تحریک ختم نبوّت
8 ستمبر 1974ء تا 31 دسمبر 1985ء
۴
ترتیب و تحقیق
شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا مُدَّظِلُّہٗ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
تحریک ختم نبوت
8 ستمبر 1974ء تا 31 دسمبر 1985ء
۴
مولانا محمد عبداللہ معتصم
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
تقدیم
الحمد لله وكفى وسلام على عباده الذين اصطفے ۰ اما بعد!
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اگست ۱۹۹۱ء میں ”تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء“ کے نام سے کتاب شائع کی۔ جس میں مجلس احرار الاسلام کی قادیان کانفرنس اکتوبر ۱۹۳۴ء سے لے کر تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء کے اختتام تک کی جستہ جستہ تاریخ قلمبند کر دی گئی تھی۔
اس کے بعد تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء کی جلد اول مئی ۱۹۹۳ء میں شائع کی۔ اس میں ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے بعد سے لے کر ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت تک کے حالات و واقعات ترتیب سے قلمبند کئے گئے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی ۲۰ سالہ روئیدادوں کے مقدمات، مرکزی مجلس شوریٰ کے بیس سال کے اجلاسوں کی کارروائی، اخبارات و رسائل سے جو کچھ ملا، شامل کر دیا گیا تا کہ ریکارڈ ایک بار محفوظ ہو جائے۔ ۲۹؍ مئی ۱۹۷۴ء کو جو سانحہ ربوہ (چناب نگر) ریلوے اسٹیشن پر پیش آیا۔ اس کے سلسلہ میں گورنمنٹ پنجاب نے جناب کے۔ایم صمدانی پر مشتمل عدالتی کمیشن قائم کیا۔ اس کی لمحہ لمحہ کی کارروائی اور کمیشن میں گواہان کے تمام بیانات کو بھی اس جلد میں سمو دیا گیا۔ غرض سوا بارہ سو صفحات کی جلد میں ۱۹۵۳ء کی تحریک کے بعد سے لے کر ۱۹۷۴ء کی تحریک کے آغاز کے تمام واقعات کو ہی نہیں بلکہ یوں سمجھئے کہ اکیس سالہ تحفظ ختم نبوت کی جدوجہد کی تاریخ کو محفوظ کر دیا گیا۔
تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء کی دوسری جلد قادیانی مسئلہ پر قومی اسمبلی میں جو کارروائی ہوئی اس کے مباحث پر مشتمل تھی۔ یہ جلد فروری ۱۹۹۴ء میں شائع ہوئی۔
تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء کی تیسری جلد جو تحریک ختم نبوت کے آغاز ۲۹؍ مئی ۱۹۷۴ء، سے لے کر ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء تک کی کامیابی تحریک کی لمحہ لمحہ کی کارروائی پر مشتمل تھی۔ اس میں قلمبند کر دی گئی۔ یہ جلد جون ۱۹۹۵ء میں شائع ہوئی۔ کتاب تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء ایک جلد، تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء کی تین جلدیں گویا ان چار جلدوں میں تحفظ ختم نبوت کے حوالہ سے ۱۹۳۴ء سے لے کر ۱۹۷۴ء تک پچاس سالہ جدوجہد کی تاریخ کو قلمبند کر دیا گیا۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبد اللہ معتصم
خوب یاد ہے کہ تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء کی کتاب چھپ کر ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کے موقع پر موصول ہوئی۔ اس کا پہلا نسخہ حضرت الامیر مولانا خواجہ خان محمد کی خدمت میں فقیر راقم نے پیش کیا۔ بہت سارے دوست موجود تھے۔ حضرت خواجہ صاحب نے بہت ہی خوشی کا اظہار فرمایا، دعاؤں سے نوازا۔ اسی موقعہ پر فقیر نے عرض کیا کہ : ’’حضرت ! اب اس کے بعد تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء مرتب کرنے کا ارادہ ہے۔ آپ دعا فرمادیں۔ حضرت نے فرمایا ضرور ۔ اللہ تعالیٰ توفیق بخشیں۔ ہمت کریں ، بہت ضروری ہے۔ فقیر نے عرض کیا کہ حضرت ! اس کے بعد ۱۹۸۴ء کی بھی تحریک ختم نبوت کو بھی مرتب کرنا ہے۔ اس پر حضرت قبلہ صرف مسکرا دئیے۔ کچھ فرمایا نہیں ۔‘‘
کمرہ سے باہر نکلے تو صاحبزادہ محمد عابد صاحب مرحوم سے فقیر نے عرض کیا کہ ۱۹۷۴ء کی تحریک پر کتاب مرتب کرنے کی تو حضرت قبلہ نے دعا فرمادی ہے۔ ۱۹۸۴ء کی کتاب مرتب کرنے کے ارادہ کے اظہار پر مسکرائے ہیں ۔ کچھ فرمایا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ خیر کریں۔ صاحبزادہ محمد عابد صاحب مرحوم نے فرمایا کہ یہ آپ کا وہم ہے۔ ۱۹۷۴ء کی تحریک پر کتاب مرتب کریں ۔ جب وہ پیش کریں تو تحریک ختم نبوت ۱۹۸۴ء کے لئے دعا کرالینا۔ بات آئی گئی ہو گئی ۔ اس دوران میں حضرت لدھیانوی کی تحفہ قادیانیت چھ جلد ، علامہ ابو القاسم رفیق دلاوری کی ’’ائمہ تلبیس‘‘ ، ’’رئیس قادیان‘‘ پروفیسر الیاس برنی مرحوم کی کتب: ’’قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ‘‘، ’’قادیانی قول وفعل‘‘ ، ’’مقدمہ قادیانی مذہب‘‘، ’’فتاویٰ ختم نبوت‘‘ تین جلد ، ’’قادیانی شبہات کے جوابات‘‘ تین جلد ، یہ سب شائع ہو گئیں ۔ تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء کی تین جلدیں بھی شائع ہو گئیں۔ احتساب قادیانیت کی ساٹھ جلدیں بھی شائع ہو گئیں ۔ لیکن وعدہ ، ارادہ، فرض اور قرض کے باوجود ۱۹۸۴ء کی تحریک ختم نبوت مرتب کرنے کی توفیق نہ ہوئی۔ ایک بار اس پر محنت بھی کی۔ بہت سارا مواد جمع بھی کر لیا۔ لیکن یاد نہیں کہ کیا رکاوٹ ہوئی کہ وہ کام رک گیا۔ نہ صرف رک گیا ۔ بلکہ سارا جمع شدہ مواد بھی تتر بتر ہو گیا۔ حتیٰ کہ جون ۱۹۹۵ء سے لے کر جون ۲۰۱۲ء لے کر بیس سال تک کا عرصہ گزر گیا۔ لیکن ۱۹۸۴ء کی تحریک ختم نبوت پر مشتمل کتاب لکھنے کا موقعہ نہ مل سکا۔ اب ایک بار قارئین اس بات کو ذہن میں لائیں کہ اس کتاب کی ترتیب کے ارادہ پر حضرت خواجہ صاحب مرحوم مسکرائے تھے ۔ دعا نہ فرمائی اور فقیر کو اسی وقت کھٹکا لگ گیا تھا۔ یہ فقیر کا وہم تھا یا حضرت قبلہ کا دعا نہ کرنا۔ ’’اتقوا فراسة المؤمن فانه ينظر بنور الله ‘‘ کا مظہر اتم تھا۔ خیر جانے دیجئے۔ ٹھیک ہے۔ لیکن واقعہ یہی ہے جو عرض کر دیا ہے۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
گزشتہ سال مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی شعبہ نشر واشاعت میں کام لینے کے لئے قدرت حق تعالیٰ نے حضرت مولانا محمد عبداللہ معتصم مدظلہ کو بھجوا دیا۔ آپ کا آبائی تعلق چارسدہ کے معروف سادات کے علمی گھرانہ سے ہے اور جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے فارغ التحصیل ہیں۔ سادات اور بنوری ٹاؤن یہ دو نسبتیں کام کر گئیں۔ ان کا دل لگ گیا تو فقیر نے ان سے استدعا کی کہ تحریک ختم نبوت ۱۹۸۲ء پر کام رکا ہوا ہے یہ کام اپنے ذمہ لے لیں۔
انہوں نے اللہ رب العزت کے کرم واحسان کے سہارے کام کا آغاز کر دیا۔ دن رات اس میں لگ گئے۔ انہوں نے کام کرنے کے لئے ”منہج“ یہ قائم کیا کہ:
- ۱...... تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء کے بعد ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء سے دسمبر ۱۹۸۲ء تک تحفظ ختم نبوت کی جدوجہد کے حوالہ سے گیارہ سال کی
تاریخ قلمبند کر دی جائے۔ اس میں طوالت بھی نہ ہو اور اجمال وابہام بھی نہ ہو۔ کوئی واقعہ چھوٹنے بھی نہ پائے اور کتاب طوالت کا بھی شکار نہ ہو۔ اس میں وہ اس حد تک کامیاب ہوئے کہ جس پر ڈھیروں دعاؤں کے مستحق ہیں۔
- ۲...... آپ نے ان گیارہ سال کی ختم نبوت کے تحفظ کی تاریخ قلمبند کرتے ہوئے اس دوران میں اس عنوان پر کام کرنے والی
شخصیات کے سانحہ ارتحال پیش آئے تو ان شخصیات کی سوانح پر بھی جاندار اور عمدہ مقالے جگہ جگہ تحریر کر دیئے ہیں۔
- ۳...... اس عہد میں مجلس کے جلسوں، کانفرنسوں، سیمیناروں، کورسز، اجلاسوں اور مبلغین حضرات کی تبلیغی سرگرمیوں کا بھی ساتھ ساتھ
ذکر کرتے چلے گئے ہیں۔ ان کو جمع کرنے کا مقصد وحید یہ تھا کہ یہ جدوجہد اور سرگزشت تاریخ کے سینہ میں محفوظ ہو جائے۔
- ۴...... کوشش کی گئی کہ اگر ایک واقعہ تین سال کے عرصہ کو محیط ہے تو اسے ایک جگہ ذکر کر دیا جائے۔ اس سے تحریر کی روانی وتسلسل میں تو
ضرور فرق آیا ہوگا۔ لیکن تکرار کی زحمت سے جان بچی، لاکھوں پائے۔
- ۵...... اس دوران کے بزرگوں کے حالات و واقعات پر مشتمل اکابر میں سے کسی کی تحریر ملی تو بعینہ اسے نقل کر دیا گیا تا کہ یہ جواہرات بھی
محفوظ ہو جائیں۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب وتحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
- ......۶ یہ تمام تر مواد عالمی مجلس کے ترجمان ہفت روزہ ”لولاک“ فیصل آباد، ہفت روزہ ”چٹان“ لاہور، ہفت روزہ ”خدام الدین“،
ہفت روزہ ”ترجمان اسلام“ لاہور ایسے مؤقر رسائل و جرائد سے لیا گیا ہے۔
قومی اخبارات، نوائے وقت، جنگ، امروز، مشرق، جسارت، کوہستان سے بھی مواد اخذ کیا گیا ہے اور ننانوے فیصد اہتمام کیا گیا کہ جو چیز جہاں سے حاصل کی ہے اس کا حوالہ ساتھ درج کر دیا ہے۔ اس سے کتاب کی ثقاہت دوبالا ہوگئی ہے۔
- ......۷ ستمبر ۱۹۷۴ء سے اپریل ۱۹۸۴ء تک کے واقعات کو ترتیب وتسلسل سے ایسے پرو دیا ہے جیسے جوہری جواہرات کی مالا تیار کرتا ہے۔
- ......۸ واقعات کے بیان میں خواہ مخواہ کریڈٹ لینے کے لئے تصنع وغیرہ کے عمل شنیع سے احتیاط برتی گئی ہے۔
- ......۹ مسلکی یا جماعتی لحاظ سے کسی کو نظر انداز کرنا یا کسی کو نمایاں کرنے سے بھی کتاب کو داغدار نہیں کیا گیا۔
- ......۱۰ یہ کتاب بالکل ایسی خوبصورتی سے تحریر کی گئی ہے کہ پڑھنے پر یہ کتاب قاری کا ہاتھ تھامے گی۔ لہلاتے فصلوں، میدانوں،
دریاؤں، صحراؤں سے گزار کر کوہستانوں کے دامن میں حقائق کے آبشاروں سے فیضیاب کرتے ہوئے کامیابیوں کی چوٹیوں پر لے جا کر پورے ماحول سے دل و دماغ کو معطر کر دے گی۔ انشاء اللہ العزیز !
فقیر راقم خدا لگتی عرض کرتا ہے کہ مولانا عبداللہ معتصم اس خوبصورتی سے اپنی کشتی کو کامیابی کے ساحل پر لائے ہیں کہ اس پر بے ساختہ انہیں خراج تحسین پیش کرنے کو دل چاہتا ہے۔
فقیر راقم اگر خود یہ کتاب مرتب کرنا چاہتا تو ایسے خوبصورت انداز میں مرتب نہ کر پاتا۔ مقصد یہ کہ وہ توقعات پر پورا اترے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس محنت پر ان کو اجر بھی پورا پورا نصیب فرمائیں۔
۱۹۸۴ء سے اس وقت ۲۰۱۵ء تک پھر تیس سال ہو گئے ہیں۔ اس حصۂ تاریخ کو کون قلمبند کرنے کی سعادت حاصل کرے گا؟ اسے آنے والے کل کے حوالہ کرتے ہوئے اجازت چاہتا ہوں۔
دعا گو و جو: فقیر اللہ وسایا ! خادم، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان ۱۶؍ شوال المکرم ۱۴۳۶ھ، مطابق ۲؍ اگست ۲۰۱۵ء
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
تحریک ختم نبوت
کے سلسلہ میں
۱۹۷۴ء
کے
حالات و واقعات
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت نے قادیانیوں کے عزائم کو پوری طرح کھول کر مسلم اقوام کے سامنے رکھ دیا۔ ہزارہا لوگوں نے اس تحریک میں حصہ لیا، جیلوں میں گئے، نقصانات برداشت کئے، شہید ہوئے، جانی و مالی ایثار وقربانی سے دوچار ہوئے۔ اس موقع پر قوم نے وسیع پیمانے پر یہ جان لیا کہ اس کے وجود میں ایک ایسا ناسور موجود ہے جو اسے اندر ہی اندر کھا رہا ہے اور اگر وہ موجود رہا تو ملت کے انتشار وافتراق اور وطن عزیز میں بدامنی میں شب و روز اضافہ ہوتا جائے گا اور ملت کی بے خبری و بے تعلقی کے نتیجے میں ایسا حادثہ بھی پیش آ سکتا ہے کہ اسلام کے نام پر حاصل کردہ مملکت پر ایک غدار اور دشمن اسلام اقلیت قابض ہو جائے اور پھر ملت اسلامیہ کا وجود بھی خطرے میں پڑ جائے۔ اس احساس کے نتیجے میں ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کے نام سے ایک جماعت وجود میں آگئی۔ جس کا واحد مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں میں مذہبی شعور کو بیدار رکھا جائے۔ ملت اسلامیہ کے وجود میں پیدا شدہ اس ناسور کو ختم کیا جائے اور سارقین ختم نبوت کا تعاقب کیا جائے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت میں تمام مکاتب فکر کے مسلمان بلا امتیاز مسلک و نظریات کے قادیانیوں کے خلاف برسرپیکار رہے۔
تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء سے ۲۱ سال کے طویل اور صبر آزما عرصے میں ہزار ہا قربانیوں، شہادتوں، اسارتوں اور ایک عظیم جدوجہد کے بعد تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء پر منتج ہوئی۔ اس عرصے میں تحریک کن کن مراحل سے گزری، کیا واقعات وحادثات پیش آئے اور تحریک کسی نشیب و فراز کا شکار رہی اس کی مکمل روداد مولانا اللہ وسایا مدظلہ کی دو کتابوں ”تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء اور تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء میں مطالعہ فرمائیں۔“
۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت اصل میں تو ۱۹۵۳ء کی تحریک کا تتمہ تھی۔ لیکن اس کو عروج بخشا ہے۔ ۲۹ مئی کے سانحے کے بعد مسلمانوں کے ردعمل نے، جب اس دور کے مرزائی سربراہ مرزا ناصر احمد کی شہ پر نشتر میڈیکل کالج ملتان کے لگ بھگ ایک سو طلبہ کو مرزائی غنڈوں نے چناب نگر اسٹیشن پر بری طرح زدوکوب کیا۔ جس کے نتیجے میں مسلمانوں میں غم وغصہ کی ایک طوفانی لہر دوڑی۔ اس واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ ۲۲ مئی ۱۹۷۴ء کو نشتر میڈیکل کالج ملتان کے تقریباً سو طلبہ سیاحت کی غرض سے پشاور جارہے تھے تو ربوہ (چناب نگر) اسٹیشن پر قادیانیوں نے اپنی روزمرہ کی عادت کے مطابق اپنا لٹریچر تقسیم کیا۔ ردعمل میں ان مسلمان طلباء نے ”ختم نبوت زندہ باد“ کے نعرے لگائے۔ مرزائیوں نے مرکز ربوہ (چناب نگر) کے حسب ہدایت پخت و پز کی اور واپسی پر ان طلباء کی پٹائی کا فیصلہ کیا گیا۔ چنانچہ جب ۲۹ مئی کو چناب ایکسپریس پشاور سے چلی تو ربوہ کے اوباش تیار ہو گئے اور گاڑی کی آمد سے پہلے تقریباً قادیانی جماعت کا ہجوم لاٹھیوں، کلہاڑیوں، ہاکیوں، خنجروں، تلواروں اور آہنی مُکّوں سے مسلح ہو کر پلیٹ فارم پر جمع ہو گیا۔ جب گاڑی ربوہ سے پہلے نشتر آباد کے سٹیشن پر پہنچی تو اس کے قادیانی العقیدہ اسٹیشن ماسٹر نے ربوہ (چناب نگر) کے ہم عقیدہ اسٹیشن ماسٹر کو طلبہ کی بوگی کا نشان دیا اور غنڈوں کو مستعد کرنے کے لئے گاڑی کی روانگی میں تاخیر کی۔ پھر جب گاڑی اسٹیشن پر پہنچی تو ان ہزارہا افراد نے طلبہ کی بوگی کے دروازے اور کھڑکیاں توڑ ڈالیں۔ اندر گھس گئے اور تمام طلباء کو بری طرح زدوکوب کیا۔ ۳۰ طلباء شدید زخمی ہوئے۔ نشتر میڈیکل کالج یونین کے صدر ارباب عالم کو اس بری طرح پیٹا کہ وہ بے ہوش ہو گئے۔ ربوہ کے مرزائی اسٹیشن ماسٹر نے سگنل ہونے کے باوجود گاڑی کو چلنے نہ دیا۔ وہ قادیانی غنڈوں کی حوصلہ افزائی کرتا رہا۔“
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
نوائے وقت نامہ نگار کے مطابق ۵۰،۶۰ قادیانی سرگودھا سے ٹرین میں سوار ہوئے تاکہ اس کارخیر میں حصہ لیں اور طلباء کی نشاندہی کریں۔ ان حملہ آوروں میں قادیانیوں کے کالج تعلیم الاسلام کالج کے طلباء، بعض اساتذہ، اکثر دوکاندار اور کئی ایک ربوہ کے قصر خلافت کے معتمدین تھے۔ انہوں نے طلباء کی پٹائی کے علاوہ ان کا سامان چھین لیا اور مال غنیمت سمجھ کر ان کو لے گئے۔ دلچسپ پہلو یہ تھا کہ مرزائی اپنے ساتھ بازاری فطرت کی عورتیں بھی لائے تھے۔ جو طلباء کی پٹائی پر تالیاں بجاتیں اور رقص کرتی رہیں۔ مسلمان طلباء کا یہ لٹا پٹا قافلہ لے کر جب گاڑی لائل پور (فیصل آباد) پہنچی تو ایک طوفان برپا ہو گیا۔ مسلمانوں کا احتجاج کھول رہا تھا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما اور ہفت روزہ لولاک کے ایڈیٹر حضرت مولانا تاج محمود سانحے کی خبر پاتے ہی فوراً اسٹیشن پہنچ گئے۔ عوام کو صبر کی تلقین کی اور طلباء کو یقین دلایا کہ جو ضربیں ان کے جسم پر لگی ہیں وہ مرزائیت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوں گی۔ مرزائیوں کی دسیسہ کاریوں کی دیگر واقعات کی طرح اس واقعہ کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔ بلکہ ربوہ (چناب نگر) کے شعبدہ بازوں کو کیفر کردار تک پہنچا کر دم لیں گے۔
(ملخص تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء، مولانا اللہ وسایا)
اس واقعہ کے ردعمل میں پورے ملک میں ایک ولولہ انگیز تحریک اٹھی۔ ملکی تاریخ میں یہ پہلی تحریک تھی جس کی لپیٹ میں پورا ملک آگیا۔ تمام شہروں اور قصبوں کے علاوہ تحریک ہر گاؤں کے چوپال تک چلی۔ ملک کا کوئی ٹکڑا نہ رہا۔ جہاں قادیانیت کے خلاف نعرۂ رستاخیز نہ گونجا ہو۔ عوام کے میدانوں اور حکومت کے ایوانوں میں تحریک کے شعلے بھڑکتے رہے۔ ملک کے تمام مکاتب فکر مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم پر جمع ہو گئے اور سب کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ مسلمانوں کے اس اتحاد و اتفاق کا نتیجہ تھا کہ ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کو پاکستان کی پاک مٹی سے مسیلمہ پنجاب کی اسرائیلی روح رخصت ہوگئی۔
قومی اسمبلی میں بل کی منظوری
۲۹؍مئی سے ۷؍ستمبر تک ملک میں ایک بھر پور منظم اور پر امن تحریک چلی۔ حکومت نے دھمکی، دھونس، لاٹھی چارج، فائرنگ اور گرفتاری کے علاوہ ہر حربہ اور ہتھکنڈا آزمایا۔ لیکن مسلمانوں کے جوش وجذبے اور استقامت سے اس پر یہ بات واضح ہوگئی کہ وہ مسئلہ ختم نبوت کے بارے میں نہ تو گو مگو کی پالیسی اختیار کرسکتی ہے اور نہ اس سلسلے میں مسلمان کسی قسم کی مداہنت یا مصلحت قبول کرنے پر آمادہ ہوں گے۔ ۷؍ ستمبر وہ مبارک دن تھا جس میں قومی پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ تحریک ختم نبوت کی اس بے نظیر فتح پر تمام ملک میں مسرت کی لہر دوڑ گئی۔ لوگوں نے شہر شہر، قریہ قریہ مٹھائیاں بانٹیں۔ ہر کہیں مسلمان نے اپنے مکانوں پر چراغاں کیا۔
اس نوے سالہ مسئلہ کو حل کرنے کے لئے قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے تقریباً دو ماہ میں ۱۲۸ اجلاس کئے اور ۹۶ گھنٹے کی نشستیں جمائیں۔ مفکر اسلام حضرت مفتی محمود، مولانا شاہ احمد نورانی، پروفیسر غفور احمد، چوہدری ظہور الٰہی، مسٹر مولا بخش سومرو اور ان کے رفقاء نے صبح وشام کی مساعی سے اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے قائدین کے بھر پور تعاون سے وہ تمام لٹریچر جمع کیا جو خصوصی کمیٹی کے لئے ضروری تھا۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری کی زیر سرکردگی فاتح قادیان مولانا محمد حیات، مولانا عبدالرحیم اشعر، مولانا تاج محمود، مولانا محمد شریف جالندھری اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے دیگر علماء اسلام آباد میں مذہبی و سیاسی لٹریچر جمع کرنے میں مصروف رہے۔ ان حضرات نے مرزائیت سے متعلق مذہبی اور سیاسی مواد جمع کیا۔ جس سے مرزائیت کی مذہبی و سیاسی حیثیت کو سمجھا، پرکھا، ناپا اور تولا جاسکے۔ اس کارگزاری کی مذہبی حصہ کی ترتیب وتدوین حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب جسٹس سپریم کورٹ وفاقی شرعی عدالت اور سیاسی حصہ کی ترتیب
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
حضرت مولانا سمیع الحق ممبر سینٹ آف پاکستان نے کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے فوری طور پر ۸۰ ہزار روپے کی لاگت سے اسے ”ملت اسلامیہ کا موقف“ کے نام سے شائع کر دیا۔ جسے مفکر اسلام مولانا مفتی محمود نے قومی اسمبلی میں پڑھا۔ احتساب قادیانیت جلد ۱۵ میں یہ موجود ہے۔ اصحاب ذوق ضرور مطالعہ فرمائیں۔
آغا شورش کاشمیری نے ۷ ستمبر کی پارلیمنٹ کی کارروائی مختصر الفاظ میں ذکر کی ہے جو نہایت دلچسپ ہے۔ معمولی حک و اضافہ کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں۔
”۷ ستمبر کی شام کو پون صدی پر پھیلی ہوئی جدوجہد تاریخ ساز لمحوں میں سمٹ آئی۔ ان لمحات کا منظر نا قابل فراموش تھا۔ قومی اسمبلی کی کارروائی کا آغاز قرآن پاک کی تلاوت سے ہوا۔ اس کے بعد چار بج کر چالیس منٹ پر مرکزی وزیر قانون جناب عبد الحفیظ پیرزادہ نے آئین میں ترمیم کا بل پیش کیا۔ اس کے فوراً بعد انہوں نے اسمبلی کے بعض قواعد کو معطل کرنے کی دو تحریکیں پیش کیں تاکہ ان ترامیم کو تیزی کے ساتھ مختلف مرحلوں سے گزارا جا سکے۔ ان دستوری ضروریات کو پورا کرنے، ترمیمی بل کو پڑھنے اور اسے ایوان کے سامنے پیش کرنے میں صرف تیرہ منٹ صرف ہوئے اور چار بج کر ترپن منٹ پر بل پہلے مرحلے سے گزر چکا تھا۔ ان تیرہ منٹوں میں ان متواتر اور مسلسل تالیوں کا وقت بھی شامل ہے جو بل پیش کرنے کے دوران بار بار بلند ہوتی رہیں۔ قومی اسمبلی کے تمام ارکان پر مشتمل خصوصی کمیٹی نے متفقہ طور پر جو بل پیش کیا تھا اس کے مطابق دستور کی دفعہ ۱۰۶ میں دی گئی اقلیتوں کی فہرست میں ”قادیانی گروہ اور لاہوری گروہ“ کو بھی شامل کر دیا گیا اور دفعہ ۲۶۰ میں ایک نئی شق کا اضافہ کیا گیا جس کے ذریعے ”ہر فرد جو حضور ﷺ کے بعد کسی مدعی نبوت کو پیغمبر یا مذہبی مصلح مانتا، وہ آئین یا قانون کے مقاصد کے ضمن میں مسلمان نہیں ہے۔“ اس بل کو جب وزیر قانون پیش کر رہے تھے تو فقرے فقرے پر بعض دفعہ تو لفظ لفظ پر قومی اسمبلی کے اکثر ارکان جذبات سے بے قابو ہو کر ڈیسک اور تالیاں بجا رہے تھے اور جیسا کہ بعد میں وزیر اعظم بھٹو نے اپنی تقریر میں کہا: ”در حقیقت ہم سب جذبات کے طوفان سے معرکہ آراء تھے۔“
اگلے تین منٹوں میں بل دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا تھا اور جناب پیرزادہ آئین میں ترمیم کے بل کو فی الفور زیر غور لانے کی تحریک پیش کر چکے تھے۔ گھڑی کی سوئیاں چار بج کر چھپن منٹ پر تھیں جناب پیرزادہ سے سپیکر نے کہا کہ وہ بل پر تقریر کریں ۔ جناب پیرزادہ اٹھے اور گویا ہوئے کہ وہ اس پر ایک لفظ کا بھی اضافہ نہیں کریں گے ۔ کیونکہ یہ بل پوری اسمبلی پر مشتمل کمیٹی کا متفق علیہ ہے اور اس ضمن میں انہوں نے چند فقرے کہے۔ جناب پیرزادہ بیٹھے ہی تھے کہ مفتی محمود صاحب اٹھے ۔ انہوں نے قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے آئین میں زیر بحث ترمیم کی مکمل تائید کا اعلان کیا اور اس اقدام پر وزیر اعظم اور ارکان حزب اقتدار کو خراج تحسین پیش کیا۔ پانچ بج کر پانچ منٹ پر سپیکر قومی اسمبلی صاحبزادہ فاروق علی نے قائد ایوان جناب ذو الفقار علی بھٹو کو اظہار خیال کی دعوت دی ۔ جناب بھٹو صاحب کی تقریر چھبیس منٹ تک جاری رہی۔
جناب ذو الفقار علی بھٹو کی تقریر کے بعد بل کا تیسرا مرحلہ (خواندگی) شروع ہوا اور وزیر قانون جناب عبد الحفیظ پیرزادہ نے بل منظوری کے لئے ایوان کے سامنے پیش کیا۔ جب صاحبزادہ فاروق علی خان سپیکر قومی اسمبلی نے ڈیسک بجانے کی فلک شگاف گونج میں اعلان کیا کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے والی ترمیم کے حق میں ایک سو تیس ووٹ آئے ہیں۔ جب کہ مخالفت میں ایک ووٹ بھی نہیں ڈالا گیا۔ اس وقت پانچ بج کر باون منٹ تھے ۔ قومی اسمبلی کے معزز ارکان نے اس فتنہ کا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے سدباب کر دیا جو پون صدی سے ملت اسلامیہ کے لئے درد سر بنا ہوا تھا۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
ناصر احمد کی غزل گوئی سبک انجام ہے
اک فسانہ ساز امت ہو گئی اتنی ذلیل
خواجہ گیہاں کا پاکستان کو انعام ہے
اپنی پیدائش سے جو انگریز کے جاسوس تھے
میرے ہاتھوں ہی سے ان کی مرگ بے ہنگام ہے
(شورش کاشمیری)
قوم کے مخلص نمائندوں نے شورش حل کیا
خواجہ کونینؐ کا فیضان رحمت بار دیکھ
عشق پیغمبرؐ کی دولت محو ہو سکتی نہیں
رنگ لایا جذبہ قربانی و ایثار دیکھ
غیرت دین براہیمی کا پرچم گڑ گیا
نوجواں خواب گراں سے ہو گئے بیدار دیکھ
ان کی نظروں میں کہاں جچتا تھا شاہوں کا جلال
سید الکونینؐ کے عشاق کا دربار دیکھ
بت کدے گرنے لگے اسلام کی یلغار سے
کانپ اٹھے نعرہ تکبیر سے کفار دیکھ
جب تخیل کا احاطہ کر گئی نعت نبیؐ
خامہ عنبر شمامہ ہو گیا تلوار دیکھ
واقعات ماضی مرحوم کے پیش نظر
وقت کے اس موڑ پر حالات کی رفتار دیکھ
جھک نہیں سکتا رسالت کے حدی خوانوں کا سر
رک نہیں سکتی کبھی اسلام کی یلغار دیکھ
قوم کے مخلص نمائندوں نے شورش حل کیا
جو قضیہ تھا کبھی دشوار سے دشوار دیکھ
(تحریک ختم نبوت، شورش کاشمیری)
سینٹ میں بل کی منظوری
۷؍ستمبر کے دن ہی شام ساڑھے سات بجے سینٹ کا اجلاس بلایا گیا۔ سینٹ کی کارروائی کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا اور اس کے لئے موقع کے اعتبار سے مناسب آیات کا چناؤ کیا گیا تھا۔ تلاوت اور ترجمے کے بعد سات بج کر ۲۵ منٹ پر کارروائی کا آغاز ہوا۔ جناب عبدالحفیظ پیرزادہ نے جو مرکزی وزیر ہونے کے ناطے سینٹ میں بیٹھ سکتے تھے، نے قومی اسمبلی کا منظور شدہ بل ”سینٹ“ میں پیش کیا۔ ترمیمی بل پر منظوری کے لئے دستوری ضروریات سے گزرتے ہوئے دوبار ایوان کے اندر رائے شماری ہوئی۔ آٹھ بجے سینٹ کے چیئرمین جناب حبیب اللہ خان نے آئین میں ترمیم کا اعلان کر کے بہ اتفاق رائے مرزائیوں کے غیر مسلم اقلیت ہونے کا دستوری عمل مکمل کر دیا۔ قومی اسمبلی کی طرح سینٹ میں بھی کوئی ووٹ قرارداد کے خلاف نہیں آیا۔
(ہفت روزہ لیل ونہار مورخہ ۱۳، ۱۹؍ستمبر ۱۹۷۴ء)
قرارداد کی منظوری پر مسلمانوں کا اظہار مسرت
۷؍ستمبر کو رات ۸ بجے جب ریڈیو پاکستان سے یہ خوش کن خبر نشر ہوئی تو لوگ بے اختیار سڑکوں پر نکل آئے۔ بعض جذباتی لوگ تو اس خوشخبری سے بچوں کی طرح رقص کرنے لگے۔ مبارک، سلامت کا سلسلہ شروع ہوا۔ مٹھائیاں تقسیم ہونا شروع ہوئیں۔ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت نے ۱۳؍ستمبر جمعہ کو بطور یوم تشکر منانے کی اپیل کی۔ لیکن ملک بھر میں ۷؍ستمبر سے ۱۷؍ستمبر تک یوم تشکر، یوم مسرت اور یوم فتح منایا گیا۔ اکابرین کے منع کرنے کے باوجود چراغاں ہوا اور ایسا چراغاں کہ اس کی مثال نہیں ملتی۔ دنیا بھر سے مسلمانوں نے اس مبارک قرارداد پر
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب وتحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
اسلامیان پاکستان کو مبارک باد دی۔ ملک کی مقتدر شخصیات نے مسرت واطمینان کا اظہار کیا۔
شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوری کا خیر مقدمی بیان
”مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ اور مرکزی مجلس عمل کے صدر حضرت مولانا محمد یوسف بنوری نے قرار داد پاس ہونے پر تمام مسلمانوں کو مبارک باد دی۔ انہوں نے اپنے ایک اخباری بیان میں کہا کہ مرزائیت ایک بڑا اور دردناک اور حیرت ناک فتنہ تھا۔ اللہ کا شکر ہے، اللہ نے ہمیں اس فتنے سے بچالیا۔ برطانیہ نے اس ملک میں اپنا جانشین چھوڑا تھا۔ جس مقصد کے لئے پاکستان بنا تھا اس فتنے کی موجودگی میں کوئی توقع نہ تھی کہ ملک باقی رہ سکے۔ مگر اللہ کو یہ ملک بچانا مقصود تھا۔ ۲۷ سال بعد مایوس کن حالات میں ایسی صورت پیدا ہوئی کہ مسلمانوں کو فتح عظیم حاصل ہوئی۔ مرزائیوں کے دماغ خراب ہو گئے تھے۔ بحری، فضائی افواج کے کمانڈر ان کے تھے اور جنرل ٹکا خان کے نیچے چودہ کمانڈر مرزائی تھے۔ اچانک چیونٹی کے پر نکل آئے اور ہلاکت کے سامان بن گئے۔ ہم بھی بیدار ہو گئے۔ دعائیں کیں۔ تدبیریں ہوئیں اور ہم نے بھٹو صاحب کو مجبور کر دیا کہ آپ کو یہ فیصلہ کرنا پڑے گا۔ الحمدللہ! کہ ۶ ستمبر کی رات بارہ بجے بھٹو صاحب مان گئے اور ۷ ستمبر کو اسمبلی کے ذریعہ اس کا فیصلہ کرا دیا گیا۔ حضرت بنوری نے حکمران طبقہ کو مخاطب کر کے فرمایا۔ تمہاری کرسی کے تو وہ خود دشمن تھے۔ خدا تمہیں کرسی مبارک کرے۔ ہم بوریہ نشینوں کو کرسی سے کیا غرض؟ حضرت بنوری نے بیان کے آخر میں مسلمانان عالم کو اس حوصلہ افزاء فیصلے کی ایک مرتبہ پھر مبارک باد دی۔“
مختلف شہروں میں منائے گئے یوم تشکر کے مناظر
قرار داد چونکہ مسلمانوں کے دلوں کی چاہ اور آرزوؤں کے عین مطابق تھی۔ اس لئے مسلمانوں کی مسرت اور شادمانی ایک بدیہی بات تھی۔ جن لوگوں تک یہ خبر پہنچتی رہی وہ خوشی سے سرشار ہوتے گئے۔ مسلمانوں نے اس موقع پر ایسا جشن منایا کہ عید کے موقع پر بھی ایسی نظیر نظر نہیں آتی۔ ۱۳؍ستمبر کو مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی اپیل پر پورے ملک میں یوم تشکر منایا گیا۔ چند ایک شہروں کے مناظر سپرد قلم کئے جاتے ہیں۔
لائل پور (موجودہ فیصل آباد)
لائل پور کی کاروباری، انجمنوں، سیاسی و مذہبی تنظیموں کی اپیل پر وسیع پیمانے پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے پر ہفتہ تشکر منانے کا پروگرام شروع ہو گیا ہے۔ اس دوران پورے شہر میں چراغاں کیا جا رہا ہے۔ غرباء میں کھانا تقسیم کیا جا رہا ہے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کا اجلاس مولانا تاج محمود کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں نامور خطباء نے بیانات کئے۔ تحفظ ختم نبوت کے شہداء کے لئے قرآن خوانی کی گئی۔
(مشرق، مؤرخہ ۱۰؍ ستمبر ۱۹۷۴ء)
آج لائل پور میں جشن کا آخری دن ہے۔ یوم تشکر منایا جا رہا ہے۔ مرکزی جامع مسجد گول غلام محمد آباد میں جلسہ منعقد کیا گیا ہے۔ مولانا ضیاء القاسمی، مولانا عبدالحکیم ایم.این.اے، ڈاکٹر حلیم رضا ایم.پی.اے اور چوہدری غلام نبی ایم.این.اے سٹیج پر تشریف فرما ہیں۔ اجلاس کی صدارتی نشست پر تحفظ ختم نبوت کے ضلعی کنوئیر مولانا غازی محمد فضل رضا براجمان ہیں۔ خطباء عظمت ناموس مصطفیٰ ﷺ، ختم نبوت کی اہمیت اور دیگر متعلقہ موضوعات پر اظہار خیال فرما رہے ہیں۔ سامعین اٹھ اٹھ کر داد دیتے ہیں۔ جلسہ کے تمام شرکاء کے چہروں پر فتح کا نور اور طمانیت کی مسکان واضح نظر آتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق آج لائل پور میں پانچ لاکھ روپے کی مٹھائی تقسیم ہوئی ہے۔ حکومت،
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء
ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
علماء کرام، پارلیمنٹ کے ارکان اور قرارداد کے محرکین کی تعریف، توصیف سے ہر زبان تر ہے۔ مختلف مقامات پر رنگ برنگے بینرز لگے نظر آتے ہیں۔ جس پر وزیر اعظم ، ارکان اسمبلی اور علماء کرام کو مبارک باد پیش کی گئی ہے۔ مختلف سیاسی پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے افراد ، تاجر برادری اور طلباء بھی جلسہ میں شریک ہیں۔ وزیر اعظم بھٹو کے لئے اسلام کے عظیم فرزند ، مدبر سیاستدان، دنیائے اسلام کے ہیرو جیسے القابات ہر زبان پر ہیں۔ جلسے کا وقت ختم ہوا۔ مولانا غازی محمد رضا اختتامی دعا فرماتے ہیں۔ شرکاء مجلس کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو امنڈ امنڈ کر آ رہے ہیں۔ جلسے کے بعد عید کا سماں بندھ گیا۔ مصافحے اور معانقے شروع ہو گئے۔ ہر کسی کے لب پر مبارک مبروک کی صدائیں ہیں۔ شرکاء جلسہ کی طرف سے غرباء اور مساکین کے لئے کھانے کا انتظام ہے۔ ہر آنکھ میں دوسرے بھائی کے لئے محبت اور غم خواری کے ایسے جذبات ہیں جو بہت کم مواقع پر نظر آتے ہیں۔
(ملخص روزنامہ مشرق ، مورخہ ۱۴ ستمبر ۱۹۷۴ء)
لائل پور (فیصل آباد) کے صرافوں کی طرف سے وزیر اعظم کو اس عظیم اور جرأتمندانہ فیصلے پر سونے کا تاج پہنانے اور چاندی کی تلوار دینے کا اعلان ہوا ہے۔ صرافہ ایسوسی ایشن کی طرف سے وزیر اعظم کا انتظار ہو رہا ہے تاکہ عقیدت اور خوشی کا اظہار کیا جاسکے۔ سونے کا تاج تین پاؤ وزنی ہوگا۔ جس کی قیمت ۳۶ ہزار روپے بنتی ہے۔
(روزنامہ نقیب، مورخہ ۱۳ ستمبر ۱۹۷۴ء)
گوجرانوالہ
گوجرانوالہ میں قرارداد کا زبردست خیر مقدم کیا گیا۔ اس سلسلہ میں پورا ہفتہ جشن مسرت منانے کا فیصلہ کیا گیا۔ مسجدوں ، گلیوں اور بازاروں میں پچھلے ۵ دنوں سے چراغاں کیا جا رہا ہے۔ تمام لوگ ایک دوسرے کو مبارک باد اور تحفے دینے میں مصروف ہیں۔ بازاروں میں خریداروں کا ہجوم ہے اور وہ بے اطمینانی جو چند ماہ قبل پائی جاتی تھی ، دور ہوگئی۔ عوام ، علماء کرام ، اراکین اسمبلی اور وزیر اعظم کی درازی عمر کے لئے دعائیں مانگ رہے ہیں۔ آج جشن کا چھٹا دن ہے۔ تمام مساجد میں نماز شکرانہ ادا کی گئی اور کی جا رہی ہے۔ پاک پنجاب الیکٹرک پاور سنٹرل ایمپلائز یونین کی طرف سے آج اجلاس ہے۔ جس میں تحریک کا حصہ بننے والے علماء ، طلباء اور عوام الناس اور حکومتی اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔ اجلاس میں ان شہداء کو بھی خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے جنہوں نے تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ میں قربانیاں دیں۔ اجلاس میں مختلف معززین شہر نے جو گفتگو کی اس کا لب لباب یہ ہے۔ برصغیر میں ختم نبوت کا مسئلہ ۹۰ سال پرانا ہے۔ وزیر اعظم بھٹو نے پیش رفت کر کے اسے کنارے لگا دیا۔ اس مسئلے کا اصل سہرا ان علماء کے سر بندھتا ہے جنہوں نے حکومت کی توجہ اس اہم اور نازک مسئلہ کی طرف دلائی۔
(ملخص جنگ ، مورخہ ۱۴ ستمبر ، نوائے وقت ، مورخہ ۱۱ ستمبر ۱۹۷۴ء)
سیالکوٹ
متحدہ جمہوری محاذ سیالکوٹ کے جنرل سیکرٹری قاری عبدالرحمن اور تاجران یونین نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کو ایک ایسا فیصلہ قرار دیا جو قرآن کے عین مطابق ہے۔ انہوں نے ارکان پارلیمنٹ کو اس مجاہدانہ فیصلہ پر مبارک باد پیش کی اور اس توقع کا اظہار کیا کہ مرزائیوں کو جلد کلیدی آسامیوں سے ہٹایا جائے گا۔ جمعیت علماء اسلام پاکستان کے مرکزی سیکرٹری مفتی حبیب اللہ ہاشمی رکن مرکزی قرآن کمیٹی حکومت پاکستان نے ایک بیان میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے سلسلہ میں وزیر اعظم کی کوششوں کو سراہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ساری قوم وزیر اعظم ، علماء کرام اور پارلیمنٹ کی احسان مند ہے۔ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی خوشی میں سیالکوٹ میں لوگوں نے نیازیں تقسیم کیں۔ محلہ مبارک پورہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین چوہدری احسان الحق اور سیکرٹری محمد انور بٹ نے جامع الازہر کے
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
سامنے غرباء و مساکین میں کھانا تقسیم کیا۔ ظہیر الحسن رضوی نے مختصر خطاب کیا اور اس موقع پر اظہار تشکر کیا۔
(روزنامہ نوائے وقت، مورخہ ۱۰ ستمبر ۱۹۷۴ء)
لاہور
لاہور کی تقریباً ہر مسجد اور ہر گلی محلے میں یوم تشکر (۱۱ ستمبر) کو جشن مسرت منایا گیا۔ صرف ان مقامات کے ذکر کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں جہاں جشن منعقد کئے گئے ہیں:
- ۱...... جامع مسجد پکی ٹھٹھی میں ایک بجے دوپہر یوم تشکر کے سلسلہ میں تقاریر ہوئیں۔
- ۲...... ٹولنٹن مارکیٹ ٹریڈرز ایسوسی ایشن شام چار بجے یوم تشکر کے سلسلہ میں مٹھائی تقسیم ہوئی اور عظمت و غلبہ اسلام کے لئے دعا ہوئی۔
- ۳...... دار القرآن نیو گارڈن ٹاؤن کی عالمی درسگاہ۔
- ۴...... مرکزی مدنی مسجد کمہار پورہ۔
- ۵...... جامع مسجد پاک حنیفہ بیڈن روڈ۔
- ۶...... دار العلوم تقویت الاسلام، ہم شیش محل روڈ۔
- ۷...... مرکزی دفتر مجلس احرار اسلام بالمقابل شاہ محمد غوث بیرون دہلی گیٹ۔
- ۸...... جامع مسجد شیرانوالہ گیٹ لاہور۔
- ۹...... محمد روڈ متصل بمبئی کلاتھ ہاؤس نئی انارکلی۔
- ۱۰...... جمعیت علماء پاکستان حلقہ فیض باغ۔
- ۱۱...... انجمن طلباء اسلام، پرانی انارکلی سول چیمبرز۔
- ۱۲...... انجمن طلباء اسلام شاہدرہ ٹاؤن۔
- ۱۳...... مجلس عمل تحفظ ختم نبوت ساندہ خورد و کلاں۔
(مشرق لاہور، مورخہ ۹ ستمبر ۱۹۷۴ء)
کامونکے
کامونکے میں قومی اسمبلی کی طرف سے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے پر سیاسی و سماجی رہنماؤں اور طلباء کی مختلف تنظیموں نے زبردست مسرت کا اظہار کیا۔ ان رہنماؤں اور تنظیموں نے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو، ارکان قومی اسمبلی، صدر مجلس عمل تحفظ ختم نبوت مولانا محمد یوسف بنوری کو مبارک باد پیش کی۔ ریڈیو سے اس فیصلے کا اعلان ہونے پر جامع مسجد غلہ منڈی کامونکے میں مولانا مفتی حبیب اللہ کی امامت میں نماز شکرانہ ادا کی گئی۔ مختلف رہنماؤں مولوی محمد علی انصاری، ریٹائرڈ صوبیدار شوکت علی، تاج دین، غلام محمد، حاجی غلام رسول، عبدالجبار، مولوی عبدالحمید اور طالب علم رہنما محمد حیات بھٹی نے اس فیصلہ کی خوشی میں متفقہ طور پر چاول پکوا کر غریبوں میں تقسیم کئے۔
خان پور
خان پور میں مقامی مجلس عمل کے زیر اہتمام غلہ منڈی کی مسجد میں عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا جس میں قومی اسمبلی کی طرف سے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے فیصلہ کا زبردست خیر مقدم کیا گیا۔ اس موقع پر جمعیت علمائے پاکستان کے صاحبزادہ ارشاد حسین،
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب وتحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
شیعہ ٹرسٹ کے سید اختر حسین اور پیپلز پارٹی کے صدر شیخ علاؤ الدین ایڈووکیٹ نے اجلاس سے خطاب کیا اور اس فیصلہ پر وزیر اعظم ، ارکان اسمبلی اور مجلس عمل کے ارکان اور عوام کو مبارک باد پیش کی اور وزیر اعظم بھٹو کی طرف سے سواد اعظم کی خواہشات کے مطابق اس مسئلہ کے حل کرنے پر انہیں زبردست خراج تحسین پیش کیا۔
(مشرق لاہور، مورخہ ۹؍ستمبر ۱۹۷۴ء)
نارووال
قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے بعد قومی اسمبلی کے رکن چوہدری عبدالواحد جب نارووال پہنچے تو شہریوں نے ان کا زبردست استقبال کیا اور انہیں ہار پہنائے۔ انہوں نے اس موقع پر شہریوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ عوام کی فتح ہے۔ نارووال اور شکرگڑھ کے عوام نے اس موقع پر بے حد جوش وخروش کا مظاہرہ کیا۔ مجلس عمل کے عہدیداران مولانا محمد یحییٰ، مولانا محمد سمیع الدین، مولوی محمد رفیق، سید احمد حسین شاہ اور شیخ سردار علی نے جرأت مندانہ تاریخی فیصلہ پر حکومت اور قومی اسمبلی کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔
(روزنامہ نوائے وقت لاہور، مؤرخہ ۱۰؍ستمبر ۱۹۷۴ء)
حیدرآباد
نمائندہ جنگ کے مطابق حیدرآباد کے مختلف سیاسی وسماجی رہنماؤں نے قادیانی مسئلہ پر قومی اسمبلی کے حالیہ فیصلہ کا خیر مقدم کیا ہے اور حزب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں کی تعریف کی ہے۔ جمعیت علماء اسلام (حقیقی) سندھ کے صدر مولانا عبدالقیوم کانپوری نے کہا ہے کہ اس فیصلہ پر حزب اختلاف اور حزب اقتدار دونوں مستحق مبارک باد ہیں اور وزیر اعظم بھٹو کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے۔
کراچی
شہر قائد میں بھی قادیانی مسئلہ کے بارے میں قومی اسمبلی کے فیصلہ کا ہر شعبہ زندگی میں پرجوش خیر مقدم کیا گیا۔ ورلڈ فیڈریشن آف اسلامک مشنز السید عبدالقادر الجیلانی نے وزیر اعظم بھٹو اور وفاقی وزیر اطلاعات مولانا کوثر نیازی کے نام تار میں ارکان اسمبلی کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر کے مسلمان اس کا خیر مقدم کریں گے۔ انہوں نے مسلسل کامیابی اور پاکستان کی ترقی کے لئے دعا کی۔ قائم مقام امیر جماعت اسلامی کراچی سید آصف علی، تحریک یادگار شہداء پاکستان، رکن سندھ اسمبلی مسٹر غلام حیدر نظامانی، صدر انجمن غلامان رسول، شاہ انصار الاجابی، شعبہ تبلیغ جماعت غرباء اہل حدیث کے ناظم قاضی عبدالحکیم بلوچ، پاکستان پیپلز پارٹی حلقہ آرام باغ گاڑھی کھاتہ کے جنرل سیکرٹری محمد اقبال داکانی اور مجلس علماء پاکستان کے صدر مولانا اسد القادری نے بھی منکرین ختم نبوت کے کافر قرار دیئے جانے کا خیر مقدم کیا۔ تنظیم طلبہ جامعہ کراچی کے سابق صدر محمد یوسف بلوچ نے مجلس عمل تحفظ ختم نبوت، حزب اختلاف، حزب اقتدار اور قومی اسمبلی کے ارکان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے لاکھوں باشعور نوجوانوں اور طالب علموں کی جدوجہد کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ جو ناموس رسول اور اسلامی نظام حیات کے لئے سرگرم عمل ہیں انہوں نے خاص طور پر نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طالب علموں کو خراج تحسین پیش کیا۔ مرکزی جمعیت علماء اسلام (حقیقی) کے صدر مولانا ظاہر قاسمی نے کہا کہ وزیر اعظم بھٹو اور قومی اسمبلی کے رہنماؤں کو مبارک باد پیش کرنے کے لئے ایک استقبالیہ منعقد کیا جارہا ہے۔ پیاسی کے صدر حافظ محمد اقبال نے بھی وزیر اعظم بھٹو کے نام ایک تار میں قادیانیوں کے غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے کے فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے انہیں مبارک باد پیش کی۔
(روزنامہ جنگ کراچی، مؤرخہ ۱۰؍ستمبر ۱۹۷۴ء)
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
سرگودھا، ساہیوال، عارف والا، اوکاڑہ اور پاکستان کے دیگر شہروں میں بھی جشن مسرت منایا گیا۔ بیرون ملک مسلمانوں نے بھی اس تاریخی فیصلے پر خوشی منائی۔ مکہ مکرمہ کے پاکستانی شہریوں کی طرف سے بھیجے گئے ایک تار میں نہایت خوشی و شادمانی کا اظہار کیا گیا ہے اور پاکستان کے تحفظ و سلامتی کے لئے دعائیں مانگی گئی ہیں۔
(نوائے وقت، مورخہ ۱۴؍ نومبر ۱۹۷۴ء)
مولانا محمد علی جالندھری کی پیش گوئی
مولانا اللہ وسایا صاحب نے ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کے حوالہ سے اپنی ایک غیر مطبوعہ تحریر میں لکھا ہے کہ : ”آج لوگ ملک عزیز میں ختم نبوت کی پہلی تحریک ۱۹۵۳ء کے شہداء کے مزارات پر پھولوں کی چادریں چڑھاتے رہے۔ مجھے یاد ہے کہ ان شہداء کو خراج تحسین پیش کرنے اور ان کے مزارات پر دعائے مغفرت کے لئے ایک جلوس کی شکل میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت فیصل آباد کے رہنما فیصل آباد کے قبرستان میں تشریف لے گئے تھے۔ اس موقعہ پر ان شہداء کی قبور کو تلاش کر کے ان پر دعائے مغفرت اور ایصال ثواب کیا گیا۔ حضرت مولانا تاج محمود قبرستان کی چار دیواری پر اجتماعی دعاء کے لئے کھڑے ہوئے آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ گلو گیر آواز میں فرمایا کہ حضرت مولانا محمد علی جالندھری نے تحریک ۱۹۵۳ء کے بعد بار ہا تقریروں میں فرمایا کہ اب تو حکومت نے ہمیں بے بسی و بیکسی کی حالت میں مجرموں کے کٹہرے میں لا کر کھڑا کر دیا ہے اور تحریک پر بے پناہ تشدد کر کے مجاہدین ختم نبوت کو ظالمانہ طریقہ پر شہید کر دیا ہے۔ لیکن ایک وقت آئے گا جب تحریک کامیاب ہو گی اور لوگ ان شہداء ختم نبوت کی قبروں کو تلاش کر کے ان پر عقیدت کے پھول نچھاور کریں گے۔ مولانا تاج محمود نے فرمایا کہ آج مولانا جالندھری کی بات کو پورا ہوتا میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے۔ یہ ان حضرات کی ایمانی فراست تھی۔“
علماء کرام، سیاسی قائدین کے خیر مقدمی بیانات
مختلف مسالک اور جماعتوں سے تعلق رکھنے والے علماء کرام، مفتیان عظام اور رہنمایان قوم کے تاثرات :
”مفتی اعظم مولانا مفتی محمد شفیع صاحب صدر دارالعلوم کراچی نے قرارداد پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ ۷؍ ستمبر کی شام کو قومی اسمبلی نے مرزائیوں کو واضح اور غیر مبہم الفاظ میں غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا جو تاریخ ساز فیصلہ کیا ہے وہ انشاء اللہ تعالیٰ تاریخ میں سنہرے حرفوں سے لکھا جائے گا۔ اس فیصلے نے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے عالم اسلام کے مسلمانوں میں مسرت اور اطمینان کی لہر دوڑا دی ہے اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس تاریخی اقدام سے ملک کو چند در چند فتنوں اور مختلف النوع دشمنوں کے شر سے بچا لیا ہے۔ اس کارنامے پر وزیر اعظم پاکستان مسٹر ذوالفقار علی بھٹو، تمام ارکان اسمبلی اور اس مقصد کے لئے کوشش کرنے والے تمام افراد پوری قوم کی طرف سے دلی مبارک باد اور گرم جوشی سے خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ ملت اسلامیہ کی طرف سے عرصہ دراز سے یہ مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ منکرین ختم نبوت بالخصوص مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس مبارک و مسعود اور دور رس فیصلے کی سعادت موجودہ حکومت کی قسمت میں لکھی تھی۔ جس پر اسے جتنی مبارک باد دی جائے کم ہے۔ وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو نے اس معاملے میں اپنے وعدے کو پورا کر کے نہ صرف ایک ناقابل فراموش تاریخی کارنامہ انجام دیا، بلکہ ایسے عناصر کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو گیا ہے جن کو بنیاد بنا کر ملک دشمن عناصر ملکی اتحاد اور سالمیت کے لئے خطرہ پیدا کر سکتے تھے۔ اس مبارک فیصلے کے بعد حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد اور افہام و تفہیم کے لئے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔ امید ہے کہ قوم اس جذبہ کے ساتھ اس فیصلے کا خیر مقدم کرے گی اور ملت اسلامیہ
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
کے مسائل کو حل کرنے کے لئے آئندہ بھی بے اعتمادی اور تشدد کی بجائے اعتماد اور مفاہمت کی راہ اختیار کی جائے گی۔ اس موقعہ پر پاکستان کے وہ تمام عوام بھی بطور خاص مبارک باد کے مستحق ہیں جنہوں نے پوری طرح پر امن متحد اور منظم رہ کر اس مسئلہ کے بارے میں اپنے جذبات کا اظہار کیا اور اس خالص دینی مسئلے کے تقدس کو تشدد کے موقع پرستانہ سیاست کا آلہ کار بننے نہیں دیا۔‘‘
(روزنامہ جنگ کراچی، مورخہ ۱۰؍ ستمبر ۱۹۷۴ء)
مفکر اسلام حضرت مفتی محمود صاحب
”جمعیت علمائے اسلام کے سیکرٹری جنرل اور پارلیمانی لیڈر مولانا مفتی محمود نے اس تاریخی فیصلے پر پوری قوم کو مبارک باد دی اور کہا کہ مسلمانوں کی ہمت، اتحاد اور جذبے سے یہ تاریخی فیصلہ ہوا ہے اور بلاشبہ چودہ سو سال کے مختلف ادوار کے دوران یہ ایک انتہائی اہم فیصلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ برصغیر کے مسلمانوں کو جو الجھاؤ تھا وہ اس فیصلے سے ختم ہوگیا ہے۔ انہوں نے قومی اسمبلی کے ارکان کا پارٹی اور سیاست سے بالاتر ہوکر بل پاس کرنے کا شکریہ ادا کیا۔“
مولانا غلام غوث ہزاروی
”حکومت نے جرأت کر کے ایک عظیم اور تاریخ ساز فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلہ سے بعض عناصر کا پروپیگنڈا بھی ناکام ہوگیا جو وزیر اعظم بھٹو اور ہزاروی گروپ کو مرزائیوں کے حامی کہتے تھے۔ یہ فیصلہ یک طرفہ نہیں بلکہ اس پر اظہار خیال کیلئے متاثرہ لوگوں (مرزائیوں) کو بھی صفائی کا موقع دیا گیا تھا۔ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے مولانا غلام غوث ہزاروی نے مزید فرمایا کہ اب قادیانی ملک وملت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے۔ اس لئے ضرورت ہے کہ ان سے چوکنا رہا جائے۔“
(مشرق لاہور، مورخہ ۱۰؍ ستمبر ۱۹۷۴ء)
مولانا عبدالرحمن اشرفی
جامعہ اشرفیہ لاہور کے مہتمم مولانا عبدالرحمن اشرفی نے ”قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے تاریخ ساز فیصلے کا پرجوش خیر مقدم کیا اور کہا کہ اس سے یقیناً دنیائے اسلام میں خوشی کی لہر دوڑ جائے گی۔ قادیانیت کا فتنہ جس کی جڑیں روز بروز گہری ہو رہی تھیں اب حتمی طور پر کچل دیا گیا اور انشاء اللہ یہ دوبارہ سر نہیں اٹھائے گا۔ اتنا اہم پیچیدہ اور گھمبیر مسئلہ اگر امن کے راستے سے حل ہوسکتا ہے تو دوسرے مسائل بطریق اولیٰ حل ہوں گے۔“
(تلخیص مشرق، مورخہ ۱۰؍ ستمبر ۱۹۷۴ء)
مولانا احتشام الحق تھانوی
مولانا احتشام الحق تھانوی نے جمعہ کے خطاب کے موقع پر کہا کہ: ”قومی اسمبلی نے وزیر اعظم کی قیادت میں جو تاریخی فیصلہ کیا وہ پوری امت مسلمہ کے دل کی آواز اور مذہبی جذبات کی صحیح ترجمانی ہے۔ اس عظیم کامیابی پر وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو اہلیان کراچی کی طرف سے استقبالیہ دیا جائے گا۔ یہ عظیم خدمت کر کے وہ صرف مسلمانانِ پاکستان نہیں بلکہ امت مسلمہ کی طرف سے شکریہ کا مستحق ٹھہرا۔“
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی بانی جماعت اسلامی نے اخبار کو یہ بیان دیا۔ ”اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ عوام، علماء اور مشائخ،
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ۴۴ ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
طلباء دینی اور سیاسی جماعتوں اور قومی اسمبلی کی متفقہ کوششوں سے بالآخر وہ مسئلہ حل ہو گیا جو پچھلے ۹۰ سال سے اسلام اور مسلمانوں کے اوپر اس غیر مسلم اقلیت کو زیادہ سے زیادہ مسلط کرنے کی کوشش ہوتی رہی ہے۔ مجھے پوری امید ہے کہ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو دستور کی حد تک اس مسئلے کو بخوبی حل کر دینے کے بعد اب وہ قانونی اور انتظامی اقدامات بھی کریں گے۔ جو قادیانی مسئلے کو پوری طرح عملی طور پر حل کرنے کے لئے ضروری ہیں۔‘‘
مولانا ایوب جان بنوری
’’پشاور کے ممتاز عالم دین مولانا محمد ایوب جان بنوری نے اس فیصلے کو تاریخ کا سنہرا باب قرار دیا۔ انہوں نے فرمایا اس فیصلے سے ثابت ہو گیا کہ پاکستانی قوم کسی بھی قسم کے تنازعہ یا مسئلہ کو حل کر سکتی ہے۔‘‘
علامہ سید نصیر الاجتہادی
’’شیعہ رہنما علامہ سید نصیر نے قومی اسمبلی کے فیصلے کو سراہتے ہوئے اسے عین اسلامی ، عادلانہ اور عوام کے قدیم مطالبے کے مطابق قرار دیا۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں اس فیصلے کو علماء اور حکومت کا کارنامہ قرار دیا ہے۔ اس فیصلے سے پاکستان کی تاریخ میں وزیر اعظم بھٹو کا نام ہمیشہ زندہ و تابندہ رہے گا۔‘‘
حضرت فضل الرحمن المجددی
’’پاکستان اور افغانستان کے معروف مذہبی رہنما حضرت فضل الرحمن المجددی نے ختم نبوت کا مسئلہ حل کرنے پر وزیر اعظم پاکستان اور علماء کرام کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔‘‘
خلیل احمد غزنوی
تحفظ حقوق شہریان کے صدر خلیل احمد غزنوی نے اپنے بیان میں کہا: ’’وزیر اعظم پاکستان اس عظیم کارنامے کے لئے جو ان کے دور حکومت میں انجام پایا ہے۔ مستحق مبارک باد ہے۔ انہوں نے علماء اور عوام کی خدمت کو بھی سراہا۔‘‘
(روزنامہ جنگ کراچی، مورخہ ۹ ستمبر ۱۹۷۴ء)
خواجہ خان محمد
’’حضرت خواجہ خان محمد صاحب سجادہ نشین تونسہ شریف نے آستانہ تونسہ شریف کے متوسلین کی طرف سے اسمبلی کے فیصلے کا خیر مقدم کیا۔ محرکین کو مبارک باد پیش کی اور دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ حکومت پاکستان کو ہمیشہ اسلام کی خدمت کی توفیق عطاء فرمائے۔‘‘
مولانا عبد الغفار سلفی
جماعت غرباء اہل حدیث پاکستان کے مولانا عبد الغفار سلفی نے اپنے ایک بیان میں اس اقدام کو نہایت مستحسن اور قابل داد قرار دیا۔
مولانا تاج محمود
مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا تاج محمود نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ: ’’علماء کے اتحاد اور تاجر برادری کے تعاون
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء
ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
سے قادیانیت کا سنگین مسئلہ حل ہو گیا۔ علماء عملی اتحاد کی تصویر بن کر حکومت کو اپنے مطالبے کی لکیر پر لائے اور تاجر برادری نے اقتصادی اور سوشل بائیکاٹ کر کے یہ ثابت کر دیا کہ کاروبار کا نقصان انہیں قبول ہے۔ ناموس رسالت پر سمجھوتا ہرگز قبول نہیں۔‘‘
(روزنامہ نقیب لائل پور، مؤرخہ ۱۳؍ ستمبر ۱۹۷۴ء)
پیر آف چن شریف
پیر آف چن شریف شہزادہ سید فیض الحسن الگیلانی نے ’’احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے فیصلے کو اسلامی تاریخ میں انتہائی اہم فیصلہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ عوامی حکومت نے جرأت مندی سے کام لے کر عوامی جذبات اور امنگوں کے مطابق ۹۰ سالہ پرانے مسئلے کو ہمیشہ کے لئے حل کر دیا۔ اس دانش مندانہ فیصلہ پر میں پاکستان کے علماء، عوام، ارکان اسمبلی کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔‘‘
(روزنامہ مساوات، مؤرخہ ۱۳؍ ستمبر ۱۹۷۴ء)
شورش کاشمیری
ختم نبوت کے عظیم مجاہد اور معروف صحافی شورش کاشمیری نے قرار داد کے موقع پر اپنے پیغام میں لکھا تھا کہ: ’’قادیانیوں کو اقلیت قرار دیئے جانے کا فیصلہ اہلیان پاکستان اور وزیر اعظم بھٹو کا کارنامہ ہے۔ اس عظیم کارنامہ پر پوری ملت اسلامیہ ان کی شکر گزار ہے۔ بلکہ میرا وجدان کہتا ہے کہ خود اسلام، بھٹو کا شکریہ ادا کر رہا ہے۔ میں بہت بیمار ہوں۔ لیکن اس خوشخبری نے مجھے ۵۰ فیصد صحت مند کر دیا ہے۔‘‘
(روزنامہ امروز ملتان، مؤرخہ ۸؍ ستمبر ۱۹۷۴ء)
علامہ سید محمد رضی
شیعہ رہنما علامہ سید محمد رضی مجتہد نے کہا کہ: ’’یہ قرار داد حکومت کا عظیم کارنامہ ہے کہ اس نے احمدی فرقہ کی جمہوری حیثیت کا ایسے جمہوری طریقہ سے فیصلہ کر دیا۔ جسے حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی مکمل تائید حاصل ہے۔ یہ فیصلہ پاکستانی عوام کی امنگوں کے عین مطابق اور شریعت اسلام کے اصول و قوانین سے بھرپور مطابقت رکھتا ہے۔ یہ مسئلہ تقریباً ۹۰ سال سے مسلمانوں خصوصاً برصغیر کے باسیوں کے لئے انتہائی تکلیف کا سبب بنا تھا۔ اس فیصلے سے ملک کے مختلف سیاسی اور غیر سیاسی عناصر کو ایک دوسرے کے قریب آنے کا موقع ملا ہے۔ جن لوگوں نے اس کو سیاست سے ہٹ کر خالص مذہبی بنیاد پر حل کیا وہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔‘‘
(روزنامہ جنگ کراچی، مؤرخہ ۱۰؍ ستمبر ۱۹۷۴ء)
قومی اخبارات کے تبصرے......’’نوائے وقت‘‘ کا اداریہ
قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے فیصلے کو اخبارات نے بہت سراہا اور اس پر مسرت و شادمانی کا مظاہرہ کیا۔
روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘ نے اپنے ادارتی کالم میں لکھا کہ: ’’یہ امر انتہائی اطمینان و امتنان کا باعث ہے کہ دور غلامی کی یادگار ۹۰ سالہ پرانے قادیانی مسئلہ کا بالآخر حل تلاش کر لیا گیا ہے۔ مسئلہ طے کرنے کی غرض سے قومی اسمبلی میں حکومتی پارٹی اور حزب مخالف کے ارکان پر مشتمل خصوصی کمیٹی قائم کی گئی تھی اس نے مکمل اتفاق رائے سے افہام و تفہیم اور بھائی چارے کے ماحول میں جو حل تلاش کیا ہے، وہ سواد اعظم کی توقعات سے بڑھ کر ہے۔....... یہ باری تعالیٰ کی نظر کرم ہی تھی جس کی بدولت وزیر اعظم بھٹو اور ان کی پارٹی کے ارکان سے لے کر
تحریک ختم نبوت (۲) ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
حزب مخالف تک کو یہ توفیق عطاء ہوئی کہ وہ متحد ومتفق ہو کر ایک ایسا مسئلہ سوادِ اعظم کی توقعات کے مطابق حل کر سکیں جو تقریباً ایک صدی سے ملت اسلامیہ کے لئے ایک ناسور بنا ہوا تھا۔‘‘
(نوائے وقت، مؤرخہ ۸؍ستمبر ۱۹۷۴ء)
روزنامہ ”مشرق“ لاہور
روزنامہ ”مشرق“ لاہور نے اپنے اداریے میں وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو کی وعدہ وفائی کا تذکرہ کرتے ہوئے تحریر کیا: ”مسٹر بھٹو نے قوم سے اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے۔ جو مسئلہ سالہا سال سے حل طلب چلا آ رہا تھا اور جس کی وجہ سے پاکستان پر پہلی بار مارشل لاء کی لعنت مسلط کی گئی تھی وہ عوام کی مرضی کے مطابق حل کر دیا گیا۔ تاہم یہ کسی ایک فرد جماعت یا گروہ کا نہیں پوری قوم کے مستند نمائندوں کا فیصلہ ہے۔‘‘
(روزنامہ مشرق، مؤرخہ ۸؍ستمبر ۱۹۷۴ء)
روزنامہ ”امروز“
روزنامہ ”امروز“ نے ارکان پارلیمنٹ اور علماء کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا: ”پارلیمنٹ نے قادیانی مسئلے کی بحث ختم کر دی ہے۔ اس نے یہ فیصلہ سنایا ہے کہ احمدیوں کے دونوں فرقے غیر مسلم اقلیتوں میں شمار ہوں گے اور طے کیا ہے کہ جو شخص رسول اکرم حضرت محمد ﷺ کو خدا کا آخری نبی نہیں مانتا وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ یہ بہت بڑا اور تاریخی فیصلہ ہے۔ عوام کے منتخب نمائندوں نے عوام کی خواہشات اور عقائد کے مطابق متفقہ طور پر ایک ایسا مسئلہ طے کیا ہے جو تہتر سال سے وجہ نزاع بنا ہوا تھا۔ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے درست کہا ہے کہ جمہوری حکومت اور عوامی بالادستی کے بغیر یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا۔‘‘
ہفت روزہ ”چٹان“ لاہور کا تبصرہ
”خدائے لایزال کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ایسا مسئلہ جو ملت اسلامیہ کے لئے ۹۰ برس سے ایک خطرناک پرابلم کی صورت اختیار کر چکا تھا اور جو اس کی شہ رگ حیات کے لئے خنجر براں تھا۔ بالآخر ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کو مسلمانوں کی اجتماعی خواہش کے مطابق حل ہو گیا اور قومی اسمبلی نے مسٹر ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں ایک ایسی جامع و مانع قرارداد منظور کی جو تمام آئینی مراحل طے کرنے کے بعد ایک بل کی شکل میں نافذ ہو گئی کہ اب اس کے بعد قادیانی مسئلہ پاکستان میں ہمیشہ کے لئے طے پا گیا ہے۔ بانس ہی نہ رہا تو بانسری کیا بجے گی۔ اس مسئلہ سے مسلمانوں میں جو عظیم اضطراب تھا اس کا اظہار قیام پاکستان سے پہلے مختلف صورتوں میں ہوتا رہا۔ ہر دور میں علماء وفضلاء نے قادیانی نبوت اور اس کے پیروؤں کا شدید سے شدید محاسبہ کیا۔ لیکن حکومت برطانیہ مرزا غلام احمد قادیانی کے اپنے ہی الفاظ میں اس ”خود کاشتۂ پودے“ کی تھی اس نے حسب ضرورت اس کی آبیاری کی لیکن حکومت کی زبردست سرپرستی کے باوجود مسلمانوں کے احتساب میں سرمو فرق نہ آیا۔ علماء نے دینی محاذ پر مرزا قادیانی کی نبوت کو پے در پے شکستیں دیں اور فضلاء نے اس کی خانہ ساز نبوت کا پوسٹ مارٹم کیا۔ یہ ٹھیک ہے کہ دو چار لاکھ غرض مند قادیانی امت میں شامل ہو گئے۔ لیکن براعظم کے مسلمانوں نے ہندوستان کے اس مسیلمہ کذاب کو سراسر پائے حقارت سے ٹھکرا دیا۔ پھر جب اس فرقے کے جو محمد عربی ﷺ کی امت میں نقب لگا کر پیدا کیا گیا وہ تمام سیاسی عزائم واضح ہوئے جو برطانوی استعمار کی رضا جوئی کے لئے قادیانی ملت کا تخلیقی جزو تھے تو ہندوستان میں عبقری اور نابغہ مسلمانوں کے سب سے بڑے رہنما علامہ اقبال نے قادیانی نبوت، قادیانی خلافت اور قادیانی امت کا اس علمی انداز میں محاسبہ و تجزیہ کیا کہ تمام مسلمان جو اس جماعت کو مسلمانوں میں شمار کرتے تھے ان کے اعمال وافکار سے چوکنا ہو گئے اور اس مطالبہ کی روز بروز تقویت حاصل ہوتی چلی گئی کہ قادیانی جو اپنے تئیں احمدی
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
کہلاتے ہیں اپنے ملحدانہ عقائد کے باعث دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ انہیں مسلمانوں میں رہنے کا حق نہیں۔ ان کے لئے صحیح مقام یہی ہے کہ حکومت انہیں ایک علیحدہ اقلیت قرار دے۔
پاکستان بنا تو مرزائی قادیان سے اٹھ کر لاہور آ گئے۔ پھر انگریز گورنر سر فرانس موڈی سے کوڑیوں کے بھاؤ ربوہ کی زمین حاصل کی اور وہاں سے پاکستان کے مختلف حصوں میں اپنی فرمانروائی کا منصوبہ تیار کرنے لگے۔ مرزا ناصر تو عقل کے کورے ہیں۔ لیکن مرزا بشیر الدین محمود کرنل لارنس کی سی شاطرانہ ذہنیت کے مالک تھے۔ انہوں نے پاکستان میں اقتدار کا خواب دیکھنا شروع کیا۔ حتیٰ کہ بلوچستان کو احمدی صوبہ بنانے کا اعلان کیا۔ جب ان کی سیاسی پخت و پز خطرناک ہو گئی تو علماء میں زبردست ہیجان پیدا ہو گیا۔ تمام علماء نے اکٹھا ہو کر مزاحمت کا بیڑا اٹھایا۔ مجلس عمل کی بنیاد رکھی۔ راست اقدام کیا۔ لیکن اس وقت کے بدبخت حکمرانوں نے ملت اسلامیہ کے متفقہ مطالبے کو ٹھکرا دیا، مارشل لاء لگا۔ مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی۔ سینکڑوں نوجوان گولیوں سے بھونے گئے۔ منیر انکوائری کمیٹی نے تحقیقات شروع کیں تو خواجہ ناظم الدین نے کھلے بندوں کہا کہ وہ ظفر اللہ کو علیحدہ کرنے یا مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کا مطالبہ ماننے سے اس لئے قاصر تھے کہ پاکستان میں خوراک کا بحران تھا اور امریکہ ظفر اللہ کے بغیر ایک دانہ گندم دینے کے لئے تیار نہ تھا۔ گویا اسلام، دانہ گندم پر قربان کر دیا گیا ......
میں (شورش کاشمیری) یہ اعلان کرتا رہا کہ مسٹر بھٹو ہی قادیانی امت کو ملت اسلامیہ سے خارج کر کے اقلیت قرار دیں گے۔ بحمد اللہ یہی ہوا۔ آج یہ عظیم کارنامہ مسٹر بھٹو نے ہی سرانجام دیا ہے۔ انہوں نے ملت اسلامیہ سے ۱۳؍ جون (۱۹۷۴ء) کے عظیم نشریہ میں جو وعدہ کیا تھا وہ پورا کیا اور اس طرح پورا کیا کہ آج پاکستان کے مسلمان ہی نہیں بلکہ کائنات کے مسلمان ان کے شکرگزار ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کی اجتماعی آواز کو پروان چڑھایا۔ تمام پارٹیوں کی متفقہ خواہش پر صاد کیا بلکہ اس مسئلہ کو حل کرنے میں اس حد تک غیرت ایمانی اور جرأت اسلامی کا ثبوت دیا کہ پاکستان میں ہمیشہ کے لئے فرضی نبوتوں کا دروازہ بند ہو گیا ......
مسٹر بھٹو نے اس فیصلے اور اقدام سے پچھلی تمام حکومتوں کو مات دے دی ہے۔ حضور سرور کائنات ﷺ کے دربار میں ان کے لئے بڑا اجر ہے۔ انہوں نے ختم نبوت کی پاسبانی کی ہے۔ ان کی عزت کا محافظ اللہ ہوگا اور وہ جلد ہی محسوس کر لیں گے کہ انہوں نے ایک مسئلہ حل نہیں کیا بلکہ مسلمانوں کے دل جیت لئے ہیں۔ آج ہر گھر میں مرد عورتیں بچے بچیاں ان کے لئے دعا کر رہے ہیں جو کام بڑے بڑے الحاج وزیر اعظم نہ کر سکے اور نظریہ پاکستان کی اجارہ دار کھیپ سے نہ ہو سکا وہ کام بھٹو نے کیا اور اس طرح کیا کہ ہمارے پاس ان کے لئے تشکر و امتنان کے الفاظ نہیں ...... (شورش کاشمیری)‘‘
(ہفت روزہ چٹان، مؤرخہ ۱۵؍ستمبر ۱۹۷۴ء)
ہفت روزہ ’’لیل و نہار‘‘ لاہور کا تبصرہ
’’۷؍ستمبر رحمتیں لے آیا ...... عوام کے منتخب نمائندوں نے بیک آواز ہو کر مرزائی گروہوں قادیانی اور لاہوری کو مسلمانوں سے الگ کر دیا۔ اب یہ حضرات آئینی اور قانونی طور پر بھی غیر مسلم قرار پائے۔ پورا ملک اس فیصلے کی خبر سنتے ہی جگمگ جگمگ کرنے لگا۔ ہر طرف مسرت کی لہر دوڑی اور یوں اطمینان کا سکہ بیٹھا کہ حضور ختم المرسلین ﷺ کے سامنے سرخروئی ہو گئی۔
اس فیصلے کا کریڈٹ سب مسلمانوں کا حق ہے۔ حزب اقتدار، حزب اختلاف، علماء، طلبہ، سیاسی کارکن، صحافی سب نے اپنا فرض ادا کیا۔ مرزائیت کے خدوخال اجاگر کئے اور اس کی صحیح تصویر دیکھی بھی اور دکھائی بھی۔ اب یہی تصویر دستور کے صفحات پر ثبت ہو گئی ہے۔
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
اس اعلان، اس دستوری حکم کے بعد ملک بھر میں رواداری اور خیر سگالی کی جو فضا پیدا ہوئی، امید ہے وہ مزید آگے بڑھے گی۔ اب دوسرے مسائل پر بھی گروہی اغراض کی بجائے قومی مقاصد سامنے رکھ کر غور ہوگا اور ان کا حل تلاش کرنے کی سعی ہوگی۔ بلوچستان کا مسئلہ اس ضمن میں اہم ترین ہے اور سب کی توجہ کا طالب۔‘‘
(ہفت روزہ لیل و نہار ،مؤرخہ ۲۱؍ستمبر ۱۹۷۴ء)
مرزائیوں کو غیر مسلم قرار دینے پر مختلف سیاسی شخصیات کی طرف سے تہنیت
جناب ذو الفقار علی بھٹو
وزیر اعظم ذو الفقار علی بھٹو نے اپنے بیان میں کہا کہ :’’قادیانیوں کے بارے میں فیصلہ متفقہ اور قومی خواہشات کے مطابق ہے۔ یہ فیصلہ ملک کے تمام شعبوں کے مشورہ سے کیا گیا ہے۔ اس لئے یہ پاکستان کے عوام کا مشورہ ہے۔ پاکستان کے مسلمانوں کی خواہشات کا مظہر ہے۔ صرف میں یا کوئی دوسرا فرد اس کا اعزاز لینا نہیں چاہتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ بہت پرانا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ پیچیدہ بھی ہوتا چلا گیا۔ اس سے تلخی پیدا ہوتی رہی۔ قوم کو پچھلے تین ماہ کشیدگی کے ماحول میں گزارنے پڑے۔ لیکن آخر کسی فروگزاشت کے بغیر کلی طور پر یہ مسئلہ حل ہو گیا اور اس طرح میں نے ۱۳؍جون کو عوام کے ساتھ کئے ہوئے اپنے وعدہ کو پورا کر لیا۔
وزیر اعظم بھٹو نے اپنے بیان میں اس بات کا اظہار کیا کہ اس مسئلہ کے لئے علماء کرام نے کافی اصرار کیا اور مجھ پر زور دیا اور ایک فرد نہیں بلکہ پورے ملک اور امت مسلمہ کی کامیابی ہے۔ کیونکہ احمدی مسئلہ ہر فرد اور ہر گھر کا مسئلہ ہے۔ اس اہمیت کے پیش نظر ہم نے یہ مسئلہ سپریم کورٹ یا اسلامی مشاورتی کونسل کے سپرد نہیں کیا۔ بلکہ جتنا جلدی ممکن تھا ہم نے اس کو نمٹا لیا۔ انہوں نے یہ بات بھی کہی کہ مسئلہ پر غور کرنے کے لئے قومی اسمبلی کے خفیہ اجلاس ہوئے۔ ان میں آزادی اور دیانتداری کے ساتھ اظہار خیال کا موقع ملا۔ اس کی معقول وجہ یہ تھی کہ اجلاس کے بغیر اس مسئلے کو حل کرنا ناممکن تھا۔ ہمیں یقین تھا کہ ہماری تقریروں کو مسخ نہیں کیا جائے گا اور سیاسی مقاصد کے لئے استعمال بھی نہیں کیا جائے گا۔ چونکہ یہ فیصلہ رواداری اور پوری قوم کی خواہش اور مطالبے سے ہوا ہے۔ لہٰذا یہ پورے ملک کا اعزاز ہے۔‘‘
(ملخص مشرق لاہور ،مؤرخہ ۸؍ستمبر ۱۹۷۴ء)
وفاقی وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ
وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ نے قرارداد کے موقع پر کہا۔ ’’مرزائیوں کو غیر مسلم قرار دینے میں قومی اسمبلی کے تمام پارٹیوں کے تمام سیاسی ارکان مطمئن و مسرور تھے۔ ۳۰؍جون کو ہم نے اسمبلی میں حضور ﷺ کے خاتم النبیین قرار دینے پر ایک قرار داد پیش کی تھی۔ وہ ۷؍ستمبر کو ایک قانون کی شکل میں آئین پاکستان کا حصہ بن گیا۔ انہوں نے کہا کہ صد سال سے امت کی دیکھی گئی خوابوں کی تعبیر اور آئندہ کے لئے نوید مسرت وطمانیت ہے۔ قادیانیوں کو اقلیت کے حقوق سے محروم نہیں رکھا جائے گا۔ ان کو بھی چاہیے کہ آئین پاکستان کا احترام دل و جان سے کریں۔‘‘
(ملخص مشرق ،مؤرخہ ۸؍ستمبر ۱۹۷۴ء)
بلوچستان کے گورنر خان احمد یار خان
بلوچستان کے گورنر خان احمد یار خان نے اپنے تاثرات ان الفاظ میں بیان کئے کہ :’’پاکستان کی بنیاد صرف اسلامی اصولوں پر رکھی گئی ہے۔ اس ملک کا وجود اسلامی نظریہ کی خاطر وجود میں آیا تھا۔ اسلام ہی وہ طاقت ہے جس پر اس ریاست کا وجود قائم ہے۔ قادیانیوں
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
کو چاہئے کہ آئین پاکستان کا احترام کریں اور ارتداد کو چھوڑ کر دین حنیف میں داخل ہو جائیں۔‘‘
(جنگ کراچی، مورخہ ۱۱ ستمبر ۱۹۷۴ء)
دیگر سیاسی شخصیات کے تاثرات
صوبہ سرحد کے وزیر خواجہ اقبال جدون نے وزیر اعظم بھٹو کے دانشمندانہ فیصلے کی تعریف کی اور کہا کہ انہوں نے قوم سے کئے گئے وعدے کو پورا کر کے دکھایا۔
خاکسار تحریک کے لیڈر میاں بشیر احمد نے پارلیمنٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا۔
لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے پارلیمنٹ کے فیصلے کی تعریف کی ہے اور اسے ملت اسلامیہ کی امنگوں کے مطابق قرار دیا ہے۔
بار ایسوسی ایشن نے اس فیصلے پر پاکستان کے عوام، قومی اسمبلی ممبران، سینیٹرز، وزیر اعظم پاکستان، اپوزیشن رہنماؤں، سیاسی جماعتوں، علماء، وکلاء اور بہادر طلباء و عوام کو مبارک باد دی اور کہا کہ اس فیصلے سے پاکستان اسلامی نظریہ کے قریب ہو گیا۔
پنجاب کے وزیر قانون و پارلیمانی امور سردار صغیر احمد نے اس فیصلے پر وزیر اعظم کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔
شیر بنگال، مولوی اے کے فضل حق کی بیوہ بیگم نے مرزائیوں کو غیر مسلم قرار دینے پر وزیر اعظم بھٹو کو ’’قائد اسلام‘‘ کہہ کر خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ قائد عوام بھٹو پاکستان میں اسلامی اقدار کو فروغ دینے کے لئے ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
صوبائی وزیر خوراک سردار نصر اللہ خان دریشک نے اس قرارداد کو قومی امنگوں کا ترجمان قرار دیا اور کہا کہ یہ فیصلہ حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی باہمی مشاورت سے طے کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم بھٹو، علماء کرام، ارکان اسمبلی اور عوام کو مبارک باد دی۔ علماء کرام اور عوام کو ان کے صبر و تحمل اور عزم پیہم پر خراج تحسین پیش کیا۔
مرکزی جمعیت العلماء پاکستان کے صدر صاحبزادہ فیض الحسن نے مرزائیت کے سلسلہ میں قومی اسمبلی کے فیصلے کو اسلامی خدمات کے سلسلہ میں سنگ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا حزب اقتدار و اختلاف، علماء کرام اور تمام لوگ جنہوں نے تحریک میں حصہ لیا تبریک و تحسین کے مستحق ہیں۔
(روزنامہ جنگ کراچی، مورخہ ۹؍ ستمبر ۱۹۷۴ء)
پنجاب کی پارلیمانی سیکرٹری بیگم سرور ریحانہ نے خواتین کی جانب سے جرأت مندانہ فیصلے پر وزیر اعظم بھٹو کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے۔
پنجاب مسلم لیگ (قیوم گروپ) کے لیڈروں چوہدری اکرم علی خان اور چوہدری منظور الٰہی نے کہا کہ وزیر اعظم بھٹو نے یہ فیصلہ کر کے اسلام کی زبردست خدمت کی ہے۔ عوام کے دل جیت لئے ہیں۔ لوگ ان کے اس جرأت مندانہ اقدام پر شکر گزار ہیں۔
متحدہ جمہوری محاذ کے سیکرٹری جنرل جناب پروفیسر عبد الغفور نے قادیانی مسئلہ کو اطمینان بخش اور خوش کن قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں اس مسئلہ پر بحث کافی عرصہ سے ہوتی رہی۔ یہ ایک دانشمندانہ فیصلہ ہے۔ ایمان اور وقت کی ضرورت تھی۔
(روزنامہ جنگ کراچی، مورخہ ۱۱؍ ستمبر ۱۹۷۴ء)
پاکستان مسلم لیگ کی مرکزی کمیٹی کے رکن سید عبدالحئی جعفری نے ایک بیان میں وزیر اعظم بھٹو کو اس فیصلہ پر مبارک باد دی اور کہا کہ دوسرے وہ لوگ بھی شکریہ کے مستحق ہیں جو اس تحریک کا حصہ رہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات ظفر صراف نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے تاریخی واقعہ قرار دیا۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء
ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
سرحد کونسل مسلم لیگ کے سیکرٹری نے کہا۔ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے فیصلے سے مسٹر بھٹو کے علاوہ اسمبلی کے حزب اقتدار، حزب اختلاف نے ملکی تاریخ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
’’ممتاز سیاسی رہنما اور سندھ کے سابق وزیر اعلیٰ پیر الٰہی بخش نے قومی اسمبلی کے فیصلے کو تاریخی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا بھٹو نے دنیائے اسلام کی ایک بڑی خدمت انجام دی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کے اندر پھیلی قادیانی دسیسہ کاریوں سے غافل نہ رہیں۔ یہ کبھی پاکستان کے وفادار نہیں ہو سکتے۔‘‘
پنجاب اسمبلی میں حزب اختلاف کے رکن سید تابش الوری نے کہا ہے کہ: ’’قادیانی مسئلہ سے متعلق قومی اسمبلی کا فیصلہ اسلام، جمہوریت اور تعلیم و فراست کی عظیم فتح ہے۔ جسے اسلامی دنیا میں ایک تاریخ ساز حیثیت حاصل رہے گی۔ انہوں نے حزب اقتدار، حزب اختلاف، مجلس عمل تحفظ ختم نبوت، طلباء اور رائے عامہ کے دوسرے رہنماؤں کو مبارک باد دی ہے۔ جن کی، مساعی کے نتیجے میں اس فیصلے نے ملک قوم کو ایک نہایت ہی کٹھن اور خوفناک صورتحال سے بچالیا۔‘‘
صوبہ سرحد کے وزیر منصوبہ بندی اور ترقیات حیات محمد خان شیر پاؤ نے ’’وزیر اعظم بھٹو اور قومی اسمبلی کے ارکان کو قادیانیوں کے مسئلہ کو کامیابی کے ساتھ حل کرنے پر زبردست مبارک باد کا مستحق قرار دیا اور کہا کہ وزیر اعظم کی قیادت میں قومی اسمبلی نے یہ فیصلہ کر کے پوری قوم کی خواہشات اور امنگوں کی ترجمانی کی ہے۔‘‘
پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے چیئر مین ملک معراج خالد نے کہا کہ : ’’قادیانی مسئلہ کا تصفیہ بہت عظیم کارنامہ ہے۔ قوم نے ایک زبردست بحران پر خوش اسلوبی کے ساتھ قابو پایا ہے۔‘‘
(روزنامہ جنگ کراچی، مورخہ ۱۱؍ ستمبر ۱۹۷۴ء)
تحریک استقلال کے سربراہ ریٹائرڈ ائیر مارشل اصغر خان نے کہا کہ : ’’قادیانیوں کے مسئلہ کا حل واقعی ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ آج کا دن بڑا مبارک ہے ۔ جب کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا ۔‘‘
(نوائے وقت لاہور، مورخہ ۱۰؍ ستمبر ۱۹۷۴ء)
آل پاکستان پیپلز لیگ اینڈ سوسائٹی کے صدر اور پیپلز پارٹی کے رہنما سید اشرف علی ترمذی نے بیان دیا کہ: ’’قادیانی مسئلے کا جمہوری حل ایک نہایت مستحسن اقدام ہے جو تاریخ کا حصہ بن گیا اور جب بھی اس کا تذکرہ ہو گا اہالیان پاکستان بجا طور پر اس پر فخر کریں گے۔‘‘
(روزنامہ قائداعظم لائل پور، مورخہ ۱۳؍ ستمبر ۱۹۷۴ء)
قرارداد کے بارے میں غیر ملکی اخبارات اور شخصیات کے تاثرات اور تبصرے
قرارداد پر جہاں پاکستان کے عوام نے اطمینان ومسرت کا مظاہرہ کیا ۔ دیگر اسلامی ممالک بلکہ غیر اسلامی ممالک نے بھی خوشی کا اظہار کیا۔ قرارداد کے اگلے ہی دن ایک برطانوی اخبار ڈیلی گراف (Daily Graph) نے تبصرہ شائع کیا کہ : ’’اس فیصلے سے پاکستان خانہ جنگی سے بچ گیا ۔ اس سے پاکستان کافی حد تک بیرونی سازشوں سے بھی بچ گیا ۔ ڈیلی گراف کے علاوہ دیگر برطانوی اخبارات نے اس حوالے سے خصوصی رپورٹیں ، تبصرے اور خبریں شائع کی ہیں اور اس کو مستحسن اقدام قرار دیا ہے۔
(ملخص جنگ، مورخہ ۱۱؍ ستمبر ۱۹۷۴ء)
سید حسن التہامی
اسلامی سیکرٹریٹ کے سیکرٹری جنرل سید حسن التہامی نے قادیانیوں کے بارے میں اسمبلی کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا: ’’پاکستان اب حقیقی اسلامی ملک بن گیا ۔ پاکستانی پارلیمنٹ نے ایک نہایت اہم اور حساس نوعیت کے مسئلے کو آئینی طور پر حل کیا جو قابل داد
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
امر ہے۔ اس فیصلہ کی نقول مہیا ہونے پر تمام ممبر ممالک کو بھیجی جائیں گی۔ ہماری استدعا ہے کہ ہمیں اس کی نقول ہی مہیا نہ فرمائی جائے۔ بلکہ بعض ممالک جن کے یہاں ابھی تک یہ ٹولہ آزادی کی زندگی گزار رہا ہے انہیں توجہ دلا کر پاکستان کی تقلید پر آمادہ کریں۔ تاکہ اس گروہ خبیثہ کا قلع قمع ہو سکے۔‘‘
(روزنامہ جنگ کراچی، مورخہ ۱۰؍ ستمبر ۱۹۷۴ء)
رابطہ عالم اسلامی کا اظہار اطمینان و امتنان
مکہ مکرمہ کے مقدس شہر میں جو مرکز اسلام کی حیثیت رکھتا ہے۔ ربیع الاول ۱۳۹۴ھ مطابق اپریل ۱۹۷۴ء کو رابطہ عالم اسلامی کے زیر اہتمام اسلام کی دینی تنظیموں کا ایک عظیم الشان اجتماع منعقد ہوا جس میں اسلامی ممالک بلکہ مسلم آبادیوں کی ۱۴۴ تنظیموں کے نمائندے شامل تھے۔ یہ مراکش سے لے کر انڈونیشیا تک کے مسلمانوں کا نمائندہ اجتماع تھا۔ اس میں مرزائیت کے بارے میں جو قرارداد منظور ہوئی وہ مرزائیت کے کفر ہونے پر اجماع امت کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کانفرنس میں تمام اسلامی ممالک سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ قادیانیوں کو کافر اور خارج از اسلام قرار دیں اور قادیانیوں کی ہر قسم کی سرگرمیوں پر پابندی لگائیں۔ کسی قادیانی کو کسی اسلامی ملک میں کوئی بھی ذمہ دارانہ عہدہ نہ دیا جائے۔ قرآن مجید میں قادیانیوں کی تحریفات سے لوگوں کو خبردار کیا جائے۔
اتفاق سے اس قرارداد کی منظوری کے چند ماہ بعد ہی پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا۔ اس پر رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کے سیکرٹری جنرل شیخ محمد صالح نے اپنے ایک بیان میں کہا: ’’قادیانیوں کے بارے میں فیصلہ پاکستانی عوام کی اسلام سے گہری وابستگی کا آئینہ دار ہے۔ تمام مسلمان حکومتیں اپنے اپنے ملک میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیں۔‘‘
جرمن مسلمانوں کا خراج تحسین
جرمن میں مقیم مسلمانوں کی طرف سے امت مسلمہ کو مبارک بادی کا ایک خط لکھا گیا۔ خط میں تبریک کے علاوہ ان کے مقدس جذبات کا اظہار اور جرمنی میں قادیانیوں کا مختصر تذکرہ بھی ہے۔ اس لئے من وعن شائع کیا جاتا ہے۔ ’’جرمنی میں مقیم خدا کی وحدانیت اور حضرت محمد ﷺ کو آخر الزمان نبی ماننے والوں پر ریڈیو پاکستان سے ۷ ستمبر کو ولولہ انگیز اور فیصلہ کن خبر کہ قادیانیوں کے دونوں گروہوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا ہے۔ ایک نہایت ہی عجیب کیفیت طاری ہو گئی۔ ہر ایک بے قرار نظر آرہا تھا کہ جلد از جلد پاکستان پہنچ کر اپنے گھروں میں چراغاں کرے اور عظیم خوشی میں اپنے بھائیوں کے ساتھ شریک ہو اور ان شہیدوں کی قبروں پر سلام کرے۔ جنہوں نے اس تحریک اور ۱۹۵۳ء کی ختم نبوت تحریک میں جام شہادت نوش کیا۔ ہم ملک غیر میں بسنے والے پاکستانی ایک قرارداد کے ذریعے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور تمام ممبران قومی اسمبلی اور حضرت مولانا محمد یوسف بنوری صدر مجلس عمل تحفظ ختم نبوت اور ان کی وساطت سے ہر مکتبہ کے علمائے کرام اور بالخصوص حضرت مولانا مفتی محمود، حضرت مولانا شاہ احمد نورانی، پروفیسر عبدالغفور، مولانا حافظ عبدالقادر روپڑی، سید مظفر علی شمسی، مجاہد ختم نبوت جناب مجتہد سید اظہر حسین زیدی، استاذ المبلغین مجلس تحفظ ختم نبوت مولانا محمد حیات، آغا عبدالکریم شورش اور اس کے چٹان اور دیگر تمام معاونین حضرات کی خدمت مبارک باد پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے حکومت کے ساتھ تعاون کر کے اور صاحب اقتدار نے سواد اعظم کی عقل و دانش کا ثبوت دے کر ایک عظیم فیصلہ قرآن اور حدیث کی روشنی میں حل کر کے نبوت کے جعلی علمبرداروں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا۔ آج امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولوی ثناء اللہ، قاضی احسان اللہ شجاع آبادی، مولانا احمد علی لاہوری کا مشن جناب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے خادم علامہ سید محمد یوسف بنوری کی وساطت سے خداوند کریم نے پورا کر دیا۔ خداوند کریم سے دعا کرتے ہیں
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
پاکستان کو مضبوط قائم اور دائم رکھے۔ فرینکفرٹ میں قادیانیوں نے سابقہ حکومت کی وساطت سے ایک عبادت گاہ بنائی ہوئی ہے۔ مگر پاکستانی مسلمانوں کے لئے کوئی مسجد نہیں ہے۔ حکومت پاکستان سے امید کرتے ہیں کہ فرینکفرٹ میں مسجد بنانے کی طرف دھیان کرے۔ آخر میں شہداء ختم نبوت کو سلام کرتے ہیں کہ جنہوں نے اس مقصد کے لئے جام شہادت نوش کیا۔ ان کے پسماندگان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔‘‘
(اہالیان فرینکفرٹ منظور احمد خادم مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان مغلپورہ لاہور، حال مغربی جرمنی)
سید اشرف الجیلانی دہلی
جمعیت برادران دہلی کے صدر سید احمد اشرف شاہ الجیلانی نے ”اسلامیان پاکستان، علماء کرام، ارکان پارلیمنٹ اور وزیر اعظم کو قادیانی اقلیت قرار دینے پر مبارک باد پیش کی ہے۔ اس کو پاکستان کے تحفظ اور سلامتی کا اقدام قرار دیا ہے۔‘‘
(روزنامہ جنگ کراچی، مورخہ ۱۱؍ستمبر ۱۹۷۴ء)
ولیم کرالے
مشہور برطانوی صحافی اور بی بی سی کے تبصرہ نگار ولیم کرالے نے بیان دیا کہ: ”قادیانیوں کے بیان کے مطابق پاکستان میں ان کی تعداد ۵ لاکھ سے ۲۰ لاکھ تک ہے۔ اس نے کہا کہ یہ لوگ پاکستان میں بہت بااثر ہیں۔ دولت ان کے پاس بہت ہے۔ سرکاری محکموں میں عہدے بھی بہت ہیں۔ لیکن اس فیصلے کے بعد یہ لوگ بے اثر ہو گئے اور غیر جانبدارانہ رائے یہ دی جا سکتی ہے کہ پاکستان نے ملک وقوم کے حق میں بہتر فیصلہ کیا ۔‘‘
(بحوالہ روزنامہ نوائے وقت، مورخہ ۱۱؍ستمبر ۱۹۷۴ء)
ٹائمز لندن
مشہور برطانوی اخبار ٹائمز کے نامہ نگار نے لکھا کہ: ”قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینا بلاشبہ دائیں بازو کی جماعت کی فتح ہے۔ لیکن وزیر اعظم نے اس کو قومی فیصلہ قرار دیا ہے۔‘‘ ٹائمز نے اپنے اداریہ میں لکھا کہ: ”قادیانیوں نے اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی ماری ہے۔ اگر وہ ربوہ ریلوے اسٹیشن پر فساد برپا نہ کرتے تو انہیں آج یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا۔ قادیانیوں کا عقیدہ ۹۰ سال پرانا ہے اور شروع دن سے مسلمان اس پر اعتراض کرتے رہے ۔‘‘
(ڈیلی ٹائمز، مورخہ ۱۰؍ستمبر ۱۹۷۴ء)
گارڈین لندن
برطانوی اخبار گارڈین نے قادیانی مسئلہ پر آئین میں ترمیم کے حوالے سے لکھا: ”قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا فیصلہ بلاشبہ اسلام کی تاریخ کا بے مثال فیصلہ ہے۔ قادیانیوں کو یقیناً اس فیصلہ سے رنج ہوا ہوگا۔ لیکن سواد اعظم میں اطمینان کی لہر دوڑ گئی۔ ممکن ہے قادیانی اب بھی اپنے آپ کو مسلمان کہیں۔ لیکن معاشرے میں اب انہیں وہ مقام حاصل نہیں رہے گا جو مسلمان کو حاصل ہے۔‘‘
شیخ عبداللہ مدینہ منورہ
مدینہ یونیورسٹی کے چانسلر اور اشراف دینیہ کے رئیس شیخ عبداللہ نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے پر اہلیان پاکستان کو مبارک باد دی۔ اس فیصلے پر نہایت خوشی و مسرت کا اظہار کیا اور کہا: ”بحیثیت مسلمان ہمارے دل بھی اسلامیان پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ توقع یہ ہے کہ اس دور اندیشانہ فیصلے سے پاکستان ایک اچھے دور میں شامل ہوگا۔‘‘
(نوائے وقت لاہور، مورخہ ۱۳؍اکتوبر ۱۹۷۴ء)
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
پاسبان حرم شاہ فیصل
عزت مآب پاسبان حرم شاہ فیصل نے ”مرزائیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم قرار دیئے جانے پر مسرت واطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے تمام عوام کے دینی احساسات وجذبات کے قدرداں ہیں۔ اس فیصلے پر ہم اظہار تشکر کرتے ہیں۔ ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں دین کی زیادہ سے زیادہ خدمت کرنے کی توفیق ملے۔“
(نوائے وقت لاہور، مؤرخہ ۲۹؍ستمبر ۱۹۷۴ء)
باشندگان مدینہ منورہ
مدینہ منورہ کے ممتاز عالم دین شیخ فضل الرحمٰن مدنی نے قادیانیوں سے متعلق فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ: ”یہ عظیم کامیابی صرف پاکستان کے مسلمانوں کی نہیں بلکہ عالم اسلام کی کامیابی ہے اور اس فیصلے پر پوری امت مسلمہ آپ کی شکرگزار ہے۔“
(امروز، مؤرخہ ۲۳؍ستمبر ۱۹۷۴ء)
مدینہ یونیورسٹی کے چانسلر
شیخ عبدالعزیز بن باز چانسلر اسلامی یونیورسٹی مدینہ منورہ نے تحریک تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رکن مولانا عبدالرحیم اشرف کے نام ایک تار میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے پر مسرت اور اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ: ”اس مبارک موقع پر سعودی عرب کے عوام کے جذبات پاکستانی عوام کو پہنچا دیجئے۔ شیخ نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اہلِ پاکستان کو تمام برائیوں سے بچا کر صراط مستقیم پر گامزن کرے اور مسلم امت کی حکومتوں کو اسلام کا دامن مضبوط تھامنے اور جرأت کے ساتھ صحیح وقت میں صحیح فیصلہ سنانے کی توفیق دے۔“
(روزنامہ نوائے وقت لاہور، مؤرخہ ۲۸؍ستمبر ۱۹۷۴ء)
برطانیہ کے مسلمانوں کی طرف سے خراج تحسین
یو کے اسلامک مشن کے صدر مسٹر محمد سلیم کیانی نے ایک تار میں کہا کہ: ”مرزائیوں کو غیر مسلم قرار دینے سے دنیا بھر کے مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس خوشی اور شادمانی کے موقع پر اسلامیان پاکستان کو مبارک باد پیش ہو۔ تار میں مطالبہ کیا گیا کہ قادیانیوں کو تمام کلیدی عہدوں سے الگ کیا جائے۔“
(لولاک، مؤرخہ ۱۰؍اکتوبر ۱۹۷۴ء)
دارالافتاء نائیجیریا
مسٹر محمد عطاء الرحمٰن صدر دارالافتاء نائیجیریا نے یہ بیان دیا: ”قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینا پاکستان نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کے لئے اعزاز کی بات ہے۔ اب پاکستان صحیح طور پر مسلمان ریاست بن گیا۔“
(لولاک، مؤرخہ ۱۰؍اکتوبر ۱۹۷۴ء)
کینیڈا
”مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی طرف بھیجے گئے ایک مراسلے میں کینیڈا کے مسلمانوں نے فیصلے پر انتہائی مسرت وانبساط کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے علماء ومشائخ ، طلباء، وکلاء اساتذہ، تجار، صحافیوں اور عوام کو اس بے مثال اتحاد اور پیہم جدوجہد پر سلام کیا ہے۔ جس کے نتیجے میں پوری قوم قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے مطالبے پر بنیان مرصوص بن کر کھڑی ہو گئی۔“
(روزنامہ جنگ کراچی، مؤرخہ ۱۳؍ستمبر ۱۹۷۴ء)
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب وتحقیق : مولانا محمد عبداللہ معتصم
ماریشس
اسلامی سرکل ماریشس کے صدر نے قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم قرار دینے پر مسلمانان پاکستان کو مبارک باد پیش کی ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پارلیمنٹ کے اس فیصلے پر ماریشس کے مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور انہوں نے ”اسلام زندہ باد“ کے نعرے لگائے ۔
شکاگو
”شکاگو کے مسلمانوں نے بھی اس تاریخی قرارداد کا خیر مقدم کیا ہے اور پاکستانی عوام اور حکومت کو تہنیت و تبریک کے الفاظ بھیج دیئے ۔“
(روزنامہ نوائے وقت لاہور ،مؤرخہ ۱۹؍ستمبر ۱۹۷۴ء)
مدینہ یونیورسٹی کے طلباء کا اظہار مسرت
اسلامک یونیورسٹی مدینہ منورہ میں زیر تعلیم پاکستانی طلباء نے ایک مشترکہ اجلاس میں پارلیمنٹ کو قومی امنگوں پر پورا اترنے پر ہدیہ تبریک پیش کیا گیا اور اس آئینی ترمیم کی تعریف کی گئی ۔ جس میں منکرین ختم نبوت کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا گیا ۔ اجلاس میں پاکستانی عوام ،طلباء اور علماء کو جرأت و ہمت واستقلال اور اتحاد کے اس عظیم الشان مظاہرے پر دلی مبارکباد پیش کی گئی کہ انہوں نے کسی قسم کا دباؤ قبول کرنے سے انکار کیا ۔ یہ عظیم کامیابی اسی اتحاد واستقلال کا ثمرہ ہے ۔
مرزائیوں کو کلیدی آسامیوں سے ہٹانے کا مطالبہ
قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے بعد ایک بڑا مسئلہ یہ درپیش تھا کہ قادیانیوں کو کلیدی اور اساسی آسامیوں سے کیسے ہٹایا جائے ؟ اس لئے کہ مختلف سرکاری عہدوں پر قادیانی افسران براجمان تھے ۔ جن میں سے کچھ قانون سازی کے ادارے بھی تھے ۔ اسلام اور آئین پاکستان کی رو سے کوئی غیر مسلم مسلمانوں کے قوانین نہیں بنا سکتا ۔ قادیانیوں کے ارتداد کے فیصلہ کے ۳ دن بعد مفکر ملت مفتی محمود اس بات کا احساس کرتے ہوئے اٹھے کہ قادیانی اگر بدستور کلیدی عہدوں پر بحال رہے تو ملک وملت کے لئے کوئی سود مند اقدام نہیں اٹھائیں گے ۔ بلکہ دانستہ طور پر پاکستان اور اہل پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیں گے ۔ انہوں نے حکومت سے قادیانیوں کو کلیدی عہدوں سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ۔ ان کے وقف املاک اور ان کے ہاتھ اراضی کے فروخت کی تحقیقات کرانے کا فیصلہ کر لیا ۔ فرقان فورس اور خدام الاحمدیہ (قادیانیوں کی عسکری اور غیر سیاسی تنظیمیں ) پر پابندی عائد کرنے اور ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے کا بھی مطالبہ کیا ۔ مفتی صاحب کے علاوہ مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے حضرات نے بھی یہی مطالبات کئے ہیں ۔ جامعہ اشرفیہ کے سربراہ مولانا عبیداللہ اشرفی صاحب نے مطالبہ کیا کہ حکومت کو چاہئے کہ ربوہ سے قادیانیوں کی فہرست حاصل کر کے اس بنیاد پر کارروائی کرے ۔ قادیانی لٹریچر پر پابندی لگادی جائے اور قادیانیت کے عقائد کی وضاحت اور اس کی تردید سرکاری سطح پر شائع کی جائے ۔
جامعہ نعیمیہ کے سربراہ مولانا مفتی محمد حسن نعیمی نے مطالبہ کیا کہ شناختی کارڈوں میں تصحیح کی جائے ۔ انتخابی فہرست میں قادیانیوں کے لئے ایک خصوصی شق رکھی جائے ۔ کالج وسکول کے داخلہ فارموں پر ان کے مذہب کا اعلان کرایا جائے ۔
مسجد وزیر خان کے خطیب مولانا خلیل احمد قادری نے کہا حکومت کو چاہئے ایک بورڈ تشکیل دے جس میں علماء کرام کو نمائندگی دی جائے ۔ تاکہ آئین کے تمام فیصلوں پر عملدرآمد ہو سکے ۔ حکومت نے حضرت مفتی صاحب کے مطالبات تسلیم کئے اور انہیں یقین دلایا کہ یہ
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
ہماری ذمہ داری ہیں اور انہیں حتی الامکان نبھایا جائے گا۔
(تلخیص روزنامہ جنگ کراچی، مؤرخہ ۱۱؍ستمبر ۱۹۷۴ء)
قرارداد کے بعد حکومت کی غفلت اور علماء کی بیدار ذہنی
پارلیمنٹ میں قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے بعد اور آئینی طور پر ان کو غیر مسلم قرار دینے کے بعد حکومت کافی عرصہ سے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی ہوئی تھی اور مرزائیوں کے متعلق فیصلہ کے عمل درآمد کو غیر ضروری طول دیتی رہی۔ علماء کرام اور عوام کی طرف سے بل کے عملی نفاذ کے مسلسل مطالبے کے باوجود ارکان حکومت لیت ولعل سے کام لے رہے تھے۔ اس سلسلے میں مذہبی اور سیاسی رہنماؤں نے حکومت کی توجہ اس نازک پہلو کی طرف دلانی چاہی۔ چند ایک اخباری بیانات کے حوالے ملاحظہ فرمائیں۔ جن میں آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ اس نازک موڑ پر علماء وعوام کس قدر بیدار ذہنی سے کام لے رہے تھے اور حکومتی مشنری کس بے دردی کے ساتھ محو خواب تھی۔
مولانا مفتی محمود کا بیان
حضرت مولانا مفتی محمود نے اپنے مختلف بیانات میں حکومت سے بار بار مطالبہ کیا کہ آئین میں کی گئی تبدیلی کے عملاً نفاذ میں تاخیر نقصان کا موجب بنے گی۔ اس سے قادیانیوں کو سازشیں اور شرارتیں کرنے کا موقع فراہم ہو رہا ہے۔ قادیانیوں کی نیم فوجی تنظیموں پر پابندی عائد کرنا اور ان کا اسلحہ ضبط کر لینا ملکی مفاد کے پیش نظر نہایت ضروری امر ہے۔ غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے کے بعد مرزائی مرغ بسمل کی طرح تڑپیں گے اور ملک وقوم کے خلاف کسی بھی طرح کے اقدام سے دریغ نہیں کریں گے۔ حضرت مفتی صاحب نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پچھلے دنوں مسلمانوں کے قتل کے جو واقعات ہوئے ہیں یا قادیانیوں کی طرف سے مسلمان کسی بھی قسم کی سرگرمی کے شکار رہے ہیں ان میں ملوث قادیانیوں کو قوم کے سامنے لایا جائے اور مزید اس طرح کے واقعات وحادثات سے بچنے کے لئے حکومت جلد از جلد آئین میں کی گئی تبدیلی کو نافذ العمل قرار دے۔
(نوائے وقت، مؤرخہ ۱۱؍اکتوبر ۱۹۷۴ء)
مولانا سید محمد یوسف بنوری کا مطالبہ
”مجلس تحفظ ختم نبوت کی قیادت نے مرزائیوں کی ملک میں بڑھتی ہوئی شرانگیزیوں اور فتنہ پردازیوں پر اظہار تشویش کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ صدر مملکت فوری طور پر قومی اسمبلی کے آئین میں منظور کردہ ترمیمی بل پر عمل درآمد کے لئے آرڈیننس جاری کرے۔ حکومت اگر اپنے ہی بنائے ہوئے آئین پر عملدرآمد نہ کرا سکے تو یہ اس حکومت اور اس کے بنائے ہوئے آئین کی توہین کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرزائیوں کے غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے کے بعد لازمی تھا کہ انہیں فوری طور پر تمام کلیدی آسامیوں سے برطرف کیا جاتا تا کہ اپنے عہدوں پر برقرار رہتے ہوئے وہ کوئی ناجائز فائدہ نہ اٹھا سکیں۔ اسی طرح ان پر تمام شعائر اسلامی کے استعمال کی پابندی عائد کی جائے۔ کیونکہ کسی بھی غیر مسلم کو یہ حق نہیں کہ اپنی عبادت گاہوں کو مسجد کا نام دیں یا ان میں اذان کہیں۔ تاوقتیکہ ان میں سے کوئی مسلمان نہ ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ ملت اسلامیہ اور خود پاکستان کا مفاد اس میں ہے کہ اس فتنہ پرداز گروہ کی طرف سے غفلت اختیار نہ کی جائے اور اسی گروہ کے سربراہ مرزا ناصر کی باتوں کا نوٹس لینا چاہئے۔ کیونکہ مرزائی ایک سازش کے تحت حکمران پارٹی خصوصاً کمیونسٹ عناصر کے ساتھ مل کر بظاہر مسلمان ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔ لیکن بموں کے دھماکوں اور شرانگیزیوں کے ذریعہ ملک میں ابتری پھیلا کر اس کی تمام تر ذمہ داری مسلمانوں پر عائد کرتے ہیں۔“
(روزنامہ نوائے وقت، مؤرخہ ۳۱؍اکتوبر ۱۹۷۴ء)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
مولانا منظور احمد چنیوٹی
مولانا منظور احمد چنیوٹی نے بھی ان الفاظ میں یہی مطالبہ کیا ہے کہ: ”مرزائیوں کو حج پر جانے سے روکا جائے۔ اس لئے کہ سعودی حکومت قادیانیوں کو گرفتار کرتی ہے۔ پہلے تو حکومت پاکستان کی مداخلت سے سزاؤں پر عمل درآمد نہیں ہوتا تھا۔ اب تو وہاں بھی مرزائی مرتد قرار دیئے جاچکے ہیں۔ سعودی حکومت کے لئے اب مرزائیوں کو سزا دار ٹھہرانے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں، پاکستانی حکومت بھی نہیں۔ مولانا چنیوٹی نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کے ایسے تمام مشن اسلامی مشاورتی کونسل کے کنٹرول میں دیئے جائیں جو غیر ممالک میں قائم ہیں۔ ان مشنری اداروں کے اخراجات وقف املاک کی آمدنی سے پورے کئے جائیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ وزارت خارجہ کی ۹۰ فیصد کلیدی آسامیوں پر تاحال قادیانی فائز ہیں جو کسی بھی طرح ملک کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔ لہٰذا انہیں وہاں سے ہٹا دیا جائے اور غیر ممالک میں جہاں جہاں قادیانی سفیر تعینات ہیں انہیں واپس بلا لیا جائے۔“
(روزنامہ نوائے وقت لاہور، مؤرخہ....../اکتوبر ۱۹۷۴ء)
مولانا مودودی صاحب کا احتجاج
بانی جماعت اسلامی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے کہا ہے کہ: ”دستور میں ترمیم کے ذریعے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر سانپ کو لاٹھی ماری گئی ہے۔ لیکن لاٹھی چلا کر بیٹھے رہنا سانپ کو جوابی حملے کی دعوت دینا ہے۔ قادیانی زخمی سانپ کی طرح پھنکار رہے ہیں۔ اگر خود زندہ رہنا چاہتے ہیں تو سانپ کو جلدی ختم کرنا ہوگا۔ ورنہ وہ ڈس لے گا۔ انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ ترمیم کے بعد مزید کوئی کارروائی نہیں ہو رہی ہے۔ قادیانیوں کی پھیلی ہوئی جڑوں کو کاٹنے میں تساہل سے کام لیا جا رہا ہے۔ حکمرانوں کے خیال میں دستوری ترمیم کا مطلب یہ ہے کہ ایک اقلیت کو تحفظ دیا گیا ہے۔ لیکن یہ تو وہ اقلیت ہے جو اکثریت کو غلام بنانے کے خواب دیکھ رہی ہے اور اس کے لئے سازشوں میں مصروف تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بیرونی ممالک میں قادیانیوں نے جو اثر نفوذ حاصل کیا ہے وہ دستوری ترمیم کی وجہ سے آدھا ختم ہو گیا ہے۔ قومی اسمبلی اور سینٹ کے اس مشترکہ فیصلے کے بعد ضروری ہے کہ غیر ممالک میں جہاں ان کے اڈے ہیں وہاں ان کے بارے میں لوگوں کو صحیح صورتحال سے آگاہ کیا جائے۔ یہ بتانا ضروری ہے کہ قادیانی نہ صرف غیر مسلم ہیں بلکہ ایک زمانے میں انگریز کے جاسوس بھی تھے۔ یہ کوئی مذہبی نہیں بلکہ سیاسی گروہ ہے جو سیاسی عزائم رکھتا ہے۔ غیر ممالک میں جب یہ بات پھیلے گی تو کم از کم مسلمان ممالک ان کے فتنے سے محفوظ رہیں گے۔ قادیانی بیرونی ممالک میں غیر مسلموں کو پہلے سیدھا سادا مسلمان بناتے ہیں اور بعد میں یہ مناسب حالات میں مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کا ذکر کرتے ہیں۔ چنانچہ قادیانیوں کے ہاتھوں مسلمان ہونے والے بتاتے ہیں کہ ہمیں کسی نئی نبوت کا علم نہیں ہے۔ ہم تو مسلمان ہیں۔ اب جب ان پر حقیقت کھلے گی تو وہ صحیح العقیدہ مسلمان ہو جائیں گے۔“
(روزنامہ نوائے وقت، مؤرخہ ۲/اکتوبر ۱۹۷۴ء)
طرفہ یہ ہے کہ صرف مسلمان نہیں بلکہ غیر مسلم بھی ان کی ان دسیسہ کاریوں اور دروغ بافیوں سے بلبلا اٹھے بطور نمونہ ایک مسیحی رہنما کے بیان اور احتجاج کو نقل کیا جاتا ہے۔
مسیحی رہنما جیمز صوبے خان کا بیان
پاکستان کرسچین لیگ کے صدر جیمز صوبے خان نے ایک اخباری بیان میں کہا کہ: ”اگر ملکی سالمیت کے لئے قادیانی فرقے کی کڑی نگرانی نہ کی گئی اور اس غیر مسلم مخصوص اقلیت کے علیحدہ حقوق کا تعین کر کے ساٹھ لاکھ مسیحی محب وطن اقلیت کے حقوق و مفادات کا عملی
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء
ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
تحفظ نہ کیا گیا تو اس کے خطرناک نتائج نکلیں گے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ انگریزوں نے اپنے مفادات کی خاطر اس گروہ کو جنم دیا اور اپنے مسیحی عقیدے کا احترام رکھنے کی بجائے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف نام نہاد مسیح موعود کی پرورش اور دوسری سازشی سرگرمیوں کی حمایت کی۔ انہوں نے دنیا کی تمام عیسائی مملکتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف مرزائیوں کے توہین آمیز لٹریچر کو فوراً ضبط کرلیں اور ان کی سرگرمیوں سے خبردار رہیں۔‘‘
(روزنامہ نوائے وقت لاہور،مؤرخہ ۲۵؍ستمبر ۱۹۷۴ء)
مرزائیوں کو ملکی معاملات سے بے دخل رکھنے اور کلیدی عہدوں سے ہٹانے کا مطالبہ خود مرزائیوں کی طرف سے بھی آیا۔
ایک سابق قادیانی عبدالرزاق مہتہ کا مطالبہ
عبدالرزاق مہتہ (سابق قادیانی) لکھتا ہے: ’’حکومت کو چاہئے کہ مرزائیوں کو جلد از جلد کلیدی آسامیوں سے ہٹائے۔ بصورت دیگر یہ ملک و قوم کو کسی بھی طرح کے نقصان پہنچانے سے دریغ نہیں کریں گے۔ اس لئے کہ قادیانی فطرت میں تجسس اور راز افشاء کرنے کی عادت ہے۔ جاسوسی قادیانی خلافت کے گھروں سے نکل کر حکومت کے دفاتر اور اداروں کے اندر داخل ہوچکی ہے۔ ہر جائز و ناجائز طریقے سے ملک وملت کے سربستہ راز نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ حکومت کو بھی اعتراف کرنا پڑا کہ قادیانیوں کے موجودہ خلیفہ مرزا طاہر اور مرزا ناصر اس جاسوسی کی سرپرستی کرتے ہیں۔‘‘
(مرزائیوں کی روحانی شکار گاہ از عبدالرزاق مہتہ بن عبدالرحمن قادیانی ص ۱۰)
چوہدری ظفر اللہ قادیانی کا انٹرویو
آئین کے عملی نفاذ میں بے جا اور غیر ضروری تاخیر کی وجہ سے مرزائی جری ہوتے گئے اور اپنے آپ کو آئین سے بالاتر سمجھتے ہوئے ملک و مذہب کے خلاف زہر افشانیاں کرتے رہے۔ چنانچہ قرارداد منظور ہوئے ابھی دو ہفتے بھی مکمل نہیں ہوئے تھے کہ قادیانیوں کے پروردہ سابقہ وزیر خارجہ چوہدری ظفر اللہ نے آئین پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی۔ آئین کا تذکرہ نہایت ہی بھونڈے انداز میں کیا اور آئین کی دفعات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے روزنامہ نوائے وقت کو ایک تیز وتند انٹرویو دیا۔ چونکہ اس انٹرویو میں موصوف کی اور بھی بہت ساری ’’گہر افشانیاں‘‘ ہیں۔ اس لئے من وعن نقل کیا جاتا ہے۔
سوال: میں نے گزشتہ انٹرویو میں آپ سے یہ اہم سوال پوچھا تھا کہ اگر آپ کو غیرمسلم اقلیت قرار دے دیا جائے تو آپ کا ردعمل کیا ہوگا۔ اس کا آپ نے یہ جواب دیا تھا کہ مسلمان ہونے کے لئے آپ کو حکومت یا کسی ادارے کی تائید کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ اس کا اختیار اللہ تعالیٰ کو ہے۔ اب جب پاکستان کی قومی اسمبلی نے آپ کے فرقہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا قانون پاس کردیا ہے تو آپ اس فیصلہ کے بارے میں اب کیا کہیں گے؟
جواب: میرا وہی موقف ہے جو پہلے تھا۔ کوئی پارلیمنٹ کسی کے ایمان کا فیصلہ نہیں کرسکتی۔ یہ صرف اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ اگر اس کی نظر میں ہم مسلمان ہیں تو ساری دنیا ہمیں غیر مسلم قرار دے دے اس سے ہم غیر مسلم نہیں ہو جائیں گے۔ پاکستان کی پارلیمنٹ نے جو فیصلہ کیا ہے اس کے نتیجے میں بے شک ہمارے لئے مشکلات پیدا ہوں گی۔ لیکن ایمان کے راستے میں ہمیشہ مشکلات پیدا ہوتی رہتی ہیں جس سے مؤمن کا امتحان ہوتا ہے۔
سوال: غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے کے بعد آپ کے خیال میں آپ کے لوگوں کو کس قسم کی مشکلات پیش آئیں گی؟
جواب: مشکلات کے بارے میں کوئی اندازہ نہیں کرسکتا۔ لیکن اخبارات میں جو منصوبے چھپتے رہتے ہیں مثلاً احمدیوں کو کلیدی آسامیوں
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء
ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
سے الگ کر دیا جائے ، یا اور کئی قسم کی اقتصادی، معاشرتی یا تمدنی مشکلات ان کے لئے پیدا کی جائیں ، یہ بظاہر ایک خوف دلانے والی چیز ہیں۔ لیکن جس شخص کا ایمان محکم ہو اور سچا پکا مسلمان ہو، اسے کسی سے ہراساں ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہم بفضل اللہ مؤمن ہیں اور ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں استقامت عطاء فرمائے اور ہر حالت میں اپنی رضا کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے ۔ میں یہ بھی کہوں گا کہ ایک عمل تو بالکل واضح ہو گیا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے حق پر قائم ہیں۔ کیونکہ علماء دلائل سے عاجز آچکے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ دلائل کے ساتھ ہماری ترقی نہیں رک سکتی ۔ (حالانکہ قارئین خوب جانتے ہیں کہ مرزائی کبھی بھی دلائل کی دنیا میں اہل حق کا سامنا نہیں کرتے ) اب وہ خوف ، دہشت گردی ، سختی اور تشدد کے ذریعے ہماری ترقی کو روکنا چاہتے ہیں ۔ اگر ہم حق پر قائم ہیں تو یہ طریق حق پر غالب آنے کا نہیں اور نہ اس طریق سے وہ اپنے مقصد کے حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔
سوال: آپ نے ابھی ابھی خوف ، دہشت، تشدد اور سختی کا ذکر کیا ہے۔ وزیر اعظم بھٹو نے ہر پاکستانی شہری کے تحفظ کا اس موقع پر جو اعلان کیا ہے کیا آپ اسے ناکافی اور غیر تسلی بخش سمجھتے ہیں؟
جواب: اس فیصلہ سے قبل عملی طور پر جو تشدد ہو رہا تھا وہ ابھی تک جاری ہے ۔ وزیر اعظم صاحب کا اعلان جہاں تک اصول کا تعلق ہے صحیح ہے۔ لیکن جہاں تک عمل کا سوال ہے ۔ اس پر ابھی عمل شروع نہیں ہوا۔ مثلاً بائیکاٹ کی سختی ابھی تک ویسے ہی جاری ہے اور الفاظ کی شدت جو ہمارے متعلق استعمال کئے جاتے تھے ویسی ہی ہے اور آئندہ ارادے اور منصوبے جن کا اعلان کیا جاتا ہے ویسا ہی تشدد لئے ہوئے ہیں۔
سوال: پاکستان کی قومی اسمبلی نے آپ کو غیر مسلم قرار دینے کا جو فیصلہ کیا ہے۔ اس کے خلاف آپ کوئی اقدام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟
جواب: یہ فیصلہ امام جماعت کے اختیار میں ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ان کی وسعت نظر تمام پہلوؤں پر حاوی ہے۔ جماعتی فیصلے کسی شخصی رائے کے تابع نہیں ہوتے اور آئین نے ہمارے تحفظ کے لئے راستہ کھلا چھوڑا ہوا ہے ۔ اس طریق کو اختیار کرنے پر ضرور غور ہو رہا ہوگا۔
سوال: یہ اطلاعات کہاں تک درست ہیں کہ غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے بعد احمدی مذہبی ہیڈ کوارٹر کو پاکستان سے بیرون ملک منتقل کر دیا جائے گا؟
جواب: امام جماعت احمدیہ کی طرف سے واضح طور پر یہ اعلان ہو چکا ہے کہ پاکستان ہمارا وطن ہے۔ پاکستان ہمیں عزیز ہے۔ ہم اپنے وطن کی بہبود اور ترقی کے لئے ہر خدمت اور ہر قربانی کے لئے تیار ہیں اور اس میں ہمارا جینا اور مرنا ہے۔ (حالانکہ مرزائیوں کا سربراہ مرزا طاہر اور اس کے بعد کی اب تک کی قیادت بیرون ملک ڈیرہ لگائے بیٹھی ہے اور قادیانیت کا مرکز بھی لندن میں منتقل کر لیا ہے۔ چناب نگر صرف پاکستان کا قادیانی مرکز ہے، عالمی مرکز لندن ہے ) یوں کئی پاکستانی تلاش روزگار میں یا اپنے پیشے میں ترقی کی خاطر پاکستان سے باہر غیر ملکوں میں جاتے ہیں ۔ ہمارے لوگ بھی جاتے ہیں۔ چنانچہ کئی لاکھ پاکستانیوں کی آبادی اس وقت برطانیہ میں ہے۔ لیکن اس سے یہ مراد نہیں کہ جو پاکستانی ملک سے باہر کسی ایسی وجہ سے جائے اس کی محبت یا اس کی عقیدت اپنے وطن سے کسی لحاظ سے کم ہو جاتی ہے۔ پاکستان کو ترک کرنے کا منصوبہ جو ہم پر عائد کیا جاتا ہے یہ غالباً ہمارے مخالفین کی خواہش کا عکس ہے یا ان کے عزائم پر دلالت کرتا ہے کہ وہ ہمیں وطن چھوڑنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں۔
تحریک ختم نبوت (ج۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء
ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
سوال: اس الزام کے بارے میں آپ کیا کہیں گے کہ اس سال کے شروع میں آپ پاکستان کے خلاف ساز باز کرنے کے لئے بھارت گئے تھے؟
جواب: میں شروع سال میں دو دن کے لئے قادیان گیا تھا جو ہماری جماعت کا مرکز ہے۔ جہاں ہمارے بہت سے دوست اور عزیز آباد ہیں ۔ جہاں علاوہ بزرگان سلسلہ کے میرے والدین بھی مدفون ہیں اور جس مقام کا ہمارے دلوں میں وہی احترام اور اس کے ساتھ وہی محبت ہے جیسی ایک مذہبی مرکز کے ساتھ ایک عقیدت مند کو ہونی چاہئے۔ میں محض اس جذبہ سے قادیان گیا تھا۔ تقسیم کے بعد میں قادیان اس لئے نہیں جاسکا تھا کہ تمام عرصہ بعض پبلک ذمہ داریاں مجھ پر عائد تھیں۔ جنہیں مدنظر رکھتے ہوئے مجھ اندیشہ تھا کہ میرا قادیان جانا کسی غلط فہمی کا موجب نہ ہو۔ جب میں ان ذمہ داریوں سے آزاد ہو چکا تو اس قید سے بھی میں آزاد تھا اور میں اپنے دلی جذبات کے ماتحت اپنی اس خواہش کو پورا کرنے میں کامیاب ہوا اور اب بھی میں آزاد ہوں کہ اگر موقع محل مناسب ہو اور میرے راستے میں کوئی روک نہ ہو تو میں ان جذبات کے ماتحت قادیان جانے کے مواقع کو غنیمت خیال کروں گا۔ میرے قادیان جانے سے جو تاثرات مخالفین کی طرف سے شائع ہوئے وہ محض ان کی رنگینی تخیل تھی۔ اس میں کسی قسم کی کوئی حقیقت نہیں تھی۔
سوال: آپ نے میرے ساتھ گفتگو کے دوران پاکستان کے لئے ہر قسم کی قربانی دینے کا اظہار کیا ہے۔ اس لئے کیا یہ کہنا درست ہو گا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا قانون پاس نہ ہوتا تو پاکستان خانہ جنگی کی لپیٹ میں آ جاتا۔ اس لئے پاکستان کے استحکام کے لئے آپ کو یہ فیصلہ قبول ہوگا؟
جواب: میں نے اس فیصلہ کو اس لحاظ سے تو قبول نہیں کیا کہ میں اسے صحیح سمجھتا ہوں۔ کیونکہ میں اپنی نگاہ میں اپنے تئیں اور باوجود عاصی گنہگار فرد ہونے کے اللہ تعالیٰ کے فضل سے امید کرتا ہوں کہ اس کی نگاہ میں بھی مسلمان سمجھا جاتا ہوں۔ یہ فیصلہ مجھے غیر مسلم قرار دیتا ہے تو اس لئے اس فیصلہ کو قبول کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جہاں تک خانہ جنگی کا تعلق ہے مجھے اس سے اتفاق نہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ فیصلہ پاکستان کی مضبوطی کا موجب نہیں اور یہ پاکستان کے لئے بہت ہی مشکلات پیدا کرنے والا ثابت ہوگا۔
سوال: حادثہ ربوہ (چناب نگر) کے موقع پر آپ کی لندن میں پریس کانفرنس کے بعد یہ الزام لگایا گیا تھا کہ آپ نے پاکستان کے اندرونی معاملات میں غیر ملکی طاقتوں کو مداخلت کی دعوت دی ہے۔ اس لئے آپ پر مقدمہ چلایا جائے۔ پچھلے دنوں جب برطانوی پارلیمنٹ میں کچھ ممبران نے اس مسئلہ پر تحریک پیش کی تھی تو بھی آپ کے خلاف اس مطالبہ کی صدائے بازگشت سنی گئی تھی۔ کیا موجودہ صورتحال میں آپ بیرونی اثر و نفوذ استعمال کریں گے؟
جواب: میں نے کسی بیرونی حکومت سے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی اپیل نہیں کی۔ جیسا کہ میں پہلے بھی آپ کو بتا چکا ہوں ۔ مجھے حکومتوں اور انسانی حقوق کے تحفظ کے اداروں کا علم ہے۔ جب یہ اطلاعات ملی تھیں کہ ہماری جماعت کے لوگوں کا قتل ہو رہا ہے تو میں نے اقوام متحدہ کے محکمہ انسانی حقوق، ریڈ کراس اور اس قسم کے اداروں سے اس وقت رجوع کیا تھا۔ کیونکہ پاکستان میں احمدیوں کے جان و مال کو کوئی تحفظ حاصل نہیں رہا تھا اور ان اداروں سے رجوع کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا اور یہ وہ ادارے ہیں جن کا پاکستان رکن ہے اور مشکل وقت میں انہی اداروں کی جانب رجوع کرتا ہے۔ چونکہ میں ملامت کا نشانہ بنالیا گیا ہوں۔ اس لئے ہر کوئی میرے خلاف الزام تراشی اپنا فرض سمجھتا ہے اور یہی حال اخبار نویسوں کا ہے کہ وہ بات غلط طور پر پیش کرتے اور اپنی مرضی کا مفہوم نکالتے ہیں۔
(نوائے وقت، مورخہ ۱۸؍ستمبر ۱۹۷۴ء)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
ظفر اللہ قادیانی کے خلاف استغاثہ
قارئین کرام! اس انٹرویو کے ٹھیک تین دن بعد ڈسکہ کے بار ایسوسی ایشن کے صدر سلطان محمود خان ایڈووکیٹ نے چوہدری ظفر اللہ کے خلاف علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں استغاثہ دائر کر دیا۔ استغاثہ کو ہم یہاں ذکر کرنا ضروری اس لئے سمجھتے ہیں کہ اس میں اس انٹرویو کا نچوڑ ذکر کیا گیا ہے اور ظفر اللہ کی ایک ایک بات کی نشاندہی کی ہے۔ جس کے ذریعے مسلمانوں کے جذبات مجروح اور پاکستان کا آئین داغدار ہوا ہے۔ رپورٹ میں الزام علیہ سے مراد ظفر اللہ ہے۔ الزام کیا ہے۔ رپورٹ ملاحظہ فرمانے سے آپ کے سامنے آجائے گی۔
- ۱...... الزام علیہ نے خود کو مسلمان قرار دیا اور جملہ اہل اسلام کو مشرک قرار دیا ہے۔
- ۲...... جملہ اہل اسلام کے جائز اور قانونی مطالبات کو منصوبے قرار دیا ہے۔
- ۳...... الزام علیہ نے اپنے عقیدے کو حق قرار دیتے ہوئے علمائے اسلام پر الزام عائد کیا کہ وہ دلائل سے عقیدہ ختم نبوت کو ثابت کرنے
سے عاجز رہے اور علمائے کرام دہشت اور تشدد کے ذریعے الزام علیہ اور اس کی پارٹی اور مذہب کو ترقی سے روکنا چاہتے ہیں۔
- ۴...... الزام علیہ نے نہ صرف اہل اسلام اور سائل کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا ہے۔ بلکہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی بھی توہین
کی ہے۔ کیونکہ اس نے اپنے بیان میں مروجہ قانون کو خوف و دہشت اور تشدد قرار دیا ہے۔ اس طرح الزام علیہ نے متذکرہ بیان دے کر جرم زیر دفعہ ۲۹۵ اے تعزیرات پاکستان کا ارتکاب کیا ہے۔ لہٰذا اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔
ظفر اللہ کے اس بیان پر چشم بینا اور قلب روشن رکھنے والے چند سیاسی اور مذہبی قائدین نے حکومت کی توجہ بار بار اس طرف دلائی، لیکن بے سود۔ مرزائیت نے جب محسوس کیا کہ ہماری سازشوں اور فتنہ پروریوں کا کوئی نوٹس نہیں لے رہا تو ظفر اللہ کے بیان کے ٹھیک ۴ دن بعد مرزائیت نے ایک قدم نہیں بلکہ کافی لمبی چھلانگ لگا کر حکومت پاکستان کی غیرت کو ایک مرتبہ پھر للکارا۔ قادیانیت کے پوپ مرزا ناصر احمد نے جمعہ کے خطبہ میں یہ بیان دیا۔
مرزا ناصر کا اشتعال انگیز خطبہ
”جماعت احمدیہ کسی کے سامنے نہیں جھکے گی۔ ہم اب پہلے سے بھی زیادہ تبلیغ کریں گے۔“
حالانکہ آئین میں قادیانیوں کی تبلیغ و اشاعت پر پابندی ہے۔ آئین کے آرٹیکل نمبر ۲۶۰ میں یہ بات ہے کہ مرزائیت کی تبلیغ کرنے والا شخص مستوجب سزا ہوگا۔ سزا دو سال سے زیادہ قید ہوگی۔ لیکن حکومتی کارندے کانوں میں روئی ٹھونس کر آرام سے بیٹھے رہے۔ جس سے قادیانیوں کو اور بھی شہ مل رہی تھی۔ اپنے پراگندہ خیالات کو منظر عام پر لانے کا وہ لوگ اس سنہری موقعہ سے بھرپور فائدہ لے رہے تھے۔ دھڑلے سے اپنی تبلیغی سرگرمیوں کو پورا کرتے۔ انہی عبادت گاہوں کو بدستور مسجد ہی کا نام دیتے رہے۔ ”ہفت روزہ الفضل“ اپنے سربراہ کے پیغامات کو چھاپ چھاپ کر پھیلاتا رہا۔ جھوٹی اور گھڑی ہوئی مبشرات کا ایک تانتا باندھا ہوا تھا جو قادیانیوں کے لئے ان کے سربراہ کی طرف سے آ رہی تھی۔ بیرون ممالک میں بیٹھ کر پاکستان اور اہل پاکستان کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈا کر رہا تھا۔ چوہدری ظفر اللہ کی اس ہرزہ سرائی پر مسلمانان پاکستان نے خاص برہمی کا اظہار کیا۔ عوام، خواص نے اس بیان کو حقائق سے یکسر منافی قرار دیا اور اسے ملک وقوم کے خلاف ظفر اللہ کی سازش سے تعبیر کیا۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
وفاقی وزیر قانون جناب عبد الحفیظ پیرزادہ کا ردعمل
وفاقی وزیر مسٹر عبد الحفیظ پیرزادہ نے ظفر اللہ کے بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ظفر اللہ کا یہ کہنا: ’’پاکستان کی پارلیمنٹ کو مذہبی مسائل کے متعلق فیصلہ کرنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ آئین پاکستان کی توہین اور حقائق سے یکسر منافی ہے۔ کسی شخص کو پارلیمنٹ کی خود مختاری کو چیلنج نہیں کرنا چاہئے۔ کیونکہ اس کا فیصلہ ساری قوم کا متفقہ فیصلہ اور آئین کے عین مطابق تھا۔ ختم نبوت کے عقیدے پر ایمان نہ رکھنے والے کو ہم خارج از اسلام مانتے ہیں۔‘‘
(روزنامہ نوائے وقت، مورخہ ۲۵؍ستمبر ۱۹۷۴ء)
مولانا مفتی محمود کا چوہدری ظفر اللہ قادیانی کو جواب
مولانا مفتی محمود صاحب نے فرمایا کہ: ’’چوہدری ظفر اللہ بیرون ممالک میں پاکستان کے امیج اور ساکھ کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ باہر کی دنیا میں قادیانیوں کو مظلوم اور زیادتی کا شکار ظاہر کر رہا ہے۔ حالانکہ آئین کے فیصلے کے بعد پاکستانی عوام یا حکومت کی طرف سے ان کی جان و مال کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچایا گیا۔ بلکہ دیگر اقلیتوں کی طرح مرزائیوں کو پوری طرح اقلیتی حقوق دیئے گئے۔ لیکن قادیانیوں کی طرف سے آئین اور قانون کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ آئین اور حکومتی فیصلے سے سرعام انحراف کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات کشیدہ کرنے کا ذمہ دار بھی ظفر اللہ خان ہی ہے۔ اس کے متنازعہ بیانات سے ہی دونوں ملکوں کے مابین عدم اعتماد کی فضا بنی ہوئی ہے۔‘‘
سید مبارک گیلانی سجادہ نشین میراں شریف، امیر جمعیت المشائخ پنجاب نے بھی ’’ظفر اللہ اور مرزا ناصر احمد کے بیانات کو آئین سے بغاوت قرار دیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مرزا ناصر احمد اور چوہدری ظفر اللہ پر آئین پاکستان سے بغاوت کا مقدمہ چلا کر حکومت، پارلیمنٹ اور آئین کے وقار کو بحال کر دے۔ قادیانی عوام و خواص جو اس درجہ ڈھٹائی کے ساتھ آئین کے فیصلہ کو نا انصافی پر مبنی اور ناقابل تسلیم کہہ رہے ہیں۔ اس کی واحد وجہ حکومت کا ان کے معاملے کو ڈھیل دینا ہے۔ اگر حکومت سنجیدگی سے اس آئین کو عملی شکل میں نافذ کرتی تو نوبت یہاں تک نہ آتی۔‘‘
(نوائے وقت لاہور، مورخہ ۱۹؍ستمبر ۱۹۷۴ء)
ظفر اللہ قادیانی کی ناکامی
’’ظفر اللہ نے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہوئے قادیانی مسئلہ کو جنرل اسمبلی (اقوام متحدہ) میں بھی پیش کرنے کی ناکام کوشش کی اور اس پر روس اور بھارت کو اعتماد میں لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق بھارت اور روس کی طرف سے مکمل حمایت کی یقین دہانی کرا دی گئی۔ نوائے وقت کی ایک خبر کے مطابق ظفر اللہ انگلینڈ میں بیٹھ کر عالمی قوتوں کے سامنے پاکستانی مسلمانوں کے ’’مظالم‘‘ کا ڈھنڈورا پیٹ رہا ہے اور حقائق کو بالکل الٹ پلٹ کر کے پیش کر رہا ہے۔ ظفر اللہ نے یہ عندیہ ظاہر کیا ہے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا فیصلہ مبنی بر ظلم ہے۔ کیونکہ کفر کا مسئلہ پارلیمنٹ حل نہیں کر سکتی۔ اس مسئلے پر قادیانی مؤقف کو درست طور پر نہیں سنا گیا۔ اس لئے یہ فیصلہ یک طرفہ اور مبنی بر ظلم و تعدی ہے۔‘‘
(نوائے وقت لاہور، مورخہ ۲۳؍ستمبر ۱۹۷۴ء)
مولانا شاہ احمد نورانی کا بیان
مولانا شاہ احمد نورانی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ: ’’ظفر اللہ قادیانی ۱۴؍نومبر سے لاہور میں بیٹھا ہوا ہے اور پاکستان کے خلاف سازشیں کر رہا ہے۔ کھلے الفاظ میں آئین کو ماننے سے انکار کر رہا ہے۔ ہندوستان کے تین سو قادیانی سالانہ جلسے میں شرکت کے لئے
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
آرہے ہیں۔ لیکن حکومتی افراد بالکل خاموش تماشائی بن کر بیٹھے ہیں۔ قادیانی اسلامی اصطلاحات کا استعمال پہلے سے زیادہ زور وشور سے کرنے لگے ہیں۔ حال ہی میں نائیجیریا کے ایک مسجد کا نام مسجد احمدیہ سے تبدیل کرکے ’’مسلم مسجد‘‘ رکھا گیا ہے اور پاکستان میں صراحتاً اپنے آپ کو مسلمان کہلواتے ہیں۔ سر ظفر اللہ کا حال ہی میں روزنامہ نوائے وقت میں انٹرویو چھپا ہے۔ جس میں اس نے قادیانی ارتداد کے حکومتی فیصلے کو نا قابل قبول قرار دیا ہے۔‘‘
مرزائیوں پر حکومت کی کرم نوازی
’’دسمبر ۱۹۷۴ء میں مرزائیوں کا سالانہ جلسہ ربوہ (چناب نگر) میں منعقد ہورہا تھا۔ جس میں شرکت کے لئے انڈیا سے ۳۰۰ قادیانی آرہے تھے۔ حالانکہ ان دنوں پاکستان اور بھارت کے درمیان سفارتی تعلقات موجود نہیں تھے۔ بھارت میں مسلمانوں کے مقامات مقدسہ پر جتنے اجتماعات وغیرہ ہورہے تھے کسی اجتماع میں کسی پاکستانی مسلمان کو شرکت کے لئے اجازت نہیں دے رہی تھی۔ ایسے موقع پر حکومت کی طرف سے ہندوستانی قادیانیوں کے لئے کوئی ممانعت نہیں تھی۔ کیا یہ بیجا نرمی اور غیر ذمہ دارانہ حرکت نہیں تھی۔ اندیشہ یہ بھی تھا کہ یہ ۳۰۰ قادیانی جلسہ کی آڑ میں جاسوسی کی نیت سے آرہے ہوں۔‘‘
(ہفت روزہ لولاک، مورخہ ۲۷؍ دسمبر ۱۹۷۴ء)
سازش یا دھوکہ؟
۲۰؍ نومبر ۱۹۷۴ء کو روزنامہ نوائے وقت نے مرزائیوں کی ایک سازش اور دھوکہ دہی سے پردہ اٹھایا۔ خبر تھی: ’’قادیانیوں نے دو دو جگہوں پر اپنے ووٹ بنوالئے ہیں۔ ربوہ کی کل آبادی ۶۵ یا ۷۰ ہزار ہے۔ لیکن وہاں سے جو ووٹ بنے ہیں اس کی تعداد چھبیس ہزار چار سو پچھتر (۲۶۴۷۵) ہے۔ اپنے نمائندوں کو جتانے کے جنون میں ملکی قوانین کو پائے حقارت تلے لا رہے ہیں۔ حکام کی طرف سے مسلسل چشم پوشی ہورہی ہے۔ دراصل مرزائیوں نے تمام قادیانی افراد کے نام جو ملک کے چاروں صوبوں میں بکھرے ہوئے ہیں، ربوہ کی فہرست رائے دہندگان میں شامل کر دیئے ہیں اور متعلقہ سکونتی جگہوں پر بھی ان کا نام درج کرا رکھے ہیں۔ یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ قادیانیوں نے جعلی نقشے تیار کر کے مقامی انتظامیہ کے احکام کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا ہے اور ناجائز تعمیرات کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔‘‘
(روزنامہ نوائے وقت، مورخہ ۲۰؍ نومبر ۱۹۷۴ء)
قرارداد کے عملی نفاذ میں تاخیر کے ثمرات
مرزائیوں کی عسکری تنظیمیں ’’خدام الاحمدیہ اور فرقان فورس‘‘ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر اسلام اور ابنائے اسلام کے خلاف سازشی تانا بانا بنتے رہے۔ حکومت ان غیر قانونی عسکری تنظیموں کا اسلحہ ضبط نہ کر سکی تھی۔ ان کی کوئی بھی سرگرمی کو روکا نہ گیا تھا۔ مسلمانوں کو ہمیشہ ان کی طرف سے دہشت گردی کا دھڑکا لگا رہتا اور یہ محض ڈر یا اندازہ نہیں بلکہ حقیقت تھی کہ یہ گروہ مسلمانوں کے خلاف استعمال کر رہا تھا۔
پتوکی میں قادیانیوں کی دہشت گردی
’’اکتوبر ۱۹۷۴ء میں پتوکی میں مقامی قادیانی جماعت کے امیر مرزا سعید نے مجلس عمل پتوکی کے جنرل سیکرٹری چوہدری صبغت اللہ ایڈووکیٹ پر چھری سے حملہ کر دیا۔ تاہم گردونواح کے لوگ موقع پر پہنچ گئے۔ جس پر مرزا سعید فرار ہو گیا۔ حملہ سے چوہدری صبغت اللہ زخمی ہو گئے۔ یہ خبر سن کر ہزاروں شہریوں نے قادیانیوں کے مکانوں کا گھیراؤ کیا۔ تاہم مجلس عمل کے رہنماؤں نے حالات پر قابو پالیا۔ ڈپٹی
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
کمشنر لاہور اور اسسٹنٹ کمشنر چونیاں اطلاع ملتے ہی موقع پر پہنچ گئے اور قادیانی گھروں کے اردگرد سیکیورٹی فورس تعینات کر دی۔
(روزنامہ نوائے وقت، مورخہ ۱۶؍اکتوبر ۱۹۷۴ء)
خبر سے واضح ہے کہ جارحیت قادیانیوں کی طرف سے ہوئی اور مجلس عمل کے رہنماؤں کی کوششوں سے قادیانیوں کو مسلمانوں کی طرف سے کوئی جانی، مالی نقصان نہیں پہنچا۔ اب بجائے اس کے کہ حکومت مرزائیوں کی دسیسہ کاریاں کنٹرول کرتی، مسلمانوں کو زدوکوب کرنا شروع کر دیا۔ کیسے؟ اگلے دن قادیانی جماعت کے امیر مرزا سعید کے حملہ کے خلاف گورنمنٹ ڈگری کالج اور ایم سی ہائی سکول کے طلباء نے احتجاجاً کلاسوں کا بائیکاٹ کیا اور پرامن احتجاجی جلوس نکالا۔ جلوس میں شریک طلباء مرزا سعید کے خلاف مقدمہ درج کر کے اسے گرفتار کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ جلوس کی اطلاع ملتے ہی اے سی چونیاں، ایس پی قصور، انسپکٹر پولیس پتوکی، پولیس کی بھاری جمعیت لے کر ہسپتال روڈ پر پہنچ گئے۔ جہاں پولیس نے جامع مسجد میناروالی کے قریب جلوس کو روک لیا۔ طلباء جب بھاگ کر پچھلی طرف جانے لگے تو پولیس نے لاٹھی چارج شروع کر دیا اور آنسو گیس کے گولے پھینکے۔ اس سے طلباء منتشر ہو گئے۔ چند طلباء جامع مسجد میناروالی میں چلے گئے۔ جس پر پولیس جوتوں سمیت مسجد میں گھس گئی اور طلباء کو باہر لے آئی۔ جہاں لاٹھی چارج سے سولہ، سترہ طلباء زخمی ہو گئے۔
دریں اثناء پولیس نے پندرہ طلباء کو گرفتار کر لیا ہے۔ طلباء پر پولیس تشدد اور گرفتاریوں کے خلاف فوراً شہر بھر میں احتجاجی ہڑتال کر دی گئی اور تمام تجارتی کاروباری اور صنعتی ادارے بند ہو گئے۔ پولیس نے مجلس عمل پتوکی کے جنرل سیکرٹری چوہدری صبغت اللہ اور جامع مسجد مینار والی کے خطیب مولانا محمد رمضان کو بھی گرفتار کر لیا۔ قابل ذکر امر یہ ہے کہ انتظامیہ نے مجلس عمل پتوکی کے جنرل سیکرٹری پر حملہ کرنے والے ملزم مرزا سعید کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کی بجائے الٹا مجلس عمل کے جنرل سیکرٹری کو گرفتار کر لیا۔‘‘
(روزنامہ نوائے وقت، مورخہ ۱۶؍اکتوبر ۱۹۷۴ء)
وزیر آباد میں قادیانی دہشت گردی بم دھماکہ
’’وزیر آباد کے مشہور قادیانی لیڈر عبداللہ باگورہ نے ممتاز دینی شخصیت کے جنازے پر بم پھینکنے کی کوشش کی۔ یہ حادثہ اس وقت رونما ہوا جب نامور عالم دین و شیخ الحدیث مولانا محمد رمضان مرحوم کا جنازہ مسجد سے باہر بازار میں رکھا ہوا تھا اور وہاں ان کا آخری دیدار کرنے کیلئے ہزاروں لوگ جمع تھے۔ زخمی قادیانی کا مکان مسجد کے قریب ہی واقع تھا۔ قادیانی لیڈر نے یہ بم مولانا رمضان کے جنازے پر پھینکنے کا پروگرام بنایا تھا۔ جو مقامی مجلس عمل کے صدر بھی تھے۔ بم پھٹنے کے بعد لوگوں نے اس قادیانی کے گھر کا رخ کرنا چاہا۔ لیکن علماء نے عوام کو صبر و ضبط کی تلقین کی۔ اس طرح کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوا۔ بعد میں انتظامیہ کے ذمہ دار افراد کے پہنچنے پر اس قادیانی کو ہسپتال پہنچا دیا گیا۔ اس واقعہ کی اطلاع ملتے ہی گوجرانوالہ کے ڈپٹی کمشنر مسٹر اختر سعید اور سپرنٹنڈنٹ پولیس جہانزیب خاں برکی موقع پر پہنچ گئے۔ انہوں نے اس جگہ کا معائنہ کیا اور ہسپتال میں زخمی کی عیادت بھی کی۔ قادیانیوں نے مسلمانوں کے خلاف رپورٹ درج کرائی کہ انہوں نے عبداللہ باگورہ پر بم سے حملہ کیا ہے۔ کس قدر غیر معقول بات ہے۔ اگر مسلمان بم مارتے تو اس (قادیانی) کے ہاتھ میں بم کیسے پھٹتا؟ مقامی مجلس عمل کے ایک ہنگامی اجلاس میں اس واقعہ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس یقین کا اظہار کیا گیا کہ قادیانیوں کے گھروں میں ناجائز اسلحہ موجود ہے۔ جو وہ ملک کا امن و امان تباہ کرنے کے لئے جمع کئے ہوئے ہیں۔ مجلس عمل نے مطالبہ کیا کہ تمام ارکان اور قادیانیوں کے گھروں کا محاصرہ کر کے ان سب کی خانہ تلاشی لی جائے اور جس کے ہاں اسلحہ موجود ہو اسے عبرتناک سزا دی جائے۔‘‘
(روزنامہ نوائے وقت لاہور، مورخہ ۱۰؍اکتوبر ۱۹۷۴ء)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
کراچی میں قادیانی اشتعال انگیزی
’’اس واقعہ پر جب حکومت کی طرف سے کوئی خاطر خواہ کارروائی نہ ہوئی تو قادیانی گروہ نے مسلمانوں کے خلاف غیظ وغضب نکالنے کا نیا ڈھنگ نکالا۔ کراچی میں پراچہ ٹیکسٹائل ملز میں قادیانی افسروں نے مسلمان ملازموں سے انتقام لینا شروع کر دیا۔ تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں جن مسلمان نوجوانوں نے کام کیا قادیانی افسروں نے ان کو تاک کر انتقامی کارروائیاں شروع کر دیں۔ دھمکیاں دینا شروع کر دیا اور ان کی ملازمت کے درپے ہو گئے۔ تمام مسلمان ملازمین نے ملزمان سے درخواست کی کہ ان قادیانی افسروں کو مل سے نکالا جائے۔ اس لئے کہ اپنی سازشی طبیعت کے پیش نظر یہ کسی بھی وقت کوئی فتنہ برپا کر سکتے ہیں۔‘‘
(ملخص ہفت روزہ لولاک، مؤرخہ ۱۷/اکتوبر ۱۹۷۴ء)
مرزائی مختلف حربوں سے مسلمانوں کے جسم و جان چھلنی کر رہے تھے۔ لیکن مسلمانوں کی طرف سے کوئی جذباتی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ میں نے متنوع اخباری تراشے پڑھ ڈالے۔ رسالوں میں تلاش کیا، اداریے چھان مارے، رپورٹس، فیچر پر نظر ڈالی۔ مگر مجھے کہیں کوئی ایسی خبر نہیں ملی۔ جس میں مرزائیوں کے خلاف مسلمانوں نے پہل کی ہو۔ بلکہ ہمیشہ اشتعال انگیز اقوال وافعال میں مرزائی سبقت لیتے رہے۔
کنری میں قادیانیوں کی قرآن مجید کی توہین، اشتعال انگیزی
۱۴/اکتوبر کے ہفت روزہ ’’لولاک‘‘ میں ایک خبر ملی۔ جس پر نہایت حیرت ہوئی کہ اس وقت مسلمانوں نے کیسے برداشت کیا ہوگا۔ نوائے وقت اور روزنامہ امروز کی ایک خبر سننے سے بھی یہی معلومات ملی کہ: ’’صوبہ سندھ ضلع تھرپارکر کنری میں ایک قادیانی لڑکے نے قرآن کریم کو آگ لگا کر کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دیا۔ انجمن احمدیہ کنری کے امیر کے بیٹے ڈاکٹر رشید احمد خان جو ایک کٹر قسم کا مرزائی ہے نے جب یہ ناپاک حرکت کی تو مقامی لوگ دریافت کرنے کے لئے اس کی دکان پر جمع ہو گئے اور اس شرارت کا سبب پوچھا تو اس نے زہر خندہ لہجے میں کہا: ’’جب مسلمانوں نے ہمیں کافر قرار دے دیا تو ہمارا اس کتاب سے کیا تعلق ہے؟ اس لئے میں نے جلا کر پھینک دیا۔‘‘ اس پر مسلمان مشتعل ہو گئے۔ وہ خود اس وقت مسلح تھا۔ اس نے ۱۲ بور کی بندوق سے مسلمانوں پر فائرنگ شروع کر دی۔ اس دوران ایک جیپ وہاں پہنچی۔ جس میں بے شمار اسلحہ تھا۔ اس سے بھی فائرنگ کی جانے لگی۔ اس سے ۱۹ مسلمان زخمی ہو گئے۔‘‘
(ہفت روزہ لولاک، مؤرخہ ۱۴/اکتوبر ۱۹۷۴ء)
’’۱۹ مسلمان، مرزائی ڈاکٹر رشید کے لڑکے کے ہاتھوں زخمی ہوئے اور ایک قادیانی مددگار بھی۔‘‘ ڈی سی، او تھرپارکر، کے پریس نوٹ میں کہا گیا ہے کہ: ’’ڈاکٹر کو اپنی جان اور مال کی حفاظت کے لئے فائرنگ کرنا پڑی۔‘‘ اگر ڈاکٹر کو اپنی حفاظت ہی مطلوب ہوتی تو وہ جلوس کی آمد کی اطلاع ملتے ہی پولیس طلب کر سکتا تھا۔ مقامی پولیس اسٹیشن اس کے گھر سے صرف چند فٹ کے فاصلے پر واقع ہے۔ لیکن ڈاکٹر نے پولیس کو اطلاع دینے کی بجائے پہلے سے طے شدہ منصوبے کے مطابق جلوس کے پہنچتے ہی فائرنگ شروع کر دی۔
میاں چنوں میں قادیانی اشتعال انگیزی
’’اس واقعے کے اگلے دن مرزائیوں نے ’’چوری، سینہ زوری‘‘ کے مصداق ایک اور دیدہ دلیری کا مظاہرہ کیا اور میاں چنوں کے امام مسجد کو سرعام برے نتائج کی دھمکی دی۔ مولانا عبدالرحیم شاکر جو مجلس عمل تحفظ ختم نبوت میاں چنوں کے صدر اور جمعیت العلماء پاکستان کے شوریٰ کے رکن تھے۔ ان کو قادیانیوں کی طرف سے ایک خط ملا جس میں لکھا تھا: ’’تم سب نے مل کر قادیانیوں پر طرح طرح کے ’’مظالم‘‘ کئے ہیں۔ اس لئے اب وقت آ چکا ہے کہ ہم اس ظلم کا بدلہ چکائیں۔‘‘ جس طرح پولیس ہماری حفاظت کرتی تھی۔ اسی طرح اپنی
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
حفاظت کے لئے پولیس بلالو۔ اس خط کے بعد ہم ادھار چکانے کے لئے پہنچ رہے ہیں۔ تاکہ ہماری طرف سے کسی قسم کی کوئی کمی باقی نہ رہے۔“
(روزنامہ نوائے وقت، مورخہ ۱۸؍اکتوبر ۱۹۷۴ء)
قارئین کرام! اندازہ فرمائیے ، مرزائیوں نے کس دیدہ دلیری کے ساتھ مسلمانوں کی روحوں کو چھلنی ، جسموں کو زخمی کیا۔
ڈسکہ میں قادیانی دہشت گردی
”اس واقعہ کے ٹھیک ۴ دن بعد ایک قادیانی کنبے نے حکومت پاکستان کے قانون اور آئین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک مسلمان کو نہایت لرزہ خیز انداز میں شہید کیا۔ ایک آدمی نے بھائیوں اور بیٹوں سمیت ایک مسلمان نوجوان کو لاٹھیاں مار مار کر شہید کر دیا۔“
(روزنامہ نوائے وقت لاہور، مورخہ ۱۱؍اکتوبر ۱۹۷۴ء)
ضلع اٹک میں قادیانی شرارت
”۲۴؍ستمبر ۱۹۷۴ء کو ضلع کیمبل پور کسران میں مرزائیوں نے مجلس تحفظ ختم نبوت کے اراکین کو مقدمہ میں پھنسانے کے لئے اپنی عبادت گاہ کی ایک چٹائی کو آگ لگادی اور تحفظ ختم نبوت کے مقامی اراکین کے خلاف رپورٹ لکھوادی۔ مقامی ڈی سی او، اور دیگر اعلیٰ افسران موقع پر پہنچ گئے اور ایس ایچ او تھانہ پنڈ سلطانی چوہدری نذیر احمد کو تفتیش پر مقرر کیا۔ اطلاع ملتے ہی مجلس ختم نبوت کیمبل پور کے ناظم اعلیٰ شیخ عابد حسین صدیقی بھی موقع پر پہنچ گئے۔ تفتیشی افسر نے غیر جانبدارانہ تفتیش کی۔ اسی طرح کسران ضلع کیمبل پور میں بعد ازاں مرزائیوں نے یہ بات خود تسلیم کر لی کہ ان کی عبادت گاہ کو مسلمانوں نے آگ نہیں لگائی۔“
(ہفت روزہ لولاک، مورخہ ۲۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء)
ربوہ کے حالات پر ”نوائے وقت“ کی رپورٹ
”روزنامہ نوائے وقت کے دو نمائندوں نے ربوہ (چناب نگر) میں چند دن گزارے۔ انہوں نے ربوہ کے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ قرارداد کے بعد بھی مرزائیوں کی شرارتیں اور سازشیں بجائے کم ہونے کے روز بروز بڑھ رہی ہیں۔ بازاروں، عبادت خانوں، گلی چوراہوں اور تعلیمی اداروں میں سرعام دھڑلے سے قادیانی پارلیمنٹ کے فیصلے کا مذاق اڑاتے ہیں اور تبصرے کرتے ہیں کہ مذہب انسان کے دل اور خدا کے درمیان براہ راست معاملہ ہے۔ اس لئے کسی کے کہنے سے کوئی غیر مسلم نہیں ہو سکتا۔ ہم پہلے کی طرح آج بھی مسلمان ہیں۔ ہم میں سے کوئی بھی پارلیمنٹ کے فیصلہ کو ماننے کے لئے تیار نہیں۔ نوائے وقت کی اس رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ ربوہ میں جتنی بیرون ممالک کی کالیں آتی ہیں اتنی لاہور اور کراچی میں کبھی نہیں آتی اور پاکستان سے باہر کسی ملک کے لئے جس قدر جلدی یہاں سے ٹیلی فون کال ملتی ہے۔ اتنی جلدی پاکستان کے کسی بھی شہر میں نہیں۔ یہاں ڈائریکٹ کال کا انتظام موجود ہے۔ پنجاب کے اس جیسے چھوٹے قصبوں میں کہیں بھی یہ سہولت نہیں۔ خدام الاحمدیہ اور فرقان فورس کے اسلحہ بردار کارکن حسب سابق گرما گرمی کے ساتھ پھرتے ، چکر لگاتے نظر آتے ہیں۔ حکومتی فیصلے کی ان کے ہاں کوئی وقعت نظر نہیں آتی۔ ربوہ کی زمین معمول کے مطابق صرف قادیانیوں ہی کی آماجگاہ ہے۔ حکومت نے اگرچہ ربوہ کو کھلا شہر بنانے کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن تاحال عملی طور پر ایسا کچھ ہوا نہیں ہے۔ اس لئے ربوہ شہر میں کوئی غیر قادیانی قیام پذیر نہیں ہے۔ جماعت احمدیہ کے قواعد کے مطابق کوئی غیر احمدی یہاں مکان نہیں بنا سکتا۔ اگر کوئی غیر قادیانی ملازم یہاں قیام پذیر ہے تو وہ قادیانی کے مکان میں رہتا ہے یا ربوہ سے باہر کہیں مقیم ہے۔ یہاں تک کہ ریذیڈنٹ مجسٹریٹ کو بھی یہاں رہائش کی جگہ نہیں مل سکی اور وہ سرگودھا میں مقیم ہے۔ ڈی ایس پی پولیس چوکی کے ایک کمرے میں پڑے ہوئے ہیں۔“
(روزنامہ نوائے وقت لاہور، مورخہ ۲۲؍ستمبر ۱۹۷۴ء)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
قادیانی مسئلہ کس نے حل کیا؟
”قادیانیوں کے متعلق آئینی فیصلہ طے پا جانے کے موقع پر وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ فیصلہ ایوان کے تمام شعبوں کے مشورہ کے بعد حل کیا گیا۔ اس لئے یہ پاکستان کے عوام کا فیصلہ ہے۔ کوئی فرد اس کا سہرا سر نہیں باندھ سکتا۔ یہ پاکستان کے مسلمانوں کی خواہشات کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف میں یا کوئی دوسرا فرد اس کا اعزاز نہیں لینا چاہتا۔ جمہوری حکومت اور عوام کے جمہوری کنٹرول کے بغیر یہ مشکل فیصلہ نہیں کیا جا سکتا تھا۔ پاکستان کے نظریے اور وجود کی بنیاد اسلام ہے۔ قادیانیوں کا مسئلہ مذہبی تنازعہ تھا۔ یہ صرف حکومت یا کوئی تنہا فرد حل نہیں کر سکتا۔ اس مسئلہ پر لاہور اور کراچی میں کئی مرتبہ علماء کے وفود مجھے ملے اور اس مسئلہ کو حل کرنے پر زور دیا۔ میں نے انہیں جمہوری طور پر اسے حل کرنے کی نوید سنائی تھی۔“
(ملخصاً ہفت روزہ لولاک، مورخہ ۲۱ ستمبر ۱۹۷۴ء)
وزیر اعظم نے ایک جگہ تو یہ بیان دیا کہ اس کا سہرا فرد واحد کے سر نہیں باندھا جا سکتا۔ میرا ذاتی نہیں بلکہ پوری قوم کا فیصلہ ہے۔ لیکن اس بیان کے نہایت کم عرصے بعد ایک نیا بیان دیا۔ جس میں اس دستوری ترمیم کو اپنے پلے باندھنے کے لئے وزیر اعظم صاحب کافی بے چین اور مضطرب نظر آ رہے ہیں۔
وزیر اعظم پاکستان کا قادیانی مسئلہ اشتعال انگیز بیان
”پیپلز پارٹی کا سب سے پہلا اصول ”اسلام ہمارا دین“ ہے۔ اسلام کی خاطر ہم نے گزشتہ دنوں میں بہت بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ جب میں خدا کے سامنے پیش ہوں گا تو میرا ایمان ہے کہ میں اسلام کے لئے ان خدمات کو داور محشر کے سامنے پیش کروں گا۔ وہ مسئلہ نوے سالہ پرانا قادیانی مسئلہ کو حل کرنا ہے۔ یہ مسئلہ حل کر کے میں علامہ اقبال اور سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے خوابوں کی تعبیر بن گیا ہوں۔ یہ مسئلہ عوام کی مرضی کے مطابق حل ہوا ہے۔ اگر رجعت پسند جماعتوں کو اسلام سے ہمدردی ہوتی تو نوے برس میں انہوں نے اس مسئلے کو کیوں نہ حل کر لیا ہوتا۔ احمدیوں کے مسئلہ پر حزب اختلاف والے باتیں کر رہے تھے۔ لیکن کوئی حل نہیں بتاتا تھا۔ یہ لوگ مسجدوں میں میرے خلاف پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ حکومت قادیانی مسئلہ حل نہیں کرے گی۔ حالانکہ میں نے کر دکھایا۔ یہ بتانا کہ کیا کرنا چاہئے۔ اس کے لئے دماغ کی ضرورت ہے۔ منہ پھاڑ کر بکواس کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔“
(ہفت روزہ المنبر لائل پور، مورخہ ۳ نومبر ۱۹۷۴ء)
مسئلہ ختم نبوت حل کرنے کا دعویٰ صرف بھٹو اکیلے نہیں کرتے تھے۔ بلکہ ان کے سارے احبار و رہبان اس مسئلہ کے حل کا سہرا بھٹو کے سر باندھنے پر بضد نظر آتے تھے۔ ۱۹ نومبر کو جڑانوالہ میں وزیر قانون پنجاب سردار صغیر احمد نے کہا کہ: ”پاکستان اور بھٹو صاحب لازم ملزوم ہیں۔ بھٹو نہ رہا تو پاکستان بھی نہیں رہے گا۔ قادیانیوں کے مسئلہ کا حل معرکہ کربلا کے بعد تاریخ اسلام کا اہم واقعہ ہے۔“
(روزنامہ نوائے وقت مورخہ ۲۰ نومبر ۱۹۷۴ء)
دستوری ترمیم طے پا جانے پر علماء کرام نے اگرچہ بھٹو صاحب کی تعریف و توصیف کی تھی۔ وسعت ظرفی کا مظاہرہ کر کے آئین کا سارا کریڈٹ بھٹو صاحب کو دیا۔ حالانکہ بھٹو صاحب کا فیصلہ محض زبانی جمع خرچ تھا۔ عملی طور پر نافذ نہیں ہوا تھا۔ لیکن علماء کرام، ارکان اسمبلی اور دیگر ملکی شہریوں نے بھٹو کی از حد تعریف کی۔ ان کو مبارکباد دیئے۔ شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوری، حضرت مفتی محمد شفیع، مفتی محمود، مولانا غلام غوث ہزاروی، مولانا احمد سعید کاظمی اور دیگر مختلف مسالک کے علماء نے بھٹو کو مبارکباد کے تار بھیجے اور اپنے بیانات میں اس آئین کو بھٹو کا کارنامہ قرار دیا۔ لیکن حکومت نے مرزائیوں کو جو زخم لگا کر زخمی حالت میں چھوڑا تھا اور آئین کو عملی طور پر نافذ کرنے میں لیت ولعل
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
سے کام لیا گیا۔ قادیانیوں نے اس موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے ملک کے خلاف سازشی جالوں کا تانا بانا شروع کر دیا۔ خصوصی طور پر تحریک ختم نبوت سے متعلق علماء، طلباء اور عوام الناس ان کی فتنہ پردازیوں اور دسیسہ کاریوں کا نشانہ بنے۔
- ۱...... سرگودھا کے راؤ عبدالمنان پر قاتلانہ حملہ۔
- ۲...... تعلیم القرآن راولپنڈی میں دستی بم دھماکہ۔
- ۳...... ظفر اللہ اور مرزا ناصر کے چھبتے بیانات۔
- ۴...... کنری سندھ میں مرزائیوں کی قرآن سوزی۔
- ۵...... مولانا رمضان کے جنازے پر قادیانی عبداللہ باگورہ کے ہینڈ گرنیڈ پھینکنے کا واقعہ۔
اور ان کے علاوہ مرزائیوں کی علماء ، طلباء کو دھمکیاں دینا وغیرہ۔ یہ سب انہی دنوں کے واقعات تھے۔
اب جب ملکی حالات اتنے زیادہ سنگین ہو گئے اور دن بدن مزید خراب تر ہوتے گئے تو مجلس عمل کے رہنماؤں، کچھ حکومتی اراکین ”جن میں کچھ حزب اختلاف سے متعلق تھے“ اور عوام نے آئین کے عملی نفاذ اور مرزائیوں کو کلیدی آسامیوں سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ وزیر اعظم اور اس کے اراکین کو یہ بیان اپنی انا کے خلاف لگا۔ اس پر وہ خاصے برہم ہوئے اور انہی دنوں ان کے منہ پر رعونت کے بول اژدھا بن کر لہرانے لگے۔ کیا علماء، کیا طلباء اور کیا عوام سب کو بیک جنبش قلم سرمایہ داروں کے ایجنٹ، پاکستان اور اسلام کے دشمن اور پتہ نہیں کن کن القابات سے نوازا۔ مرزائی ارتداد کے فیصلے کو سرتاسر ذاتی کارنامہ قرار دیا۔ بیٹھے بیٹھے مجاہد ختم نبوت اور قائد اسلام کے القابات ان کے نام کے ساتھ جڑنے لگے۔ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے ان بیانات کے جواب اور رد میں بہت سارے مذہبی اور سیاسی قائدین نے کڑی تنقید کی اور اس کو حقیقت کے بالکل منافی قرار دیا۔
مولانا شاہ احمد نورانی کا بیان
مجلس عمل کے رہنما مولانا شاہ احمد نورانی نے کہا: ”وزیر اعظم کہتے ہیں کہ مرزائیوں کا ۹۰ سالہ پرانا مسئلہ انہوں نے حل کر دیا۔ مسئلہ انہوں نے حل نہیں کیا۔ اس مسئلے پر دو ماہ اور چودہ دن قومی اسمبلی بحث کرتی رہی۔ لیکن اس دوران ایک مرتبہ بھی وزیر اعظم اسمبلی میں نہیں آئے۔ پھر انہوں نے یہ مسئلہ کیونکر حل کر دیا؟ یہ مسئلہ علماء کرام اور قومی اسمبلی نے حل کر دیا اور یہی مبارکباد کے مستحق ہیں۔“
(ہفت روزہ المنبر، مورخہ ۱۲/نومبر ۱۹۷۴ء)
مولانا مفتی محمود کا وزیر اعظم کے بیان پر ردعمل
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مفتی محمود صاحب نے فرمایا: ”قادیانیت کا مسئلہ حل کرنے کے سلسلہ میں پارلیمنٹ کا فیصلہ، پوری قوم کے اتحاد کی کامیابی ہے۔ وزیر اعظم وعدہ کے باوجود اس مسئلہ کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ حالانکہ اس مسئلہ کے حل کا پورا کریڈٹ وزیر اعظم کو ہرگز نہیں جاتا۔ بلکہ عوام کے بے مثال اتحاد نے ان سے یہ مطالبہ منوایا ہے۔ اگر اس مسئلہ کی کامیابی کا سہرا وزیر اعظم کے سر ہے تو تحریک ختم نبوت کے کارکنوں پر ظلم وتشدد کا سہرا کس کے سر ہے؟ جب کہ یہ کارروائیاں اور مقدمات ابھی جاری ہیں۔“
(ہفت روزہ المنبر، مورخہ ۳/دسمبر ۱۹۷۴ء)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبد اللہ معتصم
ہفت روزہ المنبر نے بھٹو اور پیپلز پارٹی اراکین کے دعویٰ ”قادیانی مسئلہ پیپلز پارٹی نے حل کیا“ کے تناظر میں ایک اداریہ تحریر کیا۔ ملاحظہ فرمائیں:
قادیانی مسئلہ ...... پیپلز پارٹی نے حل کیا؟
”پیپلز پارٹی جہاں کہیں ہے، اس کے چھوٹے بڑے، یہ پروپیگنڈہ کرنے میں مصروف ہیں کہ ۹۰ سالہ پرانا مسئلہ، وزیر اعظم اور ان کی پارٹی نے حل کیا۔ جہاں تک ہمارا تعلق ہے، ہمارا کہنا یہ ہے کہ اگر یہ مسئلہ حل ہو گیا ہے تو اس سے ہمیں کوئی سروکار نہیں کہ اس کا کریڈٹ برسر اقتدار پیپلز پارٹی کو ملتا ہے یا حزب اختلاف کی کسی جماعت کو، سبھی کو ملے یا کسی ایک کو۔
دنیا میں جن کو کسی دینی کام سے کریڈٹ حاصل کرنا ہے وہ کسی پتھر سے سر پھوڑیں، ایک عام مسلمان کو اس سے کوئی واسطہ نہیں۔ تمام اعمال کا دارو مدار نیت پر ہے۔ جس نے جو مسئلہ جس مقصد کے لئے شروع کیا اور انجام دیا۔ قرآن عزیز کا فیصلہ یہ ہے کہ اگر یہ مقصد صرف آخرت کی فلاح ہے تو نیت کے اخلاص اور کام کو دینی اصولوں کے مطابق انجام دینے کے مطابق اسے اجر آخرت ملے گا۔ لیکن اگر کوئی شخص یا گروہ کسی بھی دنیوی مقصد کے لئے کوئی دینی کام انجام دیتا ہے تو اسے دنیوی مقصد حاصل ہو یا نہ ہو۔ یہ یقینی بات ہے کہ آخرت میں اسے کچھ نہیں ملے گا۔
یہ بات سبھی کے لئے ہے۔ اس میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی کوئی تمیز نہیں۔ لیکن یہ پہلو کہ کوئی شخص کوئی کارنامہ انجام ہی نہ دے اور یہ کام ہو جائے تو وہ اسے اپنے کھاتے میں ڈالے اور کام ہو جانے کے بعد، اس کی آرزو رکھے ...... اور اس سے آگے بڑھ کر اس آرزو کا اظہار کرے ...... اور اس سے بھی ایک منزل اور آگے وہ خود ہی پروپیگنڈہ شروع کر دے ...... کہ یہ معرکہ سر اس نے ہی کیا ہے۔ کوئی دوسرا اس کا سہیم و شریک نہیں۔ یہ وہ گراوٹ ہے جس میں وہ سب لوگ مبتلا ہوتے ہیں جو آخرت کے بجائے دنیا ہی کو سب کچھ سمجھ لیں۔
پیپلز پارٹی کے بارے میں حقائق کی شہادتیں دو ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس پارٹی نے:
- قادیانیوں کو دائرہ اسلام اور امت محمدیہ سے خارج قرار دیئے جانے کے مطالبے پر نہ تو ملک میں مارشل لاء لگایا اور نہ ہی قوم،
ملک اور خود اپنے آپ کو اس دنیوی جہنم میں دھکیلا جو جہنم بہر حال حکومت کے تصرف میں تھا ...... اور جب حالات نے انتہائی شدت اختیار کی اور تحریک نے پنجاب و سرحد اور سندھ و بلوچستان سے قبائلی علاقوں میں انتہائی شدت اختیار کر لی اور مرزا ناصر نے قومی اسمبلی میں جرح کے دوران، خود ہی ”کفر و اسلام“ کے مسئلے کو حل کر دیا اور یہ اعلان کیا کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کے انکار کی وجہ سے تمام اسلامیان عالم کو کافر قرار دیتے ہیں ...... تو بقول بعض ذی شعور ممبران اسمبلی، اسمبلی کی کمیٹی اس دوراہے پر آن کھڑی ہوئی کہ یا تو وہ سید الرسل کو آخری رسول تسلیم کرنے والے مسلمانان پاکستان کو کافر قرار دے یا قادیانیوں کو جو مدعی نبوت مرزا غلام احمد کو مانتے ہیں۔
چنانچہ اسمبلی میں مسٹر بھٹو نے اس قرارداد کو جو دراصل مجلس عمل کے اساسی مطالبے کی کم از کم قانونی صورت تھی اور جسے مجلس کے نمائندگان، ممبران اسمبلی اور حزب اقتدار کے قائد عبد الحفیظ پیرزادہ نے متفقہ طور پر ترتیب دیا تھا، خود اسمبلی میں پیش کیا اور یوں قادیانی، غیر مسلم اور ملت اسلامیہ سے خارج قرار پائے۔
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
- ...... لیکن واقعات کی دوسری شہادت یہ ہے کہ ۳۰؍ مئی سے ۶؍ ستمبر تک ارباب اختیار حکومت کے وسائل ابلاغ حکومتی اخبارات اور
خود پیپلز پارٹی کے ترجمان ’’مساوات‘‘ نے مسلمانان پاکستان کی اس تحریک کے خلاف پروپیگنڈے اور عملی اقدامات میں کوئی بھی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا اور بالعموم، قادیانی گروہ اور حزب اقتدار کے راہنماؤں اور اخبارات کے الفاظ تک یکساں تھے۔
اس وقت ہمارے سامنے ربوہ کا ماہنامہ ’’تحریک جدید‘‘ ہے۔ اس میں جہاں مدیر تحریک جدید نے مجلس عمل کے زیر اہتمام چلائی جانے والی تحریک کے بارے میں پنجاب کی کابینہ کے ایک وزیر کی جڑانوالہ میں کی گئی تقریر ۱۸؍نومبر ۱۹۷۴ء کے ایک اقتباس پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ لکھا ہے کہ: ’’یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ علماء، احمدیہ جماعت کے خلاف جو ایجی ٹیشن کرتے ہیں۔ اس کی اصل غرض یہ ہوتی ہے کہ سیاسی مقاصد حاصل کئے جائیں۔‘‘
(تحریک جدید ربوہ، دسمبر ۱۹۷۴ء، ص ۲۲)
وہاں پیپلز پارٹی کے ترجمان ’’مساوات‘‘ کے ۵؍ستمبر ۱۹۷۴ء کے اداریہ کا یہ اقتباس نقل کیا ہے: ’’صوبہ پنجاب ختم نبوت تحریک کا مرکز ہے۔ بظاہر یہ تحریک ایک مذہبی نوعیت کی حامل ہے۔ لیکن اس تحریک کا پس منظر، اس تحریک میں شدت پیدا کرنے، اس میں اہم کردار ادا کرنے والے افراد اور سب سے بڑھ کر اس تحریک کا حاصل خالص سیاسی ردعمل ہے۔ چنانچہ اتوار کی رات کو بادشاہی مسجد میں مجلس عمل کے جلسہ میں جن زعمائے دین نے خطاب کیا وہ بالواسطہ ملک کے جمہوری نظام کو ایک چیلنج تھا اور ہمارے علمائے دین نے اپنی قدیم روایت پر قائم رہتے ہوئے مذہب کو جمہوریت کے خلاف استعمال کیا۔ مقررین نے یہ اعلان کیا کہ اگر ۷؍ ستمبر کو قومی اسمبلی نے عوام کی خواہشات کے خلاف فیصلہ کیا تو عوام کو منظور نہیں ہوگا اور اس روز سے عوام زبردست احتجاج کریں گے۔ اس اعلان سے دو باتیں واضح ہوتی ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ مختلف مدرسۂ فکر سے منسلک علماء اپنے آپ کو عوام کا نمائندہ سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک قومی اسمبلی میں منتخب شدہ عوامی نمائندوں کی کوئی حیثیت نہیں۔ لہٰذا وہ اپنے آپ کو عوام کے نمائندے سمجھتے ہوئے براہ راست قومی اسمبلی کو چیلنج کر چکے ہیں۔ دوسری بات یہ واضح ہوتی ہے کہ علماء کا طبقہ اپنے آپ کو عوام کہہ کر امن شکنی کی دھمکی دے چکا ہے۔ کیونکہ جب علماء یہ کہتے ہیں کہ اگر قومی اسمبلی کا یہ فیصلہ عوام کی خواہشات کے مطابق نہ ہوا تو ان کی مراد ان کی اپنی ذات ہے۔ یوں وہ صوبائی اور وفاقی حکومت کو چیلنج کر چکے ہیں کہ اگر علماء کی خواہش کے مطابق قومی اسمبلی نہ کرپائی تو وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ اس جدوجہد کی ایک جھلک ربوہ واقعہ کے بعد پنجاب کے مختلف شہر اور قصبے دیکھ چکے ہیں۔ لہٰذا بلا تامل یہ کہا جاسکتا ہے کہ علمائے دین کی جدوجہد بدامنی اور انتشار پیدا کرنے کے لئے ہوگی۔ شاہی مسجد میں مجلس عمل کے رہنماؤں کی تقاریر سے جو ہم نے اخذ کیا ہے وہ کوئی مفروضہ نہیں۔ کیونکہ شہریوں میں یہ عام تأثر پایا جاتا ہے کہ ۷؍ ستمبر کو مجلس عمل زبردست تحریک کا آغاز کرنے والی ہے۔ ظاہر ہے کہ زبردست تحریک شہریوں کو ہراساں کرنے اور امن وامان کو درہم برہم کرنے کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتی۔‘‘
بلاشبہ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ اہلِ ربوہ اور اصحاب مساوات کے فکر وعمل میں کس قدر ہم آہنگی ہے۔ لیکن اس سے زیادہ اس پر غور کیجئے کہ جو پارٹی ۵؍ ستمبر تک ’’تحریک تحفظ ختم نبوت‘‘ کے بارے میں ان خیالات کا اظہار کرتی ہے۔ اس کے ساتھ اگر وہ یہ دعویٰ بھی کرتی ہے کہ اس نے از خود قادیانی مسئلہ حل کیا ہے تو اس کے سوا کیا کہا جاسکتا ہے کہ سیاست میں میکاولی کی روح اور گوئبلز کا فلسفہ کذب شامل نہ ہو، تو اسے سیاست کہا ہی نہیں جاسکتا۔ فاعتبروا یا اولی الابصار!
