البشریٰ ج ٢ ص ١٢٢، مطلب ندارد تفہیم نہیں ہوئی)
- ٣٩...... "لا یموت احد من رجالکم" تمہارے مردوں سے کوئی نہیں مرے
گا۔
(البشریٰ ج ٢ ص ٧٨)
- ٤٠...... "بیہوشی پھر غشی، پھر موت۔"
(البشریٰ ج ٢ ص ٥٦)
غلام احمد کی الماری پٹاری ہے مداری کی
ناظرین! ایسے سینکڑوں الہام ہیں جو مرزا قادیانی کے ہوئے۔ جن کی تفہیم نہیں ہوئی اور یہ وہ الہام ہیں۔ جو داشتہ آید بکار کے مصداق واقعات پر مرزائی حیلے سے ساون اور بھادوں کے مینڈکوں اور حشرات کی طرح پھوٹ پڑے۔ حالانکہ ان کا نہ سر ہے نہ پیر نہ فاعل ہے نہ مفعول۔ خدا جانے یہ مقفع و مسجع عبارتیں کس مطلب کے لئے گھڑی گئی ہیں۔ جو الہام کے پاک نام کی توہین کر رہی ہیں اور اسی بل بوتے پہ پیغمبری ہو رہی۔
چیستان مرزا
- ١...... "ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ جس دین میں نبوت کا سلسلہ نہ ہو وہ مردہ ہے۔
یہودیوں، عیسائیوں، ہندوؤں کے دین کو جو ہم مردہ کہتے ہیں تو اسی لئے کہ ان میں اب کوئی نبی نہیں ہوتا۔ اگر اسلام کا بھی یہی حال ہوتا تو پھر ہم بھی قصہ گو ٹھہرے۔ کس لئے اس کو دوسرے دینوں سے بڑھ کر کہتے ہیں۔ صرف سچے خوابوں کا آنا تو کافی نہیں۔ یہ تو چوہڑے چماروں کو بھی آجاتے ہیں۔ مکالمہ مخاطبہ الٰہیہ ہونا چاہئے اور وہ بھی ایسا کہ جس میں پیش گوئیاں ہوں۔ ہم پر کئی سال سے وحی نازل ہو رہی ہے اور اللہ تعالیٰ کے کئی نشان اس کے صدق کو گواہی دے چکے ہیں۔ اس لئے ہم نبی ہیں۔ اس حق کے پہنچانے میں کسی قسم کا اخفاء نہ کرنا چاہئے۔"
(اخبار بدر قادیان ٥؍ مارچ ١٩٠٨ء، ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧)
اس کے خلاف: "آنحضرتﷺ نے بار بار فرما دیا تھا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور حدیث "لا نبی بعدی" ایسی مشہور تھی کہ کسی کو اس کی صحت میں کلام نہ تھا اور قرآن شریف جس کا لفظ لفظ قطعی ہے۔ اپنی آیت "ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین" سے بھی
١١١
اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ فی الحقیقت ہمارے نبی ﷺ پر نبوت ختم ہو چکی ۔“
(کتاب البریہ ص ١٩٩ حاشیہ، خزائن ج ١٣ ص ٢١٧)
- ٢...... ”یہ خدا تعالیٰ پر بدظنی ہے کہ اس نے مسلمانوں کو یہود و نصاریٰ کی بدی کا تو
حصہ دار ٹھہرایا۔ یہاں تک کہ ان کا نام یہودی رکھ دیا۔ مگر ان کے رسولوں اور نبیوں کے مراتب میں سے اس امت کو کوئی بھی حصہ نہ دیا۔ پھر یہ امت محمدی خیر الامم کس وجہ سے ہوئی۔ بلکہ شر الامم ہوئی کہ یہ ایک نمونہ شر کا ان کو ملا۔ کیا ضرور نہیں کہ اس امت میں بھی کوئی نبیوں اور رسولوں کے رنگ میں نظر آوے۔ جو بنی اسرائیل کے تمام نبیوں کا وارث اور ان کا ظل ہو۔“
(کشتی نوح ص ٤٤، خزائن ج ١٩ ص ٤٧)
اس کے خلاف:”ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ صادق الوعد ہے اور جو آیت خاتم النبیین میں وعدہ دیا گیا ہے اور حدیثوں میں بتصریح بیان کیا گیا ہے کہ اب جبرائیل بعد وفات رسول اللہ ﷺ ہمیشہ کے لئے وحی نبوت لانے سے منع کیا گیا ہے۔ یہ تمام باتیں سچ اور صحیح ہیں تو پھر کوئی شخص بحیثیت رسالت ہمارے نبی ﷺ کے بعد ہرگز نہیں آسکتا۔“
(ازالہ اوہام ص ٥٧٧، خزائن ج ٣ ص ٤١٢)
- ٣...... ”خدا کے کلام کو غور سے پڑھو وہ تم سے کیا چاہتا ہے وہ وہی امر تم سے چاہتا
ہے۔ جس کے بارے میں سورۃ فاتحہ میں تمہیں دعاء سکھلائی گئی ہے۔ یعنی یہ دعاء کہ ”اهدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیہم “ پس جب کہ خدا تمہیں یہ تاکید کرتا ہے کہ پنج وقت یہ دعاء کرو کہ وہ نعمتیں جو نبیوں اور رسولوں کے پاس ہیں وہ تمہیں بھی ملیں۔ پس تم بغیر نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ کے وہ نعمتیں کیونکر پا سکتے ہو۔ لہٰذا ضروری ہوا کہ تمہیں یقین اور محبت کے مرتبہ پہنچانے کے لئے خدا کے انبیاء وقتاً فوقتاً آتے رہیں۔ جن سے وہ نعمتیں پاؤ اب کیا تم خدا تعالیٰ کا مقابلہ کرو گے اور اس کے قدیم قانون کو توڑ دوگے۔“
(لیکچر سیالکوٹ ص ٣١، خزائن ج ٢٠ ص ٢٢٧)
اس کے خلاف:”قرآن کریم بعد خاتم النبیین کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا۔ خواہ وہ نیا ہو یا پرانا۔ کیونکہ رسول کو علم دین توسط جبرائیل علیہ السلام ملتا ہے اور باب نزول بہ پیرایہ وحی رسالت مسدود اور یہ بات خود ممتنع ہے کہ رسول تو اوے مگر سلسلہ وحی رسالت نہ ہو۔“
(ازالہ اوہام ص ٧٦١، خزائن ج ٣ ص ٥١١)
- ٤...... ”جس بناء پر میں اپنے تئیں نبی کہلاتا ہوں۔ وہ صرف اس قدر ہے کہ میں
١١٢
خدا تعالیٰ کی ہم کلامی سے مشرف ہوں اور میرے ساتھ بکثرت بولتا اور کلام کرتا ہے اور میری باتوں کا جواب دیتا ہے اور بہت سی غیب کی باتیں میرے پر ظاہر کرتا ہے اور آئندہ زمانوں کے وہ راز میرے پر کھولتا ہے کہ جب تک انسان کو اس کے ساتھ خصوصیت کا قرب نہ ہو۔ دوسرے پر وہ اسرار نہیں کھولتا اور ان ہی امور کی کثرت کی وجہ سے اس نے میرا نام نبی رکھا ہے۔ سو میں خدا کے موافق نبی ہوں۔ مگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہوگا اور جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے تو میں کیونکر انکار کر سکتا ہوں۔ میں اس پر قائم ہوں اس وقت تک جو اس دنیا سے گذر جاؤں۔“
(مرزا آنجہانی کا ایک خط بنام عام اخبار ٢٣ مئی ١٩٠٨ء ، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٩٧)
اس کے خلاف: ”رسول کی حقیقت اور ماہیت میں یہ امر داخل ہے کہ دینی علوم کو بذریعہ جبرائیل علیہ السلام حاصل کرے اور ابھی ثابت ہو چکا ہے کہ اب وحی رسالت تا قیامت منقطع ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٦١٤، خزائن ج ٣ ص ٤٣٢)
- ٥....... ”چند روز ہوئے کہ ایک صاحب پر مخالف کی طرف سے یہ اعتراض پیش
ہوا کہ جس سے تم نے بیعت کی ہے وہ نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ اس کا جواب محض انکار کے الفاظ سے دیا گیا۔ حالانکہ ایسا جواب صحیح نہیں۔ حق یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے۔ اس میں ایسے لفظ رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں۔ نہ ایک دفعہ بلکہ صد ہا دفعہ پھر کیونکر یہ جواب صحیح ہو سکتا ہے کہ ایسے الفاظ موجود نہیں ہیں۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٢، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٦)
”تیسری بات جو اس وحی سے ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ بہر حال جب تک طاعون دنیا میں رہے گا۔ گو ستر برس تک رہے۔ قادیان کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ کیونکہ یہ اس کے رسول کی تخت گاہ ہے اور یہ تمام امتوں کے لئے نشان ہے۔ سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“
(دافع البلاء ص ١٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠)
”نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں اور ضرور تھا کہ ایسا ہوتا جب کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ ایسا شخص ایک ہی ہوگا۔ وہ پیش گوئی پوری ہوئی۔“
(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)
”پس میں جب کہ اس مدت تک ڈیڑھ سو پیش گوئی کے قریب خدا کی طرف سے پا کر بچشم خود دیکھ چکا ہوں کہ صاف طور پر پوری ہوگئیں۔ تو میں اپنی نسبت نبی یا رسول کے نام سے کیونکر انکار کر سکتا ہوں اور جب کہ خدا تعالیٰ نے یہ نام میرے رکھے ہیں تو میں کیونکر رد کردوں یا
١١٣
اس کے سوا کسی سے ڈروں۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢١٠)
”اور خدا تعالیٰ نے اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں۔ اس قدر نشان دکھلائے کہ وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔ لیکن پھر بھی جو لوگ انسانوں میں سے شیطان ہیں۔ وہ نہیں مانتے۔“
(چشمہ معرفت ص ٣١٧، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢)
”خدا نے میرے ہزار ہا نشانوں سے میری وہ تائید کی ہے کہ بہت ہی کم نبی گزرے ہیں جن کی یہ تائید کی گئی ہو۔ لیکن پھر بھی جن کے دلوں پر مہریں ہیں۔ وہ خدا کے نشانوں سے کچھ بھی فائدہ نہیں اٹھاتے۔“
(تحفہ حقیقت الوحی ص ١٤٩، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨٧)
”اور میں اس خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے مجھے بھیجا ہے اور اس نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اس نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے اور اس نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہر کئے جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)
”ولکن رسول الله وخاتم النبیین اور آیت میں ایک پیش گوئی مخفی ہے اور وہ یہ کہ اب نبوت پر قیامت تک مہر لگ گئی ہے اور بجز بروزی وجود کے جو خود آنحضرت ﷺ کا وجود ہے کسی میں یہ طاقت نہیں کہ جو کھلے کھلے طور نبیوں کی طرح خدا سے کوئی علم غیب پاوے اور چونکہ وہ بروز محمدی جو قدیم سے موعود تھا وہ میں ہوں۔ اس لئے بروزی رنگ کی نبوت مجھے عطاء کی گئی اور اس نبوت کے مقابل اب عام دنیا بے دست و پا ہے۔ کیونکہ نبوت پر مہر ہے۔ ایک بروز محمدی جمیع کمالات محمدی کے ساتھ آخری زمانہ کے لئے مقدر تھا تو وہ ظاہر ہو گیا۔ اب بجز اس کھڑکی کے اور کوئی کھڑکی نبوت کے چشمہ سے پانی لینے کے لئے باقی نہیں۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢١٥)
اس کے خلاف: ”کیونکہ حسب تصریح قرآن کریم رسول اس کو کہتے ہیں جس نے احکام عقائد و دین جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے حاصل کئے ہوں۔ لیکن وحی نبوت پر تیرہ سو برس مہر لگ چکی ہے کیا یہ مہر اس وقت ٹوٹ جائے گی۔“
(ازالہ اوہام ص ٥٣٤، خزائن ج ٣ ص ٣٨٧)
٦...... ”قرآن شریف میں مسیح ابن مریم علیہ السلام کے دوبارہ آنے کا تو کہیں بھی ذکر نہیں۔ لیکن ختم نبوت کا بکمال تصریح ذکر ہے اور پرانے یا نئے کی تفریق کرنا یہ شرارت ہے۔ نہ حدیث میں نہ قرآن میں یہ تفریق موجود ہے اور حدیث لا نبی بعدی میں بھی نفی عام ہے۔
١١٤
پس کس قدر جرأت اور دلیری اور گستاخی ہے کہ خیالات رکیکہ کی پیروی کر کے نصوص صریحہ قرآن عمداً چھوڑ دیئے جائیں اور خاتم الانبیاء کے بعد ایک نبی کا آنا مان لیا جائے۔ کیونکہ جس میں شان نبوت باقی ہے اس کی وحی بلاشبہ نبوت کی وحی ہوگی۔‘‘
(ایام صلح ص ١٤٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٩٢)
”اور اللہ کو شایاں نہیں کہ خاتم النبیینؐ کے بعد نبی بھیجے اور نہیں شایاں کہ سلسلہ نبوت کو دوبارہ از سر نو شروع کر دے بعد اس کے کہ اسے قطع کر چکا ہو اور بعض احکام قرآن کریم کے منسوخ کر دے اور ان پر بڑھا دے۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٧٧، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
”اور ظاہر ہے کہ یہ بات مستلزم محال ہے کہ خاتم النبیینؐ کے بعد پھر جبرائیل علیہ السلام کی وحی رسالت کے ساتھ زمین پر آمد و رفت شروع ہو جائے اور ایک نئی کتاب اللہ گو مضمون میں قرآن شریف سے توارد رکھتی ہو پیدا ہو جائے اور جو امر مستلزم محال ہو۔ وہ محال ہوتا ہے۔ فتدبّر“
(ازالۃ اوہام حصہ دوم ص ٥٨٣، خزائن ج ٣ ص ٤١٣)
”اور اللہ تعالیٰ کے اس قول ”ولکن رسول الله وخاتم النبیین“ میں بھی اشارہ ہے۔ پس اگر ہمارے نبی ﷺ اور اس کی کتاب قرآن کریم کو تمام آنے والے زمانوں اور زمانوں کے لوگوں کے علاج اور دوا کی رو سے مناسبت نہ ہوتی تو اس عظیم الشان نبی کریم ﷺ کو ان کے علاج کے واسطے قیامت تک ہمیشہ کے لئے نہ بھیجتا اور ہمیں محمد ﷺ کے بعد کسی نبی کی حاجت نہیں۔ کیونکہ آپ کے برکات ہر زمانہ پر محیط اور آپ کے فیض اولیاء اور اقطاب اور محدثین کے قلوب پر بلکہ کل مخلوقات پر وارد ہیں۔ خواہ ان کو اس کا علم بھی نہ ہو کہ انہیں آنحضرت ﷺ کی ذات پاک سے فیض پہنچ رہا ہے۔ پس اس کا احسان تمام لوگوں پر ہے۔“
(حمامۃ البشریٰ ص ٤٩، خزائن ج ٧ ص ٢٣٣)
”میں ایمان لاتا ہوں اس پر کہ ہمارے نبی ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور ہماری کتاب قرآن کریم ہدایت کا وسیلہ ہے اور میں ایمان لاتا ہوں اس بات پر کہ ہمارے رسول آدم علیہ السلام کے فرزندوں کے سردار اور رسولوں کے سردار ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ نبیوں کا خاتمہ کر دیا۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٢١، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
”میں ان تمام امور کا قائل ہوں جو اسلامی عقائد میں داخل ہیں اور جیسا کہ سنت جماعت کا عقیدہ ہے۔ ان سب باتوں کو مانتا ہوں۔ جو قرآن اور حدیث کی رو سے مسلم الثبوت ہیں اور سیدنا ومولانا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ خاتم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت ورسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب
١١٥
رسول اللہﷺ پر ختم ہوئی۔"
(تبلیغ رسالت ج٢ ص٢٠، مجموعہ اشتہارات ج١ ص٢٣٠)
"ان تمام امور میں میرا وہی مذہب ہے جو دیگر اہل سنت والجماعت کا مذہب ہے۔ اب میں مفصلہ ذیل امور کا مسلمانوں کے سامنے صاف صاف اقرار اس خانہ خدا یعنی جامع مسجد دہلی میں کرتا ہوں کہ میں جناب خاتم الانبیاءﷺ کی ختم نبوت کا قائل ہوں اور جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو۔ اس کو بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔"
(تبلیغ رسالت ج٢ ص٤٤، مجموعہ اشتہارات ج١ ص٢٥٥)
"کیا ایسا بدبخت ومفتری جو خود رسالت اور نبوت کا دعویٰ کرتا ہے۔ قرآن شریف پر ایمان رکھ سکتا ہے اور ایسا وہ شخص جو قرآن کریم پر ایمان رکھتا ہے اور آیت ”ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین “ کو خدا کا کلام یقین کرتا ہے وہ کہہ سکتا ہے کہ میں آنحضرتﷺ کے بعد رسول ونبی ہوں۔"
(انجام آتھم ص ٢٧ حاشیہ، خزائن ج١١ ص ایضاً)
"مجھے کب جائز ہے کہ میں نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام سے خارج ہو جاؤں اور کافروں سے جاملوں۔"
(حمامة البشریٰ ص٧٩، خزائن ج٧ ص٢٩٧)
"مجھے کہاں حق پہنچتا ہے کہ میں ادعاء نبوت کروں اور اسلام سے خارج ہو جاؤں اور قوم کافرین سے جاملوں۔ یہ کیونکر ممکن ہے کہ میں مسلمان ہو کر نبوت کا دعویٰ کروں۔"
(حمامة البشریٰ ص٧٩، خزائن ج٧ ص٢٩٧)
"اے لوگو! دشمن قرآن نہ بنو اور خاتم النبیین کے بعد وحی نبوت کا نیا سلسلہ جاری نہ کرو اور اس خدا سے شرم کرو۔ جس کے سامنے حاضر کئے جاؤ گے۔"
(فیصلہ آسمانی ص٢٥، خزائن ج٤ ص٣٣٥)
"ہم بھی مدعی نبوت پر لعنت بھیجتے ہیں۔ ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “ کے قائل ہیں اور آنحضرتﷺ کی ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔"
(تبلیغ رسالت ج٦ ص٢، مجموعہ اشتہارات ج٢ ص٢٩٧)
از رشحات قلم علامہ ظفر علی خاں صاحب
ہر گز کسی کو دعوائے پیغمبری نہ ہو
کیا مصطفےٰ کے بعد نہ آیا مسیلمہ
پھر قادیان میں کس لئے مجھ سا نبی نہ ہو
١١٦
”اور ہمارے نزدیک تو کوئی دوسرا آیا ہی نہیں۔ نہ نیا نبی نہ پرانا۔ بلکہ خود محمد ﷺ ہی کی چادر دوسرے کو پہنائی گئی ہے اور وہ خود ہی آئے ہیں۔“
(اخبار الحکم قادیان ١٠ نومبر ١٩٠١ء، فرمودہ مرزا غلام احمد قادیانی)
مجھ میں سرکار مدینہ میں کوئی فرق نہیں
”اس نکتہ کو یاد رکھو کہ میں رسول اور نبی ہوں۔ یعنی باعتبار نفی شریعت اور نئے دعوے اور نئے نام کے اور میں رسول اور نبی ہوں۔ یعنی باعتبار ظلیت کاملہ کے میں وہ آئینہ ہوں۔ جس میں محمدی شکل اور محمدی نبوت کا کامل انعکاس ہے اور میں کوئی علیحدہ شخص نبوت کا دعویٰ کرنے والا ہوتا تو خدا تعالیٰ میرا نام محمد اور احمد اور مصطفیٰ اور مجتبیٰ نہ رکھتا۔“
(نزول المسیح حاشیہ ص٣، خزائن ج١٨ ص٣٨١)
محمد کی چیز محمد کے پاس ہی رہی
”مجھے بروزی صورت نے نبی اور رسول بنایا اور اس بناء پر خدا نے بار بار میرا نام نبی اللہ اور رسول اللہ رکھا۔ مگر بروزی صورت میں میرا نفس درمیان میں نہیں ہے۔ بلکہ محمد مصطفیٰ ﷺ ہے۔ اس لحاظ سے میرا نام محمد واحمد ہوا۔ پس نبوت اور رسالت کسی دوسرے کے پاس نہیں گئی۔ محمد کی چیز محمد کے پاس رہی۔ علیہ الصلوٰۃ والسلام“
(ایک غلطی کا ازالہ ص١٢، خزائن ج١٨ ص٢١٦)
ہلال و بدر کی توجیہہ
”اسلام ہلال کی طرح شروع ہوا اور مقدر تھا کہ انجام کار آخر زمانہ میں بدر ہو جائے۔ خدا تعالیٰ کے حکم سے پس خدا تعالیٰ کی حکمت نے چاہا کہ اسلام اس صدی میں بدر کی شکل اختیار کرے۔ جو شمار کی رو سے بدر کی طرح مشابہ ہو۔ پس انہی معنوں کی طرف اشارہ ہے جو خدا تعالیٰ کے اس قول میں ہے کہ لقد نصرکم اللہ ببدر“
(خطبہ الہامیہ ص٢٧، ٢٦، ٢٤، خزائن ج١٦ ص ایضاً)
مرزائی گزٹ کے سرکلر
شہادت نمبر:١
”مسیح موعود کو احمد نبی اللہ تسلیم نہ کرنا اور آپ کو امتی قرار دینا۔ یا امتی ہی گروہ میں سمجھنا گویا آنحضرت ﷺ کو جو سید المرسلین اور خاتم النبیین ہیں۔ امتی قرار دینا اور امتیوں میں داخل کرنا ہے۔ جو کفر عظیم اور کفر بعد کفر ہے۔“
(منقولہ اخبار الفضل قادیان ٢٩؍ جون ١٩١٥ء)
١١٧
شہادت نمبر:٢
”اور آنحضرت کی بعثت اوّل میں آپ کے منکروں کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دینا۔ لیکن آپ کی بعثت ثانی میں آپ کے منکروں کو داخل اسلام سمجھنا یہ آنحضرت کی ہتک اور آیت اللہ سے استہزاء ہے۔ حالانکہ خطبہ الہامیہ میں حضرت مسیح موعود نے آنحضرت ﷺ کی بعثت اوّل وثانی کی باہمی نسبت کو ہلال اور بدر کی نسبت سے تعبیر فرمایا ہے۔ جس سے لازم آتا ہے کہ بعثت ثانی کے کافر کفر میں بعثت اوّل کے کافر سے بڑھ کر ہیں۔ مسیح موعود کی جماعت وآخرین منہم کی مصداق ہونے سے آنحضرت کے صحابہ میں داخل ہے۔“
(منقول از اخبار الفضل ١٥؍ جولائی ١٩١٥ء)
مسیلمہ ثانی مرزا آنجہانی کو خدا جانے مراق کے باعث یا دوران سر کی وجہ سے ایسا عیاش دماغ عطا ہوا تھا۔ جس میں شاید بھوسہ بھرا ہوا تھا۔ بندہ خدا سے کوئی پوچھے کہ ان قلابازیوں اور جست طرازیوں سے جو اس قدر محنت شاقہ کے بعد اپنے اوپر جگ ہنسائی کا موقعہ لیا تو اس سے کون سا فائدہ تھا۔ جب ایک ہی چھلانگ سے آپ خدا بن سکتے ہیں اور آپ کی امت آمنا وصدقنا پکار اُٹھتی ہے تو محمد عربی فداہ ابی وامی کا اعلان عام دینے میں آپ کو کیا حجاب ہے۔ صاف صاف الفاظ میں پہلے ہی کہہ دیا ہوتا کہ وہی محمد ﷺ ہوں جو آج سے ساڑھے تیرہ سو برس پہلے سرزمین عرب میں مبعوث ہوئے تھے۔ خواہ مخواہ سلسلہ وار خاکسار، رئیس، مناظر، مجاہد، مبلغ، محدث، مثیل، مسیح، انبیائے سابقین کا بروز بننے سے کیوں تکلیف گوارہ کی۔ افسوس دنیا کے چند سنہری ٹکوں نے آپ کو مجبور کر دیا کہ اگر بتدریج سیڑھیوں پر نہ چڑھے تو یہ عقل کے اندھے جو دام تزویر میں محنت شاقہ کے بعد آئے ہیں۔ کہیں بدک نہ جائیں۔ مگر جس نے سرکار مدینہ سے اپنا تعلق توڑنے میں شرم نہ کیا اور جسے خوف خدا نہ آیا۔ بھلا وہ کیوں اس معمولی سی بات کو یعنی آپ کے وجود کو محمد عربی کا وجود سمجھنے میں پس وپیش کرے گا۔ آج کل نئی تہذیب ہے۔ نیا زمانہ ہے اس دور کے لوگ پرانا رسول بھی کب پسند کرتے ہیں اور جیسا کہ آپ کا بھی یہ خیال ہے کہ وآخرین منہم لما یلحقوبہم میں میری بعثت پنہاں ہے اور وہ بھی نبوت تامہ کے رنگ میں اور پہلی بعثت سے کہیں زیادہ اور بدرجہ اتم۔ کاش اسلامی بادشاہی ہوتی۔ یا حکومت وقت فرض شناسا ہوتی۔ تو نبوت اور بروز کا مزہ چکھا کر چھٹی کا دودھ یاد کرا دیتا۔ مگر افسوس جو دل میں آوے زبان پر لانا...... بے سود ہے اس لئے خاموشی اور عجز بے بسی کے ہم کر ہی کیا سکتے ہیں۔ خدائے واحد جانتا ہے کہ جو جو افتراء اس کی ذات والا تبار پر آپ نے کئے اور جن جن پستیوں سے آپ گزرے اور جو جو مرسلین من اللہ کے حق میں آپ نے کہا اور
١١٨
امت خیر الامم کو شر الامم کا خطاب دیا اور حرامکار عورتوں کی اولاد سے تشبیہ دی اور جنگلوں کے سور کہا۔ مگر افسوس ہمارے پاس اس کا جواب ہے۔ مگر سرکار مدینہ کے احکام اجازت نہیں دیتے اور حکومت وقت تمہارے نمک حلالیوں کی وجہ سے خاموش ہے اور چونکہ آپ نے جہاد حرام قرار دیا اور سرکار انگلشیہ کو اولوالامر کا صحیح اجارہ دار ہونے پر جزو ایمان بنایا اور اپنے آپ کو اس کا ادنیٰ خادم اور امت کو بیدام غلام ہونے کی تلقین کی۔ اس لئے وہ بھی تمہارا حتی الامکان پاس کرتی ہے۔
وہ بھی کم بخت تیرا چاہنے والا نکلا
تمام دنیا کو آپ پہلے ہی مردہ سمجھتے ہوئے اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں سو لگے رہئے۔ مگر یہ یاد رکھئے کہ ایک ایسی ہستی بھی تمہارے افعال و کردار، تمہاری گفتار و رفتار کو دیکھ رہی ہے۔ جس کی لاٹھی میں آواز نہیں اور جس کی پکڑ سے بڑے بڑے موذی تھرا اٹھیں، احکم الحاکمین کی ذات لایزال سب کچھ دیکھ و سن رہی ہے اور بلاشبہ وہ دل کے بھید اور مخفی سے مخفی راز کی باتیں جانتی ہے۔ مگر اس کا حلم اس کا عفو اس کی پردہ پوشی، اس کی ستاری، اس کی غیوری کے اوصاف وقت معین سے پہلے انتقام میں سزا دینا نہیں چاہتے۔
قادر و توانا کی ذات والا تبار کی سنت اللہ ہمیشہ سے یہی چلی آئی ہے کہ گنہگار کے گناہ پر فوری سزا نہیں دیا کرتی۔ بلکہ ہمیشہ موقعہ دیا کرتی ہے اور بخشش و کرم کے باب ہمیشہ کھلے ہیں۔ وہ ذات رحیم چاہتی ہے کہ میری عاجز مخلوق مجھ سے گڑ گڑا کر اپنے عیوب و خطاء کے لئے معافی مانگے اور آئندہ محتاط رہنے کا عزم کرے تو میں معاف کردوں۔
مگر ہماری بدبختی اور روسیاہی کی بھی کوئی حد ہے ہم روز گناہ کرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ یہ برے کام خدا کو پسند نہیں۔ ہماری فطرت ہمیں شرمسار کرتی ہے۔ مگر قربان جاؤں اس تمام جہان کی ربوبیت کرنے والے کی ذات بابرکات پر کہ وہ ہمیں جانتا ہے کہ بھاگے ہوئے غلام ہیں۔ ناکارہ انسان ہیں جو خطا و عصیان کے پتلے ہیں۔ مگر ہماری روزی بند نہیں کرتا اور ہمارے گناہوں پر فوری گرفت نہیں کرتا۔ بلکہ اتمام حجت کے لئے ہمیں فرصت عنایت کرتا ہے اور ایک مدت مقرر تک ڈھیل دیتا ہے اور اس کے بعد کئے کی سزا ملتی ہے کسی نے ہماری ایسی ہی بد لگامی پر کیا خوب کہا۔
دیر گیرد سخت گیرد مر ترا
١١٩
مرزا آنجہانی قادیانی بطور تناسخ
”غرض خاتم النبیین کا لفظ ایک الہی مہر ہے جو آنحضرت ﷺ کی نبوت پر لگ گئی ہے۔ اب ممکن نہیں کہ کہیں یہ مہر ٹوٹ جائے۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ آنحضرت ﷺ نہ ایک دفعہ بلکہ ہزار دفعہ دنیا میں بروزی رنگ میں آجائیں اور بروزی رنگ میں اور کمالات کے ساتھ اپنی نبوت کا بھی اظہار کریں اور یہ بروز خدا کی طرف سے ایک قرار یافتہ عہد تھا۔ جب کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وآخرین منھم لما یلحقو بھم“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ١١، ١٠، خزائن ج ١٨ ص ٢١٣)
تناسخ، میں اور نہیں وہ اور نہیں
”مگر میں کہتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد جو درحقیقت خاتم النبیین تھے۔ رسول اور نبی کے لفظ سے پکارا جانا کوئی اعتراض کی بات نہیں اور نہ اس سے مہر ختمیت ٹوٹتی ہے۔ کیونکہ بارہا بتلا چکا ہوں کہ میں بموجب آیت ”و آخرین منھم لما یلحقو بھم“ بروزی طور پر وہی خاتم الانبیا ہوں اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرت ﷺ کا ہی وجود قرار دیا ہے۔ پس اس طور سے آنحضرت ﷺ کے خاتم الانبیاء ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا۔ کیونکہ ظل اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا اور چونکہ محمد ﷺ کی نبوت محمد تک ہی محدود رہی۔ یعنی بہرحال محمد ﷺ ہی نبی رہا نہ اور کوئی۔ یعنی جب کہ میں بروزی طور پر آنحضرت ﷺ ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی معہ نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہے تو پھر کون سا الگ انسان ہوا۔ جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا ۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢١٢)
مرزا آنجہانی اسلامی وجود میں کلنک تھے
بہتان نہیں حقیقت ہے، الزام نہیں اصلیت ہے اور یہ وہ کھلے کھلے دلائل ہیں جن کے ہوتے ہوئے کسی اور برہان کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
آہ سرور دوعالم ﷺ کی ذات والا تبار پر اس قدر رکیک حملے کسی اور دریدہ دہن نے نہ کئے ہوں گے۔ دنیا راجپال کو برا کہتی ہے اور شردھا نند کو کوستی ہے اور ایسا ہی اور ملعونوں کو برے القاب سے یاد کرتی ہے۔ مگر حقیقتاً جس قدر بے حرمتی مرزا آنجہانی کے ناپاک ارادوں سے ہوئی اور محتاج بیان نہیں۔
کاش امت مرزائیہ کو بصارت کے ساتھ ساتھ بصیرت بھی ہوتی اور پھر وہ کبھی ٹھنڈے دل سے واقعات کی روشنی میں دیکھتے اور آئمہ سلف کی سوانح حیات کو ٹٹولتے تو وہ بلاشبہ اس نتیجہ پر
١٢٠
پہنچے کہ جس طرح خداوند عالم اپنی واحدانیت میں واحد ہے۔ بعینہ اسی طرح سرکار مدینہ اپنی رسالت میں واحد ہے۔ نہ خدا کی خدائی میں کوئی شریک نہ محمد ﷺ کی رسالت میں کسی کا حق، مگر افسوس نئی تہذیب کے دلدادوں کو بھلا یہ باتیں کب سوجھتی ہیں کہ شرک فی التوحید گناہ کبیرہ ہے اور شرک فی الرسالۃ گناہ صغیرہ ہے۔ بہرحال دونوں کا مرتکب جہنمی ہے اور یہ جو ساتھ ساتھ بروز کی بڑ ہانکی جاتی ہے۔ عجیب مضحکہ خیز ہے جب اصل موجود ہے اور قیامت تک موجود رہے گا تو ظل کی ضرورت ہی کیا ہے۔ دنیا میں ایک لاکھ چوبیس ہزار مرسلین من اللہ آئے۔ مگر کسی نے بروز کی جدت اختیار نہ کی۔ رسول اکرم ﷺ کی حیات طیبہ میں کبھی ایسا کوئی واقعہ پیش نہ آیا اور کبھی یہ لفظ لغت میں اس محاورے سے جس کو پنجابی نبی صاحب اختیار کرتے ہیں۔ استعمال نہ ہوا۔
مرزا آنجہانی اسلامی جسد میں کاربنکل کی حیثیت سے تھے۔ جس کا گھاؤ اندر ہی اندر کام کرتا رہتا ہے۔ افسوس انہوں نے وہ سنہری دجل دیا۔ جس سے بڑے بڑے تیراک ڈوب گئے اور ایسے ڈوبے کہ پھر کنارہ دیکھنا نصیب نہ ہوا۔ مرزا آنجہانی نے توہین انبیاء ایک ایسے اصول پر کی جس میں ایک سنہری دھوکہ تھا۔ افسوس یہ دجل یہ فریب ایسی چال سے چلایا گیا۔ جس کی ظاہری بناوٹ نہایت دل کش تھی۔ مگر جس کی تہ میں اتنی خرابیاں مضمر ہیں کہ جن سے رگ ملت کے کٹ جانے کا اندیشہ ہے۔
واقعات شاہد ہیں کہ جہاں عیسیٰ علیہ السلام کی از حد توہین کی گئی۔ وہاں ساتھ ہی ساتھ مماثلت کا دعویٰ بھی کر دیا گیا۔ مذمت کے ساتھ سراہا بھی گیا۔
ایسا ہی آقائے زمان کے جسمانی معراج کی نفی کرتے ہوئے خواب سے تعبیر کیا۔ آپ ﷺ کی پیش گوئیوں میں عیب تلاش کئے اور الہامات میں سقم نکالے۔ واقعات کو مخالف ٹھہرایا۔ روز روشن میں نبوت پر ڈاکہ ڈالا اور تمام رحمانی خطاب لوٹ لئے۔ مگر ساتھ ہی ساتھ ظل اور بروز کی بڑ بھی ہانکی گئی۔ ختم نبوت کو توڑا۔ مہر رسالت کو موڑا۔ فرقان حمید کی تفسیر بالرائے کی اور دو بعثتیں قائم کیں۔ بعثت سرور عالم کو نامکمل بتایا اور مثالیں دے کر کہا کہ یوں سمجھو کہ محمد ﷺ پہلی رات کے ہلال تھے اور میں چودہویں رات کا بدر کامل ہوں۔ یہاں تک کہ نام تک بھی اپنے لئے تفویض کر لئے اور اعلانیہ کہہ دیا گیا کہ میں وہی محمد ہوں جو آج سے ساڑھے تیرہ سو برس پہلے مکہ میں مبعوث ہوا تھا۔ مجھ میں اور محمد میں کچھ فرق نہیں اور اب جو مجھے نہ مانے وہ بازاری عورتوں کی اولاد ہیں اور وہ کبھی مسلمان کے زمرے میں شمار نہ کئے جائیں گے اور یہ بھی فرمایا کہ:
براہین احمدیہ میں خدا نے یوں فرمایا، براہین احمدیہ قرآن کا بدل ٹھہری۔ (عیاذاً
١٢١
باللہ ) حالانکہ یہ وہ آپ کی سب سے پہلی تصنیف ہے۔ جس کے پچاس جزوں اور تین سو دلیل دلائل پر غریب مسلمانوں کو لوٹا گیا اور پچاس جزو کی بجائے پانچ دی گئیں اور دلائل ندارد اس کتاب میں کلام مجید کے سرقہ شدہ عبارتوں کے ساتھ ساتھ پنجابی عربی کے الفاظ لگا کر مقفع عبارتیں گھڑ لی گئیں تھیں۔ جن کا مطلب خود مصنف نہ جانتا تھا اور داشتہ آید بکار کے اصول پر یا کاغذ سیاہ کرنے کے لئے اوٹ پٹانگ یا اینٹ سنٹ لکھ دیا گیا تھا۔ اسی لئے علمائے کرام اس کو مداری کا پٹارہ کہتے ہیں۔ اس کے بعد جوں جوں موقعہ بموقعہ ضرورت محسوس ہوتی رہی اس پٹارہ سے مقفع عبارتیں واقعات کی تائید میں لگاتے گئے۔ گو کسی کا سر نہ تھا اور نہ کسی کی ٹانگ اور کسی کا ناک مگر جس طرح بھی ہوا یہ کام چلاتی ہی گئیں اور ایک ایک عبارت کئی کئی واقعات کی شکم پری کرنے پر بس نہ ہوتی ۔ بہرحال مسیلمہ ثانی کے کاروبار نبوت میں بھی عموماً بطور گواہ پیش ہوتی رہیں ۔ مگر سوال تو یہ ہے کہ جب جبرائیل علیہ السلام کا زمین پر آنا بند اور منع ہو چکا تو یہ الہام کس طرح ٹپک پڑے۔ جن سے اس الہامی کتاب کا وجود ظہور میں آیا۔ بہر حال کوئی مسیح کا لال اس پر روشنی ڈالنے کی تکلیف گوارا کرے گا۔؟ مگر :
کہ اس نواح میں سودا برہنہ پا بھی ہے
مرزا کے دو تعجب ، مرزا کا نام لینے سے خدا بھی ڈرتا ہے
”لیکن تعجب کہ کیسے بڑے ادب سے خدا نے مجھ کو پکارا ہے کہ مرزا نہیں کہا۔ بلکہ مرزا صاحب کہا ہے۔ چاہئے کہ یہ لوگ خدا تعالیٰ سے ادب سیکھیں اور دوسرا تعجب یہ کہ باوجود اس کے کہ میری طرف سے درخواست تھی کہ الہام میں میرا نام ظاہر کیا جائے مگر پھر بھی خدا کو میرا نام لینے سے شرم دامنگیر ہوئی اور شرم کے غلبہ نے میرا نام زبان پر لانے سے روک دیا کیا میرا نام مرزا صاحب ہے کیا دنیا میں اور مرزا صاحب کے نام سے پکارا نہیں جاتا۔“
(حقیقت الوحی ص ٣٥٢، خزائن ج ٢٢ ص ٣٦٩)
ہاں صاحب آپ خواہ مخواہ تعجب وحیرانی میں غرق ہو رہے ہیں۔ آپ کا خدا تو وہ ہے جو سپاہیانہ حیثیت سے تیز تلوار لئے کھڑا رہتا ہے اور درود بھیجتا اور سلام کہتا ہے اور آپ اس کے پانی سے ہیں۔ پھر اگر وہ تمہارا ادب نہ کرے تو کیا کرے۔ جب کہ تمہارا احسان اس کی گردن پر ہے۔ آپ نے بھی تو اس کو آسمان بنا کر دیئے ۔ ستارے اور چاند بنا کر دیئے ۔ زمین کو پیدا کیا اس کے بدل میں وہ اگر آپ کا ادب کرے تو کیا مضائقہ ہے۔
مرزا کو وحی بذریعہ جبرائیل علیہ السلام آیا کرتی تھی
”جاء نی ائل واختار واذا راصبعہ واشار ان وعد الله اتی فطوبی لمن وجد ورآئی“ یعنی میرے پاس آئل آیا۔ (اس جگہ آئل خدا تعالیٰ نے جبرائیل کا نام رکھا ہے اس لئے کہ بار بار رجوع کرتا ہے) پس مبارک وہ جو اس کو پاوے اور دیکھے۔“
(حقیقت الوحی ص ١٠٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٦)
”آمد نزد من جبریل علیہ السلام و مرا برگزید و گردش داد انگشت خود را او اشارہ کرد خدا ترا از دشمنان نگہ خواہد داشت ۔“
(مواہب الرحمن ص ٦٣، خزائن ج ١٩ ص ٢٨٢)
مرزا غلام احمد قادیانی میکائیل کے لباس میں
خدا کی خدائی میں دخل، محمد کی رسالت میں مخل، قرآن پاک کی آیات میں دجل، انبیائے کرام کی طہارت میں بخل، اولیاء عظام کی شان میں، شہداء کے نام پہ، ائمہ کے کلام پر غرضیکہ کوئی طبقہ اہل اللہ سے ایسا نہ بچا۔ جس پر متنبی قادیان کا ہاتھ صاف نہ ہوا۔ ارے یہ تو سب خاکی تھے۔ پھر بھلا پنجابی نبی کس طرح پہچانا جاتا۔ جو یہ معصومین تختہ مشق نبوت نہ بنائے جاتے۔ پنجابی لوگ دوسروں کے عیب زیادہ شمار اس لئے کیا کرتے ہیں کہ انہیں بے عیب سمجھا جائے اور ایسا کرنے کو شاید وہ نشان تقدس سمجھتے ہیں۔
مرزا قادیانی کی بلند پروازی دیکھئے اور پنجابی نبوت کی شان ملاحظہ کیجئے اور اس نظریئے اور جذبے کی داد دیجئے کسی نے کیا خوب کہا ہے۔
تڑپے ہی مرغ قبلہ نما آشیانے میں
قارئین کرام! ذیل میں مرزا قادیانی کا ایک لطیف بیان ملاحظہ فرمائیں۔ گو اس میں کتابوں کے نام دیئے گئے ہیں اور بطور گواہ انہیں پیش کیا گیا ہے۔ مگر ان میں مرزا کے نام کی بشارتیں ہیں۔ ایں خیال است محال است و جنون فقط امت کی خوشنودی کے لئے یہ ٹانکے بھر دیئے گئے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں:
مرزا خدا کی مانند ہے یا خدا ہے
”صحیح بخاری اور صحیح مسلم اور انجیل اور دانی ایل اور دوسرے نبیوں کی کتابوں میں بھی جہاں میرا ذکر خیر کیا گیا ہے وہاں میری نسبت نبی کا لفظ بولا گیا ہے اور بعض نبیوں کی کتابوں میں میری نسبت بطور استعارہ فرشتہ کا لفظ آگیا ہے اور دانی ایل نبی نے اپنی کتاب میں میرا نام میکائیل
١٢٣
رکھا ہے اور عبرانی زبان میں لفظی معنی میکائیل کے ہیں۔ خدا کی مانند۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ٢٥، خزائن ج ١٧ ص ٤١٣)
مرزا آنجہانی پر درود بھیجنے کا جواز
”خدا عرش پر تیری تعریف کرتا ہے۔ ہم تیری تعریف کرتے ہیں اور تیرے پر درود بھیجتے ہیں۔“
(اربعین نمبر ٢ ص ١٤، خزائن ج ١٧ ص ٣٦١)
”سلام علیٰ ابراھیم“ ابراہیم علیہ السلام (یعنی اس عاجز پر )
(اربعین نمبر ٢ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٣٥٣)
”ان الہامات کے کئی مقامات ہیں۔ اس خاکسار پر خدا تعالیٰ کی طرف سے صلوٰۃ وسلام ہے۔“
(اربعین نمبر ٢ ص ٢١، خزائن ج ١٧ ص ٣٦٨)
”تمہیں اصحاب الصفہ دی جائے گی اور تمہیں کیا معلوم کہ اصحاب الصفہ کس شان کے لوگ ہیں۔ تم ان کی آنکھوں سے بکثرت آنسو بہتے دیکھو گے اور وہ تم پر درود بھیجیں گے۔“
(اربعین نمبر ٢ ص ٤، خزائن ج ١٧ ص ٣٥٠)
”وہ لوگ تم پر درود بھیجیں گے جو مثیل انبیاء بنی اسرائیل پیدا ہوں گے۔“
(الہام مرزا غلام احمد قادیانی منقول از رسالہ درود شریف ص ١٢٧، طبع ١٩٣٣ء)
”بعض بے خبراں، یہ اعتراض بھی میرے پر کرتے ہیں کہ اس شخص کی جماعت اس پر فقرہ علیہ الصلوٰۃ والسلام اطلاق کرتے ہیں اور ایسا کرنا حرام ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ میں مسیح موعود ہوں اور دوسروں کو صلوٰۃ یا سلام کہنا تو ایک طرف خود آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شخص اس کو پاوے (مرزا کو) میرا سلام اس کو کہے اور احادیث شرح احادیث میں مسیح موعود کی نسبت صد ہا جگہ صلوٰۃ وسلام کا لفظ لکھا ہوا موجود ہے۔ پھر جب کہ میری نسبت نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ لفظ کہا۔ صحابہ نے کہا، بلکہ خدا نے کہا، تو میری جماعت کا میری نسبت یہ فقرہ بولنا کیوں حرام ہو گیا۔“
(اربعین نمبر ٢ ص ٣، خزائن ج ١٧ ص ٣٤٩)
امت مرزائیہ کی بھی سنئے
”پس آیت ”يایها الذین آمنوا صلوا عليه وسلموا تسلیما“ کی رو سے اور ان احادیث کی رو سے جن میں آنحضرت ﷺ پر درود بھیجنے کی تاکید کی جاتی ہے۔ حضرت مسیح موعود (مرزا آنجہانی) علیہ الصلوٰۃ والسلام پر درود بھیجنا بھی اس طرح ضروری ہے۔ جس طرح آنحضرت ﷺ پر بھیجنا۔ از بس ضروری ہے۔ اس کے لئے کسی مزید دلیل اور ثبوت کی ضرورت
نہیں ہے۔ تاہم ذیل میں چند فقرات حضرت مسیح موعود مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وحی الٰہی کے بطور نمونہ نقل کئے جاتے ہیں۔ جن میں آپ پر درود بھیجنا آپ کی جماعت کا ایک فرض قرار دیا گیا ہے۔“
(رسالہ درود شریف مصنفہ محمد اسماعیل ص ١٣٦ طبع ١٩٣٣ء)
مرزا قادیانی پر درود بھیجتے وقت سرکار مدینہ کے نام کی ضرورت نہیں
”حضرت مسیح موعود کے اس ارشاد سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ پر درود بھیجنے کی یہی صورت نہیں کہ آنحضرت ﷺ پر اور آپ پر ملا کر ہی درود بھیجا جائے۔ بلکہ ایسے طور پر آپ پر درود بھیجنا بھی جائز ہے کہ بظاہر اس میں تصریح کے ساتھ آنحضرت ﷺ کا ذکر نہ ہو۔“
(رسالہ درود شریف ص ١٤ طبع ١٩٣٣ء)
اللہ اللہ یہ ہیں قادیانی محبت کے فوٹو اور بروز کی تصویریں اور ظل کے سائن بورڈ اور شاید اسی برتے پر سیرت النبی کے جلسوں کا ڈھونگ رچایا جاتا ہے۔
امت مرزائیہ کے زاویہ نگاہ میں مرزا آنجہانی کی آمد سے بعثت سرور کائنات ختم ہوگئی اور ختم المرسلین تمام ہوا۔ کافۃ للناس کی آیت یہاں تک ہی تھک کر رہ گئی اور جس طرح سابقہ انبیاء عظام کے دور ختم ہوئے اسی طرح اسلام کا دور تمام ہوا۔
یہی وجہ ہے کہ تمام مسلمانوں کو جو مرزا کے مصدق نہ ہوں۔ حرامزادے اور سور قرار دیا گیا اور عورتوں کے لئے کتیوں سے بدتر کا خطاب تجویز کیا گیا۔ افسوس اس عقل پر تف ہے اور اس فہم پر۔
میں پوچھتا ہوں کہ غلام بھی آقا ہو سکتا ہے اور وہ بھی مالک کی موجودگی میں کیا رعیت کا ادنیٰ فرد بھی بادشاہ کے ہوتے ہوئے اور برسر اقتدار بادشاہ بن سکتا ہے؟۔ کیا بیٹا باپ کے بعض فرائض خصوصی ادا کر سکتا ہے؟۔ کیا ادنیٰ مرید مرشد کی موجودگی میں سجادہ نشینی کی جگہ لے سکتا ہے؟۔ اگر ان کا جواب نفی میں ہے اور یقیناً نفی میں ہے تو ایسے مرتکب کو کس نام سے یاد کیا جائے اور ایسے مرتکب کے لئے کون سی سزا تجویز ہو سکتی ہے۔ افسوس مرزا قادیانی کا مراق لے ڈوبا۔
عہد میثاق
قارئین کرام! ذیل میں ہم ایک مختصر سا نقشہ ایسا پیش کرتے ہیں جس سے یہ بخوبی پتہ چل جائے گا کہ قادیان کے متمنی نے دامن رسالت پر کس طرح ہاتھ صاف کرنے کی ناکام کوشش کی۔ آہ سرکار دوعالم ﷺ بخدا سبز روضے میں بیچین و مضطرب ہو رہے ہیں اور حضور کی پاک واطہر روح مبارک بے قرار ہے۔ مگر افسوس نام لیوان سرکار مدینہ محو خواب ہیں اور ایسا سوئے ہیں کہ شاید
١٢٥
اٹھنا ہی بھول گئے۔ ان میں سے چند ایسے بھی ہیں جو نیم بیداری کی حالت میں بیدست وپائی کا دکھڑا رو رہے ہیں اور جو جاگتے ہیں وہ تین اقسام پر منقسم ہیں۔
- ١....... ایک وہ ہیں جو امارت کے نشے میں چور انہماک مشاغل میں مجبور امور
دینیات سے غافل بلکہ تارک الصلوٰۃ نہ حج کی ضرورت دکھاوے کی نماز اور نمود کی زکوٰۃ روزہ تو وہ رکھے جس کم بخت کو روٹی نہ ملتی ہو۔ ہاں سائن بورڈ کے لئے حج کی لازمی ضرورت ہے۔
- ٢....... دوسرے وہ ہیں جو اوسط درجے میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ان میں وہ
بھی ہیں جس کے دم سے ملت بیضاء کا نام روشن ہے۔ وہ بھی ہیں جو دین سے بیزار نظر آتے ہیں اور وہ بھی ہیں جو بات بات پر حسن عقیدت میں مقید ہو رہے ہیں۔
- ٣....... تیسرے وہ ہیں جو مفلس و نادار ہیں ایک وقت روٹی مشکل سے میسر ہوئی
تو دوسرے وقت کا اللہ حافظ ہے۔ نمازیں پڑھتے اور روزے بھی رکھتے ہیں۔ یوں تو روزہ شاید روز ازل ہی سے ان کی وراثت میں چلا آتا ہے اور بہت سے ایسے بھی ہیں جو چرس اور گانجے پہ مرتے ہیں اور بعضوں کو افیون و شراب کی لت ڈبو رہی ہے۔ سینکڑوں قمار باز ہیں تو ہزاروں ڈکیتی میں مشغول۔ نہ یہاں چوروں کی کمی اور نہ بدمعاشوں کا کال، قید خانے ان کے دم سے اور تکئے ان کے دم سے بس رہے اور آئندہ پوت تو دیکھئے کہیں پتنگ بازی ہو رہی ہے تو کہیں کوڑیوں اور گولیوں سے نشانے لگ رہے ہیں۔ غرضیکہ قوم کی حالت اس قدر زبون ہو رہی ہے کہ فناہ کے گھاٹ پہ کھڑی ہے اور خطرہ ہے کہ ایک ہی مدوجزر سے کہیں بہ نہ جائے۔
آہ یہ امت کبھی خیر الامم کہلاتی تھی اور قومیں اس کے نصب العین کی تلقین کرتی تھی وہ قوم جو اقوام عالم کی تمدنی معاشرتی علمبردار تھی۔ آج رسوا و خوار ہو رہی ہے۔ یہاں طبعاً یہ سوال ہوگا کہ ان اسباب کی علت غائی کیا ہے۔ آخر یہ خیر سے شر کیوں ہوئی۔ اس کی صرف ایک ہی وجہ ہے وہ یہ کہ اسوۂ حسنہ کی پیروی چھوڑ دی گئی اور قرآن جزدانوں میں لپیٹ کر رکھ دیا گیا۔ ایسی زبوں حالت میں اس دور جاہلیت میں اگر بناسپتی نبی پیدا نہ ہوں تو کب ہوں اور ان کو فروغ نہ ہو تو کب ہو۔
خدا کے لئے سوئی ہوئی قوم اٹھ اور دیکھ کہ سرکار دوعالم جس کی تو نام لیوا ہے کی رسالت پر کس منظم طریق سے شبخون اور ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے۔ خواب گراں سے بیدار ہو اور دیکھ کہ تیرے کملی پوش آقا کے عہد میثاق سے لے کر رخصتی تک کے انعام واکرام کو جو باری تعالیٰ سے تفویض ہوئے تھے۔ کس دیدہ دلیری سے لوٹا جا رہا ہے۔ حیف ہے تیری غفلت پر افسوس ہے تیری کثرت پر محمدی غلام کے پاک نام کی تذلیل نہ کر۔ اگر کچھ کر نہیں سکتا تو دامن رسالت سے منقطع ہو جا۔ ورنہ یہ
١٢٦
عہد کر کہ کسی متنبی کے غلام سے تعاون نہ کروں گا۔ مندرجہ ذیل واقعات پر غور کر اور غفلت پر نادم ہو اور متاع اخروی کی جوابدہی کو یاد کر اور جی کھول کر رو اور خوب رو۔
عہد میثاق اسلامی نقطہ نگاہ سے
” واذ اخذنا من النبيين ميثاقهم ومنك ومن نوح وابراهيم وموسى وعيسى ابن مريم واخذنا منهم ميثاقا غليظا ليسئل الصدقين عن صدقهم واعد للكفرين عذاباً اليما (احزاب:٧ ،٨)“ ﴿اور جب لیا ہم نے نبیوں سے ان کا اقرار اور تجھ سے اور نوح سے اور ابراہیم سے اور موسیٰ سے اور عیسیٰ علیہم السلام سے جو بیٹا مریم اور لیا ان سے گاڑھا اقرار، تا پوچھے اللہ سچوں سے ان کا سچ اور رکھی ہے منکروں کے لئے دکھ کی مار۔﴾
اس آیت کریمہ کی تفسیر حضور فخر دو عالم ﷺ نے جو بنفس نفیس بیان فرمائی وہ یہ ہے کہ خلق نظام دنیا سے قبل جب کہ ابھی ابوالبشر آدم علیہ السلام کا پتلا مٹی اور پانی کا مرکب تھا۔ اللہ تعالیٰ نے میرے لئے ارواح انبیاء علیہم السلام سے زبردست عہد لیا کہ جب وہ نبی آخر الزمان تشریف لائیں ان پر ایمان لا کر ان کی مدد و نصرت کرنا۔
مرزا قادیانی کی نظر میں
” واذ اخذ الله ميثاق النبيين لما ايتتكم من كتاب وحكمة ثم جاءكم رسول (آل عمران:٨١)“ ﴿اور یاد کر کہ جب خدا نے تمام رسولوں سے عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب وحکمت دوں گا اور تمہارے پاس آخری زمانہ میں میرا رسول آئے گا تمہیں اس پر ضرور ایمان لانا ہوگا۔﴾
”اب ظاہر ہے کہ انبیاء تو اپنے اپنے وقت پر فوت ہو چکے تھے۔ یہ حکم ہر نبی کی امت کے لئے ہے کہ جب وہ رسول ظاہر ہو تو اس پر ایمان لاؤ۔ جو لوگ آنحضرت ﷺ پر ایمان نہیں لائے خدا تعالیٰ ان کو ضرور مواخذہ کرے گا۔“ (حقیقت الوحی ص ١٣٠، ١٣١، خزائن ج ٢٢ ص ١٣٣، ١٣٤)
مرزائی نقطہ نگاہ سے
”جب اللہ تعالیٰ نے سب نبیوں سے عہد لیا ” واذ اخذ الله ميثاق النبيين لما ايتتكم من كتاب وحكمة ثم جاءكم رسول اور یاد کر کہ جب خدا نے تمام رسولوں سے عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب وحکمت دوں گا اور تمہارے پاس آخری زمانہ میں میرا رسول آئے گا تمہیں اس پر ضرور ایمان لانا ہوگا۔
النبيين میں سب انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام شریک ہیں۔ کوئی نبی مستثنیٰ نہیں۔
١٢٧
آنحضرتﷺ بھی اس النبیین کے لفظ میں داخل ہیں کہ جب کبھی تم کو کتاب اور حکمت دوں یعنی کتاب سے مراد توریت اور قرآن کریم ہے اور حکمت سے مراد سنت اور حدیث شریف۔ پھر تمہارے پاس ایک رسول آئے مصدق ہو۔ ان تمام چیزوں کا جو تمہارے پاس کتاب وحکمت سے ہیں۔ (یعنی وہ رسول مسیح موعود ہیں جو قرآن وحدیث کی تصدیق کرنے والا ہے اور وہ صاحب شریعت جدیدہ نہیں ہے) اے نبیو! تم ضرور اس پر ایمان لانا اور ہر ایک طرح سے مدد فرض سمجھنا۔ جب تمام انبیاء علیہم السلام بجملہ حضرت مسیح موعود (مرزا) پر ایمان لانا اور اس کی نصرت کرنا فرض ہو تو ہم کون ہیں جو نہ مانے۔“
(اخبار الفضل قادیان ج ٣ نمبر ٣٨، ٣٩ ص ٦، مورخہ ١٩، ٢١ ستمبر ١٩١٥ء)
اخبار الدجل کے اس مکالمے یا گندی ذہنیت کے مظاہرے پر گو ہر شریف آدمی نفریں کرے گا۔ کیونکہ آیت مذکورہ بالا کے صحیح مصداق حضور ختمی مآب سرکارِ یثرب ہیں۔ کیونکہ یہ پاک کلام انہیں پر نازل ہوا اور یہ عہد میثاق عالم ارواح میں اس وقت لیا گیا۔ جب کہ ابھی ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام کا پتلا مٹی اور پانی میں گوندھا ہوا تھا۔ حیران ہوں کہ عقل کے اندھوں کو کچھ سوجھائی نہیں دیتا کہ جب یہ آیت کریمہ حضور اکرمﷺ نے آج سے ساڑھے تیرہ سو برس پہلے بیان کی تھی تو کیا اس کا وہ اپنے آپ کو مصداق نعوذ باللہ نہ سمجھے تھے۔ یہ بشارت تو حضور اکرمﷺ نے تمام پہلی امتوں کو سنائی اور کہا تمہارے تمام آسمانی صحیفوں میں مذکور ہے۔ پھر مجھ پر ایمان کیوں نہیں لاتے اور ایک اور بھی لطیف اشارہ مرزا قادیانی کے بطلان کے لئے اس میں موجود ہے۔ وہ یہ کہ ثُمَّ جَاءَکُمْ رسول واحد کا صیغہ ہے اور عقلاً واصولاً اس کا صحیح مصداق وہی ہو سکتا ہے جو پہلے آئے اور اپنی صداقت پیش کرے۔ چنانچہ متنبی قادیان بھی اس کی تصدیق کرتا ہے کہ آیت مذکورہ بالا فخر دوعالم کے لئے ہی مختص ہے۔ مگر ان عقل کے دشمنوں کو دیکھو کہ لٹھ لئے غریب پنجابی نبی کو تو مان نہ مان میں تیرا مہمان بنا رہے ہیں۔ چنانچہ اس دجل پر لاہوری جماعت کے امیر محترم جو ایک بوڑھے آدمی ہیں بھی چلا اٹھے۔ یعنی ان کی زبان پر بھی حق جاری ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے تو اپنے دین کی مدد تائید یا حق بات کافروں سے بھی کرا دیتا ہے۔
محمد رسول اللہ آج زندہ ہوتے تو مسیح موعود پر ایمان لاتے اور بیعت کرتے
ڈاکٹر بشارت احمد صاحب فرماتے ہیں کہ ”نتیجہ ایسا دقیق تو نہیں کہ انسان سمجھ نہ سکے۔ مگر جب ایک قوم (مرزائی) اپنے نبی کو سب نبیوں سے بڑھانا چاہتی ہو تو پھر سب کچھ حلال ہو جاتا ہے۔ محمد رسول اللہﷺ کو ان نبیوں کی ذیل میں شامل کر دیا جن سے ایمان لانے اور نصرت کرنے کا اقرار لیا گیا تھا۔ گویا محمد رسول اللہﷺ آج زندہ ہوتے تو مسیح موعود پر ایمان لاتے اور
١٢٨
آپ کے ہاتھ پر بیعت کرنے اور ہر قسم کی اتباع اور نصرت کے لئے آپ کے احکام کی (یعنی پنجابی متنبی کے) پیروی کو ذریعہ نجات سمجھتے۔ کیا اس سے بڑھ کر محمد رسول اللہ ﷺ کی کوئی ہتک ہوسکتی ہے کیا اس سے صاف نظر نہیں آتا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے مقابلہ میں حضرت مسیح موعود کی (مرزا) پوزیشن کو بدرجہا بلند کرنے اور ان کو آقا کی حیثیت دینے میں نہایت جرأت سے کام لیا گیا ہے۔‘‘
(اخبار پیغام صلح ج٢٢ نمبر ٣٤ ص ٩، مورخہ ٧؍جون ١٩٣٤ء)
اخبار پیغام صلح لاہوری احمدیہ جماعت کا ہزماسٹر وائس ہے اور یہ بھی آئے دن مرزائی مرزائی سُر میں الاپتا رہتا ہے۔ تعجب ہے اس بزرگ بھوت پر جس کی زبان سے حق جاری ہونے کے بعد بھی مرزائیت کا جوا نہ اتر سکا۔ بلکہ یہ بھوت سر پر ہی سوار رہا اور مندرجہ ذیل آیات کریمہ کا سرقہ جو مرزائیت کے پہلوان جے سنگھ بہادر ثم امین الملک قادیانی ثم رو در گوپال ثم آرین کا بادشاہ ثم محمد شفیع آہ! وہ جس کے ہاتھوں تمام نبیوں کی پگڑیاں محفوظ نہ رہیں اور اس کوڑھ پر کھاج ملاحظہ ہو کہ پھر بھی وہ مسیح موعود کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ایک چوری نہیں دو نہیں دس نہیں بیس نہیں سینکڑوں خطابات رحمانیہ باتوں باتوں میں آنکھ مچولی کرتے ہوئے بڑے بڑے عقلاء کی آنکھوں میں خاک جھونکتے ہوئے روز روشن میں چہ دلاورست دزدے کہ بکف چراغ دارد کے مصداق لے کر چمپت ہوئے۔ کسی نے پیچھا نہ کیا اور بات تک نہ پوچھی کہ میاں نوری صاحب مرزائی پٹارہ میں زاغ کی چونچ میں انگور کہاں سے آیا اور کب زیب ہے یہ گنجی کے سر میں چنبیلی کا تیل کہاں سے ٹپک رہا ہے۔ یہ پہلوئے حور میں لنگور کا کیا تماشہ ہے۔ آخر اسے کیوں ڈھانپ رہے ہو یہ سیروں کستوری یہ کوکا وائن یہ عنبر کے ڈھیر اور ٹانک وائن کی پیٹیاں یہ درد دل کے بہانے اور افیون کا شوق یہ محمدی بیگم کا عشق اور بستر عیش کے الہام توبہ نعوذ باللہ آخر یہ کیا ہو رہا ہے۔ یہ تو بتلائیے کہ قرآن عزیز کی آیات کیوں چھین رہے ہو۔ گدھے کو جواہرات کے ہار کب زیب دیتے ہیں۔ یہ بندروں کو چھینٹ کے پاجامے کب بھلے معلوم ہوتے ہیں۔ سیہ فام کو صابن اور پاؤڈر ہزار بار استعمال کرا لیجئے۔ کالے کا کالا ہی رہے گا۔ عطر گلاب کی خوشبو کو بھلا مہتر کیا سمجھیں۔ یہ اندھوں کو سینما کے پلاٹ کیا لطف دیں گے۔ جب کہ دیکھنے کو آنکھیں ہی نہیں اور آنکھیں بھی وہ جو قرآن عزیز نے بتلائیں یہ آنکھیں نہیں جو سر میں تم دیکھتے ہو۔ بلکہ وہ جن کا تعارف سرکار مدینہ نے کرایا۔ ’’ولکن تعمی القلوب التی فی الصدور‘‘ یہ تو ہمارے سینے کے اندر دل کی آنکھیں جن میں نور معرفت پیدا ہوتا ہے اور جو یزدان حقیقی کو دیکھتی ہیں۔ آئیے ذرا ٹھنڈے دل سے سینے پہ ہاتھ رکھئے اور ایمان کی عینک لگا کر دل کی آنکھوں سے ایک عمیق تماشہ کیجئے کہ مندرجہ ذیل آیات جو
١٢٩
کہ سرکار دو عالم ﷺ کے انعامات ازلیہ ہیں بے محل پر زینت بخشے ہوئے بھلے معلوم ہوتے ہیں یا جعلی بھروپئے کو زیب دیتے ہیں۔
- ١...... ”هو الذى ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على
الدين كله“
(براہین احمدیہ ص ٤٩٨، حاشیہ در حاشیہ، خزائن ج ١ص ٥٩٣)
- ٢...... ”اس میں صاف طور پر اس عاجز کو رسول کر کے پکارا گیا ہے۔..... پھر اسی
کتاب میں اس مکالمہ کے قریب ہی یہ وحی اللہ ہے۔ ”محمد رسول الله والذين معه اشداء على الكفار رحماء بينهم“ اس وحی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی ..... اسی طرح براہین احمدیہ میں اور کئی جگہ رسول کے لفظ سے اس عاجز کو یاد کیا گیا ۔“
(اشتہار ایک غلطی کا ازالہ مندرجہ تبلیغ رسالت ج ١٠ص ١٤، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٣٣١ تا ٣٣٤)
- ٣...... ”قل يا ايهاالناس انى رسول الله اليكم جميعا کہہ دے اے
پنجابی نبی اے تمام لوگو میں سب کی طرف خدا کی طرف سے رسول ہو کر آیا ہوں ۔“
(البشریٰ ج ٢ ص ٥٦)
- ٤...... ”یہ بھی مجھے بتلایا گیا تھا کہ (اے مرزا) تیری خبر قرآن وحدیث میں
موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے۔ هو الذى ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله“
(اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح ص ٧، خزائن ج ١٩ص ١١٣)
- ٥...... ”وما ارسلناك الا رحمة للعلمين اور نہیں بھیجا اے مرزا ہم نے تم
کو مگر رحمت عام جہانوں کے لئے ۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ٢٣، خزائن ج ١٧ص ٤١٠)
- ٦...... ”وما ينطق عن الهوى ان هو الا وحى يوحى اور نہیں بولتا
مرزا اپنی خواہش سے بلکہ جو کچھ وہ کہتا ہے وہ وحی الٰہی ہے ۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ٣٩، خزائن ج ١٧ص ٤٢٦)
- ٧...... ”مارميت اذرميت ولكن الله رمى نہیں پھینکا اے مرزا تو نے جو
کچھ کہ پھینکا ولیکن اللہ ہی نے پھینکا۔“
(حقیقت الوحی ص ٧٠، خزائن ج ٢٢ص ٧٣)
- ٨...... ”الرحمن علم القرآن رحمٰن ہی نے اے مرزا تمہیں قرآن
سکھلایا ۔“
(حقیقت الوحی ص ٧٠، خزائن ج ٢٢ص ٧٣)
- ٩...... ”قل انی امرت وانا اوّل المؤمنين کہہ دے اے مرزا کہ میں حکم
دیا گیا ہوں اور میں سب میں سے پہلا مومن ہوں۔“
(حقیقت الوحی ص ٧٠، خزائن ج ٢٢ص ٧٣)
١٤٠
- ١٠......
بلانے والا اور چمکتا ہوا سـ
- ١١......
اور لٹک آیا قریب میر۔
- ١٢......
المسجد الاقصى سے مسجد حرمت والی سے
- ١٣......
اے مرزا اگر تم یہ چاہتے اللہ کا حبیب بنادے گی
- ١٤......
اے مرزا تم سے جن لوگو پر تیرا نہیں اللہ کا ہاتھ تھا
- ١٥......
سے مراد یہ عاجز ہے۔“
- ١٦......
مرزا قادیانی کے قدموں
- ١٧......
وما تأخر اے مـ اگلے اور پچھلے گناہ۔“
- ١٨......
فرعون رسولاً ؟ کی طرف پیامبر۔“
- ١٩......
- ......١٠ داعياً الى الله وسراجاً منيرا اے مرزا تو لوگوں کو خدا کی طرف
بلانے والا اور چمکتا ہوا سورج ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ٧٥، خزائن ج ٢٢ ص ٧٨)
- ......١١ دنی فتدلیٰ فكان قاب قوسين اوادنی اے مرزا نزدیک ہوا تو
اور لٹک آیا قریب میرے پس رہ گیا فرق دو کمان کے برابر۔“
(حقیقت الوحی ص ٧٦، خزائن ج ٢٢ ص ٧٩)
- ......١٢ سبحان الذي اسرى بعبده لیلا من المسجد الحرام الى
المسجد الاقصیٰ پاک ہے وہ مولا جو لے گیا اپنے بندے مرزے کو ایک تھوڑے حصہ رات سے مسجد حرمت والی سے مسجد اقصیٰ تک۔“
(حقیقت الوحی ص ٧٨، خزائن ج ٢٢ ص ٨١)
- ......١٣ قل ان كنتم تحبون الله فاتبعونى يحببكم الله کہہ دے
اے مرزا! اگر تم یہ چاہتے ہو کہ اللہ تمہیں محبت کرے تو پس مرزے کی تابعداری کرو اور یہ غلامی تمہیں اللہ کا حبیب بنا دے گی۔“
(حقیقت الوحی ص ٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ٨٢)
- ......١٤ ان الذين يبايعونك انما يبايعون الله يد الله فوق ايديهم
اے مرزا تم سے جن لوگوں نے بیعت کی درحقیقت انہوں نے اللہ سے بیعت کی۔ ان کے ہاتھوں پر تیرا نہیں اللہ کا ہاتھ تھا۔“
(حقیقت الوحی ص ٨٠، خزائن ج ٢٢ ص ٨٣)
- ......١٥ سلام علیٰ ابراهيم سلام ہے اے مرزا تیرے پر۔ اس جگہ ابراہیم
سے مراد یہ عاجز ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ٨٧، خزائن ج ٢٢ ص ٩٠)
- ......١٦ فاتخذوا من مقام ابراهيم مصلیٰ پس بنالو اے مرزائیو!
مرزا قادیانی کے قدموں کو مصلے۔“
(حقیقت الوحی ص ٨٨، خزائن ج ٢٢ ص ٩١)
- ......١٧ انا فتحنا لك فتحا مبينا ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك
وما تأخر اے مرزا ہم نے تم کو کامیاب کیا اور ظاہر فتح دی اور بخش دیئے اللہ نے تیرے تمام اگلے اور پچھلے گناہ۔“
(حقیقت الوحی ص ٩٤، خزائن ج ٢٢ ص ٩٧)
- ......١٨ انا ارسلنا اليكم رسولاً شاهدًا عليكم كما ارسلنا الى
فرعون رسولا ہم نے بھیجا مرزے کو تمہاری طرف گواہی دینے والا رسول جیسا کہ بھیجا فرعون کی طرف پیامبر۔“
(حقیقت الوحی ص ١٠١، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٥)
- ......١٩ انا اعطینٰک الكوثر اے مرزا ہم نے تم کو کوثر عطاء کیا ۔“
(حقیقت الوحی ص ١٠٢، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٥) .
١٤١
- ٢٠........ ’’اراد الله ان يبعثك مقاما محمودا اے مرزا خدا کا یہ ارادہ ہے
کہ تم کو تعریف کئے ہوئے مقام پر پہنچاوے۔‘‘
(حقیقت الوحی ص١٠٢، خزائن ج٢٢ ص١٠٥)
- ٢١........ ’’يسين انک لمن المرسلين على صراط مستقيم اے مرزا تم
قسم ہے مجھے اپنی اس پڑھی جانے والی کتاب کی یعنی فرقان حمید کی کہ تو میرے بھیجے ہوؤں سے ہے اور اس راہ پر ہے جو سیدھی ہے۔‘‘
(حقیقت الوحی ص١٠٧، خزائن ج٢٢ ص١١٠)
ناظرین! کی خدمت میں مشتے نمونہ از خروارے ان پاک ارشادات ازلیہ سے پیش کیا گیا ہے جو مرزا قادیانی نے فرقان حمید سے سرقہ کر کے اپنے اوپر چسپاں کیں اور یوں تو کوئی ہی شاید آیت ایسی باقی بچی ہو گی جسے مرزا قادیانی کی نظر بد نہ لگی ہو۔ ورنہ دیدہ و دانستہ تو کوئی ایسا ایک انعام چاہے وہ کسی پیامبر کی تائید وحمایت میں مشیت ایزدی سے نزول فرما ہوا مگر جھوٹے نبیوں کے پہلوان نے سینہ زوری سے ڈانٹا کہ جاتا کہاں ہے آخر میں بھی تو جے سنگھ بہادر ہوں۔ یہ سکھوں کے بچے، فولاد کے چنے بھی نہ چھوڑے تو ہڑپ کر کہاں جاسکتا ہے۔ کوئی الہام اور دیکھا تو کہا ارے ہٹ تیرے کی بھاگا کہاں جاتا ہے۔ تجھے پتہ نہیں کہ میں کرشن کا بروز ہوں۔ وہ مکھن چور تھا میں الہام چور ہوں۔ مماثلت چاہئے چاہے چوری ہی کی ملے۔
تعجب ہے مرزا قادیانی کے اس فعل پر حیرانگی ہے۔ پنجابی نبوت کے اس نظریئے پر، آخر یہ الہامات کی چوری کیوں کی گئی اور ان سے کیا مقصود تھا۔ کیا دنیا کے عقل و تدبر پر تالے پڑ گئے۔ ان پڑھے لکھوں کو دیکھو کہ ان کی مرزائیت کیا ہوئی اور ان مولوی نما مرزائیت کے شتر مرغوں کی عقل کا ماتم کرو کہ یہ کس برتے پر کفریت کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں۔ ان کے پلے کیا ہے۔
اوہام باطلہ کا ایک چکر یا خرافات واہیہ کا ایک پلندہ عقل حیران ہے کہ مرزا قادیانی کو ان لوگوں نے کیا سمجھا کیا نبی امی جانے بھی دو اور جھوٹے پر ہزار لعنت بھیجو۔ وہ تو اس پاکوں کے پاک اور خاصوں کے خاص رحمت عالم پر آج سے تیرہ سو برس پہلے ختم ہو چکی۔ پھر کیا سمجھا ظلی نبی سبحان اللہ کیا کہا ظلی نبی یہ ظل و بروز یہ تشریعی وغیرہ محض دھوکے کی ٹٹیاں اور مغالطہ کی چیزیں ہیں۔ میاں بروز و براز اللہ والوں میں کہاں۔ بھلا کوئی ایک نبی ایسا بتا سکتے ہو جس نے ایک لاکھ چوبیس ہزار کی تعداد میں یہ بروز و روز کی بڑھ ہانکی۔ بھائی یہ چکمہ بھی ایک سنہری دجل ہے۔ حدیث موجود ہے۔ قرآن عزیز زبان حال سے پکار پکار کر اس کی نفی کر رہا ہے۔ پھر کیا سمجھا گیا مجدد تو یہ بھی اس نام پاک کی یوں توہین نہ کرو۔ مجدد تو وہ پاک لوگ ہوئے جنہوں نے دین حقہ کی انتہائی خدمت کی اور رسول اکرم کی سنت کو سینے سے لگایا۔ خود عمل کیا اور دوسروں سے کروایا۔ بڑے بڑے اکبر و جابر
١٣٢
توحید کی چوکھٹ پر جھکنے پر مجبـ نیاز ہی رہے۔ نہ دنیوی جاہ محمد ﷺ کی غلامی کو وہ فخر سمجھے سمجھی گئی۔
خاک پاک سر نقشبند امام احمد صاحب مجدد نہایت ادب واحترام سے لـ مقبرہ کی بنیاد رکھی۔ ظلی بروز دیکھنے والوں کو اصحاب کہـ ومسجد حرام کی نقلیں کیں اور ا بدتر کہا اور سب سے بڑا ظلـ کیا مجدد صاحب حکومت وقـ آئندہ خدمت دین سے کتـ خدمات کے عوض کوئی انعام تو دو چار الفاظ ہی باعث برکـ عورت کا ہوا۔ نعوذ بالله
بھی آخر تم نے والوں کی ہے اور وہ بھی ان حکومت کے غلام ، محمد مصطفیٰ دروازے پر بھیک نہ مانگے چھوڑے گا۔ پھر کیا سمجھے کچھ ہے۔ سب سے بڑے امام جو عین جوانی میں تپتی ہوئی یزیدی افواج یا دشمنانِ اہل چمنستانِ زہراؓ کی شاخِ شانہ تقویٰ اور رضائے مولا پر شـ
توحید کی چوکھٹ پر جھکنے پر مجبور ہوئے۔ حکومت وقت ان کی باندی اور لونڈی بنی۔ مگر وہ پھر بھی بے نیاز ہی رہے۔ نہ دنیوی جاہ و حشمت کے وہ طالب ہوئے اور نہ ہی اس کی کبھی خواہش پیدا ہوئی۔ محمد ﷺ کی غلامی کو وہ فخر سمجھے اور درویشی کلاہ و فقر کی گدڑی تاج اور دوشالے سے بدرجہا تم افضل سمجھی گئی۔
خاک پاک سرہند شریف کے میٹھی نیند میں مزے سے سونے والے جناب سرتاج نقشبند امام احمد صاحب مجدد الف ثانی کو دنیا جانتی ہے اور آپ کا نام نامی و اسم گرامی قیامت تک نہایت ادب و احترام سے لیا جائے گا۔ مگر کیا آپ نے کوئی جماعت بنائی منارہ تعمیر کیا۔ دوزخی مقبرہ کی بنیاد رکھی۔ ظلی بروزی نبی کی جدت اختیار کی۔ اپنی بیویوں کو امہات المؤمنین قرار دیا۔ دیکھنے والوں کو اصحاب کہا۔ خلافت کی دوکان کھولی۔ قرآن عزیز کے الہام چرائے مسجد اقصیٰ و مسجد حرام کی نقلیں کیں اور اپنے نہ ماننے والوں کو جنگلوں کے سور اور ان کی عورتوں کو کتیوں سے بدتر کہا اور سب سے بڑا ظلم یہ کہ کافر کہا اور ذریعہ نجات کی ٹھیکداری کے اجارہ دار خود ہوئے۔ کیا مجدد صاحب حکومت وقت سے کبھی مرعوب ہوئے اور معمولی افسروں کو اقرار نامہ لکھ دیا کہ آئندہ خدمت دین سے کنارہ کش رہوں گا اور خدائی احکام کی تعمیل نہ کروں گا۔ یا کہ مجھے میری خدمات کے عوض کوئی انعام دو اور اگر وہ نہیں دیتے تو کوئی خطاب ہی دے دو۔ اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو دو چار الفاظ ہی باعث برکت بطور تبرک میرے خط کے جواب میں لکھ دو کیا عشق مجازی اور وہ بھی عورت کا ہوا۔ نعوذ باللہ!
