تفہیم ختم نبوت · محمد طاہر عبدالرزاق
Tafheem Khatm-e-Nubuwwat · Tahir Abdul Razzaq
PDF 1

تفہیم ختم نبوت

محمد طاہر عبدالرزاق

PDF 2

تفہیم ختم نبوت

تحقیق و تدوین : محمد طاہر عبدالرزاق

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان

PDF 3

تحفظ

PDF 4

سکتا ہے لیکن اگر مصنف کو اس سے باخبر کر دیا ان کی مہربانی ہوگی۔

تفہیم ختم نبوت محمد طاہر عبدالرزاق گیارہ سو فراز کمپوزنگ سنٹر، اردو بازار، لاہور عنایت اللہ رشیدی -/100 روپے اپریل 2006ء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ، ملتان شرکت پرنٹنگ پریس نسبت روڈ، لاہور

مكتبة الحسن

لاہور فون: 7241355-4339699-0300 ز 34- اردو بازار، لاہور 7352332 نبوت کتاب مارکیٹ، غزنی سٹریٹ لاہور فون: 7232926

انتساب

محب خاتم النبیین ــــــــ جناب عنایت اللہ رشیدی

خادم ختم نبوت ــــــــ جناب محمد طیب

مرزا شکن، مرزائیت سوز ــــــــ جناب محمد طاہر حجازی

کے نام ــــــــ بصد احترام

اے اللہ ! میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے ان بندوں نے تیرے نبی ﷺ کی آبرو اور ختم نبوت کے تحفظ کے لئے قدم قدم پر میری رہنمائی اور مدد فرمائی۔ میں نے انہیں جب بھی تیرے حبیب جناب محمد عربی ﷺ کی ختم نبوت کے تحفظ کے کام کے لئے آواز دی تو انہوں نے ہمیشہ لبیک کی صدا میں جواب دیا۔ سارے کام پس پشت ڈال کر آقائے نامدار ﷺ کی عزت و ناموس کے کام کو سبقت دی۔

اے رب محمد ! میری دعا ہے کہ ان عظیم دوستوں کو دنیا و آخرت میں سرفراز و سرخرو فرمانا اور زمانے کے مصائب و آلام سے محفوظ رکھنا (آمین)

PDF 5

تحفظ

اول

PDF 6

آئینہ مضامین

کافر اور مرتد ہو جاتا ہے سید مرتضیٰ حسن چاند پوری 56

PDF 7

ہونے چاہئیں؟

کی دلیلیں اور ان کا رد

اسلام پر ڈاکہ ہے

پس منظر پیش منظر

❁ ...... ❁

آنکھ

گئی تو رحمت بند ہو گئی لہٰذا نبوت کا ث رحمت کو جاری رکھنے کے لئے نبوت نبوت بہت بڑی رحمت خداوندی ہے صورت میں آئی پھر یہ رحمت کبھی نو میں، کبھی داؤدؑ کی شکل میں، کبھی مو صورت میں تشریف لائی۔ لیکن یہ ر تھیں۔ ان میں کوئی بھی رحمت دائمی العالمین خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و کائنات نے پوری کائنات کو مخاطب کر وما ارسلنک الا رحمۃ للعالم (ترجمہ) ”اور نہیں بھیجا ہم نے کر“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور سارے زمانوں کے لئے رحمت ب جو ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام وسلم کی عظیم شخصیت پر ختم ہو گیا او تفہیم کے لئے اس مثال کو دیکھئے۔ آ آسمان نبوت پر چمکا نہیں تھا۔ نبوت نوح علیہ السلام کا ستارہ منور ہوا، پ

PDF 8

تحفظ

صفحہ 9

مفتی محمد شفیع 79 قت مولانا مودودی 90 کی تمام سنتیں محفوظ ہیں سید سلمان ندوی 105 مسلم و مومن میں فرق مفتی محمد شفیعؒ 108 ی کتاب مولانا عبدالرحیم 112 الوں سے تعلقات کیسے مفتی محمد عبدالقیوم ہزاروی 123

ل وفات پر قادیانیوں مولانا محمد عبداللہ 142 کا رد

کے قادیانیوں کو مفید مشورے محمد مسلم بھیروی 159 ی شعائر استعمال کرنا مولانا محمد مالک کاندھلویؒ 167

رت 1953ء....... مہدی معاویہ 186

اور قتل مرتد حضرت مولانا مفتی محمد شفیع 193

❁.......❁

آنکھوں کی نذر

گئی تو رحمت بند ہو گئی لہٰذا نبوت کا ختم ہونا رحمت نہیں بلکہ زحمت ہے۔ اس لئے اس رحمت کو جاری رکھنے کے لئے نبوت جاری ہے۔ ہم باغیان ختم نبوت سے کہتے ہیں کہ نبوت بہت بڑی رحمت خداوندی ہے۔ ہاں نبوت کی پہلی رحمت آدم علیہ السلام کی صورت میں آئی پھر یہ رحمت کبھی نوحؑ کی صورت میں ظاہر ہوئی۔ کبھی ابراہیمؑ کی شکل میں، کبھی داؤدؑ کی شکل میں، کبھی موسیٰؑ کی شکل میں اور کبھی رحمت عیسیٰ علیہ السلام کی صورت میں تشریف لائی۔ لیکن یہ رحمتیں مخصوص مقامات اور مخصوص زمانوں کے لئے تھیں۔ ان میں کوئی بھی رحمت دائمی، ہمہ گیر اور عالمگیر نہ تھی۔ لیکن جب محبوب رب العالمین خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم اس گلشن ہستی میں رونق افروز ہوئے تو مالک کائنات نے پوری کائنات کو مخاطب کر کے یہ مژدہ جان فزا سنا دیا ۔

وما ارسلنک الا رحمتہ للعالمین

(ترجمہ) ”اور نہیں بھیجا ہم نے آپؐ کو مگر تمام جہاں والوں کے لئے رحمت بنا کر“

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کو رب العزت نے سارے جہانوں اور سارے زمانوں کے لئے رحمت بنا کر مبعوث فرمایا۔ اس کے ساتھ ہی رحمت کا سلسلہ جو ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا تھا۔ تاجدار ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم شخصیت پر ختم ہو گیا اور رحمت اپنی تکمیل و معراج کو پہنچ گئی۔ اس کی مزید تفہیم کے لئے اس مثال کو دیکھئے۔ آسمان نبوت خالی پڑا تھا۔ نبوت کا کوئی بھی ستارہ ابھی آسمان نبوت پر چمکا نہیں تھا۔ نبوت کا پہلا ستارہ آدم علیہ السلام کی صورت میں چمکا، پھر نوح علیہ السلام کا ستارہ منور ہوا، پھر ابراہیم علیہ السلام کا ستارہ ضوفشاں ہوا، کہیں ہود

صفحہ 10

علیہ السلام کا ستارہ ضیا بار ہوا، کہیں یعقوب علیہ السلام کا ستارہ جگمگانے لگا، کہیں عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کا ستارہ تابندہ ہوا۔ ستارے آتے رہے اور اپنی اپنی روشنیاں بکھیرتے رہے۔ حتیٰ کہ آسمان نبوت ان ستاروں سے بھر گیا۔ مگر دنیا میں اجالا نہ ہوا، دن نہ نکلا۔ ابھی رات ہی رات تھی۔ پھر فاران کی چوٹیوں سے وہ آفتاب نبوت طلوع ہوا۔ جس کی ضیا بار کرنوں نے اندھیروں کے سینے چیر دیئے، کفر و شرک کے سائے چھٹ گئے، سحر کا سپیدہ نمودار ہوا اور یہ ظلمت کدہ کائنات بقعہ نور بن گئی۔ پھر آفتاب نبوت نے اعلان کر دیا کہ اب کسی ستارے سے روشنی لینے کی ضرورت نہیں۔ پوری دنیا کو روشن کرنے کے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں اور میں قیامت کی آخری شام تک روشن ہوں۔ مندرجہ بالا مثال سے ہر صاحب فہم یہ سمجھ گیا کہ جس طرح آفتاب کی موجودگی میں کسی ستارے سے روشنی لینے کی ضرورت نہیں اسی طرح خاتم النبین محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی عالمگیر نبوت کی موجودگی میں کسی نبی کی نبوت کی ضرورت نہیں۔

اطاعت کی وجہ سے نبوت ملی، اس نے سرورِ کائنات کی اتباع کا حق ادا کر دیا۔ وہ فنا فی الرسول تھا اور وہ نبوت کے راستے پر چلتے چلتے خود نبی بن گیا (نعوذ باللہ)

ان عیاروں، مکاروں، دغا بازوں اور جعلسازوں سے کوئی پوچھے کہ کیا حضرت ابو بکر صدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ، حضرت عثمان غنیؓ، حضرت علی المرتضیٰؓ، حضرت طلحہؓ، حضرت زبیرؓ، حضرت بلال حبشیؓ، حضرت عبدالرحمانؓ بن عوف، حضرت سلیمان فارسیؓ، حضرت ابو ہریرہؓ، حضرت خالد بن ولیدؓ، حضرت انسؓ، حضرت عباسؓ، حضرت ابو ذرؓ، حضرت جابرؓ، حضرت معاذؓ بن جبلؓ، حضرت عبداللہؓ بن مسعودؓ، حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ، حضرت سعدؓ اور حضرت زیدؓ بن ثابتؓ ایسے جلیل القدر صحابہ کرام، امام بخاریؒ، امام مالکؒ، امام احمد بن حنبلؒ، امام ترمذیؒ، ابن ماجہؒ، طبرانیؒ، ابو نعیمؒ، ابن حبانؒ، ابن عساکرؒ، ابن جوزیؒ، حافظ ابن حجرؒ، طحاویؒ، اور نسائیؒ ایسے محدثینؒ، ابن کثیرؒ، علامہ زمخشریؒ، سید محمود آلوسی ؒ، علامہ بغویؒ، امام رازیؒ، قاضی بیضاویؒ، علامہ جلال الدین سیوطیؒ، قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ اور علامہ اسماعیل حقیؒ ایسے مفسرین، خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ، حضرت علی ہجویریؒ، بابا فرید

صفحہ 11

گنج شکرؒ حضرت میاں میرؒ نظام الدین اولیاءؒ قطب الدین بختیار کاکیؒ اور مجدد الف ثانیؒ ایسے اولیائے کرام اور صوفیائے عظام نے سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و اتباع نہیں کی؟

اطاعت کی تو تمہارے بناسپتی نبی مرزائے قادیانی نے جس نے فرنگی کی گود میں بیٹھ کر نبوت کا ڈرامہ رچایا، دین اسلام کی اقداری قبا پہنانے کی ناپاک جسارت کی۔ قرآنی آیات میں تحریف کے جھکڑ چلائے، احادیث رسول کو اپنے فاسد قلم سے مسخ کیا، شعائر اللہ کو ابلیسی بلڈوزروں سے کچل ڈالا، اپنی زہریلی زبان سے جہاد کو حرام قرار دے دیا۔ دشمن اسلام فرنگی کی اطاعت کو فرض قرار دے دیا اور پوری امت مسلمہ کی اجلی پیشانی پر کفر کا ٹھپہ لگا دیا۔

قفس ارتداد کے اسیر قادیانیو! تمہارے انگریزی برانڈ نبی کی اطاعت کا یہ عالم کہ وہ عورتوں سے منہ کالا کرتا تھا، افیون کھاتا تھا، شراب کے جام لنڈھاتا تھا، بے تحاشا گالیاں بکتا تھا۔ مریدوں کا چندہ ہڑپ کر کے بیوی کے زیورات بناتا تھا۔ حیا سوز شاعری کرتا تھا، محمدی بیگم سے شادی رچانے کے لئے غلیظ خط و کتابت کرتا تھا اور مسلمانوں کو رسول رحمت کے دین سے ہٹا کر انہیں مرتد بنا کر جہنم کے گڑھے میں پھینکتا تھا۔ کیا یہی اطاعت ہے؟ کیا یہی اتباع ہے؟ کیا یہی پیروی ہے؟ ع

شرم تم کو مگر نہیں آتی

جھوٹی نبوت کے فریب خوردہ انسانو! نبوت ایک عطائی اور وہبی گوہر ہے۔ کوئی شخص اطاعت، اتباع، عبادت، ریاضت، محنت اور لیاقت کے ذریعے منصب نبوت پر فائز نہیں ہو سکتا، اگر نبوت ان اوصاف کے حصول سے ملتی ہوتی تو ابوبکرؓ کا کون ثانی تھا۔ عمرؓ کا کون ہمسر تھا، عثمانؓ کا کون مثیل تھا، علیؓ کا کون مقابل تھا اور دیگر صحابہؓ ان اوصاف میں کتنے ممتاز تھے؟ لیکن ان میں سے کسی نے دعویٰ نبوت نہ کیا بلکہ ہمیشہ خاتم النبیینؐ کی ختم نبوت کا اعلان اور تحفظ کیا اور اس عقیدہ کی عصمت پر ڈاکہ ڈالنے والوں کی سرکوبی کی اور اس راہ میں کبھی بھی کسی قربانی سے دریغ نہ کیا۔

رخ مصطفیٰ ہے وہ آئینہ کہ اب ایسا دوسرا آئینہ
نہ ہماری بزم خیال میں نہ دکان آئینہ ساز میں
صفحہ 13

کلمہ طیبہ اور دلیل ختم نبوت: لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ اس کلمہ طیبہ کے دو حصے ہیں (۱) لا الہ الا اللہ (۲) محمد رسول اللہ پہلے حصہ میں اللہ تعالیٰ کی توحید بیان کی گئی ہے اور دوسرے حصہ میں خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی عالمگیر نبوت و رسالت کا ذکر ہے۔

پہلے حصہ کے حروف بارہ ہیں۔ اور دوسرے حصہ کے حروف بھی بارہ ہیں۔ پہلے حصہ میں کوئی نقطہ نہیں اور دوسرے حصہ میں بھی کوئی نقطہ نہیں۔ جو پہلے حصہ کے حروف کی تعداد میں تبدیلی کرے وہ بھی کافر۔ اور جو دوسرے حصہ کے حروف کی تعداد میں تبدیلی کرے وہ بھی کافر، جو پہلے حصہ میں کوئی نقطہ لگائے وہ بھی کافر اور جو دوسرے حصہ میں کوئی نقطہ لگائے وہ بھی کافر۔

حضرت آدم علیہ السلام سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک اللہ تعالیٰ نے کسی نبی کو حکم دینا ہوتا تو ”یا“ جو عربی زبان میں خطاب کے لئے آتا ہے، سے خطاب کر کے اور نبی کا نام لے کر حکم دیا جاتا تھا۔ مثلاً قرآن مجید میں یا آدم، یا نوح، یا ابراہیم، یا موسیٰ، یا عیسیٰ۔ مالک کائنات اپنے بھیجے ہوئے انبیائے کرام سے اسی طرح خطاب فرماتے رہے لیکن جب خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو سارے قرآن مجید میں تاجدارِ ختم نبوت کو کہیں بھی ”یا محمد“ کہہ کر خطاب نہیں فرمایا۔ بلکہ سید المرسلین کو یا ایھا النبی اور یا ایھا الرسول سے خطاب فرمایا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل حضرت آدم، حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ، حضرت داؤد، حضرت یحییٰ، حضرت عیسیٰ علیہم السلام بھی اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں کہیں بھی یا ایھا النبی اور یا ایھا الرسول نہیں فرمایا اور اس لئے نہیں فرمایا کہ ان کے بعد نبی اور رسول آنے تھے۔ لیکن جس ذات اقدس کے بعد کوئی اور نبی و رسول پیدا نہیں ہونا تھا، اسے یا ایھا النبی اور یا ایھا الرسول کے خطاب سے نوازا گیا۔ لہٰذا کلمہ طیبہ سے ثابت ہوا کہ جس طرح اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی اور رسول نہیں۔ ربوبیت اللہ پر ختم ہے اور نبوت و رسالت رسول اللہ پر ختم ہے۔ خدا کے سوا جو خدائی کا دعویٰ کرے وہ فرعون، نمرود اور شداد ہے اور جو انہیں رب مانے وہ مشرک فی الربوبیت ہے۔ اور رسول اللہ کے بعد جو دعویٰ نبوت و رسالت

کرے، وہ اسود عنسی، مسیلمہ کذاب اور مرزا قاد فی النبوت ہیں۔ دونوں قسم کے مشرکین اپنے ا ہیں۔

لیکن جب رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم تش آنے کی پیش گوئی نہ کی بلکہ اعلان فرمایا ---- انا

نہیں کہ مبادا اس کا مطلب کوئی یوں لے کہ ر کیونکہ ہر نبی رسول نہیں ہوتا اور ہر رسول ”النبیین“ رسول اور نبی دونوں کا احاطہ کئے ہو و رسالت دونوں ختم ہو گئیں۔

کیونکہ عالم ارواح میں سب سے پہلے منصب ن سے آخر میں۔

آپ کی ہستی مبارک پر نبوت ختم ہوئ ہو گئے جملہ انبیائے کرام کو جزوی طور پر جو کما عطا کر دیئے گئے۔

حسن یوسف، دم عیس
آنچہ خوباں ہمہ دار

ابتداء حضرت آدم علیہ السلام سے ہوئی اور ا انتہا کے بعد کوئی گنجائش باقی نہیں رہا کرتی۔

دروازہ ہے، اس سے داخل ہو جائیے، خدا کا اس سے داخل ہو جائیے، اللہ تک رسائی ہو ج

صفحہ 13

ختم نبوت: لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ اس کلمہ طیبہ کے

(۲) محمد رسول اللہ

اللہ تعالیٰ کی توحید بیان کی گئی ہے اور دوسرے حصہ میں خاتم سلم کی عالمگیر نبوت و رسالت کا ذکر ہے۔ حروف بارہ ہیں۔ اور دوسرے حصہ کے حروف بھی بارہ ہیں۔ پہلے ں اور دوسرے حصہ میں بھی کوئی نقطہ نہیں۔ جو پہلے حصہ کے دیلی کرے وہ بھی کافر۔ اور جو دوسرے حصہ کے حروف کی تعداد کافر، جو پہلے حصہ میں کوئی نقطہ لگائے وہ بھی کافر اور جو دوسرے ے وہ بھی کافر۔

لیہ السلام سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک اللہ تعالیٰ نے کسی نبی جو عربی زبان میں خطاب کے لئے آتا ہے، سے خطاب کر کے اور جاتا تھا۔ مثلاً قرآن مجید میں یا آدم، یا نوح، یا ابراہیم، یا موسیٰ، یا پنے بھیجے ہوئے انبیائے کرام سے اسی طرح خطاب فرماتے رہے صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو سارے قرآن مجید میں تاجدارِ یا محمد" کہہ کر خطاب نہیں فرمایا۔ بلکہ سید المرسلین کو یا ایھا النبی خطاب فرمایا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل حضرت آدم، راہیم، حضرت موسیٰ، حضرت داؤد، حضرت یحییٰ، حضرت عیسیٰ علیہم کے نبی اور رسول ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں کہیں بھی یا ایھا نہیں فرمایا اور اس لئے نہیں فرمایا کہ ان کے بعد نبی اور رسول ات اقدس کے بعد کوئی اور نبی و رسول پیدا نہیں ہونا تھا، اسے یا رسول کے خطاب سے نوازا گیا۔ لہٰذا کلمہ طیبہ سے ثابت ہوا کہ کوئی معبود نہیں، اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ا۔ ربوبیت اللہ پر ختم ہے اور نبوت و رسالت رسول اللہ پر ختم خدائی کا دعویٰ کرے وہ فرعون، نمرود اور شداد ہے اور جو انہیں الربوبیت ہے۔ اور رسول اللہ کے بعد جو دعویٰ نبوت و رسالت

کرے، وہ اسود عنسی، مسیلمہ کذاب اور مرزا قادیانی ہے اور جو انہیں نبی مانیں وہ مشرک فی النبوت ہیں۔ دونوں قسم کے مشرکین اپنے جعلی خداؤں اور جعلی نبیوں سمیت جہنمی ہیں۔

لیکن جب رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپؐ نے کسی نئے نبی کے آنے کی پیش گوئی نہ کی بلکہ اعلان فرمایا---- انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

نہیں کہ مبادا اس کا مطلب کوئی یوں لے کہ رسالت ختم ہو گئی اور نبوت ختم نہیں ہوئی کیونکہ ہر نبی رسول نہیں ہوتا اور ہر رسول نبی ضرور ہوتا ہے۔ خاتم النبیین میں ”النبیین“ رسول اور نبی دونوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ لہٰذا آپ کی ذات اقدس پر نبوت و رسالت دونوں ختم ہو گئیں۔

کیونکہ عالم ارواح میں سب سے پہلے منصب نبوت آپ کو عطا کیا گیا اور بعثت میں سب سے آخر میں۔

آپ کی ہستی مبارک پر نبوت ختم ہوئی تو نبوت کے سارے کمالات آپؐ پر ختم ہو گئے جملہ انبیائے کرام کو جزوی طور پر جو کمالات نبوت ملے تھے، وہ آپ کو کلی طور پر عطا کر دیئے گئے۔

حسن یوسف دم عیسیٰ ید بیضا داری
آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری

ابتداء حضرت آدم علیہ السلام سے ہوئی اور انتہا جناب محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم پر اور انتہا کے بعد کوئی گنجائش باقی نہیں رہا کرتی۔

دروازہ ہے، اس سے داخل ہو جائیے، خدا کا قرب مل جائے گا۔ یہ نوح کا دروازہ ہے، اس سے داخل ہو جائیے، اللہ تک رسائی ہو جائے گی۔ یہ ابراہیم کا دروازہ ہے، اس سے

صفحہ 14

داخل ہو جائیے، خدا مل جائے گا۔ یہ موسیٰ کا دروازہ ہے، اس سے داخل ہو جائیے، خدا مل جائے گا یہ عیسیٰ کا دروازہ ہے، اس سے داخل ہو جائیے، اللہ کی معرفت نصیب ہو جائے گی، یہ عیسیٰ کا دروازہ ہے، مالک سے رابطہ ہو جائے گا۔ لیکن جب بعثت محمدیؐ ہو گئی تو یہ سارے چھوٹے چھوٹے دروازے بند کر دیئے گئے اور نبوت محمدیؐ کا "مین گیٹ" کھول دیا گیا اور رب ذوالجلال نے یہ اعلان کر دیا اب جو بھی مجھ تک پہنچنا چاہتا ہے، اسے "مین گیٹ" سے گزر کے آنا ہو گا۔

روحانی باپ ہے۔ جس کے جوتوں کی خاک کے ذروں پر جسمانی باپ کو قربان کیا جا سکتا ہے اس روحانی باپ کا نام نامی اسم گرامی "محمدؐ" ہے اگر کوئی شخص دوسرے جسمانی باپ کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ اپنی ماں کی عصمت کے سفینے کو اپنے ہاتھوں سے غرق کرتا ہے اور اگر کوئی دوسرے روحانی باپ کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ اپنے ایمان کی کشتی کو اپنے ہاتھوں سے ڈبو دیتا ہے لہٰذا جس طرح کسی مسلمان کا دوسرا جسمانی باپ نہیں ہو سکتا، اسی طرح کسی مسلمان کا دوسرا روحانی باپ (نبیؐ) نہیں ہو سکتا۔

تاجدار ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت ختم نبوت نے پوری امت کو وحدت کی لڑی میں پرو رکھا ہے اور اس لڑی کے موتی مومنین کہلاتے ہیں۔ ختم نبوت کی وجہ سے آج اسلامی برادری عالمگیر برادری ہے، ختم نبوت کی بدولت سب کے رہبر و رہنما محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، ختم نبوت کے طفیل قرآن سب کا امام ہے، ختم نبوت کی برکت سے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ سب کا کلمہ ہے، ختم نبوت کی رحمت سے بیت اللہ سب کا قبلہ ہے۔ اگر نبوت کا دروازہ کھلا رہتا تو امت چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں میں بٹ جاتی لہٰذا رب رحیم، نبوت کا باب بند کر کے اور رحمۃ العالمینؐ کو مبعوث فرما کر اہل دنیا کو بے پایاں رحمت سے نوازا ہے۔

زمانہ رہتی دنیا تک سنائے گا فسانے کو
درود انکا، کلام انکا، پیام انکا، قیام ان کا

خاکپائے مجاہدین ختم نبوت محمد طاہر عبدالرزاق بی ایس سی، ایم اے (تاریخ)

صفحہ 15

اذان

امت مسلمہ اس وقت جن اندرونی اور بیرونی سازشوں کا شکار ہے اس سے ہر باشعور شخص آگاہ ہے۔ کفر اپنے جدید ہتھیاروں سے لیس ہو کر مسلمانوں پر حملہ آور ہوتا ہے تو اسے ان کے اندر سے ایسے غداروں کی ایک کھیپ مہیا ہو جاتی ہے جو اپنا ایمان تو بیچ چکے ہوتے ہیں لیکن دوسروں کے ایمان کا سودا کرنے کے لیے بھی دن رات ایک کر دیتے ہیں اور بعض بد بخت تو سرچشمہ ایمان ویقین ہی کو گدلا کرنے کی ناپاک جسارت کرتے ہیں اور مرکز دین وشریعت کی مسلمہ حیثیت کو عوام کے ذہنوں سے کھرچنے کی مذموم کوششوں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔

اس وقت مسلمان کے ایمان پر چہار اطراف سے بددینوں کی یورش ویلغار ہے۔ اس کی تہذیبی وتمدنی پاکیزگی، اقتصادی وسیاسی نظافت اور اعتقادی وایمانی تاریخ کو مسخ کر کے پیش کیا جا رہا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ چودہ سو برس قبل شروع ہونے والا فتنہ ارتداد آج تک اپنے برگ و بار لا رہا ہے۔ مسلمان غافل اور بے خبر ہے کہ اس فتنہ کی پھانسیں کہاں کہاں اس کے جسد میں پیوست کر دی گئی ہیں۔ اس فتنہ کی بنیاد جناب محمد رسول اللہ ﷺ کے آخری نبی نہ ہونے یا آپ کی نبوت میں کسی اور کو شریک کر لینے کی ناپاک جسارت ہے۔ برصغیر پاک وہند میں یہ فتنہ مرزا غلام احمد قادیانی کی شکل میں منہ زور ہو کر برسر عام آیا مگر وقت کے قد آور علماء اور مخلص مسلمانوں کی مساعی سے اس فتنہ کے دست و بازو تو ٹوٹ گئے لیکن اس کے جسد میں اب تک جان باقی ہے۔ یہ اپنے مخصوص طریق کار کے ذریعے مسلمانوں کو بے دین بنانے میں مصروف عمل ہے۔ صرف اندرون ملک ہی نہیں بیرون ملک اس نے اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں جہاں سے ملنے والی ذہنی ومالی امداد نے اس ناپاک ناسور کو زندہ رکھا ہوا ہے۔

اس وقت ضرورت ہے کہ جس طرح ماضی میں مجاہدین تحریک ختم نبوت نے اس فتنہ کو بے دست و پا کر دیا تھا آج کے مجاہدین اس کے جسد کو بے روح کر ڈالیں تا کہ امت مسلمہ کی آئندہ نسل اس خطرناک ناسور سے اپنے دین وایمان کو محفوظ رکھ سکے۔

امت کا درد دل لیے آج بھی ایک بہت بڑی تعداد اس فتنہ کی سرکوبی کے لیے مصروف عمل ہے۔ اس تعداد کے پیرو جواں میں ایک نام ”طاہر عبدالرزاق“ ہے جن کی درجنوں کتب ختم نبوت اور اس سے متعلق موضوع پر شائع ہو چکی ہیں۔ طاہر عبدالرزاق صاحب نے تحریک ختم نبوت ہی

صفحہ 16

سے لے کر نہیں بلکہ اس سے قبل کی تاریخ سے استفادہ کر کے قادیانیت کا بھیانک چہرہ بے نقاب کیا ہے۔

زیر نظر کتاب میں انھوں نے اپنے اسی موضوع کا حق ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ تاریخ کے ہزاروں صفحات پر پھیلا ہوا مواد یک جا کر کے طاہر عبدالرزاق صاحب نے امت مسلمہ خصوصاً نسل نو پر احسان کیا ہے۔

”ختم نبوت“ کا مفہوم جاننا ہر مؤمن کے ایمان کا تقاضا ہے اور ختم نبوت کے عالیشان محل میں نقب لگانے والوں کی ریشہ دوانیوں کا علم ہونا بھی ایک مسلمان کے اسلام کا مطالبہ ہے۔

”تفہیم ختم نبوت“ کتاب میں مصنف نے ان دلائل و براہین کو یکجا کیا ہے جو امت کے سرکردہ علمائے دین اور محافظین شرع متین کے قلم سے نکلے اور صرف قادیانیت ہی نہیں بلکہ آنے والے دور میں اس نوعیت کے ہر فتنہ کے استیصال کا سامان کر گئے۔

یوں تو اس کتاب کا ہر مضمون اپنی دلیل کی قوت، بیان کے زور، اصول کی پاسداری، علمی دیانت و امانت کے تقاضوں کے لحاظ اور قرآن وسنت کے غیر مبدل مؤقف کی بے لاگ ترجمانی کرتا ہے تاہم بیسویں صدی عیسوی کے چند ممتاز اور مستند علماء کی بصیرت افروز اور علمی تحقیقات کے شاہکار نے اس کتاب کی اہمیت وافادیت اور قدر و قیمت کو دوچند ہی نہیں دہ چند کر دیا ہے۔ مولانا عبدالشکور ترمذی، ڈاکٹر عبدالفتاح عبداللہ برکہ، علامہ محمود احمد رضوی، پیر مہر علی شاہ گولڑوی، مفتی محمد شفیع، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی، مولانا مفتی عبدالقیوم خان ہزاروی، مولانا محمد مالک کاندھلوی ایسے نام ہیں جن کے قاطع و مانع دلائل نے قادیانیت کے من گھڑت جوڑ جمع کے تار و پود بکھیر دیے ہیں۔ یہ کتاب یوں تو ہر صاحب عقیدہ مسلمان کے مطالعہ میں آنی چاہیے لیکن ان لوگوں کے مطالعہ میں تو لازماً آنی چاہیے جو منبر و محراب کی مسندوں کے وارث ہیں اور امت کی دینی عنان ان کے ہاتھوں میں ہے۔

طاہر عبدالرزاق صاحب جس تڑپ، لگن، جذبہ، جوش اور محنت سے اس مہم کو سر کرنے میں لگے ہوئے ہیں ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی اس سعی جمیلہ میں خلوص کی دولت فراواں بھر دے، ان کو امت کے لیے نافع و فائدہ مند بنائے۔ غفلت کی نیند میں نہیں بے حسی کے عالم میں دنیا کے پیچھے دوڑتی ہوئی امت مسلمہ کو ہوش کے ناخن لینے کی توفیق عطا فرمائے! —— ارشاد الرحمٰن

ہفت روزہ ایشیاء لاہور

صفحہ 17

حرف خنجر

کارزار ہستی، قدرت خداوندی کا ایک شاہکار ہے، جسے قادر مطلق نے اپنی صفات کے اظہار کا ایک اشارہ بنایا ہے اور اسے اپنی مشیت کے قالب میں رکھنے کے لیے عالم ملکوتی سے اس کی جہات کا تعین بھی فرما دیا ہے اور اس سارے معاملے کی راستی کے لیے نبوت کو ایک وسیلہ کے طور پر استعمال کیا ہے جس کی روح کو ہم وحی خداوندی کا نام دیتے ہیں۔ بالفاظ دیگر اسلام جس کی اشاعت و ترویج کے لیے تمام انبیاء تشریف لائے، اُس مشیت ایزدی کا نام ہے جس نے نظام کائنات کی اصلاح و درستگی کی ضمانت دی ہے۔ حق و باطل کی اس جنگ میں شیطانی قوتوں کا اصل ہدف اسلام ہی ہے جس کی خاطر کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء مبعوث ہوئے تو دوسری طرف اس کو کمزور کرنے اور اس میں دراڑیں ڈالنے کی سعی مذموم میں شیطان اور اس کے آلہ کار ازل سے مصروف ہیں۔ اسلام کی ابتداء ابوالانبیاء حضرت آدم علیہ السلام سے ہو کر تکمیل نبی آخر الزمان خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر ہو چکی ہے۔ جن پر نبوت شریعت، طریقت اور حقیقت کی انتہاء و تکمیل ہو چکی ہے۔ اسلام کی اجمالی و اکمالی صورت شریعت محمدیہ کی شکل میں نبوت کے دروازہ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند کر چکی ہے۔ جس سے وحی الہیہ کا دروازہ خود بخود بند ہو چکا ہے۔ انسانیت کو نبوت مصطفوی ﷺ ایک نقطے پر مرتکز کر چکی ہے کہ اب فلاح دارین کے لیے کسی اور نظام و نبوت کی ضرورت باقی نہیں۔ اور تحریری ضابطے کی شکل میں وحی خداوندی کو قرآن بنا کر انسانیت کے حوالے کر دیا گیا ہے جس کی حفاظت کا ذمہ خدائے لم یزل نے خود اٹھایا ہے تا کہ روز قیامت تک کارزار ہستی کسی رخنہ سے دوچار نہ ہونے پائے۔ مختصراً ہم یوں عرض کر سکتے ہیں کہ منشائے الہیٰ کی تکمیل اب آخری نبی کی بعثت۔ آخری اُمّت کے ظہور اور آخری آسمانی کتاب کے نزول سے ہو چکی ہے۔ جب تک یہ تینوں چیزیں اپنی اپنی جگہ پر مضبوطی سے وقوع پذیر

صفحہ 18

ہیں، شیطان کا داؤ چل نہیں سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ شیطان نے اپنے سب سے بڑے سر درد یعنی آخری نبوت، آخری اُمت اور آخری کتاب پر اپنی تمام تر توانائیاں مجتمع کرکے جت گیا ہے۔ آخری کتاب اور آخری وحی الہیہ یعنی قرآن پر شیطان کا حملہ کامیاب نہیں ہوسکا کیونکہ اس کی حفاظت اللہ کے ذمہ ہے۔ آخری نبوت اور آخری اُمت پر شیطان نے بھرپور قوت سے طبع آزمائی کی ہے کہ جب تک نبوت تامہ و کاملہ اور اُمت اخروی کی سیسہ پلائی دیواروں میں رخنہ نہ پیدا ہوگا، شیطنت کا سیل بے پناہ اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔ یہی وجہ ہے کہ نبی آخر الزمان ﷺ کی حیات طیبہ سے ہی اپنے طاغوتی بوزنوں کے ذریعے شیطان، اسلام کے مستحکم حصار کی فصیلوں پر سنگ باری وخشت باری میں مصروف ہے۔ ادھر یہ بھی سنت الہیہ رہی ہے کہ ہر زہر کا تریاق، ہر درد کا درماں اور ہر مشکل کا حل بھی پیدا کر دیا ہے۔ اگر نبوت و رسالت کی خاتمیت پر شیطانی حملہ ہوا ہے تو عقیدہ ختم نبوت کے محافظ بھی خم ٹھونک کر میدان عمل میں نکلے ہیں۔ ہر کاذب مدعی نبوت نے اپنے خصائص شیطانی کی بناء پر حرص و ہوا یا قوت و تشدد کے ہتھیار استعمال کر کے عارضی طور پر مختصر لوگوں کا گروہ اگر اپنے ساتھ ملا بھی لیا تو یہ اجتماع کبھی بھی دوام پذیر نہ ہوسکے گا۔ حق وباطل کا معرکہ ازل سے، ابد تک جاری رہے گا۔

ایک لطیف نکتہ عرض کرنا باقی ہے کہ چونکہ قرب قیامت ہے اور احادیث مبارکہ کی رو سے علامات قیامت کافی حد تک وقوع پذیر ہوچکی ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ معاملات تنزل وانحطاط کی طرف روز افزوں ہو جائیں گے۔ حالات بدتر سے بدتر ہوتے چلے جائیں گے۔ اس کی واضح مثال یہ ہے کہ ماضی میں شیطان نے جن کاذب مدعیان نبوت کو اپنے منصوبوں کے لیے استعمال کیا وہ اپنے اپنے معاشروں میں کچھ اثر رکھتے تھے۔ افسوس کہ آخری وقت قرب قیامت میں شیطان کو نبوت کے ناقابل تسخیر حصار پر حملے کے لیے جو کند ہتھیار یعنی مرزا غلام قادیانی میسر آیا وہ علم وعقل، صحت ومردانگی، شرافت ونجابت، شرم و حیا، عزت وغیرت، ناموس و ناموری حتیٰ کہ اوصاف آدمیت سے بالکل عاری ملا۔ اور اس نے کفر وارتداد، دجل وتلبیس، مکر وفریب، دروغ گوئی اور کذب بیانی اور عیاری ومکاری کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہر مسلمان کو قادیانیت کی زہرناکیوں سے محفوظ رکھے، اور اس فتنہ کو نیست ونابود فرمائے۔ (آمین)

خاکپائے فدایانِ ختم نبوت

فقیر پرتقصیر

احمد علی ظفر

عقیدہ ختم نبوت او

یہ سخت غلط فہمی ہے کہ نبوت عبادت و ریاضت کے صلہ میں یا انعام کی تکمیل کا ایک منصب ہے جس میں فر کے لیے منتخب کرلیتی ہے۔

نبوت کا کسب سے تعلق نہیں بک

اگر نبوت ان کمالات میں وغیرہ عبادات کے صلہ میں انعامی طور خود نبی کی موجودگی کا زمانہ ہوتا۔ کیونکہ زمانہ میں ہوتا ہے اس کے بعد نہیں ہو تعالیٰ کی زمین شروفساد، طغیانی وسرکشی ہے، رشد وہدایت کے آثار محو ہوگئے موزوں قرار پایا ہے۔ کیا اس سے یہ ولایت وصدیقیت کی طرح امتوں میں صفت ہدایت کا اقتضاء ہے۔ اس میں کوئی دخل نہیں ہے۔ حاصل یہ ہے کہ کے صلہ میں بطور انعام کسی وقت بھی

صفحہ 19

عقیدہ ختم نبوت اور مقام تاجدار ختم نبوت ﷺ

مولانا عبدالشکور ترمذیؒ

یہ سخت غلط فہمی ہے کہ نبوت کو ان کمالات میں سے سمجھ لیا جائے جو پہلی امتوں کو کسی عبادت و ریاضت کے صلہ میں یا انعام کے طور پر تقسیم کیے گئے ہیں۔ یہ صرف تشریعی ضرورتوں کی تکمیل کا ایک منصب ہے جس میں قدرت اس کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔ اس کو اس منصب کے لیے منتخب کر لیتی ہے۔

نبوت کا کسب سے تعلق نہیں بلکہ اصطفاء واجتباء سے ہے

اگر نبوت ان کمالات میں سے ہوتی جو مجاہدات و ریاضات، پاکبازی، حسن نیت، وغیرہ عبادات کے صلہ میں انعامی طور پر ملتے ہیں۔ تو یقیناً اس کے لیے سب سے موافق زمانہ خود نبی کی موجودگی کا زمانہ ہوتا۔ کیونکہ جتنی عملی جدوجہد، اتباع شریعت کا جتنا جذبہ خود نبی کے زمانہ میں ہوتا ہے اس کے بعد نہیں ہوتا مگر نبوت کی تاریخ اس کے برخلاف ہے۔ یعنی جب خدا تعالیٰ کی زمین شر و فساد، طغیانی و سرکشی، تکبر و غرور سے بھر گئی ہے، صلاح و تقویٰ کا تخم فاسد ہوگیا ہے، رشد و ہدایت کے آثار محو ہوگئے ہیں، وہی وقت انبیاء علیہم السلام کی آمد کا سب سے زیادہ موزوں قرار پایا ہے۔ کیا اس سے یہ نتیجہ نکالنا آسان نہیں ہے کہ نبوت وہ انعام نہیں ہے کہ ولایت وصدیقیت کی طرح امتوں میں تقسیم کی جائے بلکہ دنیا کے انتہائی دور ضلالت میں خدا کی صفت ہدایت کا اقتضاء ہے۔ اس میں کسب واکتساب اور ماحول کی مساعدت و نامساعدت کا کوئی دخل نہیں ہے۔ حاصل یہ ہے کہ نبوت ان کمالات میں سے نہیں ہے جو ریاضات و مجاہدات کے صلہ میں بطور انعام کسی وقت بھی بخشا گیا ہو۔ بلکہ یہ ایک الٰہی منصب ہے جس کا تعلق تشریعی

صفحہ 20

ضرورت اور براہ راست خدا تعالیٰ کی صفت اجتباء واصطفاء کے ساتھ ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے اس منصب کے لیے چن لیتا ہے۔

رسالت کا مفہوم:

آنحضرت ﷺ کی رسالت کا صحیح اور پورا مفہوم اسی وقت ادا ہوتا ہے جبکہ آپ کو خاتم النبیین بھی سمجھا جائے۔ آپ کو صرف رسول اللہ سمجھنا اور خاتم النبیین نہ سمجھنا آپ کی حیثیت کے صرف ایک ہی جزو کو ادا کرتا ہے اور وہ بھی مشترک جز کو۔ آپ کے منصب عالی کا ممتاز جز خاتم النبیین ہے لیکن چونکہ یہ دونوں حیثیتیں آپ کی ذات میں جمع ہیں اور اس طرح جمع ہیں گویا ایک ذات کے دو عنوان ہیں۔ اس لیے عام طور پر صرف اقرار رسالت ختم نبوت کے اقرار کے لیے کافی سمجھا گیا جیسا کہ کلمہ توحید کا اقرار اس کا اقرار گو رسالت کے اقرار سے ایک جدا گانہ شے ہے مگر جو توحید آپ کی حکم برداری میں تسلیم کی جائے وہ اقرار بالرسالۃ کے ہم معنی ہے۔ اس لیے بعض احادیث میں صرف کلمہ توحید کی شہادت کو مدار نجات قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح آپ کی رسالت اور ختم نبوت کا مسئلہ سمجھنا چاہیے۔

عقیدہ ختم نبوت ایمان کا جز ہے

حدیث میں جس طرح خدا تعالیٰ کی توحید پر ایمان لانے کا مطالبہ کیا ہے اسی طرح آنحضرت ﷺ نے اپنی ختم نبوت پر بھی ایمان لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی رسالت پر ایمان آپ کی ختم نبوت پر ایمان لائے بغیر حاصل ہی نہیں ہو سکتا۔ قرآن کریم میں: ”ولکن رسول اللہ“ کے ساتھ: ”وخاتم النبیین“ کا لفظ اسی لیے ہے کہ آپ صرف رسول نہیں بلکہ خاتم النبیین بھی ہیں۔ اس کے برخلاف آپ سے پیشتر جتنے رسول ہوئے وہ صرف رسول اللہ تھے۔ اسی لیے کسی نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ خاتم النبیین ہے۔ یہ آنحضرت ﷺ کا مخصوص لقب ہے اور آپ نے ہی اس کا دعویٰ کیا ہے۔ حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کا یہ لقب صرف بطور مدح نہیں ہے بلکہ یہ بحیثیت عقیدہ کے ایک عقیدہ ہے۔ خاتم الشعراء اور خاتم المحدثین کی طرح یہ صرف ایک محاورہ نہیں ہے۔

صفحہ 21

رسول اللہ کا تصور

آنحضرت ﷺ کے تصور کے لیے دو باتوں کا تصور ضروری ہے۔ یہ کہ آپ رسول اللہ ہیں اور یہ کہ آپ خاتم النبیین بھی ہیں۔ آپ کے متعلق صرف رسول اللہ کا تصور آپ کی ذات گرامی کا ادھورا اور ناتمام تصور ہے بلکہ ان ہر دو تصورات پر آپ کا امتیازی تصور خاتم النبیین ہی ہے۔

ضروری تنبیہ

جب کسی لفظ کا ایک مفہوم اور اس کی مراد امت مسلمہ کے متواتر استعمال کرنے اور اجماع سے متعین ہوگئی ہو تو قرآن وحدیث میں اس لفظ کے وہی معنی مراد لیے جائیں گے اور کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ لغت کی استعانت یا دیگر شواہد سے اس لفظ کے دوسرے معنی اور مفہوم مراد لے۔ مثلاً وحی کا لفظ ہے۔ لغت میں وہ کسی معنی کے لیے ہے۔ اب اس پر بحث کرنی غیر ضروری ہے۔ کیونکہ قرآن کریم میں جب اس لفظ کا استعمال انبیاء علیہم السلام کے دائرہ میں ہے تو اس کے معنی بندہ اور حق تعالیٰ کے مابین ہم کلامی کے ہوتے ہیں۔ اس لیے جب کہیں وحی کا لفظ انبیاء ورسل کے بارہ میں استعمال کیا جائے گا تو اس کے یہی معنی مراد لیے جائیں گے یا مثلاً نبی کا لفظ ہے یہ نباء سے مشتق ہے اور لغت میں انباء گو ہر خبر کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اس کا عام استعمال اب صرف غیب کی خبروں میں ہوتا ہے تو نبی اللہ کے معنی (فعیل بمعنی مفعول کا لحاظ کرتے ہوئے) یہ ہوں گے: ”الذی نباہ اللہ“ یعنی: ”جس کو اللہ نے نبی بنایا ہو اور اس کو غیب کی خبریں دی ہوں ۔“ اس کے بعد اب ختمِ نبوت کے مفہوم اور معنی پر غور کیجئے۔

ختم نبوت کے معنی

ختمِ نبوت کا لفظ ہمیشہ سے امتِ مسلمہ میں تواتر کے ساتھ استعمال ہوتا چلا آیا ہے اور ہمیشہ سے اس لفظ کا مفہوم صرف یہی سمجھا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد اب کسی جدید نبوت کا کوئی امکان نہیں ہے۔ خواہ وہ کسی قسم اور کسی مرتبہ ہی کی کیوں نہ ہو ظلی ہو یا بروزی‘

صفحہ 22

تشریعی ہو یا غیر تشریعی ہر قسم کی نبوت ختم کر دی گئی مگر اس معنی سے نہیں کہ آئندہ نفوس انسانیہ کو کمال و تکمیل سے محروم کر دیا گیا ہے بلکہ اس معنی سے کہ اب یہ منصب ہی ختم کر دیا گیا ہے۔

صرف لفظ کا استعمال کافی نہیں

اگر کوئی جماعت صرف ختم نبوت کا لفظ تو استعمال کرتی ہے مگر ان معنوں سے نہیں جن میں کہ عام مسلمان اس کو استعمال کرتے چلے آئے ہیں تو محض اس لفظ کے استعمال کر لینے سے اس کو عام مسلمانوں کی جماعت میں کیسے شمار کیا جاسکتا ہے۔ جیسا کہ صرف جنت و دوزخ، نبوت اور معجزات کے الفاظ استعمال کرنے والے فلاسفہ کو صرف ان الفاظ کے استعمال کرنے سے مسلمانوں کے عقائد سے متفق نہیں سمجھا جاسکتا ہے۔ جب تک کہ یہ ثابت نہ ہو جائے کہ وہ ان الفاظ کا استعمال ان ہی معنوں میں کرتے ہیں جن میں کہ تمام مسلمان ان کو استعمال کرتے چلے آئے ہیں کیا نصاریٰ اور ہنود بھی توحید کا اقرار نہیں کرتے مگر کیا صرف لفظ توحید کے استعمال کر لینے سے ان کو اسلامی توحید کا معتقد کہا جا سکتا ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ ایمان و اسلام کے لیے یہ ضروری ہے کہ ان حقائق کو اپنے انہی معنوں میں مانا جائے جن میں کہ وہ ہمیشہ سے مسلمانوں میں مسلم رہے ہیں۔ صرف رسمی الفاظ کی نقالی بے سود ہے۔

ختم نبوت کی عقلی وجہ

سنت اللہ یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کو ختم فرمانے کا ارادہ فرماتے ہیں تو اس کو کامل کر کے ختم فرماتے ہیں۔ ناقص کو ختم نہیں فرماتے نبوت بھی اپنے کمال کو پہنچ چکی تھی۔ اس لیے مقدر یوں ہوا کہ اس کو بھی ختم کر دیا جائے۔ اگر آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت ختم نہ ہوتی بلکہ جاری رہے تو لازم آئے گا کہ ان کا خاتمہ نقصان پر ہو۔ ظاہر ہے کہ ایک نہ ایک دن عالم کا فنا ہونا ضروری ہے۔ اس سے قبل کسی نہ کسی نبی کا آخری نبی ہونا بھی عقلاً لازم ہے۔ اب اگر وہ آپ سے زیادہ کامل ہو تو اس کے لیے اسلامی عقیدہ میں گنجائش نہیں اور اگر ناقص ہو تو خاتمہ نقصان پر تسلیم کرنا لازم ہوگا۔

صفحہ 23

تفصیل

اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب فطرت عالم پر غور کیا جائے گا تو جزو و کل میں ایک حرکت نظر آئے گی۔ ہر حرکت ایک ارتقاء اور کمال کی متلاشی ہوتی ہے۔ پھر ایک حد پر پہنچ کر یہ حرکت ختم ہو جاتی ہے اور جہاں ختم ہوتی ہے وہی اس کا نقطہ کمال کہلاتا ہے۔ انسان کی حقیقت پر اگر غور کیا جائے تو وہ بھی نطفہ سے متحرک ہو کر علقہ و مضغہ کے قالب طے کرتا ہوا خلق آخر پر جا کر ٹھہر جاتا ہے اور اسی کو اس کی استعداد فطری کا کمال کہا جاتا ہے۔ پیدا ہونے کے بعد اس کے اعضاء میں پھر ایک حرکت اور ایک نشوونما نظر آتی ہے اور وہ دور شباب پر مکمل ہو کر ختم ہو جاتا ہے اور اسی کو اس کا زمانہ کمال کہا جاتا ہے۔ نباتات اور اشجار کو دیکھئے تو وہ بھی ایک چھوٹی سی گٹھلی سے حرکت کرتے کرتے ایک تناور درخت بن جاتے ہیں۔ آخر کار اس پر پھل نمودار ہوتے ہیں اور جب وہ نمودار ہوتے ہیں تو یہ اس کا کمال سمجھا جاتا ہے۔ اسی کمال پر پہنچ کر درخت کا ایک دور حیات ختم ہو جاتا ہے۔ آئندہ اپنے دور حیات کے لیے پھر اس کو بہت سے انہی ادوار کو دہرانا پڑتا ہے جن میں سے گزر کر وہ اس منزل تک پہنچا تھا۔ یعنی موسم خزاں آتا ہے اور اس کے دور حیات کو ختم کر جاتا ہے۔ اگر قدرت کو اس کی پھر نشأۃ ثانیہ منظور نہ ہوتی تو وہ یونہی سوکھ کر ختم ہو گیا ہوتا مگر چونکہ اس کو ابھی باقی رکھنا منظور ہوتا ہے اس لیے پھر اسے وہی سبز سبز پتیاں وہی ہری ہری لچک دار ڈالیاں مل جاتی ہیں۔ پھر اس پر پھول آتے ہیں اور آخر میں پھل نمودار ہوتے ہیں۔ جب تک یہ درخت موجود رہتا ہے اسی طرح اپنے ارتقائی مدارج کو ایک سرے سے دوسرے سرے تک دہرایا کرتا ہے جو درخت اپنی ابتدائی کڑیوں کو پھر نہیں دہراتے وہ ایک مرتبہ پھل دے کر اپنی زندگی ختم کر جاتے ہیں۔ جیسے کیلا کا درخت ہے۔

اسی طرح سمجھا جائے کہ عالم نبوت میں بھی ایک تدریج نمایاں ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر تمام شریعتوں پر نظر ڈالئے تو معلوم ہوگا کہ تمام نبوتیں کسی ایک کمال کی جانب متحرک ہیں۔ ہر پچھلی شریعت پہلی سے نسبتاً ارتقائی شکل میں نظر آتی ہے۔ اس لیے اس طبعی اصول کے مطابق ضروری ہے کہ یہ حرکت بھی کسی نقطہ پر جا کر ختم ہو جس کو اس کا کمال کہا جائے۔ لیکن جب خود نبوت ہمارے ادراک سے بالاتر حقیقت ہے تو اس کے آخری کمال کا

صفحہ 24

ادراک بدرجہ اولیٰ ہماری پرواز سے باہر ہونا چاہیے۔ اس لیے ضروری ہے کہ قدرت خود اس کی کفالت فرمائے اور خود ہی اس کا اعلان کر دے کہ نبوت کا ارتقاء جہاں ختم ہوا ہے وہ مرکزی اور کامل ہستی آنحضرت ﷺ کی مبارک ہستی ہے۔ قرآن کریم میں اس کا اعلان فرماتے ہوئے: ”ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین“ کے بعد فرمایا ہے: ”و کان اللہ بکل شئیٍ علیما“ یعنی اللہ ہی کو ہر چیز کا علم ہے وہ ہی یہ جانتا ہے کہ نبیوں میں خاتم النبیین اور آخری نبی کون ہے۔ یہ بات تمہاری دریافت سے باہر ہے کہ تم معلوم کر سکو کہ اس کے رسولوں کی مجموعی تعداد کتنی ہے۔ ان میں اوّل کون ہے اور آخری کون ہے۔

نبوت نے اپنا مقصد پا لیا

آنحضرت ﷺ کے بعد اب کوئی نیا رسول نہیں آئے گا۔ کیونکہ اگر کوئی رسول آئے تو یا تو وہ آپؐ سے افضل ہوگا یا مفضول۔ اگر افضل ہو تو تسلیم کرنا پڑے گا کہ نبوت نے ابھی تک اپنے اس کمال کو نہیں پایا جس کے لیے وہ متحرک ہوئی تھی اور اگر مفضول ہو تو کمال کے بعد پھر یہ نزولی حرکت اسی وقت مناسب ہو سکتی ہے۔ جبکہ عالم کی پھر نشأۃ ثانیہ تسلیم کی جائے۔

لیکن چونکہ دنیا کی اجل مقدر پوری ہو چکی تھی۔ اس لیے ضروری تھا کہ نبوت کی آخری اینٹ بھی لگا دی جائے۔ اور اعلان کر دیا جائے کہ دنیا کی عمر کے ساتھ قصر نبوت کی بھی تکمیل ہو گئی ہے۔ اور نبوت نے اپنا مقصد پا لیا ہے۔

ختم نبوت دینی ارتقاء اور خدا تعالیٰ کے انتہائی انعام کا اقتضاء ہے۔ اور وہ کمال ہے کہ اس سے بڑھ کر امت کے لیے کوئی اور کمال نہیں ہو سکتا۔ پھر حیرت ہے کہ اتنے عظیم الشان کمال کو برعکس محرومی سے کیسے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔

دین اسلام کامل ہو چکا ہے۔ اس کی روشنی اقصاء عالم میں پھیل چکی ہے۔ خدائی نعمت پوری ہونے میں کوئی کسر باقی نہیں رہی اور ہمیشہ کے لیے ایک اسلام ہی پسندیدہ دین ٹھہر چکا ہے۔ اس لیے آئندہ نہ گمراہی اتنا تسلط حاصل کر سکتی ہے کہ ہدایت کو فنا کر دے اور اس کے تمام چشمے خشک ہو جائیں۔ اس کی ایک کرن بھی چمکتی نہ رہے اور نہ اس لیے کسی رسول کے آنے کی ضرورت باقی ہے۔

صفحہ 25

ختم نبوت درحقیقت اس کا اعلان ہے کہ نور نبوت اب تمام عالم کو اس طرح روشن کر چکا ہے کہ اب کفر خواہ کتنا ہی سر پٹکے مگر وہ اس کے بجھانے سے بجھ نہیں سکتا۔ خدا کا اقرار اور اس کی صفات کی معرفت، غیب کا یقین اب مجموعہ عالم کا اس طرح جزو بن چکے ہیں کہ اگر کہیں اس مرتبہ پھر یہ معرفت ختم ہو گئی تو بس اس کے ساتھ ہی عالم کی روح بھی نکل جائے گی اور قیامت قائم ہو جائے گی۔

بڑی غلط فہمی

یہ بڑی غلط فہمی ہے کہ ختم نبوت کو کمالات کے ختم کے ہم معنی سمجھ لیا گیا ہے۔ ہمارے اس بیان سے روشن ہو گیا ہے کہ نبوت کا ختم ہونا تو خدائی نعمت کے اتمام اور دین کے انتہائی ارتقاء وعروج کی دلیل ہے۔ البتہ کمالات و برکات کا خاتمہ بلاشبہ محرومی ہوتی مگر روایات سے ثابت ہے کہ امت مرحومہ کے کمالات تمام امتوں سے زیادہ ہیں اور اتنے زیادہ ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے نبی کو بھی اس امت کے کمالات سن کر تمنا ہو سکتی ہے کہ وہ بھی اس امت کے ایک فرد ہوتے ہیں۔

ایک مغالطہ

ایک مغالطہ یہ ہے کہ ختم نبوت کا مطلب یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ نبوت کی بندش گویا آپؐ کی تشریف آوری کی وجہ سے ہوئی ہے۔ اگر آپؐ تشریف نہ لاتے تو شاید کچھ اور افراد کو نبوت مل جاتی۔ یہ بھی انتہائی جہالت ہے۔ خاتم النبیین کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ سلسلہ انبیاء علیہم السلام میں آپ سب سے آخری نبی ہیں۔ اس لیے آپؐ کی آمد ہی اس وقت ہوئی ہے جبکہ انبیاء علیہم السلام کا ایک ایک فرد آ چکا تھا۔ اس لیے آپؐ کی آمد نے نبوت کو بند نہیں کیا بلکہ جب نبوت ختم ہو گئی تو اس کی دلیل بن کر آپؐ تشریف لائے ہیں اور اس معنی سے آپؐ کو خاتم النبیین کہا گیا ہے۔ اگر علم ازلی میں کچھ اور افراد کے لیے نبوت مقدر ہوتی تو یقیناً آپؐ کی آمد کا زمانہ بھی ابھی اور موخر ہو جاتا۔

صفحہ 26

فاش غلطی

سب سے زیادہ فاش غلطی یہ ہے کہ اس پر غور نہیں کیا گیا کہ پہلے ایک نبی کے بعد دوسرا نبی کیوں آتا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلی نبوتیں خاص قوم اور خاص زمانہ کے لیے ہوتی تھیں۔ اس لیے ہر نبی کے بعد لامحالہ دوسرے نبی کی ضرورت باقی رہتی تھی لیکن جب وہ نبی آ گیا جس کی نبوت کسی خطہ کسی قوم اور کسی زمانہ کے ساتھ مقید نہیں تو اب اس کے بعد نبوت کا سوال ایسا ہی ہے جیسا کہ اس کی موجودگی کے زمانہ میں۔

آپ کا دور نبوت دوسرے انبیاء کی طرح ختم نہیں ہوا۔ پس درحقیقت نبوت تو اب بھی باقی ہے اور وہ نبوت باقی ہے جو تمام نبوتوں سے کامل تر ہے۔ ہاں! نبی اور کوئی باقی نہیں۔ رہا جب آپ کی نبوت باقی ہے تو اب جدید نبوت کا سوال خود بخود ختم ہو جاتا ہے:

ہنوز آں ابر رحمت درفشاں ست
خم و خمخانہ بامہر نشاں ست

آپ کا تشریف لانا تمام جہان کے لیے رحمت ہے

اس کا مطلب یہ ہے کہ اب خاتم بذات خود تمام جہان کے لیے رحمت بن کر آ گیا ہے۔ اتنی بڑی رحمت کہ اس کے بعد کسی اور رحمت کی ضرورت نہیں ہوگی۔ آج تک ہر رسول کے بعد دوسرے رسول کے انکار سے کفر کا خطرہ لگا رہتا تھا۔ خاتم النبیین کی آمد سے یہ کتنی بڑی رحمت ہے کہ اس راستہ سے اب کفر کا کوئی خطرہ باقی نہیں رہا۔ نہ کسی اور رسول کے آنے کا امکان ہے نہ کسی کے انکار سے کفر کا اندیشہ باقی ہے۔

بعثت عام اور ختم نبوت

اگر آپ کی بعثت عام نہ ہوتی اور نبوت ختم ہو جاتی تو آنے والی امت بغیر رسول کے رہ جاتی یہ بجائے رحمت کے ایک اور زحمت ہوتی۔ اس لیے جب نبوت کا ختم ہونا مقدر ہوا تو آپ کی بعثت کا دامن قیامت تک کے انسانوں کے لئے پھر پھیلا دیا گیا تا کہ رہتی دنیا تک تمام انسان کامل واکمل رسالت کے نیچے آ جائیں اور کسی دوسرے رسول کے محتاج نہ رہیں اور اگر

صفحہ 27

آپﷺ کی بعثت تو عام ہوتی مگر نبوت ختم نہ ہوتی تو اب آئندہ اگر کوئی اور کامل رسول آتا اور آپﷺ کی بجائے اس کی اتباع لازم ہوتی تو آپﷺ کا ناقص ہونا ثابت ہوتا۔ (العیاذ باللہ) اور اگر کوئی ناقص رسول آتا تو کامل کے ہوتے ہوئے ناقص کے دامن میں آنا بجائے رحمت کے زحمت بن جاتا۔ اس لیے بعثت عامہ کے بعد نبوت کا ختم ہونا ضروری لازمی ہوگیا۔

ظلی، بروزی نبوت کی کوئی قسم نہیں ہے

تاریخ نبوت پر جب نظر ڈالی جاتی ہے تو اس میں صرف دو ہی قسم کی نبوتیں ملتی ہیں۔ ایک تشریعی، دوسری غیر تشریعی اور یہ دونوں براہ راست نبوتیں ہیں تو اب نبوت کی ایک اور تیسری قسم (ظلی، بروزی اور بالواسطہ) نبوت کا تراشنا تاریخ نبوت کے خلاف ہے۔ قرآن وحدیث میں کوئی ایک آیت اور ایک حدیث بھی دستیاب نہیں ہو سکتی جس میں آنے والی امت میں سے کسی کو نبی کہا گیا ہو اور نہ ہی دنیا کی تاریخ میں کوئی ایسا نبی بتلایا جا سکتا ہے جو کسی نبی کے واسطہ اور اس کی اتباع کے صلہ میں انعامی طور پر نبی بنا دیا گیا ہو۔

احادیث میں آنحضرت ﷺ کے بعد ہر قسم کی نبوت کی نفی کر دی گئی ہے اور کسی تفصیل کے بغیر: ”لا نبی بعدی“ میرے بعد کوئی نبی نہیں کہہ دیا گیا ہے۔ اسی لیے آپﷺ کے بعد مدعی نبوت کو کذاب و دجال کہا جا رہا ہے۔ کسی حدیث سے ظلی بروزی نبوت کی تقسیم ثابت نہیں ہوتی۔ بہر آخر کسی دلیل سے نبوت کی ایک تیسری قسم مان کر اس کو جاری قرار دیا جائے کیا آیت خاتم النبیین کے عموم میں محض اختراعی تقسیم کی وجہ سے تخصیص پیدا کر کے قرآن کریم میں کھلی تحریف کا ارتکاب کر لیا جائے؟

فنا فی الرسول اور اتباع کی وجہ سے بھی نبوت نہیں مل سکتی

اگر فنا فی الرسول اور اتباع رسول کی وجہ سے کسی کو نبوت مل سکتی اور امت میں کوئی ہلکی سے ہلکی نبوت بھی جاری ہوتی تو صدیق اکبرؓ اور علی المرتضیٰؓ کو ضرور اس سے حصہ دیا جاتا مگر حالت یہ ہے کہ شب ہجرت میں حضرت علیؓ آپﷺ کے بستر پر ساری رات آپﷺ کی جگہ قربان ہونے کے شوق میں پڑے ہوئے ہیں۔ صدیق اکبرؓ راستہ کے ہر خطرناک موقع پر سر بکف حاضر ہیں۔ مگر فنا فی الرسول کے سمندر کے ان شناوروں کو نبوت کا چھوٹے سا چھوٹا موتی بھی ہاتھ نہیں آیا بلکہ

صفحہ 28

اگر کسی کے متعلق سیاق کلام میں نبوت کا کوئی ادنیٰ احتمال بھی پیدا ہوتا نظر آیا تو اس کو بڑی صفائی سے دور کر دیا گیا اور کسی کے لیے لفظ نبی کی گنجائش نہیں دی گئی۔

اس لیے آنحضرت ﷺ نے غزوہ تبوک جاتے ہوئے حضرت علیؓ کو جب مدینہ منورہ میں اپنا جانشین بنایا اور : ”اما ترضى ان تكون منى بمنزلة هارون من موسى“ میں اس علاقہ اور نسبت کا تذکرہ آیا جو صرف حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کے درمیان تھا تو : ”الا انه لا نبی بعدی“ فرما کر اس غلط فہمی میں پڑنے سے امت کو بچالیا کہ حضرت علیؓ کی خلافت و جانشینی بھی کہیں حضرت ہارون علیہ السلام کی طرح خلافت نبوت نہ ہو۔

تنبیہ

ایسی حدیثوں میں حضرت علیؓ کو حضرت ہارون علیہ السلام کی ذات گرامی سے تشبیہ دینا مقصود نہیں ہے اسی لیے ”انت بمنزلة هارون“ نہیں فرمایا بلکہ اس نسبت اور علاقہ سے تشبیہ مقصود ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام و ہارون علیہ السلام کے درمیان تھا۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی غیبت کے زمانہ میں کوہ طور جاتے ہوئے اپنی قوم کی نگرانی کے لیے اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کا انتخاب کیا تھا۔ اسی طرح اپنی غیبت میں تبوک جاتے ہوئے میں تمہارا انتخاب کرتا ہوں۔ اتنا فرق ضرور ہے کہ وہ نبی تھے تم نبی نہیں ہو۔

ظاہر ہے کہ اگر حضرت علیؓ کو نبوت ملتی تو وہ یقیناً آپ ﷺ کے اتباع ہی کی بدولت ملتی اور وہ ظلی بروزی نبوت کہلاتی مگر جب اس احتمال کی بھی نفی کر دی گئی تو اب اتباع رسول سے نبوت کے ملنے اور ظلی بروزی مجازی کسی طرح کی نبوت کا بھی احتمال باقی نہیں رہا۔

محدث اور مکلم بھی نبی نہیں ہوتے

حضرت علیؓ کو آنحضرت ﷺ سے نسبت اخوت تھی اس کے باوجود نبی نہیں بن سکے۔ اس نسبت اخوت سے بڑھ کر ابنیت کی نسبت ہے گمان ہو سکتا تھا کہ آپ کا کوئی فرزند ہوتا تو شاید وہ نبی ہو جاتا۔ چنانچہ ان کے متعلق حدیث کا ارشاد ملتا ہے: ”لو عاش ابراهيم لكان صدیقاً نبیاً“ اگر ابراہیم زندہ رہتے تو صدیق نبی ہوتے۔ لیکن جب ذات قدیر و حکیم نے ختم

صفحہ 29

نبوت کو مقدر فرمایا تھا اس نے ان کے لیے عالم تقدیر میں اتنی عمر ہی نہیں لکھی کہ ان کی علو استعداد ظاہر ہو سکے اور ختم نبوت سے ٹکرائے۔

حضرت عمر فاروقؓ کی فطرت میں رسول خدا ﷺ کے دامن اقدس سے وابستہ ہو جانے کے بعد کمالات نبوت کا کیسا انعکاس ہوا تھا اور آپؐ کی فطرت کو نبوت سے کتنی مناسبت تھی۔ وہ خود آنحضرت ﷺ کے بیان سے ظاہر ہے کہ حضرت عمرؓ کے سایہ سے شیطان ترساں و لرزاں رہنے لگے تھے اور جس راستہ سے عُمرؓ نکل جائیں شیاطین وہ راستہ ہی چلنا چھوڑ دیا کرتے تھے وہ بولتے تھے تو بسا اوقات ایسا بھی ہوتا کہ وحی الٰہی ان کی موافقت میں بولتی تھی۔ وہ ملہم من اللہ اور محدث امت تھے مگر ان سب اوصاف و کمالات کے باوجود بھی ان کے بارہ میں حدیث میں آیا: ”لو کان نبی من بعدی لکان عُمَر“ اگر میرے بعد کوئی نبی ہو سکتا تو عُمرؓ ہوتا۔ اس سے یہ بات اور زیادہ صاف ہے کہ محدث اور ملہم بھی نبی نہیں ہوتا۔

حضرت عمرؓ کا محدث ہونا اور نبی نہ ہونا دونوں باتیں حدیث سے ثابت ہیں۔ نتیجہ واضح ہے کہ محدث نبی نہیں ہوتا۔ حدیث میں بھی: ”من غير ان يكونوا انبياء“ مگر وہ نبی نہ ہوتے تھے کہہ کر محدث کے نبی نہ ہونے کی تصریح کر دی گئی ہے۔

اب اس پر غور کیا جائے کہ حضرت عمرؓ اگر نبی کہلاتے تو ظاہر ہے کہ مجازی طور پر ہی کہلاتے مگر جب وہ بھی نبی نہیں کہلاتے تو پھر امت میں کسی دوسرے کو نبی کہلانے کا استحقاق اور جواز کیسے حاصل ہو سکتا ہے؟

اگر مبشرات نبوت کا جزو ہیں تو کیا ان کو نبوت کہا جا سکتا ہے؟

احادیث میں ایک طرف تو رؤیا صالحہ کو نبوت کا چھیالیسواں جزو کہا گیا ہے۔ دوسری طرف بعض بلند اخلاق کو چھبیسواں جزو قرار دیا گیا ہے۔ حدیث میں ہے: ”التؤدة والاقتصاد وحسن السمت من ستة وعشرين جزءً من النبوة“ ہر بردباری و متانت، میانہ روی اور اچھی روش نبوت کا چھبیسواں جزو ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ ان اخلاق کی وجہ سے کسی کو نبی نہیں کہا جا سکتا۔ جب چھبیسویں جزو کو نبوت نہیں کہا جاتا تو چھیالیسویں جزو کو نبوت کیسے کہا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ کہ جز ہمیشہ اپنے کل کے مغائر ہوتا ہے۔ دیکھئے یہی کلمات جن کا

صفحہ 31

مجموعہ اجزاء کہلاتا ہے علیحدہ علیحدہ اجزاء نہیں کہلاتے۔ عناصر اربعہ انسان کے اجزاء ہیں مگر ان میں سے کسی کو انسان نہیں کہا جاتا۔ مثلاً پانی انسان کا 1/4 حصہ ہے۔ مگر انسان نہیں ہے تو رؤیا صالحہ نبوت کا چھیالیسواں جز ہوکر نبوت کیسے ہو سکتا ہے؟

افادہ

رؤیا صالحہ نبوت کے حقیقتاً اجزاء نہیں ہیں۔ کیونکہ نبوت کسی ایسی حقیقت مرکبہ کا نام نہیں ہے جس کا تجزیہ و تحلیل ممکن ہو۔ وہ ایک منصب ہے جس کا تعلق صرف خدائی اصطفاء و اجتباء پر موقوف ہے۔ ہاں اس کے کچھ خصائص و لوازم ہیں جو اس کی ماہیت کا جز نہیں ہوتے۔ کیونکہ اصطلاح میں خصائص و اجزاء میں فرق ہوتا ہے۔ مگر اہل عرف کے نزدیک ان خصائص و فضائل ہی کو مجازاً اجزاء کہہ دیا جاتا ہے۔

ختم نبوت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ امت کمالات سے محروم ہو گئی

احادیث سے واضح ہے کہ اچھے خواب دیکھنا‘ الہام اور فرشتوں کے ساتھ مکالمہ اُمت کا دینی اور دنیوی نظم و نسق قائم رکھنا یہ سب وظائف امت محمدیہ کے محدثین اور خلفاء کی طرف منتقل کر دیئے گئے ہیں۔ اگر کہیں نبوت ختم نہ ہوئی ہوتی تو یہ اپنے کمالات و استعداد کے لحاظ سے اس کے اہل تھے کہ انہیں منصب نبوت سے سرفراز کر دیا جاتا۔ اس سے ظاہر ہے کہ امت محمدیہ میں بھی استعداد نبوت تو موجود ہے اور انسانی بلند سے بلند کمالات اسے حاصل ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ختم نبوت کا یہ مطلب نہیں سمجھنا چاہیے کہ امت کمالات سے محروم ہو گئی ہے۔ بلکہ تمام تر کمالات اور پوری استعداد و لیاقت کے باوصف اب چونکہ عہدہ نبوت پر تقرری کے لیے کوئی جگہ خالی نہیں رہی اور منصب نبوت کا عطا ہونا بند ہو گیا۔ اس لیے اس منصب پر کسی کا تقرر نہیں ہو سکتا۔