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
وزیر اعلیٰ پنجاب حنیف رامے کی قادیانیت نوازی
حنیف رامے، بھٹو دور میں پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے۔ عقیدتاً سوشلسٹ تھے۔ پیشے کے لحاظ سے مصور اور آرٹسٹ تھے۔ بعض من چلوں نے دانشور کا خطاب بھی دیا تھا۔ سوشلزم کو قرآن وحدیث کا عین موافق نظام کہتا تھا۔ مستشرقین ماؤ اور لینن کے نظریات کو قرآن مجید کی آیتوں اور احادیث مبارکہ سے تقابل کرواتا تھا۔ جہاں دوسرے بہت سے احکام، اعمال اور پالیسیوں میں صرف سوشلزم کے معتقد تھے اور سوشلزم ہی کو فلاح سمجھتے تھے۔ وہاں علماء دشمنی میں بھی پکے سوشلسٹ تھے۔ قادیانیت نوازی میں ساری حدیں عبور کر چکے تھے۔
قادیانی ارتداد کے آئینی فیصلے کے بعد متصل جو آپ نے بیان دیا اس میں آئین کو سرتا سر پیپلز پارٹی کی کامیابی قرار دیا۔ حزب اختلاف اور سیاسی مخالفین کو تنقید کا نشانہ بنایا اور یہ اس کی فطرت تھی۔ اس کے ہر بیان اور تحریر میں کوئی نہ کوئی بات علماء اور اسلام دشمنی کی ہوتی تھی۔ ہر خطاب میں وہ کسی سیاسی حریف پر جملے کستا تھا اور تنقید واستہزاء کا ان کو نشانہ بناتا تھا۔ قادیانیت کے متعلق فیصلہ کے اس مبارک موقع پر تمام سیاسی قائدین نے مسلمانوں کو مبارک باد دی تھی اور اس مبارک فیصلے پر مسرت و خوشی کا اظہار کیا تھا۔ لیکن رامے صاحب کو یہ توفیق نہ ملی۔ آئین کی منظوری کے اگلے دن جو اسی نے اخباری بیان دیا۔ اس کی چیدہ چیدہ باتیں یہ تھیں۔
”احمدی مسئلہ سے سوشلزم کی راہیں ہموار ہوگئیں۔۔۔۔۔۔ قادیانیوں کو پوری طرح ان کے متعلقہ حقوق دیئے جائیں گے۔۔۔۔۔۔ مخصوص نشستوں کے علاوہ عام نشستوں پر بھی قادیانی الیکشن لڑ سکتے ہیں۔ (یعنی جناب مرزائیوں کو ابھی تک اقلیت ماننے پر آمادہ نہیں تھے)“
ان باتوں سے رامے کے دل میں قادیانیت کے لئے نرم گوشہ اور آئین پر ان کی خفگی صاف جھلکتی ہے۔
۶ / اکتوبر کو رامے صاحب سرگودھا تشریف لائے۔ ان کی آمد کے موقع پر کچھ شرمناک واقعات پیش آئے جو اگلے صفحات میں ذکر کئے جائیں گے۔ سردست سرگودھا میں کئے گئے اس کے بیان میں مرزائیوں کی وکالت ملاحظہ فرمائیں۔ سرگودھا میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ”مرزائی اقلیت قرار دیئے گئے ہیں اور اقلیت کی حفاظت کرنا اکثریت کا فرض ہے۔ اس لئے اقلیتوں کے تحفظ کی خاطر گولی چلانے سے بھی دریغ نہیں کیا جائے گا۔“
(روزنامہ نوائے وقت لاہور ، مورخہ ۶/اکتوبر ۱۹۷۴ء)
رامے صاحب کے اس بیان پر آغا شورش کاشمیری نے ایک تبصرہ لکھا۔ منتخب حصہ ملاحظہ فرمائیں: ”قارئین! اس قسم کا اشتعال کسی بھی عنوان سے کسی بھی حالت میں درست نہیں۔ ہر ملک اور ہر دور کی تحریکوں میں اس طرز کے واقعات ہوتے ہیں۔ ہندوستان میں وقتاً فوقتاً مسلمانوں کو مختلف شہروں میں مارا گیا۔ ان کی املاک نذر آتش کی گئیں۔ ان کی عورتیں تک اٹھالی گئیں۔ پنڈت جواہر لال نہرو ، اندرا گاندھی سے لے کر آج تک کسی وزیراعظم ، وزیراعلیٰ یا حکومتی اہلکار نے کبھی یہ نہیں کہا کہ اقلیتوں کے تحفظ کی خاطر گولی چلانے سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ نہ کبھی وہاں ڈی۔ آئی۔ جی ، ڈی۔ پی۔ او اس جرم میں معطل کئے گئے۔ سندھ کے لسانی فسادات میں کیا نہیں ہوا تھا۔ کتنے ہی بے گناہ قتل کئے گئے اور کتنے دلدوز حادثے رونما ہوئے۔ لیکن اہل اردو کی اقلیت کے تحفظ کی خاطر کسی نے گولی نہیں چلائی اور نہ ایسا کوئی فقرہ سنا گیا۔
حنیف رامے کا ارشاد بجا اور درست۔ فی الواقع ایک اقلیت کی حفاظت کرنا ملکی اکثریت کا فرض ہے۔ لیکن اقلیت بھی تو اپنے تئیں اقلیت تسلیم کرتی۔ مسٹر رامے مرزا ناصر سے پوچھتا کہ تم نے نیشنل اسمبلی کے فیصلہ کو تسلیم کیا ہے یا نہیں؟ مرزا ناصر کے دادا جان علیہ ماعلیہ کی امت رامے کے لئے اتنی چہیتی ہوگئی کہ اس کی خاطر اکثریت پر گولی چلانے کی بات ہو رہی تھی؟ مسلمان پاگل نہیں کہ مرزائی اقلیت سے الجھتے رہتے۔ حالانکہ فیصلہ بھی مسلمانوں ہی کے حق میں ہوا ہے۔ پاگل مرزا ناصر تھا جو خلافت کی حرم سرا میں بیٹھ کر قومی اسمبلی کے فیصلے کا احترام نہیں کر رہا تھا اور خدا سے اپنی ہم کلامی کا دعویٰ کرتا رہا۔“
(ہفت روزہ چٹان مورخہ ۱۵/اکتوبر ۱۹۷۴ء)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
پگڑ باز
چونکہ مرزائیت کی ارتداد کا فیصلہ علماء کرام کی شبانہ روز محنتوں اور جدوجہد کے مرہون منت تھا۔ اس لئے رامے کے دل میں علماء کرام کے لئے کافی غم وغصہ چھپا تھا۔ جس کا موقع بہ موقع وہ اظہار کرتا تھا۔ ۱۰؍ستمبر کو رامے صاحب نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ : ’’۲۹؍مئی کو سانحہ ربوہ سے پیدا شدہ حالات کی بناء پر مجھے یہ مشورہ دیا گیا تھا کہ گولی چلا دو۔ یہ پگڑ باز دو دن میں ٹھنڈے پڑ جائیں گے ۔ چونکہ میں مسئلہ کی نزاکت کو سمجھتا تھا۔ اس لئے میں نے یہ بات نہیں مانی ۔ رامے صاحب نے برائے وزن بیت یہ بھی کہا کہ ۱۹۵۳ء میں گولی چلی تھی تو بڑے بڑے جفادری پگڑ بازوں کو معافی مانگتے دیکھا گیا۔‘‘
(روزنامہ نوائے وقت ،مؤرخہ ۱۰؍ستمبر ۱۹۷۴ء)
آغا شورش کاشمیری رامے کے تعاقب میں
رامے صاحب کے اس بیان پر جناب شورش کاشمیری نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا : ’’اوّل تو محترم رامے صاحب کو اس طرز کی باتیں اب ترک کر دینی چاہئے ۔ ان سے کوئی فائدہ نہیں۔ آخر وہ کون شخص یا اشخاص تھے جنہوں نے انہیں مشورہ دیا کہ گولی چلائیں۔ ہم نہیں جانتے کہ گولی کہاں چلتی ، کن پر چلتی اور کیوں چلتی ۔لوگوں نے واقعہ ربوہ کے بعد پرامن رہنے کا مظاہرہ کیا۔ جس شہر میں تصادم ہوا اس کے ذمہ دار مسلمان نہیں بلکہ سانحہ ربوہ ہی کا مرتکب فرقہ تھا۔ گولی چلانے کا نتیجہ ہمیشہ حکومتوں کے حق میں مضر ہوتا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ اس طرح عوامی احتجاج دب جاتا ہے۔ لیکن مرتا نہیں۔ جن لوگوں نے ۱۹۵۳ء میں گولی چلائی ، رامے صاحب شاید ان کے عبرتناک انجام سے واقف نہیں۔ ہم رامے صاحب محترم کی اطلاع کے لئے عرض کرتے ہیں کہ وہ ان جفادری پگڑ بازوں کا نام بھی لے دیتے تو بہتر ہوتا ۔جنہوں نے ۱۹۵۳ء میں معافی مانگی۔ حقیقت یہ ہے کہ رامے صاحب کی اطلاع غلط ہے۔ ۱۹۵۳ء کے شہداء کا خون ۱۹۷۴ء میں رنگ لایا ۔‘‘
(ہفت روزہ چٹان ،مؤرخہ ۱۶؍ستمبر ۱۹۷۴ء)
رامے کے بیان پر مولانا مفتی محمود صاحب کا تبصرہ
رامے صاحب کی اس ہرزہ سرائی پر تبصرہ کرتے ہوئے مفتی محمود نے فرمایا: ’’قادیانی مسئلہ پر بے مثال اتحاد سوشلزم ، کمیونزم ، الحاد ، بے دینی اور نئی تہذیب کے پرستاروں کی پاکستان میں کھلی شکست ہے ۔ وہ لوگ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں جنہیں یہ خیال ہے کہ اسلام کے نام پر حاصل کئے ہوئے اس ملک میں کوئی دوسرا نظام یا ازم چل سکتا ہے۔ ایسے لوگوں کو اس دینی فیصلے کے بعد مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کے گھروں میں صف ماتم بچھ گئی ہے اور وہ اپنی شکست پر جھنجھلا اٹھے ہیں۔ قادیانی مسئلہ کے حل نے ملک میں اسلامی نظام کے لئے راستہ ہموار کر دیا ہے۔ اس مسئلے کے حل کا کریڈٹ پوری قوم کو ملنا چاہئے ۔ اس سے کسی بھی قسم کا سیاسی فائدہ اٹھانا نہایت شرمناک فعل ہے۔‘‘
(امروز ،مؤرخہ ۱۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء)
مولانا شاہ احمد نورانی اور پروفیسر غفور احمد نے ایک مشترکہ بیان میں رامے صاحب کے متعلق کہا کہ : ’’قادیانیوں کے متعلق آئین نہایت خوشگوار ماحول میں طے ہوا۔ جس پر پوری قوم خوش اور مطمئن ہے ۔ رامے صاحب اس خوشگواری میں زہر گھول کر بھٹو صاحب اور اپوزیشن کو لڑانے اور قوم کو علماء اور تحریک سے متعلقہ افراد سے بدظن کرنے کی کوشش لاحاصل کر رہے ہیں۔‘‘
(روزنامہ نوائے وقت ،مؤرخہ ۱۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
رامے صاحب کو گولی چلانے کا مشورہ ان کی بیگم صاحبہ (شاہین رامے) بھی دے سکتی تھی۔ اس لئے کہ مبینہ طور پر وہ قادیانی تھی اور کوئٹہ کے قادیانی امیر کی صاحبزادی تھی۔ نوائے وقت میں ایک خبر چھپی تھی کہ ہلال احمر پنجاب کی صدر ( حنیف رامے کی بیگم صاحبہ ) نے سیلاب زدگان کے لئے آئے ہوئے قیمتی کمبل، دوائیاں اور دودھ وغیرہ کے ڈبے ربوہ (چناب نگر ) میں مرزائیوں کے ناظم امور عامہ اور صدر جماعت کو ریل کی بوگی میں بھر کر بھیج دیئے حالانکہ یہ چیزیں سیلاب زدگان کے لئے تھیں جب کہ چناب نگر میں سرے سے سیلاب آیا ہی نہ تھا۔ بیگم شاہین رامے کی اس حرکت کے متعلق ریلوے کے ایک مسلمان ملازم نے وزیر اعظم بھٹو کے نام ایک خط لکھا۔
ربوہ اور سیلاب
ایک خلوتی راز کی حیثیت میں وزیر اعظم بھٹو اور وزیر اعلیٰ پنجاب کو اطلاعاً عرض کر رہا ہوں کہ:
- ......۱ ریڈ کراس سوسائٹی ( ریڈ کریسنٹ سوسائٹی لاہور ) کے سیکرٹری جو قادیانی العقیدہ ہیں، کی طرف سے ظہور احمد باجوہ ناظر نظارت
امیر عمومی صدر انجمن احمدیہ ربوہ کو لاہور ریلوے اسٹیشن سے ربوہ ریلوے اسٹیشن کی معرفت انوائس نمبر ۵۰۶ آر. آر نمبر ۵۴۱۲۰۹ بتاریخ ۲۱؍ اگست ۱۹۷۴ء بذریعہ ویگن نمبر ۶۶۶۵۱/۲۲/ PWC حسب ذیل سامان بھیجا گیا۔
- ......۱ ۵۰ بنڈل ............................... کمبل (کل کمبل اڑھائی ہزار )
- ......۲ ۱۶ بنڈل ............................... کپڑا (مالیت ایک لاکھ روپیہ )
- ......۳ ۲۰۳/ سی. این/ غذائی ڈبے
- ......۴ ۵ کیس ............................... ادویات میزان = ۲۷۲ پیک جز
- ......۲ ظاہر ہے کہ ریڈ کراس کے ارسال کردہ مال پر ریلوے کرایہ نہیں لیتی۔ مال مفت جاتا ہے۔
- ......۳ یہ مال ہماری اطلاع کے مطابق اٹلی اور آسٹریلیا سے پارسل سیلاب زدگان کی امداد کے لئے آیا تھا۔ ایک کمبل کی قیمت ایک سو
دس روپے بیان کی جاتی ہے۔ لیکن اس وقت سیلاب زدگان میں تقسیم نہ کیا گیا۔ اب کے کوئی سیلاب نہیں آیا اور ربوہ میں تب نہ اب کسی سیلاب کا سوال ہی پیدا نہیں ہوا۔ پھر مذکورہ سامان کس کے حکم سے، کیوں اور کس کے لئے ناظر نظارت صدر انجمن احمدیہ کو اس مرحلے اور موڑ پر ارسال کیا گیا؟
شاہین رامے سے جب اخباری نمائندوں نے اس واقعہ کی وضاحت مانگی تو اس نے اس واقعہ کی صحت کا انکار کیا۔ صحافیوں نے مظفر احمد کے خط اور دیگر مصدقہ خبروں کا حوالہ دیا تو اس سے کوئی بات نہ بنی اور اس واقعہ پر کچھ بھی تبصرہ نہ کرنے کا کہہ کر نو دو گیارہ ہو گئی۔
(روزنامہ نوائے وقت، مورخہ ۱۸؍ ستمبر، ۲۱؍ ستمبر ۱۹۷۴ء)
داڑھی سے بوٹ پالش..... حنیف رامے کی ایک اور اہانت آمیز گفتگو
اکتوبر ۱۹۷۴ء کو وزیر اعلیٰ پنجاب حنیف رامے نے چکوال میں اخباری نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے بڑے سخت لہجہ میں فرمایا کہ: ”بعض علماء کہتے تھے اگر بھٹو صاحب مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیں تو وہ اپنی داڑھیوں سے بھٹو صاحب کے بوٹوں کی پالش کیا کریں گے۔ لیکن اب جب کہ مسٹر بھٹو نے نوے سالہ قادیانی مسئلہ حل کر دیا ہے تو وہی مولوی صاحبان بھٹو صاحب پر مذموم نکتہ چینی کر رہے ہیں اور سیاسی مقاصد کے لئے اس مسئلہ کو استعمال کر رہے ہیں۔“
(پاکستان ٹائمز، مورخہ ۲۵؍ اکتوبر ۱۹۷۴ء)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
رامے صاحب کی اس بدزبانی اور حواس باختگی اور اخلاق سے گرے ہوئے خالصتاً ملحدانہ اقوال کو پڑھیں اور اس کے دل میں چھپی ہوئی قادیانیت دوستی اور اس کی بغل میں محفوظ قادیانی پری کا کمال ملاحظہ کریں کہ وہ اس قسم کی بکواس کرتے ہوئے نہ دنیا کا ڈر محسوس کرتا تھا اور آخرت کا خوف۔ حنیف رامے دراصل علماء اور بھٹو صاحب کے درمیان تلخی پیدا کرنا چاہتے تھے۔ کوئی عالم دین بھٹو پر نہ ناجائز تنقید کر رہا تھا اور نہ ہی اس کی بے جا خوشامد کرنے کے لئے تیار تھا۔ رامے کو مرکزی حکومت کے فیصلہ کا احترام کرنا چاہئے تھا۔ مگر اس کے دل کے ناسور اسے چین سے بیٹھنے نہیں دیتا۔ وہ بیچارے واہی تباہی، اول فول بکنے پر مجبور تھے۔
مولانا تاج محمود اور حنیف رامے
رامے کی اس یاوہ گوئی پر حضرت مولانا تاج محمود نے ایک زبردست اداریہ تحریر فرمایا۔ اس کی تلخیص ملاحظہ فرمائیں: ”اصل حقیقت یہ ہے کہ نہ تو کسی مولوی صاحب نے داڑھی جیسی سنت رسولؐ کے متعلق یہ بات کہی تھی کہ وہ اپنی داڑھیوں سے بھٹو صاحب کے جوتوں کی پالش کیا کریں گے اور نہ ہی اب کوئی عالم دین بھٹو صاحب کو قابل نفرت تنقید کا نشانہ بنارہا ہے۔ یا گالیاں دے رہا ہے۔ یہ دونوں باتیں غلط اور الزام کا درجہ رکھتی ہیں۔
۷؍ ستمبر کے بعد سے حنیف رامے اور خورشید حسن میر جیسے لوگ برابر بھٹو صاحب کو اس قسم کی ڈائریاں پہنچا رہے ہیں کہ اپوزیشن ختم نبوت کے مسئلے کے حل کا سہرا اپنے سر باندھ رہی ہے اور سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کر رہی ہے۔ رامے صاحب اس سے پہلے بھی پبلک طور پر علمائے اسلام کے خلاف اپنے باطن کا اظہار فرما چکے ہیں اور اب جبکہ وہ اپنے پورے گروپ سمیت اقتدار پر قابض ہو گئے ہیں۔ یعنی خورشید حسن میر، شیخ رشید، معراج خالد اور وہ خود بدولت مسند آرائے سر اقتدار ہو گئے ہیں تو انہوں نے پھر لب کشائی فرما کر اپنے ضمیر کے زہریلے تیر علمائے حق پر پھینکنے کی کوشش کی ہے۔ اس پوری صورتحال کی اصلی تصویر صرف اتنی ہے کہ علمائے حق سیاسی بکھیڑوں سے ہٹ کر محض حفاظت دین اور بقائے مملکت کے پیش نظر یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے اور انہیں کلیدی آسامیوں سے علیحدہ کر دیا جائے۔
ملک کی آزادی کے بعد آئین مرتب ہونا شروع ہوا تو اس مطالبے نے زور پکڑ لیا۔ ۱۹۵۲ء میں آئین کے بنیادی اصول طے ہوئے اور اس مسئلہ کو بنیادی اصولوں کی رپورٹ میں شامل نہ کیا گیا تو ۱۹۵۳ء میں تحریک ختم نبوت بپا ہوئی۔ مسلم لیگ کی حکومت جس میں خواجہ ناظم الدین جیسے بانیان پاکستان لوگ بھی شامل تھے۔ مرزائیوں کا تحفظ اور دفاع کرتے ہوئے اپنے عوام سے ٹکرا گئے۔ دس ہزار کے قریب لوگ شہید اور زخمی ہوئے۔ ایک لاکھ رضا کار قید ہوئے۔ تحریک کو وقتی طور پر سخت نقصان پہنچا۔ مسلم لیگ ہمیشہ کے لئے اقتدار سے محروم ہو گئی۔ پہلے نوکر شاہی کے گماشتے برسر اقتدار آئے۔ بعد میں نوکر شاہی خود سامنے آگئی اور بالآخر ملک فوج کے قبضہ میں چلا گیا۔
بارہ سال تک سیاسی لوگوں کا بیڑا بحر ناکامی میں غرق رہا اور ۱۹۷۰ء کے الیکشنوں میں جمہوریت کی داغ بیل از سر نو پھر شروع ہوئی۔ لیکن ۱۹۷۱ء میں ملک ٹکڑے ٹکڑے ہو کر آدھ ہمیشہ کے لئے غرقاب اور آدھا پھر بھٹو صاحب کے قبضہ اقتدار میں آیا۔ بھٹو صاحب نے ملک کو آئین دینا تھا۔ جب آئین مرتب ہونے لگا تو اس مسئلہ کو پھر حل نہ کیا گیا۔ نتیجتاً پھر بے چینی پیدا ہوئی اور وہی بے چینی مختلف حیلوں بہانوں کی آڑ میں مرتب منظم ہو کر ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت بن گئی۔ اس دفعہ تحریک کے آزمودہ کار جرنیلوں نے ۱۰۰ دن تک بڑی مؤثر منظم اور پر امن تحریک چلائی۔ چنانچہ بعد از خرابیٔ بسیار ۷؍ ستمبر کو بھٹو صاحب نے مطالبات تسلیم کر لئے اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
دینے کا اعلان کر دیا۔
مجلس کے نمائندوں اور بھٹو صاحب کے درمیان جو آخری مذاکرات ہوئے۔ ان میں جہاں مطالبات کو تسلیم کیا گیا۔ وہاں یہ فیصلہ اور شریفانہ معاہدہ بھی ہوا کہ اوّلاً اس مسئلے کو کسی کی ہار جیت قرار نہیں دیا جائے گا۔ ثانیاً اس مسئلے کو دوسرے سیاسی مسائل سے متعلق بھی نہیں کیا جائے گا۔
مجلس عمل کے رہنماؤں نے اس شریفانہ معاہدے کی اب تک خلاف ورزی نہیں کی۔ جب کہ بھٹو صاحب کے یہ کمیونسٹ ساتھی اس معاہدے کی دھجیاں بکھیرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ مجلس عمل کے رہنماؤں کی اس سے زیادہ اور کیا شرافت اور بلند حوصلگی ہو سکتی ہے کہ انہوں نے ۱۰۰ دن کی کامیاب تحریک کا کریڈٹ چھوڑ دیا اور اس بات پر رضامند ہو گئے کہ اس کامیابی کا سہرا سب کے سر ہے۔ حالانکہ ارباب اقتدار نے ۱۰۰ دن تحریک کو ناکام کرنے کی ہر کوشش کر کے دیکھ لیا تھا۔ مجلس عمل کے صدر اور دوسرے رہنماؤں کے خلاف کردار کشی کی مہم جاری رکھی تھی۔ ۳۲ مسلمانوں کا خون بہایا تھا۔ بے شمار کو نیم بسمل کیا۔ ہزاروں کارکن علماء، طلباء اور وکلاء جیلوں میں گئے۔ بعض شہروں میں خواتین کو گھروں سے نکل کر سڑکوں پر آنا پڑا اور بالآخر جب ایک طرف شمع رسالت کے لاکھوں پروانوں کے سینے اور دوسری طرف حکومت کی بندوقیں اور سنگینیں تن چکی تھیں۔ ان حالات میں ۷ ستمبر کو بھٹو صاحب نے مطالبات مان لئے۔ لیکن مجلس عمل کے صدر اور دوسرے رہنماؤں نے اگلے روز ۸ ستمبر کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کی۔ اس میں دوسرے مجاہدین اسلام کو خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ بھٹو صاحب اور ان کی پارٹی کو بھی مجاہد اسلام قرار دے کر سلام عقیدت اور ہدیہ تبریک پیش کر دیا اور اب تک بھی مجلس عمل کے رہنما یہی بیان دے رہے ہیں کہ تحریک کی کامیابی کا سہرا کسی ایک شخص یا کسی ایک جماعت کے سر نہیں بلکہ پوری قوم کے سر ہے۔
اس کے برعکس حکومتی پارٹی سے بائیں بازو کے لوگ اس معاہدے کی نہ صرف خلاف ورزی کر رہے ہیں بلکہ غالباً سرے سے بھٹو صاحب کے اس کریڈٹ کو ہی برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ سب سے پہلے حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے درمیان طے شدہ معاہدے کی خلاف ورزی ہمارے وزیر اعلیٰ پنجاب جناب مسٹر حنیف رامے نے کی۔ انہوں نے مطالبات تسلیم ہونے کے بعد ابھی مجلس عمل کے رہنماؤں کی طرف سے حکومتی پارٹی کو مبارکباد کے بیان کی سیاہی بھی خشک نہیں ہونے پائی تھی کہ ایک سخت متنازعہ فیہ بیان داغ دیا کہ پیپلز پارٹی نے ایک عوامی مطالبہ تسلیم کر کے ملک کے تمام مسائل حل کر دیئے ہیں اور اب سوشلزم کے نفاذ کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
اس کے بعد بھی رامے صاحب نے کئی مواقع پر علمائے کرام اور دینی حلقوں کے خلاف اپوزیشن کی مخالفت کی آڑ میں زہر چکانی کی اور ۲۵ اکتوبر کا بیان بھی اس سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ حالانکہ رامے صاحب خوب جانتے ہیں کہ کسی ذمہ دار عالم دین نے کبھی یہ لفظ استعمال نہیں کئے تھے کہ وہ بھٹو صاحب کے بوٹوں کو داڑھی سے پالش کریں گے۔ بھٹو صاحب تو کس باغ کی مولی ہیں۔ کسی معمولی انسان کو اس بات کی اجازت نہیں ہو سکتی کہ وہ اپنی داڑھی سے کسی غوث، کسی قطب، کسی ابدال کے بوٹوں کی پالش کرے اور اس طرح سنت رسول کی اہانت کا مرتکب ہو۔
اسی طرح رامے صاحب یہ بھی جانتے ہیں کہ اب کوئی ذمہ دار عالم دین بھٹو صاحب کو گالی نہیں دے رہا۔ بلکہ بے شمار علمائے دین انہیں ان دنوں خراج تحسین بھی پیش کر رہے ہیں۔ لیکن رامے صاحب کو چاروں طرف سے گالیاں دیتے سنائی دے رہی ہیں اور وہ برابر جھوٹی ڈائری بھٹو صاحب کو پہنچا رہے ہیں۔ رامے صاحب، خورشید حسن میر قسم کے عزیزوں کا یہ جھوٹا پروپیگنڈا ایک سوچی سمجھی سکیم ہے۔ جس سے پردہ ہٹانا نہایت ضروری ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ سب ختم نبوت کے مسئلہ کے سلسلہ میں مجلس عمل کے رہنماؤں اور بھٹو صاحب کے
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
درمیان آخری فیصلہ کن مذاکرات میں حکومت کی طرف سے بھٹو صاحب، عبدالحفیظ پیرزادہ، مولانا کوثر نیازی اور یحییٰ بختیار نمائندہ تھے۔ مجلس عمل کی طرف سے مولانا مفتی محمود، مولانا شاہ احمد نورانی، پروفیسر غفور احمد، مولا بخش سومرو اور جناب غلام فاروق صاحب شامل تھے۔ ۷؍ستمبر کی رات کو جب مطالبات تسلیم ہوگئے اور فریقین کے درمیان ایک شریفانہ معاہدہ طے پا گیا کہ یہ مسئلہ کسی کی ہار جیت نہیں ہوگا تو بھٹو صاحب نے مجلس عمل کے ان نمائندوں جو خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اپوزیشن کے رہنما بھی ہیں سے یہ بھی کہا کہ جس طرح آپ کے اور میرے درمیان یہ مسئلہ مذاکرات اور باہمی افہام اور تفہیم سے طے پا گیا ہے۔ امید ہے اسی طرح باقی اختلافات بھی افہام و تفہیم سے طے پا جائیں گے۔ بدقسمتی یہ ہوئی کہ ان مذاکرات میں حنیف رامے، خورشید حسن میر یا بائیں بازو کا کوئی لیڈر موجود ہی نہ تھا اور مذاکرات بھی کامیاب ہوگئے۔
مرزائیوں کی طرح پارٹی کے بائیں بازو کے لوگوں نے بھی اس فیصلہ اور فریقین کے درمیان خیرسگالی کی فضا کو سخت ناپسند کیا۔ بلکہ اس سمجھوتے اور آئندہ کے لئے افہام و تفہیم سے اختلاف دور کرنے کے الفاظ کو اپنے مستقبل کے لئے فال بد سمجھا۔ غالباً ان سوشلسٹوں اور کمیونسٹوں کو جو ہمیشہ کی طرح اب بھی حکومت کی صفوں میں گھسے ہوئے ہیں یہ شبہ ہوا کہ اس مطالبہ کو مان لینے کے بعد بھٹو صاحب کہیں دائیں بازو کے رہنماؤں کے ہتھے ہی نہ چڑھ جائیں اور ان کا دینی حلقوں اور طبقوں سے کوئی مستقل سمجھوتہ ہی نہ ہو جائے۔ کیونکہ ایسا سمجھوتہ یقیناً ہماری شامت، خسران، نقصان اور محرومی اقتدار و دولت کا باعث بنے گا۔ اس خدشہ کے پیش نظر پیپلز پارٹی کے یہ چند گنے چنے بائیں بازو کے لوگ منظم طریقہ سے بھٹو صاحب کے اردگرد گھیرا ڈالے ہوئے ہیں اور انہیں ایک طرف تو مذہبی اور دینی لوگوں کے خلاف متنفر کرنے کی مہم میں مصروف ہیں اور دوسری طرف اپوزیشن اور بھٹو کے درمیان خلیج کو زیادہ سے زیادہ وسیع کرنے کے لئے پورا زور صرف کر رہے ہیں۔
ادھر قادیانی، بھٹو صاحب اور بھٹو صاحب کے دستور اور ان کی حالیہ دستوری ترمیمات کو بیخ و بن سے اکھاڑنے کے لئے ترکیبیں لڑا رہے ہیں۔ ان کے مستقبل کا تعلق اب صرف بھٹو صاحب کی تباہی پر ہے۔ اگر بھٹو صاحب مضبوط اور مستحکم ہوتے ہیں تو قادیانی جڑ سے اکھڑتے اور پچھڑتے ہیں اور کسی نہ کسی طرح مارے جاتے ہیں۔ پھر ایک بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے بائیں بازو کے لوگ بھی بھٹو صاحب کے آئین سے اتنے ہی غیر مطمئن ہیں جتنا قادیانی۔ اس قدر مشترک نے دونوں کو اکٹھا ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔ لیکن طریقہ واردات اپنا اپنا ہے۔ قادیانی افسر، قادیانی لیڈر، اندرون ملک اور بیرون ملک کسی ایسی سازش کا تانا بانا تیار کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ جس کی کامیابی کے بعد خلیفہ ربوہ اپنے باقاعدگی سے پیشگی چندہ دینے والے مریدوں کو حسب وعدہ کوئی خوشخبری سنا سکیں۔
سوشلسٹوں اور کمیونسٹوں کی تکنیک یہ ہے کہ برسر اقتدار شخصیت کے سایہ عاطفت میں زبانی زبانی اس کی خوشامد کرو۔ اندر ہی اندر سے اس کی جڑیں کھوکھلی کرو۔ بے دین دہریہ فاشی زدہ ذہن کو زیادہ سے زیادہ پرورش کرو اور اپنے آپ کو بڑے صاحب بہادر کی جگہ متبادل قیادت کے طور پر تیار کرتے رہو۔ اس اصل صورتحال کو سامنے لانے کے بعد اب ہم جناب حنیف رامے صاحب کی خدمت میں عرض کریں گے کہ وہ بچپن چھوڑ دیں۔ وہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے ایک منصب پر فائز ہیں۔ یہ بات ان کے شایان شان نہیں ہے کہ وہ داڑھی جو بہرحال اسلام کا ایک شعار ہے اور سنت نبوی ہے کے متعلق خیالات کا اظہار ان رکیک الفاظ سے کریں۔
ہم ان سے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جس اقتدار کے بل بوتے پر وہ اس قسم کا ہذیان بک رہے ہیں۔ یہ اقتدار کوئی دیرپا چیز نہیں ہے۔ اقتدار آنی جانی چیز ہے۔‘‘
(لولاک مؤرخہ ۱۰ نومبر ۱۹۷۴ء)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
رامے کی تعلیمی بدکاری
حنیف رامے مرزائیت نوازی میں جنون کی حد تک بڑھے ہوئے تھے۔ جہاں کہیں موقع ملتا مرزائیت نوازی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے۔ اپنی حکومت کے آغاز سے ہی مرزائیوں کی دلجوئی اور حوصلہ افزائی میں لگے ہوئے تھے۔ نوائے وقت مؤرخہ ۱۰؍ اکتوبر ۱۹۷۴ء میں ان کے حوالے سے یہ چشم کشا خبر چھپی کہ رامے صاحب نے پنجاب کے تمام میڈیکل کالجوں کے پرنسپل صاحبان کو ہدایت کی تھی کہ اقلیت کی مخصوص نشستوں کے علاوہ ہر کالج میں کم از کم دو دو مرزائی طالب علموں کو داخلہ دے دیا جائے۔ اعلیٰ نمبروں اور میرٹ کی بنیاد پر جو مرزائی لڑکے داخلے لے سکیں گے وہ اس کے علاوہ ہوں گے۔ رامے کی اس مرزائیت نوازی اور تعلیمی میدان میں اس دھاندلی پر مسلمان طلبہ نے بھر پور احتجاج اور غم و غصے کا اظہار کیا۔
مرزائیوں کا ڈاک سے لٹریچر بھجوانا
ادھر رامے صاحب کی مرزائیوں پر یہ کرم فرمائیاں اور ادھر قادیانی گروہ نے ایک اور سازش کی۔ ملاحظہ فرمائیں:
’’(لاہور ۱۰؍ ستمبر نامہ نگار خصوصی) اس امر کے باوجود کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جا چکا ہے اور آئین میں حالیہ ترمیم کے تحت کوئی شخص ختم نبوت کے عقیدے کے خلاف پرچار نہیں کر سکتا۔ قادیانیوں نے بذریعہ ڈاک وسیع پیمانے پر پروپیگنڈا مہم شروع کر دی ہے۔ آج دفتر نوائے وقت میں بذریعہ ڈاک ایسے پمفلٹ موصول ہوئے ہیں جن میں مرزا غلام احمد قادیانی کے انکار کے حوالے سے ختم نبوت کے خلاف کھلم کھلا پرچار کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں آج ٹیلیفون پر بھی عوام کی طرف سے زبردست احتجاج کیا جاتا رہا۔ ان کے گھروں اور دفتروں میں اس قسم کا لٹریچر بذریعہ ڈاک دھڑا دھڑ موصول ہورہا ہے۔ یہ لٹریچر انتہائی نفیس سفید کاغذ پر چھپا ہے اور لاہور کے کسی خالد پرنٹرز نامی پریس میں چھاپا گیا ہے۔ عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ اس جسارت کے ذمہ دار افراد کے خلاف فوری طور پر کارروائی کی جائے۔‘‘
(روزنامہ نوائے وقت، مؤرخہ ۱۱؍ ستمبر ۱۹۷۴ء)
قادیانیت کو اقلیت قرار دیئے جانے کا فیصلہ سنتے ہی رامے صاحب نے یہ بھی فرمایا تھا کہ ختم نبوت کی آڑ میں امن عامہ سے کوئی کھیلا تو اسے سختی سے کچل دیا جائے گا۔ ظاہر ہے کہ وہ اس فیصلہ سے سیخ پا تھے اور کسی نہ کسی طرح تحریک کے کارکنوں کو کچلنا چاہتے تھے۔ امن و امان کا لفظ تو محض وزن بیت کے لئے تھا۔ ورنہ ظاہر ہے کہ تحریک کے رہنماؤں نے اگر تحریک کے دوران کوئی مسئلہ پیدا نہیں کیا تو فیصلہ اپنے حق میں ہونے کے بعد وہ کیا مسئلہ کھڑا کرتے۔
بہر حال فیصلہ ہونے کے بعد اگلے دن یعنی ۸؍ ستمبر کو مسلمانوں کی گرفتاریاں شروع ہوگئیں۔ رامے صاحب کے ارادے اور آئین پر ان کے غم و غصہ اگلے دن سے ظاہر ہوا۔
عارف والا میں گرفتاریاں
’’۸؍ ستمبر کو عارف والا پولیس نے طلباء پر لاٹھی چارج کر کے ۱۲ طلباء کو گرفتار کرلیا۔ روزنامہ امروز کے نمائندے کے مطابق طلباء پر امن جلوس نکال رہے تھے۔ مقصد حکومتی اقدام کو خراج تحسین پیش کرنا تھا۔‘‘
(امروز، مؤرخہ ۸؍ ستمبر ۱۹۷۴ء)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
جھنگ کے علماء کی گرفتاری
”جھنگ کوتوالی پولیس نے آٹھ علماء اور سیاسی کارکنوں کو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے حکم پر گرفتار کر لیا۔ گرفتار شدگان کے نام یہ ہیں۔ مولوی محمد فاروق، مولوی محمد یاسین صاحب، مولانا غلام قادر، مولوی حق نواز، مولوی ولی اللہ، مولوی عبدالرشید وغیرہ۔ یہ افراد ایک ماہ تک جیل رہیں گے۔ گرفتاری امن عامہ آرڈیننس ۱۹۶۰ء کے تحت عمل میں لائی گئی۔“
(روزنامہ نوائے وقت، مورخہ ۸؍ستمبر ۱۹۷۴ء)
لاہور میں طلباء کی گرفتاری
”لاہور میں پنجاب سٹوڈنٹس کونسل کے چیئرمین مسٹر فرید پراچہ، پنجاب یونیورسٹی کے نائب صدر مسٹر مسعود کھوکھر، جنرل سیکرٹری مسٹر عبدالشکور، اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ مسٹر مظہر حسین، زرعی یونیورسٹی کے صدر حافظ وصی احمد سمیت تقریباً ۴۰ لیڈروں کو گرفتار کیا گیا اور ان حضرات کو ایک ماہ کے لئے کوٹ لکھپت جیل لاہور میں نظر بند کر دیا گیا۔“
راولپنڈی کی ایک خبر
”راولپنڈی کے طلباء پر پولیس تشدد میں ایک طالب علم جاں بحق، پولیس نے آج ہنگاموں کے دوران مجموعی طور پر ۸۵ طلباء کو گرفتار کیا ہے۔ ان میں ۶۰ کا تعلق راولپنڈی سے ہے۔ جب کہ ۲۵ طلباء ملتان، ساہیوال اور دیگر شہروں میں گرفتار کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ملتان، ساہیوال، لائل پور، وزیر آباد اور دیگر شہروں سے تقریباً ۲۵۰ گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔“
(نوائے وقت مورخہ ۹؍ستمبر ۱۹۷۴ء)
رامے صاحب نے قادیانیت نوازی کی مثال قائم کرتے ہوئے مسلمانوں اور خصوصاً مجلس عمل کے کارکنوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ اب قادیانیوں کی دسیسہ کاریاں دیکھیں کہ ملک دشمنی اور اسلام دشمنی میں انسانیت کی حدوں کو بھی پار کیا اور وطن عزیز کے امن وامان کو غارت کرنے کی سرتوڑ کوشش کرتے رہے۔ حادثات کی خبریں ملاحظہ فرمائیں۔ یہ کس نے کیا۔ آپ خوب جانتے ہیں۔
مسلم کمرشل بینک کے کلب میں دھماکہ
”صوبائی دارالحکومت میں نامعلوم تخریب کاروں نے جمعہ کی رات نیلا گنبد میں واقع مسلم کمرشل بینک کے آفیسرز کلب میں بم کا دھماکہ کیا جس سے کلب کی دیوار میں شگاف پڑ گیا اور کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ جمعہ کی رات کو مسلم کمرشل بینک کا چوکیدار عبداللہ حسب معمول کلب بند کر کے قریب ہی بینک کی عمارت میں چلا گیا تھا۔ رات پونے آٹھ بجے کے قریب دھماکے کی آواز آئی۔ یوم دفاع کی وجہ سے علاقہ سنسان تھا۔ جس بناء پر کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ نامعلوم تخریب کاروں نے بم بیرونی دیوار کے پچھلے حصہ میں بنی ہوئی نالی میں رکھ دیا تھا۔“
(روزنامہ امروز، مورخہ ۲۰؍ستمبر ۱۹۷۴ء)
اس کے علاوہ لاہور واپڈا ہاؤس میں بھی دھماکہ ہوا۔ اسی ہفتے راولپنڈی میں بھی ایک دھماکہ ہوا۔ مولانا غلام اللہ مجلس تحفظ ختم نبوت راولپنڈی کے صدر تھے۔ ان کے مدرسے میں بم دھماکہ ہوا۔ خبر ملاحظہ فرمائیں:
راولپنڈی دارالقرآن راجہ بازار میں بم دھماکہ
”پرانا قلعہ میں واقع دارالعلوم تعلیم القرآن کی مسجد کے غسل خانوں میں ۱۶؍ستمبر قریباً دس بجے بم کا دھماکہ ہوا۔ غسل خانوں کے اوپر رہائشی کمرے ہیں جن میں کبھی کبھی مولانا غلام اللہ خان، ان کے صاحبزادے اور مدرسے کے طالب علم قیام کرتے ہیں۔ دھماکے کے
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
وقت مولانا غلام اللہ خان وہاں موجود نہ تھے۔ البتہ چند طالب علم مقیم تھے، جو شدید زخمی ہو گئے۔ مولانا غلام اللہ خان کے صاحبزادے مولوی احسان الحق نے بتایا کہ دھماکے کے بعد غسل خانوں اور مسجد میں زہریلا دھواں پھیل گیا۔ دروازے ٹوٹ گئے۔ بم کے ٹکڑے دیواروں میں پیوست ہو گئے۔ مسجد کے باہر کے دکانداروں نے بتایا ہے کہ انہوں نے دھماکہ کے بعد ایک شخص کو بھاگ کر بازار کی طرف جاتے دیکھا۔‘‘
(روزنامہ نوائے وقت، مورخہ ۱۶؍ ستمبر ۱۹۷۴ء)
سرگودھا میں قادیانیوں کا راؤ عبدالمنان پر قاتلانہ حملہ
رامے صاحب کا تذکرہ سانحہ سرگودھا کے بغیر تشنہ رہ جاتا ہے۔ اس لئے ہم اس کے ضمن میں سرگودھا کے سانحہ کو بھی ذکر کرتے ہیں۔ تاکہ ختم نبوت کے لئے دی گئی قربانیوں کا یہ پہلو بھی سامنے آئے۔ تحریک ختم نبوت میں سرگودھا کا کردار بے مثال رہا ہے۔ نہایت پرامن طریقے سے اور منصوبہ بندی سے تحریک چلی ہے۔ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے سیکرٹری راؤ عبدالمنان تحریک کے اساسی کارکنوں میں سے تھے۔ راؤ صاحب غلہ منڈی میں بطور تاجر کام کرتے تھے۔ مرزائی کافی عرصے سے راؤ صاحب کے درپے تھے اور کئی مرتبہ ان کو تنگ کرنے کی کوشش کی۔ بلکہ ایک دفعہ حملہ بھی کیا۔
جب ۷؍ ستمبر کا تاریخی فیصلہ ہوا تو مرزائی بوکھلا گئے۔ چاہئے تو یہ تھا کہ یا تو مرزائی واپس اسلام سے وابستہ ہو جاتے یا پھر شریف اقلیت کی طرح زندگی گزارتے۔ لیکن نہیں! بلکہ ان کی شرارت آمیز اور اشتعال انگیز حرکات بڑھ گئیں۔ ان حرکات میں سے سرگودھا کا واقعہ بھی ہے جس کی قدرے تفصیل یوں ہے۔
سرگودھا سول لائن میں قادیانیوں نے ایوب خان کے زمانہ میں ایک اراضی حاصل کی۔ وہاں ان کی کوئی آبادی نہ تھی۔ اب اس فیصلہ کے بعد وہاں جمعہ پڑھنے کا اعلان کر دیا۔ ۴؍ اکتوبر کو انہوں نے جمعہ پڑھنا تھا۔ مجلس عمل نے بھرپور اجتماع کیا۔ دوسرے دن رامے صاحب آ رہے تھے۔ پی. پی والوں نے کہا کہ کل رامے صاحب اس مسئلہ کو حل کر دیں گے۔ مجلس عمل نے اپنا پروگرام ترک کر دیا۔ ۴، ۵؍ اکتوبر کی رات گیارہ بجے راؤ صاحب پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ ان پر کلہاڑیوں کے وار ہوئے۔ ان کو حملہ آور مردہ سمجھ کر چلے گئے۔ وہ نزع کی حالت میں تھے۔ ان کو ہسپتال لے جایا گیا۔ کئی بوتلیں خون کی دی گئیں۔ گیارہ گھنٹے بعد ان کو ہوش آیا۔ یاد رہے کہ راؤ صاحب پرانے مسلم لیگی تھے۔ وقوعے سے دو روز قبل پی. پی والے رامے صاحب کی ہدایت پر ان کے پاس آئے اور ان کو پی. پی میں شمولیت کی دعوت دی۔ انہوں نے انکار کر دیا۔ تیسرے روز ان پر حملہ ہوا۔ ۵؍ اکتوبر کی صبح مجلس عمل کے رہنماؤں نے اجلاس کیا۔ ابھی ان کا اجلاس جاری تھا کہ شرپسند عناصر کو موقع ہاتھ آ گیا اور انہوں نے قادیانیوں کی دکانوں کو آگ لگادی۔ انہوں نے لائن کے اس پار شہر کی قدیم آبادی میں ایک مرزائی دکان اور مکان نہیں چھوڑا۔ مجلس عمل تو اس وقت اجلاس کر رہی تھی اور اس کا ادنیٰ کارکن بھی اس میں شریک نہ تھا۔ مجلس عمل کو پتہ چلا وہ اجلاس مختصر کر کے وہاں گئے تو شرپسند جا چکے تھے۔ شہر میں ہڑتال ہوگئی۔ اسی دن رامے صاحب نے سرگودھا تشریف لانا تھا۔ انہوں نے جلسہ عام سے خطاب کرنا تھا۔ ان کے آنے سے قبل یہ ہنگامہ ہو گیا۔ یہ سب کچھ محض اس لئے ہوا کہ قادیانی مجلس عمل اور بھٹو صاحب کے درمیان بعد پیدا کرنا چاہتے تھے جس سے اس فیصلہ پر قانون سازی نہ ہو سکے۔ ورنہ ۵؍ اکتوبر کے کئی اخبارات میں مجلس عمل کے رہنماؤں مولانا عبیداللہ انور، مولانا محمود احمد رضوی، چوہدری ثناء اللہ بھٹہ، چوہدری غلام جیلانی کا یہ بیان شائع ہوا کہ: ’’مجلس عمل اپنے وعدہ پر کاربند ہے۔ وہ بھٹو صاحب سے بھی امید کرتے ہیں کہ اپنے وعدہ کا ایفاء کر کے اس ترمیم پر قانون سازی کریں گے۔ ہم ہر قسم کا بھٹو
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
صاحب سے تعاون کرنے کے لئے تیار ہیں۔‘‘ قادیانی شاطر قیادت نے دیکھا کہ اگر بھٹو صاحب اور مجلس عمل ایک ہو گئے تو قانون سازی ہو جائے گی۔ اس لئے انہوں نے سازشوں کا جال بچھا دیا۔ یاد رہے کہ ۲۰؍شعبان کو قادیانی مسئلہ پر ترمیم ہوئی تھی۔ رمضان المبارک کی عید تک کے لئے قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی ہو گیا۔ عید کے بعد حسب فیصلہ، اس پر قانون سازی ہونی تھی۔ رمضان شریف میں ہی قادیانی شاطر قیادت نے ہنگامے شروع کر دیئے۔ محترم رامے صاحب سرگودھا تشریف لائے۔ شہر میں قادیانیوں کے خلاف جلوس و ہنگامے تھے۔ رامے صاحب نے فوراً گرفتاریوں کا سلسلہ جاری کرا دیا۔ سرگودھا اور بھلوال کے مجلس کے اہم قائدین اور کارکنوں کو گرفتار کیا۔ ان گرفتار شدگان پر چوری، ڈکیتی، آتشزدگی اور بے جا مداخلت جیسے سنگین الزامات لگے۔ جب کہ یہ سارے شہر کے معزز لوگ تھے اور ان کے دامن بالکل صاف تھے۔ رامے صاحب نے سیاسی انتقام میں خالص مذہبی اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے کارکنوں کو بھی نشانہ انتقام بنایا اور لطف یہ کہ پیپلز پارٹی غلام مصطفیٰ کھر گروپ جو بھٹو کی پارٹی کی حریف پارٹی تھی کے ممتاز کاہلوں کو بھی گرفتار کرا لیا گیا۔ ان کو گرفتار کر کے رامے صاحب بھٹو صاحب کو یہ تاثر دینا چاہتے تھے کہ یہ سب کچھ غلام مصطفیٰ کھر مجلس عمل سے مل کر کر رہے ہیں۔ ان کا مقصد ہمارا پروگرام خراب کرنا تھا اور اسی تاثر کو صحیح ثابت کرنے کے لئے ممتاز کاہلوں کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ اس لئے کہ ممتاز کاہلوں کھر گروپ سے وابستہ سمجھے جاتے تھے۔ بھٹو صاحب کھر سے ان دنوں ناراض تھے۔ یہ سب کچھ قادیانی شاطر قیادت کھیل کھیل رہی تھی اور رامے صاحب کے اشارے پر ہو رہا تھا۔ تاکہ قادیانیوں کے متعلق قانون سازی نہ ہو سکے۔ قادیانی سازش کام کر گئی۔ راؤ صاحب پر قاتلانہ حملہ کے ردعمل میں پنجاب بھر میں پھر ہنگامے و ہڑتالیں شروع ہو گئیں۔ قادیانیوں کے ہاتھوں لگی ہوئی آگ شعلہ بن گئی۔
مسلمانوں کی بلا جواز گرفتاریاں
رامے صاحب نے مرزائیوں کو خوش کرنے کے لئے اقلیت کے تحفظ اور امن وامان کے نام پر مجلس عمل کے قائدین و کارکنان کا استحصال شروع کر دیا۔ بے جا گرفتاریوں اور تشدد کو اپنا وطیرہ بنایا ہوا تھا۔ حالانکہ سرگودھا میں ہونے والے آتشزدگی کے واقعات اس وقت ہوئے جب کہ تمام انتظامیہ اور پولیس وزیر اعلیٰ حنیف رامے کے جلسہ کے انتظام کے لئے موجود تھی۔ مگر ہنگاموں کی اطلاع ملنے کے باوجود انہوں نے شہر میں امن و امان بحال کرنے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی پولیس نے موقع پر کسی شخص کو گرفتار کیا۔ گرفتاریوں کی ابتداء ۱۲ بجے ہوئی۔ بی۔اے کے امتحان دینے والے طالب رہنما ارشاد احمد اصلاحی اور مجلس عمل کے رہنماؤں اور کارکنوں کو بلا جواز گرفتار کیا گیا اور ۲ صد کے قریب بچوں، طالب علموں، نوجوانوں اور بوڑھوں کو گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ سرگودھا کی دو بڑی مساجد کے خطیبوں، قاری جلیل الرحمن اور مولانا احمد سعید کو تحریک ختم نبوت کی تائید کی پاداش میں اس موقع پر برطرف کر دیا گیا۔
(روزنامہ نوائے وقت، مورخہ ۱۵؍ اکتوبر ۱۹۷۴ء)
حکومت مجلس عمل کو بدنام کرنے کے لئے ایسی خبریں چھاپ رہی تھی کہ گویا ۱۵؍ اکتوبر سرگودھا کے واقعات سے قادیانیوں کا کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی اس کا پیپلز پارٹی کی دھڑوں کی کشمکش سے کوئی تعلق ہے۔ حکومت اپنی ان غلطیوں سے ۷؍ستمبر کے فیصلے کو سبوتاژ کر رہی تھی۔
رامے کی اس بدترین مرزائیت نوازی اور مجلس عمل کے رفقاء کی بے جا گرفتاری کے خلاف مجلس عمل کے مرکزی رہنماء مولانا تاج محمود صاحب نے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے نام ایک خط بھیجا۔ اس میں حکومت کی توجہ اس بات کی طرف دلائی کہ سرگودھا میں وقوع پذیر ہونے والے افسوس ناک حالات سے مجلس عمل کا کوئی تعلق نہیں۔ جتنے بھی بدامنی کے واقعات ہیں۔ وہ مرزائیوں کے پیدا کردہ ہیں۔ ممتاز
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
کاہلوں کے گروپ کے ساتھ اس کو منسلک کرنا بھی درست نہیں۔ سرگودھا مجلس عمل کے کارکنان کو رامے صاحب کے گروپ کے ساتھ اس کو منسلک کرنا بھی درست نہیں۔ سرگودھا مجلس عمل کے کارکنان کو رامے صاحب کے ایماء پر محض اس لئے گرفتار کیا جا رہا ہے تاکہ وہ خوشگوار ماحول جو قادیانیوں کے متعلق تاریخ ساز فیصلے پر پیدا ہوا تھا، ختم کیا جائے۔ مولانا نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ وہ ذاتی طور پر مداخلت کر کے صورتحال کو بگڑنے سے بچائیں اور تمام گرفتار شدگان کو رہا کرنے کے احکام صادر کریں اور راؤ عبدالمنان پر قاتلانہ حملے کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی کریں۔ مولانا نے جناب عبدالحفیظ پیرزادہ، وزیر قانون اور مولانا کوثر نیازی، وزیر اطلاعات ونشریات کو بھی ایسے ہی تار بھیجے۔
وزیر اعظم بھٹو کا وعدہ
قادیانیوں کا مسئلہ آئینی طور پر طے پا جانے کے بعد جب مسلمانوں کی طرف سے اسیران ختم نبوت کی رہائی کا اصرار بڑھا تو وزیر اعظم بھٹو اور دیگر وزراء نے قیدیوں کی رہائی کا وعدہ کیا۔ مسلمانوں کا مطالبہ تھا کہ قادیانیوں کا مسئلہ بخیر وخوبی انجام تک پہنچ گیا۔ اب اس مسئلہ سے متعلقہ حضرات کو قید میں رکھنا بلا جواز ہے۔ آئین کی منظوری کے دو دن بعد وزیر اعظم بھٹو نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اسیران تحریک ختم نبوت کے بارے میں نرم رویہ اختیار کیا جائے گا اور انہیں جلد از جلد رہا کر دیا جائے گا۔ وزیر اعظم صاحب نے وضاحت کی کہ یہ حکم ۷؍ ستمبر کو پارلیمنٹ کے اعلان کے بعد عوام کی جانب سے نظم وضبط کے مظاہرے کی بناء پر جاری کیا گیا۔ وزیر اعظم نے بیان تو بڑے لچھے دار دیا۔ لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ قادیانی مسئلہ کے بعد جتنے دن گزرتے گئے مزید گرفتاریاں عمل میں آتی گئیں۔ حالانکہ یہ عقل وخرد کے منافی تھا۔ کیونکہ ۷؍ ستمبر کے تاریخ ساز فیصلے نے ملک کے باسیوں میں اعتماد کی فضا قائم کی تھی۔ تمام تعلیمی ادارے اور نجی وسرکاری ادارے قابل رشک طور پر خوشگوار اور پرامن تھے۔ امتحانات قریب تھے اور تمام طلباء تیاریوں میں مصروف تھے۔ ایسے حالات میں طلباء کو جیل میں بند رکھنا اور مزید گرفتاریاں کرنا ملکی حالات کو انتشار اور خلفشار کے حوالے کرنا تھا۔ اس پر ملک کے مذہبی اور سیاسی قائدین اور عوام کی طرف سے اسیران کی رہائی کا مطالبہ زور پکڑتا گیا۔
مولانا عبید اللہ انور نے ایک عوامی جلسے میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ ختم نبوت کی تحریک کے سلسلے میں اسیر علماء اور طلباء کو جلد رہا کیا جائے۔ ورنہ ملک گیر پرامن احتجاجی تحریک چلائیں گے۔ وزیر اعظم اپنا کیا ہوا وعدہ بھول رہے ہیں۔ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے ساتھ ہی وزیر اعظم نے قیدیوں کی رہائی کا وعدہ بھی کیا تھا۔ جو تاحال معرض التواء میں ہے۔ تمام مسلمانوں نے پرامن رہ کر محب وطن ہونے کا ثبوت دیا تو وزیر اعظم کو بھی ان کی حب الوطنی کی قدر کرنا چاہئے۔
(روزنامہ نوائے وقت، مورخہ ۱۶؍ ستمبر ۱۹۷۴ء)
مولانا مفتی محمود، نوابزادہ نصر اللہ خان
جمعیت علماء اسلام کے رہنما حضرت مفتی محمود صاحب نے مطالبہ کیا کہ تحریک تحفظ ختم نبوت کے دوران گرفتار ہونے والے تین ہزار سے زائد کارکنوں کو فوری طور پر رہا کر دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلہ پر علماء طلباء اور عوام نے بڑی قربانیاں دیں۔ صرف صوبہ پنجاب میں تین ہزار کارکنان تحفظ ختم نبوت جیلوں میں ہیں۔ چالیس سے زائد مسلمان شہید ہوئے۔ مسلمانوں کے اجتماعات پر لاٹھی چارج کیا گیا اور آنسو گیس استعمال کیا گیا۔ حضرت مفتی صاحب نے فرمایا کہ وزیر اعظم نے خود کہا تھا کہ اس کارنامے کا سہرا پوری قوم کے سر جاتا ہے۔ میں اکیلے اس کا کریڈٹ نہیں لینا چاہتا۔ جلسہ میں مولانا شاہ احمد نورانی، نوابزادہ نصر اللہ اور دیگر عمائدین نے شرکت کی۔ انہوں نے
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
بھی حکومت سے اسیروں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
(روزنامہ جنگ کراچی ، مؤرخہ ۱۵؍ستمبر ۱۹۷۴ء)
جماعت اسلامی کے رہنما مولانا جان محمد عباسی اور مولانا ظفر احمد انصاری نے ڈیموکریٹک یوتھ فورس کے زیر انتظام لاہور میں منعقدہ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’’اب تک اسیران ختم نبوت کو رہا نہ کرنا ان اعلیٰ جذبات کی نفی کرنا ہے جو اس مسئلے کے حل کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اتحاد باہمی کی فضا کو قائم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اسیران ختم نبوت کو فوری طور پر رہا کر دیا جائے۔ خاص طور پر طلباء جن کی کلاسیں شروع ہو چکی ہیں اور جن میں سے بعض کے امتحانات اب قریب ہیں۔ جیل میں بند رکھنے کی کوئی وجہ نہیں۔ مولانا نے کہا کہ مجھے حکومت پنجاب کی اس دانشمندانہ منطق کی سمجھ نہیں آ رہی کہ نئی گرفتاریاں کیوں کی جا رہی ہیں اور گزشتہ روز طالب علم لیڈر جاوید ہاشمی کو کیوں گرفتار کیا گیا۔ حکومت کی ان حرکات کی وجہ سے قادیانیوں سے متعلقہ اس فیصلے کے فوائد وثمرات سبوتاژ ہو سکتے ہیں۔‘‘
(روزنامہ نوائے وقت، مؤرخہ ۱۴؍ستمبر ۱۹۷۴ء)
عوام وخواص کی طرف سے انتہائی اصرار کے بعد وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے صوبائی وزرائے اعلیٰ کو اسیران کی رہائی کا حکم دے دیا۔ وزیر اعلیٰ کے حکم کے دو دن بعد وزیر اعلیٰ پنجاب حنیف رامے نے یہ مضحکہ خیز بیان دیا کہ پنجاب میں کسی ایسے شخص کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ جس نے پیغمبر اسلام کے بارے میں اپنے جذبات کا اظہار کیا ہو۔ تا ہم بعض افراد کو نمائندہ حکومت کے خلاف بے اطمینانی اور نفرت پھیلانے اور مساجد ومقدس مقامات پر سربراہ مملکت وملک کے انتظامی سربراہ کے خلاف غلیظ الفاظ استعمال کرنے اور انہیں گالیاں دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔
(روزنامہ امروز، مؤرخہ ۸؍ستمبر ۱۹۷۴ء)
قارئین کرام! وزیر اعظم اور حنیف رامے کے بیان میں کھلا تضاد نظر آ رہا ہے۔ بھٹو صاحب کے بیان میں ’’اسیران تحریک ختم نبوت، مرزائی مسئلہ اور ایجی ٹیشن کے الفاظ کی‘‘ وضاحت ہے۔ جب کہ رامے صاحب کہہ رہے ہیں کہ پنجاب میں سارے قیدی سیاسی ہیں۔ سرور کونین ﷺ کی ختم نبوت سے متعلقہ کوئی قیدی نہیں۔ ہم کس کی بات کو درست کہیں؟ تاہم کچھ قیدیوں کو رہا کر دیا گیا اور رامے صاحب نے جس طرح فرمایا تھا ویسے ہی کیا۔ یعنی سیاسی قیدیوں کو رہا کر دیا گیا۔ وہ کیسے؟ قیدیوں کی رہائی کے متعلق ایک دو خبریں پڑھیں۔ پھر حقیقت سمجھا دیتے ہیں آپ کو۔
لاہور، ۲۱؍ستمبر۔ وزیر اعظم بھٹو کی ہدایت کے مطابق اسیران ختم نبوت کی پورے پنجاب میں رہائی کا سلسلہ جاری ہے اور گزشتہ ۲۴؍گھنٹوں کے دوران صوبہ کے مختلف شہروں میں سینکڑوں اسیران کی رہائی عمل میں آ چکی ہے۔
(روزنامہ جنگ مؤرخہ ۲۱؍ستمبر ۱۹۷۴ء)
جھنگ، ۲۱؍ستمبر۔ آج جھنگ میں ۴ قیدیوں کو رہا کر دیا گیا۔ یہ تمام قیدی ختم نبوت تحریک کے سلسلے میں گرفتار کئے گئے تھے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق گرفتاری امن عامہ آرڈیننس کے تحت عمل میں لائی گئی تھی۔
(روزنامہ نوائے وقت لاہور، ۲۱؍ستمبر ۱۹۷۴ء)
یہ دونوں خبریں صوبہ پنجاب کی تھیں۔ باقی صوبوں میں وزیر اعظم کے اس حکم پر عمل نظر میں نہیں آیا۔ چنانچہ ان رہائیوں کے ایک دن بعد مولانا مفتی محمود نے ایک بیان دیا۔ ملاحظہ فرمائیں ۔
ملتان، ۲۲؍ستمبر۔ مرکزی مجلس عمل کے نائب صدر مولانا مفتی محمود نے وزیر اعظم بھٹو سے مطالبہ کیا ہے کہ اسیران ختم نبوت کو رہا کرنے کے حکم پر چاروں صوبوں میں عمل کرایا جائے۔ وزیر اعظم کی طرف سے چاروں صوبائی حکومتوں کو اسیران ختم نبوت رہا کرنے کی ہدایات جاری کرنے کی خوش آئند خبر آئی تھی۔ مگر اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ انہوں نے کہا۔ سرحد، بلوچستان اور سندھ کے صوبوں میں ان ہدایات پر عمل نہیں کیا گیا۔ جب کہ پنجاب میں تحریک ختم نبوت کے مزید کارکنوں کی دھڑا دھڑ گرفتاریاں عمل میں لائی جا رہی ہیں۔ پنجاب
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
میں نئی گرفتاریوں کے لئے مزید فہرستیں مرتب کی جارہی ہیں اور جھوٹے مقدمات بنائے جارہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک بھر کے ہزاروں کارکنوں کے خلاف تحریک ختم نبوت کے سلسلے میں جو مقدمات درج ہیں انہیں فوری طور پر واپس لیا جائے اور حکومت اپنے قول وعمل کے تضاد کو دور کرے۔
(روزنامہ نوائے وقت، مورخہ ۲۲؍ ستمبر ۱۹۷۴ء)
مولانا شاہ احمد نورانی
رکن قومی اسمبلی مولانا شاہ احمد نورانی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ قیدیوں کی رہائی سے متعلق وزیراعظم کا بیان پر تاحال عمل نہیں ہوا۔ حکومت فوراً اسیران کی رہائی کر کے قوم اور حکومت کے درمیان باہمی اعتماد واضح کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم بھٹو کا یہ اعلان کافی نہیں کہ تحریک کے دوران گرفتار ہونے والوں کو رہا کیا جائے۔ بلکہ خلوص کا تقاضا یہ ہے کہ ان مجاہدوں کے خلاف قائم کردہ تمام جھوٹے مقدمات بھی واپس لے لئے جائیں۔
(روزنامہ جنگ، مورخہ ۲۲؍ ستمبر ۱۹۷۴ء)
دو مہینے بعد سندھ میں بھی اسیروں کی رہائی اور ان پر بنے جھوٹے مقدمات ختم کرنے کا ”وعدہ“ کیا گیا۔
درحقیقت ۷؍ ستمبر کے فیصلے پر مسلمان نہایت پرامن رہے۔ اقلیت کے حقوق کا از بس خیال رکھا۔ حکومتی اور ملکی آئین کا احترام مدنظر رکھا۔ لیکن حکومت کی طرف سے نہایت کم ظرفی کا مظاہرہ کیا گیا۔ قادیانیوں کے حوالے سے آئین کا سارا کریڈٹ حکومت نے لیا۔ اس مذہبی معاملہ کو خالص سیاسی مسئلہ کہا اور سمجھا۔ اس کا سہارا لے کر سیاسی مخالفین کو نیچا دکھانے کی ممکن حد تک کوشش کی۔ کسی بھی عوامی یا نجی مجلس میں اس مسئلہ کا تذکرہ اور اس پر داد لینا بھولے نہیں۔ اس تحریک کے بنیادی کارکنوں اور مجلس عمل ختم نبوت کے رہنماؤں کو بلاجواز جیلوں میں ڈالے رکھا۔ جھوٹے مقدمات میں الجھائے رکھا۔ بات بات پہ ”اقلیت کے حقوق“ کی رٹ لگاتے رہے۔ حالانکہ اسی اقلیت نے آئین کا مذاق اڑایا۔ اس کو ماننے سے انکار کیا اور حکومت اور ملک کے خلاف اپنی فطری سازشوں میں مصروف کار رہی۔
آغا شورش کاشمیری کا تبصرہ
”پنجاب کے وزیراعلیٰ مسٹر حنیف رامے نے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ پنجاب بھر میں واقعہ ربوہ کے ضمن میں گرفتار ہونے والوں کو رہا کر دیا گیا۔ اس میں شک نہیں۔ ان کے اس اعلان کے بعد بعض طالب علم رہنماؤں اور علماء کو رہا کر دیا گیا۔ لیکن ہماری مصدقہ اطلاع کے مطابق لائل پور، گوجرانوالہ، راولپنڈی، بورے والا اور بعض دوسرے شہروں میں اب بھی سینکڑوں شہری جیلوں میں بند ہیں۔ حکومت اس طرح دوغلی پالیسی سے عوام کے عدم اعتماد کا شکار ہو رہی ہے۔ حکومت کے اس رویے سے عوام شکوک وشبہات میں مبتلا ہے۔ ہم وزیراعلیٰ سے درخواست کر رہے ہیں کہ وہ ان قیدیوں کو رہا کرنے اور ان کے خلاف قائم شدہ مقدمات واپس لینے کا حکم دیں کہ اس سے امن وامان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے میں مدد ملے گی“
(ہفت روزہ چٹان، نومبر ۱۹۷۴ء)
مسٹر حنیف رامے نے ۸؍ ستمبر کو اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسیران ختم نبوت میں سے جن جن نے تحریک کے دنوں میں آئین کی خلاف ورزی کی ہے ان کو سزا مل کر رہے گی۔ ہمارے لئے سب سے زیادہ قابل ترجیح قانون ہے۔
(روزنامہ نوائے وقت، مورخہ ۸؍ ستمبر ۱۹۷۴ء)
رامے صاحب اور بھٹو صاحب کے بیانات میں تضاد اور منافات کو تو چھوڑیئے۔ رامے صاحب کے اپنے بیانات میں بھی کھلا تضاد ہے۔ گزشتہ سطور میں ان کے ذکر کئے گئے بیان میں صراحت ہے کہ توہین رسالت کے سلسلے کا کوئی قیدی نہیں اور اس دوسرے بیان میں
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
’’اسیران ختم نبوت‘‘ کا لفظ صاف جھلک رہا ہے۔ ان بیانات کی کیا حقیقت ہے۔ اس کا فیصلہ قارئین خود فرمائیں۔ ایک طرف پرامن رہنے والے مسلمان جو پاکستان کی اکثریت بھی تھے، کے ساتھ حکومت کا یہ معاندانہ اور غیر منصفانہ رویہ کہ ان کو بلا جواز جیلوں میں بند رکھا۔ جب کہ دوسری طرف قادیانیوں کے ساتھ باوجود اقلیت ہونے کے حکومتی رعایت ملاحظہ فرمائیں۔
مرزا ناصر کا خطبہ
قادیانی امت کے پیشوا مرزا ناصر احمد نے ۴؍ اکتوبر کو جمعے کا خطبہ دیا۔ جس میں اس نے صراحتاً اپنے آپ کو مسلمان کہا اور مرزا قادیانی کو خدا کا سچا پیغمبر کہا۔ اس نے کھلم کھلا آئین کا انکار کیا۔ مرزا ناصر کا بیان اور سرگودھا کے راؤ عبدالمنان پر حملہ ایک دن ہوا۔ مجلس عمل نے باوجود یہ کہ سرگودھا کے واقعہ سے برأت کا اعلان کیا اور اس کی مذمت کی۔ پھر بھی ان کے کارکنوں اور رہنماؤں پر حکومت نے تشدد کیا اور ان کو جیلوں میں بند رکھا۔ لیکن مرزا ناصر کھلم کھلا آئین کا مذاق اڑا رہا ہے۔ خدا تعالیٰ سے ملاقات کی نوید سنا رہا ہے اور اپنے دادا مرزا قادیانی کو مہدی اور نبی کہتا ہے۔ لیکن کوئی نہیں کہ اس سے اس آئین شکنی اور قانون شکنی کا پوچھے ۔
مرزا ناصر کا اعلان
’’روزنامہ نوائے وقت کے نامہ نگار کے مطابق قادیانیوں کے روحانی پیشوا مرزا ناصر احمد نے ربوہ (چناب نگر) میں جمعہ کے خطبہ میں کہا کہ مہدی علیہ السلام (مرزا قادیانی) نبی کریم ﷺ کے سب سے پیارے اور روحانی فرزند ہیں اور امت مسلمہ نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ مہدی علیہ السلام کا دین سب باطل ادیان پر غالب آئے گا۔ نبی کریم ﷺ کی نسبت سے مہدی موعود کا مقام بہت بلند ہے۔ نبی کریم ﷺ نے انسانیت کو توحید کا پیغام سنایا اور مہدی موعود کے ذریعے انسانوں کو معرفت کا پیغام ملا۔ مرزا ناصر نے کہا کہ گزشتہ جمعہ کو میں نے کہا تھا کہ قرآن پاک میں خدا نے ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اچھے اعمال سے پیار اور برے اعمال سے نفرت کرتا ہے۔ اسے تکبر پسند نہیں ۔ وہ عاجزی کو پسند کرتا ہے۔ مرزا ناصر احمد نے کہا کہ احمدیوں کو اوامر اور نواہی حضرت نبی کریم ﷺ کے ذریعے ملے ہیں۔ قرآن پاک کی حکمت اور عظمت کا احاطہ انسانی عقل نہیں کر سکتی۔ رسول کریم ﷺ کی تعلیم کامل عاجزی ہے اور مرزا غلام احمد نے عاجزی کے رشتہ سے ہی رسول کریم ﷺ سے اکتساب کیا ہے۔
مرزا ناصر احمد نے کہا کہ زندگی کے ہر واقعہ پر ہمارا ردعمل ہوتا ہے۔ لیکن قادیانی مسئلہ کے بارے میں ہم کوئی ایسی بات نہیں کہیں گے جس میں جوش اور تکبر کا شائبہ تک ہو۔ مرزا ناصر احمد نے کہا کہ قادیانی مسئلہ پر قومی اسمبلی کے فیصلے پر جنوری یا فروری سے پہلے کوئی تبصرہ نہیں کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ خدا کا فرمان بشارتوں پر مشتمل ہے اور یہ فرمان قیامت تک آتا رہے گا۔ خدا کا کلام بند نہیں ہوا۔ جس طرح دو تین ماہ کے بچے کی ماں محبت کے فطری تقاضے سے بچے سے باتیں کرتی ہے۔ اسی طرح خدا کے بندے خدا سے باتیں کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ جواب دیتا ہے۔ مسیح (مرزا قادیانی) نے فرمایا کہ اللہ کے راستہ کے حصول کے لئے عاجزی کی راہیں اختیار کرو۔ نبی کریم ﷺ عظیم روحانی رہنما ہیں اور مہدی (مرزا قادیانی) کا بھی اعلیٰ مقام ہے۔
نمائندہ نوائے وقت نے ربوہ کی عبادت گاہ اقصیٰ میں قادیانیوں کی نماز جمعہ کا منظر دیکھا۔ خلیفہ کے منبر پر پہنچنے سے پیشتر ہی سفید لباس میں مسلح سیکورٹی گارڈ دائیں اور بائیں جانب متعین تھے۔ گارڈ کے ان ارکان نے نماز جمعہ کے بعد اپنی نماز ادا کی۔‘‘
(روزنامہ نوائے وقت مورخہ ۵؍ اکتوبر ۱۹۷۴ء)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
مرزا ناصر احمد کے اس بیان اور ڈھٹائی کے ساتھ اپنے کو مسلمان اور مرزا کو مہدی و نبی کہنے پر سارے مسلمان سراپا احتجاج تھے۔ فیصل آباد میں مولانا تاج محمود کی زیر صدارت ایک احتجاجی جلسہ ہوا۔ جس میں مولانا عبدالرحیم اشرف، مولانا طفیل احمد ضیاء، صفدر علی رضوی، اشرف ہمدانی، مولانا مشتاق احمد، مولانا سعید الرحمن علوی، مولانا اللہ وسایا اور سید نذر حسن شاہ نے خطاب کیا۔ ان حضرات نے مطالبہ کیا کہ راؤ عبدالمنان پر حملہ کے ذمہ دار مجرموں کو گرفتار کیا جائے اور مرزا ناصر احمد کے خطبہ کا نوٹس لیا جائے۔ اس کا بیان مکمل آئین سے بغاوت، غداری کے مانند ہے۔ مجلس کے رہنماؤں پر قاتلانہ حملے کر کے مرزائی ملک کے ماحول کو خراب کرنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ وہ واضح طور پر کہتے پھر رہے ہیں کہ پہلے دو آئین ٹوٹ چکے ہیں۔ یہ بھی ٹوٹ سکتا ہے۔
(روزنامہ نوائے وقت مؤرخہ ۷؍ اکتوبر ۱۹۷۴ء)
مولانا مفتی محمود، مولانا عبید اللہ انور سمیت مجلس عمل کے دیگر رہنماؤں اور دیگر مذہبی و سیاسی رہنماؤں نے مرزا ناصر احمد کے بیان پر احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ قادیانی پیشوا کے بیانات کھلم کھلا آئین کی خلاف ورزی ہے۔ حکومت کو ان کے غیر آئینی بیانات کا محاسبہ کرنا چاہئے۔ ملک کے سارے بڑے شہروں میں راؤ عبدالمنان، مسلمانوں کی بلا جواز گرفتاری اور مرزا ناصر کے باغیانہ بیان کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ وزیر آباد میں مفتی عبدالشکور ہزاروی، چنیوٹ میں مولانا منظور احمد چنیوٹی، پشاور میں مولانا نورالحق نور کی زیر صدارت احتجاجی جلسے ہوئے۔
(روزنامہ نوائے وقت مؤرخہ ۷؍ اکتوبر، امروز مؤرخہ ۸؍ اکتوبر ۱۹۷۴ء)
آئینی ترمیم کے بعد مرزائیوں کا اسلام کی طرف رجحان
غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے کے بعد قادیانی امت کا زوال شروع ہو گیا اور حق کے متلاشی تیزی سے مسلمان ہو رہے تھے جو متعصب اور جنونی تھے۔ وہ ملک اور قوم کی کوئی خرابی ڈھونڈ کر نکالتے اور اسے بدفالی کے طور پر پیش کر کے کہتے کہ چونکہ ملک میں ’’مسلمانوں‘‘ کو کافر ٹھہرایا گیا ہے۔ یہ فیصلہ درست نہیں۔ لہٰذا ملک و قوم پر یہ اللہ کی طرف سے عذاب ہے۔ اسی تناظر میں مرزائیوں کے ترجمان خصوصی روزنامہ ’’الفضل‘‘ کے آخری صفحہ پر ’’آج کی خبریں‘‘ کے زیر عنوان ہر روز کی ’’اہم ترین‘‘ خبریں چھاپنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ یہ اہم ترین خبریں کیا تھیں؟ ہر روز کے تمام اخبارات سے صرف قتل، ڈکیتی، اغواء، ٹریفک حادثوں میں جانی نقصان، چاقو زنی، آتش زنی اور دوسری اس طرح کی خبروں کا انتخاب کیا جاتا۔ گویا قادیانی سرکار اپنے مریدوں پر یہ واضح کر رہی تھی کہ جب تک ہمیں غیر مسلم اقلیت قرار نہیں دیا گیا تھا اس وقت تک پاکستان میں روشنی تھی، امن تھا، سلامتی تھی، برکت تھی، رزق تھا، عزت تھی اور جس روز سے ہمیں غیر مسلم قرار دے دیا گیا اس روز سے پاکستان اور اس کے باشندے عذاب الٰہی کی پکڑ میں آچکے ہیں۔ دہشت گردی، بدامنی، بداخلاقی، قتل وغارت، ڈاکہ زنی اور حادثوں کی اموات کا دور دورہ ہے۔
قادیانی خلیفہ کی جھوٹی بشارتوں اور الفضل کی ان فتنہ پردازیوں کے باوصف جن مرزائیوں کو اللہ نے عقل وخرد کے کچھ حصے سے نوازا تھا حق وصواب کے متلاشی تھے۔ ان کی ایک بڑی تعداد تیزی سے اسلام کی طرف کھنچی چلی آرہی تھی۔ قادیانی خلیفہ مرزا ناصر احمد خوشخبریوں کے ذریعے قادیانیوں کے حوصلے نہیں بڑھا سکے اور نہ ہی انہیں سنبھالا دے کر ان کا راستہ روک سکے۔ ان کے نہ جھکنے کی تلقین کے علی الرغم ہزاروں کی تعداد میں قادیانی تائب ہوئے۔ ذیل میں بطور مثال چند ایک قادیانی حضرات کے متعلق خبریں نقل کرتے ہیں جو قادیانیت چھوڑ کر آغوشِ اسلام میں آگئے تھے۔
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
حضرت علامہ یوسف بنوری کا حیرت انگیز انکشاف
مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوری نے قادیانیت کے تعاقب اور مسلمانوں کے ایمانوں کی حفاظت کے جذبے سے افریقی ممالک کا تبلیغی دورہ کیا۔ وہاں سے واپسی پر حضرت نے انکشاف کیا کہ دنیا بھر میں ایک لاکھ سے زیادہ قادیانی تائب ہو کر واپس اسلام کی دولت سے سرفراز ہوچکے ہیں۔ انہوں نے یہ اقدام پاکستان کی قومی اسمبلی کے تاریخی فیصلہ کی روشنی میں کیا۔ حضرت بنوری نے فرمایا کہ افریقہ اور بعض دیگر یورپی ممالک اور مسلم ممالک میں قادیانیوں کے مشن بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔ حضرت بنوری کے دورہ افریقہ کی مکمل روداد ان کے رفیق سفر حضرت ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر مدظلہ نے تحریر کی ہے۔ بعد کے سطور میں وہ بعض روداد ملاحظہ فرمائیں۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد، مؤرخہ ۲۷/ دسمبر ۱۹۷۴ء)
دس قادیانیوں کا قبول اسلام
یکم ستمبر کو ڈسکہ میں دس قادیانیوں نے اسلام قبول کر لیا۔ ڈسکہ میں چونڈہ کمیشن شاپ ڈسکہ، چونڈہ رائس مل پسرور اور ملت رائس مل سرانوالی کے مالکان عطاء اللہ بٹ، نور محمد بٹ، ظہور احمد بٹ، ضیاء اللہ بٹ، مبارک احمد بٹ، محمد قمر بٹ، عبدالحمید بٹ، محمد سعید بٹ، صوفی محمد اشرف بٹ اور برکت اللہ بٹ نے اپنے بال بچوں سمیت اور ربانی ٹریڈرز کے پروپرائٹر عبدالرشید ربانی نے قادیانیت سے تائب ہو کر مولانا محمد معین الدین کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔ ان قادیانیوں نے مرکزی جامع مسجد مین بازار ڈسکہ میں اسلام قبول کیا۔ سینکڑوں مسلمانوں نے خوشی سے ان کے گلے میں ہار پہنائے اور مبارکباد پیش کی۔ وزیر آباد روڈ کے صنعت کاروں اور محلہ ٹھٹھیاراں کے عوام نے مٹھائی تقسیم کی۔ انجمن فدایان رسول کی طرف سے علماء کو پارٹی دی گئی۔
کھوکھر اپار کے چودہ قادیانیوں کا قبول اسلام
۱۲/ ستمبر کو کھوکھر اپار کا ایک شخص بشیر احمد اپنے پورے ۱۴/ افراد پر مشتمل خاندان سمیت مسلمان ہو گیا۔ سابقہ قادیانی خاندان نے مولانا محمد شریف احرار مرکزی مبلغ تحفظ ختم نبوت کے ہاتھ پر بیعت کی۔ اس موقعہ پر علاقے کے عوام نے غیر معمولی خوشی کا اظہار کیا اور نومسلموں کو پھولوں کے ہار پہنائے۔
(روزنامہ جنگ کراچی، مؤرخہ ۱۴/ ستمبر ۱۹۷۴ء)
احمد پور میں
احمد پور شرقیہ میں ۳ مرزائی مسلمان ہو گئے۔ مقامی مسلمانوں نے خوشی اور مسرت کا مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ نومسلم بھائیوں نے وضاحت کی کہ محض اسلام کی حقانیت نے ہمیں مرزائیت سے تائب کرنے پر مجبور کر دیا۔ مرزائی مذہب چھوڑ کر ہمیں ایک ذہنی اور وجدانی سکون مل گیا۔ تمام مسلمانوں نے پر جوش طریقے سے ان کو مبارکباد دی۔
(روزنامہ جنگ کراچی، مؤرخہ ۱۵/ ستمبر ۱۹۷۴ء)
لاہور میں
لاہور میں مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کا یوم تشکر کے سلسلے میں جلسہ تھا۔ جلسہ ختم ہونے کے بعد مرزا مبارک احمد نامی قادیانی نے مولانا کے ہاتھوں پر بیعت کر کے اسلام قبول کیا اور مرزائیت سے توبہ کی۔ مبارک احمد نے اس موقع پر کہا کہ میں شروع دن سے مرزائی مذہب سے قلبی طور پر غیر مطمئن تھا۔ ۶/ ستمبر کے قومی فیصلے سے مجھے اسلام کا راستہ واضح نظر آنے لگا۔
(روزنامہ نوائے وقت لاہور، مؤرخہ ۱۴/ ستمبر ۱۹۷۴ء)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
اعلان
۳۰؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کو ایک قادیانی مسلمان ہو گیا۔ اس نے اخبار میں اپنے مسلمان ہونے کی وضاحت کر دی اور بصورت اعلان ایک اشتہار دیا۔
میں بخوشی خود رضامندی اعلان کرتا ہوں کہ خدا کے فضل و کرم سے میں مسلمان ہوں اور قرآن شریف کے احکام کا پابند ہوں۔ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو آخری نبی مانتا رہا ہوں اور مانتا ہوں اور آئین پاکستان میں جو موجودہ تعریف مسلمان کی وضع کی گئی ہے اس کی رو سے بھی مسلمان ہوں۔
احمدی فرقہ سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ انجمن احمدیہ اشاعت اسلام لاہور کا ادنیٰ رکن تھا جس سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ یہ اعلان اپنے احباء اور اقرباء اور دیگر متعلقین کی اطلاع کے لئے کیا گیا ہے۔ الحاج شیخ عزیز احمد، چیئرمین و گورننگ ڈائریکٹر
(مؤرخہ ۳۰؍ ستمبر ۱۹۷۴ء)
پرنسپل اور ممتاز قانون دان نے اسلام قبول کر لیا
بہاول نگر، ۲۳؍ ستمبر مولانا نیاز احمد اور مجلس عمل کے ارکان کی دعوت حق پر گورنمنٹ ڈگری کالج بہاول نگر کے پرنسپل مسٹر سعد اختر اور بار ایسوسی ایشن بہاول نگر کے معزز رکن سجاد احمد صدیقی ایڈووکیٹ اپنے اہل وعیال سمیت مرزائیت سے تائب ہو کر حلقہ بگوش اسلام ہو گئے۔ ہر دو حضرات نے تحریری طور پر حلقہ بگوش اسلام ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ فیصلہ کے بعد یہ بات اچھی طرح واضح ہو گئی ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ غلط تھا اور آنحضور ﷺ کے بعد سلسلہ نبوت مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔
پتوکی کے چار افراد کا قبول اسلام
۹؍ ستمبر ۔ جامع مسجد رحمانی کے خطیب مولانا بشیر احمد کے ہاتھ پر پتوکی کی معروف شخصیت مرزا محمد اسلم بھٹے والے نے گزشتہ روز اپنے دونو جوان بیٹوں اور بیوی کے ہمراہ اسلام قبول کیا اور اس کا اعلان مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں اور عوام کے بہت بڑے اجتماع میں کیا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد محمد اسلم کو ایک جلوس کی شکل میں جامع مسجد مینار والی میں لایا گیا۔
(روزنامہ نوائے وقت لاہور ، مؤرخہ ۹؍ ستمبر ۱۹۷۴ء)
گجرات میں
مجلس تحفظ ختم نبوت گجرات کے ناظم اعلیٰ چوہدری خلیل احمد صاحب نے تبلیغی مشن کے تحت دعوت اسلام کے سلسلہ میں موضع شادیوال کا دورہ کیا۔ جہاں مختلف مساجد میں تبلیغی جلسے کئے گئے۔ دہر کے کلاں کے مقام پر چوہدری محمد حسین مرزائی نے اسلام قبول کیا اور انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ سالہا سال سے مرزائی تھا۔ مگر اب امت مسلمہ کے فیصلہ کے مطابق آنحضرت کو آخری رسول اور نبی مانتا ہوں اور مرزا غلام احمد قادیانی کو کذاب، دجال سمجھتا ہوں۔ میں حیات مسیح علیہ السلام کو مانتا ہوں۔ انہوں نے تبلیغی جماعت ختم نبوت کے اس نئے مشن کو سراہا۔ جس کا پاکستان بھر میں مرزائیوں کو دعوت اسلام دینا اور حلقہ بگوش اسلام کرنا ہے۔
عالمی مجلس کا مختصر تعارف
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ایک تحریک ہے۔ جس کا مقصد وحید امت مسلمہ کے مختلف مکاتب فکر کو ختم نبوت کے پلیٹ فارم پر اکٹھا کر
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء
ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
کے سارقین ختم نبوت کا تعاقب کرنا ہے۔ مجلس کی داغ بیل امیر سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے ڈالی اور تاحیات اس کے امیر رہے۔ آپ کی وفات کے بعد خطیب پاکستان حضرت مولانا قاضی احسان احمد امیر بنے۔ ان کے بعد مولانا محمد علی جالندھری اور ان کے بعد مولانا لال حسین اختر ۔ مولانا لال حسین اختر کی وفات کے بعد کچھ عرصہ عارضی طور پر فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیات اس کے قائد رہے۔ مارچ ۱۹۷۴ء میں حسب ذیل انتخاب ہوا ۔
امیر: شیخ الاسلام علامہ سید محمد یوسف بنوری ۔ نائب امیر: پیر طریقت مولانا خواجہ خان محمد صاحب کندیاں شریف ۔ ناظم اعلیٰ: مولانا محمد شریف جالندھری ۔ ناظم تبلیغ: مولانا عبدالرحیم اشعر ۔ خازن: مولانا غلام محمد بہاولپوری ۔
مجلس شوریٰ کے اراکین میں مندرجہ ذیل حضرات مقرر کئے گئے تھے۔ مولانا محمد عبداللہ (جامعہ رشیدیہ ساہیوال)، مولانا تاج محمود (لائل پور)، مولانا قاری سعید الرحمن (راولپنڈی)، مولانا عبدالواحد (کوئٹہ)، مولانا محمد حیات (لاہور)، مولانا نور الحق (پشاور)، مولانا عبدالرحمن میانوی (سرگودھا)، مولانا محمد شریف (بہاول پور)، مولانا منظور احمد (چنیوٹ)، حافظ عزیز الرحمن (کراچی)، سردار میر عالم لغاری (رحیم یار خان)، مولانا فضل احمد (کیمبل پور)، مولانا حافظ عزیز الرحمن جالندھری (رحیم یار خان)، جناب حاجی سیف الرحمن (بہاول پور)، قاضی فیض احمد (ٹوبہ ٹیک سنگھ)، جناب بلند اختر نظامی (لاہور)، ان کے علاوہ جملہ عہدیداران بھی شوریٰ کے رکن ہیں۔
مبلغین حضرات
فاتح قادیان مولانا محمد حیات، مولانا عبدالرحمن میانوی، مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا محمد شریف بہاول پوری، مولانا عبدالرحیم اشعر، مولانا غلام محمد بہاول پوری، مولانا منظور احمد شاہ، مولانا قاضی اللہ یار صاحب، مولانا زرین احمد خان، مولانا محمد یوسف لدھیانوی، مولانا اللہ وسایا (لائل پور)، مولانا منظور احمد الحسینی ملتان، مولانا نذیر احمد (رحیم یار خان)، مولانا خدا بخش (بہاول نگر)، مولانا عبدالرؤف (لاہور)، مولانا کریم بخش (لاہور)، مولانا ضیاء الدین صاحب (گوجرانوالہ)، مولانا محمد خان (سیالکوٹ)، مولانا غلام حیدر (اسلام آباد)، چوہدری خلیل احمد (گجرات)، مولانا عزیز الرحمن (سرگودھا)، مولانا نور محمد (مظفر گڑھ)، حافظ اللہ وسایا (مدرس پرمٹ)، حافظ محمد حیات (جابہ)، کپتان غلام محمد (جابہ)، مولانا عبداللطیف (کوئٹہ)، مولانا محمد انور (کوئٹہ)، مولانا بشیر احمد (سکھر)، مولانا جمال اللہ (پنوں عاقل)، مولانا محمد شریف احرار (کراچی)، مولانا محمد علی جانباز (سمندری)، حافظ سید ممتاز الحسن (جڑانوالہ)، مولانا اللہ وسایا (ڈیرہ غازیخان)، مولانا غلام مصطفیٰ (احمد پور شرقیہ)، مولانا سید امین شاہ (مخدوم پور)، مولانا نور الحق نور (پشاور)، مولانا حافظ عبدالوہاب (حافظ آباد)، مولانا محمد احمد (شیخوپورہ)، حافظ عبدالحق (فقیر والی)، مولانا محمد اقبال (علی پور)۔
مجلس تحفظ ختم نبوت جس مقصد اور کاز کے لئے بنی تھی اس کاز کو خوب نبھایا۔ چنانچہ ۷ ستمبر کا تاریخی فیصلہ مجلس کی محنتوں اور مشقتوں ہی کا مرہون منت ہے اور صرف پاکستان نہیں بلکہ پوری دنیا میں قادیانی فتنے کا تعاقب کیا۔ اندرون و بیرون ملک مبلغین کا جال
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
بچھایا۔ جگہ جگہ پر ختم نبوت کے مراکز اور مساجد تعمیر کئے۔ قیادت نے بیرون ممالک کے تبلیغی دورے کئے۔ ذیل میں چند نظائر پیش کئے جاتے ہیں۔ اگر مجلس کی پوری کارگزاری تحریر کی جائے تو وہ الگ ایک ضخیم کتاب بن جائے گی۔ اس لئے چند ہی مثالوں پر اکتفا کرتے ہیں۔
کنری میں ختم نبوت مسجد کی تعمیر
نومبر ۱۹۷۴ء میں مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ملتان کے زیر اہتمام کنری ضلع تھر پارکر سندھ میں ختم نبوت جامع مسجد کی تعمیر شروع کر دی گئی۔ جس کی تعمیر کا تخمینہ لاکھوں روپے تھا۔ اس کے ساتھ ہی ختم نبوت مدرسہ دفتر اور لائبریری کا بھی منصوبہ تھا۔ یاد رہے کہ سندھ میں مرزائیوں کی جارحانہ تبلیغ کے سدباب کے لئے مجلس کے عملی اقدامات میں سے یہ ایک اہم اقدام تھا۔ آج بحمد اللہ! کنری میں ہر سال مجلس ایک عظیم الشان کانفرنس کا انعقاد کرتی ہے اور مجلس کا وہاں پر ایک مضبوط جماعتی نظم قائم ہے۔
یورپ میں مرکز تبلیغ اسلام کا قیام
دسمبر ۱۹۷۴ء کے آغاز میں مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے سربراہ شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف صاحب بنوری نے انگلستان کا ایک کامیاب تبلیغی دورہ فرمایا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت انگلستان کے ملکیتی دفتر میں آپ نے قیام فرمایا۔ دفتر ختم نبوت ، لائبریری، مدرسہ ختم نبوت انگلستان کا جائزہ لے کر کام پر اظہار اطمینان فرمایا۔ ساتھیوں سے مفید مشورے کئے۔ اس دفتر کو پورے انگلینڈ کا تبلیغی مرکز بنانے کا فیصلہ کیا۔ آج کل انگلینڈ میں باقاعدہ مجلس کی سرگرمیاں جاری ہیں۔ مستقل مجلس کے ایک مبلغ وہاں تعینات ہوتے ہیں اور رہنما حضرات باقاعدگی سے ہر سال وہاں تبلیغی اسفار پر جاتے ہیں۔
مولانا خواجہ خان محمد کا دورۂ کویت
دسمبر کے آغاز میں حضرت مولانا خواجہ خان محمد نے کویت کا تبلیغی دورہ کیا۔ حضرت موصوف اپنے ہمراہ عربی اور انگلش لٹریچر لے کر گئے تھے۔ حضرت کویت میں مجلس کے متعلقین کے ساتھ ملے اور وہاں پر باضابطہ طور پر مجلس کا دفتر قائم کر لیا۔
(لولاک، مؤرخہ ۲۵؍ دسمبر ۱۹۷۴ء)
ربوہ میں عطاء اللہ شاہ بخاری کے نام پر لائبریری کے قیام کا فیصلہ
۱۸؍ ستمبر کو ربوہ (چناب نگر) اور فیصل آباد کے احباب حضرت مولانا تاج محمود کی قیادت میں جمع ہوئے اور باہمی مشورے سے یہ مشترکہ فیصلہ کیا کہ ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے کے بعد وہاں تحفظ ختم نبوت کا دفتر ، ختم نبوت مسجد اور عطاء اللہ شاہ بخاری کے نام پر بخاری لائبریری قائم کی جائے۔ آج ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ان بزرگوں کے خوابوں اور اداروں کو تعبیر مل گئی ہے۔ جامعہ ختم نبوت کے نام پر ایک عظیم الشان ادارہ اور سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے نام سے موسوم ایک بے مثال لائبریری قائم ہے۔ جس میں نہایت ہی متنوع کتابوں کا ذخیرہ موجود ہے۔
مجلس عمل کا وفد سعودی عرب میں
مجلس عمل کا ایک سہ رکنی وفد جس میں مولانا مفتی محمود ، مولانا شاہ احمد نورانی اور پروفیسر غفور احمد شامل تھے۔ دسمبر ۱۹۷۴ء کو حجاز مقدس کے سفر پر گیا۔ جہاں ان حضرات نے فریضہ حج ادا کرنے کے علاوہ دنیا بھر سے آئے مسلم وفود اور عمائدین ملت سے ملاقاتیں کیں۔
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
انہیں پاکستان پارلیمنٹ کے فیصلہ جس میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا، سے آگاہ کیا اور اپنے اپنے ممالک میں اس عیار فتنہ سے بچنے کی تلقین کی۔
مولانا محمد یوسف بنوری دورۂ افریقہ پر روانہ ہو گئے
اکتوبر ۱۹۷۴ء کو مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے امیر اور مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کے صدر مولانا محمد یوسف بنوری نے افریقی ممالک کا تبلیغی دورہ کئے۔ آپ اپنے ہمراہ عربی، انگلش لٹریچر لے کر گئے تھے۔ ایک ماہ تک افریقی ممالک میں ختم نبوت کا پیغام عوام تک پہنچایا۔ آپ نے اس دوران مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کا قائم مقام امیر مولانا عبدالستار خان نیازی کو مقرر فرمایا تھا۔ جب کہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے نائب امیر کے لئے دستور کے مطابق حضرت مولانا خان محمد کندیاں مقرر کئے گئے۔ حضرت بنوری کے اس سفر میں تقریباً ایک لاکھ قادیانی مسلمان ہو گئے تھے۔
(لولاک، مورخہ ۲۱؍ اکتوبر ۱۹۷۴ء)
مولانا محمد یوسف لدھیانوی کی خدمات
دسمبر ۱۹۷۴ء سے مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے شعبہ تصنیف کو ازسرنو منظم طریقہ پر چلانے کے لئے حضرت امیر مرکزیہ مولانا محمد یوسف بنوری نے مولانا محمد یوسف لدھیانوی نائب مدیر ماہنامہ ”بینات کراچی“ و سابق مدرس جامعہ رشیدیہ ساہیوال کو انچارج مقرر کیا۔ مولانا لدھیانوی نے فی الفور دفتر ملتان تشریف لا کر کام شروع کر دیا۔
اس کے علاوہ ملک بھر میں تبلیغی کنونشنز اور اجتماعات کا اہتمام کیا گیا۔ تاکہ مرزائیت کی حقیقت دنیا کے چپے چپے تک پہنچ جائے اور مسلمان ان کے دام تزویر میں پھنسنے سے بچ جائیں۔ اس مقصد کے لئے ملک کے بڑے شہروں میں خصوصاً اور چھوٹے شہروں اور دیہات میں عموماً اجتماعات منعقد کروائے۔ یکم نومبر کو بلوچستان، کوئٹہ میں سہ روزہ ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ مزید برآں مجلس کی قیادت وقفے وقفے سے اجلاس طلب کر کے جماعتی کام کی رفتار کا اندازہ لگاتی تھی۔ حکومت کو آئین کے عملی نفاذ کی طرف توجہ دلاتی تھی۔ چنانچہ اس سلسلے کی مختلف نشستیں مختلف مقامات پر ہوئیں۔ ۳۰؍ نومبر ۱۹۷۴ء کو امیر مرکزیہ شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوری کی زیر صدارت ملتان مرکزی دفتر میں اجلاس منعقد ہوا۔ مجلس کی قیادت اور شوریٰ کے اراکین نے شرکت فرمائی۔ اجلاس میں ۷؍ ستمبر اور اس کے بعد رونما ہونے والے حالات و واقعات پر سنجیدگی سے غور کیا گیا۔ امیر مرکزیہ نے جماعت کے تمام مبلغین کا اجلاس طلب کر کے ان کو وعظ و نصیحت فرمائی اور ہدایات دیتے رہتے۔ یہ اجلاس ۳۰؍ نومبر سے شروع اور یکم؍ دسمبر کو اختتام پذیر ہوا۔ حضرت بنوری نے مبلغین سے گفتگو کے دوران ان کو تزکیہ نفس اور تصفیہ باطن کی زینت سے آراستہ ہونے کی ترغیب دی۔ حضرت نے عزم کا اظہار کیا کہ عربی اور انگلش استعداد رکھنے والے مبلغین کو مشرق وسطیٰ اور یورپ بھیجا جائے گا۔ تاکہ وہاں جا کر مرزائیت کے ان گھروندوں کو مسمار کر سکیں جو کہ گزشتہ صدی میں مرزائیت نے اپنی مرتدانہ سرگرمیوں کی بدولت تعمیر کئے ہیں۔
(لولاک، مورخہ یکم؍ دسمبر ۱۹۷۴ء)
حضرت بنوری کے سفر افریقہ کی مکمل کارگزاری
حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر مدظلہ جو حضرت بنوری کے ساتھ افریقہ کے سفر میں بطور خادم اور رفیق کے ساتھ تھے، نے سفر کی مکمل روداد مرتب فرمائی ہے۔ انہی کے الفاظ میں ملاحظہ فرمائیں:
”پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے بعد حضرت مولانا محمد یوسف بنوری کی یہ خواہش تھی کہ علمائے کرام کا
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب وتحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
ایک وفد ان افریقی ممالک کا دورہ کرے جہاں قادیانی مراکز قائم ہیں اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاکہ وہاں کے مسلمانوں کو اس فتنے کی حقیقت سے آگاہ کیا جائے اور وہ ان کے فریب میں نہ آئیں۔
اس سلسلہ میں پہلا ٹھوس قدم آپ نے یہ اٹھایا کہ وہ دستاویزات جو قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لئے قومی اسمبلی میں پیش کی گئی تھیں وہ اردو زبان میں تھیں۔ اس کا عربی ترجمہ کرنے کے لئے اس خادم (ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر) کو حکم فرمایا۔ الحمدللہ! کہ ترجمہ مکمل ہوگیا اور حضرت شیخ کی خواہش پر بہت جلد اس کی طباعت بھی مکمل ہوگئی۔ مقصد یہ تھا کہ اس سفر میں جہاں بھی جانا ہوگا وہاں کے اہل علم حضرات کو یہ کتاب ’’موقف الامة الاسلامية من القاديانية‘‘ پیش کی جائے تاکہ ان کے پاس اس کے بارے میں ایک مستند دستاویز رہے۔ جس سے وہ صحیح معلومات حاصل کرسکیں۔
چنانچہ یہ طے پایا کہ یہ سفر شوال المکرم ۱۳۹۵ھ مطابق اکتوبر ۱۹۷۵ء میں حرمین شریفین سے شروع کیا جائے۔ حضرت شیخ رمضان المبارک میں حسب معمول عمرہ کے لئے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے اور عمرہ سے فارغ ہو کر مدینہ منورہ پہنچے اور مسجد نبوی میں اعتکاف فرمایا۔ اس دوران آئندہ شروع ہونے والے سفر کے بارے استخارہ فرمایا۔ فرمانے لگے کہ اس سفر کے لئے چھ، سات استخارے کئے ہیں اور خواہش تھی کہ کوئی خیر کا مانع در پیش ہو جائے اور میں رہ جاؤں اور سفر نہ کروں ۔ لیکن اگر قدرت کو میرا جانا ہی منظور ہے تو مجھے کوئی عذر نہیں، میں تو ایک دین کا سپاہی ہوں اور سپاہی کا کام ہے حکم بجالانا۔
کینیا میں
مدینہ منورہ میں سہ رکنی وفد کی تشکیل عمل میں آئی۔ حضرت شیخ ، مولانا تقی عثمانی اور خادم (راقم الحروف) مدینہ منورہ سے جدہ پہنچے۔ وہاں بعض ممالک کے ویزے حاصل کئے اور ۷؍ شوال المکرم ۱۳۹۵ھ مطابق ۱۲؍ اکتوبر ۱۹۷۵ء یہ وفد حضرت شیخ کی قیادت میں جدہ سے بذریعہ پی آئی اے روانہ ہوا اور صبح ساڑھے چھ بجے کینیا کے دارالحکومت نیروبی پہنچ گئے۔ ائیر پورٹ پر مولانا مطیع الرسول صاحب مبعوث دارالافتاء ریاض ، اور شہر کے دوسرے سر برآوردہ حضرات نے استقبال کیا۔
نیروبی شہر میں چار روز تک قیام رہا۔ اس دوران شہر کی مختلف مساجد میں عشاء کی نماز کے بعد حضرت بنوری کا خطاب ہوتا رہا۔ جہاں اردو جاننے والے مسلمان تھے وہاں اردو میں جہاں افریقی مسلمان تھے وہاں عربی میں اور ساتھ ساتھ مقامی سواحلی زبان میں اس کا ترجمہ ہوتا رہا۔ ان خطابات میں جن موضوعات پر بیان ہوا ان میں اہم موضوعات یہ ہیں ۔ اللہ اور رسول کی محبت واطاعت ، عجائب قدرت، صفات رسالت، اخلاص، محبت، اتحاد، عقیدہ ختم نبوت اور اس کی حفاظت ، قادیانیت اور اس کا پس منظر وغیرہ ۔
ایک دلچسپ لطیفہ
نیروبی میں قادیانیوں کی ایک عبادت گاہ ہے وہی ان کا مرکز ہے۔ کینیا کے بعض دوسرے شہروں میں بھی ان کے مراکز ہیں جہاں سے یہ لوگ افریقی عوام میں کام کرتے ہیں اور مقامی زبانوں میں اپنا لٹریچر تقسیم کرتے ہیں ۔ بعض دوستوں نے سنایا کہ قادیانیوں کی طرف سے ایک کتابچہ شائع ہوا۔ اس کے سرورق پر انہوں نے مرزا صاحب کی تصویر بھی چھاپ دی ، ایک قادیانی نے جب مرزا قادیانی کی تصویر دیکھی تو متنفر ہو کر کہنے لگا کہ یہ پیغمبر کی شکل نہیں ہوسکتی اور قادیانیت سے توبہ کرکے مسلمان ہوگیا۔
نیروبی میں مسلمان کی بھی مختلف انجمنیں قائم ہیں جو دینی کام کرتی ہیں ۔ ان کی نگرانی میں کچھ دینی ابتدائی مدارس اور یتیم خانے
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
قائم ہیں جن میں افریقی طلبہ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ ان مدارس میں افریقی اساتذہ کے علاوہ پاکستانی مدرسین بھی کام کر رہے ہیں جن کو دارالافتاء، ریاض (سعودی عرب) نے بھیجا ہے اور یہ حضرات اچھا کام کر رہے ہیں۔
حضرت شیخ نے ان جمعیات کے ذمہ دار حضرات اور مقامی علماء اور دیندار مسلمانوں سے خصوصی ملاقاتیں کیں اور ان کے سامنے اپنے سفر کا مقصد بیان فرمایا اور ان کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ اپنے اہم تبلیغی مقاصد میں عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کو بھی شامل کر لیں اور اس کے لئے ہر ممکن تدابیر اختیار کریں۔ جس پر سب نے لبیک کہا اور جو حضرات پہلے سے اس کام میں دلچسپی رکھتے تھے ان کی ہمت افزائی ہوئی۔ علماء کو کتاب ”موقف الامة الاسلامية من القاديانية“ پیش کی گئی۔ نیز مقامی علماء کرام کو اس بات پر آمادہ کیا گیا کہ ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کے نام سے تنظیم قائم کر کے باقاعدہ کام شروع کریں۔ چنانچہ وہ حضرات اس بات پر آمادہ ہو گئے۔ البتہ انہوں نے اتنی مہلت طلب کی کہ وہ سوچ سمجھ کر اس کے لئے مناسب افراد کا انتخاب کر لیں اور جب واپسی پر ہمارا نیروبی سے گزر ہوگا وہ اپنے آخری فیصلے سے ہم کو آگاہ کر دیں گے۔
نیروبی میں آئندہ سفر کا پروگرام طے پایا کہ کینیا کے علاوہ تنزانیہ، زیمبیا اور یوگنڈا میں بھی ہمارے وفد کو جانا چاہئے۔ ان ممالک میں بھی کام کی سخت ضرورت ہے۔ نیز یہ سفر ہوائی جہاز سے ہو۔ کیونکہ مسافت کافی لمبی ہے اور حضرت مولانا کی صحت اس قابل نہیں کہ خشکی کا سفر برداشت کر سکے۔
۱۴؍اکتوبر کو کینیا کے دوسرے شہر ممباسا کے لئے روانگی ہوئی اور ۱۵؍اکتوبر کو ہمارے رفیق سفر مولانا تقی عثمانی صاحب کا کراچی سے فون آگیا کہ حضرت مفتی محمد شفیع صاحب کو ہسپتال میں داخل کر دیا گیا ہے۔ اس لئے آپ جلد از جلد پہلی فلائٹ میں کراچی پہنچ جائیں۔ چنانچہ وہ ۱۶؍اکتوبر کو کراچی روانہ ہوئے اور حضرت شیخ اور خادم ممباسا روانہ ہو گئے۔ ممباسا ایئرپورٹ پر مولانا ابراہیم صاحب مبعوث دارالافتاء ریاض اور شہر کے دوسرے حضرات گاڑیاں لے کر استقبال کے لئے پہنچ چکے تھے۔
ممباسا میں بھی قادیانی مرکز قائم ہے اور مسلمانوں کی انجمنیں بھی قائم ہیں۔ مسجدیں بکثرت موجود ہیں۔ یہاں بھی حضرت مولانا کا بیان مختلف مساجد میں ہوا، اردو اور عربی دونوں زبانوں میں۔ یہاں بھی مختلف علماء کرام سے ملاقاتیں ہوئیں اور انہیں عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کے لئے کام کرنے پر آمادہ کیا گیا اور مذکورہ کتاب کے نسخے پیش کئے گئے۔ یہاں کے قاضی القضاۃ شیخ عبداللہ صالح، ممباسا کے قاضی شیخ الحسن المعمری اور ممباسا کے مشہور خطیب شیخ سعید احمد سے خصوصی ملاقاتیں ہوئیں اور ان کے ذریعہ مجلس تحفظ ختم نبوت کی بنیاد ڈال دی گئی۔ الحمدللہ! کہ یہ سفر کافی کامیاب رہا۔
تنزانیہ میں
۱۸؍اکتوبر کو ممباسا سے تنزانیہ کے دارالحکومت دارالسلام پہنچے۔ ایئرپورٹ پر مولانا قاسم کاظم (مبعوث دارالافتاء ریاض، سعودی عرب) اور مقامی مسلمانوں کی ایک جماعت موجود تھی۔
دارالسلام اور تنزانیہ کے بعض دوسرے شہروں میں قادیانی مراکز قائم ہیں۔ یہاں مسلمانوں کی صرف ایک تنظیم قائم ہے جس کے عہدہ دار یہاں کی حکومت منتخب کرتی ہے اس کے علاوہ اور انجمن وغیرہ بنانے کی کسی کو اجازت نہیں ہے۔ اس لئے اس تنظیم کے عہدہ داروں کے علاوہ مقامی علماء اور دیندار مسلمانوں سے ملاقاتیں ہوئیں اور ان کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ انفرادی طور پر اس فتنہ کے خلاف کام کریں اور مسلمانوں
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبد اللہ معتصم
کے عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کریں۔ یہاں کی مساجد میں بھی حضرت شیخ قدس سرہ کا خطاب ہوا۔ جس کا ترجمہ خادم نے پیش کیا۔
دارالسلام میں مصری حکومت کی طرف سے ”المرکز الاسلامی“ کے نام سے ایک ادارہ قائم ہے، جو مسجد، مدرسہ اور دواخانہ پر مشتمل ہے۔ یہاں بھی حضرت شیخ علیہ الرحمۃ تشریف لے گئے اور مرکز کے مدیر اور اساتذہ کرام سے ملاقات ہوئی اور عربی زبان میں ان سے تبادلۂ خیالات فرمایا اور ان کو بھی اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ اس فتنہ کے خلاف کام کریں اور مذکورہ کتاب کے نسخے بھی پیش کئے۔ ان حضرات نے اس تجویز کو بخوشی قبول کیا اور نہایت محبت و اخلاص سے رخصت کیا۔
زمبیا میں
۲۰؍اکتوبر کو دارالسلام سے زمبیا کے دارالحکومت ”لوساکا“ کے لئے روانہ ہوئے۔ دو گھنٹہ کی پرواز کے بعد لوساکا پہنچے، ایئر پورٹ پر مولانا عبداللہ منصور، بھائی یوسف اور دوسرے مقامی حضرات انتظار میں تھے، یہاں بھی شہر میں ایک قادیانی مرکز ہے۔ لیکن الحمد للہ! کہ یہاں کے مسلمان اس فتنہ سے باخبر ہیں اور وقتاً فوقتاً مسلمانوں کو اس کے خلاف توجہ دلاتے رہتے ہیں۔
لوساکا میں ایک بڑی جامع مسجد ہے اور دو چھوٹی مسجدیں ہیں، مسجدیں نہایت صاف ستھری، قالین بچھے ہوئے، طہارت کا بہت اچھا انتظام ہے۔ ٹھنڈا گرم پانی موجود رہتا ہے اور تولیے لٹکے ہوئے ہیں۔ ہر مسجد کے ساتھ مدرسہ قائم ہے جس میں مسلمان بچوں، اور بچیوں کو قرآن کریم اور دینی ابتدائی تعلیم دی جاتی ہے۔ یہ بچے صبح اسکول جاتے ہیں اور شام کو ان مدارس میں پڑھتے ہیں۔ ان مدارس میں تعلیم دلانے کے لئے مدرسین اور قاری حضرات ہندوستان سے بلائے گئے ہیں جو اچھا کام کر رہے ہیں۔ مسجدیں پانچوں وقت آباد رہتی ہیں اور مسلمان دور دور سے موٹروں میں نماز ادا کرنے وہاں آتے یہاں کے مسلمان کا تعلق زیادہ تر ضلع گجرات اور سورت سے ہے جن کے آباء واجداد کافی عرصہ پہلے یہاں آکر آباد ہو گئے تھے اور ان حضرات کا زیادہ تر پیشہ تجارت ہے۔
حضرت شیخ مسجدوں کی آبادی اور دینی مدارس سے بہت خوش ہوئے اور آپ جہاں بھی دینی کام ہوتا دیکھتے۔ آپ کو روحانی مسرت ہوتی تھی۔ نیز مسجد اور مدرسہ کا نظام ان مسلمانوں کے لئے ایک اچھا نمونہ ہے۔ جو غیر مسلم ممالک میں آباد ہیں اور اپنی نئی نسل کو جدید تعلیم کے ساتھ ساتھ اسلام سے روشناس کرانے اور اسلام پر قائم رکھنے کے خواہش مند ہیں۔
لوساکا میں بھی الحمد للہ ! صبح وشام علمائے کرام اور عام مسلمانوں سے ملاقاتیں اور حضرت شیخ کا خطاب ہوتا رہا۔ جس میں زیادہ تمسک بالدین اور دین کے لئے کام کرنے پر دیا گیا۔ نیز اللہ اور رسول ﷺ کی محبت، ان کے صفات، عجائب قدرت، ختم نبوت اور اسلام کے بنیادی اصولوں پر بیان ہوتا رہا۔ لوساکا میں مولانا عبداللہ منصور کی امارت میں ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کی بنیاد ڈال دی گئی جس کا مرکز لوساکا میں ہوگا۔ اور وہ ملک کے دوسرے شہروں میں بھی اپنی شاخیں قائم کرے گی۔
لوساکا میں مسلمانوں کا سب سے بڑا اجتماع جمعہ کے روز وہاں کی بڑی جامع مسجد میں ہوتا ہے جس میں مقامی مسلمانوں کے علاوہ اسلامی ممالک کے سفارتی نمائندے بھی نماز جمعہ ادا کرتے ہیں۔ یہاں دو جمعے پڑھنے کا موقع ملا۔ حضرت شیخ نے خطبہ جمعہ سے پہلے اردو میں خطاب فرمایا۔ جس میں اسلام کی عظمت، عقیدہ ختم نبوت، فتنہ قادیانیت اور اس کا پس منظر اور اس کی تاریخ بیان فرمائی اور یہاں کے مسلمانوں کے لئے لائحہ عمل پیش فرمایا۔ اسی مضمون کو خادم نے خطبہ جمعہ میں عربی میں پیش کیا جس میں عربی جاننے والے حضرات مستفید ہوئے اور حضرت نے دعائیں دیں۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء
ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
لوساکا کے علاوہ زیمبیا کے چند دوسرے شہروں میں جانا ہوا جن میں انڈولا، کفوے اور چپاٹا قابل ذکر ہیں۔ چپاٹا جو لوساکا سے ۳۸۰ میل دور ہے اور موزمبیق کی مغربی سرحد کے قریب واقع ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے وہ خالص مسلمانوں کا شہر ہو۔ تجارت عموماً مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے۔ شہر کے وسط میں خوبصورت جامع مسجد ہے جس میں پانچ اوقات بکثرت نمازی آتے ہیں۔ ان کے چہروں پر عبادت اور صلاح کے آثار نمایاں ہیں۔ بوڑھوں میں سو فیصد اور جوانوں میں ننانوے فیصد داڑھی والے ہیں۔ ان میں ایسے افراد بھی دیکھے جو کہ ”و رجل قلبہ معلق بالمساجد“ کے مصداق ہیں۔
مسجد کے متصل ایک دینی مدرسہ ہے جس میں مسلمان بچے اور بچیاں اسکول کے اوقات کے علاوہ قرآن کریم اور دینیات کی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ حضرت شیخ قدس سرہ ان حضرات کی یہ حالت دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور روحانی مسرت کا اظہار فرمایا۔ جامع مسجد میں خطاب عام کے علاوہ قرآن کریم کا درس بھی دیتے رہے۔ جس میں وہی بنیادی موضوعات پر بیان ہوا۔ جن کا ذکر پہلے آچکا ہے۔ نیز وہاں کے مسلمانوں کو نصیحت فرمائی کہ وہ مقامی باشندوں سے ایسا سلوک اختیار کریں جو ایک مسلمان کے شایان شان ہوتا ہے۔ یہاں کے حضرات نے دریافت کرنے پر بتلایا کہ یہ جو آپ دینی فضا دیکھ رہے ہیں یہ سب تبلیغی جماعت کی محنت وبرکات کا اثر ہے۔
الحمد للہ! کہ زیمبیا کا سفر نہایت کامیاب رہا۔ لوساکا میں قیام کے دوران وہاں کے نوجوان حضرت شیخ پر فریفتہ ہوگئے اور آپ کی ہر مجلس اور ہر خطاب میں حاضر ہوتے، جہاں ہمارا قیام تھا، بعض تو وہاں رات کو ہی آجاتے اور حضرت شیخ قدس سرہ کے ساتھ تہجد کی نماز میں شریک ہوتے اور جس روز آپ وہاں سے روانہ ہورہے تھے ان سب نے لوساکا ایئر پورٹ پر آپ کو حزن وبکاء کے ساتھ رخصت کیا۔ ان ہی نوجوانوں میں ایک صاحب ابراہیم لمبات حضرت شیخ کی وفات سے چند روز پہلے کراچی آئے اور ملاقات کی۔ آپ نے بہت شفقت فرمائی۔ جب وہ رخصت ہونے لگے تو میں انہیں رخصت کرنے بڑے دروازے تک گیا۔ راستہ میں مجھے نہایت الحاح کے ساتھ کہتے ہیں کہ برائے کرم حضرت کو اس بات پر آمادہ کریں کہ ہمارے ہاں دوبارہ تشریف لائیں اور ہم وعدہ کرتے ہیں کہ آپ کو وعظ کرنے کی بھی تکلیف نہیں دیں گے۔
۲۵/ شوال المکرم ۱۳۹۵ھ مطابق ۲/ نومبر ۱۹۷۵ء لوساکا سے نیروبی کے لئے روانہ ہوئے۔ تقریباً دو گھنٹے کی پرواز کے بعد نیروبی پہنچے۔ ایئر پورٹ پر آسانی سے ویزا مل گیا۔ کسٹم میں ایک مسلمان آفیسر نے ہمیں دیکھا اور فوراً ہمارے پاس آگیا اور ہمیں فارغ کر دیا۔ اگرچہ ہمارے پاس سوائے استعمال کے کپڑوں اور کتابوں کے کچھ نہ تھا۔ لیکن کسٹم کا عملہ صندوق کھول کر وقت بہت ضائع کرتا ہے۔ ہماری انتظار میں ایک صاحب گاڑی لا کر باہر کھڑے انتظار کر رہے تھے۔ ان کے ساتھ سیدھے ان کے گھر پہنچے۔
نیروبی میں واپسی پر پھر چند روز ٹھہرنا پڑا۔ کیونکہ اب ہمارا پروگرام یوگنڈا جانے کا تھا اور نیروبی میں یوگنڈا کا ویزا لینے میں دیر لگتی ہے۔ کیونکہ یہاں یوگنڈا کا سفارت خانہ نہیں ہے۔ اس لئے ویزا حاصل کرنے والے نیروبی کے پاسپورٹ آفس کو درخواست دیتے ہیں۔ یہ آفس ان کاغذات کو کمپالا بھیجتا ہے۔ وہاں یوگنڈا حکومت کی طرف سے جواب آنے پر ویزا ملتا ہے اور اس کارروائی میں کافی وقت لگ جاتا ہے۔ اس لئے ہم نے نیروبی سے اپنے ایک دوست مولانا عبدالخالق طارق کو فون کیا جو یوگنڈا کے شہر جنجا میں رہتے ہیں اور سعودی حکومت کی طرف سے وہاں کے ”المعھد الاسلامی“ کے مدیر ہیں اور تعلیمی فرائض بھی انجام دیتے ہیں۔ ان کو کہا کہ وہ ہمارے لئے ویزا حاصل کر کے ہمیں اطلاع دیں اور ایئر پورٹ پر آجائیں۔ چنانچہ وہ جنجا سے کمپالا آئے اور یوگنڈا کے مفتی شیخ یوسف سلیمان کے ذریعہ ویزا لیا اور ہمیں فون سے اطلاع دی کہ ویزا مل گیا ہے۔ آپ جب چاہیں آسکتے ہیں۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
نیروبی میں اس بار بھی قیام کے دوران علماء اور دوسرے حضرات سے ملاقاتیں ہوئیں۔ ایک روز صومالیوں کی جامع مسجد میں حضرت شیخ کا عربی میں بیان ہوا۔ جس میں آپ نے اسلام اور اخوت اسلامیہ پر بیان فرمایا اور ساتھ ہی صومالی زبان میں ترجمہ ہوتا رہا۔ صومالی حضرات کی عادت ہے کہ عموماً مغرب اور عشاء کے درمیان کا وقت مسجد میں گزارتے ہیں اور اس میں درس وغیرہ کا سلسلہ رہتا ہے۔ حضرت کے بیان کے بعد دوستوں نے مجھ سے تقاضا کیا کہ میں فتنہ قادیانیت پر کچھ روشنی ڈالوں۔ چنانچہ عشاء کی اذان تک بیان ہوا اور صومالی زبان میں ترجمہ ہوتا رہا۔
نیروبی میں قیام کے دوران حضرت نے ایک خط لکھا تھا جس کا متن حسب ذیل ہے:
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نیروبی، کینیا،
برادر محترم و رفیق مکرم مولانا بھانجی صاحب وفقكم الله للخير . تحية وسلاماً واشواقاً
حاجی آدم سادات کے ذریعہ مرسلہ مکتوب موصول ہوا۔ حالات معلوم ہوئے۔ برادرم مولانا عبدالرزاق صاحب نے ایک مفصل مکتوب زیمبیا، لوساکا سے لکھا تھا وہ ملا ہوگا۔ جدہ سے روانگی کے وقت کچھ معلوم نہ تھا کہ کہاں کہاں جانا ہوگا اور کس طرح کام کرنا ہوگا۔ اس لئے روانگی ایسے وقت ہوئی کہ نہ پورے ویزے لے سکے نہ باقاعدہ کسی کو مطلع کیا جاسکا۔ نیروبی پہنچ کر کچھ نقشہ کام کا سمجھ میں آگیا کہ مؤثر اور صحیح صورت یہ ہے کہ ہر مرکزی مقام پر مقامی باشندوں کی ایک جماعت ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کے نام سے تشکیل دی جائے جو بسلسلہ قادیانیت مؤثر کام کر سکے اور تقریروں میں اسلام اور ختم نبوت کی اہمیت، و حقیقت واضح کی جائے۔ چنانچہ اس انداز سے کام شروع کیا اور نشان منزل نظر آنے لگا۔ چونکہ جدہ سے ویزے نہیں لے سکے تھے۔ اس لئے تعویقات پیش آئیں اور تاخیر ہوتی گئی۔
بحمد اللہ ! جس رفاقت کی ضرورت تھی وہ میسر آئی...... حسن اتفاق سے افریقی ممالک میں ”جامعہ مدینہ“ کے مبعوثین بھی ملے۔ جن میں نام تو میرا بھی متعارف تھا۔ مگر مولانا عبدالرزاق صاحب سے ان کا ذاتی تعارف و تعلق نکلتا رہا جس کی وجہ سے بہت آسانیاں ہوگئیں۔
زیمبیا سے واپسی پر یوگنڈا کا ویزا نہ ہونے کی وجہ سے تین، چار دن یہاں تاخیر ہوگئی۔ شاید کل روانگی ہوسکے گی۔ صحت تو میری اچھی ہے بلکہ کراچی سے بہتر ہے۔ لیکن سفر کی ہمت نہیں تھی۔ اس لئے سفر کے اختصار کے متعلق سوچ رہا تھا۔ لیکن معلوم ہوا کہ نائیجیریا میں قادیانیوں کے بہت سے اسکول، ہسپتال اور ادارے ہیں۔ نیز حکومت میں بھی ان کے لوگوں کو عہدے اور مناصب حاصل ہیں۔ وہاں جانے کی شدید ضرورت ہے۔ اس لئے مغربی افریقہ کا ارادہ کرنا پڑا، اور پھر ساتھ ہی مغربی افریقہ کے بقیہ ممالک کا جوڑ بھی لگانا ہوگا۔ اس لئے سفر طویل ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ آسان فرمائیں۔ آمین ! اگر حج کے ایام قریب آگئے تو ہو سکتا ہے کہ حج کے بعد واپسی ہو۔ والسلام !
محمد یوسف بنوری، چہار شنبہ، یکم/ ذیقعد ۱۳۹۵ھ، ۵/ نومبر ۱۹۷۵ء
یوگنڈا کی طرف رخت سفر
۲/ ذوالحجہ ۱۳۹۵ھ، مطابق ۶/نومبر ۱۹۷۵ء صبح آٹھ بجے نیروبی سے روانہ ہو کر نو بجے یوگنڈا کے ایئر پورٹ ”انٹے بے“ پہنچے۔ ایئر پورٹ پر مولانا عبدالخالق طارق اپنے دوسرے دوستوں کے ساتھ انتظار میں تھے اور ویزا کی منظوری کا فارم ساتھ لائے تھے۔ الحمدللہ ! کہ آسانی سے ویزا مل گیا اور کسٹم سے فارغ ہو گئے۔ ایئر پورٹ کمپالا سے ۲۵ میل دور ہے۔ یہاں سے روانہ ہو کر کمپالا پہنچے۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
کمپالا میں یوگنڈا کے مفتی شیخ یوسف سلیمان صاحب کے اصرار پر حضرت مولانا نے ان کی مہمانی قبول فرمالی اور انہوں نے کمپالا کے بڑے ہوٹل کمپالا انٹرنیشنل میں ہمارے قیام کا انتظام کیا۔ مفتی شیخ یوسف سلیمان صاحب یوگنڈا کے مفتی اور وہاں کی ”مسلم سپریم کونسل“ کے جنرل سیکرٹری بھی ہیں۔ کونسل کا مرکزی آفس کمپالا میں ہے۔ ان کے دفتر میں ان سے ملاقات ہوئی۔ حضرت مولانا ان کو اور ان کی حکومت کو اپنی اور پاکستان کے مسلمانوں کی طرف سے مبارک باد پیش کی کہ انہوں نے اپنے ملک میں قادیانی جماعت کو خلاف قانون قرار دے کر ان کی تبلیغ پر پابندی لگادی ہے۔ بعض دوستوں نے بیان کیا کہ اس موقع پر جب قادیانیوں کو یوگنڈا میں غیر مسلم قرار دیا گیا۔ ملک کے صدر جناب عیدی امین صاحب نے کہا کہ: ”ہمارا دین وہ ہے جس کا مرکز مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ ہے ہمیں وہ دین نہیں چاہئے ۔ جس کا مرکز اسرائیل اور لندن ہے۔“
جمعہ کے روز مسلم سپریم کونسل کی جامع مسجد میں مسلمانوں کا بہت بڑا اجتماع تھا اور اس سال یوگنڈا سے جانے والے حجاج کرام سارے یہاں جمع تھے جو سفر کی تیاری کے سلسلے میں سارے ملک سے آئے ہوئے تھے۔ مفتی صاحب نے حضرت مولانا سے خطبہ جمعہ اور نماز جمعہ پڑھانے کی درخواست کی، حضرت مولانا چونکہ گھٹنوں کے درد کی وجہ سے منبر پر کھڑے ہونے سے معذور تھے۔ اس لئے طے پایا کہ آپ نماز جمعہ سے پہلے بیٹھ کر حجاج کرام کو نصیحت فرمائیں اور اس کے بعد خادم خطبہ جمعہ اور نماز پڑھائے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور یہ سارا پروگرام کمپالا ریڈیو سے نشر ہوتا رہا۔
کمپالا میں سعودی عربیہ کے سفیر جناب عبداللہ الحبابی سے بھی ملاقات ہوئی۔ وہ پاکستان میں رہ چکے ہیں اور مولانا کو اچھی طرح جانتے تھے۔ اپنے گھر پر، جو ایک پہاڑی پر واقع ہے اور وہاں سے کمپالا شہر کا منظر سامنے نظر آتا ہے۔ حضرت مولانا کے اعزاز میں پر تکلف دعوت دی جس میں یوگنڈا کے مفتی صاحب کے علاوہ دوسری شخصیات کو بھی مدعو کیا۔ دینی موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ سفیر موصوف نہایت با اخلاق اور ظریف الطبع شخصیت کے مالک ہیں۔ سفیر صاحب نے حج کے ویزے کے علاوہ سعودی حکومت کے نام حضرت مولانا اور خادم کے لئے خصوصی مکتوب بھی دے دیا۔
کمپالا میں ایک یونیورسٹی ہے جو ”مکریرے یونیورسٹی“ کے نام سے مشہور ہے اور افریقہ کی قدیم ترین یونیورسٹی شمار ہوتی ہے۔ اس یونیورسٹی میں پاکستان کے بھی ڈاکٹر حضرات، پروفیسر، اور لیکچرار ہیں جو مختلف شعبوں میں تعلیم دے رہے ہیں۔ بعض حضرات مولانا سے ملنے ہوٹل تشریف لائے۔ ان کے دینی مزاج کو دیکھ کر حضرت بہت خوش ہوئے اور دعائیں دیں۔ خصوصاً ڈاکٹر عبدالقدوس صاحب اور ڈاکٹر محمد افضل چوہدری کمپالا کے بعد یوگنڈا کے دوسرے شہر جنجا بھی جانا ہوا۔ یہ شہر کمپالا سے مشرق میں پچاس میل کے فاصلہ پر وکٹوریہ جھیل کے کنارے واقع ہے اور اسی مقام سے دریائے نیل کی ابتداء ہوتی ہے اور دریائے نیل پر یہاں ایک بند باندھا ہوا ہے جس سے بجلی پیدا ہوتی ہے اور پورے ملک کو سپلائی ہوتی ہے۔ کمپالا سے جنجا تک پچاس میل کا فاصلہ سرسبز درختوں، چائے اور گنے کے کھیتوں سے آراستہ ہے۔ بارش کی کثرت سے درختوں کے پتوں کی سبزی غایت طراوت کی بناء پر سیاہ معلوم ہوتی ہے۔ اس منظر کو دیکھتے ہی حضرت مولانا قدس سرہ نے فرمایا کہ: ”مدھامتان“ کے یہی معنی ہیں۔ ”ای سوداوان من الری“
آپ کو قدرتی مناظر بہت پسند تھے۔ لیکن ذہن فوراً عجائب قدرت کی طرف منتقل ہو جاتا اور زبان پر حمد و ثناء کے الفاظ جاری ہو جاتے تھے۔ نیز سفر و حضر میں موقع و محل کے اعتبار سے علمی نکتوں سے مستفید فرماتے رہتے تھے۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
جنجا میں مولانا عبدالخالق طارق کے علاوہ مولانا خالد نعمانی ، مولانا عبدالسلام بھی موجود تھے جو سعودی حکومت کی جانب سے ’’المعہد الاسلامی‘‘ میں تدریس وغیرہ کے فرائض انجام دیتے ہیں۔ ان کے علاوہ اور بھی چند پاکستانی حضرات جو مختلف شعبوں میں کام کرتے ہیں اور دینی مزاج کے حامل ہیں عصر کے بعد جمع ہوجاتے اور حضرت مولانا ان کو وعظ و نصیحت فرماتے اور ان کے سامنے ایک نہایت عمدہ پروگرام پیش فرمایا تا کہ وہ اپنے کام کے ساتھ دین کا کام بھی مؤثر طریقے سے سرانجام دے سکیں۔
جنجا میں محترم آفاق احمد صاحب زیدی کے ہاں قیام تھا، آفاق احمد صاحب پاکستانی ہیں اور یوگنڈا حکومت کے ملازم ہیں اور اچھے مسلمان ہیں۔ گورنمنٹ نے ان کو خدمت کے لئے دو نوجوان خادم دیئے ہوئے ہیں۔ دونوں عیسائی تھے۔ لیکن دونوں موصوف کے اسلامی اخلاق اور حسن سلوک سے متاثر ہو کر مشرف باسلام ہو گئے۔ چنانچہ جب نماز کا وقت ہو جاتا ہے ان میں سے ایک اذان کہتا ہے اور پھر تینوں باجماعت نماز ادا کرتے ہیں۔ اس منظر کو دیکھ کر مولانا بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ ایک اچھے مسلمان کا وجود ہر جگہ باعث رحمت ہے۔
جنجا کے بعد مشرق کی جانب ۷۰ میل دور ایک شہر ’بوسیہ‘ بھی جانا ہوا۔ وہاں اس علاقے کے مسلمانوں کا سیرت کے عنوان سے بہت بڑا اجتماع تھا۔ اس اجتماع میں یوگنڈا کے مفتی اور دوسرے علماء بھی شریک ہوئے۔ حضرت مولانا نے بھی اس اجتماع سے عربی میں خطاب فرمایا۔ جس کا ترجمہ مقامی زبان میں ساتھ ساتھ ہوتا رہا۔ اس خطاب میں آپ نے ان کو نصیحت فرمائی کہ وہ اپنی زندگی میں اسلامی طریقوں کو اپنائیں اور سنت کے مطابق عمل کریں اور غیر شرعی رسم ورواج اور بدعات سے بچیں اور اخوت اسلامی کے دائرے میں رہ کر زندگی گزاریں اور اختلافات اور قبائلی تعصبات سے دور رہیں۔ اس اجتماع کے بعد اسی روز شام کو واپس جنجا آ گئے۔
یہاں جنجا میں نماز جمعہ کے بعد جامع مسجد میں آپ کا بیان ہوا۔ جس کا موضوع ایمان وعمل صالح تھا اور ساتھ دو زبانوں میں اس کا ترجمہ ہوتا رہا۔ کیونکہ یہاں سواحلی زبان کے علاوہ مقامی زبان بھی بولی جاتی تھی۔
مقام عبرت
ایک روز جنجا والے دوست حضرت مولانا قدس سرہ کو جنجا شہر سے باہر چند میل کے فاصلہ پر ایک سیر گاہ میں لے گئے۔ یہاں پر چند اونچے اونچے ٹیلے ہیں جن پر شاہانہ ٹھاٹھ کے تین محل تعمیر ہیں اور تھوڑے تھوڑے فاصلہ پر واقع ہیں۔ ان محلات کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے مغلیہ دور کے کسی بادشاہ نے اپنے ذوق وشوق کو پورا کیا ہو۔ خوبصورتی کے علاوہ ہر قسم کی راحت اور تفریح کا سامان بھی موجود ہے۔ محلات کے چاروں طرف میلوں تک پھل دار درخت، گنے اور چائے کے کھیت پھیلے ہوئے ہیں۔ سامنے ایک اونچی پہاڑی ہے جو پھل دار اور سائے دار درختوں سے سجائی گئی ہے جس کی چوٹی تک سڑک جاتی ہے اور اوپر سے جنجا شہر وکٹوریہ جھیل اور ہرے بھرے کھیت میلوں تک نظر آتے ہیں۔ گویا دیکھنے والا مری کے کشمیر پوائنٹ یا راولپنڈی پوائنٹ پر کھڑا ہے۔ فرق صرف بلندی کا ہے۔
مقام عبرت یہ ہے کہ یہ سب نقشہ ایک ہندو کا بنایا ہوا ہے جو مدوانی کے نام سے مشہور ہے اور جس کو زیادہ دیر ان محلات میں رہنا نصیب نہیں ہوا کہ اس کی اجل آگئی اور اسی زمین کے ایک حصہ میں جلا کر خاکستر کر دیا گیا اور آخرت کی آگ سے پہلے دنیا کی آگ نے اس کو نیست و نابود کر دیا۔ ”خسر الدنیا والآخرة ذلک هو الخسران المبین“
اس کے بعد اس کے بیٹے آئے ۔ لیکن ان کو بھی ان محلات میں زیادہ دیر ٹھہرنے کا موقع نہ مل سکا اور صدر عیدی امین صاحب کی حکومت نے یورپین باشندوں کے ساتھ ان کو بھی ملک بدر کر دیا اور آج یہ سب محلات خالی اور بند پڑے ہیں جن میں پرندوں اور چند
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
چوکیداروں کے سوا کوئی نظر نہیں آتا۔ حضرت مولانا یہ سب منظر آنکھوں سے دیکھ رہے تھے اور یہ آیت پاک پڑھ رہے تھے۔ ”کم ترکوا من جنات وعيون وزروع ومقام كريم ونعمت كانوا فيها فاكهين“ نہایت ہی عبرت آموز منظر ہے لیکن کتنے لوگ ہیں کہ تماشائی بن کر گزر جاتے ہیں اور سبق حاصل نہیں کرتے۔
یوگنڈا کے بعد ہمارا پروگرام مغربی افریقہ کے چند ممالک میں جانے کا تھا۔ جس کا ذکر حضرت مولانا کے مکتوب نیروبی میں کیا گیا ہے اور اس کی ابتداء نائیجیریا سے ہونی تھی۔ لیکن نائیجیریا کا ویزا جلدی نہ ملنے کی بناء پر یہ سفر ملتوی کرنا پڑا۔ کیونکہ ویزے کے لئے چند ہفتے انتظار کرنا پڑتا اور پھر ان ممالک میں کافی وقت کی ضرورت تھی اور موجودہ مدت کافی نہ تھی۔ اس لئے طے پایا کہ یوگنڈا سے قاہرہ ہوتے ہوئے براستہ جدہ کراچی واپس ہوں۔
چنانچہ بروز اتوار ۱۲؍ ذیقعدہ ۱۳۹۵ھ مطابق ۱۶؍ نومبر ۱۹۷۵ء رات کے بارہ بجے ”لفت ہنسا“ سے قاہرہ کے لئے سفر طے ہوا۔ عصر کے قریب جنجا سے روانہ ہوئے۔ مولانا عبدالخالق صاحب، محترم زیدی صاحب اور دوسرے حضرات دو گاڑیوں میں الوداع کہنے کے لئے ساتھ روانہ ہوئے اور حضرت مولانا کے روکنے کے باوجود انہوں نے ساتھ چلنے پر اصرار کیا۔ مغرب کے وقت کمپالا پہنچے، پاکستان کے ایک جج صاحب کے ہاں رکے اور مغرب کی نماز ادا کی۔ ان کے دینی مزاج سے مولانا کو بہت مسرت ہوئی۔ اس کے بعد سارا قافلہ سعودی سفارت خانہ کے سیکرٹری استاذ محمود کے ہاں پہنچا۔ یہ نہایت دیندار اور با اخلاق شخص ہیں۔ ان کے ہاں عشاء کا کھانا اور نماز عشاء ادا کی اور رات کے ساڑھے نو بجے پورا قافلہ انٹے بے ائیر پورٹ کی طرف روانہ ہوا۔ ائیر پورٹ پر کسٹم وغیرہ میں سفر کے سارے مراحل سے فارغ ہو کر ان حضرات کو حضرت مولانا نے شکریہ اور دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا۔
قاہرہ (مصر)
رات کے ایک بجے جہاز روانہ ہوا اور ساڑھے چار گھنٹے کی پرواز کے بعد قاہرہ ائیر پورٹ پر پہنچا۔ حضرت مولانا کے استقبال کے لئے ”المجلس الاعلیٰ للشئون الاسلامية“ کا نمائندہ ائیر پورٹ پر موجود تھا جس نے آپ کا استقبال کیا اور جلد ہی کسٹم سے فارغ ہو کر شہر پہنچے اور ہوٹل میں قیام کیا۔ جس کا ایک کمرہ پہلے سے مجلس اعلیٰ کی طرف سے ریزرو کرایا ہوا تھا۔
قاہرہ میں چھ روز قیام رہا۔ اس قیام کے دوران جن شخصیات سے ملاقاتیں ہوئیں اور جو کام ہوا اس کی تفصیل یہ ہے۔
شیخ الازہر ڈاکٹر عبدالحلیم محمود سے ان کے دفتر میں طویل ملاقات ہوئی۔ نہایت محبت و اکرام سے مولانا کا استقبال کیا اور اپنی جگہ چھوڑ کر مولانا کے پاس آ کر بیٹھ گئے اور کہنے لگے کہ آپ ہماری مہمانی قبول فرمائیے۔ ہماری طرف سے ایک مرافق اور گاڑی ہر وقت آپ کے ساتھ رہے گی۔ حضرت مولانا نے شکریہ ادا کیا اور معذرت فرماتے ہوئے فرمایا کہ ہم المجلس الاعلیٰ کی دعوت قبول کر چکے ہیں۔ وہ بھی آپ ہی کا ادارہ ہے۔
شیخ الازہر کے ساتھ اپنے سفر افریقہ کی مختصر روئیداد بیان فرمائی اور ان کو ”موقف الامة الاسلامية من القاديانية“ کتاب کا نسخہ پیش کیا۔ شیخ الازہر بہت خوش ہوئے اور فرمانے لگے کہ اگر آپ اجازت دیں تو ہم اس کو چھاپ کر تقسیم کریں۔ مولانا نے فرمایا بڑی خوشی سے۔ اسی مجلس میں مولانا کے قائم کردہ ”مدرسہ عربیہ اسلامیہ“ کراچی کا ذکر بھی آیا تو مولانا نے اس کے اغراض و مقاصد بیان فرماتے ہوئے فرمایا۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
ہمارا مقصد اس علمی ادارے کے قائم کرنے سے ایسے علماء پیدا کرنا ہے جو ایک طرف راسخ فی العلم ہوں اور دین کے عصری تقاضوں کو سمجھتے ہوں اور دوسری طرف وہ دین کے مخلص سپاہی ہوں جن کے سامنے مادی منافع اور دنیاوی مناصب قطعاً نہ ہوں ۔ بلکہ ہر حال میں ان کا نصب العین دین کی خدمت ہو۔
شیخ الازہر نے مولانا کے اعزاز میں ایک پر تکلف دعوت دی جس میں جامعۃ الازہر کی علمی شخصیات کے علاوہ قاری شیخ محمود خلیل الحصری ، مصر میں پاکستان کے سفیر محترم احمد سعید کرمانی ، پاکستان میں مصر کے سابق سفیر جناب علی خشبہ ، وزارت اوقاف کے نائب وزیر وغیرہ کو بھی مدعو کیا ۔ بعض دینی اور علمی موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی ۔ جس سے سب حاضرین نے دلچسپی سے سنا ۔
پاکستان کے سفیر محترم احمد سعید کرمانی سے بھی ملاقات ہوئی ۔ نہایت عزت و احترام سے پیش آئے ۔ قیام گاہ پر حضرت مولانا کو دعوت دی ۔ خود ہوٹل سے لے گئے اور پھر واپس لائے اور قاہرہ سے روانگی کے وقت خود ائیر پورٹ پر رخصت کرنے تشریف لائے ۔
”المجلس الاعلى للشئون الاسلامیۃ“ کے جنرل سیکرٹری سید محمد توفیق عویضہ صاحب سے بھی ملاقات ہوئی ۔ بے حد خوشی کا اظہار کیا اور بار بار یہ جملہ کہہ رہے تھے : ”نحن سعداء بوجودکم“ ان کو بھی مولانا قدس سرہ نے کتاب ”موقف الامت الاسلامیہ من القادیانیہ“ پیش کی اور فرمایا کہ آپ اس کتاب کو انگریزی اور فرانسیسی زبانوں میں ترجمہ کر کے شائع کریں اور ان بلاد میں تقسیم کریں جہاں یہ زبانیں بولی جاتی ہیں ۔ انہوں نے اس کا وعدہ کیا اور خوشی کا اظہار کیا ۔ اس کے علاوہ بعض دوسرے موضوعات پر بھی گفتگو ہوئی ۔
مولانا اسماعیل عبدالرزاق ساؤتھ افریقہ کے نوجوان عالم ہیں ۔ جامعۃ الازہر کے ”کلیۃ اللغۃ“ میں انگریزی کے استاذ اور افریقی زبانوں کے شعبہ کے صدر ہیں اور حضرت مولانا قدس سرہ کے شاگرد بھی ہیں ۔ صبح و شام اپنی گاڑی لے کر آتے رہے ایک روز تفریح کرانے قاہرہ شہر سے باہر لے گئے ۔ مولانا کے اعزاز میں ایک پر تکلف دعوت دی جس میں مقامی شخصیات کے علاوہ قاری عبدالباسط صاحب ، پاکستان کے سفیر محترم جناب احمد سعید کرمانی صاحب اور جاپان کے ایک مسلم پروفیسر صاحب کو بھی مدعو کیا ۔ ان کے علاوہ اسلامی ممالک کے طلبہ بھی ملاقات کے لئے آتے رہے ۔
چونکہ حج قریب تھا اور ہمارا ٹکٹ قاہرہ ، جدہ ، کراچی کا تھا اس لئے یہ طے پایا کہ حج ادا کرتے ہوئے جائیں اور حج کے دوران اسلامی ممالک سے آنے والے علمائے کرام سے مل کر انکو کتاب ”موقف الامۃ“ پیش کی جائے اور اس فتنہ کے سدباب کے لئے ان کے سامنے مناسب تدابیر رکھی جائیں ۔
چنانچہ بروز اتوار ۱۹ / ذیقعدہ ۱۳۹۵ھ مطابق ۲۲ / نومبر ۱۹۷۵ء قاہرہ سے جدہ پہنچے ۔ وہاں دو روز قیام کے بعد مدینہ منورہ ”علی صاحبھا الف الف صلاۃ وتسلیم“ پہنچے ، حج سے چند روز پہلے مدینہ منورہ سے حج کا احرام باندھ کر مکہ مکرمہ پہنچے ۔ حج کے سفر میں جدہ ، مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ میں قدرت نے ایسی سہولتوں اور راحت و آسائش کے اسباب مہیا فرما دیئے ۔ گویا مولانا قدس اللہ سرہ العزیز شاہی مہمان ہیں اور ہر جگہ پہنچنے سے پہلے ہی سارے انتظامات مکمل ہو جاتے ہیں ۔ یہ تو ایک مستقل موضوع ہے جس پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے ۔
حج سے پہلے مکہ مکرمہ میں ”رابطہ عالم اسلامی“ کے جنرل سیکرٹری شیخ محمد صالح قزاز صاحب سے مولانا کی ملاقات ہوئی ۔ آپ نے ان کو اپنے سفر کے تاثرات سنائے ۔ جس پر انہوں نے خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا اور دعائیں دیں ۔ حضرت مولانا نے ان سے بھی
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب وتحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
فرمایا کہ رابطہ کی جانب سے کتاب ”موقف الامۃ الاسلامیۃ من القادیانیۃ “ کی طباعت کا انتظام ہونا چاہئے اور رابطہ اسے طبع کرا کر بلاد اسلامیہ میں تقسیم کرے جسے انہوں نے قبول کرتے ہوئے متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔
موسم حج میں ہر سال رابطہ کی طرف سے ” بین الاسلامی مجلس مذاکرہ“ منعقد ہوتی ہے۔ اس مجلس کا اجلاس جاری تھا۔ شیخ محمد صالح قزاز نے حضرت مولانا کو بھی شرکت کی دعوت پیش کی اور اصرار کیا کہ کم از کم آپ اس کے اختتامی اجلاس میں ضرور شرکت فرمائیں۔ جسے آپ نے قبول فرما لیا۔
اس بین الاسلامی مجلس مذاکرہ میں جن موضوعات پر مقالے پڑھے گئے وہ یہ تھے:
- ۱...... قادیانیت۔
- ۲...... غیر مسلم ممالک میں مسلم اقلیت۔
- ۳...... اسلام میں عورت کا مقام۔
مجلس کا آخری اجلاس ۵؍ذوالحجہ ۱۳۹۵ھ مطابق ۷؍دسمبر ۱۹۷۵ء عشاء کے بعد رابطہ کے ہال میں شروع ہوا۔ حضرت مولانا مرحوم ومغفور نے بھی اس میں شرکت فرمائی۔ رابطہ کے اراکین نے آپ کا شاندار استقبال کیا۔ چنانچہ رابطہ کے جنرل سیکرٹری شیخ محمد صالح قزاز اپنی جگہ چھوڑ کر آئے اور آپ کو خاص مہمانوں کی جگہ بٹھایا۔ اس اجلاس میں مختلف ممالک کے سینکڑوں علمائے کرام نے شرکت کی تھی۔ اس اجلاس میں مندرجہ بالا موضوعات سے متعلق خصوصی کمیٹیوں نے اپنی اپنی سفارشات پڑھ کر سنائیں ۔ قادیانیت کے متعلق کمیٹی نے جو سفارشات پیش کیں وہ یہ تھیں:
”بین الاسلامی مجلس مذاکرہ“ کی طرف سے قادیانیت سے متعلق مقررہ کمیٹی نے بڑے غور و خوض سے قادیانی جماعت کے اغراض و مقاصد کا مطالعہ کیا اور اس نتیجہ پر پہنچی کہ یہ جماعت بظاہر اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اندر سے اسلام کی جڑیں کاٹ رہی ہے اور مسلمانوں میں اپنے خبیث نظریات پھیلا رہی ہے اور اسلام اور مسلمانوں کے عقائد کے خلاف مندرجہ ذیل جرائم کی مرتکب ہے۔
- الف...... اس جماعت کے لیڈر مرزا غلام احمد نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔
- ب...... اپنے گھٹیا اغراض کے لئے قرآن کریم کی آیات کی تحریف کی ہے۔
- ج...... اپنے آقا ومربی ارباب استعمار اور صیہونیوں کو خوش کرنے کے لئے جہاد کے منسوخ ہونے کا اعلان کیا ہے۔
نیز اس کمیٹی نے ان عقائد اور سیاسی و اجتماعی خطرات کا بھی مطالعہ کیا جن کا اس جماعت کی وجہ سے عالم اسلام کو خطرہ لاحق ہے اور بعض فضلاء کی زبانی یہ سن کر افسوس ہوا کہ یہ جماعت افریقہ، ایشیاء، یورپ اور امریکہ کے بعض ممالک میں اپنا کام برابر کر رہی ہے۔ اس لئے یہ کمیٹی مندرجہ ذیل قرارداد پیش کرتی ہے۔
- ۱...... بین الاسلامی مجلس مذاکرہ ، ان اسلامی حکومتوں کو مبارک باد پیش کرتی ہے جنہوں نے قادیانیت کے بارے میں اپنا واضح موقف
اختیار کرتے ہوئے اسے غیر مسلم اقلیت قرار دیا ہے۔ نیز یہ مجلس باقی تمام اسلامی حکومتوں اور دینی تنظیمات سے پر زور مطالبہ کرتی ہے کہ وہ بھی یہ اعلان کریں کہ قادیانیت غیر مسلم اقلیت جماعت ہے اور اسلام کی ابدی تعلیم کے خلاف ہے۔
- ۲...... حسن اتفاق سے اس وقت نائیجیریا کے سربراہ مملکت دیار مقدسہ میں موجود ہیں اور جیسا کہ معلوم ہے کہ نائیجیریا میں قادیانی
سرگرمیاں بہت زور وشور سے جاری ہیں۔ بلکہ اب یہ قادیانی جماعت وہاں کی یوربا زبان میں قرآن کریم کا ترجمہ شائع کرنا
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب وتحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
چاہتی ہے۔ اس لئے کمیٹی یہ سفارش کرتی ہے کہ علماء افاضل کا ایک وفد تشکیل دیا جائے جو نائیجیریا کے صدر محترم سے ملاقات کرے اور ان کے سامنے اس غیر مسلم اور باغی جماعت کے بارے میں امت اسلامیہ کے موقف کی وضاحت کرے اور ان سے اپیل کرے کہ وہ ان کے اس خطرناک منصوبے کو پورا نہ ہونے دیں۔
- ۳...... مسلمانوں کو مختلف وسائل کے ذریعہ قادیانی لٹریچر پڑھنے سے روکا جائے اور اس لٹریچر کو مسلمانوں میں پھیلانے کا سد باب کیا
جائے۔ خصوصاً قرآن کریم کے تحریف شدہ ترجمے۔
- ۴...... کمیٹی یہ بھی سفارش کرتی ہے کہ اس غیر مسلم گمراہ کن جماعت کی سرگرمیوں پر کڑی نگاہ رکھی جائے اور رابطہ عالم اسلامی اس سلسلہ
میں ایک خاص شعبہ قائم کرے جس کا کام یہ ہو کہ وہ اس قادیانی جماعت کی سرگرمیوں اور نقل وحرکت پر کڑی نگاہ رکھے اور اس کی مقاومت کے لئے مناسب اقدام کرے۔
- ۵...... جن بلاد میں یہ فتنہ پھیل چکا ہے وہاں کثرت سے ایسے مخلص مبلغین کو بھیجا جائے جو قادیانی مذہب اس کے مقاصد اور طریق کار
سے خوب واقف ہوں۔
- ۶...... جن ممالک میں قادیانی سرگرمیاں موجود ہیں وہاں قادیانیوں کے مراکز کے بالمقابل دینی مدارس ہسپتال اور یتیم خانے قائم کئے
جائیں تاکہ مسلمان بچے ان کے مدارس اور ہسپتالوں میں جانے پر مجبور نہ ہوں۔
- ۷...... یہ کمیٹی رابطہ عالم اسلامی سے یہ بھی مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اسلامی ممالک میں ایسی کتابیں بکثرت شائع کرے جو اس فرقے کے
خطرات سے آگاہ کرتی ہوں تاکہ مسلمان اس جماعت کے عقائد فاسدہ اور ناپاک اغراض سے مطلع ہوسکیں۔
- ۸...... یہ کمیٹی اسلامی حکومتوں سے بھی اپیل کرتی ہے کہ وہ اپنے ہاں شائع ہونے والی کتابوں کی نگرانی کے لئے ایسے حضرات کا تقرر
کریں جو صحیح اسلامی فکر کے حامل ہوں۔
- ۹...... جو لوگ محض جہالت یا دھوکے میں قادیانیت کے جال میں پھنس چکے ہیں ان کو نہایت نرمی اور حکمت عملی سے اسلام کی دعوت دی
جائے اور اس سلسلہ میں مناسب تدابیر اور وسائل کو کام میں لایا جائے ۔ وباللہ التوفیق !
حرمین شریفین میں مقامی علمائے کرام اور دینی شخصیات کے علاوہ دوسرے ممالک سے آئی ہوئی علمی شخصیات سے بھی ملاقاتیں ہوئیں اور ان سے اس موضوع پر تبادلۂ خیالات ہوا اور ان کو مذکورہ کتاب پیش کی گئی۔ ان حضرات کا تعلق جن ممالک سے تھا ان میں بعض کے نام یہ ہیں : جاپان ، انڈونیشیا ، ملایا ، فلپائن ، شام ، ہندوستان ، عراق ، اردن ، نائیجیریا ، سیرالیون ، اپرولٹا ، ایوری کوسٹ ، سینگال ، جنوبی افریقہ ، ترکی ۔
اس مبارک سفر کی ابتداء بھی حرمین شریفین سے ہوئی اور انتہاء بھی حرمین شریفین پر ہوئی اور سفر کے اختتام پر حضرت مولانا مرحوم ومغفور کی جانب سے روئیداد کے آخر میں جو خلاصہ کلام شائع ہوا وہ یہ ہے :
خلاصہ کلام
مشرقی افریقہ کے ممالک میں دین کے لئے مندرجہ ذیل فتنے پائے جاتے ہیں۔
- ۱...... عیسائیت۔ ۲...... مرزائیت۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب وتحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
- ۳...... جہالت ۔ ۴...... علماء اور صالحین کی قلت ۔
- ۵...... مدارس دینیہ کا فقدان
وفد نے مندرجہ ذیل امور سرانجام دیئے:
- ۱...... مسلمانوں کو اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی محبت، عظمت، اطاعت اور آپس میں اتحاد و اتفاق کی دعوت دی۔
- ۲...... عقیدۂ ختم نبوت اور فتنہ قادیانیت کی وضاحت کی۔
- ۳...... اس موضوع پر لکھی ہوئی کتاب ”موقف الامة الاسلامية“ اور ایک انگریزی پمفلٹ تقسیم کیا۔
- ۴...... جہاں فتنہ قادیانیت کے مراکز ہیں وہاں ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کے قیام کی تدابیر کی گئیں۔
- ۵...... جہاں تنظیم بنانے کی اجازت نہیں وہاں مقامی علماء اور دینی شخصیات کو کام کرنے کے لئے آمادہ کیا گیا۔
- ۶...... جہاں قادیانیوں کو خلاف قانون قرار دے دیا گیا ہے وہاں کے ذمہ دار حضرات کو مبارک باد اور دین کے لئے کام کرنے کا لائحہ
عمل پیش کیا گیا اور ان سے کہا گیا کہ وہ اس فتنہ پر کڑی نگاہ رکھیں۔
- ۷...... ایشین مسلمانوں کو افریقی مسلمانوں سے دینی روابط قائم رکھنے اور غیر مسلم باشندوں میں کام کرنے کی ترغیب دی گئی۔
- ۸...... ان ممالک میں دارالافتاء ریاض کے حضرات مبعوثین کام کر رہے ہیں۔ ان کو کام کرنے کے مفید مشورے دیئے گئے۔
- ۹...... مقامی حضرات کو ترغیب دی گئی کہ وہ افریقی ذہین بچوں کو دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے پاکستان بھیجیں اور ان کے ٹکٹ کا انتظام کریں۔
- ۱۰...... کتاب ”موقف الامة الاسلامية من القاديانية“ کی دوبارہ طباعت اور انگریزی و فرانسیسی ترجمہ اور اس کی طباعت کا
انتظام کیا گیا۔
تجاویز: مندرجہ بالا حالات کی روشنی میں وفد نے یہ تجاویز پیش کیں:
- ۱...... جن ممالک کا وفد نے دورہ کیا ہے وہاں قائم کردہ جمعیات تحفظ ختم نبوت، مقامی دینی انجمنوں، علماء اور دینی شخصیات سے دائمی
رابطہ قائم رکھا جائے اور خط و کتابت کے ذریعہ معلومات حاصل کرنے کا سلسلہ جاری رہے۔
- ۲...... ان حضرات کو دینی فتنوں کے خلاف اردو، عربی اور انگریزی میں لٹریچر بھیجا جائے۔
- ۳...... افریقی طلبہ کو دینی مدارس اور ان کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی جائے۔
- ۴...... تبلیغی جماعت کے ذمہ دار حضرات کو توجہ دلائی جائے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں جماعتیں ان ممالک کی طرف روانہ
رکھیں۔ خصوصاً یوگنڈا میں۔
”وصلى الله على سيدنا محمد واله وصحبه وسلم“
مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا اجلاس
۲؍ دسمبر ۱۹۷۴ء کو دارالعلوم تعلیم القرآن راولپنڈی میں مجلس عمل کا اجلاس زیر صدارت حضرت علامہ مولانا محمد یوسف بنوری منعقد ہوا۔ مولانا مفتی محمود، مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا عبدالحق، پروفیسر غفور احمد، میاں طفیل محمد، آغا شورش کاشمیری، مولانا غلام اللہ خان، مولانا عنایت شاہ بخاری، مولانا ایوب جان بنوری، محمد زمان خان اچکزئی، مولانا عبدالواحد، مولانا تاج محمود، مولانا عزیز الرحمن
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
جالندھری، مولانا عبدالرحیم اشعر، مولانا محمد شریف جالندھری، چوہدری ثناء اللہ بھٹہ، سید مظفر علی شمسی، عطاء الحسن بخاری، مولانا فتح محمد، سردار میر عالم خان لغاری، مولانا عبدالغفور، مولانا سید حسین الدین شاہ، راؤ عبدالمنان، قاری عبدالسمیع، میجر اعجاز صاحب، جناب سلیمی صاحب، مولانا قاری سعید الرحمٰن، مولانا سمیع الحق، مولانا بشیر احمد چشتی، سید مختار شاہ، مولانا عطاء اللہ حنیف اور مولانا حبیب الرحمٰن شاہ شریک ہوئے۔
مجلس عمل کے دو اجلاس ہوئے۔ پہلا اجلاس ۱۰/ بجے صبح سے ایک بجے بعد دوپہر تک اور دوسرا اجلاس رات ۸/ بجے سے ۱۲/ بجے تک جاری رہا۔ ۷/ ستمبر کے فیصلہ کے بعد مجلس عمل کا یہ پہلا اجلاس تھا۔ اجلاس کی ابتداء مولانا مفتی محمود نے ایک جامع تقریر سے کی۔ جس کا حاصل یہ تھا کہ حکومت نے عوام کے دباؤ کے تحت اس وقت فیصلہ تو کر دیا تھا۔ لیکن ابھی تک اس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ دوسری طرف مرزائی بھی منظم طریقہ سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے قومی اسمبلی کے فیصلہ کو ماننے سے انکار کر دیا ہے اور اسلام کا لفظ بار بار استعمال کر رہے ہیں۔ چوہدری ظفر اللہ خان اندرون ملک اور بیرون ملک سازشوں کے جال بچھانے میں مصروف ہے۔ بھٹو صاحب نے ہمارے ساتھ معاہدہ کیا تھا کہ وہ کلیدی اسامیوں سے مرزائیوں کو علیحدہ کر دیں گے۔ لیکن حال ہی میں بعض مرزائیوں کو اہم ترین پوسٹوں پر ترقی دی گئی ہے۔
اجلاس سے مولانا شاہ احمد نورانی، میاں طفیل محمد، سید مظفر علی شمسی، آغا شورش کاشمیری، مولانا عنایت اللہ شاہ بخاری، مولانا عبدالرحیم اشعر، مولانا محمد شریف جالندھری اور بعض دوسرے اکابر نے خطاب فرمایا۔
مجلس عمل کا یہ اجلاس تین ماہ کے بعد ہوا تھا۔ اس عرصہ میں مجلس عمل کے مستقبل کے متعلق بھی اضمحلال لاحق ہونے کی خبریں آ رہی تھیں۔ لیکن تمام مکاتب فکر میں کامل یکجہتی تھی۔ جوش و خروش تھا۔ چنانچہ پورے اعتماد کے ساتھ فیصلہ کیا گیا کہ حکومت ان چھ اراکین قومی اسمبلی کا وفد ملاقات کرے۔ جن کے ساتھ بھٹو صاحب کا ۶/ ستمبر کو فیصلہ ہوا تھا۔ وہ بھٹو صاحب کو ان کے وعدے یاد دلائیں اور قادیانیوں کے متعلق دستوری ترمیم کے بعد مناسب قوانین سازی اور دوسرے انتظامی احکام کے نفاذ کی طرف توجہ دلائیں۔
ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ کا التواء
تقسیم سے قبل حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور ان کے گرامی قدر رفقاء نے قادیان میں ختم نبوت کانفرنس کی داغ بیل ڈالی تھی۔ قیام پاکستان کے بعد مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام چنیوٹ میں دسمبر کے آخری دنوں میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوتی رہی۔ ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کو جب غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تو حنیف رامے نے قادیانی جماعت کو خوش کرنے کے لئے چنیوٹ کی ختم نبوت کانفرنس پر پابندی کے لئے منصوبہ سازی کی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے صدر حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری، حضرت مولانا مفتی محمود، حضرت مولانا شاہ احمد نورانی، پروفیسر غفور احمد، حضرت مولانا خواجہ خان محمد، مولانا عبدالستار نیازی حج پر تشریف لے گئے۔ ان دنوں حج دسمبر میں تھا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں حضرت مولانا تاج محمود، حضرت مولانا محمد شریف جالندھری نے دوسرے رفقاء سے مشورہ کیا۔ وہ حکومت سے ٹکراؤ کی پالیسی کے حق میں نہ تھے۔ ایک تو یہ صورت تھی کہ کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان کیا جاتا، حکومت پابندی لگاتی اور بدنامی حکومت کے کھاتے جاتی۔ لیکن اس کا نقصان یہ ہوتا کہ یہ پابندی ہمیشہ کے لئے لگ جاتی۔ یہی حکومت اور قادیانی چاہتے تھے۔ دوسری صورت یہ تھی کہ کانفرنس ان تاریخوں میں جن دنوں قادیانیوں کا جلسہ تھا منعقد نہ کی جاتی۔ بعد میں ہو جاتی۔ آئندہ سال پھر قادیانیوں کے جلسہ
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
والے دنوں میں انعقاد پذیر ہوتی۔ چنانچہ اس دوسری تجویز پر عمل کا فیصلہ کیا۔ مجلس کے رہنماؤں کی بیدار مغزی کا اندازہ فرمائیں کہ یوں یکم جنوری کو کانفرنس یک روزہ منعقد کرنے کا اعلان کیا۔ دوسری بڑی کانفرنس جنوری کے اواخر میں اور تیسری کانفرنس دسمبر ۱۹۷۵ء میں۔ یوں دسمبر ۱۹۷۴ء کی کانفرنس ملتوی کر کے حکومت کے ساتھ تصادم سے بھی مجلس کو بچا لیا اور اس کے عوض ۱۹۷۵ء میں تین کانفرنسیں کر ڈالیں۔ اللہ رب العزت ان اکابر کی قبروں کو بقعۂ نور بنائیں۔ آمین!
قارئین! آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ عالمی مجلس حکومتی قوانین کا کتنا پاس کر رہی تھی۔ باوجود یہ کہ فیصلہ مسلمانوں کے حق میں ہو چکا تھا۔ اب مسلمانوں کی طرف سے فسادات یا نقص امن کا سوال ہی پیدا نہیں ہو رہا تھا۔ اس لئے کہ عین ان کی مرضی کے مطابق آئین میں ترمیم ہوئی تھی۔ لیکن حکومت پھر بھی مختلف بہانے نکال کر، ان کو کھینچ تان کر مسلمانوں کے اجتماعات پر پابندی لگا رہی تھی۔ اگر بالفرض کہیں کوئی جلسہ یا اجتماع ہو جاتا تو لاٹھی چارج اور آنسو گیس سے ان کو مشتعل کیا جاتا۔
جن دنوں چنیوٹ کانفرنس پر پابندی لگ گئی، انہی دنوں مرزائیوں کا ربوہ میں سالانہ اجتماع تھا۔ جس کے لئے پورے زور و شور سے تیاریاں جاری تھیں۔ بیرون ممالک اور خاص کر ہندوستان سے کافی تعداد میں مرزائی شریک ہو رہے تھے۔ اخبار کے مطابق تین سو کے قریب بھارتی مرزائی شریک ہو رہے تھے۔ جلسہ کی لاگت اس دور میں کروڑوں میں بتائی گئی تھی۔
(روزنامہ نوائے وقت، مورخہ ۲۶/دسمبر ۱۹۷۴ء)
حضرت مولانا عبدالحق کی تحریک التواء
شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالحق نے قادیانی اجتماع کے حوالے سے تحریک التواء بھی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم شہری اور اقلیتی حقوق کا جواز پیش کر کے مرزائیوں کے اجتماع کے لئے جواز تو پیش کرتے ہیں۔ لیکن جب آئے دن دفعہ ۱۴۴ نافذ ہوتا ہے وہ کیا شہری حقوق کے منافی نہیں۔ سپیکر نے پہلے تو مولانا کی بات کو سننا بھی نہیں چاہا اور جب دوسرے دن مولانا کا موقف سنا گیا تو سپیکر نے بہ یک جنبش قلم اس کو مسترد کر دیا۔
(روزنامہ نوائے وقت، مورخہ ۱۸/دسمبر)
ذیل میں چند مثالیں پیش کرتے ہیں جن میں آپ ملاحظہ کریں گے کہ حکومت نے امن پسند مسلمانوں کے کئی پرامن پروگراموں پر پابندی لگا دی اور مرزائیوں کو کھلی چھوٹ دی ہوئی تھی۔ ان کا جو جی میں آتا وہ کر گزرتے۔
مفتی محمود کے پرامن احتجاج پر لاٹھی چارج
قومی اسمبلی میں قادیانیوں کے متعلقہ آئین کے روح رواں مولانا مفتی محمود جب پہلے ڈیرہ اسماعیل خان تشریف لائے تو آپ کے استقبال کے لئے پورے ضلع سے آپ کے عقیدتمند اور جماعتی رفقاء جمع ہو گئے۔ پولیس نے یہ پرامن اجتماع دیکھا تو ان پر آنسو گیس کا استعمال اور لاٹھی چارج کر دیا۔
(روزنامہ نوائے وقت مورخہ ۱۶/دسمبر ۱۹۷۴ء)
جہاں جہاں بھی مسلمانوں کے جلسے، پرامن احتجاج یا کانفرنسیں منعقد کی گئیں۔ حکومت کی طرف سے اس کے انعقاد پر پابندی لگی۔ بالفرض اگر منعقد ہو بھی گئیں تو حاضرین پر آنسو گیس یا لاٹھی چارج کا استعمال ہوا ہے۔
ملتان میں پابندی
متحدہ جمہوری محاذ کے رہنما یکم نومبر کو ملتان تشریف لا رہے تھے۔ مولانا مفتی محمود، مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا جان محمد عباسی، نوابزادہ نصراللہ، حاجی سرفراز، ملک قاسم، خواجہ محمد صفدر اور دیگر اکابر حضرات امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے مزار پر حاضر ہوئے
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء
ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
تھے۔ رات کو جلسہ عام کا پروگرام تھا۔ لیکن حکومت نے مرزائیت نوازی کا پورا پورا ثبوت دیتے ہوئے ان حضرات کی ملتان آمد کے موقع پر دفعہ ۱۴۴ کے تحت پابندی لگادی۔
(روزنامہ امروز، مورخہ ۲۸؍ اکتوبر ۱۹۷۴ء)
تبلیغی کنونشن پر پابندی
جمعیت طلباء اسلام نے ربوہ (چناب نگر) میں تبلیغی کنونشن کرنا چاہا۔ مگر انتظامیہ نے پابندی لگا دی۔ حکومت کی اس نامعقول حرکت پر جمعیت طلباء کی قیادت نے احتجاج کیا کہ مرزائیوں کو ربوہ میں تبلیغی کنونشن کی اجازت دے دی گئی۔ باوجودیکہ ملکی آئین میں یہ بات پاس ہوچکی ہے کہ مرزائیوں کی تبلیغ پر پابندی ہے اور یہاں مسلمانوں کی تبلیغی کنونشن پر پابندی لگادی گئی۔ حکومت مرزائیوں کو نواز رہی تھی اور مسلمانوں کو اپنے جائز حق سے محروم کررہی تھی۔ حالانکہ مرزائی ملک وملت کے وفادار نہیں۔ ان کو موقع ملتا تو اسلام اور پاکستان دونوں کے خلاف دل کا غبار نکال لیتے تھے۔
(روزنامہ نوائے وقت مورخہ یکم؍ نومبر ۱۹۷۴ء)
قادیان کے جلسہ میں صدر بھٹو پر نکتہ چینی
چنانچہ ہندوستان کے مشرقی پنجاب انبالہ سے شائع ہونے والے اخبار ’سنڈے ٹریبیون‘ ۱۳؍ دسمبر کو گورداسپور میں قادیانیوں کی سہ روزہ کانفرنس کی رپورٹ پیش کی۔ لکھا تھا: ”اندرون وبیرون ملک مرزائیوں نے شرکت کی۔ جناب کریم الدین نے احمدیہ پرچم لہرایا۔ صبح کے سیشن میں تقاریر ہوتی رہیں۔ شام کے سیشن میں کئی مقررین نے وزیر اعظم پاکستان مسٹر بھٹو پر شدید نکتہ چینی کی کہ وہ اور ان کے چند خیمہ بردار پاکستان سے قادیانیوں کا نام ونشان مٹا دینا چاہتے ہیں۔ تقریروں میں دعویٰ کیا گیا کہ مسٹر بھٹو حقیقی اور سچے مسلمان نہیں۔ نیز وہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات پر ایمان نہیں رکھتے۔ پاکستان میں احمدیوں پر بلا کے مظالم توڑے جارہے ہیں۔ مسٹر بھٹو کے خیمہ بردار قرآن پاک کے غلط ترجمے کے ذریعے مسلمانوں کو گمراہ کررہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے احمدیت کو عروج دیا تو ان کا ہم استیصال کریں گے۔“
(روزنامہ نوائے وقت مورخہ ۲۵؍ دسمبر، لولاک ۱۳؍ دسمبر ۱۹۷۴ء)
قارئین کرام! قادیانی رہنما کے الفاظ میں چھپا غم وغصہ صاف نظر آرہا ہے کہ وہ مسٹر بھٹو اور اسلامیان پاکستان پر کتنا بھڑکا ہوا ہے۔ یہ صرف ایک فرد نہیں بلکہ قادیانیوں کے پیشوا سے لے کر ادنیٰ کارکن تمام کے تمام اسلام اور پاکستان کے لئے یہی بغض وعناد سینوں میں رکھے ہوئے تھے۔ لیکن حکومتی اہلکاروں کا سارا نزلہ مسلمانوں پر گرتا تھا۔ ملاحظہ فرمائیں:
مجلس کے عہدیدار پر پابندی
مجلس تحفظ ختم نبوت کیمبل پور کے سالار اعلیٰ مرزا عبدالعزیز تین ماہ تک کسی عام جلسے میں تقریر کرنے پر پابندی لگادی گئی۔ مرزا عبدالعزیز تحریک ختم نبوت کے دوران بھی قید رہے۔ رہائی کے بعد اب ان پر تین مہینوں کے لئے زبان بندی کا آرڈر جاری کر دیا۔
(لولاک، مورخہ یکم؍ دسمبر ۱۹۷۴ء)
حکومت کا مسلمانوں اور مجلس عمل سے متعلق حضرات سے تو یہ رویہ تھا۔ لیکن دوسری طرف مرزائی کھلے عام آئین کا مذاق اڑا رہے تھے۔ تبلیغی کانفرنسوں کا انعقاد کر رہے تھے۔ مرزا قادیانی کی نبوت کو برحق کہہ رہے تھے۔ لیکن حکومت مطمئن وخوش خاطر بیٹھی رہی اور اس میں کھلے لفظوں آئین اور قانون کی بغاوت دیکھ لی۔“
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
تحریک ختم نبوت
کے سلسلہ میں
۱۹۷۵ء
کے
حالات و واقعات
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
۱۹۷۵ء کا سال اگر ایک طرف مسلمانوں کے لئے خوش کن اور خوش نصیبی کا استعارہ ثابت ہوا کہ اس سال قادیانیت کے متعلق ملک کے ہر کونے میں شعور پھیلا۔ بلکہ بیرون دنیا میں بھی قادیانیت کی حقیقت لوگوں پر آشکارا ہو گئی اور سعودی عرب، شام، ایران، ابوظہبی، افغانستان، کویت، گھانا، یوگنڈا، انڈونیشیا سمیت دیگر کافی سارے ممالک میں مرزائیت غیر مسلم اور خلاف قانون جماعت ٹھہرائی گئی تو دوسری طرف اس سال میں مسلمان اور بالخصوص مجلس تحفظ ختم نبوت بھی بہت بڑی شخصیات سے محروم بھی ہوگئی۔ مجلس کے بہت سے متعلقین عالم آخرت سدھار گئے ۔ ایسی ایسی شخصیات رخصت ہوگئیں جو ایک عہد تھیں ۔ جن کا دل صرف اسلام کے لئے دھڑکتا تھا۔ ایک بڑا سانحہ سوات اور ہزارہ کا قیامت خیز زلزلہ تھا جس کے پنجے میں ہزاروں افراد لقمہ اجل بن گئے ۔ بیسیوں بستیاں کھنڈرات میں تبدیل ہوگئیں ۔
سوات کا زلزلہ
جنوری ۱۹۷۵ء کے شروع میں سوات، ہزارہ اور نواحی بستیوں میں اندوہناک اور لرزہ خیز زلزلہ آیا۔ جس کے نتیجے میں پورا علاقہ تباہی و بربادی کی تصویر نظر آنے لگا۔ ہزاروں افراد لقمہ اجل بن گئے ۔ بیسیوں گاؤں کھنڈرات میں تبدیل ہو گئے ۔ اس صورتحال کے نتیجے میں جو لوگ زندہ بچ گئے ۔ ان کی حالت مرنے والوں سے زیادہ اندوہناک تھی ۔ کیونکہ شدید سردی کا موسم تھا ۔ برفباری الگ ہو رہی تھی ۔ حکومتی افراد نے وہاں کے دورے کئے اور فوج کے نوجوان متاثرین کی امداد کے لئے کمر کسے رہے ۔
مجلس تحفظ ختم نبوت نے بھی متاثرین کی امداد کے لئے ایک ۵ رکنی ٹیم بھیجی ۔ جنہوں نے مولانا تاج محمود کی قیادت میں متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور متاثرین کے ساتھ دل کھول کر تعاون کیا ۔ مولانا تاج محمود نے اپنے سفر کی مکمل روداد ہفت روزہ لولاک میں ۳ قسطوں میں چھاپی تھی ۔ جو نہایت دلچسپ ہے ۔ لیکن اختصار کے پیش نظر اس کے صرف چند ہی جملے ذکر کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں ۔ مولانا نے لکھا: ’’ وادی سوات کے گاؤں میں اور گردونواح کے دیگر بہت ساری بستیوں کے باسیوں پر یکے بعد دیگرے مصائب کے کئی پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ پہلے زلزلے نے انہیں منوں ملبے کے نیچے دفن کر دیا۔ زلزلے کے ساتھ ہی پہاڑیوں سے بڑے بڑے پتھر لڑھک کر نیچے بستیوں کو قیمہ کرتے چلے گئے ۔ زلزلے کے فوراً بعد تین دن تک برفانی ہواؤں کا طوفان چلتا رہا ۔ امداد بھی مسدود ہو گئی ۔ اس لئے کہ سوائے ہیلی کاپٹر کے کوئی اور سواری کا وہاں جانا ناممکن تھا ۔ مظلوم کھلے آسمان تلے بیٹھے ’’المدد المدد‘‘ پکارتے رہے ۔‘‘
وفد نے متاثرین کی امداد سامان اور نقدی کی صورت میں کی ۔ مصیبت زدوں کو سہارا اور دلاسا دیا ۔ چونکہ متاثرین تک براہ راست پہنچنا مشکل تھا ۔ اس لئے وفد نے امدادی سامان اور رقم ایک مقامی عالم مفتی خویداد صاحب کو دے کر متاثرہ افراد تک پہنچانے کی درخواست کی ۔ پورے ملک میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین نے متاثرین کے لئے امدادی مہم چلائی اور امدادی ٹیموں یا حکومتی افراد کے ذریعے وہ رقم متاثرین کو بھجوادی ۔ کوئٹہ، پشاور اور پنجاب کے اکثر اضلاع میں مبلغین نے امدادی مہم میں حصہ لیا ۔
(لولاک مؤرخہ ۲۴؍ جنوری، یکم؍ اپریل ۱۹۷۴ء)
مرزائیوں کی زلزلہ زدگان کے ساتھ ’’ہمدردی‘‘
زلزلہ کے بعد قادیانیوں نے متاثرہ افراد کے ساتھ ہمدردی کے دو بول بولنے کی بجائے ان کے زخموں پر نمک پاشی کرتے ہوئے یہ بیان دیا کہ سوات اور ہزارہ کا زلزلہ ہمارے خلیفہ کی بددعاؤں کا نتیجہ ہے۔ اس ملک میں ہمارا استحصال ہوا۔ ہم کو ’’بلا جواز‘‘ غیر مسلم ٹھہرایا گیا۔ ہم پر کئے گئے ’’مظالم‘‘ اب پوری قوم بھگتے گی۔ ربوہ میں ایک دو مرزائیوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے لڈو بھی بانٹے۔
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبد اللہ معتصم
مرزائیوں کے لاہوری گروپ کے مربی ڈاکٹر سعید احمد نے اپنے سالانہ جلسے میں زلزلے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ”ہم ایک ہولناک زلزلہ سے گزرے ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصہ سے ہمارے ملک پر بعض جھنجھوڑنے والے جو واقعات اور حوادث آ رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے حق کا نوٹس نہیں لیا۔ ’ایمان والوں‘ کا اس ملک و قوم نے خیال نہیں کیا۔ ان کے ساتھ ظلم و عناد کا رویہ رکھا۔“
(چٹان مؤرخہ ۳/فروری ۱۹۷۴ء ، پیغام صلح ، مؤرخہ ۲۹/جنوری ۱۹۷۵ء بحوالہ خدام الدین)
لاہوری فرقے کے ڈاکٹر سعید احمد نے مہمل انداز میں اور الفاظ چبا چبا کر یہ بات کی کہ ایمان والوں کے ساتھ ظلم ہوا۔ اس ملک میں ان کا خیال نہیں رکھا گیا۔ اب ظاہر ہے کہ مرزائی مسلمان تو صرف اپنے آپ کو سمجھتے ہیں۔ ڈاکٹر سعید احمد کے اس بیان پر مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید نے ایک مضمون لکھا۔ تلخیصاً ملاحظہ فرمائیں ۔
”بلاشبہ حوادث و واقعات ایک فہیم آدمی کو غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں اور اس کو فکری و عملی لغزشوں کی اصلاح کا ایک موقعہ فراہم کرتے ہیں۔ انسان کے پہلو میں دل اور دل میں ایمان کی ذرا سی رمق بھی باقی ہو تو آدمی معمولی واقعات کو بھی خدائی تنبیہ سمجھتا ہے۔ اس کا احساس انگڑائی لے کر بیدار ہوتا ہے اور وہ اصلاح و فلاح کے راستہ پر پلٹ آتا ہے۔ لیکن اگر انسان غلط نظریات و عقائد کو قبول کرنا چاہے تو رفتہ رفتہ اس کی حالت وہی ہو جاتی ہے جو آنحضرت ﷺ نے بدیں الفاظ بیان فرمائی : ”اسود مربادا کالکوز مجخیاً لا یعرف معروفاً ولا ینکر منکراً“ یعنی کالا سیاہ الٹے کوزے کی مانند نہ صحیح کو صحیح سمجھنے کی صلاحیت رکھے نہ غلط کو غلط سمجھنے کی۔ (مشکوٰۃ کتاب الفتن) اندریں حالت ماؤف قلب میں حق کو سمجھنے اور قبول کرنے کی استعداد ہی باقی نہیں رہتی۔ اسی کو قرآن کریم میں ”زیغ“ ، ”ختم“ اور ”رین“ فرمایا ہے۔ اس وقت اس کے حق میں تمام تنبیہات غیر مؤثر اور غیر مفید ثابت ہوتی ہے۔
یہ زلزلہ جس کی طرف ڈاکٹر صاحب (لاہوری مرزائی سعید) نے اشارہ کیا ہے۔ ہمارے بھائیوں کے لئے ایک بہت بڑی (اور شاید آخری) تنبیہ تھا۔ مگر افسوس ہے کہ ہمارے بھائیوں نے غصے اور جھنجھلاہٹ کی وجہ سے (جیسا کہ ڈاکٹر صاحب نے فرمایا ہے) اس کا نوٹس نہیں لیا۔ مثلاً :
اس موقعہ پر وہ غور کرتے کہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ حدیث ، تفسیر ، عقائد کی تمام کتابوں میں درج ہے۔ صحابہ ، تابعین اور بعد کے تمام مجددین اور اکابر امت اس کو مانتے چلے آئے ہیں۔ معتزلی ، ملحد جیسے بددینوں نے بے شک اس کا انکار کیا۔ لیکن اہل حق میں سے ایک شخص بھی تیرہ صدیوں میں ایسا نہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع و نزول جسمانی کا منکر ہو۔ خود مرزا غلام احمد ملہم اور مجدد ہونے کے باوجود اٹھارہ برس تک قرآن و حدیث اور اجماع امت کے مطابق عقیدۂ حیات کے قائل رہے۔ (مرزا قادیانی پر نزول الہامات کا سلسلہ ۱۲۹۰ھ میں شروع ہوا اور ۱۳۰۸ھ تک وہ اس عقیدہ کے قائل رہے۔ ۱۳۰۸ھ میں ”فتح اسلام“ نامی رسالہ لکھا اور اس میں وفات مسیح کا اعلان اور اپنی مسیحیت کا دعویٰ شائع کیا۔ اس کے بعد ۱۸ سال اس عقیدہ پر رہ کر ۱۳۲۶ھ میں فوت ہوئے۔ گویا ان کی الہامی زندگی کا نصف اوّل حیات عیسیٰ علیہ السلام پر گزرا اور نصف آخر وفات کے عقیدہ پر)
اب اگر ہمارے بھائی غور کرتے تو واضح ہو جاتا کہ مرزا قادیانی کے اٹھارہ سالہ الہامی دور کا وہ عقیدہ جو بڑے بڑے اکابر اولیاء اللہ ، ارباب کشف و الہام اور مجددین اسلام کے عقیدے کے مطابق ہے۔ وہ صحیح ہے یا وہ اٹھارہ سالہ عقیدہ جو ان تمام اکابر امت کے خلاف ہے؟ اگر ہمارے ان بھائیوں کو مرزا قادیانی سے حسن ظن ہی رکھنا تھا تو یہ تاویل بھی کر سکتے تھے کہ مرزا قادیانی سے ”الہام“ کے دوسرے دور کے الہام میں اجتہادی غلطی ہو گئی ہے۔ اس لئے عقیدہ تو وہی صحیح ہے جو اکابر امت کا تھا اور مرزا قادیانی مسیح موعود نہیں۔ کیونکہ ان کو مسیح موعود
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبد اللہ معتصم
مان لینے سے نہ صرف ان کے اٹھارہ سالہ الہامی دور کا عقیدہ غلط ہو جاتا ہے۔ بلکہ یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ تیرہ صدیوں کے تمام ملہمین اور مجددین ایک غلط عقیدہ کی نشر واشاعت کرتے رہے۔ جب ایک عقیدے پر تمام صلحاء متفق ہیں اور مرزا قادیانی بھی ایک مدت تک ان سے متفق رہے ہیں تو وہ عقیدہ کیسے غلط ہو سکتا ہے۔
زلزلہ کے بعد قادیانی عجیب و غریب نفسیاتی الجھن کا شکار ہیں۔ انہوں نے اپنے ماں باپ سے سنا کہ مرزا قادیانی ”امام مہدی“ اور ”حضرت عیسیٰ“ تھے۔ مگر مسلمانوں نے ان سے بھی وہی سلوک کیا جو پہلے کے نام نہاد مہدیوں سے ہوتا رہا۔ ایک طرف مرزا قادیانی سے ان کی شدت عقیدت اور دوسری طرف مسلمانوں کی شدت نفرت نے قادیانیوں میں غصہ، جھنجھلاہٹ اور اعصابی تحریک کی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ وہ مرزا قادیانی کے ساتھ ایک اسلامی صف میں شامل ہونا چاہتے ہیں اور امت اسلامیہ مرزا قادیانی کو جھوٹے مدعیان مہدویت کی صف سے نکال کر اپنے اندر جذب کرنے پر آمادہ نہیں۔ بلاشبہ یہ ذہنی کشمکش ایک ہیجانی کیفیت پیدا کرنے والی ہے۔ اس لئے ان بھائیوں کا غم و غصہ ایک فطری چیز ہے۔ لیکن انہیں نہایت ٹھنڈے دل سے یہ سوچنا چاہئے کہ اس کی ذمہ داری تو خود ان عقائد پر عائد ہوتی ہے جو مرزا قادیانی نے اپنے پہلے اٹھارہ سالہ الہامی دور کے خلاف شائع کئے۔“
(خدام الدین، مئی ۱۹۷۵ء)
محکمہ تعلیم پر مرزائیوں کی یلغار
حکومت نے مرزائیوں کو حد سے زیادہ مراعات دی تھیں۔ دوسری اقلیتوں سے ان کو ممتاز رکھا۔ تعلیمی میدان میں اقلیت کے کوٹے کے علاوہ میرٹ کی بنیاد پر بھی ان کو داخلہ کی اجازت دے دی۔ محکمہ تعلیم کے اکثر انتظامی اور تدریسی شعبوں پر قادیانی متمکن تھے۔ انہی بے جا مراعات اور ناز برداریوں کا نتیجہ تھا کہ مرزائیوں نے لاء اینڈ آرڈر کو خاطر میں لانا چھوڑ دیا، اور تو اور تعلیمی نظام اور تعلیمی اداروں میں اپنی من مانیاں کرتے رہے۔ پاکستان کے ممتاز دانشور جناب ڈاکٹر محمد باقر نے ہفت روزہ چٹان میں ایک کالم لکھا۔ جس میں حکومت کی توجہ اس امر کی طرف دلانے کی کوشش کی گئی تھی کہ ملک کے تعلیمی ڈھانچہ پر قادیانی سوار ہیں اور تدریس اور نظم کے شعبوں پر ان کی اجارہ داری ہے۔ حد یہ ہے کہ اسلامیات اور اسلامی تاریخ کے مضامین پڑھانے پر بھی مرزائی مامور ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کے بیان کی تائید کرتے ہوئے ماہنامہ لولاک نے چند افراد کی لسٹ جاری کر دی جو قادیانی تھے اور تعلیمی نظام کے بڑے عہدوں پر فائز تھے۔
- ١...... پروفیسر عبدالرشید، سیکرٹری ایجوکیشن لاہور۔
- ٢...... پروفیسر محمد احمد، ڈپٹی سیکرٹری ایجوکیشن لاہور۔
- ٣...... میاں عبدالغنی، ڈپٹی ڈائریکٹر پبلک انسٹرکشنز لاہور۔
- ۴...... راجہ غالب احمد، چیئرمین ٹیکسٹ بک بورڈ لاہور۔
- ۵...... احسان الحق طور، پرنسپل پولی ٹیکنیک انسٹیٹیوٹ لاہور۔
- ۶...... مرزا طاہر، ڈپٹی کنٹرولر بورڈ آف ایجوکیشن سرگودھا۔
- ۷...... میاں محمد افضل، پرنسپل ٹریننگ کالج لائل پور۔
- ۸...... امان اللہ قریشی، ہوسٹل انچارج ٹریننگ کالج لائل پور۔
- ۹...... خواجہ احسان، وائس پرنسپل سپیریئر سائنس کالج لائل پور۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
- ۱۰...... جیلانی کامران، پرنسپل گورنمنٹ کالج (اصغر مال روڈ ) راولپنڈی۔
(لولاک ،مؤرخہ ۲۲؍جنوری ۱۹۷۵ء)
اس فہرست پر نظر دوڑائیے اور اندازہ کیجئے کہ کس طرح قادیانی حضرات محکمہ تعلیم کے کلیدی مناصب پر حاوی ہو چکے تھے۔ ان سب مرزائیوں کے سرخیل میاں محمد افضل تھے جو ٹریننگ کالج لائل پور کے پرنسپل تھے۔ کالج کے طلباء میں اس نے ’’احمدی میموریل ایسوسی ایشن‘‘ قائم کر رکھی تھی۔ طلباء اور اساتذہ کی ذہن سازی کے لئے کبھی ان کے نام مرزائیوں کے رسائل و جرائد جاری کرتے۔ کبھی تفریحی سفر کے نام پر تبلیغی سفر پر ہمراہ لے جاتے تھے۔ چونکہ اس ادارے میں مستقبل کے اساتذہ تربیت پاتے تھے۔ اس لئے میاں محمد افضل کا اس ادارے میں بطور پرنسپل فعال رہنا نہایت خطرناک تھا۔ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے احباب نے بارہا حکومت کے سامنے یہ گھمبیر صورتحال سامنے رکھی۔ لیکن ہر بار حکومت سنی ان سنی کر دیتی تھی۔ چند دنوں بعد ٹریننگ کالج لائل پور کی طالبات نے علامہ شبیر بخاری ڈائریکٹر محکمہ تعلیم سرگودھا ریجن کے سامنے کچھ معروضات پیش کیں۔ جس میں ٹریننگ کالج لائل پور کے اساتذہ کے بارے میں اور کچھ ادارے کے بارے میں معلومات تھیں۔
فیصل آباد محکمہ تعلیم میں قادیانی
لکھا تھا: ’’میاں محمد افضل (مرزائی) جو اس ادارے کے نورتن ہے، امان اللہ قریشی (مرزائی) میاں محمد افضل کا منظور نظر ہے۔ یہ دونوں حضرات مرزائیوں کے اقلیت قرار دیئے جانے کے بعد دکھاوے کے طور پر مسلمان ہو گئے۔ لیکن ربوہ سے رابطہ قائم رکھے ہوئے ہیں۔ مرزائی طالبات کی خصوصی سرپرستی فرماتے ہیں۔ ربوہ کو چندہ بھی بھیجتے ہیں۔ میاں محمد افضل صاحب اسلامیات کی تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ کالج میں ایک ثقافتی شو کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں مرزائی طالبات نے ہجڑے کی نماز کا سوانگ دکھایا اور عبادات کی بھی نقل اتارتے رہے۔ اکرام قریشی جو میاں افضل کے دست راست ہے، بھی مرزائی ہے۔ مرزائیوں کے خلاف ایجی ٹیشن کے زمانے میں میاں افضل انہی کے ہاں شب باشی فرماتے تھے۔ نثار احمد جمیل بھی یہاں بطور مدرس فرائض انجام دے رہے ہیں۔ یہ بھی میاں صاحب کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں۔ پروفیسر بخاری جو کالج کے سینئر پروفیسر ہیں۔ ان صاحب کی ایک زوجہ احمدی ہے۔ اللہ یار وصفی جو امتحانات میں دھاندلی کی وجہ سے پہلے کئی جگہ پٹ بھی چکے تھے اور کئی مقامات پر ان کا تبادلہ بھی ہوتا رہا۔ اللہ یار وصفی کا حدود اربعہ یہ ہے کہ وہ میاں افضل کے دربار کا دو پیازہ ہے۔ خود ہنستے دوسروں کو ہنساتے ہیں۔ پروفیسر خان جان خٹک جو میاں محمد افضل کے مقرب خاص ہیں، بھی مرزائیت کی تبلیغ کے لئے کافی سرگرم ہیں۔ کئی طالبات پر ڈورے ڈالتے رہے۔ آخر اپنی ایک شاگردہ کو حلقہ زوجیت میں لے آئے۔ ایک پروفیسر محمد خالد ہے۔ ان کو تو صبح و شام وظیفہ ہی ’’مرزا قادیانی‘‘ کا ہے۔ الٹے سیدھے شعر بھی کہہ لیتے ہیں۔‘‘
طالبات نے آخر میں حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ ان پروفیسروں سے ہماری عزت و آبرو اور ایمان کو بچایا جائے۔ مرزائیت کی بھی یہاں کھلے عام تبلیغ ہوتی ہے۔ مرزائیوں کی کتابیں اور لٹریچر تقسیم ہوتا ہے اور پروفیسر و لیکچرر ایمان کے ساتھ لڑکیوں کی عزت اور آبرو کے بھی ڈاکو ہیں۔ میاں محمد افضل نے تمام عملہ کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے کہ تم لوگ من مانیاں کرتے رہو۔ لیکن ہمیں اور ہمارے مرزائی مربیوں کو مرزائیت کی تبلیغ کرنے دو۔ ہم آپ کے راستے میں مزاحمت نہیں کرتے۔ آپ ہمارے مزاحم نہ بنیں۔‘‘
(ملخص لولاک ،مؤرخہ ۷؍ فروری ۱۹۷۵ء ، ص ۸)
حیات شیر پاؤ کا قتل
۸؍ فروری ۱۹۷۵ء کو پشاور یونیورسٹی میں ایک تقریب کے دوران سٹیج پر بم پھٹنے سے صوبہ سرحد کے وزیر داخلہ جناب حیات محمد خان شیر پاؤ موقع پر جاں بحق ہو گئے۔ ولی خان پر کیس بنا دیا گیا۔ ان کی پارٹی پر پابندی عائد کر دی گئی۔ ولی خان پر بغاوت کیس چلا۔ وہ
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
حیدرآباد میں حوالہ زندان کئے گئے۔ آگے چل کر وہ اس وقت رہا ہوئے جب بھٹو صاحب کا ستارہ اقتدار غروب ہو چکا تھا۔ یہاں سے قادیانیوں کو تحریک ختم نبوت کو نشان منزل سے ہٹانے کا موقع ملا۔ کیونکہ ملک میں سیاسی جنگ چھڑ گئی۔ مسئلہ ختم نبوت کا تحفظ اور قادیانی فتنہ کی سرکوبی کی تحریک پس منظر میں چلی گئی۔
حیات محمد شیر پاؤ کی شہادت کے ۶ دن بعد مدرسہ تعلیم القرآن ریلوے کالونی لائلپور میں میاں محمد عطاء اللہ وزیر مملکت کے اعزاز میں ایک استقبالیہ دیا گیا۔ اس تقریب میں فیصل آباد کے مختلف مکاتب فکر کے نمائندوں، علماء کرام، سماجی رہنماؤں اور دوسرے معزز شہریوں نے شرکت کی۔ مہتمم مدرسہ حضرت مولانا تاج محمود نے میاں صاحب کو خوش آمدید کہتے ہوئے اپنی مختصر تقریر میں کہا: ’’چند دن ہوئے پیپلز پارٹی کے ایک رہنما اور سرحد کے اہم وزیر حیات محمد شیر پاؤ کو بم دھماکے میں قتل کر دیا گیا۔ اس واقعہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے اور مرحوم کی وفات کا ہم سب کو صدمہ ہے۔‘‘
سرحد کا آئی. جی قادیانی، مرزا ناصر اور شیر پاؤ قتل
مولانا تاج محمود صاحب نے بات جاری رکھتے ہوئے فرمایا: میاں صاحب! آپ کو یاد ہے کہ مرزائیوں کے متعلق جب ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کا فیصلہ ہوا تو مرزائیوں کے خلیفہ ناصر احمد سے دریافت کیا گیا کہ آپ اس فیصلے کے متعلق اپنا رد عمل بتائیں اور اس فیصلے پر تبصرہ کریں۔ مرزا ناصر احمد نے کہا تھا کہ میں ابھی اس فیصلے پر نہ کوئی تبصرہ کرنا چاہتا ہوں اور نہ ہی اپنا رد عمل بتانے کو تیار ہوں۔ میں اس کے متعلق اپنا رد عمل اور تبصرہ جنوری یا فروری میں ظاہر کروں گا۔
جناب والا! حیات محمد خان صاحب کا قتل بھی فروری کے اوائل میں ہو گیا ہے اور اس قتل کے بعد پورا ملک ایک زبردست بحران میں داخل ہو گیا ہے۔ ۷ ستمبر کے فیصلہ کے بعد مرزائی مجلس کے رہنماؤں کے علاوہ بھٹو صاحب پر سخت ناراض ہیں۔ وہ اب اس کوشش میں ہیں کہ بھٹو کو راستے سے ہٹا دیا جائے اور کسی ایسی شخصیت کو برسر اقتدار پر لایا جائے جو ترمیم کو منسوخ کر کے مرزائیوں کے متعلق فیصلہ واپس لے لے۔ اس لئے ہم نے فیصلہ میں ایک بات یہ منوائی تھی کہ کلیدی آسامیوں سے تمام مرزائی علیحدہ کر دیئے جائیں۔ بھٹو صاحب نے یہ فیصلہ مان لیا تھا۔ لیکن ابھی تک اس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ مرزائی بھٹو کی جان کے دشمن ہیں۔ ان کا کلیدی آسامیوں پر متعین رہنا اب عقلمندی اور دانشمندی کے خلاف ہے۔ آپ کے علم میں ہے کہ ان دنوں صوبہ سرحد کے انسپکٹر جنرل پولیس مرزائی ہے۔ یہ وہ شخص ہے جس پر حیات محمد خان کی جان کی ذمہ داری تھی۔ لیکن وہ اپنے عقیدہ کی رو سے نہ صرف حیات محمد شیر پاؤ بلکہ بھٹو صاحب کا بھی جانی دشمن ہے۔ ایسے حالات میں آپ بھٹو صاحب تک ہماری آواز پہنچائیں کہ وہ مرزائیوں کو تمام کلیدی آسامیوں سے علیحدہ کریں۔
دوسری جس بات کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ جب تحریک کا فیصلہ ہوا تھا اور عوام کے مطالبے کے مطابق مجلس عمل کے رہنماؤں اور ملک کے وزیر اعظم کے درمیان ایک سمجھوتہ طے پا گیا تھا۔ تو یہ بھی طے ہوا تھا کہ تحریک کے دوران جتنے مقدمات درج ہوئے تھے وہ واپس لے لئے جائیں گے۔ دوسرے صوبوں میں تو وہ مقدمات حسب وعدہ واپس لے لئے گئے۔ لیکن پنجاب کی حکومت نے کوئی مقدمہ واپس نہیں لیا۔ ہماری معلومات کے مطابق کوئی دو اڑھائی ہزار مقدمات عدالتوں اور تھانوں میں موجود ہیں۔ اس کی وجہ شاید ہے کہ پنجاب حکومت بھٹو صاحب اور دینی حلقوں کے درمیان کشیدگی ختم کرنا نہیں چاہتی۔ آپ بھٹو صاحب کو حقیقت حال سے آگاہ کریں۔ تاکہ یہ مقدمات واپس ہوں اور ملک کی فضا سازگار ہو سکے۔
(لولاک مورخہ ۲۸؍فروری ۱۹۷۵ء، چٹان مورخہ ۲۰؍فروری)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ۱۱۱ ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
حضرت مولانا تاج محمود صاحب کے مطالبہ کے کچھ عرصہ بعد صوبہ سرحد میں وزارتی کونسل توڑنے کا عمل وجود میں آیا۔ جس میں صوبہ سرحد کے انسپکٹر جنرل پولیس میاں بشیر احمد مرزائی کو بھی فارغ کر دیا گیا اور اس کی جگہ مرکزی سپیشل پولیس کے انسپکٹر جنرل یوسف اور کزئی صاحب کو بنایا گیا جو ایک دیندار اور دیانتدار پولیس افسر تھے۔ وزیر اعظم بھٹو صاحب کو اس جرأت مندانہ اور مومنانہ جرأت مندانہ اقدام پر ملک بھر میں خراج تحسین پیش کیا گیا۔
مولانا عبید اللہ احرار کی وفات
۲۰؍فروری ۱۹۷۵ء کو برصغیر پاک و ہند کے ممتاز سیاسی رہنما اور مجلس احرار اسلام پاکستان کے صدر مولانا عبید اللہ احرار خالق حقیقی سے جا ملے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون!