بھئی آخر تم نے مجددیت کو کیا سمجھ رکھا ہے۔ میاں کیا ظلم کرتے ہو یہ تعریف تو دنیا والوں کی ہے اور وہ بھی ان لوگوں کی جنہیں ٹوڈیان عظام والاشان کہا جاتا ہے۔ اللہ والے اور حکومت کے غلام، محمد مصطفیٰ ﷺ کے عاشق اور کاسہ لیس؟ سرکار مدنی کا تو کتا بھی کبھی غیر کے دروازے پر بھیک نہ مانگے گا۔ وہ مرجائے گا اور یہ خوشی سے پسند کرے گا مگر آقا کا دروازہ کبھی نہ چھوڑے گا۔ پھر کیا سمجھے کچھ تو کہو امام، اللہ اللہ امام یہ وہ پاک نام ہے جس کی تعریف کارے دارد ہے۔ سب سے بڑے امام جناب فاطمہؓ کے لال اور امیر المومنین علی مرتضیٰؓ کے جگر پارے تھے۔ جو عین جوانی میں تپتی ہوئی ریت جس پر نیر اعظم اپنی پوری طاقت سے آگ برسا رہا تھا اور پانی پر یزیدی افواج یا دشمنان اہل بیت اطہارؓ کا قبضہ ہو چکا تھا اور قیامت یہ کہ ننھے معصوم بچوں کا سہم اور چمنستان زہراؓ کی شاخ شاخ پات پات اور ڈال ڈال کی اضطرابی و بیقراری کے ساتھ ساتھ خدائی تقویٰ اور رضائے مولا پہ شاکر رہنے کا عزم اس اولوالعزم ہستی نے اپنی ان دو آنکھوں سے دیکھا۔
١٤٣
جسے حضور اکرم سرکار یثرب ﷺ گھنٹوں بوسے دے دے کر سیر نہ ہوتے تھے۔ اللہ اللہ اس غریب الوطن معصومیت کے پیکر نے جس کے سامنے آنے سے نجران کے عیسائیوں کو یارا نہ ہوا اور مباہلہ کی تاب نہ لاتے ہوئے گھروں میں دبک کر بیٹھ جانے کو ترجیح دی۔ کیا کیا نہ مشاہدہ کیا۔ میں صاحب اولاد بزرگوں کو ان کی اولاد کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ خدارا وہ بتائیں کہ وہ سچائی و معصومیت کا شہزادہ جس کے نانا کا کفن بھی ابھی میلا نہ ہوا تھا اور جس کا کلمہ ربع مسکون سے زیادہ دنیا پڑھتی اور سچا رسول سمجھتی اس کے نواسے پر بیس ہزار کا جرار لشکر صرف اس لئے مسلط کیا گیا کہ وہ بانی اسلام کے اس قول کو بدل دے۔
”عن ابي هريرة قال قال رسول الله ﷺ اذا كان امراء كم خياركم واغنياء كم سمحاء كم واموركم شورى بينكم فظهر الارض خير من بطنها واذا كان امرائكم شراركم واغنياء كم بخلاء كم واموركم الى نساء كم فبطن الارض خير لکم من ظهرها (الترمذى ج ٢ ص ٥٢ ، كتاب الفتن) “ ﴿ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا جب کہ تمہارے امیر نیک ہوں اور غنی سخی ہوں اور تمہارے مشورے باہمی اتفاق پر مبنی ہوں اس وقت تمہارا زمین پر رہنا دفن ہونے سے بہتر ہے اور جب کہ تمہارے امیر شریر اور غنی بخیل ہوں اور تمہارے کام عورتوں کی رائے پر چلیں اس وقت تمہارا دفن ہونا زمین پر رہنے سے بہتر ہے۔﴾
مگر کیا جگر گوشہ بتولؓ نے اس کو قبول کیا کہ شرار کو امام تسلیم کرے۔ نہیں کیا تو کیا کیا۔ بچے دیئے، بھانجے دیئے۔ بیٹوں کے سر دیئے، بھتیجوں کو جنت بھجوایا۔ اقربین کی قربانیاں دیں۔ مچلتی اور دم توڑتی ہوئی لاشیں آنکھوں کے سامنے دیکھیں۔ سید زادیوں کے آخری نتیجہ پر غور کیا خیموں کے لٹنے اور پابہ زنجیر ہونے کا نقشہ تصور میں دیکھا۔ یہ سب کچھ گوارہ کیا بہتر تن دیئے مگر نانا کا قول عزت و احترام کے مراتب سے گرنے نہ دیا اور نہ دیا تو ایمان، یہ تھی آن امامت، دور کیوں جاتے ہو غلامان سید الشہداء کی اقتداء میں ہاں ہاں اس شجر مقدس کی شاخیں اور کونپلیں ایسی ہوئیں جسے سیدہ کے لال نے اپنے مطہر و پاک خون سے سینچا تھا۔ امام ابو حنیفہؒ کے بعد امام احمد بن حنبلؒ ہوئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کہ چار دانگ عالم میں اسلام کا طوطی بول رہا تھا اور تخت خلافت پر خلیفہ منصور عباسی متمکن تھا۔ کم بختی جو سر پر سوار ہوئی تو نامۂ اعمال میں سیاہی کے سامان یوں مہیا ہوئے۔ اس کو یہ وہم دامنگیر ہوا کہ قرآن عزیز مخلوق ہے۔ ”الدین ملوککم“ کے مصداق عوام بالعموم اور خواص بالخصوص
١٤٤
اس نظریئے کے مصدق ومؤید ہوئے۔ خدا کا کلام مخلوق کے ہاتھوں کھلونا بن گیا۔
سچ ہے دنیا خدا کے بندوں سے کبھی خالی نہیں ہوئی اور جب ہوگی وہی روزِ قیامت ہوگا۔ چنانچہ جب امام صاحب موصوف کو اس کی خبر ہوئی تو آپ نے حکومت وقت کے اس نظریئے کی پرزور تردید کی اور اعلان کر دیا کہ ایسا عقیدہ کفر ہے۔ مگر اس حق گوئی کی پاداش میں وہ مصائب آپ پر وارد ہوئے جن کا تصور بھی رونگٹے کھڑے کرتا ہے۔
علمائے وقت حضرت امام کے علم وفضل سے پہلے ہی رقیب بنے بیٹھے تھے اور مدت سے موقعہ کے متلاشی گویا ادھار کھائے بیٹھے تھے۔ اس کو غنیمت سمجھا اور جھٹ دربارِ منصور میں گئی لپٹی کرنے لگے۔ بالآخر خلیفہ منصور ان کے جھانسے میں آگیا اور ایسا آیا کہ عقل وخرد کو خیر باد کہتا ہوا ان کے ہاتھوں کٹھ پتلی بن گیا۔
جناب امام کی برسرِ دربار طلبی ہوئی اور وہ تمام عالم جو رقابت کی وجہ سے سرمہ بن چکے تھے موجود تھے۔ آپ سے پوچھا گیا کہ قرآن عزیز خالق ہے یا مخلوق۔ آپ نے نہایت وقار ومتانت سے جواب دیا خالق۔ یہ سنتے ہی خلیفہ کی جبین پر شکن پڑے اور مارے غصہ کے لال پیلا ہو گیا اور بولا کہ تم غلط کہتے ہو اپنے لفظ واپس لو۔ قرآن مخلوق ہے اس پر تمام علمائے وقت نے ہمنوائی کی اور تائیدی الفاظ کہے کہ قرآن عزیز مخلوق ہے۔ مگر امام صاحب کوہ پیکر کی طرح ڈٹ گئے اور مرعوبیت کو پاس بھی پھٹکنے نہ دیا اور کہا خدا کا کلام کبھی مخلوق نہیں ہو سکتی اور احمد کے لب مرتے دم تک اس کو مخلوق نہ کہیں گے۔
یہ سنتے ہی منصور جھلایا اور جلاد طلب کرنے سے پہلے کہا کہ آپ کو یہ آخری ایک اور موقعہ دیا جاتا ہے سوچ کر جواب دو۔
جلاد سر پر کھڑا حکم کا منتظر ہے اور جناب امام نتیجۂ انکار کو جانتے ہیں کہ مارے کوڑوں کے پیٹھ ادھیڑ دی جائے گی اور کوئی پوچھنے والا بھی نہ ہوگا۔ مگر استقلال ملاحظہ کیجئے اور قوتِ ایمان دیکھئے، فرماتے ہیں کہ اے خلیفہ اگر تو کوڑوں سے احمد کی جان بھی نکلوا دے تو منظور۔ مگر قرآن عزیز کو مخلوق کبھی نہ کہوں گا۔
اللہ اللہ یہ تھا جرم جس کی پاداش میں کوڑے پڑنے شروع ہوئے۔ پہلی ضرب پر الحمدللہ منہ سے نکلا دوسری پر انا للہ سنائی دیا اس کے بعد آپ بے ہوش ہوگئے۔ مگر کوڑوں کی بارش بدستور ہوتی رہی۔ یہاں تک کہ انکا جسم مبارک خون سے لالہ زار ہو گیا۔ سزا کے بعد جب کچھ ہوش آیا تو مسجد کو چل دیئے اور حالت یہ تھی کہ بدن سے لہو جاری تھا اور کپڑے حنائی ہو رہے تھے۔ اسی حالت
١٣٥
میں آپ نے نماز کے لئے کھڑے ہو گئے تو لوگوں نے کہا کہ آپ کی نماز نہیں ہوئی۔ کیونکہ لہو کے بہتے وقت نماز نہیں ہوتی۔ آپ نے جواب دیا۔ اگر عمر فاروقؓ کی نماز اور سیدالشہداء جگر گوشہ بتول زہراؓ کی نماز ہو گئی ہے تو میری کب رہے گی اور اگر ان کی نہیں ہوئی تو میری بھی نہ سہی۔
آخر مرزا قادیانی کو کیا کہیں اور کس خطاب سے یاد کریں۔ یہاں کا تو باوا آدم ہی نرالا ہے۔ یہ بے پیندے کا لوٹا تو سیمابی حالت میں ہمہ وقت بے قرار رہتا ہے۔ کہاوت ہے اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی۔ کوئی بھی نہیں۔ کسی نے اونٹ سے پوچھا کہ نتھے میاں۔ تمہاری سواری میں لہائی اچھی یا چڑھائی تو زبان حال سے جواب ملا کہ ہر دو لعنت۔ پھر مرزا قادیانی کو کس طرح سے یاد کریں۔ کیا مسلمان کہیں، نہ صاحب اس کی بھی وہ مستحق نہیں۔ تو نام کی وجہ سے یعنی غلام احمد، احمد کے غلام کے باعث آقائے نامدار محمد مصطفیٰ ﷺ کی غلامی کا دعویٰ معلوم ہوتا ہے۔ مگر یہ نام تو ان کے والدین نے رکھا تھا۔ نام کی وجہ سے مسلمان سمجھ لیں تو ہم کب اعتراض کرتے ہیں۔ مگر عمل کے باعث وہ اس کے بھی اہل ثابت نہیں ہوتے۔ مسلمان کی تعریف تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم پر سر تسلیم خم کرنے والا جس شخص میں بھی یہ صفت پائی جائے کہ وہ احکام خداوندی کے سامنے بلا چون و چرا سر جھکا دے وہ مسلمان ہے اور اس کی ترقی کے مدارج ہیں۔ اوّل متقی اور دوم مومن اور جب تک وہ ان دونوں میں سے ایک کی صفات اپنے اندر جذب نہیں کر لیتا اللہ تعالیٰ کے انعامات کا حقدار نہیں۔ قرآن عزیز کے شروع الفاظ پر غور کیجئے۔ ”الحمد للہ رب العالمین، الرحمن الرحیم “ خیال کیجئے کلام مجید نے کیا عجیب بات پیش کی۔ سب سے پہلے اپنی واحدانیت کا ثبوت پیش کیا اور فرمایا کہ سب تعریف اللہ ہی کو ہے جو تمام جہانوں کا پرورش کنندہ ہے۔ اس آیت شریفہ میں ایک عام چیز پیش کی یہ نہیں کہا کہ الحمد للہ رب المسلمین نہیں بلکہ کہا تو یہ کہا وہ خدا جو کالے اور گورے، حبشی و عجمی، رومی و شامی غرضیکہ تمام دنیائے جہان کی اقوام عالم کی ربوبیت فرماتا ہے اور وہ بھی بلا مانگے روزی دیتا ہے اور ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے روزی بند نہیں کرتا۔ بلکہ بلا مانگے رحم بھی کرتا ہے۔ وہ طرح طرح کی بداعمالیاں کرتے ہیں اور نوع نوع کے ظلم ایجاد کرتے ہیں مگر وہ غفور الرحیم اس قدر شفیق و حلیم ہے۔ دیکھتا ہے کہ میرے احکام سے کوسوں دور پڑے ہیں۔ چلن بد سے بدتر ہو رہے ہیں۔ جاہل ہیں نادان ہیں سرکش ہیں۔ مگر پھر بھی میری عاجز مخلوق ہے۔ اس لئے دریائے عفو و رحمت بھی اسی فراوانی و ارزانی میں ٹھاٹھیں اور موجیں مارتا ہوا گناہوں کے دھونے کو موجود ہے۔ مبارک ہیں وہ جو اس سمندر سے فیضیاب ہوئے۔ خوش قسمت ہیں وہ جو اس چشمہ رحمت سے سیراب ہوئے۔
١٣٦
یہاں یہ سوال کیا جائے گا کہ وہ کون لوگ ہیں جو نعمت عظمیٰ سے بہرہ ور ہوئے۔ جواب یہ ہے کہ وہ خوش نصیب ہیں جو باری تعالیٰ کے وعید پر یقین لائے۔ مگر کیسا یقین جو دل کی عمیق ترین گہرائیوں کے اندر پیدا ہوتا ہے اور خوفِ خدا سے لبریز رہتا ہے۔ چنانچہ ان کی تعریف الفاظ قرآنی میں حسب ذیل بیان ہوئی۔ مہربانی کر کے اس مضمون کو دل کے کانوں سے سنو اور قلب کی منور آنکھوں سے دیکھو۔ کیونکہ ہر آیت جہاں ڈرنے والوں کی تعریف کرے گی وہاں پنجابی نبوت کا بھی پول کھولے گی۔ یہ ایک کھلی پیشگوئی ہے جو غفور جہاں نے بیان فرمائی اور جس کو تم روز پڑھتے ہو۔ مگر خیال نہیں کرتے۔ مہربانی کر کے ذرا یکسوئی سے توجہ فرمائیں۔
امت محمدیہ کے متعلق
”الم ٠ ذالك الكتاب لاريب فيه ٠ هدى للمتقين ٠ الذين يؤمنون بالغيب ويقيمون الصلوة ومما رزقنهم ينفقون ٠ والذين يؤمنون بمآ انزل اليك ومآ انزل من قبلك وبالآخرة هم يوقنون ٠ اولائك على هدى من ربهم واولائك هم المفلحون (البقرہ:١تا٥)“
فرمایا اس کتاب میں منجانب اللہ ہونے میں کچھ بھی شک نہیں۔ بے شک یہ کلام ہدایت خلق کے لئے ہماری ہی جانب سے بھیجی گئی ہے۔ مگر یہ ان سعید لوگوں کو راہ دکھاتی ہے جو اپنے دلوں کے اندر خوف خدا رکھتے ہیں۔ کائنات عالم کو دیکھتے ہوئے اس کے حقیقی صناع کو تلاش کرتے ہیں۔ دنیا میں فساد نہیں کرتے۔ بلکہ مالک کون و مکاں کی گوناگوں رنگ برنگ گل کاریوں کی تعریف میں رطب اللسان رہتے ہیں اور ہر ایک موقعہ پر لمحہ بہ لمحہ اٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے، چلتے، پھرتے اس کا خوف اپنے دلوں میں جاگزیں رکھتے ہیں۔ وہ کبھی بے باک نہیں ہوتے۔ بلکہ وہ ہمیشہ ڈرتے رہتے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جو بن دیکھے میری ذات پر ایمان لائے اور ان کے دلوں میں یہ یقین پیدا ہوا کہ دنیائے عالم کو پیدا کرنے والی وہ ذات قدیم ہے جو بن مانگے روزی دیتی اور رحم کرتی ہے۔ حالانکہ انہوں نے اپنی ظاہری آنکھ سے مجھے دیکھا نہیں۔ مگر ان کی باطنی آنکھیں مجھے دیکھ چکیں کہ ہمارا پروردگار تو وہ پاک ذات ہے جس نے ہمارے لئے دنیا گلزار بنائی اور روز حساب کا بھی وہی مالک ہے جو ابدی گلزار کا مالک ہمیں بنا دے گا۔ اس لئے وہ میری پاکی بیان کرتے ہیں اور اپنی عاجزی سے لبریز نمازوں کو میرے لئے سیدھا کرتے ہیں اور جبین نیاز میرے دربار میں پانچ وقت جھکاتے اور جن مال و املاک کا ہم نے ان کو وارث بنایا ہے اسے جائز طریق سے خرچ کرتے ہیں اور میری خوشنودی حاصل کرنے کے لئے محتاجوں، بیواؤں، یتیموں
۔ ١٣٧ ۔
اور خیر کے کاموں میں صرف کرتے ہیں اور یہ محمدی لوگ اس بات پر بھی پورا پورا بھروسہ ویقین رکھتے ہیں کہ جو کچھ بھی تو ان کو سناتا اور حکم دیتا ہے اسے وہ میری ہی جانب سے سمجھتے ہیں اور وہ اس بات پر بھی یقین رکھتے ہیں کہ آپ سے پہلے جس قدر انبیاء ہوئے وہ بھی حق پر تھے اور ان کا کلام بھی سچا اور منجانب خدا تھا اور یہ لوگ اس بات پر بھی پورا پورا اعتماد رکھتے ہیں کہ ہمارے اعمال کی جزا وسزا ایک دن ضرور ہوگی جو قیامت کے نام سے منسوب ہے۔ اے محمد ! تم گواہ رہو کہ یہی وہ لوگ ہیں جو میری بادشاہت کے وارث ہیں۔ کیونکہ انہوں نے سیدھی راہ کو پہچان لیا۔ یعنی پیروی پہ گامزن ہوئے اور تحقیق مراد کو منزل مقصود پر پہنچ گئے۔
امت مرزائیہ کے متعلق
”ان الذين كفروا سوآء عليهم ءانذرتهم ام لم تنذرهم لايؤمنون ٠ ختم الله على قلوبهم وعلى سمعهم وعلى ابصارهم غشاوة ولهم عذاب عظيم ٠ ومن الناس من يقول آمنا بالله وباليوم الاخر وماهم بمؤمنين ٠ يخادعون الله والذين آمنو ومايخدعون الا انفسهم ومايشعرون ٠ فى قلوبهم مرض فزادهم الله مرضا ٠ ولهم عذاب اليم بماكانوا يكذبون ٠ واذا قيل لهم لاتفسدوا فى الارض قالوآ انما نحن مصلحون ٠ الا انهم هم المفسدون ولكن لايشعرون ٠ واذا قيل لهم آمنوا كما آمن الناس قالوآ انؤمن كمآ آمن السفهاء ٠ الآ انهم هم السفهاء ولكن لايعلمون ٠ واذا لقوا الذين آمنوا قالوآ آمنا ٠ واذا خلوا الى شياطينهم قالوآ انا معكم انما نحن مستهزؤن ٠ الله يستهزئ بهم ويمدهم فى طغيانهم يعمهون ٠ اولائك الذين اشتروا الضلالة بالهدى فما ربحت تجارتهم وماكانوا مهتدين (البقره : ٦ تا ١٦)“
میری مخلوق سے کچھ وہ بھی ہیں کہ جنہوں نے مجھ سے روگردانی کی اور کنارہ کش ہوئے۔ یعنی مسیلمہ کذاب واسود عنسی کے پیرو بنے یا کسی اور نبوت کے دل دادہ وشیدائی ہوئے تو اے میرے حبیب گو تیری سوانح حیات ان کے لئے مشعل ہدایت ہی کیوں نہ ہو۔ گو تیرا اسوۂ حسنہ پکار پکار کر درس عبرت ہی کیوں نہ دے۔ گو شاخ شاخ وپات پات زبان حال سے تیری سچائی کی شہادت ہی کیوں نہ دے۔ مگر یہ لوگ کبھی راہ راست پر نہ آئیں گے۔ کیونکہ حق سے منہ موڑ کر باطل کو قبول کیا۔ اس لئے ان کے دل کے شیشے اندھے ہوگئے۔ ان کے دل کی آنکھیں بینائی سے
١٣٨
محروم ہو چکیں اور ان کے دل کے کان بہرے ہو گئے ۔ اس لئے کہ انہوں نے سیدھی لائن سے منہ موڑا اور برانچ لائن سے دل جوڑا۔ اس لئے وہ طرح طرح کے مصائب و آلام میں پھنس کر نور ایمان سے خالی ہو گئے۔
ان میں کے بعض وہ لوگ ہیں جو توحید ورسالت وقیامت پر ایمان لانے کا ڈھنڈورہ بھی پیٹتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اور رسول اکرم کی رسالت کا اور روز حساب کا اقرار کرتے ہیں اور ہمارا اس پر کامل ایمان ہے کہ یہ تمام چیزیں برحق ہیں۔ مگر حالت یہ ہے کہ یہ لوگ کہنے کو تو کہہ جاتے ہیں مگر اس پر ان کا یقین ہر گز نہیں اور یہ لوگ ایسا کیوں کرتے ہیں۔ یہ صرف اس لئے کہ مجھ کو اور میرے ایماندار بندوں کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں۔ مگر حالت یہ ہے کہ یہ دغا بازی نہ خدا سے کر سکتے ہیں اور نہ ہی ایمانداروں سے ۔ بلکہ یہ دھوکہ اپنی ہی جانوں کو دے رہے ہیں ولیکن نہیں سمجھتے کہ یہ دھوکہ ہمیں ہی الٹا لگ رہا ہے اور یہ کیوں نہیں سمجھتے اس کی وجہ یہ ہے کہ چونکہ ان کے دل کی بینائی غصب ہو چکی ہے اور وہ زنگ آلود ہو گیا۔ اس دھوکہ دہی سے اور بھی قدرتاً وہ نکما اور زنگاری ہوا۔ مگر ان کو دھوکہ وفریب کاری کا پتہ تب لگے گا جب ان کو ایک زبردست دکھ ومصیبت میں ڈال دیا جائے گا ۔ یہ اس لئے کہ وہ جھوٹ بول کر دھوکہ دہی سے کام لیا کرتے تھے اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اے اللہ کے بندو ملک میں فساد نہ کرو کسی مذہب کو برا نہ کہو اور بانی مذہب کی توہین نہ کرو۔ مسلمانوں کو گالیاں مت دو ۔ مکان نہ جلاؤ۔ قتل نہ کرو اور شریفوں پر عرصہ حیات تنگ نہ کرو تو وہ جواب دیتے ہیں کہ واہ صاحب واہ ہم تو دنیا کو سنوار رہے ہیں۔ بھلا ہم فسادی تھوڑے ہیں۔ ہم تو اسلام کے تعمیر کنندگان ہیں۔ مگر حالت یہ ہے اور اس کو اچھی طرح ذہن نشین کر لو کہ تحقیق یہی لوگ تخریب کنندگان ہیں ۔ مگر اپنے اس فعل قبیح کو نہیں سمجھتے اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ایمان لاؤ اس خدا پر جس نے محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین کر کے بھیجا اور اس رسول پر جس نے خاتم کی تفسیر لا نبی بعدی سے اور جیسا کہ امت خیر الانام اس پر ایمان لائی تو کہتے ہیں کہ کیا ہم ایمان لائیں بغیر سوچے سمجھے ۔ جیسا کہ نادان و بیوقوف ایمان لائے ۔ حالانکہ جس دین میں نبوت بند ہو چکی وہ مردہ ہے ۔ ارشاد ہوا ۔ یاد رہے وہی کم بخت بیوقوف ہیں۔ مگر اپنی بدبختی کو نہیں سمجھتے اور حالت یہ ہے کہ جب ملاقات کرتے ہیں ایمان والوں سے یا ڈھونگ رچاتے ہیں سیرت النبی کے اجلاس کا تو ایمانداروں سے برملا وعلی الاعلان کہتے ہیں کہ ہم کلی ایمان لائے خاتم النبیین کی رسالت پر اور حالت یہ ہے کہ ان کے مدنظر مرزا قادیانی کی تعلیم ہوتی ہے۔ کہنے کو تو کہہ جاتے ہیں مگر دل میں مرزا قادیانی کے دعاوی
١٤٩
یہ ہوتے ہیں۔ جیسا کہ اس شعر سے پتہ چلتا ہے:
منم محمد واحمد کہ مجتبیٰ باشد
(تریاق القلوب ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ١٣٢)
مگر جب فراغت پاتے ہیں اور اوقات فرصت میں اپنے ہمجولیوں سے تبادلہ خیال ہوتا ہے تو کہتے ہیں کہ کیوں صاحب کس صفائی سے جھانسہ دیا اور ایسا الو بنایا کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ پھر آپس میں اس دجل آمیزی اور مغالطہ دہی پر مذاق و ہنسی بھی اڑاتے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کم بختوں کی ہنسی پر ہمیں ہنسی آتی ہے اور ان کے انکار اور فریب دہی کے باعث ان کی سرکشی و گناہ میں قانون قدرت سے اضافہ ہو جاتا ہے اور یہ ایسے بودے اور نکمے لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے عوض گمراہی کو مول لیا اور یہ تجارت جو سراسر زیان کاری ونقصان کی دوکان ہے انہیں کبھی معراج ترقی پر نہ لائے گی اور اس سے وہ کبھی نجات نہ پاسکیں گے۔
دوسری مثال اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے متعلق یہ بیان فرمائی: ”قالت الاعراب آمنا، قل لم تؤمنوا ولكن قولوا اسلمنا ولما يدخل الايمان فى قلوبكم (حجرات:١٤) “ گنوار لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اے میرے حبیب ان کو کہہ دیجئے کہ تم ایمان نہیں لائے ولیکن تم یہ کہو کہ تم نے تسلیم کیا اور ابھی تمہارے دلوں میں اس کا کامل یقین پیدا نہیں ہوا۔
ایسی ہی اور ہزاروں پیشگوئیاں شیدایان باطل کے لئے قرآن عزیز میں وضاحت سے موجود ہیں۔ مگر چونکہ ہمارا اختصار ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتا۔ اس لئے ہم اسے کسی آئندہ فرصت پر ہدیہ ناظرین کریں گے۔
غرضیکہ کامل مسلمان ہونا بھی کوئی معمولی چیز نہیں۔ قرآن عزیز کے اٹھارویں پارے میں سورہ مومنون کا مطالعہ کرو اور مرزا قادیانی کے حالات زندگی سے اس کا موازنہ کر کے دیکھ لو۔ یقیناً آپ کو بعد المشرقین نظر آئے گا۔ بھائی کجا مومن، کجا مرزا:
بیکسی ہائے تمنا کہ نہ دنیا ہے نہ دین
مجھے اس موقعہ پر بطل حریت مجاہد ملت حضرت مولانا ظفر علی خان قبلہ کی ایک نظم یاد آئی
١٤٠
جس میں قادیانی مذہب کا ایک زندہ فوٹو الفاظ میں کھینچ کر رکھ دیا گیا ہے۔ امید ہے کہ یہ نظم بھی ضیافت طبع میں از بس مفید سمجھی جائے گی۔ فرماتے ہیں:
برازی ہے خلافت قادیاں کی
عداوت حق سے، باطل سے محبت
ہے اتنی ہی حقیقت قادیاں کی
ہیں احمق جس قدر ہندوستاں میں
ہے آباد ان سے جنت قادیاں کی
نصاریٰ کی پرستش کے سب اسرار
سکھاتی ہے شریعت قادیاں کی
دمشق اور اندلس کے بھاگ جاگے
بنی جس وقت لعنت قادیاں کی
مسلمانوں کی آزادی ہو نابود
الم نشرح ہے نیت قادیاں کی
لگے رونے بشیر الدین محمود
بنائی میں نے وہ گت قادیاں کی
(ارمغان قادیاں ص ٩٨ طبع اوّل)
سوز دل
پھولوں کو پھر صبا سے ہنسایا نہ جائے گا
خدا کا وہ برگزیدہ رسول جس کی بشارتیں ابوالبشر آدم سے شروع ہوئیں اور سلسلہ وار تمام انبیاء علیہم السلام مصدق و موید رہے۔ یہاں تک کہ مسیح ابن مریم نے یاتی من بعدی اسمہ احمد پر ختم کی کہ میرے بعد وہ نبی کریم جس کا اسم گرامی احمد ہے آنے والا ہے جو تمام انبیاء کا خاتم ہے اور جس کے بعد تا قیام زمانہ اور کوئی نبی مبعوث نہ ہوگا۔
چنانچہ وہ نیر اعظم اپنی پوری تابانی اور شباب نورانی کے ساتھ طلوع ہو کر کائنات عالم پر جلوہ فگن ہوا۔ اس کے انوار سے قوموں کی جبین قسمت چمک اٹھی اور وہ جو کوڑیوں پر بک جایا
١٤١
کرتے تھے اور جن سے حیوانوں سے بدتر سلوک ہوتا تھا اقوام عالم کی قسمت کے مالک بنے۔ قرآن عزیز پر غور کرو اور دیکھو ایک ایک آیت اور لفظ لفظ کا بغور مطالعہ کرو۔ تمہیں کوئی ایک آیت اجرائے نبوت میں نہ ملے گی۔ جہاں بھی آپ دیکھیں گے ماضی کے صیغے ملیں گے۔ کوئی ایک آیت ایسی آپ نہ پاسکیں گے جو مستقبل کے لئے ہو۔ پھر معلوم نہیں ہوتا کہ نبوت کا امکان کیسے کرلیا گیا اور اس کے جواز کی کیا دلیل ہے۔ حضور ختمی مآب نے نبوت کی نفی لانبی بعدی سے کی اور عمر فاروق کے علم و کمال کی بلندی کو دیکھتے ہوئے فرمایا ’’لو کان بعدی نبی لکان عمر (جامع ترمذی ج ٢ ص ٢٠٩ باب مناقب عمر بن خطاب)‘‘ اور ایک ارشاد میں یہ بھی فرمایا۔ حضرت جبیر بن مطعمؓ سے روایت ہے کہ: ”کہا میں نے نبی ﷺ سے سنا۔ آپ ﷺ ارشاد فرماتے تھے کہ میرے لئے نام ہیں۔ میں محمد ہوں اور میں احمد ہوں اور میں ماحی ہوں۔ مٹادے گا اللہ میرے ساتھ کفر کو اور میں حاشر ہوں کہ اٹھائیں جائیں گے میرے قدم پر اور میں عاقب ہوں (اور عاقب وہ ہے کہ اس کے پیچھے کوئی شخص نبوت کی خلعت سے سرفراز نہ کیا جائے) یعنی آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ پیدا ہوگا ۔“ (مشکوٰۃ ص ٥١٥ باب اسماء النبی ﷺ وصفاتہ)
آپ ﷺ کی اولاد نرینہ کا زندہ نہ رہنا اور سن بلوغ سے بہت پہلے داغ مفارقت دینا بھی صرف اسی مصلحت پر مبنی ہے۔ کیونکہ پہلے مرسلین من اللہ کے لڑکے پوتے پڑپوتے پیغمبر ورسول ہوتے رہے اور اب چونکہ نبوت ختم ہوچکی تھی۔ اگر کوئی آنحضور ﷺ کا صاحبزادہ زندہ رہتا تو وہ نبی نہ ہوسکتا تھا اور اس طریق سے حضور ﷺ پر الزام آتا کہ آپ ﷺ کا فرزند دلبند نبی نہ ہوا۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کی غیرت عظمیٰ کو یہ منظور نہ ہوا کہ وہ اپنے حبیب پر زبان طعن دراز ہونے دے۔ اس قوی قرینے سے بھی یہ بات معلوم ہوئی کہ امکان نبوت محال ہی نہیں غیر ممکن ہے۔ ایک اور طرح سے بھی اجرائے نبوت کی نفی قرآن عزیز نے بیان فرمائی وہ یہ کہ آنحضور کو سراجاً منیرا کہا۔ یعنی چمکتا ہوا سورج قرار دیا۔
یہ آئے دن مشاہدہ کی بات ہے اور کسی کور چشم کو اس سے انکار نہیں کہ سورج کے سامنے تمام روشنیاں وہ گیس کے ہنڈے ہوں یا بجلی کے قمقمے خجل و شرمندہ کیا، بے نور ہیں اور نیر تاباں کی تابانی مساوات عالم کے لئے ہے۔ یعنی یہاں کالے اور گورے اپنے اور پرائے کی تمیز ہی نہیں۔ حضور ﷺ کا فیض قصر و ایوان سے لے کر خانقاہوں اور جھونپڑوں تک مساوی ہے۔
قرآن عزیز نے سرکار مدینہ کی ازواج مطہرات کو ام المومنین قرار دے کر یتیم مکہ کو روحانی باپ کا مرتبہ بخشا۔ جس طرح ہر ذی ہوش آدمی یا ہر وہ شخص جسے فطرت سلیمہ سے تھوڑا سا
١٤٢
حصہ بھی ملا ہو مر جائے گا۔ مگر یہ کبھی گوارہ نہ کرے گا کہ اس کے ایک سے زیادہ باپ تھے۔ ٹھیک اسی طرح سے جس طرح ایک ہی جسمانی باپ کی ضرورت ہے ایسا ہی بلکہ اس سے کہیں زیادہ ایک ہی روحانی باپ چاہئے اور جو شخص اس نظریئے سے اپنے تئیں باہر شمار کرے اصطلاح عام میں اس کو حرامی قرار دیا جاتا ہے۔
جسم انسان دو چیزوں سے مرکب ہے۔ روح و جسم یہ دونوں فردا لازم و ملزوم ہیں۔ رشتہ حیات میں یہ دونوں جزوا اکثر بیمار ہوتے ہیں۔ جسمانی بیماریاں تپ، نزلہ، دردسر وغیرہ ہیں۔ ان کے معالج حکیم وید اور ڈاکٹر ہیں۔ بعینہ ہی روحانی بیماریاں مثلاً حرص، تکبر، بغض، ریا وغیرہ ہیں۔ ان کے معالج انبیاء علیہ السلام ہیں۔
سب سے بڑے معالج سید الاولین والآخرین آقائے نامدار مصطفیٰ ﷺ ہوئے جنہیں کافۃ للناس، رحمت اللعالمین، رسول اللہ الیکم جمیعاً، خاتم النبیین کے خطابات تفویض ہوئے اور وہ بیماریوں کی شفایابی کے لئے کونسا نسخہ منجانب خدا لائے قرآن، اور اس کی کیا دلیل ہے کہ قرآن روحانی بیماریوں کو کلی شفا بخشے گا تو اس کی تعریف میں یہ لکھا ہے کہ: ”فیہ شفاء للناس (النحل:٦٩)“ روحانی بیماریوں کی پرہیز کیا ہے: ”انا خاتم النبیین لا نبی بعدی (مشکوة ص٥١٥ کتاب الفتن)“ یعنی میں آخری نبی ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ طرز علاج کیا ہے: ”قل ان کنتم تحبون اللّٰہ فاتبعونی یحببکم اللّٰہ (آل عمران:٣١)“ یعنی اے بیمارو اگر تم چاہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے پیارے بن جائیں تو میرے محبوب کی تابعداری کرو جس پر میں نے: ”اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا (المائده:٣)“ یعنی (محمد عربی فداہ امی وابی) پر دین کامل واکمل ہوا اور تمام احسان و نعمتیں اس پر ختم کر دی گئیں اور اللہ تعالیٰ اس کے دین اسلام کے ساتھ راضی ہو گیا اور خدا کو کونسا مذہب سب سے زیادہ مقبول ہے: ”ان الدین عند اللّٰہ الاسلام (آل عمران:١٩)“ تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب ادیان میں سے اسلام ہی پسندیدہ مذہب ہے اور اس کے سچا ہونے کے کیا دلائل ہیں: ”اہدنا الصراط المستقیم۔ ذالک الکتاب لاریب فیہ“ یعنی یہ ہی ایک سیدھا راستہ ہے جو بلا روک ٹوک جنت کو لے جاتا ہے اور یہی وہ کتاب ہے جو منجانب اللہ ہے اور اس میں ایک ذرہ بھی شک نہیں۔ بلکہ لاریب یہ کتاب: ”تنزیل من رب العالمین (واقعه:٨٠)“ ہے۔ یعنی اس پاک پروردگار کی طرف سے جو تمام جہانوں کی پرورش کرتا ہے اور اگر تمہیں اس کتاب کے منجانب خدا ہونے میں کوئی شبہ ہے تو : ”فأتوا بسورة من
١٤٣
مثله ان كنتم صادقین (البقرہ:٢٣) ”اس کے ساتھ کی ایک سورۃ تو پیش کرو۔ اگر تم سچے ہو۔ یہ اسلامی چیلنج ساڑھے تیرہ سو برس سے فضائے عالم میں گونج رہا ہے۔ مگر آج تک کسی کو اس کے جواب کا یارا نہیں ہوا۔ یہ اس لئے کہ کائنات عالم کے پیدا کنندہ نے پہلے ہی روز یہ کہہ دیا تھا: ”قل لئن اجتمعت الانس والجن على ان یأتوا بمثل ھذا القرآن لا یأتون بمثله ........... ظھیرا (الاسراء:٨٨) ”اگر تم تمام انسان اور جن اس بات پر جمع ہو جاویں کہ اس قرآن کے ساتھ کی ایک سورۃ ہی لے آئیں یادرہے کہ تم ہرگز ہرگز اس میں کامیاب نہ ہو سکو گے۔ اگرچہ ایک دوسرے کا پشتیبان ہی کیوں نہ ہو ۔
غرضیکہ خدا کا وہ برگزیدہ رسول جس کے شہر کی حرمت میں مولا نے حلف اٹھائے اور جس کے دین کو پسندیدہ کہا اور جس کی امت کو خیرالامت کا خطاب دیا اور جس کی ہدایت کے لئے بیش بہا علمی خزانہ آسمان سے اتارا اور ابدالآباد تک محافظت کی ذمہ داری لی اور اقوام عالم پر امت محمدیہ کو شاہد ٹھہرایا اور ان کے نصب العین کے لئے مبارک اصول رقم فرمائے: ”لقد كان لكم فی رسول الله اسوة حسنة (احزاب:٢١) ”اور اطاعت وفرمانبرداری کے لئے واطیعوا اللہ واطیعوا الرسول کہا۔ اس امت کے حق میں ایسے ناپاک وفاسد خیال کے اعادہ کرنے والے زاہد نما گرگ انسانی لباس میں خونخوار بھیڑیے ہیں۔ سیرت النبی کے جلسوں کے گندم نما جو فروش رحمانی لباس میں حیوان مطلق یا جاہل ناخدا ترس کس طرح لمبی لمبی تانوں اور سروں سے اخوت ومحبت کے لیکچر دیتے ہوئے بھائیوں اور محترم بہنوں کی بزم میں الاپا کرتے ہیں اور اس جبہ سائی و پارسائی کے ثمرہ میں چندہ کی آڑ میں ڈاکا ڈالتے ہوئے ہزاروں روپیہ بندگان خدا سے بٹور کر یہ جادو جگایا کرتے ہیں ۔
مگر آہ! مسلم خوابیدہ اٹھ۔ خواب گراں سے اس قدر محبت نہ کر۔ تیرے گھر کی چار دیواری دشمن کے نرغے میں ہے۔ تیرے خون کے پیاسے تیرے ایمان کے دشمن کیل کانٹے سے لیس ہوچکے ہیں۔ تیرے نیست و نابود کرنے کی سازشیں پایہ تکمیل کو پہنچ چکیں۔ مکر سے نا آشنا۔ فریب سے غیر مانوس۔ بھولے بھالے معصوم مسلم اٹھ اور اللہ کے نام پر بیدار ہو۔ اس معظم و جبروت آور پیغام سے رسول اکرم کی شان کو دنیائے جہاں کے سامنے اس آن سے دوبالا کر اور روایات پارینہ کو ایسی جلا دے اور اس شان سے رہ کہ تیرے رواں رواں سے نعرہ تکبیر نکلے۔ تیرے بودے دشمن اور ان کے ناپاک ارادے مقابل میں نکلتے ہوئے شرمائیں اور تیرے نام کی ہیبت سے سہمیں، کانپیں، لرزیں اور تھرائیں۔
١٤٤
شان سے جی اور آن سے رہ۔ دنیا تیرے خوان کرم کی ریزہ چین ہو۔ عدل تیرے نام کی تسبیح پڑھے۔ انصاف تیری شان کو مجرا دے۔ مساوات کا علم تیرے سر پر لہرائے اور کالے اور گورے، چھوٹے اور بڑے، ادنیٰ واعلیٰ تیرے سایۂ عاطفت میں برابر کے بھائی ہوں۔ اپنائیت واجنبیت کی تمیز اٹھ جائے اور کل مومن اخوۃ کی صدا چپہ چپہ پہ گونج اٹھے۔ رحم کے سمندر جوش میں آ۔ کرم کے داتا موج دکھلا۔ اے غیرت ابوبکر پیام اجل بن اور مدعی نبوت کے بودے جال کو جو تار عنکبوت سے زیادہ کمزور ہے پاش پاش کر دے۔
میرے عزیزو! کیا تم سے غیرت اٹھ گئی۔ ہمت جاتی رہی۔ اسلاف کے کارنامے یاد سے محو ہو چکی۔ تمہارے فہم وفراست کو کیا ہوا۔ آہ! تم اس قوم کو مدد دیتے ہو جو ہندوؤں سے زیادہ تمہاری جان کی دشمن اور خون کی پیاسی اور ایمان کی رہزن ہے اور طرفہ یہ کہ اس پر تم کو بودہ وذلیل بھی سمجھتی ہے۔
آہ! یہ گندم نما جو فروش، یہ فرینچ داڑھیوں کے کارٹون اور مولویت کے شتر مرغ جن کی مغالطہ آمیز ظاہریت تمہیں ورطۂ حیرت میں ڈال کر طرح طرح کے خراج حاصل کر لیا کرتی ہے اور جن کے باطن کی تصویر تمہارے وہم وخیال سے کوسوں دور ہے کو کبھی تصویر مرزا میں ملاحظہ کریں تو حسن عقیدت کا موہوم خیال منٹوں سیکنڈوں میں اتر جائے۔ ذیل میں وہ نقشہ پیش کیا جاتا ہے جس کے تصور سے روح لرزہ بہ اندام ہو اور نشہ کافور ہو جائے۔ پھر یقیناً مرزائیت ایسی بھیانک نظر آئے کہ پاس پھٹکنے سے سخت برا لگے۔
قارئین کرام! ذیل میں ہم حکومت کے خود کاشتہ پودے کی کیفیت پیش کرتے ہیں جس سے مرزائیت کے عقائد خصوصی اور عزائم خصوصی کا پتہ چل جائے گا کہ یہ فرقہ اسلام کے لئے کس قدر دشمن واقع ہوا ہے۔ بخدا منافق سے مخالف کروڑ درجہ بہتر ہے۔ کیونکہ مخالف کے داؤں میں بھولے پن سے آیا نہیں جاتا۔ مگر منافق وہ میٹھی چھری ہے جو پیٹ میں بھونک جانے کے بعد پتہ دیتی ہے۔ بیگانگت سے ہر کوئی آشنا اور محتاط رہتا ہے۔ مگر یگانگت وہ نامراد چیز ہے جس سے ہر چیز اعتبار کے مراتب تک نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گھر کا بھیدی آسانی سے ہر مشکل امر میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ کیونکہ وہ شک کی نظروں سے دیکھا نہیں جاتا۔
اس موقعہ پر مجھے ایک نہایت دلچسپ واقعہ یاد آیا جو ضیافت طبع میں سرور پیدا کرے گا۔ عالمگیر اورنگ زیب کے دربار میں ایک بہروپیا ایک مدت تک بہروپ بھرتا رہا۔ مگر ہر موقعہ پر جہاں پناہ کی نباض نگاہیں اسے بھانپ جاتیں اور بہروپ کافور ہو جاتا۔ بے چارے نے
١٤٥
بڑی کوشش کی اور طرح طرح سے کولہے مٹکائے۔ مگر ہر مرتبہ ناکامی و نامرادی نے پاؤں چومے۔ آخر اورنگزیب نے ایک بڑے انعام کا وعدہ دے کر کہا کہ اگر تیرے بہروپ میں میں آ جاؤں یعنی میری نگاہیں دھوکہ کھا کر تجھے نہ پہچان سکیں تو یہ بیش بہا انعام تیرا ہے۔ گرانقدر انعام کے وعدے پر بہروپئے کی باچھیں کھل گئیں اور اسے حاصل کرنے کے لئے منہ میں پانی بھر آیا۔ فکر و تدبر کے دریائے ذخار میں غواصی کی عقل و ہنر کے صحراؤں میں بادہ پیما ہوا۔ فہم و ادراک کے گھوڑے دوڑائے اور آخر ایک سنہری نتیجہ پر پہنچ کر بڑی مستعدی سے اس پر گامزن ہوا۔
شہنشاہ عالمگیر کی بے پناہ فوجیں دشت و جبل کو روندتی ہوئی فتح کے پھریرے اڑاتی ہوئیں مرہٹوں کی سرکوبی و گوشمالی کے لئے جا رہی تھیں۔ شاہ عالم بنفس نفیس بھی ساتھ تھے۔ خاور افق اپنی پوری منزلیں طے کرنے کے بعد مغرب میں پناہ گزیں ہورہا تھا۔ اس کی سنہری روپہلی کرنیں درختوں کے پتوں سے چھن چھن کر بساط عالم کو رنگین کر رہی تھیں۔ طائران خوش الحان نواسنجی کو فراموش کئے ہوئے اپنے بسیروں کو بڑی عجلت سے جارہے تھے۔ عروس شام تاریکی کا لباس پہن چکی اور ہر طرف ظلمت کے حصار نور کی فوجوں کو محصور کر کے کھڑے ہوگئے۔
دن بھر کے تھکے ماندے سپاہیوں نے آرام کے لئے اپنی کمریں کھولیں۔ خیمے نصب کر کے الاؤ جلائے۔ شکم سیری کی اور نماز سے فراغت ہوتے ہی وجعلنا لیل لباساً کی گود میں آرام کیا۔
شاہ عادل دیر تک وظائف میں مشغول رہنے کے بعد اٹھے اور نگران فوج کا جائزہ لیا۔ اطمینان ہونے کے بعد خیمے کو لوٹے تو سامنے دور جنگل میں روشنی نظر آئی۔ ہرکارے دوڑائے تو معلوم ہوا کہ ایک فقیر کی جھونپڑی ہے جس میں دیا ٹمٹمارہا ہے اور فقیر مراقبہ کھینچے یاد الٰہی میں بیٹھا ہے۔ مگر کسی کے استفسار کا جواب نہیں دیتا۔
بادشاہ کو اشتیاق ملاقات اور دعائے فتح کا خیال رات بھر ستاتا رہا۔ صبح ہوئی نماز سے فارغ ہوئے اور فقیر کی کٹیا کو چند مصاحبوں کی ہمراہی میں چل دیئے۔
وہاں پہنچ کر دیکھا فقیر نورانی صورت میں سفید لباس زیب تن کئے بڑے فقر و استغناء سے بیٹھا ہے۔ شاہ عادل نے مجرا سلام دیا اور دعا کی آرزو پیش کی۔ فقیر نے ایک ہلکا سا تبسم کرتے ہوئے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے۔ بادشاہ نے اشرفیوں کی تھیلی نذر میں پیش کرتے ہوئے اجازت طلب کی۔ فقیر کامل نے جواب دیا بابا یہ سنہری ٹکیاں میرے کس مصرف کی۔ ہم اللہ والوں کو ان سے کیا کام۔ اس کو اٹھاؤ اور چلتے بنو۔ شاہ عالم نے ہزار کوشش کی۔ مگر فقیر رضامند نہ ہوا۔
١٤٦
شاہ عادل ابھی تھوڑی ہی مسافت طے کرنے پائے تھے کہ وہی فقیر راستہ روکے سامنے کھڑا یہ صدا دے رہا تھا: ”حضور کا اقبال قائم۔ میرا انعام دلوائیے۔“ شاہ عالم حیران و ششدر رہ گیا اور اس کے فن کمال کا معترف ہو کر بولا کہ تم نے اس وقت جبکہ میں نے انعام سے دہ چند زیادہ دینے کا اصرار کیا کیوں نہ قبول کیا۔ تو بھروپے نے ہاتھ جوڑ کر جواب دیا کہ بادشاہ سلامت اس وقت میں نے فقر کی گدی پر اپنے آپ کو ایک اولیاء کے بھروپ میں ظاہر کیا تھا۔ میری غیرت نے یہ گوارہ نہ کیا کہ فقر کی مسند بدنام ہو۔ اس لئے کبھی تم ہزار چند زیادہ دیتے تو کبھی نہ لیتا اور اس وقت جو مانگ رہا ہوں یہ میرے فن کی قیمت ہے۔ غرضیکہ بادشاہ نے انعام موعودہ دے کر اس کو رخصت کیا۔
افسوس تو یہ ہے کہ ایک ادنیٰ بھروپے نے فقر کی مسند کو داغ دار کرنا گوارہ نہ کیا۔ مگر مرزا قادیانی نے تو حد ہی کر دی۔ بیٹھے تو نبوت کی مسند پر بیٹھے۔ مگر احترام ایک بھروپے جیسا بھی نہ کیا۔
ذیل میں ہم آئینہ مرزائیت پیش کرتے ہیں۔ مہربانی کر کے گوش ہوش سے سنیں اور چھاتی پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ مار آستین کو دودھ پلانا کہاں کی رواداری اور عقلمندی کی دلیل ہے۔ جس قوم کے یہ عقائد ہوں وہ شجر اسلام کے لئے کس قدر مفید ہے۔ افسوس مسلمانوں نے مرزائیت کا صحیح مطالعہ ہی نہیں کیا۔ ورنہ وہ رواداری کے لئے یوں مضطرب نہ ہوتے۔ اجی حضرت سچ پوچھئے تو یہ حکومت کا خود کاشتہ پودا یہ سرکاری گملا سرکاری بنگلے ہی میں زیب دیتا ہے۔
موسیو مرزا بشیر الدین محمود خلیفہ قادیان کے اٹل فتوے
- ١...... تمام مسلمان کافر اور خارج از دائرہ اسلام ہیں۔
- ٢...... ”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں داخل نہیں ہوئے خواہ
انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ یہ میرے عقائد ہیں۔“
(آئینہ صداقت ص ٣٥)
- ٣...... ”ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے
نماز نہ پڑھیں۔ کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی (مرزا قادیانی) کے منکر ہیں۔ یہ دین کا معاملہ ہے۔ اس میں کسی کا کچھ اختیار نہیں کہ کچھ کر سکے۔“
(انوار خلافت ص ٩٠)
١٤٧
- ٤...... ”باہر سے لوگ بار بار پوچھتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ تم جتنی دفعہ بھی پوچھو
گے اتنی دفعہ میں یہی جواب دوں گا کہ غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھنی جائز نہیں۔ جائز نہیں۔ جائز نہیں ۔“
(انوار خلافت ص ٨٩)
مسلمان کافر ہیں اس لئے ان کا جنازہ جائز نہیں
- ٥...... ”غیر احمدی کے جنازہ کے متعلق ہم نے محکمات کو دیکھنا ہے۔ محکم کیا ہے۔
حضرت مسیح موعود نبی ہیں۔ بلحاظ نفس نبوت یقیناً ایسے جیسے ہمارے آقا سیدنا محمد مصطفیٰ ﷺ محکم کیا ہے نبی کا منکر اولٰئک ھم الکافرون حقاً کے فتوے کے نیچے ہے۔ محکم کیا ہے کافر کا جنازہ جائز نہیں ۔“
(الفضل ص ١٢٢، ١٢٣، ٢٤؍اپریل ١٩١٥ء)
تمام دنیا جہنمی ہے
- ٦...... ”ہر ایک جو مسیح موعود کی بیعت میں داخل نہیں ہو چکا کافر ہے جو حضرت
صاحب کو نہیں مانتا اور کافر بھی نہیں کہتا۔ وہ بھی کافر ہے۔“
(رسالہ تشحیذ الاذہان ج ٦ نمبر ٤ ص ١٣٠، اپریل ١٩١١ء)
غیر احمدی کا بچہ بھی کافر ہے
- ٧...... ”پس غیر احمدی کا بچہ بھی غیر احمدی ہی ہوا۔ اس لئے ان کا جنازہ بھی نہیں
پڑھنا چاہئے ۔“
(انوار خلافت ص ٩٣)
خلیفہ محمود کے بابا کی بھی سن لیں سرکلر نمبر ١
”صبر کرو اور اپنی جماعت کے غیر کے پیچھے نماز مت پڑھو۔ بہتری اور نیکی اسی میں ہے اور اسی میں تمہاری نصرت اور فتح عظیم ہے اور یہی اس جماعت کی ترقی کا موجب ہے۔ دیکھو دنیا میں روٹھے ہوئے ایک دوسرے سے ناراض ہونے والے بھی اپنے دشمن کو چار دن منہ نہیں لگاتے اور تمہاری ناراضگی اور روٹھنا تو خدا کے لئے ہے۔ تم اگر ان میں ملے جا رہے ہو تو خدا تعالیٰ جو خاص نظر تم پر رکھتا ہے وہ نہیں رکھے گا۔ پاک جماعت جب الگ ہو تو اس میں ترقی ہوتی ہے۔“
(اخبار الحکم قادیان ١٠؍اگست ١٩٠٦ء، ملفوظات ج ٢ ص ٣٢١)
مسیلمہ ثانی کا سرکلر نمبر ٢
”پس یاد رکھو جیسا کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے۔ تمہارے پر حرام اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو۔ بلکہ چاہئے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو۔
١٤٨
اسی کی طرف حدیث بخاری کے ایک پہلو میں اشارہ ہے کہ امامکم منکم یعنی جب مسیح نازل ہوگا تو تمہیں دوسرے فرقوں کو جو دعویٰ اسلام کرتے ہیں بکلی ترک کرنا پڑے گا اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔ پس تم ایسا ہی کرو۔ کیا تم چاہتے ہو کہ خدا کا الزام تمہارے سر پر ہو اور تمہارے عمل حبط ہو جائیں اور تمہیں کچھ خبر نہ ہو۔‘‘
(اربعین نمبر ٣ ص ٢٨، حاشیہ خزائن ج ١٧ ص ٤٢٧)
مرزائی گزٹ کا بے لذت راگ
’’اگر یہ کہا جائے کہ ایسی جگہ جہاں تک تبلیغ نہیں پہنچی کوئی مرا ہو اور اس کے مر چکنے کے بعد وہاں کوئی احمدی پہنچے تو وہ جنازہ کے متعلق کیا کرے۔ اس کے متعلق یہ ہے کہ تو ظاہر پر ہی نظر رکھتے ہیں۔ چونکہ وہ ایسی حالت میں مرا ہے کہ خدا تعالیٰ کے رسول اور نبی کی پہچان اسے نصیب نہیں ہوئی اس لئے ہم اس کا جنازہ نہیں پڑھیں گے۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج ٢ نمبر ١٣٦ ص ٨، مورخہ ٦ مئی ١٩١٥ء)
غیر مسلم تم سے اچھا کہ کافر ہو کر بھی کسی کافر کو لڑکی نہیں دیتا
’’جو شخص غیر احمدی کو رشتہ دیتا ہے وہ یقیناً حضرت مسیح موعود کو نہیں سمجھتا اور نہ یہ جانتا ہے کہ احمدیت کیا ہے۔ کیا کوئی غیر احمدیوں میں ایسا بے دین ہے جو کسی ہندو یا عیسائی کو اپنی لڑکی دے دے۔ ان لوگوں کو تم کافر کہتے ہو۔ مگر وہ تم سے اچھے رہے کہ کافر ہو کر بھی کسی کافر کو لڑکی نہیں دیتے۔ مگر تم احمدی کہلا کر کافر کو دیتے ہو۔‘‘
(ملائکۃ القدس ٣٦)
سوائے مرزائی کے کسی کو لڑکی نہ دو
’’غیر احمدیوں کو لڑکی دینے سے بڑا نقصان پہنچتا ہے اور علاوہ اس کے وہ نکاح جائز ہی نہیں۔ لڑکیاں چونکہ طبعاً کمزور ہوتی ہیں اس لئے وہ جس گھر میں بیاہی جاتی ہیں اس کے خیالات واعتقادات کو اختیار کر لیتی ہیں اور اس طرح اپنے دین کو تباہ کر لیتی ہیں۔‘‘
(برکات خلافت ص ٧٣)
الہامی طوطا
’’فرزند دلبند گرامی و ارجمند ’’مظہر الاول والآخر مظہر الحق والعلا کان الله نزل من السماء‘‘ جس کا نزول بہت مبارک اور جلال الٰہی کے ظہور کا موجب ہوگا۔ نور آتا ہے نور جس کو خدا نے اپنی رضامندی کے عطر سے ممسوح کیا۔ ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے اور خدا کا سایہ اس کے سر پر ہوگا۔ وہ جلد جلد بڑھے گا اور اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔ تب اپنے نفسی نقطہ آسمان کی
١٤٩
طرف اٹھایا جائے گا۔ وکان امراً مقضیا!
(مجموعہ اشتہارات ج ١ص١٠١،١٠٢)
قارئین کرام! مندرجہ بالا الہامی طوطا جناب مرزا آنجہانی نے اپنے اس مولود مسعود کے لئے بیان فرمایا تھا۔ جو ابھی منصہ شہود پر تو کیا باپ کی صلب سے ماں کی گود میں بھی نہ آیا تھا اور جس کے لئے امت مرزائیہ قبل ہی آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ایک مدت تک دیکھتی رہی۔ بالآخر ام مرزائیہ حاملہ ہوئیں اور پسر موعود کی بجائے نیرنگی قدرت نے لڑکی تفویض فرمائی تو جناب مرزا قادیانی نے دوسرے حمل پر یگانوں اور بے گانوں کو بڑی مشکل سے ٹالا۔ غرضیکہ دوسرے حمل میں لڑکا ہوا۔ جس کا الہامی نام بشیر رکھا۔ امت میں شادیانے بجے اور گھی کے چراغ جلے۔ مبارک ، مبارک کے غلغلے بلند ہوئے اور مسرت و انبساط کی دیپ مالا ہوئی۔ بڑے بڑے پوسٹر مرزا قادیانی کی صداقت میں شائع ہوئے اور حاسدین کو عنابی صلواتیں سنائی گئیں۔ کچھ نہ پوچھئے کہ یہ خوشی تمام امت کے لئے ایک نعمت غیر مترقبہ تھی۔ مگر افسوس کہ قدرت جاء الحق وزھق الباطل چاہتی تھی۔ اس لئے بیفور ٹائم ہی لائن کلیر ہوا۔ یعنی صرف سولہ ماہ کی مدت عمر میں بشیر صاحب لڑھک گئے۔ امت کے گھر گھر صف ماتم بچھی اور مدتوں مرثیے اور نوحہ خوانی ہوتی رہی۔ مرزا قادیانی کا قافیہ طعن و تشنیع سے تنگ رہا۔ جس کے باعث مزاج میں گرمی اور دماغ میں فتور آگیا اور آپ کو ہسٹریا کے متواتر دورے شروع ہوئے۔ یہاں تک ہی بس نہیں امت کے وہ افراد جو مرزا قادیانی کی صداقت میں قسمیں کھاتے اور پانی کی طرح روپے خیرات میں دیتے تھے۔ پنجابی نبوت پر تین حرف کہہ کر کافور ہوئے۔
متنبی قادیان کے یہ صاحبزادے بعد میں بشیر کی خانہ پری کے لئے آموجود ہوئے۔ چونکہ آپ کی ولادت سے پیشتر یا اصطلاح قادیانی میں نزول اجلال سے پہلے دنیا آپ کے بابا کو کافر کہہ چکی تھی۔ اس لئے اگر وہ بھی دنیا کو کافر کہہ دیں تو کچھ مضائقہ نہیں۔ آخر آپ کوئی ایرا غیرا نتھو خیرا تو تھوڑے ہیں۔ آپ کے ابا نے تو نبیوں کا بروز اختیار کیا تھا۔ مگر آپ خدا کے بروز میں نازل ہوئے۔ گو نبی نہیں ظاہر میں نبی کے بیٹے ہیں۔ مگر باطن میں نبوت بھی آپ کے پلہ کی چیز نہیں۔ یعنی آپ نبی گر یعنی خود خدا ہیں۔ جو مرزائی آسمان سے نازل ہو کر سیدھے ٹل منارہ کے مقام پر مسجد اقصیٰ کے مقام استحصال پر اترتے۔ پھر اتنے گرامی قدر و بلند پایہ خلیفہ جی اگر رعب میں نہ آئیں تو آخر امت مرزائیہ سے اور کون آئے گا۔ اچھا ہوا کہ کافر و گمراہ کہنے پر ہی اکتفا کر لیا گیا۔ یہ بھی کوئی خفگی کی چیز ہے اگر اور کچھ کہہ دیتے اور بابا کی سنت مستمرہ پر آجاتے تو روکنے والا کون تھا۔ مگر افسوس ہے امت نے ان کا مرتبہ نہیں سمجھا۔ ان کو خواہ مخواہ خلیفہ دوئم عمر
١٥٠
ثانی کا خطاب دے کر ان کی سخت بے عزتی کی گئی۔ اتنے مرتبے کے دعوے دار کے لئے تو وہی چاہئے جس کے وہ اہل ہیں۔ قادیان کی زمین نبی پیدا کر سکتی ہے تو کیا خدا پیدا کرنا کچھ مشکل ہے۔ جب کہ حضرت جی نے ان کو خدا کے خاص عطر سے ممسوح کیا۔ کان اللہ نزل من السماء۔ بھی کہا آخر یہ وحی الٰہی کی توہین ہے۔ بھائی خلیفہ جی کو یوں ہی سمجھو کہ خود خدا زمین قادیان پر اتر آیا۔ ”وکان امراً مقضیا“ ترجمہ: اور یہ کام پہلے ہی دن سے یونہی فیصل شدہ تھا۔ مرزائیو! زور سے آمین کہو اور بلا سوچے اس وحی الٰہی پر ایمان لاؤ۔ جس کے گھر کے نبی اور خدا ہوں۔ اسے نجات اخروی کا کیا ڈر ہے۔ جب کہ زمین قادیان کی خاک پاک میں یہ تاثیر ودیعت کر دی گئی ہے کہ اس کے مردے فوراً بہشتی ہو جائیں۔ بس مرنے کی دیر ہے اور بہشت انتظار میں موجود کھڑی ہے۔ بس مرتے جائیے اور بہشتی ہوتے جائیے۔ سبحان اللہ جنت کا بھی ٹھیکہ ہمارا ہی ہوا۔ لہٰذا چونکہ دوسرے لوگ اس میں دفن نہ کئے جائیں گے۔ اس لئے وہ اولئک الکافرون تباہ ہوئے۔ جناب حضرت مولانا ظفر علی خاں صاحب قبلہ نے کیا خوب کہا ہے۔ گویا چند لفظوں میں تصویر مرزا الفاظ میں کھینچ کر رکھ دی ہے۔ فرماتے ہیں کہ:
جنس نفاق وکفر سے چمکتی تیری دوکان ہے
بہتان خدا پر باندھنا تیرے نبی کی شان ہے
الہام جو بھی ہے تیرا آوردہ شیطان ہے
یہ بھی خدا کا آخری اسلام پر احسان ہے
نقاش کی مٹھی میں گو پوشیدہ تیری جان ہے
اے قادیاں اے قادیاں
اے دشمن اسلامیاں
اے فتنہ آخر زماں!
(ارمغان قادیان ص٩١، ٩٢ طبع اول)
ہزہولینس بشیر الدین محمود کی خوش بیانی
قادیان کے تخت خلافت پر بیٹھنے والے پیغمبر زادے کی آئے دن اخباری دنیا میں ضیافت ہوتی رہتی ہے۔ کبھی دریائے بیاس کی موجوں کی غمازی اور مشی فی النوم کے واقعات پر تبصرہ ہوتا ہے تو کبھی مس روفینا تاملین حسینہ کے فرار پر آرٹیکل شائع ہوتے ہیں۔
١٥١
ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ملکہ حسن مس روفو خوبصورتی میں یکتائے زماں تھی۔ اس کے گھنگریالے بال کشمیری سیب سے زیادہ دمکتے ہوئے رخسار، گلاب کی پتیوں کے سے نازک لب، انڈا نما نیلگوں آنکھیں، سروقد کشادہ پیشانی۔ غرضیکہ حوروش روفو کوہ قاف سے بھاگی ہوئی پری معلوم ہوتی تھی۔ اس کا زہد شکن دلفریب طرزِ تکلم بڑے بڑے عقلا کے وضو توڑے اور ہوٹل کی رونق کے اضافہ کا باعث ہوئے۔ ایسی حالت میں پاپائے قادیاں موسیو بشیر الدین محمود ایں جہانی جنہیں طبقہ نسواں کے ساتھ خاص انس ہے اور جنہوں نے حال ہی میں چھٹی شادی خیر سے اب کی ہے اور جس پر یہ کمبخت احرار والے حسد و بغض کی آگ میں کوئلہ ہورہے ہیں اور آئے دن حجلۂ عروسی میں چین کی نیند اور مزے کی زندگی کے راز و نیاز میں مباہلہ کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ اگر مس روفو کی صورت کے ساتھ ساتھ سیرت بھی باطن کی آنکھ اور خداداد ذہانت سے بچوں کی انگریزی تعلیم و تربیت کے لئے پسند کرلیں تو اس میں کون سی قباحت ہے اور کسی کو کیا حق ہے کہ احمدیوں کے بے تاج بادشاہ (بغیر ملک) پر زبان طعن دراز کرے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ کور چشم عقل کے پیچھے کیوں لٹھ لئے پھرتے ہیں۔ انگریزی راج ہے اپنے گھر میں کوئی چھاج بجائے یا چھلنی پھر وہ چھوٹے موٹے خلیفے بھی نہیں بلکہ ان کے عزائم کی انتہائی بلندی ان کے ایک کشف سے معلوم ہوتی ہے جو غالباً سرزمین انگلستان میں ہوا۔ یعنی فاتح ولیم دی گریٹ کنکرر آف فرانس۔ بہر حال وہ ایک نہایت بلند پایہ آدمی ہیں۔ ولایت کا طواف اور یاجوج ماجوج کے فوٹو جو ان کے باوا نے بڑی جانفشانی سے معلوم کرائے تھے۔ اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں ولایت کی عریاں سوسائٹی بھی آپ نے ملاحظہ فرمائی اور تبلیغ احمدیت کا انحصار بھی ماشاء اللہ آپ کے دوش مبارک پر ہے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ مسلمان خواہ مخواہ ہم سے کھنچے ہوئے ہیں اور ہمیں تخریب رسالت مدنی کا ملزم گردانتے ہیں۔ حالانکہ ہمارے قلب میں جس قدر سرکار مدینہ کی محبت ہے اس کا عشر عشیر بھی ان لوگوں میں نہیں وہ سرکار مدینہ کی غلامی کا دم بھرتے ہوئے ذیل میں اپنی صداقت پیش کرتے ہیں۔
ہمارے خیال میں علمائے کرام کو ان کے خیالات ملاحظہ کر لینے کے بعد بھی برے القاب سے یاد نہیں کرنا چاہئے بلکہ نہایت فراخ دلی سے ان کی خرافات کو مراق کے نتیجہ پر اخذ کرتے ہوئے معاف کر دینا چاہئے۔ کیونکہ مراق کے لئے وہ خود اقرار کرتے ہیں کہ یہ جدی بیماری ورثہ میں مجھ کو بھی حضرت مسیح موعود سے ملی تھی۔ اس لئے کبھی کبھی اس کے دورے ہوجاتے
١٥٢
ہیں ۔ ان واقعات کی روشنی میں ان کا قصور تھوڑا ہی ہے۔ وہ بیچارے معذور ہیں مجبور ہیں۔ یہ نامراد مرض ہی ایسا ہے جو کبھی نبی کی خواہش پیدا کرے اور کبھی معراج ترقی پر پہنچاتی ہوئی خوش قسمتی سے خدائی کے مراتب تک لے جائے۔
موسیو بشیر الدین محمود کا سرکلر مرزا آنجہانی کی سرکار مدینہ سے ہمسری
”ظلی نبوت نے مسیح موعود کے قدم کو پیچھے نہیں ہٹایا بلکہ آگے بڑھایا اور اس قدر آگے بڑھایا کہ نبی کریم کے پہلو بہ پہلو لا کر کھڑا کیا۔“
(کلمہ الفصل ص ١١٣)
یہ ہے وہ دعوٰی جو رسول اکرم کی محبت کو ظاہر کرتا ہے۔
امت مرزائیہ کے لئے خلیفہ وقت کا خطاب
”دنیا میں نماز تھی مگر نماز کی روح نہ تھی۔ دنیا میں روزہ تھا مگر روزہ کی روح نہ تھی۔ دنیا میں زکوٰۃ تھی مگر زکوٰۃ کی روح نہ تھی۔ دنیا میں حج تھا مگر حج کی روح نہ تھی۔ دنیا میں اسلام تھا مگر اسلام کی روح نہ تھی۔ دنیا میں قرآن تھا مگر قرآن کی روح نہ تھی اور اگر حقیقت پر غور کرو محمد بھی موجود تھے مگر محمد کی روح موجود نہ تھی۔“
(الفضل ج ١٧ نمبر ٦٧ ص ٩، مورخہ ١١؍ مارچ ١٩٣٠ء)
معاذ اللہ ....... معاذ اللہ ....... استغفراللہ ....... استغفراللہ!
مرزا آنجہانی سرور کون و مکاں سے افضل ہے
”حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذہنی ارتقاء آنحضرت ﷺ سے زیادہ تھا۔ کیونکہ اس زمانہ میں تمدنی ترقی زیادہ ہوئی اور یہ جزوی فضیلت ہے جو حضرت مسیح موعود کو آنحضرت ﷺ پر حاصل ہے۔ نبی کریم ﷺ کی ذہنی استعدادوں کا پورا ظہور بوجہ تمدن کے نقص کے نہ ہوا اور نہ قابلیت تھی۔“
(قادیانی ریویو بابت ماہ جون ١٩٢٩ء)
نبی کریم کی ذات بابرکات پر ایک رکیک حملہ
”آپ کی طاقت کا یہ حال تھا کہ آپ نے باوجود عمر کے انحطاط کے سن کہولت میں متعدد شادیاں کیں۔ حتیٰ کہ آخری عمر میں آپ کی ازواج مطہرات کی تعداد نو تک پہنچ گئی۔ مگر اس سے بھی بڑھ کر حیران کن یہ بات ہے کہ حدیثوں میں آیا ہے کہ بعض مرتبہ آپ ایک ہی رات میں اپنی ساری بیویوں کے پاس سے ہو آتے تھے۔ پھر یہ بھی بات یاد رکھنی چاہئے کہ آپ مشک و عنبر یا مقویات و محرکات کا استعمال نہیں کرتے تھے۔“
(الفضل خاتم النبیین ج ١٨ نمبر ٥٠ ص ٢٢، مورخہ ٢٥؍ اکتوبر ١٩٣٠ء)
١٥٣
ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور محمد عربی سے بڑھ سکتا ہے
”یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پاسکتا ہے۔ حتیٰ کہ محمدﷺ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔“
(ڈائری خلیفہ قادیان مطبوعہ اخبار الفضل ج ١٠ نمبر ١٠٥، مورخہ ١٧ جولائی ١٩٢٢ء)
مسیح قادیانی اور فخر دوعالم میں کوئی فرق نہ تھا
”ظلی نبوت نے مسیح موعود کے قدم کو پیچھے نہیں ہٹایا۔ بلکہ آگے بڑھایا اور اس قدر آگے بڑھایا کہ نبی کریم کے پہلو بہ پہلو لا کھڑا کیا ۔“
(کلمۃ الفصل ص ١١٣)
در دلش سفاکی ابن زیاد
مسیلمہ ثانی مسیح قادیانی کی جماعتی بھیڑو! پڑھو اور شرم کے سمندر میں ڈوب مرو۔ کیا اسی برتے پر سیرت النبی کی تقریب میں لمبی لمبی تانیں لگایا کرتے ہو۔ بخدا عیسائی تم سے اچھے یہود تم سے بہتر۔ مگر تم تو وہ سانپ ہو جسے مار آستین سے تشبیہہ دینا حق بجانب ہے۔ مگر آہ سانپ تو صرف ڈس کر زندگی ہی تلف کرتا ہے۔ مگر تم وہ ہو کہ ایمان کو سلب کرتے ہو اور ہمیشہ کے لئے دار جہنم میں دھکیل دیتے ہو۔ کیا یہی ظلی اور بروزی کلا بازیاں ہیں۔ کیا یہی مجددیت کا سوانگ ہے۔ افسوس تم نے وہ وہ باتیں کیں کہ بخدا رواں رواں تھرا اٹھا۔ اس سے زیادہ دکھ ومصائب مسلمان کے قلب کو نہیں پہنچ سکتے۔ جس قدر تم نے پہنچائے۔ کاش تمہارے دل پتھر سے زیادہ سخت واقع نہ ہوتے کاش تمہاری بینائی تمہیں جواب نہ دے چکی ہوتی۔ کاش تمہارے اوسان ٹھکانے ہوتے۔
افسوس تمہاری عقل پر حیرت تمہاری فطرت پر تمہیں کیا ہو گیا۔ تمہارے جذبات فنا ہوئے۔ تمہاری محبت غارت ہوئی۔ قلبی کیفیت اس قدر مردہ ہوئی کہ تمہیں کچھ محسوس ہی نہیں ہوتا۔ فہم و ادراک تم سے یوں کنارہ کش ہوئے کہ تمہیں کچھ بھی ناموس محمدﷺ کی پاسداری کا خیال ہی نہیں ہوتا۔ ڈرو اس قادر مطلق سے جو جبار ہے قہار ہے اور یاد کرو وہ دن جو روز فیصل ہے اور جہاں بیٹا باپ کو ماں بیٹی کو بھائی بھائی کو کام نہ آئے گا اور ایمان لاؤ اس آقائے نامدار پر جو شفیع محشر ہے اور جس کے سوائے اور کوئی سفارش نہ کر سکے گا۔ ڈرو اس برے وقت سے جب بجز ساقی کوثر کے کوئی تسکین نہ دے گا اور یاد کرو اس میدان کو جہاں سوائے لوائے حمد اور عرش معلیٰ کے اور کوئی سایہ نہ ہوگا۔ کس کو لیتے ہو اور کس کو چھوڑتے ہو۔ آہ تمہیں کس سحر نے مسحور کر دیا۔ لعل کو چھوڑ کر کانچ
١٥٤
کو قبول کرتے ہو۔ نقل کو اصل پر ترجیح دیتے ہو۔ بھائی سوچو اسلام کبھی مردہ نہیں ہوا۔ فرقان حمید کبھی بلا منفعت نہیں رہا۔ نماز کبھی معراج المومنین سے منزہ نہیں ہوئی۔ حج کی برکات اب بھی محیط ہیں اور ویسی ہی ہیں۔ مگر آہ آج مسلمان ایسے ایسے فاسد خیالات لئے بیٹھے ہیں جلوہ طور اب بھی موجود ہے۔ فاران کی چوٹیوں سے وحی خدا اب تک کانوں میں آ رہی ہے۔ عاشقان ناموس الٰہی کے جذبات آج بھی اسلام کی وہی خدمت کر رہے ہیں۔ مگر خواب غفلت سے بیدار تو ہو میٹھی نیند کو چھوڑ کر دیکھو تو شراب حقیقی کے جام لبوں تک آنے تو دو۔ پھر دیکھو کہ سب چیزیں جنہیں بلا روح سمجھ رہے تھے کیف آور ہیں یا نہیں۔ ایک ہی گھونٹ حلق سے اترنے پر پتہ چل جائے گا کہ جنہیں ہم مردہ سمجھتے تھے وہ زندہ نکلا۔ ہم ہی مردہ ہو چکے تھے۔ اللہ اللہ وہ رسول عربی جس کا احترام رب قدوس سکھلائے اور وہ نبی جس کی امت خیر الانام کا فخر حاصل کرے اور جس امت میں حضرت موسیٰ کلیم اللہ آنے کی خواہش کریں اور جس کی سوانح حیات کا چپہ چپہ امت کی غمخواری و بخشش میں ڈوبا ہوا ہو اور اصلاح امت کے لئے زرین اقوال اور بہترین مثالیں موجود ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی کروڑ کروڑ رحمتیں اس نبی آمنہ کے لال پر ہوں۔ جس کی راتیں یاد الٰہی میں کٹیں اور دن امت کی خدمت میں بسر ہوتا۔ لاکھ لاکھ سلام اس کملی پوش آقا پر جس نے بادشاہی پر فقیری کو ترجیح دی اور جس کے پاؤں امت کی بخشش کے لئے رب کعبہ سے التجا کرتے کرتے متورم ہو جاتے اور آسودگی و خوش حالی رضائے مولا میں شامل حال رہتی۔ مگر سخاوت و کرم کا وہ عالم کہ منوں غلہ آئے اور سیروں پاس نہ رہے۔ جس کے نام پر آئے اسی کی آن پر قربان کر دیا جائے اور اپنا یہ حال کہ فاقوں کے مارے تین تین پتھر شکم مبارک کو زینت دیں اور لب حمد وثناء میں شکر کا اظہار کریں۔
دنیا کی اچھی سے اچھی نعمتیں اس محبوب یزدانی کی روزہ داری پر قربان کر دی جائیں۔ میرے مولا و آقا مسلسل روزہ داری اختیار فرماتے اور اگر کوئی جان نثار تقلید کرنا چاہتا تو حضور منع فرماتے اور از راہ شفقت اس کو اس ارادہ سے باز رکھتے ہوئے فرماتے کہ تو یہ ریاضت نہ کر سکے گا۔ اس لئے کہ تو خلعت محبوبی سے سرفراز نہیں۔ میرا مولا مجھے کھلاتا بھی ہے اور پلاتا بھی ہے۔
یثربی آقا کے لمحات اس شان سے کٹے کہ اپنے تو کیا بیگانوں نے سر دھنے۔ دنیا کا کوئی ایک لیڈر ایسا نہیں جو خوان کرم کا ریزہ چین نہ ہو۔ آج بڑے سے بڑے بادشاہوں کے قانون بنتے اور بگڑتے ہیں۔ مگر سرکار مدینہ کے قوانین وہ ہیں جن کا ایک شوشہ یا نقطہ نہ تبدیل ہوا اور نہ ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ دشمن سے دشمن قومیں حالات زمانہ سے مجبور ہو کر اسلام کے نام سے دشمنی اور
١٥٥
اس کے قوانین سے پیار کرتی نظر آتی ہیں اور مدبران یورپ اب اس نقطہ پر آتے جاتے ہیں کہ سوائے پیروی و اتباع محمدﷺ دنیا کی نامرادی نہیں بدل سکتی ۔ چنانچہ حال ہی میں ولایت کے بہت بڑے ادیب برنارڈ شا ہندوستان میں آئے تھے تو انہوں نے ایک بیان اخباری دنیا کو دیا کہ اگر تمام سلاطین وہ چھوٹے ہوں یا بڑے حضرت محمدﷺ کے ہاتھ پر بیعت کر لیں یعنی ان قوانین کو نصب العین بنالیں تو تمام جھگڑے اور لڑائیاں آن واحد میں مٹ سکتی ہیں۔
اور ایسا ہی سینکڑوں یورپین لوگوں کی رائے ہے۔ مگر مسیلمہ قادیانی جس کا باوا انگریزی اطاعت میں متفنی ہوا پھولا اور پھلا کا پیارا بیٹا آقائے نامدار کو کس نگاہ سے دیکھتا ہوا کیا کیا ہزلیات بک گیا۔ سچ ہے بے حیا باش ہر چہ خواہی کن پر جب کوئی عمل پیرا ہو جائے تو اس کے لئے ہر ناممکن اور ہر نا جائز جائز ہے۔ حالانکہ نبی مکرم کی شان و رفعت بلند خیالی وعلو حوصلگی کے لئے محمدی سرمہ ہی درکار ہے۔ کور چشم و بد باطن روز روشن میں ماہ تاباں کی تابانی سے محروم رہ جائیں تو یہ ان کی شپرہ چشمی کا قصور ہے۔ نادان ہے وہ جس نے سرکار مدنی سے رشتۂ غلامی کو منقطع کر کے کسی طفیلئے سے الحاق کیا۔ بیوقوف ہے وہ جس نے رحمت العالمین کے دور رسالت میں کسی متنبی کو امتی اور نبی قرار دیا۔ نالائق ہے وہ جس نے فرقان حمید کے کھلے کھلے معانی کو استعاروں کے رنگ میں سمجھا۔ حیران ہوں کہ کیا لکھوں پریشان ہوں کہ کیا کہوں ان عقل کے اندھوں کو کیا ہوا ۔ فہم و ادراک پہ ایسے پتھر پڑے کہ روز روشن کو شب دیجور کا دھوکہ ہو رہا ہے۔ سرکاری نبی کا یہ سرکار پرست بیٹا اپنے باوا کی نبوت کی نوبت پیٹ رہا ہے اور وہ وہ باتیں جو متنبی کے وہم و خیال میں بھی شاید نہ آسکیں وہ ڈنکے کی چوٹ تکمیل نبوت میں اب شامل کی جا رہی ہیں۔ گویا قصر نبوت متنبی کے لڑھک جانے کے بعد پایۂ تکمیل کو پہنچایا جا رہا ہے۔ شاباش حواریو شاباش کوئی کسر ایسی باقی نہ رہے جو بعد میں شرمندگی کا موجب بنے۔
یہ بھی اچھی طرح سے یاد رکھیں کہ نام لیوان سرکار مدینہ تمہاری ان چالبازیوں اور مکاریوں کو خوب جانچ گئے۔ انشاء اللہ اب جھانسے میں آنے کے نہیں۔ گو حکومت تمہاری پشت و پناہی میں ایڑی چوٹی کا زور کیوں نہ لگا دے۔ جیسا کہ وہ اپنے خود کاشتہ پودے کی رکھوالی میں قادیان میں احرار کانفرنس کی اجازت نہ دیتے ہوئے یگانت کا ثبوت دے رہی ہے۔ مگر وہ بھی سن لے اور تم بھی یاد رکھو کہ مسلمان ٹیکس برداشت کر سکتا ہے مالیہ دے سکتا ہے جزیہ قبول کر سکتا ہے مگر وہ نہیں قبول کر سکتا تو سرکاری نبی ۔ اجی حضرت یہ انگریزی گملا ولایت میں ہی لے
١٥٦
جائیے۔ مسلمان تحفظ گا۔ وہ سب کچھ قربان کے تیار ہوگا۔ وہ مر کرے۔ افسوس تم ۔ ثبوت اور امتی ہو ۔ بدہن سرکار مدینہ ۔
افسوس ! ہیں بخدا مسلمان جن دم بھر سکتا ہے۔ مگرم ہاں ہاں سبز روضے ۔ یہ وہ خوفناک دشمن ۔ کہتا ہوں کہ اگر اللہ کا انعام نہ بھیج چکا ہ عذاب نازل کئے ، قرار دیتے ہوئے ا اس لئے قہر الہی خد مسیلمہ شیر کے فرمار کار کردگی تو ملاحظہ ہ کذاب قادیا .......١ نہ ہر ایک طور سے گا۔“ .......٢
جائے۔ مسلمان تحفظ ناموس ملت کے لئے جان مال عزیز واقارب سب کچھ بخوشی دے دے گا۔ وہ سب کچھ قربان کر دے گا۔ انتہائی صدمے اور مشکل سے مشکل مصائب برداشت کرنے کے تیار ہو گا۔ وہ مٹ جائے گا مگر یہ کبھی گوارہ نہ کرے گا کہ سرکاری نبی کی رسالت کو قبول کرے۔ افسوس تم نے مسلمانوں کو دھوکے دے دے کر دام تزویر میں مقید کیا۔ مرزا کی غلامی کا ثبوت اور امتی ہونے کا سرٹیفکیٹ یہی ہے تا کہ وہ نعوذ بالله من ذالك ! ہزار بار خاک بدہن سرکار مدینہ سے ہر لحاظ سے افضل ہے۔
خدا بھی پھر بنالیتے محمد جو بنایا تھا
افسوس! ان واقعات کے ہوتے ہوئے بھی مرزائی نواز حضرات تعاون پر زور دیتے ہیں بخدا مسلمان جنگل کے خوفناک درندوں سے تعاون کر سکتا ہے سانپ اور بچھوؤں سے دوستی کا دم بھر سکتا ہے۔ مگر مرزائی گروہ جن کے ناپاک کلمات سے سرکار یثرب کی روح واللہ بے چین ہے ہاں ہاں سبز روضے میں آرام کی میٹھی نیند سونے والا محبوب خدا۔ مضطرب و بے قرار ہے۔ اس لئے یہ وہ خوفناک دشمن ہے جو جان کا مطالبہ نہیں ایمان کا کرتا ہوا نار جہنم کا ٹھیکیدار بنا دیتا ہے۔ میں تو کہتا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ حضور پرنور کے احترام میں ” وما كان الله ليعذبهم وانت فيهم “ کا انعام نہ بھیج چکا ہوتا تو آج اقوام سلف کی طرح ہم پر آسمان سے پتھر برستے اور طرح طرح کے عذاب نازل کئے جاتے۔ مگر چونکہ نبوت تاقیام زمانہ منقطع ہے اور یہ آخری نبی اور آخری امت قرار دیتے ہوئے اکثریت کا وعدہ انا اعطیناک الکوثر کے اکرام سے نوازی جاچکی ہے۔ اس لئے قہر الہی خدا کے وعید کے موجب موقوف ہوا۔ میرے وہ عزیز جن کی تسلی پاپائے قادیان مسیح وشیر کے فرمان نہ کر سکے ہوں۔ ذیل میں ان کے ہادی کی تصویر ملاحظہ کریں۔ چھوٹی سرکار کی کارکردگی تو ملاحظہ ہو چکی اب بڑے مہاراج کی بھی سنئے۔
کذاب قادیان کے عقائد خصوصی
- ١...... ”مطلق نبوت ختم نہیں ہوئی نہ من کل الوجوہ باب نبوت مسدود ہوا ہے اور
نہ ہر ایک طور سے وحی پر مہر لگائی گئی ہے۔ بلکہ جزوی طور پر وحی اور نبوت کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا۔“
(توضیح المرام ص ١٩، خزائن ج ٣ ص ٦٠)
- ٢...... ”کسی بشر کا آسمان پر چڑھنا اور اترنا سنت اللہ اور فطرت کے خلاف ہے
١٤٧
اور خدا تعالیٰ کا دنیا میں ایسی خوارق دکھانا اپنی حکمت اور ایمان بالغیب کا تلف کرنا ہے۔“
(توضیح المرام ص ٩، خزائن ج ٣ ص ٥٥)
- ٣....... ”حضرت مسیح علیہ السلام اور آپ (مرزا قادیانی) کے دل میں جو قوی
محبت ہے اس نے خدا کی محبت کو اپنی طرف کھینچ لیا ہے۔ ان دونوں محبتوں کے ملنے سے تیسری چیز پیدا ہوئی جس کا نام روح القدس ہے اور اس کو بطور استعارہ کے ان دونوں محبتوں کا بیٹا کہنا چاہئے۔ یہ پاک تثلیث ہے۔“
(توضیح المرام ص ٢٢، خزائن ج ٣ ص ٦٢)
- ٤....... ”مسیح اور اس عاجز کا قیام ایسا ہے کہ اس کو استعارہ کے طور پر ابنیت کے
لفظ سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ یعنی ابن اللہ کہہ سکتے ہیں۔“
(توضیح المرام ص ٢٧، خزائن ج ٣ ص ٦٤)
- ٥....... ”ملائکہ وہ روحانیت ہیں کہ ان کو یونانیوں کے خیال کے موافق نفوس
فلکیہ کہیں یا دساتیر اور وید کے اصطلاحات کے موافق ارواح کواکب سے ان کو نامزد کریں یا سیدھے طریق سے ملائکہ اللہ کا ان کو لقب دیں....... دراصل ملائکہ ارواح کواکب اور سیارات کے لئے جان کا حکم رکھتے ہیں اور عالم میں جو کچھ ہو رہا ہے ارواح کی تاثیرات سے ہورہا ہے۔“
(توضیح المرام ص ٣٢ تا ٣٧، خزائن ج ٣ ص ٦٧ تا ٧٠)
- ٦....... ”جبرائیل علیہ السلام جو انبیاء کو دکھلائی دیتا ہے وہ بذات خود زمین پر نہیں
اترتا اور اپنے ہیڈ کوارٹر یعنی صدر مقام نہایت روشن نیّر سے جدا نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کی تاثیر نازل ہوتی ہے اور اس کے عکس سے ان کی تصویر ان کے دل میں منقوش ہو جاتی ہے۔“
(توضیح المرام ص ٦٨ تا ٨٥، خزائن ج ٣ ص ٨٦ تا ٩٥)
- ٧....... ”آیت متضمن ذکر سجدہ آدم میں باوا آدم کی طرف سجدہ کرنا مراد نہیں
ہے۔ بلکہ ملائکہ کا انسان کامل کی خدمت بجالانا اور اس کی اطاعت کرنا مراد ہے۔“
(توضیح المرام ص ٤٩، خزائن ج ٣ ص ٧٦)
یعنی سجدہ حضرت آدم کی کچھ خصوصیت نہیں ہے۔ بلکہ مرزا قادیانی بھی مسجود مخدوم ملائک ہیں۔ یہی تو بات ہے کہ کم بخت ٹیچی ٹیچی سونے نہیں دیتا۔ بلکہ تابڑ توڑ الہامات کی بارش کر رہا ہے۔
- ٨....... ”لیلة القدر سے رات مراد نہیں ہے۔ بلکہ وہ زمانہ مراد ہے جو بوجہ ظلمت
١٥٨
رات کے ہمرنگ اور وہ بھی یا اس کے قائم مقام مجدد کے گزر جانے سے ہزار مہینے کے بعد آتا ہے ۔‘‘
(فتح اسلام ص ٥٤، خزائن ج ٣ ص ٣٢)
- ٩...... ’’ پیش گوئیوں کے سمجھنے کے بارے میں انبیاء سے بھی امکان غلطی ہے تو
پھر امت کو کورانہ اتفاق یا اجماع کیا چیز ہے۔‘‘
(ازالۃ الاوہام ص ١٤١، خزائن ج ٣ ص ١٧٢)
- ١٠...... ’’چنانچہ فرماتے ہیں کہ خدا کا وعدہ ہے ’نحن نزلنا الذکر وانا له
لحافظون‘ قرآن کریم کی گم شدہ عظمت اور عزت کو پھر بحال کرنے کے لئے غلام احمد قادیانی کی صورت میں یقیناً محمد رسول اللہ ﷺ آیا اور خدا نے آسمان سے قرآن کریم کی حفاظت اور اس کی عظمت و جلال کے اظہار کا ذریعہ پیدا کیا اور ارادہ کیا کہ قرآن کریم کا نزول دوبارہ ہوا اور پھر دنیا کو اس کی عظمت پر اطلاع دی جائے اور اس غرض کے لئے اس نے پھر محمد مکی کو بروزی رنگ میں غلام احمد قادیانی کی صورت میں نازل کیا ۔‘‘
(الحکم ج ٦ نمبر ١٧، مورخہ ١٠ مئی ١٩٠٢ء، کالم اول ص ٩)
فی قبر واحد کی تفسیر
- ١١...... ’’ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ مسیح موعود کی قبر میری قبر میں ہوگی۔ اس
میں میں نے سوچا کہ یہ کیا اسرار ہے تو معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد ہر قسم کی دوری اور دوئی کو دور کرنا ہے۔ اس سے آپ مسیح موعود کے وجود میں ایک اتحاد کا ہونا ثابت کرنا ہے اور ظاہر کر دیا ہے کہ کوئی شخص باہر سے آنے والا نہیں۔ بلکہ مسیح موعود کا آنا گویا آنحضرت ﷺ کا آنا ہے جو بروزی رنگ رکھتا ہے۔ اگر اور کوئی شخص آتا تو اس سے دوئی لازم آتی اور عزت نبوی کے تقاضے کے خلاف ہوتا۔ خداوند کریم نے جو قرآن کریم میں اس قدر تعریف رسول ﷺ کی ہے اور آپ کو خاتم الانبیاء ٹھہرایا ہے۔ اگر کسی اور کو آپ کے بعد تخت نبوت پر بٹھا دیتا تو آپ کی کس قدر کسر شان ہوتی۔ جس سے یہ ثابت ہوتا کہ آنحضرت ﷺ کی قوت قدسی بہت ہی کمزور ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگر موسیٰ زندہ ہوتے تو وہ بھی میری اطاعت کرتے۔ اس سے مطلب یہ ہے کہ کتنی بڑی بات ہے کہ اگر سوائے میرے مسیح موعود وہ عیسیٰ جو بنی اسرائیل کا آخری نبی ہے آوے اور آنحضرت کی ختم نبوت کی مہر توڑے تو آپ کو غیرت نہ آئے گی اور کیا خدا تعالیٰ آنحضرت ﷺ کی اس قدر ہتک کرنا چاہتا ہے۔ افسوس کہ لوگ باوجود مسلمان ہونے کے اور آنحضرت ﷺ کو خاتم الانبیاء ماننے کے نبوت کی مہر توڑتے ہیں ۔‘‘
(الحکم ج ٧ نمبر ١٧، مورخہ ١٠ مئی ١٩٠٣ء ص ١٣ کالم ١، ٢)
١٥٩
١٢...... اور پھر ایسے سامان کی موجودگی میں یہ بھی لازم ہوا کہ بقول جناب مرزا قادیانی مماثلت سلسلۂ موسوی کی غرض سے خدا نے تیرہ سو برس تک تو نبوت اور وحی پر مہر لگائی رکھی اور بہ پاس ادب آنحضرت کسی نئے نبی اور رسول کی ضرورت نہ سمجھی۔ مگر اب تیرہ سو سال بعد مہر توڑی اور ”اس عاجز کو یا نبی اللہ صریح طور پر پکار کر ممتاز فرمایا اور سلسلہ موسوی کی طرح جیسا کہ حضرت موسیٰ کے حواری تھے کہلائے اور اس طرح حضرت محمد رسول اللہ کا بھی نبی کہلایا۔“
(الحکم ٢٤؍اپریل ١٩٠٣ء)
١٣...... ”آیت ”ومبشراً برسول یأتی من بعدي اسمه احمد“ مگر ہمارے رسول اللہ ﷺ فقط احمد نہیں بلکہ محمد بھی ہیں۔ یعنی جامع جلال و جمال ہیں۔ لیکن آخری زمانہ میں برطبق پیش گوئی مجرد احمد جو اپنے اندر حقیقت عیسویت رکھتا ہے بھیجا گیا ہے۔“
(ازالۃ اوہام ص ٦٧٣ خزائن ج ٣ ص ٤٦٣)
رسول اللہ ﷺ تو احمد اور محمد دونوں تھے۔ لیکن برطبق پیش گوئی صرف احمد مبشر خود ہے نہ رسول اللہ۔
معراج معہ الجسم کا انکار
١٤...... ”معراج اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا۔ بلکہ اعلیٰ درجہ کا کشف تھا۔“
(ازالۃ اوہام ص ٤٧، حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٢٦)
جبرئیل علیہ السلام کبھی زمین پر نہیں آیا
١٥...... ”جبرئیل جس کا سورج سے تعلق ہے وہ بذات خود اور حقیقتاً زمین پر نہیں اترتا ہے۔ اس کا نزول جو شرع میں وارد ہے اس سے اس کی تاثیر کا نزول مراد ہے اور جو صورت جبرائیل وغیرہ فرشتوں کی انبیاء دیکھتے تھے وہ جبرائیل وغیرہ کی عکسی تصویر تھی۔ جو انسان کے خیال میں متمثل ہو جاتی تھی۔ دنیا میں جو کچھ ہورہا ہے نجوم کی تاثیرات سے ہو رہا ہے۔“
(توضیح المرام ص ٦٨ تا ٧٠، خزائن ج ٣ ص ٨٦، ٨٧)
پاک تثلیث
١٦...... ”روح القدس روح الامین شدید القویٰ، ذوالافق الاعلیٰ جن کا ذکر شرع میں ہے انسان کی ایک صفت ہے جو خدا کی محبت یا اس کے محبوب انسان کی محبت باہم ملنے سے متولد ہوتی ہے۔ ان دونوں محبتوں اور ان سے متولد نتیجہ روح القدس کا مجموعہ پاک تثلیث ہے۔“
(توضیح المرام ص ٢١، ٢٢، خزائن ج ٣ ص ٦١، ٦٢)
١٦٠
خدا کا بیٹا ہونے کا دعویٰ
- ١٧...... ”مسیح اور اس عاجز (مرزا قادیانی) کا مقام ایسا ہے جس کو استعارہ کے
رنگ میں ابنیت کے لفظ سے تعبیر کرسکتے ہیں۔“
(توضیح المرام ص ٧، خزائن ج ٣ ص ٦٤)
خلاصہ یعنی مسیح علیہ السلام کو ابن اللہ جو کہا جاتا ہے صحیح ہے اور چونکہ یہ عاجز (مرزا قادیانی) مرزا بھی مسیح ہے۔ اس لئے استعارہ کے رنگ میں یہ بھی خدا کا پہلوٹھی کا بیٹا نہ سہی ثانی تو ضرور ہے۔ مرزائیو ڈوب مرو۔ لعنت اللہ علی الکاذبین!
گنگا جمنی نبی کا کنگروٹی الہام
”هو الذی ارسل رسوله بالھدٰی، جری اللہ فی حلل الانبیاء اس الہام میں میرا نام رسول بھی رکھا گیا اور نبی بھی۔ پس جس شخص کے خود خدا نے یہ نام رکھے ہوں (یعنی نبی اور رسول) اس کو برا سمجھنا کمال درجہ کی شوخی ہے۔“
(ایام صلح ص ٧٥، خزائن ج ١٤ ص ٣٠٩)
میرے محترم دوست شیخ نیاز احمد و شیخ محمد جان صاحبان کو لازم ہے کہ وہ مرزا قادیانی کے الہام پر ایمان لاتے ہوئے ان کی نبوت کا نعرہ حق لگائیں اور چلمن سے نکل کر میدان میں آئیں ورنہ اصطلاح قادیان میں شوخ قرار دیئے جائیں گے۔
اسے کیا خبر کہ کیا ہے رہ رسم شاہبازی
سرکار مدینہ ﷺ کی ایک پیش گوئی
نبی کریم ﷺ نے آج سے ساڑھے تیرہ سو برس پیشتر ایک نہایت واضح پیش گوئی بیان فرمائی تھی جو لفظ بہ لفظ پوری ہوئی۔ آپ نے ارشاد فرمایا ”سیکون فی امتی ثلاثون دجالون کذابون کلھم یزعم انه نبی وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی (الترمذی ج ٢ ص ٤٥، باب لا تقوم الساعة) “ سرکار مدینہ کی نگاہ دور بین کے سامنے یہ کاشف اسرار ہو چکا تھا کہ میری امت سے تیس دھوکے باز فریبی جھوٹے مکار ایسے پیدا ہوں گے جن پر نبی ہونے کا گمان کیا جائے گا۔ حالانکہ حالت یہ ہے کہ باب نبوت مجھ پر مسدود ہوا۔ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا اور حقیقتاً میں ہی نبیوں کا خاتم ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہ آئے گا۔
چنانچہ اقوال مرزا میں جگہ بہ جگہ موقعہ بہ موقعہ جہاں بھی آپ دیکھیں گے بوضاحت و باصراحت یہ نظر آئے گا کہ مرزا قادیانی اپنے لئے لفظ امتی اور نبی برابر استعمال کرتے رہے۔
١٦١
حالانکہ کلیہ کے مطابق نبی امتی نہیں ہو سکتا اور امتی نبی کیونکر؟ فرقان حمید میں باری تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔ ”وما ارسلنا من رسول الا ليطاع باذن الله (النساء: ٦٤)‘‘ یعنی ہم نے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا جو سوائے پروردگار عالم کے کسی دوسرے کی تابعداری کرے۔ پھر یہ کیونکر ممکن ہو سکتا ہے کہ نبی ہو کر غیر کا مطیع ہو۔ چنانچہ مرزا قادیانی بذات خود تقریباً اپنی ساری زندگی اسی پر گامزن رہے سوائے ان چند برسوں کے جب کہ آپ کا دماغ مراق کی وجہ سے ماؤف ہو چکا۔ یعنی اپنی ساٹھ سالہ مدت عمر تک باوجود یہ کہ بارش کی طرح الہام برستے رہے۔ مگر انہیں دعویٰ نبوت پر یقین ہی نہ آیا۔ گو ان کے خدا نے ان کو روزانہ کہا کہ تو نبی ہے۔ مگر مرزا قادیانی کی ہمت ہی نہ پڑتی تھی کہ وہ اپنے نام کے ساتھ صریح طور سے نبوت کا اعلان کریں۔ یہی وجہ ہے کہ پادری محمد علی کی جماعت انہیں نبی کہنے سے ہچکچاتی ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی نبوت کو جزوی فضیلت قرار دیتے رہے۔ مگر جب آپ کا پیمانہ دجل پورے شباب پر آ گیا اور آپ کی دوکان وسیع پیمانے پر چل نکلی اور نقصان کا خدشہ جاتا رہا تو آپ نے دبے لفظوں میں ایک غلطی کا ازالہ کے عنوان سے ایک ٹریکٹ جاری کیا۔ جس میں اپنی ساٹھ سالہ الہامات کی بوسیدہ گٹھری جس میں عفونت کی بو آرہی تھی کو دعویٰ کے حوالے یوں کہہ کر کر دیا کہ جہاں جہاں اور جس جس کتاب میں میں نے نبوت کی نفی کی ہے وہ ان معنوں سے کی کہ شریعت جدیدہ لانے والا نبی نہیں ہوں۔ تشریعی نبوت ختم ہو چکی۔ مگر غیر تشریعی نبوت کا دروازہ قیامت تک جاری ہے اور جس حالت میں اللہ تعالیٰ مجھ کو نبی کا خطاب دیتا ہے تو میں کیوں نہ صاف کہہ دوں کہ نبی ہوں۔ چنانچہ اس کی وضاحت ہز ہولینس محمود نے کر دی وہ لکھتے ہیں کہ:
”مرزا قادیانی ١٨٩٩ء تک تو غیر نبی ہی تھے اور ١٩٠٠ء کا زمانہ مقام برزخ ہے اور اس کے بعد ١٩٠١ء میں آپ نبوت کے تخت پر براجمان ہوئے۔ اس لئے ١٩٠٢ء کے پہلے تمام حوالے جن میں نبوت کی نفی کی گئی ہے منسوخ اور قابل حجت نہیں۔“
چنانچہ مرزا قادیانی آنجہانی نے ١٩٠١ء سے نبی بننا شروع کیا اور بتدریج منازل طے کرتے ہوئے ١٩٠٨ء میں اس عہدہ جلیلہ پر متمکن ہوئے۔ یعنی وہ دعوئی جو بلا ایچ پیچ کے صاف اور نہایت واضح یا کھلے طور پر اعلان نبوت تھا۔ وہ ١٩٠٨ء کو آپ نے کیا۔ اکثر مرزائی اصحاب صداقت مرزا میں کہا کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی دجال وکذاب تھے تو ان کو اتنی لمبی مہلت کیوں ملی۔ وہ دعویٰ نبوت کے وقت ہی کیوں نہ ختم کر دیئے گئے۔ کیا اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر نہ تھا کہ کاذب مدعی کو کیفر کردار تک راستہ دکھا دیتا۔ اس کا جواب نہایت واضح ہے کہ جب تک ١٦٢
مرزا قادیانی کو اپنی نبوت کا یقین نہیں آئے۔ مگر جب دل مطمئن گئے۔ انہیں اتنی بھی مہلت نہ دی کہ امت دو گروہوں پر مشتمل مذبذب حالت میں ہاتھ پاؤں قصہ ہی ختم ہوا چاہتا ہے۔ انصاف
ختم نبوت پر روشنی
جس پر اجماع امت ہے اور جو کور باطن کی تسلی و تشفی کے لئے ای جس طرح ایک چھو یہ احتیاط رکھی جاتی ہے کہ کوئی تھپڑ آہستہ آہستہ جوں جوں اس کی عم تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ کر اع جب وہ چھوٹا بچہ تھا اس کا لباس بھ یہاں تک کہ وہ جوان ہوا اور لباس
بعینہ اسی طرح نبوت زمانہ تھا۔ اس کے بعد متواتر پیام رہا اور بالآخر محمد رسول اللہ ﷺ پر ضرورت ہے اور نہ لباس کے چھو
یہی وجہ ہے تمام مرسلی مبعوث ہوئے اور کوئی جامع قانو جوان ہوا تو پھل پھول شاخیں ۔ لئے خاتم النبیین کا خطاب پھل پھول کے لئے ’’اتممت عل ان الله معنا (توبہ: ٤٠)‘‘ او
مرزا قادیانی کو اپنی نبوت کا یقین نہیں ہوا اور دل نے گواہی نہیں دی تب تک وہ مواخذہ الہی کی زد میں نہیں آئے۔ مگر جب دل مطمئن ہو چکا اور اعلان کر دیا گیا تو فوراً جواب دہی کے لئے طلب کر لئے گئے۔ انہیں اتنی بھی مہلت نہ دی گئی کہ پورے طور پر اعلان نبوت کی تشہیر ہی کر لیتے۔ یہی وجہ ہے کہ امت دو گروہوں پر مشتمل ہو گئی اور ایک نے سرے سے ہی نبوت کا انکار کر دیا اور دوسری تذبذب حالت میں ہاتھ پاؤں مار رہی ہے۔ انشاء اللہ عنقریب نہ ڈھولک بجے گا نہ بانسری۔ بس قصہ ہی ختم ہوا چاہتا ہے۔ انصاف اور دیانت کی ضرورت ہے۔
ختم نبوت پر روشنی ڈالنا سورج کو چراغ دکھلانے کے مترادف ہے۔ ایک ایسا مسئلہ جس پر اجماع امت ہے اور جو قرآن وحدیث کی روشنی میں مہر تاباں کی طرح دمک رہا ہے۔ مگر کور باطن کی تسلی و تشفی کے لئے ایک اور دلیل دی جاتی ہے۔
جس طرح ایک چھوٹے لڑکے کی پرورش اس کا مربی کرتا ہے اس کے خوردونوش میں یہ احتیاط رکھی جاتی ہے کہ کوئی ثقیل غذا جو اس کے معدے کی طاقت سے زیادہ ہو نہ دی جائے اور آہستہ آہستہ جوں جوں اس کی عمر بڑھتی جائے۔ غذا کی ثقالت بھی بتدریج بڑھتی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ کر انتہائی ثقیل چیزوں کو بڑے مزے سے نوش کر لیتا ہے۔ اسی طرح جب وہ چھوٹا بچہ تھا اس کا لباس بھی چھوٹا تھا۔ جوں جوں وہ بڑھتا گیا لباس بھی بتدریج بڑا ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ جوان ہوا اور لباس یہاں پر آکر بڑھنے سے رک گیا۔
بعینہ اسی طرح نبوت حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوئی اور یہ نبوت کے بچپن کا زمانہ تھا۔ اس کے بعد متواتر پیمبر آتے رہے اور جلد جلد آتے رہے اور اس طرح شجر نبوت بڑھتا رہا اور بالآخر محمد رسول اللہ ﷺ پر جوانی ختم ہوئی اور لباس بڑھنے سے رک گیا۔ نہ اب کسی پرہیز کی ضرورت ہے اور نہ لباس کے چھوٹا ہونے کا امکان
یہی وجہ ہے تمام مرسلین قریہ قریہ، گاؤں گاؤں، قوم قوم کے لئے انفرادی حیثیت سے مبعوث ہوئے اور کوئی جامع قانون تفویض نہ ہوا اور نہ ہی اس کی ضرورت تھی۔ مگر جب شجر نبوت جوان ہوا تو پھل پھول شاخیں پتے کونپل غرضیکہ ہر ایک چیز انتہائی مراتب کو پہنچی۔ شجر نبوت کے لئے خاتم النبیین کا خطاب ملا۔ برگ و بار کے لئے ”اکملت لکم دینکم (المائدہ:٣)“ پھل پھول کے لئے ”اتممت علیکم نعمتی (المائدہ:٣)“ صیاد و گلچیں کے لئے ”لا تحزن ان الله معنا (توبہ: ٤٠)“ اور باغبان ایسا مہربان اور خوش ہوا کہ حفاظت و آب پاشی کے لئے
١٦٣
”انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون (الحجر:٩)“ کا ذمہ خود لیا۔ اب انصاف اور دیانت سے کہئے کہ ایسی حالت میں کسی ضمیمہ نبوت کی کیا ضرورت ہے۔ ہاں اگر یہ خیال ہو کہ چونکہ دین اسلام پرانا ہو چکا اور ساڑھے تیرہ سو برس میں سوائے چند جھوٹوں کے کوئی نہ آیا اس لئے اسلام میں تازہ روح پھونکنے کے لئے نبی کا آنا لازم ہے اور ویسے بھی اجرائے نبوت باعث رحمت ہے اس لئے بھی کہ پہلی امتوں میں تو یکے بعد دیگرے انبیاء آتے رہے۔ مگر ہم ایسے ہی بدنصیب ہیں کہ ہمیں کسی نبی کی زیارت ہی نصیب نہ ہو۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ بے شک نبیوں کی آمد باعث رحمت ہے مگر عالم گیر بارش کے بعد جب کہ زمین پانی سے کافی سیراب ہوچکی ہو اور دنیا پانی سے لبریز ہو کر جل تھل ہی نظر آئے تو ایسی حالت میں جو رحمت آئے گی وہ زحمت ہوگی۔ مکان گر جائیں گے فصل تباہ و برباد ہوجائے گی۔ بے شک تھی تو رحمت لیکن بے وقت و موقعہ زحمت بن گئی۔ مہربانی کر کے ایسی نیت کی خواہش نہ کیجئے گا۔ ورنہ انفلونزا اور ملیریا ناک میں دم کردے گا اور نبوت کے خواب بستر علالت پر اجرائے نبوت کے بخار میں جلائیں گے۔
اور اگر نبوت دیرینہ و پارینہ ہونے کے باعث دماغ میں بدلنے کا خبط آ گیا ہو تو سب سے پہلے خدا کو بدلو۔ زمین و آسمان کو بدلو، سورج و چاند پیدا کرو اور ان سب کی تکمیل کے بعد نبوت کے بدلنے کا وہم و خیال کرو۔ خدا کے بندو خوف خدا کرو اور توہمات باطلہ سے باز آؤ دنیا نا پائیدار ہے اور ایک دن اس احکم الحاکمین کے سامنے پیش ہونا ہے۔ جہاں کوئی چیز کفایت نہ کرے گی نہ مال کام آئے گا اور نہ اولاد اور مرزا قادیانی کی نئی نبوت تو ہرگز نہیں بچا سکتا ہے۔ وہ نبوت کیا خاک ہوئی جس میں حال نہیں قال ہی قال ہے۔ باتوں سے قصر نبوت کی تعمیر ریت کو آب زندگی خیال کرنا تدبر و دانائی کی دلیل نہیں۔ افسوس جس دماغ میں بیابان کا مفہوم چمنستان عشرت اور بربادی کا ترجمہ نشاط زندگی ہو اس پیکر جنون و جہالت کا دنیا میں سوائے تباہی و بربادی کے کوئی علاج نہیں۔
مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ جو کچھ نظام عالم میں ہورہا ہے نجوم کی تاثیرات سے ہورہا ہے۔ بھی کس قدر بودا اور مضحکہ خیز ہے یہ نیچریت ہو رہی ہے یا پیغمبری، سمجھ میں نہیں آتا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات لایزال کو آپ کیا سمجھے اور نظام فلکی میں خواہ مخواہ کیوں دخیل ہو رہے ہیں اور ملائکہ اللہ کے تعلق اور وہ بھی بمنزلہ روح، سورج اور ستاروں سے کیوں منسوب کر رہے ہیں کیا ان کے زعم میں مرزائی خدا کا تصور جیسا کہ ان کے ایک الہام سے مترشح ہوتا ہے۔ یعنی ربنا عاج ہمارا خدا ہاتھی ١٦٤
دانت کا ہے۔ تو صحیح نہیں وشمار میں آئیں۔ مرسلین درپے ہوئے۔ کبھی آسما میزان پر تنگ و دو ہو رہی آریوں اور عیسائیوں کی نہیں جس پر آپ کی نظر تھے یہ کیونکر ممکن تھا کہ ج پہلوان تھے اور طرفہ یہ کہ
نجوم کی تاثی اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ت مرزائیو! چشم بصیرت ۔
مرزا قادیانی فرمان
(صحیح بخاری
عزوجل وتجعلون رزقکم انکم تکذ آنحضرتﷺ فرمایا تم جانتے ہو اللہ تعا آپ نے فرمایا کہ خدا تع کافر ہوتا ہے جو یہ کہے اور ستاروں سے منکر اور ستاروں پر ایمان لاتا ہے
دجل اوّل: معجزات
”یہ اعتقاد ان میں پھونک مار کر انہیں
دانت کا ہے۔ تو صحیح نہیں خدا کی خدائی اور محمد کی مصطفائی نہ بچی تو دوسرے معصومین بھلا کس گنتی وشمار میں آئیں۔ مرسلین کی پگڑیاں ایک ایک کر کے اچھالنے کے بعد اب نظام فلکی کی تخریب کے درپے ہوئے۔ کبھی آسمانوں کی سیر کے الہام سنائے جارہے ہیں تو کبھی منی آرڈروں کی تعداد کے میزان پر تگ و دو ہورہی ہے۔ کبھی ہمارے سجادہ نشین وعلمائے کرام مطعون ہورہے ہیں تو کبھی آریوں اور عیسائیوں کی خاطر داری میں پاک مغلظات ارشاد ہورہے ہیں۔ غرضیکہ کوئی طبقہ ایسا نہیں جس پر آپ کی نظر عنایت نہ مبذول ہوئی۔ لے دے کر دور کے بسنے والے ملائکہ اللہ باقی تھے یہ کیونکر ممکن تھا کہ جری اللہ فی حلل الانبیاء کے دم خم سے بچ جاتے۔ آخر وہ بھی تو نبیوں کے پہلوان تھے اور طرفہ یہ کہ برانچ لائن کے نبی اور وہ بھی پنجابی سید امیر مینائی کیا خوب کہہ گئے۔
تڑپے ہے مرغ قبلہ نما آشیانے میں
نجوم کی تاثیرات کے متعلق میں کیا عرض کروں زبان فیض ترجمان جناب محمد رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہی سن لیں اس سے شافی جواب نہ ہو سکتا ہے اور نہ ہی کوئی دے سکتا ہے۔ مرزائیو! چشم بصیرت سے پڑھو اور گوش ہوش سے سوچو۔
مرزا قادیانی فرمان رسالت کے مطابق کافر تھے
(صحیح بخاری ج١ ص٥٩، باب بیان کفر بمن قال مطرنا بنوء) اور (صحیح مسلم ج١ ص١٣١، باب قول
عز وجل وتجعلون رزقکم انکم تکذبون)
آنحضرت ﷺ نے بارش کے بعد صبح کی نماز پڑھائی تو اصحاب کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا تم جانتے ہو اللہ تعالیٰ نے کیا فرمایا ہے۔ اصحاب نے کہا اللہ اور اللہ کا رسول خوب جانتا ہے۔ تو آپ نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندوں میں سے کوئی مجھ پر ایمان لاتا ہے اور کوئی کافر ہوتا ہے جو یہ کہے کہ ہم پر خدا کے فضل و کرم سے بارش ہوئی تو وہ مجھ پر ایمان لانے والا ہے اور ستاروں سے منکر اور جو کہے کہ فلاں ستارہ کے فلاں مقام پر پہنچنے کے سبب بارش ہوئی ہے تو وہ ستاروں پر ایمان لاتا ہے اور مجھ سے کافر ہے۔
دجل اوّل: معجزات پر ایمان مشرکانہ عقائد ہیں
”یہ اعتقاد بالکل غلط اور فاسد ہے اور مشرکانہ اعتقاد ہے کہ مسیح مٹی کے پرند بنا کر اور ان میں پھونک مار کر انہیں سچ مچ کے جانور بنا دیتا تھا۔ بلکہ یہ عمل الترب تھا جو روح کی قوت سے
١٦٥
ترقی پذیر ہو گیا تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مسیح ایسے کام کے لئے اس تالاب کی مٹی لاتا تھا۔ جس میں روح القدوس کی تاثیر رکھی گئی تھی۔ بہر حال یہ معجزہ صرف ایک کھیل کی قسم میں تھا اور وہ مٹی در حقیقت صرف ایک مٹی رہتی تھی جیسے سامری کا گوسالہ۔‘‘
(ازالۃ اوہام ص ٣٢٢ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٦٣)
دجل دوم: مسیح علیہ السلام آیات اللہ نہ تھے
”کچھ تعجب کی جگہ نہیں کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح کو عقلی طور سے ایسے طریق پر اطلاع دے دی ہو جو ایک کھلونا کل کے دہانے سے یا کسی پھونک مارنے کے طور سے پرواز کرتا ہو۔ یا اگر پرواز نہیں تو پیر سے چلتا ہو۔ کیونکہ حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف نجار کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک نجاری کا کام کرتے رہے ہیں یہ ظاہر ہے کہ بڑھئی کا کام ایک ایسا کام ہے جس میں کلوں کی ایجاد کرنے اور طرح طرح کی صنعتوں کے بنالینے میں عقل تیز ہو جاتی ہے۔‘‘
(ازالۃ اوہام ص ٣٠٣، حاشیہ خزائن ج ٣ ص ٢٥٤)
دجل سوئم: ایک چلتا ہوا چکمہ
”حال کے زمانے میں دیکھا جاتا ہے کہ اکثر صناع ایسی ایسی چڑیاں بنا لیتے ہیں کہ وہ بولتی ہیں اور ہنستی بھی ہیں اور دم بھی ہلاتی ہیں اور میں نے سنا ہے کہ بعض چڑیاں پرواز بھی کرتی ہیں۔‘‘
(ازالۃ اوہام ص ٣٠٤، حاشیہ خزائن ج ٣ ص ٢٥٥)
دجل چہارم: ایک ناپاک حملہ
”یہ بھی قرین قیاس ہے کہ مسمریزی طور سے بطور لہو ولعب نہ بطور حقیقت ظہور میں آسکیں۔‘‘
(ازالۃ اوہام ص ٣٠٥، حاشیہ خزائن ج ٣ ص ٢٥٥)
دجل پنجم: ایک رکیک حملہ
”بہر حال مسیح کی یہ تربی کارروائیاں زمانہ کے مناسب حال بطور خاص مصلحت کے تھیں۔ مگر یادرکھنا چاہئے یہ عمل ایسا قدر کے لائق نہیں جیسا کہ عوام الناس اس کو خیال کرتے ہیں۔ اگر یہ عاجز (مرزا) اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرین نہ سمجھتا تو خدا تعالیٰ کے فضل وتوفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان عجوبہ نمائیوں میں حضرت مسیح ابن مریم سے کم نہ رہتا۔‘‘
(ازالۃ اوہام ص ٣٠٩، حاشیہ خزائن ج ٣ ص ٢٥٧)
آنحضور فخر دو عالم ﷺ کے ایک ایک لفظ میں سینکڑوں نکات پنہاں ہیں اور چشم
١٦٦
بصیرت سے دیکھا جائے تو کوئی مشکل سے مشکل ایسی نہیں جو آن واحد میں حل نہ ہو جائے۔ مثال کے طور پر فتنہ مسیح الدجال ہی کو لیجئے۔ کوئی پیامبر ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی امت کو اس فتنے سے خبردار نہ کیا ہو اور اس کے رد کے لئے دعا نہ سکھلائی ہو۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ فتنہ تمام امتحانوں سے زیادہ اہمیت رکھنے والا امتحان ہے۔ کیونکہ اس میں اجتماعی حیثیت مذکور ہے۔ چنانچہ فخر دو عالمﷺ نے حفظ ماتقدم کے لئے اپنی امت کو ایک عجیب دعا بتلائی۔ آنحضورﷺ نے ارشاد فرمایا:
”اللهم انی اعوذبک من فتنة المحیا والممات واعوذبک من فتنة المسیح الدجال (بخاری ج ٢ ص ٩٧٢ باب فتنة المحیا والممات)“
معلوم ہوا کہ یہ کوئی اہم چیز ہے۔ چنانچہ اس کی اہمیت مسیلمہ کذاب کے بھائی نے جو قادیان میں اس کے بروز میں آیا صدہا دجل، ہزاروں فریب، لاکھوں مکر، کروڑوں چالبازیوں کے ساتھ بیان کی۔ مثال کے طور پر میں نے پانچ دجل آپ کے سامنے رکھے ہیں۔ ان کی تفصیل سے پیشتر میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں ایمان مسلم کی تعریف کیا ہے۔
- ١...... ”والذین ھم بآیات ربھم یؤمنون (مؤمنون:٥٨)“
- ٢...... ”لانفرق بین احد من رسله وقالوا سمعنا