ظاہر ہے کہ کسی منصب پر تقرر کے لیے ذاتی استعداد اور قابلیت کے علاوہ تقرر کی جگہ کا خالی ہونا بھی شرط ہے۔ حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ دونوں نبی نہیں ہوئے اگر اس کی وجہ یہ ہوتی کہ ان حضرات میں اتنی لیاقت و استعداد بھی نہ تھی۔ تو یقیناً یہ اس امت کا نقص شمار ہوتا۔ لیکن اگر تقرر کی کوئی جگہ ہی نہیں ہے تو اس میں امت محمدیہ کا کوئی قصور نہیں نکلتا۔ یہ بات حکومت کے

نظم و نسق کے متعلق ہے کہ وہ کسی عہدہ پر کتنے اشخاص کا تقرر

امت محمدیہ کے کمالات اور عظمت

اس سے امت محمدیہ کے کمالات اور عظمت کا لیے پہلے انبیائے کرام علیہم السلام بھیجے جاتے تھے۔ اب ا دیا کریں گے۔ اب غور کیا جائے کہ اُمتِ محمدیہ کی ہتک دے کر اس میں نبی پیدا کیا جائے۔ یا اس میں کہ اس ا کبھی انبیائے کرام علیہم السلام فخر فرمایا کرتے تھے۔

اسلام میں ختم نبوت کے عقیدہ کو بنیادی عقید نے غور فرمایا کہ اس عقیدہ کی کس کس طرح حفاظت کی جا عقیدہ کو ٹھیس لگتی نظر آتی ہے تو فوراً صفائی کے ساتھ اس سے ابہام کو بھی اس سلسلہ میں برداشت نہیں کیا گیا۔

رسول اللہ ﷺ کی حیثیت

اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی حیثیت کے م عقیدہ یہ ہے کہ اس کی ذات بابرکات اُمت کے لیے نم بھیجی جاتی ہے۔ اس کا صاف اور سیدھا مطلب یہ ہے ک صفات ہیں وہ سب کی سب اس کی ذات گرامی میں ناپسندیدہ ہیں۔ وہ ایک ایک کرکے اس کی ذات عالیہ س کے نمونہ کہنے کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ صاحب نمونہ ا

حق تعالیٰ نے جہاں اپنی جانب سے اپنی کتا اس کے ساتھ ہی اس کتاب کا ایک عملی نمونہ بھی عنایت فر گرامی ہے۔ لہٰذا جس طرح اللہ کی کتاب ہر قسم کے عیب نمونہ بھی ہر عیب و نقص سے مبرا اور پاک وصاف ہونا چا صحابہ کرامؓ نے اسوہ رسول اللہ کو بھی اپنا پیشوا بنالیا۔ اللہ ت

صفحہ 31

نظم و نسق کے متعلق ہے کہ وہ کسی عہدہ پر کتنے اشخاص کا تقرر کرنا چاہتی ہے۔

امت محمدیہ کے کمالات اور عظمت

اس سے امت محمدیہ کے کمالات اور عظمت کا اندازہ کرنا چاہیے کہ جن خدمات کے لیے پہلے انبیائے کرام علیہم السلام بھیجے جاتے تھے۔ اب اس امت کے علماء اور خلفاء اس کو انجام دیا کریں گے۔ اب غور کیا جائے کہ امت محمدیہ کی ہتک عزت اس میں ہے کہ اسے نااہل قرار دے کر اس میں نبی پیدا کیا جائے۔ یا اس میں کہ اس کے خلفاء وہ خدمات انجام دیں جو پہلے کبھی انبیائے کرام علیہم السلام خود فرمایا کرتے تھے۔

اسلام میں ختم نبوت کے عقیدہ کو بنیادی عقیدہ کی حیثیت حاصل ہے۔ اس لیے آپ نے غور فرمایا کہ اس عقیدہ کی کس کس طرح حفاظت کی جارہی ہے۔ اگر کہیں ذرا بھی اس بنیادی عقیدہ کو ٹھیس لگتی نظر آتی ہے تو فوراً صفائی کے ساتھ اس کی اصلاح کر دی جاتی ہے اور معمولی سے ابہام کو بھی اس سلسلہ میں برداشت نہیں کیا گیا۔

رسول اللہ ﷺ کی حیثیت

اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی حیثیت کے متعلق ایک اصول اور سب سے مقدس عقیدہ یہ ہے کہ اس کی ذات بابرکات امت کے لیے مرضیات الٰہیہ کا نمونہ اور اسوہ حسنہ بنا کر بھیجی جاتی ہے۔ اس کا صاف اور سیدھا مطلب یہ ہے کہ خالق جل وعلا کی نظر میں جتنی پسندیدہ صفات ہیں وہ سب کی سب اس کی ذات گرامی میں جمع کر دی جاتی ہیں اور جتنی صفات ناپسندیدہ ہیں۔ وہ ایک ایک کر کے اس کی ذات عالیہ سے الگ کر دی جاتی ہیں۔ کیونکہ کسی چیز کے نمونہ کہنے کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ صاحب نمونہ کی پسندیدگی کا معیار ہے۔

حق تعالیٰ نے جہاں اپنی جانب سے اپنی کتاب قرآن کریم دے کر سرفراز فرمایا تھا اس کے ساتھ ہی اس کتاب کا ایک عملی نمونہ بھی عنایت فرمایا تھا اور وہ رسول اکرم ﷺ کی ذات گرامی ہے۔ لہٰذا جس طرح اللہ کی کتاب ہر قسم کے عیب و نقص سے منزہ ہے اسی طرح اس کا نمونہ بھی ہر عیب و نقص سے مبرا اور پاک و صاف ہونا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ کتاب اللہ کی طرح صحابہ کرام نے اسوہ رسول اللہ کو بھی اپنا پیشوا بنالیا۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی

صفحہ 32

کو اسوہ حسنہ فرمایا اور صحابہ کرام نے کسی لَیْتَ ولَعَلَّ کے بغیر آپ کو اپنا اسوہ بنا لیا۔

اسوہ حسنہ رسول کی عصمت کا دوسرا مدلل عنوان ہے

اللہ تعالیٰ نے جس طرح تبلیغِ احکام کے لیے آپؐ کو اپنا رسول بنا کر خود بھیجا تھا اس طرح آپؐ کی ذاتِ گرامی کو نمونہ اور اسوہ حسنہ بھی خود ہی بنا کر بھیجا تھا۔ لہٰذا جس طرح آپؐ کے علوم کی قدرت ضامن تھی اسی طرح آپؐ کے اعمال و افعال کی بھی قدرت ہی خود نگران تھی اور عِصمتِ رسول کا مفہوم بھی یہی ہے۔ لہٰذا اسوہ حسنہ کو رسول کی عصمت کا دوسرا مدلل عنوان سمجھنا چاہیے۔

اب اگر رسول کے کسی قول و عمل میں معصیت کی گنجائش تسلیم کر لی جائے تو دو باتوں میں سے ایک بات ماننی لازم ہوگی یا رسول کی ذات اسوہ نہ رہے یا معصیت بھی اسوہ کا جز بن جائے اور امتوں کے حق میں معصیت کا یہ عمل بھی مذموم نہ رہے کیونکہ جب وہ معصیت خود قدرت کے نمونہ میں موجود ہوگی تو پھر اس کی اتباع پر امت سے باز پرس کیوں ہوگی۔ یہ دونوں باتیں ایک لمحہ کے لیے بھی قابلِ تسلیم نہیں۔ اس لیے یہی بات تسلیم کرنی ہوگی کہ رسول چونکہ معصوم ہوتا ہے اس لیے اس کے کسی عمل پر معصیت کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔ اس کا ہر ہر عمل نظرِ ربوبیت میں حسنہ اور نیکی شمار ہوتا ہے اور نیکی بھی وہ جس کو نمونہ کہا جاسکے۔

منکرینِ حدیث کا عقیدہ

ان کا عقیدہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کا منصبِ رسالت صرف تبلیغِ قرآن پر ختم ہو جاتا ہے۔ گویا ان کے نزدیک آپؐ کی حیثیت ایک پوسٹ مین سے زیادہ نہیں تھی۔ (والعیاذ باللہ)

اب ہمیں اس پر غور کرنا چاہیے کہ قرآن کریم میں رسول اللہ ﷺ کی کیا حیثیت قرار دی گئی ہے۔ اوپر معلوم ہو چکا کہ منصبِ رسالت براہِ راست خدا کے انتخاب پر موقوف ہے اور یہ کہ رسالت صرف وہبی ہے۔ بندوں کے کسب و اکتساب یعنی عبادات و ریاضات کو اس کے حصول میں کچھ دخل نہیں ہے۔ قدرت رسولوں کا انتخاب خود ہی کرتی ہے۔

قرآن کریم کی واضح آیات سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء اور رسولوں کی

صفحہ 33

تعلیم و تربیت خود کرتے ہیں۔ وہ ان کو خود پڑھا کر خود ہی یاد بھی کراتے ہیں: ”سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسَى اِلَّا مَاشَاءَ اللّٰهُ“ ہم آپ کو پڑھائیں گے پھر آپ نہ بھولیں گے بجز اس کے جس کو خدا چاہے۔“ پھر اس وحی کے بیان کی ذمہ داری بھی خود ہی اٹھاتے ہیں: ”اِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ“ اس کا بیان بھی ہمارے ذمہ ہے اور اس سے بڑھ کر یہ کہ اللہ تعالیٰ انبیاء علیہم السلام کے عواطف و میلانِ قلبی کی بھی نگرانی کرتے ہیں اور ان کے عزائم اور افعال قلبی خطرات کی بھی پوری نگرانی کی جاتی ہے۔ اس لیے امت ان کے متعلق معصوم ہونے کا عقیدہ رکھتی ہے: ”لَوْلَا اَنْ ثَبَّتْنَاكَ لَقَدْ كِدْتَ تَرْكَنُ اِلَيْهِمْ شَيْئًا قَلِيْلًا“ اگر ہم آپ کو تھام نہ لیتے تو کچھ نہ کچھ آپ ان کی طرف جھک چلے تھے۔ اس ربانی تعلیم و تربیت، عصمت اور ہمہ وقت نگرانی کی وجہ سے نبی کی جو بات ہوتی ہے وہ خواہشِ نفس سے پاک اور صاف ہوتی ہے اور انہیں رائے کی عصمت بھی حاصل ہوتی ہے۔ ارشاد ہے: ”وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُوْحَى“ وہ اپنی خواہش سے نہیں بولتا جو بولتا ہے وہ خدا کی وحی ہوتی ہے جو اس پر بھیجی جاتی ہے اور ارشاد ہے: ”اِنَّا اَنْزَلْنَا اِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا اَرَاكَ اللّٰهُ“ ہم نے آپ پر قرآن سچائی کے ساتھ اتارا ہے تاکہ آپ لوگوں کے معاملات میں اس رائے کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ تعالیٰ آپ کو سمجھائے۔ رسول اللہ ﷺ کے سوا کسی کے ساتھ یہ وعدہ نہیں ہے کہ مخلوق میں فیصلہ کے لیے اللہ تعالیٰ خود ان میں سمجھ پیدا کر دیتا ہے۔ یہ رائے کی عصمت انہی کے ساتھ مخصوص ہے۔

وما ينطق عن الهوى کے معنی

منکرینِ حدیث اس آیتِ کریمہ کو صرف قرآن کے ساتھ مخصوص کرتے ہیں۔ حالانکہ یہاں رسول کی صفتِ نُطق کی مطلقاً مدح مقصود ہے تو قرآن پڑھنے کے لیے تمام جگہ تلاوت یا قرأت کا لفظ مستعمل ہوا ہے۔ اگر یہاں قرآن مراد ہوتا تو: ”وما ينطق“ کی جگہ: ”وما يتلو“ یا: ”وما يقراء“ کا لفظ ہونا چاہیے تھا۔ منکرینِ حدیث چونکہ حدیث کے سرے سے مخالف ہیں۔ اس لیے وہ رسول کو کسی ایسی صفت کے ساتھ موصوف دیکھنا نہیں چاہتے۔ جس کے بعد اس کو عام امراء و حکام سے کوئی خصوصی امتیاز حاصل ہوجائے۔

صفحہ 34

اصل یہ ہے کہ رسول اپنی ذات اور تمام صفات میں عام انسانوں سے ممتاز ہوتا ہے۔ اس لیے اس کے کان وہ کچھ سنتے ہیں جو عام مخلوق کے کان نہیں سنتے۔ اس کی آنکھ وہ دیکھتی ہے جو عام آنکھیں نہیں دیکھتیں۔ اسی لیے فرمایا: ”اِنِّی اَرٰی مَا لَا تَرَوْنَ“ میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے۔ اسی لیے آپ نے اپنے منہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ اس منہ سے حق بات کے سوا کبھی کچھ نہیں نکلتا۔ حتیٰ کہ اپنی خوش طبعی کے متعلق بھی فرمایا: ”اِنِّی لَا اَقُوْلُ اِلَّا حَقًّا“ میں خوش طبعی میں بھی سچی بات کہتا ہوں۔ اس لیے فرمایا کہ غصہ اور رضامندی کے ہر حال میں جو میرے منہ سے نکلے سب کچھ لکھ لو۔ وہ حق ہی حق ہوگا۔ جب اس کے عام نطق کا حال یہ ہے تو جو قرآن اس کی زبان سے نکلتا ہے وہ صدق وصفا کی کس منزل پر ہوگا۔

یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اس جگہ قرآن نے آپ کے کسی خاص بات کہنے کے متعلق صفائی پیش نہیں کی۔ یعنی: ”وَمَا یَنْطِقُ بِالْقُرْآنِ“ وغیرہ نہیں فرمایا بلکہ مفعول کو حذف کیا ہے۔ لہٰذا بلاغت کے قاعدہ کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں مفعول مقصود ہی نہیں۔ بلکہ صرف آپ کی صفتِ نطق کی پاکیزگی بتلانا منظور ہے۔ دیکھیے علامہ تفتازانیؒ کی وہ تقریر جو انہوں نے : ”هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَالَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ“ میں کی ہے۔

ورائے خواہشاتِ نفس سے پاکیزگی اور خطرات کی اس عصمت کی وجہ سے وہ عالم کے لیے مجسم نمونۂ عمل بنتے ہیں اور وہ جو بھی کہہ دیتے ہیں سب خواہشاتِ نفس سے پاک اور جو کرتے ہیں وہ سب نیکی ہی نیکی ہوتی۔ اس لیے ان کی ہستی آنکھ بند کر کے اتباع کے قابل ہوتی ہے اور کسی کو ان پر اعتراض کرنے کا حق نہیں ہوتا: ”لقد كان لكم فی رسول الله اسوه حسنه“ ہر قوم کے لیے اپنے پیشوا نمونہ ہوتے ہیں۔ تمہارے لیے بہترین نمونۂ خدا کا یہ رسول ہے۔

احترامِ رسول

اتباع کے ساتھ امت پر رسول کا احترام اتنا واجب ہوتا ہے کہ اس کے سامنے آگے بڑھ کر کوئی بات کہنا ممنوع ہوتا ہے: ”یا ایها الذین آمنوا لا تقدموا بین یدی الله

صفحہ 35

ورسولہ واتقوا الله" اے ایمان والو آگے نہ بڑھو اللہ اور اس کے رسول سے اور اللہ سے ڈرتے رہو اور اس کے سامنے اونچی آواز سے بولنا اس کو عام انسانوں کی طرح آوازیں دینا حبطِ عمل کا موجب ہوسکتا ہے۔ پڑھئے آیاتِ ذیل:

تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ" اے ایمان والو اونچی نہ کرو اپنی آوازیں نبی کی آواز سے اور اس سے نہ بولو تڑخ کر جیسے ایک دوسرے کے سامنے تڑخ کر بولا کرتے ہو کہیں تمہارے اعمال اکارت نہ ہو جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔

(حجرات: ٢)

میں اس طرح مت پکارو جیسا ایک دوسرے کو پکارتے ہو۔

لوگ آپ کو دیوار کے باہر سے پکارتے ہیں وہ اکثر عقل نہیں رکھتے۔

حافظ ابنِ قیم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی آواز سے اپنی آواز اونچا کرنا جب عمل کو ضائع کرنے کا موجب ہوسکتا ہے تو اس کے احکام کے سامنے اپنی رائے کو مقدم کر دینا اعمالِ صالحہ کے لیے کیونکر تباہ کن نہ ہوگا۔

اطاعتِ رسول

رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔ ارشاد ہے: "وَمَنْ يُطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ" جو رسول کا کہنا مانے اس نے خدا ہی کا کہنا مانا...... آیاتِ بالا سے رسول اللہ ﷺ کی واقعی حیثیت کا علم ہوتا ہے کہ وہ ہمہ وقت مُطَاع اور لازم الاتباع ہے اور اس کی اطاعت خدا تعالیٰ کی ہی اطاعت ہے۔ اس لیے کہ خدا تعالیٰ نے اس کا ذمہ لیا ہے کہ رسول جو پڑھ کر سنائیں گے پھر اس کی جو مراد بیان کریں گے وہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوگی جو کلمہ زبان سے نکالیں گے وہ خواہشاتِ نفس سے قطعاً پاک ہوگا۔ قرآن میں جو رائے دیں گے وہ بھی خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ ہوگی۔ یہاں تک کہ ان کے دل میں جو خطرات بھی گزریں گے وہ

صفحہ 37

بھی قدرت کی حفاظت کے نیچے رہیں گے۔ اس کے بعد یہ حق کس کو ہو سکتا ہے کہ وہ رسول کے کلام میں اپنی جانب سے یہ تفریق پیدا کرے کہ جو اس نے قرآن کہہ کر سنایا ہے وہ تو واجب الاطاعت ہے۔ لیکن جو اس کی مراد بتلائی ہے یا اس نے خود فرمایا وہ واجب الاطاعت نہیں بلکہ اس کو شرعی کوئی حیثیت بھی حاصل نہیں۔

رسول بذات خود ایک شرعی منصب ہے۔ وہ آتے ہی اس لیے ہیں کہ دنیا کو ہدایت اور خدا تعالیٰ کی رضا مندی کی راہ دکھلائیں۔ اس لیے اس بارہ میں وہ جو کہتے ہیں وہ سب رَبُّ العزت کی رسالت کی حیثیت سے کہتے ہیں۔ جو پہنچاتے ہیں وہ خدا ہی کا حکم ہوتا ہے۔ اگر قرآن کریم پہنچانا رسالت میں داخل ہے تو اس کی مراد بیان کرنا اس کی تفصیلات سمجھانا دین کے بارہ میں اپنی ہی جانب سے قرآنی آیات کے ماتحت کچھ اور احکام صادر کرنا رسالت کا جز کیوں نہیں۔

منکرین حدیث کے عقیدہ پر تبصرہ

قرآن کریم کی کسی ایک آیت میں بھی اس طرف کوئی معمولی سا بھی اشارہ نہیں ملتا کہ رسول کی یہ تمام صفات قرآن کے ساتھ خاص ہیں۔ یہاں تک کہ جب وہ دین کے معاملہ میں قرآن کے علاوہ کچھ اور کہتا ہے تو اس کی حفاظت نہیں کی جاتی اور اس میں خواہش نفس کا دخل ہونے لگتا ہے اور اس وقت ان کی کوئی شرعی حیثیت نہیں رہتی۔ (العیاذ باللہ)

اب ایک طرف آپ ان آیات قرآنیہ کو پڑھئے۔ دوسری طرف منکرین حدیث کا یہ مذکورہ عقیدہ دیکھئے کہ صرف قرآن سنا کر رسالت کی حیثیت ختم ہو جاتی ہے۔ ان کے اعتماد پر قرآن کو اللہ تعالیٰ کا کلام سمجھ لینے کے بعد اب وہ اور ہم (نَعُوذُ بِاللّٰہِ) برابر ہیں جیسا وہ قرآن سمجھتے ہیں ہم ہی سمجھ لیتے ہیں۔ دین کے معاملات میں ان کی رائے کا وزن وہی ہے جو ہماری رائے کا۔ اس کا حاصل یہ نکلتا ہے کہ رسول اپنی زندگی کے طویل و عریض عرصات میں بہت ہی مختصر لمحات کے منصب رسالت پر مامور ہوتا ہے۔ بقیہ زندگی میں اس کی حیثیت پھر وہی ہو جاتی ہے جو عام انسانوں کی ہے۔ لیکن ان آیات سے یہ کہیں ثابت نہیں ہوتا کہ رسول کے لیے اتباع

اور اطاعت کا حق اور اس کے یہ آداب و عظمتیں کس احترام تبلیغ قرآن کے وقت واجب ہے۔ وہی قدو دوسرے نظم و نسق کے وقت واجب ہوتا ہے۔ پس جس ماننا پڑے گا کہ وہ ہمہ وقت رسول ہے اور جب ہمہ وا جو حکم ہے۔ وہ ہمہ وقت واجب الاطاعت ہے۔

قرآن کریم میں رسول کی اطاعت

رسول کی اطاعت مستقل حیثیت سے بھی "اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ" فرمانبرداری کرو اللہ ک تم میں حکم کے مالک ہوں (یعنی حکام وغیرہ) پھر ا رسول کے سامنے پیش کرو۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تین اطاعتیں مستقل۔ اللہ اور رسول کی اطاعت تو مستقل واجب ان دونوں اطاعتوں کے ماتحت درج کر دی گئی ہے۔ اطیعوا فرمانبرداری کرو استعمال کیا گیا ہے اور تیسری ا اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن کریم کی نظر می طرح ایک مستقل حیثیت بھی رکھتی ہے اور یہ بھی اطاعتوں کی طرح مستقل حیثیت نہیں۔ یہی وجہ ہے کے حکم کے بعد صحابہ نے کبھی آپ سے اس پر قرآن کے برخلاف اماموں کو ہمیشہ اپنی اطاعت کے لیے آ ہوتی ہے۔ بلکہ بعض مرتبہ ان کو اپنے قول سے رجوع اور یہ بھی ظاہر ہے کہ قرآنی امر میں تشریعی لیے یہاں رسول کی اطاعت بھی صرف تشریعی حیثیت۔

صفحہ 37

اور اطاعت کا حق اور اس کے یہ آداب و عظمتیں کسی وقت کے ساتھ خاص نہیں بلکہ اس کا جو احترام تبلیغ قرآن کے وقت واجب ہے۔ وہی تدبیر مہمات اور فصل خصومات اور امت کے دوسرے نظم و نسق کے وقت واجب ہوتا ہے۔ پس جب اس کا احترام ہمہ وقت واجب ہے تو یہی ماننا پڑے گا کہ وہ ہمہ وقت رسول ہے اور جب ہمہ وقت رسول ہے تو دین کے معاملہ میں اس کا جو حکم ہے۔ وہ ہمہ وقت واجب الاطاعت ہے۔

قرآن کریم میں رسول کی اطاعت

رسول کی اطاعت مستقل حیثیت سے بھی واجب ہوتی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: "اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ" فرمانبرداری کرو اللہ کی اور فرمانبرداری کرو رسول کی اور ان کی جو تم میں حکم کے مالک ہوں (یعنی حکام وغیرہ) پھر اگر تم کسی بات میں جھگڑ پڑو تو اسے خدا اور رسول کے سامنے پیش کرو۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تین اطاعتیں واجب فرمائی ہیں۔ دو مستقل اور ایک غیر مستقل۔ اللہ اور رسول کی اطاعت تو مستقل واجب کی گئی ہے اور اولی الامر کی تیسری اطاعت ان دونوں اطاعتوں کے ماتحت درج کر دی گئی ہے۔ اسی لیے بھی پہلی دو اطاعتوں کے لیے لفظ اطیعوا فرمانبرداری کرو استعمال کیا گیا ہے اور تیسری اطاعت کے لیے جداگانہ امر نہیں فرمایا گیا۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن کریم کی نظر میں رسول کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی طرح ایک مستقل حیثیت بھی رکھتی ہے اور یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اولوالامر کی اطاعت ان اطاعتوں کی طرح مستقل حیثیت نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ سے کہیں ثابت نہیں ہوتا کہ آپ کے حکم کے بعد صحابہ نے کبھی آپ سے اس پر قرآن سے دلیل پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہو۔ اس کے برخلاف اماموں کو ہمیشہ اپنی اطاعت کے لیے قرآن و حدیث کے پیش کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بلکہ بعض مرتبہ ان کو اپنے قول سے رجوع بھی کرنا پڑتا ہے۔

اور یہ بھی ظاہر ہے کہ قرآنی امر میں تشریعی حیثیت کے سوا اور کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اس لیے یہاں رسول کی اطاعت بھی صرف تشریعی حیثیت سے واجب ہوگی نہ کسی اور حیثیت سے۔

صفحہ 39

اطاعت رسول کے مستقل ہونے کا مطلب

یہ ہے کہ آپ کا ہر حکم ماننا چاہیے خواہ اس کی اصل ہمیں قرآن میں معلوم ہو سکے یا نہ ہو سکے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بعض سنتوں کی اصل قرآن میں موجود نہیں ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ رسول کی اطاعت کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس کا مکلف ہی نہیں بنایا کہ اس کی اصل کتاب اللہ میں تلاش کی جائے اور اولوالامر کی اطاعت اس طرح واجب نہیں ہے وہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کے ماتحت ہے اس لیے جب تک وہ احکام خدا اور رسول کی مرضی کے مطابق حکم دیں ان کی اطاعت کی جائے گی اور جب ان کا خلاف کریں واجب الاطاعت نہ رہیں گے۔ صحیح حدیث میں ہے: "لا طاعة لمخلوق فی معصیة الخالق" خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت نہ کی جائے۔ "انما الطاعة فی المعروف" اطاعت صرف نیکی میں کرنی چاہیے۔ اس بیان سے اطاعت رسول کے مستقل اور اولوالامر کی اطاعت کے غیر مستقل ہونے کا مفہوم واضح ہو گیا۔ اگر رسول کی اطاعت صرف ان احکام تک ہی محدود رہے جو قرآن کریم میں بھی صاف صاف موجود ہیں تو پھر: "واطیعوا الرسول" کے الفاظ کا کوئی مفہوم ہی نہیں رہتا: "اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول" اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی۔ کی آیت یہ چاہتی ہے کہ خدا کے نزدیک رسول کی اطاعت بھی ایک مستقل شے ہے۔

(۷۸۷۔۷۸۸)

منکرین حدیث کو مغالطہ

یہاں منکرین حدیث کو بڑا مغالطہ یہ ہو گیا ہے کہ دو اطاعتوں کی وجہ سے یہ سمجھ گئے ہیں کہ مُطاع بھی دو بن گئے۔ اس لیے یہ خوب سمجھ لینا چاہیے کہ دو اطاعتوں کے واجب ہونے کی وجہ سے مطاع دو نہیں بنتے۔ دراصل مطاع دونوں جگہ خدا ہی کی ذات رہتی ہے۔ رسول کی اطاعت میں یہ سمجھنا کہ مطاع خدا کی ذات پاک نہیں ہوتی۔ بڑی غلط فہمی اور قرآن کریم سے ناواقفیت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "من یطع الرسول فقد اطاع اللہ" جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے خدا ہی کی اطاعت کی۔ گویا رسول کی اطاعت کی صورت میں بھی مطاع خدا ہی کی ذات رہتی ہے۔ پس اطاعت کے تعدد سے مطاع میں تعدد نہ سمجھنا چاہیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول کا بیان اس لحاظ سے کہ اس تفصیل سے قرآن مجید میں مذکور نہیں ہوتا۔ ایک مستقل

حیثیت اختیار کر لیتا ہے اور اس اعتبار سے یہاں مطاع بظاہر ر اگر یہ لحاظ کیا جائے کہ یہ تمام تفصیل بعینہ قرآن کے اجمال کی م مستقل حیثیت نہیں رہتی اور یہاں بھی اصل مطاع خدا ہی ک احادیث رسول پر عمل کرنے والا بلحاظ بیان تو رسول کا مطیع کہلا ہوتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ قرآن پر عمل کرنے والا خدا حدیث پر عمل کرنے والا اللہ تعالیٰ کی مراد پر عمل کرتا ہے۔ اس مگر مطاع درحقیقت ایک ہی رہتا ہے۔

پیچیدہ مسئلہ کا حل

درحقیقت یہ مسئلہ ایک پیچیدہ مسئلہ تھا کہ ایک طرف اطاعت اور اس کی محبت کا مطالبہ کرتی ہے اور دوسری طرف و بھی حکم دیتی ہے۔ قرآن کریم نے بتایا کہ نسبت رسالت صرف واسطہ ہوتی ہے۔ پھر اس کی اطاعت و محبت خدا ہی چنانچہ ارشاد ہے: "من یطع الرسول فقد اطاع اللہ" یعنی اصل ظاہری سطح میں رسول کی اطاعت گو اس کے خلاف نظر آئے برداری ہوتی ہے۔ بلکہ رسول کی اطاعت و محبت کے بغیر خدا نہیں ہے۔

امام کی اطاعت کو بعینہ خدا اور رسول کی اطاعت ک

رسول کی اطاعت چونکہ خدا تعالیٰ کے بیان اور اس ہے۔ اس لیے اس کو بعینہ خدا کی اطاعت کہا گیا ہے۔ امام پ اس کی صواب دید کی کوئی ضمانت نہیں دی گئی۔ وہ جو حکم دیتا ہے مطابق دیتا ہے۔ اس لیے امام کی اطاعت کو بعینہ خدا اور رس اس لیے منکرین حدیث کا یہ کہنا کہ اللہ اور رسول کی اطا اطاعت مراد لی گئی ہے۔ سب سے بڑھ کر قرآن کریم کی تحری

صفحہ 39

حیثیت اختیار کر لیتا ہے اور اس اعتبار سے یہاں مطاع بظاہر رسول کی ذات معلوم ہوتی ہے اور اگر یہ لحاظ کیا جائے کہ یہ تمام تفصیل بعینہ قرآن کے اجمال کی مراد ہوتی ہے تو اس کی حیثیت کوئی مستقل حیثیت نہیں رہتی اور یہاں بھی اصل مطاع خدا ہی کی ذات ہو جاتی ہے۔ اس لیے احادیث رسول پر عمل کرنے والا بلحاظ بیان تو رسول کا مطیع کہلاتا ہے اور بلحاظ مراد خدا ہی کا مطیع ہوتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ قرآن پر عمل کرنے والا خدا کے الفاظ پر بھی عمل کرتا ہے اور حدیث پر عمل کرنے والا اللہ تعالیٰ کی مراد پر عمل کرتا ہے۔ اس بنا پر اطاعتیں اگرچہ دو نظر آتی ہیں مگر مطاع درحقیقت ایک ہی رہتا ہے۔

پیچیدہ مسئلہ کا حل

درحقیقت یہ مسئلہ ایک پیچیدہ مسئلہ تھا کہ ایک طرف اسلام کی نازک توحید خدا ہی کی اطاعت اور اس کی محبت کا مطالبہ کرتی ہے اور دوسری طرف وہ اپنے رسول کی محبت و اطاعت کا بھی حکم دیتی ہے۔ قرآن کریم نے بتایا کہ نسبت رسالت کے بعد نبی کی ہستی درمیان میں صرف واسطہ ہوتی ہے۔ پھر اس کی اطاعت و محبت خدا ہی کی محبت و اطاعت ہو جاتی ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے: ”من یطع الرسول فقد اطاع اللہ“ یعنی اصل حکم برداری تو خدا ہی کی چاہیے۔ ظاہری سطح میں رسول کی اطاعت گو اس کے خلاف نظر آئے۔ مگر حقیقت میں وہ خدا ہی کی حکم برداری ہوتی ہے۔ بلکہ رسول کی اطاعت و محبت کے بغیر خدا کی محبت و اطاعت کا کوئی راستہ ہی نہیں ہے۔

امام کی اطاعت کو بعینہ خدا اور رسول کی اطاعت نہیں کہا جا سکتا

رسول کی اطاعت چونکہ خدا تعالیٰ کے بیان اور اس کی اجازت اس کی وحی کے بعد ہوتی ہے۔ اس لیے اس کو بعینہ خدا کی اطاعت کہا گیا ہے۔ امام پر نہ وحی آتی ہے نہ خدا کی طرف سے اس کی صواب دید کی کوئی ضمانت دی گئی۔ وہ جو حکم دیتا ہے اپنے صواب دید اپنی فہم اپنے علم کے مطابق دیتا ہے۔ اس لیے امام کی اطاعت کو بعینہ خدا اور رسول کی اطاعت کہنا بھی غلط ہے اور اس لیے منکرین حدیث کا یہ کہنا کہ اللہ اور رسول کی اطاعت سے قرآن میں امام وقت کی اطاعت مراد لی گئی ہے۔ سب سے بڑھ کر قرآن کریم کی تحریف ہے۔

صفحہ 40

اس کے علاوہ امام سے ہر امام مراد ہو تو فاسق امام کی اطاعت کو بھی اللہ و رسول کی اطاعت کہا جاسکے گا اور اگر خاص صالح امام مراد لیا جائے تو خلفاء راشدین کے بعد تیرہ سو سال میں خدا اور رسول کی اطاعت کا مصداق ہی شاذ و نادر ہوگا۔ پھر جس دور میں مسلمانوں کا کوئی امام ہی نہ رہے۔ اس میں لازم آئے گا کہ خدا اور رسول کی اطاعت کی کوئی صورت ہی باقی نہ رہے اور: ”اطیعوا اللہ واطیعواالرسول“ کا نظام معطل پڑا رہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کریم کی بے شمار آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ ہدایت اور نجات کا راستہ صرف اطاعت خدا اور رسول میں منحصر ہے۔ اب اگر اس اطاعت سے مراد امام کی اطاعت ہو تو یقیناً تیرہ سو سالوں میں اماموں کی بڑی تعداد ایسی ہی ہے جن کی اطاعت کو اللہ اور رسول کی اطاعت نہیں کہا جاسکتا۔ منکرین حدیث کے مطابق لازم آتا ہے کہ اس عام دور میں مسلمانوں کے لیے راہ نجات و ہدایت مسدود ہو اور مسلمانوں کے پاس اپنے باہمی نزاعات رفع کرنے کی کوئی صورت ہی موجود نہ ہو۔ گویا دین اسلام ایک ایسا آئین ہو جس پر عمل کرنا دنیا کی طاقت سے باہر ہو۔

کتے مولانا عتیق الرحمٰن چنیوٹی مرحوم پہلے قادیانی تھے‘ بعد میں اللہ کے فضل سے مسلمان ہوگئے۔ مولانا مرحوم اپنے مسلمان ہونے کا واقعہ یوں سنایا کرتے تھے: ”ایک رات میں نے خواب دیکھا کہ میں قادیان میں مرزا قادیانی کے گھر سے چوک کی طرف آرہا ہوں۔ چوک میں میں نے دیکھا کہ بہت سے لوگ ایک دائرے کی صورت میں اس طرح کھڑے ہیں کہ گویا کسی مداری کا تماشا دیکھ رہے ہوں۔ ان لوگوں کے درمیان میں کچھ لوگ کھڑے ہیں‘ جن کے دھڑ تو انسانوں جیسے ہیں لیکن منہ کتوں جیسے ہیں اور وہ آسمان کی طرف منہ اٹھا کر چیخ چیخ کر رو رہے ہیں۔ مجمع کے تمام لوگ انہیں بڑی حیرانی سے دیکھ رہے ہیں۔ میں نے ایک شخص کا کندھا ہلا کر اس سے پوچھا کہ یہ لوگ کون ہیں؟ اس نے جواب دیا کہ یہ مرزا قادیانی کے مرید ہیں۔ پھر میں خواب سے بیدار ہوگیا۔ خوف کے مارے میرا جسم پسینے سے شرابور تھا۔ میں نے فوراً توبہ کی اور اعلاناً ”مسلمان ہوگیا“۔

صفحہ 41

ذات محمد ﷺ اور وصف ختمِ نبوّت میں تطبیق

ڈاکٹر عبدالفتاح عبداللہ برکہ

ترجمہ و تلخیص: مولوی مختار احمد

در حقیقت سیرت نبویہ کا ہر باب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے پر شاہدِ عدل ہے۔ اس دعویٰ کی سچائی کا ادراک انہی کو ہوسکتا ہے جو نبوت کے معنی سے واقف اور انبیائے سابقین کی سیرتوں کا مطالعہ کر چکے ہیں۔ اس مقالے میں سیرت نبویہ کا استیعاب مقصود نہیں‘ تاہم یہاں سیرت نبویہ کی چند جھلکیاں اور اقتباسات نذرِ قارئین کیے جائیں گے‘ ان سے مقصود اس امر کا اظہار ہوگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ خاتم النبیین اپنے معنیٰ ختم نبوت پر کسی طرح منطبق ہے۔ اس انطباق کی بعض علامتیں مادی ہیں اور بعض معنوی۔ معنوی و غیر محسوس علامات و نقوش میں آپؐ کے اسما گرامی شمار کیے جاتے ہیں۔

امام مسلمؒ زہریؒ سے روایت کرتے ہیں‘ انھوں نے جبیر بن مطعمؓ کو اپنے والد سے روایت کرتے سنا‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

میں محمد و احمد ہوں‘ میں ”ماحی“ ہوں‘ جس کے ذریعے کفر مٹایا جائے گا‘ میں ”حاشر“ ہوں جس کے عقب میں لوگوں کا حشر ہوگا۔ میں ”عاقب“ ہوں‘ جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔

ابو موسیٰ اشعریؓ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اپنے نام ذکر فرماتے رہتے تھے‘ چنانچہ کہتے:

میں محمدؐ‘ احمدؐ‘ مقفیٰ‘ حاشر‘ نبی الرحمۃ اور نبی التوبۃ ہوں۔

اسی طرح بعض مادی و محسوس علامات و نقوش بھی آپؐ کی ذات میں ودیعت کیے گئے

صفحہ 42

تھے جن سے آپ کے خاتم النبیین ہونے پر استدلال کیا جا سکتا ہے۔ امام مسلمؒ نے جابر بن سمرہؓ سے روایت کی ہے‘ فرماتے ہیں‘ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک پر کبوتر کے انڈے جتنی مہر لگی دیکھی ہے۔

حاتم سے روایت ہے‘ فرماتے ہیں‘ میں نے سائب بن یزید کو کہتے سنا کہ ایک مرتبہ میری خالہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لے گئیں‘ جب آپؐ کے حضور باریاب ہوئیں تو کہا: میرے بھانجے کے سر میں درد رہتا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا سر چھوا اور میرے لیے برکت کی دعا فرمائی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو فرمایا میں نے وضو سے باقی ماندہ پانی پی لیا پھر میں آپؐ کی پشت کے پیچھے کھڑا ہوا تو میں نے آپ کے کندھوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی جو مثل زر الحجلۃ تھی۔

اسی مفہوم کی روایت عاصم بن عبداللہؓ سے بھی مروی ہے۔

علاوہ ازیں آپ کے دیگر معجزات مثلاً انگلیوں سے پانی کے چشمے پھوٹنا شق قمر‘ پتھروں‘ نباتات وحیوانات کا کلام کرنا وغیرہ‘ جن کا ثبوت صحیح احادیث سے ہوتا ہے‘ ان کے سرسری جائزہ سے علم ہوتا ہے کہ آپؐ جامع المعجزات ہیں‘ آپؐ کے معجزات سابقہ انبیا کے معجزات کی آخری اور حتمی شکل ہیں۔

ختم نبوت پر اس سے بڑھ کر دلیل کیا ہو سکتی ہے کہ آپؐ کو تمام مخلوقات کا نبی بنا کر مبعوث فرمایا گیا۔ جنات بھی آپؐ کی نبوت سے فیض یاب ہوئے اور آپؐ کی طرف کھنچے چلے آئے‘ عالم جن میں تبلیغ کے آغاز کی کیفیت قرآن نے یوں بیان فرمائی۔

اور جب کہ ہم جنات کی ایک جماعت کو آپؐ کی طرف لے آئے جو قرآن سننے لگے تھے‘ غرض جب وہ لوگ قرآن کے پاس آپہنچے تو کہنے لگے کہ خاموش رہو۔ پھر جب قرآن پڑھا جا چکا تو وہ لوگ اپنی قوم کے پاس خبر پہنچانے کے لیے واپس گئے۔ کہنے لگے کہ اے بھائیو! ہم ایک کتاب سن کر آئے ہیں جو موسیٰ کے بعد نازل کی گئی جو اپنے سے پہلی

صفحہ 43

کتابوں کی تصدیق کرتی ہے حق اور راہ راست کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ اے بھائیو! تم اللہ کی طرف بلانے والے کا کہنا مانو اور اس پر ایمان لے آؤ اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور درد ناک عذاب سے محفوظ رکھے گا اور جو شخص اللہ کی طرف بلانے والے کا کہنا نہ مانے گا تو وہ زمین میں ”ہرا“ نہیں سکتا اور خدا کے سوا اور کوئی اس کا حامی بھی نہ ہوگا، ایسے لوگ صریح گمراہی میں ہیں۔

سورۂ رحمٰن میں انس و جن کے لیے ایک صیغہ استعمال کیا گیا۔ اور قرآن میں انسانوں کی مانند جنات کے حساب و کتاب کے عمل سے گزرنے کا بھی ذکر ملتا ہے۔

آپؐ کی نبوت کے عام ہونے کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے آپؐ کی ذات کے باعث رحمت ہونے کی انسانوں کے ساتھ تخصیص نہیں فرمائی، بلکہ ”عالمین“ کہہ کر تمام مخلوقات کو آپؐ کی آغوش رحمت میں سمو دیا۔

اور بے شک آپؐ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا۔

حافظ ابن کثیرؒ ”رحمت“ کی تفسیر کے ذیل میں ابو بردہؓ کی اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

اللہ جل شانہ نے میری امت کے لیے دو امانیں مجھ پر نازل فرمائیں۔

ایک (ارشاد ربانی کہ) جب تک آپؐ ان میں ہوں گے انھیں اللہ مبتلائے عذاب نہیں فرمائے گا اور دوسرے یہ کہ جب تک گناہوں کی مغفرت مانگتے رہیں گے اللہ تعالیٰ انھیں عذاب نہیں دے گا۔ جب میں اٹھا لیا جاؤں گا تو ان میں قیامت تک کے لیے استغفار کا عمل چھوڑے جاؤں گا۔ (جس کے باعث انھیں میرے نہ ہونے کے باوجود عذاب نہیں ہوگا)

یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت ہی کا پرتو ہے کہ اللہ تعالیٰ کا لطف و احسان موسلادھار بارش کی طرح برس رہا ہے، اور قیامت تک رحمت کی اسی کیفیت میں ہر امتی بھیگتا رہے گا۔

صفحہ 44

آپ کی ذات کے فیض سے انبیا سابقین بھی بہرہ ور ہوئے‘ اسرا و معراج کی رات آپ کو آسمانوں پر بلایا گیا اور

پھر وہ نزدیک آیا‘ پھر اور نزدیک آیا سو دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اور بھی کم‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے پر وحی نازل فرمائی جو کچھ نازل فرمانا تھی‘ قلب نے دیکھی ہوئی چیز میں کوئی غلطی نہیں کی‘ تو کیا ان سے اُن دیکھی ہوئی چیز میں نزاع کرتے ہو‘ اور انھوں نے اس فرشتے کو ایک اور مرتبہ بھی دیکھا ہے‘ سدرۃ المنتہی کے پاس‘ اس کے قریب جنت الماویٰ ہے‘ جب اس سدرۃ المنتہی کو لپیٹ رہی تھیں جو چیز لپٹ رہی تھیں‘ نگاہ نہ تو ہٹی اور نہ بڑھی‘ انھوں نے اپنے پروردگار کے بڑے بڑے عجائبات دیکھے۔

اللہ جل شانہ نے آپ کا ایک خاص وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا:

بے شک آپ اخلاق کے اعلیٰ درجے پر فائز ہیں۔

اس آیت کی تفسیر آپ کی اس حدیث سے ہوتی ہے‘ جس میں آپ نے فرمایا کہ ”میری بعثت کی وجہ یہی ہے کہ میں مکارم اخلاق کی تکمیل کروں۔“ بعض روایات میں ”حسن الاخلاق“ کے اور بعض میں ”صالح الاعمال“ کے الفاظ وارد ہوئے ہیں۔ غایت سب کی ایک ہی ہے۔

تکمیل اخلاق ختم نبوت ہی کی شاخ ہے‘ اس لیے کہ اخلاق کی تکمیل کا مطلب ہی یہی ہے کہ اس میں کمی بیشی کی گنجائش نہیں‘ یہی وہ وصف ہے جسے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ نے یوں بیان فرمایا ہے‘ سعید بن ہشام کی روایت ہے:

میں نے کہا اے ام المومنین! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اخلاق کی بابت کچھ بتائیے! فرمایا: آپ نے قرآن نہیں پڑھا؟ میں نے کہا: ضرور پڑھا‘ فرمایا: قرآن ہی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اخلاق تھے۔

اس رسالت کا خاتمۃ الرسالات اور اس نبی کا خاتم النبیین ہونا۔ اس امر کا مقتضی تھا کہ کینہ پروروں اور معاندین سے آپ کی حفاظت و صیانت کا مکمل و محفوظ بندوبست کیا جائے‘

صفحہ 45

تاکہ دعوت وتبلیغ کا عمل خود حفاظتی کی تدابیر میں مشغول ہو کر تعطل کا شکار نہ ہو جائے۔ برخلاف انبیائے سابقین کے ان کی قومیں جس طرح انھیں جھٹلاتی تھیں۔ ان کے قتل سے بھی دریغ نہ کرتی تھیں، بنی اسرائیل کی بابت ارشاد ہے:

ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا اور ہم نے ان کے پاس بہت سے پیغمبر بھیجے، جب کبھی ان کے پاس کوئی پیغمبر ایسا حکم لایا جس کو ان کا جی نہ چاہتا تھا۔ سو بعضوں کو جھوٹا بتلایا اور بعضوں کو قتل ہی کر ڈالتے تھے۔

چنانچہ اس پس منظر کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے آپؐ کی حفاظت کا بندوبست فرمایا:

اے رسول! جو کچھ آپ کے رب کی جانب سے آپ پر نازل کیا گیا ہے آپ سب پہنچا دیجئے اور اگر آپ ایسا نہ کریں گے تو آپ نے اللہ تعالیٰ کا ایک پیغام بھی نہیں پہنچایا اور اللہ تعالیٰ آپ کو لوگوں سے محفوظ رکھے گا۔

اس آیت کے نزول سے قبل صحابہ کرامؓ باری باری آپؐ کی حفاظت اور نگرانی کا فریضہ انجام دیتے تھے، جب یہ آیت نازل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمام پہرے اٹھا دیے اور خود کو مسبب الاسباب کی نگہداشت میں دے دیا۔ مذکورہ آیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے حافظ ابن کثیرؒ فرماتے ہیں کہ اللہ جل شانہ نے اپنی قدرت قاہرہ سے ایسے اسباب بہم پہنچائے، جن کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سردارانِ مکہ کے حسد، بغض، عناد اور عداوت سے محفوظ و مامون رہے۔ چنانچہ ابتدائے اسلام میں آپ کے چچا ابو طالب، جن کا شمار عرب کے مقبول رہنماؤں میں ہوتا تھا، کے دل میں آپ کی طبعی محبت وعظمت پیدا فرما کر آپؐ کی حفاظت کا سامان کیا۔ بعد ازاں انصار مدینہ کو آپؐ کی حفاظت کے لیے منتخب فرمایا، اور بلاشبہ انھوں نے انتخاب کا حق ادا کر دیا اور کسی بدخواہ کو آپ کے قریب پھٹکنے نہیں دیا۔ علاوہ ازیں جب کبھی کسی مشرک یا منافق کی جانب سے ایذارسانی کی کوشش کی گئی، اللہ جل شانہ نے اپنی قدرت سے اس کا قلع قمع کیا، جیسا کہ ایک مرتبہ یہود نے جادو ٹونے کے ذریعے آپؐ پر سحر پھونک دیا تو اللہ تعالیٰ نے معوذتین اتار کر اس کا سدباب فرمایا۔ خیبر کے یہودیوں نے دوران دعوت زہر دینے کی کوشش کی تو اللہ تعالیٰ نے اس دفعہ بھی آپؐ کی حفاظت فرمائی۔

علاوہ ازیں آپ کے خاتم النبیین ہونے کی بنا پر بہت سی ایسی چیزیں اور احکام دیے

صفحہ 46

گئے جو آپ سے قبل کسی نبی کو عطا نہیں ہوئے، ان کا مقصد ختم نبوت کے امتیاز کو خوب واضح کرنا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: اعطیت خمسا لم یعطهن احد قبلی، نصرت بالرعب مسيرة شهر، و جعلت لی الارض مسجدا و طهورا، فایما رجل من امتی ادرکته الصلاة فلیصل، واحلت لی المغانم ولم تحل لاحد قبلی، و اعطیت الشفاعة و کان النبی یبعث الی قومه خاصة و بعثت الی الناس عامة.

مجھے پانچ ایسی چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے قبل کسی کو عطا نہیں ہوئیں، ایک مہینے کی مسافت سے دشمنوں پر رعب و دبدبے سے میری مدد کی گئی۔ زمین میرے لیے مسجد بنائی گئی، میری امت کا کوئی فرد جہاں بھی نماز کا وقت پالے وہیں نماز ادا کر دے۔ مال غنیمت میرے لیے حلال کیا گیا، جبکہ مجھ سے قبل کسی کے لیے حلال نہ تھا اور مجھے شفاعت دی گئی اور پہلے نبی صرف اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوتا تھا اور میں اقوام عالم کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں۔

مرزا قادیانی کو چوہڑے کی شکل میں دیکھا ❁ مجوکہ ضلع خوشاب کے جناب ظفر اقبال صاحب کہتے ہیں کہ میں آٹھویں جماعت میں پڑھتا تھا۔ ہمارے گھر کے قریب ہی ایک قادیانی مبلغ غلام رسول رہتا تھا۔ ایک دن اس نے مجھے قادیانیت کی دعوت دی اور پڑھنے کے لیے قادیانی لٹریچر بھی دیا۔ میری عمر بھی پختہ نہ تھی اور مذہبی تعلیم بھی واجبی سی تھی۔ اس کی دجالی گفتگو سننے اور گمراہ کن لٹریچر پڑھنے کے بعد شیطان نے میرے دل میں وسوسہ پیدا کر دیا کہ کہیں قادیانی جماعت سچی ہی نہ ہو۔ عشاء کی نماز پڑھ کر بستر پر لیٹے یہی سوچتے سوچتے سو گیا۔ رات میں نے خواب میں مرزا قادیانی کو انتہائی غلیظ اور کریہہ الصورت چوہڑے کی شکل میں دیکھا۔ صبح بیدار ہوا تو زبان پر استغفار کے جملے جاری تھے۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا اور قادیانی مبلغ کے گھر جا کر اس کا لٹریچر اس کے منہ پہ دے مارا۔

صفحہ 47

ختم نبوت از احادیث

علامہ محمود احمد رضوی

حدیث اول: وَعَنْ ثَوْبَانَ إِلَى قَوْلِهِ إِنَّهُ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي كَذَّابُونَ ثَلاَثُوْنَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي (ابو داؤد، ترمذی، مشکوۃ، کتاب الفتن)

ترجمہ: ضرور میری امت میں تیس کذاب (جھوٹے) پیدا ہوں گے ہر ایک ان میں سے نبوت کا دعویٰ کرے گا حالانکہ میں نبیوں کا ختم کرنے والا ہوں میرے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہوگا۔ معلوم ہوا کہ امت محمدیہ میں جو شخص مدعی نبوت ہو وہ کذاب ہے جیسا کہ مرزا غلام احمد وغیرہ۔

اعتراض: مرزائی کہتے ہیں کہ حدیث میں تیس کی تعین کی گئی ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد میں کچھ سچے بھی آئیں گے۔

جواب اول: یہ احتمال ناشئ عن الدلیل نہیں اس لیے مردود ہے نیز اس کے متعلق حدیث کے یہ الفاظ کافی ہیں۔ لَا نَبِيَّ بَعْدِي۔

اعتراض: سین فعل مضارع پر داخل ہو کر استقبال کے معنوں میں کر دیتا ہے اس صورت میں اس حدیث کے معنے یہ ہوں گے کہ وہ کذاب وغیرہ عنقریب پیدا ہوں گے۔

جواب اوّل: اس امر کا تو مرزا قادیانی کو بھی اعتراف ہے کہ وہ دجال قیامت کے قریب تک ہوں گے۔ کیا مرزا قادیانی علوم عربیہ سے نابلد تھا۔ چنانچہ لکھتا ہے۔ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ دنیا کے آخر تک تیس کے قریب دجال پیدا ہوں گے (ازالہ اوہام ص ۱۹۹)

جواب ثانی: اس میں شک نہیں کہ سین فعل مضارع پر داخل ہو کر اس کو مستقبل قریب کے معنے میں کر دیتا ہے مگر حدیث کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ کاذب حضور ﷺ کے زمانہ کے ساتھ فوراً ہی آ جائیں گے اس لیے کہ قرب و بعد امور اضافیہ میں سے ہیں۔ ایک چیز ایک شخص کی نظروں میں قریب ہوتی ہے اور دوسرے کی نظروں میں بعید۔ جیسا کہ حضور پر نور ﷺ نے ایک دفعہ اپنے ہاتھ کی انگلیوں کو ملا کر فرمایا اَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ (یعنی قیامت میں اور مجھ میں اس طرح

صفحہ 49

اتصال ہے) تو جس طرح حضور ﷺ کی بالغ نظری کے لحاظ سے قیامت قریب ہے اور ہماری کم نگاہی کے لحاظ سے بعید ایسے ہی ان کذابوں کا آنا حضور ﷺ کے لحاظ سے بالکل قریب اور ہمارے لحاظ سے بعید۔ اس قسم کی مثالیں قرآن مجید میں بکثرت موجود ہیں۔ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دَاخِرِيْنَ ترجمہ: عنقریب وہ (مرزائی وغیرہ) جہنم میں ذلیل ہوتے ہوئے داخل ہوں گے۔ فَسَيَحْشُرُهُمْ إِلَيْهِ جَمِيْعًا عنقریب ان کو اپنی طرف اکٹھا کرے گا وَسَيَعْلَمُ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا۔ عنقریب ظالم لوگ جان لیں گے دیکھئے ان آیات میں سین فعل مضارع پر داخل ہوا ہے اور قیامت کا ذکر ہے اس جگہ بھی قیامت کی نسبت جب ذات واجب الوجود کی طرف جائے تو قیامت بالکل قریب ہے اور اگر ہماری طرف کی جائے تو بعید۔

اعتراض: یہ دجال آج سے پہلے پورے ہو چکے ہیں جیسا کہ اکمال الاکمال میں لکھا ہے جواب: صریح حدیث کے مقابل اکمال الاکمال والے کا ذاتی خیال سند نہیں حدیث میں قیامت کی شرط ہے بعض دفعہ انسان ایک چھوٹے دجال کو بڑا سمجھ لیتا ہے اسی طرح انہوں نے تعداد پوری سمجھ لی۔ حالانکہ مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت نے وضاحت کر دی کہ ابھی اس کی تعداد میں کمی ہے۔

اعتراض: اس حدیث کو حج الکرامہ میں حافظ ابن حجر نے ضعیف لکھا ہے۔ جواب: یہ سراسر دروغ بے فروغ ہے لیجئے ہم حافظ ابن حجر کی اصل کتاب کی عبارت جس کا حوالہ دیا گیا ہے پیش کرتے ہیں۔ وَفِيْ رِوَايَةِ عَبْدِاللَّهِ ابْنِ عُمَرَ وَ عِنْدَ الطَّبَرَانِي لَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ سَبْعُوْنَ كَذَّابًا وَسَنَدُهُ ضَعِيْفٌ وَعِنْدَ أَبِي يَعْلَى مِنْ حَدِيْثِ أَنَسٍ نَحْوَهُ وَسَنَدُهُ ضَعِيْفٌ أَيْضًا۔

(فتح الباری شرح صحیح بخاری، مطبوعہ دہلی جزو ۲۱، ص ۵۶۴)

طبرانی میں عبداللہ ابن عمر کی ستر دجال والی حدیث کی سند ضعیف ہے اور ایسا ہی ابویعلیٰ میں جو انسؓ کی روایت ستر دجال والی ہے وہ ضعیف ہے حاصل یہ ہے کہ حافظ ابن حجر نے ستر دجال والی روایت کو جو دو طریق سے مروی ہے ضعیف لکھا ہے نہ کہ تیس دجال والی کو فائدہ اس حدیث میں حضور سید عالم ﷺ نے مطلقاً مدعی نبوت کو کاذب فرمایا ہے۔ تشریعی یا غیر تشریعی کی کوئی قید نہیں اور علم اصول کا مشہور قاعدہ ہے الْمُطْلَقُ يَجْرِىْ عَلَى إِطْلَاقِهِ یعنی مطلق اپنے اطلاق اور عموم پر جاری رہتا ہے لہٰذا مرزائیوں کا مطلق کو مقید کرنا ان کی جہالت کی دلیل ہے۔

حدیث دوم

عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ عَنْ رَسُوْلِ مَكْتُوْبٌ خَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ وَاِنَّ آدَمَ لَمُنْجَ (شرح سنہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ آدم جس و میں تھے میں اس وقت بھی خدا کے نز ہوا تھا۔

حدیث سوم

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَا فَخْرَ وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ وَلَا فَخْرَ ترجمہ: میں قائد انبیاء ہوں میں خاتم الانبیاء (بلکہ اظہار حقیقت ہے)

حدیث چہارم

اِنَّ لِيْ اَسْمَاءً اَنَا مُحَمَّدٌ وَاَنَا اَحْمَدُ بَعْدَهُ نَبِيٌّ۔ بخاری و مسلم مشکوٰۃ باب اسماء النبی ﷺ ہیں۔ محمد ہوں احمد ہوں عاقب ہوں اور عاقب اعتراض: عاقب کے معنی جو حدیث میں بیان حدیث کے اپنے الفاظ نہیں۔ جواب: راوی کا ذاتی خیال نہیں یہ قطعاً غلط ہیں چنانچہ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں وَفِيْ رِوَا بِلَفْظِ الَّذِيْ لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ (فتح الباری جز ۴ حدیث میں امام ترمذی کے نزدیک یہ لفظ ہیں کہ

صفحہ 49

حدیث دوم

عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ ﷺ اِنَّهُ قَالَ اِنِّیْ عِنْدَ اللّٰهِ مَکْتُوْبٌ خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ وَاِنَّ آدَمَ لَمُنْجَدِلٌ فِیْ طِيْنَتِهٖ

(شرح سنہ واحمد و مشکوٰۃ باب فضائل سید المرسلین)

آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ آدم جس زمانہ میں گوندھی ہوئی مٹی کی ہیئت میں تھے میں اس وقت بھی خدا کے نزدیک نبیوں کا ختم کرنے والا لکھا ہوا تھا۔

حدیث سوم

وَعَنْ جَابِرٍ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اَنَا قَائِدُ الْمُرْسَلِيْنَ وَلَا فَخْرَ وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ وَلَا فَخْرَ ۔

(رواہ الدارمی، مشکوٰۃ باب مذکورہ)

ترجمہ: میں قائد انبیاء ہوں میں خاتم الانبیاء ہوں یہ بات میں فخر سے نہیں کہتا (بلکہ اظہار حقیقت ہے)

حدیث چہارم

اِنَّ لِیْ اَسْمَاءً اَنَا مُحَمَّدٌ وَاَنَا اَحْمَدُ اِلٰی قَوْلِهٖ وَاَنَا الْعَاقِبُ الَّذِیْ لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِیٌّ ۔

بخاری و مسلم مشکوٰۃ باب اسماء النبی ﷺ۔ ترجمہ: نبی ﷺ نے فرمایا میرے کئی نام ہیں۔ محمد ہوں، احمد ہوں عاقب ہوں اور عاقب سے مراد یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔

اعتراض: عاقب کے معنی جو حدیث میں بیان کیے گئے ہیں یہ راوی کا اپنا خیال ہے ورنہ یہ حدیث کے اپنے الفاظ نہیں۔

جواب: راوی کا ذاتی خیال نہیں یہ قطعاً غلط ہے بلکہ عاقب کے معنی خود آنحضرت نے کیے ہیں چنانچہ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں وَفِیْ رِوَايَتِ سُفْيَانِ ابْنِ عُيَيْنَةَ عِنْدَ التِّرْمِذِیْ وَغَيْرِهٖ بِلَفْظِ الَّذِیْ لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِیٌّ (فتح الباری جز ۶ ص ۳۱۳) ترجمہ: امام سفیان ابن عیینہ کی مرفوع حدیث میں امام ترمذی کے نزدیک یہ لفظ ہیں کہ میں عاقب ہوں میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔

صفحہ 50

حدیث پنجم

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ فُضِّلْتُ عَلَی الْاَنْبِیَاءِ بِسِتٍّ اُعْطِیْتُ جَوَامِعَ الْکَلِمِ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَاُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَائِمُ وَجُعِلَتْ لِیَ الْاَرْضُ مَسْجِدًا وَطَھُوْرًا وَّ اُرْسِلْتُ اِلَی الْخَلْقِ کَافَّۃً وَخُتِمَ بِیَ النَّبِیُّوْنَ

(مسلم در باب مشکوٰۃ مذکورہ)

ترجمہ: آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں چھ باتوں میں جملہ انبیاء پر فضیلت دیا گیا ہوں مجھے کلماتِ جامع ملے (۲) میں رعب کے ساتھ فتح دیا گیا ہوں (۳) میرے لیے غنیمتیں حلال کی گئی ہیں (۴) تمام دنیا میرے لیے پاک مسجد بنائی گئی (۵) میں تمام مخلوقات کی طرف رسول بنایا گیا ہوں (۶) میرے ساتھ انبیاء ختم کیے گئے۔

حدیث ششم

کَانَتْ بَنُوْ اِسْرَائِیْلَ تَسُوْسُھُمُ الْاَنْبِیَاءُ کُلَّمَا ھَلَکَ نَبِیٌّ خَلَفَہٗ نَبِیٌّ وَاِنَّہٗ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ وَسَیَکُوْنُ خُلَفَاءُ فَیَکْثُرُوْنَ

(بخاری ص ۴۹۱ ومسند احمد جلد۲ ص ۲۹۷‘ ابن ماجہ وغیرہ)

بنی اسرائیل کی عنانِ سیاست انبیاء کے ہاتھوں میں رہی۔ جب ایک نبی فوت ہوتا اس کا جانشین نبی ہی ہوتا مگر میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ عنقریب خلفاء کا سلسلہ شروع ہوگا‘ پس بکثرت ہوں گے۔ اس حدیث کی تشریح قول مرزا سے یوں ہوتی ہے کہ وحی اور رسالت ختم ہو گئی۔ مگر ولایت و امامت و خلافت کبھی ختم نہ ہوگی۔

الخ (مکتوبات مرزا تحیۃ الاذہان)

اس حدیث میں نبوت غیر تشریعی کے انقطاع پر دو صریح قرینے موجود ہیں۔ پہلا قرینہ یہ ہے کہ حضور ﷺ نے بنی اسرائیل کے نبیوں کا ذکر فرمایا ہے۔ جو صاحبِ شریعت مستقلہ نبی نہ تھے کیونکہ موسیٰ علیہ السلام کے بعد سینکڑوں نبی آئے جو شریعت موسویہ کے متبع تھے اور ان نبیوں

کے متعلق آپؐ نے فرمایا کہ وہ بنی اسرائیل کے کے بعد آپؐ نے فرمایا کہ اِنَّہٗ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ انتظام کرنے والا نہیں ہوگا۔ جیسا کہ انبیاء مستقل کی نفی کی تصریح ہو گئی۔ دوسرا قر کے بعد صرف خلفاء کا اثبات فرمانا نبی غیر مستقل

حدیث ہفتم

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ قَصْرٍ اَحْسَنَ بُنْیَانَہٗ وَتَرَکَ مِـ یَتَعَجَّبُوْنَ مِنْ حُسْنِ بُنْیَانِہٖ اِلَّا سَدَدْتُ مَوْضِعَ اللَّبِنَۃِ خُتِمَ بِیَ الْاَ فَاَنَا اللَّبِنَۃُ وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ

(بخاری

ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک ایسے محل کی مثال ہے جس کی ایک اینٹ کی جگہ خالی عمارت پر تعجب کـ ہوتے ہیں ذات کـ ذات پر رسـ آخری اینٹ میں ہوں اور میں خا

مرزائیوں کا اعتراض

غیر احمدی کہتے ہیں کہ اگر حضور ﷺ تھا صرف ایک اینٹ کی جگہ خالی تھی جس

صفحہ 51

کے متعلق آپ نے فرمایا کہ وہ بنی اسرائیل کے امور کا انتظام یکے بعد دیگرے فرماتے تھے۔ ان کے بعد آپ نے فرمایا کہ اِنَّہُ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ یعنی میرے بعد کوئی نبی میری امت کے امور کا انتظام کرنے والا نہیں ہوگا۔ جیسا کہ انبیاء بنی اسرائیل اور وہ غیر مستقل ہوتے تھے۔ لہٰذا نبی غیر مستقل کی نفی کی تصریح ہوگئی۔ دوسرا قرینہ یہ ہے کہ حضور ﷺ کا اپنے بعد نبی کی مطلقاً نفی کرنے کے بعد صرف خلفاء کا اثبات فرمانا نبی غیر مستقل کی نفی کا صریح قرینہ ہے۔

حدیث ہفتم

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ مَثَلِيْ وَمَثَلُ الْاَنْبِيَاءِ كَمَثَلِ قَصْرٍ اُحْسِنَ بُنْيَانُهُ وَتُرِكَ مِنْهُ مَوْضِعُ لَبِنَةٍ فَطَافَ بِهِ النُّظَّارُ يَتَعَجَّبُوْنَ مِنْ حُسْنِ بُنْيَانِهِ اِلَّا مَوْضِعَ تِلْكَ اللَّبِنَةِ فَكُنْتُ اَنَا سَدَدْتُ مَوْضِعَ اللَّبِنَةِ خُتِمَ بِيَ الْبُنْيَانُ وَخُتِمَ بِيَ الرُّسُلُ وَفِيْ رِوَايَةٍ فَاَنَا اللَّبِنَةُ وَاَنَا خَاتِمُ النَّبِيِّيْنَ

(بخاری و مسلم مشکوۃ باب فضائل النبی ﷺ)

ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری اور سابقہ انبیا کی ایک ایسے محل کی مثال ہے جس کی عمارت اچھی بنائی گئی ہو۔ مگر اس میں ایک اینٹ کی جگہ خالی ہو۔ لوگ اس کے اردگرد گھومتے ہیں اور حسن عمارت پر تعجب کرتے ہیں، مگر ایک اینٹ کی جگہ خالی دیکھ کر حیران ہوتے ہیں سو میں وہ مبارک اینٹ ہوں جس نے اس جگہ کو پر کیا۔ میری ذات کی وجہ سے نبوت کے محل کی تکمیل ہو گئی ہے۔ بدیں صورت میری ذات پر رسولوں کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ نبوت کی آخری اینٹ میں ہوں اور میں ہی نبیوں کا ختم کرنے والا ہوں۔

مرزائیوں کا اعتراض

غیر احمدی کہتے ہیں کہ اگر حضور ﷺ مبعوث نہ ہوتے تو قصرِ نبوت وغیرہ مکمل ہو چکا تھا صرف ایک اینٹ کی جگہ خالی تھی جس کو آپ نے آ کر پر کیا مگر ہمارا ایمان ہے کہ اگر

صفحہ 53

آنحضرتﷺ پیدا نہ ہوتے تو نظام کائنات نہ بنایا جاتا۔

جواب: مرزائیو! اس دجل و فریبی کا کیا کہنا کیا خوب رنگ بدلا ہے مگر یاد رہے

بہر رنگ کہ خواہی جامہ مے پوش
من انداز قدت را می شناسم

لیجئے ہم تمہارا ایمان ظاہر کرتے ہیں مرزا قادیانی اپنی کتاب حقیقۃ الوحی ص ۹۹ پر یوں کہتا ہے۔

لَوْلَا کَ لَمَا خَلَقْتُ الْاَفْلَاکَ

ترجمہ: اے مرزا اگر تو نہ ہوتا تو میں آسمان پیدا نہ کرتا۔ مرزائیو! ذرا انصاف سے بتانا کہ تمہارا حضورﷺ کے متعلق یہ ایمان ہے یا مرزا علیہ ماعلیہ کے متعلق ذرا سمجھ سوچ کر جواب دینا۔

بجور شعار وفا ہای من ز مردم پرس
بمن حساب جفا ہائے خویشتن یاد از
(غالب)

اعتراض: جب نبوت کے محل میں کسی نبی کی گنجائش نہیں رہی تو آخر زمانہ میں عیسیٰ علیہ السلام کا تشریف لانا کس طرح ممکن ہو سکتا ہے؟

جواب: مثلاً اگر کہا جائے کہ مرزا قادیانی اپنے والدین کے گھر میں خاتم الاولاد ہے۔ اور اس کی پیدائش سے قبل ان کا ایک بھائی کسی ملک میں گیا ہوا تھا۔ وہ قادیان میں آ گیا تو اس کے آنے کو کوئی صحیح الدماغ انسان مرزا قادیانی کے خاتم الاولاد ہونے کے منافی نہیں سمجھے گا۔ اس لیے کہ مرزا قادیانی کے بھائی کی پیدائش اس سے پہلے ہو چکی تھی تو جس طرح مرزا کے بھائی کا اس ملک کو چھوڑ کر قادیان میں آنا مرزا کے خاتم الاولاد ہونے کے منافی نہیں ایسے ہی عیسیٰ علیہ السلام کا اس وقت تشریف لانا حضور پر نورﷺ کی خاتمیت کے منافی نہیں اس لیے کہ ان کو پہلے نبوت مل چکی ہے فقط۔

باقی رہا یہ کمینہ عذر کہ معاذ اللہ مسلمان آنحضرتﷺ کو اینٹ سے تشبیہ دیتے ہیں سو

مرزائیوں کو یہ بات کہتے ہوئے شرمانا چاہیے اس لیے کہ آں حضرتﷺ پر نہ کہ اس شخص پر جو اس کو نقل کر رہا ہے حضور کی سے محض اپنی امت کی تفہیم مقصود ہے مگر مرزائی یہودی صرف ہونا چاہتا ہے سچ ہے۔

بے حیا باش ہر چہ خواہی کـ

حدیث ہشتم:

قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِعَلِیٍّ اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِ اَنَّہٗ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ ۔

(بخاری مسلم باب

ترجمہ: ”اے علی تیرے اور میرے درمیان وہ نسبت کے درمیان تھی۔ مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہ سوال یہ ہے کہ ان دونوں کے درمیان کونسی ب مشتمل تھی ایک قائم مقامی، دوسرے اشتراک فی النبوۃ ا اشتباہ ہو سکتا تھا۔ یعنی قائم مقامی و اشتراک فی النبوۃ حا انقطاع فرمانا مقصود تھا۔ لہٰذا حضورﷺ نے یہ خیال فرما کر طرح حضرت ہارون حضرت موسیٰ علیہما السلام کے تاب عدم موجودگی میں آپ کا قائم مقام ہوں اور آپ کے ایک امر کا اثبات فرما دیا یعنی قائم مقامی کا اور دوسرے کی نفی کر دی جو کہ حضرت ہارون میں تھی یعنی غیر تشریعی

حدیث نہم:

قَالَ النَّبِیُّ ﷺ لَوْ کَانَ بَعْدِیْ نَبِیٌّ لَّکَانَ

ترجمہ: اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو ع

)