وفات دل کے دورے کے باعث ہوئی۔ انہیں ہسپتال داخل کر دیا گیا۔ طبی امداد بہم پہنچائی گئی۔ لیکن قضائے الہی کے سامنے کوئی تدبیر کارگر نہ ہوسکی اور رحلت فرما گئے۔ مولانا عبید اللہ احرار فیروز پور کے رہنے والے اور تحریک مجاہدین سے تعلق رکھنے والے ایک مجاہد حاجی نور محمد فیروز پوری کے فرزند ارجمند تھے۔ انگریز دشمنی اور دینی حمیت دونوں چیزیں انہیں اپنے والد سے ورثہ میں ملی تھیں۔ وہ ہوش سنبھالتے ہی تحریک آزادی ہند سے وابستہ ہوگئے تھے۔ چنانچہ پنجاب کے حریت پسند اور انگریز دشمن گروہ نے جب ۱۹۳۱ء میں لاہور حبیبیہ ہال میں پہلی دفعہ مجلس احرار اسلام کی بنیاد رکھی تو مولانا عبید اللہ احرار بھی اس اجتماع میں موجود تھے اور آغاز ہی سے حمایت میں نام لکھوا کر اس کے بانی ممبران میں شامل ہوگئے تھے۔
مجلس احرار اسلام نے ملک کی آزادی اسلام کی سربلندی اور غریبوں کی سرفرازی کے لئے جتنی تحریکیں لڑیں مولانا عبید اللہ احرار ان تمام مہمات میں شریک رہے اور ہر طرح کی قربانیاں دیتے رہے۔ تحریک کشمیر میں آپ نے دوسرے رہنماؤں کے دوش بدوش حصہ لیا اور اس سلسلہ میں ایک عرصہ تک قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ مجلس احرار کی ۱۹۳۹ء کی تحریک فوجی بھرتی بائیکاٹ میں بھی آپ نے بھر پور حصہ لیا۔ اسی طرح ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں آپ نے پرزور حصہ لیا۔ ۲۸؍فروری ۱۹۵۳ء کو تحریک شروع ہوتے ہی پنجاب کے جو تیس رہنما پہلے دن گرفتار ہوئے تھے مولانا موصوف بھی ان میں گرفتار ہوئے۔ کوئی ایک ماہ تک لائل پور جیل میں رہے اور پھر اس کے بعد کیمبل پور جیل میں پہنچا دیئے گئے۔ چنانچہ بقیہ نظر بندی کا زمانہ انہوں نے کیمبل پور جیل ہی میں گزارا۔
آپ مجلس احرار کی صف اوّل کے رہنما تھے۔ شیخ حسام الدین کی وفات کے بعد ۱۹۷۶ء میں مجلس احرار پاکستان کا صدر انہیں چن لیا گیا اور وفات کے وقت تک وہ اس منصب پر فائز تھے۔ وہ ماسٹر تاج الدین انصاری اور شیخ حسام الدین کی وفات کے بعد احرار کی تنظیم نو کے لئے بڑی جدوجہد کرتے رہے اور اس سلسلہ میں وہ بڑی تکالیف آزمائشوں اور پریشانیوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتے رہے۔ مولانا ذیابیطس کے مریض تھے۔ ذیابیطس کی وجہ سے ان کے بائیں پاؤں میں زخم کی تکلیف تھی۔ اس تکلیف کے باوجود وہ جماعتی سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہے اور امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے سرخ پرچم کو بلند رکھے رہے۔ کچھ دنوں سے ان کے پاؤں کی تکلیف کو بالکل آرام آگیا تھا اور وہ اب جماعتی سرگرمیوں کو تیز کر دینے کے لئے پر تول رہے تھے کہ قدرت کی طرف سے انہیں بلاوا آگیا۔ اچانک دل کا دورہ پڑا اور دو دن کے بعد انہوں نے اپنی مجاہد روح جان آفریں کے سپرد کر کے پورے ملک کے احرار ساتھیوں اور دینی حلقوں کو سوگوار کر دیا۔ مولانا کی وفات حسرت آیات مقامی اور قومی اخبارات اور ریڈیو پاکستان کے ذریعہ ملک کے کونے کونے میں پہنچ گئی تھی۔ دور دراز
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
کے علاقوں سے لوگ ان کے جنازہ میں شرکت کے لئے فیصل آباد پہنچ گئے تھے۔ لاہور ، سیالکوٹ ، گوجرانوالہ اور دوسرے شہروں سے مولانا کے وفادار سرخپوش احرار رضا کار بھی پہنچے ہوئے تھے۔ ان کی جماعت اہل حدیث کے رفقاء اور احباب بھی مختلف شہروں سے آ گئے تھے۔ سب سے آگے مجلس احرار کے تین سرخ سرنگوں پرچم جا رہے تھے۔ ان کے پیچھے سینکڑوں سرخ پوش رضا کاروں کی قطاریں سر جھکائے مارچ پاسٹ کرتی ہوئی جا رہی تھیں۔ ان کے پیچھے مولانا کا جنازہ تھا۔ چارپائی سے لمبے لمبے بانس باندھے ہوئے تھے۔ لوگ بڑی عقیدت اور محبت کے ساتھ باری باری کندھا دینے کی سعادت حاصل کر رہے تھے۔ جنازہ کے دونوں طرف مولانا عبدالقادر روپڑی ، میاں فضل حق ، مولانا تاج محمود ، چوہدری ثناء اللہ بھٹہ ، سالار معراج دین ، چوہدری محمد عالم بٹالوی ، چوہدری برکت علی ، شیخ محمد بشیر ، شیخ عبدالحمید اور دوسرے بیسیوں احرار رہنما چل رہے تھے۔ جنازہ کے پیچھے ہزاروں مداحوں اور عقیدتمندوں کا جلوس تھا۔ کوئی پانچ بجے کے قریب یہ جم غفیر زرعی یونیورسٹی کی گراؤنڈ میں پہنچ گیا۔ جنازہ پہنچنے سے قبل وہاں ہزاروں لوگ صفوں میں بیٹھے جنازہ کے منتظر تھے۔
مولانا عبداللہ صاحب نے مولانا کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ جنازہ کی نماز میں شاید ہی کوئی آنکھ ہو جو اشک بار نہ ہوئی ہو۔ جنازہ کے بعد بڑے قبرستان میں ۱۹۵۳ء کے شہیدوں کی قبروں کے متصل شہداء گیٹ کے اندر (جو کچھ عرصہ پیشتر مولانا مرحوم نے ہی تیار کروایا تھا) مولانا کو ان کی آخری آرام گاہ کے کنارے پہنچایا گیا۔ مولانا کے بڑے صاحبزادے سیف اللہ ، مولانا تاج محمود اور مولانا کے ایک ہمسایہ شفیع نے انہیں لحد میں اتارا۔ احرار رضا کاروں نے بارہ گولوں کی سلامی دی۔ مولانا کے دوست حاجی محمد طفیل صاحب نے قبر پر اینٹیں دیں اور اس طرح مولانا موصوف کا نورانی چہرہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے حجاب پوش ہو گیا۔ مولانا بڑے بہادر ، مجاہد ، محنتی ، مخلص اور دیندار شخصیت کے مالک تھے۔ جماعتی زندگی کے علاوہ جمعیت اہل حدیث کے سرگرم کارکن بھی تھے۔ مزاج معتدل تھا۔ تعصب نام کو نہ تھا۔ اہل حدیث مکتب فکر کی مشہور درسگاہ جامعہ سلفیہ میں انہوں نے بڑی محنت کی اور دوسرے مخیر حضرات سے مل کر اس درسگاہ کی تعمیر اور ترقی میں حصہ لیا۔
مولانا مرنجاں مرنج اور باغ بہار انسان تھے۔ ذہین اور معتدل شخصیت تھے۔ طبیعت میں سادگی تھی۔ انتہائی شریف با اخلاق اور ملنسار تھے۔ دوستوں کے دوست بلکہ دشمنوں کے بھی دوست تھے۔ حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا۔‘‘
(لولاک مؤرخہ یکم / مارچ ۱۹۷۵ء)
جماعت کے لئے نئے مرکز کا منصوبہ
مولانا محمد علی جالندھری کی امارت کے دوران شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوری نے مجلس شوریٰ کی رکنیت قبول فرمائی تھی۔ تب پہلی دفعہ علامہ بنوری صاحب مجلس کے سابقہ دفتر ملتان تغلق روڈ تشریف لائے تھے۔ مرکزی شوریٰ کے اجلاس میں شرکت کرنا مقصد تھا۔ ان دنوں وہ دفتر نیا نیا بنا تھا۔ حضرت بنوری نے جہاں دفتر کی وسیع وعریض عمارت دیکھ کر بے حد خوشی کا اظہار کیا ، وہاں اظہار تاسف بھی کہ سنت رسالت مآب ﷺ کے منافی اقدام ہوا ہے۔ حضور ﷺ کی سنت مقدسہ یہ ہے کہ پہلے مسجد، بعد آبادی، آپ نے دفتری ضروریات کے لئے اتنی عظیم عمارت کھڑی کر لی جو مستقبل میں دینی تبلیغ ، اصلاح اور رشد کا مرکز ہو۔ لیکن مسجد تعمیر نہ کی؟
کرشمۂ قدرت مرکزی امارت کا عہدہ مرحوم امراء کے بعد حضرت شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوری نے قبول فرمالیا۔ تب دفتر کے ملحق تعمیر مسجد کے لئے بار ہا کوشش فرمائی۔ مرکزی دفتر کے متصل ایک قطعہ اراضی برائے فروخت تھا۔ لیکن مالک مکان نے دفتر کی ضرورت کے پیش نظر بازار کے نرخ سے کئی گنا زائد رقم طلب کی۔ شیخ الاسلام نے فرمایا۔ رقم جو بھی خرچ ہو، کرلو۔ لیکن مسجد کے لئے اراضی
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
خرید لو۔ کارساز ما در فکر ما۔ کوشش کی گئی لیکن اراضی فراہم نہ ہوسکی۔ اس بناء پر کسی دوسرے مقام پر جماعت کے نئے مرکز ، مسجد ، دارالمبلغین اور لائبریری کی تعمیر کا فیصلہ ہوا۔ باہم مشورہ کے بعد حضوری باغ روڈ کا انتخاب کیا گیا۔ کیونکہ یہ جگہ ملتان کالج ، یونیورسٹی اور بڑی بڑی کالونیوں جیسے گلگشت اور شمس آباد سے قریب تھی۔ رحمانیہ کاپی گھر کے مالک حاجی عبدالقیوم صاحب مدنی مدظلہ کو جب جماعت کی اس ضرورت کا پتہ چلا تو انہوں نے خود کو اپنے موٹر سائیکل سمیت اس دوڑ دھوپ کے لئے وقف کر دیا۔ کوٹلہ سادات کے سادات کرام کی حضوری باغ روڈ پر ایک عمارت مشتمل برقبہ ۵۰ مرلہ ( اڑھائی کنال) تھی۔ حاجی عبدالقیوم نے بار بار کوٹلہ سادات کا رخ کیا اور سادات کرام کے ساتھ اس جگہ کا سودا طے کر لیا۔ ملک محمد شفیع انیس ایڈووکیٹ ملتان جن کا روحانی تعلق حضرت امیر شریعت قدس سرہ سے تھا۔ انہوں نے نہ صرف قانونی امور میں بلکہ عملی جدوجہد میں فی سبیل اللہ مکمل حصہ لیا۔ اللہ بھلا کرے سادات کرام کا کہ انہوں نے مجلس کو بخوشی یہ زمین دے دی۔ جب تک خرید وفروخت کا رجسٹری معاہدہ، جائیداد پر مکمل قبضہ نہ ہو گیا ملک محمد شفیع صاحب نے تن من دھن سے امداد فرمائی۔ اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو انوارات سے بھر دے۔
نئے دفتر میں حضرت بنوری کی آمد
جنوری ۱۹۷۵ء میں تمام مکاتب فکر کے علماء دین اور مہتمم مدارس عربیہ کا کنونشن خیر المدارس ملتان میں منعقد ہوا۔ خیر المدارس کے دارالحدیث میں علماء کا یہ اجتماع دینی مدارس کو حکومت کے کنٹرول میں لینے کے متعلق غور وخوض کرنے کے لئے منعقد ہوا تھا۔ حضرت شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوری امیر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان اس میں شرکت کے لئے تشریف لائے۔ کارکنان مجلس مرکز یہ تحفظ ختم نبوت ملتان نے صبح دس بجے دفتر کی اس نئی عمارت میں حضرت کی تشریف آوری کا اعلان کر دیا۔ حضرت بنوری کے علاوہ حضرت مفتی اعظم مولانا مفتی محمود، شیخ الحدیث مولانا عبدالحق صاحب، مولانا سید محمود احمد رضوی جنرل سیکرٹری مجلس عمل تحفظ ختم نبوت و جنرل سیکرٹری اتحاد المدارس العربیہ، مولانا مفتی زین العابدین فیصل آباد، حضرت مولانا عبدالرحیم اشرف، قاری سعید الرحمٰن راولپنڈی، سردار امیر عالم لغاری کراچی نے بھی شرکت کی۔
یہ ملتان شہر کے بہت سے مذہبی، سماجی اور کاروباری حضرات کا اجتماع تھا۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا سید منظور احمد شاہ حجازی مرکزی مبلغ تحفظ ختم نبوت نے انجام دیئے۔ تلاوت کلام کے بعد اس اجتماع سے حضرت مولانا مفتی محمود نے خطاب فرمایا۔ باوجود اس کے کہ آپ کو ڈاکٹروں نے ہدایت کی تھی کہ آپ مکمل آرام کریں۔ شوگر نے خطرناک صورت اختیار کر لی ہے۔ حضرت مفتی صاحب نے جماعت کی گزشتہ تاریخ پر اجمالی تبصرہ فرمایا اور تعمیر جامع مسجد ختم نبوت و کامیاب مرکز کے لئے دعا فرمائی۔ ازاں بعد حضرت شیخ الاسلام علامہ بنوری نے عالمی تبلیغ اسلام کے عظیم منصوبے کی تفصیلات بیان فرمائیں اور مبلغین ختم نبوت کے لئے قیمتی نصائح ارشاد فرمائیں۔ اجلاس سے مولانا سید محمود احمد رضوی اور دوسرے حضرات نے بھی خطاب فرمایا۔ ان حضرات کی تشریف آوری اور ارشادات سے ملتان کے عوام کے دلوں میں اس جگہ کے لئے خصوصی توجہ اور تعارف پیدا ہوا۔ حضرت بنوری نے فیصلہ فرمایا کہ مذکورہ قطعہ اراضی میں جامع مسجد ، مدرسہ، دارالمبلغین، لائبریری اور مرکزی دفتر کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ آج بحمد اللہ ! حضرت بنوری کے اس خواب کی تعبیر مل گئی ہے۔ اس اراضی پر حفظ کا مدرسہ، دارالمبلغین جہاں ہر تیسرے ماہ تمام مبلغین کا اجلاس ہوتا ہے۔ ایک عظیم الشان لائبریری، مرکزی دفتر اور ایک خوبصورت مسجد ایستادہ ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت کے قبر مبارک کو نور سے بھر دے۔‘‘
(لولاک، ۲۸ فروری ۱۹۷۵ء)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
مرزائیوں کا سالانہ جلسہ
مرزائی امت ہر سال سالانہ جلسہ منعقد کراتی تھی۔ اب چونکہ وہ آئین میں غیر مسلم قرار دیئے گئے تھے۔ اس لئے اپنی گرتی ساکھ اور مذہب کو سہارا دینے کے لئے مرزا ناصر نے یہ بڑ ہانک دی کہ اس سال ہمارے جلسے میں اندرون و بیرون ملک سے ایک لاکھ قادیانی شرکت کریں گے۔ ایک خبر یہ تھی کہ ہندوستان سے بھی ۵۰۰ قادیانیوں کا ایک قافلہ ربوہ یاترا کے لئے آ رہا ہے۔ یہ جلسہ ۲۶ اور ۲۷ دسمبر ۱۹۷۴ء کو ربوہ میں ارتعاش پیدا کر کے ختم ہو گیا۔ جتنا مرزائیوں نے پروپیگنڈا کیا تھا۔ جتنی پبلسٹی کی تھی۔ اس حساب سے حاضری نہ ہونے کے برابر تھی۔ سب کچھ محض نمائشی پروپیگنڈا تھا۔ قادیانی جماعت کے خاص مہروں کے سوا جو مختلف ملکوں میں بین الاقوامی استعمار کے گماشتوں کی حیثیت رکھتے تھے۔ کسی ملک سے کوئی وفد نہیں آیا۔ صرف اکا دکا آدمی آئے۔
سالانہ اجتماع میں شرکت کرنے والے لوگوں کے مطابق اس دفعہ حاضری بہت کم رہی۔ ہر مرزائی مایوس اور پریشان تھا۔ اگرچہ مرزا ناصر نے مرزائیوں کو مطمئن کرنے، ان کی ڈھارس بندھانے کی بہت کوشش کی۔ لیکن حقیقت کسی طرح بھی چھپ نہیں سکتی۔ ۱۹۷۵ء میں ربوہ کی آبادی ۱۴ ہزار نفوس پر مشتمل تھی۔ ظاہر ہے کہ پورا ربوہ جلسہ میں شرکت کرتا تھا۔ اس کے باوجود جلسہ کی زیادہ سے زیادہ حاضری دس پندرہ ہزار کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ (نمائندہ نوائے وقت کے مطابق) جلسہ میں حاضری کی کمی کی ایک وجہ یہ بھی بتائی گئی کہ ہر سال مرزائی ذاتی تعلقات کی بنیادوں پر ہزاروں مسلمانوں کو جلسہ گاہ میں لاتے تھے۔ بلکہ جماعت کی طرف سے ہر مرزائی کے ذمہ ڈیوٹی تھی کہ وہ اپنے خرچہ پر کم از کم دو تین مسلمانوں کو ہمراہ لائے۔ تاکہ اگر دس ہزار مرزائی جمع ہوں تو مجمع پچاس ہزار کا نظر آئے۔ اس دفعہ خود مسلمان بھی مرزائیوں کے غیر مسلم قرار دیئے جانے کے باعث اس جلسہ میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ”دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی“ ہو گیا۔ مرزائیوں کی اصلی طاقت اور تعداد سامنے آ گئی۔ جھوٹ اور بناوٹ کے تمام پردے اتر گئے۔ یہی حال بیرون ملک مقیم مرزائیوں کا ہوا۔ کیونکہ ہر سال جو بیرون ممالک کے مرزائی جلسے میں آتے تو مرزائیت کو عین اسلام سمجھ کر آتے۔ مگر اب جب کہ مرزائیت کی حقیقت ان پر کھل گئی تو وہ مرزائیت سے بغاوت اختیار کر گئے۔ کیونکہ کوئی نومسلم ایک کفر سے نکل کر دوسرے کفر میں مبتلا ہونا پسند نہیں کرتا۔
سالانہ جلسہ کے دوران ربوہ میں مسلمانوں کی آزادانہ آمد و رفت پر پابندی تھی۔ حالانکہ اس سے قبل جب بھی یہ موقع آتا تو کھلے عام اجازت ہوتی تھی۔ کوئی قدغن نہ تھی۔ حکومت کی طرف سے بھی سیکورٹی کے زبردست انتظامات تھے۔ لیکن قادیانیوں کا خفیہ نظام خود بھی پوری طرح حرکت میں تھا۔ مرزا ناصر اور ان کے مشیران اعلیٰ نے بھی فوج اور پولیس کے بعض ریٹائرڈ افسروں کی زیر نگرانی اپنی ایک خفیہ پولیس قائم کی تھی۔ جس کے ارکان کی تعداد تو معلوم نہ تھی۔ لیکن یہ جماعت مرزائیت کے تحفظ کے لئے ہمہ تن مستعد رہتی تھی۔ مرزا ناصر احمد قصر خلافت سے جلسہ گاہ میں آئے تو کوئی سوا سو مسلح نوجوان ان کے آگے پیچھے تھے اور جہاں سے انہیں تقریر کرنا تھی۔ اس کے چاروں طرف پچیس، پچیس گز حفاظتی گارڈ کے مسلح نوجوان مامور تھے۔ ایک عجیب بات کہ مرزائی خدمت خلق کے رضا کار ٹریفک کنٹرول کر رہے تھے۔ جب کہ ٹریفک پولیس کے اہل کار سڑک کے کنارے منہ لٹکائے کھڑے تھے۔ خدام الاحمدیہ کے رضا کار پنڈال میں داخلے کے چھ دروازوں پر ہر شخص کی تلاشی لیتے تھے۔ اس سے استثناء صرف خاص نشان اور ایک کوڈ ورڈ بتانے والوں کو حاصل تھا۔ مرزا ناصر احمد کے چہرے سے اس کے دماغی اتار چڑھاؤ کا اندازہ ہو رہا تھا۔ لگ رہا تھا کہ وہ سخت قسم کی اندرونی کشمکش میں مبتلا ہے۔ اس کی تقریر میں بھی گزشتہ سالوں کی طرح
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
جماعتی رعونت نمایاں نہ تھی۔ اپنی تقریر کے دوران اس نے کہا: ”احمدیت کا صدر دفتر پاکستان سے باہر منتقل نہیں کیا جائے گا۔ پاکستان کی سرزمین ہماری ماں ہے اور ماں کے پاؤں تلے جنت ہوتی ہے۔ ہم پاکستان کو چھوڑ کر نہیں جاسکتے۔ یہ ملک ہمارا ہے۔ ہم اس کے لئے قربانیاں دیتے رہے ہیں اور دیتے رہیں گے ۔“ (آج دنیا شاہد ہے کہ مرزائیوں نے ”اپنی ماں“ کو غیروں کے ہاتھوں میں چھوڑ اپنی حقیقی ماں ملکہ برطانیہ کی آغوش میں پناہ لئے بیٹھے ہیں)
مرزا ناصر کی تقریر پر آغا شورش کاشمیری کا تبصرہ
مرزا ناصر احمد کی تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے آغا شورش کاشمیری نے لکھا: ”ممکن ہے مرزا ناصر قادیانی کے ان خیالات پر ان کی جماعت کو اعتماد ہو یا سرکاری حلقوں میں کوئی فرد یا چند افراد ان کے الفاظ پر بھروسہ کریں۔ ورنہ قادیانی امت کی تاریخ یہ ہے کہ وہ ہوا کے رخ پر چلتی ہے۔ مرزا ناصر احمد نے پاکستان کو اپنی ماں بنالیا ہے۔ لیکن انہیں نہ تو اپنے ابا جان مرزا بشیر الدین آنجہانی یاد رہے اور نہ ان کا ذہن ”بہشتی مقبرے“ میں اپنے خاندان کی قبروں پر گیا۔ ہم ناصر احمد کی جدید راگنی کو درست سمجھیں یا ان کے ابا جان کو صحیح مانیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہندوستان تقسیم ہو گیا تو ہم بہت جلد اس کو ملا دیں گے۔ مرزا ناصر احمد کو اپنے والد محترم کے الفاظ اچھی طرح یاد ہوں گے۔ اگر وہ انکار کریں تو ہم انہیں تاریخ، سن اور الفضل کے صفحے کا حوالہ دے کر بتا سکتے ہیں۔ اس کا تذکرہ منیر انکوائری رپورٹ میں بھی ہے۔ از راہ کرم مرزا ناصر احمد وضاحت کریں کہ پاکستان ان کی ماں ہے تو انہیں یہ ”احساس“ یا ”الہام“ کب ہوا اور جو کچھ آپ کے والد کہہ گئے ہیں۔ کیا اس پر آپ نے خط تنسیخ کھینچ دیا ہے؟ کیا آپ نے اپنے والد کی قبر سے امانتاً دفن کئے جانے کا کتبہ ہٹا دیا ہے؟ اگر آپ ماں سے اتنے ہی محب و مخلص ہیں تو پھر اس کی آغوش سے نکل کر قادیان جانے کا اشتہار مردوں کی قبروں پر کس لئے چپکا رکھا ہے؟ ساتھ ہی از راہ کرم! یہ بتائیے پاکستان آپ کی ماں ہے تو ہندوستان آپ کا کیا ہے؟ کیا آپ اس کو باپ کا درجہ دیتے ہیں؟ ہم تو آپ کو مسلمان نہیں سمجھتے۔ لیکن یہ کہئے کہ وطن کے لئے ماں کا تصور آپ نے کہاں سے حاصل کیا۔ آپ اس پر روشنی ڈالیں تو ہم آپ سے اس موضوع پر مزید گفتگو کر سکتے ہیں۔ ہمارے لئے آپ کا یہ ارشاد عجیب و غریب ہے کہ پاکستان سارے قادیانیوں کا وطن ہے اور اس کے لئے قربانیاں دی ہیں۔ ہم ممنون ہوں گے۔ اگر آپ ایک قادیانی کا نام لیں۔ جس نے اس ملک کے لئے کوئی قربانی دی ہے۔ ان قربانیوں کی فہرست کیا ہے جو آپ نے اس ملک کے لئے کی ہیں اور آئندہ بھی ان قربانیوں کے لئے آپ تیار ہیں؟ مرزا ناصر ناراض نہ ہوں تو ہم ان کی خدمت میں ایک شعر عرض کریں۔
رہا یہ اعلان کہ صدر دفتر پاکستان سے باہر منتقل نہیں کیا جائے گا تو عرض ہے۔ اس اعلان میں آپ نے اتنی دیر کیوں کی؟ آپ پونے چار ماہ تک اس سلسلہ میں خاموش رہے۔ اب ظفر اللہ خان، ایم ایم احمد اور عبدالسلام سے مشورے کے بعد آپ کا یہ ارشاد محض ایک سیاسی شوخی ہے۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ آپ نے کئی جگہ آباد ہونے کے لئے اندر خانہ کوشش کی۔ لیکن آپ کی شاخ ثمر آور نہ ہوسکی۔ انگلستان یا امریکہ میں آپ کے لئے کوئی ساربو نہیں بن سکتا۔ کیونکہ نہ تو وہاں آپ کی ضرورت ہے اور نہ قادیانی امت اس کے بعد سیاسی طور پر مفید رہ جاتی ہے۔ آپ کی ضرورت عالمی استعمار کو اسلامی ملکوں میں ہے اور وہ آپ کو جسمانی تحفظ کا یقین دلا کر پاکستان ہی میں رکھنا چاہتے ہیں۔ چوہدری ظفر اللہ خان نے بھارتی نمائندوں سے گفتگو کی۔ لیکن بیل، منڈھے نہ چڑھی۔ آپ نے آسٹریلیا میں من حیث الجماعت آباد ہونا چاہا۔ لیکن وہاں سے بھی نیم پختہ وعدے کے بعد انکار ہو گیا۔ آپ نے افریقی ممالک میں جال بچھانا چاہا۔ لیکن اب ان ممالک کی زمین بھی
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
آپ کے لئے تنگ ہوچکی ہے اور کسی افریقی ملک میں آپ کے لئے کوئی گنجائش یا فضا نہیں ہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ آپ پاکستان سے چلے جائیں۔ لیکن اتنی بات اپنے ذہن میں ضرور رکھیں کہ آپ پاکستان میں کسی عالمی طاقت کی شہ پر کوئی گل نہیں کھلا سکے۔ پاکستان آپ سے باخبر ہے اور انشاء اللہ ہر مرحلہ میں خبردار رہے گا۔ آپ نے کسی موڑ پر کوئی سیاسی ناٹک رچانا چاہا تو عوام کا احتساب اتنا شدید ہوگا کہ پاکستان میں آپ کے لئے سانس لینا مشکل ہو جائے گا۔ پاکستان آپ کو ایک وفادار اقلیت کی حیثیت میں ہر ممکن تحفظ دے سکتا ہے۔ لیکن آپ کو یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ کوئی سیاسی ناٹک رچائیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ: ”۱۹۴۷ء میں ہمارے خاندان نے ساڑھے تین کروڑ روپے سے زائد کی جائیداد قادیان میں چھوڑی ہے۔ ہم خالی ہاتھ یہاں آئے، خدا نے آسمانوں سے فرشتوں کو بھیجا اور انہوں نے ہماری ساری ضروریات پوری کیں۔“
نہ جانے مرزا ناصر یہ بڑ ہانک کر کن لوگوں کو مطمئن کرنا چاہتے تھے۔ سارا قادیان بھی ساڑھے تین کروڑ کا نہ تھا۔ آپ کے خاندان نے ساڑھے تین کروڑ روپے کی جائیداد کیسے چھوڑی؟ وہ جائیداد کہاں سے آئی؟ مرزا غلام احمد تو عوام کے چندوں پر گزارا کرتے تھے۔ بشیر الدین محمود نے کوئی صنعت نہیں لگائی، نہ تجارت کی۔ اپنی خانہ ساز خلافت میں مسند پر فروکش رہے۔ پھر یہ ساڑھے تین کروڑ کی جائیداد کس طرح حاصل ہوئی؟ رہا یہ سوال کہ آپ خالی ہاتھ آئے تھے تو خدا نے آسمانوں سے فرشتوں کو بھیجا انہوں نے اس کی ساری ضرورتیں پوری کیں۔ غالباً ان فرشتوں کے معلم الملکوت گورنر موڈی تھے۔ جنہوں نے ربوہ الاٹ کیا اور باقی فرشتے محکمہ بحالیات کے وہ افسر ہوں گے۔ جن سے آپ نے جائیداد حاصل کی یا پھر بعض سرکاری افسر جو مرزائی امت کی خوشحالی کا باعث ہوئے۔ اس سلسلہ میں ایک بڑا فرشتہ اسرائیل بھی ہے جس نے گزشتہ انتخاب میں آپ کی تجوریوں کو بھر دیا۔ مرزا ناصر احمد نے اپنے دادا مرزا غلام احمد کے مہدی ہونے پر جو کچھ کہا۔ ہمارے نزدیک وہ ان کی ابلیسانہ شوخی ہے۔ جب انہیں دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا جاچکا ہے تو پھر انہیں اسلام کی اصطلاحیں اپنی ذات پر استعمال کرنے کا حق کیا ہے؟ ہم منتظر ہیں کہ حکومت اس سلسلہ میں کب کوئی قانون وضع کرتی ہے۔ اب یہ برداشت نہیں کیا جاسکتا کہ ایک جماعت آئین کی رو سے دائرہ اسلام سے خارج ہو اور وہ اپنے لئے اسلام کے القاب اور اسلام کی اصطلاحیں استعمال کرے۔
مرزا ناصر احمد نے ۲۷؍دسمبر ۱۹۷۴ء کو اعلان کیا کہ جماعت احمدیہ کوئی سیاسی جماعت نہیں ہے۔ حیرت ہے کہ مرزا ناصر نے اپنی حقیقت سے انکار کیا۔ اگر ان کی جماعت سیاسی جماعت نہیں ہے تو پھر کیا ہے؟ اگر ان کے دادا جان کو انگریزوں کی سیاسی ضرورت پیدا نہ کرتی تو ان کے ابا جان ایک سیاسی شاطر نہ ہوتے اور وہ خود ۱۹۷۱ء کے الیکشن میں سیاسی طور پر ڈنٹر نہ پیلتے تو قادیانی امت کا وجود عنقا ہوتا۔ مرزا ناصر کا یہ فقرہ بہت دلچسپ ہے کہ خدا کی نظروں میں جماعت احمدیہ کے لئے پیار کا سمندر موجزن ہے۔ نہ جانے اس قسم کے مہمل فقرے بول کر مرزا ناصر کس کو شکار کرنا چاہتے ہیں۔ تعجب ہے کہ اس زمانے میں بھی قادیانی جماعت کے پڑھے لکھے اور غیر پڑھے لکھے افراد اس قسم کی باتیں سنتے ہیں۔ اس فقرے کا مطلب واضح کیجئے کہ مرزا ناصر نے کیا کہنا چاہا ہے۔
(چٹان مؤرخہ ۶؍جنوری ۱۹۷۵ء)
غیر مسلم قرار دیئے جانے کے بعد اور دنیا بھر میں ذلیل و رسوا ہونے کے بعد مرزائی عرصے تک انتہائی ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے رہے اور مرزا ناصر احمد اپنے خطبوں اور الفضل اپنی تحریروں میں ”غلبۂ احمدیت“ کی خوش خبریاں سنا رہے تھے۔ مرزا ناصر نے ۲۱؍فروری ۱۹۷۵ء کو اپنے خطبہ جمعہ میں کہا کہ احمدیت کا غلبہ پوری دنیا پر دیکھ رہا ہوں۔
مرزا ناصر کے متبعین اور مرزا ناصر بذات خود اپنی پرانی پیشین گوئیوں کو آزما چکے تھے۔ ان پیشگوئیوں کے الٹ نتائج ان کے مشاہدہ سے گزرے تھے۔ لیکن ان کے متبعین کی آنکھیں عقیدت کی پٹیوں سے بندھی ہوئی تھیں۔ اس لئے ان کو مرزا ناصر کی یہ اوٹ پٹانگ پیشین
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
گوئیاں صحیح لگ رہی تھیں۔ لاہوری جماعت سے تعلق رکھنے والا مرزا کا یہ پیروکار مرزائیوں کی مدح میں کیا لکھتا ہے۔ سنئے اور سر دھنئے۔
مرزائی مذہب کی کہانی ان کی زبانی
ایک طرف مرزا ناصر دعوؤں پر دعوے کر رہا تھا۔ بشارتیں اور اپنے مذہب کا غلبہ بیان کر رہا تھا۔ دوسری طرف لاہوری جماعت کا ایک مرزائی جماعت کی اخلاقی خرابیوں اور بداعمالیوں کا رونا رو رہا تھا۔ لکھتا ہے: ”آج جماعت اپنی لاہوری اور ربوی قادیانی (شاخوں سمیت) ملت اسلامیہ کے سوادِ اعظم کے سیلاب سے کٹ کر ایک جوہڑ کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ یہ ملت کا ترقی پسند، صحتمند اور فعال حصہ بننے کی بجائے ایک جامع رجعت پسند اور بیمار عضو بن چکی ہے اور ربوائی گروہ تو ملت کی پاسبانی کرنے کی بجائے اپنے بعض غلط اور گمراہ کن عقائد اور اعمال کی وجہ سے خود ہی اس ملت کے وجود کے لئے ایک خطرہ بن چکا ہے۔ جماعت کے اجتماعی زاویہ نگاہ اور طرز فکر پر جاگیرداری عہد کی غیر استقرائی عقلیت کا مکمل قبضہ ہو چکا ہے۔ اس عقلیت کی وجہ سے وہ چند فرسودہ اور بار بار دہرائے جانے والے عقائد کے علاوہ کسی ایسے زندہ اور صحت مند فلسفہ حیات کی حامل نہیں رہی جو عصر حاضر کے فکری اور عمرانی مسائل کو تخلیقی اور اجتہادی اساس پر حل کرنے کی اہلیت رکھتا ہو۔ اس غیر سائنسی عقلیت کی وجہ سے جماعت کے نوجوان ذہنوں پر شکوک و بے یقینی کے سائے چھائے چل رہے ہیں۔ احمدیہ اذہان جماعت کی گہری علمی روایت سے عاری ہو چکے ہیں۔ تعلیم یافتہ نوجوان طبقہ میں مذاہب عالم کی قدیم زبانوں جیسے سنسکرت، پالی، عبرانی اور ژند وغیرہ کے جاننے والوں کی معمولی سی تعداد بھی موجود نہیں ہے۔ ان زبانوں کی اہمیت اس لئے ہے کہ ان میں مذاہب کی اساسی اور بنیادی کتب اور لٹریچر پایا جاتا ہے۔ ہماری آنکھیں بازاروں، ریلوں اور دوسری جگہوں میں احمدی نوجوانوں کو جاسوسی ناول اور فحش لٹریچر مطالعہ کرتے ہوئے دیکھتی ہیں اور خیال آتا ہے کہ اس جماعت کے افراد ہیں جو اسلام کو سارے ادیان پر غالب کرنے کے لئے اٹھی تھی۔ جس کے بانی نے بتایا تھا کہ ”وقت تو نزدیک رسید پائے محمدیاں بر مینار بلند تر افتاد“ ساری جماعت جائز و ناجائز ذرائع سے دولت کمانے کی مشین بن چکی ہے۔ کسی بھی احمدی نوجوان کا ذہنی تجزیہ کیا جائے تو دو طرح کے خیالات سامنے آتے ہیں۔ (۱) دولت کمانے کے منصوبے۔ (۲) اور چند جامد اور رٹے ہوئے عقائد ۔ ان کے علاوہ دنیا جہاں کے متعلق کوئی خیال موجود نہیں ہوتا۔ مگر احمدی نوجوانوں کو ابن صفی اور خان آصف کے ناول پڑھنے سے ہی فرصت نہیں ملتی۔“
(ہفت روزہ پیغام صلح لاہور، مورخہ ۷؍ مئی ۱۹۷۵ء)
علماء کرام کی گرفتاری
حکومت مرزائیوں کو نواز رہی تھی۔ دونوں ہاتھوں سے اپنی عنایات ان پر لوٹا رہی تھی۔ لیکن اہل حق کے لئے آئین اور قانون میں رہ کر بھی بات کہنا جرم بن جاتا تھا۔ علی پور کے ۳ ممتاز علماء کرام مولانا سعید احمد سکنہ جھگی والا، مولانا لقمان علی پوری اور مولانا مشتاق احمد پر دو مہینے فروری اور مارچ کے لئے زبان بندی اور سکنہ بندی لگ گئی۔ حالانکہ ان حضرات نے کوئی بات خلاف آئین نہیں کہی ہے۔ علی پور اور دیگر اضلاع میں ان حضرات کی پابندی کے خلاف پر زور احتجاج کیا گیا اور حکومت کے اس بے جا اقدام کی مذمت کی گئی۔“
(لولاک، مورخہ ۲۸؍ فروری ۱۹۷۵ء)
انٹرمیڈیٹ نصاب سے اسلامیات کا اخراج
۲۰؍ فروری ۱۹۷۵ء کو وزارت تعلیم نے انٹرمیڈیٹ کے نصاب سے اسلامیات کے مضمون کو خارج کر دیا اور اس کی جگہ موسیقی کا مضمون رکھ دیا۔ حکومت کے اس غیر دانشمندانہ اور سیکولرانہ فیصلے پر ملک کے طول و عرض میں احتجاج ہوئے۔ اسلامیات تھا بھی اختیاری
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء
ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبد اللہ معتصم
مضمون ۔ حالانکہ ضرورت تھی کہ اسلام کی معرفت اور تعلیم و تربیت سے نئی پود کے دل و دماغ کو سنوارنے، نکھارنے کے لئے اسلامیات کو تعلیمی اداروں کے نصاب میں خاص اہمیت دی جاتی۔ ہر تعلیم یافتہ نوجوان جہاں دنیاوی تعلیم حاصل کر کے ایک اچھا ڈاکٹر، ایک اچھا انجینئر، ایک اچھا حساب دان، ایک اچھا دانشور بنتا وہاں ساتھ ہی ساتھ ایک اچھا مسلمان بھی بن جاتا۔ لیکن ”سنگ را بستہ و سگ را کشادہ“ کے مصداق اسلامیات کو اڑایا گیا اور ”سارے گاما پا دھارے نی سا کو“ کو شامل نصاب کر لیا گیا۔ تا کہ مملکت اسلامیہ پاکستان کے جوان تعلیم سے فارغ ہو کر تھیا تھیا کے مشاق اور طاؤس و رباب کے رسیا ثابت ہوں۔
پورے ملک کا سنجیدہ اور متدین طبقہ اس حکومتی فیصلے پر ناراض و پریشان تھا۔ کیونکہ یہ اقدام مرزائیوں اور کمیونسٹوں کی اسلام اور پاکستان کی جڑیں کاٹنے کی سازش تھی۔ رامے صاحب جو خود بھی کمیونسٹ تھے اور اس حد تک اس نظریہ میں بڑھ گئے تھے کہ ماؤ اور لینن کے نظریات کا تقابل قرآن وحدیث سے کیا کرتے تھے۔ اس سازش کی سرپرستی فرمارہے تھے۔“
(ملخص لولاک، مورخہ ۲۸ فروری ۱۹۷۵ء، چٹان، مورخہ ۱۵ فروری ۱۹۷۵ء)
اس خبر پر جناب آغا شورش کاشمیری نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا: ”اس خبر نے سارے ملک کو چونکا دیا کہ انٹرمیڈیٹ میں سے اسلامیات کو جو پہلے ہی اختیاری مضمون تھا بعض دانشوروں کی تجویز پر خارج کیا گیا اور اس کی جگہ موسیقی کو شامل کیا گیا۔ ہم نہیں کہہ سکتے۔ اس کی اصل شکل کیا ہے۔ لیکن جن دانشوروں نے نصاب کا یہ نقشہ تیار کیا معلوم ہوتا ہے وہ نہ تو اس ملک کی بنیادوں سے واقف ہیں نہ اس قسم کے مزاج سے آشنا ہیں اور نہ انہیں مسلمانوں کی نفسیات سے آگاہی ہے۔ اگر فی الواقع ایسی کوئی تجویز پروان چڑھانے کا منصوبہ زیر نگاہ ہے تو ہم کسی رو رعایت سے نہیں بلکہ کھلے بندوں یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتے کہ جن لوگوں نے یہ خاکہ تیار کیا ہے۔ وہ نہ تو اس ملک کے خیر خواہ ہیں۔ نہ اس کے مزاج دان ہیں اور نہ انہیں ملت اسلامیہ کی تعلیمی ضرورتوں سے آگاہی ہے۔ اسلامیات کو خارج کر دینا اور موسیقی کے مضمون کو شامل کرنا احمقانہ جسارت ہے۔ اس قسم کی تجاویز ماہرین تعلیم کے ذہنوں میں نہیں آتیں۔ وہ لوگ ہی اس کی جسارت کر سکتے ہیں جن کا رشتہ طاؤس و رباب سے ہو۔ ہم ”نوائے وقت“ کی اس تجویز سے کاملاً متفق ہیں کہ جن نام نہاد ماہرین تعلیم نے یہ خاکہ مرتب کیا ہے۔ انہیں تعلیمی ذمہ داریوں سے فارغ کر دیا جائے۔ تا کہ آئندہ کسی شخص کو قومی تقاضوں کے بے دریغ پامال کرنے کی ہمت نہ ہو۔ ہم اس سلسلے میں ملک کے وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو سے اپنے محسوسات و تجربات کی بناء پر عرض کریں گے کہ وہ ان لادین دانشوروں سے قوم کو نجات دلائیں۔ جن کی دانش مستعار اسلام سے مذاق کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتی اور جنہیں اس امر کا مطلقاً احساس نہیں کہ پاکستان مسلمانوں کی آرزوؤں کا گہوارہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم ان دانشوروں کو خود مسٹر بھٹو کی سیادت اور حکومت کا دشمن نمبر ایک سمجھتے ہیں۔ ان لوگوں کے ذہن میں اس کے سوا کوئی خاکہ نہیں کہ مسلمانوں کو ان کی تعلیمات سے محروم کیا جائے۔ پھر ان کے اذہان میں افراتفری پیدا ہو اور وہ ان منتشر خیالات سے فائدہ اٹھا کر اپنی مرضی کا انقلاب اور اپنی مرضی کا اقتدار لا سکیں۔ ان لوگوں کی واحد طاقت حکومت ہے۔ خود مٹھی بھر بھی نہیں۔ اگر ان میں حوصلہ اور قابلیت ہے تو مسلمانوں کے سامنے آئیں اور کسی بھی اجتماع سے اس امر کا فیصلہ حاصل کریں کہ ان کی تعلیمی تجاویز مسلمان رد کرتے یا قبول کرتے ہیں۔ اس غرض سے وہ کوئی سا منتخب اجتماع کر لیں۔ مسلمان انہیں چھٹی کا دودھ یاد نہ کرا دیں تو ہم اپنے لئے ہر سزا تسلیم کرنے کو تیار ہیں۔ اگر اس ملک میں ہمیں اسلام کے تابع ہو کر نہیں رہنا تو پھر کس کی متابعت ہم پر فرض ہے؟ کیا ہم نے یہ ملک لادین دانشوروں کے لئے بنایا تھا؟ ہم ان کی جاگیر ہیں یا ان کی غذا؟ انہیں محسوس کرنا چاہئے اور معلوم ہونا چاہئے کہ مسلمان زیادہ دیر تک ان کی شرارتیں برداشت نہیں کر سکتے۔ ایسا نہ ہو کہ انہیں کسی مرحلے میں سبق سکھانے کی ضرورت محسوس ہو۔ کبھی ان لوگوں نے سوچا
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
ہے کہ ان کے نقشہ ہائے تعلیم نے کوئی قابل فخر وجود پیدا کیا ہے یا قوم ان کی بدولت کسی معراج کو پہنچی ہے؟ علامہ اقبال نے ۱۹/ اکتوبر ۱۹۳۳ء کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ہر ملک کی تعلیمی ضرورتیں مختلف ہوتی ہیں۔ جہاں تک مسلمانوں اور مسلمان ملکوں کا تعلق ہے ان کے لئے خالص دنیاوی تعلیم نے اچھے نتائج پیدا نہیں کئے۔ یہ اس وقت کا بیان ہے جب ہم انگریزی حکومت کے غلام تھے۔ لیکن مسلمانوں کے لئے ان کے مدرسوں اور کالجوں میں اسلامیات کا اہتمام تھا۔
پاکستان بن جانے کے بعد اسلامیات کا دائرہ وسیع ہونا چاہئے تھا نہ کہ اس کے متعلق اس قسم کی تجاویز سامنے لائی جائیں کہ اسلامیات کا وجود ہی نہ رہے اور مسلمانوں کا نظام تعلیم ان زاغوں کے ہاتھ میں آجائے۔ جن کا اپنا وجود کوئی معنی نہیں رکھتا۔ علامہ اقبال نے آل انڈیا مسلم کانفرنس کے اجلاس ۱۹۳۱ء میں صدارتی خطبہ دیتے ہوئے بتایا تھا۔ ”وہ لوگ جنہوں نے تعلیم کا یہ اصل الاصول قائم کیا تھا کہ ہر مسلمان بچہ کی تعلیم کا آغاز کلام مجید کی تعلیم سے ہونا چاہئے وہ ہمارے مقابلہ میں ہماری قوم کی ماہیت و نوعیت سے زیادہ باخبر تھے۔“ اسی طرح آپ نے انجمن حمایت اسلام کے تعلیمی عزائم پر ایک مقالے میں لکھا تھا کہ: ”مسلمان نوجوان کی تعلیمی اساس اگر دینی اور اخلاقی نہ ہو تو اس میں سیر چشمی بلند نگاہی اور خودداری کے وہ اوصاف حسنہ نہیں پیدا ہو سکتے جو اسلامی سیرت کے لئے مابہ الامتیاز ہیں۔“
اور یہ الفاظ بھی حضرت علامہ ہی کے خطبۂ صدارت سے ماخوذ ہیں کہ: ”مجھے رہ رہ کر یہ رنج دہ تجربہ ہوا ہے کہ مسلمان طالب علم جو اپنی قوم کے عمرانی، اخلاقی اور سیاسی تصورات سے نابلد ہیں۔ روحانی طور پر بمنزلہ ایک بے جان لاش کے ہیں۔“
(چٹان مورخہ ۱۷/ مارچ ۱۹۷۵ء)
ترمیمی بل پر اعتراضات
جنوری کے آخر میں پارلیمانی امور کے وزیر مملکت ملک محمد اختر نے قومی اسمبلی میں ترمیم کے لئے ایک بل پیش کیا۔ ترمیم کے مطابق ”کوئی ’مسلمان‘ آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت کے خلاف پرچار کرے گا اور کسی اور عقیدے کا اظہار کرے گا تو اسے دو سال قید کی سزا دی جائے گی۔“
(پاک نامہ، مورخہ ۳۱/ جنوری ۱۹۷۵ء)
اس بل پر اور اس میں لفظ ’مسلمان‘ پر پورے ملک میں حیرت و ناراضگی کا اظہار کیا گیا۔ اس لئے کہ کوئی مسلمان حضور اکرم ﷺ کی ختم نبوت کے خلاف لب کشائی کس طرح کر سکتا ہے۔ ملک بھر میں جمعہ کے خطبوں اور جلسے جلوسوں میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ بل میں کوئی مسلمان کی جگہ ”کوئی شخص“ کے الفاظ لکھے جائیں۔
اصل میں جن دنوں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے قائدین اور حکومت کے درمیان قادیانیوں کے مسئلے پر مذاکرات ہو رہے تھے۔ ان دنوں حکومت کو یہ نرالی تجویز سوجھی تھی کہ مجلس عمل کو خوش بھی کیا جائے اور مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار کا لفظ دستور سے ہٹایا جائے۔ صرف ختم نبوت کے لفظ پر آئین میں ترمیم ہو۔ اس طرح مرزائیوں کے لئے بھی تاویل کا دروازہ کھلا رہے گا اور آئین بھی پاس ہو جائے گا۔ ”کوئی مسلمان“ کے الفاظ پر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی صاحب نے ماہنامہ الحق میں ایک مضمون لکھا اور انہوں نے حکومت کو تجویز پیش کی تھی کہ اس ترمیم میں ”کوئی مسلمان“ کی بجائے ”کوئی مدعی اسلام“ کے الفاظ لکھ دیئے جائیں تو الفاظ کا یہ نرالا پن ختم ہو جائے گا۔
(لولاک مورخہ ۲۸/ فروری ۱۹۷۵ء، الحق، فروری)
رفیق باجوہ کی کہانی
رفیق باجوہ ایک مرزائی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ تعلیم الاسلام کالج ربوہ میں پڑھتے تھے۔ مرزائیوں کی سیہ کاریوں اور اندر
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
خانہ بدکاریوں سے آگاہ ہوئے تو مرزائیت سے توبہ کر کے خفیہ طور پر حلقہ بگوش اسلام ہو گئے ۔انہوں نے دوسرے مسلمان طلبہ کے ساتھ مل کر کالج میں یونین بنائی ۔ مرزائی خلافت ان کی سرگرمیوں کو برداشت نہ کر سکی ۔ مرزائیوں نے رفیق باجوہ کو جبر وتشدد سے دبانا چاہا ۔لیکن اس کی آزاد طبیعت نے برداشت نہ کیا ۔ اس نے مرزائیت کے ظلم وستم اور تشدد کے خلاف آواز بلند کی ۔ گورنر اور وزیراعلیٰ پنجاب کے پاس طلبہ کا ایک بہت بڑا وفد لے کر گئے ۔اس ”جرم“ کی پاداش میں مرزائی خلافت نے اس پر قاتلانہ حملہ کیا۔ لیکن وہ معجزانہ طور پر بچ گئے ۔اس دوران ان کی ملاقات مولانا تاج محمود سے ہوئی۔ رفیق باجوہ نے قبولیت اسلام اور ترک مرزائیت کا دعویٰ کیا۔ رفیق باجوہ کے والد بشیراحمد باجوہ کو مرزائی خلافت نے بڑی بدسلوکی کے ساتھ ربوہ سے نکال دیا۔ وہ اپنے بال بچوں کو لے کر اور اپنی عزت و آبرو کو بچا کر چونڈہ چلے گئے۔ جو ان کا وطن مالوف تھا۔ اس کے بعد ان کی بیٹی بشریٰ باجوہ نے مرزا ناصر احمد کو ایک تاریخی حق و صداقت کے اعلان پر مشتمل خط لکھا جو چٹان ، لولاک اور بعض دیگر رسائل میں چھپا تھا اور اس کے ساتھ ہی بشریٰ باجوہ نے اپنے ضمیر کی آواز کے مطابق قبولیت اسلام اور ترک مرزائیت کا اعلان بھی کر دیا۔
۲/ مارچ ۱۹۷۵ء کو چونڈہ میں بشریٰ باجوہ کی شادی تھی ۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے مولانا تاج محمود اور مولانا اللہ وسایا صاحب نے شرکت فرمائی ۔ نکاح مولانا تاج محمود نے پڑھایا۔
(لولاک مؤرخہ ۱۰/مارچ ۱۹۷۵ء)
۳/ مارچ ۱۹۷۵ء کو ایک طرح سے خوشی اور مسرت کا احساس تھا کہ بشریٰ باجوہ ایسی پختہ ایمان اور مصمم عزم والی نومسلم جس نے مرزا ناصر کو ایمانی غیرت سے بھر پور خط لکھ کر للکارا تھا، نکاح کے مقدس بندھن میں بندھ گئیں۔
حافظ عزیز الرحمٰن کا سانحہ وفات
مجلس احرار اسلام سکھر کے سابق جنرل سیکرٹری اور ختم نبوت کے عظیم داعی حافظ عزیز الرحمٰن راہی آخرت ہو گئے۔ ۳/ مارچ ۱۹۷۵ء کی شام کو یہ حادثہ پیش آیا ۔ مدیر لولاک مولانا تاج محمود، حافظ صاحب کی نماز جنازہ کے لئے ہوائی جہاز کے ذریعے کراچی تشریف لے گئے ۔ جنازہ میں شرکت کے علاوہ آپ نے امیر مرکزیہ حضرت بنوری سے بھی ملاقات فرمائی ۔ حافظ عزیز الرحمٰن کا مختصر تعارف ملاحظہ فرمائیں ۔
حافظ صاحب کا آبائی وطن ضلع کیمبل پور اور تحصیل تلہ گنگ کا مشہور قصبہ ونہار تھا۔ آپ کے والد حافظ اور عالم دین تھے ۔ لاہور اندرون لاہوری گیٹ کی مشہور مسجد پٹولیاں میں آپ کے چچا مولانا محمد صادق اور اس کے قریب ہی کسی مسجد میں آپ کے والد حافظ نور محمد صاحب خطیب تھے ۔ حافظ عزیز الرحمٰن کا بچپن لاہور میں گزرا۔ یہیں انہوں نے اپنی والدہ سے قرآن حفظ کیا۔ دینی کتابیں پڑھیں اور میٹرک تک کسی سکول میں باقاعدہ تعلیم حاصل کی۔
اس کے بعد ان کے والد سکھر میں آباد ہو گئے ۔ اب حافظ عزیز الرحمٰن جوان ہو چکے تھے۔ انتہائی حسین وجمیل و وجیہ اور ذہین وفطین شخصیت کے مالک تھے۔ لاہور کی سیاسی فضا سے ذہن متاثر ہو چکا تھا۔ مفتی کفایت اللہ ، مولانا حسین احمد مدنی ، مولانا احمد علی لاہوری اور امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری جیسی عظیم المرتبت شخصیتوں کے مواعظ اور صحبت سے ذہن اور فکر ایک خاص سانچے میں ڈھل چکا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب برصغیر میں احرار کا طوطی بولتا تھا اور مجلس احرار اسلام ایک فعال اور نامور سیاسی جماعت کی حیثیت سے تحریک آزادی وطن اور اسلام کی سربلندی کے لئے کام کر رہی تھی۔ ہزاروں ایثار پیشہ نوجوان بڑی بہادری اور ثابت قدمی سے اپنے بے مثال رہنماؤں کی رہنمائی میں سرگرم عمل تھے ۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب وتحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
حافظ عزیز الرحمٰن بھی انہیں صف اوّل کے کارکنوں میں شامل تھے اور سکھر کی مجلس احرار اسلام کے جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے ملک گیر شہرت حاصل کر چکے تھے۔ ۱۹۳۹ء میں سکھر کی مسجد منزل گاہ کا تنازعہ پیدا ہوا۔ یہ مغلوں کے دور کی ایک مسجد تھی جو ہندوؤں کی آبادی میں واقع تھی۔ مسلمانوں کی غفلت سے بے آباد اور بند تھی۔ مسلمانوں نے اس واگزار کرنے کی تحریک شروع کی۔ ہندوؤں نے اس تحریک کی مخالفت کی جس کی وجہ سے شہر میں ہندو مسلم فساد ہو گیا۔ دونوں طرف سے جانی نقصان ہوا۔ پچیس تیس مسلمان شہید ہوئے اور اسی طرح کئی ہندو بھی جہنم واصل ہوئے۔
حافظ عزیز الرحمٰن نے اس سلسلہ میں سکھر کے مسلمانوں کی قیادت کی اور شاندار خدمات سرانجام دیں۔ ہندوؤں اور انگریزوں کی ملی بھگت سے حافظ صاحب پر پانچ ہندوؤں کو قتل کر دینے کا جھوٹا مقدمہ قائم کر دیا گیا۔ یہ زمانہ حافظ عزیز الرحمٰن اور ان کے بوڑھے والد کے لئے انتہائی آزمائش کا دور تھا۔ لیکن دینی حمیت اور غیرت رکھنے والے اس گھرانے نے بڑی پامردی سے حالات کا مقابلہ کیا۔ سکھر اور گردونواح کے مسلمانوں نے بڑا تعاون کیا۔ وفاقی وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ کے والد محترم پیرزادہ عبدالستار نے حافظ صاحب کا بلامعاوضہ مقدمہ لڑا۔ انگریز حکومت احرار کی دشمن تھی۔ کٹر ہندو مہاسبھائی جھوٹے گواہ تھے۔ سیشن جج نے مقدمہ کی سماعت کے بعد آپ کو عمر قید کی سزا سنا دی۔ جس کے بعد چیف کورٹ سندھ میں اپیل کی گئی۔ چیف کورٹ سے حافظ صاحب کو باعزت طور بری کر دیا گیا۔ گرفتاری سے بری ہونے تک دو سال کا صبر آزما عرصہ آپ نے جیل میں گزارا۔
رہائی کے بعد آپ سندھ کے ایک معروف رہنما کی حیثیت سے مشہور ہو چکے تھے۔ خان بہادر اللہ بخش سومرو وزیر اعظم سندھ، پیرزادہ عبدالستار، قاضی فضل اللہ، حاجی مولا بخش سومرو، رحیم بخش سومرو اور الٰہی بخش سومرو اور سندھ کے دوسرے بڑے بڑے لیڈروں سے آپ کے ذاتی مراسم تھے۔ خصوصاً خان بہادر اللہ بخش سومرو اور ان کے خاندان سے تو حافظ صاحب کے اتنے گہرے تعلقات استوار ہو گئے تھے کہ وہ حافظ صاحب کو ایک گونہ اپنا فیملی ممبر سمجھتے تھے۔ حافظ صاحب کو اپنی خداداد صلاحیتوں اور سکھر کی مسجد منزل گاہ کی آزمائش اور قربانی سے جتنی وجاہت اور عزت نصیب ہوئی اسے حافظ صاحب نے ہمیشہ اسلام، اکابرین اور مجلس احرار اسلام کے لئے وقف کئے رکھا۔
۱۹۷۴ء تحریک ختم نبوت کے دوران وہ صف اوّل کے رہنماؤں میں شامل رہے اور صوبہ سندھ کی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے ناظم اعلیٰ تھے۔ حافظ صاحب کو تین مرتبہ دل کا دورہ ہوا تھا۔ آخری دورہ جان لیوا ثابت ہوا۔ نماز جنازہ حافظ صاحب کی وصیت کے مطابق حضرت بنوری نے پڑھائی۔
حضرت بنوری کو صدمہ
۱۸؍ مارچ ۱۹۷۵ء کو مجلس تحفظ ختم نبوت کے متعلقین کو ایک اور صدمہ پہنچا جب امیر مرکزیہ کے دو جگر گوشوں کا یکے بعد دیگرے انتقال ہو گیا۔ ۱۸؍ مارچ کو حضرت کی صاحبزادی کا انتقال ہو گیا۔ ان کے انتقال سے تین روز قبل ان کی اڑھائی ماہ کی بچی کا بھی انتقال ہو گیا تھا۔ اسی طرح سے حضرت مولانا کو اپنی بیٹی اور نواسی کی موت کا دوہرا صدمہ برداشت کرنا پڑا۔ حضرت کی یہ صاحبزادی اپنے زہد تقویٰ، عبادت اور اپنے عظیم والد کی بے مثال خدمت کی وجہ سے حضرت کو اپنی ساری اولاد سے عزیز تھیں۔ اسی باعث حضرت کی خصوصی توجہ کے باعث تین دفعہ حج کی سعادت حاصل کر چکی تھیں اور ایک سال تک مستقل مدینہ منورہ میں اپنے جدامجد کے روضہ اطہر کی ہمسائیگی کا شرف بھی حاصل کر چکی تھیں۔ بلاشبہ حضرت بنوری کو اللہ تعالیٰ نے قلب سلیم عطا کر رکھا تھا۔ وہ بحررضا وتسلیم کے شناور عالم اور عارف تھے۔ تاہم اولاد
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
کی محبت ایک فطری عمل ہے۔ اس کی جدائی اور موت کا صدمہ بھی ایک فطری چیز ہے۔ حضرت ۱۴؍ مارچ سے ۲۳؍ مارچ تک پنجاب اور سرحد کا تبلیغی دورہ کرنے کا پروگرام بنا چکے تھے۔ روانگی سے قبل ان کی چھوٹی صاحبزادی اور نواسی سخت بیمار ہوگئیں۔ دونوں ماں بیٹی کو پولی فیملی ہسپتال کراچی میں داخل کرا دیا گیا۔
ایسے حالات میں ایک طرف تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ کی ذمہ داریاں اور دوسری طرف اولاد کی فطری محبت اور حضرت کے وہاں ٹھہر جانے کی ضرورت کا مسئلہ درپیش ہوا۔ حضرت دامت برکاتہم نے مریضوں کے علاج و معالجہ کے انتظامات کر کے دونوں کو اللہ کے سپرد کیا اور خود پنجاب کے دورہ پر تشریف لے آئے۔ ملتان اور بہاولپور کے جلسوں میں خطاب کرنے کے بعد حضرت کو اطلاع مل گئی کہ ان کی نواسی کا انتقال ہو گیا ہے۔ لیکن بیٹی کی صحت قدرے اچھی ہے۔ حضرت لاہور اور گوجرانوالہ تشریف لے آئے۔ گوجرانوالہ کے جلسہ کے بعد کراچی سے سردار میر عالم لغاری نے فون پر اطلاع دی کہ صاحبزادی کی حالت نازک ہو گئی ہے اور اب حضرت کو راولپنڈی اور پشاور جانے کی بجائے کراچی واپس بھیج دیا جائے۔ چنانچہ ۱۷؍ مارچ ۱۰؍ بجے صبح کے جہاز سے حضرت کراچی تشریف لے گئے۔ ۱۸؍ مارچ صبح ۷ بجے صاحبزادی کا انتقال ہو گیا۔
ربوہ میں غنڈہ گرد گروپ
ربوائی امت کے پیشوا مرزا ناصر کے ایک ڈرائیور مسٹر خورشید خالد تھے۔ وہ مسلمان ہو گئے۔ اسلام لانے کے سبب ربوہ کے چند نامی گرامی غنڈے خورشید سے پرخاش رکھنے لگے اور برے انجام کی دھمکیاں دیتے رہے۔ مئی ۱۹۷۵ء کا واقعہ ہے کہ خورشید خالد ربوہ کے ایک بازار سے گزر رہے تھے کہ اچانک انہی مرزائی غنڈوں نے ان پر حملہ کر دیا اور انہیں سخت زدوکوب کیا۔ ہوش وحواس سنبھلنے پر وہ تھانہ پہنچے اور جا کر رپورٹ درج کرائی۔ پولیس مرزائی غنڈوں کو پکڑ کر تھانہ لے آئی۔ جب مرزا ناصر احمد نے دیکھا کہ میرے غنڈوں کے خلاف پولیس کاروائی کرنے لگی ہے اور یہ معاملہ فاش ہو گا تو اس میں میری بدنامی ہو گی تو اس نے با اثر مرزائیوں کو اس مسئلہ کو سلجھانے کے لئے تھانے بھیجا۔ وہ مسٹر خالد خورشید سے معافی مانگ کر ان کی انتہائی منت سماجت کرنے لگے۔ انہیں اس بات پر رضامند کیا کہ وہ پولیس میں کوئی کارروائی نہ کرے۔
چنیوٹ، لالیاں اور احمد نگر کے مسلمانوں کو جب اس کا علم ہوا تو ہر جگہ غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی۔ انہوں نے مسٹر خورشید سے رابطہ کر کے قانونی چارہ جوئی کرنے کی کوشش کی۔ لیکن خورشید نے کہا کہ وہ اس دفعہ مرزائیوں کو معاف کر چکے ہیں۔ آئندہ ان کی طرف سے اگر کوئی حرکت ہوئی تو معاملہ دور تک لے جایا جائے گا۔
(لولاک مؤرخہ ۱۶؍ مئی ۱۹۷۵ء)
بھوڑو شاہ کوٹ میں مرزائیوں کی اشتعال انگیزی
مرزائیوں نے حکومت کی خاموشی سے پورا پورا فائدہ اٹھایا۔ ان کی اشتعال انگیزی روز بروز بڑھتی گئی۔ آئین اور اسمبلی کا کھلے عام مذاق اڑاتے رہے۔ لیکن حکومت ہاتھی کے کان میں سوتی رہی۔ مئی ۱۹۸۵ء کے آغاز میں شاہ کوٹ کے نواح میں مرزائیوں کی سینہ زوری کا ایک واقعہ پیش آیا۔ ملاحظہ فرمائیں ۔
شاہ کوٹ سے شمالی مغرب کی جانب چھ میل کے فاصلہ پر ایک قصبہ ہے جسے بھوڑو کہتے ہیں۔ تقسیم کے بعد اس قصبہ میں مرزائیوں کے متمول اور با اثر زمیندار گھرانے آباد ہو گئے۔ ان کے اثر ورسوخ کی وجہ سے تقسیم کے بعد سے لے کر اب تک کسی مسلمان عالم دین نے اس
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء
ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
قصبہ میں ختم نبوت پر تقریر نہیں کی تھی۔ اس قصبہ کے عالم دین سید عارف شاہ نے ۱۹۷۴ء کے فیصلے کے بعد تردید مرزائیت کی جرأت کی اور ختم نبوت کے موضوع پر بیان کیا۔ مرزائیوں نے مسجد میں جا کر شاہ صاحب کو ننگی گالیاں دیں اور جان سے مار دینے کی دھمکی دی۔ شاہ صاحب جمعیت علماء اسلام اور مجلس تحفظ ختم نبوت شاہ کوٹ کے ذمہ دار حضرات سے ملے۔ مولانا عبد اللطیف جو جمعیت علماء اسلام کے ذمہ دار تھے، نے جرأت مندانہ فیصلہ کیا کہ عنقریب اس چک میں جلسہ عام ہوگا۔ چنانچہ مولانا عبدالحئی عابد کو لاہور اور مولانا اللہ وسایا مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت کو لائل پور (فیصل آباد) خطوط لکھ کر تاریخ کا تعین کر کے وہاں جلسہ عام کا اعلان کر دیا گیا۔ جوں جوں جلسہ کی تاریخ قریب آتی گئی مرزائیوں کی گرفت بڑھتی گئی۔ بالآخر سید عارف شاہ صاحب نے شاہ کوٹ مولانا عبد اللطیف کو اطلاع بھیجی کہ بعض ناگزیر وجوہ کی بناء پر جلسہ ملتوی ہو گیا۔ مولانا عبد اللطیف دھن کے پکے تھے۔ انہوں نے پیغام بھجوایا کہ علماء اور سامعین شاہ کوٹ سے لے کر آؤں گا۔ سپیکر، کھانا، رہائش کسی چیز کی فکر نہ کی جائے۔ جلسہ ضرور ہوگا۔ بالآخر وقت متعین پر مولانا عبدالحئی عابد، مولانا اللہ وسایا، مولانا عبداللطیف، مولانا سعید احمد ، مفتی غلام مرتضیٰ دوسرے رفقاء سمیت قصبہ بھوڑو کی طرف روانہ ہو گئے۔ عشاء کے وقت وہاں پہنچے۔ مولانا عارف شاہ نے مولانا عبد اللطیف کو کہا: ”آپ میری مسجد میں نماز پڑھیں۔ میں دوسری بڑی مسجد میں جلسہ کا اعلان کر کے حاضر ہوتا ہوں ۔“ یہ کہہ کر عارف شاہ صاحب غائب ہوگئے۔ تمام مسافرین نے نماز پڑھی، مسجد کا سپیکر باہر پڑا تھا۔ طالبعلموں نے تلاوت کی۔ شاہ صاحب نہ آئے۔ طالب علم نے نظم پڑھ دی۔ ”مرزا کافر ہے ۔“ اس نظم کا پڑھنا تھا کہ مرزائیوں نے لاٹھیوں، کلہاڑیوں، بندوقوں سے مسلح ہو کر مسجد پر حملہ کر دیا۔ مولانا عبد اللطیف نے للکارا کہ اگر کسی مرزائی میں ہمت ہے تو باہر گالیاں اور دھمکیاں دینے کی بجائے مسجد میں آئے اور قلندران بخاری کے جوہر دیکھے۔ مسجد میں ختم نبوت زندہ باد، بخاری زندہ باد، مرزائیت مردہ باد کے فلک شگاف نعرے بلند ہونے لگے۔ مولانا عبد اللطیف نے اعلان کر دیا کہ اب دوسری مسجد کی بجائے اسی مسجد میں جلسہ ہوگا۔ دنیا کی کوئی طاقت مسجد میں مسئلہ ختم نبوت بیان کرنے سے ہمیں نہیں روک سکتی۔ باضابطہ جلسہ شروع ہوا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت لائل پور کے مبلغ مولانا اللہ وسایا صاحب نے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اگر کسی عالم دین کو یہاں کے مرزائیوں نے تکلیف دی تو اس کا پورے ملک کے مرزائیوں پر برا اثر پڑے گا۔ مسلمانوں نے اگر انتقامی کارروائی کی تو تمہیں سر چھپانے کے لئے جگہ نہ ملے گی۔ اس لئے مرزائیوں ! جو کرنا ہے، انجام کو سامنے رکھ کر کرنا۔ مولانا نے مسئلہ ختم نبوت اور تردید مرزائیت پر جی بھر کر تقریر کی۔ مولانا کی تقریر کے دوران قصبہ کے مسلمان بھی آنا شروع ہو گئے۔ مرزائیوں نے باہر سے ناکہ بندی کی کوشش کی۔ مگر ناکام ہوئے۔ آناً فاناً مسجد بھر گئی۔ ان کے بعد مولانا عبدالحئی عابد نے ڈیڑھ گھنٹہ تک اپنا مجاہدانہ خطاب کیا اور عقائد مرزائیت کی خوب گت بنائی۔
جلسہ بخیرو خوبی ختم ہوا۔ کسی مرزائی کو بعد میں چوں چرا کرنے کی جرأت تک نہ ہوئی۔ مسلمانان علاقہ نے علماء کا شکریہ ادا کیا۔ جن کی بدولت اس قصبہ میں مسئلہ حق بیان ہوا اور ختم نبوت زندہ باد سے فضا گونج اٹھی۔ تقسیم کے بعد سے جو مرزائیت کا رعب تھا اس کا طلسم ٹوٹا اور مسلمانوں میں جرأت پیدا ہوئی ۔“
(لولاک، مورخہ ۱۲ /اپریل ۱۹۷۵ء)
شیعہ سنی فسادات ...... مرزائیوں کی سازش
مارچ کے مہینے میں لاہور میں تین مقامات پر شیعہ سنی فسادات ہوئے۔ شادباغ، ٹاؤن شپ اور بابو صابو۔ تینوں جگہ دونوں فرقوں کے لوگوں میں فائرنگ ہوئی۔ بابو صابو کی فائرنگ میں ۴/ افراد جاں بحق اور ۱۸/ افراد زخمی ہوئے۔ مرزائیوں کی خواہش تھی کہ پورے ملک میں شیعہ سنی فسادات ہوں۔ چونکہ شیعہ سنی علماء میں اتحاد تھا۔ اس لئے مرزائیوں کو کہیں کامیابی نہ ہو سکی۔ مرزائی یہ فتنہ پردازیاں مسلمانوں
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معصم
کے اتحاد کو سبوتاژ کرنے کے لئے کر رہے تھے۔ کہیں شیعہ سنی، کہیں دیوبندی، بریلوی، کہیں کسی واسطہ کی اوٹ میں، کہیں بلاواسطہ انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہے تھے تاکہ مرزائیوں کی فتنہ سامانیوں اور سازشوں سے توجہ ہٹ جائے۔‘‘
(لولاک، مورخہ ۶؍ مارچ ۱۹۷۵ء)
پاکپتن میں ایک نیا مہدی
ملتان کے نواحی علاقے بورے والا میں عبدالقیوم نامی ایک ٹیچر رہتا تھا۔ فاضلہ اسلامیہ ہائی سکول میں تدریس کے فرائض بجالانے والے عبدالقیوم کو اچانک نہ جانے کیا سوجھی کہ دعویٰ مہدویت کر بیٹھا۔ کہنے لگا کہ میں مہدی موعود من اللہ ہوں اور تمام لوگوں پر واجب ہے کہ میرے ہاتھ پر بیعت کرے۔ اللہ تعالیٰ مجھ سے براہ راست باتیں کرتا ہے۔ میری بیعت کرنے والا ہی راہ حق پر ہوگا جو میرے ہاتھ پر بیعت نہیں کرتے۔ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے اور اس پر اللہ کا عذاب نازل ہوگا۔
بورے والا کے تین نوجوانوں مسعود احمد، (قاری) منصور احمد (مشہور کالم نگار) اور محمد رفیق کو خود ساختہ مہدی کا علم ہوا تو وہ اس کے پاس گئے اور اس دعویٰ مہدویت سے باز رہنے کی تلقین کی۔ لیکن وہ ان تینوں کو بھی بیعت کی دعوت دیتا رہا۔ تینوں نوجوان مشتعل ہوگئے اور خنجر نکال کر جھوٹے مہدی کا خاتمہ کر دیا۔ سیشن جج ساہیوال کی عدالت میں مقدمہ پیش ہو تو عدالت نے ان کو عمر قید کی سزا سنادی اور ان کو نیو سنٹرل جیل ملتان میں قید کر دیا۔ ملزمان کے وکیل مرزا آفتاب فرخ اور راشد عزیز نے اپنا موقف یہ بیان کیا کہ ملزمان دو روز تک اس خود ساختہ مہدی سے بحث مباحثہ کرتے رہے اور دوران بحث مشتعل ہو کر انہوں نے یہ واردات کی۔ لہٰذا یہ قتل اشتعال کی بنیاد پر ہوا۔ فاضل عدالت نے یہ موقف صحیح تسلیم کرتے ہوئے ملزمان کو بری کر دیا۔ جس پر علاقے بھر کے مسلمانوں نے غیر معمولی خوشی کا اظہار کیا۔
(لولاک، مورخہ یکم اپریل ۱۹۷۵ء)
شبقدر ڈھیری میں مرزائی امت کی دھاندلی
شبقدر ڈھیری صوبہ سرحد کا ایک مشہور علاقہ ہے۔ (یہ آج کل ضلع چارسدہ کی تحصیل ہے) اقلیت قرار دیئے جانے کے بعد مرزائی حربوں میں سے ایک چال یہ تھی کہ جن جن علاقوں میں مرزائیت کے جراثیم بیخ و بن سے ختم ہو چکے ہوتے۔ وہاں مرزائی افسر مقرر ہو کر جانے شروع ہو جاتے اور بجھی آگ کو ازسرنو سلگا لیتے۔ شبقدر بھی ان علاقوں میں سے تھا جہاں کے غیور پختون عوام نے اس فتنہ کو بالکل نیست کر دیا تھا۔ چنانچہ اسی منصوبے کے تحت ایک مرزائی محکمہ واپڈا شبقدر میں ایس. ڈی. او بن کر آیا۔ آتے ہی اس نے مرزائی مشن پر عمل کرنا شروع کر دیا اور ایک پرانے سپرنٹنڈنٹ کو تبدیل کر کے اس سیٹ پر ایک مرزائی کو بٹھانا چاہا۔ یہ بات جب علاقے کے مسلمانوں کو پتہ چلی تو ان میں تشویش واضطراب کی لہر دوڑ گئی اور اہل علاقہ نے پوری شدت سے مرزائی ایس. ڈی. او کو معطل کرنے یا کم از کم وہاں سے ٹرانسفر کا مطالبہ شروع کیا۔ چونکہ شبقدر سے ملحق مہمند ایجنسی ہے۔ اس لئے مرزائی افسر کے لئے خطرہ دگنا تھا کہ ایجنسی میں حکومتی عمل دخل نہ ہونے کی وجہ سے وہاں کے قبائل کھلے عام اسلحہ رکھتے تھے۔ قبائلی لوگ ویسے بھی اسلامی احکام کے پابند اور ان پر سختی سے عمل پیرا ہوتے تھے۔ اگر ان کے علم میں مرزائیوں کی یہ سرگرمی آتی تو وہ ضرور کوئی نہ کوئی جارحانہ قدم اٹھاتے۔ ہفت روزہ لولاک کے ایک نمائندے نے علاقہ شبقدر کا دورہ کیا اور وہاں کے عوام کے تاثرات نوٹ کر لئے۔ اس نے رپورٹ میں لکھا تھا کہ مرزائی ایس. ڈی. او کے خلاف لوگ دلوں میں غم وغصہ لئے ہوئے تھے اور حکومت سے اس کی معزولی یا تبدیلی کا مطالبہ کافی شدت سے ہو رہا تھا۔ کچھ ہی عرصہ بعد حکومت نے معاملے کی نزاکت اور باریکی کا اندازہ کرتے ہوئے اس مرزائی سپرنٹنڈنٹ اور ایس. ڈی. او کا وہاں سے تبادلہ کر دیا۔
(لولاک، مورخہ یکم اپریل ۱۹۷۵ء)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
حضرت بنوری کا دورہ پنجاب، نئے دفتر میں جمعہ کا افتتاح
مارچ کے دوسرے عشرے میں حضرت مولانا محمد یوسف بنوری نے ملتان، بہاول پور اور گوجرانوالہ کا دورہ کیا۔ حضرت مولانا ۱۴/ مارچ ۱۹۷۵ء کو ہوائی جہاز کے ذریعے کراچی سے ملتان پہنچے۔ نماز جمعہ آپ نے مجلس کے نئے مرکز کی زیر تعمیر جامع مسجد میں پڑھائی۔ ملتان اور گردونواح کے شہروں سے آئے ہوئے ہزاروں ختم نبوت کے فدائیوں نے آپ کے پیچھے نماز ادا کی۔ نماز جمعہ کے بعد دفتر ہی میں ایک عظیم الشان پبلک جلسے کا اہتمام تھا۔ جس میں امیر مرکزیہ کے علاوہ مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا عبدالرحمن میانوی، مولانا عبدالشکور دین پوری اور مدیر لولاک مولانا تاج محمود نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء کے تمام شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا۔ رات کو بہاول پور کی جامع مسجد الصادق میں مجلس کے زیر انتظام جلسہ تھا۔ صدارت حضرت بنوری نے فرمائی۔ مولانا محمد شریف جالندھری اور مولانا تاج محمود نے بیانات فرمائے۔ مولانا تاج محمود نے اسلامیان بہاول پور کو زبردست خراج تحسین پیش کیا جو امیر شریعت کے زمانے سے تحریک ختم نبوت کے ساتھ زبردست تعلق اور شیفتگی رکھتے تھے۔ اگلے روز حضرت بنوری ملتان واپس تشریف لے آئے اور جامعہ خیرالمدارس اور اس کے بعد مدرسہ تعلیم الابرار میں طلباء اور دوسرے مدعوین کے اجتماعات سے خطاب کیا۔ حضرت مولانا نے طلباء کو نصیحت فرمائی کہ وہ اسلام کی سربلندی اور رضاء الہی کے حصول کے لئے اپنی زندگیاں وقف کردیں۔
۱۵/ مارچ ۱۹۷۵ء بعد از نماز عشاء مجلس تحفظ ختم نبوت باغبانپورہ لاہور کے تحت مرکزی جامع مسجد باغبانپورہ میں جلسہ ہوا۔ امیر مرکزیہ، مولانا سید محمود احمد رضوی اور مولانا محمد شریف جالندھری نے بیانات فرمائے۔ رات جامع مسجد نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں مجلس کے زیر اہتمام ایک عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا۔ جس میں امیر مرکزیہ، مولانا عبدالرحمن، مولانا تاج محمود نے خطاب فرمایا۔ شیخ الاسلام حضرت بنوری کے علاوہ اس دورہ میں سید منظور احمد شاہ، مولانا قاضی اللہ یار، مولانا محمد شریف بہاول پوری، مولانا منظور احمد الحسینی، مولانا نذیر احمد بلوچ، مولانا اللہ وسایا اور مولانا عبدالشکور دین پوری بھی شریک تھے۔ ان حضرات نے بھی مختلف مقامات پر خطاب فرمائے۔
(لولاک، مورخہ ۲۱/مارچ ۱۹۷۵ء)
حضرت مولانا بنوری کو تیسرا صدمہ
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کے صدر حضرت مولانا محمد یوسف بنوری کے والد بزرگوار حضرت مولانا محمد زکریا مورخہ ۵/ جون ۱۹۷۵ء بروز جمعرات ساڑھے ۹ بجے صبح انتقال فرما گئے۔ حضرت بنوری کی بیٹی اور نواسی کی یکے بعد دیگرے وفات کے بعد یہ حضرت کے لئے تیسرا بڑا سانحہ تھا۔ پہلے دو حادثوں کی بنسبت یہ حادثہ زیادہ جانکاہ تھا۔ عظیم بیٹے نے اپنے عظیم باپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔ اسی شام حضرت کو یوسف پورہ کے قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔ مولانا محمد زکریا کو ان کے جلیل القدر فرزند مولانا یوسف بنوری اور دوسرے متعلقین ”آغا جی“ کے لقب سے پکارتے تھے۔ آپ برصغیر کے بہت بڑے عالم اور بزرگ حضرت سید آدم بنوری کی اولاد میں سے تھے۔ آپ کے والد کا اسم گرامی سید مزمل بنوری تھا۔ جو ضلع ہزارہ میں ”محبت آباد“ نامی گاؤں میں رہائش پذیر تھے۔ یہ پورا گاؤں سید مزمل بنوری کی ملکیت تھا۔ آپ کے فرزند ارجمند حضرت مولانا سید محمد زکریا اسی گاؤں میں پیدا ہوئے۔ آپ ابتدا ہی سے صاحب مقام بزرگ اور ولی اللہ تھے۔ والد کے وصال کے بعد جب جوان ہوئے تو سارا گاؤں مزارعین اور دوسرے لوگوں میں بانٹ دیا اور خود امیرانہ زندگی چھوڑ کر فقیرانہ زندگی بسر کرنے لگے۔ عربی، فارسی علوم پر کمال دسترس حاصل تھی۔ فارسی اور عربی زبان میں بلند پایہ کتابیں تصنیف کیں۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
حضرت پر زندگی میں ایک ایسا دور آیا کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر جنگلوں میں چلے گئے۔ دس سال تک جنگلوں اور بیابانوں میں ریاضت، مجاہدہ اور مراقبہ میں مشغول رہے۔ وفات کے وقت ۱۰۰ سال عمر تھی۔ بیماری کے ایام سے پہلے ماشاء اللہ صحت اچھی تھی۔ اخلاص کے ساتھ دین کی خدمت کرنے والوں خصوصاً تحریک ختم نبوت میں حصہ لینے والوں کے ساتھ حضرت کی حد درجہ شفقت تھی۔ ان کے وصال سے علمی اور روحانی دنیا کا ایک روشن ستارہ روپوش ہوا تھا۔ ان کا وجود مسعود حضرت مولانا محمد یوسف بنوری کے لئے بہت بڑی سعادت اور ڈھارس تھا۔ مشکل سے مشکل اوقات میں حضرت کی دعائیں مولانا کے ساتھ تھیں۔ ان کا وصال حضرت بنوری کے لئے بہت بڑا سانحہ تھا۔ جس کا اندازہ ان تحریروں سے لگایا جا سکتا ہے۔ جو حضرت بنوری نے آپ کی وفات پر ”لولاک“، ”بینات“ اور دیگر رسائل میں تحریر کی تھیں۔ حق تعالیٰ انہیں کروٹ کروٹ جنت الفردوس عطاء فرمائے۔ آمین !
مجلس کے قائدین حضرت مولانا محمد شریف جالندھری اور مولانا تاج محمود تعزیت کے لئے تشریف لے گئے۔ ملک بھر کے دفاتر ختم نبوت میں تعزیتی اجلاس ہوئے اور مرحوم مولانا زکریا کے لئے مغفرت اور بلندی درجات کی دعا مانگی گئی۔
(لولاک، مورخہ ۲۵/جون ۱۹۷۵ء)
مولانا اللہ وسایا کی گرفتاری
شاہین ختم نبوت، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے روح رواں اور مرکزی رہنما حضرت مولانا اللہ وسایا ۱۹۷۰ء کی دہائی سے فیصل آباد کے مبلغ اور ہفت روزہ لولاک کے معاون مدیر تھے۔ اس کے علاوہ ملک کے طول و عرض میں تبلیغی دوروں اور بیانات کا سلسلہ بھی جاری رہتا تھا۔ جولائی ۱۹۷۵ء کے مہینے میں حضرت مولانا نے جھاوریاں ضلع سرگودھا میں ایک تقریر فرمائی جو حکومت کے نازک مزاج پر گراں گزری اور مولانا اللہ وسایا پر دفعہ ۱۶ امن عامہ کے تحت کیس درج ہو گیا یہ کیس حنیف رامے کے عہد اقتدار میں بنایا تھا۔ رامے صاحب تو جون ۱۹۷۵ء کے آخر میں اقتدار سے لڑھک گئے۔ لیکن مقدمہ قائم رہا۔ مولانا اشتہاری قرار دیئے گئے۔ تب مولانا کو گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس نے گرفتار کر کے شاہ پور جیل منتقل کر دیا۔ ہفتہ دس دن جیل میں رہے۔ اس کے بعد ضمانت ہوئی مولانا رہا ہو گئے اور عدالت میں پیشیاں شروع ہو گئیں۔ مولانا کا مقدمہ قریب ۵ مہینے تک چلتا رہا۔ نومبر میں مولانا کو جرم ثابت نہ ہونے کی وجہ سے بری کر دیا گیا۔ مولانا کے کیس کی پیروی میں سرگودھا کے مجلس کے کارکنان نے خاصی دلچسپی دکھائی۔ مولانا نے رہائی کے بعد ان تمام کا شکریہ ادا فرمایا۔
(لولاک، مورخہ ۷/جولائی، نومبر ۱۹۷۵ء)
مولانا منظور احمد چنیوٹی کی گرفتاری
مولانا منظور احمد چنیوٹی مجلس کے مرکزی شوریٰ کے رکن تھے۔ انتہائی فعال اور بے لوث تھے۔ ربوہ کو سرکاری طور پر ”چناب نگر“ کا نام دینے میں ان کا کلیدی کردار تھا۔ ۱۸/جولائی ۱۹۷۵ء کو مولانا چنیوٹی نے ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک تقریر فرمائی۔ جو حکومت کو قابل اعتراض لگی۔ حالانکہ مولانا اور حاضرین جلسہ کا تأثر یہ تھا کہ محض تبلیغی بیان تھا۔ کوئی خلاف آئین یا خلاف قانون بات نہیں تھی۔ پولیس نے امن عامہ کے تحت تقریر کی پاداش میں مولانا کو گرفتار کر لیا۔ مولانا کی گرفتاری پر مجلس کے رہنماؤں مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا تاج محمود، مولانا عبد الرحیم اشعر اور چنیوٹ کی تمام دینی جماعتوں کے سربراہوں نے اس گرفتاری پر زبردست احتجاج کیا۔ کہا کہ مولانا کی گرفتاری سے ان کے پروگرام میں سخت حرج واقع ہوا ہے۔ کیونکہ مجلس ان کو ابوظہبی کے دورے پر بھیجنے والی تھی۔ تقریباً ایک ہفتہ بعد مولانا کو ضمانت پر رہا کیا گیا۔
(لولاک، مورخہ ۱۸/جولائی، ۳۰/جولائی ۱۹۷۵ء)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
مرزائیوں کی آئین سے کھلم کھلا بغاوت اور مسلمانوں کے خلاف دسیسہ کاریاں
۱۹۷۴ء میں آپ نے پڑھا کہ آئین میں غیر مسلم قرار دیئے جانے کے بعد مرزائی بجائے اس کے کہ شریف اقلیت کی طرح زندگی گزارتے، مسلمانوں اور وطن عزیز کے خلاف سازشوں میں جت گئے۔ اپنی تحریرات میں مسلمانوں کے خلاف بدزبانی اور آئین کا مذاق اڑانا ان کا شیوہ بن گیا۔ تقاریر میں خود کو حقیقی مسلمان اور مسلمانوں کو سرکاری مسلمان کہتے تھے۔ حکومت کی اس مسئلہ پر بے جا تاخیر نے مرزائیوں کو حوصلہ دلایا۔ ۷/ستمبر ۱۹۷۴ء کے فیصلہ کی روشنی میں حکومت کو چاہئے تھا کہ مرزائیوں کو کلیدی آسامیوں سے فوراً ہٹا دیتی۔ ربوہ کو کھلا شہر قرار دیتی۔ رجسٹریشن ایکٹ میں ترمیم کر کے مرزائیوں کو غیر مسلم لکھا جاتا۔ انتخابی فہرستوں میں ان کے کافرانہ تشخص کی وضاحت ہوتی اور مقدس اسلامی اصطلاحات کے استعمال سے ان کو روکا جاتا۔ آئین منظور ہوئے کو کافی عرصہ ہو چکا تھا۔ لیکن حکومت ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہی۔ جہاں تک مرزائیوں کا معاملہ تھا۔ وہ پہلے سے زیادہ جرأت دکھا رہے تھے۔ چنانچہ ۱۹۷۵ء کے آغاز میں ”الفضل مؤرخہ ۱۷/فروری“ میں مرزائیوں نے ببانگ دہل اپنے آپ کو احمدی مسلمان کہلانے اور لکھنے لکھانے کا اعلان کیا تھا۔ اسی طرح انہوں نے ملک کے سب سے زیادہ بااختیار و باوقار ادارے (پارلیمنٹ) کی توہین کی اور فروری ہی کے مہینے میں انہوں نے نیم سرکاری اخبار ”پاکستان ٹائمز“ کے اندر لپیٹ کر ”الفضل“ کی کاپیاں تقسیم کیں۔ جس میں امن سوز عبارتیں درج تھیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کو ”مسیح موعود علیہ السلام“، ناصر کو ”خلیفۃ المسیح الثالث“، مرزا محمود کو ”مصلح موعود“، مرزائی مبلغ جلال الدین شمس کو ”رضی اللہ عنہ“ کے القابات اور دعائیہ جملوں سے یاد کیا تھا۔ ظاہر ہے کہ یہ اسلامی اصطلاحات کا بے جا استعمال تھا۔ مجلس کے اکابر نے اس پر پرزور احتجاج کیا۔
ایڈیٹر چٹان جناب آغا شورش کاشمیری کے خلاف ایک بدباطن مرزائی نے اپنے باطن کا گند اپنے ایک جریدے میں انڈیلا تھا۔ آغا شورش کاشمیری نے حکومت کو متنبہ کرنے کے لئے ایک تحریر لکھی۔ ملاحظہ فرمائیں:
آغا شورش کے خلاف قادیانی بدزبانی
”جب سے نیشنل اسمبلی نے قادیانی امت کو مسلمانوں کے متفقہ مطالبہ کی بنا پر اقلیت قرار دیا ہے۔ ہم نے مرزا غلام احمد، ان کے فرزندان ارجمند، ان کی اولاد اور ان کے پیروؤں سے متعلق اپنے احتساب کا لب ولہجہ بدل دیا ہے۔ قادیانی گواہ ہیں کہ ہم نے اس سے پہلے بھی مرزائی امت سے متعلق کوئی ایسا کلمہ نہیں کہا جو گندہ ذہنی کا شہ پارہ ہو یا ان کی پس پردہ آبرو کے خلاف گالی ہو۔ چٹان کے صفحات گواہ ہیں کہ ہم نے آج تک ان کے کسی اخبار کو منہ نہیں لگایا۔ بالخصوص وہ ہفتہ وار یا ماہنامے جو الفضل ربوہ کے چچیرے یا خلیرے بھائی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مثلاً لاہور ہی سے ایک قادیانی چیتھڑا نکلتا ہے۔ وہ ۷/ستمبر سے پہلے بھی بدزبانی کی انتہاء پر تھا اور اس کے بعد بھی اپنے تعفن میں بگٹٹ ہے۔ اس کا شعار ہو چکا ہے کہ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی اور ایڈیٹر چٹان کے خلاف سب وشتم اگلتا رہے۔ اس کا یہ حوصلہ اس لئے ”قابل داد“ ہے کہ اقلیتی امت کا فرد ہونے کے باوجود ہذیان بکنے میں بے جھجک ہے۔ ہمارا خیال تھا حکومت پنجاب اس کو متنبہ کرے گی کہ اپنی پوچ زبان کے استعمال سے حالات کی خرابی کا باعث نہ ہو۔ لیکن اس کے لئے شاید کوئی لگام نہیں؟ ہم اس کا پس منظر جانتے ہیں۔ لیکن فی الحال اس سلسلہ میں چپ ہی بھلی ہے۔ البتہ حکومت پنجاب سے یہ ضرور عرض کریں گے کہ وہ کب تک فیاضی سے کام لے گی۔ کیا یہ فیاضی اس لئے ہے کہ اس کے سب وشتم کا ہدف ابوالاعلیٰ مودودی اور ایڈیٹر چٹان ہیں۔ ہم نے قلم اٹھایا تو مرزا غلام احمد قادیانی کی قبر سے لے کر مرزا بشیر الدین تک کی قبر پھٹ جائے گی ۔“
(چٹان، مؤرخہ ۳/ مارچ ۱۹۷۵ء)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
آغا صاحب کی اس تنبیہی تحریر کے بعد حکومت کا مرزائی جریدہ سے فیاضانہ سلوک جاری رہا اور اس کے خلاف کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔ جس پر شورش نے مزید چند شماروں میں ان کے سب وشتم کی نشاندہی حکومتی دربار میں کی۔ لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔
پنج تن پاک
”ربوہ میں ”شاکرہ“ نام کی ایک قادیانی رہنما تھی۔ اس نے دو مرزائیوں عبدالحئی اور ارشد کے ساتھ مل کر ایک کتابچہ شائع کیا۔ مرزائی عورتوں کی تنظیم ”ناصرات“ کتاب کی ناشر تھی۔ اس کتاب میں مرزا قادیانی کے تینوں بیٹوں مرزا بشیر الدین محمود، مرزا بشیر احمد ایم۔اے، مرزا شریف احمد اور ان کی دونوں بہنوں کو ”پنجتن پاک“ لکھا گیا۔ پولیس نے دو مرزائیوں کو تو گرفتار کر لیا۔ لیکن شاکرہ روپوش ہو گئی۔ بعد میں وہ بھی گرفتار ہو گئی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت نے اس کیس کی پیروی میں پورا پورا حصہ لیا۔ اس وقت مجلس نے حکومت سے یہ بھی درخواست کی کہ صرف یہ ایک کتابچہ نہیں بلکہ قادیانیوں کی بے شمار کتابیں اس طرح گستاخ اور غیر مہذب، غیر شائستہ الفاظ پر مشتمل ہیں۔ لگے ہاتھوں ان پر بھی پابندی لگائی جائے۔ قادیانیوں کی طرف سے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی کہ مذکورہ تین مرزائی افراد کے خلاف کیس کو خارج کیا جائے اور کالعدم قرار دیا جائے۔ لیکن عدالت نے درخواست مسترد کر دی۔ ملزموں کے مطابق مذکورہ پمفلٹ چند دن بعد ۱۵سال کی عمر تک مرزائی لڑکیوں کے سالانہ اجتماع میں تقسیم کیا جانا تھا۔ مرزائیوں کی درخواست کے خلاف مسٹر رفیق احمد باجوہ ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔“
(ملخص لولاک مورخہ ۲۲؍ اپریل، ۲۲؍ جولائی ۱۹۷۵ء)
شاہ فیصل کی شہادت، عالم اسلام کا عظیم سانحہ
۲۵؍ مارچ ۱۹۷۵ء کا دن مسلمانان عالم کے لئے بڑا بد نصیب اور حواس معطل کرنے والا دن تھا۔ جب اسلامی اتحاد کا عظیم داعی، فرمانروائے مملکت سعودی عرب شاہ فیصل کو شہید کر دیا گیا اور قاتل ان کا اپنا بھتیجا، (بھائی کا بیٹا) تھا۔ شاہ پر حملہ اس وقت ہوا تھا جب میلاد النبیؐ کے سلسلے میں ایک تقریب میں لوگوں کو مبارکباد دے رہے تھے۔ قاتل کا نام فیصل بن مساعد بن عبدالعزیز تھا۔ شاہ کی شہادت سے پوری دنیائے اسلام کو بے پناہ صدمہ اور رنج ہوا، اور غم واندوہ کے بادل چھا گئے۔ کیونکہ شاہ حقیقی معنوں میں اسلام کی نشأۃ ثانیہ کے لئے کام کر رہے تھے۔ شاہ بیت المقدس کی آزادی کے لئے نہایت پرجوش تھے اور ان کی ثابت قدمی اور بصیرت کو دیکھ کر توقع کی جا رہی تھی کہ انشاء اللہ قبلہ اوّل آزاد ہو کر رہے گا۔ مرحوم کو پاکستان سے بے پناہ محبت تھی۔ اس لئے ان کی شہادت کی خبر سے پورا پاکستان ماتم کدہ بن گیا تھا۔ شاہ کے جنازے میں پاکستان کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو، اپوزیشن لیڈر مفتی محمود کے علاوہ دیگر ممالک کے صدور اور وزراء نے بھی شرکت کی۔ مصر کے صدر انورالسادات، الجزائر کے صدر بومدین، تونس کے صدر بورقیبہ، شام کے صدر حافظ الاسد، سوڈان کے صدر نمیری، اردن کے شاہ حسین، بھارت کے صدر فخرالدین علی احمد، عراق کے صدر حسن البکر، اومان کے سلطان، ایران کے شہزادہ غلام رضا، قطر کے امیر، ابوظہبی کے زید بن سلطان النہیان، کویت کے امیر صباح السالم الصباح، افغانستان کے صدر سردار داؤد، امریکہ کے نائب صدر راک فیلر، برطانیہ کے وزیر دفاع مسٹرسین، یوگنڈا کے صدر عیدی امین، بحرین کے امیر، آسٹریلیا کے وزیر، لبنان کے وزیراعظم خورشید الصلح، مراکش کے وزیراعظم، سینی گال اور شمال یمن کی حکومتوں نے بھی شرکت کی۔
شاہ کی شہادت پر مرزائیوں اور یہودیوں کا بھنگڑا
”شاہ فیصل کی شہادت پر اگر ایک طرف عالم اسلام میں صف ماتم بچھ گئی اور مسلمانان عالم رنجیدہ خاطر ہوئے۔ پورا پاکستان ہی
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
نہیں پورا عالم اسلام غم و اندوہ کے اتھاہ سمندروں میں ڈوب گیا۔ ہر گھر ماتم کدہ بن گیا۔ لوگ بازاروں اور گلیوں میں دھاڑیں مار کر رو رہے تھے۔ ہر شخص محسوس کر رہا تھا کہ آج اس کا عظیم نقصان ہو گیا ہے تو دوسری طرف ربوہ کی آبادی جشن منانے میں مصروف تھی۔ غالباً دنیا میں دو ہی شہر ایسے تھے جہاں شاہ فیصل مرحوم کی المناک شہادت کے سانحہ کی خوشی منائی گئی۔ ایک ربوہ اور دوسرا تل ابیب۔
یہودیوں نے تل ابیب میں جشن منایا اور مرزائیوں نے ربوہ میں خوشی منائی۔ اسی لئے علامہ اقبال مرحوم نے لکھا تھا کہ مرزائیت اپنی فطرت میں یہودیت کی طرف راجع ہے۔ بہرحال مرزائیوں کو خوشی ہوئی اور انہوں نے مٹھائیاں تقسیم کیں۔ آپس میں معانقے کئے اور مبارک بادیں دیں۔ مغرب کے بعد ربوہ میں ایک اجتماع منعقد ہوا جس میں مرزائی جماعت کے ایک ذمہ دار عہدیدار ظہور احمد نے تقریر کرتے ہوئے حیات محمد شیر پاؤ اور شاہ فیصل کے قتل کو مرزا قادیانی کی پیش گوئی ثابت کیا اور یہ بھی کہا کہ بھٹو صاحب نے ہمارے خلاف فیصلہ کیا ہے۔ وہ بھی حضرت صاحب کی پیش گوئی کے مطابق جلد قتل ہو جائیں گے۔
مرزائیوں کی یہ پرانی روایات ہیں۔ جب بھی دنیائے اسلام کو کوئی زخم پہنچے۔ یہ اس پر خوشی منایا کرتے ہیں۔ چنانچہ عالمگیر جنگ میں جب انگریزوں نے بغداد پر قبضہ کیا اور سقوط بغداد کے سانحہ سے دنیائے اسلام میں صف ماتم بچھ گئی تو اس وقت بھی مرزائیوں نے قادیان میں چراغاں کرتے ہوئے جشن منایا تھا اور اب پھر جب ملت اسلامیہ شاہ فیصل کی المناک خبر سے خون کے آنسو رورہی تھی ، مرزائی جشن منا کر ملت اسلامیہ پر آگ پھینک رہے تھے۔
چنانچہ ۲۸؍ مارچ کے جمعہ کے اجتماع میں مدیر لولاک مولانا تاج محمود نے جامع مسجد ریلوے کالونی کے ہزاروں نمازیوں کے سامنے قرارداد پیش کی اور حاضرین نے دونوں ہاتھ کھڑے کر کے اس کی منظوری لی اور حکومت سے ربوہ کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ قرارداد میں کہا گیا: ”جامع مسجد ریلوے کالونی کا عظیم الشان اجتماع نے اس خبر کو انتہائی اشتعال انگیز اور قابل نفرت قرار دیا ہے کہ شاہ فیصل کی شہادت کی خبر سننے کے بعد ربوہ میں مرزائی گھروں سے باہر سڑکوں پر خوشی سے ناچتے ہوئے نکل آئے اور ایک دوسرے سے معانقے کرنے لگے۔ ایک دوسرے کو مبارکبادیں دیں اور مٹھائیاں تقسیم کیں۔ مغرب بعد ایک جلسہ ہوا جس میں ربوہ کی جماعت کے ایک ذمہ دار عہدیدار ظہور احمد نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے خلاف تحریک کا آغاز صوبہ سرحد سے ہوا تھا۔ اس کا مجرم شیر پاؤ قتل ہو چکا ہے۔ ہمارے خلاف شاہ فیصل نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا تھا۔ وہ بھی قتل ہو گیا ہے۔ بھٹو صاحب نے ہمارے خلاف فیصلہ کیا تھا۔ عنقریب وہ بھی قتل ہو جائیں گے۔ یہ ہمارے مرزا قادیانی کی پیش گوئیاں ہیں، جو پوری ہو کر رہیں گی۔ یہ اجلاس اس ربوہ والوں کے اس اشتعال انگیز حرکت کو مرزائیوں کے مذہبی عقائد اور سیاسی عزائم کا آئینہ دار سمجھتے ہوئے اس کی پرزور مذمت کرتا ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ خلیفہ ربوہ اور اس کی انتظامیہ پر اس اشتعال انگیزی ، دل آزاری اور اسلام دشمنی کے جرم میں مقدمہ چلائے اور انہیں سنگین سزائیں دے ۔“
(چٹان مؤرخہ ۷؍ اپریل ۱۹۷۵ء)
شاہ کی شہادت پر پاکستان کے اخبارات و جرائد نے افسوس کا اظہار کیا۔ ہفت روزہ چٹان میں شورش کاشمیری نے اداریہ لکھا۔ اس کا کچھ حصہ ملاحظہ فرمائیں:
”شاہ فیصل کا قتل امریکی سیاست کی اسرائیلی خواہش کا اظہار ہے اور جس شہزادہ نے اس گھناؤنے جرم کا ارتکاب کیا ہے اس نے اسلام کے سینہ میں گولیاں بھونکی ہیں۔ اس شہزادہ سے بڑھ کر قابل نفرین وجود دنیا میں اس وقت نہیں۔ اس نے دنیائے اسلام کو غم دیا اور اسرائیل کو خوشی مہیا کی ۔ استعماری ریاست کی اس سے بڑی اور کیا خدمت ہو سکتی تھی۔ یقین یہی ہے کہ اس شہزادہ کا سر قلم کیا جائے گا۔ اس
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
کا جرم اتنا گھناؤنا ہے کہ وہ زندہ جلا دینے کے قابل ہے۔ اس کی نعش کو حجاز و نجد کی زمین بھی نہ ملنی چاہئے۔ اسلام کی سرزمین میں اسے قبر کی جگہ نہ دی جائے۔ یہ کم از کم اس زمین کے تقدس کا احترام ہوگا۔ اس شہزادے نے اپنے وحشیانہ فعل سے نہ صرف یہ کہ دنیائے اسلام کو شدید سے شدید اور عظیم سے عظیم نقصان پہنچایا اور اس اندھیری رات میں اسلام کے ایک روشن وجود کو ہلاک کیا ہے۔ بلکہ خود شاہی خاندان کو سوچنا چاہئے کہ اس کے ایک فرد نے کیا طرح ڈالی اور کس بہیمانہ جسارت سے اپنے خاندان کی صولت کو ضعف پہنچایا۔ آج تک شاہی خاندانوں کی اندرونی فضا میں اسی قسم کی وارداتوں کے نتائج پر تاریخ نے ماتم کیا ہے۔ ہم شاہی خاندان کے اجلال و احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے انتہائی ادب کے ساتھ یہ عرض کریں گے کہ شہزادہ فیصل بن مساعد اپنے چچا ہی کا قاتل نہیں اس نے شاہ فیصل ہی کو شہید نہیں کیا۔ اس کا فعل تمام دنیائے اسلام کے لئے ناقابل فراموش المیہ ہے۔ اس نے اسلام کے دل میں گولیاں چلائی ہیں اور دنیائے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے احیاء کو ہلاک کیا ہے۔“
(چٹان مؤرخہ ۷؍ اپریل ۱۹۷۵ء)
شاہ فیصل، محمدؐ عربی کی سرزمین سے قرنِ اوّل کی روایتوں کا احیاء چاہتے تھے۔ وہ فی زمانہ سب سے بڑے اسلامی فرمانروا تھے۔ جن کا دل صرف اسلام کے لئے دھڑکتا تھا۔ ان کا دماغ قدرت کا عطیہ تھا۔ انہوں نے اپنے کردار وعمل سے ثابت کر دیا تھا کہ وہ کافرانہ سیاست کے ہتھکنڈوں سے مرعوب نہیں بلکہ اس سے بے نیاز ہو کر مسلمانوں کی عالمی طاقت کو منظم و متحد کرنے کے خواہاں ہیں اور اس طرح یورپ و امریکا دو بڑے بلاکوں کے مقابلہ میں اسلامی ریاستوں کا تیسرا بلاک بنانا چاہتے ہیں۔ اس غرض سے انہوں نے اپنے تمام وسائل اسلام کے لئے وقف کر رکھے تھے۔ انہوں نے مصر کو استحکام و دفاع کے لئے بطور امداد اربوں ریال دیئے۔ ان کی آمد پر قاہرہ میں استقبالیہ اجتماع کیا گیا۔ صدر انور سادات نے اس اعانت پر مصر کے عوام کی طرف سے اظہارِ تشکر کے طور پر خوبصورت سے خوبصورت الفاظ استعمال کئے تو شاہ نے جوابی تقریر میں کہا: ”ان الفاظ کی ضرورت نہیں۔ میں نے جو کچھ کیا وہ میرا فرض تھا۔ میں نے جو کچھ دیا وہ میری ذاتی ملکیت نہیں تمام مسلمانوں کی دولت ہے۔ میں نے تمہاری ہی چیز تمہیں دی ہے۔ محمدؐ عربی کی زمین کے خزانے تمام مسلمانوں کی میراث ہیں۔“
شاہ فیصل وحدت اسلامی کے لئے شب و روز کوشاں تھے اور اسلام کی دولت اسلام ہی پر صرف کرتے رہے۔ وہ تمام عرب ملکوں میں اتحاد باہمی کے لئے جتن کرتے اور ان کے اختلافات مٹاتے۔ جو مل نہیں بیٹھتے تھے، انہیں ملایا۔ ان کے نزدیک عرب وعجم میں اسلامی ملکوں کے اختلافات محض شتر گربہ تھے۔ وہ ان سب کو ملاتے اور ان کے دل جوڑتے تھے۔ انہوں نے عراق و ایران میں صلح کرائی۔ ان کا بدکردار بھتیجا اپنے فعلِ بد کا مرتکب نہ ہوتا تو آئندہ دو ایک برس میں عرب ممالک کا نقشہ بدل جاتا۔ وہ پوری دنیائے اسلام کے لئے مثبت اسلامی تصور کے تحت اپنے ذہنی خطوط کو اجاگر کر رہے تھے۔ انہوں نے رابطہ اسلامی قائم کر کے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا۔ ادھر مدینہ یونیورسٹی کا وجود ان کی اسلامی فکر کا آئینہ تھا۔ انہوں نے ملت اسلامیہ کے لئے کئی ایک کانفرنسیں منعقد کیں اور حال ہی میں اسلامی دنیا کے اقتصادی وسائنسی ماہروں کی کانفرنس کا انعقاد کیا تھا۔ پاکستان سے ان کے تعلقِ خاطر کا یہ حال تھا کہ اس سے بے پناہ محبت رکھتے تھے۔ بعض شعبوں کے پاکستانی ماہرین کو اپنے ہاں بڑے بڑے عہدوں پر فائز کر رکھا تھا۔ وہ پوری ملت اسلامیہ کو ایک قبیلہ اور ایک ریاست سمجھتے تھے۔ ۱۹۷۴ء میں لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس ہوئی تو شیخ مجیب الرحمٰن نے آپ سے عشائیہ میں سوال کیا۔ آپ مجھ سے بھی محبت کرتے ہیں یا مسٹر بھٹو ہی سے؟ شاہ خاموش رہے کہ یہ کوئی سوال نہ تھا۔ شیخ مجیب الرحمٰن نے پھر سوال کیا۔ شاہ پھر طرح دے گئے۔ جب شیخ صاحب کا اصرار بڑھا تو آپ نے جواب دیا۔ میں صرف پاکستان سے محبت کرتا ہوں۔ جناب خلیل حامدی نے اپنے ایک مضمون میں آپ کا یہ فقرہ نقل کیا ہے کہ جب تک مجیب بنگلہ دیش کو اسلامی ریاست نہیں بنائے گا میں تسلیم نہیں کروں گا۔ پاکستان کے لئے ان کے دل میں بلاشبہ محبت کا ایک سمندر موجزن تھا۔ انہوں نے کئی
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
نازک مرحلوں میں پاکستان کی بے مثال امداد کی۔ جنوری ۱۹۷۵ء کو سوات میں زلزلہ آیا تو ایک کروڑ ریال کی امداد کا اعلان کیا۔ بلاشبہ وہ سلطان صلاح الدین ایوبی کے بعد اسلامی تاریخ کی سب سے بڑی شخصیت تھے اور اس دل و دماغ کے انسان شہنشاہوں کی جماعت میں صدیوں کے بعد پیدا ہوتے ہیں۔ ان کا عہد ایک مثالی عہد تھا۔ انہوں نے عالم اسلام میں ذوق حیات کی ایک لہر دوڑائی اور مشرق وسطیٰ میں وہ پہلے فرمانروا تھے۔ جنہوں نے عرب قومیت اور لادین اشتراکیت کا مقابلہ کیا۔ انہوں نے اسرائیلی فتنہ کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور تمام عرب ریاستوں کو اس پر یکجا کیا کہ وہ اپنے تیل کے ذخائر کو امریکہ اور یورپ کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کریں۔ اس تیر بہدف نسخہ نے امریکہ اور یورپ کے ہوش درست کئے اور وہ اپنے گھمنڈ سے دستبردار ہونے لگے۔ نتیجتاً انہوں نے عربوں کے مطالبہ پر اپنے طرز عمل کو تبدیل کیا اور بڑی حد تک حمایت کی۔ ابھی خاطر خواہ نتائج پیدا نہ ہوئے تھے اور قتل سے ایک دن پہلے امریکی وزیر خارجہ مسٹر کسنجر ناکام ہو کر لوٹ رہے تھے اور لوٹتے وقت اپنی ناکامی کا اعلان واعتراف ایک مسکراہٹ میں کیا تھا اور شاید یہی مسکراہٹ اگلے روز شاہ کے قتل میں شامل ہو گئی۔
مولانا مودودی صاحب نے لاہور میں شاہ کی شہادت پر تقریر کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ اخباری روایت کے مطابق دو عظیم شخصیتوں کا قتل سی آئی اے کی لسٹ پر تھا۔ ان دو میں سے شاہ فیصل قتل کر دیئے گئے ہیں۔ ۲۹؍ مارچ کو بیروت کی اطلاع کے مطابق قاتل شہزادہ کے متعلق کہا گیا تھا کہ وہ کمیونسٹ نظریے کا حامی اور خاندان میں سرخ شہزادہ کے نام سے مشہور تھا۔ اس نے شاہ کے قتل سے چند ہی دن قبل اسرائیل کا دورہ کیا تھا اور وہاں پر اس کا ایک اسرائیلی حسینہ سے تعلق بھی کافی مشہور ہوا تھا۔ وہ ان عرب ملکوں سے روابط رکھتا تھا جو سعودی عربیہ سے مخلص نہ تھے۔ ایک دوسرے بیرونی اخبار نے لکھا ہے کہ وہ افراد خاندان کے مانند حکومت سے مالی امداد نہ لیتا تھا۔ اس نے شاہ فیصل کے خلاف ایک خفیہ ریڈیو سے تعلق پیدا کر رکھا اور اس کے نشریوں میں بڑھ چڑھ کر شامل ہوتا تھا۔ روس کے سرکاری ترجمان پراودا اور ازوستیا نے واضح طور پر امریکہ کے ادارہ سی آئی اے پر الزام لگایا ہے کہ شاہ کے قتل میں اس کا ہاتھ ہے۔ کیونکہ وہ اسرائیل کے مسئلہ میں امریکی نقطہ نگاہ سے متفق نہ تھے۔ اسرائیل کے یروشلم اور دوسرے عرب علاقوں سے کاملاً انخلا کے زبردست داعی تھے۔
’’فیصل المساعد لندن میں زیر تعلیم تھا۔ کالج ریکارڈ کے مطابق وہ انتہائی گھٹیا درجے کا طالب علم تھا۔ ۱۹۶۰ء سے ۱۹۷۰ء تک امریکہ میں رہا۔ اس نے منشیات کے کاروبار میں ایک سال قید کاٹی۔ اس کی دوستی ۵ سال تک ایک نہایت آوارہ مزاج امریکن لڑکی سے رہی تھی۔‘‘
(چٹان، مورخہ ۷؍ اپریل ۱۹۷۵ء)
’’شاہ کی شہادت کے تقریباً ایک مہینہ بعد شاہ کے قاتل شہزادہ فیصل بن مساعد کو سعودی عرب کی شرعی عدالت نے موت کی سزا سنادی۔ ریاض گورنر کے محل قصر الحکم کے سامنے اس کا سر قلم کیا گیا۔‘‘
(چٹان، مورخہ ۲۳؍ جون ۱۹۷۵ء)
شاہ فیصل کے لئے قرآن خوانی
’’شاہ کی شہادت کی اطلاع ملتے ہی پورے ملک میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفاتر میں ہنگامی تعزیتی اجلاس منعقد ہوئے۔ جس میں قرآن خوانی کی گئی اور مرحوم کی خدمات جلیلہ کو سراہتے ہوئے ان کی وفات کو پورے عالم اسلام کے لئے ناقابل تلافی حادثہ قرار دیا گیا۔ ملتان، کراچی، فیصل آباد، لاہور، پشاور، کوئٹہ، سکھر، بہاول نگر، بہاول پور، کنری، ڈیرہ غازی خان، مظفر گڑھ، اسلام آباد، چیچہ وطنی، عارف والا، تلہ گنگ، سرگودھا، گجرات کے علاوہ ملک کے دیگر تمام بڑے شہروں میں مجلس کے دفاتر اور مساجد میں قرآن خوانی کی گئی۔‘‘
(لولاک، مورخہ ۷؍ اپریل ۱۹۷۵ء)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
’’مجلس کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد شریف جالندھری نے شاہ کے جانشین شاہ خالد کو تعزیتی تار بھیج دیا۔ مولانا نے کہا کہ شاہ کی شہادت عالم اسلام کا عظیم سانحہ اور ناقابل تلافی نقصان ہے۔ صیہونیت، اشتراکیت، مرزائیت اور الحاد کے خلاف ان کی خدمات کو کبھی بھلایا نہیں جا سکے گا۔ اتحاد عرب، اتحاد امت محمدیہ اور اسلام کی نشأۃ ثانیہ کے لئے انہوں نے جو تابناک خدمات سرانجام دی ہیں وہ پوری امت کے لئے مشعل راہ ثابت ہوں گی۔‘‘
(لولاک، مؤرخہ ۱۲؍اپریل ۱۹۷۵ء، ص۳)
نظارت تعلیم ربوہ (چناب نگر) کا اعلان
۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کی دستوری ترمیم میں مرزائیوں کی اقلیت قرار دیئے جانے کے بعد ان کے لئے تعلیمی اداروں میں محدود نشستیں مخصوص کی گئیں۔ لیکن منظور کئے گئے قوانین پر حکومت بیجا اور غیر ضروری تاخیر کر رہی تھی۔ تاخیر کے نتیجے میں بہت سارے واقعات کے علاوہ ایک یہ واقعہ بھی پیش آیا۔ ۲۱؍ اپریل کو مرزائیوں کے ترجمان روزنامہ الفضل نے ’’نہایت ضروری اعلان‘‘ کے نام سے ایک اشتہار دیا۔ جس میں لکھا کہ : ’’تمام ایسے احمدی طلباء و طالبات جنہوں نے ملک کے کسی تعلیمی ادارہ بالخصوص میڈیکل کالج میں داخلہ کی درخواست دی ہو اور باوجود استحقاق کے انہیں داخلہ نہ دیا گیا ہو۔ وہ نظارت تعلیم ربوہ سے اپنے تمام کوائف کے ساتھ فوری رابطہ قائم کریں۔ اوّل تو مرکز میں خود آئیں اور ناظر تعلیم سے ملیں۔ بصورت دیگر اپنے تمام کوائف ’’نام، ولدیت، پتہ، تعلیمی ڈگری، حاصل کردہ نمبرات، کس ادارہ میں داخلہ نہیں ملا۔‘‘ وغیرہ نظارت تعلیم کو ارسال کریں۔‘‘
(الفضل مؤرخہ ۲۱؍اپریل ۱۹۷۵ء)
الفضل میں چھپے اس اعلان کا مقصد کیا تھا؟ سمجھ سے بالاتر ہے۔ ملک کے تعلیمی اداروں میں مرزائیوں کے لئے بحیثیت اقلیت جتنی نشستیں مخصوص کی گئیں تھیں وہ ان کا حق تھا۔ ان کو ملنی چاہئے تھیں اور یقیناً ملی بھی ہوں گی۔ لیکن کیا مرزائیوں کے علاوہ ۷ کروڑ مسلمانوں کے بچوں کو میڈیکل کالجوں میں پڑھنے کا حق نہیں تھا؟ مرزائیوں کو ان کی مردم شماری کے مطابق نشستیں مل گئی تھیں۔ ان کا حصہ کاٹ کر ان کو الگ دے دیا گیا تھا اور پہلی والی اندھیر نگری اب نہ رہی تھی۔ مرزائیوں کو ان کا جائز حق ملنے کے باوجود قادیانی نظارت تعلیم کی طرف سے اس قسم کا اعلان سمجھ سے بالاتر ہے۔
مرزائیوں کی تعلیمی بدکاری
خیبر میڈیکل کالج پشاور وطن عزیز کے صف اوّل کے میڈیکل کالجوں میں سے ایک ہے۔ جس میں تاحال داخلے میرٹ کی بنیاد پر اور خاصی محدود تعداد میں ہوتے ہیں۔ مئی ۱۹۷۵ء کے آغاز میں یہاں پر ایم. بی. بی. ایس میں کم تعداد اور گنجائش کے پیش نظر مرزائی طلبہ کے لئے ایک نشست مخصوص کی گئی۔ لیکن مرزائیوں نے ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی کہ ان کو دی گئی نشستیں کم ہیں۔ ان کو بھی مسلمانوں کی طرح زیادہ نشستیں دی جائیں اور اقلیت کی بجائے ان کو میرٹ پر نشستیں ملنی چاہئیں۔
ہائیکورٹ میں معاملہ پیش ہوا تو پشاور یونیورسٹی کے وکیل نے یونیورسٹی کی دائر کردہ پٹیشن ہی ٹھیک طور پر پیش نہ کی۔ اس میں کوتاہی اور تساہل سے کام لیا۔ وہ عدالت کو نہ صحیح صورتحال اور حقیقت سے آگاہ کر سکے۔ نہ قانونی نوعیت کو صحیح طور پر واضح کیا۔ یونیورسٹی کے ضوابط اور میڈیکل کالج کے پراسپکٹس کی صحت اور جواز کے متعلق لب کشائی کی چنداں ضرورت محسوس نہ کی۔ بلکہ احمدیوں کے اس الزام کو قبول کیا کہ انہیں صرف مذہب کی بناء پر داخلے سے محروم کیا گیا۔ حالانکہ پرنسپل میڈیکل کالج کا موقف یہ تھا کہ مدعیان کو اپنی ریزرو سیٹوں پر داخلہ لینا چاہئے جو ان کے بنیادی حق کی تکمیل کے لئے اور کمیونٹی کو اس کا حق دینے ہی کے لئے دستور و قانون کے مطابق مقرر کی گئی ہیں اور
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب وتحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
مخصوص کر دی گئی ہیں۔ وکیل کی کوتاہی کی وجہ ہائیکورٹ نے مرزائیوں کی درخواست اور ان کا موقف تسلیم کر لیا اور مرزائیوں کے لئے میرٹ کی بنیاد پر فیصلہ کا حکم صادر کر دیا۔ اس سے یونیورسٹی میں بے چینی پیدا ہو گئی۔ طلباء نے احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ شروع کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ نشتر میڈیکل کالج کے طلباء پر تو مرزائی ظلم وستم ڈھائے اور آپ یہاں مرزائیوں کو جائز حق دینے پر مستزاد مسلمانوں کا حق بھی ان سے ہڑپ کرنے کا موقعہ دے رہے ہیں۔ دباؤ سے مجبور ہو کر وائس چانسلر اور دوسرے اساتذہ نے مرزائیوں کو داخلہ دینے کے سوال پر مزید قانونی چارہ جوئی پر غور وفکر کرنا شروع کر دیا۔
مرزائی دوبارہ عدالت میں پہنچ گئے کہ ہمارے لڑکوں کو میرٹ کی بناء پر داخلہ نہیں دیا جا رہا۔ عدالت ملکی قوانین کے مطابق فیصلہ کرنے پر مجبور ہوتی ہے۔ انہوں نے وائس چانسلر کو حکم دیا کہ تین دن کے اندر اندر ان مرزائی لڑکوں کو داخلہ دے دیا جائے۔ عدالتی حکم پر ان لڑکوں کو داخلہ دے دیا گیا اور مخصوص اقلیتی نشستوں کے علاوہ دو اور مرزائی طلبہ مسٹر اعجاز احمد اور مس امۃ اللہ مسلمانوں کی نشستوں پر کالج میں داخل ہو گئے۔ حکومت کے اس فیصلے سے مسلمان طلباء کی حق تلفی ہو گئی۔ لیکن حکومت کو اس سے کیا غرض تھا۔ وہ تو صرف مرزائیت نوازی کے اپنے جنون کو پورا کر رہی تھی۔ اس گھمبیر صورتحال میں مسلمانان سرحد کے ایک نمائندہ وفد نے وائس چانسلر صاحب سے ان کے دفتر میں ملاقات کی اور کالج میں مرزائی طلبہ کے داخلہ لینے سے مسلمان طلبہ میں پیدا ہونے والے اشتعال اور بددلی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ وفد کی قیادت مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مولانا سعید الدین شیر کوٹی نے فرمائی تھی۔
اراکین وفد نے طلبہ کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی اور مرزائیوں کی طرف سے مسلمانوں کی سیٹوں پر غاصبانہ قبضے کی کوششوں پر مسلمان طلباء کو ہوشیار رہنے اور اپنے حقوق کے تحفظ کی جانب متوجہ کرتے ہوئے مجلس عمل کی طرف سے مکمل قانونی اور اخلاقی تعاون کا یقین دلایا۔ قائد وفد کے علاوہ جمعیت علماء پاکستان کے سید امیر شاہ، مولانا محمد حسین صاحب جمعیت علماء اسلام، خان محمد اشرف خان پاکستان مسلم لیگ، مولانا نور الحق نور مجلس تحفظ ختم نبوت اور قاری فیاض الرحمن مجلس قراء شامل تھے۔ وفد کے اراکین نے یونیورسٹی کے عملہ کی اس بات کی طرف رہنمائی فرمائی کہ سپریم کورٹ میں اپیل کر کے اس بات کو واضح کیا جائے کہ ریزرو سیٹوں کا تعین اقلیت کے بنیادی حق کی نفی نہیں بلکہ تحفظ ہے اور کالج و یونیورسٹی کے قواعد و قانون کے ساتھ مطابق ہیں۔ اس سے یونیورسٹی کا وقار بھی بحال رہے گا۔ جن طلباء نے غلط بیانی کرتے ہوئے احمدی ہو کر خود کو مسلمان ظاہر کیا ہوا ہے۔ ان کے داخلے منسوخ کئے جائیں۔ کیونکہ یہ غلط بیانی ہے اور طلباء سے اس امر کا سرٹیفکیٹ یونیورسٹی لیتی ہے کہ کسی غلط بیانی کی بناء پر ان کا داخلہ منسوخ کر دیا جائے گا۔
(ملخص لولاک، مؤرخہ ۲۲؍ مئی ۱۹۷۵ء)
قارئین! قادیانیوں کے لئے بحیثیت اقلیت تعلیمی کوٹہ بھی دوسری اقلیتوں سے زیادہ دیا گیا تھا۔ ان کی مردم شماری کے تناسب سے میڈیکل کالجوں میں ان کی نشستیں دیگر اقلیتوں تو کجا مسلمانوں سے بھی زیادہ تھیں۔ میڈیکل کالج راولپنڈی میں کل ۵۵ سیٹوں میں ۵ مرزائیوں کو دی گئیں۔ حالانکہ دیگر اقلیتوں کو صرف ۱، ۱ دی گئی تھی۔ اس پر مولانا محمد شریف جالندھری ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت نے سیکرٹری گورنمنٹ پنجاب ہیلتھ کو ایک عریضہ ارسال کیا جس میں وضاحت مانگی گئی تھی کہ ۲۱؍ اپریل کو آپ نے نوائے وقت میں تعلیمی اداروں کے حوالے سے جو اشتہار شائع کیا ہے اس میں میڈیکل کالج کے طلباء کے لئے آپ نے ۳۰۰ میں سے دو اور دوسرے اداروں میں ۵۵ میں سے ۵ سیٹیں دینے کا اعلان کیا ہے۔ آپ نے یہ تناسب کس بنیاد پر رکھا ہے؟ اقلیت کو حقوق ان کی آبادی کے تناسب سے ملتے ہیں۔ لیکن آپ نے جو تقسیم فرمائی ہے۔ اس میں مرزائیوں کی آبادی کے لحاظ سے ان کی سیٹیں زیادہ ہیں۔ آپ نے ان کو ترجیح کیوں دی ہے۔
(لولاک، مؤرخہ ۲۲؍ مئی ۱۹۷۵ء)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
اس لئے کہ ربوہ کی کل آبادی دس اور پندرہ ہزار کے بیچ تھی اور سالانہ قادیانی کانفرنس جس میں مرزا ناصر احمد نے ایک لاکھ مرزائیوں کی شرکت کا مژدہ سنایا تھا۔ جن میں تقریباً ۱۸ ہزار کے لگ بھگ مرزائی تھے۔ گویا ۵ ہزار قادیانی باہر سے شریک ہوئے۔ روزنامہ چٹان کے مطابق ملک میں اس وقت مرزائی دو یا تین لاکھ تھے۔ ان میں سے بھی اکثریت توبہ کر چکی تھی اور اب ان کی تعداد ہزاروں میں رہ گئی تھی۔ جس کا اندازہ ربوہ کے جلسے سے ہو رہا تھا۔ اس لئے کہ مرزائی تو اس جلسے میں شریک ہونا باعث سعادت اور نفلی حج کے برابر سمجھتے تھے۔
(لولاک، مورخہ ۲۲؍ مئی، چٹان، مورخہ ۶؍ مارچ ۱۹۷۵ء)
طبیہ کالج کے مرزائی طالب علموں کی ناپاک جسارت
ہفت روزہ چٹان کے ایڈیٹر کے نام طبیہ کالج ملتان کی سٹوڈنٹس یونین کے جنرل سیکرٹری ملک ولی الرحمن نے ایک خط لکھا۔ جس میں طبیہ کالج ربوہ میں مرزائیوں کے ریشہ دوانیوں اور سازشوں کا تذکرہ ہے۔ خط اور اس کے اوپر شورش کاشمیری کا تبصرہ اختصار کے ساتھ نذر قارئین ہے۔
”ملک ولی الرحمن جنرل سیکرٹری رقمطراز ہیں: ”بورڈ آف یونانی اینڈ آیورویدک سنٹر آف میڈیسن کے زیر اہتمام طبیہ کالجوں کے سالانہ امتحانات ۲۳؍ جون کو شروع ہوئے۔ چونکہ ربوہ میں بھی ایک طبیہ کالج ہے۔ اس لئے ایک سنٹر وہاں رکھا گیا۔ پروفیسر عطاء اللہ طبیہ کالج لاہور کو ربوہ میں سپرنٹنڈنٹ مقرر کیا گیا۔ ان کے ساتھ جامعہ طبیہ اسلامیہ لائل پور کے پروفیسر حکیم بشیر احمد ظفر کو ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ان کے علاوہ تین نگران مقرر کئے گئے۔ لیکن عین امتحانات کے وقت طلباء اور وہاں کی انتظامیہ نے یہ کہہ کر امتحان دینے سے انکار کر دیا کہ کوئی قادیانی کسی غیر قادیانی کو امتحان دینے کے لئے تیار نہیں۔ نتیجتاً سپرنٹنڈنٹ کے سوا باقی سب حضرات کو امتحان لئے بغیر واپس آنا پڑا۔
اس پر تبصرہ کرتے ہوئے شورش نے لکھا ہے: ”ملک عبدالرحمن کا یہ سوال معنوی اعتبار سے درست ہے کہ جو امتحان بغیر نگرانی کے ہوا۔ اس کو طبی بورڈ کے معزز ارکان کیوں کالعدم نہیں کرتے؟ ملک عطاء الرحمن کی روایت ہے کہ اس کی وجہ شاید یہ بھی ہو کہ مرکزی حکومت کے زیر اہتمام یونانی بورڈ میں بعض قادیانی ارکان بھی شامل ہیں۔ ہمیں یہ خط پا کر چنداں تعجب نہیں ہوا۔ ہم مرزائیوں کی حرکات مذبوحی کے متعلق بہت کچھ جانتے ہیں کہ مرزائی حکومت کی رعایت اور مسلمانوں کی شرافت سے ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اس ایک واقعہ نے ہمارے سامنے بہت سی تصویریں کھول دی ہیں۔ جب مرزائیوں کو مسلمانوں سے خارج کیا گیا اور انہیں ایک اقلیت کی جگہ دی گئی تو حکومت نے ان کے لئے بہت سی مراعات کا انتظام کیا تھا۔ ان مراعات میں یہ بھی تھا کہ ہر میڈیکل کالج میں مرزائیوں کو مردم شماری کے بغیر اس تناسب سے داخلہ ملے گا۔ لیکن اسی تناسب کے علاوہ انہیں عام طلباء کے ساتھ اہلیت (Merit) کی بناء پر داخلہ لینے کا حق بھی حاصل ہو گا۔ ہم نے صرف اس لئے ان مراعات پر نکتہ چینی نہ کی کہ مرزائی مسلمانوں کی رواداری کا خود ہی احساس کریں اور ایسی حرکتیں نہ کریں جو بعد ازاں نوجوان طلباء کے لئے کسی تحریک کا باعث ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ تعلیم الاسلام کالج ربوہ جو نام نہاد سرکاری تحویل میں آنے کے باوجود خلافت ربوہ ہی کی ملکیت ہے۔ ملک کے لئے ایک بہت بڑی لعنت ہے۔ اس کالج کی خصوصیت ہے کہ سالانہ امتحانات قادیانی پروفیسروں ہی کی نگرانی میں ہوتے ہیں اور قادیانی سپرنٹنڈنٹ ہی ان کا انچارج ہوتا ہے۔ اس قادیانی نگرانی کا فائدہ یہ ہے کہ نہ صرف قادیانی طلباء کو سالانہ امتحان کے پرچوں کے جواب لکھوائے جاتے بلکہ ان کی پوری پوری مدد کی جاتی ہے اور اس طرح وہ نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ اس قسم کی رعایت میڈیکل کالج
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
میں داخلہ کے لئے منتخب طلباء کو خاص طور پر حاصل ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ تناسب کے علاوہ اہلیت کی آڑ میں داخلہ حاصل کرتے ہیں۔ ہمارا خیال تھا کہ صوبائی حکومت اس کا سد باب کرے گی۔ لیکن حکومت نے اس سلسلے میں کچھ اس طرح آنکھیں بند کر رکھی ہیں کہ اب ہم اس کا انکشاف کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں اور اس کے ساتھ ہی ہم انتباہ کئے دیتے ہیں کہ تعلیم الاسلام کالج ربوہ کے قادیانی نگرانوں کا طرزِ عمل مسلمان طلباء کے لئے ناقابل برداشت ہے۔ اس کو فوراً روکا جائے اور اس امر کا انتظام کیا جائے کہ میرزائی طلباء اس طرح فائدہ نہ اٹھا سکیں۔‘‘
(چٹان، مورخہ یکم/ جون ۱۹۷۵ء)
طبیہ کالج ربوہ کے طلباء اور اس کی انتظامیہ نے کوئی قادیانی کسی غیر قادیانی کو امتحان دینے کے لئے تیار نہیں، کہہ کر نہ صرف بورڈ آف یونانی اینڈ آیورویدک سسٹم آف میڈیسن کے لئے مشکلات پیدا کیں۔ بلکہ حکومت پاکستان کے مجوزہ نظام کو بھی معطل کر دیا۔ (چٹان)
سرگودھا بورڈ کا مرزائی کنٹرولر
مشہور دانشور ڈاکٹر محمد باقر کی بات کہ ملک کے تعلیمی اداروں میں مرزائی تدریسی اور تنظیمی شعبوں پر سوار ہیں۔ اس کی ایک دوسری نظیر راجہ غالب احمد کی شکل میں تھی۔ ہوا یوں کہ غلام مصطفیٰ کھر نے اپنی وزارت عظمیٰ کے دوران راجہ غالب احمد کو دھاندلی کی بنیاد پر معزول کر دیا۔ یہ شخص کٹر مرزائی تھا اور مرزائیت کے پرچار کے لئے ہمہ تن مستعد رہتا تھا۔ راجہ غالب احمد، راجہ منور ایم. پی. اے کا بھائی تھا اور سرگودھا بورڈ کنٹرولر کے عہدے پر براجمان تھا۔ اس شخص نے محکمہ تعلیم میں مرزائیت کی نشو و ارتقاء کے لئے بے پناہ دھاندلیاں کیں۔ ربوہ (چناب نگر) سرگودھا بورڈ اس کے زیر تھا اس لئے ربوہ میں امتحانات کے دوران راجہ غالب نے اپنے عہدے کا پورا پورا فائدہ اٹھاتا۔ مرزائی لڑکوں کو اعلیٰ نمبروں سے کامیاب کر کے ان پر ملک کے بہترین کالجوں میں داخلے کی راہیں ہموار کرتا اور مسلمان طالب علموں کے حق پر ڈاکہ ڈالتا رہا۔
جب رامے صاحب وزیر اعلیٰ بنے تو انہوں نے سب سے پہلا آرڈر راجہ غالب احمد کی بحالی کا کیا اور یوں مرزائیوں کو دھاندلیوں کا ایک بڑا موقع ہاتھ آیا۔ رامے صاحب جب اقتدار سے لڑھک گئے تو مجلس عمل نے راجہ غالب کی معزولی کا احتجاج کیا۔ لیکن جواب ندارد۔ اسی دوران محکمہ محنت کے ڈائریکٹر اسلم ورک تھے جو مرزائی تھے۔ اس محکمہ میں اس کے زیر اثر سروے آفیسر مسٹر محمد اکرم تھے۔ یہ غالی قسم کے مرزائی مبلغ تھے۔ جہاں جاتے مرزے کی کتابیں تبلیغ کے لئے ہمراہ لے جاتے۔ یہ صاحب ایک جگہ تشریف لے گئے۔ وہاں کے سٹاف کو جمع کر لیا اور انہیں مرزائیت کی تبلیغ شروع کر دی۔ کلرک صاحبان میں سے ایک صاحب کچھ دینی بصیرت رکھتے تھے۔ انہوں نے لاجواب کیا تو کہنے لگے۔ بہر حال ہمارے خلاف جو فیصلہ ہوا ہے وہ غلط فیصلہ ہے۔ شیر پاؤ نے ہماری مخالفت کی تھی۔ وہ قتل ہو گیا۔ شاہ فیصل نے ہماری مخالفت کی تھی اور ہمارے خلاف بھٹو صاحب سے کہہ کر فیصلہ کرایا۔ وہ قتل ہو گئے۔ مرزا قادیانی کی ایک پیشین گوئی یہ ہے کہ ایک بادشاہ آئے گا وہ ہمارے خلاف ایک ہاتھ سے فیصلہ لکھے اور دوسرے ہاتھ سے مہر ثبت کرے گا۔ لیکن پھر ایسا وقت آئے گا جب اس بادشاہ کے دونوں ہاتھ کاٹ دیئے جائیں گے۔ چونکہ اسلم ورک مرزائی تھے اور اس محکمہ کے ڈائریکٹر تھے۔ اس لئے محمد اکرم مرزائی کی چاندی تھی۔ محمد اکرم پر اپنے محکمہ اور دیگر محکموں کی طرف سے شکایات حد سے زیادہ بڑھ گئیں تو اس کو لائل پور تعینات کیا گیا۔ لیکن اس کی جگہ پر آنے والا بھی مرزائی تھا اور یہ سب برکات و ثمرات اسلم ورک صاحب کی تھیں۔ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت نے اس کیس میں تمام تفصیلات عدالت کو بھجوا دیں اور اس پر عمل درآمد کرنے کا مطالبہ کیا۔
(ملخص لولاک، مورخہ ۱۹/ جون ۱۹۷۵ء)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
گجرات واپڈا کا مرزائی
ہفت روزہ لولاک کو واپڈا لیبر یونین گجرات کی طرف سے ایک مراسلہ موصول ہوا۔ جس میں وہاں کے ایک مرزائی سپرنٹنڈنٹ مسٹر مسعود کی چیرہ دستیوں کی شکایت کی گئی تھی۔ یہ صاحب اپنے کسی بھائی جو واپڈا ہی میں کسی اعلیٰ منصب پر فائز تھے، کے بل بوتے پر ملازمین اور افسران کے خلاف غنڈہ گردی کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ لولاک نے وفاقی وزیر واپڈا یوسف خٹک کو یہ شکایت بھجوا کر مذکورہ مرزائی افسر کے خلاف کارروائی کرنے کی سفارش کی۔
(لولاک، مورخہ ۱۸؍ اگست ۱۹۷۵ء)
ابوظہبی میں قادیانیوں کی گرفتاری
مرزائیوں کی اسلام کے اور اہل اسلام کے خلاف ریشہ دوانیاں، دھاندلیاں اور سازشیں صرف پاکستان تک محدود نہ تھیں۔ بلکہ بیرون ممالک بھی وہ مرزائیت کے پرچار اور اسرائیل کی ایجنٹی کا کام دھڑلے سے کر رہے تھے۔ روزنامہ جنگ کراچی نے ۱۹ مئی کو ایک خبر شائع کی کہ ابوظہبی میں متحدہ عرب امارات کی پولیس نے پاسپورٹ آفس کے پیچھے قادیانیوں کے ایک مکان میں چھاپہ مارا۔ وہاں سے ۱۲؍ مرزائیوں کو گرفتار کر لیا۔ ان لوگوں نے گھر کے اندر اپنی عبادت گاہ بنا رکھی تھی اور وہاں جمع ہو کر پخت و پز کرتے تھے۔ پولیس کو اس مکان سے بہت سا قادیانی لٹریچر ملا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اپنے عقائد کی تبلیغ کرتے رہے تھے۔ چونکہ عرب ممالک میں اسلام کے علاوہ ہر قسم کے مذہب کی تبلیغ ممنوع ہے۔ اس لئے ان مرزائیوں کا کام امارات کے قانون کے خلاف تھا۔
ہفت روزہ چٹان نے ان مرزائیوں کی گرفتاری کے بعد ابوظہبی کے فرمانروا کے پاس مرزائیت کے حوالے سے اہم معلومات بھیج دیئے۔ تاکہ اس کی روشنی میں فیصلہ کیا جاسکے۔ چٹان میں اس پر مستزاد یہ بھی لکھا گیا کہ ہمارے پاس اس وقت چالیس ایسے قادیانیوں کی فہرست ہے جو ابوظہبی میں مختلف فرائض انجام دے رہے ہیں اور ابوظہبی کی حکومت میں کسی نہ کسی طرح دخیل ہیں۔ ان سب کے متعلق ہمیں یقین ہے کہ یہ تمام اپنے خلیفہ ناصر احمد کی ہدایت پر اسرائیل کی ایجنٹی کرتے ہیں۔ چٹان نے مزید لکھا کہ ہماری مصدقہ اطلاع کے مطابق اس وقت چار پانچ سو کے درمیان قادیانی عرب امارات سے منسلک ہیں۔ لیکن ان کا اصل کام استعمار اور اسرائیل کی جاسوسی ہے۔ امارات میں آباد پاکستانی مسلمان ان سے واقف ہو چکے ہیں۔ حال ہی میں پاکستانی سنٹر ابوظہبی میں قادیانی امیدواروں کو شکست فاش ہوئی۔‘‘
(چٹان مورخہ ۵؍ جون ۱۹۷۵ء)
’’ابوظہبی میں قادیانی سے متعلق گرفتاری کا حکم شیخ زید بن سلطان النہیان نے ذاتی طور پر خود صادر فرمایا تھا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت ابوظہبی کے ناظم اعلیٰ محمد رفیق نے ایک مکتوب لکھا تھا جس پر امارات میں مرزائیوں کی چھان پھٹک اور تعاقب شروع ہو گیا ہے۔ دفتر مجلس ملتان سے ابوظہبی لٹریچر بھیجا گیا۔ جو مرزائیت کی حقیقت سمجھنے کے لئے کافی مفید ثابت ہوا۔‘‘
(لولاک، مورخہ ۱۱؍ جون ۱۹۷۵ء)
علماء کے پیٹ پھاڑ دیئے جائیں گے
رامے صاحب کی کرم فرمائیوں کا کچھ تذکرہ تو آپ نے ۱۹۷۴ء میں پڑھا۔ ۳؍ جنوری ۱۹۷۵ء کو اس نے ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے یہ ہفوات فرمائے: ’’مولانا مودودی، مفتی محمود اور مولانا شاہ احمد نورانی سرمایہ داروں کے ایجنٹ ہیں۔ جب بھی انقلابی طاقتیں مصروف عمل ہوتی ہیں تو ہمیشہ پادریوں، ملاؤں اور راہبوں کے ذریعہ انقلاب کا راستہ روکا جاتا ہے۔ رامے نے مفتی محمود، مولانا مودودی اور مولانا نورانی کا نام لے کر ان کو فتوئیٰ فروش کہا اور کہا کہ ان لوگوں نے جاگیرداروں سے حلوے کھا کر اپنے پیٹ بڑھا لئے
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
ہیں۔ یہ آرام سے نہ رہیں تو ان کے پیٹ پھاڑ دیئے جائیں گے۔‘‘
(روزنامہ نوائے وقت، مورخہ ۳/جنوری ۱۹۷۵ء)
رامے کا یہ بیان کسی وضاحت کا محتاج نہیں۔ آپ اسے بار بار پڑھیں کہ محترم رامے صاحب کسی طرح قادیانی مقاصد کی تکمیل کے لئے علماء پر برس رہے تھے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قادیانیت کا نفس ناطقہ رامے میں حلول کر گیا تھا اور رامے کی جگہ وہ بول رہا تھا۔ پس حیا چہ باید کرد!
رامے کی مرزائیت نوازی اور سوشلزم پرستی بالآخر جون ۱۹۷۵ء میں اس کے اقتدار کو لے ڈوبی۔ رامے کی مرزائیت نوازی سوشلزم پرستی کی چند مثالیں اجمالی طور پر ملاحظہ فرمائیں:
- ......۱ حنیف رامے نے راجہ منور احمد ایم۔ پی۔ اے چکوال کو اپنا سیاسی مشیر مقرر کیا۔ راجہ منور احمد کٹر مرزائی تھا۔ اس نے اپنا پرائیویٹ
سیکرٹری مشہور مرزائی مبلغ عبدالرحمن ایڈووکیٹ مصنف احمدیہ پاکٹ بک کے بیٹے ملک باسط کو مقرر کر لیا۔ ملک باسط کے ذریعہ حنیف رامے کی حکومت کی پوری مشینری مرزائیت نوازی میں مصروف ہو گئی۔ مرزائی سرکاری افسروں کو رعایتیں دی جانے لگیں اور ربوہ کی سرکار کے حسب منشاء فیصلے ہونے لگے۔
- ......۲ راجہ منور احمد کا بھائی راجہ غالب ایئرفورس سے ریٹائرڈ تھا اور رامے صاحب کی مہربانیوں سے محکمہ تعلیم پر مسلط تھا۔
اس شخص نے پہلے سرگودھا سیکنڈری بورڈ کو مشرف بہ مرزائیت کیا۔ سرگودھا ڈویژن میں مرزائی افسران اور ممتحن صاحبان مقرر کر کے ڈویژن کے تمام مرزائی طلبہ کا مستقبل تابناک کیا۔ پھر ٹیکسٹ بک بورڈ پنجاب کا چیئرمین ہو کر لاکھوں روپیہ ہتھیانے لگا۔ غلام مصطفےٰ کھر نے اپنے اقتدار کے آخری ایام میں اسے نوکری سے نکال دیا۔ لیکن رامے نے آتے ہی اسے بحال کر دیا اور وہ محکمہ تعلیم کا ایک افسر ہوتے ہوئے پنجاب کی حکومت کی مشینری کو چلانے والا ایک اہم پرزہ بنا رہا۔
- ......۳ ۷؍ستمبر کے قومی اسمبلی کے تاریخ ساز فیصلہ کے بعد تحریک ختم نبوت کے تمام ماخوذین اور گرفتار شدگان کی فوری رہائی ہو جانی
چاہئے تھی۔ سرحد، بلوچستان اور سندھ کی حکومتوں نے تمام گرفتار شدگان کو رہا کر دیا۔ لیکن حنیف رامے کی حکومت نے محض مرزائیت نوازی کا ثبوت دیتے ہوئے تمام گرفتار شدگان کو ابھی تک رہا نہیں کیا تھا۔
- ......۴ ان کی بیگم صاحبہ ریڈ کراس کی چیئرمین تھی۔ انہوں نے ۲۹؍مئی کے بعد پنجاب میں پیش آنے والے واقعات کے پیش نظر ربوہ کی
ریڈ کراس سے امداد کرنا چاہی۔ لیکن ربوہ نے سرکاری امداد لینے سے اظہار معذوری کیا۔ اس کے باوجود بیگم صاحبہ نے ریلوے، ویگن میں سیلاب زدگان کی مدد میں آیا ہوا لاکھوں روپیہ کا سامان ربوہ کو عنایت فرما دیا۔
- ......۵ پنجاب ویجی ٹیبل گھی اینڈ جنرل ملز لاہور کے ایک نیک شہرت افسر صالح نور نے صمدانی کورٹ میں پیش ہو کر مرزائیوں اور ربوہ
سرکار کے خلاف شہادت دی۔ حنیف رامے کی حکومت نے اس بے گناہ اور شریف انسان کو بلاوجہ نوکری سے ہی علیحدہ کر دیا۔
- ......۶ مرزائیوں کے خلاف قومی اسمبلی کے فیصلہ کا عملاً سب سے زیادہ پنجاب سے تعلق ہے۔ کیونکہ پنجاب ہی میں مرزائیوں کا مرکز اور
پنجاب ہی میں ان کی اکثریت آباد تھی۔ لیکن حنیف رامے کی مرزائیت نواز پالیسی کی بدولت مرزائیوں کو زبردست ڈھارس ملی، تحفظ حاصل ہوا۔ وہ ابتداء میں فیصلہ سے سخت گھبرا گئے۔ لیکن حنیف رامے کی حکومت کے رویہ کی بدولت وہ قائم ہو گئے۔ بلکہ پہلے سے زیادہ شوخ اور دلیر ہو گئے۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
- ۷...... ۷ ستمبر کے تین، چار روز بعد مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے سلسلہ میں وزیر اعظم اور مجلس عمل کے رہنماؤں کے درمیان
طے ہونے والے سمجھوتہ کو سبوتاژ کرنے کے لئے سب سے پہلے حنیف رامے نے بیان دیا اور یہ کہا کہ بھٹو صاحب کے فیصلہ سے علماء ذلیل ہوگئے ہیں اور اب سوشلزم کے لئے راہ ہموار ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ بھی انہوں نے علماء کی تضحیک اور توہین کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔
- ۸...... پاکستان کے دستور میں تسلیم کیا گیا تھا کہ ملک کا سرکاری مذہب اسلام ہے۔ لیکن اس حقیقت کے ہوتے ہوئے سوشلزم کے حق
میں سب سے زیادہ زہریلے بیان حنیف رامے نے دیئے۔ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ پاکستان اس وقت تک نہ بچ سکتا ہے اور نہ ہی ترقی کرسکتا ہے جب تک کہ پاکستان کی مانگ میں ویت نام اور کمبوڈیا کے شفق سے ابھرنے والی سرخی لا کر نہ ڈالی جائے اور پاکستان میں سوشلزم لانے کے لئے خونی انقلاب تک کی بڑیں ہانکتے رہے۔
(لولاک مؤرخہ ۷؍جولائی ۱۹۷۵ء)
کھائی کلاں میں مرزائی زمینداروں کا آتش انتقام
مرزائیوں کی ایک حرکت نہیں تھی کہ نظر انداز کی جاتی۔ بلکہ ان کو جہاں جب موقع ملتا مسلمان کے خلاف دلوں کی گرمی نکالتے۔ مسلمانوں کے احتجاج کے باوصف حکومت ٹس سے مس نہیں ہورہی تھی۔ صرف ضلع سرگودھا میں کھائی کلاں، چک ۱۳۲ شمالی، ہجکہ، چک ۸۷ شمالی، چک ۷۹ شمالی، چک ۳۲ جنوبی اور تخت ہزارہ میں اشتعال انگیز کارروائیاں، مسلمانوں کی ملکیتی مسجدوں کے مطالبات کر کے مسلمانوں کو مشتعل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ کھائی کلاں میں غریب مسلمان ملاحوں نے تحریک ختم نبوت کے دوران مرزائی زمینداروں کا کچھ دن بائیکاٹ کیا تھا۔ ان زمیندار مرزائیوں نے ان غریب ملاحوں کو اتنا تنگ کیا کہ انہیں اپنی زمین سے گزرنے ہی نہیں دیا۔ بلکہ ان کے بیوی بچوں کو حاجت تک کرنے سے بھی روک دیا۔ انتقام کی آگ یہیں تک نہ بجھ سکی۔ بلکہ ان ملاحوں کو بال بچوں سمیت دو تین دن تک حبس بے جا میں رکھا، کھانے تک کو نہ دیا۔
اس طرح ربوہ (چناب نگر) میں عبدالرشید عابد جو کہ مسلمان ہو چکا تھا اور عاشق رسولؐ اور پروانہ ختم نبوت تھا، کو محکمہ فوڈ ڈسٹرکٹ جھنگ سے ربوہ کا ایک راشن ڈپو الاٹ ہوا۔ وہ آٹا چینی کا کوٹا لایا۔ اسی دوران مرزائی مولوی خورشید نے تحریک کر کے عبدالرشید عابد کا مکمل سوشل بائیکاٹ کر دیا کہ کوئی مرزائی مسلمان کے ڈپو سے چینی یا آٹا نہیں لے گا اور نہ ہی دوکان کرایہ پر دے گا۔ عبدالرشید اپنا کوٹہ مکان پر رکھے ہوئے بیٹھا رہا۔ آج کل کے دانشور جو مرزائیوں کے سوشل بائیکاٹ کو خلاف انسانیت کہتے ہیں۔ ان کو اس بائیکاٹ پر بھی کوئی فتویٰ دینا چاہئے۔
لاؤڈ سپیکر پر پابندی
۷ ستمبر کو یوم ختم نبوت کے سلسلہ میں سرگودھا اور دیگر شہروں میں کئی مقامات پر جلسہ منعقد ہونا تھا۔ لیکن مرزائیوں کے ۹۰ سالہ مسئلے کو حل کرنے کی دعویدار مسلمان حکومت کی انتظامیہ نے لاؤڈ سپیکر کے ذریعے اعلان تو کجا مسجد کے اندر بھی لاؤڈ سپیکر استعمال نہ کرنے دیا۔ بلکہ ان جلسوں کے دوران پولیس نے لاؤڈ سپیکر بند کرانے کی سرتوڑ کوشش کی۔ سرگودھا گول چوک میں مسجد میں جلسہ کے دوران ایک ذمہ دار آفیسر نے پولیس کے ہمراہ مسجد میں آ کر جلسے میں مداخلت کی کوشش کی۔ لیکن شرکاء جلسہ نے یہ کوشش ناکام بنادی۔
اسیران ختم نبوت بدستور جیل میں
سال گزرنے اور حکومتی وعدوں کے باوجود صرف سرگودھا ضلع میں ستمبر ۱۹۷۵ء تک ۳۰۰ شمع رسالت کے پروانوں پر جھوٹے
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
مقدمات چل رہے تھے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے کئی مرتبہ ان قیدیوں کی رہائی کے وعدے کئے تھے۔ لیکن چند ایک گنے چنے افراد کی رہائی کے علاوہ ستمبر ۱۹۷۵ء تک اس پر عمل درآمد نہیں ہوا تھا۔ سرگودھا کی جیلوں میں ان ۳۰۰ افراد میں ۱۲ سال سے لے کر ۸۰ سال کے بوڑھے، جسمانی اپاہج اور معذور بھی شامل تھے۔ ستم بالائے ستم کہ تحریک کے دوران جن مرزائیوں نے مسلمان رضا کاروں کو فائرنگ کر کے ان کو زخمی کیا تھا اور ان مرزائیوں کے خلاف دفعہ ۳۰۷ کے تحت مقدمات چل رہے تھے۔ وہ سارے واپس لئے گئے تھے۔ لیکن مسلمانوں پر بدستور مقدمات جاری تھے اور ان کا کوئی پرسان حال نہ تھا۔
(لولاک مورخہ ۲۱؍ جون، نوائے وقت مورخہ ۱۵؍ جون ۱۹۷۵ء، ملخص)
تخت ہزارہ میں قادیانی شرارتیں
اوپر ہم نے تخت ہزارہ کا اجمالی نام لیا کہ مرزائیوں، مسلمانوں کے خلاف دسیسہ کاریوں میں مصروف ہیں۔ تخت ہزارہ میں کیا ہوا؟ ذیل میں مسلمانان تخت ہزارہ کا ایڈیٹر لولاک اور رہنمایان مجلس کے نام تحریر کیا ہوا خط ملاحظہ فرمائیں:
گاؤں تخت ہزارہ ربوہ نمبر ۲ سے تعبیر کیا جا رہا ہے اور تحریک کے دوران مجلس عمل کے مرکزی رہنما بھی یہاں تشریف لا چکے ہیں۔ بلکہ مرزائیوں کی عبادت گاہ جو تحریک کے دوران ہمارے قبضہ میں تھی، میں جمعہ بھی پڑھا گئے ہیں اور اس سے بڑھ کر یہ کہ تحریک کے دوران یہاں جو فسادات ہوئے ان کی خبر بی . بی سی لندن سے بھی سنی گئی ۔ درج ذیل مسائل نے ہمیں سخت پریشان کیا ہوا ہے اور سخت خطرہ ہے کہ کسی وقت بھی گاؤں آگ سے جل جائے ۔ اس سے پہلے کہ حالات ایسے ہوں آپ سے عرض ہے کہ اپنی اوّلین فرصت میں ہماری پریشانیوں کو دور کرنے کے لئے اقدام کئے جائیں ۔
مرزائیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے فوراً بعد ربوہ کی ہائی کمان نے تخت ہزارہ سے رابطہ قائم کیا ۔ اپنی عبادت گاہ کو واپس لینے کے بعد تمام نومسلم دوبارہ مرزائی ہو گئے ۔ البتہ دس بارہ گھر ابھی تک مسلمان ہی ہیں ۔ اس کے بعد روز بروز مخالفت میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ چند روز بعد قبرستان کا جھگڑا شروع ہو گیا ۔ اسسٹنٹ کمشنر موقع پر آئے اور کاغذات دیکھے اور حکم دیا کہ یہ قبرستان اہل اسلام کا ہے ۔ اس لئے مرزائی اس قبرستان میں مردہ نہیں دفنا سکتے اور مرزائیوں کے لئے علیحدہ جگہ متعین کر دی ۔ لیکن مرزائی بضد ہیں کہ ہم اسی قبرستان میں اپنا حصہ لیں گے ۔ چنانچہ مرزائیوں نے ڈپٹی کمشنر سرگودھا کو قبرستان کے بارے میں درخواست دی ہوئی ہے ۔ اسی طرح درخواست کے ساتھ ہمیں بھی پریشان کیا جا رہا ہے۔
اب مرزائیوں نے اپنے عبادت خانہ میں ہائی پاور کا لاؤڈ سپیکر نہایت بلندی پر لگایا ہے اور اس کے ذریعہ یہ لوگ اشتعال انگیز تقریروں کے ساتھ ساتھ عقیدہ ختم نبوت کے خلاف تبلیغ بھی کر رہے ہیں ۔ ربوہ سے آمدہ مبلغین میں سے ایک مسٹر حفیظ مرزائی نے یہاں پر مستقل رہائش اختیار کر لی ہے ۔ اس صورتحال سے مسلمان سخت حیران اور پریشان ہیں ۔ جس روز ان لوگوں نے لاؤڈ سپیکر لگایا ۔ ہم نے ایس . ایچ . او حلقہ سے شکایت کی ۔ ہماری اطلاع پر ایس . ایچ . او صاحب نے لاؤڈ سپیکر فوری طور پر بند کرا دیا اور مرزائیوں سے کہا کہ ڈپٹی کمشنر کی تحریری منظوری لے آؤ اور لاؤڈ سپیکر استعمال کر لو ۔ مرزائیوں نے ڈپٹی کمشنر سے رابطہ قائم کیا ۔ ڈپٹی کمشنر نے تحریری اجازت دینے سے انکار کر دیا ۔ لیکن زبانی یہ کہہ کر اجازت دے دی کہ ہر شخص کو مذہبی آزادی ہے ۔ اس لئے تم بھی استعمال کر سکتے ہو ۔ ہم نے اس اجازت کے خلاف ڈپٹی کمشنر سے احتجاج کیا اور لاؤڈ سپیکر کی بندش کے لئے کئی درخواستیں دیں ۔ آخر ایک دن تحصیل کے ریذیڈنٹ مجسٹریٹ کو ڈپٹی کمشنر نے یہ معاملہ حل کرنے کے لئے بھیجا ۔ ریذیڈنٹ مجسٹریٹ نے ایس . ایچ . او کو بھیج کر دونوں پارٹیوں کے چار چار سرکردہ آدمیوں کو پکڑ کر تھانہ میں لے گئے اور دونوں پارٹیوں کو ایک چار نکاتی فارمولے پر سختی سے عمل کرنے کا حکم دیا ۔ نکات درج ذیل ہیں ۔
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
- ۱...... مرزائی لاؤڈ سپیکر میں صرف اذان دے سکیں گے۔
- ۲...... لاؤڈ سپیکر کے ہارن بلندی سے نیچے اتار کر اندر لگائے جائیں گے۔
- ۳...... جمعہ کے روز خطبہ عربی میں دے سکیں گے۔
- ۴...... لاؤڈ سپیکر میں مذکورہ تین باتوں کے سوا اور کسی مقصد کے لئے کچھ نہیں پڑھا جائے گا۔
چنانچہ مرزائیوں نے چند روز مذکورہ فارمولا پر عمل کیا اور اس کے بعد فارمولا کی دھجیاں اڑا دیں۔ اشتعال انگیز تقریریں اور تبلیغی سلسلہ پھر شروع کر دیا۔ ہم نے انتظامیہ سے دوبارہ رابطہ قائم کیا۔ لیکن خاموشی کے سوا کچھ بھی ہوا۔ اس صورتحال کے بعد ضلعی مجلس عمل کے رہنما وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملے اور انہیں ہمارے مسائل سے آگاہ کیا۔ بعد میں ہم نے بھی وزیر اعلیٰ پنجاب کو تار کر دی۔ جس میں انہیں تمام حالات سے آگاہ کیا۔ لیکن خاموشی اور صرف خاموشی۔
اب ماہ رمضان المبارک میں یہ لوگ پانچ منٹ پہلے ہی لاؤڈ سپیکر پر اذان دے کر روزہ افطار کرا دیتے ہیں۔ اسی طرح تمام مسلمان بھی غلطی سے روزہ افطار کر دیتے ہیں۔ اسی طرح نماز عشاء یعنی تراویح میں مرزائی لاؤڈ سپیکر استعمال کر کے ہماری نماز تراویح میں مداخلت کر کے نماز میں خلل ڈالتے ہیں۔ اسی طرح کئی دفعہ ہمارے حافظ صاحب قرآن بھی بھول جاتے ہیں۔ اسی طرح گاؤں کے مسلمان سخت پریشان ہیں۔ مزید تکالیف اور پریشانیوں سے بعد میں اطلاع دیں گے۔ چونکہ یہاں پر مرزائیوں نے ایک سابق مرزائی یعنی نومسلم پر قاتلانہ حملہ کر کے سخت زخمی کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ یہاں ابھی کچھ مسلمان ہیں جو تحریک کے دوران مسلمان ہوئے تھے۔ زخمی ہونے والا آدمی بھی انہی میں سے ایک ہے۔ اس لئے اس کی امداد ہمارا فرض ہے۔ مرزائیوں کا لاؤڈ سپیکر جو کہ مسلمانوں کے لئے باعث پریشانی بنا ہوا ہے اور ہماری عبادات کو اس کے ذریعے نقصان پہنچ رہا ہے، کی بندش کے لئے ہماری امداد کی جائے اور اس بارے میں ہمیں فوری طور پر مشورہ دیا جائے کہ ہم کیا کریں۔ قانونی طور پر ہم اس بارے میں کیا کر سکتے ہیں۔ برائے مہربانی جلد سے جلد مشورہ دیں۔ فقط: والسلام !
مسلمانان تخت ہزارہ تھانہ مڈھ رانجھا تحصیل بھلوال ضلع سرگودھا
مرزا ناصر احمد پاکستان سے باہر
اگست ۱۹۷۵ء کے آغاز میں مرزائی امت کا پیشوا مرزا ناصر احمد اپنی جماعت کے لاؤلشکر مہروں اور چہیتوں کے ساتھ پاکستان سے ”بغرض علاج“ کہیں چلے گئے۔ پہلے دن یہ خبر ”الفضل“ میں شائع ہوئی۔ اس کے بعد بعض دوسرے اخباروں نے بھی نقل کی۔ خبر میں یہ بالکل درج نہیں تھا کہ خلیفہ کہاں گئے۔ جب تک ربوہ سے خفیہ طور پر نکل کر لاہور نہیں پہنچے اور لاہور سے طیارے پر کراچی نہیں گئے۔ ان کے متعلق سب کچھ صیغہ راز میں رہا۔ حتیٰ کہ اس امر کی نشاندہی سے بالکل اجتناب کیا گیا کہ کہاں جارہے ہیں اور ان کے ساتھ اتنا لاؤلشکر کیوں جارہا ہے۔ وزارت داخلہ کی مرزائی امت پر فیاضی دیکھیں کہ مرزا ناصر احمد اور اس کی امت جو بلاشبہ پاکستان، وزیر اعظم اور اسلامیان پاکستان کے خلاف دل میں غیظ وغضب رکھتی ہے، ملک سے باہر بلا روک ٹوک جارہی ہے اور دوسری طرف حضرت مولانا علامہ محمد یوسف بنوری جیسی شخصیت جو قانونی طور پر حج جیسی عظیم عبادت کے لئے جارہے تھے کو بلاکسی جواز کے جہاز سے اتارا جارہا ہے۔ (حضرت بنوری کا واقعہ آگے آرہا ہے) قادیانیت نوازی کے علاوہ اس کو کیا نام دیں؟
(لولاک،مؤرخہ ۱۰/اگست ۱۹۷۵ء)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب وتحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
حکومت مرزائیوں کو نوازتے وقت یہ کیوں نہیں سوچتی تھی کہ اس ملک میں عیسائی بھی، سکھ بھی اور ہندو بھی اور ان کے علاوہ دوسری اقلیتیں بھی ہیں۔ کیا یہ مراعات ان کے لئے ہیں یا مرزائیوں ہی کو اس کا مستحق سمجھا گیا ہے؟ مرزائیوں نے اس ملک پر کوئی احسان نہیں کیا۔ وہ شرعاً اسلام کے مجرم ہیں۔ اس کے برعکس عیسائیوں نے یہاں کئی ایک ادارے قائم کر رکھے اور اس سلسلہ میں عوام کی خدمت بھی بجالاتے تھے۔ دیگر اداروں کے علاوہ لاہور کا یونائیٹڈ کرسچن ہسپتال، نوشہرہ کا آنکھوں کا مفت ہسپتال جو تاحال قائم ہیں ان ہسپتالوں میں ادویات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ لیکن ملک میں عیسائیوں کو اس طرز کی سہولیات میسر نہیں۔ صرف مرزائی ہی ان عنایات کے مستحق کیوں تھے؟ سوچئے اور سر دھنئے۔
حضرت بنوری سے حکومتی بدتمیزی
۱۵/ستمبر (۱۹۷۵ء) کو مجلس تحفظ ختم نبوت کے صدر حضرت مولانا محمد یوسف بنوری سعودی عرب کی خصوصی دعوت پر رابطہ عالم اسلامی کے زیر اہتمام مکہ مکرمہ میں منعقد ہونے والی ”اسلام میں مسجد کا مقام“ کانفرنس میں شرکت کرنے کے لئے بذریعہ ہوائی جہاز جا رہے تھے۔ جب وہ جہاز میں سوار ہوئے تو جہاز کی روانگی سے قبل پولیس جہاز میں داخل ہوئی اور دریافت کرنے کے بعد مولانا بنوری صاحب کو جہاز سے اتار لیا گیا اور کہا گیا کہ آپ ملک سے باہر نہیں جاسکتے۔ مولانا نے عمرہ کی نیت سے احرام باندھا ہوا تھا۔ احرام کی حالت ہی میں واپس گھر تشریف لے آئے۔ یہ افسوسناک خبر چند گھنٹوں میں ملک کے کونے کونے میں پھیل گئی۔ ہر جگہ حکومت کی اس ناروا کارروائی کے خلاف احتجاج ہونے لگا۔ جب یہ خبر دفتر ”لولاک“ لائل پور میں پہنچی تو مولانا تاج محمود نے حضرت بنوری سے رابطہ کیا اور صحیح حالات معلوم کئے۔ مولانا نے بتایا کہ پولیس نے مجھ سے یہ کہا کہ آپ کے پاس مرکزی حکومت کی اجازت نہیں ہے۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں نے مرکزی حکومت سے باقاعدہ زرمبادلہ وغیرہ منظور کرایا ہے اور پاسپورٹ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کے پاس سندھ گورنمنٹ کی اجازت نہیں ہوگی۔ میں نے انہیں بتایا کہ باہر جانے کا تعلق سندھ گورنمنٹ سے نہیں ہے۔ بلکہ مرکزی حکومت سے ہے۔ انہوں نے کہا بہر حال ہمیں حکم ہے۔ آپ نہیں جاسکتے؟ یہ کہہ کر مجھے اتار لیا گیا۔
مولانا تاج محمود نے مرکزی وزیر مملکت میاں محمد عطاء اللہ سے رابطہ قائم کیا تو انہوں نے فرمایا: ”مولانا بنوری کسی سیاسی جماعت یا دھڑے بندی سے بالاتر ایک علمی اور دینی شخصیت ہیں۔ ان پر پابندی بظاہر سمجھ میں نہیں آتی۔ میں معلوم کرتا ہوں کہ کیا چکر ہے۔“ انہوں نے لاہور سے خان عبدالقیوم خان کو فون کیا اور تفصیل بتلائی۔ خان صاحب نے کہا کہ جہاں تک میرا علم ہے ہماری طرف سے مولانا پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ لیکن میں حتمی جواب کل صبح وزارت داخلہ کے افسروں سے بات کر کے بتاؤں گا۔ ۱۷/ستمبر کو خان عبدالقیوم خان نے اپنے افسروں سے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ مرکزی حکومت کی طرف سے ان پر کوئی پابندی عائد نہیں ہے۔ مرکزی وزارت داخلہ نے ہوم سیکرٹری سندھ سے دریافت کیا کہ مولانا کو جہاز سے کیوں اتارا گیا ہے؟ تو ہوم سیکرٹری صاحب جن کے علم میں ساری بات تھی اور جن سے ۱۶/ستمبر کو مولانا کے متعلقین کا ایک نمائندہ وفد بھی ملاقات کر چکا تھا۔ اس سارے واقعہ سے لاعلمی کا اظہار کر دیا اور کہا کہ امیگریشن والوں نے ایسا کیا ہوگا۔ ہمیں اس کے متعلق کچھ معلوم نہیں ہے۔
وزارت داخلہ نے حکومت سندھ اور امیگریشن کے عملہ کو ہدایت کر دی کہ مولانا کو مکہ مکرمہ جانے سے نہ روکا جائے اور اس کی
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
اطلاع براہ راست اسلام آباد سے مولانا بنوری کو بھی کر دی گئی۔ چنانچہ حضرت مولانا ۱۶، ۱۷ ستمبر کی درمیانی شب ہوائی جہاز سے مکہ مکرمہ کے لئے روانہ ہو گئے۔ اس واقعہ کا ملک بھر کے مسلمانوں کو شدید صدمہ ہوا۔ روزنامہ نوائے وقت لاہور، جنگ کراچی ، حریت کراچی اور دوسرے تمام اخبارات میں خبریں اور احتجاج شائع ہوئے۔ ملک کے نامور صحافی اور شعلہ نوا خطیب آغا شورش کاشمیری نے ایک احتجاجی بیان اخبارات کے نام جاری کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس واقعہ کی تحقیقات کرائی جائے کہ پردۂ زنگاری کے پیچھے وہ کون سا ہاتھ تھا جو مولانا کی راہ میں رکاوٹ کا باعث بنا تھا؟ آغا شورش کاشمیری کا بیان حسب ذیل ہے۔
’’مولانا محمد یوسف بنوری جو مکہ مکرمہ ’’رابطہ عالم اسلامی‘‘ کے اجلاس میں شرکت کے لئے جا رہے تھے۔ جب وہ احرام باندھ کر طیارہ میں سوار ہو چکے تھے تو اچانک انہیں مطلع کیا گیا کہ وہ ملک سے باہر نہیں جاسکتے۔ حکومت کا یہ اقدام ہر لحاظ سے غلط ہے۔ مولانا سیاسی انسان نہیں۔ ان کا کردار ہمیشہ دینی رہا ہے۔ نہ جانے حکومت نے کن مصلحتوں کے پیش نظر یہ پابندی عائد کی ہے۔ مرزا ناصر احمد امیر جماعت قادیانیہ اپنی ایک بڑی ٹیم کے ساتھ لندن گئے ہیں اور وہاں قومی اسمبلی کے متفقہ فیصلہ کے خلاف اپنے تئیں اسلام کا ترجمان ظاہر کر رہے ہیں۔ اس کا اندازہ ’’الفضل‘‘ ربوہ کی رپورٹوں سے لگایا جاسکتا ہے۔ لیکن اس کے برعکس مولانا پر جو ایک دینی رہنما ہیں شاید اس لئے قدغن لگائی گئی ہے کہ وہ مجلس تحفظ ختم نبوت کی مجلس عمل کے صدر ہیں۔ آغا صاحب نے بھٹو سے ان ناروا احکام کا نوٹس لینے اور اس پابندی کو فوری ختم کرنے کی اپیل کی۔ تاکہ دینی حلقوں کا اضطراب ختم ہو۔‘‘
(نوائے وقت، مؤرخہ ۱۸؍ ستمبر ۱۹۷۴ء)
ہفت روزہ ’’لولاک‘‘ میں مولانا تاج محمود نے لکھا: ’’مولانا بنوری ایک دینی اور علمی شخصیت ہیں اور اپنی اس شہرت اور مقبولیت ہی کی بناء پر انہیں حکومت سعودی عرب نے براہ راست مکہ مکرمہ میں منعقد ہونے والی کانفرنس میں بلایا تھا۔ اگر خدانخواستہ رکاوٹ ڈالنے والوں کی سازش کامیاب ہو جاتی تو سعودی حکومت یقیناً حکومت پاکستان سے بدظن ہوتی اور حکومت پاکستان وسعودی حکومت کے تعلقات پر اس رکاوٹ کا ناخوشگوار اثر پڑتا اور غالباً اسی نیت بد کے پیش نظر ہی مولانا کو روکا گیا تھا۔ بہرحال اللہ کا شکر ہے کہ میاں محمد عطاء اللہ جیسے متدین، مقبول عوامی رہنما کی مداخلت سے حالات درست ہو گئے۔ مولانا بروقت مکہ مکرمہ پہنچ گئے۔ اب وہ مکہ مکرمہ کی کانفرنس میں شرکت کر سکیں گے۔ ان کا مقالہ جہاں کانفرنس کے لئے انمول فیضان ہوگا وہاں پاکستان کے لئے بھی فخر ومباہات کا باعث ہوگا۔‘‘
(لولاک، مؤرخہ ۲۶؍ ستمبر ۱۹۷۴ء)
ربوہ میں غیر ملکی اسلحہ
روزنامہ امروز نے ۳۰؍ جولائی ۱۹۷۵ء کے شمارے میں صفحہ اول پر ایک خبر شائع کی کہ : ’’۲۹؍ جولائی کو پولیس نے ربوہ ریلوے اسٹیشن سے غیر ملکی اسلحے کی بھاری مقدار پر قبضہ کر لیا۔ یہ اسلحہ پیٹیوں میں بند کر کے ریل گاڑی کے ذریعے ربوہ پہنچایا جا رہا تھا۔ سپیشل پولیس کو خفیہ اطلاعات پہلے سے تھیں کہ غیر ملکی اسلحہ کی بھاری مقدار ربوہ پہنچائی جارہی ہے۔ اس غرض سے سپیشل پولیس کا ایک اہلکار ربوہ کے ریلوے اسٹیشن پر متعین کیا گیا۔ ربوہ سٹیشن پر جس وقت پیٹیاں اتاری جا رہی تھیں تو ایک پیٹی پلیٹ فارم پر گر کے ٹوٹ گئی۔ جس سے غیر ملکی اسلحہ کھل گیا۔ سپیشل پولیس کا اہلکار اس کی اطلاع دینے کے لئے ربوہ پولیس اسٹیشن پر گیا تو اس دوران ریلوے کے عملے نے ان پیٹیوں کو ٹھکانے لگانے کی کوشش کی۔ لیکن پولیس نے بروقت پہنچ کر اسلحہ کی پیٹیوں پر قبضہ کر لیا۔ پولیس نے یہ بات راز رکھی کہ اسلحہ کی مقدار کتنی تھی اور تاحال کتنا اسلحہ ربوہ پہنچ چکا ہے۔ اس معاملے میں کوئی گرفتاری بھی عمل میں نہیں آئی۔‘‘
(امروز مؤرخہ ۱۳؍ اگست ۱۹۷۵ء)
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
قارئین! کتنی واضح اور گرما گرم خبر ہے۔ لیکن آپ کو سن کر حیرت ہوگی کہ امروز کے علاوہ کسی روزنامے نے اس خبر کا تذکرہ تک نہیں کیا۔ بلکہ اس سے متعلق کوئی اشارہ کنائیہ بھی استعمال نہیں کیا۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ شاید ان تک خبر نہ پہنچی ہو۔ سوال یہ ہے کہ ملک کی خبر رساں ایجنسیاں ربوہ ہی کے معاملے میں بے خبر کیوں رہتی تھیں۔ یا وزیر داخلہ خان عبدالقیوم خان ایجنسیوں کو پابند رکھتے تھے ربوہ سے متعلقہ خبریں نہ چھاپنے کا۔ کیونکہ خان صاحب تو ربوہ کے معتمد تھے۔ یہ بھی غور کرنے کی بات ہے کہ ریلوے حکام نے پولیس آمد سے قبل اسلحہ کی پیٹیوں کو ادھر ادھر کرنے کی ناکام کوشش کر کے ارباب ربوہ پر پردہ کیوں ڈالنا چاہا۔ مطلب یہ ہے کہ ربوہ ریلوے اسٹیشن پر اب بھی قادیانی عملہ موجود ہے۔ ہفت روزہ چٹان کے مطابق ”ربوہ کے بہشتی مقبرے کے دوزخی فضا میں بعض نام نہاد قبروں کی تہہ میں اسلحہ مدفون تھا۔ مرزا بشیر الدین اور اس کے بھائی مرزا بشیر احمد کی قبروں کے آس پاس کا حصہ ان ذخائر کا گنجینہ ہے۔“
(چٹان مورخہ ۲۰ اگست ۱۹۷۵ء)
مولانا محمد شریف بہاول پوری کا سانحہ ارتحال
مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے مشہور رہنما اور واعظ شیریں بیان مولانا محمد شریف بہاول پوری ۲۳ اور ۲۴؍ اگست ۱۹۷۵ء کی درمیانی شب قضاء الٰہی سے وفات پاگئے۔
مولانا محمد شریف بہاول پوری نے ابتدائی تعلیم مدرسہ نعمانیہ ملتان سے حاصل کی تھی اور دورہ حدیث مدرسہ امینیہ دہلی میں برصغیر کے نامور عالم دین حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ سے پڑھا تھا۔ ابتدائی دور میں آپ ریاست بہاول پور کے اضلاع میں اصلاح رسوم کے موضوع پر تقریریں کیا کرتے تھے۔ بعد میں حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی معیت اختیار کر لی اور مجلس احرار اسلام میں شریک ہوگئے۔
آزادی ملک اور قیام پاکستان کے بعد حضرت شاہ صاحب نے سیاست سے کنارہ کشی کر لی اور مجلس تحفظ ختم نبوت کی تنظیم بنا کر اس میں کام کرنا شروع کیا تو مولانا محمد شریف بھی اسی جماعت میں شریک ہوگئے۔ آخر وقت تک بڑی بہادری محنت اور وفاداری سے مجلس کا کام کرتے رہے۔ مولانا سرائیکی زبان کے بہت ہی مقبول واعظ اور خطیب تھے۔ انتہائی نیک دل، پاکباز اور بلند اخلاق عالم دین تھے۔ انہوں نے تحریک آزادی اور اس کے بعد تحریک تحفظ ختم نبوت میں بڑی قربانیاں دیں اور اہل حق کی ہمراہی میں اگلی صفوں میں رہ کر مصروف جہاد رہے۔ مولانا اس وقت مجلس تحفظ ختم نبوت کے شوریٰ کے ممبر اور مبلغین کی جماعت کے صدر تھے۔ ان کی عمر ستر سال کے قریب تھی۔
مولانا محمد شریف کا وصال نشتر ہسپتال ملتان میں ہوا۔ جنازہ بہاول پور لے جایا گیا۔ عظیم اور مثالی جنازہ ہوا۔ علاقہ بھر کے علماء کرام بہت بڑی تعداد میں شریک جنازہ ہوئے۔ مولانا نے بہاول پور میں ایک مسجد تعمیر کرائی تھی اور اس کے ملحق قرآن مجید کا ایک مدرسہ قائم کیا تھا۔ وہ اس مسجد اور مدرسہ کے درمیان دفن ہوئے۔ مولانا کی تدفین کے بعد رات کو جامع مسجد الصادق بہاول پور میں تعزیتی جلسہ ہوا۔ جس میں مختلف علماء کرام اور رہنماؤں نے مولانا مرحوم کو خراج عقیدت پیش کیا۔ مولانا کی وفات پر مولانا تاج محمود، مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا غلام محمد بہاول پوری، مولانا محمد عابد صدیقی اور دوسرے متعدد رہنماؤں نے اظہار افسوس کیا اور مولانا کی وفات کو پاکستان کے دینی حلقوں کا ناقابل تلافی نقصان قرار دیا۔
(لولاک، مورخہ ۲؍ ستمبر ۱۹۷۵ء)
آپ کی وفات پر مجلس تحفظ ختم نبوت کے ملک بھر کے تمام دفاتر میں تعزیتی اجلاس ہوئے اور قرآن خوانی ہوئی۔ مولانا کی وفات کو عالم اسلام کا عظیم سانحہ قرار دیا گیا۔
(لولاک، مورخہ ۹؍ ستمبر ۱۹۷۵ء)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
مولانا منظور احمد ایک مرتبہ پھر جیل میں
مولانا منظور احمد چنیوٹی اگست کے آخری عشرے میں ریاست بہاول پور کے تبلیغی دورے پر تھے۔ تقریباً تین دن بہاول پور کے مختلف مقامات پر مولانا نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت لوگوں کو سمجھائی۔ دورے کے بعد مولانا واپس تشریف لے جا رہے تھے کہ شیخوپورہ کے مقام پر احمد پور شرقیہ کی پولیس نے ان کو گرفتار کر لیا۔ پولیس نے الزام عائد کیا کہ انہوں نے جلسہ میں عوام کو اشتعال انگیز تصویر دکھائی ہے۔ مولانا چنیوٹی کو بہاول پور جیل میں رکھا گیا۔ ان پر تشدد کیا گیا۔ بیڑیاں پہنا دی گئیں۔ بہاول پور کے مجلس کے کارکنوں نے مولانا کی ضمانت اے سی کی عدالت میں داخل کرنے کی کوشش کی۔ لیکن مسترد کر دی گئی۔ سیشن میں ضمانت دائر کرنے پر ضمانت ہو گئی۔
(لولاک مؤرخہ ۲؍ ستمبر ۱۹۷۵ء)
مولانا عبدالرحیم اشعر کی گرفتاری
مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم تبلیغ اور مرکزی رہنما مولانا عبدالرحیم اشعر کو ۳؍ ستمبر ضلع مظفر گڑھ کی پولیس نے گرفتار کیا۔ گرفتاری کی وجہ پولیس نے مولانا کی ۴؍ جون ۱۹۷۴ء کی ایک تقریر بتائی جو قابل اعتراض اور اشتعال انگیز تھی۔ ملتان اور مظفر گڑھ کے مجلس کے متعلقین نے مولانا کی ضمانت دائر کی جو منظور ہوئی اور دو دن بعد آپ کی رہائی عمل میں آئی۔
(لولاک، مؤرخہ ۶؍ ستمبر ۱۹۷۵ء)
مسلمانوں کی مسجد مرزائیوں کے پاس
بھاگووال ضلع سیالکوٹ میں چونڈہ کے قریب ایک قصبہ ہے۔ اس قصبہ میں صرف چار، پانچ گھرانے مرزائیوں کے تھے۔ جب کہ باقی پوری آبادی مسلمانوں کی تھی۔ ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کے فیصلے سے پہلے مرزائی بھی برادری کی بنیاد پر مسلمانوں کی ایک مسجد میں آ کر اپنی الگ نماز پڑھا کرتے تھے۔ مرزائیوں کے غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے کے بعد مسلمانوں نے انہیں منع کر دیا کہ اب وہ ہماری مسجد میں داخل نہ ہوا کریں۔ بدقسمتی سے اسلم ورک نامی مرزائی مجسٹریٹ اسی گاؤں کا رہنے والا تھا جو انٹی کرپشن میں سپیشل مجسٹریٹ تھا۔ اس کے علاوہ اس کا دوسرا بھائی محمد ارشد ورک وکیل مجسٹریٹ تھا۔ ان دونوں مرزائی بھائیوں کے اثر و رسوخ کی وجہ سے ضلعی انتظامیہ نے موقعہ پر پہنچ کر الٹا مسلمانوں سے مسجد خالی کرا لی اور اسے ناجائز طور پر مرزائیوں کے حوالے کر دیا۔ حالانکہ بحیثیت غیر مسلم اب ان کا مسجد سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہ تھا۔
مسجد پر مرزائیوں کے ناجائز قبضہ پر مسلمانوں نے کافی واویلا کیا۔ لیکن غریب مسلمانوں کی آواز صد بصحرا ثابت ہوئی اور کسی نے ان کی حق رسی نہیں کی۔ اس کے علاوہ اس قصبہ کے مسلمانوں سے دوسری زیادتی یہ کی گئی کہ چینی کا ڈپو مسلمان دوکاندار سے چھین کر ایک مرزائی دوکاندار کے حوالے کیا گیا۔ اس گاؤں کے ایک بزرگ چوہدری غلام نبی باجوہ تھے جو زمیندار تھے اور نمبردار بھی تھے۔ صاحب علم اور دیندار مسلمان تھے۔ سارے قصبہ کے مسلمانوں میں احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ سے رجوع کیا اور فریاد کی کہ چھ ہزار کی آبادی کے قصبہ میں زیادہ سے زیادہ ایک سو افراد مرزائی ہیں۔ باقی ساری آبادی مسلمانوں کی ہے۔ خدا کا خوف کیا جائے۔ مسلمانوں کا ڈپو کس قاعدے قانون یا اخلاقی ضابطے کے تحت مرزائیوں کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے اس سلسلہ میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں کئے۔ مسلمانوں نے مرزائی دوکاندار سے چینی لینا بند کی اور اس مرزائی کا بائیکاٹ جاری رکھا۔ مرزائی دوکاندار پوری آبادی کے چینی کا کوٹہ لے آتا تھا۔ مسلمانوں کی اکثریت چینی لے ہی نہیں رہی تھی۔ وہ باقی چینی بلیک کر دیتا تھا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت نے چونڈہ کے ڈی۔ ایس۔ پی کو خط لکھا اور فریقین کے درمیان تنازعہ ختم کرانے کی درخواست کی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت اور عوام کے
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
احتجاج کے باوصف مسجد کے حوالے سے کوئی حکومتی پیش رفت نہ ہوئی۔ حالانکہ مسجد سوسالہ پرانی تھی اور مسلمانوں ہی نے تعمیر کی تھی۔ مرزائیوں نے مسجد پر قبضہ کرنے کے کچھ عرصہ بعد مسلمانوں کو تنگ کرنا شروع کر دیا۔ انہوں نے مسجد پر انتہائی تیز اور کان پھاڑ دینے والے لاؤڈ سپیکر پر کفر و ارتداد کی اعلانیہ تبلیغ شروع کی۔ مسلمانوں کو اشتعال دلانے کے لئے آئینی دفعات اور اسلامی شعائر کا مذاق اڑاتے رہے۔ مسلمانوں کے لئے سرکاری مسلمان کا لفظ استعمال کرتے۔ قادیانیت کے عروج اور دنیا اس کے زیر نگین لانے کی باتیں کرتے۔ مسلمانوں نے حکومت کو متوجہ کرنے کے لئے پرزور احتجاج کیا۔ انتظامیہ نے معاملہ میں دخل اندازی کر کے مرزائیوں کو اشتعال انگیز جملے نہ کہنے کا پابند بنا دیا۔
قادیانی قبرستان علیحدہ
ایک دو دن بعد مرزائیوں نے ایک اور اشتعال انگیزی دکھائی۔ ستمبر کے آغاز میں ایک قادیانی مر گیا۔ جسے بعض عاقبت نا اندیش اور دینی حمیت سے عاری مسلمانوں کے تعاون سے مسلمانوں ہی کے قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔ مسلمان اس حرکت پر کافی برہم تھے۔ لیکن پرامن رہے۔ اگلے دن اسسٹنٹ کمشنر پسرور، چونڈہ دورہ پر آئے تو مقامی مسلمانوں نے ان سے مطالبہ کیا کہ مرزائیوں کا قبرستان مسلمانوں کے قبرستان سے علیحدہ بنایا جائے۔ کچھ پس و پیش کے بعد مطالبہ مان لیا گیا اور پھلورہ روڈ چونگی کے قریب مرزائیوں کو قبرستان کے لئے جگہ دے دی گئی۔
(لولاک، مؤرخہ ۷؍ ستمبر ۱۹۷۵ء)
مرزائیوں کا گورستان الگ کرنے کی تحریک صرف چونڈہ نہیں بلکہ ملک بھر میں یہ مطالبہ ہو رہا تھا کہ کسی مرزائی میت کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہونے نہ دیا جائے اور جہاں کہیں مزاحمت ہوئی حکومتی افسران نے بھی مسلمانوں کے اس جائز مطالبے کو تسلیم کر کے مرزائیوں کو الگ قبرستان دیا ہے۔
فیصل آباد میں بھی
اسی قسم کا ایک واقعہ کھرڑیاںوالہ ضلع فیصل آباد میں بھی پیش آیا کہ چک ۱۰۰ ر ب نزد کھرڑیاںوالہ میں مرزائیوں کی ایک عورت فوت ہو گئی۔ جسے مرزائیوں نے مسلمانوں کے جذبات کے علی الرغم مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرایا۔ سنجیدہ اور بزرگ مسلمان رہنماؤں نے قانونی چارہ جوئی کرنے کا پروگرام بنایا۔ لیکن علاقہ کے غیور، بہادر اور جوشیلے نوجوانوں نے مرزائی کی لاش کو قبر سے نکال کر مرزائیوں کے گھر بھیج دیا اور کہا جب قانون ہمارے حقوق کی حفاظت نہیں کرے گا تو ہم اپنے حقوق کی حفاظت خود کریں گے۔ مرزائیوں نے واویلا کیا۔ انتظامیہ کو اطلاع ہوئی۔ انتظامیہ نے فریقین کا موقف سن کر دانش مندانہ فیصلہ کر دیا۔ چنانچہ عیسائیوں کے قبرستان سے کچھ زمین مرزائیوں کے قبرستان کے لئے الاٹ کر دی گئی۔ اسی طرح مغل پورہ لاہور میں بھی کسی مرزائی کی فوتگی ہوئی۔ مسلمانوں نے اپنے قبرستان میں دفن نہ کرنے دیا۔ جس پر انتظامیہ نے ان کو عیسائیوں کے قبرستان کے ساتھ جگہ دے دی۔
کالروالا
کچھ عرصہ بعد قلعہ کالروالا ضلع سیالکوٹ میں ایک قادیانی کا لڑکا فوت ہوا۔ وہ اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر رہا تھا کہ مسلمانوں نے اعتراض کیا۔ مرزائیوں نے گاؤں والوں سے کہا کہ اس بچے کو دفن کرنے دو۔ آئندہ ہم کوئی میت آپ کے قبرستان میں دفن نہیں کریں گے۔ چند روز بعد مرزائیوں کا ایک اور بچہ فوت ہو گیا۔ مرزائیوں نے اسے بھی مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا چاہا اور ادھر
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
ادھر سے کوئی ۵۰۰ مرزائی جمع ہو کر دھاندلی سے میت کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے پر تل گئے ۔ مجلس تحفظ ختم نبوت قلعہ کالر کے رہنما محمد اکرم شاد نے کارکنوں سمیت احتجاج کیا کہ مرزائی اب وعدہ کے مطابق اپنا الگ انتظام کریں ۔ مرزائیوں اور مسلمانوں میں جھگڑا طول پکڑ گیا ۔ کوئی تین ہزار مسلمان جمع ہو گئے ۔ لیکن پسرور کے اے سی صاحب اور آر ایم صاحب موقع پر پہنچ گئے ۔ موقع کی نزاکت کا اندازہ کرتے ہوئے فریقین کو تصادم سے بچانے کیلئے فیصلہ کیا کہ میت مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں ہوگی اور مرزائیوں کو ایک الگ رقبہ قبرستان کے لئے دے دیا گیا ۔
(لولاک، مؤرخہ ۲۵؍جون، ۳؍اکتوبر، ۱۰؍اکتوبر ۱۹۷۵ء)
ایم ایم احمد قادیانی کی نحوست
مملکت پاکستان کافی عرصے سے عالمی بینک کا نمائندہ رہا ۔ لیکن ۷؍ستمبر کے فیصلے کے بعد چونکہ مرزائیت کا کفر پوری دنیائے اسلام میں آشکارا ہو چکا تھا ۔ ان حالات میں حکومت کو محتاط فیصلہ کرنا چاہئے تھا ۔ لیکن غیر دانشمندی کا ثبوت دیتے ہوئے پاکستان کی نمائندگی کے لئے ایم ایم احمد قادیانی کو منتخب کیا ۔ عربوں نے ایم ایم احمد کو یہ کہہ کر ووٹ نہیں دیئے کہ وہ مرزائی ہے اور کسی مرزائی افسر کو خواہ وہ پاکستان ہی کا نمائندہ کیوں نہ ہو ، دنیائے اسلام اب ووٹ دینے کو تیار نہیں ۔ عربوں نے متعدد دفعہ پاکستان کی وزارت خارجہ کو متنبہ کیا تھا کہ وہ کسی مرزائی نمائندے کو ووٹ نہیں دیں گے ۔ لیکن وزارت خارجہ نے عربوں کے اس انتباہ کے باوجود پھر ایم ایم احمد مرزائی کو اپنا نمائندہ بنا کر امیدوار کھڑا کیا ۔ جو شکست کھا گیا ۔ بھٹو صاحب کو اس پر بڑا رنج ہوا ۔ یہ مرزائیوں کی ملک کے زوال اور پستی کی طرف لے جانے کا ایک واقعہ ہے ۔ اے کاش ! اگر کوئی ریسرچ سکالر مرزائیوں کی ملک دشمنی کی جانچ پڑتال کرے تو اسے معلوم ہوگا کہ ایسے ہزاروں نقصانات ہیں جو ان کی وجہ سے ملک کو ہوئے ہیں اور اب بھی ہو رہے ہیں ۔
(لولاک، مؤرخہ ۶؍ستمبر ۱۹۷۵ء)
۷؍ستمبر...... یوم ختم نبوت
۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کا فیصلہ مسلمانوں کے لئے اتنا خوش کن فیصلہ تھا اور اس پر اتنی خوشی منائی گئی تھی کہ شاید مسلمانوں نے اتنا بڑا خوشی کا موقع کہیں نہ دیکھا ہو ۔ پاکستان میں ایک ہفتے تک جشن تشکر منایا گیا ۔ متعدد مسلم ممالک کے سربراہوں اور دوسری سربرآوردہ شخصیات نے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو مبارکباد کے تار بھیجے ۔ سال ۱۹۷۵ء میں بھی یوم ختم نبوت پورے ملک میں اسی جوش وخروش ، جذبے اور احترام کے ساتھ منایا گیا ۔ چونکہ دفعہ ۱۴۴ نافذ تھی ۔ اس لئے کھلے میدانوں یا بازاروں میں جلسے جلوس نہیں ہو سکے ۔ مجلس عمل کے زیر اہتمام تمام شہروں میں مساجد میں جلسے منعقد ہوئے ۔ کراچی میں لغاری پارک ، لاہور میں محمڈن ہال ، پشاور میں مسجد مہابت خان ، فیصل آباد میں جامع مسجد کچہری بازار میں جلسے منعقد ہوئے ۔
مقررین نے ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کے دن ہونے والے فیصلے کو اسلام اور مسلمانوں کی عظیم فتح قرار دیا ۔ اپنے رب کے حضور سجدۂ شکر بجا لائے ۔ تحریک ختم نبوت کے دوران ناموس رسالت پر جانیں نچھاور کرنے والوں پر سلام بھیجا گیا اور اس راہ میں کام کرنے اور کسی نوعیت کا تعاون کرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا ۔ دینی رسائل وجرائد نے خصوصی مقالے اور مضامین شائع کئے ۔ ملک کے نامور ، مقبول اور بہت زیادہ چھپنے والے روزنامہ نوائے وقت نے خصوصی اشاعت کا اہتمام کیا ۔ تحریک کے شعلہ نوا مقررین جناب آغا شورش کاشمیری ، سید مظفر علی شمسی ، سید محمود شاہ گجراتی ، مولانا غلام اللہ خاں ، مولانا تاج محمود ، علامہ احسان الہی ظہیر ، مولانا نورالحق ، شیخ رشید احمد ، اکرم زاہد نے ملک کے مختلف شہروں میں اپنی شعلہ نوائی سے ایک دفعہ پھر فدایان ختم نبوت کا خون گرما دیا ۔
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
مجلس تحفظ ختم نبوت کے صدر شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوری اور ناظم اعلیٰ مولانا سید محمود احمد رضوی، نائب ناظم چوہدری ثناء اللہ بھٹہ نے ملک بھر کی مجالس عمل سے رابطہ قائم کر کے انہیں یہ دن منانے کی ہدایات دیں اور ماتحت مجالس کی پرجوش کارگزاریوں کی نگرانی کی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے تمام مبلغین اور علماء مختلف شہروں میں منظم پروگرام کے تحت پھیل گئے اور اس مقدس تحریک کے ادنیٰ رضا کار بن کر اس عظیم دن کے منانے میں سرگرم رہے۔ ملک بھر کے جلسوں میں جو قراردادیں منظور کی گئی ہیں۔ ان میں یہ مطالبات دہرائے گئے ہیں کہ:
- ۱...... مرزائیوں کے متعلق دستوری ترمیم کو قانونی شکل دی جائے۔
- ۲...... تحریک کے دران جن رہنماؤں، کارکنوں اور طلبہ کے خلاف مقدمات بنائے گئے تھے وہ واپس لئے جائیں۔
- ۳...... مرزائیوں نے دستوری ترمیم کو ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ ملک کے دستور کو نہ ماننا بغاوت ہے اس پر ان کا مناسب محاسبہ کیا جائے۔
- ۴...... مرزائیوں کی مردم شماری کرائی جائے اور اس تعداد کے مطابق ان کے شہری حقوق کا تعین کیا جائے۔
- ۵...... رجسٹریشن ایکٹ میں ترمیم کر کے ان کے شناختی کارڈ، پاسپورٹوں، سکول سرٹیفکیٹوں پر غیر مسلم درج کیا جائے۔
- ۶...... مرزائیوں کو اسلامی اصطلاحات کے استعمال کرنے سے روک دیا جائے۔
- ۷...... دستوری ترمیم کے ضمن میں ایک سخت غلطی اور کوتاہی رہ گئی ہے۔ اس کی تصحیح کی جائے۔ ترمیم میں درج ہے کہ جو مسلمان ختم نبوت کے
خلاف تبلیغ کرے۔ ایسا کرنا جرم ہو گا اور وہ سزا کا مستحق ہوا۔ اس دفعہ میں مسلمان کے لفظ کی بجائے ”جو شخص“ کا لفظ درج کیا جائے۔
- ۸...... ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔ وہاں رہائشی پلاٹوں کی سکیم جلد مکمل کی جائے اور وہ پلاٹ صرف مسلمانوں کو الاٹ کئے جائیں۔ نیز ربوہ
کی سکیم میں صنعتی اور کمرشل پلاٹ بھی رکھے جائیں تاکہ وہاں آباد ہونے والے مسلمان مرزائیوں کے محتاج اور دست نگر نہ ہوں۔
مقررین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مرزائی جماعت ایک سازشی جماعت ہے۔ اس کا یہودیوں کی طرح بیرونی طاقتوں سے تعلق ہے اور یہ لوگ در حقیقت برطانیہ، امریکہ اور اسرائیل جیسی اسلام دشمن طاقتوں کے ایجنٹ اور جاسوس ہیں۔ نیز قومی اسمبلی کے فیصلہ نے ان کی اسلام اور پاکستان دشمنی کی آگ کو اور تیز کر دیا ہے۔ اس لئے انہیں فوج اور سول کے تمام کلیدی مناصب سے علیحدہ کر دیا جائے۔ ان کی کڑی نگرانی کی جائے تاکہ یہ ملک کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچا سکیں۔ جلسوں میں اس بات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا کہ مرزا ناصر احمد ہیڈ آف دی جماعت ربوہ آج کل علاج کے بہانے لندن گیا ہوا ہے۔ نیز یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مرزا وسیم احمد ہیڈ آف دی قادیان بھی لندن پہنچا ہوا ہے۔ ڈاکٹر عبدالسلام، ایم ایم احمد اور چوہدری ظفر اللہ خاں وغیرہ مرزائی لیڈر کہیں ایک جگہ جمع ہو کر مشاورت کرنا چاہتے ہیں۔
(لولاک، مؤرخہ ۱۸؍ ستمبر ۱۹۷۵ء)
چنگا بنگیال میں مرزائیت کی حالت نزع
گوجر خان سے شمال مشرق کی طرف جائیں تو چھ میل کے فاصلہ پر چنگا بنگیال نامی ایک گاؤں ہے۔ جس میں مسلمانوں کے علاوہ بیس کے لگ بھگ قادیانی گھرانے بھی آباد تھے۔ یہ علاقہ کبھی قادیانیت کا ”گڑھ“ سمجھا جاتا تھا۔ لیکن بفضل ایزدی ۱۹۷۴ء کی تحریک کے دوران مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں کی شبانہ روز جدوجہد سے اس علاقہ کے مرزائی اپنے سابقہ مذہب سے تائب ہو کر تیزی سے امت محمدیہ میں داخل ہو گئے تھے۔ یہاں مرزائیت کیسے آئی۔ یہ ایک دلچسپ داستان ہے۔ چشم دید لوگوں سے سن کر اور چنگا کی جماعت قادیان کے بانی کی ڈائری سے دیکھ کر مرتب کی گئی ہے۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
”اسی علاقہ میں مرزائیت کے بانی مولوی فضل صاحب تھے۔ راجپوت خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور عالم و فاضل اور صاحب قلم بھی اور دیگر تمام دینی علوم پر عبور حاصل تھا۔ آپ نے ”فتوحات مکیہ“ کا اردو ترجمہ کیا اور ”اسرار شریعت“ فقہی مسائل پر مشتمل ایک ضخیم کتاب تصنیف کی۔ یہاں سب سے پہلے ”قادیانیت مولانا نے قبول کی وہ خود ہی بیان کرتے ہیں۔ ”صبح کے وقت نفل اشراق پڑھتے ہوئے میں نے کشف دیکھا کہ ایک طویل القد فرشتہ نمودار ہوا اور اس کے سینے کے دائیں بائیں طرف یہ کلمات لکھے ہوئے تھے۔ ”جانب الایمن جانب الایسر“ اور ان کلمات میں مجھے دارین زندگی کا سارا علم عطاء فرمایا گیا۔ اسی کشف میں آگے مولانا لکھتے ہیں: ”حضرت مسیح موعود قادیانی (یعنی مرزا قادیانی) کے دعاوی (مثیل مسیح، مہدی موعود، ظلی نبی اور دیگر دعوؤں پر) توجہ کی گئی تو جبرائیل امین نے کشف میں سینے سے لگایا اور دبایا اور سب کچھ بتایا میں نے مسیح موعود کی خدمت میں خط لکھ دیا کہ آپ صادق و امین ہیں۔ میں قبول کرتا ہوں۔ کیونکہ میں نے کشف میں سب کچھ دیکھ لیا ہے۔ (غالباً مولوی فضل کو بھی کوئی ایسا فرشتہ نظر آیا ہوگا۔ جیسا کہ خود مرزا قادیانی کو نظر آتے تھے۔ مثلاً مٹھن لال، ٹیچی ٹیچی، جے سنگھ وغیرہ۔“)
۱۴؍ جنوری ۱۸۹۷ء کو مرزا قادیانی کی خدمت میں حاضر ہو کر ان کے ہاتھوں پر بیعت کر لی۔ بیعت کرنے کے بعد مولوی فضل صاحب نے مرزائیت کی نشر و اشاعت شروع کر دی۔ ہر طرح سے قادیانیت کا پرچار شروع کیا۔ لیکن چنگا بنگیال کی کسی بھی آدمی نے قادیانی ٹولے میں شمولیت نہ کی۔ مرزا قادیانی کے زمانے میں جب طاعون پھیلا تو انہوں نے سامری کی طرح ایک طلسمی جال بنایا۔ وہ یہ کہ مرزا قادیانی نے طاعون کو اپنے صدق کا معیار بنالیا کہ جو میری بیعت میں داخل ہوگا۔ طاعون سے بچ جائے گا۔ کیونکہ طاعون کو خدا نے دراصل میری تائید میں میرے مخالفین کے لئے بھیجا ہے تو بعض ضعیف الایمان اور جاہل لوگوں نے موت کے ڈر سے اپنے بچاؤ کے لئے قادیانی کی بیعت کر لی۔ یہاں چنگا بنگیال میں بھی مولوی فضل صاحب نے یہی حربہ استعمال کیا۔ مرزا قادیانی کی بیعت کر لو تو بچ جاؤ گے۔ تو چند گھرانوں نے مرزائیت قبول کر لی۔ اب خدا کی قدرت کا کرشمہ دیکھئے۔ طاعون نے مرزائی گھرانوں کی بھی خبر لینا شروع کر دی اور خود مولوی فضل صاحب کی ایک لڑکی طاعون سے فوت ہوگئی اور بعض دیگر مرزائیوں پر بھی طاعون نے نوازش کی تو مرزا قادیانی کا طلسم پاش پاش ہو گیا۔ کیونکہ لوگوں نے موت سے ڈر کر قادیانیت قبول کی کہ طاعون سے بچ جائیں گے اور موت نے انہیں وہاں بھی جالیا۔ اب نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن والی بات ہوگئی اور بقول شاعر یہ حال ہوا ؎
نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے
اب جو گھرانے مرزائی ہوچکے تھے وہ اسلام کی طرف نہ لوٹے۔ البتہ جو مرزائی بننا چاہتے تھے وہ رک گئے۔ کیونکہ ان پر مرزا قادیانی کی ”حقانیت“ واضح ہو چکی تھی۔ اس کے بعد چند اور گھرانوں نے بھی قادیانیت قبول کی۔ لیکن وہ بھی بیاہ شادی کے چکر میں پھنس کر قادیانیوں نے اپنی لڑکیاں نکاح میں دے کر ان کا ایمان لوٹ لیا۔ چونکہ دیہاتی ماحول تھا۔ ایک برادری کے لوگ تھے اور پھر جاہل مطلق۔ تو مزید گمراہی کا سبب بن گیا۔ اب مولوی فضل صاحب کی کہانی سنئے۔ چالیس برس متواتر قادیانی گروہ سے منسلک رہنے کے بعد خداوند قدوس نے دوبارہ اسلام کی طرف راغب کیا۔ حالانکہ مولوی صاحب، اوّل درجہ کے صاحب تقریر و تحریر تھے۔ کافی عرصہ تک ”الفضل“ کی نگرانی کرتے رہے۔ آخر ۱۸؍ اپریل ۱۹۳۷ء کو مرزائیت سے توبہ کر کے مشرف باسلام ہوئے۔ ان کے الگ ہونے سے گویا مرزائیت کی کمر ٹوٹ گئی۔ مرزائیت سے تائب ہونے کے بعد تبلیغ اسلام میں مصروف ہو گئے۔ لیکن عمر نے زیادہ وفا نہ کی اور خالق حقیقی سے جاملے۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء
ترتیب وتحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
راقم الحروف (منظور احمد آسی) جب ۸؍ مارچ ۱۹۷۵ء کو چنگا بنگیال آیا تو یہاں مسلمان اور قادیانی ایک ہی مسجد میں نماز پڑھتے۔ ایک دوسرے کے ساتھ شادی غمی میں شرکت کرتے۔ بلکہ مسلمان اور مرزائی کے درمیان کوئی تمیز نہیں۔ آخر کار ۱۶؍ مئی ۱۹۷۵ء کو ایک قادیانی لڑکے آصف (پروفیسر گورنمنٹ کالج چنگا بنگیال، اب وہ بھی مسلمان ہو چکا ہے۔ خود تبلیغی جماعت سے وابستہ ہے۔ بیٹا عالم دین ہے) نے فائرنگ کی اور امام مسجد کو گولی کا نشانہ بنایا۔ مسلمانوں نے مجلس عمل گوجر خاں کے رہنماؤں کی قیادت میں تحریک چلائی۔ اب خدا کے فضل سے مرزائیت دم توڑتی، یعنی نزع کی حالت میں ہے۔
(از منظور احمد آسی، مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت، لولاک، مورخہ ۲۲؍ نومبر ۱۹۷۵ء)
غلغلہ انداز شورش بھی رخصت
۲۴، ۲۵؍ اکتوبر ۱۹۷۵ء کی درمیانی رات شیر بیشہ حریت، شہنشاہ فن خطابت، تاجدار اقلیم صحافت، فاتح فتنہ مرزائیت، یادگار سید عطاء اللہ شاہ بخاری، جانشین ابوالکلام آزاد، تلمیذ ظفر علی خان، مجاہد ختم نبوت آغا شورش کاشمیری وفات پا گئے۔
آغا صاحب تحریک آزادیٔ برصغیر کے ایک مجاہد جرنیل اور قافلہ سالار تھے۔ ملت اسلامیہ کے عظیم محسن اور دین اسلام کے بہت بڑے خدمت گزار تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی ملت اسلامیہ کی فوز وفلاح کی جدوجہد میں صرف کر دی اور اس سلسلہ میں بے مثال قربانیاں دیں۔ بے شمار مصائب و آلام برداشت کئے۔ وہ بہت چھوٹی عمر میں مولانا ظفر علی خاں کی طوفان انگیز اور قیامت خیز تحریروں سے متاثر ہو کر سیاسیات کی خارزار وادی میں وارد ہو گئے۔ اس وقت سے زندگی کے آخری لمحہ تک وہ حق وصداقت کی تلوار بن کر ظلم واستبداد اور نا انصافی کے خلاف لڑتے رہے۔ اس راہ میں جس قدر مصیبتیں انہوں نے برداشت کیں۔ اتنی سختیاں برصغیر کے کسی رہنما کو شاذ ونادر ہی پیش آئی ہوں گی۔ جس زمانہ میں انہوں نے سیاسیات میں حصہ لینا شروع کیا تھا وہ زمانہ انگریزوں کے عروج کا تھا۔ مثل مشہور تھی کہ انگریزوں کی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا۔ سرکار برطانیہ کے خلاف آواز اٹھانا اپنے آپ کو برباد کرنے کے مترادف تھا۔ حق تعالیٰ نے آغا صاحب کو بچپن ہی سے بے مثال خطابت، بے پناہ استقلال اور جوش ایمانی عطاء فرمایا ہوا تھا۔ انہوں نے پختہ عزم اور پورے جوش وخروش سے فرنگی استبداد کو للکارا اور اس سے بے خطر ٹکرا گئے۔ اگرچہ انہیں اس معرکہ حق وباطل میں بے پناہ قربانیاں دینی پڑیں۔ لمبی لمبی قیدیں کاٹنا پڑیں۔ لیکن انہوں نے اپنے دوسرے احرار اور حریت کے علمبردار ساتھیوں کے تعاون سے انگریز کو ملک چھوڑنے اور یہاں سے نو دو گیارہ ہونے پر مجبور کر دیا۔
فرنگی استبداد کے خلاف جنگ آزادی میں بھرپور حصہ لینے کی پاداش میں انہیں دس سال تک قید وبند کی مصیبتیں برداشت کرنا پڑیں۔ اس اثناء میں ان پر مصائب کے پہاڑ توڑے گئے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ حفاظت اسلام اور اشاعت اسلام کے لئے وقف ہو گئے۔ آغا شورش کاشمیری نے فرنگی کو یہاں سے نکالنے اور ملک کو آزاد کرانے میں بھرپور حصہ لیا تھا۔ انگریزوں کے جانے کے بعد آغا صاحب نے انگریزوں کے خود کاشتہ پودے سے نمٹنے کے لئے بھی زبردست جدوجہد کی اور بالآخر اس سلسلہ میں بھی وہ اپنے بہادر ساتھیوں کے تعاون سے سرخرو اور سربلند ہو گئے۔
آغا شورش کاشمیری پاکستان میں مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی یادگار، مولانا ابوالکلام آزاد کے جانشین، مولانا ظفر علی خاں کے شاگرد اور علامہ اقبال کے وارث تھے۔ ان کا زور دار اور خود دار قلم ہمیشہ اسلام دشمن طاقتوں کے خلاف مصروف جہاد رہا۔ ان کی زبان
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب وتحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
منکرین خدا اور منکرین رسول کے خلاف آگ برساتی رہی ۔ وہ ایک محبّ صادق، ایک قلندر باصفا، ایک مجذوب با خدا اور ایک حق گو مجاہد تھے۔ وہ باطل سے ٹکرانا جانتے تھے۔ جب کبھی ایسا موقع آتا تو وہ استقامت کا پہاڑ بن جاتے۔ انہوں نے آخری وقت اپنے عمل اور عقیدہ کو ان الفاظ میں دہرایا۔ ’’گواہ رہنا میں مسلمان ہوں۔ رسول اللہ ﷺ کا سچا غلام ہوں۔ میں رسول کا خادم، عاشق ہوں۔ میرا ایمان ہے کہ میری بخشش رسول اللہ ﷺ کرائیں گے اور پھر بلند آواز سے پڑھا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ‘‘
آغا صاحب کی وفات پر اندرون و بیرون ملک تمام مسلمانوں نے گہرے رنج وغم کا اظہار کیا اور ان کی وفات کو عالم اسلام کا عظیم سانحہ قرار دیا۔ آغا صاحب کی وفات پر ملک کے تمام چھوٹے بڑے اخبارات نے تعزیتی کالم اور مضامین لکھے اور آغا صاحب کو خراج تحسین پیش کیا۔
(لولاک، مورخہ ۳۰؍نومبر ۱۹۷۵ء، نوائے وقت، مورخہ ۲۶؍اکتوبر)
شورش نے وصیت کی تھی۔ میں چاہتا ہوں۔ مرنے کے بعد مجھے وہ شخص غسل دے۔
- ☆...... جس نے منبر و محراب کی عظمت کو داغدار نہ کیا ہو۔
- ☆...... جو کبھی انگریزی فوج میں بھرتی ہو کر ملکہ وکٹوریہ کے لئے نہ لڑا ہو۔
- ☆...... جس کا اوڑھنا بچھونا صرف اسلام ہو۔
- ☆...... مجھے وہ اشخاص کندھا دیں جو ظلم و جور کے خلاف لڑتے رہے ہوں اور جن کے ہاتھ میں ظلم وجور کی بیخ کنی کے بعد اس ملک کے
مستقبل کی عنان ہو۔ میرا قلم اس شخص کو دیا جائے۔ جو اس کو تیشہ کوہ کن بنا سکے۔ جس کو لہو سے لکھنے کا سلیقہ آتا ہو۔
مجھے وہاں دفن کیا جائے۔ جہاں گورکن قبر کی ہڈیاں فروخت نہ کرتے ہوں ۔ مجھے وہ دوست لحد میں اتاریں جو دفنانے کے بعد بھول جانے کی تاریخی اداؤں سے واقف نہ ہوں۔ کوئی حکمران میری قبر پر فاتحہ نہ پڑھے۔ میری قبر پر ایک ہی کتبہ لکھا جائے۔ ’’یہاں وہ شخص دفن ہے جس کی زندگی تمام عبرتوں کا مرقع رہی ہے۔‘‘
شورش کاشمیری کی وفات پر مجلس تحفظ ختم نبوت کے اندرون ملک و بیرون ممالک میں تعزیتی اجتماعات ہوئے ۔ قرآن خوانی ہوئی۔ جلسے ہوئے۔ جن میں آغا صاحب کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ تحریک آزادی اور تحریک ختم نبوت میں آغا صاحب کی خدمات کو سراہا گیا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد شریف جالندھری کی ہدایت پر ملک بھر میں مجلس کے رہنماؤں اور کارکنوں نے آغا صاحب کے ایصال ثواب کے لئے قرآن خوانی کا اہتمام کیا۔ چند ایک شہروں کا اجمالی تذکرہ کیا جاتا ہے۔
ملتان: مجلس کے مرکزی رہنماؤں مولانا محمد حیات، مولانا عبدالرحمن میانوی، مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا عبدالرحیم اشعر، مولانا سید منظور احمد شاہ، مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے شرکت فرمائی۔
بہاول پور: مجلس عمل بہاول پور کے امیر حاجی ذکر اللہ، ناظم اعلیٰ عمر دین، حاجی سیف الرحمن اور دیگر نے شرکت کی۔
لودھراں: مجلس لودھراں کے امیر مولانا محمد یوسف، مولانا محمد میاں اور دیگر نے شرکت فرمائی۔
اس کے علاوہ احمد پور شرقیہ، عارف والا، کمالیہ، اسلام آباد، پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان، تلہ گنگ، سرگودھا، گوجرانوالہ، شیخوپورہ، ساہیوال، کوئٹہ، کراچی، چیچہ وطنی، فیصل آباد، کھرڑیانوالہ، سمندری، ماموں کانجن، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور بہاول نگر میں بھی مجلس کے اجتماعات ہوئے۔ مرکزی قائدین نے شرکت فرمائی اور قرآن خوانی و ایصال ثواب ہوا۔
(لولاک، مورخہ ۱۰؍نومبر ۱۹۷۵ء)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
شورش کے خلاف مرزائیوں کی ہرزہ سرائی
آغا شورش کی وفات کے بعد مرزائیوں کے ترجمان ’’الفضل‘‘ نے روایتی بہتان طرازی اور ابلیسیت سے کام لے کر ایک خط نما مضمون شائع کیا۔ اس کے جواب میں مولانا تاج محمود نے لکھا: ’’ربوہ سے یہ خبر آئی ہے کہ وہاں شورش صاحب کی وفات پر خوشی منائی گئی۔ مرزائیوں نے ایک دوسرے کو مبارکباد دی اور خوشی سے دن بھر ربوہ کی گلیوں میں ٹاپتے ناچتے پھرتے رہے۔‘‘
دوسری خبر ربوہ والوں کے متعلق یہ آئی کہ ان کے ترجمان نے ایک فرضی اور من گھڑت خط چھاپ کر آغا صاحب کی وفات پر اپنے خبث باطن کا اظہار کیا اور طنزیہ رنگ میں ایک سوال دریافت کرتے ہوئے اپنی آتش انتقام بجھانے یا بھڑکانے کی کوشش کی ہے۔ خط کا مضمون درج ذیل ہے: ’’سلام مسنون، ’’نوائے وقت‘‘ کے ایک مضمون نگار زیڈ اے سلہری صاحب نے اپنے مضمون مطبوعہ نوائے وقت مؤرخہ ۳۰؍ اکتوبر ۱۹۷۵ء میں لکھا ہے کہ ڈاکٹر افتخار نے ہمیں مخاطب کر کے کہا کہ وہ آغا صاحب کو انجکشن دینا چاہتے ہیں تاکہ وہ سو کر کچھ آرام کرلیں۔ اس پر ہم فوراً اٹھ کھڑے ہوئے۔ لیکن میں ابھی سلام کر کے دروازے کی طرف بڑھا ہی تھا کہ آغا صاحب نے مجھے اپنے قریب بلایا اور کہا کہ میں اپنا ہاتھ ان کے سر پر رکھ دوں۔ جب میں نے ان کے حکم کی تعمیل میں اپنا ہاتھ ان کے سر پر رکھ دیا تو انہوں نے انتہائی رقت بھری آواز میں کہا: ’’سلہری صاحب آپ گواہی دینا کہ میں مسلمان ہوں۔ لا اله الا الله محمد رسول الله اور میں رسول الله ﷺ کا عاشق ہوں۔‘‘ بے شک کلمہ طیبہ میں یہ کرامت اور طاقت ہے کہ اگر کوئی ایسا انسان جس نے عمر بھر نماز نہ پڑھی ہو۔ قرآن کریم کھول کر نہ دیکھا۔ مرتے وقت بھی کلمہ طیبہ پڑھ لے تو مسلمان ہو جاتا ہے۔ لیکن عجیب بات ہے کہ ان لوگوں کے اسلام کے پیمانے اپنوں اور دوسروں کے لئے مختلف ہیں جو کلمہ طیبہ شورش کو مسلمان بنا سکتا ہے۔ وہ ہر شخص کو مسلمان بنا سکتا ہے۔ حیرت ہے پھر انہیں ہزاروں نہیں لاکھوں کلمہ گوؤں کے لئے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر ختم نبوت کی خود ساختہ تعریف والی پچر لگانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی ہے۔ یہ لوگ خدا تعالیٰ کے ارشاد پر اپنی سیاسی تعریف کو فوقیت دے کر اسلام پر کتنا ظلم کر رہے ہیں؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہی سب سے بالا، اولیٰ آخری اور حتمی ہے کہ جس نے لا الہ الا اللہ کہا وہ مسلمان ہو گیا؟
مولانا تاج محمود نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا:
یہ مرزائیوں کی عادت ہے۔ عادت ہی نہیں فطرت ہے کہ جس بات سے امت مصطفےٰ ﷺ کو صدمہ اور رنج پہنچے۔ یہ اس پر خوش ہوتے ہیں اور اجتماعی رنگ میں اس پر خوشی مناتے ہیں۔ جب جنگ عظیم میں بغداد پر انگریزوں نے قبضہ کیا اور سقوط بغداد کا دلدوز واقعہ پیش آیا تو مرزائیوں نے خوشی منائی۔ قادیان میں چراغاں کیا گیا۔ کل دنیائے اسلام خون کے آنسو رو رہی تھی۔ لیکن مرزائی جشن منا رہے تھے۔ مشرقی پاکستان کے سقوط کا حادثہ پیش آیا۔ مسلمانوں کے دل لخت لخت ہو گئے۔ لیکن مرزائیوں نے خوشی منائی اور اسے اپنے کذابوں کی پیش گوئی بتایا۔ شاہ فیصل شہید کا دنیائے اسلام نے غم اور ماتم منایا۔ لیکن ربوہ میں جشن منایا گیا اور مٹھائیاں تقسیم ہوئیں اور اسے بھی مرزا قادیانی کی کرامت بتایا۔ اب اسلام کے فرزند جلیل آغا شورش کشمیری کی وفات ہوئی۔ دنیائے اسلام رو رہی تھی اور اسے خراج عقیدت پیش کرنے میں مصروف تھی۔ لیکن مرزائی خوشی منا رہے تھے۔
اس سلسلہ میں یہ کہہ دینا ہی کافی ہوگا کہ مرزائیوں کی فطرت اور عادت ہی اس بات کی بہت بڑی دلیل اور گواہ ہے کہ یہ امت
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
مصطفےٰ کا جز نہیں ہیں ۔ بلکہ دائرہ اسلام سے خارج ، ملت کفر کا حصہ ہیں ۔ ورنہ ان کا یہ عمل امت سے متضاد اور مخالف نہ ہوتا ۔ جہاں تک مرزائی ترجمان کا یہ طنز ہے کہ ”ان لوگوں کے اسلام کے پیمانے اپنوں اور دوسروں کے لئے مختلف ہیں ۔ جو کلمہ طیبہ شورش کو مسلمان بنا سکتا ہے ۔ وہ ہر شخص کو مسلمان بنا سکتا ہے ۔ حیرت ہے پھر انہیں ہزاروں نہیں لاکھوں کلمہ گوؤں کے لئے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر ختم نبوت کی خود ساختہ تعریف والی پچر لگانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوتی ہے ۔ یہ لوگ خدا تعالیٰ کے ارشاد پر اپنی سیاسی تعریف کو فوقیت دے کر اسلام پر ظلم کر رہے ہیں ۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ جس نے لا الہ الا اللہ کہا وہ مسلمان ہو گیا ۔“
مرزائی ترجمان کا سارا مفروضہ ہی غلط ہے ۔ مرزائی ترجمان کو معلوم ہونا چاہئے کہ صرف زبان سے لا الہ الا اللہ کہنے سے کوئی مسلمان نہیں ہو سکتا ۔ بلکہ مسلمان ہونے کے لئے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے زبانی اقرار اور قلبی تصدیق کے ساتھ ساتھ ان تمام چیزوں کی تصدیق بھی ضروری ہے جو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائے تھے ۔ جو شخص صرف زبان سے کلمہ پڑھے لیکن حضور ﷺ کی لائی ہوئی چیزوں میں سے کسی ایک کا بھی منکر ہو وہ مسلمان نہیں ہے اور حضور ﷺ کی لائی ہوئی چیزوں میں ایک اہم ترین چیز ختم نبوت کا عقیدہ بھی ہے ۔ اس کا منکر بغیر کسی شک و شبہ کے کافر ہے اور قرآن مجید کی آیات رسول اکرم ﷺ کے ارشادات ، صحابہ کرامؓ کی تصریحات اور ائمہ دین کی عبارات کی بناء پر امت کا اس پر اجماع ہو چکا ہے کہ محمد عربی ﷺ پر سلسلۂ نبوت ہر لحاظ سے ختم ہو چکا ہے اور وحی کا آنا مسدود ہو چکا ہے ۔ آپ ﷺ کے بعد جو دعویٰ نبوت کرے وہ کاذب اور مفتری علی اللہ ہے ۔ چودہ سو سال میں جب کبھی کسی شخص نے دعویٰ نبوت کیا جمہور علماء نے اس کے ارتداد کا فتویٰ دیا اور مسلمان ارباب اقتدار نے ہمیشہ ایسے مدعیان نبوت کے قتل کا فیصلہ کیا ۔
چنانچہ صحابہ کرامؓ کا سب سے پہلا اجماع مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کے قتل پر ہوا ۔ اسلامی تاریخ میں یہ بات درجہ تواتر کو پہنچ چکی ہے کہ مسیلمہ کذاب نے دعویٰ نبوت کیا تھا اور بڑی جماعت اس کی پیرو ہو گئی ۔ آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد سب سے پہلا جہاد جو حضرت صدیق اکبر ؓ نے اپنے عہد خلافت میں کیا تھا ۔ تمام صحابہ و تابعین نے مسیلمہ کذاب کو محض دعویٰ نبوت کی بناء پر اور اس کی جماعت کو اس کی تصدیق کی وجہ سے کافر سمجھا اور باجماع صحابہ و تابعین نے ان کے ساتھ وہی معاملہ کیا جو کفار کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔ مستند تواریخ اسلام کی کتابوں سے ثابت ہے کہ مسیلمہ کذاب نماز پڑھتا تھا ۔ آنحضرت ﷺ کی نبوت کا قائل تھا ۔ البتہ نبی ﷺ کی نبوت پر ایمان لانے کے ساتھ اپنی نبوت کا بھی مدعی تھا ۔ تاریخ ابن جریر طبری میں ہے کہ نبی ﷺ کی تصدیق اذان میں کرتا تھا ۔ اذان میں اشہد ان محمد رسول اللہ کہتا تھا ۔ لیکن اس سب کچھ کے باوجود مدعی نبوت تھا ۔ اس لئے حضرت صدیق اکبر ؓ نے صحابہ کرام ؓ ، مہاجرین و انصار اور تابعین کا ایک عظیم الشان لشکر حضرت خالد ابن ولید کی قیادت میں مسیلمہ کے خلاف جہاد کے لئے یمامہ کی طرف بھیجا ۔ تاریخ طبری میں حضرت صدیق اکبر ؓ کا ایک فرمان حضرت خالد ابن ولید کے نام درج ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو صحابہ ؓ و تابعین ؒ اس جہاد میں شہید ہوئے ان کی تعداد ۱۲۰۰ ہے ۔ نیز اسی تاریخ میں ہے کہ مسیلمہ کی جماعت جو اس وقت مسلمانوں کے مقابلے میں نکلی تھی اس کی تعداد ۴۰۰۰۰ مسلح جوان تھی جن میں سے ۲۸۰۰۰ ہزار مارے گئے تھے اور خود مسیلمہ کذاب بھی اس معرکہ میں ہلاک ہوا ۔ باقی ماندہ نے ہتھیار ڈال دیئے اور اطاعت قبول کر لی ۔ صحابہ کرام ؓ نے نہ وقت کی نزاکت کا خیال کیا اور نہ مسلمانوں کے ضعف و بے سروسامانی کا اور نہ مسیلمہ کذاب اور اس کی جماعت کی نماز ، اذان و کلمہ کا اور نہ اقرار نبوت محمدیہ کا ۔ اس سے صاف معلوم ہوا کہ صحابہ کرام ؓ نے بالاتفاق نبی اکرم ﷺ کی نبوت کے بعد کسی شخص کا دعویٰ نبوت کرنا خواہ وہ کسی تاویل اور کسی پیرائے سے ہو ، موجب کفر و ارتداد سمجھا ۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء
ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
آغا شورش کاشمیری کے کلمہ طیبہ اور مرزائیوں کے کلمہ طیبہ میں فرق ہے۔ آغا شورش کاشمیری ان تمام چیزوں کو جو حضور ﷺ اللہ کی طرف سے لائے تھے تصدیق کرتے ہوئے کلمہ پڑھتے تھے اور تصدیق کرتے ہوئے ہی انہوں نے آخری وقت بھی کلمہ طیبہ پڑھا۔ اپنے آپ کو حضور ﷺ کا غلام، حضور ﷺ کا خادم اور حضور ﷺ کا عاشق بتایا۔ اس کے برعکس مرزائی مسیلمہ کذاب کی طرح حضور ﷺ کی ان تمام چیزوں کو جو وہ اللہ کی طرف سے لائے تھے تصدیق نہیں کرتے۔ بلکہ عقیدہ ختم نبوت کے منکر اور اجرائے نبوت کے قائل ہیں۔ اس لئے ان کا کلمہ پڑھ لینا ان کو مسلمان بنانے کے لئے کافی نہیں ہو سکتا۔ مرزائی ترجمان کو آغا شورش کے سلسلہ پر طنز کرنے سے پہلے اس بات پر بھی غور کر لینا چاہئے تھا کہ دنیا کے بہتر کروڑ مسلمان کلمہ پڑھتے ہیں۔ نماز، روزہ، زکوۃ اور حج کی ادائیگی کے قائل ہیں۔ لیکن اس کے باوجود مرزائیوں کے پوپ پال مرزا بشیر نے انہیں کافر ہی نہیں پکا کافر قرار دیا ہے۔
ہم مرزائیوں سے کہتے ہیں اور انہیں تنبیہ کرتے ہیں کہ وہ شورش صاحب کی ذات پر کیچڑ اچھالنے کا سلسلہ بند کریں۔ ہمارے زخمی دلوں پر نمک پاشی نہ کریں اور اپنے اس خبث باطن کا مظاہرہ نہ کریں۔ انہوں نے اس سلسلہ کو جاری رکھنے کی کوشش کی تو ان پر واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ آغا شورش کے نیاز مند، مرزائی ترجمان کے متوفی گرو مرزا بشیر الدین کی موت کی وہ تفصیلات چھاپ دیں گے۔ جن کی تصدیق پرائیویٹ طور پر بھی اور عدالت کے کٹہرے میں بھی میو ہسپتال کے پروفیسر ڈاکٹر اختر صاحب کر سکتے ہیں۔ جنہوں نے اس کے مرنے سے پہلے اس کا معائنہ کیا تھا۔
آغا شورش کاشمیری بحمد اللہ کلمہ طیبہ کا ذکر کرتے ہوئے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ لیکن مرزائیوں کے گرو ہذیان اور گندی گالیاں بکتے ہوئے اور بھونکتے ہوئے مرے تھے۔ بہتر ہے کہ وہ اس سلسلہ کو نہ چھیڑیں۔ ورنہ اس سلسلہ میں ہمارے پاس ایسی ثقہ معلومات ہیں جن کے اظہار سے مرزائی اس رسوائی اور ذلت کی تاب نہ لاسکیں گے۔
(لولاک)
مفاد پرست اور ہرجائی شورش
شورش کے خلاف ایک ہندوستانی مرزائی نے ہرزہ رسائی کی کہ شورش گھاٹ گھاٹ کا پانی پیتا تھا۔ ہرجائی تھا۔ پاکستان کا مخالف تھا اور اب پاکستان جا کر رہ رہا ہے۔ ایک تحریک میں ٹک کر نہیں چلا۔ شروع میں مولانا ظفر علی خان کی مجلس اتحاد امت میں تھے۔ وہاں سے پہلے اس کی جیبیں بھرتی رہیں۔ جب یہ ختم ہوا تو احرار میں چلے گئے۔ وہاں سے بھی پھر چھوڑ دیا۔ اس کے جواب میں ”روزنامہ الجمعیۃ دہلی“ میں ایک مضمون لکھا گیا۔ نذر قارئین ہے:
”شورش کاشمیری نے مولانا ظفر علی خان کی مجلس اتحاد ملت کے تحت ایک نیلی پوش کی حیثیت میں زندگی شروع کی۔ لیکن ان سے علیحدہ ہو کر مجلس احرار سے رشتہ جوڑنے کا سبب وہ نہیں جو مرزائی نے اپنی شخصیت کی ڈینگ مارتے ہوئے بیان کیا ہے۔ بلکہ ہوا یہ کہ جب نوجوان شورش نے بادشاہی مسجد کے اندر مسجد شہید گنج کی بازیابی کے لئے اپنی پہلی شعلہ بار تقریر کی تو سرکاری اور غیر سرکاری حلقوں میں اس کی دھوم مچ گئی اور شورش کے بقول اس تقریر کا نتیجہ یہ ہوا کہ دوسرے دن نواب ممدوٹ نے اس کو کھانے پر مدعو کیا۔ جب کھانے کے بعد وہ رخصت ہونے لگا تو نواب صاحب نے اسے تین ہزار روپے کرایہ تانگہ کے نام پر دیا اور یہ کہہ کر رخصت کیا کہ شہید گنج کے مسئلہ کو خوب منوانے کی کوشش کرو۔ اس کے بعد اسی ہفتہ نواب (ممتاز) دولتانہ نے بھی کھانے پر مدعو کیا اور انہوں نے بھی یہی حرکت کی۔ شورش کی روایت ہے کہ اس پر میں نے گھر جا کر غور کیا اور آخر اس نتیجہ پر پہنچا کہ یہ کوئی میری خدمات کا صلہ نہیں ہے اور جس کام کے لئے مجھ سے کہا گیا ہے اس میں
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
کوئی خلوص اور للہیت نہیں ہے۔ بلکہ اس کا دراصل مقصد احرار کو ختم کرنا ہے اور مجھے اس کے لئے آلہ کار بنایا جا رہا ہے۔ یاد رہے احرار اس وقت تحریک شہید گنج کے مخالف تھے۔ یہ نتیجہ اخذ کرنے کے بعد شورش مشہور احرار لیڈر چوہدری افضل حق کے پاس پہنچا۔ ان کو سارا حال سنایا۔ چوہدری صاحب کی گفتگو سے شورش اتنا متاثر ہوا کہ فوراً ہی مجلس احرار میں شامل ہو گیا۔ اس کے بعد بیرون دلی دروازہ جلسہ رکھا گیا اور شورش کی تقریر کا اعلان کیا گیا۔ شورش نے پھر اسی طرح آتش بیانی کا مظاہرہ کیا۔ بلکہ پہلے سے زیادہ مؤثر اور دھواں دھار تقریر کی۔“
یہ تو تھا شورش کے احرار میں شامل ہونے کا واقعہ ۔ جبکہ مرزائی نے شورش کو بدنام کر کے اور اس پر تہمت تراش کر اس کا کریڈٹ خود حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اب رہ گیا یہ الزام کہ شورش ہرجائی تھا۔ ایک جگہ نہیں ٹک سکا۔ یہ بھی سراسر غلط ہے۔ وہ احرار میں شامل ہونے کے بعد آزادی ملنے تک احراری رہا۔ پھر سیاست سے کنارہ کش ہو کر وہ صرف صحافی رہ گیا تھا اور ایک صحافی کی حیثیت میں جماعتوں اور ملکی معاملات پر رائے زنی کرتا رہا۔ وہ پاکستان کے مخالفوں میں سے تھا۔ لیکن مرزائی کی طرح یہ نہیں کیا کہ پہلے احسان اخبار میں ہندوستان اور ہندوستانی لیڈروں کے خلاف ہرزہ سرائی شروع کی ہو۔ پھر بھاگ کر ہندوستان آ گیا ہو۔ اس نے پاکستان بننے کے بعد بادشاہ خان کے خلاف بھی احسان میں نظمیں نہیں لکھیں اور بعد میں ہندوستان آ کر پختونستان کے نعرے لگانے شروع کر دیئے ہوں ۔ وہ یہ بھی نہیں کرتا رہا کہ بادشاہ خان جیل میں ہوں تو ان کے نام کی مالا جپے اور جب بادشاہ خان یہ کہیں کہ وہ الگ اور آزاد ملک کی حیثیت میں پختونستان نہیں چاہتے تو انہیں گالیاں دینی شروع کر دی ہوں۔ شورش پاکستان کا واحد صحافی تھا جس نے بادشاہ خان کی قید و بند پر ہمیشہ آواز اٹھائی اور پختونستان کے متعلق ان کا صحیح نظریہ اور مؤقف پیش کیا۔ شورش کے خلاف ہرزہ سرائی آسان ہے۔ شورش جیسا بیباک اور حق گو صحافی بننا مشکل ہے اور آخر میں اس سے زیادہ کیا کہا جائے۔ لعنت الله علیٰ الکاذبین!