واطعنا (البقرہ:٢٨٥)“
- ٣...... ”قل ان کنتم تحبون الله فاتبعونی یحببکم الله (آل
عمران:٣١)“
اب میں آپ کے سامنے مسیح علیہ السلام کے وہ معجزات جن سے انکار کیا گیا ہے اور بازاری کلمات و روایات کے ساتھ پھبتی اڑائی گئی ہے اور بڑھ کر کرنے کی ڈینگ ماری گئی ہے از روئے قرآن پیش کرتا ہوں۔ ملاحظہ فرمائیے۔
”ویعلمه الکتاب والحکمة والتوراة والانجیل . ورسولا الی بنی اسرائیل انی قد جئتکم بایة من ربکم انی اخلق لکم من الطین کھیئة الطیر فانفخ فیه فیکون طیراً باذن الله وابری الاکمه والابرص واحی الموتیٰ باذن الله وانبئکم بما تأکلون وماتدخرون فی بیوتکم ان فی ذٰلک لآیة لکم ان کنتم مؤمنون (آل عمران:٤٨، ٤٩)“
اور سکھاوے گا اس کو لکھنا اور حکمت اور توریت اور انجیل اور کرے گا اس کو پیغمبر
١٦٧
طرف بنی اسرائیل کے یہ کہ تحقیق آیا ہوں میں تمہارے پاس ساتھ ایک نشانی کے پروردگار تمہارے سے، یہ کہ بناتا ہوں میں واسطے تمہارے مٹی سے مانند صورت جانور کے پس پھونکتا ہوں بیچ اس کے۔ پس ہو جاتا ہے جانور ساتھ حکم اللہ کے اور چنگا کرتا ہوں پیٹ کے اندھے کو اور کوڑھی کو اور جلاتا ہوں مردے کو ساتھ حکم اللہ کے اور خبر دیتا ہوں تم کو ساتھ اس چیز کے کہ کھاتے ہو تم اور جو کچھ ذخیرہ کرتے ہو بیچ گھروں اپنے کے تحقیق بیچ اس کے البتہ نشانی ہے واسطے تمہارے اگر تم ایمان والے ہو۔
اس طریق استدلال پر یا اسی بودے معیار پر اگر تمام مرسلین کے معجزات کو پرکھا جائے تو موسیٰ علیہ السلام کے عصا کا واقعہ بدرجہ اتم عمل الترب ٹھہرے گا۔ کیونکہ یہ کس طرح باور کر لیا جائے کہ لکڑی کا سوٹا سانپ بن گیا اور وہ بھی اژدھا اور پھر معا موسیٰ علیہ السلام کی گرفت پر اصلی ہیئت پر آ گیا اور یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ہاتھ کو بغل میں رکھنے سے ید بیضاء ہو جائے اور دیکھنے والوں کی آنکھیں خیرہ کر دے اور یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ وہ آگ جو نمرودیوں نے دہکائی اور جس سے دور دور تک زمین جھلس گئی اور پرندے ہوا میں پرواز کرتے ہوئے جل گئے ابراہیم علیہ السلام کے لئے گلزار ہو گئی اور یہ کس طرح یقین آئے کہ بنی اسرائیل کے لئے آسمان سے پکا پکایا کھانا آیا، یا یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ دریائے نیل موسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں کے لئے امن و سلامتی کے راستے دے دے اور وہ اس سے بہ عافیت گزر جائیں اور وہی نیل قبطیوں کے لئے غرقابی کا باعث بنے، اور یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ اصحاب کہف تین سو برس تک غار میں بلا آب و دانہ سوئے رہیں اور پھر بیدار ہوں اور وہ استفسار کرنے پر سونے کی مدت ایک دن یا اس سے کم ہی خیال کریں اور یہ کس طریق سے مانا جائے کہ عزیر علیہ السلام سو برس تک مار دیئے جائیں اور ان کا کھانا بوسیدہ نہ ہو۔ حالانکہ ان کا گدھا ہڈیوں کا مرقع بن جائے اور یہ عقل کس طرح تسلیم کرے کہ عزیر علیہ السلام کے سامنے وہ سو سالہ بوسیدہ ہڈیاں گوشت سے ملفوف ہوں اور گدھا زندہ ہو جائے اور یہ کس طرح یقین آئے کہ ابراہیم علیہ السلام کے چار ذبح شدہ جانور ان کی آواز پر ایک ایک کر کے پرواز کرتے آ جائیں اور یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ پتھر پر عصا مارنے سے چشمے پھوٹ نکلیں اور یہ قیاس و وہم سے بعید ہے کہ بلقیس کا وہ بھاری تخت جو سبا میں تھا آن واحد میں شام میں سلیمان علیہ السلام کے سامنے آ جائے اور یہ کس طرح مان لیا جائے کہ کیڑے مکوڑے اور جانوروں کے تکلم سے سلیمان علیہ السلام آشنا ہوں اور یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ مردہ گائے بول
١٦٨
اٹھے اور یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک تھوڑے سے حصہ رات میں فخر دو عالم ﷺ مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک اور پھر آسمانوں پر جنت و دوزخ کی سیر کر آئیں۔ غرضیکہ ایک کے انکار سے تمام کا انکار لازم آئے گا اور قرآن کے منزل من اللہ ہونے کا ایمان ہی اٹھ جائے گا۔
مندرجہ بالا کے علاوہ اور ہزاروں مثالیں موجود ہیں مگر طوالت مضمون کے خوف سے انہیں پر اکتفا کرتا ہوا ببانگ دہل اعلان کرتا ہوں کہ تمام معجزات کا مرزا قادیانی نے انکار کیا اور وہ صلواتیں سنائیں کہ دہلی کی ڈومنیاں پنبہ در گوش ہوئیں۔
سرور دو جہاں ﷺ سے لے کر اس زمانہ تک کے سعید الفطرت لوگ مسیح علیہ السلام کے اعجاز کے معترف ہیں اور کیوں نہ ہوں جب خلاق جہاں خود اقرار کرتا ہے کہ ہم نے مسیح کو یہ معجزات عطا فرمائے۔ مگر مرائی و بداخلاق متنبی کے زاویہ نگاہ میں ہزار بار خاکم بدہن نقل کفر کفر نباشد۔ یہ اعتقاد غلط و فاسد اور طرہ یہ کہ وہ بھی مشرکانہ اور نام دیکھئے اور دجال کی جانبازیاں ملاحظہ کیجئے۔ اگر شعبدہ کہہ جاتا تو دنیا لٹھ لے کر پیچھے ہو جاتی۔ اس لئے ایک خاص اصطلاح قائم کر کے عمل الترب کہہ دیا جس کے معنے سوائے ٤٢٠ یا شعبدہ کے اور کچھ نہیں ہو سکتے۔ گویا جناب مسیح علیہ السلام نعوذ باللہ شعبدہ باز تھے اور مثال بھی ظالم نے وہ دی جس سے شرافت پناہ مانگے۔ بھائی کہاں خدا کا برگزیدہ صاحب کتاب دنیا اور آخرت میں مرتبے والا پیغمبر اور کہاں راندۂ درگاہ سامری گوسالہ پرست، ببیں تفاوت از کجا تا بکجاست۔
یہ ہیں سلطان القلم کی ملاحیاں اور ایمانداریاں اور ذات شریف میں چونکہ کوئی جوہر نہیں کوئی کرشمہ واعجاز نہیں محض کورے اور نقد ہیں۔ اس لئے جاتے جاتے تیں مار خانی کرتے ہوئے نبوت کے پھٹے میں ٹانگ بھی الجھادی کہ اگر یہ خاکسار مرزا پنجابی نبی قادیان کا جھوٹا رسول معجزات کو حقارت اور نفریں نگاہ سے نہ دیکھتا تو اس سے بڑھ کر اعجوبہ نمائی کی طاقت اپنے اندر رکھتا تھا۔ دریں چہ شک تم روتے کیوں ہو۔ شکل ہی ایسی ہے۔ آپ کے اعجاز توبہ توبہ۔ یہ منہ اور مسور کی دال۔ جھوٹے پہ لعنت بھیجو۔ وہ تو پیامبران ایزدی پر ختم ہوئے۔ ہاں! ہاں! آپ کی کرشمہ سازیاں بھی زمانے نے دیکھیں۔ ڈپٹی عبداللہ آتھم کی پیشگوئی کی ضلالت آپ کو نصیب ہوئی۔ لیکھرام کا خوارق عادت عذاب میں مبتلا ہونا آپ کے آڑے آیا۔ محمدی بیگم کی شادی آپ کو لے ڈوبی۔ ثناء اللہ کے لئے دعا کا فیصلہ آپ کی زندگی کو غارت کر گیا اور ایسے ہی لاکھوں واقعات ہیں۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے:
نامرادی میں ہوا ہے تیرا آنا جانا
١٦٩
مرزا قادیانی بقول خود کاذب تھے
جادو وہ جو سر پر چڑھ کر بولے کے مصداق مرزا قادیانی آنجہانی ایسے اترے ہیں کہ کمال ہی کر دیا۔ آپ کی بطالت پر کسی بیرونی شہادت کی ضرورت نہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ کسی اور کو تکلیف دیں اور میرے خیال میں یہ ان کا بڑا احسان ہے جس کے لئے ہمیں شکر گزار ہونا چاہئے۔ یوں تو ہزاروں بازاری سرمے ایجاد ہوئے اور ان کی بڑی بڑی تعریفیں لکھی گئیں اور بڑے بڑے مداحیہ پوسٹر واشتہار چھاپے گئے۔ کسی نے سرمہ نورالعین نام رکھا تو کوئی سرمہ سلیمانی کہلوایا۔ کسی نے مقوی بصر کے نام کو پسند کیا تو کوئی سرمہ مسیحائی پہ فدا ہوا۔ غرضیکہ ہزاروں نے اس فن لطیف میں کمال کر دیا۔ مگر سب سے بہتر وہ سرمہ ہے جو مرزا قادیانی نے ایجاد کیا۔ یہ ایک ایسا سرمہ ہے جس کا ثانی دنیا پیدا کرنے سے عاجز ہے اور اس کی خصوصیت بھی ایسی دل فریب ہے کہ باید و شاید اس کے پانچ اجزاء ہیں اور یہ نہایت آسانی سے تیار ہوسکتا ہے۔ اس کے فوائد بھی بے نظیر ہیں۔ مثلاً امت کی چندھیائی ہوئی آنکھیں منور کر دیتا ہے۔ دلوں کے زنگ دور کرتا ہے۔ توہمات باطلہ کو روکتا ہے۔ کجروی سے آگاہ کرتے ہوئے صراط مستقیم پہ لاتا ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ جہنم کی آگ سے بچاتا اور جنت کی خوشگوار فضا میں پہنچاتا ہے۔ اس کا نام اکسیری سرمہ ہے۔ اس کے اجزا یہ ہیں۔ مگر نسخہ تیار کرنے سے پہلے ترکیب استعمال اور پرہیز بھی سن لیجئے۔ عقل کی کونڈی میں تدبر کے ڈنڈے کے ساتھ ایمان بالغیب کی شہادت اور خاتم النبیین کا عرق گلاب چھڑکئے اور لا نبی بعدی کی رٹ لگائیے اور پرہیز بالکل معمولی ہے۔ جب کبھی دل میں وسوسہ پیدا ہو فوراً لاحول پڑھیئے۔ اللہ چاہے تو وہ شافی سرمہ تیار ہو جائے گا جس سے روحانیت اور نور دل و دماغ کو منور کرے اور کوئی وجہ نہیں کہ خیالات کی پراگندگی اور توہمات کا قلع قمع نہ ہو جائے۔ انشاء اللہ دل میں انبساط و تسکین پیدا ہوگی اور قلب مطمئن ہو جائے گا۔
اکسیری سرمہ کے پانچ اجزا
- ١...... ”جب مسیح موعود دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ
سے اسلام جمیع آفاق واقطار میں پھیل جائے گا۔“
(براہین احمدیہ ص ٤٩٩، حاشیہ در حاشیہ خزائن ج ١ ص ٥٩٣)
مندرجہ بالا حوالے سے یہ ثابت ہوا کہ مسیح ناصری جو اس وقت اس دنیا میں نہیں بلکہ آسمان پر ہیں اور جو ایک دفعہ آچکے ہیں دوبارہ تشریف لائیں گے اور ان کی تشریف آوری کا یہ
١٧٠
نشان ہے کہ روئے زمین پر سوائے اسلام کے اور کوئی مذہب نہ ہوگا۔ جیسا کہ قرآن مجید شاہد ہے: "وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته (المائده:١٥٩)" یعنی جو مذہب صاحب کتاب ہونے کے مدعی ہورہے ہیں ان میں سے کوئی ایسا نہ مرے گا جو اسلام قبول کرنے سے پہلے مرے۔
- ٢...... "مسیح موعود کے زمانے میں صور پھونک کر تمام قوموں کو دین اسلام پر جمع
کیا جائے گا۔"
(شہادۃ القرآن ص ١٦ خزائن ج ٦ ص ٣١٢)
یعنی آپ کی صداقت کا ڈنکا چہار دانگ عالم میں بج جائے گا اور تمام مذاہب اور اقوام عالم دین اسلام کو اپنا مرکز بناتے ہوئے جناب محمد رسول اللہ ﷺ کی آغوش رحمت میں پناہ گزین ہوجائیں گی۔
- ٣...... "اس پر اتفاق ہوگیا ہے کہ مسیح کے نزول کے وقت اسلام دنیا میں پھیل
جائے گا اور ملل باطلہ ہلاک ہوجائیں گے اور راستبازی ترقی کرے گی۔"
(ایام الصلح ص ١٣٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٨١)
مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے نازل ہوتے ہی تمام مذاہب، اسلام میں تبدیل ہوجائیں گے اور ان کا نام ونشان بھی باقی نہ رہے گا۔ بلکہ مٹادیا جائے گا اور دنیا سے جھوٹ وفریب اٹھ جائے گا اور راستبازی عروج جوانی کو پہنچے گی۔ یعنی نیز اسلام عالم شباب کو پہنچے گا۔
- ٤...... "ہاں! مسیح آ گیا اور وہ وقت آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ زمین پر نہ رامچندر
پوجا جائے گا نہ کرشن اور نہ عیسیٰ علیہ السلام۔"
(شہادۃ القرآن ص ٨٥ خزائن ج ٦ ص ٣٨١)
مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ مسیح آ گیا۔ یعنی خود ما بدولت ہی مسیح ہیں اور اب وہ زمانہ نہایت ہی قریب ہے کہ کرۂ زمین پر سوائے باری تعالیٰ کے اور کوئی نہ پوجا جائے گا۔ نہ رامچندر کی پرستش کی جائے گی اور نہ کرشن اور نہ ہی مسیح علیہ السلام کی۔
تصویر مرزا قادیانی کی عریانی
- ٥...... "طالب حق کے لئے یہ بات پیش کرتا ہوں کہ میرا کام جس کے لئے میں
اس میدان میں کھڑا ہوا ہوں وہ یہ ہے کہ عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دوں اور بجائے تثلیث کے توحید پھیلاؤں......... پس مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آئے تو
١٧١
پھر میں جھوٹا ہوں اور اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا جو مسیح موعود، مہدی موعود کو کرنا چاہئے تھا تو پھر میں سچا ہوں اور اگر کچھ نہ ہوا اور مر گیا تو سب گواہ رہو کہ میں جھوٹا ہوں۔‘‘
(اخبار بدر ج ٢ نمبر ٢٩ ص ٢، ١٩ جولائی ١٩٠٦ء، مکتوبات احمدیہ ج ٦ حصہ اول ص ١٦٢)
اللہ اللہ کس قدر زور دار الفاظ اور شاندار عبارت مرزا قادیانی نے رقم فرمائی۔ پورے پورے سلطان القلم تھے اور لطف تو یہ ہے کہ جس قدر صاف اور واضح یہ بیان آپ کا ہے اس سے زیادہ صفائی اور ہو ہی نہیں سکتی۔ مرزا قادیانی نے یہ تحدی کا دعوے کیا۔ کیا گویا اندھوں کو آنکھیں اور مردوں میں روح پھونک دی۔ اسے کذب و صدق کا امتحان سمجھئے۔ اسے سچ اور جھوٹ کی کسوٹی کہئے۔ مرزا قادیانی انتہائی الفاظ کی ذمہ داری لیتے ہوئے کہتے ہیں اگر عیسائیت کا ستون جس کے لئے میں مبعوث کیا گیا ہوں بیخ و بن سے اکھاڑ کر نہ رکھ دوں یعنی عیسائیت کو صفحہ دہر سے ناپید نہ کردوں تو تم سب گواہ رہو کہ میں جھوٹا ہوں۔ میرا کام صرف یہی ہے کہ چرخ نیلی فام کے نیچے جس قدر نصاریٰ آباد ہیں ان سب کو جام توحید سے سرشار کردوں اور کوئی اہل کتاب باقی ایسا نہ رہے جو محمد رسول اللہ ﷺ کی غلامی میں نہ مرے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر کروڑوں معجزات مجھ سے ظاہر ہوں اور یہ علت غائی یعنی عیسائیت کو نیست و نابود کرنا ظہور میں نہ آئے اور میں مرجاؤں تو گواہ رہو میں جھوٹا تھا اور مسیح موعود کو جو جو کام کرنے لازم ہیں۔ مثلاً کسر صلیب قتل خنزیر۔ افراط مال و تونگری۔ ٹیکس معاف و جزیہ منسوخ وغیرہ نہ ہو تو بھی میں جھوٹا ہوں۔ کیونکہ مسیح موعود کے کام یہی ہیں۔ حج کرنا اور عادل حاکم کی حیثیت سے دنیا پر خدا کا نائب یعنی خلیفہ ہوکر آنا اور مقام وصال مدینہ طیبہ اور مدفن روضہ رسول۔ چنانچہ مرزا قادیانی اس کے بھی مدعی ہیں کہ جو جو کام مسیح موعود مہدی موعود کو کرنے چاہئیں وہ سب کروں گا اور اگر یہ کچھ نہ کرسکا تو گواہ رہو میں جھوٹا ہوں۔ چنانچہ مسیح موعود کے متعلق جو جو کام وہ کریں گے فرمان رسالت ﷺ کی روشنی میں پیش کرتا ہوں۔ ملاحظہ فرمائے۔
ترجمہ حدیث:...... ”قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے البتہ تحقیق ضرور اترے گا اوپر تمہارے بیٹا مریم کا۔ بادشاہ عادل کی حیثیت سے۔ پس وہ غلبہ صلیب کو توڑے گا اور خنزیر کو قتل یعنی حرام قرار دیتے ہوئے جزیہ کو معاف کرے گا اور اس کے مبارک عہد میں مال کی اس قدر فراوانی ہوگی کہ گویا ایک نہر بہہ رہی ہے مگر کوئی ایک اس کو قبول نہ کرے گا۔ لوگ ساری دنیا کے مال سے صرف ایک سجدہ کو قیمتی سمجھیں گے۔ حضرت ابو ہریرہؓ یہ
١٧٢
حدیث بیان کر کے فرماتے تھے کہ اس کی مزید تصدیق چاہتے ہو تو فرقان حمید کو دیکھو: ”وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ (المائدہ: ١٥٩)“
مسیلمہ ثانی یا کذاب العصر کے مخلص حواریو! گئے گزرے ایمان سے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہو کہ مرزا قادیانی ایں جہانی ہیں یا آنجہانی یعنی زندہ ہیں یا مر گئے۔ وہ جھوٹے تھے یا سچے۔ ہے کوئی سچ کا لال یا تمام سوگئے جو مندرجہ ذیل کے شافی جواب دے:
- ......١ کیا مرزا قادیانی کے ہاتھ سے اسلام جمیع آفاق واقطار میں پھیل گیا۔
- ......٢ کیا مرزا قادیانی کے دور رسالت میں صور پھونک کر تمام قوموں کو دین
اسلام پر جمع کیا گیا۔
- ......٣ کیا مرزا قادیانی کے عہد نبوت میں روئے زمین پر رام چندر کے نام لیوا
اور کرشن کے پوجاری اور عیسائیت کے دلدادہ نہیں رہے۔
- ......٤ کیا مرزا قادیانی کے زمانہ میں اسلام تمام دنیا پر پھیل گیا اور فرقے ہلاک
ہو گئے اور اب کوئی فرقہ ماسوائے اسلام کے باقی نہیں رہا۔
- ......٥ کیا مرزا قادیانی نے عیسائیت کو نیست و نابود کر دیا اور اب تمہیں کوئی
عیسائی نظر نہیں آتا بجائے تثلیث کے علم توحید کلیساؤں پر نصب کر دیا گیا۔
تمہارے مرزا قادیانی کو تثلیث کے ستون کو بیخ و بن سے اکھاڑنے پر ایسا دعویٰ اور ناز تھا کہ وہ انتہائی ذمہ داری کے الفاظ اور تحدی کے وعید کے ساتھ فرماتے ہیں کہ اگر مجھ سے کروڑوں نشان ظاہر ہوں مگر یہ علت غائی ظہور میں نہ آئے۔ یعنی تثلیث کا قلع قمع نہ کر سکوں تو عجائبات ومعجزات کی ذرا پرواہ نہ کرو۔ بلکہ پس پشت ڈال دو اور مجھے کذاب عصر کے نام سے یاد کرو اور سچ بات بھی یہی ہے کہ مرزا قادیانی کے معجزات کی عظمت وتوقیر بھی تب ہی ہو سکتی ہے جبکہ یہ تحدی کا دعویٰ ظہور پذیر ہو جائے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ تمام اہم امور ونشانات جو مسیح موعود ومہدی معہود سے منسوب ہیں اگر مجھ سے ظاہر نہ ہوں اور کماحقہ مجھ سے پایۂ تکمیل کو نہ پہنچیں اور اسی کارکردگی میں میری موت آ جائے اور میں جواب طلبی کے لئے طلب کر لیا جاؤں تو تم سب گواہ رہو کہ میں جھوٹا ہوں اور اگر یہ تمام کام پایۂ تکمیل کو بطریق احسن پہنچ جائیں تو میں سچا ہوں۔
ناظرین! معاملہ نہایت صاف ہے اور اس میں کوئی ایچ پیچ اور نہ ہی کسی طعن وتشنیع کی ضرورت ہے اور حق بات یہ ہے کہ مدعی کا بیان اپنے صدق وکذب کا ایک نہایت بلند مرتبہ معیار ہے
١٧٣
اور واقعات اس کے شاہد گردانے گئے ہیں۔ اسی لئے کسی بیرونی شہادت کی مزید ضرورت نہیں۔ مرزائی حضرات سے عموماً اور شیخ نیاز احمد صاحب وزیرآبادی سے خصوصاً مؤدبانہ گزارش ہے کہ یا تو مرزا قادیانی آنجہانی کو ان کے پانچ معیاروں پر جو ان کے اپنے قلم کے مصدقہ ہیں پر پورا اتار دو اور واقعات سے اس کی تصدیق کرا دو اور اس کی اجرت میں ایک خطیر انعام جو اس کتاب کے سرورق پر لکھا گیا ہے یعنی ایک ہزار روپیہ چہرہ شاہی نقد انعام میں حاصل کرو اور ہم سے یہ بھی وعدہ لے لو کہ اسی جوئے غلامی کے ہم بھی غلام ہو کر رہیں گے اور اگر ایسا کرنے سے واقعات قدم قدم پر منہ توڑتے ہوں اور بتائے کچھ نہ بنتی ہو تو حسب فرمان مرزا قادیانی کو ان کاذبوں کا کاذب اور جھوٹوں کا جھوٹا قرار دو اور نبی مکرم ﷺ کی آغوش رحمت میں سوائے جس کے اور کوئی سہارا نہیں بلا توقف آجاؤ اور شافع محشر کے فرمان کے مطابق لا نبی بعدی پر ایمان لاتے ہوئے مرزا قادیانی کو جھوٹا سمجھو۔ امید ہے کہ میری یہ مخلصانہ نصیحت صدا بہ صحرا ثابت نہ ہوگی۔ بلکہ اس پر پورے طور سے توجہ فرما کر عمل کیا جائے گا۔
قارئین کرام! آپ کے سامنے یہ ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ مرزا قادیانی آنجہانی مسیح موعود نہ تھے۔ بلکہ وہ مسیح الدجال تھے۔ مہربانی کر کے گوش ہوش سے سنیں۔ انشاء اللہ! تصویر مرزا کا یہ رخ بھی صد ہا دل فریبیاں اور ملاحیاں پیش کرتا ہوا خراج حاصل کئے بغیر نہ رہے گا۔
پنجابی نبی مسیح ابن مریم کیونکر ہوا
”جب جہل اور بے ایمانی اور ضلالت جو دوسری حدیثوں میں دخان کے ساتھ تعبیر کی گئی ہے دنیا میں پھیل جائے گی اور زمین میں حقیقی ایمانداری ایسی گم ہو جائے گی کہ گویا وہ آسمان پر اٹھ گئی ہوگی اور قرآن کریم ایسا متروک ہو جائے گا کہ گویا وہ خدا تعالیٰ کی طرف اٹھایا گیا ہوگا۔ تب ضرور ہے کہ فارس کی اصل سے ایک شخص پیدا ہو اور ایمان کو ثریا سے لے کر پھر زمین پر نازل ہو۔ سو یقیناً سمجھو کہ نازل ہونے والا ابن مریم یہی ہے جس نے عیسیٰ ابن مریم کی طرح اپنے زمانے میں کسی ایسے شخص والد روحانی کو نہ پایا جو اس کی روحانی پیدائش کا موجب ٹھہرتا۔ تب خدا تعالیٰ خود اس کا متولی ہوا اور تربیت کی کنار میں لیا اور اس اپنے بندے کا نام ابن مریم رکھا۔ کیونکہ اس نے مخلوق میں سے اپنی روحانی والدہ کا تو منہ دیکھا ( روحانی والدہ تو دیکھی مگر والد نہ دیکھا۔ مرزائیو اس چھلکتے ہوئے دجل پر نعرۂ تحسین و مرحبا بلند کرو اور اس کا نام بتلاؤ) جس کے ذریعے سے اس نے قالب اسلام کا پایا۔ لیکن حقیقت اسلام کی اس کو بغیر انسانوں کے حاصل ہوئی۔ تب وہ وجود روحانی
١٧٧
پاکر خدا تعالیٰ کی طرف اٹھایا گیا (پھر نیند کھل گئی) کیونکہ خدا تعالیٰ نے اپنے ماسوا سے اس کو موت دے کر اپنی طرف اٹھالیا (یعنی مرزا قادیانی کی روح پر موت وارد ہو گئی سبحان اللہ! بھڑکتا ہوا معجزہ ہے) اور پھر ایمان اور عرفان کے ذخیرہ کے ساتھ خلق اللہ کی طرف نازل کیا۔ سو وہ ایمان اور عرفان کا ثریا سے دنیا میں تنزل کیا (یعنی براہین احمدیہ ۔ سبحان اللہ) اور زمین جو سنسان پڑی تھی اور تاریک تھی اس کے روشن اور آباد کرنے کی فکر میں لگ گیا (بہشتی مقبرہ اور تل منارہ کی طرف اشارہ ہے) پس مثالی صورت کے طور پر یہی عیسیٰ بن مریم ہے جو بغیر باپ کے پیدا ہوا (جل جلالہ) کیا تم ثابت کر سکتے ہو کہ اس کا کوئی والد روحانی ہے (اجی کسی کا بے پیر ہونا تو کچھ خوبی نہیں) کیا تم ثبوت دے سکتے ہو کہ تمہارے سلاسل اربعہ میں سے کسی سلسلہ میں یہ داخل ہے (افسوس کس کو بتاؤں آپ تو چل بسے۔ ہاں! امت اگر انعامی چیلنج اب بھی دے تو انشاء اللہ چٹکی بجانے میں ثابت کر سکتا ہوں) پھر یہ اگر ابن مریم نہیں تو کون ہے۔‘‘ (اس کا جواب کسی فاطر العقل سے پوچھئے کیونکہ گونگے دی بولی گونگے دی ماں ای جاندی اے۔ خالد)
(ازالہ اوہام ص ٦٥٨،٦٥٩، خزائن ج ٣ ص ٤٥٦)
یہ ہیں مرزا قادیانی کی بھول بھلیاں۔ سبحان اللہ! کسی کی سمجھ میں کچھ آئے تو پنجابی نبی کی ہتک ہوتی ہے۔ کمال تو یہ ہے کہ نہ کچھ کیا اور نہ کچھ کرایا۔ ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے بیٹھے ابن مریم بھی بن گئے۔ آسمان کے تارے بھی توڑ لائے اور لطف تو یہ ہے کہ نہ ہینگ لگی نہ پھٹکڑی اور رنگ چوکھا آیا۔ اب اس دجالی نبوت کا کون انکار کرے۔ ہاں بھئی! واقعی نبی تھے۔ مگر جھوٹے۔ ایک اور بیان ملاحظہ کریں۔ تاکہ پورا پورا نقشہ آنکھوں میں آجائے۔
یاجوج ماجوج کی ماہیت
(ازالہ اوہام ص ٥٠٨، ٥٠٩، خزائن ج ٣ ص ٣٧٢) پر فرماتے ہیں:
”ایسا ہی یاجوج ماجوج کا حال بھی سمجھ لیجئے۔ یہ دونوں پرانی قومیں ہیں جو پہلے زمانوں میں دوسروں پر کھلے طور پر غالب نہیں ہو سکیں اور ان کی حالت میں ضعف رہا۔ لیکن خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ آخری زمانہ میں یہ دونوں قومیں خروج کریں گی۔ یعنی اپنی جلالی قوت کے ساتھ ظاہر ہوں گی۔ جیسا کہ سورۃ کہف میں فرماتا ہے: ”وَتَرَکْنَا بَعْضَہُمْ یَوْمَئِذٍ یَّمُوْجُ فِیْ بَعْضٍ“ یعنی یہ دونوں قومیں دوسروں کو مغلوب کر کے پھر ایک دوسرے پر حملہ کریں گی اور جس کو خدا تعالیٰ چاہے گا فتح دے گا۔ چونکہ ان دونوں قوموں سے مراد انگریز اور روس ہیں۔ اس لئے ہر
١٧٥
ایک سعادت مند مسلمان کو دعا کرنی چاہئے کہ اس وقت انگریزوں کی فتح ہو۔ کیونکہ یہ لوگ ہمارے محسن ہیں اور سلطنت برطانیہ کے ہمارے سر پر بہت احسان ہیں۔ سخت جاہل اور سخت نادان اور سخت نالائق وہ مسلمان ہے جو اس گورنمنٹ سے کینہ رکھے۔ اگر ہم ان کا شکر نہ کریں تو پھر ہم خدا تعالیٰ کے بھی ناشکر گزار ہیں۔ کیونکہ ہم نے جو اس گورنمنٹ کے زیر سایہ آرام پایا اور پا رہے ہیں وہ آرام ہم کسی اسلامی گورنمنٹ میں بھی نہیں پاسکتے۔ ہرگز نہیں پاسکتے۔ ایسا ہی دابۃ الارض یعنی وہ علماء اور واعظین جو آسمانی قوت اپنے اندر نہیں رکھتے۔ ابتداء سے چلے آتے ہیں۔ لیکن قرآن کا مطلب یہ ہے کہ آخری زمانہ میں ان کی حد سے زیادہ کثرت ہوگی اور ان کے خروج سے مراد وہی ان کی کثرت ہے۔“
سبحان اللہ! یہ ہیں پنجابی نبوت کی صداقت کے انمول دلائل اور معارف۔ قرآن کے وہ بے مثل نمونے جن کی ڈینگیں ماری جاتی ہیں اور جن پر امت کپڑوں سے باہر ہوئی جاتی ہے۔ ان عقل کے دیوالیوں سے کوئی پوچھے کہ وہ مفسدہ پرداز قومیں جن کے سدباب کے لئے قدرت نے ایک ایسی ہستی کو مبعوث کیا جس کی آج تک قسمیں کھائی جاتی ہیں اور جسے قرآن عزیز نے ذوالقرنین کے نام سے یاد کیا، کی اطاعت اور وہ بھی جزو ایمان اور جوتے کے زور ایں چہ بوالعجبیست۔ آج کل کے معیار نبوت بھی دیکھئے کہ برطانیہ یاجوج اور روسی ماجوج۔ بھلا ان بے چاروں نے کیا قصور کیا جن کے عوض یہ مفسد گردانے گئے اور یہ کس مہذب تعلیم کی رو سے ایک ہی نوع کی دو چیزوں میں سے ایک کے ساتھ انتہائی بیر اور دوسرے کے ساتھ پیار واجب ہے۔ بندۂ خدا جب یاجوج و ماجوج روس و انگریز ہیں تو سلیم الطبعی کا تو یہ تقاضا ہے کہ ایک ہی نگاہ سے دونوں کو دیکھا جائے۔ اگر روس ظالم ہے تو انگریز بھی ویسے ہی ہیں اور اگر انگریز رحم دل ہیں تو روس بھی علیٰ ہٰذا القیاس سمجھئے۔ ایک کو ظالم اور دوسرے کو شفیق کیوں قرار دیتے ہو۔ جبکہ دونوں ایک ہی قماش پر واقع ہوئے ہیں اور یہ کتنا ظلم ہے کہ ایک کے لئے تو اطاعت فرض قرار دیتے ہو اور دوسرے کی تخریب پر تلے ہوئے ہو۔
آخر اس کی کیا وجہ ہے کہ پنجابی نبوت کو کوئی اسلامی ملک مرغوب ہی نہیں آتا اور وہ کونسا خاص آرام ہے جو کسی اسلامی مملکت میں نصیب ہی نہیں ہو سکتا اور ہو سکتا ہے تو برٹش حکومت میں۔ کیا دجل کے کارخانے اور فریب کی مشینریاں ٤٢٠ کے کاروبار دھوکے کی میخاں اور ہوائی قصروں کی تعمیر سوائے غلام آباد کے نہیں ہو سکتی۔ اچھی مسیحیت ہے جسے کوئی ملک قبول نہیں کرتا۔
١٧٦
حال ہی میں مرزا قادیانی کا ایک بھائی جرمنی میں پیدا ہوا اور نبوت کا مدعی بنا۔ ہٹلر کی عدالت نے ایک سال سزا صرف اس لئے دی کہ رسالت کے ناپاک نام کی کیوں تذلیل کی گئی۔ اس سے پیشتر ایک مخبوط الحواس ٹرکی کے جیل خانہ کی زینت بنا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کرۂ ارض پر سوائے پنجاب کے کہیں نبی پیدا ہی نہیں ہوتا اور خداوندان لندن کی مہربانی سے ہمارے پنجاب میں تو نبوت کی بارش ہورہی ہے۔ کوئی ایک دو درجن پیغمبر دھماچوکڑی مچارہے ہیں جسے دیکھو نبوت کے زکام میں گرفتار ہے جو دیکھو رسالت کا بیمار بن رہا ہے اور دعویٰ دیکھو تو شیطان کی آنت سے لمبے بے معنی لغویات اور خباثت کے چہرے مہرے سیاہ ہو رہے ہیں اور نتیجہ مرغ کی ایک ٹانگ۔ لاکھ کوشش کرو دوسری ہے ہی نہیں اور ایک اور چیز اچنبہ خیز اور وجہ حیرت بھی ہے۔ وہ یہ کہ پہلے دنیا میں زر کی چوریاں مال کی چوریاں ہوا کرتی تھیں۔ مگر اب زمانہ مہذب ہو گیا اور معراج ترقی پر پہنچ گیا۔ اس لئے اب الہامات کی چوریاں ہوتی ہیں۔
مرزا قادیانی ہی کو دیکھ لیجئے۔ کلام مجید ہی پر ڈاکہ ڈالا جارہا ہے۔ جو بھی الہام ہے وہ خیر سے براہین احمدیہ میں مشق کرتے کرتے تھوڑے بہت تصرف سے یا جوں کا توں درج کر لیا ہے۔ مگر طریق کار ایسا بے ڈول اور بھونڈا ہے کہ جھٹ قابو میں آ جاتے ہیں اور سرقہ کھل جاتا ہے۔ یہ تو ہوئے نبیوں کے پہلوان۔ گو بے چارے نحیف البدن اور کمزور ہیں۔ مگر پہلوان ضرور ہیں اور آپ کی کشتیاں بھی آئے دن ہوتی ہی رہی ہیں۔ مگر معرکہ کے وہ جوڑ ہیں جو درد سر، دوران سر، مراق، ذیابیطس کے نام سے مشہور ہیں۔ ان کے علاوہ جو نبوت کے دعویدار ہیں وہ سب مرزا قادیانی کے چشم و چراغ ہیں۔ یعنی اللہ سلامت رکھے بڑھائے اور پھلائے خیر سے سب مرزا قادیانی کے امتی ہیں۔ اس لئے وہ جب بھی الہامی چوری کرتے ہیں تو مرزا قادیانی کے اقوال سے کوئی کہتا ہے کہ مسیح موعود میں ہوں۔ کوئی تین سے چار کرنے والے کی رٹ لگاتا ہے۔ کوئی کچھ اور ہی راگ الاپتا ہے۔ غرضیکہ نبوت کی بیماری مرزائی امت کو ہو گئی ہے اور خیر سے مراق بھی جوبن دکھا رہا ہے۔
اب میں اس کے اخیر میں یعنی کتاب تصویر مرزا کے خاتمہ پر یہ ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ مرزا آنجہانی غلام احمد قادیانی مسیح موعود نہ تھے۔ بلکہ مسیح الدجال تھے۔ قارئین کرام بغور اسے ملاحظہ فرمائیں۔ کیونکہ تصویر مرزا کا یہ رخ بھی انشاء اللہ ضیافت طبع میں از بس مفید رہے گا۔
مسیح الدجال
چنانچہ مرزا قادیانی اپنی مایہ ناز کتاب (مسیح ہندوستان میں ص ١٦، خزائن ج ١٥ ص ایضاً) پر ایک
١٧٧
حوالہ اپنی تائید میں (لسان العرب ص ٣٣١) سے دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
”قيل سمّى عيسىٰ بمسيح لانه كان سائحاً فی الارض لا يستقر“
یعنی عیسیٰ کا نام مسیح اس لئے رکھا گیا کہ وہ سیر کرتا رہتا تھا اور کہیں اور کسی جگہ اس کو قرار نہ تھا۔
”تاج العروس شرح قاموس“ میں لکھا ہے کہ:
”مسیح وہ ہوتا ہے جو خیر اور برکت کے ساتھ مس کیا گیا ہو۔ یعنی اس کی فطرت کو خیر و برکت دی گئی ہو۔ یہاں تک کہ اس کا چھونا بھی خیر و برکت کو پیدا کرتا ہو اور یہ نام حضرت عیسیٰ کو دیا گیا جس کو چاہتا ہے اللہ یہ نام دیتا ہے۔“
اور اس کے مقابل پر ایک وہ مسیح ہے جو شر اور لعنت کے ساتھ مسح کیا گیا۔ یعنی اس کی فطرت شر اور لعنت پر پیدا کی گئی۔ یہاں تک کہ اس کا چھونا بھی شر اور لعنت اور ضلالت پیدا کرتا ہے۔ یہ نام مسیح الدجال کو دیا گیا اور جو اس کا ہم طبع ہو۔“
مسیح الدجال کے نشانات
- ١...... ایک آنکھ سے کانا ہوگا۔
- ٢...... اس کی پیشانی پر کفر لکھا ہوگا۔ (ک۔ف۔ر)
- ٣...... وہ خدائی کا دعویٰ کرے گا۔
- ٤...... وہ مردوں کو زندہ کرے گا۔
- ٥...... دجال کا گدھا سترہ باع لمبا ہوگا۔
- ٦...... دجال اپنے گدھے پر سوار ہو کر ساری دنیا کا دورہ چالیس دن میں
ختم کرے گا۔
- ٧...... وہ آسمان سے پانی برسائے گا۔
- ٨...... جنت دوزخ اس کے ہاتھ میں ہوں گے۔
- ٩...... دجال تمام خدائی صفات سے متصف ہوگا۔
- ١٠...... دجال مسیح کی آمد کا ذکر سنے گا تو نمک کی طرح پگھل جائے گا۔
(نور ہدایت ص ٦٠، ٦١)
مسیح موعود کا اولین فرض
”مسیح موعود کا پہلا فرض استیصال فتن دجالیہ ہوگا۔“
(ایام صلح ص ١٦٨، خزائن ج ١٤ ص ٣٨٦)
١٧٨
مندرجہ بالا حوالوں کا مطلب نہایت واضح وصاف ہے کہ دجال میں دس صفات ہوں گی اور استیصال فتن مسیح موعود کی آمد یا نزول پر موقوف ہے اور مسیح موعود فتنہ دجال کو نیست و نابود کریں گے۔ مہربانی کر کے ذیل میں یہ نشانات ملاحظہ فرمائیں کہ کس خوبی وعمدگی سے مرزا قادیانی پر اطلاق پاتے ہیں۔
١...... ایک آنکھ سے کانا ہوگا
اول...... مرزا قادیانی کی فوٹو بنظر غائر مطالعہ کرو۔ مرزا قادیانی کی ایک آنکھ چھوٹی اور دوسری بڑی ہے۔
دوم...... یہ کہ مرزا قادیانی کی داہنی آنکھ بند ہے اور مسیح موعود بننے کا خبط آپ کے دوش پر سوار ہے۔ قرآن عزیز اور فرمان رسالت میں تحریف اور مفید مطلب معانی بنانے کا دھندہ گلے کا پھندہ ہو رہا ہے اور خواہ مخواہ کے استعارے اور من گھڑت تاویلیں تراشی جارہی ہیں۔ کہیں مخفی پیشگوئیاں ظاہر کر رہے ہیں تو کہیں کشف کا اظہار ہو رہا ہے۔ کہیں خوابات کے چکر چلائے جارہے ہیں تو کہیں ملا دائل کھتری اور جے سنگھ بہادر کی شہادات صداقت میں دلوائی جارہی ہیں۔ غرضیکہ ایک ایک شعائر حقہ کی پوری پوری تذلیل وتحقیر کرتے ہوئے قصر نبوت کی تکمیل ہو رہی ہے۔
٢...... دجال کی پیشانی پر کفر لکھا ہوگا
یہ حقیقت نفس الامر ہے کہ مرزا قادیانی کی پیشانی پر یہ تین لفظ لکھے ہوئے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے خدائی کا دعویٰ کیا۔ تمام مرسلین کی پگڑیاں اچھالیں۔ عیسیٰ علیہ السلام ومریم صدیقہ کی توہین کی۔ مہر رسالت کو توڑا اور تخت نبوت پر محمد واحمد کے لباس کی بڑ ہانکتے ہوئے بطور تناسخ اپنے آپ کو پیش کرتے ہوئے توہین کا مرتکب ہوا۔ وحی نبوت کا سلسلہ بند ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے اجراء کی حماقت کی۔ خلفائے راشدین اور پنج تن پاک کی توہین کی۔ علمائے اسلام پر سوقیانہ آوازے کسے۔ سجادہ نشینوں کو بے نقط سنائیں اور فرقان حمید کی تفسیر بالرائے کی، معجزات کو شعبدہ و مسمریزم کہا۔ معراج جسمانی کو خواب قرار دیا۔ وغیرہ وغیرہ! اس لئے علمائے کرام نے متفقہ طور پر مرزا قادیانی کی پیشانی کے الفاظ شناخت کرتے ہوئے بڑے تدبر وہوش کے ساتھ مرزا قادیانی کو کافر قرار دیا۔
٣...... دجال خدائی کا دعویٰ کرے گا
مرزا قادیانی نے ”رائیتنی فی المنام عین الله فتیقنت اننی ھو“ (آئینہ
١٧٩
کمالات اسلام ص ٥٦٤، خزائن ج ٥ ص ایضاً) کا دعویٰ کیا۔ ”انت من مائنا وهم من فشل“ (اربعین نمبر ٣ ص ٣٤، خزائن ج ١٨ ص ٤٣٣) کا بے لذت الہام آپ کو ہوا۔ ”انت منى وانا منك“ (تذکرہ ص ٤٢٢ طبع سوم) کی بے سری راگنی آپ نے گائی۔ ”انت منى بمنزلة توحيدى وتفريدی “ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢١، حاشیہ خزائن ج ١٧ ص ٦١) کی یگانت کی بڑ آپ نے ہانکی۔ زمین و آسمان آپ نے بنائے ۔ چاند اور ستارے آپ نے پیدا کئے۔ نظام عالم بنانے کا خواب آپ نے سنایا اور یہ بھی اقرار کیا کہ دانیال نبی نے اپنی کتاب میں میرا نام میکائیل رکھا ہے اور خود ہی یہ ترجمہ بھی جڑ دیا کہ میکائیل کے معنی خدا کے مانند کے ہیں۔“ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢١، حاشیہ خزائن ج ١٧ ص ٦١) اور ایک الہام سنا کر اپنی مٹی پلید کی۔ الہام ایلایل جس کی تفسیر (کتاب البریہ ص ٨٤، خزائن ج ١٣ ص ١٠٢) پر خود ہی کردی کہ ”خدا تیرے اندر اتر آیا۔“
٤......دجال مردوں کو زندہ کرے گا
مرزا قادیانی نے اس کے لئے بھی زبانی جمع خرچ بہت کچھ کیا۔ آپ نے الہامی نور نظر بشیر اول کے متعلق کہا کہ یہ معجزہ زندہ کرنے سے افضل ہے مسیح علیہ السلام کے معجزات سے استہزاء کرتے ہوئے کہا میں سچ سچ کہتا ہوں کہ مسیح کے ہاتھ سے زندہ ہونے والے مر گئے۔ مگر جو مجھ سے جام نوش کرے گا ہرگز نہ مرے گا۔ نیز ایک خط حکیم نورالدین کو لکھا کہ اس بات کے لئے جوش پیدا ہوتا ہے کہ کوئی امر انسانی طاقتوں سے بالاتر ہو۔ خواہ مردہ زندہ ہو اور خواہ زندہ مرجائے۔ نیز ایک بچہ کی انتہائی بیماری کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ مر چکا تھا۔ مگر میری دعا سے زندہ ہو گیا۔
٥......دجال اپنے گدھے کو جو ستر باع لمبا ہوگا خود ہی پیدا کرے گا
واقعی مرزا قادیانی نے اپنا گدھا خود پیدا کیا اور پورے ستر باع لمبا۔ بلکہ اس سے دو چار انچ زیادہ۔ آپ نے تقریباً ستر کتابیں لکھیں اور انہیں اس قدر فروغ دیا کہ ہر ایک ملک میں پہنچائیں۔ جہاں جاؤ مرزا قادیانی کا گدھا موجود ہے اور ان کتابوں میں مسیح الدجال کی دجالیت کے سوا اور کیا لکھا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس قدر طویل گدھا تو شاید ہو نہیں سکا۔ پھر اس گدھے سے مراد کتابیں نہیں تو اور کیا ہے۔ کلام مجید بھی ہمارے اس نظریئے کی تائید کرتا ہے:
”مثل الذين حملوا التوراة ثم لم يحملوها كمثل الحمار يحمل اسفارا ٠ بئس مثل القوم الذين كذبوا بآيات الله والله لا يهدى القوم الظالمين (جمعه:٥)“
١٨٠
مثال ان لوگوں کی کہ اٹھوائے توریت پھر نہ اٹھایا انہوں نے اس کو مانند گدھے کی کہ اٹھاتا ہے کتابوں کو بری ہے مثال اس قوم کی کہ جنہوں نے جھٹلایا نشانیاں اللہ کی کو اور اللہ نہیں ہدایت کرتا قوم ظالموں کو۔
فرقان حمید کی یہ آیات روز روشن کی طرح اپنا مطلب واضح طور پر بیان فرما رہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ایک مخفی پیشگوئی مرزا قادیانی کی دجالیت پر بیان فرمائی ہے۔ کیسے لطیف اور پیارے الفاظ ہیں۔ فرمایا كمثل الحمار يحمل اسفارا یعنی مانند گدھے کے اٹھاتا ہے کتابوں کو۔ سبحان اللہ!
کتابیں اور گدھے کی مثال مسیح الدجال کے لئے کیسی موزوں مثال ہے۔ ایسا ہی ہمارے اس مضمون میں یہ تو غیر ممکن ہے کہ بغیر مشیت ایزدی کوئی مکھی کا ایک پر بھی پیدا کر سکے۔ چہ جائیکہ ستر باع لمبا گدھا۔ اس گدھے سے مراد وہ ستر کے لگ بھگ کتابیں ہیں جو مرزا قادیانی نے لکھیں اور چونکہ ہر ایک کتاب کے سرورق پر آپ کا نام ہے تو اس سے آسانی سے ہر انسان جس کو عقل سلیم کا تھوڑا سا بھی مادہ عطا ہوا سمجھ سکے گا کہ وہ اس بات پر بذات خود سوار ہے۔
ایسا ہی اللہ تعالیٰ نے ایک اور مثال مسیح الدجال کے لئے فرقان حمید میں بیان فرمائی: ”هل انبئكم على من تنزل الشيطن ، تنزل على كل افاك اثيم (شعراء: ٢٢١، ٢٢٢)“ کیا بتلائیں ہم تم کو کس پر اترتے ہیں شیطان۔ اترتے ہیں اوپر ہر جھوٹ باندھنے والے گنہگار پر: ”يلقون السمع واكثرهم كاذبون . والشعراء يتبعهم الغاون (شعراء: ٢٢٣، ٢٢٤)“ رکھتے ہیں شیطان کان اپنے اور اکثر ان کے جھوٹے ہوتے ہیں۔
یہ مخفی پیشگوئی بھی اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کے لئے آج سے ساڑھے تیرہ سو سال پیشتر بیان فرمائی کہ اے میرے حبیب اپنی امت کو آگاہ کر دیجئے کہ خبردار اس شخص کے پاس بھی نہ بھٹکنا اور بات بھی نہ سننا جو بے پر کی اڑاتا اور جھوٹی باتیں بناتا ہو۔ آگاہ رہو کہ وہ شیاطین کا ملجاء و ماوا ہے اور ضرور شیاطین اس پر اترتے ہیں۔ وہ گمراہ ہے اور دوسری نشانی یہ بتلائی کہ وہ کثرت سے پیشگوئیاں کہے گا اور چونکہ یہ شیاطین سے سنی ہوں گی اس لئے اکثر جھوٹی ہوں گی اور تیسری نشانی یہ فرمائی کہ وہ اپنے اشعار کو اعجازی بیان کرے گا اور ان پر ناز کرے گا۔ حالانکہ شاعر گمراہ ہے اور جب رسول اکرم ﷺ کو کفار مکہ نے یہ الزام لگایا کہ یہ نعوذ باللہ شاعر ہے تو اللہ تعالیٰ نے معاً اس
١٨١
کی نفی کردی: وما علمناہ الشعر وما ينبغى له (ياسين:٦٩) ”ہم نے اس کو شعر کہنا نہیں سکھایا۔ یعنی وہ شاعر اور بہکا ہوا نہیں۔ راز کی بات اور پتے کی چیز اور احکم الحاکمین کی صداقت کی دلیل اور رسول اکرم کے خاتم النبیین ہونے پر ایک ایسی شہادت فرقان حمید کی ان آیات میں مستور ہے کہ ذرا سے تجسس سے یقین کے مراتب تک پہنچا دے گی۔ انشاء اللہ ! پس ستر باع لمبا گدھا یہی ہے۔ فتدبر يا ايها المشتاقين!
- ٦....... جس پر وہ سوار ہو کر ساری دنیا کا چکر چالیس دن میں لگائے گا
مرزا قادیانی کی کتابوں پر آپ کا نام سوار ہے تو یہ بھی بات چھپی ہوئی نہیں کہ چالیس دن میں یہ کتابیں ساری دنیا میں پہنچ سکتی ہیں۔ بلکہ اس سے چوتھے ہی حصہ میں کیونکہ گدھے کی رفتار تیز ہے اور مسیح الدجال اس پر سوار ہے اور اگر گدھا ریل ہے تو مسیح موعود پر خود کیوں سوار ہوتا رہا اور خر دجال کے طویلہ پر مبارک بادی کے نعرے کیوں بلند ہوئے۔
- ٧....... دجال آسمان سے پانی برسائے گا
مرزا قادیانی کا کلام آسمانی بارش ہے۔ پھر یہ بھی فرمایا کہ مجھ پر بارش کی طرح وحی برسی جو میرے عقیدہ کو یعنی عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر زندہ ہونے کو بہا لے گئی۔ یہ تو صاف ظاہر ہے کہ اس میں کوئی ایچ پیچ نہیں الہاموں کی نالیاں اب تک دیکھ لو بہ رہی ہیں اور سینکڑوں دم بریدہ الہام ان میں بہہ رہے ہیں۔
- ٨....... جنت دوزخ دجال کے ساتھ ہوں گے
اس میں بھی کوئی شک نہیں جو مرزا قادیانی کا مخالف ہو اس پر مرزا قادیانی نے دوزخ کا سماں پیدا کر دیا۔ پنڈت لیکھرام کو ہاویہ میں قتل کے ذریعہ سے گرایا۔ حال میں مولوی حاجی محمد حسین کو کرائے کے پٹھان سے شہید کرایا۔ مولوی عبدالکریم کا مکان جلا دیا گیا اور شہر بدر کر دیا گیا اور ایسے ہی سینکڑوں واقعات ہیں۔ یہ تو دوزخ ہوئی اور جنت یہ ہے کہ وہ مولوی جن کو دوسری انجمنیں سوا آنہ ماہوار پر رکھنا پسند نہ کریں سو سو اور پچاس روپیہ ماہوار آرام سے وصول کر رہے ہیں اور خود مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ مجھ کو دس روپیہ ماہوار کی امید نہ تھی۔ جو تین لاکھ روپیہ تین سال میں آ گیا۔ روپیہ کی آمدنی اس قدر ہوئی کہ ٹھکانہ نہیں۔ کیا یہ بہشت نہیں اور تنگی دوزخ نہیں تو اور کیا ہے۔ معاملہ نہایت صاف ہے۔
١٨٢
٩...... دجال میں تمام خدائی صفات موجود ہوں گی
زمین آپ نے بنائی۔ آسمان آپ نے تیار کئے۔ ستارے بنائے چاند وسورج کو پیدا کیا۔ آدم کومٹی کے خلاصہ سے بنایا۔”انما امرك اذا اردت شيئاً ان تقول له كن فيكون“ (تذکرہ ص ٥١٧، طبع سوم) کی بڑ آپ نے ہانکی ۔”سرك سری“ (ضمیہ تحفہ گولڑویہ ص ١٤، خزائن ج ١٧ص٥٩) آپ نے کہا ”ظهورك ظهوری “ آپ نے بیان کیا اور یہ بھی کہا مجھ کو فانی کرنے اور زندہ کرنے کی صفت عطاء کی گئی۔” یلقی الروح على من يشاء“ (تذکرہ ص ٦٢١، طبع سوم) کی بھی راگنی آپ نے گائی ” الارض والسماء معك كمـا هـو معی“ (تذکرہ ص ٦١٥، طبع سوم) آپ ہی نے فرمایا باقی خدائی صفات اور کیا ہیں جو آپ نے بیان نہ کیں۔ مطلب واضح ہے۔
١٠...... دجال باوجودیکہ خدائی طاقتوں کے حاصل ہونے کے
جب مسیح موعود کو دیکھے گا نمک کی طرح پگھل جائے گا
یہ بھی ظاہر ہے کہ علمائے کرام کے سامنے اور سجادہ نشین حضرات کے مقابل مرزا قادیانی نے کبھی کوئی مقابلہ و مناظرہ نہ جیتا۔ بلکہ ہمیشہ منہ کی کھائی اور صد ہا دفعہ شرائط کے طے ہونے پر بھی سامنے آنے کا یارا نہ ہوا۔ خود دجل آمیز چیلنج کئے اور جب کوئی سامنے آیا اور تو گھر کی چاردیواری سے باہر آنے کا نام بھی نہ لیا۔ مولوی ثناء اللہ قادیان آئے اور پیش گوئیوں کی پڑتال کرانے پر ہزاروں کا انعام تو کتابوں میں لکھ دیا اور پیش گوئی بھی جڑ دی کہ وہ قادیان میں پیش گوئیوں کی تصدیق کے لئے کبھی نہ آئے گا۔ مگر جب وہ ضیغم اسلام قادیان میں آچنگھاڑا تو مسیح کو ذیا بیطس کے دوروں نے بیت الخلاء سے باہر نکلنے کی اجازت نہ دی۔ مگر آپ نے آزار بند سنبھالتے سنبھالتے لکھنؤ کی بھٹیاریوں کا ریکارڈ مات کر دیا اور انعام کے عوض وہ وہ سنائیں کہ تو بہ ہی بھلی ہے۔
قارئین کرام! مندرجہ بالا دس صفات مرزا قادیانی پر پورے طور پر اطلاق پاتے ہیں اس لئے مرزا قادیانی ہی مسیح الدجال ہیں اور اگر اب بھی کسی مرزائی کو کوئی چون و چرا کی گنجائش باقی ہو اور صبر کا دامن چھوٹا جاتا ہو وہ مہربانی کر کے آپے سے باہر نہ ہوں۔ بلکہ اطمینان قلب کے لئے مراقی نبی نے ایک ایسی مرکب ایجاد کی ہے جو قابل قدر اور لائق حمد ہے اس کو عقل کی کوٹھڑی میں
١٨ میں میں
١٨٣
ڈال کر انصاف کے دستے کے ساتھ حلم و بردباری کا پانی ڈالتے ہوئے حل کریں۔ انشاء اللہ مرزائیت کا بھوت یا دجالیت کا آسیب منٹوں سیکنڈوں میں اتر جائے۔
وہاں قرآن اترا ہے یہاں انگریز اترے ہیں
ناظرین کرام! کو خوب یاد ہے کہ مرزا قادیانی نے ایک لاکھ چوبیس ہزار مرسلین من اللہ کے بروز کا دعویٰ کیا ہے اور ان کے مبارک واطہر اسمائے گرامی کو فرداً فرداً اپنے نام پر منسوب کر کے ایک الہامی عبارت اپنے لئے بطور سند قائم کی ہے کہ مرزا خدا کا پہلوان ہے۔ نبیوں کے لباس میں اور اس کے بعد تمام امام وابدال واقطاب وغوث واولیاء اللہ پر برتری کی بڑ ہانکی ہے یا کذب کا دھوکہ کھایا ہے۔ شیر کا نام رکھ لینے سے شیر کے اوصاف نہیں آ جایا کرتے۔ بلکہ بہادری سینہ سپری سے یہ خود بخود خطاب مل جایا کرتے ہیں۔
اب اس عقدہ کشائی کے لئے کہ کیوں انبیائے عظام کے مبارک نام مرزا قادیانی نے اپنے غلامی نام کے ساتھ منسوب کئے ہمیں چند باتیں مشاہدہ کرنی ہیں۔ اگر مرزا قادیانی میں یہ اوصاف پائے جائیں تو وہ حق بجانب ہیں کہ خوشی سے یہ نام اپنے نام کے ساتھ ساتھ منسوب کریں اور بے شک وہ خدا کے پہلوان ہیں۔ نبیوں کے لباس میں گو یہ تناسخ کا اصول ہے۔ مگر پنجابی ہونے کی حیثیت سے پنجابی نبی کے لئے ہم یہ رعایت دیتے ہیں کہ ابوالبشر آدم علیہ السلام کے اوصاف مثلاً مٹی کے پتلے سے کن کے جبروت وعظم حکم سے پیدائش کا ہونا اور جنت میں رہنا اور میوے کھانا اور اللہ تعالیٰ سے بلا واسطہ تعلیم حاصل کرنا مرزا قادیانی کو بھی نصیب ہوا۔ کیا نوح علیہ السلام کی عمر اور انتھک تبلیغ آپ نے بھی کی۔ کیا ابراہیم علیہ السلام کا ایمان اور راہ مولا میں ریوڑ کے ریوڑ صرف ایک نام کے سننے پر آپ نے بھی قربان کئے۔ کیا اپنے لخت جگر اسماعیل کی طرح کسی قربانی پر آپ بھی تیار ہوئے۔ کیا حکومت کے ڈر کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ان کے قابل قدر معبودوں کو وقود النار اور ہیزم جہنم کہتے ہوئے بتوں کو توڑا۔ کیا آپ نے سنت انبیاء پر ہجرت کی۔ کیا اسماعیل کی سی اطاعت میں آپ نے راہ مولا میں سر پیش کیا۔ کیا زکریا علیہ السلام کی طرح آپ کی گردن پہ بھی کبھی آرا چلا اور اف تک نہ کی۔ کیا یونس علیہ السلام کی طرح آپ کبھی مچھلی کے پیٹ میں اندھیرے میں مقید رہے۔ کیا یعقوب علیہ السلام کی طرح یاد الٰہی میں آپ بھی مشغول ہوئے اور امتحان میں پورے اترے۔ کیا موسیٰ کی طرح آپ سے بھی اللہ تعالیٰ نے ہم کلامی کی
١٨٤
اور طور پر جلوہ خداوندی دیکھا۔ کیا عیسیٰ علیہ السلام کی طرح آپ کی بن باپ (آیات اللہ ) پیدائش ہوئی اور ماں کی گود میں تکلم کیا اور خوارق و معجزات دکھلائے۔ کیا رسول اکرم ﷺ کی طرح آپ نے بھی کبھی جہاد کیا۔ پیشانی زخمی کرائی اور دانت تڑوائے اور تبلیغ حقہ کے لئے دشمنوں کے گھروں میں گھس کر اعلائے کلمۃ الحق کرنے میں اینٹ و پتھر کھائے اور بیہوش ہو کر گر پڑے۔
آہ اس کا جواب نفی میں ملے گا۔ مرزا قادیانی کی زندگی بالکل کوری تھی اور اس میں سوائے ایچ پیچ کی باتوں ہی باتوں کے کچھ بھی نہ تھا۔ چند دم بریدہ پیش گوئیاں تھیں اور ان میں جو بھی تحدی سے بیان کیں غلط نکلیں غصہ معاف اگر کوئی اب بھی تحدی کی کسی پیش گوئی کو حرف بحرف صحیح ثابت کر دے تو مبلغ ایک صد روپیہ نقد چہرہ شاہی اس تکلیف کے عوض انعام میں پاوے پھر کیا تھا۔ آپ کے پاس سوائے اپنی مدح وستائش کے باب میں اور گورنمنٹ برطانیہ کی تھوڑی بہت چاپلوسی وخوشامد کے ساتھ ساتھ مسیحی مذہب کو گالیاں اور عیسیٰ علیہ السلام کی توہین اور دیگر ملل پر بودے اعتراض اور چند رمال و کاہن لوگوں کی طرح مرگ وزیست عزت وذلت کی اٹکل پچو پیش گوئیاں اور متضاد خیالات کے انبار اور تناقض کے ڈھیر کے سوائے اور کچھ بھی تھا۔ تو پھر یہ سوال ہوگا کہ آپ کیا تھے۔ اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ آپ نہ تو خدا تھے نہ نبی نہ مجدد نہ محدث نہ امام نہ مسلمان۔ بلکہ ایک مرد بیمار ایسے تھے جنہیں مجموعہ امراض جدی وراثت کی طرح گھیرے ہوئے تھیں اور ان سب میں مراق شہنشاہی کر رہا تھا۔ ایک مراقی بیمار جس کا دماغ ماؤف ہو چکا تھا اور جسے اپنی عقل اور اوسان پر پورا پورا کنٹرول نہ تھا۔ ذیل میں ہم ان کے مراقی ہونے کے چند ایک ثبوت پیش کرتے ہیں۔ جن سے ثابت ہو جائے گا کہ فی الحقیقت ایک قابل رحم بیمار تھے اور جو کچھ بھی آپ نے کیا مجبوراً کیا کیونکہ آپ پورے پورے فاطر العقل تھے۔
مراقی قادیانی پنجابی نبی
الزام نہیں حقیقت ہے۔ بہتان نہیں اصلیت ہے اور یہ وہ مسلمہ اصول ہیں جو مرزا قادیانی کے بذات خود تسلیم کردہ ہیں اور امت کا اس پر دل و جان سے ایمان ہے۔
- ١...... "نبی کے کلام میں جھوٹ جائز نہیں۔"
(مسیح ہندوستان میں ص ٢١، خزائن ج ١٥ ص ایضاً)
- ٢...... "ملہم کے دماغی قویٰ کا نہایت مضبوط اور اعلیٰ ہونا بھی ضروری ہے۔"
(ریویو آف ریلیجنز ماہ ستمبر ١٩٢٩ء)
- ٣...... "انبیاء کا حافظہ نہایت اعلیٰ ہوتا ہے۔"
(ریویو ماہ جنوری ١٩٣٠ء ص ٢٦)
١٨٥
قارئین کرام! یہ تینوں حوالے یہ دلالت کرتے ہیں کہ نبی وہ ہوتا ہے جس کا حافظہ بہت اعلیٰ وارفع ہو اور دماغی قوا نہایت مضبوط ہوں اور اس کی باتوں میں جھوٹ کی آمیزش نہ ہو۔ مگر یہاں تناقض کے دریا اور ان سر کے سمندر دماغی کمزوریوں کے نوحے اور جھوٹ تو شیر مادر ہے۔ ایک دو نہیں ہزاروں ہیں۔ اگر دل میں شک کا شائبہ بھی آئے تو کتاب نبوت مرزا کو ملاحظہ فرمائیے۔ بہرحال مرزا قادیانی ان ہر سہ اصولوں پر بھی معیار سے گرے ہوئے ہیں۔ لہٰذا وہ پیغمبر نہیں۔
مرزا قادیانی کے اور جھوٹوں کا اعادہ کرنے کی میرے خیال میں اب کوئی ضرورت نہیں ۔ کیونکہ یہ کتاب اسی ہی ایک اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے پیش کی گئی ہے۔ ہاں ویسے تو میرے ایک دوست ماسٹر نظام الدین صاحب کوہاٹی نے دو صد جھوٹ ایک چھوٹے سے رسالہ میں قلمبند کئے ہیں۔ جس کا نام کذبات مرزا ہی شاید ہے۔ اب صرف ایک بات کی ضرورت باقی ہے کہ مراق کا ثبوت مرزا قادیانی کی زبانی ادا کرنا ہے اور اس پر ان کے خاندان کی چند ایک شہادتیں قلمبند کرنی ہیں اور بس سب سے پہلے اطباء کے مستند قول شرح اسباب سے پیش کئے جاتے ہیں۔ ملاحظہ فرماویں۔
علامات مالیخولیاء مراق از روئے طب
”مالیخولیا کی ایک قسم ہے جس کو مراق کہتے ہیں۔ یہ تیز سودا سے جو معدہ میں جمع ہوتا ہے پیدا ہوتا ہے۔...... جس عضو میں یہ مادہ ہوتا ہے اس سے سیاہ بخارات اٹھ کر دماغ کی طرف چڑھتے ہیں۔“
(شرح اسباب ج اول ص ٧٧)
”مالیخولیا مراق کی یہ بھی علامت ہے کہ اس کو دھوئیں جیسے سیاہ بخارات چڑھتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔“
(شرح اسباب ج اول ص ٧٧)
قادیانی نبوت کے دو نایاب تحفے
”مجھے دو بیماریاں مدت دراز سے تھیں۔ ایک شدید درد سر جس سے میں نہایت بے تاب ہو جایا کرتا تھا اور ہولناک عوارض پیدا ہو جاتے تھے اور یہ مرض قریباً پچیس برس تک دامنگیر رہی اور اس کے ساتھ دوران سر بھی لاحق ہو گیا اور طبیبوں نے لکھا ہے کہ ان عوارض کا آخری نتیجہ مرگی ہوتی ہے۔ چنانچہ میرے بڑے بھائی مرزا غلام قادر قریباً دو ماہ تک اسی مرض میں مبتلا ہو کر آخر مرض صرع میں مبتلا ہو گئے اور اس سے ان کا انتقال ہو گیا۔ لہٰذا میں دعاء کرتا رہا کہ خداوند تعالیٰ ان امراض سے مجھے محفوظ رکھے۔ ایک دفعہ عالم کشف میں مجھے دکھائی دیا کہ ایک بلا سیاہ
١٨٦
رنگ چارپائے کی شکل پر جو بھیڑ کے قد کے مانند اس کا قد تھا اور بڑے بڑے بال تھے اور بڑے بڑے پنجے تھے۔ میرے پر حملہ کرنے لگی اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہی صرع ہے تو میں نے اپنا داہنا ہاتھ زور سے اس کے سینہ پر مارا اور کہا کہ دور ہو تیرا مجھ میں حصہ نہیں۔ تب خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ بعد اس کے وہ خطرناک عوارض جاتے رہے اور وہ درد شدید بالکل جاتی رہی۔ صرف دوران سر کبھی کبھی ہوتا ہے تا دو زرد رنگ چادروں کی پیش گوئی میں خلل نہ آوے۔ دوسری مرض ذیابیطس تخمیناً بیس برس سے ہے جو مجھے لاحق ہے۔ جیسا کہ اس نشان کا پہلے بھی ذکر آچکا ہے اور ابھی تک بیس دفعہ کے قریب ہر روز پیشاب آتا ہے اور امتحان سے بول میں شکر پائی گئی ایک دن مجھے خیال آیا کہ ڈاکٹروں کے تجربہ کی رو سے انجام ذیابیطس کا یا تو نزول الماء ہوتا ہے یا کاربنکل یعنی سرطان کا پھوڑا نکلتا ہے جو مہلک ہوتا ہے۔ سو اس وقت نزول الماء کی نسبت مجھے الہام ہوا۔ ”نزلت الرحمة علی ثلث العین وعلی الاخرین“ یعنی تین عضو پر رحمت نازل کی گئی۔ آنکھ اور دو اور عضو پر پھر کاربنکل کا خیال آیا تو الہام ہوا۔ السلام علیکم۔ سو ایک عمر گزری کہ میں ان بلاؤں سے محفوظ ہوں۔ فالحمدلله!“
(حقیقت الوحی ص ٣٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ٣٧٦، ٣٧٧)
جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے۔
مدعی نبوت مرزا غلام احمد صاحب کا اپنا بیان
”میں ایک دائم المرض آدمی ہوں....... ہمیشہ درد سر دوران سر کمی خواب تشنج دل کی بیماری دورہ کے ساتھ آتی ہے اور دوسری چادر جو میرے نیچے کے حصہ بدن میں ہے وہ بیماری ذیابیطس ہے کہ ایک مدت سے دامن گیر ہے اور بسا اوقات سو سو دفعہ رات کو یا دن کو پیشاب آتا ہے اور اس قدر کثرت پیشاب سے جس قدر عوارض ضعف وغیرہ ہوتے ہیں وہ سب میرے شامل حال رہتے ہیں۔
(ضمیمہ اربعین نمبر ٤،٣، مورخہ ١٩ دسمبر ١٩٠٠ء، ص٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٧٠)
زلیخا نے کیا خود چاک دامن ماہ کنعاں کا
مرزا قادیانی کا دوسرا بیان
کمر پتلی صراحی دار گردن
”مجھے دماغی کمزوری اور دوران سر کی وجہ سے بہت سی ناطاقتی ہوگئی تھی۔ یہاں تک کہ مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ اب میری حالت بالکل تالیف و تصنیف کے لائق نہیں رہی اور ایسی کمزوری تھی
١٨٧
کہ گویا بدن میں روح نہیں تھی۔ اسی حالت میں مجھے الہام ہوا۔ ”ترد الیک انوار الشباب“ یعنی جوانی کے نور تیری طرف واپس کئے۔ بعد اس کے چند روز میں ہی مجھے محسوس ہوا کہ میری گمشدہ قوتیں پھر واپس آتی جاتی ہیں اور تھوڑے دنوں کے بعد مجھ میں اس قدر طاقت ہو گئی میں ہر روز دو دو جزو نو تالیف کتاب کو اپنے ہاتھ سے لکھ سکتا ہوں اور نہ صرف لکھتا بلکہ سوچنا اور فکر کرنا جو نئی تالیف کے لئے ضروری ہے۔ پورے طور پر میسر آ گیا۔ ہاں دو مرض میرے لاحق حال ہیں۔ ایک بدن کے اوپر کے حصہ میں اور دوسرا بدن کے نچلے حصہ میں۔ اوپر کے حصہ میں دوران سر ہے اور نیچے کے حصہ میں کثرت پیشاب ہے۔ یہ دونوں مرضیں اس زمانہ سے ہیں جس زمانہ میں میں نے اپنا دعویٰ مامور من اللہ ہونے کا شائع کیا ہے۔ میں نے ان کے لئے دعائیں بھی کیں۔ مگر منع میں جواب پایا اور میرے دل میں القا کیا گیا کہ ابتدا سے مسیح موعود کے لئے یہ نشان مقرر ہے کہ وہ دو زرد چادروں کے ساتھ دو فرشتوں کے کاندھے پر ہاتھ رکھے ہوئے اترے گا۔ سو یہ وہی دونوں زرد چادریں ہیں جو میری جسمانی حالت میں شامل کی گئیں۔“
(حقیقت الوحی ص ٣٠٦، ٣٠٧، خزائن ج ٢٢ ص ٣١٩، ٣٢٠)
عجب مضحکہ خیزی ہے کہ گمشدہ قوتیں واپس بھی آئیں اور وہ بھی جوانی کی مگر افسوس بیماریاں موجود اور عوارض ندارد حالانکہ یہ قطعاً محال ہے کہ جڑیں تو سرسبز ہوں اور درخت کملا جائے۔ حضرت بیماری تو مراق اور ذیابیطس موجود ہو اور اس کے پھل پات غائب ہوں۔ قاعدہ کے مطابق اور الہامی رو سے اگر شفا ہوتی تو انہیں دو اصل چیزوں کو ہونی چاہئے تھی اور جب یہ کالعدم ہوتیں عوارض خود بخود کافور ہو جاتے۔ مگر افسوس وہ تو وہیں کی وہیں رہیں مگر عارضے مٹ گئے۔ عقلاء کے نزدیک یہ بات محال ہے۔ ہاں پنجابی نبوت کی کرشمہ سازیوں کی تصدق میں لٹو مریدوں سے خراج تحسین لینے کے لئے ایسی باتیں قابل قبول ہیں۔ یہ بھی بتلایا ہوتا کہ وہ دو فرشتے کون سے تھے۔ جن کے کندھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے آپ نے نزول فرمایا۔ کہیں حکیم نور الدین اور عبداللہ سنوری کا نام خدا کے واسطے نہ لے لینا۔ واہ صاحب واہ اچھی جوانی عود کر آئی اور خوب سوجھی۔ بخدا دورنگی چالیں آپ پر ختم ہیں اور ہم اس بات پر آپ کی تصدیق کرتے۔
مرزا قادیانی کے مراق پر ایک اور شہادت
مرزا قادیانی کی تمام تکالیف مثلاً دوران سر، درد سر، کمی خواب، تشنج دل اور بدہضمی
١٨٨
اسہال، کثرت پیشاب اور مراق وغیرہ کا صرف ایک ہی باعث تھا اور وہ عصبی کمزوری تھی۔
(رسالہ ریویو قادیان ج٢٦ نمبر٥ ص ٢٦، مئی ١٩٢٧ء)
صداقت سے لبریز بیان
فرماتے ہیں ایسے خیالات خشک مجاہدات کا نتیجہ یا تمنا ہے اور آرزو کے وقت القائے شیطانی ہوتا ہے اور یا خشکی یا دماغی مواد کی وجہ سے کبھی الہامی آرزو کے وقت ایسے خیالات کا دل پر القاء ہو جاتا ہے اور چونکہ اس کے نیچے کوئی روحانیت نہیں ہوتی۔ اس لئے الہامی اصطلاح میں ایسے خیالات کا نام جمز ہے اور علاج توبہ اور استغفار اور ایسے خیالات سے اعراض کلی ہے ورنہ جمز کی کثرت سے دیوانگی کا اندیشہ ہے۔ خدا ہر ایک کو اس بلا سے محفوظ رکھے۔ غلام احمد قادیانی!
مراقی نبی کے نایاب تحفے
”مخدومی مکرمی اخویم حکیم مولوی نور الدین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! حالت صحت اس عاجز کی بدستور ہے کبھی غلبہ دوران سر اس قدر ہو جاتا ہے کہ مرض کی جنبش شدید کا اندیشہ ہوتا ہے اور کبھی یہ دوران کم ہوتا ہے۔ لیکن کوئی وقت دوران سر سے خالی نہیں گزرتا۔ مدت ہوئی نماز تکلیف سے بیٹھ کر پڑھی جاتی ہے بعض وقت درمیان میں توڑنی پڑتی ہے۔ اکثر بیٹھے بیٹھے ٹانگیں رہ جاتی ہے اور زمین پر قدم اچھی طرح نہیں جمتا۔ قریب چھ سات ماہ یا زیادہ عرصہ گزر گیا ہے کہ نماز کھڑے ہو کر نہیں پڑھی جاتی اور نہ بیٹھ کر اس وضع پر پڑھی جاتی ہے جو مسنون ہے اور قرأت میں شائد قل ہو اللہ بمشکل پڑھ سکوں۔ کیونکہ ساتھ ہی توجہ کرنے سے تحریک بخارات کی ہوتی ہے۔“
(از مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر٢ ص ٨٨،٨٩)
دوران سر کی شدت
”اخویم حکیم محمد حسین صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، پان عمدہ بھیجیں ایک روپیہ کا اور ایک انگریزی وضع کا پاخانہ جو ایک چوکی ہوتی ہے اور اس میں ایک برتن ہوتا ہے۔ اس کی قیمت معلوم نہیں۔ آپ ساتھ لاویں۔ قیمت یہاں سے دی جاوے گی۔ مجھے دوران سر کی بہت شدت سے مرض ہو گئی ہے۔ پیروں پر بوجھ دے کر پاخانہ کرنے سے مجھے سر کو چکر آتا ہے۔ خاکسار غلام احمد قادیانی!“
(از خطوط امام بنام غلام ص ٦)
دوران سر لے ڈوبا
”عرصہ تین چار ماہ سے میری طبیعت نہایت ضعیف ہو گئی ہے۔ بجز دو وقت ظہر و عصر
١٨٩
کے نماز کے لئے بھی نہیں جاسکتا اور اکثر بیٹھ کر نماز پڑھتا ہوں اور اگر ایک سطر بھی کچھ لکھوں یا فکر کروں تو خطرناک دوران سر شروع ہو جاتا ہے اور دل ڈوبنے لگتا ہے۔ جسم بالکل بیکار ہو رہا ہے اور جسمانی قوا ایسے مضمحل ہو گئے ہیں کہ خطرناک حالت ہے۔ گویا مسلوب القوا ہوں اور آخری وقت ہے ایسا ہی میری بیوی دائم المرض ہے۔ امراض رحم وجگر دامن گیر ہیں۔“
(اخبار بدر قادیان ج٢ نمبر ٢١ ص٢، مئی ١٩٠٦ء، آئینہ احمدیت حصہ اوّل ص ١٨٦)
مزہ تو جب ہے کہ وہ خود گریباں چاک کرے
”دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرت ﷺ نے پیش گوئی کی تھی جو اس طرح وقوع میں آئی۔ آپ نے فرمایا کہ مسیح آسمان سے جب اترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوں گی تو اس طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں۔ ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی۔ یعنی مراق اور کثرت بول۔“
(اخبار بدر قادیان ص٢٠، مورخہ ٧؍ جون ١٩٠٦ء، ملفوظات ج ٨ ص ٣٤٥)
مرزا قادیانی اپنے منہ سے مراقی ہیں
”میرا تو یہ حال ہے کہ باوجود اس کے کہ دو بیماریوں میں ہمیشہ سے مبتلا رہتا ہوں تاہم آج کل کی مصروفیت کا یہ حال ہے کہ رات کو مکان کے دروازے بند کر کے بڑی بڑی رات تک بیٹھا اس کام کو کرتا رہتا ہوں۔ حالانکہ زیادہ جاگنے سے مراق کی بیماری ترقی کرتی ہے۔“
(کتاب منظور الٰہی ص ٣٤٨)
مرزا قادیانی کے مراقی ہونے پر اہلیہ محترمہ
اور مرزا بشیر احمد پسر دوئم کی شہادت
”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو پہلی دفعہ دوران سر اور ہسٹریا کا دورہ بشیر اوّل کی وفات کے چند دن بعد ہوا تھا۔ رات کو سوتے ہوئے آپ کو اٹھو آیا اور پھر اس کے بعد طبیعت خراب ہو گئی۔ مگر یہ دورہ خفیف تھا۔ پھر اس کے کچھ عرصہ بعد آپ ایک دفعہ نماز کے لئے باہر گئے اور جاتے ہوئے فرمانے لگے کہ آج کچھ طبیعت خراب ہے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ تھوڑی دیر کے بعد شیخ حامد علی نے دروازہ کھٹکھٹایا کہ جلدی پانی کی ایک گاگر گرم کر دو۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میں سمجھ گئی کہ حضرت صاحب کی طبیعت خراب ہو گئی
١٩٠
وگی۔ چنانچہ میں نے کسی ملازم عورت کو کہا کہ اس سے پوچھو میاں کی طبیعت کا کیا حال ہے۔ شیخ حامد علی نے کہا کچھ خراب ہو گئی ہے۔ میں پردہ کرا کر مسجد میں چلی گئی تو آپ لیٹے ہوئے تھے۔ جب میں پاس گئی تو فرمایا میری طبیعت بہت خراب ہو گئی تھی۔ لیکن اب افاقہ ہے میں نماز پڑھ رہا تھا کہ میں نے دیکھا کہ کوئی کالی کالی چیز میرے سامنے سے اٹھی اور آسمان تک چلی گئی۔ پھر میں چیخ مار کر زمین پر گر گیا اور غشی کی سی حالت ہو گئی۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں اس کے بعد آپ کو باقاعدہ دورے پڑنے شروع ہو گئے۔ خاکسار نے پوچھا دوروں میں کیا ہوتا تھا۔ والدہ صاحب نے کہا ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو جاتے تھے اور بدن کے پٹھے کھنچ جاتے تھے۔ خصوصاً گردن کے پٹھے اور سر میں چکر ہوتا تھا اور اس حالت میں آپ اپنے بدن کو سنبھال نہیں سکتے تھے۔ شروع شروع میں یہ دورے بہت سخت ہوتے تھے۔ پھر اس کے بعد تو کچھ دوروں کی ایسی سختی نہیں رہی ..... والدہ صاحبہ نے فرمایا پہلے معمولی سردرد کے دورے ہوا کرتے تھے۔ خاکسار نے پوچھا کیا حضرت صاحب پہلے خود نماز پڑھایا کرتے تھے۔ والدہ صاحبہ نے کہا ہاں مگر پھر دوروں کے بعد چھوڑ دی۔
(سیرت المہدی حصہ اول ص ١٦، ١٧، روایت نمبر ١٩)
مرزا قادیانی کا اپنے مراقی ہونے پر اقبال
مرزا قادیانی فرماتے تھے کہ ”مجھے مراق کی بیماری ہے۔“
(ریویو ج ٢٤ نمبر ٤ ص ٣٥، اپریل ١٩٢٥ء)
ایک اور شہادت کہ مرزا قادیانی مراقی تھے
مرزا قادیانی نے اپنی بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ ”مجھ کو مراق ہے۔“
(ریویو ج ٢٥ نمبر ٨ ص ٦، اگست ١٩٢٦ء)
مرزا قادیانی کے مراقی ہونے پر ایک اور شہادت
”مراق کا مرض مرزا قادیانی کو مورثی نہ تھا۔ بلکہ یہ خارجی اثرات کے ماتحت پیدا ہوا تھا اور اس کا باعث سخت دماغی محنت، تفکرات، غم اور سوء ہضم تھا۔ جس کا نتیجہ دماغی ضعف تھا اور جس کا اظہار مراق اور دیگر ضعف کے علامات مثلاً دوران سر کے ذریعہ ہوتا تھا۔“
(ریویو ج ٢٥ نمبر ٨ ص ١٠، اگست ١٩٢٦ء)
مرزا قادیانی کے مراق پر ایک اور شہادت
مرض مراق مرزا قادیانی کو ورثہ میں نہیں ملا تھا۔ پس مرزا قادیانی کی زندگی کے حالات کے مطالعہ سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان میں مراقی علامات کے دو بڑے سبب تھے۔ اوّل کثرت
١٩١
دماغی محنت، تفکرات، قوم کا غم اور اس کی اصلاح کی فکر، دوسرے غذا کی بے قاعدگی کی وجہ سے سوء ہضم اور اسہال کی شکایت ۔“
(ریویو قادیان ج ٢٥ نمبر ٨ ص ٩، اگست ١٩٢٦ء)
اللہ تعالیٰ نے جس کسی کو عقل سلیم کا تھوڑا سا مادہ بھی عطاء کیا ہے وہ ان واقعات وعلامات کو دیکھ کر اس نتیجہ پر پہنچے بغیر نہیں رہ سکتا کہ مرزا قادیانی کو مراق تھا اور اگر وہ مزید احتیاط چاہتا ہو تو طبی کتابیں اسے مشعل طریقت کا کام دیں گی اور اطباء مزید تسلی کرنے میں کبھی بخل نہ کریں گے اور فطرت سلیمہ بذات خود راہ نمائی کرے گی۔ صرف جویائے حق ہو کر تھوڑے سے وقت کی قربانی کی ضرورت ہے اور بس معاملہ نصف النہار پر مہر تاباں کی طرح حاضر ہے اور یہ بھی حقیقت نفس الامری ہے کہ یہ خاندان بھر کی محبوب چیز سارے کنبہ کو از بس مفید ہے اور مرزا قادیانی کو موروثی طور پر عنایت ہوئی اور اس کی ہر دلعزیزی بھی ملاحظہ ہو کہ چونکہ یہ مرزا قادیانی کو نظر محبت سے دیکھتی تھی اور بے بسی اور بے کسی میں بھی رفاقت نے منہ موڑنے والی نہ تھی۔ اس لئے مرزا قادیانی کی رفیقہ حیات سے بھی اسے انس تھا اور جمال ہمنشیں در من اثر کرد کے مصداق امہات مرزائیہ بھی مراقن تھیں۔ ذیل میں اس کی تصدیق مرزا قادیانی خود فرماتے ہیں کہ:
خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو
مرزائی گزٹ کی شہادت میاں تو مراقی تھے بیوی بھی مراقن نکلی
مرزا قادیانی تحریر فرماتے ہیں کہ: ”میری بیوی کو بھی مراق کی بیماری ہے۔“
(اخبار الحکم ج ٥ نمبر ٢٩ ص ١٤، مورخہ ١٠ اگست ١٩٠١ء)
باپ تو مراقی تھا بیٹا بھی مراقی نکلا!
ڈاکٹر شاہ نواز خاں صاحب احمدی جو مرزا قادیانی کے مخلص مریدوں میں سے ہیں تحریر کرتے ہیں۔ ”جب خاندان سے اس کی ابتداء ہو چکی تو پھر اگلی نسل میں بے شک یہ مرض منتقل ہوا۔ چنانچہ حضرت خلیفہ المسیح ثانی نے فرمایا کہ مجھ کو بھی مراق کا دورہ ہوتا ہے۔“
(ریویو ج ٢٥ نمبر ٨ ص ١١، اگست ١٩٢٦ء)
الٰہی پناہ!
وزیر چنیں شہر یار چناں
١٩٢
لگ کر، دوسرے غذا کی بے قاعدگی کی وجہ سے سوء
(ریویو قادیان ج ٢٥ نمبر ٨ ص ٩، اگست ١٩٢٦ء)
تھوڑا سا مادہ بھی عطاء کیا ہے وہ ان واقعات کہ مرزا قادیانی کو مراق تھا اور اگر وہ مزید احتیاط کریں گی اور اطباء مزید تسلی کرنے میں کبھی بخل نہ کرے گی۔ صرف جویائے حق ہو کر تھوڑے سے اس اشتہار پر مہر تاباں کی طرح حاضر ہے اور یہ بھی چیز سارے کنبہ کو از بس مفید ہے اور مرزا قادیانی میں بھی ملاحظہ ہو کہ چونکہ یہ مرزا قادیانی کو نظر محبت رفاقت نے منہ موڑنے والی نہ تھی۔ اس لئے تھا اور جمال ہمنشیں در من اثر کرد کے مصداق صدیق مرزا قادیانی خود فرماتے ہیں کہ:
بیٹھیں گے دیوانے دو
نئی بیوی بھی مراقن نکلی
”
(اخبار الحکم ج ٥ نمبر ٢٩ ص ٤، مورخہ ١٠ اگست ١٩٠١ء)
مرزا قادیانی کے مخلص مریدوں میں سے ہیں تحریر ہو چکی تو پھر اگلی نسل میں بے شک یہ مرض منتقل کو بھی مراق کا دورہ ہوتا ہے۔“
(ریویو ج ٢٥ نمبر ٨ ص ١١، اگست ١٩٢٦ء)
الفت ہو تو ایسی ہو واہ! زیں یار چناں
مراقی باپ کا مراقی بیٹا
جناب مرزاغلام احمد قادیانی فرماتے ہیں کہ: ”حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اتباع سے ان کی امت میں ہزاروں نبی پیدا ہوئے۔“
(الحکم نمبر ٤٢ ج ٦، مورخہ ٢٤ نومبر ١٩٠٢ء)
میاں بشیر الدین خلیفہ ثانی فرماتے ہیں کہ: ”اور سوائے آنحضرت ﷺ کے کوئی نبی اس شان کا نہیں گزرا کہ اس کے اتباع میں ہی انسان نبی بن جائے۔“ (القول الفصل ص ١٤)
”صاحب نبوت تام ہرگز امتی نہیں ہو سکتا اور جو شخص کامل طور پر رسول اللہ کہلاتا ہے اس کا دوسرے نبی کا مطیع اور امتی ہو جانا نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کی رو سے بالکل ممتنع ہے۔ اللہ جل شانہ فرماتا ہے ”و ما ارسلنا من رسول الا ليطاع باذن اللہ“ یعنی ہر رسول مطاع اور امام بنانے کے لئے بھیجا جاتا ہے اس غرض سے نہیں کہ کسی دوسرے کا مطیع اور تابع ہو۔“ (ازالہ ص ٥٦٩، خزائن ج ٣ ص ٤٠٧)
”بعض نادان کہہ دیا کرتے ہیں کہ نبی دوسرے کا متبع نہیں ہو سکتا اور اس کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے وما ارسلنا من رسول الا ليطاع باذن اللہ“ (حقیقت النبوۃ ص ١٥٥) میں پوچھتا ہوں کہ اس تیر کا نشانہ کون بنا وہی پنجابی مسیح موعود۔ (دریں چہ شک)
”ایلی ایلی لما سبقتنی کرم ہائے تو مارا کرد گستاخ۔ اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔ تیری بخششوں نے ہم کو گستاخ کر دیا۔“
(براہین احمدیہ ص ٥٥٤ ، حاشیہ، خزائن ج ٢١ ص ٦٦٢)
”نادان ہے وہ شخص جس نے کہا کرم ہائے تو مارا کرد گستاخ۔ کیونکہ خدا کے فضل انسان کو گستاخ نہیں کرتے اور سرکش نہیں کر دیا کرتے۔ بلکہ اور زیادہ شکر گزار اور فرمانبردار بناتے ہیں۔“
(ملفوظات خلیفہ، از الفضل ج ٤ نمبر ٥٦ ص ١٣ کالم ٣)
صیاد نے کس کو صید بنایا پنجابی نبی کو۔ ہاتھ لا استاد کیوں کیسی کہی۔
١٩٣
”ایک نبی کیا میں تو کہتا ہوں کہ ہزاروں نبی ہوں گے۔“ (انوار خلافت ص ٦٢)
”اور ہمارے رسول ﷺ کے بعد کسی طرح کوئی نبی نہیں آسکتا۔ جب کہ ان کی وفات کے بعد وحی منقطع ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے نبیوں کا خاتمہ کر دیا۔“ (حمامۃ البشریٰ ص ٢٠، خزائن ج ٧ ص ٢٠٠)
”اگر میری گردن کے دونوں طرف تلوار بھی رکھ دی جائے اور مجھے یہ کہا جائے کہ تم کہو کہ آنحضرت کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو میں اسے کہوں گا تو جھوٹا ہے کذاب ہے۔“ (انوار خلافت ص ٦٥)
”رسول کی حقیقت اور ماہیت میں یہ امر داخل ہے کہ دینی علوم کو بذریعہ جبرائیل کے حاصل کرے اور ابھی ثابت ہو چکا ہے کہ اب وحی رسالت تاقیامت منقطع ہے۔“ (ازالۃ اوہام ص ٦١٤، خزائن ج ٣ ص ٤٣٢)
اس جھوٹ نے تو کمر ہی توڑ ڈالی میں پوچھتا ہوں کہ اب جھوٹا کون ہوا اور کذاب کون بنا؟۔ وہی مرزا قادیانی پنجابی نبی۔ افسوس صد افسوس!
ہر نبوت را برو شد اختتام
(سراج منیر ص ٩٣، خزائن ج ١٢ ص ٩٥)
درد دل
میرے محترم بزرگو! قابل قدر عزیز بھائیو اور مخلص بہنو! دین مبین جن مصائب سے آج کل دو چار ہے وہ محتاج بیان نہیں۔ میرے خیال میں اس مسئلہ پر کچھ بھی روشنی ڈالنا عبث اور سورج کو چراغ دکھلانے کے مترادف ہے۔ اس لئے کسی مزید تعارف کی چنداں ضرورت نہیں۔ تنظیمی مرکز کے فقدان کے باعث جماعت کا شیرازہ متفرق ہے اور یہی باعث ہے کہ امت خیر الانام فروعات کے چنگل اور جاہلیت کے جنگل میں سرپھٹول ہو رہی ہے۔ دوست سے دوست، رفیق سے ساتھی اور بھائی سے بھائی دست و گریبان نظر آتا ہے۔ ماں بیٹی میں تکرار، بہن بہن سے بیزار، سہیلی ہمجولی سے بیزار۔ غرضیکہ نہ بڑوں میں شفقت، نہ چھوٹوں میں اطاعت، عجیب کشمکش کا دور ہے کہ جس میں ناکام رسہ کشی ہو رہی ہے اور اس بے لذت گناہ میں ایک ایسا طوفان بے تمیزی بپا ہے کہ جس میں کالے اور گورے، چھوٹے اور بڑے بری طرح سے بہے جاتے ہیں۔ اس بحر ذخار میں جس کا کنارہ ہی نہیں۔ کشتی قوم ڈگمگاتی اور حوادث کے تھپیڑے کھاتی چلی جا رہی ہے۔ مگر قوم کے ناخدا فرض منصبی سے محض نا آشنا، اخلاق سے کورے، ہمدردی سے کوسوں دور، چوغہ وعمامہ میں مگن، ریش و تسبیح میں دفن، بناوٹ کے وظائف، دکھاوے کے چلے، ریا کی بزرگی، نمود کی خیرات اور مکر کی نمازیں، طرفہ یہ کہ وہ بھی ڈیڑھ اینٹ کی جداگانہ
١٩٤
٤ ”ایک نبی کیا میں تو کہتا ہوں کہ ہزاروں نبی ہوں گے۔“
(انوار خلافت ص٦٢)
”اگر میری گردن کے دونوں طرف تلوار بھی رکھ دی جائے اور مجھے یہ کہا جائے کہ تم کہو کہ آنحضرت کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو میں اسے کہوں گا تو جھوٹا ہے کذاب ہے۔“
(انوار خلافت ص٦٥)
اس جھوٹ نے تو کمر ہی توڑ ڈالی میں پوچھتا ہوں کہ اب جھوٹا کون ہوا اور کذاب کون بنا؟۔ وہی مرزا قادیانی پنجابی نبی۔ افسوس صد افسوس!
ھائیوں اور مخلص ہمنوا! دین مبین جن مصائب سے مال میں اس مسئلہ پر کچھ بھی روشنی ڈالنا عبث اور لئے کسی مزید تعارف کی چنداں ضرورت نہیں۔ ازہ متفرق ہے اور یہی باعث ہے کہ امت خیر مل سر پھٹول ہو رہی ہے۔ دوست سے دوست، یگانہ نظر آتا ہے۔ ماں بیٹی میں تکرار، بہن بہن س میں شفقت، نہ چھوٹوں میں اطاعت، عجیب مچ رہی ہے اور اس بے لذت گناہ میں ایک ایسا ر رہے، چھوٹے اور بڑے بری طرح سے بہے ہیں۔ کشتی قوم ڈگمگاتی اور حوادث کے تھپیڑے ی سے محض نا آشنا، اخلاق سے کورے، ہمدردی میں دفن، بناوٹ کے وظائف، دکھاوے کے ہیں، طرفہ یہ کہ وہ بھی ڈیڑھ اینٹ کی جدا گانہ
مسجدیں اور کم بختی نامرادی ملاحظہ ہو کہ ان مظاہروں کو باعث صد ناز و افتخار سمجھا جارہا ہے۔ آہ! جس قوم کے علمبرداروں کے دماغ میں تخریب کا مفہوم عین تعمیر ہو اس قوم کی ذلت و نامرادی اور پھوٹی قسمت میں کس کو شک ہو سکتا ہے۔
مگر آہ! کبھی وہ زمانہ تھا کہ اسلام کی رواداری کی لوگ قسمیں کھاتے تھے اور مساوات ویگانگت اغیار کے سینوں پر سانپ لٹاتی تھی۔ چمنستان محمدﷺ اپنی پوری آب و تاب سے لہلہا رہا تھا اور اس کی چار دیواری اغیار کی دست و برد سے محفوظ و مامون تھی۔ نہ وہاں رہزن کا خدشہ تھا، نہ چور کا ڈر، اس کے برگ و بار سے لدے ہوئے سرسبز و شاداب شجر، عالم شباب کا پتہ دیتے اور ان کی آغوش رحمت میں ہزاروں کارواں اور سینکڑوں ممتاز قومیں خوشی و انبساط کی زندگی فراوانی و شادمانی میں بسر کرتی تھیں اور زمین کے کونے کونے اور چپے چپے پر فرزندان توحید کے سلجھے ہوئے ٹڈی دل جرار لشکر شیر غراں کی طرح اعلائے کلمۃ الحق اور پیام امن سناتے رہے تھے۔ سچ پوچھئے تو ان دنوں اسلام کا طوطی بول رہا تھا۔ مگر آہ! آج قوم کا شیرازہ منتشر تر ہی نہیں ابتر ہو رہا ہے اور سب سے بڑی خرابی تنظیمی مرکز کا فقدان جہالت کا دور، تشتت و افتراق کا زمانہ۔ طرفہ یہ کہ نبوت کا زکام اور رسالت کا ہیضہ زوروں پر ہے۔ جدھر دیکھو متنبی، جہاں جاؤ جھوٹے رسول، ارتداد کی آندھیاں اور الحاد کی فضائیں۔ کفر کے بادل۔ نیچریت کی ہوائیں۔ بدبختی کے جھمیلے اور دہریت کے حیلے منافقت کے حربے اور تصنع کے چربے، اسلام کے بیٹے اور نصیبوں کے ہیٹے۔ اس نیلی چھت کے نیچے ہزاروں برس کی بوڑھی دنیا پر سینکڑوں دور گزرے اور بڑے بڑے انقلاب آئے۔ زمانے نے اکثر یونہی کروٹیں لیں اور دنیا تہ و بالا ہوئی۔ مگر یہ چودھویں صدی توبہ ہی بھلی ہے۔ الٰہی پناہ جس میں سرکاری نبی اور طفیلی رسول وظیفہ خوار امام اور سود خور محدث، دیوالئے ولی اور اصنام پرست پیر، نہ دین کی خبر نہ عقبیٰ کا ڈر۔ غرضیکہ حرص کے بندے اور ہوا کے پھندے ایسی حالت میں ناموس رسالت اور رخت ایمان، مسلم کا اللہ ہی حافظ ہے۔
مگر آہ! کبھی سوچا بھی کہ اس کی علت غائی کیا ہے۔ آخر یہ عذاب ہم پر کیوں مسلط ہوا۔ آہ! یہ سب کچھ مصیبت کا سامان ہماری انتہائی غفلت کا نتیجہ ہے۔ ہم کبھی قلت میں کثرت کو خاطر میں نہ لاتے تھے۔ آج نو کروڑ ہو کر ایک مٹھی بھر جماعت سے خائف سے ہو رہے ہیں۔ ہماری کثیر جماعت بھیڑوں کے گلے کے مشابہ ہے جس سے مرزائی بھیڑیے من مانی مرادیں شکار کر رہے ہیں۔ بخدا سچ کہتا ہوں اور مبالغہ آرائی سے ہمیشہ متنفر رہا ہوں۔ اگر قوم نے اس کا سدباب نہ سوچا تو مرزائیت کے جراثیم جو سرعت سے پھیل رہے ہیں ملت کی جڑیں کھوکھلی کر کے رہیں گے۔
١٩٥
دین قیم پر خدا کی رحمت ہو۔ یہ اس کے نزدیک نہایت پسندیدہ مذہب ہے اور اس لئے اس کی حفاظت کا بھی وہ خود ہی ذمہ دار ہے۔ مگر سنت اللہ ہمیشہ سے یونہی چلی آئی ہے کہ جب کوئی قوم کسی زمانے میں غفلت شعار ہوئی اور امتحان میں پوری نہ اتری تو اللہ تعالیٰ نے اس کی جگہ دوسری قوم کو مسلط کر دیا۔ سو بھائیو اور بزرگو! ابتلا و آزمائش کا وقت ہے۔ خواب غفلت میں لمبی تان کر سونے والو اٹھو۔ منزل مقصود کو حسرت کی نگاہ سے تھک کر دیکھنے والو بڑھو۔ نئی روشنی اور تہذیب جدید کے متوالو یہ جھوٹی سرشاری کب تک، ملمع و فروعات کے چنگل کے باسیو اور توہمات باطلہ پر مر مٹنے والو ناؤ کی خبر لو۔ ارے کب جاگو گے۔ کشتی میں سوراخ تو ہو چکے۔ باد مخالف فناء کے تھپیڑوں میں مقید کر چکی۔ منجدھار منہ کھولے استقبال کے لئے کھڑی ہے۔ مگر تم خواب راحت میں مگن ہو۔ زمانے کی پن چکی نے کسی کو چھوڑا۔ فلک بے پیر کس کے کام آیا۔ ادبار و نحوست نے کس کا ساتھ دیا۔ ارے تم کیا سوچ رہے ہو۔ قوم کے ناخداؤ اہل کشتی پر رحم نہیں کھاتے تو اپنی ہی فکر کرو۔ مگر ناؤ پہ مصیبت آئی تو کیا وہ تمہاری رفاقت کرے گی:
اپنے سود و زیاں کا توازن کرو اور قوم کی بے بسی پر للہ رحم کھاؤ۔ اٹھو کمر ہمت باندھو اور اعلائے کلمتہ الحق کے لئے مستعد و تیار ہو جاؤ۔ مبارک ہیں وہ جو اس کے کام آئیں۔ خوش نصیب ہیں وہ جو دنیا کے ساتھ ساتھ دین بھی خریدیں۔ آخر میں صاحب ثروت اور اہل خیر حضرات سے بھی کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ جہاں نرم نرم صوفوں اور اچھے اچھے قالینوں پہ تمہاری دولت بیکراں میں سیلاب آتا ہے اور سامان آرائش پر ہزاروں اٹھتے ہیں اور مرغن غذاؤں کی فروانی کے ساتھ ساتھ رقص و سرود کی محفلیں گرم ہوتی ہیں اور ساغر و مینا گردش میں آتے ہیں۔ وہاں اپنے پڑوسیوں اور بے کس یتیم بچوں کی بھی خبر لو کہ جن کی تیمارداری تو کیا، نان جویں کے محتاج بھوکے سوتے اور بلکتے اٹھتے ہیں۔ خدارا سوچو اور اسراف سے کنارہ کشی کرو۔ ناموس ملت خطرے میں ہے اور سبز روضے میں آرام کی نیند سونے والے محبوب حقؐ کی مبارک روح بے چین ہے۔ بزم خالد خدا کے فضل و کرم سے خدمت دین میں دن دوگنی رات چوگنی ترقی کر رہی ہے اور اس کا چندہ ٥ روپے صرف ایک ہی دفعہ کے لئے ہے۔ جس کے عوض تازہ بتازہ تصانیف ہدیہ پیش ہوتی رہے گی۔ دیکھیں کون کون اس سعادت سے بہرہ ور ہوتا ہے اور محمدی لسٹ میں نام درج کراتا ہے۔ مبارک ہیں وہ جو اس میں جلدی کریں۔ خاکسار ایس خالد!
١٩٦
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں ، میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔
نوشتہ غیب
ایس ۔ ایم خالد وزیرآبادی
بسم الله الرحمن الرحيم ! الحمدلله وسلام على عباده الذين اصطفى اما بعد!
حمد وستائش احکم الحاکمین کو سزاوار ہے۔ جو خالق کائنات ہے اور جہان کا پالنے والا مالک ہے۔ جس کو اونگھ آتی ہے نہ نیند اور وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ وہ میرا مالک جس کی بیوی ہے اور نہ بچے، اپنی مخلوقات کو بے مانگے دیتا ہے اور ان پر رحم کرتا ہے۔ اس کے وعدے اٹل ہیں اور اسی کے قبضہء قدرت میں موت وحیات وعزت وذلت ہے۔ وہ حاکم کل جو اپنے ہر افعال میں مختار مطلق ہے اور ہر طرح کے مشیروں سے بے نیاز ہے۔ اس سے کوئی پوچھنے والا نہیں اور جو نیست کو ہست اور ہست کو نیست اور عزت کو ذلت اور ذلت کو عزت سے بدل دینے پر قادر ہے۔ تمام عظمت و بزرگی اسی کو سزاوار ہے۔
پاک بے ہمتا قدیم و ذوالجلال
بے ترے حکم اے الہ العالمین
ایک پتہ ہل نہیں سکتا کہیں
کس زباں سے ہو ادا تیری ثناء
پہنچے کیا بندے کی عقل نارسا
تو نہیں محتاج توصیف جہاں
ہم سے کیا ہو تیری قدرت کا بیاں
میری کیا بساط وحقیقت ہے جو اے میرے پیارے آقا و مولا تیری تعریف وتوصیف بیان کروں اور میری کیا طاقت وجرأت ہے جو تیرے انعام واکرام شمار کر سکوں۔
اے منعم حقیقی طاقت دے کہ تیرے احکام بجالاؤں اور تیرے قرآن کو سینہ سے لگاؤں اور اس تختی پر جگہ دوں جو قلب سلیم کے نام سے یاد کی جاتی ہے۔ اے میرے نہایت ہی رحم و کرم والے آقا مولا میں تیری جناب میں نہایت عجزونیاز سے گڑگڑا کر اپیل کرتا ہوں کہ میرے ایمان میں استقامت اور یقین میں ہمت، ارادوں میں برکت اور رزق میں وسعت دے۔ اے میرے
٢
رب العالمین تو نے اپنی عاجز مخلوق پر وہ احسان عظیم فرمایا جس کا شکریہ ادا کرنے سے زبان قاصر ہے ۔ تو نے ہماری رشد و ہدایت کے لئے ہم پر وہ کرم کیا جو بیان ہی نہیں ہو سکتا ۔
غنچے کو چٹک ، پھول کو مہک ، سرو کو قد ، حسن کو رعنائی دینے والے آقا ۔
صدف کو گوہر، آہو کو مشک ، ستارے کو ضیاء ، قمر کو منور کرنے والے داتا ۔
دل کو سوز ، عشق کو ساز ، بلبل کو پھول ، مومن کو ایمان دینے والے مولا ۔
طاقت و توانائی دے کہ تیرے پیارے محبوب ، رحمۃ اللعالمین کی مدح وتوصیف کر سکوں ۔
اور آپ کی ایک پیش گوئی جس کے لئے قلم اٹھایا گیا ہے دنیا پر بے نقاب کروں ۔
قبل از بعثت سرور عالمؐ
خطہ عرب کا وہ صحیح فوٹو جس کے بیان کرنے سے روح لرزہ براندام ہوتی ہے اور تہذیب جس کے قیل و قال سے منع کرتی ہے۔ ایک ایسا بھیانک منظر پیش کرتا ہے جس میں توحید، ظلمت کے ان سیاہ منحوس پردوں میں یوں پنہاں تھی۔ جیسے صدف میں موتی ، گرہن میں سورج یا گہرے تاریک بادل میں چاند اور شاید ہی کوئی متنفس خدائے وحدہ لاشریک کا نام لیوا ہو جس کی جبیں خم نیاز سے آشنا ہو۔ وہ خطہ جس کی کل آبادی بت پرستی، شراب خوری و قمار بازی و زنا کاری وقتل و غارت میں محو تھی اور جو پرلے درجے کے ظالم و بے رحم واقع ہوئے تھے۔ وہ جو اپنی بدنامی کے لئے پیدا ہوتے ہی معصوم و بے کس لڑکیوں کو زندہ درگور کرنا فرض اولین شمار کرتے اور خدا کی اشرف مخلوق چند کوڑیوں کے لئے بک جاتی اور اس سے حیوانوں جیسا سلوک روا رکھا جاتا۔ وہ تعلیم سے بے بہرہ تمدن سے نا آشنا ، معاشرت سے کوسوں دور اخلاق سے کورے تھے۔ گویا طاغوتی طاقتیں رحمانی طاقتوں سے نبرد آزما اور برسر پیکار تھیں اور جو نہایت ادنیٰ ادنیٰ باتوں سے آپس میں یوں الجھ جایا کرتے تھے۔ جیسے معشوق سے عاشق ، مگر کیا مجال جو جدا ہوں اور یہ حسد و جہالت کی آگ جب بھی سلگھتی قبائل کا صفایا کر دیتی۔
آخر خدائے واحد و قدوس کی غیرت نے تقاضا کیا اور وحدت و غیرت کے قلزم نے جوش مارا تو تمام جہالت و تعصب کے بے پناہ پودوں کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے گیا اور خورشید ہدایت ظلمات کے پردوں کو چاک کرتا ہوا تمام تاریکیوں کو منور و مسحور کرتا ہوا سارے جہاں کو منور کر گیا۔ مولانا حالی نے کیا خوب کہا ہے۔
٣
بڑھا جانب بوقبیس ابر رحمت
ادا خاک بطحا نے کی وہ ودیعت
چلے آتے تھے جس کی دینے شہادت
ہوئے پہلوئے آمنہ سے ہویدا
دعائے خلیل اور نوید مسیحا
” ربنا وابعث فيهم رسولاً منهم يتلوا عليهم آيتك ويزكيهم ويعلمهم الكتاب والحكمة (بقره:١٢٩) “ فخر دوعالم کے اجداد سے حضرت ابراہیم خلیل اللہ جن کے اوصاف حمیدہ میں مالک الملک نے فرقان حمید میں بہت سی خوبیاں فرمانے کے بعد ایک دعاء جو ان کی دلی آرزو ہے اپنی مخلوق کی بہتری کے لئے اور جس کے لئے وقت ابھی مقتضی تھا بیان فرمائی ہے اور چونکہ حضور کا وہ پیارا دین جو اللہ کو پسندیدہ ہے ” ان الدين عند الله الاسلام (آل عمران:١٩) “ ملت ابراہیم حنیف پر ہی ہے۔ اسی لئے ہم آنحضرت ﷺ پر درود و سلام بھیجتے وقت آپ کی جد مبارک کے لئے بھی وہی عقیدت ظاہر کرتے ہیں۔
بعثت سرور عالم
ہنوز نام تو گفتن کمال بے ادبی است
وہ دنیا میں گھر سب سے پہلا خدا کا خلیلؔ ایک معمار تھا جس بنا کا
ازل میں مشیت نے تھا جس کو تاکا کہ اس گھر سے ابلے گا چشمہ ہدیٰ کا
خاک پاک بطحا سے وہ رشد و ہدایت کا نیئر اعظم وہ آب و تاب سے دمکتا ہوا خورشید۔ جس کی بے پناہ روشنی سے کائنات عالم کا ذرہ ذرہ منور ہو گیا اور ہر قسم کی روشنی وہ گیس ہوں یا بجلی کے ہنڈے، ستارے ہوں یا چاند۔ ابدالآباد تک چکا چوند و ماند پڑ گئے اور اب سوائے اس سراج منیر کے جس کی بے مثل روشنی شرق وغرب اسود واحمر پر یکساں احسان کر رہی ہے اور روز قیامت تک کرتی رہے گی۔ وہ رحمت عالم ﷺ وہ ابر ہدایت، جس کی بے مثل پاک گھٹائیں اخوت، مساوات، محبت وآشتی، توحید وتمجید سے لبریز تھیں۔ کچھ ایسی بے نظیر شان سے افق عالم پر نمودار ہوئیں اور اس آن سے دمکیں اور چمکیں اور اس شان سے برسیں کہ چپہ چپہ و قریہ قریہ کو سیراب کرتی ہوئی شرک و کفر بغض و عناد، جہالت و ضلالت کی بیخ کنی کرتی گئیں۔
٤
ہری ہوگئی ساری کھیتی خدا کی
اور اب سوائے اس رحمۃ العالمین کے تا روز قیامت کوئی دوسری نبوت کی بارش محال ہی نہیں، غیرممکن ہے۔ کیونکہ آپ کو نبوت کے قصر کی آخری اینٹ اور شان میں لا نبی بعدی کہا گیا ہے اور اس عالم گیر بارش کو کافة للناس اور نبوت کو خاتم النبیین کے پیارے القاب سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نوازا گیا ہے۔
وہ حریت کا شہنشاہ جب مساوات کا علم لے کر اٹھتا ہے تو شاہی ایوان وتخت سلاطین لرزہ براندام اور بادشاہ بہ انگشت حیرت ہو کر اس کا سبب دریافت کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ جس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ جبر واستبداد کی فرعون حکومتیں رخصت کا بگل بجایا ہی چاہتی ہیں۔
وہ آمنہ کا لال اور عبداللہ کا نونہال، عبدالمطلب کا بعد از خدا بزرگ، پوتا جس کی تعریف لاریب فیه واحسن الحدیث کتاب عظیم ادا کرتی ہے اور جس کے رخ انور کو والضحیٰ اور زلف معنبر کو والیل اور چشم مبارک کو مازاغ البصر سے تشبیہ دی جایا کرتی ہے اور جس کے پیارے پیارے القاب طہٰ، یٰسین، مزمل، مدثر اور ایسے ہی ہیں اور جس کے اخلاق حمیدہ وصفات ستودہ شمار کرنا مشکل ہے اور جس کے احسان کبھی سبکدوش نہیں ہو سکتے اور جس کی لطف بین نگاہیں گدا کو شاہ وغلام کو آقا اور جاہل کو عالم بنادیتی ہیں اور جس کا فیض عام تا قیام زمانہ جاری وساری ہے اور جس نے فق رقبہ کا حکم دے کر غلامی کی منحوس تصویر کو سنوارا اور جس نے عالم نسواں کو قعر مذلت سے نکال کر مردوں کے دوش بدوش لا کھڑا کیا اور حکومت جس گھر کی لونڈی اور سطوت چیری ہونے کا فخر سمجھی اور جس کی زبان فیض ترجمان نے وہ وہ نایاب موتی اور انمول گہر برسائے جو زمانہ محو کرنے پر قادر ہی نہیں اور جو بغیر مشیت ایزدی نطق کرنا جانتی ہی نہ ہو ۔ ’’وما ینطق عن الہوٰی ان ہو الا وحی یوحی (النجم: ٣، ٤)‘‘
وہ خلیل اللہ کے دریا کا گوہر جس کو شکم مادر ہی میں دریتیم بنایا گیا ہو اور جس کی والدہ ماجدہ سن بلوغ سے بہت پیشتر داغ مفارقت دے چکی ہو اور جس کا دادا ابا صرف سات برس کی عمر میں راہی ملک بقا ہو گیا ہو اور جس کے صرف خدائے واحد کے اقرار کرنے سے باطل معبودوں کے نام لیوا جان کے دشمن اور خون کے پیاسے ہوگئے ہوں اور عدم تعاون اور ایذا رسانی میں محو ہوں اور یہاں تک مجبور کر دیویں کہ وطن عزیز کو صرف اس قصور کے بدلے کہ وہ ایک اللہ کی عبادت کیوں کرتا ہے خیر باد کہہ جاوے۔
٥
وہ خواجہ دوسرے ہر ایک دکھ و تکلیف کو جو ”وانذر عشيرتك الاقربين (الشعراء:٢١٤)“ کے بدلے میں دی جاتی تھی۔ بڑی خندہ پیشانی سے لبیک کہتا ہوا دکھ کے بدلے میں سکھ، تکلیف کے بدلے میں راحت، ظلم کے بدلے میں رحم کی دعائیں دیتا ہے اور جس سے باوجود یکہ انتہائی ایذا رسانی سے کام لیا گیا ہو۔ مگر سوائے ”اللهم اهد قومي فانهم لا يعلمون“ کی معمہ خیز دعاء کے حرف شکایت زبان پر نہ لایا ہو۔
نہ ہوتا قفل گر منہ پر تو بتلاتے کہ کیا تو تھا
وہ امن و سلامتی کے بحر نا پیدا کنار کا شناور باوجود یکہ حوادث زمانہ سے یوں ستایا گیا تھا اور طرح طرح کے ابتلاء مصیبت میں قدم قدم پر امتحاناً آزمایا گیا اور جب اس کے قدموں میں زر و جواہر کے ڈھیر اور حسینانِ عرب کے نکاح کا مسئلہ پیش کیا گیا اور کہا گیا کہ بتوں کی مذمت چھوڑ دے اور خدائے واحد کی تعلیم کو بند کردے تو وہ امن و آشتی کا شہزادہ یوں گویا ہوا کہ عم محترم اگر میرے داہنے ہاتھ پر سورج اور بائیں پر چاند رکھ دیا جاوے تب بھی خدا کی قسم یہ کام جاری رہے گا اور اس کو میں ہرگز نہ چھوڑوں گا۔
وہ خواجہ بدر و حنین وہ دنیا کا قائد اعظم جو وطن عزیز کو مولا کریم کے نام کو بلند کرنے کے عوض چھوڑ آیا تھا اور یثرب میں توحید کے پودے لگانے میں مشغول و عبادت الٰہی میں محو تھا۔ یہاں بھی امن سے رہنے نہیں دیا گیا اور اب تو معاملہ کفار مکہ کی متفقہ کوشش سے سر کی بازی پر تل گیا تو حضور ﷺ نے مدافعت جنگ بموجب فرمان خداوند کریم ”اذن للذين يقاتلون (الحج:٣٩)“ آپؐ نے اپنے جان و مال کو مولا کریم کی راہ میں لا کھڑا کیا۔ گو جنگ حنین میں فدائیوں کی تعداد بارہ ہزار تھی اور جس طرح کمانڈر اپنی فوج کے بھروسہ پر نازاں ہوتا ہے آپؐ کبھی نہ ہوتے۔ بلکہ ہمیشہ آپ بھروسہ مالک الملک پر کرتے اور اس کی جناب میں سربسجود دعاؤں میں مشغول رہتے اور عرض کرتے یا اللہ یہ قلیل تعداد تیرے نام لیواؤں کی جو تیرے راہ میں سر ہتھیلی پر لیے صف بستہ کھڑی ہے۔ اگر مٹ گئی تو تیری توحید کا نام لیوا باقی کوئی نہ رہے گا۔
میں زیادہ تفصیل میں اس موقعہ پر جانا نہیں چاہتا۔ میرا مطلب رسول پاک ﷺ کی مبارک زندگی پر ایک ہلکی سی جھلک جو میرے اصل موضوع کی نوعیت پر روشنی ڈالنے کے لئے ضروری ہے بڑے اختصار سے ہدیہ ناظرین کر رہا ہوں۔
بہر حال فخر رسل ﷺ فداہ ابی و امی نے ان جاہل، ان پڑھ، وحشی، بدوؤں کو تمدن
٦
ومعاشرت کے سب باب سکھائے اور ان کی طبیعت جو فطرتاً جنگجو واقع ہوئی تھی تبلیغ کی طرف راغب کی اور اعلائے کلمۃ الحق کے لئے انہیں تجارت و جہاد کا شوق دلایا۔ وہ بدو جن کو پیٹ بھر روٹی، پہننے کو کپڑا، رہنے کو جھونپڑا بھی میسر نہ ہوتا تھا۔ آقائے نامدار کی تعلیم سے اس قدر بہرہ ور ہوئے کہ ربع مسکوں میں ثلث کے مالک بنے اور اس فوجی کالج کے ہال میں جس کی چھت صرف کھجور کے پتوں سے بنی تھی (یعنی مسجد نبوی) میں بیٹھ کر دنیا کے بادشاہوں کے فیصل ہوئے۔ مگر واہ رے تعلیم اور اس کا پاک اثر کہ نخوت ورعونت وامارت، تعصب نام کو بھی نہ آئے وہ خلیفہ جو آقائے نامدار حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا جان نشین ہوتا اور جس کی ہیبت سے بادشاہ لرزتے اور جس کے اشارے سے حکومتوں کے تختے الٹتے اور بنتے۔ اس کا تخت کھجور کی چٹائی اور وہ بھی خدا کی زمین پر اور نشان بدن پر اور کرتہ وہ بھی موٹا اور پیوند شدہ۔ اللهم صل علی محمد وال محمد!