صفحہ 53

مرزائیوں کو یہ بات کہتے ہوئے شرمانا چاہیے اس لیے کہ اگر اس پر کوئی اعتراض ہو سکتا ہے تو وہ حدیث پر نہ کہ اس شخص پر جو اس کو نقل کر رہا ہے حضور کی غرض اس حدیث کے بیان فرمانے سے محض اپنی امت کی تفہیم مقصود ہے مگر مرزائی یہودی صرف ایک وقتی اعتراض کر کے عہدہ برآ ہونا چاہتا ہے سچ ہے۔

بے حیا باش ہر چہ خواہی مے کن

حدیث ہشتم:

قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ لِعَلِيٍّ اَنْتَ مِنِّيْ بِمَنْزِلَةِ هَارُوْنَ مِنْ مُّوْسٰى اِلَّا اَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ ۔

(بخاری مسلم باب مناقب علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ)

ترجمہ: "اے علی تیرے اور میرے درمیان وہ نسبت ہے جو کہ موسیٰ اور ہارون کے درمیان تھی۔ مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔"

سوال یہ ہے کہ ان دونوں کے درمیان کونسی بات تھی ظاہر ہے کہ وہ نسبت دو امور پر مشتمل تھی ایک قائم مقامی، دوسرے اشتراک فی النبوۃ اب حضرت علی کو انہی دو امور کے متعلق اشتباہ ہو سکتا تھا۔ یعنی قائم مقامی و اشتراک فی النبوۃ حالانکہ حضور کو ایک امر کا اثبات اور ایک کا انقطاع فرمانا مقصود تھا۔ لہٰذا حضورؐ نے یہ خیال فرما کر کہ کہیں حضرت علی یہ نہ سمجھ لیں کہ جس طرح حضرت ہارون حضرت موسیٰ علیہما السلام کے تابع ہو کر نبی تھے۔ ایسا ہی میں بھی حضور کی عدم موجودگی میں آپ کا قائم مقام ہوں اور آپ کے تابع ہو کر نبی ہوں اس لیے حضور نے ایک امر کا اثبات فرما دیا یعنی قائم مقامی کا اور دوسرے کے متعلق لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ کہہ کر اس نبوت کی نفی کر دی جو کہ حضرت ہارون میں تھی یعنی غیر تشریعی۔

حدیث نہم:

قَالَ النَّبِيُّ ﷺ لَوْ كَانَ بَعْدِيْ نَبِيٌّ لَكَانَ عُمَرُ ابْنُ الْخَطَّابِ

(ترمذی مشکوۃ باب مناقب عمر)

ترجمہ: اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا۔

صفحہ 54

تقاضا یہ تھا کہ اگر آپؐ کے بعد کسی قسم کی نبوت باقی ہوئی تو آپؐ حضرت عمرؓ کے لیے اس کا اثبات فرماتے نہ کہ نفی کرتے پس آپ کے مطلقاً نفی فرمانے سے معلوم ہوا کہ آپؐ کے بعد کسی قسم کا نبی نہیں آسکتا۔

میرے بعد کوئی مستقل ہونا ہوتا تو حضرت عمر ہوتا۔ اس صورت میں حضرت عمرؓ کا نبی غیر مستقل ہونا ضروری ہے کیونکہ حضورؐ نے حضرت عمر کو منصب نبوت کے قابل و مستحق بتایا ہے اور نبوت کے ملنے سے مانع صرف نبوت کا ختم ہونا فرمایا ہے پس جب نبوت غیر مستقل ختم نہیں ہوئی تو اس کے ملنے سے کوئی چیز مانع نہیں لہٰذا وہ ضرور نبی ہونے چاہیں حالانکہ وہ نبی نہیں تھے اگر ہوتے تو دعوٰی نبوت ضرور کرتے کیونکہ نبی کے لیے دعوٰی نبوت کا اخفا قطعاً جائز نہیں۔ جب انہوں نے دعوٰی نبوت نہیں کیا اور نہ ہی اہل اسلام میں سے کسی نے ان کو نبی مانا ہے تو معلوم ہوا کہ وہ نبی نہ تھے۔ تو اب آپ غور فرما سکتے ہیں کہ جو سب سے زیادہ مستحق نبوت اور جس کا مستحق ہونا رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے ثابت ہو اس کو تو نبوت نہ ملے اور منشی غلام احمد قادیانی قادیان میں نبی بن جائے یہ امر عقلاً محال ہے۔

حدیث دہم:

اِنَّ الرِّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدِ انْقَطَعَتْ فَلَا رَسُوْلَ بَعْدِيْ وَلَا نَبِيَّ بَعْدِيْ

ترجمہ: (ترمذی شریف) یعنی رسالت اور نبوت منقطع ہو چکی ہے پس میرے بعد کوئی رسول نہ ہوگا۔ اس کی بابت مرزا قادیانی کہتا ہے۔ ابھی ثابت ہو چکا ہے کہ وحی و رسالت تا قیامت منقطع ہے۔ ازالہ اوہام مطبوعہ لاہور ص ۵۳ نیز آئینہ کمالات میں ص ۳۷۷ پر لکھتا ہے۔

مَا كَانَ اللّٰهُ أَنْ يُرْسِلَ نَبِيًّا بَعْدَ نَبِيِّنَا خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ وَمَا كَانَ يُحْدِثُ سِلْسِلَةَ النُّبُوَّةِ ثَانِيًا بَعْدَ انْقِطَاعِهَا ۔ یہ ہرگز نہیں ہو گا کہ اللہ تعالیٰ ہمارے خاتم النبیین کے بعد کسی کو نبی کر کے بھیجے اور نہ یہ ہو گا کہ سلسلۂ نبوت کو اس کے منقطع ہو جانے کے بعد پھر جاری کرے۔ حمامۃ البشریٰ ص ۳۴ پر مرزا قادیانی لکھتا ہے۔ کہ قَدِ انْقَطَعَ الْوَحْيُ بَعْدَ وَفَاتِهِ وَخَتَمَ اللّٰهُ بِهِ النَّبِيِّيْنَ بے شک آپ کی وفات کے بعد وحی منقطع ہو گئی ہے اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر نبیوں کا خاتمہ کر دیا ہے اور

صفحہ 55

ہدیۃ الوحی ص ۶۴ ضمیمہ عربی میں لکھتا ہے وَاِنَّ رَسُوْلَنَا خَاتَمُ النَّبِيّيْنَ وَعَلَيْهِ انْقَطَعَتْ سِلْسِلَةُ الْمُرْسَلِيْنَ تحقیق ہمارے رسول خاتم النبیین ہیں اور ان پر رسولوں کا سلسلہ منقطع ہو گیا۔

حدیث یاز دہم:

حَدَّثَنَا اِسْمَعِيْلُ قُلْتُ لِاِبْنِ أَبِى أَوْفَى أَرَأَيْتَ إِبْرَاهِيْمَ ابْنَ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ مَاتَ صَغِيراً وَلَوْ قُضِيَ اَنْ يَّكُوْنَ بَعْدَ مُحَمَّدٍ ﷺ نَبِيٌّ لَّعَاشَ ابْنُهُ وَلَكِنْ لَّا نَبِيَّ بَعْدَهُ

ترجمہ: اسمعیل جو سند میں مذکور ہیں فرماتے ہیں کہ میں نے ابن ابی اوفیٰ سے دریافت کیا کہ آپ نے حضور پر نورﷺ کے صاحبزادہ صاحب ابراہیم کو دیکھا ہے تو انہوں نے فرمایا کہ وہ تو چھوٹے ہی رحلت فرما گئے تھے اور اگر یہ فیصلہ ازل میں ہو چکا ہوتا کہ محمدﷺ کے بعد کسی کو منصب نبوت عطا ہو گا تو آپ کے صاحبزادے زندہ رہتے لیکن آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا لہٰذا ان کو زندہ نہیں رکھا گیا۔

حدیث دواز دہم:

اَنَا آخِرُ الْاَنْبِيَاءِ وَاَنْتُمْ آخِرُ الْاُمَمِ

(ابن ماجہ فتنہ دجال ص ۳۰۷)

ترجمہ: میں سب نبیوں کا پچھلا نبی ہوں اور تم تمام امتوں کی پچھلی امت ہو۔

مذکورہ بارہ احادیث نبوی علیہ الصلوٰۃ والسلام سے مسئلہ ختم نبوت بغیر کسی قسم کی کھینچ تان کے آفتاب نیمروز سے زیادہ تر واضح ہو گیا ہے۔

صفحہ 56

کافر اور مرتد کو کافر نہ کہنے سے انسان خود کافر

اور مرتد ہو جاتا ہے

حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ

یہ مسئلہ بھی خوب سمجھ لینے کے قابل ہے کہ جو شخص یقیناً کافر یا مرتد ہے اس کو اگر کوئی شخص مسلمان کہے تو یہ مسلمان کہنے والا خود کافر اور مرتد ہو جاتا ہے۔ بعض لوگ اس کو احتیاط سمجھتے ہیں کہ کافر کو بھی کافر نہ کہا جائے۔ حالانکہ یہ احتیاط نہیں بلکہ بے احتیاطی سے خود کافر ہونا ہے۔ کیونکہ جب کسی شخص نے کسی ضرورت دین کا قطعا اور یقیناً انکار یا اس میں شک اور تردد کیا اور یہ اس کا شک یا انکار یقینی طور پر ثابت ہو گیا تو یہ بوجہ انکار یا تردد ضرورت دین کے کافر ہو گیا۔ اب اس کو کافر نہ کہنا اس کی دو ہی وجہ ہو سکتی ہیں۔ یا یہ شخص ضرورت دین کے انکار کو کفر نہیں سمجھتا یا ضرورت دین کے انکار کو کفر تو سمجھتا ہے مگر اس ضرورت دین کو ضروریات دین میں شمار ہی نہیں کرتا اور یہ دونوں صورتیں کفر و ارتداد کی ہیں۔

مثلاً ایک شخص کہتا ہے کہ نماز فرض نہیں۔ یا قل ہو اللہ قرآن کی سورۃ نہیں اور زید اس شخص کو کافر و مرتد نہیں بلکہ اس کو مسلمان ہی جانتا ہے اور اسی میں احتیاط سمجھتا ہے۔ تو اب زید یا خود نماز کو فرض اور سورۂ اخلاص کو قرآن نہیں سمجھتا۔ یا نماز کو فرض اور سورۂ اخلاص کو قرآن تو جانتا ہے۔ اور ضروریات دین سے تسلیم کرتا ہے مگر اس کے انکار کو کفر نہیں جانتا۔ تو ظاہر ہے کہ زید اب خود مسلمان نہیں رہ سکتا۔ پہلی صورت میں جیسے ایک ضرورت دین کے ضرورت دین ہونے کا انکار ہے دوسری صورت میں بھی ایک ضرورت دین کا منکر ہے۔ وہ یہ کہ ضرورت دین کے منکر کو کافر سمجھنا اس ضروریات دین میں سے ہے جس کا یہ منکر ہے۔ تو زید بہرحال اس کو کافر نہ

کہہ کر خود کافر اور مرتد ہوتا ہے، جس کی

اگر کسی صاحب کو یہ بات نام ہے اور یہ ثابت کرے کہ مسلمان ہونے کی کوئی صورت نہیں۔ اگر کوئی مسلمان ہی رہتا ہے اور کافر و مرتد نہیں وجہ سے کفر و ارتداد ہے کہ یہ ضروریات ہونا چاہیے۔ ورنہ وجہ فرق کیا ہے اور ا ہیں وہ بھی توحید و رسالت کے منکر نہی ان کے نزدیک کافر ہیں۔ اور اگر مر تب بھی مرزا صاحب کے مخالفین اور گئے۔ اس واسطے کہ ہر شخص اپنے آپ

امید ہے کہ اس وضاحت ک لاہوریوں کو مسلمان کہہ کر خود کافر نہ ب

توکل شاہ سے درخواست دعا ۱

میں نے خواجہ توکل شاہ انبالوی سے عر شخص کیسا ہے؟ ان دنوں مرزا صاحب نے فرمایا کہ ایک دفعہ میں نے دیکھا کہ م پر مرزا غلام احمد کو دیکھا کہ کانٹوں اور گ کہا۔ تیرے پاس مجددیت اور مہدویت سوال کا کچھ جواب نہ دے سکا۔ معلوم ہ اس عمل سے گر گیا۔ مولوی محبوب عالم شاہ کی خدمت میں آیا کرتے تھے، جن ا کے سنتے ہی خواجہ صاحب کے چہرہ پر غ تھے۔

صفحہ 57

کہہ کر خود کافر اور مرتد ہوتا ہے جس کی تفسیر سوال اوّل کے جواب میں مفصل مذکور ہو چکی۔ اگر کسی صاحب کو یہ بات ناپسند ہو تو وہ مجھے قرآن سے بتلا دیں کہ کفر و ارتداد کس کا نام ہے اور یہ ثابت کرے کہ مسلمان یہ کہے کہ وہ مسلمان نہیں اس کے سوا اس کے مرتد اور کافر ہونے کی کوئی صورت نہیں۔ اگر کوئی کہے کہ جب تک انسان توحید و رسالت کا انکار نہ کرے مسلمان ہی رہتا ہے اور کافر و مرتد نہیں ہوتا تو سوال یہ ہے کہ توحید و رسالت سے انکار اگر اس وجہ سے کفر و ارتداد ہے کہ یہ ضروریات دین سے ہیں تو پھر ہر ضرورت دین کا انکار کفر و ارتداد ہونا چاہیے۔ ورنہ وجہ فرق کیا ہے اور مرزا صاحب اور مرزائی جو اپنے مخالفوں کو کافر اور مرتد کہتے ہیں وہ بھی توحید و رسالت کے منکر نہیں اور وہ اپنے آپ کو مسلمان ہی کہتے ہیں۔ پھر وہ کیوں ان کے نزدیک کافر ہیں۔ اور اگر صرف اسلام کے انکار کرنے سے ہی آدمی کافر اور مرتد ہے تب بھی مرزا صاحب کے مخالفین اور جملہ منافقین اور مدعیان نبوت کاذبہ کیسے مرتد اور کافر ہو گئے۔ اس واسطے کہ ہر شخص اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے اور اسلام سے کوئی منکر نہیں۔ امید ہے کہ اس وضاحت کے بعد مسلمان مرزا صاحب اور مرزائیوں قادیانیوں اور لاہوریوں کو مسلمان کہہ کر خود کافر نہ ہو جائیں گے۔

توکل شاہ سے درخواست دعا ٭ مولوی محبوب عالم صحیفہ محبوب میں لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے خواجہ توکل شاہ انبالوی سے عرض کیا کہ میں تو مرزا قادیانی کو برا جانتا ہوں، آپ کے نزدیک وہ شخص کیسا ہے؟ ان دنوں مرزا صاحب کا دعویٰ مجددیت و محدثیت سے متجاوز نہ ہوا تھا۔ خواجہ صاحب نے فرمایا کہ ایک دفعہ میں نے دیکھا کہ گویا کوتوال کی حیثیت سے شہر لاہور کا گشت کر رہا ہوں۔ ایک مقام پر مرزا غلام احمد کو دیکھا کہ غلاظتوں اور گندگی میں پڑا ہے۔ میں نے اس کے ہاتھ کو جنبش دی اور ڈانٹ کر کہا۔ تیرے پاس مجددیت اور محدثیت کا کیا ثبوت ہے؟ وہ سخت اداس اور غمزادہ دکھائی دیتا تھا۔ میرے سوال کا کچھ جواب نہ دے سکا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس نے کوئی عمل کیا تھا، مگر پھر کسی بدپرہیزی کے باعث اس عمل سے گر گیا۔ مولوی محبوب عالم لکھتے ہیں کہ یہ تو میرا اپنا مشاہدہ ہے کہ اس کے اکثر خط خواجہ توکل شاہ کی خدمت میں آیا کرتے تھے، جن کا یہ مضمون ہوتا تھا کہ ”حضور میرے حق میں دعا فرمائیں“۔ خط کے سنتے ہی خواجہ صاحب کے چہرہ پر غصہ کے مارے شکن پڑ جاتے تھے، مگر ضبط کرکے خاموش ہو جاتے تھے۔

(”رئیس قادیان“ جلد دوئم، ص ۱۹)

صفحہ 58

مرزا قادیانی کی پندرہ وجوہات کفر

سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ

رئیس المناظرین اور رئیس المتکلمین حضرت مولانا سید محمد مرتضیٰ حسن مرحوم سابق صدر مدرس مدرسہ امدادیہ مراد آباد بہت بڑے مشہور فاضل دوراں تھے عرصہ تک دارالعلوم دیوبند میں ناظم تعلیم رہے ہیں فن مناظرہ میں یدطولیٰ رکھتے تھے۔ جامع علوم وفنون تھے۔

ردِ مرزائیت میں آپ کے بہت سے رسائل لاجواب ہیں۔ مشہور مقدمہ بہاول پور میں آپ کا بیان ۲۱ اگست ۱۹۳۲ء کو شروع ہو کر ۲۵ اگست ۱۹۳۲ء کو ختم ہوا۔ آپ کا بیان دلائل کا ایک بحرِ ذخار ہے جو مرزائی نبوت کو ایک تنکے کی طرح بہائے لے جا رہا ہے اور ایک حقیقت نما آئینہ ہے۔ جس میں مرزائی دجل و فریب اور کذب و زور کے باریک سے باریک نقش بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ حضرت ممدوحؒ نے اپنے بیان میں مرزا قادیانی کے کفر کے لاکھوں وجوہ بیان کئے ہیں جن میں سے پندرہ کو رفاہ عام کے لئے شائع کیا جا رہا ہے۔

کیا۔ جو صریح کفر ہے۔ مرزا نے اپنے صریح کلام میں دعوائے تشریعی کیا اور اس میں شریعت کی تفسیر بھی کر دی ہے۔

کرے وہ کافر ہے۔ اور مرزا نے دعویٰ نبوت کیا لہٰذا باقرار خود کافر ہوا۔

اس کو قرآن کا انکار قرار دیا حالانکہ خود دعویٰ نبوت کیا۔

ٹھہرایا اور پھر اپنا نبی ہونا (کہ جو اپنے آپ کو عیسیٰ علیہ السلام سے معاذ اللہ ہر شان میں اعلیٰ اور افضل سمجھتا ہے) جائز رکھا بلکہ ضروری، لہٰذا مرزا قادیانی کافر ہوا۔

ہونا خاتم النبیین اور لا نبی بعدی۔ کے بعد نبوت نہیں آسکتی وہ کافر

فرض و ایمان قرار دیتا ہے یہ اس ۔

قیامت تک کھلا رہے گا اس وجہ سـ

ہیں کہ ہزار بار آنحضرت خود بروز ہیں امکان ذاتی نہیں بلکہ امکان و اور پھر بعثت ثانیہ ہوئی۔ اس کا حا

اگر واقعی عین ہے تو کھلا ہوا کافر ہے۔۔۔۔۔ اور عین محمد نہیں تو پھر آپ کفر کی ہے۔

کفر ہے۔

الکتاب باقی نہیں رہتی۔ یہ بھی ایک

جزو کی ہو گی۔ اور یہ وجہ کفر کی ہے

کسی نبی کو گالیاں دے یا توہین

صفحہ 59

۵ وجوہات کفر

سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ

حضرت مولانا سید محمد مرتضیٰ حسن مرحوم سابق فاضل دوراں تھے عرصہ تک دارالعلوم دیوبند تھے۔ جامع علوم وفنون تھے۔ ائل لاجواب ہیں۔ مشہور مقدمہ بہاول پور گست ۱۹۳۲ء کو ختم ہوا۔ آپ کا بیان دلائل کا رخ بہائے لے جا رہا ہے اور ایک حقیقت نما ب و زور کے باریک سے باریک نقش بھی ں میں مرزا قادیانی کے کفر کے لاکھوں وجوہ شائع کیا جا رہا ہے۔

ہے کہ اس نے تشریعی و شرعی نبوت کا دعویٰ ں دعوائے تشریعی کیا اور اس میں شریعت کی کے بعد مطلق نبوت منقطع ہے۔ اور جو دعویٰ باقرار خود کافر ہوا۔ کے بعد کوئی جدید یا قدیم نبی نہیں آ سکتا اور سلام کو ختم نبوت کا انکار قرار دے کر اسے کفر یہ اسلام سے معاذ اللہ ہر شان میں اعلیٰ اور ئی کافر ہوا۔ بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا آپ کا خاتم النبیین ہونا خاتم النبیین اور لا نبی بعدی سے ثابت ہے اور پھر اس کے بعد یہ کہا کہ جو ایسا کہے کہ آپ کے بعد نبوت نہیں آ سکتی وہ کافر ہے۔ اس وجہ سے بھی کافر ہوا۔

فرض و ایمان قرار دیتا ہے یہ اس سے بھی بڑھ کر کفر ہوا۔

قیامت تک کھلا رہے گا اس وجہ سے بھی کافر ہوا۔

ہیں کہ ہزار بار آنحضرتؐ خود بروز فرما دیں گے گویا آنحضرتؐ کے بعد ہزاروں نبی واقع ہو سکتے ہیں امکان ذاتی نہیں بلکہ امکان وقوعی ہے پھر مرزا نے یہ کہا کہ آنحضرتؐ کی ایک بعثت پہلے تھی اور پھر بعثت ثانیہ ہوئی۔ اس کا حاصل تناسخ ہے اور تناسخ کا قائل کافر ہوتا ہے۔

اگر واقعی عین ہے تو کھلا ہوا کافر ہے۔ اور یہ ایک توہین صد ہا توہین اور استہزا اور تمسخر پر مشتمل ہے ...... اور عین محمد نہیں تو پھر آپ کے بعد دوسرا نبی ہوا۔ اور ختم نبوت کی مہر ٹوٹ گئی اور یہ وجہ کفر کی ہے۔

کفر ہے۔

الکتاب باقی نہیں رہتی۔ یہ بھی ایک وجہ کفر کی ہے۔

جزو کی ہوگی۔ اور یہ وجہ کفر کی ہے۔

کسی نبی کو گالیاں دے یا توہین کرے وہ کافر ہے۔ مرزا نے عیسیٰ علیہ السلام کی اتنی وجہ سے

صفحہ 60

توہین کی ہے۔ کہ غالباً سو سے کم نہ ہو گی اور ہر توہین موجب کفر ہے۔ اور کوئی نبی دنیا میں نہیں آیا (جن کی تعداد کو خدا ہی جانے بعض روایات میں آتا ہے سوا لاکھ ہیں) جس کی مرزا نے توہین نہ کی ہو۔ ہر نبی کی مرزا نے توہین کی تو اس لحاظ سے اتنی تعداد کے دو گنے برابر مرزا کی وجوہ تکفیر ہو سکتی ہیں۔ اگر ہر ایک نبی کی دو دو توہینیں سمجھی جائیں تو اتنی مقدار ہر وجوہ کفر ہو سکتی ہیں۔ لہٰذا جتنی توہینیں ہوئیں اتنی وجوہ سے مرزا کافر ہوا مرزا نے سرور عالم ﷺ کی توہین کی ہے ...... یہ وجہ بہت بڑی کفر کی ہے ......

باطل ہے لہٰذا اس وجہ سے بھی مرزا کافر ہوا۔ مرزا نے کہا کہ کسی مرزائی عورت کا غیر احمدی سے نکاح جائز نہیں۔ مرزا نے کہا کہ غیر احمدی کا جنازہ پڑھنا جائز نہیں۔ چنانچہ تحفہ گولڑیہ میں صفحہ ۱۸ پر ہے ”پس یاد رکھو کہ جیسا خدا نے مجھے اطلاع دی ہے کہ تم پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے ...... کہ کسی مکفر اور مکذب اور متردد کے پیچھے نماز پڑھو۔ بلکہ چاہے تمہارا امام وہی ہو جو تم میں سے ہو۔ مرزا نے کہا کہ جو مجھے نہ مانے وہ سب کافر ہیں۔ مرزا نے نسخ کا بالکل انکار کیا ہے مرزا نے حشر اجساد کا انکار کیا جس طریق میں قیامت کی خبر قرآن و حدیث میں آئی ہے اس سے بالکل انکار کیا۔ ہاں ظاہری لفظ وحی چھوڑے مگر معنی دوسرے بیان کئے۔ یہ وجوہ بھی مرزا کے کفر کی ہیں۔ لہٰذا مسئلہ واضح ہو گیا۔ کہ مرزا کافر بھی ہے اور مرتد بھی اور ان عقائد کے معلوم ہونے کے بعد جو شخص مرزا کے کفر اور ارتداد میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔ کسی مسلمان مرد یا عورت کا نکاح کسی مرزائی مرد اور عورت سے جائز نہیں۔ اور اگر نکاح ہو گیا اور ان کے نکاح کے بعد کسی نے مرزائی مذہب اختیار کر لیا تو نکاح فوراً فسخ ہو جائے گا۔ ورنہ اولاد ولد الزنا ہو گی اور نسب ثابت نہ ہوگا۔

صفحہ 61

علامات ظہور مہدی

حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑویؒ

امروہی صاحب (قادیانی) اپنے اس قول (وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا خَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ لَا نَبِیَّ بَعْدَہٗ) میں تب ہی صادق سمجھے جاویں گے جب کہ قادیانی صاحب کو نبوت کے دعوے میں کاذب سمجھیں اور مشاہرہ معینہ کے لالچ کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کو مطلق رازق جانیں۔ ناظرین کو معلوم ہو کہ قادیانی صاحب نے اپنے مسیح موعود ہونے پر اس حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے استدلال کیا ہے جس میں خسوف اور کسوف رمضان مبارک میں جمع ہونا نزول مسیح کی علامت فرمائی گئی ہے۔ اور کہتے ہیں کہ میرے دعویٰ کے ثبوت میں یہ دونوں باتیں جمع ہو گئیں۔ دیکھو مکتوب عربی صفحہ ۷۷ ایسا ہی اس نبی کے مومن امروہی صاحب اپنی کتاب شمس بازغہ صفحہ ۳ سطر ۲۰ پر فرماتے ہیں۔

قولہٗ

مثلاً اجتماع سورج گرہن و چاند گرہن کا ماہِ مبارک رمضان شریف میں جو نشان صدق مہدی علیہ السلام کا کتب احادیث میں مندرج تھا جب کہ 1211ھ میں واقع ہوا تو تمام دنیا میں پیشتر وقوع ہی سے اس کا شہرہ ہو گیا تھا۔ ہیئت دانوں اور منجموں نے پیشتر وقوع سے ہی اس کو شائع کر دیا تھا اور بعد از وقوع تو کوئی بستی بھی نہ رہی ہو گی جس میں اس کا چرچا واقع نہ ہوا ہو۔ اب کس کی مجال ہے کہ اس کو مخفی کرے۔

اقول

دارقطنی میں محمد بن علی سے مروی ہے کہ مہدی موعود کے ظہور کے لیے دو ایسی

صفحہ 62

علامتیں ہیں جو ابتداء پیدائش آسمان وزمین سے کبھی واقعہ نہیں ہوئیں اور وہ یہ ہیں کہ رمضان کی پہلی رات کو چاند گرہن ہوگا اور نصف رمضان میں کسوف آفتاب ہوگا۔ ان للمہدی آيتين لم تكونا منذ خلق السموات والارض ينكسف القمر فی اول ليلة من رمضان و تنكسف الشمس فی نصف منه. الفاظ ”فی اول ليلة من رمضان“ کا ترجمہ لڑکے بھی جانتے ہیں کہ رمضان کی پہلی رات یعنی پہلی رات رمضان میں خسوف ہوگا اور رمضان کے پندرھویں دن کو کسوف۔ انقلاب زمانہ کی وجہ سے چونکہ ہلال کو بھی قمر کی طرح خسوف عارض ہوگا۔ تو گویا ہلال قمر ہوا۔ لہٰذا اس حدیث میں قمر کا اطلاق بھی پہلی رات کے چاند پر کیا گیا۔ چنانچہ تغیر زمانہ کی وجہ سے قریب قیامت کے ایک دن والے کو بوڑھا کہا جائے گا۔ سو یہ آج تک واقع نہیں ہوا اور نیز یہ نزول مسیح کی علامت نہیں بلکہ یہ ظہور مہدی کی علامت ہے کہ برخلاف عادت زمان اور برخلاف حساب منجمان رمضان کی پہلی تاریخ خسوف ہوگا اور اسی کی پندرھویں کو کسوف ہوگا اور جیسا کہ یہ علامت ظہور مہدی کی وقوع میں نہیں آئی۔ ایسا ہی مندرجہ ذیل باقی علامات بھی آج تک ظاہر نہیں ہوئیں۔

ظاہر ہوگا۔

علیہ وآلہ وسلم) میں ہے۔

شناخت مہدیؑ کی علامات

بعد آں حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی نہ نکلے ہوں گے۔ ان پر لکھا ہوا ہوگا۔ البيعة للّٰه بيعت اللہ کے واسطے ہے۔

پکارے گا۔ ھذالمہدی خليفة اللّٰه فاتبعوہ۔ یہ مہدی خلیفہ خدا کا ہے۔ اس کا اتباع کرو۔

اس میں برگ و بار

اللّٰه صلی اللّٰه ع رجل من اھل جب تک میری ا ـــــــ ہوگا۔ و اسمہ اسمی واسم ابی باپ کے نام پر ہ فاطمة. ابوداؤد کی اولاد سے ہو

دونوں ابرو میں ف رخسار پر تل سیاہ عربی رنگ اسرا چپ پر ہاتھ مار

___ ١ قادیانی صاحب ا اجی حضرت ضرورت تو اس لیے بچہ ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ کیوں حضرت! کوئی چار کونٹی مغ طرح بیان فرمایا۔ آپ فرمائیے اور وارث فاطمی ہی ہے۔ ۱۲ منہ

صفحہ 63

اس میں برگ و بار آئے گا۔

اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا تذھب الدنيا ولا تنقضے حتى يملک رجل من اھل بيتى يواطى اسمه اسمى۔ (ابو داؤد، ترمذی) دنیا ختم نہ ہوگی جب تک میری اہل بیت سے ایک شخص جس کا نام میرے نام پر محمد ــــــــــــ ہوگا۔ دنیا کا مالک نہ ہو جائے۔ ابو داؤد کی دوسری روایت میں ہے یواطی اسمہ اسمی واسم ابیہ اسم ابی۔ اس کا نام میرے نام پر اور اس کے باپ کا نام میرے باپ کے نام پر ہوگا۔ یعنی محمد بن عبداللہ المھدی ؑ من عترتی من ولد فاطمۃؓ۔ ابو داؤد۔ حاکم۔ ابن ماجہ۔ عن ام سلمہؓ۔ مہدیؑ میرے کنبہ میں سے فاطمہؓ کی اولاد سے ہوں گے۔

دونوں ابرو میں فرق بزرگ اور سیاہ چشم، سرمگیں آنکھ، دانت روشن اور جدا جدا، دہنے رخسار پر تل سیاہ، چہرہ نورانی ایسا روشن جیسا کوکب دُرّی، ریش پر انبوہ، کشادہ ران عربی رنگ، اسرائیلی بدن، زبان میں لکنت، جب بات کرنے میں دیر ہوگی تو ران چپ پر ہاتھ ماریں گے، کف دست میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نشانی ہوگی۔

1 قادیانی صاحب اشتہار مذکور میں لکھتے ہیں کہ مہدی موعود کے فاطمی ہونے کی کیا ضرورت ہے۔ اجی حضرت ضرورت تو اس لیے ہوئی کہ مخبر صادق صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خبر دی ہے۔ آپ فرمائیے کہ محض بچہ ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ پھر فرماتے ہیں مہدی موعود بجائے نواسہ ہونے کے آپ کا بیٹا ہونا چاہیے تھا۔ کیوں حضرت! کوئی بناوٹی مضمون تو نہیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جیسا بذریعہ وحی معلوم ہوا۔ اسی طرح بیان فرمایا۔ آپ فرمائیے کہ فاطمی ہونے کی منافات کیا ہے۔ مہدویت، بلکہ تبلیغ و احیاء دین کا زیادہ مستحق اور وارث فاطمی ہی ہے ۔ ۱۲منہ

صفحہ 64

یہ سب احادیث مولفات نواب محمد صدیق حسن سے لی گئی ہیں۔ ناظرین کو معلوم ہو کہ یہ پیشین گوئی اور ایسی ہی مسیح والی اور ایسی ہی دجال شخصی کی ان سب میں آں حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مفصل طور پر حلیہ کا بیان فرمایا۔ جس میں کسی قسم کا اشتباہ نہ ہو گویا یہ پیش گوئی در پیش گوئی ہے۔ یعنی غلام احمد قادیانی یا امثال اس کے مسیح موعود ہونے یا مہدی موعود ہونے کا دعویٰ کریں گے اور بالخصوص غلام احمد قادیانی دجال شخصی کا منکر ہوگا۔ گویا آپ نے پہلے ہی مفصل حلیہ بیان فرما کر ان کی تکذیب پر علامات سمجھا دیئے کیونکہ ظاہر ہے کہ اگر ان خلل اندازوں کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو علم اور اندیشہ نہ ہوتا تو بیان میں اتنے اہتمام کی ضرورت ہی کیا ہے۔ ضرورت کی وجہ تو یہی ہے کہ یہ مدعیان اور ان کے مویدان جیسے امروہی صاحب ۔

بدوزد طمع دیدۂ ہوشمند

یا یوں کہو ۔

ازاں بہ کہ جاہل بود غم گسار

کے مصداق اور ان جیسے دوسرے حضرات جو حق بین والی آنکھ سے اور صراط مستقیم پر چلنے والے قدم سے محروم ہیں اور عزت اسلام سے سر برہنہ۔ بیت

گنگان و لنگان و کوران و شل
ہر آنجا کہ باشند در آں جا خلل

امت مرحومہ کو دھوکا نہ دے سکیں۔ فسبحان من جعلہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حَرِيْصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ ۔ آپ نے کمال خیر خواہی سے یہ بیان تفصیلی فرمایا۔

صفحہ 65

قادیانی نبوت اور چندہ

تحریر: پروفیسر منظور احمد ملک‘ جہلم

پروفیسر منظور احمد ملک کو ۴۰ برسوں تک قادیانی رہنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کرنے کی توفیق دی اور اب وہ قادیانیت کے چھپے گوشوں کو بے نقاب کرنے کا فریضہ ادا کر رہے ہیں تا کہ ایک عام قادیانی کو ”وہ سب کچھ“ معلوم ہو سکے جو دانستہ طور پر اس سے چھپایا جاتا ہے۔

احباب جماعت ! چند باتیں آپ سے کرنا چاہتا ہوں‘ چند ایسی باتوں کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں جو نہ صرف سوچنے کی ہیں بلکہ اس بارے میں تحقیق کرنے والی بھی ہیں‘ میں خود چونکہ اس جماعت میں ۴۰ سال گزار چکا ہوں۔ اس لئے نہ تو آپ نے ان باتوں سے انکار کرنا ہے کیونکہ میں خود ایک ”مخلص قادیانی“ کی طرح جماعتی مبلغ کی طرح تبلیغ کا کام بھی کرتا رہا ہوں اور ایک ادنیٰ کارکن کی طرح ہر کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ بھی لیتا رہا ہوں۔ آخر میں نائب امیر جماعت قادیانیہ ضلع جہلم کے عہدہ پر رہا ہوں اور جماعت کے اعلیٰ افسران سے ”واہ“ اور ”راہ“ پڑنے کے بعد تحقیق اور غور و فکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی توفیق سے جماعت سے علیحدہ ہو کر اسلام قبول کر چکا ہوں۔ اگر آپ یہ کہیں گے کہ جماعت میں ایسا نہیں ہے تو میں یہ کہنے میں حق بجانب رہوں گا کہ یا تو آپ کو جماعت کا صحیح طور پر علم نہیں ہے یا پھر آپ وظیفہ خور ”مربی“ ہیں۔

احباب جماعت ! جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ہر قادیانی بچے کے ذہن میں بچپن سے یہ ڈالا جاتا ہے کہ قادیانیت اصل اسلام ہے۔ اس آخری زمانہ کے لئے اسلام کی مکمل فتح اور غلبے کے لئے خدا نے قادیانیت کے ذمہ کام لگایا ہے‘ باقی مسلمانوں کا اسلام نہ صرف فرسودہ ہو چکا ہے بلکہ اس میں ”تحریف“ بھی ہو چکی ہے‘ اسلام کے آغاز سے جو اسلام کی اصل صورت تھی‘ قادیانیت اس اسلام کو پیش کرتی ہے وغیرہ وغیرہ۔

صفحہ 66

احباب جماعت ! اسلام کے بنیادی ارکان جن کو جماعت کا ہر فرد مانتا ہے، ان کی تعداد پانچ ہے، کلمہ طیبہ، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ ایک بنیادی رکن کی حیثیت رکھتا ہے ان میں سے کسی ایک پر عمل نہ کرنا اسلام کی بنیادی شرائط کو پورا نہ کرنے کے برابر ہے۔

احباب جماعت ! جماعت میں چندوں پر بڑا زور ہے، چندہ عام وہ بنیادی چندہ ہے جو ہر ملازم پیشہ پر لاگو ہے (بلکہ اب یہ بے روز گاروں پر بھی لاگو ہو چکا ہے) اس کی ادائیگی فرض ہے۔ ہر ملازم کی تنخواہ کا ۶.۲۵ فیصد بطور چندہ عام ادا کرنا فرض ہے۔ اس کے لئے سارا سال توجہ دلائی جاتی ہے۔ سال میں دو تین بار مرکز سے انسپکٹرز آتے ہیں اور اس چندہ کی سو فیصد وصولی یقینی بناتے ہیں، اس کی وصولی کے لئے کئی ”مذہبی لالچ“ دیئے جاتے ہیں کہ سو فیصد ادائیگی والے افراد جماعت کا نام دعا کے لئے ”حضور“ کو بھیجا جائے گا، اور فلاں وقت ان جماعتوں کا نام بھی بتایا جائے گا وغیرہ وغیرہ۔ مالی سال کے اختتام سے قبل جماعت کے سربراہ اس چندہ کی اہمیت اور وصولی کی طرف توجہ دلانے کے لئے کئی خطبات دیتے ہیں اور سال کے اختتام پر پوری طرح اس چندہ کی تفصیل بتائی جاتی ہے وعدہ وصولی اور آئندہ کے بجٹ کے بارے میں تفصیلات بتائی جاتی ہیں۔

ہر فرد پر خواہ وہ کمانے والا ہے یا بے روز گار، ان پر چندہ ”تحریک جدید“ لازم ہے۔ پہلے یہ نفلی تھا اب آہستہ آہستہ فرض بن گیا ہے۔ تحریک جدید کی سو فیصد وصولی کے لئے علیحدہ طور پر مرکز سے انسپکٹرز آتے ہیں، علیحدہ طور پر سربراہ کے خطبات آتے ہیں اور جماعت کی پوری مشینری یہ چندہ وصول کرنے پر لگ جاتی ہے۔ چندہ ”جلسہ سالانہ“ بھی ایک لازمی چندہ ہے جو ماہوار تنخواہ کا ۱۰ فیصد بطور سالانہ لیا جاتا ہے۔ اس کی وصولی کے لئے بھی سربراہ کے خطبات مخصوص ہوتے ہیں۔ ”وقف جدید“ ایک نفلی چندہ کے طور پر سامنے آیا مگر اب وہ بھی لازمی چندہ کی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ درج بالا چندوں کے انسپکٹرز سال میں دو تین بار مرکز سے آ کر چندہ کی وصولی یقینی بناتے ہیں، جن کے ذمہ بقایا ہو ان کے گھروں تک پہنچ کر وصولی کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان کے علاوہ کئی چندے ہیں :

مثلاً نوجوانوں پر (خدام الاحمدیہ پر) چندہ مجلس، چندہ تعمیر ہال، چندہ اجتماع، بزرگوں پر (انصار اللہ) چندہ بوسنیا، افریقہ، وغیرہ وغیرہ۔ چندہ صد سالہ جوبلی ۱۶ سال تک جاری رہا ہے۔

صفحہ 67

ایک قادیانی جس کی تنخواہ ۳ ہزار روپے ماہوار ہے اسے ان چندوں کی مد میں کم از کم ۳۰۰ روپے ماہوار دینا پڑتا ہے‘ جبکہ اس کی بیوی بچوں اور اگر والدین ساتھ ہوں تو ان کے بھی چندے اسی کی تنخواہ سے نکلیں گے۔ اس طرح اسے ۳۰۰ سے ۵۰۰ روپے ماہوار تک لازماً دینا پڑے گا۔ اگر نہیں دے گا تو بقایا کے طور پر جمع ہو جائے گا۔ اس طرح سال کے آخر پر اس کے ذمہ تین سے چار ہزار روپے بقایا ہو چکا ہوگا۔ اس طرح اگر کسی کی تنخواہ دس ہزار روپے ماہوار ہو تو اسے سالانہ ۱۲ ہزار روپے سے زیادہ دینا پڑے گا۔

ان چندوں کے علاوہ ایک اور نظام بھی رائج ہے وہ اس طرح کہ اگر کوئی چاہے کہ اسے مرنے کے بعد ”ربوہ“ میں خاص قبرستان ”بہشتی مقبرہ“ میں دفن کیا جائے تو اس پر لازم ہے کہ وہ چندہ عام ۲۵.۶ فیصد کی بجائے ۱۰ فیصد کے حساب سے چندہ دے اور اپنی جائیداد کا ۱۰ فیصد صدر انجمن احمدیہ (جماعت قادیانیہ) کے نام کر دے گا اور آئندہ جتنی بھی آمدنی ہو گی اس کا ۱۰ فیصد حصہ مرکز کو دیتا رہے گا۔ یہ شرائط اس دن سے لاگو ہوں گے جس دن سے وہ وصیت کرے گا اب ایک آدمی فوت ہو گیا اس کی لاش چناب نگر (ربوہ) پہنچ چکی ہے مگر اس کی جائیداد کا ۱۰ فیصد ابھی نام نہیں لگایا اس کے ذمہ چندہ کا بقایا ہے لہٰذا اس کی تدفین روک دی جائے گی‘ جب تک اس کے ورثا تمام حساب بیباک نہیں کر دیتے تدفین نہیں ہو سکتی۔

اگر ایک قادیانی درج بالا چندوں کی ادائیگی سے انکار کر دے تو وہ قادیانی رہ نہیں سکتا۔ اگر وہ چندہ نہیں دیتا یا ادائیگی میں دیر کر دیتا ہے تو وہ چندہ اس کے نام بطور بقایا جمع ہو جائے گا جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لواحقین سے وصول کیا جائے گا۔ جس کے ذمہ بقایا ہو جائے اس کا نام تشہیر کیا جائے گا وہ جماعت میں ”داغدار“ سمجھا جائے گا اور ایک دم کٹے جانور کی طرح سب کی توجہ کا مرکز بنایا جائے گا۔

احباب جماعت ! اس ساری تفصیل سے یہ بات واضح کرنا مقصود ہے کہ چندوں کی ادائیگی کے بارے میں قادیانی جماعت کتنی تیز ہے اور کس طرح ایک منظم نیٹ ورک اس میں مصروف ہے‘ مگر کیا ۔؟

آپ نے کبھی مرکز سے زکوۃ کا انسپکٹر بھی آتے دیکھا ہے؟ کبھی آپ سے زکوۃ (جو ایک لازمی اسلامی مد ہے) وصول کرنے کی کوشش کی گئی ہے؟ کبھی آپ کے بقایا میں زکوۃ بھی شامل کی گئی ہے؟ کبھی ”حضور“ (مرزا طاہر) کی طرف سے زکوۃ لیکچر یا خطبہ سنا ہے؟ کبھی

صفحہ 68

مرکزی سطح پر زکوٰۃ کی وصولی کی طرف توجہ دلانے کی کوئی کوشش آپ کے سامنے آئی؟ یقیناً نہیں ! آپ کا جواب یقیناً نفی میں ہو گا۔ کیا یہ بات قابل غور نہیں کہ اسلام کا بنیادی ستون نہ صرف چھوڑ دیا گیا ہے بلکہ مذہب سے خارج تصور کیا جاتا ہے‘ کیا اس ستون کے بغیر اسلام قائم رہ سکتا ہے؟ میری مراد ہے کیا قادیانیت کا اسلام سے واسطہ رہ سکتا ہے؟

احباب جماعت ! آپ نے ”خلیفہ وقت“ (مرزا طاہر) کی زبان سے متعدد بار جلسہ سالانہ کی برکات‘ جلسہ میں شامل ہونے والوں کے لئے نیک خواہشات اور دعاؤں کے متعلق کئی خطبے سنے ہوں گے‘ جماعت کے اعلیٰ عہدیداروں کی طرف سے بار بار جلسہ سالانہ کے پروگرام اور ان میں شمولیت کی طرف توجہ دلانے والے لیکچرز اور خطبات سنے ہوں گے۔ ”الفضل‘ خالد تشحیذ الاذہان‘ مصباح‘ اور انصار اللہ“ جیسے جماعتی جرائد و رسائل میں جلسہ سالانہ ربوہ‘ لندن کی تمام تفصیلات پڑھنے کو ملتی رہتی ہیں۔ ان تمام کوششوں سے ایک نوجوان جو بچپن سے یہ سنتا آ رہا ہے اور اب ۲۵ / ۳۰ سال کا ہو چکا ہے‘ اسے جلسہ کے ہر پہلو کے بارے میں اتنی زیادہ عقیدت پیدا ہو چکی ہے جس کا تصور کوئی غیر قادیانی کر ہی نہیں سکتا۔

مگر کیا آپ نے کبھی ”خلیفہ وقت“ کی زبان سے حج کے بارے میں کوئی خطبہ سنا ہے؟ کبھی ”حضور“ نے احباب جماعت کو مناسک حج کے بارے میں تفصیلات بتائی ہیں؟ کسی اعلیٰ جماعتی عہدیدار سے کبھی حج پر لیکچر سنا ہے؟ آپ کا جواب یقیناً نفی میں ہو گا۔ ایسا کیوں؟ ایک اہم اسلامی بنیادی رکن کو نہ صرف نظر انداز کیا گیا ہے بلکہ اس کے مقابل پر مرزا بشیر الدین محمود احمد (دوسرے خلیفہ) نے کتنے حج کئے! ۵۱ سال قادیانیوں کی امامت میں تو انہیں ۳۰ سے زائد حج کرنے چاہئے تھے مگر آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے غالباً ایک کیا‘ کتنے حج کئے؟ ان کو تو مذہب سے خاصا لگاؤ تھا‘ انہوں نے ہی قادیانیوں کو بتایا کہ غیر قادیانی نہ صرف کافر بلکہ پکے کافر ہیں‘ اور ان کی ایسی ہی ”نرم و نازک“ تحریرات نے ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کو اقلیت قرار دلوا کر یہاں تک پہنچایا۔

پھر قادیانی پابندی کی وجہ سے حج تو نہیں کرتے مگر ہزاروں روپے لگا کر انگلینڈ میں جلسہ میں شمولیت کے لئے جاتے ہیں۔ ایک سرکاری ملازم سرکاری اجازت سے ملک سے باہر نہیں جا سکتا مگر قادیانی سرکاری ملازم جعلی پاسپورٹوں اور خفیہ اور غلط معلومات فراہم کر کے بیرون ملک جلسہ میں شمولیت کے لئے جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ ہندوستان میں قادیان کے جلسہ پر بھی جاتے ہیں‘ اس جلسہ کے لئے ک ہیں کہ حج کے مقابل پر جلسہ کی

احباب جماعت ! پانچ بنیادی ارکان پر ایمان ر زکوٰۃ) سے کلی انحراف آپ ک کہہ سکتے ہیں؟

احباب جماعت ! ہوں‘ جب کسی مقامی جماعت انتخاب کے وقت ایسے افراد ک چندہ بقایا ہو‘ خواہ وہ آدمی کتنا ہ طور پر نکال دیا جائے گا۔ ایس اب ووٹ دینے والے افراد ک نہ ہی کبھی وہ جماعتی سرگرمیوں چند لمحے قبل اس نے پیسے د وہ امیر جماعت اور دیگر جماع بلکہ وہ آدمی پورا حق رکھتا ہے یہاں تک کہ اسے امیر جماعت

احباب جماعت ! چندہ یعنی پیسہ ہے جو پیسہ د کیا یہی قابل مذمت کردار یا نے اس ملک پاک کے ماحو آگے اور جو پیسہ نہ لگا سکے مذہبی جماعت ہے‘ کہاں گیا

اب ذرا طریقہ ان سب کے سب یا کچھ‘ کسی و

صفحہ 69

جاتے ہیں، اس جلسہ کے لئے کسی پابندی کی پرواہ نہیں کرتے گویا وہ اپنے عمل سے ثابت کرتے ہیں کہ حج کے مقابل پر جلسہ کی اہمیت زیادہ ہے۔

احباب جماعت ! اگر آپ ابھی تک اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں اور اس کے پانچ بنیادی ارکان پر ایمان رکھنا ضروری سمجھتے ہیں تو پھر جماعت کے دو ارکان اسلام (حج، زکوٰۃ) سے کلی انحراف آپ کو کس طرف لے جا رہا ہے؟ اور آپ کیسے اپنے آپ کو مسلمان کہہ سکتے ہیں؟

احباب جماعت ! اب ایک اور اہم مسئلہ کی طرف آپ کی توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں، جب کسی مقامی جماعت میں صدر جماعت / امیر مقامی کے انتخاب کا وقت آتا ہے تو انتخاب کے وقت ایسے افراد کو باہر نکال دیا جاتا ہے جن کے ذمہ چھ ماہ یا اس سے زائد ماہ کا چندہ بقایا ہو خواہ وہ آدمی کتنا ہی نیک، متقی، پرہیزگار، شریف اور پنجگانہ نماز کا پابند ہو اسے لازمی طور پر نکال دیا جائے گا۔ ایسا آدمی نہ ووٹ دے سکتا ہے اور نہ ہی کوئی عہدیدار بن سکتا ہے، اب ووٹ دینے والے افراد میں ایسے بھی شامل ہوں گے جو نہ تو نماز کے پابند ہیں، نہ متقی ہیں، نہ ہی کبھی وہ جماعتی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں بلکہ مذہب سے ہی دور ہیں۔ بس الیکشن سے چند لمحے قبل اس نے پیسے دے دیئے ہیں، اب ان کو جماعت کی طرف سے اختیار دیا گیا ہے کہ وہ امیر جماعت اور دیگر جماعتی عہدیداروں (ممبران مجلس عاملہ) کا انتخاب کریں، نہ صرف یہ بلکہ وہ آدمی پورا حق رکھتا ہے بلکہ اہل ہے کہ اسے بے شک جماعت کا عہدیدار چن لیا جائے، یہاں تک کہ اسے امیر جماعت بھی بنایا جا سکتا ہے۔

احباب جماعت ! ذرا غور فرمائیں کہ جماعتی عہدیدار یا ووٹر کی اہلیت صرف اور صرف چندہ یعنی پیسہ ہے جو پیسہ دے گا، وہ متقی تصور ہوگا اور جو پیسہ نہیں دے گا وہ رد کر دیا جائے گا۔ کیا یہی قابل مذمت کردار یا اصول ہمارے سرکاری کرپٹ اداروں یا افراد میں رائج نہیں؟ جس نے اس ملک پاک کے ماحول کو مکدر کر رکھا ہے کہ جس نے پیسہ لگایا وہ ”معزز“ اور سب سے آگے اور جو پیسہ نہ لگا سکے وہ قابل نفرت، جماعت قادیانیہ کا تو یہ دعویٰ ہے کہ وہ ایک خالصتاً مذہبی جماعت ہے، کہاں گیا مذہب؟

اب ذرا طریقہ انتخاب بھی ملاحظہ فرمائیں کہ جو ”اہل افراد“ ووٹ دینے بیٹھے ہیں وہ سب کے سب یا کچھ، کسی وقت بھی عہدیدار بن سکتے ہیں، کیونکہ انتخاب کے آغاز پر ایک آدمی

صفحہ 70

اٹھ کر کسی بھی فرد کا نام کسی عہدے کے لئے پیش کرے گا نامزد کردہ فرد کو معلوم بھی نہیں ہوگا اور نہ اس کی اپنی رائے اس میں شامل ہوگی بلکہ وہ اگر انکار بھی کر دے تو بھی وہ نامزد ہی رہے گا پھر ایک اور آدمی اس نام کی تائید کرے گا اس طرح کسی دوسرے شخص کا نام اس عہدے کے لئے پیش ہو گا جس کے لئے پہلے ایک نامزد ہو چکا ہو گا کوئی دوسرا شخص دوسرے نام کی تائید کرے گا اور یوں دو نام مد مقابل سمجھے جائیں گے ایک کھلے عام ووٹنگ ہوگی، لوگوں سے کہا جائے گا کہ جو پہلے کے حق میں ہیں وہ ہاتھ کھڑا کریں، اگر تو پہلا آدمی اثر و رسوخ والا ہے تو سب ہی ووٹ اس کو ملیں گے اور اگر دوسرا شخص اثر و رسوخ والا ہے تو اس کے لئے ووٹ محفوظ رکھیں گے۔ خفیہ رائے شماری کا تصور ہی نہیں ہے سیدھی سی بات ہے کہ تمام دیہاتی مجالس میں انتخاب کے وقت صرف ڈانگ مار جاگیردار وڈیرے اور پھڈے باز کو ہی ووٹ ملیں گے بلکہ ملتے ہیں کیونکہ ایسے افراد کے رشتہ دار اور زیر اثر افراد بھی زیادہ ہوتے ہیں اور پھر دوسرے لوگ ان کے سامنے مخالف کو ووٹ دینے سے گھبراتے ہیں اس لئے جن مجالس میں ایک دفعہ ایسا آدمی صدر جماعت / امیر جماعت بن جاتا ہے تو وہ مرتے دم تک اس عہدے پر قائم رہتا ہے کیونکہ تین سال کے لئے بننے والا امیر جماعت تین سال میں اپنی پوزیشن مضبوط کر لیتا ہے اس کے بعد اس کے علیحدہ ہونے کا چانس ختم ہو جاتا ہے پھر انتخاب کا طریقہ کار بھی ایسا ہے کہ کوئی آدمی کسی کے خلاف بات نہیں کر سکتا، کوئی ریمارکس نہیں دے سکتا اور نہ ہی اپنے بارے میں رائے ہموار کر سکتا ہے اب ایک بدنام اور کرپٹ آدمی صدر جماعت بن گیا تو وہ اسی عہدے پر قائم رہے گا اسے علیحدہ کرنے کا کوئی طریقہ نہیں۔ جماعت اسے علیحدہ نہیں کر سکتی کیونکہ وہ کہتی ہے: ”جنہوں نے ووٹ دے کر اسے بنایا ہے وہ اسے اتاریں“۔ اب کون اس کے سامنے کسی اور کو ووٹ دے کر اپنے لئے دشمنی مول لے؟

یہ اسی فرسودہ اور ناقابل فہم و عمل نظام کا نتیجہ ہے کہ کئی جماعتوں کے امیر سال ہا سال سے چلے آ رہے ہیں، کسی شہر یا ضلع کا امیر جماعت ۲۰ سال سے ہے تو کسی کا تیس سال سے بلکہ ایک کا سینتالیس سال سے ہے۔ یہ تمام امرا تا مرگ اس عہدے پر رہتے ہیں اور اپنے تاحیات اقتدار کی وجہ سے وہ تمام قسم کے اصولوں، ضابطوں، قواعد اور مصلحتوں سے بری ہوتے ہیں، وہ فری اسٹائل حکومت کرتے ہیں اور ایک آئیڈیل قسم کی آمریت کا چلتا پھرتا نمونہ ہوتے ہیں۔ افراد کی درج بالا ”خصوصیات“ کی وجہ سے قادیانی جماعت کو چھوڑ چلے جا رہے ہیں، یہ

صفحہ 71

سلسلہ جاری ہے اور دن بدن تیز ہوتا جا رہا ہے‘ جماعت سے علیحدہ ہونے والے افراد کی اکثریت تعلیم یافتہ اور جماعت کی فرسودہ روایات اور امرا کی زیادتیوں سے بیزار ہوتی ہے۔

احباب جماعت! ایک بار پھر ذرا طریقہ انتخاب پر واپس آئیں کہ ایک غیر متقی‘ غیر صالح فرد کو آپ نے امیر جماعت بنا دیا‘ جسے تفصیل سے عرض کیا ہے کہ ایک وڈیرے‘ جاگیردار‘ ڈانگ مار‘ پھٹے باز کو امیر جماعت بنا دیا گیا‘ اب پورے پاکستان کے یہ امرا پہلے اپنے ضلعوں کے امیر جماعت بنائیں اور پھر وہ پورے پاکستان یا پوری جماعت کا امیر یعنی ”خلیفہ“ کا انتخاب کریں گے۔ ذرا ملاحظہ فرمائیں زہریلے دودھ سے کتنا ”پیارا مکھن“ حاصل ہو رہا ہے؟ شاید یہ بھی جماعت کا ”معجزہ“ ہے۔ ان غیر مذہبی اور غیر متقی افراد کا لیڈر کس طرح اور کس حد تک متقی ہو سکتا ہے؟ اب ”مخلص قادیانی“ فوراً کہہ دیں گے کہ امرا کا عہدہ تو انتظامی ہے یا ”خلیفہ“ تو انتظامی عہدہ ہے۔

اب اس پہلو کا جائزہ بھی لیتے ہیں۔ ایک وڈیرے کو آپ نے امیر جماعت بنا دیا‘ اس کی جماعت میں مرکز کی طرف سے ایک مربی بھی موجود ہے‘ مربی سات سال تک مذہبی دینی تعلیم حاصل کر کے مرکز کی طرف سے مقرر کیا گیا ہے‘ مگر جماعت کے قواعد وضوابط کے مطابق جمعہ کے خطبے کا پہلا حق امیر جماعت کا ہے اگر وہ مربی کو حکم دے تو پھر مربی خطبہ دے گا۔ اب جمعہ کا خطبہ تو خالصتاً ایک مذہبی‘ دینی فریضہ ہے اس میں امیر جماعت کا کیا کام؟ کیونکہ امیر جماعت کے لئے تو کسی مذہبی تعلیم کی پابندی نہیں اور نہ ہی دنیاوی تعلیم کا ہونا ضروری ہے‘ ہو سکتا ہے وہ بالکل ان پڑھ ہو مگر جماعتی قواعد کے مطابق خطبے کا پہلا حق امیر جماعت کا ہے۔

اسی طرح امرا جماعت کے انچارج یعنی ”خلیفہ“ کی حیثیت جماعت میں صرف انتظامی نہیں بلکہ وہ کل ہیں‘ ہر معاملہ میں خواہ دینی ہو‘ انتظامی ہو‘ پالیسی ہو یا معاملہ کی کچھ نوعیت بھی ہو ”خلیفہ“ کی حیثیت سب سے اعلیٰ ہے۔ آخری فیصلہ اس کا ہے وہ کسی کے پابند نہیں اور نہ ہی کسی کے آگے جواب دہ‘ نہ ہی اس کا کوئی فیصلہ کسی جگہ چیلنج ہو سکتا ہے‘ ہر قسم کا انتظامی فیصلہ اور ہر قسم کا مذہبی فتویٰ اس کی طرف سے ہو گا۔ یہ عجیب و غریب قواعد و ضوابط قول و فعل قادیانی احباب کو عقیدت کی چادر کے نیچے مسحور رکھتے ہیں۔

صفحہ 72

احباب جماعت ! اب ذرا مذکورہ بالا امیر جماعت کی ”طاقت“ ملاحظہ فرمائیں، اگر ایک قادیانی امیر جماعت کے رویہ، ریمارکس، کردار یا کسی مذہبی یا جماعتی بات پر امیر جماعت سے اختلاف رکھتا ہے تو امیر جماعت اس کے خلاف شکایت افسران بالا کو کر دے گا، ایک امیر جماعت کا مؤقف جتنا مرضی کمزور ہو یا اس کا رویہ جتنا مرضی قابل اعتراض ہو اور جس کے خلاف شکایت کی جا رہی ہے وہ جتنا مرضی ٹھیک ہو بات امیر جماعت کی سنی جائے گی، امیر جماعت کی شکایت پر کیا کارروائی ہو گی اس کی بات پھر سہی، اس وقت اس قادیانی کے مستقبل کے بارے میں ذرا پڑھئے:

اس مخلص قادیانی سے کیونکہ امیر جماعت ناراض ہے۔ لہٰذا اس سے ”خلیفہ وقت“ بھی ناراض ہوں گے کیونکہ امیر جماعت خلیفہ کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے لہٰذا خلیفہ کا ناراض ہونا لازمی امر ہے اور جس سے خلیفہ ناراض ہے۔ قادیانی عقیدت و عقائد کے مطابق خدا تعالیٰ بھی اس سے ناراض ہے، اب جس سے خدا ناراض ہے اس کے مستقبل کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔

اب اگر امیر جماعت اس مخلص قادیانی سے راضی ہو گا تو خدا راضی ہو گا، گویا خدا تعالیٰ اس جماعت کے امیر کی مرضی کا پابند ہے اگر وہ اجازت دے گا تو خدا تعالیٰ اس آدمی سے راضی ہو سکتا ہے ورنہ نہیں۔ (نعوذ باللہ)

درج بالا صورت بالکل اسی طرح جماعت میں رائج ہے اب صورت حال یہ بنی کہ خدا تعالیٰ ہر گاؤں کے ہر قادیانی جماعت کے وڈیرے ڈانگ مار اور پھڑے باز شخص کی مرضی کا پابند ہو گا، جس کے بارے میں وہ کہے گا کہ : اسے بخش دو خدا اس کو بخش دے گا اور جس کے بارے میں دوزخ ریکمنڈ کرے گا خدا اسے دوزخ میں بھیجنے کا پابند ہے۔ (نعوذ باللہ)

درج بالا حقائق کو قادیانی تسلیم کریں گے مگر اظہار نہیں کر سکیں گے کیونکہ ”آزادی ضمیر“ کا جو نمونہ قادیانی جماعت میں ہے وہ کسی اور جگہ نہیں۔

☆☆........................☆☆

صفحہ 73

قادیانی نبی اور برطانوی نجومی

مولانا تاج محمدؒ

مسلمانوں اور قادیانیوں کے مابین جو مشہور مقدمہ جناب محمد اکبر خان صاحب ڈسٹرکٹ جج ضلع بہاولپور کی عدالت میں دائر تھا۔ ۷ فروری ۱۹۳۵ء کو مسلمانوں کے حق میں اس کا فیصلہ ہوا‘ اس مقدمہ میں نبی اور نبوت کی تعریف بھی زیر بحث آئی۔

محمد اکبر خاں صاحب نے اپنے فیصلہ میں تحریر فرمایا کہ نبی اور مقام نبوت کی جو تعریف میں نے ایک رسالہ میں پڑھی ہے۔ میرے خیال میں اس سے بہتر اور تعریف نہیں ہوسکتی آگے تحریر فرماتے ہیں کہ صاحب مضمون لکھتے ہیں کہ:

”ہم نبوت کی حقیقت اور ماہیت کو تو نہیں جان سکتے لیکن قرآن کریم نے مقام نبوت کا جو تصور پیش کیا ہے وہ اس قدر عظیم اور بلند ہے کہ ساری کائنات اس کے سامنے جھکی ہوئی نظر آتی ہے۔ نبوت کا مقام اس قدر عظیم المرتبت ہے کہ اس کے تصور سے روح میں بالیدگی‘ نگاہوں میں بصیرت‘ ذہن میں جلاء‘ قلب میں روشنی‘ خون میں حرارت‘ بازوؤں میں قوت‘ ماحول میں درخشندگی‘ فضا میں تابندگی اور کائنات کے ذرہ ذرہ میں زندگی کے آثار نمودار ہو جاتے ہیں۔ نبی کا پیغام انقلاب آفرین‘ دین و دنیا کی سرفرازیوں اور سربلندیوں کا امین ہوتا ہے۔ وہ مردوں کی بستی میں صور اسرافیل پھونک دیتا ہے۔ اس سے قوم کے عروقِ مفلوج میں پھر سے خونِ حیات رقص کرنے لگ جاتا ہے۔ وہ اپنی ملت کو زمین کی پستیوں سے اٹھا کر آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیتا ہے‘ وہ اپنی ہوشربا تعلیم اور محیرالعقول عمل سے باطل کے تمام نظام ہائے کہنہ کی بنیادیں اکھیڑ کر آئین کائنات کو ضابطہ خداوندی پر متشکل کر دیتا ہے۔ اس سے زندگی ایک نئی کروٹ لیتی ہے۔ آرزوئیں آنکھیں ملتی ہوئی اٹھتی ہیں۔ ولولے جاگ پڑتے ہیں۔ ایمان کی حرارتیں دلوں میں سوز اور جگر میں گداز پیدا کرتی ہیں۔ روح کی مسرتوں کے چشمے ابلتے

صفحہ 74

ہیں ۔ قلب وجگر کی نورانیت کی سوتیں پھوٹتی ہیں‘ تازہ امیدوں کی کلیاں مہکتی ہیں ۔ زندہ مقاصد کے غنچے چٹکتے ہیں اور اس خوش بخت قوم کا چمن دامان صد باغبان و کف ہزار گلفروش کا فردوسی منظر پیش کرتا ہے حکومت الہیہ کا قیام اس کا نصب العین اور قوانین خداوندی کا نفاذ اس کا منتہی ہوتا ہے۔ جب اس کے ہاتھ خدا کی بادشاہت کا تخت اجلال بچھتا ہے تو باطل کی لہر طاغوتی طاقت‘ پہاڑوں کی غاروں میں منہ چھپاتی پھرتی ہے۔ جور واستبداد کے قصر فلک بوس کے کنگرے سجدہ ریز ہو جاتے ہیں۔ طغیان وسرکشی کے آتش کدے ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں۔ وہ اپنے ساتھیوں کی قدوسی جماعت کے ساتھ اعلائے کلمۃ الحق کے لیے باہر نکلتا ہے تو فتح وظفر اس کی رکاب چومتی ہے۔ شوکت وحشمت اس کے جلو میں چلتی ہے۔ سرکشی اور خود پرست قوتیں اس کے خدائے واحد القہار کا کلمہ پڑھتی ہیں خدا اور اس کے فرشتے ان انقلاب آفرین ملکوتی کارناموں پر تحسین و تبریک کے پھولوں کی بارش کرتے ہیں ۔“

مرزا غلام احمد قادیانی

اب ہمارے سامنے ایک کذاب مُدّعیِ نبوت مرزا غلام احمد قادیانی آتا ہے۔ جس کی ساری عمر انگریزوں جیسی ابلیسی سیاست کی حامل قوم کی غلامی کی تلقین و تاکید میں گذر جاتی ہے۔ جو ۲۳ برس تک اپنی باون کتب میں مدعی نبوت کو کاذب‘ کافر‘ لعنتی‘ مسیلمہ کذاب کا بھائی اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیتا رہا۔ مرنے سے چند برس پیشتر ۱۹۰۱ء میں کھلم کھلا نبوت کا دعویٰ کرتا ہے نبی اور نبوت کی تعریف کے چار معانی میں بیان کرتا ہے۔

”ایسا شخص جس کو بکثرت ایسی پیش گوئیاں بذریعہ وحی دی جائیں یعنی اس قدر کہ اس کے زمانہ میں اس کی نظیر نہ ہو۔ اس کا نام ہم نبی رکھتے ہیں ۔ کیونکہ نبی اس کو کہتے ہیں جو خدا کے الہام سے بکثرت آئندہ کی خبریں دے ۔“

”نبی ایک لفظ ہے جو عربی اور عبرانی زبان میں مشترک ہے۔ یعنی عبرانی میں اس لفظ کو ’نابی‘ بھی کہتے ہیں ۔ اور یہ لفظ ’نبأ‘ سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں خدا سے خبر پا کر

صفحہ 75

پیشگوئی کرنا...... پس میں جبکہ اس مدت تک ڈیڑھ سو پیشگوئی کے قریب خدا کی طرف سے پا کر بچشم خود دیکھ چکا ہوں کہ صاف طور پر پوری ہوگئیں۔ تو میں اپنی نسبت نبی یا رسول کے نام سے کیونکر انکار کرسکتا ہوں ۔“

مرزا غلام احمد قادیانی بزعم خود اس وجہ سے نبی کہلانے کا مستحق ہے کہ اس نے کثرت سے پیشگوئیاں کیں۔ اور مرزا صاحب کے خیال کے مطابق وہ پوری ہوگئیں اور وہ اس وجہ سے نبی بن گیا۔ گویا نبی کا دنیا میں آ کر سوائے پیشگوئیاں کرنے کے اور کوئی کام ہی نہیں۔ جس کو دوسرے الفاظ میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ گویا نبی بھی ایک بہت بڑا نجومی ہوتا ہے۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں لہٰذا بقول مرزا غلام احمد اگر دنیا میں آ کر نبی کا کام پیشگوئیاں کرنا ہے تو نبوت کا قصہ پاک ہو گیا اور نبوت ایک بے معنی چیز ہو کر رہ گئی۔

مرزا صاحب اربعین نمبر ۴ میں لکھتے ہیں: ”مدعی کاذب کی پیشگوئی پوری نہیں ہوتی۔ یہی قرآن کی تعلیم ہے یہی تورات کی ۔“

بطور نمونہ از خروارے مرزا صاحب کی چند پیشگوئیاں لیجئے۔

مرزا صاحب کی پیشگوئیاں

کی کہ ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کے بعد بعض بابرکت عورتیں میرے نکاح میں آئیں گی۔ لیکن ۱۸۸۶ء کے بعد تادم مرگ مرزا صاحب کے نکاح میں ایک عورت بھی نہ آئی۔ پیشگوئی غلط ثابت ہوئی۔

کے نو نام ہوں گے۔ لیکن لڑکے کی بجائے لڑکی پیدا ہوئی۔ جو مرزا صاحب کی رسوائی کا موجب بنی۔

”میرے لیے بھی اَسّی برس کی زندگی کی پیشگوئی ہے“ لیکن مرزا صاحب ۷۰ ستر برس تک بھی نہ پہنچے۔ پیشگوئی غلط نکلی جو مرزا کی امت کی ذلت و رسوائی کا باعث بنی۔

صفحہ 76

مرزا نے کہا کہ میرے خدا نے مجھے بشارت دی ہے کہ دو عورتیں تیرے نکاح میں لاؤں گا۔ ایک کنواری ہوگی دوسری بیوہ۔ (کنواری کے ساتھ تو ۱۸۸۴ء میں شادی ہوگئی) مرزا قادیانی ”تریاق القلوب“ ص ۴۳ پر لکھتے ہیں کہ کنواری بیوی سے تو اولاد موجود ہے۔ ”بیوہ کے الہام کا انتظار ہے“ لیکن زندگی بھر مرزا صاحب کا کسی بیوہ سے نکاح نہ ہوسکا۔

الرحمٰن“ کے ص ۱۳۹ پر لکھا کہ میرے چار لڑکے ہیں۔ اور اب پانچویں کی بشارت اللہ تعالیٰ نے دی ہے۔ لیکن لڑکے کی بجائے لڑکی پیدا ہوئی۔ مرزا صاحب رسوا ہوئے۔

ایک قیامت خیز زلزلہ آئے گا۔ (تبلیغ رسالت جلد دہم ص ۷۹) ایک یوم بعد پھر لکھا کہ زلزلہ آئے گا۔ بیس یوم بعد پھر ۲۹ اپریل ۱۹۰۵ء کو اشتہار دیا کہ قیامت خیز زلزلہ آئے گا۔ دس یوم بعد ۱۱ مئی ۱۹۰۵ء کو گھر کا سامان لے کر اپنے باغ میں چلے گئے زلزلے کا انتظار کرتے کرتے تھک گئے لیکن زلزلہ نہ آیا۔ اس کے نو ماہ بعد یکم مارچ ۱۹۰۶ء کو اشتہار دیا کہ قیامت خیز زلزلہ جلد آنے کو ہے۔ آٹھ روز بعد ۹ مارچ ۱۹۰۶ء کو پھر اشتہار کے ذریعہ زلزلہ کی خبر دی۔ اس کے بائیس روز بعد ۳۱ مارچ ۱۹۰۶ء کو ایک نظم کے ذریعہ پھر قیامت خیز زلزلہ کی اطلاع دی۔ براہین احمدیہ حصہ پنجم کے ص ۹۱ پر لکھا کہ میں نے آئندہ زلزلہ کی نسبت جو پیش گوئی کی ہے وہ کوئی معمولی پیشگوئی نہیں ہے۔ اگر میری زندگی میں اس کا ظہور نہ ہوا تو میں خدا کی طرف سے نہیں۔ لیکن مرزا صاحب کی زندگی میں کوئی زلزلہ نہ آیا۔ پیش گوئی غلط نکلی۔ مرزا صاحب ذلیل و رسوا ہوئے۔

۵ ستمبر ۱۸۹۴ء تک پندرہ ماہ کے اندر اندر مرجائے گا۔ اگر پادری عبداللہ آتھم پندرہ

ماہ کے اندر نہ میرے گلے میں کی پیشگوئی کے شاندار جلوس ن

انگلستان کا مشہور پیش

اب ہم مرزا صا نکلی تھیں۔ ایک طرف قاد انگلستان کا مشر ۱۹۳۶ء میں ہوا۔ اس کی و کی پیشگوئیاں‘ شائع ہوئ ضلع سرگودھا نے ماہ جنور ”ابھی چند ماہ تفاوت ہوا ہے۔ اس کی پیش کر دی ہیں جو اس نے یہ ایک حقیقت سمجھ میں نہ آیا کہ اس پر ا چند پیش گوئیوں کا تذکرہ ق

ہی ہوا۔

ان کی تاج پوش

صفحہ 77

ماہ کے اندر نہ مرے تو (۱) مجھے ذلیل کیا جائے (۲) میرا منہ کالا کیا جائے (۳) میرے گلے میں رسہ ڈال کر مجھ کو پھانسی دی جائے۔ لیکن پادری آتھم مرزا صاحب کی پیشگوئی کے مطابق پندرہ ماہ کے اندر نہ مرا۔ تاریخ مقررہ پر عیسائیوں نے آتھم کا شاندار جلوس نکالا۔ جو مرزا صاحب کی انتہائی ذلت و رسوائی کا موجب بنا۔

انگلستان کا مشہور پیشین گو ( نجومی )

اب ہم مرزا صاحب کے ہم عصر نجومی چیریو کی پیشگوئیوں کو لیتے ہیں۔ جو سب سچی نکلی تھیں۔ ایک طرف قادیاں کا ”مدعی نبوت“ دوسری جانب انگلستان کا نجومی ہے۔ انگلستان کا مشہور پیشین گو جس کا اصلی نام کاؤنٹ لوئی ہیمن تھا۔ اس کا انتقال ۱۹۳۶ء میں ہوا۔ اس کی وفات پر تیج دہلی ۱۵ دسمبر ۱۹۳۶ء ص ۶ پر ایک مضمون بعنوان ”چیریو کی پیشگوئیاں“ شائع ہوا تھا۔ ہندوستان کے دوسرے رسائل کے علاوہ ماہنامہ شمس الاسلام بھیرہ ضلع سرگودھا نے ماہ جنوری ۱۹۳۶ء کی اشاعت میں اس مضمون کو ان الفاظ میں درج کیا۔

”ابھی چند ماہ گزرے ہیں کہ مشہور پیشین گو چیریو جس کا اصلی نام کاؤنٹ لوئی ہیمن تھا فوت ہوا ہے۔ اس کی موت کے واقعہ نے بہت سی اہم پیشگوئیاں از سر نو دنیا کے سامنے پیش کر دی ہیں جو اس نے بعض برسر آوردہ شخصیتوں کے متعلق کی تھیں۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ چیریو کی بہت سی پیشگوئیاں حرف بحرف سچی نکلیں۔ مگر یہ کسی کی سمجھ میں نہ آیا کہ اس پراسرار ہستی نے یہ قدرت اور طاقت کیونکر حاصل کی تھی۔ بہر حال اس کی چند پیش گوئیوں کا تذکرہ قارئین کی ضیافت طبع کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

ہی ہوا۔

ان کی تاج پوشی کو خطرے میں ڈال دیں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

صفحہ 78

الگزنڈرا نے چیر یو کو بلوا کر دریافت کیا تو اس نے کہا کہ بادشاہ صحت یاب ہوں گے اور ان کی تاجپوشی ۹ اگست کو ہوگی۔ بالکل ایسا ہی ہوا۔

کتب خانہ میں بلوایا اور ایک شخص جس کا نام اور پتہ پوشیدہ رکھ لیا گیا۔ صرف تاریخ پیدائش چیر یو کو دے کر اس کا مستقبل دریافت کیا گیا۔ چیر یو نے جواب میں یہ الفاظ لکھ دیئے۔

”خواہ یہ کوئی شخص ہو عمر بھر جنگ اور خون ریزیوں کی دہشت میں مبتلا رہے گا اور آخر کار ۱۹۰۷ء میں موت کا شکار ہوگا۔“

یہ شخص زارِ روس تھا جس نے خود چیر یو سینٹ پیٹرز برگ بلوایا اور اسی کے ہاتھ کا لکھا ہوا مذکورہ بالا پرچہ دکھلایا۔ چیر یو نے کہا کہ جو پیش گوئی اس نے کی ہے صحیح ثابت ہوگی۔ زار نے اس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میں خوش ہوں کہ تم اپنے فیصلے پر اس طرح قائم رہتے ہو۔ چیر یو نے جو کچھ کہا تھا بالکل سچ ثابت ہوا ۱۹۱۷ء کے انقلاب روس نے زار اور اس کی حکومت کا خاتمہ کر دیا۔

شاہی محل میں اس کا قتل ہوگا اور اس سلسلہ میں زہر خنجر اور گولی تینوں چیزیں استعمال کی جائیں گی چنانچہ ایسا ہی ہوا اور یہ واقعہ دنیا کے لیے افسانہ بن گیا۔

صفحہ 79

مسئلہ تکفیر اہل قبلہ

مفتی محمد شفیعؒ

جو لوگ ایمان و اسلام کا اظہار کرتے ہیں اور نماز روزہ وغیرہ کے پابند ہیں مگر اسلام کے کسی قطعی اور یقینی حکم میں تاویلات باطلہ کر کے تصریحات کتاب وسنت اور اجماع امت کے خلاف اس کا مفہوم بدلتے ہیں، ان کو کافر و مرتد قرار دینے پر دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ لوگ کلمہ گو اہل قبلہ ہیں اور اہل قبلہ کی تکفیر باتفاق امت ممنوع ہے اس لئے ضروری ہے کہ اس جگہ اہل قبلہ کے مفہوم کو واضح کیا جائے۔

اصل اس بات میں آنحضرت ﷺ کی دو حدیثیں ہیں۔ ایک وہ جو بخاری و مسلم وغیرہ میں اطاعت امراء کے بارے میں حضرت انسؓ سے منقول ہے اس کے الفاظ یہ ہیں:

من شهد ان لا اله الا الله واستقبل قبلتنا وصلى صلوتنا واكل ذبيحتنا فهو مسلم ، الا ان تروا كفرا بواحا عندكم من الله فيه برهان .