قادیانیوں کی گوریلا ٹریننگ
نومبر کے آخر میں ”ہفت روزہ لولاک“ نے مرزائیوں کی ایک اور بڑی سازش سے پردہ اٹھایا کہ ۴ ہزار کے لگ بھگ مرزائی پاکستان سے ترک وطن کر کے مغربی جرمنی میں جا کر آباد ہو گئے۔ یہ خبریں تو کئی اخبارات میں کئی مرتبہ چھپی تھیں کہ سرمایہ دار مرزائی اپنا سرمایہ مختلف ذرائع سے بیرون ممالک منتقل کر رہے ہیں۔ چار ہزار مرزائی جو جرمنی گئے تھے وہ اہل و عیال سمیت نہیں گئے بلکہ وہ خدام الاحمدیہ اور فرقان فورس سے تعلق رکھنے والے نوجوان تھے جو مغربی جرمن میں فوجی اور خصوصاً گوریلا ٹریننگ حاصل کر رہے تھے۔
(لولاک، نومبر ۱۹۷۵ء)
یہ تو سب جانتے ہیں کہ مرزائیوں کو قومی اسمبلی کے فیصلے کا بہت صدمہ تھا اور ہے۔ وہ تو ملک پر قبضہ کے خواب دیکھ رہے تھے۔ لیکن مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی تحریک اور کل مسلمانوں کے اتفاق و اتحاد نے ان کا وہ خواب پریشان کر دیا اور انہیں مذہباً اور قانوناً غیر مسلموں کی صف میں کھڑا کر دیا۔ مرزائی اب بھی ملک میں کسی طرح آئین کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ چاہے سازشوں کے ذریعہ ہو، چاہے زبردستی اور گن پوائنٹ پر۔
سال ۱۹۷۵ء میں مجلس کی سرگرمیاں
حکومت نے گو عوامی دباؤ کے تحت ۷ ستمبر کو مرزائیوں کے متعلق قوم کے مطالبات تسلیم کئے تھے۔ لیکن ان فیصلوں پر عمل درآمد نہیں کیا تھا۔ مجلس عمل نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ شاید حکومت نے وقتی طور پر مسلمانوں کے جوش کو ٹھنڈا کرنے کے لئے مجبوری کے تحت یہ
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
اقدام کیا ہو اور ان مطالبات کو دل سے ماننے کا ارادہ نہ رکھتی ہو۔ مجلس عمل کو بڑی حیرت تھی کہ مسئلہ بڑی قربانیوں کے بعد منوایا گیا تھا۔ حکومت نے پوری کوشش کی کہ تحریک ناکام ہو جائے۔ لیکن جب کوئی چارہ کار نہ رہا تو اس حد تک تسلیم کر لیا گیا کہ قومی اسمبلی میں دستوری ترمیم کر دی گئی اور اس کے بعد پراسرار خاموشی اختیار کر لی گئی۔ نہ صرف یہ کہ فیصلے پر عمل نہیں کیا گیا۔ بلکہ مرزائیوں کی غیر ضروری طور پر ناز برداری بھی شروع ہوگئی۔ اس کے باوجود بھٹو صاحب جہاں جاتے ان کے حواری انہیں محافظ ختم نبوت کے لقب سے نوازتے رہتے۔
مجلس اس کشمکش اور حکومت اپنی مجرمانہ غفلت اور بے جا تاخیر میں مبتلا رہی کہ جنوری کے مہینے نے سال ۱۹۷۵ء کی نوید سنا دی۔ مجلس عمل نے نئے سال میں زیادہ سے زیادہ پروگرامز منعقد کرنے کا منصوبہ بنایا تاکہ حکومت کے نوٹس میں یہ بات لائی جاسکے کہ آئین پر عمل درآمد کرنا ملک اور مذہب کے مفاد کے لئے ضروری ہے اور حکومت کو مرزائیوں کی سازشوں سے واقف اور اسلام اور پاکستان کے خلاف مرزائیوں کے اندرونی غیظ و غضب کو آشکارا کیا جاسکے۔ مجلس عمل نے فیصلے کی حسب ذیل شقوں پر بحث کی اور جائزہ لیا کہ حکومت اس سلسلے میں کس حد تک اپنے فرائض سے عہد برآ ہوئی ہے۔ فیصلہ یہ تھا کہ:
- ۱...... مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے بعد رجسٹریشن ایکٹ میں ترمیم کر دی جائے گی۔ ان کا نام پاسپورٹ میں، ووٹ میں،
سکولوں اور کالجوں کے سرٹیفکیٹ میں، شناختی کارڈ وغیرہ میں غیر مسلم درج کیا جائے گا۔
- ۲...... ربوہ کی خالی زمین حکومت واپس لے لے گی اور اس پر عام لوگوں کو آباد کیا جائے گا۔
- ۳...... خدام الاحمدیہ اور فرقان فورس جو مرزائیوں کی نیم فوجی تنظیمیں ہیں ان پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔
- ۴...... جماعت احمدیہ کی تمام جائیداد معہ سندھ کی زرعی زمینوں (۳۶۰۰۰ ایکڑ) پر حکومت قبضہ کرے گی اور انہیں غیر مسلم اوقاف میں
شامل کر دے گی۔
- ۵...... ربوہ کو تحصیل ہیڈ کوارٹر بنا دیا جائے گا تاکہ اس پر سے مرزائی جماعت کی مالکانہ اجارہ داری ختم ہو جائے اور وہ کھلا شہر قرار دیا جائے۔
- ۶...... تمام کلیدی آسامیوں سے مرزائی افسروں اور ملازمین کو نکال دیا جائے گا۔
- ۷...... ملک میں کوئی شخص مدعی اسلام ہوتے ہوئے ختم نبوت کے خلاف تبلیغ و پرچار نہیں کر سکے گا۔ ورنہ ایسا شخص گرفتاری و سزا کا مستحق ہوگا۔
مجلس عمل نے یہ بات نوٹ کی کہ فیصلے کی مندرجہ بالا باتوں میں سے کسی بات پر بھی عمل نہیں ہوا۔ اس کے برعکس:
- ۱...... بعض مرزائی افسروں کو کلیدی آسامیوں پر ترقی دی گئی۔
- ۲...... ربوہ کے خالی پلاٹوں پر مرزائیوں نے دھڑا دھڑ تعمیرات کیں کہ بے شمار غیر آباد رقبہ کو بلا ضرورت اپنے قبضہ تصرف میں رکھا
تاکہ ربوہ کے متعلق فیصلہ غیر موثر ہو جائے۔
- ۳...... خدام الاحمدیہ اور فرقان فورس نہ صرف یہ کہ پہلے سے زیادہ منظم اور سرگرم ہو گئی تھی بلکہ یہ بھی کہا جارہا تھا کہ ملک میں ہونے والے
بموں کے دھماکے درحقیقت مرزائیوں کی انہی دونوں تنظیموں کے وہ رہنما کر رہے ہیں جو دہشت گردی کی ٹریننگ لے رہے تھے۔
- ۴...... مرزائی کھلم کھلا مدعی اسلام تھے۔ تمام اسلامی اصطلاحات کا استعمال کر رہے تھے اور اس کے باوجود وہ عقیدہ ختم نبوت کے خلاف
پرچار کر رہے تھے۔ دسمبر ۱۹۷۴ء کی مرزائیوں کے سالانہ جلسہ کی کارروائی گواہ ہے کہ انہوں نے پاکستان کے دستور کی خلاف ورزی اور اس کے خلاف کھلم کھلا بغاوت کی۔ حکومت نے نہ صرف یہ کہ ان کی گرفت نہیں کی بلکہ اس جرم میں ان کی معاونت کی اور ان کے انتظامات میں ناز برداری کی حد تک ان سے تعاون کیا۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
مجلس عمل نے قومی اسمبلی کے ان قابل احترام ممبران سے، جو مجلس عمل کے رکن تھے اور جنہوں نے ۷؍ ستمبر سے پہلے تحریک ختم نبوت کے محاذ کی قیادت کی تھی اور حکومت کے سامنے امت کی نمائندگی کے فرائض باحسن وجوہ ادا کئے تھے۔ استدعا کی کہ وہ حکومت پر واضح کریں کہ وہ فیصلہ کرنے کے بعد اس پر عمل کرنے سے کیوں گریز کر رہی ہے؟ اور اس سلسلے میں وہ کیا کرنا چاہتی ہے۔ دستور میں یہ بات موجود ہے کہ مرزائیت کا پرچار کرنے پر دو سال کی سزا ہوگی۔ لیکن مرزائی کھلم کھلا مرزائیت کا پرچار کر رہے ہیں اور حکومت کی طرف سے کوئی روک ٹوک نہیں۔ مجلس نے اس سلسلے میں اپنے طور پر پورے ملک میں تحریک چلائی۔ اجتماعات منعقد کرائے۔ کانفرنسوں کا انعقاد کیا۔ عوامی رابطے جاری رکھے۔ اس سلسلے کی ۱۹۷۴ء میں سب سے پہلی کانفرنس چنیوٹ میں منعقد ہوئی۔
ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ
چنیوٹ کانفرنس، تحریک ختم نبوت کی تاریخ میں بہت اہمیت کی حامل رہی ہے۔ اس لئے کہ جب مسلم لیگی شہزادوں نے ربوہ کی زمین مرزائیوں کو کوڑیوں کے دام دے دی اور انہوں نے یہاں ارتداد کا مرکز قائم کیا تو مجلس تحفظ ختم نبوت کے قائدین نے کوشش کی کہ اس کے ساتھ ہی گلشن اسلام کا بھی اہتمام کیا جائے۔ لیکن حکومتی سردمہری کو دیکھ کر وہ ناامید ہوگئے۔ مجبور ہو کر انہوں نے نواب سعد اللہ خان اور غازی الٰہی بخش شہیدؒ نے شہر چنیوٹ کو ختم نبوت کی سرگرمیوں کا محور بنانے کا ارادہ کیا۔ قادیانیوں نے ربوہ میں بھی قادیان کی روایت زندہ رکھنے کا ارادہ کیا اور اپنے سالانہ جلسے کے لئے دسمبر کے مہینہ کی آخری تاریخیں منتخب کیں۔ مجلس عمل کی قیادت نے بھی یہی فیصلہ کیا تاکہ مرزائیوں کے کفر و ارتداد کے جراثیم کو فوراً ہی ختم کیا جاسکے۔ ۱۹۷۴ء میں دسمبر کے ۲۸، ۲۹، ۳۰ کی تاریخیں ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ کے لئے منتخب کی گئیں۔ لیکن رامے نے مرزائیت نوازی کا ثبوت دیتے ہوئے جلسہ پر پابندی لگادی اور ۲۸، ۲۹، ۳۰؍ دسمبر ۱۹۷۴ء کی بجائے یکم؍ جنوری ۱۹۷۵ء کو ایک روزہ کانفرنس کی اجازت دی گئی اور جنوری کے آخر میں دوسری بڑی سہ روزہ کانفرنس کا پروگرام بنایا گیا تھا۔ یہ فیصلہ حکومت کی ہٹ دھرمی، قادیانیت پروری، امت کو تصادم اور کانفرنس کو ذبح ہونے سے بچانے کے پیش نظر کیا گیا تھا۔ حکومت نے دسمبر کی کانفرنس کے منسوخ ہونے کی نوید سنی تو بعض سرکاری تنخواہ دار روسیاہ ملاؤں کے ذریعے پروپیگنڈہ شروع کر دیا کہ مجلس نے کانفرنس کو مؤخر کیوں کر دیا۔ رامے اینڈ کمپنی دودھاری تلوار کی طرح برابر ختم نبوت کاز کو نقصان پہنچانے کے لئے وار کر رہے تھے۔ کانفرنس کو مؤخر کرنے کے فیصلے سے کانفرنس کے منتظمین اور دوسرے مسلمانوں کو سخت صدمہ ہوا اور اشتعال انگیزی کا خطرہ پیدا ہوا۔ لیکن مجلس کی قیادت نے حالات کو قابو کر لیا۔ مجلس چونکہ تشدد اور لاقانونیت پر یقین نہیں رکھتی۔ ہمیشہ ملکی آئین کا احترام کیا ہے۔ اس لئے تصادم سے بچنے کے لئے اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے تبلیغی کام کو جاری رکھنے کی غرض سے رامے حکومت کا یہ تیر مجبورا ً سہہ لیا گیا۔
یکم؍ جنوری ۱۹۷۵ء کو طے شدہ پروگرام کے تحت بادشاہی مسجد میں ایک روزہ کانفرنس منعقد ہوئی۔ شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان، مناظر اسلام مولانا عبد القادر روپڑی، فاضل اجل مولانا حبیب اللہ جالندھری، مجاہد ختم نبوت مولانا عبدالرحمٰن میانوی، مولانا تاج محمود صدر استقبالیہ ختم نبوت کانفرنس، مولانا منظور احمد چنیوٹی، مولانا عبدالرحیم اشعر، مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا عطاء محمد، مولانا شیر محمد، مولانا مشتاق احمد، مولانا اللہ وسایا، مولانا ضیاء الدین، مولانا سعید الرحمٰن علوی، مولانا عزیز الرحمٰن بھیروی نے شرکت کی۔
(لولاک، مؤرخہ ۷؍ جنوری ۱۹۷۵ء)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
کانفرنس دو نشستوں پر مشتمل تھی۔ ظہر کے بعد کانفرنس کا آغاز حضرت مولانا عبدالرحمن میانوی کی تقریر سے ہوا۔ آپ نے حضرت بخاری کے لہجہ میں خطبہ اور تلاوت کلام مجید کرتے ہوئے ختم نبوت کے موضوع پر ایک پرجوش تقریر کی۔ اپنی تقریر میں آپ نے مجلس عمل کی پالیسی اور شاندار خدمات کا تذکرہ کیا۔ ان کے بعد مولانا شیر محمد سیالوی سمن آباد فیصل آباد نے تقریر فرمائی۔
بعد از نماز عشاء کانفرنس کی دوسری نشست کا آغاز مولانا تاج محمود کی صدارت میں سید منظور احمد کہرڑوی کی تقریر سے ہوا۔ انہوں نے مجلس عمل کے اغراض و مقاصد اور خدمات کا تذکرہ فرمایا اور ارادہ ظاہر فرمایا کہ انشاء اللہ اندرون و بیرون ملک تبلیغ اسلام اور تردید مرزائیت وغیرہ کا کام نئے عزم اور ولولے سے کیا جائے گا۔ مولانا تاج محمود نے قرارداد پیش کی جس میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ ۱۵؍جنوری ۱۹۷۵ء کو شروع ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں مرزائیوں کے متعلق دستوری ترمیم پر عمل درآمد کرنے کے ضروری قوانین سازی کا بل پیش کرے اور مرزائیوں کو دستور کے خلاف بغاوت سے روکے۔ مولانا نے کانفرنس کے التواء کے سلسلے میں حکومت کے کردار پر سخت نکتہ چینی کی اور حکومت کو متنبہ کیا کہ مرزائی ناز برداری کر کے مسلمانوں کی دل آزاری سے باز آجائیں۔ شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خان صاحب نے بھی علم و عرفان کے موتی بکھیر دیئے۔ مولانا عبدالقادر روپڑی نے فرمایا کہ میں ۳۰؍دسمبر ۱۹۷۴ء کے موچی دروازے کے جلسہ میں موجود تھا۔ جہاں .......... نے مولانا تاج محمود، مفتی محمود اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے دیگر قائدین پر مرزائیوں سے مل جانے کا الزام لگایا۔ جس کے بعد لوگوں نے اس پر حملہ کیا اور وہ بھاگ کر سیکورٹی فورس کی جیپ میں سوار ہو کر جلسہ گاہ سے چلا گیا۔ مولانا نے سرکار کے ان پالتو صاحب پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ مولانا عطاء محمد لائل پور، لال مسجد اسلام آباد کے خطیب حضرت مولانا عبداللہ، مجلس ختم نبوت گوجرانوالہ کے مبلغ مولانا ضیاء الدین نے بھی خطاب فرمایا۔ سید امین گیلانی اور سائیں محمد حیات نے ولولہ انگیز اور ایمان افروز نظموں سے حاضرین کو محظوظ کیا۔
شاہی مسجد حاضرین سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔ انسانوں کا ایک ٹھاٹھیں مارتا سمندر موجزن تھا۔ شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان، حضرت مولانا عبدالقادر روپڑی اور مولانا عطاء محمد لائل پوری سٹیج پر بچھی ہوئی تین کرسیوں پر جلوہ افروز تھے۔ مولانا عبدالرحمن میانوی، مولانا عبداللہ، مولانا شیر محمد، مولانا شریف جالندھری، مولانا سعید الرحمن علوی، مولانا اللہ وسایا، جناب بلال زبیری اور دوسرے علماء کرام اور رہنمایان عظام ان کے پیچھے تشریف فرما تھے۔ مولانا تاج محمود نے تینوں حضرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اتفاق سے تینوں اکابر، تین مکاتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔ مولانا غلام اللہ خان صاحب دیوبندی مکتب فکر کے سرکردہ عالم دین ہیں۔ مولانا عطاء محمد بریلوی مکتب فکر کے ممتاز عالم دین ہیں اور مولانا عبدالقادر روپڑی اہل حدیث مکتب فکر کے نمائندہ عالم دین ہیں۔ ان تینوں کا آج جلسہ میں یکجا تشریف فرما ہونا اس بات کا اعلان ہے کہ مسلمانوں کی تمام جماعتیں ختم نبوت کی حفاظت کے لئے متحد اور متفق ہیں اور دنیا کی کوئی طاقت ان کے اتفاق و اتحاد کو گزند نہیں پہنچا سکتی۔ مولانا نے فرمایا کہ میری کوشش تھی کہ سید مظفر علی شمسی کے حج پر چلے جانے کے بعد آج اجلاس میں کوئی ممتاز شیعہ عالم دین بھی شریک ہو جائیں تا کہ چاروں فرقوں کی نمائندگی ہو سکے۔ لیکن شیعہ رہنماؤں کے آج کے دن کوئی تاریخ فارغ نہ ہونے کے باعث ایسا نہیں ہو سکا۔ شاہی مسجد کی پرشکوہ عمارت میں شامیانے لگائے گئے تھے۔ کانفرنس کا سارا انتظام و انصرام لائل پور کے مبلغ اور ہفت روزہ لولاک کے سب ایڈیٹر مولانا اللہ وسایا، چنیوٹ ختم نبوت کے رہنما چوہدری ظہور احمد، قاضی محمد ادریس اور دوسرے جماعتی احباب نے کر رکھا تھا۔
(ملخص لولاک، مورخہ ۱۷؍جنوری ۱۹۷۵ء)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
سہ روزہ ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ
طے شدہ پروگرام کے مطابق جنوری کے آخر میں سہ روزہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہونی تھی۔ اس لئے ۲۸، ۲۹، ۳۰؍ جنوری ۱۹۷۵ء کو پبلک پارک چنیوٹ میں اس کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ کانفرنس کے لئے پبلک پارک میں عظیم الشان پنڈال بنایا گیا تھا۔ جس میں کوئی ڈیڑھ لاکھ نفوس بیٹھنے کی گنجائش تھی۔ لیکن شیدایان ختم نبوت کا اتنا بڑا زبردست ہجوم اور اجتماع تھا کہ سارے انتظامات ناکافی ثابت ہوئے۔ سخت سردی اور ناموافق موسم کے باوجود پنڈال سے باہر سڑکوں، چھتوں اور گلیوں، بازاروں تک انسانی سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ کانفرنس کے آخری روز بارش ہوگئی۔ جس سے سارا پنڈال بھیگ گیا۔ بجلی کے انتظامات میں بھی کچھ مشکل پیش آئی۔ لیکن چنیوٹ مجلس کے رہنماؤں نے اس احسن اور خوبصورت انداز میں انتظامات کئے تھے کہ بارش اور خراب موسم کے باوجود کانفرنس معمول کے مطابق چلتی رہی۔ سردی اور نمی کے باوجود لوگ خطباء کو ہمہ تن گوش ہوکر سنتے رہے۔ کراچی، کوئٹہ، پشاور اور پنجاب، سرحد، سندھ اور بلوچستان کے دوسرے شہروں سے بے شمار فدایان ختم نبوت وفود کی صورت میں آئے ہوئے تھے۔ جن کے ٹھہرانے کے لئے شہر کے مڈل سکول جدید نمبر ۱ کی بلڈنگ حاصل کر لی گئی تھی۔ اس کے علاوہ رؤسائے چنیوٹ کے کئی ڈیروں میں بھی مسافروں کو ٹھہرایا تھا۔ کانفرنس میں توقع سے بڑھ کر حاضری شاید دسمبر کی سہ روزہ ختم نبوت کانفرنس پر حکومتی پابندی کے ردعمل میں ہوئی تھی۔
کانفرنس کے خطباء
کانفرنس سے سید منظور احمد شاہ کہروڑی، ڈاکٹر محمد عبداللہ جتوئی، مولانا سعید الرحمن علوی، مولانا عبدالرحمن میانوی، مولانا اللہ وسایا، مولانا عبدالرؤف، مولانا تاج محمود، قائد جمعیت مولانا مفتی محمود، مولانا شیخ غلام اللہ خان، مولانا محمد صدیق، مولانا گلزار احمد مظاہری، مولانا نذیر احمد، قاضی اللہ یار، طالب رہنما مولانا یوسف، طالب علم رہنما قادر بخش، نوابزادہ نصراللہ خان، عبدالقادر روپڑی، مولانا محمد عبداللہ درخواستی، میاں طفیل محمد، شیخ الاسلام حضرت علامہ مولانا محمد یوسف بنوری، عبدالرحمن یعقوب باوا، مولانا ضیاء الدین، مولانا خدا بخش، مولانا محمد خان، مولانا محمد شریف بہاول پوری، مولانا عزیز الرحمن خورشید بھیروی، طالبعلم رہنما قاضی محمد ادریس و عبدالحفیظ و آصف علی بھلی، مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا عبدالرحیم اشعر، انجمن تاجران لائل پور کے صدر سید نذر حسن شاہ، پیپلز پارٹی لائل پور کے سابق صدر ملک احمد سعید اعوان، ریلوے کے وزیر میاں محمد عطاء اللہ نے خطاب فرمایا۔ سائیں محمد حیات پسروری، سید امین گیلانی، عبدالحفیظ جالندھری، حافظ سلطان نے اپنی نعتوں اور نظموں سے فدایان ختم نبوت میں بے پناہ جوش وخروش اور حرارت ایمانی پیدا کی۔
کانفرنس کے مختلف اجلاسوں کی صدارت مرزا منظور العزیز بیگ، مولانا عبدالرحمن میانوی، حضرت مولانا خان محمد (خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف، نائب امیر مجلس تحفظ ختم نبوت)، قاری دین محمد، مولانا محمد شریف بہاول پوری، حضرت شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوری، مولانا محمد شریف جالندھری، چوہدری ظہور احمد اور آخری اجلاس کی صدارت ریلوے کے وزیر جناب میاں محمد عطاء اللہ نے کی۔ رات کے اجلاس انتہائی کامیاب ہوتے تھے۔ جھنگ، میانوالی، سرگودھا، لائل پور اور چک جھمرہ کے لوگ سپیشل بسوں کے ذریعہ کانفرنس میں شریک ہوئے تھے۔
کانفرنس کی قرارداد اور مطالبات
کانفرنس کے عظیم اجتماع میں یہ قرارداد پیش ہوکر بالاتفاق منظور ہوئی تھی۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
کل پاکستان تحفظ ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ کا یہ عظیم الشان اجتماع وزیر اعظم بھٹو کو یاد دلانا چاہتا ہے کہ ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کو اگرچہ دستور میں ترمیم کر کے مرزائیوں کو غیر مسلم قرار دیا جا چکا ہے۔ لیکن فیصلہ کے مطابق قوانین سازی نہیں ہوئی اور نہ ہی مناسب انتظامی اقدامات کئے گئے ہیں۔ جس کی وجہ سے لوگوں میں شکوک اور شبہات پیدا ہو گئے ہیں۔ اس لئے یہ اجتماع وزیر اعظم پاکستان سے پر زور مطالبہ کرتا ہے کہ وہ مجلس عمل کے رہنماؤں سے طے کردہ فیصلے کے مطابق قادیانیوں کے متعلق دستوری ترمیم پر عملدرآمد کریں اور مناسب قوانین سازی اور انتظامی احکامات صادر کریں۔ مطالبات حسب ذیل ہیں:
- ۱...... مرزائیوں کو کلیدی اسامیوں سے علیحدہ کر دیا جائے۔
- ۲...... رجسٹریشن ایکٹ میں ترمیم کی جائے۔ مرزائیوں کو پاسپورٹ، شناختی کارڈ، ووٹوں کی فہرست اور سکولوں، کالجوں کے سرٹیفکیٹوں
میں غیر مسلم درج کیا جائے۔
- ۳...... مرزائیوں کی تمام بڑی بڑی جاگیریں جن میں سندھ کی ہزاروں ایکڑ زرعی زمینیں بھی شامل ہیں اسی طرح ان کے اوقاف پر
حکومت قبضہ کر کے اور انہیں غیر مسلم اوقاف بورڈ کی نگرانی میں دے دے۔
- ۴...... ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔ اس سلسلہ میں جو اقدامات کئے گئے ہیں وہ ناکافی ہیں۔ ربوہ کو مرزائیوں کی گرفت سے مکمل طور پر
آزاد کرایا جائے۔
- ۵...... مرزائی دستور پاکستان کی رو سے اب غیر مسلم ہیں۔ لیکن وہ برابر اپنے آپ کو مسلمان لکھ رہے ہیں اور اس طرح دستور پاکستان کی
بغاوت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ انہیں اس ارتکاب جرم سے قانوناً روکا جائے۔
- ۶...... مرزائی اسلامی اصطلاحات نبی، رسول، صحابی، خلیفہ، سیدۃ النساء، امہات المؤمنین، امیر المؤمنین اور لفظ اسلام وغیرہ استعمال کر
کے ان کی توہین و تذلیل کر رہے ہیں۔ حکومت قانون کے ذریعہ ان مقدس اصطلاحات کو تحفظ دے۔
- ۷...... مرزائی اپنی عبادت گاہ کے لئے لفظ مسجد استعمال کرتے ہیں۔ حالانکہ ان کو اب مسجد کا نام اور اس کی شکل استعمال کرنے کی
اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ اسی طرح ان کی اذان پر پابندی عائد کی جائے۔ کیونکہ اس سے مسلمانوں کو دھوکہ ہوتا ہے۔
- ۸...... تحریک ختم نبوت کے دوران علماء، طلباء، وکلاء اور دوسرے کارکنوں کے خلاف جو مقدمات بنائے گئے تھے وہ پنجاب میں ابھی
تک واپس نہیں لئے گئے۔ فیصلہ کے مطابق وہ تمام مقدمے واپس لئے جائیں۔ صمدانی ٹربیونل کی رپورٹ عوام کی آگاہی کے لئے چھاپ دی جائے۔
قارئین کرام! مجلس عمل کے جتنے پروگرام ہوئے ہیں ان میں قراردادیں اور مطالبات اکثر و بیشتر ایک جیسی تھیں۔ وجہ یہ تھی کہ مطالبات مرزائیت کے حوالے سے تھے اور حکومت سے ہونے تھے۔ اس لئے ان میں یکسانیت ظاہری بات ہے۔ جن قراردادوں اور مطالبات میں یکسانیت ہو تو ہم تکرار سے بچنے کے لئے ان سے صرف نظر کریں گے۔
مجلس تحفظ ختم نبوت کا اجلاس
۲۹؍جنوری ۱۹۷۵ء کو چنیوٹ میں ختم نبوت کانفرنس بھی چلتی رہی۔ اسی دن دوپہر کو مڈل سکول چنیوٹ میں کل پاکستان مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا اجلاس بھی منعقد ہوا۔ جس کی صدارت علامہ محمد یوسف بنوری نے فرمائی۔ تمام مکاتب فکر کے نمائندوں نے شرکت کی۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
حضرت علامہ بنوری کے علاوہ نوابزادہ نصر اللہ خان (جمہوری پارٹی)، میاں محمد طفیل (جماعت اسلامی)، میاں فضل الحق، مولانا عبدالقادر روپڑی، مولانا محمد اسحاق چیمہ، مولانا عطاء اللہ حنیف، مولانا محمد یوسف انور (جماعت اہلحدیث)، مولانا خواجہ خان محمد صاحب (کندیاں شریف)، سردار میر عالم خان لغاری، مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا تاج محمود (مجلس تحفظ ختم نبوت)، چوہدری ثناء اللہ بھٹہ، مولانا عطاء الحسن شاہ، عبدالغفور انوری (مجلس احرار)، مولانا سید محمود احمد رضوی (جمعیت العلمائے پاکستان)، مولانا مفتی زین العابدین صاحب، مولانا عبدالرحیم اشعر، مولانا مفتی سیاح الدین کاکا خیل، مولانا گلزار احمد مظاہری (اتحاد العلماء)، راؤ عبدالمنان صاحب (جمعیت العلمائے اسلام) اور دوسرے اکابرین نے شرکت کی۔ مجلس عمل نے اس بات پر غور کیا کہ ۷؍ ستمبر کے فیصلہ پر اب تک ہماری خواہش اور موقع کے مطابق عمل درآمد نہیں ہوا۔ میٹنگ میں یہ طے ہوا کہ بھٹو صاحب سے مجلس عمل کا وفد ملاقات کرے اور فیصلوں پر عمل درآمد میں تاخیر سے لاحق شدہ عوام کے اضطراب سے انہیں آگاہ کریں۔ میٹنگ میں یہ بھی طے پایا تھا کہ مجلس عمل کے قومی اسمبلی کے اراکین اس وفد کے ممبر ہوں گے اور اس وفد میں ان کے ہمراہ صدر مجلس حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری اور جنرل سیکرٹری مجلس عمل مولانا سید محمود احمد رضوی بھی وفد میں شامل ہوں گے۔ اجلاس تقریباً تین گھنٹے تک جاری رہا اور اس میں ایک مفصل قرارداد بھی منظور کی گئی۔ قرارداد میں درج ذیل مطالبات پیش کئے گئے۔
- ۱...... مرزائیوں کے دونوں گروہوں کے مسلمان کہلانے کو قابل تعزیر جرم قرار دیا جائے اور اسلام کے نام پر خلاف اسلام نظریات کی
تبلیغ بالخصوص اسلام کے اساسی عقیدہ ختم نبوت کے خلاف نشر و اشاعت اور عمل پر پابندی عائد کی جائے۔
- ۲...... نبی اور رسول، ام المؤمنین، امیر المؤمنین اور صحابہ جیسی اسلامی اصطلاحات استعمال کر کے قادیانی مسلمانوں کو بدستور مشتعل کر
رہے ہیں۔ اس دلآزار کارروائی کو قابل تعزیر جرم قرار دیا جائے یوں کہ:
- الف...... قادیانیوں کو بلا تاخیر کلیدی آسامیوں سے الگ کیا جائے۔ خصوصاً دفاع ملک کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے انہیں اعلیٰ فوجی
مناصب سے ریٹائر کر دیا جائے۔
- ب...... صمدانی تحقیقاتی رپورٹ، نیشنل اسمبلی کی دستوری کمیٹی کی کارروائی اور قومی اسمبلی کی کارروائی کو فوری طور پر شائع کیا جائے جو
سلسلہ ختم نبوت کے سلسلہ میں سرانجام دی گئی۔
- ج...... قادیانی اوقاف کی آمدنیوں کو خلاف اسلام پروپیگنڈا اور مسلمانوں میں اعتقادی انارکی عام کرنے پر صرف ہونے سے روکا جائے۔
- ۳...... مجلس عمل کا یہ اجلاس اس امر پر بھی انتہائی غم و غصہ کا اظہار کرتا ہے کہ حکومت کے مواعید کے برعکس نہ صرف مسلمانوں کے تحریک
ختم نبوت کے دوران قائم کردہ مقدمات اب تک واپس نہیں لئے گئے۔ بلکہ حال ہی میں بے شمار علماء اور کارکنوں کے خلاف نئے مقدمات قائم کئے گئے ہیں۔ یہ اجلاس حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ ملک کی فضا کو سازگار بنانے کے لئے بلا تاخیر تحریک کے دوران گرفتار ہونے والے افراد کو رہا کیا جائے اور تمام دائر شدہ مقدمات واپس لئے جائیں۔
وزیراعظم بھٹو کی سیالکوٹ آمد
اپریل ۱۹۷۵ء کے شروع ہفتے میں وزیراعظم بھٹو نے سیالکوٹ آنا تھا۔ ان کی آمد کے موقع پر مجلس تحفظ ختم نبوت سیالکوٹ نے بہت بڑی تعداد میں اشتہارات چھاپ کر ان علاقوں میں تقسیم کئے جہاں وزیراعظم صاحب نے جانا تھا۔ اشتہارات میں وزیراعظم کو
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
سیالکوٹ آمد پر خوش آمدید کہنے کے بعد ان سے مطالبہ کیا تھا کہ قادیانیوں نے قومی اسمبلی کے ۷ ستمبر کا فیصلہ تسلیم نہیں کیا۔ بلکہ اس کو نہ ماننے کا اعلان کر کے سرعام آئین سے بغاوت کر رہے ہیں۔ اس لئے محترم وزیر اعظم سے درخواست ہے کہ آئینی ترمیم کے مطابق قانون سازی کرنے کے احکامات صادر فرمائیں اور انتظامیہ کو ہدایات جاری فرمائیں کہ وہ مرزائیوں کو ووٹوں کی فہرستوں، پاسپورٹوں، شناختی کارڈوں، سکولوں اور کالجوں کے سرٹیفکیٹوں میں غیر مسلم درج کریں۔ اس کے علاوہ مرزائیوں کے ترجمان اور دیگر جرائد کے خلاف کھلے عام آئین کی خلاف ورزی پر مشتمل تحریروں کے جرم میں ان کے خلاف مقدمے تحریر کئے جائیں۔
(لولاک،مؤرخہ ۱۶؍اپریل ۱۹۷۵ء)
ختم نبوت اجلاس ہالیجی شریف
۵؍اگست کو مجلس تحفظ ختم نبوت کا اعلیٰ سطحی اجلاس ہالیجی شریف سندھ میں امیر مرکزیہ علامہ محمد یوسف بنوری کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد ، مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا حافظ محمود اسعد، سردار میر عالم لغاری، مولانا نذیر حسین ،مولانا عبدالمجید، مرزا منیر بیگ، مولانا جمال الحسینی بھی شریک اجلاس تھے۔ صوبہ سندھ میں مرزائیوں کی بڑھتی ہوئی جارحیت کا جائزہ لے کر صوبہ سندھ میں مجلس کے کام کو توسیع دینے کا منصوبہ تیار کیا گیا۔ مولانا جمال اللہ، مولانا گل محمد کو یکم رجب ۱۳۹۵ھ سے باضابطہ مبلغ بنا کر نواب شاہ، لاڑکانہ اور سانگھڑ کے اضلاع میں بھیجا گیا۔
ختم نبوت کانفرنس کوئٹہ
۱۱، ۱۲؍جولائی ۱۹۷۵ء کو کوئٹہ میں ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ جس میں درج ذیل حضرات نے پرمغز و پرجوش خطاب فرمائے۔
(۱) امیر مرکزیہ حضرت علامہ مولانا محمد یوسف بنوری، (۲) حضرت مولانا محمد شریف جالندھری، (۳) حضرت مولانا غلام اللہ خان، (۴) مولانا عبدالرحمٰن میانوی، (۵) مولانا عبدالرحیم اشعر، (۶) جناب سردار میر عالم لغاری، (۷) مولانا نور الحق نور، (۸) مولانا اللہ وسایا (لائل پور)، (۹) چوہدری خلیل احمد (گجرات)۔ ان کے علاوہ مقامی علماء نے بھی بیانات فرمائے۔
ختم نبوت کانفرنس فورٹ سنڈیمن
۱۴، ۱۵؍جولائی ۱۹۷۵ء کو فورٹ سنڈیمن میں ایک کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس میں بھی درج بالا حضرات نے بیانات فرمائے تھے۔
ملتان، بہاول نگر، چشتیاں، حاصل پور میں کانفرنسیں
اگست: مجلس کے زیر انتظام واہتمام ملتان، بہاول نگر، چشتیاں، حاصل پور میں ختم نبوت کانفرنسیں منعقد ہوئیں۔ جس میں درج ذیل علماء کرام نے خطاب فرمایا۔
(۱) حضرت مولانا تاج محمود، (۲) مولانا محمد شریف جالندھری، (۳) مولانا نذیر احمد صاحب، (۴) مولانا قاضی اللہ یار، (۵) مولانا عبدالرؤف، (۶) مولانا عبدالرحمٰن میانوی، (۷) مولانا اللہ وسایا۔
(لولاک،اگست،ستمبر ۱۹۷۵ء)
مرزائیوں سے مناظرہ
۱۰؍اکتوبر کو مجلس تحفظ ختم نبوت گجرات کے مبلغ مولانا چوہدری محمد خلیل صاحب نے گجرات میں مرزائی کے ساتھ مناظرہ کیا۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
گجرات کے نواحی گاؤں اسد پورہ میں ایک مرزائی مناظر کے ساتھ گفتگو کے دوران مرزائی مناظر بھاگ گیا۔ علاقے کے مسلمانوں میں خوشی و شادمانی کی لہر دوڑ گئی۔
(لولاک، ۱۹؍اکتوبر ۱۹۷۵ء)
ختم نبوت کانفرنس جابہ
۱۹، ۲۰؍اکتوبر کو جابہ میں دو روزہ سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ ۴ نشستوں پر مشتمل اس کانفرنس میں مولانا عزیز الرحمن (مبلغ سرگودھا)، مولانا حافظ محمد سعید (تلہ گنگ)، مولانا خدا بخش، مولانا قاضی محمد رضا، مولانا عبدالرحمٰن قاسمی، مولانا قاضی اللہ یار، حافظ نجیب الدین، خطیب ربوہ مولانا اللہ وسایا، مولانا عبدالرحیم اشعر، مولانا محمد شریف جالندھری نے بیانات فرمائے۔ کانفرنس کافی نتیجہ خیز رہی۔ اندرون ملک مجلس کی کارکردگی اور آئندہ کے لائحہ عمل پر روشنی ڈالی گئی۔
(لولاک، مؤرخہ ۲۳؍اکتوبر ۱۹۷۵ء)
ختم نبوت کانفرنس سکھر
۱۷؍نومبر ۱۹۷۵ء کو سہ روزہ ختم نبوت کانفرنس سکھر میں انعقاد پذیر ہوئی۔ کانفرنس سے حضرت مولانا عبدالکریم پیر شریف نائب صدر جمعیت علماء اسلام، مولانا تاج محمود، مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا لقمان علی پوری، سید منظور احمد شاہ، مولانا قاری محمد حنیف ملتانی، مولانا بشیر احمد مبلغ ختم نبوت سکھر، سید امین گیلانی، مولانا تاج الدین اور دوسرے مقامی علماء کرام نے خطاب کیا۔ کانفرنس پبلک پارک میں منعقد ہوئی جہاں پر لاکھوں حاضرین کے بیٹھنے کی گنجائش تھی۔ سکھر کے دینی حلقوں نے کانفرنس کی کامیابی میں پورا پورا حصہ ڈالا۔ جس کی وجہ سے کانفرنس لاجواب و بے نظیر تھی۔
(لولاک، مؤرخہ ۲۳؍نومبر)
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا اجلاس
یکم؍ستمبر دفتر خدام الدین شیرانوالہ لاہور میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا اجلاس منعقد ہوا۔ صدارت شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوری نے فرمائی۔ اجلاس کا ایجنڈا مولانا محمود احمد رضوی نے تشکیل دیا تھا۔ اجلاس میں مجلس عمل کے مرکزی شوریٰ کے اراکین نے شرکت فرمائی۔
(لولاک، مؤرخہ ۲؍ستمبر ۱۹۷۵ء)
دو روزہ ختم نبوت کانفرنس بہاول پور
مجلس تحفظ ختم نبوت بہاول پور کے زیر اہتمام سالانہ دو روزہ ختم نبوت کانفرنس جامع مسجد الصادق میں شاندار طریقہ پر منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا افتتاح مولانا عبدالرحیم اشعر نے کیا۔ آپ نے بعد از جمعہ کے اجلاس سے خطاب کیا۔ آپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ مرزائیوں نے ۷؍ستمبر کے فیصلہ کے بعد زیر زمین ملک عزیز کے خلاف سازشوں کا جال بچھا دیا ہے۔ حکومت وقت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سازشی ٹولہ کی تمام سازشی سرگرمیوں کا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے راستہ بند کردے۔
رات کو کانفرنس کا دوسرا اجلاس شروع ہوا۔ جس کی صدارت مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے نائب امیر شیخ الطریقت مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ نے کی۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا عبدالرحیم اشعر نے دیئے۔ ہفت روزہ لولاک کے سب ایڈیٹر مولانا اللہ وسایا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرزائی اسلام دشمن طاقتوں کے ایجنٹ ہیں اور استعماری طاقتوں کے آلۂ کار ہیں۔ انہوں نے ہر دور میں ملت اسلامیہ کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی سازش کی ہے۔ مولانا اللہ وسایا کے بعد مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے مشہور مقرر مولانا قاضی محمد اللہ یار نے
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
خطاب کیا۔ آپ نے اپنے خطاب میں مرزائیوں کی ختم نبوت دشمنی سے عوام کو خبردار کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ فیصلہ پر عملدرآمد کیا جائے۔ ان کے بعد مولانا اللہ وسایا نے مندرجہ ذیل قراردادیں پیش کیں۔ جسے عوام نے نعروں کی گونجتی ہوئی فضا میں منظور کیا۔
- ۱....... یہ اجلاس حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ امت مسلمہ کی نمائندہ تنظیم مجلس عمل کے باقی ماندہ مطالبات کو فی الفور تسلیم کیا جائے۔
- ۲....... یہ اجلاس مجلس عمل کے رہنماؤں کو مکمل یقین دلاتا ہے کہ جب تک مرزائیوں سے متعلق باقی ماندہ مطالبات تسلیم نہیں کر لئے جاتے،
اس وقت تک ہماری تحریک جاری رہے گی اور مجلس عمل کے رہنماؤں کے حکم پر سر دھڑ کی بازی لگانے کے لئے تیار رہیں گے۔
- ۳....... یہ اجلاس مولانا محمد شریف بہاول پوری کی وفات کو سانحہ قرار دیتا ہے۔ ان کی تمام تر دینی خدمات کو سراہتے ہوئے دعا کرتا ہے
کہ اللہ تعالیٰ ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائیں اور پسماندگان کو صبر جمیل نصیب فرمائیں۔ شیخ طریقت مولانا خان محمد نے رقت آمیز دعا کرائی۔ مولانا کی پرخلوص دعا پر کانفرنس کا دوسرا کامیاب اجلاس ختم ہوا۔ دوسری رات کانفرنس کا تیسرا اور آخری اجلاس منعقد ہوا۔ مولانا سید منظور احمد شاہ حجازی نے خطاب فرمایا۔ حضرت شاہ صاحب کی تقریر میں عوام نے بھر پور جوش و خروش کا مظاہرہ کیا اور مجلس کے رہنماؤں کو مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ کانفرنس کے آخری مقرر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد شریف جالندھری تھے۔ مولانا نے دو گھنٹے تک خطاب فرمایا اور انگریز کے دور سے لے کر اس وقت کے علماء کرام کی قربانیوں کا اجمالی خاکہ پیش کیا۔ مولانا محمد شریف جالندھری جب تقریر کر رہے تھے تو یوں معلوم ہوتا تھا کہ مولانا محمد علی صاحب جالندھری کی روح بول رہی ہے۔ آپ نے اردو، پنجابی ملے جلے انداز میں کامیاب ترین خطاب کیا۔ آپ نے اپنی تقریر میں حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ مرزائیوں کو مضبوط کھونٹے پر باندھ کر ملک کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرے۔ کیونکہ مرزائی ملک وملت کے ازلی ابدی دشمن ہیں۔ وہ ہر وقت ملک کو خطرات کے گرداب میں پھنسانا چاہتے ہیں۔ آپ نے مجلس تحفظ ختم نبوت کی تبلیغی مساعی سے عوام کو آگاہ کیا اور آئندہ کے لائحہ عمل سے کارکنوں کو روشناس کیا۔
مجلس کے مبلغین
مجلس تحفظ ختم نبوت کا کام تبلیغی طرز کا ہے اور یہ آج نہیں روز اوّل سے یہ منشور تھا کہ مجلس غیر سیاسی محض تبلیغی جماعت ہے۔ اسی کے پیش نظر صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ بیرون ممالک میں بھی ختم نبوت کے محاذ پر مرزائیت کے خلاف سرگرم عمل مبلغین جن جن علاقوں میں تبلیغی اسفار کرتے تو ان سفر کی مکمل کارگزاری اجمالی یا تفصیلی طور پر لولاک میں چھپتی ہے۔ مبلغین کی کارگزاریاں اجمالی طور پر ذکر کر لیتے ہیں تاکہ ان کی ختم نبوت کے مقدس مشن کے لئے کاوشیں تاریخ کا حصہ بنے اور طاق نسیان کی نذر نہ ہوں۔
- ۱....... مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا خدا بخش شجاع آبادی نے جنوری میں بہاول پور، رحیم یار خان، بہاولنگر، مظفر گڑھ،
لائل پور، کہروڑ پکا، حاصل پور، ٹبہ سلطان پور، میلسی، لیہ اور ملتان کے علاوہ دیگر مضافاتی علاقوں کا دورہ کیا اور ختم نبوت کے عنوان سے تقاریر فرمائی۔ لوگوں کی ذہن سازی کی۔
- ۲....... فروری کے اوائل میں مولانا سید منظور شاہ صاحب نے جھنگ، سیالکوٹ، سرگودھا، بہاول پور، ہارون آباد، چشتیاں، محبت پور
اور ڈیرہ غازی خان میں جلسہ ہائے عام سے خطاب فرمایا۔
- ۳....... مجلس کے لاہور کے مبلغ مولانا عبدالرؤف نے جنوری اور فروری کے مہینوں میں شہر لاہور کے اکثر و بیشتر مساجد میں جلسوں میں
اور جمعہ کے خطبوں میں بیانات فرمائے اور عوام کو ختم نبوت کے مشن کے تقدس اور اہمیت سے روشناس کرایا۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
- ۴ ...... مولانا سید ممتاز الحسن مبلغ کھرڑیانوالہ نے کھرڑیانوالہ، لاٹھیانوالہ، چک شیراں کا تبلیغی و تنظیمی دورہ کیا۔ مختلف مقامات پر بیانات
فرمائے۔ جماعت کے لئے تنظیم سازی فرمائی۔
- ۵ ...... بہاولنگر کے مبلغ نے جنوری کے مہینے میں سرگودھا، لالیاں، چنیوٹ، جھنگ، لائل پور، ملتان اور دیگر مضافاتی علاقوں کا تبلیغی و تنظیمی
دورہ کیا جو نہایت کامیاب رہا۔
- ۶ ...... حافظ آباد کے مبلغ حافظ عبدالوہاب نے حافظ آباد کے مضافاتی علاقے ونیکے تارڑ، چک چھٹہ کے علاوہ مختلف مقامات میں
اشاعت اور ختم نبوت کا مسئلہ عوام کو سمجھایا۔ اپنے بیان میں حافظ صاحب نے حکومت پر زور دیا کہ مرزائیوں کو کلیدی آسامیوں سے ہٹا دیا جائے اور ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔
(لولاک، مؤرخہ ۳، ۱۰، ۱۷؍جنوری، فروری، مارچ ۱۹۷۵ء)
- ۷ ...... اپریل کے آخری ہفتے میں گجرات، حافظ آباد، پنڈی بھٹیاں، ڈھڈیاں شریف میں تحفظ ختم نبوت کانفرنسیں منعقد ہوئیں۔ مولانا
تاج محمود، مولانا عبدالرحیم اشعر، فاتح قادیان مولانا محمد حیات اور کثیر تعداد میں مقامی علماء نے شرکت فرمائی۔ ان کانفرنسوں میں حکومت سے آئینی ترمیم کے نفاذ، مرزائیوں کو کلیدی آسامیوں سے ہٹانے اور ان کی تنظیموں خدام الاحمدیہ اور فرقان فورس پر پابندی کے مطالبات ہوئے۔
(لولاک، ۲۱؍اپریل)
۵؍مئی کو کوئٹہ میں مجلس کی تنظیم سازی کے سلسلہ میں ایک اجلاس زیر نگرانی مرکزی ناظم حضرت مولانا محمد شریف جالندھری ہوا۔ امیر حاجی محمد یوسف، نائب امیر چوہدری محمد طفیل، جنرل سیکرٹری جناب منظور احمد مغل، سیکرٹری جناب سعید حسن، ناظم تبلیغ مولانا منیر الدین، خان محمد، مولانا محمد انور نے شرکت کی۔
(لولاک، مؤرخہ ۱۲؍مئی ۱۹۷۵ء)
جون کے پہلے عشرے میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم تبلیغ مولانا عبدالرحیم اشعر کی قیادت میں مجلس کا وفد حضرت بنوریؒ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ تربیتی پروگرام کے علاوہ حضرت امیر مرکزیہ کے مشورہ سے مولانا عبدالرحیم اشعر نے مبلغین کا تبلیغی پروگرام ترتیب دیا۔ اس ترتیب شدہ پروگرام کی روشنی میں ختم نبوت کے ان جیالے مجاہدوں نے مختلف مساجد میں درس قرآن دیئے اور مختلف اوقات میں تقریریں ہوئیں۔ علاوہ ازیں کراچی کی مساجد میں نماز جمعہ سے قبل مبلغین کے خطاب کا حسب ذیل پروگرام بنایا۔
(لولاک، مؤرخہ ۱۶؍مئی ۱۹۷۵ء)
- ۱...... جامع مسجد کورنگی، مولانا خان محمد مبلغ سیالکوٹ ۔
- ۲...... جامع مسجد دارالرحمت، مولانا منظور احمد مبلغ ملتان ۔
- ۳...... جامع مسجد دارالسلام، مولانا قاضی اللہ یار خان ۔
- ۴...... جامع مسجد جہانگیر روڈ میں مولانا عزیز الرحمٰن خورشید ۔
- ۵...... جامع مسجد نیو ٹاؤن، مولانا عبدالرحیم اشعر ۔
- ۶...... جامع مسجد ناظم آباد، مولانا محمد شریف بہاول پوری ۔
- ۷...... جامع مسجد گلشن اقبال، مولانا جمال اللہ الحسینی ۔
- ۸...... جامع مسجد عائشہ باوانی، مولانا منظور احمد الحسینی ۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
۱۱؍جون: مجلس تحفظ ختم نبوت صوبہ سرحد کے ناظم اعلیٰ مولانا نور الحق نور صاحب نے ہزارہ، ڈھڈیال، بٹل، بٹگرام، بشام، مینگورہ اور سوات کا تبلیغی و تنظیمی دورہ کیا جو نہایت کامیاب رہا۔ زلزلہ زدہ افراد کے ساتھ تعاون بھی کیا۔
(لولاک، مؤرخہ ۱۱؍جون ۱۹۷۵ء)
مجلس کے مرکزی قائدین و مبلغین مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا عبدالرحیم اشعر، مولانا محمد شریف بہاول پوری، مولانا سید منظور احمد شاہ، مولانا قاضی اللہ یار، مولانا عبدالرحمن میانوی اور مولانا اللہ وسایا مدظلہ نے جنوری کے مہینے میں مختلف مقامات پر تبلیغی و تنظیمی بیانات فرمائے اور جماعت سازی فرمائی۔ پروگراموں کی ترتیب حسب ذیل ہے۔
مولانا محمد شریف جالندھری...... تلہ گنگ، جھنگ۔
مولانا عبدالرحیم اشعر...... سرگودھا، تلہ گنگ۔
مولانا سید منظور شاہ...... جھنگ، سیالکوٹ چک ۱۹ شمالی۔
مولانا قاضی محمد اللہ یار...... جھاوریاں، چک ۱۹ شمالی، ناڑی۔
مولانا عبدالرحمن میانوی...... جھاوریاں۔
مولانا اللہ وسایا...... جھاوریاں، ناڑی، ضلع سرگودھا، ظہور آباد، بہاول پور۔
مجلس کے قائدین و مبلغین کے پروگرام
مولانا محمد شریف جالندھری...... ملتان، لاہور، گوجرانوالہ، پشاور، چیچہ وطنی، تلہ گنگ، کمالیہ، ڈیرہ غازیخان، ملتان دفتر، ماموں کانجن، کبیروالہ، چونڈہ سیالکوٹ۔
مولانا عبدالرحیم اشعر...... کراچی، تلہ گنگ، ساہیوال، منچن آباد، ربانیہ، خان بیلہ، عارف والا، ڈیرہ غازی خان، پنڈی بھٹیاں۔
مولانا قاضی اللہ یار...... کنری سندھ، سرگودھا، میہگہ، چک رام داس، چوک منڈا، ڈیرہ غازیخان، بھلوال، کوٹ ادو، حاصل پور، شورکوٹ، جیوکہ۔
مولانا منظور احمد شاہ...... فقیروالی، علی پور، کمالیہ، ڈیرہ اسماعیل خان، جہلم، احمد پور شرقیہ، بہاول پور، کیمبل پور، ساہیوال، خان گڑھ، حویلی لکھا، ماموں کانجن، جمال پور، ملکہ ہانس، ڈیرہ غازی خان، کمالیہ، صادق گنج۔
مولانا اللہ وسایا...... بہاول پور، ملتان، شورکوٹ، فیصل آباد، ربانیہ، ساہیوال، ماموں کانجن، فیصل آباد، جھمرہ۔ اس کے علاوہ تمام مبلغین کی پورے سال کی کارگزاری کی مکمل تفصیل ہے۔ خوف طوالت سے اس پر اکتفا کرتے ہیں۔
مجلس تحفظ ختم نبوت کی بیرون ملک خدمات
۱۹۷۵ء میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی صدائے بازگشت پاکستان کے علاوہ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی سنی گئی۔ جنوری میں ملتان میں مرکزی شوریٰ کے اجلاس کے موقع پر امیر مرکزیہ مولانا محمد یوسف بنوری نے ارادہ ظاہر فرمایا تھا کہ پوری دنیا میں تبلیغ اسلام اور تردید مرزائیت کی اشد ضرورت ہے۔ اس لئے ایسے بیرونی ممالک جہاں بڑی تعداد میں مسلمان آباد ہیں، تبلیغی وفود بھیجے جائیں تاکہ ان ممالک کے مسلمانوں کو مرزائیت کے کفریہ عقائد اور اسلام دشمن عقائد سے آگاہ کیا جاسکے۔ یہ ضرورت اس لئے پیش آئی کہ ۷؍ستمبر کے فیصلے کے بعد مرزائی سخت مایوس ہوچکے تھے اور اندر ہی اندر کوشش میں لگے ہوئے تھے کہ کسی بیرونی ملک میں مرزائیت کا ہیڈ کوارٹر تبدیل کرلیا جائے۔ اس
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
سلسلہ میں انہوں نے افریقی ممالک کو نشانہ بنایا اور وہاں کوششیں جاری کیں کہ مرزائیت کی حقیقت سے لاعلم سادہ لوح افریقیوں کو اس دامِ تزویر میں پھنسایا جائے۔ افریقہ کے علاوہ یورپ، جنوبی مشرقی ممالک جیسا کہ ملائیشیاء، انڈونیشیاء کو بھی مرزائیت نے اپنی گمراہ کن تبلیغ کے نشانے پر رکھا۔ اس لئے مجلس نے ضرورت محسوس کی کہ ان ممالک میں تبلیغی مشن بھیجے جائیں اور ان ممالک کے مسلمانوں کو مرزائیت کے متعلق تازہ ترین حالات سے آگاہ کیا جائے۔ مزید برآں ان ممالک میں رد مرزائیت کے حوالے سے لٹریچر شائع کیا جائے۔ ان ممالک کے علماء کو تربیت دے کر اس قابل بنایا جائے کہ وہ رد مرزائیت کے خلاف کام کر سکیں اور لٹریچر کا ترجمہ ان کے متعلقہ زبانوں میں کر سکیں۔ اس سلسلے کا پہلا تبلیغی سفر مجلس کے نائب امیر پیر طریقت حضرت مولانا خواجہ خان محمد نے کویت اور حجاز مقدس کا کیا۔ اس سفر میں آپ نے ختم نبوت کی اہمیت اور مرزائیت کی حقیقت اجاگر فرمائی۔ حضرت نے اس سفر میں فریضہ حج بھی ادا فرمایا۔
(لولاک، مورخہ ۱۷ جنوری)
مجلس تحفظ ختم نبوت جرمنی میں
جنوری ۱۹۷۵ء کو جرمنی میں مجلس تحفظ کا باضابطہ قیام ہو گیا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے ایک فعال رکن جناب منظور احمد کی مساعی جمیلہ کی وجہ سے یہ ممکن ہوسکا۔ جرمنی دفتر کو انگلش لٹریچر بھی بھیجا گیا اور پاکستان کے مجلس کے مرکزی دفتر سے اس کا الحاق بھی ہو گیا۔ مجلس کے تمام کارکنوں اور قائدین نے منظور احمد صاحب کی کوششوں اور شبانہ روز محنتوں کو سراہا۔ چونکہ مرزائیت نے یورپین ممالک میں جرمنی ہی کو بطور خاص نشانے پر رکھا تھا۔ اس لئے وہاں مجلس کے دفتر کا قیام ایک خوش آئند اقدام تھا۔
(لولاک، مورخہ ۲۴ جنوری)
امارات اور سعودی عرب میں مجلس کا پیغام
مولانا منظور احمد چنیوٹی جو مجلس کی مرکزی شوریٰ کے رکن تھے، نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا تبلیغی دورہ فرمایا۔ حضرت نے یہ سفر مجلس تحفظ ختم نبوت کے سفیر کی حیثیت سے کیا۔ دفاع ختم نبوت اور رد قادیانیت کے سلسلے میں قابل قدر خدمات انجام دیں۔ اس سفر میں آپ کے دست حق پرست پر ایک قادیانی جوڑا آغوش اسلام میں بھی داخل ہوا۔ تفصیل یہ ہے کہ جھنگ کے ایک بہت بڑے زمیندار رائے محمد خان ولد قادر بخش بھٹی اور اس کی بیوی جو قادیانی حج کے لئے سعودی عرب چلے گئے۔ حضرت چنیوٹی صاحب پہلے سے وہاں تبلیغی سلسلے میں موجود تھے۔ یاد رہے کہ حدود حرم میں شرعاً ہر غیر مسلم کا داخلہ ممنوع ہے۔ لیکن حکومت سعودی نے قادیانیوں کی اسلام دشمنی اور ان کے گھناؤنے عزائم کے پیش نظر پوری مملکت میں ان کے داخلے پر پابندی لگا رکھی ہے۔ مولانا منظور احمد نے حکومت سعودی کو اطلاع بہم پہنچائی کہ یہ جوڑا قادیانی ہے اور حج کی غرض سے سعودی عرب میں داخل ہوا ہے۔ لہٰذا ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ چنانچہ پولیس نے قادیانی جوڑے کو فوراً گرفتار کر لیا اور تفتیش شروع کر دی۔ تفتیش مکمل کر کے مقدمہ مکۃ المکرمہ کی ہائیکورٹ میں پیش کر دیا گیا۔ ملزم قادیانی جوڑے نے اعتراف کر لیا کہ وہ پہلے مسلمان تھے، پھر مرتد ہوکر قادیانی ہو گئے۔ اب ہم پر اسلام کی حقانیت اور قادیانیت کے کذب وافتراء کی حقیقت کھل چکی ہے۔ لہٰذا ہم واپس اسلام لاتے ہیں۔ قادیانی جوڑے نے مولانا منظور احمد چنیوٹی کے ہاتھ پر تائب ہونے کا اعلان کیا اور اپنا توبہ نامہ لکھ دیا۔
(لولاک، مورخہ ۱۹ مئی، چٹان مارچ ۱۹۷۵ء)
مولانا سید منظور احمد شاہ دورہ ابوظہبی پر
۱۱؍ جون ۱۹۷۵ء بروز بدھ مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا سید منظور احمد شاہ تبلیغی دورے پر ابوظہبی تشریف لے گئے۔ مولانا اپنے ہمراہ تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ میں عربی، انگریزی اور اردو میں چھپا ہوا کافی لٹریچر لے گئے۔ مئی ۱۹۷۵ء میں ابوظہبی کی حکومت
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
نے ۲۵ مرزائیوں کو مرزائیت کی تبلیغ کے جرم میں گرفتار کیا تھا۔ اب ان کے خلاف مقدمہ کی سماعت کا مرحلہ درپیش تھا۔ ابو ظہبی حکومت نے اس سلسلے میں مجلس تحفظ ختم نبوت سے رابطہ کیا اور مقدمہ کی پیروی کے لئے کسی جید عالم دین کی خدمات اور لٹریچر طلب کیا تھا۔ جس پر مجلس نے مولانا منظور احمد شاہ کو بھیجا۔ ابو ظہبی ائیر پورٹ پر مجلس کے ناظم اعلیٰ جناب محمد رفیق صابری اور مسلمانوں کے ایک بڑے ہجوم نے مولانا سید منظور احمد شاہ کا شاندار استقبال کیا۔
مولانا نے ابو ظہبی، شارجہ، دوحہ، رأس الخیمہ، عجمان اور دبئی کا تبلیغی دورہ کیا۔ عرب امارات کے شیخ، وزراء، حکام اعلیٰ، ممتاز دینی شخصیات اور پاکستانی احباب سے ملاقاتیں کیں اور ہر جگہ ختم نبوت کا پیغام پہنچایا۔ ابو ظہبی میں شاہ صاحب نے قاضی القضاۃ جناب احمد بن عبدالعزیز اور وزارت شئون اسلامیہ کے مدیر ڈاکٹر عبد المنعم سے تفصیلی ملاقاتیں کیں اور وہاں تحفظ ختم نبوت کے دفتر کے قیام اور اسلامی ممالک کے اتحاد، اسلام کی نشأۃ ثانیہ اور تحفظ عقیدۂ ختم نبوت کے متعلق عربی اور انگریزی زبان میں لٹریچر کی اشاعت جیسے مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ شارجہ میں شاہ صاحب موصوف کی وزارت شئون اسلامیہ کے مدیر شیخ عبداللہ محمود سے تقریباً دو گھنٹے ملاقات ہوئی۔ شیخ نے مرزائیت کے حوالے سے تمام اہم حوالہ جات دیکھے۔ رأس الخیمہ میں مولانا منظور شاہ صاحب نے وہاں کے وزیر شیخ محمد صاحب سے ملاقات کی۔ دبئی میں بھی ختم نبوت کی تنظیم بن گئی۔ ریاست عجمان کے شیوخ سے بھی شاہ صاحب کی انتہائی مفید اور نتیجہ خیز ملاقاتیں ہوئیں۔ حضرت مولانا نے دبئی میں مقیم پاکستانی سفیر جمیل الدین سے بھی ملاقات کی۔
(لولاک، مورخہ ۱۹؍اکتوبر ۱۹۷۵ء)
مجلس کا مبلغ لندن میں
۱۲؍جون ۱۹۷۵ء کو ممتاز عالم دین مولانا مقبول احمد صاحب مجلس تحفظ ختم نبوت کے نمائندہ اور مبلغ کی حیثیت سے لندن روانہ ہو گئے۔ ان کا پروگرام یہ تھا کہ ہڈرسفیلڈ (انگلینڈ) کے مجلس تحفظ ختم نبوت کے ملکیتی دفتر کو ہیڈ کوارٹر قرار دے کر انگلینڈ اور دوسرے یورپی ممالک میں تبلیغی سرگرمیاں کریں گے۔ مولانا مقبول احمد نے تمام یورپی ممالک میں مرزائیوں کے زہریلے اور جھوٹے پروپیگنڈے کا جواب دیا جو انہوں نے ۷؍ستمبر کے فیصلے کے بعد پاکستان اور اسلامیان پاکستان کے متعلق ہر جگہ پھیلایا تھا۔
(لولاک مورخہ ۱۹؍اکتوبر ۱۹۷۵ء)
مجلس کا نمائندہ فجی آئی لینڈ میں
ستمبر میں مجلس عمل کا ایک نمائندہ مولانا اسد اللہ طارق تبلیغی تنظیمی دورے پر فجی تشریف لے گئے۔ مولانا اسد اللہ، حضرت بنوریؒ کے لائق فائق شاگرد تھے۔ فجی میں قادیانیت کی دسیسہ کاریوں سے تنگ آ کر وہاں کے اسلامیان نے مجلس عمل کو درخواست بھیجی کہ ہمیں ختم نبوت کے موضوع پر ایک صاحب مطالعہ مبلغ اور ردّ قادیانیت پر لٹریچر بھیج دیں۔ مجلس نے لبیک کہتے ہوئے مولانا اسد اللہ کو وہاں بھیج دیا اور بڑی تعداد میں لٹریچر بھی روانہ کیا۔
(لولاک، اگست ۱۹۷۵ء)
مجلس کا نمائندہ مسقط میں
۱۹؍اکتوبر کو مجلس تحفظ ختم نبوت گجرات کا ناظم اعلیٰ چوہدری محمد خلیل اور جناب منظور احمد کھوکھر تبلیغی مشن پر مسقط چلے گئے۔ دونوں حضرات اپنے ہمراہ دفاع ختم نبوت کے متعلق عربی، اردو اور انگلش میں کافی سارا لٹریچر بھی لے گئے۔ مسقط میں دفاع ختم نبوت کے لئے ملاقاتیں اور قادیانیت کا تعاقب شروع کیا۔
(لولاک، مورخہ ۲۶؍اکتوبر ۱۹۷۵ء)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
مرزائیت بیرون ممالک میں
۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کے تاریخی فیصلے کی اگر حکومت کماحقہ تشہیر کرتی اور دنیا کے دیگر مسلم ممالک کو مرزائیت کے غیر مسلم ہونے کی وجہ بتاتی۔ قومی اسمبلی کی کارروائی جلد منظر عام پر لاتی تو پوری دنیا کے مسلمان مرزائیت سے چوکنے ہو جاتے اور قادیانیت اپنی موت آپ مر جاتی۔ لیکن حکومت نے ایسا نہیں کیا۔ اس مسئلے کو مسلسل سرد خانے میں رکھا اور اس کے عملی نفاذ میں چوں چرا سے کام لے رہی تھی۔ اس لئے قادیانیوں کو موقع مل گیا اور انہوں نے پاکستان میں ناکامی کے بعد دنیا کے دیگر مسلمان ممالک کی طرف متوجہ ہو گئے اور براعظم افریقہ، یورپ اور مشرق بعید کے ممالک کی طرف توجہ کی اور ان ممالک میں ارتداد کی گھناؤنی مہم شروع کر دی۔ چونکہ ان ممالک اور بالخصوص افریقہ میں قادیانیوں کی حقیقت کوئی نہیں جانتا تھا۔ اس لئے ان مرزائیوں نے خود کو مسلمان ظاہر کر کے اور خود کو ان پسماندہ غریب مسلمانوں کا ہمدرد ظاہر کر کے مرزائیت کی ارتدادی تبلیغ شروع کر دی اور حلقہ بگوشان اسلام کچھ ضروریات زندگی کی مجبوری اور کچھ عدم واقفیت کی بنیاد پر مرزائی اندھے کنویں میں گرنے لگے۔ مرزائی خود کو افریقہ اور یورپ میں جدت پسند اور ترقی پسند مسلمانوں کے طور پر پیش کرنے لگے تھے۔
مجلس عمل نے ۱۹۷۴ء اور ۱۹۷۵ء میں یورپ، افریقہ، ملائیشیاء، انڈونیشیاء اور عرب ریاستوں میں تبلیغی وفود بھیجے۔ ان حضرات نے اپنے متعلقہ ممالک میں اسلام کی بے لوث خدمت کی۔ مرزائیت کی حقیقت کو لوگوں کے سامنے آشکارا کر دیا۔ لیکن کہاں حکومت اور ریاست کا ہمہ گیر کام اور کہاں ایک پرائیویٹ جماعت کا کام۔ بہر حال پھر بھی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اپنی طاقت، وسعت اور بساط سے بڑھ کر کام کیا۔ مجلس کے حضرات کے بیرون اسفار کا تذکرہ اور کارگزاری آگے آئے گی۔ سردست آپ ان اسفار کی برکات پڑھیں۔
اردن فتویٰ بورڈ کا فیصلہ
جنوری کے مہینے میں اردن فتویٰ بورڈ نے مرزائیوں کو غیر مسلم قرار دیا اور ان کو خلاف قانون قرار دیا۔ فتویٰ بورڈ کے اراکین نے قادیانیوں کے عقائد اور مرزا غلام احمد قادیانی کے دعاوی پر غور کیا۔ اس کی تصانیف کو سامنے رکھا۔ اس کے بعد بورڈ نے متفقہ طور پر یہ فتویٰ جاری کر دیا کہ قادیانی گروہ اسلام سے مرتد ہے اور جو مسلمان اس گروہ سے وابستہ ہوگا۔ ان کے عقائد قبول کرے گا۔ وہ بھی مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہوگا۔ فتویٰ میں یہ بات رقم تھی کہ مسلمان کے لئے کسی قادیانی سے تعلق رکھنا ناجائز ہے۔ اس لئے کہ قادیانیوں کے لئے مقدس شہر قادیان ہے اور قرآن پاک میں جس مسجد اقصیٰ کا ذکر ہے اس سے وہ ربوہ کی مسجد اقصیٰ مراد لے رہے ہیں۔ (معاذ اللہ)
اردن فتویٰ بورڈ کی جانب سے جاری کردہ یہ ایک تفصیلی فتویٰ ہے۔ جس میں سے چیدہ چیدہ نکات ہم نے نذر قارئین کر دیئے۔
(لولاک، مورخہ ۳۰؍ جنوری ۱۹۷۵ء)
نائیجیریا میں مرزائیت کے خلاف بیداری
قادیانیوں نے پاکستان میں غیر مسلم قرار دیئے جانے کے بعد جن ممالک کو اپنے ارتدادی مہم کے لئے منتخب کیا۔ ان میں نائیجیریا سرفہرست تھا۔ ربوہ سرکار اپنا ہیڈ کوارٹر نائیجیریا منتقل کرنا چاہتی تھی۔ لیکن مجلس عمل کی سعی سے پاکستان کا آئینی فیصلہ جب پوری دنیا میں شہرت پا گیا تو نائیجیریا میں بھی مسلمانوں میں مرزائیت کے خلاف بیداری پیدا ہوگئی۔ نائیجیریا کے عظیم مذہبی رہنما جن کو شیخ کہتے تھے۔ اس نے مرزائیوں کے خلاف علم جہاد بلند کیا اور عوام میں ایک زبردست تحریک چلائی۔ جس سے نائیجیریا کے مسلمان پر اس فرقہ ضالہ کی حقیقت کھل گئی اور وہ اس کو مرتد سمجھ کر اس کے حوالے سے محتاط ہوگئے۔
(لولاک، مورخہ ۷؍ فروری ۱۹۷۵ء)
تحریک ختم نبوت(۴) ستمبر۱۹۷۴ء تا دسمبر۱۹۸۵ء ترتیب وتحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
یوگنڈا میں مرزائی غیر مسلم قرار
۲۸ مئی کو افریقہ کی اسلامی ریاست یوگنڈا میں مرزائیوں کو ایک سیاسی غیر اسلامی جماعت قرار دیا گیا۔ یوگنڈا کے صدر جناب عیدی امین نے مرزائیوں کو خلاف قانون جماعت قرار دے کر ان کو ملک بدر کرنے کا حکم دیا اور ان کی تبلیغ پر پابندی لگادی۔ صدر عیدی امین کے اس جرأتمندانہ فیصلے کو پورے عالم اسلام میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا گیا اور یوگنڈا کی حکومت کو مبارکبادی اور تہنیت کے پیغامات بھیجے گئے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے نائب امیر جناب عبدالرحمن یعقوب باوا نے صدر عیدی امین کو ایک برقیہ بھیجا اور اس میں کہا کہ پاکستانی مسلمان مرزائیوں پر پابندی کے فیصلہ پر مسرت اور خوشی کا اظہار کرتے ہیں اور آپ کو سلام پیش کرتے ہیں۔ آپ کا یہ اقدام عین اسلامی عقیدے کا مظہر ہے اور مکہ مکرمہ کے قرارداد کے عین مطابق ہے۔ اس کے علاوہ پورے ملک کے خطباء حضرات نے جمعہ کی نماز کے خطبوں میں صدر عیدی امین کو اس انقلابی اقدام پر زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ صدر عیدی امین نے یہ فیصلہ یوگنڈا کے مفتی قاضی القضاۃ شیخ یوسف سلیمان کے فتوے کی بناء پر جاری کیا تھا۔
(لولاک مورخہ ۷؍اپریل، چٹان مورخہ ۳۰؍مارچ ۱۹۷۵ء)
گھانا میں مرزائیت کی موت
گھانا مغربی افریقہ کی ایک ریاست ہے۔ پاکستان اور انڈیا میں مرزائیت کی حقیقت معلوم ہونے کے بعد انہوں نے جن ممالک کو مرزائیت کے پرچار کے لئے منتخب کیا۔ ان میں ایک ملک گھانا بھی تھا۔ گھانا میں عیسائیوں کی تعداد مسلمانوں کے مقابلے میں زیادہ تھی اور وہ مالی طور پر مستحکم بھی تھے۔ مرزائیت نے جب وہاں اپنے پنجے جمانے شروع کر دیئے اور مرزائیت کی ارتدادی تبلیغ کا آغاز کیا تو مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد مرتد ہو گئی۔ وجہ یہ تھی کہ مرزائی اپنے مذہب کو اسلام ہی کی جدید صورت بتاتے تھے۔ وہاں کے مسلمانوں کو دولت اور سہولیات سے نوازتے اور قرآن وحدیث کے نام پر ارتداد کی مہم چلاتے۔ اس لئے مسلمان اسی فتنہ عمیاء میں تیزی سے داخل ہوتے گئے۔ گھانا میں تین قسم کے سکول تھے۔ عیسائی سکول، مرزائی سکول، سنی سکول، عیسائی اور مرزائی سکول مالی طور پر مستحکم تھے۔ جب کہ سنیوں کا سکول پسماندہ اور تعلیمی اعتبار سے کمزور تھا اس لئے مسلمان عیسائیوں اور مرزائیوں کے سکولوں میں پڑھنے جاتے اور بالخصوص مرزائیوں کے سکول میں اور ارتداد کے اژدھا کا لقمہ بنتے۔ اس لئے کہ وہ مرزائیوں کو مسلمان ہی سمجھتے تھے۔
۷؍ستمبر کے تاریخی فیصلے میں مسلمانان عالم میں قادیانیت کے حوالے سے شعور و آگہی آ گئی تو انہوں نے مرزائیوں کو مرتد جان اور مان کر ان سے کنارہ کرنا شروع کیا۔ گھانا کے مسلمانوں نے بذریعہ ماہنامہ ’’الفیصل السلام کیپ ٹاؤن‘‘ جملہ مسلمانان عالم سے بالعموم اور جناب عزت مآب شاہ فیصل، جناب معمر القذافی، جناب عیدی امین اور جناب ذوالفقار علی بھٹو سے بالخصوص اپیل کی کہ اس خطہ ارض میں اسلام کی تبلیغ کا مؤثر انتظام کیا جائے۔ کیونکہ مرزائیت تیزی سے پھیل رہی ہے۔ مسلمانان عالم نے اس طرف توجہ دی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت نے بھی اس سلسلہ میں کافی تگ و دو کی۔ جس سے وہاں پر مرزائیت زوال پذیر ہو گئی اور مرزائی تیزی سے اسلام کے آغوش میں آنے لگے۔ (اللہ تعالیٰ کے بے پایاں احسان و کرم سے فروری ۲۰۱۵ء میں مرزائیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا)
(لولاک، مورخہ یکم؍اپریل ۱۹۷۵ء)
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
مرزائیت کی حقیقت ، اسلام دشمنی اور فتنہ خیز ذہنیت کے بارے میں جتنے ممالک نے سنا، دیکھا انہوں نے اس کو اپنے ہاں غیر قانونی قرار دے کر ان کے دخول پر پابندی لگا دی ۔سعودی عرب، لیبیا، افغانستان، ابوظہبی، کویت، یوگنڈا اور دیگر بہت سارے ممالک میں ان کے دخول اور ارتدادی تبلیغ پر مکمل پابندی لگی۔ یہاں تک شام، مصر، ایران اور ترکی جیسے سیکولر حکومتوں نے بھی ان کو اپنے ہاں ناقابل برداشت گردانا اور اپنے ممالک میں ان کے داخلے کو قابل تعزیر جرم جانا۔
ایک نئی خوشخبری
دسمبر ۱۹۷۵ء میں سعودی عرب اور لیبیا کی اسلامی مملکتوں نے حکومت پاکستان کو تحریر کیا کہ کوئی مرزائی ان کے ہاں ملازمت کے بہانے سے داخل نہیں ہو سکتا اور نہ ہی یہ دونوں اسلامی حکومتیں کسی مرزائی کو ملازمت دینے کے لئے تیار ہیں۔ یہ بھی اعلان کیا گیا کہ حکومت پاکستان نے ہر اس شخص پر جو سعودی عرب یا لیبیا میں ملازمت کے لئے جانا چاہتا ہے یہ پابندی عائد کر دی ہے کہ وہ وزارت امور مذہبیہ کا ایک سرٹیفکیٹ پیش کرے۔ جس میں حلف اٹھایا گیا ہو کہ اس شخص کا قادیانی یا لاہوری فرقہ سے کوئی تعلق نہیں اور وہ حضور اکرم ﷺ کے بعد ہر مدعی نبوت اور اس دور کے مدعی نبوت مرزا غلام احمد کو دائرہ اسلام سے خارج اور کافر یقین کرتا ہے اور اسی طرح مرزا قادیانی کے تمام پیروکاروں کو بھی کافر سمجھتا ہے۔ تحریر میں درج تھا کہ امور مذہبی سرٹیفکیٹ جاری کرنے سے قبل تمام اضلاع کے ڈسٹرکٹ خطیب حضرات کی تصدیق طلب کرے گی اور اس کے بعد یہ سرٹیفکیٹ جاری کرے گی۔ اس سلسلے میں مرکزی جامع مسجد (لال مسجد) کے خطیب اور ممتاز عالم دین مولانا محمد عبداللہ صاحب سے بھی استدعا کی گئی کہ وہ ایسے حضرات جو سعودی عرب اور لیبیا میں ملازمتوں کی خواہشمند ہو۔ ان کی تصدیق اور چھان بین میں وزارت مذہبی امور کی مدد کریں۔ دنیائے اسلام میں سعودی اور لیبیا کے اس فیصلے پر خوشی واطمینان کا اظہار کیا گیا اور دونوں حکومت کو ہدیہ تبریک و تحسین پیش کیا گیا۔
(لولاک، مؤرخہ ۲۸؍دسمبر ۱۹۷۵ء)
ملائیشیاء میں مرزائیوں کا انجام
۲۱؍ستمبر کو ملائیشیاء نے بھی قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا۔ ملائیشیا تیسرا ملک تھا جس نے قادیانیوں کے بارے میں آئینی طور پر یہ فیصلہ کیا تھا۔ اس سے قبل پاکستان اور اردن نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا تھا۔
اخبار العالم الاسلامی کے مطابق ملائیشیا کی قومی مجلس امور اسلامیہ نے اپنے آخری اجلاس میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں قومی مجلس امور اسلامیہ کے سیکرٹری محمد نور دی محمود نے بتایا کہ قومی مجلس امور اسلامیہ نے اتفاق رائے سے قادیانیوں کو اس بنا پر غیر مسلم قرار دیا۔ کیونکہ اس فرقے کے نظریات اور اسلام سے متعلق ان کی تعریف وتصریح اسلامیات میں تحریف کے مترادف ہے اور یہ فرقہ اسلام کے لئے نقصان دہ اور ہلاکت آفرین ہے۔
اخبار العالم الاسلامی کے نامہ نگار کے مطابق رابطہ عالم اسلامی کے جنرل سیکرٹری سے ملائیشیا کے سفیر مقیم جدہ شیخ محمد صالح نے ملاقات کی اور قومی مجلس امور مذہبی کے اس فیصلے سے آگاہ کیا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ سب سے پہلے پاکستان نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا اور اس کے بعد اردن نے بھی یہی فیصلہ کیا۔ جہاں تک سعودی عرب کا تعلق ہے وہاں قادیانیوں کو داخل ہونے کی ممانعت تھی۔ تیسرا خوش نصیب ملک ملائیشیا تھا جس نے یہ دانشمندانہ فیصلہ کیا۔
(لولاک، مؤرخہ ۳۰؍ستمبر ۱۹۷۵ء)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
تحریک ختم نبوت
کے سلسلہ میں
۱۹۷۶ء
کے
حالات و واقعات
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
چوہدری ظفراللہ کی قلا بازیاں
مرزائیوں کے گروگھنٹال چوہدری ظفر اللہ خان قبر میں پاؤں لٹکائے ہوئے تھے۔ لیکن اپنی ستیزہ کاریوں اور سازشوں سے باز نہیں آ رہے تھے اور موقع بہ موقع حکومتی فیصلے کے بارے میں دریدہ دہنی کرتے رہے۔ ۱۹۷۶ء کے اوائل میں اس نے ’’میرا دین‘‘ کے نام سے ایک پمفلٹ ترتیب دیا اور بہت زیادہ تعداد میں مفت تقسیم کیا۔ اس پمفلٹ میں چوہدری صاحب نے اپنی قادیانی عادت کے مطابق دین اسلام کے پیارے عنوانات دے کر امت مسلمہ کو دھوکہ دینے کی ناکام کوشش کی تھی۔ ایک لمبا چکر کاٹ کر جس میں اللہ تعالیٰ کی ہستی، حضور ﷺ کی بعثت، قرآن پاک کی آیات کے ذکر سے اپنے مطلب باطل کو ثابت کرنے کے لئے وہی ظلی، بروزی، حقیقی، غیر حقیقی کا راگ الاپا تھا جو اس کے نبی مرزا قادیانی کی عادت تھی۔ ایک عنوان ’’ایک مصلح کا ظہور‘‘ کے تحت چوہدری صاحب نے لکھا: ’’رسول اکرم ﷺ نے جہاں اس مسیح کا ذکر فرمایا ہے۔ اس کے ساتھ ہر بار نبی اللہ کا لقب شامل ہے۔ ایسے نبی (مرزا غلام احمد قادیانی) کا امت مسلمہ میں ظہور ختم نبوت کی مہر کو توڑنے والا نہیں ۔‘‘
کتاب میں چوہدری نے صراحتاً کنایتاً مرزا قادیانی کے لئے نبی اور رسول کا لفظ استعمال کیا ہے اور اس کی اطاعت عین اسلام اور اس سے عدولی کو اسلام کے منافی قرار دیا تھا۔ اس کا یہ فعل آئین پاکستان سے کھلی بغاوت تھی۔ لیکن حکومت کے سنسر شپ کا محکمہ گھوڑے بیچ کر سوتا رہا۔ چوہدری نے آئین کا مذاق اڑاتے ہوئے لکھا تھا کہ اسلام اور کفر کا فیصلہ کسی ملک کا پارلیمنٹ یا اسمبلی نہیں کرسکتی۔ اس کے لئے معیار اللہ اور رسولوں کے احکام کی اطاعت ہے۔
(ملخص، چٹان مؤرخہ ۱۲؍ جنوری ۱۹۷۶ء)
ظفراللہ کی چو این لائی سے ملاقات
چو این لائی چین کے عظیم رہنما تھے۔ عقائد کے لحاظ سے اگرچہ مارکسی تھے۔ لیکن اپنی سادگی، صاف گوئی، انسانی خدمت، رائے کی پختگی، جہد مسلسل، مظلوموں کی حمایت اور اس کے علاوہ دوسری بے شمار خوبیوں کی وجہ سے بہت بڑے آدمی تھے۔ بقول مولانا تاج محمودؒ ’’اسے ہماری بدقسمتی کہئے یا بدعملی کہ ہم نے اپنی اجتماعی کوتاہیوں کی وجہ سے اپنے آپ کو گرا لیا۔ ایمان اور عمل صالح سے بھر پور دعوت حق کا فریضہ ادا کرنا چھوڑ دیا۔ ورنہ چواین لائی جیسے انسان اسلام کی سچائی کو ضرور قبول کرتے اور آج ان کا نام مشاہیر اسلام میں شامل ہوتا۔
’’جب امریکہ بہادر اور چین کے تعلقات استوار ہونا شروع ہوئے تو چوہدری ظفراللہ خاں بھی اچانک چین جا پہنچے۔ چونکہ وہ پاکستان کے کئی سال تک وزیر خارجہ رہے تھے۔ پھر ہمارے حکمرانوں کی حماقت سے وہ یو۔این۔او میں پاکستان کے نمائندہ رہے۔ پھر عالمی جج بنے رہے۔ اپنے اس تعارف کی بدولت وہ چین پہنچ کر دوسرے چینی رہنماؤں کے علاوہ چو این لائی سے بھی ملے اور ان سے درخواست کی کہ انہیں چین میں جماعت احمدیہ کا مشن قائم کرنے کی اجازت دی جائے۔ چو این لائی نے چوہدری ظفراللہ خاں سے کہا کہ ہماری اطلاعات کے مطابق آپ کی جماعت استعماری طاقتوں کی ایجنٹ اور جاسوس ہے۔ چوہدری صاحب نے کہا کہ نہیں ہمارے متعلق کسی نے غلط اطلاعات بہم پہنچائی ہیں۔ ہمارا سامراجی طاقتوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہم تو اسلام کی تبلیغ کرتے ہیں۔ چواین لائی نے کہا کہ اسرائیل پوری دنیائے اسلام کا دشمن ہے۔ پاکستان نے ابھی تک اسے تسلیم نہیں کیا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ اسرائیل سے تمہاری جماعت کے دوستانہ تعلقات ہیں۔ تمہارا وہاں مشن موجود ہے۔ جب کہ اسرائیل نے عیسائیوں کے تمام مشن بھی وہاں سے نکال دیئے ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ تم اسلام اور مسلمانوں کے وفادار نہیں بلکہ ان کے دشمنوں سے گٹھ جوڑ رکھتے ہو۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
چو این لائی کے جواب سے چوہدری صاحب کو پسینہ آگیا اور وہ آئیں بائیں شائیں کرنے لگے۔ چو این لائی نے چوہدری صاحب سے دوسرا سوال یہ کیا کہ جس اسلام کی تم تبلیغ کرنا چاہتے ہو وہ کسی نظام مملکت کو چلا سکتا ہے اور دنیا میں وہ تمہاری کون سی مملکت ہے جہاں یہ نظام کامیابی سے نافذ ہے۔ چوہدری صاحب نے کہا کہ ہاں! ہم جس اسلام کی تبلیغ کرتے ہیں وہ نظام مملکت کی بھی رہنمائی کرتا ہے۔ لیکن ابھی جماعت احمدیہ کوئی ملک حاصل نہیں کرسکی ہے۔ چو این لائی نے پھر پوچھا: وہ ملک تم کہاں حاصل کرنا چاہتے ہو؟ اس سے سر ظفر اللہ، چو این لائی کا مطلب سمجھ گیا اور بہت پریشان ہوگیا اور بات کو ٹالنے کی کوشش کرتا رہا کہ ہم کوشش کررہے ہیں کہ دنیا میں کہیں ہماری مملکت قائم ہوجائے۔ بہرحال چو این لائی چوہدری صاحب کے دام میں نہ آئے اور انہوں نے چین میں مرزائیوں کو کوئی جاسوسی کا اڈہ قائم کرنے کی اجازت نہ دی۔ البتہ چوہدری صاحب کے چو این لائی سے ملنے کا یہ اثر ضرور ہوا کہ چین کی حکومت نے مرزائی جماعت کا مزید مطالعہ کیا۔ یہاں تک کہ پاکستان میں مقیم چین کے سفیر ربوہ آئے۔ ایک رات یہاں قیام کیا اور مرزائی لیڈروں سے تبادلہ خیالات کیا۔ غالباً چینی سفیر نے ربوہ کا دورہ کرنے کے بعد اپنی حکومت کو جو رپورٹ بھیجی اس میں بھی چو این لائی کی سابقہ اطلاعات کی توثیق کردی۔
(لولاک، مؤرخہ یکم فروری ۱۹۷۶ء)
اس ساری گفتگو سے معلوم ہوا کہ چو این لائی انتہائی روشن دماغ اور باخبر رہنما تھا۔ اسے مرزائیوں کے متعلق مکمل معلومات تھیں۔ دکھ ہوتا ہے کہ ہزاروں میل دور رہنے والے چینی رہنماؤں کو مرزائیوں کی حقیقت کا علم تھا۔ انہوں نے مرزائیوں کی چکنی چپڑی باتوں کے باوجود اپنے ملک میں مغربی سامراجیوں کے لئے جاسوسی کا اڈہ قائم نہیں ہونے دیا۔ لیکن ہمارے ملک کے رہنماؤں کو ان استعماری ایجنٹوں کی ریشہ دوانیوں کا علم نہیں تھا، یا تجاہل عارفانہ اختیار کئے ہوئے تھے۔ مرزائی روز اوّل سے اسرائیل میں موجود تھے۔ لیکن ہماری حکومت کو ۱۹۶۸ء میں یہ علم ہوسکا کہ اسرائیل میں مرزائیوں کا مشن موجود ہے اور وہ بھی مجلس کے قائدین کے بتانے سے علم ہوسکا، حکومت کے اپنے ذرائع سے نہیں۔ مرزائی ۱۹۷۲ء سے اسرائیل کی فوج میں موجود ہیں۔ ہمارے عرب بھائیوں کے خلاف یہودیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر لڑ رہے ہیں اور ہمارے ارباب اقتدار کو اس کی خبر نہیں ہوتی اور اس کا انکشاف ۱۹۷۶ء میں مولانا ظفر احمد انصاری نے ایک یہودی پروفیسر کی کتاب حاصل کرنے کے بعد کیا ہے۔ لکھا ہے: ”مرزائی ہزاروں کی تعداد میں مغربی جرمنی پہنچ کر گوریلا ٹریننگ لے رہے ہیں اور ہمارے حکمرانوں کو خبر نہیں ہوتی۔“
ربوہ میں قبول اسلام
ربوہ میں جنوری ۱۹۷۵ء سے مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا خدا بخش صاحب شجاع آبادی نے نماز پڑھانی شروع کی تھی۔ نومبر کے مہینے میں مولانا خدا بخش صاحب نے نماز جمعہ پڑھائی تو ربوہ کے ایک نوجوان سلیم احمد سلیم نے مولانا کے ہاتھ پر مرزائیت سے تائب ہوکر قبول اسلام کا اعلان کیا۔ اگلے ہفتے ربوہ سے متصل احمد نگر قصبہ کے حکیم غلام حسین نے بھی مرزائیت پر تین حرف بھیج کر اسلام قبول کرلیا۔
۲۰ نومبر ۱۹۷۶ء ربوہ ریلوے مسجد کے امام کے ہاتھ پر ربوہ اور احمد نگر کے ۱۲ سعادت مند افراد نے مرزائیت سے تائب ہوکر اسلام قبول کرلیا۔ اسماء گرامی درج ذیل ہیں:
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
(۱) مسٹر محمد سلیم، (۲) حکیم غلام حسین، (۳) سیدہ بشریٰ، (۴) محترم محمد اشرف باجوہ، (۵) چوہدری رحمت باجوہ، (۶) محترمہ اضواء اختر، (۷) محترمہ سیدہ امینہ، (۸) کریم احمد باجوہ۔
(لولاک، جنوری ۱۹۷۶ء)
مجلس تحفظ ختم نبوت کی شوریٰ کا اجلاس اور وزیر اعظم سے ملاقات کا عندیہ
۱۰؍ جنوری ۱۹۷۶ء کو جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی شوریٰ کا ایک اجلاس منعقد ہوا۔ صدارت مولانا علامہ سید محمد یوسف بنوری نے فرمائی۔ پیر طریقت مولانا خواجہ خان محمد صاحب، سردار میر عالم لغاری، مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا تاج محمود، قاری سعید الرحمن، مولانا نور الحق نور (پشاور)، حاجی سیف الرحمن (بہاول پور)، مولانا منظور احمد چنیوٹی اور مولانا غلام محمد (ملتان) نے شرکت کی۔
اجلاس میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے مختلف شہروں میں نئے دفاتر کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔ اسرائیل میں مرزائیوں کے مشن کی موجودگی اور اسرائیلی فوج میں مرزائیوں کی شمولیت پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کیا گیا۔ شوریٰ کے اراکین نے مرزائیوں کی فتنہ سامانیوں اور حکومت کی غفلت پر اظہار افسوس کیا کہ ۷ ہزار مرزائی سیاسی پناہ گزینوں کی آڑ اور پردے میں مغربی جرمنی پہنچے ہوئے ہیں۔ ان کو ۳۰۰ مارک ماہانہ یو. این. او سے وظیفہ ملتا ہے۔ ساتھ ساتھ انہیں فوجی اور گوریلا ٹریننگ بھی دی جا رہی ہے۔ نظر بظاہر امریکہ اور اس کے بدنام زمانہ ادارے سی. آئی. اے بعض ملکوں میں تخریبی سرگرمیوں کے لئے کرائے کے فوجیوں کے طور پر ان مرزائیوں کو تیار کر رہا ہے۔ شوریٰ نے یہ خدشہ ظاہر کیا کہ کسی بھی وقت پاکستان میں خانہ جنگی اور تخریب ان یورپ پروردہ مرزائیوں کے ہاتھوں ممکن ہے۔ شوریٰ نے ان حالات پر بھی غور کیا کہ تحریک کی کامیابی، قومی اسمبلی کے فیصلہ اور دستوری ترمیم کے بعد جو قانون سازی ہونا تھی وہ تاحال نہیں ہوسکی۔ اس طرح ملک کے مختلف حصوں سے آمدہ شکایات پر بھی غور کیا گیا کہ قومی اسمبلی کے فیصلے کے بعد ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود ابھی تک تحریک کے رہنماؤں، کارکنوں، طالب علموں اور دوسرے لوگوں پر مقدمات چلائے جارہے ہیں اور عدالتیں انہیں معلق رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی رہائی تاحال عمل میں نہیں آئی۔ جو رہا ہوگئے وہ مقدمات بھگت رہے ہیں۔ تاحال مرزائی کلیدی آسامیوں پر فائز ہیں۔ تمام کلیدی آسامیوں سے مرزائیوں کو ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا۔ ۷ ستمبر کے قومی اسمبلی کے فیصلے پر بلاتاخیر عمل کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
مجلس شوریٰ نے تمام حالات و واقعات پر غور کرنے کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ مجلس تحفظ ختم نبوت کا ایک وفد جس میں مجلس کے نمائندوں کے علاوہ مجلس عمل میں شامل دیگر جماعتوں کے نمائندے بھی شامل ہوں۔ وزیر اعظم بھٹو سے ملاقات کرے کہ وہ آئین میں کئے گئے فیصلے پر عمل درآمد کرے اور اندرون و بیرون ممالک مرزائیوں کی اسلام اور پاکستان دشمن پالیسیوں کا استیصال کرے۔ ربوہ میں حکومت نے مسلمانوں کو جو رقبہ دیا ہے وہ آبادکاری کے قابل نہیں۔ حکومت وہاں چھوٹی موٹی صنعتوں کا قیام کرے تاکہ وہاں بسنے والے مسلمان اپنی روٹی کما کر کھاسکیں۔ ۷؍ ستمبر کے فیصلے نے تمام دنیائے اسلام میں پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔ لیکن اس فیصلے کی جتنی تشہیر ہو جانی چاہئے تھی، وہ نہیں ہوئی۔ اس لئے کہ فارن سروس میں بے شمار مرزائی موجود ہیں۔ جنہوں نے اس فیصلے کی تشہیر نہیں ہونے دی۔ حکومت کا فرض ہے کہ وزارت مذہبی امور اور باصلاحیت اشخاص کے ذریعے اس فیصلے کی پوری دنیا میں خصوصاً دنیائے عرب میں شایان شان طریقے سے پبلسٹی کرے۔ تاکہ پاکستان کی نیک نامی میں اضافہ ہو اور بیرون ممالک میں مرزائیوں کے جال میں پھنسے سادہ لوح مسلمان نجات حاصل کر سکیں۔ شناختی کارڈوں وغیرہ کے فارموں اور دیگر ملازمتوں کے فارموں میں مذہب کا خانہ بڑھایا جائے۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
وفد وزیراعظم کے نوٹس میں یہ بات بھی لائے گا کہ ربوہ کی سرکاری فیملی کا ایک فرد مرزا حنیف باہر سے فحش لٹریچر منگوا کر ملک میں پھیلا کر فحاشی پھیلانے کا مکروہ دھندہ کر رہا ہے۔ نئی نسل کو بداخلاقی، بے حیائی اور فحاشی میں مبتلا کر کے برباد کرنا پرلے درجے کی ملک اور ملت دشمنی ہے۔ حکومت اس فتنے کا بھی استیصال کرے۔ کلیدی عہدوں پر فائز مرزائیوں کو ہٹانے کا بندوبست کیا جائے۔ اس لئے کہ وہ لوگ اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کر کے مرزائیت کے پرچار میں مصروف ہیں اور اپنے ماتحت مسلمان ملازمین کو ہراساں کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔
(لولاک، مورخہ ۱۶/ جنوری ۱۹۷۶ء)
دستور کی مخالفت کرنے والوں کی ناز برداری
مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کی طرف سے وزیراعظم کو تار ارسال کیا گیا کہ تحریک کے رہنماؤں کا ایک وفد آپ سے ملنا چاہتا ہے۔ ان دنوں بھٹو صاحب ملک کے بعض اندرونی حصوں کا دورہ کر رہے تھے۔ کراچی سے وزیراعظم کی خدمت میں دوبارہ تار روانہ کیا گیا کہ مجلس تحفظ ختم نبوت کا وفد امیر مرکزیہ حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری کی قیادت میں آپ سے ملنا چاہتا ہے اور اس وفد میں ۷/ارکان شامل ہوں گے۔ اس تار کے جواب میں بھی دوسری طرف سے خاموشی کا مظاہرہ کیا گیا۔ ظاہر ہے وزیراعظم انتہائی مصروف شخصیت کے مالک تھے۔ انہیں ہر وقت ملک کے بڑے بڑے اہم مسائل درپیش رہتے تھے۔ اس لئے اس بات کو اہمیت نہ دی گئی کہ انہوں نے وفد کو ابھی تک کیوں وقت نہیں دیا۔ لیکن اس کے ساتھ چند دنوں بعد ایسی باتیں بھی آئیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وزیراعظم مرزائیوں اور تحریک ختم نبوت کے متعلق کن لائنوں پر سوچتے تھے۔
- ۱...... ان دنوں بھٹو صاحب سندھ کے دورہ سے واپسی پر لاہور آئے اور لاہور میں کئی روز قیام کیا۔ بے شمار لوگوں سے ملے۔ ان
ملاقاتوں میں سب سے آخری اور سب سے طویل ملاقات راجہ غالب احمد (قادیانی) سے ہوئی۔
۱۹۷۵ء کے حالات و واقعات میں ہم ذکر کر چکے ہیں کہ راجہ غالب احمد، راجہ منور احمد ایم. پی. اے کا بھائی تھا۔ کٹر مرزائی تھا۔ پہلے سرگودھا تعلیمی بورڈ کا سربراہ تھا۔ وہاں خوب مرزائی بھرتی کئے۔ پھر ان مرزائیوں کی معرفت ربوہ اور اس ریجن کے مرزائی لڑکوں کو امتحانات میں ناجائز امداد دے کر اتنے فائدے پہنچائے کہ وہ لڑکے میٹرک کے بعد خود بخود بغیر کسی رکاوٹ کے میڈیکل، نان میڈیکل اور دوسرے پیشہ وارانہ کالجوں میں آسانی سے جا پہنچے۔ بھٹو صاحب اور راجہ غالب احمد کی پونے دو گھنٹے ملاقات ہوئی۔ اس وقت راجہ غالب احمد پنجاب ٹیکسٹ بورڈ کا چیئرمین تھا۔ ملک غلام مصطفیٰ کھر نے اپنی وزارت کے دوران یہ بات محسوس کی تھی کہ راجہ غالب احمد ربوہ سرکار کے حکم سامنے حکومتی احکام کو بالکل درخور اعتنا نہیں سمجھتا۔ اس لئے اسے نوکری سے نکال دیا۔ لیکن رامے صاحب نے آتے ہی نہ صرف اسے بحال کر دیا بلکہ یہ رامے صاحب کی حکومت کی مونچھ کا بال بنا رہا۔ اس کی مدت ملازمت پوری ہو چکی تھی۔ لیکن مرزائی اثر ورسوخ کی بدولت اسے پھر توسیع مل رہی تھی۔
ظاہر ہے ملک کے وزیراعظم سے راجہ غالب احمد جیسے ایک معمولی مرزائی افسر کی ملاقات اور وہ بھی اتنی طویل ملاقات بلا وجہ نہیں تھی۔ راجہ غالب احمد تو مرزائیوں کا ایک ادنیٰ سا چیلا تھا۔ راجہ غالب احمد کی ملاقات سے چند دن پہلے بھٹو صاحب نے قادیانی پیشوا
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
مرزا ناصر احمد سے ۳ گھنٹے تنہائی میں ملاقات کی تھی۔ حالانکہ مرزائیوں نے اپنے لٹریچر میں اپنی تقریروں میں اس امر کا برملا اظہار کر دیا تھا کہ وہ ملک کے دستور کو پرکاہ کے برابر بھی نہیں سمجھتے۔ اسی پر ہی اکتفاء نہیں کیا گیا بلکہ عملاً ایسی شکلیں اختیار کی جارہی تھیں جن سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ بھٹو صاحب کی حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے تھے۔ ان حالات میں ملک کے وزیر اعظم دوست دشمن کی تمیز چھوڑ کر مرزائی لیڈروں سے طویل ملاقاتیں کرتے رہے۔
(ہفت روزہ لولاک لائل پور مورخہ ۲۲ فروری ۱۹۷۶ء)
جلسہ ختم نبوت بہاول پور
۲۵ فروری ۱۹۷۶ء کو مجلس کے زیر اہتمام بہاول پور جامع مسجد الصادق میں ایک جلسہ عام منعقد ہوا۔ جس میں مولانا سید منظور شاہ، مولانا قاضی اللہ یار اور مولانا اللہ وسایا نے خطاب کیا۔ مولانا اللہ وسایا نے اپنے دورہ انڈونیشیاء کی کارگزاری اور افادیت بیان کی۔ مولانا سید منظور شاہ نے اپنے دورہ عرب امارات کی کارروائی بیان کی۔ صدارت کے فرائض حاجی ذکر اللہ امیر مجلس تحفظ ختم نبوت بہاول پور نے سرانجام دیئے۔
قادیانی کا مباہلہ سے فرار
گوجرانوالہ کے نواح میں کالی صوبہ کے نام سے ایک تاریخی گاؤں ہے۔ شاہ اسماعیل شہید نے بالاکوٹ جاتے ہوئے یہاں پڑاؤ کیا تھا۔ ۴ فروری ۱۹۷۶ء کو یہاں ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا۔ ملاحظہ فرمائیں۔ ہوا یوں کہ کالی صوبہ کے ضیاء اللہ نامی ایک مرزائی مربی کی محمد شریف پہلوان کے ساتھ اسلام اور مرزائیت کے بارے میں بحث ہو گئی اور نوبت بایں جا رسید کہ دونوں نے اس شرط پر اتفاق کیا کہ ابلتے ہوئے تیل کے کڑاہوں میں دونوں حضرات چھلانگیں لگائیں گے۔ جو جل گیا وہ جھوٹا اور جو سلامت رہا وہ سچا اور بچ رہنے والا جل جانے والے کی تمام اراضی پر قبضہ کرلے گا۔
اس واقعہ کی اطلاع نزدیکی قصبہ قلعہ صوبہ سنگھ ضلع سیالکوٹ (قلعہ کالروالا) میں پہنچی تو مسلمانان قلعہ کے دلوں میں مسرت و شادمانی کی لہر دوڑ گئی۔ ۸ فروری ۱۹۷۶ء کو بعد از نماز مغرب مجلس تحفظ ختم نبوت قلعہ کالر والا کا ایک اجلاس زیر صدارت جناب مولانا سید احمد علی شاہ صاحب منعقد ہوا۔ جس میں مولانا حافظ خلیل الرحمٰن صاحب خطیب مسجد تحفظ ختم نبوت قلعہ کالر والا اور دوسرے رہنماؤں نے اہالیان کالی صوبہ خاں کو عموماً اور چوہدری محمد شریف پہلوان کو خاص طور پر خراج تحسین پیش کیا اور اس بات کا عہد کیا کہ سارقین نبوت کا ہر محاذ پر ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا اور ان کا محاسبہ اس وقت تک جاری رہے گا۔ جب تک کہ یہ اپنی اصل حیثیت کو تسلیم نہیں کر لیتے۔
چوہدری محمد شریف پہلوان تو اس بات پر اصرار کر رہے تھے کہ کل ہی یہ فیصلہ کر لیا جائے۔ لیکن چوہدری ضیاء اللہ مرزائی نے اس بات پر اصرار کیا کہ فیصلہ ۴ مارچ ۱۹۷۶ء کو ہوگا اور مزید شرائط جو ہیں۔ وہ ۷ فروری ۱۹۷۶ء بروز ہفتہ طے کر لی جائیں۔ یہ تین دن بھی تین مہینے بن گئے۔ عوام و خواص شرائط طے کرنے اور سننے کے لئے مضطرب و بے چین تھے۔ بالآخر ۷ تاریخ بھی آگئی۔ مسجد کے لاؤڈ سپیکر پر اعلان کر دیا گیا کہ تمام لوگ چوہدری حمید اللہ صاحب چیئرمین کی بیٹھک پر پہنچ جائیں۔ لوگوں کا ایک جم غفیر امڈ آیا۔ بات چیت شروع ہوئی۔ چوہدری محمد شریف کو کہا گیا کہ جو بات تم دونوں کے درمیان ہوئی تھی۔ اس پر تفصیل سے روشنی ڈالیں۔ انہوں نے پورے مجمع میں
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
کھڑے ہو کر ساری بات بتا دی۔ چوہدری ضیاء اللہ مرزائی سے تصدیق چاہی گئی تو اس نے پہلوان صاحب کی بات کو حرف بحرف صحیح قرار دیا۔ اس کی حالت دیدنی تھی۔ چہرے پر ہوائیاں اڑی ہوئی تھیں اور وہ فرار کی صورت تلاش کر رہا تھا۔ بالآخر خشک ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے کہنے لگا کہ میرا خیال ہے کہ اسلام ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتا۔ مولوی صاحب سے مسئلہ پوچھ لیں۔ حمید اللہ چیئرمین صاحب کہنے لگے کہ اسلام نے تمہیں اس دن اجازت دے دی تھی؟ اور باقی رہی مولوی صاحب سے مسئلہ پوچھنے کی بات تو پہلے تم نے مولوی صاحب سے دوسرے مسائل پوچھ لئے ہیں؟ بھئی صاحب! بات یہ ہے کہ اب یا تو سیدھی طرح شرائط طے کر لو اور دونوں مقررہ تاریخ کو ابلتے ہوئے تیل میں کود جاؤ یا اپنے وعدے سے منحرف ہو جاؤ۔ چوہدری محمد شریف پہلوان کہنے لگے کہ میں اپنے وعدے پر کاربند ہوں اور ایک دفعہ نہیں ہزار دفعہ اپنے مذہب کی صداقت اور اپنے آقا و مولا تاجدار ختم رسالت کی شان اور عزت کے لئے ابلتے ہوئے تیل میں کودنے کے لئے تیار ہوں۔
ضیاء اللہ قادیانی کے چہرے پر ایک رنگ آتا اور ایک رنگ جاتا۔ اس کی نبضیں چھوٹنے لگیں۔ اپنے قادیانی اکابر کی طرح میدان چھوڑ گیا۔ ہمت ہار بیٹھا اور ہکلاتے ہوئے کہنے لگا کہ میں اپنے وعدے سے منحرف ہوتا ہوں مجھ میں ایسا کرنے کی ہمت نہیں ہے اور وہ شرائط طے ہونے سے پہلے ہی بھاگ گیا۔ شمع رسالت کے پروانوں کا یہ اجتماع جلوس کی شکل اختیار کر گیا اور جامع مسجد میں پہنچا اور جامع مسجد سے ہو کر گاؤں کی تمام اہم گلیوں کا چکر لگاتا ہوا پھر جامع مسجد میں اختتام پذیر ہوا۔ اس عظیم الشان جلوس کی قیادت انجمن تبلیغ الاسلام کے اراکین جناب محمد یونس، محمد ریاض انجم، نائب سیکرٹری عبداللطیف طاہر اور جناب محمود علی کر رہے تھے۔
جلوس کے شرکاء نعرہ تکبیر، اللہ اکبر، اسلام زندہ باد، تاجدار ختم نبوت زندہ باد، رہبر و راہنما مصطفیٰ مصطفیٰ، ختم نبوت زندہ باد، مرزائیت مردہ باد، چوہدری محمد شریف زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔ محمد شریف پہلوان کو لوگوں نے اس دن کے بعد غازی محمد شریف کہنا شروع کر دیا۔
(ہفت روزہ لولاک، مؤرخہ یکم/مارچ ۱۹۷۶ء)
پیشہ نبوت
۸/مارچ ۱۹۷۶ء کو لاہور میں بین الاقوامی سیرت کانفرنس تھی۔ اس میں اندرون و بیرون ممالک کے علماء، فضلاء نے شرکت کی۔ اردنی مندوب مسٹر تیسیر ظبیان نے اپنا مقالہ پڑھنے سے پہلے ایک انکشاف کیا کہ تیس برس قبل غیر مسلم اقلیتی فرقہ احمدیہ کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر الدین محمود سے ان کی ملاقات ہوئی تھی۔ بشیر الدین محمود نے اپنے پاسپورٹ پر پیشہ کے خانہ میں ’’نبوت‘‘ لکھا تھا اور وہ دمشق میں داخل ہونا چاہتا تھا۔ اس وقت شام میں فرانس کی حکومت تھی۔ اس حکومت نے مرزا بشیر الدین محمود کے اس پیشہ کو تسلیم نہ کرنے کی بناء پر دمشق میں رہنے کی اجازت دینے سے انکار کیا۔
(نوائے وقت، مؤرخہ ۹/مارچ ۱۹۷۶ء)
شورش کاشمیری پر مرزائیوں کے بے جا اعتراضات
آغا شورش کاشمیری زبان و قلم کے شہنشاہ تھے اور تحریک میں اپنی زبان و قلم سے مرزائیت کو بہت چرکے لگائے تھے۔ جب تک شورش زندہ تھے۔ کسی مرزائی کو ان کے بارے میں دریدہ دہنی کی جرأت نہیں ہوئی۔ اس لئے کہ آغا صاحب جواب آں غزل کے طور پر ایسا
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
جواب دیتے کہ اگلا پچھلا حساب برابر کر دیتے۔ لیکن ان کی وفات حسرت آیات کے بعد مرزائیوں کو جرأت ہوئی اور مدتوں سے سینوں میں پلا ہوا لاوا بد زبانی اور الزام تراشی کی صورت پھٹ پڑا۔ ماہنامہ الفرقان ربوہ نے آغا شورش کاشمیری کے متعلق یہ جھوٹی خبر چھاپی۔ ’’آغا شورش کاشمیری اپنے مرنے کے بعد ۹۲ لاکھ روپے نقد چھوڑ گئے۔ لوگوں کو حیرت ہے کہ ایک صحافی اتنی بڑی رقم کیسے چھوڑ گیا۔ مستقبل کا مؤرخ جب ان ذرائع سے پردہ اٹھائے گا جن کی بدولت اتنا روپیہ آغا صاحب کے پاس تھا تو لوگوں کی حیرت میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔‘‘ اسی طرح مرزائیوں نے اپنے ایک اور نیم اردو، نیم انگریزی رسالہ ’’کنیڈا گزٹ‘‘ میں شائع کیا کہ: ’’شورش کاشمیری وفات پا گئے۔ وہ جماعت احمدیہ کے بڑے مخالف اور معاند تھے۔ کچھ لوگوں کے نزدیک ان میں خوبیاں بھی تھیں۔ لیکن ان کے باپ کا نام معلوم نہیں تھا۔‘‘
ان دو خبروں پر ہفت روزہ لولاک میں تبصرہ لکھا گیا اور مرزائی اخلاق و کردار کی وہ دھجیاں اڑادیں کہ الامان۔ مولانا تاج محمود کی شاندار اور کاٹ دار تحریر ملاحظہ ہو۔
’’ان دونوں حوالوں کو غور سے پڑھیں اور پھر اس جماعت کی خباثت کا اندازہ لگائیں جو بڑی معصوم اور مظلوم بننے کی کوشش کرتی رہتی ہے۔ اس سے پہلے بھی مرزائیوں نے اپنے بعض اخبارات میں آغا صاحب مرحوم پر گندگی اچھالی تھی اور ہم نے انہیں تنبیہ کی تھی کہ وہ مرحوم آغا صاحب کے متعلق یہ ہرزہ سرائی بند کریں۔ ورنہ انہیں یہ سودا مہنگا پڑے گا۔ لیکن مرزائی بد باطنی اور خباثت سے باز نہیں آئے اور انہوں نے مرحوم کے متعلق پھر یہ گندی اور کمینہ زبان استعمال کر کے ہمارے دلوں کو دکھایا ہے۔ آغا صاحب زندہ تھے تو مرزائیوں کو ان کے خلاف لب کشائی کی جرأت نہ تھی۔ بلکہ یہ چیزیں آن دی ریکارڈ ہیں کہ بعض دفعہ الفضل نے آغا صاحب کے خلاف کوئی ہرزہ سرائی کر دی تو اس کے جواب میں آغا صاحب نے مرزائیوں کو للکارا اور ان کے بخیے ادھیڑنے شروع کئے تو خود مرزا بشیر الدین محمود نے روزنامہ الفضل کے صفحہ اوّل پر آغا صاحب سے معافی مانگ لی۔ مرزائیوں کو یہ بات زیب نہیں دیتی اور نہ ہی یہ کوئی شیوۂ مردانگی ہے کہ مرحوم آغا صاحب کی زندگی میں تو ربوہ ان کے سامنے بھیگی بلی بنا رہا اور اب ان کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد ہرزہ سرائی شروع کر دی۔ مرزائی اخلاق، اخلاق کا بڑا ڈھنڈورا پیٹتے رہتے ہیں۔ ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہی تمہارے اخلاق ہیں کہ تم بے حیائی اور بے شرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ الزام تراشی، دشنام طرازی اور ہرزہ سرائی کرتے ہو کہ آغا صاحب کے باپ کا نام معلوم نہیں تھا۔ مرزائیوں اور کمیونسٹوں کی ملی بھگت ہے۔ آغا شورش مرحوم کا قلم ان دونوں کے لئے مصروف جہاد رہا۔ اب یہ دونوں گروہ انتقامی کارروائیوں میں اور ان کے متعلق جھوٹ بولنے اور تہمت تراشی کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
۹۲ لاکھ روپیہ نقد چھوڑ کر مرنے کا جھوٹ سب سے پہلے ہندوستان کے کمیونسٹ رسالہ ’’بلٹز‘‘ نے شائع کیا۔ بلٹز سے یہ جھوٹ اس کے ہمراز کمیونسٹ رسالہ ’’الفتح‘‘ نے نقل کیا اور الفتح سے اس جھوٹ کو مذکورہ دونوں رسالوں کے حلیف رسالہ ’’الفرقان‘‘ ربوہ نے نقل کیا۔ اس جھوٹ کی حقیقت یہ ہے کہ یہ جھوٹی خبر آغا شورش کے پرانے مخالف خان کابلی دہلوی نے پنجاب یونیورسٹی کے تاریخ کے پروفیسر محمد اسلم کے ایک خط کے حوالے سے ہندوستانی اخبارات میں شائع کرائی۔ جب پروفیسر اسلم صاحب سے اس خط کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے معذرت نامہ تحریر کر کے ایڈیٹر الفتح کراچی کو بھیج دیا اور جس کی ایک نقل جناب مجید نظامی ایڈیٹر روزنامہ نوائے وقت کے پاس بھی موجود
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
ہے۔ یہ معذرت نامہ الفتح کراچی میں چھپ گیا ہے۔ پروفیسر صاحب نے اپنی تحریر میں لکھا ہے کہ غازی کابلی نے مجھے خط لکھا تھا کہ شورش صاحب وفات پاگئے ہیں۔ ان کے پیچھے ان کے بچوں کا کیا گزارہ ہے تو میں نے انہیں خط لکھ دیا کہ مجھے ذاتی طور پر ان کے متعلق معلوم نہیں ہے۔ لیکن چائنیز ہوٹل میں جاتا ہوں۔ وہاں بیٹھنے والے بتاتے ہیں کہ آغا صاحب نے مکان اور پریس کی صورت میں جو جائیداد چھوڑی ہے۔ وہ کوئی ۱۲؍لاکھ روپیہ کی ہوگی۔ لیکن غازی کابلی نے میری تحریر میں رد و بدل کر کے ۱۲ کا ۱۲۹اور جائیداد کا نقد بنادیا۔
اس کے بعد بھی کمیونسٹ کے ایڈیٹر نے خدا کا خوف نہیں کیا۔ بلکہ کسی فاروقی صاحب ایڈیٹر سیرت نے یہ بکواس شائع کردی کہ آغا صاحب کی جائیداد ۱۲ لاکھ کی نہیں۔ بلکہ میں اس جائیداد کا ۲۵ لاکھ روپیہ دینے کو تیار ہوں۔ حاصل یہ کہ مرزائی اور کمیونسٹ دونوں مل کر آغا صاحب مرحوم کی کردار کشی میں لگے ہوئے ہیں۔ لیکن اس طرح جھوٹ بولنے اور شوشے چھوڑنے سے آغا شورش کی نیک نامی کو ضائع نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے آزادیٔ ملک، استحکام پاکستان، سر بلندیٔ اسلام اور تحفظ عقیدہ ختم نبوت کے لئے جو شاندار خدمات سرانجام دی ہیں ان پر یہ بد باطن لوگ پردہ نہیں ڈال سکتے۔
آخر میں مرزائیوں کو ہم ایک دفعہ پھر کہیں گے کہ وہ آغا شورش کاشمیری پر الزام تراشی اور اس طرح سے انگارے پھینکنے بند کر دیں۔ ان کی مرحوم پر الزام تراشی سے لاکھوں دل زخمی ہوتے ہیں۔ وہ اس دل آزاری سے باز آجائیں۔ اگر انہوں نے اپنے رویہ پر نظر ثانی نہ کی اور مرحوم کے متعلق ہرزہ سرائی کو جاری رکھا تو ہم ان کے آنجہانی گرو، چیف پادری مرزا بشیر الدین محمود کا کچا چٹھا کھول دیں گے۔ مرزائی تو آغا صاحب کے متعلق جھوٹ بکتے ہیں۔ ہم مرزا محمود آنجہانی کے متعلق ان کی زندگی کے سچے واقعات کے لئے ایک احمدی مصنف کی کتاب ”تاریخ محمودیت“ لولاک میں قسط وار چھاپنا شروع کردیں گے۔ جس میں مرزا محمود آنجہانی کی زنا کاریوں، لونڈے بازیوں، شراب نوشیوں اور عیاشیوں، بدمعاشیوں کی وہ تمام تفصیلات دلائل اور شواہد کے ساتھ درج ہیں جو آنجہانی اپنے باوا کی گدی پر بیٹھ کر جھوٹی نبوت کا کاروبار چلاتے ہوئے سرانجام دیتے رہے۔ پھر تمہیں شکایت ہوگی۔ ہم ایسے انکشافات کریں گے جن سے تمہاری رسوائی ہوگی اور تمہارے آنجہانی گرو کی گلی سڑی ہڈیوں سے باقی ماندہ ہڈیاں بھی چیخ جائیں گی۔ پھر تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ آغا شورش کاشمیری کے والد کا نام کیا تھا۔‘‘
(ہفت روزہ لولاک، مؤرخہ ۱۹؍ مارچ ۱۹۷۶ء)
قادیانی اسرائیل میں
ایک یہودی پروفیسر کی کتاب ”اسرائیل اے پروفائل“ نے یہ لرزہ خیز انکشاف کیا کہ اسرائیل کی فوج میں مرزائی موجود ہیں اور ۱۹۷۲ء میں ان کی تعداد چھ سو تھی۔ یہ انکشاف ہر دردمند پاکستانی اور مسلمان کے لئے لمحہ فکریہ تھا کہ مرزائیوں کا مشن اسرائیل میں موجود ہے۔ اسی بات کا اعتراف مرزائیوں کی کتاب ”آور فارن مشن“ جو مرزا ناصر کے حقیقی بھائی مرزا مبارک جو تمام مشنریوں کا انچارج ہے، کی نگرانی میں تیار کی گئی، میں بھی کیا گیا ہے کہ : ”احمدیہ مشن اسرائیل میں حیفہ (ماؤنٹ کرمل) کے مقام پر واقع ہے اور وہاں ہماری ایک عبادت گاہ، ایک مشن ہاؤس، ایک لائبریری، ایک بک ڈپو اور ایک سکول موجود ہے۔ ”البشریٰ“ کے نام سے ایک ماہانہ عربی رسالہ جاری ہے جو تیس مختلف ملکوں میں بھیجا جاتا ہے۔ مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بہت سی تحریریں اس مشن نے عربی میں ترجمہ کی ہیں۔ فلسطین کے تقسیم ہونے سے یہ مشن
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء
ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
کافی متاثر ہوا۔ چند مسلمان جو اس وقت اسرائیل میں موجود ہیں۔ ہمارا مشن ان کی خدمت کر رہا ہے اور مشن کی موجودگی سے ان کے حوصلے بلند ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ہمارے مشنری کے لوگ حیفہ کے میئر سے ملے اور ان سے گفت و شنید کی ۔ میئر نے وعدہ کیا کہ احمدیہ جماعت کے لئے کبابیر میں حیفہ کے قریب وہ ایک سکول بنانے کی اجازت دے دیں گے ۔ یہ علاقہ ہماری جماعت کا مرکز اور گڑھ ہے۔
کچھ عرصہ بعد میئر صاحب ہماری مشنری دیکھنے کے لئے تشریف لائے۔ حیفہ کے چار معززین بھی ان کے ہمراہ تھے۔ ان کا پروقار استقبال کیا گیا ۔ جس میں جماعت کے سرکردہ ممبر اور سکول کے طالبعلم موجود تھے ۔ ان کی آمد کے اعزاز میں ایک جلسہ بھی منعقد ہوا۔ جس میں انہیں سپاسنامہ پیش کیا گیا۔ واپسی سے پہلے میئر صاحب نے اپنے تاثرات مہمانوں کے رجسٹر میں بھی تحریر کئے ۔ ہماری جماعت کے مؤثر ہونے کا ثبوت ایک چھوٹے سے واقعہ سے بھی ہو سکتا ہے۔ ۱۹۵۶ء میں جب ہمارے مبلغ چوہدری محمد شاکر ربوہ پاکستان آ رہے تھے اس وقت اسرائیل کے صدر نے ہماری مشنری کو ایک پیغام بھیجا کہ چوہدری صاحب روانگی سے پہلے (اسرائیلی) صدر صاحب سے ملیں ۔ موقع سے فائدہ اٹھا کر چوہدری صاحب نے ایک قرآن حکیم کا نسخہ جو جرمن زبان میں تھا۔ صدر محترم کو پیش کیا۔ جس کو صدر صاحب نے خلوص دل سے قبول کیا ۔
چوہدری صاحب کا صدر سے انٹرویو، ریڈیو اسرائیل سے نشر کیا گیا اور ان کی ملاقات اخبارات میں جلی سرخیوں سے شائع کی گئی۔‘‘
(آور فارن مشن مرزا مبارک احمد ص ۷۹ )
مرزائیوں کی کتاب ’’ آور فارن مشن ‘‘ کی اس عبارت سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مرزائی فلسطین میں اسرائیل کے قیام سے قبل گئے ہوئے اور وہاں یہودیوں کے لئے سنہری خدمات سرانجام دیتے رہے ۔ یہی وجہ ہوئی کہ اسرائیل بن جانے کے بعد کسی دوسرے مذہب، ہندو، عیسائی، بدھ وغیرہ کو وہاں مشن قائم کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ لیکن مرزائیوں کو وہاں مشن قائم کرنے کی اجازت دے دی گئی ۔ وہاں سکول قائم ہو گئے ۔ عربی زبان میں اخبار نکلنا شروع ہو گیا ۔ وہاں کے حکام سے راز و نیاز رہا۔ جب کہ مرزائیوں کے اس مشن کا مرکز ربوہ پاکستان میں تھا اور پاکستان نے اسرائیل کے وجود کو نہ اس وقت تسلیم کیا تھا اور نہ ہی آج تک تسلیم کیا ہے۔ پھر آخر اس کی کیا وجہ تھی کہ عیسائیوں کے مشن تو اسرائیل سے نکال دیئے گئے اور مرزائیوں کے مشن کو یہودیوں نے سینے سے لگائے رکھا ۔ انہیں مراعات دیں اور ان کے چرچے ریڈیو اسرائیل سے بلند ہوتے رہے۔ اس کی وجہ اس کے علاوہ اور کیا ہو سکتی ہے کہ مرزائیوں نے عربوں کے خلاف غداری کی ۔ یہودیوں کے لئے خفیہ خدمات سرانجام دے کر اسرائیل کے قیام میں امداد دی اور جب اسرائیل بن گیا تو یہودیوں نے انہیں سابقہ خدمات اور آئندہ کی ضروریات کے لئے وہاں قائم رکھا ۔ ہمارا ایمان ہے کہ یہ اب تک مسلمانوں اور عربوں کے خلاف یہودیوں، برطانیہ اور امریکہ کے لئے جاسوسی و غداری کے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔
’’ آور فارن مشن ‘‘ کے حوالے سے مجلس عمل کے قائدین نے اس وقت حکومت کو یہ اطلاع دی کہ مرزائیوں کا مشن اسرائیل میں موجود ہے ۔ جب کہ حکومت پاکستان کا تعلق اسرائیل سے نہیں، نہ پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم کیا ۔ نہ وہاں ہمارا سفارتخانہ ہے۔ لیکن حکومت کی طرف سے اس پر کچھ پیش رفت دیکھنے میں نہیں آ رہی تھی ۔ بلکہ حکومت تردید کرتی رہی کہ مرزائی اسرائیل میں ہرگز موجود نہیں ۔ ایوب
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبد اللہ معتصم
خان کے دور حکومت میں جب ذوالفقار علی بھٹو صاحب وزیر خارجہ تھے، یہ سوال اسمبلی میں اٹھایا گیا کہ قادیانی مشن اسرائیل میں موجود ہے اور اس جماعت کے روابط و مراسم اسرائیلی حکومت سے قائم ہیں تو جناب بھٹو صاحب نے کہا کہ میرے علم میں نہیں ہے کہ قادیانیوں کا کوئی مشن وہاں قائم ہے۔ اگر اس کا ثبوت مہیا کر دیں تو مجھے خوشی ہو گی۔ چنانچہ اسی وقت مجلس کے قائدین نے ”آور فارن مشنز“ کے متعدد نسخے لئے اور صدر ایوب خان، قومی اسمبلی سپیکر اور وزیر خارجہ بھٹو صاحب کو روانہ کئے جس میں مذکورہ تمام تفصیلات اور اس کے علاوہ چند اور شواہد موجود تھے جو اسرائیل میں مرزائیوں کی موجودگی کو ثابت کرتے تھے۔ لیکن یہ بات آئی گئی ہو گئی اور اس کا کوئی نوٹس نہ لیا گیا۔ اس کی صدائے بازگشت وقتاً فوقتاً گونجتی رہی۔ لیکن صدا بصحرا بنتی رہی۔ جب مولانا ظفر احمد انصاری ایم۔این۔اے نے یہودی پروفیسر کی کتاب ”اسرائیل اے پروفائل“ سے یہ چونکا دینے والا انکشاف کیا کہ ۱۹۷۲ء تک چھ سو قادیانی اسرائیلی فوج میں بھرتی ہو چکے تھے۔ تو یہ آواز اسمبلی میں گونجی اور پھر پورے ملک میں پھیل گئی کہ قادیانیوں کو خلاف قانون قرار دے کر ان پر پابندی لگائی جائے۔ ان کے سرکردہ لوگوں کو گرفتار کر کے ان پر ملک دشمنی کے مقدمات چلائے جائیں اور جو پاکستانی قادیانی اسرائیل میں ہیں ان کی پاکستانی شہریت ختم کی جائے۔ تقریر و تحریر کے ذریعے یہ مطالبات دہرائے جانے لگے تو یکم مئی ۱۹۷۵ء کے تمام اخبارات میں مذہبی امور اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے معاملات کے وزیر مولانا کوثر نیازی نے ایک بیان دیا جس میں انہوں نے بڑے زوردار اور واضح الفاظ میں کہا کہ: ”ایک بھی پاکستانی خواہ مرزائی ہو یا کوئی اور، اسرائیل میں موجود نہیں۔ کیونکہ پاکستانی پاسپورٹ پر اسرائیل جا ہی نہیں سکتا اور پاکستان اپنے باشندوں کو ایسے ملک میں جانے کی اجازت کیونکر دے سکتا ہے جس کی عربوں کے ساتھ دشمنی ہے اور جسے پاکستان نے تسلیم ہی نہیں کیا۔ حکومت نے ہر ذریعہ سے اس خبر کی چھان بین کی ہے۔ ابھی تک حکومت کو کسی ایسے پاکستانی کے بارے میں معلوم نہیں ہوا ہے جو اسرائیل گیا ہو۔ نیازی صاحب نے اپنے بیان میں اعتراف بھی کر لیا کہ اگر چہ متعدد احمدی اسرائیل میں کام کر رہے ہیں۔ تاہم وہ پاکستانی نہیں ہیں۔“
(روزنامہ وفاق لاہور، مورخہ یکم مئی ۱۹۷۵ء)
مولانا نیازی کی یہ بات کہ اسرائیل جانے کے لئے پاکستانی پاسپورٹ کار آمد نہیں۔ سو فیصد درست تھی۔ لیکن اگر کوئی پاکستانی کسی ایسے ملک میں چلا جائے جس ملک کے اسرائیل سے بہتر تعلقات ہوں اور وہاں سے اس ملک کا پاسپورٹ حاصل کرلے تو وہ ویزہ لے کر اسرائیل جا سکتا ہے اور جو پاکستانی بھی اسرائیل جاتا تھا وہ کینیڈا یا جرمنی یا اور کسی ملک سے ہو کر اسرائیل جاتا تھا۔ چنانچہ دسمبر ۱۹۷۵ء میں مرزائیوں کے سالانہ جلسہ کے موقع پر ملک بھر سے آئے ہوئے مرزائی طلباء کا ایک اجتماع منعقد ہوا۔ اس اجتماع سے قبل مرزائی طلباء کی ایسوسی ایشن کی طرف سے ایک پمفلٹ شائع کیا گیا تھا جس میں مرزائی طلبہ کو مرزائیت کے لئے قربانیاں دینے اور اپنا فرض ادا کرنے کی ترغیب دی گئی تھی۔ خاص طلبہ کو جلسہ کے بعد روک لیا گیا اور ان میں ۱۰۰ کے لگ بھگ ایسے طلبہ کا انتخاب کیا گیا جو مرزائیت کے لئے ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے زندگیاں وقف کر دیں۔ ان ۱۰۰ طلباء کے متعلق یہ بتایا گیا کہ انہیں یہاں سے کینیڈا بھیجا جا رہا ہے اور کینیڈا سے اسرائیل بھیج دیا جائے گا۔“
(لولاک، مورخہ ۱۰، ۲۵؍جنوری، ۷؍مئی ۱۹۷۶ء، چٹان جون ۱۹۷۶ء)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
قادیانی اسرائیلی فوج میں ...... اداریہ ”نوائے وقت“
مولانا ظفر انصاری کے اس انکشاف پر اور اسرائیل میں قادیانی مشن موجود ہونے پر نوائے وقت نے ایک اداریہ تحریر کیا۔ منتخب حصہ ملاحظہ فرمائیں:
”مولانا ظفر احمد انصاری ایم۔این۔اے نے ایک پریس کانفرنس میں ایک کتاب کے حوالے سے جو لندن میں ۱۹۷۶ء میں شائع ہوئی، یہ بتایا کہ اسرائیل میں قادیانی مشن نہ صرف یہ کہ عربوں کے جذبۂ جہاد کو ٹھنڈا کر رہا ہے۔ بلکہ اسرائیلی فوج میں ایک یونٹ چھ سو قادیانی جوانوں کا بھی ہے۔ مولانا ظفر احمد صاحب نے بانی سلسلہ کا یہ مصرعہ تو سنا ہوگا ؎
اس لئے اگر اسرائیلی فوج میں قادیانی سپاہی دین کے لئے جہاد کرنے والوں سے لڑنے مرنے پر آمادہ ہوں، تو اس میں تعجب کیا؟
مولانا ظفر احمد صاحب کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ اسرائیل میں قادیانی مشن کا خیال انگریز کو اس وقت آیا جب ایک طرف تو سقوط بغداد کے موقع پر پہلی جنگ عظیم کے دوران ترکوں کی شکست پر قادیان میں جشن منایا اور چراغاں کیا گیا۔ چونکہ انہی دنوں اعلان بالفور بھی ہوا تھا۔ جس میں یہودیوں کے لئے ایک ملک و مملکت کی نوید تھی اور ترکوں سے عربوں کو علیحدہ کرتے وقت انگریز نے عربوں سے بھی وعدہ کیا تھا کہ جنگ کے بعد عظیم عربی مملکت قائم کی جائے گی۔ اس لئے عربوں سے وعدہ خلافی تو لائیڈ جارج نے یہ کہہ کر کی کہ معاہدے وہی قابل عمل ہوتے ہیں جو نوک قلم کی جگہ نوک شمشیر سے ہوں۔ لیکن اسے دھڑکا تھا کہ سارا عالم عرب خلاف ہو جائے گا۔ اس لئے اسے کسی ایسے سہارے کی ضرورت تھی جو عربوں کو جہاد سے روکنے میں معاون ہو سکے۔ قادیانی سلسلے میں چونکہ جہاد حرام ہے۔ اس لئے اسے یہ سہارا قادیانی مشن ہی دے سکتا تھا۔ چنانچہ حیفہ کے نواح میں جبل کرمل کے ایک موضع کبابیر میں یہ مشن کوئی نصف صدی پہلے قائم ہوا تھا اور اس کی کارگزاری کے صلے میں اگر اسرائیلی فوج میں قادیانیوں کو بھرتی ہونے کی ”عزت“ حاصل ہوئی ہے تو یہ عوض معاوضہ گلہ ندارد والی بات ہے۔
(روزنامہ نوائے وقت لاہور ،مؤرخہ ۲۸؍ مارچ ۱۹۷۶ء)
فلسطین کے ایک سفرنامے سے ایک انتخاب جو روزنامہ نوائے وقت میں ملا۔ نذرِ قارئین ہے۔ جس میں اس بات کا ثبوت دیا گیا ہے کہ قادیانی مشنری ۱۹۲۰ء سے اسرائیل میں موجود اور فعال تھی۔
”فلسطین کے فوجی افسروں نے مقامات مقدسہ کی زیارت کی اجازت اس شرط پر دی تھی کہ کسی مقامی آدمی سے بات نہ کی جائے۔ ہمارے سروں پر جو فوجی افسر مسلط تھا وہ ہمارے نفل پڑھنے کے دوران باہر چلا گیا اور جب تک وہ آئے ہم فلسطینی مفتی اعظم سے بات کر کے کونسل گیٹ سے باہر نکل گئے۔ مفتی اعظم امین الحسینی صاحب نے نہ صرف فلسطینیوں پر انگریزوں کے مظالم کی داستان بیان کی ۔ بلکہ یہ شکوہ بھی کیا کہ کچھ ہندوستانی خود کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں، پورے فلسطین میں تنسیخ جہاد کے فتوے لئے پھرتے ہیں اور اس کی وجہ سے ہمیں بہت مشکل پیش آرہی ہے۔
اس وقت مفتی اعظم کی بات سمجھ میں نہ آئی۔ لیکن جب ہم حیفہ میں تھے تو وہاں ایک لاہوری باشندے سے ملاقات ہوئی جو حیفہ
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء
ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
کے مضافات میں موضع کبابیر میں درزی کی دکان کرتے تھے اور قادیانی سلسلے سے وابستہ تھے۔ انہوں نے بتایا کہ کبابیر کے مقامی باشندے سب کے سب قادیانی سلسلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ کیونکہ وہ آئے دن کے مصائب سے تنگ تھے اور ترک جہاد میں ہی عافیت سمجھتے تھے۔ ہمارا مشن یہاں کافی عرصے سے قائم ہے اور کبابیر سے باہر بھی عربی زبان میں ہماری تبلیغ جاری ہے۔ یہ بات ۱۹۲۰ء کی ہے۔ یعنی قیام پاکستان سے سات برس پہلے کی جب قیام پاکستان کے دو سال بعد اسرائیلی مملکت وجود میں آئی تو اس نے اس مشن کو اور بھی سہارا دیا اور اب تو وہ اسرائیل کے اس قدر معتمد مشنوں میں سے ہے کہ قادیانیوں کو فوج میں بھی جگہ دینے میں اسرائیل کو کوئی تأمل نہیں رہا۔ ”من تو شدم تو من شدی“ والا معاملہ ہے۔ یہ عشق و محبت کے معاملات ہیں اور عشق کے بارے میں ؎
(ڈائری شائع شدہ روزنامہ نوائے وقت مورخہ ۲۸؍ مارچ ۱۹۷۶ء)
قادیانیوں کی ممبر قومی اسمبلی بشیر طاہر قادیانی سے اظہار لاتعلقی
اپریل ۱۹۷۶ء میں حکومت نے آئینی ترمیم میں موجود اقلیتوں کو دستور کے مطابق قومی اسمبلی میں اپنی نمائندگی کا حق دیا۔ اقلیتی نمائندوں کے لئے قومی اسمبلی میں ۶ نشستیں مختص کر دی گئی تھیں۔ ان ۶ اقلیتی نمائندوں میں سے ۴ کا عیسائیوں سے ایک کا ہندوؤں اور ایک کا مرزائیوں سے تعلق تھا۔ ہر ایک فرقہ کو اپنی مردم شماری کے مطابق نمائندگی کرنے کے لئے نشستیں دی تھیں۔ عیسائیوں اور ہندوؤں نے اپنے اپنے اقلیتی نمائندوں کے انتخاب پر کسی قسم کی جرح و تنقید نہیں کی۔ بلکہ ان کو فی الواقع اپنا نمائندہ تسلیم کر لیا۔ لیکن مرزائیوں نے اپنے نمائندہ بشیر طاہر کے انتخاب کے بعد مسٹر بشیر طاہر سے اور اس کی نمائندگی حاصل کرنے کے اس عمل سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا اور اس کو اپنا نمائندہ تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ اس پر ارتداد کا فتویٰ لگا دیا اور دستور پاکستان سے انحراف اور بغاوت کا اعلان کر دیا۔ قادیانی جماعت کے ناقوس خصوصی ”الفضل“ نے یہ اعلان شائع کیا۔ ”احباب جماعت کی اطلاع کے لئے لکھا جاتا ہے کہ بشیر طاہر ولد فضل دین ساکن منڈی چوہڑکانہ ضلع شیخوپورہ کا جس نے ”اسلام سے ارتداد“ کا اعلان کیا ہے، کا جماعت احمدیہ سے کوئی تعلق نہیں۔ اس لئے کہ بشیر طاہر نے احمدی ہو کر خود کو غیر مسلم اقلیت میں سے تسلیم کیا ہے۔ حالانکہ احمدی حقیقی مسلمان ہیں۔ ہم خود کو غیر مسلم نہیں سمجھتے اور مسلمان کہلانے پر اصرار کرتے ہیں۔“
(ملخص نوائے وقت مورخہ یکم مئی ۱۹۷۶ء)
فی الواقع مسٹر طاہر بشیر کو قادیانیوں نے اپنا نمائندہ منتخب کیا تھا۔ جو اقلیتی نشست پر بلامقابلہ منتخب ہوا تھا۔ لیکن پتہ نہیں پھر مرزائی پوپ کو کیا سوجھی کہ اس نے اس کو مرتد قرار دے کر لاتعلقی کا اظہار کر دیا۔ مرزائیوں نے پہلے تو دنیا بھر کے مسلمانوں کے عقائد سے بنیادی اور اصولی انحراف اختیار کر کے اور ارتداد کے مرتکب ہو کر اسلام اور مسلمانوں سے بغاوت کا اعلان کیا تھا۔ اب قومی اسمبلی کے فیصلہ اور آئین پاکستان کے تقاضا کو بھی ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔ لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں تھا۔
طاہر بشیر سے اعلان لاتعلقی پر قومی اسمبلی کے لئے ایک ممبر جناب برکت اللہ صاحب نے قومی اسمبلی میں تحریک التواء پیش کی اور کہا کہ مرزائیوں نے بشیر طاہر کو مرتد اور جماعت سے خارج قرار دے کر آئین سے غداری اور بغاوت کا ارتکاب کیا ہے۔ وفاقی وزیر قانون
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
ملک محمد اختر خان نے قادیانیوں کی اس غداری کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا اعلان کیا۔ لیکن سابقہ حکومتی فیصلوں کی طرح حکومت کا یہ فیصلہ بھی محض زبانی جمع خرچ تھا۔ حکومت کے جو سیاسی مخالفین تھے ان پر تو بغاوت اور ملکی قوانین سے برگشتگی کا الزام لگا کر ان کو گرفتار کیا اور ان پر مختلف مقدمات بنائے۔ لیکن جو مذہب اور ملک کے کھلم کھلا باغی تھے وہ کھلے بندوں پھر رہے تھے اور ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں تھا۔ بس حکومت اتنے اعلان پر قناعت کر لیتی تھی کہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ایک نئی فتنہ سامانی
آئین کا مذاق اڑانا صرف خواص مرزائیوں تک محدود نہ تھا۔ بلکہ اپنے چیلوں کو بھی برابر آئین سے بغاوت دے رہے تھے۔ مرزائیوں کے ہیڈکوارٹر ربوہ نے اپنے ماتحت تمام جماعتوں کو یہ خفیہ ہدایات بھیجی تھیں کہ وہ اپنی عبادت گاہوں پر لاؤڈ سپیکر لگا لیں۔ اس پر اذان دیں۔ اسی پر جمعہ کے دن اور دوسرے اجتماعات سے خطاب کریں۔ درس دیں اور مرزائی عقائد کھول کر بیان کریں۔ اگر کسی جگہ مسلمان مزاحمت کریں تو مزاحمت کا جواب مزاحمت سے دیں۔ اپنے ایسے نوجوان جو غنڈہ گردی میں معروف ہوں انہیں ایسے مقابلہ کی صورت میں آگے کر دیا جائے اور جارحانہ انداز سے مسلمانوں کی مخالفت کا جواب دیا جائے۔
مرزائیوں کی عبادت گاہیں بڑے بڑے شہروں میں موجود تھیں۔ بعض قصبات اور دیہات میں بھی انہوں نے برادری کی بنیاد پر ایسے اڈے بنائے ہوئے تھے۔ اس سے قبل مرزائی بڑی خاموشی سے اپنے معابد میں اپنی عبادت اور دوسری جماعتی سرگرمیوں کو سرانجام دیتے تھے۔ لیکن اب ہر جگہ پر پرزے نکال رہے تھے۔ بعض دیہات میں ان کی عبادت گاہیں نہ تھیں۔ وہاں عبادت گاہیں تعمیر کرنے لگ گئے۔ دیہات میں جہاں ان کی آبادی آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں تھی، انہوں نے لاؤڈ سپیکر لگا کر مسلمانوں کی دل آزاری شروع کر رکھی تھی۔ دھڑا دھڑ لاؤڈ سپیکر لگ رہے تھے اور بے شمار دیہات اور قصبات سے اس سلسلہ میں پیدا ہونے والی کشمکش کی اطلاعات موصول ہو رہی تھیں۔ مرزائیوں کا رویہ دن بدن صبر آزما ہوتا چلا جا رہا تھا۔
(لولاک مورخہ ۱۱؍ نومبر ۱۹۷۶ء)
مرزائی جب غیر مسلم قرار دے دیئے گئے تو اب مسلمانوں کی آبادیوں میں ان کا اپنی عبادت گاہ کو مسجد کہنا۔ اس پر مسلمانوں کی مساجد کی طرح مینار تعمیر کرنا، وہاں مسلمانوں کی طرح لاؤڈ سپیکر پر اذان دینا اور جمعہ کا خطبہ پڑھنا مرزا غلام احمد قادیانی کو ’’علیہ الصلوٰۃ والسلام‘‘ اور مرزا کے ساتھ مرتد ہونے والوں کو ’’رضی اللہ عنہ‘‘ اپنے آپ کو حقیقی مسلمان اور دوسرے مسلمانوں کو سرکاری مسلمان کہنا۔ محض شرارت اشتعال انگیزی اور فتنہ و فساد کی ابتداء تھی۔
سرگودھا میں مرزائیوں کی عبادت گاہ کا مسئلہ
اسی نوعیت کا ایک مسئلہ سرگودھا میں پیش آیا۔ چند مرزائیوں نے ’’مسجد‘‘ کے نام پر اپنی عبادت گاہ بنانا چاہی۔ اس سلسلہ میں کام بھی شروع ہو گیا۔ دینی غیرت و حمیت رکھنے والے بعض مسلمانوں نے عدالت سے رجوع کیا اور یہ موقف اختیار کیا کہ وہ شروع ہی سے مرزائیوں کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں اور اب تو پاکستان کے آئین میں بھی مرزائیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا ہے۔ لہٰذا ان غیر مسلموں کو مسجد بنانے کا کوئی حق نہیں اور انہیں ایسا کرنے سے روکا جائے۔ عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد استغاثہ کی باقاعدہ سماعت
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
منظور کر لی اور جماعت احمدیہ کے سربراہ مرزا ناصر احمد سمیت بعض دوسرے قادیانیوں کو طلب کر لیا۔ اندریں اثناء عدالت نے حکم امتناعی بھی جاری کر دیا۔ یہ حضرات اپنے وکلاء کے توسط سے حاضر عدالت ہوئے۔ مرزا ناصر نے اپنے جواب دعویٰ میں لکھا ہے کہ ان کے خلاف کوئی بنائے دعویٰ ہی موجود نہیں۔ جب کہ دوسرے قادیانیوں نے اپنے الگ جواب دعویٰ میں یہ موقف اختیار کیا کہ مسجد کی تعمیر کے خلاف حکم امتناعی حاصل کرنے والوں کو ہم مسلمان ہی نہیں سمجھتے ہیں۔ ہم (مرزائی) خود پکے مسلمان ہیں اور ہمیں مسجد کی تعمیر کا حق حاصل ہے۔
روزنامہ نوائے وقت نے مرزائیوں کا سرگودھا عدالت میں دیا ہوا یہ بیان ان الفاظ میں چھاپا: ”ہم خود کو مسلمان سمجھتے ہیں۔ کوئی شخص ہم سے یہ نہیں کہلوا سکتا کہ ہم مسلمان نہیں ہیں۔ لوگ ہمیں جو چاہے کہتے رہیں اور ہمیں جو کچھ بھی قرار دیا جائے۔ لیکن ہم اپنے آپ کو اسلام کے سچے فدائی سمجھتے ہیں۔ دنیا کی کوئی طاقت ہم سے یہ نہیں کہلوا سکتی کہ ہم مسلمان نہیں، یا مرتد ہو گئے۔“
(نوائے وقت مورخہ یکم اپریل ۱۹۷۶ء)
مجلس تحفظ ختم نبوت کے کارکنان نے پورے جوش و خروش اور پابندی سے اس کیس کی پیروی کی۔ کافی تگ و دو کے بعد سینئر سول جج سرگودھا نے مرزائیوں کی عبادت گاہ کے لئے حکم امتناعی جاری کر دیئے اور مرزائی عبادت گاہ کو مسجد کا نام دینے، مسجد کی طرز پر تعمیر کرنے اور مسلمانوں کی طرح اس میں اذان دینے کو منع کیا۔
(لولاک مورخہ ۲۲؍نومبر ۱۹۷۶ء)
ربوہ (چناب نگر) کے بارے میں مسلمانوں کا مطالبہ
قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے کے بعد ایک بڑا معمہ ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے کا تھا۔ علماء کرام، طلباء، عوام کی طرف سے بالعموم اور مجلس عمل کے کارکنان کی طرف سے بالخصوص یہ مطالبہ کیا جانے لگا کہ ربوہ کو کھلا شہر قرار دے دیا جائے اور ریاست اندر ریاست کو ختم کیا جائے۔ حکومت کی طرف سے مطالبہ تسلیم کرنے کا وعدہ بھی کیا گیا۔ لیکن دو سال گزرنے کے بعد بھی اس پر خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔ ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے کا مطلب یہ تھا کہ اس وقت ربوہ صرف ایک عقیدہ کے لوگوں کا شہر تھا۔ شہر میں جو خالی پلاٹ پڑے ہوئے تھے ان پر حکومت قبضہ کرتی اور مسلمانوں کو الاٹ کرتی۔ تاکہ ربوہ بھی دوسرے شہروں کی طرح مخلوط شہر بن جاتا۔ لیکن حکومت نے ستم ظریفی یہ کی کہ ربوہ کی آبادی کے اندر خالی پلاٹوں پر قبضہ کرنے کی بجائے ربوہ ٹاؤن کمیٹی کی حدود وسیع کر دی اور اردگرد کے مسلمان مواضعات کی اراضی ربوہ کی حدود میں شامل کر دی اور پھر اس توسیع میں آنے والی مسلمانوں کی اراضی پر قبضہ کر لیا۔ البتہ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے اصل ربوہ کی آبادی سے دور ربوہ شہر کے آخری کونے کا معمولی رقبہ بھی اسکیم میں شامل کر لیا اور اس پر لو انکم ہاؤسنگ کالونی تعمیر کرنے کا ایک منصوبہ بنایا۔ حکومت نے اس ٹاؤن پر دس لاکھ روپے صرف کرنے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ ربوہ کی اصل آبادی سے دور ایک طرف اس ٹاؤن کی سڑکیں اور سیوریج وغیرہ تعمیر ہو رہی تھیں۔ مرزائی اس کھیل کا خاموشی سے تماشہ دیکھتے رہے۔ جب پلاٹ تیار ہو گئے، دس لاکھ روپیہ سکیم پر تقریباً خرچ ہو گیا تو مرزائیوں نے ہائیکورٹ میں حکومت کی اس ساری سکیم کو چیلنج کر دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مرزائیوں کی درخواست سماعت کے لئے منظور ہو گئی اور عدالت نے حکومت کو اسٹے جاری کر دیا ہے۔ ۱۱؍جون کی تاریخ مقرر ہو گئی۔ جب مقدمہ کی باقاعدہ سماعت ہونی تھی۔ مرزائیوں نے عدالت عالیہ میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ جب کوئی رقبہ حکومت ایک دفعہ رہائشی مقاصد کے لئے کسی کو دے دے تو وہی رقبہ دوبارہ انہی مقاصد کے لئے کسی کو نہیں دیا جا سکتا۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
لیکن اگر مرزائی معاملہ کو عدالت میں نہ بھی لے جاتے تو بھی مسئلہ مسلمانوں کے مطالبہ کے مطابق حل نہیں کیا جا رہا تھا۔ مسلمانوں کا مقصد مرزائیوں کے اس سازشی قلعہ کے اندر داخل ہونا تھا۔ جہاں صرف ایک عقیدہ کے لوگ رہ رہے تھے اور ایسا ہونا مملکت کی سلامتی کے نقطہ نگاہ کے پیش نظر غلط ہے۔ حکومت کی سکیم کی صورت میں مرزائیوں کا وہ سازشی قلعہ پھر ویسے ہی محفوظ رہا۔
(لولاک مؤرخہ ۳۰؍ اپریل ۱۹۷۶ء)
بھٹو صاحب کا اجتہاد اور ڈرامہ
۲۵؍ اپریل کو وزیراعظم بھٹو ایک جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے۔ اچانک انہیں خدا جانے کیا سوجھی کہ انہوں نے جلسہ میں شریک خواتین کے متعلق فرمایا کہ انہیں پردے کے پیچھے کیوں بٹھایا گیا ہے۔ انہیں اس جیل میں کیوں بند رکھا ہوا ہے۔ یہ ان کا استحصال ہے۔ یہ ختم ہونا چاہئے۔ اگر مادر ملت الیکشن لڑسکتی ہیں۔ اگر بیگم لیاقت علی گورنر بن سکتی ہیں۔ اگر بیگم نصرت بھٹو سیاست میں حصہ لے کر باہر نکل سکتی ہیں تو انہیں کیوں بند رکھا ہے اور یہ کہہ کر پردہ ہٹا دیا گیا۔ خواتین کو دعوت دی گئی کہ وہ آگے آئیں۔ سٹیج کے قریب بیٹھ جائیں۔ چنانچہ خواتین پردہ سے نکل کر سٹیج کے قریب آکر بیٹھ گئیں۔
(لولاک، مؤرخہ یکم مئی ۱۹۷۶ء)
اس میں شک نہیں کہ بھٹو صاحب ایک کامیاب سیاستدان تھے۔ ملک کے ۷ کروڑ عوام کو انہوں نے بھیڑ بکریاں بنا کر آگے رکھا ہوا تھا۔ ملک میں اسلام کے علمبردار رہنما بے بسی کی تصویر بنا دیئے گئے تھے۔ تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اسلامی احکام کے خلاف اس جرأت و جسارت سے کام لیتے۔ بھٹو صاحب کے اس اجتہادی فیصلے پر شیخ الاسلام حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری نے ایک تحریر لکھی۔ اقتباس ملاحظہ ہو۔
حضرت بنوری کا بھٹو کو جواب
”بڑی جسارت ہے کہ ایک شخص اسلامی قانون سے سراسر بے خبر ہو اور وہ ایسے احکامات کا اقدام کرے جو سراسر اسلام کے خلاف ہوں۔ بجز افسوس اور حیرت کیا ہو سکتا ہے اور کمال ہے کہ قدم قدم پر ان غیر شرعی احکامات کے اعلانات ہوں اور دعویٰ ہو کہ ہم اسلامی قانون نافذ کرنے والے ہیں اور کمال یہ ہے کہ عورتوں کی عفت وعصمت کے محافظ پردہ کو ”اسلامی مساوات“ کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ کیا مساوات کے معنی یہ ہیں کہ مردوں اور عورتوں کے فرائض ایک جیسے ہوں گے؟ حق تعالیٰ نے ہر نوع کو اور ہر ایک جنس کو ایک کام کے لئے پیدا کیا ہے۔ بیل گائے کا کام نہیں کرسکتا۔ گائے بیل کا کام نہیں انجام دے سکتی۔ آنکھ کا وظیفہ فطری دیکھنا ہے۔ کان کا سننا ہے ہر ایک کی اپنی اپنی خاصیت ہے۔ اگر مرد کا کام عورت سے لیا جائے گا تو یہ ظلم ہوا جس طرح عورت کا کام مرد سے لینا خلاف فطرت ہے۔
فطرة الله التی فطر الناس علیہا !
حق تعالیٰ نے ہر چیز کی خاص فطرت رکھی ہے۔ وہ چیز اپنے فطری تقاضے کو پورا کرے گی۔ کیا اسلامی مساوات کے یہ معنی ہیں کہ مرد عورت سب ایک ہی گاڑی میں جت جائیں؟ اور مرد و زن کا فرق نہ رہے؟ اسلامی مساوات کے معنی یہ ہیں کہ اسلام سے مشرف ہونے کے بعد عربی، عجمی ، قریشی، حبشی، کالے، گورے ، مکی، مدنی، افریقی ، یورپی سب میں اسلامی اخوت کی وجہ سے مساوات ہے۔ حق تعالیٰ کے
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
یہاں سب برابر ہیں۔ سب حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں اگر تفاوت مراتب ہے تو صرف تقویٰ و تقدس کی زندگی کی وجہ سے ہے۔ جس کا اعلان قرآن کریم کی سورۂ حجرات میں کیا گیا ہے اور جس طرح نبی کریم ﷺ نے آخری حجۃ الوداع کے موقع پر اعلان فرمایا تھا یہ ہے اسلامی مساوات۔ یہاں اسلام میں قومیت، نیشنل ازم اور ابیض و اسود کا کوئی سوال نہیں۔ سب بھائی بھائی ہیں۔ فطرت نے جو فطری خواص ہر صنف میں رکھے ہیں ان سب کو مٹا کر مساوات کا نعرہ لگانا فطرت الٰہی کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ جو حقوق والدین کے ہیں وہ اولاد کے نہیں، جو بیوی کے ہیں، بھائی بہن کے نہیں، جو مرد کے ہیں۔ عورت کے نہیں، جو عورت کے ہیں مرد کے نہیں۔ تعجب ہے کہ اتنی موٹی سی بات بھی نہیں سمجھی جاسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ صحیح فہم عطاء فرمائے اور عناد و ضد سے بچائے اور اللہ تعالیٰ اسلام کو بازیچۂ اطفال نہ بنائے اور جس منصب کا جو اہل ہے اللہ تعالیٰ اس کو اس پر فائز کرے اور نا اہلوں کی حکومت واقتدار سے اس امت کو نجات عطاء فرمائے۔ آمین !
(لولاک مؤرخہ ۳۰؍ مئی ۱۹۷۶ء)
حافظ آباد کولو تارڑ میں مرزائیوں کی ناکامی
حافظ آباد کے نواحی قصبہ کولو تارڑ میں مرزائیوں نے مسجد کے نام پر اپنی عبادت گاہ کو تعمیر کرنا چاہا۔ مقامی مسلمانوں نے مزاحمت کرنا چاہی۔ لیکن مرزائی مالی اور افرادی حیثیت میں مضبوط تھے۔ اس لئے مسلمانوں کو دبایا اور تعمیر بدستور جاری رکھی۔ مقامی عالم دین مولانا منیر احمد نے ایک قرارداد میں تعمیر روکنے کا مطالبہ کیا۔ جس پر مرزائیوں نے سوچی سمجھی سازش کے تحت مولانا منیر پر حملہ کیا۔ ان کو زدوکوب کیا اور گالیوں سے نوازا۔ مقامی عوام مرزائیوں کی یہ حرکت دیکھ کر مشتعل ہوگئے۔ لیکن مجلس عمل کے مقامی احباب نے معاملہ کو سنبھالا اور مسلمانوں کو کارروائی کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ اگلے دن مجلس تحفظ ختم نبوت کا وفد مشتمل بر حافظ عبد الوہاب جالندھری مبلغ مجلس ختم نبوت، مولانا محمد الطاف، مولانا نصر اللہ خان، مولانا منیر احمد اور میجر ڈاکٹر غلام یوسف نے اے سی حافظ آباد سے ملاقات کی اور مرزائیوں کے اس دیدہ دلیری کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ اے سی اور ڈی ایس پی صاحبان صورتحال سمجھنے کے لئے کولو تارڑ چلے گئے اور رات گئے ایک مرزائی جو مولانا منیر احمد صاحب پر تشدد کرنے میں ملوث تھا، کو گرفتار کر کے لے آئے۔ مسلمانوں نے مرزائیوں کی عبادت گاہ کے خلاف درخواست دائر کر دی۔ عدالت میں اس مسئلے پر مقدمہ چلا۔ ۶؍ مئی ۱۹۷۶ء کو عدالت نے مرزائیوں کی عبادت گاہ کے بارے میں امتناعی آرڈیننس جاری کر دیا۔
سیرت کانفرنس کنری ملتوی
۶، ۷، ۸؍ مئی ۱۹۷۶ء کو مجلس تحفظ ختم نبوت نے کنری میں تین روزہ کانفرنس کا اعلان کیا۔ ملک بھر کے مجلس کے قائدین اور کارکن شرکت فرما رہے تھے۔ کانفرنس کے جملہ انتظامات مکمل کر لئے گئے تھے۔ لیکن بروقت انتظامیہ نے پابندی لگا کر کانفرنس کو روک دیا۔ حکومت کے اس بلا جواز پابندی پر پورے ملک کے مسلمانوں نے غم و غصے کا اظہار کیا کہ ایک اسلامی ملک میں خالص مذہبی اور سیرت النبیؐ جیسے خالص اسلامی عنوان سے جلسہ پر پابندی لگ گئی۔ ۷؍ مئی ۱۹۷۶ء بعد از جمعہ کنری کے دلبرداشتہ مسلمانوں کو امیر مرکزیہ حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری کا بیان پڑھ کر سنایا گیا جس میں انہوں نے کانفرنس پر پابندی کے ردعمل میں مشتعل مسلمانوں کو صبر وحوصلہ کی تلقین کی تھی اور کانفرنس کسی
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
اور وقت دوبارہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
حکومت نے مسلمانوں کی منعقد کردہ سیرت کانفرنس پر تو پابندی لگادی۔ لیکن دوسری طرف کنری کے ہندوؤں اور مرزائیوں کی حرکات نہایت مشکوک تھیں۔ حکومت ان سے بالکل غافل تھی۔ کنری کی سرحدیں بھارت سے ملتی ہیں۔ ہندوؤں کی ایک بڑی تعداد تھی۔ پاک بھارت جنگ کے موقع پر کچھ ہندو بھارت چلے گئے جو بعد میں بھارتی ہندوؤں کے اضافے کے ساتھ واپس آگئے۔ نئے اور پرانے ہندو بہت بڑی تعداد میں کنری میں آباد تھے۔ ظاہر ہے پرانے ہندوؤں کی آڑ میں نئے آنے والے ہندوؤں میں بھارتی انٹیلی جنس کے بے شمار لوگ بھی آکر آباد ہوئے ہوں گے جو پاکستان کی جڑیں کاٹنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیں گے۔ کنری کے مرزائی بہت آباد اور خوشحال اور بوجوہ بدمست تھے۔ ملک کے دوسرے شہروں کی طرح کنری میں بھی مجلس تحفظ ختم نبوت کی تنظیم موجود تھی۔ اپنا دفتر تھا۔ مدرسہ اور لائبریری تھی اور وہاں تبلیغی وتعلیمی کام کر رہی تھی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد شریف جالندھری جماعت کا معائنہ اور مجلس کے رہنماؤں سے ملاقات کرنے کے لئے کنری تشریف لے گئے۔ واپسی پر انہوں نے لولاک کے ایڈیٹر کے نام ایک خط لکھا۔ مولانا نے اس خط میں کنری کے ہندوؤں اور مرزائیوں کے گٹھ جوڑ کی تفصیل لکھی اور انکشاف کیا کہ مرزائیوں کی ایک فلاں نمبر، پراسرار جیپ کنری سے دو تین روز بعد بھارت جاتی ہے اور وہاں کچھ وقت ٹھہر کر واپس آتی ہے۔ لولاک نے راز افشاء ہونے کے ڈر سے وہ خط خفیہ طور پر حکومت کو بھیجا۔ لیکن حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ لولاک نے دوبارہ بھیجا۔ لیکن حکومت ٹس سے مس نہ ہوئی۔ کافی انتظار کے بعد جب یقین ہوا کہ حکومت اس معاملے کو سیریس نہیں لے رہی۔ ہفت روزہ لولاک نے وہ خط مفہوماً چھاپا اور حکومت سے اس تشویشناک سنگین صورتحال پر ایکشن لینے کی درخواست کی۔ لیکن کافی عرصہ گزرنے کے بعد حکومت کی وہی مجرمانہ خاموشی۔
(لولاک مؤرخہ ۱۱؍مئی ۱۹۷۶ء)
قارئین! تعجب اس بات پر ہے کہ ایک طرف مجلس تحفظ ختم نبوت ایک اسلامی آئینی جلسہ جو سیرت کے موضوع پر تھا، منعقد کررہی تھی۔ ان کا یہ فعل غیر آئینی ٹھہرا اور دوسری طرف مرزائیوں کی اس حد تک مشکوک حرکتیں تھیں اور حکومت دم بخود سکون سے بیٹھی رہی۔
مجلس تحفظ ختم نبوت کے مدارس
مجلس تحفظ ختم نبوت نے اپنا کام صرف رد قادیانیت تک محدود نہیں رکھا۔ بلکہ جس طرح ان کا منشور تھا کہ مجلس ایک تبلیغی جماعت کے طور پر کام کرے گی۔ اس پر کاربند رہی۔ چنانچہ پورے ملک میں جہاں جہاں ممکن تھا مجلس نے مدارس کی تعمیر کا کام شروع کیا۔ ان مدارس کے سارے اخراجات مجلس کے ذمہ ہوتے تھے۔ چاہے وہ تعمیر کے ہوں، خوردونوش کے ہوں یا علاج معالجہ کے۔ ذیل میں چند مدرسوں کے نام ذکر کئے جاتے ہیں جو ۱۹۷۶ء تک مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام چل رہے تھے۔
- ۱...... مدرسہ تعلیم القرآن معصوم شاہ مینارہ روڈ سکھر، حفظ و ناظرہ۔
- ۲...... مدرسہ احیاء العلوم جتوئی ضلع مظفر گڑھ، حفظ و ناظرہ، قرأت، صرف و نحو، فقہ۔
- ۳...... مدرسہ عربیہ دارالہدیٰ پرمٹ ضلع مظفر گڑھ، حفظ و ناظرہ، قرأت۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب وتحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
- ۴....... مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن جابہ ضلع سرگودھا، حفظ و ناظرہ۔
- ۵....... مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن بخاری مسجد کنری ضلع تھرپارکر سندھ، حفظ و ناظرہ۔
- ۶....... مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن بہاول پور، حفظ و ناظرہ۔
- ۷....... مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن ملتان (نیا مرکز) حفظ و ناظرہ۔
- ۸....... مدرسہ عربیہ ختم نبوت ربوہ (چناب نگر ) نزد ( چونگی ) (مسلم کالونی) ضلع جھنگ، حفظ و ناظرہ ۔ یہ مدرسہ آج بحمداللہ ! عالمی مجلس تحفظ
ختم نبوت کے زیر اہتمام چلنے والے مدارس میں سب سے زیادہ فعال ہے۔ ختم نبوت کے موضوع پر شارٹ کورسز، یک سالہ کورس کے علاوہ درجہ سابعہ تک درس نظامی کا بھی انتظام ہے۔ (اور اب عرصہ سے دورۂ حدیث اور تخصص بھی شروع ہو گیا ہے )
تحفظ ختم نبوت کانفرنس گرواں
۲۹، ۳۰؍مئی ۱۹۷۶ء کو گرواں ضلع بہاول پور میں دو روزہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا محمد شریف جالندھری، مناظر اہل سنت مولانا عبد الستار تونسوی، مولانا عبدالرحیم اشعر، مولانا اللہ بخش گرواں، مولانا قاضی اللہ یار، مولانا اللہ وسایا، مولانا غلام مصطفیٰ ، مولانا خدا بخش شجاع آبادی نے بیانات فرمائے۔ ان حضرات کے علاوہ مقامی علماء کرام نے بھی شرکت کی۔
ختم نبوت کانفرنس حافظ آباد
۱۴؍مئی ۱۹۷۶ء کو جامع مسجد قدیم بخاری چوک حافظ آباد میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ صدارت مولانا محمد الطاف صاحب صدر مجلس تحفظ ختم نبوت حافظ آباد نے فرمائی۔ مولانا تاج محمود، مولانا حبیب اللہ رشیدی، مولانا عبدالرحیم اشعر، مولانا اللہ وسایا اور مولانا زاہد الراشدی نے بیانات فرمائے۔ آغا مسعود شورش اور سید امین گیلانی نے بھی شرکت فرمائی۔
چناب نگر...... ٹی آئی کالج
ربوہ میں قرارداد پاس ہونے کے بعد بھی ہر خاص و عام مرزائی یا مرزائی نواز تھا۔ ملازمتوں پر ان کا قبضہ تھا۔ ٹی آئی کالج ربوہ کے بارے میں مسلمانوں نے بارہا حکومت کو متوجہ کیا کہ وہاں کا پرنسپل ”محمد علی“ مرزائی ہے۔ ان کے علاوہ مرزائی لیکچرار صاحبان بھی کافی تعداد میں موجود ہیں اور وہ مسلسل اس میں مرزائیت کا پرچار کر رہے ہیں۔ کالج میں مرزا قادیانی اور حکیم نور الدین بھیروی کی تصاویر بڑی تعداد میں لگی ہوئی تھیں جن کو مسلمان طلباء نے اتارا۔ مسجد اقصیٰ کے متعلق اس کی ہیئت بدلنے اور وہاں یہودیوں کو عبادت کرنے کی اجازت دینے کے متعلق افسوسناک خبریں جب آئی تھیں تو پاکستان میں ہر سطح پر اس کے خلاف احتجاج ہوا۔ ملک بھر کے تمام تعلیمی اداروں میں بھی احتجاجی جلسہ جلوس ہوئے اور یہودیوں کے ان مذموم کارروائیوں کی مذمت کی قراردادیں منظور کی گئیں۔ لیکن ربوہ اور اسرائیل کے چونکہ خصوصی تعلقات تھے ان کا تل ابیب میں مشن موجود تھا۔ مرزائی نوجوان اسرائیلی فوج میں بھرتی ہو رہے تھے۔ اس لئے یہ یہودیوں کی کسی اسلام دشمن کارروائی کی مذمت کیسے کرتے، سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مسلمان طلباء نے پرنسپل سے مطالبہ کیا کہ اس ملک گیر احتجاج میں ربوہ کالج کو بھی حصہ لینا چاہئے۔ لیکن مرزائی پرنسپل یہ کیسے اجازت دے سکتا تھا؟ مسلمان پروفیسر صاحبان نے بھی طلبہ کے مطالبہ کی تائید کی لیکن
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
ٹال دیا گیا۔ جب مطالبہ بڑھ گیا تو صرف اتنا کیا کہ ایک صبح طلبہ کی اسمبلی کے دوران پرنسپل صاحب نے اتنا کہہ دیا کہ ہاں بھائی کچھ طلبہ اور پروفیسر صاحبان کا مطالبہ ہے کہ مسجد اقصیٰ کے متعلق ایک قرارداد منظور کی جائے۔ چنانچہ ان کی قرارداد منظور ہے۔ نہ یہ قرارداد تحریر ہوئی نہ اس میں یہودیوں کے شرمناک اور المناک مظالم کی تفصیل درج ہوئی نہ مذمت کی گئی اور نہ اس قرارداد کو کہیں اخبار میں بھیجا گیا۔
اس واقعہ سے کچھ دنوں بعد کالج میں ایک مشاعرہ منعقد ہوا۔ ایک قادیانی لڑکے نے نظم پڑھتے ہوئے یہ شعر پڑھا؎
ان مفتیان دین میں اہل نظر کہاں
چونکہ شعر پڑھنے والا مرزائی تھا۔ سننے والے مرزائی تھے اور اس شعر پر ان کی طرف سے بہت زیادہ شوخی دکھائی گئی۔ آنکھوں، ابروؤں میں طنزیہ اشارے ہوئے۔ یہ دیکھ اور سن کر مسلمان طلبہ نے شدید احتجاج کیا اور اس شاعر سے اس حرکت پر معذرت کرنے کا مطالبہ کیا۔ لیکن نہ معذرت ہوئی نہ کوئی کارروائی۔
(لولاک، مورخہ ۱۹؍ مارچ ۱۹۷۶ء)
ڈی مونٹمورنسی کالج لاہور اور قادیانی
مرزائیوں کی یہ تعلیمی بدعملیاں صرف چناب نگر تک نہیں بلکہ پورے پنجاب بلکہ پورے ملک میں جہاں جہاں ان کا بس چلتا، سازشیں اور من مانیاں کرتے رہے۔ ڈی مونٹمورنسی ڈینٹل کالج اور پنجاب ڈینٹل ہسپتال پر انہوں نے اپنی اجارہ داری بنائی تھی۔ پاکستان بننے سے پہلے یہ ایشیاء میں دندان سازی کی تعلیم کا واحد ادارہ تھا اور اس وقت بھی پاکستان کا سب سے بڑا ادارہ تھا۔ اس ادارے کا پرنسپل ہمایوں اختر مرزائی تھا۔ پہلے پرنسپل کے ریٹائر ہونے پر حنیف رامے نے بلاجواز یہ مرزائی پرنسپل بنایا تھا۔ بلاجواز اس لئے کہا کہ پاکستان میڈیکل کونسل کے قانون کے مطابق پروفیسر یا پرنسپل بغیر پوسٹ گریجویٹ ڈگری کے مقرر نہیں کیا جاتا۔ یعنی پرنسپل کے لئے ایم.اے کی تعلیم لازمی ہے۔ جب کہ ہمایوں اختر نے صرف بی.اے کیا تھا۔ لیکن حنیف رامے کی کرم فرمائی کی وجہ سے وہ پھر بھی پرنسپل بن گئے۔ رامے صاحب نے اس کو پرنسپل بناتے ہوئے یہ بھی نہیں سوچا کہ اس ادارے میں ایم.ڈی.ایس کی کلاسیں ہوتی ہیں اور پڑھانے والا ایک معمولی گریجویٹ پرنسپل یہ ان کو کیسے اور کیا پڑھائے گا؟
ہمایوں اختر مرزائی نے پرنسپل مقرر ہو جانے کے بعد کالج کو قادیانی پراپیگنڈہ کا میدان بنالیا اور ۴، ۵ ملازمین اس نے رولز کا خیال رکھے بغیر قادیانی بھرتی کر لئے۔ اپنے ایک قادیانی کو جو کہ اسسٹنٹ پروفیسر تھے، کمرہ لائبریری میں دے دیا۔ اس مرزائی پرنسپل کے دور میں درج ذیل آسامیاں خالی ہوئیں اور ان ساروں پر مرزائی تعینات کئے گئے۔
- ۱...... چھ ڈسپینسرز ............ ۵ مرزائی۔
- سٹینوٹائپسٹ ............ مرزائی۔
- چھ بیرز ............ ۳ مرزائی۔
دو چپڑاسی، دونوں ہی مرزائی۔ اسٹور کیپر مرزائی۔ ایک اسسٹنٹ پروفیسر مرزائی۔ لائبریرین مرزائی۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
اس کالج میں مرزائیوں کی ستیزہ کاریاں یہاں پر ختم نہیں ہوتیں۔ بلکہ مرزائی جماعت کے امیر ہر صبح کالج آتے اور لائبریری میں لائبریرین کی وساطت سے اپنا کوک شاستر ”الفضل“ ساتھ لے آتے اور پھر طلباء کو اکھٹا کر کے مرزائیت کا پروپیگنڈا کرتے۔ تمام مرزائی عملہ پروگرام بناتا اور شکایات کر کے مسلمان سٹاف پر عرصۂ حیات تنگ کرتے۔ اس کالج میں سعودیہ، اردن، عراق اور ایران کے طلباء تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ پرنسپل صاحبان اکثر ان کو گھر پر دعوت دیتے رہتے اور وہاں امیر جماعت ان کی برین واشنگ کرتے۔ کالج کے مسلمان طلباء نے دو مرتبہ دو مہینوں کے وقفے سے حکومت کو ان قادیانی دسیسہ کاریوں سے خبردار کیا اور حکومت کے سامنے ان خدشات کا اظہار کیا کہ کالج میں مرزائیت اس تیزی سے پنجے گاڑ رہی ہے کہ ہمیں ڈر ہے کہ کہیں یہ چھوٹا ربوہ نہ بن جائے۔ لیکن حکومت کی وہی روایتی مجرمانہ خاموشی۔“
(لولاک، مورخہ ۱۰؍ جون، اپریل ۱۹۷۶ء)
سینٹ میریز سکول سکھر اور قادیانی
”سکھر کے سینٹ میریز سکول کا شمار ملک کے اچھے تعلیمی اداروں میں ہوتا تھا۔ دوسرے تعلیمی اداروں کی طرح یہ ادارہ بھی مرزائیت کی تبلیغ کا اڈہ بنا ہوا تھا۔ سکول کی ایک استانی مس مسعود فخر مرزائی تھی۔ وہ کھلے عام مرزائیت کا پرچار کرتی۔ لٹریچر تقسیم کرتی۔ علماء کرام کا مذاق اڑاتی اور حکومت کے خلاف بھی ہفوات بکتی کیونکہ مرزائیت کو غیر مسلم قرار دینے کا فیصلہ جو اس نے دیا تھا، سکول کے دیگر عملہ میں بھی مرزائی موجود تھے۔ اس لئے محب وطن، محب اسلام اور حکومت کے وفادار ملازمین کو چن چن کر اس سکول سے تبدیل کرایا جا رہا تھا۔ سکول کے ایک ٹیچر عبدالستار انصاری صاحب تھے جو پکے مسلمان تھے اور مس مسعود اور دیگر مرزائی اساتذہ کی سازشوں میں رکاوٹ بنے رہتے تھے۔ ان کو مرزائیوں کی طرف سے گمنام خط ملا۔ جس میں ان کو قتل کر دینے کی دھمکی دی گئی تھی اور لکھا تھا کہ ہمارے ”کام“ میں حائل نہ بنو ورنہ مار دیئے جاؤ گے۔“
(لولاک، مورخہ ۸؍ اپریل ۱۹۷۶ء)
محکمہ خوراک پنجاب کی مرزائیت نوازی
”رائے ونڈ کے تبلیغی مرکز کی شہرت اقصائے عالم میں پھیل چکی ہے۔ کیونکہ دین اسلام پر عمل کرنے اور کرانے کی تربیت حاصل کرنے کی غرض سے کرۂ ارض کے تمام ممالک سے مسلمان تشریف لاتے ہیں۔ کچھ عرصہ تربیت حاصل کرنے کے بعد وہ جماعتوں کی شکل میں نکلتے ہیں اور جدوجہد کرتے ہیں کہ معاشرہ میں اجتماعی طور پر زندگی کے ہر شعبہ میں دین محمدی پر عمل کرنے کا رواج پڑ جائے۔ جو لوگ اس کار خیر میں عملی طور پر حصہ لیتے ہیں انہیں عرف عام میں تبلیغی جماعت کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ رائے ونڈ میں قیام کے دوران ان حضرات کے طعام کا انتظام مرکز تبلیغ سرانجام دیتا ہے۔ قریباً بیس، پچیس ہزار افراد کا لنگر خانہ میں ہر روز کا کھانا تیار ہوتا ہے۔ اپریل ۱۹۷۶ء میں امیر جماعت تبلیغی رائے ونڈ نے ایک درخواست محکمہ خوارک کے افسران کو ارسال فرمائی۔ جس میں استدعا کی گئی تھی کہ لنگر خانہ کے لئے کم از کم ۱۲؍ بوری چینی ماہوار کا کوٹا منظور فرمایا جائے۔ اس درخواست کی پیروی کے لئے جناب صادق علی صاحب لائل پوری نے اپنی خدمات پیش کیں۔ صادق علی صاحب کا خیال تھا کہ محکمہ عالیہ مذکورہ بالا سے پرانے تعلقات کی بناء پر شاید اس معاملے میں کچھ پیش رفت ہو جائے اور محکمہ خوراک والے بھی تبلیغی جماعت کا لحاظ رکھتے ہوئے تعاون کریں گے۔ جناب صادق علی صاحب کے ساتھ اس معاملے میں حکومت کا کیا رویہ رہا اور وہ اس کام میں کس حد تک کامیاب ہوئے انہی کی زبانی سنئے:
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
”میں نے اس درخواست کے سلسلہ میں محکمہ خوراک کے مختلف دفاتر کے چکر کاٹے۔ رستم دستان کی طرح ہفتخواں کا سفر سرانجام دینا پڑا۔ رستم کو اپنے سفر ہفتخواں میں سات بلاؤں سے لڑنا پڑا تھا اور مجھے محکمہ خوراک کے سات افسران کی خوشامد کرنی پڑی جو کہ مجھ جیسے خود سر آدمی کے لئے جہاد اکبر سے کم نہیں۔ پہلی منزل میں اے. ایف. سی صاحب رائے ونڈ سے ملاقات ہوئی۔ قبل ازیں ان سے علیک سلیک نہ تھی۔ مگر آنجناب نے اخلاق حسنہ کا مظاہرہ کیا۔ سائل کی چائے وغیرہ سے بھی تواضع فرمائی اور درخواست پر بھی کماحقہ غور فرمایا۔ پوری تحقیق و تفتیش کے بعد رپورٹ لکھ دی کہ درخواست بالکل درست ہے۔ میں نے خود لنگر خانہ ملاحظہ کیا ہے اور مبلغین حضرات کو کھانا کھاتے اور چائے پیتے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور میرے خیال میں کم از کم دس بوری تو ضرور بطور ماہوار کوٹا منظور ہونا چاہئے۔ دوسری منزل میں خاندان رسالت کے چشم و چراغ قبیلہ سادات کے معزز فرد یزدانی صاحب ڈی. ایف. سی (ڈی) لاہور سے واسطہ پڑا۔ صاحب موصوف نے اس احقر کا تو بہت اکرام کیا۔ مگر اپنے نانا پاک رسول ہاشمی ﷺ کے شیدائیوں یعنی مبلغین حضرات پر کماحقہ نظر کرم نہ فرمائی اور سفارش کر دی کہ آٹھ بوری چینی ماہوار کا کوٹہ مرکز تبلیغی کے لئے منظور فرمایا جائے۔ درخواست مبلغین پر میاں محمد اسماعیل صاحب اسسٹنٹ ڈائریکٹر فوڈ لاہور ریجن رونق افروز تھے۔ انہوں نے درخواست کے ساتھ انصاف فرمایا۔ کچھ میری سفید ریش کا احترام کیا۔ راقم الحروف نے اسے جتلا دیا کہ حضور آج سے چالیس سال قبل جب آپ ابھی طفل مکتب تھے شہر لاہور میں تبلیغی جماعت کی تنظیم آپ کے والد ماجد اور میرے روحانی باپ اور استاذ محترم حضرت مولانا کریم بخش صاحب مرحوم نے کی تھی اور وہی اس جماعت کے پہلے امیر تھے۔
(رومی)
مولانا صاحب کے فرزند ارجمند نے رحم فرمایا اور درخواست بغیر کلہاڑا چلائے منزل چہارم کو یعنی جناب ڈپٹی ڈائریکٹر صاحب لاہور ریجن ارسال فرمادی۔ وہ بھی میرے پرانے مہربان دوست تھے۔ مگر درحقیقت تقدیر کے سامنے تدبیر کی کیا مجال ۔ بے چارے مبلغین حضرات کی قسمت میں ہی قسام ازل نے فقر و فاقہ لکھ دیا ہو تو میرے پرانے تعلقات اور دلائل کیسے تقدیر کو بدل سکتے ہیں۔ اس چوتھی منزل پر ڈپٹی ڈائریکٹر صاحب نے زیادہ وزنی کلہاڑا پورے زور سے دے مارا اور تحریر فرما دیا کہ مبلغین حضرات کو قریباً پونے چار بوری چینی (دس من ) ماہوار دے دینی چاہئے اور درخواست پانچویں منزل کی طرف روانہ کر دی گئی۔ پانچویں اور چھٹی منزل میں جناب سیکشن آفیسر صاحب اور ڈائریکٹر صاحب نے مزید کمی کی سفارش کر کے ساتویں اور آخری منزل تک درخواست پہنچادی۔
آخری منزل پر سب سے زیادہ خطرناک کلہاڑا جناب چوہدری محمد اکرم صاحب خلف الرشید جناب چوہدری محمد حسین صاحب سکنہ موضع اروپ ضلع گوجرانوالہ نے چلایا اور حکم صادر فرمایا کہ منظور کی جاتی ہے۔ مبلغین اسلام کے لئے پانچ من چینی ماہوار منفی ۲۵ فیصد تخفیف یعنی خالص وزن تین من تیس کلو ماہوار یعنی ۴۵ من برائے سال تمام یہ ہے۔
محکمہ خوراک نے یہ کرم نوازی فرما کر گویا تبلیغی جماعت کو یہ پیغام دیا کہ آپ کا کل مطالبہ تھا ۱۴۴ بوری سالانہ یعنی ۳۹۶ من لہٰذا آپ ۳۵۱ من شکر بازار سے خرید کر اس میں ملا لیں۔ ۴۵ من چینی بطور تبرک ملا لیں اور اس ملاوٹ سے آپ کو دنیا میں ہی مزا کا مزا آ جائے
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
گا۔ صحابہ کرام کھجوریں کھا کر تبلیغ کا فریضہ سرانجام دیتے تھے تو آپ چینی کے تبرک والی شکر پر شکر الحمدللہ کیوں نہیں کرتے۔ ہم نے چوہدری اکرم صاحب کی کرم نوازی کا شکریہ ادا کیا اور ان کو دعائیں دیتے ہوئے واپس آگئے۔
قادیانیوں کے اجتماع کے لئے چینی کا کوٹا
اب مزیدار بات اور سنئے۔ انہیں ایام میں مرزا ناصر احمد امیر جماعت قادیان کی جانب سے ان کا ایک مرید درخواست لے کر چوہدری اکرم صاحب کے پیش ہوا۔ جس میں لکھا ہوا تھا کہ ربوہ میں قادیانیوں کا سالانہ اجتماع ہو رہا ہے۔ جس میں ارتداد از دین اسلام کی تبلیغ کی جائے گی۔ اس جلسہ میں شمولیت کرنے والے مرتد مبلغین کے لئے ۸۰ بوری چینی فوراً درکار ہے۔ جو مرزائی یہ درخواست لے کر آیا نہ تو اسے میری طرح سفر ہفتخواں اختیار کرنے کی تکلیف دی گئی۔ نہ تو دفاتر کا طواف کرایا گیا نہ ہی یہ تحقیق کی گئی کہ جائز ضرورت کتنی مقدار کی ہے۔ اکرم صاحب کا بحر کرم جوش میں آیا اور فوراً ۸۰ بوری چینی ۲۲۰ من کا پرمٹ عنایت فرمادیا۔ واہ رے میاں اروپ والے؎
۲۲۰ من کے پرمٹ کے علاوہ ربوہ کے ہوٹلوں کے لئے بھی مزید چینی جاری کر دی گئی۔ اروپ، ربوہ اور رائے ونڈ میں لفظ ”ر“ کا اشتراک ضرور ہے۔ مگر اروپ فریفتہ ہے ربوہ پر نہ کہ رائے ونڈ پر۔“
(لولاک مورخہ ۱۱/ جون ۱۹۷۶ء)
قادیانی درندگی ...... ایک سرکاری آفیسر کی کہانی
۱۴/ مئی کو ایک مسلمان نے اپنا ایک مختصر سا واقعہ لکھا جس میں قادیانیوں کی دیدہ دلیری اور آئین شکنی کا کچھ تذکرہ ہوا ہے۔ چونکہ کہانی میں قادیانیوں کی خرمستیوں، فسطائی ہتھکنڈوں کے بیان کے علاوہ واقعاتی دلچسپی بھی ہے۔ اس لئے نذر قارئین کرتے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں:
”برادران اسلام! آپ کی خدمت میں اپنی آپ بیتی پیش کر رہا ہوں۔ اس خیال سے کہ بار بار جھنجھوڑنے سے ہم اپنی صفوں کو درست کریں اور درندگی ہمیشہ قائم رہے۔
۲۹/ جولائی ۱۹۷۴ء میں کراچی میں مجھے بطور ایجوکیشن آفیسر تعینات کیا گیا۔ سرکاری ملازم ہونے کی حیثیت سے میری رہائش کا بندو بست حکومت کے ذمہ تھا۔ چنانچہ اسٹیٹ آفس نے کراچی کی پی.ای.سی.ایچ.ایس میں بنگلہ الاٹ کر دیا۔ میں نے زندگی میں کچھ کرنے کے جو خواب دیکھے تھے ان کی تعبیر دیکھ کر میں بے حد خوش تھا۔ ملک وملت کی خدمت کا جذبہ پورے شباب پر تھا۔ بڑے ارمانوں سے اپنی رہائش گاہ میں داخل ہوا۔ یہ یکم/ دسمبر ۱۹۷۴ء کا واقعہ ہے۔ تقریباً ایک ماہ بعد پتہ چلا کہ میرے ہمسایہ میں جو لوگ رہائش رکھتے ہیں وہ قادیانی ہیں اور جو مکان حکومت نے میرے لئے حاصل کیا ہے وہ بھی ان کی ہی ملکیت ہے۔ یہ جان کر کہ یہ لوگ قادیانی ہیں پنجاب میں ہونے والے واقعات کی تصویریں تیزی سے پردہ ذہن پر آنا شروع ہوئیں۔ اگرچہ میں قادیانیوں کی اسلام دشمنی سے واقف تھا۔ مگر براہ راست ان سے واسطہ نہ پڑا تھا۔ میرے پاس ان لوگوں کے مخصوص حربوں اور طریقہ کار سے متعلق پہلے سے کافی معلومات تھیں۔ مجھے محسوس ہوا کہ قدرت نے میرے ایمان کا امتحان لینا ٹھہرا لیا ہے۔ چنانچہ میں نے ذہنی طور پر ہر لحاظ سے صورتحال کا مقابلہ کرنے کی ٹھان لی۔ ادھر قادیانیوں نے بھی ایک نوجوان سرکاری آفیسر کو اپنی امت کا حصہ (خاکم بدہن) بنانے کی سکیم تیار کر لی تھی۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
چنانچہ مجھے باقاعدہ دعوت دی گئی کہ رات کا کھانا ہمارے ساتھ ہوگا۔ یہ کہ ہم ہمسایوں کے حقوق سے واقف ہیں۔ میں نے جواب میں کہا۔ ہمارا آپ سے تعلق نہیں ہوسکتا۔ میں ان لوگوں کی دعوت قبول نہیں کرسکتا جو اہل کتاب نہ ہوں اور یہ کہ ہمارے دین کے کھلے دشمن ہوں۔ اس پر مجھے کٹڑ ملا کا خطاب ملا اور مشورہ دیا گیا کہ یہ فیصلہ تو صرف ملک کے ملاؤں کی ملی بھگت کا نتیجہ تھا۔ میں نے سلسلہ گفتگو ختم کردیا۔
پھر ان صاحب کی بیوی نے مجھے بتایا کہ میں غیر قادیانی ہوں اور یہ کہ میرے میاں بہت نیک ہیں۔ ان میں مذہبی تعصب نہیں۔ میں نے قادیانیوں میں خلاف شرع کوئی بات نہیں دیکھی لہٰذا آپ لوگ پروپیگنڈا کا شکار ہیں۔ مجھے آپ سے (یعنی مجھ سے) پوری پوری ہمدردی ہے۔ آپ اکیلے رہتے ہیں اور ہوٹل سے کھانا کھاتے ہیں۔ میری خواہش ہے کہ آپ کھانا ہمارے گھر سے کھایا کریں۔ میں نے جواب میں کہا میرا ایمان ہے کہ قادیانی کی بیوی غیر قادیانی نہیں ہوسکتی۔ دین نے آپ کے اور ہمارے درمیان جو حد مقرر کر دی ہے اس کو میں کبھی عبور نہیں کروں گا۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے بہت کچھ دے رکھا ہے۔ میں اپنے کھانے کا خود بندوبست کروں گا۔ اس کے بعد ان صاحبہ نے میرے پاس کھانا بھیجا۔ جسے میں نے واپس کردیا۔ اب مجھے شادی کا مشورہ دیا گیا۔ کہنے لگیں۔ دیکھو آپ کے پاس بہترین نوکری ہے۔ عزت ہے۔ صحت ہے۔ مجھے اپنا ہمدرد جانو اور شادی کرلو۔ میں نے اسے ٹٹولنے کے لئے کہا کہ کس جگہ شادی کرلوں۔ اس نے کہا کہ کراچی میں کسی جگہ کروا دیتے ہیں۔ میں نے پوچھا کس جگہ؟ کہنے لگیں کہ یہ بعد میں بتاؤں گی۔ پہلے آپ وعدہ دیں کہ شادی کرلوں گا۔ میں نے کہا کہ میں کراچی میں شادی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہوں۔ میں پنجاب میں شادی کروں گا۔
پھر ایک دن انہوں نے اسی موضوع پر گفتگو کی اور مجھے اپنے خواب سے آگاہ کیا کہ میں نے دیکھا کہ آپ شادی پر رضامند ہیں اور یہ شادی ہمارے گھر ہو رہی ہے۔ میری دلی خواہش ہے کہ آپ اس کو قبول کرلیں۔ میں نے کہا کہ اگر آپ بضد ہیں تو لڑکی کو مرزائیت سے تائب ہونا پڑے گا۔ اس پر کہنے لگیں کہ دیکھئے میں غیر قادیانی ہوں۔ میں تمہیں یقین کے ساتھ کہتی ہوں کہ آپ لوگوں میں اور ہم میں کوئی فرق نہیں۔ لیکن پھر بھی میں اپنے میاں سے بات کروں گی۔ چنانچہ اگلے دن اس کے میاں میرے ہاں تشریف لے آئے اور اپنی انسانیت کے قصیدے گانے شروع ہوگئے کہ محلے میں جا کر کسی سے پوچھ لیں کہ ہمارا برتاؤ سرکاری مسلمانوں سے کہیں بہتر ہے۔ (یہ یاد رہے کہ قادیانی ہم مسلمانوں کو ’’سرکاری مسلمان‘‘ کہتے ہیں) پھر مرزا قادیانی کی حمد و ثناء شروع کی اور بتایا کہ تحقیق سے ثابت ہوچکا ہے کہ وہ نبی تھے۔ ان کا مشن حضرت محمد ﷺ کے مشن کو آگے بڑھانا اور مکمل کرنا تھا۔ مجھے مشورہ دیا گیا کہ مطالعہ کریں اور اپنے آپ کو اندھیرے سے نکالیں۔ ایک دن آپ دیکھیں گے کہ قادیانی غلبہ میں ہوں گے اور آپ لوگ پچھتانے والوں میں سے۔ مجھے غلام قادیانی کی لکھی ہوئی ایک کتاب دی۔ مزید کتابیں دینے کا وعدہ کیا۔ میرے محکمہ سے متعلق چند لوگوں کا پوچھا۔ سروس میں ترقی دلوانے کا سراب دکھایا گیا۔ مکان، بیوی، دولت کا لالچ دیا گیا۔ مگر شرط یہ بندھوائی کہ ربوہ میں جاکر مرزا ناصر کی بیعت کرلیں۔ میں نے صاف انکار کردیا۔ اگلے روز ان کی بیگم صاحبہ نے پھر کہا کہ میرے میاں کی دلی خواہش ہے کہ آپ راضی ہوجائیں۔ دیکھو میں کبھی کسی غیر مرد کے سامنے نہیں گئی۔ میرے میاں بہت سخت ہیں اس معاملہ میں۔ مگر آپ کی شرافت دیکھ کر مجھے آپ سے گفتگو کرنے سے کبھی منع نہیں کیا۔
پھر ایک دن اپنے چھوٹے بچوں کو میرے گھر بھیج دیا کہ مہربانی کریں یہ لوگ سکول کی پڑھائی میں بہت نکمے ہیں۔ ان کو تھوڑا بہت پڑھا دیں۔ میں نے اپنی ہمت کے مطابق ان کو وقت دیا۔ لیکن محسوس کیا کہ بے حد آوارہ ہیں اور یہ کہ خواہ مخواہ مغز چاٹنے والی بات ہے۔ میں نے معذرت چاہی۔ پھر کہنے لگی کہ آپ ہمارے گھر ان سے بڑے بچوں کو پڑھا دیں۔ ہم معقول معاوضہ دے دیں گے۔ میں نے
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
جواب میں کہا میں یہ کاروبار نہیں کرتا اور پھر یہ کہ آپ ہمارے ہمسایہ ہیں۔ آپ سے اس قسم کا کاروبار میں کیسے کر سکتا ہوں۔ میں نے کہا کہ آپ کے میاں تو بقول آپ کے پردہ کے بے حد پابند ہیں۔ مجھے گھر میں دیکھ کر برا نہ منائیں گے۔ کہنے لگیں کہ آپ کی شرافت کے قائل ہیں۔ چنانچہ کئی دنوں کی منت سماجت اور خوشامد کے بعد مجھے اپنے گھر میں لے گئیں۔ میں نے بمشکل تین چار روز درس دیا اور پھر معذرت چاہی کہ مجھے فرصت نہیں ملتی۔
اب انہوں نے اپنا آخری حربہ استعمال کرنا چاہا۔ ایک دن ان کے میاں کہنے لگے کہ میرے والد صاحب پنجاب سے آ رہے ہیں۔ انہوں نے وہاں جائیداد وغیرہ فروخت کر دی ہے۔ لہٰذا آپ حکومت سے یہ مکان ہمیں خالی کروا دیں۔ میں نے کہا کہ آپ خود جا کر حکومت سے بات کریں۔ معاہدہ حکومت کے اور آپ کے درمیان ہوا ہے۔ میں اس میں ہرگز فریق نہیں۔ مجھے خوشی ہوگی اگر حکومت مجھے کوئی دوسرا بنگلہ دے دے۔ کہنے لگے آپ خالی کر کے چلے جائیں حکومت سے ہم خود نپٹ لیں گے۔ یہ حکومت تو ہمارے ہتھیلی پر ہے۔ جب چاہیں الٹ دیں۔ میں نے اس پر احتجاج کیا اور سلسلہ کلام منقطع ہو گیا۔
سال کے آخر میں اکتوبر سے دسمبر تک مجھے چھٹی ہوتی ہے۔ چنانچہ میں اکتوبر ۱۹۷۵ء سے دسمبر ۱۹۷۵ء تک گھر چھٹی پر چلا گیا۔ ۲۸؍دسمبر کی شام کو بذریعہ ہوائی جہاز کراچی پہنچا۔ گھر جا کر دیکھا تو نقشہ بدلا ہوا تھا۔ مکان کے نچلے حصہ پر قبضہ کیا ہوا تھا اور اوپر والا حصہ میرے لئے چھوڑ رکھا تھا۔ میں نے دریافت کیا تو بیگم فرمانے لگیں کہ میرے میاں ربوہ میں سالانہ جلسہ میں شرکت کے لئے گئے ہوئے ہیں۔ واپس آئیں گے تو بات کر لینا۔ اب ان کی گفتگو پہلے جیسی نہ تھی۔ ان کے میاں واپس آئے تو میرے ساتھ بات نہیں کی۔ ۴؍جنوری ۱۹۷۶ء بروز اتوار مجھے ملاقات کا وقت دیا گیا۔ میں نے نچلے والے حصہ کا ذکر کیا۔ کہنے لگے کہ میں پہلے ہی کہہ چکا تھا کہ مکان خالی کر دو۔ میرے والد صاحب پنجاب سے آ رہے ہیں۔ میں نے ان کو معاہدہ کی شرائط یاد کروائیں اور مشورہ دیا کہ اسٹیٹ آفس سے رابطہ قائم کریں اور بھاگ دوڑ کر کے اس کو خالی کروالیں۔ مجھے کوئی اعتراض نہ ہوگا۔ وہ اس پر بگڑ گئے اور حکومت کو گالیاں بکیں اور ساتھ مجھے بھی گالیاں بک دیں۔ یہ گالی میرے لئے خلاف توقع تھی۔ اس کا لہجہ بڑا درشت تھا۔ ایک خونخوار بھیڑیئے کی طرح دندنا رہا تھا۔ میں نے بھی سختی سے جواب دیا۔ اس پر ان کے تمام لوگ جن میں اس کا لڑکا اللہ داد، چھوٹا لڑکا غالب احمد اور دیگر قادیانی عزیز واقارب ہاتھوں میں لاٹھیاں اٹھائے میری طرف بھاگے آ رہے تھے۔ ان دنوں میرا چھوٹا بھائی میرے پاس آیا ہوا تھا۔ انہوں نے مجھے گھیرے میں لیا ہوا تھا۔ کہیں سے لاٹھی برس رہی تھی۔ کہیں سے کہنی ماری جارہی تھی اور کوئی مکے مار رہا تھا۔ چھوٹا بھائی یہ دیکھ کر تڑپ گیا اور نیچے گر گیا۔ مگر ان ظالموں نے اس پر بھی ترس نہ کھایا اور اسے بھی بے تحاشا پیٹا۔ یہ سب امت مسلمہ کی موجودگی میں اور دن کی روشنی میں ہو رہا تھا۔ مگر اہل محلہ خاموش تماشائی بنے کھڑے تھے۔ مجھے مشورہ دے رہے تھے کہ مکان خالی کر کے چلے جاؤ۔ یہ تمہارے فائدے کے لئے ہے۔ مجھے شام تک گھر خالی کرنے کو کہا گیا۔ ورنہ سنگین نتائج بھگتنے اور ”زندگی سے پتہ کاٹ“ دینے کی دھمکی دی گئی۔
میرے دائیں ہاتھ پر شدید چوٹ آئی۔ کمر پر لاٹھیوں کی بارش برسائی گئی تھی۔ جس سے کمر میں سخت درد تھی۔ شام کے بعد پھر مرزائی مشٹنڈوں کے قافلے میرے مکان کا رخ کر رہے تھے۔ مجھے رات کو اٹھا اٹھا کر کہا جا رہا تھا کہ مکان کو خالی کر کے چلے جاؤ۔ ورنہ ہم تمہیں قتل کر دیں گے اور تمہارا سراغ تک نہ ملے گا۔ میرا معصوم بھائی جو بڑے چاؤ سے میرے پاس کراچی آیا تھا سہما ہوا بیٹھا تھا۔ رات مجھے اور اس کو نیند نہ آئی۔ صبح اٹھا تو اس کو لاہور کی گاڑی پر بٹھایا اور گھر پہنچ گیا۔ گھر میں میرے بڑے بھائی کی آنکھ کا آپریشن ہوا تھا۔ تمام گھر میں
ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء
ان کی خیریت کے لئے دعائیں مانگی جا رہی تھیں۔ بھائی سے میں نے کہا کہ گھر جا کر نہ بتانا کہ کہیں بھائی میرے بارے میں تڑپ نہ جائے۔ ماں باپ چونکہ فوت ہو چکے ہیں۔ اس نے ہی مجھے پڑھایا اور جوان کیا۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ ہسپتال میں زندگی وموت میں مبتلا بھائی کو ایک اور صدمہ دوں۔
بھائی کی بیماری اور مرزائیوں کے مظالم اور میری مار پیٹ کے باوجود پڑوسی مسلمانوں کی خاموشی نے مجھے سخت ذہنی اذیت میں مبتلا کیا تھا۔ میں نے دفتر پہنچ کر اپنے کمانڈنٹ کی میز پر سر رکھ کر رونا شروع کر دیا۔ مجھ پر ایس ایم انور صاحب نے بڑی شفقت کی۔ پیار کیا۔ حوصلہ دیا۔ میرے ہاتھ پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔ پورے حالات سے ان کو باخبر کیا۔ ان کے ساتھ کافی دیر گفتگو ہوتی رہی۔ پھر اسسٹنٹ آفس کو باقاعدہ اطلاع دی گئی اور قبضہ دلوانے کے لئے درخواست کی گئی۔ اپنی حفاظت کا معقول بندوبست کرنے کو کہا گیا۔ مگر اسسٹنٹ آفس کے بہرے کانوں کو جنبش تک نہ ہوئی۔ ان کی زبان سے ہمدردی کا ایک کلمہ نہ نکلا۔ مجھ سے کہا گیا کہ ہم بندوبست کرلیں گے۔ پھر ۴/ جنوری سے آج تک ان لوگوں نے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔
میں تین چار روز تک مارے ڈر کے گھر نہ گیا۔ میں اپنے ہی گھر میں غیر بن گیا تھا۔ وہ گھر جس کے لئے حکومت پاکستان کرایہ ادا کر رہی تھی۔ مجھے داخل ہونے کی ہمت نہ پڑتی تھی۔ دوستوں کے ساتھ رات کو سوتا رہا۔ مگر کب تک میرا کوئی بوجھ اٹھا سکتا تھا۔ میری کتابیں اور بستر وہاں پڑا تھا۔ ایمان نے پھر جوش مارا اور فیصلہ کر لیا کہ عزت کی موت مروں گا۔ میں گھر آ گیا۔ مجھے پھر کہا گیا کہ مکان کو ہمارے حوالے کر دو میں نے کہا کہ جب تک گورنمنٹ مجھے حکم نہیں دیتی میں ایسا نہیں کر سکتا۔ پورے علاقہ میں ان لوگوں نے اپنی فتح کے ڈنکے بجائے ہوئے تھے کہ دیکھو ہم نے کس طرح سرکاری مسلمانوں کو بھگایا ہے اور یہ کہ ہم جب چاہیں اس قسم کا حشر کرتے ہیں۔ ۲۴/ جنوری ۱۹۷۶ء کو میرا پانی بند کر دیا گیا۔ دو دن پانی بند رہا۔ بار بار کہنے کے بعد ۲۶/ جنوری کو پانی بحال ہوا۔ میں نے اسسٹنٹ آفس میں ایک اور درخواست دی کہ میری جان خطرہ میں ہے۔ میرا بنگلہ بدل دیا جائے۔ مگر صاف جواب دے دیا گیا۔ یہ یاد رہے کہ بجلی پانی اور سوئی گیس کے کنکشن مکان کے نچلے حصہ میں تھے جو کہ ان کے قبضہ میں تھے۔ وہ جب چاہتے بجلی، پانی اور سوئی گیس بند کر دیتے۔ میری ہر حرکت سے وہ واقف تھے۔ جب اسسٹنٹ آفس جاتا تھا تو وہ میرے پیچھے ہو جاتے۔ گویا ان کو حوصلہ ہے کہ یہ خود ہی مکان خالی کر رہا ہے۔ دوسری طرف اسسٹنٹ آفس کا رویہ نہایت ہی قابل افسوس و قابل اعتراض تھا۔ وہ مجھے کوئی مکان دینے کا وعدہ نہیں کرتے اور ایک بار بھی ان لوگوں نے مالک مکان کو اپنے ہاں طلب نہیں کیا اور نہ ہی اس کا کرایہ بند کیا ہے۔ حالانکہ یہ سب چیزیں ان کے فرائض میں داخل تھیں۔
اس اجنبی شہر میں میرا کوئی جاننے والا نہیں تھا۔ میں نے مرزائیوں کے امیر کراچی کو ٹیلیفون کیا اور صورتحال سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بڑے اطمینان سے کہا کہ ہم اس سے پوچھیں گے۔ تین روز تک میری طرف ان کا کوئی ٹیلیفون نہیں آیا۔ میں نے پھر ٹیلی فون کیا۔ مگر ان کا جواب وہی تھا۔ ایک شام جماعت اسلامی کے رکن قومی اسمبلی جناب محمود اعظم فاروقی کے دفتر کا بڑی مشکل سے پتہ معلوم کر کے پہنچا۔ اپنی کہانی سنائی۔ انہوں نے اپنی بے بسی کا اظہار کیا۔ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کروں۔ کدھر جاؤں۔ میرے ذہن کے پردہ پر حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری کا نام ابھرا مگر ان کا پتہ معلوم نہ تھا۔ جماعت اسلامی کے دفتر سے ان کا پتہ پوچھا اور ان کے ہاں آ گیا۔ ان کی بزرگ اور مشفقانہ شخصیت کو دیکھ کر بے حد متاثر ہوا۔ انہوں نے میری کہانی سنی اور مناسب اور جائز مدد کا وعدہ فرمایا۔ آخر میں امت مسلمہ سے کہتا ہوں کہ ہمارے صفوں میں انتشار ہمارے لئے نقصان دہ ہے۔ مرزائی وقفہ وقفہ کے بعد ہمارا وزن کرتے رہتے ہیں۔ یاد رکھو کہ اگر ذرہ بھر
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
اونگھ میں چلے گئے تو ایک اسرائیل ہماری پاک سرزمین میں بھی بن جائے گا۔ جس کی یہ تاک میں لگے ہوئے ہیں۔ میری رسوائی اور ذلت کا تماشہ لوگوں نے دیکھا۔ مگر کسی کے خون میں جوش نہیں آیا۔ ان لوگوں کو ڈپو کا آٹا چاہئے۔ راشن کارڈ مسترد کروانے کی دھمکی ہمارے مسلمانوں کو خاموش کرنے کے لئے کافی ثابت ہوئی۔ اقتصادیات ان کے ہاتھ میں ہے۔ پروپیگنڈا کرنے میں اپنا جواب نہیں رکھتے۔ میری طرح نامعلوم اب بھی کتنے لوگ سسکیاں لے رہے ہیں۔
میں اپیل کرتا ہوں کہ مکمل اتحاد کا ثبوت دیں اور اس وقت تک چین سے نہ بیٹھیں جب تک ان کی کمر کو ہمیشہ کے لئے توڑ نہیں دیا جاتا۔ میرے لئے یہ بات قابل فخر اور باعث اطمینان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے ایمان میں ثابت قدمی دی اور میں کندن بن کر نکلا ہوں۔‘‘
(لولاک، مؤرخہ ۱۴؍مئی ۱۹۷۶ء)
مرزائیوں کی فتنہ بازیوں کے خلاف مسلمانوں کی درخواست
سرگودھا کے نواح میں بسنے والے مرزائی اقتصادی اور مالی لحاظ سے کافی مضبوط تھے۔ اکثر دیہاتوں کے نمبردار مرزائی تھے۔ ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کے فیصلے کے بعد چونکہ مسلمانوں میں مرزائیت کے حوالے سے کافی بیداری آئی تھی اور انہوں نے ان مرزائیوں سے قطع تعلق اور معاشرتی بائیکاٹ کیا۔ مرزائی ایک تو آئین کے فیصلے سے سیخ پا تھے اور دوسری طرف مسلمانوں نے ان سے بائیکاٹ کیا۔ اس وجہ سے اب وہ کھلم کھلا دشمنی پر اتر آئے اور سرعام مسلمانوں کو تنگ کرتے۔ اپنے اثر و رسوخ کا غلط استعمال کرتے۔ مسلمان کچھ عرصہ برداشت کرتے رہے۔ آخر جب ان کے دسیسہ کاریوں سے بلبلا اٹھے تو سرگودھا کے کمشنر کو ایک درخواست لکھی۔ جس میں مسلمانوں کی حالت زار اور مرزائیوں کی سینہ زوری کی وضاحت ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:
’’ہم مسلمانان اہل دیہہ چک نمبر ۹۸ شمالی و چک نمبر ۹۹ شمالی آپ کی خدمت میں گزارش کرتے ہیں کہ ہمارے چکوک میں فرقہ احمدیہ کے کافی لوگ بستے ہیں۔ وہ تعداد میں کافی ہیں اور علمی، ذہنی، اقتصادی اور مالی لحاظ سے ہم سے وہ طاقت ور بھی ہیں۔ اس لئے وہ آئے دن ہمارے ساتھ کوئی نہ کوئی مذہبی یا سیاسی نوک جھونک شروع رکھتے ہیں۔ ہر معاملہ میں ہمیں دبانے اور نیچا دکھانے کی فکر میں رہتے ہیں اور اکثر ہمیں کہتے ہیں کہ آپ سرکاری مسلمان ہیں اور غریب عوام کو روپیہ پیسہ کا لالچ دے کر دھڑا دھڑ فرقہ احمدیہ میں شامل کر رہے ہیں اور حال ہی میں چند مسلمان ان کے اثر و رسوخ سے مرتد ہو گئے ہیں۔ جن کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔
- ۱...... بشیراحمد ولد عنایت احمد، مسلم شیخ۔
- ۲...... خان احمد ولد احمد خان قوم وڑائچ۔
- ۳...... جہان خان ولد جلال خان، قوم وڑائچ۔
- ۴...... محمد صدیق ولد جلال خان قوم وڑائچ۔
- ۵...... نذیر احمد ولد احمد خان قوم وڑائچ۔
- ۶...... غضنفر علی ولد محمد حسین پٹواری۔
- ۷...... اسحاق انور ولد ابراہیم قوم لوہار۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
- ۸....... سلطان احمد تیلی ولد گوہر۔
اب ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ کیونکہ انہوں نے حال ہی میں اپنی ایک فلم اپنی عبادت گاہ میں دکھائی ہے۔ جس میں اسلام اور مسلمانوں کا مذاق اڑایا گیا ہے۔ ان کی یہ تمام حرکات ہمارے لئے ناقابل برداشت حد تک پہنچ چکی ہیں۔ اس لئے ہمارے اور ان کے درمیان کسی ناخوش گوار واقعہ کے وقوع میں آنے کا خطرہ لاحق ہے۔ لہٰذا ہم مسلمانان چکوک مذکورہ استدعا کرتے ہیں کہ ہمارے مندرجہ ذیل مسائل کو حل فرما کر اس جھگڑے کا بروقت سدباب فرمائیں۔
- ۱...... ان کی عبادت گاہوں میں لاؤڈ سپیکر ہیں۔ جن پر روزانہ صبح و شام ہمارے عقیدہ کے خلاف باتیں کی جاتی ہیں اور ختم نبوت پر وہ
تقاریر کرتے ہیں کہ نبوت ختم نہیں ہوئی ہے اور یہ بات چیلنج سے کہتے ہیں۔ اس کام کے لئے ربوہ کی طرف سے ایک ایک معلم مقرر ہے۔ جو تقریباً تین سو روپیہ ماہوار تنخواہ پاتے ہیں۔ آخر تنگ آمد بجنگ آمد والی بات نہ ہو جائے۔ اس لئے براہ کرم لاؤڈ سپیکر بند کرنے کا آرڈر صادر فرمائیں۔
- ۲...... چک نمبر ۹۸ کا نمبردار احمدیہ فرقہ سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ بذات خود بھی تبلیغ کرتا ہے جو مسلمان اس کی باتوں کو جواب دے اس کو
تنگ کرتا ہے۔ اس کا نعم البدل انتظام کیا جائے۔
- ۳...... جناب عالی! یہ مسئلہ ہمارے نزدیک بہت ہی اہمیت کا حامل ہے۔ کئی بار متعلقہ حکام کی توجہ اس مسئلہ کی طرف مبذول کرائی گئی
ہے۔ لیکن ندارد۔ حالت یہ ہے کہ سکول چک نمبر ۹۸ شمالی میں گیارہ استانیاں ہیں۔ ان میں سے بمعہ ہیڈ معلمہ ۷ استانیاں فرقہ احمدیہ کی ہیں اور صرف تین مسلمان اور ایک عیسائی ہے۔ گرلز مڈل سکول چک نمبر ۹۹ شمالی میں چودہ استانیاں ہیں۔ جن میں ہیڈ معلمہ سمیت دس استانیاں فرقہ احمدیہ کی ہیں۔ دو عیسائی ہیں اور دو مسلمان ہیں اور حالت یہ ہے کہ چک نمبر ۹۸ شمالی سے استانیاں بچیوں کو ساتھ لے کر دو تین دفعہ ربوہ گئیں ہیں۔ ان کا تبادلہ فرمائیں۔
- ۴...... گزارش ہے کہ پرائمری سکول چک نمبر ۹۸ شمالی کا مدرس تقریباً تیرہ سال سے سکول ہٰذا میں متعین ہے۔ مدرس مذکور احمدیہ فرقہ
سے تعلق رکھتا ہے اور کھلے بندوں احمدیہ تعلیم سے بچوں کو روشناس کرواتا ہے۔ جس کا یہ طریقہ ہے۔ صبح اسمبلی کے وقت مرزا قادیانی کی شاعری کی کتاب ”درثمین“ سے کئی شعر سنائے جاتے ہیں اور لڑکوں کو زبانی یاد کرائے جاتے ہیں۔ مثلاً یہ شعر سکول کے ہر بچے کو زبانی یاد ہے۔ جو آپ خود بھی آ کر ان معصوم بچوں سے سن سکتے ہیں ؎
دین کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال
جناب والا! اس کے علاوہ مدرس مذکور شرپسند اور فساد پسند بھی ہے۔ مذہبی لبادہ اوڑھ کر اہل دیہہ کو لڑواتا رہتا ہے اور اکثر مقدمہ بازی میں ملوث رہتا ہے۔ اس نے مسلمانوں کو کافی پریشان کر رکھا ہے۔ مدرس مذکور کے ذمہ مندرجہ ذیل مستقل کام بھی ہیں۔ آپ ذرا غور فرمائیں کہ اتنی ذمہ داریوں کی موجودگی میں ”بچوں“ کو نصابی تعلیم کے لئے کیا وقت دیتا ہوگا۔
- ۱...... رجسٹر نکاح۔
- ۲...... پرچون کی دوکان۔
- ۳...... چینی کا کوٹہ۔
- ۴...... ڈاک خانہ۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
- ۵....... ڈسپنسری۔ ۶....... ایجنٹ منصوبہ بندی۔
- ۷....... ماہانہ گوشوارہ جماعت احمدیہ تیار کرنا اور ربوہ بھیجنا۔
- ۸....... اہل دیہہ کی سیاست میں ٹانگ اڑانا، مذہبی تعلیم وتبلیغ کرنا اور مقدمہ بازی کرنا۔
جناب والا! جو کچھ درخواست ہذا میں عرض کیا گیا ہے وہ حلفیہ ہے اور اصل حقیقت سے بہت کم ہے۔ بلکہ معلم مذکور نے بعض ایسی نازیبا اور بدچلنی کی حرکات ہیں کہ جن کو ایک معلم کے خلاف تحریر کرنے کے لئے ہمارا اخلاق اجازت نہیں دیتا۔ قبل ازیں کئی درخواستیں دے چکے ہیں۔ لیکن کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ وہ اپنے اثر ورسوخ سے درخواستیں دبوادیتا ہے۔ اس لئے استدعا ہے کہ معلم مذکور کا فی الفور تبادلہ فرمائیں اور اہل دیہہ کو اس کی خدمات سے نجات دلائیں۔ (۲۱؍ افراد درخواست دہندگان)
(لولاک مورخہ ۲۱؍ مئی ۱۹۷۶ء)
مرزائیوں کی کرامات، سید ابوبکر غزنوی کا حادثہ
ستمبر ۱۹۷۴ء میں ہم نے مرزائیوں کے کوک شاستر ”الفضل“ کے حوالے سے ذکر کیا تھا کہ انہوں نے سڑکوں کے حادثات، اغوا، ڈکیتی کی وارداتوں اور اس نوعیت کی دیگر خبروں پر مشتمل ایک کالم شروع کیا تھا اور ان سب کو مرزائیوں کی کرامات اور مرزائیوں کے ساتھ ہونے والے ”ظلم“ کا انجام بتایا تھا۔ حیات شیر پاؤ، شاہ فیصل کی شہادت کو بھی انہوں نے اسی تسبیح کے دانوں میں پرویا تھا۔ اپریل ۱۹۷۶ء میں انہوں نے اپنی ایک نئی کرامت کا اعلان کیا کہ مولانا سید ابوبکر غزنوی ہمارے مخالف تھے۔ انہوں نے لندن اسلامی کانفرنس میں ہماری مخالفت کی تھی۔ اس لئے وہاں کار حادثے میں جاں بحق ہو گئے اور ان کی وفات ہو گئی۔ مرزائیوں کا اس کالم سے مقصود یہ تھا کہ جس دن مرزائیوں کے خلاف فیصلہ ہوا ہے۔ اس دن سے اللہ تعالیٰ پاکستان والوں سے ناراض ہو گئے ہیں۔ ہفت روزہ لولاک میں اس کالم کا نوٹس لیا گیا اور حکومت کو متوجہ کیا کہ الفضل مرزائیوں کو کافر قرار دیئے جانے کے بعد رنج میں ایسی باتیں تحریر کر رہا ہے۔ جو لوگوں میں مایوسی اور حکومت کے خلاف بددلی پیدا کرنے والی ہیں۔ نتیجتاً وہ کالم تو مستقل ختم ہو گیا۔ لیکن پھر بھی کوئی اہم واقعہ رونما ہوتا تو مرزائی اخبارات اس سے اپنی کرامت کا پہلو نکال لیتے۔ جیسا کہ مولانا ابوبکر غزنوی کے متعلق انہوں نے ڈینگ ماری تھی۔
(لولاک، مورخہ ۲۷؍ مئی ۱۹۷۶ء)
اقلیتوں کا ہفتہ
یکم؍ جون ۱۹۷۶ء سے ۷ جون تک وطن عزیز میں اقلیتوں کا ہفتہ منایا گیا۔ اس ہفتے کا اہتمام وفاقی وزیر مولانا کوثر نیازی نے کیا تھا۔ ملک بھر کے قابل ذکر شہروں میں اس سلسلہ میں تقریبات منعقد ہوئیں۔ اس بات کی بھر پور کوششیں کی گئیں کہ اقلیتوں میں عزت نفس اور اعتماد کو بحال رکھا جائے۔ ملک میں امن وامان کی ضرورت کے پیش نظر یہ ایک خوش آئند اقدام تھا کہ اقلیتوں کی ملک سے وفاداری کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کے لئے ان کو اہمیت دی جائے اور ان کے اعتماد کو تقویت دی جائے۔
اقلیتوں کے ہفتے کے سلسلہ میں متذکرہ بالا روشن پہلو کے ساتھ ساتھ ایک تاریک پہلو بھی متوقع طور پر سامنے آیا تھا کہ مرزائی جو دنیائے اسلام کے نزدیک متفقہ طور پر کافر تھے اور کافر ہیں، اقلیتوں کے شمار میں کہیں نظر نہیں آئے۔ نہ تو ربوہ میں کوئی اقلیتی ہفتہ منایا گیا اور نہ ہی وہ اقلیتوں کے سلسلہ میں منعقد ہونے والی تقریبات میں کہیں شریک ہوئے۔ صرف یہی نہیں کہ انہوں نے اقلیتی ہفتہ نہیں منایا بلکہ ان
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
کی جماعت کے ترجمان نے اقلیتی ہفتہ منائے جانے کے بعد وضاحتی بیان جاری کر کے ایک مرتبہ پھر اعلان کر دیا کہ وہ دستور پاکستان کے منکر اور اس کے کھلم کھلا مخالف ہیں۔
جماعت احمدیہ ربوہ گروپ کے مرکزی سیکرٹری انفارمیشن و نظارت اصلاح و ارشاد نے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ: ”جماعت احمدیہ کے افراد چونکہ مسلمان، مؤمن اور موحد مسلم ہیں۔ لہٰذا غیر مسلم اقلیتوں، عیسائیوں اور ہندوؤں کے ہفتہ میں جماعت احمدیہ کے شامل ہونے اور حصہ لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور اس بارے میں بشیر طاہر ممبر قومی اسمبلی کا یہ بیان کہ جماعت احمدیہ ہفتہ اقلیت میں بھر پور حصہ لے گی۔ سراسر غلط ہے۔ کیونکہ جماعت احمدیہ اعلان کر چکی ہے کہ بشیر طاہر اسلام (مرزائیت) سے ارتداد کر چکا ہے۔ اس لئے اس کا جماعت مبایعین سے کوئی تعلق نہیں رہا اور جو شخص اسلام (مرزائیت) سے ارتداد کرے۔ اس کا جماعت احمدیہ سے کوئی تعلق نہیں رہ سکتا۔“
(روزنامہ وفاق مؤرخہ ۵/ جون ۱۹۷۶ء)
مرزائیوں کی اس کھلم کھلا بغاوت پر کئی اخبارات و جرائد میں لکھا گیا کہ کسی ملک کا دستور و آئین اس ملک کے باشندوں کے لئے مقدس اور قابل احترام ہوتا ہے۔ اس سے روگردانی اور انکار کرنے والا شخص باغی اور غدار شمار ہوتا ہے اور کسی رحم و مہلت کا حق دار نہیں۔ مرزائیوں نے ۷/ ستمبر کے فیصلے کے بعد کھلم کھلا کہنا شروع کیا ہے کہ ہم آئین کو ماننے کے لئے تیار نہیں۔ چوہدری ظفر اللہ نے اپنے کتابچہ ”میرا دین“ میں یہی اعلان کیا تھا اور یہی موقف مرزائیوں نے مرزا بشیر طاہر کے سلسلہ میں اختیار کیا۔ سرگودھا کیس میں مرزا ناصر احمد اور ان کی جماعت کے وکلاء نے یہی مؤقف اختیار کیا تھا اور مرزائی اخبارات و رسائل میں بھی مسلسل یہی راگ الاپ رہے تھے۔ ۱۸/ اپریل ۱۹۷۶ء کو ربوہ میں مرزائیوں کی نیم فوجی تنظیم ”خدام الاحمدیہ“ کا بتیسواں سالانہ اجلاس ہوا۔ اس میں مرزا ناصر احمد نے بھی یہی اعلان کیا تھا اور نہایت باغیانہ تقریر کی تھی۔ الفاظ یہ ہیں: ”ہمارا ایمان ہے اور اس ایمان پر علی وجہ البصیرت قائم ہیں کہ خدا نے ہمیں مسلمان قرار دیا ہے۔ بے شک ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ملک کی قومی اسمبلی نے ہمیں صرف قانونی اغراض کے لئے مسلمان نہیں سمجھا ہے۔ لیکن ایک مسلمان اپنے ایمان کے لئے کسی دستور یا قانون کا محتاج نہیں۔“
(البدر، مؤرخہ ۲۰/ مئی ۱۹۷۶ء)
تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ میں جد و جہد
قادیانی گروپ کی طرح لاہوری مرزائی بھی آئین اور دستور سے برگشتہ تھے۔ لاہوریوں کے ہفت روزہ ”لاہور“ نے اسمبلی کے ممبروں کو دین سے نابلد بتایا اور اسمبلی کے ممبران اور ۷/ ستمبر کے فیصلے کو استہزاء کا نشانہ بناتے رہے۔ ضرورت تھی کہ حکومت اعلان کرتی کہ یہ ہفتہ جس طرح عیسائیوں، ہندوؤں، بودھوں کا ہے۔ جس طرح قادیانیوں کا بھی ہے۔ آئین اور دستور سے برگشتگی قادیانیوں کی گھٹی میں ملی ہوئی تھی۔ دونوں طبقے لاہوری اور ربوی آئین کو پرکاہ کے برابر اہمیت بھی نہیں دیتے تھے۔ قادیانیوں کی آئین سے بغاوت اور حکومت کی چشم پوشی کے پیش نظر جون میں مختلف مقامات پر مجلس تحفظ ختم نبوت کے اجتماعات ہوئے۔ جس میں گھمبیر صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور حکومت سے استدعا کی گئی کہ:
- ۱...... جن قادیانی پرچوں میں اسمبلی کے فیصلے، اس کی حیثیت اور اس پر تنقید و استہزاء کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کے خلاف ڈیفنس آف
پاکستان رولز کے تحت کارروائی کی جائے۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب وتحقیق: مولانامحمد عبداللہ معتصم
- ۲...... قادیانی خلیفہ مرزا ناصر احمد اور لاہوری امیر صدر الدین غیر مسلم اقلیت ہونے کا تحریری اعلان کریں۔
- ۳...... قادیانی آئندہ انتخابات میں علیحدہ نمائندگی کی بناء پر الیکشن لڑیں۔
- ۴...... مرزا ناصر احمد اور صدر الدین اپنا ایک مشترکہ نمائندہ اسمبلی میں بھیجیں یا موجودہ نامزد نمائندے کو اپنا نمائندہ قرار دیں۔
کالروالا سیالکوٹ میں مولانا احمد علی شاہ سے مرزائی مبلغ کا فرار
کالروالا ضلع سیالکوٹ میں مرزائیوں کی بدمستیوں اور خرمستیوں کو نکیل ڈالنے والوں میں سے ایک مولانا احمد علی شاہ صاحب تھے۔ جن کی تبلیغی مساعی کی وجہ سے کالروالا میں کوئی بیس کے لگ بھگ مرزائی حلقہ اسلام میں داخل ہو گئے تھے۔ اگست ۱۹۷۴ء کو ان پر مرزائیوں کی طرف سے قاتلانہ حملہ بھی ہوا تھا۔ مرزائی مبلغین اس علاقہ پر نظر رکھتے تھے۔ ایک مستقل مرزائی مبلغ کالروالا میں موجود رہتا۔ اس کے علاوہ گشتی مبلغ بھی وہاں ورود کرتے رہتے۔ جون ۱۹۷۶ء میں احمد علی نامی ایک مبلغ کی ربوہ سرکار کی طرف سے تعیناتی ہو گئی۔ یہ شخص اپنے آپ کو پنجاب یونیورسٹی کا فاضل عربی کہتا تھا۔ کالروالا میں نازل ہونے کے چند دن بعد اس نے ایک مقامی مرزائی کی وساطت سے مولانا احمد علی شاہ سے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔ احباب کی دلچسپی کے لئے شاہ صاحب اور مرزائی مربی کے درمیان بحث وتمحیص کی جھلکیاں ذکر کرتے ہیں۔
شاہ صاحب کی طرف سے دیر ہی کیا تھی۔ چنانچہ شاہ صاحب نے کہا ٹھیک ہے بھیج دیں انہیں ۔ سات بجے صبح کے قریب مبلغ صاحب شاہ صاحب کی بیٹھک میں تشریف لائے ۔ رسمی ملاقات کے بعد انہوں نے اختلافی مسائل شروع کر دئیے ۔ شاہ صاحب نے انہیں منع کیا کہ آپ مہمان ہیں۔ اس لئے بحث وتمحیص کچھ اچھی چیز نہیں ۔ ویسے بھی آپ کو نیشنل اسمبلی کے فیصلے کا پابند ہونا چاہئے ۔ لیکن مرزائی مبلغ اپنی بات پر اڑے رہے ۔ چنانچہ شاہ صاحب نے بھی جواب دینا شروع کر دیا۔ حیات مسیح پر بات ہوئی تو شاہ صاحب نے کتب مرزا سے ان کی تضاد بیانی دکھانا چاہی۔ لیکن مبلغ مذکور کتب مرزا کا رخ ہی نہیں کرتے تھے ۔ شاہ صاحب نے انہیں واضح کیا کہ آپ سے بات کتب مرزا پر ہوگی ۔ قرآن وحدیث کے حوالے سے آپ سے بات نہیں ہوگی ۔ کیونکہ جب مرزائیوں ، عیسائیوں سے بات ہوتی ہے تو انجیل کے حوالے سے ہوتی ہے ۔ یہودیوں سے بات ہوتی ہے تو تورات کے حوالے سے اور آپ سے بات ہوگی تو کتب مرزا سے ۔
معیار صداقت کی بات چلی تو شاہ صاحب نے مرزا بشیر احمد کا قول جس میں اس نے لکھا ہے کہ مرزے کا عرصہ نبوت ۲۳ سال تھا، کو مرزائی اختراع قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے بھی مرزا قادیانی کی تردید ہوتی ہے۔ مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ ۱۸۹۰ء میں کیا اور ۱۹۰۸ء میں فوت ہو گئے ۔ چنانچہ ”احمدیت حقیقی اسلام“ کے مصنف مرزا بشیر الدین محمود کی یہ بات کسی طرح بھی درست نہیں ۔ مرزا قادیانی نے اس عرصہ میں اپنا دعویٰ واپس بھی لے لیا تھا اور ۱۹۰۱ء میں دوبارہ دعویٰ کیا تھا۔ چنانچہ کسی طرح بھی ان کا دور نبوت ۲۳ برس نہیں بنتا۔ شاہ صاحب نے مرزا قادیانی کی دروغ گوئی کے بارے میں مرزائی مبلغ کو دعوت دی کہ وہ مرزا قادیانی کی ”ھذا خلیفۃ اللّٰہ المھدی“ والی حدیث ساری بخاری شریف سے نکال کر دکھا دیں تو وہ انہیں انعام دینے کو تیار ہیں۔ لیکن مرزائی مبلغ اس کا بھی کوئی جواب نہ دے سکا۔
شاہ صاحب نے کہا کہ قرآن پاک میں ہے ۔ ”ومن دخلہ کان امنا“ یعنی جو حرمین شریفین میں داخل ہو اس کے لئے امان ہے ۔ لیکن مرزا قادیانی کو تو وہاں بھی امن نہیں بلکہ انہیں تو برطانیہ کی سلطنت میں ہی امن ہے ۔ شاہ صاحب نے مرزا محمود قادیانی کا وہ مقولہ
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
بھی بیان کیا کہ ”مکہ کی چھاتیوں سے دودھ خشک ہو چکا ہے۔“ اس کی وضاحت کے لئے شاہ صاحب نے مرزائی رسالہ ”انصار اللہ“ ربوہ کی مارچ ۱۹۷۵ء کی اشاعت سے ایک نظم کے چند اشعار پڑھ کر سنائے جو کہ میر اللہ بخش تسنیم نے لکھی ہے۔ شعر ہیں؎
ربوہ سے اٹھ اٹھ کر برستا ہے جہاں میں کعبے سے اٹھا تھا جو کبھی ابر گہر بار
یعنی اب مکہ کی حیثیت چھن چکی ہے اور اس کی عظمت ربوہ کے حصہ میں آئی ہے۔ مرزائی مبلغ ان مسائل کا بھی توڑ پیش کرنے سے قاصر رہا۔ بلکہ جب بھی کتب مرزا کی بات چلی مرزائی مبلغ نے جان چھڑانا چاہی اور اٹھ کر بھاگنے کی کوشش کی اور شاہ صاحب نے اس کا بازو پکڑ کر بٹھایا۔ مرزائی مبلغ جو اپنے آپ کو بڑا تیس مار خان کہتا تھا شاہ صاحب کے پیہم کتب مرزا کے حوالوں سے بوکھلا اٹھا اور باوجود انتہائی کوشش کے وہ اٹھ کر چلا گیا اور اس طرح یہ بحث و تمحیص تقریباً سوا ڈیڑھ گھنٹے تک ہوتی رہی۔ جس میں شاہ صاحب کو خدائے تعالیٰ کے فضل سے کامیابی ہوئی۔
سید مظفر علی شمسی کی وفات حسرت آیات
۱۹ / جون ۱۹۷۶ء کو تحریک آزادی کے نامور مجاہد شمع ختم رسالت کے پروانے اور اتحاد بین المسلمین کے علمبردار شیعہ رہنما سید مظفر علی شمسی اس دار فانی سے رحلت کر کے اپنے خالق حقیقی کے پاس چلے گئے۔
۲۰ / جون کو ملک مہدی حسن علوی شیعہ مکتب فکر کے ممتاز عالم دین نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ لاہور اور بیرون سے گئے ہوئے ہزاروں لوگوں نے جنازہ میں شرکت کی۔ جنازہ میں ہر مکتب فکر اور ہر حلقہ اور ہر طبقہ کے لوگ شامل تھے۔ سید مظفر علی شمسی کی وفات سے ملک بھر کے دینی حلقوں کو خصوصی طور پر شدید صدمہ ہوا تھا۔ وہ اتحاد بین المسلمین کے زبردست حامی اور علمبردار تھے۔ انہوں نے تحریک آزادی کے علاوہ تحریک ختم نبوت میں زندگی بھر حصہ لیا۔ وہ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے رفقاء میں سے تھے اور مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کے نائب صدر تھے۔ انہوں نے تحریک آزادی ہند میں حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے زیر قیادت عظیم جدوجہد کی اور اس راہ میں گرانقدر قربانیاں دیں۔ پاکستان بن جانے کے بعد چونکہ حضرت امیر شریعت مرحوم نے سیاست ہی سے کنارہ کشی کر لی تھی اور تحریک تحفظ ختم نبوت کی داغ بیل ڈالی۔ شمسی صاحب مرحوم ختم رسالت کے زبردست شیدائی اور فدائی تھے۔ اس میدان میں بھی شمسی صاحب مرحوم نے حضرت شاہ صاحب مرحوم کے شانہ بشانہ بڑی قربانیاں دیں۔
۱۹۵۳ء کی تحریک تحفظ ختم نبوت میں وہ مرکزی رہنماؤں کے ساتھ گرفتار ہوئے۔ اس وقت کی حکومت نے تحریک کے رہنماؤں کے ساتھ انتہائی ناروا سلوک کیا۔ شمسی صاحب نے وہ تمام مصائب بڑی پامردی اور خندہ پیشانی سے برداشت کئے۔ کچھ عرصہ بعد جب منیر کمیشن قائم ہوا اور تحریک کے حالات اور واقعات کی تحقیقات شروع ہوئی تو کوشش کی گئی کہ تحریک کے رہنماؤں میں پھوٹ ڈلوا دی جائے۔ چنانچہ تحقیقاتی کمیشن کے روبرو شمسی صاحب سے اس قسم کے سوال دریافت کرنے کا سلسلہ شروع ہوا جن سے شیعہ سنی اختلافات کو اچھالنا اور ابھارنا مقصود تھا۔ لیکن شمسی صاحب نے تمام سوالات کا ایک ایسا مسکت جواب دیا کہ دشمنوں کی تمام سکیم ناکام ہو گئی۔
شمسی صاحب نے عدالت میں کہا کہ : ”حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ آپ پر نبوت ختم ہو گئی۔ آپ کے بعد دعویٰ کرنے والا دجال، کذاب اور کافر ہے۔ ہمارے آپس میں اختلافات ہیں۔ لیکن اگر حضور ﷺ کی ختم نبوت کے تحفظ کی خاطر پاکستان بھر
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
کے تمام شیعہ صاحبان کو دیواروں میں چن دیا جائے، سولیوں پر لٹکا دیا جائے تو ہم یہ سب کچھ خندہ پیشانی سے قبول کریں گے۔ لیکن مرزائیوں کے مقابل اپنے اتحاد کو نقصان نہیں پہنچنے دیں گے۔‘‘
۱۹۷۴ء کی تحریک تحفظ ختم نبوت میں بھی وہ صف اوّل کے رہنماؤں میں تھے۔ آغا شورش کاشمیری اور شمسی صاحب مرحوم نے اپنی شعلہ نوائی سے تحریک کو توانائی اور حرارت بخشی۔ انہیں مجلس عمل کا نائب صدر منتخب کیا گیا اور وہ مجلس عمل کے صدر حضرت مولانا محمد یوسف بنوری کے بڑے زبردست وفادار جرنیل ثابت ہوئے۔ تحریک کے بعد مرزائیوں اور دہریوں نے مل کر کوشش کی کہ ملک بھر میں شیعہ سنی فسادات کرا دیئے جائیں اور کامیاب ہو جانے والی تحریک کو نتائج کے اعتبار سے ناکام بنا دیا جائے۔ لیکن سید مظفر علی شمسی نے شیعہ حضرات کو خبردار کیا کہ وہ دشمن کی چال میں نہ آئیں۔ دونوں طرف سے سعید روحیں آڑے آگئیں اور فسادات کا خطرہ ٹل گیا۔ ۱۹۷۵ء کے آخر میں سرگودھا میں شیعہ، سنی، مناقشت شروع ہوگئی۔ شمسی صاحب نے وہاں جا کر ڈیرے ڈال دیئے اور اس طرح ان کی نیک مساعی سے تصادم کا خطرہ ٹل گیا۔
ان کی وفات پر صدر مملکت، وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ، وفاقی وزیر امور مذہبیہ کے علاوہ مولانا سید محمد یوسف بنوری، مولانا مفتی محمود اور دوسرے بزرگوں نے تعزیتی بیان دیئے۔ گہرے رنج و الم کا اظہار کیا اور ان کی موت کو ملک وملت کے لئے ناقابل تلافی نقصان قرار دیا تھا۔ شمسی صاحب نے ۶۲ سال کی عمر میں وفات پائی۔
سید مظفر علی شمسی کی وفات پر مجلس تحفظ ختم نبوت کے تمام قائدین ومبلغین نے تعزیتی بیانات دیئے اور اس سانحہ کو امت کے لئے بڑی آزمائش قرار دیا۔ امیر مرکزیہ حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری اور ناظم اعلیٰ مولانا محمد شریف جالندھری نے گہرے دکھ ورنج کا اظہار کیا اور مشترکہ بیان میں کہا کہ شمسی صاحب ختم نبوت کے بہادر جرنیل تھے۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں کارہائے نمایاں انجام دیئے۔ افتراق وتشتت کی فضا میں شیعہ سنی اتحاد کے نقیب تھے۔ ان کی وفات پر ختم نبوت کے محاذ پر کام کرنے والے ساتھیوں کے لئے ایک ایسا خلا واقع ہوگیا جس کا پر کرنا مشکل ہے۔ مجلس عمل کے مرکزی رہنما مولانا تاج محمود، مولانا اللہ وسایا، مولانا کریم بخش نے پسماندگان سے اظہار تعزیت کیا۔
(لولاک مؤرخہ ۳؍جولائی ۱۹۷۶ء)
ختم نبوت کانفرنس کوئٹہ، فورٹ سنڈیمن
۹، ۱۰، ۱۱؍جولائی ۱۹۷۶ء کو کوئٹہ اور ۱۴، ۱۵، ۱۶ کو فورٹ سنڈیمن میں ختم نبوت کانفرنسوں کا انعقاد ہوا۔ صدارت امیر مرکزیہ حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری نے فرمائی۔ حضرت الامیر کے علاوہ حضرت مولانا محمد شریف جالندھری، حضرت مولانا تاج محمود صاحب، حضرت مولانا عبدالرحمن میانوی، حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر، حضرت مولانا محمد لقمان علی پوری، حضرت مولانا منظور احمد شاہ، سردار میر عالم خان لغاری، حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ، حضرت مولانا نذیر احمد، مولانا عبدالرؤف، مولانا عبداللطیف اور سید امین گیلانی نے شرکت فرمائی۔ ان حضرات کے علاوہ مقامی علماء کرام نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔
(لولاک مؤرخہ ۲۹؍جولائی ۱۹۷۶ء)
مرزا ناصر امریکہ ویورپ میں
جولائی ۱۹۷۶ء کے آغاز میں مرزا ناصر احمد ہیڈ آف دی جماعت احمدیہ اپنے لاؤ لشکر کے ہمراہ امریکہ چلے گئے۔ ان کے بیٹے
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
مرزا غلام احمد نے جو اس دورہ میں ان کے ہمراہ تھے۔ ڈیٹین شہر (امریکہ ) سے بذریعہ تار ربوہ یہ پیغام بھیجا کہ مرزا ناصر احمد امریکہ کے مختلف شہروں کا دورہ کرتے ہوئے جب ڈیٹین شہر پہنچے تو شہر کے کمشنر نے مرزا ناصر کا پر تپاک استقبال کیا اور انہیں ڈیٹین شہر کی چابی پیش کی ۔ ۱۹۷۵ء کے حالات میں ہم نے ذکر کیا ہے کہ مرزا ناصر احمد اس وقت بھی لندن چلے گئے تھے۔ ربوہ کے پیشوا کے ان دوروں کا مقصد یہ تھا کہ مرزا قادیانی ان خداؤں سے مدد مانگیں جن کی خاطر وہ گزشتہ ایک صدی سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف خفیہ ، اعلانیہ ، دسیسہ کاریوں میں مصروف رہے تھے ۔ دورہ امریکہ اور دورۂ لندن دونوں میں مرزا ناصر احمد نے بھارت اور اسرائیل کے انٹیلی جنس کے سربراہوں سے بھی ملاقاتیں کی تھیں ۔ اس لئے کہ مرزائیوں کا کعبہ قادیان ہے ۔ ان کا مذہبی عقیدہ ہے کہ پاکستان عارضی ہے۔ یہ جلد اکھنڈ بھارت بننے والا ہے۔ مرزائیوں کو اس دن کا شدت سے انتظار تھا اور ہے۔ جس دن وہ ربوہ سے قادیان واپس چلے جائیں گے۔ انہوں نے اپنی میتیں ربوہ کے قبرستان میں امانتاً دفن کی ہوئی ہیں ۔ حتیٰ کہ مرزا ناصر احمد کے باپ مرزا بشیر الدین محمود کی قبر پر ان کی وصیت آج بھی لکھی ہوئی موجود ہے کہ جب حالات سازگار ہو جائیں تو میری میت کو یہاں سے اکھیڑ کر قادیان پہنچایا جائے ۔
مرزا ناصر احمد کو جو ڈیٹین شہر کی چابی پیش کی گئی تھی ۔ اس لئے نہیں کہ مرزا ناصر احمد ڈیٹین کے کمشنر کے مرشد یا استاد تھے ۔ کوئی روحانی ، علمی یا ادبی شخصیت تھے ۔ یا کمشنر ڈیٹین کو اہالیان پاکستان سے محبت وعقیدت تھی کہ انہوں نے مرزا ناصر احمد کو ایک پاکستانی کی حیثیت سے یہ اعزاز بخشا ہو ۔ اس سے پہلے پاکستان کی اہم شخصیتیں لیاقت علی خان، چوہدری محمد علی ، محمد علی بوگرا ، ایوب خان ، ذوالفقار علی بھٹو ، امریکہ کا دورہ کر چکی تھیں ۔ ان میں سے کسی کو بھی یہ اعزاز حاصل نہ ہوا ۔ امریکن قوم کے نزدیک مرزا ناصر احمد کی کوئی ” خصوصیت “ تھی تب ہی انہیں اس طرح نوازا گیا۔ مرزا قادیانی کے ہمراہ جو ٹیم گئی ہوئی تھی اس میں مرزائی اخبار الفضل کے ایڈیٹر مسعود دہلوی بھی شامل تھے ۔ اس دورے میں مرزا صاحب کے اس ازلی غلام نے ایڈیٹر سے وقائع نگار بن کر مرزا ناصر کے سفر کی رپورٹ مرتب کی اور اس کو روزنامہ الفضل میں سلسلہ وار چھاپا ۔ رپورٹ سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ یہ رپورٹ ربوہ میں تیار نہیں کی گئی ۔ بلکہ تل ابیب کی تیار کردہ لگ رہی تھی ۔
رپورٹ کو غور سے پڑھنے کے بعد مرزا ناصر احمد کے اس پراسرار دورے کے تین رخ سامنے آتے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں :
- ......۱ رپورٹ میں جماعت کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی تھی کہ مرزا ناصر احمد اور اس کے چیلے چانٹے امریکہ اور یورپ میں اسلام کی
تبلیغ کے لئے گئے تھے اور ان کی تبلیغ کے ذریعے امریکا اور یورپ اسلام ( مرزائیت ) قبول کرنے والے ہیں ۔ لہٰذا تم وقتی چیزوں سے مایوس اور بددل نہ ہو جاؤ۔ جماعت کے کھونٹے سے بندھے رہو اور جماعت کے سارے چندے باقاعدگی سے دیتے رہو۔ بالآخر جماعت کو غلبہ حاصل ہو کر رہے گا ۔
- ......۲ انہوں نے پاکستان کی قومی اسمبلی کا یورپ اور امریکہ میں مذاق اڑایا۔ اس کے فیصلے کی دھجیاں بکھیریں اور پاکستان کی تضحیک اور
مذمت اور اس کی رسوائی اور بدنامی کی مہم جوئی میں مصروف رہے اور ان لوگوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ ہمارے متعلق پاکستان کا فیصلہ ایک قانونی ، سیاسی ، وحشیانہ ، جاہلانہ اور غلط فیصلہ ہے ۔ ہم اس فیصلے کے باوجود حقیقی مسلمان ہیں ۔ جب کہ دوسرے سرکاری مسلمان ہیں ۔
- ......۳ ایک شاطر اور عیار سیاستدان کی طرح مرزا ناصر نے اس دورہ میں اپنے آپ کو ایسی سرگرمیوں سے کیموفلاج کرنے کی کوشش کی
جن سرگرمیوں پر بظاہر حکومت پاکستان کوئی اعتراض کر سکے ۔ مثلاً وہ جہاں گئے انہوں نے اپنی جماعت کے تنظیمی طرز کے
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
اجتماعات رکھے اور ان میں سارے امریکہ اور سارے یورپ کو احمدی بنا لینے اور احمدیت کو عین اسلام قرار دینے اور احمدیت کا ساری دنیا میں بہت جلد غلبہ آجانے کی بے سروپا باتیں کیں ۔
اس طرح وہ جہاں گئے ، پہاڑوں، جھیلوں ، دریاؤں، روشنیوں اور معروف سیر گاہوں سے لطف اندوز ہو کر اپنے مغل شہزادہ ہونے کی حس کی تسکین کا سامان کرتے رہے۔ ان غیر سیاسی مذہبی تفریحی سرگرمیوں کی آڑ اور پردہ میں اپنے آقایان ولی نعمت اور ایسے خاص لوگوں سے خفیہ ملاقاتیں بھی کیں جو اسلام اور پاکستان کے دشمن تھے۔ یہاں تک کہ آف دی ریکارڈ وہ صدر فورڈ سے بھی ملے تھے۔ مرزا ناصر احمد کی سب سے زیادہ آؤ بھگت امریکا اور مغربی جرمنی میں ہوئی ۔ جو ان دنوں پاکستان کے متعلق سب سے زیادہ دشمنی کا اظہار کرتے تھے۔ مرزا ناصر احمد کی ان ممالک میں آؤ بھگت کا تہ منظر یہ ہے کہ فریقین میں ملاقات اسلام دشمنی ، پاکستان کی بربادی اور بھٹو حکومت کے خلاف سازش کی غرض سے تھی۔
مرزا ناصر احمد کا مغربی جرمن کا دورہ کس غرض سے تھا؟ لندن کے ایک اردو ہفت روزہ کے اخبار نے اس راز سے پردہ اٹھایا۔ لندن کے ہفت روزہ ”آزاد“ نے لکھا تھا: ”قادیانیوں کا مرکزی ہیڈ کوارٹر پاکستان کے شہر ربوہ سے ہمبرگ ( جرمنی) منتقل کر دیا جائے گا اور اس سلسلے میں تمام انتظامات تیزی سے مکمل کئے جا رہے ہیں۔ قادیانی انتہائی منظم طور پر ہمبرگ اور گرد و نواح کے علاقے میں پہنچنا شروع ہوگئے ۔ اب تک قریب ۵ ہزار قادیانی ہمبرگ شہر میں جمع ہوچکے ہیں۔ ان لوگوں نے جرمنی حکومت سے یہ کہہ کر پناہ حاصل کی ہے کہ پاکستان کی حکومت نے جب سے انہیں اقلیت قرار دیا ہے ۔ ان کا وہاں مزید رہنا خطرے سے خالی نہیں۔ جن قادیانیوں نے جرمنی میں پناہ حاصل کی ہے انہوں نے اپنے پاسپورٹ جرمنی کی حکومت کے حوالے کر دیئے ہیں۔ ہمبرگ میں قادیانیوں نے اپنی عبادت اور نشر و اشاعت کے مرکز کے لئے ایک بہت بڑی عمارت حاصل کر لی ہے۔ یورپ کے دوسرے علاقوں میں مقیم پاکستان کے قادیانی پاکستان میں اپنی چھوڑی ہوئی جائیدادیں فروخت کر رہے ہیں۔ قادیانی ہمبرگ کے علاوہ کوپن ہیگن، اسٹونیا، لٹویا، لٹوینیا بھی پہنچ رہے ہیں۔ اس گروہ کے کچھ لوگوں نے لندن میں بھی اس قسم کی پناہ لینے کی کوشش کی تھی ۔ لیکن برطانوی حکومت نے اجازت دینے سے انکار کیا۔“
(بحوالہ نوائے وقت مؤرخہ ۲۱؍ ستمبر ۱۹۷۶ء)
پاکستانی مرزائیوں کے اجلاس میں بھارتی سفیر کی شرکت
وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو چاہئے تھا کہ وہ مرزا ناصر کے دورے کی چھان بین کرتے اور اس کا پس منظر، پیش منظر اور تہہ منظر معلوم کرتے ۔ دورہ کی اصل غرض وغایت جانتے ۔ لیکن یہ بات انتہائی دکھ کے ساتھ کہنی پڑ رہی ہے کہ اوّل تو حکومت کو بیرونی ممالک میں مرزائیوں کی اسلام دشمنی اور ملک دشمنی سرگرمیوں کا کچھ پتہ ہی نہیں چلتا اور اگر وہاں سے کوئی بات وزارت خارجہ کے پاس آ جاتی تو وہ اس پر کوئی نوٹس ہی نہیں لیتی تھی ۔ مثلاً ۱۹۷۴ء میں جب قومی اسمبلی میں مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا اور یہ خبر باہر گئی تو امریکہ کے ایک شہر میں وہاں کے اہم پاکستانی مرزائی مہروں کا ایک خاص اجلاس ہوا اور اس اجلاس میں بھارت کے سفیر برائے امریکہ نے شرکت کی ۔ اس اجلاس کی اطلاع جب امریکہ میں مقیم ایک محب وطن پاکستانی نے پاکستانی سفیر کو دی تو انہوں نے اس خبر سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ یہ اطلاع دینے پر اس محب وطن پاکستانی صاحب کا شکریہ ادا کیا اور مرزائیوں کی اس میٹنگ اور اس میں بھارتی سفیر کی شرکت کی اطلاع حکومت پاکستان کو بھیجی۔ ممکن ہے پھر دوبارہ یاد دہانی بھی کرائی ہو۔ لیکن ہماری حکومت کی وزارت خارجہ نے اتنے اہم واقعہ پر کوئی توجہ نہ دی۔ کوئی
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
ایکشن نہیں لیا۔ حکومت نے امریکہ میں ہونے والی مرزائیوں کی پاکستان دشمنی کا کیا محاسبہ کرنا تھا۔ اس نے تو ملک کے اندر ان کی غدارانہ سرگرمیوں اور قومی اسمبلی کے فیصلے کے خلاف ان کے باغیانہ اقدامات کو بھی کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا۔
لندن میں مرزائی عبادت گاہ ...... فنڈ کس نے دیا؟
مرزا ناصر احمد اپنے دورہ امریکہ، جرمنی اور لندن سے واپس ہو کر پاکستان وارد ہوئے تو جمعہ کے روز اپنی بڑی عبادت گاہ کے اجتماع میں تقریر کی کہ فلاں ملک میں ہم نے جو عبادت گاہ بنوائی اس پر ڈیڑھ کروڑ روپیہ خرچہ آیا۔ اس رقم میں سے ۵۳ لاکھ روپیہ جماعت نے جمع کر کے خرچ کیا ہے اور باقی کا بھی ”کہیں“ سے انتظام ہو گیا ہے۔ یہ باقی تقریباً ایک کروڑ روپے کا کہاں سے انتظام ہوا تھا؟ کیا مرزا ناصر کے ہاتھ سونا بنانے کا نسخہ آ گیا تھا یا جعلی نوٹ چھاپنے کا کوئی انتظام کیا تھا؟ یا یہ گرانقدر عطیہ اسرائیل یا سی .آئی .اے نے دیا تھا؟ اس بارے میں ہفت روزہ لولاک نے لکھا:
”ہمیں تو یوں لگتا ہے کہ یہ ۵۳ لاکھ روپیہ والا بھی آپ نے تکلف فرمایا ہے۔ کیا یہ درست نہیں کہ کوئی ۵۳ لاکھ آپ نے یا آپ کی جماعت نے کہیں نہیں بھیجا بلکہ غیبی کھاتوں سے روپیہ آ رہا ہے۔ جس سے آپ اسلام دشمن طاقتوں کی منشاء کے مطابق اسلام کو بگاڑنے اور اس کی اصل روح کو قتل کرنے کے لئے مختلف ملکوں میں اڈے بنا رہے ہیں۔ بچت اور منافع گھر لے آتے ہیں۔ پھر ایک اطلاع کے مطابق آپ (مرزا ناصر) نے یہ بھی اپنے خطاب میں فرمایا کہ ایک یہودی صرف میری زیارت کر کے اور میری آواز سن کر ایمان لے آیا اور اس نے کہا کہ میں نے آپ کے چہرے اور آپ کے اندر نور دیکھ لیا ہے اور اس نے آپ کو ایک لاکھ ڈالر کا چیک پیش کیا۔ اگر یہ روایت ہمیں درست پہنچی ہے تو آپ اطمینان کر لیں کہ اس یہودی نے واقعی آپ کے اندر اور آپ کے چہرے پر کوئی نور نہیں دیکھا اور ایمان لایا بلکہ ایسے ہی آپ کے سامنے جھوٹ بول کر آپ کو اسرائیل کی طرف سے ایک لاکھ ڈالر کا عطیہ تھما گیا ہے تا کہ آپ اس روپیہ سے مسلمانوں میں ارتداد اور کفریہ عقائد کی تعلیم و تبلیغ کر کے امت محمدیہ میں انتشار پیدا کریں اور اس روپیہ کو پاکستان کی بربادی پر خرچ کریں۔“
مرزا ناصر کی صدر فورڈ سے ملاقات
مرزا ناصر احمد کے حوالے سے ہم ذکر کر چکے ہیں کہ انہوں نے صدر فورڈ سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں مرزا ناصر نے امریکہ سے اپنی جماعت کو بچانے اور مصیبت میں کام آنے کی مدد مانگی۔ چنانچہ مرزا ناصر احمد کو کہا گیا کہ آپ زیادہ سے زیادہ مرزائیوں کو سعودی عرب بھجوا دیں۔ وہاں امریکن کمپنیاں اور فرمیں کام کر رہی ہیں۔ ان میں انہیں ملازمتیں دی جائیں گی۔ مرزا ناصر احمد نے یہ پیغام ربوہ بھجوا دیا۔ چنانچہ ان کے قائم مقام مرزا منصور احمد نے باہر اپنی جماعتوں کو خفیہ ہدایات بھجوا دیں اور ان سے کہا گیا کہ سعودی عرب کے لئے بھرتی ہوں۔ اس مقصد کے لئے سات سو مرزائی بھرتی کئے گئے۔ ان سے تین تین سو روپیہ پیشگی وصول کر لیا گیا اور انہیں کہا گیا کہ وہ انیس انیس سو روپیہ بعد میں دیں گے۔ پھر اس کے بعد مزید دیں گے۔ چنانچہ خفیہ خفیہ ان سات سو آدمیوں کے پاسپورٹ اور ویزوں کے لئے کام شروع کر دیا گیا۔ ابھی تیاری مکمل نہیں ہوئی تھی کہ یہ راز کھل گیا اور مرزا منصور احمد نے وقتی طور پر ان لوگوں کو تھوڑے دن رک جانے کا حکم دے دیا۔
مجلس تحفظ ختم نبوت نے احتجاج کیا اور حکومت کو اس اطلاع سے باخبر کیا کہ سعودی عرب پاکستان کا دوست اور مخلص ملک ہے۔ اپنے ہاں سے ہم کو ان سانپوں اور بچھوؤں کو روکنا چاہئے کہ وہاں جا کر یہود کے آلہ کار ثابت ہوں گے۔ حکومت سے اس سکینڈل کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس لئے کہ حکومتی ریکارڈ میں پہلے سے لاہور کے ایک مرزائی کا وہ پیغام موجود تھا جو اس نے بذریعہ تار ربوہ کے دس
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
آدمیوں کو بھیجا تھا کہ فلاں تاریخ کو سعودی عرب جانے والے افراد پہنچیں۔ فلاں فلائٹ میں ان کے جانے کا انتظام ہوگا۔
(لولاک جولائی، اگست، نومبر ۱۹۷۶ء، چٹان اکتوبر ۱۹۷۶ء)
قادیانی سے نجات دلائیں....... سیالکوٹ کالج کے طلباء کا خط
جولائی ۱۹۷۶ء کو مولانا تاج محمود کے نام سیالکوٹ کالج کے طلبہ نے ایک خط لکھا۔ جس میں ایک قادیانی پروفیسر کی چیرہ دستیوں سے تنگ آ کر ان کے خلاف کارروائی کروانے کی درخواست کی گئی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:
”جناب حضرت مولانا تاج محمود صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
احوال تحریر یہ ہے کہ ہمارے کالج کی سول ٹیکنالوجی میں حمید نامی ایک پروفیسر ہے۔ اس کو اپنے قادیانی ہونے پر بڑا ناز ہے۔ اس صاحب نے سنی لڑکوں کا ناک میں دم کر رکھا ہے۔ یہ قادیانی لڑکوں پر بڑا مہربان ہے۔ یہ آدمی بغیر کسی رکاوٹ کے علماء کو گالیاں تک دیتا ہے اور اگر اسے پتہ چل جائے کہ لڑکے اس کا ایکشن لے رہے ہیں تو فوراً لڑکوں کو آپس میں لڑانے کی کوشش کرتا ہے اور جو لڑکا اس میں پیش پیش ہو اسے خطرناک نتائج کی دھمکیاں دیتا ہے۔ یہ یہاں تک کرتا ہے کہ اگر کسی لڑکے کے نمبر لگانے ہوں تو بلاوجہ اس کے نمبر روک دیتا ہے اور کہتا ہے کہ جسے مرضی لے آؤ۔ میں نمبر نہیں لگاؤں گا اور یہی لڑکا اگر کسی مرزائی کو لے آئے تو یہ صاحب فوراً نمبر کیا جو چاہیں مل سکتا ہے۔
مولانا صاحب! اس نے ہمیں بہت تنگ کر رکھا ہے۔ ہم کلاس میں ایک دوسرے سے اس پر بات نہیں کر سکتے کہ ہم قادیانی نہیں ہیں۔ ویسے بھی اس کا دفتر قادیانیوں کا ریسٹ ہاؤس بنا ہوا ہے اور کسی کو جرأت نہیں کہ وہ بول سکے۔ آپ کے جریدے کے ذریعے محکمہ سے درخواست ہے کہ ہمیں اس شخص سے نجات دلائیں۔
(لولاک مؤرخہ ۹ جولائی ۱۹۷۶ء)
خزانہ شوگر ملز پشاور
خزانہ شوگر ملز کا شمار پاکستان کے صف اوّل کی ملوں میں ہوتا تھا۔ صوبہ سرحد کے دارالخلافہ پشاور میں موجود یہ مل شبقدر، چارسدہ، پشاور اور گردو نواح کے کسانوں سے بڑی مقدار میں گنا خریدتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اس کی طرف غیر معمولی توجہ دی جاتی تھی۔ آج بھی خزانہ شوگر ملز اپنی خدمات وطن عزیز کے لئے وقف کئے ہوئے ہے۔ جولائی ۱۹۷۶ء میں مقامی مسلمانوں پہ یہ حقیقت ظاہر ہوئی کہ ملز میں چیف انجینئر مسٹر جنید مرزائی ہے۔ جو نیچے عملہ میں مرزائی ورکروں کو بھرتی کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ مسٹر جنید مرزائی کی اتنے بڑے عہدے پر تعیناتی ۷ ستمبر کی آئینی ترمیم کے بالکل منافی تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ کسی مرزائی کو کلیدی عہدے پر نہیں رہنے دیا جائے گا۔ انجینئر کی تقرری پر چارسدہ، پشاور اور شبقدر کے علماء وعوام نے شدید احتجاج کیا اور حکومت سے اس کی معزولی کی درخواست کی۔ خزانہ شوگر ملز کے قریب ایک احتجاجی جلسہ ہوا۔ جس میں مولانا گوہر شاہ، حضرت مولانا معتصم باللہ، مولانا نور محمد، مولانا فضل ربی نے تقریریں کیں اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ مرزائی چیف انجینئر کو برطرف کر دیا جائے۔ تقریباً ایک ہفتے بعد حکومت نے مرزائی مسٹر جنید کو برطرف کر دیا۔
(مؤرخہ ۲۰؍ جولائی ۱۹۷۶ء)
سیلاب اور قادیانی کمینگی
اگست ۱۹۷۶ء کے آخر میں دریائے چناب اور ملک کے دیگر دریاؤں میں طغیانی ہوئی۔ جس کی وجہ سے بہت سارے لوگ بے
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
گھر ہو گئے۔ ہر علاقے کے مسلمان بھائیوں نے اپنے قریب کے مصیبت زدہ لوگوں کے ساتھ تعاون کیا۔ دریائے چناب ربوہ (چناب نگر) کے قریب واقع ہے۔ اس کے کناروں پر آباد دیہات اور بستیاں بھی سیلاب میں گھر گئیں اور یہاں کے باسی مسلمانوں کو بے پناہ تکلیف اور نقصان برداشت کرنا پڑا۔ اس سلسلہ میں سردار محمد علی شاہ جو اس علاقہ کے ممتاز اور معزز زمیندار تھے۔ تحصیل چنیوٹ، پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سیاسی سے زیادہ سماجی رہنما کی حیثیت رکھتے تھے۔ اپنے ذاتی اور سرکاری اثر و رسوخ کو بروئے کار لا کر پانی میں ڈوبے ہوئے ان دیہات اور بستیوں کے بد نصیب لوگوں کی مدد کو پہنچے۔ اس علاقہ میں قریب اونچی جگہ چناب نگر اور اس کی پہاڑیاں ہیں۔ انہوں نے ربوہ (چناب نگر) میں ان سیلاب زدگان کے لئے کیمپ لگوایا۔ تاکہ سیلاب میں گھرے ہوئے لوگوں کو نکال کر محفوظ جگہ پہنچایا جائے اور وہ سیلاب اور بارش کی المناک صورتحال سے بچ سکیں۔ لیکن ربوہ سرکار کے قائم مقام امیر مرزا منصور احمد نے اپنی ملیشیا استعمال کر کے اور انتہائی سنگدلی اور غنڈہ گردی کرتے ہوئے اس کیمپ کو تباہ کرا دیا اور زبردستی اسے وہاں سے اٹھوا دیا۔ ربوہ سرکار کی اس چیرہ دستی ،سنگدلی اور غنڈہ گردی کے بعد سردار محمد علی شاہ نے مرزائی غنڈوں سے تصادم کی بجائے متبادل انتظام کی طرف توجہ کر کے مصیبت زدگان کی خدمت اور بہبود کا راستہ اختیار کیا۔ ورنہ اگر کوئی شخص وہاں اڑ جاتا کہ ربوہ بھی پاکستان کا حصہ ہے اور پاکستان کے اس حصہ میں ہنگامی ضرورت کے لئے مصیبت زدہ لوگوں کو ٹھہرایا جاسکتا ہے تو وہ ایسا کر سکتا تھا اور اگر جذبات کا مسئلہ درمیان میں آ جاتا تو دنیا دیکھ لیتی کہ غیور اور بہادر مسلمانوں کے سامنے ربوہ کے ان غنڈوں کا حشر کیا ہوتا ؟
(لولاک مورخہ ۷؍ستمبر ۱۹۷۶ء)
حکومت کی ناز برداری کی وجہ سے مرزائیوں کو پھر وہ دماغی عارضہ لاحق ہوا تھا جو ۲۹ مئی ۱۹۷۴ء کو ربوہ ریلوے اسٹیشن پر حملہ کے وقت ہوا تھا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے قائدین اور مجلس کا ترجمان ’’لولاک‘‘ وقتاً فوقتاً اس اسلام دشمن اور ملک دشمن گروہ کی دسیسہ کاریوں کی طرف حکومت کو متوجہ کرتا رہتا۔ لیکن اس سلسلے میں اس وقت حکومت ’’صم بکم عمی‘‘ تھا جو کان ،آنکھ اور عقل ہونے کے باوجود سننے ،دیکھنے اور سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کر رہی تھی۔
۷؍ستمبر کو یوم ختم نبوت منایا گیا
گزشتہ دو سالوں کی طرح ۱۹۷۶ء ۷؍ستمبر کو بھی یوم ختم نبوت منایا گیا۔ بعض شہروں میں پبلک جلسے منعقد کئے گئے۔ بعض جگہ مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفاتر میں اجتماعات ہوئے۔ ختم نبوت کے لئے جانیں نچھاور کرنے والوں کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ ان کے لئے ایصال ثواب اور بلندی درجات کی دعائیں کی گئیں۔ پبلک اور پرائیویٹ اجتماعات میں ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کو مرزائیوں کے خلاف ہونے والے فیصلہ کو تاریخ اسلام کا ایک اہم ترین واقعہ قرار دیا گیا۔ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے ان رہنماؤں کو جن کی قیادت میں یہ تحریک کامیاب ہوئی ،سلام پیش کیا گیا۔ اسی طرح ان تمام شیدایان ختم نبوت کے لئے اظہار سپاس و تشکر کیا گیا۔ جنہوں نے دامے درمے قدمے سخنے کسی بھی طرح اس مبارک مسئلہ کے لئے جدوجہد کی تھی۔ اس سلسلہ میں حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا نام نامی اور اسم گرامی ہر مسلمان کی زبان پر آیا۔ جنہوں نے اپنی پوری زندگی اس مسئلہ کی خدمت میں صرف کر دی تھی۔
۷؍ستمبر کو منعقد ہونے والے اجتماعات میں اس مضمون کی قراردادیں بھی منظور کی گئیں کہ موجودہ حکومت نے ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کو ایک قابل فخر اور تاریخی فیصلہ کیا اور ساری دنیا میں نیک نامی حاصل کی۔ لیکن افسوس ہے کہ جہاں تک اس پر عملدرآمد کا تعلق ہے ابھی تک اس پر عمل درآمد کی نوبت نہیں آئی۔ جس کا تمام مسلمانوں کو سخت صدمہ ہے اور اب لوگ شکوک و شبہات کا شکار ہونے لگے ہیں۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
قرار دادوں میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ حکومت مرزائیوں کے متعلق قومی اسمبلی کے فیصلوں پر عملدرآمد کرے اور مرزائیوں کی اسلام دشمن اور ملک دشمن تحریک کا قانونی محاسبہ کرے۔ ۷؍ ستمبر یوم ختم نبوت کے سلسلہ میں جن لوگوں نے مختلف مقامات پر اظہار خیال کیا ہے۔ ان کے بیانات کا خلاصہ یہ ہے کہ تقریباً ایک سو سال پہلے انگریزوں نے مسلمانوں میں تفریق ڈالنے، اسلام کو کمزور کرنے اور سامراجی غاصبوں کے خلاف جہاد کرنے والوں کا توڑ پیدا کرنے کے لئے قادیانی نبوت اور قادیانی مذہب کی بنیاد رکھی۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے خود اپنی تحریک اور اپنی جماعت کو اپنے لٹریچر میں انگریزوں کا خود کاشتہ پودا لکھا ہے۔ انگریزوں کے اس خود کاشتہ پودے کی ۱۹۴۷ء تک برطانوی حکومت نے نہ صرف آبیاری کی بلکہ پوری پوری حفاظت کی ۱۹۴۷ء کے بعد پاکستان کے حکمرانوں نے جہاں اور غلطیاں کیں وہاں سب سے بڑی غلطی یہ کی کہ چوہدری ظفر اللہ خان قادیانی کو وزیر خارجہ بنا دیا گیا۔ ایم ایم احمد قادیانی ایک مدت تک ملک کے مالیات کے واحد مالک بنے رہے۔ پروفیسر عبدالسلام قادیانی جیسے لوگ مملکت کے سائنسی مشیر کہلائے۔ فوج اور سول کی کلیدی آسامیوں پر مرزائی قابض رہے۔ بھوکے ننگے مرزائیوں نے کروڑوں کی جائیدادوں پر قبضے جمائے۔ جو پیچھے کوڑی کے مالک نہ تھے۔ وہ یہاں کروڑوں کے مالک بن گئے۔ سر ظفر اللہ کی معرفت ان سامراجی ایجنٹوں نے سازشوں کے تانے بانے بننے شروع کر دیئے۔ مرزا محمود بلوچستان پر قبضے کے خواب دیکھنے لگے۔ کبھی کشمیر کو فتح کر لینے کی پیش گوئیاں ہونے لگیں۔ کبھی ننکانہ کے بدلہ میں قادیان کی واپسی کا الہام ہونے لگا اور آخر کار غلبۂ اسلام کی آڑ میں پورے پاکستان پر قبضہ کر لینے کے لئے خفیہ میٹنگیں شروع ہوگئیں۔
اس سودائے خام میں مبتلا ہو کر دو دفعہ انہوں نے فوجی بغاوت اور خونی انقلاب کے ذریعے ملک پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ لیکن!