وہ شہ لولاک جس کے لئے ہفت افلاک بنے اور جس کی ذات باعث تکوین روزگار ہوئی۔ گھر کا کام کاج خود فرمالیا کرتے۔ آٹا گوندھ لیتے اور کپڑے کو پیوند لگا لیتے۔ بیواؤں کو سودا سلف لا دیتے۔ یتیموں سے شفقت بیکسوں پر رحم، حاجتمند کے سوال کو عموماً کبھی رد نہ فرماتے، خود پیٹ پر پتھر باندھ لیتے اور سوالی کی شکم پری کر دیتے۔ وہ رؤف الرحیم جو خطاء پوش تھا اور جس کی نگاہ لطف میں ایک اعلیٰ وصف یہ تھا کہ وہ خطا بین نہ تھی جو غریبوں کا ملجا اور ضعیفوں کا ماوا تھا اور جو لباس فاخرہ کو ناپسند فرمایا کرتے اور باعث رعونت سمجھتے، اور وہ جو ایک حبہ چاہے ہزاروں دینار روز آتے گھر میں ایک رات رکھنا پسند نہ فرماتے اور جب تک راہ خدا میں صرف نہ کر لیتے گھر تشریف فرما ہونا پسند نہ فرماتے اور وہ جو راگ اور فوٹو سے بڑی سختی سے منع فرماتے اور وہ جو عبادت الٰہی میں اس قدر منہمک و واصل الحق ہوتے کہ دنیا و مافیہا سے بے نیاز ہو جاتے اور قدم مبارک متورم ہو جاتے اور جن کو قہر الٰہی کا حکم از راہ شفقت ملتا اور جو سیاہ بادل اور اندھیری کے آنے سے خائف سے ہو کر مولا کریم سے دست بہ دعاء ہوتے اور عرض کرتے کہ بار الہا کہیں قوم ثمود کی طرح نہ ہو جن کا خیال تھا کہ یہ بادل ہمارے کھیتوں کو سیراب کرے گا۔ اے مولا کریم تیرا تو وعدہ ہے کہ جب تک تو ان میں ہے عذاب محال ہے۔ ”وما كان الله ليعذبهم وانت فيهم (انفال:٣٣)“
وہ امت کا غمخوار آقا وہ رہتی دنیا تک کا پیامبر ہر آنے والے زمانہ کے لئے ایسی ایسی بیش بہا نصیحتیں چھوڑ گیا جس کے بعد کسی اور نصیحت کی ضرورت ہی نہیں رہتی کیونکہ ”اليوم اكملت لكم دينكم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دیناً (مائده:٣)“ اس کا دین مکمل اور خدا اس سے راضی اور ہمارے لئے اس کے اسوہ حسنہ کی اطاعت ہی فرض کرنے کا حکم
٧
مولا کی جناب سے ملا۔ ”لقد كان لكم في رسول الله اسوة حسنة (احزاب:٢١)“ اور اس حکم کے بعد کی تمام باتیں بدعت فرمائیں اور بدعت کو گمراہی بتایا اور گمراہی کو نار جہنم قرار دیا۔ ”هل انبئكم على من تنزل الشيطن . تنزل على كل افاك اثيم ے يلقون السمع واكثرهم كذابون . والشعراء يتبعهم الغاون . الم تر انهم فى كل واد يهيمون . وانهم يقولون مالا يفعلون . الا الذين آمنوا وعملو الصلحت (الشعراء:٢٢١ تا ٢٢٧)“ ﴿ کیا بتلائیں تم کو اوپر کس کے اترتے ہیں شیطان اترتے ہیں اوپر ہر جھوٹ باندھنے والے گنہگار کے، رکھتے ہیں شیطان کان اپنے اور اکثر ان کے جھوٹے ہیں اور شاعروں کی پیروی کرتے ہیں گمراہ، سب کیا دیکھا تو نے یہ کہ وہ بیچ ہر جنگل کے سرگرداں ہوتے ہیں اور یہ کہ وہ کہتے ہیں جو کچھ نہیں کرتے۔مگر وہ لوگ کہ ایمان لائے اور کام کئے اچھے ۔ ﴾
ان آیات سے روزِ روشن کی طرح یہ واضح ہوا کہ شیطان کن لوگوں پر اترتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اے میرے حبیب کیا میں تم کو بتلاؤں کہ شیطان کس انسان پر اترتے ہیں وہ ہر جھوٹ بات بنانے والے جھوٹا پروپیگنڈا کرنے والے گنہگار پر اترتے ہیں اور شیطان آسمانی باتیں اچک کر لے جاتے اور اکثر وہ جھوٹ بولتے ہیں اور شاعر لوگوں کی پیروی گمراہ لوگ کرتے ہیں اور کیا میرے حبیب تو نے نہیں دیکھا کہ جنگل کے درمیان وہ حیران سرگردان ہوتے ہیں اور جو کچھ وہ کہتے ہیں وہ خود اس پر عمل نہیں کرتے۔
سبحان اللہ! کیا لطیف الفاظ ہیں کہ شیطان ہر جھوٹ بات بنانے والے پر اترتے ہیں۔ یہ نہیں فرمایا کہ جھوٹ بولنے والے پر یا کہنے والے پر اترتے ہیں۔ نہیں بلکہ فرمایا کہ اس
١۔ چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنی نبوت کے دعویٰ میں کہتے ہیں کہ میرے نام غلام احمد قادیانی کے پورے حروف تیراں سو ابجد کے حساب سے ہیں اور یہی میری تیرہویں صدی میں آنے کی دلیل ہے اور تم چاہے لندن میں جاؤ، دنیا کا گوشہ چھان مارو دوسرا غلام احمد قادیانی آپ کو کہیں نہ ملے گا۔ قرآن کریم جو علوم کا خزانہ ہے جب یہ مشکل پڑی تو اس بیش بہا علمی سمندر نے ہمیں ایک منٹ میں اس کا ایسا شافی جواب دیا جو اہلِ ایمان کے لئے تازہ ایمان ہے۔ سبحان اللہ تنزل على كل افاك اثيم اس کا جواب ہے یعنی اس کے پورے تیراں سو اعداد ہیں۔ اس سے صاف اور نہایت واضح معلوم ہوا کہ پہلے دن ہی سے یہ آیت شریف اسی لئے لکھی تھی کہ ایک زمانہ میں کوئی سر پھرا مدعیِ نبوت ہوگا۔ جو حروفِ ابجد سے تیراں سو کا دعویٰ کرے گا اور شیطان اسی پر اترتے ہوں گے۔
٨
گنہگار پر اترتے ہیں جو جھوٹی باتیں بناتا ہو۔ مثلاً کاہن لوگ جو شیطان کے تابع ہو جاتے اور اکثر شیطان ان کی مدد کرتا تو وہ کوئی بات کہہ دیتے کہ فلاں کام یوں ہوگا اور اگر وہ ویسا ہی ہو جاتا تو ان کی شہرت ہو جاتی اور اس طریقہ سے اپنے آپ کو بہت بڑھا لیتے۔ یہاں تک وہ اپنے زعم باطل میں خدائی کا ایک شریک مشہور کرتے اور اس کی آج کل بھی ہزاروں مثالیں ہیں جو بوقت مناسب پیش کی جائیں گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ!
شیطان
ناظرین! اب ہم آپ کی خدمت میں شیطان کی تھوڑی حقیقت پیش کرتے ہیں کہ یہ کیا بلا تھی جس کا ذکر فرقان حمید میں بار بار ہوا اور جس کے شر سے پناہ مانگنے کا حکم دیا گیا اور جس کو انسان کا صریح دشمن بار بار کہا گیا۔
”قل انما انا منذر ، وما من الہ الا اللہ الواحد القھار ، رب السمٰوت والارض وما بینھما العزیز الغفار ٠ قل ھو نبؤا عظیم ٠ انتم عنہ معرضون ٠ ما کان لی من علم بالملأ الاعلیٰ اذ یختصمون ٠ ان یوحیٰ الیٰ الا انما انا نذیر مبین ٠ اذ قال ربک للملٰئکۃ انی خالق بشراً من طین ٠ فاذا سویتہ ونفخت فیہ من روحی فقعوا لہ سجدین ٠ فسجد الملٰئکۃ کلھم اجمعون ، الا ابلیس استکبر وکان من الکفرین ٠ قال یا ابلیس ما منعک ان تسجد لما خلقت بیدی استکبرت ام کنت من العالین ٠ قال انا خیر منہ خلقتنی من نار وخلقتہ من طین ٠ قال فاخرج منھا فانک رجیم ، وان علیک لعنتی الیٰ یوم الدین ٠ قال رب فانظرنی الیٰ یوم یبعثون ٠ قال فانک من المنظرین ٠ الیٰ یوم الوقت المعلوم ٠ قال فبعزتک لاغوینھم اجمعین ٠ الا عبادک منھم المخلصین ٠ قال فالحق والحق اقول ، لاملئن جھنم منک وممن تبعک منھم اجمعین ٠ قل ما اسئلکم علیہ من اجر وما انا من المتکلفین ٠ ان ھو الا ذکر للعلمین ٠ ولتعلمن نباہ بعدحین (ص: ٦٥تا٨٨)“ کہہ سوائے اس کے نہیں کہ میں ڈرانے والا ہوں اور نہیں کوئی معبود مگر اللہ اکیلا غالب پروردگار آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ درمیان ان کے ہے غالب بخشنے والا کہہ وہ ایک خبر بڑی ہے تم اس سے منہ پھیرنے والے ہو، نہیں ہے مجھ کو کچھ علم ساتھ فرشتوں سرداروں بلند کے جس وقت جھگڑتے تھے۔ نہیں وحی کی جاتی میری طرف مگر یہ کہ میں ڈرانے والا ہوں۔ یاد کر جس وقت کہا پروردگار تیرے نے واسطے فرشتوں کے تحقیق میں پیدا
٩
کرنے والا ہوں۔ انسان کو مٹی سے پس جس وقت کہ درست کروں اس کو اور پھونکوں بیچ اس کے روح اپنی میں سے پس گر پڑو واسطے اس کے سجدہ کرتے ہوئے۔ پس سجدہ کیا سارے فرشتوں نے مگر ابلیس نے تکبر کیا اور تھا وہ کافروں سے کہا اے ابلیس کس چیز نے منع کیا تجھ کو یہ کہ سجدہ کرے تو واسطے اس چیز کے کہ بنایا میں نے ساتھ دونوں ہاتھوں کے اپنے کے کیا تکبر کیا تو نے یا تھا تو بلند مرتبے والوں سے، کہا میں بہتر ہوں اس سے۔ پیدا کیا تو نے مجھ کو آگ سے اور پیدا کیا اس کو مٹی سے ۔ کہا پس نکل ان آسمانوں میں سے پس تحقیق تو راندہ گیا ہے اور تحقیق اوپر تیرے لعنت ہے میری دن جزا تک، کہا اے پروردگار میرے پس ڈھیل دے مجھ کو اس دن تک کہ اٹھائے جائیں مردے، کہا پس تحقیق تو ڈھیل دیئے گئے ہوئے میں سے ہے اس وقت معلوم تک۔ کہا پس قسم ہے عزت تیری کی البتہ گمراہ کروں گا میں ان کو اکٹھے مگر بندے تیرے ان میں سے خالص کئے ہوئے۔ کہا کہ پس سچ بات یہ ہے اور سچ کہتا ہوں میں البتہ بھروں گا میں دوزخ کو تجھ سے اور ان سے جو پیروی کرتے ہیں تیری ان میں سے اکٹھے کہہ نہیں سوال کرتا میں اوپر اس قرآن کے کچھ بدلا اور نہیں میں تکلف کرنے والوں سے نہیں یہ قرآن مگر نصیحت واسطے عالموں کے اور البتہ جان لو گے خبر اس کی پیچھے ایک مدت کے۔ ﴿
اس مبارک رکوع کی آیات ہم کو دو باتیں بیان فرماتی ہیں۔
اوّل ....... یہ کہ سرور عالم فرماتے ہیں کہ لوگو! سن لو کہ میں تو صرف اس حی و قیوم کی طرف سے صرف ڈرانے والا ہوں ؎
اور عبادت کے لائق سوائے اس زبردست خدا کے کوئی دوسرا معبود نہیں۔ مگر وہ اکیلا غالب حکمت و جبروت والا وہ پروردگار پالنے والا ہے۔ آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان مخلوق ہے اس کا بھی وہی پالنے والا ہے اور قیامت ایک بڑی چیز ہے وہ روز جزا ضرور آنے والا ہے۔ خبردار تم اس سے منہ نہ پھیرنا۔ یعنی یاد رکھنا، ملا اعلیٰ یعنی سرداروں بلند مرتبہ والے فرشتوں کا جب وہ آپس میں کسی بات پر شدت سے تبادلہ خیالات کر رہے تھے ان کی بابت مجھ کو کچھ بھی علم نہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے مجھے تو تمہارے لئے ڈرانے والا ہی کر کے بھیجا ہے۔
اس ساری عبارت کا مفہوم یہ ہوا کہ مولا کریم اکیلا معبود ہے۔ عبادت صرف اسی کو سزاوار ہے اور روزی صرف وہی دیتا ہے اس کا کوئی ساجھی نہیں اور روز جزا و سزا ضرور آئے گی۔ خبردار اس میں شک نہ کرنا اور میں تو اس کا پیمبر ہوں کہ اس کے احکام تم تک پہنچاؤں۔ خوشخبری
١٠
دوں اور ڈراؤں تاکہ تمہیں کوئی نہ بہکاوے اور فرمایا مجھ کو کیا خبر تھی فرشتوں کے جھگڑا کرنے کی اور جب تک بذریعہ وحی الٰہی مجھ کو نہ جتائی گئی یہی میرے سچا ہونے کی دلیل ہے جو بذریعہ وحی بتلائی گئی ہے۔ اس کے بعد اس مردود ازلی کا واقعہ بیان فرما کر ڈرایا گیا ہے کہ خبردار مالک حقیقی کے فرمان سے سرتابی نہ کرنا اور اپنے آپ کو ناچیز سمجھنا اور عبادت پر ناز نہ کرنا ورنہ تم بھی اس کے ساتھی ہو جاؤ گے اور تمہارا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔ کیونکہ یہ اس کا اٹل فیصلہ ہے۔
دوم ...... اللہ جل شانہ نے فرمایا کہ میرے حبیب میں نے حکم دیا تھا واسطے تمام فرشتوں کے کہ میں پیدا کرنے والا ہوں۔ انسان کو مٹی سے اور جس وقت میں اس کو درست کروں اور روح اس میں پھونک دوں تو تم گرو اس کے آگے سجدہ میں۔ پس کیا تمام فرشتوں نے مگر ابلیس نے نہ کیا تو ہم نے اس سے پوچھا کہ اے ابلیس کس چیز نے منع کیا تم کو واسطے اس چیز کے کہ بنایا ہم نے اس کو اپنی قدرت کاملہ سے کیا تکبر کیا تو نے یا اپنے آپ کو بلند مرتبے والوں سے سمجھا تو ابلیس نے جواب دیا کہ میں اس سے بہتر ہوں۔ پیدا کیا تو نے مجھ کو آگ سے اور اس کو مٹی سے اس لئے ہم نے اس کو اپنے آسمانوں سے نکل جانے کا حکم دیا اور اس کو کہا کہ تو راندہ گیا ہے اور تحقیق اوپر تیرے لعنت ہے ہماری قیامت کے روز تک، پھر اس کے جواب میں کہنے لگا کہ اے رب میرے مہلت دے مجھ کو اس دن تک کہ اٹھائے جاویں مردے، ہم نے اس کو جب ایک وقت تک مہلت دے دی تو کہنے لگا قسم ہے تیری عزت کی کہ گمراہ کروں گا میں تمام انسانوں کو مگر سوائے ان خاص تیرے بندوں کے یعنی جن پر میرا اثر تیری رحمت کی وجہ سے نہ چل سکے گا۔ ہم نے کہا یہ سچی بات ہے تو ہم نے حکم دیا تم کو اور تیرے تمام پیروؤں کو ہم جہنم میں بھر دیویں گے۔ اس کے بعد فرمایا کہہ دے میرے حبیب نہیں میں سوال کرتا اوپر اس قرآن کے کچھ بدلہ تم سے اور نہیں میں تکلف کرنے والوں سے یہ قرآن ہے نصیحت واسطے تمام عالموں کے (جہانوں کے) اور تم کو یہ باتیں سمجھ تو آئیں گی۔ مگر موت کے بعد یعنی جب مرجاؤ گے پتہ چل جائے گا۔ جہاں پچھتانا بے سود ہوگا۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ شیطان انسان کا صریح دشمن ہے۔ اس سے بچنا چاہئے اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ حدود اللہ کے اندر رہنا چاہئے اور اس کے پیدا کردہ وسوسوں کی مدافعت اعوذ باللہ سے کرنی چاہئے اور سوائے اسوہ حسنہ کے کوئی اور طریقہ خواہ وہ کیسا ہی اچھا نظر آتا ہو نہیں کرنا چاہئے اور مولا کے ہر ایک حکم پر آمنا و صدقنا کہہ کر سر تسلیم خم بغیر حجت کے کرنا چاہئے ورنہ وہی حکم ہوگا اور نتیجہ جہنم ہوگا اور کبھی بھولے سے بھی تکبر نہیں کرنا چاہئے کیونکہ تکبر اور شرک نیک اعمال کو اس طرح ضائع کر دیتا ہے۔ جیسے روئی کے ڈھیر کو ایک حقیر سی چنگاری۔
١١
نتیجہ ان آیات کا یہ نکلا۔
- ١...... کہ شیطان ہر جھوٹ بات بنانے والے پر اترتے ہیں۔
- ٢...... شاعر گمراہ لوگ ہوتے ہیں۔
- ٣...... شیطان تکبر کرتا ہے اور کہتا ہے میں اس سے بہتر ہوں۔
ایمان کی صفتوں میں ایک صفت یہ بھی ہے ”لا نفرق بین احد من رسلہ“ (البقرۃ:٢٨٥) ”یعنی مومن تو وہ لوگ ہیں جو پیغمبروں کے درمیان فرق نہیں سمجھتے۔ یعنی سب کو یکساں سمجھتے اور ان کی عزت میں فرق نہیں لاتے۔
چنانچہ اس کی تصدیق خود سرور عالم ﷺ نے کر دی۔
”فرمایا مجھ کو یونس بن متی سے مقابلہ فضیلت نہ دو ایسی فضیلت جس میں میری برتری اور ان کی ہتک ہوتی ہو۔ کیونکہ تمام پیامبر ایک ہی چشمہ احدیت سے سیراب ہو کر ایک ہی پاک مقصد لے کر آئے تھے۔ جو میں لے کر آیا ہوں۔ ہاں فرق یہ ہے کہ مجھ پر نبوت ختم ہے اور میرے بعد تاقیام زمانہ کوئی دوسرا ایلچی نہ آئے گا“ اور اسی لئے ہم کو ان پاک کلمات کی تعلیم دی گئی۔ ”امن باللہ وملائکتہ وکتبہ ورسلہ لا نفرق بین احد من رسلہ وقالوا سمعنا واطعنا غفرانک ربنا والیک المصیر (بقرہ:٢٨٥)“
کہ ایمان لائے ہم اوپر اللہ تعالیٰ کے اور فرشتوں اس کے کے اور کتابوں اس کی کے اور رسولوں اس کے کے، نہیں فرق کرتے ہم درمیان پیغمبروں اس کے کے اور کہتے ہیں ہم کہ سنا ہم نے حکم اور اطاعت کری ہم نے بخش دے اے رب ہمارے اور تیری طرف ہی ہم نے پھر جانا ہے۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا۔
- ٤...... کہ جو شخص ان چار باتوں سے جو اوپر بیان ہو چکی ہیں کسی ایک سے بھی
منحرف ہوگا وہ مومن نہ ہوگا اور شیطان کا ساتھی ہوگا۔
”ولقد فضلنا بعض النبیین علیٰ بعض وآتینا داؤدا زبورا (بنی اسرائیل:٥٥) ”بیان فرمایا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے بعض نبیوں کو بعض پر فضیلت دی۔ یعنی کسی نبی کو ایک قوم کی طرف اور کسی نبی کو ایک ملک کی طرف کسی کو دس ہزار انسانوں کی ہدایت کے لئے کسی کو ایک لاکھ انسانوں کی ہدایت کے لئے اور کسی کو صاحب کتاب بنایا۔ مگر مولا کریم خود فرماتے ہیں کہ ہم نے فضیلت دی اور میرے حبیب تم کو تمام جہان کے لئے مبعوث فرمایا۔
١٢
اب یہ ہمارا کام نہیں کہ ہم کسی کی ہجو اور کسی کی تعریف کریں۔ ہم کو تو یہ حکم دیا کہ تم ان میں تفریق نہ کرو۔ بلکہ سب کو یکساں عزت کرو اور اس کو جزو ایمان سمجھو۔
اب اس سارے بیان کا نتیجہ جس کے لئے ہم نے قارئین کو اس قدر تکلیف دی کیا ہوا۔ مہربانی کر کے اس کو اپنے ذہن نشین کرنے کے بعد حسب وعدہ اصل غرض جس کے لئے یہ قلم اٹھایا گیا ہے توجہ فرمائیں۔
نتیجہ! دار جہنم کس کو ملے گا؟۔
اس کو جو ہر جھوٹ بات بنادے گا اور اس کو فروغ دے گا۔
اس کو جو (شاعر گمراہ لوگوں کی پیروی کرے گا) کیونکہ (شاعر گمراہ ہوتے ہیں) اور وہ عموماً جھوٹے قصے بنا کر دنیا کو غلط راستہ پر گامزن کرتے ہیں۔
اس کو جو تکبر کرے گا اور کہے گا کہ میں خدا کے فرستادہ سے بہتر ہوں۔ اس کو جو رسولوں کی تحقیر و تذلیل کرے گا اور ان میں تفریق ڈالے گا۔
اس کو جو آیات کی غلط تفسیر کر کے لوگوں کو بہکائے گا اور اپنے مفید مطلب بنانے کی کوشش کرے گا۔
ہزار ہزار احسان اس قادر قیوم کا ہے۔ جس نے ہماری رشد و ہدایت کے لئے ایک ایسی مبارک ہستی جس کی نظیر ہی نہیں ایک ایسا رسول جس میں امت کی غمخواری اور فلاح کے لئے دلی درد تھا اور جو خود تکلیف میں پڑ کر دوسروں کو راحت پہنچا کر خوش ہوتا وہ ہادی برحق جو ہر زمانہ کے لئے وہ بیش قیمت موتی اور وہ انمول جواہر اور ایسے زریں اصول اور ایسے قوی ضوابط اور مدلل اور مؤثر قانون اور بیش بہا نصیحتیں جو نہایت واضح طور پر بیان فرمائیں اور جو آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں اور جن پر عمل کرنے سے انسان کبھی گھاٹا نہیں کھاتا اور صراط مستقیم سے نہیں بھٹکتا وہ اس قابل ہیں کہ سنہری حروف میں لکھ کر اپنے پاس رکھی جائیں اور انہیں نصب العین بنایا جائے تا کہ شیطانی وسوسے اور دھوکہ دہی سے نجات ہو اور کسی حیلہ جو کو موقعہ بنانے کا امکان ہی نہ رہے اور فتنہ و شر پیدا ہی نہ ہو اور خلق خدا کا تعلق اپنے منعم حقیقی سے وابستہ رہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں:
پہلی حدیث ج ٢ ص ٣٩٧ کتاب الفتن واشراط الساعہ، ترمذی ج ٢ ص ٤٥، باب لا تقوم الساعۃ حتی یخرج "سیکون فی امتی کذابون ثلثون کلهم یزعم انه نبی الله وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی (ابو داؤد ج ٢ ص ١٢٧ کتاب الفتن) " فرمایا میری امت میں تیس بڑے جھوٹے ہوں گے۔ ان میں سے ہر ایک نبوت کا دعویٰ کرے گا۔ حالانکہ میں
١٤
نبیوں کا ختم کر دینے والا ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔
خلاق کائنات نے اپنے حبیب کو یہ جتلادیا تھا کہ آپ کی امت میں تیس جھوٹے فریبی ایسے بھی پیدا ہوں گے جن کے بودے دماغوں میں شیطان یہ وسوسہ بڑی شدومد سے بھر دے گا کہ وہ زعم باطل میں نبی اللہ ہیں۔ حالانکہ اے محمد ﷺ ہم نے تم کو خاتم النبیین بنایا اور باب نبوت ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کر دیا گیا۔ کیونکہ دین کی حفاظت کا ذمہ ہم نے خود لے لیا۔ لہٰذا جب دین مکمل ہی رہا اور اس میں کوئی کوئی متنفس زیر و زبر کا اضافہ نہ کرسکے گا تو کیا ضرورت ہے کہ کوئی ضمیمہ نبوت بناوٹ کے کاغذی پھول بنانے کی زحمت گوارہ کرے اور مان نہ مان میں تیرا مہمان کا مصداق ہو۔
دوسری حدیث (طبرانی المعجم الکبیر ص ١٨٩ ج ١١ حدیث نمبر ٦٧٩٧) ”لا تقوم الساعة حتی یخرج ثلثون کذاباً آخرهم الاعور الدجال“ فرمایا قیامت تب تک قائم ہی نہ ہو گی جب تک یہ تیس بڑے جھوٹے فریبی ظاہر نہ ہولیں۔ جو کہ نبوت کا دعویٰ کریں گے۔
سبحان اللہ کس زور سے اس بات کی تسلی کر دی کہ خبردار اے میری امت بھول نہ جانا اور یاد رکھنا کہ قیامت قائم ہی نہ ہوگی۔ جب تک یہ تیس شیطان کے چیلے نہ آجائیں اور ایک دنیا کو گمراہ کر کے اپنے کو جہنم کا ایندھن نہ بنالیں۔ اور ایک اور حدیث میں یوں فرمایا۔
”سیکون فی امتی کذابون دجالون وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی (مشکوٰة ص ٤٦٥ کتاب الفتن) ”میری امت میں کذاب و دجال ہوں گے اور میں نبیوں کا ختم کرنے والا ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ اللہ اللہ کیا ہی واضح الفاظ ہیں۔
فرمایا میرے بعد جھوٹے اور فریبی ہوں گے فرمایا وہ باوجود یکہ کہیں گے ہم امتی ہیں۔ پھر ایسا دجل کریں گے اور کہیں گے کہ امتی نبی بھی ہیں۔ خبردار یاد رکھنا وہ شیطان کے چیلے ہوں گے۔ جھوٹے اور فریبی ہوں گے۔ کیونکہ میں نبوت کے قصر کی آخری اینٹ ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔
پھر ایک اور حدیث میں نبوت کو یوں مسدود فرمایا ”لوکان بعدی نبی لکان عمر ابن الخطاب (مشکوٰة باب مناقب عمر ص ٥٥٨) ”اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ حضرت عمرؓ ہوتے۔ مگر نبی میرے بعد کوئی نہ ہوگا۔
١ ”عن ابی ھریرة ؓ قال قال رسول اللہ ﷺ وسلم ولقد کان فیما قبلکم من الامم محدثون فان یک فی امتی احد فانہ عمر متفق علیہ (مشکوٰة ص ٥٥٦، باب مناقب عمر) “
١٤
اس میں حضور نے ازراہ شفقت ایک مثال دے کر اور نام لے کر بتایا کہ اگر کوئی نبی میرے بعد آتا ہوتا تو وہ حضرت عمر ہوتے جو خلیفہ ثانی تھے۔
تاریخ شاہد ہے کہ اس جلیل القدر ہستی نے اسلام کی جو خدمت کی اور فروغ دیا وہ کسی دوسری کو نصیب نہیں ہوئی۔ آپ نے نو سو مسجدیں بنوائیں اور کفار کے نو سو قلعے اپنے قدموں کے نیچے روند دیئے اور انگریز مورخ ان کو ’’دی گریٹ ہیرو آف اسلام‘‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ اگر ایک اور عمر ہوتا تو تمام دنیا پر اسلام ہی اسلام ہوتا۔ مگر آپ کی تاریخ کو مطالعہ کرو تو معلوم ہوگا کہ آنحضرت ﷺ کی غلامی کو فخر سمجھتے اور اسی پر ناز کیا کرتے۔
”عن ابی هریرة عن النبی ﷺ قال كانت بنو اسرائيل تسوسهم الانبياء كلما هلك نبى خلفه نبى وانه لا نبى بعدى وسيكون خلفاء فيكثرون قالوا فما تامرنا يا رسول الله قال فوا ببيعة الاول فالاول اعطوهم حقهم فان الله سائلهم عما استرعاهم (بخارى شريف ج ١ ص ٤٩١، باب ماذكر بنی اسرائیل، مسلم ج ٢ ص ١٢٦ باب وجوب الوفا ببيعة الخليفة) “
روایت ہے ابی ہریرہؓ سے نقل کی پیغمبر خدا سے کہ کہا کرتے تھے بنی اسرائیل کہ ادب سکھاتے تھے ان کو انبیاء جب کہ مرتے ایک نبی جانشین ہوتے ان کے اور نبی اور تحقیق حال یہ ہے کہ نہیں آنے والا نبی بعد میرے اور ہوں گے بعد میرے امیر اور بہت ہوں گے عرض کیا صحابہ نے پس کیا حکم فرماتے ہو۔ ہم کو یعنی جبکہ بہت ہوں گے امیر بعد آپ کے اور واقع ہوگا۔ ان میں تنازع آپس میں پس کیا فرماتے ہو ہمیں کرنے کو اس وقت فرمایا پوری کرو۔ بیعت پہلے کی۔ پھر پہلے کی اتباع پہلے خلیفہ کا کیجئے۔ اگر ہو مدعی دوسرا اتباع نہ کیجئے نقل کی یہ بخاری اور مسلم نے۔
یعنی رسول کریم نے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں پے در پے پیغمبر آیا کرتے۔ مگر میرے بعد چونکہ کوئی نبی نہیں ہے۔ اس لئے بجائے پیغمبروں کے خلیفے یا امیر ہی آئیں گے تو عرض کیا صحابیوں نے جب بہت سے امیر ہوں گے تو ہم کس کی پیروی کریں فرمایا پہلے امیر کی پیروی کرنا۔
” وعن عرباض ابن سارية عن رسول الله ﷺ انه قال انى عند الله مكتوب خاتم النبيين وان آدم لمنجدل فى طينته وساخبركم باوّل امرى دعوة ابراهيم وبشارة عيسى ورؤيا امى التى رأت حين وضعتنى وقد خرج لها نور اضاءت لها منه قصور الشام رواه البغوى فى شرح السنة ص ١٣ ج ٧ حديث نمبر ٣٥٢٠ “ روایت ہے عرباض بن ساریہؓ سے اس نے
١٥
نقل کی رسول اللہ ﷺ سے یہ کہ فرمایا تحقیق میں لکھا ہوا ہوں۔ اللہ کے نزدیک ختم کرنے والا نبیوں کا کہ بعد میرے کوئی نبی نہ ہو۔ اس حال میں کہ تحقیق لپٹے ہوئے تھے۔ آدم علیہ السلام زمین پر اپنی مٹی گوندھی ہوئی میں اور اب خبر دوں میں تم کو ساتھ اول امر اپنے کے کہ وہ دعاء حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ہے اور نیز بشارت عیسیٰ علیہ السلام کی ہے۔ یعنی کہ جیسے کہ اس آیت میں ہے۔ ”ومبشراً برسول یاتی من بعدی اسمه احمد (صف:٦)“ اور نیز بدستور اول امر میرا خواب دیکھنا میری ماں کا کہ دیکھا انہوں نے جب جنا مجھ کو اور تحقیق ظاہر ہوا میری ماں کے لئے ایک نور کہ روشن ہوئے ان کے لئے اس نور سے محل شام کے۔
سبحان اللہ! کیا ہی خوب فرمایا کہ لکھا ہوا تھا۔ میں نزدیک اللہ تعالیٰ کے ختم کرنے والا نبیوں کا۔ یعنی مولا کریم کی جناب میں پہلے دن ہی میں ختم کرنے والا نبیوں کا لکھا جا چکا تھا۔ یعنی نبوت خدا کی مشیت میں مجھ پر ختم تھی اور ابھی حضرت آدم کا پتلا ہی بنا تھا اور ابھی اس میں روح بھی نہیں پھونکی گئی تھی اور میں حضرت ابراہیم کی دعا ہوں۔ ربنا وابعث فیھم اور عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہوں۔ ”ومبشراً برسول یاتی من بعدی اسمه احمد (صف:٦)“ کا مصداق ہوں اور جب میں تولد ہوا تھا تو میری والدہ ماجدہ نے جو خواب دیکھا کہ نور ہے اور اس قدر روشن ہے کہ اس کی روشنی سے شام کے بادشاہوں کے محل دیکھے جاتے ہیں۔
”وعن سعد ابن وقاص قال قال رسول الله ﷺ لعلی انت منی بمنزلة هارون من موسى الا انه لا نبي بعدی (مسلم ج ٢ ص ٢٧٨ باب من فضائل علی ابن ابی طالب)“
روایت ہے سعد بن ابی وقاص سے کہا فرمایا رسول خدا ﷺ نے حضرت علیؓ سے کہ تو مجھے بمنزلہ ہارونؑ کے ہے۔ موسیٰؑ سے مگر فرق یہ ہے کہ نہیں ہے نبی بعد میرے۔
اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے متعلق فرمایا کہ ”انا مدینة العلم وعلی بابها (کنز العمال ج ١١ ص ٦١٤، حدیث نمبر ٣٢٩٧٨)“ یعنی میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے اور پھر فرمایا کہ حضرت علیؓ میں اور مجھ میں وہی نسبت ہے۔ جو موسیٰ علیہ السلام کو ہارون علیہ السلام سے مگر فرق صرف یہ ہے کہ ہارون علیہ السلام پیغمبر تھے اور میرے بعد نبوت ختم ہے۔ اس لئے حضرت علی پیغمبر نہیں۔
١٦
قارئین کرام! میں نے سینکڑوں حدیثوں میں صرف چند ایک ہی لی ہیں۔ کیونکہ میرا اصل مضمون کچھ اور ہے اور چونکہ چند ایک حدیثوں کی آپ حضرات کے سمجھانے کے لئے جس میں مضمون آسانی سے سمجھ میں آجاوے ضرورت تھی۔ اس لئے میں صرف دو اور حدیثیں آپ کی خدمت میں معاملہ کو آسانی سے واضح کرنے کے لئے پیش کر کے آئمہ سلف کے قول پیش کروں گا اور نتیجہ ناظرین کرام پر چھوڑ دوں گا۔ ”وعن ابی ھریرة قال قال رسول اللہ ﷺ مثلی ومثل الانبیاء کمثل قصر احسن بنیانہ ...... لبنة فطاف بہ النظار یتعجبون من حسن بنیانہ الا موضع تلک اللبنہ فکنت انا سددت موضع اللبنة ختم بی الرسل وفى رواية انا اللبنة وانا خاتم النبیین (مشکوٰة ص ٥٠١، باب فضائل سید المرسلین صلوٰت اللہ وسلامہ علیہ)“
روایت ہے ابو ہریرہؓ سے کہا فرمایا رسول اللہ ﷺ نے مثل میری اور مثل انبیاء کی جیسے کہ ایک محل ہے اچھی بنائی گئی دیوار اس کے گرد چھوڑی گئی اس محل سے ایک اینٹ کی جگہ پھر گرد پھرنے لگے۔ اس محل کے دیکھنے والے درحالیکہ تعجب کرتے تھے۔ اس دیوار کی خوبی سے مگر اس اینٹ کی جگہ خالی رہی تھی۔ یعنی وہ خارج تھی خوبی سے سو میں ہوا کہ بند کی میں نے اینٹ کی جگہ جو خالی تھی۔ ختم کی گئی ساتھ میرے دیوار اور ختم کئے گئے ساتھ میرے رسول اور ایک روایت میں ہے پس میں ہوں مثال اس اینٹ کی اور میں ہوں ختم کرنے والا نبیوں کا۔
رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ میری اور پہلے پیغمبروں کی مثال ایسی ہے جیسے کسی نے ایک نہایت ہی خوبصورت محل بنوایا ہو۔ مگر ایک کونہ میں صرف ایک اینٹ کی جگہ خالی رہ گئی ہو اور میرے آنے سے وہ اینٹ کی جگہ پر ہو گئی ہو اور اب اس میں گنجائش ہی باقی نہ رہی ہو۔ کسی دوسری اینٹ کی یعنی فرمایا میں آخری اینٹ ہوں اور میرے بعد نبوت ختم ہے۔
”علیکم بسنتی وسنة الخلفاء الراشدین (مشکوٰة ص ٣٠، باب اعتصام بالکتاب والسنة)“ تم لوگ میرے اور میرے خلفائے راشدین کے طریقے کو اپنے اوپر لازم کرلینا۔
حدیث شریف میں وارد ہے۔
حضرت جبیر بن مطعمؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میرے پانچ نام ہیں۔
محمدؐ، احمدؐ، ماحیؐ، حاشرؐ، عاقبؐ اور عاقب کے معنی جس کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ (مشکوٰة ص ٥١٥، باب اسماء النبی ﷺ وصفاتہ)
١٧
ابو موسیٰ اشعری سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے ہمارے سامنے کئی ایک نام اپنے ذکر فرمائے، محمدؐ، احمدؐ (مقفیٰ) کے معنی آخرالانبیاء (ص٥١٥ ایضاً باب ایضاً) کتاب (شفا ص ٢٤٧ ج٢) میں قاضی عیاضؒ فرماتے ہیں کہ : جو شخص اپنے لئے نبوت کا دعویٰ کرے یا نبوت کا حاصل کرنا جائز شمار کرے اور صفائی قلب سے نبوت کے مراتب کو پہنچنے کو ممکن جانے۔ جیسا کہ فلاسفہ اور غالی صوفیوں کا خیال ہے۔ نیز اسی طرح یہ دعویٰ کرے کہ اس کو من جانب اللہ وحی ہوتی ہے گو وہ نبوت کا دعویٰ نہ کرے یا یہ کہے کہ وہ آسمان کی طرف صعود کرتا ہے اور جنت میں داخل ہوتا ہے اور اس کے میوہ جات کھاتا ہے اور حوروں سے معانقہ کرتا ہے تو ان تمام صورتوں میں ایسا شخص کافر اور نبی ﷺ کا مکذب ہوگا۔ اس لئے کہ آنحضرت ﷺ نے خبر دی ہے کہ آپ خاتم النبیین ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ نیز آپؐ نے منجانب اللہ یہ خبر دی کہ آپ خاتم النبیین اور مرسل کافۃ للناس ہیں اور تمام امت محمدیہ نے اس پر اجماع کیا کہ ایسے شخص کے کافر ہونے میں شک نہیں ہے۔
کیمیائے سعادت (ترجمہ اکسیر ہدایت ص٦٢) میں امام غزالیؒ ختم نبوت پر فرماتے ہیں: ’’پس بآخر ہمہ رسول مارا ﷺ بخلق فرستاد و نبوت بوے بدرجہ کمال رسانید و ہیچ زیادت را بآں راہ نبود و بایں سبب او را خاتم الانبیاء کرد کہ بعد از وے ہیچ پیغمبر نباشد‘‘
(کتاب حجۃ اللہ البالغہ عربی ج ٢ ص ٢١٢) میں حضرت شاہ ولی اللہؒ دہلوی فرماتے ہیں: ’’میں کہتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ کی وفات سے نبوت کا اختتام ہو گیا اور وہ خلافت جس میں مسلمانوں میں تلوار نہ تھی حضرت عثمانؓ کی شہادت سے ختم ہو گئی اور اصل خلافت حضرت علیؓ کی شہادت اور حضرت امام حسنؓ کی معزولی سے ختم ہو گئی ۔‘‘
تمام دنیا کا اجماع از ابتدائے آفرینش تا قیام زمانہ یہی رہا اور ہے اور رہتی دنیا تک رہے گا کہ نبوت ان نبیوں میں خاصوں کے خاص محمد ﷺ عاقب پر ختم ہو گئی اور اس کے بعد کوئی نبی کسی قسم کا بروزی ہو یا ظلی تشریعی ہو یا غیر تشریعی نہ آئے گا۔ بلکہ امیر آئیں گے اور جو نبوت کے امکان پر بھی ایمان رکھے وہ کافر اور رسول پاک ﷺ کا مکذب و شیطان کا ساتھی ہوگا۔
بستان عرب کا وہ مالی جس نے گلشن وحدت کو نہایت جانفشانی سے جگر کا خون سینچ سینچ کر لگایا تھا اور جس نے ایک ایک پودے کو اپنے مبارک ہاتھوں سے بٹھایا تھا اور اپنے مبارک پسینہ سے طراوت بخشی تھی وہ اپنے برگ و گل سے زیادہ آشنا ہو سکتا ہے یا کوئی اور سر پھرا جو محض کوتہ بینی و بے بضاعتی کی وجہ سے کور باطن ہو اور پودے لگانا اور سینچنا ہی نہ جانے وہ دعویٰ
١٨
کرے کہ میں اس سے اچھے لگا سکتا ہوں۔ نعوذ باللہ من ذالک ! موجد اپنی ایجاد سے ملہم اپنے الہام سے کما حقہ آشنا ہوتا ہے اور جو ایسے ملہم کو جس کی تصدیق رب العالمین بڑی شدت سے خود کرتا ہو یہ کہے کہ فلاں الہام کے سمجھنے میں غلطی کھائی۔ یا اس الہام کی اصلیت واضح طور سے صرف مجھ پر ہی کھولی گئی ہے کیا ہوگا۔
وہ ضرور جھوٹی بات بناتا ہوگا اور گنہگار ہوگا اور ضرور شیطان اس پر اترتے ہوں گے۔
”مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ (احزاب:٤٠)“ نہیں ہیں محمد باپ کسی کا تمہارے مردوں میں سے ولیکن رسول ہیں اللہ کے اور ختم کرنے والے نبیوں کے۔
ان آیات کی تفسیر خود حضورﷺ نے بڑی وضاحت سے مثالیں بیان فرما فرما کر دی کہ میں رسولوں کا ختم کرنے والا ہوں اور میرے بعد امکان نبوت کرنا شرک فی نبوت ہے اور وہی کرتا ہے جس کا ساتھی شیطان رجیم ہے۔
وہ صداقت کا شہنشاہ و سچائی کا سرتاج جو رہتی دنیا تک کو سچائی کا درس دینے آیا تھا اور جس نے جھوٹ سے نفرت اور سچائی سے محبت کا گرویدہ بنایا اور کوئی بات ایسی بیان نہیں فرمائی جس میں ایک رتی بھر جھوٹ ہو یا اس میں جھوٹ کا شائبہ تک ہی ہو یا یوں ہی کہہ دی گئی ہو اور وہ منصۂ شہود پر نہ آئی ہو۔ مثلاً اسی ایک حکم کو جس کی تائید متعدد دفعہ فرمائی گئی ہے کو لے لیجئے۔ آپ نے فرمایا تھا کہ میرے بعد نبوت کا دروازہ تا قیام زمانہ بند ہے۔ اب کوئی نبی نہ آئے گا۔ صرف امیر ہی آئیں گے۔ جو پیغمبروں کے جانشین ہوں گے اور ہاں سر پھرے شیطان کے چیلے ضرور آئیں گے۔ خبردار ان سے آگاہ رہنا اور ان کے دام تزویر میں نہ آنا ورنہ اس کے ساتھی ہو جاؤ گے اور ٹھکانہ جہنم ہوگا اور فرمایا ایسے آنے والے بڑے بڑے فریب دیں گے کہیں گے کہ ہم امتی بھی ہیں اور نبی بھی ہیں۔ مگر خبردار رہنا وہ جھوٹے ہوں گے۔
محترم قارئین! اب ہم آپ کی خدمت میں ان سر پھرے چند ایک شیطانی چیلوں کا ذکر کرتے ہیں گو اس مختصر کتاب میں ان کی پوری ہسٹری تو نہ آسکے گی مگر پھر بھی کچھ نہ کچھ روشنی ڈالی جاوے گی۔ امید ہے ناظرین کرام آقائے نامدار کی پیش گوئی کو پورا ہوتے دیکھ کر محظوظ ہوں گے۔
- ١....... اسود عنسی پہلے مسلمان تھا۔ حج کے بعد مدعی نبوت ہوا۔ چونکہ شعبدہ باز تھا۔
اس لئے لوگ اس کے شعبدوں پر پھول کر اس پر ایمان لے آئے اور دین اسلام سے نجران کا تمام
١٩
علاقے کا علاقہ ہی مرتد ہو گیا اور اس کا پیرو ہو گیا۔ آخر حضور سرور کائنات کی حیات طیبہ میں ہی وہ شیطانی بغولہ ہوا اور دنیا اس کے ارتداد سے محفوظ ہوئی۔
- ٢...... مسیلمہ کذاب پہلے مسلمان تھا اور یہ بدبخت بھی حضور ﷺ کے زمانہ میں
ہی ہوا ہے۔ یہ قرآن پاک کے مقابلہ میں عربی عبارتیں بناتا اور ان کو قرآن کی طرح بے مثل کہتا۔ بہت سے لوگ دین حنیف سے منہ موڑ کر مرتد اور اس کے پیرو ہو گئے۔ بلکہ اس شیطانی چیلے نے خود آنحضور ﷺ کو دعوت دی اور لکھا کہ میں بھی خدا کا فرستادہ ہوں۔ اس لئے نصف بیت المال میرا اور نصف آپ کا اور بادشاہی میں بھی میں نصف ملک کا وارث ہوں۔ حضور ﷺ نے اس کا جواب دیا کہ تم جھوٹے ہو۔ زمین کا مالک تو وہی ذات پروردگار ہے وہ جس کو چاہتا ہے عزت اور جس کو چاہتا ہے ذلت دیتا ہے اور یہ تو ایک لحاظ سے امتی بھی تھا۔ اذان میں محمد رسول اللہ بھی کہتا تھا۔ آخر بدبخت زمانہ خلافت حضرت ابو بکر میں مارا گیا اور اس کے قتل ہونے کا عجب واقعہ ہے۔ جب محمدی غلام بحکم خلافت اس کی سرکوبی کو گئے ہیں تو نبی صاحب اس وقت اپنے خیمہ میں سورہے تھے۔ ان کی زبردستی سے لی ہوئی بیوی جس کا نام آزاد تھا کا بھائی جی کڑا کر کے اندر بڑھا لپک کر ایک ہاتھ سے اسود کا نڑ پکڑ لیا اور دوسرے ہاتھ سے اس کے حلقوم میں چھری گھونپ دی ساتھ ہی اس کی پیٹھ پر گھٹنا رکھ کر بیٹھ گیا اور وہ تڑپ نہ سکا۔ اس وقت اسود کے حنجرے سے بیل کی سی آواز نکل رہی تھی۔ پہرے والوں نے پوچھا یہ آواز کیسی آتی ہے۔ اس کی بیوی آزاد نے برجستہ جواب دیا۔ مطمئن رہو۔ پیغمبر صاحب پر وحی نازل ہورہی ہے۔
- ٣...... طلیحہ بن خویلد، یہ شخص خیبر کے مضافات میں سے تھا۔ نبوت کا دعویدار
ہوا۔ مسجع فقرات بنا کر کہتا کہ یہ وحی الٰہی ہے اور نماز میں صرف قیام ہی پر اکتفا کرتا سجدہ و رکوع سے منع کرتا۔ اس کی جماعت اس قدر بڑھ گئی کہ تین قبائل اسد، غطفان اور طے پورے کے پورے اس کے ساتھ مل گئے اور دین فطرت سے منہ موڑ کر شیطان کے ساتھی ہو گئے۔
- ٤...... ایک شیطانی پٹھو نے اپنا نام لا رکھ لیا اور کہتا تھا کہ حدیث میں جو آیا ہے لا
نبی بعدی وہ میں ہی ہوں۔ اس کا وہ مطلب نہیں جو لوگ سمجھتے ہیں۔ بلکہ وہ میری بشارت ہے اور تاویل اس کی یہ کرتا کہ میرے بعد لا نبی ہوگا۔ لامبتدا اور نبی اس کی خبر ہے۔ بہت خوب۔ یہ بھی جہنم رسید ہوا۔
- ٥...... خالد بن عبداللہ قسری کے زمانہ میں ایک بدبخت نے نبوت کا دعویٰ کیا
اس بدنہاد نے ”انا اعطینک الکوثر (کوثر:١)“ کے جواب میں ایک عبارت بنائی۔ ”انا
٢٠
اعطينك الجاهر فصل لربك وجاهر ولا تطع كل ساحر " خالد نے اس کے قتل کا حکم دیا اور وہ فی النار والسقر کر دیا گیا۔
- ...... ٦ ...... متنبی ایک مشہور شاعر ہوا ہے۔ اس نے بھی شیطانی لائن اختیار کی اور
نبوت کا دعویٰ کیا۔ وہ کہتا تھا کہ میرے شعر بے مثل ہیں اور اپنے اشعار کو معجزہ قرار دیتا ایک انبوہ کثیر نے اس کی تابعداری کی اس نے بہت سے قصائد لکھے اور ان کو اعجاز یہ بتایا۔ آخر وہ فی نار جہنم ہوا۔
- ...... ٧ ...... مختار ثقفی حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کے زمانہ میں ہوا ہے۔ اس نے بھی
نبوت کا دعویٰ کیا اور ایسے خطوط میں وہ المختار رسول اللہ لکھا کرتا تھا۔ یہ شخص پہلے خارجی تھا پھر زبیری پھر شیعہ اور آخر کیسانی ہو گیا اور یہی شخص ہے جس نے شہدائے کربلا حضرت امام حسین کا انتقام لیا اور حاکم کوفہ ہوا۔ اس کا دعویٰ تھا کہ مجھے علم غیب ہے اور جبریل میرے پاس آتے ہیں اور کہتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ میں حلول کیا۔ آخر وہ بھی تین پانچ ہوا۔
- ...... ٨ ...... متوکل کے زمانہ میں ایک اور بدبخت عورت نے دعویٰ نبوت کیا تو متوکل
نے بلا کر اس سے پوچھا کہ کیا محمدﷺ رسول اللہ پر ایمان رکھتی ہے تو بولی ہاں رکھتی ہوں۔ کیا آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ میرے بعد کوئی نبی نہ آئے گا۔ بولی مرد نبی کی ممانعت ہے۔ یہ کب کہا تھا کہ عورت نبیہ نہیں آئے گی۔ لا نبية بعدى میرے بعد کوئی عورت نبی نہ ہوگی۔
- ...... ٩ ...... مقنع یہ شخص تناسخ کا قائل تھا۔ مقتدی اس کو سجدہ کرتے۔ خراسان میں اس
کا ظہور ہوا۔ جنگ و جدل میں اس کے مرید پکارتے اے ہاشم ہماری مدد کر آخر مہدی جو وقت کا خلیفہ تھا اس نے سید حرشی کو بہت سا لشکر دے کر قلعہ سیام میں محصور کرایا۔ جہاں وہ خود تیزاب کے برتن میں بیٹھ کر فی النار ہوا۔ ایک اور روایت میں یوں لکھا ہے کہ اس نے آگ جلا کر اپنے مریدوں سے کہا کہ جس نے آسمان پر میرے ساتھ جانا ہو آ جاوے۔ چنانچہ کئی ایک خوش عقیدت لوگ اس کے ساتھ جل کر مر گئے۔ اس کے مریدوں کا اعتقاد ملاحظہ ہو۔
- ...... ١٠ ...... یحییٰ بن زکیر قرمطی ہوا۔ جس نے حلقۂ شیطانی اختیار کیا اور نبوت کا دعویٰ
کیا۔ یہ شخص بغداد کے گردو نواح کو تباہ و برباد کرنے میں مشہور ہے۔ اس کے بعد اس کے بہت سے مرید ہوئے ہیں۔ آخر وہ بھی اپنے کردار کی سزا کے لئے روانہ ہوا اور سیدھا ہاویہ میں پہنچ گیا۔
- ...... ١١ ...... یہودیہ بھی مدعی نبوت ہوا اور بہت سی جمعیت پیدا کر لی۔ آخر فی النار ہوا
اور نبوت دھری کی دھری رہ گئی۔
٢١
- ١٢....... عیسیٰ بن مہرویہ قرمطی یہ اپنے آپ کو مہدی کہتا تھا اور بہت سی جماعت
پیدا کر کے حملہ آور ہوا اور ایک دنیا کو زیر و زبر کرتا ہوا سیدھا جہنم کو معہ اپنے رفقاء کے سدھارا۔
- ١٣....... ابو جعفر محمد بن علی سلمانی جس کے بڑے بڑے امیر ہم عقیدہ ہو گئے وہ
انبیاء علیہم السلام کو خائن قرار دیتا اور شریعت محمدیہ کے بہت سے مسائل کو الٹ پلٹ کرتا ہوا دنیا کو فریب دیتا ہوا بصد حسرت و یاس بڑے گھر کو نبوت سے منہ موڑ کر چل بسا۔
- ١٤....... ٢٩٩ھ میں قبیلہ سوادیہ میں سے ایک شخص نے نہاوند میں دعویٰ نبوت کیا۔
اپنے چیلوں کے نام صحابہ کرام کے نام پر رکھے۔ ابوبکر، عمر، عثمان، علی سواد کے بڑے بڑے قبائل اس کے معتقد ہو گئے اور اپنی تمام جائیداد اور اموال و املاک اس کے سپرد کر دیئے اور اشاعت عقائد کے واسطے وقف کر دیئے۔ مگر آخر نامراد و ناشاد اللہ میاں کے ہاں چل بسا۔
- ١٥....... استادسیس ملک خراسان میں مدعی نبوت ہوا اور اس کے ساتھ تین لاکھ
سپاہی بہادر تھے۔ ملک میں بہت قتل و خونریزی کرائی۔ آخر اس فتنہ عظیم کا خلیفہ منصور نے ایک کثیر لشکر کے ساتھ قلع و قمع کیا۔
- ١٦....... عبیداللہ مہدی اس شخص نے ٢٩٦ھ میں دعویٰ مہدی موعود کیا اس نے
افریقہ میں خروج کیا اور ایک مذہب جدید جاری کیا اور ایک کثیر جماعت اس کے ساتھ ہو گئی۔ اس نے بہت سے مقامات طرابلس وغیرہ فتح کر کے آخر مصر کو بھی فتح کر لیا۔ عمر نے وفا نہ کی تو ٣٣٢ھ میں مر گیا۔ تاریخ کامل ج ٧ ص ٩٩ میں درج ہے کہ اس کا زمانہ مہدیت ٢٤ سال ایک ماہ ٢٠ یوم رہا۔
- ١٧....... حسن بن صباح اس شخص نے بھی ایک جدید مذہب ملک عراق
آذربائیجان وافریقہ وغیرہ میں جاری کیا اور مدعی الہام بھی ہوا۔ ایک جہاز جس میں سوار تھا طوفان میں آگیا۔ اس نے نہایت عیاری سے جانچ لیا کہ اگر جہاز ڈوب گیا تو سوال کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ لیکن اگر بچ گیا تو میری سرخروئی ہوگی۔ لہٰذا اس نے اس موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پیش گوئی کی کہ خدا نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ جہاز نہیں ڈوبے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ وہ کہتا تھا کہ میں اس دنیا پر متصرف ہوں اور اس کے حکم کی تعمیل مثل تعمیل حکم خدا کے ہے۔ جو اس سے روگرداں ہوا وہ خدا سے روگرداں ہوا اور اس نے اپنے مریدوں کو بہلاوے کے واسطے ایک بہشت بھی بنایا۔ چنانچہ ہزار ہا لوگ اس کے مرید بنے اور اپنے گروہ کا نام فدائی رکھا اور اس مذہب کے بل بوتے پر وہ حکمران بھی ہو گیا۔ آخر ٣٥ برس نبوت اور حکومت کرنے اور ہزار ہا مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے
٢٢
بعد ٥١٨ھ میں واصل بریں تاول میں بہت معاف کیا جائے۔
- ١٨.......
مردودہ نے بھی نبوت آ مسیلمہ کذاب سے اس یہ عورت تیس سال تک ہوئی اور نبوت سے توبہ
- ١٩.......
نے اس کے ہاتھ پر بیعت میں مارا گیا اس کا زمانہ مہ
- ٢٠.......
کے درجہ تک پہنچ گیا۔ اس جس کا نام دروز رکھا یہ تاریخ کامل بن اثیر ج ٨ آخر جہنم رسید ہوا۔
- ٢١.......
اور دیندار تھا۔ ١٢٧ھ میں کیا اس کی امت اس قرآ جہنم کی راہ لی اور حکومت او
- ٢٢....... ایک
جزیرے کے لوگ اس کے
- ٢٣....... ایہ
دعویٰ کیا۔ چنانچہ یہ بھی اسی ا
- ٢٤....... محمد
ہوں۔ چنانچہ یہ بہروپیا بھی
بعد ٥١٨ھ میں واصل بہ جہنم ہوا۔ اس کے حالات مولانا عبد الحلیم شرر نے بہشت بریں یا فردوس بریں ناول میں بہت اچھے انداز میں قلمبند کئے ہیں۔ مگر طوالت مضمون کی وجہ سے مجبور ہوں معاف کیا جائے۔
- ١٨....... سجاح نام ایک عورت مسیلمہ کذاب کے زمانہ میں ہوئی ہے۔ اس
مردودہ نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا اور ایک گروہ کثیر قبیلہ تمیم میں سے اس کا مرید ہو گیا تھا۔ آخر مسیلمہ کذاب سے اس عورت کا نکاح ہو گیا اور مہر میں مسلمان کی ٢ نمازیں معاف کر دی گئیں۔ یہ عورت تیس سال تک مدعی نبوت رہی اور آخر سیدنا امیر معاویہؓ کے ہاتھ پر بغداد میں مسلمان ہوئی اور نبوت سے توبہ کی۔
- ١٩....... عبدالمومن مہدی، یہ شخص بھی افریقہ میں مہدی بنا اور بہت سے لوگوں
نے اس کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ حاکم مراکو وغیرہ سے وہ اکثر جنگ بھی کرتا رہا ہے۔ آخر ٣٥٨ھ میں مارا گیا اس کا زمانہ مہدویت ١٣ سال سے کچھ زیادہ ہے۔
- ٢٠....... حاکم بامر اللہ اس بدبخت نے ملک مصر میں نبوت کا دعویٰ کیا اور آخر خدائی
کے درجہ تک پہنچ گیا۔ اس نے اپنے پیروؤں کے لئے ایک کتاب لکھی ہے اور ایک نیا فرقہ قائم کیا۔ جس کا نام دروز رکھا یہ شخص اپنے آپ کو سجدہ کراتا تھا اور اس نے شراب و زنا کو حلال قرار دیا۔ تاریخ کامل بن اثیر ج ٨ ص ١٤٩ پر لکھا ہے کہ یہ شخص ٢٥ برس تک اسی شان سے حکومت کرتا رہا۔ آخر جہنم رسید ہوا۔
- ٢١....... صالح بن طریف دوسری صدی کے شروع میں یہ شخص ہوا ہے۔ بڑا عالم
اور دیندار تھا۔ ١٢٧ھ میں بادشاہ ہوا اور نبوت کا دعویٰ کیا اور ساتھ ہی قرآن ثانی کے نزول کا دعویٰ کیا اس کی امت اس قرآن کی سورتیں نماز میں پڑھتی تھی۔ ٢٧ برس تک بادشاہت کرنے کے بعد جہنم کی راہ لی اور حکومت اولاد کے لئے چھوڑ گیا۔
- ٢٢....... ایک حبشی نے جزیرہ جیکا میں یحییٰ بن مریم ہونے کا دعویٰ کیا اور تمام
جزیرے کے لوگ اس کے تابع ہو گئے اور وہ مدت تک یہی دم بھرتا ہوا چل بسا۔
- ٢٣....... ابراہیم ذلیہ، اس بدبخت کو بھی عیسیٰ بن مریم ہی بننے کی سوجھی اور اسی کا
دعویٰ کیا۔ چنانچہ یہ بھی اسی لطف کا مزہ اٹھاتا ہوا سزا کے لئے بلا لیا گیا۔
- ٢٤....... محمد احمد سوڈانی، یہ کہتا تھا کہ جس مہدی کا صدیوں سے انتظار تھا وہ میں ہی
ہوں۔ چنانچہ یہ بہروپیا بھی بہروپ بھر کر تین پانچ ہوا۔
٢٣
- ٢٥....... عبداللہ بن تومرت، یہ شخص بھی مہدی موعود بنا اور ہزاروں لوگ اس نے
مرید بنائے اور اسی امامت کے ذریعہ سے اس نے حکومت بھی قائم کر لی اور جنگ کے موقعہ پر پیش گوئیاں بھی کرتا تھا۔ اس نے ایک موقعہ پر پیش گوئی کی تھی کہ خدا کی طرف سے ہم کو اس جماعت قلیلہ پر نصرت اور مدد پہنچے گی اور ہم فتح سے خوشحال ہو جائیں گے۔ چنانچہ یہ بات سچی ہو گئی اور لوگوں کو اس کے مہدی ہونے کا کامل یقین ہو گیا۔ ہزارہا لوگوں نے اس کے ہاتھ پر بیعت کی۔ آخر بڑے عروج میں اپنی موت سے مر گیا۔ تاریخ کامل (ابن اثیر) میں لکھا ہے کہ اس کی حکومت کا زمانہ ٢٠ سال تھا اور حکومت حاصل کرنے کے لئے اسے مہدویت کا ڈھونگ رچانے میں کئی سال صرف ہوئے ہوں گے۔
- ٢٦....... اکبر اعظم (شہنشاہ ہند) اس نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا اور ایک نیا مذہب
جاری کیا۔ جس کا نام دین الٰہی رکھا گیا اور کلمہ لا الہ الا اللہ اکبر خلیفۃ اللہ ایجاد کیا اور کہتا تھا کہ مذہب اسلام پرانا ہو گیا ہے اور لوگوں سے اقرار نامے لیتا کہ مذہب اسلام کو چھوڑ کر دین الٰہی میں داخل ہوں۔ نماز، روزہ، حج ساقط سمجھا گیا۔ شیخ عبدالقادر بدایونی کی تاریخ میں اس کے مفصل حالات درج ہیں۔
- ٢٧....... علی محمد باب، اس نابکار نے ملک فارس میں بعہد محمد شاہ قاچار جو ١٢٥٠ھ
میں تخت نشین ہوا تھا اور ایک نیا مذہب بابی جاری کیا اور کہتا تھا کہ مہدی موعود ہوں۔ کلام میرا معجزہ ہے اور اپنا ایک نیا قرآن تصنیف کیا۔ جس کو اس نے قرآن شریف کا ناسخ گردانا اور اس کی تعلیم دی وہ الہام و وحی کا مدعی بھی تھا۔ شراب پینے کو حلال کر دیا اور رمضان کے روزوں کی تعداد ١٩ تک گھٹا دی اور عورتوں کو ایک وقت میں ٩ شوہر تک رکھنے کی اجازت دے دی۔ حسن خاں حاکم فارس اس کے شعبدوں کو دیکھ کر اس کا معتقد ہو گیا۔ یہ شخص چالیس سال تک زندہ رہ کر مر گیا اور اس کا گروہ بابی اب تک ملک فارس میں موجود ہے۔
- ٢٨....... سید محمد جونپوری نے ہندوستان میں مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
تذکرۃ الصالحین و کتب تاریخ میں لکھا ہے سید محمد مہدی کو میراں سید محمد مہدی پکارتے تھے۔ اس کے باپ کا نام سید خاں تھا۔ جب علماء نے اس سے سوال کیا کہ حدیث شریف میں ہے کہ مہدی میرے نام اور میرے باپ کے نام سے موسوم ہوگا تو اس نے یہ جواب دیا کہ خدا سے پوچھو کہ اس نے سید خاں کے بیٹے کو کیوں مہدی کیا دوئم کیا خدا اس بات پر قادر نہیں کہ سید خاں کے بیٹے کو مہدی بنائے۔
٢٤
اس کی کتب مہدویہ میں لکھا ہے کہ سات برس تک اس نے طعام نہیں کھایا اور پانی نہیں پیا۔ ایک دن اس کی بیوی نے کہا تم بیہوش کیوں رہتے اور تحمل کیوں نہیں کر سکتے۔ جواب دیا کہ اس قدر تجلی الوہیت کی ہوتی ہے کہ اگر اس کا قطرہ ولی کامل یا نبی مرسل کو دیا جاوے تو تمام عمر ہوش ہی میں نہ آوے۔ لکھا ہے سات سال کے بعد جو کچھ ہوش میں آئے تو ساڑھے سترہ سیر غلہ ایک ہی دم چٹ کر گئے۔ اس میں گھی اور گوشت وغیرہ بھی تھا اور اس کی راوی اس کی بیوی اللہ دتی ہے۔ اس کے بعد جونپور براستہ دانا پور گجرات گئے اور ٹھٹھہ اور الہام میں اور اضافہ مریدین میں وقت صرف کرتے کرتے یہاں تک کہ سلطان غیاث الدین تک اس کے معتقد ہو گئے۔ یہاں سے چلے تو دارالسلطنت گجرات کے بادشاہ سلطان محمود بیکرہ کو بھی حلقہ ارادت میں کھینچ لیا۔ مگر عالموں کی کوشش سے وہ آخر کو بچ ہی نکلا۔ سیر و تفریح اور الہام بازی کرتے کرتے احمد نگر پہنچے۔ وہاں احمد نظام الملک جس کو بچہ کی خواہش تھی۔ اس کے اتفاقاً بچہ پیدا ہوا اور وہ معتقد ہو گیا۔ احمد نگر سے کوچ کیا تو بیدر میں پہنچے۔ یہاں شیخ سمن کو بھی گمراہ کر لیا اور ملاں ضیا اور قاضی علاء الدین کو ترک دنیا کے مسلک پر لاکر ان کی لٹیا بھی ڈبو گئے۔ پھر جہاز پر سوار ہو کر حج کعبۃ اللہ کو گئے۔ جب حرم محترم میں پہنچے تو چونکہ سنا ہوا تھا کہ لوگ مہدی کے ہاتھ پر رکن و مقام میں بیعت کریں گے۔ اس لئے سید محمد نے بھی اسی مکان پر دعویٰ کیا من اتبعننى فهو مومن کہا۔ چنانچہ ملاں ضیاء و قاضی علاء الدین نے آمنا کہہ کر بیعت کر لی یہ واقعہ ٩٠١ ھ میں ہوا۔ یہاں سے حضرت آدم علیہ السلام کی زیارت گاہ پر گئے اور کہا کہ میں نے بابا آدم علیہ السلام کے معانقہ کیا۔ مکہ سے مراجعت کی تو احمد آباد میں آ ڈیرے ڈالے۔ یہاں ملک برہان الدین بھی تارک الدنیا ہو کر حلقہ ارادت میں داخل ہوئے۔ ان کو مہدویہ خلیفہ ثالث جانتے ہیں۔ غرضیکہ یہاں سے علاقہ گجرات ندولا وغیرہ میں بہت سے مرید پیدا کئے۔ یہاں آ کر پھر دعویٰ کیا اور کہا کہ مجھ کو بار بار خدا کا حکم ہوتا ہے کہ دعویٰ کر اور میں ٹالتا چلا آتا ہوں۔ اب مجھ کو یہ حکم ہوا کہ اے سید محمد مہدیت کا دعویٰ کرو۔ ورنہ تم کو آخرت کے روز ظالموں میں سے اٹھاؤں گا۔ اس لئے میں نے دعویٰ کیا اور اب جو کوئی میرا انکار کرے کافر ہے اور مجھ کو خدا کی طرف سے الہام ہوتا ہے اور خدا نے فرمایا ہے کہ علم اولین و آخرین کا تم کو مالک بنایا گیا ہے بیان اور تفسیر قرآن کی کنجی تجھے دی گئی ہے۔
اس کے مہاجرین کی تعداد جب ٣٦٠ تک پہنچ گئی تو قندھار میں بھی جا دام پھیلایا۔ غرضیکہ اس کی ہسٹری ایسے ہی اور بڑے بڑے واقعات سے لبریز ہے۔ آخر کو ترسٹھ
٢٥
برس کی عمر میں اس نے انتقال کیا۔
پیش گوئی خواجہ نعمت اللہ ہالویؒ
ولی نعمت اللہ صاحب نے مندرجہ ذیل پیش گوئی کرشن قادیانی مسیلمہ ثانی مرزا غلام احمد قادیانی کے لئے ٧٠٠ھ میں بیان فرمائی تھی۔ جو حرف بحرف صحیح ثابت ہوئی ہے۔
پس مومناں بمیرند ہرجا ازیں بہانہ
مردے رذیل ترکاں رہزن شود چو سلطاں
گوید دروغ دستاں در ملک ہندیانہ
دو کس بنام احمد گمراہ کنند بے حد
سازند از دل خود تفسیر در قرآنہ
ضلع گورداسپور میں موضع قادیاں کسی زمانے میں ایک غیر معروف گاؤں تھا۔ لیکن ہمارے سلسلہ کی ٢٩ ویں کڑی اسی جگہ سے مہیا ہونے کے باعث اب ایک نہایت مشہور اور تاریخی اہمیت کا شہر بن گیا ہے۔ ہمارے سلسلہ کا آخری کذاب اسی جگہ پر پھلا پھولا ہے۔ یہ حضرت ایک طویل مدت کی جگر کاوی اور مغز سوزی سے طرح طرح کے روپ بدلنے اور خدا جانے کیا کیا طریقے وحیلے سے بتدریج مختلف مراتب طے کرنے اور قدم قدم پر ٹھوکریں کھاتے ہوئے بڑی مشکل کے بعد مخلوق خدا کو اپنے دام تزویر میں لانے کے لئے آخر خدائی کے دعوے تک پہنچ ہی گئے۔
لیکن یاران طریقت کی مہربانیوں سے بہت دیر تک فائز المرام نہیں رہ سکیں گے اور عنقریب واپسی ٹکٹ لینے پر مجبور ہوں گے۔
آپ کا نام مرزا غلام احمد والد کا نام مرزا غلام مرتضیٰ، قوم کے مغل تھے۔ آپ کے والد مرزا غلام مرتضیٰ پرانے زمانے کے سیدھے سادھے اللہ والے سفید پوش آدمی تھے۔ بسراوقات خدا کی مہربانی سے جوں توں کر کے ہو ہی جاتی تھی۔ کچھ عالم آدمی بھی تھے۔ خدا انہیں غریق رحمت کرے۔ اپنی عمر اچھی گزار گئے۔ لیکن جاتے جاتے ہم کو ایک ایسی یادگار دیتے گئے جس کے دم سے قادیان کی زمین بقول مرزا ارض محترم ہوئی۔
٢٦
آپ کی ابتدائی تعلیم عربی و فارسی گھر میں سے ہی حسب دستور زمانہ ہوئی۔ اس کے بعد ایک شیعہ عالم گل شاہ مرحوم ساکن بٹالہ سے شرح ملاں وقایہ تک عربی تعلیم پائی اور چونکہ کوئی اور شغل نہ تھا۔ کچھ زمانہ کتب بینی میں مصروف رہے۔ آخر قدرے قابلیت پیدا ہوگئی تو بیچارے فکر معاش میں مبتلا ہوئے۔ چنانچہ اسی غرض سے وطن عزیز کو خیر باد کہہ کر سیالکوٹ میں رونق افروز ہوئے اور بڑی محنت سے خدا خدا کر کے بمشاہرہ پندرہ روپے ماہوار کچہری میں ملازم ہو گئے۔ ان جتنی قابلیت کے آدمی کے لئے واقعی ایک نعمت غیر مترقبہ تھی۔ لیکن اس ملازمت پر آپ کبھی خوش نہیں ہوئے۔ گو اوپر سے بھی کچھ نہ کچھ جس کو یہ لوگ خدا کا فضل کہا کرتے ہیں ہو جاتا۔ مگر پھر بھی خرچ زیادہ اٹھتا اور آمدنی کم طبیعت ہمیشہ مغموم و اداس رہتی اور ہر مہینے کسی نہ کسی سے قرض اٹھانے کی نوبت آ ہی جاتی۔ آپ فراخی رزق کے لئے ہمیشہ وظیفہ کیا کرتے۔ مگر کامیابی نہ ہوتی تو کبھی کبھی آپ علم جفر جس میں آپ پورے ماہر تھے سے آئندہ اوقات کی فال تفسیر دیکھتے۔ مگر معلوم ہوتا وہاں بھی کامیابی نہ ہوتی۔ بہر حال آپ کوشش کرتے رہتے اور صد ہا خیالات کے گھوڑے اپنے دماغ میں دوڑاتے رہتے اور دعاء بھی کرتے رہتے۔
غرضیکہ انہیں خیالی پلاؤں میں کبھی تو ان کے چہرہ سے بشاشت ٹپکتی۔ لیکن پھر دوسرے لمحہ میں وہی مغموم سا چہرہ لے کر بیٹھ رہتے۔ عجب پراگندگی کا زمانہ تھا۔ طبیعت کو کبھی سکون نہیں تھا۔ ہوائی قصروں کی ادھیڑ بن اور شکست و ریخت میں اپنا کام بھی اچھی طرح نہ کر سکتے تھے۔ سچ ہے ہاہا! غربت بری بلا ہے۔
آپ کو بچپن ہی سے ورد و وظائف کا جیسا کہ آپ کہتے ہیں بہت شوق تھا۔ چنانچہ ایک دن آپ اس میں مشغول بیٹھے تھے تو ایک نہایت ہی بزرگ صورت سفید ریش آدمی عربی لباس زیب تن کئے تسبیح اور عصا ہاتھ میں لئے بلا اجازت اندر آ گیا اور السلام علیکم کہہ کر خود بخود بیٹھ گیا اور فرمایا کہ آج آپ کچہری سے دیر کر کے آئے ہیں۔ میں نے آپ کی خدمت میں نہایت ادب سے عرض کیا کہ اسی لئے تو چاکری کو برا کہا گیا ہے۔ حاکم کی مرضی جب چاہے اجازت دیوے۔ ہم تو حکم کے بندے ٹھہرے۔ کام زیادہ کرنا پڑتا ہے اور آمدنی نہایت محدود ہے۔ میری طبیعت اکتا گئی ہے۔ مگر کیا کروں اور بھی تو کم بخت کوئی کام نظر نہیں آتا۔ ورنہ آج ہی چھوڑ دوں۔ آپ ہی کوئی ایسا وظیفہ یا عمل بتلائیں جس سے دست غیب سے امداد ہو۔ یعنی کسی طریقہ سے دولت ہاتھ آئے۔ عرب نے جواب دیا میں ایسے عملوں کا قائل نہیں تو مرزا قادیانی نے کہا کہ علم جفر میں تو اس کے حاصل کرنے کے بہت سے قاعدے اور عمل لکھے ہوئے ہیں تو عرب صاحب نے جواب دیا۔
٢٧
ہاں ہیں۔ مگر یہی دست غیب ہے کسی کام میں انسان کی رجوعات اور فتوحات ہو جاویں۔ پس عرب صاحب نے وظیفہ بیان کر کے فرمایا کہ فقط پیر کے کندھے ہی سے کار برداری نہیں ہو گی۔ کچھ ہمت تو آپ کو خود بھی کرنی پڑے گی۔ چونکہ آپ کی طبیعت میں ماتحتی کا مادہ کم ہے۔ اس لئے آپ کوئی اور پیشہ اختیار کریں تو مرزا قادیانی نے جواب دیا۔
میں پہلے ہی اس خیال میں ہوں اور میرا ارادہ قانون کا امتحان دینے کا ہے کیونکہ اس میں آمدنی زیادہ ہے۔
چنانچہ مرزا قادیانی نے امتحان کے پاس کرنے میں بہت کوشش کی۔ لیکن خدا کی شان کہ کوشش رائیگاں گئی اور فیل ہو گئے۔ مگر ہمت نہ ہارے بقول ”بیکار مباش کچھ کیا کر“ پر عمل پیرا ہوتے ہی رہے۔ چنانچہ سید ملک شاہ ساکن سیالکوٹ جو علم نجوم ورمل میں ایک خاص ملکہ رکھتے تھے۔ ان سے بھی کچھ استفادہ کیا۔
(دیکھو اشاعۃ السنہ ج ١٥ نمبر ١ ص ٤٩)
بعد ازاں وکالت کا امتحان دینے کی خواہش پیدا ہو گئی وہ بھی کم بخت پوری نہ ہوئی۔ اس کے بعد بھی آپ کو اطمینان قلب نصیب نہیں ہوا تو آپ کی طبیعت جو بیکاری کو پسند نہ کرتی تھی کیمیا گری کی طالب ہوئی۔ چنانچہ بھتیرے دن اسی طرح کامیابی پر ضائع ہوئے۔ کبھی نسخہ کی غلطی پر شک ہوا اور کبھی آگ کے نرم ہونے پر احتمال گزرتا۔ غرضیکہ وہ محدود آمدنی بھی بہت سی اس میں ضائع کرنے کے بعد عاجز آگئے اور حیران ہو کر سوچنے لگے کہ کیا کریں۔ جو کام بھی کرتے ہیں کامیابی نہیں ہوتی اور غربت ہے کہ پنجے جھاڑ کر پیچھا ہی نہیں چھوڑتی۔ انہیں خیالات میں ایک دوست جو رائے صاحب تھے اور ہم مکتب بھی رہ چکے تھے اور دوستی کا دم بھرتے تھے کا خیال آیا تو ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
رائے صاحب! بھائی مرزا آپ تو ایسے نکھے ہو کہ دوستی کے نام کو بھی بٹہ لگا دیا۔ کبھی ملاقات ہی نہیں ہوتی۔ یہ آج کس طرح سے کیمیا گری سے فرصت ملی جو آنے کی زحمت گوارہ ہوئی۔
مرزا قادیانی! واہ صاحب واہ آپ نے پہلے سے ہی پیش بندی کر دی کہ میں نہیں ملتا۔ میں تو ملازم آدمی ہوں اور غیر کے بس میں ہوں۔ مگر آپ تو فکر معاش سے آزاد ہیں۔ آپ کو اس کا خیال رکھنا چاہئے ہم کو تو پیٹ کا دھندہ ہی ہر وقت بے چین کئے دیتا ہے۔ ورنہ ہر روز سلام کے لئے حاضر ہونا کام بہت زیادہ ہے اور آمدنی نہایت کم اور اس پر غلامی کرتے کرتے پانچ سال ہو گئے۔ مگر ابھی تک کچھ بھی ترقی نہیں ہوئی اور نہ ہی کچھ ہونے کی امید ہے۔ ایسی حالت میں میں تو چاہتا ہوں کہ اس نوکری کو چھوڑ دوں اور پھر خیال آتا ہے کہ چھوڑ کر کیا کروں گا۔ کوئی بات سمجھ میں نہیں
٢٨
آتی کہ کروں تو کیا کروں۔ کولہو کے بیل کی طرح اسی چکر میں زندگی ختم کردوں۔ رائے صاحب! یار مرزا میں ایک کام تم کو بتاؤں کام بہت اچھا ہے اور اگر یہ چل نکلا تو پوں بارہ ہیں تم جانتے ہو آج کل ہندو مسلم و شیعہ سنی کے بحث مباحثے عالم شباب پر ہیں اور آپ تو آبائی ملاں آدمی ہو۔ اس لئے بھی کہ تمہارا رجحان طبیعت میں نے کئی دفعہ دیکھا ہے۔ اسی طرف زیادہ مائل ہے۔ اس لئے تم اس بحث پر کتابیں تیار کرو میرا خیال ہے کہ یہ کام بڑی خوش اسلوبی سے کرسکو گے اور بکری بھی کافی ہوگی اور نیک نامی سے تمہیں چار چاند لگ جائیں گے اور روپے کا تو کچھ ٹھکانہ ہی نہ ہوگا۔
ہمارے مرزا جو نوکری سے بیزار تھے رائے صاحب کے مشورہ سے محظوظ ہوئے اور شکریہ ادا کیا اور کتب بحث کی تیاریوں میں مشغول ہونے کی دل میں ٹھان کر صاحب سلامت کر کے رخصت ہوئے۔ راستہ بھر میں وہ انہیں خیالات میں محو رہے اور دل ہی دل میں خدا جانے کیا کیا بنائے اور کیا کیا بگاڑے۔ مگر نسبتاً بہت مسرور نظر آتے تھے کیونکہ مستقبل کی تاریکی میں جگنو چمکتا نظر آتا تھا۔ خدا خدا کر کے گھر پہنچے اور اسی سوچ میں رات گزری۔ سب سے پہلا کام جو صبح اٹھ کر کیا گیا وہ یہ تھا کہ نوکری چھوڑ دی گئی اور آپ سیالکوٹ سے سیدھے لاہور پہنچے۔ اس زمانہ میں شمس العلماء مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب بٹالوی لاہور میں مسجد چینیاں والی میں مقیم تھے۔ مرزا قادیانی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی بیکاری کا افسانہ کچھ ایسے انداز سے پیش کیا۔ جس میں رقت بھری تھی اور بعد ازاں تیاری کتب مبحث کا تذکرہ بھی کیا اور عرض کیا کہ میں ایک کتاب لکھنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ جس میں تین سو دلائل اسلام کی صداقت پر بیان کئے جاویں گے اور جو غیر مذاہب اس کا جواب دے گا اور میرے دلائل کو توڑے گا اس کو دس ہزار روپیہ انعام دیا جاوے گا اور اس کتاب میں بڑے زبردست دل چسپ مضامین ہوں گے کہ دنیا دنگ رہ جاوے گی ہر مخالف کے دانت کھٹے ہو جاویں گے اور پھر حوصلہ بھی نہ ہوگا کہ کبھی معترض ہو اور میدان میں نکلے۔ مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب نے فرمایا آپ کا مبلغ علم تو مولوی فاضل تک بھی نہیں پھر کس طرح سے اس قدر عظیم الشان کام انجام دے سکو گے نیز سب سے زیادہ دقت یہ ہے کہ تم نادار آدمی ہو۔ اس کی اشاعت کو کس طرح سرانجام دو گے اور اس کے خرچ کا کون کفیل ہوگا۔
مرزا قادیانی نے جواب دیا آپ کی خدمت میں صرف اسی لئے حاضر ہوا ہوں کہ آپ اس وقت زمانہ بھر میں ماشاء اللہ مقبول و مشہور ادیب و عالم ہیں۔ ایک زمانہ آپ کا مداح ہے۔ آپ مہربانی کر کے میرے اشتہار اپنے اخبار اشاعۃ السنہ میں وقتاً فوقتاً اپنی تائید سے دے دیا
٢٩
کریں۔ روپیہ دینے والے بہت لوگ ہیں۔ کسی کو مانگنا ہی نہیں آتا اور اگر میری تجویز جیسا کہ میرا خیال ہے چل نکلی تو میں اس کا منافع بھی اشاعت اسلام ہی پر خرچ کروں گا اور ایک کمیٹی کی شکل میں اس کی تحویل رہے گی۔
چنانچہ ابوسعید صاحب پر مرزا قادیانی کا وار چل گیا اور ان کی باتوں میں آ گئے اور آپ نے اس کی تائید حسب گزارش بڑے زور وشور سے کردی اور آپ کی دیکھا دیکھی دوسرے اخبارات ورسائل نے پیروی کی ہم ناظرین کرام کی توجہ مضمون اشتہار کی طرف مبذول کراتے ہیں۔ جس کے پروپیگنڈے کو ایک دنیا نے لبیک کہا۔
”میں براہین احمدیہ ایک ایسی کتاب بنانے کا تہیہ کر چکا ہوں۔ جو اسلام کی ایک چمکتی ہوئی تیغ براں ہوگی اور جس میں تین صد ایسے دلائل ہوں گے جو اسلام کی صداقت پر دیئے جاویں گے اور یہ عقلیہ ونقلیہ دلائل کسی غیر مذاہب میں سے کسی کی مجال نہ ہوگی کہ وہ توڑ سکے اور جو مخالف اس کا جواب دے گا یا میرے دلائل بیان کردہ کو توڑے گا مبلغ دس ہزار روپیہ انعام کا مستحق ہوگا۔ براہین احمدیہ کی قیمت دس روپیہ ہے اور اس کی پچاس جلدیں ہوں گی۔ پانچ پانچ روپیہ پیشگی جمع کرادیویں تاکہ اس کی اشاعت جلد مکمل ہو سکے اور امراء خصوصاً اس میں بیش بیش حصہ لیں۔ اگر اغنیاء صرف ایک دن کا خرچ جو اس کے باورچی خانہ میں ہوتا ہے روانہ کر دیویں تو یہ کام بڑی خوش اسلوبی سے حل ہو سکتا ہے۔“ غلام احمد رئیس قادیاں
چونکہ ان دنوں میں پنجاب میں آریہ مذہب والے پنڈت شردہانند کی وجہ سے اور ستیارتھ پرکاش، تحفۃ الہند کی وجہ سے نئے نئے بودے اعتراضات اسلام پر کرتے رہتے تھے اور ان پر نازاں تھے اور ہمارے علماء بیچارے پکی روٹی و کچی روٹی کے ہیر پھیر اور شیعہ وسنی جھگڑوں میں مشغول تھے اور اسی بات پر لے دے ہو رہی تھی کہ مرغی کے پیٹ سے جو انڈہ کچا نکلتا ہے وہ حرام ہے یا حلال ہے۔ فلاں کام یوں درست ہے یا نہیں اور دشمن تعاقب میں کمین گاہوں سے برابر بڑھتے چلے آ رہے تھے اور جب بھی کبھی ایسا موقعہ ہوتا ہے تو دشمن گھی کے چراغ جلاتا ہے اور یہ گرفتار ابوبکر وعلی انہی گھسے پٹے فروعات پر لڑتے مرتے ہیں اور دستار و تسبیح تک باقی نہیں رہتی۔ بقول اقبال:
تیری قسمت میں بزم آرائیاں ہیں باغبانوں میں
کچھ ایسے ہی واقعات تھے۔ لہذا وہ جن کے قلب میں اسلام کی گرمی تھی انہی واقعات کی
٣٠
وجہ سے موجزن تھی اس اشتہار سے گرما گئی اور دھڑا دھڑ روپیہ ملک کے کونہ کونہ سے آنا شروع ہوا تو ابوسعید مولوی محمد حسین صاحب نے اس وعدہ کی طرف توجہ دلائی اور حساب کتاب علیحدہ رکھنے کے لئے کہا۔ مگر افسوس اس کا جواب نہایت تلخ دیا گیا کہ کیسا حساب اور کون سی کمیٹی اور پوچھنے والا میاں کون۔
مولانا کو اب غلطی کا احساس ہوا۔ بھلا تائید کرنے کے بعد کبھی تردید کر سکتے تھے۔ اب چشمہ پھوٹ نکلا تھا اور اس کا بند کرنا محال امر تھا۔
ہزار کوشش کی کہ یہ ایک دھوکہ ہے۔ اس سے بچو۔ مگر سنتا کون تھا۔ مرزا قادیانی کا رنگ ایسا چڑھا کہ پھر اتارے سے نہ اترا اور اتر بھی کیسے سکتا تھا۔ بیج بونے کے بعد اور کافی دیر پانی دینے کے بعد اس کا ثمر دیکھنا یقینی ہوتا ہے اور ہوا بھی یہی۔
اس بے پناہ آمدنی سے جو بارش کی طرح برابر آ رہی تھی۔ مرزا قادیانی کے تمام قرضے اتر گئے۔ لنگر جاری کر دیا گیا اور ایک بھاری رقم جمع ہو گئی اور ملک کے کونے کونے میں آپ مشہور ہو گئے اور اب وہ وقت جو ایفائے وعدہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے آ پہنچا لوگ کتاب کے لئے دھڑا دھڑ تقاضے کرنے لگے۔
عرب صاحب سفید ریش و عبا تسبیح و عصا والے بزرگ کے وظیفہ نے خوب تسلی کی تو کہیں خویش شناس ہوئے۔ اپنی گزشتہ عمر کا افسوس ہوا کہ یونہی گنوادی ایسا آسان وظیفہ اگر پہلے سے ہی کیا ہوتا تو آج ضلع گورداسپور کے مالک ہوتے۔
کتاب کا وعدہ بڑی لن ترانی سے کیا گیا۔ اس میں یہ ہوگا وہ ہوگا۔ تین صد سے زائد دلائل ہوں گے کوئی توڑ ہی نہ سکے گا۔ وغیرہ وغیرہ! اور جب پہلی، دوسری، تیسری، چوتھی جلدیں تیار ہوئیں تو ان میں کیا تھا۔
جو چیرا تو اک قطرۂ خون نکلا
اوّل! یہ کہ براہین احمدیہ حسب وعدہ نہ نکلی اور پھر جو اصرار پر نکلی بھی تو سوائے تمہیدی مضامین کے ندارد یہ ہوگا، وہ ہوگا، ایسا ہوگا، ویسا ہوگا، یہ کریں گے، وہ کریں گے۔ دوسری اور تیسری جلد مقدمہ میں ہی ختم کر دی۔ گویا کہ وعدہ یاد ہی نہ رہا اور اگر یاد بھی ہوتا تو کیا لکھا جاتا۔ دین اسلام تو تیرہ سو برس پہلے ہی مکمل ہو چکا تھا اور لکھا بھی کیا جاتا۔ ضرورت بھی پیسوں کی وہ مل
٣١
گئے اور بس چوتھی جلد میں آٹھ تمہیدات تھیں جو ٥١٢ صفحات پر مشتمل تھیں۔
تمہیدات کے بعد باب اوّل شروع ہوا ہی تھا کہ جلد چہارم کی پشت پر اشتہار دے دیا گیا کہ اب براہین احمدیہ کا کام خدا کے سپرد کر دیا گیا اور اس نے اس کی تکمیل اپنے ذمے لے لی قصہ ختم اور پیشگی ہضم۔
اکثر لوگوں کی امیدوں پر پانی پھر گیا اور بعض لوگوں نے روپیہ کی واپسی کے لئے تقاضے شروع کئے۔ مگر نقارخانہ میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے۔ معاملہ کچھ مدت بعد رفع دفع ہو گیا۔
پھر خدا کی شان حضرت صاحب کی آمد سے مسلمانوں پر مصیبت کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ برہمو سماج و آریہ سماج والوں نے براہین احمدیہ کا جواب لکھا۔ اس میں اس قدر اعتراضات اسلام پر کئے کہ الامان۔ مگر یہ بجائے جواب دینے کے اس بات پر اتر آئے کہ میرے الہاموں کے مقابلہ میں الہام کرو۔ اچھی تیغ براں تھی جو اسلام کے گلے پر چلائی گئی مگر خدا کا شکر ہے کہ بس کند ہو کر رہ گئی۔
اصل میں یہ لوگوں کی اپنی غلطی تھی جو تقاضے پر اتر آئے کیا مرزا قادیانی نے کتاب سراج منیر کا وعدہ نہیں کیا تھا۔ ضرور کیا تھا اور چندہ بھی جھٹ پٹ جمع ہو گیا تھا۔ مگر سب کچھ چٹ کر گئے اور کتاب کا نام بھی نہ لیا تھا۔
اب مرزا قادیانی کو عرب صاحب کے وظائف میں کمال درجہ کا لطف اور سرور آنے لگا اور آپ دن رات انہیں مشاغل میں منہمک رہنے لگے۔ سب سے پہلے آپ نے مناظر ومجدد اسلام کی حیثیت سے پہلی سیڑھی پر قدم رکھا۔ دوسری پر مثیل مسیح، تیسری پر مسیح موعود، چوتھی پر احمد رسول اور پانچویں پر عین اللہ بن گئے۔
”بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا“ کے مصداق آپ شیطان کی آنت کی مانند ملک کے دور دراز میں تو پہلے ہی پھیل چکے تھے۔ لنگر جاری کرنے سے آپ کی مشہوری دوسرا پہلو اختیار کرنے لگ گئی اور تھوڑے عرصہ میں ہی آپ کے ارادتمندوں کا حلقہ بہت وسیع ہو گیا۔ الہام کی مشین کے پرزے کچھ دیسی اور کچھ ولایتی بھی مل گئے۔ کام بڑی خوش اسلوبی سے چلنا شروع ہوا اور یہ کارخانہ اینڈ کو کی حیثیت سے چل نکلا۔ اخبار جاری کر دیئے، الہام تو گھر کے ہی تھے کہیں سے لینے تھوڑے ہی ہوتے تھے۔ بڑی سرعت اور کثرت سے ہونے لگے۔ سلسلہ بیعت جاری کر دیا گیا اور مریدوں کے نام بالترتیب رجسٹر میں درج ہو کر چندہ کے سرمایہ سے غلام احمد اینڈ کو کا
٣٢
بازار گرم ہونے لگا۔ ہر طرح سے انتظام مکمل کر لیا گیا اور اب اس قلعہ سے چاروں طرف گولہ باری بڑی تنظیم سے شروع کر دی گئی۔
ادھر ہمارے علمائے کرام جو خواب غفلت میں خاموش سوئے ہوئے تھے کچھ بیدار ہوئے۔ لیکن کسی علوم جدیدہ اور تنظیمی مرکز ۔ کے فقدان کے باعث پوری پوری مدافعت نہ کر سکے۔ میرا تو ایمان ہے کہ اگر مولا کریم ہمارے مولانا مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری فاتح قادیان کا اس طرف رجحان نہ ہوتا تو یقینی امر تھا کہ دنیا کبھی کی گمراہ و مرتد ہو گئی ہوتی ۔ گو ہر فرعونے را موسیٰ ضرور ہے۔ مگر انہی کی وجہ سے تو مرزا نے تنگ آ کر آخری دعا کی اور حق کو پھول چڑھاتا ہوا ملک عدم کو چل دیا۔
یہ ہی مرزا قادیانی کے چند الہامات صریح طور پر قرآن مجید اور توحید کے خلاف ہیں۔
- ......١ ”انت منى وانا منك“ تو مجھ سے اور میں تجھ سے ہوں۔
(دافع البلاء ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧)
”قل هو الله احد، الله الصمد، لم يلد ولم يولد، ولم يكن له كفواً احد“ ﴿کہہ اے محمد ! اللہ ایک ہے، نہیں جنا اس نے اور نہ جنا گیا اور نہیں ہے واسطے اس کے برابری کرنے والا کوئی ۔﴾
- ......٢ ”انت منى بمنزلة توحيدى وتفريدى“ تو بمنزلہ میری توحید
اور تفرید کے ہے۔
(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)
”انت اسمى الاعلىٰ“ تو میرا سب سے بڑا نام ہے۔
(اربعین نمبر ٣ ص ٣٣، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٣)
”ان منى بمنزلة ولدى“ تو مجھ سے بمنزلہ میرے بیٹے کے ہے۔
(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)
”انت من ماء ناوہم من فشل“ تو ہمارے پانی سے اور لوگ خشکی سے۔
(اربعین نمبر ٣ ص ٣٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٣)
”انت منى بمنزلة اولادى“ تو مجھ سے بمنزلہ اولاد کے ہے۔
(الحکم ج ٤، ١٠/دسمبر ١٩٠٠ء، اربعین نمبر ٤ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٢ حاشیہ)
”تكاد السمٰوات يتفطرن منه وتنشق الارض وتخر الجبال هداً ان دعوا للرحمٰن ولدا (مریم: ٩٠، ٩١)“ ﴿نزدیک ہیں کہ پھٹ جائیں آسمان اور پھٹ جائے زمین اور گر پڑیں پہاڑ کانپ کر اس سے کہ دعویٰ کیا انہوں نے اولاد کا واسطے اللہ کے ۔﴾
٣٣
”وما ينبغی للرحمٰن ان يتخذ ولداً (مريم:٩٢)“ ”اور نہیں لائق واسطے رحمان کے کہ پکڑے اولاد۔﴾
”ماكان الله ان يتخذ من ولد سبحٰنه (مريم:٣٥)“ ”نہیں لائق واسطے اللہ کے یہ کہ پکڑے اولاد، پاک ہے۔﴾
”الذی له ملك السمٰوت والارض ولم يتخذ ولداً ولم يكن له شريك فی الملك (فرقان:٢)“ ”وہ جو واسطے اس کے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی اور نہ پکڑی اولاد اور نہیں ہے واسطے اس کے بیچ بادشاہی کے۔﴾
- ٣...... ”انما امرك اذا ارادت شيئاً ان تقول له كن فيكون (تذکرہ
ص٥١٧، ٦٦١، حقیقت الوحی ص١٠٥، خزائن ج٢٢ ص١٠٨)“ ”تیرا یہ مرتبہ ہے کہ جس چیز کا تو ارادہ کرے وہ صرف اسی قدر کہہ دے کہ ہو جا پس ہو جائے گی۔
”اذا قضى امراً فانما يقول له كن فيكون (آل عمران:٤٧)“ ”جب مقرر کرتا ہے کچھ کام (اللہ) پس سوائے اس کے نہیں کہ کہتا ہو۔ پس وہ ہو جاتا ہے۔ (یہ اللہ کی مختص صفت ہے)﴾
- ٤...... ”کشفی حالت میں اس عاجز نے دیکھا کہ انسان کی صورت میں (گویا
فرشتے ہوں گے) دو شخص ایک مکان میں بیٹھے ہیں۔ ایک چھت کے قریب ایک زمین پر تب میں نے اس شخص کو جو زمین پر بیٹھا تھا مخاطب کر کے کہا۔ مجھے ایک لاکھ فوج کی ضرورت ہے۔“
(تذکرہ ص١٧٨،١٧٧ طبع ٣)
کیا مرزا سلطان محمد سے لڑائی کا میدان کارزار گرم کرنا تھا ورنہ جہاد کو تو آپ نے حرام قرار دیا یہ فوج کی کیا ضرورت تھی۔ کیا امیر حبیب اللہ سے مرتد کے قتل کا بدلہ لینا تھا اور پھر بتاؤ وہ فوج آئی بھی اور فرشتے نے کیا جواب دیا؟۔
- ٥...... ”(حضرت مسیح) کے ہاتھ سے سوائے مکر و فریب کے کچھ بھی نہ تھا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص٧، خزائن ج١١ ص٢٩١)
اس نے مادر زاد اندھوں اور کوڑھوں کو اچھا کیا مردے زندہ کئے مگر مثیل مسیح صاحب تو زندے کی جان بھی نہ نکال سکے۔
- ٦...... ہم پر گورنمنٹ برطانیہ کے بڑے بڑے احسانات ہیں۔ لہٰذا اپنی اس
مہربان گورنمنٹ کا شکریہ ادا کریں اتنا ہی تھوڑا ہے ...... اللہ تعالیٰ نے دور اس مبارک گورنمنٹ
٣٢
ہماری نجات کے لئے ابر رحمت کی طرح بھیج دیا۔"
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص ٢١٨)
منہ پر تعریفیں کرتے ہو شاید گورنمنٹ ڈاک خانہ میں ملازم نہ رکھ لے۔ ورنہ دجال آپ کس کو کہتے ہو اور انگریزی ٹوپی بڑھاؤ کی تشبیہ کیا دیا کرتے ہو اور کسر صلیب اپنا مشن قرار دیتے ہو اور عیسیٰ علیہ السلام کو کھاؤ پیو شرابی کہتے ہو۔ نعوذ باللہ!