"جو شخص لا الہ الا اللہ کی شہادت دے اور ہمارے قبلہ کا استقبال کرے اور ہماری نماز پڑھے اور ہمارا ذبیحہ کھائے تو یہی مسلمان ہے مگر یہ کہ دیکھو تم کفر صریح تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس میں دلیل ہو ۔"

اور دوسری روایت ابو داؤد کتاب الجہاد میں ہے جس کا متن یہ ہے:

صفحہ 80

عن انس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاث من اصل الايمان الكف عمن قال لا اله الا الله ولا تكفره بذنب ولا تخرجه الاسلام بعمل الحديث.

”حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تین چیزیں اصل ایمان ہیں رکنا اس شخص سے جو لا الہ الا اللہ کہے اور نہ تکفیر کرو اس کی کسی گناہ کے سبب اور نہ اسے خارج از سلام قرار دو کسی عمل کے سبب۔

اس میں سے پہلی حدیث میں تو ختم کلام پر خود ہی تصریح کر دی گئی ہے کہ کلمہ گو کو اس وقت تک کافر نہ کہا جائے گا جب تک اس سے کوئی قول یا فعل موجب کفر صریح اور ناقابل تاویل یقینی طور پر ثابت نہ ہو جائے۔

اور دوسری حدیث کے الفاظ میں اس کی تصریح ہے کہ کسی گناہ یا عمل کی وجہ سے خواہ وہ کتنا ہی سخت ہو کافر نہ کہا جائے گا۔ لیکن باتفاق علماء امت‘ گناہ سے مراد اس جگہ کفر کے سوا اور دوسرے گناہ ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ عملی خرابیاں‘ فسق و فجور کتنا ہی زیادہ ہو جائے ان کی وجہ سے اہل قبلہ کو کافر نہ کہا جائے گا۔ نہ یہ کہ وہ قطعیات اسلام کے خلاف عقائد کا اظہار بھی کرتا رہے تب بھی اس کو کافر نہ سمجھا جائے۔

مانعین زکوٰۃ اور مدعی نبوت مسیلمہ کذاب اور اس کی جماعت کو کافر و مرتد قرار دے کر ان سے جہاد کرنے پر صحابہ کرام کا اجماع اس کی کھلی ہوئی شہادت ہے کہ اہل قبلہ جن کی تکفیر ممنوع ہے۔ اس کا مفہوم یہ نہیں کہ جو قبلہ کی طرف منہ کرلے یا نماز پڑھ لے۔ اس کو کسی عقیدۂ باطلہ کی وجہ سے بھی کافر نہ کہا جائے۔ بلکہ معلوم ہوا کہ کلمہ گو یا اہل قبلہ یہ دو اصطلاحی لفظ ہیں‘ ان کے مفہوم میں صرف وہ مسلمان داخل ہیں جو شعائر اسلام نماز وغیرہ کے پابند ہونے کے ساتھ تمام موجبات کفر اور عقائد باطلہ سے پاک ہوں۔

اہل قبلہ کا یہ مفہوم‘ تمام علماء امت کی کتابوں میں بصراحت و وضاحت موجود ہے۔ ذیل میں چند اقوال ائمہ اسلام کے پیش کئے جاتے ہیں‘ جن سے دو چیزوں کی شہادت پیش کرنا مقصود ہے۔

صفحہ 81

اور اجماع امت سے ثابت شدہ مفہوم کے خلاف کوئی مفہوم قرار دینا بھی تکذیب رسول کے حکم میں ہے۔ اور ایسی تکذیب کو ”زندقہ و الحاد“ کہا جاتا ہے۔ محقق ابن امیر الحاج جو حافظ ابن حجر اور شیخ ابن ہمام کے مشہور شاگرد اور محقق ہیں، شرح تحریر الاصول ”اہل قبلہ“ کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

هو الموافق على ما هو من ضروريات الاسلام لحدوث العالم وحشر الاجساد من غير ان يصدر عنه شئ من موجبات الكفر قطعا من اعتقاد راجع الى وجود اله غير الله تعالى او حلوله فى بعض اشخاص الناس او انكار نبوة محمد ﷺ او ذمه او استخفافه ونحو ذلك المخالف فى اصول سواها (الى ان قال) وقد ظهر من هذا ان عدم تكفير اهل القبله بذنب ليس على عمومه الا ان يحمل الذنب على ما ليس بكفر فيخرج الكفر به كما اشار اليه السبكى.

(شرح تحریر)

”اہل قبلہ وہ ہے جو موافق ہو تمام ضروریات اسلام کے، جیسے عالم کا حدوث، اور حشر اجساد، اس طرح پر کہ اس سے کوئی چیز موجبات کفر میں سے صادر نہ ہو۔ مثلاً ایسا اعتقاد جو مفضی ہو حق تعالیٰ کے ساتھ دوسرے خدا کے ماننے کو اور خدا تعالیٰ کے کسی شخص میں حلول کرنے کو، یا نبوۃ محمدیہ ﷺ کے انکار کو، یا آپؐ کی مذمت یا آپؐ کے استخفاف کو۔ اور اسی طرح کی اور باتیں (یہاں تک کہ مصنف فرماتے ہیں کہ) اسی سے ظاہر ہو گیا کہ اہل قبلہ کو کسی گناہ کی وجہ سے

صفحہ 82

تکفیر نہ کرنے کی حدیث اپنے عموم پر نہیں ہے۔ ہاں اگر گناہ سے مراد کفر کے علاوہ جیسا کہ علامہ سبکیؒ نے اس طرف اشارہ فرمایا ہے تو عموم مراد ہوسکتا ہے۔“

نیز شرح مقاصد میں عدم تکفیر اہل قبلہ کی توضیح کرتے ہوئے لکھا ہے: قال المبحث السابع فى حكم مخالف الحق من اهل القبلة ليس بكافر ما لم يخالف ما هو من ضروريات الدين كحدوث العالم وحشر الاجساد.

”ساتواں مبحث اس شخص کے حکم میں جو مخالف حق ہو۔ اہل قبلہ میں سے کہ وہ کافر نہیں جب تک مخالفت نہ کرے کسی چیز کی ضروریات دین میں سے جیسے کہ حادث ہونا اور حشر ونشر“

قال الشارح: ومعناه ان الذين اتفقوا على ما هو من ضروريات الاسلام كحدوث العالم وحشر الاجساد وما يشبه ذلك واختلفوا فى اصول سواها كمسئلة الصفات وخلق الافعال وعموم الارادة وقدم الكلام وجواز الروية ونحو ذلك مما لا نزاع فيه ان الحق فيه واحد هل يكفر المخالف للحق بذلك الاعتقاد وبالقول به ام لا. فلا نزاع فى كفر اهل القبلة المواظب طول العمر على الطاعات باعتقاد قدم العالم ونفى الحشر ونفى العلم بالجزئيات ونحو ذلك وكذا بصدور شئ من موجبات الكفر عنه

(شرح مقاصد)

”شارح فرماتے ہیں۔ اور معنی اس کے یہ ہیں کہ جو لوگ ضروریات

صفحہ 83

اسلام پر تو متفق ہیں جیسے حدوث عالم اور حشر وغیرہ اور ان کے سوا دوسرے اصول میں اختلاف کرتے ہیں، جیسے ”مسئلہ صفات“ اور ”خلق الافعال“ اور ”عموم ارادہ“ اور ”کلام اللہ کا قدیم“ ہونا اور ”رؤیت اللہ کا جواز“ وغیرہ جن میں کوئی نزاع اس امر میں نہیں ہے کہ اس میں حق ایک ہی ہے تو کیا اس اعتقاد اور اس کا قائل ہونے کی وجہ سے اس مخالف حق کی تکفیر کی جائے گی یا نہیں؟ سو کوئی اختلاف نہیں ہے ایسے اہل قبلہ کی تکفیر میں جو تمام عمر طاعات پر مداومت کرنے کے ساتھ ”قدم عالم“ اور ”نفی حشر“ اور ”نفی علم بالجزئیات“ وغیرہ کا قائل ہو اور اسی طرح موجبات کفر میں سے کسی چیز کے صدور سے اس کے کفر میں کوئی اختلاف نہیں۔ اور علی قاریؒ کی شرح فقہ اکبر میں ہے:

اعلم ان المراد باہل القبلة الذین اتفقوا علی ما ہو من ضروریات الدین کحدوث العالم و حشر الاجساد وعلم اللہ تعالیٰ بالجزئیات وما اشبہ ذلک من المسائل المہمات فمن واظب طول عمرہ علی الطاعات والعبادات مع اعتقاد قدم العالم ونفی الحشر او نفی علمہ سبحانہ تعالیٰ بالجزئیات لا یکون من اہل القبلة وان المراد باہل القبلة عند اہل السنة انہ لا یکفر ما لم یوجد شئی من امارات الکفر ولم یصدر عنہ شئی من موجباتہ

(شرح فقہ اکبر ص۱۸۹)

جاننا چاہئے کہ اہل قبلہ سے مراد وہ لوگ ہیں جو تمام ضروریات دین پر متفق ہیں جیسے حدوث عالم اور حشر و نشر۔ اور علم اللہ بالجزئیات

صفحہ 84

وغیرہ پس جو شخص تمام عمر طاعات و عبادات کا پابند ہونے کے باوجود قدم عالم اور نفی حشر یا نفی علم اللہ بالجزئیات کا معتقد ہو‘ وہ اہل قبلہ نہیں ہے اور مراد اہل قبلہ سے اہل سنت کے نزدیک یہ ہے کہ اس کی تکفیر اس وقت تک نہ کی جائے گی جب تک علامات کفر میں سے کوئی چیز اس میں نہ پائی جائے اور جب تک اس سے موجبات کفر میں سے کوئی بات سرزد نہ ہو۔“ اور فخر الاسلام بزدوی کی کشف الاصول باب الاجماع ج ۳ ص ۲۳۸ میں نیز امام سیف الدین آمدی کی کتاب الاحکام فی اصول الاحکام میں اور غایۃ التحقیق شرح اصول حسامی میں ہے:

ان غلا فیہ (ای فی ھواہ) حتی وجب اکفارہ بہ لا یعتبر خلافہ ووفاقہ ایضا لعدم دخولہ فی مسمی الامۃ المشہود لھا بالعصمۃ وان صلی الی القبلۃ واعتقد نفسہ مسلما لان الامۃ لیست عبارۃ عن المصلین الی القبلۃ بل عن المومنین وھو کافر وان کان لا یدری انہ کافر۔ (غایۃ التحقیق)

”اگر غلو کیا اپنی خواہشات نفسانیہ میں حتی کہ واجب ہوگئی اس کی تکفیر اس کی وجہ سے اجماع میں اس کے خلاف یا موافقت کا اعتبار نہ ہوگا۔ اور اگرچہ وہ قبلہ کی طرف نماز پڑھتا ہو اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہو۔ کیونکہ ”امت“ قبلہ کی طرف نماز پڑھنے والوں کا نام نہیں ہے‘ اور بلکہ ”مومنین“ کا نام ہے‘ اور وہ کافر ہے‘ اگرچہ اس کو اپنے کافر ہونے کا علم نہ ہو۔“

اور ردالمختار باب الامامۃ میں علامہ شامی نے بحوالہ شرح تحریر الاصول ابن ہمام لکھا ہے:

صفحہ 85

لاخلاف فی کفر المخالف فی ضروریات الاسلام وان کان من اهل القبلة المواظب طول عمره علی الطاعات کمافی شرح التحریر (شامی ج ۱ ص ۲۷۷)

”جو شخص ضروریات اسلام کا مخالف ہو اس کے کفر میں کوئی اختلاف نہیں اگرچہ وہ اہل قبلہ میں سے ہو اور تمام عمر طاعات پر پابند رہے ۔“

اور بحر الرائق شرح کنز الدقائق میں ہے:

والحاصل ان المذهب عدم تکفیر احد من المخالفین فیما لیس من الاصول المعلومة من الدین ضرورة. (بحر)

”اور حاصل یہ ہے کہ مذہب یہ ہے کہ مخالفین میں سے کسی کی تکفیر نہ کی جائے۔ جو اصول دین کے سوا کسی چیز میں مخالف ہیں۔“

اور شرح عقائد نسفی کی شرح نبراس میں ہے:

اهل القبلة فی اصطلاح المتکلمین من یصدق بضروریات الدین ای الامور التی علم ثبوتها فی الشرع واشتهر فمن انکر شیئا من الضروریات کحدوث العالم وحشر الاجساد وعلم الله سبحانه بالجزئیات وفرضیة الصلوة والصوم لم یکن من اهل القبلة ولو کان مجاهدا بالطاعات وکذالک من باشر شیئا من امارات التکذیب کسجود الصنم والاهانة بامر شرعی والاستهزاء به فلیس من اهل القبلة ومعنی عدم تکفیر اهل القبلة ان لا یکفر بارتکاب المعاصی ولا بانکار الامور الخفیة غیر المشهورة.

(نبراس ص ۵۷۳)

”اہل قبلہ متکلمین کی اصطلاح میں وہ ہے جو تمام ضروریات دین کی

صفحہ 86

تصدیق کرتا ہو یعنی ان امور کی جن کا ثبوت شریعت میں معلوم و مشہور ہے۔ پس جو انکار کرے کسی چیز کا ضروریات دین میں سے جیسے حدوث عالم اور حشر اور علم اللہ بالجزئیات اور فرضیت نماز و روزہ تو وہ اہل قبلہ سے نہ ہوگا۔ اگرچہ وہ طاعات کا پابند ہو اور اسی طرح وہ شخص بھی اہل قبلہ میں سے نہ ہوگا جو کسی ایسے فعل کا ارتکاب کرے جو کہ تکذیب کی کھلی علامت ہے جیسے بت کو سجدہ کرنا یا کسی ایسے امر کا ارتکاب کرے کہ جس میں امر شرعی کا استہزاء اور اہانت ہو وہ اہل قبلہ نہیں ہے اور اہل قبلہ کی تکفیر نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ارتکاب معاصی سے اس کی تکفیر نہ کی جائے یا امور خفیہ غیر مشہورہ کے انکار سے اس کی تکفیر نہ کی جائے۔‘‘

اور علم عقائد کی معروف و مستند کتاب مواقف میں ہے۔

لا يكفر اهل القبلة الا فيما فيه انكار ما علم مجيئه به بالضرورة او اجمع عليه كاستحلال المحرمات.

’’اہل قبلہ کی تکفیر نہ کی جائے گی مگر اس صورت میں کہ اس میں ضروریات دین کا انکار یا ایسی چیز کا انکار لازم آئے جس پر اجماع ہو چکا ہے جیسے حرام اشیاء کو حلال سمجھنا۔‘‘

اور شرح فقہ اکبر میں ہے:

ولا يخفى ان المراد بقول علمائنا لا يجوز تكفير اهل القبله بذنب ليس مجرد التوجه الى القبلة فان الغلاة من الروافض الذين يدعون ان جبرئيل غلط فى الوحى فان الله تعالى ارسله الى على وبعضهم قالوا انه اله وان صلوا الى القبلة

صفحہ 87

ليسو بمؤمنين وهذا هو المراد بقوله صلّى الله عليه وسلم من صلى صلوتنا واكل ذبيحتنا فذلك مسلم. (شرح فقہ اکبر)

”یہ بات مخفی نہیں ہے کہ ہمارے علماء کے اس قول کی مراد’ کہ ”اہلِ قبلہ کی تکفیر کسی گناہ کے سبب جائز نہیں“ محض قبلہ کی طرف رخ کر لینے کی نہیں۔ کیونکہ بعض متشدد روافض ایسے ہیں جو مدعی ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام نے وحی لانے میں غلطی کی کیونکہ حق تعالیٰ نے ان کو حضرت علیؓ کے پاس بھیجا تھا۔ اور بعض روافض کہتے ہیں کہ حضرت علی معبود ہیں۔ یہ لوگ اگر چہ قبلہ کی طرف نماز پڑھتے رہیں مگر مومن نہیں۔ اور یہی مراد ہے نبی کریم ﷺ کے فرمان کی ”جو ہماری نماز پڑھے اور ہمارا ذبیحہ کھائے تو یہی مسلم ہے۔“

فلا نكفر اهل القبلة مالم يأت بما يوجب الكفر وهذا من قبيل قوله تعالىٰ ان الله يغفر الذنوب جميعاً مع ان الكفر غير مغفور. و مختار جمهور اهل السنة من الفقهاء والمتكلمين عدم اكفار اهل القبلة من المبتدعة الماؤلة فى غير الضرورية لكون التاويل شبهه كما فى خزانة الجزجانى والمحيط البرهانى واحكام الرازى واصول البزدوى ورواه الكرخى والحاكم الشهيد عن الامام ابى حنيفة والجرجانى عن الحسن بن زياد وشارح المواقف والمقاصد والامدى عن الشافعى والاشعرى لا مطلقا.

(کلیات ابی البقاء ص ۴۴۵)

پس ہم اہل قبلہ کی تکفیر نہ کریں گے جب تک ان سے موجباتِ کفر کا

صفحہ 89

صدور نہ ہو۔ اور یہ اسی طرح ہے جیسے حق تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ”اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے“ باوجود اس کے کفر غیر مغفور ہے۔ اور مذہب جمہور اہل السنّت کا فقہاء و متکلمین میں سے بدعتی جو تاویلات کرتے ہیں غیر ضروریات دین میں ان کے متعلق یہ ہے کہ ان کی تکفیر نہ کی جائے‘ جیسا کہ خزانہ جرجانی‘ اور محیط برہانی اور احکام رازی اور اصول بزدوی میں ہے اور یہی روایت کیا ہے کرخی اور حاکم شہید نے امام ابو حنیفہؒ سے اور جرجانی سے حسن بن زیاد سے اور شارح مواقف اور المقاصد اور آمدی نے شافعی سے اور اشعری سے۔ اور فتح المغیث شرح الفیہ الحدیث میں ہے:

اذ لانکفر احدا من اہل القبلۃ الا بانکار قطعی من الشریعۃ

(ص۔ ۱۲۳)

”ہم اہل قبلہ میں سے کسی کی تکفیر نہیں کرتے مگر بسبب انکار کے کسی قطعی حکم شرع کا۔“

اور امام ربانی مجدد الف ثانیؒ نے اپنے مکتوبات میں تحریر فرمایا ہے:

وچوں ایں فرقۂ مبتدعہ اہل قبلہ اند در تکفیر آنها جرت نباید نمود تازمانی که انکار ضروریات دینیہ نمایند و رد متواترات احکام شرعیہ نکنند وقبول ما علم مجیئہ من الدین بالضرورۃ نکنند ۔

(مکتوبات ص ۳۸ ج ۲ ص ۶۸)

اور چونکہ یہ فرقہ مبتدعہ اہل قبلہ ہیں اس لئے ان کی تکفیر میں جرات نہیں کرنی چاہئے جب تک کہ یہ ضروریات دین کا انکار اور متواترات احکام شرعیہ کا رد نہ کریں اور ضروریات دین کو قبول نہ کریں۔

لا نکفر احدا من اہل القبلۃ الا بما فیہ او بما فیہ شرک او انکار النبوۃ انکـ بالضرورۃ او انکار مجمع علیہ واما مبتدع وليس بکافر .

ہم اہل قبلہ میں سے کسی کی تکفیر نہیں کریں ۔ اس میں حق تعالیٰ کے وجود کے نفی میں اور انکار نبوت ہو یا ضروریات دین کا انکار ہو یا ہو۔ اور اس کے سوا‘ پس اس کا قائل مبتدع ۔

جنازہ اور مکھیاں ٭ میرے ایک دوست محمد صفدر بھٹی کی وجہ سے قادیانیت کی طرف مائل ہونا شروع ہو گئے۔ قار رات وہ مرزا قادیانی کی ایک کتاب پڑھتے پڑھتے سو گئے۔ اس اندھیرا ہے اور وہ ایک سنسان جنگل میں کھڑے ہیں کہ اچانک ایک جنازہ گزر رہا ہے۔ جنازے کے ساتھ صرف چار آدمی ہ اٹھا رکھا ہے۔ چاروں آدمیوں نے چہروں پر سیاہ نقاب اوڑ لاکھوں مکھیاں میت پر بھنبھنا رہی ہیں۔ میت سے انتہائی غلیظ، اٹھ رہی ہے۔ انہوں نے بڑی ہمت سے جنازہ اٹھائے ہوئے ہے؟ اس شخص نے بڑے درشت لہجے میں جواب دیا کہ یہ مـ کہتے ہیں کہ صبح اٹھتے ہی تایا جی زار و قطار رونے لگے۔ سار سنبھالا اور ماجرا پوچھا۔ انہوں نے کانپتے کانپتے سارا خواب مخاطب کر کے کہا کہ تم سب گواہ رہنا کہ میں تائب ہو گیا ہوں ہوں۔

صفحہ 89

لا نكفر احدا من اهل القبلة الا بما فيه نفى الصانع المختار او بما فيه شرك او انكار النبوة او انكار ما علم من الدين بالضرورة او انكار مجمع عليه واما غير ذلك فالقائل مبتدع وليس بكافر.

ہم اہل قبلہ میں سے کسی کی تکفیر نہیں کریں گے مگر اس سبب سے کہ اس میں حق تعالیٰ کے وجود کی نفی ہو اور یا جس میں شرک ہو یا انکار نبوت ہو یا ضروریات دین کا انکار ہو یا کسی مجمع علیہ امر کا انکار ہو۔ اور اس کے سوا پس اس کا قائل مبتدع ہے کافر نہیں۔

۞ ........ ۞ ........ ۞

جنازہ اور مکھیاں

میرے ایک دوست محمد صفدر بھٹی کے تایا ایک قادیانی مربی کی صحبت میں بیٹھنے کی وجہ سے قادیانیت کی طرف مائل ہونا شروع ہو گئے۔ قادیانی کتابوں کا مطالعہ کرنا شروع کر دیا۔ ایک رات وہ مرزا قادیانی کی ایک کتاب پڑھتے پڑھتے سو گئے۔ اسی رات انہیں خواب آیا کہ رات کا گھٹا ٹوپ اندھیرا ہے اور وہ ایک سنسان جنگل میں کھڑے ہیں کہ اچانک انہوں نے دیکھا کہ ان کے بالکل قریب سے ایک جنازہ گزر رہا ہے۔ جنازے کے ساتھ صرف چار آدمی ہیں جنہوں نے چارپائی کے ایک ایک پائے کو اٹھا رکھا ہے۔ چاروں آدمیوں نے چہروں پر سیاہ نقاب اوڑھے ہوئے ہیں۔ میت پر کوئی چادر نہیں۔ لاکھوں مکھیاں میت پر بھنبھنا رہی ہیں۔ میت سے انتہائی غلیظ مادہ ٹپک رہا ہے، جس سے ناقابل برداشت بو اٹھ رہی ہے۔ انہوں نے بڑی ہمت سے جنازہ اٹھائے ہوئے ایک شخص سے پوچھا کہ یہ کس کا جنازہ جا رہا ہے؟ اس شخص نے بڑے درشت لہجے میں جواب دیا کہ یہ مرزا قادیانی کا جنازہ ہے۔ صفدر بھٹی صاحب کہتے ہیں کہ صبح اٹھتے ہی تایا جی زار و قطار رونے لگے۔ سارے گھر والے یکدم اکٹھے ہو گئے۔ تایا جی کو سنبھالا اور ماجرا پوچھا۔ انہوں نے کانپتے کانپتے سارا خواب سنا دیا۔ پھر تایا جی نے سارے اہل خانہ کو مخاطب کر کے کہا کہ تم سب گواہ رہنا کہ میں تائب ہو گیا ہوں اور مرزا قادیانی دجال پر کروڑوں لعنتیں بھیجتا ہوں۔

صفحہ 90

مسیح موعود کی حقیقت

مولانا مودودیؒ

نئی نبوت کی طرف بلانے والے حضرات عام طور پر ناواقف مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ احادیث میں ’’مسیح موعود‘‘ کے آنے کی خبر دی گئی ہے اور مسیح نبی تھے، اس لیے اُن کے آنے سے ختم نبوت میں کوئی خرابی واقع نہیں ہوتی، بلکہ ختم نبوت بھی برحق اور اس کے باوجود مسیح موعود کا آنا بھی برحق۔

اسی سلسلے میں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’مسیح موعود‘‘ سے مراد عیسیٰ ابن مریم نہیں ہیں۔ ان کا تو انتقال ہوچکا۔ اب جس کے آنے کی خبر احادیث میں دی گئی ہے وہ مثیل مسیح، یعنی حضرت عیسیٰ کے مانند ایک مسیح ہے، اور وہ فلاں شخص ہے جو آچکا ہے۔ اُس کا ماننا عقیدہ ختمِ نبوت کے خلاف نہیں ہے۔

اس فریب کا پردہ چاک کرنے کے لیے ہم یہاں پورے حوالوں کے ساتھ وہ مستند روایات نقل کیے دیتے ہیں، جو اس مسئلے کے متعلق حدیث کی معتبر ترین کتابوں میں پائی جاتی ہیں۔ ان احادیث کو دیکھ کر ہر شخص خود معلوم کر سکتا ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا فرمایا تھا اور آج اس کو کیا بنایا جارہا ہے۔

احادیث در باب نزولِ عیسیٰ ابن مریم ؑ

اُس ذات کی، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ضرور اُتریں گے تمہارے درمیان ابنِ مریم حاکمِ عادل بن کر، پھر وہ صلیب کو توڑ ڈالیں گے اور خنزیر کو ہلاک کردیں گے، اور جنگ کا خاتمہ کر دیں گے۔ (دوسری روایت میں حرب کے بجائے جزیہ کا لفظ ہے، یعنی جزیہ ختم کردیں گے) اور مال کی وہ کثرت ہوگی کہ اس کا قبول

صفحہ 91

کرنے والا کوئی نہ رہے گا اور (حالت یہ ہو جائے گی کہ لوگوں کے نزدیک خدا کے حضور) ایک سجدہ کر لینا دُنیا و مافیہا سے بہتر ہو گا۔‘‘ (بخاری کتاب احادیث الانبیاء باب نزول عیسیٰ ابن مریم۔ مسلم، باب بیان نزول عیسیٰؑ۔ ترمذی ابواب الفتن، باب فی نزول عیسیٰؑ مسند احمد، مرویات ابوہریرہؓ)

ینزل عیسیٰ ابن مریم ...... ’’قیامت قائم نہ ہو گی جب تک نازل نہ ہولیں عیسیٰ ابن مریم...... اور اس کے بعد وہی مضمون ہے، جو اوپر کی حدیث میں بیان ہوا ہے۔ (بخاری، کتاب المظالم باب کسر الصلیب۔ ابن ماجہ، کتاب الفتن باب فتنۃ الدجال)

کیسے ہو گے تم جب کہ تمہارے درمیان ابن مریم اُتریں گے اور تمہارا امام اُس وقت خود تم میں سے ہوگا۔ ۱؎

(بخاری کتاب احادیث الانبیاء باب نزول عیسیٰؑ، مسلم، بیان نزول عیسیٰؑ مسند احمد

مرویات ابی ہریرہؓ)

علیہ السلام ابن مریم نازل ہوں گے۔ پھر وہ خنزیر کو قتل کریں گے اور صلیب کو مٹا دیں گے اور ان کے لیے نماز جمع کی جائے گی اور وہ اتنا مال تقسیم کریں گے کہ اسے قبول کرنے والا کوئی نہ ہوگا اور وہ خراج ساقط کر دیں گے اور روحاء کے مقام پر منزل کر کے وہاں سے حج یا عمرہ کریں گے، یا دونوں کو جمع کریں گے۔ راوی کو شک ہے کہ حضورؐ نے ان میں سے کون سی بات فرمائی تھی۔

(مسند احمد، بسلسلہء مرویات ابی ہریرہؓ۔ مسلم، کتاب الحج باب جواز التمتع فی الحج والقران)

الگ دین کی حیثیت سے ختم ہو جائے گی۔ دین عیسوی کی پوری عمارت اس عقیدے پر قائم ہے کہ خدا نے اپنے اکلوتے بیٹے (یعنی حضرت عیسیٰؑ) کو صلیب پر

صفحہ 92

”لعنت“ کی موت دی، جس سے وہ انسان کے گناہ کا کفارہ بن گیا۔ اور انبیاء کی امتوں کے درمیان عیسائیوں کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے صرف عقیدے کو لے کر خدا کی پوری شریعت ردّ کر دی، حتیٰ کہ خنزیر تک کو حلال کر لیا جو تمام انبیاء کی شریعتوں میں حرام رہا ہے۔ پس جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام آ کر خود اعلان کر دیں گے کہ نہ میں خدا کا بیٹا ہوں، نہ میں نے صلیب پر جان دی، نہ میں کسی کے گناہ کا کفارہ بنا تو عیسائی عقیدے کے لیے سرے سے کوئی بنیاد ہی باقی نہ رہے گی۔ اسی طرح جب وہ بتائیں گے کہ میں نے تو نہ اپنے پیرووں کے لیے سؤر حلال کیا تھا اور نہ ان کو شریعت کی پابندی سے آزاد ٹھہرایا تھا تو عیسائیت کی دوسری امتیازی خصوصیت کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔

سب لوگ ایک ملتِ اسلام میں شامل ہو جائیں گے اور اس طرح نہ جنگ اور نہ کسی پر جزیہ عائد کیا جائے گا۔ اسی بات پر آگے احادیث نمبر ۵، ۱۵ دلالت کر رہی ہیں۔

سے ہوگا، اسی کے پیچھے وہ نماز پڑھیں گے۔

زندگی میں نہ حج کیا اور نہ عمرہ۔)

فرمایا) اس اثناء میں کہ مسلمان اس سے لڑنے کی تیاری کر رہے ہوں گے، صفیں باندھ رہے ہوں گے اور نماز کے لیے تکبیر اقامت کہی جا چکی ہو گی کہ عیسیٰ ابن مریم نازل ہو جائیں گے اور نماز میں مسلمانوں کی امامت کریں گے اور اللہ کا دشمن (یعنی دجال) ان کو دیکھتے ہی اس طرح گھلنے لگے گا، جیسے نمک پانی میں گھلتا ہے۔ اگر عیسیٰ علیہ السلام اس کو اُس کے حال ہی پر چھوڑ دیں تو وہ آپ ہی گھل کر مر

صفحہ 93

جائے۔ مگر اللہ اس کو اُن کے ہاتھ سے قتل کرائے گا اور وہ اپنے نیزے میں اُس کا خون مسلمانوں کو دکھائیں گے۔“ (مشکوٰۃ کتاب الفتن، باب الملاحم بحوالہ مسلم)

(یعنی عیسیٰ علیہ السلام) کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے اور یہ کہ وہ اُترنے والے ہیں، پس جب تم ان کو دیکھو تو پہچان لینا، وہ ایک میانہ قد آدمی ہیں۔ رنگ مائل بسرخی و سفیدی ہے، دو زرد رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے ہوں گے۔ ان کے سر کے بال ایسے ہوں گے گویا اب ان سے پانی ٹپکنے والا ہے، حالانکہ وہ بھیگے ہوئے نہ ہوں گے، وہ اسلام پر لوگوں سے جنگ کریں گے، صلیب کو پاش پاش کر دیں گے، خنزیر کو قتل کر دیں گے، جزیہ ختم کر دیں گے، اور اللہ ان کے زمانے میں اسلام کے سوا تمام ملتوں کو مٹا دے گا اور وہ مسیح دجال کو ہلاک کر دیں گے اور زمین میں وہ چالیس سال ٹھہریں گے۔ پھر ان کا انتقال ہو جائے گا اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے۔ (ابوداؤد، کتاب الملاحم، باب خروج الدجال۔ مسند احمد، مرویات ابوہریرہؓ)

سنا ہے کہ ....... پھر عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گے۔ مسلمانوں کا امیر اُن سے کہے گا کہ آئیے، آپ نماز پڑھائیے، مگر وہ کہیں گے کہ نہیں، تم لوگ خود ہی ایک دوسرے کے امیر ہوئے۔ یعنی تمہارا امیر تم ہی میں سے ہونا چاہیے۔

یہ وہ اُس عزت کا لحاظ کرتے ہوئے کہیں گے، جو اللہ نے اُس اُمت کو دی ہے۔ (مسلم، بیان نزول عیسیٰ ابن مریم۔ مسند احمد بسلسلہ مرویات جابرؓ بن عبداللہ)

خطاب نے عرض کیا، یا رسول اللہ مجھے اجازت دیجیے کہ میں اسے قتل کر دوں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ وہی شخص (یعنی دجال) ہے تو اس کے قتل کرنے والے تم نہیں ہو بلکہ اسے تو عیسیٰ ابن مریم ہی قتل کریں گے اور اگر یہ وہ شخص نہیں ہے تو تمہیں اہلِ عہد (یعنی ذمیّوں) میں سے ایک آدمی کو قتل کر دینے کا کوئی حق نہیں ہے۔ (مشکوٰۃ ۔ کتاب الفتن، باب قصہ ابن صیاد، بحوالہ

صفحہ 94

شرح السنہ بغوی)

علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ) اُس وقت یکا یک عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام مسلمانوں کے درمیان آ جائیں گے۔ پھر نماز کھڑی ہوگی اور ان سے کہا جائے گا کہ اے روح اللہ آگے بڑھیئے‘ مگر وہ کہیں گے کہ نہیں، تمہارے امام ہی کو آگے بڑھنا چاہیئے‘ وہی نماز پڑھائے۔ پھر صبح کی نماز سے فارغ ہو کر مسلمان دجال کے مقابلے پر نکلیں گے‘ فرمایا: جب وہ کذاب حضرت عیسیٰ کو دیکھے گا تو پگھلنے لگے گا‘ جیسے نمک پانی میں گھلتا ہے۔ پھر وہ اس کی طرف بڑھیں گے اور اسے قتل کر دیں گے اور حالت یہ ہوگی کہ درخت اور پتھر پکار اٹھیں گے کہ اے روح اللہ! یہ یہودی میرے پیچھے چھپا ہوا ہے۔ دجال کے پیروں میں سے کوئی نہ بچے گا‘ جسے وہ (یعنی عیسیٰ ) قتل نہ کر دیں۔ (مسند احمد‘ بسلسلہء روایات جابر بن عبداللہ )

ہیں: اس اثناء میں کہ دجال یہ کچھ کر رہا ہوگا‘ اللہ تعالیٰ مسیح ابن مریم کو بھیج دے گا۔ اور وہ دمشق کے مشرقی حصے میں‘ سفید مینار کے پاس زرد رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوئے‘ دو فرشتوں کے بازوؤں پر اپنے ہاتھ رکھے ہوئے اتریں گے۔ جب وہ سر جھکائیں گے تو ایسا محسوس ہوگا کہ قطرے ٹپک رہے ہیں‘ اور جب سر اٹھائیں گے تو موتی کی طرح قطرے ڈھلکتے نظر آئیں گے۔ ان کے سانس کی ہوا جس کافر تک پہنچے گی ...... اور وہ ان کی حد نظر تک جائے گی ...... وہ زندہ نہ بچے گا۔ پھر ابن مریم دجال کا پیچھا کریں گے اور لُدّ کے دروازے پر اسے جا پکڑیں گے اور قتل کر دیں گے۔ (مسلم ذکر الدجال۔ ابو داؤد کتاب الملاحم باب خروج الدجال ترمذی ابواب الفتن، باب فی فتنۃ الدجال۔ ابن ماجہ کتاب الفتن، باب فتنۃ الدجال)

(واضح رہے کہ لد (Lydda) فلسطین میں ریاست اسرائیل کے دارالسلطنت تل ابیب سے چند میل کے فاصلے پر واقع ہے اور یہودیوں نے وہاں بہت بڑا ہوائی اڈہ بنا رکھا ہے۔)

دجال میری امت میں یا چالیس سال ) ح مسعود (ایک صحابی) دیں گے کہ دو آدمیو

میں تشریف لائے ا بات ہو رہی ہے؟ لو قائم نہ ہوگی جب ت وہ دس نشانیاں یہ بتا کا مغرب سے طلو (۷) تین بڑے خـ العرب میں (١٠) ـ لوگوں کو ہانکتی ہوئی الساعہ۔ ابو داؤد کتا

ع یہ حضرت عبداللہ بن ع زمین دھنس جانا )

فرمایا : ” میری امت لیا۔ ایک وہ لشکر جو ہوگا۔“ (نسائی، کتـ

ہے کہ ابن مریم د ابواب الفتن )

صفحہ 95

دجال میری امت میں نکلے گا اور چالیس (میں نہیں جانتا چالیس دن یا چالیس مہینے یا چالیس سال )۲؎ رہے گا۔ پھر اللہ عیسیٰ ابن مریم کو بھیجے گا۔ ان کا حلیہ عروہ بن مسعود (ایک صحابی) سے مشابہ ہوگا۔ وہ اس کا پیچھا کریں گے اور اسے ہلاک کر دیں گے کہ دو آدمیوں کے درمیان بھی عداوت نہ ہو گی۔ (مسلم‘ ذکر الدجال)

میں تشریف لائے اور ہم آپس میں بات چیت کر رہے تھے۔ آپ نے پوچھا کیا بات ہو رہی ہے؟ لوگوں نے عرض کیا ہم قیامت کا ذکر کر رہے تھے۔ فرمایا وہ ہرگز قائم نہ ہو گی‘ جب تک اس سے پہلے دس نشانیاں ظاہر نہ ہو جائیں۔ پھر آپؐ نے وہ دس نشانیاں یہ بتائیں:۔ (۱) دھواں (۲) دجال (۳) دابۃ الارض (۴) سورج کا مغرب سے طلوع ہونا (۵) عیسیٰ ابن مریم کا نزول (۶) یاجوج و ماجوج (۷) تین بڑے خسف۳؎ ، ایک مشرق میں (۸) دوسرا مغرب میں (۹) تیسرا جزیرۃ العرب میں (۱۰) سب سے آخر میں ایک زبردست آگ‘ جو یمن سے اٹھے گی اور لوگوں کو ہانکتی ہوئی محشر کی طرف لے جائے گی۔ (مسلم کتاب الفتن واشراط الساعہ۔ ابو داؤد کتاب الملاحم باب امارات الساعہ)

فرمایا: ”میری امت کے دو لشکر ایسے ہیں‘ جن کو اللہ نے دوزخ کی آگ سے بچا لیا۔ ایک وہ لشکر جو ہندوستان پر حملہ کرے گا۔ دوسرا وہ‘ جو عیسیٰ ابن مریم کے ساتھ ہوگا۔“ (نسائی‘ کتاب الجہاد مسند احمد‘ بسلسلہ روایات ثوبان)

ہے کہ ابن مریم دجال کو لد کے دروازے پر قتل کریں گے۔ (مسند احمد۔ ترمذی‘

ابواب الفتن)

صفحہ 96

ہیں کہ عین اُس وقت جب مسلمانوں کا امام صبح کی نماز پڑھنے کے لیے آگے بڑھ چکا ہو گا، عیسیٰ ابن مریم ان پر اتر آئیں گے۔ امام پیچھے پلٹے گا تاکہ عیسیٰ آگے بڑھیں، مگر عیسیٰ اس کے شانوں کے درمیان ہاتھ رکھ کر کہیں گے کہ نہیں، تم ہی نماز پڑھاؤ، کیونکہ یہ تمہارے لیے ہی کھڑی ہوئی ہے۔ چنانچہ وہی نماز پڑھائے گا۔ سلام پھیرنے کے بعد عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے کہ دروازہ کھولو چنانچہ وہ کھولا جائے گا۔ باہر دجال ۷۰ ہزار مسلح یہودیوں کے ساتھ موجود ہوگا۔ جونہی کہ عیسیٰ علیہ السلام پر اس کی نظر پڑے گی وہ اسی طرح گھلنے لگے گا، جیسے نمک پانی میں گھلتا ہے اور وہ بھاگ نکلے گا۔ عیسیٰ کہیں گے میرے پاس تیرے لئے ایک ایسی ضرب ہے جس سے تو بچ کر نہ جاسکے گا پھر وہ اسے لد کے مشرقی دروازے پر لے جائیں گے اور اللہ یہودیوں کو ہرا دے گا۔ ...... اور زمین مسلمانوں سے اس طرح بھر جائے گی، جیسے برتن پانی سے بھر جائے، سب دنیا کا کلمہ ایک ہو جائے گا اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ ہو گی۔

(ابن ماجہ کتاب الفتن، باب فتنہ الدجال)

ہے۔ ...... اور عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام فجر کی نماز کے وقت اتر آئیں گے۔ مسلمانوں کا امیر ان سے کہے گا کہ اے روح اللہ! آپ نماز پڑھائیے۔ وہ جواب دیں گے کہ اس امت کے لوگ خود ہی ایک دوسرے پر امیر ہیں۔ تب مسلمانوں کا امیر آگے بڑھ کر نماز پڑھائے گا پھر نماز سے فارغ ہو کر عیسیٰ اپنا حربہ لے کر دجال کی طرف چلیں گے۔ وہ جب ان کو دیکھے گا تو اس طرح پگھلے گا، جیسے سیسہ پگھلتا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام اپنے حربے سے اس کو ہلاک کر دیں گے اور اس کے ساتھی شکست کھا کر بھاگیں گے، مگر کہیں انہیں چھپنے کو جگہ نہ ملے گی، حتیٰ کہ درخت پکاریں گے اے مومن، یہ کافر یہاں موجود ہے اور پتھر پکاریں گے کہ اے مومن، یہ کافر یہاں موجود ہے۔

(مسند احمد، طبرانی۔ حاکم)

صفحہ 97

کے وقت مسلمانوں کے درمیان عیسیٰ بن مریم آ جائیں گے اور اللہ دجال اور اس کے لشکروں کو شکست دے گا۔ یہاں تک کہ دیواریں اور درختوں کی جڑیں پکار اٹھیں گی کہ اے مومن یہ کافر میرے پیچھے چھپا ہوا ہے۔ آ اور اسے قتل کر (مسند احمد۔ حاکم)

ایک گروہ ایسا موجود رہے گا، جو حق پر قائم اور مخالفین پر بھاری ہوگا، یہاں تک کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا فیصلہ آ جائے اور عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام نازل ہو جائیں۔

(مسند احمد)

گے اور دجال کو قتل کریں گے۔ اس کے بعد عیسیٰ علیہ السلام چالیس سال تک زمین میں ایک امام عادل اور حاکم منصف کی حیثیت سے رہیں گے۔“ (مسند احمد)

ہیں: عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اور اللہ تعالیٰ دجال کو افیق کی گھاٹی کے قریب ہلاک کر دے گا۔

مسلمان نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوں گے تو ان کی آنکھوں کے سامنے عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم اتریں گے۔ اور وہ مسلمانوں کو نماز پڑھائیں گے پھر سلام پھیرنے کے بعد لوگوں سے کہیں گے کہ میرے اور اس دشمن خدا کے درمیان سے ہٹ جاؤ.......... اور اللہ دجال کے ساتھیوں پر مسلمانوں کو مسلط کر دے گا اور مسلمان انہیں خوب ماریں گئے یہاں تک کہ درخت اور پتھر پکار اٹھیں گے۔ اے عبداللہ اے عبد الرحمٰن اے مسلمان یہ رہا ایک یہودی مار اسے۔ اس طرح اللہ ان کو فنا کر دے گا اور مسلمان غالب ہوں گے اور صلیب توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کر دیں گے اور جزیہ ساقط کر دیں گے۔ (مستدرک حاکم۔ مسلم میں بھی یہ روایت اختصار کے ساتھ آئی ہے اور حافظ ابن حجر نے فتح الباری جلد ۶ ص ۴۵۰ میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔)

صفحہ 98

یہ جملہ ۲۱ روایات ہیں جو ۱۴ صحابیوں سے صحیح سندوں کے ساتھ حدیث کے معتبر ترین کتابوں میں وارد ہوئی ہیں۔ اگرچہ ان کے علاوہ دوسری بہت سی احادیث میں بھی یہ ذکر آیا ہے، لیکن طول کلام سے بچنے کے لئے ہمنے ان سب کو نقل نہیں کیا ہے بلکہ صرف وہ روایتیں لے لی ہیں، جو سند کے لحاظ سے قوی تر ہیں۔

ان احادیث سے کیا ثابت ہوتا ہے؟

جو شخص بھی ان احادیث کو پڑھے گا وہ خود دیکھ لے گا کہ ان میں کسی ”مسیح موعود“ یا ”مثیل مسیح“ یا ”بروز مسیح“ کا سرے سے کوئی ذکر ہی نہیں ہے نہ ان میں اس امر کی کوئی گنجائش ہے کہ کوئی شخص اس زمانے میں کسی ماں کے پیٹ اور کسی باپ کے نطفے سے پیدا ہو کر یہ دعویٰ کر دے کہ میں ہی وہ مسیح ہوں جس کے آنے کی سیدنا محمد ﷺ نے پیشین گوئی فرمائی تھی۔ یہ تمام حدیثیں صاف اور صریح الفاظ میں ان عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کی خبر دے رہی ہیں جو اب سے دو ہزار سال پہلے باپ کے بغیر حضرت مریم علیہ السلام کے بطن سے پیدا ہوئے تھے۔ اس مقام پر یہ بحث چھیڑنا بالکل لا حاصل ہے کہ وہ وفات پا چکے ہیں یا زندہ کہیں موجود ہیں۔ بالفرض وہ وفات ہی پا چکے ہوں تو اللہ انہیں زندہ کر کے اٹھا لانے پر قادر ہے۔

جو لوگ اس بات کا انکار کرتے ہیں انہیں سورۂ بقرہ کی آیت نمبر ۲۵۹ ملاحظہ فرما لینی چاہئے جس میں اللہ تعالیٰ صاف الفاظ میں فرماتا ہے کہ اس نے اپنے ایک بندے کو ۱۰۰ برس تک مردہ رکھا اور پھر زندہ کر دیا۔ فَاَمَاتَهُ اللّٰهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ

وگرنہ یہ بات بھی اللہ کی قدرت سے ہرگز بعید نہیں ہے کہ وہ اپنے کسی بندے کو اپنی کائنات میں کہیں ہزار ہا سال تک زندہ رکھے اور جب چاہے دنیا میں واپس لے آئے۔ بہر حال اگر کوئی شخص حدیث کو نہ مانتا ہو تو وہ سرے سے کسی آنے والے کی آمد کا قائل ہی نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ آنے والے کی آمد کا عقیدہ احادیث کے سوا کسی اور چیز پر مبنی نہیں ہے۔ لیکن یہ ایک عجیب مذاق ہے کہ آنے والے کی آمد کا عقیدہ تو لے لیا جائے احادیث سے اور پھر انہی احادیث کی اس تصریح کو نظر انداز کر دیا جائے کہ وہ آنے والے عیسیٰ ابن مریم ہوں گے نہ کوئی مثیل مسیح

صفحہ 99

دوسری بات جو اتنی ہی وضاحت کے ساتھ ان احادیث سے ظاہر ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم ؑ کا یہ دوبارہ نزول نبی ہو کر آنے والے شخص کی حیثیت سے نہیں ہوگا۔ نہ ان پر وحی نازل ہوگی نہ وہ خدا کی طرف سے کوئی نیا پیغام یا نئے احکام لائیں گے نہ وہ شریعت محمدیؐ میں کوئی اضافہ یا کوئی کمی کریں گے نہ ان کو تجدیدِ دین کے لئے دنیا میں لانے کی دعوت دیں گے اور نہ وہ اپنے ماننے والوں کی ایک الگ امت بنائیں گے۔ وہ صرف ایک کار خاص کے لئے بھیجے جائیں گے اور وہ یہ ہو گا کہ دجال کے فتنے کا استیصال کر دیں۔ اس غرض کے لئے وہ ایسے طریقے سے نازل ہوں گے کہ جن مسلمانوں کے درمیان ان کا نزول ہو گا انہیں اس امر میں کوئی شک نہ رہے گا کہ یہ عیسیٰ ابن مریم ہی ہیں جو رسول اللہ ﷺ کی پیش گوئیوں کے مطابق ٹھیک وقت پر تشریف لائے ہیں۔ وہ آکر مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہو جائیں گے۔ جو بھی مسلمانوں کا امام اس وقت ہو گا اسی کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ اور جو بھی اس وقت مسلمانوں کا امیر ہو گا اسی کو آگے رکھیں گے تاکہ اس شبہ کی کوئی ادنیٰ سی گنجائش بھی نہ رہے کہ وہ اپنی سابق پیغمبرانہ حیثیت کی طرح اب پھر پیغمبری کے فرائض انجام دینے کے لئے واپس آئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ کسی جماعت میں اگر خدا کا پیغمبر موجود ہو تو نہ اس کا کوئی امام دوسرا شخص ہو سکتا ہے اور نہ امیر۔ پس جب وہ مسلمانوں کی جماعت میں آکر محض ایک فرد کی حیثیت سے شامل ہوں گے تو یہ گویا خود بخود اس امر کا اعلان ہو گا کہ وہ پیغمبر کی حیثیت سے تشریف نہیں لائے ہیں اور اس بنا پر ان کی آمد سے مہر نبوت کے ٹوٹنے کا قطعاً کوئی سوال پیدا نہ ہوگا۔

اور یہی بات علامہ آلوسی تفسیر روح المعانی میں کہتے ہیں۔

پھر عیسیٰ علیہ السلام جب نازل ہوں گے تو وہ اپنی سابق نبوت پر باقی ہوں گے بہر حال اس سے معزول تو نہ ہو جائیں گے مگر وہ اپنی پچھلی شریعت کے پیرو نہ ہوں گے کیونکہ وہ ان کے اور دوسرے سب لوگوں کے حق میں منسوخ ہو چکی ہے اور اب وہ اصول اور فروع میں اس شریعت کی پیروی پر مکلف ہوں گے۔ لہٰذا ان پر نہ اب وحی آوے گی اور نہ انہیں احکام مقرر کرنے کا اختیار ہوگا بلکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے نائب اور آپ کی امت میں امت محمدیہ کے حاکموں میں سے ایک حاکم کی حیثیت سے کام کریں گے۔

(جلد ۲۲۔ ص ۳۲

صفحہ 100

امام رازیؒ اس بات کو اور زیادہ وضاحت کے ساتھ اس طرح بیان کرتے ہیں۔ انبیاء کا دور محمد ﷺ کی بعثت تک تھا جب آپ مبعوث ہو گئے تو انبیاء کی آمد کا زمانہ ختم ہو گیا۔ اب یہ بات بعید از قیاس نہیں ہے کہ حضرت عیسیٰؑ نازل ہونے کے بعد محمد ﷺ کے تابع ہوں گے۔ (تفسیر کبیر ج۳، ص۳۴۳)

ان کا آنا بلا تشبیہ اسی نوعیت کا ہوگا جیسا ایک صدر ریاست کے دور میں کوئی سابق صدر آئے اور وقت کے صدر کی ماتحتی میں مملکت کی کوئی خدمت انجام دے ایک معمولی سمجھ بوجھ کا آدمی بھی یہ بات بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ ایک صدر کے دور میں کسی سابق صدر کے محض آجانے سے آئین نہیں ٹوٹتا۔ البتہ دو صورتوں میں آئین کی خلاف ورزی لازم آتی ہے ایک یہ کہ سابق صدر آکر پھر سے فرائض صدارت سنبھالنے کی کوشش کرے دوسرے یہ کہ کوئی شخص اسکی سابق صدارت کا بھی انکار کردے کیونکہ یہ ان تمام کاموں کے لیے جواز کو چیلنج کرنے کا ہم معنی ہوگا، جو اس کے دور صدارت میں انجام پائے تھے۔ ان دونوں صورتوں میں سے کوئی صورت بھی نہ ہو تو بجائے خود سابق صدر کی آمد آئینی پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں کرسکتی یہی معاملہ حضرت عیسیٰؑ کی آمد ثانی کا بھی ہے کہ ان کے محض آجانے سے ختم نبوت نہیں ٹوٹتی۔ البتہ اگر وہ آکر پھر نبوت کا منصب سنبھال لیں اور فرائض نبوت انجام دینے شروع کردیں یا کوئی شخص ان کی سابق نبوت کا بھی انکار کردے تو اس سے اللہ تعالیٰ کے آئین نبوت کی خلاف ورزی لازم آئے گی۔ احادیث نے پوری وضاحت کے ساتھ دونوں صورتوں کا سد باب کر دیا ہے ایک طرف وہ تصریح کرتی ہیں کہ محمد ﷺ کے بعد کوئی نبوت نہیں ہے اور دوسری طرف وہ خبر دیتی ہیں کہ عیسیٰؑ ابن مریم دوبارہ نازل ہوں گے اس سے صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ ان کی یہ آمد ثانی منصب نبوت کے فرائض انجام دینے کے لیے نہ ہوگی اسی طرح ان کی آمد سے مسلمانوں کے اندر کفر و ایمان کا بھی کوئی نیا سوال پیدا نہ ہوگا ان کی سابقہ نبوت پر تو آج بھی اگر کوئی ایمان نہ لائے تو کافر ہو جائے محمد ﷺ خود ان کی اس نبوت پر ایمان رکھتے تھے اور آپ کی ساری امت ابتداء سے ان کی مومن ہے یہی حیثیت اس وقت بھی ہو گی مسلمان کسی تازہ نبوت پر ایمان نہ لائیں گے بلکہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کی سابقہ نبوت پر ایمان رکھیں گے، جس طرح آج رکھتے ہیں یہ چیز نہ آج ختم نبوت کے خلاف ہے

صفحہ 101

نہ اس وقت ہوگی۔

آخری بات جو ان احادیث سے اور بکثرت دوسری احادیث سے بھی معلوم ہوتی ہے‘ وہ یہ ہے کہ دجال‘ جس کے فتنہ عظیم کا استیصال کرنے کے لیے حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو بھیجا جائے گا‘ یہودیوں میں سے ہو گا اور اپنے آپ کو ”مسیح“ کی حیثیت سے پیش کرے گا اس معاملے کی حقیقت کوئی شخص نہیں سمجھ سکتا‘ جب تک وہ یہودیوں کی تاریخ اور ان کے مذہبی تصورات سے واقف نہ ہو حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد جب بنی اسرائیل پے در پے تنزل کی حالت میں مبتلا ہوتے چلے گئے یہاں تک کہ آخر کار بابل اور اسیریا کی سلطنتوں نے ان کو غلام بنا کر زمین میں تتر بتر کر دیا‘ تو انبیاء بنی اسرائیل نے ان کو خوشخبری دینی شروع کی کہ خدا کی طرف سے ایک ”مسیح“ آنے والا ہے جو ان کو اس ذلت سے نجات دلائے گا ان پیشینگوئیوں کی بنا پر یہودی ایک مسیح کی آمد کے متوقع تھے جو بادشاہ ہو‘ لڑ کر ملک فتح کرے‘ بنی اسرائیل کو ملک ملک سے لا کر فلسطین میں جمع کر دے اور ان کی ایک زبردست سلطنت قائم کر دے۔ لیکن ان کی ان توقعات کے خلاف جب حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام خدا کی طرف سے مسیح ہو کر آئے اور کوئی لشکر ساتھ نہ لائے تو یہودیوں نے ان کی مسیحیت تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور انہیں ہلاک کرنے کے درپے ہو گئے اس وقت سے آج تک دنیا بھر کے یہودی اس مسیح موعود (Promised Messiah) کے منتظر ہیں جس کے آنے کی خوشخبریاں ان کو دی گئی تھیں ان کا لٹریچر اس آنے والے دور کے سہانے خوابوں سے بھرا پڑا ہے تلمود اور ربیوں کے ادبیات میں اس کا جو نقشہ کھینچا گیا ہے اس کی خیالی لذت کے سہارے صدیوں سے یہودی جی رہے ہیں اور یہ امید لیے بیٹھے ہیں کہ یہ مسیح موعود ایک زبردست جنگی و سیاسی لیڈر ہو گا جو دریائے نیل سے دریائے فرات تک کا علاقہ (جسے یہودی اپنی میراث کا ملک سمجھتے ہیں) انہیں واپس دلائے گا اور دنیا کے گوشے گوشے سے یہودیوں کو لا کر اس ملک میں پھر سے جمع کر دے گا۔

اب اگر کوئی شخص مشرق وسطیٰ کے حالات پر ایک نگاہ ڈالے اور نبی ﷺ کی پیشینگوئیوں کے پس منظر میں ان کو دیکھے تو فوراً یہ محسوس کرے گا کہ اس دجال اکبر کے ظہور کے لیے اسٹیج بالکل تیار ہو چکا ہے‘ جو حضور ﷺ کی دی ہوئی خبروں کے مطابق یہودیوں کا مسیح

صفحہ 102

موجود بن کر اٹھے گا فلسطین کے بڑے حصے سے مسلمان بے دخل کیے جاچکے ہیں اور وہاں اسرائیل کے نام سے ایک یہودی ریاست قائم کر دی گئی ہے اس ریاست میں دنیا بھر کے یہودی کھنچ کھنچ کر چلے آرہے ہیں امریکہ‘ برطانیہ اور فرانس نے اس کو ایک زبردست جنگی طاقت بنا دیا ہے۔ یہودی سرمائے کی بے پایاں امداد سے یہودی سائنس دان اور ماہرین فنون اس کو روز افزوں ترقی دیتے چلے جارہے ہیں اور اس کی یہ طاقت گرد و پیش کی مسلمان قوموں کے لیے ایک خطرہ عظیم بن گئی ہے اس ریاست کے لیڈروں نے اپنی اس تمنا کو کچھ چھپا کر نہیں رکھا ہے کہ وہ اپنی ”میراث کا ملک“ حاصل کرنا چاہتے ہیں مستقبل کی یہودی سلطنت کا جو نقشہ وہ ایک مدت سے کھلم کھلا شائع کررہے ہیں‘ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پورا شام‘ پورا لبنان پورا اردن اور تقریباً سارا عراق لینے کے علاوہ ترکی سے اسکندرون‘ مصر سے سینا اور ڈیلٹا کا علاقہ اور سعودی عرب سے بالائی حجاز و نجد کا علاقہ لینا چاہتے ہیں جس میں مدینہ منورہ بھی شامل ہے ان حالات کو دیکھتے ہوئے صاف محسوس ہوتا ہے کہ آئندہ کسی عالمگیر جنگ کی ہڑبونگ سے فائدہ اٹھا کر وہ ان علاقوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کریں گے اور ٹھیک اس موقع پر وہ دجال اکبر ان کا مسیح موعود بن کر اٹھے گا‘ جس کے ظہور کی خبر دینے ہی پر نبی ﷺ نے اکتفا نہیں فرمایا ہے‘ بلکہ یہ بھی بتا دیا ہے کہ

صفحہ 103

مقابلے پر لے کر نکلیں گے ان کے حملے سے دجال پسپا ہو کر افیق کی گھاٹی سے (ملاحظہ ہو حدیث نمبر ۲۱) اسرائیل کی طرف پلٹے گا اور وہ اس کا تعاقب کریں گے۔ آخر کار لد کے ہوائی اڈے پر پہنچ کر وہ ان کے ہاتھ سے مارا جائے گا۔ (حدیث نمبر ۱۰‘ ۱۴‘ ۱۵) اس کے بعد یہودی چن چن کر قتل کیے جائیں گے اور ملت یہود کا خاتمہ ہو جائے گا۔ (حدیث نمبر ۹‘ ۱۵‘ ۲۱) عیسائیت بھی حضرت عیسیٰؑ کی طرف سے اظہار حقیقت ہو جانے کے بعد ختم ہو جائے گی۔ (حدیث نمبر ۲۱‘ ۲۴) اور تمام ملتیں ایک ہی ملت مسلمہ میں ضم ہو جائیں گی (حدیث نمبر ۱۵‘ ۱۶)

یہ ہے وہ حقیقت جو کسی اشتباہ کے بغیر احادیث میں صاف نظر آتی ہے اس کے بعد اس امر میں کیا شک باقی رہ جاتا ہے کہ ”مسیح موعود“ کے نام سے جو کاروبار ہمارے ملک میں پھیلایا گیا ہے وہ ایک جعل سازی سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔

اس جعل سازی کا سب سے زیادہ مضحکہ انگیز پہلو یہ ہے کہ جو صاحب اپنے آپ کو ان پیشین گوئیوں کا مصداق قرار دیتے ہیں انہوں نے خود عیسیٰؑ ابن مریم بننے کے لیے یہ دلچسپ تاویل فرمائی ہے:

”اس نے (یعنی اللہ نے) براہین احمدیہ کے تیسرے حصے میں میرا نام مریم رکھا پھر جیسا کہ براہین احمدیہ سے ظاہر ہے دو برس تک صفت مریمیت میں میں نے پرورش پائی..... پھر..... مریم کی طرح عیسیٰؑ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارے کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینے کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں بذریعہ اس الہام کے جو سب سے آخر براہین احمدیہ کے حصہ چہارم میں درج ہے مجھے مریم سے عیسیٰؑ بنایا گیا پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا۔“ (کشتی نوح ص ۸۷ ۔ ۸۸ ۔ ۸۹)

یعنی پہلے مریم بنے پھر خود ہی حاملہ ہوئے پھر اپنے پیٹ سے آپ عیسیٰ ابن مریم بن کر تولد ہو گئے! اس کے بعد یہ مشکل پیش آئی کہ عیسیٰ ابن مریم کا نزول تو احادیث کی رو سے دمشق میں ہونا تھا جو کئی ہزار برس سے شام کا ایک مشہور و معروف مقام ہے اور آج بھی دنیا کے نقشے پر اسی نام سے موجود ہے۔ یہ مشکل ایک دوسری پر لطف تاویل سے یوں رفع کی گئی:۔

صفحہ 104

”واضح ہو کہ دمشق کے لفظ کی تعبیر میں میرے پر منجانب اللہ یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس جگہ ایسے قصبے کا نام دمشق رکھا گیا ہے جس میں ایسے لوگ رہتے ہیں جو یزیدی الطبع اور یزید پلید کی عادات اور خیالات کے پیرو ہیں...... یہ قصبہ قادیان بوجہ اس کے کہ اکثر یزیدی الطبع لوگ اس میں سکونت رکھتے ہیں، دمشق سے ایک مشابہت اور مناسبت رکھتا ہے۔“

(حاشیہ ازالہ اوہام ص ۷۳)

پھر ایک اور الجھن یہ باقی رہ گئی کہ احادیث کی رو سے ابن مریم کو ایک سفید منارہ کے پاس اترنا تھا چنانچہ اس کا حل یہ نکالا گیا کہ مسیح صاحب نے آ کر اپنا منارہ خود بنوا لیا اب اسے کون دیکھتا ہے کہ احادیث کی رو سے منارہ وہاں ابن مریم کے نزول سے پہلے موجود ہونا چاہیے تھا اور یہاں وہ مسیح موعود صاحب کی تشریف آوری کے بعد تعمیر کیا گیا۔

آخری اور زبردست الجھن یہ تھی کہ احادیث کی رو سے تو عیسیٰ ابن مریم کو لد کے دروازے پر دجال کو قتل کرنا تھا اس مشکل کو رفع کرنے کی فکر میں پہلے طرح طرح کی تاویلیں کی گئیں کبھی تسلیم کیا گیا کہ لد بیت المقدس کے دیہات میں سے ایک گاؤں کا نام ہے (ازالہ اوہام شائع کردہ انجمن احمدیہ لاہور، مطبع خورد صفحہ ۲۲۰) پھر کہا گیا کہ لد ”ان لوگوں کو کہتے ہیں جو بے جا جھگڑا کرنے والے ہوں جب دجال کے بے جا جھگڑے کمال تک پہنچ جائیں گے، تب مسیح موعود ظہور کرے گا اور اس کے تمام جھگڑوں کا خاتمہ کر دے گا۔“ (ازالہ اوہام صفحہ ۷۳۰) لیکن جب اس سے بھی بات نہ بنی تو صاف کہہ دیا گیا کہ لد سے مراد لدھیانہ ہے اور اس کے دروازے پر دجال کے قتل سے مراد یہ ہے کہ اشرار کی مخالفت کے باوجود وہیں سب سے پہلے مرزا صاحب کے ہاتھ پر بیعت ہوئی۔ (الہدیٰ ص ۹۱)

ان تاویلات کو جو شخص بھی کھلی آنکھوں سے دیکھے گا اسے معلوم ہو جائے گا کہ یہ جھوٹے بہروپ (Flase Inpersonation) کا صریح ارتکاب ہے جو علی الاعلان کیا گیا ہے۔

صفحہ 105

آخری نبی ﷺ کی تمام سنتیں محفوظ ہیں

سید سلیمان ندویؒ

حافظ ابن قیم نے ”زاد المعاد“ میں سب سے زیادہ آپ ﷺ کے حالات کا استقصاء کیا ہے چنانچہ صرف ذاتی حالات کی فہرست سنئے:

آپ ﷺ کا طریقہ رسل و رسائل‘ آپ ﷺ کے کھانے پینے کا طریقہ‘ آپ ﷺ کے نکاح اور ازدواجی تعلقات کا طریقہ‘ خواب و بیداری کا طریقہ‘ سواری کا طریقہ‘ لونڈی اور غلام کو اپنی خدمت کے لئے قبول فرمانے کا طریقہ‘ آپ ﷺ کے معاملات اور خرید و فروخت کا طریقہ‘ حوائج ضروری کے آداب‘ اصلاح اور خط بنوانے کا طریقہ‘ مونچھوں کے رکھنے اور ترشوانے میں آپ ﷺ کا طریقہ‘ آپ ﷺ کا طرز کلام‘ آپ ﷺ کی خاموشی‘ آپ ﷺ کا خندہ فرمانا‘ آپ ﷺ کا رونا‘ آپ ﷺ کا طریق خطابت‘ طریقہ وضو‘ موزوں پر مسح کرنے کا طریقہ‘ طریقہ تیمم‘ آپ ﷺ کی نماز ادا کرنے کا طریقہ‘ آپ ﷺ کا دو سجدوں کے درمیان بیٹھنے کا طریقہ‘ آپ ﷺ کے نماز میں بیٹھنے اور تشہد کے وقت انگلی اٹھانے کا طریقہ‘ آپ ﷺ کا نماز میں سلام پھیرنے کا طریقہ‘ نماز میں آپ ﷺ کا دعا فرمانا‘ آپ ﷺ کا سجدہ سہو کرنے کا طریقہ‘ آپ ﷺ کا نماز میں سترہ کھڑا کرنے کا طریقہ‘ سفر و حضر‘ مسجد اور گھر میں آپ ﷺ کا سنن و نوافل پڑھنے کا طریقہ‘ تہجد یا فجر کی سنت کے بعد آپ ﷺ کی استراحت کا طریقہ‘ آپ ﷺ کے تہجد پڑھنے کا طریقہ‘ رات کی نماز اور وتر پڑھنے کا طریقہ‘ آپ ﷺ کا وتر کے بعد بیٹھ کر نماز پڑھنے کا طریقہ‘ آپ ﷺ کا سجدہ شکر بجا لانے کا طریقہ‘ آپ ﷺ کا سجدہ قرآن ادا کرنے کا طریقہ‘ آپ ﷺ کا جمعہ کے معمولات آپ ﷺ کا جمعہ کے دن کی

صفحہ 106

عبادات کا طریقہ‘ آپ ﷺ کا خطبہ دینے کا طریقہ‘ صلوٰۃ عیدین میں آپ ﷺ کا طریقہ‘ سورج گرہن کے وقت آپ ﷺ کا نماز پڑھنے کا طریقہ‘ استسقاء میں آپ ﷺ کا طریقہ‘ آپ ﷺ کا سفر کا طریقہ‘ آپ ﷺ کا قرآن پڑھنے اور سننے کا طریقہ‘ بیماروں کی عیادت میں آپ ﷺ کا طریقہ‘ جنازوں کے متعلق آپ ﷺ کا طریقہ‘ جنازوں کے ساتھ آپ کے تیز قدم اٹھانے کا طریقہ‘ آپ ﷺ کا میت پر کپڑا ڈالنے کا طریقہ‘ کسی میت کے آنے پر اس کے متعلق آپ ﷺ کے سوال کرنے کا طریقہ‘ جنازہ کی نماز میں آپ ﷺ کا طریقہ‘ چھوٹے بچوں پر نماز جنازہ پڑھنے میں آپ ﷺ کا معمول‘ خودکشی کرنے والے اور جہاد کے مال غنیمت میں خیانت کرنے والے پر آپ ﷺ کا نماز نہ پڑھنا‘ جنازہ کے آگے آگے آپ ﷺ کے چلنے وغیرہ کا طریقہ‘ جنازہ غائب پر آپ ﷺ کے نماز پڑھنے کا طریقہ‘ جنازہ کے لئے آپ ﷺ کے کھڑے ہونے کا طریقہ‘ تعزیت اور زیارت قبور میں آپ ﷺ کا طریقہ‘ صلوٰۃ خوف میں آپ ﷺ کا طریقہ‘ زکوٰۃ اور صدقات میں آپ ﷺ کا طریقہ‘ روزہ میں آپ ﷺ کا طریقہ‘ آپ ﷺ کا رمضان میں زیادہ عبادت کرنے کا طریقہ‘ چاند دیکھنے کے ساتھ ہی روزہ و افطار کے متعلق آپ ﷺ کا طریقہ‘ چاند دیکھنے کی گواہی قبول کرنے میں آپ ﷺ کا طریقہ‘ سفر میں روزہ کے افطار کے متعلق آپ ﷺ کا طریقہ‘ عرفہ کے دن عرفہ کی وجہ سے افطار فرمانے اور جمعہ‘ شنبہ‘ یک شنبہ میں آپ ﷺ کے روزہ رکھنے کا طریقہ‘ آپ ﷺ کا پے در پے روزہ رکھنے کا طریقہ‘ آپ ﷺ کے نفل روزہ رکھنے اور اس کے ٹوٹ جانے پر ادا کرنے کا طریقہ‘ آپ ﷺ کا نفل روزہ رکھنے اور اس کے ٹوٹ جانے پر ادا کرنے کو واجب نہ سمجھنے کا طریقہ‘ ہر روز جمعہ کو روزہ کے لئے مخصوص کر لینے پر آپ ﷺ کا کراہت فرمانا‘ آپ ﷺ کے اعتکاف کا طریقہ‘ حج وعمرہ میں آپ ﷺ کے حج کی کیفیت‘ آپ ﷺ کا ایک سال میں دو عمرہ ادا کرنے کا طریقہ‘ آپ ﷺ کے حج کی کیفیت‘ آپ ﷺ کا حج میں اپنے دست مبارک سے قربانی فرمانے کا طریقہ‘ آپ کا حج میں سر منڈانے کا طریقہ‘ ایام حج میں آپ ﷺ کے خطبوں کا طریقہ‘ عید الاضحیٰ میں آپ ﷺ کے قربانی کرنے کا طریقہ‘ عقیقہ میں آپ ﷺ کا طریقہ‘ نومولود بچہ کے کان میں

صفحہ 107

آپ ﷺ کے اذان دینے اور اس کا نام رکھنے اور اس کے ختنہ کرنے میں آپ ﷺ کے عادات، ناموں اور کنیتوں کے رکھنے میں آپ ﷺ کا طریقہ، بولنے میں احتیاط اور الفاظ کے انتخاب میں آپ ﷺ کا طریقہ، اذکار و وظائف میں آپ ﷺ کا طریقہ، گھر میں داخلہ کے وقت آپ ﷺ کا طریقہ، بیت الخلاء جانے اور وہاں سے واپس آنے کا طریقہ، آپ ﷺ کے کپڑا پہننے کا طریقہ، وضو کی دعا کے متعلق آپ ﷺ کا طریقہ، اذان کے وقت الفاظ اذان کے دہرانے کے متعلق آپ ﷺ کا طریقہ، رویت ہلال کے وقت آپ ﷺ کا دعا فرمانے کا طریقہ، کھانے سے پہلے اور اس کے بعد آپ ﷺ کا دعاؤں کے پڑھنے کا طریقہ، آداب طعام میں آپ ﷺ کا طریقہ، آداب سلام میں آپ ﷺ کا طریقہ، آداب سفر میں آپ ﷺ کا طریقہ، قیدیوں کے متعلق آپ ﷺ کا معمول، قیدی جاسوس اور غلام کے متعلق آپ ﷺ کا معمول، صلح کرنے، امان دینے، جزیہ مقرر کرنے اور اہل کتاب و منافقین کے ساتھ معاملات کرنے میں آپ ﷺ کا طریقہ، کفار و منافقین کے ساتھ علی الترتیب آپ ﷺ کے برتاؤ کرنے کا طریقہ، آپ ﷺ کا امراض قلب اور امراض بدن کے علاج کرنے کا طریقہ۔

میں نے آپ کے سامنے جزئی جزئی باتوں کی اجمالی فہرست پیش کی ہے اس سے آپ یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جب ان چھوٹی چھوٹی باتوں کو محفوظ رکھا گیا ہے۔ بڑی بڑی اہم باتوں کی کیا کچھ تفصیل موجود نہ ہو گی۔ غرض ایک انسان کی زندگی کے جس قدر پہلو ہو سکتے ہیں وہ سب محفوظ اور مذکور ہیں۔

٭......٭......٭

مرزے کی قبر ٭ جناب سراج الدین صاحب کہتے ہیں کہ میں مرزائی تھا۔ ایک رات خواب میں دیکھا کہ میں قادیاں میں مرزا قادیانی کی قبر پر کھڑا ہوں۔ اچانک مجھے اس کی قبر پر ایک تختی نظر آئی جس پر لکھا تھا فی نار جھنم خالدین ابدا۔ بس یہ تحریر پڑھ کر کانپ اٹھا۔ اس کے ساتھ ہی مرزا کی قبر پر چند الو اور گدھ کی شکل میں جانور نظر آئے۔ میں بیدار ہوا اور سجدہ میں گر گیا کہ قدرت حق نے میری دستگیری فرمائی اور مسلمان ہو گیا۔

صفحہ 108

اسلام و ایمان اور مسلم و مومن میں فرق

مفتی محمد شفیعؒ

چونکہ اسلام و کفر کی تعریف میں چند اصطلاحی الفاظ کا استعمال ہوتا ہے۔ اس لئے ان الفاظ کی تعریفات پہلے لکھی جاتی ہیں۔

تعریفات

ایمان:

رسول اللہ ﷺ کی قلبی تصدیق ہر اس چیز میں جس کا ثبوت آپ سے قطعی اور بدیہی طور پر ہو چکا ہو بشرطیکہ اس کے ساتھ اطاعت کا اقرار بھی ہو۔

اسلام:

اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری کا اقرار بشرطیکہ اس کے ساتھ ایمان یعنی تصدیق قلبی موجود ہو۔

مومن:

وہ شخص جو رسول اللہ ﷺ کی دل سے تصدیق کرے ہر اس امر میں جس کا ثبوت آپ سے قطعی اور بدیہی طور پر ہو چکا ہو بشرطیکہ زبان سے بھی اس تصدیق کی اور اطاعت کا اقرار کرے۔

صفحہ 109

مسلمان:

وہ شخص جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت وفرمانبرداری کا اقرار کرے بشرطیکہ دل میں بھی ان کی تصدیق رکھتا ہو۔

کافر:

وہ شخص جو ان میں سے کسی ایک چیز کا دل سے انکار یا زبان سے تکذیب کر دے۔

اسلام و ایمان اور مسلم و مومن میں فرق:

لغۃ ایمان تصدیق قلبی کا نام ہے اور اسلام اطاعت وفرمانبرداری کا ایمان کا محل قلب ہے اور اسلام کا محل قلب اعضاء و جوارح ہیں لیکن شرعاً ایمان بغیر اسلام کے اور اسلام بغیر ایمان کے معتبر نہیں، یعنی اللہ اور اس کے رسول کی محض دل میں تصدیق کر لینا شرعاً اس وقت تک معتبر نہیں جب تک زبان سے اس تصدیق کا اظہار اور اطاعت و فرمانبرداری کا اقرار نہ کرے اور اطاعت و فرمانبرداری کا اقرار اس وقت تک معتبر نہیں جب تک اس کے دل میں اللہ اور اس کے رسول کی تصدیق نہ ہو۔

الغرض لغوی مفہوم کے اعتبار سے ایمان و اسلام الگ الگ مفہوم رکھتے ہیں اور قرآن وحدیث میں اسی لغوی مفہوم کی بناء پر ایمان و اسلام کے اختلاف کا ذکر بھی ہے لیکن خود قرآن وحدیث کی ہی تصریحات کے مطابق یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شرعاً کوئی ایمان بدوں اسلام کے یا اسلام بدون ایمان کے معتبر نہیں۔ اسی مضمون کو بعض اہل تحقیق نے اس طرح بیان فرمایا ہے کہ ایمان و اسلام کی مسافت تو ایک ہے فرق مبدأ اور منتہی میں ہے ایمان قلب سے شروع ہوتا ہے اور ظاہر پر منتہی ہوتا ہے اور اسلام ظاہر سے شروع ہوکر قلب پر منتہی ہوتا ہے اگر قلبی تصدیق ظاہری اقرار وغیرہ تک نہ پہنچے تو وہ تصدیق ایمان معتبر نہیں اسی طرح ظاہری اقرار و اطاعت اگر تصدیق قلبی تک نہ پہنچے وہ اسلام معتبر نہیں۔

(افادہ الاستاذ العلامہ مولانا انور شاہ قدس سرہ)

اب جب ایمان و اسلام کا لغوی اور شرعی مفہوم متعین ہو گیا تو مومن و مسلم کا

صفحہ 110

مفہوم بھی ظاہر ہو گیا۔ شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ نے صحیح مسلم کی شرح میں اس مسئلہ پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ اس میں امام غزالیؒ اور امام سبکی کی یہی تحقیق لکھی ہے جو اوپر گزر چکی امام سبکی کے چند جملے یہ ہیں۔

الاسلام موضوع للانقياد الظاهر مشروطاً فيه الايمان و الايمان موضوع للتصديق الباطن مشروطاً فيه القول عند

الامكان. (فتح الملہم جلد اول ص ۱۵۱)

”اسلام“ موضوع ہے ظاہری اطاعت و فرمانبرداری کے لئے مگر اس میں ایمان شرط ہے اور ایمان موضوع ہے باطنی تصدیق کے لئے مگر اس میں زبان سے کہنا بھی شرط ہے بوقت امکان۔

اور شیخ کمال الدین ہمامؒ شارح ہدایہ نے اپنی عقائد کی مستند و مشہور کتاب اور اس کی شرح مسامرہ میں امت محمدیہ کا اتفاق اس پر نقل فرمایا ہے اس کے الفاظ یہ ہیں:

وقد اتفق اهل الحق وهم فريقا الاشاعرة والحنفيه على تلازم الايمان والاسلام بمعنى انه لا ايمان يعتبر بلا اسلام وعكسه اى لا اسلام يعتبر بدون ايمان فلا ينفك احدهما

عن الاخر (ص ۱۸۶ جلد نمبر ۲ طبع مصر)

”اور اہل حق نے اتفاق کیا ہے اور وہ دونوں گروہ اشاعرہ اور حنفیہ ہیں‘ کہ ایمان اور اسلام باہم متلازم ہیں۔ یعنی ایمان بلا اسلام کے معتبر نہیں اور نہ اس کا عکس‘ یعنی نہ اسلام بلا ایمان کے معتبر۔ پس ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے۔“

ثبوت قطعی:

جو چیز آنحضرت ﷺ سے بذریعہ تواتر ہم تک پہنچی ہے اس کا ثبوت قطعی ہے۔ جیسے قرآن‘ نمازوں کی تعداد رکعات اور رکوع و سجود وغیرہ کی کیفیات اذان‘ زکوٰۃ‘ کی تفصیلات‘ حج اور اس کی بہت سی تفصیلات آنحضرت ﷺ پر ختم نبوت وغیرہ۔

صفحہ 111

تواتر کے معنی یہ ہیں کہ آنحضرت ﷺ سے لے کر ہم تک ہر قرن ہر زمانہ میں دنیا کے مختلف خطوں میں اس کو آنحضرت ﷺ سے روایت کرنے والے اتنی تعداد میں رہے ہوں کہ ان سب کا غلطی یا کذب پر متفق ہو جانا عقلاً محال سمجھا جاتا ہو۔

ثبوت بدیہی:

جس کو عرف فقہاء اور متکلمین میں ضروری یا بالضرورت کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے یہ ہے کہ تواتر کے ساتھ اس کی شہرت تمام خاص و عام مسلمانوں میں اس درجہ ہو جائے کہ عوام تک اس سے واقف ہو جیسے نماز روزہ زکوٰۃ اور حج کا فرض ہونا اذان کا سنت ہونا اور نبوت کا آنحضرت ﷺ پر ختم ہو جانا وغیرہ۔

ضروریات دین:

جو چیزیں آنحضرت ﷺ سے بذریعہ تواتر اس درجہ شہرت و بداہت کے ساتھ ثابت ہوں کہ ہر خاص و عام اس سے باخبر ہو ان کو فقہاء اور متکلمین کی اصطلاح میں ضروریات دین کہا جاتا ہے۔

تنبیہ :

ایمان بہت سی مجموعی چیزوں کی تصدیق و تسلیم کا نام ہے جن کا ذکر اوپر تعریف میں آ چکا ہے لیکن کفر میں ان سب چیزوں کا انکار یا تکذیب ضروری نہیں بلکہ ان میں سے کسی ایک چیز کی تکذیب و انکار بھی کفر ہے خواہ باقی سب چیزوں کو صدق دل سے قبول کرتا ہو اسی لئے ایمان اور اسلام ایک ہی حقیقت ہے اور کفر کی بہت سی اقسام ہو گئی ہیں جن میں سے دو بنیادی قسمیں تو قرآن کی مذکورہ آیات سورۂ بقرہ میں بیان کر دی گئیں۔ ایک کفر ظاہر اور دوسرے کفر نفاق باقی اقسام کی تفصیل و تشریح اب بیان کی جاتی ہے۔

صفحہ 112

آخری نبیؐ....... آخری کتاب

مولانا عبدالرحیم

قرآن مجید کی مختصر اہم خصوصیات:

حضرت آدمؑ سے لے کر رسول اللہ ﷺ تک جتنے بھی انبیائے کرام تشریف لائے حقیقت میں سب دین اسلام کی تبلیغ کرتے رہے۔ ایک حقیقت تھی جو مسلسل دہرائی جاتی رہی تھی۔ قرآن حکیم قیامت تک نوع انسانی کی ہدایت کا ذریعہ بنتا رہے گا۔ کیا خوب کہا ہے شاعر نے

ظلمت کی وادیوں میں سحر آپ کے پاس تھی
سب بے خبر تھے اور خبر آپ کے پاس تھی

اور جو کتاب عطاء فرمائی اس کی حفاظت کا ذمہ لیا۔

۱۔ عیسائیوں کا حفاظت قرآن کو پرکھنا:

علامہ حمید اللہ ایک معروف اسکالر نے ”خطبات بہاولپور“ میں فرمایا ہے کہ ۱۹۳۳ء میں تمام عیسائیوں نے یہ سکیم بنائی کہ جس طرح ہماری مذہبی کتابیں اپنی اصل حالت میں نہیں رہیں۔ ہم ساری دنیا سے قرآن پاک کے پرانے نسخے جمع کر کے ان کا آپس میں مقابلہ کریں تو ضرور ان کے درمیان فرق نکل آئے گا۔ چنانچہ انہوں نے جرمنی میں دنیا کے گوشہ گوشہ سے قرآن عظیم کے بیالیس ہزار نسخے جمع کئے اور جب ان کا تقابل کیا تو ایک نقطے کا فرق بھی نہ نکلا یہ ہے حفاظت خداوندی، اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ فرمایا پورا کر کے دکھلا دیا۔

صفحہ 113

۲۔ قرآن پاک زندہ زبان:

قرآن حکیم زندہ زبان رکھتا ہے۔ جب کہ پہلی آسمانی کتابیں جن زبانوں میں نازل ہوئیں مردہ ہو چکی ہیں۔ قرآن کریم نے اہل عرب کو چیلنج کیا جن کو اپنی زبان دانی پر بڑا ناز تھا کہ اس آفتاب ہدایت کی سب سے چھوٹی سورت جیسی کوئی سورت بنا لاؤ لیکن اس چیلنج کے آگے اہل عرب سر نہ اٹھا سکے۔ انہیں خاموش ہونا پڑا، جس تر و تازگی کے ساتھ نازل ہوا تھا وہی تازگی، وہی مہک، وہی خوشبو آج بھی اسی طرح محسوس ہو رہی ہے۔ اس گلشن کا موسم سدا بہار ہے خزاں اس کے قریب بھی نہیں پھٹکتی۔

۳۔ کامل نظام زندگی:

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اگر یہ حقیقت ہے تو اس میں ان تمام امور کا حل موجود ہونا چاہئے جو کہ انسان کو درپیش ہیں کیا ایسا ہے یقیناً ہے اگر اندھے کو سورج نظر نہ آئے تو اس کی آنکھوں کا قصور ہے جو کہ بینائی کی نعمت سے محروم ہے۔ حضرت عبداللہ ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ اگر میرے اونٹ کی رسی گم ہو جائے تو میں قرآن پاک سے دریافت کرتا ہوں کہ بتلا میرے اونٹ کی رسی کہاں ہے؟ قرآن پاک کی رہنمائی فقیر کی جھونپڑی سے لے کر ایوانِ حکومت تک زندگی کے تمام شعبوں پر محیط ہے۔ صحابہؓ کا تعلق قرآن حکیم سے بہت گہرا تھا وہ ہر قسم کی راہنمائی قرآن سے حاصل کرتے تھے۔ سبحان اللہ کیا خوب کہا ہے۔ شاعر نے۔

وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور ہم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر

۴۔ حق و باطل کی پہچان:

قرآن حکیم نے اپنے آپ کو الفرقان بھی کہا ہے جس کے معنی حق و باطل میں پہچان و امتیاز کرنے کے ہیں۔ ارشاد ربانی ہے۔ انه لقول فصل (سورۃ الطارق آیت نمبر ۱۳) ترجمہ بے شک یہ (قرآن) ایک قول فیصل ہے یعنی وہ بات کو نکھار دینے والا کلام ہے، قرآن حق و باطل کے مابین حد فاصل قائم کر دیتا ہے نیکی و بدی کے درمیان کسی سمجھوتے کا

صفحہ 114

قائل نہیں اور اپنے ثبوت اعجاز کے اعتبار سے قول فیصل ہے مفسر شہیر تھانویؒ نے کہا ہے کہ جس طرح بارش آسمان سے برستی ہے اور عمدہ زمین کو فیض یاب کرتی ہے اسی طرح قرآن کریم بھی آسمان ہی سے اترا ہے اور جس سینہ میں قبول کی قابلیت ہو گی اسے مالا مال کر دے گا۔

۵۔ قرآن خوانی کی عظمت:

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قرآن سیکھو اور اس کو پڑھو کیونکہ جو شخص قرآن سیکھتا ہے پھر اس کو پڑھتا ہے اور رات کو قیام کرتا ہے اس کا حال اس تھیلی کی مانند ہو جاتا ہے جس میں مشک بھرا ہوا تھا کہ اس کی خوشبو مکان کے گوشہ گوشہ میں پہنچ جاتی ہے اور اس کا حال جس نے قرآن سیکھا اور وہ اس کے دل میں ہی رہا یعنی نہ تو اسنے پڑھا اور نہ ہی اس پر عمل کیا مشک کی اس تھیلی کی مانند ہے جس کے منہ کو باندھ کر اس کے منہ پر مہر لگا دی گئی ہو شاعر مشرق علامہ اقبالؒ نے بڑی درد مندی کے لہجے میں فرمایا تھا۔

”دنیا میں سب سے زیادہ مظلوم کتاب قرآن ہے کہ مسلمان اسے بے سمجھے پڑھتے ہیں۔ بلکہ قرآن کو اس انداز سے پڑھا اور اس پر عمل کیا جائے کہ بزبان شاعر مشرق علامہ اقبالؒ

یہ بات کسی کو نہیں معلوم کہ مؤمن
قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن

عظمتِ قرآن پر چند اقتباسات:

سے افضل ترین ہیں۔

صفحہ 115

سے افضل ترین امت ہے۔

میں سب سے افضل ترین مہینہ ہے۔

رات ہے۔

فرشتوں میں سب سے افضل ترین فرشتہ ہیں۔

میں سب سے افضل ترین شہر ہیں۔

آیا ہے۔

ہے۔

انسان ہیں جنہیں قرآن مجید کا سب سے پہلا حافظ قرآن ہونے کی سعادت نصیب ہوئی۔

میں قرآن مجید کا فارسی ترجمہ سب سے پہلے شاہ ولی اللہ نے اور اردو ترجمہ سب سے پہلے حضرت شاہ رفیع الدین محدث دہلوی نے کیا۔

”الکوثر“ ہے۔

صفحہ 116

نہیں ہے۔

پیش استعمال ہوا ہے۔

ہے۔

رمضان ۴۱ھ میلادی کی رات سے رفتہ رفتہ نازل ہونی شروع ہوئی، جبکہ آخری وحی "الیوم اکملت لکم دینکم الخ" ۹ ذی الحجہ ۱۰ہجری بمطابق ۶۳ء میلا دی بروز جمعہ و عرفہ کے دن ہوئی۔

میں "یا ایہا الناس" کہہ کر خطاب فرمایا گیا۔ کسی بھی مکی آیت میں "یا ایہا الذین امنوا" کا انداز خطاب نظر نہیں آیا، البتہ سات "۷" مدنی آیات ایسی ہیں جن میں "یا ایہا الناس" کہہ کر خطاب فرمایا گیا ہے۔

پچاس مقامات پر خیرات کرنے کی تاکید کی گئی ہے اور تقریباً سات سو مقامات پر نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔

گیا۔

حافظ تھے۔

لفظی معنی ہیں "تلاو

آیا ہے۔

۶۶۶۶ آیات ہیں

استعمال ہوئے ہیں

ہوئے ہیں۔

ہوئیں۔

قرآن حکیم میں کون سا

صفحہ 117

لفظی معنی ہیں ”تلاوت کیا گیا ۔“

آیا ہے۔

۶۶۶۶ آیات ہیں۔

استعمال ہوئے ہیں۔

ہوئے ہیں۔

ہوئیں۔

قرآن حکیم میں کون سا لفظ کتنی مرتبہ استعمال ہوا اس کی تفصیل درج ذیل ہے:

صفحہ 118
صفحہ 119

قرآن مجید کا نزول:

قرآن مجید ۱۷ رمضان ۶۱۰ میلادی کی رات سے حضرت محمد ﷺ پر رفتہ رفتہ نازل ہونا شروع ہوا سب سے پہلے مکہ مکرمہ کے قریب تاریخی اور مقدس مقام غار حرا جس میں حضرت محمد ﷺ نبوت سے پہلے کئی دن تک عبادت کیا کرتے تھے اور اس میں آپ پر ”اقراء“ کے الفاظ سے وحی کے نزول کا آغاز ہوا اور یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ اقرا باسم ربک الذی خلق، خلق الانسان من علق، اقراء وربک الاکرم الذی علم بالقلم علّم الانسان مالم یعلم.

وحی والہام کا یہ مبارک سلسلہ ۹ ذی الحجہ ۱۰ ہجری مطابق ۶۳۲ میلادی تک جاری رہا اور ۱۰ھ میں عرفہ کے دن آخری آیت نازل ہوئی۔

الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دیناً.

آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت کو پورا کر دیا اور تمہارے واسطے اسلام کو بطور دین پسند کیا۔

اس اعتبار سے نزول وحی کی کل مدت بائیس سال دو ماہ اور بائیس دن ہے۔ جس رات قرآن کریم کا نزول شروع ہوا وہ شب قدر تھی جس کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ:

انا انزلناه فی لیلة القدر وما ادرک ما لیلة القدر لیلة القدر خیر من الف شہر تنزل الملئکة والروح فیہا باذن ربہم من

صفحہ 120

کل امر سلام ھی حتی مطلع الفجر.

ترجمہ: ”ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل کیا اور تمہیں کیا معلوم شب قدر کیا ہے؟ شب قدر ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے‘ اس میں فرشتے اور روح القدس اپنے پروردگار کے حکم سے اترتے ہیں ہر حکم خیر کے لئے سلامتی والی ہے وہ رات طلوع فجر تک۔“

اسی رات کے سلسلہ میں ایک دوسری جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

انا انزلناہ فی لیلۃ مبارکۃ انا کنا مرسلین رحمۃ من ربک.

ہم نے اس (قرآن) کو (لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر) ایک برکت والی رات (شب قدر) میں اتارا ہے ہم آگاہ کرنے والے ہیں‘ اس رات میں ہر حکمت والا معاملہ ہماری پیشی سے حکم ہو کر طے کیا جاتا ہے ہم بوجہ رحمت کے جو آپ کے رب کی طرف سے ہوئی ہے آپ کو پیغمبر بنانے والے تھے۔ اس میں کسی کو اختلاف نہیں کہ یہ ماہ رمضان کی رات تھی چنانچہ رب کائنات کا فرمان ہے۔

شہر رمضان الذی انزل فیہ القرآن ھدی للناس وبینات من الھدی والفرقان.

ماہ رمضان جس میں قرآن مجید بھیجا گیا ہے جس کا (ایک) وصف یہ ہے کہ لوگوں کے لئے (ذریعہ) ہدایت ہے اور دوسرا وصف یہ ہے کہ واضح الدلالہ ہے منجملہ ان کتب کے جو (ذریعہ) ہدایت بھی ہیں اور (حق و باطل میں) فرق کرنے والی ہیں۔ اور یہی وہ زمانہ ہے جس میں رسول خدا غار حرا میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے رسول اللہ ﷺ سال میں ایک مہینہ غار حرا میں قیام فرمایا کرتے تھے یہاں تک کہ جب آپ کی بعثت کا سال آیا تو آپ ماہ رمضان میں حسب معمول حراء کی طرف جانے کے لئے نکلے۔

لیکن اس مسئلہ میں اختلاف ہے کہ جس رات نزول قرآن کا آغاز ہوا‘ وہ رمضان کی کون سی رات تھی؟ محمد بن اسحاقؒ کا خیال ہے کہ یہ رمضان کی ۱۷ویں رات تھی۔ اللہ تعالیٰ کے ایک ارشاد سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔

صفحہ 121

ان کنتم امنتم باللہ وما انزلنا علی عبدنا یوم الفرقان یوم التقی الجمعان۔

اگر تم اللہ پر اور اس (کتاب) پر ایمان لائے ہو جو ہم نے اپنے بندے پر اس دن نازل کی جس روز حق و باطل جدا ہونے والے تھے اور جس دن دو جماعتیں (لڑنے کے لئے ) آپس میں ملی تھیں۔

اس آیت میں جس دن کی طرف ”یوم التقی الجمعان“ کہہ کر اشارہ کیا گیا ہے۔ اس سے مراد متفقہ طور پر غزوہ بدر کا دن ہے جس کے بارے میں تصریح ہے کہ وہ ۱۷ رمضان کو ہوا ہے۔ اور یوم الفرقان سے مراد وہ دن ہے جس میں نزول قرآن کا آغاز ہوا: اس لئے اس آیت سے یہ راہنمائی ملتی ہے کہ یہ دونوں دن اس اعتبار سے متحد ہیں کہ دونوں سے مراد جمعہ ۱۷ رمضان ہے اگرچہ یہ دونوں واقعات ایک ہی سال میں نہیں ہوئے بلکہ نزول قرآن کی ابتداء غزوہ بدر سے کئی سال پہلے ہو چکی تھی۔

تفسیر طبری میں سند کے ساتھ ایک روایت نقل کی گئی ہے فرمایا ”لیلۃ الفرقان یوم التقی الجمعان“ ۱۷ رمضان ہے۔ رہا نزول وحی کا اختتام تو اس سلسلہ میں علامہ طبریؒ الیوم اکملت لکم دینکم کی تفسیر کرتے ہوئے رقمطراز ہیں۔

علماء نے کہا ہے کہ یہ عرفہ کا دن ہے جس روز آنحضرت ﷺ نے حج وداع فرمایا ہے اور اس آیت کے بعد نہ کوئی فریضہ مسلمان پر وحی کے ذریعہ لازم کیا گیا، نہ کسی چیز کو حرام یا حلال قرار دیا گیا، رسول اللہ ﷺ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد صرف اکیاسی رات بقید حیات رہے، یہی بات حضرت ابن عباسؓ نے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے ایک یہودی کے سامنے یہ آیت پڑھی تو اس نے کہا کہ اگر کسی دن یہ آیت ہم پر نازل ہو جاتی ہے تو ہم اس دن کو عید بنا لیتے ہیں اس پر حضرت ابن عباسؓ نے جواب دیا کہ یہ تو اس دن نازل ہوئی ہے جس روز دو عیدیں جمع ہو گئیں تھیں ایک جمعہ کا دن اور دوسرا عرفہ کا دن۔ مشرکین کو اس بات پر بڑا اعتراض تھا کہ قرآن تھوڑا تھوڑا کیوں اترتا ہے؟ ایک ہی دفعہ میں پورا کیوں نہیں نازل ہو جاتا؟ اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ اعتراض ذکر فرما کر سورہ فرقان میں اس کا جواب دیا ہے۔

صفحہ 122

وقال الذین کفروا لولا انزل علیہ القرآن جملۃ واحدۃ کذلک لنثبت بہ فؤادک ورتلناہ ترتیلا۔

اور کفار نے کہا کہ قرآن ایک ہی مرتبہ میں کیوں نہ نازل کر دیا گیا؟ ایسا ہم نے اس لئے کیا تاکہ اس کے ذریعہ آپ کے قلب کو قوی رکھیں اور ہم نے اس کو بہت ٹھہر ٹھہرا کر اتارا ہے۔

اور سورہ اسراء میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

وقرآناً فرقناہ لتقراہ علی الناس علی مکث ونزلناہ تنزیلا۔

اور قرآن میں ہم نے جا بجا فصل رکھا تاکہ آپ ان لوگوں کے سامنے ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں اور ہم نے اس کو اتارنے میں بھی تدریجاً اتارا۔

نزول وحی کے دو اہم دور :

نزول قرآن کا زمانہ دو ممتاز مدتوں پر تقسیم ہے:

کی کل مدت بارہ سال پانچ مہینے اور تیرہ دن ہے۔ نزول وحی کا یہ زمانہ ۱۷ رمضان ۴۱ میلادی سے لے کر ربیع الاول ۵۴ میلادی تک جاری رہا‘ اس عرصہ میں قرآن کریم کی جو سورتیں یا آیات نازل ہوئیں انہیں مکی کہا جاتا ہے ۔

۵۴ میلادی سے ہوا اور اختتام ۹ ذی الحجہ ۶۳ میلادی بمطابق ۱۰ ہجری کو ہوا۔ قرآن حکیم کا جو حصہ اس دور میں نازل ہوا اسے مدنی کہتے ہیں‘ قرآن مجید کا تقریباً ۱۹/۳۰ حصہ مکی اور تقریباً ۱۱/۳۰ حصہ مدنی ہے۔

صفحہ 123

قادیانی مذہب والوں سے تعلقات کیسے ہونے چاہئیں؟

مفتی محمد عبدالقیوم خان ہزاروی

سوال: میرے ہمسائے قادیانی ہیں۔ وہ ہم سے دودھ خریدتے ہیں۔ میں پڑھی لکھی ہوں اور جانتی ہوں کہ شرعاً کسی طرح ان سے تعلق جائز نہیں لیکن میری والدہ صاحبہ ان پڑھ ہیں۔ وہ میرے منع کرنے پر بھی نہیں رکتیں اور ان کو بدستور دودھ دیتی رہتی ہیں۔ آیا میں اپنی والدہ سے خدمت گزاری والا طریقہ بھی رکھوں اور ان مرزائیوں سے بھی مکمل قطع تعلق رکھوں۔ میری والدہ کہتی ہے وہ مرزائی لوگ قرآن بھی پڑھتے ہیں نماز روزہ سب عبادتیں کرتے ہیں وغیرہ۔

میں نوکری کرتی ہوں۔ میں نے امی کو کہا کہ آپ بھی ان بدبختوں سے تعلق چھوڑ دیں ورنہ میں نوکری چھوڑ دوں گی۔ کیا میں نوکری چھوڑ دوں جبکہ میری والدہ نے میری بات نہیں مانی۔

تمام گوشوں پر تفصیلی رہنمائی فرما دیں۔

رفعت نذیر نارووال

جواب: محترمہ رفعت نذیر صاحبہ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

آپ نے جو حالات لکھے ان سے کئی لوگوں کو سابقہ ہے۔ آپ مبارکباد کی مستحق ہیں کہ آپ نے پوری تفصیل سے وضاحت کی اور ایک عظیم ذہنی خلش کا اظہار اور اس کا حل دریافت کیا۔ امید ہے کہ دیگر حضرات مرد و خواتین بھی اس وضاحت سے مستفید ہوں گے۔

آپ نے دونوں باتوں کا احتیاط سے خیال رکھنا ہے۔ ایمان کی حفاظت اور ماں کی خدمت۔ عقیدہ اپنا رکھیں اور اس سلسلہ میں کسی سے کبھی نرمی نہ کریں۔ مضبوطی سے اس پر قائم رہیں۔

ماں کا ادب اور خدمت کریں اور نرمی سے اسے حق کی دعوت دیں۔ نہ مانے تو بھی اس کی خدمت کرتی رہیں اور عقیدہ و ایمان اپنا رکھیں۔ اس سے وہ ناراض ہوں تو سو بار ہوں اس کی فکر نہ کریں۔ حضرت اویس قرنیؒ نے ماں کی خدمت کی ہے۔ اس پر ایمان قربان نہیں کیا۔ آپ بھی یہی کچھ کریں۔ اپنی ملازمت جاری رکھیں اور ترقی کے لیے مزید محنت کریں۔

صفحہ 124

مرزائی قرآن‘ صاحب قرآن اور اسلام کے باغی‘ دشمن اور بدخواہ ہیں۔ ان کا قرآن پڑھنا نرا دھوکہ اور فریب ہے۔ وہ تو اس کتاب مقدس کو ہاتھ تک نہیں لگا سکتے۔

لَا يَمَسُّهٗ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ اس کو صرف پاک لوگ ہاتھ لگائیں

(الواقعہ‘ ۵۶: ۷۹)

نماز تراویح‘ روزہ وغیرہ اس کا قبول ہے جو ایمان والا ہو۔ مرتدین اور کفار کی تو کوئی عبادت قبول ہی نہیں جیسے ہندو‘ عیسائی‘ یہودی کی نماز‘ روزہ ناقابل قبول ایسے ہی مرزائی مرتدوں کا۔ آپ چاہیں تو اس تمام کاروائی کو اسلام اور قرآن کی توہین قرار دے کہ ان لوگوں پر کیس کر سکتے ہیں۔ وہ قانونی طور پر مسلمان کہلوا سکتے ہیں نہ اسلامی عبادات ادا سکتے ہیں۔ نہ اسلامی اصطلاحات استعمال کر سکتے ہیں۔ صحابہ کرام اور دیگر مسلمانوں نے ایمان کی خاطر تمام رشتے ناطے قربان کر کے اور غلامی رسول ﷺ کا رشتہ اختیار کر کے ہمارے لئے بہترین نمونہ چھوڑا ہے۔ ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنا چاہئے۔ باقی سب رشتے بعد میں رسول اللہ ﷺ کی غلامی کا رشتہ سب سے پہلے۔

واللہ اعلم و رسولہ عبدالقیوم خان

قادیانی اہل کتاب نہیں ہیں

سوال: عیسائی اپنی نسبت انبیاء کی طرف کیوں کرتے ہیں اور کیا عیسائیت کا نام قرآن نے ان کے لیے وضع کیا ہے؟ کافر لوگ اپنی کتاب میں تحریف کرتے تھے۔ پھر ان کو اہل کتاب کیوں کہا جاتا ہے جبکہ مرزائی قادیانی بھی قرآن کو مانتے ہیں۔ ان کو اہل کتاب کیوں نہیں کہا جاتا؟

محمد سلیم ملتان

جواب: محترم محمد سلیم صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! ”عیسائی“ عرف عام میں ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو اپنے آپ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف منسوب کریں۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ نسبت فی الواقع درست ہے یا نہیں جیسے رسول اللہ ﷺ کے دور میں صحابہ کرامؓ بھی اپنی نسبت اسلام کی طرف کرتے تھے اور منافقین

صفحہ 125

بھی۔ قطع نظر اس سے کہ کس کی نسبت صحیح ہے کس کی غلط۔ دراصل بلند مرتبت ہستیوں کی طرف قدیم زمانہ سے لوگ اپنے آپ کو منسوب کرتے آئے ہیں۔ اس کی ایک مثال سیدنا ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ ان کی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ عرب کے مشرک بھی اپنے آپ کو ان کی طرف منسوب کرتے تھے۔ یہودی بھی‘ عیسائی بھی اور مسلمان بھی حالانکہ سب کے عقائد و نظریات باہم مختلف و متضاد ہیں۔ جس سے واضح ہوا کہ فی الواقع یہ تمام لوگ آپؑ کے پیروکار تھے نہ ہیں لیکن عقیدت و اتباع کا دعویٰ جیسے صدیوں پہلے تھا‘ آج بھی ہے۔ اس کی حقیقت کو قرآن عزیز نے یوں بیان فرمایا:

مَا كَانَ إِبْرٰهِيمُ يَهُودِيًّا وَلَا نَصْرَانِيًّا وَلَكِنْ (حضرت) ابراہیم (علیہ السلام) نہ یہودی كَانَ حَنِيفًا مُّسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ تھے نہ عیسائی بلکہ ہر باطل سے الگ تھلگ (آل عمران‘ ۳: ۶۷) مسلمان تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔ إِنَّ أَوْلَىٰ النَّاسِ بِإِبْرٰهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ بے شک تمام لوگوں میں ابراہیم سے قریب وَهٰذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاللّٰهُ وَلِيُّ تر وہ ہیں جو ان کے پیروکار ہوئے اور یہ الْمُؤْمِنِينَ o (۶۸) نبیؐ اور ایمان والے اور ایمان والوں کا (آل عمران‘ ۳: ۶۷‘ ۶۸) والی اللہ ہے۔

تو ”عیسائی“ نہ قرآن کی اصطلاح ہے نہ بائبل کی بلکہ عرفِ عام ہے۔ قرآن نے ان کو نصاریٰ کہا ہے۔ بہر حال عیسائی کہلائیں یا نصاریٰ یا کچھ اور‘ یہ ان کی اپنی اصطلاحیں ہیں جیسے ”شیر عالم“ خواہ بزدل ترین ہی کیوں نہ ہو۔ ”محمد فاضل“ خواہ ان پڑھ ہی کیوں نہ ہو‘ ”محمد مسلم“ خواہ اللہ کے آگے کبھی سر جھکایا ہی نہ ہو‘ ”آپ خواہ کہیں یا نہ کہیں ”مرزائی‘ قادیانی یا احمدی“ مرزا قادیانی کو نبی ماننے والے مرتدین ہیں۔ نہ ہم مسلمان کہیں‘ نہ قرآن و سنت‘ مگر جس طرح منافقین آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ کہہ کر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تھے اور قرآن نے وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ کہہ کر ان کے ایمان کی نفی کی۔ اسی طرح باقی جھوٹے مدعیانِ اسلام کو سمجھ لیں۔

ہم اس لئے ان کو اہلِ کتاب کہتے ہیں کہ قرآن نے انہیں اہلِ کتاب کہا ہے (يَا أَهْلَ الْكِتَابِ) ان کے علماء و مشائخ نے بادشاہوں اور سرمایہ داروں‘ جاگیرداروں کے ایماء پر‘ روپیہ بٹورنے کے لئے بیشک اللہ کے کلام میں لفظی و معنوی تحریفات کیں مگر وہ اپنے اس جرم پر ہمیشہ

صفحہ 126

پردے ڈالتے تھے اور کبھی کھل کر اپنے انبیاء علیہم السلام اور آسمانی کتابوں کا انکار نہیں کرتے تھے۔ آخر انہوں نے اپنے جاہل عوام پر حکومت تو کرنی تھی۔ جو انبیائے کرام اور بزرگان دین سے عقیدت رکھتے تھے البتہ عوام کی جہالت و سادہ لوحی سے اللہ کے کلام و نظام میں من مانی تاویلات و تحریفات میں مصروف رہتے تا کہ حق بات عوام تک پہنچنے نہ پائے اور ان کا طلسم ٹوٹ نہ جائے۔ شریعت کے جس حکم میں فائدہ نظر آتا بیان کر دیتے۔ جہاں ان کی بد عقیدگی و بدعملی کا ذکر آتا یا وہ احکام شرع جو ان کی خواہشات و مفادات سے متعارض ہوتے ان میں ”بقدر ضرورت“ تبدیلی کر دیتے۔

يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهِ اللہ کی باتوں کو ان کے ٹھکانوں سے (المائدہ ۵ : ۱۳) بدلتے ہیں۔

ان کو اہل کتاب اس لئے نہیں کہا جاتا کہ وہ اسے سر بسر مانتے ہیں بلکہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو سچے نبی اور کتاب کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ گو حقیقت میں یہ نسبت غلط اور نا قابل اعتبار ہے۔ دیکھتے نہیں کہ مسلمان بھی ان تمام لوگوں کو کہا جاتا ہے جو اسلام و ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں۔ عملاً ہم کتنے سچے مسلمان ہیں؟ اسے ہم خود سمجھتے ہیں اور خدا اور رسول بھی اس پر گواہ ہیں۔ ذرا اپنے عوام نامنہاد مشائخ و علماء (الا ماشاء اللہ) سیاستدان اور اہل دانش کو دیکھ لیں۔

چو می گویم مسلمانم بلرزم
کہ دانم مشکلات لَا اِلٰہ را

ہم قادیانیوں کو مسلمان اس لئے نہیں مانتے کہ ان کے پیشوا نے قرآن، انبیائے کرام اور دین اسلام کی توہین کی۔

عقیدہ ختم نبوت کا انکار کیا، چونکہ پہلے مسلمان تھے ارتداد پر مرتد ہو گئے لہٰذا وہ مرتد ہیں، اہل کتاب نہیں وہ خود بھی اہل کتاب نہیں کہلاتے۔ مسلمان کہلاتے ہیں۔ جو ارتداد کی وجہ سے ختم ہو گیا۔ اسلام سے نکلے مرتد ہونے کی وجہ سے، اہل کتاب اس لئے نہیں کہ وہ اہل کتاب نہیں ہیں، نہ کہلاتے ہیں۔

واللہ اعلم ورسولہ عبدالقیوم خان

صفحہ 127

قادیانیوں سے خاندانی و اخلاقی روابط حرام ہیں

سوال : میرے خالو کراچی میں طویل عرصہ سے ایک اعلیٰ رہائشی علاقے میں مقیم ہیں۔ چند سالوں سے وہ مرزائی (احمدی) ہو گئے ہیں اور اپنی اولاد کو بھی اسی راہ پر ڈال دیا ہے وہ لوگ ہمارے گھر آتے جاتے ہیں۔ آیا ہم ان سے تعلقات منقطع کریں یا نہ کریں اور شادی بیاہ اکٹھے کھانا وغیرہ کیسا ہے؟ وضاحت فرمادیں۔

عامر اقبال واہ کینٹ

جواب : محترم عامر اقبال صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! آپ کے خالو نعوذ باللہ اگر قادیانی ہو گئے ہیں تو یقیناً وہ اسلام سے خارج‘ مرتد اور کافر ہو گئے۔ آپ کا اور ہر مسلمان کا ان سے ملنا جلنا‘ کھانا پینا اور کسی قسم کا تعلق رکھنا حرام ہے۔ صحابہ کرامؓ کو دیکھیں انہوں نے اپنے حقیقی رشتہ داروں اور عزیزوں کو کس طرح عقیدے کی بناء پر ترک کر دیا تھا۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے۔

لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْیَوْمِ تم ایسی قوم نہ پاؤ گے جو اللہ اور قیامت پر الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّاللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ ایمان رکھتی ہو کہ اللہ اور اس کے رسول وَلَوْ كَانُوْٓا اٰبَآءَ هُمْ اَوْ اَبْنَآءَ هُمْ اَوْ ﷺ کے دشمنوں سے محبت رکھے۔ خواہ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْ ط ان کے باپ ہوں‘ بیٹے ہوں یا بھائی اور (مجادلہ ۲۲:۵۸) قبیلہ والے ہوں۔

بدر اور احد کی لڑائیوں میں آمنے سامنے کون تھے؟ اپنے ہی نسبی‘ حسبی بھائی‘ باپ‘ بیٹے‘ ماموں‘ چچا‘ خالہ زاد‘ عم زاد‘ دوست‘ عزیز اور رشتے دار وغیرہ۔ پس آپ اپنے ایمان کی حفاظت کریں اور رشتہ ایمان پر تمام رشتے قربان کر دیں۔ مرتدوں کا آپ سے ہنس کر بولنا اخلاق نہیں‘ طنز ہے جو آپ کے خدا اور رسول کا لحاظ پاس نہ کریں ان سے نہ شرمائیں۔ وہ آپ کے خیر خواہ کیسے ہو سکتے ہیں؟ آپ اپنے ایمان کا ثبوت دیں اور ان تمام لوگوں سے اللہ و رسول ﷺ کی رضا کے لئے تعلقات ختم کر دیں۔ دنیاوی معاملات میں بھی دینی معاملات میں بھی۔ ان سے بیاہ شادی حرام‘ قطعی حرام ہے۔ ان کے ساتھ اٹھنا‘ بیٹھنا‘ کھانا‘ پینا‘ رشتہ ناطہ رکھنا

صفحہ 128

تعلقات رکھنا‘ سب حرام اور کفر ہے۔ ان مرتدین کی سزا شرعاً قتل کرنا ہے مگر یہ سزا صرف حکومت دے سکتی ہے‘ عام آدمی نہیں۔

واللہ اعلم ورسولہ

عبدالقیوم

قادیانی کے گھر مسلمان کے لئے فاتحہ خوانی کا شرعی حکم

سوال : عرض ہے کہ ایک قادیانی آدمی کی مسلمان بہن فوت ہو گئی۔ ہمارے محلہ کے امام صاحب اور کئی لوگوں نے ان کے گھر جا کر فاتحہ خوانی کی۔ آیا قادیانی کے گھر فاتحہ خوانی کے لئے جانا درست ہے۔ لوگ امام صاحب کو اس وجہ سے کافر کہہ رہے ہیں۔ شرعی مسئلہ واضح فرمادیں۔

محمد ذیشان

ملتان

جواب : محترم ذیشان صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

قادیانی کی بہن مسلمان تھی اس کے لئے فاتحہ خوانی بالکل صحیح ہے البتہ اس مرزائی کے گھر نہ جانا چاہئے تھا کیونکہ مرزائی سے سلام‘ کلام‘ کھانا پینا‘ میل ملاپ کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں۔ پس مسلمان مرحومہ کی فاتحہ خوانی کسی مسلمان عزیز کے گھر بھی ہو سکتی تھی۔ نیز کسی کے گھر جانا ممکن نہ تھا تو اپنی جگہ یا اپنے گھر بیٹھ کر دعائے مغفرت کی جا سکتی تھی۔ مرزائی سے ہر قسم کا تعلق ختم کرنا ضروری ہے۔ بہر حال امام مسجد اور جن دوسرے مسلمانوں نے مرحومہ کی فاتحہ خوانی کی جائز ہے۔ اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں۔ اس امام کو معاذ اللہ کافر کہنا یا اس قسم کی گفتگو کرنا بیہودہ و حرام ہے۔ مسلمان عام طور پر اور علمائے کرام خاص طور پر ایسے مواقع پر سخت احتیاط کریں کہ کسی قسم کا شک وشبہ پیدا نہ ہو اور لوگ کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔

واللہ اعلم ورسولہ

عبدالقیوم خان

مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ مہدویت و نبوت جھوٹا ہے

سوال : قادیانیوں کے بارے میں ذہنی پریشانی ہے کہ ان سے کیسے تعلقات رکھنے چاہئیں۔

صفحہ 129

ہے۔ ان مرتدین کی سزا شرعاً قتل کرنا ہے مگر یہ سزا صرف ۔

واللہ اعلم ورسولہ عبدالقیوم

لئے فاتحہ خوانی کا شرعی حکم

ں آدمی کی مسلمان بہن فوت ہو گئی۔ ہمارے محلہ کے امام ے گھر جا کر فاتحہ خوانی کی۔ آیا قادیانی کے گھر فاتحہ خوانی مام صاحب کو اس وجہ سے کافر کہہ رہے ہیں۔ شرعی مسئلہ

محمد ذیشان ملتان

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ !

ں اس کے لئے فاتحہ خوانی بالکل صحیح ہے البتہ اس مرزائی کے سے سلام‘ کلام‘ کھانا پینا‘ میل ملاپ کسی مسلمان کے لئے تہ خوانی کسی مسلمان عزیز کے گھر بھی ہو سکتی تھی۔ نیز کسی کے گھر بیٹھ کر دعائے مغفرت کی جا سکتی تھی۔ مرزائی سے ہر قسم ال امام مسجد اور جن دوسرے مسلمانوں نے مرحومہ کی فاتحہ وئی قباحت نہیں۔ اس امام کو معاذ اللہ کافر کہنا یا اس قسم کی عام طور پر اور علمائے کرام خاص طور پر ایسے مواقع پر سخت رانہ ہو اور لوگ کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔

واللہ اعلم ورسولہ عبدالقیوم خان

مہدویت و نبوت جھوٹا ہے

بڑی پریشانی ہے کہ ان سے کیسے تعلقات رکھنے چاہئیں۔

ایک طرف پمفلٹ چھاپے جاتے ہیں کہ شیزان قادیانیوں کی ملکیت ہے لہٰذا اس کا بائیکاٹ ضروری ہے۔ دوسری طرف ایک اخبار میں خبر چھپی کہ غیر مسلم سے اچھا برتاؤ کرنا چاہئے جیسے حضور ﷺ کی سیرت سے ثابت ہے۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ نے اپنے دشمنوں اور گستاخوں کو بھی معاف کر دیا۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہماری کچھ سہیلیاں قادیانی ہیں۔ ہم ان سے کیسے تعلقات رکھیں۔ وہ کہتی ہیں ہم آخری نبی محمد ﷺ کو مانتی ہیں۔ مرزا غلام احمد کو صرف امام مہدی تسلیم کرتی ہیں۔ ہمیں ان کے عقائد کی تفصیل بیان فرمائیں تا کہ ہمیں رہنمائی مل سکے۔

فاطمہ عنبرین نسرین کلاسوالہ

جواب : محترمہ فاطمہ عنبرین صاحبہ ومحترمہ نسرین صاحبہ ! السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ !

قادیانی یعنی مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار‘ خواہ اس کو مہدی مانیں‘ خواہ نبی‘ خواہ مصلح و مجدد‘ سب کفار و مرتدین ہیں۔ اس لئے کہ اس شخص نے اپنے نبی ہونے کا جھوٹا دعویٰ کیا ہے اور قرآن و سنت اور تمام امت کا اس پر قطعی فیصلہ ہے کہ جو شخص رسول اللہ ﷺ کے بعد اجرائے نبوت کا قائل ہو قطعاً کافر و مرتد اور واجب القتل ہے۔ اسے مسلمان ماننا بھی کفر ہے چہ جائیکہ مجدد یا امام مہدی ماننا‘ لہٰذا مرزائیوں سے کسی قسم کے تعلقات رکھنا حرام‘ قطعی حرام ہیں۔ اخبار میں جو کچھ لکھا ہے‘ غلط لکھا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی ظاہری زندگی و موجودگی میں‘ جو شخص آپؐ کی گستاخی کرے آپؐ اسے معاف کر سکتے تھے لیکن آپؐ کی وفات کے بعد کسی گستاخ رسول کو معاف کرنا‘ امت کے لئے جائز نہیں بلکہ امت پر واجب ہے کہ اسے قتل کر دے۔ اپنا حق حضور ﷺ خود معاف کر سکتے تھے۔ کسی اور کی یہ حیثیت ہی نہیں کہ گستاخ و مرتد کو معاف کرتا پھرے۔ کفار جو اسلامی حکومت میں ذمی بن کر رہیں‘ ہم ان کی جان و مال‘ عزت و معاہد کی حفاظت کریں گے مگر وہ بھی اگر گستاخی رسول کا ارتکاب کریں تو واجب القتل ہیں لہٰذا آپ قادیانیوں سے میل ملاپ کرنا چھوڑ دیں‘ یہ حرام ہے۔

ہاں مرزائیوں کا یہ کہنا ہم رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین مانتے ہیں‘ جھوٹ بولتے ہیں۔ وہ حضور ﷺ کو آخری رسول مانتے تو مسلمانوں سے الگ تھلگ کیوں ہوتے؟ مرزے کو بھی نبی ماننا اور حضور ﷺ کو بھی آخری رسول ماننا دین سے مذاق ہے۔ ایسے ہی جیسے کوئی کہے کہ ہم

صفحہ 130

اللہ کی توحید بھی مانتے ہیں اور بت پرستی بھی کرتے ہیں۔ ان سہیلیوں سے قطع تعلق کرنا فرض ہے۔ واللہ اعلم ورسولہ عبدالقیوم خان

خوش اخلاقی قادیانیوں کا دام فریب ہے

سوال : قادیانیوں سے میل جول اور عام زندگی میں تعلقات کی نوعیت کیا ہونی چاہئے۔ خاص طور پر جب وہ خوش اخلاق اور خدمت گار ہوں؟ جبکہ خوش اخلاقی اچھی عادت ہے۔ محمد رشید چنیوٹ

جواب : محترم محمد رشید صاحب ! السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ! قادیانی علی العموم کفار و مرتدین ہیں۔ ان سے سلام کلام‘ کھانا پینا‘ بیاہ شادی‘ لین دین کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں‘ حرام ہے قطعی حرام ہے۔ کوئی شخص کسی لحاظ سے بہترین صفات کا حامل ہو‘ اس کا اللہ رسول‘ قرآن‘ اسلام اور اہل اسلام کا دشمن ہونا اور ان سے بغاوت کرنا اتنا بڑا جرم ہے کہ کوئی ذاتی خوبی‘ اس کا مداوا نہیں کر سکتی۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے:

لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَادَّ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهُ وَلَوْ كَانُوْا اٰبَآءَ هُمْ اَوْ اَبْنَآءَ هُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْ اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ وَاَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ وَیُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ اللّٰهِ اَلَآ اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ

تم نہ پاؤ گے ان لوگوں کو یقین رکھتے ہیں اللہ اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں ان سے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کی۔ اگر چہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبے والے ہوں۔ یہ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان نقش فرما دیا اور اپنی طرف کی روح سے ان کی مدد کی اور انہیں باغوں میں لے جایا جائے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں‘ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی‘ یہ اللہ کی جماعت ہے۔ سن لو کہ اللہ کی جماعت ہی کامیاب رہے گی۔

(المجادلہ ۵۸ : ۲۲)

صفحہ 131

یہ ہے اہل ایمان کا عمل‘ کہ وہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے دشمنوں سے محبت نہیں کرتے۔ خواہ باپ ہو‘ بیٹا ہو‘ بھائی ہو‘ دوست ہو‘ لہٰذا آپ قادیانی سے ہر قسم کی قطع تعلقی کریں۔ وہ اتنا ہی خوش اخلاق ہے تو کفر و ارتداد کو چھوڑئے‘ قادیانی مرتد پر لعنت بھیجے اور محمد رسول اللہ ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان لائے‘ مرتد ہونا اخلاق نہیں بد اخلاقی ہے۔ جو شخص خود جہنم کا ایندھن بن جائے اور دوسروں کو بھی اپنی طرف کھینچے۔ اس کی بہترین خدمات نہیں‘ بد ترین مہلکات ہیں۔

واللہ الہادی وصلی اللہ علی خیر خلقہ ونور عرشہ محمد والہ وصحبہ وسلم عبدالقیوم خان

غلام احمد قادیانی کے وسوسوں کا جواب

سوال: مرزا قادیانی کے بارے میں شرعی حکم اور اس کے بیان کئے گئے وسوسوں کا جواب نیز یہ کہ اس کے عقائد فاسدہ کیا تھے اور اس بدبخت شخص کا پس منظر کیا ہے اور اصولاً مسلمانوں کا ان سے کیا اختلاف ہے۔ تفصیل سے تحریر فرمائیں۔

ساجد گیلانی لاہور

جواب: محترم ساجد گیلانی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! قادیانی کافر و مرتد ہیں۔ مرزا قادیانی ذہناً نیم پاگل اور انگریزوں کا ایجنٹ تھا۔ قادیانی وسوسوں کا مختصر جواب حاضر ہے۔

رسول اللہ ﷺ کو قرآن کریم میں آخری نبی بتایا گیا ہے۔ نبی شریعت والا اور بلا شریعت کی کوئی بات قرآن و حدیث میں نہیں یہ قادیانی مرتدین کی باطل تاویلیں ہیں۔ چونکہ قرآن و سنت کے خلاف ہیں لہٰذا مردود ہیں۔

حضور ﷺ نے اپنے کسی صاحبزادے کو نبی نہیں فرمایا۔ یہ صریح جھوٹ ہے۔ ثبوت دیں۔

اگر زندہ رہتا تو نبی ہوتا۔ تعلیق المحال بالمحال ہے۔ یعنی اللہ کے علم میں نہ انہوں نے زندہ رہنا تھا نہ نبی ہونا تھا جیسے قرآن میں ہے۔

صفحہ 132

قُلْ اِنْ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ وَلَدٌ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِيْنَ

(الزخرف ۸۱:۴۳)

یا رسول اللہ ! ﷺ آپ فرمائیں اگر اللہ رحمٰن کا بیٹا ہوتا تو میں سب سے پہلے اس کی عبادت کرتا۔

تو کیا اس سے اللہ کے بیٹے کا جواز نکل آیا؟ نہ بیٹا ممکن نہ اس کی عبادت کرنا یونہی نہ آپکے صاحبزادے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا زندہ رہنا ممکن، نہ نبی بننا، کیونکہ اللہ کے علم میں یہی طے تھا۔ لا نبی بعدی والی حدیث پاک کا جواب مرتد کے پاس نہ تھا اس لئے اس نے جھلا کر پوچھا اس کا کیا تک تھا؟ اس سے پوچھیں اس آیت کا کیا تک ہے کہ بیٹا ہوتا تو کیا اس کا یہ مطلب ہو گا کہ اللہ کا بیٹا ہو سکتا ہے؟

قرآن کریم میں حضور ﷺ کو خاتم النبیین، یعنی آخری نبی کہا گیا ہے۔ حدیث پاک میں لا نبی بعدی سے اس کی تشریح و تفسیر کر دی گئی کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ ایک مسلمان کے لئے یہی کافی ہے۔

اللہ نے کہیں بھی قرآن میں یہ نہیں فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس طرح وفات دی جس طرح باقی نبیوں کو۔ پس یہ مرزائی مرتد کا جھوٹ ہے۔ وہ زندہ آسمان پر ہیں اور قیامت کے قریب تشریف لائیں گے جیسا کہ قرآن و حدیث میں وضاحت ہے۔ اس مختصر رسالہ میں تفصیل کی گنجائش نہیں۔

قرآن کریم میں اسری بعبدہ فرمایا گیا ہے یعنی اللہ نے اپنے بندے کو سیر کرائی اور بندہ مکمل زندہ انسان پر بولا گیا ہے۔ صرف روح کو معراج ہوتی تو بِرُوْحِهٖ کہہ دینا کوئی مشکل نہ تھا۔ اللہ کو عربی زبان خوب آتی ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے نبی ہیں۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام حضور ﷺ کی امت کے مجدد اور مصلح ہوں گے۔ دونوں الگ الگ شخصیتیں ہیں۔ ایک کیسے ہو گئیں؟ قادیانی چونکہ اپنے مرتد کو کبھی مسیح اور کبھی مہدی کہتے ہیں جیسا کہ اس نے خود ایسے دعوے کئے ہیں اس لئے وہ دونوں کو ایک کہتے ہیں حالانکہ قادیانی مرتد ایک پاگل بیوقوف شخص تھا۔ اس نے اپنی کتاب براہین وغیرہ میں اپنے آپ کو آدم، نوح، موسیٰ، عیسیٰ، مریم اور نہ جانے کیا کیا لکھا ہے۔ کیا ان تمام پاکیزہ ہستیوں کو بھی ایک ہی کہا جائے گا؟ اگر ایمان نہیں تو کم از کم عقل کو ہی استعمال کر لیتے۔ اگر یہ تمام حضرات ایک نہیں تو مرزا ان سب کا معجون و مرکب کیسے بن گیا؟ کیا ایک ہی شخص کبھی موسیٰ، کبھی عیسیٰ، کبھی داؤد، کبھی ابراہیم، کبھی یہ کبھی وہ بن سکتا ہے؟

اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو اس قادیانی رسالہ (المہند میں زیادہ تفصیل تمام مباحث آپ کے سامنے آ جا پریشان نہ ہوں گے۔

روڈ لاہور)

القرآن پبلی کیشنز، ماڈل اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی ہ

قادیانی کا جنازہ پڑھنے او

سوال : قادیانی کی نماز جنازہ سے تجدید ایمان و تجدید نکاح ہو ہے۔ قرآن وسنت کی روشنی میں

جواب : محترم ثاقب علی شاہ قرآن کی نصوص قط اُمت کا اس بات پر اجماع و ات آپ کے بعد نہ کوئی نبی ہے ن کرے خواہ کسی معنی میں ہو وہ شک کرے وہ بھی کافر و مرتد ۔ مرزائے قادیانی ۔

صفحہ 133

اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو اس قادیانی مرتد کے پاگل ہونے اور گمراہ ہونے میں کیا شک رہ گیا؟

رسالہ اس مختصر رسالہ میں زیادہ تفصیل تو ممکن نہیں۔ آپ درج ذیل کتابیں لاہور سے منگوالیں تو تمام مباحث آپ کے سامنے آ جائیں گے اور آپ کو بہت فائدہ ہو گا اور آپ کسی میدان میں پریشان نہ ہوں گے۔

روڈ لاہور)

القرآن پبلی کیشنز، ماڈل ٹاؤن لاہور)

اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ آمین والسلام

واللہ اعلم ورسولہ عبدالقیوم خان

قادیانی کا جنازہ پڑھنے اور پڑھانے والا توبہ وتجدید نکاح کرے

سوال: قادیانی کی نماز جنازہ پڑھانے اور پڑھنے والوں کے لئے شرعی حکم کیا ہے؟ کیا توبہ سے تجدید ایمان وتجدید نکاح ہو جائے گا؟ اور کیا ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز ہے۔ قرآن وسنت کی روشنی میں وضاحت فرمادیں۔ شکریہ

محمد ثاقب علی شاہ لاہور

جواب: محترم ثاقب علی شاہ صاحب ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !

قرآن کی نصوص قطعیہ، سنت متواترہ متوارثہ اور صحابہ کرام کے دور سے آج تک تمام اُمت کا اس بات پر اجماع و اتفاق ہے کہ رسول اللہﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی و رسول ہیں۔ آپؐ کے بعد نہ کوئی نبی ہے نہ رسول۔ اگر کوئی شخص حضورﷺ کے بعد نبوت یا رسالت کا دعویٰ کرے خواہ کسی معنی میں ہو وہ کافر، مرتد، خارج از اسلام ہے۔ جو شخص اس کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر و مرتد ہے۔

مرزائے قادیانی نے یقیناً اپنی نبوت و رسالت کا دعویٰ کیا جو اس کی کتابوں میں موجود

صفحہ 134

ہے۔ اس دعویٰ کے بعد اس نے توبہ نہیں کی لہٰذا وہ قرآن‘ سنت اور امت کے متفقہ فیصلے کی بناء پر کافر و مرتد ہے۔

جو لوگ مرزائے قادیانی مذکور کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر مرتد جہنمی ہے۔

علم کے باوجود جن لوگوں نے قادیانی کی نماز جنازہ پڑھی وہ احکام قرآنی‘ حدیث اور اجماع امت کے باغی ہیں۔ وہ فوری طور پر توبہ کریں اور از سر نو ایمان لائیں۔ چونکہ جان بوجھ کر کفر اختیار کرنے والا کافر و مرتد ہو جاتا ہے جبکہ اس کی بیوی مسلمان تھی اور مسلمان کا نکاح کافر و مرتد سے نہیں ہوتا۔ اور اس جرم کے ساتھ ہی وہ لوگ کافر و مرتد ہو گئے۔ پس ان کے مسلمان بیویوں سے نکاح فوراً ٹوٹ گئے لہٰذا وہ عورتیں ان کے نکاح سے نکل گئیں۔

اگر یہ لوگ اپنے فعل پر نادم ہوں اور صدق دل سے توبہ کر کے تجدید ایمان کر لیں تو دوبارہ ان بیویوں کی رضا مندی سے نکاح کر سکتے ہیں ورنہ ان کی بیویاں شرعاً آزاد ہیں‘ جہاں چاہیں نکاح کر لیں۔ یہی حکم شرعی ہے اور یہی ملکی قانون ہے۔ قادیانی جیسا کہ ذکر ہوا کفار و مرتدین ہیں لہٰذا ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا حرام ہے۔ فقہائے کرام فرماتے ہیں يَنْفَسِخُ النِّكَاحُ بِالرِّدَّهِ مرتد ہونے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔ (فتح القدیر‘ ۵: ۳۱۰)

إِذَا ارْتَدَّ الْمُسْلِمُ عَنِ الْإِسْلَامِ وَالْعِيَاذُ بِاللَّهِ عُرِضَ عَلَيْهِ الْإِسْلَامُ فَإِنْ كَانَتْ لَهُ شُبْهَةٌ كُشِفَتْ عَنْهُ وَ يُحْبَسُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَإِنْ أَسْلَمَ وَإِلَّا قُتِلَ

(ہدایہ مع فتح القدیر‘ ۵: ۳۰۷)

جب مسلمان‘ اسلام سے نعوذ باللہ پھر جائے اس پر اسلام پیش کیا جائے اگر کوئی شبہ ہو تو اس کا ازالہ کیا جائے۔ اسے تین دن قید کیا جائے۔ اگر مسلمان ہو جائے تو بہتر ورنہ قتل کر دیا جائے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

لَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَلا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ إِنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللَّهِ وَرَسُوْلِهِ وَمَاتُوْا وَهُمْ فَسِقُوْنَ

(توبہ‘ ۹: ۸۴)

اے محبوب! ان میں سے کوئی مرجائے تو اس پر کبھی نماز نہ پڑھنا اور اس کی قبر پر کھڑے نہ ہونا بے شک انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا اور فسق ہی میں مر گئے۔

واللہ اعلم ورسولہ عبدالقیوم خان

صفحہ 135

نزول عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق قرآن و حدیث کی وضاحت

سوال: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بارے میں میرے اور بہت سے احباب کے ذہنوں میں کافی الجھن پائی جاتی ہے۔ میں نے اس موضوع پر تمام احادیث کا بھی بڑی باریک بینی سے مطالعہ کیا ہے قرآن کا بھی لیکن میں نے ان دونوں چیزوں میں بڑا تضاد پایا ہے یا پھر ہماری عقل ناقص کا قصور ہے۔

قرآنی آیات و احادیث سے قطع نظر سب سے پہلے اگر ہم عقلی دلائل سے اس عقیدے کا جائزہ لیں تو کیا یہ بات سامنے نہیں آتی کہ یہ عقیدہ شیعوں اور یہودیوں سے منتقل ہو کر ہماری جماعت میں آ گیا ہے۔ تمام مذاہب میں یہ عقیدہ کسی نہ کسی شکل میں پایا جاتا ہے۔ نزول عیسیٰ اور زندہ اٹھائے جانے کے بارے میں قرآن خاموش ہے اور احادیث میں ملتا ہے لیکن تضاد ہے۔

امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد امام انقلاب مولانا عبیداللہ سندھی وغیرہ جیسی اہم شخصیات بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے منکر ہیں۔ میرے خیال میں عقیدہ ختم نبوت اور عقیدہ نزول مسیح ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔ کیا یہ بات اسرائیلی روایات سے منتقل ہو کر ہمارے پاس نہیں آ گئی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات اور سولی پر چڑھانے کی سمجھ آتی ہے مگر رفع کی سمجھ نہیں آتی۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے تو کیا کریں گے.......... الخ

میری گزارش پر تنقیدی نگاہ ڈال کر قرآن و حدیث کی روشنی میں اپنے حتمی خیالات سے آگاہ فرمائیں۔

ڈاکٹر ہمایوں مرزا سیالکوٹ

جواب: محترم ڈاکٹر ہمایوں مرزا صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

آپ کے خط میں اٹھائے گئے نکات پر ہماری دیانتدارانہ رائے یہ ہے کہ آپ نے صرف ایک پہلو پر نظر فرمائی ہے جو منفی ہے اور مثبت پہلو سے صرف نظر فرمایا ہے جبکہ ناقد کے لئے دونوں پر نظر رکھنا لازم ہوتا ہے۔ میں مختصراً ہی کچھ لکھ سکوں گا۔ تفصیلاً ان موضوعات پر سب کچھ لکھا جا چکا ہے۔ آپ جیسے حساس آدمی کی نظر سے اوجھل نہ ہونا چاہئے۔ آپ نے حضرت

صفحہ 136

عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اپنی جس الجھن کا ذکر فرمایا ہے اس کے بارے میں قرآنی آیات‘ احادیث یا باقی معلومات جو آپ کے ذہن اور مطالعہ میں محفوظ ہیں‘ اگر آپ ان کو ذکر فرما دیتے تو غور و فکر کی راہیں کھلتیں اور افہام و تفہیم میں سہولت ہوتی۔ آپ کے دلائل کا وزن بھی معلوم ہوتا اور ہمیں غور کرنے کے لئے کوئی نکتہ ہاتھ آتا۔ آپ نے لکھا ہے ”میں نے اس موضوع کی تمام احادیث کا بھی بڑی باریک بینی سے مطالعہ کیا ہے اور اس بارے میں قرآن کیا کہتا ہے‘ وہ بھی میری نظر سے گزرا ہے لیکن میں نے ان دونوں میں بڑا تضاد پایا ہے“ ملخصا۔ لیکن آپ نے پورے خط میں کوئی ایک تضاد بھی ثبوت میں پیش نہیں کیا جس کا مطلب یہ ہے کہ آیات و احادیث میں ہرگز کوئی تضاد نہیں۔ تضاد آپ کے ذہن اور فہم میں ہے۔

قرآنی آیات و احادیث سے قطع نظر ...... آپ مسلمان ہیں۔ قرآنی آیات و احادیث سے آپ ایک آن کے لئے بھی قطع نظر نہیں کر سکتے تاوقتیکہ اللہ و رسول ﷺ کے حکم سے آزاد ہو جائیں۔ عقلی دلائل قرآن و سنت کے بعد آتے ہیں۔ یاد رکھیں عقل چراغ راہ ہے منزل نہیں ہے۔ بہت افسوس ہے کہ آپ بلا دلیل ان عقائد کو یہودیوں کی طرف سے فرما رہے ہیں۔ جناب یہود و نصاریٰ ہوں یا کوئی اور‘ اسلام دوسروں کی ہر بات کو رد نہیں کرتا۔ وہ تو اہل کتاب کو دعوت دیتا ہے۔

تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَآءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ ایسی بات کی طرف آؤ جو ہم میں اور تم میں اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَّ یکساں (مشترک) ہے۔ یہ کہ ہم اللہ کے سوا لَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کا شریک کسی اللّٰهِ ...... الخ کو نہ کریں اور ہم میں کوئی ایک دوسرے کو (آل عمران‘ ۶۴:۳) رب نہ بنائے اللہ کے سوا۔

دیکھا کتابی کافروں سے ایک نکتہ وحدت پر متحد ہونے کی فرمائش ہو رہی ہے۔ کیا یہود و نصاریٰ یا ہندو‘ پارسی کوئی بھی خدا کو ماننے کا اعلان کرے تو ہم اس کی اس بات سے انکار کریں گے؟ اگر وہ جان و مال‘ عزت کی حرمت کا اعلان کریں تو ہم مخالفت کریں گے؟ اگر وہ انبیائے کرام کی نبوت و رسالت اور قیامت پر ایمان لانے کا اعلان کریں تو ہم ان باتوں میں بھی ان کی مخالفت کریں گے؟ اگر کوئی یہودی بدکاری‘ شراب‘ جوا‘ قتل ناحق‘ سود‘ رشوت وغیرہ

صفحہ 137

کے خلاف تحریک چلائے تو ہم ان برائیوں کی حمایت کریں گے کہ یہودیت ہے؟ قرآن کریم نے واضح حکم دیا ہے۔

وَتَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوى وَلاَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ

(المائدہ ۵ : ۲)

نیکی اور پرہیزگاری میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ و زیادتی میں ایک دوسرے کی مدد مت کرو۔

پس اسرائیلی روایات تمام کی تمام نہ قابل رد ہیں نہ قابل تسلیم جو اسلامی احکام و روایات کے موافق ہیں ان کو تسلیم کیا جائے گا جو مخالف ہیں ان کو رد کیا جائے گا۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:

حَدِّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا حَرَجَ

(ترمذی ۹۱:۲)

بنی اسرائیل سے باتیں نقل کرو کوئی حرج نہیں ۔

کیا یہ عقیدہ یہود یا شیعہ سے نقل ہو کر ہمارے ہاں آ گیا ہے؟

آپکا یہ فرمانا کہ ”حیات مسیح یا امام مہدی کا عقیدہ شیعہ اور یہود سے ہو کر ہماری جماعت میں آ گیا ہے“ درست نہیں۔ اس پر آپ نے کوئی ثبوت دیا نہ حوالہ جبکہ صحیح احادیث سے یہ دونوں باتیں ثابت ہیں اور حیات مسیح کا مسئلہ تو خود قرآن کریم میں موجود ہے۔ آپکا یہ فرمانا بھی غلط ہے کہ ”قرآن کریم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ اٹھائے جانے اور دوبارہ نزول کے متعلق بالکل خاموش ہے۔ یہ عقیدہ ہمیں صرف اور صرف احادیث میں ملتا ہے“۔ جی نہیں ۔ آپکو مغالطہ ہوا ہے۔ یہودی مسیح علیہ السلام کے دشمن تھے۔ انہوں نے آپ کو گرفتار کرنے اور قتل کرنیکا منصوبہ بنایا جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ناکام کر دیا۔ قرآن میں ان کے اس قول کو رد کیا گیا ہے کہ

إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّهِ وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ ........... بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ

(النساء ۴: ۱۵۷، ۱۵۸)

ہم نے مسیح ابن مریم علیہ السلام اللہ کے رسول کو قتل کیا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے نہ اس کو قتل کیا نہ آپ کو سولی دی بلکہ ان کے لئے ان کی شبیہہ کا ایک بنا دیا گیا ....... (پھر فرمایا) بلکہ اللہ نے انکو اپنی طرف اٹھا لیا۔

صفحہ 138

پھر ارشاد فرمایا:

وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتَابِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ

(النساء ۴: ۱۵۹)

کوئی اہل کتاب میں سے ایسا نہیں جو ان کی موت سے پہلے ان پر ایمان نہ لائے۔

رفع یعنی اٹھانے کا لفظ قرآن میں کہیں وفات اور موت کے معنی میں استعمال نہیں ہوا تو یہاں بھی موت کے معنی میں نہیں بلکہ رفع یعنی اوپر اٹھانے کے معنی میں ہی استعمال ہوا ہے جو اس کا حقیقی معنی ہے۔

احادیث مقدسہ

حضرت النواس بن سمعانؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے علامات قیامت میں سے دجال کا ذکر فرمایا، اس کے شعبدے بیان فرمائے .................... اسی اثناء میں آگے چل کر آپ نے فرمایا:

هُوَ كَذٰلِكَ اِذْ بَعَثَ اللهُ الْمَسِيْحَ بْنَ مَرْيَمَ فَيَنْزِلُ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ شَرْقِيَّ دِمَشْقَ بَيْنَ مَهْرُوْدَتَيْنِ وَاضِعًا كَفَّيْهِ عَلٰی اَجْنِحَةِ مَلَكَيْنِ اِذَا طَاَطَاَ رَأْسَهٗ قَطَرَ وَاِذَا رَفَعَهٗ تَحَدَّرَ مِنْهٗ جُمَانٌ كَاللُّوْ لُوءِ فَلَا يَحِلُّ لِكَافِرٍ يَّجِدُ مِنْ رِيْحِ نَفْسِهٖ اِلَّا مَاتَ وَنَفْسُهٗ يَنْتَهِيْ حَيْثُ يَنْتَهِيْ طَرَفُهٗ فَيَطْلُبُهٗ حَتّٰی يُدْرِكَهٗ بِبَابِ لُدٍّ فَيَقْتُلُهٗ ثُمَّ يَاْتِيْ قَوْمٌ قَدْ عَصَمَهُمُ اللهُ مِنْهٗ فَيَمْسَحُ عَنْ وُجُوْهِهِمْ وَيُحَدِّثُهُمْ بِدَرَ جَاتِهِمْ فِىْ الْجَنَّةِ ......

(الصحیح لمسلم ۲۰۱:۲)

دجال اسی حال میں ہوگا کہ اچانک اللہ تعالیٰ مسیح بن مریم (علیہ السلام) کو بھیجے گا۔ وہ جامع دمشق کے سفید مشرقی منارے کے پاس اتریں گے۔ زرد رنگ کی دو چادروں میں ملبوس، دو فرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھے ہوئے سر جھکائیں تو پسینے کے قطرے گریں گے اور جب سر اٹھائیں گے تو موتیوں کی طرح قطرے جھڑیں گے۔ ان کے سانس کی خوشبو جو کافر سونگھے گا، مر جائے گا۔ ان کے سانس وہاں تک پہنچیں گے جہاں تک ان کی نگاہ پہنچے گی۔ آپ دجال کو تلاش کریں گے۔ باب لد کے پاس اسے پکڑ کر قتل کر دیں گے۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام ان لوگوں کے پاس تشریف لائیں گے جن کو اللہ تعالیٰ نے اس سے بچایا ہو گا۔ ان کے چہروں سے غبار پونچھیں گے اور جنت میں ان کے درجے انہیں بتائیں گے۔

صفحہ 139

علامات قیامت کے بارے میں طویل حدیث کا صرف متعلقہ حصہ ہم نے نقل کر دیا ہے۔ نیز رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں۔ لَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ رُعْبُ الْمَسِيحِ مسیح دجال کا رعب مدینہ منورہ میں داخل نہ الدَّجَّالِ وَلَهَا يَوْمَئِذٍ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ عَلَى ہو گا۔ اس دن مدینہ منورہ کے سات كُلِّ بَابٍ مَلَكَانِ دروازے ہوں گے۔ ہر دروازے پر دو (صحیح بخاری، ۲ : ۱۰۵۵) فرشتے پہرہ دیں گے۔

آقائے دو جہاں ﷺ فرماتے ہیں کہ مسیح دجال مدینہ منورہ کے نواح میں آئے گا۔ توجف ثلث رجفات فيخرج اليه كل مدینہ منورہ میں تین زلزلے آئیں گے جن كافر و منافق (ایضاً) کے نتیجہ میں ہر کافر و منافق اس کی طرف چل نکلے گا۔

حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ لوگوں میں کھڑے ہوئے اللہ تعالیٰ کے شایان شان حمد و ثناء فرمائی پھر دجال کا ذکر فرمایا۔ میں تمہیں اس کے بارے خبردار کرتا ہوں اور کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی قوم کو اس سے خبردار نہ کیا ہو لیکن میں تمہارے سامنے اس کے متعلق ایسی بات کہتا ہوں جو کسی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی۔ انه اعور وان الله ليس باعور بے شک وہ کانا ہے جبکہ اللہ اس عیب سے (ایضاً) پاک ہے

رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں۔ فينزل عيسى بن مريم فاماهم فاذا عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے لوگوں کی رآه عدو الله ذاب كما يذوب الملح امامت فرمائیں گے۔ جب ان کو اللہ کا في الماء فلو تركه لانذاب حتی دشمن (دجال) دیکھے گا تو پگھلنے لگے گا يهلك و لكن يقتله الله بيده جیسے پانی میں نمک حل ہوتا ہے۔ اگر آپ فيريهم دمه في حربته اسے چھوڑ دیں تو پگھل کر ہی ہلاک ہو (الصحیح لمسلم، ۲ : ۳۹۲) جائے لیکن اللہ تعالیٰ اس کو آپ کے ہاتھ سے قتل کرائے گا۔ پھر اس کا خون نیزے میں لگا ہوا لوگوں کو دکھائے گا۔

صفحہ 140

اختصار کے پیش نظر یہ چند صحیح احادیث پیش کی گئیں۔ اب ایک مسلمان تو اپنے نبی ﷺ کے فرمان پر اعتماد و یقین کرتا ہے۔ رہے آپ کے امامان انقلاب تو ان کے دلائل آپ تلاش کر کے ہمیں بھی بتائیں۔ ہمیں اپنے آقا ﷺ کے فرمان پر اطمینان ہے اور ہم اس کے خلاف کسی رائے کو ذرہ بھر وقعت نہیں دیتے بلکہ بالکل سرے سے وقعت نہیں دیتے اور اسے پائے حقارت سے ٹھکراتے ہیں۔

آپ کے تمام خدشات کا جواب ہو گیا ہے لیکن حرف بحرف ظاہر ہے کہ ہمیں بیسیوں صفحات پر کرنا پڑے جس کے لئے ہمارے پاس وقت بھی نہیں‘ فرصت بھی نہیں اور کسی اصول کی پابندی نہ کرنے والے حضرات کی آراء پر وقت ضائع کرنا ضروری بھی نہیں۔ اگر ان باتوں پر کسی کے پاس قرآن وسنت سے یا کم از کم عقل سے ہی کوئی مضبوط دلیل ہے تو پیش کرے۔

ویسے بولتے چلے جانا اور نصوص کی پرواہ نہ کرنا کسی مسلمان کی روش نہیں۔ ہم نے جو لکھا باحوالہ لکھا ہے۔ ہم اپنے عقائد پر مطمئن ہیں۔ اللہ تعالیٰ سب کو ہدایت و اطمینان دیں۔ آمین

واللہ اعلم ورسولہ عبدالقیوم خان

حضرت عیسیٰ علیہ السلام وقت نزول نبی ہوں گے یا امتی

سوال : میرا ایک قادیانی سے واسطہ پڑا۔ اس نے مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کے لئے دلیل دی کہ حضور نبی اکرم ﷺ خاتم النبیین نہیں بلکہ نبی آتے رہیں گے جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تشریف لانا مسلمہ عقائد میں سے ہے۔ پھر ختم نبوت کیسی۔ آیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ آئیں گے اور وہ نبی ہوں گے یا امتی‘ وضاحت فرمادیں۔

زاہد الحق کامونکی

جواب : محترم زاہد الحق صاحب ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ! جی ہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب قرب قیامت دنیا میں تشریف لائیں گے تو نبی

صفحہ 141

ہونے کے باوجود اُمت محمدیہ کے فرد ہی ہوں گے۔ ان کو قرآن کی تعلیم وہی خدا دے گا جس نے پہلے ان کو تورات و انجیل کی تعلیم دی ہے۔ قادیانی جھوٹے دجال کی طرح سکول ماسٹروں سے نہ پڑھیں گے نہ کسی انسان کی شاگردی کریں گے۔ نبی صرف خدا کے شاگرد ہوتے ہیں کسی مخلوق کے نہیں۔ قرآن کریم میں سورۃ النساء میں ہے۔

بَل رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَیْهِ بلکہ اللہ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا ہے۔ (النساء ۴: ۱۵۸)

وَ اِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتَابِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ کوئی اہل کتاب (کتابی) ایسا نہیں جو ان کی مَوْتِہٖ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكُوْنُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا موت سے پہلے ان پر ایمان نہ لائے اور (النساء ۴: ۱۵۹) قیامت کے دن آپ ان پر گواہ ہوں گے۔

حالانکہ آج سے دو ہزار سال پہلے تمام کتابی آنجناب پر ایمان لائے۔ کوئی ایک یہودی بھی آپ پر ایمان نہیں لایا بلکہ یہود نے آپ کی سخت مخالفت کی۔ پس یہ پیشین گوئی ابھی پوری ہونی ہے۔ رہی یہ بات کہ دنیا میں دوبارہ کب تشریف لائیں گے؟ سو یہ بات اللہ ہی جانے کب تشریف لائیں گے۔ ہاں ان کا تشریف لانا قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ ہم اللہ کے فرمان پر ایمان رکھتے ہیں۔ کیسے آئیں گے‘ جو اللہ لے گیا ہے وہی فرشتوں کے ہمراہ بادلوں کے درمیان ان کو دوبارہ لائے گا۔

محترم! آپ مرزائیوں سے ایسی باتوں میں نہ الجھیں۔ مرزا قادیانی نے اپنی نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ وہ جھوٹا‘ لعنتی‘ مرتد‘ جہنمی تھا‘ رسول اللہ ﷺ اللہ کے آخری رسول ہیں۔ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں بنایا جائے گا‘ نہ ہی بنایا گیا ہے۔

واللّٰہ اعلم ورسولہ عبدالقیوم خان

صفحہ 142

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات پر قادیانیوں کی دلیلیں

اور اس سلسلہ میں قادیانی فریب کی پردہ دری

مولانا محمد عبداللہ

یہ دنیا دار العجائب ہے اس میں ایسے عجائبات ظاہر ہوتے رہتے ہیں کہ ظہور سے قبل ان کے ظہور کی خبر کو ہر شخص جھٹلائے گا۔ اس قسم کے عجائبات کی فہرست بڑی طویل ہے ان ہی میں سے ایک عجوبہ مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت ہے اور پھر اس دعویٰ پر جو دلیلیں خود مرزا قادیانی اور ان کے حواریوں اور امتیوں نے پیش کی ہیں وہ خود عجیب تر ہیں۔ سیدھی بات تو یہ تھی کہ جب ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا تو ہر شخص فوراً اس کو یہ کہہ کر جھٹلا دیتا کہ ختم نبوت کے بعد نبوت کا ہر مدعی جھوٹا ہے لیکن وہاں تو ختم نبوت کے اجماعی عقیدہ ہی کو غلط سمجھنے والے موجود ہو گئے اور آیت شریفہ ولكن رسول الله وخاتم النبین کا ترجمہ اور اردو مطلب اپنی طرف سے تجویز کر ڈالا۔ مرزا قادیانی کے ہونے والے امتیوں سے دس برس پہلے اگر ختم نبوت کے بارے میں دریافت کیا جاتا تو ختم نبوت کے بارے میں وہی کہتے جو ہمیشہ سے پوری امت محمدیہ (علی صاحبہا الصلوٰۃ والتحیہ) کہتی چلی آئی ہے۔ تعجب ہے کہ ایسے لوگ اس کی امت میں شامل ہوتے چلے گئے جو ہوش و حواس والے اور علوم جدیدہ میں مہارت رکھنے والے ہیں اور جو بیدار مغزی کے ساتھ اپنی سروس اور بزنس چلاتے ہیں ان لوگوں کو مخبوط الحواس اور مجنوں بھی کہیں تو کس طرح کہیں جبکہ دیگر سب کام ہوش و سمجھ کے ساتھ انجام دیتے ہیں۔ معمولی گھر کا کام کاج کرنے کے لئے نوکر بھی سوچ سمجھ کر اور اس کی صلاحیت اور استعداد دیکھ کر رکھتے ہیں مگر اپنا پیغمبر بغیر ہوش و گوش کے ایک ایسے شخص کو کیسے مان لیا جو کافر گورنمنٹ کا خوشامدی تھا اور فخر کائنات حضرت محمد رسول اللہ ﷺ

صفحہ 143

کے متبعین کو بازاری گالیاں دیتا تھا اور جس کی ہر پیشین گوئی خداوند کریم نے جھوٹی کر دکھائی۔

مرزا قادیانی کی نبوت ثابت کرنے کے لئے قادیانیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے ثابت کرنے کو اپنا ایک بہت ضروری مشغلہ بنا لیا ہے۔ اور اس وفات مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کے عقیدہ کے بانی خود مرزا قادیانی آنجہانی ہی تھے۔ مسلمانوں نے قرآن و حدیث سے اور اجماع امت سے مرزا قادیانی کے اس غلط عقیدہ کی تردید کی مگر مرزا اور ان کے امتیوں نے حق قبول نہ کرنے کی قسم کھا رکھی ہے اس لئے آج تک اس لکیر کو پیٹتے جا رہے ہیں۔ آنے والے صفحات میں قادیانیوں کی وہ دلیلیں جمع کی گئی ہیں جو انہوں نے وفات مسیح علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے اثبات کے لئے پیش کی ہیں اور ساتھ ہر دلیل کا جواب بھی دیا گیا ہے گو یہ استدلالات اس لائق نہیں ہیں کہ ان کا جواب دیا جائے لیکن آیتوں کے غلط ترجمے کر کے قادیانی چونکہ عوام کو بہکانے کی کوشش کریں گے۔ اس لئے ادارہ الصدیق نے ضروری سمجھا کہ قادیانیوں کے لچر استدلالات سے ناظرین کو باخبر کیا جائے، یہ استدلالات تار عنکبوت سے زیادہ وزن نہیں رکھتے ہیں لیکن قادیانی مجبور ہیں۔ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا بہت ہوتا ہے حق کو تو بے دلیل مانا جاتا ہے باطل کو بے دلیل کیوں مانیں؟ ناظرین مضمون آئندہ سے سمجھ لیں گے کہ قادیانیوں کی دلیلوں کی مصداق وہی مثل ہے جو ہر کہ و مہ کے زبان زد ہے یعنی مارو گھٹنا پھوٹے آنکھ اور ہاں خود حضرت مسیح علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات ثابت کر کے مرزا کی نبوت ثابت کرنا بھی اسی مثل کا مصداق ہے۔ بھلا وفات مسیح علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام اور نبوت مرزا میں کیا تلازم ہے؟ چونکہ حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام وفات پا گئے۔ اس لئے مرزا غلام احمد نبی۔ یہ دلیل بھی تو اسی طرح کی ہے۔ ٹکٹ کے پیسے لے کر رواں کرتے وقت بلخ کہہ دیا جائے اگر ایک شخص مدعی نبوت ہو تو اس کے اخلاق و اعمال اور کردار کو بھی تو جانچنا چاہئے۔ مرزا کے حالات ڈھکے چھپے نہیں ہیں ان کی سوانح حیات کی سطر سطر سے اور ان کے مکر و فریب سے بھرے اشتہاروں اور مرعوب کرنے والے چیلنجوں سے اور پھر مناظرین اسلام کے سامنے حجت و برہان سے کترا کر گالیوں سے نوازش کرنے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مرزا خود بھی دل سے اپنے کو جھوٹا سمجھتے تھے، نبوت کا دعویٰ کر کے واپس لینے کو عار سمجھتے تھے آخر دم تک یہ اعلان

صفحہ 144

نہ کر سکے کہ میں نے جھوٹا دعویٰ کیا تھا ۔ قادیانی مرزا صاحب کے اوصاف واخلاق کو سامنے رکھ کر ان کی نبوت کو منوانے سے چونکہ عاجز آجاتے ہیں، اس لئے بحث و مناظرہ میں ”اخلاق مرزا“ کے عنوان سے کترا کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت کرنے کی شق کو اختیار کر لیتے ہیں، ہماری رائے میں ہر مسلمان کو قادیانیوں سے ہمیشہ صرف اس نقطہ پر بحث ومناظرہ کرنا چاہئے کہ جن اخلاق و اوصاف کے حامل مرزا تھے۔ ان کا حامل شریف انسان بھی نہیں ہوسکتا نبی تو کجا ۔۔۔۔۔۔ مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا تو خود انہوں نے اپنی دعا سے ثابت کر دیا ہے کہ جو جھوٹا ہو گا وہ سچے کی زندگی میں مر جائے گا۔ یہ دعا مرزا نے مولانا ثناء اللہ صاحب کے مقابلہ میں کی تھی اور کہا تھا کہ اس دعا کو خدا نے قبول کر لیا ہے اور مولانا ثناء اللہ صاحب مانیں یا نہ مانیں مگر یہ ہو کر رہے گا۔ چنانچہ خدا نے مرزا کی خواہش کے مطابق کر دیا کہ مرزا اپنے دعاوی میں جھوٹے تھے اور مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری کی زندگی میں مرزا قادیانی لاہور جا کر ہیضہ کے مرض میں مر گئے۔

بیشک قرآن شریف کا یہ دعویٰ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ اپنے مادی جسم کے ساتھ آسمان پر اٹھائے گئے اس کی دلیل ملاحظہ کیجئے۔

آنحضرت ﷺ سے پہلے یہود و نصاریٰ کا یہ عقیدہ تھا کہ حضرت عیسیٰ مسیح سولی پر چڑھائے گئے اور قتل کئے گئے۔ لیکن یہود و نصاریٰ میں سے کوئی اس کا قائل نہ تھا کہ حضرت عیسیٰ اپنی طبعی موت سے مر گئے۔ اس لئے کہ یہودیوں کا عقیدہ تھا کہ حضرت مسیح اپنی نبوت کے دعویٰ میں جھوٹے تھے۔ اور ان کے عقیدہ کے مطابق جو جھوٹا ہوتا ہے وہ یا تو سولی پر چڑھ جاتا ہے یا قتل کیا جاتا ہے اور جو سچا نبی ہوتا ہے وہ اپنی طبعی موت مرتا ہے اور عیسائیوں کو اپنے مسئلہ کفارہ کو ثابت کرنا تھا۔ اس لئے کہ اگر حضرت مسیح اپنی طبعی موت مرے ہوتے تو کفارہ کا مسئلہ نہیں ثابت ہو سکتا تھا۔ اس لئے دونوں (یہود و نصاریٰ) اسی کے قائل تھے۔ کہ حضرت مسیح مصلوب ہوئے اور قتل کئے گئے۔ طبعی موت کا ثبوت ان دونوں میں سے کسی سے نہیں ملتا۔ قرآن شریف نے اس کا جواب اس طرح دیا ہے۔

وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لہم وان الذین اختلفوا فیہ لفی شک منہ مالہم بہ من علم الا اتباع الظن وما قتلوہ یقینا

صفحہ 145

بل رفعه الله اليه وكان الله عزيزاً حكيماً ه

ترجمہ: ”حالانکہ نہ انہوں نے اس کو قتل کیا اور نہ سولی دی‘ لیکن وہ ان کے سامنے مشتبہ کیا گیا۔ جو لوگ اس امر میں‘ کہ مسیح کو قتل وسولی نہیں ہوئی قرآن کے بیان سے مخالف ہیں وہ اس واقعہ سے بے خبری میں ہیں۔ اس دعویٰ کی ان کے پاس کوئی دلیل نہیں۔ ہاں اٹکلوں اور خیالوں کے تابع ہیں۔ انہوں نے ہرگز اس کو قتل نہیں کیا بلکہ خدا نے اپنے پاس اٹھا لیا اور خدا غالب ہے اور حکمت والا ہے۔“

وان مّن اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته ويوم القيمة يكون عليهم شهيداً ه

اور نہیں ہے کوئی اہل کتاب سے مگر البتہ ایمان لائے گا ساتھ اس کے پہلے موت اس کی سے اور دن قیامت کے ہوگا۔ اوپر ان کے گواہ۔

ہمارا دعویٰ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام اپنے مادی جسم کے ساتھ آسمان پر اٹھائے گئے اور قیامت کے قریب دنیا میں پھر نزول فرمائیں گے۔ جس کی تفصیل یہ ہے یہودیوں اور عیسائیوں میں جو یہ خیال تھا کہ حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام سولی دیئے گئے اور قتل کئے گئے تو ظاہر ہے کہ یہ سولی اور قتل مادی جسم کے ساتھ تھا اور اسے دنیا جانتی ہے کہ قتل و پھانسی مادی جسم کے ساتھ ہوا کرتی ہے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس کی تردید فرمائی کہ مسیح کے مادی جسم کو نہ سولی دی گئی اور نہ قتل کیا گیا بلکہ اس مادی جسم کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھا لیا۔ اس آیت میں فعل قابل غور ہے۔ اگر مادی جسم کا آسمان پر اٹھایا جانا نہ مانا جائے تو آیت کے لفظوں کی ترتیب غلط ہوتی ہے اور سوال یہ ہوتا ہے کہ حضرت مسیح کے مادی جسم کو نہ سولی دی گئی اور نہ قتل کیا گیا۔ تو وہ مادی جسم ہوا کیا اس لئے کہ طبعی موت کا کوئی ثبوت نہ یہودیوں میں ہے نہ عیسائیوں میں اور نہ قرآن شریف اور آنحضرت ﷺ سے ہے اور پھر وكان الله عزيزاً حكيماً ہ کا یہاں کیا جوڑ؟ خدا غالب اور حکمت والا ہے۔ کا جملہ صاف بتلا رہا ہے کہ جس کام کو دنیا ان ہونی اور خلاف فطرت سمجھتی ہے اور حیرت و تعجب

صفحہ 146

کرتی ہے اس پر بھی خدا غالب ہے اور اپنے غلبہ و حکمت سے وہ کام کرتا ہے اس سے صاف ثابت ہے کہ مسیح کے مادی جسم کو نہ سولی دی گئی اور نہ قتل کیا گیا بلکہ اس مادی جسم کو خدا نے اپنی طرف اٹھا لیا۔

ہمارے دعویٰ کا دوسرا جزو یہ ہے کہ حضرت مسیح زندہ اپنے مادی جسم کے ساتھ آسمان سے نزول فرمائیں گے۔ اس کے بعد ان کی طبعی موت ہو گی اس کے ثبوت میں مندرجہ بالا آیت کے دوسرے حصہ پر غور کیجئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حضرت مسیح کی طبعی موت سے قبل تمام یہود و نصاریٰ آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ یہ ظاہر ہے کہ یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں مانتے بلکہ اسی طرح ان کے دشمن ہیں اور برا بھلا کہتے ہیں۔ جس طرح کہ بقول یہودیوں کے سولی کے وقت کہتے تھے۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ یہودی ابھی تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان نہیں رکھتے۔

پہلی دلیل:

قادیانی اس سلسلہ میں آیت پیش کرتے ہیں یعنی انی متوفیک ورافعک الی اور کہتے ہیں کہ یہ آیت بتلاتی ہے کہ حضرت مسیح مر گئے اور ان کا درجہ بلند کیا گیا مرزائی اس میں بھی عوام کا دھوکا دیتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ اس میں واو ترتیب کا ہے جس کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ پہلے وہ مر گئے اس کے بعد ان کا درجہ بلند کیا گیا۔ یہ بالکل غلط ہے۔ واو ترتیب کا ہوتا ہی نہیں ورنہ اس کے یہ معنی ہوں گے کہ خدا کے اس ارشاد اقیموا الصلوۃ واتوا الزکوۃ کا مطلب یہ ہوگا کہ پہلے نماز پڑھو اس کے بعد زکوۃ دو۔ اگر نماز سے پہلے زکوۃ دی تو وہ ناجائز یا اقیموا الصلوۃ ولا تکونوا من المشرکین یعنی پہلے نماز پڑھو اس کے بعد شرک چھوڑ دو حالانکہ یہ دونوں معنی غلط ہیں۔ پس اس آیت سے ثابت ہوا کہ واؤ ترتیب کا نہیں ہوتا۔ اگر ترتیب کا واو مان لیا جائے تو قادیانی یہاں لاجواب رہیں گے۔ ایک جگہ خدا فرماتا ہے۔ برب موسیٰ وھرون دوسری جگہ خدا فرماتا ہے برب ھٰرون و موسیٰ اگر واو ترتیب کا مانا جائے تو ان دونوں آیتوں میں ایک سچی ہو گی اور دوسری جھوٹی‘ حالانکہ دونوں آیتیں سچی ہیں۔ پس اس سے ثابت ہوا کہ واؤ ترتیب کا ہوتا ہی نہیں۔ اب

صفحہ 147

انی متوفیک کا اصل مطلب سنیئے ۔ جب حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام اپنے دین کی تبلیغ فرما رہے تھے۔ تو یہودیوں کی طرف سے اس کی سخت مخالفت تھی اور حضرت عیسیٰ مسیح کو اپنی جان کا سخت خطرہ تھا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے تسلی کے لئے فرمایا کہ انی متوفیک ورافعک الی یعنی اے عیسیٰ! تو دشمنوں سے خوف نہ کر کہ یہ تجھے نہ سولی پر چڑھا سکتے ہیں اور نہ قتل کر سکتے ہیں بلکہ میں تجھ کو طبعی موت دوں گا اور جب تو دشمنوں کے نرغے میں پھنسے گا۔ تو میں تجھ کو اپنے پاس اٹھالوں گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب دشمنوں کے نرغے میں پھنسے تو اللہ نے ان کو بچایا اور مادی جسم کے ساتھ آسمان پر اٹھا لیا۔

مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب سراج منیر ص ۳۰ پر یہ مانا ہے کہ انی متوفیک ورافعک الی تسلی کے لئے حضرت عیسیٰ کو الہام کیا گیا تھا۔ جس طرح آنحضرت ﷺ کو تسلی کے لئے خدا نے پہلے یہ فرمایا عفا اللہ عنک اس کے بعد یہ فرمایا لم اذنت لہم پس دونوں جگہ رفع سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے مادی جسم کے ساتھ آسمان پر اٹھائے گئے ہیں۔

دوسری دلیل:

قادیانی وفات مسیح کے ثبوت نہیں لائے ہیں۔ اور عیسائی جیسا مانتے ہیں وہ ظاہر ہے پس اس سے صاف ثابت ہو گیا کہ ابھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے انتقال (طبعی موت) نہیں فرمایا ہے۔ بلکہ ابھی تک زندہ آسمان پر ہیں اور آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے مطابق ملک عرب (دمشق) میں آسمان سے اپنے مادی جسم کے ساتھ اتریں گے۔ قتل دجال فرمائیں گے۔ شادی کریں گے اولاد ہوگی۔ پھر مدینہ منورہ میں اپنی طبعی موت سے انتقال فرمائیں گے۔ اور آنحضرت ﷺ کے روضہ اطہر میں جو ایک جگہ خالی ہے وہاں پر دفن کئے جائیں گے۔ بحمد اللہ دونوں باتوں کا ثبوت قرآن شریف سے ہو گیا۔

قادیانی اس موقعہ پر یہ کہتے ہیں کہ رفعہ اللہ سے مراد رفع درجات ہے نہ کہ رفع جسم مادی یہ ان کا ایک قسم کا دھوکہ ہے۔ اس لئے کہ اگر رفع سے مراد رفع درجات لیا جائے تو اس سے وما قتلوہ وما صلبوہ کی تردید ہوتی ہے۔ یعنی یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسیح کو سولی

صفحہ 148

دی گئی اور قتل کیا گیا تا کہ رفع درجات ہو حالانکہ خدا سولی وقتل کی نفی کرتا ہے ۔ یہ امر قابل سوال ہے کہ جب رفع درجات مراد ہے تو نفی قتل وصلب کے بعد بَلْ کی کیا ضرورت ہے؟ حضرت ادریس علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق ایک جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ورفعناہ مکانا علیا o اس آیت میں بَلْ نہیں ہے اور نہ اِلَیہ ہے پس اس آیت سے حضرت مسیح کے متعلق ان کے مادی جسم کا ذکر ہے کہ ان کے مادی جسم کو نہ سولی دی گئی اور نہ قتل کیا گیا بلکہ اس مادی جسم کو خدا نے اپنی طرف اٹھا لیا۔ پس رفع درجات کی تاویل محض دھوکہ ہے۔ رفع درجات کے لئے وکان اللہ عزیزاً حکیماً o کا کیا تعلق اور اس کی ضرورت کیا۔ اس لئے کہ شہداء کے رفع درجات تو ہوتے ہی ہیں۔ یہ تو عام بات ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے غلبہ وحکمت کا ذکر فرمایا ہے۔ تو یہ اسی لئے کہ عام لوگوں کے نزدیک مادی جسم کا آسمان پر جانا اور وہاں پر اتنے دنوں تک قیام اور پھر دنیا میں نزول ایک تعجب کی اور ان ہونی سی بات معلوم دیتی ہے ۔ مگر اللہ اس پر غالب ہے۔ وہ اپنے غلبہ سے مادی جسم کو آسمان پر لے گیا اور اپنی حکمت سے اب تک رکھے ہوئے ہے اور وقت مقررہ پر دنیا میں پھر نزول کرائے گا۔ آیت زیر بحث سے ہم نے حضرت مسیح کا رفع الی السماء اور نزول ثابت کیا ہے اب ہم قادیانیوں کی دلیلیں بیان کر کے شافی جواب تحریر کرتے ہیں۔

ایک آیت اور پیش کرتے ہیں فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم یعنی اور جب تو نے مجھے فوت کر لیا تو تو ہی ان پر نگہبان تھا اس کا جواب یہ ہے کہ یہ گفتگو حضرت مسیح علیہ السلام کی اور خدا کی قیامت کے دن کی ہے اور بیشک قیامت سے قبل حضرت مسیح علیہ السلام فوت ہو چکے ہوں گے ہم مسلمان اس کے قائل ہیں کہ حضرت مسیح قرب قیامت دنیا میں تشریف لائیں گے ۔ دمشق نامی شہر میں آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے مطابق آسمان سے نزول فرمائیں گے۔ باب لُد پر دجال کو قتل فرمائیں گے۔ شریعت محمدیہ کی تبلیغ فرمائیں گے۔ مدینہ منورہ تشریف لائیں گے۔ شادی کریں گے اولاد ہو گی اس کے بعد حسب وعدۂ خداوندی (انی متوفیک ) آپ طبعی موت سے مریں گے اور آنحضرت ﷺ کے روضہ اطہر میں دفن کئے جائیں گے۔ قیامت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام آنحضرت ﷺ کے ساتھ حضرت ابوبکرؓ وعمر فاروقؓ کے درمیان اس مزار مقدس سے اٹھیں گے تو اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ سے محض یہ سوال کرے گا کہ کیا تثلیث (خدا کے ماننے) کی تعلیم آپ نے (اے

صفحہ 149

عیسیٰ ) دنیا میں دی تھی ؟ حضرت مسیح اس کا یہ جواب دیں گے کہ اے خدا تو شرک سے پاک ہے جو بات مجھے لائق نہیں وہ میں کیوں کہتا۔ اصل سوال کا جواب ختم ہو گیا۔ مگر چونکہ حضرت مسیح کو اپنی بیزاری کے ساتھ ان کی سفارش بھی کرنی تھی۔ اس لئے استحقاق شفاعت کو برقرار رکھنے کے لئے یہ فرمایا کہ جب تک میں ان میں تھا۔ میں ان کا نگہبان تھا اور جب تو نے مجھے فوت کر لیا۔ تو تو ہی ہر چیز کا نگہبان ہے۔ جیسے وہ ہیں تو جانتا ہے۔ اس سے آگے ان کی ضمناً سفارش بھی کی ہے کہ اگر تو ان کو عذاب کرے تو تیرے بندے ہیں۔ کوئی تجھے روک نہیں سکتا اگر تو ان کو بخشے تو تو بڑا غالب بڑی حکمت والا ہے۔ پس اس آیت سے بھی یہ نتیجہ نکالنا کہ مسیح علیہ السلام اس وقت مردہ اور فوت شدہ ہیں، کسی طرح ٹھیک نہیں۔

تیسری دلیل:

قادیانی وفات مسیح کے سلسلہ میں ایک آیت یہ بھی پیش کرتے ہیں کہ

کانا یأکلان الطعام.

یعنی حضرت مسیح اور ان کی ماں علیہما السلام کھانا کھاتے تھے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ اب مر گئے اس لئے کھانا نہیں کھاتے۔ یہ قادیانیوں کا خیال ہی خیال ہے۔ اس لئے اول تو کانا کے لفظ سے زمانہ حال کی نفی نہیں ہوتی۔ دوسرے کھانا نہ کھانے سے زندگی محال نہیں ہوتی۔ حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے وصال صوم یعنی ایسے روزوں سے منع فرمایا ہے کہ جن میں رات میں بھی کچھ نہ کھایا جائے بلکہ پے در پے بے آب و نان گزارا ہو اس پر صحابہؓ نے دریافت کیا کہ حضرت آپ کیوں وصال کیا کرتے ہیں؟ تو آپؐ نے جواب میں فرمایا۔ انی ابیت یطعمنی ربی ویسقینی. یعنی میں رات گزارتا ہوں میرا رب مجھے کھانا کھلاتا ہے۔ پانی پلاتا ہے۔‘‘ اسی طرح حضرت مسیح بھی خدا کے پاس ہیں وہ انہیں کھلاتا اور پلاتا ہے اور اصحاب کہف قرآن شریف کے فرمان کے بموجب غار میں تین سو نو برس تک سوتے رہے۔ جس طرح خدا نے انہیں اپنے پاس زندہ رکھا اسی طرح انہیں زندہ رکھے گا۔ اور اس میں کوئی استحالہ نہیں ہے پس یہ ثبوت بھی مرزائیوں کا محض دھوکا اور فریب ہے۔

چوتھی دلیل:

قادیانی وفات مسیح کے سلسلہ میں یہ آیت بھی پیش کرتے ہیں

صفحہ 150

وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل اور اس کا ترجمہ یہ کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ سے قبل جتنے نبی تھے وہ سب فوت ہو گئے۔ خلت کا ترجمہ جو مرزا اور مرزائی حضرات فوت ہو جاتے اور مر جانے کا کرتے ہیں وہ بالکل غلط ہے خلت کا معنی مرنے کے نہیں آتے بلکہ گزرنے خالی ہونے وغیرہ کے ہیں۔ جیسے خدا نے فرمایا: واذا خلوا الی شیاطینهم قد خلت من قبلکم سنن فی الایام الخالیہ۔ ان آیتوں میں کہیں موت کے معنی نہیں۔ پس آیت کے صاف معنی یہ ہیں کہ تجھ سے پہلے کل نبی اپنے اپنے وقت میں کام کر کے چلے گئے یعنی ان کے فرائض نبوت ختم ہو گئے۔ اس آیت کو بھی حضرت مسیح کی وفات سے کوئی تعلق نہیں۔

پانچویں دلیل:

قادیانی ایک آیت یہ بھی پیش کر کے مسلمانوں کو دھوکا دیتے ہیں۔ وما جعلنا لبشر من قبلک الخلد یعنی کوئی بشر ہمیشہ زندہ نہیں رہا۔ یہ آیت بھی وفات مسیح ثابت نہیں کرتی۔ اس لئے کہ ہم کب مانتے ہیں کہ حضرت مسیح ہمیشہ ہمیشہ زندہ رہیں گے ہم تو یہ مانتے ہیں کہ قیامت سے قبل حضرت مسیح دوبارہ دنیا میں نزول فرما کر اپنی طبعی موت مریں گے۔

چھٹی دلیل:

قادیانی بسلسلہ وفات مسیح علیہ السلام یہ آیت بھی پیش کرتے ہیں۔ واوصانی بالصلوٰۃ والزکوٰۃ مادمت حیا مرزا نے اس آیت کو پیش کر کے محض زکوٰۃ پر ہی زور دیا ہے کہ آسمان پر زکوٰۃ کس کو ادا کرتے ہوں گے اور کیا دیتے ہوں گے اس سے معلوم ہوا کہ وہ مر گئے۔ یہ بھی ایک قسم کا دھوکا ہی ہے۔ انسان کب اور کہاں مکلف بالشرع ہوتا ہے۔ اس دنیا میں یا اس دنیا کے علاوہ اور بھی کہیں؟ حضرت آدم علیہ السلام جنت میں زندہ ہی تھے کیا وہ جنت میں بھی کسی قسم کی عبادت کرتے تھے؟ اگر کرتے تھے تو ثبوت پیش کرو۔ اگر نہیں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر رہ کر کیسے مکلف ہوئے؟ نیز زکوٰۃ تو وہ دیتا ہے جو مال والا ہو۔ یہ ثابت کیجئے کہ حضرت عیسیٰ صاحب مال ہیں۔

صفحہ 151

ساتویں دلیل:

قادیانی ایک آیت یہ بھی پیش کرتے ہیں کہ حضرت مسیح نے فرمایا:

والسلام یوم ولدت ویوم اموت ویوم ابعث حیا

مرزا کہتا ہے۔ کہ حضرت مسیح نے اپنی پیدائش اور وفات اور دوبارہ بعثت کا ذکر کیا۔ مگر آسمان پر اٹھائے جانے کا ذکر نہیں کیا۔ اس لئے وہ مر گئے۔ کیا اچھا ثبوت ہے۔ عدم ذکر سے عدم شئی لازم نہیں آتا۔ دوسرے ہو سکتا ہے کہ حضرت مسیح کو اپنے آسمان پر اٹھائے جانے کا اس وقت علم ہی نہ ہو۔ تو کیسے اس کا ذکر کرتے۔ پس اس آیت سے بھی وفات مسیح ثابت نہیں ہوتی۔

آٹھویں دلیل:

قادیانی یہ آیت پیش کرتے ہیں۔

اوترقی فی السماء قل سبحان ربی هل کنت الا بشراً رسولا ۔

مرزا اس آیت پر یہ کہتے ہیں۔ کفار مکہ نے آنحضرتؐ سے درخواست کی آپؐ آسمان پر چڑھ جائیں۔ جواب ملا کہ یہ عادت اللہ نہیں کہ خاکی جسم آسمان پر چڑھ جائے۔ پس مسیح بجسد عنصری آسمان پر نہیں گئے بلکہ بعد موت گئے ہیں۔

مرزا نے اس کے ترجمہ میں بہتان سے کام لیا ہے۔ عادت اللہ کس لفظ کا ترجمہ ہے یہ بالکل تحریف ہے آیت کا مطلب بالکل صاف ہے۔ کفار مکہ نے آنحضرت ﷺ سے کہا تھا کہ جب تک تم آسمان پر نہیں چڑھو گے ہم تمہاری بات نہیں مانیں گے۔ جواب ملا کہ خدا تو سب کچھ کر سکتا ہے۔ وہ ایسے کاموں سے عاجز نہیں وہ تو عاجزی سے پاک ہے ہاں میرا کام نہیں کہ میں خود بخود چڑھ جاؤں۔ میں تو صرف اس کا رسول ہوں جو مجھے ارشاد ہوگا۔ تعمیل ارشاد کو حاضر ہوں بتلائیے یہ کس لفظ کا ترجمہ ہے کہ عادت اللہ نہیں کہ خاکی جسم آسمان پر جائے۔ مرزا نے سبحان ربی کے معنی تو خوب تراش لئے کہ ایسے خلاف عادت کام کرنے سے میرا خدا پاک ہے۔ مگر هل کنت الا بشرا رسولا کو کیا کریں گے جو عہد عبودیت کا مظہر ہے جس سے صاف سمجھ میں آتا ہے کہ میں اس سوال کا مخاطب نہیں ہو سکتا اس آیت سے بھی وفات مسیح ثابت نہیں۔

صفحہ 152

نویں دلیل:

قادیانی ایک آیت یہ بھی پیش کرتے ہیں ومنكم من يتوفى ومنكم من يرد الى ارذل العمر لكيلا يعلم بعد علم شيئا اس آیت کو پیش کر کے یہ کہا گیا کہ آدمی اپنے عمر طبعی کو پہنچ کر مر جاتا ہے۔ پس حضرت مسیح بھی اپنی عمر طبعی کو پہنچ کر مر گئے۔

مرزا کا یہ خیال ہی خیال ہے اور اس زمانہ کے لوگوں کے عمر طبعی کا خیال کر کے مرزا اٹکل سے یہ بات کہی ہے حالانکہ اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ شروع زمانہ سے لوگوں کی عمر طبعی کتنی ہوتی تھی۔ حضرت نوح علیہ السلام کو دیکھئے کہ ساڑھے نو سو برس تک تو محض تبلیغ فرمائی، نہیں معلوم کہ ان کی عمر طبعی کس قدر تھی۔ بعض نبیوں کی چودہ چودہ سو برس تک عمر ہوئی ہے۔ بقول تفسیر ابن کثیر حضرت مسیح تینتیس برس کی عمر میں آسمان پر اٹھائے گئے۔ پس اس آیت سے بھی وفات مسیح ثابت نہیں۔ بلکہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح کی عمر طبعی کا اندازہ کوئی غیر محدود زمانہ ہے۔ جس کی مثال دنیا میں آج تک کسی فرد بشر پر نہیں آئی۔

دسویں دلیل:

قادیانی ایک آیت یہ بھی پیش کرتے ہیں ولكم في الارض مستقر ومتاع الى حين ۝ اس آیت کو پیش کر کے یہ کہتے کہ جسم خاکی آسمان پر نہیں جا سکتا اس لئے کہ جگہ اور گزارے کی جگہ زمین ہے۔ مگر اس آیت سے بھی وفات مسیح ثابت نہیں ہوتی اس لئے کہ حضرت مسیح رہنے و گزارہ کرنے آسمان پر نہیں گئے ہیں بلکہ عارضی طور سے ہیں ورنہ اس آیت ولكم فيها منافع ومشارب افلا تشکرون سے محض یہی ماننا پڑے گا کہ سوائے چار پایوں کے اور کسی میں منافع نہیں اور سوائے ان کے دودھ کے اور کچھ نہیں پی سکتے۔ حالانکہ ہم تمام دنیا کی چیزوں سے سے نفع اٹھاتے ہیں اور پانی، شربت اور مال کا دودھ پیتے ہیں اسی طرح ہم محمد رسول اللہ کہتے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ محمد ہی اللہ کے رسول ہیں اور موسیٰ

صفحہ 153

عیسیٰ اللہ کے رسول نہیں ہے۔ پس اس سے ثابت ہوا کہ آسمان عارضی مستقر ہو سکتا ہے۔ چنانچہ اس وقت حضرت مسیح کے لئے آسمان عارضی مستقر ہے۔

گیارہویں دلیل:

قادیانی ایک آیت یہ بھی پیش کرتے ہیں۔

ومن نعمره ننكسه في الخلق

یعنی درازیٔ عمر میں حواس و عقل زائل ہو جاتی ہے۔ پس مسیح کی عقل میں فرق آ گیا ہوگا۔ اس لئے وہ مر گئے ہوں گے۔

مرزا نے اپنی عمر پر مسیح کی عمر کو قیاس کیا ہے۔ حضرت نوح جو ساڑھے نو سو برس تک تبلیغ کرتے رہے تو بقول مرزا اس درازیٔ عمر میں وہ حواس و عقل کھو چکے ہوں گے اور اسی بدحواسی و بے عقلی کی حالت میں تبلیغ کرتے ہوں گے انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرزا کی درازیٔ عمر کو سامنے رکھ کر حضرت نوح ؑ یا حضرت عیسیٰ ؑ کی درازیٔ عمر کو نہیں دیکھنا چاہئے۔ بہرحال اس آیت کو وفات سے دور کا بھی تعلق نہیں۔

بارہویں دلیل:

قادیانی ایک آیت یہ بھی پیش کرتے ہیں۔

انما مثل الحيوة الدنيا كماء انزلناہ من السماء فاختلط بہ نبات الارض مما ياكل الناس والانعام o

یعنی کھیتی کی طرح انسان بعد کمال زوال کی طرف رخ کرتا ہے۔ پس مسیح بھی کمال سے زوال کی طرف آئے اور مر گئے۔ مگر یہ قاعدہ کلیہ نہیں ہے۔ اس لئے کہ اکثر بچے ایک سال کے ہی مر جاتے ہیں اس سے پہلے بھی اور اس کے بعد بھی بعض ایسے بھی ہوتے ہیں کہ حضرت نوح ؑ کی طرح ہزار سال تک اس کمال کو نہیں پہنچتے۔ اسی طرح حضرت مسیح کو بھی ابھی وہ کمال نہیں آیا ہے جس کے بعد ان کو زوال آنا ہے اور اس میں کیا استحالہ ہے۔

پس یہ آیت بھی مرزائیوں کے لئے مفید نہیں ہے اور ان کا مدعا اس سے بھی ثابت نہیں ہوتا۔

صفحہ 154

تیرہویں دلیل:

قادیانی ایک آیت یہ بھی پیش کرتے ہیں ۔ وما ارسلنا من قبلك من المرسلين الا انهم لياكلون الطعام ويمشون فى الاسواق O اس کا مفصل جواب اوپر گزر چکا ہے جس کا مختصر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت مسیح کو کھلاتا پلاتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے وصال صیام کے موقع پر فرمایا۔ اور زندگی کے لئے کھانا اور بازاروں میں چلنا ضروری نہیں ہے۔ بہر حال اس آیت سے بھی وفات مسیح ثابت نہیں ہے۔

چودہویں دلیل:

قادیانی ایک آیت یہ بھی پیش کرتے ہیں: والذين يدعون من دون الله لا يخلقون شيئا وهم يخلقون اموات غير احياء وما يشعرون ايان يبعثون O کہتے ہیں کہ اس آیت میں مصنوعی معبودوں کی موت کی خبر دی گئی ہے۔ چونکہ حضرت مسیح بھی ان کے مصنوعی معبود تھے۔ اس لئے وہ بھی مر گئے۔ اس میں بھی مرزائیوں نے دھوکا کھایا ہے۔ اول تو عیسائیوں کے مصنوعی معبود حضرت مسیح نہ تھے بلکہ یسوع تھے۔ جس کو مرزا نے بھی مانا ہے۔ دوسرے اس آیت میں لفظ اموات ہے جو جمع ہے میت کی میت مردہ کو ہی کہتے ہیں اور بے جان کو بھی‘ آیت شریفہ میں مصنوعی معبودوں سے مورتیاں مراد ہیں‘ جملہ مصنوعی معبود‘ بے جان اور جاندار‘ مراد ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے مورتیوں کے علاوہ دوسرے مصنوعی معبودوں کی معبودیت کے باطل ہونے کی دلیلیں دوسری آیت میں موجود ہیں۔ پس اس آیت سے ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت مسیح مر گئے۔

پندرہویں دلیل:

قادیانی ایک آیت یہ بھی پیش کرتے ہیں۔

صفحہ 155

ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین اور کہتے ہیں کہ چونکہ آنحضرت ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ اس لئے مسیح ان کے بعد نہیں آسکتے۔ پس معلوم ہوا کہ وہ فوت ہو گئے یہ بھی ایک قسم کا دھوکا بلکہ نافہمی ہے۔ بیشک آنحضرت ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ آپ کے بعد کسی کو نبوت نہیں ملے گی۔ حضرت مسیح پہلے تورات کے تابع احکام تبلیغ کرتے رہے اسی طرح بعد تشریف آوری قرآن شریف کے تابع ہو کر رہیں گے اس میں کوئی حرج نہیں۔

آنحضرتؐ نے ارشاد فرمایا: لو کان موسیٰ حیاً لما وسعہ الا اتباعی۔ خدا نے سب نبیوں سے عام طور پر وعدہ لیا ہے کہ جب تمہارے زمانہ میں کوئی رسول آئے تو تم اس کو مان لینا اور اس پر ایمان لانا پس اس آیت سے بھی وفات مسیح ثابت نہیں۔

سولہویں دلیل:

قادیانی ایک آیت یہ بھی پیش کرتے ہیں۔ فاسئلو اہل الذکر ان کنتم لا تعلمون۔ اس آیت کو پیش کر کے مرزا کہتے ہیں کہ وفات مسیح کے متعلق اہل کتاب سے دریافت کرو۔ اہل کتاب حضرت مسیح کی طبعی موت کے متعلق کچھ نہیں کہتے ہیں اور قرآن شریف سولی اور قتل کی تردید کرتا ہے۔ پس اس آیت سے بھی وفات مسیح ثابت نہیں ہے۔

سترہویں دلیل:

قادیانی ایک آیت یہ بھی پیش کرتے ہیں۔ یا أیتہا النفس المطمئنۃ ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیۃ فادخلی فی عبادی وادخلی جنتی O

مرزا کہتے ہیں کہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب تک آدمی مرے نہیں۔ خدا کے نیک بندوں میں نہیں ملتا اور بموجب حدیث معراج حضرت مسیح نیک بندوں میں داخل ہو چکے ہیں۔ اس لئے ضرور فوت شدہ ہیں۔

یہ بھی محض غلط اور دھوکا ہے۔ اس لئے کہ موجب شہادت حدیث معراج

صفحہ 156

خود آنحضرت ﷺ نیک بندوں میں داخل تھے یا نہیں؟ پھر آپ اس کے بعد دوسری زندگی سے آئے تھے۔ یا اسی زندگی سے؟ حالانکہ آیت کا مطلب بالکل صاف ہے کہ جب نیک بندے بوقت قیامت قبروں سے اٹھیں گے تو اس وقت خدا کے فرشتے ان سے کہیں گے۔ اے نفس خدا کے ذکر سے تسلی پانے والے! خدا کی طرف چل اور راضی خوشی خدا کے نیک بندوں میں داخل ہو۔ (تفسیر معالم اس کو مسیح کے فوت ہونے سے کیا تعلق؟)

اٹھارہویں دلیل:

قادیانی یہ آیت بھی پیش کرتے ہیں۔

الله الذى خلقكم ثم رزقكم ثم يميتكم ثم يحييكم.

مرزا کا کہنا یہ ہے کہ اس آیت میں چار واقعات انسان کی زندگی کے ہیں۔ پیدائش پھر انسان کی تکمیل و تربیت کے لئے رزق مقسوم ملنا پھر اس پر موت وارد ہونا پس معلوم ہوا کہ مسیح فوت شدہ ہیں۔ مگر شاید مرزا کو یہ معلوم نہیں کہ تکمیل اور تربیت کی حدود مختلف ہیں۔ اور رزق مقسوم بھی ہر زندگی کے مناسب ہوتا ہے۔ پس اس آیت سے بھی وفات مسیح ثابت نہیں۔

انیسویں دلیل:

قادیانی یہ آیت بھی پیش کرتے ہیں ۔

كل من عليها فان و يبقى وجه ربك ذو الجلال والاكرام.

اس میں بھی مرزا کو دھوکا لگا ہے یا مرزا دوسروں کو دھوکا دے رہے ہیں اس آیت کا صحیح مطلب یہ ہے کہ ہر زمین والے کو فنا دامن گیر ہے۔ لفظ علیها پر غور کیجئے اور یہ بالکل صحیح ہے کہ ہر زمین والا ایک نہ ایک دن فنا ضرور ہو گا۔ پس اس آیت سے بھی وفات مسیح ثابت نہیں۔

بیسویں دلیل:

قادیانی یہ آیت بھی پیش کرتے ہیں:

ان المتقين في جنت ونهر في مقعد صدق عند مليك مقتدر.
صفحہ 157

یعنی خدا کے پاس جا کر بندے جنت میں داخل ہو جاتے ہیں اور یہ سب کچھ موت کے بعد ہے۔ بیشک اس آیت میں جس جنت کا ذکر ہے وہ بعد موت ہی ہے مگر اس آیت سے یہ کہاں ثابت ہے کہ حضرت مسیح مر گئے اور مرنے کے بعد جس جنت میں آدمی جاتا ہے۔ اس جنت میں چلے گئے۔ پس اس آیت کو بھی وفات مسیح سے کوئی تعلق نہیں۔

اکیسویں دلیل:

قادیانی یہ آیت بھی پیش کرتے ہیں: اینما تكونوا يدرككم الموت ولو كنتم في بروج مشيدة O فرماتے ہیں کہ اس آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسان جہاں ہو موت اور لوازم موت اس پر جاری ہو جاتے ہیں۔ بیشک صحیح ہے لیکن اپنے اپنے وقت مقرر پر۔ ارشاد ہے۔ اذا جآء أجلهم لا يستأخرون ساعة ولا يستقدمون۔ کون کہتا ہے کہ حضرت مسیح کو موت نہیں آئے گی۔ آئے گی ضرور لیکن اپنے وقت پر۔ پس اس آیت سے بھی ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت مسیح مر گئے۔

بائیسویں دلیل:

قادیانی یہ آیت بھی پیش کرتے ہیں: مااتكم الرسول فخذوه وما نهكم عنه فانتهوا ۝ یعنی جو تم کو یہ رسول دیں وہ لے لو اور جس سے منع کریں اس سے ہٹ جاؤ۔ مرزا اس آیت کو پیش کر کے یہ کہتے ہیں۔ کہ آنحضرت ﷺ نے ہم کو دیا ہے أعمار أمتی مابین الستین الى السبعین واقلهم من یجوز یعنی میری امت کی عمریں ساٹھ ستر کے درمیان ہیں اور بہت کم اس سے زیادہ بڑھیں گے، نیز آنحضرت ؐ نے انتقال کے وقت فرمایا: ما من نفس منفوسة یاتى علیها مائة سنة وهی حیة. پہلی حدیث تو بالکل صاف ہے اور مرزا کے دعویٰ وفات مسیح سے ان کا کوئی تعلق

صفحہ 158

نہیں ۔ اس لئے کہ اس حدیث میں عمر متجاوز ہونے کا بھی ثبوت ہے۔ اور حضرت مسیح ان ہی میں سے ہیں۔ دوسرے یہ حدیث آنحضرت ﷺ نے اپنی امت کے متعلق فرمائی ہے اور حضرت مسیح ابھی آپ کی امت میں داخل نہیں ہوئے ہیں اور جب آسمان سے نزول فرمائیں گے اور دنیا میں دوبارہ تشریف لا کر آپ کی امت میں داخل ہوں گے تو ساٹھ سال سے کم زندہ رہ کر فوت ہو جائیں گے۔

دوسری حدیث کا ترجمہ مرزا نے یوں کیا ہے کہ جو زمین پر پیدا ہوا اور خاک میں سے نکلا وہ کسی طرح سو برس سے زیادہ نہیں رہ سکتا۔ مرزا نے اس میں تحریف سے کام لیا ہے اس حدیث میں لفظ علی ظهر الارض بھی تھا جس کے معنی ہیں کہ زمین کے جاندار۔ یعنی جو جاندار زمین پر ہیں۔ آج سے سو سال تک کوئی بھی زندہ نہیں رہے گا۔ یعنی ان کی نسل رہ جائے گی۔ خود نہیں رہیں گے۔ چونکہ حضرت مسیح زمین پر تو تھے نہیں جس سے مرزا کی دلیل میں ضعف آتا تھا اس لئے حدیث پر ہاتھ صاف کرنا چاہا اور تاویل یا تحریف کر دی کہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو زمین پر پیدا ہوا اور خاک میں سے نکلا۔ حالانکہ حضرت مسیح کے متعلق آنحضرت ﷺ کے فرمان علیحدہ موجود ہیں۔ كيف اذا انزل فيكم ابن مريم من السماء وامامكم منكم یعنی کیسے اچھے ہو گے تم جس وقت مسیح ابن مریم آسمان سے اتریں گے اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔

اب ہم اس مضمون کو ختم کرتے ہیں۔ اللہ قادیانیوں کو قبول حق کی توفیق دے اور قرآن کی کتر بیونت کے بدتر جرم سے باز رکھے۔ واخر دعوانا ان الحمد لله رب العلمين ۔

صفحہ 159

ایک سابق قادیانی کے قادیانیوں کو مفید مشورے

محمد مسلم بھیروی

قادیانی حضرات کے لئے چند غور طلب حقائق:

قادیانی سربراہ طاہر مرزا ایک مات کھایا راہنما ہی نہیں بلکہ پٹا ہوا سیاستدان بھی ہے اس نے سیاست میں پیپلز پارٹی کے ذریعے اقتدار پر چھا جانے کی کوشش کی مگر ذوالفقار علی بھٹو نے بر وقت کارروائی کر کے سارے خواب ملیا میٹ کر دیئے اب وہ ایک متعصب مذہبی راہنما کی طرح لندن سے کیسٹوں تحریروں خفیہ اور اعلانیہ طریقوں سے اپنے مریدوں کو پاکستان میں مسلسل اشتعال دلا کر حکومت سے ٹکراؤ اور ملک میں گڑ بڑ کی کوشش کر رہا ہے اب اس کا مقصد یہ ہے کہ مذہبی طور پر اشتعال اور گڑ بڑ کرا کے حکومت کو فیل کر دیا جائے اور پھر فاتحانہ طور پر پاکستان واپس آ کر حکومت سنبھالے مرزا غلام احمد سے لے کر طاہر احمد تک سب کے الہامات خوابوں اور تحریروں میں ایک بات مشترک ہے اور وہ ہے حکومت اور اقتدار کی بشارت اور اس مقصد کے لئے انہوں نے یہ طریقہ سوچا ہے کہ پیر و مرشد بن کر مریدوں کے خلوص اور ایثار سے حکومت کے حصول کا مقصد حاصل کریں چنانچہ ایک طرف وہ مریدوں کو حکومت اور اقتدار کی بشارتیں دیتے ہیں اور ساتھ ہی انہیں یہ نصیحت بھی کرتے رہتے ہیں کہ یہ مقصد بغیر قربانیوں کے حاصل نہیں ہو سکتا اس کے لئے جانی قربانیاں دینی پڑیں گی اور مالی قربانیاں دینی پڑیں گی۔ نادان مرید یہ نہیں سوچتے کہ اگر حکومت آئی تو وہ پیر یعنی طاہر مرزا اور ان کے خاندان کی آئے گی جن کو فرنٹ لائن قادیانی رائل فیملی کے خطاب سے بھی نوازتے ہیں مرید قادیانیوں کو حسرت و یاس ہی ملے گی۔ اول تو وہ پہلے ہی قربانی کے بکروں کی طرح مسلمانوں کے ہاتھوں طاہر مرزا کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ لیکن

صفحہ 160

جو بچ گئے وہ طاہر مرزا یا اس کی حکمران اولاد کے غلام ہو کر رہ جائیں گے اور اب تو پھر بھی جب کبھی ان کو ذہنی غلامی سے نجات ملتی ہے یا پھر عقل و شعور استعمال کر کے قادیانیت کی حقیقت ان پر واضح ہو جاتی ہے تو وہ قادیانیت کے چنگل سے نکل کر امت محمدیہ کی پناہ میں تو آ جاتے ہیں اور مسلمانوں کی حمایت سے کسی رائل فیملی کے ممبر یا ان کے پالتو جماعتی عہدیداروں کو ان کا بال بیکا کرنے کی جرات نہیں ہوتی لیکن اگر خدانخواستہ طاہر مرزا حکمران ہو گا تو سوائے مکمل غلامی کے کیا چارہ ہو گا اب بھی جماعت کے بڑے بڑے عہدے اور دفتروں کے اعلیٰ افسر سب رائل فیملی کے افراد ہیں تو ان کو حکومت میں ہر جگہ رائل فیملی کے ممبر ہی (Keyposts) ذمہ دار اسامیوں پر متعین ہوں گے۔

آپ لوگوں کو بچپن ہی سے قادیانی تنظیم کے لٹریچر پروگرام اور جلسوں کورسوں اور امتحانوں کے ذریعہ تعلیم دی جاتی ہے کہ ”اہل بیت“ یعنی مرزا صاحب اور ان کی اولاد عام قادیانی افراد سے بہت اعلیٰ ہے اور رائل فیملی کے ایک بچے کا نام بھی بڑی تعظیم سے لینا چاہئے اور خلافت بھی اسی خاندان سے باہر نہیں جا سکتی۔ اس زمانے کی راہنمائی اور حکمرانی کے لئے اللہ میاں نے بس مرزا کے خاندان کو چن لیا ہے۔ پس تم سوچو ان کی کامرانی میں تمہیں کس قدر پست درجہ کی غلامی سے گزرنا پڑے گا۔ اب تم اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کے لئے دوسروں کے جلسوں جلوسوں میں شرکت کر کے شور شرابا کر لیتے ہو۔ مگر طاہر مرزا جیسے کٹر مذہبی پیشوا کے دور میں کیا تم ذرا سی بھی تنقید کر سکو گے یا کوئی اصلاحی پہلو یا تجویز پیش کر کے زندہ رہ سکو گے۔ جو سربراہ اس در بدر ٹھوکروں کے دور میں اپنے مریدوں سے ذرا سے اختلاف رائے پر اخراج از جماعت بائیکاٹ حقہ پانی بند اخراج از گھر بار کی سزائیں دے دیتا ہے، وہ حکمرانی کے دور میں کیا کیا ظلم ڈھائے گا۔ ابھی وقت ہے کہ آپ لوگ اپنے سربراہوں اور ان کے لونڈوں چمچوں کی چالیں سمجھیں اور ان کی بشارتوں کے چکر میں آ کر آئے دن اپنے بھائی بند بال بچوں کو کٹواتے نہ پھریں آپ کے سربراہ اور ان کے حواری ہی آپ کو بیج لگا کر بازاروں میں گھومنے پر اکساتے ہیں۔ کبھی قادیانیت کی تبلیغ پڑوسیوں اور گھروں اور دوستوں میں کرنے پر زور دیتے ہیں۔ کبھی اپنے گھروں اور نمایاں جگہوں پر کلمہ لکھنے کو کہتے ہیں کبھی چھپ چھپ کر اور راتوں کو اٹھ اٹھ کر گلی محلوں میں علمائے اسلام کے خلاف اشتہار لگانے کو کہتے ہیں۔ کبھی عامتہ المسلمین کو اشتعال دلانے کے لئے

صفحہ 161

جگہ جگہ خطرے میں پڑ کر پوسٹر لگواتے ہیں ان سب باتوں کے باوجود اپنی جانیں مصیبت میں ڈال کر ایسی کارروائیاں کرنے کے بعد بھی آپ کو ہر خطہ میں یہ تمغہ دیتے ہیں کہ ابھی تمہارے ایمان کمزور ہیں اس لئے تم پر اللہ کی مار پڑ رہی ہے اور مصائب و آلام آ رہے ہیں اس لئے تم پہلے سے بڑھ کر چندہ دو۔ تم میں مال کی حرص ہے کہ چندہ کم دیتے ہو شرح سے کم دیتے ہو اپنی آمدنی کم لکھوا کر اللہ میاں کو دھوکہ دیتے ہو ............. چندہ دو گنا کرو چوگنا کرو........... جانیں قربان کرنے کے لئے تیار رہو........... قادیانی حضرات اب بھی وقت ہے کہ فہم و فراست سے کام لو اور درج ذیل امور پر غور کرو۔

مقام پر نظر آیا۔ اگر نہیں تو ظاہر ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم اپنے آپ کو کیوں خطرہ میں ڈالیں۔ الو کے پٹھے (یعنی عقل کے دشمن) مرید جو ملے ہوئے ہیں بکروں کی طرح قربان ہوتے رہیں گے ہم کیوں قربان ہوں ہم نے تو حکومت کرنی ہے۔

کرتے دیکھا؟ ظاہر ہے کبھی نہیں کیونکہ اس میں پٹائی کا ڈر ہوتا ہے اور رائل فیملی کی کھال بڑی نازک ہوتی ہے۔

جہاں تبلیغ میں مشکلات اور مصائب ہوں جیسے روس افغانستان سعودیہ وغیرہ ظاہر ہے۔ جواب یہی ہے کہ ہرگز نہیں بلکہ جن ممالک میں معمولی مشکلات ہیں ان میں بھی نہیں بھیجا گیا ہاں جہاں عیاشی ہو سکتی ہے۔ مثلاً جرمنی انگلینڈ اور فرانس وہاں اکثر ڈیرے ڈالے رہتے ہیں آپ کے حضرت مرزا مبارک احمد (طاہر مرزا) کے بڑے بھائی جو آپ کے چندوں کا کروڑوں روپیہ ڈکار گئے اور پھر بھی شاہی خاندان میں سے ہونے کے باعث حضرت صاحبزادہ کہلاتے ہیں ان کو تو

صفحہ 162

سوئٹزرلینڈ جرمنی فرانس جیسے ملکوں کے علاوہ کہیں کی رہائش پسند ہی نہیں آتی کیوں نہ ہو شہزادوں کے لائق تو وہی ملک ہیں آخر کل کو انہیں آپ کا بادشاہ بھی بننا ہے ابھی سے شاہانہ عادات واطوار اپنائیں گے تو کل کو بادشاہ بنیں گے ۔

کیا کبھی کسی غریب قادیانی رشتہ دار کے علاوہ بھی خلیفہ یا رائل فیملی کا کوئی فرد بیماری مصیبت یا پریشانی میں داد رسی کے لئے آیا ؟ یا آپ ہی کرائے خرچ کر کر کے قصر خلافت جا کر نذرانے دیتے رہتے ہیں اور اپنے پیٹ کاٹ کر چندے نچھاور کرتے رہتے ہیں ۔

خلیفہ صاحب کی تعمیل ارشاد میں جو قادیانی مارے جاتے ہیں یعنی اپنی جان سے جاتے ہیں کیا کبھی ان کے لواحقین کی رہائش اور معاش کا مستقل انتظام کیا گیا۔ آپ تو ان کو شہید کہتے ہیں اس لحاظ سے تو ان کے لواحقین کے لئے پہلے سے بہت اعلیٰ اور قابل رشک معاشی حالت اور اعلیٰ رہائش کا فوری انتظام ہونا چاہئے ۔ جب کہ ہو یہ رہا ہے کہ ان کے لواحقین کسمپرسی کے عالم میں پڑے ہیں اور کمانے والا مرزا طاہر احمد کی راہ میں قربان ہو چکا ہے اس لئے فاقے پڑ رہے ہیں طاہر مرزا قادیانی کرتا دھرتا اب نئے بکروں کی تلاش میں ہیں پرانے جو قربان ہو گئے ہیں ان کے لواحقین سے کیا ملے گا اب تو صرف یہ طعنے رہ گئے ہیں کہ مرنے والا چندہ دیتا تھا ان کے لواحقین کا ایمان کمزور ہے کہ چندہ نہیں دے رہے ۔