حق تعالیٰ نے پاکستان کو اسلام اور مسلمانوں کے لئے بنایا ہے نہ کہ کسی مرتد گروہ کے لئے۔ مرزائیوں کی مذہبی خرافات سے مسلمانوں کو ہمیشہ نفرت رہی ہے۔ ان کے سیاسی عزائم کا بھی ملت اسلامیہ میں شدید ردعمل ہوا۔ ۱۹۵۳ء میں مسلمانوں کی تمام جماعتوں کی متحدہ مجلس عمل بنی اور اس وقت کی حکومت کو کہا گیا کہ اس مرتد گروہ کو علیحدہ اقلیت قرار دیا جائے۔ لیکن اس وقت مرزائیوں کی گرفت بڑی مضبوط تھی۔ مسلم لیگی قیادت ذہنی اور فکری افلاس کا شکار تھی۔ پاکستان سے اخلاص کے باوجود مرزائیوں کے چنگل سے نہ نکل سکی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پوری ملت ایک طرف اور مسلم لیگی قیادت ایک طرف، تصادم ہوا۔ جس کے نتیجہ میں لاکھوں شیدایان ختم نبوت جیلوں میں گئے۔ ہزاروں فدایان ختم نبوت نے جام شہادت نوش کیا۔ اگرچہ حکومت کے ظلم و جبر نے وقتی طور پر تحریک کو دبا دیا۔ لیکن حقیقت میں ہر مسلمان کو یقین ہو گیا کہ مرزائی نہ اسلام کے اور نہ ہی ہمارے ملک کے وفادار ہیں۔
۱۹۷۴ء میں مولانا سید محمد یوسف بنوری کی قیادت میں تمام دینی جماعتوں پر مشتمل مجلس عمل کی طرف سے پھر وہی تحریک شروع ہوئی۔ تمام مسلمانوں نے متفقہ جدوجہد کی۔ ہزاروں لوگ جیلوں میں گئے۔ کئی خوش قسمت حضور فداہ ابی وامی پر جانیں قربان کر گئے۔ بالآخر ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کو بھٹو صاحب اور مجلس عمل کے درمیان طویل مذاکرات اور سمجھوتے کے بعد مرزائیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا۔ اب مرزائی اس فیصلہ کو ماننے سے انکار کر چکے ہیں۔ کچھ عرصہ خاموشی کے بعد انہوں نے پھر وہی سرگرمیاں شروع کر دیں۔ جہاں تک مجلس عمل تحفظ ختم نبوت، مجلس تحفظ ختم نبوت اور دوسری دینی جماعتوں کا تعلق ہے وہ اس فیصلے کا احترام کر رہی ہیں۔ ملک میں مرزائیوں کا مال، جان آبرو محفوظ ہے۔ انہیں شہری حقوق حاصل ہیں۔ لیکن وہ اس سلامتی اور شرافت کو مسلمانوں کی بیوقوفی اور کمزوری پر محمول کرتے ہوئے اپنے لئے کسی بہت بڑی قیامت کے بپا ہونے کے منتظر ہیں۔ ان تقاریر، بیانات اور قرار دادوں میں سب سے زیادہ جس چیز پر زور دیا گیا وہ اس
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
بات پر تھا کہ حکومت نے اتنا عظیم فیصلہ کرنے اور ساری دنیائے اسلام میں نیک شہرت حاصل کرنے کے بعد اپنے فیصلے کو عملی جامہ نہیں پہنایا اور مرزائیوں کو کھلی چھٹی دے رکھی کہ وہ ملک کی قومی اسمبلی کے فیصلہ اور آئین کی کھلے بندوں خلاف ورزی کریں۔ بلکہ کھلم کھلا مذاق اڑائیں۔ قومی اسمبلی کو جاہل اور نادان ثابت کریں اور اس پر تنقید کر کے پوری دنیا میں پاکستان کو بدنام کریں۔
(لولاک مؤرخہ ۱۴؍ستمبر ۱۹۷۶ء)
مجلس تحفظ ختم نبوت کوئٹہ کے دفتر کو آگ لگا دی گئی
۱۴؍ستمبر ۱۹۷۶ء کو کوئٹہ میں ایک المناک واقعہ پیش آیا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے صوبائی دفتر کوئٹہ میں بعض شر پسندوں نے آگ لگا دی۔ جس سے قیمتی سامان کتابیں، فرنیچر، قالین اور دوسرا سامان خاکستر ہو گیا۔ یہ دفتر شارع لیاقت کوئٹہ میں تھا۔ دفتر کے پڑوسی نے بیان دیا تھا کہ ۱۴؍ستمبر کو صبح آٹھ بجے دفتر میں اچانک آگ لگ گئی۔ آگ کے شعلے دیکھ کر میں نے فوراً فائر بریگیڈ کو فون کیا۔ فائر بریگیڈ کا عملہ موقع پر پہنچ گیا اور آگ پر قابو پا لیا۔ لیکن تب تک دفتر کا اکثر سامان نذر آتش ہو چکا تھا۔ الماریوں میں رکھا ہوا قرآن معجزانہ طور پر محفوظ رہا۔ دفتر کے دروازے بند تھے۔ ایک سائیڈ سے شیشہ ٹوٹا ہوا تھا۔ جس سے پتہ چلا کہ نامعلوم افراد شیشہ توڑ کر اندر داخل ہو گئے اور آگ لگا دی۔ اس واقعہ سے مقامی مسلمانوں میں خاصا اشتعال اور ناراضگی پیدا ہو گئی اور اس افسوسناک واقعہ کی مذمت کی۔ انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ اس سنگین واقعہ میں ملوث افراد کو حراست میں لے کر ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
(لولاک مؤرخہ ۲۰؍ستمبر ۱۹۷۶ء)
مرکزی جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی ربوہ (چناب نگر)
ربوہ میں حکومت نے مسلمانوں کے مطالبہ پر جو نئی رہائشی سکیم (مسلم کالونی چناب نگر) شروع کی تھی اس میں ایک پلاٹ مسجد کے لئے مختص کیا گیا تھا۔ اکتوبر ۱۹۷۶ء کے شروع میں وہ پلاٹ باقاعدہ حکومت نے مجلس تحفظ ختم نبوت کے نام الاٹ کر دیا اور قبضہ مجلس کو دے دیا۔ ۳؍اکتوبر کو ربوہ میں اس پلاٹ کے حصول کی خوشی میں ایک مختصر تقریب کا انعقاد ہوا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب صدر حضرت مولانا خواجہ خان محمد نے وہاں پر عصر کی نماز پڑھائی اور دعائے خیر فرمائی۔ حضرت نائب امیر کے علاوہ مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا تاج محمود، مولانا فقیر محمد، مولانا اللہ وسایا مدظلہ، جناب برکت دارا پوری، حاجی بشیر احمد، رانا نصر اللہ خان نے بھی شرکت فرمائی۔ تقریب کا اعلان بھی نہیں کیا گیا تھا۔ پھر بھی کثیر تعداد میں مسلمانوں نے شرکت کی۔
۱۳؍اکتوبر ۱۹۷۶ء کو مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے امیر سردار میر عالم خان لغاری ربوہ پلاٹ دیکھنے کراچی سے تشریف لائے۔ پلاٹ پر بننے والی مسجد کا نقشہ کراچی کے ایک ماہر انجینئر سے بنوایا گیا۔ مسجد کی تعمیر پر تخمینہ لاگت ۱۶ لاکھ روپے لگائی گئی۔ مسجد کے ساتھ مدرسہ ختم نبوت، دارالاقامۃ اور مدرسین مبلغین کے لئے رہائش گاہیں بھی بننے کا پروگرام تھا۔ سردار میر عالم خان لغاری کے ساتھ مولانا تاج محمود، مولانا اللہ وسایا، حاجی محمد صدیق بھی ربوہ تشریف لائے تھے۔ مسجد کے سائٹ کا رقبہ ۹ کنال ہے۔ جس پر مدرسہ، لائبریری، رہائش گاہیں اور مسجد بنانے کا پروگرام تھا۔ مسجد کا نقشہ کراچی کے ماہر انجینئر نے بنایا۔
(لولاک ۲۱؍اکتوبر ۱۹۷۶ء)
الحمد للہ! جس طرح اکابر نے ارادہ ظاہر فرمایا تھا اس طرح ہی ہوا۔ اس پلاٹ پر آج ایک خوبصورت مسجد، دو بڑے دارالاقامے، ایک لائبریری اور رہائش گاہیں بنی ہوئی ہیں۔ مدرسہ میں درجہ سابعہ تک اسباق ہیں۔ (اور اب دورۂ حدیث اور تخصص بھی شروع ہے۔ مرتب!) اس کے علاوہ تخصص، حفظ و ناظرہ اور تجوید کا شعبہ بھی ہے۔ ہر سال شعبان میں ۲۵ روزہ ”ختم نبوت کورس“ ہوتا ہے جس میں سینکڑوں شرکاء ہوتے ہیں۔ ان شرکاء میں علماء، طلباء، سکول ٹیچر اور عصری اداروں کے طالب علم شامل ہوتے ہیں۔ مسجد اور مدرسے
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
کی پر شکوہ اور عالی شان عمارت کو دیکھ کر بے اختیار ان اکابر کے لئے دل سے دعائیں نکلتی ہیں۔
مفتی اعظم پاکستان مولانا مفتی محمد شفیع کی رحلت
۵؍ اکتوبر ۱۹۷۶ء کو برصغیر کے ممتاز عالم دین ، مفتی اعظم پاکستان مولانا مفتی شفیع صاحب رحلت فرما گئے ۔ وفات کے وقت حضرت کی عمر ۸۲ سال تھی ۔ نماز جنازہ حضرت ڈاکٹر عبدالحیؒ خلیفہ مجاز مولانا اشرف علی تھانوی نے پڑھائی ۔ جنازے میں تقریباً ۶۰ ہزار لوگوں نے شرکت کی تھی ۔ انتقال کے وقت مفتی صاحب کے چاروں بیٹے مفتی محمد رفیع عثمانی ، مفتی محمد تقی عثمانی ، مولانا محمد رضی اور مولانا ولی رازی ان کے سرہانے موجود تھے ۔ مفتی محمد شفیع کے بڑے بیٹے مولانا محمد ذکی کیفی جو ایک مستند عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ قادر الکلام شاعر بھی تھے ۔ ۱۹۷۴ء میں دل کا دورہ پڑنے سے وفات پا گئے تھے ۔ ان کی وفات کا مفتی صاحب پر بہت گہرا اثر پڑا تھا ۔ مفتی نے ۲۶ سال دارالعلوم دیوبند میں فقہ اور حدیث کا درس دیا ۔ آپ دارالعلوم کے صدر مفتی کے منصب پر بھی فائز رہے تھے ۔ قیام پاکستان کی جدوجہد میں بھی آپ شریک رہے تھے ۔ قیام پاکستان کے بعد آپ نے نانک واڑہ کراچی میں دارالعلوم دیوبند کی طرز پر ’’ دارالعلوم ‘‘ قائم کیا ۔ کچھ عرصہ بعد ’’ دارالعلوم ‘‘ کورنگی لانڈھی منتقل کیا گیا اور تاحال وہیں ایک عظیم الشان یونیورسٹی کی شکل میں ایستادہ ہے ۔ قیام پاکستان کے بعد حکومت نے تعلیمات اسلامی بورڈ قائم کیا تو مفتی صاحب اس کے رکن نامزد کئے گئے ۔ آپ نے دوسو سے زیادہ دینی کتب تصنیف فرمائیں ۔ ایک اندازہ کے مطابق آپ نے دیوبند اور پاکستان سے جو فتاویٰ جاری کئے ان کی تعداد دو لاکھ سے زائد ہے ۔ آپ کی وفات پر مسلمانان پاکستان کے علاوہ دیگر اسلامی ممالک کے مسلمانوں نے بھی غم و اندوہ کا اظہار کیا ۔
(لولاک مورخہ ۱۵؍ اکتوبر ۱۹۷۶ء)
مرزائیوں کا سالانہ میلہ
۱۰ تا ۱۲؍ دسمبر ۱۹۷۶ء کو مرزائیوں کا سالانہ سہ روزہ جلسہ منعقد ہوا ۔ مرزائیوں نے پبلیسٹی تو بہت کی تھی ۔ لیکن حاضرین کی تعداد بہت زیادہ کم رہی ۔ کم حاضری پر قادیانی قیادت کی مایوسی اور اضطراب ان کے چہرے مہرے سے عیاں تھا ۔ ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء سے پہلے ربوہ کے سالانہ اجتماع میں محتاط اندازہ کے مطابق ۴۰ ہزار کے لگ بھگ اجتماع ہو جایا کرتا تھا ۔ کیونکہ اس میں کافی لوگ مسلمانوں کے چلے جاتے تھے ۔ مرزائیوں کا طریقہ واردات یہ تھا کہ وہ اپنے ساتھ اپنے خرچے پر کسی نہ کسی تعلق کی بناء پر مسلمانوں کو جلسہ دکھانے کے لئے لایا کرتے تھے ۔ ۱۹۷۵ء میں کمی واقع ہو گئی تھی ۔ لیکن اس سال یعنی ۱۹۷۶ء میں مرزائیوں کی کل حاضری ۱۰، ۱۵ ہزار کے بیچ تھی ۔ مرزائی اخبارات نے اپنے اخبارات میں تعداد بڑھا چڑھا کر پیش کی اور اپنی اکھڑتی ہوا کو قائم کرنے کے لئے جھوٹ کا سہارا لے رہے تھے ۔
مرزا ناصر احمد نے اس موقع پر جو تقریریں کیں ان میں اس نے دوسری باتوں کے علاوہ جس بات پر بہت زور دیا تھا وہ یہ تھی کہ دنیا کی کوئی طاقت انہیں غیر مسلم قرار نہیں دے سکتی ۔ ہم حقیقی مسلمان ہیں اور ہم ہی حقیقی اسلام کی تصویر پیش کرتے ہیں ۔ روزنامہ نوائے وقت کے ایک رپورٹر جناب رفیق ڈوگر صاحب نے ربوہ کے جلسے کا آنکھوں دیکھا حال لکھا ۔ اپنی تحریر میں انہوں نے ربوہ کے کئی سارے عجائبات کا تذکرہ کیا ۔ جس عجوبہ نے ان کو بہت زیادہ متاثر کیا ۔ جس کی وجہ سے انہوں نے اپنی تحریر ’’ ربوہ کے بازار میں ‘‘ میں کافی تحیر کا اظہار کیا ۔ وہ یہ کہ وہاں ایک مرزائی بزرجمہر کا لیکچر سننے کا سانحہ پیش آیا ۔ جو مرزائیت کی صداقت کے دلائل اور مرزائے قادیان کے معجزات بیان کرتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ پاکستان مرزا قادیانی کی ایک وحی کے نتیجہ میں قائم ہوا ہے ۔ ۱۹۰۲ء میں مرزا قادیانی کو ایک وحی کے ذریعے
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
خوشخبری دی گئی تھی کہ ’’ہم تمہیں ایک زمین کا خطہ دیں گے‘‘ اور وہ زمین پاکستان ہی ہے۔ ڈوگر صاحب اس وحی کو سن کر حیران ہوئے۔ لہٰذا وہ اپنے تحیر کا ذکر ان الفاظ میں کرتے ہیں: ’’ہم اب تک یہی پڑھتے آئے ہیں کہ پاکستان برصغیر کے مسلمانوں کی صدیوں کی جدوجہد اور قربانیوں کی وجہ سے قائم ہوا ہے۔ اس کا سہرا قائد اعظم کی قیادت اور مسلمانوں کی مشترکہ جدوجہد کے سر ہے۔ اس کا نظریہ علامہ اقبال نے دیا تھا اور اس کا نام چوہدری رحمت علی نے تجویز کیا تھا اور اس مقصد کے حصول کے لئے لاکھوں افراد نے قربانیاں دی تھیں۔ مگر ربوہ میں ہم پر یہ راز فاش ہوا کہ پاکستان تو مرزا قادیانی کی ایک وحی کے نتیجے میں وجود میں آیا۔‘‘
اصل میں ڈوگر صاحب مرزا قادیانی کی وحی کی وجہ سے مرعوب ہوگئے۔ ورنہ اگر وہ اپنے حواس کو قابو میں رکھتے ہوئے اس مرزائی بزرجمہر سے یہ سوال کرلیتے کہ آپ مرزائے قادیان کی کس وحی کا ذکر کررہے ہیں۔ حالانکہ مرزا قادیانی کے صاحبزادے بشیرالدین محمود نے اپنے ابا جان کی تمام وحیوں، الہاموں اور پیش گوئیوں پر نظر دوڑاتے ہوئے اس وحی کے برعکس یہ کہا تھا: ’’جہاں تک میں نے ان پیش گوئیوں پر نظر دوڑائی ہے جو مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بعثت سے وابستہ ہیں میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ہندوستان میں ہمیں دوسری اقوام کے ساتھ مل جل کر رہنا چاہئے اور ہندوؤں اور عیسائیوں کے ساتھ مشارکت رکھنی چاہئے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اکھنڈ ہندوستان بنے اور ساری قومیں باہم شیر وشکر ہوجائیں۔‘‘
(روزنامہ الفضل مورخہ ۵؍ اپریل ۱۹۴۷ء)
خدا جانے ربوہ کے مرزائی بزرجمہر کی وحی درست ہے یا وہ وحی، الہام اور پیش گوئیاں درست ہیں۔ جو بشیرالدین محمود نے سمجھی ہے۔
(لولاک، مورخہ ۱۷، ۲۴؍ دسمبر ۱۹۷۶ء)
مولانا محمد شریف جالندھری کی گرفتاری
سالانہ ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ ۱۹۷۶ء کے اختتام پر حکومت نے مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد شریف جالندھری کو گرفتار کرلیا۔ گرفتاری کا جواز پولیس نے یہ بتایا کہ مولانا نے ۲۴ ویں ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ میں قابل اعتراض تقریر کی تھی۔ پہلے پہل مولانا کو تھانہ چنیوٹ میں قید کیا گیا۔ ۴؍ دسمبر کو پولیس نے چالان پیش کیا اور مولانا کو جوڈیشل حوالات میں بھیج دیا گیا۔ اے سی چنیوٹ کی عدالت میں ضمانت کی درخواست دے دی گئی۔ لیکن کوئی وجہ بتائے بغیر ضمانت مسترد کردی۔ مولانا محمد شریف جالندھری کی گرفتاری پر پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ مجلس عمل کے رہنماؤں جناب نوابزادہ نصراللہ صاحب، مولانا عبیداللہ، مولانا محمود احمد رضوی، علامہ احسان الٰہی ظہیر، جناب محبوب علی شمسی نے اپنے مشترکہ اخباری بیانات میں مولانا کی گرفتاری پر شدید احتجاج کیا۔ کراچی میں امیر مرکزیہ مولانا محمد یوسف بنوری، سردار میر عالم لغاری صاحب نے حکومت کے اس اقدام پر افسوس کا اظہار کیا۔ ملتان میں مولانا محمد یوسف لدھیانوی، مولانا عبدالستار تونسوی، مولانا محمد حیات، مولانا نور الحسن بخاری نے حکومت کے اس غیر دانشمندانہ اقدام پر احتجاج کیا اور حکومت سے مولانا کی رہائی کا پرزور مطالبہ کیا۔ لائل پور (فیصل آباد) میں مولانا تاج محمود اور مولانا اللہ وسایا صاحب نے آپ کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
۲۳؍ دسمبر ۱۹۷۶ء کو ایڈیشنل سیشن جج جھنگ نے مولانا جالندھری کو ۴؍ جنوری ۱۹۷۷ء تک عبوری ضمانت پر رہا کرنے کا حکم جاری کیا۔ رہائی کے وقت چنیوٹ کے حوالات کے دروازے پر مولانا خدا بخش (خطیب ربوہ)، مولانا اللہ وسایا دامت برکاتہم، شیخ منظور احمد، چوہدری ظہور احمد، مولانا عبدالرزاق رحیمی، مولانا محمد انور اور عوام کے ایک جم غفیر نے آپ کا استقبال کیا۔
(لولاک، مورخہ ۲۴؍ دسمبر ۱۹۷۶ء)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
تحریک ختم نبوت
کے سلسلہ میں
۱۹۷۷ء
کے
حالات و واقعات
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
امارات کے انگریزی روزنامہ کی شرارت
روزنامہ ”امارات نیوز ابوظہبی“ کی ۸؍ جنوری ۱۹۷۷ء کی اشاعت میں مرزا ناصر احمد کی ایک تصویر دی گئی۔ تصویر میں مرزا صاحب خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ دائیں بائیں دو مؤدب وردی پوش گارڈ کھڑے تھے۔ تصویر کے نیچے لکھا تھا کہ: ”اسلام میں تحریک احمدیت کے سربراہ مرزا ناصر احمد شمالی انگلینڈ میں ہڈرسفیلڈ کے مقام پر ایک نئی مسجد کے افتتاح پر اپنے رفقاء سے خطاب کر رہے ہیں۔ اپنے حالیہ سفر کے دوران انہوں نے سویڈن میں بھی ایک مسجد کا افتتاح کیا اور پھر وہ امریکہ کے شہر واشنگٹن کے قریب ایک کمیونٹی سنٹر کی تنظیم کے لئے روانہ ہو گئے ۔“ اس خبر کی اشاعت کے فوراً بعد دبئی کے مسلمانوں میں سخت اشتعال پیدا ہو گیا۔ انہوں نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ زید بن سلطان النہیان کو اس شرانگیزی کی طرف توجہ دلائی۔ بے شمار لوگوں نے شیخ موصوف کو تحریری درخواستیں بھیجیں کہ مرزائیوں کی اس شرارت اور روزنامہ امارات نیوز کی اس حماقت کا فوری نوٹس لیا جائے۔ شیخ موصوف نے اس اخبار کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم صادر کر دیا۔ نتیجتاً اخبار مذکور کی ایک ماہ کے لئے اشاعت بند کر دی گئی اور اخبار مذکور کے ایڈیٹر نے حکومت سے تحریری معافی مانگ لی۔
ابوظہبی اور دوسری عرب امارات کے مسلمانوں کو شیخ زید بن سلطان بن النہیان کی اس اسلام دوستی اور دینی حمیت سے بہت خوشی ہوئی۔ اس کے علاوہ جہاں بھی یہ خبر سنی گئی مسلمانوں نے شیخ موصوف کے اس اقدام کی بہت تعریف کی۔ پاکستان میں بھی اس خبر سے جہاں مرزائیوں کی ریشہ دوانیوں کا علم ہوا وہاں عرب امارات کے صدر اور ابوظہبی کے سربراہ شیخ زید بن سلطان النہیان کے اس فیصلہ سے بہت خوشی ہوئی اور اس کارروائی کو شیخ موصوف کی مسئلہ ختم نبوت اور حضور سرور کائنات ﷺ سے عقیدت اور محبت پر محمول کیا گیا۔
انڈونیشیا میں ختم نبوت کا پیغام
انڈونیشیا میں بھی مرزائیوں نے اپنا جال پھیلا رکھا تھا۔ جہاں جہاں مسلمان کسی سامراجی طاقت کے غلام تھے وہاں وہاں انگریزوں کے اس خود کاشتہ پودے کی جڑیں پھیلا دی گئی تھیں۔ برصغیر کی طرح انڈونیشیا بھی ایک طویل مدت تک اقوام یورپ کا غلام رہا تھا۔ اس لئے ان سفید فام آقاؤں کے زیر سایہ مرزائی وہاں پھلتے پھولتے رہے۔ برصغیر آزاد ہوا تو تمام مسلم ممالک ایک ایک کر کے آزاد ہو گئے۔ پاکستان میں ان سامراجی طاقتوں کے جاسوسوں کے چہرے سے نقاب اتارا گیا۔ ان کا زبردست محاسبہ ہوا اور یہاں کی قومی اسمبلی نے ان کے خلاف فیصلہ کر کے ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا تو ساری دنیا میں ان کا حقیقی چہرہ لوگوں کو نظر آنے لگا۔ ہر جگہ ان کے خلاف نفرت اور تحریک شروع ہو گئی۔ دوسرے کئی ممالک کی طرح انڈونیشیا میں بھی ان کے خلاف زبردست تحریک کا آغاز ہوا۔ وہاں کے علماء و مشائخ اور ملی رہنماؤں نے ان کے خلاف آواز بلند کی اور اس سلسلہ میں مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان سے رابطہ قائم کیا اور یہاں سے ایسے مبلغ اور علماء کو دعوت دی جو وہاں جا کر مرزائیوں سے مناظرہ کر سکیں اور ان کے نام نہاد اسلام اور تبلیغ کی قلعی کھول دیں۔
یہ معلوم ہوا کہ انڈونیشیا جس کی آبادی ۱۲ کروڑ ہے (یہ ۱۹۷۷ء کی بات ہے) اور جو اس وقت دنیا کا سب سے بڑا اسلامی ملک ہے جہاں غالب اکثریت مسلمانوں ہی کی ہے۔ صرف پانچ فیصد عیسائی اور معدودے چند مرزائی ہیں۔ لیکن ستم ظریفی کی انتہاء تھی کہ وہاں مرکزی کابینہ میں چھ وزیر عیسائی اور ایک وزیر مرزائی اور ستم بالائے ستم یہ کہ یہ مرزائی وزیر انڈونیشیا کے امور مذہبیہ کا وزیر تھا۔ چنانچہ امیر مرکزیہ حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری نے مجلس کے دو ممتاز رہنماؤں مولانا عبد الرحیم اشعر اور مولانا اللہ وسایا کو انڈونیشیا کے دورہ پر
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
بھیجا تا کہ یہ حضرات وہاں پہنچ کر وہاں کے اہل حق سے تعاون کریں اور مرزائیت کی حقیقت سے انڈونیشی عوام کو آگاہ کریں۔ یہ وفد انڈونیشیا جیسے دور دراز ملک میں پہنچا۔ اس نے وہاں کے مختلف شہروں کا دورہ کیا۔ پہلی بات جو سابقہ تجربہ اور توقع کے مطابق وہاں ہوئی وہ یہ کہ اس وفد کے جانے سے پہلے مرزائی مبلغ وہاں کے علماء کو مناظرہ کا چیلنج کر رہے تھے۔ وفد جب انڈونیشیا پہنچ گیا اور وہاں کے علماء نے مرزائی مبلغوں سے رابطہ قائم کیا اور ان کی دعوت مناظرہ قبول کر کے انہیں میدان میں نکلنے کو کہا تو مرزائی مبلغین وہاں سے ایسے رفو چکر ہوئے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔
دوسری بات یہ ہوئی کہ وہاں ایک مرکزی شہر بندووسو کے ایک مرکزی مدرسہ اسلامیہ جس کا نام مدرسہ الاسلامی بتایا گیا ہے اور جس کے رئیس مولانا حسین الحبشی انڈونیشیا کی ممتاز دینی شخصیت اور ہمارے وفد کے میزبان تھے۔ وہاں مدرسہ اسلامیہ کے اساتذہ اور طلباء کو با قاعدہ مرزائیت سے آگاہ کیا گیا اور انہیں اس قابل بنا دیا گیا تھا کہ وہ اس وفد کے واپس چلے آنے کے بعد بھی مرزائیوں کا تعاقب اور محاسبہ جاری رکھیں۔ اس کے علاوہ مولانا حسین الحبشی کی سرپرستی میں وفد نے عربی زبان میں متعدد مقالے اور کتابچے تیار کر دیئے تھے۔ جن کا ترجمہ انڈونیشی زبان میں ہو کر ان کو وسیع پیمانے پر شائع کر کے انڈونیشی عوام کو اس گمراہ تحریک اور سیاہ فتنہ سے براہ راست آگاہ کیا۔
وفد بندووسو جانے سے پہلے جب جکارتہ ہوائی جہاز کے ذریعے پہنچا تو وہاں کے اسلامک سنٹر میں پہنچ کر قیام پذیر ہوا۔ اسلامک سنٹر کے سربراہ اور جکارتہ کے ممتاز دینی رہنما الشیخ حبیب الحبشی نے اسلامک سنٹر جکارتہ میں ایک جلسہ عام بلایا۔ جس میں جکارتہ کے دس ہزار فرزندان توحید نے شرکت کی۔ علامہ حبیب الحبشی نے وفد کا تعارف کرایا اور اس کی انڈونیشیا میں آمد کی غرض وغایت سے لوگوں کو آگاہ کیا۔ انڈونیشیا کے دارالخلافہ میں پہلی مرتبہ اتنے عظیم اجتماع میں وفد کے سامنے وہاں کے علماء اور عوام نے عہد کیا کہ اب وہ اس فتنہ کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ مرزائیوں کی سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے وفد کی سعی اور کوشش سے انڈونیشیا میں مرزائیوں کی تردید پر مشتمل لٹریچر بھی بڑی تعداد میں چھپ گیا۔ یہ لٹریچر انڈونیشی زبان پر مشتمل تھا۔ وفد کے دورے کے دوران مندرجہ ذیل رسائل مختلف سائز میں چھپ گئے تھے۔
- ۱...... مرزا غلام احمد کا تعارف۔
- ۲...... مرزائیت کے مختلف روپ۔
- ۳...... مرزا غلام احمد کے ارتقائی منازل۔
- ۴...... مرزا غلام قادیانی کی بددیانتی۔
- ۵...... مرزا غلام قادیانی اور تحریف قرآن۔
- ۶...... مرزا غلام احمد کی حقیقت۔
- ۷...... مرزائیوں کے وجوہات کفر۔
- ۸...... مرزا غلام قادیانی کا دعویٰ نبوت۔
- ۹...... مرزائیت علامہ اقبال کی نظر میں۔
یہ رسائل کثیر تعداد میں چھپ گئے تھے اور عوام و خواص ان سے استفادہ کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ دیگر رسائل و کتب بھی مولانا اللہ وسایا اور مولانا عبدالرحیم اشعر نے ترتیب دیئے۔ جن کو وہاں کے مقامی عالم الشیخ حسین الحبشی نے انڈونیشی زبان میں منتقل کر کے شائع کیا۔
اس طرح وہاں بھی امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی پرسوز آواز پہنچ گئی، اور حضرت امیر مرکزیہ مولانا محمد یوسف بنوری کی سرپرستی میں دین حق کا پیغام اس سرزمین پر بھی بلند ہوا، اور مرزائیت جیسے فتنہ کا احتساب شروع ہو گیا۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
مولانا عبدالرحیم اشعر اور مولانا اللہ وسایا کا انڈونیشیا کا سفر وہاں پر ان کی تبلیغی خدمات، مرزائیوں کا مناظرہ سے فرار ہونا اور اس سفر سے دیگر متعلقہ حالات و واقعات پر مشتمل ایک مضمون آئندہ صفحات پر ملاحظہ فرمائیں گے۔
پشاور میں جلسہ عام
مجلس تحفظ ختم نبوت پشاور کے زیراہتمام ۱۱ فروری ۱۹۷۷ء چوک یادگار پشاور میں جلسہ عام منعقد ہوا۔ صدارت مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے نائب امیر مرکزیہ شیخ طریقت مولانا خان محمد نے فرمائی۔ تلاوت ونظم کے بعد مجلس پشاور کے ناظم اعلیٰ مولانا نور الحق نور نے پشتو میں مفصل تقریر کی۔ انہوں نے اپنی تقریر میں جلسہ کی غرض وغایت اور سرحد میں مجلس کی کارکردگی اور قادیانیوں کی ریشہ دوانیوں پر روشنی ڈالی۔ قراردادیں پیش کیں جنہیں نعروں سے گونجتی ہوئی فضا میں عوام نے پاس کیا۔ ان کے بعد مولانا عبدالرؤف مرکزی مبلغ نے اپنے مختصر خطاب میں اندرون و بیرون ملک مجلس کی کارکردگی پر اظہار خیال کیا۔ ان کے بعد مجلس تحفظ ختم نبوت لائل پور کے مبلغ مولانا اللہ وسایا نے تقریر کی۔ انہوں نے اپنی پون گھنٹہ کی تقریر میں قادیانیوں کا سیاسی تجزیہ کیا اور دستور میں قادیانیوں کے متعلق ترمیم پر عمل درآمد نہ کرنے والوں پر کڑی تنقید کی۔ مشترکہ سیاسی پارٹی قومی اتحاد جن کے منشور پر خوشی کا اظہار کیا کہ انہوں نے اپنے منشور میں مسئلہ ختم نبوت کے تحفظ کے وعدے کو شامل کر کے پوری قوم کے دل جیت لئے ہیں۔
مولانا اللہ وسایا کے بعد مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے فاضل خطیب مولانا سید منظور احمد شاہ نے خطاب کیا۔ جلسہ ظہر سے عصر تک جاری رہا۔ سامعین کی تعداد ہزاروں سے متجاوز تھی۔ یادگار چوک کی تمام سڑکوں پر ٹریفک بند ہوگئی تھی۔ انسانوں کے اس ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر نے بڑے آرام واطمینان اور دلجمعی کے ساتھ مقررین کے خیالات سنے۔ مناسب وموزوں وقت پر نعرہ ہائے تکبیر اور ختم نبوت زندہ باد سے جلسہ کی فضا گونج اٹھتی۔ مولانا خان محمد صاحب خانقاہ سراجیہ کی دعا پر جلسہ اختتام پذیر ہوا۔ جلسہ میں پشاور اور گردونواح کے ممتاز علماء نے بھی شرکت کر کے سٹیج کی عزت کو دوبالا کیا۔ رات کو مولانا نورالحق نور کے مکان کے وسیع وعریض صحن میں درس قرآن کی ایک تقریب منعقد ہوئی۔ جس میں مولانا اللہ وسایا نے حفاظت دین کے عنوان پر ایک گھنٹہ تقریر کی۔ رات گئے تک یہ خیر و برکت کی محفل جمی رہی اور حاضرین برکات وحسنات سے متمتع ہوتے رہے۔
(لولاک مؤرخہ ۱۸؍ فروری ۱۹۷۷ء)
تھوڑی سی پیتا ہوں...... جناب بھٹو کا اعلان
۲۰؍ فروری ۱۹۷۷ء کو لاہور میں پیپلز پارٹی کا جلسہ تھا۔ دیگر سورماؤں کے علاوہ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بھی اپنی خطابت کے جوہر دکھائے اور جس طرح ان کی عادت تھی کہ اپنی کسی تقریر میں علماء کو گالیاں اور طعنے دیئے۔ بغیر ان کو چین نہ آتا تھا۔ حسب سابق اس بیان میں بھی علماء کو خوب خوب نشانے پر رکھا۔ اپنی تقریر میں بھٹو صاحب نے کہا: ’’میں گالیاں وغیرہ نہیں دے رہا۔ دلائل کے ساتھ حقائق پر مبنی باتیں کر رہا ہوں‘‘ اور پھر پنجابی میں کہا: ’’مینوں بھی گالیاں آندی ہیں‘‘
بھٹو صاحب نے کہا کہ یہ مجھ پر الزام لگاتے ہیں کہ میں شراب پیتا ہوں۔ ایک زمانے میں پیتا تھا۔ اب بہت کم پیتا ہوں۔ (ہاتھ کا اشارہ کر کے) شاید اتنا۔ وہ بھی جب ۱۸، ۱۹ گھنٹے کام کر کر کے تھک جاتا ہوں۔ کوئی تھکن دور کرنے کے لئے سگریٹ پیتا ہے۔ میں
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
(ہاتھ سے اشارے سے) اتنی سی پیتا ہوں۔ سارا دن کام کرنے کے بعد تھکن دور کرنے کے لئے اتنا گناہ ہو جاتا ہے۔ یہ مولوی جو میرے خلاف سازشیں کرتے ہیں۔ اٹھتے بیٹھتے حلوہ کھاتے ہیں اور میری تھوڑی سی شراب نوشی کو نشانہ تنقید بناتے ہیں۔
(نوائے وقت لاہور، مؤرخہ ۲۱؍فروری ۱۹۷۷ء)
بھٹو صاحب کے اس بیان پر تبصرہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ سیاسی جلسہ تھا اور اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف یہ ان کا سیاسی بیان ہے۔ ہمیں صرف بھٹو صاحب کا یہ مقولہ ”تھوڑی سی پیتا ہوں“ ایک مشہور غزل کے پہلے شعر جیسا لگا۔ اس لئے نقل کر دیا کہ ”ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے‘
وزیر اعظم بھٹو کی مرزا ناصر سے تازہ ملاقات
۱۹۷۶ء میں جب امیر مرکزیہ مولانا محمد یوسف بنوری افریقہ کے دورہ سے واپس تشریف لے آئے تو انہوں نے افریقی ممالک میں دیگر مسائل اور خدشات کے علاوہ ایک اس مسئلہ کے متعلق تشویش ظاہر کی تھی کہ بیرون دنیا میں قادیانیت کے حوالے سے پاکستان کے فیصلہ کی اگر کما حقہ تشہیر ہوتی تو قادیانیت کے منہ زور گھوڑے کو لگام لگ جاتی۔ مولانا واپس آئے تو مجلس کے شوریٰ کے اجلاس میں یہ طے ہوا کہ مجلس کا وفد وزیر اعظم بھٹو سے ملاقات کر کے انہیں استدعا کرے کہ وہ مرزائیوں کے متعلق قومی اسمبلی میں ہونے والے فیصلے کے بعد مناسب قانون سازی کا وعدہ پورا کریں اور بیرونی ممالک میں خصوصاً عرب ممالک میں پاکستان کے اس فیصلہ کی اشاعت کا مناسب انتظام کریں۔ جس سے پاکستان اور حکومت پاکستان دونوں کے احترام میں اضافہ ہوگا۔
چنانچہ اس فیصلہ کے بعد جبیس ہوٹل کراچی میں ایک زبردست تقریب منعقد کی گئی۔ جس میں کوئی پانچ صد نمائندہ معززین کراچی نے شرکت کی۔ اس تقریب میں مولانا بنوری نے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ مجلس کا ایک نمائندہ وفد وزیر اعظم بھٹو سے ملاقات کرے گا اور بیرونی ممالک میں مرزائیوں کی ارتدادی سرگرمیوں کے انسداد اور مرزائیوں کے سلسلہ میں مناسب قانون سازی جیسے مطالبات کے سلسلہ میں گفتگو کرے گا۔ اس استقبالیہ میں پروفیسر غفور احمد ایم این اے اور مدیر لولاک مولانا تاج محمود نے بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا۔ اس کے بعد مولانا کی طرف سے وزیر اعظم بھٹو سے بذریعہ تار ملاقات کی استدعا کی گئی۔ جس کا کوئی جواب نہ دیا گیا۔ ایک ماہ بعد ان کے ملٹری سیکرٹری کے نام پھر مفصل تار بھیجا گیا۔ وفد کے اراکین کے نام تحریر کئے گئے اور استدعا کی گئی کہ وفد کو جلد از جلد ملاقات کا وقت دیا جائے۔ لیکن وہاں سے کوئی جواب نہ آنا تھا نہ آیا۔ الٹا مولانا سید محمد یوسف بنوری اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے دوسرے علماء کرام پر ملک سے باہر جانے پر پابندی عائد کر دی گئی۔
آخر کار کچھ درمیان کے لوگوں کے توسط سے بات کا سلسلہ شروع ہوا تو بھٹو صاحب کے ایک اعلیٰ پیش کار نے نہایت حقارت آمیز طریقہ سے کہا کہ یہ لوگ اب اگر کوئی ایجی ٹیشن منظم کرنے کی کوشش کریں گے تو انہیں کچل دیا جائے گا۔ مجلس عمل کے وفد جذبات میں آنے کی بجائے کہا کہ حضور اس ملاقات میں آپ کا بھی فائدہ ہو سکتا ہے۔ مرزائی اب ملک کے بھی دشمن اور آپ کے بھی دشمن۔ مرزائیوں کے شر اور شرارت سے بچنا آپ کے بس کا روگ نہیں۔ نشۂ اقتدار بری بلا ہے۔ وفد کو کہا گیا کہ بھٹو صاحب کے ایک مشیر سردار محمد حیات ٹمن سے ملاقات کرو۔ تو قیادت نے جواب دیا کہ وہ بھٹو صاحب کے سیاسی مشیر ہیں۔ جب کہ ہم بھٹو صاحب سے کوئی سیاسی بات نہیں کرنا چاہتے۔ مولانا سید
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
محمد یوسف بنوری کو اطلاع دی گئی کہ سردار محمد حیات ٹمن کی طرف سے، ہمیں ملاقات کی دعوت آئی ہے۔ مولانا نے اس ملاقات ہی سے انکار کر دیا اور وفد کو بھی منع کر دیا گیا کہ اب ہمیں کسی سے ملاقات کی ضرورت نہیں ہے۔ چنانچہ یہ ملاقات نہ ہو سکی۔ حضرت بنوری نے اس موقع پر فرمایا تھا کہ اب یہ ملاقات ہم ملک کے اگلے حکمران سے کریں گے۔ حضرت بنوری ایک مستجاب الدعوات شخصیت تھے۔ ان کی بات پتھر کی لکیر ثابت ہوئی۔ کچھ ہی عرصے بعد وزیر اعظم بھٹو تختہ اقتدار سے لڑھک کر تختہ دار پر پہنچ گئے۔ اس موقع پر سید الاولین والآخرین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ایک حدیث یاد آئی۔ فرمایا: ”ان من عباد الله لو اقسم على الله لأبره “ کہ اللہ کے بعض (نیک) بندے ایسے بھی ہیں جو اللہ کی ذات پر اعتماد کر کے کوئی بات کہہ دے تو اللہ (ان کا خیال کرتے ہوئے) وہ بات سچ کر کے دکھاتا ہے۔
مجلس عمل کے وفد سے وزیر اعظم نے ملاقات سے انکار کیا۔ اس کو ہم بھٹو صاحب کی سیاسی مصروفیات پر محمول کر لیتے۔ اگر چند ہی دنوں بعد یہ خبر نہ ملتی کہ وزیر اعظم نے مرزا ناصر احمد سے دوبارہ خاصی طویل ملاقات کی ہے۔ یہ ملاقات راولپنڈی میں ہوئی۔ وزیر اعظم نے جس دن انتخابات کا اعلان کیا تھا۔ اس کے ایک ہفتے بعد مرزا ناصر سے ملاقات کی۔ ۷؍ ستمبر کے فیصلے کے بعد مرزا ناصر سے وزیر اعظم صاحب کی یہ دوسری خاص طویل ملاقات تھی۔ بھٹو کی حکمت عملی اور ملاقات کے پیچھے پوشیدہ عزائم کیا تھے؟ سمجھ سے بالاتر ہیں۔ اس لئے کہ ایک طرف مجلس کے رہنماؤں کے بار بار اصرار کے باوجود ٹائم نہیں مل رہا۔ دانستہ طور پر وزیر اعظم صاحب ملک کے ایک بڑے طبقے کو خود سے بدظن کر رہے تھے اور دوسری طرف مٹھی بھر اقلیت جن کی سازشوں کا اپنوں اور غیروں نے اقرار کیا ہے، کو منانے اور ان کو نوازنے کی کوشش کر رہے تھے۔
(لولاک مؤرخہ ۲۲؍ فروری ۱۹۷۷ء، ۱۰؍ مارچ ۱۹۷۷ء)
انتخابات اور مرزائی اقلیت
بھٹو صاحب نے جب انتخابات کا اعلان کیا تو قومی اسمبلی میں اقلیتوں کی مخصوص نشستوں پر چاروں صوبوں میں امیدواروں کا انتخاب کیا۔ یہ چھ نمائندے عیسائیوں، ہندووں، سکھوں اور پارسیوں میں سے تھے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ مرزائیوں میں سے کوئی نمائندہ نہیں تھا۔ حالانکہ ایسا نہیں تھا کہ بھٹو صاحب کا مرزائیوں کے ساتھ راہ و رسم نہیں تھا۔ بلکہ وہ تو باقاعدہ ان کے پوپ سے خوشگوار موڈ میں ملاقاتیں کرتے اور انہی کی پارٹی کے سابقہ وزیر حنیف رامے نے تو مرزائیوں کے حقوق کے لئے گولی چلانے کی بھی بات کی تھی اور پچھلی اسمبلی میں ان کا نمائندہ مسٹر طاہر بشیر بھی پیپلز پارٹی ہی سے قومی اسمبلی کا رکن بنا تھا۔ جس پر قادیانیوں نے ارتداد عن الاسلام کا فتویٰ لگا کر ان کو مرزائیت سے خارج کیا تھا اور اسی واقعہ میں مرزائیوں نے خود کو غیر مسلم اقلیت ماننے سے انکار بھی کیا تھا۔ شاید بھٹو صاحب بھی ان کے اس نظریے اور اس طرز عمل پر آمادہ ہو گئے تھے۔ تبھی تو ان کو اقلیت سے نشستیں بھی نہیں دیں۔
انتخابات کا اعلان
وزیر اعظم بھٹو نے ۷؍ مارچ ۱۹۷۷ء کو قومی اسمبلی اور ۱۰؍ مارچ ۱۹۷۷ء کو جب صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کا اعلان کیا۔ اس اعلان کا پورے ملک میں خیر مقدم ہوا۔ سندھ اور پنجاب میں جلسے جلوسوں پر پابندی تھی۔ دفعہ ۱۴۴ کا نفاذ تھا۔ انتخابات کی آمد پر وہ پابندی بھی ختم ہو گئی۔ جلسے جلوسوں کی اجازت دے دی گئی۔ ذوالفقار علی بھٹو، اس کی پارٹی کے امیدواروں اور حزب اختلاف کے امیدواروں نے پورے ملک میں انتخابی مہم چلانا شروع کر دی۔ پیپلز پارٹی اور قومی اتحاد کے درمیان انتخابی معرکہ طے ہونا تھا۔ قومی اتحاد نو سیاسی جماعتوں
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
کے اتحاد سے بنی ایک نئی پارٹی کا نام تھا۔ جس میں جمعیت علماء اسلام، مسلم لیگ، جماعت اسلامی، جمعیت علماء پاکستان، پاکستان جمہوری پارٹی، نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی، تحریک استقلال، آزاد جموں کشمیر مسلم کانفرنس، خاکسار تحریک شامل تھے۔ ان نو جماعتوں نے اپنی متحدہ پارٹی کا نام ”قومی اتحاد“ رکھا تھا۔ انہوں نے اپنا ایک علامتی جھنڈا بنایا تھا۔ جو سبز رنگ کا تھا اور اس پر نو ستارے بنے ہوئے تھے۔
انتخابات کے موقع پر چیف الیکشن آفیسر نے یہ امید افزا اور خوش کن ہدایات دی تھیں کہ قومی اسمبلی کے ہر امیدوار کو اپنی درخواست کے ہمراہ ایک حلف نامہ شامل کرنا ہوگا۔ جس سے ثابت ہو کہ درخواست دہندہ مرزائی نہیں۔ حلف نامہ کی عبارت یہ تجویز کی گئی۔ ”میرا حضور اکرم ﷺ کے آخری نبی ہونے پر قطعی اور غیر مشروط ایمان ہے۔ وہ خاتم النبیین ہیں۔ کوئی شخص جو نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے میں اسے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بعد نبی یا مذہبی مصلح نہیں مانتا۔“
الیکشن کمیشن کے اس اعلان سے مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ مجلس عمل کے کارکنوں اور قائدین نے کمیشن آفیسر کو مبارکباد دی۔ اگرچہ حلف نامہ میں یہ بھی شامل ہونا چاہئے تھا کہ : ”جو شخص حضور نبی کریم ﷺ کے بعد کسی بھی مفہوم میں دعوائے نبوت کرے۔ ایسا کرنے والے کو مصلح یا نبی تسلیم کرنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہے“۔ بہر حال یہ بھی غنیمت تھی کہ اس سے مسلمانوں کے بھیس میں کسی مرزائی کا قومی اسمبلی میں داخلے کا دروازہ بند کر دیا گیا۔
مجلس عمل نے بھی ان دنوں ایک اعلامیہ جاری کیا تھا جس میں مسلمانوں سے یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ انتخابی مہم کے دوران اگر کوئی جماعت کسی مرزائی کو ٹکٹ دے تو فوراً مجلس عمل کے دفتر کو اطلاع دی جائے۔ تاکہ بلا رو رعایت اس امیدوار کی مخالفت کی جائے اور چور دروازے سے مرزائی اسمبلی میں داخل نہ ہو سکے۔ ۷؍ مارچ ۱۹۷۷ء کو ملک بھر میں قومی اسمبلی کے انتخابات ہوئے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پارٹی، پیپلز پارٹی کی جیت اور قومی اتحاد کی ہار ہوئی تھی۔ قومی اتحاد نے ان نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کیا اور پیپلز پارٹی کی کامیابی کو سراسر دھاندلی کا ثمرہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کئی حلقوں میں پولنگ افسروں اور انتظامیہ کے کل پرزوں نے حکمران جماعت کے امیدواروں کے حق میں کھلم کھلا دھاندلی کی۔ پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو پہلے ہی بیلٹ پیپر دے دیئے گئے اور انہوں نے اپنی مرضی سے بیلٹ بکس بھر لئے۔ جعلی ووٹنگ کروائی گئی۔ غنڈہ گردی کی گئی۔ بیلٹ باکس اٹھا لئے گئے۔ قومی اتحاد کے امیدواروں پر حملے کئے گئے۔ ان کے ایجنٹوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ مارا پیٹا گیا۔
۷؍ مارچ ۱۹۷۷ء کی دھاندلی کے خلاف پورے ملک میں شدید اضطرابی اور احتجاجی لہر اٹھی۔ کیماڑی سے خیبر تک اور بڑے بڑے شہروں سے لے کر چھوٹے قصبوں تک پورا ملک اس احتجاجی تحریک میں شریک ہو گیا۔ پورے ملک میں سول نافرمانی کی تحریک چلی۔ ملک کے ہر شہر، ہر قصبے میں جلوس نکلتے رہے۔ دفعہ ۱۴۴ اور دیگر واقعات و سانحات کی آڑ میں ہزاروں لوگ گرفتار کئے گئے۔ حکومت کے تمام تر تشدد، ظلم اور بربریت کے باوجود تحریک پورے ملک میں بڑے زور و شور اور بڑے منظم طریقے سے چل رہی تھی۔ علماء کرام، وکلاء، خواتین، مزدور، کسان غرض ملک کے تمام طبقات اور حلقوں کے لوگ اس تحریک میں کسی نہ کسی رنگ میں شامل ہو رہے تھے۔ لوگوں نے ایثار و قربانی کے ریکارڈ توڑ دیئے۔
بھٹو صاحب کا طریقہ واردات یہ تھا کہ وہ ایک طرف تو قومی اتحاد پارٹی کے قائدین کو مذاکرات کی دعوت دے رہے تھے۔ لیکن دوسری طرف قومی اتحاد کے کارکنوں اور قائدین پر ظلم اور تشدد کے ہتھیاروں سے وار بھی کر رہے تھے۔ لیکن قومی اتحاد کے رہنماؤں نوابزادہ
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
نصر اللہ خان، مفتی محمود، چوہدری ظہور الٰہی ، اصغر خان وغیرہ نے جواب میں کہا کہ تحریک کا اصل مقصد آزادانہ انتخابات کا دوبارہ انعقاد ہے۔ اس کے علاوہ کسی موضوع پر بحث اور مذاکرات کے لئے ہم تیار نہیں۔ حکومتی کارندوں نے اقتدار کا ناجائز استعمال کر کے عوام پر جبر و استبداد کے وہ پہاڑ ڈھائے کہ مسلمانوں نے مساجد میں حکومتی ظلم کے خلاف قنوت نازلہ پڑھنا شروع کر دی تا کہ مسلمانوں کو بھٹو اور اس کی پارٹی کی آمریت سے نجات ملے۔ اس سیاسی خلفشار میں تحریک ختم نبوت کچھ عرصے کے لئے پس منظر میں چلی گئی۔
مسلم مسجد لاہور کا خونی حادثہ
ان حالات کے پیش نظر علماء کونسل لاہور نے ایک اعلان شائع کیا کہ ۳۱؍ مارچ ۱۹۷۷ء کو علماء کا ایک پر امن احتجاجی جلوس نکالا جائے گا جس میں نفاذ شریعت اور انتخابات میں دھاندلی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جائے گا۔ جلوس کے لئے مقررہ دن جمعرات کا تھا۔ ۳۱؍ مارچ کو نماز ظہر سے قبل علماء، خطباء، دینی اور عصری اداروں کے طلباء ہزاروں کی تعداد میں مسلم مسجد لاہور پہنچ گئے اور انہوں نے ظہر کی نماز وہیں ادا کی۔ علماء حضرات کے مسجد میں پہنچنے سے پہلے ہی پولیس، رینجرز، ایف سی، پی آر پی اور دوسری فورسز وہاں پہنچی ہوئی تھیں اور انہوں نے تمام راستوں کی ناکہ بندی کر رکھی تھی۔
جلوس کے منتظمین نے ظہر کی نماز کے بعد علماء کو دو دو صفوں میں ترتیب دے کر جلوس نکالنے کا پروگرام بنایا تو انتظامیہ نے آگے سے ناکہ بندی کی ہوئی تھی۔ جلوس کے منتظمین نے کہا کہ ہم نے پہلے سے اشتہارات چھاپے ہیں۔ اگر آپ کو اعتراض تھا تو آپ اس وقت منع کرتے ۔ بہرحال انتظامیہ نے جلوس کو حرکت کرنے نہ دی اور مسجد میں بیٹھے بیٹھے عصر کی نماز کا وقت ہو گیا۔ مسجد نمازیوں سے بھر گئی۔ بہت سے لوگ مسجد کے باہر صفیں باندھ کر نماز ادا کر رہے تھے۔ ابھی نمازی حضرات التحیات میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک پولیس نے لاٹھی چارج شروع کر دیا۔ مظاہرین کو مارنے، زخمی کرنے اور ذلیل کرنے کے بعد پولیس جوتوں سمیت مسجد کے اندر گھس گئی۔ نمازیوں نے بڑا دروازہ بند کر لیا۔ پولیس والوں نے مسجد کا بڑا دروازہ توڑ ڈالا اور اندر گھس کر بے پناہ لاٹھی چارج کیا۔ پولیس تشدد کا نشانہ بننے کے بعد مسلم مسجد کئی دن تک زیارت گاہ بنی رہی۔ لوگ بڑی تعداد میں جمع ہو گئے۔ مسجد کے خون آلود فرش اور دیواروں، صفوں اور سیڑھیوں پر خون کے نشانات دیکھ کر لوگ بے بسی کے آنسو بہاتے رہے۔ لاٹھی چارج کے ساتھ مسجد میں آنسو گیس کے بے شمار گولے بھی پھینکے گئے تھے۔ جمعرات کے دن اس دردناک سانحے کے بعد مسجد میں مغرب، عشاء اور اگلے دن فجر کی اذان نہ ہوسکی اور نہ کوئی نمازی نماز ادا کرنے آئے۔ جمعہ کے دن اس المناک حادثے کے غم میں مسلم مسجد کے آس پاس تمام دوکانداروں نے دوکانیں بند رکھیں۔ اگلے دن صبح پولیس نے مسجد کے دروازے بند کر کے مسجد کے فرش اور دیواروں کو غسل دے کر خون کے دھبوں، لوتھڑوں اور داڑھیوں کے بالوں کو صاف کر دیا تھا۔ لیکن متاثرین کے جسموں پر تشدد کے نشانات پکار پکار کر کہہ رہے تھے کہ اس مسجد میں کل نمازیوں، علماء، دینی مدارس کے طلباء اور عام شہریوں پر کیا سانحہ گزر چکا ہے۔ آنسو گیس شیلنگ کی وجہ سے مسجد کے حوض میں ساری مچھلیاں ہلاک ہو چکی تھیں اور پولیس پر بس نہیں بلکہ ہفت روزہ چٹان کے رپورٹر نے تو یہ بھی لکھا ہے کہ مسلم مسجد کے آس پاس کے مسلمانوں کی رائے تھی کہ حکمران پارٹی کے کارکن غنڈوں نے بھی مسجد پر اینٹیں پھینکی تھیں۔ پولیس نے سنگدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دس بارہ سال کی عمر کے دو بچوں کو اوپر چھت سے پھینک دیا۔ جس سے ایک بچے کی ٹانگ اور دوسرے کا بازو ٹوٹ گیا۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
مسلم مسجد لاہور کا مؤذن
مسلم مسجد کا مؤذن صابر محمد ضلع مظفر گڑھ سے تعلق رکھتا تھا۔ ہفت روزہ لولاک کے نمائندے نے اس کے حوالے سے لکھا ہے: ’’صابر محمد نے لرزتی ہوئی آوز میں بتایا کہ وہ ۱۴ برس سے اس مسجد کا مؤذن ہے۔ گزشتہ عصر کی نماز کے دوران پولیس نے نمازیوں پر بڑی بے رحمی کے ساتھ لاٹھی چارج کیا۔ اس کے ساتھ ہی مسجد میں آنسو گیس کے گولے پھٹنے لگے۔ اسی دوران میں مسجد کے دائیں گوشے میں چلا گیا کہ اچانک پولیس مسجد میں آدھمکی اور چند کانسٹیبل میری طرف لپکے۔ میں نے بلند آواز سے انہیں بتایا کہ میں مسجد کا مؤذن ہوں۔ لیکن انہوں نے میری ایک نہ سنی اور مجھ پر لاٹھیاں برسانے لگے۔ جس سے میرے دونوں بازوؤں اور ٹانگ پر شدید زخم آئے۔ میں نے دیکھا کہ پولیس بچوں اور بوڑھوں کو کسی امتیاز کے بغیر بے رحمی سے پیٹ رہی تھی۔ مسجد کے امام صدمہ سے نڈھال تھے۔ ان کے افراد کنبہ وہاں سے منتقل ہو چکے تھے اور سامان بکھرا پڑا تھا۔‘‘
مسلم مسجد کے عینی شاہدین کا بیان
مسلم مسجد کے قریب چند دوکانداروں نے اس درد ناک واقعہ کی روداد لکھی ہے۔ تلخیصاً اس کو ملاحظہ فرمائیں۔ جلوس کے لئے علماء کرام ایک گھنٹہ سے بالکل پر امن دو دو کی قطار میں سڑک پر بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ کوئی ڈیڑھ میل لمبی لائن تھی۔ جلوس کے رہنماؤں اور انتظامیہ میں انارکلی جانے کی اجازت نہ دینے پر تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا۔ سینکڑوں کی تعداد میں پولیس موقعہ پر موجود تھی۔ جس نے یکا یک علماء پر لاٹھیوں سے حملہ کر دیا۔ جلوس کے رہنماؤں کی یہ اپیل ہم نے خود سنی تھی کہ جلوس میں شامل لوگ بالکل پر امن رہیں اور کسی چیز کو نقصان نہ پہنچائیں۔ نماز عصر کے بعد ابھی چند افراد مسجد کی سیڑھیاں اتر کر فٹ پاتھ پر آئے تھے کہ پولیس نے حملہ کر کے انہیں منتشر کر دیا۔ لاٹھی چارج ہونے کی وجہ سے بہت سے لوگ واپس مسجد میں چلے گئے۔ یہ لوگ ’’پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ‘‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ اسی اثناء میں مسجد پر پچھلی طرف سے اینٹیں برسنا شروع ہو گئیں۔ پولیس نے مسجد میں آنسو گیس کے گولے پھینکے۔ جس سے ساری مسجد تاریکی میں ڈوب گئی۔ مظاہرین کے نعرے بدستور جاری تھے۔ نعرے سن کر ایس. پی صاحب کو تاؤ آ گیا اور اس نے اڑھائی تین سو پولیس والوں کو مسجد کے اندر جوتوں سمیت بھیج دیا۔ پولیس کے لوگ، لوگوں کو بری طرح مارتے، پیٹتے، مسجد سے باہر لے آئے۔ کسی کے سر سے خون بہہ رہا تھا۔ کسی کی ناک پچکی ہوئی تھی۔ کسی کا بازو ٹوٹا ہوا تھا۔ دکانیں بند ہو چکی تھیں اور دکانوں کے قریب لوگ یہ منظر دیکھ کر آنسو بہا رہے تھے۔ بعض لوگوں کی شلواریں اتار کر لاٹھیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ ان میں سفید داڑھی والے بزرگ بھی تھے۔ جب تک لوگ بیہوش نہیں ہو جاتے تھے ان پر لاٹھیاں برس رہی ہوتی تھیں۔ پولیس نے نہ صرف مسجد کے اندر موجود لوگوں اور سڑک پر دھرنا مارنے والے علماء اور طالبعلموں ہی کو زدوکوب کیا۔ بلکہ عام لوگوں سے بھی بہیمانہ سلوک کیا۔ دوکانداروں نے لکھا ہے کہ ہم نے اپنی زندگی میں کبھی ایسا واقعہ نہیں دیکھا ہے۔ زبان اس کا صحیح نقشہ کھینچنے سے قاصر ہے۔
میکو میڈیسن اینڈ کیمیکل کے مالک خورشید عالم نے لکھا ہے کہ : ’’میں عصر کی نماز ادا کرنے مسجد میں گیا تھا۔ مگر اشک آور گیس اتنی تھی کہ میں نماز کی ادائیگی کے بعد مسجد سے باہر نہ آسکا۔ گیس کے اثر سے بچنے کے لئے میں مسجد کے حوض پر منہ ہاتھ دھو رہا تھا کہ پولیس کے سپاہیوں نے مجھے اٹھا کر حوض میں پھینک دیا۔ جب میں حوض سے باہر نکلا تو پولیس کانسٹیبلوں نے مجھے لاٹھیاں مارنے کے بعد سیڑھیوں سے دھکا
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
دے دیا۔ جب میں لڑکھڑاتا ہوا نیچے آیا تو وہاں پولیس نے مجھے زدوکوب کیا۔ جب میں نے وہاں سے بھاگ کر سامنے اپنی رہائش پر پہنچنے کی کوشش کی تو راستے میں پھر پولیس نے مجھے مارا۔ لاٹھیوں کی شدید ضربات سے میری ٹانگوں ، بازوؤں اور دونوں کندھوں سے گوشت اتر گیا۔ پولیس مجھے پکڑ کر تھانہ لے گئی۔ جہاں ڈیڑھ دوسو آدمی پہلے ہی موجود تھے۔ میں نے ۲۴؍ افراد کو شمار کیا۔ جن کی ناک کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں۔ کئی افراد شلواروں کے بغیر تھے اور بعض لوگ قمیصوں اور شلواروں سے محروم تھے۔ جنہیں پولیس ننگا کر کے پیٹتی ہوئی تھانے لے گئی تھی۔ یہ وہ معزز لوگ تھے جنہیں میں روزانہ مسجد میں نماز ادا کرتے ہوئے دیکھتا رہا۔ پولیس انہیں داڑھیوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے تھانہ میں لا رہی تھی۔ پولیس والے مولویوں کو فحش گالیاں دے رہے تھے۔ اگلے دن جمعہ کی نماز میں نمازیوں کی صرف دو صفیں تھیں۔ جب کہ عام طور پر مسجد نمازیوں سے بھری ہوئی ہوتی تھی۔ بہت سے مستقل نمازی پولیس لاٹھی چارج میں زخمی ہونے کے باعث نماز جمعہ ادا کرنے نہیں آئے تھے۔“
ایک انکشاف جو مسلم مسجد کے اکثر نمازیوں نے کیا ، یہ تھا کہ علماء کرام اور عام شہریوں پر اس بہیمانہ تشدد میں عام پولیس والوں کا دخل نہیں تھا۔ بلکہ بعض غنڈہ عناصر کو خاص طور پر تشدد کی تربیت دے کر پولیس کی وردیوں میں اس شرمناک فعل کے لئے تعینات کیا گیا تھا۔ حکومت کے اس اقدام پر پورے ملک میں احتجاج اور غم وغصہ کی ایک لہر اٹھی ۔ پرامن اور قانون کا لحاظ رکھتے ہوئے نکالے ہوئے جلوس پر حکومت کا وحشیانہ تشدد ہر خاص وعام کی زبان پر تھا۔ جوتوں سمیت مسجد کے اندر پولیس نے داخل ہو کر جس گستاخی کا ارتکاب کیا تھا اس پر ہر آنکھ اشکبار تھی۔ پورے ملک میں تمام مذہبی اور سیاسی جماعتوں نے احتجاج کیا اور حکومت کی آمریت اور ماورائے آئین اقدام موضوع بحث بنا رہا۔ وزیر اعظم بھٹو اور اس کے نورتنوں کے خلاف انتخابات میں دھاندلی اور عوام کو بزور شمشیر دبانے کی بناء پر عوامی ناراضگی اور احتجاج کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ چاروں صوبوں میں حکومت مخالف تحریک چلی ۔ بلوچستان ، سندھ اور سرحد نے اپنی اپنی اسمبلیوں کے انعقاد کے موقع پر مؤثر اور شاندار احتجاج کئے۔ صوبائی اسمبلیوں کے یہ اجلاس، جلوسوں ، مظاہروں اور احتجاجوں کی فضا میں ہوئے تھے۔ نہ صرف احتجاجی مظاہروں بلکہ ظالمانہ لاٹھیوں اور اشک آور گیس کے دھوؤں کے بادلوں کے سایہ میں اجلاس ہوئے تھے۔ سنسناتی گولیوں کی بوچھاڑ اور چھلنی سینوں سے ابلتے ہوئے لہو کے ماحول میں علماء ، وکلاء ، طلباء ، خواتین اور دوسرے شہریوں نے اعلاء کلمۃ الحق کا فرض ادا کیا۔
۱۹؍ اپریل ۱۹۷۷ء کو بھٹو صاحب نے پنجاب کی صوبائی اسمبلی کا اجلاس بلایا۔ پنجاب میں اس دن مختلف مقامات پر چھوٹے بڑے احتجاج ہوئے۔ فیصل آباد ، راولپنڈی ، ملتان ، گوجرانوالہ وغیرہ تمام شہروں میں حکومت کی آمریت اور مطلق العنانی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے ۔ اس نوعیت کا سب سے بڑا جلوس اور احتجاج لاہور میں ہوا۔ جس کے لئے پورے پنجاب کے نواح سے لوگ پہنچ گئے تھے۔ حکومت نے ایک دن پہلے یعنی ۱۸؍ اپریل ۱۹۷۷ء کو ناکہ بندی کی اور لاہور میں داخلے پر پابندی لگا دی ۔ لیکن پنجاب کے بہادر سپوت دو دو تین تین روز پہلے ہی لاہور پہنچ گئے تھے۔ پنجاب اسمبلی نے ۹ بجے اپنی کارروائی کا آغاز کرنا تھا۔ لیکن لاہور کے غیور مسلمان ۸ بجے نیلا گنبد پہنچ گئے۔ نوابزادہ نصراللہ خان نے سب سے بڑے جلوس کی قیادت کرنی تھی۔ انہیں روکنے اور گرفتار کرنے کی انتظامیہ نے کوشش کی۔ لیکن ناکامی ہوئی۔ پولیس فورس اور بھٹو صاحب کے غنڈوں نے لاٹھی ، آنسو گیس، گولیوں اور سنگینوں کا بے دریغ استعمال کیا۔ لیکن جلوس کے شرکاء استقامت اور برداشت کے ساتھ آگے بڑھتے رہے۔ حکومتی ظلم وستم اور آمریت اس حد تک گئی تھی کہ مساجد میں قنوت نازلہ پڑھنے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ امیر مرکزیہ علامہ مولانا سید محمد یوسف بنوری نے لولاک میں اشتہار دے کر قنوت نازلہ پڑھنے کی اپیل کی تھی اور ان سنگین حالات کے پیش نظر ایک بیان یہ بھی دیا تھا۔ ”ملک عزیز جس ہولناک بحران کی لپیٹ میں ہے اس پر دل کانپ رہا ہے۔ خانہ خدا
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
کے تقدس کو پامال کیا جا رہا ہے۔ علماء، وکلاء اور ملک کے دیگر معززین کی سربازار تذلیل کی جارہی ہے اور ان کا پرندوں کی طرح شکار کیا جارہا ہے۔ معصوم بچوں اور خواتین پر شہ زوری کا مظاہرہ کیا جارہا ہے جو کسی قوم کی پیشانی پر بدنما داغ ہے۔ معیشت تباہ ہو چکی ہے۔ اقتصادیات پٹ چکی ہے۔ کارخانے اور بازار بند اور کاروبار ٹھپ ہیں۔ عالمی برادری میں ملک کا وقار خاک میں مل چکا ہے۔ دشمن ہنس رہے ہیں اور دوست رورہے ہیں۔ یہ ظلم و ستم، یہ جور و تعدی، یہ انتشار و خلفشار، یہ بے آبروئی و ہوا خیزی ملک کے مستقبل کے لئے نہایت خطرناک ہے۔ میں نہایت دلسوزی سے دردمندانہ اپیل کرتا ہوں کہ خدا کے لئے اس ملک کی حالت پر رحم کریں۔ اقتدار سے الگ ہو کر ملک کو آزادانہ انتخاب اور بے لاگ فیصلے کا موقع دے۔ اگر قوم بخوشی انہیں دوبارہ منتخب کر لیتی ہے تو اطمینان سے دوبارہ حکمرانی کریں اور قوم انہیں مسترد کر دیتی ہے تو زبردستی لوگوں کی گردنوں پر مسلط رہنے کی کوشش نہ کریں۔ ملک کے طول و عرض میں خونی ڈرامہ کھیلا جارہا ہے۔ ملک مزید اس کا متحمل نہیں ۔“
(لولاک مؤرخہ ۲۵؍ اپریل ۱۹۷۷ء)
مختلف حضرات کے تاثرات ملاحظہ فرمانے سے قارئین کو اس دور کی نازک صورتحال کا کچھ نہ کچھ اندازہ ہو گیا ہوگا۔ ۴، ۵؍ جولائی ۱۹۷۷ء کی درمیانی رات کو خدائے ذوالجلال نے بھٹو کے دست برد اور شکنجہ سے قوم کو نجات دلائی اور افواج پاکستان نے ملک کا نظم و نسق سنبھال لیا۔ جنرل محمد ضیاء الحق نے چیف مارشل ایڈمنسٹریٹر کا عہدہ سنبھال لیا۔ مارشل لاء لگتے ہی ضیاء الحق نے اعلان کرایا کہ فوج کوئی سیاسی عزائم نہیں رکھتی۔ بلکہ اکتوبر میں آزادانہ انتخابات کرا دے گی۔“
(ہفت روزہ لولاک، اپریل، مئی، جون، جولائی، چٹان ۱۹۷۷ء)
جعلی تنظیم ختم نبوت
ذوالفقار علی بھٹو اور اس کی پیپلز پارٹی انتخابات اور پھر اقتدار کی کرسی تک پہنچنے کے لئے ہر الٹی سیدھی حرکت کر گزرتے تھے۔ سیاست میں ہر ناجائز کو جائز اور ہر ناروا کو روا سمجھتے تھے۔ مرزا ناصر احمد کی ناز برداری اور مرزائیوں کی بے جا مراعات نوازی اس سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ اس نوعیت کی ایک حرکت جو انتخابات کے دوران کی گئی، یہ تھی کہ ”تنظیم ختم نبوت“ کے نام سے ایک خود ساختہ جماعت بنائی اور پھر اس کے نام سے روزنامہ نوائے وقت میں یہ اعلان چھپوایا کہ: ”ختم نبوت کی تنظیم والے انتخابات میں وزیر اعظم بھٹو اور اس کی پارٹی کی بھر پور حمایت کریں گے ۔“ مجلس تحفظ ختم نبوت کے علم میں جب یہ بات آئی تو انہوں نے فوراً اس جعلی تنظیم اور اس اعلان سے اظہار لاتعلقی کر دیا اور یہ اعلان جاری کر دیا: ”روزنامہ نوائے وقت راولپنڈی میں کسی نام نہاد ”تنظیم ختم نبوت“ کا کوئی اعلان پیپلز پارٹی کی حمایت میں شائع ہوا ہے۔ اس جعلی، فرضی اور مجہول النسب تنظیم کا ملک کی معروف اور ممتاز دینی جماعت مجلس تحفظ ختم نبوت سے کوئی تعلق نہیں ۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کا کام قطعی طور پر غیر سیاسی ہے۔“
فیصل آباد کا اوقافی کذّاب ملاّں
اس اعلان سے ایسا لگتا تھا کہ مرزائیوں کے کسی خفیہ سیل نے ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی پارٹی کی مخلصانہ امداد کے سلسلے میں ختم نبوت کا مقدس نام استعمال کیا ہے یا پھر کوثر نیازی کے ذہن کی کسی ابلیسی اختراع یا فیصل آبادی اوقاف کے کذاب ملاّں کو اس نام سے موسوم کیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ مجلس تحفظ ختم نبوت نے جب ۱۹۷۴ء میں تحریک تحفظ ختم نبوت کا آغاز کیا تو پیپلز پارٹی کے علاوہ ملک کی ان تمام جماعتوں نے جو آج پی.این.اے میں شامل تھیں۔ اس کی قائم کردہ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت میں شریک ہو کر عظیم الشان جدوجہد میں حصہ
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
لیا تھا اور بے مثال قربانیاں دے کر حکومت کو جھکنے پر مجبور کیا تھا۔ لیکن بعد میں بھٹو صاحب نے مرزائیوں سے پھر ساز باز کر لی اور مجلس عمل سے طے شدہ سمجھوتے کے مطابق مرزائیوں کے خلاف کوئی قانون سازی نہ کی گئی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی ترمیم بے فائدہ ہو کر رہ گئی۔
انتخابات میں مرزائیوں نے بھٹو کا ساتھ دیا تھا اور ہمیشہ کی طرح اسلام دشمن طاقتوں سے مل کر اسلام اور اسلامی جماعتوں کو نقصان پہنچانے کے درپے رہے۔ یہاں تک کہ وہ مبینہ طور پر اسلامی جماعتوں کے رہنماؤں، کارکنوں اور ساتھیوں کے قتل عام میں بھٹو پارٹی کے ساتھ ہراول دستے کے طور پر شامل ہونے والے تھے۔ اس لئے مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں، کارکنوں اور رضا کاروں کے کسی اسلام دشمن پارٹی یا فرد کے تعاون کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ بلکہ وہ اس کے برعکس پی۔این۔اے کی احیائے اسلام کی تحریک کی ہر طرح مؤید اور دعا گو تھی۔ جس میں مفتی محمود، خان عبدالولی خان، نوابزادہ نصر اللہ، جماعت اسلامی، تحریک استقلال اور ملک کی دیگر مذہبی و سیاسی جماعتیں اتحاد کئے ہوئے تھیں اور احیاء اسلام کے لئے پر جوش تحریک چلا رہی تھیں۔
(لولاک مؤرخہ ۵/ مارچ ۱۹۷۷ء)
مولانا اللہ وسایا کی گرفتاری
۲۶ مئی ۱۹۷۷ء رات کو مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ اور لولاک کے معاون مدیر مولانا اللہ وسایا صاحب دیگر ساتھیوں کے ہمراہ فیصل آباد ریلوے اسٹیشن پر آئے تھے۔ یہ حضرات مولانا تاج محمود کے استقبال کے لئے کھڑے تھے کہ اچانک پولیس آگئی اور کوئی وجہ بتائے بغیر مولانا اللہ وسایا صاحب کو گرفتار کر کے لے گئی۔ مولانا کو فیصل آباد سینٹرل جیل میں رکھا گیا۔ مولانا پر حکومت کے خلاف تقریریں کرنے کا الزام لگایا۔ حالانکہ مولانا نے صرف مرزائیت کے حوالے سے تقاریر کی تھیں۔ مرزائیوں کے خلاف کی گئی تقریریں کیوں حکومت کو اپنے خلاف لگیں، کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ ان دنوں حکومت کو علماء دشمنی کا ایسا بخار چڑھا تھا کہ اس کو کچھ نہیں سوجھتا تھا۔ مسلم مسجد لاہور اور کراچی حیدرآباد میں بدترین تشدد اس کی ایک مثال ہے۔ جنرل ضیاء نے آکر بھٹو کے سر سے علماء دشمنی کا یہ خمار اتارا تھا۔ ۶/ جون ۱۹۷۷ء کو ضمانت پر مولانا کو رہا کیا گیا۔
(لولاک، ۳۰/ مئی ۱۹۷۷ء، ۷/ جون ۱۹۷۷ء)
تحفظ ختم نبوت کانفرنس بہاول پور
۲۹ مئی ۱۹۷۷ء کو بہاول پور میں ۲۹ مئی ۱۹۷۴ء سانحہ ربوہ کی یاد میں ختم نبوت کانفرنس منعقد کی گئی۔ مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا محمد شریف جالندھری اور مولانا سید منظور شاہ حجازی نے شرکت فرمائی۔ بہت بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔
ختم نبوت کانفرنس جابہ
۲، ۳ جولائی ۱۹۷۷ء کو عالمی مجلس کے زیر اہتمام تحفظ ختم نبوت کانفرنس جابہ ضلع سرگودھا میں منعقد ہوئی۔ انعقاد جابہ مسجد و مدرسہ کے وسیع و عریض ہال میں ہوا۔ مجلس کے ناظم تبلیغ مولانا عبدالرحیم اشعر، مولانا سید منظور احمد شاہ، مولانا اللہ وسایا، مولانا خدا بخش، قاضی ظہور الحسن مرکزی رہنما خدام اہل سنت، مولانا محمد دین مروال اور دوسرے رہنماؤں نے بیانات فرمائے۔
(لولاک مؤرخہ ۱۵/ جولائی ۱۹۷۷ء)
ترک مرزائیت
یکم اپریل کو حکیم نورالدین کی پڑنواسی اور ان کے بیٹے عبدالسلام کی نواسی محترمہ شاہینہ صاحبہ بنت ایم یحییٰ نے حضرت العلام
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
مولانا سید محمد یوسف بنوری کے دست حق پرست پر اسلام قبول کر لیا۔ محترمہ شاہینہ صاحبہ کی اپنی تحریر کے مطابق انہوں نے کچھ عرصے تک اسلام اور قادیانیت کا تقابلی مطالعہ کیا اور اپنے شبہات کے ازالے کے لئے دونوں مذاہب کے علماء سے رجوع کیا۔ رئیس المناظرین، فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیات صاحب ایک مرتبہ کراچی تشریف لے گئے۔ وہاں مرزائی مربیوں سے متنازعہ فیہ مسائل میں گفتگو فرمائی۔ حضرت مولانا کی یہ گفتگو سن کر موصوفہ نے خود اپنے کچھ شبہات پیش کئے اور جب ان کے ذہن کی تمام الجھنیں دور ہو گئیں تو انہوں نے مولانا محمد یوسف بنوری کے دست پر بیعت کر کے اسلام قبول کر لیا۔ مولانا بنوری کی تصدیقی تحریر اس وقت روزنامہ جنگ اور نوائے وقت میں شائع ہو گئی تھی۔
(لولاک، مورخہ ۴؍ جولائی ۱۹۷۷ء)
عالمی مجلس کی مجلس شوریٰ کا اجلاس
۱۰؍ اگست ۱۹۷۷ء دفتر مرکزیہ ملتان میں مجلس کی شوریٰ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ صدارت حضرت العلام مولانا سید محمد یوسف بنوری نے فرمائی۔ حضرت الامیر کے علاوہ نائب امیر خواجہ خواجگان حضرت مولانا خان محمد ، حضرت مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا غلام محمد صاحب خازن مجلس تحفظ ختم نبوت، مولانا تاج محمود، مولانا محمد حیات صاحب صدر المبلغین ، مولانا عبدالرحیم اشعر ناظم تبلیغ، سردار میر عالم خان لغاری، مولانا نور الحق ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت صوبہ سرحد، الحاج بلند اختر نظامی، شہید اسلام مولانا محمد یوسف لدھیانوی، مولانا منظور احمد شاہ کہروڑوی نے شرکت فرمائی۔ مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے تلاوت سے اجلاس کا آغاز فرمایا۔ ناظم اعلیٰ مولانا محمد شریف جالندھری نے گزشتہ شوریٰ کے منعقدہ اجلاس کی کارروائی سنائی۔ اجلاس میں درج ذیل امور پر غور کیا اور فیصلے کئے گئے۔
ربوہ میں مرزائیوں کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا۔ شوریٰ نے ربوہ کے مرزائیوں کی اس حرکت کو خاص طور پر نوٹ کیا کہ انہوں نے ۳، ۴؍ جولائی ۱۹۷۷ء کی درمیانی شب ربوہ کے قصر خلافت کو آنے والی چھ سڑکوں کو بلاک کر دیا تھا۔ سرکاری سڑکوں کے درمیان سیمنٹ کی چوڑی اونچی اور مضبوط دیواریں کھڑی کر دی تھیں۔ شوریٰ میں اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ ربوہ کی جماعت کی طرف سے ایسے لوگ مقرر کئے گئے ہیں جو گزشتہ تحریک کے دوران دونوں متصادم جماعتوں میں شامل کئے جاتے رہے اور فسادات کا باعث بنتے رہے۔ یہ لوگ پی. این. اے کے جلوسوں میں خاص طور پر بھیجے جاتے رہے تا کہ وہاں سے اشتعال انگیزی کریں۔ پولیس پر پتھراؤ کریں اور معصوم اور بے گناہ مسلمانوں کو پولیس وغیرہ کے تشدد کا نشانہ بنوائیں۔ ربوہ میں اب بھی اس بات کا اہتمام اور انتظام کیا جا رہا ہے کہ آنے والے وقت میں مرزائیوں کے خاص رضا کار مسلمانوں کی صفوں میں شامل ہو کر بہت بڑے فسادات کرا دیں۔ تا کہ پیپلز پارٹی اور پی. این. اے کے درمیان وسیع پیمانے پر گڑبڑ مچ جائے اور ملک کے حالات خراب ہو جائیں۔ اجلاس میں یہ بات بھی زیر بحث آئی تھی کہ مرزائیوں کو ان کی تعداد کے مطابق ان کے سیاسی حقوق دیئے جائیں۔ بلاوجہ ان کی ناز برداری نہ کی جائے اور نہ ہی ان کو ان کے شہری حقوق سے محروم کیا جائے۔ تمام سیاسی پارٹیوں سے درخواست کی جائے کہ مسلمان کے نام پر مرزائی امیدوار کو پارٹی ٹکٹ نہ دیا جائے۔
(لولاک مورخہ ۷؍ اگست ۱۹۷۷ء)
حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری کی رحلت
محدث العصر، شیخ الاسلام، جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے بانی مبانی امیر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان، صدر مجلس عمل اور
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
اسلامی مشاورتی کونسل کے رکن رکین، شیخ الاسلام والمسلمین مولانا سید محمد یوسف بنوری ۱۷؍ اکتوبر ۱۹۷۷ء بروز پیر صبح نو بجے دل کا دورہ پڑنے سے ملٹری کمبائنڈ ہسپتال راولپنڈی میں انتقال فرما گئے۔
مولانا سید محمد یوسف بنوری ۶؍ ربیع الثانی ۱۳۲۶ھ مطابق ۱۹۰۶ء پشاور میں پیدا ہوئے تھے۔ آپ سید آدم بنوری کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ والد گرامی مولانا محمد زکریا بنوری اپنے وقت کے جید عالم تھے۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی۔ تکمیل علوم کے لئے ازہر ہند دارالعلوم دیوبند میں چلے گئے۔ جہاں آپ نے امام العصر، حضرت علامہ مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری سے اکتساب فیض کیا۔ بعدہ جامعہ اسلامیہ ڈابھیل ضلع سورت میں شیخ الحدیث مقرر ہوئے۔ ۱۹۳۰ء میں پنجاب یونیورسٹی سے مولوی فاضل کا امتحان اعزاز سے پاس کیا۔ پھر پشاور آگئے۔ ۱۹۳۵ء میں ڈابھیل کے علماء کی طرف سے علمی ودینی خدمات کے لئے ڈھاکہ گئے۔
۱۹۳۷ء میں مصر تشریف لے گئے۔ مولانا سید محمد یوسف بنوری وہ مرد مجاہد تھے جنہوں نے سب سے پہلے دارالعلوم دیوبند کے علماء کا مصر میں تعارف کرایا۔ مصر میں آپ کے علم کا سکہ مانا جاتا تھا۔ مصر کے مشہور عالم دین علامہ طنطاوی نے تفسیر طنطاوی لکھی۔ آپ نے اس کی بعض جزئیات پر تعمیری علمی تنقید کی۔ علامہ طنطاوی نے ان تنقیدیات و تنقیحات کا جائزہ لیا اس کے بعد حضرت بنوری کو ہمیشہ استاذی المکرم، فضیلۃ الشیخ، بحرالعلوم والفیوض سے یاد کیا کرتا تھا۔ آپ نے قیام مصر کے دوران حنفیت کی عظیم خدمت کی۔ مصر کے علماء آپ کو وکیل حنفیت کے نام سے یاد کیا کرتے تھے۔ آپ کے علم وفضل کا مصر میں ایسا چرچا ہوا کہ بعد میں شاید ہی مصر کے علماء کی سرکاری غیر سرکاری کانفرنس ہو، جس میں آپ کو دعوت نہ دی گئی ہو۔ آپ جامعہ ازہر مصر کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لئے ہر سال تشریف لے جاتے۔ اجلاس میں پرمغز، ایمان پرور، جہاد آفرین، حقائق افروز مقالہ پڑھتے جسے وہاں کی حکومت بڑے اعزاز واکرام کے ساتھ شائع کرتی۔ آپ نے ترمذی شریف کی عربی مبسوط شرح معارف السنن چھ جلدوں میں کتاب الحج تک لکھی۔ جو آپ کی وفات کے باعث تشنہ تکمیل رہی۔ جسے مصر میں خوبصورت گلیز پیپر پر شائع کیا گیا۔ قیام مصر کے دوران ہی آپ نے فیض الباری، نصب الرایہ، سمت قبلہ اور دوسری عربی گراں قدر تصانیف اپنی نگرانی میں شائع کرائیں۔
۱۹۵۱ء میں ٹنڈو الہ یار خان کے مدرسہ میں آپ تشریف لائے۔ کچھ عرصہ بعد کراچی نیو ٹاؤن میں مدرسہ اسلامیہ کی بنیاد رکھی جب آپ نے بنیاد رکھی تو یہ جگہ جوہڑ نما کھڈہ تھا۔ لیکن آج اصلہا ثابت وفرعہا فی السماء کا مصداق ہے۔ مدرسہ کے مرکز اور شاخوں میں طلباء کی موجودہ مجموعی تعداد ۱۰ ہزار سے بڑھ کر ہے۔ برصغیر کے عظیم دینی اداروں میں یہ مدرسہ شمار ہوتا ہے۔ اس وقت تک ہزاروں علماء اس مدرسہ سے فارغ ہو چکے ہیں۔ جس میں سینکڑوں وہ حضرات ہوں گے جن کا تعلق برما، انڈیا، انڈونیشیا، برطانیہ، امریکا، افریقہ، نائیجیریا، ایران، کینیا، سینی گال، افغانستان، مصر، تھائی لینڈ، سنگا پور، ملائیشیا اور دوسرے ممالک سے ہے۔
اس وقت آپ کے مدرسہ میں ۲۵ ممالک کے طلباء تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ طلباء کی تعداد کے لحاظ سے پورے پاکستان کا سب سے بڑا مدرسہ ہے۔
حضرت سید بنوری بحیثیت امیر
آپ مارچ ۱۹۷۴ء میں مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے امیر منتخب ہوئے۔ مجلس کی جنرل کونسل کا ملتان میں اجلاس تھا۔ مولانا نے
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
امیر بننے سے معذوری ظاہر کی۔ اپنی مصروفیت اور کمزوری کا عذر کیا۔ مولانا محمد شریف بہاول پوری دست بستہ کھڑے ہوگئے۔ آبدیدہ اور گلوگیر لہجے میں عرض کی۔ حضرت! یہ ختم نبوت کا مقدس مشن اور فریضہ مولانا سید انور شاہ کشمیری نے امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے سپرد کیا تھا۔ بخاری صاحب نے قاضی صاحب، مولانا محمد علی جالندھری، مولانا لال حسین اختر کو سونپا تھا۔ وہ ایک ایک کر کے ہم سے جدا ہو گئے ہیں۔ ان کا سایہ ہمارے سروں پر نہیں رہا، یتیم ہو گئے۔ آپ ہماری سرپرستی فرمائیں۔ آپ حضرت انور شاہ صاحب کشمیری کے علوم کے وارث ہیں تو ان کی یہ امانت بھی آپ قبول فرمائیں۔ اگر آپ مجلس کی امارت قبول نہیں فرماتے تو یہ دفتر کی چابیاں ہیں، دفتر کو اپنے ہاتھ سے بند کر دیں۔ ہم تمام مبلغین گھروں کو واپس جاتے ہیں۔ کام کے بند ہو جانے کے بعد کل قیامت کے دن آپ ذمہ دار ہوں گے۔
حضرت مولانا بہاول پوری نے جب مولانا انور شاہ کشمیری کا نام لیا تو حضرت بنوری پر گریہ طاری ہو گیا۔ زار و قطار رونے لگے۔ آپ نے کمزوری، بڑھاپے اور مصروفیات کے باوجود مجلس کی امارت قبول فرمائی۔ حسن اتفاق کہئے یا خدا کی دین کہ آپ کے امیر منتخب ہونے کے دو ماہ بعد ۲۹ مئی ۱۹۷۴ء کو سانحہ ربوہ پیش آیا۔ پورے ملک میں تحریک چلی۔ آپ نے امیر کی حیثیت سے دیوبندی، بریلوی، شیعہ، اہل حدیث تمام مکاتیب فکر کے جید علماء کرام اور تمام سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں کا مشترکہ اجلاس ۶؍ جون ۱۹۷۴ء کو لاہور خدام الدین شیرانوالہ میں طلب کیا۔ نوابزادہ نصر اللہ خان کی تجویز پر آپ کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے کنوینر مقرر ہوئے۔ مجلس عمل کے با ضابطہ انتخاب کے لئے لائل پور میں ۱۴؍ جون ۱۹۷۴ء کو اجلاس طلب کیا گیا۔ اجلاس میں تمام رہنمایان ملک و ملت جمع تھے۔ اجلاس کے شروع ہونے سے قبل آپ کمرہ میں تشریف لے گئے۔ تھوڑی دیر بعد واپس تشریف لائے۔ کسی ساتھی کو کمرہ میں جانے کی وجہ کا علم نہ ہوا۔ آپ کی صدارت میں اجلاس شروع ہوا۔ جناب آغا شورش کشمیری کی تجویز پر آپ مجلس عمل کے سربراہ منتخب ہوئے۔ تحریک ختم نبوت کے بعد ملتان کی ایک مجلس میں آپ نے ارشاد فرمایا کہ لائل پور میں اجلاس شروع ہونے سے قبل میں نے کمرے میں علیحدہ جا کر دو رکعت نماز نفل پڑھی اور اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی کہ مولائے کریم میں مجلس عمل کی صدارت کے لائق نہیں۔ کسی اہل کو یہ امانت سونپ دے۔ لیکن خدا کی شان کہ میری دعا قبول نہ ہوئی۔ بلکہ میں منتخب ہو گیا تو اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ مولائے کریم اس بار عظیم کو اٹھانے کی ہمت و قوت عنایت فرما۔
اللہ اللہ ! یہ آپ کی شان انکساری تھی کہ لوگ صدارتوں، وزارتوں کے لئے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں۔ مگر آپ کو اس سے دور کا واسطہ بھی نہیں تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ مولانا جیسا جلیل القدر دینی و مذہبی رہنما اور منکسر المزاج صدیوں تک پیدا نہیں ہوگا۔ آپ کی سربراہی میں ۱۹۷۴ء میں تحریک مقدس ختم نبوت کامیاب و کامران ہوئی۔ آپ نے ۱۹۷۴ء کی تحریک کے بعد افریقی ممالک کا دورہ کیا۔ جس کی مفصل روئیداد گزشتہ صفحات میں گزر چکی ہے۔ رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کے سرکاری آرگن العالم الاسلامی کی رپورٹ کے مطابق تقریباً ایک لاکھ مرزائیوں نے اسلام قبول کیا۔ گویا یہ مقدس تحریک جس کی برصغیر میں باضابطہ طور پر بنیاد مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری نے رکھی تھی اس کی تکمیل آپ کے شاگرد مولانا سید محمد یوسف بنوری کے ہاتھوں ہوئی۔ واقعہ یہ ہے کہ مولانا بنوری، مولانا انور شاہ کشمیری کے علوم کے امین اور وارث تھے۔ وہ خلوص، تقویٰ، للہیت میں مولانا انور شاہ کشمیری کی چلتی پھرتی تصویر تھے۔
مولانا مرحوم کی وفات علم و عمل کی وفات ہے۔ آپ بیک وقت دارالعلوم دیوبند اور تھانہ بھون کے امین تھے۔ روحانی تعلق جہاں حضرت مدنی سے تھا آپ سے بیعت کی تھی۔ سند حدیث کی اجازت ملی تھی۔ وہاں خرقۂ خلافت حضرت تھانوی نے بھی آپ کو عنایت کیا تھا۔ ستمبر ۱۹۷۷ء میں آپ اسلامی مشاورتی کونسل کے رکن منتخب ہوئے۔ اس کے اجلاس کی وجہ سے قاہرہ میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت سے
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
معذوری کا اظہار کیا۔ صرف اکیلے مولانا مفتی محمود روانہ ہوئے۔ قاہرہ روانگی سے قبل مفتی صاحب حضرت بنوری سے ہدایات لینے کے لئے حاضر ہوئے۔ آپ اسلامی مشاورتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لئے اسلام آباد آئے۔ ۱۵؍اکتوبر ۱۹۷۷ء ہفتہ کے روز صبح ساڑھے آٹھ بجے آپ کو دل کا دورہ پڑا۔ ڈاکٹروں نے آپ کا معائنہ کیا۔ پانچ گھنٹے بعد دوسرا دورہ پڑا جو کافی شدید اور تکلیف دہ تھا۔ آپ نڈھال ہوگئے۔ مگر قرآن مجید کی تلاوت کرتے رہے۔ اس کے بعد آپ کو ملٹری کمبائنڈ ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا۔ ۱۷؍اکتوبر بروز پیر تیسرا دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا۔ راولپنڈی میں نماز جنازہ جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کے بانی مولانا عبدالحق نے پڑھائی اور اسی رات دس بجے جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی میں آپ کا دوسرا جنازہ مولانا ڈاکٹر عبدالحئی عارفی خلیفہ مجاز حضرت تھانوی نے پڑھایا۔ ہزاروں علماء، مشائخ ، عوام عقیدت مند حضرات نے آپ کو آہوں، سسکیوں اور کلمۂ طیبہ کی گونجتی ہوئی فضا میں جامعہ بنوری ٹاؤن ہی میں بنے مرقد میں رحمت خداوندی کے سپرد کیا۔ اللہ تعالیٰ آپ کی تربت پر کروڑ ہا رحمتیں نازل فرمائیں۔
(ہفت روزہ لولاک، مؤرخہ ۲۱؍اکتوبر ۱۹۷۷ء)
حضرت علامہ محمد یوسف بنوری کی وفات حسرت آیات پر حضرت مولانا تاج محمود نے ہفت روزہ لولاک میں ایک پر درد اور پرمغز اداریہ تحریر فرمایا۔ جس میں اس دور کے حالات اور تحریک احیاء اسلام پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے۔ اس لئے نذر قارئین کرتے ہیں۔
علم وعرفان کا سورج غروب ہو گیا
”عالم اسلام کے مایہ ناز محدث اور نامور عالم دین حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری بھی آخر دنیائے اسلام کو داغ مفارقت دے کر اپنے رب کے پاس چلے گئے۔ ان کی وفات سے پوری دنیائے اسلام مغموم اور محزون ہوگئی ہے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی علوم نبوی کی تعلیم وتدریس اور تبلیغ میں گزار دی۔ امت محمدیہ میں علم وعرفان کی ہزاروں شمعیں روشن کیں اور لاتعداد سینوں کو علوم نبوی سے منور کیا اور اپنے پیچھے اپنی لاتعداد انمٹ یادیں چھوڑ گئے۔
مولانا کا وجود گرامی اگرچہ امت کے لئے ہمیشہ فیوض وبرکات کا سرچشمہ رہا اور اس چشمہ صافی سے علوم اسلامیہ کے ہزاروں تشنگان اپنی پیاس بجھاتے رہے۔ لیکن اس وقت پاکستان اور ملت پاکستانیہ کو ان کی بے حد ضرورت تھی۔ وہ ۱۹۷۷ء کی تحریک احیاء اسلام اور تحریک نفاذ شریعت کے زبردست حامی اور معاون تھے۔ تحریک کے سلسلے میں ان کی تائید اور تصدیق نے لاکھوں مسلمانوں کو جانیں قربان کر دینے اور اپنا سب کچھ اسلام کے لئے نچھاور کرنے پر آمادہ کیا۔ ۵؍جولائی ۱۹۷۷ء کے انقلاب جو خاص مشیت ایزدی کی تائید لے آیا جس کے باعث ملک کی زمام اختیار ایک نیک مرد کے ہاتھ میں آئی اور جس کے آتے ہی متعدد اقدامات نے پاکستانی آئین کو شاہراہ اسلام پر گامزن کر دیا ہے۔ جنرل ضیاء الحق نے جو نیک اقدامات کئے ان میں ایک اہم اقدام نئی اسلامی نظریاتی کونسل کا قیام ہے۔
مولانا محمد یوسف بنوری اسلامی نظریاتی کونسل کے سینئر ترین رکن رکین منتخب ہوئے۔ اسلامی نظریاتی کونسل میں جتنے بزرگان دین منتخب ہوئے وہ سب اعلیٰ ترین صلاحیتوں کے لوگ ہیں۔ علم دین میں مانے جاتے ہیں اور انتہائی قابل احترام ہیں۔ لیکن مولانا ان سب میں منفرد مقام کے حامل تھے۔ یہ بات پوری کونسل کے لئے اور اس طرح پورے ملک اور قوم کے لئے باعث فخر تھی کہ ملک کو اسلامی قانون دینے والی کمیٹی میں مولانا بنوری جیسے محدث، ثقہ عالم اور وسیع النظر اور وسیع المطالعہ، اسلامی قانون کے ماہر شامل تھے۔ ان کی اس وقت ملک وقوم کو بے انتہاء ضرورت تھی۔ تیس برس کی تاخیر والتواء کے بعد حق تعالیٰ نے ملک کے لئے ایک ایسا موقعہ پیدا فرما دیا تھا اور یہ امید قائم ہوگئی کہ
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
ملک میں اب وہ اسلام نافذ ہو جائے گا جس اسلام کا نعرہ لگا کر یہ ملک حاصل کیا گیا تھا۔ اس وقت سائنس ترقی پر ہے۔ معاش سے سیاست تک کی تمام اقدار ایک گونہ سائنس بن چکی ہیں۔ روس، چین، جرمنی، فرانس، برطانیہ اور امریکہ میں انسانی دماغوں کے بنائے ہوئے نظام ہائے حیات ناکام ہورہے ہیں۔ ایسے حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ نسل انسانی کے لئے ایسا نظام مرتب کیا جائے جس کی بنیاد عقل انسانی نہ ہو بلکہ وحی الہی ہو۔ پریشان دنیا کے دکھوں کا علاج اور مداوا بن سکتا ہو۔
پاکستان کے لئے اسلامی قوانین مرتب کرتے وقت ایسے علماء، فقہاء اور محدثین کی ضرورت ہے جو قرآن وسنت سے ایسا نظام مرتب کریں جو منشائے خداوندی کے مطابق ہو، اور کتاب وسنت کے نام پر اس میں بشری وساوس اور عقلی اختراعات راہ نہ پاسکیں۔ بلکہ جو چیز مرتب ہو وہ ایسی ہو جس کی بہر حال بنیاد وحی الہی کے مفہوم اور منشاء کے خلاف نہ ہو۔ اس چھان بین اور تفقہہ کے لئے حضرت مولانا کا اسلامی نظریاتی کونسل میں موجود ہونا انتہائی ضروری تھا۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے ایک رکن جناب خالد اسحاق ایڈووکیٹ کراچی کے بقول مولانا کونسل کے آخری اجلاس میں جو کچھ فرماتے رہے وہ ایسی ہی باتیں تھیں۔ وہ اپنی آخری تقریر میں کچھ اس انداز سے ارشاد فرماتے رہے۔ جیسے وہ کوئی وصیت فرما رہے تھے۔
۱۴ / اکتوبر ۱۹۷۷ء کے اجلاس میں وہ شریک تھے۔ یہ اجلاس ۸ گھنٹے کا طویل ترین اجلاس تھا۔ مولانا پہلے ہی دل کے مریض تھے۔ ان کی بزرگی اور صحت کا تقاضا تھا کہ وہ اتنی دیر ”ایگزرشن“ نہ کرتے۔ لیکن اجلاس اہم تھا۔ مولانا اس میں اپنے پورے شوق سے شریک رہے تھے۔ وہ بہت شاداں وفرحاں تھے کہ حق تعالیٰ ان سے ایک نیک کام لے رہا ہے جو پاکستان کی بقاء واستحکام، ترقی و تعمیر اور خوشحالی کا باعث بنے گا۔ جس سے بدی مغلوب اور نیکی غالب آئے گی۔ جس سے ان لاکھوں روحوں کو تسکین نصیب ہوگی۔ جو پچھلے ایک سو سال میں راہِ حق میں اس لئے جانیں قربان کر گئے کہ پورے برصغیر میں یا اس کے کسی حصہ میں کتاب وسنت کا قانون نافذ ہو۔ اسلام کا پرچم بلند ہو اور تمام شیطانی اور طاغوتی طاقتیں تباہ وبرباد ہوں۔ ۱۵ / اکتوبر ۱۹۷۷ء کو مولانا گورنمنٹ ہوسٹل کے کمرہ نمبر ۳ میں تھے۔ آپ کے پاس آپ کے صاحبزادے مولانا سید محمد بنوری، آپ کے عزیز قاری سعید الرحمٰن اور مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد کے مبلغ انچارج مولانا غلام حیدر تھے۔ حضرت نے صبح کا ناشتہ کیا۔ آپ بالکل ٹھیک ٹھاک تھے۔ ناشتہ کے بعد حضرت کو استنجا کی ضرورت محسوس ہوئی تو آپ بیت الخلاء میں گئے۔ باہر تشریف لائے تو فرمایا کہ میرے گلے میں دباؤ اور بوجھ ہے۔ چارپائی کے نزدیک پہنچے تو دونوں ہاتھ بستر پر ٹیک کر گر گئے۔ ساتھیوں نے سنبھالا دیا اور بستر پر لٹا دیا۔ کسی نے کہا کہ ڈاکٹر کو فون کیا جائے۔ آپ نے فرمایا اس میں ڈاکٹر کچھ نہیں کرسکتے۔ یہ نئی تکلیف ہے۔ اس کے بعد آپ نے استغفار پڑھنا شروع کر دیا۔ چند مرتبہ استغفار پڑھنے کے بعد کلمہ طیبہ اور کلمہ شہادت پڑھنے لگے اور اس کے بعد عربی کے اشعار پڑھتے رہے۔ اس کے بعد آپ پر بیہوشی طاری ہوگئی اور بہت زیادہ پسینہ آیا۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے صدر جناب محمد افضل چیمہ صاحب جو کہ سپریم کورٹ کے جج بھی ہیں۔ انہیں اطلاع دی گئی اور حضرت کو کمبائنڈ ملٹری ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا۔ چنانچہ پندرہ اور سولہ اکتوبر صبح سوا پانچ بجے اپنی پیاری جان، جان آفرین کے سپرد کر دی۔ معلوم ہوا ہے حضرت کے خدام اور عزیزوں کو ہسپتال کے قواعد وضوابط کے تحت ٹھہرنے کی اجازت نہ تھی۔ صرف سولہ اکتوبر کو حضرت مفتی زین العابدین فیصل آبادی صاحب جو آپ کے ارشد تلامذہ میں سے ہیں، ہسپتال کے عملہ میں سے کسی صاحب کی واقفیت کی بناء پر حضرت کی ملاقات میں کامیاب ہوسکے۔ انہوں نے سٹاف سے اجازت لے کر حضرت کے صاحبزادے عزیزم مولانا محمد بنوری اور قاری سعید الرحمٰن وغیرہ کو بھی اندر بلوالیا۔ حضرت اس وقت ہوش میں
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
تھے۔ طبیعت سنبھلی ہوئی تھی۔ ان صاحبان سے فرمایا کہ میری یہ تکلیف نئی ہے۔ جو اللہ کو منظور ہوگا۔ ڈاکٹروں نے بولنا، چلنا اور پھرنا تک بند کیا تھا۔ معلوم ہوا کہ ہسپتال کے عملہ کے تعاون سے آپ نے پیشاب کرنے سے انکار کر دیا۔ یہاں تک کہ خود پیدل چل کر بیت الخلاء میں تشریف لے گئے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ آپ کی وفات کے بعد سب سے پہلے جنرل ضیاء الحق صاحب کو اطلاع دی گئی۔ پھر جناب افضل چیمہ صاحب صدر اسلامی نظریاتی کونسل کو بتایا گیا۔ مولانا قاری سعید الرحمن اور مولانا غلام حیدر صاحب کو اطلاع ہوئی۔ فون کے ذریعہ لاہور، کراچی، پشاور، فیصل آباد وغیرہ شہروں میں پتہ چلتا گیا۔ ریڈیو نے ۱۱؍ بجے خبر اناؤنس ہوتے ہوتے روک دی گئی۔ صرف اتنا کہا گیا کہ ”آج صبح راولپنڈی میں اسلامی نظریاتی کونسل کے......“ اس کے بعد اناؤنسر خاموش ہوگیا۔ ایک منٹ کی خاموشی کے بعد اس نے کہا۔ معاف فرمائیے خبریں ختم ہوگئیں۔
ایک بجے مولانا کی وفات، جنازہ، کراچی لے جانے اور تدفین کی خبر تفصیل سے سنائی گئی اور اس کے بعد دوسرے روز تک مسلسل خبریں دی گئیں۔ ملک بھر میں لوگوں کو سب سے زیادہ پریشانی اس سلسلہ میں ہوئی کہ باہر لوگوں کو یہ بروقت معلوم نہ ہوسکا کہ حضرت کا جنازہ پشاور لے جایا جائے گا یا کراچی۔ فیصل آباد سے بوئنگ طیارے نے ۱۱ بجے کراچی کے لئے پرواز کرنا تھا۔ لیکن ہم اس پر اس لئے سوار نہ ہوسکے کہ ۱۱ بجے تک یہ معلوم نہ ہوسکا کہ جنازہ کہاں جا رہا ہے۔ عجیب اتفاق ہے کہ حضرت اپنی صحت کی حالت میں ۱۷ تاریخ ساڑھے بارہ بجے تک جہاز سے واپسی کی نشست مخصوص کراچکے تھے۔ اسی روز آپ کا وصال ہوا۔ اسی جہاز سے آپ کا جنازہ جانا طے ہوا۔ لیکن وقت ڈھائی بجے بتایا گیا۔ پھر ۴ بجے پر ملتوی ہوا اور آخر وہی جہاز ایران سے مزید دو گھنٹے لیٹ آنے کی وجہ سے ۶ بجے شام روانہ ہوا۔ مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا محمد ایوب جان بنوری، قاری سعید الرحمن، مولانا محمد بنوری، مولانا طاسین، مولانا مفتی تقی عثمانی، سردار میر عالم لغاری اور جناب خالد بنوری اسی جہاز سے کراچی پہنچے۔ ائیر پورٹ پر کراچی امڈ کر آئی ہوئی تھی۔
جونہی جہاز ائیر پورٹ پر اترا۔ چیخ و پکار کی آوازیں بلند ہوئیں۔ مدرسہ اسلامیہ نیوٹاؤن کے ہزاروں طلباء اور حضرت کے لا تعداد فیض یافتگان اور متعلقین دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے۔ یہ سماں انتہائی رقت انگیز تھا۔ حضرت کا صندوق ایمبولینس میں رکھا گیا۔ ہزاروں کاروں کا قافلہ ایمبولینس کے پیچھے ہولیا۔ حکومت نے بہترین انتظامات کر رکھے تھے۔ مولانا کے جنازہ کے احترام میں شاہراہ فیصل کے تمام سگنلز بند کر دیئے گئے تھے۔ کاریں بغیر کسی رکاوٹ کے مدرسہ اسلامیہ نیوٹاؤن کی طرف جا رہی تھیں۔ یہ سوگوار قافلہ شاہراہ فیصل اور پھر شاہراہ قائدین سے ہوتا ہوا مدرسہ نیوٹاؤن پہنچا۔ جہاں لاکھوں لوگوں کا جم غفیر ساڑھے آٹھ بجے سے جنازہ کے انتظار میں صف بستہ موجود تھا۔ معلوم ہوا کہ جگہ کی تنگی کے پیش نظر مدرسہ نیوٹاؤن کے سامنے سے گزرنے والی بہت کشادہ سڑک پر سے پولیس نے ٹریفک روک دیا تھا۔ پونے دس بجے شب کے قریب ڈاکٹر عبدالحئی عارفی نے حضرت کی نماز جنازہ پڑھائی۔ ڈیڑھ بجے کے قریب حضرت کو مدرسہ نیوٹاؤن کے احاطہ میں مسجد کے صحن کے دائیں طرف ایک ہرے بھرے درخت کے نیچے دفن کر دیا گیا اور اس طرح علم و عرفان کا یہ سورج تہہ خاک ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ڈوب گیا۔
(اداریہ لولاک، مورخہ ۲۸؍ اکتوبر ۱۹۷۷ء)
حضرت بنوری کی وفات پر تعزیتی پیغامات
حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری کی وفات پر جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن، مجلس تحفظ ختم نبوت اور حضرت مولانا سید محمد بنوری
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
کے نام پر ہزاروں تعزیت نامے موصول ہوئے۔ صدر پاکستان جنرل ضیاء الحق، حضرت مولانا منظور احمد نعمانی، حضرت مولانا اسعد مدنی صاحب، حضرت علامہ شمس الحق افغانی، حضرت مولانا محمد عاشق الٰہی بلند شہری، مولانا محمود داؤد یوسف مفتی اعظم برما، مولانا محمد سرفراز خان صفدر، ڈاکٹر تقی الدین ندوی اور دیگر بڑی علمی وسیاسی شخصیات نے حضرت کی وفات پر رنج والم کا اظہار کیا اور اسے تاریخ کا بڑا سانحہ قرار دیا۔
نومبر ۱۹۷۷ء میں ہفت روزہ لولاک نے حضرت بنوری کی یاد میں ایک ضخیم خاص نمبر کی اشاعت کا اہتمام کیا۔ جس میں ہندو پاک اور دیگر ممالک کے بڑے اہل علم وقلم کے مضامین شامل تھے۔
(لولاک مورخہ ۱۵/اکتوبر ۱۹۷۷ء)
مجلس تحفظ ختم نبوت کی نئی جماعتی تشکیل
امیر مرکزیہ، علامہ مولانا سید محمد یوسف بنوری کی وفات حسرت آیات کے بعد جماعت کا نیا انتخاب عمل میں آیا۔ امارت کے لئے قرعہ فال شیخ المشائخ خواجہ خواجگان پیر طریقت حضرت مولانا خواجہ خان محمد کے نام نکلا۔ آپ کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ آپ خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف کے سجادہ نشین تھے۔ ( آج کل مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر آپ کے صاحبزادے حضرت مولانا خواجہ عزیز احمد دامت برکاتہم ہیں) شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب جامعہ رشیدیہ ساہیوال کو نائب امیر اور مولانا عبدالرحیم اشعر کو ناظم اعلیٰ، مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری مدظلہ خلف الرشید مولانا محمد علی جالندھری کو خازن، مولانا محمد شریف جالندھری کو ناظم تبلیغ چن لیا گیا۔ مولانا خان محمد صاحب امیر مرکزیہ نے مجلس کی عظیم ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے لئے ایک مجلس شوریٰ نامزد کی۔ جس میں جماعت کے درج ذیل پرانے کارکنوں اور رہنماؤں کو لیا گیا۔
- ۱...... مولانا تاج محمود، ایڈیٹر لولاک و خطیب ریلوے جامع مسجد فیصل آباد۔
- ۲...... قاضی فیض احمد صاحب مدظلہ، آڑھتی غلہ منڈی ٹوبہ ٹیک سنگھ۔
- ۳...... حاجی بلند اختر نظامی لاہور۔
- ۴...... مولانا حکیم عبدالرحمٰن آزاد، مالک آزاد شفاخانہ گوجرانوالہ۔
- ۵...... مولانا محمد رمضان علوی، خطیب گلشن آباد کالونی راولپنڈی۔
- ۶...... حضرت مولانا محمد عبداللہ، خطیب مرکزی جامع مسجد اسلام آباد۔
- ۷...... حضرت مولانا نور الحق نور، پیپل منڈی پشاور۔
- ۸...... حضرت مولانا علاؤ الدین صاحب، مہتمم مدرسہ نعمانیہ ڈیرہ اسماعیل خان۔
- ۹...... حاجی محمد یوسف صاحب، اسلامیہ پریس کوئٹہ۔
- ۱۰...... حاجی لال حسین صاحب، امیر مجلس کراچی۔
- ۱۱...... حاجی فرزند علی صاحب سکھر۔
- ۱۲...... سردار امیر عالم خاں لغاری، رحیم یار خان۔
- ۱۳...... حاجی سیف الرحمٰن، صدر صرافہ ایسوسی ایشن بہاول پور۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب وتحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
- ۱۴...... مولانا منظور احمد شاہ صاحب، مرکزی مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان ۔
- ۱۵...... فاتح قادیان مولانا محمد حیات صاحب ، صدرالمبلغین ربوہ ۔
- ۱۶...... حضرت مولانا محمد بنوری خلف الرشید حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری کراچی ۔
- ۱۷...... حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر صاحب مدظلہ، ناظم تعلیمات مدرسہ جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی ۔ (موجودہ
امیر مرکزیہ )
بلال زبیری جھنگ کا وصال، قافلۂ حریت کا ایک خاموش اور بیباک ساتھی
۲۸؍ستمبر ۱۹۷۷ء کو جناب بلال زبیری آخرت کو سدھار گئے۔ ان کی وفات پر مولانا تاج محمود نے ایک تحریر لکھی جس میں ان کے حالات بھی ہیں اور تعزیت بھی۔ ملاحظہ فرمائیں:
’بلال زبیری کا تعلق جھنگ سے تھا۔ انہوں نے اس پسماندہ علاقہ سے اٹھ کر قومی زندگی میں اپنا نام پیدا کیا اور وہ نام ان کے خاندان کی مالی وجاہت یا کسی روحانی عظمت کے باعث نہ تھا۔ بلکہ خود انہوں نے اپنے کام سے اپنا نام پیدا کیا۔ بلال نے جب ہوش سنبھالا اس وقت پنجاب میں احرار کا طوطی بولتا تھا۔ مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی کی صدارت میں احرار مجاہدین نے اپنی جرأتوں کے علم گاڑ دیئے تھے۔ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی سحر آفریں خطابت ہر کہ و مہ سے خراج تحسین وصول کر رہی تھی اور مولانا ظفر علی خان جیسے نابغہ روزگار لوگ شاہ جی کی خطابت کی داد ان الفاظ میں دے رہے تھے۔
بلال زبیری بھی اس بلبل ریاض رسول کے نغموں سے متاثر ہو کر زمرۂ احرار میں شریک ہو گئے۔ اس وقت ان کی عمر بہت تھوڑی تھی۔ لیکن بزرگی بعقل نہ بسال، تونگری بہ دل است نہ بہ مال، کے مصداق وہ بہت جلد احرار کی اگلی صفوں میں شامل ہو گئے راقم الحروف خود احرار کی آل انڈیا جنرل کونسل کا ممبر تھا۔ جنرل کونسل کی میٹنگوں میں ایک کھدّر پوش بچہ بھی شامل ہوتا اور جب وہ اپنی باری پر اظہار خیال کے لئے کھڑا ہوتا تو نپے تلے انداز میں اپنی رائے کا اظہار کرتا۔ اس کی تقریر میں دلائل ہوتے اور وہ متعلقہ مسائل پر بولتے ہوئے متانت، سنجیدگی اور ثقاہت کا نمونہ بن جاتا۔ جنرل کونسل اس نو عمر ننھے منے رکن کی باتوں سے متاثر ہوتی۔ یہ بہ قامت کہتر اور بہ قیمت بہتر نو عمر نوجوان مجلس احرار کی آل انڈیا جنرل کونسل کا ممبر بلال زبیری تھا۔
بلال زبیری کسی عربی مدرسہ سے فارغ التحصیل نہ تھا۔ واجبی سی دینی تعلیم حاصل کی ہوئی تھی۔ البتہ وہ انگریزی سکولوں کا طالب علم رہ چکا تھا۔ اس لئے پارٹی میں اس کا رنگ ڈھنگ خالص سیاسی اور قومی تھا۔ وہ پارٹی کی میٹنگوں میں بھی سیاسی اور معاشی مسائل پر اظہار خیال کیا کرتا تھا۔ البتہ حکومت الٰہیہ کا قیام اور فتنۂ مرزائیت کا استیصال ہر احراری کا عقیدہ و ایمان تھا اور اس کے متعلق ہم میں سے ہر شخص ہر وقت اپنے قول و عمل سے اسلام کا سپاہی تھا۔ قیام پاکستان تک بلال زبیری نے سیاسیات میں بھر پور حصہ لیا اور ضلع جھنگ کی قومی زندگی میں کما حقہ نمائندگی کی۔ قیام پاکستان کے بعد احرار کے کارکنوں کا عام عقیدہ یہ تھا کہ ان کا اصل مقصد انگریزوں کو نکالنا تھا وہ نکل گئے۔ اب مسلم
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
لیگ قوت حاکمہ ہے۔ نوزائیدہ مملکت کی نوک پلک درست کرنے کا موقعہ ہے۔ اگر کسی دوست سے ملک کی بے لوث خدمت ہو سکے تو کار خیر ہے۔ ورنہ مسلم لیگ کے لئے مشکلات نہ پیدا کی جائیں کہ کہیں ملک کی تعمیر، ترقی اور استحکام کے کام میں رکاوٹ نہ پیدا ہو جائے۔ بلال زبیری بھی اکثر کارکنوں اور جماعت کی پالیسی کے مطابق سماجی کاموں میں لگ گئے۔ تباہ حال مہاجرین کی آباد کاری اور ان کی خدمت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ہندوؤں کا مال، ان کی جائیدادیں اصل حق داروں تک پہنچانے میں امداد کی۔ ہزاروں اجڑے ہوئے آباد ہو گئے۔ لیکن خود ایک کوڑی تک کے روادار نہ ہوئے اور نبی رحمت کا ورثہ الفقر فخری پر پوری زندگی قناعت کئے رکھی۔ مجلس احرار نے مرزائیوں کے تعاقب کا فیصلہ کیا۔ بلال زبیری مرزائیوں کے لئے برق بے اماں بن گئے۔ انہوں نے سب سے پہلے انکشاف کیا کہ مرزائیوں کو ضلع جھنگ کی حدود میں ربوہ کے مقام پر آباد کرنے کی جب سازش کی گئی تو اس مکروہ منصوبہ میں ضلع جھنگ کے ایک شیعہ رئیس میجر مبارک علی شاہ بھی شریک ہوئے۔ وہ اس وقت وزیر مال تھے اور سرکاری اراضی کا محکمہ ان کے ماتحت تھا۔ انہوں نے انگریز گورنر موڈی کی اس چہیتی مخلوق کو ربوہ کی زمین ایک آنہ مرلہ سوا روپیہ کنال کے حساب سے دی تھی۔
جب (نئی قیادت) احرار نے اپنی جماعت کا تانا بانا خود ہی بکھیرنا شروع کر دیا تو بلال زبیری نے احرار کی کسی گروہ بندی میں حصہ لینے کی بجائے خاموشی اختیار کر لی اور صحافتی زندگی سے منسلک ہو گئے۔ وہ بعض اوقات جھنگ میں پورے ملکی اور قومی پریس کے نمائندہ رہے اور پھر محض روپیہ کمانے والے اخبارات جن کا کوئی اصول نہ تھا۔ ان سے علیحدگی اختیار کر لی اور ہمہ تن تالیف و تصنیف میں مصروف ہو گئے۔ انہوں نے ”تذکرہ اولیائے جھنگ“ اور اس طرح کی بعض دیگر مفید اور قابل مطالعہ کتب شائع کیں جو بہت مقبول ہوئیں اور اشاعت پذیر ہو گئیں۔ اب گو وہ کسی سیاسی جماعت میں شریک نہ تھے۔ لیکن جھنگ میں انہیں کوئی سیاسی جماعت نظر انداز نہ کر سکتی تھی۔ وہ خود اپنی ذات میں ایک جماعت، ایک ادارہ اور ایک مسلمہ طاقت تھے اور اپنی اس طاقت کا بھر پور استعمال بھی جانتے تھے۔ ان کا جھنگ میں جماعتوں اور شخصیتوں سے تعلق مخلصانہ ہوتا۔ وہ ذاتی اغراض کے لئے نہ کسی کی مخالفت کرتے اور نہ تعاون۔ الحب للہ والبغض للہ اعلیٰ اقدار کے فروغ، اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے وہ اہل حق کا ساتھ دیتے اور حق کے مخالف کے مخالف ہوتے۔ کسی فرعون اور نمرود سے دبنا ان کی فطرت میں نہ تھا۔ وہ ساری زندگی مولانا ابوالکلام آزاد کے سودائی، حضرت مدنی کے شیدائی اور شاہ جی کے فدائی رہے۔ مولانا محمد علی جالندھری اور قاضی احسان احمد شجاع آبادی سے گہرا تعلق تھا اور اسی تعلق کی وجہ سے مجلس تحفظ ختم نبوت کے خاص معاونین میں شامل تھے۔
ربوہ (چناب نگر) ضلع جھنگ میں ہے اور ربوہ کی وجہ سے آئے دن کوئی نہ کوئی آفت ہمارے علماء و مبلغین پر آتی رہتی تھی۔ بلال زبیری خالص لوجہ اللہ حضور ﷺ کی ختم نبوت کے خادم اور رضا کار تھے۔ وہ حضور ﷺ کی ختم نبوت کے لئے ننگے پاؤں اور بھوکے پیٹ بھی ہر جہاد کے لئے تیار رہتے۔ بلال زبیری اور راقم الحروف احرار میں ایک گروپ میں تھے۔ ہمارے گروپ کے لیڈر آغا شورش کاشمیری ہوا کرتے۔ بلال زبیری بھی آغا صاحب کے مداحوں بلکہ خاص دوستوں میں شامل تھے۔ آغا صاحب احرار سے علیحدہ ہو گئے تو بھی ان کا راقم الحروف اور بلال زبیری سے تعلق قائم رہا۔ آغا صاحب متحرک اور متلاطم زندگی کے مالک تھے۔ سیاسیات سے علیحدہ ہو کر بھی آئے دن کوئی نہ کوئی سیاسی طوفان بپا کر دیتے۔ بلال زبیری جھنگ میں بیٹھ کر آغا صاحب کے اس محاذ کے رفیق کار بن جاتے اور پورے قومی پریس میں آغا صاحب کے اس جہاد کے متعلق ضلع جھنگ میں جو سرگرمی ہوتی اسے اچھال اور اجال کر ایک تحریک بنا دیتے۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
بلال زبیری ایک دینی ذہن رکھنے والے پختہ فکر مسلمان تھے۔ ایک بہادر اور جری کارکن تھے۔ ایک ذہین سیاسی اور قومی رہنما تھے۔ پختہ اور شستہ قلم صحافی اور مصنف تھے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ اسلام کی لازوال محبت دل میں رکھتے تھے۔ گزشتہ تیس برس میں لوگوں نے کئی روپ بدلے۔ ایک ایک چہرے پر کئی کئی صورتیں سجائیں۔ لیکن بلال زبیری اوائل عمر میں جو مشن جو عقیدہ لے کر قومی زندگی میں آئے تھے۔ اسی مشن اور اسی عقیدے پر انہوں نے اپنی جان، جان آفریں کے سپرد کر دی۔ ان کے پائے استقامت میں کوئی خوف اور کوئی لالچ ذرہ بھر لغزش پیدا نہ کر سکا۔ اس کے اخلاص کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوگا کہ جھنگ کی ہر دلعزیز شخصیت کا مالک بلال زبیری جو تمام سیاسی لوگوں، دینی جماعتوں اور سرکاری حلقوں میں بے پناہ واقفیت، تعلق اور اثر رکھتا تھا۔ اپنے کم سن یتیم بچوں اور عمر بھر کی بہادر اور مخلص رفیقہ حیات کے لئے کوئی جائیداد، کوئی بینک بیلنس اور کوئی نفع بخش کاروبار نہیں چھوڑ گیا۔ بلکہ وہ چوہدری افضل حق اور عطاء اللہ شاہ بخاری کے قبیلہ مجنوں کا بہادر اور مخلص رفیق اپنے ان ہی بزرگوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عسرت اور فقر و فاقہ کی زندگی بسر کر کے اپنے پسماندگان کے لئے اللہ اور اس کے رسول کا نام چھوڑ مرا ہے۔ بلال زبیری کے جنازہ میں ہزاروں انسانوں کا اجتماع اور اس میں ہر مکتب فکر کے لوگوں کی اشکبار آنکھوں سے شرکت اس کی نیک نامی اور اس کی ہر دلعزیزی کا بہت بڑا سرٹیفکیٹ ہے۔“
(لولاک مؤرخہ ۱۴؍ اکتوبر ۱۹۷۷ء)
ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ
مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ۲۴ سال سے ربوہ کے سالانہ میلہ کے مقابلے میں چنیوٹ میں ختم نبوت کانفرنس کا اہتمام کرتی رہی۔ جس میں مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام اور قائدین شرکت فرماتے تھے۔ جس سے قادیانی فتنہ کے مقابلہ میں مسلم مکاتب فکر کے اتحاد و اشتراک کا مظاہرہ ہوتا تھا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت نے ۱۰، ۱۱، ۱۲؍ دسمبر ۱۹۷۷ء کو چنیوٹ کے لائبریری پارک میں کل پاکستان سالانہ ختم نبوت کانفرنس کا اہتمام کیا۔ جس میں حسب معمول مختلف مکاتب فکر کے سر بر آوردہ علماء کرام نے شرکت فرمائی اور ملک کے مختلف حصوں سے ہزاروں مندوبین اور عوام کانفرنس میں شریک ہوئے۔ کانفرنس کا آغاز ۱۰؍ دسمبر ۱۹۷۷ء بروز جمعۃ المبارک بعد نماز عشاء مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد شریف جالندھری کے خطاب سے ہوا اور اس کے بعد ۱۲؍ دسمبر کی شب تک کل سات نشستیں ہوئیں۔ جن سے شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان، مولانا تاج محمود، مولانا عبدالقادر روپڑی، مولانا حکیم عبدالرحمن، مولانا منظور احمد شاہ، سید محبوب علی شمسی، سید علی رضا شمسی، ع۔ غ کراروی، مولانا نذیر احمد، مولانا زاہد الراشدی، مولانا قاری حماد اللہ شفیق اور دیگر زعماء نے خطاب کیا۔
مولانا تاج محمود نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مرزا ناصر احمد کے اس بیان پر کڑی نکتہ چینی کی کہ کوئی طاقت ہمیں غیر مسلم قرار نہیں دے سکتی۔ انہوں نے کہا کہ مرزا ناصر کا اپنے زعم کے ساتھ یہ بات کہنا خالی از علت نہیں اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ یا تو مرزا ناصر کسی غیر ملکی طاقت کے اشارے پر اتنے بلند بانگ دعوے کر رہے ہیں یا اندرون خانہ ان کی حکومت کے ساتھ کوئی بات ہو گئی ہے۔ ورنہ کوئی وجہ نہیں کہ مرزا ناصر پارلیمنٹ کے متفقہ فیصلہ کے باوجود اپنے غیر آئینی مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ مولانا تاج محمود نے کہا کہ یہ سب جو کچھ ہو رہا ہے اس امر کا نتیجہ ہے کہ ابھی تک پارلیمنٹ کے آئینی فیصلے کے تقاضے پورے نہیں کئے گئے اور اس کے مطابق قانون سازی نہیں ہوئی اور حکومت نے پارلیمنٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کے لئے کوئی مثبت قدم نہیں اٹھایا۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ مرزا ناصر آئین کی کھلم کھلا تضحیک کر رہا
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء
ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
ہے اور حکومت اس کے خلاف بغاوت کا کیس نہیں بناتی۔
آپ نے کہا کہ حکومت قادیانی مسئلہ کو عوام کی خواہشات کے مطابق حل نہیں کر سکتی اور قادیانیوں کی سرگرمیوں کا محاسبہ نہیں کر سکتی تو صاف بتا دے تاکہ ہم خود قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے قادیانیوں سے نمٹ سکیں۔ مولانا زاہد الراشدی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ سوال اٹھایا کہ کیا قادیانی مسئلہ حل ہو چکا ہے؟ اور اس کے مختلف پہلوؤں کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ تحریک ختم نبوت کے بنیادی طور پر پانچ مطالبات تھے۔
- ۱...... قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔
- ۲...... کلیدی عہدوں سے قادیانیوں کو ہٹایا جائے۔
- ۳...... ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔
- ۴...... قادیانیوں کی وطن دشمن سرگرمیوں کا محاسبہ کیا جائے۔
- ۵...... انبیاء کرام علیہم السلام اور دیگر بزرگان دین کی توہین پر مشتمل قادیانی لٹریچر ضبط کیا جائے۔
لیکن ابھی تک صرف پہلے مطالبہ کے سلسلہ میں اصولی فیصلہ ہوا ہے اور باقی مطالبات ہنوز تشنۂ تکمیل ہیں اور پہلے مطالبہ کے سلسلہ میں بھی پارلیمنٹ نے جو قانونی فیصلہ کیا ہے قادیانی اس کو تسلیم کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ مولانا زاہد الراشدی نے کہا کہ پارلیمنٹ کے فیصلہ اور آئین کی دفعات کو تسلیم کرانا اور ان کی پابندی کرانا حکومت کی ذمہ داری ہے اور حکومت کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے قادیانیوں کو پارلیمنٹ کے فیصلہ کا پابند کرنا چاہئے۔ آپ نے عوام سے کہا کہ ابھی قادیانی مسئلہ اسی طرح ہے جس طرح سات ستمبر ۱۹۷۴ء سے قبل تھا۔ اس لئے ہمیں ایک بار پھر متحد ہو کر اس سلسلہ میں تحریک چلانا ہو گی۔
مولانا حافظ عبدالقادر روپڑی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ ختم نبوت تمام مسلمانوں کا مشترکہ مسئلہ ہے اور اس کے تقاضے پورے کرنے کے لئے ملت اسلامیہ کے تمام مکاتب فکر پوری طرح متحد ہیں اور پہلے کی طرح اب بھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ آپ نے اعلان کیا کہ آئندہ سال ختم نبوت کانفرنس انشاء اللہ تعالیٰ چنیوٹ کی بجائے ربوہ میں منعقد ہو گی۔
کانفرنس کے دوسرے مقررین نے بھی اس قسم کے جذبات کا اظہار کیا۔ شیعہ رہنما مظفر علی شمسی کے بھتیجے سید علی رضا شمسی نے نو عمر ہونے کے باوجود جن جذبات کا اظہار کیا۔ اس سے شمسی صاحب کی یاد تازہ ہو گئی تھی۔ کانفرنس کے سلسلہ میں قابل ذکر بات یہ ہے کہ کانفرنس کے انعقاد سے قبل ہی ضلعی انتظامیہ نے ۳۰ سے زائد مقررین پر پابندی لگا دی تھی اور ایک طویل فہرست کے بارہ میں کانفرنس کی انتظامیہ کو پابند کر دیا تھا کہ ان میں سے کسی صاحب کو تقریر نہیں کرنے دی جائے گی۔
علاوہ ازیں کانفرنس کے پنڈال کے گرد پولیس کا حصار شب و روز قائم رہا۔ مقررین کا تعاقب، لمحہ لمحہ پر وائرلیس کی رپورٹ اور رعب داب قائم رکھنا پولیس کا مصرف تھا۔ ختم نبوت کانفرنس کو مرعوب کرنا پولیس کی اہم ذمہ داری معلوم ہوتی تھی اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ضلع جھنگ کی پولیس کا مصرف صرف ختم نبوت کانفرنس کو ’کور‘ (Cover) کرنا رہ گیا ہے۔ تاہم مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں نے انتہائی
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
تدبر، تحمل اور بردباری کے ساتھ صورتحال کا سامنا کیا اور کانفرنس کو آخر دم تک کامیاب بنانے کی بھر پور کوشش کی۔ مگر یہ بردباری بھی مجلس کے قائدین حکومت کو راس نہ آئی اور حضرت مولانا محمد شریف جالندھری ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان جو انتہائی دور اندیش، متحمل، محتاط اور بردبار رہنما اور مقرر تھے کانفرنس کے اختتام کے ساتھ ہی تحفظ امن عامہ کی دفعہ ۱۶ کے تحت گرفتار کر لئے گئے۔ ان پر الزام یہ تھا کہ انہوں نے کانفرنس میں اشتعال انگیز تقریر کی ہے۔
مولانا محمد شریف جالندھری کی رہائی
۲۳؍ دسمبر کو مولانا عبوری ضمانت پر رہا کئے گئے۔ لیکن حکومت کی طرف سے مولانا پر بنا مقدمہ ابھی تک باقی تھا۔ مولانا وقتاً فوقتاً اس بلا جواز مقدمہ میں حاضری دیتے رہے۔ یکم جنوری ۱۹۷۸ء کو مجلس کے ایک وفد نے ہوم سیکرٹری پنجاب جناب سید اسد علی شاہ سے ملاقات کی۔ وفد میں مولانا تاج محمود، مولانا محمد شریف جالندھری، سردار میر عالم خان لغاری، سید شبیر شاہ اور بلند اختر نظامی شامی تھے۔ وفد نے ہوم سیکرٹری سے مولانا محمد شریف جالندھری پر بنے مقدمے کے حوالے سے بات کی۔ انہوں نے ہوم سیکرٹری صاحب پر واضح کیا کہ مجلس تحفظ ختم نبوت ایک دینی اور تبلیغی جماعت ہے۔ اس کا حکومت سے نہ کوئی تصادم ہے اور نہ ہی کوئی تلخی یا بد مزگی چاہتی ہے۔ مولانا کے خلاف جو مقدمہ بنا اسے واپس لیا جائے تا کہ دینی جماعتوں اور حکومت کے درمیان بلاوجہ فضا ناخوشگوار نہ ہو۔ مجلس کی تگ و دو کے کچھ عرصہ بعد حضرت ناظم اعلیٰ پر بنا ہوا بلا جواز مقدمہ ختم ہو گیا۔
(لولاک، مورخہ ۶؍ جنوری ۱۹۷۸ء)
دو روزہ ختم نبوت کانفرنس بہاول نگر
۱۰؍ نومبر ۱۹۷۷ء کو مجلس تحفظ ختم نبوت بہاول نگر کے زیر اہتمام دو روزہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں مجلس مرکزیہ کے جید علماء کرام نے ولولہ انگیز خطابات کئے۔ جامع مسجد ریلوے کالونی کے وسیع گراؤنڈ میں تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ عظیم اجتماعات منعقد ہوئے۔ عوام نے بھر پور جوش و خروش کا مظاہرہ کیا اور مقررین کے خیالات دل جمعی اور نہایت اطمینان کے ساتھ سنے۔ کانفرنس کا افتتاح مجلس ختم نبوت کے رہنما مولانا عبدالرحیم اشعر کی قبل از جمعہ کی تقریر سے ہوا۔ مولانا عبدالرحیم اشعر نے پر مغز اور جامع خطاب کیا۔ جمعہ کے بعد لاہور کے مبلغ مولانا عبدالرؤف نے خطاب کیا۔ رات کے اجلاس سے عوام کے اصرار پر مولانا عبدالرحیم اشعر نے دوبارہ تقریر کی۔ ان کے بعد مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے جنرل سیکرٹری مولانا محمد شریف جالندھری نے خطاب کیا۔ آپ کی تقریر پوری کانفرنس کا خلاصہ تھی۔ آپ نے عوام کو باہمی اتفاق و اتحاد برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ آپ نے اندرون و بیرون ملک مجلس کی تبلیغی سرگرمیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
دوسری رات کانفرنس کا آخری اجلاس تھا۔ جس کی صدارت مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ رہنما مولانا عبدالرحمن میانوی نے کی۔ اجلاس سے مجلس تحفظ ختم نبوت لائل پور کے مبلغ مولانا اللہ وسایا اور خطیب ختم نبوت مولانا سید منظور احمد نے خطاب کیا۔ مقررین نے اپنے اپنے خطاب میں مرزائیوں کی اسلام و ملک دشمنی سے عوام کو آگاہ کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ مرزائیوں کی سازشی سرگرمیوں کا سختی سے نوٹس لے۔ اس دو روزہ کانفرنس کا اختتام مولانا عبدالرحمن میانوی کی دعا پر ہوا۔ کانفرنس کے سٹیج سیکرٹری مجلس تحفظ ختم نبوت بہاول نگر کے فاضل مبلغ مولانا نذیر احمد تھے۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
تحریک ختم نبوت
کے سلسلہ میں
۱۹۷۸ء
کے
حالات و واقعات
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
تعلیمی ادارے اور قادیانی
گزشتہ سالوں کے حالات میں آپ نے تعلیمی اداروں میں مرزائیوں کی ریشہ دوانیوں اور تعلیم کے مقدس فریضے کی صورت میں اپنی زہریلی تعلیمات کے پرچار کے متعلق کچھ باتیں ملاحظہ فرمائیں۔ اقلیت قرار دینے کے مکمل تین سال گزرنے کے بعد۔ بجائے یہ کہ ان کی غیر قانونی، غیر اخلاقی سرگرمیاں ختم ہوجاتیں، روز بروز فزوں تر ہوتی گئیں۔ ویسے تو اکثر اداروں میں وہ خفیہ پوشیدہ اپنے نظریات کا پرچار کر رہے تھے۔ لیکن تعلیم الاسلام کالج ربوہ تو ان کی سازشوں اور تبلیغی سرگرمیوں کی آماجگاہ تھا۔ اس کالج میں اکثریت مسلمان طلباء کی تھی۔ لیکن اساتذہ کی اکثریت مرزائی تھی۔ کالج کے پرنسپل محمد علی صاحب جو کہ مسلمان تھے۔ آنکھوں کے علاج کی غرض سے تقریباً ایک سال سے چھٹی پر تھے۔ ان کی جگہ ربوہ کا ایک قادیانی ڈاکٹر سلطان محمود شاہد بطور پرنسپل کام کر رہا تھا۔ مسلمان طلبہ کو نشانہ ستم بنانا اس کا مشغلہ تھا۔ اس کے تبادلے کے دو مرتبہ احکامات جاری ہو چکے تھے۔ لیکن اس کو ربوہ سے اتنا عشق تھا کہ ہر مرتبہ ربوہ سرکار کی سفارش سے اپنے تبادلے کے آرڈر کو رکواتے، شعبہ عربی کا سربراہ چوہدری سلطان اکبر بھی ایک متعصب قادیانی تھا۔ اسلامیات جیسے مقدس مضمون کو پڑھانے کے لئے قادیانی پروفیسر تعینات تھا۔ اندازہ فرمائیں۔ ایک غیر مسلم مسلمان طلباء کو اسلامیات پڑھائے گا تو کس طرز سے پڑھائے گا۔ چوہدری سلطان اکبر کا درس متنازعہ باتوں سے شروع ہو کر انہی باتوں پر ختم ہو جاتا۔ اگر درمیان سے کوئی مسلمان عقیدہ ختم نبوت کی نمائندگی کرنے کے لئے آواز بلند کرتا تو کلاس کے اصول کے منافی، غیر شائستہ اور پتہ نہیں کیا کیا الزامات لگا کر اس کی بات درمیان سے کاٹتا یا اس کو کلاس سے باہر نکال دیتا۔
ایک اور قادیانی مبلغ عثمان صدیقی بھی اسلامیات ہی کا مضمون طلبہ کو پڑھاتا تھا۔ یہ جامع احمدیہ سے فارغ التحصیل تھا۔ اس کا کام ہی قرآن وحدیث کی روشنی میں مرزا کی نبوت کو ثابت کرنا تھا۔ عقلیات کی بھول بھلیوں کا تذکرہ کرتا رہتا۔ عقیدہ ختم نبوت کے متعلق طلباء کے ذہنوں میں شکوک وشبہات پیدا کرتا۔ کالج کی لائبریری قادیانی کتب سے بھری ہوئی تھی۔ قادیانیوں کے تبلیغی رسائل لائبریری کے میز پر ہر وقت پڑے رہتے تھے۔ اگر کسی مسلمان کو کسی موضوع پر اسلامی کتاب کی ضرورت پیش آتی تو اسے مرزا غلام احمد کی کتاب بطور حوالہ دی جاتی۔ لائبریری میں گورنمنٹ گرانٹ منظور نہ ہونے کی وجہ سے اسلامی کتابیں نہ ہونے کے برابر تھیں۔ کالج کے دفتر کا سپرنٹنڈنٹ محمود اسلم بھی قادیانی تھا جو اپنے مخصوص مقاصد کی تکمیل کے لئے مختلف حربے استعمال کرتا رہتا تھا۔
ہوسٹل کا سپرنٹنڈنٹ سلطان احمد کٹر مرزائی تھا۔ مسلمان طلبہ کے نظریات کو پراگندہ کرنے کے لئے ہر کمرے میں مسلمان طلباء کے ساتھ ایک ایک دو مرزائی طلباء کی الاٹمنٹ ضرور کرتا۔ نتیجہ یہ کہ مرزائی طلبہ ہر وقت مسلمان طلبہ کی پریشانی کا باعث بنتے۔ وہ مسلمان طلبہ کی ہر بات کو سپرنٹنڈنٹ تک پہنچاتے۔ یہی وجہ تھی کہ مسلمان طلبہ ہر وقت زیر عتاب رہتے۔ سپرنٹنڈنٹ نے ہاسٹل میں قادیانی مشن کو بھی تبلیغ کی عام اجازت دی تھی۔
کالج کا ہیڈ آف فزکس نعیم احمد بھی مرزائی تھا۔ اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھا کر مسلمان طلبہ کو تنگ کرتا رہتا تھا اور قادیانیوں کو بے جا نوازتا تھا۔ وہی مسلمان طلباء اس کی شیطانی چالوں سے محفوظ رہتے جو اس کے سامنے مرزائیت کو اچھا کہتے۔ کالج میں ایم۔اے عربی کی کلاس میں اکثریت صنف نازک سے تعلق رکھتی تھی۔ اس لئے وہ ساری طالبات پردے کے پیچھے بیٹھ کر پڑھتی تھیں۔ یہ ساری کی ساری طالبات مرزائی تھیں۔ یہ طالبات سمسٹر ٹیسٹ پردے کے پیچھے بیٹھ کر ہی دیتی تھیں۔ سالانہ امتحان میں رسم کو پورا کرنے کے لئے ربوہ کی کوئی مرزائی خاتون آجاتی اور ان کی نگرانی کا ڈراما رچاتی۔ ربوہ میں مرزائیوں کی مذہبی تقریبات کے موقع پر تمام مرزائی عملہ غائب رہتا تھا۔ مرزائی طلباء بھی ان دنوں بطور خاص چھٹی کرتے تھے۔ ان تقریبات میں عموماً کالج بند رہتا تھا۔ مرزائیوں کی یہ تعلیمی بداعمالیاں صرف
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
ربوہ کے تعلیم الاسلام کالج تک محدود نہ تھیں۔ بلکہ ملک کے دوسرے تعلیمی اداروں میں جو زیادہ اہمیت کے حامل تھے ان میں بھی ٹھیک ٹھاک خیانت کرتے تھے۔
(لولاک، جنوری، فروری ۱۹۷۸ء)
زرعی یونیورسٹی فیصل آباد
ان اداروں میں ایک نام ”زرعی یونیورسٹی فیصل آباد“ کا تھا۔ اس یونیورسٹی کا شمار ایشیاء بھر کی خصوصی اہمیت کی حامل یونیورسٹیوں میں ہوتا تھا۔ جس میں پاکستانی طلباء کی ایک کثیر تعداد کے علاوہ برادر اسلامی ملکوں کے طلباء بھی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ اس یونیورسٹی نے اسلام و ملک کی جو خدمت کی وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ان دنوں اس یونیورسٹی کو بھی مرزائیوں نے اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنایا ہوا تھا اور عین اسی وقت میں جب صدر جنرل ضیاء الحق ملک میں اسلامی اصلاحات کر رہے تھے اور سابقہ حکمرانوں کی عیش کوشیوں اور خواہش پرستانہ اقدامات میں ترمیم و تنسیخ کر کے اسلامی آئین کو نئے خطوط پر لانے کی تگ و دو میں مصروف تھے۔ مرزائی ایشیاء کی اس عظیم یونیورسٹی کو اپنا ہیڈ کوارٹر بنانے کی تیاریوں میں مشغول تھے۔ یونیورسٹی میں موجود عملہ میں مرزائی بہت کم تھے۔ لیکن پرچار اور تبلیغی امور میں اتنے سرگرم تھے کہ گمان ہوتا تھا کہ یہ یونیورسٹی ہے ہی مرزائیوں کی۔ مرزائیوں کی ان غیر قانونی سرگرمیوں کی ایک بڑی خرابی اور نقصان یہ تھا کہ یہاں پر بیرونی ممالک کے طلباء کی ایک کثیر تعداد زیر تعلیم تھی اور ان کی رہائش بھی یہیں پر تھی۔ ان طلباء کو مرزائی اساتذہ اعتماد میں لے لیتے تو اس سے ان کو فائدہ یہ ہوتا تھا کہ بیرون ممالک اور خصوصاً اسلامی ممالک جن میں مرزائیت کا پرچار خلاف قانون تھا، میں مرزائیوں کو ایک راستہ مل جاتا۔ اس یونیورسٹی میں بھی یہ المیہ تھا کہ رہائش گاہ کا انچارج مرزائی تھا۔ وہ مسلمان طلباء اور بالخصوص غیر ملکی طلباء کے ساتھ کمروں میں ایک یا دو مرزائی طلباء کی رہائش بھی ضرور رکھتا۔ تاکہ وقت بوقت یہ مرزائی ان طلباء کے ذہنوں میں شکوک وشبہات، ختم نبوت کے حوالے سے وساوس اور پاکستان کے آئینی فیصلے کا غلط ہونا اور اپنی مظلومیت کا ڈھونگ رچائیں۔
یونیورسٹی کے مسلمان طلباء نے اس سنگین صورتحال کی شکایت کئی مرتبہ حکام تک پہنچائی۔ لیکن کوئی پیش رفت نہ ہوئی۔ بالآخر انہوں نے اس مسئلہ کو مجلس تحفظ ختم نبوت کے قائدین کے گوش گزار کیا اور اس گمبھیر صورتحال میں کچھ پیش رفت کی درخواست کی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے اکابرین نے بذات خود متعلقہ حکام بالا سے ملاقاتیں کیں۔ مجلس کے ترجمان ہفت روزہ لولاک نے اس مسئلے کے حل اور تعلیمی اداروں میں مرزائیوں کے اثر ورسوخ کو ختم کرنے کے لئے مارشل لاء حکام سے درخواست کی۔ جس پر کچھ عرصہ بعد عارضی سی کچھ کارروائی ہوئی۔ لیکن اس سے مرزائیوں کی ریشہ دوانیوں کے سامنے بند نہیں باندھا جاسکا۔
(لولاک مورخہ ۱۰/ مارچ ۱۹۷۸ء)
اصل میں جس چیز نے تعلیمی اداروں سے رفتہ رفتہ یہ کارروائی ختم یا کم کی ہے وہ مرزائیت کے خلاف مسلمانوں کا اتحاد باہمی ہے کہ مرزائیت کے خلاف سارے مسالک کے مسلمان متفق و متحد ہو گئے تھے۔ انہوں نے مل کر ختم نبوت کے ڈاکوؤں کا سوشل بائیکاٹ کیا۔ مرزائیوں کے خلاف یک جان و یک زبان ہو کر تحریک چلائی۔ جس نے پاکستان کے تمام اداروں یا اکثر اداروں سے مرزائیت کا رسوخ ختم کر ڈالا۔ اکثر اس لئے کہا کہ مرزائی آج بھی مختلف اداروں میں بیٹھ کر درپردہ اس ملک کی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں۔ ملک میں پھیلی ہوئی بدامنی میں انہی آستین کے سانپوں کی دسیسہ کاریوں کا پورا پورا دخل ہے۔ اللہ وطن عزیز کو ان آستین کے سانپوں سے نجات دلائے۔ آمین!
ربوہ، ریلوے کے مظلوم
ربوہ (چناب نگر) کو حکومت کے کاغذات میں کھلا شہر قرار دیا گیا تھا۔ لیکن تقریباً ڈھائی سال کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی عملی طور پر وہ قادیانیوں کا الگ ایک مستقل شہر تھا۔ مسلمانوں کا عمل دخل اس میں نہ ہونے کے برابر تھا۔ اگر کوئی مسلمان ملازم ربوہ میں تھا بھی تو وہ قادیانی
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
خلیفہ کے رحم و کرم پر ہوتا تھا۔ ربوہ میں ریلوے اسٹاف کے مسلمان ملازم بھی قادیانیوں کی سازشوں سے تنگ آ چکے تھے۔ ربوہ اسٹیشن کے ایک مسلمان ملازم نے مولانا تاج محمود کے نام ایک خط لکھا۔ جس میں قادیانیوں کی سازشوں کا کچھ تذکرہ ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:
”السلام علیکم! ہم ریلوے سٹاف ربوہ آپ کی توجہ ان امور کی طرف دلانا چاہتے ہیں جو کہ ربوہ میں تعینات ملازمین کو آج کل درپیش ہیں۔ یہاں کا ریلوے سٹاف جو کہ اپنا کام نہایت دیانتداری سے انجام دے رہا ہے۔ یہاں کے قادیانیوں کے ہاتھوں جن کی ربوہ میں ۱۰۰ فیصد اکثریت ہے۔ ان سے نالاں ہیں۔ اگر ہم کسی کو بلا ٹکٹ یا پلیٹ فارم کے چارج کرتے ہیں یا کسی مسافر کو جو کہ اپنے ساتھ بغیر بک کئے سامان لاتا ہے یا ایسا سامان جو کہ غلط طریقے سے بک کر کے لاتے ہیں، انہیں چارج کرتے ہیں تو یہ لوگ فوراً ہمارے خلاف درخواستیں دے دیتے ہیں۔ اخباروں میں خبریں چھپوا دیتے ہیں کہ یہاں کا اسٹاف بددیانت ہے۔ انہیں فوراً یہاں سے ٹرانسفر کر دیا جائے۔ جیسے کہ پچھلے دنوں ”حیات“ اخبار میں بھی سیکرٹری بلدیہ اور مرید حسین رند کے متعلق خبر چھپی تھی کہ انہیں ٹرانسفر کر دیا جائے۔
ابھی کل کا واقعہ یعنی یکم؍ جون ۱۹۷۸ء کو ۱۹ ڈاؤن چناب ایکسپریس جو پشاور سے کراچی جاتی ہے۔ اس میں سے دو نگ ایک پیٹی اور ایک ٹیلی ویژن جو کہ بریک بک تھا اتارا۔ بکنگ کلرک نے صرف یہ دیکھنے کے لئے کہ سامان صحیح بک ہے اور اس کی ڈلیوری دستخط لینے کے بعد ترسیل کنندہ کو دینے کے لئے کہا تو وہ غنڈہ گردی پر اتر آئے۔ بکنگ کلرک کو مارا۔ گالیاں دیں۔ اسی اثناء میں، میں یعنی مرید حسین رند اے.ایس.ایم اچانک اسٹیشن پر آ گیا اور بات کو ختم کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے ہمیں خطرناک قسم کی دھمکیاں دیں۔ اس جرات کے ساتھ ایک کرنل جس کا نام طیب سلیم ہے اس نے بھی کہا، میں تمہیں مارشل لاء حکام کے حوالے کر دوں گا۔ کیونکہ میں فوج میں کرنل ہوں اور میں اختیارات استعمال کر سکتا ہوں۔ بہر حال ہم نے جو سامان زائد تھا اس کا کرایہ سینتیس روپے دس پیسے وصول کیا اور رسید نمبری ۲۴۱۱۸ جاری کر دی۔ انہوں نے یعنی کرنل صاحب نے رسید لینے سے قبل ہمیں اتنے خطرناک نتائج کی دھمکی دی کہ تم لوگ چند دنوں میں ختم کر دیئے جاؤ گے اور تمہیں تہس نہس کر دیا جائے گا۔ کل شام کو ہی یعنی یکم جون ۱۹۷۸ء کو نعمت ہوٹل میں بیٹھ کر چند عناصر جن کے نام معلوم نہیں ہو سکے۔ یہ پروگرام بنا رہے تھے کہ اب صرف ایک چارہ کار رہ گیا ہے کہ سٹاف پر کسی عورت کو چھیڑنے یا اس کے ساتھ فعل بد کرنے کا واقعہ بنایا جائے تا کہ یہ لوگ ذلیل ہو کر یہاں سے نکلیں۔
اس پروگرام کے بعد ہم سمجھتے ہیں کہ ربوہ میں ہم صحیح طریقے سے اپنے فرائض انجام نہ دے سکیں گے۔ اگر مستقبل قریب میں کوئی ایسا واقعہ ہوا تو میں یا میرے ساتھی بری الذمہ ہوں گے۔ اطلاعاً تحریر کر رہے ہیں کہ یا تو ہمیں ٹرانسفر کر دیا جائے جیسا کہ قادیانیوں کی خواہش ہے یا پھر تحفظ دیا جائے۔ کیونکہ کسی وقت بھی اس فرقے سے کسی بھی قسم کے نقصان کا اندیشہ ہے۔ اس سلسلہ میں یہ یاد دہانی کرا دینا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ یہاں کی زیر تعمیر مسجد جو کہ ”مسجد محمدیہ“ کے نام سے اسٹیشن پر بن رہی ہے۔ ہم اس کی تعمیر اور توسیع میں مصروف ہیں۔ یقیناً ہمارا یہ فعل مرزائیوں کے نزدیک اچھا نہیں۔ اس سے قبل یہ لوگ ”سلیم“ نامی مسلمان سٹیشن ماسٹر کو بھی عورت کے کیس میں ملوث کر کے ذلیل کر چکے ہیں اور ٹرانسفر کرا دی تھی۔ امید ہے جناب والا ہماری اوپر عرض کی گئی گزارشات کو نظر انداز نہیں کریں گے اور بروقت کارروائی فرمائیں گے تا کہ ربوہ میں کام کرنے والے ذہنی سکون کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے سکیں۔
نوٹ: ہم نے اس تمام واقعہ کی اطلاع سول انتظامیہ کو بھی دی تھی۔ کیونکہ بات خون خرابے تک پہنچ گئی تھی۔ انتظامیہ نے صرف کرنل کے ڈر کی وجہ سے ہمیں اس کے سامنے ہی ذلیل کیا اور اس کا ساتھ دیا۔
ہم ہیں درخواست گزار مرید حسین رند (اے.ایس.ایم)، محمد افتخار شاہ (بی.سی)
(لولاک مؤرخہ ۱۶؍جون ۱۹۷۸ء)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
محکمہ سوئی گیس میں مرزائیوں کی دھاندلی
فیصل آباد میں محکمہ سوئی گیس میں دو مرزائی افسر تھے۔ ایک کا نام ناصر احمد اور دوسرے کا نام ناہید احمد تھا۔ یہ دونوں ربوہ کو سوئی گیس سپلائی کرنے کی ڈیوٹی پر مامور تھے۔ یہ دونوں گیس سپلائی بھی کرتے اور گیس کے اخراجات کی ڈیلنگ بھی کرتے۔ گیس کے بلوں کی وصولی میں دھاندلی میں ملوث تھے۔ ربوہ میں کئی سارے کنکشن ایسے دیئے تھے جہاں میٹر نصب ہی نہیں تھے اور اگر کہیں نصب تھے تو ان کے بلوں میں خوب خورد برد کرتے۔ ان کی اس خیانت اور دھاندلی کی سرپرستی ربوہ سرکار بھر پور طریقے سے کر رہی تھی۔ ربوہ کو گیس مہیا کرنے میں بھی کئی ترجیحات بلا مرجح تھیں۔ مثلاً:
- ۱...... ربوہ سے پہلے معروف دولت مند شیخ برادری کا شہر چنیوٹ آتا ہے جو اس دور میں تحصیل اور سب ڈویژن ہیڈ کوارٹر تھا۔ ربوہ سے
کئی گناہ زیادہ آبادی پر مشتمل تھا۔ وہاں سوئی گیس نہیں تھی۔ جب کہ ربوہ میں گلی گلی، گھر گھر گیس کی سہولت تھی۔
- ۲...... ربوہ سے آگے سرگودھا ہے جو ڈویژنل ہیڈ کوارٹر اور ائیر فورس کا اہم ترین سٹیشن تھا۔ اسے بھی سوئی گیس نہیں پہنچائی گئی تھی۔ لیکن
ربوہ میں تھی۔
- ۳...... ربوہ میں سالانہ جلسہ کے موقع پر ہنگامی بنیادوں پر گیس دی گئی تھی۔ بجٹ نہ تھا۔ اس کے لئے سپیشل انتظام کیا گیا تھا اور بغیر میٹر
کے گیس چالو کر دی گئی تھی۔
- ۴...... ہنگامی بنیادوں پر دو انچ کا پائپ لگایا گیا تھا۔ بعد میں ۴ انچ پائپ لگانے کی منصوبہ بندی تھی تو ظاہر ہے یہ جو پائپ لگا تھا یہ ضائع ہو جاتا۔
- ۵...... ایسے گھروں کو بھی کنکشن دیئے گئے جو ابھی تعمیر کے مراحل میں تھے۔ ایم.ایم. احمد کے گھر میں ۳؍ جنوری ۱۹۷۴ء کو گیس کنکشن دیا
گیا۔ حالانکہ یہ گھر ۱۹۷۷ء کے اواخر میں پایہ تکمیل تک پہنچا۔
- ۶...... بہت سارے گھروں کو کمرشل کنکشن کی بجائے انڈسٹریل کنکشن دیئے گئے۔ وجہ یہ تھی کہ کمرشل کنکشن سے سوئی گیس کے چارجز
۱۷ روپے فی یونٹ اور انڈسٹریل کنکشن سے سوئی گیس کے چارجز ۹ روپے فی یونٹ تھے۔
مرزائیوں کی اس کھلی دھاندلی کے خلاف فیصل آباد کے مسلمانوں نے صدائے احتجاج بلند کی اور مرزائیوں کی دن دیہاڑے یوں قانون کی خلاف ورزی اور سینہ زوری پر مارشل لاء حکام سے کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ مفتی زین العابدین، حضرت مولانا تاج محمود، مولانا ضیاء القاسمی، مولانا محمد اشرف ہمدانی اور دیگر علماء نے جمعہ کے اجتماعات اور اجتماعی وانفرادی مجالس میں حکومت سے اس دھاندلی اور ربوہ پر بے جا عنایات کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے ترجمان ہفت روزہ لولاک نے بھی حکومت کی اس جانب توجہ دلانے کی کافی کوشش کی۔ حکومتی دربار میں ان درخواستوں کی شنوائی ہوئی اور مرزائی افسران ناصر احمد اور ناہید احمد کے خلاف انکوائری کی۔ یہ دونوں افراد اس کیس میں بد دیانت ثابت ہوئے اور ان کا تبادلہ مارشل لاء معائنہ ٹیم کی رپورٹ پر فیصل آباد سے دوسرے شہر میں کرایا گیا۔
جب ان دونوں مرزائیوں کا تبادلہ ہوا تو صرف ایک ماہ میں ربوہ سوئی گیس سے ۳۰ ہزار سے زائد آمدنی ہوئی۔ اس سے محکمہ سوئی گیس میں ان دونوں افسران کی خیانت اور بھی واضح ہوئی۔ ان دونوں مرزائیوں کے ساتھ محکمہ سوئی گیس کے ملازمین کی یونین کے ایک مرزائی عہدیدار عابد حسین جنجوعہ بھی ان بدعنوانیوں میں ملی بھگت کئے ہوئے تھے۔ یہ تبادلہ سوئی گیس محکمہ کے منیجنگ ڈائریکٹر حافظ امان اللہ نے کیا تھا۔ جو ایک دیانتدار اور محنتی شخص تھے۔ تبادلہ اگرچہ حافظ امان اللہ نے مارشل لاء حکومت کے ایماء پر کیا تھا۔ لیکن مرزائی پھر بھی اس کی ذات کے دشمن بن گئے اور سب نے مل کر ان کے خلاف محاذ آرائی شروع کی۔ حکومت میں بڑے عہدوں پر موجود مرزائیوں کا سہارا لے کر حافظ امان اللہ کو لاہور
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب وتحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
میں تبدیل کرانے اور ان کی جگہ مصطفےٰ احمد مرزائی کو لانے کی کوشش کرنے لگے۔ ان دو بددیانت مرزائی افسران ناصر احمد اور ناہید احمد کو دوبارہ فیصل آباد تبدیل کرانے کی بھی کوشش ہو رہی تھی۔ حافظ امان اللہ کے تبادلے کے سلسلہ میں مرزائیوں نے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا۔ بڑے عہدوں پر موجود مرزائیوں نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر اس معاملہ میں اپنا حصہ ڈالا۔ کہاں کہاں سے مدد لی گئی اور بالآخر حافظ صاحب کا تبادلہ کرا دیا گیا۔ جس پر فیصل آباد کے مسلمانوں نے کافی برہمی کا مظاہرہ کیا اور حافظ صاحب کے بلاجواز تبادلے پر احتجاج کیا۔
حافظ صاحب کا جرم صرف یہ تھا کہ انہوں نے مرزائی بدعنوانیوں کو طشت از بام کیا۔ ربوہ سپلائی کے بلوں میں ہر ماہ ہونے والی ۳۰ ہزار روپے کی دھاندلی روک لی۔ گیس کی چوری اور بے ضابطگی بند کرائی۔ نیک نامی میں اضافہ کیا تھا۔ ملک میں قادیانی اگرچہ اقلیت میں تھے اور خارج از اسلام قرار دیئے گئے تھے۔ لیکن پھر بھی سیاہ وسفید پر قابض تھے۔ اس سے پہلے ملک کے اختیارات پر جو ان کا ہولڈ تھا اور ملک کا قانون ان کے گھروں کی لونڈی بنا ہوا تھا۔ اس میں چار سال گزرنے کے باوجود کچھ زیادہ فرق نہیں آیا۔ اسی سے ملتا جلتا ایک واقعہ اس دور کا ذکر کرتا ہوں۔ جب کہ ابھی مرزائیوں کے غیر مسلم ہونے کا فیصلہ نہیں ہوا تھا۔ دونوں کو سامنے رکھ کر اندازہ فرمائیں کہ فیصلے سے یا فیصلے کے بعد ان کے رویے، لاقانونیت اور من مانی میں کتنا فرق آیا تھا۔
محکمہ ایٹمی توانائی میں ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کی بدعنوانی
ڈاکٹر محمد سعید رانا نشتر میڈیکل کالج ملتان کے شعبہ ایٹمی توانائی میں معالجات کے ڈائریکٹر تھے۔ وہ ایک روز اپنے دفتر پہنچے تو نیا مرزائی کلرک بھی ان کے دفتر پہنچا ہوا تھا۔ آپ نے اس سے فرمایا کہ میرے دفتر میں کوئی اسامی نہیں۔ آپ واپس جا کر انہیں کہیں کہ وہ تمہیں وہاں بھیجیں جہاں جگہ موجود ہو۔ یہاں میرے دفتر میں کوئی ویکینسی خالی نہیں ہے۔ اس نے اصرار کیا کہ وہ یہاں ہی رہے گا۔ ڈاکٹر صاحب مانے نہیں۔ بالآخر وہ واپس چلا گیا اور دفتر سے نکلتے وقت کہا کہ ڈاکٹر صاحب میں اسی دفتر میں آؤں گا اور آپ یہاں سے جائیں گے یہ کہہ کر وہ چلا گیا۔ ڈاکٹر عبدالسلام مرزائی اس وقت ایٹمی توانائی کے سربراہ تھے۔ وہ اس کے سہارے بول رہا تھا۔ چند دن گزرے وہی کلرک اپنی تعیناتی ملتان کے اسی دفتر کی لے کر آیا اور ساتھ ہی ڈاکٹر صاحب کے تبادلہ کے احکامات کی ایک کاپی دستی بھی لے آیا۔ چنانچہ ڈاکٹر سعید رانا مرزائیوں کی یہ زیادتی نہ برداشت کرتے ہوئے مستعفی ہو گئے اور لیبیا چلے گئے اور وہاں پر بہت اچھی پوسٹ پر ان کو نوکری مل گئی اور آسودہ حال رہنے لگے۔
یہی معاملہ حافظ امان اللہ کا ہوا۔ انہوں نے نیچے کی سفارش پر اپنے دو معمولی درجہ کے مرزائی افسروں کا تبادلہ کیا۔ مرزائی ان کے پیچھے پڑ گئے اور ان کو تب تک نہ چھوڑا جب تک ان کا تبادلہ نہ کرایا۔ قارئین! اندازہ فرمائیں۔ مرزائی کس حد تک حکومتی عہدوں پر براجمان اور حکومتی امور میں با اختیار تھے۔ ان کو اس حال سے لے کر آج اس حال میں لانے تک کہ کوئی بھی مسلمان انکا نام سننا تک گوارہ نہیں کرتا اور دبکے بیٹھے ہوئے ہیں۔ ڈر کی وجہ سے اپنے کو مرزائی بھی ظاہر نہیں کر سکتے۔ مجلس کے رہنماؤں، کارکنان اور عام مسلمانوں کو کتنی محنت کرنی پڑی ہوگی۔ اللہ ان حضرات کی قبروں کو بقعۂ نور بنا دیں۔
مرزائیوں کا مقابلہ سے فرار
سرگودھا کے ایک نواحی گاؤں میں ایک مرزائی نے حیات مسیح ؑ کے حوالے سے لاؤڈ سپیکر میں اعلان کر کے مسلمانوں کو چیلنج کیا۔ مسلمانوں نے قبول کیا۔ لیکن مرزائی اپنی بات سے پھر گئے۔ اس وقوعے کے عینی شاہد نے مدیر لولاک مولانا تاج محمود کے نام ایک خط لکھا جس میں تفصیل بیان کی۔ ملاحظہ فرمائیں: فرمائیں: Wait, let me fix the last word, the text in the image is "لکھا جس میں تفصیل بیان کی۔ ملاحظہ فرمائیں:" I will update the output correctly.