- .......٧
"امام زمان ہوں اور خدا میری تائید میں ہے اور وہ میرے لئے ایک تیز تلوار کی طرح کھڑا ہے اور مجھے خبر کر دی گئی ہے کہ جو شرارت سے میرے مقابل کھڑا ہوگا وہ ذلیل و شرمندہ کیا جائے گا۔"
(ضرورۃ الامام ص ٢٦، خزائن ج ١٣ ص ٤٩٧)
ہاں تمہارا کوئی ایسا ناکارہ خدا ہوگا جو ایک سپاہی کی حیثیت سے تمہارے حکم پر تلوار لئے کھڑا ہوگا یہ بتاؤ کہ یہ تلوار اس نے کبھی چلائی بھی یا تم ہی الٹے اس کے ہاتھ سے کام آئے۔
- .......٨
آسمان سے کئی تخت اترے مگر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا۔
(حقیقت الوحی ص ٨٩، خزائن ج ٢٢ ص ٩٢)
نامرادی میں ہوا ہے تیرا آنا جانا
- .......٩
"اذا غضبت" غضبت مرزا جس پر تو ناراض اس پر میں ناراض۔'
(حقیقت الوحی ص ٨٧، خزائن ج ٢٢ ص ٩٠)
تب ہی تو پیر مہر علی شاہ سجادہ نشین و پیر جماعت علی شاہ سجادہ نشین آج تک سلامت رہے۔ آپ کو غصہ آ گیا تھا نہ۔
- .......١٠
"انت اشد مناسبة بعيسى ابن مريم اشبه الناس خلقاً وخلقاً وزماناً" فرشتوں کی کھلی ہوئی تلوار میرے آگے ہے پر تو نے وقت کو نہ پہچانا نہ دیکھا نہ جانا۔ براہمن اوتار سے مقابلہ اچھا نہیں۔
(ازالۃ الاوہام ص ١٢٣، خزائن ج ٣ ص ١٦٥)
حاشیہ پر مرزا قادیانی اس الہام کی تشریح یوں کرتے ہیں: "یہ پیش گوئی ایسے شخص کے بارے میں ہے جو مرید بن کر پھر مرتد ہوا اور شوخیاں دکھلائیں اس سے ڈاکٹر عبدالحکیم مراد ہے۔ اس الہام کے مقابلہ میں ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب نے بھی ایک پیش گوئی فرمائی تھی۔ جو اعلان الحق ص ٤ پر مندرج ہے۔ جس میں انہوں نے فرمایا۔ "مرزا مسرف ہے کذاب ہے عیار ہے صادق کے سامنے شریر فنا ہو جائے گا اور اس کی میعاد تین سال بتائی۔" اس کے مقابل میں مرزا قادیانی نے اپنا ایک اور الہام شائع کیا۔ صبر کر خدا
٣٥
تیرے دشمن کو ہلاک کرے گا۔ خدا کی قدرت مرزا قادیانی فوت ہو گئے اور ڈاکٹر عبدالحکیم عرصہ تک زندہ رہا۔
١١...... ”لولاک لما خلقت الا فلاک“ اے مرزا گر تو نہ ہوتا تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا۔
(تذکرہ ص ٦١٢)
”کل لک ولا مرک“ سب تیرے لئے اور تیرے حکم کے لئے۔
(تذکرہ ص ٧٠٦)
ایک محمدی بیگم کے لئے دن رات ایک کر دیئے مگر ملی نہیں۔ آسمان پیدا ہوئے کیا یہ وہی آسمان ہیں جو آپ نے خود خدا بن کر پیدا کئے تھے وہ کیا ہوئے اور حکم بھی اسی الہام میں ہی آپ نے کئے تھے جو محمدی بیگم کے رنگ میں پورے ہوئے۔
١٢...... ”فجعلنی الله ادم واعطانی کلما اعطالابی البشر وجعلنی بروز الخاتم النبیین وسید المرسلین“ خدا نے مجھ کو آدم بنایا اور مجھ کو وہ سب چیزیں بخشیں جو ابوالبشر آدم کو دی تھیں اور مجھ کو خاتم النبیین اور سید المرسلین کا بروز بنایا۔
(خطبہ الہامیہ ص ٢٥٤، خزائن ج ٢١ ص ٢٥٤)
شرک فی النبوت ہے۔ کرشن صاحب ہم تو تناسخ کے قائل نہیں ہاں البتہ آپ کا گروہ ہو گا یہ شوخیاں انہیں مبارک ہوں۔
١٣...... ”ماانا الا کالقران وسیظہر علی یدی ماظہر من الفرقان “ میں تو بس قرآن ہی کی طرح ہوں اور قریب ہے کہ میرے ہاتھ پر ظاہر ہو گا جو کچھ قرآن سے ظاہر ہوا۔
(تذکرہ ص ٦٧٤)
امت مرزائی کلام مجید کو اب چھوڑ دو۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے وہ پچاس الماریاں جو گورنمنٹ برطانیہ کی مدح وستائش میں لکھی ہوئی ہیں۔ تمہارے لئے بمنزلہ قران بقول مرزا کافی ہیں۔ بس انہیں کا ورد زبان کرو اٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے اور اس کا ثمر مرنے کے بعد معلوم ہوگا۔
١٤...... ”یہ مکالمۃ اللہ جو مجھ سے ہوتا ہے یقینی ہے۔ اگر میں ایک دم کے لئے بھی اس میں شک کروں تو کافر ہو جاؤں اور میری آخرت تباہ ہو جاوے۔ وہ کلام جو میرے پر نازل ہوا۔ یقینی اور قطعی ہے اور جیسا کہ آفتاب اور اس کی روشنی کو دیکھ کر کوئی شک نہیں کر سکتا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے پر نازل ہوتا ہے اور میں اس پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں۔ جیسا کہ خدا کی کتاب پر۔“
(تجلیات الٰہیہ ص ٢٠، خزائن ج ٢٠ ص ٤١٢)
تب ہی تو کوئی بات پوری نہ ہوئی۔ آپ نے فرمایا تھا کہ میاں منظور محمد صاحب کے
٣٦
متعلق ایک الہام ہوا اور خوشخبری سنائی تھی۔ بشیر الدولہ، عالم کباب، شادی خاں، کلمۃ اللہ خاں بذریعہ الہام الہی معلوم ہوا کہ میاں منظور محمد صاحب کے گھر میں یعنی محمدی بیگم کا ایک لڑکا پیدا ہوگا۔ جس کے یہ نام ہوں گے اور یہ نام بذریعہ الہام الہی معلوم ہوئے۔
(البشریٰ ج ٢ ص ١١٦، تذکرہ ص ٦٢٢)
حضرت مرزا قادیانی کی اس پیش گوئی کے شائع ہوجانے کے بعد کیا ہوا۔ افسوس کہ محمدی بیگم ہی چل بسی لہٰذا آپ کی وحی جھوٹی ہوئی۔
- ١٥...... "یسین انک لمن المرسلین علیٰ صراط المستقیم تنزیل
العزیز الرحیم"
(حقیقت الوحی ص ١٠٧، خزائن ج ٢٢ ص ١١٠)
حضور فخر رسل کے خطابات رحمانیہ کی چوری ہے۔ کلام مجید میں مولا کریم اپنے حبیبؐ کی تعریف فرما رہے ہیں اور مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ میری تعریف ہو رہی ہے۔
- ١٦...... "انا اعطینک الکوثر"
(حقیقت الوحی ص ١٠٢، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٥)
فرقان حمید کی ایک آیت ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی تھی مگر آپ نے اپنے پر لگا دی۔ سینہ زوری ہے چوری۔
- ١٧...... "سبحان الذی اسرٰی بعبدہ لیلاً"
(حقیقت الوحی ص ٧٨، خزائن ج ٢٢ ص ٨١)
کلام مجید کی ایک آیت شریفہ ہے جو رسول پاک کی شان میں نازل ہوئی۔ کون پوچھنے والا، چوری کر لی گئی۔
- ١٨...... "اردت ان استخلف فخلقت ادم" میں نے ارادہ کیا کہ اسی زمانہ
میں اپنا خلیفہ مقرر کروں۔ جو میں اس آدم یعنی مرزا کو پیدا کیا۔
(حقیقت الوحی ص ١٠٧، خزائن ج ٢٢ ص ١١٠)
خود ہی خدا بنتے ہیں اور لطف یہ کہ خود ہی پیدا ہوتے ہیں۔ عجیب منطق ہے۔
لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں
ایک سوال ہے جو امت مرزائیہ ہمیشہ پوچھا کرتی ہے کہ اگر مرزا قادیانی اس صدی کے مجدد نہیں تو اور کون ہے بتاؤ۔ اس لئے ہم یہاں ناظرین کرام کو مجددین کے نام بھی بتائے دیتے ہیں تاکہ بوقت ضرورت کام آئیں۔
٣٧
- ١...... عمر بن عبدالعزیز، سالم قاسم اور مکحول۔
- ٢...... امام محمد بن ادریس شافعیؒ، احمد بن محمدؒ، یحییٰ بن عونؒ، اشہب بن عبداللہ اور
خلیفہ ماموں۔
- ٣...... قاضی احمد بن شریح بغدادیؒ، ابو الحسن اشعریؒ، ابو جعفر طحاوی حنفیؒ اور
ابو عبدالرحمن نسائیؒ۔
- ٤...... امام ابوبکر باقلانی، خلیفہ قادر باللہ عباسی۔
- ٥...... محمد بن محمد ابو حامد غزالیؒ، ابو طاہر سلفیؒ۔
- ٦...... محمد بن عمر فخر الدین رازیؒ، شہاب الدین سہروردیؒ۔
- ٧...... احمد بن عبدالحلیم تقی الدین ابن تیمیہؒ، خواجہ معین الدین چشتیؒ۔
- ٨...... حافظ زین الدین عراقی شافعیؒ، علامہ ناصر الدین شاذلیؒ۔
- ٩...... عبدالرحمن بن کمال الدین المعروف جلال الدین سیوطیؒ، محمد بن عبدالرحمن
سخاوی شافعیؒ۔
- ١٠...... ملا علی قاریؒ، علی بن حسام ہندی مکیؒ۔
- ١١...... شیخ احمد بن عبدالاحد بن زین العابدین فاروقی سرہندی مجدد الف ثانیؒ۔
- ١٢...... سید احمد بریلویؒ، شاہ عبد الغنی محدث دہلویؒ۔
- ١٣...... شاہ اسماعیل شہیدؒ، شاہ رفیع الدین، شاہ عبدالقادرؒ۔
- ١٤...... نواب صدیق الحسن خاںؒ، حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، احمد رضا خاں
بریلوی، میاں نذیر حسین صاحب محدث دہلوی، مولوی رحمت اللہ صاحب مہاجر مکیؒ۔
- ١٩...... ”اصلی واصوم واسهر وانام“ میں نماز پڑھوں گا اور روزہ
رکھوں گا جاگتا ہوں اور سوتا ہوں۔
(تذکرہ ٤٦٠)
”لا تأخذه سنة ولا نوم“ مرزا جی یہ تمہارے خدا کے صفات ہیں جو کبھی جاگتا ہے کبھی سوتا ہے کبھی وضو کرتا ہے اور کبھی نماز پڑھتا ہے۔ ہمارا خدا پاک ہے۔
- ٢٠...... ”واعطيت صفة الافناء والاحياء“ مجھ کو فانی کرنے اور زندہ
کرنے کی صفت دی گئی۔
(خطبہ الہامیہ ص ٥٥، ٥٦، خزائن ج١٦ ص ٥٥، ٥٦)
”الله الذى خلقكم ثم رزقكم ثم يميتكم ثم يحييكم هل من شركائكم من يفعل من ذلكم من شئی (روم: ٤٠)“
٣٨
- ٢١...... "اعملو ما شئتم انی غفرت لکم" اے مرزا تو جو بھی چاہے کر ہم
نے تم کو بخش دیا۔
(تذکرہ ص ٥١١)
مرزا قادیانی شاید اس الہام کی وجہ سے ہی قوت باہ کے لئے کشتہ اور کستوری اور کچلہ وغیرہ کھایا کرتے تھے اور شاید اسی لئے بے گناہ بہو کو طلاق دلوادی تھی اور لڑکوں کو عاق کر دیا تھا۔
- ٢٢...... "واللہ انی غالب وسیظہر شوکتی وکل ہالک الا من قعد
فی سفینتی" خدا کی قسم غالب ہوں اور عنقریب میری شان ظاہر ہو جائے گی۔ ہر ایک ہلاک ہوگا وہی بچے گا جو میری کشتی میں بیٹھ گیا۔
(تذکرہ ص ٧١٣)
محمدی بیگم کی شادی سے، عبداللہ آتھم کے زندہ رہنے سے، ڈاکٹر عبدالحکیم کی پیش گوئی کے مطابق مرنے سے، اور ابوالوفا مولانا ثناء اللہ کی دعا کرنے کے لئے تشریف لے جانے سے، قبلہ مہر علی شاہ صاحب سجادہ نشین سے فرار ہونے اور مولانا محمد بشیر سے شکست کھانے سے بڑی شان ظاہر ہوئی۔
- ٢٣...... "قطع دابر القوم الذین لا یؤمنون" اس قوم کی جڑ کاٹی گئی جو
مجھ پر ایمان نہیں لائے۔
(حقیقت الوحی ص ٩٢، خزائن ج ٢٢ ص ٩٥)
مرزا قادیانی کے اس الہام سے عیسائی، یہودی، ہندو اور دیگر اقوام ایک بھی باقی نہ رہے اور اب تو صرف مرزائی ہی مرزائی دنیا پر ہیں۔ باقی سب کی جڑیں کاٹی گئی ہیں۔ افسوس ہم اس کا جواب کس کو دیں۔
- ٢٤...... "وما ارسلنک الا رحمۃ اللعلمين"
(حقیقت الوحی ص ٨٢، خزائن ج ٢٢ ص ٨٥)
آپ کا ہی لین کلیر ہو چکا ورنہ آپ میں اگر چشم بصیرت ہوتی تو دنیا کو دیکھتے کہ آگے سے زیادہ سرسبز ہے۔ آئے تو رحمت کے لئے تھے بن گئے زحمت۔
- ٢٥...... "قل یا یها الناس انی رسول الله الیکم جمیعا"
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٠)
رسول پاک کے خطاب رحمانی کی چوری ہے۔ سینہ زوری ہے۔
- ٢٦...... "وما ارسلنک الا رحمۃ اللعلمين" اے مرزا ہم نے تجھے تمام
جہان کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔
(انجام آتھم ص ٧٨، خزائن ج ١١ ص ٧٨)
٣٩
یہ بھی فرقان حمید کی ایک آیت شریفہ ہے اور رسول پاک کا ایک خطاب رحمانیہ ہے جو آپ سینہ زوری سے لے رہے ہیں۔
- ٢٧....... "داعیاً الی الله اور سراج المنیر"
(اربعین نمبر ٢ ص ٥، خزائن ج ١٧ ص ٣٥٠)
یہ بھی ایک مفرد خطاب رسول پاک کا ہے جو آپ خواہ مخواہ چوری کر کے اپنے اوپر چسپاں کر رہے ہیں۔
- ٢٨....... "ان قدمی هذه علی منارة ختم عليها كل رفعة" میرا قدم
اس منارہ پر ہے جہاں تمام بلندیاں ختم ہیں۔
(خطبہ الہامیہ ص ٧٠، خزائن ج ١٦ ص ٧٠)
رسول پاک پر فضیلت فرما رہے ہیں چاہے ایک شمہ بھر رفعت بھی ذات والا کو دیکھنے میں نہ آئی ہو۔ تب ہی تو کوئی الہام سچا نہ ہوا۔
- ٢٩....... "اتانی مالم یوت احداً من العلمین" مجھے وہ چیز دی جو دنیا میں
کسی دوسرے انسان کو نہ دی گئی۔
(حقیقت الوحی ص ١٠٧، خزائن ج ٢٢ ص ١١٠)
میرے خیال میں تو وہ ناکامی ہی ہے کیونکہ آپ کی کوئی پیش گوئی صحیح نہیں نکلی۔
- ٣٠....... "یحمدک الله من عرشه یحمدک الله ویمشی اليك" خدا
عرش پر تیری حمد کرتا ہے اور تیری طرف چلا آتا ہے۔
(انجام آتھم ص ٥٥، خزائن ج ١١ ص ٥٥)
خدا اور مرزے کی حمد کرے استغفر اللہ ربی کیا جواب دوں۔ گستاخی و بے ادبی ہے۔ ہاں یہ بتاؤ کہ وہ پہنچا بھی یا ابھی آ رہا ہے۔ پہنچتا تو محمدی سے شادی ہو ہی جاتی۔
- ٣١....... "انت مدینة العلم" اے مرزا تو علم کا شہر ہے۔
(تذکرہ ص ٣٩٢)
فخر دو عالم نے فرمایا تھا میں علم کا شہر ہوں اور علیؓ اس کا دروازہ۔ "انا مدینة العلم وعلی بابها" اور یہ تو علم کی ایک گلی بھی نہیں۔
- ٣٢....... "انی ھمی الرحمن" میں خدا کی باڑ ہوں۔
(البشریٰ ج ٢ ص ٨٩)
تب ہی تو دعائیں کرتے ہو میں مغلوب ہو گیا ہوں ہار گیا ہوں۔ "رب انی مغلوب" اور تب ہی بنائے کچھ نہیں بنتی۔
- ٣٣....... "انی مع الاسباب ایتک بغتةً انی مع الرسول اجیب
اخطی واصیب" میں اسباب کے ساتھ اچانک تیرے پاس آؤں گا خطا کروں گا اور بھلائی کروں گا۔
(البشریٰ ج ٢ ص ٧٩)
٤٠
مرزا کا خدا کوئی قلی ہے جو اسباب کے ساتھ اچانک آئے گا اور خطا کرے گا توبہ نعوذ باللہ خدا کی اچھی صفتیں ہیں جو بیان ہورہی ہیں اور جو خطاء کر کے بھلائی کرے وہ شریفوں کے نزدیک بھلائی نہیں ہوتی۔
......٣٤
کہ او مجدد ایں دین وراہنما باشد
(تریاق القلوب ص ٢، خزائن ج ١٥ص ١٣٢)
یہاں تک ہی رہتے تو اچھا تھا۔ مگر اس کے بعد مسیح موعود، مثیل مسیح، کرشن، جے سنگھ بہادر، آریوں کے بادشاہ، رُودر گوپال، احمد رسول، مالک الملک ایک آدمی میں روپ بدلتا ہے اور احکم الحاکمین کے بہترین رسولوں کی اور ان کے پیارے ناموں کی تحقیر کرتا ہے۔
......٣٥
منم محمد واحمد کہ مجتبیٰ باشد
(تریاق القلوب ص ٣، خزائن ج ١٥ص ١٣٢)
کہتا ہے کہ میں (مرزا قادیانی) مسیح زمان ہوں۔ خدا سے باتیں کرتا ہوں اور میں محمد واحمد خدا کے ہاں تعریف کیا گیا ہوں۔
......٣٦
نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٠٣، خزائن ج ٢١ص ١٣٣)
لو اب آدم، موسیٰ، یعقوب اور ابراہیم بھی بن گیا۔ دوسرے مصرعہ کا جواب دینا مگر تہذیب مانع ہے۔
......٣٧
در برم جملہ ہمہ ابرار
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ص ٤٧٧)
٤١
مرزا قادیانی کہتے ہیں میں احمد مختار بھی ہوں اور آدم علیہ السلام بھی ہوں اور میرے کرتے میں تمام رسول چھپے ہیں۔
......٣٨
داد آں جام را مرا بتمام
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
جو جو پیالہ علم کا تمام نبیوں کو مولا سے ملا وہ تمام پیالے بیک وقت ایک بڑے جام میں اکٹھے کر کے مجھے دیئے گئے۔ اس لئے مرزا قادیانی تمام انبیاء پر اپنی فضیلت ظاہر کرتے ہیں۔
......٣٩
من بعرفان نہ کمترم زکسے
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
اگرچہ بہت سے نبی دنیا پر تشریف لائے مگر ان کی کلام سے میری کلام بہتر ہے۔ کسی سے کم نہیں، بالا ہے۔
......٤٠
ہر رسول پنہاں بپیرہنم
(نزول المسیح ص ١٠٠، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٨)
میرے آنے سے تمام نبی جو درحقیقت مردے تھے زندہ ہو گئے۔ میرے پیرہن (کرتہ) میں سب رسول چھپے ہیں۔
......٤١
میرے آنے سے ہوا کامل بجملہ برگ وبار
(براہین حصہ پنجم ص ١١٣، خزائن ج ٢١ ص ١٤٤)
نبوت کا قصر نامکمل تھا ادھورا تھا۔ میرے آنے سے مکمل ہوا۔ وہ درخت جو پھول و پتوں سے خالی تھا میرے آنے سے سرسبز وشاداب ہوا۔ یعنی مرزا قادیانی کے آنے سے۔
٤٢
......٤٢
بدور اَش رسولاں ناز کردند
(تجلیات الٰہیہ ص ٥، خزائن ج ٢٠ ص ٣٩٧)
مرزا کے مقام نبوت کو حقارت کی نگاہ سے نہ دیکھ۔ اس کے مقام کو تو رسول اور نبی عزت کی نگاہ سے دیکھتے اور ناز کرتے تھے۔ یعنی مرزا کی فضیلت تمام انبیاء کے مقام نبوت سے بالاتر ہے۔
......٤٣
دیر آمدہ زراہ دور آمدہ
(تریاق القلوب ص ٤٢، خزائن ج ١٥ ص ٢١٩)
یہ شعر اپنے لڑکے عموائیل بشیر کے متعلق ہے۔ جس کا ذکر مفصل طور پر اسی کتاب میں آئے گا۔ ترجمہ اس کا یہ ہے کہ اے نبیوں کے فخر تو دیر سے آیا اور بہت دور سے آیا۔ نعوذ باللہ! دیر سے تو ضرور آیا مگر تھا بڑا جلد باز چلنے میں بھی دیر نہ کی۔
......٤٤
اس سے بہتر غلام احمد ہے
(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)
کلام مجید میں اللہ صاحب ارشاد فرماتے ہیں ”وجیھا فی الدنیا والآخرۃ“ دنیا اور آخرت میں مرتبے والا عزت والا بیٹا مریم کا ولیکن مرزا کہتا ہے کہ مریم کے بیٹے عیسیٰ کے ذکر کو چھوڑ دو اس سے تو مرزا غلام احمد قادیانی بہت بہتر ہے۔ لاحول ولا قوۃ!
......٤٥
عیسیٰ کجاست تا بنہد پا بمنبرم
(ازالہ اوہام ص ١٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٠)
میں (مرزا) پیش گوئی قرآن کے مطابق آیا ہوں۔ عیسیٰ کہاں ہے اور اس کا حوصلہ ہے
٤٣
کہ میرے منبر پر قدم رکھے۔ یعنی اس کی جرات ہی نہیں کہ میرے مقابلہ پر آ سکے۔ نعوذ بالله !
٤٦......
صد حسین است درگریبانم
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
میں تو ہر وقت کربلا میں ہی رہتا ہوں اور کوئی وقت ایسا نہیں جو مجھ پر کرب و بلا نہ ہو اور ایسے ایسے تو سینکڑوں حسین میرے کرتے کے بازو میں رہتے ہیں۔
٤٧......
فانی اؤید کل آن وانصر
واما حسین فاذکروا دشت کربلا
الی ہذہ الایام تبکون فانظر
(اعجاز احمدی ص ٧٩، خزائن ج ١٩ص ١٨١)
مجھ میں اور تمہارے حسین میں بہت فرق ہے۔ کیونکہ مجھے ہر ایک وقت اس کی طرف سے یعنی خدا سے مدد ملتی ہے۔ مگر تمہارا حسین خدا کے انعام سے محروم ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ تم کربلا کے میدان کو اور ان کی شہادت جو یاد کرتے ہو اور اب تک روتے ہو۔ یہ تشریح مرزا قادیانی نے کی ہے۔
گویا انبیاء کی فضیلت کے بعد شہید پر فضیلت بیان فرما رہے ہیں اور حضرت امام حسینؓ پر مرزا قادیانی اپنی فضیلت ظاہر فرما رہے ہیں۔
لعنة الله علی الکاذبین!
٤٨......
قتیل العدی فالفرق اجلے واظہر
(اعجاز احمدی ص ٨١، خزائن ج ١٩ص ١٩٣)
میں محبت کا کشتہ ہوں ۔ مگر تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے۔ پس فرق بین وظاہر ہے۔
٤٤
ہاں صاحب ہم تو مانتے ہیں کہ آپ محمدی بیگم کی محبت کے دل دادہ تھے اور اس میں ہی کشتہ ہو کر سرمہ بن گئے تھے اور آپ کی مدح میں اور صرف محبت ظاہر کرنے کے لئے تو یہ نوشتہ غیب لکھا گیا ہے۔ مرزا قادیانی ذرا مہربانی کر کے اپنے حسب نسب کو اور امام حسینؑ کے شجرہ مبارکہ کو تو جانچ لیا ہوتا اور گریبان میں منہ ڈالا ہوتا تو یوں لاف زنی نہ کرتے۔
......٤٩
بخدا پاک دانمش زخطا
ہمچو قرآن منزہ اش دانم
از خطا ہا ہمیں است ایمانم
آں یقینے کہ بود عیسیٰ را
بہ کلامے کہ شد بر او القا
وآں یقین کلیم بر تورات
وآں یقیں ہائے سید السادات
(نزول المسیح ص٩٩، خزائن ج١٨ص٤٧٧)
جو کچھ میں خدا کی وحی سے سنتا ہوں خدا کی قسم اسے خطا سے پاک سمجھتا ہوں۔ میرا ایمان ہے کہ میری وحی قرآن کی طرح تمام غلطیوں سے مبرا ہے۔ وہ یقین جو حضرت عیسیٰؑ کو اس کلام پر تھا جو اس پر نازل ہوا وہ یقین جو موسیٰؑ کو تورات پر تھا۔ وہ یقین جو سید المرسلین حضرت محمد ﷺ کو قرآن پاک پر تھا۔ وہی یقین مجھے اپنی وحی پر ہے۔ کسی نبی سے کم نہیں ہوں۔
جناب من اسی لئے تو ایک بات بھی سچی ثابت نہ ہوئی اور اسی وحی کے بھروسہ پر دنیا بھر میں رسوا عام ہوئے۔ اگر آپ کو اپنی وحی پر یوں اعتبار نہ ہوتا تو اپنے لئے ایسے سنہری ٹائیٹل تجویز نہ فرماتے اور پھر یوں سر بازار۔
......٥٠
ہجوم خلق سے ارض حرم ہے
(درثمین ص٥٠، اردو)
قادیان کی زمین میرے آنے سے محترم (احترام شدہ) ہوگئی اور ارض مقدس بنی اور
٤٥
لوگوں کے آنے سے خانہ کعبہ کے مثل بن گئی۔ ہندوستان میں نعوذ باللہ مکہ شریف بن گیا اور اب حج کرنے کے لئے مکہ شریف جانے کی ضرورت نہ رہی۔ نعوذ بالله من هذا الخرافات!
- ٥١...... یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے اس کا سبب تو یہ
تھا کہ عیسیٰ شراب پیا کرتے تھے شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔
(کشتی نوح ص ٦٥، خزائن ج ١٩ ص ٧١)
وہ دنیا اور آخرت میں مرتبے والا نبی اور اس کی شان میں یوں گستاخی۔ لعنت الله علی الکاذبین!
- ٥٢...... مسیح کا چال چلن کیا تھا۔ ایک کھاؤ، پیو، شرابی، نہ زاہد نہ عابد، نہ حق کا
پرستار، متکبر، خود بین، خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔
(مکتوبات احمدیہ ج ٣ ص ٢٣، ٢٤)
کیا جواب دوں دل جلتا ہے اور قلم رکتا ہے اور تہذیب مانع ہے۔ ورنہ جواب دیتا اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ لعنت الله علی الکاذبین!
یہ دونوں عبارتیں مرزا غلام احمد قادیانی کی ہی ہیں۔ مرزائیو! خدا لگتی کہنا کون سی سچی ہے۔؟
- ١...... ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔
(اخبار بدر ٥؍مارچ ١٩٠٨ء، ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧)
میری دعوت کی مشکلات میں سے ایک رسالت ایک وحی الٰہی اور مسیح موعود کا دعویٰ تھا۔
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٥٤ حاشیہ، خزائن ج ٢١ ص ٦٨)
”غرض اس حصہ کثیر وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں گزر چکے ہیں۔ ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں کیونکہ کثرت وحی اور کثرت سے امور غیبیہ اس میں شرط ہے اور وہ شرط ان میں پائی نہیں جاتیں۔“ (حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦، ٤٠٧)
”اس امت میں آنحضرت ﷺ کی پیروی کی برکت سے ہزارہا اولیاء ہوئے ہیں اور ایک وہ بھی ہوا جو امتی بھی ہے اور نبی بھی۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٨، خزائن ج ٢٢ ص ٣٠)
”ہمارے نبی ہونے کے وہی نشانات ہیں جو تورات میں مذکور ہیں۔ میں کوئی نیا نبی
٤٦
نہیں ہوں۔ پہلے بھی کئی نبی گزرے ہیں۔ جنہیں تم لوگ سچا مانتے ہو۔“
(بدر ٩ اپریل ١٩٠٨ء، ملفوظات ج١٠ ص٢١٧)
اور خدا تعالیٰ نے اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں۔ اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہوسکتی ہے۔ لیکن چونکہ یہ آخری زمانہ تھا اور شیطان کا معہ اپنی ذریت کے آخری حملہ تھا۔ اس لئے خدا نے شیطان کو شکست دینے کے لئے ہزار ہا نشان ایک جگہ جمع کر دیئے۔ لیکن پھر بھی جو لوگ انسانوں میں سے شیطان ہیں وہ نہیں مانتے اور محض افتراء کے طور پر ناحق اعتراض کر دیتے ہیں۔“
(چشمہ معرفت ص٣١٧، خزائن ج٢٣ ص٣٣٢)
”جس شخص کو بکثرت مکالمہ و مخاطبہ سے مشرف کیا جاوے اور بکثرت امور غیبیہ اس پر ظاہر کئے جاویں وہ نبی کہلاتا ہے۔“
(حقیقۃ الوحی ص٣٩٠، خزائن ج٢٢ ص٤٠٦)
”جبکہ وہ مکالمہ و مخاطبہ اپنی کیفیت اور کمیت کی رو سے کمال درجہ تک پہنچ جائے اور اس میں کوئی کثافت اور کمی باقی نہ ہو اور کھلے طور پر امور غیبیہ پر مشتمل ہو تو وہی دوسرے لفظوں میں نبوت کے نام سے موسوم ہوتا ہے۔ جس پر تمام نبیوں کا اتفاق ہے۔“
(الوصیت ص١١، خزائن ج٢٠ ص٣١١)
”میرے نزدیک نبی اس کو کہتے ہیں جس پر خدا کا کلام یقینی قطعی بکثرت نازل ہو جو غیب پر مشتمل ہو اس لئے خدا نے میرا نام نبی رکھا۔ مگر بغیر شریعت کے۔“
(تجلیات الٰہیہ ص٢٠، خزائن ج٢٠ ص٤١٢)
”ہم خدا کے ان کلمات کو جو نبوت یعنی پیش گوئیوں پر مشتمل ہوں نبوت کے اسم سے موسوم کرتے ہیں اور اس شخص جس کو بکثرت ایسی پیش گوئیاں بذریعہ وحی الٰہی دی جائیں اس کا نام نبی رکھتے ہیں۔“
(چشمہ معرفت ص١٨٠، خزائن ج٢٣ ص١٨٩)
”خدا کی طرف سے ایک کلام پا کر جو غیب پر مشتمل زبردست پیش گوئیاں ہوں مخلوق کو پہنچانے والا اسلامی اصطلاح کی رو نبی کہلاتا ہے۔“
(ملفوظات ج١٠ ص٢٧٦)
”اگر خدا تعالیٰ سے غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو پھر بتاؤ کس نام سے اس کو پکارا جائے۔ اگر کہو اس کا نام محدث رکھنا چاہئے تو میں کہتا ہوں کہ تحدیث کے معنی کسی لغت کی کتاب میں اظہار غیب نہیں ہے۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص٥، خزائن ج١٨ ص٢٠٩)
”یہ تمام بدقسمتی دھوکہ سے پیدا ہوئی کہ نبی کے حقیقی معنوں پر غور نہیں کی گئی۔ نبی کے
٧٤
معنی صرف یہ ہیں کہ خدا سے بذریعہ وحی خبر پانے والا ہو اور شرف مکالمہ و مخاطبہ الٰہیہ سے مشرف ہو۔ شریعت کا لانا اس کے لئے ضروری نہیں اور نہ یہ ضروری ہے کہ صاحب شریعت رسول کا متبع نہ ہو۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٣٨، خزائن ج ٢١ ص ٣٠٦)
”بعد تورات کے صدہا ایسے نبی بنی اسرائیل میں آئے کہ کوئی نئی کتاب ان کے ساتھ نہ تھی۔ بلکہ ان انبیاء کے ظہور کے مطالب یہ ہوتے تھے کہ تا ان کے موجود زمانہ میں جو لوگ تعلیم توریت سے دور پڑ گئے ہوں پھر ان کو توریت کے اصل منشا کی طرف کھینچیں۔“
(شہادت القرآن ص ٢٧، خزائن ج ٦ ص ٣٢٠)
”نبی کا شارع ہونا شرط نہیں یہ صرف موہبت ہے جس سے امور غیبیہ کھلتے ہیں۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢١٠)
”تب خدا آسمان سے اپنی قرنا میں آواز پھونک دے گا۔ یعنی مسیح موعود کے ذریعہ سے جو اس کی قرنا ہے۔۔۔۔۔ اس جگہ صور کے لفظ سے مراد مسیح موعود ہے۔ کیونکہ خدا کے نبی اس کی صور ہوتے ہیں۔“
(چشمہ معرفت ص ٧٦، ٧٧، خزائن ج ٢٣ ص ٨٤، ٨٥)
”میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں اور اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہوگا اور جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے تو میں کیونکر انکار کر سکتا ہوں۔ میں اس پر قائم ہوں۔ اس وقت تک کہ اس دنیا سے گزر جاؤں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٩٧، مندرجہ اخبار عام ٢٣ مئی ١٩٠٨ء)
”میں مسیح موعود ہوں اور وہی ہوں جس کا نام سرور انبیاء نے نبی اللہ رکھا ہے۔“
(نزول المسیح ص ٤٨، خزائن ج ١٨ ص ٤٢٧)
”خدا تعالیٰ کی مصلحت اور حکمت نے آنحضرت ﷺ کے افاضۂ روحانیہ کا کمال ثابت کرنے کے لئے یہ مرتبہ بخشا ہے کہ آپ کے فیض کی برکت سے مجھے نبوت کے مقام تک پہنچایا۔“
(حقیقت الوحی ص ١٥٠ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٤)
”پس خدا نے اپنی سنت کے موافق ایک نبی کے مبعوث ہونے تک وہ عذاب ملتوی رکھا اور جب وہ نبی مبعوث ہو گیا اور اس قوم کو ہزار ہا اشتہاروں اور رسالوں سے دعوت کی گئی وہ وقت آ گیا کہ ان کو اپنے جرائم کی سزا دی جائے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٥٢، خزائن ج ٢٢ ص ٤٨٦)
”تیسری بات جو اس وحی سے ثابت ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ بہر حال جب تک طاعون دنیا میں رہے گو ستر برس تک رہے۔ قادیان کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔
٤٨
کیونکہ یہ اس کے رسول کی تخت گاہ ہے۔“
(دافع البلاء ص ١٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠)
”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“
(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)
”سخت عذاب بغیر نبی قائم ہونے کے آتا ہی نہیں۔ جیسا کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا‘ پھر یہ کیا بات ہے کہ ایک طرف تو طاعون ملک کو کھا رہی ہے اور دوسری طرف زلزلے پیچھا نہیں چھوڑتے۔ اے غافلو تلاش تو کرو شاید تم میں خدا کی طرف سے کوئی نبی قائم ہو گیا ہے جس کی تم تکذیب کر رہے ہو۔“
(تجلیات الٰہیہ ص ٨، ٩، خزائن ج ٢٠ ص ٤٠٠، ٤٠١)
”قل یٰایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعاً“ اے تمام لوگو میں تم سب کی طرف خدا کی طرف سے رسول ہو کر آیا ہوں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٠)
”جس آنے والے مسیح موعود کا حدیثوں میں پتہ لگتا ہے۔ اس کا انہیں حدیثوں میں یہ نشان دیا گیا ہے کہ وہ نبی ہو گا اور امتی بھی۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٩، خزائن ج ٢٢ ص ٣١)
”انک لمن المرسلین“ اے مرزا بے شک تو رسولوں میں سے ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ١٠٧، خزائن ج ٢٢ ص ١١٠)
”ہمارا نبی اس درجہ کا نبی ہے کہ اس کی امت کا ایک فرد نبی ہو سکتا ہے اور عیسیٰ کہلا سکتا ہے۔ حالانکہ وہ امتی ہے۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٨٤، خزائن ج ٢١ ص ٣٥٥)
”اسی طرح اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت۔ وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے۔ اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزوی فضیلت قرار دیتا۔ مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔ مگر اس طرح سے کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی۔“
(حقیقت الوحی ص ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣، ١٥٤)
”و آخرین منھم لما یلحقوا بھم“ یہ آیت آخری زمانہ میں ایک نبی کے ظاہر ہونے کی نسبت ایک پیش گوئی ہے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٧، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٢)
تصویر کا دوسرا رخ
”مرسل ہونے میں نبی اور محدث ایک ہی منصب رکھتے ہیں اور جیسا کہ خدا تعالیٰ نے نبیوں کا نام رسل رکھا ہے۔ ایسا ہی محدثین کا نام بھی مرسل رکھا ہے۔ اسی اشارہ کی غرض سے قرآن
٤٩
شریف میں ”وقفينا من بعده بالرسل“ آیا ہے اور نہیں آیا کہ ”قفينا من بعده بالانبیاء“ پس یہ اسی بات کی طرف اشارہ ہے کہ رسل سے مراد مرسل ہیں۔ خواہ وہ رسول ہوں یا نبی ہوں یا محدث ہوں۔ چونکہ ہمارے سید رسول اللہ ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور بعد آنحضرت ﷺ کے کوئی نبی نہیں آ سکتا۔ اس لئے اس شریعت میں نبی کے قائم مقام محدث رکھے گئے ۔“
(شہادۃ القرآن ص ٢٧، ٢٨، خزائن ج ٦ ص ٣٤٢، ٣٤٣)
”ماکان محمد ابا احد“ کی تفسیر میں فرماتے ہیں ”الا تعلم ان الرب الرحيم المتفضل سمى نبينا ﷺ خاتم الانبیاء بغیر استثناء وفسره نبينا ﷺ فی قوله لا نبی بعدى ببيان واضح الطالبين ولو جوزنا ظهور نبی بعد نبينا ﷺ لجوزنا انفتاح باب وحی النبوة بعد تغليقها وهذا خلف كمالا يخفى على المسلمين وكيف يحيئ بعد رسولنا صلعم وقد انقطع الوحى بعد وفاته وختم الله به النبيين “ کیا نہیں جانتے ہو تم کہ خدا کریم ورحیم نے ہمارے نبی ﷺ کو بغیر کسی استثناء کے خاتم النبیین قرار دیا اور ہمارے نبی ﷺ نے خاتم النبیین کی تفسیر لا نبی بعدی کے ساتھ فرمائی کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا اور طالبین حق کے لئے یہ بات واضح ہے اور اگر ہم اپنے نبی ﷺ کے بعد کسی نبی کے آنے کا جواز قبول کریں تو گویا ہم نے وحی نبوت کا دروازہ کھول دیا۔ حالانکہ وہ بند ہو چکا اور ہمارے نبی ﷺ کے بعد کس طرح کوئی نبی آسکتا ہے۔ جبکہ ان کی وفات کے بعد وحی منقطع ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر نبیوں کا خاتمہ کر دیا۔“
(حمامة البشریٰ ص ٢٠، خزائن ج ٧ ص ٢٠٠)
”ولا يجيئى نبى بعد رسول الله ﷺ وهو خاتم النبيين“ رسول اللہؐ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا ۔ کیونکہ آپ خاتم النبیین ہیں۔
(حمامة البشریٰ ص ٢٠، خزائن ج ٧ ص ١٩٩)
”ماكان لى ان ادعى النبوة واخرج من الاسلام والحق بقوم كافرین“ یعنی یہ جائز نہیں کہ میں نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام سے خارج ہو جاؤں اور کافروں سے جاملوں۔
(حمامة البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)
”ماكان الله ان يرسل نبياً بعد نبينا خاتم النبيين وما كان الله ان يحدث سلسلة النبوة ثانيا بعد انقطاعها“ اللہ کو یہ شایاں نہیں کہ خاتم النبیین کے بعد نبی بھیجے اور نہیں شایاں اس کو کہ سلسلۂ نبوت کو از سر نو شروع کردے۔ بعد اس کے کہ اس کو قطع کر
٥٠
چکا۔
(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٧٧، خزائن ج ٥ ص ٣٧٧)
"وآمنت بان رسولنا سید ولد ادم وسید المرسلین بان اللہ ختم بہ النبیین " مرزا قادیانی خدا کی قسم اٹھا کر کہتے ہیں کہ میں ایمان لاتا ہوں۔ اس بات پر کہ ہمارے رسول آدم کی اولاد کے سردار ہیں۔ رسولوں کے بھی سردار ہیں اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ نبیوں کو ختم کر دیا۔
(آئینہ کمالات اسلام ص ٢١، خزائن ج ٥ ص ٢١)
"وکیف یجئ نبی بعد رسولناﷺ وقد انقطع الوحی بعد وفاتہ وختم اللہ بہ النبیین " اور ہمارے رسول ﷺ کے بعد کس طرح کوئی نبی آسکتا ہے۔ جب کہ ان کی وفات کے بعد وحی منقطع ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے نبیوں کا خاتمہ کر دیا۔
(حمامتہ البشریٰ ص ٢٠، خزائن ج ٧ ص ٢٠٠)
"رسول کی حقیقت اور ماہیت میں یہ امر داخل ہے کہ دینی علوم کو بذریعہ جبرائیل کے حاصل کرے اور ابھی ثابت ہوچکا ہے کہ اب وحی رسالت تاقیامت منقطع ہے۔"
(ازالہ اوہام ص ٦١٤، خزائن ج ٣ ص ٤٣٢)
(سراج منیر ص ٩٣، خزائن ج ١٢ ص ٩٥)
"فلا حاجة لنا الیٰ نبی بعد محمدﷺ وقد احاطت برکاتہ کل ازمنة " اور ہم کو محمدﷺ کے بعد کسی نبی کی حاجت نہیں۔ کیونکہ آپ کی برکات ہر زمانہ پر محیط ہیں۔
(حمامتہ البشریٰ ص ٤٩، خزائن ج ٧ ص ٢٤٤)
"مدعی نبوت امت سے خارج ہے نہ مجھے دعویٰ نبوت نہ خروج از امت اور نہ میں منکر معجزات وملائک اور لیلۃ القدر سے انکاری ہوں اور آنحضرت ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کا قائل اور یقین کامل سے جانتا ہوں اور اس بات پر محکم ایمان رکھتا ہوں کہ ہمارے نبی ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور آنجناب کے بعد اس امت کے لئے کوئی نبی نہیں آئے گا۔"
(نشان آسمانی ص ٣٠، خزائن ج ٤ ص ٣٩٠)
مدعی نبوت لعنتی ہے
"مولوی غلام دستگیر پر واضح رہے کہ ہم بھی نبوت کے مدعی پر لعنت بھیجتے ہیں اور لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے قائل ہیں اور آنحضرت ﷺ کے ختم نبوت پر ایمان رکھتے
٥١
ہیں ۔“
(مجموعہ اشتہارات حصہ دوم ص ٢٩٧)
مدعی نبوت کافر اور اسلام سے خارج ہے
”وما کان لی ان ادعی النبوة واخرج من الاسلام والحق بقوم الکافرین“ میرا کیا حق ہے کہ میں نبوت کا دعویٰ کروں اور اسلام سے خارج ہو جاؤں اور کافروں سے جاملوں۔
(حمامۃ البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)
مدعی نبوت مسلمان نہیں
”فکیف ادعی النبوة وانا من المسلمین“ یہ کب ممکن ہے کہ مسلمان ہو کر میں نبوت کا دعویٰ کروں۔ نبوت کا دعویٰ کرنے والا مسلمان نہیں۔
(حمامۃ البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)
مدعی نبوت اسلام سے خارج
”اور اسلام کا اعتقاد ہے کہ ہمارے نبی ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔“
(راز حقیقت ص ١٦، خزائن ج ١٤ ص ١٦٨)
مدعی نبوت کاذب اور کافر ہے
”اس عاجز نے سنا ہے کہ اس شہر کے بعض اکابر علماء میری نسبت یہ الزام مشہور کرتے ہیں کہ یہ شخص نبوت کا مدعی ملائکہ کا منکر، بہشت دوزخ کا انکاری اور ایسا ہی وجود جبرائیل اور لیلۃ القدر اور معجزات اور معراج نبوی سے بکلی منکر ہے۔ لہٰذا میں اظہاراً للحق عام و خاص اور تمام بزرگوں کی خدمت میں گزارش کرتا ہوں کہ یہ الزام سراسر افتراء ہے میں نہ نبوت کا مدعی ہوں نہ معجزات وملائکہ اور لیلۃ القدر سے منکر۔
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠)
حنفی المذہب ہونے کا اقرار
”میں ان تمام امور کا قائل ہوں جو اسلامی عقائد میں داخل ہیں اور جیسا کہ سنت جماعت کا عقیدہ ہے ان سب باتوں کو مانتا ہوں جو قرآن اور حدیث کی رو سے مسلم الثبوت ہیں اور سیدنا ومولانا محمد مصطفیٰ ﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت ورسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ ﷺ پر ختم ہو گئی۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠، ٢٣١)
٥٢
مدعی نبوت دائرہ اسلام سے خارج ہے
”خدا جانتا ہے کہ میں مسلمان ہوں اور سب عقائد پر ایمان رکھتا ہوں۔ جو اہل سنت والجماعت مانتے ہیں اور کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا قائل ہوں اور قبلہ کی طرف نماز پڑھتا ہوں اور نبوت کا مدعی نہیں بلکہ ایسے مدعی کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔“
(آسمانی فیصلہ ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٣١٣)
مجھ کو نبی کہنے والے سراسر جھوٹے اور دجال ہیں
”اور کہتے ہیں کہ یہ شخص ملائکہ اور ان کے نزول وصعود کو نہیں مانتا اور شمس اور قمر اور تاروں کو فرشتوں کے اجسام مانتا ہے اور محمدﷺ کو خاتم الانبیاء نہیں مانتا۔ حالانکہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا اور وہی خاتم الانبیاء پس یہ سب مفتریات اور تحریفات ہیں۔ پاک ذات ہے میرا رب میں نے ایسی کوئی بات نہیں کہی اور یہ سراسر جھوٹ اور کذب ہے اور اللہ جانتا ہے کہ یہ لوگ آنحضرتﷺ کے بعد کسی کو نبی ماننے والے دجال ہیں۔“
(حمامۃ البشریٰ ص ٩، خزائن ج ٧ ص ١٨٥)
مجھ کو نبی کہنے والے مفتری کذاب اور لعنتی ہیں
”اور اللہ تعالیٰ کی عزت اور جلال کی قسم ہے کہ میں مؤمن اور مسلمان ہوں اور اللہ پر اور اس کی کتابوں پر اور رسول اور ملائکہ پر اور بعث بعد الموت پر ایمان رکھتا ہوں اور اس بات پر بھی ایمان رکھتا ہوں کہ ہمارے محمد مصطفیٰﷺ سب نبیوں سے افضل اور نبیوں کو ختم کرنے والے ہیں اور ان لوگوں نے مجھ پر افتراء کیا ہے کہ یہ شخص نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔“
(حمامۃ البشریٰ ص ٨، خزائن ج ٧ ص ١٨٤)
”اگر یہ اعتراض ہے کہ نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور وہ کلمہ کفر ہے تو بجز اس کے کیا کہیں کہ لعنۃ اللہ علی الکاذبین المفترین یعنی جو شخص مجھے نبی مانتا ہے وہ لعنتی ومفتری ہے۔“
(انوار الاسلام ص ٣٤، خزائن ج ٩ ص ٣٥)
”افتراء کے طور پر ہم پر یہ تہمت لگاتے ہیں کہ گویا ہم نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ گویا ہم معجزات اور فرشتوں کے منکر ہیں۔ لیکن یاد رہے کہ یہ تمام افتراء ہے۔ ہمارا ایمان ہے کہ حضرت محمدﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔“
(حاشیہ کتاب البریہ ص ١٩٨، ١٩٧، خزائن ج ١٣ ص ١٥،١٦)
ہم نے مرزا قادیانی کے چند ایک دعاوی پیش کئے ہیں۔ جن میں آپ فرماتے ہیں کہ ہم نبی اور رسول ہیں اور تمام دنیا کی طرف بھیجے گئے ہیں اور ہماری صداقت میں پلیگ نمودار ہوئی۔ زلزلے آئے، قحط پڑا، سورج اور چاند گرہن لگا اور طرح طرح کے عذابوں میں دنیا مبتلاء ہوئی۔ مگر
٥٣
غافلو! سوچو تو اس کی کیا وجہ ہے۔ شاید تم میں خدا کا فرستادہ نبی ہو اور اس کے انکار کی وجہ سے یہ عذاب تم پر ”وما کنا معذبین حتّی نبعث رسولاً“ کے تحت میں نازل کیا گیا ہو۔ مجھ پر خدا کی وحی بارش کی طرح آتی ہے اور مرتبہ اس قدر بلند ہے کہ اگر میرے انعام وکرام اور الہام وآیات وغیرہ دس ہزار پیغمبروں پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی نبوت بھی ثابت ہوسکتی ہے اور میرے مبعوث ہونے سے پیشتر جس قدر اولیاء، امام، غوث، ابدال، اقطاب گزرے ہیں۔ ان کو میرا عشر عشیر بھی نہیں دیا گیا۔ امام حسینؓ وغیرہ کی تو کچھ حقیقت ہی نہیں ہے۔ ایسے تو سینکڑوں میری آستین میں چھپے بیٹھے ہیں اور چونکہ میرا یہ آخری زمانہ نبوت تھا۔ جیسا کہ حدیث میں رحمت عالمﷺ نے میری بشارت دی اور مجھ کو آخری نبی مخصوص کیا۔ اس لئے شیطان کا معہ اپنی تمام ذریت کے مجھ پر یہ آخری حملہ تھا۔ اس لئے خدا نے ہزارہا نشان میری صداقت میں ایک جگہ جمع کردیئے۔ مگر باوجودیکہ میں نے سینکڑوں اشتہار کتابیں مباہلے، دعائیں اور طرح طرح سے اپنی نبوت کے منوانے کے لئے کئی ایک طریقے اور حیلے بنائے۔ لیکن پھر بھی جو لوگ انسانوں میں سے شیطان ہیں وہ میری نبوت سے انکار ہی کرتے رہے اور مجھ پر ایمان نہ لاکر جہنمی ہوئے۔ ان کو جو بے دین بنے یہ دھوکا ہوا کہ میں صاحب شریعت نبی ہوں۔ مگر افسوس نادانوں نے یہ نہ سوچا کہ مجھ پر کثرت سے وحی الٰہی آتی ہے اور جس پر وحی الٰہی نازل ہو وہ نبی اور رسول ہے اور کلام مجید اس کا شاہد ہے۔ ”قل انما انا بشر مثلکم یوحیٰ الیٰ“ میں مسیح موعود ہوں اور شارع ہونا نبوت کی شرط نہیں اور سچا خدا وہ ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔ گو اوائل میں میرا عقیدہ بھی ایسا ہی تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے۔ وہ خدا کا پیارا نبی ہے اور جب میری کوئی فضیلت ظاہر ہوتی تو میں اس کو جزوی قرار دیتا۔ مگر آخر وحی الٰہی بارش کی طرح میرے اس ایمان کو بہالے گئی اور مجھ کو اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر مجھے نبی کا خطاب دیا گیا اور میری صداقت میں ایک یہ بات قابل غور ہے کہ پلیگ چاہے ستر برس تک ہندوستان میں رہے ولیکن اس کے رسول کی تخت گاہ یعنی قادیان اس سے محفوظ ہی رہے گا اور غافلو سوچو مجھ کو خدا نے رسول اور نبی کہا اور آج سے تیرہ سو سال قرآن مجید میں میرے پیارے القاب درج کر دیئے جو تم روز پڑھتے ہو۔ غور کرو اور دیکھو کہ اس میں ”انک لمن المرسلین“ اور ”قل یایھا الناس انی رسول اللّٰہ علیکم جمیعاً“ اور ”لا تخف انک انت اعلیٰ وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین“ ہیں یا نہیں اور میری خدمت میں خدا ایک تیز تلوار لئے کھڑا ہے اور مجھ کو الہام ہوا ہے کہ اس قوم کی جڑوں کو کاٹ دیا جائے گا۔ جو مجھ پر ایمان نہ لائے گی اور جو بھی میں عمل کروں وہ
٥٤
گناہ نہیں ہے۔ بلکہ معاف کر دیا گیا ہے اور میں تو بس قرآن ہی کی طرح ہوں اور قریب ہے کہ میرے ہاتھ پر ظاہر ہوگا۔ جو قرآن سے ظاہر ہوا اور مکالمہ و مخاطبہ الٰہیہ جو مجھ سے ہوتا ہے اگر ایک منٹ کے لئے بھی میں اس میں شک وشبہ کروں تو کافر ہو جاؤں۔ مجھ کو اپنی وحی پر ایسا ہی یقین ہے۔ جیسا کلمہ شریف پر۔ بلکہ اس سے زیادہ اور مجھ کو وہ تمام سعید روحیں مانتی ہیں اور مجھ پر ایمان لاتی ہیں۔ مگر حرامزادے ہیں جو نہیں مانتے اور میں تو حسب بشارت آیا ہوں عیسیٰ کو جرات وحوصلہ ہی نہیں کہ وہ میرے منبر پر قدم رکھے۔ میں آدم ہوں، میں شیث ہوں، میں نوح ہوں، میں عیسیٰ ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں یعقوب ہوں، میں محمد ہوں، میں احمد غرضیکہ تمام نبی میرے جامہ میں ہیں اور جو کچھ بھی انعام واکرام ان کو فرداً فرداً مالک الملک سے عنایت ہوئے اور علم کی پیالیاں جو بھی ان کو دی گئیں وہ سب علم ایک جام میں جمع کر کے یکدم مجھ کو دیئے گئے اور میرے ہی لئے ہفت افلاک بنے اور اگر مجھ کو مبعوث کرنا مقصود نہ ہوتا تو یہ نظامِ عالم ہی پیدا نہ کیا جاتا۔ یہ چاند وسورج وستارے، یہ رنگ برنگ کے پھول اور پھل اور یہ سنگین عمارتیں وپل، یہ شاداب وادیاں اور ہموار سڑکیں میرے لئے ہی بنیں۔
من گفتم کہ سگ اسود منم
(حمامۃ البشریٰ ج ١ ص ٤٨)
مرزا قادیانی اس سے بھی آگے نکلے اور زینہ طے کر کے امت مرزائیہ پر احسان فرما گئے۔ فرماتے ہیں:
”رأيتنی فی المنام عين الله وتيقنت اننی ھو...... فخلقت السمٰوات والارض...... وقلت انا زينا السماء الدنيا بمصابيح“ میں نے نیند میں اپنے آپ کو ہوبہو اللہ دیکھا۔ میں نے یقین کر لیا کہ میں وہی اللہ ہوں۔ پھر میں نے آسمان وزمین بنائے اور میں نے کہا کہ ہم نے آسمان کو ستاروں کے ساتھ سجایا ہے۔
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤، ٥٦٥، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
امیر جماعت احمدیہ لاہور سے خطاب اور ایک سو روپیہ انعام کا اعلان
سراسر موم ہو یا سنگ ہوجا
حضرت مولانا محمد علی صاحب ایم۔ اے امیر جماعت احمدیہ لاہور ہمیشہ اس بات پر
٥٥
زور دیا کرتے ہیں اور صد ہا ٹریکٹوں میں اعلان فرمایا کرتے ہیں کہ ہم نبوت کے قائل نہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ ہی نہیں کیا اور جہاں کہیں بھی آپ نے دعویٰ کیا ہے وہ صرف ظل بروز کے رنگ میں کیا ہے اور آخر پہنچ کر یہ کہہ دیا کرتے ہو کہ ظل اللہ کے کہنے سے خدا کا سایہ مراد ہوتا ہے۔ خدا نہیں ہوتا ایسا ہی ظلی نبی نبی کا سایہ ہے۔ حقیقی نبی مراد نہیں ہوتا ہے۔ میں نے حضرت مرزا قادیانی کے چند ایسے دعوے آپ کی خدمت میں پیش کئے ہیں۔ جن کی مثال تاریخ انبیاء میں کسی برگزیدہ نبی سے بھی نہیں ملتی۔ مرزا قادیانی نے جو دعویٰ کیا ہے کہ میری فضیلت میں جو نشان خدا نے عطاء کئے وہ ہزار نبیوں پر بھی تقسیم کئے جاویں تو ان سے ان کی نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔ کیا یہی ظل و بروز ہے اور وہ کون سے ہزار نبی ہیں۔ جن سے آپ افضل ہیں۔ اگر آپ اس کا شافی جواب جو میاں بشیر الدین محمود خلیفہ دوئم کا مصدقہ ہو دیویں اور اس کے جواب الجواب میں ہمارا اعلان ہے کہ بعد فیصلہ منصف ایک سو روپیہ انعام کے مستحق ہوں گے۔ اس لئے مرد میدان بنیں اور اس کو حاصل کریں۔
ایم۔ ایس خالد وزیر آبادی!
اعلان عام مبلغ پچاس روپیہ کا انعام
میرا یہ خطاب ہر دو جماعت سے ہے۔ وہ اندلسی ہو یا دمشقی اس کا جواب دے کر انعام حاصل کریں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی کوئی ایک پیش گوئی جو آپ نے بڑی تحدی سے کی ہو اور وہ حرف بحرف پوری ہو گئی ہو۔ مرزائیوں میں سے کوئی صاحب اس کو تکلیف کر کے ایک ٹریکٹ کی صورت میں شائع کرے۔ لیکن امیر جماعت کی تصدیق شدہ ہو اس کے جواب الجواب میں ہمارا بیان جو ٹریکٹ کی صورت میں ہم شائع کریں گے۔ اس سے مقابلہ کیا جاوے گا اور بعد از فیصلہ منصف مبلغ پچاس روپیہ انعام دیا جائے گا۔
ایس۔ ایم شفیع خالد وزیر آبادی
اب ہم مرزا قادیانی کے وہ دعوے پیش کرتے ہیں جن میں آپ نے نبوت کے باب کو ہی مسدود کر دیا ہے۔ فرماتے ہیں ؎
ہر نبوت را برو شد اختتام
(سراج منیر ص ٩٣، خزائن ج ١٢ ص ٩٥)
نبوت تمام نبیوں کے سردار فخر رسل حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ پر ختم ہو گئی۔ آپ کے
٥٦
بعد کوئی نبی ظلی ہو یا بروزی نہیں آسکتا۔ پھر فرماتے ہیں چونکہ نبوت کا باب ہی تا قیام قیامت خاتم النبیین پر ختم ہوچکا۔ اس لئے ہمارا ایمان ہے کہ وحی الہی کا سلسلہ آدم صفی اللہ سے شروع ہو کر محمد رسول اللہﷺ پر ختم ہو گیا اور اب وحی الہی کا زمین پر آنا قطعاً بند ہو گیا۔ اس کی تصدیق اور جگہ یوں فرماتے ہیں کہ مرسل ہونے میں نبی اور محدث ایک ہی منصب رکھتے ہیں اور جیسا کہ خدا تعالیٰ نے نبیوں کا نام بھی مرسل رکھا ہے اور اسی اشارہ کی غرض سے قرآن مجید میں ”وقفینا من بعدہ بالرسل“ آیا ہے اور یہ نہیں آیا کہ ”من بعد بانبیاء“ پس یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ رسل سے مراد مرسل ہیں۔ خواہ وہ رسول ہوں یا نبی یا محدث ہوں۔ چونکہ ہمارے سید محمد رسول اللہﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور بعد آنحضرتﷺ کے کوئی نبی نہیں آسکتا۔ اس لئے اس شریعت میں نبی کے قائم مقام محدث رکھے گئے۔ پھر فرماتے ہیں کیا نہیں جانتے ہو تم کہ خدا رحیم وکریم نے ہمارے نبیﷺ کو بغیر کسی استثناء کے خاتم النبیین قرار دیا اور ہمارے نبیﷺ نے خاتم النبیین کی تفسیر لا نبی بعدی کے ساتھ فرمائی کہ میرے بعد کوئی نبی نہ آئے گا اور طالبین حق کے لئے یہ بات واضح ہے اور اگر ہم اپنے نبی کے بعد کسی نبی کے آنے کا جواز قبول کریں تو گویا ہم نے وحی نبوت کا دروازہ کھول دیا۔ حالانکہ وہ بند ہو چکا ہے اور ہمارے نبیﷺ کے بعد کسی طرح کوئی نبی نہیں آسکتا۔ جبکہ ان کی وفات کے بعد وحی منقطع ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کی ذات پر نبیوں کا خاتمہ کردیا اور پھر ایک طریقہ سے یوں ارشاد فرمایا یہ میرے لئے کب جائز ہے کہ میں نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام سے خارج ہو جاؤں اور کافروں سے جاملوں اور اس کے بعد ایک اور مدلل جواب دیا۔ اللہ تعالیٰ کو یہ ہرگز شایاں نہیں کہ خاتم النبیین کے بعد کوئی نبی بھیجے اور نہیں شایاں اس کو کہ سلسلۂ نبوت کو ازسرنو شروع کردے۔ بعد اس کے کہ اس کو قطع کرچکا۔ اس کے بعد مرزا قادیانی اللہ تعالیٰ کی قسم اس بات پر اٹھا کر تصدیق کرتے ہیں کہ میں ایمان لاتا ہوں۔ اس بات پر ہمارے رسول آدم کی اولاد کے سردار ہیں اور خدا کی قسم اللہ تعالیٰ نے آپ پر نبیوں کا خاتمہ کردیا۔ یعنی آپ کے بعد کوئی نبی کسی طرح کا وہ ظلی ہو یا بروزی نہیں آسکتا اور پھر آپ اس کی وضاحت یوں فرماتے ہیں کہ رسول کی حقیقت اور ماہیت میں یہ امر داخل ہے کہ دینی علوم کو وہ بذریعہ جبرائیل علیہ السلام کے حاصل کرے اور ابھی ثابت ہو چکا ہے کہ اب وحی رسالت تا قیام زمانہ منقطع ہوچکی ہے اور یہ سلسلہ نبوت ہی بند ہوچکا ہے اور ہم کو اب نبوت کی ضرورت ہی نہیں۔ کیونکہ ہمارے نبیﷺ کے مبعوث ہونے کے بعد کسی نبی کے آنے کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی۔ کیونکہ آپ کی برکات ہر زمانے پر محیط ہیں اور اس کی پھر اور ایک جگہ نفی فرماتے ہیں۔ نہ مجھے دعویٰ نبوت، نہ خروج از امت اور نہ میں
٥٧
معجزات وملائکہ ولیلة القدر سے انکاری ہوں اور آنحضرت ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کا قائل ہوں اور یقین کامل سے جانتا ہوں اور میرا اس پر ایمان ہے اور ایسا محکم ایمان رکھتا ہوں کہ ہمارے نبی ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور آنجناب کے بعد اس امت کے لئے کوئی نبی نہیں آئے گا۔ کیونکہ آپ کا فیض تا قیامت کافی وشافی ہے۔ پھر فرماتے ہیں کہ یہ کب ممکن ہے کہ میں مسلمان ہو کر نبوت کا دعویٰ کروں۔ کیونکہ نبوت کا دعویٰ کرنے والا مسلمان نہیں ہے۔ پھر اس کی تائید یوں کرتے ہیں کہ اسلام کا اعتقاد ہے کہ ہمارے نبی ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ پھر یوں فرماتے ہیں نبی کے لئے ضروری ہے کہ اس کی امت اور کتاب ہو۔ میں مدعی نبوت کو مفتری کذاب اور لعنتی سمجھتا ہوں اور مجھ کو نبی کہنے والے دجال ہیں۔ مجھ کو نبی کہنے والے لعنتی ہیں۔ مجھ کو نبی کہنے والے مفتری ہیں۔ مجھ کو نبی کہنے والے کذاب ہیں۔ پھر فرماتے ہیں مدعی نبوت کاذب ہے کافر ہے۔ لعنتی ہے دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ بدبخت ہے مفتری ہے اور قرآن کریم کا منکر ہے۔
مرزا قادیانی کا آخری پیغام اپنی امت کے نام
فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد سلسلہ نبوت کو جاری کرنے والے کافر کی اولاد قرآن کے دشمن اور بے شرم و بے حیا ہیں۔ اے لوگو! اے مسلمانوں کی ذریت کہلانے والو! دشمن قرآن نہ بنو اور خاتم النبیین کے بعد وحی نبوت کا نیا سلسلہ جاری نہ کرو اور اس خدا سے شرم کرو۔ جس کے سامنے حاضر کئے جاؤ گے۔
(خاکسار غلام احمد قادیانی فیصلہ آسمانی ص٢٥، خزائن ج٣ ص٣٤٥)
اعلان عام ایک صد روپیہ انعام
خلیفۃ المسیح ثانی میاں بشیر الدین محمود امیر جماعت احمدیہ قادیان کے نام
میں آپ کو چیلنج دیتا ہوں کہ اگر آپ مرزا قادیانی کو از روئے قرآن شریف وحدیث واقوال مرزا سے نبی ہونا ثابت کردویں اور وہ ایک ٹریکٹ کی صورت میں شائع شدہ ہو اور مولانا محمد علی امیر جماعت احمدیہ لاہور کا مصدقہ ہو اور اس کے جواب الجواب میں ہمارا بیان جو ٹریکٹ کی شکل میں ہوگا۔ بعد از فیصلہ منصف مبلغ ایک سو روپیہ انعام دیا جاوے گا۔
ایم۔ایس خالد وزیرآبادی
مرزائیو! ہمت کرو اور کوشش کرو کہ دو سو پچاس روپیہ کے انعام ہیں۔ ان کو حاصل کرو ورنہ خدا کے لئے سوچو کہ کدھر جارہے ہو۔ یہ سڑک تمہیں کہاں لے جا رہی ہے۔ صراط مستقیم کدھر ہے ایک دن احکم الحاکمین کے دربار میں پیش ہونا ہے۔ شفیع محشر کو کیا منہ دکھاؤ گے۔ خدارا انصاف کرو اگر نبوت کو قبول کرتے ہیں تو بقول مرزا کافر ہوتے ہیں اور اگر نہیں کرتے تو بقول مرزا کافر
٥٨
انکاری ہوں اور آنحضرت ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کا قائل ں اور میرا اس پر ایمان ہے اور ایسا محکم ایمان رکھتا ہوں کہ ہمارے ناب کے بعد اس امت کے لئے کوئی نبی نہیں آئے گا۔ کیونکہ آپ ہے۔ پھر فرماتے ہیں کہ یہ کب ممکن ہے کہ میں مسلمان ہو کر نبوت کا ا کرنے والا مسلمان نہیں ہے۔ پھر اس کی تائید یوں کرتے ہیں کہ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ پھر یوں فرماتے ہیں نبی کے ۔ اور کتاب ہو۔ میں مدعی نبوت کو مفتری کذاب اور لعنتی سمجھتا ہوں ا۔ مجھ کو نبی کہنے والے لعنتی ہیں۔ مجھ کو نبی کہنے والے مفتری ہیں۔ ۔ پھر فرماتے ہیں مدعی نبوت کا ذب ہے کافر ہے۔ لعنتی ہے دائرہ ہے مفتری ہے اور قرآن کریم کا منکر ہے۔
نام اپنی امت کے نام
ضرت ﷺ کے بعد سلسلہ نبوت کو جاری کرنے والے کافر کی اولاد بے حیا ہیں۔ اے لوگو! اے مسلمانوں کی ذریت کہلانے والو! دشمن بعد وحی نبوت کا نیا سلسلہ جاری نہ کرو اور اس خدا سے شرم کرو۔ جس
(خاکسار غلام احمد قادیانی فیصلہ آسمانی ص ٢٥، خزائن ج ٣ ص ٣٣٥)
یہ انعام
ں بشیر الدین محمود امیر جماعت احمدیہ قادیان کے نام ہوں کہ اگر آپ مرزا قادیانی کو از روئے قرآن شریف وحدیث کر دیویں اور وہ ایک ٹریکٹ کی صورت میں شائع شدہ ہو اور مولانا کا مصدقہ ہو اور اس کے جواب الجواب میں ہمارا بیان جو ٹریکٹ کی ف مبلغ ایک سو روپیہ انعام دیا جاوے گا۔
ایم ۔ایس خالد وزیر آبادی
اور کوشش کرو کہ دو سو پچاس روپیہ کے انعام ہیں۔ ان کو حاصل کرو جا رہے ہو۔ یہ سڑک تمہیں کہاں لے جا رہی ہے۔ صراط مستقیم کدھر دربار میں پیش ہونا ہے۔ شفیع محشر کو کیا منہ دکھاؤ گے۔ خدارا انصاف تو بقول مرزا کافر ہوتے ہیں اور اگر نہیں کرتے تو بقول مرزا کافر ٥٨
ہوتے ہیں۔ کدھر جائیں دونوں ہی طریقے صحیح نہیں۔ اس سیدھی سڑک پر آجاؤ جو سیدھی وصاف ہے اور اللہ تعالیٰ سے ملا دیتی ہے۔ وما علینا الا البلاغ المبین!
ناظرین کرام آپ نے مرزا قادیانی کے الہامات و ارشادات ملاحظہ فرمالئے۔ جن کا مطلب سوائے اس کے جو ہماری سمجھ میں آیا اور جو نہایت واضح ہے اور کچھ نہیں جس کا مختصر سا خلاصہ یا لب لباب ناظرین کرام کی یاداشت کے لئے پیش کیا جاتا ہے۔
- ١...... گورنمنٹ برطانیہ کی مدح وستائش حد سے زیادہ کرنا۔
- ٢...... شرک فی التوحید! اور اس کے علاوہ مالک الملک کی ذات بابرکات
پر رکیک حملے جو آج تک کسی قوم اور کسی فرد نے نہیں کئے اور اس کے کرنے کی کسی بد بخت کو جرأت ہی نہیں ہوئی گویا کہ یہ سعادت آپ ہی کے لئے مختص تھی۔
- ٣...... شرک فی النبوت! اور اس کے علاوہ حضور فخر دو عالم کی ذات پر رکیک
حملے اور آپ کے خطابات رحمانیہ کی چوری کر کے اپنے اوپر چسپاں کرنا۔
- ٤...... تمام انبیاء کرام کی توہین کرنا اور خاص کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اور
آپ کی والدہ ماجدہ مریم علیہا السلام کی انتہائی تذلیل و تحقیر کرنا۔
- ٥...... ھل انبئکم کے مصداق جھوٹے الہام بنانا اور ان کا شائع کرنا
- ٦...... شعر گوئی کرنا اور پھر اس پر فخر کرنا اور نبوت کا معیار بنا کر پیش کرنا۔
- ٧...... علماء کرام کو سوقیانہ گالیاں دینا۔ سردار کون و مکاں کی امت کو کنجریوں کی
اولاد کہنا۔
- ٨...... اپنی کلام کو قرآن شریف کے ہم پلہ اور اپنی وحی کو تمام انبیاء کی وحی کے برابر
سمجھنا اور ان دونوں امور پر ایمان رکھنا اور اس پر قسم کھانا۔
- ٩...... قرآن کریم کی تفسیر کو غلط اور اپنے مفید مطلب بیان کرنا اور تمام معجزوں
سے انکار کرنا۔
ہمارا ناول
بسم اللہ الرحمن الرحیم! ہمارا ناول اپریل ١٨٨٠ء سے شروع ہوتا ہے وہ سڑک جو بٹالہ سے شمال مشرق کو گئی ہے اس پر ایک نہایت مختصر سا قافلہ جو ایک ادھیڑ عمر آدمی۔ اس کی بیوی اور تین بچوں پر مشتمل ہے جا رہا ہے۔ ان کے پاس صرف دو گھوڑے ہیں اور چونکہ سر پر چاندنی چمک رہی ہے اور وہ تاروں کی ٥٩
چھاؤں میں آہستہ آہستہ منزل مقصود کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ان کے بشرے سے رعب و سادگی ٹپکتی ہے اور ان کا پھٹا پرانا لباس ان کی غربت اور تنگ حالی کی چغلی کھا رہا ہے۔ قافلہ سالار ادھیڑ عمر کا آدمی چلتے چلتے رک گیا اور چند لمحے ٹھہر کر یوں گویا ہوا کہ اب قادیان آیا ہی چاہتا ہے۔ خدا نے چاہا تو ہم صبح ہونے سے پیشتر ہی پہنچ جائیں گے۔ مگر دیکھو جلدی نہ کرنا۔ حلم و نرمی کو ہاتھ سے نہ دینا۔ خدا چاہے تو معاملہ صحیح ہو جائے گا۔ جلد بازی اور درشت کلامی میں کام بنتے بنتے بگڑ جاتے ہیں اور پھر ہمارا تو بہت ہی نازک معاملہ ہے۔ کوئی دس بیس کی بات نہیں پانچ چھ ہزار کی زمین ہے۔ اگر مل گئی تو اس کی آمدنی خاندان بھر کے لئے کافی ہے۔
بھئی! کیا میں بے وقوف ہوں جو خواہ مخواہ بنتی کو بگاڑوں گی۔ منت سماجت جس طرح سے بھی ہوگا اپنی نند بھاوج سے کام نکال ہی لوں گی۔ میری محمدی اللہ رکھے اب تو جوان ہو چکی ہے۔ مجھے اس کے پروان چڑھانے کا فکر ہلکان کئے رہتا ہے۔ کوئی وقت نہیں جو ان خیالات سے ایک گونہ سبکدوش بیٹھ سکوں۔
میاں! خیر جو اللہ کو منظور ہوگا ہو جائے گا۔ سردست جس کام کو آئے ہو اس کو سرانجام دو۔ مجھے تو محمد بیگ کی صحت کا ہی اندیشہ رہتا ہے۔ آٹھ سالہ بچہ اور یوں ناتوانی۔ غرضیکہ یہ یونہی خانگی معاملات میں مستغرق جا رہے تھے کہ یکا یک مؤذن کی آواز سے چونک پڑے اور اب یہ بستی کے نہایت ہی قریب تھے۔
علی الصبح یہ مختصر سا قافلہ قادیان پہنچا۔ شوہر میاں کی ہمشیرہ نے پر تپاک خیر مقدم کیا۔ سر آنکھوں پر جگہ دی۔ عزیزی محمدی و محمد بیگ کی بلائیں لیتے لیتے پھوپھہ اماں کا منہ خشک ہوا جاتا تھا۔ مگر سیر نہ ہوتی تھی اور محمود تو گویا حقیقی والدہ کو بھول ہی گیا وہ پھوپھہ کی گود میں بیٹھا رہتا اور میٹھی میٹھی باتوں سے دل لبھاتا رہتا۔ وہ بیچاری بھی اس شیریں میوے کی مٹھاس کی چاہت میں مدتوں پیاسی رہی تھی اور آخر بڑھاپے نے اس امید کو منقطع کر دیا۔ بھائی کی اولاد کو اپنا سمجھی۔ دیکھ کر باغ باغ ہوتی اور پھولے نہ سماتی۔ خدا کا شکر بجا لاتی اور ان کی خاطر تواضع میں حتی المقدور کوئی دریغ نہ رکھتی۔ اس کی زندگی کا سہارا اب یہ ننھے بچے ہی تھے اور ان پر وہ ہزار جان قربان تھی۔
سچ ہے جس چیز سے زیادہ محبت ہو اسی میں زیادہ تکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔ محمود جو خاندان کا سب سے پیارا بچہ تھا بارش میں دن بھر کھیلتا کودتا رہا۔ رات آرام سے سویا مگر صبح جو اٹھا تو بدن کچھ گرم تھا۔ اماں پھوپھہ نے بلائیں لیں۔ سر منہ چوما اور کہنے لگی نصیب دشمناں تمہیں تو بخار ہے۔ شاید گلے ہوں کچھ ناشتہ کرایا۔ مگر کچھ کھایا نہیں۔ پڑ کر سو رہا وہ بیچاری بھی گھر کے دھندوں
٦٠
میں اسی مشغول ہوئی کہ بارہ بج گئے ۔
محمود کی ماں جو کسی رشتہ دار کے ہاں ملاقات کو گئی تھی آئی تو بچہ کی حالت اور بھی زیادہ بگڑ چکی تھی ۔ مگر ابھی تک ہوش وحواس درست تھے۔ ہمک کر ماں کی گود میں آ گیا مامتا کی ماری بچہ کو دیکھ کر مبہوت ہو گئی اور کہا آپا محمود کے دشمن کب سے ناساز ہو گئے ۔ اس کا تو بدن تپا ہو رہا ہے۔ پھوپھو لپک کر پہنچی تو دیکھا بڑی شدت کا بخار ہے۔
”میں سمجھی محمود آنگن میں سو رہا ہے تم آج گھر میں نہ تھیں ۔ مگر بھاڑ میں پڑیں وہ کام جن میں میں اس قدر منہمک رہی ۔ اماں پھوپھو نے کہا۔“
قریب ہی محلہ میں وید صاحب رہتے تھے انہیں لایا گیا۔ حسب ہدایت دوائی دی جانے لگی مگر بخار ہی میعادی نکلا۔
آج محمود کا بخار صبح بہت ہلکا تھا اور ہوش بجا تھے اور چہرہ بھی کچھ نکھرا ہوا تھا۔ گو نقاہت و کمزوری تھی ۔ مگر بخار کو تو بھی آج بیس روز ہو چکے تھے ۔ وید صاحب کہنے لگے آج بچہ کی حالت اچھی ہے۔ رات بحران پڑے گا۔ ہوشیار رہنا۔ بچہ کمزور ہے دوالمسک چار دفعہ دے دینا امید ہے نرنکار اچھے کر دے گا۔
یہ رات بھی بڑی بے چینی سے جاگتے ہی گزری مگر شکر ہے صبح بخار اتر گیا اور جان میں جان آئی تو منتیں جو اللہ کی راہ میں مانی گئی تھیں پوری کیں اور شکرانے کے نوافل ادا کئے ۔
نند بھاوج میں ایک دن برسبیل تذکرہ محمدی کی شادی کے متعلق ہوا۔ اس کی ماں نے اپنی غربت اور اس کے جوان ہونے کی نسبت بھرے دل سے کچھ ایسے درد انگیز موثر لہجہ میں بات کرنی شروع کی کہ بھاوج کا دل بھر آیا اور اس نے تسلی آمیز لہجہ میں کہا بھائی کے سوا میرا اس دنیا میں کون ہے۔ اللہ رکھے وہی ایک ماں باپ کی نشانی باقی ہے۔ تمہارے بہنوئی کو آج پچیس برس ہوئے مفقود الخبر ہیں اور اب تو امید ہی باقی نہیں رہی کہ وہ واپس آئیں۔ خدا معلوم کہ وہ کیا ہوئے ۔ انتظار کرتے کرتے میں بوڑھی ہو گئی اور اب تو قبر کے کنارے کھڑی ہوں۔ یہ کھیت کنویں میرے کس کام کے۔ انہیں ساتھ تھوڑا ہی لے جاؤں گی۔ بھائی کی اولاد میری اولاد ہے اور پھر تم کہتی ہو کہ ضرورت بھی شدید ہے تو پھر تم ایسا کرو کہ یہ بچے کے نام مجھ سے ہبہ کرالو۔ اس میں ایک چھوٹی سی دقت تو پیش آئے گی۔ لیکن اللہ مشکل آسان کرے گا۔ یہ زمین میرے مہر کی ذاتی جائیداد ہے۔ تمہارے بہنوئی کے چچازاد بھائی غلام احمد (مرزا) کی رضامندی لینی پڑے گی۔ بھلا مانس آدمی ہے ایک دو کے کہنے سے مان جائے گا۔
محمود کے ابا جب گھر تشریف لائے تو ان سے تذکرہ ہوا وہ ہمشیرہ کی اس فیاضی پر عش عش کر اٹھے۔ دعائیں دیں اور شفقت کا ہاتھ سر پر رکھا۔ والدین کی یاد میں آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ بہن کو سینے سے لگایا۔ جی کو ذرا چین آیا بعد میں بہت دیر تک ان کا ذکر خیر کرتے رہے۔ آخر ان کے حق میں دعائے مغفرت کی کھانا کھایا اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد میٹھی نیند سو گئے۔
محمود کے ابا شب زندہ دار آدمی تھے۔ ان کا قاعدہ تھا کہ وہ نماز تہجد گزارنے کے لئے رات تین بجے ہی سے اٹھ بیٹھتے اور پھر نماز اشراق ادا کرنے کے بعد کچھ ناشتہ کیا کرتے تھے۔ آج بھی حسب معمول اٹھے ناشتہ کیا تو ہمشیرہ نے مرزا قادیانی کے پاس ان کی رضامندی لینے کے لئے جانے کو کہا۔ فرمانے لگے بہن وہ آدمی کسی اور ڈھب کا ہے میں اس کی طبیعت کو اچھی طرح جانتا ہوں کچھ نہ کچھ دیکھنا ضرور روڑا اٹکائے گا۔ اچھا تمہارے کہے چلا جاتا ہوں۔ مگر دل اجازت نہیں دیتا اور طبیعت نہیں مانتی۔
مرزا قادیانی اپنے آبائی کچے مکان میں بیٹھے کچھ مطالعہ فرما رہے تھے۔ باہر سے کسی نے دروازہ پر دستک دی آپ نے خادم کو فرمایا میاں علیم دیکھنا باہر کون آیا ہے۔
علیم ! جو ایک لانبا سا آدمی ہوت مگر بہت غریب معلوم ہوت۔
مرزا قادیانی! ارے کم بخت پاجی یہ تمہیں کس نے پوچھا کہ وہ غریب ہے یا امیر لمبا ہے یا چھوٹا۔ نالائق کہیں کا جا اس کا نام پوچھ کون ہے اور کہاں سے آیا ہے۔
علیم ! بہت اچھا جو رابی لو۔ تم کون ہوت ہو بھائی۔ جلتی بتاؤ اور تمہارے گھرت کدھر ہوت۔
احمد بیگ ! میرا نام احمد بیگ ہے اور گھر کیا تو نے مول لینے ہیں۔ جا اتنا کہہ دے وہ سمجھ جائیں گے۔ (علیم کے چلے جانے کے بعد) یہ عدالت ہے یا مرزا قادیانی کا گھر پندرہ منٹ کھڑے کھڑے ہو گئے ابھی تک باریابی ہی نہیں ہوئی۔ دل تو چاہتا ہے بغیر ملاقات کے ہی واپس چلا جاؤں۔ مگر بہن کو کیا جواب دوں گا اور پھر غرض اللہ اس سے محفوظ رکھے بڑی بری چیز ہے۔
مرزا قادیانی! اچھا جا ان کو اندر لے آ۔
خدا خدا کر کے اندر آنے کی اجازت ہوئی۔ علیک سلیک کے بعد عہد نامہ کا ماجرا بیان کیا۔ مرزا قادیانی چپکے سے سنتے رہے۔ جب احمد بیگ کچھ خاموش ہوئے۔ پانچ منٹ سے کچھ زیادہ وقفہ گزر گیا اور جواب نہ پایا تو مکرر عرض کیا گیا جواب ملا بھائی احمد بیگ میں نے تمہاری رام کہانی سن لی۔ مگر اس کا جواب ابھی نہیں دے سکتا۔ پھر کبھی دوں گا۔ ابھی تو مجھے اس کی تحقیق کرنا
٦٢
ہے کہ کہاں تک درست ہے اور ہمارا قاعدہ ہے کہ ہم ہر بات میں استخارہ کیا کرتے ہیں۔ سو کیا جائے گا اور اس کے بعد تمہیں صحیح رائے دی جاوے گی۔
احمد بیگ کے چلے جانے کے بعد مرزا قادیانی ایک گہری سوچ میں پڑ گئے اور دل ہی دل میں اس کے متعلق اپنے تخیل میں پرواز کرنے لگے۔ آخر چھ سات ہزار کی اراضی ہے گو اس کے اپنے ہی مہر کی ہے۔ مگر یونہی دے دی جائے آخر اس میں ہمیں بھی حق پہنچتا ہے۔ ہماری مرضی بغیر وہ کسی صورت بھی نہیں لے سکتا اور پھر اس کی وفات کے بعد ہم ہی وارث ہیں۔ ہاں ایک خیال ہے جو مدت سے بے چین رکھتا ہے۔ مگر کیا کروں جس پر دل ہزار جان قربان ہے اور جو آنکھوں میں ہر وقت سمایا رہتا ہے زبان پر اسے لاتے کچھ شرم سی آتی ہے۔ گویم مشکل وگر نہ گویم مشکل۔ ہاں بات بھی کچھ معیوب ہی ہے میری عمر پچاس برس سے زائد ہے۔ لوگ کیا کہیں گے ایسا نہ ہو ہنسی اور مضحکہ اڑائیں۔ مگر دل کے ہاتھوں مجبور بھی ہوں۔ یہ کم بخت ضرور بدنام کر کے ہی رہے گا۔ غرضیکہ یہی خیالی پلاؤ ہر روز پکائے جاتے مگر کم بخت پکنے کو نہ آتے اور معاملہ اگلے روز پر ملتوی رہ جاتا۔
مرزا قادیانی سے رخصت ہو کر میاں احمد بیگ سیدھے گھر پہنچے جہاں بڑی شدت سے آپ کا انتظار ہو رہا تھا اور خاص کر بہن تو ہر وقت چشم براہ تھی۔ بھائی سے دیر کر کے آنے کا سبب دریافت کیا۔ چہرا کچھ اترا ہوا سا تھا اور طول سے قصے کہنے لگے میں نہ کہتا تھا کہ وہ میرا دیکھا بھالا ہے۔ کوئی بات ضرور بنائے گا۔ بہن بولی آخر انہوں نے کچھ کہا بھی کیا جواب دیا تو کہنے لگے بس یہی کہ استخارہ کرنے کے بعد تم کو جواب دیا جائے گا۔ مگر ان کا طرز کلام کچھ ایسا تھا کہ اسے خطرہ سے خالی نہیں سمجھنا چاہئے۔
احمد بیگ حسب وعدہ مرزا قادیانی کے در دولت پر حاضر ہوا۔ اطلاع کرائی گئی اور نام بھی پہلے ہی بتا دیا گیا۔ تا کہ کھڑا رہنے کی زحمت سے نجات رہے۔ اجازت ہوئی تو خلاف معمول آج خندہ پیشانی سے خوش آمدید ہوئی۔ دل میں حیران ہوئے کہ بار الہا آج کیا معاملہ ہے جو یوں کرم ہو رہا ہے۔
سلسلہ گفتگو شروع ہوا جو پر تپاک تھا۔ بچپن کے زمانہ کی باتیں گذشتہ عمر کے واقعات کچھ ایسی وضاحت سے بیان کئے جن سے وہ محظوظ ہونے لگے۔ مگر ان میں چاپلوسی کی چاشنی بھی معلوم ہوتی تھی۔ بہر حال احمد بیگ ان باتوں سے متاثر ہونے سے نہ رہ سکا اور اس نے بھی چند ایک واقعات دہرائے۔ انہیں خوش گپیوں میں چائے بھی آگئی۔ چائے کے دوران میں ملاقات
٦٣
کی غرض اولاد کا ذکر جو لائے تو مرزا قادیانی نے عمداً ٹالنے کی کوشش کی اور نہایت بے نیاز لہجہ میں کہنے لگے کہ فرصت ہی نہیں ملی مگر سچی بات ہے۔ مجھے تم سے کوئی گریز تھوڑا ہے رہا استخارہ تو وہ کل اللہ چاہے وقت نکال کر ضرور کر ہی لیا جائے گا۔ اپنے بس کی چیز ہے۔ ہو ہی جائے گی۔
اب چونکہ وقت بہت گزر چکا تھا۔ اس لئے اجازت لے کر مرزا قادیانی سے رخصت ہو کر مکان پر پہنچے تو گھر کے لوگ اور ہمشیرہ وظیفے میں مشغول تھے۔ گو اس وقت رات کے بارہ بج چکے تھے۔ مگر ابھی تک یہ اللہ کی بندیاں بیٹھی انتظار کر رہی تھیں۔
میاں احمد بیگ اس ہیر پھیر میں کوئی بیسیوں دفعہ مرزا کے مکان پر گئے مگر وعدہ فردا ہی لے کر واپس لوٹے۔ لیکن محبت کی پینگ ہر موقعہ پر پہلے سے زیادہ ہی بڑھائی جاتی۔ تواضع وانکساری تو پہلے ہی بام رفعت تک پہنچ چکی تھی۔ آخر مرزا قادیانی نے ایک دن حتمی وعدہ کیا کہ صبح استخارہ ضرور کیا جائے گا اور یہاں تک مہربان ہو گئے کہ گھر تک چھوڑ آنے کو تیار ہو گئے بہت اصرار کیا کہ حضرت میں خود چلا جاؤں گا۔ آپ تکلیف نہ فرمائیں۔ لیکن وہ کچھ ایسے مصر ہوئے کہ باتیں کرتے کرتے میاں احمد بیگ کے مکان پر جس میں وہ ان دنوں مقیم تھے تشریف لے آئے۔ انہوں نے مناسب جانا کہ یہ چند منٹ آرام کرنے کے بعد واپس جائیں۔ اس لئے دروازہ پر ان کو رخصت نہ کیا۔ بلکہ اندر لے آئے۔ چونکہ ان کے سب اپنے ہی عزیز و اقارب تھے۔ اس لئے پردہ کس سے ہو سکتا تھا۔ چنانچہ سب ان کی ملاقات کے لئے ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
مرزا قادیانی نے یہاں سلسلہ کلام محمدی بیگم کی تعلیم سے شروع کیا اور جب یہ معلوم ہوا کہ وہ با ترجمہ قرآن مجید ختم کر چکی ہے تو بہت خوش ہوئے اور تھوڑی دیر ایک آدھ بات کرنے کے بعد اپنے مکان پر واپس آکر بستر پر لیٹ گئے۔
آدھی رات کا وقت ہے ہر طرف ہو کا عالم چھایا ہوا ہے۔ خاموشی اس کی حمد کا ترانہ گانے میں محو ہے۔ گاہ گاہ ہوا کا خفیف سا جھونکا پتوں میں کچھ حرکت پیدا کر دیتا ہے۔ جس سے اس پراسرار سنسنی کی فضا نامانوس معلوم ہوتی ہے۔
خدا کی مخلوق سوتی پڑی ہے لیکن ہمارے مرزا قادیانی بستر غم پر بڑی بے قراری سے بار بار کروٹیں بدل رہے ہیں اور نیند کے لئے ہزار کوشش کرتے ہیں۔ مگر وہی عاشقوں والی بات ہے جو غالب کی غزل پر تضمین باندھی ہے۔
نیند آتی ہے پر نہیں آتی
٦٤
مجبوراً بے کل پڑے کچھ کچھ گنگنا رہے ہیں۔
اے اسیرانِ چمن میں نو گرفتاروں میں ہوں
اف کس بلا کا جوبن تھا کیسی پیاری پیاری باتیں اپنے بھائی سے کر رہی تھی وہ جوانی کے جوبن سے مست اور سرمگیں آنکھیں اور اس میں چتونوں والی سحر طرازیاں کہ حوریں بھی دیکھ کر لوٹ پوٹ ہو جائیں۔ آہ اس کے نیم شگفتہ غنچئہ رخسار جو گلاب کے پھول کو شرما رہے تھے اور اسکے کنگر والے گیسو! وہ کالے ناگ جو اپنی جوگن کے گرد جھوم رہے تھے۔ ہاں وہ اس کے متاعِ حسن کے پاسبان تھے جو خزانے کے اوپر بیٹھے حفاظت کر رہے تھے۔ ہائے غضب ہو گیا میں تو کہیں کا نہ رہا۔ بسمل تو پہلے ہی تھا۔ اب اس کی پلکوں نے تو خدا کی پناہ وہ تیر برسائے کہ کلیجہ چھلنی ہو گیا۔
آگے تھا صد برگ یہ اب گل ہزارہ ہو گیا
غرضیکہ بہت دیر اس نہ ختم ہونے والی الجھن میں کروٹیں بدلتے رہے اور تدبیریں سوچا کئے آخر بڑی رد و کد کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے کہ استخارے کا مکر اسی پر ختم کرنا چاہئے اور ایک ایسی بات بنانی چاہئے جس میں سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی بچی رہے پھر امید واثق ہے۔ یہ معاملہ بخیر و خوبی طے ہو جائے گا۔ اس اطمینان پر وہمات سے دل کی دھڑکن ذرا کم ہوئی اور اسی امید موہوم کے سہارے اب چند گھنٹوں کے لئے اس رباعی کو پڑھتے پڑھتے سو گئے۔
آنرا کہ بنا شد غمی از زاری من
تو خفتہ بمہدِ عیش شبہائے دراز
آیا داری خبر زبِیداری من
میاں احمد بیگ نمازِ اشراق سے فارغ ہوئے ہی تھے کہ ہمشیرہ صاحبہ ناشتہ لے آئیں اور مرزا قادیانی کا وعدہ یاد دلا کر تاکید کی کہ آج ضرور فیصلہ کر کے آنا زندگی کا بھروسہ نہیں میں چاہتی ہوں کہ اس کام کو جلد سرانجام دوں پرسوں اللہ بخشے نانا ابا کی خواب میں ملاقات ہوئی تھی فرماتے تھے۔ بیٹی جلد تو ہمارے پاس پہنچ جاوے گی۔ یہ آثار کوچ کے ہیں اور میرا دل بھی پرسوں سے ایسا ہی ہے۔ کچھ بیمار سی ہوں۔ اس لئے آج ضرور جس طرح سے بھی ہو سکے فیصلہ کر کے آنا۔
میاں احمد بیگ قریباً دس بجے دن کے مرزا قادیانی کے پاس ان کے دولت کدہ پر حاضر
٦٥
ہوئے تو آپ کو مراقبہ میں پایا۔ آپ نصف گھنٹہ بھر بالکل ساکت وصامت بیٹھے انتظار کرتے رہے۔ جب مراقبہ سے فراغت حاصل ہوئی تو علیک سلیک کے بعد عرض کیا کہ کیا آپ نے استخارہ کر لیا۔ جس کے متعلق آپ نے کل وعدہ کیا تھا تو آپ نے جواب دیا کہ ابھی تک تو نہیں کیا مگر تم تو کسی کی بات پر اعتبار ہی نہیں کرتے ہو اور خواہ مخواہ روز دق کرتے ہو۔ آخر یہ کوئی منہ کا نوالا نہیں چھ ہزار کی اراضی ہے۔ اس کے جواب میں میاں احمد بیگ نے اس اراضی کی ملکیت کے متعلق اپنی ہمشیرہ کا جو نام لیا تو غصہ سے آگ بگولا ہو گئے اور بالکل انکار کر دیا۔ اتنا رعب چھایا کہ مرزا احمد بیگ کانپ اٹھا اور بلکہ رو بھی دیا۔ آخر آپ نے منت وسماجت اور انتہائی عاجزی سے کام لیا۔ مگر حضرت صاحب غصہ میں اس قدر آئے کہ نہ مانے اور وہ بیچارا آنسو پونچھ کر چل دیا۔
میاں احمد بیگ نہایت ہی افسردہ خاطر گھر پہنچا۔ گھر والوں کو تمام ماجرا بیان کیا اور تعجب ظاہر کیا کہ آج معلوم نہیں کیا بات ہے اور اس کے کیا اسباب ہیں رشتہ داری کے علاوہ گہرا دوستانہ اور بچپن کے ساتھ کھیلے بھائی مگر ایسی ترشروئی کی امید نہ تھی۔ غرض ایسی ہی باتیں شکوہ بہت دیر تک بیوی سے کہتے رہے۔ وہ بولی میں خود جاؤں گی تم کو معلوم نہیں مگر میں جانتی ہوں ان کو مراق کا کبھی کبھی دورہ ہوتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ وہ آج مجبور تھے ورنہ تم جانتے ہو وہ کبھی بھی تم سے اس طرح پیش نہ آتے ۔ تم ہی روز ان کی تعریفیں کیا کرتے ہو۔ یہ مرض ان کا خاندانی ہے۔
چنانچہ دوسرے روز زوجہ میاں احمد بیگ مرزا قادیانی کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ نے بڑی خوش خلقی سے کہا آؤ بہن آپ نے نہایت درجہ کی نوازش فرمائی کہ غریب خانہ کو رونق بخشی۔ کہو کیا حکم ہے۔ مجھ کو ہی بلا لیا ہوتا۔ آپ کو تکلیف ہوئی معاف رکھنا۔ تو بہن نے ہبہ نامہ کا تذکرہ کیا جس پر مرزا قادیانی نے کہا کہ میں ایسے ذمہ داری کے کاموں میں ہمیشہ خدا سے استخارہ کیا کرتا ہوں۔ سوانشاء اللہ استخارہ کرنے کے بعد تمہاری مدد کروں گا۔ مطمئن رہو۔ چنانچہ وہ کچھ دیر ٹھہرنے کے بعد واپس چلی گئی۔
چند روز کے بعد پھر میاں احمد بیگ مرزا قادیانی کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ مگر آج کی ملاقات پہلے رنگ میں تھی۔ جب باتوں باتوں میں اصل مطلب پر معاملہ پہنچا تو فرمایا ایک چیز کی جو میرے پاس ہے تم کو ضرورت ہو یا تمہارے پاس ہو اور مجھ کو ضرورت ہو تو ایسی حالت میں ہم دونوں کو معاملہ واحد ہی خیال کرنا چاہئے۔ احمد بیگ نے اس پر صاد کیا۔ مرزا قادیانی ایک گھنٹہ کامل مراقبہ میں رہے اور اس کے بعد احمد بیگ کو یاد کیا وہ دیوان خانہ میں بیٹھے کوئی کتاب دیکھ رہے تھے۔ جب وہ حاضر ہوئے تو آپ نے حسب ذیل استخارہ جو منجانب خدا بیان کیا گیا تھا بیان
٦٦
فرمایا۔ لیکن اس سے پہلے اپنی نبوت اور وحی اور الہامات کے صدور وغیرہ کے متعلق تمہیداً ایک نہایت ہی مبسوط تقریر فرمائی:
”فاوحی اللہ الیّ ان اخطب ابنتہ الکبیرۃ لنفسک وقل لہ لیصاہرک اولا ثم لیقتبس من قبلک وقل انی امرت لاھبک ماطبت من الارض وارضاً اخریٰ معھا واحسن الیک باحسانات اخریٰ علٰی ان تنکحنی احدیٰ بناتک التی ھی کبیرتھا وذالک بینی وبینک فان قبلت فستجدنی من المتقبلین وان لم تقبل فاعلم ان اللہ قد اخبرنی ان انکاحھا رجلا اخر لا یبارک لھا ولا لک فان لم تزوجوا فیصب علیک مصائب وآخر المصائب موتک فتموت بعد النکاح یموت بعلھا الذی یصیر زوجھا الیٰ حولین وستۃ اشھر قضاء من اللہ فاصنع ما انت صانعہ وانی لک لمن الناصحین فعبس وتولیٰ وکان من المعرضین“
”یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھ پر وحی نازل کی کہ اس شخص (احمد بیگ) کی بڑی لڑکی کے نکاح کے لئے درخواست کر اور اس سے کہہ دے کہ پہلے وہ تمہیں دامادی میں قبول کرے اور پھر تمہارے نور سے روشنی حاصل کرے اور کہہ دے کہ مجھے اس زمین کے ہبہ کرنے کا حکم مل گیا ہے جس کے تم خواہشمند ہو۔ بلکہ اس کے علاوہ اور زمین بھی دی جائے گی اور دیگر مزید احسانات تم پر کئے جائیں گے۔ بشرطیکہ تم اپنی بڑی لڑکی کا مجھ سے نکاح کر دو۔ میرے اور تمہارے درمیان یہ عہد ہے تم مان لو گے تو میں بھی تسلیم کرلوں گا۔ اگر تم قبول نہ کرو گے تو خبردار رہو۔ مجھے خدا نے یہ بتلا دیا ہے کہ اگر کسی اور شخص سے اس لڑکی کا نکاح ہوگا تو نہ اس لڑکی کے لئے نکاح مبارک ہوگا اور نہ ہی تمہارے لئے۔ اس صورت میں تم پر مصائب نازل ہوں گے۔ جن کا نتیجہ تمہاری موت ہوگا۔ پس تم نکاح کے بعد تین سال کے اندر مر جاؤ گے۔ بلکہ تمہاری موت قریب ہے اور ایسا ہی اس لڑکی کا شوہر بھی اڑھائی سال کے اندر مر جائے گا۔ یہ اللہ کا حکم ہے۔ پس جو کرنا ہے کرلو۔ میں نے تم کو نصیحت کر دی۔ پس وہ تیوری چڑھا کر چلا گیا۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٧٢ ، ٥٧٣، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
ناظرین میں گزشتہ واقعات کی تصدیق بھی لگے ہاتھ کئے جاتا ہوں۔ جو مرزا قادیانی نے اپنی مایہ ناز کتاب آئینہ کمالات اسلام کے ص ٥٦٩ تا ٥٧٤ بیان فرمائی ہے۔ جس کا ایک نقشہ میں سابقہ واقعات میں ناظرین کرام کی واقفیت کے لئے پیش کیا ہے۔
٦٧
میاں احمد بیگ چپ چاپ سیدھا گھر واپس لوٹا۔ مگر زبان سے ایک لفظ تک بھی نہیں نکالا۔ قدم لڑکھڑاتے تھے۔ رکھتا کہیں تھا اور پڑتے کہیں تھے۔ تن میں رعشہ، دماغ مختل، بدن پسینہ سے شرابور، آنکھوں تلے اندھیرا، زبان میں لکنت، دل پر وحشت، طبیعت میں نفرت اور غصہ اور آنکھوں میں خون اتر آیا تھا۔ مگر واہ رے شرافت و ہمت الہام سن کر پی ہی گیا اور اف تک نہ کی۔ گھر میں بچہ بیمار تھا۔ اس کی حالت نہایت نازک ہو چکی تھی۔ کنبہ بھر تیمارداری میں مشغول تھا۔ حالات لمحہ بہ لمحہ خراب ہو رہے تھے۔ آنکھوں میں حلقے پڑ چکے تھے اور زبان کانٹوں کی طرح خشک ہورہی تھی۔ نقاہت و کمزوری شباب پر پہنچ چکی تھی۔ غریب اس صدمے کو دیکھ کر مبہوت سا ہو گیا گویا مر ہی گیا اور بت کی طرح ساکت و صامت دیکھنے کا دیکھتا رہ گیا۔ کوئی آدھ گھنٹے بعد کچھ ہوش و حواس قدرے بجا ہوئے تو بچہ کی تکلیف کو نہ دیکھ سکا اور سیدھا مسجد چلا گیا وضو کیا اور سجدے میں گر گیا۔ جناب الہی میں بڑی التجاء و زاری سے گڑگڑا کر دعا مانگی۔ بار الہی میں ناتوان و کمزور بے کس و بے بس تیری ادنیٰ مخلوق، گندے مادے کا ایک ناپاک قطرہ اور وہ بھی ابتلاء و مصیبت میں مقید طاغوتی طاقتوں کا شکار ہورہا ہے۔ مجھ گنہگار سیہ کار و بد بخت کو امتحان میں نہ ڈال۔ لیکن اگر تیری مشیت اسی کی مقتضی ہے تو صبر و استقلال شجاعت و ہمت عطاء کر اور اپنا خاص فضل و کرم میرے شامل حال کر اور رحمت کے دروازے مجھ پر کھول دے۔ خداوند! مسیلمہ ثانی مجھ سے تیری چوکھٹ توحید اور تیرے پیارے محبوب کی شریعت سے کنارہ کشی کرانے پر بضد ہو رہا ہے اور اس کے عوض زینت الحیات دنیا دینا چاہتا ہے۔ قلب سلیم و نفس مطمئن دے کے تیرے پیارے محبوب کملی پوش کا غلام پھر ایک دفعہ خیر القرون کا منظر پیش کرے۔ خداوندا!۔۔
پھر کسی کو پھر کسی کا امتحان مقصود ہے
گنہگار ہوں سیہ کار ہوں اپنی رحمت سے اپنے کرم سے بخش دے۔ معاف کر دے۔ خداوندا درویش غمناک کو جو تیرہ بختی کے جامہ میں ملبوس ہے۔ نجات دے اور اس کے ننھے بچہ پر کرم کر احسان کر اور اگر اس کی زندگی پوری ہو چکی ہے اور تیرا یہ ہی حکم ہے تو اپنی امانت واپس لے لے۔ میں راضی ہوں۔ تیری رضا پر اور شاکر ہوں تیرے حکم پر یا اللہ اپنے پیارے دین پر قائم رکھ اور اسی پر ماریو۔ دعا سے فارغ ہوئے تو معلوم ہوا بچہ کب کا رخصت ہو چکا تھا۔ اناللہ وانا الیہ راجعون! کہہ کر خاموش ہوگئے۔
مرزا قادیانی نے کمال عرق ریزی و دماغ سوزی سے یہ مصنع و مقطع عبارت بڑی
٦٨
واپس لوٹا۔ مگر زبان سے ایک لفظ تک بھی نہیں تے کہیں تھے۔ تن میں رعشہ، دماغ مختل، بدن سکتہ، دل پہ وحشت، طبیعت میں نفرت اور غصہ ت و ہمت الہام سن کر پی ہی گیا اور اف تک نہ ک ہو چکی تھی۔ کنبہ بھر تیمار داری میں مشغول تھا۔ حلقے پڑ چکے تھے اور زبان کانٹوں کی طرح خشک غریب اس صدمے کو دیکھ کر مبہوت سا ہو گیا گویا لیجے کا دیکھتا رہ گیا۔ کوئی آدھ گھنٹے بعد کچھ ہوش سکا اور سیدھا مسجد چلا گیا وضو کیا اور سجدے میں گر ڑا کر دعا مانگی۔ بار الہی میں ناتوان و کمزور بے کس ، ناپاک قطرہ اور وہ بھی ابتلاء و مصیبت میں مقید کار و بد بخت کو امتحان میں نہ ڈال۔ لیکن اگر تیری ت و ہمت عطاء کر اور اپنا خاص فضل و کرم میرے ل دے۔ خداوند! مسیلمہ ثانی مجھ سے تیری چوکھٹ کنارہ کشی کرانے پر بضد ہو رہا ہے اور اس کے عوض س مطمئن دے کے تیرے پیارے محبوب کملی پوش ہے۔ خداوند! اے
ا کا امتحان مقصود ہے
ت سے اپنے کرم سے بخش دے۔ معاف کر دے۔ میں ملبوس ہے۔ نجات دے اور اس کے ننھے بچہ پر ہوچکی ہے اور تیرا یہ ہی حکم ہے تو اپنی امانت واپس لے ہوں تیرے حکم پر یا اللہ! اپنے پیارے دین پر قائم رکھئیو دم ہوا بچہ کب کا رخصت ہو چکا تھا۔ انا للہ وانا بڑی دماغ سوزی سے یہ تصنع و مقفع عبارت بڑی ٦٨
جانفشانی سے بہت سا قیمتی وقت ضائع کرنے کے بعد بنائی تھی اور یقین واثق و گمان غالب تھا کہ اتنی سوچ و بچار کے بعد جو الہام بنایا گیا ہے اور جس پر منجانب اللہ ہونے کا رنگ دیا گیا ہے ضرور رنگ لائے گا اور گوہر مقصود سے دامن مراد یقیناً بھر جائے گا۔ مگر یہ تیوری کیوں چڑھائی گئی۔ اس کا مطلب میری سمجھ میں خاک نہ آیا۔ کیا اس کو ناگوار ہوا نہیں یقیناً نہیں۔ اگر ناگوار گزرتا تو منہ پر کہنے سے وہ کب چوکنے والا تھا کہتا اور ضرور کہتا۔ مگر نہیں آخر لڑکی والے خوش تھوڑے ہی ہوتے ہیں۔ ایک حجاب سا ہوتا ہے جو رفتہ رفتہ باہم میل جول سے دور ہو جاتا ہے اور بغیر مشورہ وہ جواب کس طرح دے سکتا تھا۔ کوئی فکر کی بات نہیں۔ ہمارے واقعات ہی کچھ ایسے ہیں جو چار و ناچار اس کو رضامند کرنے پر مجبور کئے بغیر نہ چھوڑیں گے اور پھر اس پیچ در پیچ کی رشتہ داری کے علاوہ ایک کافی مالیت کی اراضی ہے جو بغیر ہماری رضا مندی کے وہ لے بھی نہیں سکتا۔ غرض انہیں خیالات میں محو تھے اور خاموشی میں خیالی پلاؤ بڑی بے دردی اور لاپرواہی سے نوش فرما رہے تھے۔
میاں احمد بیگ جب خدا کی امانت کو سپرد خاک کر چکے اور غم غلط ہو چکا تو رفیق حیات نے عرض کیا ہاں تو آپ کو مرزا قادیانی نے کیا جواب دیا تھا۔ مجھے بھی بتایا ہوتا۔ مگر یاد آیا اسی دن تو محمود، اللہ کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے رخصت ہو رہا تھا۔ کسے بتایا جاتا۔ آخر آپ اس قدر پریشان کیوں ہو، میں جانتی ہوں کہ آپ مجھ سے بڑھ کر خدا پر بھروسہ رکھنے والے ہیں۔ مگر غم و صدمہ پھر بھی اپنا اثر دکھائے بغیر نہیں رہتا۔ اس کی چیز تھی وہ لے گیا۔ ہماری ہوتی تو ہمارے پاس رہتی۔ یہ دنیا ناپائیدار ہے۔ یہ تو ایک مسافر خانہ ہے ہزاروں مسافر یہاں روز آتے ہیں اور ہزاروں ہی روز اپنا بستر لپیٹ روانہ ہو جاتے ہیں ۔
کسی کا کوچ کسی کا مقام ہوتا ہے
خوش نصیب وہ والدین جو جزع فزع نہیں کرتے اور اس کی رضا پر شاکر و صابر رہتے ہیں۔ انہیں کے لئے اس کے نعم البدل ہیں اور وہی جنت کے مالک ہوں گے۔
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ تین دن سے زیادہ سوگ میں نہ رہا کرو۔ آخر آپ جواب کیوں نہیں دیتے۔ کیا کچھ قصور ہوا۔ معاف کرو اور بتاؤ کہ مرزا قادیانی نے جو استخارہ کا وعدہ
٦٩
کیا تھا کیا جواب دیا۔ میاں کا دل بیوی کی باتوں سے بھر آیا۔ عزیز کی بے وقت مفارقت اور اس پر مرزا قادیانی کے کچوکے جو لگے، زخم تازہ تھے کھل گئے اور دل پر چوٹ جو لگی تو چند بے بہا موتی جو ایسے وقت میں دامن رخسار پر بکھر جایا کرتے ہیں بکھر گئے۔ بیوی میاں کی اس حالت کو نہ دیکھ سکی اور وہ بھی زار و قطار رونے لگی۔ مگر کاٹے جائیں وہ لب جو اللہ پر حرف شکایت لائیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون! کہا اور دو چار ٹھنڈی سانسیں لیں اور دونوں خاموش ہو گئے۔
آخر غریب احمد بیگ نے سکوت خاموشی توڑا اور رفیق حیات سے یوں گویا ہوا۔ میری امیدوں پر پانی پھر گیا اور وابستہ آرزوئیں جو مستقبل کے لئے سہارا سمجھی جاتی تھیں ٹوٹ گئیں وہ استخارہ کیا تھا کیا بتاؤں غیرت اجازت نہیں دیتی اور اس کا منحوس خیال بدن کے رونگٹے کھڑے کئے دیتا ہے۔ یہ خاکی جسد خدا جانے ابھی کیا کیا ذلتیں برداشت کرے گا۔ وہ مسیلمہ ثانی ”فمن اظلم ممن افتراء علی اللہ کذب“ ایسا دجل بکھیرنا چاہتا ہے خسر الدنیا و الآخرۃ کے عین مصداق ہے۔ لعنت اس دنیا پر جو دین کے بدلے خریدی جاوے اور ٹوٹ جاویں وہ ہاتھ جو ایسا سودا کریں اور ختم ہو جائیں وہ بے حیائی کے سانس جو یہ منظر دیکھیں۔ ایک محمدی کے رشتہ کے لئے اتنا دجل ایسا فریب وہ چاہتا ہے کہ میں اس کی خود ساختہ نبوت پر ایمان لاؤں اور اراضی کے بدلے نار جہنم خرید لوں۔
بیوی! یہ رشتہ والی بات میری سمجھ میں نہیں آئی۔
میاں! خدا کے لئے اس وقت کچھ نہ پوچھو اس وقت میری حالت اچھی نہیں۔ اس معاملہ کو پھر کبھی سناؤں گا۔ میری حالت غیر ہورہی ہے اور میری ماں جائی بہن کو بھی آجانے دو اسکی جلدی کاہے کی ہے۔
مرزا قادیانی کو استخارہ بیان کئے آج چھٹا روز ہے اور آپ کو استخارہ کی وجہ سے کامیابی پر پورا پورا ناز اور بھروسہ ہے۔ لیکن ابھی تک مبارک بادی کا پیغام نہ آنے کی وجہ سے کچھ تشویش سی ہے۔ آپ نے انسب خیال کیا کہ اور تائیدی خط روانہ کر دینا چاہئے اور اس کے بعد دنیا کو الو بنانا چاہئے۔ چنانچہ حسب ذیل روانہ کیا۔
مکرمی مخدومی اخویم مرزا احمد بیگ سلمہ اللہ تعالیٰ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ! ابھی ابھی مراقبہ سے فارغ ہی ہوا تھا تو کچھ غنودگی سی ہوئی اور خدا کی طرف سے یہ حکم ہوا کہ احمد بیگ کو مطلع کردے کہ وہ بڑی لڑکی کا رشتہ منظور کرے۔ یہ اس کے حق میں ہماری جانب سے خیر و برکت ہوگا اور ہمارے انعام و اکرام بارش کی طرح اس پر نازل
٧٠
ہوں گے اور تنگی وسختی اس سے دور کر دی جائے گی اور اگر انحراف کیا تو مورد عتاب ہوگا اور ہمارے قہر سے نہ بچ سکے گا۔ سو میں نے اس کا حکم پہنچا دیا تا اس کے رحم و کرم میں حصہ پاؤ اور اس کی بے بہا رحمتوں کے خزانے تم پر کھولے جائیں اور میں اپنی طرف سے تو صرف یہی عرض کرتا ہوں کہ میں آپ کا ہمیشہ ادب ولحاظ ہی ملحوظ رکھتا ہوں اور آپ کو ایک دیندار وایمان دار بزرگ تصور کرتا ہوں اور آپ کے حکم کو اپنے لئے فخر سمجھتا ہوں اور ہبہ نامہ پر جب لکھو حاضر ہو کر دستخط کر جاؤں اور اس کے علاوہ میری املاک خدا کی اور آپ کی ہی ہے اور میں نے عزیز محمد بیگ کے لئے پولیس میں بھرتی کرانے کی اور عہدہ دلانے کی خاص کوشش وسفارش کری ہے۔ تا وہ کام میں لگ جاوے اور اس کا رشتہ میں نے ایک بہت امیر آدمی جو میرے عقیدت مندوں میں ہے تقریباً کردیا ہے اور اللہ کا فضل آپ کے شامل حال ہو۔ فقط!