رائل فیملی کے بچوں تک کے ربوہ میں شاندار ذاتی بنگلے بن گئے لیکن دفتروں کا عملہ اور پرانے کارکن ۴۹ء سے لے کر ٹوٹے پھوٹے کوارٹروں میں رہ رہے ہیں ان کو رائل فیملی جیسے بنگلے تو خواب و خیال ہی سہی لیکن ان کو ٹوٹے پھوٹے کوارٹروں کے حقوق ملکیت ہی دے دیئے جاتے ایسا کیوں نہیں ہوا؟

صفحہ 163

کے اندر کا مخصوص علاقہ ریزرو ہے شاید قادیانیوں کے نزدیک جنت میں بھی اس فیملی کے لئے کوئی تدفین کے لئے اسی طرح مخصوص مرکزی سہانا مقام ریزور ہو گا) لیکن ربوہ سے باہر عام قادیانیوں کی تدفین کے لئے کیوں علیحدہ قبرستانوں کا انتظام نہیں کیا جاتا؟ جب کہ سالہا سال سے مسلمانوں کے قبرستان ان کی لاشوں کو برداشت نہیں کرتے۔ اور آئے دن عام قادیانیوں کی لاشیں مسلمانوں کے قبرستان سے نکال دی جاتی ہیں مگر آپ کے خلیفہ صاحب اور ان کے حواری اور پادری آپ کے لئے نہ صرف یہ کہ قبرستانوں کا انتظام نہیں کرتے بلکہ حکومت سے بھی درخواست نہیں کرتے کہ قادیانیوں کے لئے قبرستانوں کا انتظام کرے حالانکہ حکومت سے درخواست کی جائے تو حکومت فوراً اس کمیونٹی کے لئے قبرستان کا مفت انتظام کر دیتی ہے۔ چنانچہ لاہور کے بعض قادیانیوں نے حکومت کی اس پیش کش سے فائدہ اٹھا کر ماڈل ٹاؤن میں قبرستان کے لئے جگہ حاصل کر لی مگر جب خلیفہ صاحب کو معلوم ہوا تو انہوں نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا حالانکہ آج کل پورے لاہور کے قادیانی وہاں دفن ہو رہے ہیں مگر قبرستان کے لئے کوشش کرنے والے قادیانیوں سے خلیفہ صاحب سخت ناراض ہیں۔

چلتے یہ بھی آپ کو بتاتے چلیں کہ آپ کے خلیفہ صاحب کیوں آپ کے لئے قبرستان علیحدہ نہیں چاہتے حالانکہ سارے مذاہب ہی نہیں بلکہ عام برادریاں یا مسلک پر مبنی لوگوں کے بھی علیحدہ قبرستان ہیں مثلاً ایسے قبرستان بھی ہیں جو صرف اہل تشیع کے لئے ہیں پھر آپ کی تدفین تو دوسرے مسلمان اپنے قبرستان میں گوارا ہی نہیں کرتے اس لئے آپ کو تو بدرجہ اولیٰ علیحدہ قبرستانوں کی ضرورت ہے مگر خلیفہ اور فیملی درج ذیل وجوہات سے علیحدہ قبرستانوں کے خلاف ہے۔

صفحہ 164

(جعلی اس لئے کہ اصلی بہشتی مقبرہ تو آپ کے قادیان میں رہ گیا) میں بہت کم لوگ دفن ہونے کے لئے وصیت کریں گے اس طرح قادیانیوں سے ربوہ دفن ہونے کے لئے جو 10% فیصد آمدنی ماہانہ وصول کی جاتی ہے اور ساری خلیفہ اور رائل فیملی کے اللوں تللوں پر اڑتی ہے بند ہو جائے گی۔

کہ قادیانی اپنی لاش کی متوقع بے حرمتی سے ڈر کر زیادہ سے زیادہ ربوہ کے بہشتی مقبرہ میں 10% آمدنی ہر ماہ دے کر دفن ہونے کے لئے زیادہ سے زیادہ وصیت کریں گے اور دن بدن آمدنی زیادہ حاصل ہو گی اس لئے کیوں یہ نفع بخش سلسلہ لاشوں کی بے حرمتی کا بند کروایا جائے ویسے ایک بات ہم آپ کو یقینی بتا دیں کہ آج اگر ربوہ سے باہر کسی مسلمانوں کے قبرستانوں سے کسی رائل فیملی کے فرد کی لاش باہر پھنکوا دی جائے تو کل ہی سے آپ قادیانیوں کے لئے آپ کے خلیفہ صاحب کی ہدایت کے مطابق علیحدہ قبرستانوں کا انتظام شروع ہو جائے گا۔

ہے اس طرح کلمہ کے بیج نمایاں جگہوں پر لگانے اور سینوں پر آویزاں کر کے مسلمانوں کے بیچ میں شو مارنے کی تحریکوں اور اس طرح کی دیگر تحریکوں سے آپ میں اور امت میں نفرت اور مخاصمت بڑھتی ہے اور یہ نفرت اور اشتعال کی فضا رائل فیملی اور خلیفہ کی گدی کے مفاد میں ہے کیونکہ جس قدر آپ کی امت محمدیہ سے نفرت اور جھگڑا بڑھے گا اتنا ہی آپ زیادہ خلیفہ کی طرف جھکیں گے کیونکہ آپ کے نام نہاد خلفاء اپنی روز بروز پالیسیوں سے باقی قوم سے اختلاف اور نفرت بڑھاتے جا رہے ہیں۔ ظاہر ہے ایسے میں پناہ کے طور پر آپ خلیفہ

صفحہ 165

باہر اپنے قبرستان بنا لئے تو ربوہ کے جعلی بہشتی مقبرہ مقبرہ تو آپ کے قادیان میں رہ گیا) میں بہت کم وصیت کریں گے اس طرح قادیانیوں سے ربوہ دفن مد آمدنی ماہانہ وصول کی جاتی ہے اور ساری خلیفہ اور اڑتی ہے بند ہو جائے گی۔ طرح باہر نکلنے کا سلسلہ جاری رہنے کا فائدہ یہ ہوگا۔ بے حرمتی سے ڈر کر زیادہ سے زیادہ ربوہ کے بہشتی دے کر دفن ہونے کے لئے زیادہ سے زیادہ وصیت نی زیادہ حاصل ہوگی اس لئے کیوں یہ نفع بخش بند کروایا جائے ویسے ایک بات ہم آپ کو یقینی بتا سی مسلمانوں کے قبرستانوں سے کسی رائل فیملی کے تو کل ہی سے آپ قادیانیوں کے لئے آپ کے ابق علیحدہ قبرستانوں کا انتظام شروع ہو جائے گا۔ سے آپ کے اور عامتہ المسلمین میں منافرت بڑھتی ایاں جگہوں پر لگانے اور سینوں پر آویزاں کر کے نے کی تحریکوں اور اس طرح کی دیگر تحریکوں سے ور مخاصمت بڑھتی ہے اور یہ نفرت اور اشتعال کی کے مفاد میں ہے کیونکہ جس قدر آپ کی امت گا اتنا ہی آپ زیادہ خلیفہ کی طرف جھکیں گے یا روز بروز پالیسیوں سے باقی قوم سے اختلاف ظاہر ہے ایسے میں پناہ کے طور پر آپ خلیفہ

کے آگے زیادہ سے زیادہ جھکنے پر مجبور ہوں گے اور جتنا آپ زیادہ مجبور ہوں گے اتنا ہی خلیفہ اور رائل فیملی کی غلامی میں جکڑتے چلے جائیں گے۔ امید ہے آپ حضرات اندھی عقیدت سے علیحدہ ہو کر مندرجہ بالا اور اسی طرح باقی حقائق پر غور کریں گے اور خاندانی گدی کی غلامی سے نکل کر دوبارہ آنحضرت کی غلامی قبول کر لیں گے ورنہ اب تک تو اللہ تعالیٰ آپ کو مہلت دے رہا ہے ان تھوڑے بہت جھٹکوں سے عبرت حاصل کر لیں۔ ورنہ تمہاری داستان تک نہ ہوگی داستانوں میں۔

سندھ میں جو آج کل قادیانیوں کی گاہے بگاہے مارے جانے کی اطلاعات مل رہی ہیں اس سے بھی خلافت گدی کا یہ مقصد پورا ہوتا ہے کہ قادیانیوں اور مسلمانوں میں نفرت اور عداوت کو بڑھایا جائے۔ چنانچہ حال ہی میں جو دو افراد سلمان اور جاوید سکھر میں دن دہاڑے آتشیں اسلحہ اور کلہاڑی بردار افراد کے ہاتھوں مارے گئے ان میں مسلمان جاوید ۲۱ سالہ نوجوان تھا اور صرف تین سال قبل قادیانیت کے چنگل میں پھنسا تھا اس کے والدین بھائی بہن سب ہی مسلمان ہیں یہ بچہ قادیانی تنظیم جو کراچی سے امدادی ٹیم (جو آئے دن سکھر بھیجی جاتی ہیں) میں شریک ہو کر سکھر گیا تھا ظاہر ہے ان افراد کا قتل خلافت کی گدی کے ایماء پر ہوا اس سے قادیانی گدی کے دو مقاصد واضح ہوئے ہیں ایک تو یہ کہ قادیانیوں کے قتل سے قادیانیوں کی مسلمانوں سے منافرت میں اضافہ دوسرا سلمان جاوید کے قتل سے اس کے مسلمان رشتہ داروں کی قادیانی تحریک کے خلاف اپنے لئے ہمدردی حاصل کرنا اور اس طرح تفریق بین المسلمین بھی پیدا کرنا یعنی سلمان جاوید کے قتل کو علمائے اسلام کی طرف منسوب کر کے اس کے مسلمان رشتہ داروں اور ان کے ہمدردوں کو علمائے اسلام سے متنفر کرنا۔

عامتہ المسلمین بھی قادیانی رہنماؤں کے ان ہتھکنڈوں سے ہوشیار رہیں خاص طور پر قادیانی حضرات سے انہی کی ہمدردی میں مکرر درخواست ہے کہ ذرا ہوش وخرد سے کام لیں اندھی عقیدت سے قطع نظر ساری تحریک کا مطالعہ کریں علمائے اسلام سے رجوع کریں اور اس چنگل سے گلو خلاصی حاصل کریں دیکھئے سوائے مرزا قادیانی کی نبوت کے ڈھکوسلے کے آپ میں اور اہل سنت والجماعت میں کیا فرق رہ جاتا ہے۔ آپ کا ان سے ہندو مسلم والا

صفحہ 166

فرق نہیں کہ ہر مسئلے اور طریق عبادت اور دیگر ارکان پر اختلاف ہو ۔ یا آپ کھل کر مرزا غلام احمد قادیانی کو پکا با قاعدہ نیا نبی مان کر ایک نئے مذہب سے منسلک ہو کر اپنے لئے علیحدہ اقلیتی حقوق حاصل کر لیں جو کہ مسلمانوں سے قدرے زیادہ ہی ہیں یا پھر مرزا کی نبوت کے دعویٰ کو ان کی مراق کی بیماری اور دوران سر (جو کہ خود اپنا مرض اپنی کتب میں اس نے بیان کیا ہے) کا نتیجہ قرار دے کر رد کر دیں۔ اہل سنت والجماعت میں شمولیت کے لئے آپ کو اور کچھ نہیں کرنا پڑے گا ۔ باقی تھوڑے بہت اختلافات بزرگان اسلام کے فیض صحبت سے بفضلہ تعالیٰ سمجھ میں آجائیں گے۔ لیکن اگر آپ نے یہی وطیرہ رکھا کہ جب اختلاف یا مخالفت دیکھی تو کہہ دیا کہ مرزا اصلی نبی نہیں تھا۔ ظلی بروزی تھا اور زیادہ مخالفت دیکھی تو انکار کر دیا۔ خلیفہ جی کے سامنے بیٹھے تو مرزا کو دیگر نبیوں سے افضل نبی کہنے لگے اور خلیفہ جی بھی مرید کی چاپلوسی دیکھ کر دادا جی کی نبوت بلند ہوتی دیکھ کر جھومنے لگے یا موقع دیکھا تو مرزا کی وہ تحریر دکھا دی جس میں مدعی نبوت پر لعنت بھیجی ہے موقعہ دیکھا تو وہ کتاب دکھا دی جس میں مرزا نے رسول اور نبی اور ابن مریم سے بڑا ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ کبھی ڈھل مل یقین لوگوں سے واسطہ پڑا تو وہ تحریر دکھا دی جس کے مطابق مرزا نبی نہیں تھا۔ بلکہ ایک پہلو سے نبی تھا اور پہلو سے امتی ظلی بروزی تھا یعنی گول مول بات کر دی۔ اس طرح آپ محمدیہ امت کو زیادہ دیر تک بے وقوف نہیں بنا سکیں گے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے مسلسل تنبیہ اور مہلت سے جلد فائدہ اٹھا کر رجوع الی الحق نہیں کریں گے تو صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گے۔

فاتر العقل جب نام نہاد نماز کا وقت ہوتا تو مرزا بشیر الدین کو لا کر مصلہ امامت پہ کھڑا کر دیا جاتا۔ بشیر الدین کبھی ہاتھ باندھ لیتا کبھی چھوڑ دیتا۔ کبھی سجدے کھا جاتا اور کبھی سجدوں پہ سجدے کیے جاتا۔ کبھی رکوع غائب ہو جائے، کبھی چار کی بجائے دو رکعتیں اور کبھی دو کی بجائے چار رکعتیں پڑھ جاتا۔ وہ منہ میں اول فول بکتا رہتا۔ کوڑھ دماغ قادیانی اس کے پیچھے کھڑے اس کی حرکات دہراتے رہتے۔ لیکن کیا مجال کہ کوئی اس کے سامنے زبان کھول سکے۔

صفحہ 167

قادیانیوں کا اسلامی شعائر استعمال کرنا اسلام پر ڈاکہ ہے

حضرت مولانا محمد مالک کاندھلویؒ

تعمیر مساجد صرف مسلمانوں کا حق ہے یہ قرآن کریم کا فیصلہ ہے۔ اُمت کے تمام آئمہ علماء اور ہر دور کے فقہاء قضاۃ اور حضرات مفتیان کا یہی متفقہ فیصلہ ہے کہ کسی غیر مسلم کو تعمیر مساجد کا ہرگز حق نہیں تو اس صورت حال میں کہ قادیانیوں کا مسئلہ طے ہو چکا کہ وہ اسلام سے خارج ہیں اور پھر اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ مسجدیں بھی بنائیں۔

قرآن کریم کا یہ صاف اور واضح فیصلہ ان الفاظ میں ہے ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

ما کان للمشرکین ان یعمروا مساجد الله شاہدین علی انفسہم بالکفر اولئک حبطت اعمالہم وفی النار ہم خالدون. انما یعمر مساجد الله من امن بالله والیوم الآخر واقام الصلوۃ واتی الزکوۃ ولم یخش الا الله فعسی اولئک ان یکونوا من المہتدین.

(التوبہ)

مشرکوں کے واسطے اس بات کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ وہ مسجدیں تعمیر کریں حالانکہ وہ گواہ ہیں اپنے اوپر کفر کے ۔ یہ لوگ تو وہ ہیں کہ جن کے اعمال برباد ہوئے اور وہ ہمیشہ جہنم میں رہنے والے ہوں گے۔ مساجد اللہ کی تعمیر صرف ایسے ہی لوگ کرتے ہیں جو اللہ پر اور قیامت پر ایمان لائیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور اللہ کے سوا کسی سے ڈرنے والے نہ ہوں تو ایسے لوگ تو امید ہے کہ ہدایت پانے والوں میں سے ہوں گے۔

اس آیت مبارکہ نے اس امر کی وضاحت کر دی کہ مشرکین کے لیے یہ حق نہیں ہے کہ وہ مسجدیں بنائیں اور آباد کریں۔ اگرچہ آیت میں لفظ مشرکین ہے لیکن اس لحاظ سے کفر کی تمام قسمیں خواہ وہ بت پرستی کی شکل میں ہوں یا ستاروں کی پرستش یا آگ کی پوجا یا سرے سے خدا کے وجود کا انکار، سب کسی شکل میں ہوں حکم ایک ہی ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

صفحہ 168

الكفر ملة واحدة

اس بناء پر مرزائی اور قادیانی جو اپنے اس اعتقاد کی بناء پر اسلام سے خارج ہیں‘ ان میں اور مشرکین میں کوئی فرق نہیں‘ غیر مسلم ہونا جب طے ہو گیا اور مسجد کی تعمیر کا حق بنص قرآنی مسلمان کو ہے۔

لہٰذا یہ سوچنے کی قانوناً کوئی گنجائش نہیں کہ مرزائی تو بت پرست نہیں اگرچہ بت پرست نہیں مگر کافر تو ہیں اور ہر کافر و بت پرست کا حکم شرعی ایک ہی ہے۔ آیت مبارکہ میں صرف اس منفی پہلو ہی پر اکتفاء نہیں کیا گیا بلکہ مثبت پہلو سے یہ فرما دیا گیا‘ مسجدوں کی تعمیر اور آبادی تو صرف ان ہی لوگوں کے لیے مخصوص ہے جو اللہ پر اور قیامت پر ایمان رکھتے ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ تعمیر مساجد اہل ایمان کا کام ہے جو اپنے عمل اور عقیدے کی رو سے صحیح مسلمان ہوں۔ احکام الٰہی کے پابند ہوں اور ظاہر ہے کہ احکام خداوندی کی پابندی رسول اللہ کی اطاعت کے بغیر کیونکر ہو سکتی ہے تو جس فرقہ کا کفر ثابت ہو چکا اور انہوں نے رسول اللہ کی اطاعت کے بجائے ایک مدعی نبوت کو نبی قرار دے لیا اور اس طرح کھلم کھلا اسلام اور اصول اسلام کے باغی ہو کر جماعت کی تنظیم کی۔ اپنے آپ کو خود امت مسلمہ سے علیحدہ کر لیا اسی حد تک نہیں بلکہ تمام دنیائے اسلام کے مسلمانوں کو کافر قرار دیا‘ اپنا قبرستان علیحدہ بنایا‘ اپنے حج کی جگہ قادیان پھر ربوہ تجویز کیا۔ ان تمام باتوں کے شواہد قادیانی فرقہ کی کتابوں میں کثرت سے موجود ہیں اور عدالت میں پیش بھی کیے گئے تو ان سب باتوں کے بعد ان کا مومن اور مسلمان ہونے کا کوئی سوال ہی نہیں اور جب مومن نہ ہوئے تو مساجد کی تعمیر کا حق کیونکر حاصل ہو سکتا ہے کیونکہ اللہ کی مسجدیں اللہ کی عبادت اور بندگی کے واسطے بنائی جاتی ہیں اور جو اس کا باغی ہو اور اسلام کو مٹانے کے درپے ہو وہ ظاہر ہے کہ مسجدوں کی تعمیر کا کوئی حق نہیں رکھ سکتا اس لیے کہ اگر وہ مسجدیں بنائے گا تو اللہ کے دین کو پھیلانے کے لیے نہیں بلکہ اللہ کے دین کو مٹانے کے واسطے بنائے گا۔ اس بناء پر بنیادی طور پر یہ بات عقلاً اور شرعاً ثابت ہو گئی کہ کوئی بھی فرد یا جماعت جو خارج از اسلام ہو چکی ہو وہ اسلام کی مسجدیں نہیں بنا سکتی۔

عمارت کا جو لفظ آیت مبارکہ میں ہے اس کے دو معنی ہیں‘ ایک ظاہری اور حسی طور پر درو دیوار کی تعمیر کا کرنا۔ اسی شق میں اس کی مرمت‘ حفاظت‘ صفائی‘ دیکھ بھال بھی داخل ہے۔ دوسرے عبادت اور ذکر الٰہی و تلاوت قرآن سے اس کو آباد کرنا تو تعمیر کرنا اور آباد کرنا دونوں چیزیں ایمان پر موقوف ہیں جو ایمان والا ہو گا‘ اس کو اس بات کا حق پہنچے گا اور جس کا کفر واضح ثابت اور مسلم ہو چکا‘ وہ یقیناً کسی درجہ میں مستحق نہیں اسی وجہ سے فقہاء نے غیر مسلموں کی امداد و

صفحہ 169

اعانت کو بھی مساجد کی تعمیر میں درست نہیں قرار دیا۔

ابن کثیر نے تفسیر ابن کثیر جلد ۲ صفحہ ۳۳ پر انس ابن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث ذکر کی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انما عمار المساجدهم اهل الله

کہ مسجدوں کو تعمیر کرنے والے صرف وہی لوگ ہیں جو اللہ والے یعنی ایمان والے ہوں اور ظاہر ہے کہ جو شخص کافر ہے وہ اللہ والوں میں کیونکر شمار ہو سکتا ہے۔ شاهدین علی انفسهم بالكفر

کہ جو اپنے اوپر گواہ ہیں کفر کے اس آیت کی تفسیر میں علامہ آلوسی صاحب تفسیر روح المعانی ص ۵۸ جلد ۱۰ میں فرماتے ہیں کہ اپنے نفس پر کفر کے گواہ ہونے کے معنی یہ ہیں کہ ان سے وہ باتیں ظاہر اور صادر ہیں جو ان کے کفر کو ثابت کر رہی ہیں اگر چہ وہ اپنی زبان سے یہ نہ کہتے ہوں کہ ہم کافر ہیں۔ مراد یہ ہے کہ انسان کے مشرکانہ اور کافرانہ افعال خود اس کے گواہ ہوتے ہیں، خواہ زبان سے وہ کچھ ہی دعویٰ کرتا ہو اس جگہ پر قرآن حکیم نے صرف منفی ہی پہلو بیان کرنے پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ مثبت انداز میں بحیثیت قانون یہ واضح فرما دیا کہ مسجدیں بنانے کا حق صرف اہل ایمان کو حاصل ہے اور اس کے ساتھ اقام الصلوۃ و اتی الزکوۃ فرمایا گیا اس سے غرض یہ ہے کہ ان اہلِ ایمان کو جن کا مقصد دینِ اسلام کو مجموعی طور پر قائم کرنا ہو اور ظاہر ہے کہ احکام دین کی اسی صورت میں اتباع اور ان کی اقامت ہو سکتی ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان مکمل ہو نہ کہ ایک نئی شریعت اور متبادل دین اور علیحدہ مذہب اختیار اور اختراع کرنے والی ہوئی۔ چنانچہ قادیانیوں نے اپنے قبرستان علیحدہ بنا کر اپنی مسجدیں جدا تعمیر کر کے خود اس بات کو ثابت کر دیا کہ ہم امت مسلمہ سے علیحدہ ہیں۔ وہ اُمت مسلمہ جس کو تمام دنیا مسلمان کہتی ہے اس سے ہمارا موت و حیات میں کوئی واسطہ نہیں۔

الغرض یہ روش اور طریقہ ان کے کفر کا کھلا ہوا ثبوت ہیں اور یہ بھی قادیانیوں پر تمام و کمال صادق آ رہے ہیں اور اگر یہ لوگ کسی عمارت کو مسجد کے عنوان سے بنائیں تو اس بارہ میں علامہ آلوسی کی یہ تصریح کافی ہے فرماتے ہیں بعض سلف مفسرین کا اس آیت کی تفسیر میں یہ قول ہے کہ ایسے لوگ اگر کوئی عمارت بنائیں تو یہ محال ہے کہ اس کا نام مسجد قرار دیا جائے۔ (روح المعانی جلد ۱۰ ص ۵۸)

قرآن شریف نے صرف اسی قانون پر اکتفاء نہیں فرمائی بلکہ غیر مسلموں کے لیے مساجد

صفحہ 170

میں داخلہ بھی ممنوع قرار دیا فرمایا گیا:

ياايها الذين امنوا انما المشركون اے ایمان والو! مشرکین سوائے اس کے اور نجس فلايقربوا المسجد الحرام بعد کچھ نہیں کہ نجس (پلید) ہیں سو نزدیک نہ آنے عامهم هذا وان خفتم عيله فسوف پائیں مسجد حرام کے اس سال کے بعد اور اگر تم يغنيكم الله من فضله ان الله عليم کو ڈر ہو فقر و تنگدستی کا تو اللہ اپنے فضل سے تم حکیم. (آیت ۲۸ التوبۃ) کو غنی کر دے گا اگر وہ چاہے۔ بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے۔

نجس کا لفظ عام ہے جو ظاہری اور معنوی ہر قسم کی نجاست کو شامل ہے۔ امام راغب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا اس میں وہ نجاست بھی داخل ہے جو آنکھ ناک یا ہاتھ وغیرہ سے محسوس ہو اور وہ بھی جو علم اور عقل کے ذریعے معلوم ہو اسی وجہ سے ان معنوی نجاسات کو بھی نجس کہا جاتا ہے جن کی گندگی اور نجاست کا حکم شریعت کے ذریعے معلوم ہوا اور اس پر وضو یا غسل واجب کیا گیا اور اسی کے ساتھ ان باطنی نجاسات کو بھی شامل ہے جن کا تعلق انسان کے قلب سے ہے جیسے عقائد فاسدہ اور اخلاق رذیلہ اور جب کوئی قوم جھوٹے نبی کی پیروی کر کے اسلام سے خارج ہو گئی، اس سے بڑھ کر اور کیا نجاست و گندگی ہوگی ۔ آیت کا مفہوم ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد اس وحی الٰہی کے ذریعے یہ اعلان کر دیا کہ مشرکین نجس ہیں اس سال کے بعد آئندہ کوئی مشرک مسجد حرام کے قریب نہیں آ سکتا۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو امیر الحج بنا کر مکہ مکرمہ روانہ فرمایا اور یہ فرمایا کہ اس حکم خداوندی کا جا کر حرم میں اعلان کر دو۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور پھر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ گئے اور ہر ہر موقع پر اس اعلان کو نشر کیا گیا۔

مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ تفسیر معارف القرآن جلد ۴ صفحہ ۳۵۴ پر فرماتے ہیں آیت مذکورہ میں جو حکم دیا گیا کہ کوئی مشرک آئندہ مسجد حرام کے قریب بھی نہیں آ سکتا اس میں تین باتیں غور طلب ہیں کہ یہ حکم مسجد حرام کے ساتھ مخصوص ہے یا دنیا کی دوسری مسجدیں بھی اسی حکم میں داخل ہیں اور اگر مسجد حرام کے ساتھ مخصوص ہے تو کسی مشرک (یا غیر مسلم) کا داخلہ مسجد حرام میں مطلقاً ممنوع ہے یا صرف حج اور عمرہ کے لیے داخلہ کی ممانعت ہے، ویسے جا سکتا ہے۔ تیسرے یہ کہ آیت میں یہ حکم مشرکین کا بیان کیا گیا ہے کفار اہل کتاب بھی

صفحہ 171

اس میں شامل ہیں یا نہیں؟ ان تفصیلات کے متعلق الفاظ قرآنی چونکہ ساکت ہیں اس لیے اشارات قرآن اور روایات حدیث کو سامنے رکھ کر ائمہ مجتہدین نے اپنے اپنے اجتہاد کے مطابق احکام بیان فرمائے اس سلسلہ میں پہلی بحث اس بارے میں یہ ہے کہ قرآن کریم نے مشرکین کو نجس کس اعتبار سے قرار دیا ہے اگر ظاہری نجاست یا جنابت وغیرہ مراد ہے۔ تو ظاہر ہے کہ کسی مسجد میں نجاست کا داخل کرنا جائز نہیں اسی طرح جنابت والے شخص یا حیض و نفاس والی عورت کا داخلہ کسی مسجد میں جائز نہیں اور اگر اس نجاست سے مراد کفر و شرک کی باطنی نجاست ہے تو ممکن ہے کہ اس کا حکم ظاہری نجاست سے مختلف ہو۔

تفسیر قرطبی میں ہے کہ فقہاء مدینہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ نے یہ فرمایا ہے کہ مشرکین ہر معنی کے اعتبار سے نجس ہیں۔ ظاہری نجاست سے بھی عموماً اجتناب نہیں کرتے اور جنابت وغیرہ کے بعد بھی غسل کا بھی عموماً اہتمام نہیں کرتے اور کفر و شرک کی باطنی نجاست تو ان میں ہے ہی اس لیے یہ حکم تمام مشرکین اور تمام مساجد کے لیے عام ہے اور اس کی دلیل میں عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وہ فرمان پیش کیا جس میں انہوں نے امراء (حکام) بلاد کو یہ حکم بھیجا تھا کہ کفار کو مساجد میں داخل نہ ہونے دیں اور اس فرمان میں اسی آیت کو بطور دلیل تحریر فرمایا تھا۔ نیز یہ کہ حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے: انی لا احل المسجد لحائض ولاجنب کہ میں کسی حائضہ عورت یا جنبی شخص کے لئے مسجد میں داخل ہونے کو حلال نہیں سمجھتا اور ظاہر ہے کہ مشرکین و کفار عموماً حالت جنابت میں غسل کا اہتمام نہیں کرتے اس وجہ سے ان کا داخلہ مساجد میں ممنوع ہے۔

امام شافعی رحمۃ اللہ نے فرمایا کہ یہ حکم مشرکین و کفار اور اہل کتاب سب کے لیے عام ہے مگر مسجد حرام کے لیے مخصوص ہے۔ دوسری مساجد میں ان کا داخلہ ممنوع نہیں (قرطبی) اور دلیل میں ثمامہ بن اثال کا واقعہ پیش کیا جن کو مسلمان ہونے سے قبل گرفتاری کے بعد مسجد نبوی کے ستون سے باندھ دیا تھا۔ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک آیت میں مشرکین کو مسجد حرام کے قریب جانے کی ممانعت کا یہ مطلب ہے کہ آئندہ سال سے ان کو مشرکانہ طرز پر حج و عمرہ کرنے کی اجازت نہ ہو گی۔

حضرات حنفیہ نے کسی شدید ضرورت اور مجبوری کے باعث غیر مسلم کو مسجد میں داخل

صفحہ 172

ہونے کی اجازت دی ہے اور یہ واقعہ ثمامہ بن اثال کا اور اسی طرح نصاریٰ نجران کے وفد کا مسجد نبوی میں آنے کا ان احکام اور آیات کے نزول سے قبل کا ہے کیونکہ یہ آیت ۹ ہجری میں نازل ہوئی اور یہ واقعات اس سے بہت پہلے کے ہیں۔

پھر یہ کہ نصاریٰ نجران کے وفد کا مسجد میں آنا ان کی عبادت کے لیے نہیں تھا، وہ تو صرف گفتگو کے لیے تھا۔ یہ قطعاً بے بنیاد اور خلافِ حقیقت ہے کہ یہ کہا جائے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے نصاریٰ کو ان کے طریقہ کے مطابق مسجد میں عبادت کی اجازت دی تھی۔ علیٰ ہذا القیاس ثمامہ کو ایک قیدی کی حیثیت سے مسجد میں باندھا گیا تھا اس طرح کے تو اتفاقی واقعات ہیں، حیوان اور اونٹ کا بھی مسجد میں داخل ہونے کا ذکر ہے جس کی بناء پر امام بخاری نے صحیح بخاری میں حیوان کے مسجد میں داخل ہونے کا ایک باب قائم کیا۔

الغرض یہ ثابت ہوا کہ کفر و شرک کی نجاست جو حسی لحاظ سے بھی ہے اور شرعی لحاظ سے بھی اس کے ہوتے ہوئے یہ درست نہیں کہ مسجدوں میں داخل ہونے کی غیر مسلموں کو اجازت دی جائے۔ احکام القرآن للجصاص جلد دوم صفحہ ۸۸ پر تصریح ہے کہ ثقیف کا وفد فتح مکہ ہی کے بعد آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ آیت ۹ ہجری میں نازل ہوئی۔

اسی حدیث میں یہ بات بھی خاص طور پر قابلِ ذکر ہے کہ قادیانیوں کو حج بیت اللہ اور حدودِ حرم میں داخل ہونے کی اجازت نہیں اور یہ بات حکومتِ پاکستان نے بھی تسلیم کر رکھی ہے۔ چنانچہ حج فارم میں یہ تصریح کرنی ہوتی ہے اور اس بیان و ثبوت پر ویزا جاری ہوتا ہے کہ یہ شخص قادیانی نہیں جس سے صاف ظاہر ہے کہ مسجدوں میں ان کا داخلہ ممنوع ہوا اور اس طرح ان کو کوئی حق نہیں رہا کہ وہ مسجدیں تعمیر کریں اور مسلمانوں کی طرح نماز پڑھیں کیونکہ نماز اسلام کی نشانی ہے جب ایک گروہ اسلام سے خارج ہے اور یہ خارج از اسلام ہونا صرف علمی تحقیقی اعتقادی اور مذہبی حیثیت ہی سے نہیں بلکہ قانونِ اسلام کو ملک کے فیصلے سے اور شرعی فیصلے کو حکومتِ پاکستان کی قرارداد اور فیصلہ ہونے کا مقام حاصل ہو چکا جس کی وجہ سے اس فیصلہ کو قانون ہی کی حیثیت میں سمجھنا ہوگا۔ یہ بات نہایت ہی بعید از فہم ہے کہ یہ کہا جائے کہ یہ کوئی قانون نہیں ہے یا یہ کہا جائے کہ جب ملک کے آئین میں ہر شخص کو اپنے مذہب اور عقیدے کے اظہار کی آزادی ہے تو ہم کو اسلام کے اظہار اور اس چیز سے کہ ہم یہ کہیں کہ ہم مسلمان ہیں، کیسے روکا جا سکتا ہے؟ یہ ہمارا اپنا عقیدہ ہے اور ہم اس کو ظاہر کرنے کا حق رکھتے ہیں۔

اول تو اس لیے کہ جس ملک کا مذہب اسلام ہو، اس ملک میں اسلامی فیصلہ کو خود بخود

صفحہ 173

قانونی حیثیت حاصل ہے اور پھر جبکہ آئین میں ترمیم کے ساتھ اس کو حتمی فیصلہ کی نوعیت سے جاری کر دیا گیا ہے تو قانون اسلام ہونے کے ساتھ یہ ملک کا بھی قانون ہو گیا۔

یہ بات کہ ہر ایک کو اپنے عقیدے کے اظہار کی آزادی ہے یہ درست ہے لیکن جس عقیدے کا اظہار و اعلان اس حکومت کے فیصلہ اور قانون کے صریح خلاف بلکہ اس کا مقابلہ اور بغاوت ہو اس کو کیسے برداشت کیا جا سکتا ہے اس کا نام حقوق مذہب کی آزادی قرار دینا کسی بھی دانش مند انسان کے نزدیک لائق توجہ امر نہیں۔

تو اس صورت حال میں کہ مسجدیں اسلام کا نشان ہیں اور مسلمان ہی کی عبادت گاہ کا نام مسجد ہے۔ قادیانیوں کو نہ مسجد بنانے کا حق ہو سکتا ہے اور نہ اپنی مسجدوں کا نام مسجد رکھ سکتے ہیں اور نہ ان کو قبلہ رخ بنا سکتے ہیں۔

جب حکومت پاکستان قادیانیوں کو حج سے روکنے کو اس قرارداد کے نتائج میں سمجھتی ہے اس بنیاد پر حج بیت اللہ مسلمان کی عبادت کا نام ہے اسی وجہ سے غیر مسلم حج نہیں کر سکتا۔ علیٰ ہذا القیاس نماز بھی اسلام ہی کا رکن خاص ہے اور دین اسلام کا خصوصی نشان ہے اس لیے قانونی طور پر نماز پڑھنے کی بھی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

مسجدیں صرف مسلمانوں کی ہوتی ہیں اس کے لیے قرآن کریم کی واضح تصریح اس امر کو ثابت کر رہی ہے چنانچہ ارشاد ہے:

ولولا دفع الله الناس بعضهم ببعض اور اگر نہ ہوتا اللہ کا ہٹانا لوگوں کو بعض کو بعض لهدمت صوامع وبيع وصلوات کے ذریعہ تو ڈھا دیئے جاتے صوامع یعنی ومساجد يذكر فيها اسم الله كثيرا. (یہود کی خانقاہیں) اور کلیسا و گرجے اور (الخ) عبادت خانے اور مسجدیں جن میں اللہ کا نام لیا جاتا ہے کثرت سے

احکام القرآن روح المعانی اور تفسیر خازن میں یہ تصریح ہے کہ اس آیت میں مختلف مذاہب کی عبادت گاہوں کے نام بیان کر کے یہ ظاہر کر دیا گیا کہ راہبوں کے خانقاہ صومع اور یہود کے عبادت خانے صلوات اور عیسائیوں کی عبادت گاہیں بیع یعنی کلیسا (گرجا) ہوتے ہیں اور مسلمانوں کی عبادت گاہ مسجد ہوتی ہے اس وجہ سے یہی ثابت ہوا کہ مسجدوں کی تعمیر صرف مسلمانوں کا حق ہے اور کسی غیر مسلم کی عبادت گاہ کا نام مسجد نہیں ہو سکتا۔ رہی یہ بات کہ اصحاب کہف کے قصے میں یہ مضمون:

صفحہ 174

قال الذين غلبوا على امرهم لنتخذن کہ ان لوگوں نے جو اپنے معاملہ پر غالب عليهم مسجدا۔ رہے کہ البتہ ہم تو ان پر مسجد بنائیں گے۔

مسجد کا اطلاق قبل از اسلام ایک ملت میں بولا گیا اور قبل از اسلام جو ادیان سماویہ اپنی اصلی ہیئت اور تعلیم پر برقرار رہے، ان کی اصلی بنیاد اور روح دراصل اسلام ہی کی روح ہے اور اسلام تمام ہدایات حقہ اور تعلیمات سماویہ کا لب لباب اور جوہر اور مجموعہ ہے لیکن اسلام کے بعد جب قرآن نے دوسرے مذاہب کی عبادت گاہوں کا ذکر کیا اس میں لفظ مسجد خاص طور پر مسلمانوں کی عبادت گاہوں کے واسطے مخصوص کیا گیا اس وجہ سے یہی ثابت ہوا کہ قادیانیوں کو اپنی عبادت گاہوں کو مسجد کہنے کا کوئی جواز اس قرآنی وضاحت کے بعد باقی نہیں رہتا۔ یہ لوگ چونکہ مرزا غلام احمد کو مسیح موعود بھی کہتے ہیں اس لیے مناسب ہے کہ وہ اپنی عبادت گاہوں کو بیعت، مسیح قرار دیں یا ہر عبادت گاہ کو ”دارالمسیحیت“ کہیں یا ایسا ہی کوئی اور مناسب نام اور اگر قادیانی کہنے میں کوئی عار محسوس کریں تو مسیح موعود کی طرف منسوب ہونے کے باعث اپنا نام مسیحی رکھیں کیونکہ مسلمان تو وہی ہو گا جو اسلام کے تمام اصول اور بنیادی باتوں کو مانتا ہو اور اس کا کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہو مگر وہ قوم جس نے اپنا نیا پیغمبر تجویز کر لیا ہو اور کلمہ بھی احمد رسول اللہ متعین کر لیا ہو (جس کے ثبوت موجود ہیں) اب ان کو کوئی حق نہیں کہ خود کو مسلمان کہیں۔ یہ فلسفہ کوئی عقل والا نہیں سمجھ سکتا کہ اسلام کی بنیاد کو ختم کر ڈالیں اور تمام دنیا کے مسلمانوں سے جدا عبادت گاہیں بنائیں، قبرستان علیحدہ کر لیں تو جب سب باتیں علیحدہ کر لی گئیں تو پھر اس کا کیا جواز رہ گیا کہ وہ یوں کہیں کہ ہم مسلمان ہیں اگر وہ مسلمان ہوتے تو مسلمانوں کے ساتھ نماز پڑھتے، مسلمانوں کی مسجدوں کو اپنی مسجد سمجھتے، مسلمانوں کے پیغمبر کے علاوہ اور کوئی پیغمبر تجویز نہ کرتے۔ یہ بات تو ایسی ہی ہو گئی کہ کوئی شخص توحید خداوندی کا انکار کر دے یا یوں کہنے لگے کہ فلاں خدا ظلی اور بروزی خدا ہیں اور میں اس دوسرے ظلی اور بروزی خدا کا قائل ہونے سے اصل خدا کا منکر نہیں بلکہ موحد ہی ہوں اور میرا اسی پر ایمان ہے تو اس تمسخر اور خلاف عقل بات کو کوئی گوارہ تک نہیں کرے گا اور پھر بھی یہ کہے کہ میرا عقیدہ یہی ہے کہ میں مسلمان ہوں، بالکل یہی حال مرزائیوں اور قادیانیوں کا ایمان بالرسالت کے معاملہ میں ہے یا ایسا سمجھ لیجیے کہ کوئی شخص آتش پرستی کرتا ہو یا بتوں کو سجدہ کرتا ہو اور پھر بھی اس کا اصرار ہو کہ مجھے مسلمان کہو اور یہ میرا اپنا عقیدہ ہے، خواہ قانون کی نظر میں اس کو مشرک یا آتش پرست کہا جائے اور یہی حال قادیانیوں کا ہے کہ ختم نبوت کا انکار یا خاتم الانبیاء کے بعد کسی اور پیغمبر کے وجود کا تصور انسان کو دین اسلام سے اسی طرح خارج کر دیتا ہے جیسے کہ بت پرستی یا

صفحہ 175

آتش پرستی سے آدمی اسلام سے خارج ہو جاتا ہے تو یہ منطق کوئی عقل والا کیسے سن سکتا ہے کہ ایک شخص میں اسلام سے خارج ہو جانے کی علت پائے جانے کے بعد بھی دعویٰ کر رہا ہو کہ نہیں میں اسلام سے خارج نہیں بلکہ میں مسلمان ہوں اور یہ میرا عقیدہ ہے۔

الغرض اس قانونی بنیاد کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ ضروری ہے کہ جس فرقہ کا حکم اور فیصلہ قانونی اور شرعی خارج از اسلام ہونے کا ہو چکا ہو اس کو مسلمان کہنے کی ہرگز اجازت نہ دی جائے۔

ان حالات میں ایسی جماعت کا اپنے اسلام کا دعویٰ کھلم کھلا قانون اور ملک کے فیصلہ کے ساتھ بغاوت کے مترادف ہے۔ رہی یہ بات کہ کوئی یہ کہے کہ حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

من صلى صلوٰتنا واستقبل قبلتنا واكل ذبيحتنا فذلک المسلم الذي له ذمة الله وذمة رسوله.

کہ جس شخص نے ہم جیسی نماز پڑھی اور ہمارے قبلہ کا استقبال کیا اور ہمارا ذبیحہ کھایا تو وہ شخص تو ایسا مسلمان ہے جس کے واسطے اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ ہے۔

(بخاری، مشکوٰۃ المصابیح)

اور اس بناء پر کہ میں نماز پڑھتا ہوں اور قبلہ کا استقبال کرتا ہوں لہٰذا میں مسلمان ہوا اور مجھ کو مسلمان شمار کرنا چاہیے۔

تو یہ استدلال بھی نہایت ہی بعید از عقل و قانون ہے کیونکہ قادیانیوں کی نماز ہماری نماز یعنی مسلمانوں کی نماز ہی نہیں ہے کیونکہ ہماری نماز تو وہ ہوگی جو ہماری مسجد میں ہو، ہمارے ساتھ ہو، ہمارے امام کے پیچھے ہو اور ہمارے جیسے اعتقاد کے ساتھ ہو۔

جب ہر چیز میں قادیانی جدا ہو گئے، اعتقاد میں جدا، مسجد میں جدا، نمازیوں سے علیحدہ، امام بھی علیحدہ تو عجب بات ہے کہ جب سب کچھ علیحدہ ہو گیا تو پھر ان کی نماز مسلمانوں جیسی نماز کہاں ہوئی؟ حدیث کے الفاظ تو یہ ہیں کہ جو شخص ہماری جیسی نماز پڑھے اور یقیناً قادیانیوں کی نماز ہی ہماری نماز کہلانے کی کسی حیثیت سے مصداق نہیں ہو سکتی پھر جبکہ قادیانیوں کے نزدیک دنیا کے کل مسلمان اس بناء پر کہ وہ مرزا غلام احمد کی نبوت پر ایمان لانے والے نہیں ہیں، ان کے زعم میں کافر ہیں تو ان کی نماز ہماری جیسی نماز کیونکر ہوگی تو کیا کافروں جیسی نماز سے انسان مسلمان کہلائے گا۔

الغرض یہ نہایت واضح اور سیدھی بات ہے جب تک تمام دنیا کے مسلمان ہیں، کوئی قادیانی مسلمان نہیں ہو سکتا البتہ اگر کوئی طاقت ایسی ہے کہ کل دنیائے اسلام کے مسلمانوں کا کفر

صفحہ 176

ثابت کر دے تو پھر اس کا امکان ہوگا کہ کسی قادیانی کو مسلمان کہا جاسکے اور اس امر کا فیصلہ چودھری ظفر اللہ قادیانی نے کر دیا جبکہ انہوں نے قائد اعظمؒ کی نماز جنازہ میں شرکت نہیں کی اور اس موقع پر موجود ہوتے ہوئے بھی نماز میں شریک ہونے کے بجائے ان لوگوں کی جگہ بیٹھے رہے جہاں غیر مسلم سفراء اور زعماء تھے جب دریافت کیا گیا کہ قائد اعظمؒ کے جنازے میں کیوں نہیں شریک ہوئے؟ تو جواب دیا اس میں کیا تعجب کی بات ہے؟ میں تو کافر حکومت کا ایک مسلمان وزیر ہوں۔ گویا چودھری ظفر اللہ قادیانی نے اس وجہ کو بیان کر کے یہ اعتراف کر لیا اور ثابت کر دیا کہ قادیانی اور غیر قادیانی دونوں مسلمان نہیں ہو سکتے ان میں سے ایک ہی مسلمان ہو سکتا ہے اور دوسرا کافر ہوگا۔

اس لیے اس فیصلہ کی رو سے جب تک دنیائے اسلام کے مسلمان مسلمان ہیں کوئی قادیانی مسلمان نہیں کہلایا جاسکتا اور اس بات کے واسطے کہ قادیانی شخص کو مسلمان کہا جاسکے پہلے تمام دنیا کے مسلمانوں کے کفر کو ثابت کرنے کے لیے تیار ہونا پڑے گا۔

عدالت عالیہ کیا اس جسارت کا اندازہ نہیں لگاتی کہ کس بے باکی کے ساتھ ایک جھوٹے نبی کی نبوت پر ایمان نہ لانے والے دنیا کے کل مسلمانوں کو کافر کہا جارہا ہے تو اگر اس مفروضہ پر قادیانی شخص روئے زمین کے مسلمانوں کو کافر کہتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ ایک سچے برحق پیغمبر خاتم الانبیاء والمرسلین کی ختم نبوت کا انکار کرنے والے اور ان کے فرمان کا کفر کرنے والوں کو کافر نہ کہا جائے اور پھر یہ کیا بوالعجبی ہے کہ کفر کا ارتکاب ہو ہزاروں دلائل اور براہین سے کفر ثابت ہوچکا ہو اور پھر بھی دعویٰ کہ ہم مسلمان ہیں۔

دنیا کا کوئی قانون اس بات کے جواز کا تصور نہیں کر سکتا پھر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ہر مذہب کے شعائر اور خصوصی نشانات ہوتے ہیں اور ان ہی چیزوں کو اس مذہب کی نشانی اور امتیاز سمجھا جاتا ہے۔ نماز اور مسجد اسلام کے شعار اور خصوصیات ہیں تو جو گروہ اسلام سے خارج ہے اس کو کیسے یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ ان خصوصیات کو اختیار کرے اگر فوج کا باغی اور غیر فوجی فوجی لباس پہن لے تو قانوناً مجرم ہے اور سزا کا مستحق ہے اسی طرح مسلمانوں کے شعار صرف وہی اختیار کر سکتا ہے جو مسلمان ہو۔

اس سلسلہ بحث میں کہ کیا غیر مسلموں کو اسلامی شعائر اور خصوصیات کو اختیار کرنے کا حق حاصل ہے یا نہیں ہم ایک بہت اہم اور وزنی دستاویز کا حوالہ پیش کر سکتے ہیں۔ وہ اہم دستاویز امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وہ معاہدہ ہے جو شام کے نصرانیوں سے انہوں

صفحہ 177

نے قبول کیا اور اس پر ان کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ اپنی زندگی کے جملہ عملی شعبوں میں اس کی پابندی کریں گے۔

اس معاہدہ کا متن حافظ عماد الدین ابن کثیر الدمشقی نے اپنی کتاب البدایہ والنہایۃ اور تفسیر ابن کثیر میں نقل کیا ہے‘ معاہدہ کا متن آئندہ آتا ہے۔

تو پھر ان حالات میں شرعی اصول قرآنی تصریح اور حکومت پاکستان کے فیصلہ کی رو سے یہ ممکن ہی نہیں کہ مرزائیوں کو خواہ وہ قادیانی ہوں یا لاہوری مسجدوں کی اجازت دی جائے۔

اس آیت کی تفسیر میں حافظ عماد الدین ابن کثیر رحمہم اللہ نے اپنی تفسیر کی جلد ثانی صفحہ ۳۳۷ پر امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک معاہدہ نقل کیا ہے جو انہوں نے شام کے نصاریٰ سے کیا۔ اس معاہدہ کی رو سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کسی اسلامی سلطنت میں اقلیت کے حقوق کیا ہیں اور ان پر کس طرح کی پابندی عائد ہے اور کیا کیا کام کرنے کا ان کو استحقاق ہے۔ اس معاہدہ کو ائمہ محدثین نے عبدالرحمن بن غنم کی سند سے روایت کیا ہے جس کا متن حسب ذیل ہے:

وذالك ممارواہ الائمۃ الحفاظ من روایۃ عبدالرحمن بن غنم الاشعری قال کتبت الیٰ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ حین صالح نصاریٰ من اھل الشام

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

ھذا کتاب لعبداللہ ابن عمر امیر المومنین من نصاریٰ مدینۃ کذا و کذا انکم لما قدمتم علینا سالناکم الامان لانفسنا و ذریتنا واموالنا واھل ملتنا وشرطنا لکم علیٰ انفسنا ان لانحدث فی مدینتنا ولا فیما حولھا دیراً ولا کنیسۃ ولا قلایۃ ولا صومعۃ راھب ولا نجدد ما خرب منھا ولا نحیی منھا ماکان خططاً للمسلمین وان لا نمنع کنائسنا ان ینزلھا احد من المسلمین فی لیل او نھار وان نوسع ابوابھا للمارۃ وابن السبیل وأن ننزل من بنا من المسلمین ثلاثۃ ایام نطعمھم ولانووی فی کنائسنا ولا منازلنا جاسوساً ولا نکتم غشا للمسلمین ولا نعلم اولادنا القرآن ولا نُظھر شرکاً ولاندعوالیہ أحداً ولا نمنع احداً ولا نمنع احداً من ذوی قرابتنا الدخول فی الاسلام ان ارادوہ وان نوقرالمسلمین وان نقوم لھم من مجالسنا ان ارادو الجلوس ولا نتشبہ بھم فی شیئ من ملابسھم فی قلنسوۃ ولا عمامۃ ولانعلین ولا فرق شعر۔

ترجمہ : ۔ جس کو حفاظ محدثین نے عبدالرحمن بن غنم الاشعری کی سند سے روایت کیا ہے کہ میں

صفحہ 178

نے عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وہ معاہدہ لکھا تھا اور ان سے شام کے نصاریٰ نے کہا تھا:

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

یہ معاہدہ ہے امیر المومنین عمر بن الخطاب کے لیے فلاں فلاں علاقہ کے نصاریٰ کی طرف سے کہ آپ لوگ ہمارے یہاں آکر اُترے (یعنی فتح کے بعد ) اور ہم نے آپ سے امن طلب کیا‘ اپنی جانوں اور اپنی ذریت اور اپنے مالوں کے لیے اور (اس بناء پر) ہم نے اپنے اوپر اس بات کی پابندی قبول کی ہے کہ ہم اپنے شہر اور شہر کے اطراف میں کوئی گرجا نہیں تعمیر کریں گے اور نہ راہبوں کی کوئی خانقاہ و تعلیم گاہ اور جو عبادت گاہیں جو منہدم ہوئیں یا ان میں ٹوٹ پھوٹ ہو‘ ہم اس کی تجدید بھی نہ کریں گے اور ایسی کوئی عمارت ہم مسلمانوں کے علاقہ میں بھی نہیں بنائیں گے اور ہم اپنے گرجاوں کو مسلمانوں سے نہیں روکیں گے کہ اس چیز سے وہ ان میں ٹھہریں رات میں یا دن میں اور ان کے دروازے ہم کھلے رکھیں گے‘ گزرنے والے لوگوں اور مسافروں کے لیے اور جن مسلمانوں کو ہم ان میں دیکھیں گے ہم ان کو کھانا کھلائیں گے اور ہم اپنے گرجاوں اور صومعوں میں کسی جاسوس کو پناہ نہیں دیں گے اور مسلمانوں کے لیے ہم کسی قسم کا کھوٹ اپنے دلوں میں نہیں رکھیں گے اور ہم اپنی اولاد کو قرآن کی تعلیم نہیں دیں گے اور نہ شرک کا اظہار کریں گے یعنی نصاریٰ کے مشرکانہ طریقوں کا ہم کسی کے سامنے اظہار و اعلان نہیں کر سکیں گے اور نہ ایسے شرک کی طرف کسی کو دعوت دیں گے اور ہم اپنے قرابت داروں میں سے کسی کو اسلام میں آنے سے نہیں روکیں گے اگر کوئی اسلام میں داخل ہونا چاہے گا۔ ہم مسلمانوں کی تعظیم و تکریم کریں گے اور ان کے احترام میں ہم اپنے مجلسوں سے اُٹھا کریں گے اور ہم نہ ان کے لباس میں مشابہت اختیار کریں گے اور نہ ان کی ٹوپی اور عمامہ میں اور نہ جوتوں میں اور نہ ہی سر کے بالوں اور مانگ میں۔

ولا نتكلم لكلامهم ولا نكتنى بكناهم ولا نركب السروج ولا نتقلد السيوف ولا نتخذ شيئا من السلاح ولا نحمله معنا ولا ننقش خواتيمنا بالعربية ولا نبيع الخمور و ان نجز مقاديم رؤسنا وان نلزم زينا حيثما كنا وان نشد الزنانير على اوساطنا وأن لا نظهر الصليب على كنائسنا وان لا نظهر صليبنا ولا كتبنا فى شيئ من طرق المسلمين ولا أسواقهم ولا نضرب نواقيسنا فى كنائسنا الا ضربا خفيفا وان لا نرفع اصواتنا مع موتانا ولا نظهر النيران معهم فى شيئ من طرق المسلمين ولا اسواقهم ولا نجاورهم بموتانا ولا نتخذ من الرقيق ما جرى عليه سهام المسلمين وأن نرشد المسلمين ولا نطلع عليهم فى

صفحہ 179

منازلهم.

قال فلما اتيت عمر بالكتاب زاد فيه ولا نضرب احدا من المسلمين شرطنا لكم ذلك على انفسنا واهل ملتنا وقبلنا عليه الامان فان نحن خالفنا فى شيئا مما شرطناه لكم ووظفنا على انفسنا فلا ذمة لنا وقد حل لكم منا ما يحل من اهل المعاندة والشقاق. (تفسير ابن كثير جلد ۲ ص ۳۴۷)

ترجمہ: اور نہ ان کے خصوصی الفاظ بولیں گے اور نہ ان کی کنیت اختیار کریں گے اور نہ زین پر سوار ہوں گے (یعنی اگر گھوڑے پر بیٹھنے کی ضرورت ہوگی تو بلا زین کے ان پر بیٹھیں گے۔ گویا اس طرح اپنے تذلل اور پستی کو ظاہر رکھیں گے ) اور نہ تلواریں لٹکائیں گے اور نہ عربی الفاظ میں اپنی انگشتریوں پر نقش کندہ کرائیں گے نہ ہتھیار مہیا کریں گے اور نہ ان کو اپنے ساتھ اٹھائیں گے اور نہ شرابوں کی بیع وشراء کریں گے اور سر کے آگے کے حصے کے بال کاٹا کریں گے اور جہاں بھی ہوں گے اپنی خصوصی وضع برقرار رکھیں گے اور زنار اپنی پشت پر ڈالیں گے اور ہم صلیب کو اپنے گرجاؤں میں بھی نمایاں نہیں کریں گے اور نہ اپنے صلیب اور مذہبی کتابیں مسلمانوں کے راستوں اور بازاروں میں نمایاں کریں گے اور نہ اپنے گرجاؤں میں ناقوس بجائیں گے اور نہ ہم اپنے جنازوں کے ساتھ آوازیں بلند کریں گے اور نہ آگ روشن کریں گے ۔ (جنازوں کے ساتھ جیسا کہ ان کا طریقہ تھا) مسلمانوں کے راستوں میں اور نہ بازاروں میں اور جو غلام مسلمانوں کے حصے میں آ گئے ہیں ان سے ہم کوئی خدمت نہیں لیں گے اور مسلمانوں کو راستہ بھی بتائیں گے اور ایسے ہی مسلمانوں کے گھروں تک بھی پہنچائیں گے (اگر کوئی اس کا ضرورت مند ہوگا)

راوی بیان کرتے ہیں کہ جب میں یہ معاہدہ لکھ کر عمر فاروق کے پاس لایا تو آپ نے اس میں ایک چیز کا اور اضافہ کر دیا کہ ہم کسی مسلمان کو ماریں گے بھی نہیں، ہم نے یہ معاہدہ قبول کیا۔

اس معاہدے کے متن سے واضح طور پر یہ باتیں ثابت ہوئیں کہ غیر مسلم اقلیت کو تو خود اپنے مذہبی نشانات اور عبادت گاہوں کو نمایاں کرنے کی بھی اجازت نہیں ہو سکتی اور جو عبادت گاہیں پہلے سے موجود ہیں، اُن کی بھی نہ کوئی مرمت کی جائے گی اور نہ تجدید بلکہ اسی حالت پر باقی رہنے دیا جائے گا۔

یہ بھی معلوم ہوا کہ اقلیت کو اس بات کا حق نہیں دیا گیا کہ وہ اپنی عبادت گاہوں میں مسلمان کو آنے سے روکیں گے جس سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ قادیانیوں نے جو مسجدیں تعمیر کر رکھی

صفحہ 180

ہیں وہ ان مساجد کو مسلمانوں سے نہیں روک سکتے بلکہ ان کے حوالہ ہی کرنا چاہیے اس معاہدہ میں اس بات کی تصریح کہ ہم مسلمانوں کی کسی چیز میں مشابہت نہیں اختیار کریں گے نہ ان کے لباس میں نہ ٹوپی اور عمامہ میں اور جوتے میں اور نہ سر کے بالوں میں اور نہ ان کلمات اور عبارتوں کے تلفظ میں جو مسلمانوں کے خصوصی کلمات و عبارات ہیں۔

اس معاہدہ میں یہ تصریح کہ وہ نہ تلواریں لٹکائیں گے اور نہ ہتھیار مہیا کریں گے اس امر کو بخوبی ثابت کر رہی ہے کہ قادیانیوں کو اقلیت ہو جانے کے بعد کسی طرح کی مجاہدانہ اور رضا کارانہ تنظیم کی گنجائش نہیں۔

اس معاہدہ میں یہ بھی ہے کہ وہ اپنے لباس اور وضع قطع میں ایسی چیزیں نمایاں کریں گے جس سے ان کا غیر مسلم ہونا ظاہر ہوتا ہے اس بناء پر یہ ضروری ہے کہ قادیانیوں کے لباس اور ہیئت اس طرح ممتاز کر دیئے جائیں کہ دیکھنے سے پہچانے جائیں کہ وہ غیر مسلم ہیں اور یہ بھی تصریح ہے کہ وہ اپنے مذہبی رسوم نہایت مخفی اور پوشیدہ انداز سے انجام دیں گے۔ ان کا اظہار اور نمائش نہیں کر سکیں گے۔

الغرض فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس فیصلہ کی رو سے اور اس معاہدے کے متن سے واضح طور پر یہ باتیں ثابت ہو رہی ہیں کہ غیر مسلم اقلیت کو تو خود اپنے مذہبی نشانات کو نمایاں کرنے اور مذہبی رسوم کو پھیلانے اور اپنی کتابوں کی اشاعت و تقسیم کی اجازت نہیں۔

لہٰذا معلوم ہوا کہ قادیانیوں کو کسی طرح یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے مذہبی خصوصیات اور اپنی کتابوں اور لٹریچر کی اشاعت کریں اور مسلمانوں کے طریقوں اور روایات میں سے کسی ایسی چیز کا اظہار کریں کہ اس سے وہ مسلمان سمجھے جائیں۔ اس معاہدے کی رو سے جو فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ یہودیوں نے کیا تھا۔ یہودیوں کو یہ حق حاصل نہ تھا کہ وہ اپنے گرجا نئے تعمیر کریں یا اس کی عمارت کی تجدید کریں تو اس بناء پر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ قادیانی مسجد تعمیر کریں ان مساجد میں وہی کام انجام دیں جو ان کا موضوع ہے اور ظاہر ہے کہ مسجد بنا کر وہی کام کریں گے جس کے وہ علمبردار ہیں اس ضمن میں یہ بھی ثابت ہو گیا کہ قادیانیوں کو ضروری ہے کہ وہ اپنے لباس اور ہیئت میں کوئی بات مسلمانوں کی سی اختیار نہ کریں جب اقلیتی فرقہ لباس اور وضع قطع میں مسلمانوں سے امتیاز برقرار رکھنے کا پابند ہے تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ اصل عبادت گاہ میں مسلمانوں سے مشابہت اور ان کی مذہبی خصوصیات کو اختیار کرے۔ مسجدیں مسلمانوں کا مرکز عبادت ہیں اور مسلم قوم کی حیات اور اس کے ایمانی مقاصد کی تکمیل کے لیے مساجد ہی محور زندگی

صفحہ 181

اور اساس مذہب ہیں تو یہ کیسے تصور کیا جاسکتا ہے کہ اسلام کے مرکز حیات کے ساتھ کافروں کے کفر کے مراکز کو مشابہت اور یکسانیت اختیار کرنے کی اجازت دی جائے۔

جب لباس و ٹوپی اور سر کے بال میں التباس گوارا نہیں کیا گیا تو اصل مرکز دین میں التباس کیسے برداشت کیا جاسکتا ہے۔ فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس معاہدہ کی رو سے کہ یہود اور نصاریٰ کو مسلمانوں جیسے الفاظ استعمال کرنے کا حق نہ ہوگا اور نہ ہی وہ مسلمانوں کے خصوصی کلمات کا تکلم کریں گے۔ واضح طور سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ کسی قادیانی کو اپنے متعلق لفظ مسلم کے اطلاق کی ہرگز اجازت نہیں ہو سکتی۔

اللہ نے صرف مسلمانوں کو مخاطب کر کے فرمایا ہے ہو سماکم المسلمین کہ اللہ نے صرف تمہارا ہی نام مسلمان رکھا ہے کہ جو قوم اپنے باطل عقیدہ کی رو سے خارج از اسلام ہے اسے اپنے آپ کو مسلم اور مسلمان کہنے کا کوئی حق نہیں ہو سکتا۔

عدالتِ عالیہ کو میں اس طرف خاص طور سے متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ وہ اس بات کو نظر انداز نہ کرے کہ ایک گروہ اصول اسلام کا منکر ہونے کے باوجود آخر وہ اپنے آپ کو مسلمان کہنے پر کیوں مصر ہے۔ ظاہر ہے کہ جس طرح وہ خود ایسی گمراہی میں مبتلا ہوا جس کی بناء پر وہ خارج از اسلام ہوا، وہ اپنا نام مسلمان قرار دے کر دوسروں کو بھی اسی گمراہی میں پھنسانے کے لیے صرف اسی نام سے کسی کو بھی گمراہ کر سکتا ہے اس لیے ثابت ہوا کہ خارج اسلام ہونے کی صورت میں اسلام کا دعویٰ اور اپنے کو مسلمان کہنا بدترین جرم ہے اسی طرح کفر کے داعی کو مسجد کے عنوان سے کوئی عمارت بنانا قطعاً مسجد ضرار والی بات ہے جو منافقین نے مسجد کے نام پر ایک اڈہ کفر کا اور مسلمانوں میں تفریق اور پھوٹ ڈالنے کے لیے بنایا تھا جس کا ذکر قرآن کریم میں ان الفاظ میں ہے:

والذین اتخذوا مسجدا ضرار و کفراً اور جنہوں نے بنائی ایک مسجد ضد پر اور کفر پر و تفریقاً بین المؤمنین ارصاداً لمن اور پھوٹ ڈالنے کے لیے مسلمانوں میں اور حارب الله ورسوله من قبل و لیحلفن مورچہ بنانے کے لیے ان لوگوں کے واسطے ان اردنا الا الحسنی والله یشهد انهم جو اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کر رہے ہیں لکاذبون (التوبۃ: ۱۰۷) پہلے سے اور وہ قسمیں کھائیں گے ہم نے تو بھلائی اور نیکی کے سوا کسی چیز کا ارادہ نہیں کیا اور خدا گواہ ہے کہ وہ جھوٹے ہیں۔

صفحہ 182

علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر مفسرین نے اس مسجد ضرار کی تفصیل اس طرح بیان کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ جب تشریف لائے تو پہلے آپؐ چند روز مدینہ سے باہر قباء میں ٹھہرے جو بنو عمرو بن عوف کی جگہ تھی اسی جگہ آپؐ نے مسجد قباء کی بنیاد رکھی اور پھر اس کی تعمیر ہوئی۔ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اس مسجد سے بہت زیادہ تعلق اور محبت تھی اور آپؐ کا مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد یہ معمول رہا کہ ہفتہ کے روز وہاں تشریف لے جا کر دو رکعت نماز پڑھا کرتے۔ چنانچہ احادیث میں اس کی فضیلت بھی بیان فرمائی گئی۔ بعض منافقین نے یہ چاہا کہ اس مسجد کے نزدیک ایک ایسا مکان بنائیں جس کا نام مسجد رکھیں اس میں اپنی علیحدہ جماعت ٹھہرائیں اور جن سادہ لوح مسلمانوں کو بہکایا جاسکے ان کو مسجد قباء سے ہٹا کر اس طرف لے آئیں اور گویا اس طریقہ سے ان کا رشتہ اسلام اور اسلام کے مرکز سے جدا ہو جائے۔ ان کو یہ بات ایسے سازشی مقاصد کی تکمیل کے لیے بہت مناسب معلوم ہوئی اس کا نام مسجد رکھا جائے کیونکہ مسجد کے تقدس کو ملحوظ رکھنے کے باعث ان کے ناپاک ارادوں اور ان کی سازشوں میں کوئی رکاوٹ نہ ہوگی اور بڑے تحفظ کے ساتھ مسجد کا عنوان دے کر اسلام کی بیخ کنی کرتے رہیں گے۔ دراصل اس ناپاک سازش کا اصل محرک ایک شخص ابو عامر خزرجی تھا۔ ہجرت سے پہلے اس شخص نے نصرانی بن کر راہبانہ زندگی اختیار کی تھی۔ مدینہ منورہ اور قرب و جوار کے لوگ خصوصاً قبیلہ خزرج والے اس کے زہد و درویشی کے رنگ کو دیکھ کر بڑے معتقد ہو گئے تھے اور کافی تعظیم و تکریم کرتے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تشریف آوری پر جب ایمان و عرفان کا آفتاب چمکنے لگا تو اس کی درویشی کا بھرم لوگوں پر کھلنے لگا۔ ابو عامر اس صورت حال کے باعث عداوت اور حسد کی آگ سے بھڑک اٹھا۔

آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اسلام کی دعوت دی تو کہنے لگا کہ اصل ملت ابراہیمی پر تو میں پہلے سے قائم ہوں، حقیقی ملت ابراہیمی والا اسلام تو میرے پاس ہے اس لیے مجھے ضرورت نہیں کہ مزید کوئی چیز اختیار کروں۔

آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کی تردید فرمائی اور نصیحت کی تو بجائے صحیح اثر قبول کرنے کے غصہ میں برافروختہ ہو کر کہنے لگا، ہم میں سے جو جھوٹا ہو خدا اس کو غربت و بے کسی کی موت مارے۔ آپؐ نے اس پر فرمایا، آمین۔ جنگ بدر کے بعد جب اسلام کی جڑیں مضبوط ہو گئیں اور مسلمانوں کا عروج حاسدوں کی نگاہوں کو خیرہ کرنے لگا تو ابو عامر کو برداشت نہ ہوسکی تو بھاگ کر مکہ پہنچا تا کہ کفار مکہ کو مقابلہ کے لیے آمادہ کرے۔ اسی وجہ سے معرکہ احد میں خود بھی کفار

صفحہ 183

مکہ قریش کے ساتھ آیا۔ پہلے تو اس نے آگے بڑھ کر انصار مدینہ میں سے جو اس کے معتقد تھے ان کو خطاب کر کے اپنی طرف مائل کرنا چاہا اس احمق نے یہ نہ سمجھا کہ جن ہستیوں کو انوار نبوت نے منور کر دیا ہے ان پر اب اس کا پرانا جادو کیسے چل سکے گا۔ آخر وہ انصار جو اس کی پہلے تو تعظیم کرتے تھے اس کے ساتھ اس طرح مخاطب ہوئے او فاسق دشمن خدا تیری آنکھ کبھی ٹھنڈی نہ ہو۔ کیا رسول خدا کے مقابلے میں ہم تیرا ساتھ دیں گے۔ انصار کا یہ مایوس کن جواب سن کر کچھ حواس ٹھکانے آئے لیکن غیظ و غضب میں برافروختہ ہو کر کہنے لگا اے محمد ! (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) آئندہ جو قوم بھی تمہارے مقابلہ کے لیے اُٹھے گی میں برابر اس کے ساتھ رہوں گا۔ چنانچہ غزوہ حنین ۸ ہجری تک کے معرکہ میں کفار کے ساتھ رہا اور مسلمانوں کا مقابلہ کرتا رہا۔ احد میں اسی کی خباثت اور شرارت سے آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے چہرہ انور پر زخم آیا تھا اور دندان مبارک بھی شہید ہونے کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس نے دونوں صفوں اور مورچوں کے درمیان گڑھے کھدوا دیئے تھے۔ حنین کے بعد جب ابو عامر نے یہ محسوس کر لیا کہ اب عرب کی کوئی طاقت اسلام کو کچلنے میں کامیاب نہیں ہوسکتی تو بھاگ کر شام پہنچا اور منافقین مدینہ (جو اس کی تیار کردہ جماعت تھی وہ اپنے کو مسلمان کہا کرتے، نمازیں بھی پڑھتے، قرآن کی آیات بھی پڑھا کرتے اور ہر طرح سے اپنے آپ کو مسلمان کی حیثیت سے پیش کرتے) کو خط لکھا کہ میں قیصر روم سے مل کر ایک لشکر جرار محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کے مقابلہ کے لیے بھیج رہا ہوں جو چشم زدن میں مسلمانوں کو ختم کر ڈالے گا۔ تم لوگ فی الحال ایک عمارت مسجد کے نام سے بناؤ جہاں نماز کے عنوان سے جمع ہوا کرو تاکہ وہاں اسلام کے خلاف سازشیں اور مشورے ہوسکیں اور میرے تمام خطوط وغیرہ قاصد تم کو وہیں پہنچایا کرے گا اور میں بذات خود آؤں تو سب سے ملاقات کو ایک موزوں یعنی قابل اطمینان اور مامون جگہ ہو۔