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
واجب الاحترام جناب مولانا تاج محمود صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ گزارش ہے کہ بندہ چک نمبر ۳۳ جنوبی ملکووال تحصیل و ضلع سرگودھا میں فرائض خطابت انجام دے رہا ہے۔ اس بستی میں مرزائیوں کے کچھ گھر بھی آباد ہیں جو آئے دن شرارتیں کرتے رہتے ہیں۔ ہماری مسجد کے بالمقابل مرزائیوں کی عبادت گاہ ہے۔ فریقین کے پاس لاؤڈ سپیکر ہیں۔ عرصہ دو ماہ سے حیات مسیح علیہ السلام پر بحث چل رہی ہے۔ ہماری بستی کو تحصیل سرگودھا میں ربوہ ثانی کہا جاتا ہے۔ موضوع بحث متوفیک ہے۔ تو یہ بحث ہوتے ہوتے بات یہاں تک پہنچی کہ مرزائیوں نے چیلنج کیا کہ اگر اللہ فاعل ہو اور ذی روح مفعول، باب تفعل میں لفظ توفی کے معنی اگر قبض روح کے علاوہ کوئی اور ثابت کردے تو ہم مرزائیت چھوڑ دیں گے اور ایک ہزار روپیہ انعام بھی دیں گے اور اگر اس کا (یعنی مذکورہ بالا) چیلنج کا توڑ ملنے کے باوجود بھی کوئی مرزائی، مرزائی رہے تو وہ احمدی، احمدی نہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی یہ چیلنج توڑ دے تو احمدیت ہی باطل ہو جاتی ہے۔
یہ چیلنج ظفر اللہ مرزائی چک نمبر ۲۲ ضلع سرگودھا نے دیا تھا۔ اس پر بندہ نے ان سے بروز پیر ۶؍فروری ۱۹۷۸ء تک کا وقفہ لیا اور ۶؍فروری ۱۹۷۸ء کو چوہدری محمود احمد باجوہ کی بیٹھک میں گفتگو ہوئی۔ جس کی ابتداء میں قاری فتح محمد صاحب نے کہا کہ بقول ظفر اللہ صاحب کے اگر آپ کا چیلنج ٹوٹ جائے تو آپ مرزائیت ترک کردیں گے اور ایک ہزار روپیہ انعام دیں گے تو مرزائی مناظر نے کہا۔ چھوڑو یہ باتیں جذباتی ہیں اور اپنے چیلنج سے منحرف ہوگئے۔ ابتدا میں جب قاری فتح محمد نے اپنا بیان شروع کیا تو یہ بات طے ہوئی کہ آج ہماری گفتگو حیات یا وفات عیسیٰ علیہ السلام پر نہ ہوگی۔ قاری فتح محمد نے مرزائیوں کی اپنی ہی کتاب (براہین احمدیہ ص ۵۲۰، خزائن ج۱ ص ۶۲۰ حاشیہ) اور جلالین شریف سے مرزائیوں کے اس چیلنج کو توڑ دیا اور مرزائیوں پر روز روشن کی طرح یہ واضح کر دیا کہ تمہارا عقیدہ باطل ہے۔ قاری فتح محمد نے یہ چیلنج کیا کہ اگر تم لوگ قرآن پاک کی ایک آیت سے بھی وفات مسیح علیہ السلام ثابت کردو تو دس ہزار روپیہ انعام دیا جائے گا۔ ہم تمہاری طرح انحراف نہیں کریں گے۔ ہم تحریر دینے کو تیار ہیں۔ لیکن مرزائیوں کو چیلنج قبول کرنے کی جرأت نہ ہوئی۔
(لولاک، مورخہ ۲۱؍اگست ۱۹۷۸ء)
انتخابات اور حلف نامہ کی تبدیلی
۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کے فیصلہ کی روشنی میں شناختی کارڈ کے لئے ایک حلف نامہ تیار کیا گیا تھا۔ جسے ہر مسلمان نے پر کرنا تھا۔ اس حلف نامے سے چونکہ قادیانیوں کا پول کھل جاتا تھا۔ اس لئے ان کو نا قابل قبول تھا۔ اس لئے کہ اس حلف نامے کو پر کر کے دھوکہ دہی سے مسلمانوں میں شامل ہوتے تو اس کے الفاظ ایسے تھے کہ مرزا قادیانی کی تکذیب کرنی پڑتی۔ اگر پر نہ کرتے تو پھر اپنے آپ کو غیر مسلم تسلیم کرنا پڑتا تھا۔ اس وجہ سے مرزائی سخت مشکل میں تھے اور سر توڑ کوشش کر رہے تھے کہ کسی طرح اس حلف نامے کو ختم یا کم از کم تبدیل کیا جائے۔ اس دور میں چیف الیکشن کمیشن آفیسر مشتاق حسین صاحب تھے جو بیک وقت چیف جسٹس بھی تھے اور الیکشن کمیشن آفیسر بھی۔ مشتاق حسین اس کے ماتحت عملہ میں کافی سارے افراد کی ربوہ سرکار کے ساتھ ساز باز تھی۔ ربوہ سرکار کی شدید خواہش تھی کہ فارم سے حلف نامہ حذف کیا جائے۔ الیکشن کمیشن کے ملازموں نے ربوہ سرکار کی اس خواہش کا پورا پورا پاس کیا اور قوم کے علم میں لائے بغیر حلف ناموں میں کتر بیونت کر دی گئی۔ اس حلف نامے کو اس قدر غیر مؤثر بنایا کہ مرزائیوں کے لئے اس کو قبول کرنے میں کوئی اعتراض نہیں رہا۔ اصل میں حلف نامے کے الفاظ یوں تھے: ’’میں حلفیہ اقرار کرتا / کرتی ہوں کہ میں خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت پر مکمل غیر مشروط ایمان رکھتا ہوں / رکھتی
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب وتحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
ہوں۔ میں حلفیہ اقرار کرتا/کرتی ہوں کہ میں کسی ایسے شخص کا/کی پیروکار نہیں جو حضرت محمد ﷺ کے بعد کسی بھی مفہوم یا کسی بھی تشریح کے لحاظ سے پیغمبر ہونے کا دعویدار ہو اور نہ ایسے شخص کو پیغمبر یا مذہبی مصلح مانتا ہوں۔ نہ میں قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ سے تعلق رکھتا/رکھتی ہوں یا خود کو احمدی کہتا/کہتی ہوں۔“
اس حلف نامے کو تبدیل کر کے اور غیر مؤثر بنا کر یوں بنایا گیا:
”میں بذریعہ ہذا اقرار کرتا/کرتی ہوں کہ میں اور میرے خاندان کے تمام افراد جن کی فہرست اوپر دی گئی ہے، خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت پر مکمل ایمان رکھتے ہیں اور یہ کہ ہم میں سے کوئی بھی کسی ایسے شخص کو بطور پیغمبر یا مذہبی مصلح نہیں مانتا جو حضرت محمد ﷺ کے بعد پیغمبر ہونے کا دعویدار ہو۔“
یہ حلف نامہ مرزائیوں کے لئے قابل قبول تھا۔ اس لئے کہ وہ بظاہر یہی کہتے ہیں کہ ہم محمد ﷺ کو خاتم النبیین مانتے ہیں اور خاتم کا معنی اپنی پسند کا لیتے ہیں۔ اس طرح وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے مستقل نبوت کا دعویٰ نہیں کیا بلکہ وہ تو محمد کے ظل اور بروز ہونے کے مدعی تھے۔ چنانچہ ربوہ سرکار نے تمام مرزائی جماعتوں کو یہ احکامات جاری کر دیئے کہ آئندہ الیکشن کے لئے تیار ہونے والی فہرستوں میں ووٹ شامل کرانے کے واسطے فارم کا وہ خانہ درخواست پر کریں جو مسلمانوں کے لئے ہے۔ احمدی اقلیت کے واسطے جو خانہ مختص ہے اسے پُر نہ کریں۔ ربوہ سرکار نے یہ ہدایات دو وجہ سے جاری کئے تھے۔
- ۱...... مرزائی اپنے آپ کو غیر مسلم اقلیت کے طور پر تسلیم نہیں کرتے تھے۔ انہیں اصرار تھا اور اب بھی ہے کہ دنیا بھر کے کلمہ گو سب دائرہ
اسلام سے خارج ہیں۔ یا وہ سرکاری مسلمان ہیں۔ دنیا میں حقیقی مسلمان صرف مرزائی ہی ہیں۔
- ۲...... دوسری وجہ یہ تھی کہ مرزائی فارم میں اپنے آپ کو احمدی ظاہر کرنا چاہتے تھے۔ اس لئے کہ ان کا خلیفہ مسلسل یہ بڑ ہانک رہا تھا کہ
مرزائیوں کی تعداد دنیا بھر میں ایک کروڑ سے بھی زائد ہو چکی ہے۔ ایسی صورت میں اگر وہ احمدیوں والا خانہ پُر کرتے تو ان کے جھوٹ کا پول کھل جاتا اور لوگوں کے سامنے کھل کر یہ بات آ جاتی کہ ان کی تعداد بہ مشکل دو لاکھ کے لگ بھگ ہے۔
۱۹۷۴ء میں ربوہ کے سالانہ جلسہ میں مرزائی حاضرین کی تعداد صرف پندرہ بیس ہزار تھی۔ جو تعداد ۱۹۷۴ء میں تھی۔ ۱۹۷۵ء میں یہ حاضری گھٹ گئی۔ ۱۹۷۶ء میں جلسہ کے حاضرین کی تعداد گھٹ کر ۳۰ ہزار رہ گئی اور ۱۹۷۷ء میں حاضرین مزید سمٹ کر ۲۰ ہزار پر آگئے تھے۔ حالانکہ مرزائیوں کے لئے ربوہ کا سالانہ جلسہ عبادت کا درجہ رکھتا تھا اور وہ اس میں بیوی بچوں سمیت حاضر ہوتے تھے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ مرزائیوں کی تعداد اس دور میں تھی ہی یہی۔ ان باتوں کے پیش نظر مرزائیوں نے ایک تو انتخابات کے فارموں کے حلفیہ بیانات میں ردو بدل کروا ڈالا اور عبارت سے مرزائی، احمدی اور لاہوری کے الفاظ ختم کر دیئے گئے اور دعویٰ نبوت کے ساتھ ”ہر مفہوم اور ہر معنی“ کے الفاظ بھی شامل نہیں کئے گئے۔
ایک خبر ان دنوں یہ بھی چلی تھی کہ الیکشن کمشنر نے مرزائی خلیفہ مرزا ناصر سے ملاقات کی ہے اور حلف ناموں میں ردو بدل اس ملاقات کا ثمرہ ہے۔ مختلف جرائد میں اس ملاقات پر چند شواہد بھی پیش ہوئے تھے۔ بہر حال حلف نامہ کے الفاظ میں ردو بدل پر مسلمانوں نے شدید ردِ عمل کا مظاہرہ کیا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت نے بھی اس دانستہ غلطی پر حکومت اور الیکشن کمیشن سے استفسار کیا اور فی الفور اس حلف نامے کو اپنی سابقہ صورت پر لے جانے کا مطالبہ کیا۔ مفکر اسلام حضرت مولانا محمد شریف جالندھری نے اس سلسلے میں الیکشن کمشنر سے ملاقات کی اور فارم کی عبارت میں تبدیلی واپس اور گزشتہ حلفیہ عبارت کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔ الیکشن کمشنر نے ان کے مطالبہ کے مطابق فارم کی
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
عبارت میں تبدیلی کا وعدہ کیا۔ لیکن مسلمانوں کو جب ووٹ فارم ملے اس میں تبدیلی نہیں کی گئی تھی۔ مولانا مفتی محمود نے براہ راست صدر جنرل ضیاء الحق صاحب سے بات کی اور ان کے سامنے دونوں فارم پیش کئے۔ کیفیت نامے میں حلف نامے کی عبارت میں تبدیلی کے نوٹس لینے کی درخواست کی۔ جس کو صدر ضیاء الحق نے قبول کیا اور کیفیت نامے کی عبارت کو سابقہ شکل میں لے جانے کے احکامات صادر کئے۔ ساتھ ساتھ جدا گانہ انتخابات اختیار کرنے کا حکم بھی دیا۔ جدا گانہ طریق انتخاب کے پیش نظر ہر خاندان کے سربراہ سے اقرار نامہ پر کرانے کے لئے پانچ قسم کے کیفیت نامے طبع کرائے۔
- ۱...... کیفیت نامہ (مسلمانوں کے لئے)
- ۲...... کیفیت نامہ (ہندوؤں کے لئے)
- ۳...... کیفیت نامہ (عیسائیوں کے لئے)
- ۴...... کیفیت نامہ (سکھوں، بدھوں، پارسیوں، شیڈول کاسٹ وغیرہ کے لئے)
- ۵...... کیفیت نامہ (احمدیوں، قادیانیوں اور لاہوری گروپ کے لئے)
ان کیفیت ناموں میں امتیاز کے لئے ہر اقلیت کے لئے علیحدہ رنگ کی پٹی ان کے فارم پر طبع کرائی گئی تاکہ غیر مسلم اقلیتیں جن میں قادیانیوں کے ربوائی و لاہوری گروپ بھی شامل ہیں۔ بطور غیر مسلم اپنے فارم پر کریں اور اپنا علیحدہ تشخص قائم رکھیں اور تناسب آبادی کے لحاظ سے اپنے حقوق کی حفاظت کریں۔
الیکشن کمشنر یا اس کے ماتحت افسران کی مرزائیوں کے ساتھ خفیہ ساز باز کے نتیجے میں کیفیت ناموں میں جو بلا جواز تبدیلی کی گئی تھی اور مجلس عمل کے قائدین بالخصوص مولانا مفتی محمود اور دینی حلقوں کے احتجاج پر حلف ناموں کی عبارت سابقہ صورت میں لائی گئی اور جدا گانہ طریق انتخاب کی منظوری دے دی گئی۔ ان دونوں واقعات کے درمیان وقت کچھ زیادہ نہ تھا۔ لیکن اس پر جو قومی سرمایہ خرچ ہوا وہ نہایت کثیر تھا۔ اس لئے کہ جب حکومت نے عبارت کی تبدیلی کا حکم دیا تب تک ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ فارم چھپ چکے تھے اور مختلف حلقوں میں تقسیم ہو چکے تھے۔ ان تمام فارمز کو واپس جمع کر دیا گیا۔ ان کو تلف کر دیا گیا اور نئے سرے سے پرانے طرز کے حلف نامے والے فارم چھاپ دیئے گئے۔ جب نئے فارم چھپنے جا رہے تھے تو چیف الیکشن آفیسر نے مسلمانوں کے زخموں پر نمک پاشی کرتے ہوئے یہ کہہ دیا کہ پرانے فارم بھی صحیح تھے۔ اس حلف نامے میں کوئی قابل اعتراض بات نہیں تھی۔ لیکن مولویوں کے ایماء پر بلا ضرورت نئے فارمز چھپنے جا رہے ہیں۔ یہ بات اس نے محض اپنے دل کا غصہ نکالنے اور فارمز مرزائیوں کے منشاء پر نہ چھپنے کی وجہ سے کہی تھی۔ ورنہ قارئین جانتے ہیں کہ دونوں حلف ناموں میں بہت بڑا فرق تھا۔ پہلے حلف نامے پر مرزائیوں کے اعتراضات تھے۔ دوسرا ان کو قابل قبول تھا۔ پہلے میں مرزائیوں کی دونوں جماعتوں سے اعلان برأت تھا۔ دوسرے میں ندارد۔ پہلے حلف نامے میں ”کسی بھی مفہوم، کسی بھی تشریح“ کے الفاظ تھے۔ دوسرے میں حذف کر دیئے گئے تھے۔ پرانے میں ختم نبوت پر غیر مشروط ایمان کی وضاحت تھی۔ دوسرے میں غیر مشروط کا لفظ نہیں تھا۔ دوسرے حلف نامے کے الفاظ مرزائیوں کے عین منشاء کے مطابق تھے۔ اگر الیکشن کمیشن آفیسر کی بات مان لی جائے اور پرانے حلف نامے درست تھے۔ پھر پوری قوم نے ان فارمز کی تبدیلی کا مطالبہ کیوں کیا۔ ڈیڑھ کروڑ فارمز کیوں ضائع کر دیئے گئے۔ لاکھوں روپے کا ضیاع کیوں برداشت کیا گیا۔
(لولاک، نومبر ۱۹۷۸ء)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
ایک نیا قادیانی نبی اور فیصلہ جیمس آباد
صوبہ سندھ کے علاقے جیمس آباد میں ایک ۶۰ سالہ بوڑھے مرزائی نے ۲۲؍ مارچ ۱۹۷۰ء کو ایک معذور اور ضعیف سردار خان کو دوست بنایا اور اس کے ہاں آنے جانے لگا۔ کبھی کبھی اس کے ساتھ مالی تعاون کر کے اس پہ ثابت کرتا کہ دنیا جہاں میں اگر تمہارا کوئی ہمدرد ہے تو وہ میں ہوں۔ اس بوڑھے مرزائی کا نام نذیر احمد تھا۔ نذیر احمد رفتہ رفتہ معذور اور مفلس سردار خان کو شیشے میں اتارنے میں کامیاب ہو گیا۔ دراصل نذیر احمد مرزائی کی نظر سردار خان کی ۱۴ سالہ بیٹی امۃ الہادی پر تھی۔ امۃ الہادی نے نذیر احمد کی نظروں کی ہوس ناکی کو تاڑا تھا۔ لیکن وہ کچھ کہہ اور کر نہ سکی۔ اس لئے کہ اس کا واحد آسرا اس کا معذور باپ تھا جو پوری طرح نذیر احمد کی چالوں میں آچکا تھا۔ نذیر احمد نے سردار خان کو اس حد تک اپنا معتقد بنایا تھا کہ جب اس نے امۃ الہادی کے ساتھ نکاح کرنے کی اپنی خواہش کا اظہار کیا تو وہ انکار نہ کر سکا۔ اس طرح امۃ الہادی کی مرضی کے خلاف اس کا نکاح ۶۰ سالہ بوڑھے مرزائی نذیر احمد سے طے پایا۔ امۃ الہادی چونکہ سمجھ بوجھ رکھنے والی تھیں۔ اس کے علم میں تھا کہ اس نکاح کی شرعاً کوئی حیثیت نہیں تھی۔ اس لئے کہ کوئی مسلمان عورت کسی غیر مسلم کے نکاح میں نہیں رہ سکتی۔ لڑکی نے جیمس آباد کی عدالت میں فسخ نکاح کا دعویٰ کیا۔ سول جج مسٹر رفیق احمد گوریجہ نے لڑکی کے حق میں معرکۃ الاراء فیصلہ لکھا۔ جو فیصلہ جیمس آباد کے نام سے مرزائیوں کے خلاف ایک زبردست دستاویز بن گیا اور ملک کے تمام اخبارات میں شائع ہوا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت نے اس فیصلہ کی اردو انگریزی زبان میں ہزاروں کاپیاں چھپوا کر تقسیم کیں۔
نذیر احمد مرزائی جیمس آباد میں خائب و خاسر ہو کر پنجاب کی طرف چل نکلا۔ یہاں اس کی ملاقات ان مرزائی باغیوں سے ہوئی جو مرزائی راسپوٹین مرزا محمود کی بدکاری سے نالاں ہو کر جماعت ربوہ سے بغاوت اختیار کر چکے تھے اور حقیقت پسند جماعت کے نام سے ایک مستقل محاذ بنا کر مرزا محمود کے کالے کرتوتوں کو طشت از بام کر رہے تھے۔ اس جماعت نے مرزائیوں کے مرزا محمود کے کردار اور ان کی نجی زندگی کے چھپے رازوں پر مشتمل کئی رسائل لکھے۔ جیسے ”ربوہ کا پوپ“، ”ربوہ کا راسپوٹین“ وغیرہ۔ (یہ تمام رسائل احتساب قادیانیت جلد ۶۰ میں موجود ہیں) نذیر احمد مرزائی نے ان باغی مرزائیوں کو جمع کر کے ایک الگ جماعت بنائی جو ”جماعت الحق“ کے نام سے ناحق کا پرچار کرنے لگی۔ اس طرح حقیقت پسند پارٹی کے یہ مرزائی، غلاظت اور گمراہی کے ایک کنویں سے نکل کر دوسرے میں گر گئے۔ نذیر احمد نے اپنا نام برق الظفر عرشی رکھا اور اپنے پیشرو غلام احمد قادیانی کی طرح خود کو مامور من اللہ، مجدد، مصلح اور دیگر اناپ شناپ ناموں سے منسوب کرنے لگا۔ لاہور کے ایک گمنام پندرہ روزہ ”سحر“ کو اس نئی جماعت نے اپنا ترجمان بنا کر شائع کرنا شروع کیا۔ اس شمارے میں اہل حق کے خلاف ہرزہ رسائی، بے سروپا دعاوی اور برق الظفر عرشی کے بکواسیات اور خرافات کے علاوہ کچھ نہ ہوتا تھا۔ اس نئے مجدد کے چند ایک دعاوی ملاحظہ ہوں۔
”مئی ۱۹۷۸ء میں پاک بھارت جنگ چھڑ جائے گی۔ کراچی، حیدرآباد، لاڑکانہ، سکھر، ملتان، لاہور، راولپنڈی، پشاور، چنیوٹ وغیرہ شہر صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گے۔ لاہور اور امرتسر کی جگہ سمندر نکل آئے گا۔ جون ۱۹۷۸ء میں مولانا مودودی، مفتی محمود، نورانی میاں اور مرزا ناصر احمد مر جائیں گے۔ ۱۹۷۹ء میں طوفان نوح آئے گا۔ بڑے بڑے زلزلے آئیں گے۔ پاکستان میں اب کبھی بھی انتخابات نہیں ہوں گے۔ قومی اتحاد پارٹی کے ارکان برسر اقتدار آئیں گے۔ پہلی اسلامی حکومت کا پہلا وزیر اعظم محمد نثار اور وزیر اطلاعات عاصم گیلانی ہوں گے۔ (یہ دونوں پندرہ روزہ سحر کے کاتب تھے) برق الظفر عرشی نے اپنے متعلق کہا کہ میری عمر ۱۷ سال ہوگی اور آئندہ میں شہنشاہ ہوں گا۔ میرے ماتحت پانچ سو بادشاہ ہوں گے۔ پاکستان کا آئندہ وزیر اعظم میرا داماد ہو گا جو حیدرآباد میں سکول ٹیچر ہے۔“
ہفت روزہ لولاک نے اس جھوٹے مجدد کے بکواسات کا نوٹس لیا اور لکھا کہ یہ صاحب مرزائی ہیں۔ فاتر العقل ہیں۔ انہیں کسی
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
پاگل خانہ بھیجا جائے یا ربوہ ارسال کر دیا جائے۔ اس پر خود ساختہ مامور من اللہ اور جعلی مجدد صاحب کو بڑا غصہ آ گیا اور اس نے مدیر لولاک حضرت مولانا تاج محمود کے متعلق اپنے رسالے میں اپنا الہام لکھا:
’’مولوی تاج محمود فیصل آبادی ہماری نظروں میں بہت بڑا مغضوب ملعون اور مردود ہے۔ اس کی گرفت کا وقت قریب آ گیا ہے۔ ہم اسے اس کے جرموں گناہوں کی پاداش میں بہت جلد پکڑیں گے اور عبرتناک عذابوں کا نشانہ بنا کر ہلاک کر دیں گے اور ہاویہ میں گرا دیں گے۔‘‘
(۲۷/فروری ۱۹۷۸ء)
حضرت مولانا تاج محمود نے مجدد صاحب کے اس مضحکہ خیز الہام کے بارے میں کچھ یوں لکھا:
’’ہم اس احمق پاگل اور واہیات دعاوی کرنے والے شخص کی کسی بات کا جواب دے کر اس کی اہمیت نہیں بنانا چاہتے۔ لیکن اتنا ضرور کہنا چاہتے ہیں کہ مدیر لولاک جن بزرگوں کا رضا کار ہے انہوں نے اس خود ساختہ مامور من اللہ اور اناپ شناپ دعاوی کرنے والے صاحب کے بڑے گرو مرزائے قادیان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا تھا۔ اس وقت یہاں برطانوی سامراج مسلط تھا۔ انگریزوں نے اپنے اس خود کاشتہ پودے کو نہ صرف پورا پورا تحفظ دے رکھا تھا، بلکہ ہر طرح سے اس کی امداد بھی کرتے تھے۔ اس کے باوجود اس کے دجل، جھوٹ اور مراق کے پردے چاک کئے گئے۔ وہ بزرگ مرزائیت کے خلاف ایک ایسی منظم تحریک کی بنیاد رکھ گئے جو بالآخر ملت اسلامیہ کی قربانیوں کی بدولت ۱۹۷۴ء میں کامیاب ہوئی۔ قومی اسمبلی نے اس گرو کے تمام چیلوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ پوری دنیا میں ان کی جعلی مہدویت، مسیحیت، مجددیت، ماموریت اور نبوت کا بھرم کھول کر رکھ دیا گیا۔
مدیر لولاک اور اس کے بزرگوں کو قادیانیوں کے خلاف تحریک میں بھر پور حصہ لینے سے کوئی لالچ، کوئی خوف، کوئی شیطانی الہام اور کوئی بکواس نہ روک سکے۔ وہ برابر اور مسلسل فخر دو عالم، سرور کون ومکاں، محمد مصطفےٰ، احمد مجتبیٰ ﷺ کی ختم نبوت کے ڈنکے بجاتے رہے ہیں اور انشاء اللہ جب تک جسم میں جان ہے اس وقت تک اپنے آقا ومولیٰ کی غلامی کا حق ادا کرتے رہیں گے۔ نہ پہلے کسی کذاب گرو کی پرواہ کی اور نہ اس کے کسی کذاب چیلے کی پرواہ کرتے ہیں۔ ہمارا ایمان ہے کہ حضور اکرم ﷺ کے بعد وحی اور نبوت کا دروازہ بند ہے۔ حضور ﷺ کے بعد وحی کے آنے اور نبوت کا دعویٰ کرنے والا مرتد اور بے ایمان ہے۔ دجال اور کذاب ہے۔ یا پھر پاگل اور پاجی ہے۔ مامور من اللہ کا لفظ انبیاء علیہم السلام کے علاوہ کسی شخص پر نہیں بولا جاسکتا۔ مامور من اللہ، اللہ کے بھیجے ہوئے کو ہی کہتے ہیں۔ جو شخص بھی حضور ﷺ کے بعد مامور من اللہ کا دعویٰ کرتا ہے وہ در حقیقت مدعی نبوت ہے جو الفاظ کے پردے میں دعویٰ نبوت کر رہا ہے۔ اس لئے کسی کذاب، دجال یا پاگل اور پاجی سے ہمارے مرعوب ہونے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ ہم ببانگ دہل کہیں گے کہ یہ شخص جھوٹا، فریب کار اور بے ایمان ہے یا پھر اس کے دماغ کی ساری تاریں ڈھیلی ہو چکی ہیں اور یہ شخص فاتر العقل ہو چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے جھوٹے دعوؤں اور پاگلوں والی ڈینگوں پر جب لاہور کے ایک غیرتمند مسلمان بشیر احمد بھٹی نے اس کے خلاف سینئر سول جج صاحب لاہور کی عدالت میں دعویٰ کیا تو حکیم نذیر احمد برق نے جو اس دعویٰ کا جواب دعویٰ عدالت میں داخل کرایا۔ اس سے روز روشن کی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ یہ شخص دماغی خرابی کی کس منزل تک پہنچ چکا ہے۔ جواب دعویٰ میں لکھتا ہے۔ بشیر احمد بھٹی نے جو مقدمہ دنیا کی ایک عدالت میں دائر کیا ہے۔ یہ دراصل ازلی و ابدی خدا پر دعویٰ کیا گیا ہے۔ بنا بریں اس دعویٰ کا جواب میں خود صادر کرتا ہوں۔ اب ذرا جواب دعویٰ کے مضمون کی ابتداء ملاحظہ فرمائیں۔ لکھا ہے:
اے سینئر سول جج لاہور
میں ازلی و ابدی اللہ ہوں...... اور آگے جواب دعویٰ کا لمبا مضمون درج کیا ہے۔ حکیم نذیر احمد برق کی خرافات قارئین نے ملاحظہ فرمالیں۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
اب سوال یہ ہے کہ ایسے جھوٹے یا پاگل شخص کے متعلق کچھ لکھ کر ہم اسے کیوں اہمیت دے رہے ہیں۔ ایسے الہام اور پیش گوئیاں کرنے والے آئے دن گلیوں، بازاروں میں پھرتے اور پھر پاگل خانوں کی زینت بنتے دکھائی دیتے ہیں۔ ہم نہ اس شخص کو منہ لگانا چاہتے ہیں اور نہ ہی یہ سنسنی خیز مواد چھاپ کر اپنا چھیتڑا بیچنے والے کو کوئی اہمیت دینا چاہتے ہیں۔ ہمارے سامنے صرف مسئلہ یہ ہے کہ مملکت پاکستان جس کا سرکاری مذہب اسلام ہے اور جسے موجودہ حکومت ایک صحیح اسلامی سلطنت بنانے کا دعویٰ کر رہی ہے۔ اس میں مذہب اور مذہبی اقدار سے یہ مذاق اور یہ تمسخر روا رکھنے کی کیوں اجازت دی جا رہی ہے؟ مامور من اللہ اور مجدد کے لفظ کی رسوائی کی جا رہی ہے۔ شرفاء اور معززین قوم کے لئے بیہودہ باتیں چھپ رہی ہیں۔ ملک کے متعلق خرافات شائع کی جارہی ہیں۔ موجودہ حکومت کی پالیسی کے یکسر خلاف بین الاقوامی حالات کے متعلق سراسر لغو باتیں کہی جارہی ہیں۔ خدا تعالیٰ کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کر کے اس کی طرف سے جواب دعویٰ دیئے جارہے ہیں۔ مذہب اسلام کے خلاف اس طرح کی تذلیل انگریزوں کے زمانہ میں نہ کی جاسکی۔ کسی ہندو، سکھ کو یہ گستاخی کرنے کی مجال نہ ہوئی اور اگر کسی نے کی تھی تو اس کا انجام ساری دنیا کو معلوم ہے۔ یہ اب کیا بات ہے کہ موجودہ فوجی حکومت کے دور میں ایسا قصہ کیوں شروع ہو گیا۔ اس سے بڑھ کر تعجب کی بات یہ ہے کہ اس شخص کی پیش گوئیوں پر مدیر لولاک نے احتجاج کیا تھا اور تجویز پیش کی تھی کہ اگر یہ پاگل ہے تو اسے پاگل خانہ بھجوا دیا جائے اور اگر یہ کذاب مرزائی ہے تو اسے ربوہ بھجوا دیا جائے۔ اس پر ہماری مہربان اور قابل احترام فوجی حکومت نے مقامی فوجی ہیڈکوارٹر میں مدیر لولاک کو طلب کیا اور وارننگ دی گئی کہ مدیر لولاک ایسی باتیں کہنے سے گریز کرے۔
پندرہ روزہ سحر میں یہ سب خرافات چھاپے جائیں۔ مذہب کی تذلیل کی جائے۔ خدا کی گستاخی کا ارتکاب ہو۔ مسلمانوں کے دلوں کو دکھ پہنچائے جانے والا مواد چھپے اور اس کے خلاف کارروائی نہ ہو۔ ہماری سمجھ سے بالاتر بات ہے۔ اس پرچہ کے پہلے صفحہ کی یہ ایک سطر کہ ”جنرل ضیاء الحق کو اقتدار ہم نے بخشا ہے جو اس کا دشمن ہے۔ ہم اس کے دشمن ہیں ۔“ الہام بنا کر چھاپنا اس کے جرم اور گناہ کو ہلکا نہیں کر سکتا۔ ملک کے کروڑوں اہل اسلام حکیم نذیر احمد برق کے ان جھوٹے الہامات کی وجہ سے یا پندرہ روزہ سحر کی بکواسیات کی وجہ سے جنرل ضیاء الحق کے مداح نہیں بلکہ ان کے ۵؍ جولائی کے مجاہدانہ کارنامے اور ان کی خدا اور رسول کی محبت اور اسلام کی راہ پر ملک کو لے جانے کی وجہ سے ان کے ساتھ محبت کرتے اور ان کے لئے دعا گو ہیں۔
ہم آخر میں جنرل ضیاء الحق صاحب اور ان کی حکومت سے عرض کریں گے کہ پاکستان میں اسلام کی تضحیک، اسلامی اصطلاحات کی توہین، مسلمانوں کی دل آزاری بند کی جائے۔ حکیم نذیر احمد برق کا دماغی معائنہ کرایا جائے۔ اگر یہ صاحب پاگل ہیں تو پاگل خانہ میں اگر پاگل نہیں ہیں تو جیل خانہ میں بھیجے جائیں۔ پندرہ روزہ سحر لاہور کے شماروں میں چھپنے والے مواد کو قانون کی کسوٹی پر رکھا جائے۔
(لولاک اکتوبر ۱۹۷۸ء)
دارالکفر ربوہ میں اہل اسلام کا داخلہ
۲۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء سے پہلے ربوہ میں کسی مسلمان کو داخل ہونے کی اجازت اگر کوئی بھولا بھٹکا مسلمان یہاں داخل ہو بھی گیا تو اس کی جان پر بن آئی۔ حبس بے جا میں رکھنا، دردناک اذیتیں دے کر اسے انٹروگیٹ کرنا، ظلم و ستم اور جبر وتشدد کا نشانہ بنانا اہل ربوہ کا محبوب مشغلہ تھا۔ حتیٰ کہ بعض مسلمانوں کو جاسوسی کے الزام میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اس شہر میں کوئی پتہ مرزائی قیادت کی اجازت کے بغیر نہیں ہل سکتا تھا۔ کسی کو دم مارنے کی اجازت نہیں تھی۔ مولوی غلام رسول جندیالوی (ایڈیٹر روزنامہ ایام) فیصل آباد کا لڑکا اپنے دوست کے ہمراہ ربوہ آیا تو مرزائیوں نے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ کر ابدی نیند سلا دیا۔ یہ ان کے ظلم و بربریت کی ادنیٰ مثال ہے۔ اتنا ظلم و تشدد اور لا قانونیت کے دیگر بیسیوں واقعات ہونے کے باوجود ربوہ کے تھانہ میں کبھی کوئی رپٹ، کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا۔ نہ کوئی گرفتاری عمل میں
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
لائی گئی ۔ مسٹر جسٹس صمدانی ۲۹ مئی ۱۹۷۴ء کے سانحہ ربوہ کی تحقیقات کے لئے جب ربوہ تشریف لائے تو تھانہ ربوہ کے کورے کورے فائلوں کو دیکھ کر حیران رہ گئے کہ عرصہ تین سال تک ان میں کوئی رپورٹ تک درج نہ کی گئی تھی ۔ مرزائی ربوہ کو اپنا خود مختار سٹیٹ سمجھتے تھے۔ مرزائی سربراہ کے دفتر پر اپنا جھنڈا لہرایا جاتا تھا۔ جیسے وہ ”لوائے احمدیت“ کا نام دیتے تھے ۔ مرزائیوں کی ریاست ربوہ میں مسلمان کیسے داخل ہو گئے ۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے کس مجاہدہ و مشقت کے ساتھ اس دارالکفر میں کام شروع کیا ۔ ان تمام واقعات کے عینی شاہد حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب مدظلہ کی ایک مطبوعہ تحریر میں یہ سارا قصہ تفصیلاً بیان کیا گیا ہے ۔ آپ بھی ملاحظہ فرمائیں اور حضرت مولانا کی صحت و سلامتی کے لئے دعا فرمائیں:
۲۹ مئی ۱۹۷۴ء کے سانحہ ربوہ کے نتیجہ میں عدالتی انکوائری کمیشن کی سفارشات اور عوامی مطالبہ پر حکومت نے ربوہ کو سب تحصیل کا درجہ دے دیا ۔ جس میں آر۔ایم مقرر ہوئے ۔ پولیس ، ڈاک ، فون، بجلی ، ریلوے ، بلدیہ اور دوسرے محکموں کے قادیانی افسران کو تبدیل کر کے ان کی جگہ مسلمان افسر مقرر کئے گئے۔
یہ سب کچھ اس دور میں ہوا۔ جس میں مولانا سید محمد یوسف بنوری مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ تھے ۔ آپ کی دور رس فکر نے سوچا کہ یہی وہ موقعہ ہے جس کے لئے امیر شریعت حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری، خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی، مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر اور دوسرے اکابر ترستے ہوئے اللہ کو پیارے ہو گئے ۔ ان تمام حضرات نے اپنے اپنے دور میں بے پناہ کوشش کی کہ ربوہ میں کام کرنے کی کوئی سبیل نکل آئے تو ان اکابر کی سالہا سال کی امنگوں اور آرزوؤں کو عملی جامہ پہنایا جائے ۔ مگر قدرت کو منظور نہ تھا۔ یہ سعادت رب العزت نے مولانا سید محمد یوسف بنوری کے لئے مقدر کر رکھی تھی ۔ چنانچہ آپ نے اپنے مکتوب کے ذریعے مجلس تحفظ ختم نبوت کے جنرل سیکرٹری مولانا محمد شریف جالندھری کو ہدایت کی کہ جس مناسب وقت کا مدت سے انتظار تھا وہ آ پہنچا ہے ۔ آپ ربوہ جا کر کام کرنے کی راہیں تلاش کریں اور ربوہ کی اس مہم کا نگران حضرت مولانا تاج محمود کو مقرر کریں۔ مولانا محمد شریف جالندھری کا پیغام لے کر مولانا خدا بخش، مولانا قاری عبدالسلام چشتیاں اور راقم الحروف (مولانا اللہ وسایا) ۵؍ دسمبر ۱۹۷۴ء کو جناب منیر احمد خان لغاری آر۔ایم ربوہ سے ان کی عدالت میں ملے اور ان سے درخواست کی کہ اگر آپ اجازت دیں تو آپ کے احاطہ عدالت کے ایک کونہ میں مسجد نما تھڑا پر نماز باجماعت ادا کرنے کے لئے کسی آدمی کو متعین کر دیں جو یہاں آپ کی عدالت میں مقدموں کے سلسلہ میں آنے والے مسلمانوں کو بلا معاوضہ نماز باجماعت پڑھا دیا کرے ۔ موصوف نے کہا کہ مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ مگر چند دنوں بعد آپ دوبارہ مجھ سے رابطہ قائم کریں ۔
چناب نگر میں اہل اسلام کی پہلی نماز باجماعت
۲۶؍ دسمبر ۱۹۷۴ء کو مولانا محمد شریف جالندھری اور مولانا عزیز الرحمٰن خورشید جو ان دنوں مجلس تحفظ ختم نبوت سرگودھا کے مبلغ تھے، دوبارہ ربوہ میں آر۔ایم سے ملے ۔ موصوف نے ظہر اور عصر کی نماز باجماعت پڑھانے کی اجازت دے دی ۔ کیونکہ عدالت کے اوقات میں یہی دو نمازیں آتی تھیں ۔
چنانچہ اسی دن ۲۶؍ دسمبر ۱۹۷۴ء مجلس تحفظ ختم نبوت کھڑیا نوالہ ضلع فیصل آباد کے مبلغ حافظ سید ممتاز الحسن گیلانی نے ظہر کی نماز ربوہ میں جا کر پڑھائی ۔ خود اذان کہی ، جماعت کرائی ۔ پہلے دن امام صاحب کے علاوہ دو نمازی تھے ۔ ربوہ میں مسلمانوں کی یہ پہلی نماز باجماعت تھی ۔ بعد میں مولانا عزیز الرحمٰن خورشید روزانہ سرگودھا سے ربوہ تشریف لاتے اور یہ دونوں نمازیں پڑھاتے اور یہ سلسلہ چار ماہ
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
تک جاری رہا۔ اس کے بعد کراچی سے مولانا محمد شریف احرار کا چنیوٹ تبادلہ کر دیا گیا۔ ربوہ میں نمازیں اور جمعہ پڑھانے کا فرض انہیں تفویض کیا گیا۔ ان دنوں اتوار کو چھٹی ہوتی تھی۔ جمعہ کو عدالت لگتی تھی۔ تو عدالت جو بلدیہ کے ہال میں لگی تھی۔ اس میں جمعہ پڑھا جاتا اور یوں مجلس تحفظ ختم نبوت کو ربوہ میں اجتماع میسر آ جاتا۔ جب جمعہ کا اعلان تعطیل ہوا تو اس وقت تک قدرت نے ربوہ کے قلب میں واقع ریلوے اسٹیشن پر جامع مسجد محمدیہ کا انتظام کرا دیا۔
قبرستان شہداء کی حد براری
اس دوران رانا فضل الرحمٰن صاحب چنیوٹ کے تحصیلدار تھے۔ مولانا محمد شریف جالندھری نے انہیں درخواست دی کہ ربوہ میں لاری اڈہ کے قریب مرزائیوں کا خود ساختہ بہشتی مقبرہ کے مشرقی جانب کا قبرستان جو کاغذات میں قبرستان شہداء مقبوضہ اہل اسلام ہے۔ اس کی حد برداری ہونی چاہئے۔ یہ سولہ ایکڑ رقبہ پر محیط ہے اور مسلمانوں کا ہے۔ قادیانی آئین پاکستان کی رو سے غیر مسلم ہیں۔ لہٰذا اس کی حد برداری کر کے قبضہ مسلمانوں کو دے دیا جائے۔ انہوں نے آرڈر کر دیئے۔ ۲۷؍ اپریل ۱۹۷۵ء کو شیخ منظور احمد، مولانا خدا بخش اور راقم الحروف (مولانا اللہ وسایا) کی موجودگی میں پٹواری اور گرداور نے حد برداری کر کے نشان لگا دیئے۔ تا کہ مرزائی اس میں اپنے مردے نہ دفنا سکیں۔ یہ ربوہ میں مسلمانوں کی دوسری کامیابی تھی۔ یہ تمام کام انتہائی آہستہ روی سے کیا گیا۔ اس کا کہیں پروپیگنڈا تو درکنار ذکر تک نہ کیا گیا۔ پانچ ماہ بعد ہفتہ وار لولاک کی اشاعت ۱۲؍ مئی ۱۹۷۵ء میں بعنوان ’’کفرستان ربوہ میں اسلام کی پہلی آواز‘‘ مسلمانوں نے ربوہ میں جمعہ ادا کرنا شروع کر دیا۔ خبر شائع کی۔ ملک بھر کے جماعتی احباب نے اس پر خوشی کا اظہار کیا۔ اب ہمارے قدم مضبوط تھے۔ دشمن کو کسی قسم کی کارروائی کرنے کی جرأت نہ ہوئی۔
مسلم ٹی سٹال
جناب منیر احمد خان لغاری آر۔ ایم صاحب کی عدالت میں مسلم ٹی سٹال کے نام سے ایک چھوٹا سا کھوکھا بنوایا۔ جس میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے حافظ محمد اعظم کشمیری نگران مقرر ہوئے۔ عدالت میں آنے والے مسلمان یہاں سے چائے پیتے تھے۔ اس سلسلہ میں مسلمان وکلاء نے بڑا تعاون کیا۔ سب سے زیادہ لالیاں ضلع جھنگ کے جواں سال کارکن جناب محمد اشرف نے بہت محنت کی۔
مولانا خدا بخش ربوہ میں
مولانا محمد شریف احرار کے جہلم چلے جانے کے بعد مولانا خدا بخش شجاع آبادی کو مجلس نے ربوہ کے امور کا انچارج مقرر کیا۔ موصوف نے گرمی، سردی، بارش، آندھی کی پرواہ کئے بغیر اپنا سفر جاری رکھا۔ اسی عدالت کے احاطے میں نمازیں اور جمعے ہوتے رہے۔ مولانا محمد خان مبلغ سیالکوٹ، مولانا قاضی محمد اللہ یار، مولانا منظور احمد شاہ، مولانا محمد یوسف لدھیانوی اور مولانا خلیل الرحمٰن نے کبھی کبھار مولانا خدا بخش کی عدم موجودگی میں جمعہ پڑھانے کی سعادت حاصل کی۔
ریلوے مسجد محمدیہ کی تعمیر
ریلوے کا ایک وفد غالباً ۲۵؍ جنوری ۱۹۷۶ء کو ربوہ ریلوے اسٹیشن کے لئے آیا۔ اس کے آفیسر نیک آدمی تھے۔ نماز پڑھنے کے عادی تھے۔ لیکن مسلمانوں کی وہاں کوئی مسجد نہ تھی۔ انہوں نے تحریک کی۔ اللہ رب العزت نے فضل فرمایا۔ ریلوے اسٹیشن ربوہ کا مسلمان عملہ تیار ہو گیا۔ مولانا تاج محمود نے ان کی حوصلہ افزائی کی۔ آپ نے فیصل آباد کے دوستوں کو توجہ دلائی۔ ملک بھر کے مجاہدین ختم نبوت اور اہل اسلام نے معاونت کی۔ مسجد کی تعمیر شروع ہو گئی۔ کبھی کبھار رقم کی دقت پیش آئی تو مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکز ملتان سے تعاون حاصل
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء
ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
ہو جاتا۔ دیکھتے ہی دیکھتے مسجد بن گئی۔ مولانا تاج محمود نے اس کا نام مسجد محمدیہ اہل سنت والجماعت تجویز کیا۔ اس کے سائن بورڈ جــــــاء الحق وزھق الباطل آیت تحریر کی گئی۔ یہ مسجد مختلف مراحل سے گزر کر آج ”اصلھا ثابت وفرعھا فی السماء“ کی مصداق ہے۔ اس کی چھت پڑنے کے بعد عدالت کی بجائے جمعہ کی نماز اس مسجد میں شروع کر دی گئی۔ حضرت مولانا خدا بخش مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے اس کے خطیب مقرر ہوئے۔ پنجگانہ نمازوں، اذان ، مسلمان بچوں کی دینی تعلیم کے لئے مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان نے ایک امام کو مقرر کیا۔ رائے ونڈ کا تبلیغی اجتماع تھا۔ حضرت مولانا تاج محمود کے توجہ دلانے پر تبلیغی جماعت کے ارباب بست و کشاد نے اپنی جماعتوں کو اس علاقہ میں بھیجنے کا اہتمام کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان حضرات کے خلوص کے صدقے اس جگہ مزید آباد فرمائے۔ (۲۲ ستمبر ۱۹۷۸ء بروز جمعتہ المبارک سے فروری ۱۹۸۲ء تک کم و بیش چار سال تک حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب مسجد محمدیہ ربوہ کے خطیب رہے۔ انہوں نے بہادری اور جرائت رندانہ کے ساتھ جمعہ کے خطبات میں قادیانیت کو ایسا رگیدا اور ایسے چرکے لگائے کہ قادیان کی جھوٹی نبوت اور اس کے پیروکار تڑپ اٹھے۔ حضرت مولانا تاج محمود کی علالت اور پھر ان کی وفات کے بعد انہیں جامع مسجد محمود ریلوے اسٹیشن فیصل آباد کے خطبہ جمعتہ المبارک کا فرض سونپا گیا اور مسجد محمدیہ میں مولانا خدا بخش صاحب دوبارہ تشریف لائے )
ربوہ میں قبول اسلام
۲۹ رمضان المبارک ۱۳۹۶ھ مطابق ۲۴ ستمبر ۱۹۷۶ء کو بروز جمعتۃ الوداع مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ خطیب ربوہ ، مولانا خدا بخش صاحب کے دست حق پرست پر ایک مرزائی نے قبول اسلام کا شرف حاصل کیا۔ ۴ شوال ۱۳۹۶ھ کے جمعہ پر مولانا موصوف کے دست مبارک پر قصبہ احمد نگر کے حکیم غلام حسین نے اسلام قبول کیا۔ ۱۳ شوال ۱۳۹۶ھ جمعہ پر مسماۃ سیدہ بشریٰ اور اس کی والدہ ساکنان ربوہ نے مولانا کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ ۲۴ ستمبر ۱۹۷۶ء کی ہفت روزہ لولاک کی اشاعت کے مطابق ریلوے مسجد کے امام کے ہاتھ پر مزید آٹھ افراد نے اسلام قبول کیا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے خادموں اور مبلغوں کی پرامن ، خاموشی اور موثر خدمات ربوہ میں رنگ لا رہی تھیں اور ربوہ کے بھولے بھٹکے مرزائی حقیقت حال سے آگاہ ہونے پر اسلام قبول کر رہے تھے۔
ایک زمانہ تھا کہ ربوہ میں کوئی مسلمان داخل نہیں ہو سکتا تھا۔ اگر کسی کو وہاں جانا ہوتا تو وہ ربوہ سرکار کی اجازت حاصل کیا کرتا تھا۔ کئی بے گناہ لوگ ربوہ کو ملک کا ایک حصہ سمجھ کر داخل ہوئے تو ان کی ٹانگیں اور بازو توڑ دیئے گئے اور جان بحق کر دیا گیا۔ لیکن اب ایک زمانہ ہے کہ وہاں مسلمانوں کی مساجد بن رہی ہیں۔ اذان ، جماعت، جمعہ اور عیدین ہو رہی ہیں۔ ربوہ اور احمد نگر کے لوگ مرزائیت سے علی الاعلان تائب ہو رہے ہیں۔ لیکن کسی مرزائی کو جرأت نہیں کہ وہ ان کو ہاتھ لگا سکے۔
ربوہ میں مسلمانوں کی پہلی باجماعت نماز تراویح
رمضان المبارک ۱۳۹۶ھ ربوہ میں دو جگہ پر پہلی دفعہ مسلمانوں کی باجماعت نماز تراویح ہوئی۔ جن میں ربوہ کے رہنے والے مسلمان شریک ہوتے تھے۔ نماز تراویح پڑھنے اور قرآن سننے کی سعادت حاصل کرتے رہے۔ نماز تراویح مجلس تحفظ ختم نبوت کی زیر تعمیر جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی میں مولانا عبدالرزاق رحیمی نے پڑھائی اور دوسری نماز تراویح ریلوے مسجد ربوہ میں ہوتی رہی۔ حضرت اقدس مولانا سید محمد یوسف بنوری کے حکم خاص پر رمضان المبارک ۱۳۹۶ھ کے آخری عشرہ میں ایک مسلمان نے ریلوے مسجد میں اعتکاف کی سنت ادا کی۔ نماز عید الفطر پڑھائی گئی اور اسی طرح عید الاضحیٰ بھی باجماعت پڑھائی گئی۔ اگلے سال ۱۳۹۷ھ کو دونوں مقامات پر نماز
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء
ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
تراویح کا اہتمام کیا گیا۔ والحمد للہ علیٰ ذالک! اور پھر یہ سلسلہ چلا اور انشاء اللہ العزیز تا قیام ساعت جاری رہے گا۔
ربوہ میں مجلس کے لئے قطعہ اراضی کا حصول
اوائل ۱۹۷۶ء میں حضرت مولانا تاج محمود نے درخواست گزاری۔ مولانا محمد شریف جالندھری نے جنرل سیکرٹری ہونے کی حیثیت سے وہ درخواست محکمہ ہاؤسنگ اینڈ فیملی پلاننگ فیصل آباد کو ارسال کی کہ آپ ربوہ کی زیر تجویز رہائشی کالونی میں مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کو مسجد اور مدرسہ کے لئے پلاٹ عنایت کریں۔ ہفتہ بعد ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ ہاؤسنگ جھنگ کی طرف سے جواب ملا کہ آپ کی درخواست موصول ہوگئی ہے۔ مئی ۱۹۷۶ء کے اواخر میں جناب بلال زبیری مرحوم، مولانا خدا بخش اور راقم الحروف (مولانا اللہ وسایا) ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ ہاؤسنگ جھنگ سے ملے۔ اپنی درخواست کی یاد دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ آپ ربوہ میں ایک ٹرسٹ قائم کریں۔ اسے رجسٹر کرائیں تاکہ قانونی تقاضے پورے ہوں اور آپ کو زمین دی جاسکے۔ ۱۵؍ جون ۱۹۷۶ء کو مولانا محمد شریف جالندھری، بلال زبیری مرحوم اور مولانا خدا بخش ڈپٹی ڈائریکٹر سے ملے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ اور لوگوں کی طرف سے بھی ہمیں درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ لیکن ہم زمین ان کو دیں گے جن کی پارٹی رجسٹرڈ ہو۔ مولانا محمد شریف جالندھری نے ان کو بتایا کہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ایک رجسٹرڈ ادارہ ہے۔ ہم تحفظ ختم نبوت کے عنوان سے اندرون اور بیرون ملک کام کرتے ہیں۔ ہمارا حساب باقاعدہ گورنمنٹ کی منظور شدہ اتھارٹی آڈٹ کرتی ہے ہماری درخواست بھی پہلے آئی ہے۔ ہمارا ترجیحی حق بنتا ہے کہ زمین ہمیں ملنی چاہئے۔ اس وضاحت کے بعد موصوف مطمئن ہو گئے اور وعدہ کیا کہ عنقریب ہماری ضلعی میٹنگ ہوگی۔ آپ کی درخواست پر ہمدردانہ غور کیا جائے گا۔
مولانا محمد علی جالندھری کی فراست ایمانی
تاریخ سے زیادتی ہوگی۔ اگر اس جگہ مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری کی روح پرفتوح کو دل کھول کر خراج عقیدت نہ پیش کی جائے۔ اللہ تعالیٰ ان کی تربت پر کروڑہا رحمتیں فرمائے۔ جنہوں نے اس دن سے ربع صدی قبل مجلس کو رجسٹرڈ کرا دیا تھا۔ گو اس وقت احباب چیں بہ جبیں تھے۔ معترض تھے۔ طعنے دیتے تھے کہ مولانا نے جماعت کو رجسٹرڈ کروا کر حکومت کی مداخلت کی راہ ہموار کر دی ہے۔ حکومت جب چاہے گی، حساب چیک کرنے کے بہانے روڑے اٹکائے گی۔ مگر آج کے حالات نے ثابت کر دیا ہے کہ مولانا مرحوم کی دور رس نگاہوں، مؤمنانہ بصیرت اور مجاہدانہ فراست نے جو کام کیا تھا، سو فیصد درست تھا۔ چنانچہ ربوہ میں زمین ملنے کا ایک سبب جماعت کا رجسٹرڈ ہونا بھی تھا۔
زمین کا قبضہ
درخواست مختلف مراحل سے گزرتی رہی۔ حتیٰ کہ ۲۶؍ جون ۱۹۷۶ء کو ملتان دفتر میں محکمہ ہاؤسنگ کا ایک حکم نامہ موصول ہوا کہ محکمہ نے آپ کی درخواست منظور کر لی ہے۔ آپ جلدی حاضر ہو کر قبضہ لے سکتے ہیں۔ چنانچہ ۲۸؍ جون ۱۹۷۶ء مطابق جمادی الاول ۱۳۹۶ھ بروز پیر مولانا محمد شریف جالندھری نے ربوہ پہنچ کر جناب ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ ہاؤسنگ سے ۹ کنال زمین برائے جامع مسجد و مدرسہ کے پلاٹ کا قبضہ لے لیا۔ والحمد للہ حمداً کثیراً!
حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ ربوہ میں
۷؍ جولائی ۱۹۷۶ء، مطابق ۸؍ رجب ۱۳۹۶ھ بروز بدھ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے امیر مرکزیہ (ان دنوں نائب امیر تھے)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
شیخ طریقت مولانا خان محمد صاحب نور اللہ مرقدہ سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف تشریف لائے۔ اس پلاٹ پر عصر کی باجماعت نماز پڑھائی اور دعا کی کہ اللہ رب العزت مسجد کو رشد و ہدایت اور تعلیم وتبلیغ کا مرکز بنائے اور ہم سب کو اس کی تعمیر اور آباد کرنے کی توفیق ارزاں فرمائے۔ اس تقریب سعید کا گو پہلے سے اعلان نہ کیا گیا تھا۔ اس کے باوجود ربوہ میں رہنے والے مسلمان نماز میں شریک ہوئے۔ حضرت الامیر کے علاوہ مولانا محمد شریف جالندھری مرکز کی نمائندگی کر رہے تھے۔ فیصل آباد سے مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما حضرت مولانا تاج محمود، مولانا فقیر محمد، حاجی بشیر احمد، رانا نصر اللہ خان، جناب برکت دار پوری نمائندہ نوائے وقت شریک ہوئے۔ چوہدری ظہور احمد، شیخ مقبول احمد، شیخ منظور احمد، سالار فیروز اور بیسیوں کارکن چنیوٹ سے تشریف لائے۔ چک جھمرہ سے سید ظفر علی شاہ کی قیادت میں ایک دستہ رضا کاروں اور کارکنوں کا پہنچ گیا تھا۔ گوجرہ کے احباب بھی شریک ہوئے۔ یہ سادہ اور پرخلوص تقریب تقریباً ۲ گھنٹے تک جاری رہی۔ حضرت امیر شریعت کے پرانے رفیق کار مولانا عبدالرحمٰن میانوی اجتماعی دعا میں شریک نہ ہوسکے۔ لیکن بعد میں انہوں نے بھی اس پلاٹ میں نماز پڑھی اور دعا کی۔ یہ ایمان پرور تقریب دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ حضرت مولانا تاج محمود پاؤں پر چوٹ کی وجہ سے چل نہیں سکتے تھے۔ کار سے نماز کی جگہ تک چوہدری ظہور احمد ان کو کندھوں پر اٹھا کر لائے۔ اس حالت کو دیکھ کر ساتھیوں کو اس دن ہی یقین ہو گیا تھا کہ ان حضرات کے اس خلوص کے صدقے اللہ رب العزت اس جگہ کو ضرور آباد فرمائیں گے۔
مولانا عبدالحمید آزاد
موصوف ڈیرہ غازی خان کے علاقے سے تعلق رکھتے تھے۔ حضرت امیر شریعت کے تربیت یافتہ تھے۔ ان کو فدائی الاحرار کا مقام حاصل تھا۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک میں مولانا تاج محمود، حافظ حکیم عبدالمجید مرحوم نابینا کے ہمراہ مہینوں کیمبل پور جیل میں رہے۔ حضرت شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوری سے بیعت تھے۔ آپ کے جاری کردہ ہفت روزہ خدام الدین کے سیلز منیجر تھے۔ چنیوٹ میں ۱۰ تا ۱۲ دسمبر ۱۹۷۶ء کو چوبیسویں ختم نبوت سالانہ کانفرنس تھی۔ اس میں شرکت کے لئے آئے ہوئے تھے۔ مولانا محمد شریف جالندھری نے ربوہ میں ڈیرہ لگانے کا حکم دے دیا۔ سنتے ہی تیار ہو گئے۔ ۱۰ دسمبر سے ۱۴ جون ۱۹۷۷ء تک چھ ماہ قیام کیا۔ دیانتداری کی بات ہے کہ اس قسم کے بے لوث مجاہد ورکر بہت کم ملتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو نور سے بھر دے۔ ان کے بعد قاری اللہ وسایا غوری علی پور سے تشریف لائے اور مسجد کے انچارج مقرر ہوئے۔
مبارک باد کے خطوط
۷ جولائی ۱۹۷۶ء کو حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب نے نماز پڑھا کر افتتاح کیا تھا۔ ۸ جولائی کو اخبار میں خبر چھپی۔ اہل اسلام کو جب اس کامیابی کا علم ہوا تو خطوط، تاریں، فون، پیغامات کے ذریعہ مجلس کے نمائندوں سے بے پناہ محبت وشفقت کا مظاہرہ کیا گیا۔ مسلمانوں کو کس قدر خوشی ہوئی اس کا بیان کرنا کم از کم میرے جیسے کم علم آدمی کے لئے مشکل ہے۔
”شکر گزار ہوں“
اس عنوان سے مولانا محمد شریف جالندھری نے ۲۸ اگست ۱۹۷۴ء کو درج ذیل بیان جاری کیا: ”پچھلے ماہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ربوہ میں ۹ کنال زمین برائے مسجد ومدرسہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کو الاٹ کر دی گئی۔ مجلس کے نائب امیر حضرت پیر طریقت مولانا خواجہ خان محمد صاحب کندیاں شریف نے عصر کی نماز اس پلاٹ پر پڑھائی۔ جس میں سینکڑوں کارکنوں اور رہنماؤں نے شرکت کی۔ وہاں پر عارضی مسجد کا حجرہ بنا دیا گیا تا کہ ابتدائی کام شروع ہو۔ مستقل تعمیر حضرت اقدس مولانا سید محمد یوسف بنوری امیر مرکزیہ مجلس تحفظ ختم
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
نبوت پاکستان کے دست مبارک سے سنگ بنیاد رکھنے کے بعد شروع کرنا ہے۔ (ختم نبوت کے محاذ پر کام کرنے والوں کو قیامت تک یہ افسوس رہے گا کہ حضرت مرحوم کے ہاتھوں ربوہ میں مسجد کا سنگ بنیاد نہ رکھا جا سکا۔ حضرت کی صحت ناساز ہو گئی اور ہم فوری طور پر سنگ بنیاد کی تقریب منعقد نہ کر سکے۔ (اے بسا آرزو کہ خاک شد ) حقیقت یہ ہے کہ جو تحریک ختم نبوت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کی الف سے شروع ہوئی تھی وہ حضرت بنوری کی یا پر تکمیل ہوئی۔ حضرت کا وجود پوری امت مسلمہ کے لئے بالعموم اور ختم نبوت کے محاذ پر کام کرنے والوں کے لئے بالخصوص غنیمت تھا) اس کامیابی پر ملک بھر کے جماعتی احباب اور بزرگوں نے بے پناہ جوش وخروش ، محبت وعقیدت، خوشی وانبساط کا مظاہرہ کیا۔ دعاؤں سے نوازا۔ خطوط لکھے۔ تاریں دیں۔ فون کئے، پیغامات ارسال کئے۔ ایسا لامتناہی سلسلہ شروع ہوا جو کافی عرصہ جاری رہا۔ ان میں سے بعض احباب کے خطوط مجلس کے آرگن ہفتہ وار لولاک میں بھی شائع ہوئے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت ، آقائے نامدارؐ کی ختم نبوت کے صدقے ، شہدائے ختم نبوت کے خون کے بدلے، حضرت انور شاہ کشمیری ، حضرت امیر شریعت ، حضرت قاضی صاحب ، حضرت مولانا جالندھری ، مولانا لال حسین اختر اور دوسرے بزرگوں کی قربانیوں کے طفیل اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ کامیابی عنایت فرمائی ۔ ہر وہ شخص مبارکباد کا مستحق تھا جس نے ختم نبوت کے لئے تھوڑا بہت کام کیا۔ حضرت اقدس مولانا سید محمد یوسف بنوری ، حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد کی قیادت باسعادت، مولانا تاج محمود ، مولانا محمد حیات، مولانا عبدالرحمن میانوی، مولانا عبدالرحیم اشعر، مولانا غلام محمد ، سردار میر عالم خان لغاری کی رفاقت با کرامت کے صدقے یہ مشن پایہ تکمیل کو پہنچا۔ ملک بھر کے مبلغین، کارکنان اور بہی خواہان کی قربانیوں کے پیش نظر تمام دوستوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنی جدوجہد کو تیز کر دیں تا کہ جلد از جلد منزل مقصود کو حاصل کر سکیں ۔“ والسلام !
دعاؤں کا محتاج : محمد شریف جالندھری
ربوہ میں پلاٹ حاصل کریں
فیصل آباد کے معروف سماجی رہنما مولانا فقیر محمد صاحب نے ان پلاٹوں کے حصول کے لئے مولانا تاج محمود ، مولانا محمد شریف جالندھری سے بھر پور تعاون کیا۔ ۹؍جولائی ۱۹۷۶ء کے لولاک میں آپ کا ایک تفصیلی بیان شائع ہوا۔ جس میں پنجاب بھر کے مسلمانوں سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ ربوہ میں پلاٹ حاصل کریں ۔ چنانچہ جو احباب محکمہ ہاؤسنگ کی شرائط کے مطابق درخواست دینے کے مستحق تھے، انہوں نے پلاٹ حاصل کرنے کے لئے درخواستیں دیں۔
ملکی وغیر ملکی معروف رہنماؤں کی ربوہ میں تشریف آوری
۱۳؍اکتوبر ۱۹۷۶ء کو کراچی مجلس ختم نبوت کے سربراہ سردار میر عالم خان لغاری، حضرت مولانا تاج محمود ، حاجی محمد صدیق ، چوہدری محمد صدیق فیصل آبادی تشریف لائے ۔ ربوہ میں مجلس مشاورت ہوئی۔ جس میں طے ہوا کہ جامع مسجد کے ارد گرد دارالعلوم ختم نبوت کی عمارت، مدرسین وعملہ کی رہائش گاہیں ، لائبریری ، دارالحدیث ، دارالقرآن تعمیر کی جائیں گی۔ نقشہ میں اس بات کو ملحوظ رکھا جائے کہ مسجد کا ایمان پرور نظارہ دریائے چناب کے پل پر سرگودھا، فیصل آباد سڑک پر سفر کرنے والے اہل اسلام کو دکھائی دے ۔ آج بحمد اللہ یہ تمام منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچ چکے ہیں۔ هذا من فضل ربی !
اس جگہ کا معائنہ کرنے کے بعد وفد نے ریلوے مسجد محمدیہ کا معائنہ کیا۔ ۲۱؍اکتوبر ۱۹۷۶ء کو حضرت فاتح قادیان مولانا محمد حیات صاحب ربوہ میں جامع مسجد ختم نبوت میں مستقلاً رہائش کے لئے تشریف لائے۔ آج سے نصف صدی قبل امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
کے حکم پر آپ شعبہ تبلیغ کے انچارج کی حیثیت سے قادیان تشریف لے گئے تھے۔ جہاں احرار رہنما ماسٹر تاج الدین انصاری، مولانا عنایت اللہ اور دوسرے احباب کے ہمراہ امت مسلمہ کی طرف سے فرض کفایہ ادا کیا تھا۔ اب خود مولانا کے اصرار اور احباب کی تجویز پر مجلس نے فیصلہ کیا کہ آپ قادیان کی طرح ربوہ کی سر پرستی فرمائیں۔ جماعتی ضرورت کے مطابق آپ کو ملتان، کراچی، گوجرانوالہ، لاہور کے سفر بھی کرنے پڑے۔ مگر آپ کا صدر مقام ربوہ میں تھا۔ وعظ و تبلیغ، رشد و ہدایت کی محفلیں منعقد ہوتی رہتیں۔ علاقہ کے لوگ مولانا کے علم اور تجربہ سے بہرہ ور ہورہے تھے۔
۲۴؍اکتوبر کو مجلس تحفظ ختم نبوت، ابوظہبی عرب امارات کے جنرل سیکرٹری جناب محمد رفیق صابری ربوہ میں تشریف لائے۔ مولانا محمد شریف جالندھری اور راقم الحروف (مولانا اللہ وسایا) آپ کے ہمراہ تھے۔ ربوہ میں مولانا محمد حیات، مولانا خدا بخش، شیخ منظور احمد، مولانا عبدالرزاق رحیمی اور دوسرے احباب نے آپ کا خیر مقدم کیا۔ مولانا محمد حیات نے مسجد کے حجرہ میں جناب صابری صاحب کے اعزاز میں استقبالیہ دیا۔ سادہ مگر پر خلوص تقریب قابل دید تھی۔ مولانا محمد حیات نے ربوہ میں کام کی تفصیل سے صابری صاحب کو باخبر کیا۔ صابری صاحب نے ابوظہبی کی طرف سے کامل تعاون کا یقین دلایا۔ ظہر کی اذان صابری صاحب نے کہی۔ مولانا عبدالرزاق نے امامت کرائی۔ مولانا محمد شریف جالندھری نے ایمان پرور دعا کرائی۔ صابری صاحب ریلوے مسجد کے معائنہ کے بعد فیصل آباد اور ملتان کے سفر پر روانہ ہوگئے۔
۳۰؍اکتوبر ۱۹۷۶ء کو حسن عامر آرکیٹیکٹس اینڈ کمپنی کراچی کے سربراہ کرنل حسین صاحب کراچی سے ہوائی جہاز کے ذریعہ فیصل آباد تشریف لائے۔ مولانا محمد شریف جالندھری، سردار میر عالم خان لغاری، مولانا تاج محمود، حاجی نذر حسن کے ہمراہ ربوہ تشریف لے گئے۔ موصوف کو سید الاولین والآخرین آنحضرت ﷺ سے والہانہ عشق تھا۔ حضرت علامہ مولانا سید محمد یوسف بنوری کے خاص معتقدین میں سے تھے۔ حضوری باغ روڈ ملتان کے عالمی تبلیغی مرکز کا نقشہ بھی انہوں نے بنایا ہے۔
ربوہ میں سنگ بنیاد کی تقریب کا التواء
ربوہ میں جامع مسجد ختم نبوت کے سنگ بنیاد کے لئے پروگرام بنتا رہا۔ بھٹو گورنمنٹ کی مہربانی سے اجازت نہ ملنے کے باعث ملتوی ہوتا رہا۔ بالآخر طے پایا کہ ۹؍جنوری ۱۹۷۶ء کو سنگ بنیاد رکھنے کے انتظامات کئے جائیں۔ ابتدائی انتظامات کرلئے گئے۔ ۲۶ تا ۲۸؍دسمبر ۱۹۷۶ء کی چنیوٹ کانفرنس میں اس کا اعلان کر دیا گیا۔ اب بھی بھٹو گورنمنٹ مانع آئی اور یہ پروگرام بھی بالآخر طوعاً و کرہاً ملتوی کر دیا گیا۔ اس کے بعد فروری ۱۹۷۷ء میں طے پایا کہ پلاٹ کی چار دیواری کرلی جائے۔ تاکہ چار دیواری کے اندر شاید اجلاس منعقد کرنے کی منظوری مل جائے۔ فیصل آباد کے معروف سماجی رہنما و ٹھیکیدار الحاج نذر حسن نے جاکر چار دیواری کے نشانات دیئے۔ ہدایات دیں، کام شروع ہوا۔ چار دیواری مکمل ہوئی۔ پلاٹ کے جنوب مشرقی کونہ میں ٹیوب ویل لگایا گیا۔ جنوب مغرب کے کونہ میں دو عالی شان کمرے تعمیر کر دیے گئے۔ بجلی مل گئی۔ ٹیلیفون مل گیا۔ مگر بھٹو گورنمنٹ نے پھر بھی اجازت نہ دی۔ اس طرح شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوری کے ہاتھوں اس پلاٹ میں جامع مسجد کا سنگ بنیاد نہ رکھا جا سکا۔ مرحوم اللہ رب العزت کو پیارے ہوگئے۔ ختم نبوت کے محاذ پر کام کرنے والے ساتھیوں کو ہمیشہ اس بات کا دکھ رہے گا کہ حضرت موصوف اپنے پودے ربوہ میں پھلتے پھولتے نہ دیکھ سکے۔ پھر حضرت مولانا تاج محمود نے اس کا نقشہ بنوایا۔ انتظامات مکمل ہونے پر مجلس کے امیر مرکزیہ حضرت پیر طریقت مولانا خواجہ خان محمد صاحب نقشبندی، مجددی سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ نے اس کا سنگ بنیاد رکھا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت بنوری کے ہاتھوں لگائے اس پودے کو دن دگنی رات چوگنی برکت نصیب فرمائے اور پوری امت کو آپ کے نقش قدم پر چل کر تحفظ ختم نبوت کا کام کرنے کی توفیق ارزاں فرمائے۔ وما ذالک علی اللہ بعزیز!
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری کا ربوہ کے متعلق مکتوب
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت ملت اسلامیہ پر واضح ہو چکی ہے کہ یہ دین اسلام کا بنیادی ستون ہے اور اس کی حفاظت دین کی اہم ترین خدمت ہے۔ گزشتہ دوسالوں میں مجلس تحفظ ختم نبوت مرکزی کی قیادت میں جس انداز سے تحریک چلائی گئی تھی اسے حق تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے مثمر فرمایا۔ وہ ظاہر ہے لیکن اب ضرورت ہے کہ یہ بنیادیں پختہ کی جائیں اور مزید بقیہ امور کی تکمیل کی جائے۔ ربوہ جو قادیانیت کا مرکز تھا، وہاں مرکزی مجلس تحفظ ختم نبوت کو ۹ کنال زمین برائے تعمیر مسجد و مدرسہ دی گئی ہے۔ اس لئے مسلمانوں سے درخواست ہے کہ وہ جلد سے جلد اس کی تکمیل میں ہمارا ہاتھ بٹائیں۔
ابتدائی مراحل طے کرنے کے لئے کچھ رقم بھی آگئی ہے اور کام بھی شروع ہو چکا ہے۔ جب کہ نماز جمعہ اور وعظ وتبلیغ کا کام قریباً دوسال سے شروع ہو چکا ہے۔ مجھے حق تعالیٰ سے امید ہے کہ احباب توجہ فرمائیں گے اور ان کے ہاتھوں اس بنیادی کارِخیر کی تکمیل ہو جائے گی۔ حق تعالیٰ اس کی توفیق عطاء فرمائے کہ صالحین کے ہاتھوں اور مخلصین کی کوشش سے اس کی تکمیل ہو جائے۔‘‘
(مولانا سید) محمد یوسف بنوری عفا اللہ عنہ
نوٹ: ضرورت ہے اس امر کی کہ کوئی اللہ کا بندہ اس سے آگے کے تمام حالات لکھ دے تو تاریخ کا یہ باب بھی ضبط میں آجائے۔
(فقیر اللہ وسایا)
مرزائی کی لاش مسلمانوں نے اپنے قبرستان میں دفن نہ ہونے دی
۸؍اپریل ۱۹۷۸ء کو موضع کوٹ لالہ تھانہ قلعہ دیدار سنگھ کا زاہد نامی مرزائی مر گیا اور مرزائی اس کی لاش کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفنانے کا پروگرام بنانے لگے۔ آناً فاناً یہ خبر گردونواح کے دیہات میں پھیل گئی اور مسلمان دینی جذبہ کے تحت کوٹ لالہ کے قبرستان میں جمع ہو گئے اور اعلان کیا کہ وہ مرتد کی لاش مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں ہونے دیں گے۔ اس پر تھانہ میں اطلاع دی گئی۔ وہاں سے دو کانسٹیبل موقع پر آگئے۔ ان کے ہمراہ چوہدری امتیاز علی اے.ایس.آئی بھی تھے۔ مسلمانوں نے مطالبہ کیا کہ مرزائی اقلیت قرار دیئے جاچکے ہیں۔ اس لئے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں کئے جاسکتے۔ مرزائیوں نے مطالبہ کیا کہ قبرستان تقسیم کیا جائے۔ جس کے جواب میں مسلمانوں نے کہا کہ مسجد اور قبرستان ناقابل تقسیم رقبہ ہوتا ہے۔ مرزائی گاؤں میں اراضی کے مالک ہیں۔ لہٰذا اپنی اراضی میں دفن کریں۔ اگر مالک نہ ہوتے تو پھر ان کے لئے شاملات دیہہ کچھ اراضی غیر مسلم قبرستان کے لئے دے دی جاتی۔ لہٰذا وہ اپنا مردہ اپنی اراضی یا پھر مرزائیوں کے قبرستان میں دفن کریں۔ بالآخر سینکڑوں مسلمانوں کی موجودگی میں یہ فیصلہ ہوا کہ مرزائی میت کو اپنی ملکیتی اراضی میں دفن کریں۔ لہٰذا انہوں نے زاہد مرزائی کی لاش اپنی اراضی میں دفن کردی۔
مرزائیوں کی بین الاقوامی لندن کانفرنس
۲ تا ۴؍ جون ۱۹۷۸ء کو مرزائیوں کی بین الاقوامی کانفرنس لندن میں منعقد ہوئی تھی۔ مرزائی اخبارات نے اس کے بارے میں
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
لکھا: ”بین الاقوامی کانفرنس میں ۲۵؍ ممالک کے نمائندے شریک تھے۔ لندن کے مقامی لوگوں کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔ اژدحام کی وجہ سے کانفرنس ہال تنگ پڑگیا۔ پاکستانی پارلیمنٹ کے بلاجواز فیصلے کے بعد لوگوں کی حق کی طرف جستجو بڑھ گئی اور لوگ دھڑا دھڑ اسلام (مرزائیت) کی طرف متوجہ ہورہے ہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح (مرزا ناصر احمد) عزت مآب جناب ڈاکٹر عبدالسلام، جناب چوہدری ظفراللہ صاحب، جناب میاں مظفر احمد صاحب، شیخ عبدالقادر اور دیگر معزز مقررین نے وفات مسیح کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو فرمائی۔“
(روزنامہ آزاد لندن، مورخہ ۷؍ جون)
مرزائیوں کی اس عبارت سے تأثر یہ ملتا ہے کہ نہایت کامیاب جلسہ ہوا۔ لوگ کثیر تعداد میں شریک ہوئے۔ وغیرہ۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ حقیقت بالکل اس کے برعکس ہے۔ مرزائیوں کے اس جلسہ میں عروس البلاد لندن سے صرف ۶۰ آدمی شریک ہوئے تھے اور پاکستان، انڈیا اور افریقہ وغیرہ کے لوگ کل ملا کر تقریباً تین سو لوگ شریک ہوئے تھے جن کو مرزائیوں نے ”اژدحام اور کثیر تعداد“ کہا ہے: کانفرنس کا موضوع انگریز جیسے مادہ پرست قوم کے لئے یکسر بے کشش تھا۔ دوسرا اگر بالفرض موضوع کو ہم اہم سمجھیں بھی تو اس پر لیکچر دینے والے اور وہاں مقالہ جات پڑھنے والے مرزا ناصر احمد، ڈاکٹر عبدالسلام، چوہدری ظفراللہ خان، میاں مظفر احمد وغیرہ کو اس علمی موضوع سے مناسبت کیا تھی۔ ڈاکٹر عبدالسلام اگر سائنس اور ایٹم کے حوالے سے اگر کچھ لیکچر دیتے تو وہ فی الواقع اہمیت کا حامل ہوتا۔ ظفراللہ خان سیاست کے متعلق بیان کرتے تو اس کے دلچسپ ہونے میں کلام نہیں۔ میاں مظفر احمد جنہوں نے مشرقی پاکستان کا بیڑہ غرق کرنے کے بعد عالمی بینک میں ملازمت اختیار کی تھی۔ اگر عالمی بینک کی کارکردگی کے حوالے سے کچھ وضاحت کرتے تو ان کی باتیں درخور اعتناء ہوتیں کیونکہ یہ ان کے متعلقہ شعبے تھے۔ لیکن اس علمی موضوع پر گفتگو اگر یہ حضرات کریں تو کون سا سنجیدہ آدمی ان کی گفتگو سننے پر آمادہ ہوگا۔ اوّل الذکر میاں ناصر احمد تو اتنا بے ربط بولتے تھے کہ ان کی تقریر ربوہ میں کوئی سنتا نہیں تھا اور مزے کی بات یہ ہے کہ یہ تمام خطباء حضرات وفات مسیح کو انجیل کی روشنی میں ثابت کرنا چاہتے تھے۔ جس کی ایک ایک سطر مشتبہ ہے۔
جلسہ کے شرکاء کے بارے میں قادیانی اخبارات نے کافی مبالغہ کیا تھا۔ جلسہ کی سالانہ رپورٹ الفضل میں چھپی۔ اس میں لکھا تھا کہ اس جلسہ میں چین، جاپان، انگلستان، انڈونیشیا، امریکہ اور دیگر ممالک کے کثیر احمدی نمائندے شریک ہوئے۔ کثیر کی حقیقت کیا تھی وہ گزشتہ سطور میں ہم نے تحریر کیا۔ یہ سارا قادیانی پروپیگنڈا تھا تاکہ دنیا پر ثابت کر کے ۲، ۳، ۴؍ جون کو ہم نے یورپ پر فتح کے جھنڈے گاڑ دیئے۔ اس طرح کے مبالغے اور جھوٹ ان کو اپنے پیغمبر سے وراثت میں ملے تھے۔ وہ بھی ایسے ہی تھا۔ جھوٹ کو شیر مادر سمجھتا تھا۔ لکھا ہے: ”اسکندریہ میں میرے پیروکاروں کی تعداد سنگریزوں سے بھی زیادہ ہے۔“ (الاستفتاء ضمیمہ ص۳۲ حاشیہ، حقیقت الوحی، خزائن ج۲۲ ص۶۵۳) حالانکہ وہاں ایک بھی مرزائی نہیں تھا۔ جھوٹ بولنا اور بولتے چلے جانا مرزائیوں کی عادت تھی اور ہے۔
مرزائیوں کے ایک اخبار ”آزاد“ میں اس جلسے کے بارے میں بلند و بالا دعویٰ کرنے کے بعد صدر پاکستان کے نام ایک پیغام بھی تھا۔ اس میں لکھا تھا کہ احمدیوں اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے اور اسے پاکستان کے دوسرے فرقوں کی طرح مسلمان سمجھا جائے۔ مزید لکھا تھا کہ احمدی اللہ تعالیٰ، قرآن پاک اور رسول کریم ﷺ پر غیر مشروط ایمان رکھتے ہیں۔ اس لئے انہیں غیر مسلم قرار دینا سراسر زیادتی اور ناانصافی ہے۔ احمدیوں کو محض تعصب کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس لئے حکومت اس متعصبانہ فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ قیام پاکستان سے لے کر پاکستان کی سائنسی ترقی میں چوہدری سر ظفراللہ خان، ڈاکٹر عبدالسلام کی خدمات ناقابل فراموش
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
ہیں ۔ درخواست میں دوسرے مرزائیوں کی خدمات کا بھی تذکرہ تھا۔ قرارداد کے حوالے سے لکھا تھا کہ احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینا قوم کا فیصلہ نہیں بلکہ وہ غدار شیطانی ٹولے کا فیصلہ تھا۔
آزاد اخبار نے یہ سب باتیں بظاہر غیر جانبدار ہو کر لکھی تھیں اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ یہ چند ایک افراد کا کیا دھرا ہے۔ احمدیوں کو محض تعصب کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ لیکن اس تحریر سے درپردہ جو مقصد جھلکتا تھا وہ یہ تھا کہ عوام اور مارشل لاء حکومت کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کی جائیں اور عوام کو حکومت سے بدظن کیا جائے۔ قادیانی جانتے تھے کہ اس مسئلہ میں مسلمانوں کے احساسات کتنے نازک ہیں اور جب یہ بات مسلمانوں کے علم میں آئے گی کہ حکومت اس فیصلہ کو منسوخ کرنے کی کوشش کر رہی ہے تو اس سے مسلمانوں کے جذبات بھڑک اٹھیں گے اور موجودہ حکومت کے خلاف نفرت و بیزاری اور بے اعتمادی کی فضا بن جائے گی۔ لیکن صدر جنرل ضیاء الحق دور اندیش تھے۔ انہوں نے مرزائی اخبار کے اس بظاہر غیر جانبدارانہ خبر کے اندر چھپے فساد اور بد باطنی کو تاڑ لیا تھا اور ان مرزائی پروپیگنڈوں کو نظر انداز کرتے رہے۔
احمد پور شرقیہ مجلس کے دفتر کا افتتاح
حضرت بنوری کی وفات حسرت آیات کے بعد حضرت مولانا خواجہ خان محمد نے تحریک کو بعینہ انہی خطوط پر چلایا جن پر حضرت بنوری نے چلا رکھا تھا۔ مختلف علاقوں میں جماعت بندی، تنظیم سازی اور رکن سازی میں حضرت خواجہ صاحب نے بھر پور دلچسپی لی۔ اس سلسلے میں احمد پور شرقیہ میں ایک تقریب منعقد ہوئی ۔ مختصر روداد ملاحظہ فرمائیں ۔
۱۰؍ ستمبر ۱۹۷۸ء کو دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت احمد پور شرقیہ کے افتتاح کی تقریب میں امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب نے شرکت فرمائی اور دفتر کا افتتاح کیا۔ اس موقعہ پر مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنماؤں مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا سید منظور احمد شاہ حجازی ، مولانا خدا بخش شجاع آبادی کے علاوہ مولانا محمد شریف درآب پوری، مولانا غلام احمد صاحب ، مولانا محمد رمضان ، مولانا عبدالرشید ، مولانا محمد عبداللہ ، سردار فضل محمود خان سابق ایس پی پولیس ، معززین شہر، وکلاء ، طلباء عوام نے بھر پور شرکت کی۔ اس مبارک تقریب کے تمام تر انتظامات مجلس تحفظ ختم نبوت احمد پور شرقیہ کے فعال جفاکش اور محنتی کارکنوں خصوصاً شیر محمد قریشی ، محمد اکبر خان اور میاں عطاء اللہ بیگ نے کئے تھے۔ مجلس کی طرف سے امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب کو سپاسنامہ مجلس تحفظ ختم نبوت احمد پور شرقیہ کے سرپرست مولانا غلام احمد نے پیش کیا۔ جس میں سابق امراء مجلس امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری، خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی، مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری، مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر، محدث کبیر مولانا سید محمد یوسف بنوری کو ختم نبوت کے تحفظ کے سلسلہ میں کارہائے نمایاں سرانجام دینے پر خراج عقیدت پیش کیا گیا اور حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب کی قیادت پر مکمل اعتماد اور مجلس کے کام کو وسعت دینے کا عزم کیا گیا۔ سپاسنامہ کا جواب امیر مرکزیہ کی طرف سے مجلس کے مرکزی رہنما مولانا سید منظور احمد حجازی نے دیا۔ آخر میں حاضرین کو کارکنوں نے پر تکلف دعوت دی۔
سالانہ ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ
گزشتہ سالوں کی طرح اس سال (۱۹۷۸ء) بھی پاکستان ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ ۲۶ تا ۲۸؍ دسمبر کو بڑے تزک واحتشام سے منعقد ہوئی۔ انہی تاریخوں میں ربوہ میں مرزائیوں کا سالانہ جلسہ تھا۔ دریائے چناب کے اس پار وہ اور اس پار اسلامیان پاکستان کا اجتماع
تحریک ختم نبوت(۴)ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
تھا۔ قومی اتحاد کی تحریک نے اسلامیان پاکستان کے ایمان تازہ کئے ہوئے تھے۔ اسلامی نظام کے اجراء کے شوق نے لوگوں کو اسلام کا بہت زیادہ شیدائی بنایا ہوا تھا۔ پھر کچھ عرصہ سے ملک میں جلسوں کی پابندی نے بھی جلسوں اور اجتماعات کی پیاس بڑھا رکھی تھی۔ اس لئے لوگ جوق در جوق کانفرنس میں آئے۔ سرگودھا، پنڈی بھٹیاں، چک جھمرہ اور فیصل آباد سے سپیشل بسیں آتی رہیں۔ رات کے اجتماعات میں حاضری اس قدر زیادہ ہو جاتی تھی کہ پنڈال میں تل رکھنے کی گنجائش نہ رہتی۔ ملحقہ سڑکوں، اردگرد کے مکانوں کی چھتوں اور متصلہ جامع مسجد میں داخل ہوکر لوگ تقریریں سنتے رہے۔ دو درجن سے زیادہ مقررین نے تقریریں کیں۔ جن میں مولانا عبید اللہ انور، مولانا تاج محمود، مولانا مفتی تقی عثمانی، مولانا مفتی احمد الرحمٰن، مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق سکندر، مولانا احسان الٰہی ظہیر، مولانا ضیاء القاسمی، آغا مرتضیٰ پویہ، مولانا عبد القادر روپڑی، مولانا سید منظور احمد شاہ، آغا مشہود شورش کاشمیری، مولانا محمد اجمل خان، مولانا احسان اللہ فاروقی، ضیاء الرحمٰن سیفی ایڈووکیٹ، شاکر رضوی ایڈووکیٹ، ملک رب نواز ایڈووکیٹ، مولانا علی غضنفر کراروی (شیعہ رہنما)، مولانا منظور احمد چنیوٹی، مولانا خدا بخش خطیب ربوہ، مولانا اللہ وسایا معاون مدیر لولاک، مولانا اللہ وسایا ڈیروی، مولانا قاضی اللہ یار، حافظ شفیق احمد، مولانا عبدالرحیم اشعر، مولانا محمد حیات فاتح قادیان، مولانا عبد الشکور دین پوری، مولانا محمد اشرف ہمدانی، مولانا حبیب اللہ فاضل جالندھری، مولانا عبد المالک کراچی، سردار میر عالم خان لغاری، مولانا عبد اللطیف، مولانا محمد خان مبلغ سیالکوٹ، اسلم قریشی، راؤ عبد المنان، محمد شریف ماہی، مولانا مشتاق احمد، مولانا ضیاء الدین آزاد، مولانا منظور احمد کراچی، مولانا ضیاء الرحمٰن فاروقی، مولانا سعید الرحمٰن علوی، مولانا غلام حسین ڈیروی، سید غلام مصطفیٰ شاہ جھنگ، مولانا عطاء اللہ علی پوری، مولانا قاری حماد اللہ شفیق، مولانا عبد الرشید لدھیانوی، مولانا عطاء الرحمٰن سمندری، مولانا سعید احمد بہاولنگر اور مولانا عبد الرحمٰن آزاد نے خطاب کیا۔ شعراء کرام میں سید امین گیلانی، سائیں محمد حیات پسروری، غلام نبی جانباز شامل تھے۔
اس دفعہ پاکستان قومی اتحاد کی جنرل کونسل کا اجلاس تقریباً انہی تاریخوں میں منعقد ہو رہا تھا۔ مولانا مفتی محمود اپنی علالت کے باعث شرکت نہ کر سکے۔ لیکن انہوں نے مولانا عبید اللہ انور اور مولانا محمد اجمل صاحب کو اپنی نمائندگی کے لئے بھیج دیا تھا۔ نوابزادہ نصر اللہ خاں، مولانا عبد الستار نیازی جنرل کونسل کے اجلاس کے سلسلہ میں مصروف تھے۔ عوام ختم نبوت سے اپنا والہانہ تعلق کا اظہار کرتے ہوئے انتہائی سرد موسم میں شریک اجلاس رہے۔ آخری اجلاس میں مولانا ضیاء القاسمی نے کچھ اس خلوص اور سوز سے تقریر کی اور شان مصطفیٰ بیان کی کہ قاضی احسان احمد شجاع آبادی اور شاہ جی کی یاد تازہ کر دی۔ چوہدری ظہور احمد اور شیخ منظور حسین نے شہر کے دوسرے دوستوں اور فدایان ختم نبوت کے تعاون سے جلسہ کے لئے بہترین انتظامات کئے ہوئے تھے۔ دور دراز کے شہروں سے آئے ہوئے مندوبین کے قیام کے لئے ہائی سکول علمائے کرام اور مدعوین حضرات کے قیام کے لئے زنانہ مڈل سکول کی بلڈنگ لی گئی تھی۔ واپڈا کے نیک نہاد چیف انجینئر کی ہدایت پر بجلی کا جنریٹر بھیج دیا گیا تھا۔ تاکہ مبادا بجلی فیل ہو تو فوری طور پر متبادل انتظام موجود ہو۔ مقامی انتظامیہ نے ہر طرح تعاون کیا۔ پولیس کے جوان دن رات پنڈال پر انتظامی اور حفاظتی فرائض سرانجام دیتے رہے۔ جماعت کے اپنے کارکنوں اور رضا کاروں کے علاوہ خاکسار جیش مستقل ڈیوٹی پر رہا اور ہر سال کی طرح انہوں نے خدمت خلق کی مثال پیش کی۔ خاکسار رہنما زکریا بھٹی اور جناب ڈاکٹر اسماعیل اختر ہر سال اس کانفرنس کے لئے بہترین مخلصانہ جذبات کے ساتھ تعاون کرتے اور فدایان ختم نبوت کو ممنون کرتے۔ علاوہ ازیں
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبد اللہ معتصم
چنیوٹ کے علمائے کرام مولانا منظور احمد چنیوٹی، مولانا محمد حسین خطیب بادشاہی مسجد، مولانا عبدالوارث صاحب، مولانا حبیب الغفور صاحب اور مولانا دوست محمد ساقی صاحب نے بھی کانفرنس سے مخلصانہ تعاون فرمایا۔ پاکستان قومی اتحاد کے مقامی رہنماؤں اور کارکنوں نے ہر طرح ساتھ دیا۔ مجلس کے مرکزی رہنما مولانا سید منظور احمد شاہ اور مولانا خدا بخش خطیب ربوہ اور محترم قاضی اللہ یار نے اس دفعہ کانفرنس سے پہلے چنیوٹ کے نواحی دیہات کا مفصل دورہ کیا تھا اور لوگوں پر کانفرنس کی اہمیت واضح کرتے ہوئے انہیں کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی تھی۔ اس لئے اس دفعہ علاقہ کے بے شمار لوگ کانفرنس میں پہنچے ہوئے تھے۔ جب لوگوں کو بتایا گیا کہ اس سال ربوہ میں جامع مسجد ختم نبوت کی تعمیر شروع ہونے والی ہے تو لوگوں نے اس جامع مسجد کی تعمیر میں ہر طرح کے تعاون کے جذبات کا اظہار کیا۔
فیصل آباد کے مشہور سماجی رہنما اور ٹرانسپورٹر ملک محمد خان مالک اعوان بس نے اس دفعہ اپنی چار بسیں ہر روز فیصل آباد سے چنیوٹ کانفرنس تک مفت چلا دی تھیں۔ سینکڑوں لوگ فیصل آباد سے ہر روز کانفرنس میں شرکت کرتے اور رات دو بجے واپس فیصل آباد پہنچ جاتے۔ کانفرنس میں عوام نے اس دفعہ پرزور مطالبہ پیش کیا کہ یہ کانفرنس اگلے سال ربوہ کی جائے۔ لیکن ان کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے انہیں پوری صورتحال سمجھائی گئی۔
ساہیوال سٹیشن ماسٹر
ساہیوال ریلوے سٹیشن پر ایک سٹیشن ماسٹر تعینات تھا جو کہ مرزائی تھا۔ یہ مرزائی تھا تو ایک چھوٹے درجے کا سٹیشن ماسٹر لیکن اس کے نخرے ایسے تھے جیسے ریلوے کا وفاقی وزیر ہو۔ چھ سال سے ساہیوال سٹیشن میں ملازم تھا اور اس عرصہ میں لاقانونیت اور اندھیر نگری کی انتہا کر دی تھی۔ اپنے سے سینئر آفیسرز کو دن دیہاڑے دھمکیاں دیتا تھا۔ ریلوے کے مسلمان ملازمین نے اس کے سینہ زوری سے تنگ آکر اس کے خلاف انکوائری کرائی جو سراسر اس کے خلاف گئی۔ لیکن کوئی اس کو معزول نہ کرسکا، نہ تبادلہ کراسکا۔ ریلوے حکام نے ساہیوال سٹیشن کا درجہ بڑھا کر باری باری ۳ بڑے درجہ کے سٹیشن ماسٹر بھیجے۔ مگر یہ کسی کو چارج نہ دیتا تھا اور ربوہ سرکار کے تعاون سے سٹیشن ساہیوال کا درجہ گھٹا دیا۔ کیونکہ یہ خود چھوٹے درجے کا ماسٹر تھا۔ حد درجے کا متعصب تھا اور مسلمان مسافروں تک سے مذہبی بحثیں کرتا۔ سرعام سب کو سرکاری مسلمان کے القابات سے نوازتا۔ ہزاروں غیر قانونی طریقوں سے اسٹیشن کو لوٹتا رہا۔ جس کی گواہی کئی ریلوے ملازمین نے دی۔ لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ ساہیوال کے مقامی مسلمانوں نے اس کی من مانیوں سے تنگ آکر کئی مرتبہ مقامی انتظامیہ کو اس کی دسیسہ کاریوں سے خبردار کیا۔ لیکن اس مرزائی کا کوئی کچھ بگاڑ نہ سکا۔ جن ریلوے ملازمین نے اس کے خلاف کوئی درخواست دی۔ بجائے یہ کہ اس درخواست پہ عمل ہوتا اور اس مرزائی کے خلاف کارروائی ہوتی۔ ان ملازمین کا تبادلہ دور دراز کے علاقوں میں کیا گیا۔ ساہیوال کے مقامی مسلمان جب اس کی فتنہ بازیوں اور انتظامیہ کی چشم پوشیوں سے تنگ آگئے تو انہوں نے ہفت روزہ لولاک، ہفت روزہ چٹان اور دیگر اخبارات وجرائد میں مراسلے بھیجے اور ان جرائد کے توسط سے حکومت سے اس مرزائی کے خلاف کارروائی یا کم از کم اس کے تبادلے کا مطالبہ کیا۔
اصل میں ریلوے کے حکام بالا میں چھپے چند مرزائی اس کو سپورٹ کرتے۔ مارشل لاء حکومت کو ان جرائد کے ذمہ داروں نے اس واقعہ سے خبردار کیا اور لکھا کہ اگر یونہی اس مرزائی اسٹیشن ماسٹر کو نوازا جائے گا تو حالات کی سنگینی کا اور مسلمانوں کے مشتعل ہونے کا خطرہ ہے۔ ریلوے کے حکام جن میں مرزائی بھی شامل تھے، نے کچھ پس وپیش اور لیت ولعل کے بعد اس مرزائی کا تبادلہ کرایا۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
تحریک ختم نبوت
کے سلسلہ میں
۱۹۷۹ء
کے
حالات و واقعات
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب وتحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
ربوہ کے سالانہ جلسہ میں ہندوؤں کی شرکت
مرزائی تقسیم ملک کے قطعی قائل نہ تھے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ پاکستان اپنا وجود کھو دے گا اور اکھنڈ بھارت وجود میں آئے گا۔ مرزا بشیر محمود نے تقسیم کے موقع پر واشگاف الفاظ میں یہ اعلان کیا تھا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی پیش گوئیوں کی روشنی میں ملک کی تقسیم مشیت ایزدی اور منشاء خداوندی کے خلاف ہے۔ ملک کو تقسیم نہیں ہونا چاہئے۔ اگر یہ ملک تقسیم ہوا تو وہ تقسیم عارضی ہوگی اور ہم کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح یہ ملک پھر اکھنڈ بھارت بن جائے۔
۱۹۷۴ء میں جب آزاد کشمیر اسمبلی نے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد منظور کی تو ہیڈ آف دی جماعت ربوہ مرزا ناصر احمد بہت ناراض ہوئے۔ آزاد کشمیر کی اسمبلی کا مذاق اڑایا۔ اس خبر کی تشہیر پر اخبارات اور پریس پر برسے۔ محکمہ اطلاعات پاکستان کو لتاڑا اور آخر میں کہا: ”آزاد کشمیر اسمبلی میں پاس ہونے والی قرارداد کی کوئی حیثیت نہیں۔ اسے کوئی احمدی تسلیم نہ کرے۔“ مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ پاکستان میں ایسی کوئی غلطی نہیں کی جائے گی۔ یہاں دانشمند لوگوں کی کمی نہیں۔ لیکن اگر کبھی یہ غلطی (یعنی مرزائیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا فیصلہ) پاکستان میں کیا گیا تو پاکستان قائم نہ رہ سکے گا۔ اس کے بعد بڑی لاف گزاف اور ڈینگیں ماریں کہ ہر مرزائی نوجوان خالد بن ولید بن جائے گا۔ یہ ہو جائے گا، وہ ہو جائے گا۔
مرزائی چونکہ پاکستان کے وجود کے عقیدتاً قائل نہ تھے۔ یہی وجہ تھی کہ مرزا محمود (قادیانی) نے مرتے وقت وصیت کی تھی کہ موزوں وقت آنے پر اس کے جسد جہنمی کو قادیان منتقل کر دیا جائے۔ مرزا محمود کی قبر پر اس کی یہ وصیت آج بھی کتبے کی صورت میں دیکھی جاسکتی ہے۔ مرزائیوں کی اس عقیدے اور مخصوص ذہنیت کی وجہ سے وہ کبھی پاکستان کے وفادار نہیں رہے۔ ان کی ساری وفاداریاں اور محبتیں ہندوؤں کے لئے ہیں۔ اس تناظر میں لاہور کے ایک موقر جریدے ”ہفت روزہ زندگی“ نے مرزائیوں کی سہ روزہ کانفرنس کے سلسلہ میں ایک رپورٹ شائع کی۔ ملاحظہ ہو۔
”ایک اطلاع کے مطابق مرزا طاہر احمد نے جو ربوہ میں شعبہ مالیات کے سربراہ ہیں، کثیر رقم خرچ کر کے سندھ سے ہندوؤں کو بھی اس کانفرنس میں مدعو کیا۔ کنری تحصیل تھرپارکر میں ایک اہم جگہ ہے جو بھارت کی سرحد کے ساتھ واقع ہے۔ اس جگہ پر مرزائیوں نے قیام پاکستان کے وقت ۳۵ ہزار ایکڑ زمین اپنے نام محفوظ کرا لی تھی۔ اس علاقے میں ہندوؤں کی اکثریت ہے اور بھارت سے ناجائز طور پر آنے جانے والے ہندو اسی مرزائی علاقے سے گزرتے ہیں۔ اس اعتبار سے مرزائیوں کی ہندوؤں سے ملی بھگت قابل غور ہے اور اہم بات یہ ہے کہ ہندوستان سے مرزائیوں کے نام خفیہ ڈاک آتی ہے وہ اسی علاقے میں اسمگل ہوتی ہے۔“
(ہفتہ وار زندگی لاہور، مورخہ ۱۲/جنوری ۱۹۷۹ء)
۱۹۷۸ء کے حالات و واقعات میں یہ بات گزر چکی ہے کہ کنری سے یومیہ مرزائیوں کی ایک پراسرار جیپ بھارت چلی جاتی اور پھر واپس آ جاتی تھی۔ کنری ہی کے مقیم مسلمانوں نے یہ شکایت بھی کی تھی کہ بھارت سے ناجائز طور پر ہندو در آمد کئے جاتے ہیں۔ بے شمار ہندو جو تقسیم ملک کے وقت بھارت چلے گئے تھے مرزائیوں کی کوششوں سے وہ واپس آ گئے تھے۔ بلکہ مرزائیوں نے باقاعدہ اپنے ان سنگی بھائیوں کو ان کی املاک بھی دلوائی تھیں اور اس طرح وہ ہندو غیر قانونی طور پر عالی شان مکانات اور املاک کے مالک بن گئے۔
حدیث مبارک ہے: ”الكفر ملة واحدة“ کہ (دنیا کے) تمام کافر (آپس کی محبت ومودت اور مسلمانوں کے خلاف دشمنی)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء
ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
میں ایک ملت کی طرح ہیں۔ اس حدیث کے تناظر میں مرزائیوں نے جو بھی ملک واسلام خلاف کارروائی کی تھی یا کر رہے تھے یا ہندوؤں سے غیر آئینی اور غیر قانونی تعاون کر رہے تھے وہ اس لئے کہ ہندو ان کے اپنی ہی برادری ہے۔ یہی وجہ تھی کہ مرزائیوں اور ہندوؤں نے مل کر کنری میں مسلمانوں کا جینا اجیرن کر دیا تھا۔ مختلف ہتھکنڈوں سے ان کو ڈراتے دھمکاتے بھی تھے۔ مرزائیوں نے ربوہ کانفرنس میں جو غیر قانونی طور پر ہندوؤں کو مدعو کیا تھا اس کی ایک وجہ تو یہی تھی کہ ان کے درمیان محبت ومودت کا رشتہ قائم تھا۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ مرزا ناصر احمد نے پاکستان میں مرزائیوں کی تعداد کے بارے میں خوب بڑھکیں ماری تھیں کہ ہماری تعداد ایک کروڑ ہے۔ دوسری مرتبہ کہا کہ احمدیوں کی تعداد پاکستان میں پانچ لاکھ ہے اور ان کی اپنی کانفرنس میں عورتوں، بچوں سمیت ان کی حاضری ۲۰ ہزار سے کسی بھی طور پر زیادہ نہیں ہوتی تھی۔ مرزا ناصر احمد اپنے اس جھوٹ کو چھپانے کے لئے جو الٹے سیدھے ہتھکنڈے استعمال کرتے تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھا۔
آر۔ایم۔او ربوہ کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا
”ستمبر ۱۹۷۴ء سے پہلے جب ربوہ (چناب نگر) میں مرزائیوں کا راج تھا۔ مرزا ناصر احمد اور ان کے آنجہانی والد مرزا محمود کو ہیڈ آف دی اسٹیٹ کا درجہ حاصل تھا۔ ربوہ کے ناظر امور عامہ ایک خود مختار ریاست کے سیکرٹری جنرل کی طرح رہتے تھے۔ کوئی نام نہاد وزیر تعلیم ، کوئی وزیر تجارت ، کوئی وزیر امور خارجہ، کوئی وزیر صنعت وغیرہ وغیرہ۔ گویا بقول حمید نظامی مرحوم ایڈیٹر نوائے وقت: ”انہوں نے ریاست اندر ریاست بنا رکھی تھی ۔“ فرق صرف یہ تھا کہ مرزائی وزارت کا نہیں بلکہ نظارت کا لفظ استعمال کرتے تھے اور وزیر نہیں بلکہ ناظر کا لفظ بولتے تھے۔ اپنی جماعت کے ہیڈ کو خلیفہ کہتے تھے۔ حالانکہ خلیفہ کا لفظ اسلامی ریاست کے سربراہ کے لئے مخصوص ہے۔ حد یہ ہے کہ جماعت احمدیہ کا مخصوص جھنڈا الگ بنا رکھا تھا جو ہیڈ آف دی جماعت ربوہ کے مکان پر ہر وقت لہراتا تھا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان نے دوسری سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے تعاون سے اس خود ساختہ ریاست کا طلسم پاش پاش کر دیا۔ مرزائی غیر مسلم قرار دے دیئے گئے ۔ ریاست اندر ریاست کا حال جسٹس صمدانی صاحب نے اپنی آنکھوں سے دیکھ کر تحریر بھی کیا تھا۔
۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کو مرزائی نہ صرف یہ کہ غیر مسلم اقلیت قرار دیئے گئے بلکہ ربوہ میں ایک ریذیڈنٹ مجسٹریٹ کا تقرر بھی منظور ہوا۔ پہلے بھی اگر چہ پولیس کی ایک پوسٹ موجود تھی۔ لیکن انہیں تھانہ کی حدود سے باہر نکلنے اور ربوہ میں کوئی کارروائی کی اجازت ہرگز نہ تھی۔ پولیس کے پاس کوئی مقدمات درج نہ ہو سکتے تھے۔ ربوہ میں ہونے والے تمام واقعات کے فیصلے مرزائیوں کے محتسب اور ناظر امور عامہ کرتے تھے۔ اب جب کہ ریذیڈنٹ مجسٹریٹ کا تقرر ہوا تھا اور پولیس آفیسر مرزائیوں کے نہیں بلکہ ریذیڈنٹ مجسٹریٹ اور حکام بالا کی ہدایات کے پابند تھے اور قانون کی بالا دستی کے لئے کام کرتے تھے۔ اب مرزائیوں کو وہ پہلا زمانہ یاد آنے لگا اور اب جب کہ ربوہ میں ان کی من مانی اور مطلق العنائیت نہ چلتی تھی بلکہ حکومت پاکستان کے قانون کی بالا دستی کا دور دورہ تھا تو مرزائی اس پر کڑھتے تھے اور غم وغصہ کی حالت میں واہی تباہی جو منہ میں آتا بکتے جارہے تھے۔
مرزائیوں کی شدید خواہش تھی کہ ربوہ میں سرکاری عملہ یا تو سارا کا سارا مرزائی ہو یا مرزائیوں کا وظیفہ خوار ہوں۔ اس واسطے ربوہ میں اگر کوئی مسلمان ملازم آتا تو مرزائی اس پر الزامات ، جھوٹ اور بہتان کی سنگ باری شروع کر دیتے، تاکہ وہ وہاں سے بوریا بستر سمیٹ کر چلا جائے۔ دسمبر ۱۹۷۸ء کے اواخر میں مرزائیوں کا سالانہ جلسہ تھا۔ سیکورٹی کی ذمہ داری ربوہ کے ریذیڈنٹ مجسٹریٹ چوہدری نذیر احمد
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
صاحب کی تھی جو کہ ایک سچے اور کھرے مسلمان تھے۔ اس کی چند ”حرکتوں“ سے مرزائیوں کو بڑی تکلیف ہوئی اور انہوں نے اپنے جریدے ”ہفت روزہ لاہور“ میں ۱۴ اور ۲۸؍ جنوری کو ان کے خلاف مضامین لکھے۔ ذیل میں ریذیڈنٹ مجسٹریٹ کے خلاف مرزائیوں کی پراگندہ اور ژولیدہ عبارتوں سے زہر چکانی اور ہرزہ سرائی ذکر کی جاتی ہے۔ نمبروار مرزائیوں کے الزامات ذکر ہوں گے اور پھر ان پر مختصر تبصرہ ہوگا۔
- ۱...... ۲۶؍ دسمبر ۱۹۷۸ء سے شروع ہونے والے مرزائی جماعت کے سالانہ جلسہ کے متعلق آر۔ ایم صاحب نے سفارش کی تھی کہ
۲۶؍ دسمبر کی تاریخ کو جلسہ آگے پیچھے کردیا جائے۔ گویا التواء کی سفارش کی تھی۔
- ۲...... آر۔ ایم صاحب نے سالانہ جلسہ کے پنڈال کے عین سامنے انتظامیہ کے لئے خیمہ نصب کرایا اور اس پر پاکستان کا جھنڈا نصب
کرادیا۔ حالانکہ دستور یہ ہے کہ احمدیت کا جھنڈا نصب ہوتا ہے۔
- ۳...... ربوہ کی سڑکوں پر مرزائی ہجوم کے درمیان سے آر۔ ایم صاحب جیپ پر سوار ہو کر گزرتے تھے۔
- ۴...... مرزائیوں نے اپنی دیواروں پر مذہبی کچھ نعرے اور عبارتیں لکھ رکھی تھیں۔ جو بالکل موافق آئین تھیں۔ ان پر آر۔ ایم صاحب
نے مرزائیوں کو مشتعل کرنے اور قانون کو ہاتھ میں لینے پر آمادہ کرنے کے لئے کوچی پھروادی۔
لولاک کے مدیر معاون مولانا اللہ وسایا صاحب جمعہ کا خطبہ مسجد محمدیہ ربوہ (ریلوے اسٹیشن ربوہ کی مسجد) میں دیتے تھے۔ انہوں نے ربوہ میں ان الزامات کی تحقیقات وہاں کے غیر جانبدار لوگوں اور عام نمازیوں اور ربوہ میں رہنے والوں سے کی۔ تاکہ حق اور درست بات کا پتہ چل سکے۔ مولانا اللہ وسایا صاحب کے علاوہ خدا کے فضل و کرم سے خود مرزائی جماعت کے بعض معتدل اور انصاف پسند لوگ بھی ایسے کاموں میں مجلس کے ساتھ تعاون کرتے تھے۔ انہوں نے بھی ان واقعات کے متعلق جو کچھ بتایا اس کا حاصل ہم ذیل کے سطور میں ذکر کرتے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں اور مرزائیوں کی مسلمان آفیسر کے خلاف بے جا غم و غصے کا اندازہ لگائیں:
- ۱...... ۲۶؍ دسمبر ۱۹۷۸ء کو شیعہ حضرات نے ربوہ (چناب نگر) میں حضرت امام حسینؓ کی یاد میں ایک ماتمی جلوس نکالنے کا اعلان کیا
ہوا تھا۔ ۲۶؍ تاریخ ہی سے مرزائیوں نے اپنے سالانہ جلسے کے آغاز کا بھی اعلان کردیا۔ ایک فرض شناس اور غیر جانبدار سرکاری افسر اور منتظم کی حیثیت سے آر۔ ایم صاحب کو یہ تشویش ہوئی کہ دو متضاد جماعتوں اور خیالات کے لوگوں کی ایک ہی دن میں اور ایک ہی آبادی میں دو تقریبات کسی فرقہ وارانہ فساد کا باعث بن سکتی ہیں۔ شیعہ صاحبان کا مذہبی ماتمی جلوس تھا۔ اس کے آگے پیچھے ہونے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا۔ لامحالہ مرزائیوں کے جلسہ کے متعلق یہ سفارش کر دی گئی کہ یہ اس موقعہ پر جلسہ ملتوی کرلیں اور اس کی نظیریں بھی موجود تھیں۔ اس سے قبل محرم کی وجہ سے مرزائیوں کے جلسہ کی تاریخیں انتظامیہ کے کہنے پر مرزائیوں نے آگے پیچھے کی تھیں۔ محض ۲۶؍ دسمبر کو انتظامی ضرورتوں اور وجوہات کی بناء پر ایک فرض شناس افسر کا حفظ ما تقدم کے طور پر جلسہ ملتوی کرنے کی سفارش کرنا اور رائے دینا مرزائیوں کے نزدیک آر۔ ایم صاحب کی نا قابل معافی خطا بن گئی۔ آر۔ ایم صاحب مرزائی دشمن بن گیا۔ اس کا یہ فعل سازش نما جرم بن گیا اور احمدیت کے قتل کے مترادف ہوگیا۔
- ۲...... ربوہ کی حدود میں جہاں مرزائیوں کے پنڈال وغیرہ بنے ہوئے تھے۔ وہاں انتظامیہ کا خیمہ کیوں نصب کیا گیا اور اس پر پاکستان
کا جھنڈا کیوں لہرا دیا گیا۔ یہ بھی آر۔ ایم صاحب کا ایک قصور اور جرم بتایا گیا ہے۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبد اللہ معتصم
ربوہ پاکستان کی حدود میں ہے۔ وہاں پندرہ بیس ہزار آدمیوں کا اجتماع ہورہا تھا۔ جس میں ہزاروں مسلمان جنہیں مرزائی بہلا پھسلا کر جلسہ دکھانے کے لئے ربوہ لے آتے تھے۔ وہ بھی موجود ہوتے تھے۔ اس اجتماع میں لڑائی دنگہ ، فرقہ وارانہ فساد، چوری ، ڈکیتی ، جیب تراشی ، عورتوں کو چھیڑنے ، بچے اغوا کرنا۔ غرضیکہ ہر جرم ہو سکتا تھا۔ انتظامیہ کی ذمہ داری تھی کہ وہ ٹریفک ، نگرانی اور امن وامان کو بحال رکھنے کے لئے وہاں موجود ہو اور اس کے کارکن ڈیوٹیوں پر رہیں۔ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق انتظامیہ کی موجودگی پر اعتراض کرنے والے مرزائی صاحبان کو ہوش میں آکر انتظامیہ کا ممنون ہونا چاہئے تھا کہ وہ وہاں موجود رہے۔ ان کی دیکھ بھال کرتے رہے۔ ان کا کوئی جانی ، مالی یا عزت آبرو کا کوئی نقصان نہیں ہونے دیا۔ دوسری بات یہ ہے کہ ضلع کا سربراہ جہاں موجود ہو اس کے نشان اور اعزاز کے طور پر پاکستان کا جھنڈا وہاں لہرایا جاتا ہے جب وہاں ضلعی انتظامیہ کے سربراہ موجود تھے اور برابر آتے جاتے رہے تو سرکاری کیمپ پر جھنڈا کیوں نہ لہرایا جاتا۔ تاکہ ہر ناواقف کو بھی معلوم ہو جائے کہ ضرورت کے وقت یہ سرکاری کیمپ ہے اور میں یہاں پہنچ کر فریاد کر سکتا ہوں۔ مرزائیوں کو کیا حق پہنچتا تھا کہ سرکاری خیمے اور پاکستان کے لہراتے ہوئے جھنڈے کو دیکھ کر اعتراض کریں۔ اس کا یہ مطلب کیوں نہ سمجھ لیا جائے کہ مرزائی ربوہ کو اپنی ریاست سمجھتے تھے اور وہاں صرف مرزائیت کا جھنڈا لہرا کر اندرون ملک اور بیرون ملک سے آنے والے مرزائیوں کو یہ تاثر دینا چاہتے تھے کہ ربوہ میں ہم خود مختار ہیں اور یہاں کسی کی کوئی مداخلت نہیں ہے۔ بلکہ اس شہر میں اپنا راج ہے اور اس خیمہ کی وجہ سے اور اس پاکستان کے لہراتے ہوئے جھنڈے کی وجہ سے ان کا یہ مزا کرکرا ہوا۔ اس لئے سیخ پا ہوئے کہ سرکاری خیمہ کیوں لگایا گیا اور پاکستان کا جھنڈا کیوں کر ربوہ کی حدود میں لہرایا گیا۔ ان کو سمجھنا چاہئے تھا کہ وہ دن گئے جب خلیل خاں فاختہ اڑایا کرتے تھے۔ جب اس بستی میں ان کی اجارہ داری اور خود مختاری تھی۔ وہ زمانہ بہت پیچھے رہ گیا۔ اب ۱۹۵۲ء نہیں بلکہ ۱۹۷۹ء ہے۔
- ۳...... تیسرا اعتراض یہ تھا کہ آر . ایم صاحب جلسہ کے دوران پرہجوم سڑکوں پر جیپ پر سوار ہو کر کیوں گزرتے تھے۔ حالانکہ آر. ایم. او
صاحب ایک سرکاری افسر تھے۔ انہیں اپنی سرکاری ڈیوٹی سرانجام دینے کے لئے آنا جانا پڑتا تھا اور وہ خدا کے فضل و کرم سے آقائے دو جہاں محمد مصطفےٰ ﷺ کے امتی تھے۔ نہ تو وہ مرزائی تھے اور نہ ہی ربوہ کو سر زمین مقدس سمجھتے تھے کہ وہاں وہ ننگے پاؤں بھاگتے پھریں۔ نہ جیپ پر سوار ہوں اور نہ پاؤں میں جوتا پہنیں ۔ مرزائیوں کے اندرونی غضب اور غصے کا یہ حال تھا کہ انہیں سرکاری حکام کے اپنے فرائض منصبی کے ادا کرنے پر اور ان کے جیپ پر سوار ہو کر آنے جانے پر بھی اعتراض ہو رہا تھا۔ اب اس کا کیا علاج ہو سکتا تھا۔ اصل میں انہیں آر. ایم صاحب پر اعتراض نہیں۔ انہیں پاکستان کی حکومت کی ربوہ میں مداخلت اور موجودگی پر قہر اور غضب آ رہا تھا۔
- ۴...... چوتھا اعتراض یہ ہے کہ آر. ایم صاحب نے ربوہ کے مکانوں پر لکھے ہوئے بورڈوں وغیرہ پر کوچی پھروادی تھی۔ یہ
اعتراض اور الزام نہیں بلکہ یہ بہتان ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مرزائی چونکہ چوہدری نذیر احمد جیسے نیک نہاد اور شریف النفس افسر کی ربوہ میں موجودگی پر خوش نہیں تھے۔ اس لئے ان پر یہ بہتان عائد کیا گیا تاکہ ان کے افسران بالا کو ان کے خلاف برافروختہ کیا جائے۔ ربوہ والوں نے کارنامہ خود سرانجام دیا اور اس کا الزام تھوپ کر سرکاری افسروں کو بدنام کرنے کی سازش کی۔ اور سازش کرنے کے مرزائی بطور خاص ماہر ہیں۔
لیکن حکام بالا جانتے تھے کہ اگر آر. ایم صاحب راشی فحاشی کے دلدادہ اور سرکاری ڈیوٹی اور فرائض سے جی چرانے والے ہوتے تو ربوہ کے مرزائی ان سے بہت خوش ہوتے ۔ ہفتہ وار لاہور میں ان کے متعلق قصائد چھپتے لیکن وہ مرزائیوں کے ڈھب پر ڈھل
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
نہیں سکے۔ بلکہ صحیح طور پر اپنی ڈیوٹی سرانجام دے کر محتاط وقت گزار رہے تھے۔ اس لئے انہیں ہراساں کرنے اور بلیک میل کرنے کے لئے یہ ساری حرفت استعمال ہورہی تھی۔ اب ہمارے ذرائع کی رپورٹ کے مطابق اس پس منظر کو بھی ہم واضح کر دیتے ہیں جو مرزائیوں کی آر۔ ایم دشمنی کا باعث ہے۔ مرزائی جماعت کے دو با اختیار اشخاص اور نمائندگان مولوی صدیق اور ربوہ کا خود ساختہ ڈی سی ظہور احمد باجوہ کا مطالبہ تھا۔
- الف....... کہ ربوہ ریلوے اسٹیشن پر مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مسجد محمدیہ جہاں پانچ وقت مسلمانوں کے لئے اذان باجماعت نماز،
جمعہ، بچوں کو قرآن مجید کی تعلیم دینے کی درسگاہ بنی ہوئی وہ مرزائی جماعت کے حوالے کر دی جائے اور اس سے مجلس تحفظ ختم نبوت کے علماء، قاری صاحبان اور نمائندگان کو نکال دیا جائے۔
- ب....... انہی مرزائی نمائندگان کا دوسرا مطالبہ یہ تھا کہ ربوہ کے سالانہ جلسہ کے موقعہ پر ربوہ میونسپل کے اندر تمام انتظام اور انصرام مرزائی
جماعت کے حوالے کر دیا جائے۔ خود مرزائی جماعت ٹریفک کنٹرول کرے۔ شہر کا امن وامان ، جلسہ کا انتظام وغیرہ سب کچھ جماعت کرے۔ کوئی سرکاری افسر پولیس وغیرہ ربوہ کی حدود میں داخل نہ ہو۔ مرزائی پہلے آزاد قادیان کے جنون میں تھے۔ اب آزاد ربوہ کا خناس ان کے دماغ میں گھسا ہوا ہے۔ ناممکن العمل ربوہ میں مسلمانوں کا داخلہ گزشتہ بتیس سال کی جدوجہد اور قربانیوں کے بعد ہوا تھا۔ مرزائیوں کو اب یہ یقین آجانا چاہئے تھا کہ ربوہ ان کے ابا کی جاگیر نہیں رہا۔ اس میں ابھی مزید مسلمان آباد ہوں گے اور ربوہ پاکستان کا ایک شہر ہے اس میں مرزائیوں کو پاکستان کے شریف شہریوں کی طرح قانون کا احترام کرتے ہوئے گزر بسر کرنا ہوگی۔
- ج....... تیسری وجہ مرزائیوں کی آر۔ ایم صاحب سے ناراضگی کی یہ تھی کہ تعلیم الاسلام کالج ربوہ پہلے مرزائیوں کا نجی کالج تھا۔ لیکن ۱۹۷۲ء
سے سرکاری تحویل میں لے لیا گیا۔ تعلیم الاسلام کالج پر حکومت کا قبضہ ہو گیا۔ پرنسپل مرزائی تھا۔ اس نے جماعت احمدیہ سے ملی بھگت کر کے پرنسپل کی رہائش گاہ جو کالج ہی کا ایک حصہ تھا۔ اس پر مرزائیوں کا قبضہ کرا دیا۔ محکمہ تعلیم ، انتظامیہ ، طلبہ واساتذہ کوشش کرتے رہے کہ یہ رہائش گاہ مرزائیوں کے قبضہ سے نکل کر نئے پرنسپل کے لئے مل جائے۔ لیکن کامیابی نہ ہوسکی۔ سٹوڈنٹس یونین اور طلبہ نے رہائش گاہ کا زبردستی قبضہ حاصل کر لیا اور حق بحقدار رسید کے مصداق پرنسپل کے قبضہ میں آگئی ہے۔ مرزائی جماعت کو غصہ آر۔ ایم صاحب پر آ رہا تھا اور وہ اس کوٹھی کے قبضہ سے نکل جانے کا ذمہ دار بھی ، آر۔ ایم صاحب کو گردان رہی تھی۔
- د....... ہفتہ وار لولاک نے حکومت سے مطالبہ کیا اور اس مطالبہ کو مجلس تحفظ ختم نبوت نے ملک بھر میں عام کر دیا کہ ربوہ ریلوے اسٹیشن کا
نام ڈھگیاں رکھا جائے۔ جو اس موضع کا کاغذات مال میں اصل نام ہے۔ ربوہ قرآن مجید کی ایک مقدس اصطلاح ہے اور اسے استعمال کرنے کی مرزائیوں کو اجازت نہ ہونا چاہئے۔
علاوہ ازیں ربوہ کو چنیوٹ کے ساتھ ملا کر ایک انتظامی یونٹ بنایا جائے اور اس کا نام چنیوٹ رکھ دیا جائے۔ دونوں آبادیوں کو دریائے چناب کا پل ملا رہا ہے۔ یہ مطالبہ جوں جوں عام ہورہا تھا توں توں مرزائیوں کو آر۔ ایم صاحب پر غصہ اور قہر آ رہا تھا۔ شاید وہ یہ شبہ کرنے لگے ہیں کہ اس چیز کے محرک آر۔ ایم صاحب ہیں۔ ایک دنیا جانتی ہے کہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بھر کے مسلمانوں کی اس مسئلہ میں نمائندہ جماعت ہے اور وہ مرزائیوں کا تعاقب واحتساب کرتی رہتی ہے۔ آر۔ ایم چوہدری نذیر احمد صاحب کو ربوہ میں آئے سال ڈیڑھ سال کا عرصہ گزرا تھا۔ جب کہ مجلس تحفظ ختم نبوت مرزائیوں کے احتساب اور محاسبے کا کام سالہا سال سے سرانجام دے رہی تھی۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
اصل میں مرزائیوں کا مطلب یہ تھا کہ ربوہ کے مستقبل کے متعلق مجلس تحفظ ختم نبوت جس انداز سے سوچتی ہے اور وہاں کے متعلق مستقبل کے لئے ایک کھلے اور عام آبادی کا شہر ہونے کی حیثیت سے جو مطالبات کر رہی ہے ان سے حکومت پاکستان کی توجہ ہٹانے کے لئے مرزائیوں نے الزام تراشی اور بہتان سازی کی ایک مہم آر۔ایم کے خلاف شروع کر رکھی تھی۔ تاکہ مقصد سے ذہن و نظر کو ہٹایا جائے۔
ہفت روزہ لاہور کے ایڈیٹر نے یہ بھی لکھا تھا کہ آر۔ایم۔او چوہدری نذیر احمد لولاک کے ایڈیٹر مولانا تاج محمود فیصل آبادی سے ہر کام میں مشورہ کرتا ہے اور ان کو یہ تخریبی مشورے مولانا تاج محمود دیتے ہیں۔ لعنۃ اللہ علیٰ الکذبین ! کہ آر۔ایم ربوہ ہر معاملہ میں ہم (مولانا تاج محمود) سے مشورہ کرتے ہیں، یہ غلط ہے۔ وہ سرکاری امور اپنے سربراہوں کی ہدایات اور موجودہ حکومت کی پالیسی کے مطابق قانون کی بالاتری قائم کرنے کے لئے سرانجام دیتے ہیں۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کا دفتر مدرسہ اور مسجد اب بحمد اللہ ربوہ میں موجود ہے۔ وہاں کے شہری کی حیثیت سے جن معاملات میں ہمیں حکومت کے نمائندہ اور انتظامی سربراہوں سے ملنا ہوتا ہے۔ ہم بلاشبہ ملتے ہیں۔ ہماری جو استدعا ان کے نزدیک قانون کے ترازو پر پوری اترتی ہے اس میں وہ ہم سے تعاون کرتے ہیں اور جو بات ان کے سرکاری فرائض کے مطابق نامناسب سمجھی جاتی ہے اس میں وہ ہم سے اتفاق نہیں کرتے۔ آر۔ایم صاحب کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ مرزائی نہیں ہیں اور نہ ہی سرکاری افسر ہوتے ہوئے مرزائی جماعت کا ماہانہ قبول کرتے ہیں۔ جس کے عطاء کرنے کے مرزائی عادی تھے اور نہ ہی وہ کسی غلط بات میں ان کے آلہ کار بنتے ہیں۔‘‘
(لولاک مؤرخہ ۲۴ فروری ۱۹۷۹ء)
مرزائیوں کا ایک گھمبیر اور خوفناک منصوبہ
۱۹۷۹ء اور اس سے پہلے دو تین سالوں میں وطن عزیز بڑی تیزی سے سیاسی انتشار کی طرف بڑھ رہا تھا۔ مفادات کی جنگ شدت پکڑ گئی تھی اور جماعتوں میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل بے رحمی سے جاری تھا۔ لوگ حیران تھے کہ تحریک نفاذ نظام مصطفیٰ ﷺ میں پیش کی جانے والی قربانیاں اتنی جلد کیوں ضائع ہوگئیں اور منزل دھندلکے میں کیوں غائب ہوتی چلی گئی۔ ہفت روزہ لولاک میں جنوری ۱۹۷۹ء میں مرزائیوں کی ایک بھیانک سازش کا انکشاف کیا گیا تھا۔ دراصل ہفت روزہ لولاک کا اسلام آباد میں ایک نمائندہ تھا۔ اس کو ایک دستاویز ملی۔ جس میں ملک و ملت کے خلاف قادیانی سازشیں ذکر تھیں۔ دستاویز کسی تبصرے کی محتاج نہیں۔ یہ چیخ چیخ کر قومی سیاست میں نقب لگانے والے خفیہ ہاتھوں کو بے نقاب کرتی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں یہ دستاویز نمائندہ لولاک کو کیسے ملی اور اس میں کیا ذکر ہے؟
’’اس سازش کی ایک کڑی مجھے دو صفحات پر مشتمل ایک خط کی صورت میں ہاتھ لگی۔ اس کا اندازہ نہیں ہوسکا کہ یہ خط کتنے صفحات پر مشتمل ہوگا اور کس نے کہاں سے کس کو لکھا ہوگا؟ البتہ ان دو صفحات کے اوپر نمبر ۳ اور نمبر ۴ لکھا ہوا ہے۔ خط کے مندرجات سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام آباد یا راولپنڈی کے کسی شخص کو بھیجا گیا ہے۔ یہاں یہ بتانا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ اس خط تک میری رسائی کیونکر ہوئی؟
۳۰ دسمبر ۱۹۷۸ء کو میں اپنی موٹر سائیکل پر اسلام آباد جا رہا تھا۔ مری روڈ کے آخری موڑ پر جہاں سڑک اسلام آباد زیرو پوائنٹ کی طرف مڑتی ہے۔ سرخ اشارہ روشن تھا۔ ٹریفک رک گئی اور میں نے بھی موٹر سائیکل کھڑی کر لی۔ ایک موٹر سائیکل سوار مجھ سے آگے نکل کر ویگن نمبر RIF-1573 کے بائیں طرف کھڑا ہوگیا۔ چیک کا کوٹ اور پٹھانوں جیسی گول ٹوپی پہنے ہوئے یہ سوار موٹر سائیکل پر بہت جسیم
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
معلوم ہو رہا تھا۔ چھوٹی چھوٹی داڑھی یا طویل ”قلمیں“ بھی پیچھے سے ہو کر دکھائی دے رہی تھیں۔ مگر صرف کان کے قریب کا حصہ۔ میں نے اس کی ہنڈا 125 موٹر سائیکل کے نمبر کی طرف بھی دیکھا۔ تو وہاں Applied For لکھا ہوا تھا۔ کیرئر پر دو نیلے رنگ کی فائلیں اور ایک موٹی سی ڈائری بھی رکھی ہوئی تھی۔ میں اتنا ہی دیکھ پایا تھا کہ بند اشارے نے ٹریفک کو متحرک کر دیا۔ اس کے بعد میں نے موٹر سائیکل سوار سے توجہ ہٹالی۔ مری روڈ اور زیرو پوائنٹ کے درمیان نصف فاصلہ طے کرنے کے بعد دائیں ہاتھ اوپر کی جانب سے بھی ایک سڑک یہاں ملتی ہے۔ بالکل اسی جگہ اسی موٹر سائیکل سے فائلیں اور کاغذات گر گئے۔ تیز رفتاری کے باعث میں نے بھی موٹر سائیکل کافی آگے جا کر روکی۔ اتنے میں بے پناہ دھواں چھوڑتی ہوئی ایک اومنی بس وہاں سے گزری جو بکھرے ہوئے کاغذات مزید بکھیر گئی۔ موٹر سائیکل سوار نے بڑی تیزی سے الٹے سیدھے کاغذات سمیٹے اور پھر تیز رفتاری کا مظاہرہ کرنے لگا۔ میرے وہاں پہنچنے کے دوران میں ایک ویگن گزری تو مجھے ایک کاغذ دائیں جانب اڑتا ہوا نظر آیا۔ میں نے موٹر سائیکل روک کر کاغذ اٹھایا، تو قریب ہی مجھے ایک اور ویسا ہی کاغذ اڑتا ہوا نظر آیا۔
میں نے مزید تلاش کی، مگر اور کچھ نہ ملا۔ یہ دونوں کاغذ میں نے جیب میں ڈالے اور پھر اس جذبے سے تیز رفتاری کا مظاہرہ کرنے لگا کہ شاید مطلوبہ آدمی کو کاغذات دینے میں کامیاب ہو جاؤں۔ لیکن زیرو پوائنٹ سے آب پارہ تک مجھے اس کی جھلک بھی نہیں دکھائی دی۔ فطری تجسس سے مجبور ہو کر جب یہ کاغذات نکال کر پڑھے، تو رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ لکھا تھا:
”آپ کو یہ غلط فہمی کیونکر ہوئی کہ ہم اپنا کام پوری توجہ سے نہیں کر رہے۔ گزشتہ دنوں جب آپ کا پیغام ملا۔ تو میں اصل جگہ پر موجود نہیں تھا۔ اس لئے سندھ تک آپ کے پیغام کے دیر سے موصول ہونے کے باعث میں جلد جواب نہیں دے سکا تھا۔ البتہ سمیع صاحب کو ہم سب نے تاکید کر دی تھی کہ وہ آپ سے ملاقات کر کے تفصیلات گوش گزار کر دیں۔ نہ جانے آپ تک پہنچنے میں بروقت کامیاب کیوں نہ ہوئے۔
ہمارے کسی آدمی نے برائے راست پیر صاحب سے ملاقات نہیں کی۔ بلکہ بھٹو صاحب کے خاص آدمی کے ذریعے ہم نے انہیں باور کرا دیا ہے کہ آپ اتحاد سے الگ ہو کر کارہائے نمایاں انجام دے سکتے ہیں اور آپ کی شخصیت سارے سندھ کے لئے دیوتا کی سی حیثیت اختیار کر جائے گی۔ پیر صاحب کے قریبی ساتھیوں نے ہمیں یقین دلایا ہے کہ وہ مصالحتی کوششوں کو کسی بھی صورت میں کامیاب نہ ہونے دیں گے۔ لیگ کے موجودہ انتشار سے ہمیں بے حد و حساب فائدہ ہے۔ بلکہ ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ قدرت نے ہمارے دین کو سر بلند کرنے کا بہترین موقع پیدا کیا ہے۔ یہ انتشار لیگی سیاستدانوں کو ذلیل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا اور اسی طرح نام نہاد قومی اتحاد کا ہوائی قلعہ بھی زمین پر آ رہے گا۔ فوج ویسے بھی اپنے مقاصد میں ناکام ہوتی جا رہی ہے۔ چونکہ ہمارے دوست بڑی صفائی سے اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ پان والے مولوی صاحب بہت ہی نیک، بلکہ سراپا حلوہ ثابت ہوئے کہ اتحاد کے منہ پر لات مار کر نکل آئے۔ چونکہ ہم نے انہیں کسی نہ کسی طرح یہ یقین دلا دیا تھا کہ تمہاری موجودگی میں مفتی صاحب کسی طرح بھی صدارت کے مستحق نہیں اور یہ کہ آپ اتحاد سے الگ رہ کر طاقتور ترین بن جائیں گے۔ اب یہ مولوی صاحب اس کے لئے بھی تیار ہو گئے ہیں کہ پیر صاحب سے اتحاد کر لیں گے۔ یہ صرف اس سے خائف تھے کہ پیر صاحب یہاں بھی صدارت کا تقاضا کریں گے۔ مگر ہم نے پیر صاحب سے یہ یقین دہانی حاصل کر لی ہے کہ وہ صدارت کے لئے مصر نہیں ہوں گے۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
آپ نالاں ہیں کہ بھٹو صاحب نے ہمیں اقلیت قرار دیا تھا۔ تو ہم یہاں اس کے لئے ماحول سازگار کیوں کریں۔ حالانکہ اگر آپ ٹھنڈے دل سے غور کریں، تو یہ مسئلہ بآسانی سمجھ میں آجانے والا ہے کہ بھٹو صاحب نے ہمیں خوشی سے غیر مسلم قرار نہیں دیا تھا۔ بلکہ مجلس عمل کے چیلوں نے ایسے حالات پیدا کر دیئے تھے کہ پورا ملک میدان جنگ بننے والا تھا۔ تمام مولوی اپنے اپنے مفادات اور فطری جذباتیت سے مغلوب ہو کر ہمارے پیچھے پڑ گئے تھے۔ یہ ساری سازش جماعت اسلامی اور مجلس عمل کی تیار کردہ تھی۔ مودودی کے حواریوں اور مولویوں نے ایک تیر سے دو شکار کئے۔ ایک طرف ہمیں اور ہمارے دین کو نیچا دکھانا مقصود تھا، تو دوسری طرف بھٹو صاحب کو اقتدار سے الگ کرنا تھا۔ بھٹو صاحب نے قرارداد پاس ہونے تک برابر ہم سے رابطہ رکھا اور اپنی بے بسی کا یقین دلاتے رہے۔ قرارداد پاس ہونے کے بعد انہوں نے ہمارے تمام ذمہ داروں سے فرداً فرداً معافی مانگی اور یہ یقین بھی دلایا کہ وہ ہمارے کسی ساتھی کو تنگ نہیں ہونے دیں گے اور سب کی ملازمتیں بھی بحال رہیں گی۔ انہوں نے تو بعد میں بھی ہمارے کئی ساتھیوں کو اعلیٰ ملازمتیں دیں۔
ان حالات میں ہمارا ہر باشعور ساتھی بآسانی یہ سمجھ سکتا ہے کہ پاکستان میں رہتے ہوئے ہمارے لئے بھٹو اور پیپلز پارٹی سے بہتر اور کوئی نہیں۔ تفصیل میں جائے بغیر میں آپ کو یقین دلا سکتا ہوں کہ بھٹو صاحب بچ جائیں گے۔ ہم اگر محنت سے اپنا مشن جاری رکھیں، تو وہ دن دور نہیں جب فوجیوں، مجلسیوں اور جماعتوں کا یوم حساب شروع ہو سکے گا۔ سندھ میں چند دنوں کے اندر اندر حالات مزید تبدیل ہو کر کم از کم ہمارے لئے بے حد سازگار بن جائیں گے۔ بلوچستان میں کچھ لوگوں تک ہماری رسائی نہیں ہوسکی۔ لیکن مجموعی طور پر بلوچستان، اضطراب اور اندیشوں کا شکار ہے۔ وہاں صرف تیلی لگانے کی دیر ہے۔ سرحد کے حالات بھی جلد ہمارے لئے بہتر بننے والے ہیں اور پنجاب کو مفلوج کرنے کے لئے نیا اتحاد ہی کافی ہوگا۔ اگر کوئی خاص بات نہ ہوئی تو پیر صاحب ۹/جنوری کو اتحاد سے الگ ہونے کا باضابطہ اعلان کر دیں گے۔ چند اخباری پریس کانفرنسوں اور سیاسی بیانات کے بعد ۱۳/جنوری کو لاہور میں نئے اتحاد کے لئے رسمی مذاکرات ہوں گے۔
تحریک استقلال، این.ڈی.پی، مساوات پارٹی اور دیگر چند پارٹیوں سے بھی ہمارا بدستور رابطہ ہے۔ لیکن تحریک استقلال سے بالخصوص ہمیں بہت زیادہ امید ہرگز نہیں ہے اور این.ڈی.پی میں بھی ہمارے افراد بہت مؤثر نہیں ہیں۔ بہرحال جس طرح اور جتنا بھی ہوسکا باقاعدہ طور پر ۱۷/جنوری سے قبل نیا اتحاد وجود میں آجائے گا۔ پیپلز پارٹی کے ہمارے دوست بھی نئے اتحاد کے قیام کے بعد ملک گیر سطح پر ہنگامے کھڑے کرنے کی کوشش کریں گے۔ یہ خوشخبری اب اسلام آباد کے دوستوں کو بھی سنا دیجئے گا۔ سمیع صاحب سے اگر آپ کی ملاقات ہوگئی ہو تو انہیں کہئے گا کہ سفارتی دوستوں سے مخصوص حالات کے علاوہ دفاتر میں ملاقات سے ہر ممکن گریز کیا کریں۔‘‘
(لولاک، مؤرخہ ۲۱/جنوری ۱۹۷۹ء)
منصوبہ بندی کمیشن پر قادیانی یلغار
منصوبہ بندی کمیشن نہایت اہمیت کا حامل ادارہ ہوتا ہے۔ ملکی معیشت کا دارومدار اسی ادارے پر ہوتا ہے۔ یہ ادارہ ملکی ترقی کی منصوبہ بندی کرتا ہے۔ جولائی ۱۹۷۹ء میں اس ادارے کے ایک مسلمان ملازم نے ہفت روزہ لولاک کے نام ایک خط لکھا۔ جس میں واضح کیا گیا کہ ملک کے اس اہم ترین ادارہ پر بھی مرزائی اپنے پنجے گاڑ رہے تھے۔ ایڈیٹر لولاک کے نام لکھا یہ خط ملاحظہ فرمائیں۔ جس میں مرزائیوں کی سازشوں کو واضح کیا گیا ہے۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
محترمی ایڈیٹر صاحب السلام علیکم
میں آپ کے جریدے کے توسط سے کچھ حقائق ارباب اقتدار کے نوٹس میں لانا چاہتا ہوں۔ شاید کہ کسی مرد حق کو خدا تعالیٰ توفیق عطاء فرمائے کہ وہ ناموس محمد ﷺ کی خاطر کوئی خدمت انجام دے کر توشہ آخرت کمالے۔ منصوبہ بندی کمیشن جو کہ ملکی پانچ سالہ پلان اور سالانہ ترقیاتی منصوبے بنانے کا ذمہ دار ہے اور جس پر ملک کی تمام معیشت کھڑی ہے۔ آج کل مرزائیوں کی توجہ کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ خاص کر جب سے معاشی نظام کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کا کام شروع ہوا ہے۔ اسلام اور پاکستان دشمن عناصر نے اس میں اپنا عمل دخل شروع کر دیا ہے تا کہ اس کام میں یا تو رخنہ اندازی کر سکیں یا پھر مسلمانوں کے مفادات کو کسی نہ کسی طریقے سے نقصان پہنچا سکیں۔ پلاننگ کمیشن میں ایک قادیانی ڈپٹی چیف عبدالحمید، دو اسسٹنٹ چیف سعید احمد اور رفیق احمد چوہدری اور ایک سیکشن آفیسر عزیز نیر ظفر پہلے سے کام کر رہے ہیں اور نچلے درجے کے بھی چھ سات آدمی کام کر رہے ہیں۔
ان میں سعید احمد سب سے زیادہ کٹر قسم کا مرزائی ہے۔ اپنے عقیدے کا پروپیگنڈا کرنے سے نہیں چوکتا اور ایسا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ کسی نہ کسی عنوان سے اپنے عقائد کا پرچار کرتا رہتا ہے۔ چھوٹے طبقے کو ناجائز مراعات دے کر اور ان میں گھل مل کر اور اپنے ساتھیوں کو چائے وغیرہ پر بلا کر اپنے مذہب کا پروپیگنڈا کرتا رہتا ہے۔ اپنی مسلمان دشمنی اور پاکستان دشمنی کی بنا پر اکنامک آفیئرز ڈویژن سے نکالا گیا ہے۔ اسی بناء پر کشمیر آفیئرز ڈویژن نے لینے سے انکار کر دیا تھا۔ آخر کار یہاں پلاننگ میں کھپایا گیا۔ لیکن اپنی حرکتوں سے باز نہیں آیا۔
اب مزید دو احمدیوں کو لایا جا رہا ہے۔ جن میں ایک ڈاکٹر عنایت حسین منگلہ ہے اور دوسرا مبشر حسین ہے۔ اوّل الذکر کو ڈپٹی چیف اور دوسرے کو اسسٹنٹ چیف کی حیثیت سے لایا جا رہا ہے۔ ان دونوں کو میکال احمد جو یہاں پر چیف ہے اور سابق وزیر امور خارجہ عزیز احمد کا بیٹا ہے، پبلک سروس کمیشن کے ذریعے منتخب کروا کر لا رہا ہے۔ اس سلسلے میں میکال احمد نے خاص رول ادا کیا ہے۔ میکال احمد کا تعلق بھی لاہوری گروپ سے ہے۔ میکال احمد کی ساری تعلیم امریکہ اور یورپ میں ہوئی ہے۔ مطلب کریلا بھی اور نیم چڑھا بھی۔ ڈاکٹر عنایت حسین منگلہ اور مبشر حسین کے متعلق جہاں پر وہ کام کرتے رہے ہیں، معلومات حاصل کرنے پر پتہ چلا۔ وہ لوگ معمولی قابلیت رکھنے والے ہیں۔ ہاں! ان میں ایک چیز بدرجہ اتم موجود ہے کہ وہ بہت پختہ اور شدید عقیدہ رکھنے والے مرزائی ہیں اور زہریلا پروپیگنڈا کرنے والے ہیں۔ وہاں پر لوگ ان سے اسی بناء پر تنگ ہیں۔ ان لوگوں کا یہاں پر آنا اور لایا جانا بلا وجہ نہیں۔ مرزائی اور ان کے ہم نوا یہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کر رہے ہیں۔
پلاننگ ڈویژن میں اسلامی معاشی نظام کے سلسلے میں کام شروع ہو چکا ہے۔ زکوٰۃ کے نظام پر کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔ عشر پر کام ہو رہا ہے اور باقی امور پر کام ہونا ہے۔ اسلامک ریسرچ سیل کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔ اسلامی ممالک سے رابطہ قائم کیا جا رہا ہے۔ وہاں سے وفود پاکستان آئیں گے اور پلاننگ ڈویژن کے ساتھ کام کریں گے اور پاکستان پلاننگ ڈویژن سے وہاں پر جائیں گے۔ خاص طور پر سعودی عرب کے ساتھ رابطہ قائم ہوگا۔ ان قادیانیوں کا اقتصادی گروپ پلاننگ ڈویژن میں ہونے کی وجہ سے ان اسلامی ملکوں کے
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
وفود سے رابطہ ہونا یا پاکستانی وفد کے ساتھ اسلامی ممالک میں جانا بعید از امکان نہیں۔ بلکہ ناگزیر ہے۔ اس طریقے سے یہ اپنا اثر رسوخ ان ممالک میں قائم کرنے میں کامیاب بھی ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا ان لوگوں کا پلاننگ میں ہونا اور اسلامی معاشی نظام کے سلسلے میں کسی قسم کا حصہ دیا جانا اسلام اور ملک دونوں کے لئے ضرر رساں ہے۔
اس بات کی فوری طور پر ضرورت ہے کہ ڈاکٹر عنایت حسین منگلہ اور مبشر حسین جیسے مرزائیوں کو پلاننگ میں آنے سے روکا جائے جو یہاں پر موجود ہیں۔ ان کو غیر اہم کام دیئے جائیں۔ بلکہ قادیانیوں سے ہمدردی رکھنے والوں اور جس کو اسلام سے کوئی لگاؤ اور سروکار نہیں ہے۔ ان کو بھی اسلامی معیشت میں کوئی رول نہ ادا کرنے دیا جائے۔ میکال احمد کو بھی اس کام سے علیحدہ رکھا جائے تاکہ یہ لوگ کسی قسم کی شرارت نہ کر سکیں یا پاکستان کی بدنامی کا باعث نہ بنیں۔
حکومت کو چاہئے فوری طور پر ملازمتوں اور فوج میں ان کا علیحدہ کوٹہ مقرر کرے۔ جیسا اقلیتوں کے لئے ہے۔ جب تک یہ کام نہیں ہوتا ان لوگوں کی تقرری اور ترقی پر پابندی عائد کی جائے۔ کیونکہ یہ لوگ اس قانونی سقم سے پوری طرح فائدہ اٹھا کر اپنی تعداد حکومتی اداروں اور فوج میں بڑھا رہے ہیں اور اہم عہدوں پر فائز ہونے کی کوشش میں ہیں۔ جس کا منطقی نتیجہ یہ ہوگا کہ چند سالوں میں وہ کلیدی آسامیوں پر قابض ہو کر مسلمانوں کی قربانی کو کالعدم کرنے کی راہ ہموار کر لیں گے اور ایک مرتبہ پھر اسلام اور پاکستان کی بقاء کے لئے خطرہ بن جائیں گے۔
ایک اور چیز جو قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ قادیانی اپنے آپ کو غیر مسلم ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اس کا اظہار وہ کھل کر بھی کرتے ہیں اور جہاں کہیں بھی ان کو اپنا مذہب ظاہر کرنا ہوتا ہے وہ اسلام اور اپنے آپ کو مسلمان لکھتے ہیں۔ اس کی تازہ مثال کیرئر پلاننگ چارٹ ہے جو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے تمام افسران کے کوائف جمع کرنے کے لئے بھیجا تھا۔ اس میں انہوں نے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیا ہے۔ اس معاملے میں حکومت کی بے توجہی اور غفلت ان کے معاون ثابت ہو رہی ہے۔ گورنمنٹ کو اس بات کا سختی سے نوٹس لینا چاہئے اور اس بات کی چھان بین کرنی چاہئے تاکہ وہ اس قسم کی غلط بیانی سے باز آئیں۔ اس قسم کی حرکت کرنے والے مرزائیوں کو سزا دی جائے۔
پبلک سروس کمیشن کے فارم اور ہر قسم کے بھرتی کے فارمز میں مذہبی عقائد کے بارے میں ایک کالم بڑھانا چاہئے۔ جیسا کہ ووٹرز کے فارم سے کیا گیا ہے۔ یہ بڑے افسوس کی بات ہے ایک اسلامی ملک جو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ہے۔ وہاں ڈومیسائل کے معاملے پر تو انتہاء سے زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ والد تک کا ڈومیسائل پوچھا جاتا ہے۔ لیکن مذہب، مذہبی عقائد اور نظریہ پاکستان کے متعلق خیالات جاننے کی بالکل کوشش نہیں کی جاتی اور اگر معلوم بھی ہو جائے تو اس بات کو چنداں اہمیت نہیں دی جاتی۔ جس کے خطرناک نتائج سے کسی کو انکار نہیں۔ اس بات کی اہمیت موجودہ دور میں اور زیادہ ہو گئی ہے۔ کیونکہ پاکستان میں اسلامی نظام نافذ کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ لامحالہ اسلام دشمن طاقتیں اس معاملے میں رکاوٹ ڈالنے کے لئے اپنی پوری طاقت اور زور صرف کریں گی۔ اسلامی نظام جب ہی نافذ ہو سکتا ہے جب اس پر کام کرنے والے مخلص اور راسخ عقیدہ والے مسلمان ہوں۔ لہٰذا حکومت کو چاہئے فوری طور پر پبلک سروس کمیشن اور دوسرے بھرتی کے فارمز میں مذہب کے کالم کا اضافہ کرے۔ (فاضل کلیم)
(لولاک مؤرخہ ۱۵؍ جون ۱۹۷۹ء)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
مرزائیوں کی آئین سے کھلم کھلا بغاوت
ستمبر ۱۹۷۴ء کی ترمیم کے مطابق قادیانی پاکستان میں غیر مسلم قرار دیئے گئے۔ اس کے بعد وہ قول و فعل سے اپنے آپ کو مسلمان یا اپنے مذہب کو اسلام نہیں کہہ سکتے تھے۔ اگر بالفرض وہ ایسا کرتے تو یہ قانوناً جرم شمار ہوتا۔ لیکن مرزائی یہ جرم بار بار کرتے آرہے تھے۔ کئی مرتبہ انہوں نے آئین کا کھلم کھلا مذاق اڑایا۔ اس کو نہ ماننے کا اعلان کیا۔ اپنے آپ کو حقیقی مسلمان اور دوسروں کو سرکاری مسلمان کا خطاب دیا۔ جس پر مسلمان نے حکومت کی توجہ بھی دلائی۔ لیکن کوئی پیش رفت نہ ہوئی۔ چنانچہ ۷؍ مئی ۱۹۷۹ء کو مرزائیوں کے آرگن خصوصی ”الفضل“ میں تحریر چھپی جس میں سورۂ جمعہ کی روشنی میں یہ بتایا گیا تھا کہ حضرت نبی پاک ﷺ کی آخرین میں بعثت حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کے وجود میں پوری ہوئی۔
قارئین! اس عبارت میں واضح طور پر مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی اور آنحضرت ﷺ کا مثیل بتایا گیا ہے۔ عبارت میں آگے ”احمدی مسلمان“ کی اصطلاح کا بار بار استعمال بھی ہوا ہے۔ قادیانیوں کی اس دیدہ دلیری پر مسلمانوں نے بہت زیادہ احتجاج کیا۔ ایک ایسے نازک وقت میں جب کہ ملک میں نظام مصطفیٰ ﷺ کے نفاذ کی سعی کی جارہی ہے اور مقام مصطفیٰ اور نظام مصطفیٰ کی ترویج کی کوششیں کی جا رہی تھیں۔ قادیانیوں کی یہ جسارت ناقابل برداشت تھی۔ مسلمانوں نے اس جسارت پر زبردست احتجاج کیا اور قادیانی روزنامہ الفضل کے ضبط کرنے کی درخواست کی۔ لیکن نہ الفضل ضبط ہوا، نہ قادیانیوں کے خلاف حکومت نے کوئی پیش رفت کی۔ اس کے باوجود مسلمانوں نے قانون کی خلاف ورزی یا کوئی غیر آئینی اقدام نہیں اٹھایا۔ ورنہ مرزائی اقلیت میں تھے۔ اگر وہ خلاف آئین اقدامات کر سکتے ہیں تو مسلمان تو بطریق اولیٰ کر سکتے تھے۔ لیکن نہیں کیا۔ مسلمانوں کو اپنے مذہبی رہنماؤں سے تعلیم ہی آئین کی پاسداری کی مل رہی تھی۔ اسی تناظر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی خصوصی سب کمیٹی کے اجلاس کی کارروائی ملاحظہ فرمائیں۔
مرکزی دفتر میں خصوصی سب کمیٹی کا اجلاس
مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے امیر حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب نے ۱۷؍ مئی ۱۹۷۹ء بروز ہفتہ کو مرکزی دفتر ملتان میں ایک خصوصی سب کمیٹی کا اجلاس طلب کیا۔ اس اجلاس میں امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب کے علاوہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی شوریٰ کے حسب ذیل ارکان کو طلب کیا گیا تھا۔
مولانا مفتی احمد الرحمٰن جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی، ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر مدظلہ کراچی، مولانا سید محمد بنوری خلف الرشید مولانا سید محمد یوسف بنوری، مولانا تاج محمود ایڈیٹر ہفت روزہ لولاک، مولانا سید منظور احمد شاہ حجازی، مولانا عزیز الرحمٰن صاحب، مولانا عبدالرحیم اشعر۔ اجلاس میں جماعت کے مختلف امور اور ملکی حالات پر غور ہوا۔
اراکین شوریٰ نے مسلمانوں میں وحدت فکر اور وحدت عمل کی ضرورت کو شدت سے محسوس کیا۔ خصوصاً دینی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ اس وقت اپنے فروعی اختلافات کو پس پشت ڈال کر اسلامی نظام کی کامیابی کے لئے ہمہ تن مصروف ہوں۔ لادین طاقتوں، مرزائیوں اور اسلامی اخلاق سے محروم لوگوں کی سازشوں کو ناکام بنادیں۔ جو وہ اسلامی نظام کو ناکام بنانے کے لئے شروع کر چکے ہیں۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
مجلس نے سیاسی جماعتوں سے بھی درخواست کی کہ وہ اسلام کی بنیاد پر آپس میں یکجہتی پیدا کریں اور انتخاب انتخاب کا نعرہ لگانے کی بجائے، اپنی توجہات موجودہ اقدامات کے استحکام اور گزشتہ سالوں میں جو گندگی اور غلاظت لوگوں کے دلوں، دماغوں میں پھیلائی گئی ہے، اس کے دور کرنے میں صرف کریں۔ مجلس نے اس موقع پر عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے بھلے برے کی تمیز خود کریں۔ اتحاد اور اسلامی نظام کے نفاذ اور شرعی احکام پر مشتمل اقدامات کے استحکام کے لئے کام کریں۔ افتراق انتشار مذہبی فرقہ بندی علاقائی اور لسانی بنیادوں پر کام کرنے والوں کو اپنا بہی خواہ نہ سمجھیں۔
(لولاک، مؤرخہ ۱۰؍ جون ۱۹۷۹ء)
مرزائی جریدے کی کمینگی
مرزائی جریدے ”ہفت روزہ لاہور“ نے فروری ۱۹۷۹ء کے اوائل میں ایک اداریہ لکھا۔ جس کے عنوان میں ”مفتیان“ کا نام تھا۔ لیکن مضمون میں بھٹو دور کے سارے شرابی کبابی وزیروں کا تذکرہ تھا۔ دراصل ”ہفت روزہ لاہور“ الفاظ کے پیچ وخم میں بھٹو کے عیاش اتحادیوں کا سارا کچا چٹھا علماء اور مفتیان کے کھاتے میں ڈالنا چاہتا تھا۔ مضمون کا عنوان تھا ”بھٹو دور کے مفتیان دین و شرع متین کے قلمی خاکے“ لیکن نیچے ضیاء الحق دور حکومت کے شائع کردہ قرطاس ابیض کے وہ حصے جو پیپلز پارٹی کے بعض رسوائے زمانہ لیڈروں کے اخلاق و کردار کے متعلق شائع ہوئے تھے، درج کر دیئے تھے کہ فلاں زانی ہے۔ فلاں شرابی ہے۔ فلاں اغلام بازی کرتا ہے۔ فلاں نئی نئی عورتوں سے شادی کرنے کا رسیا اور پھر انہیں طلاق دے کر طوائف بنانے کا عادی ہے۔ فلاں سمگلر ہے۔ فلاں چرس کی سمگلنگ کا کاروبار کرتا ہے۔ فلاں رشوت لیتا ہے۔ فلاں سرکاری خزانہ لوٹ رہا ہے۔ وغیرہ وغیرہ!
اس کمینگی کے بعد ایک عنوان مفتیوں اور شرع محمدی کے رہنماؤں کے متعلق باندھا اور نیچے پیپلز پارٹی کے غنڈوں، شرابیوں اور زانیوں کا حوالہ قرطاس ابیض سے چھاپ دیا۔ اس صفحہ کے آخر میں دجل اور کمینگی کی انتہاء یہ کر دی کہ ایک نئی سرخی جمائی۔ ”یاد رہے“ اور اس کے تحت پھر اس سابقہ بکواس کو ان الفاظ میں دہرایا تھا۔
”یہ سب شرابی، زانی، منشیات کے اسمگلر، مرتشی، بدعنوان، غاصب، جابر، متشدد المزاج، لاف زن، شیخی خورے، سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیتوں سے عاری، آزادانہ جنسی تعلقات کے عادی، بدکردار، بڑی بے شرمی اور بے حیائی سے شادیاں رچا کر پھر ان عورتوں کو بازار حسن کی زینت بنا دینے والے پرمٹ، لائسنس اور ویزا فروش، بحری قزاق، مجرمانہ ذہنیتوں کے حامل، رسہ گیر، قاتل اور قاتلوں کے پشت پناہ، قوم کی بیٹیوں پر برملا دست درازیاں کرنے والے، ناجائز درآمد میں ملوث اور کسٹم ڈیوٹی میں ہیرا پھیری کے ذریعے خزانہ عامرہ کو نقصان پہنچانے والے، بھٹو دور کے وہ مفتیان دین و شرع متین ہیں جنہوں نے ستمبر ۱۹۷۴ء میں بھٹو کے اقتدار کو دوام بخشنے کی غرض سے خدائے جلیل و قدیر کے تمام احکامات اور حضرت خاتم النبیین ﷺ کے ارشادات مطہرہ کو پس پشت پھینک کر ملک کے چالیس لاکھ بے ضرر، محب وطن خدا پرست و خدا دوست کلمہ گو احمدیوں کو بزور سیاست دنیاوی اغراض کے لئے ”ناٹ مسلم“ قرار دیا تھا۔“
(ہفت روزہ لاہور، مؤرخہ ۹؍ فروری ۱۹۷۹ء)
یہ ہے مرزائی اخلاق کا نمونہ اور اس طرح مرزا غلام احمد کذاب اور دجال کے اس کذاب اور دجال مرید نے پاکستان کے متقی، علم و اخلاق کے معلم علمائے کرام اور مفتیان دین کے خلاف اپنے پلید اور سیاہ دل کی گندی اور بدبودار بھڑاس نکالی۔ قارئین ! آپ فیصلہ
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
فرمائیں ۔ کیا مبشر حسن ، ممتاز علی بھٹو اور کوثر نیازی مفتیان شرع متین ہیں؟ جن کی آڑ میں دینی رہنماؤں کو گالیاں دے کر اس بد باطن مرزائی نے اپنا کلیجہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی تھی ۔ مرزائیوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ بھٹو کے دور کے ان غنڈوں اور بدمعاشوں جن کا ذکر قرطاس ابیض کے ارشادات میں تھا۔ انہوں نے تمہارے باوا اور اس کی قادیانی ذریت کے خلاف فتویٰ نہیں دیا تھا۔ بلکہ برصغیر کی پاک اور بلند ترین ہستیوں علامہ سید محمد انور شاہ کشمیری ، مولانا محمد علی مونگیری، مولانا ثناء اللہ امرتسری ، حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی، سید علی الحائری، مولانا ابوالحسنات قادری ، مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری ، مولانا محمد داؤد غزنوی، علامہ حافظ کفایت حسین ، مفتی محمد شفیع دیوبندی، مولانا احمد علی لاہوری ، حضرت مولانا مفتی محمد حسن، مولانا حسین احمد مدنی ، قاضی احسان احمد شجاع آبادی ، مولانا محمد علی جالندھری اور مولانا لال حسین اختر نے قادیان کے دجال اور اس کی گمراہ ذریت کے خلاف کفر کا فتویٰ صادر کیا تھا اور بحمد اللہ ان شخصیات کے علم وفضل ، کردار و گفتار، تقویٰ وطہارت پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔ مرزائیوں کی کیا ہمت ہے کہ ان شخصیات کے کردار کے متعلق کوئی قلمی خیانت کر سکیں۔
سالانہ سیرت النبی ﷺ کانفرنس پر پابندی
۱۹۷۸ء سے ربوہ (چناب نگر ) میں سالانہ سیرت النبی ﷺ کانفرنس کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا اور اس سال اس سلسلہ کی دوسری کانفرنس تھی ۔ اس کانفرنس میں اندرون و بیرون ملک کی بڑی شخصیات شرکت کرتی تھیں ۔ ملک کی تمام مذہبی جماعتوں کے نمائندے جوق در جوق شرکت کرتے تھے ۔ اپریل ۱۹۷۹ء میں اس کا انعقاد ہونا تھا۔ لیکن کانفرنس سے کچھ ہی دن قبل اچانک مقامی انتظامیہ نے کانفرنس میں لاؤڈ سپیکر کے استعمال پر پابندی لگا دی ۔ اس پر مولانا تاج محمود نے ایک پر درد اداریہ تحریر فرمایا۔ جس میں واقعہ کی مکمل تفصیل موجود ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:
”۲۱، ۲۲/ اپریل ۱۹۷۹ء کو مسلم کالونی ربوہ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام دوسری سالانہ سیرت النبی ﷺ کانفرنس منعقد ہو رہی تھی۔ اس کانفرنس کے لئے پورے تین ماہ کی چھان بین اور ہر طرح کے اطمینان کے بعد ضلع جھنگ کی انتظامیہ نے اجازت دی تھی۔ اس عظیم الشان کانفرنس میں حسب روایت دیو بندی، بریلوی، شیعہ، اہل حدیث تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام شرکت کے لئے پہنچ رہے تھے ۔ سعودی عرب کے نیک شہرت سفیر جناب ریاض الخطیب آخری اجلاس کی صدارت کر رہے تھے اور انہی کے ہاتھوں جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی کی عظیم الشان عمارت کا سنگ بنیاد رکھا جانا تھا۔ یہ کانفرنس سیرت النبی ﷺ کی روشنی میں اتحاد امت ، استحکام وطن ، جہاد، اصلاح معاشرہ، خدمت خلق اور تبلیغ دین مصطفے ﷺ اور نفاذ شریعت محمدیہ جیسے اہم اور بنیادی مقاصد کی تبلیغ کے لئے منعقد ہو رہی تھی۔
علاوہ ازیں اس کانفرنس نے تمام مکاتب فکر اور ملت پاکستانیہ کی نمائندگی کرتے ہوئے جنرل محمد ضیاء الحق اور ان کی حکومت کے حالیہ اقدامات کی تائید کرنا تھی اور ان تمام عناصر کی مذمت کی قرارداد ہونا تھی جنہوں نے ملک اور اسلام کی سلامتی کو داؤ پر لگا کر ایک مکروہ کھیل رچایا ہوا تھا ۔ لیکن کانفرنس سے صرف تین دن پہلے اچانک صدر استقبالیہ کمیٹی سیرت النبی کانفرنس ربوہ کو ڈپٹی کمشنر جھنگ کا ایک نوٹس موصول ہوا کہ اس کانفرنس کے لئے لاؤڈ سپیکر کی اجازت واپس لے لی گئی ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ سیرت النبی کانفرنس ربوہ میں لاؤڈ سپیکر استعمال نہیں کر سکتے ۔ کانفرنس کے لئے پنڈال اور سٹیج تیار کیا جا رہا تھا۔ کراچی، بالائی سرحدی علاقوں، بلوچستان اور دور دراز کے علاقوں سے وفود گھروں سے روانہ ہو چکے تھے۔ جو ربوہ پہنچ گئے۔ پورے ملک میں اشتہارات اور پروپیگنڈا ہو چکا تھا اور کوئی دس لاکھ
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ۲۷۵ ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
فرزندان توحید کے اجتماع کا اندازہ تھا۔ کھانے پینے کی کینٹینوں کے ٹھیکہ دار صاحبان سامان خوردونوش خرید چکے تھے۔ کانفرنس کے لئے خطبہ استقبالیہ اور خطبہ صدارت تیار ہوچکے تھے۔ سعودی عرب کے سفیر جناب ریاض الخطیب اور ان کے معزز ہمراہیوں کے لئے ہوائی جہاز کی نشستیں ریزرو کرائی گئی تھیں۔ مولانا مفتی محمود، مولانا عبدالقادر روپڑی، آغا مرتضیٰ پویہ، جناب مولانا مفتی تقی عثمانی، مفتی محمد حسین نعیمی اور دوسرے تمام دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث اور شیعہ علماء کے لئے ہوائی جہازوں، ریل اور دوسرے ذرائع سے نشستیں ریزرو ہو چکی تھیں کہ جناب ڈی سی صاحب نے کانفرنس پر لاؤڈ سپیکر کی پابندی عائد کر کے آدھ موا کر کے رکھ دیا۔ اب دو ہی راستے تھے۔ ایک یہ کہ لاؤڈ سپیکر کے بغیر کانفرنس کریں۔ دس لاکھ کا اجتماع جو متوقع تھا اس سے نہ تو کوئی تبلیغی خطاب ہو سکتا نہ ان کو انتظامات کے متعلق کچھ بتایا جا سکتا۔ سوائے اس کے ہم لوگوں کو ہجوم کی شکل میں اکٹھا کر کے اور اس میں سعودی سفیر جیسے معزز مہمان کو بلا کر خود بھی ذلیل ہوتے اور اپنی حکومت کے خلاف پروپیگنڈے اور بدنامی کا ایک موقعہ فراہم کرتے اور کیا فائدہ ہوتا۔
دوسری صورت یہ تھی کہ ہم کانفرنس ملتوی کر دیتے اور حکومت سے تصادم اور اسے بدنام کرنے کی راہ اختیار نہ کرتے۔ تاہم ہم نے کوشش کی کہ ڈی سی صاحب جھنگ اور کمشنر صاحب سرگودھا ڈویژن سے رابطہ قائم کر کے ان سے درخواست کریں کہ وہ اپنے اس فیصلہ پر نظر ثانی کریں۔ کمشنر صاحب نے تو بہر حال ڈی سی صاحب کی طرف رجوع کرنے کا مشورہ دیا اور ڈی سی صاحب ان دیہات کے دورے پر تھے۔ جن کا پتہ ان کے جھنگ میں سٹاف کو بھی نہ تھا۔ ہزار جتن کئے گئے۔ لیکن رابطہ نہ ہو سکا۔
چنانچہ صرف ایک روز پہلے کانفرنس کے التوا کا اعلان کر دیا گیا تاکہ لاکھوں کی تعداد میں لوگ وہاں نہ پہنچ جائیں اور لوگوں کو پریشانی نہ اٹھانا پڑے۔
اس سے بڑھ کر دکھ کی بات یہ ہوئی کہ ۱۹، ۲۰، ۲۱ /اپریل ۱۹۷۴ء کو ربوہ ہی میں مرزائیوں کی مردانہ اور زنانہ نیم فوجی ریلی ہو رہی تھی۔ ان کے پنڈال لگے ہوئے تھے اور ان میں لاؤڈ سپیکر کی اجازت تھی۔ یہاں کہہ سکتے ہیں کہ مرزائیوں کی نیم فوجی تنظیم تو بہر حال پاکستان کی تباہی اور تخریب کے لئے ایک گونہ فوجی تیاری کا درجہ رکھتی ہے۔ ان کے لئے کیوں لاؤڈ سپیکر کی اجازت دی گئی؟ اور دوسری طرف بین المسلمین اتحاد کے عظیم مظاہرے جس میں دیوبندی، بریلوی، شیعہ اور اہل حدیث کے عملی اتحاد کا مظاہرہ ہونا تھا اور جس ملت کے عظیم اجتماع میں تمام مکاتب فکر کی طرف سے جنرل محمد ضیاء الحق کے اقدامات کی نہ صرف تائید ہونا تھی۔ بلکہ حکومت کو اسلامی نظام کے نفاذ کے سلسلہ میں پورے تعاون کا یقین دلایا جانا تھا۔ اس اجتماع کے لاؤڈ سپیکر کے استعمال پر کیوں پابندی عائد کر دی گئی۔ پابندی لگانے والوں نے یہ بھی نہ سوچا کہ ہمارے محسن ملک سعودی عرب کا نمائندہ جناب ریاض الخطیب جس نے پاکستان کے لئے قابل فخر اور سنہری خدمات سرانجام دی ہیں۔ وہ اس کانفرنس میں شرکت کے لئے آ رہا ہے اور جب اس نے سنا ہو گا کہ اس اسلامی اور سیرت النبی کانفرنس پر پابندی لگا دی گئی ہے اور اس کا سفر منسوخ ہوا ہوگا تو اس نے کیا سوچا ہو گا۔ بہرحال وقت کے بے شمار تقاضوں کو پورا کرنے والی کانفرنس ایک نیک شہرت ڈپٹی کمشنر کے ہاتھوں قتل ہو گئی۔
(لولاک اداریہ مؤرخہ ۲۶ / اکتوبر ۱۹۷۹ء)
جابہ، ایبٹ آباد میں مرزائی سازشیں
قیام پاکستان کے بعد مرزائیوں نے سب سے پہلے بلوچستان کو مرزائی صوبہ بنانے کی کوشش کی۔ مرزائیوں کا خیال یہ تھا کہ
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبد اللہ معتصم
بلوچستان چونکہ پسماندہ صوبہ ہے اور یہاں تعلیم بھی بنسبت دوسرے صوبوں کے کم ہے۔ اس لئے یہاں بنسبت دوسرے صوبوں کے مرزائیت کا جال پھیلانا آسان ہوگا۔ اس سلسلہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کے الہام اور اس کے بیٹے مرزا بشیر الدین محمود کے خوابوں کو بنیاد بنایا گیا۔ مرزا بشیر الدین محمود نے خواب میں کشمیر سے پہاڑوں کے راستے بلوچستان میں پہنچنے کے نظارے دیکھے اور جماعت کو اکسایا کہ بلوچستان کی آبادی بہت تھوڑی ہے۔ اسے مرزائی ریاست آسانی سے بنایا جاسکتا ہے۔ پھر کیا تھا مرزائیوں نے بلوچستان پر یلغار کر دی اور مرزائی مبلغین اس پسماندہ صوبے کے چپے چپے پر کفر و ارتداد کی تبلیغ کرتے نظر آنے لگے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت نے مسئلہ کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے بلوچستان کے عوام کو قادیانی فتنہ سے آگاہ کرنے کے لئے سارے صوبے کا دورہ کیا۔ جلسے اور کانفرنسیں منعقد کیں۔ تب جا کر وہاں کے عوام اس فتنے سے باخبر ہوئے اور اس ارتدادی فتنے کے خلاف ان کے دلوں میں اتنی نفرت تھی کہ ایک مرتبہ ایک مرزائی مبلغ میجر محمود وہاں مرزائیت کی تبلیغ کر رہا تھا۔ مسلمانوں نے اس کو ٹوکا اور تبلیغ سے سختی سے منع کیا۔ اس نے جواب میں اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف سنگین قسم کی زبان درازی کی۔ بلوچستان کے غیور عوام نے اسے وہیں خنجر مار کر ڈھیر کر دیا۔ جس کے بعد مرزائیوں کی تبلیغ رکی اور مرزائیوں کا بلوچستان کو ”احمدی صوبہ“ بنانے کا خواب خیال خام ثابت ہوا۔
بلوچستان میں منہ کی کھانے کے بعد مرزائیوں نے پورے پاکستان میں حساس اور اہمیت کے حامل مقامات میں اپنا اثر و رسوخ بنانے کی تیاریاں شروع کیں۔ ان مقامات میں سے ایک مقام جابہ بھی تھا۔ سون سیکسر کی پہاڑیوں میں ایک بلند پہاڑ پر یہ پرفضا مقام واقع تھا۔ یہاں پر سرگودھا کے قریب ہی پاکستان ایئر فورس کے اہم دفاتر اور اہم ترین تنصیبات تھیں۔ فوجی نقطہ نگاہ سے یہ مقام بڑا حساس، نازک اور اہمیت کا حامل تھا۔ مرزائیوں نے یہاں اپنا اڈہ بنایا۔ جس کا نام ”نخلہ“ رکھا اور جسے گرمائی ہیڈ کوارٹر کا نام دیا۔ ہیڈ آف دی جماعت کے لئے وہاں بنگلہ بنایا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت نے بہت زیادہ تگ و دو کے بعد مرزائیوں کی اس ملک دشمن حرکت کو معلوم کر لیا اور ان کا تعاقب کرنے کے لئے جابہ میں اپنا ایک دفتر قائم کیا۔ علاقہ کے مسلمانوں نے اور وہاں کے علماء کرام نے تعاون کیا۔ عین جابہ کے مقام پر جلسوں اور کانفرنسوں کا سلسلہ شروع ہوا اور مرزائیوں کی سازش کو بے نقاب کیا گیا۔ حکومت کی توجہ اس طرف دلائی گئی کہ ایئر فورس کے اس اہم مقام کے نزدیک ان جاسوسوں کا کیا کام ہے۔ ایئر فورس میں ظفر چوہدری کی شکل میں مرزائی بھی موجود تھے۔ خدشہ یہ تھا کہ شاید یہ مرزائی آپس میں گٹھ جوڑ کر کے کوئی ملکی راز نہ حاصل کر لیں یا ملکی سالمیت کے خلاف کوئی اور گل نہ کھلائیں۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کی محنت اور تگ و دو کامیاب ہوئی حکومت نے کچھ دن بعد جابہ میں مرزائیوں کا وہ اڈہ اجاڑ دیا۔
ایبٹ آباد میں ربوہ
مرزائی کچھ عرصہ خاموش رہے۔ پھر اپنے سرکاری افسروں کی خفیہ امداد سے ایبٹ آباد کی چھاونی اور کاکول اکادمی کے قریب ایک وسیع و عریض قطعہ زمین حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے اور پراسرار طور پر وہاں دفاتر، عبادت گاہ اور دوسری عمارتیں بنانا شروع کر دیں۔ جب ایبٹ آباد کے غیور مسلمانوں کو علم ہوا تو انہوں نے مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں کو دعوت دی۔ چنانچہ مولانا لال حسین اختر وہاں پہنچ گئے اور ایک عرصہ تک اس تحریک کی قیادت کرتے رہے۔ مولانا محمد نواز صاحب، مولانا شفیق الرحمٰن اور دوسرے سینکڑوں ہزاروں شمع رسالت کے پروانوں نے تحریک میں شرکت کی۔ پہلے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس مرزائی اڈے کو ختم کر دے۔ جب حکومت نے
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
حسب روایت توجہ نہ دی تو ایبٹ آباد کے غیور مسلمانوں نے کفر و ارتداد کے اس اڈے کو ایک جلوس ختم کر دیا اور اس طرح مرزائیوں کی یہ سازش بھی ناکام ہو گئی۔
اور اب اسلام آباد میں
کچھ عرصہ مرزائی دبے رہے۔ اب انہوں نے اپنی سازشوں کو بروئے کار لانے کے لئے تیسری حساس اور سب سے اہم جگہ اسلام آباد میں ایک اڈہ بنانے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ ایف ۸-۲ میں ایک قطعہ زمین حاصل کر کے اس پر ایک عالی شان عمارت بنائی اور مسلمانوں کے دلوں کو زخمی اور چھلنی کرنے کے لئے اس پر ”قصر خلافت“ کا بڑا سا بورڈ لگایا۔ اسلام آباد کے مسلمانوں کو جب مرزائیوں کے اس اڈے کا علم ہوا تو اسلام آباد میں زبردست غم و غصے کا اظہار کیا۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کے علماء کرام نے فیصلہ کیا کہ بزرگ رہنما شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خان صاحب تمام دینی جماعتوں اور جملہ شمع رسالت کے پروانوں کی طرف سے مرزائیوں کو پریس کانفرنس اور جمعہ کے خطبات کے ذریعے وارننگ دیں کہ وہ فوراً اپنے اس اڈے سے قصر خلافت کا بورڈ اتار لیں۔
جن دنوں اسلام آباد کا مرزائی اڈہ بن رہا تھا۔ انہی دنوں میں مرزائیوں نے کراچی میں بھی ایک بڑی عمارت پر کام شروع کیا تھا۔ اسلام آباد کے ایف ۸-۲ کا قصر خلافت جب بن گیا تو مرزا ناصر احمد نے وہاں جا کر اشتعال انگیزی پھیلانی شروع کی۔ کچھ مرزائی چیلوں نے بھی یہ کام شروع کیا۔ دراصل مرزائیوں کا مقصد اس اشتعال انگیزی سے یہ تھا کہ مسلمانوں اور حکومت کی توجہ اسلام آباد کی طرف پھیر کر کراچی کی طرف سے ہٹانا تھا اور اس دوران انہوں نے جماعت احمدیہ کا سارا ریکارڈ اور خفیہ دستاویزات کراچی کے مرکز میں منتقل کر دیئے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد اور کراچی کے دونوں مراکز سے ایک لمحہ کے لئے بھی غافل نہ رہی۔ دونوں مراکز کی کڑی نگرانی کا انتظام کیا ہوا تھا۔ مرزائیوں نے اسلام آباد اور کراچی کے مراکز کی عمارتیں اتنی راز داری سے بنائی تھیں کہ مزدور، مستری، ٹھیکے دار، انجینئر کسی کے علم میں یہ نہیں کہ یہ عمارت مرزائیوں کے مرکز کی ہے۔
اسلام آباد میں واقع مرزا ناصر احمد کے اس قلعہ نما قصر خلافت کے عین سامنے مسجد حقانیہ اور جامعہ قاسمیہ تھے۔ مسجد حقانیہ کے امام مولانا حافظ امان اللہ کو جب یہ حقیقت پتہ چلی کہ یہ عمارت مرزائیوں کی ہے تو انہوں نے علماء کرام کی توجہ اس طرف دلائی۔ مولانا امان اللہ کی محنت کی وجہ سے راولپنڈی میں علماء کرام کا ایک مشاورتی اجلاس ہوا۔ جس کی صدارت شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان نے فرمائی۔ اجلاس میں راولپنڈی اور اسلام آباد کے تمام خطیب اور دینی رہنما جمع ہوئے اور اس مسئلے پر غور ہوا کہ مرزائیوں کی اس عبادت خانے کے لئے عدالت نے حکم امتناعی جاری کر دیا ہے۔ مرزائیوں نے توہین عدالت کا ارتکاب کر کے اور عدالت کے احکام سے تجاوز کر کے وہاں پر کمرے، چار دیواری اور زائد چھتیں تعمیر کر لیں۔ پنکھے نصب کر لئے اور مرزا ناصر احمد اور اس کے باڈی گارڈز کے لئے الگ پھاٹک تعمیر کر لیا۔ چنانچہ علماء کرام نے فیصلہ کیا کہ ۲۶/جون کو دارالعلوم تعلیم القرآن راجہ بازار میں ایک پریس کانفرنس منعقد کی جائے۔ جس سے شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان خطاب فرمائیں اور یہ تمام معاملات پریس کے ذریعے عوام اور حکومت کے علم میں لائے جائیں۔ یہ بات بھی طے ہوئی کہ جلسہ سے قبل ایک وفد وزیر داخلہ جناب محمود ہارون سے ملاقات کرے اور یہ تمام واقعات ان کے نوٹس میں لائے۔
پریس کانفرنس
پروگرام کے مطابق ۲۶/جون ۱۹۷۹ء کی شام دارالعلوم تعلیم القرآن راجہ بازار راولپنڈی میں ایک کانفرنس ہوئی۔ جس میں شیخ
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خان اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما حضرت مولانا تاج محمود صاحب نے پریس نمائندگان سے خطاب فرمایا۔ اگلے روز راولپنڈی کے تمام قومی اخبارات میں پریس کانفرنس کی کارروائی شائع ہوئی۔ ۲۸؍ جون ۱۹۷۹ء کو ایک وفد شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان کی قیادت میں جناب محمود ہارون صاحب وفاقی وزیر داخلہ سے ملا۔ وفد میں مولانا محمد عبداللہ خطیب مرکزی جامع مسجد اسلام آباد، حضرت مولانا تاج محمود، ایڈیٹر لولاک، مولانا سیف اللہ صاحب، مولانا غلام حیدر ناظم مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد شریک تھے۔ وفد نے وزیر داخلہ کو صورتحال سے آگاہ کیا اور ان سے درخواست کی کہ مرزائی قانون کی مٹی پلید کر رہے ہیں اور اشتعال انگیزی کے ارتکاب سے اسلام آباد کی فضا کو خراب کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں متنازعہ جگہ کے استعمال سے روکا جائے اور جو تعمیرات انہوں نے خلاف قانون تعمیر کی ہیں انہیں گرا دیا جائے اور مرزا ناصر احمد کی اشتعال انگیزیوں کا نوٹس لیا جائے۔ اسی رات ایف ۸-۳ جامع مسجد حقانیہ میں ایک زبردست جلسہ ہوا۔ جس میں مرزائیوں کی غداریوں کو اجاگر کیا گیا اور حکومت سے مناسب کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ اس مجلس میں مولانا غلام اللہ خان، مولانا محمد عبداللہ، مولانا غلام حیدر اور دیگر مقامی علماء کرام کے علاوہ شیعہ اور بریلوی مسلک کے ممتاز علماء نے بھی شرکت کی۔ مرزا ناصر احمد مقررین کی تقریروں کو براہ راست سن رہا تھا۔ مقررین نے کہا کہ ایک ملک میں دو ہیڈ آف دی سٹیٹ نہیں ہو سکتے۔ اسلام آباد میں ایک ہی قصر خلافت ممکن ہے اور وہ مکان ہو گا جس میں ملک کا حکمران ہو۔ مقررین نے حکومت سے مرزا ناصر اور مرزائیوں کے اس غیر آئینی اقدام کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ اگلے روز مرزا ناصر احمد بوریا بستر لپیٹ کر کراچی فرار ہو گیا۔
اسلام آباد میں مرزا ناصر کے فروکش ہونے اور اس کی رہائش کو ’’قصر خلافت‘‘ کا نام دینے پر ملک کے مقبول اخبار ’’روزنامہ جنگ‘‘ نے اپنی اشاعت خاص ۱۳؍ جولائی ۱۹۷۹ء میں ایک افتتاحیہ شائع کیا جو تحریک ختم نبوت کے مطالعہ کرنے والوں کے لئے دلچسپی سے خالی نہیں ہے۔ جس میں مرزا ناصر احمد کی اسلام دشمنی سرگرمیوں کا سختی سے نوٹس لیا گیا۔ افادہ عام کے لئے اس کا خلاصہ شامل کرتے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں:
’’یہ خبر اخبارات میں شائع ہو چکی ہے کہ قادیانی گروہ کے پیشوا جناب مرزا ناصر احمد پنڈی کے ’’قصر خلافت‘‘ میں فروکش ہیں۔ ان کی جماعت انہیں ’’امیر المومنین‘‘ اور ’’خلیفۃ المسلمین‘‘ کے نام سے یاد کرتی ہے اور بیرونی ممالک سے جو ڈاک ان کے نام آتی ہے اس میں ’’امیر المومنین‘‘ کا لفظ خاص لکھا جاتا ہے۔ راولپنڈی پاکستان کا ’’دارالخلافہ‘‘ ہے۔ وہاں ’’قصر خلافت‘‘ کا موجود ہونا اور ’’امیر المومنین‘‘ و ’’خلیفۃ المسلمین‘‘ کا اس میں فروکش ہونا بڑا ذو معنی ہے۔ اس سے بیرونی دنیا میں تاثر یہ ہو گا کہ پاکستان کے ’’دارالخلافہ‘‘ میں ’’امیر المومنین وخلیفۃ المسلمین‘‘ مرزا ناصر احمد صاحب ہی کا ’’قصر خلافت‘‘ ہے۔ اس لئے وہی پاکستان کے ’’خلیفہ‘‘ ہیں اور جنرل محمد ضیاء الحق (یا کوئی دوسرا سربراہ مملکت جو ان کی جگہ لے گا) خلیفۃ المسلمین مرزا ناصر احمد صاحب کے نمائندہ کی حیثیت سے نظم مملکت چلا رہے ہیں۔
جناب مرزا صاحب کو اطمینان ہے کہ پاکستان کا قانون اور یہاں کے حکمران بہت ہی شریف ہیں۔ یہاں کوئی شخص اگر معمولی کانسٹیبل کی جعلی وردی پہن لے اس کو تو قانون کے شکنجے میں کس دیا جاتا ہے۔ مگر نبوت و رسالت کا جعلی لبادہ اوڑھنے والوں کو ہمارا قانون اور ہمارے شریف حکمران کچھ نہیں کہتے۔ حکومت کے متوازی اگر کوئی محکمہ قائم کر لیا جائے تو قانون فراڈ اور جعل سازی کے الزام میں اسے فوراً دھر لیتا ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص یا گروہ ’’مسجد‘‘ یا ’’بیت اللہ‘‘ کے نام پر کوئی مکان تعمیر کر کے وہاں ’’حج و زیارت‘‘ کرنے لگے تو ہمارے قانون کی شرافت اس سے چشم پوشی کرتی ہے اور پاکستان کے شریف حکمران اسے آنکھوں سے دیکھ کر نہ صرف برداشت کر لیتے ہیں بلکہ اس
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
پر فخر کرتے ہیں کہ ہم نے سب کو مذہبی آزادی دے رکھی ہے۔ کوئی کسی کو خدا بنائے ، قانوناً جائز ہے۔ رسول اور نبی بنائے ، قانوناً روا ہے۔ بیت اللہ ، بیت المقدس ، مدینہ منورہ ، مسجد اقصیٰ وغیرہ وغیرہ اپنے گھر ہی بنا کر بیٹھ جائے ۔ قانوناً درست ہے ۔ ہمارے قانون کی اسی ”شرافت“ اور ہمارے حکمرانوں کے اسی شریفانہ رویہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مرزا ناصر احمد تمام اسلامی اصطلاحات کو بے دریغ اور بے روک ٹوک استعمال فرماتے ہیں ۔ وہ اپنے دادا کو ”محمد رسول اللہ“ کہتے ہیں ۔ ان کی آل اولاد کو ”اہل بیت“ کہتے ہیں ۔ ان کے الہامات کے مجموعہ کو قرآن (تذکرہ) کہتے ہیں ۔ ان کی بستی کو ”بیت المقدس“ کہتے ہیں ۔ ان کی مسجد کو ”مسجد اقصیٰ“ (وہی مسجد اقصیٰ جس کا قرآن کریم میں ذکر ہے ) کہتے ہیں ۔ قادیان کو ”حرم پاک“ کہتے ہیں ۔ ان کی قبر کو ”روضہ اطہر“ کہتے ہیں اور اپنی جماعت کی عبادت گاہوں کو ”مسجد“ کہتے ہیں ۔ الغرض وہ (دائرہ اسلام اور ملت اسلام سے خارج ہونے کے باوجود) تمام اسلامی اصطلاحات اور اسلامی شعائر کو اپنے دادا غلام احمد قادیانی کے ارد گرد گھماتے ہیں ۔ یہ سب کچھ کیوں ہے؟ اس لئے کہ ان کو اطمینان ہے کہ پاکستان کا قانون بہت شریف ہے ۔ یہاں کے عوام بڑے امن پسند ہیں اور ان کے حکمران بھی بہت ہی شریف ہیں ۔ یہ دنیا کے معاملے میں معمولی سی جعل سازی تو برداشت نہیں کرتے ۔ مگر خدا اور رسول دین و مذہب اور اسلام شعائر کے معاملے میں ان کی شرافت کا یہ عالم کہ کوئی شخص رب العالمین کہلائے ، محمد رسول اللہ اور رحمۃ اللعالمین بنتا پھرے ۔ بیت الخلیفہ کا نام ”مسجد“ رکھتا پھرے ۔ ہمارے اور ہمارے شریف حکمرانوں کو اس سے کوئی سروکار نہیں ۔
بقول اکبر الہ آبادی ؎
ہمارے قانون اور ہمارے حکمرانوں کی اسی ضرورت سے زیادہ شرافت کا نتیجہ کہ پاکستان کے ”دارالخلافہ“ میں ”قصر خلافت“ تعمیر کر کے جناب مرزا صاحب ”امیر المومنین وخلیفۃ المسلمین“ کا ڈنکا بجا رہے ہیں ۔
بلاشبہ پاکستان کے شریف قانون کی رو سے جناب مرزا ناصر احمد صاحب کو پاکستان کے ”دارالخلافہ“ میں ”قصر خلافت“ تعمیر کرنے اور امیر المومنین وخلیفۃ المسلمین کہلانے کا شوق پورا کرنے کا ”حق“ حاصل ہے ۔ نہ ملک کا قانون انہیں اس حرکت سے باز رہنے کی اپیل کرتا ہے نہ یہاں کے شریف حکمران ان کے اس شوق کا نوٹس لیں گے ۔ اس کے باوجود ہم مرزا ناصر احمد کی خدمت میں نہایت ادب واحترام سے عرض کریں گے کہ خدارا یہ راستہ اختیار نہ کیجئے ۔ اس لئے کہ یہ بات مسلمانوں کی ایمانی ومذہبی غیرت کے لئے چیلنج ہے ۔ ”خلافت“ اور ”خلیفہ“ مسلمانوں کی مقدس مذہبی اصطلاح ہے ۔ از راہ کرم مسلمانوں کی مذہبی اصطلاحات استعمال نہ فرمایا کریں ۔ اس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں ۔ جس طرح کوئی باغیرت آدمی اس بات کو برداشت نہیں کر سکتا کہ کوئی شخص جعلی طور پر اس کا باپ بن بیٹھے ۔ اسی طرح مسلمان کی غیرت اس بات کو بھی برداشت نہیں کرتی کہ کسی ابوجہل یا مسیلمہ کذاب کو محمد رسول اللہ کا نام دیا جائے ۔ کسی دارالکفر کا نام بیت اللہ یا مسجد رکھا جائے یا کسی غیر مسلم اور مرتد گروہ کا پیشوا پاکستان کے ”دارالخلافہ“ میں ”قصر خلافت“ تعمیر کر کے ”امیر المومنین وخلیفۃ المسلمین“ کہلایا کرے ۔ آپ نے یا آپ کے باپ دادا نے اب تک جو کچھ کیا وہ مذہبی آڑ میں کیا ۔ مگر خلیفہ، خلافت، قصر خلافت اور دارالخلافت کے الفاظ صرف مذہبی کھیل نہیں ۔ ان کی معاشرتی وانتظامی حیثیت بھی ہے ۔ ایسا نہ ہو کہ اسلامی شعائر سے یہ مذاق ، مسلمانوں کے لئے نا قابل برداشت ہو جائے اور مسلمانوں کو آپ کے قصر خلافت کے ساتھ وہی سلوک کرنا پڑے جو مدینہ طیبہ میں آنحضرت ﷺ نے مسجد ضرار کے ساتھ
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
کیا تھا۔ خدا کے لئے مسلمانوں کی قوت برداشت کا مزید امتحان نہ لیجئے۔ ہم اپنے ملک کے شریف قانون اور یہاں کے شریف حکمرانوں کے ضمیر پر بھی دستک دیں گے اور ان سے یہ دریافت کریں گے کہ اگر اس ملک میں پولیس کانسٹیبل کی وردی پہن کر کسی کو دھوکہ دینے کی اجازت نہیں ۔ کوئی غیر فوجی، فوجی افسر کی وردی پہن کر ممنوع علاقے میں گھس آئے تو اسے جاسوس تصور کیا جاتا ہے تو خدا تعالیٰ نے ، محمد رسول اللہ ﷺ نے، اسلام نے، اسلامی شعائر نے اس ملک کا کیا بگاڑا ہے کہ ان کے نام کی کوئی حرمت نہیں اور انہیں کوئی تحفظ حاصل نہیں۔ کیا ہمارے قانون کی آنکھ اس وقت کھلے گی جب پانی سر سے گزر جائے گا ؟ ہمیں امید ہے کہ مرزا ناصر احمد اور ہمارے ارباب اقتدار ہماری ان مخلصانہ گزارشات پر توجہ فرمائیں گے۔
(روزنامہ جنگ کراچی مورخہ ۱۳/ جولائی ۱۹۷۹ء، لولاک جولائی، اگست ۱۹۷۹ء)
چک ۶۸ گ۔ ب فیصل آباد میں مرزائیوں کی دسیسہ کاریاں
فیصل آباد کے نواح میں چک ۶۸ گ۔ ب کے نام سے ایک بڑا گاؤں ہے۔ یہاں پر مختلف برادریوں کے لوگ آباد تھے۔ گاؤں کی اکثر آبادی مسلمانوں کی تھی۔ صرف بارہ گھر مرزائیوں کے تھے۔ پاکستان اور اسلامیان پاکستان کی بدقسمتی سے جب قیام پاکستان کے بعد سر ظفر اللہ خان وزیر خارجہ بنا دیئے گئے تو اس نے بڑے اور اہم عہدوں پر مرزائیوں کو تعینات کرنا شروع کر دیا۔ بے شمار مرزائی اعلیٰ مناصب پر فائز کئے گئے۔ ان مرزائیوں نے جہاں بہترین جائیدادوں اور زمینوں کی الاٹمنٹس غیر قانونی طور پر اپنے اور دوسرے مرزائیوں کے نام کرائیں ۔ وہاں اچھے اچھے مناصب بھی اثر و رسوخ سے حاصل کر لئے۔ چنانچہ اس گاؤں میں دو نمبر داریاں تھیں ۔ دونوں پر مرزائی نمبر دار بن گئے اور دوسرے مستحق اس لئے نمبر دار نہ بن سکے کہ ان کا کوئی سفارشی نہ تھا اور ان مرزائیوں کے مرزائی ارباب سفارشی اور سر پرست تھے۔
ان مرزائی نمبر داروں نے سرکاری افسران اور ضلعی حکام میں اپنا کافی اثر و رسوخ بنایا اور باقی گاؤں والوں کو مرعوب رکھنا اور دبانا شروع کر دیا۔ اگر کوئی شخص سچائی کی بات کرتا تو یہ غنڈہ گردی کر کے اور سرکاری مرزائیوں سے مل کر اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ۔ کچھ عرصہ پیشتر مرزائیوں نے اس گاؤں میں غنڈہ گردی اور اشتعال انگیزی کی۔ گاؤں کے اندر اندھا دھند فائرنگ کی ۔ اس فائرنگ میں دو مسلمان شدید زخمی ہو کر شہید ہو گئے۔ مظلوم جب تھانے میں فریاد کرنے پہنچے تو انہیں الٹا پریشان کیا گیا۔ مرزائی اثر و رسوخ نے مسلمانوں، مظلوموں کی کوئی پیش نہ جانے دی ۔ جب مسلمانوں نے اس ظلم کے خلاف مؤثر آواز اٹھائی اور اصرار کیا کہ ہمارا پرچہ درج کیا جائے تو مدعیان اور گواہان کو تھانہ ٹھیکری والا میں بلا لیا گیا اور ایک موقع کے گواہ کو گم کر دیا گیا ۔ مظلوموں نے اس گمشدہ گواہ کے متعلق فریاد کی تو بتایا گیا کہ وہ خود گھر آجائے گا۔ لیکن چھ مہینے کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود موقع کا گواہ گھر نہیں پہنچا ۔ مسلمانوں کو شبہ بلکہ یقین تھا کہ ہمارے اس عینی گواہ کو شہادت سے منع کرتے اور جھوٹی گواہی دینے پر مجبور کیا گیا۔ لیکن وہ مانا نہیں ۔ جس پر مرزائیوں اور پولیس نے مل کر اسے ٹھکانے لگا دیا۔
یہ گاؤں والے مقامی اور صوبائی پولیس کے دفتروں میں در بدر کی ٹھوکریں کھاتے پھرتے رہے ۔ لیکن ان سے انصاف نہیں کیا گیا۔ بلکہ انصاف اور مظلوموں کے درمیان مرزائی اور پولیس حائل تھے ۔ اس کے ساتھ ہی اس گاؤں میں مرزائیوں نے ایک اور گل کھلا دیا اور وہ یہ کہ وہاں ایک لاولد مرزائی جس کی ملکیت میں آدھ مربعہ کے قریب اراضی بھی تھی اور جو اسے اپنی زندگی میں مسلمانوں کے
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
ہاتھوں بیچ دینا چاہتا تھا۔ اچانک مر گیا۔ دراصل مرزائیوں نے خفیہ طور پر اس لاولد مرزائی کو غیر طبعی موت مار دیا۔ تاکہ وہ زمین فروخت نہ کر سکے اور زمین مرزائی بلا روک ٹوک ہتھیا سکیں۔ چنانچہ اس گاؤں کے ایک شخص نے ڈپٹی کمشنر فیصل آباد کو درخواست دی کہ ہمیں شبہ ہے کہ مرزائی موصوف کو غیر طبعی موت مارا گیا ہے۔ یہ درخواست علاقہ مجسٹریٹ کے سپرد ہوئی۔ انہوں نے تحقیقات کی اور حکم دے دیا کہ متوفی کا پوسٹ مارٹم کرایا جائے۔ جب مرزائیوں کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے اپنی جماعت سے فریاد کی کہ کہیں ہمارا راز افشاء نہ ہو جائے۔ پہلے ہی تین آدمیوں کے قتل کے مقدمات کرائمز برانچ میں زیر تفتیش ہیں۔ اب ہم پر ایک نیا قتل کا مقدمہ نہ بن جائے۔ جماعت احمدیہ کے لاہور کے کسی مرزائی نے جناب چیف سیکرٹری پنجاب سے بذریعہ تار مطالبہ کیا کہ ہم اقلیت ہیں اور ہمیں ستایا جا رہا ہے۔ مقصد یہ کہ کسی طرح ہمارے متوفی کا پوسٹ مارٹم نہ ہو اور کہیں ہمارا کوئی پول نہ کھل جائے۔ حکام اعلیٰ نے یہ سمجھ کر کہ شاید یہ اقلیت ہیں۔ کہیں اکثریت انہیں ناجائز پریشان نہ کر رہی ہو۔ اس معاملہ کی رپورٹ طلب کی۔ مرزائیوں نے اصل معاملہ سے مسلمانوں کی توجہ ہٹانے کے لئے اس لاولد مرزائی کو جلدی جلدی مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دیا۔ حالانکہ اس گاؤں میں مرزائیوں کو علیحدہ قبرستان مل چکا تھا۔ یہ حرکت بلکہ شرارت مرزائیوں نے اس لئے کی تا کہ مسلمانوں کی توجہ اس شرارت کی طرف ہو جائے کہ مرزائی مردہ کو الگ قبرستان ہوتے ہوئے مسلمانوں کے قبرستان میں کیوں دفن کر دیا گیا۔
چنانچہ ایسا ہی ہوا اس گاؤں کے دین پسند مسلمانوں نے مطالبہ کر دیا کہ اس مردے کو مسلمانوں کے قبرستان میں غلط دفن کیا گیا ہے۔ مرزائی اسے یہاں سے نکال کر اسے اپنے قبرستان میں دفن کریں۔ مرزائیوں کے اس اقدام سے مسلمانوں کی توجہ اصل مسئلے سے ہٹ گئی اور انہوں نے مرزائی کو مسلمانوں کے قبرستان سے منتقل کرنے کا مطالبہ کیا۔ مسلمانوں کے پر زور مطالبہ پر انتظامیہ نے کچھ پس و پیش کے بعد مرزائی مردے کو اپنے متعلقہ قبرستان میں منتقل کرنے کا حکم صادر کیا۔ لیکن مرزائیوں نے جس غرض سے یہ کام کیا تھا کہ مسلمانوں کی توجہ مسلمان گواہ کے لاپتہ ہونے اور مرزائی مردے کے پوسٹ مارٹم کا مطالبہ کرنے سے ہٹ جائے، وہ اس میں کامیاب ہو گئے اور اس مسلمان گواہ کا کچھ پتہ نہیں چلا۔ مرزائیوں کی فطرت اور خصلت کے پیش نظر یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ انہوں نے ہی اس مسلمان گواہ کو شہید کیا ہو گا۔
گاؤں کی نمبرداریوں پر قابض مرزائی اپنے سرکاری اثر رسوخ کی معرفت وقتاً فوقتاً مسلمانوں کو تنگ کرتے رہے۔ انتخابات کے سلسلے میں جب الیکشن آفس کے کارکن اس گاؤں میں ووٹوں کے اندراج کے لئے گئے تو مرزائیوں نے روایتی جعل سازی سے کام لیتے ہوئے اپنے ووٹ مسلمانوں کے مخصوص درخواست فارم پر درج کرا دیئے۔ گاؤں کے شیدایان ختم نبوت اور باغیرت مسلمانوں نے تحریری طور پر الیکشن کمیشن سے شکایت کی کہ جداگانہ انتخابات کی فہرستوں میں ان کفار کے ووٹ مسلمانوں کی فہرست میں درج نہیں ہونے چاہئے۔ محکمہ نے مذکورہ مرزائیوں کو نوٹس جاری کر دیئے جن کے جواب میں تمام مرزائیوں کی طرف سے لئیق احمد نامی ایک مرزائی نے نمائندگی کرتے ہوئے درخواست دی کہ مندرجہ ذیل مرزائی ووٹروں کے نام مسلمانوں کی فہرستوں سے نکال دیئے جائیں اور غیر مسلموں میں بحیثیت احمدی درج کر لئے جائیں۔ لئیق احمد نے یہ اقدام اپنے خلاف ممکنہ کارروائی سے بچنے کے لئے اٹھایا۔ اس کے علم میں یہ بات تھی کہ ملک میں مارشل لاء ہے۔ شاید لاقانونیت کرتے ہوئے اپنے آپ کو مسلمان لکھنے پر لینے کے دینے پڑ جائیں۔
ووٹوں میں مذہب کے اندراج میں قادیانیوں کی یہ دھاندلی صرف فیصل آباد کے اس گاؤں تک منحصر نہیں تھا۔ ملک میں کسی بھی جگہ پر قادیانیوں کے دونوں گروہوں (ربوائی، لاہوری) نے بحیثیت قادیانی انتخابات کی فہرستوں میں اپنا نام درج نہیں کرایا تھا۔ وہ برملا
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
اسمبلی کے فیصلے کا مذاق اڑاتے تھے۔ چنانچہ قادیانی آرگن اور روزنامہ الفضل ربوہ نے ۱۲؍ مارچ کو ’’ایک ضروری وضاحت‘‘ کے عنوان سے صفحہ اوّل پر ایک شذرہ سپرد قلم کیا اور لکھا کہ شناختی کارڈ حاصل کرنے کا جو فارم پر کرنا پڑتا ہے اس میں ایک خانہ مذہب کا بھی ہے۔ اس طرح سکولوں میں داخلہ کے لئے فارموں میں بھی مذہب کا خانہ ہے۔ بعض اور فارموں میں بھی ہوگا۔ متعلقہ افسران اصرار کرتے ہیں کہ احمدی اپنے آپ کو غیر مسلم درج کریں۔ ان کا یہ مطالبہ غیر آئینی اور بالکل غیر منصفانہ ہے۔ ہم آزادی مذہب کی ضمانت کے ہوتے ہوئے جو ہمیں دستور پاکستان میں دی گئی ہے، اپنے آپ کو کس طرح راستی اور دیانتداری کے ساتھ غیر مسلم لکھ سکتے ہیں۔
(روزنامہ الفضل مورخہ ۱۲؍ مارچ ۱۹۷۹ء، ملخص لولاک اگست ۱۹۷۹ء)
جامع مسجد محمدیہ ربوہ کا لاؤڈ سپیکر اور مرزائی نامہ نگار
۷؍ جولائی ۱۹۷۹ء کو ’’روزنامہ مساوات‘‘ میں ربوہ کے ایک قادیانی نامہ نگار کی ایک خبر شائع ہوئی۔ لکھا تھا: ’’ربوہ کے ۲۵ ہزار شہری مقامی ریلوے اسٹیشن کی مسجد میں لاؤڈ سپیکر کے ناجائز استعمال کے ہاتھوں پریشان ہیں۔ چھوٹی سی اس مسجد میں آٹھ لاؤڈ سپیکر لگائے گئے ہیں اور تمام رات ان لاؤڈ سپیکروں کا استعمال کر کے شہریوں کی نیندیں حرام کی جاتی ہیں۔‘‘
مرزائی نامہ نگار کی یہ خبر صراحۃً کذب بیانی اور افتراء پردازی پر مشتمل تھی۔ مسجد میں نہ تو آٹھ لاؤڈ سپیکر تھے اور نہ ہی ساری رات لاؤڈ سپیکر کا استعمال ہوتا تھا۔ صرف اذان اور خطبہ جمعہ کے لئے لاؤڈ سپیکر استعمال ہوتا تھا۔ ہاں ! صرف شب برأت کچھ دیر کے لئے رات کو لاؤڈ سپیکر کا استعمال ہوا تھا۔ جس میں مولانا اللہ وسایا خطیب ربوہ اور مولانا عبدالرؤف مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت نے شب برأت کی فضیلت پر مختصر سا خطاب کیا تھا۔ جس سے مرزائیوں کو بڑی تکلیف ہوئی اور طیش میں آ کر رات کے مختصر سے حصے کو اس نے ’’پوری رات‘‘ کہا۔
ربوہ میں اہل اسلام کی تین مساجد تھیں۔ سب سے بڑی مسجد جامع مسجد ریلوے اسٹیشن تھی۔ جس کے ایک لاؤڈ سپیکر میں آٹھ ہارن لگائے گئے تھے۔ وجہ یہ تھی کہ ربوہ کے گرد و نواح میں مسلمانوں کی آبادی تھی۔ اس طرح ربوہ کے اندر پہاڑیوں پر کام کرنے والے مسلمان مزدوروں کے لئے زیادہ ہارن لگائے گئے تھے۔ جن کی آواز دور تک جائے اور پہاڑی پر کام کرنے والے مسلمان بھی اذان سن سکیں۔ صرف اذان اور خطبہ جمعہ لاؤڈ سپیکر پر ہوتا تھا اور ایسا کراچی تا پشاور ملک کی تمام مساجد میں معمول تھا اور ہے۔ دراصل ربوہ کی مسجد میں لاؤڈ سپیکر کے استعمال پر مرزائیوں کو اس لئے اعتراض تھا کہ اہل اسلام کے قدم ربوہ میں جم نہ جائیں۔ چونکہ آئین کے فیصلے کے بعد مرزائیوں کی ایک بہت بڑی تعداد دائرہ اسلام میں داخل ہو چکی تھی۔ اس لئے ربوہ کی مرزائی جماعت کو تکلیف ہو رہی تھی اور اس نے یہ جھوٹا پروپیگنڈا شروع کیا۔
محکمہ تعلیم پر مرزائیوں کی یلغار
قیام پاکستان کے بعد چوہدری ظفراللہ کے تعاون سے محکمہ تعلیم کے تمام اہم اور کلیدی آسامیوں پر مرزائیوں کا قبضہ ہو گیا اور تقریباً ۳۲ سال مرزائی ان کلیدی آسامیوں پر چھائے رہے۔ بھٹو دور حکومت میں بھی محکمہ تعلیم ان کی آماجگاہ بنا رہا۔ اکثر تعلیمی ادارے اور دفاتر مرزائیت کے تبلیغی مراکز بنے رہے۔ کمیونسٹ اور لادین عناصر کا تعاون بھی انہیں حاصل رہا۔ مشرقی پاکستان کے ہندو پروفیسروں کی تعلیمی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے جس طرح آج وہ بنگلہ دیش ہے۔ مرزائی اور مرزائی نواز افسران اس خبث باطن اور سنگین ارادوں کے تحت تعلیمی
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
عہدوں اور اداروں میں سرگرم تھے۔ بھٹو دور حکومت میں علماء وعوام نے حکومت کی توجہ اس جانب پھیرنی چاہی اور اس بارے میں اجتماعی وانفرادی سطح پر کوششیں ہوئیں۔ لیکن مرزائی بدستور محکمہ تعلیم پر چھائے رہے۔ مرزا غالب احمد کا کچھ تذکرہ گزشتہ صفحات میں ہوچکا ہے۔ رامے کی کرم نوازیوں کی وجہ سے سرگودھا بورڈ کا چیئرمین رہ چکا تھا اور اب بھی سرگودھا کی تعلیمی کمیٹی پر پوری طرح چھایا رہا۔ محکمہ تعلیم کا سیکرٹری ایم۔اے خان بھی مرزائی تھا۔ پنجاب کے صوبائی مشیر تعلیم شیخ امتیاز اور ڈی۔پی۔آئی پنجاب ڈاکٹر صفدر حسین بھی مرزائی تھے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ کے صدر مولانا حکیم عبدالرحمن المعروف ڈکٹیٹر صاحب نے اس سلسلے میں پیش رفت کرتے ہوئے مختلف جرائد و رسائل میں ایک لسٹ شائع کی جس میں تیس مرزائیوں کی نشاندہی کی گئی تھی جو اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے اور مسلسل مرزائیوں کو نوازتے رہے۔ مجلس کے قائدین نے تعلیم جیسے اہم شعبے پر اس مرزائی یلغار کے حوالے سے جنرل ضیاء الحق اور گورنر پنجاب لیفٹیننٹ جنرل سوار خان اور دیگر ارباب حل وعقد کو خطوط، ٹیلیگراف اور پریس کے ذریعے خبردار کیا اور یہ سلسلہ مسلسل جاری رکھا۔ صوبائی گورنر پنجاب جنرل سوار خان نے مجلس کے احباب کی نشاندہی پر صوبائی مشیر تعلیم پنجاب شیخ امتیاز کو اپنے عہدے سے علیحدہ کرتے ہوئے ڈاکٹر زیڈ۔اے ہاشمی کو یہ عہدہ تفویض کیا اور چند روز بعد ڈاکٹر صفدر کی جگہ ڈاکٹر عبدالرؤف کو ڈی۔پی۔آئی پنجاب مقرر کردیا اور دیگر اہم عہدوں پر مناسب پیش رفت کرنے کا وعدہ کیا۔
ڈاکٹر عبدالرؤف باغ و بہار طبیعت کے آدمی تھے۔ نظریہ پاکستان سے جنون کی حد تک محبت کرتے تھے اور حضور خاتم النبیین ﷺ کی ناموس کی خاطر سب کچھ قربان کرنے کا جذبہ رکھتے تھے۔ لیکن چونکہ اس کو مرزائی ڈاکٹر صفدر کی جگہ پر تعینات کیا گیا تھا۔ اس لئے مرزائیوں کا ان سے پرخاش رکھنا ایک قدرتی امر تھا۔ چنانچہ کچھ ہی عرصہ بعد ان کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا شروع ہوگیا۔ لیکن ڈاکٹر صاحب کی بلند ہمتی اور اعلیٰ حوصلگی کی بناء پر مرزائی ان کا کچھ بگاڑ نہ سکے۔
(چٹان اکتوبر ۱۹۷۹ء)
ربوہ کے تعلیمی اداروں کی اندھیر نگری
۱۹۷۲ء میں حکومت پاکستان نے تمام پرائیویٹ تعلیمی اداروں، ان کے مملوکہ جائیدادوں اور اشیاء کو نیشنلائز کر کے اپنے قبضہ میں لے لیا تھا۔ ربوہ کے تمام تعلیمی ادارے ڈگری کالج ربوہ، تعلیم الاسلام کالج ربوہ، نصرت کالج ربوہ، تعلیم الاسلام ہائی سکول ربوہ بھی سرکاری تحویل میں لے لئے گئے۔ ان تمام تعلیمی اداروں کی عمارات کے علاوہ ان کی چار دیواری کے اندر کا رقبہ بھی کاغذات مال میں مقبوضہ محکمہ تعلیم و ڈگری کالج درج تھا۔ رقبہ کی مقدار ۱۰۱؍ ایکڑ تھی۔ ربوہ کے تعلیمی اداروں کو نیشنلائز کرنے والے افسروں نے عام ہدایت کے مطابق ان تمام جائیدادوں، عمارات اور اشیاء کی فہرستیں مرتب کیں جو تعلیمی اداروں کی ذیل میں حکومتی تحویل میں آئیں۔ چونکہ ان تعلیمی اداروں کے ملازمین مرزائی تھے۔ اس لئے کچھ عرصہ بعد انہوں نے ان تعلیمی اداروں کے دفاتر ڈائریکٹر محکمہ تعلیم راولپنڈی وسرگودھا کے دفاتر اور اسی طرح ڈائریکٹر پبلک انسٹرکشن پنجاب وسول سیکرٹریٹ کے دفاتر سے ریکارڈ چوری کر کے ضائع کردیا۔
اب جب کہ درمیان میں ۵،۶ سال گزر گئے تھے اور اس رقبہ کے متعلق انہوں نے ریکارڈ ضائع کردیا تھا۔ اس لئے انہوں نے نہایت اطمینان سے تعلیمی اداروں کی ان سرکاری اراضی کو انجمن احمدیہ کی ملکیت ظاہر کیا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے ذمہ داروں کو اس واقع کی اطلاع ملی تو انہوں نے پہلے محکمہ مال کے کاغذات کے باقاعدہ نقول حصول کر کے ڈائریکٹر محکمہ تعلیم سرگودھا کو درخواست دی۔ درخواست کے ساتھ ان کاغذات کو بطور حجت لف کردیا اور مطالبہ کیا کہ اس رقبہ کو محکمہ تعلیم فوراً اپنے قبضے میں لے اور مرزائیوں کا ناجائز عمل دخل ختم کردیا جائے۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب وتحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
جب مرزائیوں کو اس بات کا پتہ چلا تو انہوں نے نہایت عیاری کے ساتھ پٹواری حلقہ چوہدری محمد صدیق کے خلاف ڈپٹی کمشنر جھنگ کو درخواست دی کہ پٹواری نے کاغذات سرکار میں ردو بدل کر کے صدر انجمن احمدیہ کا رقبہ محکمہ تعلیم کے قبضہ میں درج کر دیا۔ اب بجائے اس کے کہ مرزائیوں سے غیر قانونی طور پر ہتھیا لی گئی زمین کا احتساب ہوتا، حلقہ پٹواری چوہدری محمد صدیق کو معتوب قرار دیا گیا اور ان کا تبادلہ وہاں سے کر دیا گیا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے احباب نے اس سنگین صورتحال کے پیش نظر ڈپٹی کمشنر جھنگ اور ڈپٹی کمشنر سرگودھا سے درخواست کی کہ اصل معاملہ سے توجہ ہٹانے کی وجہ سے بلاجواز پٹواری کو معتوب قرار دیا گیا۔ اصل معاملہ کی طرف توجہ کی جائے اور مرزائیوں سے سرکاری زمین سرکاری قبضہ میں دی جائے۔ بہت مرتبہ درخواست اور کئی دفعہ مطالبوں کے بعد بھی اس اراضی کے متعلق کوئی پیش رفت نہ ہوسکی اور وہ زمین انجمن احمدیہ کے قبضے میں ہی رہ گئی۔
ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ
چنیوٹ کی ختم نبوت کانفرنس نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ یہ کانفرنس اب بھی ہر سال پورے آب و تاب کے ساتھ منعقد ہوتی ہے۔ ہر مکتبہ فکر کے علماء اور عوام شرکت کرتے ہیں۔ رائیونڈ کے اجتماع کے بعد یہ ملک کا دوسرا بڑا اجتماع ہوتا ہے۔ ذیل میں ۱۹۷۹ء میں منعقد ایک کانفرنس کی مختصر کارگزاری پیش کی جاتی ہے جو ہفت روزہ لولاک میں لکھی گئی تھی۔ خلاصہ ملاحظہ فرمائیں:
”۲۶، ۲۷، ۲۸/ دسمبر ۱۹۷۸ء کو چنیوٹ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲۶ ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ یہ کانفرنس اپنی مثال آپ تھی۔ مسلمانوں کے چاروں مکاتب فکر کے رہنما اسٹیج پر جلوہ افروز رہے اور اس لحاظ سے اس کو یہ بلند و بالا امتیازی مقام حاصل ہوا کہ یہ کانفرنس شیعوں، سنیوں، اہل حدیثوں، بریلویوں، دیوبندیوں کی بجائے تمام مسلمانوں کی کانفرنس تھی۔ کوئی ایک سو کے لگ بھگ دینی اور سیاسی رہنماؤں نے کانفرنس سے خطاب کیا۔ شعراء حضرات نے ایمان افروز نظمیں اور نعتیں پیش کیں۔ مرزائیت کے احتساب و تعاقب کے علاوہ جس مضمون پر مقررین نے سب سے زیادہ زور دیا وہ مسلمانوں کا اتحاد و اتفاق تھا۔ مرزائیوں کے بعد سب سے زیادہ افتراق بین المسلمین کی مذمت کی گئی۔ پنڈال پہلے سالوں کی نسبت اس سال بہت زیادہ وسیع و عریض بنایا گیا تھا۔ لیکن آخری رات حاضری کا ۳/۱ حصہ پنڈال میں اور دو تہائی حصہ باہر سڑکوں، گلیوں، ملحقہ مسجدوں اور اردگرد کے مکانوں کی چھتوں پر کھڑا تھا۔ مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود کی تقریر میں حاضرین کی تعداد تین لاکھ کے لگ بھگ تھی۔ دسمبر کی سرد ترین اور ٹھٹھرتی راتوں میں دور دراز علاقوں سے آئے ہوئے ختم نبوت کے پروانوں کا شوق اور جذبہ دیدنی تھا۔
نوابزادہ نصراللہ خان نے بے مثال اور لاجواب تقریر کی۔ علامہ علی غضنفر کراروی نے مجمع کو تڑپا تڑپا دیا۔ حضرت مفتی صاحب کی تقریر حاصل کانفرنس تھی۔ خان محمد اشرف خان اور علامہ احسان الہی ظہیر نے مجمع سے بڑی داد حاصل کی۔ مولانا عبدالقادر آزاد اور قاری محمد اجمل خان صاحب نے جو باتیں کہیں مجمع کے دل و دماغ میں اتر گئیں۔ راؤ عبدالمنان نے مرزائیت کے بوسیدہ کوٹھڑے کو ایک دفعہ پھر ہلا دیا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما مولانا سید منظور احمد شاہ صاحب نے سٹیج سیکرٹری کا حق ادا کر دیا اور یہ مشکل ترین فریضہ بڑی کامیابی سے نبھایا۔ جماعت کے مبلغین وعلماء نے چنیوٹ اور اردگرد سے آئے ہوئے مسلمانوں کو مسئلہ ختم نبوت، حیات مسیح علیہ السلام، کذب مرزا غلام احمد قادیانی جیسے اسلام کے اہم ترین مسائل کی بہت اچھی تعلیم و تربیت مہیا کی۔
شیخ المشائخ حضرت مولانا خان محمد صاحب قبلہ امیر مرکزیہ مجلس تحفظ ختم نبوت کے خطبہ صدارت نے کانفرنس کو مجلس کی تاریخ کا سنگ میل بنا دیا اور جماعت کے مخلصین اور کارکنوں کو مستقبل کا لائحہ عمل مہیا کر دیا۔ اس دفعہ کانفرنس بہت زیادہ کامیاب ہوئی تھی۔ انتظامات
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
بہترین کئے گئے تھے۔ بے شمار لوگ شریک ہوئے تھے اور اتنی حاضری ہوئی جتنی پہلے کبھی بھی نہ ہوئی تھی۔ نوابزادہ نصر اللہ خان اور مولانا مفتی محمود کی تشریف آوری نے کانفرنس کی رونق کو چار چاند لگا دیئے تھے۔ چنیوٹ کے جماعتی کارکنوں چوہدری ظہور احمد، شیخ منظور احمد اور ان کے دیگر ساتھیوں نے کانفرنس کے لئے بے مثال جدوجہد کی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین نے چنیوٹ اور ارد گرد کے نواحی دیہات کا ایک ماہ پیشتر دورہ کیا اور عوام کو کانفرنس میں شرکت کی باقاعدہ دعوت دی۔ خصوصاً مسجد محمدیہ ربوہ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام خطبہ جمعہ و عیدین اور اسی طرح مسلم کالونی ربوہ کی جامع مسجد ختم نبوت میں درس قرآن کے فیض نے بھی لوگوں کو کانفرنس کی طرف متوجہ کر دیا تھا۔ ان اقدامات اور کاوشوں کی وجہ سے کانفرنس نہایت کامیاب اور نتیجہ خیز رہی۔ کانفرنس کی جان کانفرنس کی قراردادیں ہوا کرتی تھیں۔ اس کانفرنس میں بھر پور قراردادیں منظور کی گئیں۔ جنہوں نے گویا کانفرنس کو عوام اور حکومت دونوں کے سامنے زبان بخش دی اور آخری بات اس کانفرنس کی کامیابی کا راز اہل حق اور اولیائے امت کی دعائیں اور خود سرور کائنات سید المرسلین خاتم النبیین ﷺ کی خصوصی توجہات ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حضور ﷺ کی مرضی کے مطابق کام کرنے کی توفیق ارزاں فرماتا رہے۔ آمین !