خاکسار غلام احمد عفی عنہ لدھیانہ اقبال گنج ٢٠ فروری ١٨٨٨ء
فکر و آلام کا وہ پیکر جو ہجوم غم سے نیم مردہ ہو رہا تھا اور جس کو تصویر درد کہنا کچھ بے جا نہ ہوگا۔ اس خط کے پہنچنے سے کیا ہوا۔ گویا جلتی پر تیل ڈالا گیا یا روئی کے گالے کو آگ دکھائی گئی۔ غریب احمد بیگ جو نہایت آزردہ خاطر ہو رہا تھا آپے سے باہر ہو گیا اور گو اس کے قویٰ ناقص ومضمحل ہورہے تھے۔ مگر غیرت کا تقاضا ان میں موجزن ہونے سے نہ رہ سکا۔ آخر مٹنے اور مٹانے پر تل گیا۔ اس کے جذبات میں ایسا طلاطم آیا جیسے سمندر میں طغیانی، گو وہ اس میں مثل حباب ہی تھا۔ مگر پھر بھی خود ساختہ نبوت کے ڈھول کے پول بکھیرنے اور مدعی نبوت کو چھٹی کا دودھ یاد دلانے پر ایسا آمادہ ہوا کہ آنے والے نتائج سے بے نیاز ہو گیا۔ وہ جوں کا توں ناتواں و شکستہ دل اپنی بے بسی اور بے کسی پر آٹھ آٹھ آنسو روتا ہوا گھر آیا اور استخارہ کا مہیب بم کا واقعہ جس نے اس کو بری طرح مجروح کیا تھا اور جس سے وہ نہایت غمزدہ و پریشان ہو رہا تھا، رفیق زندگی سے بیان کرنے کے لئے یوں لب کشا ہوا۔ خیال تھا کہ اکارت زندگی اور منحوس گھڑیوں کی خزاں بہار سے بدل جاوے گی۔ مگر منعم حقیقی کو ابھی کچھ اور امتحان لینا مقصود ہے۔ اس لئے آنے والے مصائب کے لئے ہمہ تن تیار ہو جاؤ اور گوش ہوش سے وہ پیغام جو خود ساختہ استخارہ کی شکل میں ہے سن لو۔
رفیق حیات بڑھیا، بیچاری یہ لغو استخارہ سن کر سن ہوگئی۔ زمین پاؤں تلے سے نکل گئی اور بڑے غم و یاس کے لہجہ میں ایک سرد آہ بھر کر کہنے لگی میاں بھائی سے ایسی امید تو نہ تھی اور ایسی غلط توقع تو وہ کرنے کے مجاز ہی نہ تھے۔ آخر اپنی دائم المرضی و بدحالی پر ہی نگاہ کرتے۔ میں تو یہ
٧١
باور ہی نہ کروں گی۔ میرے خیال میں پیارے شوہر تیرے کانوں نے دھوکا کھایا وہ تو بڑے اللہ والے بن رہے ہیں۔ بھلا ایسا کلمہ بڑھاپے میں زبان پر لا سکتے ہیں۔ واللہ میں کبھی نہ مانوں گی۔ اُف میں کبھی نہ مانوں گی کا کیا مطلب جب میں کہہ رہا ہوں کہ میں نے خود سنا ہے میں جھوٹ تھوڑا ہی کہتا ہوں اور آج ہی تو ایک اور خط بذریعہ ڈاک اس کی تائید میں ابھی ابھی آیا ہے لو پڑھ لو اور پھر بھی کہے جانا کہ نہ مانوں گی میاں نے کہا۔
خط پڑھنے کے بعد بولی۔ استغفر الله! ۔
شان تیری کبریائی کا
نبوت اور وحی پھر وہ مرزا جیسے پر، وہ تو نبیوں کے سردار خاتم النبیین پر ختم ہو چکی اور جب نبوت کا باب ہی بند ہو گیا تو جبریل کاہے کو تکلیف فرماویں گے۔ یہ غلط ہے جھوٹ ہے دجل ہے نعوذ بالله! بھلا خدا کو کیا ایسی غرض پڑی ہے جو یوں استخارے اور وحی ایک محمدی کے رشتہ کے لئے بار بار کر رہا ہے اور بفرض محال اگر اس کی مشیت اسی پر مقتضی ہوتی تو ہمارے دل میں مرزا کی محبت جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام کی محبت فرعون کی بیوی آسیہ کے دل میں ڈالی تھی ڈالتا، نہ یہ کہ ایسی لغو تحریریں اور بودے مضمون بنائے جاتے۔
میاں بولے میں چاہتا ہوں کہ اس خط کو اخبار نور افشاں امرتسر کے ایڈیٹر کو بھیج دوں۔ کیونکہ وہ ان دنوں مرزا کی بزرگی کے آٹے دال کا بھاؤ خوب جانتا ہے۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا جو اس نے اپنے اخبار میں چھاپ دیا اور چونکہ ایک دنیا اس استخارے سے نیاز حاصل کر چکی تھی۔ اس لئے اس پر طرح طرح کی چہ میگوئیاں ہوئیں جو بڑی دلچسپ تھیں اور جو مناسب موقع پر پیش کی جائیں گی۔
جب مرزا قادیانی کی یہ چٹھی اخبار نور افشاں میں چھپ چکی جو بقول مرزا خدا کے حکم سے تھی تو آپ بہت سٹ پٹائے اس کے جواب میں آپ نے ایک اشتہار عام شائع کیا جو بہت ہی دلچسپ ہے۔ چنانچہ ناظرین کی ضیافت طبع کے لئے اس کی نقل پیش کی جاتی ہے۔
اشتہار عام ١٠ جولائی ١٨٨٨ء
اس خدائے قادر مطلق نے مجھے فرمایا کہ اس شخص (احمد بیگ) کی دختر کلاں کے نکاح کے لئے سلسلہ جنبانی شروع کر اور ان کو کہہ دے کہ تمام سلوک و مروت تم سے اس شرط پر کیا جاوے گا اور یہ نکاح تمہارے لئے موجب برکت اور ایک رحمت کا نشان ہوگا اور ان تمام برکتوں
٧٢
اور رحمتوں سے حصہ پاؤ گے۔ جو اشتہار ٢٠/فروری ١٨٨٨ء میں درج ہیں۔ لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہوگا اور جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جاوے گی وہ روز نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس لڑکی کا تین سال تک فوت ہو جائے گا اور ان کے گھر پر تفرقہ وتنگی ومصیبت پڑے گی اور درمیانی زمانہ میں بھی اس لڑکی کے لئے کئی کراہت اور غم کے امر پیش آئیں گے۔ پھر ان دنوں میں جو زیادہ تصریح وتفصیل کے لئے بار بار توجہ کی گئی (بہت زور لگا ہوگا) تو معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے مقرر کر رکھا ہے کہ وہ مکتوب الیہ کی دختر کلاں کو جس کی نسبت درخواست کی گئی تھی۔ انجام کار ہر ایک روک دور کرنے کے بعد اس عاجز کے نکاح میں لائے گا اور بے دینوں کو مسلمان بنائے گا اور گمراہوں میں ہدایت پھیلائے گا۔ چنانچہ عربی الہام اس بارہ میں یہ ہے۔ ”كذبوا بايتنا وكانوا بها يستهزؤن . فسيكفيكهم الله . ويردها اليك . لا تبديل لكلمات الله . ان ربك فعال لما يريد . انت معى وانا معك عسى ان يبعثك ربك مقاماً محموداً“ انہوں نے ہمارے الہاموں کو جھٹلایا اور وہ پہلے ہی ہنسی کر رہے تھے۔ سو خدا تعالیٰ ان سب کے تدارک کے لئے جو اس کام کو روک رہے ہیں تمہارا مددگار ہوگا اور انجام کار اس لڑکی کو تمہاری طرف واپس لائے گا۔ کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو ٹال سکے۔ تیرا رب وہ قادر ہے کہ جو کچھ چاہے وہ ہو جاتا ہے تو میرے ساتھ اور میں تیرے ساتھ ہوں (کیا کشتی کرنی تھی) اور عنقریب وہ مقام تجھے ملے گا جس میں تیری تعریف کی جاوے گی۔ یعنی گو اوّل میں احمق اور نادان لوگ بد باطنی اور بدظنی کی راہ سے بدگوئی کرتے ہیں اور نالائق باتیں منہ پر لاتے ہیں۔ لیکن آخر کار خدا تعالیٰ کی مدد دیکھ کر شرمندہ ہوں گے اور سچائی کھلنے سے چاروں طرف تیری تعریف ہوگی۔
خاکسار! غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور
(مجموعہ اشتہارات ج١ ص١٥٨،١٥٧، ١٠/ جولائی ١٨٨٨ء)
اس اشتہار کی تشہیر رسائل وجریدوں نے بڑے دلچسپ آرٹیکل اور عنوانوں کے ساتھ کی۔ چنانچہ چند ایک ہدیہ ناظرین کرام ہیں۔ ملاحظہ فرماویں۔
ایک ہندو اخبار لکھتا ہے کہ:
”ناظرین اللہ میاں نے بھی ایک ایجنسی کھولی ہے۔ جس کے سب ایجنٹ مرزا غلام احمد قادیانی ہیں اور وہ اس میں بڑی خوش اسلوبی سے خدائی کاروبار سرانجام دیں گے اور وہ اس خدائی ایجنسی کی دلیل یہ پیش کرتے ہیں کہ ان کا نکاح ایک ایسی لڑکی سے ہوگا جس کے والدین اگر
٧٣
اپنی خوشی سے اس کام کو سرانجام نہ دیں گے تو ان پر تنگی ومصیبت کے دروازے کھول دیئے جاویں گے اور وہ مرجاویں گے اور سوائے اس خدائی فوجدار کے اگر دوسرے جگہ بیاہی گئی تو اس کا خاوند آڑھائی سال کے اندر مر جائے گا اور لڑکی اس درمیانی زمانہ میں خوشی کا سانس نہ لے گی اور ہیڈ آفس خود تمام رکاوٹوں کو دور کرے گا اور اپنے سب ایجنٹ سے یہ نکاح کرے گا اور اس کی اپیل ناممکن ہوگی اور کوئی اس کو روک نہ سکے گا۔“
بات تو مزے کی ہے دیکھیں یہ خدائی فوجدار کب کامیاب ہوتا ہے۔ چنانچہ ایک عیسائی اخبار لکھتا ہے کہ ایجنسی والوں کا رویہ بازاری لوگوں کا ہے۔ ہماری زندگی میں یہ پہلا موقعہ ہے کہ جوتے کے زور رشتہ کی تواضع کی گئی ہو اور زبردستی سے عشق لگایا گیا ہو۔ مان نہ مان میں تیرا مہمان کا مقولہ سنا تھا مگر آج آنکھوں سے دیکھ لیا اور پبلک کو خواہ مخواہ کوسا گیا اور تنقید کا حق گالیاں دے کر چھینا گیا۔ اگر اس اشتہار کی یہی نوعیت ہی اشتہار کی تھی تو کیوں دیا گیا۔ ہمارے خیال میں تو کسی بے وقوف نے اپریل فول بنایا ہے۔ ایک مسلمان اخبار اپنے دلی خیال کو یوں ظاہر فرماتے ہیں۔
نامراد عاشقوں کے لئے مژدہ جاں فزا
واہ بھائی واہ ! خوب سوجھی۔ اچھی کہی۔ عیاروں کے بھی کان کاٹ لئے۔ لو بھائی اب تو مشکل ہی آسان ہوگئی۔ اللہ میاں کا دفتر قادیان میں کھل گیا۔ شرفاء کے لئے دنیا تنگ ہوگئی۔ ہاں بھائی جس کا دل چاہے عفیفہ و پاک دامنوں سے دل لگی کرے اور جو کوئی مزاحم ہو وہ گالیاں کھائے اور وہ بھی کس مزے کی۔ احمق، نادان، بدباطن، بدظن، بکواس کرنے والا، منہ پھٹ، واہ جی واہ ! یہ خدائی باتیں تم کو ہی مبارک ہوں اور یہ خدا بھی تمہاری دستگیری کرتا رہے اور وہ سب ٹائٹل جو تم شریفوں کو دیتے ہو تمہارے ہی کام آئیں۔ ہمارے خیال میں تو کسی کے دماغ میں فتور معلوم ہوتا ہے۔
مرزا قادیانی کو اس اشتہار کی کامیابی پر پورا پورا یقین تھا اور وہ اس کی ہیئت اور حقیقت کو بغور ملاحظہ کرچکے تھے۔ ان کی سلف میڈ مشینری نے ان کی کامیابی کا حتمی وعدہ دیا تھا اور ان کی دلی منشا اور من مانی مراد صرف اس کی تشہیر کرانی مطلوب تھی اور اس کے بعد دنیا والوں کو دجل میں پھنسانا مقصود تھا۔ ورنہ یہ بھی کوئی کام تھا۔ یہ تو وہ بائیں ہاتھ کے اشارے سے سرانجام دے سکتے تھے۔ کیونکہ ان کو اپنی قوت بازو، رعب وداب، عقلمندی وامارت کے بھروسہ پر حق الیقین یا عین الیقین تھا۔ چنانچہ خود مرزا قادیانی نے اس کے پروپیگنڈے پر ایک کافی رقم ومحنت شاقہ صرف کی اور پورے کے پورے ”مرزا اینڈ کو“ نے اس میں مشاورت ومعاونت کی اور جب یہ تحریک عالم
٧٤
شباب پر آئی تو وہ سب شادماں و کامراں ہوئے۔ مگر مشیت ایزدی کچھ اور ہی تقاضا کر رہی تھی اور بانگ دہل کہہ رہی تھی کہ زمانہ کج رفتار جن کانٹوں کو تم اپنے ہاتھوں سے مضبوط کر رہے ہو تمہارے دانتوں کے ٹوٹ جانے کے بعد بھی نہ نکلنے دے گا۔ مگر افسوس کہ وہ اس کو نہ جانتے تھے۔
معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی ہر معاملہ میں مولوی نور دین سے مشورہ لیا کرتے تھے اور پھر قدم آگے بڑھاتے تھے اور یہ الہام بازی بھی مولوی نور دین کی ہی رہین منت تھی۔ اس کی تصدیق مرزا قادیانی کے مندرجہ ذیل خطوط جو اس ناول کے ضمن میں ہیں کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے ایک پیشگوئی انہی ایام میں بڑے طمطراق سے بیان فرمائی۔ یہ پیشگوئی اپنے لڑکے بشیر کے متعلق مورخہ ١٨؍اپریل ١٨٨٦ء کو شائع فرمائی۔
اپنے فرزند دلبند لخت جگر کے متعلق فرمایا مظہر الحق والعلا کان اللہ نزل من السماء! یعنی میرا پیدا ہونے والا بیٹا گرامی و ارجمند ہوگا۔ اول و آخر کا مظہر ہوگا اور وہ حق اور علا کا گویا آسمان سے خدا اتر آیا۔
خدا نے فرمایا اے مظفر تجھ پر سلام ایک لڑکا دینے کا وعدہ کیا جاتا ہے جو تیرا مہمان ہو کر آتا ہے۔ اس کا نام عمانوائیل اور بشیر ہوگا۔ وجیہہ، پاک، ذکی، صاحب فضل، صاحب شکوہ وصاحب عظمت و فضیلت، روح الحق، کلمۃ اللہ، شافی امراض، فہیم، حلیم، علوم ظاہری و باطنی، نور علیٰ نور۔
(البشریٰ جلد دوم ص ٢١، ٢٤)
خط نمبر ٣
مخدومی مکرمی اخویم مولوی حکیم نور الدین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ، عنایت نامہ پہنچا۔ مجھے نہایت تعجب ہے کہ دوا معلومہ سے آں مخدوم کو کچھ فائدہ محسوس نہ ہوا۔ شاید کہ یہ وہی قول درست ہے کہ ادویہ کو ابدان سے مناسبت ہے۔ بعض ادویہ ابدان کے مناسب حال ہوتی ہیں اور بعض دیگر کے نہیں۔ مجھے یہ دوا بہت ہی فائدہ مند معلوم ہوئی کہ چند امراض کاہلی و سستی اور رطوبات معدہ اس سے دور ہوگئے ہیں۔ ایک مرض مجھے نہایت خوفناک تھی کہ صحبت جماع کے وقت لیٹنے کی حالت میں نعوذ (خیزش عضو مخصوصہ) بالکل جاتا رہتا تھا۔ شاید قلت حرارت غریزی اس کا موجب تھی۔ وہ عارضہ بالکل جاتا رہا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ دوا حرارت غریزی کو بھی مفید ہے اور منی کو بھی غلیظ کرتی ہے۔ غرض میں نے تو اس میں آثار نمایاں پائے ہیں۔ واللہ اعلم واحکم، اگر دوا موجود ہو اور آپ دودھ اور بالائی کے ساتھ کچھ زیادہ قدرے شربت ڈال کر استعمال کریں تو میں خواہش مند ہوں کہ آپ کے بدن میں
٧٥
ان فوائد (خیزش عضو مخصوصہ ) کی بشارت سنوں۔ کبھی کبھی دوا کی چھپی تاثیر بھی ہوتی ہے کہ جو ہفتہ عشرہ کے بعد محسوس ہوتی ہے۔ چونکہ دوا ختم ہوچکی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے زیادہ کھالی ہے۔ اس لئے ارادہ ہے اگر خدا تعالیٰ چاہے تو دوبارہ تیار کی جائے گی۔ لیکن چونکہ گھر میں ایام امید ہونے کا کچھ گمان ہے جس کا میں نے ذکر بھی کیا تھا۔ ابھی تک گمان پختہ ہوتا جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ اس کو راست کرے۔ اس جہت سے جلد تیار کرنے کی چنداں ضرورت میں نہیں دیکھتا۔ مگر میں شکر گزار ہوں کہ خدا تعالیٰ نے دوا کا بہانہ کر کے بعض خطرناک عوارض سے مجھ کو مخلصی عطا کی۔ فالحمد للہ علی احسانہ۔ مجھے اس بات کے سننے سے افسوس ہوا کہ رسالہ مذکورہ نمبر ١٢ امرتسر سے واپس منگالیا گیا۔ فیروز پور کو وہ خاص ترجیح کونسی تھی۔ بلکہ میری دانست میں حال کے زمانے میں دنیوی واقف کاروں سے کوئی معاملہ نہیں ڈالنا چاہئے کہ وہ عہد شکنی میں بڑے دلیر ہوتے ہیں۔ عمدہ اور سیدھا طریق یہ ہے کہ قانونی طور پر یہ کارروائی کی جائے۔ خاکسار غلام احمد از قادیان ١٤ ربیع الثانی ١٣٠٤ھ
(مکتوبات احمدیہ جلد پنجم حصہ دوم ص ١٥٣)
معزز ناظرین اپنی ہسٹری حکیم نور الدین سے بیان کر رہے ہیں کہ جو دوائی آپ کو دی گئی ہے وہ میری خود آزمودہ ہے۔ مجھے چند امراض تھیں۔ مثلاً کاہلی اور سستی و رطوبات معدہ مگر ایک نہایت خوفناک بیماری اور بھی تھی کہ صحبت جماع کے وقت لیٹنے کی حالت میں نعوذ باللہ یعنی خیزش عضو مخصوصہ بالکل ہی جاتا رہتا تھا۔ یعنی پورا پورا نامرد تھا اور اس کی تصدیق آئندہ خطوط میں بھی وہ کرتے ہیں اور لطف کی بات تو یہ ہے حکیم صاحب کو بھی یہ عارضہ ہے اور اب مرزا قادیانی ،حکیم صاحب کی یہ بشارت سننا چاہتے ہیں اور دوائی سے اس کے عضو تناسل میں سختی آ جائے اور ان کی منی بھی گاڑھی ہو جائے۔ نعوذ باللہ! یہ ہیں پنجابی نبی کی نبوت کی دلیلیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا موجودہ حمل سے لڑکا ہوگا۔ مگر ہوا کیا۔ لڑکی۔ تو مرزا قادیانی نے کہا ہم نے کب اس حمل سے کہا تھا وہ تو دوسرے حمل سے ہوگا۔ پھر دوسرے حمل میں سے لڑکا ہوا اور افسوس وہ بھی بے نیل و مرام چل بسا اور وہ شیطان کی آنت سے زیادہ لمبے وعدے دھرے کے دھرے رہ گئے اور نبوت کی بھٹی اور اس کی باسی کڑاہی کا ابال جوں کا توں ہی دھرا رہ گیا۔ چنانچہ مرزا قادیانی مندرجہ ذیل خط میں اس کی تصدیق کرتے ہیں: کان اللہ نزل من السماء کی موت۔
٧٦
مخدومی و مکرمی مولوی حکیم نور الدین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ، میرا لڑکا بشیر احمد ٢٣ روز بیمار رہ کر آج بقضائے رب عزوجل انتقال کر گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون! اُس واقعہ سے جس قدر مخالفین کی زبانیں دراز ہوں گی اور موافقین کے دلوں میں شبہات پیدا ہوں گے اس کا اندازہ نہیں ہوسکتا۔ والسلام خاکسار غلام احمد از قادیان ٤ نومبر ١٨٨٨ء
(ماخوذ از مکتوبات احمدیہ جلد پنجم حصہ دوم ص ١٢٧، ١٢٨)
مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا جائے یا مسیح موعود ہونے کا؟۔
مخدومی مکرمی اخویم مولوی حکیم نور الدین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ، جو کچھ آں مخدوم نے تحریر فرمایا ہے کہ اگر دمشقی حدیث کے مصداق کو علیحدہ چھوڑ کر الگ مثیل مسیح کا دعویٰ ظاہر کیا جائے تو اس میں حرج کیا ہے۔ لیکن ہم ابتلا سے کسی طرح بھاگ نہیں سکتے۔ والسلام! خاکسار غلام احمد عفی عنہ ٢٤ جنوری ١٨٩١ء
(مکتوبات احمدیہ ج٥ حصہ ٢ ص ٨٥ مکتوب نمبر ٦١)
خطوط میں مرزا قادیانی اور حکیم نور الدین تبادلہ خیالات کر رہے ہیں کہ دمشقی حدیث کے مصداق مسیح موعود آسمان سے شہر دمشق کی مسجد کے شرقی منارے پر نازل ہوں گے۔ (مرزا قادیانی نے تو جہاز بھی نہیں دیکھا) اس لئے مثیل مسیح کا دعویٰ کرنا چاہئے۔ گویا حکیم نور الدین خدائی کے فرائض انجام دے رہے اور پنجابی نبی کو وحی آ رہی ہے۔ سبحان اللہ! یہیں عقل و دانش بباید گریست
زندہ نہیں تو مر ہی جائے۔
مخدومی مکرمی اخویم مولوی حکیم نور الدین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ، عنایت نامہ پہنچ کر موجب تسلی ہوا......... اس بات کے لئے جوش پیدا ہوتا ہے کہ کوئی امر انسانی طاقتوں سے بالاتر ہو۔ خواہ مردہ زندہ ہو اور خواہ زندہ مرجائے۔ والسلام! خاکسار غلام احمد از لدھیانہ محلہ اقبال گنج ١٢ اپریل ١٨٩١ء
(مکتوبات احمدیہ ج٥ حصہ ٢ ص ١٠٥، ١٠٦)
ناظرین! اس خط میں مرزا قادیانی کو کسی ہندو ڈاکٹر جگن ناتھ کی درخواست پر بڑی دقت ہو رہی ہے اور اس کا علاج اپنے الہام کنندہ سے دریافت کر رہے ہیں۔ دیکھیں کیا گل کھلتا ہے۔
٧٧
ناظرین کرام! معاف رکھیں۔ میں اپنے مضمون سے باہر نہیں گیا۔ لیکن میرا مطلب ”مرزا اینڈ کو“ کے ایک زبردست آلے کی طرف توجہ دلانا منظور تھا کہ یہ من مانے الہام اتنی سرعت کے ساتھ کدھر سے آتے ہیں اور ان کے پورے نہ ہونے کی کیا وجہ ہے۔ سو میں نے نمونتاً اور ہدیۃً پیش کر کے چند منٹ کی غیر حاضری کی معافی چاہتا ہوں اور اب پھر اصل مضمون کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ ایک محمدی کے لئے سارے خاندان کی غلامی کس طرح مول لی جاتی ہے۔ آپ حصول محمدی کے لئے عارضی الہامی خدا کو کیا تحریر فرماتے ہیں۔
مخدومی مکرمی اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ، مہربانی نامہ آں مکرم پہنچ کر بمژدہ افاقہ از مرض بہت خوشی ہوئی۔ الحمد للہ علیٰ ذالک! خدا تعالیٰ آپ کو پوری صحت بخشے۔ آں مکرم کی نوکری ہمارے ہی کام آتی ہے۔ ظاہر اس کا دنیا اور باطن سراسر دین ہے۔ اگر چہ بظاہر صورت تفرقہ میں ہے۔ مگر انشاء اللہ القدیر اس میں جمعیت کا ثواب ہے۔ بعض مصالح کی رو سے اس مقام میں آپ کو متعین فرمایا ہے ............... انشاء اللہ تعالیٰ ............... اگر رخصت مل سکے تو تشریف لائیں۔ محمد بیگ لڑکا جو آپ کے پاس ہے آں مکرم کو معلوم ہو گا کہ اس کا والد مرزا احمد بیگ بوجہ اپنی بے سمجھی اور حجاب کے اس عاجز سے سخت عداوت و کینہ رکھتا ہے اور ایسا ہی اس کی والدہ بھی۔ چونکہ خدا تعالیٰ نے بوجہ اپنے بعض مصالح کے اس لڑکے کی ہمشیرہ کی نسبت وہ الہام ظاہر فرمایا تھا جو کہ بذریعہ اشتہارات شائع ہو چکا ہے۔ اس وجہ سے ان لوگوں کے دلوں میں حد سے زیادہ جوش مخالفت ہے اور مجھے معلوم نہیں کہ وہ * امر جس کی نسبت اطلاع دی گئی ہے۔ کیونکر اور کس راہ سے وقوع میں آئے گا اور بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ کوئی نرمی کارگر نہیں ہوگی۔ ویفعل اللہ مایشاء کرتا ہے اللہ جو چاہتا ہے۔ ............... لیکن تاہم کچھ مضائقہ نہیں کہ ان لوگوں کی سختی کے عوض میں نرمی اختیار کر کے ادفع بالتی ہی احسن کا ثواب حاصل کیا جائے۔ اس لڑکے محمد بیگ کے کتنے خط اس مضمون کے پہنچے کہ مولوی صاحب پولیس کے محکمہ میں مجھ کو نوکر کرا دیویں ۔ آپ برائے مہربانی اس کو بلا کر نرمی سے سمجھائیں کہ تیری نسبت انہوں نے بہت کچھ سفارش لکھی ہے اور تیرے لئے جہاں تک گنجائش اور مناسب وقت کچھ فرق نہ ہوگا۔ غرض آنکہ آں مکرم میری طرف سے اس کے ذہن نشین کرا دیویں کہ وہ تیری نسبت بہت * تاکید کرتے ہیں۔ اگر محمد بیگ آپ کے ساتھ آنا چاہے تو ساتھ لے آویں۔
خاکسار غلام احمد از لدھیانہ محلہ اقبال گنج ٢١؍ مارچ ١٨٩١ء
(مکتوبات احمدیہ ج ٥ مکتوب نمبر ٧٣ ص ١٠٠ تا ١٠٢)
٧٨
ان خطوط میں مرزا قادیانی اپنے الہام کنندہ حکیم نورالدین سے دریافت کر رہے ہیں کہ مسیح موعود بنوں یا مثیل مسیح ۔ کوئی ایسی تجویز بتائیں کہ جو مردہ زندہ ہو جائے یا ایسا نہیں ہو سکتا تو زندہ ہی مر جائے۔ مثلاً مولوی ثناء اللہ ، عبداللہ آتھم وغیرہ اور محمدی بیگم کی پیشگوئی تو آپ نے مجھ سے کروا دی۔ مگر اب یہ کس طریقہ سے پوری ہوگی۔ محمدی بیگم کا بھائی محمد بیگ جو آج کل آپ کے پاس بغرض علاج ہے۔ اس کو اچھی طرح سمجھائیں۔ کیسے لطیف الفاظ ہیں اور کیا اشارہ ہے۔ (وہ پیشگوئی ) اور میری طرف سے محمد بیگ کے ذہن نشین کرا دیویں کہ پولیس کی نوکری دلانے میں بڑی کوشش کر رہا ہوں اور نرمی سے بلا کر (یعنی ہاتھ جوڑ کر ) کہہ دیں کہ کسی مناسب وقت یعنی محمدی بیگم کے نکاح کے بعد مجھے کچھ تم سے فرق نہیں ہے اور بظاہر سختی سے یہ لوگ رام نہ ہوں گے۔ اس لئے اس حکمت عملی کو نرمی سے سرانجام دینا چاہئے۔ کیونکہ اس میں ثواب ہے۔ اجی علمائے کرام کی شان میں تو کبھی نرمی نہیں کی ۔ بلکہ وہ بے نقط سنانے کے آپ عادی ہیں۔ یہ آج نرمی کے ثواب کی بھلی سوجھی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جارحانہ حکمت عملی کی مذمت کر رہے ہیں اور اب نرمی کی طرف تشریف لانا چاہتے ہیں۔ کاش پہلے ہی نرمی دکھائی جاتی۔
مرزا قادیانی کا اخلاق اور نرمی کا نمونہ
آئینہ حق نما ص ١٦
خوب ہوگی مہتروں میں قدردانی آپ کی
بیت سارے آپ کے بیت الخلا سے کم نہیں
ہے پسند خاکروباں شعر خوانی آپ کی
میری کتابوں سے ہر ایک محبت رکھتا ہے اور میری تصدیق کرتا ہے۔ ہاں حرام زادے میری تصدیق نہیں کرتے۔
(آئینہ کمالات)
ان العدا صاروا خنازير الفلا ونساء ہم من دونھن الاکلب ! ترجمہ: میرے مخالف جنگلوں کے سور ہیں اور ان کی عورتیں کتوں سے بدتر ہیں۔
(نجم الہدیٰ ص ٥٣، خزائن ج ١٤ ص ٥٣)
اے بدذات فرقہ مولویان۔
(انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٢١)
”جس دن نکاح محمدی بیگم ہوگا اس دن ان احمقوں کا جینا محال ہوگا اور بندروں اور
٧٩
خنزیروں کی طرح ان کے منہ کالے ہو جائیں گے اور ناک بڑی صفائی سے کٹ جائے گی۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)
”لوگوں نے کہا کہ آتھم کی پیشگوئی غلط نکلی تو جواب ملا کہ کہنے والے حرام زادے ہیں۔“
(انوار اسلام ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣١، ٣٢)
”اے ظالم مولویو تم پر افسوس کہ تم نے جس بے ایمانی کا پیالہ پیا وہی عوام کالانعام کو پلا دیا۔“
(انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٢١)
امیر اہل حدیث میاں محمد نذیر حسین صاحب محدث دہلوی کو ابو لہب نالائق کہا اور ان کے شاگرد ابو سعید مولوی محمد حسین بٹالوی کو کم بخت مفتری کا خطاب دیا۔
(مواہب الرحمٰن ص ١٣٣، ١٣٧، خزائن ج ١٩ ص ٣٤٣، ٣٤٨)
مولوی سعد اللہ لدھیانوی مرحوم کو فاسق، شیطان، خبیث، منحوس، نطفہ سفہا، رنڈی کا بیٹا اور ولد الحرام کہا۔
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣، ١٤، خزائن ج ٢٢ ص ٤٣٤، ٤٣٥)
جاہل سجادہ نشین اور مفتری اور مولویت کے شتر مرغ۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٨٧، خزائن ج ١١ ص ٣٠٢)
اے بدذات خبیث نابکار۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٠، خزائن ج ١١ ص ٣٣٣)
رئیس الدجالین عبدالحق غزنوی اور اس کا تمام گروہ علیہم نعال لعنۃ اللہ الف الف مرۃ۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٧، خزائن ج ١١ ص ٣٣٠)
اس جگہ فرعون سے مراد شیخ محمد حسین بٹالوی اور ہامان سے مراد نو مسلم سعد اللہ ہے۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٦، خزائن ج ١١ ص ٣٤٠)
نہ معلوم یہ جاہل اور وحشی فرقہ اب تک کیوں شرم و حیا سے کام نہیں لیتا۔ مخالف مولویوں کا منہ کالا کیا۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٧، خزائن ج ١١ ص ٣٤٢)
”اور جو ہماری فتح کا قائل نہ ہو گا تو سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں۔“
(انوار اسلام ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣١)
کوئی ہے روباہ کوئی خنزیر اور کوئی ہے مار
(براہین پنجم ص ١٠٨، خزائن ج ٢١ ص ١٤٨)
٨٠
میں نے ناظرین کرام کی خدمت میں مشتے نمونہ از خروارے پیش کر دیا ہے اور اگر آپ کے تمام ارشادات و مغلظات جمع کئے جاویں تو امت مرزائی کے لئے ایک متبرک کتاب بن سکتی ہے اور اس سے بہت سے فوائد نکل سکتے ہیں کہ جب گالی گلوچ کرنا ہو تو سنت مرزا کے مطابق عمل کریں۔ کیونکہ سلطان القلم نے یہ پاک گالیاں اسی غرض سے دے کر تعلیم فرمائی ہے کہ ان کو ثواب ہو اور خاص کر بچوں کو تو یہ نوک زبان کرانی چاہئے تاکہ وہ اور کوئی بازاری بات نہ کریں۔ بلکہ اسی سنت پر عمل کر کے اپنے آپ کو اور والدین کو اور اپنے پیارے آقا مرزا قادیانی کو اس کا ثواب پہنچتے رہیں یا اللہ جتنے ذرے ریت کے ہیں اور جتنے ستارے آسمان کے ہیں ان کے برابر ان کا ثواب ایک مرتبہ پڑھنے والے کی طرف سے موجد مغلظات مرزا قادیانی کو پہنچایو۔ آمین یارب العالمین!
مرزا قادیانی جب علماء و صلحاء مشائخ و سجادہ نشین اور مدیران وغیرہ کی تواضع اپنی سنت کے مطابق کر چکے تو اپنی ذات والا کو کچھ فارغ سا پایا۔ گو ”مرزا اینڈ کو“ کے انتہائی اعتبار لانے سے اور اپنے خاص الخاص ذرائع سے آپ کچھ مطمئن سے ہوئے۔ مگر قلبی کیفیت نہایت تشویش ناک تھی۔ غرضیکہ مستقبل کے متعلق نہایت گہرے خیالات میں مستغرق ہو گئے اور اپنے قیمتی دماغ کو ہوائی خیالات کی پرواز میں منہمک کر دیا۔ آپ کی وہ حالت قابل دید ہوگی۔ کبھی آپ کا رخ انور جگنو کی طرح چمک اٹھتا اور خندہ پیشانی سے لمحوں تمتماتے رہتے اور کبھی دل میں ایک ٹیس سی پیدا ہوتی اور کلیجہ تھام کر رہ جاتے۔ محمدی کا نقشہ قیامت کا نمونہ پیش کر رہا تھا۔ آپ کی کشتی حیات ان دنوں خیالات کے تلاطم خیز سمندر میں باد مخالف کے تھپیڑوں سے ڈوبتی تیرتی چپہ چپہ پر موت کے منہ میں جاتی تھی اور ساحل مراد پر صحیح و سلامت پہنچنے کی قطعی کوئی امید نہ تھی۔ آپ بار بار اس بیقراری و ناصبوری میں دروازہ پر نگاہ دوڑاتے اور فرماتے؎
یہ مولوی نور الدین صاحب کو کیا ہوا وہ بھی سو گئے۔ جواب ہی نہیں دیا۔ نصیب دشمناں بیمار نہ ہوں ورنہ وہ تو ایک منٹ کی بھی دیر کرنا گناہ سمجھا کرتے ہیں اور وہی تو اس کام کے کرتے دھرتے ہیں۔ یہی باتیں ہو رہی تھیں کہ چٹھی رساں نے آپ کا خط دیا۔ مرزا قادیانی نے کانپتے ہوئے دل اور لرزتے ہوئے ہاتھوں سے لفافہ چاک کیا۔ پڑھا تو لب پر تبسم اور رخساروں پر ہلکی سی سرخی دوڑنے لگی۔ ناظرین ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس میں کیا تھا۔ آپ نے اسی وقت اپنا کاتب طلب فرمایا اور بڑی احتیاط سے ایک اشتہار کا مضمون تیار کیا۔ ذیل میں اسے ملاحظہ فرمائیے۔
٨١
ایک پیش گوئی پیش از وقوع کا اشتہار
قدرت حق کا عجب ایک تماشا ہوگا
جھوٹ اور سچ میں جو ہے فرق وہ پیدا ہوگا
کوئی پاجائے گا عزت کوئی رسوا ہوگا
اب یہ جاننا چاہئے کہ جس خط کو فریق مخالف نے اخبار نورافشاں میں چھپوایا ہے وہ خط محض ربانی اشارہ سے لکھا گیا تھا۔ ایک مدت دراز سے بعض سرکردہ اور قریبی رشتہ دار مکتوب الیہ کے جن کی حقیقی ہمشیرہ زادی کی نسبت درخواست کی گئی تھی۔ نشان آسمانی کے طالب تھے اور طریقہ اسلام سے انحراف رکھتے تھے اور اب بھی رکھتے ہیں۔ چنانچہ اگست ١٨٨٥ء میں ان کی طرف سے ایک اشتہار چھپا تھا یہ درخواست کی اس اشتہار میں مندرج ہے۔ ان کو نہ محض مجھ سے بلکہ اور رسول سے بھی دشمنی ہے اور والد اس دختر کا بباعث شدت تعلق قرابت ان لوگوں کی رضا جوئی میں محو اور ان کے نقش قدم پر دل و جان سے فدا اور اپنے اختیارات سے قاصر وعاجز بلکہ انہی کا فرمانبردار ہو رہا ہے اور اپنی لڑکیاں انہی کی لڑکیاں خیال کرتا ہے اور وہ بھی ایسا ہی سمجھتے ہیں اور ہر بات میں اس کے مدارالمہام اور بطور نفس ناطقہ کے اس کے لئے ہو رہے ہیں۔ تب ہی تو نقارہ بجوا کر اس کی لڑکی کے بارہ میں آپ ہی شہرت دے دی۔ یہاں تک کہ عیسائیوں کے اخباروں کو اس قصہ سے بھر دیا۔ آفریں بریں عقل و دانش، ماموں ہونے کا خوب ہی حق ادا کیا۔ ماموں ہوں تو ایسے ہوں۔ غرض یہ لوگ مجھ کو میرے دعویٰ الہام میں مکار اور دروغگو خیال کرتے ہیں اور اسلام اور قرآن پر طرح طرح کے اعتراضات کرتے تھے اور مجھ سے کوئی نشان آسمانی مانگتے تھے تو اس وجہ سے کئی دفعہ ان کے لئے دعا بھی کی گئی۔ سو وہ دعاء قبول ہو کر خدا تعالیٰ نے یہ تقریب کی کہ والد اس دختر کا ایک اپنے ضروری کام کے لئے ہماری طرف ملتجی ہوا تفصیل اس کی یہ ہے۔
کہ نامبردہ کی ایک ہمشیرہ ہمارے ایک چچا زاد بھائی غلام حسین کو بیاہی گئی تھی۔ غلام حسین عرصہ پچیس سال سے کہیں چلا گیا اور مفقود الخبر ہے۔ اس کی زمین جس کا حق ہمیں پہنچتا ہے نامبردہ کی ہمشیرہ کے نام سرکاری کاغذات میں درج کرادی گئی تھی۔ اب حال کے بندوبست میں جو ضلع گورداسپور میں جاری ہے۔ نامبردہ یعنی ہمارے خط کے مکتوب الیہ نے اپنی ہمشیرہ کی اجازت سے چاہا کہ وہ زمین جو چار پانچ ہزار روپیہ کی قیمت کی ہے اپنے بیٹے محمد بیگ کے نام بطور ہبہ منتقل کرا دیویں۔ چنانچہ ان کی ہمشیرہ کی طرف سے یہ ہبہ نامہ لکھا تھا چونکہ وہ ہبہ نامہ ہماری رضا
٨ ہماری رضا
٨٢
مندی کے بغیر بے کار تھا اس لئے مکتوب الیہ نے بتواتر بعجز وانکسار ہماری طرف رجوع کیا۔ تاہم اس ہبہ پر راضی ہو کر اس ہبہ نامہ پر دستخط کر دیویں اور قریب تھا کہ دستخط کر دیتے۔ لیکن یہ خیال آیا کہ ایک مدت سے بڑے بڑے کاموں میں ہماری عادت ہے۔ جناب الٰہی میں استخارہ کر لینا چاہئے سو یہی جواب مکتوب الیہ کو دیا گیا۔ پھر مکتوب الیہ کے متواتر اصرار سے استخارہ کیا گیا تھا۔ گویا آسمانی نشان کی درخواست کا وقت آپہنچا تھا جس کو خدا تعالیٰ نے استخارہ کے رنگ میں ظاہر کیا گیا تھا۔“ خاکسار! غلام احمد قادیانی
محمدی بیگم کی والدہ کی وصیت
اس اشتہار کو دیکھ کر میاں احمد بیگ کو اپنی بدنامی کا پورا پورا یقین ہو گیا اور وہ اس کے سدباب کے لئے ایک گہری سوچ میں پڑ گئے۔ ان کی طبیعت میں غم وغصہ کا ایک ہیجان اٹھا۔ ان کے زخم خوردہ دل پر رہ رہ کر ایک چوٹ سی پڑ رہی تھی اور وہ اس کا خاطر خواہ انتقام لینا چاہتے تھے۔ مگر افلاس اور خاندانی شرافت سد راہ ہو رہے تھے۔ مگر ان کا دل اس بات کا بڑی شدت سے تقاضا کرتا تھا کہ وہ جس نے اس کی بنی بنائی دنیا جس میں کہ وہ عزت و آرام سے زندگی بسر کرنا چاہتا تھا برباد کر دی یا اسے مٹا دے یا اس کے ہاتھوں خود مر مٹے۔ مگر پسماندگاں کی کس مپرسی کا نقشہ اس کے ہاتھ پاؤں کی سکت کو چھین لیتا تھا۔ اسی رنج و غم میں وہ غریب خانہ پر پہنچا اور اپنی رفیقہ سے یوں گویا ہوا کہ ہمیں ہر کس و ناکس کی نظر میں نہایت بری طرح ذلیل کیا جا رہا ہے۔ روز روز کے قاصد اور اخباری اشتہار نے تو میرا ناک میں دم کر رکھا ہے۔ جینا دوبھر ہو رہا ہے۔ میں تو مجبور ہوں کہ لڑکی کی شادی کا کہیں جلد ہی بندوبست کردوں۔ گو غریب ہوں مگر کیا ہمارے ہادی برحق نے ہم کو اس کا سبق نہیں دیا۔ ضرور دیا ہے اور ایسا دیا ہے کہ قربان کر دی جائیں شہزادیاں اس شہنشاہی میں فقیری کرنے والے آقا کی صاحبزادی فاطمہ جنت خاتون بیوی پر جب ان کا نکاح حضرت علی شیر خدا سے ہوا ہے تو جانتی ہو اس شہ دوسرا نے نے فاطمہ کے جہیز میں کیا دیا تھا۔ ایک چکی ایک مشکیزہ دو مٹی کے برتن اور لکڑی کا پیالہ، ایک جانماز ، دو چادریں ، ایک فرش چرمی ، دو تکیے اور ایک پلنگ
فکر مادر کار ما آزار ما
میں تو ان کا کفش بردار ہوں پھر جلد بتاؤ کہ تمہارا اس میں کیا ارادہ ہے۔ صنف نازک کی کمزوری کا تقاضا یہی تھا کہ ماں چند گرم گرم آنسو بہا دیتی یا دو چار جلے ٨٣
بھنے جلے دل کی بھڑاس نکالنے کے لئے کہہ دیتی اور کر ہی کیا سکتی تھی کہہ کر خاموش ہو گئی۔ مگر ایک نہایت ہی بلند پایہ نصب العین جو مشیت ایزدی کے مطابق تھا کہتی گئی۔
کہنے لگی محمود جنت کا دولہا بنا اور ابھی اس کا کفن بھی میلا نہیں ہوا۔ اس لئے چند دن شادی کا نام نہ لو۔ انگریزی راج ہے ورنہ نبوت کا بھاؤ معلوم ہو جاتا۔ الہاموں کی قدر ایسی معلوم ہوتی کہ چھٹی کا دودھ یاد آ جاتا۔ پھر کہنے لگی میری ایک آخری خواہش ہے جس کے کہنے کا حق مجھے قدرت نے دے رکھا ہے۔ اس کو سن لو اور معلوم نہیں کہ اس کے بعد قدرت اس کی گویائی کا موقعہ دے یا نہ دے۔ بہر حال یہ میری آخری وصیت ہے جو شوہر ہونے کی حیثیت سے اور بیٹی ہونے کی حیثیت سے تم دونوں باپ بیٹی پر فرض ہے۔ اس پر عمل کر کے میری روح کو خوش کرنا اور اگر اس کے خلاف ہوا تو میدان حشر میں تمہارے دامن شافع امت کے روبرو پکڑ کر داور محشر سے انصاف طلب کروں گی۔ سنو دنیا تم پر تنگ آ جاوے۔ زمین رہنے کو اور آسمان سایہ کو نہ ملے۔ تن ڈھانکنے کے لئے چیتھڑے تو کیا درختوں کے پتے انکار کر دیں۔ کھانے کے لئے بھوسہ اور پینے کو پانی بھی خواہ میسر نہ ہو۔ کچھ پرواہ نہ کرنا اور تمام مصائب کو مالک الملک پر چھوڑ دینا وہ آسان کرے گا۔ مگر محمدی بیگم کا نکاح مرزا قادیانی سے ہرگز ہرگز نہ کرنا اور محمدی کے لئے اتنا اور کہتی ہوں۔ زَیَّنَ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ کے مطابق اگر پیش گوئی سچی بھی ہو جائے تو اس کو امر اتفاقی سمجھنا اور اگر تیرا ہونے والا شوہر مر بھی جائے تو مرزا قادیانی کی طرف نگاہ تک بھی نہ کرنا اور ایک فقیر بے نوا سے عقد ثانی کر لینا۔ اسی میں ثواب و برکت ہے اور یہی تیرے حق میں بہتر ہوگا۔
اور ہم کو اس دولت دنیا سے فقط اسلام دے
مخدومی مکرمی اخویم مولوی حکیم نور دین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ!
دس روپے پہنچ گئے ...... دوسرے ضروری طور پر یہ تکلیف دیتا ہوں کہ مرزا احمد بیگ کا لڑکا جو میرے عزیزوں میں سے ہے جن کی نسبت وہ الہامی پیش گوئی کا قصہ آپ کو معلوم ہے کچھ عرصہ سے بمرض بحت الصوت مریض ہے۔ حنجرہ پر کچھ ایسا مادہ پڑا ہے کہ آواز پورے طور پر نہیں نکلتی۔ یعنی آواز بیٹھ گئی ہے میں نے موافق قاعدہ علاج کیا تھا۔ اب تک کچھ فائدہ نہیں ہوا اسکی والدہ کو آپ پر بہت اعتماد ہے اور آپ کے دست شفاء پر اسے یقین ہے۔ اس نے بصد منت والحاح کہلا بھیجا تھا کہ مولوی صاحب کی طرف لکھو وہ کوئی عمدہ دوائی تیار کر کے بھیج دیں۔ بلکہ پہلے
٨٤
یہ چاہا تھا کہ اس لڑکے کو جس کا نام محمد بیگ ہے آپ کی خدمت میں بھیج دیں۔ مگر میں نے مناسب سمجھا کہ بالفعل بذریعہ خط آپ کو تکلیف دی جائے۔ حلق میں سے پانی بہت آتا ہے صبح کے وقت ریزش بہت نکلتی ہے کھانسی بھی ہے معلوم ہوتا ہے کہ دماغ سے نوازل گرتے ہیں۔ آپ ضرور کوئی عمدہ نسخہ ارسال فرمائیں اس بیمار کے اچھے ہو جانے سے ان کو آپ کا بہت احسان مند ہونا پڑے گا اور پہلے بھی آپ کے بہت معتقد ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ آپ کے علاج سے لڑکا اچھا ہو جائے گا۔ آپ خاص طور پر مہربانی فرمائیں۔ والسلام!
خاکسار غلام احمد عفی عنہ ٢٠؍ دسمبر ١٨٩٠ء
(مکتوبات احمدیہ ج ٥ ص ٨٣ مکتوب نمبر ٢٠)
مرزا قادیانی خط سے فارغ ہوئے تو محمدی بیگم کے خیال میں محو ہو گئے اور اسی سوچ میں ایک گھنٹہ بھر گزر گیا۔ آپ کا چہرہ اترا ہوا تھا اور آپ آج نسبتاً مغموم و متفکر معلوم ہوتے تھے۔ آج روٹی کھانے سے بھی آپ نے انکار کر دیا اور رنجیدہ خاطر ہونے کی وجہ سے ملاقات کا شرف بھی آج کسی کو نہیں دیا گیا۔
ایک بوسیدہ چارپائی پر لیٹے لیٹے خیال آیا کہ اگر میں نے ہی یوں کر ہمت کو توڑ دیا تو انجام اچھا نہ ہوگا۔ مجھ کو مردانہ وار اس کی آفرینش میں حصہ لینا چاہئے اور پھر وہ مالک الملک جو ادنیٰ مخلوق کی بھی سنتا ہے۔ اس سے ملتجی ہونا چاہئے اس خیال کو لئے ہوئے وہ کمرہ خاص میں تشریف لائے اور اس کی جناب میں یوں التجا کری اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ دعاء محمدی کی والدہ کی وصیت پر کی گئی ہے۔
اے مسیح موعود کے بھیجنے والے آقا! ”ایلی ایلی لما سبقتنی ایلی اوس“ مجھے کیوں اس حالت میں چھوڑ دیا۔ میری مدد کر۔ اے میرے واہگورو ست سری اکال (یعنی تیری توحید میں کوئی ساجھی نہیں ) اپنے امین الملک جے سنگھ بہادر کو ہمت و شجاعت دے تا کہ تیرے اس حکم کو جو حضرت یحییٰ فرشتہ بڑی سرعت سے مجھ پر لاتا ہے بجا لاؤں۔ اے میرے آسمانوں پر محمدی بیگم کا نکاح کرنے والے قاضی بتا بتا اور للہ بتا کہ یہ نکاح کس طرح و طریقہ سے پورا کروں۔ اے پرمیشور میرے سرب ان کا تیرا پیارا ہے۔ کرشن جی رودر گوپال تجھ سے تیرے پریم کا المبی ہے۔ (متمنی ہے ) اس کے وسواس دور کر اور اس کی استری جس کا منڈل تو نے کو باندھا ہے ملا دے۔ ملا دے میرے متر داتا، اے میرے پیارے ایشور، ان دھوت بھگتوں کو گیان دے کہ تیرے برہمن اوتار سے مقابلہ نہ کریں اور استری دلانے میں مدد کریں۔ میرے ایشور اے میرے کرپالوا!
٨٥
تیرے آریوں کے بادشاہ سے جس پر تیرا خراجی پیغام لاتا ہے۔ یہ وحشی مسلئے (مسلمان) انت بیر رکھتے ہیں۔ ان کو مٹا دے مٹا دے۔ میرے کرپالو۔ میرے اچھے دیالو۔ اے میری آسمانوں پر تعریف کے گن گانے والے غرق کر دے، غرق کر دے۔ اس کو جو زمین پر میری تعریف نہیں کرتا اور میری مدد کو پہنچ اور دلا دے دلا دے۔ میری آسمانی منکوحہ، تیری باڑ پر زمین تنگ ہو رہی ہے میرے مولا رب انی مغلوب رب انی مغلوب۔
دعا میں اس قدر محو ہوئے کہ ریش مبارک تر ہو گئی اور پانی آنکھوں میں نہ رہا تو کہیں شیر علی فرشتہ اس کی درگاہ سے یہ پیغام لایا اور جو الفاظ کتابوں میں اور اشتہاروں میں تقسیم کئے وہ یہ تھے۔
”فدعوت ربی بالتضرع والابتهال وعددت الیه ایدی السوال فالهمنی ربی وقال ساریهم ایة من انفسهم واخبرنی وقال اننی ساجعل بنتا من بناتهم ایة لهم فسماها وقال انها سیجعل ثیبة ویموت بعلها وابوها الی ثلث سنة من یوم النکاح ثم نردها الیک بعد موتهما ولا یکون احدهما من العاصمین“
(کرامات الصادقین ص ١٤ خزائن ج ٧ ص ١٦٢)
میں نے بڑی عاجزی سے خدا سے دعاء کی تو اس نے مجھے الہام کیا کہ میں ان (تیرے خاندان کے) لوگوں کو ان میں سے ایک نشانی دکھاؤں گا۔ خدا تعالیٰ نے ایک لڑکی (محمدی بیگم) کا نام لے کر فرمایا کہ وہ بیوہ کی جاوے گی اور اس کا خاوند اور باپ یوم نکاح سے تین سال تک فوت ہو جائیں گے اور پھر ہم اس لڑکی کو تیری طرف لاویں گے اور کوئی اس کو روک نہ سکے گا۔
ناظرین! ذیل میں مرزا قادیانی نے جو الفاظ دعاء میں استعمال فرمائے ان کا ثبوت درج کیا جاتا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں۔
”ایلی ایلی لما سبقتنی ایلی اوس“ میرے خدا میرے خدا مجھے کیوں چھوڑ دیا۔
(البشریٰ ج ١ ص ٣٦)
ہے کرشن جی رودر گوپال۔
(البشریٰ ج ١ ص ٥٦)
برہمن اوتار یعنی مرزا قادیانی سے مقابلہ اچھا نہیں۔
(البشریٰ ج ٢ ص ١١٦)
آریوں کا بادشاہ۔
(البشریٰ ج ١ ص ٥٦)
امین الملک جے سنگھ بہادر۔
(البشریٰ ج ٢ ص ١١٨)
”یحمدك الله من عرشه یحمدك الله ويمشى اليك رب انی مغلوب“
(انجام آتھم ص ٥٥ خزائن ج ١١ ص ٥٥)
٨٦
یحیٰ، شیر علی، خیراتی یہ آپ کے تینوں پیامبر فرشتے ہیں۔ (مگر ہیں بڑے جلد باز) جب دعاء سے فارغ ہوئے کچھ نوش فرمایا اور بستر استراحت پر آرام پذیر ہوئے مگر کم بخت نیند ہی نہ آئی۔
چھوڑ کر بے خواب مجھ کو آپ سو جاتی ہے نیند
لیٹے لیٹے خیال آیا اور ایک ایسی تجویز سوجھی جو یقیناً کامیاب معلوم ہوئی۔ آپ نے اسی وقت ایک کاغذی گھوڑا ایسا تیار کیا جو ہوا سے باتیں کرنے والا تھا اور اس کو اپنے سمدھیانے کو فوراً روانہ کر دیا۔
مشفقی مرزا علی شیر بیگ سلمہ اللہ تعالیٰ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ تعالیٰ! اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ مجھ کو آپ سے کسی طرح سے فرق نہ تھا اور میں آپ کو ایک غریب طبع اور نیک خیال آدمی اور اسلام پر قائم سمجھتا ہوں۔ لیکن اب جو آپ کو ایک خبر سناتا ہوں آپ کو اس سے بہت رنج گزرے گا۔ مگر میں للہ ان لوگوں سے تعلق چھوڑنا چاہتا ہوں جو مجھے ناچیز بتاتے ہیں اور دین کی پرواہ نہیں رکھتے۔ آپ کو معلوم ہے کہ مرزا احمد بیگ کی لڑکی کے بارے میں ان لوگوں کے ساتھ کس قدر میری عداوت ہو رہی ہے۔ اب میں نے سنا ہے کہ عید کی دوسری یا تیسری تاریخ کو اس لڑکی کا نکاح ہونے والا ہے اور آپ کے گھر کے لوگ اس مشورہ میں ساتھ ہیں۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اس نکاح کے شریک میرے سخت دشمن ہیں۔ بلکہ میرے کیا دین اسلام کے سخت دشمن ہیں۔ عیسائیوں کو ہنسانا چاہتے ہیں اور ہندوؤں کو خوش کرنا چاہتے ہیں اور اللہ اور رسول کے دین کی کچھ پرواہ نہیں رکھتے اور اپنی طرف سے میری نسبت ان لوگوں نے یہ پختہ ارادہ کر لیا ہے کہ اس کو خوار کیا جاوے، ذلیل کیا جاوے، روسیاہ کیا جاوے۔ یہ اپنی طرف سے ایک تلوار چلانے لگے ہیں۔ اب مجھ کو بچا لینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ اگر میں اس کا ہوں گا تو ضرور مجھے بچائے گا اور اگر آپ کے گھر کے لوگ سخت مقابلہ کر کے اپنے بھائی کو سمجھاتے تو کیوں نہ سمجھ سکتا۔ کیا میں چوہڑا یا چمار تھا جو مجھ کو لڑکی دینا عار یا ننگ تھی۔ بلکہ وہ تو اب تک ہاں میں ہاں ملاتے رہے اور اپنے بھائی کے لئے مجھے چھوڑ دیا اور اب اس لڑکی نکاح کے لئے سب ایک ہو گئے۔ یوں تو مجھے کسی کی لڑکی سے کیا غرض۔ کہیں جائے مگر یہ تو آزمایا گیا کہ جن کو میں خویش سمجھتا تھا اور جن کی لڑکی کے لئے چاہتا تھا کہ اس کی اولاد ہو اور میری وارث ہو وہی میرے خون کے پیاسے وہی میری عزت کے پیاسے ہیں۔ چاہتے ہیں کہ
٨٧
خوار ہو اور اس کا روسیاہ ہو، خدا بے نیاز ہے۔ جس کو چاہے روسیاہ کرے۔ مگر اب تو وہ مجھے آگ میں ڈالنا چاہتے ہیں میں نے خط لکھے کہ پرانا رشتہ مت توڑو۔ خدا تعالیٰ سے خوف کرو کسی نے جواب نہ دیا۔ بلکہ میں نے سنا ہے کہ آپ کی بیوی نے جوش میں آ کر کہا کہ ہمارا کیا رشتہ ہے۔ صرف عزت بی بی نام کے لئے فضل احمد کے گھر میں ہے۔ بے شک طلاق دے دے۔ ہم راضی ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ یہ شخص کیا بلا ہے۔ ہم اپنے بھائی کے خلاف مرضی نہ کریں گے۔ یہ شخص کہیں مرتا بھی نہیں۔ پھر میں نے رجسٹری کرا کر آپ کی بیوی کے نام خط بھیجا مگر کوئی جواب نہ آیا اور بار بار کہا اس سے ہمارا کیا رشتہ باقی رہ گیا جو چاہے سو کرے۔ اس کے لئے ہم اپنے خویشوں سے اپنے بھائیوں سے جدا نہیں ہو سکتے۔ مرتا مرتا رہ گیا۔ کہیں مرا بھی ہوتا۔ یہ باتیں آپ کی بیوی کی ہمیں پہنچی ہیں۔ بے شک میں ناچیز ہوں ذلیل ہوں خوار ہوں۔ مگر خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں میری عزت ہے۔ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اب جب میں ایسا ذلیل ہوں تو میرے بیٹے کے تعلق رکھنے کی کیا حاجت ہے۔ لہٰذا میں نے آپ کی خدمت میں خط لکھ دیا ہے کہ اگر آپ اپنے ارادہ سے باز نہ آئیں اور اپنے بھائی کو اس نکاح سے روک نہ دیں پھر جیسا کہ آپ کی خود منشاء ہے میرا بیٹا فضل احمد بھی آپ کی لڑکی اپنے نکاح میں رکھ نہیں سکتا۔ بلکہ ایک طرف جب محمدی کا کسی شخص سے نکاح ہوگا تو دوسری اس کو عاق اور لاوارث کر دوں گا اور اگر میرے لئے احمد بیگ سے مقابلہ کرو گے اور یہ ارادہ اس کا بند کرا دو گے تو میں بدل و جان حاضر ہوں اور فضل احمد کو جو اب میرے قبضہ میں ہر طرح سے درست کر کے آپ کی لڑکی کی آبادی کے لئے کوشش کروں گا اور میرا مال ان کا مال ہوگا۔ لہٰذا آپ کو بھی لکھتا ہوں کہ اس وقت کو سنبھال لیں اور احمد بیگ کو پورے زور سے خط لکھیں کہ باز آ جائے اور اپنے گھر کے لوگوں کو تاکید کر دیویں کہ وہ بھائی کو لڑائی کر کے روک دیوے ورنہ مجھے خدا تعالیٰ کی قسم کہ اب ہمیشہ کے لئے یہ تمام رشتے ناطے توڑ دوں گا۔ اگر فضل احمد میرا وارث اور فرزند بننا چاہتا ہے تو اسی حالت میں آپ کی لڑکی کو گھر میں رکھے گا۔ جب آپ کی بیوی کی خوشی ثابت ہو ورنہ جہاں میں رخصت ہوا۔ ایسے ہی سب رشتے ناطے ٹوٹ گئے۔ یہ باتیں خطوں کی معرفت مجھے معلوم ہوئی ہیں۔ نہیں جانتا کہ کہاں تک درست ہیں۔ واللہ اعلم! خاکسار! غلام احمد لدھیانہ محلہ اقبال گنج ٢٠ مئی ١٨٩١ء
اخویم مرزا غلام احمد صاحب زاد عنایتہ السلام علیکم ورحمتہ اللہ! گرامی نامہ پہنچا۔ غریب طبع یا نیک جو کچھ بھی آپ تصور کریں آپ کی مہربانی ہے۔ ہاں مسلمان ضرور ہوں۔ مگر آپ کی خود ساختہ نبوت کا قائل نہیں ہوں اور خدا
٨٨
سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے سلف صالحین کے طریقے پر ہی رکھے اور اسی پر میرا خاتمہ بالخیر کرے۔ مجھے اس خبر کا خدا کی قسم ہرگز رنج نہیں۔ کیونکہ اس سے بدرجہ اتم جب آپ خدا جانے کیا کیا بہروپ بھرتے رہے ہو۔ پہنچ چکا ہے باقی رہا تعلق چھوڑنے کا مسئلہ تو بہترین تعلق خدا کا ہے وہ نہ چھوٹے اور باقی اس عاجز مخلوق کا ہوا تو پھر کیا نہ ہوا تو پھر کیا اور احمد بیگ کے متعلق میں کر ہی کیا سکتا ہوں وہ ایک سیدھا سادہ مسلمان آدمی ہے جو کچھ ہوا آپ کی طرف سے ہی ہوا۔ نہ آپ فضول ایمان کو گنواتے اور الہام بانی کرتے اور مرنے کی دھمکیاں دیتے اور نہ وہ کنارہ کش ہوتا اور ہم کو آپ کی ذات سے کوئی دشمنی نہیں۔ اگر ہے تو تمہارے افعال سے کہ وہ ہمیں ناپسندیدہ ہیں۔ وہ چھوڑ دو نہ کسی نے آپ کو خوار روسیاہ ذلیل کیا ہے اور نہ ہی کسی کے کہنے سے کوئی ہوتا ہے۔ وہ بیچارا کیا تلوار چلائے گا جو فکر و آلام کی ایک جیتی جاگتی تصویر ہے اور تمہیں کیا ڈر ہے جب تم اس خلاق کائنات کے فرستادہ ہو۔ وہ خود اس کے تدارک کے لئے کافی و شافی ہے اور ہم تو تم کو اپنا ہی عزیز خیال کرتے ہیں۔ تم اپنی خوشی سے چوہڑا چمار بنو۔ ہم تو گالی دینا گناہ تصور کرتے ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ خویش ہونے کی حیثیت سے آپ نے رشتہ طلب کیا۔ مگر آپ خیال فرمائیں کہ اگر آپ کی جگہ احمد بیگ ہو اور احمد بیگ کی جگہ آپ ہوں تو خدا لگتی کہنا کہ تم کن کن باتوں کا خیال کر کے رشتہ دو گے۔ اگر احمد بیگ سوال کرتا اور وہ مجمع الامراض ہونے کے علاوہ پچاس سال سے زیادہ عمر کا ہوتا اور اس پر وہ مسیلمہ کذاب کے کان بھی کتر چکا ہوتا تو آپ رشتہ دیتے فخر دو عالم کا فرمان ہے کہ وہ چیز دوسرے کے لئے پسند کرو جو خود بھی چاہتے ہو۔ نہ ہم لوگ آپ کی بدنامی میں خوش ہیں نہ آپ کو آگ میں ڈالنا چاہئے اور روسیاہ اور ذلیل تو آپ خود مانتے ہیں کہ وہ پروردگار عالم ہی کر سکتا ہے۔ بندہ ناچیز ہے بھلا کیا چنا بھاڑ پھوڑ دے گا۔ بے شک آپ نے ان کو خط لکھے اور پیغام اور پیامبر روانہ کئے۔ مگر وہ نہ جواب دینے میں حق بجانب ہیں۔ آپ نے جوتی کے زور رشتہ مانگا اور ایک محمدی کے لئے وہ وہ طوفان جوڑے کہ الامان اور میری بیوی اب بھی وہ پیغام دینا چاہتی ہے جس کا تذکرہ آپ اپنے خط میں کر چکے ہیں۔ آپ کا دل دکھانا میرا مقصود نہیں۔ آپ کو خط لکھتے وقت یوں آپے سے باہر نہیں ہونا چاہئے۔ لڑکیاں سبھی کے گھروں میں ہیں اور نظام عالم انہیں باتوں سے قائم ہے۔ کچھ حرج نہیں اگر آپ طلاق دلوائیں گے تو یہ بھی ایک پیغمبری کی نئی سنت دنیا پر قائم کر کے بدنامی کا سیاہ داغ مول لیں گے۔ باقی روٹی تو خدا اس کو بھی کہیں سے دے ہی دے گا۔ تر نہ سہی خشک مگر وہ خشک بہتر ہے جو پسینہ کی کمائی سے پیدا کی جاتی ہے اور موت وزیست تو اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ ہاں میں نے سنا ہے کہ آپ اس میں بھی کوشش
٨٩
فرما رہے ہیں۔ شاید کامیابی ابھی نہ ہوئی ہو۔ آپ نہ ناچیز ہیں نہ ذلیل ہیں، نہ خوار ہیں نہ روسیاہ ہیں، نہ کوئی آگ میں آپ کو ڈالنا چاہتا ہے۔ ہم تو آپ کو اپنا عزیز ہی اب تک تصور کرتے چلے آئے ہیں اور اب تک کر رہے ہیں۔ میں کہہ چکا ہوں کہ چونکہ حالات آپ نے خود ایسے ہی پیدا کر لئے جو اس رشتہ میں ناکامیابی پر منتج ہیں۔ آپ ان کو خود سنوار سکتے ہیں۔ سنوار لیں میں بھائی احمد بیگ کو لکھ رہا ہوں۔ بلکہ آپ کا خط بھی اس کے ساتھ شامل کر دیا گیا ہے۔ مگر میں ان کی موجودگی میں کچھ نہیں کر سکتا اور میری بیوی کا کیا حق ہے کہ وہ اپنی بیٹی کے لئے بھائی کی لڑکی کو ایک دائم المریض آدمی جو مراق سے خدائی تک پہنچ چکا ہو۔ کس طرح لڑکی دے وہ یہی کہتی ہے کہ جب میں یہ رشتہ اپنی لڑکی کا ایسی حالت میں دینا ناپسند کرتی ہوں تو بھائی کو کن حالات پر مجبور کروں۔ ہاں اگر وہ خود مان لیں تو میں اور میری بیوی حارج نہ ہوں گے۔ آپ خود ان کو لکھیں مگر درشت اور سخت الفاظ آپ کا قلم اگلنے کا عادی ہو چکا ہے۔ اس سے جہاں تک ہو سکے احتراز کریں اور منت وسماجت سے کام لیں۔ والسلام! خاکسار! علی شیر بیگ از قادیان ٢٠ مئی ١٨٩١ء
مرزا قادیانی کو جواب نہ آنے کی تشویش ہوئی اور مراق کا قاعدہ ہے کہ خیال جس طرف چلا گیا۔ فوری جواب کا طالب ہوا۔ گویا ہاتھوں پر سرسوں جمانے کا مقولہ شاید مراق کے لئے ہی بنایا گیا ہے۔ آپ نے جلد بازی میں ایک اور خط اپنی سمدھن کے نام بھی ڈال دیا۔ حالانکہ ان کو اس کا انتظار کرنا چاہئے تھا کہ جو کارڈ ١٨٩١/٥/٢ کو ڈالا گیا تھا اس کا جواب کم از کم ١٨٩١/٥/٦ کو آنا چاہئے۔ کوئی ٹیلیفون تھوڑا ہی تھا جو کانوں کان سنا جاتا۔ قارئین کرام کی ضیافت طبع کے لئے وہ اصل تحریر ہم پیش کرتے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں!
والدہ عزت بی بی کو معلوم ہو کہ مجھ کو خبر پہنچی ہے کہ چند روز تک محمدی (مرزا احمد بیگ کی لڑکی) کا نکاح ہونے والا ہے اور میں خدا کی قسم کھا چکا ہوں کہ اس نکاح سے رشتے ناطے توڑ دوں گا اور کوئی تعلق نہیں رہے گا۔ اس لئے نصیحت کی راہ سے لکھتا ہوں کہ اپنے بھائی مرزا احمد بیگ کو سمجھا کر یہ ارادہ موقوف کراؤ اور جس طرح بھی تم سمجھا سکتے ہو اس کو سمجھا دو اور اگر ایسا نہیں ہو گا تو آج میں نے مولوی نور دین صاحب اور فضل احمد کو خط لکھ دیا ہے کہ اگر تم اس ارادہ سے باز نہ آؤ۔ تو فضل احمد عزت بی بی کے لئے طلاق نامہ لکھ کر بھیج دے اور اگر فضل احمد طلاق نامہ لکھنے سے گریز کرے یا عذر کرے تو اس کو عاق کیا جاوے اور اپنے بعد اس کو وارث نہ سمجھا جاوے اور ایک پیسہ اس کو وراثت کا نہ ملے۔ سو امید رکھتا ہوں کہ شرطی طور پر اس کی طرف سے طلاق نامہ لکھا آجائے گا جس کا یہ مضمون ہوگا کہ اگر مرزا احمد بیگ محمدی کا نکاح کسی غیر کے ساتھ کرنے سے باز
٩٠
نہ آوے تو پھر اسی روز سے جو محمدی کا کسی اور سے نکاح ہو جائے عزت بی بی کو تین طلاقیں ہیں۔ سو اس طرح پر لکھنے سے ایک طرف تو محمدی کا کسی دوسرے سے نکاح ہوگا اور اس طرف عزت بی بی پر فضل احمد کی طلاق پڑ جاوے گی۔ سو یہ شرطی طلاق ہے اور مجھے اللہ تعالیٰ کی قسم ہے کہ اب بجز قبول کرنے کے کوئی راہ نہیں اور اگر فضل احمد نے نہ مانا تو میں فی الفور اس کو عاق کردوں گا اور پھر وہ میری وراثت سے ایک دانہ نہیں پاسکتا اور اگر آپ اس وقت اپنے بھائی کو سمجھا لو تو آپ کے لئے بہتر ہوگا۔ مجھے افسوس ہے کہ میں نے عزت بی بی کی بہتری کے لئے ہر طرح سے کوشش کرنا چاہا تھا اور میری کوشش سے سب نیک بات ہو جاتی۔ مگر آدمی پر تقدیر غالب ہے یاد رہے کہ میں نے کوئی کچی بات نہیں لکھی۔ مجھے قسم ہے اللہ تعالیٰ کی کہ میں ایسا ہی کروں گا اور خدا تعالیٰ میرے ساتھ ہے جس دن نکاح ہو گیا اس دن عزت بی بی کا نکاح باقی نہ رہے گا۔ راقم مرزا غلام احمد قادیانی از لدھیانہ اقبال گنج ٤؍مئی ١٨٩١ء، کلمہ فضل رحمانی ص ١٢٧، ١٢٨
اتفاق کی بات ہے کہ دونوں سمدھی مرزا علی شیر بیگ و مرزا غلام احمد ایک ہی وقت اور ایک ہی تاریخ کو دل کے حوصلے نکال رہے تھے۔ کیونکہ دونوں خطوط ٤؍مئی ١٨٩١ء کے ہیں۔
احمد بیگ کا گھر آج کل مظہر العجائب بنا ہوا ہے۔ الہامات مرزا کی وجہ سے بیسیوں برقعہ پوش عورتیں محمدی بیگم کو دیکھنے کے لئے آتی ہیں اور عجیب عجیب باتیں اور چہ میگوئیاں کرتی ہیں کہ نبوتوں کے معیار بھی اس زمانہ میں عورتوں پر ہی ٹل گئے ہیں۔ کیا بھلی اور پیاری با غیرت لڑکی ہے۔ موئے بڈھے کو کس زمانہ میں شادی کی سوجھی اور دنیا بھر میں بدنام کرکے خود نکو نام بنا کبھی اس طرح سے بھی کسی نے رشتے لئے ہیں۔ نذیر کے ابا کل آئے تو ایک اور اشتہار ان کے ہاتھ میں تھا۔ میرے استفسار پر ہنس دیئے اور کہا یہ آج ہی تازہ الہام ہوا ہے۔ جو بڑی لمبی اور رو کر مانگی ہوئی دعا کے بعد کا نتیجہ ہے۔ میں نے جو پڑھا تو بے ساختہ ہنسی کے مارے پیٹ میں بل پڑ گئے۔ نذیر کا ابا ہنسی کو زیر لب بہت دیر ضبط کرتا رہا۔ مگر آخر ہنس ہی دیا اور کہنے لگا یہ تم عورتیں کیا پتھر دل ہوتی ہو۔ اس بیچارے کی جان پہ بنی ہے اور تمہیں ہنسی آرہی ہے۔ دوسری بولی بہن میرے میاں تو مسجد کبھی گئے ہی نہیں وہ دین کو کیا جانے۔ مگر وہ کہتے ہیں آخر وہ نبی بنتا ہے اور کہتا ہے کہ مسلمانوں کے لئے اس میں ایک نشان ظاہر ہوگا اور جو اس پر ہنسی کرے گا اس کی ناک صفائی سے کٹ جائے گی اور وہ روسیاہ ہوگا۔ اس لئے میں تو ڈرتی ہوں اور ہنسی کو ضبط ہی کر رہی ہوں۔ مگر کم بخت یہ آئے بغیر ہی نہیں رہتی۔ غرض اس طرح اپنا منہ اور اپنی بات کے مصداق آتی رہیں اور جاتی
٩١
رہیں اور یہ سلسلہ لامتناہی ختم ہونے کو نہ آیا۔ نیرنگی قدرت ملاحظہ ہو کہ بیسیوں بڑے بڑے رئیس گھرانوں کی مائیں سوال لے کر آئیں گویا پیش گوئی سے مرنے کا ڈر ہی نہ رہا۔ مگر آخر قرعہ انتخاب مرزا سلطان محمد رئیس ساکن پٹی پر پڑا جو ایک فوجی عہدیدار ہونے کے علاوہ ایک نیک بخت جواں آدمی تھے اور جن کو مالک الملک نے شیر کا دل دیا تھا۔ جو مرزا قادیانی کے بیسیوں الہاموں سے ٹس سے مس تو کیا، شمہ بھر بھی خائف نہ ہوئے۔ بلکہ وقتاً فوقتاً مردانہ وار شریفانہ مقابلہ کرتے رہے۔ شادی کی تاریخ عید کے دوسرے روز مقرر کر دی گئی گویا جھٹ منگنی اور پٹ بیاہ کی تیاریاں شروع ہوگئیں اور چونکہ یہ بات مشہور خلائق زبان زد عام تھی اس لئے آناً فاناً مشہور ہوگئی۔
مرزا قادیانی مرزا علی شیر بیگ کا خط پڑھ ہی چکے تھے کہ اس کی تصدیق ہو گئی کہ محمدی کی شادی مرزا سلطان محمد رئیس ساکن پٹی سے قرار پائی ہے۔ سچ ہے تعصب انسان کو اندھا کر دیتا ہے اور رقابت کی آگ جلا کر سرمہ کر دیتی ہے اور نیک و بد انسان کو سوجھائی نہیں دیتا۔ یہی حال ہمارے محترم مرزا کا تھا اور رسی کا سانپ بن چکا تھا۔ وہ جس کو آسان تر سمجھتے تھے وہ محال ترین و ناممکن ہو گیا تھا۔ آپ کو شادی کے ہونے اور نہ ہونے کا تو شاید اتنا خیال نہ ہوتا مگر اپنی نبوت کو منوانے کے لئے جو دعوے بڑے طمطراق اور لن ترانی سے کئے گئے تھے ان کا رہ رہ کر خیال آتا تو کلیجہ منہ کو آنے لگتا اور اوسان خطاء ہو جاتے۔ گو ان دنوں طبیعت کچھ زیادہ ناساز تھی اور مرض ذیابیطس زوروں پر تھا۔ دن میں سو سو مرتبہ پیشاب آتا تھا اور قوئی بھی جواب دے چکے تھے مگر واہ رے استقلال ہمت نہیں ہاری اور ایک اور خط اپنی بہو سے تاکیدی لکھوا کر اپنی سمدھن کو اپنے قلم سے روانہ فرمایا۔ ناظرین کرام ملاحظہ فرمائیں۔
از طرف عزت بی بی بطرف والدہ ماجدہ
سلام مسنون کے بعد اس وقت میری تباہی و بربادی کا خیال کرو۔ مرزا صاحب (قادیانی) کسی طرح مجھ سے فرق نہیں کرتے۔ اگر تم اپنے بھائی میرے ماموں کو سمجھاؤ تو سمجھا سکتے ہو۔ اگر نہیں تو پھر طلاق ہوگی اور ہزار طرح کی رسوائی ہوگی۔ اگر منظور نہیں تو خیر مجھے اس جگہ سے لے جاؤ پھر میرا اس جگہ ٹھہرنا مناسب نہیں۔
اس خط پر مرزا قادیانی کی طرف سے یہ ریمارک ہے ”جیسا کہ عزت بی بی نے تاکید سے کہا ہے۔ اگر نکاح رک نہیں سکتا تو پھر بلا توقف عزت بی بی کے لئے کوئی قادیان میں آدمی بھیج دو تا کہ ان کو لے جاوے۔“
عزت بی بی بہو بذریعہ خاکسار غلام احمد رئیس قادیان ٦؍مئی ١٨٩١ء بحوالہ فضل رحمانی ص ١٢٨
٩٢
غریب وبیکس، ناتواں و کمزور، عزت بی بی جب مرزا قادیانی کے ہاتھوں کٹھ پتلی بن چکی اور حسب ارشاد طوعاً و کرہاً من مانے الفاظ رقم کر چکی تو مرزا قادیانی کے پاؤں پڑ کر روئی اور اس شدت سے روئی کہ گھر کی مائیں بلبلا اٹھیں۔ مگر مرزا قادیانی کی تیوری کا بل نہ اترا اور اس کے اس قدر انتہائی عاجزی سے لبریز جذبے کی وقعت کو یوں کہہ کر ٹھکرا دیا گیا کہ میں قسم کھا چکا ہوں کہ کوئی رشتہ ناطہ محمدی کے نکاح کے بعد باقی نہ چھوڑوں گا۔ یہ سارے فساد کی بانی مبانی صرف وہی ایک ساحرہ ہے۔ جس نے تمام کنبے کو مجھ سے منحرف و مبدل کر دیا اور ایسا سحر پھونکا کہ میرے پاس پھٹکنے کو ان کو ڈر معلوم ہونے لگا۔ نہایت گرے ہوئے الفاظ ان کو تحریر کئے۔ جن سے میں بات کرنا بھی ہتک خیال کرتا تھا۔ مگر یہ صرف تیری ماں مکارہ جو یقیناً ساحرہ ہے کے ہی کرتوت ہیں۔ جو میں یوں ناکام و نامراد رہا جاتا ہوں اور ایک دنیا مجھ پر تمسخر اڑا رہی ہے اور وہ سب ان کے ممد و معاون ہو رہے ہیں۔ اگر ان کو تیری آبادی کا پاس ہو تو وہ سب ایک نہ ہو جاتے اور میری عزت پر یوں ہاتھ صاف نہ کرتے۔ آخر میں کوئی چوہڑا چمار یا بھکاری تھوڑا ہی تھا۔ جو وہ اس رشتے کو باعث ننگ یا عار سمجھتے۔ جا اب بھی جا ابھی وقت باقی ہے دامن سے گرنے کے بعد ابھی کسی کی نظر نہیں پڑی اٹھا لیں۔ پھر مجھ کو تم سے کوئی غرض نہیں میں تمہارا یہ احسان عمر بھر نہ اتار سکوں گا اور میرے تمام املاک کی تو واحد مالک ہو گی۔ مگر خدا کے لئے جس طرح سے بھی ہو اپنی ماں کے قدموں پر یہی سر رکھ اپنے ماموں کو رو کر منتیں کر کے سمجھا میں وعدہ کرتا ہوں کہ ہبہ نامہ کی رضامندی کے علاوہ اور اس سے دوگنی زمین مجھ سے محمد بیگ کے نام ہبہ کرالیویں اور وہ جو دیوار کا مقدمہ ہے اس میں بھی جو وہ چاہتے ہیں مان لوں گا اور فضل احمد کو ایسا ٹھیک کروں گا کہ وہ عمر بھر خاندان بھر کا غلام رہے اور اگر میری بات نہ مانی گئی خدا کی قسم اینٹ سے اینٹ بجادوں گا۔ کیا مجھ کو لڑکیوں کا کال پڑا ہے۔ اگر میں آج چاہوں تو میرے مرید سینکڑوں اس سعادت کو سر آنکھوں پر قبول کرنے کو تیار اور کار ثواب سمجھتے ہیں۔ مگر افسوس چونکہ میں اپنے کنبے کو اپنا ہی تصور کرتا تھا۔ اس لئے بلاسوچے سمجھے بات نکال دی۔ جس سے ساری دنیا آگاہ ہوگئی اور اس کو میں نے اپنی نبوت کی سچائی کا معیار بنایا اور اب یہ کس قدر ظلم و جہالت ہے کہ وہ دوسری جگہ بیاہی جارہی ہے۔ تیرے باپ سے ایسی خشک توقع نہ تھی وہ تو میرا بازو تھا۔ اس کی عزت میری اور میری عزت اس کی تھی۔ مگر افسوس وہ بھی اسی مکارہ عیارہ کا ہی ہو گیا اور بیوی کے لئے مجھ سے یوں نمک حرامی کی اور ایسا خشک جواب دیا جو مرتے دم تک میرے یاد سے نہ بھولے گا۔
عزت بی بی نے کہا۔ حضور مانا ایسا ہی ہوگا۔ مگر میں نے کیا قصور کیا جس کے بدلے میں دیس نکالا دیا جا رہا ہے۔ میں نے کبھی عمر بھر آپ کی کوئی بے ادبی کی یا کبھی کسی حکم سے سرمو انحراف کیا۔ آپ نے دن کو رات فرمایا تو بندی نے آمنا کہا۔ کیا میں نے اس رشتہ میں حتیٰ الامکان کوشش نہیں کی۔ میں باپ اور ماں کو مجبور کرنے میں آپ سے ایک قدم پیچھے رہی ہوں اور کیا میں نے ماموں کے پاس بیسیوں دفعہ جا کر منت وخوشامد نہیں کی میں تو آپ کی چیری ہوں۔ لونڈی خدا کے واسطے نبی ہو کر اپنی بہو پر رحم کرو۔ للہ ترس کھاؤ میری عزت پہ حرف آیا تو آپ کا ہی نقصان ہے۔ کیا دنیا رشتہ نہ ملے تو سابقہ رشتے بھی توڑ دیا کرتی ہے اور وہ بھی بلا قصور جہاں حکم دو گے جاؤں گی اور ضرور جاؤں گی۔ سر اور آنکھوں کے بل جاؤں گی اور کہوں گی جو دو گے اور مانوں گی جو فرماؤ گے مگر خدا کے لئے اس کے نتیجہ سے بے نیاز ہو کر یہ کہہ دو کہ تو بد نصیب میرے گھر کی پاؤں دبانے والی وہی مثل سابق لونڈی ہی رہے گی اور تم کو دھکے دے کر بلا قصور باہر نہیں نکالا جائے گا اور تیری عزت کو بلا قصور یوں بٹہ نہیں لگایا جاوے گا۔ میرے پیارے ابا سسر میں تو دعاء کرتی ہوں کہ میرے مولا مجھ بدبخت کو اس دن زندہ ہی نہ رکھیو۔ جب یہ منحوس خبر میرے کان میں پڑے کہ تو جیتے جی شوہر والی رانڈی ہو گئی۔
آریہ مشن کی طرف سے مرزا قادیانی کی شہادت
آسمانی نکاح کی تائید میں مرزا قادیانی نے ایک اور بیان شائع فرمایا۔ جس کے ضروری اقتباسات ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔ جس پر آریہ مشن کی طرف سے بھی آپ کے دعاوی پر شرطی شہادت درج ہے کہ اگر یہ نکاح ہو گیا تو مرزا قادیانی صادق ہیں۔ ورنہ کاذب تصور کئے جاویں گے۔
”عرصہ قریباً تین برس کا ہوا کہ بعض تحریکات کی وجہ سے جس کا مفصل ذکر اشتہار دہم جولائی ١٨٨٨ء میں مندرج ہے۔ خدا تعالیٰ نے پیش گوئی کے طور پر اس عاجز پر ظاہر فرمایا کہ مرزا احمد بیگ ولد مرزا گاماں بیگ ہوشیار پوری کی دختر کلاں انجام کار تمہارے نکاح میں آوے گی اور وہ لوگ بہت عداوت کریں گے اور بہت مانع آئیں گے اور کوشش کریں گے کہ ایسا نہ ہو۔ لیکن آخر کار ایسا ہی ہوگا اور فرمایا کہ خدا تعالیٰ ہر طرح سے اس کو تمہاری طرف لائے گا۔ باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے اور ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھاوے گا اور اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔ چنانچہ اس پیش گوئی کا مفصل بیان معہ اس کی میعاد خاص اور اس کے اوقات مقرر شدہ کے اور معہ ان کے ان تمام لوازم کے جنہوں نے انسان کی طاقت سے اس کو
٩٤
باہر کر دیا ہے۔ اشتہار ١٠؍جولائی ١٨٨٨ء میں مندرج ہے اور وہ اشتہار عام طبع ہو کر شائع ہو چکا ہے۔ جس کی نسبت آریوں کے بعض منصف مزاج لوگوں نے بھی شہادت دی کہ اگر یہ پیش گوئی پوری ہو جاوے تو بلاشبہ یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے۔ یہ پیش گوئی ایک سخت مخالف قوم کے مقابل پر ہے۔ جنہوں نے گویا دشمنی اور عناد کی تلواریں کھینچی ہوئی ہیں اور ہر ایک کو جو ان کے حال سے خبر ہوئی وہ اس پیش گوئی کی عظمت کو خوب سمجھتا ہے۔ ہم نے اس پیش گوئی کو اس جگہ مفصل نہیں لکھا۔ تا بار بار کسی متعلق پیش گوئی کی دل شکنی نہ ہو۔ لیکن جو شخص اشتہار پڑھے گا وہ گو کیسا ہی متعصب ہوگا۔ اس کو اقرار کرنا پڑے گا کہ مضمون اس پیش گوئی کا انسان کی قدرت سے بالاتر ہے اور اس بات کا جواب بھی کامل اور مسکت طور پر اس اشتہار پر سے ملے گا کہ خداوند تعالیٰ نے کیوں یہ پیش گوئی بیان فرمائی اور اس میں کیا مصالح ہیں اور کیوں اور کس دلیل سے یہ انسانی طاقتوں سے بلند تر ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص ٣٩٦، ٣٩٧، خزائن ج ٣ ص ٣٠٤، ٣٠٥)
آخری سانسوں میں محمدی کی یاد
”اب اس جگہ مطلب یہ ہے کہ جب یہ پیش گوئی معلوم ہوئی اور ابھی پوری نہیں ہوئی تھی۔ جیسا کہ اب تک بھی جو ١٦؍اپریل ١٨٩١ء ہے پوری نہیں ہوئی تو اس کے بعد اس عاجز کو ایک سخت بیماری آئی۔ یہاں تک کہ قریب موت کے نوبت پہنچ گئی۔ بلکہ موت کو سامنے دیکھ کر وصیت بھی کر دی گئی۔ اس وقت گویا پیش گوئی آنکھوں کے سامنے آ گئی اور یہ معلوم ہو رہا تھا کہ اب آخری دم ہے اور کل جنازہ نکلنے والا ہے۔ تب میں نے اس پیش گوئی کی نسبت خیال کیا کہ شاید اس کے اور معنی ہوں گے جو میں سمجھ نہیں سکا۔ تب اس حالت قریب الموت میں مجھے الہام ہوا ”الحق من ربك فلا تكونن من الممترين“ یعنی یہ بات تیرے رب کی طرف سے سچ ہے تو کیوں شک کرتا ہے سو اس وقت مجھ پر یہ بھید کھلا کہ کیوں خدا تعالیٰ نے اپنے رسول کو قرآن میں کہا کہ تو شک مت کر سو میں نے سمجھ لیا کہ درحقیقت یہ آیت ایسے ہی نازک وقت سے خاص ہے۔ جیسے یہ وقت تنگی اور نومیدی کا میرے پر ہے اور میرے دل میں یقین ہو گیا کہ جب نبیوں پر بھی ایسا ہی وقت آ جاتا ہے جو میرے پر آیا جو خدا تعالیٰ تازہ یقین دلانے کو کہتا ہے کہ تو کیوں شک کرتا ہے اور وصیت نے تجھے کیوں نومید کیا تو ناامید مت ہو۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٩٨، خزائن ج ٣ ص ٣٠٦)
اس اشتہار سے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کا نکاح محمدی بیگم سے ضرور ہوگا اور اس نکاح کی ازحد مخالفت ہوگی۔ مگر بطور نشان باوجود یکہ انتہائی مخالفت ہوگی یہ نکاح بالضرور پایۂ تکمیل کو پہنچ
٨٨
جائے گا۔ تمام مانع امور رکاوٹیں اللہ تعالیٰ خود دور فرمائیں گے اور یہ کسی طرح سے بھی ہرگز ہرگز نہ رک سکے گا اور اس کی رکاوٹ کرنے والے اپنی میعاد مقرر کے اندر ہلاک کئے جاویں گے اور باقی کوئی نہ ہوگا جو اس کو روک سکے۔ بہر حال خدا اس کو مرزا قادیانی کی ضرور منکوحہ بی بی بناوے گا۔ باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے۔ اس پیش گوئی کا تعلق خاص مسلمانوں کی قوم سے ہے۔ جو بہت سختی سے اس کو ناکامیاب کرنے پر تلی ہوئی ہے اور دشمنی کی وجہ سے وہ عناد کی تلواروں سے صف بستہ کھڑی ہے۔ گویا ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہے اور آریہ منصف ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ اگر یہ پیش گوئی پوری ہوگئی تو اس کے منجانب اللہ ہونے میں کچھ شک نہیں۔ کیونکہ یہ انسانی طاقت سے بہت بالاتر ہے اور اس پیش گوئی کے الفاظ ہی ایسے ہیں جو ہر منصف مزاج کو اس کی عظمت منوانے اور منجانب اللہ ہونے اور انسانی طاقت سے بالاتر ہونے کے لئے مجبور کرتے ہیں اور خواہ کیسا ہی متعصب آدمی ہو وہ بھی یقین لائے بغیر نہیں رہ سکتا۔ گویا دوست اور دشمن اس بات کے قائل ہیں کہ اگر یہ پیش گوئی سچی ثابت ہو جائے تو مرزا قادیانی اور ان کی نبوت سچی ہے اور بفرض محال اگر پوری نہ ہو تو بقول خود وہ ہر بد سے بدتر ٹھہریں گے۔ معاملہ نہایت واضح ہے اور نتیجہ عیاں اور اس کے منجانب خدا ہونے کی ایک زبردست دلیل وہ یہ دیتے ہیں جو ان کی بیماری کی وجہ سے ظاہر ہوئی وہ فرماتے ہیں میں از حد بیمار ہو گیا اور وصیت تک کر دی گئی تو اس وقت پیش گوئی محمدی بیگم کے نکاح کا خیال آیا۔ گویا مرتے دم تک یہ خیال میرے ساتھ میری جان کی طرح وابستہ رہا اور یہ خیال اس وقت تک بھی مجھ سے جدا نہ ہوا جب موت کو یقیناً میں اپنی ان آنکھوں سے دیکھ رہا تھا اور یقین تھا کہ کل جنازہ اٹھنے والا ہے۔ حالت نزع میں میں نے اس کے متعلق توجہ کی تو خدا کی طرف سے یہ حکم ہوا کہ اے مرزا تو اس نکاح میں کیوں شک کرتا ہے یہ ضرور ہوگا۔ تو اس میں شک نہ کر یہ تیرے خدا کی طرف سے ایک اٹل حکم ہے اور وہ ضرور پورا ہوگا اور خدا کے حکم پر تو ایمان لا اور شک کرنے والوں سے نہ ہو۔ تب مجھے یقین کامل ہوا کہ یہ نکاح ضرور ہوگا اور کسی کی جرات وطاقت ہی نہیں جو اس کو روک سکے۔ بلکہ مجھ کو اس آیت کی تفسیر کا صحیح علم ہی اسی دن ہوا کہ یہ آیت قرآن شریف میں کیوں آئی اور میں نے خیال کیا کہ محمد رسول اللہ ﷺ پر کوئی ایسا ہی نازک وقت آپڑا ہوگا جب یہ آیت آئی ہوگی۔ (نعوذ باللہ) چنانچہ میرا ایمان رب العزت کے اس فرمان سے ایک چٹان سے زیادہ مضبوط ہو گیا اور مجھے حق الیقین ہوا کہ نکاح آسمانی جس کا اللہ میاں نے وعدہ کر رکھا ہے ضرور ہوگا اور کوئی نہیں جو اس کو کسی حالت میں بھی روک سکے۔
٩٦
خود دور فرمائیں گے اور یہ کسی طرح سے بھی ہرگز ہرگز نہ اپنی میعاد مقرر کے اندر ہلاک کئے جاویں گے اور باقی خدا اس کو مرزا قادیانی کی ضرور منکوحہ بی بی بناوے گا۔ ں پیش گوئی کا تعلق خاص مسلمانوں کی قوم سے ہے۔ جو ہوئی ہے اور دشمنی کی وجہ سے وہ عناد کی تلواروں سے صف رہی ہے اور آریہ منصف ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ اگر یہ پیش نے میں کچھ شک نہیں۔ کیونکہ یہ انسانی طاقت سے بہت ہے ہیں جو ہر منصف مزاج کو اس کی عظمت منوانے اور بالاتر ہونے کے لئے مجبور کرتے ہیں اور خواہ کیسا ہی س رہ سکتا۔ گویا دوست اور دشمن اس بات کے قائل ہیں مرزا قادیانی اور ان کی نبوت سچی ہے اور بفرض محال اگر یں گے۔ معاملہ نہایت واضح ہے اور نتیجہ عیاں اور اس بل وہ یہ دیتے ہیں جو ان کی بیماری کی وجہ - ظاہر ہوئی مت تک کر دی گئی تو اس وقت پیش گوئی محمدی بیگم کے یال میرے ساتھ میری جان کی طرح وابستہ رہا اور یہ جب موت کو یقیناً میں اپنی ان آنکھوں سے دیکھ رہا تھا الت نزع میں میں نے اس کے متعلق توجہ کی تو خدا کی چ میں کیوں شک کرتا ہے یہ ضرور ہوگا۔ تو اس میں شک ہے اور وہ ضرور پورا ہوگا اور خدا کے حکم پر تو ایمان لا اور یقین کامل ہوا کہ یہ نکاح ضرور ہوگا اور کسی کی جرأت م کو اس آیت کی تفسیر کا صحیح علم ہی اسی دن ہوا کہ یہ آیت خیال کیا کہ محمد رسول اللہ ﷺ پر کوئی ایسا ہی نازک وقت للہ ) چنانچہ میرا ایمان رب العزت کے اس فرمان سے حق الیقین ہوا کہ نکاح آسمانی جس کا اللہ میاں نے وعدہ ی حالت میں بھی روک سکے۔ ٩٦
مرزا قادیانی کا ایک خواب
مرزا قادیانی کو آج خدا جانے بہو کے اصرار و اقرار پر یا دل کے غبار نکالنے کی وجہ سے ظلمت کے سیاہ بادلوں میں بجلی کی چمک سے کرن امید پیدا ہوئی رات بھی آج ابر آلود تھی۔ نسیم سحر کے ٹھنڈے ٹھنڈے جھونکے بیماروں کی تیمارداری میں جلد جلد آ رہے تھے اور دل جلوں کی کلفت مٹانے کو پیغام تسلی و سرور بخش رہے تھے۔ سچ ہے انسان جن خیالات میں دن کو ڈوبا ہوا ہو وہی رات کو خواب میں کبھی کبھی آ جایا کرتے ہیں۔ غرضیکہ مرزا قادیانی پر گہری نیند کا غلبہ ایسا ہوا کہ آپ خراٹے بھر کر اس لطف سے بہرہ اندوز ہوئے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ عشرہ مبشرہ آپ کے حلقہ زن ہے اور مولوی نور الدین صاحب نے پھولوں کا ایک ہار پیش کرتے ہوئے مبارکباد کا ہدیہ تبریک پیش کیا۔ ہم نے مولوی صاحب سے استفسار کیا یہ مبارک بادی آپ کس بات کی دے رہے ہیں تو عرض کیا گیا کہ مرزا علی شیر بیگ اور ان کی بیوی ابھی ابھی آئے ہیں اور وہ یہ خوشخبری لائے ہیں کہ محمدی کا رشتہ آپ سے ہوگا اور وہ نکاح کا بھی ابھی اصرار کرتے ہیں۔ پھر ایسا معلوم ہوا کہ ہم سب مرزا احمد بیگ کے ہاں پہنچ گئے اور نکاح کی رسم ادا ہو رہی ہے۔ خدا جانتا ہے کہ میں اپنے کپڑوں میں پھولا نہ سماتا تھا اور میرے تمام عوارض کافور تھے۔ گویا جوانی واپس عود کر آئی۔ نہایت لذیذ کھانے ہمارے آگے چنے گئے۔ جو سب نے سیر ہو کر خوشی خوشی کھائے۔ اس کے بعد بڑے اہتمام سے واپسی ہوئی۔ مگر راستہ میں فریق مخالف مرزا سلطان محمد اور اس کے آدمیوں سے مڈبھیڑ ہوگئی اور دھینگا مشتی تک نوبت پہنچ گئی۔ میں نے دیکھا کہ میرے عشرہ مبشرہ بڑی عالی حوصلگی سے جواب دے رہے ہیں اور دشمن گویا مغلوب ہوا ہی چاہتا ہے۔ مگر افسوس کسی موذی نے ایک بڑا پتھر اٹھا کر مجھ پر وار کرنا چاہا۔ مجھے یاد ہے شاید مولوی نور دین صاحب نے عبداللہ سنوری کو آواز دیا تھا کہ حضرت صاحب کی مدد کرو۔ وہ لبیک کہتا ہوا دوڑا اور قریب تھا کہ وہ پہنچ جائے۔ مگر اس ظالم نے جو میرے سر پر بلائے ناگہانی کی طرح مسلط تھا پتھر اوپر سے چھوڑ ہی دیا۔ اس کی وحشت سے گویا میری جان بدن سے نکل گئی اور میں پسینہ میں شرابور ہو گیا اور ایسا کانپا کہ اپنے آپ کو اپنے آبائی مکان میں بستر پر پایا۔ بہت دیر تک معاملہ کو میں اصل ہی خیال کرتا رہا اور آنکھیں بند کئے خاموش سوچتا رہا۔ مگر نیند کے کلیتہ اچاٹ ہو جانے سے معلوم ہوا ۔
چند روز کے بعد حضرت صاحب کو معلوم ہوا کہ آپ کی بہو کی کوشش اور سارے مرزا اینڈ کو کی ان تھک دوڑ دھوپ سے معاملہ صاف اور بالکل قریب پہنچ گیا ہے اور اب خدا چاہے تو ہوا ٩٧
ہی چاہتا ہے۔ لیکن آپ مہربانی کر کے صرف ایک خط منت و سماجت اور معافی کا نہایت ہی خوش اخلاقی و وضعداری سے مرزا احمد بیگ خسر آسمانی کی طرف روانہ کر دیویں۔ بس اس کے جواب میں خدا نے چاہا تو مشکل آسان ہو جائے گی اور من مانی مراد برآئے گی۔ چنانچہ آپ نے جو خط روانہ کیا اس کی نقل ناظرین کرام کی خدمت میں پیش کی جاتی ہے۔ ماخوذ از کلمہ فضل رحمانی!