یہ تھے خبیث مقاصد جن کے لیے یہ مسجد ضرار تعمیر ہوئی۔ یہ منافقین حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے روبرو حاضر ہوئے اور بڑی ہی قسمیں کھائیں کہ یا رسول اللہ! (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم) اس مسجد کی تعمیر میں ہمارا یہ مقصد ہے کہ بارش اور سردی کے زمانے میں بیماروں، ضعیفوں کو مسجد قبا تک پہنچنے میں دشواری ہوگی اس لیے ہم نے یہ مسجد بنا دی ہے تاکہ نمازیوں کو سہولت ہو اور مسجد قبا میں جگہ کی دقت بھی لوگوں کو ہوتی ہے وہ بھی دُور ہو جائے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ایک مرتبہ چل کر وہاں نماز پڑھ لیں تو ہمارے واسطے موجب برکت اور سعادت ہوگا اور ظاہر ہے کہ ان کا مقصد یہ تھا کہ اگر حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) وہاں ایک دفعہ بھی تشریف لے

صفحہ 184

گئے تو پھر سادہ لوح مسلمانوں کو اپنے جال میں پھنسانا آسان ہوگا۔ آپؐ اس وقت غزوۂ تبوک کے لیے پا بہ رکاب تھے فرمایا اب تو میں تبوک کے لیے روانہ ہورہا ہوں واپسی پر دیکھا جائے گا یا یہ لفظ فرمایا ایسا ہو سکے گا۔ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جب تبوک سے واپس ہو کر بالکل مدینہ منورہ کے قریب پہنچ گئے تو جبریل امین یہ آیات لے کر آئے جن میں منافقین کی ناپاک اغراض پر مطلع کر کے مسجد ضرار کا پول کھول دیا گیا۔ آپؐ نے مالک بن دخشم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور معن بن عدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ اس مکان کو جس کا نام از راہ خداع فریب مسجد رکھا ہے گرا کر پیوند زمین بنا دو۔ انہوں نے فوراً تعمیل کی اور اس مکان کو جلا کر خاک بنا دیا اور ابو عامر منافق اور اس کے ٹولے کے سب ارمان خاک میں مل گئے۔

اس آیت میں مسجد مذکور کے بنانے کی تین غرضیں ذکر کی گئیں۔ اوّل ضِرَارًا یعنی مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے لیے۔ ضرار کے معنی دوسرے کو نقصان پہنچانا خواہ خود کوئی فائدہ ہو یا نہ ہو چونکہ یہ مسجد اسی مقصد کے لیے بنائی گئی۔ دوسری غرض تفریق بین المومنین کہ اہل ایمان میں تفریق کر دی جائے۔ ایک اُمت کی وحدت کو پارہ پارہ کر کے اس کو ٹکڑوں اور فرقوں میں بانٹ دیا جائے۔ تیسری غرض وارصاداً لمن حارب اللہ ورسولہ کہ اللہ اور اس کے رسول کے مقابلہ کرنے والوں کے واسطے ایک پناہ گاہ ہو اور سازشوں کا مرکز ہو تو مرزائیوں کی مسجدیں بالکل ان ہی تین اغراض کا پورا پورا پیکر ہیں۔ ضرر پہنچانا اور مسلمانوں کے درمیان تفریق اور دشمنان اسلام کے لیے سازشوں کا مرکز۔ اس بناء پر قادیانیوں کی ہر مسجد بلاشبہ مسجد ضرار ہے اور ظاہر ہے کہ جبکہ کوئی جماعت اسلام سے خارج ہے اسلام کی بنیادیں اُکھاڑنا اس کا نصب العین ایک جھوٹے نبی کی نبوت کا بہروپ تو ایسی جماعت کا اسلام کا نام لینا پورا پورا منافقین کا کردار ہے۔ ایسی حالت میں ان کی مسجدیں لا محالہ مسجد ضرار ہوں گی اور مسجد ضرار کا حکم اور نوعیت قرآن کریم کی نص صریح اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے فیصلہ سے معلوم ہوگئی۔

لہٰذا یہ بات قرآنی تصریح سے ثابت ہوگئی کہ جو عمارتیں قادیانیوں نے مسجد کے نام سے موسوم کر رکھی ہیں ان کو جلا کر پیوند زمین کر دیا جائے یا مسلمانوں کو ان کا وارث بنایا جائے جو مسجدوں کی تعمیر و نگرانی کے حق دار ہیں اور آئندہ قادیانیوں کو مسجد کے نام سے کوئی عمارت بنانے نہ دی جائے اسی طرح قادیانیوں کو اذان دینے کی بھی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

اوّل تو اس وجہ سے کہ اذان اسلام کا خصوصی شعار ہے اور جو قوم اسلام سے خارج ہے اس کو حق نہیں کہ وہ اس کو اختیار کرے۔ دوسرے اس وجہ سے کہ جب قادیانی مسلمان ہی نہیں ہیں

صفحہ 185

تو پھر ان کی اذان ونماز کا مطلب؟ عبادات تو ایمان کے ساتھ ہیں جیسے قرآن کریم کی متعدد آیات میں فرمایا: ومن يعمل من الصلحت وهو مؤمن من عمل صالحا من ذكر او انثى وهو مؤمن جب ایمان ہی نہیں تو پھر عبادات کا کیا مطلب؟ اور ہر شریعت کی عبادات اس شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے ہی عبادات کہلاتی ہیں جب کوئی فرد یا جماعت کسی شریعت کے دائرہ سے خارج ہو چکی تو پھر اس دین کی عبادات کا تصور ہی بے معنی ہے اور پھر یہ کہ جب قادیانی خارج از اسلام ہیں تو پھر اسلام کی ان خصوصیات کو عملاً اختیار کرنا بلا شبہ ایک فریب اور دھوکہ ہے جو کسی بھی قانون سے قابل برداشت نہیں۔ فریب دھوکہ دہی، جعل سازی اور سازش یہی وہ باتیں ہو سکتی ہیں جو غیر مسلم مسلمانوں جیسے افعال اختیار کرنے میں مقصد بناتا ہے۔ دنیا کا کوئی قانون فریب دہی اور جعل سازی کی روش کو گوارا نہیں کر سکتا اور اس پر یہ استدلال کہ یہ میری اعتقادی عبادات ہیں، اس میں میں آزاد ہوں فریب کاری کے ساتھ دیدہ دلیری کا مصداق ہے پھر مزید براں اس پر اس آیت کا حوالہ دینا: ومن اظلم ممن منع مساجد الله ان يذكر کہ اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہو گا جو اللہ کی مساجد کو اس چیز سے روکے کہ اس میں اللہ کا نام لیا جائے، جرم بالا تر جرم ہے۔ قادیانیوں کی مسجدیں تو مسجدیں ہی نہیں، یہ تخریب و ضرار کا اڈہ ہیں تو یہ نہایت ہی افسوس ناک حرکت ہے کہ ان کی پابندی کو آیت مذکور سے چیلنج کیا جائے جب یہ بہروپ کھل گیا کہ مسجدوں کے عنوان سے جگہ بنانا دین کے خلاف سازشوں کے اڈے تیار کرنا ہے تو ان کی بندش پر یہ آیت پڑھتے ہوئے شرمانا چاہیے۔ کیا یہی چیز اللہ کا ذکر ہے اور اس کی عبادت ہے جو ان جگہوں میں انجام دی جا رہی ہے۔

حضرت میاں شیر محمد شرقپوریؒ کا کشف ● حضرت میاں شیر محمد شرقپوریؒ نے ایک دفعہ مراقبہ کیا اور مرزا قادیانی کو قبر میں باؤلے کتے کی شکل میں دیکھا کہ اس کے منہ سے جھاگ نکل رہی ہے اور وہ انتہائی خوفناک آوازیں نکال رہا ہے۔ بڑی پھرتی سے گھوم گھوم کر منہ سے دم پکڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔ غصہ میں آ کر کبھی اپنی ٹانگوں کو کاٹتا ہے اور کبھی سر زمین پر پٹختا ہے۔ (اللہ تعالیٰ اس لعین کے عذاب میں مزید اضافہ فرمائے۔ آمین)

صفحہ 186

تحریک تحفظ ختم نبوت 1953ء پس منظر، پیش منظر

مہدی معاویہ

قیام پاکستان کے فوراً بعد قادیانیوں نے اپنے سیاسی اثر ورسوخ کے ذریعے اپنی تبلیغی مہمات کو پہلے سے زیادہ قوت کے ساتھ تیز تر کر دیا۔ پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خاں جو قادیانی العقیدہ تھے ان کے ذریعے قادیانیت سرکاری سائے میں پروان چڑھنے لگی۔ ربوہ میں ایک مستقل شہر بسانے کے لیے قادیانیوں کو کوڑیوں کے بھاؤ جگہ مل چکی تھی مگر انہیں سرکار، خصوصاً وزارت خارجہ کی سرپرستی کا کچھ اتنا گھمنڈ تھا کہ وہ اپنا ایک الگ صوبہ بنانے کا خیال کرنے لگے اور بلوچستان کو قادیانی سٹیٹ بنانے کی سازشیں شروع کر دیں۔ چنانچہ 1948ء میں مرزا بشیر الدین نے کوئٹہ میں اس انداز کا خطبہ دیا کہ:

”میں جانتا ہوں کہ صوبہ بلوچستان ہمارے ہاتھوں سے نہیں نکل سکتا‘ یہ ہماری شکار گاہ ہو گا‘ دنیا کی ساری قومیں مل کر بھی ہم سے یہ علاقہ نہیں چھین سکتیں۔“

مرزا غلام احمد کی ذریت البغایا اپنے سیاسی اثر‘ برطانوی سامراج کی مکمل سرپرستی دولت کی فراوانی‘ وسائل اور ملازمتوں کے ہتھیار لے کر پڑھے لکھے اور سادہ لوح مسلمانوں کے ایمان ضائع کرنے کے لیے میدان میں اُترے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم المرسلینی پر ایمان کے ڈاکوؤں نے حملہ کر دیا۔ ملک میں اہم سرکاری مناصب اور عہدے قادیانیوں کے زیرِ تصرف آنے لگے جہاں قادیانی افسر اپنے سرکاری عہدے سے ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنے ماتحتوں‘ عملے کے ارکان کو قادیانیت کی تبلیغ‘ ترغیب اور تحریص دھونس کے انداز میں کرنے لگے‘ آرمی کا شعبہ ان کی خاص شکار گاہ تھا۔

1950ء کے الیکشن میں مسلم لیگ نے اپنی ناعاقبت اندیشی سے 6 مرزائیوں کو ٹکٹ دے دیئے جس پر دینی حلقوں نے شدید احتجاج کیا‘ خود مسلم لیگ میں اندرونی طور پر بڑی لے دے ہوئی۔ سر ظفر اللہ خاں قادیانی جو تب وزیر خارجہ کی حیثیت سے اہم عہدے پر براجمان تھے‘ ان کی سرگرمیاں نوزائیدہ مملکت پاکستان کی تعمیر وترقی کی بجائے برطانیہ کے خود کاشتہ پودے کو

صفحہ 187

تناور بنانے تک محدود تھیں۔

یہ تمام حالات مجلس احرار کی نظر میں تھے۔ احرار ...... جنہوں نے قیام پاکستان کو کھلے دل سے نہ صرف تسلیم کر لیا تھا بلکہ اس کی تعمیر و ترقی اور فلاح و بہبود کے لیے ہر دم مصروف عمل رہنے کا عزم کیا تھا۔ سیاسی میدان مسلم لیگ کے لیے علیحدہ چھوڑ دیا اور اپنی تمام تر توجہ تبلیغی سرگرمیوں کی طرف مرکوز کر دی ان کے لیے یہ تمام حالات سوہان روح تھے۔ مرزائی امیدواروں کی کامیابی کی شکل میں آئندہ پاکستان کا جو نقشہ بننا تھا وہ کسی بھی صاحب بصیرت انسان کو لرزا دینے کے لیے کافی تھا۔ چنانچہ فیصلہ ہوا کہ مرزائی امیدواروں کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ احرار نے امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی قیادت میں اس کے لیے زبردست حکمت عملی تیار کی۔ مرزائی امیدواروں کے مقابلہ میں مسلمان مسلم لیگی امیدواروں کو کھڑا کیا اپنے مبلغین کو ان حلقوں کے دوروں پر لگا دیا تاکہ عوام الناس کو عقیدہ ختم نبوت کا علم ہو ان میں اس عقیدے کے تحفظ کا احساس پیدا ہو اور وہ مرزائی امیدواروں کو ووٹ دینے سے باز رہیں۔ چنانچہ احرار کی بے پناہ مساعی سے تمام مرزائی شکست کھا گئے بلکہ اپنی ضمانت بھی ضبط کرا بیٹھے۔

اس شکست کے بعد مرزائیوں نے انڈر گراؤنڈ موومنٹ شروع کر دی۔ آرمی کو انہوں نے خاص طور پر اپنا ہدف بنایا بہت سے قادیانی ملک دشمن سرگرمیوں میں مصروف ہو گئے۔

حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور ان کے رفقاء ماسٹر تاج الدین انصاریؒ، شیخ حسام الدینؒ رحمہم اللہ تعالیٰ وغیرہم اور ہر محب وطن آدمی کے لیے یہ سرگرمیاں پریشانی کا باعث تھیں۔ مرکزی شوریٰ مجلس احرار کا ایک اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ قادیانیت کا مسئلہ حل کرنے کے لیے تمام دینی جماعتوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے۔ اس فیصلہ کے بعد مجلس احرار اسلام کے جنرل سیکرٹری مولانا غلام غوث ہزاروی رحمہ اللہ کی جانب سے تمام جماعتوں کو ایک دعوت نامہ جاری کیا گیا جس پر حضرت امیر شریعت رحمہ اللہ کے بھی دستخط تھے۔ اس اجلاس میں جمعیت علماء اسلام، جمعیت علماء پاکستان، جماعت اسلامی، تنظیم اہل سنت، جمعیت اہل سنت، جمعیت اہل حدیث، مؤتمر اہل حدیث پنجاب، ادارہ تحفظ حقوق شیعہ، جمعیت العربیہ، جمعیت الفلاح وغیرہ شامل تھیں جبکہ مجلس احرار اسلام اور مجلس کا شعبہ تبلیغ تحفظ ختم نبوت داعی کی حیثیت رکھتے تھے۔ ملک کے تمام جید علماء و مشائخ نے شرکت کی اور مجلس عمل کا قیام ہوا۔ اجلاس میں چار مطالبات حکومت سے کیے گئے۔

صفحہ 188

جائے۔

ان مطالبات کے حق میں ملک کے مختلف حصوں میں جلسے منعقد ہونے لگے۔ انہی مطالبات کو لے کر مجلس عمل کے رہنماؤں کے وفد ماسٹر تاج الدین انصاری اور شیخ حسام الدین کی قیادت میں دو تین مرتبہ وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین سے ملے مگر خواجہ ناظم الدین نے اندرونی دباؤ اور بیرونی طاقتوں کے کہنے پر مطالبات کو یکساں مسترد کر دیا۔ بعد میں خواجہ صاحب نے تحقیقاتی عدالت برائے فسادات پنجاب 1953ء کو بیان دیتے ہوئے اس بات کا انکشاف کیا کہ امریکی وزیر خارجہ نے پاکستان کو یہ تاثر دیا تھا کہ چودھری ظفر اللہ خاں کو خوش نہ رکھا گیا تو امریکہ پاکستان کی مدد کرنے کو تیار نہ ہوگا۔ حتیٰ کہ گندم کا مہیا کرنا مشکل ہو جائے گا جس کی پاکستان کو اس وقت سخت ضرورت ہے۔ (بحوالہ تحریک ختم نبوت، شورش کاشمیری، ص 90) ان مطالبات کو نہ ماننے کے نتیجے میں عوام الناس میں سخت ردعمل ہوا اب ان مطالبات کے پیچھے صرف مجلس احرار ہی نہ تھی بلکہ تینوں مکاتب فکر بریلوی، اہل حدیث، دیوبندی اور ان مکتبہ ہائے فکر کی تمام جماعتیں حتیٰ کہ مسلم لیگ کے بعض دوسرے اور تیسرے درجے کے رہنما بھی حمایت کر رہے تھے، پیش پیش تھیں۔ حکومت کی مسلسل لاپرواہی کے نتیجہ میں مسئلہ قادیانیت پر آخری غور و خوض کے لیے 16 ‘ 17 ‘ 18 جنوری 1953ء کو کراچی میں تمام مکاتب فکر کا کنونشن منعقد ہوا۔ لاہور سے بریلوی مکتبہ فکر کے مولانا ابوالحسنات محمد احمد قادری، مجلس احرار کے صدر ماسٹر تاج الدین انصاری اور مولانا مرتضیٰ احمد میکش شرکت کے لیے کراچی گئے۔ یہ کوئی معمولی کنونشن نہیں تھا بلکہ مرزائیت کے احتساب کے لیے اس کنونشن میں فیصلہ کن اقدام کا عزم کیا جانا تھا چونکہ یہ سب کچھ احرار رہنماؤں کی مساعی سے ہو رہا تھا لہٰذا مرزا بشیر الدین محمود نے احرار کے خلاف محاذ قائم کیا ہوا تھا۔ قصر خلافت ربوہ اور مرزائی پولیس افسروں کی ملی بھگت سے احرار رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف مقدمات کی بھرمار شروع ہو گئی۔ منیر انکوائری رپورٹ کے مطابق صوبہ پنجاب میں 6 مارچ 1953ء سے پہلے 390 اجتماعات ہوئے، جن میں سے 167 کا اہتمام مجلس احرار نے کیا تھا۔

کراچی کے کنونشن میں بہت سے زعما نے شرکت کی جن میں سرفہرست سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا سید ابوالحسنات قادری، مولانا محمد یوسف بنوری، مولانا احمد علی لاہوری، مولانا

صفحہ 189

شمس الحقؒ وزیر معارف قلات، مولانا راغب احسن آف ڈھاکہ، مولانا سید سلیمانؒ ندوی، مولانا ظفر احمد عثمانیؒ، شیخ حسام الدین، ماسٹر تاج الدین انصاری، مفتی محمد شفیعؒ، مولانا ابوالاعلیٰ مودودی، مولانا سید محمد داؤد غزنویؒ اور بہت سے دیگر علماء ومشائخ، پیران عظام نے شرکت کی۔ اس کنونشن میں خواجہ ناظم الدین وزیر اعظم پاکستان کے منفی رویہ کو دیکھ کر راست اقدام کا فیصلہ کیا گیا۔ قادیانی فرقے کے کامل مقاطعہ کی تجویز پاس ہوئی چونکہ خواجہ صاحب ظفر اللہ خاں کو برطرف کرنے پر راضی نہ تھے اس لیے ان سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا۔ اس کنونشن کے بعد ملک بھر میں احتجاجی جلسوں اور مظاہروں کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا۔ لوگ دیوانہ وار تحفظ ختم نبوت کے لیے اپنی جانیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم المرسلینی پر نچھاور کرنے کے لیے نکل پڑے۔ کراچی میں وزیر اعظم کی کوٹھی پر رضا کار پانچ پانچ کے گروپوں کی شکل میں جاکر پکٹنگ کرنے لگے۔ ادھر 26، 27 فروری کی درمیانی شب مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری، ماسٹر تاج الدین، مولانا ابو الحسنات قادری، مولانا عبدالحامد بدایونی اور دیگر رہنماؤں کو گرفتار کرلیا گیا۔ اس سے اگلے روز پنجاب میں احرار کے تمام متعلقین کی پکڑ دھکڑ شروع ہوگئی۔ لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، لائل پور، ملتان، راولپنڈی اور منٹگمری (اب ساہیوال) میں پکڑ دھکڑ اور مار دھاڑ کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا۔ ختم نبوت کے فدائین کے مظاہرے بھی شدت اختیار کرنے لگے۔ ان مظاہروں کو تشدد کی راہ پر ڈال کر تحریک کو جلد ختم کرنے کے لیے پولیس نے اپنے سفید پوش اہل کاروں کے ذریعے پولیس پر پتھراؤ کرایا اور اس طرح فائرنگ کی بنیاد رکھی۔ ملتان میں پر امن مظاہرین پر تھانہ کپ سے فائرنگ کی گئی جس سے تین افراد موقع پر اور تین ہسپتال جاکر شہید ہوگئے بہت سے آدمی زخمی بھی ہوئے، بہت سی جگہوں پر قادیانی جیپ میں سوار ہوکر فائرنگ کرتے رہے انہیں روکنے والا کوئی نہ تھا۔ قادیانی العقیدہ پولیس افسروں نے اپنے اپنے علاقوں میں مسلمان نوجوانوں کو بے دریغ شہید کیا۔

لاہور میں مال روڈ پر چائنیز لنچ ہوم کے سامنے کلمہ پڑھتے ہوئے 15 سے 22 سال کی عمر کے نوجوانوں کی ایک جماعت پر ملک حبیب اللہ سپرنٹنڈنٹ سی آئی ڈی نے گولیوں کی بوچھاڑ کرائی اور دس بارہ نوجوانوں کو موقع پر ہی شہید کرادیا۔

اس تحریک میں بہت سے دردناک اور کرب انگیز واقعات ہوئے۔ مولانا عبد الستار نیازی جو اس وقت ایک خوب رو نوجوان تھے اور تحریک میں بڑی پامردی اور استقلال کے ساتھ حصہ لیا، وہ فرماتے ہیں کہ دہلی دروازہ (لاہور) کے باہر چار نوجوانوں کی ڈیوٹی تھی، چاروں کو پولیس نے باری باری نشانہ بنایا۔ مولانا نیازی کے بقول ہمارا ایک جلوس مال روڈ سے آرہا تھا۔ لا الہ الا اللہ کا ورد

صفحہ 190

نعرہ تکبیر، ختم نبوت زندہ باد کے نعرے وردِ زبان تھے وہاں پر زبردست فائرنگ ہوئی مگر نوجوان سینے کھول کھول کر سامنے آتے رہے اور جام شہادت نوش کرتے رہے۔ اسی تحریک کے دوران کرفیو لگ گیا، اذان کا وقت ہوا تو ایک مسلمان کرفیو کی خلاف ورزی کر کے آگے بڑھا، مسجد میں پہنچا، اذان شروع کی ابھی ”اللہ اکبر“ ہی کہہ پایا تھا کہ گولی لگی اور وہ ڈھیر ہو گیا، دوسرا مسلمان آگے بڑھا اس نے ”اشھد ان لا الہ الا اللہ“ کہا تھا کہ گولی لگی، وہ بھی ڈھیر ہو گیا۔ تیسرا مسلمان آگے بڑھا اس نے ”اشھد ان محمد رسول اللہ“ کہا، گولی لگی وہ بھی وہیں ڈھیر ہو گیا پھر چوتھا بڑھا اس کے بعد پانچواں آیا غرضیکہ باری باری نو مسلمان شہید ہو گئے مگر اذان پوری کر کے چھوڑی۔

خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

لاہور کا دہلی دروازہ تحریک کا مرکز تھا، مجلس احرار اسلام کا مرکزی دفتر بھی یہیں تھا اور یہ علاقہ احرار کا گڑھ تھا۔ وہاں سے کرفیو کے دوران بھی جلوس نکلتے، لوگ دیوانہ وار اپنے سینوں پر گولیاں کھا کر آقائے نامدار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عزت و ناموس پر اپنی جانیں قربان کر دیتے۔ ایک دن عصر کے بعد جب جلوس نکلنا بند ہو گئے تو ایک اسّی (80) سالہ بوڑھا اپنے 5 سالہ پوتے کو گود میں لے آیا۔ باپ نے ختم نبوت کا نعرہ لگایا، بیٹے نے جسے باپ نے سبق پڑھا تھا، اس کے مطابق زندہ باد کہہ کر جواب دیا۔ دو گولیاں آئیں اسّی (80) سالہ بوڑھا اور 5 سالہ بچے کے سینے سے گزر گئیں، دونوں شہید ہو گئے اور تحفظ عزت و ناموس رسالت میں ایک نئے باب کا اضافہ کر گئے۔

4 مارچ 53ء کو جب پنجاب میں مارشل لا نافذ ہوا تو سیالکوٹ میں ایک جلوس پر زبردست لاٹھی چارج ہوا، سینکڑوں لوگ زخمی ہو گئے۔ لوگ اس پر سخت مشتعل ہوئے، اگلے روز شہر فوج کے سپرد ہو گیا۔ فوج نے فائرنگ شروع کر دی۔ بڑے بازار میں مظاہرین کے سامنے ایک سرخ لکیر لگا دی کہ جو اس لکیر کو کراس کرے گا، اُڑا دیا جائے گا مگر مسلمانوں نے ختم نبوت زندہ باد کا نعرہ بلند کیا، کلمہ طیبہ کا ورد کیا اور سرخ لکیر کراس کر گئے۔ اس پر فوج کے بریگیڈیئر اے کے اکبر کے حکم سے اندھا دھند گولی چلا دی گئی، بیسیوں مسلمان موقع پر شہید ہو گئے اور کئی ایک نے ہسپتال میں جان جان آفریں کے سپرد کر دی۔ زخمیوں کا کوئی شمار نہ تھا۔ اس طرح کے بے شمار واقعات ہوئے، اس تحریک میں جو شہید ہوئے ایک اندازے کے مطابق ان کی تعداد دس ہزار ہے۔

گورنمنٹ آف پنجاب نے اس سے بھی بڑھ کر شہیدان ختم نبوت کی لاشوں پر یہ ظلم کیا کہ انہیں کباڑیے کے سامان کی طرح فوجی ٹرکوں میں لادا گیا اور چھانگا مانگا کے جنگلات میں لے جا کر جلا دیا گیا۔ اس بات کا انکشاف یوں ہوا کہ جب وہاں سے ہڈیاں اور آگ سے بچ رہنے والے خون

صفحہ 191

آلود کپڑے ملے۔ حکومت نے اپنے ریاستی تشدد اور بے پناہ ظلم و ستم سے اس مقدس تحریک کو بظاہر ختم کر دیا۔ رضا کاروں اور فدائین ختم نبوت کے لیے ابتلاء و آزمائش کا ایک نیا دور شروع ہو گیا۔ ساہیوال، ملتان، لاہور، میانوالی، سکھر، کراچی کی جیلیں ختم نبوت کے نام لیواؤں سے بھر گئیں جو رضا کار اس تحریک میں سب سے زیادہ سرگرم تھے ان کے لیے شاہی قلعہ لاہور کے عقوبت خانے انگریزی جبر و استبداد کے بعد اب اپنوں کے ہاتھوں اپنے رنگ دکھا رہے تھے۔ تحریک میں حصہ لینے والوں کے والدین اور ان کے اعزہ و اقرباء کو اپنے جگر گوشوں کے متعلق کچھ معلوم نہ تھا کہ وہ کہاں ہیں۔ اس تحریک کے سرخیل حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ کو پہلے سکھر کی بدنام زمانہ جیل میں رکھا گیا جہاں گرمی کی شدت، تمازت و حرارت کی وجہ سے شاہ جی کی صحت گر گئی، خوراک میں ریت ملا کر کھلائی گئی، بدن پھوڑوں پھنسیوں کی آماجگاہ بن گیا۔ یہیں آپ کو ذیابیطس کا مرض لگا، بعد میں لاہور منتقل کر دیا گیا۔ لاہور جیل کی قید کا ایک واقعہ جو بڑا دل فگار و جگر پاش ہے اور اس کے ساتھ ساتھ حضرت شاہ جی کی ایمانی قوت کا مظہر بھی۔ کچھ یوں ہے کہ لاہور سنٹرل جیل میں شاہ جی کی آمد کی اطلاع جب پہلے سے موجود اسیران ختم نبوت کو ملی تو انہوں نے جیل حکام سے شاہ جی سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔ چنانچہ ایک روز صبح جب شاہ جی ناشتہ کر رہے تھے، اطلاع دی گئی کہ باہر دوسرے احاطہ میں قیدی آپ سے ملاقات کے لیے بے تاب ہیں اگر اجازت ہو تو انہیں اندر بلالیں، بات ابھی مکمل بھی نہ ہو پائی تھی کہ شاہ جی ننگے پاؤں ان قیدیوں کے استقبال کے لیے دیوانہ وار کمرے سے نکل گئے۔ دیوانی احاطہ کے باہر قیدی خراماں خراماں چلے آ رہے تھے، ہتھکڑیوں اور بیڑیوں کی جھنکار اور شاہ جی کا استقبال، ایک عجیب منظر تھا۔ شاہ جی نے سب کو گلے لگایا، ایک ایک کی ہتھکڑی اور بیڑی کو بوسہ دیا پھر آپ نے اشکبار اور غم ناک لہجے میں کہا:

”تم لوگ میرا سرمایہ نجات ہو، میں نے دنیا میں لوگوں کو روٹی اور پیٹ کی خاطر نہیں پکارا، لوگ اس کے لیے بڑی بڑی قربانیاں کرتے ہیں، میں نے تو اپنے نانا حضرت خاتم النبیین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کے تحفظ کی دعوت دی ہے اور تم لوگ صرف اور صرف اسی مقدس فریضہ کے لیے قید و بند اور طوق و سلاسل کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہو۔ تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے کہ سیاسی شہرت یا ذاتی وجاہت جس کا مقصود ہو، تم یہاں جیل میں بھی غیر معروف ہو اور جب تم اس دیوار زنداں سے پرے جاؤ گے تو باہر تمہارا استقبال کرنے والا اور گلے میں پھولوں کے ہار ڈال کر نعرے لگانے والا بھی کوئی نہ ہوگا۔ نیت اور ارادے کے اعتبار سے جس کی آمد اس مقصد کے لیے ہوئی ہے وہ یہی مقصد لے کر واپس چلا جائے گا۔ میرے لیے اس سے بڑا سرمایہ افتخار اور کیا ہو سکتا ہے۔“

صفحہ 192

شاہ جی یہ چند جملے کہہ چکے تو کسی نے ایک قیدی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کا بھائی گولی کا نشانہ بن چکا ہے اس کے لیے دعا فرمائیں۔ اس پر شاہ جی نے تحریک کے دوران متشددانہ کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ”بھائی! ہم ہرگز یہ نہیں چاہتے تھے کہ حکومت یا عوام تشدد پر اتر آئیں اور کوئی نا خوشگوار صورت نمودار ہو جائے۔ میں نے کراچی جیل میں جب لاہور اور دوسرے مقامات پر گولی چلنے کے واقعات سنے اور معلوم ہوا کہ کئی بوڑھے باپوں کی لاٹھیاں ٹوٹ گئی ہیں، ماؤں کے چراغ گل ہو گئے ہیں اور کئی سہاگ اُجڑ گئے ہیں تو مجھے اس کا بڑا صدمہ تھا۔ میں نے وہاں کہا تھا کہ کاش مجھے کوئی باہر لے جائے یا ارباب اقتدار تک میری یہ آواز پہنچا دے کہ تحفظ ناموسِ رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے سلسلہ میں اگر کسی کو گولی مارنا ضروری ہے تو گولی میرے سینے میں مار کر ٹھنڈی کر دی جائے اور کاش اس سلسلہ میں اب تک جتنی گولیاں چلائی گئی ہیں وہ مجھے ٹکٹکی پر باندھ کر میرے سینے میں پیوست کر دی جائیں۔

شاید آج کی نسل نو کو مذکورہ حالات پڑھ کر حیرت ہو کہ یہ تو کسی جناتی کہانی کے کردار نظر آتے ہیں مگر یہ حقیقت ہے کہ یہ سب کچھ ہو چکا ہے۔ تحریک مقدس تحفظ ختم نبوت کو ریاستی ظلم وتشدد سے کچل دیا گیا۔ وسیع پیمانے پر پکڑ دھکڑ ہوئی، پولیس کو جس کے متعلق ذرا بھی شبہ ہوا کہ اس نے تحریک میں حصہ لیا ہے، پکڑ کے اندر کر دیا۔ تحریک کے رضا کاروں نے اپنے گھر بار مال جان، اہل و عیال، اعزہ واقرباء دکھ سکھ گرمی سردی دن رات کی پرواہ کیے بغیر حضور نبی آخر الزماں خاتم المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ناموس کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے پنجاب کی سڑکوں پر اپنا لہو بہا کر عشق و وفا صبر ورضا کی وہ داستان روشن رقم کی کہ آئندہ اس کا خیال بھی نہیں کیا جاسکتا۔

انہی شہیدان ختم نبوت کی یاد میں مجلس احرار اسلام کے زیر اہتمام ربوہ کے سب سے پہلے اسلامی مرکز مسجد احرار میں ہر سال شہداء ختم نبوت کانفرنس نہایت تزک واحتشام سے منعقد کی جاتی ہے جہاں ملک بھر کے مختلف گوشوں سے تعلق رکھنے والے علماء، طلباء، وکلاء، دانشور حضرات شہیدان ختم نبوت کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ امسال بھی 16‘ 17 مارچ کو ربوہ میں مجلس احرار اسلام کی جانب سے یہ کانفرنس منعقد ہو رہی ہے جس کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ مسلمان اپنے ان دینی وقومی محسنوں کو یاد رکھیں اور ان کی یاد سے اپنے دلوں کو معمور کر کے اپنے اندر دینی وحدت محبت اور اخلاص کی صفات کو پیدا کریں اور دین حق کے تحفظ کے لیے مر مٹنے کا جذبہ بیدار کریں۔ آج جبکہ توہین رسالت کے نصرانی مجرم پاکستان میں دندنا رہے ہیں اور حضور کی ختم المرسلینی معرضِ خطر میں ہے شہداء ختم نبوت کے ہی جذبہ واخلاص کی ضرورت ہے۔

صفحہ 193

طریق السداد فی عقوبة الارتداد

خلفائے راشدین اور قتل مرتد

حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ

۳۱ اگست ۱۹۲۴ء کابل میں قادیانی مبلغ نعمت اللہ کو بجرم ارتداد سزائے موت دی گئی۔ اس پر قادیانی اور قادیانی نواز گروہ نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ اخبارات میں لے دے شروع ہو گئی۔ اکابر علمائے دیوبند نے والی افغانستان کے اسلامی فیصلہ کی بھر پور تائید کی۔ ارتداد کی اسلامی سزا قتل پر رسائل لکھے۔ اس زمانہ میں حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ نے اخبارات کو بیان جاری کیا۔ بعد میں معمولی ترمیم و اضافہ سے اسے رسالہ کی شکل میں شائع کر دیا۔ (مرتب)

خلافت اسلامیہ کی ساڑھے تیرہ سو سالہ عمر میں ہمیشہ مرتد کو سزائے موت دی گئی ہے!

قادیانی مذہب اور اس کی تحریفات نے جن ضروریات اسلامیہ کو تختہ مشق بنایا ہے وہ غالباً ہمارے ناظرین سے مخفی نہیں۔ ختم نبوت کا انکار نزول مسیح کا انکار فرشتوں کا زمین پر آنے سے انکار وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب کچھ تھا۔ مگر ہم سمجھتے تھے کہ یہ سب مرزا قادیانی کے دم تک ہیں۔ کیونکہ : ” وہ اپنے آپ کو خدا کا نبی کہتے تھے اور اس کا مستحق سمجھتے تھے کہ حدیث نبوی کے ذخیرہ میں سے جس حصہ کو چاہیں لیں اور جس کو چاہیں (نعوذ باللہ ) ردی کی ٹوکری میں ڈال دیں۔ جس کا خود مرزا قادیانی نے (اربعین نمبر ۳ ص ۱۵ خزائن ج ۱۷ ص ۴۰۱ ملخصاً وغیرہ میں) کھلے بندوں اعلان کیا ہے۔ لیکن آج نعمت اللہ خان مرزائی کے قتل نے یہ بات دکھلا دی کہ:

ایں خانہ تمام آفتاب است

مرزا قادیانی کے مرنے سے بھی نصوص شرعیہ کی تحریف اور بدیہی الثبوت مسائل اسلامیہ کے انکار کا دروازہ بند نہیں ہوا۔ بلکہ ان کا روحانی فیض آج تک اپنے لوگوں میں کام کر رہا ہے۔ جس کی ایک نظیر یہ ہے کہ شریعت اسلام کا کھلا ہوا فیصلہ ہے کہ مسلمان ہونے کے بعد مرتد ہونے کی سزا قتل ہے۔ آیات قرآنیہ کے بعد احادیث نبویہ کا ایک بڑا دفتر اس حکم کا صاف طور سے اعلان کر رہا ہے۔ جن میں سے تقریباً تیس حدیثیں ہمارے زیر نظر ہیں۔ جن کو اگر ضرورت سمجھی گئی تو کسی وقت پیش کیا جائے گا۔ اس کے بعد اگر خلافت اسلامیہ کی تاریخ پر ایک نظر ڈالیں تو چاروں خلفائے راشدین ؓ سے لے کر بعد کے تمام خلفاء کا متواتر عمل بتلا رہا ہے کہ یہ مسئلہ ان بدیہات اسلامیہ سے ہے کہ جس کا انکار کسی مسلمان سے متصور نہیں۔ بایں ہمہ آج جبکہ دولت افغانستان نے اس شرعی اور قطعی

صفحہ 194

فیصلہ کے ماتحت نعمت اللہ خان مرزائی کو قتل کر دیا تو فرقہ مرزائیہ کی دونوں پارٹیاں قادیانی اور لاہوری اور بالخصوص اس کا آرگن پیغام صلح سرے سے اس حکم کے انکار پر تل گئے اور دولت افغانستان پر طرح طرح کے بیہودہ عیب لگانے اور ان کے عین شرعی فیصلہ کو وحشیانہ حکم ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور صرف کیا۔ ہمیں اس دیدہ دلیری معاصر سے سخت تعجب ہوا کہ وہ ملت اسلامیہ کو چیلنج دیتا ہے کہ: ”ازروئے شریعت اسلامیہ مرتد کی سزا قتل ہونا ثابت کریں۔“ حالانکہ یہ مسئلہ اسلام میں اس قدر بدیہی الثبوت ہے کہ ہم کسی مسلمان پر بلکہ خود ایڈیٹر پیغام صلح پر یہ بدگمانی نہیں کر سکتے کہ وہ اس قدر ناواقف اور احکام شرعیہ سے غافل ہوں گے کہ ان کو قتل مرتد کی کوئی دلیل ادلہ شرعیہ میں نہیں ملی۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ قرآن کریم کے دلائل اور اس کے محیّر العقول لطائف ان کی پرواز سے بالاتر ہونے کی وجہ سے ان کی نظر سے اوجھل رہے ہوں۔ لیکن یہ کیسے تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ احادیث کا اتنا بڑا دفتر ایک ایسے شخص پر بالکل مخفی رہے جو منہ بھر بھر کر علم کی ڈینگ مارتا ہے اور علمائے اسلام کے منہ آتا ہے؟۔ ہاں میں ان کو اس میں بھی معذور سمجھتا کہ یہ سب حدیثیں غیر درسی کتابوں میں ہوتیں۔ لیکن حیرت تو یہ ہے کہ ان میں سے دس بارہ حدیثیں وہ ہیں جو حدیث کی درسی کتابوں (صحاح) پر ایک سرسری نظر ڈالنے والے کے بلا تکلف سامنے آ جاتی ہیں۔ جن سے معمولی درجہ کے طالب علم ناواقف نہیں رہ سکتے۔ مگر ایڈیٹر پیغام صلح ہیں کہ نہایت دلیری کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ سنت نبوی میں قتل مرتد کا کوئی اسوہ نہیں ملتا۔ ہم نہیں کہہ سکتے کہ یہ کلام غیظ و غضب کی بدحواسی میں ان کے قلم سے نکل گیا ہے۔ جس پر وہ افاقہ کے بعد قرآن وحدیث کو دیکھ کر پشیمان ہوئے ہوں گے۔ یا واقع میں ان کی تحصیل اور مبلغ علم یہی ہے کہ جس حکم سے قرآن وحدیث اور تعامل سلف کے دفتر بھرے ہوئے ہوں ان کا دماغ اس کے علم سے ایسا کورا ہے کہ علمائے اسلام کو اس کے اثبات کا اس بیہودہ خیال پر چیلنج دے رہے ہیں کہ وہ ثابت نہ کر سکیں گے۔ اور اگر ایسا ہے تو ہم ایڈیٹر صاحب کو اس معاملہ میں بھی معذور سمجھیں گے۔ کیونکہ ان کو مرزا قادیانی ایک ایسے کام میں لگا گئے ہیں جس سے وہ کسی وقت فارغ نہیں ہو سکتے۔ مرزا قادیانی کے متہافت اور متعارض اقوال کی گتھیوں کا سلجھانا ہی عمر گنوادینے کے لئے کافی ہے۔ ان کو کہاں فرصت کہ وہ خاتم الانبیاء ﷺ کے دین کی طرف متوجہ ہوں اور آپ ﷺ کی احادیث کو پڑھیں اور سمجھیں۔ اگرچہ مرزائی فرقہ کی حالت کا تجربہ رکھنے والے حضرات یہاں بھی یہی کہیں گے کہ یہ سب شقیں غلط ہیں۔ دراصل یہ سب احکام قرآن وحدیث ان کے ضرور سامنے ہیں مگر وہ جان بوجھ کر، کھلی آنکھوں ان کا انکار کر رہے ہیں۔ اور وہ اس میں بھی معذور ہیں۔ کیونکہ ان کے آقا مرزا قادیانی کی یہی تعلیم ہے جس پر ان کی زندگی کے بہت سے کارنامے شاہد ہیں۔ بہر حال صورت کچھ ہو۔ آج پیغام صلح دنیائے اسلام کو پیغام جنگ دے کر یہ چاہتا ہے کہ اس مسئلہ کو اخباری گھوڑ دوڑ کا میدان بنائے۔ اگر اس کے نزدیک اسی کی ضرورت ہے کہ اس بدیہی الثبوت مسئلہ پر بحث کر کے اخبار کے کالموں کو پر کیا جائے تو ہمیں بھی کچھ ضرورت نہیں کہ اس کو غیر ضروری ثابت کریں۔ لہٰذا ہم مختصر طور پر یہ دکھلانا چاہتے ہیں کہ شریعت اسلامیہ مرتد کے لئے کیا سزا تجویز کرتی ہے اور خلفائے راشدین ؓ اور بعد کے تمام خلفاء نے مرتدین کے ساتھ کیا معاملہ کیا ہے؟۔

قرآن عزیز اور قتل مرتد

اس بحث کو چونکہ مجھ سے پہلے کرنے پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ قال تعالیٰ: آیت ان لوگوں کے بارہ میں نازل ہوئی کتب حدیث وتفسیر میں موجود ہے اور آ جیسا کہ (صحیح بخاری ج۲ ص يحاربون الله) وغیرہ تمام معتبر کتب سے استدلال کرنے کے لئے احکام مر حضرت سعید ابن جبیرؓ سے نقل کیا ہے کہ ج۲ ص ٦٦٣ اور فتح الباری میں بحوالہ تجویز کرتی ہے۔ پھر قتل کے معنی مطلق کہ امام راغب اصفہانیؒ نے مفردات

حدیث نبوی اور قتل مرتد

ہم نے نقل کیا ہے کہ کثیر حدیثیں ایک سرسری نظر ڈالنے سے معلوم ہوتے کہ ان میں اس قدر احا ہے جو کتب صحاح یعنی احادیث کی زائد ہے۔

بعذاب الله عن ابن عباسؓ

یمن پہنچے تو دیکھا کہ ان کے پاس ا قضاء الله ورسوله ثلاث اس وقت تک نہ بیٹھوں گا جب تک قتل کیا گیا۔ (روایت کیا اس کو بخ

صفحہ 195

قرآن عزیز اور قتل مرتد

اس بحث کو چونکہ مجھ سے پہلے اور افاضل بھی مفصل لکھ چکے ہیں۔ اس لئے صرف ایک آیت کو مختصراً پیش کرنے پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ قال تعالیٰ: ’’انما جزاء الذین یحاربون اللہ ورسولہ ۔ المائدہ ۳۳‘‘ یہ آیت ان لوگوں کے بارہ میں نازل ہوئی ہے جو آنحضرتﷺ کے زمانہ میں مرتد ہو گئے تھے۔ جس کا طویل واقعہ اکثر کتب حدیث و تفسیر میں موجود ہے اور آنحضرتﷺ نے اس آیت کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ان لوگوں کو قتل کیا۔ جیسا کہ (صحیح بخاری ج ۲ ص ٦٦٣ باب انما جزاء الذین یحاربون اللہ ) وغیرہ تمام معتبر کتب حدیث و تفسیر میں موجود ہے اور امام بخاریؒ نے قتل مرتد کے بارہ میں اسی آیت سے استدلال کرنے کے لئے احکام مرتد کے ابواب کو اسی آیت سے شروع فرمایا ہے۔ نیز سورۃ مائدہ کی تفسیر میں حضرت سعید ابن جبیرؒ سے نقل کیا ہے کہ آیت میں: ’’یحاربون اللہ‘‘ سے مراد کافر ہونا ہے۔ بخاری ج ۲ ص ٦٦٣ اور فتح الباری میں بحوالہ ابن حاتمؒ اسی کی تائید کی گئی ہے۔ الغرض آیت مذکورہ مرتد کے لئے سزائے قتل تجویز کرتی ہے۔ پھر قتل کے معنے مطلقاً جان لینے کے ہیں۔ خواہ تلوار سے یا سنگساری سے یا کسی اور طریق سے۔ جیسا کہ امام راغب اصفہانیؒ نے ’’مفردات القرآن‘‘ میں اور صاحب اقرب الموارد نے اقرب میں نقل کیا ہے۔

حدیث نبوی اور قتل مرتد

ہم نے نقل کیا ہے کہ کثیر تعداد احادیث اس مسئلہ کے ثبوت میں وارد ہوئی ہیں۔ جن میں سے تقریباً تیس حدیثیں ایک سرسری نظر ڈالنے سے ہمارے سامنے ہیں۔ لیکن اخبار کے کالم اس کام کے لئے زیادہ موزوں نہیں معلوم ہوتے کہ ان میں اس قدر احادیث کا سلسلہ نقل کیا جائے۔ اس لئے صرف ان گیارہ احادیث پر اکتفا کیا جاتا ہے جو کتب صحاح یعنی احادیث کی درسی کتابوں میں موجود ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بھی اخباری دنیا کے لئے بہت زائد ہے۔

بعذاب اللہ عن ابن عباسؓ‘‘ جو شخص اپنے دین اسلام کو بدلے اس کو قتل کر ڈالو۔

یمن پہنچے تو دیکھا کہ ان کے پاس ایک مرتد قید کر کے لایا گیا ہے۔ حضرت معاذؓ نے فرمایا: ’’لا اجلس حتی یقتل قضاء اللہ ورسولہ ثلاث مرات فامر بہ فقتل ۔ بخاری ج ۲ ص ۱۰۲۳ باب حکم المرتد‘‘ میں اس وقت تک نہ بیٹھوں گا جب تک کہ اس کو قتل نہ کیا جائے۔ یہی ہے اللہ اور رسول کا حکم۔ تین مرتبہ یہی کہا۔ چنانچہ اس کو قتل کیا گیا۔ (روایت کیا اس کو بخاری ، مسلم ، نسائی ، ابوداؤد وغیرہ نے)

صفحہ 196

حکم فرمایا: 'اینما لقیتموهم فاقتلوهم فان فی قتلهم اجراً لمن قتلهم یوم القیامة' بخاری ج ۲ ص ۱۰۲۴ باب قتل الخوارج والملحدین ”ان کو جہاں پاؤ قتل کر ڈالو۔ اس لئے کہ ان کے قتل کرنے میں ثواب ہے۔‘ (صحیح بخاری و مسلم)

ابوسعید خدریؓ سے نقل کی ہے۔

اکثر کتب حدیث بخاری ج ۲ ص ۶۶۳ وغیرہ میں موجود ہے۔

نہیں ۔ مگر تین شخص کو قتل کیا جائے گا: ”النفس بالنفس والثيب الزانی والمارق لدینه التارك للجماعة“ بخاری ومسلم ج ۲ ص ۵۹ باب مایباح به دماء المسلم ”جان کے بدلے میں جس کی جان لی جائے اور بیاہا ہونے کے بعد زنا کرنے والا اور اپنے دین اسلام اور جماعت مسلمین کو چھوڑنے والا۔

کر کے فرمایا کہ میں تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں کہ کیا تم جانتے ہو کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کسی مسلم کا قتل اس وقت تک جائز نہیں جب تک اس سے تین کاموں میں سے کوئی کام سرزد نہ ہو۔ اور وہ تینوں یہ ہیں: ”زنی بعد احصانه وكفر بعد اسلام وقتل نفساً بغير نفس“ نسائی ج ۲ ص ۱۶۵ باب مایحل به دم المسلم / ترمذی / ابن ماجہ ”بیاہا ہونے کی صورت میں زنا کرنا اور اسلام کے بعد کافر ہونا اور کسی شخص کو بغیر حق کے قتل کرنا۔“

باب مایحل به دم المسلم اور مستدرک حاکم وغیرہ!

الارتداد ”جو شخص اپنے دین اسلام کو بدلے اسے قتل کردو۔“ (بخاری و مسلم)

ج ۲ ص ۱۳۹ باب الحکم فیمن ارتد ”جب کوئی اسلام چھوڑ کر کفر کی طرف بھاگے تو اس کا خون حلال ہے۔“

ص ۱۸۲ باب اقامة الحدود ”جو شخص قرآن کی کسی آیت کا انکار کرے اس کی گردن مار دینا حلال ہو گیا۔“ یہ سب حدیثیں ہیں جو صحاح کی کتابوں میں موجود ہیں اور اکثر صحیحین بخاری و مسلم میں مذکور ہیں۔ ان تمام فرامین نبویہ کے ہوتے ہوئے ایڈیٹر پیغام صلح کا یہ کہنا کس قدر ان کے علم کی داد دیتا ہے کہ : ”سنت نبویہ میں قتل مرتد کا کوئی اسوہ نہیں ملتا“ اس کے جواب میں ہم بجز اس کے کیا کہیں کہ ہمارے نبی کریم ﷺ کے دین اور آپ ﷺ کی احادیث میں دخل دینا ہی ان کی اصولی غلطی اور خوامخواہ دخل در معقولات ہے۔ عورت‘ حاملہ‘ حائضہ‘ غرض ہر مدعی مقتدا کی ع... سپرد کریں جو اس کے اہل ہیں۔

خلفائے راشدین ؓ اور قتل مرتد

اس بحث میں سب سے پہلے فرمائیے۔

وفات ہوئی اور مدینہ کے اردگرد میں بعض... کے لئے کھڑے ہو گئے اور عجب یہ کہ فا... تأمل کرتا ہے۔ لیکن یہ خدا کی حدود تھیں ... فاروق اعظمؓ کے جواب میں بھی یہی فرما... جاهد هم ما استمسك السي... خلافته . ” ”ہیہات ہیہات آں حضر... وقت تک جہاد کرتا رہوں گا جب تک می... ہو گیا اور اجماعی قوتوں سے مرتدین پر ج...

کرنے کی وجہ سے باجماع صحابہؓ مرتد قر... جس نے مسیلمہ کذاب کو موت کے گھا... خلافته‘ طبع اصح المطابع ک... مرتد ہے۔ اگرچہ وہ کسی قسم کی نبوت کا... کرایا ہے وہ آنحضرت ﷺ کی نبوت ... کا اعلان کرتا تھا۔ (تاریخ طبری ... مرتد ’واجب القتل‘ سمجھا گیا وہ صرف... جیسا کہ مرزا قادیانی کا بعینہ یہی حال ...

کو روانہ کیا۔

صفحہ 197

اصولی، عقلی اور خوامخواہ دخل در معقولات ہے۔ ان کو چاہئے کہ وہ اپنے مہدی‘ مسیح‘ نبی‘ میکائیل‘ عیسیٰ‘ موسیٰ‘ ابراہیم‘ آدم‘ مرد‘ عورت‘ حاملہ‘ حائضہ‘ غرض ہر رنگی مقتداء کی عبارات اور اس کے ادھیڑ بن میں لگے رہیں اور احکام اسلامیہ کو ان لوگوں کے سپرد کریں جو اس کے اہل ہیں ۔

خلفائے راشدین ؓ اور قتل مرتد

اس بحث میں سب سے پہلے افضل الناس بعد الانبیاء خلیفہ اول سیدنا حضرت صدیق اکبر ؓ کا عمل ملاحظہ فرمائیے۔

وفات ہوئی اور مدینہ کے اردگرد میں بعض عرب مرتد ہوگئے تو خلیفہ وقت صدیق اکبرؓ شرعی حکم کے مطابق ان کے قتل کے لئے کھڑے ہوگئے اور عجب یہ کہ فاروق اعظمؓ جیسا اسلامی سپہ سالار اس وقت ان کے قتل میں بوجہ نزاکت وقت تأمل کرتا ہے۔ لیکن یہ خدا کی حدود تھیں جن میں مساہلت سے کام لینا صدیق اکبرؓ کی نظر میں مناسب نہ تھا۔ اس لئے فاروق اعظمؓ کے جواب میں بھی یہی فرمایا: ’’هيهات هيهات مضى النبي ﷺ وانقطع الوحى والله لا جـاهـدهـم مـا اسـتـمسك السيف فـي يـدى ، تـاريـخ الخلفاء ص ٦١ فصل فى مـا وقع فى خلافته ، ‘‘ ” ہیہات ہیہات آنحضرت ﷺ کی وفات ہو گئی اور وحی منقطع ہوگئی ۔ خدا کی قسم میں ضرور ان سے اس وقت تک جہاد کرتا رہوں گا جب تک میرا ہاتھ تلوار پکڑ سکے گا ۔“ یہاں تک کہ فاروق اعظمؓ کو بھی بحث کے بعد حق واضح ہوگیا اور اجماعی قوتوں سے مرتدین پر جہاد کیا گیا اور ان میں سے بہت سے تہ تیغ کر دیئے گئے ۔

کرنے کی وجہ سے باجماع صحابہ مرتد قرار دیا گیا تھا۔ چنانچہ ایک لشکر حضرت خالدؓ کی سرکردگی میں اس کی طرف روانہ کیا جس نے مسیلمہ کذاب کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ (فتح الباری، تاریخ الخلفاء ص ٦٣ فصل فی ما وقع فی خلافته، طبع اصح المطابع کراچی ) اس واقعہ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد ہر مدعی نبوت مرتد ہے۔ اگر چہ وہ کسی قسم کی نبوت کا دعویٰ کرے یا کوئی تاویل کرے۔ کیونکہ مسیلمہ کذاب جس کو صدیق اکبرؓ نے قتل کرایا ہے وہ آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کا منکر نہیں تھا۔ بلکہ اپنی اذان میں اشهد ان محمداً رسول الله ، کا اعلان کرتا تھا۔ (تاریخ طبری ج ۱ حصه دوم ص ۱۰۰، اردو نفیس اکیڈمی لاہور ) پھر جس جرم میں اس کو مرتد’ واجب القتل‘ سمجھا گیا وہ صرف یہ تھا کہ آپ ﷺ کی نبوت کو ماننے کے باوجود اپنی نبوت کا بھی دعویٰ کرتا تھا۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کا بعینہ یہی حال ہے۔

کو روانہ کیا ۔

(تاريخ الخلفاء ص ٦٣)

صفحہ 198

لئے بھیجا۔

(تاریخ الخلفاء ص ٦٢)

(تاریخ الخلفاء ص ٦٣)

یہ تمام واقعات وہ ہیں جو اسلام کے سب سے پہلے خلیفہ اور افضل الناس بعد الانبیاء کے حکم سے ہوئے اور صحابہ کرامؓ کے ہاتھوں ان کا ظہور ہوا۔ صحابہ کرامؓ کی جماعت تھی جو کسی خلاف شرع حکم کو دیکھنا موت سے زیادہ ناگوار سمجھتی تھی۔ کیسے ہو سکتا تھا کہ اگر معاذ اللہ صدیق اکبرؓ بھی کسی خلاف شریعت حکم کا ارادہ کرتے تو تمام صحابہ کرامؓ ان کی اطاعت کر لیتے اور خون ناحق میں اپنے ہاتھ رنگتے؟ ۔ لہٰذا یہ واقعات اور اسی طرح باقی تمام خلفائے راشدین کے واقعات تنہا صدیق اکبرؓ وغیرہم کا عمل نہیں بلکہ تمام صحابہ کرامؓ کا اجماعی فتویٰ ہے کہ شریعت میں مرتد کی سزا قتل ہے۔

خلیفہ ثانی فاروق اعظمؓ اور قتل مرتد

شریک مشورہ تھے۔

چاہئے اور روزانہ ان کو ایک ایک روٹی دی جائے۔ اگر تین روز تک نصیحت کے بعد بھی ارتداد سے توبہ نہ کریں تو قتل کر دیا جائے۔ (کنز العمال ج ۱ ص ۳۱۲ تا ۳۱۶‘ اس قسم کی متعدد روایات ہیں)

خلیفہ ثالث حضرت عثمان غنیؓ اور قتل مرتد

کا فرمان سمجھتے تھے اور لوگوں سے اس کی تصدیق کراتے تھے۔

فانه يقتل ، کنز العمال ج ۱ ص ۳۱۳ حدیث ١٤٧٠ باب حكم الاسلام ، ”جو شخص ایمان کے بعد اپنی خوشی سے کافر ہو جائے اس کو قتل کیا جائے۔

کے لئے فرماتے تھے۔ اگر قبول نہ کرتا قتل کر دیتے تھے۔

(کنز العمال ج ١ ص ٣١٣ حديث ١٤٧١)

آپ نے اس کو تین مرتبہ توبہ کی طرف بلایا۔ اس نے قبول نہ کیا تو قتل کر دیا۔ (کنز العمال ج ۱ ص ۳۱۳ حدیث ١٤٧٦)

صفحہ 199

۵............ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے ایک مرتبہ اہل عراق میں سے ایک مرتد جماعت کو گرفتار کیا اور ان کی سزا کے بارے میں مشورہ کے لئے حضرت عثمانؓ کی خدمت میں خط لکھا۔ آپ نے جواب میں تحریر فرمایا: ”اعرض عليهم دين الحق فان قبلوها فخل عنهم وان لم يقبلوها فاقتلهم ، كنز العمال ج ۱ ص ۳۱۳ حدیث ١٤٧٣“ ان پر دین حق پیش کرو۔ اگر قبول کرلیں تو ان کو چھوڑ دو۔ ورنہ قتل کردو۔

خلیفہ رابع حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور قتل مرتد

۱............ امام بخاریؒ نے نقل کیا ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے بعض مرتدین کو قتل کیا۔

(بخاری ج ۲ ص ۱۰۲۳ باب حكم المرتد والمرتده)

۲............ حضرت ابوالطفیلؓ فرماتے ہیں کہ جب علی کرم اللہ وجہہ نے بنی ناجیہ کے قتال کے لئے لشکر بھیجا تو اس میں، میں بھی شریک تھا۔ ہم نے دیکھا کہ ان لوگوں میں تین فرقے ہیں۔ بعض پہلے نصاریٰ تھے پھر مسلمان ہوئے اور اسی پر ثابت قدم رہے۔ اور بعض نصاریٰ تھے اور ہمیشہ اسی مذہب پر رہے۔ اور بعض لوگ وہ تھے کہ پہلے نصرانیت چھوڑ کر مسلمان ہو گئے تھے اور پھر نصرانیت کی طرف لوٹ گئے۔ ہمارے امیر نے اس تیسرے فرقے سے کہا کہ اپنے خیال سے توبہ کرو۔ اور پھر مسلمان ہو جاؤ۔ انہوں نے انکار کیا تو امیر نے ہمیں حکم دیا۔ ہم سب ان پر ٹوٹ پڑے اور مردوں کو قتل اور بچوں کو گرفتار کر لیا۔

(كنز العمال ج ۱ ص ٣١٤ حديث ١٤٧٦ باب الارتداد واحكامه)

۳............ عبدالملک بن عمیرؓ روایت کرتے ہیں کہ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی خدمت میں حاضر تھا کہ مستورد ابن قبیصہ گرفتار کر کے لایا گیا جو اسلام سے مرتد ہو کر نصرانی ہو گیا تھا۔ آپ نے حکم دیا کہ ٹھوکروں میں مسل کر مار ڈالا جائے۔

(كنز العمال ج ۱ ص ٣١٤ حديث ١٤٧٧)

یہ ان خلفائے راشدین کا حکم عمل جن کے اقتداء کے لئے تمام امت اسلامیہ مامور ہے اور جن کے متعلق آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے: ”علیکم بسنتی وسنة الخلفاء الراشدين ، مشکوٰة ص ۳۰ باب الاعتصام بالكتاب والسنة“ تم پر لازم ہے کہ میری سنت اور خلفائے راشدین کی سنت کی اقتداء کرو۔

کیا قتل مرتد کے لئے محاربہ اور سلطنت کا مقابلہ شرط ہے؟

ہماری مذکورہ بالا تحریر میں اس کا کافی جواب آ چکا ہے۔ کیونکہ اول تو جو احادیث سزائے مرتد کے بارے میں نقل کی گئی ہیں۔ ان میں کوئی محاربہ اور مقابلہ کی شرط نہیں۔ بلکہ عموماً مرتد کے قتل کا اعلان ہے۔ اس کے بعد جن لوگوں کو خلفائے راشدینؓ نے سزائے ارتداد میں قتل کیا ہے۔ ان میں دونوں قسم کے آدمی ہیں۔ وہ بھی جو مرتد ہونے کے بعد محاربہ کے لئے کمر بستہ ہوئے اور وہ بھی جن سے کسی قسم کا ارادہ فساد یا محاربہ کا ظاہر نہیں ہوا۔ وہ لوگ جو قتل مرتد کو یہ کہہ کر اڑانا چاہتے ہیں کہ اسلام میں صرف انہیں مرتدین کے قتل کا حکم ہوا ہے جو محاربہ اور سلطنت کے مقابلہ پر آمادہ ہوں وہ آنکھیں کھولیں اور احادیث اور عمل سلف پر نظر ڈالیں کہ وہ کیا بتلا رہے ہیں؟۔

صفحہ 200

کیا سزائے ارتداد میں سنگسار بھی کیا جا سکتا ہے؟

مذکورۃ الصدر احادیث اور واقعات سلف نے اس سوال کو بھی طے کر دیا ہے۔ کیونکہ ان سے واضح ہو چکا ہے کہ اصل سزائے ارتداد قتل ہے اور ہم بحوالہ امام راغب اصفہانی اور دیگر اہل لغت یہ نقل کر چکے ہیں کہ قتل کے معانی جان لینا ہے۔ خواہ تلوار سے یا سنگساری سے یا کسی اور ذریعہ سے۔ لہذا جب سزائے قتل مرتد کے لئے ثابت ہو گئی تو امام وقت کو اختیار ہے کہ مصالح وقت کو دیکھ کر جس صورت سے چاہے قتل کرے۔ چنانچہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا واقعہ ابھی نقل کیا گیا ہے کہ انہوں نے ایک مرتد کو زیادہ سرکش سمجھ کر پاؤں میں مسل کر مارنے کا حکم کر دیا۔

خلفائے راشدین ؓ کے بعد باقی خلفاء اسلام اور قتل مرتد

حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے اپنے زمانہ خلافت میں مختار ابن ابی عبید کو اسی جرم میں قتل کیا تھا جو آج مرزا قادیانی کے لئے معراج ترقی ہے۔ یعنی اس کے دعوائے نبوت کو ارتداد قرار دے کر قتل کیا گیا ہے۔

(فتح الباری ص ٢٥٥ ج ٦ تاریخ الخلفاء ص ١٦٤)

خالد قسری نے اپنے زمانہ حکومت میں جعد ابن درہم کو ارتداد ہی کی سزا میں قتل کیا۔

(فتح الباری ص ٢٣٩ ج ١٢ باب حکم المرتد والمرتدہ)

عبدالملک ابن مروان نے اپنے زمانہ خلافت میں حارث نامی ایک شخص کو اسی جرم میں قتل کیا جو آج مرزا قادیانی کا دعویٰ اور ان کی امت کا مذہب ہے۔ (یعنی دعویٰ نبوت)

(شفاء قاضی عیاض ص ٢٥٨ ج ٢)

خلیفہ منصور نے اپنے عہد خلافت میں فرقہ باطنیہ کے مرتدین کو قتل کیا۔

(فتح الباری ص ٢٣٩ ج ١٢ باب حکم المرتد والمرتدہ)

یہ بھی یاد رہے کہ فرقہ باطنیہ کا بانی بھی ابتداء میں ایک صوفی مزاج آدمی تھا۔ مسلمانوں کی عموماً اور اہل بیت کی خصوصاً بہت ہمدردی کا دعویٰ کرتا تھا۔ شروع میں مرزا قادیانی کی طرح لوگوں پر تصوف کا رنگ ظاہر کیا اور کچھ لوگ معتقد ہو گئے تو نبوت کا دعوے دار بن گیا اور اسی جرم میں واجب القتل سمجھا گیا۔

خلیفہ مہدی منصور کے بعد جب تخت خلافت پر جلوہ افروز ہوئے تو باقی ماندہ باطنیہ کی استیصال کی فکر کی اور ان میں سے بہت سے آدمی موت کے گھاٹ اتار دیئے۔

(فتح الباری ص ٢٣٩ ج ١٢ باب حکم المرتد والمرتدہ)

خلیفہ معتصم باللہ نے اپنے عہد خلافت میں ابن ابی الغرا تیر کو اس لئے قتل کیا کہ وہ اسلام سے مرتد ہوا تھا۔

(شفاء ص ٢٥٨ ج ٢)

قاضی عیاضؒ نے شفاء میں بہت سے مرتدین کے قتل کا ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے: "وفعل ذالك غیر احد من الخلفاء والملوک باشباههم واجمع علماء وقتهم علی صواب فعلهم" اور بہت سے خلفاء اور بادشاہوں نے مرتدین کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کیا ہے اور ان کے زمانہ کے علماء نے ان کے فعل کو موافق شرع ہونے پر

صفحہ 201

اتفاق کیا ہے۔

(شفاء ص ۲۵۸، ۲۵۷ ج ۲)

ہمیں اس مختصر گزارش میں تمام خلفاء کی تاریخ اور ان کے قتل کے واقعات کا استیعاب کرنا نہیں ہے۔ بلکہ چند خلفاء اسلام کے طرز عمل کا نمونہ پیش کر کے ایڈیٹر پیغام صلح کو یہ دکھلادینا ہے کہ آج نعمت اللہ مرزائی کے قتل پر کسی وجہ سے جوطرح طرح کے الزام دولت کابل پر لگائے جارہے ہیں وہ درحقیقت نہ صرف تمام خلفائے اسلام اور اسلامی سیاست پر عیب لگانا ہے۔ بلکہ خلفائے راشدین کی سنت پر بیہودہ اعتراض اور احکام قرآنیہ اور احادیث نبویہ پر الزام ہے۔ (نعوذ باللہ)

آئمہ اربعہ اور قتل مرتد

ایڈیٹر پیغام صلح نے جہاں تمام احکام قرآنیہ اور احادیث نبویہ اور تعامل سلف کو پس پشت ڈال کر قتل مرتد کا انکار کر دیا تو کیا عجب ہے کہ اس نے فقہ حنفی کے ساتھ بھی یہی معاملہ کیا اور نہایت وقاحت کے ساتھ کہہ دیا کہ: ’’فقہ حنفی میں اس کی کوئی تصریح نہیں ملتی۔‘‘ ہم یہ دکھلانا چاہتے ہیں کہ مرتد کے لئے سزائے قتل نہ فقط فقہ حنفی کا متفق علیہ مسئلہ ہے بلکہ کل فقہائے امت اور بالخصوص آئمہ اربعہؒ کا اجماعی حکم ہے۔

حضرت امام اعظم ابو حنیفہؒ

دیکھو جامع صغیر ص ۲۵۱ باب الارتداد واللحاق بدار الحرب مصنفہ حضرت امام محمدؒ :’’ ويعرض على المرتد حراً كان او عبداً الاسلام فان ابى قتل، ‘‘ مرتد پر اسلام پیش کیا جائے ۔ خواہ وہ آزاد ہو یا غلام ۔ پس اگر انکار کرے تو قتل کر دیا جائے۔ اور ملاحظہ ہو : ’’قال محمد ان شاء الا مام آخر المرتد ثلاثاً ان طمع فى توبة او ساله عن ذالك المرتد وان لم يطمع فى ذالك ولم يساله المرتد فقتله فلا باس بذالك . موطا امام محمدؒ باب المرتد ص ۳۷۱ ‘‘ حضرت امام محمدؒ فرماتے ہیں کہ اگر امام کو یہ توقع ہو کہ یہ مرتد توبہ کر لے گا یا خود مرتد مہلت طلب کرے تو امام کو اختیار ہے کہ تین روز تک اس کے قتل کو مؤخر کر دے۔ اور اگر نہ اس کو توبہ کی توقع ہو اور نہ خود مہلت طلب کرے۔ ایسی صورت میں اگر امام اس کو بلا مہلت دیئے قتل کر دے تو مضائقہ نہیں۔

حضرت امام مالکؒ

حضرت امام مالکؒ فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک مرتد کے معاملہ میں وہی قول قابل عمل ہے جو حضرت فاروق اعظمؓ نے فرمایا۔ یعنی مرتد کو تین روز مہلت دے کر توبہ کی طرف بلایا جائے ۔ اگر توبہ نہ کرے تو قتل کر دیا جائے۔

حضرت امام شافعیؒ سے اس مسئلہ میں دو روایتیں ہیں۔ اول یہ کہ مرتد کو کوئی مہلت نہ دی جائے ۔ بلکہ اگر وہ

صفحہ 202

دیں توبہ نہ کرے تو فوراً قتل کر دیا جائے ۔ اور دوسری یہ کہ تین دن کی مہلت دینے کے بعد توبہ نہ کرنے کی صورت میں قتل کر دیا جائے ۔

(شفاء ص ۲۲۶، ۲۲۷ ج ۲)

حضرت امام احمد بن حنبلؒ

امام احمد بن حنبلؒ کا بھی یہی مذہب نقل کیا جاتا ہے۔

(شفاء ص ۲۲۶ ج ۲)

اس قدر گزارش کے بعد ہمارے خیال میں کسی مسلمان کو جس طرح اس مسئلہ کے حکم میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہتی۔ اسی طرح اس میں بھی شبہ نہیں رہتا کہ مرزائی حضرات قطعیات اسلامیہ سے انکار کر دینے اور بے حیائی کے ساتھ نصوص شرعیہ کے ٹھکرانے کو کوئی بڑی بات نہیں سمجھتے۔ ويحسبونه هيناً وهو عندالله عظيم!

میری جان بھی قربان

ایک بار اس وفا کے پتلے کو چک ۶، تحصیل چشتیاں (ضلع بہاولنگر) جانا ہوا۔ چشتیاں تک ریل گاڑی میں سفر کیا۔ آگے چک تک منتظمین جلسہ نے تانگے کا انتظام کیا۔ راستے میں تانگہ خراب ہو گیا۔ طرفہ تماشا یہ ہوا کہ اسی تانگہ میں جلسہ کے لیے لاؤڈ سپیکر اور بیٹری بھی لدے ہوئے تھے۔ آپ کی علمی وجاہت کے پیش نظر یہ سوچا گیا کہ کسی اور سواری کا انتظام کیا جائے اور انتظار کیا جائے۔ آپ نے لے جانے والے ساتھی سے کہا ”میاں دوسری سواری کے آنے تک ہم پیدل چل کر جلسہ گاہ تک پہنچ جائیں گے“ آپ تو پیدل چل لیتے مگر مسئلہ لاؤڈ سپیکر اور بیٹری کا تھا۔ آپ نے اپنے ساتھی کو سمجھا بجھا کر آمادہ کر لیا کہ وہ لاؤڈ سپیکر سر پر اٹھائے اور آپ بیٹری اٹھائیں گے۔ فرمایا کرتے تھے ”بیٹری وزنی تھی، میں تھک کر چور ہو گیا مگر چلتا رہا اور دعا کرتا گیا اے اللہ ! تیرے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کی خدمت ہے قبول کر لینا۔ اس محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے میری جان بھی قربان ہو جائے تو زہے نصیب“۔

(”حضرت مولانا محمد علی جالندھری“ ص ۱۸۱۔ ۱۸۲’ از ڈاکٹر نور محمد غفاری)

فدا ہے جان میری عظمت ختم نبوت پر
کچل دوں گا خلاف اس کے کہیں ہو فتنہ گر پیدا