سرکاری ملازمین کے خلاف ربوہ کی محلاتی سازشیں
مرزائیوں کی شروع دن سے یہ کوشش تھی کہ ربوہ اور اس کے آس پاس کی تمام سرکاری ملازمتوں پر صرف اور صرف مرزائی تعینات کئے جائیں اور چوہدری ظفر اللہ، ایم. ایم. احمد اور دیگر قادیانی مہروں کے ذریعے اس میں کامیاب بھی رہے تھے۔ ستمبر ۱۹۷۴ء میں جب مرزائیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تو مسلمانوں کے پر زور مطالبے پر ربوہ میں مرزائی سیاست اور اثر کو ختم کیا جانے لگا اور وہاں مسلمان ملازمین کو تعینات کیا جانے لگا۔ ربوہ سرکار نے جب یہ دیکھا تو ان مسلمان ملازمین کے خلاف سازشیں شروع کیں۔ اسی سلسلے میں مدیر لولاک کے نام ایک مسلمان ملازم کا خط ملاحظہ فرمائیں:
السلام علیکم مزاج گرامی
آپ نے پچھلے چند ہفتوں سے مرزائیوں کے ہفتہ وار ”لاہور“ کے شمارے ملاحظہ کئے ہوں گے۔ جن میں ربوہ کے سرکاری ملازمین کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان پر جھوٹے الزامات لگائے گئے ہیں اور ان کو بدنام کرنے کی انتہائی گھناؤنی کوشش کی گئی ہے۔ یہ سب کچھ ربوہ سرکار کی محلاتی سازشوں کا نتیجہ ہے۔ دراصل بات یہ ہے کہ ہمیشہ سے ربوہ سرکار نے ربوہ میں سرکاری ملازمین کو بلیک میل کرنے کی پالیسی لگا رکھی ہے۔ ہر آنے والے آفیسر کو مختلف بہانوں سے اپنے دام تزویر میں پھنسانے کی کوششیں کرتے ہیں۔ اگر وہ اس میں کامیاب نہ ہوں تو پھر اس آفیسر کے خلاف جھوٹی شکایات و الزامات کے طومار باندھ دیتے ہیں۔ جھوٹی درخواستیں، تار، فون اور دیگر ذرائع سے اس طرح رائی کا پہاڑ بناتے ہیں کہ الامان الحفیظ۔ مثلاً آپ ربوہ کے موجودہ ریزیڈنٹ مجسٹریٹ کو دیکھیں۔ یہ انتہائی درویش منش، فرشتہ سیرت انسان ہیں۔ کسی کی غلط رعایت نہیں کرتے۔ جب سے وہ آئے ہیں انہوں نے ربوہ کی بے آئین سرزمین پر آئین کی بالادستی کی روشن مثال قائم کر دی ہے۔ ان کے سامنے کوئی کیس آئے۔ وہ ہمیشہ آئینی کارروائی کرتے ہیں۔ مرزائیوں کو اپنی من مانی کارروائی کرنے کا موقعہ نہیں ملتا۔ وہ آر. ایم ربوہ کو غلط کام کرنے پر مجبور کرتے تھے۔ مگر آر. ایم موصوف کی امانت و دیانت کے اصول پر پابندی کی وجہ سے وہ مایوس ہو کر اپنے اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں۔ ان کے خلاف جھوٹے الزامات، غلط درخواستیں و شکایات کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ ہفتہ وار لاہور کی بیہودہ سراپا جھوٹ عبارت آرائی بھی اسی سازش کا ایک حصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ربوہ میں رہنے والے تمام سرکاری ملازمین کو اپنی رحمتوں سے سرفراز فرمائیں جو آئین کی بالادستی کو قائم رکھنے کے لئے غلط رعایت کسی کی نہیں کرتے۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
ہم آپ کے جریدہ کے توسط سے حکومت پنجاب سے، کمشنر سرگودھا ڈویژن اور ڈپٹی کمشنر صاحب جھنگ سے درخواست کرتے ہیں کہ ربوہ میں رہائش پذیر سرکاری ملازمین کا تحفظ کریں۔ ان کے خلاف شکایات و پروپیگنڈا کو مرزائیوں اور ان کے آلہ کاروں سے بند کروائیں۔ ورنہ ان سازشوں کا نوٹس نہ لیا تو حسب سابق ربوہ کی سرزمین بے راہ اور قانون کی وہ مٹی پلید ہوگی۔ جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ مرزائیوں کو اپنے پرانے اللے تللے یاد آتے ہیں۔ وہ ان افسروں بالخصوص آر.ایم صاحب کو بدنام کر کے ربوہ میں رہائش پذیر مسلمان اور سرکاری ملازمین کا قافیہ حیات تنگ کرنا چاہتے ہیں۔ مرزائیوں کی خدا نہ کرے اگر یہ سازش کامیاب ہوگئی تو پھر ربوہ میں رہنے کے لئے کوئی سرکاری ملازم تیار نہ ہوگا اور یہی مرزائی چاہتے ہیں اس لئے ہم حکام بالا سے درخواست گزار ہیں کہ وہ مرزائیوں کے اس بے لگام منہ پھٹ رسالہ ہفتہ وار ”لاہور“ کی الزام تراشیوں کا سدباب کریں اور ربوہ میں رہنے والے سرکاری ملازمین کے خلاف قادیانیوں کی سازشوں کا نوٹس لے کر آئین کی بالادستی کو قائم رکھیں۔
(لولاک مؤرخہ ۲۱؍ ستمبر ۱۹۷۹ء)
تحریک کے بلاجواز گرفتار شدگان کی رہائی
۱۹۷۴ء کی تحریک کے دوران پنجاب کی وزارت علیا کا قلمدان حنیف رامے کے پاس تھا۔ حنیف رامے کی مرزائیت اور علماء دشمنی کا کچھ اجمالی تذکرہ گزر چکا ہے۔ تحریک کی کامیابی کے بعد جب مرزائیوں کے ارتداد کا حکم نامہ جاری ہوا تو مسلمانوں کا ایک مطالبہ یہ بھی تھا کہ تحریک کے سلسلے میں گرفتار مسلمانوں کو بھی رہا کیا جائے۔ اس لئے کہ اب ان کی گرفتاری بلاجواز ہے۔ حنیف رامے نے شروع میں مطلقاً انکار کیا اور کہا کہ رہائی نہیں ہوسکتی۔ گرفتار شدگان کو سزا مل کر رہے گی۔ مسلمانوں کی طرف سے مطالبے نے شدت اختیار کی۔ جس پر وزیر اعظم بھٹو اور پنجاب وسندھ کے وزراء نے گرفتار شدگان کی رہائی کی خوشخبری سنائی اور ان کی رہائی کے وعدے کئے۔ لیکن یہ وعدے صرف زبان کی حد تک تھے۔ ایک دو کے علاوہ کسی کو رہا نہ کیا گیا۔ جب بھٹو صاحب اقتدار سے لڑھک گئے تو علماء اسلام نئے حکمران جنرل ضیاء الحق کے پاس یہی مطالبہ لے کر گئے۔ ۲۳؍ اکتوبر ۱۹۷۹ء کو فیصل آباد میں جنرل صاحب کی آمد کے موقع پر علماء کرام کے ایک وفد نے صدر صاحب سے ملاقات کی اور ان کی توجہ ان مقدمات کی طرف مبذول کرائی جو بے شمار لوگوں پر ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت اور تحریک احیائے اسلام ۱۹۷۷ء کے دوران قائم کئے گئے تھے۔ جب کہ ان میں بم بنانے، بینکوں کو لوٹنے، سرکاری بلڈنگوں کو آگ لگانے، سرکاری بسیں جلانے اور قاتلانہ حملوں کے جھوٹے بنائے ہوئے مقدمات بھی شامل تھے۔
صدر مملکت نے واضح الفاظ میں صوبائی حکومت کے کارپردازان کو حکم دیا کہ وہ مقدمات فوری طور پر واپس لئے جائیں۔ اس موقعہ پر جناب حبیب الرحمٰن آئی.جی پولیس پنجاب نے وضاحت طلب کی کہ اس سلسلے کے جن مقدمات میں کوئی آدمی قتل ہوگیا تھا تو اس کی کیا صورت ہوگی۔ جنرل صاحب نے فرمایا کہ وہ سب کے سب مقدمات واپس لے لئے جائیں۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے ترجمان ہفت روزہ لولاک نے صدر صاحب کی اس منظوری کے بعد یہ اعلان جاری کیا۔ ”مجلس تحفظ ختم نبوت اور قومی اتحاد کے کارکنوں کا فرض ہے کہ اس اعلان کے فوراً بعد وہ اپنے اپنے اضلاع کے ڈی سی صاحبان سے رابطہ قائم کریں اور ان سے مقدمات واپس لینے کی تحریری استدعا کریں۔“
(لولاک مؤرخہ ۱۰؍ نومبر ۱۹۷۹ء)
مسجد حرام پر قبضہ کی ناپاک مہم
۲۰؍ نومبر ۱۹۷۹ء کو تاریخ کا ایک المناک حادثہ پیش آیا۔ تفصیل کچھ یوں ہے۔ مسجد الحرام میں نماز فجر کا وقت تھا۔ نماز کی ادائیگی
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
کے لئے ہزاروں افراد مسجد الحرام کے اندر اور کعبہ شریف کے اردگرد موجود تھے۔ اس وقت نماز فجر کی امامت امام حرم شیخ عبداللہ سبیل کراتے تھے۔ نماز کے دوران لوگوں نے کچھ شور و شغب کی آواز سنی۔ جونہی نماز ختم ہوئی اور لوگ مسجد سے باہر نکلنے کے لئے مسجد حرام کے دروازوں کی طرف بڑھے تو یہ دیکھ کر حیران ہو گئے کہ مسجد کے دروازے جن کی تعداد ۷۰ سے کچھ زائد ہے کچھ تو بند ہو چکے ہیں اور کچھ بند ہو رہے ہیں۔ دروازے بند کرنے والوں کے ہاتھوں میں پستول، بندوقیں اور اس قسم کا دوسرا اسلحہ تھا اور وہ ’اللہ اکبر، جاء المهدی، ظهر المهدی (مہدی آ گئے، مہدی ظاہر ہو گئے)‘ پکارتے ہوئے دروازے بند کر رہے ہیں۔
حرم کے تقدس کے پیش نظر حرم کے دروازوں پر کوئی مسلح پہرہ نہیں ہوتا۔ اس لئے یہ لوگ بلا کسی روک ٹوک کے اندر داخل ہو گئے تھے۔ اگر کوئی شخص ان کے سامنے رکاوٹ بنتا یا تعارض کی کوشش کرتا تو اسے فوراً گولی کا نشانہ بنا دیا جاتا۔ کچھ لوگ دروازوں پر کھڑے تھے اور کچھ تکبیر تہلیل بلند کرتے ہوئے حجر اسود اور مقام ابراہیم کے پاس اور حطیم میں جمع ہو گئے تھے۔ لوگ گولیوں کی آوازیں بھی سن رہے تھے۔ لیکن حقیقت حال سے کوئی واقف نہ تھا کہ کیا چل رہا ہے۔ لمحہ بہ لمحہ یہ آواز بھی بلند ہو رہی تھی کہ: ”مہدی آ گئے“ لوگ شش و پنج کا شکار تھے کہ حرم کی حرمت پامال کرنے والا کیسے مہدی ہو سکتا ہے۔ حرم کے دروازے بند کرنے والا، حرم کے اندر گولیاں چلانے والا بھلا مہدی کیسے ہو سکتا ہے۔ اس ہنگامی اور غیر متوقع حالت میں بھی لوگ اگر چہ تشویش میں مبتلا تو تھے۔ لیکن پریشان نہ تھے۔ اس لئے کہ کعبے کی ہیبت اور عظمت کے سامنے دنیا کے انسانوں کی کیا ہیبت ہوگی۔ جس سے لوگ پریشان ہوں۔
اس فاسد گروہ کے کچھ لوگ جہاں سے اذان ہوتی ہے اس پر چڑھ گئے۔ وہاں موجود افراد کو دھکے دے دے کر باہر نکال دیا۔ ان میں سے ایک نے لاؤڈ سپیکر سنبھال کر عربی میں تقریر شروع کر دی۔ حمد وثنا کے بعد چند احادیث پڑھیں۔ قرآن کی آیت کا حوالہ دیا اور پھر یہ اعلان کیا کہ ”مہدی منتظر آ گیا“ اور پھر کچھ دیر بعد رکن اور مقام ابراہیم کے درمیان والی جگہ پر لوگوں سے بیعت لے گا۔ اس کی یہ تقریر تمام حاضرین سن رہے تھے۔ یہ کہنے کے بعد اسی آدمی نے لاؤڈ سپیکر پر فوجی ہدایات دینی شروع کیں۔ ”يا احمد! الى جهة الشرقية يا سلطان! الغربية، الى جهة الشمالية“ اس طرح مختلف افراد کو وہ پکار پکار کر حرم شریف کے حساس حصوں کی طرف بھیج رہا تھا اور انہیں یہ ہدایت بھی کرتا کہ ہر اس شخص کو گولی کا نشانہ بنائیں جو ان سے تعارض کرے۔ فوجی ہدایات دینے کے بعد اس شخص نے دوبارہ خطبہ شروع کیا اور کچھ احادیث پڑھنے کے بعد کہا کہ آج تم لوگ جس شخص کی بیعت کرو گے وہ مہدی موعود ہے۔ نام اس کا محمد ہے۔ والد کا نام عبداللہ اور خاندان قریش ہے۔ سلسلہ نسب حضرت حسین بن علی ؓ سے ملتا ہے اور یہ حضرت فاطمہ ؓ کی اولاد میں سے ہیں۔ اس شخص میں وہ تمام صفات موجود ہیں جو ”مہدی المنتظر“ کے لئے مختلف احادیث میں بیان ہوئی ہیں۔ اس کے بعد خطیب نے کہا کہ ہم میں سے ۵۰ سے زائد آدمیوں نے اس کو خواب میں دیکھا ہے اور یہی مہدی ہے۔ تم لوگوں نے بہرحال اس کی بیعت کرنی ہے۔
اس کے بعد اس شخص نے دوبارہ فوجی ہدایات دینی شروع کیں اور حرم کی نچلی وسطی اور دوسری منزل کے علاوہ اپنے گروہ کے کچھ لوگوں کو میناروں پر چڑھنے کا حکم دیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہی شخص گروہ کا سربراہ اور مہدی موعود ہونے کا مدعی ہے۔ اس شخص کا اپنا نام ”جھیمان العتیبی“ تھا۔ کچھ دیر بعد سعودی حکومت نے لاؤڈ سپیکر کا نظام خراب کر دیا۔ جس سے اس کے اعلانات سننے بھی بند ہو گئے۔ فجر کی نماز سے لے کر ۹ بجے تک کسی کو حرم سے باہر نکلنے نہ دیا گیا۔ ایک دو افراد بمشکل باہر نکلے تھے۔ باقی سارے نمازی اندر قید تھے۔ شاید کوئی اور مقام ہوتا تو ان درندہ صفت لوگوں کے اس فعل سے لوگ بوکھلا جاتے اور پریشان ہو جاتے۔ لیکن مسجد الحرام جیسی متبرک جگہ تھی جس کو اسلامیان عالم اپنے لئے دارالامان سمجھتے ہیں۔ ہر ایک یہ سمجھتا تھا کہ یہاں کی موت سے بہتر موت نہیں ہو سکتی۔ اس لئے مطمئن اور مسرور تھے۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
یہ خبر آگ کی طرح پھیل چکی تھی۔ سعودی حکومت اس فتنے سے نمٹنے کے لئے پوری طرح تیار تھی۔ لیکن حرم کے تقدس اور حرم شریف کے اندر موجود لوگوں کی سلامتی کی خاطر بڑی احتیاط سے کام لیا جارہا تھا۔ حرم کے راستے بند کر دیئے گئے تھے اور فوج، پولیس اور نیشنل گارڈ کے رضا کار حرم کے ارد گرد پھیل گئے تھے۔ سعودی عرب کے بادشاہ ”خالد بن عبدالعزیز“ نے علماء اور مجلس شوریٰ سے فتویٰ طلب کیا۔ تمام جید اور ممتاز مفتیان کرام نے فتویٰ دیا کہ حرم شریف کو ان مفسدین سے پاک کرنے کے لئے ضروری اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔ شام کے وقت شاہ خالد کے حکم سے وزیر دفاع نے ان مرتدین کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا۔ کوہ مروہ کی طرف اور بعض دیگر اطراف سے فوج حرم شریف میں داخل ہو گئی۔ فوج کو مسجد الحرام کی وسطی اور اوپر والی منزل کو پاک کرنے میں ۳ دن لگ گئے ۔ دراصل ان مرتدین نے مسجد حرام کے کونے ، ستون اور دوسری ایسی جگہوں میں پناہ لے رکھی تھی جو ان کے لئے ایک مورچہ کا کام کرتی۔ دوسری طرف سعودی فوج جارحانہ کارروائی نہیں کر رہی تھی ۔ بلکہ حرم شریف کے تقدس کے پیش نظر نہایت محتاط کارروائی کر رہی تھی کہ مسجد حرام میں کوئی جنایت نہ ہو اور اگر کہیں خون بہانا ناگزیر ہو تو کوشش رہے کہ خون کم سے کم بہے ۔ اب فوج کے لئے پریشان کن مسئلہ میناروں کا تھا۔ مسجد الحرام کے یہ سارے مینار ایک مضبوط دفاعی مورچہ کی حیثیت رکھتے تھے۔ میناروں پر قابض ہونے کے کچھ دیر بعد تک یہ لوگ مقابلہ کرتے رہے ۔ لیکن بالآخر بڑی حکمت عملی اور دانشمندی سے میناروں میں موجود لوگوں کو فوج نے زندہ پکڑ لیا۔ میناروں کے بعد مسجد الحرام کے تہ خانوں میں جہاں آب زمزم اور ۱۲۷۰ ایسے کمرے ہیں جہاں پر حرم کے خدمت گاروں کی رہائش تھی ، میں ابھی مرتدین موجود تھے۔ یہ جگہ ان کے لئے ایک مضبوط قلعہ کی حیثیت رکھتی تھی ۔ لیکن سعودی فوج اور نیشنل گارڈ نے محاصرہ کر کے کچھ افراد کو زندہ گرفتار کر لیا اور کچھ لڑائی میں مارے گئے ۔ اس طرح تقریباً دو ہفتوں میں ان مرتدین کا صفایا کیا گیا۔
ان لوگوں میں زیادہ تعداد سعودی شہریوں کی تھی ۔ اس کے علاوہ مصر، جنوبی یمن اور کویت کے لوگ بھی شامل تھے۔ ان دو ہفتوں تک مسجد الحرام عام نمازیوں کے لئے مکمل بند رہی ۔ نماز اور طواف موقوف رہے ۔ یہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا تھا ۔ جب مرتدین کا صفایا ہو گیا اور مسجد کو کھول دیا گیا تو اس کی ابتداء خود سعودی حکمرانوں نے کی ۔ شاہ خالد اور شاہی گھرانے کے دیگر افراد طواف اور شکرانے کے نوافل ادا کئے ۔ جب عام لوگوں کے لئے مسجد حرام کے دروازے کھل گئے تو لوگوں نے نہایت مسرت و شادمانی کا مظاہرہ کیا اور تکبیر وتہلیل بلند کرتے ہوئے خوشی خوشی مسجد میں داخل ہوتے گئے ۔
(لولاک مورخہ ۱۰؍ دسمبر ۱۹۷۹ء)
امام مہدی پاکستان میں
اس واقعہ کے کچھ ہی عرصہ بعد پاکستان کے ایک یاوہ گو نجومی نے یہ پیش گوئی کی کہ امام مہدی پاکستان میں عنقریب آئے گا ۔ نجومی نے لکھا کہ وہ شخصیت جسے مسلمان مہدی اور عیسائی مسیح کہتے ہیں نیز یہودی اور ہندو بھی اپنی کتابوں کے مطابق اسی شخصیت کے منتظر ہیں ۔ وہ پندرہویں صدی کے پہلے سال یعنی ۱۴۰۱ھ میں ظاہر ہوگا اور اس کا ظہور پاکستان میں ہوگا ۔ نام نہاد نجومی کی اس بے بنیاد پیش گوئی پر مسلمانوں نے انتہائی غم و غصے کا اظہار کیا اور حکومت سے اس کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ۔ ہفت روزہ لولاک ، چٹان اور ملک کے دیگر معتبر رسائل وجرائد میں اس موضوع پر لکھا گیا اور اس فاتر العقل نجومی کے استیصال کا مطالبہ کیا گیا۔ مسلمانوں کے اس ردِعمل سے نجومی حواس باختہ ہوا اور اس کی طرف سے پھر ایسی کوئی الٹی سیدھی حرکت دیکھنے میں نہ آئی ۔
(لولاک مورخہ ۱۶؍ دسمبر ۱۹۷۹ء)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء
ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
تحریک ختم نبوت
کے سلسلہ میں
۱۹۸۰ء
کے
حالات و واقعات
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معصوم
۱۹۸۰ء اسلامیان عالم کے لئے سخت آزمائش اور ابتلاء کا سال تھا۔ ہر طرف سے اسلام اور مسلمانوں پر باطل کی یلغار شروع تھی۔ لبنان میں عیسائی اور یہودی مل کر مسلمانوں کے خلاف برسر پیکار تھے۔ وہاں کا بیشتر علاقہ یہودی درندوں کی مسلسل بمباریوں سے کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا تھا اور بیروت جیسا خوبصورت شہر اجاڑ بستی کا منظر پیش کر رہا تھا۔ دوسری طرف اسرائیل نے مسلمانوں کے قبلہ اوّل پر نہ صرف غاصبانہ قبضہ جمایا ہوا تھا۔ بلکہ اس کے کچھ حصے شہید بھی کئے تھے۔ یہ قبضہ آج تک جاری ہے۔ اب تو یہودی پنجے بڑھتے بڑھتے پورے فلسطین پر قابض ہو گئے۔ صرف ایک مختصر سی پٹی مسلمانوں کے پاس رہ گئی جو چاروں طرف سے یہودی آبادی میں گھری ہوئی ہے اور جس کا کوئی الگ راستہ نہیں ہے۔ ہندوستان میں مغربی بنگال میں غیر قانونی آباد کاروں کے نام پر مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ کیا گیا تھا۔ افغانستان میں آگ اور خون کا بازار گرم تھا۔ روسی مداخلت کے نتیجے میں وہاں ہزاروں مسلمان جام شہادت نوش کر چکے تھے۔ لاکھوں گھر سے بے گھر ہو کر پاکستان میں پناہ گزین تھے۔ اس کے علاوہ وسطی ایشیاء کے اسلامی ممالک میں بھی روس حیوانیت کا ننگا ناچ ناچ رہا تھا۔
یہ اور ان جیسے دیگر دلدوز حقائق کی وجہ سے عالم اسلام کے مسلمان دکھ، افسوس اور رنج و غم میں مبتلا تھے۔ اس وجہ سے مجلس تحفظ ختم نبوت کی تبلیغی سرگرمیاں کچھ ماند پڑ گئی تھیں اب چونکہ مرزائیت کی حقیقت مسلمانان عالم پر آشکارا ہو چکی تھی اور ان کے کفر سے ہر خاص و عام آگاہ تھا۔ اس لئے اب وہ کھلے عام اپنے مذہب کا پرچار نہیں کر سکتے تھے۔
امت مسلمہ کی مذکورہ حالت زار کی وجہ سے مسلمانوں کے اجتماعی جلسے اور تقاریب نہایت کم ہو گئیں۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کی سرگرمیوں میں بھی واضح فرق آگیا۔ اس سال مجلس تحفظ ختم نبوت سے متعلق چند عظیم ہستیوں کے سانحہ ارتحال سے بھی تحریک کے زور میں کمی آگئی تھی۔ لیکن ان گمبھیر حالات کے باوجود پھر بھی مجلس کے مبلغین ملک کے اطراف و جوانب میں ختم نبوت کا پیغام پہنچانے میں تگ و دو کر رہے تھے۔ مبلغین کی مختلف مقامات پر تبلیغی سرگرمیوں اور ختم نبوت کے حوالے سے اجتماعی پروگراموں کی مختصر کارگزاری پیش کرتے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں:
ختم نبوت گوجرہ
۲۱، ۲۲ فروری ۱۹۸۰ء کو مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرہ نے ایک عظیم الشان کانفرنس کا انعقاد کیا۔ جس میں قرب و جوار کے کثیر مسلمانوں نے شرکت کی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے تمام مرکزی اور علاقائی قائدین شریک ہوئے۔ حضرت مولانا خواجہ خان محمد نے پروگرام کی صدارت کی۔ ان کے علاوہ حضرت مولانا تاج محمود، مولانا محمد مالک کاندھلوی، مولانا قاری حنیف ملتانی، مولانا محمد اشرف ہمدانی، مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا عبدالرحیم اشعر، مولانا اللہ وسایا، مولانا عبدالقادر آزاد، مولانا عبدالحکیم، مولانا عبدالرحمن اور مقامی علماء کی ایک بڑی تعداد نے تشریف آوری کی اور بیانات کئے۔
کانفرنس کے انتظامات کے لئے مجلس استقبالیہ تشکیل دی گئی تھی۔ علماء کی رہائش کا معقول انتظام کیا گیا تھا۔ ختم نبوت کے رضا کار مستعدی سے دو روز تک مصروف کار رہے۔ پنڈال کو شامیانوں اور قناتوں سے نہایت خوبصورتی کے ساتھ ڈھانپا ہوا تھا۔ تیس کے قریب رنگ برنگے بینر خوب بہار دکھلا رہے تھے۔ اسٹیج کو علماء اور معززین شہر کے لئے خوب سجایا گیا تھا۔ بارش کے باوجود گوجرہ کے عوام و خواص
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
نے خصوصی دلچسپی لی اور کانفرنس انتہائی کامیاب ہوئی۔ خصوصاً مجلس تحفظ ختم نبوت کے حضرت مولانا محمد اسلم صاحب نے اس کانفرنس کی کامیابی کے لئے شب و روز ایک کر دیئے تھے۔ کانفرنس میں فیصل آباد، ٹوبہ، جھنگ اور آس پاس کے متعدد چکوک سے عوام ریل، بس اور ٹریکٹروں کے ذریعے پہنچ کر شامل ہوتے رہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ ۱۹۵۳ء کے بعد اتنی بڑی اور اتنے وسیع انتظامات کے تحت گوجرہ میں کوئی کانفرنس منعقد نہیں ہوئی۔
کانفرنس کی پہلی نشست ہفتہ کے روز بعد نماز عشاء مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا تاج محمود ایڈیٹر ہفت روزہ لولاک فیصل آباد کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ جس میں مولانا قاری محمد حنیف صاحب ملتان ، مولانا محمد اشرف ہمدانی خطیب فیصل آباد، مولانا اللہ وسایا صاحب خطیب ربوہ اور مولانا عبدالمجید انور شیخ الحدیث ساہیوال نے کامیاب تقریریں کیں۔ مولانا قاری محمد حنیف صاحب نے اپنی تقریر دلپذیر میں مسئلہ ختم نبوت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی جب کہ مولانا محمد اشرف ہمدانی نے اس بات پر زور دیا کہ جب آئین پاکستان کی رو سے کسی بھی جھوٹے مدعی نبوت کو ماننے والے غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جاچکے ہیں تو ان کی تبلیغ پر بھی پابندی لگائی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ دنوں سے مدعی نبوت کے پیروکاروں نے پر پرزے نکالنے شروع کر دیئے ہیں۔ ہم ملکی حالات کی وجہ سے ایسی صورت پیدا نہیں کرنا چاہتے۔ جس سے اسلام اور ملک دشمن عناصر کو فائدہ پہنچے تاہم حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ آئین پاکستان کی پابندی کرائے اور ختم نبوت کے خلاف منکرین ختم نبوت کی سرگرمیوں کا نوٹس لے۔
خطیب ربوہ مولانا اللہ وسایا نے مجلس تحفظ ختم نبوت کی گزشتہ کارگزاریوں پر خطاب کیا۔ ربوہ میں مجلس کی سرگرمیوں کو بیان کیا۔ نیز تبلیغی میدان میں مجلس کے مبلغین جس طرح شب و روز مصروف ہیں سامعین کو ان سے آگاہ کیا۔ اتوار کے روز کی نشست میں جامعہ رشیدیہ کے شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ، مولانا محمد عمر لدھیانوی، مولانا احمد سعید لدھیانوی، مولانا محمد عبداللہ اسلام آباد، مولانا محمد شریف جالندھری سیکرٹری جنرل پاکستان مجلس ختم نبوت، مولانا ضیاء الدین آزاد، مولانا محمد اقبال اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔
آخری نشست رات کو بعد نماز عشاء ہوئی جس کی صدارت کے فرائض مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا تاج محمود نے انجام دیئے۔ سٹیج سیکرٹری خطیب ربوہ مولانا اللہ وسایا صاحب، قاری محمد عالمگیر صاحب کی تلاوت قرآن پاک کے بعد صوفی احمد بخش چشتی اور مدیر تبصرہ جناب مرزا غلام نبی جانباز نے اپنا کلام پیش کیا۔ جس کے بعد مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے ناظم تبلیغ اور مشہور مناظر حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر نے تقریر کی۔ مولانا عبدالرحیم اشعر کی تقریر کے بعد شاعر اسلام جناب سید امین گیلانی نے اپنے کلام سے حاضرین کو محظوظ کیا۔ ان کے بعد بالترتیب مولانا محمد مالک کاندھلوی، مولانا عبدالقادر آزاد، مولانا عبدالحکیم صاحب وغیرہم نے بیانات فرمائے۔ کانفرنس کا اختتام حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب کی پر تاثیر دعا پر ہوا۔ قرارداد مولانا تاج محمود نے پیش کی۔ جسے متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔
(لولاک مؤرخہ ۲۷؍ فروری ۱۹۸۰ء)
جہاں قدم میرے پہنچے
فروری کے آخری عشرے میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ اور ہفت روزہ لولاک کے سب ایڈیٹر حضرت مولانا اللہ
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
وسایا مدظلہ نے پندرہ روزہ تبلیغی دورہ کیا۔ جس میں متعدد مقامات پر بیانات کے علاوہ دیگر جماعتی امور انجام پائے۔ حضرت مولانا نے اپنے اس سفر کی روئیداد خود مرتب فرمائی ہے۔ دلچسپ ہونے کے ساتھ ساتھ معلومات افزاء بھی ہے۔ آپ بھی استفادہ فرمائیں:
راقم الحروف نے یکم ربیع الاوّل کو ایک روز گھر پر قیام کے بعد جماعتی دورہ شروع کیا۔ گھر سے ملتان مرکزی دفتر پہنچا۔ جہاں حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر، مرکزی ناظم اعلیٰ اور مولانا کریم بخش سے ملاقات ہوئی۔ وہاں سے فیصل آباد کا سفر کیا۔ دوران سفر دوصد صفحات پر مشتمل مختلف کتابچوں کا مطالعہ کیا۔ کمیونزم کا سر پر منڈلانا اور علماء حضرات کا فرقہ وارانہ جنگ وجدل میں تیز تر ہونا کسی گہری سازش کا نتیجہ نہیں تو کم از کم ہماری بدنصیبی ضرور ہے۔ کتابچے کیا تھے۔ انتہائی زہریلے اور اتحاد امت کے لئے سخت نقصان دہ...... الغرض رات فیصل آباد میں قیام کیا۔ حضرت مولانا تاج محمود سے اہم امور پر مشورہ کے بعد ۴ ربیع الاوّل کو ربوہ (چناب نگر) پہنچا اور حضرت مولانا محمد حیات سے ملاقات کی ان کے ہمراہ لاہور کا پروگرام تھا۔ لیکن بوجوہ وہ پروگرام ملتوی ہو گیا۔ ربوہ میں ضروری امور نمٹانے کے بعد رات کو چنیوٹ قیام کیا اور دوستوں سے ملاقات کی۔ اگلے روز سیرت کانفرنس ربوہ کے اشتہارات اور دوسرے امور کے سلسلہ میں فیصل آباد پہنچا۔ جہاں علماء کرام سے ملاقاتیں کیں۔ مرکزی مبلغ حضرت مولانا سید منظور احمد شاہ حجازی سے بھی ملاقات ہوئی۔ علاوہ ازیں مولانا صاحبزادہ امداد الحسن نعمانی خطیب دھوبی گھاٹ سے بھی ملاقات کی۔
شاہ کوٹ
۶ ربیع الاوّل کی صبح فیصل آباد سے شاہ کوٹ روانہ ہوا۔ جہاں مدرسہ جامعہ اشرفیہ میں جمعہ کے اجتماع میں سیرت النبی اور فضائل تبلیغ پر معروضات پیش کیں۔ تبلیغی جماعت کے احباب بھی تشریف لائے ہوئے تھے۔ جمعہ پر بھر پور حاضری تھی۔ حضرت مولانا عبداللطیف انور مہتمم جامعہ اشرفیہ جو ضلع شیخوپورہ کی معروف شخصیت ہیں۔ ان سے ان کے مدرسہ کے مدرسین مولانا مفتی غلام مرتضیٰ، مولانا قاری محمد شریف جناب سیف الرحمن، قاری محمد شفیع، مولانا محمد حسن فاضل کراچی، مولانا محمد سعید انور سے ملاقات ہوئی۔ عصر کے بعد شاہ کوٹ کی معروف مذہبی شخصیت جن کے بارے میں حضرت لاہوری نے مراقبہ کر کے فرمایا تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے ولی ہیں اور ان کے مزار پر انوارات کی بارش نازل ہوتی ہے۔ جو مزار بابا نولکھ ہزاری کے نام سے مشہور ہے اور جو علاقہ بھر میں مرجع خلائق ہے۔ اس پر حاضری دی۔ محکمہ اوقاف کے ضلعی ایڈمنسٹریٹر جناب رانا بن یامین سے ملاقات ہوئی۔ رات کو شاہ کوٹ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کا انتخاب ہوا۔ علاقہ بھر میں کام کرنے کے منصوبہ پر غور و فکر کیا گیا۔ بحمداللہ تعالیٰ اس علاقہ میں کام کی خوب راہیں نکل رہی ہیں۔ فالحمد للہ علٰی ذلک ! رات ہی رات سفر کر کے بارہ بجے رات فیصل آباد دفتر لولاک آ کر قیام کیا۔
۷ ربیع الاوّل سے ۱۱ ربیع الاوّل تک سیرت کانفرنس ربوہ کے سلسلہ میں ضروری کارروائی کے لئے جھنگ چنیوٹ ربوہ میں مصروف رہا۔ چنیوٹ قیام کے دوران شیخ منظور احمد، چوہدری ظہور احمد، حاجی فیروز، مولانا خدا بخش سے ربوہ جلسہ کے سلسلہ میں مشاورت ہوتی رہی۔ جھنگ ضلع کچہری میں جھنگ شہر کے تمام علماء کرام کو ایک ساتھ دیکھ کر بے پناہ خوشی ہوئی۔ ان کے تمام تر اختلافات ختم ہو گئے ہیں اور وہ ایک ساتھ کام کر رہے ہیں۔ ان حضرات کے اتحاد کو دیکھ کر دل کی گہرائیوں سے دعا نکلی کہ اللہ پاک ان کو بیش از بیش اتحاد و اخوت کے جذبہ سے سرفراز فرمائیں۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
جھنگ کے علماء
مولانا سید غلام مصطفیٰ شاہ جھنگ میں بہت بڑی طاقت ہیں۔ مولانا اسد اللہ صاحب بے پناہ محنتی ہیں۔ مولانا حق نواز بلند پایہ خطیب ہیں۔ مولانا عبد الرشید مدنی منجھے ہوئے عالم دین ہیں۔ مولانا مفتی عبد الحلیم سب کے مخدوم ہیں۔ جناب مولانا محمد حیات تونسوی کو قدرت نے بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ مولانا سراج الدین صاحب کی طبیعت میں شدت ہے۔ مولانا ولی محمد قابل احترام ہیں۔ مولانا صادق حسین شاہ مصلحتوں سے کوسوں دور ہر بات ڈنکے کی چوٹ کہنے کے رسیا ہیں۔ ان حضرات کا اتحاد قدرت کا عطیہ ہے۔ کاش سارے ملک میں اسی طرح علماء کرام متحد ہو جائیں۔ شام کو چنیوٹ آیا۔ جناب ڈی ایس پی صاحب کے دفتر گیا۔ معلوم ہوا کہ جناب کیس کی تفتیش کے سلسلہ میں فیصل آباد تشریف لے گئے ہیں۔ رات مسلم کالونی ربوہ میں قیام کیا۔ علی الصبح چنیوٹ گیا۔ جناب ڈی ایس پی صاحب سارا دن تشریف نہ لائے۔ سارا دن چنیوٹ قیام رہا۔ رات کو حضرت مولانا تاج محمود کی خدمت میں انتظامات جلسہ کی رپورٹ دینے کے لئے حاضر ہوا۔ رات دفتر لولاک قیام رہا۔
علی الصبح چنیوٹ آیا۔ چوہدری ظہور احمد ناظم اعلیٰ ختم نبوت چنیوٹ کے ہمراہ جناب ڈی ایس پی صاحب کے مکان پر ان سے ملاقات کی۔ درخواست پر مکمل رپورٹ ہوئی۔ جناب ایس پی کی نگاہ دوربین نے قانونی سقم دور کیا۔ فوری جھنگ گیا۔ ایس پی صاحب سے درخواست پر رپورٹ کرائی۔ ڈی سی صاحب کے دستخط ہونے تھے۔ مگر معلوم ہوا کہ وہ دورہ پر ہیں۔ جناب اے ڈی سی جی صاحب سے ملا۔ موصوف بڑے تپاک سے پیش آئے۔ مگر درخواست پر منظوری دینے سے معذوری ظاہر کر دی کہ یہ میرا کام نہیں ڈی سی صاحب کا ہے۔ رات کے دس بجے تک مولانا سید غلام مصطفیٰ شاہ، مولانا اسد اللہ قاسمی کے ہمراہ انتظار کیا۔ مگر ڈی سی صاحب تشریف نہ لائے۔ متعلقہ کلرک کو درخواست دی۔ چونکہ درخواست بالکل مکمل تھی۔ تمام مراحل طے ہو چکے تھے۔ صرف صاحب کے دستخط باقی تھے۔ ایک گونہ اطمینان ہوا۔ رات جھنگ گزاری۔
علی الصبح سفر کر کے ربوہ اسٹیشن مسجد محمدیہ دس بجے حاضر ہوا۔ جہاں سیرت کانفرنس شروع ہو چکی تھی۔ جو دن بھر جاری رہی۔ راقم وہاں سے الحاج خلیل احمد لدھیانوی اور مولانا محمد ضیاء القاسمی کے ہمراہ جھنگ پہنچا۔ جہاں جامع مسجد نور میں محکمہ اوقاف جھنگ کی طرف سے سیرت النبی کا جلسہ تھا۔ پون گھنٹہ سیرت النبی پر معروضات پیش کیں۔ رات جھنگ قیام رہا۔ علی الصبح سفر کر کے مسلم کالونی ربوہ آیا۔ جمعہ پڑھا۔ حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب اشعر کی زیارت کی۔ چار بجے کی ٹرین سے چوہڑ کانہ کے لئے سوار ہوا۔ رات آٹھ بجے وہاں پہنچا۔ مدرسہ عربیہ جامعہ اسلامیہ چوہڑ کانہ میں حضرت مولانا محمد یعقوب ربانی نے جلسہ سیرت النبی رکھا ہوا تھا۔ بحمدہ تعالیٰ پونے دو گھنٹے سیرت النبی ختم نبوت پر مفصل گزارشات عرض کیں۔ رات چوہڑ کانہ قیام رہا۔ علی الصبح سفر کر کے لاہور گیا۔ مگر مولانا کریم بخش کی عدم موجودگی کے باعث سفر ناکام رہا۔ مجبوراً فوراً واپسی کا سفر کیا۔ شام کو ربوہ مسلم کالونی آ کر قیام کیا۔
پندرہ روزہ تبلیغی سفر
سفر کے چند خصوصی اور اہم کام یہ ہیں:
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
- ......۱ جھنگ کے وکلاء میں مجلس کا انگلش میں چھپا ہوا لٹریچر تقسیم کیا۔
- ......۲ ضلعی و مقامی انتظامیہ کے سربراہان سے ملاقات ہوئی۔
- ......۳ کئی مقامات پر جلسہ و درس کے ذریعہ ہزاروں عوام تک مجلس کی آواز پہنچائی۔
- ......۴ علماء کرام سے مل کر ان کو مسئلہ کی اہمیت اور دشمنان کی خفیہ سرگرمیوں سے آگاہ کر کے اتفاق و اتحاد کی دعوت دی۔
- ......۵ کئی مقامات پر مجلس کی شاخیں قائم ہوئیں۔
اس میں کام کرنے کے راستے تلاش کئے ۔ دعا ہے کہ اللہ رب العزت اس محنت کو قبول فرمائے اور کل قیامت کے دن محمد عربی ﷺ کی شفاعت کا ذریعہ بنائے ۔ ریا سے نجات نصیب فرمائے ۔ خلوص سے بہرہ ور کرے ۔
(لولاک مؤرخہ ۵/مارچ ۱۹۸۰ء)
مولانا سید ممتاز الحسن شاہ کا تبلیغی دورہ
مجلس تحفظ ختم نبوت کھڑیانوالہ ضلع فیصل آباد کے مبلغ مولانا سید ممتاز الحسن شاہ صاحب نے مارچ میں جھنگ ، چیچہ وطنی ، ٹوبہ ٹیک سنگھ کا ۷ روزہ تبلیغی دورہ کیا ۔ اس دورہ میں انہوں نے مختلف اجتماعات سے خطاب کیا اور ملک میں اسلامی نظام کے لئے کلمہ خیر بلند کیا ۔ عوام کو مرزائیوں کی ریشہ دوانیوں سے آگاہ کیا اور ختم نبوت کی اہمیت سے لوگوں کو خبردار کیا۔
مولانا سید منظور شاہ حجازی کا دورہ
مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا سید منظور شاہ حجازی نے مارچ کے آخری عشرے میں رحیم یار خان ، بہاول پور ، میلسی ، کبیر والا ، پنوں عاقل ، جھنگ اور ملتان کا تبلیغی دورہ کیا۔ دورہ میں جماعتی تنظیم سازی کے علاوہ سیرت النبی کے موضوع پر تبلیغی جلسوں سے خطاب کیا ۔ دورہ میں آپ نے جماعتی امور کے حوالے سے جماعتی دوستوں سے بھی ملاقاتیں کیں۔
مبلغین ختم نبوت بہاول پور میں
اپریل ۱۹۸۰ء کو مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے مبلغین کے ایک وفد نے مجلس کے مرکزی مبلغ مولانا قاضی اللہ یار صاحب کی قیادت میں بہاول پور ڈویژن میں تین روزہ دورہ کیا جو نہایت ہی کامیاب رہا۔ پروگرام کی ابتداء مٹی رویا تحصیل بہاول نگر سے ہوئی ۔ یہاں ایک مسجد میں جلسہ کا پروگرام تھا ۔ پہلے مولانا محمد امیر صاحب جھنگوی مبلغ بہاول نگر نے خطاب کیا ۔ جب کہ شہر میں جامع مسجد مہاجر کالونی اور جامع مسجد ریلوے اسٹیشن میں درس قرآن کے لئے گئے ۔ مولانا فیض احمد صاحب ناظم اعلیٰ مجلس بہاول نگر بھی شریک وفد تھے ۔ پھر یہ وفد بنگلہ کی طرف روانہ ہوا ۔ وہاں چک نمبر ۱۶۹ مراد ، چک نمبر ۱۴۱ مراد ، چک نمبر ۱۶۸ مراد اور بنگلہ میں اجتماعات سے سیرت النبی ﷺ، ختم نبوت، حیات عیسیٰ علیہ السلام کے موضوع پر خطاب ہوئے۔
بعد از آں یہ وفد بہاول پور کی طرف روانہ ہوا۔ مولانا قاضی اللہ یار صاحب نے جامع مسجد اشرف غلہ منڈی میں درس قرآن مجید کے اجتماع سے خطاب فرمایا اور مجلس تحفظ ختم نبوت بہاول پور کے مقامی رہنماؤں اور کارکنوں سے ملاقاتیں ہوئیں ۔ پھر یہ وفد سمہ سٹہ گیا ۔ جہاں وفد کو حافظ شیر محمد صاحب خطیب مدینہ مسجد ، حاجی محمد سلیم عباسی اور دیگر کارکنوں نے خوش آمدید کہا ۔ وہاں تقریر اور ملاقاتوں کے بعد یہ وفد عازم رحیم یار خان ہو گیا ۔ جہاں مکی مسجد ، ریلوے اسٹیشن ، جامع مسجد میں درس قرآن مجید ہوا۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
مجلس تحفظ ختم نبوت رحیم یارخان کے راہنماؤں مولانا غلام ربانی ، مولانا بشیر احمد حامد حصاروی ، حافظ محمد الیاس اور نظام العلماء رحیم یارخان کے مولانا قاری حماد اللہ شفیق ، مولانا رشید احمد لدھیانوی ، مولانا عبدالصبور خان ڈاہر ، مولانا شفیق الرحمٰن درخواستی نے مجلس کے پروگرام پر مسرت کا اظہار فرمایا۔ بعد ازاں مولانا قاضی اللہ یار صاحب ، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے چک نمبر ۱۷/این. پی کا دورہ کیا۔ چک نمبر ۱۷/این. پی کوٹ جو وہاں سے دس کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے جہاں مقامی کارکنوں چوہدری سعید احمد ، چوہدری عبدالغنی نے وفد کا خیر مقدم کیا۔ عشاء کی نماز کے بعد مذکورہ بالا دونوں مبلغین نے منکرین ختم نبوت کا خوب کچا چٹھا کھولا۔ الحمدللہ ! یہ وفد ان چکوک میں گیا جہاں ساٹھ سال میں اور بعض چکوک میں پہلی مرتبہ ختم نبوت کا ڈنکا بجایا گیا۔ اس پروگرام سے فارغ ہو کر قاضی اللہ یار صاحب شورکوٹ کی طرف روانہ ہوئے۔ جہاں انہوں نے جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرنا تھا۔ جب کہ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے سنجرپور میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کیا۔ رات کو چک نمبر ۱۹۵ باڑا ( جہاں مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری کے صاحبزادہ حافظ حفظ الرحمٰن صاحب قیام پذیر ہیں ) میں قیام کیا اور صبح کی نماز کے بعد درس قرآن مجید کے اجتماع سے خطاب فرمایا۔ مولانا عبدالمجید صاحب ، الحاج برکت اللہ صاحب ، حافظ حفظ الرحمٰن جالندھری نے جماعت کا بھرپور تعاون فرمایا۔
(لولاک اپریل ۱۹۸۰ء)
شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان کا سانحہ وفات
سال ۱۹۸۰ء مسلمانان عالم کے لئے بہت بڑے حادثات کی خبریں ساتھ لایا تھا۔ عالمی سطح پر ایران اور عراق حالت جنگ میں تھے۔ فلسطینیوں پر اسرائیل نے اپنے خونی پنجے مارنے شروع کر دیئے تھے۔ سوویت یونین نے افغانستان پر قبضہ کرنے کی مہم کا آغاز کر رکھا تھا۔ لیبیا اور مصر میں چپقلش چل رہی تھی۔ ان حادثات کے علاوہ ملکی سطح پر بھی مسلمانوں کو روح فرسا حادثات کا سامنا تھا۔ ان حادثات میں ایک جانکاہ حادثہ شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ کی وفات کا بھی تھا۔ ۲۸ مئی ۱۹۸۰ء کی صبح کو آپ اس عالم رنگ و بو سے عالم بقاء کی طرف کوچ فرما گئے۔
حضرت شیخ القرآن موضع دریا ضلع اٹک کیمبل پور میں پیدا ہوئے تھے۔ آپ کے والد ماجد جناب ملک فیروز خان بڑے زمیندار اور نمبردار تھے۔ والد نے اس زمانہ کی مناسبت سے انہیں دنیاوی تعلیم دلوائی تھی۔ میٹرک اور مڈل تک تعلیم آپ نے اپنے آبائی علاقہ میں حاصل کی ۔ آپ کے والد ماجد کی خواہش تھی کہ آپ عصری تعلیم میں زیادہ سے زیادہ دلچسپی لیں اور اعلیٰ تعلیم حاصل کریں ۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو منظور تھا کہ اس بچہ نے آگے چل کر شیخ القرآن کہلوانا ہے۔ اس لئے آپ کے دل میں علم دین کا داعیہ پیدا ہوا اور پھر گھر بار چھوڑ کر آپ نے دینی علم کے لئے اسفار کئے۔
ابتدائی تعلیم صرف نحو اور فقہ کی چند کتابیں آپ نے ضلع راولپنڈی میں پڑھیں۔ اس کے بعد آپ پھالیہ ضلع گجرات تشریف لے گئے۔ وہاں پر آپ نے اس دور کے امام اور نقلی و عقلی علوم کے ماہر حضرت مولانا بابا غلام رسول صاحب انہی سے منطق و فلسفہ و اصول پر مبنی کتابیں پڑھیں۔ گجرات میں حضرت مولانا ولی اللہ سے علم ریاضی اور ہندسہ میں استفادہ کیا۔ علم تفسیر آپ نے واں بھچراں ضلع میانوالی میں پڑھی۔ وہاں پر اس دور کے مفسر قرآن ، ولی دوراں ، حضرت مولانا حسین علی سے تفسیر میں خصوصی فیض حاصل کیا۔ دورۂ حدیث کے لئے آپ دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے۔ کچھ عرصہ دارالعلوم دیوبند میں رہے ۔ دورۂ حدیث کی تکمیل آپ نے ڈابھیل میں امام العصر حضرت
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
مولانا انور شاہ کشمیری اور شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی سے فرمائی۔ تعلیم حدیث کے دوران آپ نے طالب علموں کو ترجمہ قرآن پڑھایا۔ فراغت کے بعد آپ کی غیر معمولی لیاقت کی پیش نظر آپ کو ڈابھیل میں بطور مدرس رکھا گیا۔ کچھ عرصہ وہاں مقیم رہنے اور پھر وہاں سے بھیرہ منتقل ہوئے۔ کچھ عرصہ وہاں رہے پھر گجرات اور پھر وہاں سے راولپنڈی منتقل ہو گئے۔
۱۹۴۲ء کو آپ نے راولپنڈی میں ایک جامع مسجد پرانا قلعہ میں جمعہ پڑھانا شروع کر دیا اور ساتھ دینی طلباء کرام کو درس دیتے تھے۔ اس طرح آپ عوام و خواص کو مذہب اسلام سے روشناس کراتے تھے۔ کچھ عرصہ بعد آپ نے وسیع جامع مسجد اور تعلیم القرآن مدرسہ کی بنیاد راجہ بازار میں رکھی۔ یہ مدرسہ اور جامع مسجد آج بھی ایک کامیاب ادارے کی شکل میں موجود ہے۔
مولانا غلام اللہ خان صاحب ایک جید عالم دین ہونے کے ساتھ نہایت جری اور بہادر بھی تھے۔ کسی سے ڈرنے والے نہ تھے۔ برملا کلمہ حق کہتے۔ صدر ایوب کے دور میں آپ ایک سال ۶ ماہ تک نظر بند رہنے پر ان کو کوئی خرید نہ سکا نہ حق بات سے محروم کر سکا۔ تحریک ختم نبوت میں آپ پیش پیش تھے اور تمام تقاریب اور پروگرام میں برضا و خوشی شرکت فرماتے تھے۔ تحریک نفاذ نظام مصطفیٰ میں بھی کئی بار آپ گرفتار ہوتے تھے۔ امام التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری نے آپ کے بارے میں فرمایا تھا کہ غلام اللہ خان توحید کا سچا عاشق ہے۔ وہ جب قرآن پاک پڑھتا ہے تو دشمن بھی جھوم جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دل کے لگاؤ سے قرآن پڑھتا ہے۔
آپ کے دورۂ تفسیر میں جغرافیائی سرحدیں مٹ جاتی تھیں۔ عرب ممالک، ایران، عراق، افغانستان، ہندوستان، بنگلہ دیش، برما، ملایا، انڈونیشیا ممالک سے طلباء آ کر آپ سے فیض حاصل کرتے اور آپ کی تفسیر کی فیوضات سے بہرہ ور ہوتے۔
مولانا مرحوم اپنی ذات میں ایک انجمن ایک ادارہ اور ایک تاریخ تھے۔ انہوں نے حق گوئی، بے باکی اور جرأت کی ایک تاریخ چھوڑی ہے جو انہیں علماء دیوبند اور خاص طور پر گرامی قدر استاد مفسر قرآن حضرت مولانا حسین علی صاحب واں بھچراں ضلع میانوالی سے ورثے میں ملی تھی۔
شیخ القرآن ایک عرصہ تک مجلس احرار اسلام میں حضرت امیر شریعت کے ساتھ وابستہ رہے۔ قیام پاکستان کے بعد عملی سیاست سے کنارہ کش رہے اور جمعیت اشاعت التوحید والسنۃ کے نام سے ایک مذہبی تنظیم کی بنیاد رکھی جس کے وہ ناظم اعلیٰ تھے۔ بعد ازاں دو تین سال قبل ایک اور دینی تنظیم ”سواد اعظم اہل سنت والجماعت“ کی داغ بیل ڈالی۔ اس کی نظامت علیاء بھی تمام علماء نے آپ ہی کے سپرد کی۔ انہوں نے ۱۹۵۳ء اور ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت اور سابقہ حکومت کے خلاف چلائی جانے والی تحریک میں سرگرمی کے ساتھ حصہ لیا۔ بلکہ راولپنڈی میں ان کا مدرسہ دارالعلوم تعلیم القرآن راجہ بازار ان تمام تحریکوں کا مرکز رہا ہے۔ مولانا حکام وقت کو ان کی غلطیوں پر برملا ٹوکتے رہے۔ جس کی وجہ سے ۱۹۵۸ء میں آپ کو ایک سال قید اور ۲۵ ہزار جرمانے کی سزا ہوئی۔ مدرسہ تعلیم القرآن راجہ بازار کے علاوہ آپ کا ایک مدرسہ ”اشاعت الاسلام“ کے نام کیمبل پور میں بھی تھا۔
آپ کی وفات کی خبر ریڈیو پاکستان سے نشر ہوئی۔ جہاں جہاں اور جس جس کو خبر ملتی گئی فوراً راولپنڈی کے لئے رخت سفر باندھتا رہا۔ وفات سے تھوڑا سا عرصہ قبل آپ سعودی عرب تشریف لے گئے تھے۔ زیارت حرمین شریفین کے بعد دوسرے عرب ممالک کا پروگرام بن گیا۔ دبئی پہنچے تو وہاں کے دوستوں نے رات کو جلسہ عام کا اعلان کر دیا۔ جلسہ کی کارروائی سے پہلے تلاوت قرآن مجید ہو رہی تھی کہ حضرت شیخ نے سینے میں درد محسوس کیا جو شدید ہوتا چلا گیا۔ آپ کو ہسپتال لے جایا گیا۔ فوری طبی امداد پہنچائی گئی۔ اسی دوران دل کا دورہ
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
پڑا۔ جو جان لیوا ثابت ہوا اور آپ نے جان جان آفریں کے سپرد کر دی۔
اسی روز آپ کی میت کو بذریعہ ہوائی جہاز پاکستان لایا گیا۔ اعلان یہ تھا کہ آپ کی میت رات ۹؍ بجے راولپنڈی پہنچے گی۔ ایسے میں اگرچہ بہت کم لوگ راولپنڈی پہنچ سکے۔ تاہم اس کے باوجود ہوائی اڈے پر ہزاروں افراد جمع ہو گئے تھے۔ ہر چہرہ اداس اور ہر آنکھ اشکبار تھی۔ آپ کی تابوت کو ہزاروں افراد کے جلوس کی شکل میں دارالعلوم تعلیم القرآن راجہ بازار لے جایا گیا۔ تابوت کو مسجد میں رکھا گیا۔ پوری رات مسجد میں آپ کے ایصال ثواب کے لئے قرآن خوانی ہوتی رہی۔ صبح آٹھ بجے نماز جنازہ کا انتظام تھا۔ لیاقت باغ راولپنڈی میں نماز جنازہ ہونی تھی۔ جنازہ مولانا سید عنایت اللہ بخاری نے پڑھایا۔ جنازہ کے بعد آپ کی میت کو آبائی شہر کیمبل پور روانہ کیا گیا۔ وہاں بھی دو مرتبہ نماز جنازہ پڑھی گئی اور وہیں پر تدفین ہوئی۔ آپ کی وفات پر ملک کے ممتاز سیاسی و مذہبی رہنماؤں نے آپ کے بیٹوں سے تعزیت کی۔ اس کو عظیم سانحہ قرار دیا۔ بیرون ممالک کے علماء اور سربراہان نے بھی آپ کی موت پر اظہار رنج و غم کیا۔ رحمہ اللہ رحمۃً واسعۃً!
(لولاک مؤرخہ ۵؍ اپریل ۱۹۸۰ء)
مرزا ناصر احمد کا سفید جھوٹ
۴؍ اگست ۱۹۸۰ء کو لندن میں مرزائیوں کے سربراہ مرزا ناصر احمد نے ایک پریس کانفرنس کی جس میں صحافیوں نے مرزا ناصر احمد سے پاکستان میں قادیانیت کے کفر کے آئین کے بارے میں استفسار کیا تو مرزا ناصر احمد نے جواب میں برجستہ کہا: پاکستان میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی آئینی ترمیم عبوری ہے۔ احمدیوں کو صرف آئین اور قانونی مقاصد کے لئے غیر مسلم قرار دیا گیا۔ انہیں اسلامی تعلیمات کے سلسلہ میں ہرگز ہرگز غیر مسلم قرار نہیں دیا گیا ہے۔ مولویوں کی تشدد پسندی انتہاء پسندی اور جذباتی طبیعت کی وجہ سے بھٹو صاحب نے یہ ہنگامی فیصلہ سنایا تھا۔
(روزنامہ جنگ لندن مؤرخہ ۴؍ اگست ۱۹۸۰ء)
قارئین کرام! آپ مسلمانوں کے بارے میں کسی بھی مرزائی خاص و عام کی گفتگو سنیں گے تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ مرزائی گفتگو علماء اور مولوی کی مذمت سے شروع کرتے ہیں اور اسی پر ختم کرتے ہیں۔ اس سے یہ حقیقت واشگاف ہوتی ہے کہ مرزائی جانتے ہیں کہ ہمارے غیر مسلم قرار دیئے جانے میں مولوی کا کردار ہے۔ معاشرے پر ہماری حقیقت آشکارا کرنے والے یہی علماء ہیں اور ان علماء کی موجودگی میں ہمارے لئے اپنا ارتدادی پروگرام چلانا ناممکن ہے۔ اس لئے انہوں نے اس وقت بھی بجائے حکومت اور ارکان پارلیمنٹ کے علماء کو نشانے پر رکھا تھا اور آج بھی ان کی تنقید و تنقیص کا نشانہ علماء بنے ہیں۔ سوشل میڈیا پر چند ایک مرزائیوں سے راقم الحروف کی گفتگو ہوئی تو ان کو یہی رٹ لگاتے ہوئے سنا کہ سارے فساد کی جڑ مولوی ہیں اور ہمارے متعلق پاکستانی آئین کا فیصلہ محض مولویوں کی کوششوں سے ہوا۔
فاتح قادیان مولانا محمد حیات کی رحلت
۱۹۸۰ء کا سال مجلس تحفظ ختم نبوت کی جو جو ہستیاں داغ مفارقت دے گئیں ان ہستیوں میں ایک نام فاتح قادیان، استاد المناظرین حضرت مولانا محمد حیات کا بھی تھا۔ جو ۱۱؍ اگست ۱۹۸۰ء بمطابق ۲۸؍ رمضان ۱۴۰۰ھ اپنے آبائی گاؤں کوٹلہ بیرے خان ضلع نارووال میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے اور ہزاروں کارکنوں متعلقین اور شاگردوں کو سوگوار چھوڑ گئے۔ ملک بھر کے اخبارات میں جب یہ غم انگیز خبر چھپی تو حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے اس عظیم ساتھی کی جدائی اور وفات کا ملک بھر کے لاکھوں شیدایان ختم نبوت کو گہرا صدمہ ہوا۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
حضرت مولانا محمد حیات صاحب ان سعید روحوں میں سے ایک تھے ۔ جنہیں حق تعالیٰ نے اپنی خاص نوازشات سے بہترین مبلغانہ اور معلمانہ صلاحیتوں سے نواز کر اپنے محبوب خاتم المرسلین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ختم نبوت کی حفاظت اور منکرین و سارقین ختم نبوت کے تعاقب و استیصال کے لئے پیدا فرمایا تھا ۔ وہ شکر گڑھ کے قریب واقع گاؤں کوٹلہ بیرے خان میں پیدا ہوئے ۔ میٹرک تک سکول کی تعلیم حاصل کی ۔ پھر حق تعالیٰ نے ان کی رغبت دینی تعلیم کی طرف پھیر دی ۔ دینی تعلیم کے حصول کے بعد انہیں ختم نبوت کے محاذ پر تکوینی طور پر بھیج دیا گیا ۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں قابل رشک حافظہ عطاء فرمایا ہوا تھا ۔ لٹریچر انہیں ازبر تھا ۔ کوئی حوالہ درکار ہو تو وہ صفحوں کے صفحے زبانی سنا دیا کرتے تھے ۔ مولانا کی ابتدائی عمر کے زمانہ میں حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی آواز بستی بستی قریہ قریہ گونج رہی تھی ۔ مجلس احرار اسلام مسلمانوں کی سب سے طاقتور ایک اسلامی اور انقلابی جماعت تھی ۔ انگریزوں کے خلاف بغاوت اور انگریزوں کے ایجنٹوں کی مخالفت اس کا مشن تھا ۔ مولانا محمد حیات صاحب اس میں شامل ہو گئے ۔
مولانا محمد حیات کو حق تعالیٰ نے تحمل و بردباری ٹھنڈا مزاج ، علم عقل اور بے پناہ حافظہ جیسی اعلیٰ صلاحیتوں سے مزین کیا ہوا تھا ۔ وہ مخالفین سے گفتگو اور مناظرہ کے وقت کوئی لفظ ایسا نہیں بولتے تھے جس سے مخالفین کی دل آزاری ہو ۔ وہ اپنے مخالف کو نہ صرف دلائل سے شکست دیتے تھے ۔ بلکہ اسے متاثر بھی کرتے تھے ۔ آپ کی زندگی ، طرز معاشرت اور نشست و برخاست نہایت سادہ تھی ۔ نہ آواز میں کرارہ پن ، نہ لباس میں کروفر ، نہ بود و باش اور خوردونوش میں تکلف ۔ زندگی کے ہر پہلو میں سادگی ، خلوص اور ایثار کا خوگر ۔ لیکن علم میں نہایت رسوخ اور مضبوطی ۔ دیکھنے میں ایک بھولے سے جٹ تھے ۔ لیکن عزم و ہمت کے یہ پیکر اپنے وقت کے عظیم مناظر تھے ۔ ایسے مناظر کہ ان کا نام سن کر مخالف مناظر کی روح کانپ جاتی تھی ۔ درس میں انتہائی مشفق استاد تھے ۔ جن کی سادہ سی باتیں اور منطقی طرز گفتگو اپنے تلامذہ کے دلوں میں اعتماد و حوصلہ کا دریا موجزن کر دیتا تھا ۔ جو اپنے شاگردوں کو دل کی گہرائی سے ابھرنے والی دعاؤں سے بھی نوازتا تھا ۔ ان کا حوصلہ بڑھانے کے لئے اعزاز و اکرام سے بھی بہرہ ور کرتا تھا ۔ حضرت مولانا محمد حیات کا سامنا کرنے سے مرزائی کس قدر خوفزدہ ہوتے تھے ۔ ایک واقعہ سے اندازہ لگائیں ۔
علی پور کی ایک مسجد میں ایک شریف النفس خزانچی تھا ۔ اس کے پاس ایک منکر ختم نبوت نے آنا جانا شروع کیا اور رفتہ رفتہ مذہبی گفتگو شروع کر دی ۔ بات چیت کا انداز ایسا تھا کہ آدمی کا دل پسیج جائے اور سادہ لوح آدمی ڈگمگا جائے ۔ مثلاً دیکھو جی ہم نے بھی مرنا ہے ۔ ہم کو آخرت کی فکر نہیں ہے ؟ ہم نے قبر میں نہیں جانا ؟ اگر ہم پر حق واضح ہو جائے اور کوئی مولوی ہمیں یہ باور کرا دے کہ ”ہمارا نبی“ ہی جھوٹا ہے تو ہم ایک بار نہیں ہزار بار اس کو ترک کرنے کے لئے تیار ہیں ۔ وغیرہ وغیرہ ! خزانچی نے ہر چند جان چھڑانے کی کوشش کی کہ آپ خواہ مخواہ میرا وقت ضائع نہ کریں اور مجھے ان بحثوں میں نہ الجھائیں تو اس نے کہا کہ میں قیامت کے دن اللہ کے حضور آپ کی شکایت کروں گا کہ آپ نے میری رہنمائی نہیں کی تھی ۔ اس نے کہا میں کوئی انتظام کر دیتا ہوں کہ کوئی جید عالم آپ کی تسلی کر دے ۔ کیونکہ میں خود تو عالم نہیں ہوں بات طے ہو گئی ۔ علی پور کے ایک ممتاز عالم مولانا اقبال نعمانی نے ملتان دفتر سے رابطہ قائم کیا اور صورتحال سے دفتر کو مطلع کیا اور درخواست کی کہ ہمیں اس مقصد کے لئے حضرت مولانا محمد حیات کو عنایت فرما دیں ۔ چنانچہ مرکز کی طرف سے حضرت مولانا کو بھیج دیا گیا ۔ سخت سردی کا موسم تھا ۔ حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب زید مجدہ بھی ساتھ تھے ۔ یہ ۱۹۷۱ء کی بات ہے ۔
مولانا اقبال صاحب جو حضرت فاتح قادیان کے میزبان تھے ، لکھتے ہیں : گوجرانوالہ دفتر میں مولانا تشریف لے آئے ۔ میں نے
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ۲۹۹ ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
حضرت مولانا کو لانے کے لئے وہاں آدمی بھیجے۔ جن میں سے ایک مسجد کے خزانچی بھی تھے، کتابوں کے دو ٹرنک مولانا ساتھ لائے۔ ٹرنک کافی وزنی تھے۔ ان کو بس پر چڑھاتے اتارتے ہوئے خزانچی صاحب زخمی بھی ہو گئے۔ ان کے ہاتھ کی گھڑی بھی ٹوٹ گئی۔ بڑی مشکل سے مولانا کو بمع کتابوں کے علی پور لایا گیا۔ جب مولانا علی پور پہنچ گئے تو مولانا اقبال نے ان خزانچی صاحب کو کہا کہ آپ مولانا کی آمد کی اطلاع اپنے اس مرزائی دوست کو فوراً دے آئیں کہ ہم نے تمہارے بار بار اصرار کے پیش نظر یہ زحمت گوارا کی ہے اور اس پیرانہ سالی میں حضرت مولانا اتنی تکلیف اٹھا کر تشریف لائے تا کہ حق واضح ہو سکے۔ آپ حسب وعدہ اپنے قادیانی دوست سمیت حضرت مولانا کے پاس تشریف لائیں اور حق سمجھنے کی کوشش کریں۔ جب یہ خزانچی صاحب پیغام لے کر اس کے گھر گئے اور حضرت مولانا کا نام بتایا کہ ہم نے اس مقصد کے لئے ایک عظیم محقق ہستی کا انتخاب کیا ہے تو وہ حضرت مولانا کا نام سنتے ہی سکتہ میں آ گیا اور نہایت ہی درشت لہجہ میں گویا ہوا۔ میں نے آپ کو کب کہا تھا کہ آپ مولانا محمد حیات کو بلائیں۔ میں ان سے قطعاً بات کرنے کو تیار نہیں ہوں۔ سادہ لوح خزانچی نہایت برہم ہوئے کہ عرصہ ایک سال سے تم نے میری دکان کے دروازے توڑ رکھے تھے کہ میری تسلی کراؤ۔ اب تم کو سانپ کیوں سونگھ گیا ہے اور تمہارا وہ خلوص اور فکر آخرت اب کہاں گیا ہے؟
اس نے کہا: جاؤ چلے جاؤ۔ میرا صاف جواب ہے۔ میں ان سے بات نہیں کروں گا۔ اس کا یہ جواب سن کر علی پور کے احباب سب نہایت پریشان ہو گئے کہ حضرت مولانا کیا کہیں گے۔ مرکز کو پتہ چلا تو یہ کیا سمجھیں گے۔ اتنا بڑا خرچ ہوا اور تکلیف گوارہ کی مگر نتیجہ کچھ نہ نکلا۔ رات کے وقت اہل علاقہ نے جلسہ عام کا اعلان کر دیا۔ حضرت مولانا نے مسئلہ حیات مسیح پر نہایت مدلل گفتگو فرمائی اور ان کو دعوت دی کہ آپ سے ہم ادب سے اور ضابطہ اخلاق کا لحاظ رکھتے ہوئے بات کریں گے۔ آپ سے نہایت ہمدردانہ گفتگو ہوگی اور عزت آبرو کا تحفظ آپ کو ملے گا اور خود مولانا اقبال نعمانی اور دیگر مقامی احباب نے ان کو شدید لفظوں میں تنبیہ کی کہ یا تو حضرت مولانا سے حسب وعدہ گفتگو کرو یا پھر یہ بات تسلیم کرو کہ ہمارا ”نبی“ بھی جھوٹ بولنے کا عادی اور دغاباز تھا۔ ہم اس کے پیرو ہونے کی وجہ سے جھوٹے اور دغاباز ہیں۔ اس سخت تنبیہ کے بعد مرزائی گفتگو کے لئے آمادہ ہوئے۔ مولانا نے نہایت شفقت اور نرمی سے تین چار گھنٹے تک مسئلہ حیات مسیح اور مسئلہ ختم نبوت پر گفتگو فرمائی اور ساتھ ساتھ ان کی کتابوں سے حوالہ جات پیش فرماتے رہے۔ انہوں نے (کیونکہ گفتگو کے وقت وہ اکیلا نہیں آیا۔ بلکہ اپنے ساتھ تین معاونوں کو لے کر آیا تھا) انہوں نے کتابوں کے حوالہ جات اپنی آنکھ سے دیکھے اور خوب غور سے پڑھنے کے بعد لا جواب ہو گئے تو کہنے لگے کہ آپ نے جو کچھ کہا ٹھیک کہا۔ پر ہمارے پاس اس کا جواب نہیں۔ ہم ربوہ مرکز سے رابطہ قائم کر کے ان کا جواب معلوم کر کے آپ کو مطلع کریں گے۔ یہ کہہ کر وہ مرزائی نو دو گیارہ ہو گئے اور جس طرح ان کی عادت ہے کہ واپس آنے کا وعدہ کر کے پھر کبھی نہیں آتے۔ یہاں بھی کچھ ایسا ہی کیا۔
حضرت مولانا محمد حیات تقسیم سے قبل قادیان میں رد مرزائیت کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ ۱۹۳۵ء میں مجلس احرار اسلام کے زیر اہتمام قادیان میں تحفظ ختم نبوت کے لئے دفتر قائم ہوا تو امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے مولانا محمد حیات اور مولانا عنایت اللہ صاحب چشتی کو وہاں پر تعینات فرمایا۔ اس کفرستان میں بیٹھ کر آپ نے مرزائیوں کو ناکوں چنے چبوائے۔ ایک مرتبہ آپ نے قادیان کے بازار میں مرزائیوں کی دوکانوں کے سامنے کھڑے ہو کر رد مرزائیت پر اتنا مدلل اور پرمغز بیان فرمایا کہ مرزائی بھی دم بخود ہو کر مولانا کا بیان سنتے رہے اور کسی کو سوال کرنے کی جرأت نہ ہوئی۔ مولانا خود فرماتے ہیں کہ میرے پاس جو آدمی کچھ دن بیٹھے تو پھر کسی مرزائی مناظر
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
سے شکست نہیں کھا سکتا اور فی الواقع ایسا تھا۔ قادیان میں آپ کا قیام بحیثیت انچارج شعبہ تبلیغ مجلس احرار اسلام تھا۔ یہ اس بات کا بیّن ثبوت ہے کہ متحدہ ہندوستان کے مسلمانوں کا آپ پر مکمل اعتماد اور بھروسہ تھا اور اس اعتماد اور بھروسے پر آپ پورے اترے۔ آپ نے سینکڑوں کامیاب مناظرے کر کے باطل کے پرستاروں کو عبرتناک شکستیں دے کر اسلام کا بول بالا کیا۔
ختم نبوت کے مشن سے آپ کا لگاؤ مثالی تھا۔ اٹھتے، بیٹھتے، چلتے پھرتے سراپا تبلیغ تھے۔ جہاں دو آدمی آپ کے پاس بیٹھتے آپ عقلی ونقلی دلائل سے مسئلہ ختم نبوت کو سمجھاتے اور منکرین ختم نبوت کے جھوٹے دلائل کو ان کی کتابوں کے حوالے سے رد فرماتے۔ آپ فرمایا کرتے کہ اس سے نہ صرف ان کا ایمان محفوظ رہے گا۔ بلکہ یہ لوگ مخالفین کو جواب دے سکیں گے۔ ان کا ایمان اگر خدا نے محفوظ رکھا۔ جب بھی اور اگر یہ لوگ کسی کو راہ راست پر لے آئے تب بھی ہماری نجات کا باعث بنے گا۔
قیام پاکستان کے بعد قادیان سے اپنے گاؤں آ گئے۔ بعد میں لاہور چلے گئے اور مالی پریشانی کی وجہ سے ’’سلطان فونڈری بادامی باغ‘‘ میں کچھ عرصہ ملازمت کی۔ لاہور میں کچھ عرصہ قیام فرمانے کے بعد سندھ خیر پور میرس تشریف لے گئے۔ وہاں پر آپ کے بھائیوں کی زمین تھی۔ آپ نے ان کے ساتھ کھیتی باڑی شروع کر دی۔ ان دنوں مجلس تحفظ ختم نبوت کا قیام عمل میں آیا اور امیر شریعت پہلے امیر مقرر ہوئے۔ ان کی ہدایت پر خطیب پاکستان حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی اور مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری، مولانا محمد حیات کے بھائیوں کے پاس آئے اور ان کو رضا مند کیا کہ مجلس تحفظ ختم نبوت کے لئے مولانا کی خدمات مستقل طور پر دے دی جائیں۔ مولانا محمد حیات کے بھائی رضا مند ہو گئے اور مولانا کی جگہ مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے متبادل انتظام کیا گیا۔ مولانا مرحوم ملتان دفتر تشریف لے آئے اور مرتے دم تک ختم نبوت کا مقدس کام کرتے رہے۔
مولانا محمد حیات کی خواہش تھی کہ ان کی تشکیل ربوہ کی جائے۔ مجلس نے ان کی خواہش کا پاس کرتے ہوئے۔ ان کو ربوہ کے مرکز کا انچارج بنا دیا۔ رمضان سے قبل بیمار ہو کر لاہور اور وہاں سے شکر گڑھ اپنے آبائی گاؤں چلے گئے۔ کافی بوڑھے اور کمزور ہو گئے تھے۔ فرمایا کرتے تھے میں بوڑھا ہو گیا ہوں لیکن ختم نبوت کی خدمت کے لئے اب بھی میں جوان ہوں۔ ۲۸؍ رمضان المبارک کی رات ایک بجے اتوار اور سوموار کی درمیانی رات تقریباً ۱۰۰ سال کی عمر میں انتقال فرما گئے۔ آپ کی وفات پر ملک و بیرون ملک تعزیتی خطوط و پیغامات کا تانتا بندھ گیا۔ تمام متعلقین ومتوسلین نے مولانا کی وفات کو عالم اسلام کا ایک عظیم ، جانکاہ اور افسوسناک حادثہ قرار دیا۔
(لولاک مؤرخہ ۲؍ اکتوبر ۱۹۸۰ء)
مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود کا سانحہ وفات
۱۴؍ اکتوبر ۱۹۸۰ء کو دوپہر ایک بجے کے قریب آسمان سیاست کے چمکتے آفتاب، ختم نبوت کے محافظ و امین مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود انتقال فرما گئے۔ دنیا بھر میں حضرت مفتی صاحب کی وفات کی یہ خبر جس جس نے سنی غم اور رنج الم میں گرفتار ہو گیا۔ حضرت مفتی صاحب کی وفات جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن میں ہوئی۔ آپ حج پر جانے کی نیت سے کراچی پہنچے ہوئے تھے۔ جہاں آپ نے علماء کرام اور سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔ وفات کے وقت آپ کراچی اور صوبہ سندھ کے علماء کے ایک اجتماع میں زکوٰۃ کے ایک مسئلے پر اظہار خیال فرما رہے تھے کہ اچانک دل کا دورہ پڑا۔ اس وقت حضرت مفتی صاحب کے پاس محدث عصر حضرت مولانا علامہ محمد
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
یوسف بنوری کے صاحبزادے اور مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے راہنما مولانا محمد بنوری بیٹھے ہوئے تھے۔ جوں ہی دل کا دورہ پڑا حضرت مفتی صاحب ایک طرف کو جھک گئے۔ لیکن مولانا محمد بنوری نے انہیں فوراً اپنی گود میں لے لیا۔ اس وقت پانی پلانے کی بھی کوشش کی گئی۔ لیکن پانی حلق سے نیچے نہ اتر سکا۔ آخری وقت مفتی صاحب کی زبان سے تین مرتبہ اللہ، اللہ، اللہ نکلا جس کے فوراً بعد ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔
چنانچہ فوراً مفتی صاحب کو امراض قلب کے ہسپتال لے جایا گیا۔ جہاں ڈاکٹروں نے ان کا طبی معائنہ کرنے کے بعد موت کی تصدیق کر دی۔ ہسپتال سے ان کی میت واپس بنوری ٹاؤن کے مدرسہ میں لائی گئی۔ جہاں تقریباً تین بجے ان کی میت کو غسل دیا گیا۔ غسل دینے والوں میں حضرت مفتی احمد الرحمن، مولانا قاری مصباح اللہ، مولانا بدیع الزمان اور قاری عبدالحق جیسے چار جید اور ممتاز علماء شامل تھے۔ مفتی صاحب کی وفات کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور پورے ملک میں صف ماتم بچھ گئی۔ غسل کے بعد حضرت مفتی صاحب کی میت جامعہ اسلامیہ کے دارالحدیث میں رکھ دی گئی۔ جہاں ہزاروں افراد نے آخری دیدار کیا۔
ملتان میں رنج و غم کی لہر
مفتی صاحب نے مدرسہ قاسم العلوم ملتان میں تیس سال گزارے۔ جب ملتان میں سب سے پہلے بذریعہ ٹیلیفون خبر موصول ہوئی تو پورا ملتان سکتے میں آ گیا۔ کوئی شخص بھی یقین کرنے کے لئے تیار نہیں تھا۔ دینی مدارس، مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان اور تنظیم اہل سنت پاکستان کے ٹیلیفونز پر لوگ تصدیق کرتے رہے۔ یہاں تک کہ ریڈیو پاکستان نے پونے پانچ بجے کی خبروں میں اس طرح خبر نشر کی۔ ”ہم رنج و غم کے ساتھ اعلان کرتے ہیں کہ جید عالم دین اور سرکردہ سیاسی لیڈر مولانا مفتی محمود آج کراچی میں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر ۶۱ سال تھی۔“
اس خبر کے ساتھ مدرسہ قاسم العلوم میں لوگوں کا تانتا بندھ گیا۔ لیکن چونکہ حضرت مفتی صاحب کے بڑے صاحبزادے مولانا فضل الرحمن صاحب ٹیلیفون سے خبر ملتے ہی بذریعہ ہوائی جہاز کراچی روانہ ہو گئے تھے۔ اس لئے مدرسہ کے منتظمین اور نظام العلماء کے رہنماؤں سے لوگ اظہار تعزیت کرتے رہے۔ ہر فرد سوگوار اور ہر آنکھ اشکبار تھی۔ باوجودیکہ مفتی صاحب کی وفات کی تصدیق ہو چکی تھی۔ لیکن بعض لوگ اس اچانک واقعہ کو ایک دوسرے سے اس انداز سے پوچھ رہے تھے کہ کاش ریڈیو پاکستان کی خبر غلط ہو۔ حضرت مولانا تاج محمود، حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر، مولانا عزیز الرحمن صاحب جالندھری اور مولانا اللہ وسایا صاحب مرکزی دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت سے خبر سنتے ہی مدرسہ قاسم العلوم جا رہے تھے کہ راستے میں ایک صوفی صاحب دیوانگی کے عالم میں کہنے لگے کہ مولانا! ذرا رکئے! ابھی ایک صاحب کو بکواس...... ابھی ان کی زبان سے اتنا جملہ ہی نکلا تھا کہ یہ حضرات سمجھ گئے کہ انہیں حضرت مفتی صاحب کی وفات کا یقین نہیں آ رہا۔ مولانا اللہ وسایا صاحب نے فوراً پہلے تو انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا اور پھر کہا صوفی صاحب خبر صحیح ہے۔ یوں محسوس ہوا جیسے غموں کا کوئی پہاڑ اس پر ڈال دیا گیا ہو۔ مدرسہ میں بھی صورتحال کچھ ایسی ہی تھی۔
کراچی بنوری ٹاؤن میں نماز جنازہ، گورنر، اعلیٰ حکام ممتاز سیاستدانوں کی شرکت
غسل کے بعد کراچی میں حضرت مفتی صاحب کا ہزاروں افراد نے دیدار کیا اور یہ سلسلہ رات گئے تک جاری رہا۔ پہلے پروگرام تھا کہ نماز جنازہ بعد نماز عصر ادا کی جائے گی۔ لیکن مفتی صاحب کے بڑے صاحبزادے مولانا فضل الرحمن چونکہ اطلاع پاتے ہی کراچی کے
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ۳۰۲ ترتیب و تحقیق : مولانا محمد عبداللہ معتصم
لئے روانہ ہو چکے تھے اور ان کا جہاز چھ بجے کے بعد پہنچنا تھا۔ اس لئے بعد میں نماز عشاء کے بعد نماز جنازہ پڑھنے کا اعلان کیا گیا۔ اس اثناء میں کراچی کے آس پاس اور اندرون سندھ سے بھی ہزاروں افراد نماز جنازہ میں شرکت اور مفتی صاحب کے آخری دیدار کے لئے کراچی پہنچ چکے تھے اور نماز عشاء کے بعد بنوری ٹاؤن کی وسیع و عریض مسجد مدرسہ کا صحن ہزاروں لوگوں سے کھچا کھچ بھرے ہوئے تھے۔ حتیٰ کہ سڑک پر ہزاروں آدمی تھے۔ ٹھیک ساڑھے آٹھ بجے نماز جنازہ ہوئی۔ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کے خلیفہ مجاز حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالحئی عارفی صاحب نے نماز جنازہ پڑھائی۔ نماز جنازہ میں جامعہ اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے پرنسپل حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰن، حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی کراچی کے دینی مدارس کے شیوخ الحدیث، اساتذہ، مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کراچی کے رہنماؤں ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر، حاجی لعل حسین، عبدالرحمٰن یعقوب باوا، نظام العلماء کراچی کے عہدہ داروں مولانا محمد زکریا، مولانا قاری شیر افضل، مولانا عبدالرزاق عزیز اور ہزاروں کارکنوں کے علاوہ گورنر سندھ لیفٹیننٹ جنرل ایس. ایم عباسی، کمشنر کراچی ایم ایم عثمانی کے علاوہ دیگر اعلیٰ سول و فوجی حکام نے بھی شرکت کی۔ ممتاز افراد میں خان عبدالولی خان، سردار شیر باز مزاری، نوابزادہ نصر اللہ خان، خواجہ خیر الدین، عابد زبیری وغیرہ بھی جنازہ میں شامل تھے۔ جناب پیر پگاڑا صاحب کی نمائندگی ان کے بڑے صاحبزادے پیر صبغت اللہ شاہ نے کی۔ حضرت مفتی صاحب کا کراچی میں قیام پی. ای. ایچ سوسائٹی میں شیخ محمد حنیف کے مکان پر تھا۔ پروگرام کے مطابق شیخ صاحب مفتی صاحب کے ہمراہ حج پر جانے والے تھے۔ جناب شیخ حنیف صاحب نے بتایا کہ مفتی صاحب کی یہ خواہش تھی کہ وہ اس صدی کا آخری حج ادا کریں۔ لہٰذا میں ان کے لئے حج بدل ادا کرلوں گا۔ انہوں نے کہا حضرت مفتی صاحب کا معمول تھا کہ وہ نماز فجر کے بعد کچھ دیر آرام فرمایا کرتے تھے۔ لیکن خلاف معمول ۱۴/ اکتوبر کو انہوں نے نماز کے بعد غسل کیا اور آرام نہ کرنے کے باوجود انتہائی خوش و خرم تھے۔ بلکہ جس قدر ہشاش بشاش انہیں اس دن دیکھا گیا پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔
حضرت مفتی صاحب کو سعودی حکومت نے اپنے مہمان کی حیثیت سے حج ادا کرنے کی دعوت دی تھی۔ لیکن انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ میں ایک عام مسلمان کی حیثیت سے حج ادا کرنا چاہتا ہوں اور اس سلسلے میں کسی قسم کی مراعات نہیں چاہتا۔ حضرت مفتی صاحب نے زکوٰۃ کے مسئلہ پر غور کرنے کے لئے ۱۴/ اکتوبر کی دوپہر کو علماء کا اجلاس بلایا تھا۔ جس میں مولانا مفتی محمد تقی عثمانی، مولانا محمد رفیع عثمانی، مولانا مفتی احمد الرحمٰن، مولانا محمد یوسف لدھیانوی، مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مولانا سید محمد بنوری، مولانا محمد طاسین، مولانا محمد حسن اور مولانا محمد ابراہیم شریک تھے۔ اجلاس میں حضرت مفتی صاحب حکومت کو زکوٰۃ دینے کی مخالفت کر رہے تھے کہ اسی دوران تقریباً پونے ایک بجے دن بات کرتے کرتے اچانک ایک طرف ڈھلک گئے۔ علمی مجلس میں ان کی آخری تقریر تھی۔ حضرت مفتی صاحب کی آخری تقریر کا کچھ حصہ ملاحظہ فرمائیں:
”مفتی صاحب نے اس سلسلہ میں تین اعتراضات اٹھائے تھے۔ انہوں نے اپنے پہلے اعتراض کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بینک میں جو رقم جمع کرائی جاتی ہے اس پر سود وصول کیا جاتا ہے۔ یہ بینک کے پاس امانت نہیں اور نہ ہی اس کی نگرانی میں ہے۔ بلکہ یہ رقم فی الواقع بینک کو بطور قرض دی گئی ہے۔ یہ اگر امانت ہوتی تو بینک اس کو استعمال کرنے کا مجاز نہ ہوتا۔ مفتی صاحب نے مزید کہا کہ یہ قرض خواہ کی رقم بینک کے ذمہ قرض ہوتی ہے۔ قرض خواہ جب بھی اپنا قرض وصول کرے گا تو سابقہ مدت کی زکوٰۃ ادا کرے گا۔ مقروض کو یہ اختیار نہیں کہ وہ قرض خواہ کی زکوٰۃ اپنی مرضی سے ادا کرے۔ اس سلسلہ میں کسی بھی فقہ کی کتاب میں مثال نہیں ملتی کہ قرض پر زکوٰۃ دوگنا ہو۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء
ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
اندازہ فرمائیں! آخری وقت میں بھی امت کی خیر خواہی کا کتنا پاس تھا۔ قومی بھلائی کے لئے فکر و غم ان حضرات کی غذا بنا ہوا تھا۔
مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے لکھا ہے کہ حضرت مفتی صاحب ابھی اپنے پہلے نکتے کی وضاحت کر پائے تھے کہ اچانک ان کی آواز بند ہوگئی اور وہ سر پکڑ کر پشت کی طرف جھک گئے۔ اس وقت حضرت مفتی صاحب نے تین چار ہچکیاں لیں۔ مولانا لدھیانوی نے بتایا: ہمیں اندازہ ہو گیا کہ حضرت مفتی صاحب اپنے خالق حقیقی سے جاملے ہیں۔
صدر نے میت لے جانے کے لئے خصوصی طیارہ مہیا کیا
حضرت مفتی صاحب کی میت ملتان اور بعد ازاں ان کے آبائی گاؤں عبد الخیل پہنچانے کے لئے صدر جنرل محمد ضیاء الحق نے پاک فضائیہ کا ”سی۔ ۱۳۰“ طیارہ فراہم کرنے کا حکم دیا۔ ۱۵/ اکتوبر کو علی الصبح اسی خصوصی طیارے کے ذریعے میت ملتان روانہ کر دی گئی۔ جس وقت حضرت مفتی صاحب کی میت مدرسہ اسلامیہ بنوری ٹاؤن سے روانہ کی گئی۔ اس وقت رقت آمیز منظر دیکھنے میں آیا۔ بنوری ٹاؤن جہاں ہزاروں کی تعداد میں عوام جمع تھے ہر شخص اشکبار تھا اور بعض تو دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ ہم یتیم ہو گئے ہیں اور جب اگلی صبح کو حضرت مفتی صاحب کی میت کا تابوت مدرسہ سے روانہ ہوا تو اسے موٹروں ، کاروں اور موٹر سائیکلوں کے جلوس کی شکل میں ہوائی اڈے تک پہنچایا۔ جہاں سے مفتی صاحب کا جسد خاکی طیارے کے ذریعے ہزاروں سوگواروں نے رخصت کیا۔
(لولاک مؤرخہ ۵/نومبر ۱۹۸۰ء)
ملتان ائیر پورٹ پر ہزاروں سوگواروں کا ہجوم
ریڈیو پاکستان کے ذریعے یہ خبر تقریباً پورے ملک میں پہنچ چکی تھی کہ حضرت مفتی صاحب کا جسد خاکی پہلے ملتان لایا جائے گا اور وہاں بھی نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔ اس لئے رات سے ہی سکھر ، رحیم یار خان ، خانپور ، بہاول پور، بہاول نگر ، وہاڑی ، ساہیوال ، مظفر گڑھ، ڈیرہ غازیخاں حتیٰ کہ گوجرانوالہ ، لاہور سے بھی عقیدتمند سوگواروں کے قافلے اسپیشل بسوں ، ویگنوں ، کاروں ، ٹرکوں اور ملتان کے آس پاس سے ٹریکٹروں کے ذریعے ملتان پہنچنا شروع ہو گئے تھے۔ ان قافلوں کی وجہ سے ملتان میں ٹریفک کا نظام بھی درہم برہم ہو کر رہ گیا۔ باہر سے آنے والے سوگواروں کے قافلے سب سے پہلے مدرسہ قاسم العلوم میں پہنچتے۔ جہاں حضرت مفتی صاحب تیس سال تک قال اللہ وقال الرسول کا درس دیتے رہے اور پروگرام معلوم کرنے کے بعد بعض ہوائی اڈے کا رخ کرتے اور بعض جگہ روکنے کے لئے ڈویژنل سپورٹس گراؤنڈ پہنچ جاتے تھے۔ نماز جنازہ پڑھنے کے لئے تمام دینی مدارس میں تعطیل تھی۔ جب کہ دوسرے سکولوں میں بھی دو گھنٹے کی تعطیل ہوئی۔ حضرت مفتی صاحب کا جسد خاکی لے کر خصوصی طیارہ تقریباً آٹھ بجے ملتان ائیر پورٹ پر اترا تو طیارے سے سب سے پہلے نوابزادہ نصر اللہ اور مفتی صاحب کے بڑے صاحبزادے مولانا فضل الرحمن نہایت غمگین باہر آئے ۔ تاہم ہوائی اڈے پر ہزاروں سوگواروں کے ہجوم کی وجہ سے یہ خیال پیدا ہوا کہ کہیں نماز جنازہ میں تاخیر نہ ہو جائے ۔ اس پر مولانا کے صاحبزادہ فضل الرحمن لوگوں کو صبر و استقلال کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کرتے رہے۔ حضرت مفتی صاحب کا جسد خاکی لکڑی کے تابوت میں بند کیا گیا تھا اور قانون کے مطابق اسے کھولنے کی اجازت نہیں
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
تھی۔ اس وجہ سے خواہش کے مطابق ہوائی اڈے پر موجود کوئی بھی حضرت مفتی صاحب کا آخری دیدار نہ کر سکا۔ کراچی سے حضرت مفتی صاحب کی میت کے ہمراہ نوابزادہ نصر اللہ خاں اور صاحبزادہ مولانا فضل الرحمن کے علاوہ مولانا سید محمد بنوری، میر عالم کھوسو، مولانا محمد زکریا، مولانا محمد مراد سکھر اور قاری شیر افضل تھے۔ جب طیارہ ملتان ائیر پورٹ پر اترا تو اس وقت ملتان کی سیاسی شخصیتوں اور کارکنوں کے علاوہ مدرسہ قاسم العلوم، مدرسہ عربی خیر المدارس اور دوسرے دینی مدارس کے اساتذہ طلباء کے علاوہ سکھر سے بہاول نگر اور لاہور تک کے اکثر علماء موجود تھے۔
ہوائی اڈے سے حضرت مفتی صاحب کی میت کو ایک ٹرک کے ذریعے ڈویژنل سپورٹس گراؤنڈ لایا گیا۔ جہاں لاکھوں عقیدت مند ہی انتظار میں تھے۔ قبل ازیں میت کی آمد سے قبل متعدد مقررین نے تقریریں کیں۔ خصوصاً حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی نے تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ مولانا مفتی محمود کے مشن کو جاری رکھا جائے گا اور مرحوم کے مشن کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی وفات عظیم قومی وملی نقصان ہے۔ جس کا ازالہ مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ مفتی صاحب نے ساری زندگی نظام مصطفیٰ کے نفاذ کے لئے وقف کر رکھی تھی۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ مرحوم کے مشن کو زندہ رکھا جائے اور نظام مصطفیٰ کے نفاذ کے لئے کسی قربانی کے لئے دریغ نہ کیا جائے۔
صاحبزادہ مولانا فضل الرحمن نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہمیں حضرت مفتی صاحب کے راہنما اصولوں پر دینی اور ملکی خدمات سر انجام دینا چاہئے۔ حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اللہ صاحب درخواستی نے نماز جنازہ پڑھائی۔ نماز کی ادائیگی کے بعد لوگ ہجوم کی شکل اختیار کر کے تابوت کی جانب دوڑ پڑے۔ وہ تمام عقیدت کے طور پر کندھا دینا چاہتے تھے۔ مگر جگہ کی قلت اور جلدی کی بناء پر ایسا نہ کر سکے۔ تاہم کئی عقیدت مندوں نے بطور تبرک اپنے رومالوں اور پگڑیوں کو تابوت کے ساتھ چھو کر انہیں چوما۔ میت کے چلے جانے کے بعد بھی جنازہ پڑھنے کے لئے آنے والوں کا تانتا بندھا رہا۔ حضرت مفتی صاحب کے رفیق اور جانشین شیخ التفسیر حضرت مولانا عبید اللہ انور کا طیارہ لاہور سے ملتان ایسے وقت میں پہنچا جب نماز جنازہ پڑھی جا چکی تھی۔ ادھر مفتی صاحب کی میت ائیر پورٹ پہنچی ادھر مولانا انور کا طیارہ نمودار ہوا۔ مولانا انور کے علاوہ چونکہ اور بھی اہم شخصیتیں نماز جنازہ سے بچھڑ گئی تھیں۔ اس لئے ائیر پورٹ پر دوبارہ نماز جنازہ پڑھی گئی جو حضرت مولانا عبید اللہ صاحب انور نے پڑھائی۔ جس میں اہم شخصیات کے علاوہ حکام اور ائیر پورٹ کے عملے نے بھی شرکت کی۔ طیارے کی پرواز تک اعلیٰ حکام اور ہزاروں شہری ہوائی اڈے پر موجود رہے۔ کراچی کے علماء کے علاوہ ملتان سے بھی بیسیوں علماء حضرت مفتی صاحب کی میت کے ہمراہ ڈیرہ اسماعیل خان گئے۔ جب حضرت مفتی صاحب کی میت ڈیرہ پہنچی تو وہاں گورنر سرحد لیفٹیننٹ جنرل فضل حق کے علاوہ اعلیٰ حکام اور ہزاروں عقیدت مند موجود تھے۔ میت کو ایک ایمبولینس کے ذریعے ایک بہت بڑے جلوس کی شکل میں پولو گراؤنڈ لایا گیا۔ جہاں چوتھی مرتبہ ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ جس میں پورے صوبہ سرحد اور پنجاب کے اضلاع میانوالی، سرگودھا، فیصل آباد، راولپنڈی، اٹک کے لاکھوں عقیدت مندوں نے نماز ادا کی۔
حضرت مفتی صاحب کی وفات پر ملک کی تمام مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے قائدین، ارباب حکومت اور عوام کی طرف سے غم
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
اندوہ کا اظہار کیا گیا۔ جمعیت علماء اسلام، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور مولانا فضل الرحمن کے نام سینکڑوں تعزیتی خطوط لکھے گئے۔ اس کو عالم اسلام کا عظیم سانحہ قرار دیا گیا۔ ہفت روزہ لولاک کے نام بھی سینکڑوں قارئین نے تعزیتی پیغامات لکھے۔ آپ کی وفات حسرت آیات پر بہت ساری نظمیں، منقبتیں لکھی گئیں۔ منظوم نوحہ لکھے گئے۔ ذیل میں ایک نظم کا کچھ حصہ ذکر کرتے ہیں۔
تمہارے دامن کی وسعتوں میں وفور دانش، کمال حکمت میں سوچتا ہوں کہ اس زمانے میں کسی زمانے کی سطوتیں تھیں
وجیہ چہرہ، جمیل آنکھیں، بڑی ہی سادہ تری شباہت گماں یہ ہوتا تھا جیسے اسلاف کی فروزاں روایتیں تھیں
جمال نغمہ خطاب تیرا، جلال عریاں کلام تیرا نظر اٹھائیں تو چار جانب محبتیں ہی محبتیں تھیں
(لولاک مورخہ ۱۵؍نومبر ۱۹۸۰ء)
ربوہ میں تاریخ ساز اجتماع
مجلس تحفظ ختم نبوت کے قائدین نے باہم مشورہ کر کے یہ طے کیا کہ ۲۶؍ دسمبر ۱۹۸۰ء کو مشترکہ طور پر جمعہ کی نماز ربوہ (چناب نگر) میں ادا کی جائے اور اس موقعہ پر ایک مختصر سی کانفرنس کا انعقاد بھی ہوتا کہ ربوہ کی وہ دھرتی جو عرصہ سے کفر و ارتداد کی آماجگاہ بنی ہوئی تھی اور اسلام اور اہل اسلام کے لئے ترستی رہی۔ اس پر اللہ کا نام بلند کیا جائے۔ مقصد اس تبلیغی اجتماع کا یہ بھی تھا کہ دوسرے علاقوں کی بنسبت ربوہ میں حقیقت حال سے ناواقف ان سادہ لوح مرزائیوں تک احسن طریقے سے اسلام کا پیغام پہنچایا جائے جو اپنے کفر و ارتداد سے ناواقف ہیں اور جن کے ذہنوں میں مرزائی مبلغین نے یہ بٹھایا ہے کہ دنیا پر مسلمان اگر کوئی ہے تو وہ ہم ہیں۔ باقی کفر و شرک کے اندھیروں میں گھرے ہوئے ہیں اور ان پروگراموں کی برکت سے مرزائیوں میں کافی حد تک بیداری اور اپنے مذہب سے بغاوت پیدا ہو بھی گئی تھی۔ گزشتہ صفحات میں آپ نے مطالعہ فرمایا کہ جامع مسجد سٹیشن ربوہ میں پیش امام حضرت مولانا خدا بخش صاحب کے ہاتھ پر متعدد مرزائی گھرانے تائب ہو کر اسلام کے گوشۂ عافیت میں آ گئے تھے۔
اس کانفرنس کو نتیجہ خیز اور کامیاب بنانے کے لئے مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین بڑی محنت اور جانفشانی سے کام کیا۔ مختلف علاقوں کے دورے کئے۔ لوگوں کو کانفرنس کے حوالے سے آگاہ کیا اور ان کو شرکت کے لئے ترغیب دی۔ مجلس کے مبلغین مولانا قاضی اللہ یار صاحب، مولانا خدا بخش شجاع آبادی، مولانا سید ممتاز الحسن شاہ، مولانا عبدالرؤف جتوئی، مولانا احمد یار چاریاری اور دیگر حضرات نے میانوالی، سرگودھا، جھنگ، فیصل آباد، شیخوپورہ، گوجرانوالہ اور لاہور کے اضلاع کا رابطہ عوام کے سلسلہ میں دورہ کیا اور ربوہ میں جمعہ کے دن اس اجتماع کی طرف ان کی توجہ دلائی۔ چنانچہ ادھر ۲۶؍دسمبر ۱۹۸۰ء کا آفتاب طلوع ہو رہا تھا تو دوسری طرف شمع ختم نبوت کے پروانے پورے ملک سے مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکز جو ربوہ (چناب نگر) کے عین وسط میں ریلوے اسٹیشن پر واقع تھا اور اب بھی بحمد اللہ پوری آب و تاب کے ساتھ قائم ہے، میں جوق در جوق پہنچنا شروع ہو گئے تھے۔ تا آنکہ گیارہ بجے جلسہ کی کارروائی کا آغاز ہوا تو اس وقت مسجد محمدیہ
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب وتحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
میں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔ آنے والوں کا سلسلہ برابر جاری رہا۔ دور دراز علاقوں سے شمع ختم نبوت کے پروانے بسوں ، ویگنوں، ٹرکوں اور ٹرالیوں کے ذریعے پہنچ رہے تھے۔ نماز جمعہ سے قبل سرگودھا کی جانب سے ریل کار آئی تو اس سے بھی لالیاں ، شاہین آباد ، سرگودھا وغیرہ سے متعدد قافلے ربوہ پہنچے۔ چناب ایکسپریس پہنچی تو اس میں بھی کئی قافلے ربوہ پہنچے۔ چونکہ ربوہ کے وسط میں مسلمانوں کا کوئی ہوٹل نہیں تھا۔ اس لئے مجلس نے باہر سے آنے والے حضرات کے کھانے کا بندوبست کیا ہوا تھا۔ البتہ چائے کے لئے ایک مقامی مسلمان دوست نے عارضی طور پر ایک ٹی سٹال کا انتظام کر لیا تھا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ شمع ختم نبوت کے پروانے ربوہ کے اس اجتماع میں شرکت کو اپنے لئے سعادت سمجھتے ہوئے یہاں پہنچے تھے۔ اس لئے نہ انہیں سردی کی شدت کا احساس تھا اور نہ ہی سفر کی تھکان ...... ہر ایک شخص پر ایک خاص کیفیت طاری تھی ۔ شمع ختم نبوت کے پروانوں کا سیل رواں برابر بڑھا چلا آ رہا تھا۔
مولانا اللہ وسایا صاحب خطیب ربوہ نے مائیک پر اعلان کیا کہ جلسہ کی کارروائی شروع کی جاتی ہے اور انہوں نے صدارت کے لئے مولانا عبداللطیف انور شاہ کوٹ کا نام پیش کیا ۔ جو جامعہ اشرفیہ شاہ کوٹ کے مہتمم اور اپنے علاقہ کی ہر دلعزیز شخصیت تھے۔ تلاوت قرآن کریم کے بعد بہاول پور جامعہ مدنیہ کے مہتمم مولانا غلام مصطفےٰ بہاول پوری تشریف لائے ۔ جنہوں نے مسئلہ ختم نبوت کے موضوع پر مدلل تقریر کی۔ ان کی تقریر کے بعد جھنگ سے پنجابی کے مشہور شاعر جناب طاہر جھنگوی صاحب نے پنجابی میں اپنا کلام پیش کیا جس پر عوام نے انہیں خوب داد دی ۔ ان کے نعتیہ کلام کے بعد مرکزی جامع مسجد اسلام آباد کے خطیب حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب نے سورۃ العصر کی نہایت احسن اور پرتاثیر انداز میں تفسیر بیان کی۔ ان کی تقریر دلپذیر جاری تھی کہ مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی امیر شیخ المشائخ ، رہبر شریعت ، پیر طریقت حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب خانقاہ سراجیہ کندیاں اور مجاہد تحریک ختم نبوت حضرت مولانا تاج محمود تشریف لے آئے ۔ جب یہ دونوں رہنمایان ختم نبوت مسجد محمدیہ میں داخل ہوئے تو ربوہ کی فضا نعرہ تکبیر ، اللہ اکبر ، تاج وتخت ختم نبوت زندہ باد ، امیر شریعت زندہ باد، مجلس تحفظ ختم نبوت زندہ باد کے باطل شکن نعروں سے گونج اٹھی۔ اب جلسہ کی کارروائی کا امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب کی زیر صدارت باقاعدہ آغاز ہوا ۔ تلاوت قرآن کریم کے بعد مجاہد تحریک ختم نبوت اور مجلس کے مرکزی راہنما حضرت مولانا تاج محمود کی تقریر شروع ہوئی ۔ مولانا نے اپنی تقریر میں فرمایا کہ مجلس تحفظ عقیدہ ختم نبوت کے لئے جو کام کر رہی ہے وہ کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے ۔ وہ ملک کی دینی جماعتوں میں منفرد مقام رکھتی ہے ۔ کوئی شخص بھی جو منکرین ختم نبوت اور فتنہ انکار ختم نبوت سے آگاہ ہے اس سے مجلس کی سرگرمیاں مخفی نہیں ہیں۔
مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی بنیاد بلبل باغ رسول حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری نے رکھی تھی۔ آپ قیام پاکستان کے بعد فرمایا کرتے تھے کہ انگریز یہاں سے چلا گیا ہے ۔ لیکن اپنا خود کاشتہ پودا چھوڑ گیا ہے ۔ جس طرح ہم نے انگریز کے خلاف بھر پور جہاد کر کے اسے اس سرزمین سے نکلنے پر مجبور کر دیا تھا۔ اسی طرح اس کے خود کاشتہ پودے کے خلاف بھی جہاد جاری رہے گا۔ آپ نے اپنی تقریر میں مجلس کی ان بے مثال کامیابیوں کا تفصیل سے تذکرہ فرمایا جو اس نے اپنے یوم تاسیس سے لے کر اب تک انجام دی تھیں۔ ربوہ ایسی سرزمین تھی کہ جہاں کسی مسلمان کا داخلہ ممنوع ہی نہیں بلکہ اگر کوئی مسلمان یہاں داخل بھی ہو جاتا تو اس کا یہ بھی پتہ نہ چلتا تھا کہ وہ
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
کہاں گیا۔ لیکن آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہم آزادی کے ساتھ یہاں ختم نبوت کی تبلیغ کر رہے ہیں اور ایک مسلمان نہیں ہزاروں کی تعداد میں کراچی سے پشاور تک کے شمع ختم نبوت کے پروانے آج یہاں جمع ہیں۔ مولانا کی تقریر جاری تھی کہ ایک طرف ہٹو، مہمان کو آگے جانے دو کا شور بلند ہوا۔ سب کی نگاہیں دروازے کی طرف لگ گئیں۔ دیکھا تو مجاہد ملت حضرت مولانا غلام غوث صاحب ہزاروی تشریف لا رہے تھے۔ ایک بار پھر فضا نعروں سے گونج اٹھی۔ مولانا کو دیکھ کر جذبات سے حاضرین کے آنسو بھر آئے کہ امیر شریعت کے رفیق مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھری اور خطیب پاکستان حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی کا ساتھی بڑھاپے اور نقاہت کے باوجود سینکڑوں میل سفر کر کے ربوہ پہنچا تھا۔ مولانا ہزاروی تشریف لا چکے تو مولانا تاج محمود کا بیان شروع ہوا۔ مولانا نے فرمایا کہ قادیانیوں کو اسلامی اصطلاحات استعمال کرنے سے روکا جائے۔ ان کے بعد معروف شیعہ عالم مولانا علی غضنفر کراروی مائک پر تشریف لائے۔ انہوں نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ تمام مکاتب فکر کے علماء اختلافات سے بالاتر ہو کر اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے متحدہ جدوجہد کریں۔ انہوں نے قادیانیوں کے بارے میں آئینی ترمیم کے مطابق قانون سازی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
میاں فضل حق صاحب جمعیت اہل حدیث کے مرکزی رہنما تھے۔ وہ بھی ربوہ تشریف لائے تھے۔ انہوں نے مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ میاں فضل حق صاحب کے بعد مجاہد ملت حضرت مولانا غلام غوث صاحب ہزاروی کا اعلان ہوا تو سامعین نعرہ تکبیر، اللہ اکبر، تاج و تخت ختم نبوت، امیر شریعت، مولانا ہزاروی زندہ باد کے نعروں سے ان کا خیر مقدم کیا۔ مولانا کے گھٹنے میں درد تھا۔ اس لئے بہت مختصر تقریر فرمائی۔ آپ نے فرمایا کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے حضرت مولانا تاج محمود صاحب نے بڑی اچھی تقریر فرمائی۔ انہوں نے فرمایا کہ مجلس تحفظ ختم نبوت عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف کی قیادت میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ مجھے جب حضرت مولانا تاج محمود کا دعوت نامہ ملا تو میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ میں ضرور شریک ہوں گا۔ باوجود یکہ مجھے تکلیف تھی۔ فرمایا: دنیا اہل علم سے خالی ہوتی جا رہی ہے۔ راولپنڈی خالی ہو گئی۔ مولانا غلام اللہ خان انتقال فرما گئے۔ لاہور حضرت لاہوری کے بعد خالی ہو گیا تھا۔ فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیات صاحب اور مولانا احتشام الحق بھی دنیا سے رخصت ہو گئے اور اب حضرت مولانا مفتی محمود بھی اللہ کو پیارے ہو گئے۔ دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ ان کی اور ہماری غلطیاں معاف فرمائے اور تمام مرحوم حضرات کی مغفرت فرمائے۔ آمین!
مولانا نے فرمایا حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم تشریف فرما ہیں۔ خانقاہ سراجیہ شریف کے سجادہ نشین ہیں۔ وہاں بیٹھ کر بھی لوگوں کی اصلاح فرما رہے ہیں۔ لیکن خاص طور پر آپ کا یہاں تشریف لانا بہت بڑی بات ہے اور یہ ختم نبوت کے ساتھ ان کی گہری عقیدت کا واضح ثبوت ہے۔ مولانا نے اپنی تقریر میں قادیان سے لے کر ربوہ تک کی علماء حق کی قربانیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے حضرت امیر شریعت، حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھری، خطیب پاکستان حضرت مولانا قاضی احسان احمد صاحب شجاع آبادی، مولانا لال حسین اختر، حضرت بنوری، حضرت مولانا محمد حیات، مجلس تحفظ ختم نبوت کے کارکنوں، مبلغین خصوصاً مجاہد تحریک ختم نبوت حضرت مولانا تاج محمود صاحب کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
اس نشست میں کراچی سے مجلس کے جیالے ساتھی، انتھک کارکن جناب عبدالرحمٰن یعقوب باوا صاحب نے بھی تقریر کی۔ خطیب ربوہ حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب نے بھی فاضلانہ خطاب فرمایا۔ انہوں نے اتحاد امت پر زور دیا اور تشتت وافتراق سے بچنے کی تلقین کی۔ جمعہ کا خطبہ بادشاہی مسجد لاہور کے خطیب حضرت مولانا عبدالقادر آزاد نے دیا۔ اخبارات نے اس اجتماع کو ۴۰، ۵۰ ہزار کا اجتماع لکھا۔ جامع مسجد ریلوے اسٹیشن ربوہ کا اندرونی ہال، بیرونی صحن، مسجد کی چھت، مسجد سے ملحق مجلس تحفظ ختم نبوت کا دفتر، اس کی چھت، ریلوے اسٹیشن کا دفتر، مسافر خانہ، مسجد سے باہر اسٹیشن سے مین سڑک تک پورا ایریا، کار پارکنگ، ٹانگہ پارک اور ملحقہ تمام پلاٹ شمع ختم نبوت کے پروانوں سے کھچا کھچ بھرے ہوئے تھے۔
ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ
مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی عظیم الشان کانفرنس چنیوٹ کا کچھ نہ کچھ تعارف اور اہمیت گزشتہ صفحات میں گزر چکی ہے۔ ۱۹۸۰ء کو اٹھائیسویں کانفرنس تھی۔ ۲۶، ۲۷، ۲۸ دسمبر کو اس سہ روزہ کانفرنس کا انعقاد ہونا تھا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی روز اوّل سے یہ روایت رہی ہے کہ تمام فروعی اختلافات سے صرف نظر کرتے ہوئے تمام مکاتب فکر کے نمائندوں کو مدعو کیا جاتا ہے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے پروگراموں کو اگر آج بھی دیکھا جائے تو اتحاد امت کی چاہ پوری ہوتی نظر آتی ہے اور صرف وطن عزیز نہیں بلکہ بیرون ممالک کے اسلامی سربراہان کو بھی گاہے بگاہے دعوت دی جاتی ہے۔ ۱۹۷۹ء کی کانفرنس سعودی حکومت کی طرف الشیخ اسماعیل بن عتیق تشریف لائے اور ربوہ کی جامع مسجد میں جمعہ کا خطبہ بھی دیا۔ رات کو پھر چنیوٹ کانفرنس سے خطاب فرمایا تھا۔ ۱۹۸۰ء میں امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب حج کے لئے حجاز مقدس گئے ہوئے تھے۔ وہاں انہوں نے حضرت مولانا محمد مکی صاحب سے فرمایا کہ وہ ہماری طرف سے یہ تحریری دعوت نامے سعودی حکومت کے تبلیغ واشاعت سے متعلقہ سربراہوں کو بھیج دیں تاکہ وہ خود یا اپنے کسی نمائندہ کو بھیج کر کانفرنس میں شرکت کریں۔ سعودی حکومت نے پاکستان میں متعین اپنے مرکز دعوت اسلامی لاہور کے ڈائریکٹر کو اس کانفرنس میں شرکت کے لئے فرما دیا۔ چنانچہ یہ اطلاع ملتے ہی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ایک سینئر مبلغ مولانا ضیاء الدین آزاد کو ان کی خدمت میں لاہور بھیجا گیا۔ انہوں نے ڈائریکٹر صاحب موصوف سے ملاقات کی اور رات کے اجلاس میں موصوف کی شرکت کا وعدہ کیا۔
۲۷ دسمبر ۱۹۸۰ء کو مغرب سے پہلے فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز بن عتیق بذریعہ کار لاہور سے تشریف لائے۔ ان کے ہمراہ مولانا محمود صاحب اور مولانا عبدالرحمٰن بھی تھے۔ یہ دونوں حضرات ڈائریکٹر موصوف کے سٹاف ممبر تھے۔ چنیوٹ پہنچنے کے بعد ڈائریکٹر موصوف اس مہمان خانے میں تشریف لے آئے جو کانفرنس کے مدعوئین اور راہنماؤں کے لئے مخصوص تھا۔ مہمان خانے میں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے عرب اور افریقی طلبہ موجود تھے۔ یہ لوگ بھی کانفرنس میں تقریر کرنے کے لئے مدعو تھے۔ الشیخ عبدالعزیز بن عتیق نے کانفرنس کے کارکنوں اور زرعی یونیورسٹی کے مہمان طلبہ سے گھل مل کر باتیں کیں۔ ان کی خیریت پوچھی اور ان کا تعارف و باہمی شناسائی حاصل کی گئی۔ ان کے علاوہ سوڈان کے ڈاکٹر عثمان صاحب ، فلسطین کے عبدالقادر مصطفیٰ محمد نے بھی شرکت فرمائی اور تقاریر بھی فرمائی تھی۔ زرعی یونیورسٹی کے طلباء نے ان کی تقاریر کی بہترین ترجمانی کی۔ بیرون ممالک کے مہمانوں کے علاوہ شیخ المشائخ حضرت مولانا خواجہ خان محمد ، مولانا عبداللطیف شاہ کوٹ، مولانا مفتی زین العابدین ، حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی، مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا تاج محمود ، اہل حدیث
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
راہنما جناب میاں فضل حق، مولانا محمد عبداللہ شہید خطیب مرکزی جامع مسجد اسلام آباد، مولانا عبدالقادر آزاد، مولانا غضنفر علی کراروی، مولانا خدا بخش شجاع آبادی، خطیب ربوہ مولانا اللہ وسایا، مولانا غلام مصطفیٰ بہاول پوری، مولانا محمد ضیاء القاسمی، مولانا محمد اشرف ہمدانی، مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی، مولانا زاہد الراشدی، علامہ احسان الٰہی ظہیر، مولانا محمد رمضان میانوالی، مولانا محمد مالک کاندھلوی، مولانا سعید الرحمٰن علوی، مولانا ضیاء الرحمٰن فاروقی وغیرہم نے تقاریر فرمائیں۔ کانفرنس دسمبر کے مہینے میں تھی۔ جب سردی اپنے انتہاء پر ہوتی ہے۔ دو روز قبل بارش بھی ہوئی تھی۔ جس سے سردی میں بے پناہ اضافہ ہوا تھا۔ اس سخت سردی میں مسلمانوں نے ریل، بسوں، ٹرکوں کے ذریعے طویل سفر کیا اور عقیدہ ختم نبوت سے والہانہ عقیدت و محبت کا جیتا جاگتا ثبوت دیا۔
کانفرنس میں کراچی سے خیبر تک شمع ختم نبوت کے پروانے نہایت عقیدت و محبت سے شریک ہوئے۔ یہ لوگ چنیوٹ کے در و دیوار دیکھنے کے لئے نہیں آئے تھے۔ بلکہ جذبۂ شوق ختم نبوت اور سرکار دو عالم ﷺ سے بے پناہ محبت انہیں یہاں کھینچ لائی تھی۔ جانتے تھے کہ چنیوٹ سے چند میل کی مسافت پر دریائے چناب کے اس پار ربوہ بھی موجود ہے۔ مسلمانوں نے لاکھوں کی تعداد میں اس عظیم الشان تاریخی کانفرنس میں شرکت کر کے ثابت کر دیا کہ ناموس رسالت اور عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے ہم کیا ہمارا مال اور اولاد سب کچھ قربان ہے۔ ۲۶؍ دسمبر کو ربوہ کے تاریخی اجتماع کے بعد سے مسلمان چنیوٹ پہنچنا شروع ہو گئے تھے اور رات کو جب کانفرنس کی تیسری نشست منعقد ہوئی تو اس وقت پبلک پارک اور اس کے آس پاس کی سڑکیں بھری ہوئی تھیں۔ پنڈال کی دائیں جانب مجلس تحفظ ختم نبوت چنیوٹ کا معلوماتی کیمپ اور ساتھ ہی خواتین کے لئے الگ جگہ مخصوص بنائی گئی تھی۔ معلوماتی کیمپ کے ذریعے باہر سے آنے والوں کو معلومات فراہم کی جاتی تھیں۔
چنیوٹ کا علاقہ مونجی کا علاقہ ہے۔ اس لئے پنڈال میں سامعین کے لئے دریاں بچھانے کی بجائے پرالی بچھا دی گئی تھی۔ اسٹیج کے دونوں جانب کرسیوں کا انتظام تھا۔ جن کے لئے ٹکٹ جاری کئے گئے تھے۔ اخبار نویس حضرات کے لئے الگ جگہ متعین کر دی گئی تھی۔ جس کی وجہ سے انہوں نے اپنا فرض بآسانی پورا کیا۔ یہ عظیم الشان اور تاریخی کانفرنس اس لحاظ سے بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہوا کرتی تھی کہ اس میں دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث اور شیعہ تمام مکاتب فکر کے نمائندے شریک ہوتے تھے۔ موجودہ تشتت و افتراق کے دور میں اس کانفرنس کی بہت ہی زیادہ اہمیت بڑھ گئی تھی اور اس میں جہاں دیوبندی مکتب فکر کے سینکڑوں مشائخ عظام اور علماء کرام نے شرکت کی، وہاں بریلوی مکتب فکر کے شعلہ نوا خطیب مولانا صاحبزادہ افتخار الحسن فیصل آباد، شیعہ مکتب فکر کے مولانا ع، ع کراروی، مرکزی جمعیت اہل حدیث کے مرکزی راہنما میاں فضل حق، ممتاز عالم مولانا عبد القادر روپڑی اور مولانا علامہ احسان الٰہی ظہیر نے بھی باہمی رواداری اور اخوت و محبت کا پیغام دیا۔ اگر اب بھی تمام مکاتب فکر کے علماء اور مشائخ اسی رواداری کا مظاہرہ کریں تو پورے ملک سے فرقہ واریت اپنی موت آپ مر سکتی ہے۔
مہمان سامعین کے لئے انتظامات
اس سخت سردی کے موسم میں ایک مسئلہ باہر سے آنے والے ہزاروں سامعین کی رہائش کا تھا۔ ان کے لئے گڑھا محلہ میں دو اسکولوں میں انتظام کیا گیا تھا۔ اس کے باوجود بہت سے لوگوں نے ہوٹلوں میں رہائش اختیار کی ہوئی تھی۔ ویسے بھی اس عظیم الشان کانفرنس
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
کا چنیوٹ بھر میں کئی ماہ پہلے سے ہی انتظار شروع ہو جاتا تھا۔ اسی لئے چنیوٹ کا کوئی گھر شاید ہی ایسا ہوتا جہاں مہمان ٹھہرے ہوئے نہ ہوں۔ شہر کی اکثر مساجد اور دینی مدارس میں بھی مہمانوں کے لئے رہائش کا انتظام ہوتا تھا۔
پہلی نشست اور دوسری نشست
پہلی اور دوسری نشست ربوہ میں نماز جمعہ سے قبل اور بعد شیخ المشائخ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ اور مولانا عبداللطیف صاحب انور شاہ کوٹ کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ اس پروگرام کا گزشتہ صفحات میں تفصیلی تذکرہ ہو چکا۔ ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ کے لئے یہ پروگرام بطور تمہید تھا۔
تیسری نشست بعد نماز عشاء
تیسری نشست حضرت مولانا مفتی زین العابدین صاحب کی زیر صدارت منعقد ہوئی۔ جس میں مجاہد تحریک ختم نبوت حضرت مولانا تاج محمود صاحب نے امیر مرکزیہ حضرت مولانا خان محمد صاحب کی طرف سے خطبہ صدارت پیش کیا۔ مولانا محمد ضیاء القاسمی صاحب، مولانا محمد اشرف ہمدانی، صاحبزادہ امداد الحسن فیصل آباد، راؤ عبدالمنان سرگودھا، مولانا غ، ع کراروی، طالب علم رہنما عابد حسین صدیقی، ربوہ تعلیم الاسلام کالج کے نومنتخب نائب صدر طارق محمود، مولانا حامد علی رحمانی حسن ابدال اور مولانا حبیب الرحمن ابن انیس لدھیانوی نے تقریریں کیں۔
چوتھی اور پانچویں نشست
۲۷ دسمبر بروز ہفتہ چوتھی اور پانچویں نشست نماز ظہر سے قبل اور بعد منعقد ہوئیں۔ جس میں قاری عبدالغفور بہاول نگر، مولانا عبدالحفیظ بہاول نگر، مولانا محمد امیر جھنگوی، مولانا اللہ وسایا خطیب ربوہ، مولانا قاضی اللہ یار، مولانا سید ممتاز الحسن شاہ، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا حکیم عبدالرحمن آزاد گوجرانوالہ اور نظام العلماء پاکستان کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا زاہد الراشدی صاحب نے خطاب کیا۔
چھٹی نشست بعد نماز عشاء
چھٹی نشست بعد نماز عشاء امیر مرکزیہ شیخ المشائخ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کی زیر صدارت منعقد ہوئی۔ جس میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما حضرت مولانا تاج محمود کے خیر مقدمی خطاب کے بعد سعودی حکومت کے نمائندے جناب الشیخ عبدالعزیز بن عتیق کا خطاب ہوا۔ علاوہ ازیں اردنی عوام کے نمائندے جناب محمود احمد صاحب، سوڈانی عوام کے نمائندے ڈاکٹر عثمان صاحب، فلسطینی طالب علم جناب مصطفیٰ محمد صاحب، مولانا احسان اللہ فاروقی، مولانا سید فضل الرحمن احرار، سلانوالی مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا حبیب اللہ صاحب فاضل رشیدی جالندھری، شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خان صاحب کے جانشین حضرت مولانا قاضی احسان الحق صاحب، اہل حدیث رہنما علامہ احسان الٰہی ظہیر، حضرت مولانا محمد رمضان صاحب میانوالی، حضرت مولانا عبدالرحمن صاحب جامعہ اشرفیہ لاہور اور شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد مالک صاحب کاندھلوی جامعہ اشرفیہ لاہور نے بھی خطاب کیا۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
۲۸؍ دسمبر، ساتویں اور آٹھویں نشست
ساتویں اور آٹھویں نشست جو نماز ظہر سے قبل اور بعد منعقد ہوئیں۔ مولانا سید ممتاز الحق شاہ، مولانا عبدالرؤف جتوئی، مولانا عبدالعزیز ہاشمی مدیر ہفت روزہ امن آزاد کشمیر، مولانا ضیاء الدین آزاد کنری سندھ، مولانا جمال اللہ صاحب جیکب آباد سندھ اور مجلس کے مرکزی راہنما حضرت مولانا محمد شریف صاحب جالندھری کا خطاب ہوا۔
آخری نشست بعد نماز عشاء
آخری نشست مجاہد تحریک ختم نبوت حضرت مولانا تاج محمود کی زیرصدارت منعقد ہوئی۔ جس میں مولانا ضیاء الرحمن فاروقی، مولانا رشید احمد لدھیانوی رحیم یار خان، ممتاز صحافی مولانا اختر کاشمیری، مولانا سعید الرحمن علوی ایڈیٹر خدام الدین، پروفیسر محمد صادق لاہور، بارک اللہ خاں ایڈووکیٹ، نوابزادہ نصر اللہ خاں، نظام العلماء پاکستان کے مرکزی ناظم اعلیٰ خطیب اسلام حضرت مولانا محمد اجمل خاں صاحب لاہور، اہل حدیث راہنما حضرت مولانا عبدالقادر روپڑی نے تقریریں کیں۔ آخری تقریر بریلوی مکتبہ فکر کے نامور خطیب حضرت مولانا صاحبزادہ افتخار الحسن صاحب کی ہوئی۔ اس نشست میں حضرت مولانا تاج محمود نے مختلف قراردادیں پیش کیں۔
شعراء اور نعت خواں حضرات
اس کانفرنس میں ملک بھر کے ممتاز شعراء اور نعت خواہ حضرات نے شرکت کی۔ شاعر ختم نبوت سید امین گیلانی، فخر احرار جناب سائیں حیات پسروری، صوفی خدا بخش چشتی، جناب حفیظ جالندھری، مولانا محمد شریف اور جناب طاہر جھنگوی کے ذکر کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔
نوائے وقت کی چند جھلکیاں
۳۰؍ دسمبر کو روزنامہ نوائے وقت نے ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ پر خصوصی اشاعت شائع کی۔ اس صفحے کی چند جھلکیاں ملاحظہ فرمائیں:
- آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس میں ملک بھر سے ایک لاکھ سے زائد فرزندان رسالت نے شرکت کی۔
- شدید سردی کی وجہ سے جلسہ گاہ کو شامیانوں اور قناتوں سے مکمل طور پر ڈھانپ دیا گیا تھا۔
- اسٹیج پر تمام مکاتب فکر کے جید علماء کو دیکھ کر سامعین میں اتحاد کا ولولہ انگیز جوش پایا گیا۔
- جلسہ گاہ کا نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لئے ضلعی اور مقامی انتظامیہ بڑی مستعدی سے کام کرتی رہی۔
- کانفرنس کے رات کے اجلاس، بالخصوص کامیاب رہے۔ اجلاسوں میں ملک بھر سے سینکڑوں بسیں فرزندان توحید سے بھری آتی رہیں جس کے لئے پبلک پارک لائبریری سے تحصیل چوک تک بسوں کی قطاریں لگی رہیں۔
- اسٹیج کے دونوں طرف کرسیاں بچھائی گئی تھیں جن کے لئے باقاعدہ پاس جاری کئے گئے۔
(لولاک دسمبر ۱۹۸۰ء، جنوری ۱۹۸۱ء)
مرکزی شوریٰ کا اجلاس
۱۴، ۱۵؍ دسمبر ۱۹۸۰ء مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی شوریٰ کا اجلاس مرکزی دفتر ملتان میں زیرصدارت شیخ طریقت حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب منعقد ہوا۔ اجلاس میں شرکت کرنے کے لئے ملک بھر سے مجلس تحفظ ختم نبوت کے اراکین شوریٰ تشریف لائے
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
ہوئے تھے۔ کراچی سے مولانا سید محمد بنوری، حاجی لال حسین صاحب، یعقوب باوا صاحب، بہاول پور سے حاجی عمر دین صاحب، حاجی بلند اختر، گوجرانوالہ سے مولانا عبد الرحمٰن آزاد صاحب، سیالکوٹ سے ملک منظور الٰہی صاحب، راولپنڈی سے مولانا محمد عبد اللہ صاحب خطیب مرکزی جامع مسجد اسلام آباد، پشاور سے مولانا نور الحق نور صاحب، فیصل آباد سے مولانا تاج محمود صاحب اور ملتان سے مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا عبدالرحیم اشعر، مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری شریک اجلاس تھے۔
ملک بھر کے حالات حکومت اور اسلامی نظام کا نفاذ اور سرکاری حلقوں میں نظریہ پاکستان کے دشمنوں کی سرگرمیاں ایک مخصوص گروہ کے لوگوں کی خفیہ ریشہ دوانیاں، جماعت کی تنظیمی اور تبلیغی صورتحال، اس کے مبلغین کی رابطہ عوام مہم، درس تدریس، تعلیم و تبلیغ کے مالی معاملات، دفاتر اور مساجد کی تعمیرات، غرضیکہ ایک طویل ایجنڈا پر غور وخوض ہوا اور حضرت امیر مرکزیہ کی خصوصی اجازت سے مجلس کے ایک اجلاس میں سردار امیر عالم خان لغاری، ملتان کے مشہور تاجر اور مجلس کے خصوصی معاون خواجہ حبیب صاحب امیر مرکزیہ کے معتمد خاص اور عقیدتمند جناب سردار فضل محمود ریٹائرڈ ایس۔ پی بھی کچھ وقت کے لئے اجلاس میں شریک کئے گئے۔ سردار امیر عالم خان لغاری مدینہ منورہ سے وطن واپس لوٹے تھے اور حضرت امیر کے حکم کے مطابق ملتان پہنچ کر شریک اجلاس ہوئے تھے۔
مجلس شوریٰ نے اپنے ملتان کے نئے اور پرانے دونوں دفاتر اور ان سے متعلق امور کے متعلق معاملات نمٹانے اور سلجھانے کے لئے ایک سہ رکنی سب کمیٹی بنا دی تھی۔ جس کے مولانا تاج محمود، حاجی بلند اختر اور خواجہ حبیب صاحب رکن مقرر کئے گئے۔ شوریٰ نے مہنگائی کے پیش نظر مجلس میں ہمہ وقت کام کرنے والے مبلغین اور کارکنوں کی تنخواہوں میں یک صد روپیہ فی کس اور چھوٹے ملازمین کی تنخواہوں میں پچاس روپے فی کس کے حساب سے اضافہ منظور کیا۔ اس اضافہ سے مجلس کے ماہانہ اخراجات میں قریباً دس ہزار روپیہ ماہوار کا اضافہ ہو جائے گا۔ شوریٰ نے چنیوٹ کانفرنس کے لئے مجلس کے مبلغین حضرات کی ڈیوٹی لگائی کہ کانفرنس کی کامیابی کے لئے اپنی خصوصی توجہ مبذول کریں۔ شوریٰ کے اجلاس میں مولانا تاج محمود صاحب نے بعض نئے اصحاب کا نام پیش کیا کہ انہیں مجلس میں لے لیا جائے۔ شوریٰ نے مولانا تاج محمود صاحب کو اختیار دے دیا کہ وہ ان صاحبان سے بالمشافہ یا خط و کتابت کے ذریعہ رابطہ قائم کریں اور مناسب فیصلہ کر لیں۔
شوریٰ نے مولانا تاج محمود صاحب کی اس تجویز پر بھی غور کیا کہ ملک کی مسلمہ دینی جماعتوں کے ساتھ رابطہ قائم کیا جائے۔ ان کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے اور ایک دینی متحدہ محاذ کی صورت پیدا کی جائے۔ اس محاذ میں صرف وہ جماعتیں ادارے اور شخصیات شامل کی جائیں گی جن کا مروجہ سیاست سے کوئی تعلق نہ ہو۔ یہ دینی متحدہ محاذ گاہے بگاہے مشترکہ اجلاس کرتا رہا کرے اور ایسے مسائل کو جو مشترکہ ہوں ان پر باہمی صلاح مشورہ ہوتا رہا کرے۔ اگر باہمی اختلاف ہوں تو ان کو دور کیا جائے اور ملک میں بڑھتی ہوئی بے دینی اور گمراہی کا متفقہ طور پر مقابلہ کرتے رہیں اسلام کی سربلندی کے لئے کام کیا جائے اور اس طرح ملی اتحاد، اسلامی نظام کے نفاذ، اخلاقی اقدار کے فروغ و سربلندی کے لئے زیادہ سے زیادہ یک جہتی کی صورت پیدا کی جائے۔
شوریٰ نے ایک قرارداد کے ذریعہ امسال بعض برگزیدہ ہستیوں کے اس دارفانی سے رحلت کرنے پر رنج و غم کا اظہار کیا اور ان کے لئے دعائے مغفرت کی گئی۔ اس سلسلہ میں شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان صاحب، حضرت مولانا مفتی محمود صاحب، مولانا احتشام الحق تھانوی صاحب، مولانا محمد حیات فاتح قادیان صاحب، محمد بخش چشتی، مولانا محمد رمضان علوی کے والد گرامی جناب حافظ غلام یٰسین کے نام قابل ذکر ہیں۔ آخر میں حضرت امیر مرکزیہ نے خشوع و خضوع سے مجلس کی مساعی کی قبولیت اور آئندہ کے لئے زیادہ سے زیادہ خدمت اور کام کرنے کی توفیق کے لئے دعا فرمائی۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ۳۱۳ ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
تحریک ختم نبوت
کے سلسلہ میں
۱۹۸۱ء
کے
حالات و واقعات
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی کی وفات
۴؍ فروری ۱۹۸۱ء کو تحریک آزادی کے بطل جلیل مجاہد ملت حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی انتقال فرما گئے۔ وفات کے وقت آپ کی عمر ۸۰ سال تھی۔ آپ کی وفات سے تمام عالم اسلام سوگوار تھا۔ آپ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے دست راست تھے۔ آپ دارالعلوم دیوبند کے فارغ التحصیل اور مایہ ناز فرزند تھے۔ دارالعلوم سے علوم نبویہ کی تعلیم کے ساتھ ساتھ برطانوی سامراج کے خلاف بغاوت اور جہاد کا جذبہ بھی ورثے میں ملا اور وطن مالوف ہزارہ پہنچتے ہی تحریک آزادی کے لئے کام کرنا شروع کر دیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب انگریز کی سلطنت میں سورج غروب نہ ہوتا تھا۔ برطانوی جاہ و جلال عروج پر تھا۔ برصغیر میں ہزاروں خاندان خصوصاً پاکستان کے بڑے بڑے شرفاء اور معززین انگریزوں کے بوٹوں کی ٹو چاٹ کر جاگیریں اور بڑے بڑے مناصب حاصل کیا کرتے تھے۔ اس زمانے میں انگریزوں کے خلاف لب کشائی اپنے آپ کو تباہی اور بربادی کے غار میں دھکیلنے کے مترادف ہوا کرتی تھی۔ مولانا غلام غوث ہزاروی امیر شریعت کی قیادت میں مجاہدین آزادی میں شامل ہو گئے اور بہت جلد اپنی خداداد صلاحیتوں اور جراتوں کی بدولت اگلی صفوں کے رہنما شمار کئے جانے لگے۔ دیوبند میں آپ نے اپنے قیام کے دوران دارالعلوم دیوبند میں کچھ عرصہ تدریس بھی کی تھی۔
بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں انہی غیور فرنگی دشمن مسلمانوں کا ایک گروہ لاہور میں جمع ہوا اور مجلس احرار اسلام کے نام سے مسلمانوں کا ایک علیحدہ پلیٹ فارم قائم ہوا۔ جس میں امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی، مولانا مظہر علی، مولانا ظفر علی خان، مولانا سید محمد داؤد غزنوی جیسے عظیم المرتبت لوگ شامل ہوئے۔ صوبہ سرحد سے مولانا غلام غوث ہزاروی، مولانا عبدالقیوم پوپلزئی، حکیم عبدالسلام ہزاروی اور خان مہدی زمان خان آف کھلبٹ ہزاروں رضا کاروں سمیت بھی اس جماعت میں شامل ہو گئے۔ مولانا غلام غوث ہزاروی نے آزادی کی سرفروش جدوجہد کے سلسلہ میں صوبہ سرحد کی نمائندگی کی، اور احرار حلقوں میں فخر سرحد کہلانے لگے۔ احرار آزمائشوں، قربانیوں اور ایجی ٹیشنوں کا دوسرا نام تھا۔ مولانا نے احرار کے ہر معرکہ میں بے داغ کردار کا مظاہرہ کیا۔ کروڑوں لوگوں کے دلوں میں جذبہ حریت بیدار کیا اور برطانوی سامراج کی آہنی زنجیروں کے توڑنے میں بھر پور حصہ لیا۔
صوبہ سرحد میں مولانا کی ذمہ داریوں کی ایک نزاکت یہ تھی کہ صوبہ سرحد میں خان برادران کانگریس میں تھے اور ان کے ساتھ صوبہ سرحد کی ایک بہت بڑی تعداد بھی کانگرس میں تھی۔ مولانا کو ہمیشہ یہ مشکل درپیش رہی کہ انگریزوں کے خلاف لڑنے والے یہ دو دھڑے باہم نہ تو مدغم ہو سکتے تھے۔ کیونکہ احرار اپنا اسلامی تشخص کانگرس میں محفوظ نہ سمجھتے تھے اور تصادم کی راہ بھی مہلک ہو سکتی تھی۔ کیونکہ انگریزوں کو فائدہ پہنچنے کا امکان تھا۔ مولانا غلام غوث ہزاروی نے اپنی اس نازک ذمہ داری کو احسن طریقہ سے نبھایا۔ اگر چہ سرخ پوش دوست (کانگرسی عبدالغفار عرف باچا خان اور اس کی نمائندہ پارٹی) مولانا کے متعلق دل میں گرہ رکھتے تھے جو ہمیشہ قائم رہی اور جس کا مظاہرہ انہوں نے ۱۹۷۲ء میں جمعیت علمائے اسلام اور نیشنل عوامی پارٹی کی مشترکہ حکومت بنانے کے وقت بھی کیا۔
قیام پاکستان خصوصاً جناب لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد ملک شدید افراتفری کا شکار ہو چکا تھا۔ پورے ملک میں ہنگاموں کی سیاست کا دور دورہ تھا۔ پاکستان جس کا اصل مقصد یہ بتایا گیا تھا کہ یہاں کتاب وسنت کے مطابق اسلام کا نفاذ عمل میں لایا جائے گا۔ سیاسی دھڑے بندیوں کی نذر ہو چکا تھا۔ ایسے دور میں علماء کی کوئی سیاسی تنظیم نہیں تھی۔ البتہ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری، خطیب پاکستان حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی، مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری اور ان کے تمام ساتھی جو پورے برصغیر میں مجلس احرار اسلام کے نام سے مسلمانوں کی سیاسی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دے رہے تھے۔ انہوں نے بھی قیام پاکستان کے بعد سیاست سے
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
کنارہ کشی اختیار کر کے مجلس تحفظ ختم نبوت کے نام سے ایک مذہبی تنظیم کی بنیاد رکھ لی تھی اور اپنے آپ کو گمراہ فتنوں کی سرکوبی اور مسئلہ ختم نبوت کے تحفظ تک محدود کر لیا تھا۔ ایسے میں حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی نے علماء کو سیاسی پلیٹ فارم پر متحد کرنے کا بیڑا اٹھایا اور ملک کے چپے چپے میں گھوم پھر کر علماء سے ملاقاتیں کیں۔ انہیں اس بات پر آمادہ کیا کہ علماء کرام کو اپنی سرگرمیاں منبر و محراب اور دینی مدارس تک محدود رکھنے کی بجائے ایوان حکومت تک وسیع کر لینی چاہئیں۔ مولانا کا مقصد تھا کہ اگر علماء ایسے موقع پر قوم اور ملک کی رہنمائی نہیں کریں گے اور اس کے نتیجے میں یہاں اسلام کے نام پر غیر اسلامی نظام کا نفاذ عمل میں آگیا تو تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ مولانا ہزاروی نے اس سلسلہ میں مفسر قرآن حضرت مولانا احمد علی لاہوری کو آمادہ کیا کہ سیاسی میدان میں وہ ان کا ساتھ دیں تا کہ پاکستان کو فتنہ قادیانیت، فتنہ الحاد، فتنہ اشتراکیت اور فتنہ تجدد سے بچا کر ان میں اسلامی تحریک کو سرگرم رکھا جائے تا کہ جو آزادی ہمارے اکابر اور ہمارے ساتھیوں کی قربانیوں کے صلہ میں ملی ہے وہ رائیگاں نہ جائے اور دوسرا یہ کہ پاکستان جس مقصد کے لئے قائم ہوا تھا وہ مقصد حاصل ہو اور یہاں اسلامی نظام نافذ کیا جا سکے۔ مولانا ہزاروی اپنے اس مقصد کے حصول کے لئے بڑی شخصیتوں کے پاس گئے۔ جن میں مفکر اسلام مفتی محمود کا نام بھی شامل ہے۔ مولانا مفتی محمود بھی سیاسی میدان پر خصوصی نظر رکھتے تھے اور سیاسی میدان میں موجود اخلاقی پستیوں کی وجہ سے وہاں پر علماء کی موجودگی ناگزیر سمجھتے تھے۔ چنانچہ ان دونوں حضرات نے جماعت بنانے کا منصوبہ تیار کر لیا۔ منصوبہ پایہ تکمیل تک اسی طرح پہنچا کہ جامعہ قاسم العلوم ملتان میں قطب زمانہ حضرت مولانا احمد علی لاہوری کی صدارت میں سرکردہ علماء اور مشائخ کا اجلاس ہوا اور جماعت بنا کر متفقہ طور پر حضرت لاہوری کو اس کا امیر نامزد کیا گیا۔ اس اجلاس میں مولانا مفتی محمود صاحب کو جماعت کا نائب صدر اور مولانا غلام غوث ہزاروی کو ناظم اعلیٰ کے عہدے پر تعینات کیا گیا۔ باقی ذیلی عہدے بھی دیگر علماء کرام میں تقسیم کئے گئے۔ یہ ۱۹۵۶ء کا واقعہ ہے۔
مرکزی دفتر
”جمعیت علماء اسلام“ اس نئی جماعت کا مرکزی دفتر لاہور میں رکھا گیا۔ جون ۱۹۵۶ء میں جمعیت کے آرگن ”ترجمان اسلام“ کا اجراء ہوا۔ اس مجلے کے اداریے حضرت مولانا ہزاروی لکھا کرتے تھے۔ ترجمان اسلام اس دور میں کافی دلچسپی سے پڑھا جاتا تھا۔ مولانا کی تحریر میں نوک جھونک اور کاٹ بلا کی ہوتی تھی۔
انتخابات میں حصہ
جون ۱۹۵۶ء کو ملتان میں جمعیت علماء اسلام کی ایک شاندار کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس موقع پر جمعیت نے پہلی مرتبہ اپنا انتخابی منشور تیار کر کے سنایا اور سیاست میں باقاعدہ حصہ لینے کا آغاز کیا۔ اس کے ساتھ جمعیت کی سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ہر مسجد، ہر مدرسہ اور ہر جلسہ میں اسلامی نظام کے نفاذ کا شدت سے مطالبہ ہونے لگا اور جب حکومت نے ۱۹۵۸ء میں لاء کمیشن قائم کیا اور اس میں ایسے افراد کو شامل کیا جو بے دین، ملحد، جدید فکر اور مغربی نقطہ نگاہ سے اسلام کی تعبیر و تشریح کرتے تھے تو اس کے خلاف مؤثر آواز بھی جمعیت علماء اسلام نے ہی اٹھائی تھی۔ انہی دنوں حکومت کی طرف سے ایک اجتماع بلایا گیا۔ جسے ”اسلامی کلوکیم“ نام دیا گیا۔ اس میں منکرین حدیث اور متجددین و مستشرقین کو بلایا گیا۔ جمعیت علماء اسلام کے مرکزی امیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری کو بھی اس میں بلایا گیا۔ حضرت لاہوری نے اس میں شرکت کے دعوت نامے کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ یہ اسلام کے ساتھ مذاق ہے۔ اس مجلس مذکورہ کا افتتاح سکندر مرزا نے کیا تھا۔ جس میں چوہدری ظفر اللہ، قاضی اسلم جیراجپوری، مولانا مودودی اور دیگر چند ایک منکرین حدیث نے نمایاں حصہ لیا تھا۔ اس کے بعد بیرون
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
دہلی دروازہ لاہور میں جمعیت علماء اسلام کا ایک عظیم الشان جلسہ عام منعقد ہوا۔ جس میں امیر مرکزیہ حضرت لاہوری ، مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھری، مولانا ہزاروی اور حضرت مفتی محمود کی زبردست تقاریر ہوئیں۔ ان حضرات نے اس مذاکرہ میں سکندر مرزا کے علماء کے خلاف ہتک آمیز بیان پر سخت احتجاج کیا۔ اس جلسے کا ثمرہ یہ نکلا کہ حکومت اس جلسے سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکی۔ لیکن ان حضرات کو بلیک میل کرنے کے لئے حکومت نے بھر پور پروپیگنڈا شروع کیا۔ یہیں سے علماء کرام کی جہاں ارباب اقتدار سے ٹکر کا آغاز ہوا وہاں بے دین ، ملحد اور گمراہ فرقوں اور جماعتوں کے ساتھ کشمکش بھی شروع ہو گئی۔
مسٹر سکندر مرزا کو حضرت ہزاروی کا جواب
مسٹر سکندر مرزا علماء کی سرگرمیوں خاص کر اسلامی نظام کے مطالبے سے خاص برہم ہو گیا تھا اور علماء کو اپنے اقتدار کے راستے میں حائل تصور کرتا تھا۔ اسی برہمی کی حالت میں اس نے یہ بیان دیا کہ: ”میں علماء کے لئے سونے کی کشتی تیار کر کے انہیں سمندر پار بھیج دوں گا ۔“ سکندر مرزا کا یہ بیان اخبارات میں نمایاں شائع ہوا۔ اس وقت حضرت مولانا ہزاروی جمعیت کی ایک کانفرنس میں شرکت کے لئے سکھر گئے ہوئے تھے۔ رات کو مولانا کی تقریر تھی۔ مولانا نے اپنی تقریر میں سکندر مرزا کو للکارا اور فرمایا : ”او سکندر مرزا! تم کہتے ہو کہ میں علماء کو سونے کی کشتی میں سوار کر کے سمندر پار بھیج دوں گا۔ یاد رکھو! تم علماء کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ البتہ ! تمہارے لئے جہاز تیار ہو چکا ہے۔ تمہیں اس ملک میں دوگز زمین کا ٹکڑا بھی میسر نہیں آئے گا۔ بلکہ وقت آئے گا۔ تمہاری لاش کو زمین سے نکال کر سمندر میں بہا دیا جائے گا۔“
چنانچہ سکندر مرزا یہاں سے لندن بھاگا اور پھر کبھی واپس نہ آسکا۔ ذلت کی انتہاء یہ کہ ایک ہوٹل میں وہ اور اس کی بیوی چند ٹکوں پر ملازمت کرتے رہے اور موت آنے پر اسے ایران میں دفن کیا گیا۔ پھر جب ایران میں انقلاب آیا۔ شاہ ایران کی حکومت کا خاتمہ ہوا اور خمینی برسراقتدار آئے تو اس انقلابی دور میں ایران کے بپھرے ہوئے نوجوانوں نے سکندر مرزا کی لاش کو قبر سے نکال کر کسی نامعلوم مقام پر پھینک دیا۔
سیاسی سرگرمیوں میں تعطل ، نظام العلماء کا قیام
جنرل محمد ایوب خان نے برسر اقتدار آتے ہی ملک میں سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی۔ تمام سیاسی جماعتوں کے لیڈر گوشہ عافیت میں جا بیٹھے۔ لیکن علماء کرام نے گوشئہ عافیت میں بیٹھنے کی بجائے حق و صداقت اور قوم کی دینی رہنمائی جاری رکھنے کا عزم کئے رکھا۔ اسی جذبے کے تحت ملتان میں پھر علماء کا ایک بڑا کنونشن بلایا جس میں نظام العلماء قائم کی گئی اور مولانا لاہوری کو امیر مقرر کر لیا گیا۔ حضرت مولانا مفتی محمود اور مولانا غلام غوث ہزاروی دیگر عہدوں پر تعینات کئے گئے۔ یہ مطالبہ کیا گیا کہ ملک میں اسلامی اصلاحات کی جائیں جو اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے پیش خیمہ ہوں اور آہستہ آہستہ اسلامی نظام کا نفاذ بھی عمل میں لایا جائے ۔ ان علماء نے حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ آئینی کمیشن میں علماء کو شامل کیا جائے۔ کیونکہ علماء کے نہ ہونے سے متجددین اور ملحدین اپنی من مانی سفارشات ایوب خان کو پیش کر دیں گے اور ملک کا دستور جس میں بیشتر باتیں غیر اسلامی تھیں ، پر اسلامی ہونے کا لیبل لگا دیں گے۔ اس کے ساتھ ہی عائلی کمیشن کی رپورٹ پر عمل درآمد نہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ یہ مہم اس شدت کے ساتھ چلی کہ حکومت نظام العلماء کے رہنماؤں کے خلاف کارروائی کرنے پر مجبور ہوگئی۔
۲۲؍ اگست ۱۹۶۰ء کو حکومت نے سیفٹی ایکٹ کے تحت حضرت مولانا ہزاروی کو چھ ماہ کے لئے نظر بند کر دیا اور ” ترجمان اسلام “ کا ڈیکلریشن ایک قانونی سقم نکال کر منسوخ کر دیا۔ جون ۱۹۶۱ء میں مرکزی امیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری پر بھی چھ ماہ کے لئے پابندی لگادی گئی۔ دوسری طرف مولانا ہزاروی پر منٹگمری کی کسی تقریر پر مقدمہ درج ہو چکا تھا۔ ان سے اس مقدمہ کے سلسلہ میں ایک نوٹس کی تعمیل
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
کرائی گئی اور چھ ماہ کے لئے پھر لاہور میں پابندی لگادی گئی۔ اس کے ساتھ ہی گرفتاریوں اور مقدمات کا ایک سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ اس سلسلہ میں حضرت مولانا محمد علی جالندھری، حضرت مولانا غلام ربانی رحیم یار خان سب سے پیش پیش تھے۔
۲۳؍ فروری ۱۹۶۲ء کو حضرت لاہوری صاحب انتقال کر گئے۔ ان کے بعد حافظ الحدیث حضرت مولانا عبداللہ درخواستی کو امیر مقرر کیا گیا۔ اس وقت صدر ایوب خان نے ملک میں ایک آئین نافذ کر کے ملک میں بنیادی جمہوریت کے نظام کے تحت عام انتخابات کا اعلان کیا۔ جن میں کوئی جماعت بحیثیت جماعت کے حصہ نہیں لے سکتی تھی۔ اس لئے فیصلہ ہوا کہ قومی اسمبلی میں ڈیرہ اسماعیل خان سے مفتی محمود اور مغربی پاکستان اسمبلی کے لئے ہزارہ سے مولانا ہزاروی انتخابات میں حصہ لیں۔ یہ دونوں حضرات بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے۔ ان کی کامیابی اور اسمبلی میں پہنچ کر قوم کی مؤثر نمائندگی کی وجہ سے جمعیت علماء اسلام صرف ملک میں ہی نہیں بلکہ بیرون ملک بھی مقبول ہوتی چلی گئی۔ صوبائی اسمبلی اور قومی اسمبلی میں مولانا ہزاروی اور مولانا مفتی محمود کی مؤثر آواز کی وجہ سے جمعیت اور ان دونوں رہنماؤں کی شہرت دور دور تک پہنچ چکی تھی۔ چنانچہ یہی وجہ تھی کہ جنوری ۱۹۶۲ء میں ان دونوں حضرات کو جامعہ ازہر مصر کی طرف سے جامعہ کی تقریبات میں شرکت کا دعوت نامہ ملا۔ مارچ میں دونوں حضرات مصر تشریف لے گئے اور وہاں جا کر اسلام اور پاکستان کی مؤثر نمائندگی کی۔ جس کی وجہ سے مستقبل میں جمعیت پر اچھے اثرات مرتب ہوئے۔ مئی ۱۹۶۵ء میں دونوں حضرات پھر جامعہ ازہر کی دعوت پر مصر تشریف لے گئے تھے۔
یحییٰ خان کا الیکشن
مولانا ہزاروی نے یحییٰ خان کے دور اقتدار میں جمعیت کے ٹکٹ پر ہزارہ سے قومی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لیا اور بھاری اکثریت سے کامیاب ہو گئے۔ اس انتخابات کے موقع پر جو انتخابی مہم چلائی گئی تھی اس میں مولانا نے بعض ایسی باتیں فرمائی تھیں جن سے آپ کی سیاسی بصیرت کا اندازہ ہوتا ہے۔ مثلاً:
آپ نے گوجرانوالہ میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا: ”جناب بھٹو صاحب چار مقامات سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ وہ مفتی محمود صاحب کے مقابلے میں ڈیرہ اسماعیل خان سے بھی الیکشن لڑ رہے ہیں۔ اگر اس سیٹ پر بھٹو صاحب حضرت مفتی صاحب کے مقابلے میں جیت جائیں تو میں سیاست چھوڑ دوں گا۔ میرے مقابلے میں بھی کالعدم پیپلز پارٹی نے اپنا نمائندہ کھڑا کیا ہے۔ اگر اس کی ضمانت بھی بچ جائے تو پھر بھی میں سیاست چھوڑ دوں گا۔ مودودی صاحب کے متعلق انہوں نے کہا تھا کہ انہیں ساڑھے تین سیٹوں سے اگر زیادہ مل جائیں تو تب بھی میں سیاست چھوڑ دوں گا۔ چنانچہ تاریخ شاہد ہے کہ مولانا نے اپنی روحانی فراست اور سیاسی بصیرت سے جو کچھ فرمایا تھا وہ حرف بہ حرف پورا، مولانا ہزاروی اس الیکشن میں بھاری اکثریت سے جیتے اور ان کے مخالف کی ضمانت ضبط ہوئی۔ مولانا مفتی محمود صاحب بھی بھٹو کو شکست دے گئے اور جماعت اسلامی کو بھی اسی تناسب سے کامیابی ملی۔“
تحریک ختم نبوت اور مولانا ہزاروی
۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں مولانا ہزاروی قائدین کے ہراول دستے میں شامل تھے۔ خصوصاً لاہور میں جو تحریک چلائی گئی تھی اس کے روح رواں آپ ہی تھے۔ جب تمام قائدین گرفتار کر لئے گئے۔ مولانا کا بھی گرفتاری کا آرڈر ہو چکا تھا۔ لیکن مولانا روپوش ہو کر تحریک کی قیادت کرتے رہے۔ حتیٰ کہ مولانا کے بارے میں حکومت نے ”دیکھتے ہی گولی مار دو“ کا حکم جاری کر دیا۔ لیکن مولانا اس انداز سے چلتے رہے کہ حکومت اور اس کی سی آئی ڈی مولانا کا سراغ لگانے میں ناکام رہی۔ حتیٰ کہ مولانا انتہائی راز داری کے ساتھ لاہور سے نکل گئے
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
اور بھلوال ضلع سرگودھا کے ایک قصبے میں مقیم رہے۔ وہ آرڈر ہوا۔ جب مولانا اپنے گاؤں پہنچے تو تحریک کے احوال بیان فرماتے ہوئے فرمایا: ”جب تحریک چلی تو میں اس وقت لاہور میں تھا۔ مجھے حضرت مولانا محمد علی جالندھری کا حکم تھا کہ آپ نے گرفتاری نہیں دینی۔ بلکہ تحریک کا کام چلاتے رہنا ہے۔ میں نے اس حکم کی تعمیل کی۔ دوسرے دن پولیس کا وارنٹ تھا۔ میں نے سوچا کہ گرفتاری دینا بہتر ہوگا۔ مبادا صورتحال زیادہ کشیدہ نہ ہوجائے۔ لیکن حضرت مولانا حافظ حمید اللہ (جو قطب الاقطاب حضرت مولانا احمد علی لاہوری کے فرزند ارجمند تھے) نے بھی یہی حکم دیا کہ تم گرفتاری پیش نہ کرو اور مجھے اٹھا کر لاہور سے آٹھ میل دور لے گئے۔ دوسرے دن ہم حضرت لاہوری کو ملنے آئے۔ ہم نے مل کر یہ تحریر گورنر کے نام لکھی کہ میں فلاں تاریخ کو اپنے مطالبات پیش کرنے کے لئے تمہاری کوٹھی پر آؤں گا۔ جب انہوں نے تحریر دیکھی تو پولیس کو پسو پڑ گئے۔ گورنر ہاؤس کو گھیر لیا گیا۔ دفتر خدام الدین اور مسجد کو بھی محاصرے میں لے لیا۔ تا آنکہ مولانا لاہوری بڑی مشکل سے ایک جلسہ میں پہنچے۔ لڑکوں نے بڑی ہمت سے کام لیا اور مجھے خفیہ جگہ میں رکھا۔ اس وقت لاہور کی گلیوں میں افواہ تھی کہ ہزاروی جہاں ملے اسے گولی مارو۔ یہ سب کچھ میری منڈی بہاؤالدین، ٹوبہ ٹیک سنگھ، دیدار سنگھ اور قلعہ گوجر سنگھ کی تقریروں کی وجہ سے ہوا تھا۔ اگر میں اس وقت حکومت کے ہاتھ آتا تو وہ میری تکہ بوٹی کر دیتے۔ بہت سے مسلمانوں کو انہوں نے گولیوں سے اڑایا تھا۔ بقول خان عبدالقیوم خان، وزیر داخلہ، دس ہزار مسلمانوں کو خاک وخون میں تڑپایا گیا۔ اگر لاہور کی سڑکوں کو کھودا جائے تو آج بھی وہاں سے خون رسنے لگے گا۔ یہ گولیاں داڑھی والوں نے کھائیں، طلباء نے کھائیں، کالج کے نوجوانوں نے کھائیں۔ میں لاہور میں روپوش تھا کہ میرے پاس اطلاع آئی کہ نوجوان طلباء جلوس نکالنا چاہتے ہیں۔ نکالیں یا نہ نکالیں۔ ان کے پرزور اصرار پر میں نے اجازت دی۔ چنانچہ جلوس نکالا گیا۔ گولیاں چلیں۔ بہت سے نوجوانوں نے تاجدار ختم نبوت کے ناموس کے لئے اپنے سینے کھول دیئے تھے اور ہنسی خوشی جام شہادت نوش کیا۔“
سانحہ ارتحال
وفات سے ایک روز قبل ۳؍فروری ۱۹۸۱ء کو ناموس رسالت اور میدان سیاست کا یہ غیرتمند مجاہد کسی کام کے لئے گھر سے باہر نکلا تو بڑھاپے اور کمزوری کے باعث چکر آجانے سے گر گئے۔ اس کے ساتھ ہی آپ کے سینہ میں شدید درد اور گھٹن بھی محسوس کرنے لگے۔ رات کو تکلیف زیادہ ہوگئی۔ گھر والوں نے عرض کیا کہ ڈاکٹر بلایا جائے۔ لیکن انہوں نے یہ فرمایا کہ میرا اللہ سب سے بڑے حکیم اور ڈاکٹر ہے۔ اب معاملہ اس پر چھوڑ دیا جائے۔ رات کو طبیعت اور زیادہ خراب ہوئی تو بیوی اور بچوں کو بلایا۔ مولانا کی اولاد نرینہ نہ تھی۔ بیوی سے فرمایا کہ آپ نے ساری عمر میرا بڑی ہمت اور بہادری سے ساتھ دیا۔ میری قید وبند اور مصیبتوں بھری زندگی میں آپ نے بڑے صبر اور حوصلہ سے میری وفاداری اور رفاقت کا حق ادا کیا ہے۔ اگر میں نے زندگی میں آپ سے کوئی ناجائز سختی برتی ہو یا سخت بات کہی ہو تو مجھے معاف کر دینا۔ اس کے بعد بچیوں سے مخاطب ہوئے اور فرمایا کہ میں تمہیں اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔ اس کے بعد اپنے چھوٹے بھائی مولانا فقیر محمد کو بلوایا اور فرمایا کہ میں نے ساری زندگی کسی سے اپنی حالت کا اظہار نہیں کیا۔ میرے پاس کوئی پیسے نہیں ہیں اور میں اس وقت فلاں شخص کا چالیس روپے کا مقروض ہوں۔ آپ وہ چالیس روپے ادا کر دینا۔ یہ کہہ کر آنکھیں بند کر لیں۔ مولانا فقیر محمد نے اونچی آواز سے فرمایا: ”رب یسر ولا تعسر“ اے اللہ آسانی فرمادے اور مشکل سے بچالے۔ حضرت مولانا ہزاروی نے دوبارہ آنکھیں کھولیں اور بلند آواز سے بھائی کی دعا کا آخری حصہ خود فرمایا: ”وتمم بالخیر“ اے اللہ! انجام خیر پر فرمادے۔ اس کے بعد کلمہ طیبہ پڑھا اور اپنے رفیق اعلیٰ سے جاملے۔ آپ کی وفات کی خبر پل بھر میں وطن عزیز کے کونے کونے میں پھیل گئی۔ ریڈیو سے بھی اعلان ہوگیا۔ علاقہ بھر سے آپ کے عقیدتمند ہزارہ پہنچ گئے۔ نماز جنازہ پڑھنے کے بعد آپ کو آبائی گاؤں ’بفہ ہزارہ‘ میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ ان کی وفات کے ساتھ ہی
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
برصغیر کی تاریخ کا ایک روشن باب بند ہو گیا۔
(لولاک فروری، مارچ، اپریل، چٹان مارچ ۱۹۸۱ء)
حضرت مولانا اللہ وسایا کے مشاہدات
حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب نے اپنی ایک تحریر میں حضرت مولانا ہزاروی کے متعلق اپنے مشاہدات لکھے ہیں۔ ان میں سے چند ایک ذکر کرتے ہیں تا کہ حضرت ہزاروی کے مقام و مرتبے اور عظمت و رفعت کی سرحدیں معلوم ہوں۔
- ۱...... مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ایک کانفرنس منعقد ہوئی۔ مولانا محمد علی جالندھری نے کانفرنس کے تمام خاص و عام شرکاء کو
ہدایت کی تھی کہ موسم کے مطابق بستر ہمراہ لائیں۔ کانفرنس پنجاب میں تھی اور مولانا غلام غوث ہزاروی نے سندھ سے تشریف لانا تھا۔ ان کا سندھ میں پندرہ روزہ تبلیغی دورہ تھا۔ پورے دورے میں ایک کانفرنس کے لئے بستر ہمراہ رکھنا مشکل تھا۔ مولانا غلام غوث ہزاروی بغیر بستر کے تشریف لائے۔ مولانا محمد علی جالندھری کے ہمراہ کھانا کھایا۔ رات کو تقریر کی۔ صبح کو ٹرین سے واپس جانا تھا۔ مولانا محمد علی مطمئن کہ میرے کہنے کے مطابق مولانا ہزاروی بستر ضرور ہمراہ لائے ہوں گے۔ اس لئے پوچھنے کی ضرورت محسوس نہ کی۔ مولانا ہزاروی نے دل میں خیال کیا کہ مولانا محمد علی نے ہدایت کی تھی کہ بستر ہمراہ لائیں۔ اب اگر میں بستر ہمراہ نہیں لایا تو قصور میرا ہے۔ اس لئے مولانا محمد علی جالندھری کو کیوں تکلیف دوں۔ کانفرنس سے فارغ ہوئے۔ پنڈال کے قریب کسی مسجد میں جا کر ایک لوئی میں سردی کی رات گزار دی۔ صبح راز منکشف ہوا۔ مولانا محمد علی جالندھری نے نہایت افسوس کا اظہار کیا اور کہا مجھے بتایا کیوں نہ تھا کہ بستر ہمراہ نہیں لاسکا؟ مولانا ہزاروی نے کہا حضرت! آپ میرے بھائی بھی ہیں اور مخدوم بھی۔ اگر میں اس کام میں آپ کا ہاتھ بٹا نہیں سکتا تو تکلیف کا سبب بھی بننا نہیں چاہتا۔ رات تھی، گزر گئی۔
ہائے ! ایسی اجلی سیرت کے انسان کہاں سے لائیں۔
- ۲...... ۱۹۵۳ء کی تحریک مقدس ختم نبوت میں تمام رضا کار و رہنما گرفتار کر لئے گئے۔ حضرت مولانا محمد علی جالندھری نے جماعت کے
رہنماؤں اور رضا کاروں کو جن کے گھر کے حالات معاشی طور پر نادرست تھے اور گھر کے افراد کی کفالت ان پر تھی۔ ان کے نام وظیفہ قوت لایموت جاری کر دیا۔ حضرت ہزاروی کے گھر کا پتہ دفتری احباب کو نہ تھا۔ اس لئے مولانا مرحوم کے گھر ایک پیسہ نہ جاسکا۔ تحریک کے ختم ہو جانے پر مولانا محمد علی جالندھری نے مولانا ہزاروی کو کچھ وظیفہ دینا چاہا۔ مولانا ہزاروی نے مسکرا کر اپنے روایتی انداز میں کہا کہ مولانا ! اگر ماہ بہ ماہ رقم پہنچتی رہتی تو بھی گزر ہو جاتا۔ اگر نہیں پہنچ سکی تو بھی گزر ہو گیا ہوگا۔ یہ رقم میری طرف سے جماعت کے خزانے میں جمع کرا دی جائے۔ مولانا محمد علی جالندھری زندگی بھر اس واقعہ کا ذکر کر کے مولانا ہزاروی کی بہت تعریف کیا کرتے تھے کہ ان جیسے درویش منش انسان قحط الرجال کے اس دور میں خال خال نظر آتے ہیں۔ جب کہ واقعہ یہ ہے کہ مولانا محمد علی جالندھری نے بھی ساری زندگی جماعت سے تنخواہ نہیں لی۔
تو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کیے؟
- ۳...... مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ کے جناب غلام نبی یا مجلس چنیوٹ کے صدر چوہدری ظہور احمد میں سے کسی ایک نے بتایا کہ ہم لاہور
دفتر گئے۔ مولانا ہزاروی دفتر میں اکیلے تھے۔ سردی کی ٹھٹھرتی رات تھی۔ ہم نے آرام کرنا تھا۔ حضرت نے ہمیں بستر عنایت کیا۔ ہم سو گئے۔ صبح اٹھے تو معلوم ہوا کہ صرف ایک بستر تھا جو حضرت ہزاروی نے ہمیں دے دیا۔ آپ نے دسمبر کی یخ بستہ رات ایک لوئی میں گزاری۔ واقعہ سناتے وقت ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے کہ اگر اکابر اپنے رضا کاروں پر اس طرح شفقت و محبت فرماتے تھے تو رضا کار بھی ان کے چشم و آبرو کے اشارے پر جان دینے کو فخر محسوس کرتے تھے۔
مولانا غلام غوث ہزاروی اس دور میں اکابر کی چلتی پھرتی تصویر تھے۔ ان کے صحیح نمائندہ اور جانشین تھے۔ ۱۲؍دسمبر ۱۹۸۰ء کو ربوہ
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے جلسہ پر تشریف لائے۔ مجلس کے کام پر پسندیدگی کا اظہار فرمایا۔ دوران تقریر تحسین فرمائی۔ حضرت مولانا تاج محمود اور راقم (مولانا اللہ وسایا مدظلہ) کا نام لے کر مسند افتخار سے سرفراز فرمایا۔ حضرت مولانا خواجہ خان محمد کے وجود مسعود کو مجلس کے لئے نعمت خداوندی قرار دیا۔ بھر پور مسرت، خوشی و انبساط کا مظاہرہ کیا۔ حضرت مولانا محمد شریف جالندھری ناظم تبلیغ مجلس تحفظ ختم نبوت نے فرمایا کہ حضرت! آپ نے بڑی تکلیف فرمائی۔ بیماری کے باوجود ہماری سرپرستی فرمائی۔ پوری جماعت آپ کی شکر گزار ہے۔ جواباً حضرت ہزاروی نے فرمایا۔ نہیں مولانا ! میرا فرض تھا۔ میرے دل میں خیال آیا کہ زندگی کا اعتبار نہیں۔ ربوہ جاؤں گا ۔ اس شہر میں بیان ہو جائے گا۔ احباب سے ، علماء سے ملاقات ہو جائے گی۔ کہا سنا معاف کرالوں گا۔ اب اگلا سفر ( سفر آخرت ) ہونے والا ہے تو حضرات مرحومین اکابر کو جاکر آپ کے کام کی رپورٹ بھی پیش کروں گا کہ آپ اپنے جانشین مجلس تحفظ ختم نبوت کے خدام کو جہاں چھوڑ آئے تھے ان کا ہر قدم اپنی منزل کی طرف بڑھ رہا ہے اور وہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ قابل فخر کارنامے سرانجام دے رہے ہیں۔ جو انشاء اللہ قیامت کے دن رحمت عالم ﷺ کی خوشنودی کا سبب بنیں گے۔ ان تحسین کلمات کو سن کر حضرت مولانا محمد شریف جالندھری آبدیدہ ہو گئے۔ حضرت ہزاروی نے فرمایا: مولانا ! آپ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ ختم نبوت کا کام بہت اونچا ہے۔ اتنا اونچا کہ جس کا نہ اس دنیا والے اندازہ لگا سکتے ہیں نہ تصور کر سکتے ہیں۔
(لولاک مؤرخہ ۲۶؍فروری ۱۹۸۱ء)
قارئین ! ارادہ تھا کہ حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی کے مختصر تعارف اور احوال قلمبند کر کے آگے بڑھوں گا۔ لیکن حضرت کی زندگی کا ایک ایک ورق ایک ایک واقعہ اتنا دلچسپ اور سبق آموز کہ ایک ذکر کرنے کے بعد دوسرا خود قلم پکڑ لیتا اور آگے جانے نہ دیتا۔ اب بھی ان کے فقر ، استغنا، للہیت اور جرأت و بہادری کی داستانوں کا ایک دفتر سامنے رکھا ہے۔ لیکن خوف طوالت کی وجہ اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔
خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را
ایک قادیانی کے قبول اسلام کی کہانی
فروری ۱۹۸۱ء کو ایک قادیانی نوجوان مشرف بہ اسلام ہوا۔ اس نے ہفت روزہ لولاک میں اپنے کفر سے اسلام تک کا سفر مختصر طور پر لکھا تھا۔ تحریر دلچسپ تھی۔ اس لئے سوچا کہ قارئین بھی استفادہ کر لیں تو بہتر رہے گا۔ لکھتے ہیں:
”میرے والد کا نام ملک عبدالرحمن ہے جو کہ پیدائشی طور پر احمدی ہیں اور کراچی میں مقیم میرے پھوپھا مالک قیصر سینما اور عبدالرحمن فلور ملز میرے ماموں مولوی فرخ صاحب جو کہ مبلغ جماعت احمدیہ ہیں، کے ہیں۔ یہ بیرون ممالک میں احمدیت کی تبلیغ کرتے ہیں۔
ایک عرصہ سے میرے دل میں روحانی قوت تھی جو مجھے جھنجھوڑ کر کہہ رہی تھی حضور ﷺ سے بڑھ کر کوئی نہیں۔ وہی کائنات کے خاتم الانبیاء اور تمام جہانوں کے سردار ہیں۔ یہ مؤرخہ ۴؍فروری کی درمیانی شب ہے۔ میں جس کمرے میں تنہا سوتا تھا وہاں میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ پاک ذات اقدس ! تیری ذات بھولے بھٹکوں کو راستہ دکھانے والی ہے تو مجھے بھی سیدھا راستہ دکھا۔ پھر میں عالم خواب میں دیکھتا ہوں کہ ایک میدان ہے جہاں میں تنہا ہوں۔ چاروں طرف دیکھتا ہوں مجھے اندھیرے کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ اتنی دیر میں ایک بزرگ آتے ہیں جو مجھے تسلی تشفی دیتے ہیں۔ وہ بزرگ ایسے کہ میں نے آج تک دنیا میں ایسی بزرگ ہستی نہیں دیکھی۔ ان کے چہرہ سے ایسا نور برس رہا تھا کہ میں حیران تھا کہ یہ کون بزرگ ہو سکتے ہیں۔ تسلی و تشفی دینے کے بعد آپ مجھے مسجد نبوی میں لے گئے اور دو رکعت نماز میں نے بزرگ کے ساتھ ادا کی۔ یہ خواب میں نے تین دن تک دیکھا۔ پھر میں نے اس خواب کا ذکر اپنے والد سے کیا تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ تم ایسا کرو کہ ربوہ چلے جاؤ۔ وہاں تم کو روحانیت ملے گی۔ میں نے اپنے والد محترم سے کہا کہ میں غیر احمدی عالم کے سامنے یہ خواب رکھنا
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
چاہتا ہوں ۔ ربوہ نہیں جا سکتا ۔ میں چاہتا ہوں کہ میں اس روحانی خواب سے جلد فیض یاب ہو جاؤں ۔ اس کے بعد گھر کے ہر فرد نے مجھے زدوکوب کیا ۔ چھوٹے بھائیوں نے بھی مجھے مارا مگر دین اسلام کا جو روحانی طوفان میرے دل میں بھڑک اٹھا تھا وہ اس مار کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھا ۔ پھر تمام اہل خانہ نے کہا کہ تم گھر سے نکل جاؤ اور یہاں آنے کی کوشش نہ کرنا ۔
یہ مورخہ ۵؍ فروری ۱۹۸۱ء کا واقعہ ہے کہ میں نے اپنے کپڑے لئے اور اپنے علاقہ کی محمدی جامع مسجد حلقہ ڈی ایریا کھوکھرا پار کراچی نمبر ۳۷ کے خطیب مولانا محمد سلیم سلیمانی کے پاس چلا گیا اور میں نے تمام واقعات کا ذکر ان کے روبرو پیش کر دیا۔ پھر مجھے حضرت مولانا نے کہا کہ کل جمعۃ المبارک ہے ۔ مورخہ ۶؍ فروری لہٰذا آپ کل تشریف لے آئیں ۔ میں نے یہ آخری رات بڑی بے چینی اور کرب میں گزاری ۔ میں چاہتا تھا کہ جلد ہی اسلام قبول کر لوں جو ناپاک منوں بوجھ میرے سر پر ہے اس بوجھ سے ہلکا ہو جاؤں ۔ پھر مبارک جمعہ بھی آیا۔ میں نے شرف قبول اسلام کیا اور زندگی کے تمام بوجھ کا ازالہ کر لیا ۔
اب میری خدا تعالیٰ سے دعا ہے کہ خدا تعالیٰ مجھ کو دین اسلام پر قائم رہنے کی توفیق عطاء فرمائے اور میری تمام زندگی حضور اکرم ﷺ کی پیروی اور ان کی سنت پر عمل کرنے میں گزارے ۔ آمین ثم آمین! اور ساتھ ہی میری خدائے بزرگ و برتر سے یہ بھی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام منکروں کو مسلمان بنا دے ۔ آمین ثم آمین !
(غلام مصطفےٰ سابقہ نعیم احمد شاہد ولد عبدالرحمٰن)
(لولاک مورخہ ۲۸؍ فروری ۱۹۸۱ء)
مولانا اللہ وسایا کی تقریر سے ۳۵ خاندانوں کا مرزائیت سے توبہ اور قبول اسلام
چک ٹوانہ شاہ کوٹ ضلع شیخوپورہ کے نزدیک ایک قصبہ ہے جہاں پر ۲۰ / ۳۵ خاندان گمراہی کی دلدل میں پھنس کر قادیانیت کو اپنا چکے تھے اور ربوہ میں جا کر انہوں نے باقاعدہ بیعت کر کے فارم پر کر دیئے تھے ۔ یہ نہ صرف ان خاندانوں کا ہی مسئلہ تھا بلکہ ان کے با اثر ہونے کی وجہ سے گمراہی کی تحریک پورے علاقہ میں پھیل جانے کا خطرہ تھا ۔ چنانچہ وہاں سے دین کا درد رکھنے والے اور شمع ختم نبوت کے شیدائی مجاہد تحریک ختم نبوت حضرت مولانا تاج محمود صاحب کے پاس تشریف لائے ۔ یہ فروری ۱۹۸۱ء کی بات ہے ۔ انہوں نے مولانا سے تفصیلی ملاقات کی اور چک ٹوانہ کی صورتحال مولانا کے سامنے پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ۲۰ / ۳۵ خاندانوں ہی کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے علاقے کا مسئلہ ہے اور خطرہ ہے کہ کہیں یہ گمراہی پھیل نہ جائے ۔ آپ کسی اچھے اور بہترین مبلغ کی ڈیوٹی لگائیں کہ وہ وہاں جا کر ان خاندانوں کو مسئلہ ختم نبوت سمجھائے ۔ مولانا نے چوہدری صاحب موصوف سے وعدہ کیا کہ عنقریب کسی مبلغ کو وہاں بھیج دیا جائے گا ۔ چنانچہ یہ اہم فریضہ حضرت مولانا تاج محمود صاحب نے مجلس تحفظ ختم نبوت کے نوجوان مناظر مولانا اللہ وسایا صاحب خطیب ربوہ کے سپرد کیا اور انہیں ضروری ہدایات دے کر ٹوانہ بھیجا ۔ مولانا اللہ وسایا صاحب ان دنوں جامع مسجد محمدیہ ربوہ کے خطیب اور مجلس کے مایہ ناز مبلغ ومناظر تھے ۔ مقامی مسلمان حضرات، مجلس تحفظ ختم نبوت شیخوپورہ کے امیر اور دیگر مقامی علماء کی معیت میں حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب وہاں پہنچ گئے ۔
چک ٹوانہ کی جامع مسجد میں وہاں کے مسلمانوں نے انتہائی شوق اور محبت سے جلسہ عام کا اہتمام کیا ہوا تھا ۔ جامع مسجد کو رنگ برنگی جھنڈیوں اور مختلف استقبالیہ نعروں سے نہایت سلیقے سے سجایا ہوا تھا ۔ آس پاس کے دیہاتوں سے بھی مسلمان گروہ در گروہ پہنچے ہوئے تھے اور مسجد میں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی ۔ مسجد کے ارد گرد بھی مسلمانوں کا عظیم الشان جم غفیر تھا ۔ اس چک میں ختم نبوت کے موضوع پر یہ پہلا جلسہ تھا ۔ پورے علاقہ میں اس جلسہ کی شہرت تھی اور یہی وجہ تھی کہ مسلمان نہایت شوق اور ولولہ لے کر سرکار دو عالم کے حضور نذرانہ عقیدت پیش کرنے کے لئے پہنچے تھے ۔ مقامی قراء قاری محمد شریف اور قاری محمد شفیع صاحب کی تلاوت قرآن کریم کے بعد اعلان ہوا کہ اب
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
آپ کے سامنے ختم نبوت کے مایہ ناز مبلغ اور مناظر مولانا اللہ وسایا صاحب تشریف لاتے ہیں۔ سامنے میز پر ربوہ اور قادیان کی چھپی ہوئی کتابیں سجی ہوئی تھیں۔ مولانا اللہ وسایا صاحب تشریف لائے تو ایک دفعہ پھر چک ٹوانہ کی فضا نعرہ ہائے تکبیر و تحسین سے گونج اٹھی۔ مولانا اللہ وسایا صاحب نے خطبہ مسنونہ کے بعد تقریر کا آغاز کیا اور فرمایا کہ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کا ادنیٰ خادم ہوں۔ یہ میرے فرائض میں داخل ہے کہ اگر کسی جگہ انکار ختم نبوت کا فتنہ سر اٹھا رہا ہو۔ گمراہی پھیلنے کا اندیشہ ہو تو راہنمایان مجلس تحفظ ختم نبوت کی ہدایت کے مطابق میں وہاں پہنچ جاتا ہوں۔ صرف میں ہی نہیں ہمارا ہر مبلغ ہر وقت اس سلسلہ میں مستعد رہتا ہے۔ بس صرف ایک کارڈ لکھنے کی دیر ہے۔ چنانچہ میں اسی پروگرام کے تحت یہاں پہنچا ہوں۔ یہ میرے سامنے کتابوں کا انبار لگا ہوا ہے جو بات میں کہوں گا وہ دلائل سے ہوگی اور اس کا باقاعدہ حوالہ پیش کروں گا جس کو بھی کسی قسم کا شبہ ہو وہ میرے پاس آ کر حوالہ دیکھ سکتا ہے۔
نیز اگر کسی کے دل میں شکوک و شبہات ہوں تو وہ بھی آجائے۔ میں اس کی دلائل اور حوالہ جات سے تسلی و تشفی کرا دوں گا۔ اس کے بعد مولانا اللہ وسایا صاحب نے اپنا مناظرانہ خطاب شروع کیا۔ مولانا ہر بات پر حوالہ پیش کرتے اور عوام نعروں سے انہیں خراج تحسین پیش کرتے۔ مسئلہ ختم نبوت، حیات عیسیٰ اور جھوٹے مدعی نبوت کے کردار اور بداخلاقیوں کی ایک طویل داستان خود ان کی اپنی کتابوں سے پیش کی۔ خطاب کے بعد مولانا موصوف اور تمام دوستوں کا دیر تک وہاں قیام رہا۔ مسلمانان چک ٹوانہ نے مولانا کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ہم آپ کے اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے شکر گزار ہیں کہ ہمیں فتنہ انکار ختم نبوت کی حقیقت کو سمجھایا۔ مقامی احباب نے مولانا کی تقریر ریکارڈ کر رکھی تھی۔ وہ تقریر گھر گھر پہنچائی گئی اور سنی گئی۔ اسی دن سے اس کے نتائج ظاہر ہونا شروع ہو گئے اور جو افراد راہ حق سے بھٹک کر گمراہی و ضلالت کے عمیق غار میں جا گرے تھے انہوں نے اسلام قبول کرنا شروع کر دیا۔ چک ٹوانہ کے مسلمانوں کی دعوت پر مجلس کے راہنمایان حضرت مولانا تاج محمود، شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا، حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری مرکزی خازن مجلس تحفظ ختم نبوت (حالیہ جنرل سیکرٹری) اگلے ہفتے دوبارہ وہاں تشریف لے گئے تو مقامی حضرات نے نہایت خوشی اور شادمانی کا مظاہرہ کر کے یہ مژدہ سنایا کہ مولانا اللہ وسایا کی مدلل تقریر اور جادو بیانی کی برکت سے چک ٹوانہ کے قریباً ۴۰ / ۳۵ خاندان دوبارہ مشرف بہ اسلام ہو گئے۔
(ہفت روزہ لولاک مورخہ ۵ / مارچ ۱۹۸۱ء)
مناظرے
مجلس تحفظ ختم نبوت کی مساعی کی برکت سے مسلمانوں میں قادیانیت کے حوالے سے کافی شعور آچکا تھا۔ مرزائی مبلغین نے جب دیکھا کہ مذہب کا پرچار اب ہمارے لئے مشکل ہو گیا ہے۔ اس لئے کہ مسلمانوں پر ہمارے مذہب کی حقیقت آشکارا ہو چکی ہے تو انہوں نے مختلف شہروں اور دیہاتوں میں مناظرہ کے چیلنج دینے شروع کر دیئے۔ جہاں جہاں مناظرہ ہوا، مرزائیوں کو عبرت ناک شکست ہوئی۔ ۱۹۸۱ء میں ہونے والے مناظروں میں سے چند ایک کی مختصر کارروائی ذکر کر کے آگے بڑھتے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں:
دو اور دو پانچ
۴/ فروری ۱۹۸۱ء کو مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا احمد یار چاریاری کی ایک مرزائی مبلغ ملک بشیر احمد سے گفتگو ہوئی۔ موضوع مرزا قادیانی کی نبوت تھی۔ مولانا احمد یار چاریاری نے اتنی مدلل گفتگو فرمائی کہ مرزائی مبلغ کو خود یہ کہنا پڑا کہ مرزا قادیانی نہ نبی ہے نہ مہدی موعود۔ حالانکہ قادیانی جماعت کا عقیدہ ہے کہ مرزا قادیانی نہ صرف رسول و نبی ہے بلکہ نعوذ باللہ حضور سرور کونین ﷺ سے بھی اس کی شان
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
بڑھ کر ہے۔ مرزائی مبلغ نے مولانا احمد یار چار یاری کی دلائل سے مرعوب ہو کر یہ بڑھک بھی مار دی کہ اگر مولانا چار یاری دکھا دیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے لٹریچر میں دعویٰ نبوت موجود ہے تو میں مرزائیت سے تائب ہو جاؤں گا۔ چنانچہ تحریری طور پر تاریخ ، جگہ اور ثالث حضرات کا تعین ہو گیا۔ ۷؍ اگست تاریخ مقرر کی گئی۔ علاقہ میں اس خبر سے کہ مولانا احمد یار حوالہ جات دکھائیں گے اور نتیجتاً مرزائی اپنے عقیدے سے تائب ہو گا ، مسرت کی لہر دوڑ گئی۔
وعدہ کے مطابق مولانا احمد یار چار یاری مرزا غلام قادیانی کی کتابیں ہمراہ لے کر مقررہ جگہ پر تشریف لے گئے۔ مرزائی مبلغ ملک بشیر احمد کو بھی بلایا گیا اور تحریر پڑھ کر سنائی گئی۔ ثالث نے حضرت مولانا احمد یار چار یاری سے حوالہ جات طلب کئے۔ مولانا نے حسب تحریر تین حوالہ جات دکھانے تھے مگر آپ نے بیسیوں حوالہ جات دکھائے۔ مسلمانوں میں خوشی کی انتہاء نہ رہی۔ ثالث نے بیسیوں مسلمانوں کی موجودگی میں اعلان کر دیا کہ مولانا احمد یار کا موقف صحیح ہے۔ مرزائی ملک بشیر کو اپنی تحریر کے مطابق مرزائیت ترک کر دینی چاہئے۔ ثالث کے اس فیصلہ پر تمام مسلمانوں کو خوشی ہوئی۔ مولانا احمد یار چار یاری کو مبارک دی گئی۔ مسلمان آپس میں ایک دوسرے کو خوشی سے گلے ملے۔ مبارک بادیں دیں۔ مرزائی نے شرم کے مارے سر جھکا دیا۔ اب ثالث کے فیصلہ کے مطابق ملک بشیر کو مرزائیت ترک کرنی چاہئے تھی۔ مگر جس طرح پہلی گفتگو میں وہ اپنے عقیدہ سے منحرف ہوا تھا آج اپنے وعدہ سے منحرف ہو گیا ، اور انحراف کی ایسی مثال قائم کی کہ مرزا غلام احمد کی براہین احمدیہ کی پچاس سے پانچ جلدوں والی تاریخی وعدہ خلافی وانحراف کی یاد تازہ ہو گئی۔ مسلمانوں نے ملک بشیر مرزائی کو کہا کہ آپ مسلمان ہیں؟ اس نے کہہ دیا کہ واقعتاً مولانا صحیح فرماتے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے واقعی نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ مگر میں مرزائیت کو نہیں چھوڑ سکتا۔ میں دو اور دو کو چار کی بجائے پانچ تو کہنے کو تیار ہوں مگر ایفائے عہد مشکل ہے۔ ملک بشیر کے اس انحراف پر مسلمان انگشت بدندان تھے۔ دو اور دو پانچ کی بات پر ششدر تھے۔ مولانا احمد یار چار یاری نے کہا میرا فرض تھا حق کو واضح کرنا تو وہ میں نے کر دیا باقی رہی ہدایت کی ۔ یہ تو میرے اللہ رب العزت کے اختیار میں ہے۔ البتہ یہی بات ملک بشیر لکھ دے کہ دو اور دو پانچ تو میں سمجھتا ہوں کہ میری فتح ہے۔ چنانچہ ملک بشیر مرزائی نے دو اور دو پانچ کے لفظ لکھ کر اس پر دستخط کر دیئے۔ اس تاریخی ڈھیٹ پن سے مسلمانوں پر مرزائیت اور مرزائیوں کی حقیقت واضح ہو گئی۔ مسلمانوں نے موقع جان کر مولانا سے مختلف سوالات کئے۔ مولانا نے مرزا قادیانی کی کتب سے ہر سوال کا تسلی بخش جواب دیا۔ مرزا قادیانی کی کتب سے حوالہ جات پڑھ کر لوگ مرزا قادیانی کی رنگین و سنگین عبارتوں سے خوب واقف ہوئے۔
(ہفت روزہ لولاک مورخہ ۲۸؍فروری ۱۹۸۱ء)
کنری میں مرزائیوں کا میدان مناظرہ سے فرار
۴؍ مارچ ۱۹۸۱ء کو مولانا جمال اللہ الحسینی مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت سندھ کنری تشریف لے گئے تھے کہ ایک صاحب مسٹر ایم جمیل صاحب جو کنری شہر میں رہتے تھے۔ مولانا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ کنری کا قادیانی مبلغ شہر میں اپنی تبلیغ جاری رکھے ہوئے ہے اور مناظرے کا چیلنج دیتا پھرتا ہے کہ مسلمانوں کا کوئی نمائندہ ہم سے مناظرہ نہیں کر سکتا۔ اگر آپ قادیانی مبلغ سے گفتگو کرنے کے لئے تیار ہیں تو میں انہیں لے آتا ہوں۔ مولانا جمال اللہ حسینی نے بصد خوشی اپنی آمادگی ظاہر کی ۔ دوسرے دن علی الصبح ایم جمیل صاحب مرزائی مبلغ مختار راجہ کو مجلس تحفظ ختم نبوت کنری کے دفتر میں مولانا کے پاس لے آئے۔ دفتر میں مولانا جمال اللہ اور قادیانی مربی و مبلغ کے درمیان پون گھنٹہ تک مناظرے کے شرائط کے بارے میں گفتگو ہوئی اور پھر متفقہ طور پر دفتر مجلس کنری میں یہ اقرار نامہ لکھا گیا:
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء
ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبد اللہ معتصم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
مختار احمد صاحب اور جمال اللہ الحسینی کے مابین یہ موضوع قرار پایا ہے کہ اگر وفات مسیح ثابت ہو جائے تو جمال اللہ احمدیت کی تردید نہیں کریں گے اور اگر حیات مسیح ثابت ہو جائے تو مختار احمد احمدیت چھوڑ دیں گے۔ اس گفتگو کے ماخذ قرآن مجید، احادیث مبارکہ، اقوال بزرگان دین اور مرزا قادیانی اور مرزا بشیر الدین محمود کے تراجم و کتب ہوں گی۔ مختار احمد مرزائی کی طرف سے مرزا محمد عتیق مناظر جماعت احمدیہ۔ مولوی جمال اللہ کی طرف سے مناظر ختم نبوت جمال اللہ الحسینی مقرر ہوئے۔
تاریخ مناظرہ، ۱۱؍ اپریل ۱۹۸۱ء۔ مقام مناظرہ چوہدری جلیل الرحمٰن صاحب کا مکان۔
مختار احمد صاحب نے آخر میں یہ لکھا کہ اس گفتگو میں چند آدمی مزید شریک ہو سکتے ہیں۔ مولانا جمال اللہ طے شدہ پروگرام کے مطابق بروز منگل مورخہ ۱۰؍ نومبر ۱۹۸۱ء نماز عصر کے وقت کنری شہر پہنچ گئے۔ جب کہ آپ کے ساتھ مولانا محمد طفیل مبلغ مجلس حیدرآباد بھی تشریف لائے۔ ادھر کراچی سے مولانا جمال اللہ کی معاونت کے لئے مولانا منظور احمد الحسینی اور مولانا عاشق الٰہی مبلغ مجلس کراچی بعد نماز عشاء تشریف لائے تھے۔ بروز بدھ ۱۱؍ اپریل ۱۹۸۱ء صبح آٹھ بجے مولانا بمع اپنے رفقاء اور کتب کے جناب چوہدری جلیل الرحمٰن کے گھر تشریف لے گئے۔ تمام رفقاء اب قادیانی مناظر کے منتظر تھے۔ تقریباً سوا نو بجے قادیانی مناظر کمرہ میں وارد ہوئے اور مولانا سے حسب ذیل مکالمہ ہوا۔
قادیانی مناظر: ہمیں شکوہ ہے کہ اس مناظرے کی تشہیر کی گئی ہے۔
مسلمان مناظر: بلکہ آپ نے تشہیر کی تھی کہ مسلمان مناظر بھاگ گیا۔
قادیانی مناظر: اگر ایسی تشہیر ہی کرنی تھی تو ہم تیار نہیں کہ مناظرہ کریں۔
مسلمان مناظر: ہم میں سے جو شخص آپ کو خطرناک نظر آتا ہو اس کو آپ نکال دیں۔ اگر آپ نے تلاشی لینی ہو تو آپ ہماری اچھے طریقہ سے تلاشی لے لیں۔ ہمارے پاس کچھ نہیں ہے اور ہم میں سے صرف دو تین جوان ہیں باقی سب بوڑھے۔ جتنے افراد آپ چاہیں گے شمولیت کر سکیں گے۔
قادیانی مناظر: دو تین آدمی میرے گھر آ جائیں وہاں مناظرہ ہوگا۔
مسلمان مناظر: اگر آپ نئی شرائط طے کریں تو ہم حاضر ہیں۔ نیز آپ کے گھر مناظرہ کے لئے بھی تیار ہیں۔ لیکن آپ قادیانیوں کی ذمہ داری قبول کر لیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آپ پریس کلب میں آ جائیں۔ وہ آزاد جگہ ہے۔ وہاں کسی کی اجارہ داری نہیں۔
مرزائی مناظر: تشہیر کی وجہ سے ہم مناظرہ کے لئے تیار نہیں ہیں۔
معاون مسلمان مناظر: کیا آپ افہام و تفہیم کے لئے بھی تیار نہیں ہیں۔
قادیانی مناظر: ہماری جماعت والے گھبراتے ہیں کہ فساد ہوگا۔
اسی دوران مالک مکان چوہدری جلیل الرحمٰن صاحب نے کہا کہ آپ میرے گھر مناظرے کے لئے تیار نہیں تو کسی چوک یا پارک میں مناظرہ رکھ لیں یا پریس کلب میں چلے چلیں۔
قادیانی مناظر: مجھے کوئی شکوہ نہیں۔ مگر میری جماعت کو شکوہ ہے کہ پروپیگنڈہ بہت کیا گیا ہے۔ اس لئے فساد کا اندیشہ ہے۔ اس مکالمے کے بعد قادیانی مبلغ نے کہا کہ ہم تھوڑی دیر میں آتے ہیں۔
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
پونے دس بجے قاصد نے آ کر کہا کہ پندرہ منٹ تک جگہ کے بارے میں بتلا دیا جائے گا۔ ۱۱ بجے اطلاع آئی کہ آپ ہمارا انتظار نہ کریں ہم نہیں آئیں گے۔ مولانا نے ایم جمیل ناز کو کہا کہ آپ ان سے لکھوا کر لائیں کہ ہم مناظرہ نہیں کرنا چاہتے۔ ایک ساتھی کو ایم جمیل ناز کے ساتھ بھیجا گیا اور قادیانی مبلغ نے ساڑھے گیارہ بجے مناظرہ نہ کرنے کی تحریر لکھ کر بھیج دی۔ آخر میں چوہدری جلیل الرحمٰن صاحب نے پریس کلب کنری کے سامنے ایک حلفی بیان لکھ دیا جس پر سب حاضرین نے دستخط ثبت کئے۔
حلف نامہ
میں مسمی جلیل الرحمٰن اختر ولد حاجی علی اکبر ساکن کنری شہر ضلع عمرکوٹ یہ حلفیہ بیان لکھ کر دے رہا ہوں کہ مؤرخہ ۷؍ اکتوبر ۱۹۸۱ء کو مجلس تحفظ ختم نبوت کنری کے دفتر میں قادیانی جماعت کے موجودہ مبلغ مرزا مختار احمد اور دوسرے قادیانی حضرات نے ہمارے مبلغ حضرت مولانا جمال اللہ الحسینی صاحب سے یہ بات طے کی کہ حیات مسیح پر مناظرہ کریں گے اور اس کے لئے شرائط طے پائیں اور یہ طے پایا کہ مؤرخہ ۱۱؍ نومبر ۱۹۸۱ء کو بروز بدھ میرے ذاتی مکان پر چند حضرات کی موجودگی میں یہ مناظرہ ہوگا اور قادیانی حضرات نے ہمارے مبلغ اور دیگر حضرات کی موجودگی میں تحریر لکھ کر دی ہے۔
تحریر کردہ اقرار نامہ کے مطابق آج مؤرخہ ۱۱؍ نومبر ۱۹۸۱ء کو میرے مکان پر مولانا جمال اللہ صاحب (مسلمانوں کی طرف سے) اور مرزا مختار احمد قادیانی مربی کنری (قادیانیوں کی طرف سے) تشریف لائے۔ لیکن مرزا مختار احمد نے کہا کہ میں ابھی ۱۵ منٹ تک اپنی کتب اور ساتھیوں کو لے کر حاضر ہوتا ہوں۔ لیکن صبح ۸ بجے سے ساڑھے گیارہ بجے تک انتظار کرنے کے بعد قادیانیوں کی طرف سے کوئی شخص نہیں آیا۔ انہیں کئی پیغام بھجوائے گئے لیکن قادیانیوں نے میرے مکان پر رکھا ہوا مناظرہ کرنے سے انکار کیا۔ حضرت مولانا جمال اللہ صاحب اور ان کے ساتھیوں نے مختار احمد قادیانی اور اس کے ساتھیوں کا ساڑھے تین گھنٹہ تک انتظار کیا۔ لیکن قادیانیوں نے سابقہ روایات کے مطابق اور سابقہ روایت کو برقرار رکھتے ہوئے مناظرہ سے راہ فرار اختیار کیا اور مناظرہ کے لئے میرے گھر نہیں پہنچے۔ ٹھیک ساڑھے گیارہ بجے دن ان کی طرف سے ایک تحریری ثبوت موصول ہوا جس میں تحریر ہے کہ ہماری جماعت کسی قسم کی بات کرنے کو تیار نہیں اور اگر آئندہ حالات نے اجازت دی تو آپ سے بات کریں گے۔
(ملخص لولاک اپریل، اکتوبر ۱۹۸۱ء)
مناظرہ شکر گڑھ
سیالکوٹ کی تحصیل شکر گڑھ کلہ میں مقصود احمد نامی ایک سرگرم قادیانی تھا جو ہر وقت اور ہر جگہ قادیانیت کے پرچار اور اسلام پر تنقید کو اپنا فرض منصبی سمجھتا تھا۔ جا بہ جا مناظرہ کے چیلنج دیا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ ایک مقامی مسلمان سکول ماسٹر منظور احمد کے سامنے اسلام اور علماء اسلام کو مناظرہ کا چیلنج کیا تو انہوں نے قبول کیا اور مناظرہ کے لئے علماء اسلام کو حاضر کرنے کا وعدہ کیا۔ مرزائی مقصود احمد نے بھی ربوہ سے مرزائی علماء کے لانے کا وعدہ کیا۔ مناظرہ کی تاریخ ۹؍ ستمبر ۱۹۸۱ء مقرر ہوئی۔ مناظرہ درج ذیل موضوعات پر ہونا تھا۔
اہل اسلام نے کذبات مرزا کو ثابت کرنا تھا اور بالخصوص یہ بات کہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنے دعویٰ نبوت میں جھوٹا ہے۔ اگرچہ پاکستان قومی اسمبلی کی طرف سے کذب مرزا پر مہر تصدیق ثبت ہوچکی ہے۔ لیکن بھولے بھالے مسلمانوں کو ان کے دام تزویر سے بچانے کے لئے مناظرہ کرنے کا پروگرام بنا تھا۔ سب کچھ طے ہوگیا۔
دوسرا مسئلہ حیات عیسیٰ علیہ السلام تھا۔ یعنی اہل اسلام نے قرآن وسنت واجماع امت صحابہ و تابعین کے اقوال کی رو سے
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
حیات عیسیٰ علیہ السلام ثابت کرنی تھی جب کہ فریق مخالف نے وفات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ثابت کرنا تھا۔ مقامی دو معزز آدمی عبدالغفور صاحب اور ماسٹر عبدالرحمن صاحب کو بالاتفاق ثالث تسلیم کیا گیا۔ چنانچہ ۱۸؍ نومبر ۱۹۸۱ء ساڑھے نو بجے ثالثان مناظرہ مکان مجوزہ پر پہنچے۔ مسلمانوں کی طرف سے فاضل اجل حضرت مولانا ڈاکٹر علامہ خالد محمود صاحب سیالکوٹی پی۔ایچ۔ڈی لندن، مولانا عبدالرحمن صاحب نائب مہتمم جامعہ اشرفیہ لاہور اور مناظر ختم نبوت مولانا قاضی اللہ یار خان، مولانا کریم بخش علی پوری، مولانا عبدالرؤف جتوئی مبلغین مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان، مولانا نذیر احمد سکھروی، مولانا نذیر سمبڑیالوی پونے دس بجے کے قریب پہنچ گئے اور وہاں پر ثالثین اور علماء کرام ساڑھے گیارہ بجے تک مرزائیوں کا انتظار کرتے رہے۔ مقصود احمد قادیانی نے یہ کہہ رکھا تھا کہ ہمارے مناظرین ربوہ سے آئیں گے۔ لیکن ؎
ربوائی جماعت کی طرف سے آنے والے مناظر ان تک نہ پہنچے اور مناظرہ سے راہ فرار اختیار کی۔ چنانچہ تجویز شدہ ثالثوں نے ایک تحریر کے ذریعہ مناظرین ختم نبوت کی فتح اور منکرین ختم نبوت کی شکست کا اعلان کیا اور اس تحریر پر مرزائیوں کے صدر چوہدری محمد یوسف کے دستخط کرالئے تا کہ سند رہے۔ صدر جماعت احمدیہ کے علاوہ مقامی بستی کلہ کے نمبردار محمد ریاض اور مجوزہ ثالثوں ماسٹر عبدالرحمن، عبدالغفور نے بھی دستخط کر دیئے۔
(لولاک مؤرخہ ۲۷؍ستمبر ۱۹۸۱ء)
لالیاں میں قادیانی عورت کا جنازہ، فتویٰ کا اجراء
ضلع جھنگ میں قصبہ لالیاں کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ ربوہ کے قریب ترین ہونے کے باعث یہاں پر حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھری، خطیب پاکستان قاضی احسان احمد شجاع آبادی، مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر، فاتح قادیان مولانا محمد حیات جیسے نابغہ روزگار حضرات مختلف کانفرنسوں کے سلسلے میں گاہے بگاہے تشریف لاتے رہے۔
۲۰؍ جون ۱۹۸۱ء کو وہاں ایک مرزائی عورت فوت ہوئی۔ بعض نام نہاد مصلحت کوش لوگ جن کی تعداد تقریباً بیس پچیس تھی، سنی العقیدہ مسلمان ہونے کے باوجود قادیانی عورت کے جنازہ میں شریک ہوئے۔ بلکہ ان مسلمانوں نے قادیانی عورت کو دیہات کے ایک مولوی سنی امام سے علیحدہ جنازہ پڑھوایا۔ جنازہ پڑھنے، پڑھانے والے مسلمان بریلوی مسلک کے تھے۔ چنانچہ مقامی احباب نے بریلوی مسلک کے عالم دین اور جامع مسجد مرکزی کے خطیب مولانا غضنفر علی صاحب سے مسئلہ پوچھا کہ قادیانیوں کے جنازہ میں مسلمانوں کا شریک ہونا کیسا ہے؟ مولانا نے بڑی وضاحت سے ارشاد فرمایا کہ قادیانیوں کا جنازہ اور دعائے مغفرت ان کے کفر کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے۔ جنازہ دعائے مغفرت ہی ہے اور اس کا غیر مسلم کے لئے تصور ہی ناممکن ہے۔ قادیانی گروہ بھی مرزا غلام احمد مدعی نبوت باطلہ کے نہ ماننے والے یعنی مسلمانوں کے جنازوں حتیٰ کہ ان کے معصوم بچوں کے جنازہ میں بھی شریک نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ قادیانی سر ظفر اللہ قادیانی نے بانی پاکستان بابائے قوم قائد اعظم کے جنازہ میں شرکت نہ کی تھی۔ اس لئے جن لوگوں نے قادیانی عورت کے جنازہ میں شرکت کی ہے انہوں نے ’’حرام فعل‘‘ کا ارتکاب کیا ہے۔ اس پر ختم نبوت کے رضاکاروں نے مولانا سے درخواست کی کہ اب بتایا جائے، شریعت میں اس کی سزا کیا ہے۔ حضرت مولانا نے فرمایا کہ میں مفتی نہیں ملک عزیز کے مفتیوں سے فتویٰ حاصل کرنے کے بعد اس کی شریعت میں سزا کا میں حکم سنا سکوں گا۔ چنانچہ مولانا موصوف نے بریلوی مکتب کی معروف دینی درسگاہ جامعہ رضویہ فیصل آباد، برصغیر کی معروف گدی و خانقاہ سیال شریف اور سیالکوٹ کے عالم دین مولانا ابو الحامد ضیاء اللہ القادری کو صورت مسئلہ لکھ کر فتویٰ طلب کیا۔ بریلوی مکتب فکر کے ان تین مستند اداروں نے یہ فتویٰ جاری کیا کہ قادیانی عورت کے جنازہ میں شرکت کرنے والے حضرات اپنے ایمان اور نکاح کی تجدید کریں۔ یہ فتویٰ
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
متعلقہ حضرات کو دکھایا گیا تو وہ توبہ تائب ہو گئے اور ایمان ونکاح کی تجدید کی۔ استفتاء کی عبارت یوں تھی : ” کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک مرزائی عورت مرگئی اور مرنے کے بعد ایک اہل سنت وجماعت کے مولوی نے اس کا جنازہ اور اس کے پیچھے سنی عوام نے پڑھا۔ مرزائیوں نے الگ جنازہ پڑھا۔
- ۱...... کیا مرزائی کا جنازہ پڑھنا یا پڑھانا جائز ہے یا نہیں؟
- ۲...... کیا اس کے لئے دعائے مغفرت کرنی جائز ہے؟
- ۳...... جس نے جنازہ پڑھایا یا پڑھا۔ اس پر کوئی اور شریعت کا کیا حکم ہے۔ کیا وہ اسلام سے خارج ہیں اور ان کے نکاح ٹوٹ گئے یا
صرف توبہ واستغفار سے معافی ہو سکتی ہے؟ تفصیل سے جواب تحریر فرمائیں۔
جامعہ رضویہ فیصل آباد کا فتویٰ
الجواب وہوالموافق الصواب ۔ مرزائیوں کے ساتھ محبت و دوستی کرنا ان کے ساتھ بیٹھنا اٹھنا۔ ان کی نماز جنازہ پڑھنا شرعاً ناجائز وحرام ہے۔ قرآن پاک میں ہے : ”لا يتخذ المؤمنون الكافرین اولیاء من دون المؤمنین“ مرزائی عقیدہ والے ختم نبوت اور دیگر ضروریات دین کے منکر ہونے کی وجہ سے کافر ہیں اور مرزا قادیانی حق پر ماننے والوں کو مسلمان سمجھنا بھی باعث کفر ہے۔ ایسا شخص اسلام سے خارج ہے۔ صورت مسئولہ بر تقدیر صدق سائل مرنے والے کو مسلمان جان کر اس کا جنازہ پڑھنا کفر ہے۔
(لولاک مؤرخہ ۲۷؍ جون ۱۹۸۱ء)
مرزا محمود کے تحریف شدہ ترجمہ قرآن کی ضبطی
یکم؍ جون ۱۹۸۱ء کو حکومت نے آنجہانی مرزا بشیر الدین محمود کا ترجمہ قرآن یہ کہہ کر بحق سرکار ضبط کر لیا کہ یہ ترجمہ غلط، من مانا اور قرآن پاک کے مسلمہ ترجموں کے منافی ہے۔ اس کا مقصد جان بوجھ کر اور بددیانتی سے پاکستان کے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنا ہے۔ مسلمانوں نے حکومت کے اس قابل تعریف اقدام کو خراج تحسین پیش کیا اور خوشی ومسرت کا اظہار کیا۔ مختلف اخبارات وجرائد میں اس پر اداریے اور کالم لکھے گئے اور حکومت کو اس قابل تحسین کارنامے پر مبارکباد پیش کی اور اس کو مسلمانوں کے دلوں کی آواز قرار دیا۔
(روزنامہ مشرق مؤرخہ ۲؍ جون ۱۹۸۱ء)
ربوہ میں ایک لڑکی کی پراسرار موت
۲، ۳؍ جولائی ۱۹۸۱ء کی درمیانی شب ایک بجے رات کے قریب ربوہ کے قبرستان میں ایک مرزائی لڑکی نہایت راز داری کے ساتھ دفن کی گئی۔ لڑکی کی موت کیسے واقع ہوئی اور اس کو اتنی راز داری کے ساتھ کیوں دفن کیا گیا۔ ان سوالوں کا جواب اس وقت بھی معلوم نہیں تھا اور آج بھی نہیں ہے۔ مرزائیوں نے پولیس میں لڑکی کی موت کی جو رپورٹ درج کی تھی اس میں لکھا تھا کہ متوفیہ طاہرہ یاسمین کو والدین نے معمولی ڈانٹ پلائی۔ اسے غصہ آ گیا اور اس نے زہر کھا کر خود کشی کر لی۔ اسے فیصل آباد کے ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔ لیکن وہ جانبر نہ ہوسکی اور مر گئی۔ مرزائیوں نے رپورٹ میں تو یہی لکھا تھا لیکن اس سے وہ اوروں کو کیا مطمئن کرتے ، اپنوں کو بھی مطمئن نہ کر سکے۔ ربوہ میں قادیانی حلقوں میں لڑکی کی موت کے متعلق مسلسل چہ میگوئیاں ہوتیں کہ یہ لڑکی طبعی موت نہیں مری ہے۔ بلکہ اس کی موت غیر طبعی ہوئی ہے۔ مختلف اخبارات وجرائد نے لڑکی کی موت اور قادیانیوں کی من گھڑت رپورٹ کے متعلق مختلف سوالات اٹھائے۔ لیکن قادیانی جریدوں کی
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
زبان پر مہر سکوت لگا ہوا تھا۔ ہفت روزہ لولاک نے بھی درج ذیل سوالات اٹھائے:
- ۱...... اس بچی کو ماں باپ نے اس سے پہلے سینکڑوں دفعہ اس سے بھی زیادہ جھڑکا ہوگا۔ لیکن اب اس نے معمولی جھڑکی سے ناراض
ہو کر خود کشی کیوں کرلی۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے۔
- ۲...... یہ زہر طاہرہ یاسمین کو کہاں سے مل گیا۔ اس زہر کا شجرہ نسب کیا ہے؟
- ۳...... لڑکی نے ۲؍جولائی ۱۹۸۱ء کو زہر کھا لیا اور اسے فیصل آباد ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا۔ دنیا جانتی ہے کہ فیصل آباد ہسپتال کو اس
بیماری کے علاج کے لئے ربوہ ہسپتال پر فوقیت حاصل نہ تھی۔ اسے ربوہ ہسپتال کی بجائے فیصل آباد ہسپتال میں لا کر کیوں مارا گیا۔
- ۴...... موت کے بعد لڑکی کا پوسٹ مارٹم کیوں نہ کرایا گیا اور اس سلسلہ میں یہ کوتاہی کیوں روا رکھی گئی۔
ان کے علاوہ دیگر جرائد نے بھی بہت سارے سوالات اٹھائے تھے۔ لیکن مرزائیوں نے ایسا سکوت اختیار کیا تھا۔ گویا نہ بولنے کی قسم کھائی ہے۔
(لولاک مؤرخہ ۲۷؍جون ۱۹۸۱ء)
شیخ عبدالفتاح ابوغدہ کا دورہ مرکزی دفتر ملتان
شیخ عبدالفتاح ابوغدہ کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ حضرت علامہ زاہد الکوثری کے بعد عرب علماء میں حنفیت پر زیادہ تحقیق اور حنفی نظریات کا دفاع آپ نے کیا ہے۔ ”قیمۃ الزمن“ جیسا قلمی شاہکار آپ ہی کی تصنیف لطیف ہے۔ آپ ریاض انٹرنیشنل یونیورسٹی میں پروفیسر تھے۔ اکتوبر ۱۹۸۱ء میں آپ ملتان دفتر تشریف لائے اور مجلس کے تبلیغی، تنظیمی، تصنیفی شعبوں کا جائزہ لیا۔ نہایت خوشی کا اظہار کیا جانے کے بعد آپ نے مجلس تحفظ ختم نبوت کے بارے میں اپنے تاثرات عربی زبان میں قلمبند فرمائے۔ ان کا اردو ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ الحمدلله رب العالمين والصلوة والسلام على سيدنا محمد وعلى اله وصحبه اجمعين
عبد ضعیف، اللہ تعالیٰ کی رحمت کا محتاج، عبدالفتاح ابوغدہ جس کی پیدائش اور نشوونما حلب (سوریا) میں ہوئی اور جو اس وقت ریاض کی جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ کے کلیہ اصول دین میں استاد ہے۔ کہتا ہے اللہ تعالیٰ نے مجھے جمہوریہ اسلامیہ پاکستان کے شہر ملتان میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر کی زیارت کا شرف بخشا۔ یہاں میں نے خدمت اسلام اور قادیانی گمراہ فرقے کے خلاف علماء کی مساعی جمیلہ اور وسیع علمی کارناموں کا مشاہدہ کیا۔ اس مرکز میں قادیانی گمراہ فرقے، اس کے قائدین، انصار اور اسے ترویج دینے والوں سے متعلق مکمل مواد اور لٹریچر موجود ہے۔ اس مرکز نے ان کے ہر قسم کے منشورات، مؤلفات اور رسائل کو محفوظ کر رکھا ہے۔ گویا اس مرکز میں باطل کے خلاف اہل حق کے کارناموں کا مکمل ریکارڈ موجود ہے۔ اس مرکز کے علماء نے اپنی محنت اور جہاد سے قادیانیت کی دعوت کا پردہ چاک کیا ہے اور لوگوں کے سامنے اسے پوری طرح ننگا کر کے رکھ دیا ہے۔ یہاں تک کہ حق کھل کر سامنے آگیا اور باطل مٹ گیا اور باطل کو تو مٹنا ہی ہے۔
مجلس تحفظ ختم نبوت کے علماء کا یہ عظیم الشان اور مبارک کارنامہ جو انہوں نے مالی وسائل و مادی ذرائع کی قلت کے باوجود سرانجام دیا ہے۔ یہ وہ کارنامہ جس کو سرانجام دینے سے آج کے بڑے بڑے عالمی سطح کے ادارے جن کے پاس مال کی فراوانی اور کافر حکومت کی طرف سے امداد کے مضبوط وسائل ہیں، عاجز ہیں لیکن یہ ان حضرات کے اخلاص اور پے در پے اہل علم و حکمت کی قیادت کا نتیجہ ہے کہ آج یہ مرکز قادیانی کی گردنوں کے لئے ننگی تلوار اور ان کی آنکھوں اور دلوں کا کانٹا بن چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان علماء کو ایسا غلبہ عطاء فرمایا کہ قادیانیت کا سایہ اسلام کے جھنڈے کے نیچے سے سمٹ کر کفر اور اہل کفر کے اندھیرے میں جا ملا اور حکومت پاکستان نے یہ فیصلہ
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معصم
صادر کیا کہ قادیانی جماعت غیر مسلم اقلیت ہے اور اس کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حق اور اہل حق کو کامیاب فرمایا اور باطل اور اس کی جماعت کو ذلیل و رسوا کیا اور یہ سب ان اہل حق مجاہدین کی مسلسل محنت اور اخلاص کا نتیجہ تھا۔ اللہ تعالیٰ اس مجلس کے بانی اور اس میں کام کرنے والوں اور تعاون کرنے والوں کو جزاء خیر عطاء فرمائے اور ان کی محنت و جہاد کو قبول فرمائے۔ ان کی عمریں دراز فرمائے تا کہ وہ اس گمراہ تحریک کو زمین کے چپہ چپہ سے ختم کردیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل اور امداد سے دور نہیں۔
اگر ان علماء کرام کی یہ محنتیں نہ ہوتیں جو اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے تھی تو آج مسلمان موج در موج اور جماعت در جماعت قادیانیت میں داخل ہوچکے ہوتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان ربانی علماء کو توفیق عطاء فرمائی کہ انہوں نے اس گمراہی سے مسلمانوں کے عقول، عزت ان کی اولاد اور ملک کو محفوظ کرلیا۔ اگرچہ وہ استعمار کے دور میں انگریزوں کی پشت پناہی کی وجہ سے کامیاب نہ ہوسکی۔ لیکن کفر کی پشت پناہی کے دور ہوتے ہی ان سے معرکہ آرائی کی اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں اور ان کے علماء کو فتح نصیب فرمائی اور باطل ناکام ہوئے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ جس نے اس ملک میں علماء حق کی ایک ایسی جماعت قائم کردی ہے جو حق پر قائم ہے اور اس کے دین کے معاملہ میں کسی کی بات سے نہیں ڈرتے۔ اس اسلامی ملک میں علماء، صلحاء، مرشدین و معلمین کا وجود خیر کثیر کی علامت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے ان کو دین کے ستون اور مسلمانوں کے لئے رہنما بنایا ہے اور قیامت کے روز ملاقات کے وقت ان کو عزت کا مقام عطاء فرمایا ہے۔ والحمد للہ رب العلمین!