مشفق مکرمی اخویم مرزا احمد بیگ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ! قادیان میں جب واقعہ ہائلہ محمود فرزند آں مکرم کی خبر سنی تھی تو بہت درد اور رنج و غم ہوا۔ لیکن بوجہ اس کے کہ یہ عاجز بیمار تھا اور خط نہیں لکھ سکتا تھا۔ اس لئے عزا پرسی سے مجبور رہا۔ صدمہ وفات فرزنداں حقیقت میں ایک ایسا صدمہ ہے کہ شاید اس کے برابر دنیا میں اور کوئی صدمہ نہ ہوگا۔ خصوصاً بچوں کی ماؤں کے لئے تو سخت مصیبت ہوتی ہے۔ خداوند تعالیٰ آپ کو صبر بخشے اور اس کا بدل صاحب عمر عطا فرمادے اور عزیزی مرزا محمود بیگ کو عمر دراز بخشے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ کوئی بات اس کے آگے انہونی نہیں۔ آپ کے دل میں گو اس عاجز کی نسبت کچھ غبار ہو۔ لیکن خداوند علیم جانتا ہے آپ کے لئے دعائے خیر و برکت چاہتا ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ میں کس طریق اور کن لفظوں میں بیان کروں۔ تا میرے دل کی محبت و خلوص اور ہمدردی جو آپ کی نسبت مجھ کو ہے آپ پر ظاہر ہو جاوے۔ مسلمانوں کے ہر ایک نزاع کا آخری فیصلہ قسم پر ہوتا ہے۔ جب ایک مسلمان خدا تعالیٰ کی قسم کھا جاتا ہے تو دوسرا مسلمان اس کی نسبت فی الفور دل صاف کر لیتا ہے۔ سو ہمیں خدا تعالیٰ قادر مطلق کی قسم ہے کہ میں اس بات میں بالکل سچا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا تھا کہ آپ کی دختر کلاں کا رشتہ اس عاجز سے ہوگا۔ اگر دوسری جگہ ہوگا تو خدا تعالیٰ کی تنبیہیں وارد ہوں گی اور آخر اسی جگہ ہوگا۔ کیونکہ آپ میرے عزیز و پیارے تھے۔ اس لئے میں نے محض خیر خواہی سے آپ کو جتلا دیا کہ دوسری جگہ اس رشتہ کا کرنا ہرگز مبارک نہ ہوگا۔ میں نہایت ظالم طبع ہوتا جو آپ پر ظاہر نہ کرتا اور میں اب بھی عاجزی اور ادب سے آپ کی خدمت میں ملتمس ہوں کہ اس رشتہ سے آپ انحراف نہ فرمائیں کہ یہ آپ کی لڑکی کے لئے نہایت درجہ موجب برکت ہوگا اور خدا تعالیٰ ان برکتوں کا دروازہ کھولے گا جو آپ کے خیال میں نہیں۔ کوئی غم وفکر کی بات نہیں ہوگی۔ جیسا کہ یہ اس کا حکم ہے۔ جس کے ہاتھ میں زمین و آسمان کی کنجی ہے تو پھر کیوں اس میں خرابی ہوگی اور آپ کو شاید معلوم ہوگا یا نہیں کہ یہ پیش گوئی اس عاجز کی ہزار ہا لوگوں میں مشہور ہو چکی ہے اور میرے خیال میں شاید دس لاکھ سے زیادہ آدمی ہوگا۔ جو اس پیش گوئی پر اطلاع رکھتا ہے اور ایک جہاں کی نظر اس طرف لگی ہوئی
٩٨
ہے اور ہزاروں پادری شرارت سے نہیں بلکہ حماقت سے منتظر ہیں کہ یہ پیش گوئی جھوٹی نکلے تو ہمارا پلہ بھاری ہو۔ لیکن یقیناً خدا تعالیٰ ان کو رسوا کرے گا اور اپنے دین کی مدد کرے گا میں نے لاہور میں جا کر معلوم کیا کہ ہزاروں مسلمان مساجد میں نماز کے بعد اس پیش گوئی کے لئے بصدق دل دعاء کرتے ہیں۔ سو یہ ان کی ہمدردی اور محبت ایمانی کا تقاضا ہے اور یہ عاجز جیسے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر ایمان لایا ہے۔ ویسے ہی خدا تعالیٰ کے ان الہامات پر جو تواتر سے اس عاجز پر ہوئے ایمان لاتا ہے اور آپ سے ملتمس ہے کہ آپ اپنے ہاتھ سے اس پیش گوئی کے پورا ہونے کے لئے معاون بنیں تاکہ خدا تعالیٰ کی برکتیں آپ پر نازل ہوں۔ خدا تعالیٰ سے کوئی بندہ لڑائی نہیں کر سکتا اور جو امر آسمان پر ٹھہر چکا ہے زمین پر وہ ہرگز بدل نہیں سکتا۔ خدا تعالیٰ آپ کو دین و دنیا کی برکتیں عطاء کرے اور اب آپ کے دل میں وہ بات ڈالے جس کا اس نے آسمان پر مجھے الہام کیا ہے۔ آپ کے سب غم دور ہوں اور دین و دنیا آپ کو خدا تعالیٰ عطاء فرمائے۔ اگر میرے اس خط میں کوئی ناملائم لفظ ہو تو معاف فرمائیں۔ والسلام!
خاکسار! احقر عباد اللہ غلام احمد عفی عنہ ١٧؍ جولائی ١٨٩٥ء، کلمہ فضل رحمانی ص ١٢٣ تا ١٢٥
اس خط کے روانہ کرنے کے بعد مرزا قادیانی نہایت مطمئن تھے اور خیال واثق پیدا ہو گیا تھا کہ اب کام سرانجام ہونے کے دن قریب پہنچ چکے اور وہ رؤیا بھی جو گذشتہ شب آچکا ہے اس کی ایک بشارت ہے۔ مگر اس کے انجام کے الفاظ اچھے نہ تھے۔ وہ ظالم سعد اللہ نو مسلم معلوم ہوتا تھا اور جو پتھر اس نے اٹھایا ہوا تھا وہ اس کا انتہائی تعصب ظاہر کرتا ہے۔ وہ یقیناً رو سیاہ ہوگا اور جب یہ رشتہ بخیر و خوبی پایۂ تکمیل کو پہنچ جاوے گا۔ اس صالح رؤیا کو شائع کر کے اس کی ایسی خبر لوں گا کہ یاد ہی کرے گا دل تو چاہتا ہے کہ ابھی شائع کرا دوں۔ مگر عشرہ مبشرہ اور خاص کر مولوی نور دین نہ مانے گا۔ اس لئے بہتر ہے توقف ہی کیا جاوے۔ آج کل کے زمانہ میں کسی کی رشتہ داری دوستانہ یا چاپلوسی پر اعتماد کرنا حماقت ہے اور تعصب کا تو ستیاناس اپنے نفع و نقصان کو بھی نہیں سوچتا۔ اب یہی دیکھ لو کہ پانچ ہزار سے کم کی زمین نہیں جو یونہی مفت میں ہاتھ آ رہی ہے اور نالائق لڑکا برسر روزگار ہو رہا ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ محمدی میری وراثت کی مالکہ بن رہی ہے۔ مگر کمبخت کو کچھ سوجھائی ہی نہیں دیتا۔ اس خط سے زیادہ منت اور کیا کر سکتا تھا اور اس سے زیادہ طمع کیا ہو سکتا ہے اور وہ یہ جو خیال کرتا ہے کہ میں الہام خود بنا لیتا ہوں سوائے اس کی کور باطنی و جہالت کے اور کیا کہہ سکتا ہوں اور یہ لفظ جو میں نے لکھے ہیں اس کے شکوک ضرور رفع کر دیں گے کہ میں
٩٩
ظالم طبع ہوتا اگر خدائی حکم کو آپ تک نہ پہنچاتا اور اس عاجز کے دل میں آپ کی بڑی قدر ومنزلت ہے جو ظاہری الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتی اور بقیہ مضمون خط بھی نہایت ہی موزوں ہے۔ گمان غالب ہے کہ وہ پتھر دل احمد بیگ ضرور موم ہو جائے گا اور پرسوں تک انشاء اللہ اس کا شافی جواب آ جاوے گا۔ یہ باتیں اپنے دل ہی دل میں کر کے آپ کا چہرہ ہشاش ہورہا تھا اور آپ نسبتاً آج بہت خوش تھے اور پھر کبھی یہ خیال بھی آ جاتا کہ میری عمر پچاس برس سے زائد ہے اور وہ لڑکی ابھی دس برس سے بھی کم کی چھوکری ہے۔ شاید اس لئے ہی رضامند نہیں ہوتے اور ایک شعر عربی زبان میں آپ بار بار پڑھتے تھے جو یہ ہے۔
عذراء وكنت حينئذ جاوزت الخمسين
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٧٤ خزائن ج ٥ ص ٥٧٤)
یعنی یہ ابھی چھوکری ہے اور میری عمر اس وقت پچاس سال سے زیادہ ہے۔ آج کل احمد بیگ اور اس کے عزیز واقارب محمدی بیگم کی شادی کی تکمیل میں مصروف ہیں۔ گو کام کوئی بڑے پیمانہ پر نہ ہوگا۔ مگر پھر بھی منہ کا نوالہ نہیں ہے۔ درزی کے کہنے پر بازار سے فارغ ہو کر ابھی ابھی پہنچے ہی تھے کہ سنار کے اصرار پر پھر جانا پڑا اور اب کے جو آئے تو ایک لفافہ ہاتھ میں اور چہرہ متغیر معلوم ہوتا تھا۔ مجھ سے یوں مخاطب ہوئے ابھی کل ہی تو مولوی غلام اللہ جو میری بھانجی کے فرستادہ تھے سفارت کا حق ادا کرنے کے بعد واپس ہوئے ہیں۔ تم کو معلوم ہے کہ اس نے منتیں کرنے میں کوئی کسر باقی چھوڑی تھی اور وہ کون سی باقی ایسی بات رہ گئی تھی جس کا جواب نہیں دیا گیا تھا۔ پھر یہ فضول خط و کتابت سے کیا فائدہ یہ خط ہرکارے نے ابھی مجھے دیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کی طرف سے ہے۔ آپ پڑھتے جاتے تھے اور اس پر تنقید کرتے جاتے تھے۔ لو محمود کی تعریف آج یاد آئی۔ نری چاپلوسی کی باتیں ہیں اور دخل دینے کے لئے قسم بھی کھائی گئی ہے۔ اب میں یہی دیکھنا چاہتا ہوں تم کہاں تک سچائی کے پتلے ہو۔ کتنا جھوٹ ہے کہ ہزاروں مسلمان مسجدوں میں اور وہ بھی تمہارے لئے دعائیں کریں۔ آسمانی فیصلہ ہے تو تم کیوں گھبراتے ہو۔ بہر حال میں نے جو فیصلہ کرنا تھا کر چکا اور جو سوچنا تھا سوچ چکا۔ میں نے کہا کیا اس کو معلوم نہیں کہ چند روز تک برات بھی آنے والی ہے اور مدت ہوئی رشتہ دے چکے ہوئے ہیں پھر اب اس خط و کتابت کے کیا معنی۔ کیا عہد کرنے کے بعد مسلمان توڑ دیا کرتے ہیں۔ ہم فیصلہ کر چکے ہیں کہ مٹ جاویں گے لیکن یہ مراد جیتے جی پوری نہ ہونے دیں گے۔ انشاء اللہ تعالیٰ!
١٠٠
مرزا قادیانی کی بیماریاں اور ان کے ثبوت
مکتوبات احمدیہ جلد پنجم ، حصہ دوئم خط نمبر ١٤
بخدمت اخویم مخدوم ومکرم مولوی حکیم نور دین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! عنایت نامہ پہنچا، کئی بار میں نے اس کو غور سے پڑھا جب میں آپ کی ان تکلیفوں کو دیکھتا ہوں اور دوسری طرف اللہ کی ان کریمانہ قدرتوں کو جن کو میں نے بذات خود آزمایا ہے اور جو میرے پر وارد ہو چکے ہیں۔ تو مجھے بالکل اضطراب نہیں ہوتا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ خداوند کریم قادر مطلق ہے اور بڑے بڑے مصائب اور شدائد سے مخلصی بخشتا ہے اور جس کو معرفت زیادہ کرنا چاہتا ہے ضرور اس پر مصائب نازل کرتا ہے۔ تا اسے معلوم ہو جائے کہ وہ نومیدی سے امید کر سکتا ہے۔ غرض فی الحقیقت وہ نہایت ہی قادر و کریم و رحیم ہے۔ البتہ جس پر چاہے کیونکہ ہر ایک چیز اپنے وقت پر وابستہ ہے۔ جس قدر ضعف دماغ کے عارضہ میں یہ عاجز مبتلا ہے مجھے یقین نہیں کہ آپ کو ایسا ہی ہو۔ جب میں نے شادی کی تھی تو مدت تک مجھے یقین رہا کہ میں نامرد ہوں۔ آخر میں نے صبر کیا اور اللہ تعالیٰ پر امید اور دعاء کرتا رہا سو اللہ جل شانہ نے اس دعاء کو قبول فرمایا اور ضعف قلب تو اب بھی مجھے اس قدر ہے کہ میں بیان نہیں کر سکتا۔ خدا تعالیٰ سے زیادہ تر کامل معالج اور کوئی بھی نہیں...... اب مجھے کسی تدبیر ظاہری پر اعتقاد نہیں رہا۔ والسلام! خاکسار! غلام احمد از قادیان ٢٢ فروری ١٨٨٧ء
مخدومی مکرمی اخویم مولوی نور دین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! عنایت نامہ پہنچا۔ اللہ جل شانہ، آپ کو دین و دنیا میں آرام دلی بخشے...... دوا جس میں مروارید داخل ہیں جو کسی قدر آپ لے گئے تھے۔ اس کے استعمال سے بفضل تعالیٰ مجھ کو بہت فائدہ ہوا ہے۔ قوت باہ کو ایک عجیب فائدہ یہ دوا پہنچاتی ہے اور مقوی معدہ ہے اور کاہلی و سستی کو دور کرتی ہے...... اور کئی عوارض کو نافع ہے۔ آپ ضرور اس کو استعمال کر کے مجھ کو اطلاع دیویں مجھ کو تو یہ بہت ہی موافق آگئی۔ فالحمدلله على ذالك!
(ماخوذ از مکتوبات احمدیہ ص ١٢، ١٣، خط نمبر ٩، ج ٥)
خاکسار! غلام احمد ٣٠ نومبر ١٨٨٦ء
مخدومی مکرمی اخویم مولوی حکیم نور دین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
(ماخوذ از مکتوبات احمدیہ ج ٥ ص ٥٢ خط نمبر ٣٥)
ہر دو عنایت نامے پہنچ گئے۔ خدا قادر ذوالجلال آپ کے ساتھ ہو اور آپ کو آپ کے
١٠١
ارادات میں خیر و برکت کرے۔ اس عاجز نے آپ کے نکاح ثانی کی تجویز کے لئے کئی جگہ خط روانہ کئے۔ ایک جگہ سے جواب آیا وہ کسی قدر حسب مراد معلوم ہوتا ہے۔۔۔۔۔ اس خط میں ایک شرط عجیب ہے کہ حنفی ہوں غیر مقلد نہ ہوں۔ آگے اس کے اپنے مرید کی ہسٹری بیان کر کے فرماتے ہیں تین باتوں کا جواب دو۔
- ١....... حنفی ہونے کی قید کا جواب معقولیت سے دیا جاوے۔
- ٢....... اگر اسی ربط پر رضامندی فریقین ہو جاوے تو لڑکی کے ظاہری حلیہ سے
بھی کسی طور سے اطلاع ہو جانی چاہئے۔ بہتر تو بچشم خود دیکھ لینا ہوتا ہے۔ مگر آج کل کی پردہ داری میں بڑی قباحت ہے کہ وہ اس بات پر راضی نہیں ہوتے۔
- ٣....... ایک میرے دوست سمانہ علاقہ پٹیالہ میں ہیں۔ جن کا نام مرزا محمد یوسف
ہے۔ انہوں نے کئی دفعہ ایک معجون بنا کر بھیجی ہے۔ جس میں کچلہ مدبر داخل ہوتا ہے وہ معجون میرے تجربہ میں آیا ہے کہ اعصاب کے لئے نہایت مفید ہے اور امراض رعشہ و فالج اور تقویت دماغ اور قوت باہ کے لئے اور نیز تقویت معدہ کے لئے فائدہ مند ہے۔ مدت سے میرے استعمال میں ہے۔ قرین مصلحت سمجھیں تو میں کسی قدر جو میرے پاس ہے بھیج دوں۔ چھ سو روپیہ کے لئے جو آں مخدوم نے لکھا ہے اس کی ضرورت تو بہر حال درپیش ہے۔ مگر بالفعل اپنے ہی پاس بطور امانت رکھیں اور مناسب ہے کہ وہ روپیہ آپ کے مصارف سے الگ پڑا رہے تا جس وقت مجھے ضرورت پڑے بلاتوقف آپ بھیج سکیں۔ لیکھرام کی کتاب کے متعلق اگر جلد مسودہ تیار ہو جاوے تو بہتر ہے لوگ بہت منتظر ہیں۔ خاکسار! غلام احمد از قادیان ٢٣؍ جنوری ١٨٨٨ء
ان دنوں حضرت مرزا قادیانی کی کشتی حیات عجیب کش مکش سے گزر رہی تھی۔ آپ کو مجموعہ امراض کا گلدستہ کہنا کچھ نازیبا نہ ہوگا۔ کوئی دن شاید ہی قدرت ایسا دے دیتی جو آپ اطمینان کے سانسوں سے مستفیض ہوتے ورنہ عام طور پر آپ کو بیسیوں بیماریاں گھیرے رہیں اور جیسا کہ آپ خود فرماتے ہیں کہ آنے والے مسیح موعود کی نشانی جو حضور رحمت عالم نے حدیث میں بیان فرمائی ہے کہ وہ جب آسمان سے نازل ہوں گے تو دو چادروں میں ملبوس ہوں گے۔ سو میرے اوپر کی چادر تو دائمی سردرد و مراق ہے اور حصہ زیریں کی چادر ذیابیطس سلسل بول ہے۔ جس کے دورے دن میں کبھی سو سو دفعہ پیشاب کی تکلیف دیتے ہیں۔ یعنی ہر سات منٹ کے بعد پیشاب کی رفع حاجت ہوتی ہے اور اس کے علاوہ ضعف جگر ضعف دماغ بھی ساتھ ہو۔ سردرد ومراق بھی تنگ کرتا ہو قوت باہ بھی ازحد کمزور ہو اور نامردی کا پورا یقین رہ چکا ہو اور عشق کے آزار
١٠٢
میں مبتلا ہو اور جس کا بھروسہ دواؤں سے اٹھ چکا ہو اور دعائیں برعکس پڑتی ہوں وہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا۔ خدارا کوئی صاحب تکلیف گوارا فرمائیں کہ نبوت کے کاروبار نماز کی ادائیگی اور دوسرے ضروری کام کس طرح انجام دے سکتا ہے۔
محمدی بیگم کے آسمانی نکاح کی تصدیق سرکار مدینہ سے
مرزا قادیانی اپنے نکاح کی تصدیق فرماتے ہیں:
”یہ امر کہ الہام میں یہ بھی تھا کہ اس عورت کا نکاح آسمان پر میرے ساتھ پڑھا گیا ہے درست ہے۔“
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص١٣٢، خزائن ج٢٢ ص٥٧٠)
اس پیش گوئی کی تصدیق کے لئے جناب رسول اللہ ﷺ نے بھی پہلے سے ایک پیش گوئی فرمائی ہے۔ یتزوج ویولد لہ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد ہوگا۔ تزوج اور اولاد کا ذکر عام طور پر مقصود نہیں۔ کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ اس میں کچھ خوبی نہیں۔ بلکہ تزوج سے مراد خاص تزوج ہے۔ (محمدی بیگم) جو بطور نشان ہوگا اور اولاد سے مراد خاص اولاد ہے۔ (جس کی موت پیچھے میں بیان کرچکا ہوں) جس کی نسبت اس عاجز کی پیش گوئی موجود ہے۔ گویا اس میں رسول اللہ ﷺ ان سیہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔
خاکسار غلام احمد قادیانی
(ضمیمہ انجام آتھم ص٥٣ حاشیہ، خزائن ج١١ ص٣٣٧)
محمدی بیگم کے نکاح کی تصدیق سرکاری عدالت میں
ضلع گورداسپور کی عدالت میں مرزا قادیانی کا اپنے چچا زاد بھائیوں سے ایک دیوار کے متعلق مقدمہ تھا۔ جس میں انہوں نے مرزا قادیانی پر چند سوال کئے۔ جن کے جواب میں مرزا قادیانی نے عدالت میں حلفیہ بیان دیا۔
”فرماتے ہیں احمد بیگ کی دختر کی نسبت جو پیش گوئی ہے وہ اشتہار میں درج ہے اور ایک مشہور امر ہے وہ مرزا امام دین کی ہمشیرہ زادی ہے جو خط بنام مرزا احمد بیگ مطبوعہ فضل رحمانی میں ہے۔ وہ میرا ہے اور سچ ہے۔ وہ عورت میرے ساتھ بیاہی نہیں گئی۔ مگر میرے ساتھ اس کا بیاہ ضرور ہوگا۔ جیسا کہ پیش گوئی میں درج ہے وہ سلطان محمد سے بیاہی گئی۔ جیسا کہ پیش گوئی میں تھا میں سچ کہتا ہوں کہ اس عدالت میں جہاں ان باتوں پر جو میری طرف سے نہیں ہیں۔ بلکہ خدا کی طرف سے ہیں۔ ہنسی کی گئی ہے ایک وقت آئے گا کہ عجیب اثر پڑے گا اور سب کے ندامت سے سر
١٠٣
بچے ہوں گے۔ پیش گوئی کے الفاظ سے صاف معلوم ہوتا ہے اور یہی پیش گوئی تھی کہ وہ اس کے ساتھ ضرور بیاہی جاوے گی۔ اس لڑکی کے باپ کے مرنے اور خاوند کے مرنے کی پیش گوئی شرطی تھی اور شرط توبہ اور رجوع الی اللہ کی تھی۔ لڑکی کے باپ نے توبہ نہ کی اس لئے وہ بیاہ کے بعد چھ مہینوں کے اندر مر گیا اور پیش گوئی کی دوسری جزو پوری ہو گئی۔ اس کا خوف اس کے خاندان پر پڑا اور خصوصاً شوہر پر پڑا جو پیش گوئی کا ایک جزو تھا۔ انہوں نے توبہ کی چنانچہ اس کے رشتہ داروں اور عزیزوں کے خط بھی آئے اس لئے خدا تعالیٰ نے اس کو مہلت دی۔ عورت اب تک زندہ ہے۔ میرے نکاح میں وہ عورت ضرور آئے گی۔ امید کیسی یقین کامل ہے خدا کی باتیں ٹلتی نہیں ہو کر رہیں گی۔“
الحکم اخبار ١٠ اگست ١٩٠١ء، ص ١٤ کالم نمبر ٣
محمدی بیگم کے نکاح کی تصدیق مرزائی گزٹ سے
مرزا قادیانی آسمانی نکاح کی تائید میں (حقیقت الوحی ص ١٩١، خزائن ج ٢٢ ص ١٩٨) پر فرماتے ہیں کہ:
”یہ کہنا کہ پیش گوئی کے بعد احمد بیگ کی لڑکی کے نکاح کے لئے کوشش کی گئی۔ طمع دی گئی اور خط لکھے گئے۔ یہ عجیب اعتراض ہے۔ سچ ہے انسان شدت تعصب کی وجہ سے اندھا ہو جاتا ہے کوئی مولوی اس بات سے بے خبر نہ ہوگا کہ اگر وحی الہی کوئی بات بطور پیش گوئی ظاہر فرماوے اور ممکن ہو کہ انسان بغیر کسی فتنہ اور جائز طریق سے اس کو پورا کر سکے تو اپنے ہاتھ سے پیش گوئی کو پورا کرنا نہ صرف جائز بلکہ مسنون ہے۔“
مرزا قادیانی نے جو حدیث تزوج و یولد لہ اپنے معیار صداقت میں بیان فرمائی ہے وہ تحریف شدہ ہے۔ اس کی مثال میٹھا میٹھا ہپ اور کڑوا کڑوا تھو، گویا تحریف کرنا کوئی آپ سے سیکھے۔ اب ناظرین کرام کی خدمت میں اصل عبارت پیش کرتے ہیں۔
”قال رسول اللہ ﷺ ینزل عیسٰی ابن مریم الی الارض فیتزوج ویولدلہ ویمکث خمساً واربعین سنة ثم یموت فیدفن معی فی قبری فاقوم انا وعیسٰی ابن مریم فی قبر واحدٍ بین ابی بکرٍ وعمرؓ (مشکوٰة باب نزول عیسٰی ص ٤٨٠، الفصل الثالث) ”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ حضرت عیسیٰ زمین کی طرف اتریں گے۔ پھر نکاح کریں گے اور ان کے اولاد پیدا ہوگی اور آپ پنتالیس سال زمین پر رہیں گے۔ پھر فوت ہو کر میرے مقبرہ میں میرے ساتھ دفن ہوں گے۔ پھر میں اور عیسیٰ ایک ہی مقبرہ سے قیامت کو اٹھیں گے۔ جبکہ ہم ابو بکرؓ وعمرؓ کے درمیان ہوں گے۔
١٠٤
مسیح قادیانی کی چاہتی بھیڑو خدارا انصاف کرو اور اپنے گریبان میں منہ ڈال کر سوچو کہ مندرجہ بالا حدیث جو معیار صداقت میں پیش کی گئی ہے اور جس میں سے صرف دو لفظ اپنی صداقت کے منوانے کے لئے لے کر بقیہ کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا ہے۔ کیا ارشاد فرماتی ہے اور یہ ایک حدیث ہی تھی جس پر کہ مدعی نبوت کو بھی ایمان تھا اور اسی لئے تو انہوں نے اس کو اپنی صفائی میں پیش کیا۔ مگر افسوس بقیہ مضمون حدیث چونکہ خود ساختہ نبوت کی دھجیاں بکھیرنے کو کافی تھا۔ ہاتھ تک نہیں لگایا۔ کیا تم میں کوئی اہل بصیرت نہیں جو اسی ایک مضمون پر غور کرے اور ایمان لائے۔
مرزا قادیانی نہایت مایوسی کی حالت میں حیران وسرگردان خیالات میں منہمک کسی گہری سوچ میں دنیا وما فیہا سے بے نیاز ۔ گردن جھکائے اپنے آبائی مکان میں تشریف فرما ہیں۔ آپ کا چہرہ حزن وملال افسردگی و درماندگی کی ایک جیتی جاگتی تصویر ہے اور آپ کے بشرے سے حسرت وحشت ٹپکتی ہے اور آنکھوں سے سیل اشک رواں ہیں۔ رہ رہ کر ایک سرد آہ بھرتے ہیں اور فرماتے ہیں افسوس تمام تدبیریں ناکام اور محنتیں اکارت گئیں اور بنائے کچھ نہ بن سکی۔ آہ فلک نا ہنجار نے ایک ایسا چرکا دیا جو کہیں کا نہ رکھا اور قدرت نے ایک نہ بھرنے والا دل اور نہ مٹنے والا داغ حسرت بنا دیا۔ افسوس کچھ قسمت ہی سے یہ روز بد دیکھنا منظور تھا۔ اب معترضین کو اپنے دعاوی کا کیا جواب دیا جائے گا۔ وہ تو کم بخت پنجے جھاڑ کر پیچھے ہولیں گے اور دم نہ لینے دیں گے۔
میاں غلام جاؤ مولوی نور دین صاحب کو کہو حضور یاد فرما رہے ہیں فوراً تشریف لائیں۔ مولوی صاحب حاضر ہو کر السلام علیکم حضور نے یاد فرمایا تھا غلام حاضر ہے کیا حکم ہے۔ مرزا قادیانی نے کہا مولوی صاحب کیا بتاؤں ان لوگوں کو کیا جواب دیا جائے گا یہ لوگ تو بہت شور کریں گے اور میری ناک میں دم کریں گے۔ ہاں یاد آیا ہمارے الہام میں یہ بھی تو لفظ موجود ہیں۔ ”ویردھا الیک“ بس یہی ٹھیک ہے۔ یعنی وہ پہلے ہمارے پاس تھی ہمارے عزیزوں میں سے تھی۔ پھر چلی گئی اور اب پھر دوبارہ واپس لائی جاوے گی۔ پیش گوئی کا ایک حصہ پورا ہوا اور ہمارے الہاموں کی سچائی کی دلیل مل گئی۔
بس حضور اس سے شافی جواب اور کیا ہو سکتا ہے۔ یہی درست ہے۔ اعتراض کرنے والے جاہل اور کور باطن ہیں وہ تو یونہی بودے اعتراض کرتے رہتے ہیں اور ان میں معقولیت نام کو بھی نہیں ہوتی۔
حضرت صاحب! ہاں مولوی صاحب یاد آیا فضل احمد سے طلاق عزت بی بی کو فوراً
١٠٥
دلوا دینی چاہئے کیونکہ یہ ہمارا حتمی وعدہ ہے اور ایک دنیا اس سے آگاہ ہے۔ جلدی کیجئے اور اس کام کو سر انجام دیجئے۔
مولوی صاحب! حضور فضل احمد طلاق دینے پر رضامند نہیں ہوتا میں نے ہر چند سمجھایا منت وخوشامد کی مگر وہ رام نہ ہوا۔
حضرت صاحب! کیا کہا وہ نالائق نہیں مانتا۔ اگر ایسا ہی ہے تو اس کو فوراً عاق کر دیا جائے اور آج کے بعد میرے املاک سے ایک پائی یا ایک دانہ تک بھی اس کو نہ دیا جائے اور ہر طرح سے اس کو قطعی محروم کر دیا جائے۔
مولوی صاحب! حضور جلدی نہ کیجئے عبداللہ سنوری نے وعدہ کیا تھا کہ میں اس کو سمجھاؤں گا اور امید ہے وہ ضرور مان لے گا۔ لیجئے وہ دونو ادھر ہی آ رہے ہیں معلوم ہوتا ہے کہ سنوری صاحب نے اس کو صحیح کر لیا ہے۔
چنانچہ دونوں نے سلام عرض کیا اور ادب سے دوزانو بیٹھ گئے تو عبداللہ سنوری صاحب بولے۔
حضور میں نے بہت کوشش کی کہ چھوٹے حضور مان جائیں۔ مگر یہ بہت ضدی واقع ہوئے ہیں۔ انکاری کئے جاتے ہیں۔
حضرت صاحب! کیوں بے نالائق میری بات بھی نہ مانے گا اور باپ کی عزت کو یوں ہی بٹہ لگائے جائے گا۔
فضل احمد! حضور مجبور ہوں کچھ بات ہی ایسی ہے۔ جو ضمیر کے خلاف ہے میں حیران ہوں کہ بلا قصور اور بلا وجہ اپنی اس بیوی کو جو شرافت اور عصمت کی ایک سچی تصویر ہے بلا سوچے سمجھے صرف اس لئے طلاق دے دوں کہ اس کے ماموں نے محمدی کا رشتہ آپ سے کیوں نہیں کیا۔ بھلا آپ خود سوچیں اور انصاف فرمائیں کہ حضور اس میں اس غریب کا کیا قصور ہے۔ گویا میں نے جب سے شادی ہوئی کوئی خاص سلوک و مروت اس سے نہیں کی۔ بلکہ کچھ کھنچا ہی رہا ہوں۔ مگر پھر بھی وہ غریب مجھ پر پروانہ نثار اور میرے نام کا وظیفہ کرتی ہے۔ کس قدر ظلم ہے اور کیسا اندھیر ہے کہ بلا قصور و بلا وجہ اس عفیفہ کو طلاق دے دوں۔ جو میری آمد پر بلائیں لیتی ہوئی اپنی آنکھیں فرش راہ کرتی ہے اور پھر وہ بھی بے نتیجہ و بے معنی کیا ایسا کرنے سے محمدی کی شادی آپ سے ہو جائے گی اور جب یہ نہیں ہو سکتی تو مفت میں اپنے اوپر جگ ہنسائی و بدنامی کیوں مول لی جائے۔ میرے خیال میں تو اس رو سیاہی سے مرجانا بہتر ہے۔ اس لئے معاف فرمایا جائے۔
١٠٦
حضرت صاحب! مولوی صاحب اس نالائق پاپی کو میری آنکھوں کے سامنے سے دور کر دو اور فوراً عاق کر کے گھر سے نکال دو۔ ایسی بدبخت اولاد جو اپنے آرام کو والد پر قربان نہ کرے اسی لائق ہے کہ وہ جگہ جگہ کی ٹھوکروں سے پامال ہو جائے۔
مولوی صاحب! بہت اچھا حضور۔
مولوی صاحب پھر اس کو سمجھاتے ہیں آخر بصد منت و ہزار دقت وہ فرضی طلاق دینے پر رضامند ہو جاتا ہے جو دلوا دی جاتی ہے اور جب اس کو یہ کہا جاتا ہے کہ عزت بی بی کو گھر سے نکال دیا جائے تو وہ بضد ہوتا ہے کہ یہ کام ہرگز ہرگز تادم زیست نہ ہوگا اور میں اس کو گھر سے کبھی نہ نکالوں گا۔ چنانچہ دوبارہ وہی دھمکی دہرائی جاتی ہے۔ مگر وہ بھی اپنی بات پر ڈٹا رہتا ہے۔ جس پر اس کو عاق کر دیا جاتا ہے اور یہاں تک سرد مہری کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اور صلہ رحمی کا نمونہ اور پنجابی نبوت کی شان دکھائی جاتی ہے کہ اس کی بیماری اور تیمارداری تو کجا بیمار پرسی بھی نہیں کی جاتی اور جب وہ قریب المرگ ہو جاتا ہے تو مرزا قادیانی کو اطلاع دی جاتی ہے کہ حضرت آپ کا لخت جگر صرف چند لمحوں کا مہمان ہے اور عالم جاودانی کی تیاریاں کر رہا ہے۔ آہ اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ مرتا ہے تو مرنے دو۔ (صلہ رحمی ملاحظہ ہو) یہاں تک کہ وہ اس دنیا سے کوچ کر جاتا ہے مگر آپ کے کان پر جوں بھی نہیں رینگتی اور آپ کو اس کا ایک ذرہ بھر درد نہیں ہوتا اور خیال تک نہیں آتا کہ آخر ہمارا ہی بیٹا تھا جو جوان مرگ فوت ہوا۔ آپ کی شقاوت قلبی ملاحظہ ہو اور آپ کے احساس کی داد دو۔ آپ کے شفقت و حلم، محبت و انکساری، ایثار واخوت کے پیارے نمونے جن سے آپ کی نبوت ٹپکی پڑتی ہے اور فخر جوش مارتا ہے اور ظل ہم چوں دیگرے نیست بنتا ہے کچھ ایسے ہی تھے۔
محمدی بیگم کی شادی خانہ آبادی
٧ اپریل ١٨٩٢ء کا روز سعید تاریخی حیثیت سے ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس میں وہ فیصلہ کن اور مبارک ساعت جو ایک سچے جھوٹے میں بالامتیاز فرق کرتی ہے یہ وہ مبارک گھڑی تھی جس کی دنیا بڑی بے صبری سے انتظار کر رہی تھی۔ اس میں وہ مبارک تقریب سرانجام پائی جو علمی دنیا میں محمدی بیگم کی خانہ آبادی کے نام سے تعبیر کی جاتی ہے۔ چنانچہ قادیان میں آج خاصی چہل پہل و رونق ہے اور ہر شخص وفور محبت سے سرشار نظر آتا ہے۔
مرزا احمد بیگ کا غریب خانہ اپنی بساط سے زیادہ سجا ہوا ہے۔ برآمدہ پر سائبان اور قناتیں لگی ہوئی ہیں اور جا بجا قیمتی پردے آویزاں ہیں۔ جو ان کی شان کو دوبالا کر رہے ہیں۔ فرش قالینوں سے مزین ہے۔ وسط میں ایک نہایت قیمتی کامدار چادر پر گاؤ تکیے کچھ ایسے طریقے سے
١٠٧
لگائے گئے ہیں جو بہت بھلے معلوم ہوتے ہیں۔ گل دانوں میں رنگ برنگ کے پھول کچھ ایسے انداز سے چنے گئے ہیں جو بہار کا سماں پیش کرنے میں پیش پیش ہیں۔ غرضیکہ مکان کیا ہے ایک دنیاوی جنت بنا دی گئی ہے۔ خوشگوار صبح جبکہ مشاطۂ قدرت ہر چیز پر حسن کی بارش کر رہی تھی اور طیور خوش الحان اس کی حمد کے ترانے گا گا کر غافل مخلوق کو بیداری کا پیغام دے رہے تھے۔ ٹھیک آڑھائی بجے برأت بڑے اہتمام کے ساتھ قادیان میں رونق افروز ہوئی۔ جس کے نوشہ میاں مرزا سلطان محمد صاحب رئیس پٹی تھے۔ پر تپاک خیر مقدم کیا گیا اور بڑے قرینہ سے معزز مہمانوں کی خدمت میں پر تکلف چائے پیش کی گئی اور حتی المقدور ان کی خدمت میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا گیا۔
سر شام ہی سے برأت کی چڑھائی کی تیاریاں شروع ہوئیں۔ جو خدا خدا کر کے کہیں ١٠ بجے رات پایۂ تکمیل کو پہنچیں۔ مگر پروسیشن بھی قابل دید تھا۔ نوشہ میاں پر پھولوں کی چادر ایک عجیب دلفریب سماں پیش کرتی تھی اور سہرا رخ انور کی بلائیں لیتا ہوا نہ سیر ہوتا تھا۔ براتی پھولوں کا ہار زیب گلو کئے نوشہ میاں کے گرد یوں حلقہ زن تھے۔ جیسے چاند پر ستارے اور شمع پر پروانے گویا رات تھی۔ مگر گیس کے ہنڈے دن کا مغالطہ دے رہے تھے۔ غرضیکہ یہ کامیاب و مبارک جلوس میزبان کے غریب خانہ پر ختم ہوا اور بڑی عزت واحترام سے خوش آمدید کہا گیا۔
ماحضر تناول فرمانے سے پیشتر نکاح کی مبارک سنت کا اہتمام ہوا اور اس مقدس فرض کی ادائیگی کے لئے قاری صاحب کی خدمت میں استدعا کی گئی۔ جس کو آپ نے بخوشی قبول فرمایا۔ اللہ اللہ خدا کا بے مثل کلام اور وہ بھی قاری صاحب کے منہ سے نور علیٰ نور کا سماں پیش کر گیا۔ سامعین اس قدر محظوظ ہوئے کہ ان پر وجد کی کیفیت طاری ہوئی اور وہ چند لمحوں کے لئے دنیا ومافیہا سے بے نیاز ہو گئے اور یہ کیف ایجاب و قبول کے بعد مبارک بادی کے غلغلوں سے ٹوٹی۔ سنت نبوی کے مطابق خرمے تقسیم ہوئے۔ مگر اس بے دردی سے لٹائے گئے گویا نخلستان عرب کی بساط بچھا دی گئی۔ ان خوش گپیوں میں بہت سا وقت ضائع ہوا اور اس کے بعد کھانا بڑے قرینے سے چنا گیا۔ جو سب نے سیر ہو کر کھایا۔ بعد از فراغت نماز عشاء یہ معزز محترم مہمان وجعل اللیل لباساً کے لطف سے بہرہ اندوز ہوئے۔ صبح رخصتی ہوئی اور یہ معزز مہمان بخیر وعافیت اپنے دولت کدہ پر واپس کامران و شادمان تشریف فرما ہوئے۔
مرزا قادیانی کی بے بسی
آہ! میری ان آنکھوں کے سامنے دن دھاڑے میرے گہوارۂ محبت کو لوٹا گیا۔ مگر میں
١٠٨
بے بس تھا۔ میری رزمگاہ عشق برباد کر دی گئی اور میں کچھ نہ کر سکا۔ کیونکہ مجبور تھا۔ آہ ! میرے جذبہ محبت کی قدر کسی نے نہ کی اور نبوت کے سوانگ کو کسی نے نہ سمجھا۔ آہ ! میں اپنی روداد غم کس کو سناؤں کہ مجھ پر کیا گزر رہی ہے۔ کلیجہ منہ کو آتا ہے اور خون کے گھونٹ پی کر خاموش ہو جاتا ہوں۔ میرے زخم دل اور داغ جگر پہلے ہی سے بھرے ہوئے تھے۔ مگر آہ ! اس نئی نمک پاشی نے ان کو اور بھی گھائل کر دیا۔ آہ ! ان ناکامیوں اور نامرادیوں نے میری صحت کا دیوالہ نکال دیا۔ آہ ! کیا بتاؤں بزم محبت اجڑ گئی۔ صرف ایک شمع باقی ہے جو داغ فراق سے جل کر اپنی زندگی کی آخری سانسیں لے رہی ہے۔ قبر کھد چکی۔ صرف دفن ہونا باقی ہے۔ مگر افسوس ! اگر پنجابی نبوت کا بار میرے کندھوں پر نہ ہوتا تو میں اس کے حاصل کرنے کے لئے ایسے ذرائع اور وسائل اختیار کرتا جو یقیناً خزاں کو بہار سے بدل کر دامن مراد کو گوہر مقصود سے بھر دیتے۔ مگر افسوس ! ایسا کرنے سے میری خود ساختہ نبوت مانع ہے۔
غرضیکہ انہیں خیالات میں آپ اس قدر محو ہوئے اور اس غصے میں ایسے الجھے کہ غروب آفتاب تک آپ کو نجات ہی نصیب نہ ہوئی۔
خاور افلاک اپنی پوری منزلیں طے کرنے کے بعد مغرب میں پناہ گزین ہو رہا ہے۔ اس کی پیاری پیاری سنہری شعاعوں سے ہر چیز روپہلی معلوم ہوتی ہے۔ طیور خوش الحان اپنی نواسنجی ختم کرنے کے بعد اپنے اپنے بسیروں کو جا رہے ہیں۔ مغرب کسی کے ماتم میں سیاہ لباس میں ملبوس ہو رہی ہے۔ کاروان اور تھکے ماندے مسافر منزل پر پہنچنے کی فکر میں کشاں کشاں بڑی عجلت سے جا رہے ہیں۔ غرضیکہ ہر جاندار رات آرام سے بسر کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ شب کی تاریکی لمحہ بلمحہ بڑھ کر اپنا پورا تسلط جمانے کے لئے اجالے کو مار مار کر بھگا رہی ہے۔ خدا کے بندے عشاء کی نماز سے فارغ ہو ہو کر اپنے بستروں پر راحت پذیر ہیں اور لمبے لمبے خراٹوں سے وجعلنا الیل لباساً کے لطف سے بہرہ اندوز ہو رہے ہیں۔ زاہد شب زندہ دار وظائف میں مشغول و عبادت الہی میں محو اس کی حمد کے ترانے گانے میں دنیا و مافیہا سے بے نیاز ہو رہے ہیں۔
ہے میرے آئینہ میں تصویر خواب ہستی
دریا کی تہہ میں چشم گرداب سو گئی ہے
ساحل سے لگ کے موج بیتاب سو گئی ہے
١٠٩
آزاد رہ گیا تو کیونکر میرے فسوں سے
(اقبال)
مگر عاشق نامراد کواکب شماری وآہ و زاری میں اپنے پیارے محبوب کی یاد میں شکوے دریغ کی مجسم تصویر بن کر اپنی جان کو ہلکان کر رہے ہیں۔ ان کے دل کسی کی زلف گرہ گیر کے اسیر ہیں۔ نرم بستر خار مغیلاں سے زیادہ کھٹکتے ہیں اور گویا وہ نیند سے بیزار اور پیازی اشکوں سے موتیوں کی مالا اپنے محبوب کے تصور میں پرونے میں سعادت قلبی تصور کرتے ہیں۔
یہ ممکن ہے زمیں پر ٹپک دے سورج جبیں اپنی
یہ ممکن ہے نہ برسے ابر باراں کوہساروں میں
یہ ممکن ہے نمک بن جائے پانی رود باروں میں
یہ ممکن ہے جلانا آب کا دستور ہو جائے
یہ ممکن ہے حرارت آگ سے کافور ہو جائے
مگر ممکن نہیں اس دل سے الفت دور ہو جائے
ہمارے مرزا قادیانی خشیت الہی سے پرنم اور بیقراری سے کروٹیں بدل رہے ہیں۔ بیچارے معذور ہیں اس لئے کہ خدا کی وحی بارش کی طرح الہام کر رہی ہے اور آپ کو مثل کلمہ شریف کے اپنی وحی پر پورا پورا اعتبار بلکہ ایمان ہے۔ فرماتے ہیں: ”احمد بیگ کے داماد (مرزا سلطان محمد ) کا یہ قصور تھا کہ اس نے تخویف کا اشتہار دیکھ کر اس کی پرواہ نہ کی۔ خط پر خط بھیجے ان سے کچھ نہ ڈرا پیغام بھیج کر سمجھایا گیا کسی نے اس کی طرف ذرہ التفات نہ کی۔“
(اشتہار انعامی چار ہزار ص ٢، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٩٥)
استغفر اللہ ربی! وہ بیماریوں کا گلدستہ ہی ، جس کی صحت کا پیمانہ یوں لبریز ہو اور جس کے ساتھ عزیز واقارب عدم تعاون کر چکے ہوں۔ بلکہ متفق علیہ آپ کے الہام کی جو آپ کی سچائی کا معیار ہو۔ ہمہ تن مخالفت میں خون و پسینہ ایک کر دیویں اور اپنے نفع و نقصان کو اپنے انتہائی تعصب کی وجہ سے نہ سمجھیں (بقول مرزا) اور جو استہزاء واہانت میں بیش پیش سبقت کرنا اپنا عین فرض تصور کریں وہ بیکس و بے بس جس کی وحی بڑی عجلت سے ادھورے پیغام ہی پہنچا دے اور اس پر طرہ یہ کہ وہ کس شوخ سیم تن کی زلف گرہ گیر کا اسیر بھی ہو اور طرفہ یہ کہ اس کا
١١٠
ملنا بھی محال ہو تو انصاف فرمائیے کہ وہ خدا کا فرستادہ رسول مگر غریب پنجابی کرے تو کیا کرے۔ ہمارے خیال میں تو آپ کی حالت ہی قابل رحم تھی اور ایسی حالت میں ان کا مقابلہ ہی عبث تھا۔ مگر معلوم نہیں ہوتا کہ ایک زمانہ نے کیوں آپ کو اس گری ہوئی حالت میں پریشان کیا اور وہ کہاں تک اس کے مجاز تھے۔
ہم مرزا قادیانی کے استقلال کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ یہ ان کا ہی ملکہ کہ باوجود اس قدر تکالیف سے گزر رہے تھے۔ گویا قدم قدم پر اعتراضات سے جان پر بن رہی تھی۔ مگر نہایت استقلال سے ان کو جواب بھی دیئے جارہے تھے اور جب آپ کی ذات گرامی از حد تنگ ہوئی تو ایک اور الہام قرطاس ابیض پر مرحمت فرمانے کی تکلیف گوارہ فرمائی:
”میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیش گوئی داماد احمد بیگ (سلطان محمد) کی تقدیر مبرم ہے اس کا انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہ ہوگی اور میری موت آ جائے گی۔“
(انجام آتھم ص ٣١ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ایضاً)
مگر معترضین حضرات کی تسلی معلوم ہوتا ہے یہ الہام بھی نہ کر سکا اور ہو بھی کیسے سکتی تھی۔ کیونکہ اس سے پہلے جناب کے بیسیوں الہاموں کا حشر ایک دنیا دیکھ چکی تھی۔
وہ مسلسل اعتراضوں میں محو اور آپ کے آرام میں خلل اندازیاں کرنے سے باز نہ آئے۔ مرزا قادیانی جب ان بن بلائے مہمانوں کی تواضع میں جو سیر ہونے کو نہ آتے تھے تھک سے گئے تو آپ کا خیال اپنی محبوبہ منکوحہ آسمانی کی طرف مبدل ہوا۔ چنانچہ آپ نے اپنے رقیب مرزا سلطان محمد کو متعدد تلخ دعائیں دیں۔ آپ نے تخویف کا اشتہار دیا۔ یقین تھا کہ وہ اس سے ضرور خائف ہوگا اور اس کو امر واقعہ میں خائف ہو جانا لازمی تھا۔ کیونکہ موت سر پر منڈلاتی نظر آتی تھی۔ (بقول مرزا) اور سوائے اس کے چارہ ہی کیا تھا کہ وہ محمدی سے مرزا قادیانی کے لئے قطع تعلق کر کے اپنی دین و دنیا سنوار لیتا۔ (بقول مرزا) مگر فوجی آدمی عموماً نڈر ہی ہوتے ہیں۔ میدان کارزار میں سینکڑوں دفعہ خون کی ہولی کھیلنے کے بعد موت کو وہ محبت کی نگاہ سے دیکھنے کے عادی ہو جاتے ہیں۔ بھلا وہ موت سے کیا ڈریں جو موت کو کھیل سے زیادہ اہمیت ہی نہ دیتے ہوں اور پھر یہ پیشہ جو اسی کی چاہت میں اختیار کیا جاتا ہے وہ لوگ گویا موت کے عاشق ہوتے ہیں اور پھر مسلمان جن کا ایمان قرآن حکیم و فرقان حمید پر ہو اور جس کے مزین الفاظ قلب سلیم پر کنداں ہوں۔ ”اذا جاء اجلهم لا يستاخرون ساعة“ اور جس کی تفسیر قرون اولیٰ کے چپے چپے
١١١
سے ملتی ہو اور جس کی تعلیم اس ہادی برحق نے بذات خود کئی ایک غزوات میں تلقین فرمائی ہو۔ جنگ بدر کے واقعہ ہی کو لے لیجئے۔ رحمت عالم سرور کون و مکان آقائے نامدار کا نقیب مدینہ طیبہ کی گلیوں میں منادی کرتا ہے کہ صبح جہاد ہوگا۔ اس لئے اس امن کے شہزادے کا حکم ہے کہ تمام مہاجرین و انصار جائزہ کے لئے اس فوجی کالج میں جس کا دوسرا نام مسجد نبوی ہے میں جمع ہو جاویں۔ چنانچہ جب وہ رہتی دنیا تک کا قائد اعظم وہ مولا کریم کا پیارا کملی پوش جس کے ادب و رعب نے قیصر و کسریٰ کے ایوان متزلزل کر دیئے تھے بنفس نفیس ایک جانب سے بڑے اخلاق و محبت سے معائنہ شروع کیا۔ حضور نے دیکھا کہ سرفروشوں میں ایک کمسن بچہ ایڑیوں کے بل کھڑا ہوا ہے اور اس نے اپنی ایڑیاں صرف اس لئے اونچی کی ہوئی ہیں کہ مبادا میرا قد چھوٹا دیکھ کر حضور فخر دو عالم بچہ ہونے کی حیثیت سے از راہ کرم میدان جنگ میں جانے کی اجازت نہ دیں۔ آہ! جب حضور پر نور اس کو اس حالت میں دیکھتے ہیں تو وفور محبت میں وہی حکم ہوتا ہے۔ جس کا خدشہ تھا کہ بچوں پر جہاد فرض نہیں۔ میرے ماں باپ حضور آقائے نامدار کے اس غلام بچہ پر فدا ہوں۔ بڑے عجز سے رو کر درخواست کرتا ہے اور مچل جاتا ہے کہ میں تو ضرور ہی اس پاک جہاد میں شرکت کروں گا۔ چنانچہ حضور اس کے عزم کی قدر کرتے ہوئے اجازت دے دیتے ہیں۔ میرا مطلب اسی واقعہ کے بیان کرنے سے صرف یہی ہے کہ کیا مرزا سلطان محمد حضور کا حلقہ غلامی اپنے لئے فخر نہ سمجھتا تھا۔ وہ ضرور سمجھتا تھا اور ماشااللہ اب تک سمجھتا ہے۔ اس لئے یہ الہام کیا کبھی وہ آقائے نامدار کے فرمان کے مطابق تیسوں جھوٹے نبی بھی آجاتے اور اپنی ایڑی چوٹی کا زور لگاتے تو غیر ممکن تھا کہ مولا کریم کا وہ بندہ جس کی پشت و پناہ ’’الیس اللہ بکاف عبدہ‘‘ تھی متزلزل ہو جاتا۔
اس کے بعد مرزا قادیانی نے بیسیوں خط اور زبانی پیغام بڑی حکمت عملیوں سے بھیجے اور بڑی سے بڑی کوشش جو آپ کے امکان میں ہو سکتی ہے کی اور بڑے بڑے ناصح نصیحتیں کرتے کرتے اور منتیں کرتے کرتے تھک کر عاجز آگئے۔ مگر واہ رے میاں سلطان محمد تو تو دیوار چین اور قلعہ انٹورپ کو بھی مات ہی کر گیا اور ایسی بازی لے گیا جس کا جواب ہی نہیں۔ گویا لاجواب ہے۔
مرزا قادیانی کو رہ رہ کر یہ بات بڑی شاق اور اذیت دہ معلوم ہوتی تھی کہ جس قدر خطوط جن جن عزیزوں کو بھی بھیجے گئے تھے مگر ان کا جواب صدا بصحرا ہی ثابت ہوا۔ خدا کی شان الہام، خطوط، نامہ بر، ناصح، انعام و اکرام دھمکیاں۔ سب ہی رائیگاں اور
١١٤
محنت ہی برباد اور قصد ہی ناکام ہوا تو سوائے اناللہ وانا الیہ راجعون کے اور کیا کہا جاوے۔ چنانچہ کسی نے حسب حال کیا خوب کہا ہے ؎
ظالم نے پھاڑ ڈالا ہے تار تار کر کے
ناظرین کرام! مؤمن کے اوصاف میں ایک وصف یہ بھی ہے کہ وہ غیر اللہ سے قطعاً نہیں ڈرا کرتے اور جب ڈرتے ہیں تو اسی سے اور جب جھکتے ہیں تو اسی مالک الملک سے، مقام حیرت ہے کہ وہ ڈرتا ہے بھی تو کیا ڈرتا۔ اپنی منکوحہ بیوی چھوڑ دیتا، وہ کیوں صرف اسی لئے کہ مرزا قادیانی الہام کر چکے تھے۔ وہ چونکہ مؤمن تھا اور اس کا ایمان تھا کہ نبوت اس نبیوں کے سردار، عاقب، حاشر، خاتم النبیین پر ختم ہو چکی اور جب باب نبوت ہی بند ہو چکا تو حضرت جبرائیل امین کیسے تشریف فرما ہوں۔ پھر یہ الہام کیسا اور نبوت چہ معنی دارد۔ ہاں بیوی تو کیا جان بھی مانگی جاتی تو مسلمان دینے کو فخر سمجھتے تھے۔ پھر ایک دفعہ خیرالقرون کی یاد ناظرین کرام کو دینے کی تکلیف دیتے ہوئے ایک ایسا ہی واقعہ حسب حال پیش کرتا ہوں۔
خیرالقرون قرنی کا مبارک زمانہ ہے۔ حضور فخر دو عالم جبل احد کے دامن میں اپنے جان نثاروں کو لئے جہادِ پاک میں مشغول ہیں ؎
خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را
رب قدوس کی عنایت سے کفار مکہ پر فتح پاچکے تو زخمیوں کی مرہم پٹی و تیمارداری پر توجہ دلانے سے پیشتر شہیدوں کے دفن کا انتظام فرمانے میں مشغول ہوئے۔ ایک ایک لاش کا معائنہ سرور عالم خود فرماتے جاتے اور دعائیں پڑھتے جاتے تھے۔ آخر ایک لاش پر رک گئے اور رخ انور کا پہلو بدل لیا۔ مگر شرم و حیا کا سا تبسم چہرہ مبارک سے ہویدا تھا کہ معاً ایک عورت دوڑتی ہوئی حاضر ہوئی۔ روئی اور عرض کیا میرے دین و ایمان کا مالک میرا پیارا شوہر جنت کو سدھارا، یا رسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔ میں صرف اس لئے حاضر ہوئی ہوں کہ آپ کو مطلع کروں کہ میرے شوہر حالتِ جنب میں تھے۔ ان کو غسل کی ضرورت ہے ہمارا نکاح گذشتہ شب ہی ہوا تھا۔ مگر علی الصبح آپ کے نقیب نے منادی کی کہ حضور کا ارشاد ہے جہاد پر فوراً پہنچو تو یہ سنتے ہی اسی حالت میں حاضر ہو گئے تھے کہ بیچارے واصل بحق ہوئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون! رحمت عالم نے فرمایا اس کو غسل کی ضرورت نہیں میرا رخ انور کا بدلنا شرم کے باعث ہوا۔ ارشاد
١١٣
فرمایا میں نے دیکھا جنت کی حوریں اس کو غسل دے رہی تھیں۔ سبحان اللہ میرا مطلب اس واقعہ کے یاد دلانے سے صرف یہ ہے کہ طلاق دینا تو کیا ، جان دینا عین سعادت سمجھتے ۔ مگر بقول علامہ اقبال ؎
جلوۂ طور تو موجود ہے موسیٰ ہی نہیں
پہلے کوئی موسیٰ بھی بنے اور پھر دیکھے کہ طور اب بھی ملتا ہے کہ نہیں۔ مگر افسوس آج کل کے گیسو دراز زاہد تو تیسرے روز ہی آسمان کی طرف بڑی بے چینی اور بے صبری سے جبریل امین کے منتظر ہو جاتے ہیں جو دو ایک باتیں حوادث زمانہ سے ٹھیک بھی نکل آئیں تو زمین آسمان کے قلابے ملانے میں محو ہو گئے۔ پھر کیا پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاھی میں ۔
بھلا وہ قوی دل مرزا سلطان محمد جس سے صرف اس قدر قصور سرزد ہوا تھا کہ وہ عین شریعت محمدیہ کے مطابق النکاح من سنتی من رغب عن سنتی فلیس منی کے مطابق تعمیل ارشاد کر چکا تھا۔ مورد عتاب ہوا۔ اس کے بدلے میں آہ اس کے لئے موت کا اٹل حکم جس کی میعاد صرف اڑھائی سال تھی۔ یعنی ٦ اگست ١٨٩٢ء کے بعد اس کو دنیا میں رہنے کا حق نہ تھا اور جو کہا جاتا ہے کہ یہ ناطق فیصلہ رب کعبہ کے دربار سے لیا جا چکا تھا۔ مگر افسوس! اس کی وقعت گوز شتر سے زیادہ نہ ہوئی۔ کیونکہ زمانہ بھر کی دعائیں مرزا سلطان محمد کے شامل حال تھیں۔ وہ فرانس کی جانگداز جنگ میں بھی ایک کافی عرصہ شریک رہے۔ جہاں ان کے سر میں گولی لگی مگر مالک الملک نے چونکہ ایک عالم کی رشد و ہدایت کا سوال ان کی زندگی پر منحصر رکھا تھا۔ اس لئے ایسے جانکاہ واقعہ میں بھی ان کی مدد فرمائی اور ان کو کلی شفا دی اور ان کو اہل بصیرت کے لئے اپنی سچائی کی ایک بین دلیل بنایا اور وہ اس کے فضل و کرم سے اب تک ١٩٣٤ء تک شاداں و فرحاں ہیں۔
ہم عرض کر آئے ہیں کہ معترضین نے مرزا قادیانی کا قافیہ تقریباً تقریباً تنگ کر رکھا تھا۔ اس لئے آپ ان دنوں بڑی تکلیف دہ گھڑیوں سے گزر رہے تھے۔ چنانچہ آپ کا ایک شعر ہے جو شاید ایسے ہی وقت پر کہا گیا ہے۔
صد حسین است در گریبانم
(درثمین ص ١٧١)
بہر حال آپ کا عزم بدستور مثل سابق قائم تھا اور ابھی امید منقطع نہیں ہوئی تھی۔ بلکہ ١١٤
مرزا احمد بیگ کی اتفاقیہ موت جو صرف چند ایک ماہ کے بعد واقع ہو گئی تھی سے آپ مطمئن تھے کہ ابھی دو سال باقی ہیں کوئی ایسی مشکل بات نہیں ہے۔ گو کم بخت فوجی آدمی ہے۔ مگر کسی طریق سے یقیناً مارا ہی جائے گا۔ چنانچہ آپ نے ایک اور پیش گوئی فرمائی۔ ضمیمہ انجام آتھم میں اس پیش گوئی پر بحث کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں:
”اس پیش گوئی کے دو جزو ہیں۔ ایک مرزا احمد بیگ والد منکوحہ کی موت۔ دوسرا سلطان محمد کی موت۔“ اس دوسرے جزو کی بابت بڑی تحدی سے فرماتے ہیں:
”یاد رکھو کہ اس پیش گوئی کی دوسری جزو پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ اے احمقو یہ انسان کا افتراء نہیں نہ یہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار ہے۔ یقیناً سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ص ٣٣٨)
پھر دوسری جگہ ایک عربی عبارت بھی آپ نے کہی ہے۔
”شاتان تذبحان وكل من عليها فان ولا تهنو ولا تحزنو الم تعلم وان الله على كل شئی قدیر“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٦، خزائن ج ١١ص ٣٤٠)
”میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیش گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم (قطعی) اس کی انتظار کرو۔ اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہ ہو گی اور میری موت آجائے گی۔ اگر میں سچا ہوا تو خدا تعالیٰ اس کو ضرور پورا کرے گا۔“
(انجام آتھم ص ٣١ حاشیہ، خزائن ج ١١ص ٣١)
آمنا و صدقنا میں تو کم از کم جناب آپ کے حسب الحکم انتظار ہی کئے لیتا ہوں۔ کیونکہ آپ نے اپنی سچائی کا معیار ہی یہی ٹھہرایا ہے۔
مناقب سید الشہید امام حسینؓ
فاطمۃ الزہرا، سیدۃ النساء، بنت رسول اللہ کا گوشہ جگر، ونور العین ومظہر العجائب ولغرائب امیر المؤمنین علی اسد اللہ الغالب کا لخت جگر۔ سردار دو جہاں آقائے نامدار رسول اللہ ﷺ کا نواسہ، امیر المؤمنین امام القاسمین حسنؓ کا چھوٹا بھائی، حسینؓ جن کا نام، بڑی جس کی شان۔ ایام طفلگی میں مسجد نبوی میں تشریف لائے۔ حضور فخر رسل منبر پر رونق افروز تھے اور خطاب فرما رہے تھے۔ اتر کر شانوں مبارک پر اٹھا لیا اور فرمایا خداوند گواہ رہیو حسینؓ کا دوست میرا دوست اور دشمن میرا دشمن ہے۔ پھر ایک دفعہ کھیلتے کھیلتے مسجد میں آئے دیکھا رحمت عالم بارگاہ رب العزت میں سربسجود ہیں۔ دل میں کیا آئی۔ سید الولد ولا فخر کی پیٹھ مبارک پر سوار ہو گئے۔ بہت دیر تک سرور
١١٥
عالم سر بسجود ہی رہے اور ناز برداری یوں ہوتی رہی۔ ایک اصحابی بولے کیا اچھا گھوڑا ہے تو حضورﷺ نے جواب میں ارشاد فرمایا سوار بھی کچھ کم نہیں۔
جب یہ ناز و نعم کا پروردہ شہزادہ سن بلوغ کو پہنچا تو اس وقت سلطنت ایران زیر نگین اسلام ہو چکی تھی اور جہاں آگ پوجی جاتی تھی اور آتش کدے کبھی سرد ہی نہ ہوتے تھے۔ وہاں خدائے واحد کی عظمت اور رسول کا ڈنکہ بج رہا تھا اور اسلام کا طوطی بول رہا تھا۔ مال غنیمت میں نوشیرواں عادل کی پوتی یزدگرد شاہ ایران کی بھانجی جس کی پوشاک جواہرات سے لدی ہوئی تھی اور جس کا حسن چاند کو بھی شرماتا تھا۔ خلیفہ ثانی حضرت عمرؓ کے سامنے پیش کی گئی تو آپ نے فرمایا کہ اس کا احترام یہ ہے کہ میں اس کو دین کی شہزادی بنادوں اور فتح ایران کا یہ نایاب گوہر ہر مسلمان کی طرف سے اسلام کے شہزادے امام حسینؑ کی خدمت میں پیش کروں۔ جانتے ہو اس کا کیا نام نامی تھا۔ یہی وہ امام ہمام کا مبارک حرم تھا۔ جس سے علی اکبر جیسے لعل پیدا ہوئے جو رسول پاکﷺ کے مشابہ تھے اور نخل اسلام کو اپنے مقدس و مبارک خون سے سینچتے ہوئے عین آغاز جوانی میں میدان کربلا میں شہید کئے گئے اور عابد بیمار زین العابدین جیسے گوہر جن سے نسل سادات قائم رہی اور جو بیماری کی وجہ سے اور خدا کی مشیت سے اس کرب وبلا میں محفوظ رہے اور علی اصغر جیسے موتی جو دنیا سے معصومی کی حالت میں شیطانی ذریت کے ہاتھوں پیاسے جنت کو سدھارے اور حوض کوثر پر سیراب ہوئے آپ کا نام نامی بی بی شہر بانو تھا۔ دنیا ناپائیدار نے کیا کیا جگر خراش نمونے اہل بصیرت کے لئے وا کئے۔ نمرودی چخہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے گلزار بنی۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کا امتحان چھری سے لیا گیا۔ سرور دو جہانﷺ کو ایسی ایسی اذیتیں دی گئیں جن سے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں اور وہ وہ ستم ڈھائے گئے۔ جن کے تصور سے روح کانپ جاتی ہے۔ اب امتحان کی باری امام حسینؑ کی آئی جو تاریخ میں خون سے لکھی ہے۔ آپ اس میدان قیامت میں جس کا نام کرب وبلا ہے۔ خیمہ زن ہیں۔ گرمی کا موسم شباب پر ہے اور وہ بھی عرب کا ریت بالو کی طرح گرم گویا ایک آگ کا دریا ہے جو لہریں مار رہا ہے اور اس پر تمازت آفتاب گویا آسمان سے آگ برسا رہی تھی۔ سامنے نہر فرات موجیں مار کر بہہ رہی ہے۔ جس سے گھوڑے اور کتے سیراب ہو رہے ہیں۔ مگر آہ دل کٹتا ہے اور قلم رکتا ہے کہ آل محمدؐ و چمنستان زہراؓ کی سرسبز و شاداب پھول اور کونپلیں پیاس سے مرجھائی جا رہی ہیں اور شیر خوار بچوں کے لئے دودھ کے عوض پانی کا ایک گھونٹ بھی میسر نہیں ہوتا۔ اس لئے کہ یزیدی افواج کا پانی پر قبضہ ہے۔ گو وہ اس کے نانا پاک کی امت کہلاتی ہے اور غلامی کا دم بھی بھرتی ہے۔ مگر حسینؑ کی آل پر پانی بند
١١٦
کر دیا گیا ہے اور یہ بھی جانتے ہیں کہ اس کا نانا ساقی کوثر ہے اور ایک پیاسی دنیا کو جب کہ وہ العطش العطش پکار رہے ہوں گے۔ سیراب کرے گا اور یہ کس قصور کے بدلے بائیس ہزار بدبخت جوان اس معصوم امام کے خون کے پیاسے ہو رہے ۔ صرف اس لئے کہ وہ کیوں، ایک نا اہل، شقی القلب، فاسق و فاجر کی بیعت خلافت نہیں کرتا اور جان سے زیادہ عزیز رخت ایمان کی بیش بہا قبا جو سرمدی و ازلی ہے نہیں پھینکتا۔ آہ وہ حریت کا شہزادہ تین دن سے بھوکا و پیاسا سرور کائنات کا نواسہ اور حضرت علیؓ و سیدۃ النساء کا لخت جگر وہ چمنستان زہرا کا مالی جب لخت جگر شیر خوار علی اصغرؓ جس کی شدت پیاس سے زبان سوکھ کر کانٹا ہو چکی تھی اور دہن مبارک سے باہر لٹک آئی تھی اور جس کو دیکھ کر کنبہ بھر کے کلیجے کٹتے تھے۔ پانی کے چند قطرے صرف ایک گھونٹ کے لئے اپنے نانا کی امت سے جو اس کا کلمہ پڑھتی تھی متمنی ہوتا ہے تو آہ تیر سے اس کی پیاس بجھائی جاتی ہے اور تیر معصوم کے حلق میں امام کی گود میں لگتا ہے اور معصوم دم توڑ دیتا ہے اور گردن لڑھک جاتی ہے اور جس کے سامنے اس کے بیٹے علی اکبرؓ کی لاش اور محمدؓ و عونؓ بھانجوں کے سر اور قاسمؓ بن حسنؓ کا دھڑ جدا کیا جاتا ہے اور وہ صبر کے دامن کو نہیں چھوڑتا اور اس کے عزیز و اقارب چن چن کر اور دکھلا دکھلا کر ایک ایک کر کے اس کے سامنے شہید کئے جاتے ہیں۔ مگر وہ صبر و تحمل کا کوہ پیکر وہ بحر توحید کا شناور اف نہیں کرتا اور راضی برضا اور شاکر بر حکم مولا رہتا ہے اور خدا سے دعاء کرتا ہے کہ میرے بچے، بہن کے بچے، بھائی کے بچے اور عزیز و اقارب بھوکے اور پیاسے اس ریتلے اور گرم میدان میں شجر اسلام کو اپنے مبارک خون سے سینچ کر جنت کو سدھارے اور میں بھی صرف چند لمحوں کا مہمان ہوں۔ مولا یہ ناچیز قربانی قبول کر اور استقامت دے کہ بیوی اور بہن و بچی کی محبت میرے ارادوں پر غالب نہ آوے۔ احکم الحاکمین بیکس حسینؓ کے پاس سوائے اپنی جان کے اور کچھ نہیں جو تیری راہ میں پیش کی جائے۔ اے میرے مولا دل میں قوت، عزم میں برکت ارادوں میں وسعت دے کہ دشمن کے سامنے ہنس ہنس کر جاؤں اور تیری راہ میں تیری خوشنودی کے لئے تیرے پیارے دین کے لئے اپنی ناچیز جان کو جو تیری عطاء کردہ ہے۔ پیش کروں اور تیرے پیارے رسول کی عظمت پر مٹ جاؤں۔ مگر زبان سے حرف شکایت نہ نکلے۔
وہ معصوم امام جس کی مبارک زندگی کا باب اسلام کے لئے کھلا اور اسی کے لئے بند ہوا امت محمدیہ کے لئے ایک ایسی بیش قیمت مثال چھوڑ گیا جس کی نظیر ابدالآباد تک ناممکن ہے اور جو صبر و استقامت شجاعت و ہمت کی ایک جیتی جاگتی تصویر ہے اور غیر اللہ سے نہ ڈرنے کا ایک سبق عبرت ہے اور ایمان کے محکم ہونے کی ایک بین دلیل ہے اور اللہ کے حکم پر چاہے جان جائے عمل
١١٧
کرنے کا ایک درس عبرت ہے۔ آہ! وہ حسینؓ جس کے سامنے اس کے خیمے لوٹے گئے اور آگ لگادی گئی۔ زبان پر حرف شکایت ہی نہ لایا اور تڑپتی اور مچلتی ہوئی جوان بچوں کی لاشیں میدان میں دیکھیں اور کندھوں پر اٹھا کر خیمہ میں لایا۔ کس عزم کا کامل انسان اور کس حوصلے کا مالک تھا۔ وہ مظلومیت کی سچی تصویر اور وفا و صدق کا مجسمہ جانتا تھا کہ میرے بعد اہل بیت پر کیا کیا مصیبت کے پہاڑ ٹوٹیں گے آہ ان کو پابزنجیر کیا جاوے گا اور یہ خدائی خوار دنیاوی کتے ان سے کیا کیا سلوک کریں گے۔ مگر قوت ایمانی ملاحظہ ہو خیر الانام کی عزت پر سب کچھ قربان کر دیا اور دامن رسالت پر آنچ نہ آنے دی۔ وہ قصر اسلام کی سنگین بنیادیں ایسی الوالعزمی سے استوار کر گیا جو تا روز قیامت متزلزل ہی نہ ہوسکیں گی اور تاریخ جس کے معاملہ میں نظیر پیش کرنے سے قاصر و عاجز ہے۔ آپ کے اوصاف دنیا لکھتی لکھتی عاجز آ جائے، رقم ہی نہیں ہوسکتے۔ مگر آہ آج ایک ایسا بھی مسلم پیدا ہوتا جو کربلا کا نقشہ آنکھوں کے سامنے پھر ایک دفعہ پیش کرتا ہے اور بڑی جرات سے اس معصوم امام کے مقابلہ میں کہتا ہے۔
”انی قتیل الحب ولکن حسینکم“
(اعجاز احمدی ص٨١، خزائن ج١٩ ص١٩٣)
”مجھ میں اور تمہارے حسین میں بہت فرق ہے۔ کیونکہ مجھے تو ہر ایک وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے۔ مگر حسین پس تم دشت کربلا کو یاد کرلو اب تک روتے ہو۔ پس سوچ لو۔“
یہ اشعار بڑی وضاحت سے اپنا مطلب بیان کر رہے ہیں کہ میں امام حسینؓ سے افضل ہوں۔ مجھ (مرزا) میں اور امام میں بہت فرق ہے اور وہ یہ ہے کہ مجھے تو ہر ایک وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے۔ مگر امام حسین کو خدا کی تائید اور مدد نہ ملتی تھی۔ اس لئے (انا خیر منہ) میں ان سے بہتر ہوں اور کہتا ہے کہ تم کربلا کے میدان کو یاد کرلو۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ جناب امام کو خدا کی مدد اور تائید نہیں آئی تھی اور اسی لئے وہ بھوکے پیاسے شہید کر دیئے گئے تھے اور تم آج تک ان کے واقعہ کی یاد میں روتے ہو۔ پس تم سوچو، مطلب یہ ہے کہ اگر انکو مدد ملتی تو وہ شہید نہ کئے جاتے اور یہ کہ وہ اللہ والے نہ تھے یا اس کے محبوب نہ تھے اس لئے مدد نہ ملی اور اس کے مقابلہ میں مجھے دیکھو کہ ہر وقت مدد و تائید مل رہی ہے اس لئے کہ خدا کا خاص فضل و کرم ہر وقت میرے شامل حال ہے۔
پھر درثمین فارسی ص٧١ پر فرماتے ہیں۔
صد حسین است در گریبانم
١١٨
اس کا مطلب بھی نہایت واضح ہے کہ میں ہمہ وقت کربلا میں ہوں اور وہی نقشہ ہر وقت پیش رہتا ہے اور ایسے ایسے تو سینکڑوں حسین میری آستین میں چھپے بیٹھے ہیں۔ ناظرین کرام غور فرمائیں اور آپ کی وہ سو گنا زیادہ مصیبت کی بھی کربلا ملاحظہ فرمائیں اور سو حسین کے صبر واستقلال کی الوالعزمی کو بھی ملاحظہ کریں۔
امیر حبیب اللہ والی افغانستان کو مرزا قادیانی اپنی پیغمبری کی دعوت دیتے ہیں کہ میں مسیح موعود ہوں۔ مجھ پر ایمان لائیے۔ اس کے جواب میں امیر صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ (ایلچیا) یہاں تشریف لاویں۔ مگر اس ڈر سے کہ مبادا وہ تین لفظ نہ کہہ دے۔ (بزن) یعنی اس کو قتل کر دو۔ تبلیغ ہی بند کر دیتے ہیں اور ادھر منہ نہیں کرتے۔
حج کے لئے آپ صرف اس لئے ارادہ ترک فرماتے ہیں کہ وہاں مسلمانوں کی بادشاہی ہے۔ مبادا کوئی صاحب امیر حجاز کو میری نبوت کے متعلق کچھ لکھ نہ دے اور میں مارا جاؤں۔ حالانکہ آپ کا الہام ہے کہ ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں۔ مگر آپ کو جان بہت عزیز تھی اس لئے الہام چاہے ایک نہیں بیس جھوٹے ہو جائیں۔ مگر آنجناب کی جان عزیز پر کوئی گزند نہ آئے۔ ایک اسلامی فرض کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔
اکتوبر ١٩٠١ء کو دہلی میں میاں نذیر حسین صاحب دہلوی کے شاگرد مولوی محمد بشیر صاحب بھوپالی کے ساتھ مباحثہ قرار پایا۔ مرزا قادیانی نے دہلی میں جا کر دو اشتہار دیئے۔ پہلا ٢ اکتوبر اور دوسرا، ١٦ اکتوبر ١٩٠١ء کو جن پر مناظرہ کی شرائط طے ہوئیں اور دور دراز سے بہت سے احباب تشریف لائے۔ جامع مسجد میں انسانوں کا ایک سمندر لہریں مار رہا تھا۔ مگر افسوس مرزا قادیانی نواب لوہارو کی کوٹھی سے باہر تشریف فرما صرف اس لئے نہیں ہوئے کہ جان کا خطرہ ہے کہیں جان عزیز تلف نہ ہو جائے۔ اس لئے شرائط توڑ دی گئیں۔ ایفائے عہد کی پرواہ نہ کرتے ہوئے تقریری مناظرہ کو تحریری مناظرہ میں مبدل کر دیا گیا اور ایسی بودی شرطیں پیش کیں جو ناقابل قبول تھیں۔ مگر پھر بھی قبول کر لی گئیں۔ دعویٰ تو آپ کریں کہ مسیح علیہ السلام فوت ہو گئے اور ثبوت فریق مخالف دیوے۔ دوئم بحث اس عاجز کے مکان پر ہو۔ سوئم جلسہ عام نہ ہو ( کیونکہ جان کا خوف مسجد میں جانے سے روکتا تھا) صرف دس آدمی ہوں (تاکہ نبوت صرف چار دیواری ہی سنے ) اور وہ معززین ہوں۔ (کیونکہ غریبوں سے چندہ نہیں ملتا) مگر مولوی محمد حسین بٹالوی اور مولوی عبدالمجید ساتھ نہ ہوں۔ چہارم پرچوں کی تعداد پانچ سے زیادہ نہ ہو اور لطف یہ کہ پہلا پرچہ آپ کا ہو یہ شرائط مرزا قادیانی نے پیش فرمائیں۔
١١٩
مولوی صاحب فرماتے ہیں گو میرے ساتھ والے ان شرائط پر رضامند نہ تھے۔ مگر میں نے مرزا قادیانی کو پھر بھی حیلہ بنانے نہ دیا اور مناظرہ سے گریز کرنے پر بھی جانے نہ دیا اور یہی مندرجہ بالا شرائط منظور کر لیں۔ ١٩ ربیع الاول بروز جمعہ مناظرہ شروع ہوا۔ میں نے حیات مسیح پر پانچ قوی دلائل لکھ کر حاضرین کو سنائے اور دستخط کرنے کے بعد مرزا قادیانی کے حوالے کر دیئے۔ مرزا قادیانی نے مجلس بحث میں جواب لکھنے سے عذر کیا ہر چند حاجی محمد احمد صاحب و دیگر اصحاب نے مرزا قادیانی کو الزام نقض عہد ومخالفت شروط کا دیا۔ مگر مرزا قادیانی نے نہ مانا اور یہی کہا کہ میں جواب لکھ رکھوں گا کل دس بجے آ کر لے جانا۔ بہت خوب! یہ ہیں حضور کے مناظرے اور یہ ہیں آپ کی پنجابی کربلائی نمونے اور یہ ہیں آپ کے صبر واستقامت کے جیتے جاگتے فوٹو۔
اخبار نور افشاں ستمبر ١٨٩٣ء رقمطراز ہے کہ جب مرزا قادیانی کو پنڈت لیکھرام کے مرنے پر دھمکی کے خطوط پہنچے تو ایسا انتظام کیا گیا کہ کیا مجال کوئی اجنبی آدمی یک بیک حضور میں پہنچ سکے۔ سیر کو جاتے وقت جماعت کثیر ساتھ نہ ہو سیر مشکل ہے۔ بلکہ گورنمنٹ کے حضور میں ایک درخواست بھی دے دی گئی کہ قادیان میں چند سپاہی میری حفاظت کے لئے مقرر کئے جاویں۔ کیونکہ میری جان خطرے میں ہے۔
اس میں بھی آپ کی اولوالعزمی ظاہر ہو رہی ہے کہ خطوط پر ہی جان عزیز کو فکر لاحق ہو رہی ہے اور حفاظت کے لئے پولیس طلب فرمائی جارہی ہے
٢١؍نومبر ١٨٩٨ء کو مرزا قادیانی نے ایک پیش گوئی بیان فرمائی۔ جس پر مولوی ابوسعید محمد حسین بٹالوی نے ایک درخواست دی۔ جس میں کہ مرزا قادیانی نے میرے متعلق پیش گوئی کی ہے مجھے اپنی حفاظت کے لئے ہتھیار رکھنے کے متعلق اجازت دی جاوے۔ مبادا لیکھرام کی طرح میں بھی نہ مارا جاؤں۔ جس پر عدالت نے مرزا قادیانی کے نام سمن جاری کئے اور لکھا کہ وجہ بیان کریں کہ کیوں نہ آپ سے حفظ امن کی ضمانت لی جائے۔ چنانچہ مقدمہ بڑے زور سے چلنے لگا اور آخر نتیجہ میں عدالت نے مندرجہ ذیل امور پر فیصلہ کیا۔
- ١....... میں مرزا ایسی پیش گوئی شائع کرنے سے پرہیز کروں گا جس کے یہ معنی
ہوں یا ایسے معنی خیال کئے جاسکیں کہ کسی شخص کو ذلت پہنچے گی یا مورد عتاب ہوگا۔
- ٢....... میں خدا کے پاس ایسی اپیل کرنے سے بھی اجتناب کروں گا کہ وہ کسی شخص
کو ذلیل کرنے سے یا ایسے نشان ظاہر کرنے سے کہ وہ مورد عتاب الہی ہے یہ ظاہر کرے کہ مذہبی مباحثہ میں کون سچا اور کون جھوٹا ہے۔
١٢٠
- ٣....... میں کسی چیز کو الہام جتا کر شائع کرنے سے مجتنب رہوں گا۔ جس کا یہ منشاء
ہو کہ فلاں شخص مورد عتاب الہی ہوگا۔
- ٤....... میں اس امر سے بھی باز رہوں گا کہ مولوی ابو سعید محمد حسین بٹالوی یا ان
کے کسی دوست یا پیرو کے ساتھ مباحثہ کرنے میں کوئی دشنام آمیز فقرہ یا دل آزار لفظ استعمال کروں یا ایسی کوئی تحریر یا تصویر شائع کروں جس سے ان کو درد پہنچے۔ میں اقرار کرتا ہوں کہ ان کی ذات کی نسبت کچھ شائع نہیں کروں گا۔ جس سے ان کو تکلیف پہنچنے کا عقلاً احتمال ہو۔
- ٥....... میں اس بات سے بھی پرہیز کروں گا مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب یا ان
کے کسی دوست یا پیرو کو اس امر کے مقابلہ کے لئے بلاؤں کہ وہ خدا کے پاس مباہلہ کی درخواست کریں تا کہ وہ ظاہر کرے کہ فلاں مباحثہ میں کون سچا اور کون جھوٹا ہے نہ میں ان کو یا ان کے کسی دوست یا پیرو کو کسی شخص کی نسبت پیش گوئی کرنے کے لئے بلاؤں گا۔
- ٦....... جہاں تک میرے احاطہ قدرت میں ہے تمام اشخاص کو جن پر میرا کچھ بھی
اثر یا اختیار ہے ترغیب دوں گا کہ وہ بجائے خود اس طریق پر عمل کریں۔ جس طریق پر کار بند ہونے کا میں نے دفعہ ١ تا ٦ میں اقرار کیا ہے۔
صاحب ڈپٹی کمشنر گورداسپور کی ڈانٹ پر آپ نبوت کے کاروبار ہی چھوڑ بیٹھے الہام مباہلہ اور اپنی خاص سنت، پیش گوئی اور خدا سے اپیل کرنا اس میں آپ کی بہت ہی حد سے زیادہ بہادری اور خدائی مدد کا آنا ہر وقت ٹپک رہا ہے۔ اس برتے پر یوں ڈرانا، لوجی مینڈکوں کو بھی زکام ہونے لگا اور کیسے دل آزار لفظ کہے سید الشہداء حضرت امام حسینؑ جیسے سینکڑوں میری آستین میں چھپے بیٹھے ہیں۔ توبہ نعوذ باللہ!
اس فیصلہ کے بعد جو دعاء بھی آپ کرتے اس کی نوعیت آپ کا ایک اشتہار بتا رہا ہے اس طرح کرتے جس سے معلوم ہوتا ہے آپ کو مدد ہر وقت تو کجا ایک وقت بھی اللہ میاں سے نہ آتی۔ ملاحظہ ہوں وہ دعائیہ کلمے جن سے آپ کی فضیلت ٹپک رہی ہے۔ فرماتے ہیں: ”مجھے بار ہا خدا تعالیٰ مخاطب کر کے فرما چکا ہے کہ جب تو دعاء کرے تو میں تری سنوں گا۔ سو میں نوح نبی کی طرح دونوں ہاتھ پھیلاتا ہوں اور کہتا ہوں ”رب انی مغلوب رب انی مغلوب“ یا اللہ میں ہار گیا ہوں، تھک گیا ہوں، مغلوب ہو گیا ہوں۔ مگر یہ نہیں فرماتے ” فانتصر “ میری مدد کر اس لئے کہ مبادا ڈاکخانہ میں نہ جانا پڑے۔ میں اس وقت کسی دوسری کو
١٢١
مقابلہ کیلئے نہیں بلاتا اور نہ کسی شخص کے ظلم اور جور کا جناب الہی میں اپیل کرتا ہوں (مبادا دفعات کی زد میں نہ آ جاؤں)
(غلام احمد قادیانی اشتہار ٥ نومبر ١٨٩٩ء ص ٤)
یہ تھی وہ نصرت جو آپ کو ہر وقت آ رہی تھی اور یہ اس کربلا سے سو گنا زیادہ کرب وبلا ہے ۔ جس میں آپ ہر وقت رہتے ہیں میں کہاں تک آپ کے واقعات قلمبند کروں ۔ آپ کی ساری تاریخ میں کوئی ایک ایسا موقعہ مجھے نظر نہیں آتا۔ جس میں مدد کیا خدائی اشارہ تک ہی ہو کہ مدد ہو گی ۔ افسوس آپ کی لن ترانیاں ہی لن ترانیاں ملیں گی ۔ ورنہ مدد تو کسی جانور کا نام ہے میں صرف ایک اور واقعہ بیان کر کے اس مضمون کو بند کرتا ہوں ۔ جو ضمناً آ گیا ہے اور دعویٰ سے یہ بات ببانگ دہل کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی کی ایک بھی پیش گوئی سچی ثابت نہیں ہوئی اور میں اعلان کرتا ہوں کہ کوئی مرزائی چاہے اندلسی ہو یا دمشقی ، مرزا قادیانی کی ایک پیش گوئی جو آپ نے بڑی تحدی سے کہی ہو اور وہ حرف بحرف پوری ہوگئی ہو ثابت کرے تو اس کو مبلغ پچاس روپیہ انعام دوں گا اور اس کی میعاد چھ ماہ تک ہے کسی کو حوصلہ ہے تو میدان میں آوے ۔
مرزا قادیانی (رسالہ اعجاز احمدی ص ١١، ٢٣، خزائن ج ١٩ ص ١١٧، ١٢٢) تحریر فرماتے ہیں اور مولانا ابوالوفا ثناء اللہ صاحب امرتسری کو دعوت دیتے ہیں کہ اگر سچا ہے تو قادیان میں آکر میری کسی ایک پیش گوئی کو جھوٹا ثابت کر دے ۔ رسالہ نزول المسیح میں میری ڈیڑھ سو پیش گوئیاں لکھی ہیں ۔ آپ کو ہر ایک پیش گوئی جھوٹی کرنے کے عوض ایک سو روپیہ انعام دیا جائے گا۔ مولانا رمضان المبارک کی وجہ سے چند دن مجبوراً رک گئے اور تشریف نہ لے جاسکے تو ایک پیش گوئی اور شائع کر دی اور اس پر کیا زور لگتا تھا۔ گھر کی چیز تھی جب رنگ چڑھتا دیکھا جھٹ حرکت کی اور شائع کر دی۔
(اعجاز احمدی ص ١١، ٢٣، خزائن ج ١٩ ص ١١٧، ١٢٢) پر تحریر فرماتے ہیں کہ : ’’اگر یہ مولوی ثناء اللہ سچے ہیں تو قادیان میں آکر کسی پیش گوئی کو جھوٹا تو ثابت کریں (یہ سلطان القلم کی اردو عبارت ہے) اور ہر ایک پیش گوئی کے لئے ایک ایک سو روپیہ انعام دیا جاوے گا (اور وہ بھی گھر سے نہیں بلکہ مریدوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈال کر ) اور آمد و رفت کا کرایہ علیحدہ ۔ مولوی ثناء اللہ نے کہا تھا کہ سب پیش گوئیاں جھوٹی نکلیں اس لئے ہم ان کو مدعو کرتے ہیں ۔ خدا کی قسم دیتے ہیں کہ وہ اس تحقیق کے لئے قادیان میں آئیں رسالہ نزول المسیح میں ڈیڑھ سو پیش گوئیاں میں نے لکھی ہیں تو گویا پندرہ ہزار روپیہ مولوی ثناء اللہ صاحب لے جائیں گے ۔ اس وقت ایک لاکھ سے زیادہ میری جماعت ہے (یہ بھی جھوٹ یہ تعداد اب تک نہیں ہوئی) پس اگر میں
١٢٢
مولوی صاحب موصوف کے لئے ایک روپیہ بھی اپنے مریدوں سے لوں گا تب بھی ایک لاکھ روپیہ ہو جائے گا وہ سب اس کی نذر ہوگا۔ خاکسار! غلام احمد قادیانی
پھر جب رمضان شریف کی وجہ سے مولانا ثناء اللہ صاحب نے جو کچھ توقف سا کیا تو جھٹ ایک اور الہامی تحریر شائع تھی۔
(اعجاز احمدی ص ٣٧، خزائن ج ١٩ ص ١٤٨) فرماتے ہیں: ”واضح رہے مولوی ثناء اللہ کے ذریعے سے عنقریب تین نشان میرے ظاہر ہوں گے۔
- .......١
وہ قادیان میں تمام پیش گوئیوں کی پڑتال کے لئے میرے پاس ہرگز نہ آئیں گے اور سچی پیش گوئیوں کی اپنے قلم سے تصدیق کرنا ان کے لئے موت ہوگی۔ (اخلاق ملاحظہ ہو سنت مرزا)
- .......٢
اگر اس چیلنج پر مستعد ہوئے کہ کاذب صادق سے پہلے مرجائے تو وہ ضرور پہلے مریں گے۔ (خدائی فوجدار تب ہی آج تک بفضل ایزد زندہ ہیں)
- .......٣
اور سب سے پہلے اس اردو مضمون اور عربی قصیدے کے مقابلہ سے عاجز رہ کر جلد تر ان کی روسیاہی ثابت ہوگی۔ (جس کو اللہ روسیاہ کرے گا وہی ہوگا) غلام احمد قادیانی!
مرزا قادیانی کو اپنے زعم باطل میں مولانا ثناء اللہ صاحب کے رمضان کی وجہ سے توقف سے یہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ وہ قادیان میں نہیں آئیں گے اور یہی تحریر میری پیغمبری کی ایک درخشاں دلیل ہوگی۔ مگر جب مولانا قادیان میں تشریف لے آئے اور اپنے آنے کی اطلاع دی کہ حضرت میں آگیا ہوں تاکہ آپ کے حسب وعدہ وہ ایک لاکھ پندرہ ہزار کی رقم جو باوجود یہ کہ تمہاری پیش گوئیوں کے جھوٹ ہونے پر بھی تمہارے لٹو مرید تمہیں دیں گے لیتا جاؤں اب ذرا مہربانی کرکے گھر کی چار دیواری سے نکل کر مرد میدان بنیں اور شکوک رفع کریں تو جواب جو دیا گیا وہ کیا بیان کروں۔ شرم آتی ہے کہ ایک نبی جو قسم سے دعوت دیتا ہے اور خرچ کرایہ اور ایک لاکھ پندرہ ہزار روپیہ انعام پیش کرتا ہے۔ مگر جب وہ فریق مخالف جس کو طلب کیا گیا ہے آجاتا ہے تو کمرے ہی نہیں نکلتا اور رقعے کا جواب الجواب گالیاں دیتا ہے اور ایسے بودے شرائط پیش کرتا ہے جو ناقابل قبول ہوں۔ چنانچہ مرزا قادیانی کا جواب ہم ان کے اپنے الفاظ میں تحریر کرتے ہیں۔
جناب مولوی ثناء اللہ صاحب آپ کا رقعہ پہنچا۔ اگر آپ لوگوں کی صدق دل سے یہ نیت ہو کہ اپنے شکوک وشبہات پیش گوئیوں کی نسبت رفع کروائیں تو یہ آپ لوگوں کی خوش قسمتی
١٢٣
ہوگی۔ اگرچہ میں کئی سال ہو گئے کہ اپنی کتاب انجام آتھم میں شائع کر چکا ہوں کہ میں اس گروہ مخالف سے ہرگز مباحثات نہیں کروں گا۔ کیونکہ اس کا نتیجہ بجز گندی گالیوں اور اوباشانہ کلمات سننے کے اور کچھ ظاہر نہیں ہوا۔ مگر میں ہمیشہ حق کے طالب کے شبہات دور کرنے کے لئے تیار ہوں۔ اگرچہ آپ نے اس رقعہ میں دعویٰ کر دیا ہے کہ میں طالب حق ہوں مگر مجھے تأمل ہے کہ اس دعویٰ پر قائم نہ رہ سکیں گے۔ کیونکہ آپ لوگوں کی عادت ہے کہ ہر ایک بات کو کشاں کشاں بیہودہ اور لغو مباحثات کی طرف لے جاتے ہیں۔ آپ مشروط بات اس طریقہ پر کار بند رہنے سے کر سکتے ہیں۔ آپ مجلس میں زبانی بولنے کے ہرگز مجاز نہ ہوں گے۔ صرف ایک سطر یا دو سطر لکھ کر پیش کریں کہ میرا اس پیش گوئی پر یہ شک ہے۔ پھر اس کا جواب میں مجلس میں مفصل سنایا جائے گا۔ اعتراض کے لئے لمبا لکھنے کی ضرورت نہیں۔ ایک سطر کافی ہے۔ تیسری یہ شرط ہوگی کہ ایک دن میں ایک اعتراض آپ کریں گے۔ کیونکہ آپ اطلاع دے کر نہیں آئے۔ چوروں کی طرح آگئے (مراق کی وجہ سے دعوت یاد ہی نہیں رہی ) یاد رہے یہ ہر گز نہیں ہوگا کہ عوام کالانعام کے روبرو آپ وعظ کی طرح لمبی گفتگو شروع کریں۔ بلکہ آپ نے بالکل منہ بند رکھنا ہوگا۔ جیسے صم بکم (ذرا قادر الکلامی ملاحظہ ہو یہ کہ میری تقریر کو بہرہ ہونے کی وجہ سے نہ تم سنو اور گونگا ہونے کی حیثیت سے نہ جواب دو۔ ہمارے پوباراں اور تمہارے تین کانے ) یہ اس لئے تا گفتگو مباحثے کے رنگ میں نہ ہو جائے۔ (بھلے مانس سے کوئی پوچھے کہ بلایا کس لئے ہے ) اوّل صرف ایک پیش گوئی کی نسبت سوال کریں تین گھنٹہ تک میں اس کا جواب دے سکتا ہوں۔ (واہ صاحب واہ! کیا کہنے ہیں آپ کے ) اور ایک ایک گھنٹہ کے بعد آپ کو متنبہ کیا جاوے گا۔ (مگر خبردار جو زبانی اف بھی کی) اور اگر ابھی تسلی نہیں ہوئی تو ایک اور سطر لکھ کر پیش کرو۔ مگر اس ایک سطر کو بھی آپ کا کام نہیں ہوگا کہ زبانی پڑھ کر سناویں۔ ہم خود پڑھ لیں گے۔ اس میں آپ کا کچھ حرج نہیں۔ کیونکہ آپ تو شبہات دور کرنے آئے ہیں (اور اس سے زیادہ دور کرنے کا طریقہ ہی نہیں ہوسکتا بہت مہربانی ہو رہی ہے) یہ طریق شبہات دور کرنے کے بہت عمدہ ہے۔ میں بآواز بلند لوگوں کو سنادوں گا کہ اس کی پیش گوئی کی نسبت مولوی ثناء اللہ کو یہ وسوسہ ہوا اور اس کا یہ جواب ہے (چاہے کتنا ہی بودا ہو خبردار آپ نہ بولیں) اس طرح وساوس دور کردئے جائیں گے اور اگر یہ چاہو کہ بحث کے رنگ میں آپ کو بات کا موقعہ دیا جاوے تو یہ ہرگز نہیں ہوگا۔ اگر آپ لوگ کچھ نیک نیتی سے کام لیں تو یہ ایک ایسا طریق ہے کہ اس سے آپ کو فائدہ ہوگا۔ ورنہ ہمارا اور آپ لوگوں کا آسمان پر مقدمہ ہے۔ خود خدا تعالیٰ فیصلہ کرے گا۔ سوچ کر دیکھ لو کہ یہ بہتر ہوگا کہ آپ بذریعہ تحریر جو دو سطر سے ١٢٤
زیادہ نہ ہو۔ ایک ایک گھنٹہ بعد اپنا شبہ پیش کرتے جائیں اور میں وہ وسوسہ دور کرتا جاؤں گا۔ ایک بھلا مانس اور شریف آدمی اس کو ضرور پسند کرے گا۔ بالآخر اس غرض کے لئے کہ اب آپ اگر شرافت اور ایمان رکھتے ہیں۔ قادیان سے بغیر تصفیہ خالی نہ جاویں اور میں قسم کھاتا ہوں کہ زبانی آپ کی کوئی بات نہیں سنوں گا اور آپ کی مجال نہیں ہوگی کہ ایک کلمہ بھی زبانی بول سکیں اور آپ کو خدا تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں اس کے پابند ہو جاؤ۔ اور میری نبوت کو چار چاند لگ جانے دو۔ ناحق فتنہ فساد میں عمر بسر نہ کریں۔ جو شخص انحراف کرے گا اس پر خدا کی لعنت ہے۔ خدا کرے کہ وہ لعنت کا پھل اپنی زندگی میں دیکھ لے۔ اوّل آپ مطابق اس عہد مؤکد بقسم کے آج ہی ایک اعتراض دو سطر کا لکھ کر بھیج دیں اور پھر وقت مقرر کر کے مسجد میں مجمع جمع کیا جاوے گا اور آپ کو بلایا جاوے گا عام مجمع میں آپ کے شیطانی وساوس دور کر دیئے جائیں گے۔
مرزا غلام احمد بقلم خود
اس کا جواب مولوی صاحب نے یہ دیا: جناب مرزا غلام احمد قادیانی آپ کا طولانی رقعہ مجھے پہنچا جو کچھ تمام ملک کو گمان تھا وہی ظاہر ہوا۔ جناب والا جب کہ میں آپ کی حسب دعوت مندرجہ اعجاز احمدی حاضر ہوا اور صاف لفظوں میں رقعہ اولاً میں انہیں صفحوں کا حوالہ دے چکا ہوں تو پھر اتنی طول کلامی بجز العادۃ طبعیۃ الثانی کے اور کیا معنی رکھتی ہے۔ جناب من کس قدر افسوس کی بات ہے کہ آپ اعجاز احمدی کے صفحات مذکور پر تو اس نیاز مند کو تحقیق کے لئے بلاتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ آپ کی پیش گوئیوں کو جھوٹا ثابت کر دوں تو فی پیش گوئی ایک سو روپیہ انعام لو اور اسی رقعہ میں آپ مجھ کو ایک دو سطریں لکھنے کے پابند کرتے ہیں اور اپنے لئے تین گھنٹہ تجویز کرتے ہیں۔ (بھائی جی جو ہوئے) ”تلك اذا قسمۃ ضیزی“ بھلا یہ کیا تحقیق کا طریقہ ہے کہ میں تو ایک دو سطریں لکھوں اور آپ تین گھنٹے فرماتے جائیں۔ اس سے صاف سمجھ میں آتا ہے کہ آپ مجھے دعوت دے کر پچھتا رہے ہیں اور اپنی دعوت سے انکاری ہیں اور تحقیق سے احتراز کرتے ہیں۔ جس کی بابت آپ نے در دولت پر مجھے حاضر ہونے کی دعوت دی تھی۔ جس سے عمدہ میں امرتسر ہی بیٹھا ہوا کر سکتا تھا اور کر چکا ہوں۔ مگر چونکہ میں اپنے سفر کی صعوبت کو یاد کر کے بلا نیل و مرام واپس جانا کسی طرح مناسب نہیں سمجھتا۔ اس لئے میں آپ کی بے انصافی کو بھی قبول کرتا ہوں کہ میں دو تین سطر ہی لکھوں گا اور آپ بلاشک تین گھنٹے تقریر کریں۔ مگر اتنی اصلاح ہوگی کہ میں اپنی دو تین سطریں مجمع میں کھڑے ہو کر سناؤں گا اور ہر ایک گھنٹے بعد پانچ منٹ تک آپ کے جواب کی نسبت رائے ظاہر کروں گا۔ آپ
١٢٥
میرا بلا اطلاع آنا چوروں کی طرح فرماتے ہیں کیا مہمانوں کی خاطر اسی کو کہتے ہیں۔ اطلاع دینا آپ نے شرط نہیں کیا تھا۔ علاوہ اس کے آپ کو آسمانی اطلاع ہو گئی ہوگی۔ کاروائی آج ہی شروع ہو جاوے۔ آپ کے جواب آنے پر میں اپنا مختصر سا سوال بھیج دوں گا۔ باقی لعنتوں کی بابت وہی عرض ہے جو حدیث میں ہے کہ لعنت کا مخاطب اگر لعنت کا حقدار نہیں تو کرنے والے پر پڑتی ہے۔ مرسلہ ابوالوفا ثناء اللہ امرتسری ١١ جنوری ١٩٠٣ء
اس کا جواب آپ نے خود نہیں دیا۔ مگر سنت کے مطابق گالیاں جی کھول کر مولوی صاحب کو دی گئیں اور جواب مرزا اینڈ کو نے حضرت مرزا قادیانی کی طرف سے یہ دیا کہ آپ کی شرائط منظور نہیں۔ وہی شرائط منظور ہوں جو امام الزمان نے لکھی ہیں تو تحقیق حق ہو سکتی ہے۔ والسلام! خاکسار محمد احسن الحکم امام الزمان قادیان
ناظرین کرام! میں نے مضمون کی طوالت کے ڈر سے مرزا قادیانی کے چند ایک کربلائی نمونے جن میں آپ کمال ثابت قدم رہے پیش کئے ہیں۔ اب ذرا انصاف فرمائیں کہ سیدنا امام حسینؓ کے مقابلہ میں کون سے آپ کے لخت جگر و عزیز واقارب یا بنفس نفیس بھوکے پیاسے گرم ریتلے میدان میں شہید کئے گئے اور کس نے ان کی تکا بوٹی کر کے چیل و کوؤں کو دی۔ مرزا قادیانی کی مثال تو ایسی تھی کہ لیلیٰ اپنے پیارے مجنوں کے لئے روز ایک چوری کا پیالہ ناشتہ کے لئے روانہ کیا کرتی تھی۔ مگر ایک نقلی مجنوں مجنوں کے نام پر روز کھا جاتا۔ لیلیٰ نے امتحاناً ایک دن خالی کٹورہ روانہ کر کے کہلا بھیجا کہ اس میں خون بھر دو۔ جب قاصد اسی نقلی مجنوں کے پاس جو روز مرہ چوری ہڑپ کر جاتا تھا۔ گیا تو وہ کانپ کر کہنے لگا کہ خون دینے والا مجنوں میں نہیں ہوں توبہ توبہ خون اور میں ہوں۔ وہ کوئی اور مجنوں ہوگا ہاں وہ اندر ہے۔ اسی طرح مرزا قادیانی بھی تو صرف نام کے حسین ہیں اور سر کٹانے والا وہ سیدنا امام الہمام ہی ہیں۔ آپ کا تو پنجہ ہی پتکہ ہے اور الہام ہی الہام ہے۔
کس قدر دیدہ دلیری ہے اور کس طمطراق سے وعدے اور دعوے کئے جاتے۔ مگر ایفاء کا نام بھی نہیں جانتے اور ہر وقت مدد کی بھی خوب کہی منکوحہ آسمانی کے لئے گڑ گڑا کر دعائیں کیں۔ عبد اللہ آتھم کے لئے کیا کیا تکلیفیں کیں۔ ابو سعید محمد حسین کی پیش گوئی کے کیا کیا پینترے بدلے۔ ڈاکٹر عبد الحکیم سے دو دو ہاتھ ہوئے۔ مولوی ثناء اللہ کے لئے مرنے کی دعاء کی۔ مولوی سعد اللہ سے کھری کھری باتیں ہوئیں۔ مگر کیا حشر ہوا سوائے ناکامی اور بدنامی کے کوئی نتیجہ نہ نکلا۔
١٤٦
نامرادی میں ہوا ہے تیرا آنا جانا
پھر مرزا قادیانی ایک اور مقام پر سیدنا امام حسین پر اپنی فضیلت ایک عربی شعر میں یوں فرماتے ہیں۔
قتيل العدى فالفرق اجلى واظهر
(اعجاز احمدی ص ٨١، خزائن ج ١٩ص١٩٣ /)
میں محبت کا کشتہ ہوں۔ مگر تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے۔ پس فرق بین و ظاہر ہے۔ نام غلام احمد کہلوانا اور دعویٰ غلامی کا کرنا، ظلی و بروزی نبی بننا اور اس کو منوانا۔ یعنی یہ کہ میں نبوت کا سایہ ہوں اور محمد رسول اللہ ﷺ کا بروز ہوں۔ (بطور تناسخ) اور پھر یہ کہنا کہ تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ تھا۔ مگر میں محبت کا کشتہ ہوں۔ اس لئے میں افضل ہوں۔ افسوس کوئی محبوب کو عاشق کی نگاہ سے دیکھتا اور اہل بیت کی محبت ہادی برحق کے فرمان سے جانچتا اور قرآن سے اس کی عظمت کو ٹٹولتا اور ایمان سے اس کی تفسیر سمجھتا تو توحید کی کان کے اس موتی کو یا چمنستان زہرا کے اس ممتاز پھول کو یوں توڑنے کی کوشش نہ کرتا اور اہل بیت سے یوں محبت کا اظہار نہ کرتا اور اہل اسلام کو یوں خطاب نہ کرتا کہ تمہارا حسین گویا اس کو اس سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ ہم نے کب انکار کیا۔ ہاں صاحب ہمارا مظلوم امام ہمارا آقا و مولا ہے جو ہمارے لئے باعث فخر ہے۔ میری عقل حیران ہوتی جب میں واقعہ کربلا کا بغور مطالعہ کرتا کہ یہ جانکاہ و جگر سوز واقعہ کس طرح ہوا۔ جب کہ مقابلہ میں اس کے نانا کے کلمہ گو مسلمان تھے اور سرور عالم کا کفن مبارک بھی میلا نہ ہوا تھا۔ مگر آہ! آج یہ الجھن بھی دور ہوگئی کہ قادیان میں ایک یزید ثانی بھی پیدا ہوا۔ چنانچہ مرزا قادیانی کا الہام ہے کہ ”قادیان میں یزیدی لوگ پیدا ہوگئے ۔“
(تذکرہ ص١٧٦)
مندرجہ بالا الہام کے متعلق فرماتے ہیں معلوم نہیں کس کے حق میں ہے۔ میں عرض کرتا ہوں کہ وہ آپ ہی ہیں۔
مرزا قادیانی کے الہاموں سے تسلی تو کیا خاک ہونی تھی۔ بہر حال کچھ عرصہ کے لئے مجبوراً خاموشی ہی اختیار کرنی پڑی۔ چنانچہ اہل قلم کچھ دنوں کے لئے چپ ہوگئے اور گاہے ماہے کوئی ایک آدھ من چلا جلد باز مرزا قادیانی کی ضیافت طبع کے لئے بطور یاداشت آدھا پونا ہدیہ
١٢٧
تبریک کہہ ہی دیتا اور اس کا مطلب سوائے اس کے اور کچھ نہ ہوتا کہ مرزا قادیانی اس بات کو ذہن نشین رکھیں کہ ہم ان کے لئے ان کے آخری فیصلہ تک اور انتظار کئے لیتے ہیں اور معاملہ رب العزت کے سپرد کرتے ہیں۔ آخر خدا خدا کر کے یہ کاغذی جنگ عارضی صلح سے بند ہوئی اور کچھ عرصہ کے لئے فریقین دم لینے کے لئے رک گئے۔ مقام شکر ہے ورنہ ہزار ہا بندگان خدا کا کاغذی نقصان ہوتا اور مرزا قادیانی کا وہ جنگی جہاز جو بغیر بادبان کے خشکی پر بڑی سرعت سے چلتا ہے اور جس کو کشتی نوح کے نام سے یاد کیا جاتا ہے وہ ظلم توڑتا کہ الامان، والحفیظ کی صدا آتی۔ اس میں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ عارضی صلح بھی بہت دیر تک ساقط و صامت نہیں رہی۔ بلکہ اس میں بھی کبھی کبھی فریقین میں چیرہ دستیاں و شب خون مارے ہی جاتے تھے۔ چنانچہ شمال مغربی سرحد پر جو کچھ پھر شورش سی ہوئی۔ جس سے مرزا قادیانی کا پارہ بھی بغیر حدت کے نہ رہ سکا تو آپ نے اس کے جواب میں ایک ختم ہی کر دینے والا ایسا حربہ استعمال فرمایا جس کے ذریعہ سے دوست دشمن دونوں ایک محدود عرصہ کے لئے چار و ناچار رضامند ہونے کو تیار ہو گئے۔ کیونکہ اس میں نہایت فیصلہ کن امور درج تھے۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣) پر فرماتے ہیں کہ: ”چاہئے تھا کہ ہمارے نادان مخالف اس پیش گوئی کے انجام کے منتظر رہتے اور پہلے ہی سے اپنی بدگوہری ظاہر نہ کرتے۔ بھلا جس وقت یہ سب باتیں پوری ہو جائیں گی تو کیا اس دن یہ احمق مخالف جیتے ہی رہیں گے اور کیا اس دن یہ تمام لڑنے والے سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہو جائیں گے۔ ان بیوقوفوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہیں رہے گی اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سوروں کی طرح کردیں گے ۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)
اب بجز اس کے کہ وہ قلیل مدت جو کہ اب صرف چند ماہ باقی رہ گئی تھی اور انتظار کے لئے چھوڑ دی گئی اور فریقین ایک دوسرے کی نقل و حرکت کی دیکھ بھال میں مصروف ہو گئے۔ اس لئے ہم ناظرین کرام کی توجہ مرزا سلطان محمد صاحب رئیس ساکن پٹی کی طرف مبذول کراتے ہیں۔
تحصیل قصور ضلع لاہور میں موضع پٹی ایک چھوٹا سا مگر با رونق قصبہ ہے۔ گو وہاں کوئی تاریخی مقام قابل ذکر نہیں۔ مگر فاتح مرزا سلطان محمد کی شہرت کی وجہ سے کافی سے زیادہ تحصیل خراج حاصل کر چکا ہے۔ آبادی مخلوط قوموں کی ہے۔ مگر اکثریت میں مغل قوم زیادہ ہے۔ ہمارے ناول کے ہیرو مرزا سلطان محمد بڑے اطمینان سے دیوان خانہ میں رونق افروز ہیں۔ رعب و استقلال ان کے چہرہ سے ٹپکتا ہے۔ بڑی متانت سے کسی معاملہ پر غور فرما رہے ہیں۔ تھوڑی دیر
١٢٨
سوچ و بچار کرنے کے بعد بڑی سنجیدگی سے پست آواز سے احباب سے جو حاضرین مجلس تھے استفسار کیا کہ میں حیران ہوں اور نہیں سمجھ سکا کہ یہ مرزا غلام احمد کس قماش کا آدمی ہے اور مجھے بار بار کیوں خط لکھتا ہے اور وہ بھی ایسے دل آزار لہجہ میں بعید از اخلاق میں خیال کرتا ہوں کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دوں۔ پھر خیال آتا ہے بڑی عمر کے ہیں اور بیمار ہیں اور میرے خیال میں تو وہ صحیح الدماغ بھی نہیں۔ اس لئے غصہ تھوک کر ہنس دیتا ہوں اور تعجب خیز امر تو یہ ہے کہ جب میں نے بیسیوں قاصد اور خطوط کا جواب دینا تو کیا ذرہ التفات کرنا بھی عبث اور لغو سمجھتا ہوں اور ہر خواہش کو نہایت حقارت سے ٹھکرا دیتا ہوں۔ پھر کس لئے روز روز پیغام اور پیامبر آتے ہیں اور یہ قاصد بھی ایسے ڈھیٹھ و جاہل مطلق ہیں کہ تین تین دفعہ دھکے دے کر نکالے گئے اور ایسی گوشمالی کی گئی کہ توبہ کر کے گئے۔ مگر کم بخت تیئے کے بخار ہیں جو پھر آ جاتے ہیں اور وہ گویا بم باری کا کارخانہ ہے کہ الہام پر الہام پھینکے جاتا ہے۔ میں حیران ہوں کہ جب اس کا ایک تیر بھی کمان سے سیدھا نہیں پڑتا تو پھر روز روز تکلیف کیوں کرتا ہے۔ کیا بچہ ہے جو مشق کر رہا ہے کیا میں طفل مکتب ہوں اور کچی گولیاں کھیلا ہوں۔ عجب ثم العجب مفتوح فاتح کو بودی دھمکیاں دے یہ معمہ میری سمجھ میں آج تک نہیں آیا۔ اصولاً تو ان کو میرے مخاطب و مقابل ہونے کی جرات ہی نہیں کرنی چاہئے اور میرے خیال میں تہذیب بھی اس کی اجازت نہیں دیتی۔
احباب نے پوچھا کیا آج پھر کوئی نیا گل کھلا ہے۔ تو آپ نے جواب دیا ہاں آج ایک اور الہام بھیجنے کی تکلیف گوارہ فرمائی ہے اور وہ بھی بے سود۔
ناحق میرا قیمتی وقت ضائع کیا جاتا ہے۔ آخر کب تک یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ ایک دن ان کا تلخ تجربہ ایسا دیا جاوے گا جو چھٹی کا دودھ یاد کرا دیوے۔ معاملہ میری ذات تک محدود رہتا تو میں ایسی فضول باتوں کا تذکرہ کرنا بھی مناسب خیال نہیں کرتا تھا۔ مگر افسوس تو یہ ہے ادھر الہام نکلا ادھر دنیا بھر کے اخباروں میں لے دے شروع ہوئی آپ تو گمنام تھے ہی مجھ کو بھی ساتھ لے ڈوبے۔ یہ پیغمبری ہو رہی ہے اور دھڑادھڑ الہام بافی کی مشین چل رہی ہے۔ ذرا دیکھو تو کیسا بودا مضمون ہے۔
”شاتان تذبحان وكل من عليها فان“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٦، خزائن ج ١١ ص ٣٤٠) یعنی دو بکریاں ذبح کی جائیں گی۔ ان میں سے ایک تو میرے خسر، اللہ کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ چل بسے اور دوسرا میرا نام ہے کہ میں جلد سفر کروں گا۔ سبحان اللہ ! کیا کہنے
١٢٩
ہیں ۔ میں تو ان الہاموں کو ایک مجذوب کی بڑ سے بھی کم درجے کا تصور کرتا ہوں ۔ لو غور سے سنو: ”خدا تعالیٰ نے پیش گوئی کے طور پر اس عاجز پر ظاہر فرمایا کہ مرزا احمد بیگ ولد مرزا گامان بیگ ہوشیار پوری کی دختر کلاں انجام کار تمہارے نکاح میں آوے گی اور وہ لوگ بہت عداوت کریں گے اور بہت مانع آئیں گے اور کوشش کرینگے کہ ایسا نہ ہو۔ لیکن آخر کار ایسا ہی ہوگا اور فرمایا خدا تعالیٰ ہر طرح سے اس کو تمہاری طرف لائے گا۔ باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے اور ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھا دے گا اور اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔“
(ازالۃ اوہام ص ٣٩٦ خزائن ج ٣ ص ٣٠٥)
جب ہم جلیس یہ عربی عبارت سن چکے تو بولے آپ نے واقعی بڑی دانائی کی اور بڑی فراخ حوصلگی سے کام لیا۔ جو کسی زبانی و تحریری پیغام کا جواب نہ دیا ورنہ یہ جواب بھی جو آپ تحریر کرتے دنیا کے لئے ایک مضحکہ خیز کھلونے بن جاتے اور اس سے زیادہ بدنامی کا موجب ہوتے۔ ہم تو اب بھی جناب کو یہی عرض کریں گے کہ آپ مثل سابق خاموش ہی رہیں اور دنیا کو اور زیادہ ہنسی کا موقعہ نہ دیں۔
مگر ہم کو فریق مخالف کے وطیرے کا بھی از حد افسوس ہے کہ انہوں نے اس کو اس قدر حد سے زیادہ کیوں طول دیا اور یہ بھی کوئی طول دینے والی بات ہے۔ لڑکیاں ہر گھر میں جوان ہوتی ہیں اور ان کے حاصل کرنے کے لئے سوال بھی سبھی کرتے ہیں ۔ مگر جب رشتہ ایک سے ہو چکا باقی سب چپکے ہو گئے ۔ مگر یہاں تو معاملہ ہی نرالا نظر آتا ہے۔ شادی ہوئے تقریبا دو سال ہو گئے اور چاند سا بچہ بھی اللہ نے دے دیا۔ مگر ابھی تک خام خیالی ہی نہیں گئی اور یہ مرنے کی دھمکی کیا معنی رکھتی ہے۔ ”کل نفس ذائقۃ الموت“ ہر ایک ہی مرے گا۔ اس میں کسی کا کیا اجارہ ہے۔ خاکم بدہن اگر مرزا سلطان محمد انتقال بھی کر جائیں تو کیا غلام احمد زندہ ہی رہے گا۔ ”افا مت فہم خالدون“ وہ بھی تو ایک دن ضرور ہی مرے گا۔
شادی مکن کہ بر تو ہمین ماجرا رود
پھر اس کی کیا دلیل ہے کہ اس کا نکاح ثانی ہوگا اور وہ ضرور مرزا غلام احمد ہی سے ہوگا۔ یہ خیال ہی موہوم و مضحکہ خیز ہے اور ہماری سمجھ میں ان الہاموں کی حقیقت ہی نہیں جچی کہ یہ الہام کیا ہیں کہاں سے اور کس کی طرف سے اور کیوں آتے ہیں اور ان کی سچائی کی کیا دلیل ہے۔ بہر حال اگر یہ مالک الملک کی طرف سے ہوتے تو نعوذ باللہ وہ کون سی طاقت تھی جو اس کو روکتی اور
١٣٠
کس کی مجال تھی جو اس میں شمہ بھر بھی مخل ہوتا۔ بہر حال آپ کو صبر ہی سے کام لینا چاہئے۔ ہمارے نزدیک تو یہ مرگ کی پیش گوئیاں صرف مکر و فریب ہی ظاہر کرتی ہیں۔ کیونکہ پیش گوئی کے وقت پہلے سوچ لیا جاتا ہے کہ مرنا تو ضرور ہے۔ جب مرے گا تب ہی تاویلات سے اپنی سچائی ثابت کر دیں گے اور لطف یہ ہے کہ کیا آسمان پر مرزا قادیانی نے احمد بیگ کا جنازہ دیکھا تھا یا محمدی بیگم سے نکاح ہوا تھا۔
کہاں ڈولی کہاں جنازہ
ان احباب میں سے ایک معمر آدمی جو خاموش بیٹھا سن رہا تھا ہنسا اور بولا کہ مجھے ایک واقعہ یاد آیا ہے۔ اس قصہ کو بند کرو کیسا لغو خیال ہے جو تاویل کے رنگ میں ظاہر کیا جاتا ہے کہ منکوحہ تو آسمانی ہو اور بچے دوسری جگہ جنے اور اگر باکرہ نہیں تو بیوہ ہی ملے۔ کیا کوئی بھلا مانس خاوند یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے جیتے جی اس کی منکوحہ دوسری جگہ آباد ہو اور وہ آس لگائے ہی رکھے۔ اگر یہ منجانب اللہ ہے تو اس کے انجام کو دیکھو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو کر رہے گا۔ ایک گذشتہ مگر دلچسپ واقعہ ہے سن لو۔
اکبر بادشاہ کے دربار کے نورتن تھے۔ ابوالفضل ، فیضی ، بیربل، مان سنگھ ، ٹوڈرمل، ملاں دو پیازہ وغیرہ۔ ان میں ملاں دو پیازہ اور بیربل بڑے ہی ظریف مشہور ہیں۔ ان دونوں کا پیشہ ظرافت ایک ہونے کی وجہ سے ان میں بڑی سخت رقابت تھی۔ بیربل ہمیشہ ملاں دو پیازہ کو نیچا دکھانا چاہتا تھا اور ملاں بیربل کو۔ اتفاق کی بات ہے کہ ملاں دو پیازہ نے بیربل کو بھڑوا کہا۔ چونکہ یہ مذاق بحکم شاہی تھا اور گستاخی معاف تھی اور لفظ فی البدیہہ کہے جاتے تھے۔ اس لئے بیربل نے بھڑوے کے جواب میں ملاں دو پیازہ کو نروا کہا۔ بادشاہ نے کہا ارے بیربل یہ نروا کیا بلا ہے۔ بیربل نے ہاتھ جوڑ کر عرض کیا حضور سو بھڑوے کا ایک نروا ہوتا ہے۔ بادشاہ کو نروے کے دیکھنے کا جو شوق پیدا ہوا بولا اچھا بیربل دیکھو نروا میرے دربار میں کل حاضر کرو۔ بیربل نے ہاتھ جوڑ کر معذرت کی کہ آٹھ دن تک حاضر کر سکتا ہوں۔ چنانچہ مقررہ میعاد ختم ہونے کو آ گئی مگر نروا دستیاب نہ ہوا۔ بیربل بیچارہ حیران پریشان سڑک پر مغموم بیٹھا تھا کہ ایک آدمی سامنے سے گزرا۔ بیربل چونکہ شکستہ دل تھا اور ظرافت کا پتلا تھا۔ راہ گیر سے از راہ تمسخر پوچھا بڑے میاں نوری صاحب کہاں کا ارادہ ہے۔ راہ گیر کا جواب تسلی بخش اور مفید مطلب پایا۔ بڑی شفقت سے اپنے پاس بلا لیا اور بڑے اطمینان وخوشامد سے پوچھا حضرت نوری صاحب یہ گٹھڑی میں کیا ہے۔ کہاں جا رہے ہو۔
١٣١
بولا مدت ہوئی میری گھر والی اتنا کہا اور رو دیا۔ مجھ سے قطع تعلق کر کے دوسرے گاؤں میں شادی کر چکی ہے۔ چونکہ اس محبت کا میں گرویدہ ہوں اور پیار کی نگاہ سے دیکھتا ہوں سنا تھا اس کے ہاں لڑکا پیدا ہوا اسی خوشی میں یہ چند کپڑے اور مٹھائی دینے جا رہا ہوں۔ بیربل نے اس کا بازو بڑی مضبوطی سے پکڑ لیا اور شہنشاہ اکبر کے دربار میں پیش کیا۔
چونکہ باتوں باتوں میں وقت کافی سے زیادہ گزر چکا تھا اس لئے صاحب خانہ سے اجازت طلب کی گئی۔ میزبان نے اپنے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور بڑے میاں کو خاص طور پر تاکید فرمائی کہ غریب خانہ کی رونق بڑھانے کے لئے کبھی کبھی قدم رنجہ فرمایا کریں۔
دنیا ناپائیدار اپنی بے ثباتی کے مظاہرے اکثر اہل البصیرت کو دکھاتی ہی رہتی ہے۔ سچ ہے کہ وعدہ چاہے کتنا ہی لمبا اور بے معنی ہو آ ہی جاتا ہے۔ مرزا سلطان محمد کی عمر کی آخری رات ٢١؍اگست ١٨٩٣ء تھی۔ جس کی مرزا قادیانی بھی تصدیق رسالہ (شہادت القرآن ص٧٩، خزائن ج٦ ص٣٧٥) پر فرماتے ہیں:
”مرزا احمد بیگ کے داماد کی موت کی نسبت جو آج کی تاریخ سے جو ٢١؍ستمبر ١٨٩٣ء ہے۔ قریباً گیارہ مہینے باقی رہ گئے ہیں۔“
آ ہی گئی جس کے لئے ایک دنیا بڑی بے صبری سے ایک ایک دن گن کر گزار رہی تھی اور جس کے لئے بڑی ملمع سازیوں سے بیسیوں اٹل الہام اور موت کو تقدیر مبرم قرار دیا تھا اور جن کو مرزا قادیانی نے بڑے وثوق سے فرمانے کی زحمت گوارہ فرمائی تھی اور جس کے بعد مرزا سلطان محمد کو دنیا میں رہنے کا حق قطعاً نہ پہنچتا تھا اور جو اہل ذوق کے لئے بڑے انتظار کا موجب بنی اور جس کے لئے اہل اللہ نے مسجدوں میں شب بھر سلطان محمد کی درازی عمر کی دعائیں رب العزت کی درگاہ میں بڑے انکسار و عاجزی سے مانگیں آ ہی گئی۔
شب کی تاریکی لمحہ بہ لمحہ کم ہوتی گئی اور خدائے واحد کی وہ ادنیٰ مخلوق جو کلب کے نام سے یاد کی جاتی ہے اور جو رات بھر اپنے پرائے کی پاسبانی کرتی رہتی ہے تھک کر اونگھنے لگی۔ بزم جہاں کا وہ سکوت جو ہو کا عالم تھا ٹوٹا اور سپیدہ صبح نمودار ہوا تو مؤذن نے مالک الملک کے جبروت و معظم پیغام سے گہری نیند میں غافل سونے والوں کو بیداری کا حکم دے کر خالق حقیقی کی عظمت کا پتہ دیا۔ کلیسا و مندر گھنٹوں اور ناقوس کی آوازوں سے گونج اٹھے آتشکدوں میں آگ بڑی تیزی سے سلگھائے جانے لگی۔ طیور خوش الحان اپنی نواسنجی میں محو ہو کر اس کی یگانگت کا ترانہ گانے میں مشغول ہوئے۔ غنچے چٹک چٹک کر اس کی حمد میں پھول بنے۔ ننھی ننھی کلیوں نے شبنم سے وضو کیا
١٣٦٠
اور صبا کو باد بہاری کا نغمہ سنایا۔ سرو نے جھک جھک کر مجرا کیا اور نرگس بیمار نے آنکھ اس کی قدرت کا تماشا دیکھنے کے لئے کھولی۔ قمریاں شاخ صنوبر پر ہو ہو کر مستانہ وار نعرے لگانے لگیں۔ چڑیوں کے چہچہانے سے فضائے آسمان میں ایک گونج سی پیدا ہوئی کاروان شب بھر کی برق رفتاری سے چور ہو کر منزلوں پر دم لینے کے لئے رکے۔
وہ چمک اٹھا افق گرم تقاضا تو بھی ہو
مسجدیں بندگان خدا سے بھر پور ہوئیں اور قاریان خوش الحان اپنے لحن داؤدی سے مصحف یزداں کے بے مثل کلام سے بندگان خدا کو محظوظ کرنے لگے۔ خورشید اپنے سنہری تازیانوں سے شب کی تاریکی کو درس عبرت دینے لگا اور بندگان خدا اپنے اپنے مشاغل میں ویبتغوا من فضل اللہ کی تلاش مشغول ہوئے اور اہل علم وصاحب ذوق پیش گوئی کی تصدیق میں مصروف ہوئے۔
وہی مرزا قادیانی ہیں اور وہی ان کے دیرینہ کرم فرما دوست اور وہی الہاموں کے قضیے اور جھگڑے۔ جہاں دیکھو یہی لے دے شروع ہورہی ہے کہ فلاں الہام غلط ثابت ہوا۔ یہ پیش گوئی جھوٹی نکلی وہ بات جھوٹی ثابت ہوئی۔ غرضیکہ کوئی بستی شاید ہی ایسی خوش قسمت ہو جس میں یہ متعدی بیماری نہ پہنچی ہو اور جہاں جوتیوں میں دال نہ بٹ رہی ہو اور نبوت کے آٹے دال کا بھاؤ نہ معلوم کیا جاتا ہو جریدہ والوں کو تو شاید خبط ہو گیا ہے جو دنیا بھر کی خبروں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ان سے بے نیاز ہو کر اسی شغل میں ایسے منہمک ہورہے ہیں کہ سوائے مرزا قادیانی کے الہاموں کی قلعی کھولنے کے اور ان کو ایک دنیا پر بے نقاب کرنے کے اور کچھ نہیں بھاتا۔ چنانچہ ہر چہار طرف سے اعتراضات کی بے پناہ بارش ایسی تیزی وتندی سے شروع ہوئی کہ مرزا قادیانی کو خواب غفلت سے ناچار دوچار ہونا ہی پڑا۔ چنانچہ ایک اور الہام فرما کر معترض صاحبان کی گردن پر بار عظیم ڈال دیا اور اس کے بعد گویا آپ سبکدوش تھے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ الہام جیسا کہ ان کے الفاظ ظاہر کرتے ہیں وقت کی نزاکت کو ملحوظ رکھتے ہوئے پہلے ہی سے بنالیا گیا تھا جو داشتہ بکار آید کے مصداق اپنے مہمانوں کی آمد پر ایک خاصی تواضع کے لئے کافی وشافی تصور کیا گیا تھا۔
اور آپ کی یہ الہامی پیش گوئی جو بڑی تحدی سے اپنے صدق وکذب کے معیار پر کی گئی تھی۔ بالکل رائیگاں جاتی معلوم ہوئی تو اس کی رُو سے سبکی سے بچنے کے لئے ایک ایسی مزین تاویل بنائی جو ناظرین کرام کی خدمت میں پیش کی جاتی ہے۔
١٣٣
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٢، ١٣٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٠) پر مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ ”یہ امر کہ الہام میں یہ بھی تھا کہ اس عورت کا نکاح آسمان پر میرے ساتھ پڑھا گیا۔ مگر جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ اس نکاح کا ظہور کے لئے جو آسمان پر پڑھا گیا خدا کی طرف سے ایک شرط بھی تھی جو اسی وقت شائع کی گئی اور وہ یہ ہے ”ایھا المرأة توبی توبی فان البلاء علی عقبک“ اے عورت توبہ کر توبہ کر بلا تیرے پیچھے ہے۔ پس جب ان لوگوں نے اس شرط کو پورا کر دیا تا نکاح فسخ ہو گیا یا تاخیر میں پڑ گیا۔“
جو چیرا تو اک قطرہ خون نکلا
بہت خوب، خدا کی قسم خوب سوجھی، اچھی کہی۔ جان بچی لاکھوں پائے، ہو چکی نماز مصلے اٹھائیے۔ چلو اچھا ہوا جو روز کی توں توں میں میں ہی ختم کر دی۔
ہمارے شہر میں ایک دیسی ولی اللہ رہتے تھے وہ اپنی ولایت کا ثبوت ایسا ہی لاجواب دیا کرتے تھے۔ جب کبھی بادل کو گہرا ہوئے دیکھتے فرماتے کہ ضرور برسے گا اور ان کی والدہ فرماتی نہیں برسے گا۔ کبھی وہ ہوتا جو دیسی ولی اللہ کہتے اور کبھی وہ ہوتا جو ان کی والدہ کہتی ولایت گھر کی گھر رہتی اور واہ واہ مفت کی ہوتی مگر تھے دونوں ہی پہنچے ہوئے۔
کیا ابلہ فریبی ہے۔ کس قدر دھوکہ دیا جاتا ہے۔ کیا خوبصورت بناوٹ بنائی جاتی ہے۔ کیا اچھی ملمع سازی کے کرشمے دکھائے جاتے ہیں۔ گدھے پر شیر کا قالین ڈالا جاتا ہے اور لطف یہ کہ پھر ہمیں ڈرایا جاتا ہے۔ ناظرین اس ننھی سی الہامی عبارت کو بغور ملاحظہ فرمائیں اور پھر اس پیش گوئی کے مطلب کو جس کی تہ میں ایک دجل عظیم ہے دیکھئے تو آپ کو اس کی حیثیت اور بناوٹ بتا دے گی کہ یہ ذو معنی کی پوٹ یہ دہکتی ہوئی جہنم کی چنگاری ایک دنیا کے رخت ایمان کو کس طرح خس و خاشاک کی طرح جلا کر راکھ کا ڈھیر کر گئی۔ اب ہم آپ کے لئے اس کو بے نقاب کرتے ہیں۔
”ایتھا المرأة توبی توبی فان البلاء علی عقبک“ یعنی اے عورت توبہ کر توبہ کر بلا تیرے پیچھے ہے۔
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٠)
ناظرین کرام آپ کو یاد ہوگا کہ مرزا قادیانی کو گالیاں کس عورت نے دی تھیں۔ جس کا اقرار آپ خود کرتے ہیں اور جس کا ذکر آپ نے اس خط میں کیا ہے اور گالیاں بھی دہرائی ہیں جو
١٣٤
مرزا علی شیر بیگ کو لکھا تھا۔ آپ اس کو ایک دفعہ پھر ملاحظہ فرمائیں تو معلوم ہوگا کہ آپ اپنی سمدھن کی بدزبانی سے ناراض تھے اور اسی کو توبہ کر تو بہ کراے عورت بلا تیرے پیچھے ہے کہا ہوگا۔ اور پھر یہ مقطع ومقطع عبارت جہاں چاہو لگا لو اور جہاں ضرورت پڑے حسب واقعات پیش کر لو۔ آپ کی ایسی اور سینکڑوں عبارتیں ہیں جو مرزا قادیانی نے بیان فرمائی ہیں اور جن کو شاید کا لفظ ملا کر سینکڑوں جگہ چسپاں کر لیا گیا ہے اور لطف یہ کہ ایک ہی عبارت کو دس دس واقعات کی تائید میں پیش کیا گیا ہے۔ نمونہ چند ایک الہام پیش کرتا ہوں جو حسب ضرورت و موقعہ کسی کے مرنے پر زلزلہ آنے پر، بیمار ہونے پر اور ایسے ہی کئی ایک امور پر جھٹ چسپان کر دیئے جاتے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں۔
- ١...... ”کمترین کا بیڑا غرق ہو گیا۔ معلوم نہیں کس کے حق میں ہے۔“
(البشریٰ ج ٢ ص ١٢١)
- ٢...... ”سوتے سوتے جہنم میں پڑ گیا۔ ابھی پتہ نہیں کس کے متعلق ہے۔“
(البشریٰ ج ٢ ص ٩٥)
- ٣...... ”ایک دانہ کس کس نے کھانا، معنی معلوم نہیں ہوئے، کیا اشارہ ہے۔“
(تذکرہ ص ٥٩٥)
- ٤...... ”دو پل ٹوٹ گئے۔ پتہ نہیں کیا مطلب ہے۔“
(تذکرہ ص ٦٩٤)
- ٥...... ”فرنی بہت لذیذ ہے۔ معلوم نہیں کیا مطلب ہے؟۔“
- ٦...... ”ایلی ایلی لما سبقتی ایلی وس۔ اس کے کچھ معنی نہیں کھلے۔“
(البشریٰ ج ١ ص ٣٦)
- ٧...... ھو شعنا، نعسا۔ یہ دونوں فقرے شاید عبرانی ہوں گے۔ ان کے معنی
ابھی تک عاجز پر نہیں کھلے۔
(براہین احمدیہ ص ٥٥٧ حاشیہ در حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٦٦٤)
- ٨...... پریش، غیر پراطوس بباعث سرعت الہام دریافت نہیں ہوا۔ پراطوس ہے یا
پلاطوس۔
(البشریٰ ج ١ ص ٥١)
- ٩...... پیٹ پھٹ گیا۔ دن کے وقت کا الہام ہے معلوم نہیں۔
(البشریٰ ج ٢ ص ١١٩)
- ١٠...... خدا اس کو پانچ بار ہلاکت سے بچائے گا۔ نہ معلوم کس کے حق میں ہے۔
(البشریٰ ج ٢ ص ١١٩)
- ١١...... ٢٣ ستمبر ١٩٠٦ء بروز پیر موت تیراں ماہ حال کو قطعی طور پر معلوم نہیں کس
١٣٥
کے متعلق ہے۔
- ١٢...... بہتر ہوگا کہ شادی کرلیں۔ معلوم نہیں کس کے متعلق الہام ہے۔
(البشریٰ ج ٢ ص ١١٩)
- ١٣...... ١ا۔ انشاء اللہ! اس کی تفہیم نہیں ہوئی اس سے کیا مراد ہے۔ گیارہ دن یا ہفتے
یا مہینے۔
(البشریٰ ج ٢ ص ٦٥)
- ١٤...... غشم، غشم، غشم۔ تین مرتبہ معلوم نہیں ہوا کیا اشارہ ہے۔
(البشریٰ ج ٢ ص ٥٠)
- ١٥...... ایک دم میں دم رخصت ہوا۔ معلوم نہیں کس کے حق میں ہے۔ مگر خطرناک
ہے۔
(البشریٰ ج ٢ ص ١١٧)
- ١٦...... ایک عربی الہام تھا لفظ یاد نہیں رہے۔ مطلب یہ ہے مکذبون کا نشان دکھایا
جائے گا۔
(البشریٰ ج ٢ ص ٩٤)
- ١٧...... لاہور میں ایک بے شرم ہے۔ پتہ نہیں کون ہے۔
(البشریٰ ج ٢ ص ١٢٦)
- ١٨...... آسمان ایک مٹھی بھر رہ گیا۔
(البشریٰ ج ٢ ص ١٣٩)
پھر تو حضرت زمین ایک انچ رہ جانی چاہئے تھی اور ماشاء اللہ آپ اس وقت کہاں تھے۔
- ١٩...... ربنا عاج۔ ہمارا رب عاجی ہے۔ عاجی کے معنی معلوم نہیں۔
(البشریٰ ج ١ ص ٤٣)
ہم بتائے دیتے ہیں ہاتھی دانت یا گوبر۔
- ٢٠...... زار بھی ہوگا تو ہوگا کھڑی بہ حال زار۔ (ہم بھی کہہ سکتے ہیں کہ ایک دن
محمود روئے گا۔)
(تذکرہ طبع سوم ص ٥٤٠)
- ٢١...... دو پیس کے تین گنے یہ پنجابی الہام ہے۔ ترجمہ ہم کر دیتے ہیں کہ ٦ پائی
کے تین نیشکر؟۔
- ٢٢...... Then you will go to Amritsar فرماتے ہیں شاید
انگریزی زبان ہے۔ ترجمہ میں نہیں جانتا۔
(تذکرہ ص ٥٢)
- ٢٣...... قادیان میں یزیدی لوگ پیدا ہو گئے۔ معلوم نہیں ہوا کون ہیں۔
(البشریٰ ج ٢ ص ١٩)
- ٢٤...... ایک ہفتہ تک ایک بھی باقی نہیں رہے گا۔
(تذکرہ طبع سوم ص ٦٩٦)
- ٢٥...... پچیس دن یا پچیس دن تک۔
(تذکرہ طبع سوم ص ٧٠١)
١٣٦
- ٢٦....... پہلے غشی ۔ پھر بیہوشی ۔ پھر موت ۔
(البشریٰ ج ٢ ص ٥٦)
- ٢٧....... اصبر يصنع لک یا مرزا۔ صبر کر ہم تیری خبر لیتے ہیں اے مرزا۔
(البشریٰ ج ٢ ص ٧٨)
ناظرین کرام کیا بتاؤں یہ الہام اس قدر آپ کے کتب خانہ میں بھرے پڑے ہیں کہ ساری عمر لکھتا رہوں اور لکھتا چلا جاؤں ختم ہی نہیں ہوتے۔ پھر ایک الہام کئی دفعہ متعدد اشخاص پر لگایا جاتا ہے بناوٹ ملاحظہ ہو فلاں مر گیا فلاں کا پیٹ پھٹ گیا۔ پل ٹوٹ گیا۔ معلوم نہیں کیا کیا معنی سمجھ کر ذو معنی مقطع عبارتیں گھڑ لی گئیں۔ مگر یہ مرزا قادیانی کا احسان ہے کہ وہ ہم کو ہمیشہ تکلیف دینے سے معاف ہی رکھتے ہیں اور اپنے کئے کی سزا خود ہی تجویز فرما لیا کرتے ہیں۔ سو ان الہاموں کی سزا جو آپ نے اپنے لئے تجویز فرمائی وہ بھی سن لیں۔ چشمۂ معرفت میں یوں تحریر فرماتے ہیں کہ:
”یہ بالکل غیر معقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی ہو اور الہام اس کو اور زبان میں ہو۔ جس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا۔ کیونکہ اس میں تکلیف مالا یطاق ہے اور ایسے الہام سے فائدہ کیا ہوا جو انسان کی سمجھ سے بالاتر ہے۔“
(چشمہ معرفت ص ٢٠٩، خزائن ج ٢٣ ص ٢١٨)
پھر ایک اور طریقہ سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔ جب عزت بی بی کو طلاق مرزا قادیانی نے زبردستی فضل احمد سے دلوائی ہوگی تو سمدھن نے خاطر داری کی ہوگی اور آپ نے فرمایا ہوگا کہ اے عورت توبہ کر توبہ کر، بلا تیرے پیچھے ہے۔ مگر معاملہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ سوال تو یہ ہے کہ یہ سارا قصہ ایک نکاح کا تھا۔ جو تقدیر مبرم تھی اور جو آسمان پر اللہ میاں نے خود پڑھا تھا اور وعدہ کیا تھا کہ ضرور ہوگا۔ لا تبدیل لکلمات اللہ۔ خدا کی باتیں اٹل ہیں اور اسکی رجسٹری سرکار مدینہ سے کی تھی اور یہ مسیح موعود کی شناخت بتلائی تھی اور یہ مرزا قادیانی نے اپنے صدق و کذب کو معیار بنایا تھا۔
اور اب ہم کو عورت کی توبہ بتا کر خاکم بدہن نقل کفر کفر نباشد خدا کا فرمان باطل، رسول پاک کا فرمان باطل، مسیح موعود کا معیار باطل، فرمایا جاتا ہے۔
اور پھر یہ بھی معلوم نہیں کہ اے عورت توبہ کر توبہ کر کس کو کہا گیا۔ اس کی کون مخاطب تھی اور وہ کس مراتب کی عورت تھی جو نعوذ باللہ خدا اور اس کے پیارے رسول کے فرمان کو باطل کرنے پر حاوی تھی اور پھر اس نے توبہ کی تو کن لفظوں میں کی اور کیا مفہوم تھا۔ اور توبہ کے معنی یہاں تو صرف یہی ہو سکتے تھے کہ وہ اپنے کئے پر پچھتاتی اور نکاح سے
١٣٧
اپنے بھائی کو روک دیتی۔ جیسے کہ مرزا قادیانی کی خواہش تھی جو متعدد خطوط میں کی گئی اور اب وہ توبہ کرنے کی مجاز بھی نہ تھی۔ کیونکہ نکاح ہو چکا تھا۔
اور اب تو توبہ مرزا سلطان محمد کو کرنی چاہئے تھی جو آسمانی نکاح کے مانع تھے اور مرزا قادیانی کے بیسیوں نکاح نامے، نامہ بروں اور الہاموں کو بڑی حقارت سے ٹھکرا چکے تھے اور تخویف کے اشتہار سے قطعاً خائف نہ ہوئے تھے۔
اور پھر ایک اور طرح سے توبہ کے مفہوم کی تذلیل ہوتی ہے کہ توبہ تو صرف نکاح کرنے کے جرم میں تھی اور تلافی اس کی سوائے منکوحہ کو طلاق دینے کے نہ ہو سکتی تھی۔ پھر یہ توبہ کیسی جب منکوحہ کو ہی نہیں چھوڑا گیا۔
اور پھر یہ ایک طرح سے بھی لغو معلوم ہوتی ہے توبہ کے معنی ترک معاصی اور آئندہ کے لئے نہ کرنے کا عہد اور دیکھنا یہ ہے کہ یہاں کیا موقعہ ہے۔ یہی کہ خدا کا کیا حکم ہے کہ محمدی کا نکاح مرزا قادیانی سے کر دیا جاوے اور فرمایا جاتا ہے کہ ان سے توبہ کرے۔ ذرا انصاف فرمائیں کہ وہ تائب کیا ہوئی۔ پنچوں کا کہنا سر ماتھے پر اور پرنالہ وہی رہا اور پھر مرزا قادیانی نے توبہ کرنے کے لئے کب لکھا اور اس کی توبہ سے سارے خاندان کی مصیبت یہاں تک کہ اس کے داماد سلطان محمد کی تقدیر مبرم ٹل گئی۔
ان الفاظ کی اشکال کو بھی ملاحظہ فرمائیں کہ نکاح فسخ ہو گیا یا تاخیر میں پڑ گیا۔ اس میں بھی دجل ہے اور فتن فریب ہے۔ یعنی اگر مرزا قادیانی کی زندگی نے وفا کی اور سلطان محمد فوت ہو گیا اور حالات موافق بنالئے گئے اور زمانہ نے اپنی عادت کے مطابق مدد کی اور نکاح ہو گیا تو کہہ دیا جاوے گا پیش گوئی پوری ہوگئی۔ کیونکہ اس میں صاف لکھا تھا کہ نکاح تاخیر میں پڑ گیا اور اگر مرزا قادیانی فوت ہو گئے تو بھی پیش گوئی پوری ہوگئی ۔ کہہ دیا جاوے گا فسخ ہو گیا۔ ذرا الفاظ کی بندش ملاحظہ فرمائیں کہ نکاح فسخ ہو گیا یا تاخیر میں پڑ گیا۔ سبحان اللہ کیا کہنے ہیں۔ اچھی کہی گویا فسخ و تاخیر میں باہم محاورہ ہے۔
ہم ناظرین کی خدمت میں مرزا قادیانی کا ایک اور مدلل جواب جو اس نکاح کے تصدیق میں آپ نے خود ارشاد فرمایا ہوا ہے پیش کرتے ہیں۔
(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٢٥) پر مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ میری اس پیش گوئی (نکاح محمدی) میں نہ ایک بلکہ چھ دعوے ہیں۔
- اول ....... نکاح محمدی بیگم کے وقت تک میرا زندہ رہنا۔
١٣٨
- دوم.......
- سوئم.......
نہیں پہنچے گا۔
- چہارم.......
- پنجم.......
- ششم.......
اقارب کے میرے نکاح اب آپ ا کر سوچ لیں کہ ایسی پیش یہ الہام بھی ایسی بین و ظاہر پیش گو اللہ ہے ہم بھی اس پر م پر پوری ہوئی۔
- .......١
- .......٢
- .......٣
- .......٤
انتہائی دشمنی کے ہوتے
- .......٥
- .......٦
پیش گوئی لکھ کی مدت عمر چھ ماہ کے ا تک زندہ رہے۔ ستمبر ١٨٩٣ میں آنا چاہئے تھا۔ مگر و تھا۔ جواب زندہ ہے۔
- دوم....... نکاح کے وقت تک اس لڑکی کے باپ کا یقیناً زندہ رہنا۔
- سوئم....... پھر نکاح کے بعد اس لڑکی کے باپ کا جلدی سے مرنا جو تین برس تک
نہیں پہنچے گا۔
- چہارم....... اس کے خاوند کا اڑھائی برس کے عرصے تک مرجانا۔
- پنجم....... اس وقت تک کہ میں اس سے نکاح کروں اس لڑکی کا زندہ رہنا۔
- ششم....... پھر آخر یہ کہ بیوہ ہونے کی تمام رسموں کو توڑ کر باوجود سخت مخالفت اس کے
اقارب کے میرے نکاح میں آجانا۔
اب آپ ایماناً کہیں کہ یہ باتیں انسان کے اختیار میں ہیں اور ذرہ اپنے دل کو تھام کر سوچ لیں کہ ایسی پیش گوئی سچی ہو جانے کی حالت میں انسان کا فعل ہو سکتی ہے۔
(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٢٥، خزائن ج ٥ ص ٣٢٥)
یہ الہام بھی نہایت واضح ہے۔ اس میں چھ شرائط بیان کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ ایسی بین و ظاہر پیش گوئی سچی ہونے کی حالت میں انسانی فعل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ یقیناً منجانب اللہ ہے ہم بھی اس پر صاد کرتے ہیں۔ مگر دیکھنا یہ ہے کہ اس میں کوئی ایک بات بھی اپنے وقت پر پوری ہوئی۔
- ١....... اصل پیش گوئی کی بیخ و بنیاد نکاح آسمانی تھا۔ بقیہ عوارض تھے۔
- ٢....... مرزا احمد بیگ کا تین سال کی مدت میں انتقال کرنا۔
- ٣....... مرزا سلطان محمد ناکح منکوحہ آسمانی کا اڑھائی سال کے اندر مرنا۔
- ٤....... محمدی بیگم کا بیوہ ہونا اور نکاح کی رسوم کو (عدت کو) توڑ کر مرزا قادیانی کی
انتہائی دشمنی کے ہوتے ہوئے اور عزیز واقارب کو چھوڑتے ہوئے نکاح میں آ جانا۔
- ٥....... محمدی بیگم کا زندہ رہنا تا نکاح ثانی۔
- ٦....... مرزا قادیانی کا زندہ رہنا اور محمدی بیگم سے خانہ آبادی کرنا۔
پیش گوئی کی رو سے نمبر تین کو نمبر دوم کی موجودگی میں انتقال کرنا چاہئے تھا۔ کیونکہ نمبر ٢ کی مدت تین سال کے اندر مقرر تھی۔ پس وہ چل بسا۔ اس کے دو سال بعد نمبر ٣ کی باری تھی۔ مگر وہ اب تک زندہ ہے۔ ستمبر ١٩٣٣ء تک۔ اس کے بعد نمبر ٤ کو باوجود از حد مخالفت کے مرزا قادیانی کے نکاح میں آنا چاہئے تھا۔ مگر وہ نہیں آئی۔ اس کے بعد نمبر ٥ کو نکاح ثانی مرزا قادیانی کے لئے زندہ رہنا تھا۔ جو اب زندہ ہے۔ ستمبر ١٩٣٣ء تک۔ اس کے بعد نمبر ٦ کو تا نکاح محمدی بیگم زندہ رہنا تھا۔ جو
١٣٩
١٩٠٨ء کو ہی چل بسا۔ نتیجہ اس کا کیا ہوا ایک شق بھی پوری نہ ہوئی۔
مرزا قادیانی کو اس پیش گوئی پر بڑا ناز اور یقین تھا۔ چنانچہ آپ اس کی تصدیق اپنی متبرک کتاب شہادت القرآن میں فرماتے ہیں۔ وہ پیش گوئی جو مسلمان قوم سے تعلق رکھتی ہے۔ بہت ہی عظیم الشان ہے۔ کیونکہ اس کے اجزاء یہ ہیں۔
- اول...... مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری تین سال کی میعاد میں فوت ہو۔
- دوم...... اور پھر داماد اس کا جو اس کی دختر کلاں کا شوہر ہے اڑھائی سال کے اندر
فوت ہو۔
- سوم...... اور پھر یہ کہ مرزا احمد بیگ تا روز شادی دختر کلاں فوت نہ ہو۔
- چہارم...... اور پھر یہ کہ وہ دختر بھی تا نکاح اور تا ایام بیوہ ہونے اور نکاح ثانی کے فوت
نہ ہو۔
- پنجم...... اور پھر یہ کہ یہ عاجز بھی ان تمام واقعات کے پورے ہونے تک فوت نہ
ہو۔
- ششم...... اور پھر یہ کہ اس عاجز سے نکاح ہو جاوے اور ظاہر یہ ہے کہ یہ تمام واقعات
انسان کے اختیار میں نہیں۔
(شہادت القرآن ص ٨٠، خزائن ج ٦ ص ٣٧٦)
ملاحظہ فرمائیں کس وثوق سے اور کس قدر واضح الفاظ میں پیش گوئی کا اظہار فرما رہے ہیں اور یہ بھی تاکید فرما رہے ہیں کہ یہ انسانی کاروبار نہیں بلکہ میری صداقت کی ایک بین دلیل ہی یہی ہے کہ یہ منجانب خدا ہے۔ پھر اس نکاح کی تصدیق ایک اور مقام پر بڑے زور سے فرماتے ہیں:
”نفس پیش گوئی اس عورت (محمدی بیگم) کا اس عاجز (مرزا قادیانی) کے نکاح میں آنا تقدیر مبرم ہے۔ جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی۔ کیونکہ اس کے لئے الہام الٰہی میں یہ فقرہ موجود ہے۔ ”لا تبدیل لکلمات اللہ“ یعنی میری (اللہ کی) یہ بات نہیں ٹلے گی۔ پس اگر ٹل جاوے تو خدا کا کلام باطل ہوتا ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٤٣)
پھر مرزا قادیانی اس کی تائید میں اللہ اور رسول کو درمیان میں لا کر تصدیق فرماتے ہیں۔
مرزا جیو! خدارا سوچو اور سمجھو اور اس مالک الملک سے ڈرو۔ جس کے سامنے پیش ہونے والے ہو۔ جہاں کوئی چیز کفایت نہ کرے گی نہ مال کام آئیں گے نہ اولاد۔ وہاں قلب سلیم
١٤٠
ہی کام آوے گا۔ اس سے ڈرو جو جبار ہے، قہار ہے۔ احکم الحاکمین ہے۔ مالک یوم الدین ہے۔ اس کے نام پر بیجا تاویلیں چھوڑ دو۔ عبث رسہ کشی چھوڑ دو اور جویائے حق ہو کر تعصب کی عینک اتار کر دل کے شیشہ کو صاف کر کے دیکھو اور ٹٹولو۔ تا صراط مستقیم حاصل ہو اور عاقبت بخیر ہو۔ لو ایک اور حوالہ پیش کرتے ہیں جو (ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٢٤، خزائن ج ١١ ص ٢٢٤) پر فرماتے ہیں۔ ترجمہ عربی عبارت ہے:
’’یہ تم سے نہیں کہتا کہ یہ کام نکاح کا ختم ہو گیا۔ بلکہ یہ کام ابھی باقی ہے اس کو کوئی بھی کسی حیلہ سے رد نہیں کر سکتا اور یہ تقدیر مبرم (یقینی اور قطعی) ہے۔ اس کا وقت آئے گا۔ قسم خدا کی جس نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو بھیجا یہ بالکل سچ ہے۔ تم دیکھ لو گے اور میں اس خبر کو اپنے سچ یا جھوٹ کا معیار بناتا ہوں اور میں نے جو کہا ہے یہ خدا سے خبر پا کر کہا ہے۔‘‘
فرماتے ہیں گو نکاح مرزا سلطان محمد سے محمدی کا ہو گیا اور وہ اس کو بیاہ کر موضع پٹی میں لے گیا ہے۔ مگر اس سے یہ خیال نہ کرنا چاہئے کہ یہ نکاح کا کام ختم ہو گیا۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں میں کہتا ہوں ابھی باقی ہے۔ ابھی ختم نہیں ہوا اور اس نکاح ثانی کو کوئی بھی ہو اور چاہے کہ کسی حیلہ سے روک سکے یا رد کر سکے، نہیں کر سکتا۔ اس کے ٹل جانے کا کوئی طریقہ ہی نہیں۔ کیونکہ قطعی اور یقینی ہے اور میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں اور محمد رسول اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ یہ نکاح ضرور ہوگا ،ضرور ہوگا۔ یہ بالکل سچ ہے تم دیکھ لو گے۔ یہ بالکل صحیح ہے اور میں یہاں تک کہتا ہوں کہ اگر یہ نکاح نہ ہوا تو میں جھوٹا ہوں۔ مجھ کو سچا نہ سمجھو اور اگر ہو جاوے تو میں مسیح موعود ہوں اور یہ باتیں جو میں نے انجام آتھم کے ضمیمہ میں فرمائی ہیں اپنی طرف سے نہیں بلکہ خدا کی طرف سے حکم دیا گیا ہے کہ میں آپ کو اس کا یقین دلاؤں۔
اور پھر مرزا قادیانی ایک دوسرے مقام پر اس کی اور بھی زیادہ وضاحت فرماتے ہیں۔
اشتہار انعامی چار ہزار روپیہ۔
’’میں بالآخر دعاء کرتا ہوں کہ اے خدائے قادر علیم اگر آتھم کا عذاب مہلک میں گرفتار ہونا اور احمد بیگ کی دختر کلاں کا اس عاجز کے نکاح میں آنا ...... تیری طرف سے نہیں ہیں تو مجھے نامرادی اور ذلت کے ساتھ ہلاک کر۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ١١٥، ١١٦)
کیسے پیارے اور صاف صاف الفاظ ہیں اور کیا بھلے معلوم ہوتے ہیں۔ مرزا قادیانی دعاء فرما رہے ہیں کہ اے میرے مولا اگر عبداللہ آتھم کا عذاب مہلک میں گرفتار ہونا اور محمدی بیگم کا میرے نکاح میں آنا۔ تیری طرف سے الہام نہیں ہیں تو مجھے نامرادی اور ذلت سے ہلاک کر۔
١٤١
وہ کہاں ہیں مرزائی پٹھو جو اس پیش گوئی میں شرطیں عائد کیا کرتے ہیں کہ یہ پیش گوئی مشروط تھی۔ مرزا سلطان محمد کی موت کے ساتھ وہ ڈرا اور توبہ کی۔ ”ایں خیال است و محال است و جنوں“ اس لئے فسخ ہو گئی یا تاویل میں پڑ گئی۔
یہ بھی غلط ہے کہ مرزا سلطان محمد صاحب زاد عمرہ ڈر گئے۔ ان کی تحریر فاتح قادیان مولانا ابوالوفا ثناء اللہ امرتسری کے ہاں موجود ہے۔ جس میں وہ تحریر فرماتے ہیں کہ:
”جناب مرزا غلام احمد قادیانی نے جو میری موت کی پیش گوئی فرمائی تھی میں نے اس میں ان کی تصدیق نہیں کی نہ اس پیش گوئی سے کبھی ڈرا۔ میں ہمیشہ اور اب بھی اپنے بزرگان اسلام کا پیرو رہا ہوں۔“
سلطان محمد بیگ ساکن پٹی ٣؍ مارچ ١٩٣٣ء
اور پھر اس کی تائید میں مرزا قادیانی کہتے ہیں۔ انجام آتھم ص ٢١٦ فارسی عبارت کا ترجمہ:
”خدا نے فرمایا کہ یہ لوگ میری نشانیوں کو جھٹلاتے ہیں اور ان سے ٹھٹھا کرتے ہیں۔ پس میں ان کو ایک نشان دوں گا اور تیرے لئے ان سب کو کافی ہوں گا اور اس عورت کو احمد بیگ کی بیٹی ہے پھر تیری طرف واپس لاؤں گا۔ یعنی چونکہ وہ ایک اجنبی کے ساتھ نکاح ہو جانے کے سبب سے قبیلہ سے باہر نکل گئی ہے پھر تیرے نکاح کے ذریعہ سے قبیلہ میں داخل کی جاوے گی۔ خدا کی باتوں اور اس کے وعدوں کو کوئی بدل نہیں سکتا اور تیرا خدا جو کچھ چاہتا ہے وہ کام ہر حالت میں ہو جاتا ہے۔ ممکن نہیں کہ معرض التوا میں رہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے لفظ یکفیکھم اللہ کے ساتھ اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ وہ احمد بیگ کی لڑکی کو روکنے والوں کو جان سے مار ڈالنے کے بعد میری طرف واپس لائے گا اور اصل مقصود جان سے مار ڈالنا تھا اور تو جانتا ہے کہ ہلاک اس امر کا جان سے مار ڈالنا ہے اور بس۔“
(انجام آتھم ص ٢١٦، خزائن ج ١١ ص ٢١٦)
پھر مرزا قادیانی اخبار الحکم ٣٠؍ جون ١٩٠٥ء میں فرماتے ہیں: ”اور وعدہ یہ ہے کہ پھر وہ نکاح کے تعلق سے واپس آئے گی۔ سو ایسا ہی ہو گا۔“ کہاں تک اس کی تائید میں حوالے لکھوں ایک اور بھی حوالہ چونکہ دلچسپ ہے پیش کرتا ہوں۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ:
”براہین احمدیہ میں بھی اس وقت سے سترہ برس پہلے اس پیش گوئی کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے جو اس وقت میرے پر کھولا گیا ہے اور وہ یہ الہام ہے جو براہین کے ص ٤٩٦ پر مذکور ہے۔ ”یا ادم اسکن انت وزوجک الجنۃ یا مریم اسکن انت وزوجک الجنۃ . یا احمد اسکن انت وزوجک الجنۃ“ اس جگہ تین جگہ (سبحان اللہ ملاحظہ ہو) زوج کا لفظ
١٤٢
آیا اور تین نام اس عاجز کے رکھے گئے۔ پہلا نام آدم یہ وہ ابتدائی نام ہے۔ جب کہ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے اس عاجز کو روحانی وجود بخشا۔ اس وقت پہلی زوجہ کا ذکر فرمایا۔ پھر دوسری زوجہ کے وقت میں مریم نام رکھا۔ کیونکہ اس وقت مبارک اولاد دی گئی (جو عاق کر دی گئی) ابتلاء پیش آئے۔ جیسا کہ مریم کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت یہودیوں کی بد باطنیوں کا ابتلاء پیش آیا اور تیسری زوجہ جس کا انتظار ہے۔ (یعنی محمدی بیگم) اس کے ساتھ احمد کا لفظ شامل کیا گیا اور یہ لفظ احمد اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس وقت حمد و تعریف ہوگی۔ یہ ایک چھپی ہوئی پیش گوئی ہے۔ جس کا سر اس وقت خدا تعالیٰ نے مجھ پر کھول دیا۔ غرض یہ تین مرتبہ زوج کا لفظ تین مختلف نام کے ساتھ جو بیان کیا گیا ہے وہ اس پیش گوئی کی طرف اشارہ ہے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٨)
مرزا قادیانی کی مایوسی کی انتہا جب بام نامرادی سے اوپر پہنچ گئی اور بنائے کچھ نہ بنی تو مایوسی نے آگھیرا اور تنگ آگئے اور مرزا سلطان محمد صاحب کی عمر جو ختم ہونے کو نہ آتی تھی آپ کی پیشگوئی پر حرف غلط کی طرح خط تنسیخ پھیر گئی تو وہ باتیں جو دوسروں پر چسپاں کرنے کے لئے چاہ کندہ را چاہ در پیش ہوئیں تو بہت گھبرائے۔ مگر بجز سنت قدیمہ کے سوائے بودی تاویلوں کے اور کر ہی کیا سکتے تھے۔ سو اس آخری حربے کو بڑی دانائی و صفائی سے یوں تعبیر کیا۔ مگر بقول دروغ گورا حافظہ نباشد۔ اس میں بھی ایک ایسا سقم رہ گیا جس کی تاویلیں آج تک امت مرزائیہ کرتے کرتے تھک گئی۔ مگر چونکہ بنیاد ہی غلط تھی۔ اس لئے تعمیر بھی پانی پر بنا ثابت ہوئی۔ فرماتے ہیں:
”احمد بیگ میعاد کے اندر فوت ہو گیا اور اس کا فوت ہونا اس کے داماد اور تمام عزیزوں کے لئے سخت غم والم کا موجب ہوا۔ چنانچہ ان لوگوں کی طرف سے توبہ اور رجوع کے خط اور پیغام بھی آئے۔ جیسا کہ ہم نے اشتہار ٦؍ اکتوبر ١٨٩٢ء میں جو غلطی سے ٦؍ ستمبر ١٨٩٢ء لکھا گیا ہے مفصل ذکر کر دیا۔ پس اس دوسرے حصے یعنی احمد بیگ کے داماد کی وفات کے بارے میں سنت اللہ کے موافق تاخیر ڈال دی گئی۔
(اشتہار انعامی چار ہزار روپیہ، مجموعہ اشتہارات ج ٢ حاشیہ ص ٩٤، ٩٥)
پھر انجام آتھم ص ٢٩ حاشیہ خزائن ج ١١ ص ٢٩ پر فرماتے ہیں:
”رہا داماد اس کا (احمد بیگ کا) سو وہ اپنے رفیق کی موت کے حادثہ سے اس قدر خوف سے بھر گیا۔ گویا قبل از موت مر گیا۔“ (حضرت مرنے والا تو فقط بات پر مر جاتا ہے)
ہم ان دونوں عبارتوں کا مدلل جواب ناظرین کرام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔
یہ ہر دو عبارتیں مرزا قادیانی کی اپنی قلم سے ہیں اور ان میں سوائے دو باتوں کے اور کچھ نہیں۔ اول
١٤٣
یہ کہ سلطان محمد از حد ڈر گیا گویا خوف سے مر گیا۔ دوم نکاح تاخیر میں پڑ گیا۔
الف...... اس کا جواب یہ ہے کہ پہلی عبارتیں الہامی تھیں۔ یعنی یہ کہا گیا تھا کہ منجانب اللہ ہیں اور خدا کی قسم اٹھا کر اور رسول کا واسطہ دے کر اور نہ ہونے کی صورت میں انتہائی ذلیل الفاظ کی ذمہ داری لے کر کہا گیا تھا کہ ضرور پوری ہوں گی۔ انسانی کلام سے مولا کا کلام بدرجہ اتم و بہت زیادہ بلند تر اور قابل اعتبار ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی کی کلام خدا کی کلام سے برتر نہیں ہو سکتی۔
ب...... یہ کہ سلطان محمد ہرگز نہیں ڈرا۔ چنانچہ سابقہ اوراق میں خود مرزا قادیانی اس کی تصدیق کر چکے ہیں کہ تخویف کا اشتہار دیا۔ خیال تھا کہ ڈر جائے گا۔ خط پر خط روانہ کئے۔ کچھ بھی اثر نہ ہوا۔ قاصد اور ناصح بھیجے۔ اس نے ذرہ التفات نہ کی اور یہ تو اس کا قصور بتایا گیا تھا جس سے تقدیر مبرم اس غریب پر لازم آئی تھی۔
ج...... بھلا وہ اس کے اور اس کے عزیز واقارب کے عاجزی کے خطوط کہاں اور کس کس کی طرف سے ہیں اور ان میں کیا لکھا ہے اور پھر آپ نے آج تک شائع کیوں نہیں کئے: کچھ تو جس کی پردہ داری ہے۔
ایک چھوٹی سے چھوٹی بات جس کی تہذیب اجازت نہ دیتی ہو جیسے کہ آپ کی سمدھن کے وہ الفاظ کہ یہ شخص کیا بلا ہے کہیں مرتا بھی نہیں وغیرہ وغیرہ! بڑی بے باکی اور مزے لے کر بیان کرنے میں ادھار نہ رکھیں اور یہ کام کی باتیں اور عزت و بے عزتی کا سوال اور موت وزیست کی بازی کے معنی خیز خطوط صرف یہی فرما کر ٹال دیا جاتا ہے کہ آئے تھے تو کیا ہوئے۔ کیا زمین کھا گئی یا آسمان اٹھا کر لے گیا۔ آخر کہاں گئے اور کیوں نہ شائع کئے گئے۔
د...... نکاح تاخیر میں پڑ گیا۔ اب تاخیر التوا چاہتی ہے۔ یعنی کونسی تاخیر تک التوا ہوا۔ آخر کب ہوگا۔ یا روز قیامت تک ہی تاخیر میں پڑا رہے گا۔ کیونکہ مرزا قادیانی تو انتظار کرتے کرتے ہی چل بسے اور یہ حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے گئے اور اب قبر سے یہ صدا آرہی ہے: رباعی!
در حسرت لعل آبدارت مردم
قصه چه کنم دراز کوتاه کنم
باز آ باز آ کہ انتظارت مردم
١٤٤
دیگر در عشق تو یار خود ندارم جز غم
یک ہمدم و ہمراز ندارم کسے
یک مونس و غمخوار ندارم جز غم
مرزا قادیانی کو ١٨٨٨ء سے محمدی بیگم کی چاہت پیدا ہوئی اور آپ نے اس قدر تکلیف ومحنت، رنج وغم اور صدمے اٹھائے جن کا سلسلہ انیس برس کامل چلتا رہا۔ ان تھک کوششیں اور لاتعداد الہامات، پیشگوئیاں، اشتہارات، خطوط، قاصد، ناصح، دھمکیاں، عنایات، نوازشات، روانہ کرنے میں ایک پیہم لگا تار سعی فرمائی اور چونکہ دل میں تسلی تھی اور اوائل میں یہ وہم وخیال بھی کبھی نہ گزرا تھا کہ یوں ناکامی ہوگی۔ اس لئے آپ قوت مردی کے لئے بیش قیمت مرکبات بھی نوش فرماتے رہے جن کے نتیجہ میں آپ کی طاقت پورے پچاس مردوں سے بھی بڑھ گئی۔ مگر افسوس جس کی چاہت میں مرے تھے وہ محبوب ہاتھ نہ آیا اور قسمت میں بات تک کرنی بھی نصیب نہ ہوئی۔ دل کی امنگ کہ ظالم موت نے آ دبوچا اور آنکھیں دیدار کو ترستی ہوئی کھلی کی کھلی رہ گئیں اور آپ راہی ملک عدم ہوئے:
جانے کوئی کہ طالب دیدار مرگیا
چنانچہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ: ”میری حالت مردمی کالعدم تھی اور پیرانہ سالی کے رنگ میں میری زندگی تھی۔ اس لئے میری اس شادی پر میرے بعض دوستوں نے افسوس کیا...... ......اور میں نے کشفی طور پر دیکھا کہ ایک فرشتہ وہ دوائیں میرے منہ میں ڈال رہا ہے۔ چنانچہ وہ دوائیں میں نے تیار کی.........اور پھر اپنے تئیں خدا داد طاقت میں پچاس مرد کے قائم مقام دیکھا۔“
(تریاق القلوب ص٧٥،٧٦، خزائن ج١٥ص٢٠٣،٢٠٤)
مرزا قادیانی ایک ارشاد میں یوں بھی تحریر فرماتے ہیں جو سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہے اور جو بطور سند ہے۔ فرماتے ہیں کہ: ”بعض خواب اور الہام، بدکاروں، حرام کاروں بلکہ فاحشہ عورتوں کے بھی سچے ہو جاتے ہیں۔“
(تحفہ گولڑویہ ص٢٨، خزائن ج١٧ ص١٦٧)
مولانا محمد علی ایم اے امیر جماعت احمدیہ لاہوری کی رائے
”یہ سچ ہے کہ مرزا قادیانی نے کہا تھا کہ نکاح ہوگا اور یہ بھی سچ ہے کہ نہیں ہوا۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ ایک ہی بات کو لے کر سب باتوں کو چھوڑ دینا ٹھیک نہیں۔ کسی امر کا فیصلہ مجموعی طور
١٤٥
پر کرنا چاہئے۔ جب تک سب کو نہ لیا جائے ہم نتیجہ پر نہیں پہنچ سکتے۔ صرف ایک پیشگوئی لے کر بیٹھ جانا اور باقی پیشگوئیوں کو چھوڑ دینا جن کی صداقت پر ہزاروں گواہیاں موجود ہیں۔ یہ طریق انصاف اور راہ صواب نہیں۔ صحیح نتیجہ پر پہنچنے کے لئے یہ دیکھنا چاہئے کہ تمام پیشگوئیاں پوری ہوئیں یا نہیں۔“
(اخبار پیغام صلح لاہور ١٦ جنوری ١٩٢١ء ص ٥ کالم ٣)
قادیانی مشن کے ایک سرگرم رکن نورالدین کی رائے
چند آیات جن میں اللہ تعالیٰ نے زمانہ رسالت کے موجودہ بنی اسرائیل کو مخاطب کر کے فرمایا ہے۔ پیش کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ: ”اب تمام اہل اسلام کو جو قرآن کریم پر ایمان لائے۔ ان آیات کا یاد دلانا مفید سمجھ کر لکھتا ہوں کہ جب مخاطبہ میں مخاطب کی اولاد مخاطب کے جانشین اور اس کے مماثل داخل ہو سکتے ہیں تو احمد بیگ کی لڑکی کیا داخل نہیں ہو سکتی اور کیا آپ کے علم فرائض میں بنات البنات کو حکم بنات نہیں مل سکتا اور کیا مرزا قادیانی کی اولاد مرزا قادیانی کی عصبہ نہیں۔ میں نے بارہا عزیز میاں محمود کو کہا کہ اگر حضرت کی وفات ہو جائے اور یہ لڑکی نکاح میں نہ آوے تو میری عقیدت میں تزلزل نہیں آ سکتا۔ پھر یہ وجہ بیان کی۔ والحمد للہ رب العالمین“
(ریویو ج ٧ ص ٢٧٩)
حکیم صاحب کا مدعا قابل قدر ہے۔ ہم تو آپ کے خیال بنانے کی اور تاویل کو سونے کا جھول چڑھانے کی داد دیتے ہیں:
اجی حضرت قربان جاؤں آپ کے علم پر۔ کیا فرما رہے ہو۔ یہ کہ اگر مرزا قادیانی سے نکاح نہیں ہوا تو مرزا قادیانی کی اولاد نرینہ سے تا قیامت کسی کا نکاح محمدی بیگم کی لڑکی در لڑکی سے ہو جائے تو پیشگوئی پوری ہو گئی۔ مگر سوال تو یہ ہے کہ یہ نکاح مرزا قادیانی کی سچائی کا معیار تھا۔ لہٰذا اس نکاح کے نہ ہونے سے مرزا قادیانی کا مسیح موعود ہونا ثابت نہ ہوا۔ اور وہ حدیث جو آپ نے اپنی صداقت میں پیش کی تھی چسپاں نہ ہوئی۔ تو آپ مسیح موعود ہی نہ ہوئے اور معیار سے گرنے کی وجہ سے جھوٹے ثابت ہوئے۔ اور منکوحہ آسمانی تو امہات المرزائیہ سے جو لڑکیاں پیدا ہوں گی وہ مرزا قادیانی کی اولاد نرینہ کی ہمشیرگان ہوں گی۔ اور پھر یہ نکاح کس طرح جائز ہوگا اور یہ بھی ممکن ہے کہ مولا کریم لڑکے ہی لڑکے دیویں اور لڑکیاں اس سے پیدا ہی نہ ہوں۔ پھر بھی پیشگوئی جھوٹی ثابت ہوئی اور آپ کی عقیدت تو اس وقت بھی قائم رہی جب آپ سے پوچھا جاتا تھا کہ مثیل مسیح بنوں یا مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کروں اور خواہش ظاہر کی جاتی تھی کہ خارق عادت کوئی فعل ایسا
١٤٦
ہو جائے تو مردہ زندہ ہو جائے یا زندہ ہی حسب خواہش مر جائے اور یہ عقیدت مندی کا ہی تو صلہ ہے کہ تخت خلافت پر آپ متمکن ہیں۔ ورنہ:
قادیانی مشن کے ایک سرگرم رکن قاضی اکمل کی رائے
فرماتے ہیں کہ: ”حضرت مرزا صاحب نے (نکاح آسمانی) کے سمجھنے میں غلطی کھائی۔“
(تشحیذ الاذہان بابت مئی ١٩١٣ء)
ہم نے اس مضمون میں اپنے شہر کے ایک دیسی ولی اللہ کی جو مثال دی تھی دراصل وہی پوری ہوئی۔ اصل میں واقعہ یوں ہے۔ غور سے سنو۔ تاکہ یہ مشکل بھی حل ہو جائے۔
مرزا قادیانی کے حرم محترم ثانی نصرت جہاں بیگم صاحبہ ولد میر ناصر نواب صاحب نقشہ نویس جن کے حق میں مورخہ ٢٥/ جون ١٨٩٨ء کو مرزا قادیانی نے اپنی کل اراضی رہن رکھ دی تھی جس کی نقل ہم ناظرین کرام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں کی دعا کا نتیجہ تھا جو پیشگوئی پوری نہ ہوئی۔ سوکن کا جلاپا ایک مشہور امر ہے اور ضرب المثل ہے۔ آپ دعا فرمایا کرتی تھیں کہ یا اللہ میرے پر سوکن نہ پڑے۔ اس کی دعا مستجاب ہوئی اور آسمانی نکاح رک گیا۔ ولایت گھر کی گھر ہی رہی۔ میاں کی نہ سہی بیوی کی سنی گئی:
ادھر لا ہاتھ مٹھی کھول یہ چوری یہیں نکلی
انتقال جائیداد مرزا غلام احمد قادیانی
منکہ مرزا غلام احمد قادیانی خلف مرزا غلام مرتضیٰ مرحوم مغل ساکن ورئیس قادیان تحصیل بٹالہ کا ہوں موازی ٦٤ کنال ١٤ مرلہ اراضی نمبر خسرہ ٧٠٣/٢٢٤، ٧١٧/١، ٧١٧ قصبہ کا کھاتہ نمبر ١٧٠ معاملہ ٣٧ روپے ١٢ آنے عمل جمعبندی ٩٦، ٩٧ واقعہ قصبہ قادیان مذکور موجود ہے۔ ٦٤ کنال ١٤ مرلہ منظورہ میں سے موازی ١٣ کنال ١٤ مرلہ اراضی نمبری خسرہ نہری ٧٠٣/٢٢٤، ٧١٧ مذکور میں باغ لگا ہوا ہے اور درختان آم و کٹھ مٹھ وشہتوت وغیرہ اس میں لگے ہوئے ہیں اور موازی ٥١ کنال اراضی منظورہ چاہی اور بلاشراکتہ الغیر مالک وقابض ہوں۔ سو اب مظہر نے برضا و رغبت خود بدرستی ہوش وحواس خمسہ اپنی کل ٦٤ کنال ١٤ مرلہ اراضی مذکورہ کو معہ درختان ثمرہ وغیرہ موجودہ باغ واراضی ونصف حصہ آب وعمارت وخرچ چوب چاہ موجودہ اندرون باغ ونصف حصہ کنواں ودیگر حقوق داخلی وخارجی متعلقہ اس کے بعوض مبلغ پانچ ہزار روپیہ سکہ رائج نصف جس
١٤٧
کے ٢٥٠٠ روپے ہوتے ہیں بدست مسماۃ نصرت جہاں بیگم زوجہ خود رہن و گروی کر دی ہے اور روپیہ میں بہ تفصیل ذیل زیورات و نوٹ کرنسی نقد مرتہنہ سے لے لیا ہے۔ کڑے کلاں طلا قیمتی ٧٥٠ روپے کڑے خورد طلا قیمتی ٢٥٠ روپے ڈنڈیاں ١٤ عدد بالیاں دو عدد بنی ١٠ عدد دریل طلا کی دو عدد ہالی گھنگرو والی طلا کی دو عدد کل قیمتی ٦٠٠ روپے کنگنی طلائی قیمتی ٢٢٠ روپے بند طلا کی قیمتی ٢٠٠ روپے کھٹلہ طلائی قیمتی ٢١٥ روپے جھمکیاں جوڑ طلائی، پہنچیاں طلائی بڑی چار عدد قیمتی ١٥٠ روپے جوجس اور مونگے چار عدد ١٥٠ روپے نتھ طلائی قیمتی ٤٠ روپے چناں طلائی کلاں تین قیمتی ٢٢٠ روپے چاند طلائی قیمتی ٥٠ روپے بالیاں جڑاؤ طلا سات عدد قیمتی ٤٠ روپے ٹیپ جڑاؤ طلائی قیمتی ٧٠ روپے کرنسی نوٹ نمبری ٥٩٠٠٠/ی ١٢٩ لاہور و کلکتہ قیمتی ایک ہزار اقرار یہ کہ عرصہ تیس سال تک فک الرہن مرہونہ نہیں کراؤں گا۔ بعد عرصہ مذکور کے ایک سال میں جب چاہوں زر رہن دوں۔ فک الرہن کرا لوں گا۔ ورنہ بعد انقضائے میعاد بالا یعنی اکتیس سال کے بتیسویں سال میں مرہونہ ہٰذا ان ہی روپوں میں بیع بالوفا ہو جائے گا، اور مجھے دعوٰی ملکیت نہیں رہے گا۔ قبضہ اس کا آج سے کر دیا ہے۔ داخل خارج کرادوں گا اور منافع مرہونہ بالا کی قائمی رہن تک مرتہنہ مستحق ہے اور معاملہ فصل خریف سنہ ١٩٥٥ سے مرتہنہ دیگی اور پیداوار لیویگی جو ثمرہ اس وقت باغ میں ہے اس کی بھی مرتہنہ مستحق ہے اور بصورت ظہور تنازعہ کے میں ذمہ دار ہوں اور سطر تین میں نصف مبلغ و رقم ہزار ہزار کے آگے رقم ٢٠٠ روپے کو قلمزد کر کے پانچ سو لکھا ہے جو صحیح ہے اور جو درختان خشک ہوں وہ بھی مرتہنہ کا حق ہوگا اور درختان غیر ثمرہ خشک شدہ کو واسطے ہر ضرورت و آلات کشاورزی کے استعمال کر سکتی ہے۔ بنا براں رہن نامہ لکھ دیا ہے کہ سند رہے۔ المرقوم ٢٥؍ جون ١٨٩٨ء بقلم قاضی فضل احمد پٹواری العبد مرزا غلام احمد بقلم خود، گواہ شد میاں فضل دین ولد حکیم کرم دین بقلم خود، گواہ شد نبی بخش نمبر دار بقلم خود بٹالہ حال گورداسپور، کلمہ فضل رحمانی ص ١٣٦، ١٣٣۔
مرزا قادیانی کو یہ بیع بالوفا کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ آہ اس کا جواب سوائے ناکامی آسمانی نکاح کے اور کیا دیا جائے گا۔ مرزا قادیانی کے حکم سے فضل احمد جو آپ کا حقیقی بیٹا تھا بیوی کو طلاق دے چکا۔ مگر گھر سے نہ نکالا۔ مرزا قادیانی مصر ہوئے مگر تعمیل حکم سے قاصر ہی رہا۔ اس پر عاق کر دیا گیا۔ اور چونکہ فرما چکے تھے کہ اگر مرزا احمد بیگ اس رشتہ محمدی بیگم کے دوسری جگہ کرنے سے باز نہ آیا تو فضل احمد سے زبردستی طلاق اس کی بھانجی کو دلوادوں گا اور اگر اس نے طلاق نہ دی تو عاق کردوں گا۔ چونکہ یہ طلاق کی فرضی کارروائی مرزا قادیانی کو معلوم ہوئی۔ اس لئے اپنے
١٤٨
لفظوں پر یوں پھول چڑھائے کہ میری جائیداد سے فضل احمد ایک حبہ یا ایک دانہ تک بھی نہ لے سکے گا۔ یہ عہد ایسا پورا کیا کہ خود بادولت بھی کسی چیز کے مالک نہ رہے۔ گو یہ فرضی کاروائی معلوم ہوتی ہے۔ کیونکہ اس کے قرائن ہی بتا رہے ہیں۔ یہ مانا کہ نور پور مرزا قادیانی کی ملکیت ہی تھا اور بیوی کے تصرف میں تھا۔ مگر وہ اٹھارہ سو روپیہ کہاں سے آیا یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کی زوجہ محترمہ نے اپنے والد میر نواب سے لیا ہو۔ کیونکہ ان کی تنخواہ پندرہ روپیہ تھی۔ جس میں بمشکل بسر اوقات ہی ہوتی ہوگی۔ اس لئے یقیناً یہ روپیہ مرزا قادیانی کا اپنا ہی تھا۔ اللہ اللہ! یہ نبی کے کارنامے ہیں۔ ایک جائز وارث بیٹا اور حقیقی بیٹا اور فرمانبردار بہو کو صرف اس جرم میں عاق کیا جا رہا ہے کہ اس کے عزیز و اقارب نے محمدی بیگم کا رشتہ دوسری جگہ کیوں کر دیا اور ذرا زیور کی لسٹ ملاحظہ ہو جس میں ایک پائی نقدی نہیں۔ کلہم طلا کی ہیں اور ادھر آپ کا دعویٰ بھی ملاحظہ ہو۔ فرماتے ہیں کہ دنیاوی محبت کا چولہ ہم نے نذر آتش کر دیا اور اسی برتے پر محمد ﷺ کے بروز اور ظل کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ ناظرین انصاف فرمائیں کہ کیا امہات المومنین کے پاس ایسے ہی زیور ہوا کرتے تھے اور ہزاروں روپے کے کرنسی نوٹ کی وہ مالکہ ہوا کرتی تھیں۔ کلام مجید میں سورہ احزاب میں مولا کریم نے اپنے پیارے محبوب رحمتہ اللعالمین کے حرموں کا زیور اور دنیاوی چاہت کا ایک بڑا دلچسپ واقعہ بیان فرمایا ہے جو ناظرین کرام کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے۔ اس کے مطالعہ سے مرزا قادیانی کی نبوت کا پتہ چل جاوے گا۔
جنگ احد میں حضور فخر رسل ﷺ کو بنفس نفیس متعدد ضربات وجود اطہر پر آئیں۔ بدبخت ازلی عتبہ کے پتھر سے آنحضرت ﷺ کا دانت مبارک شہید ہوا اور نامراد سرمدی ابن قمیہ کے پتھر سے چاند کو شرمانے والی پیشانی جو امت کی بخشش کے لئے گھنٹوں سر بسجود ہوتی زخمی ہوئی اور کم بخت ابن شہاب کے پتھر سے آقائے نامدار ﷺ کا بازو جو رانڈوں اور بیواؤں کے سودے سلف اٹھایا کرتا تھا زخمی ہوا۔ مگر حضور ﷺ کا حلم واستقلال ملاحظہ ہو۔ فرماتے ہیں کہ میں لعنت کرنے کو نہیں آیا۔ ولکن بعثت داعياً ورحمۃ ، اللہم اہدی قومی فانہم لا یعلمون ! بلکہ میں تو صرف اس لئے آیا ہوں تاکہ رحمت کی طرف ان کو لے جاؤں۔ یا اللہ میری قوم کو ہدایت دے۔ تاکہ وہ مجھ سے مانوس ہوں اور مجھ کو پہچان جائیں۔
”یایھا النبی قل لازواجک ان کنتن تردن الحیوۃ الدنیا وزینتھا فتعالین امتعکن واسرحکن سراحاً جمیلا ، وان کنتن تردن اللہ ورسولہ والدار الآخرۃ فان اللہ اعد للمحسنات منکن اجراً عظیما(احزاب:٢٨،٢٩)“
١٤٩
ترجمہ: اے نبی اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم دنیاوی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ دیدوں اور اچھی طرح سے رخصت کردوں اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کو اور دار آخرت کو چاہتی ہو تو سمجھ لو کہ بے شک اللہ نے تم میں سے نیک کام کرنے والیوں کے لئے بڑا اچھا بدلہ تیار کیا ہے۔
حالانکہ رسول پاک ﷺ کی مدنی زندگی ایک شہنشاہ کی تھی۔ آپ کے جانثار سو سو اونٹ معہ غلہ کے آپ کے اشارے پر راہ مولا میں لٹا دیا کرتے تھے اور آپ کے سامنے کئی دفعہ درہم و دینار کے ڈھیر لگ گئے۔ لونڈیاں اور غلام سینکڑوں دربار نبوی میں پیش ہوئیں۔ مگر حضورؐ جب تک ان کو راہ مولا میں تقسیم نہ کرلیتے آرام فرما نہ ہوتے اور یہ دعا فرماتے کہ الٰہی ایک دن بھوکا رہوں اور ایک دن کھانے کو۔ بھوک میں تیرے سامنے گڑگڑاؤں، تجھ سے مانگوں اور کھا کر تیری حمد و ثنا کروں۔ یہ ہے وہ ہمارا آقا جو شہنشاہی میں فقیری کرکے خوش ہوا اور دعا فرماتے یا اللہ غریبوں میں رکھیو اور انہی میں ماریو اور غریبوں کے ساتھ ہی حشر کیجئے۔
ہمدردی کی آنکھیں خون کے آنسو روتی ہیں اور محبت سے لبریز دل تڑپتا ہے جب آقائے نامدار کی مبارک سیرت کے باغ وحدت کے پھولوں اور ننھی ننھی کلیوں پر نظر پڑتی ہے پتے پتے اور شاخ شاخ سے درس وحدت ملتا ہے۔ آقائے جہاں رحمت پروردگار سرکار مدینہ کی خدمت میں آپ کی لخت جگر امت کی شہزادی حضرت فاطمۃ الزہراؓ حاضر ہوکر دل ہلا دینے والی دکھی زندگی مگر نہایت صبر و عزم وحوصلہ سے بیان فرماتی ہیں کہ میرے ہاتھوں کو چکی پیس پیس کر چھالے پڑگئے اور مشکیزہ اٹھا اٹھا کر تھک گئی ہوں۔ پیارے ابا آج اس قدر لونڈیاں دربار رسالت میں آئی ہیں ایک لونڈی عنایت فرمائیں۔ حضور سرور عالم ﷺ نے شفقت سے سر پر برکت کا ہاتھ رکھا اور پیشانی مبارک کو چوم کر فرمایا کہ بیٹی تم سے پہلے بدر کے یتیم درخواست کرچکے ہیں۔ میں اپنے مولا کی شان کیا بتاؤں کیا تھی:
اور تین دن سے پیٹ پہ پتھر بندھا ہوا
ہیں دوسروں کے واسطے سیم وزر و گوہر
اپنا یہ حال ہے کہ چولہا بجھا ہوا
کسریٰ کا تاج روندنے کو پاؤں کے تلے
اور بوریا کھجور کا گھر میں بچھا ہوا
١٥٠
سرور کون ومکاں کو مدت ہوئی وصال فرما چکے۔ مسلمانوں کی وہ پاک ماں عائشہ صدیقہؓ ایک دعوت میں شریک ہوئیں اور کھانا تناول فرمارہی تھیں اور آنکھ سے زاروقطار آنسو جاری تھے۔ میزبان نے ہاتھ جوڑ کر رونے کی وجہ دریافت کی تو فرمایا کہ خدا کا برگزیدہ رسول اور میرے ایمان کا مالک میرا پیارا شوہر جس پر نبوت ختم ہوئی دنیا سے رخصت ہوا مگر آہ افسوس کہ چھنے ہوئے آٹے کی روٹی جو اس وقت میرے حلق میں چبھ رہی ہے ایک وقت بھی ان کو میسر نہ ہوئی۔ وہ دنیا کا مالک اور دین کا آقا۔ آہ جب اس جہان سے عالم جاودانی کو جانے کی تیاریاں کر رہا تھا رونا آتا ہے اور دل میں ایک ہوک سی اٹھتی ہے۔ میرے حجرے کی دیوار جس میں سوراخ پڑے ہوئے تھے اور مٹی کی بنی ہوئی تھی اور جس کی چھت کھجور کے پتوں کی تھی ایک مٹی کا دیا بھی موجود نہ تھا جو جلایا جاتا اور امت کے سرتاج کو رخصت کرتی۔ یہ تھی فخر رسل ﷺ کی مبارک حیات طیبہ۔
میں نے جو آیت شریف پیش کی ہے اس سے مرزا قادیانی کے حرم کا مقابلہ کریں۔ کیونکہ ہم کو بار بار کہا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی رسول پاک ﷺ کے ظل و بروز ہیں۔ ہم نے آپ کی تعلیم کا متعدد دفعہ مطالعہ کیا مگر ہم کو سوائے بھول بھلیاں کے کوئی بات نظر نہ آئی۔
امت مرزائیہ ایک اور سوال اس کے آخر میں جب تنگ آجایا کرتی تو کر دیا کرتی کہ محمدی بیگم کا آسمانی نکاح نہیں ہوا تو محمد ﷺ نے بھی تو کہا تھا کہ میرا نکاح مریم اور آسیہ اور کلثوم سے ہو گیا۔ سو اگر یہ پیشگوئی جھوٹی ہوئی ہے تو وہ بھی تو سچی نہیں نکلی:
بیٹھے بیٹھے مجھے کیا جانئے کیا یاد آیا
کاش کہ اسلام کی بادشاہی ہوتی اور پھر تمہارے جیسی امت ایسا بودا سوال کرتی۔ افسوس تمہاری آنکھیں پھوٹ گئیں اور عقل گھاس چرنے چلی گئی اور فہم وفراست پر پتھر پڑ گئے۔ یہ نہ جانا کہ باپ پر کیا بہتان لگا رہے ہیں اور وہ بھی سسر کی حمایت کے مصداق۔ اس عقل ودانش پر جس کا دیوالیہ یوں نکل چکا ہے۔ ماتم کرو اور اس کا نقد جواب ہم سے لو۔
(تفسیر ابن کثیر ج ٨ ص ١٨٨ از یہ آیت عسی ربه ان طلقکن ان یبدله ازواجا ) ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ کے ہاں تشریف فرما ہوئے۔ اس وقت کہ وہ مرض الموت میں تھیں۔ آپؐ نے فرمایا اے خدیجہ جب ملے تو سوکنوں بیٹیوں سے تو میری طرف سے سلام کہنا۔ میں نے کہا کیا حضورؐ نے پہلے بھی کوئی عورت کی ۔ فرمایا نہیں لیکن اللہ تعالیٰ
١٥١
نے نکاح کر دیا مجھ کو مریم بیٹی عمران سے اور آسیہ فرعون کی بیوی سے اور کلثوم موسیٰ کی بہن سے۔ یہ حدیث ضعیف ہے۔ دوسری حدیث:
ابو امامہؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جان لیا ہے میں نے یہ کہ تحقیق اللہ تعالیٰ نے نکاح کر دیا جنت میں مریم بیٹی عمران سے آسیہ فرعون کی بیوی سے اور کلثوم موسیٰ کی بہن سے پس کہا میں نے خوشگواری ہو اے رسول اللہ کے۔ یہ حدیث ضعیف ہے۔
(تفسیر ابن کثیر ج ٨ ص ١٨٨ زیر آیت ایضاً)
اول تو یہ دونوں حدیثیں ہی ابن کثیر نے نقل کرنے کے بعد ضعیف لکھی ہیں۔ دوم یہ تینوں عورتیں فخر دو عالم کی پیدائش سے سینکڑوں برس پیشتر جنت کو سدھار چکی ہیں۔ سوم رسول پاک ﷺ اپنے حرم اول کو بوقت موت پیغام بیان فرما رہے ہیں جو جنت کو تشریف لے جا رہی تھیں۔ چہارم رسول پاک ﷺ نے اس نکاح کا ہونا جنت میں بیان فرمایا ہے نہ کہ دنیا میں۔ گو یہ حدیثیں معتبر نہیں ولیکن یہ تمہارا الزامی جواب پھر بھی قبول کرتے ہوئے ڈنکے کی چوٹ کہتے ہیں کہ اے بہتان لگانے والو! رسول پاک ﷺ کی شان اطہر میں اپنی بدگوہری کا ثبوت دینے والو یاد رکھو جب نکاح کی تکمیل جنت میں ہوگی اس کا پیغام تم کو جہاں جہاں بھی تم ہوگے پہنچا دیا جائے گا۔ گو تمہیں اس مبارک تقریب کے پاس بھی نہ آنے دیا جائے گا۔ کیونکہ تم اس مبارک خطہ سے بہت دور ہوگے ولیکن اس کے خرموں کی گھنٹیاں بدبختوں تک پہنچ ہی جائیں گی۔
فیصلہ آسمانی بر منارۂ قادیانی
اب ہم مرزا قادیانی کے وہ دعوے پیش کرتے ہیں جو آپ نے خود آسمانی نکاح نہ ہونے کی صورت میں بنفس نفیس بیان فرمائے تھے اور اپنی طرف سے یہ کہتے تھے۔ اگر گوئم زبان سوزد
قدرت حق کا عجیب ایک تماشا ہوگا
جھوٹ اور سچ میں جو ہے فرق وہ پیدا ہوگا
کوئی پا جائے گا عزت کوئی رسوا ہوگا
١٥٢
میں سچ کہتا ہوں کہ اس عدالت میں جہاں ان باتوں پر جو میری طرف سے نہیں خدا کی طرف سے ہیں ہنسی کی گئی ہے۔ ایک وقت آتا ہے کہ عجیب اثر پڑے گا اور سب کے سر ندامت سے نیچے ہوں گے۔ میرے نکاح میں وہ عورت ضرور آئے گی۔ امید کیسی یقین کامل ہے۔ خدا کی باتیں نہیں ٹلتی ہیں۔ پوری ہو کر رہیں گی۔ تیرے خاندان کے لوگوں کی نسبت خدا تعالیٰ نے ایک لڑکی محمدی بیگم کا نام لے کر فرمایا کہ وہ بیوہ کی جائے گی۔ غرض یہ لوگ مجھ کو میرے دعویٰ الہامی میں مکار اور دروغ گو خیال کرتے ہیں۔ عنقریب تجھے وہ مقام ملے گا جس میں تیری تعریف کی جائے گی۔ یعنی گو اول میں احمق اور نادان لوگ بد باطنی اور بدظنی کی راہ سے بدگوئی کرتے ہیں اور نالائق باتیں منہ پر لاتے ہیں۔ آخر خدا تعالیٰ کی مدد کو دیکھ کر شرمندہ ہوں گے اور سچائی کے کھلنے سے تیری تعریف ہوگی۔ وہ بے دینوں کو مسلمان بنائے گا اور گمراہوں میں ہدایت پھیلائے گا۔ میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیشگوئی سلطان محمد کی تقدیر مبرم ہے۔ اس کی انتظار کرو۔ اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشگوئی پوری نہ ہوگی اور میری موت آجائے گی اور اگر میں سچا ہوں تو خدا تعالیٰ اس کو ضرور پورا کرے گا۔ پھر فرماتے ہیں کہ چاہئے تھا کہ ہمارے نادان مخالف اس پیشگوئی کے انجام کے منتظر رہتے اور پہلے ہی سے اپنی بدگوہری ظاہر نہ کرتے۔ بھلا جس وقت یہ سب باتیں پوری ہو جائیں گی کیا اس دن یہ احمق مخالف جیتے ہی رہیں گے۔ کیا اس دن یہ تمام لڑنے والے سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہو جائیں گے۔ ان بیوقوفوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہیں رہے گی اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سوروں کی طرح کر دیں گے۔ پھر ایک اور جگہ فرماتے ہیں خدا تعالیٰ نے پیشگوئی کے طور پر اس عاجز پر ظاہر فرمایا کہ محمدی بیگم تمہارے نکاح میں آئے گی اور وہ لوگ بہت عداوت کریں گے اور سب مانع آئیں گے اور کوشش کریں گے کہ ایسا نہ ہو۔ لیکن آخر کار ایسا ہی ہوگا اور فرمایا خدا تعالیٰ نے کہ ہر طرح اس کو تمہاری طرف لائے گا۔ باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھا دے گا اور اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔ پھر فرماتے ہیں میری اس پیشگوئی میں چھ دعوے ہیں۔ احمد بیگ اور سلطان محمد کی موت اور محمدی کا نکاح میرے ساتھ ہونا اور تا شادی محمدی بیگم میرا زندہ رہنا۔ اب آپ ایماناً کہیں کہ یہ باتیں انسان کے اختیار میں ہیں اور ذرا اپنے دل کو تھام کر سوچ لیں کہ ایسی پیشگوئی سچی ہو جانے کی حالت میں انسان کا فعل ہو سکتی ہے۔ پھر فرمایا نفس پیشگوئی محمدی بیگم کا میرے نکاح میں آنا تقدیر
١٥٣
مبرم ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی اور اگر یہ ٹل جائے تو خدا کا کلام باطل ہوتا ہے۔
مرزا قادیانی کا آخری فیصلہ
میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ یہ کام نکاح کا ختم ہو گیا۔ بلکہ یہ کام ابھی باقی ہے۔ اس کو کوئی بھی کسی حیلے سے رد نہیں کر سکتا۔ یہ تقدیر مبرم قطعی ویقینی ہے۔ اس کا وقوع ظہور میں آئے گا۔ خدا کی قسم جس نے حضرت محمدﷺ کو بھیجا یہ بالکل سچ ہے۔ تم تو دیکھ لوگے اور میں اس خبر کو اپنے سچ اور جھوٹ کا معیار بناتا ہوں اور میں نے جو کہا ہے یہ خدا سے خبر پا کر کہا ہے۔
مرزا قادیانی کی آخری دعا
”میں بالآخر دعا کرتا ہوں کہ اے خدائے قادر علیم کہ اگر احمد بیگ کی دختر کلاں کا اس عاجز کے نکاح میں آنا تیری طرف سے نہیں تو مجھے نامرادی اور ذلت کے ساتھ ہلاک کر۔“
(غلام احمد قادیانی اشتہار انعامی چار ہزار، مجموعہ اشتہارات ج٢ص١١٦)
نتیجہ
مستجاب الدعوات نے سن لی۔ مرزا قادیانی کی وہ دعا جو نتیجہ خیز تھی مقبولیت کی وہ گھڑی جس میں یہ مبارک دعا ہوئی۔ لب سے نکلی ہی تھی کہ مومنین قانتین کی جگر خراش آہوں نے ہاتھوں ہاتھ اس کا استقبال کیا۔ باب رحمت کی توجہ سے ہوا نے اسے گود میں لے کر پرواز کیا۔ آہ کی گرمی سے بادل نے آنسو گرائے اور راستہ دے دیا۔ تمنا کے جذبے سے فرشتے متاثر ہوئے اور کشاں کشاں رب العزت کے دربار میں پیش کیا۔ باب الدعوات کے قلزم نے جوش مارا اور انتقام کی بے پناہ موج بلند ہوئی اور عزرائیل کو مرزا قادیانی کی ہستی کا چراغ گل کرنے کا حکم ملا۔ اچھے بھلے تندرست و توانا، نہ سر درد، نہ بخار، کوئی خاص عارضہ، نہ حیلہ، بغرض تفریح قادیان سے لاہور تشریف فرما ہوئے۔ شاداں و فرحاں ملاقاتیں اور پر تکلف دعوتیں ہو رہی تھیں کہ متاع حیات پر آناً فاناً ایک بجلی سی گری جو رخت حیات کو فنا کر گئی۔ بیماری ایسی بیماری اللہ دشمن کو بھی محفوظ رکھے۔ اس کے بیان کرنے سے قلم عاجز ہے۔
بہشتی مقبرہ کی حقیقت
ہندوستان میں ایک ممتاز قوم آباد ہے جب ان کا کوئی فرد مر جاتا ہے تو ان کا عقیدہ ہے کہ جب تک ملاں صاحب سفارشی رقعہ میت کے لئے نہ دیدیں مردہ جنتی نہیں ہو سکتا۔ جب کبھی ایسا واقعہ ہو جاتا ہے تو ملاں صاحب اکڑ جاتے ہیں اور جب تک ایک کافی رقم بٹور نہیں لیتے کیا
١٥٤
مجال جو رقعہ دیدیں۔ ایک ایک آسامی جو رقعہ کی متمنی ہوتی ہے پانچ پانچ صد روپیہ تک دے دیتی ہے۔ تب کہیں جا کر یہ رقعہ ملتا ہے جو میت کے سینہ پر رکھ کر دفن کر دیا جاتا ہے اور اس رقعہ کا مضمون بھی قابل قدر ہوتا ہے جو ناظرین کرام کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ بھائی جبرائیل یہ مردہ فلاں ابن فلاں بڑا نیک آدمی ہے۔ اس کو دو حوریں ایک غلمان دینا اور جنت میں اعلیٰ جگہ اور بہت اچھا محل دینا وغیرہ وغیرہ۔ دستخط ملاں صاحب۔ تاریخ ، اسی طرح اس بہشتی مقبرہ کی حیثیت ہے۔ ایک ایک قبر کی زمین کا ہزاروں روپیہ تک آجاتا ہے۔ اس مقبرہ میں وہ شخص دفن ہو سکتا ہے جو اپنی زندگی میں مندرجہ ذیل وصیت کر چکا ہو اور اس پر سختی سے کار بند رہ چکا ہو۔
میں فلاں ابن فلاں قوم فلاں سکنہ فلاں کا رہنے والا ہوں۔ میں بقائمی ہوش حواس خمسہ وصیت بحق صدر انجمن احمدیہ قادیان کرتا ہوں کہ میری آمدنی کا ١٠/١ حصہ جو اس قدر ہے تادم زیست ادا کرتا رہوں گا اور میری اس قدر منقولہ و غیر منقولہ جائیداد واقعہ فلاں فلاں جگہ ہے جس کی قیمت مبلغ ........... ہے۔ میرے مرنے کے بعد اس کے ١٠/١ کی مالک صدر انجمن قادیان ہوگی۔
گواہ شد۔ العبد فلاں ابن فلاں۔
ان شرائط کا پابند جب مر جاتا ہے تو اس کی لاش دور دور سے اس بہشتی مقبرے میں دفن کرنے کے لئے لائی جاتی ہے اور یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ یہ خاص بہشتی ہے۔ چاہے اس کے عمل کیسے ہی ہوں اور چاہے جہنم کا ہی وہ مستحق ہو۔ مگر اس خطہ میں دفن ہو کر جمال ہم نشین در من اثر کرد کا مصداق بن جاتا ہے اور بہشتی سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہ عقیدہ ایسا راسخ امت مرزائیہ میں ہو چکا ہے کہ ہزاروں موصی اس میں داخل ہو کر ثواب لے چکے ہیں اور مرزا قادیانی کا یہ کرشمہ مرنے کے بعد بھی کیمیا گری کر رہا ہے۔ کیونکہ یہ مبارک خطہ بہشتی مقبرہ کے لئے آپ نے ایک الہام کے مطابق بنایا تھا۔ انشاء اللہ! اس کا مکمل حال ہم ”نوبت مرزا“ جو ہمارا دوسرا ایڈیشن ہے میں ناظرین کرام کی خدمت میں پیش کریں گے۔ صرف اس قدر بتائے دیتے ہیں کہ یہ خطہ زمین ایک بنجر اور شور زمین تھی جس میں ہڑل اور آک کے خود رو پودے اور چند ببول کے درخت تھے جو ناقابل زراعت سمجھی جاتی تھی۔ یہ مرزا قادیانی کی کیمیا گری نہیں تو اور کیا ہے جو مرنے کے بعد بھی خوش عقیدت لوگوں سے خراج تحسین لے رہی ہے۔
کاش! اہل بصیرت اسی ایک نقطہ پر غور فرمائیں اور ایسی راسخ اعتقادی سے باز آئیں۔ ورنہ: ”وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون (شعرا:٢٢٧)“
١٥٥
عاشق کا جنازہ ہے ذرا ہجوم سے نکلے
آہ! نبی کا سایہ مٹ چکا۔ افسوس جے سنگھ بہادر چل بسا۔ آہ! کیا بتاؤں۔ خمیر نبوت جدا ہوا۔ وائے ناکامی آریوں کا بادشاہ نہ رہا۔ ہزار افسوس رو در گوپال روٹھ گیا۔ صد افسوس کرشن قادیانی مچل گیا۔ وائے ستم پنجابی نبی امت کو رانڈ کر گیا۔ افسوس الہامی کلام کا پنجابی سلسلہ منقطع ہو چکا۔ آہ! منارۃ المسیح بنیادوں سے نہ اٹھا تھا کہ اس پر مبعوث ہونے والا پنجابی عیسیٰ چل بسا۔ قادیان کی بنجر زمین کو چار چاند لگانے والا چند کوڑیوں کی اراضی کو لاکھوں کے عوض بیچنے والا۔ آہ! مٹی سے طلا بنانے والا پیارا امین الملک جے سنگھ بہادر سرگ باش ہوا۔
چونکہ یہ ظل اور بروز کا ڈھکوسلا خلاف آئین نبوت لاہور میں فوت ہوا تھا اس لئے اس جسد خاکی کو ایک عالیشان تابوت میں رکھ کر برف اور پھولوں سے ڈھانپ دیا گیا اور خر دجال کے طویلے میں لا کر بعد مشکل و ہزار دقت ایک مال گاڑی میں سوار کر دیا گیا۔ جو خدا خدا کر کے بٹالہ پہنچی۔ جہاں کہرام مچا ہوا تھا اور مسیح قادیانی کی چہیتی بھیڑیں اشکوں سے ساون کا سماں پیش کر رہی تھیں اور آپ کے اصحاب وفور غم سے دیوانے ہو رہے تھے۔ آہ! مرزا قادیانی کی مفارقت قیامت کا سماں پیش کر رہی تھی اور غریب امت سے بنائے کچھ نہ بنتا تھا۔ مرزائیت کا چاند گہنا چکا تھا اور اس کی چاندنی مات ہو چکی تھی۔ مگر مرزائیت کے یہ پروانے سو جان سے شمع پر نثار ہونے کو لپکے پڑتے تھے اور دیدار محبوب کی آخری زیارت کو جو چند لمحوں کے بعد ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چھوٹنے والی تھی دیکھ دیکھ کر کلیجہ تھام کر رہ جاتے۔
آہ! گرمی کا موسم اور کڑاکے کے دن ہجوم کا ٹھٹھ اور لاش کا سیاہ پن جب یار لوگوں نے مطالعہ کیا تو اس کو جلد ٹھکانے لگانے کی سوجھی۔ چنانچہ بڑی حکمت عملیوں سے جنازہ اٹھایا گیا اور دوش بدوش قادیان میں پہنچے۔
قادیان کیا تھا گویا ماتم و اندوہ کی ایک جیتی جاگتی تصویر تھی جس میں انسانوں کا ایک سمندر لہرا رہا تھا اور ماتم کے سائے میں کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ چنانچہ یہ احقر بھی ساتھ ہولیا اور لاش کو بہشتی مقبرہ میں بڑے تزک واحتشام کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا اور اس طرح سے مرزائیت کا بولتا ہوا طوطی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاموش ہوا۔
مگر افسوس آسمانی منکوحہ کی حسرت دل کی دل میں ہی رہی جس کے لئے بیچاری امت اب تک ناکام تاویلوں سے شرمندہ ہو رہی ہے۔
تمت بالخیر!
١٥٦
صدائے بخاری
جب شاتم رسول راجپال نے گستاخانہ کتاب لکھی تو شاہ جی علیہ الرحمہ نے لاہور میں خطاب کرتے ہوئے کہا:
☆ ..... ”مسلمانوں! میں تمہاری سوئی ہوئی غیرت کو جھنجوڑنے آیا ہوں۔ آج کفار نے توہین پیغمبر ﷺ کا فیصلہ کر لیا ہے۔ انہیں شاید یہ غلط فہمی ہے کہ مسلمان مر چکا ہے۔ آؤ اپنی زندگی کا ثبوت دیں۔ عزیزو نوجوانو! تمہارے دامن کے سارے داغ صاف ہونے کا وقت آ پہنچا ہے۔ گنبد خضریٰ کے مکین تمہاری راہ دیکھ رہے ہیں۔ ان کی آبرو خطرے میں ہے۔ ان کی عزت پر کتے بھونک رہے ہیں۔ اگر قیامت کے روز محمد ﷺ کی شفاعت کے طالب ہو تو پھر نبی ﷺ کی توہین کرنے والی زبان نہ رہے یا پھر سننے والے کان نہ رہیں۔“
”آج آپ لوگ جناب فخر رسل رسول عربی ﷺ کی عزت و ناموس کو برقرار رکھنے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ آج اس جلیل القدر ہستی کا وجود معرض خطر میں ہے جس کی دی ہوئی عزت پر تمام موجودات کو ناز ہے۔ میں گیارہ سال سے آپ لوگوں میں تقریریں کر رہا ہوں۔ آج مفتی کفایت اللہ صاحب اور مولانا احمد سعید صاحب یہ دونوں حضرات سٹیج پر موجود ہیں۔ شاہ صاحب نے ان کی طرف اشارہ کر کے یہ فقرہ ادا کیا کہ دروازے پر ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ اور ام المومنین حضرت خدیجہؓ آئیں اور فرمائیں کہ ہم تمہاری مائیں ہیں۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ کفار نے ہمیں گالیاں دی ہیں؟“
ارے دیکھو! کہیں ام المومنین عائشہؓ دروازے پر تو نہیں کھڑی ہیں؟
(یہ سن کر مجمع پلٹا کھا گیا۔ لوگوں کہرام مچ گیا اور مسلمان دھاڑیں مار مار کر رونے لگے) تمہاری محبت کا تو یہ عالم ہے کہ عام حالتوں میں کٹ مرتے ہو لیکن کیا تمہیں معلوم نہیں کہ آج سبز گنبد میں رسول اللہ ﷺ تڑپ رہے ہیں۔ آج خدیجہؓ اور عائشہؓ پریشان ہیں۔ بتاؤ تمہارے دلوں میں امہات المومنینؓ کی کیا وقعت ہے؟
آج ام المومنین عائشہؓ تم سے اپنے حق کا مطالبہ کر رہی ہے۔ وہی عائشہؓ جنہیں رسول اللہ ﷺ حمیرا کہہ کر پکارتے تھے۔ جنہوں نے سید عالم ﷺ کی رحلت کے وقت مسواک چبا کر دی تھی۔ اگر تم خدیجہؓ اور عائشہؓ کے ناموس کی خاطر جانیں دے دو تو کچھ کم فخر کی بات نہیں ہے۔ یاد رکھو! جس روز یہ موت آئے گی، پیام حیات لے کر آئے گی۔