عبدالفتاح ابوغدہ (۲۹؍ محرم الحرام ۱۴۰۲ھ)
(لولاک مورخہ ۲۸؍ اکتوبر ۱۹۸۱ء)
گستاخی رسول اور عدالتی فیصلہ
نومبر ۱۹۸۱ء کا واقعہ ہے کہ مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام سیرت النبی ﷺ کے عنوان پر جامع مسجد مدنیہ سمہ سٹہ میں جلسہ ہوا۔ جس میں مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے مرکزی مبلغ مولانا قاضی اللہ یار خاں اور مجلس بہاول پور کے مبلغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے سیرت طیبہ کے موضوع پر خطاب فرمایا۔ تقاریر کے بعد ایک شخص عبدالمالک نے کھڑے ہو کر سرور دو عالم ﷺ کی شان میں گستاخانہ کلمات کہے۔ موقعہ پر موجود مسلمانوں نے ملزم مذکور کی خوب پٹائی کی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت سمہ سٹہ کے امیر مولانا شیر محمد صدیقی نے ملزم مذکور کے خلاف مقامی چوکی میں پرچہ درج کرایا۔ جس کی باقاعدہ سماعت بہاول پور کی عدالت میں تقریباً چودہ ماہ تک جاری رہی۔ عدالت نے ۳۱؍ جنوری ۱۹۸۲ء کو حسب ذیل فیصلہ سنایا۔
فیصلہ: ’’مختصر واقعات اس طرح ہیں کہ ۳۰؍ نومبر ۱۹۸۱ء کو رات بعد نماز عشاء مدینہ مسجد سمہ سٹہ میں درس قرآن کا اہتمام تھا۔ جس میں بڑی تعداد میں علماء کرام مدعو تھے۔ جلسہ شروع تھا کہ ملزم عبدالمالک اچانک کھڑا ہوا اور کہا کہ مولویوں نے ویسے ڈھونگ رچا رکھا ہے۔ ختم نبوت کے نام پر روزی روٹی کی فکر میں لگے ہیں۔ نہ یہ کوئی اہم فیصلہ ہے نہ اتنی اہمیت ہے۔ یہ مولوی اس نام پر اپنی جیبیں بھرتے ہیں۔۔۔۔وغیرہ۔ اخیر میں کہا کہ : ’’ وہ ختم نبوت پر لعنت بھیجتا ہے۔‘‘ (العیاذ باللہ ) یہ الفاظ سنتے ہی مجمع اشتعال میں آگیا اور ملزم پر لوگ ٹوٹ پڑے۔ بڑی مشکل سے ملزم کی جان بچائی گئی۔ ملزم موقع سے فرار ہوگیا۔ لیکن جاتے ہوئے تین کتابیں چھوڑ گیا۔ جن میں ایک ’’مباحثہ مصر، انجیل مقدس‘‘ اور ایک کتاب ایسی کہ جس کے شروع کے اوراق نہ تھے۔ وہ کتب قبضہ میں لے کر پولیس کے حوالہ کی گئیں۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ مقدمہ کی تفتیش کے بعد ملزم کا چالان کر کے عدالت میں پیش کردیا۔ قریباً ۱۴ مہینے اس مقدمہ کی کارروائی چلتی رہی۔ ۳۱؍ جنوری ۱۹۸۲ء کو عدالت نے ملزم عبدالمالک کو مجرم اور گستاخیٔ رسول کا
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
مرتکب قرار دے کر ایک سال قید بامشقت کی سزا سنا دی۔‘‘ فیصلہ سنتے ہی مسلمانوں کے چہرے مسرت کی وجہ سے کھلکھلا اٹھے اور عدالت کے کمرہ کے باہر تاج وتخت ختم نبوت زندہ باد کے نعروں سے فضا گونج اٹھی۔
(لولاک ۷؍ دسمبر ۱۹۸۱ء)
مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام منعقدہ مختلف جلسے اور کانفرنسیں
سال ۱۹۸۱ء تک مجلس تحفظ ختم نبوت اپنے اکثر اکابر اور قائدین سے محروم ہو چکی تھی جو ایک حوصلہ شکن بات تھی۔ لیکن ختم نبوت کے تحفظ کی خاطر مجلس کی سرگرمیاں دن دوگنی رات چوگنی ترقی کر رہی تھیں۔ مجلس کے مبلغین مختلف علاقوں کے دورے کر کے لوگوں میں ختم نبوت کا شعور اور آگہی پیدا کرنے کے لئے تگ و دو کر رہے تھے۔ مختلف مقامات پر ختم نبوت کے پروگرام، کانفرنسز کا انعقاد کر کے ختم نبوت کا پیغام عام کر رہے تھے۔ چند کانفرنسوں کی اجمالی کارگزاری ملاحظہ فرمائیں۔
بہاول پور میں عظیم الشان یک روزہ ختم نبوت کانفرنس
۸؍ جنوری ۱۹۸۱ء جامع مسجد الصادق بہاول پور میں ایک روزہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ صدارت بہاول پور کے ممتاز عالم دین مولانا غلام مصطفیٰ نے کی۔ کانفرنس سے مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنماؤں مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا سید منظور احمد شاہ حجازی، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا یار محمد عابد کے علاوہ مہمان خصوصی مولانا محمد ضیاء القاسمی جنرل سیکرٹری تنظیم اہل سنت پاکستان نے خطاب کیا۔ جامع مسجد الصادق کا وسیع وعریض لائبریری ہال سامعین سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ ضلع بھر کے علماء کرام سٹیج پر رونق افروز تھے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت بہاول پور کے رہنما الحاج سیف الرحمن، جناب الحاج ذکر اللہ، جناب عمر دین، صوفی محمد اشفاق، صوفی غلام یاسین، جناب محمد سلیم، جناب محمد اکرام نے کانفرنس کے وسیع انتظامات کئے تھے۔ اشتہارات اور اعلانات کے ذریعہ کانفرنس کی خوب تشہیر کی گئی تھی۔ جس کی وجہ سے سخت سردی کے باوجود بھر پور اجتماع اور حاضری ہو گئی۔ عشاء کی نماز سے کانفرنس شروع ہو کر رات کے ایک بجے تک جاری رہی۔ سامعین بڑے ذوق وشوق سے آخر تک علماء کرام کے خطابات بڑی دلجمعی سے سنتے رہے۔ پرسوز دعا کے بعد رات ایک بجے یہ کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔
(لولاک مورخہ ۱۶؍ جنوری ۱۹۸۱ء)
ختم نبوت کانفرنس ہریا
۸؍ فروری ۱۹۸۱ء کو ہریا ضلع گجرات میں ایک روزہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ صدارت مقامی کونسلر چوہدری محمد رمضان نے کی۔ کانفرنس مجلس تحفظ ختم نبوت ہریا کے سرگرم رہنما مولانا عبد المختار صدیقی نے جذبہ عشق رسالت کے تحت بلائی تھی۔
کانفرنس میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا تاج محمود، مولانا سید منظور احمد شاہ حجازی، مولانا اللہ وسایا خطیب ربوہ اور مولانا عبد الرؤف مبلغ گوجرانوالہ زون نے شرکت کی۔ علاقہ بھر کے قابل احترام علمائے کرام کانفرنس میں شریک ہوئے۔ ظہر کی نماز کے بعد علمائے کرام کے بیان شروع ہو گئے۔ ہریا اور ملحقہ آبادیوں کے لوگ اجتماعات میں شریک ہوئے۔ اس علاقہ میں ختم نبوت کے سلسلہ میں یہ پہلا اجلاس تھا۔ اس سے قبل کوئی ربع صدی پہلے مولانا فاضل اجل حضرت غلام مرتضیٰ صاحب میانوی اور قادیانی مبلغ جلال الدین شمس کے درمیان مناظرہ ہوا تھا۔ جس میں مسلمانوں کو فتح عظیم نصیب ہوئی تھی۔ رات کے اجتماع سے مولانا عبد الرؤف، خطیب ربوہ مولانا اللہ وسایا، مولانا منظور شاہ صاحب نے خطاب فرمایا۔ رد انکار ختم نبوت کے علاوہ اتحاد بین المسلمین، استحکام پاکستان اور رد بدعات وغیرہ موضوعات پر تقریریں ہوئیں۔ مقامی احباب کی محنت اور اخلاص سے کانفرنس نہایت کامیاب اور نتیجہ خیز رہی۔ اس کانفرنس کے موقعہ پر ہریا
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے نئے دفتر کا افتتاح مولانا تاج محمود صاحب نے اپنی دعا سے کیا۔ اس کے بعد ہریا میں مجلس تحفظ ختم نبوت کا انتخاب بھی عمل میں لایا گیا۔
(لولاک مؤرخہ ۱۳/فروری ۱۹۸۱ء)
ٹوبہ ٹیک سنگھ میں دو روزہ ختم نبوت کانفرنس
۱۹، ۲۰/ مارچ ۱۹۸۱ء بروز جمعرات، جمعہ مجلس تحفظ ختم نبوت ٹوبہ ٹیک سنگھ ضلع فیصل آباد کے زیر اہتمام جامع مسجد اقبال نگر میں دو روزہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے سرپرست مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے امیر مرکزیہ قطب الارشاد حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ تھے۔ جامع مسجد اقبال نگر کے صحن کو شامیانوں، قناتوں سے ڈھانپ دیا گیا تھا۔ وسیع وعریض سٹیج پر اور اردگرد معززین شہر اور علماء کرام کے لئے کرسیاں بچھائی گئی تھیں۔ حضرت الشیخ مولانا خان محمد دونوں دن قیام پذیر رہے۔ کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لئے مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے مبلغ مولانا قاضی محمد اللہ یار خان نے ایک ہفتہ گردونواح کے چکوک کا دورہ کیا تھا۔
۱۹/ مارچ بعد از نماز عشاء کانفرنس کا پہلا اجلاس تھا۔ جس میں مولانا عبدالرحیم اشعر، مولانا غلام مصطفیٰ بہاول پوری نے خطاب کیا۔ مہمان خصوصی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے مرکزی رہنما حضرت مولانا تاج محمود تھے۔ دوسرے دن جمعہ تھا۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ کی مختلف جامع مساجد میں کانفرنس کے اجلاس منعقد ہوئے۔ گویا پورے شہر نے کانفرنس کے پروگرام کو سنا۔ ان اجتماعات میں مولانا عبدالرحیم اشعر، مولانا قاضی اللہ یار، مولانا زرین احمد خان، مولانا سید ممتاز الحسن، مولانا محمد اقبال، مولانا محمد شریف جالندھری نے مجلس تحفظ ختم نبوت کے پروگرام کو عوام کے سامنے پیش کیا۔
۲۰/ مارچ ۱۹۸۱ء بعد نماز عشاء کانفرنس کا آخری اجلاس تھا۔ جس کے مہمان خصوصی حضرت مولانا محمد شریف جالندھری سیکرٹری جنرل مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان تھے۔ مولانا کی صدارتی تقریر کے بعد مولانا محمد لقمان علی پوری نے خطاب فرمایا۔ مولانا محمد عبداللہ صاحب لدھیانوی امیر مجلس تحفظ ختم نبوت ٹوبہ ٹیک سنگھ کانفرنس کے منتظم اعلیٰ اور سٹیج سیکرٹری تھے۔ آپ نے مجلس کی منکرین ختم نبوت کے سلسلہ میں پالیسی کی وضاحت کی اور قراردادیں پیش کیں جو کانفرنس کا حصہ تھیں۔ جناب سائیں حیات جناب جانباز مرزا اپنے ایمان پرور کلام سے سامعین کو محظوظ کرتے رہے۔ سردی بارش، موسم کی خرابی کے باوجود کانفرنس کے تمام اجلاس کامیاب رہے۔
(لولاک مؤرخہ ۲۵/مارچ ۱۹۸۱ء)
شاہ کوٹ میں ختم نبوت کانفرنس
۴/ جون کو شاہ کوٹ ضلع شیخوپورہ میں یک روزہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ ختم نبوت کے جذبہ کے تحت مقامی مسلمانوں کے انتظام وانصرام اور کامیابی کے لئے مہینہ پہلے بھر پور مہم چلائی ہوئی تھی۔ پنڈال کو رنگ برنگی لائٹوں سے بقعہ نور بنایا گیا تھا۔ پندرہ سو مربع فٹ سٹیج کو کرسیوں اور صوفہ سیٹوں سے سجا دیا گیا تھا۔ کانفرنس کی صدارت الحاج خلیل احمد لدھیانوی رئیس ادارہ پیغام حج فیصل آباد نے کی۔ کانفرنس میں شرکت کے لئے ضلع بھر سے علماء کرام تشریف لائے تھے۔ شیخوپورہ، میاں علی، مانا نوالہ، سکھیکی، خانقاہ ڈوگراں سے حضرات علماء کرام کی شرکت نے کانفرنس کو دوبالا کر دیا۔ نظم وتلاوت کے بعد مجلس تحفظ ختم نبوت ربوہ کے مبلغ، جامع مسجد محمدیہ ریلوے اسٹیشن ربوہ کے خطیب مولانا اللہ وسایا نے کانفرنس کی غرض وغایت بیان کی۔ مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت اور منکرین جہاد ومنکرین اسلام کی اسلام وملک دشمن سرگرمیوں سے عوام کو باخبر کیا۔
مولانا صاحبزادہ امداد الحسن نعمانی نے حضور سرور کائنات ﷺ کی شان ختم نبوت کو بیان کر کے سامعین کو تڑپا دیا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے رہنما اور ملک عزیز کے نامور عالم دین حضرت مولانا سید محمد اشرف ہمدانی خطیب ختم نبوت نے بزرگان امت کی مسئلہ ختم نبوت
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
کے سلسلہ میں قربانیوں کا تذکرہ کیا۔ حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب نے حضرت مولانا غلام اللہ خان شیخ القرآن، حضرت مولانا احتشام الحق تھانوی، جناب خان محمد کھر، نعت خواں جناب مولانا حکیم شرف الدین کی وفات حسرت آیات پر روشنی ڈالی تو حاضرین پر مایوسی کے بادل چھا گئے۔ آپ نے ان حضرات کے مشن کو جاری وساری رکھنے کا عہد لیا تو پنڈال نعروں سے گونج اٹھا۔
(لولاک مؤرخہ ۱۵؍ جون ۱۹۸۱ء)
ختم نبوت کانفرنس بہاول پور
۵، ۶؍ مارچ کو جامع مسجد الصادق بہاول پور میں دو روزہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کل چار اجلاس ہوئے۔ جامع طریقت وشریعت حضرت مولانا خواجہ خان محمد، حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا عبدالرحیم اشعر، مولانا سید منظور احمد شاہ حجازی، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور دیگر علماء و مشائخ نے شرکت فرمائی۔
(لولاک مؤرخہ ۲۵؍ اپریل ۱۹۸۱ء)
ربوہ (چناب نگر) میں ختم نبوت کانفرنس
۱۲؍ ربیع الاوّل بمطابق ۱۲؍ جنوری ۱۹۸۱ء کو چناب نگر میں یک روزہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مولانا عبدالرحیم اشعر، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد شریف جالندھری اور مقامی علماء کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔ چناب نگر کے آس پاس کے دیہاتوں اور لالیاں، چنیوٹ، سرگودھا اور فیصل آباد سے ختم نبوت کے پروانے جوق در جوق شریک ہوئے۔ اجلاس کے اختتام پر ایک پرامن جلوس نکالا گیا۔ جلوس کے شرکاء کو ہدایت کی گئی تھی کہ جلوس میں منفی نعروں سے پرہیز کرکے جلوس کو مکمل پرامن رکھیں۔
(۵؍ فروری ۱۹۸۱ء)
چوہڑکانہ
۲، ۳؍ اپریل ۱۹۸۱ء کو چوہڑکانہ ضلع شیخوپورہ میں دو روزہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ حضرت مولانا سید محمد اشرف ہمدانی فیصل آباد، مولانا اللہ وسایا، حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر، مولانا محمد شریف جالندھری اور مقامی علماء کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ ۱۷، ۱۸؍ مارچ کو سرگودھا میں دو روزہ ۔ ۱۹، ۲۰؍ مارچ کو ٹنڈو آدم میں دو روزہ ۔ ۲۱، ۲۲؍ اپریل کو نواب شاہ میں ۔ ۸، ۹؍ مئی کو گوجرہ میں ۔ ۲۴؍ مئی کو میر پور خاص ۔ ۲۵، ۲۶؍ مئی کو کنری ۔ ۱۵، ۱۶؍ مئی کو لاہور میں ختم نبوت کانفرنسوں کا انعقاد کیا گیا تھا۔ یہ ساری کانفرنسیں نہایت کامیاب اور نتیجہ خیز رہیں۔
(لولاک مارچ، اپریل، مئی ۱۹۸۱ء)
مبلغین کی سرگرمیاں
کانفرنسوں کے علاوہ مبلغین حضرات نے انفرادی طور پر مختلف مقامات میں تبلیغی مہم کو جاری رکھا ہوا تھا۔ اندرون و بیرون ملک پھیلے ہوئے مبلغین اپنے متعلقہ حلقوں میں درس و تقریر کے ذریعے ختم نبوت کا شعور اجاگر کر رہے تھے۔ اگر تمام کارگزاری ذکر کی جائے تو کتاب کی ضخامت و طوالت میں غیر معمولی اضافہ ہوگا۔ صرف ان مقامات کے نام ذکر کرتے ہیں جن میں مبلغین نے تبلیغی پروگراموں کا انعقاد کیا۔ مرکزی مبلغ مولانا خدا بخش شجاع آبادی اور مولانا عبدالرؤف جتوئی نے جنوری کے مہینے میں پنڈی بھٹیاں، خانقاہ ڈوگراں، ڈھاباں سنگھ، چوہڑکانہ، شیخوپورہ، لاہور، قصور، شاہ کوٹ، فیصل آباد، جھنگ اور ملتان کا دورہ کیا۔ مولانا سید ممتاز الحسن شاہ نے شیخوپورہ، قصور، ساہیوال، پتوکی، لاہور اور بہاول پور کا دورہ کیا۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خانیوال، ملتان، خان پور، مظفر گڑھ اور ڈیرہ غازی خان، سیالکوٹ، گوجرانوالہ کا تبلیغی دورہ کیا۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
تحریک ختم نبوت
کے سلسلہ میں
۱۹۸۲ء
کے
حالات و واقعات
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
سرگودھا میں مرزائیوں کے ساتھ مناظرہ
فروری ۱۹۸۲ء میں شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب نے مرزائیوں کے ساتھ ایک تاریخی مناظرہ کیا۔ مولانا کی حاضر جوابی، موقع شناسی اور الزامی جوابات کا خدا داد ملکہ کس پر مخفی ہوگا؟ اس مناظرہ میں حضرت مولانا نے مرزائیت کے تار و پود بکھیر کر انہیں بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ مولانا ہی کے سلاست اور طلاقت کے نگینے میں جڑے الفاظ میں مناظرہ کی کارروائی ملاحظہ فرمائیں:
فقیر (مولانا اللہ وسایا) گوجرانوالہ، لاہور، حافظ آباد کے تبلیغی و تنظیمی سفر سے واپس ربوہ حاضر ہوا تو جناب قاری منیر احمد خاں مدرس مدرسہ ختم نبوت ربوہ نے اطلاع دی کہ چک نمبر ۹۸ شمالی سرگودھا سے مولانا ممتاز حسن صاحب خطیب چک مذکور تشریف لائے تھے۔ منکرین ختم نبوت سے ۱۹/فروری ۱۹۸۲ء بروز جمعہ گفتگو ہے۔ فقیر کو تشویش ہوئی کہ جمعہ پر ریلوے جامع مسجد فیصل آباد، اور ربوہ جامع مسجد محمدیہ میں عظیم اجتماع ہوتے ہیں۔ حضرت مولانا خدا بخش صاحب اور فقیر اگر چک نمبر ۹۸ شمالی جائیں تو ان جمعوں کا کیا بنے گا۔ کوفت ہوئی کہ احباب نے پوچھے بغیر ایسے وقت کا تعین کیا جس سے پیچیدگی پیدا ہوسکتی ہے۔ ۱۸/فروری ۱۹۸۲ء صبح حضرت مولانا خدا بخش صاحب تشریف لائے اور پنڈی رسول اسٹیشن پر مولانا ممتاز حسین سے ملاقات و تفصیلات سے آگاہ فرمایا۔ مولانا سرگودھا روانہ ہو گئے۔ طے ہوا کہ فقیر بھی ۱۹/فروری صبح سرگودھا سے سوار ہوگا اور مولانا خدا بخش صاحب، مولانا محمد اقبال بھی سرگودھا سے اسی ٹرین پر سوار ہو جائیں گے۔
۱۸/فروری ۱۹۸۲ء دوپہر کو مولانا عزیز الرحمن جالندھری صاحب ملتان سے تشریف لائے۔ وہ ربوہ جامع مسجد ختم نبوت کی تعمیرات کے انچارج ہیں۔ الحمد للہ وہ بھی میری درخواست پر آمادہ ہوگئے کہ ریلوے کالونی جامع مسجد فیصل آباد کا جمعہ پڑھا دیں گے۔ جب کہ ربوہ مسجد محمدیہ کے جمعہ کے لئے مولانا احمد یار چاریاری کو پیغام بھجوایا۔ ۱۸/فروری ظہر کے قریب میرے معتبر ذرائع نے اطلاع دی کہ جامعہ احمدیہ ربوہ میں چک نمبر ۹۸ شمالی کی گفتگو کے لئے بڑی تیاریاں ہورہی ہیں اور ان کے مبلغین کتابیں لے کر چک نمبر ۹۸ شمالی جانے کے لئے پا بہ رکاب ہیں۔ اسی روز مغرب کے قریب معروف مبلغ اسلام حضرت مولانا عبد الحفیظ صاحب خطیب چک نمبر ۱۹۹ اور حضرت مولانا حافظ ممتاز حسین تشریف لائے۔ ہر دو حضرات مصر تھے کہ فقیر ابھی ان کے ساتھ چک نمبر ۹۸ شمالی چلے۔ کیونکہ ان کا موقف تھا کہ فریق مخالف کے مبلغ پہنچ گئے ہوں گے۔ ہمارے مسلمان حضرات کو پریشانی نہ ہو۔ فقیر نے اپنی مصروفیات کا عذر کر کے صبح حاضری کا وعدہ کیا۔ دونوں بزرگ شام کو چناب ایکسپریس سے چک ۹۸ شمالی تشریف لے گئے۔ فقیر صبح جناب برادر عزیز قاری منیر احمد خاں کے ہمراہ کتابوں کے بکس لے کر عازم سرگودھا ہوا۔ شدید بارش تھی۔ تاہم اڈہ بس ربوہ پر صاحب علم و فضل دوست (یہ دونوں چناب نگر تعلیم الاسلام کالج کے مسلمان پروفیسر تھے۔ ایک کا نام حضرت حافظ محمد یوسف پروفیسر تھا جو اب ریٹائرڈ ہو کر خوشاب میں قیام پذیر ہیں۔ دوسرے بہاول نگر سے تعلق رکھتے تھے۔ غالباً پروفیسر محمد افضل نام تھا۔ عربی کے پروفیسر تھے اور خوب فاضل آدمی تھے۔ یہ دونوں بھی فقیر کے ساتھ تشریف لے گئے تھے) کتابیں لے کر تشریف لائے ہوئے تھے۔ اتفاق سے وہ بھی اسی بس میں سوار ہوئے۔ خوشی ہوئی۔ ان حضرات سے بھی طے تھا کہ فقیر کے ہمراہ تشریف لے جائیں گے۔ شدید بارش میں خدا خدا کر کے ریلوے اسٹیشن سرگودھا پہنچے۔ حضرت مولانا خدا بخش صاحب، مولانا محمد اقبال تشریف لائے ہوئے تھے۔ ٹرین کے ذریعہ تقریباً ساڑھے دس بجے چک نمبر ۹۸ شمالی پہنچے۔ احباب سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔
فقیر نے اپنے مسلمان احباب کو بلوایا جن سے منکرین ختم نبوت نے گفتگو کا کہا ہوا تھا۔ وہ احباب آئے ان سے ملاقات و تفصیل کا
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
سن کر فقیر نے ان کو بھیجا کہ جا کر آپ منکرین و مرتدین کے ذمہ دار حضرات کو کہیں کہ مسلمانوں کے علماء آگئے ہیں۔ آپ اپنے مبلغ سمیت تشریف لائیں تاکہ گفتگو ہو سکے۔ وہ حضرات گئے تو انہوں نے کہا کہ جناب! جمعہ کے بعد گفتگو کریں گے۔ فقیر نے اپنے مسلمان احباب سے کہا کہ آپ ان سے کہیں کہ گفتگو بے شک جمعہ کے بعد ہوگی۔ مگر شرائط تو پہلے طے کریں تاکہ ان شرائط کی روشنی میں جمعہ کے بعد گفتگو ہو سکے۔ جمعہ کے بعد اگر شرائط طے کرنے لگے تو وقت ضائع ہوگا۔ یہ کام جمعہ سے پہلے نمٹا لیں۔ چنانچہ نصر اللہ بھلی ایڈووکیٹ، ملک محمد اسلم، محمود انور بھلی، مبارک احمد مبلغ ربوہ چار قادیانی حضرات شرائط طے کرنے کے لئے تشریف لائے۔ اہل اسلام کی طرف سے چوہدری محمد اشرف گھمن، چوہدری محمد علی، حاجی سردار خان اور راقم الحروف نے شرائط طے کرنے شروع کئے۔ نصر اللہ بھلی ایڈووکیٹ نے کہا کہ گفتگو صرف حیات و وفات مسیح پر ہوگی۔ فقیر نے عرض کیا کہ ہم اس جذبہ سے آپ حضرات کے گاؤں حاضر ہوئے ہیں کہ تمام مختلف مسائل پر گفتگو ہو جائے۔ وہ نہ مانے۔ اس پر فقیر نے عرض کیا کہ پہلے حیات مسیح پر گفتگو ہو جائے۔ پھر آپ کے پیشوا اور مدعی نبوت کے کذب پر پھر ختم نبوت پر۔ تینوں مسائل پر گفتگو ہو جائے گی۔ حاضرین نے کہا کہ ٹھیک ہے۔ وہ حضرات مصر تھے کہ مرزا قادیانی کے صدق و کذب پر بحث نہ ہو۔ اس پر فقیر نے تفصیل سے عرض کیا کہ ہم بازار میں ہانڈی لینے کے لئے جاتے ہیں۔ دو روپے کی ہنڈیا لینی ہوتی ہے۔ دس بار اسے ٹھوکتے بجاتے ہیں کہیں کھوکلی تو نہیں۔ کچی تو نہیں۔ یہ دنیا داری کی بات ہے۔ دین میں بھی جس صاحب نے کہا ہے کہ مجھے مانو گے تو ٹھیک ہے ورنہ جہنم میں جاؤ گے۔ اسے ذرا ٹھوکنے بجانے تو دو۔ اس کو مل کر ہم اس کے لٹریچر کی روشنی میں دیکھیں گے یہ کیا تھا اور یہ اس لائق بھی ہے کہ اتنی عظمت کا مستحق قرار دیا جا سکے جتنی آپ ان کو دیتے ہیں۔ میرا دعویٰ ہے کہ اس کا لٹریچر ہی اس کی جانچ پڑتال کے لئے کافی ہے۔ آپ کو اس پر بحث کرنی چاہئے۔ ہم بڑے خلوص سے آپ کے پیشوا کو جانچنا، پرکھنا چاہتے ہیں۔ اس پر انہوں نے کہہ دیا کہ آپ کی مرضی گفتگو کرو یا نہ کرو۔ صدق و کذب مرزا پر بحث نہیں کریں گے۔ فقیر نے اپنے احباب کی طرف دیکھا۔ وہ حیران کہ ان حضرات کے بلند و بانگ دعوے اب اس طرح انحراف، فقیر نے فوراً کہا کہ آپ حضرات جان چھڑانا چاہتے ہیں۔ میں بغیر گفتگو آپ کی جان نہیں چھوڑوں گا۔ لیجئے جو مضمون آپ پسند کریں، فقیر حاضر ہے۔ اس بات سے اپنے احباب کے چہرے خوشی سے دمک اٹھے اور ان لوگوں پر اوس پڑ گئی۔ جو مدعی نبوت کو سچا ثابت کرنے کے لئے آئے تھے کہ اب تو سوائے گفتگو کے چارہ کار نہیں۔ شرائط لکھنے شروع کئے۔ فقیر نے تحریر شروع کی۔ حوالہ جات کے لئے فریقین کی کتابیں پیش ہوں گی۔ اس پر منکرین نے کہا کہ حوالہ جات صرف قرآن وحدیث سے پیش ہوں گے۔ فقیر نے عرض کیا کہ بھائی قرآن وحدیث ہمارے سر آنکھوں پر آپ کا لٹریچر آپ کے سر آنکھوں پر۔ آپ اپنے لٹریچر سے کیوں گریز کرتے ہیں۔ ایک نے کہا کہ ہم تو صرف خدا اور رسول کو مانتے ہیں اور کسی کو نہیں۔ فقیر نے کہا کہ جس خدا کو آپ مانتے ہیں اس کی تفصیل کا مجھے علم ہے۔ تمہاری کتابوں میں لکھا ہے کہ:”وہ (خدا) معاذ اللہ آپ کے نبی کے ساتھ وہ کارروائی کیا کرتا تھا جو مرد اپنی عورت سے کرتا ہے“ کتاب میرے پاس ہے۔ فرمائیں تو حوالہ دکھاؤں۔ اس پر وہ گھبرا گئے۔ کہنے لگے کہ صاحب اب جمعہ کا وقت ہو رہا ہے۔ جمعہ کے بعد تحریر کریں گے۔ گفتگو ہو نہ ہو ہم جمعہ نہیں چھوڑ سکتے۔ میں نے کہا آپ جمعہ جماعت کو روتے ہیں آپ کے صاحب (مرزا قادیانی) تو چھ ماہ تک نماز (باجماعت) کے تارک تھے۔
بہر حال ۳ بجے واپسی کا وعدہ کر کے چلے گئے۔ حضرت مولانا خدا بخش صاحب خطیب ربوہ نے جمعہ سے قبل حیات عیسیٰ علیہ السلام پر فاضلانہ خطاب کیا۔ جمعہ پورے گاؤں کے اہل اسلام نے آپ کی امامت میں پڑھا۔ ۳ بجے تک وہ حضرات تشریف نہ لائے۔ فقیر نے اہل اسلام کی طرف سے شرائط لکھ کر بھیج دیئے کہ ان کا کوئی نمائندہ بھی اس پر دستخط کر دے تاکہ گاؤں کے چند معززین آئیں۔ ہم ان سے مشاورت کے بعد دستخط کر دیں گے۔ ہمارے ساتھی وہاں گئے۔ ان حضرات کا اصرار یہ تھا کہ گفتگو ہمارے مکان پر ہو۔ اہل اسلام کا موقف
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
تھا کہ پچھلے جمعہ کی گفتگو مقامی مسلمان حضرات و منکرین ختم نبوت کے درمیان بھی جو مرزائیوں کے مکان پر ہوئی تھی ۔ یہ گفتگو مسلمانوں کے مکان پر ہوگی ۔ وہ آمادہ نہ ہوئے اور راہ فرار اختیار کی ۔ ہمارے حضرات نے پیغام بھجوایا کہ سکول ، گاؤں کے چوک ، گرجا جو غیر جانبدار جگہ ہے ۔ وہاں آ جائیں ۔ وہ اس پر بھی آمادہ نہ ہوئے ۔
ہمارے احباب نے طے کیا کہ گاؤں کے وسط میں دو مکان ایک دوسرے کے سامنے واقع ہیں ۔ درمیان میں چند فٹ کی گلی ہے۔ مسلمان کی بیٹھک میں مسلمان بیٹھ جائیں اور منکرین ختم نبوت اپنے ساتھی کی بیٹھک میں ہر ایک کا اجتماع اپنے اپنے مکان پر ہو اور گفتگو کرنے والے حضرات سامنے بیٹھ جائیں ۔ گفتگو دونوں فریق بآسانی سن سکیں گے۔ کیونکہ ان مکانات کا محل وقوع ایسا ہے اس پر ہمیں اطلاع ملی کہ اس شرط پر وہ آمادہ ہیں ۔ چنانچہ ہم اپنی کتابیں لے کر جملہ حاضرین سمیت وہاں پہنچ گئے ۔ وہ حضرات بھی متذکرہ بیٹھک کے ساتھ والے مکان میں موجود تھے ۔ لیکن پورا پونا گھنٹہ انتظار کے باوجود نہ آئے ۔ مرزائیوں نے پیغام بھیجا کہ گاؤں کے اہل اسلام کے خطیب مولانا حافظ ممتاز حسین آئیں ۔ ہم ان سے کچھ طے کرنا چاہتے ہیں۔
مولوی ممتاز حسین تشریف لے گئے۔ ان کے مبلغ مبارک منگلا ، مبشر احمد نے کہا کہ جی حوالہ جات صرف قرآن وحدیث سے پیش ہوں گے۔ ہمارے مولانا ممتاز حسین کچھ کہنا چاہتے تھے کہ ان کا اپنا آدمی مسٹر بھٹی قادیانی بول پڑا اور اپنے قادیانی مولویوں کو کہا کہ کچھ خدا کا خوف کرو ۔ بات کسی طرف لگنے بھی دو ۔ شرم کی بات ہے کہ ہم طے کر آئے ہیں کہ حوالہ جات کے لئے فریقین کے مسلمات پیش ہوں گے۔ آپ اپنی کتابوں سے کیوں بھاگتے ہیں ؟ مسلمان عالم دین کی موجودگی میں مرزائی مناظر کا اپنے مرزائی مناظرین کو ڈانٹ ڈپٹ کرنا ، مرزائی مناظر کھسیانے ہو گئے ۔ مولانا ممتاز حسین صاحب کو کہا کہ آپ تشریف لے چلیں ، ہم آ رہے ہیں ۔ مولانا ممتاز حسین نے ہمیں آ کر تمام حاضرین کی موجودگی میں ان کا پیغام سنایا کہ وہ آ رہے ہیں ۔ چنانچہ علماء اہل سنت نے اپنی کتابیں میز پر لگانی شروع کر دیں۔ فقیر نے قرآن مجید ، بخاری شریف پڑھنا شروع کر دیا۔ پندرہ بیس منٹ انتظار کے باوجود تشریف نہ لائے ۔ گلی میں دونوں طرف فریقین کے آدمیوں کے ٹھٹھ لگے ہوئے تھے ۔ فقیر نے ایک ہاتھ میں قرآن مجید دوسرے میں بخاری شریف اٹھائی اور سامعین کے درمیان کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ او منکرو! اپنے مبلغین کو باہر نکالو ۔ وہ کیوں نہیں نکلتے ۔ کیا رکاوٹ ہے ۔ فقیر دعویٰ سے کہتا ہے کہ وہ مر جائیں گے باہر نہیں آئیں گے ۔ قرآن ہمارے ساتھ ہے ۔ حدیث ہمارے ساتھ ہے چودہ سو سال سے پوری امت کا عقیدہ یہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔ آسمان پر تشریف فرما ہیں۔ قرب قیامت میں نازل ہوں گے اور حضور ﷺ کی شریعت کی غلامی میں زندگی گزاریں گے اور مدینہ طیبہ میں ان کی وفات ہوگی ۔ میں یہ شریعت محمدیہ سے ثابت کرنے کے لئے تیار ہوں ۔ مرزا قادیانی کے لٹریچر سے ثابت کرنے کے لئے تیار ہوں ۔ ہے ہمت تو باہر آئیں ۔ لیکن وہ ذلت آمیز شکست سے بچنے کے لئے میرا سامنا نہیں کر رہے ۔ گاؤں کے مرزائیو! میری تم سے درخواست ہے کہ اپنے مبلغین کو نکالو باہر ، تا کہ آج حق و باطل کا معرکہ اس گاؤں کے لوگ بھی دیکھ لیں ۔ ہے ہمت تو آئیں ۔ کیوں نہیں آتے ۔ آؤ! ہم تمہاری انتظار میں ہیں ۔ اس اثناء میں مولوی مبارک قادیانی آیا اور کہا کہ جی ہمیں خطرہ ہے کہ آپ گالی نکالیں گے ۔ لوگ مشتعل ہو جائیں گے ۔ فقیر نے کہا کہ جناب بہانہ نہ بنائیں ۔ آپ کی اگر بات صحیح ہے تو آپ کے لئے سنہری چانس ہے ۔ ضائع نہ کریں ۔ آپ دلائل سے بات کریں ۔ میں گالی سے گفتگو کروں تو گاؤں کے لوگ آپ کو سچا کہہ دیں گے ۔ آپ آئیں گفتگو کریں ۔ آپ کے لئے گولڈن چانس ہے ضائع نہ کریں ۔ فریقین نے ٹھیک ہے ٹھیک ہے کہہ کر میری اس معقول بات کی بھی تصدیق کی ۔ مبارک صاحب واپس گئے ۔ اب ان کے لئے نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن ، پریشان ہو کر گھر میں گھس گئے ۔ فقیر اپنے احباب سمیت میدان میں کھڑا ہے ۔ اس وقت کا منظر قابل دید
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
تھا۔ فقیر نے کہا کہ لوگو! منکر (قادیانی) اور مسلمان سب گواہ رہیں کہ یہ مبلغین زہر کا پیالہ پی لیں گے۔ لیکن سامنے نہیں آئیں گے۔ میں چیلنج کرتا ہوں کہ مسلمانوں کا میں نمائندہ ہوں۔ ان کا نمائندہ ناصر ہے۔ وہ مجھ سے جہاں چاہے میں مباہلہ کے لئے تیار ہوں۔ اگر مباہلہ نہ کرے تو فیصلہ کا آسان راستہ یہ ہے کہ آپ گاؤں والے مل کر آگ کی بھٹی تیار کریں۔ ناصر کو کہو وہ دادا کی صداقت کا دم بھر کر اس میں چھلانگ لگائے۔ میں اپنے آقا ومولا کی ختم نبوت کا اقرار اور مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے کا اعلان کر کے چھلانگ لگاتا ہوں۔ آپ دیکھ لیں گے آگ میرے اور مرزا ناصر کے درمیان فیصلہ کر دے گی کہ کون حق پر ہے۔ اس چیلنج سے انہوں نے شرم کے مارے سر جھکا دیئے۔
اہل اسلام خوشی سے پھولے نہ سماتے تھے۔ زندہ باد کی فضا میں فقیر کو ہجوم نے گھیر لیا۔ مبارک باد شروع ہو گئی۔ احباب خوشی سے ایک دوسرے کے گلے ملے۔ فوری طور پر چائے کا اہتمام کیا گیا۔ اس میں شریک تھے کہ مرزائی آیا۔ فقیر نے کہا کہ فرمائیے آپ کے مبلغین کیوں نہ نکلے۔ کہا جی! وہ آپ سے ڈر گئے تھے۔ میں نے کہا کہ کیا میں نے ان کو کھا جانا تھا۔ دلائل کی بات تھی وہ کیوں نہ آئے۔ ان کو آنا چاہئے تھا۔ میں اب بھی حاضر ہوں۔ اگر وہ اپنی طے شدہ بیٹھک میں نہیں آتے تو میں آپ کو ایک حوالہ دکھاتا ہوں۔ آپ یہ لے جائیں۔ ان سے اس کا ترجمہ پوچھ کر آئیں۔ آپ کی کتاب، آپ کا حوالہ، آپ اپنے مولوی سے اس کا مطلب پوچھ آئیں۔ وہ بیچارہ بڑا پریشان ہوا کہ پتہ نہیں مولوی صاحب کیا حوالہ نکالیں گے۔ فقیر نے بیگ منگوایا حوالہ نکالنا چاہا۔ معلوم ہوا کہ وہ تمام قادیانی مناظر ربوہ جانے کے لئے گاؤں چھوڑ کر اسٹیشن چلے گئے ہیں۔
مسلمانوں میں ان کے فرار کی خبر سے خوشی کی لہر دوڑ گئی اور منکرین شرم کے مارے ایک ایک کر کے کھسکنے شروع ہو گئے۔ فقیر نے احباب سمیت جماعت سے نماز عصر پڑھی (وہ لیٹ ہو رہی تھی) نماز کے بعد اجتماعی دعا کی گئی۔ بیسیوں احباب کے جلو میں ہمارا قافلہ اسٹیشن کی طرف روانہ ہوا۔ راستے میں ان کے فرار کے دلچسپ تذکرے ہوتے رہے۔ اپنے احباب کی خوشی وانبساط قابل دید تھی۔ فالحمد للہ! اسٹیشن پر پہنچے تو مخالف فریق کے مناظر بیٹھے خاک چاٹ رہے تھے۔ ان کی درماندگی و پریشانی قابل رحم تھی۔ وہ بیچارے اکیلے تھے۔ صرف ایک آدمی ساتھ تھا۔ ہمارے احباب کا اجتماع دیکھ کر وہ سخت پریشان ہوئے۔ مگر یہ عزت ہماری نہ تھی۔ حق کی عزت تھی۔ اللہ تعالیٰ نے حق وباطل کا ایسا نظارہ کرا دیا کہ انگشت بدنداں ہوں کہ آخر ان کو کیا ہو گیا۔ اتنی بڑی ذلت کے باوجود سامنے نہ آئے۔ فالحمد للہ! حضرت مولانا خدا بخش صاحب خطیب ربوہ ، حضرت مولانا محمد اقبال اپنے رفقاء سمیت سرگودھا کی ٹرین سے اور فقیر حضرت قاری منیر احمد خاں اور دونوں احباب پروفیسران کے ہمراہ ربوہ عازم سفر ہوا۔ ربوہ اسٹیشن پر مسجد محمدیہ کے امام اپنے احباب سمیت اسٹیشن پر خیر مقدم کے لئے موجود تھے۔ جہاں جہاں جس دوست نے یہ خبر سنی، خوش ہوا۔ اللہ تعالیٰ اخلاص کے ساتھ زیادہ سے زیادہ دین متین کی نصرت کی توفیق ارزاں فرمائے۔
فقیر اللہ وسایا
(لولاک مورخہ ۵ / مارچ ۱۹۸۲ء)
جناب گل محمد خان (جج ہائیکورٹ) کا فیصلہ
اپریل ۱۹۸۲ء کو چند مرزائی طلباء نے لاہور ہائیکورٹ میں پنجاب یونیورسٹی کے کنٹرولر کے خلاف ایک مقدمہ دائر کیا۔ ذیل میں اس کی کچھ تفصیل ذکر کی جاتی ہے۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
۱۹۷۴ء کے آئین میں یہ بات طے ہوگئی تھی کہ مرزائی پاکستان میں بطور اقلیت رہیں گے اور دوسری اقلیتوں کی طرح ان کے لئے بھی ہر شعبے میں مخصوص نشستیں ہوں گی۔ ان نشستوں کے علاوہ دیگر نشستوں پر کسی مرزائی کی تعیناتی نہ ہوسکے گی۔ مرزائی چونکہ محکمہ تعلیم کے مختلف عہدوں پر براجمان تھے۔ اس لئے مرزائی طلباء دھاندلی اور بدعنوانی سے نمبر زیادہ حاصل کرلیتے۔ یونیورسٹی میں داخلہ میرٹ کی بنیاد پر ملتا۔ مرزائی داخلہ کے دوران یہ اصرار کرتے کہ ہمارے نمبرز زیادہ ہیں۔ اس لئے ہمیں مسلمانوں کی نشستوں پر داخلہ ملنا چاہئے۔ اس لئے کہ میرٹ میں ہم ان سے زیادہ ہیں۔ یہ طلباء اکثر وہ ہوتے تھے جو ربوہ تعلیم الاسلام کالج میں پڑھے ہوتے تھے۔ جہاں اساتذہ کی اکثریت مرزائیوں کی تھی اور وہاں امتحانی نگران بھی مرزائی ہی بلائے جاتے تھے۔ اس طرح امتحانات میں بھرپور دھاندلی کر کے وہ نمبرات زیادہ حاصل کرتے تھے۔
یونیورسٹی کے کنٹرولر نے یہ موقف اختیار کیا کہ آئین میں مرزائیوں کی مردم شماری کے پیش نظر ان کے لئے نشستیں مخصوص کی گئی ہیں۔ ملک میں اور بھی تو مذاہب اور اقلیتیں ہیں۔ مخصوص نشستوں کے علاوہ دیگر نشستوں پر اگر میں مرزائیوں کو داخلہ دوں گا تو میں آئین کی خلاف ورزی کروں گا۔ لہٰذا مخصوص نشستوں پر ہی مرزائیوں کو داخلہ مل سکتا ہے۔
مرزائی طلباء نے ایک بڑی غلطی یہ کی کہ داخلہ فارم میں مذہب کے خانے میں اپنے آپ کو ”احمدی مسلمان“ لکھا۔ یونیورسٹی کی داخلہ کمیٹی نے قادیانی طلباء کو کہا کہ آئین کے اعتبار سے قادیانی غیر مسلم ہیں۔ لہٰذا فارم میں درستگی کر کے ”مسلمان“ کا لفظ ہٹا لیں۔ قادیانی طلباء نے ایسا کرنے سے انکار کیا اور مصر رہے کہ ہم مسلمان ہی ہیں۔ آئین کے فیصلے سے کسی کا مذہب تبدیل نہیں ہوتا۔ مرزائیوں کے اس ڈھیٹ پن پر یونیورسٹی حکام نے ان کو داخلہ دینے سے انکار کیا۔ قادیانی طلباء نے یونیورسٹی داخلہ کمیٹی کے خلاف لاہور کے ہائیکورٹ میں رٹ دائر کر دی۔ اس وقت لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس گل محمد خان تھے۔ آپ ایک سنجیدہ، فہمیدہ اور اسلامی اقدار کا تحفظ کرنے والے انسان تھے۔ جسٹس گل محمد خان نے اس کیس میں قادیانیوں کی خوب خبر لی۔ قادیانی طلباء کے وکیل مبشر لطیف قادیانی تھے۔ اس نے عدالت میں یہ موقف اپنایا کہ دفعہ ۱۲۰ اور دفعہ ۲۲ اور عبوری آئین کے تحت یونیورسٹی حکام طلباء کو مذہب کے خانے میں غیر مسلم لکھنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔ ”احمدی“ لکھ کر انہوں نے اپنی پوزیشن واضح کر دی۔ اب یونیورسٹی انتظامیہ اس کی مجاز نہیں ہے کہ ان کو مزید کریدے۔
جسٹس گل محمد خان نے فیصلہ میں کہا کہ : ”عبوری آئینی حکم کی دفعہ ۲ کے مطابق آئین کی دفعات ۱۲۰ اور ۲۲ کو نہیں اپنایا گیا۔ لہٰذا مندرجہ بالا موقف میں کوئی قوت نہیں ہے۔ مزید برآں یہ بھی عیاں ہے کہ عبوری آئینی حکم مجریہ ۱۹۸۱ء میں صاف طور پر لکھا ہے کہ ”احمدی“ غیر مسلم ہیں۔ سائلان نے مذہب کے کالم میں اسلام لکھ کر آئینی دفعات کی صریح خلاف ورزی کی ہے۔ ان سے مطالبہ کیا گیا کہ مذہب کے خانے میں لکھا گیا لفظ ”اسلام“ ہٹا کر اس کو صرف ”احمدی“ رہنے دو۔ مگر انہوں نے انکار کیا۔ اس انکار نے ان کے خلاف مزید جواز پیدا کر دیا۔ اب اگر یونیورسٹی ان حالات میں خاموشی رہتی تو آئین کی خلاف ورزی میں حصہ دار بنتی۔ سائلان کے اپنے کردار نے یونیورسٹی کو یہ اختیار دیا کہ ایسی درخواست مسترد کر دی جائے جو بادی النظر میں آئین کی خلاف ورزی کر رہی تھی اور آئین کے دفعات کا مضحکہ اڑانے کے مترادف تھی۔ سائلان کی اس کارروائی سے ڈسپلن کی خلاف ورزی بھی ہوتی۔ اس طرح سائلان کے اپنے کردار کی بناء پر بھی، میں یونیورسٹی کے حکم میں تبدیلی کو قرین انصاف نہیں گردانتا۔ سائلین کو داخلہ دینے سے انکار اس بناء پر نہیں کیا گیا کہ وہ غیر مسلم ہیں۔ بلکہ ایک تو یہ کہ انہوں نے کالج کے قانون کی خلاف ورزی کی اور دوسری بات یہ کہ اور طلباء کا حق نہ مارا جائے۔ مندرجہ بالا امور کی روشنی میں مجھے اس رٹ درخواست میں کوئی خوبی معلوم نہیں ہو رہی۔ لہٰذا اسے فوری طور پر خارج کیا جاتا ہے۔“ (چٹان اپریل، لولاک مؤرخہ ۲۷؍ اپریل ۱۹۸۲ء)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
ہفت روزہ ختم نبوت کا اجراء حضرت قاضی مظہر حسین کا افتتاح
مجلس تحفظ ختم نبوت اپنے یوم تاسیس سے اس کوشش میں تھی کہ ”ختم نبوت“ کے نام پہ رسالے کے سرکاری ڈیکلریشن مل جائے۔ لیکن قادیانی عفریت نے حکومتی دوائر میں ایسا پھن پھیلا رکھا تھا کہ حکومت کو اجازت دینے کا حوصلہ نہیں ہورہا تھا اور یہ مسئلہ بار بار التواء کا شکار ہوتا رہا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں پھر مجلس کے قائدین نے ”ختم نبوت“ جریدے کے لئے ڈیکلریشن حاصل کرنے کی کوشش کی۔ مگر بار آوری نہ ہوسکی۔ ان دنوں راجہ ظفر الحق صاحب وفاقی مذہبی امور کے وزیر تھے۔ انہوں نے مداخلت کی اور مجلس کے ساتھ اس معاملے میں تعاون کیا۔ راجہ صاحب کے تعاون اور توجہ سے کام بن گیا اور ڈیکلریشن کی منظوری مل گئی۔ اس پر مجلس کے احباب اور دوسرے متعلقین نے خوب خوشی منائی۔
۲۹ مئی ۱۹۸۲ء کو اس کا پہلا پرچہ جاری ہوا۔ ۲۹ مئی کی تاریخ کو اس لئے مختص کر دیا گیا کہ چناب نگر (ربوہ) میں قادیانی درندوں نے جو مسلمان طالب علموں پر حملہ کیا تھا وہ بھی ۲۹ مئی کے مہینے ہی کی تاریخ تھی۔ ۲۹ مئی ۱۹۷۴ء سے چلی تحریک ۲۹ مئی ۱۹۸۲ء پر منتج ہوئی۔ ہفت روزہ ختم نبوت کراچی کا افتتاح امام اہل سنت حضرت قاضی مظہر حسین سے کرایا گیا اور ایسا اس لئے کیا گیا کہ حضرت قاضی مظہر حسین کے والد مکرم حضرت قاضی کرم الدین دبیر مرزا قادیانی کے خلاف عدالتوں میں برسر پیکار رہے تھے۔ اس کی یاد اور اس نسبت کی برکت کے حصول کے لئے قبلہ قاضی مظہر حسین کو دعوت دی گئی کہ وہ ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کا چناب نگر سے افتتاح کریں۔ ختم نبوت کے نام سے جریدے کی ڈیکلریشن کی کاوش حضرت مولانا محمد علی جالندھری کے دور امارت سے شروع ہوئی تھی۔ اس محنت کا ثمرہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد کے دور میں ملا اور ان کے دور میں لگایا گیا یہ پودا آج ایک تناور درخت بن چکا ہے اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی صحیح صحیح ترجمانی کا حق ادا کر رہا ہے۔ پاکستان کے صف اوّل کے ہفت روزوں میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہفت روزہ ختم نبوت کو دن دوگنی رات چوگنی ترقی نصیب فرمائے۔
مرزا ناصر مر گئے
مرزا ناصر احمد ۹ / جون ۱۹۸۲ء کو آنجہانی ہو گئے۔ موت کے وقت عمر ۷۵ سال تھی۔ مرنے سے تقریباً ۲۵ دن پہلے قادیانی خلیفے نے ایک ۲۲ سالہ لڑکی (طاہرہ) سے شادی کی تھی۔ اپنی نئی نویلی دلہن کے ہمراہ اسلام آباد کے خوبصورت شہر میں راتیں رنگین کرنے آئے تھے کہ تقریباً ۱ بجے رات کو فرشتہ اجل نے انہیں آ دبوچا۔ ہفت روزہ الفضل نے لکھا تھا کہ مرزا ناصر نے یہ شادی چالیس دن استخارہ کرنے کے بعد خدا تعالیٰ کی پسند پر کی ہے۔ ہوا یوں کہ تابع فرمان مرزائی مرید عبدالحمید خان نے مرزا ناصر کو تین نام ارسال کئے کہ ان تینوں میں سے کن سے اپنی بیٹی کا رشتہ کروں۔ جو آپ کی پسند وہ میری پسند۔ مرزا ناصر نے اپنے مرید کو کہا کہ انتظار کرلو تا کہ مجھے کوئی آسمانی اشارہ ملے اور میں اس کے مطابق عمل کر سکوں۔ تقریباً ایک مہینہ بعد مرزا ناصر نے عبدالحمید خان کو بتایا کہ میں نے تمہاری بیٹی کی شادی کے لئے استخارہ کیا۔ مسلسل ۴۰ دن استخارہ کرنے کے بعد مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اشارہ ملا کہ آپ خود اس لڑکی سے شادی کر لیں۔ یہ رشتہ تیرے لئے موزوں رہے گا۔ لڑکی کے والد نے یہ اپنے لئے سعادت سمجھا کہ خدا نے میری بیٹی کے حوالے سے الہام بھیجا ہے اور مجھے اپنے ”امام“ کی رشتہ داری کا شرف بخشا ہے۔ اس لئے وہ بخوشی راضی ہوا۔ لیکن شادی کو ۴۰ دن بھی نہ ہوئے تھے کہ ”امام“ آنجہانی ہو گئے۔
(لولاک مؤرخہ ۱۵ / جون ۱۹۸۲ء)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
مرزا ناصر کے دور کا ایک مختصر جائزہ
مرزا ناصر احمد نے مرزائیوں کی قیادت ۱۹۶۵ء سے ۱۹۸۲ء تک تقریباً ۱۷ سال کی۔ مرزا ناصر کا دور مرزائیت کے لئے مشکلات کا دور تھا۔ آئین میں غیر مسلم قرار دیئے جانے کے علاوہ ان کی اپنی جماعت میں ایک کشمکش اور اضطراب کی کیفیت بنی ہوئی تھی۔ خلافت کی گدی پر بیٹھنے کے بعد ربوہ کے چند مرزائیوں نے اس کے خلاف مہم شروع کر دی۔ جو بعد ازاں ملک کے دوسرے حصوں میں بھی پھیل گئی۔ مرزا ناصر احمد نے اپنے والد مرزا محمود کی طرح ان مرزائیوں کے خلاف دہشت گردی کا بازار گرم کئے رکھا جو احمدیہ جماعت کے معاملات پر ان سے اختلافات کرتے تھے۔ ان پر تشدد، قاتلانہ حملے، سماجی بائیکاٹ اور تذلیل کے حربے آزمائے گئے۔ اپنی نجی محفلوں میں یہ قادیانی منحرفین مرزا ناصر احمد کو ربوہ کا ”فیشن ایبل راسپوٹین“، ”چنگیز خان“ اور ”مقدس چکمہ“ وغیرہ کا نام دیتے تھے۔
(ترجمان اسلام لاہور، مؤرخہ یکم ستمبر ۱۹۷۲ء)
جن مرزائیوں نے مرزا ناصر احمد سے اختلاف کیا انہوں نے اپنے اختلاف کی وجہ چند الزامات بتائے تھے۔
- ☆...... ربوہ محکمہ داخلہ کا انتہائی خطرناک ڈھانچہ ہے۔
- ☆...... بہت سے مالدار قادیانیوں کے لئے یہ ایک عشرت کدہ ہے۔ یہاں سے پولیس اور سول انتظامیہ کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔
- ☆...... نہ صرف مرزا ناصر کی خلوتوں کے قصے آشکارا کئے گئے بلکہ ان کے اہل خانہ کے پس پردہ قصوں، بدکرداریوں اور شہوت رانیوں
کی داستانیں بھی سنائی گئیں۔ مرزائی آرگن ”روزنامہ الفضل“ میں ان باخبر قادیانیوں کے بارے میں شائع ہوتا رہا کہ ”یہ سب منافقین ہیں اور ان کا مقصد مامور من اللہ خلیفہ کے خلاف سازشوں کا تانا بانا بن کر خلافت کو تہہ و بالا کرنا ہے۔“
۱۹۷۴ء کی تحریک اور مرزا ناصر کی پریشانی
۱۹۷۴ء کی تحریک کے نتیجے میں جب مرزائیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تو ان دنوں مرزائی سخت پریشان حال اور مایوس تھے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کی کاوشوں کی برکت سے ملک اور بیرون ملک مرزائیوں کے عقائد وعزائم لوگوں پر آشکارا ہوئے اور لوگوں نے احمدیت کے ”اسلامی“ کردار پر انگلیاں اٹھانی شروع کیں تو مرزائیوں میں بہت زیادہ بددلی پھیل گئی۔ نئے قادیانی بننے کا رجحان کم بلکہ معدوم ہو گیا۔ حضرت بنوری نے دورہ افریقہ سے واپسی کے موقع پر فرمایا کہ پوری دنیا میں لاکھوں قادیانی واپس مسلمان ہو گئے۔ پریشان حال مرزا ناصر احمد ایک ناکام چارہ ساز بن کر بددل اور بدگمان مرزائیوں کو مطمئن کرتے اور بشارتیں سناتے سناتے تھک گیا۔
۳؍ دسمبر ۱۹۸۱ء کو اس کی محبوب پہلی بیوی منصورہ بیگم بھی آنجہانی ہو گئی۔ جس سے مرزا ناصر کے خلجان اور اضطراب میں اور بھی اضافہ ہوا۔ اپریل کے آخر میں ”آسمانی اشارے“ پر ۲۲ سالہ ”طاہرہ“ سے شادی کی۔ جنسی کمزوری کو سہارا دینے کے لئے اس نے باقاعدگی سے ”زودجام عشق“ کا استعمال کیا۔ یہ ایک شہوت انگیز دوائی تھی۔ جس کے اجزاء بقول مرزا قادیانی کے اس پر منکشف ہوئے تھے۔ جب زود جام مرزا ناصر کے بڑھاپے اور مردانہ کمزوری پر پردہ ڈال نہ سکی تو دوسری رات کے لئے اپنے آپ کو تیار کرنے کے لئے ایک اور طاقت کی دوائی استعمال کی۔ یہ وہ دوائی تھی جسے حکیم نور الدین بھیروی نے کشمیر کے ایک عیاش مہاراجہ کے لئے تیار کیا تھا۔ ان ادویات کے استعمال سے اسے قلبی عارضہ لاحق ہو گیا اور اپنی نئی شادی کے قریباً ۳۵ دن بعد اپنی جماعت کو افسردگی اور انتشار کی حالت میں چھوڑ کر اپنے انجام کو پہنچ گئے۔
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
مولانا اللہ وسایا کا خطاب اور مرزا ناصر کو دل کا دورہ
یاد رہے کہ اس دوسری شادی کے بعد مرزا ناصر اپنی نئی نویلی دلہن کے ہمراہ ’ہنی مون‘ کے لئے اسلام آباد گیا۔ اس کی قیام گاہ کے سامنے جامع مسجد میں ختم نبوت کانفرنس تھی۔ مولانا اللہ وسایا نے اس موقعہ پر مرزا ناصر کو مخاطب کر کے جو خطاب کیا وہ ’حقائق بولتے ہیں‘ کے نام پر پمفلٹ کی شکل میں چھپ چکا ہے۔ طوالت کے ڈر سے یہاں درج نہیں کیا۔ اس خطاب کے دوران مرزا ناصر کو دل کا دورہ پڑا۔ پھر کئی دنوں بعد جان دے دی۔ ہنی مون منانے گیا تھا پیک ہو کر واپس آیا اور یوں عبرتناک ذلت آمیز موت سے دوچار ہوا۔ مرزا ناصر نے جان دے دی لیکن مولانا اللہ وسایا کے حوالہ جات کا جواب نہ دے پایا۔
مرزا طاہر مسند اقتدار پر
جونہی مرزا ناصر آنجہانی ہو گئے قادیانی خلافت کے امیروں کے درمیان جانشینی کی ایک شدید جنگ چھڑ گئی۔ ربوہ کی گدی پر قبضہ جمانے کے مسئلے نے مرزا ناصر کی تدفین کے معاملات پر فوقیت حاصل کی۔ مرزا ناصر کی جانشینی کے لئے تین نام لئے جا رہے تھے۔
- ۱...... مرزا رفیع احمد۔
- ۲...... مرزا طاہر احمد۔
- ۳...... مرزا مبارک احمد۔
یہ تینوں بھائی مرزا غلام احمد قادیانی ہی کے خاندان سے تھے۔ مرزا طاہر کے اہل خانہ اور قادیانی نوجوان مرزا طاہر کی خلافت کے حامی تھے۔ جب کہ چند بڑے قادیانی اور مرزا ناصر کی خلافت سے منحرف قادیانیوں کا ایک گروہ مرزا رفیع احمد کا حامی تھا۔ سر ظفر اللہ خان مرزا طاہر کا حامی تھا اور اسی کے کہنے پر مرزا مبارک احمد بھی طاہر کی حمایت کرنے لگے۔ انتخابی عمل کے دوران مرزا طاہر احمد اور مرزا رفیع احمد دونوں موجود تھے۔ مرزا طاہر نے تقریر کی اور اپنے ”خواب اور الہامات“ سنائے۔ مرزا رفیع نے تقریر کرنا چاہی۔ لیکن سر ظفر اللہ نے اسے جھڑکتے ہوئے چپ کروا دیا۔ مرزا رفیع احمد رسوائی اور غضب کی حالت میں خاموشی سے وہاں سے چلے گئے۔ ان کے ہمدردوں کے چھوٹے سے گروہ نے ان کی کامیابی کا اعلان کر دیا اور گول بازار ربوہ میں ایک جلوس نکالا۔ چونکہ اکثریت مرزا طاہر کے حامیوں کی تھی اور مرزا مبارک احمد بھی اسی کو سپورٹ کر رہا تھا۔ اس لئے مرزا طاہر احمد خلیفہ منتخب ہو گئے۔ ربوہ اور اس کے گرد و نواح میں مرزا قادیانی کے چوتھے ”خلیفہ“ مرزا طاہر احمد کے پہلے خطاب کی کیسٹیں گونجنے لگیں۔ خدام الاحمدیہ نے پاکستان اور بیرون ملک قادیانیوں کو مطلع کرنے کے لئے کہ مرزا طاہر احمد کو ”خدا“ نے ان کے سربراہ کی حیثیت سے مقرر کر دیا ہے۔ پیغامات دور دراز تک نشر کر دئیے۔
مرزا طاہر احمد کے خلیفہ بننے کے بعد مرزا رفیع احمد اور ان کے ہمدردوں کے ساتھ کیا ہوا۔ یہ ایک دقت طلب اور افسوس ناک کہانی ہے۔ مرزا رفیع احمد کو یزید، لاہوریوں کا آلہ کار، منافق، مقدس خلیفہ کا سخت دشمن، بنگالی عورت کا باغی بیٹا (ان کی والدہ بنگال سے تھی) اور دعاؤں کا سوداگر کہا گیا۔ ربوہ میں قادیانی ان سے ملنے سے کترانے لگے۔ خدام الاحمدیہ ان کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنے لگی۔ ان کی ڈاک سنسر ہونے لگی اور ان کے گھر کو چھوٹا قید خانہ بنا دیا گیا۔ ان کے سب سے بڑے حامی ’البشارت جیولرز کا خاندان‘ اور بہشتی مقبرے کے انچارج مولوی ”بشارت الرحمن“ کو معمولی اور جھوٹے الزامات لگا کر جماعت سے خارج کر دیا گیا۔ مرزا طاہر اور اس کے چیلوں چانٹوں کے ان تمام اقدامات کے باوجود مرزا رفیع احمد کی جماعت میں تحریک زور پکڑتی گئی۔ مگر طاہر کے غنڈوں نے ان کو خاموش کرانے
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
کے لئے اپنا اثر و رسوخ کیا۔
مرزا طاہر نے قصر خلافت کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے بااثر قادیانیوں کو اعتماد میں لیا۔ چوہدری ظفر اللہ تو پہلے مرزا طاہر کی شلوار کا ناڑا بنے ہوئے تھے۔ مزید اس نے ڈاکٹر عبدالسلام، ایم ایم احمد، مرزا مبارک اور دیگر بڑے عہدوں پر متمکن صاحب ثروت قادیانیوں کو بھی شیشے میں اتار لیا۔ احتجاجی آوازوں کو دبانے کے لئے اور اپنے منظور نظر افراد کو نوازنے کے لئے قادیانی خزانہ سے قرضوں کی بھر مار کر دی۔ مرزا رفیع، مرزا طاہر کے ہتھکنڈوں کے سامنے بے بس تھا۔ مرزا طاہر کی زبان اتنی چرب تھی کہ اس نے مرزا رفیع احمد کے اہل خانہ کی بھی ہمدردیاں حاصل کر لیں۔ مرزا محمود کی بہن اور مرزا رفیع کی پھوپھی امۃ الحفیظ بیگم نے مرزا رفیع کو بیعت فارم پر دستخط کرنے پر مجبور کر دیا اور کھلے دل سے مرزا طاہر کو خلیفہ ماننے کے لئے دباؤ ڈالا۔ مرزا رفیع احمد کو مدرسہ احمدیہ کی ملازمت سے نکال دیا اور اس کے وظائف یکدم اتنے گھٹا دیئے گئے کہ وہ مکمل طور پر خلیفہ کا دست نگر ہو کر رہ گیا۔
(ملخص از تاریخ احمدیت، لولاک جولائی ۱۹۸۲ء)
قادیانیوں کا جنوبی افریقہ میں مسلمانوں کے خلاف مقدمہ
جون ۱۹۸۲ء میں قادیانیوں کے لاہوری گروپ نے جنوبی افریقہ کی عدالت میں مسلمانوں کے خلاف ایک مقدمہ دائر کر دیا۔ ساتھ ہی عدالت سے اپنے لئے مسلمان ہونے کے سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی کوشش بھی کی۔ مرزائیوں کی لاہوری جماعت ”احمدیہ انجمن اشاعت اسلام“ نے یہ مقدمہ دائر کیا تھا اور اس میں ۳ نکات کو بنیاد بنایا گیا۔
- ۱...... ہم باقاعدہ مسلمان ہیں لیکن مسلمان ہمیں کافر قرار دیتے ہیں۔ مسلمان ہمیں مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار ہونے کی وجہ سے
کافر کہتے ہیں۔ اس سے ہمارے جذبات مجروح ہوتے ہیں اور ہتک عزت ہوتی ہے۔ ہمیں دائرہ اسلام سے خارج سمجھنے کے لئے مسلمانوں کے پاس کوئی معقول وجہ نہیں۔ عام قانون اور عدالتی نظام کے تحت کئی دفعہ یہ بات عدالتوں میں گئی۔ ہمارا اسلام زیر بحث آیا۔ عدالتوں نے ہمارے حق میں فیصلہ دیا۔ ان فیصلوں کو غیر مؤثر قرار دینے کے لئے پاکستان کی سنی اکثریت نے پارلیمنٹ کے ذریعے ہمیں غیر مسلم قرار دلوایا۔ افریقہ کے سنی مسلمان ہمیں کافر کہہ کر ہماری ہتک کرتے ہیں۔ ایک تو اس کا ہرجانہ دلوایا جائے۔ دوسرا انہیں مستقل طور پر منع کیا جائے کہ اپنی تقریر یا تحریر میں ہمیں کافر نہ کہیں۔
- ۲...... (غیر احمدی) مسلمان یہاں اپنی مساجد میں ہمیں نماز پڑھنے سے روکتے ہیں۔ حالانکہ مسجد مسلمانوں کی عبادت گاہ کا نام ہے۔ ہر
مسلمان کا حق ہے کہ مسجد میں نماز پڑھے۔ کوئی شخص کسی مسلمان کو مسجد میں نماز پڑھنے سے روک نہیں سکتا۔ ہم بھی مسلمان ہیں۔ یہاں کے سنی مسلمانوں کو پابند کیا جائے کہ ہمیں مسجد میں نماز ادا کرنے سے نہ روکیں۔
- ۳...... مسلمانوں کے لئے مخصوص قبرستانوں میں یہ سنی مسلمان ہمیں اپنے مردے دفن کرنے سے روکتے ہیں۔ انہیں مستقل طور پر پابند کیا
جائے کہ ہمیں مسلمانوں کے لئے مخصوص قبرستانوں میں اپنے مردے دفن کرنے سے نہ روکیں۔
مرزائیوں نے وہاں کی اسلامی تنظیموں کے سربراہ و مسلم علماء کی تنظیم جس کا نام ”جوڈیشل کونسل“ ہے، مختلف مساجد کے امام صاحبان، مسلم قبرستان کے نگران سمیت کل نو افراد کو فریق بنایا تھا۔ درج بالا نکات کو بنیاد بناتے ہوئے مرزائیوں نے عدالت سے حکم امتناعی کی درخواست کی۔ جنوبی افریقہ کی مسلم تنظیموں نے رابطہ عالم اسلامی اور مجلس تحفظ ختم نبوت سے رابطہ قائم کیا اور اس دوران مرزائیوں کے دعویٰ کا جواب داخل کیا۔ یہ جواب مدعا علیہم، جنوبی افریقہ میں دارالعلوم واٹر فال کے مہتمم اور ڈاکٹر حبیب الحق ندوی نے داخل کیا تھا۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
جواب میں ان حضرات نے مرزائیت کی مختصر تاریخ، مرزا قادیانی کی اصلیت اور عقیدہ ختم نبوت کی وضاحت اور مختصر تشریح بیان کی اور اپنا یہ مؤقف بیان کیا کہ احمدیوں کے قادیانی اور لاہوری گروپ دونوں ملت اسلامیہ سے خارج ہیں۔
لاہوریوں کے اس دعویٰ اور مقدمے کی بازگشت پاکستان میں بھی سنائی دینے لگی۔ جب کہ جنوبی افریقہ کے مسلمانوں نے اس مقصد کے لئے پاکستان کے علماء کرام اور اہم شخصیات سے رابطہ قائم کیا۔ اس مقدمے میں ۹؍ستمبر ۱۹۸۴ء کی تاریخ نہایت اہم تھی۔ اس لئے کہ اس دن حکم امتناعی کی توثیق اور عدم توثیق کا فیصلہ ہونا تھا اور اس پر مقدمے کی مزید کارروائی اور سماعت کا دارومدار بھی تھا۔ چنانچہ پاکستانی مسلمانوں کی طرف سے ایک وفد ترتیب دیا گیا۔ جس نے جنوبی افریقہ کی عدالت میں جا کر مسلمانوں کے متفقہ عقیدہ ختم نبوت کی وضاحت بھی کی اور عالم اسلام کا موقف بھی بیان کیا کہ قادیانی کیونکر کافر قرار دیئے گئے ہیں۔ پاکستان کے وفد میں جسٹس مولانا مفتی محمد تقی عثمانی، مولانا عبدالرحیم اشعر، مفتی زین العابدین، مولانا محمد یوسف لدھیانوی، مولانا منظور احمد چنیوٹی، جناب عبدالرحمن باوا، مولانا ظفر احمد انصاری، ریٹائرڈ جسٹس محمد افضل چیمہ، اٹارنی جنرل حاجی غیاث محمد اور سید ریاض الحسن گیلانی ایڈووکیٹ شامل تھے۔ حکومت پاکستان نے بھی اس مقدمے میں خوب دلچسپی لی۔ صدر مملکت جنرل ضیاء الحق نے جنوبی افریقہ روانگی سے قبل وفد کے ارکان سے ملاقات کی۔ چونکہ ان دنوں جنوبی افریقہ کے ساتھ پاکستان کے سفارتی تعلقات نہیں تھے۔ اس لئے وفد کے ارکان نے پہلے نیروبی (کینیا) کا سفر کیا اور پھر وہاں سے افریقہ چلے گئے۔ وفد کا نہایت جوش و جذبے سے وہاں کے مسلمانوں نے استقبال کیا۔ مولانا عبدالرحیم اشعر نے اپنے سفر اور مقدمہ کی کارگزاری لکھی ہے۔ اس میں سے کچھ حصہ تلخیصاً نقل کیا جاتا ہے ملاحظہ فرمائیں۔ لکھتے ہیں:
”صبح جب ہم عدالت کی طرف روانہ ہوئے تو ہمارے ساتھ کثیر تعداد مسلمان عدالت کے احاطے میں پہنچ چکے تھے۔ کیپ ٹاؤن میں مسلمانوں کی آبادی چھبیس ہزار ہے۔ جب کہ مرزائیوں کی تعداد دوسو کے لگ بھگ ہے۔ عدالت کی سربراہ وہاں کی ایک عیسائی خاتون جج تھی اور اس کی عمر پچاس سال سے زائد تھی۔ ۹؍ستمبر کو ساڑھے نو بجے مقدمے کی کارروائی شروع ہوئی۔ لیکن مسلمانوں کی بھاری تعداد کے مقابلے میں چونکہ عدالت کا کمرہ ناکافی تھا اس لئے عدالت کی خاتون جج نے سماعت سے قبل مقدمے کی باقاعدہ سماعت قریب واقع ایک بڑے ہال میں شروع کی۔ وہاں عدالت میں ہمارے وفد کے ارکان کے لئے الگ نشستوں کا اہتمام کیا گیا۔ ریٹائرڈ جسٹس محمد افضل چیمہ اور حاجی غیاث محمد کو عدالت کے سامنے آگے جگہ دی گئی تھی۔ جب کہ ایک طرف پریس گیلری کا اہتمام بھی تھا۔ عدالت کا یہ ہال کھچا کھچ بھر چکا تھا اور اس کی سماعت میں وہاں کے مسلمانوں کی دلچسپی کا یہ عالم تھا کہ بہت سی خواتین اپنے شیر خوار بچوں کو گود میں اٹھائے عدالت میں موجود تھیں۔ اس ہال میں اوپر سامعین کے لئے ایک وسیع گیلری بھی موجود تھی۔ دو دن تک عدالتی سماعت کے دوران سینکڑوں افراد اور مسلمان خواتین صبح سے شام تک پورے انہماک اور انتہائی صبر و استقلال کے ساتھ مقدمے کی کارروائی سنتی رہیں۔ مرزائیوں نے دو یہودی وکلاء کی خدمت حاصل کی تھیں اور ان کی معاونت کے لئے ایک مرزائی وکیل بھی موجود تھا۔ مسلمانوں کی طرف سے اصل وکیل اسماعیل محمد تھے۔
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کا آنکھوں دیکھا حال
حضرت مولانا جسٹس مفتی محمد تقی عثمانی نے سفر کی کارگزاری اور مقدمہ کی روداد ہفت روزہ لولاک کے ۲۰؍ستمبر ۱۹۸۲ء کے شمارے میں لکھی ہے۔ حضرت چونکہ خود پاکستان کی اسلامی عدالتوں میں بطور جج تعینات تھے۔ اس لئے عدالتی کارروائی کو علیٰ وجہ البصیرت سمجھتے تھے۔ حضرت کی مختصر تحریر میں مقدمہ کی پوری کارروائی ذکر کی گئی ہے ملاحظہ فرمائیں۔ لکھتے ہیں:
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
’’رمضان المبارک کے آغاز کی بات ہے کہ جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ سے مجھے اپنے دوست ابوبکر وراچھیا کا ایک تار موصول ہوا۔ اس تار میں کہا گیا تھا کہ کیپ ٹاؤن کی سپریم کورٹ میں قادیانیوں نے مسلمانوں کے خلاف ایک درخواست دائر کر کے عبوری حکم امتناعی حاصل کر لیا ہے۔ اس مقدمے میں مسلمانوں کی طرف سے جوابی کارروائی میں مدد دینے کے لئے آپ کی فوری حاضری ضروری ہے۔ تار میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ حکم امتناعی کی توثیق کے لئے ۶؍اگست کی تاریخ مقرر ہوئی ہے۔ چونکہ پاکستان سے فون یا ٹیلیکس کے ذریعہ جنوبی افریقہ سے رابطہ قائم کرنا ممکن نہیں۔ اس لئے میں نے تار ہی کے ذریعہ جواب دیا اور مسئلے کی اہمیت کے پیش نظر آنے کا وعدہ کر لیا۔ کچھ عرصے کے بعد ایک اور ٹیلی گرام سے معلوم ہوا کہ اب حکم امتناعی کی توثیق کی تاریخ بڑھ گئی ہے۔ نیز یہ کہ کیپ ٹاؤن اور جوہانسبرگ کے احباب نے فون پر بارہا مجھ سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی۔ لیکن مجھ سے ملاقات نہ ہوسکی۔ اس دوسرے تار کے جواب میں احقر نے اپنے پاسپورٹ وغیرہ کی تفصیلات جنوبی افریقہ روانہ کر دیں تاکہ وہاں ویزہ کے لئے کوشش کی جاسکے۔
حکم امتناعی کی توثیق کے لئے نئی تاریخ ۹؍ستمبر ۱۹۸۲ء مقرر کی گئی تھی۔ اس دوران معلوم ہوا کہ کیپ ٹاؤن کے بعض مسلمانوں نے حکومت پاکستان، رابطۂ عالم اسلامی اور بعض دوسرے حضرات سے بھی اس مقدمے میں مدد کی درخواست کی ہے۔ مسئلے کی اہمیت ہر مسلمان کو مسلم تھی۔ اس لئے جس شخص سے اس بارے میں مدد کی فرمائش کی گئی وہ فوراً جانے کے لئے تیار ہوگیا۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ جنوبی افریقہ سے سفارتی تعلقات نہ ہونے کے سبب ویزا وہیں سے آ سکتا تھا اور ۴؍ستمبر تک کسی ایک شخص کا بھی ویزا موصول نہیں ہوا تھا۔ تاریخ کے قریب آنے کی وجہ سے اب پاکستان میں مزید انتظار ممکن نہ تھا۔ اس لئے رائے یہ ہوئی کہ یہاں سے روانہ ہو کر نیروبی پہنچ جائیں اور وہاں سے فون پر رابطہ قائم کر کے ویزا حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ چنانچہ ۸ افراد کا ایک قافلہ سفر کے لئے تیار ہوگیا۔ ان میں سے احقر نجی دعوت کی بنیاد پر جارہا تھا۔ ادھر مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے مولانا عبدالرحیم اشعر، مولانا مفتی زین العابدین، حاجی غیاث محمد صاحب سابق اٹارنی جنرل پاکستان اور ریاض الحسن گیلانی ایڈووکیٹ بھی جانے کے لئے تیار تھے۔ تیسرے رابطہ عالم اسلامی کی طرف سے مولانا ظفر احمد انصاری اور (ریٹائرڈ) جسٹس محمد افضل چیمہ صاحب کو نامزد کیا گیا۔ مولانا ظفر احمد صاحب انصاری نے سفر میں اپنی مدد کے لئے جناب عبدالمجید صاحب کو بھی ساتھ لے لیا تھا۔
اس طرح ۵؍ستمبر کی شام کو سات بجے ۹ افراد کا یہ قافلہ پی۔آئی۔اے کے طیارے سے نیروبی روانہ ہوا اور راستے میں دوبئی رکتا ہوا مقامی وقت کے مطابق رات کے ایک بجے نیروبی پہنچا۔ یہاں کینیا میں، پاکستانی سفیر بریگیڈیئر اشرف صاحب اپنے عملہ کے ساتھ استقبال کے لئے موجود تھے۔ رات کو ہوٹل ہلٹن میں قیام ہوا اور اگلا سارا دن جنوبی افریقہ سے فون پر رابطہ قائم کر کے ویزا کے حصول کی کوشش میں صرف ہوا۔ بالآخر شام چار بجے جوہانسبرگ سے ابوبکر وراچھیا صاحب نے فون پر اطلاع دی کہ ویزا کا انتظام ہوگیا ہے اور انشاء اللہ تمام حضرات کو جوہانسبرگ کے ائیر پورٹ پر ویزا مل جائے گا۔
چنانچہ منگل ۷؍ستمبر ۱۹۸۲ء کی صبح کو نو بجے کے ایل۔ایم۔ کے طیارے کے ذریعہ ہم نیروبی سے روانہ ہوئے اور تقریباً چار گھنٹے کی پرواز کے بعد مقامی وقت کے مطابق ساڑھے بارہ بجے دوپہر جوہانسبرگ کے جان اسمٹس ائیر پورٹ پر اترے۔ یہاں احباب کا ایک بڑا مجمع استقبال کے لئے موجود تھا۔ طے یہ ہوا کہ آج کا دن جوہانسبرگ ہی میں ٹھہر کر مقدمے کی تفصیلات معلوم کی جائیں۔ واٹر فال کے مدرسے کے مہتمم مولانا ابراہیم میاں صاحب نے سب حضرات کے قیام کا انتظام اپنے مدرسہ میں کیا۔ انتہائی مستعدی کے ساتھ مقدمے کے کاغذات کی کاپیاں ہم سب کو فراہم کیں اور عصر کے بعد کچھ مقامی وکلاء کو جمع کر لیا۔ تاکہ وہ اس ملک کے عدالتی طریق کار کے بارے میں
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
ہمیں ضروری معلومات فراہم کرسکیں۔
جنوبی افریقہ کا عدالتی طریقہ کار ہمارے ملک کے طریقہ کار سے قدرے مختلف ہے۔ یہاں مدعی، مدعاعلیہ پر اصل مقدمہ دائر کرنے سے پہلے ہی اپنی شکایت کو مختصراً بصورت درخواست عدالت کے سامنے پیش کر کے کوئی عبوری حکم حاصل کر سکتا ہے۔ اس غرض کے لئے اسے ایک بیان حلفی داخل کرنا پڑتا ہے۔ جس میں وہ مختصراً اپنی شکایت بیان کر کے اپنے اس ارادے کا اظہار کرتا ہے کہ میں اس شکایت کی بنیاد پر مدعاعلیہ کے خلاف مقدمہ دائر کرنے والا ہوں۔ لیکن چونکہ مقدمے کی کارروائی میں دیر لگنے کا امکان ہے۔ اس لئے مجھے اس مدت کے لئے عبوری حکم مطلوب ہے۔ اگر عدالت سمجھے کہ بادی النظر میں مقدمے کی کوئی بنیاد ہے تو وہ فریق ثانی کا موقف سنے بغیر یک طرفہ طور پر بھی عبوری حکم امتناعی جاری کرسکتی ہے۔ لیکن اس کے بعد فریق ثانی سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنا موقف ظاہر کرنے کے لئے بیان حلفی داخل کرے۔ پھر ایک معین تاریخ پر دونوں فریقوں کے دلائل سن کر یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ اس یک طرفہ حکم امتناعی کو ختم کیا جائے یا اس کی توثیق کی جائے۔ حکم امتناعی کی توثیق یا عدم توثیق کا فیصلہ ہونے کے بعد مدعی کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ ایک معین مدت تک اپنا اصل کیس دائر کرے۔ جسے یہاں کی اصطلاح میں Main Action کہتے ہیں۔ اس ایکشن کی صورت میں فریقین کے گواہان کی پیشی اور مقدمے کی تفصیلی کارروائی کے بعد مقدمے کا فیصلہ ہوتا ہے جس میں بعض اوقات کئی کئی سال لگ جاتے ہیں۔
کیپ ٹاؤن میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً چھبیس ہزار ہے اور مرزائیوں کی تعداد دوسو سے بھی کم ہے۔ یہاں انہوں نے ”احمدیہ انجمن لاہور“ کی ایک شاخ احمدیہ انجمن اشاعت اسلام کے نام سے قائم کی ہے۔ اواخر شعبان میں اس انجمن نے کیپ ٹاؤن کے پانچ دینی رہنماؤں کے خلاف کیپ ٹاؤن کی سپریم کورٹ میں یہ درخواست دائر کی کہ وہ ہمارے ارکان کو غیر مسلم قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ وہ ہم کو مسجدوں میں عبادت کرنے دیتے ہیں نہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہونے کی اجازت دیتے ہیں اور ہم چونکہ اس سلسلے میں مدعاعلیہم کے خلاف مفصل مقدمہ دائر کرنے والے ہیں۔ جس کا فیصلہ ہونے میں کافی دیر لگ سکتی ہے۔ اس لئے مدعاعلیہم کے خلاف اصل مقدمے کے فیصلے تک عبوری حکم امتناعی جاری کیا جائے۔ اس وقت کے جج نے اپنے قواعد کے مطابق ان کی یکطرفہ طور پر حکم امتناعی دے دیا۔ شروع میں اس حکم امتناعی کی توثیق کے لئے ۶ اگست کی تاریخ مقرر ہوئی۔ بعد میں اسے بڑھا کر ۹ ستمبر کر دیا گیا۔
اس دوران پانچوں مدعاعلیہم کی طرف سے مفصل حلفی بیانات تیار کئے گئے اور ماہرین کے طور پر واٹرفال کے حضرت مولانا مفتی محمد ابراہیم سنجانوی اور ڈربن کے ڈاکٹر حبیب الحق ندوی نے بھی حلفی بیانات داخل کئے۔
ان حلفی بیانات میں مرزائیت کی تاریخ، مرزا غلام احمد قادیانی کی حقیقت اس کے درجہ بدرجہ دعوؤں اور عقیدۂ ختم نبوت کی تشریح کی گئی تھی۔ نیز یہ واضح کیا گیا تھا کہ مرزائیوں نے خواہ وہ قادیانی گروپ سے تعلق رکھتے ہوں یا لاہوری گروپ سے۔ کس طرح عقیدۂ ختم نبوت کی کھلم کھلا مخالفت کر کے اپنے آپ کو ملت اسلامیہ سے الگ کر لیا ہے اور دنیائے اسلام نے کس طرح یک زبان ہو کر انہیں کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔
جنوبی افریقہ میں رہتے ہوئے مرزائیت کے بارے میں جو بنیادی معلومات جمع کی جاسکتی تھیں ان بیانات حلفی میں وہ بڑی حد تک بیان کر دی گئی تھیں۔ ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت کے موقع پر مسلمانوں کی طرف سے جو بیان حضرت مولانا محمد یوسف بنوری صاحب امیر مرکزیہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان و مجلس عمل کے ارشاد پر احقر اور مولانا سمیع الحق صاحب نے بہ تعاون مجلس تحفظ ختم نبوت مرتب کیا تھا اور جو ملت اسلامیہ کا موقف کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ (جسے مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان نے شائع کیا ہے)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
اس کا انگریزی ترجمہ احقر کے بڑے بھائی جناب محمد ولی رازی صاحب نے کیا اور وہ مکتبہ دارالعلوم سے Qadianism On Trial کے نام سے شائع ہوا ہے۔ دو سال قبل دورۂ افریقہ کے دوران یہ کتاب میں اپنے بعض احباب کو دے کر آیا تھا۔ ان بیانات حلفی کی ترتیب میں اس کتاب سے بھی کافی مدد ملی۔
البتہ مقدمے کی تفصیلات اور یہاں کے عدالتی طریق کار کے پیش نظر یہ بات واضح تھی کہ فی الوقت سب سے اہم مسئلہ اس حکم امتناعی کا انخلاء ہے جو تین ماہ پیشتر عدالت نے جاری کیا تھا اور جس کی رو سے مسلمانوں پر یہ پابندی عائد ہوگئی تھی کہ وہ مقدمے کے دوران مرزائیوں کو مسجدوں میں نماز اور مسلمانوں کے قبرستانوں میں دفن ہونے سے نہیں روک سکتے۔ اس حکم امتناعی کے خلاف جو قانونی نکات اٹھانے ضروری تھے ان کا ان بیانات حلفی میں ذکر نہیں تھا۔
چنانچہ باہمی مشورے سے جو نکات ذہن میں آئے، وفد کے معزز رکن جناب حاجی غیاث محمد صاحب سابق اٹارنی جنرل پاکستان نے ان کو قلمبند کر کے ٹائپ کرالیا۔ صبح آٹھ بجے ہم لوگ جوہانسبرگ بذریعہ طیارہ کیپ ٹاؤن کے لئے روانہ ہوئے۔ تقریباً دس بجے کیپ ٹاؤن پہنچ گئے۔ ائیر پورٹ پر کیپ ٹاؤن کے علماء و مشائخ، مسلمان جماعتوں کے ذمہ دار حضرات اور عام مسلمانوں کی بڑی تعداد استقبال کے لئے موجود تھی۔ یہاں پہنچ کر مسلمانوں کے وکیل مسٹر اسماعیل ایڈووکیٹ سے تفصیلی ملاقات ہوئی۔ جوہانسبرگ سے یہاں تک ہر شخص ان کی قانونی قابلیت، وکالت و مہارت اور ذہانت و ذکاوت کے بارے میں رطب اللسان تھا۔ ملاقات کے دوران ہم نے واقعتاً انہیں ایسا ہی پایا اور یہ دیکھ کر مسرت ہوئی کہ اس مقدمے سے ان کی دلچسپی صرف پیشہ ورانہ فرائض کی حد تک محدود نہیں بلکہ وہ ذاتی جذبے اور اپنے ضمیر کی آواز کے تحت اس مقدمے کی پیروی کر رہے ہیں۔
وفد کی طرف سے جو نکات مرتب کئے گئے تھے، جسٹس محمد افضل چیمہ صاحب، جناب غیاث محمد صاحب نے اسماعیل محمد صاحب نے ان کی وضاحت کی۔ ان تمام نکات کو انہوں نے دلچسپی اور جذبہ تشکر کے ساتھ سنا اور اپنی بحث میں ان سے نہ صرف پورا فائدہ اٹھایا بلکہ اپنے زور بیان اور مؤثر انداز تخاطب سے انہیں چار چاند لگا دیئے۔
۹ ستمبر کی صبح ساڑھے نو بجے کے قریب مقدمے کی کارروائی شروع ہونی تھی۔ لیکن نو بجے سے ہی کمرہ عدالت کھچا کھچ بھر چکا تھا۔ یہاں تک کہ سامعین کی کثرت کی بناء پر کمرۂ عدالت تبدیل کرنا پڑا اور ایک بڑے کمرے میں مقدمہ منتقل کیا گیا۔ یہ جگہ بھی کشادہ تھی اور اوپر سامعین کے لئے ایک وسیع گیلری بھی موجود تھی۔ لیکن مقدمے کا آغاز ہوتے ہوتے یہ کمرہ عدالت اور گیلری بھی دونوں پوری طرح بھر گئے اور کہیں کھڑے ہونے کی بھی جگہ نہ رہی۔ اس مقدمے سے مسلمانوں کی دلچسپی کا عالم یہ تھا کہ دو دن صبح دس بجے سے شام ساڑھے چار بجے تک کارروائی جاری رہی اور بیسیوں افراد بیٹھنے کی جگہ نہ ہونے کے باعث پورے عرصے کھڑے رہ کر کارروائی سنتے رہے۔ حد یہ ہے کہ گیلری میں مسلمان خواتین بچوں کو گود میں لئے انتہائی صبر و استقلال کے ساتھ بیٹھی رہیں۔
جج ایک عیسائی عورت تھی۔ مرزائیوں کی طرف سے دو یہودی وکیل پیروی کر رہے تھے اور نوجوان مرزائی وکیل ان کی مدد کر رہا تھا۔ مسلمانوں کی طرف سے اصل وکیل اسماعیل محمد ایڈووکیٹ تھے۔ پہلے دن مرزائیوں کے یہودی وکیل مسٹر ینگ کو حکم امتناعی کی توثیق کے لئے دلائل پیش کرنے تھے۔ لیکن اپنے دلائل پیش کرنے سے پہلے اس نے کھڑے ہو کر یہ درخواست پیش کی کہ اس مقدمہ میں درخواست ”انجمن اشاعت اسلام لاہور“ کی طرف سے پیش کی گئی ہے۔ اب ایک شخص مسٹر پیک کو اس درخواست کے شریک کی حیثیت میں مقدمے کا فریق بنایا جائے۔
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
اس درخواست کا منشاء دراصل اپنے مقدمے کی ایک قانونی کمزوری کو دور کرنا تھا۔ بات دراصل یہ تھی کہ اصل درخواست چونکہ ایک انجمن کی طرف سے پیش ہوئی تھی جو صرف ایک شخص قانونی (Legal Person) کی حیثیت رکھتی تھی اور انسان نہیں تھی۔ اس لئے وہ نہ بحیثیت انجمن ہتک عزت کی دعویدار بن سکتی تھی اور نہ قبرستان میں دفن ہونے اور مسجد میں داخلے کا مطالبہ کر سکتی تھی۔ چنانچہ مسلمانوں کی طرف سے اس درخواست کے خلاف ایک قانونی نکتہ یہ بھی پیش ہونے والا تھا۔
اس ممکنہ قانونی اعتراض کو دور کرنے کے لئے مرزائیوں کی طرف سے یہ درخواست پیش کی گئی تھی تاکہ مسٹر پیک ایک حقیقی شخص کی حیثیت میں موجود ہو۔ مذکورہ درخواست مسترد ہو تو کم از کم مسٹر پیک کی درخواست باقی رہ جائے۔ جج نے اس موقع پر مسلمانوں کے وکیل سے پوچھا کہ اس درخواست کے بارے میں آپ کا موقف کیا ہے؟ مسلمانوں کے وکیل نے کہا کہ مقدمے کے اس مرحلے پر درخواست ہمارے نزدیک سخت قابل اعتراض ہے۔ اس لئے کہ اب تک کی ساری کارروائی انجمن کی درخواست کی بنیاد پر ہوئی ہے اور اسی کی جواب دہی کے لئے تیار کی گئی ہے۔ لہٰذا اس نئے شخص کو اس مرحلے پر فریق بنانا ہمارے لئے انصاف کے خلاف ہوگا۔ جج نے اس مرحلے پر درخواست کو مسترد کر کے مرزائیوں کے وکیل مسٹر ینگ کو دلائل پیش کرنے کے لئے کہا۔ جمعرات ۹ ستمبر کا سارا دن مرزائیوں کے وکیل مسٹر ینگ ہی کی بحث میں گزر گیا۔ وہ بار بار ایک ہی بات دہراتا کہ مرزائی چونکہ مسلمان ہیں اور توحید، رسالت اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔ اس لئے کسی شخص کو حق نہیں پہنچتا کہ ان کو کافر قرار دے یا ان کو مسجدوں میں داخل ہونے یا قبرستان میں دفن ہونے سے روک سکے۔ جج نے اسے بار بار ٹوکا کہ اس وقت میرے لئے یہ فیصلہ کرنا ناممکن ہے اور نہ یہ میرے فرائض منصبی میں داخل ہے کہ مرزائی مسلمان ہیں یا غیر مسلم؟ اس وقت تو اصل سوال یہ ہے کہ آپ حکم امتناعی کے حق دار ہیں یا نہیں؟ جب خود آپ کے اعتراف کے مطابق سالہا سال سے مسلمان آپ کو غیر مسلم سمجھتے آ رہے ہیں اور خود آپ کے اعتراف کے مطابق سالہا سال سے آپ کا کوئی فرد مسلمان کے قبرستان میں دفن نہیں ہوا تو آج وہ کون سی ہنگامی ضرورت پیش آ گئی ہے جس کی بناء پر اچانک آپ نے حکم امتناعی حاصل کرنے کی درخواست دے دی ہے۔
مسٹر ینگ اپنی طویل تقریر کے باوجود اس سوال کا کوئی معقول جواب نہ دے سکا۔ البتہ ایک مرحلے پر اس نے کہا کہ حکم امتناعی کے لئے ہماری ہنگامی ضرورت یہ ہے کہ اگر کیپ ٹاؤن کے علماء اور مشائخ کو ہمیں کافر کہنے سے نہ روکا گیا تو ہمارے گھر برباد ہو جائیں گے اور احمدیوں اور غیر احمدیوں کے درمیان تمام نکاح کے رشتے ٹوٹ جائیں گے۔ اس پر جج نے کہا۔ لیکن ریکارڈ پر ایسا کوئی واقعہ موجود نہیں ہے جس سے کسی احمدی کا غیر احمدی سے نکاح کرنا ثابت ہو۔
ینگ نے جواب میں کہا کہ : ”جناب اس بات کے ریکارڈ پر ہونے کی ضرورت نہیں۔ آپ کو اس بات کا جوڈیشل نوٹس لینا چاہئے کہ مسلمان مسلمان سے نکاح کرتا ہے اور احمدی چونکہ مسلمان ہیں اس لئے ان کے آپس میں ضرور نکاح ہوئے ہوں گے۔“ اس پر جج نے برجستہ کہا: ”آپ چاہتے ہیں کہ اس طرح میں آپ کے مسلمان ہونے کا پہلے ہی فیصلہ کر دوں؟ اور پھر مسلمان کے ساتھ آپ کے نکاح کا جوڈیشل نوٹس لوں؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ میرا جوڈیشل نوٹس تو یہ ہے کہ مسلمان مسلمان سے نکاح کرتا ہے اور احمدی احمدی سے نکاح کرتا ہے۔“
غرض اس طرح کی دلچسپ نوک جھونک دن بھر جاری رہی اور شام کو پونے چار بجے کے قریب جب عدالت کا وقت ختم ہونے میں صرف پندرہ منٹ باقی تھے جج نے مسلمانوں کے وکیل اسماعیل محمد صاحب کو دلائل پیش کرنے کی دعوت دی۔ وقت چونکہ مختصر تھا۔ اس لئے انہوں نے تفصیلی دلائل شروع کرنے سے پہلے باقی ماندہ پندرہ منٹ میں اپنے نکات کا نمبر وار خلاصہ بڑے مؤثر انداز میں بیان کر دیا اور ساتھ ہی اپنے دلائل ایک مفصل تحریر کی شکل میں جج کے حوالے کر دیئے اور کہا کہ ان نکات پر مفصل بحث میں کل کروں گا۔ اس پر اس دن
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
عدالت کا اجلاس برخاست ہو گیا۔
اگلے دن اسماعیل محمد صاحب کو اپنے دلائل کا آغاز کرنا تھا۔ لیکن اس سے پہلے مسٹر ینگ نے کھڑے ہو کر دوبارہ اپنی وہی درخواست نظر ثانی کے لئے پیش کی کہ اس مقدمے میں مسٹر پیک کو فریق بنایا جائے اور یہ درخواست ”انجمن اشاعت اسلام“ کے علاوہ مسٹر پیک کی طرف سے بھی سمجھی جائے۔ جج نے اس درخواست پر غور کو ملتوی کر کے اسماعیل محمد صاحب سے کہا کہ وہ اپنے دلائل شروع کریں۔ چنانچہ انہوں نے اپنی تقریر شروع کی اور تمام متعلقہ نکات کو بڑی خوبصورتی ، حسن ترتیب اور زور بیان کے ساتھ اپنی تقریر میں سمو دیا۔ یہاں اسماعیل محمد صاحب کی پوری تقریر اور اس کے تمام دلائل ونکات کو نقل کرنا ممکن نہیں۔ البتہ اس کے تین اہم نکات کا تذکرہ دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔
ان کا پہلا نکتہ یہ تھا کہ متعدد قانونی نظائر کی روشنی میں درخواست گزار کو حکم امتناعی کا استحقاق صرف اس صورت میں ہو سکتا ہے جب بادی النظری طور پر مقدمہ اس کے حق میں ہو اور اس کا کیس سنگین شکوک و اعتراضات سے خالی ہو۔ اس کے برعکس یہاں درخواست گزار کا کیس بادی النظری طور پر ہی غلط اور سنگین اعتراف سے لبریز ہے۔ بیانات حلفی سے ظاہر ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے متبعین کو دائرہ اسلام سے خارج اور کافر قرار دیتے ہیں۔ اسی بنیاد پر پاکستان میں جہاں مرزائیت کا ہیڈ کوارٹر قائم ہے۔ قومی اسمبلی اور سینٹ نے ان لوگوں کو صفائی کا پورا موقع دینے اور ضروری تحقیق کے بعد متفقہ طور پر انہیں غیر مسلم قرار دیا اور اس کے مطابق دستور پاکستان میں ترمیم کی۔ اسی بنیاد پر دنیا بھر کے مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم رابطہ عالم اسلام نے پورے عالم اسلام کی ۱۴۰ سے زائد سر بر آوردہ تنظیموں کے ایک مشترکہ اجلاس میں مرزا غلام احمد قادیانی کے متبعین کو بیک آواز غیر مسلم قرار دیا اور جنوبی افریقہ کے تمام مسلمان انہیں ہمیشہ غیر مسلم قرار دیتے اور ان کے ساتھ غیر مسلموں کا معاملہ کرتے آئے ہیں۔ جس کا اعتراف خود درخواست گزار کے بیان حلفی میں موجود ہے۔
مسلمانوں کے بیانات حلفی میں مرزا قادیانی کی کتابوں کے مفصل اقتباسات سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ انہوں نے نہ صرف اپنے نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کیا۔ بلکہ اپنے آپ کو حضرت مسیح علیہ السلام سے تمام شان میں بڑھ کر بتایا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کی اور اپنے آپ کو ( معاذ اللہ ) نبی کریم ﷺ کا بروز ثانی اور آپ کا ہمسر و مظہر اتم بتایا اور پھر انہی بیانات حلفی میں قرآن وحدیث اور ماہرین اسلامی علوم کے واضح حوالوں سے ثابت کیا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی بھی مفہوم میں کسی بھی قسم کی نبوت کا دعویدار کبھی مسلمان نہیں ہو سکتا۔
اس کے برعکس مرزائیوں کے بیان حلفی میں نہ ان کے مسلمان ہونے کی کوئی دلیل بیان کی گئی ہے نہ اسلامیات کے کسی ماہر کا کوئی بیان ان کی حمایت میں پیش کیا گیا ہے۔ اس لئے بادی النظری طور پر مقدمہ ہرگز ان کے حق میں نہیں ہو سکتا۔ اس کے علاوہ درخواست گزار نے اپنے بیان میں اعتراف کیا ہے کہ وہ احمدیہ انجمن لاہور کی ایک شاخ ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ احمدیہ انجمن لاہور کے ارکان کو پاکستان کے دستور نے غیر مسلم قرار دے دیا ہے۔ لہذا اس کے ارکان مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہونے کا حق نہیں رکھتے اور لاہور کی انجمن نے اپنی اس پوزیشن کو کبھی وہاں کی کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا۔ اب اسی انجمن کی ایک ذیلی شاخ اپنی اصل انجمن کے بالکل برخلاف پوزیشن کا کیونکر دعویٰ کر سکتی ہے؟ اس لحاظ سے بھی بادی النظر طور پر مقدمہ اس کے حق میں نہیں بلکہ اس کے خلاف ہے۔
دوسرا نکتہ یہ تھا کہ حکم امتناعی کا فیصلہ کرنے کے لئے عدالت کو یہ بھی دیکھنا پڑتا ہے کہ توازن سہولت (Balance Of Convenience) کسی فریق کے حق میں ہے؟ یعنی حکم امتناعی جاری کرنے سے مدعا علیہ کے جیتنے کی صورت میں اس کا زیادہ نقصان ہوگا؟ یا جاری نہ کرنے سے مدعی کے جیتنے کی صورت میں مدعی کا؟ یہاں صورتحال یہ ہے کہ کیپ ٹاؤن میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً چھبیس ہزار ہے۔ جب کہ مرزائیوں کی تعداد ڈیڑھ سو دو سو سے زائد نہیں۔ اب اگر ان چھبیس ہزار مسلمانوں کو حکم امتناعی کے ذریعے اس بات کا پابند کیا جائے
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
کہ وہ مرزائیوں کو غیر مسلم سمجھنے کے باوجود اپنی مسجدوں میں عبادت اور اپنے قبرستان میں تدفین کی اجازت دیں تو جب تک اصل مقدمے کا تصفیہ نہ ہو انہیں اپنے عقیدے، اپنے ضمیر اور اپنے دین کے احکام کے بالکل برخلاف ایسے کام پر مجبور ہونا پڑے گا جس سے وہ شدید نفرت کرتے ہیں اور اس سے ان کے مذہبی جذبات کو جو زبردست ٹھیس لگے گی، مقدمہ جیت جانے کے بعد اس کی تلافی کا کوئی راستہ نہیں۔ اس کے برعکس اگر حکم امتناعی جاری نہ کیا جائے تو اس سے مرزائیوں کا کوئی ناقابل تلافی نقصان نہیں ہوگا۔ مرزائیوں نے خود اعتراف کیا ہے کہ چودہ سال سے ان کا کوئی مردہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں ہوا۔ اب اگر مقدمے کے فیصلے تک دو تین سال مزید یہی صورتحال برقرار رہے تو اس سے کوئی نا قابل تلافی نقصان لازم نہیں آتا۔ اس لئے ”توازن سہولت“ کا اصول بھی واضح طور پر مسلمانوں کے حق میں اور مرزائیوں کے خلاف ہے۔
تیسرا نکتہ وہی تھا کہ زیر بحث مقدمے میں درخواست کسی انسان نے نہیں بلکہ ایک انجمن نے پیش کی ہے۔ یہ انجمن نہ مسجد میں داخل ہو سکتی ہے نہ قبرستان میں تدفین کی اہل ہے۔ اس لئے انجمن کی یہ درخواست جڑ مول ہی سے نا قابل سماعت ہے۔ اس موقع پر اسماعیل محمد نے از راہ تفنن یہ بھی کہا کہ: ”اگر یہ انجمن زمین میں دفن ہو سکتی تو ہم بہت خوش ہوتے ۔ لیکن کیا کریں کہ قبرستان میں دفن ہونے کے لئے انسان ہونا ضروری ہے۔“ اور ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ مرزائیوں کے وکیل مسٹر بیگ اپنے مقدمے کی کمزوری سے پوری طرح واقف ہیں اور کل اور آج انہوں نے مسٹر پیک کو فریق بنانے کی درخواست دی ہے۔ وہ ان کی طرف سے واضح اور واشگاف الفاظ میں اپنی شکست کا اعتراف ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ انجمن کی طرف سے یہ درخواست قانونی اعتبار سے کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ اس لئے اپنے مقدمے کو بالکل آخر وقت میں تباہی سے بچانے کے لئے وہ مسٹر پیک کو فریق بنانا چاہتے ہیں۔ لیکن اگر اس آخری مرحلے پر ان کی اس درخواست کو منظور کیا گیا تو یہ ہمارے ساتھ شدید نا انصافی ہوگی۔ ہمارے تمام بیانات انجمن کے دعوے کے جواب میں مرتب کئے گئے ہیں۔ اگر ابتداء میں دعویٰ مسٹر پیک کی طرف سے ہوتا تو ہمارے جوابی بیانات حلفی میں اس بات کا لحاظ رکھا جاتا۔ اس لئے گیارہ بج کر انسٹھ منٹ پر فریق بنانے کی یہ درخواست کسی بھی لحاظ سے منظور ہونے کے لائق نہیں۔
دوپہر کے بارہ بج رہے تھے اور جمعہ کا وقت ہوا چاہتا تھا۔ جج نے اس موقع پر فریق بنانے کی درخواست کو مسترد کر کے عدالت کو دو بجے تک کے لئے برخاست کر دیا۔ جمعہ کے بعد دو بجے اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو مرزائیوں کے دوسرے وکیل نے اسماعیل محمد کے جواب میں بحث شروع کی اور تقریباً وہی باتیں دہرائیں جو مسٹر بیگ کہہ چکے تھے۔ یہاں تک کہ شام چار بجے جب عدالت کا وقت ختم ہونے لگا تو جج نے فیصلے کے دلائل کو مؤخر کر کے اپنا مختصر حکم سنا دیا کہ عدالت کی طرف سے جو حکم امتناعی جاری کیا گیا تھا وہ واپس لیا جاتا ہے اور مقدمہ کا خرچ بھی درخواست گزار (یعنی مرزائی انجمن) کو دینا ہوگا۔ البتہ اخراجات کا تعین بعد میں کیا جائے گا۔
اس فیصلے کے اعلان کے بعد کمرۂ عدالت کا منظر قابل دید تھا۔ تمام مسلمان آپس میں گلے مل مل کر ایک دوسرے کو مبارک باد دے رہے تھے۔ اسماعیل محمد کی درخواست پر کیپ ٹاؤن کے شیخ نظیم نے دعا کرائی اور اس طرح یہ مرحلہ بحمداللہ بخیر و خوبی انجام کو پہنچا۔
اب صورتحال یہ ہے کہ اس فیصلے کے بعد اکیس دن تک مرزائی صاحبان کو یہ حق ہے کہ وہ اپنا اصل مقدمہ دائر کریں۔ اس مدت کے دوران اگر انہوں نے مقدمہ دائر نہ کیا تو بات بالکلیہ ختم ہوگئی۔ لیکن اگر انہوں نے اس مدت میں اصل مقدمہ دائر کر دیا تو بظاہر یہ کیس طول کھینچے گا۔ اس میں ماہرین کی گواہیوں کی بھی ضرورت پڑے گی اور اس کے فیصلے میں دو تین سال بھی لگ سکتے ہیں۔ لیکن حکم امتناعی کے مسترد ہو جانے کے بعد مقدمے کا طول کھینچنا مسلمانوں کے لئے انشاء اللہ مضر نہیں ہوگا۔
(لولاک نومبر، دسمبر ۱۹۸۲ء)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
قادیانی مبلغ کا فرار
ذیل میں ایک مرزائی مربی کے ساتھ حضرت مولانا اللہ وسایا کی مختصر سی گفتگو نقل کی جارہی ہے جو حضرت نے خود ہی تحریر فرمائی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:
۳؍ستمبر ۱۹۸۲ء مطابق ۱۲؍ ذی الحجہ تقریباً صبح دس بجے کے قریب راقم اپنے دفتر (مسلم کالونی چناب نگر) میں بیٹھا مطالعہ کررہا تھا کہ سامنے ایک سفید ریش، پگڑی باندھے، سفید کپڑے پہنے، سائیکل پر معمر آدمی آیا۔ اس کی وضع قطع دیکھ کر میں نے اندازہ لگا لیا کہ یہ شخص قادیانی ہے۔ اس نے اندر آنے کی اجازت چاہی۔ میں نے اٹھ کر خیر مقدم کیا۔ ان کا سائیکل لے کر سائے میں رکھا۔ وہ دفتر کے کمرہ میں تشریف لائے۔ ان کے لئے میں نے سفید چادر بچھانا چاہی۔ اصرار سے انہوں نے روک دیا۔ بیٹھ گئے۔ خیر خیریت کے بعد وہ گویا ہوئے کہ مجھے ”روشن دین“ کہتے ہیں۔ میں کوئٹہ میں جماعت احمدیہ کا مربی رہا ہوں۔ عرصہ سے میں جماعت کی تبلیغی خدمات سرانجام دے رہا ہوں۔ اب میری ڈیوٹی خلیفہ کے پرائیویٹ سیکرٹری کے دفتر میں لگ گئی ہے۔ ربوہ میں سیر و سیاحت کے ارادے سے نکلا تھا۔ آپ کے لئے یہ مٹھائی لایا ہوں، قبول فرمائیں۔ آپ سے مجھے مل کر خوشی ہوئی۔ راقم نے بھی جواباً ان کی تشریف آوری کا شکریہ ادا کیا۔ ان کی زحمت فرمائی پر دل و نگاہ بچھا دیئے۔ مگر مٹھائی لینے پر معذرت کی۔ انہوں نے اصرار کیا تو میں نے عرض کیا کہ آپ اپنی جماعت کے اصول وضوابط کے پابند ہیں۔ میں اپنی جماعت کے اصول وضوابط کا پابند ہوں۔ میری جماعت مجلس تحفظ ختم نبوت کی ربوہ کے محاذ پر کام کرنے والے مبلغین و کارکنوں کو ہدایت ہے کہ ہم آپ حضرات کا کوئی تحفہ، ہدیہ قبول نہ کریں۔ اس پر وہ گویا ہوئے۔
روشن دین قادیانی: مولانا! آپ کے یہاں پر کھانے کا کیا انتظام ہے؟
راقم: ہمارے مدرسہ ختم نبوت میں جہاں آپ تشریف رکھتے ہیں مجلس تحفظ ختم نبوت نے لنگر قائم کیا ہوا ہے۔ باورچی ہے جو اساتذہ، مبلغین، طالب علموں، مہمانوں کا کھانا صبح و شام تیار کرتا ہے۔ جملہ مصارف مجلس برداشت کرتی ہے۔
روشن دین قادیانی: مولانا! یہاں ربوہ میں ہماری جماعت نے کھانا کھلانے کے لئے وسیع لنگر کا انتظام کیا ہوا ہے۔ آپ مسافر ہیں ضرورت ہو تو وہاں سے آپ کھانے کی تکلیف کر لیا کریں۔
راقم: مکرم آپ بزرگ سفید ریش ہیں۔ میرے قابل احترام ہیں۔ آپ ایسی بات نہ کریں جس سے مجھے تکلیف پہنچے۔ میں نے عرض کیا ہے کہ نہ صرف میرے بلکہ جملہ مبلغین، مدرسین، طلباء کرام اور مہمانوں کے لئے مجلس تحفظ ختم نبوت نے لنگر کا یہاں پر انتظام کر رکھا ہے تو ہمیں کیا ضرورت ہے کسی کے دروازہ پر جانے کی؟ اگر آپ برا نہ منائیں تو آپ پہلے آدمی ہیں جن کو یہ جرأت ہوئی ہے جو مرزائیوں کے لنگر سے کھانے کی ہمیں دعوت دے رہا ہے۔ آپ میرے جذبات کا خیال رکھیں۔ ایسی گفتگو نہ فرمائیں جس سے تلخی ہو۔
روشن دین قادیانی: مولانا ایک ہوتے ہیں عقائد، ایک ہوتے ہیں معاملات۔ آپ کا ہمارا عقائد کا اختلاف ہے۔ معاملات میں تو باہمی پیار و محبت کا مظاہرہ ہونا چاہئے۔ اس لئے میں اپنے موقف پر قائم ہوں۔
راقم: مکرمی میں نہیں چاہتا تھا کہ آپ اس تلخ موضوع کو چھیڑیں۔ آپ میری درخواست کے علی الرغم اگر مصر ہیں تو سنئے کہ مجھے آپ حضرات کے عقائد و معاملات دونوں سے اختلاف ہے اور یہ ہو بھی سکتا ہے۔ کوئی ایسی بعید بات نہیں بلکہ
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء
ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
بسا اوقات عقیدہ میں متفق و متحد ہوتے ہوئے بھی انسانی معاملات میں مختلف ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے مرید ہم عقیدہ ہم مشرب ”خواجہ کمال الدین، سرور شاہ، مولوی محمد علی تینوں مرزا قادیانی کے مریدین تھے مگر مرزا قادیانی کے معاملات پر ان کو نہ صرف اعتراض تھا بلکہ وہ شاکی تھے۔“
یہ گفتگو قادیانی جماعت کے لٹریچر میں موجود ہے۔ آپ انکار نہیں کریں گے۔ اگر انکار فرمائیں تو حوالہ میرے ذمہ ، تو میں عرض یہ کرنا چاہتا ہوں کہ ایک آدمی عقیدہ میں متحد ، معاملات میں مختلف ہو سکتا ہے۔ جب کہ میری پوزیشن یہ ہے کہ عقیدہ و معاملات میں مجھے آپ حضرات کے رویہ پر اعتراض ہے۔
روشن دین قادیانی: مولانا آپ نے خواجہ کمال الدین ، مولوی محمد علی کے مرزا قادیانی کی ذات پر اعتراض کا ذکر کیا تو دیکھئے عیسائی حضور ﷺ کی ذات پر اعتراض کرتے ہیں۔
راقم: جناب مکرم ! آپ تمام گفتگو میں یہ خیال رکھیں کہ حضور ﷺ اور مرزا غلام احمد قادیانی کا تقابل نہ کریں۔ میں اسے سوء ادب سمجھتا ہوں۔ اس کا بطور خاص خیال رکھئے گا۔ نمبر ۲: جہاں تک اعتراض کا تعلق ہے تو عیسائی حضور ﷺ پر اعتراض کرتے ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین جو آپ ﷺ کے جانثار تھے وہ تو اعتراض نہیں کرتے۔ مگر یہاں تو الٹی گنگا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی پر کوئی مسلمان یا عیسائی فریق نہیں بلکہ اس کے اپنے جانثار وفادار معترض ہیں کہ ان کی زندگی فقر وفاقہ کی نہیں، شاہانہ و عیاشانہ ہے تو آپ عیسائیوں اور مولوی محمد علی ، خواجہ کمال الدین کو ایک لاٹھی سے کیوں ہانک رہے ہیں؟
روشن دین قادیانی: مولانا اچھا آپ کی مرضی نہ کھائیں کھانا ہمارے لنگر سے۔
راقم: میں نے ابتداء میں عرض کیا تھا کہ آپ اس موضوع کو نہ چھیڑیں۔ کوئی گفتگو علمی ہونی چاہئے۔
روشن دین قادیانی: ٹھیک ہے ضرور۔ میرا خیال بھی یہی ہے۔
راقم: خیال نہیں بلکہ پروگرام و مقصد آمد بھی یہی ہے۔
روشن دین قادیانی: ہنس کر آپ ٹھیک کہتے ہوں گے تو گفتگو میں قرآن مجید سے حوالہ جات پیش ہوں۔
راقم: مکرمی ، مجھے خوشی ہے۔ مگر آپ اتنا ارشاد فرمائیں کہ جس طرح قرآن مجید ، احادیث صحیحہ ہمارے لئے قابل قبول ، علی الرأس والعین ہیں۔ مرزا غلام احمد کی کتب و تحریرات آپ کے لئے قابل قبول ہونی چاہئیں۔ قرآن مجید واحادیث سے آپ مجھے ملزم کریں۔ مرزا قادیانی کی تحریرات سے میں آپ کو ملزم کروں گا۔ آپ مرزا قادیانی کی کتب سے جان نہ چھڑائیں۔ میرے نبی علیہ السلام کا فرمان میرے لئے سر آنکھوں پر۔ مرزا قادیانی کی کتب آپ کے لئے۔
روشن دین قادیانی: مولانا صرف قرآن مجید۔ آپ یوں سمجھئے کہ میں صرف قرآن مجید کو ہی مانتا ہوں۔
راقم: مجھے انتہائی خوشی ہوگی میں قرآن مجید سے ہزار بار آپ سے گفتگو کروں گا۔ مگر آپ لکھ دیں کہ میں مرزا قادیانی کی تحریرات کو نہیں مانتا یا ان کی تحریرات غلط ہیں تا کہ صرف قرآن مجید سے گفتگو ہو سکے۔
نوٹ: یاد رہے اس موقعہ پر موجود ایک ساتھی نے کہہ دیا کہ جناب مرزا قادیانی نے کہا کہ ’’انا انزلناہ قریباً من القادیان ‘‘قرآن مجید میں نصف کے قریب صفحے کے دائیں جانب لکھا ہوا ہے۔ وہ کہاں ہے۔ قرآن مجید میں لاتا ہوں۔ آپ روشن دین صاحب مجھے نکال دیں۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
روشن دین قادیانی: وہ تو کشف یا خواب کی بات ہے۔ جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
راقم: تو جناب روشن دین صاحب اللہ تعالیٰ آپ کا دینی طور پر مستقبل بھی روشن کریں۔ آپ یہ فرمائیں کہ مرزا قادیانی کا کشف صحیح تھا یا غلط۔ اگر صحیح تھا تو قرآن مجید حاضر ہے۔ آپ ”انا انزلناہ قریباً من القادیان“ نکال کر دکھا دیں یا اعتراف کرلیں۔ مرزا قادیانی کے کشف کا حقیقت سے تعلق نہیں۔ جیسا کہ آپ نے ابھی فرمایا۔ مگر یہ لکھ بھی دیں۔
روشن دین قادیانی: چھوڑئیے! اگر آپ بحث علمی نہیں کرنا چاہتے تو میں چلتا ہوں۔
راقم: قبلہ کیوں؟ اتنی خوشی و تمناؤں سے آئے ہو اور اتنی جلدی بھاگم بھاگ؟ آپ تشریف رکھیں۔ اگر آپ کو یہ گفتگو پسند نہیں تو جو آپ کی پسند۔
روشن دین قادیانی: دیکھئے! حضور ﷺ سب سے افضل و اعلیٰ ہیں۔
راقم: معاف رکھیں۔ میں آپ کی بات درمیان سے کاٹ رہا ہوں۔ کیا کوئی شخص حضور ﷺ سے شان میں بڑھ سکتا ہے؟
روشن دین قادیانی: توبہ توبہ، معاذ اللہ یہ تصور بھی نہیں ہو سکتا۔
راقم: تو ان شعروں کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے کہ؎
اور آگے سے بڑھ کر ہیں اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں
ان اشعار میں اکمل قادیانی نے مرزا غلام احمد قادیانی کو حضور ﷺ سے افضل و اعلیٰ اور شان میں بڑھ کر کیا ہے۔ کیا اس سے حضور ﷺ کی توہین نہیں ہوئی۔ آپ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ سے شان میں کوئی نہیں بڑھ سکتا۔ مگر آپ کی جماعت کا شاعر کہتا ہے کہ غلام احمد قادیانی حضور ﷺ سے بڑھ کر ہے تو آپ صحیح کہتے یا آپ کی جماعت کا اکمل قادیانی؟ ایک صحیح، ایک غلط، صحیح کون ہے غلط کون؟ فیصلہ فرمائیں۔
روشن دین قادیانی: مولانا آپ تو محض اعتراض کرتے ہیں۔ ہماری جماعت کے دوسرے سربراہ جناب بشیر الدین محمود احمد نے صاف کہا ہے کہ یہ شعر غلط ہیں۔ ان سے واقعتاً حضور ﷺ کی توہین آمیز پہلو نکلتا ہے۔ یہ غلط ہیں۔ ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں۔
راقم: قبلہ دیکھئے کہ بشیر الدین محمود صاحب نے تو کہا کہ یہ شعر غلط ہیں۔ مگر اکمل شاعر نے کہا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے حضور میں نے یہ شعر پڑھے۔ مرزا قادیانی نے تحسین کے ساتھ مجھے جزاک اللہ کہا۔ ان شعروں کو جو بصورت قطعہ کی شکل میں لکھے ہوئے تھے، فوراً گھر میں لے گئے۔
بیٹا بشیر الدین کہے شعر غلط۔ باپ غلام احمد کہے جزاک اللہ، اور کرے تحسین، تو اب آپ فرمائیں کہ باپ غلط یا بیٹا غلط؟ کون صحیح، کون غلط؟ ایک شاعر، ایک شعر۔ اس کی باپ کرے تحسین، بیٹا کرے تغلیط، تو صحیح کون غلط کون وضاحت فرمائیے؟
روشن دین قادیانی: مولانا آپ حوالہ دیں کہ مرزا قادیانی نے کہاں تحسین کی ہے۔
راقم: فقیر ہزار بار حوالہ دکھانے کا پابند ہے۔ مگر آپ لکھ کر دے دیں کہ اگر حوالہ دکھا دوں تو آپ باپ بیٹے میں سے کس کو صحیح اور کس کو غلط فرمائیں گے؟
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء
ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
روشن دین قادیانی: دیکھئے مولانا آپ حوالہ دکھائیں تو سہی۔
راقم: جناب فقیر حوالہ کا پابند ہے مگر آپ کا ردعمل کیا ہوگا؟ وہ لکھوا دیں۔
روشن دین قادیانی: مولانا حوالہ ہے نہیں۔
راقم: بالکل صحیح۔ اگر حوالہ نہ دکھا سکوں تو میری سزا بھی آپ تجویز کردیں۔ میں اس پر دستخط کر دیتا ہوں۔ سزا تجویز کرنے کا بھی آپ کو اختیار دیتا ہوں۔ اگر حوالہ دکھا دوں آپ بشیر الدین اور غلام احمد سے کس کو غلط کس کو صحیح فرمائیں گے وہ آپ لکھ دیں۔
وہ لکھنے پر قطعاً آمادہ نہ ہوئے ۔ ہزار جتن کئے مگر وہ نہ مانا۔ گدی کھجلائے، سر ہلائے، ہاتھ پاؤں مارے، ناک بھوں چڑھائے۔ مگر حوالے دیکھنے کے بعد ردعمل کیا ہوگا؟ کی تحریر پر آمادہ نہ ہوا۔ فقیر کی آواز قدرتاً بلند ہے۔ آہستہ سے آہستہ گفتگو بھی سینکڑوں فٹ تک سنائی دیتی ہے۔ اگر یہ تڑاکم تڑاک آواز خوبی ہے تو قدرت کا عطیہ، اگر عیب ہے تو فھو منی ، میری آواز سن کر حضرت مولانا عبد الرحمن صاحب ظفر بھی اپنے گھر سے آگئے۔ راقم نے پوری تفصیل عرض کی۔ مولانا نے از راہ انصاف مکرم روشن دین صاحب سے فرمایا کہ بات صحیح ہے۔ حوالہ نہ دکھا سکیں تو مولانا کی سزا، اور اگر دکھا دیں تو آپ کا ردعمل تحریر ہو جائے۔ مگر وہ صاحب نہ مانے۔ گل محمد بنے بیٹھے رہے۔
راقم کا جب اصرار ہوا تو وہ بولے ۔
روشن دین قادیانی: دیکھئے! ہمارا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق ......
راقم: میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ میرے سامنے مرزا غلام احمد قادیانی کو مسیح موعود نہ کہیں اور نہ ہی علیہ السلام
روشن دین قادیانی: تنگ نظری کی انتہاء ہے۔ میرا عقیدہ ہے آپ کیوں روکتے ہیں؟
راقم: میری تنگ نظری نہیں آپ کا بھلا اسی میں ہے۔
روشن دین قادیانی: تو مجھے اپنے عقیدہ کا برملا اظہار کرنے دیں کہ مرزا صاحب مسیح موعود علیہ السلام تھے۔
راقم: جناب اگر آپ کو اپنے عقیدہ کے اظہار کا حق حاصل ہے تو کیا مجھے بھی آپ میرے عقیدہ کے اظہار کا حق دیتے ہیں؟
روشن دین قادیانی: بالکل! کیوں نہیں؟
راقم: میں نہیں چاہتا تھا کہ یہ الفاظ کہوں۔ مگر آپ نے مجبور کر دیا تو آپ کے نزدیک مرزا قادیانی مسیح موعود، میرے نزدیک دجال۔ آپ کے نزدیک مرزا قادیانی علیہ السلام، میرے نزدیک مستحق لعنت و نفرین ۔ اب آپ اپنے عقیدہ کا اظہار کریں۔ میں اپنے عقیدہ کا۔ اب آپ کو ناگوار نہ گزرے دونوں اپنے اپنے عقیدہ کا اظہار کرتے رہیں۔ میں یہ نہیں چاہتا تھا یہ آپ نے مجبوراً مجھ سے کہلوایا ہے۔
روشن دین قادیانی: جو کسی پر لعنت کرے وہ کہنے والے پر پڑتی ہے۔
راقم: مجھے آپ کا یہ اصول بھی قابل قبول ہے۔ میں نے کہا ایک دفعہ لعنتی، مرزا قادیانی نے لکھا ہزار بار، لفظ لعنت، لعنت، لعنت، لعنت کی گردان تو وہ ہزار بار لعنتی۔ ناراض نہ ہوں۔ یہ شخصیت پر اعتراض نہیں اس کی تحریر موجود ہے۔ وہ اپنی تحریر کی رو سے اب جانچے پرکھے، ناپے تولے، کریدے، کھودے جا رہے ہیں۔
روشن دین قادیانی: آپ کی تنگ نظری کا تو یہ عالم ہے کہ آپ ہمیں مرزائی کہتے ہیں۔ حالانکہ ہم احمدی ہیں۔
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء
ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
راقم: ناراض نہ ہوں کہ یہ آپ کی جماعت کے متعلق مرزائی کا لفظ ہم مسلمان نہیں بلکہ آپ نے خود تجویز کیا ہے۔
روشن دین قادیانی: جھوٹ کی انتہاء ہو گئی۔
راقم: نہیں سچ کی ابتداء ہے! کہ آپ کے مرزا قادیانی کی زندگی میں قادیان میں آپ کی جماعت کا سالانہ جلسہ ہوا۔ آپ کا مرزا۔ آپ کا قادیان۔ آپ کا سالانہ جلسہ۔ آپ کا شاعر۔ آپ کا شعر۔ آپ کے سامعین۔ آپ کا مولوی محمد علی ایم۔اے اس کے متعلق شاعر نے کہا۔ شعر ؎
یہی ہیں پکے مرزائی، یہی ہیں پکے مرزائی، یہی ہیں پکے مرزائی۔
مرزا قادیانی کے زمانہ میں، مرزا قادیانی کے قادیان میں، مرزا قادیانی کے جلسہ پر، مرزا قادیانی کے مرید نے، اپنی جماعت کے متعلق، مرزائی پکے مرزائی۔ پکے مرزائی کا لفظ استعمال کیا۔ مرزا قادیانی یا آپ کی جماعت نے آج تک ان شعروں پر اعتراض نہ کیا تو یہ میرا قصور نہیں۔ آپ کی جماعت کا یہ پسندیدہ نام ہے۔ گھبرائیں نا، میں حکیم نورالدین کا بھی حوالہ پیش کردوں۔ وہ بھی کہتے ہیں۔
روشن دین قادیانی: نا، نا، نا! مولانا بس مجھے اجازت، میں پھر حاضر ہوں گا۔
راقم: آپ کی مرضی اگر جانا چاہیں تو بخوشی جاسکتے ہیں۔ آپ کو میں پابند نہیں کر سکتا۔ مگر کنری ضلع میرپور خاص سندھ کی ایک بات سن لیں۔
روشن دین قادیانی: نا، نا، نا! مجھے اجازت، یہ کہہ کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ راقم نے مٹھائی کا لفافہ ان کے ہاتھ میں تھما دیا۔ انہوں نے کہا کہ اچھا آپ نہ رکھیں کسی کو دے دیں۔ فقیر نے عرض کیا کہ مرزائی جماعت میں اس کے بے شمار غریب لوگ مستحق موجود ہیں ان کو آپ اپنے مبارک ہاتھوں سے دے دیں۔
روشن دین قادیانی: اچھا جی اجازت۔
راقم: ٹھیک ہے۔ راقم سائیکل اٹھا کر سڑک پر لے گیا۔ حضرت مولانا عبدالرحمٰن صاحب ظفر بھی ہمراہ الوداع کہنے کے لئے گئے ۔ جاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جی میں پھر حاضر ہوں گا۔ راقم نے عرض کیا کہ میں آپ کے لئے سراپا انتظار ہوں۔ مگر راقم کا وجدان کہتا ہے کہ سینکڑوں مرزائی آپ کے مبلغین یہ وعدہ کر کے گئے مگر وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہوا۔ ان کی بھی حالت یہی آپ کی بھی یہی ہوگی۔ خدا کرے آجائیں۔ اگر تشریف لائیں گے تو بخاری کے خدام پھر بھی حاضر، دیدہ باید۔ ان کو رخصت کر کے آئے تو مولانا عبدالرحمٰن صاحب ظفر نے فرمایا کہ وہ کنری کا آپ کیا واقعہ سنانا چاہتے تھے جو انہوں نے نہ سنا۔
فقیر نے عرض کیا کہ ہوا یوں کہ آج سے برسوں پہلے کنری سندھ میں ایک مسلمان لوہار کی دکان پر ایک مرزائی آگیا۔ اس نے وعظ و پندار کے انداز غلام احمد کی مدح و توصیف شروع کردی۔ مسلمان لوہار دستے والی کلہاڑی کی دھار تیز کرتا رہا۔ جب مرزائی مبلغ کی تبلیغ کرتے کرتے منہ میں جھاگ تیرنے لگی تو اس نے کلہاڑی لہرا کر مرزا قادیانی کو گالیاں دینی شروع کردی اور مرزائی سے مطالبہ کیا کہ جو صلواتیں مرزا قادیانی کو میں سناؤں تم بھی دہراتے چلو تاکہ سبق یاد ہو جائے۔ مرزائی ڈر کے مارے گفتنی و ناگفتنی، گالیوں کی گردان مرزا قادیانی کو سنانے میں مسلمان لوہار سے بھی چند قدم آگے ۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
اب مسلمان نے وہ تیز دھار کلہاڑی مرزائی کے ہاتھ تھمادی اور گردن جھکا کر اس کے سامنے بیٹھ گیا اور کہا کہ آپ مجھ سے مطالبہ کریں کہ میں نعوذ باللہ حضور ﷺ کی توہین کروں۔ ورنہ کلہاڑی آپ کے ہاتھ میں ہے یہ کہہ کر لوہار رو پڑا کہ میں مرجاؤں گا ٹکڑے ٹکڑے ہونا قبول کر لوں گا مگر حضور ﷺ کی توہین کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ یہ کہہ کر اٹھ کھڑا ہوا اور کہا کہ مبلغ صاحب! آپ کے نبی اور ہمارے نبی ﷺ کے سچے جھوٹے ہونے کی یہی دلیل ہے کہ ہم سے آپ ﷺ کی توہین ناقابل برداشت۔ جھوٹے نبی کی توہین کئے جاؤ۔ اس جھوٹے کے ماننے والوں پر ذرہ برابر اثر نہ ہوگا۔
مجلس کی تبلیغی سرگرمیاں
سال ۱۹۸۲ء میں مجلس نے اپنی تبلیغی سرگرمیوں کا حلقہ مزید وسیع کر دیا اور ملک کے چھوٹے بڑے شہروں میں کانفرنسز اور تربیتی کورس منعقد کروانے شروع کر دیئے تاکہ لوگوں میں ختم نبوت کی اہمیت اور مرزائیت کے دجل و تلبیس کے حوالے سے آگہی پیدا ہو۔ ہر علاقے کی مقامی جماعت، مرکزی جماعت کی ہدایات کے مطابق وہاں کے عصری اور دینی اداروں میں تین روزہ ، پانچ روزہ اور ایک روزہ شارٹ کورسز منعقد کرواتی تھی۔ کورسز میں پڑھانے کے لئے پاکستان کے چوٹی کے مناظر مولانا عبدالرحیم اشعر، مولانا اللہ وسایا، مولانا خدا بخش مختلف علاقوں کا دورہ کرتے۔ اس کے علاوہ مقامی جماعت کے مبلغین بھی مختلف موضوعات پر لیکچر دیتے۔ پورے سال میں مختلف مقامات پر مجلس کے زیر انتظام یک روزہ اور دو روزہ کانفرنسیں منعقد ہوتیں۔ یہ سلسلہ ۱۹۸۱ء میں تین روزہ چنیوٹ کانفرنس کے بعد سے شروع ہوا تھا۔ ہر صوبے کے بڑے شہروں میں دو روزہ کانفرنس اور چھوٹے شہروں میں یک روزہ کانفرنس کا انعقاد ہوتا تھا۔ صوبہ سندھ میں حیدر آباد، ٹنڈو آدم، شہداد پور، سانگھڑ، کنری، نواب شاہ، لاڑکانہ، سکھر، کراچی وغیرہ میں دو روزہ کانفرنس کا انعقاد ہوتا تھا۔ پنجاب میں بہاول پور، رحیم یار خان، گوجرہ، سرگودھا، لاہور، لیہ، جھنگ، احمد پور سیال، کوٹ شاکر اور کچھ دوسرے مقامات پر بڑی بڑی کانفرنسیں نہایت تزک و احتشام کے ساتھ منعقد ہوتی تھیں۔ جن میں شرکاء کی تعداد بعض اوقات ہزاروں سے متجاوز ہو جاتی ہے۔ علاوہ ازیں جماعتی مبلغین نے مختلف مقامات کے تبلیغی و تنظیمی دورے کئے۔ بعض مقامات پر مرتدین سے کامیاب گفتگو ہوتی، مبلغین حضرات کو اللہ تعالیٰ نے کامیابی سے سرفراز فرمایا اور مرتدین کو شکست فاش کا منہ دیکھنا پڑا۔
اسلام آباد کانفرنس
اسی سلسلے کی ایک کانفرنس ۱۲ فروری ۱۹۸۲ء دارالحکومت اسلام آباد میں بھی منعقد ہوئی۔ جس میں مرکزی قائدین مولانا خواجہ خان محمد، مولانا عبدالرحیم اشعر، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اشرف ہمدانی، مولانا لقمان علی پوری، مولانا ضیاء القاسمی، مولانا عبداللہ خطیب مرکزی لال مسجد، مولانا عبدالرؤف جتوئی اور مقامی علماء کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ راولپنڈی، اسلام آباد، اٹک، ہری پور ہزارہ، واہ، ٹیکسلا، گوجر خان، مری، چکری اور چکوال کے علماء اور شمع ختم نبوت کے پروانوں نے بھی شرکت کی۔ وطن عزیز کے علماء اور اشراف کے علاوہ عراق کے سفیر جناب احمد ظفر جیلانی بھی کانفرنس میں اوّل تا آخر موجود رہے اور عربی زبان میں تقریر فرمائی۔ جس مرزائیت کے حوالے سے پاکستان کے فیصلے کو سراہا اور مجلس تحفظ ختم نبوت کی کوششوں اور سعی کو خراج تحسین پیش کیا محترم سفیر کی تقریر کی ترجمانی حضرت مولانا عبداللہ شہید نے کی۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
ختم نبوت کانفرنس گوجرانوالہ
۲۲ / مارچ ۱۹۸۲ء کو مجلس گوجرانوالہ کے زیر اہتمام ختم نبوت کانفرنس انعقاد پذیر ہوئی۔ صدارت پیر طریقت حضرت مولانا خواجہ خان محمد نے فرمائی۔ ضلع گوجرانوالہ، ضلع سیالکوٹ اور ضلع شیخوپورہ سے سرکردہ علماء اور کارکنوں نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی، مولانا سرفراز خان صفدر، مولانا حکیم عبدالرحمن آزاد، مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا زاہد الراشدی اور مقامی علماء نے جوق در جوق شرکت فرمائی۔
(لولاک فروری، مارچ ۱۹۸۲ء)
ختم نبوت کانفرنس کنری
۲۵، ۲۶/ مارچ ۱۹۸۲ء کو کنری جامع مسجد بخاری میں دو روزہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کے کل چار اجلاس ہوئے۔ حضرت مولانا احمد میاں حمادی نے صدارت فرمائی۔ کانفرنس سے مولانا سید ممتاز الحسن شاہ گیلانی، مولانا سراج الدین کوٹ غلام محمد، مولانا عاشق الہی مبلغ کراچی، مولانا طفیل احمد مبلغ حیدر آباد، خطیب ربوہ مولانا اللہ وسایا، قاضی اللہ یار خان مرکزی مبلغ اور مولانا عبدالرحیم اشعر نے بیان کئے۔ کنری میں شرکاء کی تعداد ہزاروں تھی۔
ختم نبوت کانفرنس لاہور
یکم اور ۲/ مئی ۱۹۸۲ء کو لاہور مسجد شہداء شاہراہ قائد اعظم میں دو روزہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس دو اجلاسوں پر مشتمل تھی۔ پہلے دن کا اجلاس پیر طریقت حضرت مولانا خواجہ خان محمد کی صدارت میں منعقد ہوا۔ جس سے حضرت مولانا اللہ وسایا، مولانا سید ممتاز الحسن شاہ، مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ صاحب، جانشین مفتی محمود حضرت مولانا صاحبزادہ فضل الرحمن نے خطاب فرمایا۔
دوسرے روز کا اجلاس الحاج بلند اختر نظامی ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور ڈویژن کی صدارت میں منعقد ہوا۔ مولانا سید ممتاز الحسن شاہ، جناب خالد محمود وٹو رہنما جمعیت طلباء اسلام، حضرت مولانا محمد شریف جالندھری، سید ریاض الحسن گیلانی، اٹارنی جنرل وفاقی شرعی عدالت، مولانا محمد اشرف ہمدانی نے بیانات فرمائے۔ یہ کانفرنس ایسے موقع پر انعقاد پذیر ہوئی تھی جب کہ ایک صدارتی فرمان کے ذریعے صدر پاکستان جنرل ضیاء الحق نے ۱۹۷۳ء کی آئینی دفعات کو بحال کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ اس لئے تمام مقررین حضرات کی تقریریں زیادہ تر اسی موضوع کے گرد گھومتی رہی۔
(لولاک مارچ، مئی ۱۹۸۲ء)
ختم نبوت کانفرنس سرگودھا
۶، ۷/ اپریل ۱۹۸۲ء کو سرگودھا گول چوک مسجد میں دو روزہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے کل دو اجلاس ہوئے۔ پہلے اجلاس کی صدارت جناب ملک محمد اسلم کچھیلا رئیس اعظم سرگودھا نے کی۔ جب کہ دوسرا اجلاس پیر طریقت حضرت مولانا خواجہ خان محمد کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ خطباء میں خطیب ربوہ حضرت مولانا اللہ وسایا، مولانا ضیاء القاسمی، مولانا احمد یار چاریاری، مولانا کریم بخش مبلغ مجلس لاہور زون، مولانا محمد اجمل خان صاحب، الحاج بلند اختر نظامی، مولانا خدا بخش شجاع آبادی، مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا احمد بخش چشتی شامل تھے۔ سٹیج سیکرٹری مولانا محمد اقبال ظفر سرگودھا کے تھے۔ انہوں نے سب سے پہلے مناظر ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا کو بیان کی دعوت دی۔ لیکن جیسا کہ مولانا کی عادت ہے کہ دوسروں کو سامنے لا کر خود پس پردہ رہتے ہیں۔ انہوں نے بیان کرنے کی بجائے
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
مولانا احمد یار چاریاری کے بیان کا اعلان کر دیا اور اسی طرح آخر تک خود سٹیج سیکرٹری بنے رہے۔ چناب نگر ختم نبوت کانفرنس کے شرکاء کو اکثر یہی گلہ رہتا ہے کہ مولانا خود بیان نہیں فرماتے۔ اللہ مولانا کا سایہ عاطفت تادیر ہمارے سروں پر قائم رکھے۔
(لولاک اپریل ۱۹۸۲ء)
گوجرہ
۲۰، ۲۱؍ اپریل ۱۹۸۲ء کو ضلع فیصل آباد گوجرہ کی مرکزی جامع مسجد میں دو روزہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں ختم نبوت کے پروانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ گوجرہ، ٹوبہ، فیصل آباد، جھنگ اور گردونواح کے چکوک و دیہات سے ہزاروں لوگ شریک ہوئے۔ کانفرنس دو اجلاسوں پر مشتمل تھی۔ پہلے اجلاس میں حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری (موجودہ ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت) مرکزی ناظم تبلیغ مولانا عبدالرحیم اشعر، گوجرہ کے ممتاز عالم دین حضرت مولانا سید طفیل احمد شاہ صاحب، دارالعلوم مدنیہ بہاول پور کے مہتمم حضرت مولانا غلام مصطفیٰ بہاول پوری اور مولانا ضیاء الدین آزاد نے بیانات فرمائے۔ دوسرا اجلاس امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اس میں مولانا عبدالرحمن اشرفی، مولانا محمد اجمل خان، مولانا احمد میاں حمادی ٹنڈو آدم، مولانا اللہ وسایا، مولانا خدا بخش شجاع آبادی، مولانا حق نواز جھنگوی، مولانا زاہد الراشدی، مولانا لقمان علی پوری، مولانا محمد اشرف ہمدانی، مولانا صاحبزادہ فضل الرحمن (قائد جمعیت)، مولانا سید ممتاز الحسن شاہ نے بیانات کئے۔ حافظ محمد شریف منچن آبادی اور سید سلمان گیلانی نے اشعار ونظم کے پیرائے میں عقیدہ ختم نبوت بیان کیا۔ گوجرہ کی سرزمین پر اتنی بڑی کانفرنس کا انعقاد اس سے قبل کبھی نہیں ہوا تھا۔ مشاہدہ کرنے والے حضرات نے شرکاء کی تعداد ہزاروں میں بتائی اور لکھی ہے۔
نواب شاہ
ضلع نواب شاہ مورو کے جامعہ نور الہدیٰ میں ۲۵؍ اپریل ۱۹۸۲ء کو ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مولانا جمال اللہ الحسینی مبلغ کنری، مولانا محمد عرفان قادری، مولانا سعید الرحمن، مولانا مالک اور دیگر حضرات نے شرکت فرمائی۔
لیہ
۲۱، ۲۲؍ مئی ۱۹۸۲ء کو لیہ جامع مسجد کرنال والی میں امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد کی زیر صدارت ایک عظیم الشان دو روزہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر، حضرت مولانا اللہ وسایا، مولانا قاضی اللہ یار، مولانا محمد عبداللہ بھکروی نے بیانات فرمائے۔ مقامی علماء کرام اور عوام نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
(لولاک اپریل، مئی ۱۹۸۲ء)
پہلی ختم نبوت کانفرنس مسلم کالونی ربوہ (چناب نگر)
آغاز میں سالانہ ”کل پاکستان ختم نبوت کانفرنس“ چنیوٹ میں منعقد ہوئی تھی۔ چناب نگر ایک بند شہر کے طور پر قادیانیوں کے قبضے میں تھا اور وہاں پر مسلمانوں کو جلسہ کرنا یا کسی پروگرام کا انعقاد کرنا مشکل امر تھا۔ لیکن وہاں پر مرزائی بدستور اسلام اور ملک کے خلاف سازشوں اور مکر وفریب میں مبتلا رہے۔ اقلیت قرار دیئے جانے کے بعد مرزائیوں کی یہ ریاست اندر ریاست والے فلسفے پر اکابرین ختم نبوت کو تشویش ہوئی اور انہوں نے ارباب اقتدار سے اس سنگین مسئلے پر کوئی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ حکومت نے ایکشن لیا کہ مسلم کالونی کے نام سے پلاننگ کر کے مسلمانوں کو ربوہ کے قریب ایک اراضی دے دی۔ جس پر مدرسہ عربیہ ختم نبوت کی بنیاد رکھی گئی اور آج کل
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
یہ ایک بڑے جامعہ کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ لیکن یہ تو بعد کی بات ہے۔ پہلے مجلس کے اکابر نے ربوہ میں مسلمانوں کا اور بالخصوص مجلس کے ساتھیوں کا کسی نہ کسی طور پر داخلہ کرانا چاہا۔ ربوہ میں وہ پہلے کس طرح داخل ہوئے اس کی مکمل تفصیل گزشتہ صفحات میں آپ پڑھ چکے ہیں۔ مختصراً عرض ہے کہ سب سے پہلے ختم نبوت اسٹیشن مسجد ربوہ میں جمعے کے اجتماعات منعقد ہونا شروع ہوئے۔ پہلے مولانا خدا بخش پھر مولانا اللہ وسایا صاحب مستقل خطیب تھے۔ کبھی کبھی اکابر علماء میں سے کسی کو خطبہ جمعہ پڑھانے کی دعوت دی جاتی۔ جمعہ کے اجتماع میں چناب نگر اور آس پاس کے مضافاتی علاقوں کے مسلمانوں کے علاوہ سرگودھا، فیصل آباد، چنیوٹ اور جھنگ تک کے لوگ شریک ہوتے۔ جمعہ کا یہ اجتماع کثرت حاضری کی وجہ سے ایک عظیم الشان جلسے کی شکل اختیار کر لیتا۔ باوجود اس کے کہ وہ مسجد کافی بڑی تھی۔ مجمع باہر سڑکوں اور اسٹیشن کی عمارت کے سامنے چادریں بچھائے بیٹھا ہوتا۔ اس سے ہمارے بزرگوں کی ذکاوت اور معاملہ فہمی کا اندازہ لگائیں کہ جمعہ کے اجتماع میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کی طرف پیغام ختم نبوت بھی پہنچا دیتے۔ دارالکفر (ربوہ) میں کلمہ اسلام بھی بلند ہو جاتا اور مرزائی کوئی اعتراض بھی نہ کر سکتے تھے۔ اس لئے کہ باقاعدہ جلسہ تو تھا نہیں بلکہ جمعہ کا مجمع تھا جو جتنا زیادہ ہوگا اتنا ہی باعث ثواب اور محمود ہوگا۔
ربوہ میں سیرت کانفرنس کا انعقاد
۷؍ ستمبر ۱۹۸۱ء کو مرکزی امیر پیر طریقت حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب کی صدارت میں جامع مسجد اسٹیشن ربوہ (چناب نگر) میں سیرت کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کیا گیا۔ گورنمنٹ کو پتہ نہیں کیا سوجھی۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیشن کی بجائے مسلم کالونی میں یہ کانفرنس منعقد کر لو۔ مجلس نے بخوشی قبول کر لیا اور ۷؍ ستمبر ۱۹۸۱ء کو ’سیرت کانفرنس‘ مسلم کالونی چناب نگر میں منعقد ہو گئی۔ اللہ کے ہر کام میں حکمت ہوتی ہے۔ اب مجلس کے لئے راستہ کھل گیا۔ چنانچہ ۲۵؍ مئی ۱۹۸۲ء میں ختم نبوت کے مرکزی دفتر ملتان میں مرکزی شوریٰ کا اجلاس ہوا اور چناب نگر میں آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
مجلس تحفظ ختم نبوت کے اس خوش کن فیصلے کا پورے ملک میں خیر مقدم کیا گیا۔ ’’ربوہ چلو‘‘ کے عنوان سے پوسٹر، اشتہارات شائع ہوئے اور پورے ملک میں تقسیم ہو گئے۔ ہفت روزہ لولاک فیصل آباد،، ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور، ہفت روزہ ختم نبوت کراچی اور دیگر دینی جرائد نے مجلس کی ترجمانی کا خوب خوب حق ادا کیا اور کانفرنس میں شرکت کی ترغیب کے لئے اشتہار اور مضامین چھاپ دیئے۔ کانفرنس کے لئے ۶، ۷؍ ستمبر ۱۹۸۲ء کی تاریخ مقرر ہوئی۔ جو ختم نبوت کی تحریک کے لئے ایک یادگار تاریخ ہے۔ ۴، ۵؍ ستمبر سے ملک کے کونے کونے سے ختم نبوت کے پروانے مختلف ذرائع سے قافلوں کی صورت میں ربوہ (چناب نگر) پہنچنا شروع ہوئے۔ آزاد کشمیر، پشاور، بنوں، ہزارہ، مانسہرہ، کوہاٹ، سوات، راولپنڈی، اسلام آباد، خوشاب، سرگودھا، میانوالی، جھنگ، بھکر، لیہ، مظفرگڑھ، ملتان، بہاول پور، رحیم یار خان، بہاول نگر، لاہور، قصور، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، جہلم، شیخوپورہ، فیصل آباد، ڈیرہ غازی خان، کوئٹہ وغیرہ صوبہ سرحد، پنجاب کے ہر چھوٹے بڑے شہروں اور دیہاتوں سے ہزاروں فرزندان توحید اس تاریخی کانفرنس میں شرکت کو اپنے لئے باعث شفاعت نبوی اور ذخیرۂ آخرت سمجھتے ہوئے مسلم کالونی ربوہ پہنچے۔ سرحد و پنجاب کے علاوہ سکھر شہر، اوباڑو، پنوں عاقل، گھوٹکی، میر پور ماتھیلو، حیدرآباد اور اس کی تمام تحصیلوں، ضلع سانگھڑ سے ٹنڈو آدم، کھپرو، سانگھڑ شہر، دوست محمد کھوسو، ضلع نواب شاہ سے نواب شاہ شہر، مورو، سکرنڈ، باندی، کوٹ لالو، دوڑ، پڈعیدن، میر پور خاص سے میر پور شہر، کنری، نبی سر روڈ، ضلع ٹھٹھہ ضلع شکار پور، جیکب آباد، ضلع لاڑکانہ، کراچی اور اسی طرح صوبہ بلوچستان کے ہر چھوٹے بڑے شہر سے علماء اور فدایان ختم نبوت نے شرکت کی۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
۶، ۷ / ستمبر کو ربوہ میں اس پہلی عظیم الشان کانفرنس نے ۱۹۳۴ء کی قادیان کانفرنس کی یاد تازہ کر دی اور حاضری کے اعتبار سے ریکارڈ قائم کر دیا۔ دن کے اجتماعات میں اندازاً سوا لاکھ حاضری تھی اور رات کے اجلاس میں ڈیڑھ لاکھ سے دو لاکھ تک حاضرین کا اندازہ لگایا گیا۔ قیام پاکستان کے بعد پہلی مرتبہ اللہ تعالیٰ نے یہ موقعہ عطاء فرمایا کہ وہ رسالت مآب ﷺ کے پرچم ختم نبوت کو ربوہ کی زمین پر بلند کریں۔ کانفرنس انتہائی نظم وضبط کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی اور پرامن طور پر پایہ تکمیل کو پہنچی۔ کانفرنس کے انعقاد سے قبل مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس شوریٰ نے کانفرنس کے انتظام کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔ مولانا محمد اشرف ہمدانی کو استقبالیہ کمیٹی کا صدر اور مولانا اللہ وسایا کو سیکرٹری مقرر کیا گیا تھا۔ استقبالیہ کمیٹی کی معاونت اور مشوروں کے لئے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا محمد شریف جالندھری ، مرکزی ناظم مولانا عزیز الرحمن جالندھری، الحاج بلند اختر نظامی اور چوہدری غلام نبی کے نام تجویز کئے گئے تھے۔
اس کمیٹی نے کانفرنس کے انتظامات کو بہتر سے بہتر بنانے اور اس کے لئے پوری صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لئے ملتان ، لاہور، فیصل آباد اور ربوہ میں متعدد اجلاس منعقد کئے۔ ۱۶؍اگست ۱۹۸۲ء کو مسلم کالونی ربوہ میں استقبالیہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں چنیوٹ ، فیصل آباد، سرگودھا، جھنگ، شیخوپورہ، قائدآباد، شاہ کوٹ، گوجرہ اور ربوہ کے گردونواح سے ایک سو کے لگ بھگ مندوبین علماء اور معززین شریک ہوئے۔ جس میں کانفرنس کے انتظامات کو آخری شکل دی گئی اور انتظامات کو کنٹرول کرنے کے لئے پہلے سے ڈیوٹیاں متعین کی گئیں۔ حضرت مولانا تاج محمود، حضرت مولانا محمد اشرف ہمدانی نے کانفرنس کے انتظامات کے سلسلے میں شب و روز ایک کر دیا۔ پورے ملک میں رابطہ قائم رکھا اور ربوہ میں بھی گاہے بگاہے انتظامات دیکھنے کے لئے تشریف لاتے رہے۔ ایڈورٹائزنگ کے لئے ہزاروں کی تعداد میں چھوٹے بڑے اشتہارات شائع کئے گئے۔ صوبہ سندھ سے ٹنڈوآدم کی مجلس نے سندھی زبان میں اور پنجاب کے مختلف اضلاع نے اپنے طور پر اشتہارات تقسیم کر کے اپنے اپنے اضلاع میں پھیلائے۔ خصوصاً گوجرانوالہ اس مسئلہ میں سرفہرست تھا۔ مجلس کے مبلغین نے انتہائی سرگرمی کے ساتھ پورے ملک کا دورہ کیا اور اس سلسلہ میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ کانفرنس سے کئی روز پہلے حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے زیادہ تر قیام ربوہ میں رکھا اور انتظامات میں مصروف رہے۔
ختم نبوت لنگر کے پکانے اور سپلائی کا انتظام جناب چوہدری ظہور احمد کی نگرانی میں ہوا۔ جب کہ آپ کے رفقاء، شیخ منظور ، الحاج اللہ دین ، چوہدری سردار محمد ، حاجی فیروز دین ، نذر حسین صاحب موصوف کے ساتھ شعبہ لنگر کے اراکین تھے۔ تقسیم طعام کا انتظام الحاج عزیز الرحمن جھنگ ، مولانا حبیب الرحمن جھنگ ، مولانا قاری محمد ابراہیم مہتمم مدرسہ ام المدارس فیصل آباد ، حافظ بشیر احمد ناظم مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ ، چوہدری غلام نبی گوجرانوالہ ، حافظ عبد الماجد بی ۔ اے ایل ۔ ایل ۔ بی قاضی عبدالمالک جھاوریاں کی زیر سرکردگی میں مجلس تحفظ ختم نبوت جھنگ ، گوجرہ ، جھاوریاں کے کارکنوں ، مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ، مدرسہ ام المدارس فیصل آباد، مدرسہ فتح العلوم، مدرسہ فیض العلوم چنیوٹ ، مدرسہ فیض محمدی فیصل آباد کے اساتذہ و طلبہ نے پوری محنت اور دلی لگن کے ساتھ انجام دیا۔
استقبالیہ کیمپ میں حضرت مولانا محمد شریف جالندھری ، حافظ عبدالمالک ایڈووکیٹ نے خدمات انجام دیں۔ جب کہ مولانا عبدالرؤف جتوئی مبلغ اسلام آباد کی زیر سرکردگی مولانا قاضی اللہ یار مرکزی مبلغ ، مولانا خدا بخش شجاع آبادی خطیب ربوہ اور مولانا محمد اقبال نے فدایان ختم نبوت کو معلومات بہم پہنچائیں ۔ مدعو علماء اور مہمانان خصوصی کی رہائش اور ان کے طعام وغیرہ کے جملہ انتظامات کی نگرانی حضرت مولانا عزیز الرحمن صاحب جالندھری نے کی۔ جب کہ آپ کے ساتھ اس سلسلہ میں مولانا محمد طفیل ارشد مبلغ سندھ ، قاری منیر احمد
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
مدرس مدرسہ ختم نبوت ربوہ وغیرہ نے کی۔ مدرسہ ختم نبوت ربوہ کے طلبہ بھی چاق و چوبند دستے کی طرح ہر شعبے میں اپنی اپنی ڈیوٹی احسن طریقے سے انجام دیتے رہے۔
دفتر استقبالیہ میں مولانا محمد اشرف ہمدانی پانچ دن تک مسلسل وقفے وقفے سے ربوہ پہنچتے رہے اور انتظامات کی نگرانی کی۔ مولانا محمد یعقوب چنیوٹی ان کے دست راست کی حیثیت سے مصروف کار رہے۔ حضرت مولانا تاج محمود باوجود ضعف و نقاہت اور طویل علالت کے کانفرنس میں روزانہ تشریف لاتے رہے اور دو دن تک مکمل سرپرستی کے علاوہ تین مرتبہ فدایان ختم نبوت کو مجلس کی پالیسی اور اپنے زریں خیالات و جذبات سے آگاہ فرمایا اور ان جملہ شعبوں کے سربراہوں اور خدمت گزاروں کو امیر مجلس مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب کی سرپرستی آخر تک حاصل رہی۔
مولانا موصوف اور مولانا محمد اشرف ہمدانی نے کانفرنس میں ہونے والی تقاریر اور مقررین کی کڑی نگرانی کی۔ یہی وجہ ہے کہ تقاریر، بحمدہ تعالیٰ مجلس کی پالیسی کے مطابق ہوئیں۔ ۵؍ ستمبر کی صبح ہی سے پورے ملک سے فدایان ختم نبوت ریل گاڑیوں، بسوں، ٹرالیوں، ویگنوں کے ذریعہ مسلم کالونی ربوہ پہنچتے گئے۔ سب کی زبان پر نعرۂ تکبیر، ختم نبوت زندہ باد، اسلام زندہ باد، پاکستان زندہ باد کا نعرہ تھا۔ ان کے ٹھہرنے کے لئے عارضی ”رہائش گاہیں“ جو کیمپوں کی صورت میں تھیں، قائم کی گئی تھیں۔ ان کیمپوں کو ڈویژن وار تقسیم کیا گیا تھا۔ جو تقریب تین ایکڑ رقبے پر پھیلے ہوئے تھے۔ پنڈال کے باہر بے شمار ہوٹل، چائے خانے، مشروبات اور فروٹ کی دکانیں لوگوں نے لگا رکھی تھیں جو ایک پررونق بازار کا منظر پیش کر رہی تھیں۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کا مکتبہ اور سٹال لگا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ بے شمار تنظیموں اور افراد نے اپنے طور پر بھی کتب خانوں کے سٹال لگا رکھے تھے جو وفد آتا وہ اپنے کیمپ میں اپنے سامان سمیت ڈیرہ ڈال دیتا۔
سب سے پہلے نواب شاہ کا وفد پہنچا۔ ان کے بعد لگاتار مسلسل مختلف علاقوں سے وفود پہنچنا شروع ہوگئے۔ ۶؍ ستمبر کی صبح جب طلوع ہوئی تو ہر طرف انسانوں کا ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر موجزن تھا۔ صبح کی نماز کے بعد مولانا منظور احمد شاہ حجازی نے تشریف لانے والے فدایان ختم نبوت کے جذبات کو سراہتے ہوئے خوش آمدید کہا اور چند ہدایات و نصیحتیں فرمائیں۔
کانفرنس کا پہلا اجلاس
اس عظیم تاریخی کانفرنس کا پہلا اجلاس ٹھیک ساڑھے دس بجے شروع ہوا۔ پہلے اجلاس کی صدارت حضرت مولانا محمد شریف جالندھری مرکزی ناظم اعلیٰ نے کی۔ اس اجلاس سے مولانا احمد یار چاریاری، مولانا محمد امین، مولانا قاضی اللہ یار اور چند ایک مقامی علماء نے خطاب فرمایا۔ پونے ایک بجے یہ اجلاس حضرت مولانا محمد شریف جالندھری کی دعا پر اختتام پذیر ہوا۔ جب کہ منظوم نذرانہ عقیدت جناب مرزا غلام نبی جانباز، مداح رسول جناب احمد بخش چشتی، حافظ محمد شریف منچن آبادی، صوفی حفیظ جالندھری اور دیگر شعراء نے پیش کیا۔
دوسرا اجلاس
دوسرا اجلاس ظہر کے بعد ٹھیک اڑھائی بجے شروع ہوا۔ جس کی صدارت مولانا دین محمد مہتمم مدرسہ فتح العلوم چنیوٹ نے کی جب کہ کلام پاک کی تلاوت قاری محمد یاسین جامعہ اشرفیہ مانکوٹ نے فرمائی۔ اس اجلاس سے مولانا محمد رفیق جامی، مولانا عبیدالرحمٰن ضیاء، مولانا عبداللطیف صاحب شاہ کوٹ اور مولانا تاج محمود صاحب نے خطاب کیا۔ ۵ بجے یہ اجلاس اختتام پذیر ہوا۔ عصر کے بعد امیر مرکزیہ پیر طریقت حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب نے تمام کیمپوں کا معائنہ کرتے ہوئے کارکنوں سے مصافحہ کیا اور دعا فرمائی۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبد اللہ معتصم
تیسرا اجلاس
تیسرا اجلاس عشاء کی نماز کے بعد سوا نو بجے شروع ہوا۔ صدارت حضرت مولانا محمد سعد موسیٰ زئی شریف نے کی۔ گوجرانوالہ کے طارق محمود رضوی نے مجمع سے خطاب کیا۔
پہلی ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کا خطبہ استقبالیہ
ان کے بعد مولانا سید محمد اشرف ہمدانی نے خطبہ استقبالیہ پڑھ کر سنایا۔ چونکہ یہ خطبہ نہایت پر مغز اور جامع ہے اس لئے نذرِ قارئین کرتے ہیں، ملاحظہ فرمائیں:
صدرِ گرامی قدر و معزز سامعین: سب سے پہلے میں اپنے خدائے ذوالجلال کا شکر بجا لاتا ہوں جس نے بطلِ حریت حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری خطیبِ پاکستان حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی، مجاہدِ ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھری، مناظرِ اسلام مولانا لال حسین اختر اور ان کے دوسرے عظیم ساتھیوں جن کی سالہا سال کی محنتوں اور قربانیوں کے بعد انگریز جیسی دشمنِ اسلام طاقت کو یہاں سے ۱۴؍اگست ۱۹۴۷ء کو اپنا بوریا بستر باندھ کر واپس جانا پڑا اور ملک بہر حال کسی نہ کسی شکل میں آزاد و خود مختار ہو گیا اور جنہوں نے نہ صرف فرنگی کو یہاں سے نکلنے پر مجبور کیا۔ بلکہ فرنگی کے بوئے ہوئے بیج اور خود کاشتہ پودے مرزائیت کے استیصال کی بھی ہر ممکن کوشش کی۔ الحمد للہ! کہ ان عظمت، ایثار اور علم و حلم کے پہاڑوں جیسی شخصیتوں کے دنیا سے اٹھ جانے کے بعد بھی ہمارے جیسے ان کے رضا کاروں اور خادموں کو ان کا مشن جاری رکھنے کی توفیق بخشی۔ جہاں ہم نے ان کی محنتوں اور قربانیوں سے حاصل کردہ آزادیِ وطن کی حفاظت کے لئے اپنے آپ کو وقف کر رکھا اور استحکام و دفاعِ پاکستان میں بھرپور حصہ لیا۔ ہم فخر کے ساتھ سر اونچا کر کے آج ۶؍ستمبر کو فرنگیوں کے خود کاشتہ پودے اور ان کے ازلی ابدی کاسہ لیسوں کی بستی ربوہ میں یومِ دفاع منا رہے ہیں۔ وہاں ہم نے فرنگی کے اس خود کاشتہ پودے مرزائیت کے استیصال، تعاقب اور احتساب کے لئے بھی اسی طرح وقف رکھا جس طرح کہ اپنے قافلہ سالار حضرت امیر شریعت کی زندگی میں ان کے فدا کاروں کا یہ قافلہ رواں دواں رہا تھا اور مرزائیت کی دسیسہ کاریوں، دجل اور فریب سے ملتِ اسلامیہ کو آگاہ کرتے رہے۔ یہاں تک کہ ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کو ہمارے ان بزرگوں کی محنتیں، قربانیاں اور ان کے ان ادنیٰ خادموں کی فدا کاریاں رنگ لائیں اور پوری ملتِ اسلامیہ نے متحد ہو کر مرزائیوں کو دنیا بھر میں ایک غیر مسلم اقلیت کے مقام پر لا کے کھڑا کر دیا۔ جس کے اظہارِ تشکر کے لئے ہم کل کو ۷؍ستمبر کا دن منائیں گے۔ جہاں اپنے رب کے حضور سجدۂ شکر ادا کریں گے۔ وہاں رسول اللہ ﷺ کی عظمت پر اپنی جانیں قربان کرنے والوں کو یا کسی بھی نوعیت کی قربانی دینے والوں کو خراجِ تحسین پیش کریں گے۔
ہم اس بات کا ہمیشہ اعتراف کرتے چلے آ رہے ہیں اور آج بھی بلا کسی تعصب کے یہ اعتراف کرتے ہیں کہ اس مسئلہ کے حل کرنے میں اگرچہ اللہ تعالیٰ نے بخاری کے قافلے سے خاص خدمت لی اور انہیں ۱۹۵۳ء اور ۱۹۷۴ء دونوں تحریکوں کے مواقع پر تمام دینی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی توفیق بخشی۔ تاہم یہ مسئلہ پوری مسلمان قوم کے اتحاد اور جہاد سے حل ہوا جس کے لئے پوری ملتِ پاکستانیہ مبارک باد کی مستحق ہے۔
خوش آمدید حضراتِ گرامی قدر: جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ یہ کانفرنس یومِ دفاع ۶؍ستمبر اور یومِ فتح تحفظ عقیدۂ ختمِ نبوت ۷؍ستمبر کی یاد میں ان تاریخوں میں بلائی گئی اور کراچی سے پشاور تک کے فدایانِ ختمِ نبوت اس ناخوشگوار موسم میں بڑی تکلیف، اخراجات اور دوسری
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
پریشانیوں کو برداشت کر کے یہاں پہنچے ہیں۔ میں اس کانفرنس میں شرکت کرنے کے لئے آنے والے علماء اور دوسرے فدایان ختم نبوت کو تہہ دل سے خوش آمدید کہتا ہوں اور ان کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اس کانفرنس میں شرکت کر کے اس کانفرنس کی عظمت کو چار چاند لگائے اور میں اپنے رب ذوالجلال سے دعا کرتا ہوں کہ وہ آپ سب حضرات کی اس محنت کو قبول فرمائے اور دنیا و آخرت میں اپنے خاص خزانوں سے آپ کو اس کا اجر خیر عطا فرمائے۔
معزز و محترم سامعین: آپ یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ربوہ میں یہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب امیر جماعت مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی سرپرستی میں منعقد ہو رہی ہے اور ہزاروں مختلف مکاتب فکر کے مسلمان آج یہاں ایک پلیٹ فارم پر نعرۂ اللہ اکبر، ختم نبوت زندہ باد، اسلام زندہ باد اور پاکستان پائندہ باد کے نعرے بلند کر رہے ہیں۔ ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء سے پہلے اس بستی میں کسی مسلمان کو داخل ہونے کی اجازت نہ تھی۔ اگر کوئی بھولا بھٹکا مسلمان یہاں داخل ہو جاتا تو اس کو کئی کئی دن حبس بے جا میں رکھا جاتا تھا۔ یہاں کا ایک نام نہاد سیکورٹی افسر اس کو درد ناک اذیتیں پہنچا کر انٹیروگیٹ کرتا۔ یہاں تک کہ کئی نوجوان محض مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے جاسوسی کے الزام میں قتل کر دیئے گئے۔ مثال کے طور پر آپ حضرات کے سامنے میں صرف ایک واقعہ کا ذکر کر دیتا ہوں۔
مولوی غلام رسول جنڈیالوی ایڈیٹر روزنامہ ”ایام“ فیصل آباد کا جواں سال لڑکا اور اس کا نوجوان ساتھی ربوہ دیکھنے کے شوق میں یہاں اتر گئے۔ ان کے دفاتر ان کی نام نہاد عبادت گاہیں، نام نہاد قصر خلافت اور دوسرے بازاروں میں چند گھنٹے پھرتے رہے۔ جب وہ وہاں سے سرگودھا جانے کے لئے بس کے اڈہ کی طرف روانہ ہوئے تو ان کے پیچھے مرزائیوں کی سی آئی ڈی لگی ہوئی تھی۔ انہوں نے انہیں پکڑ لیا اور پکڑنے کے بعد پہلے اذیتیں پہنچاتے رہے۔ پھر ان کے باری باری ہاتھ پاؤں کاٹ کر انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا۔ آج تک کوئی رپٹ، رپورٹ، پرچہ، گرفتاری اور کوئی کارروائی نہ ہوسکی۔ بالآخر حکومت نے ربوہ میں ایک پولیس چوکی قائم کی۔ وہاں پولیس کی نفری اور انچارج بٹھائے گئے۔ تین سال بعد جسٹس صمدانی جب ۲۹؍ مئی ۱۹۷۴ء کے واقعات کی انکوائری کے لئے ربوہ آئے تو انہوں نے چوکی پولیس کے انچارج سے دریافت کیا کہ تین سال میں یہاں کتنے مقدمے درج ہوئے ہیں۔ چوکی پولیس انچارج نے اپنے کورے رجسٹر، جسٹس صاحب کو دکھاتے ہوئے نفی میں جواب دیا اور کہا کہ تین سال میں یہاں جتنے واقعات اور وقوعے ہوئے ان کی کوئی رپورٹ درج نہیں کرائی گئی۔ بلکہ ان کا اپنا ایک نظام ہے جو ان کی رپورٹیں اور کارروائیاں کرتا ہے۔ جسٹس صمدانی کو جو چیزیں ہم نے ربوہ میں دکھائیں ان میں یہ بات بھی شامل تھی کہ مرزائیوں کا اپنا ایک مرکزی سیکرٹریٹ تھا جس میں مختلف محکموں کی وزارتیں قائم تھیں۔ البتہ وہ وزارت کے لئے نظارت کا لفظ اور وزیر کے لئے ناظر کا لفظ استعمال کرتے تھے۔ ہیڈ آف دی جماعت جس کو وہ خلیفہ کہتے ہیں ان کے دفتر پر پاکستان کے پرچم کی بجائے مرزائی جماعت کا اپنا جھنڈا لہرا رہا تھا۔ جسے وہ لوائے احمدیہ کہتے تھے۔ جسٹس صمدانی نے ان تمام چیزوں کے فوٹو لئے۔ افسوس کہ ان کی آج تک کسی حکومت نے رپورٹ شائع نہ کی۔
جسٹس صمدانی کو ہم مرزا محمود کی قبر پر لے گئے اور وہ کتبہ پڑھایا جس پر یہ لکھا ہوا تھا کہ جب موزوں وقت آئے تو میری اور میرے خاندان کی قبروں کو اکھاڑ کر ہماری میتیں قادیان کے بہشتی مقبرے میں لے جا کر دفن کی جائیں۔ ہم نے جسٹس صمدانی صاحب سے عرض کیا کہ مرزائی مرزا محمود کی وفات کے وقت بھی ان کی میت قادیان لے جا سکتے تھے۔ بھارت اور پاکستان کی دونوں حکومتیں اجازت دے دیتیں۔ لیکن یہ میتوں کا موزوں وقت پر قادیان لے جانا اس موزوں وقت سے کیا مراد ہو سکتی ہے؟ ہمارا دعویٰ ہے کہ اس کی بنیاد
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
مرزا بشیر الدین محمود کا وہ خطبہ ہے جو الفضل میں چھپا ہوا موجود ہے اور جو تحریک پاکستان کے آخری سال میں انہوں نے مرزا غلام احمد کی پیشین گوئیوں کی روشنی میں دیا تھا کہ یہ تقسیم نہیں ہونی چاہئے۔ کیونکہ ہندوستان جیسے وسیع ملک کو اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کی نبوت کے لئے ایک وسیع بنیاد کے طور پر بنایا ہے اور وہ بالآخر ہندوستان کی تمام قوموں کی گردنوں میں احمدیت کا قلادہ ڈالنے والا ہے۔ اس لئے یہ تقسیم ہوئی تو یہ عارضی ہوگی اور ہم کوشش کریں گے پھر کسی نہ کسی طرح اکھنڈ بھارت بن جائے۔
حضرات گرامی! ہم نے تمام دینی جماعتوں اور تمام مسلمانوں کے تعاون سے ۱۹۵۳ء اور ۱۹۷۴ء میں اس پرفتن ٹولہ کے خلاف تحریکیں لڑیں اور ہزاروں مسلمانوں نے شمع رسالت پر پروانہ وار اپنی جانیں نچھاور کیں۔ ۱۹۵۳ء اور ۱۹۷۴ء میں انگریزوں کی حکومتیں نہ تھی۔ بلکہ ہمارے اپنے مسلمان بھائیوں کی حکومت تھی۔ ہم پر ظلم وتشدد کے وہ پہاڑ توڑے کہ الامان والحفیظ ۔ تب جا کر ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کو ان کے خلاف قومی اسمبلی نے آئین میں ترمیم کرتے ہوئے یہ فیصلہ دیا کہ یہ ایک غیر مسلم اقلیت ہیں اور اس فیصلہ کے بعد نہ صرف اس شہر میں ہم قافلہ بخاری کے خادم داخل ہوئے بلکہ ہم حکومت کے مختلف محکموں کو بھی یہاں لائے ۔ یہاں سب تحصیل قائم ہوئی۔ ریزیڈنٹ مجسٹریٹ کا تقرر ہوا۔ پولیس کا تھانہ قائم ہوا اور وہ پہلی تین سالہ چوکی کا تھانہ نہیں بلکہ ایسا تھانہ ہے کہ یہاں کے مجرموں کو بلا جھجک پکڑتا اور انہیں سزائیں دلواتا ہے۔ ضلعی اور بالائی اعلیٰ حکام اب اس شہر میں آتے ہیں اور یہاں کے ریسٹ ہاؤس میں ٹھہر سکتے ہیں۔ ریلوے، ڈاکخانہ، ٹیلی فون، اور تمام سرکاری محکموں کے ملازم یہاں مرزائی ہی ہوا کرتے تھے۔ کسی مسلمان سرکاری ملازم کی تقرری ناممکن تھی۔ اللہ کا ہزار شکر ہے کہ آج تمام محکموں میں مسلمان سرکاری ملازم اپنے اپنے محکموں میں سرکاری فرائض انجام دے رہے ہیں۔ چھ سات ہزار مسلمان مزدور پٹھان پنجابی اس شہر میں پہاڑ کاٹنے ، پتھر کوٹنے اور دوسرے کام کر رہے ہیں اور کسی مرزائی کو ان کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی جرات نہیں ہے۔
شہر کے عین وسط میں ریلوے اسٹیشن ربوہ پر مجلس تحفظ ختم نبوت نے لاکھوں روپیہ خرچ کر کے جامع مسجد محمدیہ اور اس کے ساتھ قرآن مجید کا مکتب مسلمانوں کے لئے تعمیر کرایا ۔ اساتذہ، خطیب اور امام وہاں اپنے ہیں اور صرف اپنے مسلمانوں کے دین و ایمان کی حفاظت اور رہنمائی کرتے ہیں۔ بلکہ اس بستی کے راہ گم کردہ عوام کو بھی محبت اور نبی کریم ﷺ کے اسوۂ حسنہ کے مطابق رشد و ہدایت کی دعوت دیتے رہتے تھے۔ جامع مسجد محمدیہ ربوہ میں پنجگانہ نمازوں، مسلمان بچوں کی تعلیم کے علاوہ جمعہ کی نماز ہوتی ہے۔ جس میں ربوہ کے سینکڑوں مسلمان کے علاوہ گرد ونواح کے مسلمان بھی آکر نماز جمعہ ادا کرتے ہیں۔ جمعہ کے دن یہ مسجد نمازیوں سے بھر جاتی ہے۔
الحمدللہ علیٰ ذلک!
مسلم کالونی
جس جگہ آپ تشریف رکھتے ہیں اور یہ اجتماع ہو رہا ہے یہ نو کنال رقبہ پر مشتمل مسلم کالونی کی جامع مسجد کا پلاٹ ہے۔ مسلم کالونی حکومت نے ۱۹۷۴ء کے فیصلہ کے مطابق ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے کے لئے بنائی تھی۔ اس وقت ربوہ میں تقریباً چودہ سو پلاٹ خالی پڑے ہوئے تھے۔ ہمارا مطالبہ یہ تھا کہ یہ خالی پلاٹ مسلمانوں میں تقسیم کر دیئے جائیں۔ حکومت نے بجا طور پر یہ تجویز منظور کر لی اور ان چودہ سو پلاٹوں پر تعمیر ممنوع قرار دینے کے لئے دفعہ ۱۴۴ نافذ کر دی۔
قادیانیوں نے دفعہ ۱۴۴ توڑتے ہوئے اکثر خالی پلاٹوں پر قبضہ کر لیا اور وہ سکیم فیل کر دی۔ بالآخر حکومت نے ربوہ کے مشرقی حصے کا پچاس ایکڑ رقبہ لے کر اس پر یہ کالونی محکمہ ہاؤسنگ کے تحت تعمیر کی اور درخواستیں لے کر پلاٹ الاٹ کر دیئے گئے۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
گورنر صاحب سے خصوصی گزارش
میں اس موقعہ پر جناب گورنر پنجاب اور دوسرے اعلیٰ حکام سے درخواست کروں گا کہ محکمہ ہاؤسنگ کی معرفت کوئی کالونی بنوا کر مسلمانوں کو دینے کا نہ ہمارا مطالبہ تھا اور نہ سمجھوتہ، لیکن پچھلی حکومت کے دور میں ۷؍ستمبر کے فیصلہ کے بعد جب خود حکومت کے فیصلے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے گول مول ہوگئی اور عملی جامہ پہنانے کے لئے کوئی قانون سازی یا کوئی کارروائی نہ کی گئی تو سرکاری دوائر میں بیٹھے ہوئے قادیانیوں کی ملی بھگت سے ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے اور اس میں چودہ سو خالی پڑے ہوئے پلاٹوں کی ضرورت مند مسلمانوں کو دینے کی بجائے انہوں نے یہ کالونی بنائی اور ستم بالائے ستم یہ کیا کہ پہلے معاہدہ کے خلاف ورزی کرتے ہوئے جو زمین مرزائیوں نے حکومت سے ایک آنہ فی مرلہ لی تھی۔ الاٹمنٹ کے بعد اس کی اب چودہ سو روپے فی مرلہ قیمت مقرر کر دی اور اب اتنی گراں قیمت، زمین کی قسطوں میں معمولی تاخیر کوتاہی کی وجہ سے بھاری سود اور ایک اپنا خود ساختہ سود لگا کر لوگوں کو یہاں سے متنفر کرتے اور بھگانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ محکمہ ہاؤسنگ کالونیاں ان شہروں میں بناتا ہے جہاں شہر کے اندر کوئی جگہ باقی نہ رہ گئی ہو اور لوگوں کو رہائش کی تنگی ہو۔ ربوہ میں چودہ سو پلاٹ خالی پڑے ہوئے تھے۔ وہاں کالونی بنانے کا ڈھونگ رچانا اور ضرورت مند مسلمانوں کو مفت الاٹ کرنے یا جس قیمت پر مرزائیوں نے یہاں زمین حاصل کی تھی اس پر دینے کی بجائے اتنی زیادہ قیمت رکھی گئی جو کہ ربوہ کے گردونواح کے کسی شہر میں اتنی قیمت نہیں ہے اور نہ ہی اقساط کی وصولیوں میں تاخیر کی وجہ سے سود تعزیری سود اور کمپوزیشن سود کی سختی کی جاتی ہے۔ یہ محض مسلمان الاٹیوں کو ربوہ سے بھگانے اور متنفر کرنے کے لئے کیا جارہا ہے تا کہ یہ کالونی بھی مرزائیوں کی خواہش کے مطابق بالآخر انہی کے حوالے کی جائے۔ گورنر صاحب کو اپنے اعلیٰ احکام کے ذرائع سے اس پورے معاملے کی چھان بین کر کے اس نا انصافی اور ظلم کا انسداد کرنا چاہئے۔ موجودہ قیمت کے حساب سے زمین کی قیمت اور ڈویلپمنٹ کے چارجز الاٹیوں سے وصول کئے جانے چاہئیں۔ ورنہ حکومت ۱۹۷۴ء کے فیصلہ کی رو سے ضرورت مند مسلمانوں کو مفت پلاٹ دینے کی پابند تھی۔
حضرات گرامی قدر! مسلم کالونی ربوہ کی یہ عظیم جامع مسجد آپ کے سامنے زیر تعمیر ہے۔ اس کے ساتھ مجلس کے دفاتر مدرسہ کی عمارت کا کچھ حصہ تعمیر ہوچکا ہے۔ جس میں حفظ قرآن مجید اور کتابوں کی درس وتدریس کا سلسلہ جاری ہے۔ قابل ترین، ایثار پیشہ اساتذہ کام کر رہے ہیں۔ سات لاکھ روپیہ کے قریب اب تک مجلس آپ کے تعاون سے خرچ کرچکی ہے۔ ابھی اس منصوبہ پر مزید لاکھوں روپیہ درکار ہے جو خدا کے فضل وکرم اور آپ لوگوں کی توجہ سے ہمیں موصول ہورہا ہے۔ سعودی عرب کے اعلیٰ حکام خصوصاً مدینہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہمارے مراکز کا معائنہ کر گئے ہیں۔ حضرت مولانا محمد یوسف بنوری کی وصیت تھی کہ ملتان کی سہ منزلہ دفتر ایک آدمی کے گرانقدر عطیہ تیس لاکھ روپیہ سے تعمیر ہوا۔ لیکن ربوہ کی جامع مسجد عامۃ المسلمین کے تعاون سے تعمیر کی جائے۔ یہاں تک کہ اگر اس میں کوئی مسلمان ایک پیسہ چندہ دے تو وہ بھی قبول کر لیا جائے۔ اس لئے ہم نے اس جامع مسجد اور مدرسہ کی تعمیر کا انحصار اللہ کے توکل اور عام مسلمانوں کے تعاون پر کیا ہوا ہے۔ ہمیں اللہ کی ذات پر یقین ہے کہ یہ مسجد مدرسہ اور اساتذہ کی رہائش گاہیں اور اس عظیم منصوبہ کے سارے کام آپ فدایان ختم نبوت کے تعاون سے مکمل کرائے گا۔
حاضرین محترم ! اب ربوہ کو ہم نے اپنی جماعت کا سب ہیڈ کوارٹر بنالیا ہے۔ حضرت مولانا تاج محمود اس زون کے نگران ہیں۔ مولانا اللہ وسایا کی سرکردگی میں متعدد مبلغین ربوہ اور ربوہ کے گردونواح کے دیہات میں کام کر رہے ہیں۔ مرکز ملتان مجلس تحفظ ختم نبوت
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
کے پچاس ملازمین دفاتر میں خدمت گزاری کے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ یہ تقریباً سو کارکن جماعت کے ہمہ وقتی خادم ہیں اور ان کو مجلس معقول ماہوار تنخواہیں اور دوسرا سفر خرچ وغیرہ اخراجات اپنے بیت المال سے ادا کرتی ہے۔ پانچ مدرسے جماعت کی سرکردگی میں درس وتدریس کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔
لٹریچر
اس کے علاوہ جماعت مقدور بھر ہزاروں روپیہ کا انگریزی، اردو، عربی زبانوں میں لٹریچر شائع کر کے تقسیم کرتی ہے۔ بیرونی ممالک سے اکثر ہمیں خطوط موصول ہوتے ہیں اور وہاں کے لئے ہم سے انگریزی اور عربی زبان کا لٹریچر طلب کیا جاتا ہے جو ہم بلا قیمت ارسال کرتے رہتے ہیں۔ گزشتہ ایک سال سے جماعت کے مبلغین کو ہدایت کر دی گئی ہے کہ وہ نام ونمود شہرت و پروپیگنڈے اخبارات میں تصویریں اور کارروائیاں چھپنے سے بے نیاز ہو کر ان دیہات کا دورہ کریں جہاں گاؤں کا کچھ حصہ اہل اسلام اور کچھ حصہ مرزائیوں پر مشتمل ہے۔ بعض دیہات میں اب تک ایک برادری کے لوگ آدھے مسلمان اور آدھے مرزائی ہیں۔ لیکن ان کی رشتہ داریاں اور تعلقات قائم ہیں۔ ہمارے مبلغین ایسے دیہات میں اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر جارہے ہیں اور مشکلات کے باوجود وہاں کفر اور اسلام کا فرق سمجھایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ نوجوان نسل نے ہمارے مبلغین سے تعاون کیا ہے۔ نوجوانوں کی تنظیمیں بن گئی ہیں۔ بے شمار دیہات میں ہمارے دفاتر کھل گئے ہیں اور اب وہاں مرزائیوں کا طلسم ٹوٹ رہا ہے۔ گزشتہ سال کوئی ایک درجن دیہات میں مرزائیوں سے مناظرے طے ہوئے۔ ہمارے مبلغ حضرات وقت پر کتابیں لے کر پہنچ گئے۔ اکثر جگہ مرزائی مبلغین سرے سے پہنچے ہی نہیں۔ اگر کہیں پہنچے اور مناظرہ ہوا۔ اللہ نے حق کا بول بالا کیا اور جھوٹ کا منہ کالا کیا۔
حضرات گرامی قدر! اس وقت مجلس کے دو ہفتہ وار ترجمان مجلس تحفظ ختم نبوت کے مشن اور مقاصد کی نشر واشاعت میں مصروف ہیں۔ ہفتہ وار ”لولاک“ فیصل آباد مولانا تاج محمود کی زیر ادارت گزشتہ اٹھارہ برس سے اس فتنہ کے خلاف مصروف جہاد ہے اور اس سال سے ہفتہ وار ”ختم نبوت“ کراچی جناب عبدالرحمن یعقوب باوا کی زیر ادارت اس جہاد میں شریک ہو چکا ہے۔ مجلس کے یہ ترجمان مرزائیوں کے گمراہ عقائد کا نوٹس لینے کے علاوہ ان کے ملک دشمن عزائم کے بھی پردے چاک کر رہے ہیں۔
محترم حضرات! آخر میں اگرچہ یہ عرض کرنے کی ضرورت نہیں کہ مرزائیت کا سارا کاروبار جھوٹ، فریب کاری، دھوکہ دہی سے چندے بٹورنے اور ایک مغل فیملی کے لئے شاہانہ ٹھاٹھ مہیا کرنے کے علاوہ کچھ نہیں۔ لیکن ان کے ربوہ سے بے شمار پرچے نکلتے ہیں۔ ان کے پاس بے شمار مالی وسائل موجود ہیں۔ میں اس وقت یہ بحث نہیں کرنا چاہتا کہ سامراجی طاقتیں دنیائے اسلام کو برباد کرنے کے لئے کن کن ذرائع سے ان کو پیسہ مہیا کرتی ہے۔ لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ ہماری حکومتوں نے تمام مسلمانوں کے اوقاف قبضہ میں لے لئے ہیں۔ لیکن آج تک کسی مسلمان حکمران کو یہ سعادت نصیب نہیں ہوئی کہ وہ کروڑوں روپیہ کے قادیانی اوقاف پر قبضہ کرے۔ ان کے مالی وسائل کا آپ اس سے اندازہ کریں کہ مستقبل قریب میں ان کا صد سالہ جشن ہونے والا ہے۔ مرزا ناصر جو حال ہی میں مرا ہے اس نے پانچ کروڑ روپیہ اس جشن کے لئے اکٹھا کرنے کی اپیل کی تھی۔ لیکن ہماری اطلاع کے مطابق اب تک ان کے پاس ایک ارب روپیہ جمع ہو چکا ہے۔ یہ روپیہ کہاں کہاں سے آیا، کن دشمن اسلام طاقتوں نے انہیں دیا ہے، اس کی تحقیقات کا درد سر کون ذمے لیتا ہے؟ اسرائیل دنیائے اسلام کا بدترین دشمن ہے۔ حال ہی میں بدبخت یہودیوں نے فلسطینی اور لبنانی مسلمانوں پر جو مظالم ڈھائے ہیں اس نے ظلم اور تشدد کے پچھلے
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
سارے ریکارڈ مات کر دیئے ، اسرائیل نے اپنے ہاں سے تمام مذاہب کے مشن بند کر دیئے ۔ لیکن قادیانیوں کا مشن آج تک وہاں موجود ہے اور لندن کے ایک یہودی مصنف کی لکھی ہوئی کتاب کے انکشافات کے مطابق اسرائیلی فوج میں قادیانی جوان بھی موجود ہیں جو یہودیوں کے شانہ بشانہ عربوں کے خلاف لڑتے ہیں۔ لیکن ”الفضل“ کو مرزا ناصر کی موت کے بعد پاکستانی اخبارات سے مرزائیوں کے بارے میں چھپنے والی خبروں سے بڑا صدمہ پہنچا ہے اور اس نے اپنے مقالے میں صحافیوں سے اپیل کی ہے کہ ہمارے بارے میں ہمیشہ ہی یہ جھوٹ بولا جاتا ہے کہ جماعت احمدیہ میں پھوٹ پڑی ہوئی ہے اور اختلافات و انتشار ہے۔
الفضل کے اس مقالے کا جواب دینا پاکستانی صحافیوں کی ذمہ داری ہے۔ لیکن میں الفضل کے ایڈیٹر سے پوچھتا ہوں کہ کیا تمہاری جماعت کے ہر سربراہ کی موت کے بعد تمہارے اندر ایک نئی پھوٹ ایک نئی جنگ اور اس کے نتیجہ میں ایک نیا فرقہ نہیں بنتا رہا۔ اپنے گریبان میں منہ ڈال کر بتاؤ کہ حکیم نور الدین بھیروی ہیڈ آف دی جماعت کی موت کے بعد مولوی محمد علی لاہوری اور ان کے ہزاروں ساتھیوں نے مرزا محمود کی سرپرستی کو رد کرتے ہوئے علیحدہ لاہوری جماعت نہیں بنائی تھی؟ پھر ربوہ میں مرزا محمود کی موت کے بعد ہزاروں نوجوانوں نے مرزا ناصر کی سربراہی پر تبرا کرتے ہوئے اپنی علیحدہ تنظیم حقیقت پسند پارٹی نہیں بنائی تھی؟ اور اب مرزا ناصر کی موت کے بعد تم نے مرزا غلام احمد قادیانی کے پوتے مرزا رفیع کی اپنی نام نہاد عبادت گاہ میں پٹائی نہیں کی اور کیا مرزا رفیع تمہارے انتخابی اجلاس سے واک آؤٹ کر کے نہیں نکلا اور اس نے اجلاس سے باہر نکل کر بازار میں کھڑی ہوئی ایک بس کے اوپر کھڑے ہو کر یہ نہیں کہا کہ انتخابی اجلاس کے اندر دھاندلی اور فراڈ کے علاوہ کچھ نہیں اور میں اس فراڈ کی پیروی نہیں کروں گا؟ اور کیا باہر سے جانے والے لوگوں حتیٰ کہ لاہور کے ایک معروف روزنامہ کے صحافیوں کو مرزا رفیع کے دروازے پر متعین تمہاری سی آئی ڈی نے مرزا رفیع سے ملنے دیا تھا؟ اور کیا یہ امر واقعہ نہیں ہے کہ پاکستان کے ہزاروں مرزائیوں نے ابھی تک تمہارے نئے سربراہ کے ہاتھ میں ہاتھ نہیں دیا ہے اور جب ابھی تک اندرون ملک کی تمہاری بغاوت فرو نہ ہوئی تھی تو تمہارے نئے سربراہ کو یورپ جانے کی کیا ضرورت پڑ گئی تھی؟ تمہارا تو سارا تانا بانا جھوٹ پر مبنی ہے اور تم مسلمان صحافیوں پر الزام عائد کرتے ہو کہ وہ تمہارے متعلق جھوٹ لکھتے ہیں۔
آخری بات
میں صدر جناب ضیاء الحق ، گورنر پنجاب جناب جیلانی صاحب سے اپیل کرتا ہوں کہ ربوہ کے شہریوں کو ان کے گھروں کی زمین کے مالکانہ حقوق دیئے جاسکیں۔ یہ زمین پنجاب کے آخری انگریز گورنر نے ایک آنہ مرلہ کے حساب سے لیز پر دی تھی۔ لیکن بعد میں ریکارڈ خرد برد کر کے اور بڑے بڑے سرکاری عہدوں پر فائز مرزائیوں نے ہیرا پھیری کر کے اس لیز کو مالکانہ حقوق میں بدل دیا اور ایک آنہ مرلہ سرکار سے لی ہوئی زمین تین سو روپیہ سے لے کر ایک ہزار روپیہ مرلہ تک انہوں نے مرزائیوں کو لیز پر دے رکھی ہے۔ ملبہ مکان والے کا ہے اور زمین انجمن کی ملکیت ہے۔ جس آدمی کے متعلق ذرا شبہ یا شکایت پہنچتی ہے اس سے زبردستی مکان خالی کرا لیا جاتا ہے یا اس کا سوشل بائیکاٹ کر کے اس پر ربوہ کی زمین اور زندگی تنگ کر دی جاتی ہے۔ آج حکومت ربوہ کے مکینوں کو ان کے مکانوں کے مالکانہ حقوق دے یا خود مرزائی جماعت اخلاقی جرأت کا ثبوت دیتے ہوئے انہیں مالکانہ حقوق دے دے تو دنیا دیکھے گی کہ جماعت احمدیہ میں انتشار اور اختلاف کی خبریں سچی ہیں یا جھوٹ؟ میں اس کانفرنس میں پوری ذمہ داری سے اعلان کرتا ہوں کہ اگر آج حکومت ربوہ کے مکینوں کو ان کے مکانوں کے مالکانہ حقوق دلوا دے تو رائل فیملی کے شہزادوں کے ستائے اور دکھی ربوہ کے آدھے لوگ مرزائیت کو چھوڑ کر اسلام کے دائرے میں داخل ہو جائیں۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
آخر میں میں ایک دفعہ پھر اپنی طرف سے، مجلس تحفظ ختم نبوت کے تمام اراکین اور پوری مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں اور آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے اس ناساز موسم میں سفر کی صعوبتیں اور مالی ایثار برداشت کر کے شرکت کی اور حضور خاتم النبیین ﷺ سے اپنی والہانہ عقیدت اور محبت کا ثبوت دیا۔ چونکہ اس جگہ یہ ہماری پہلی کانفرنس ہے اگر کسی وجہ سے بھی آپ کو کوئی تکلیف ہو یا آپ کے شایان شان ہمارے کارکن آپ کی خدمت نہ کر سکیں تو آپ سے سے درخواست ہے کہ آپ ہمیں معاف فرمائیں اور مجلس کے ساتھ اپنے تعلق اور رابطہ کو زیادہ سے زیادہ اور پختہ سے پختہ بنائیں۔
اللہ تعالیٰ آپ سب حضرات کو دنیا و آخرت میں اس کی نیک جزاء دے اور دونوں جہان کی سربلندی نصیب فرمائے۔ آمین!
خطبہ استقبالیہ کے بعد مولانا محمد یعقوب چنیوٹی، مولانا خورشید احمد، مولانا اختر کاشمیری، مولانا محمد امجد تھانوی، قاری نور الحق ایڈووکیٹ، مولانا عبدالرحمن اشرفی اور مولانا عبدالقادر آزاد نے خطاب فرمایا۔ سائیں محمد حیات پسروری، مرزا غلام نبی جانباز اور دیگر شعراء نے منظوم کلام پیش کیا۔ یہ اجلاس پونے ایک بجے دوپہر اختتام پذیر ہوا۔
۷؍ ستمبر صبح کی نماز کے بعد مولانا محمد شریف جالندھری نے درس قرآن دیا جو تقریباً ایک گھنٹہ تک جاری رہا۔
چوتھا اجلاس
چوتھا اجلاس ۷؍ ستمبر بروز منگل ساڑھے دس بجے صبح شروع ہوا۔ اس اجلاس کی صدارت جناب حضرت مولانا سید انور حسین نفیس رقم (خلیفہ ارشد حضرت مولانا عبدالقادر صاحب رائے پوری) نے فرمائی۔ اس اجلاس سے میاں محمد شاہ داتا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا ممتاز الحسن گیلانی، مولانا محمد عرفان قادری ٹنڈو آدم اور مولانا قاضی عبداللطیف شجاع آبادی نے خطاب فرمایا۔ منظوم ہدیہ عقیدت حافظ محمد شریف منچن آبادی، احمد بخش چشتی، حفیظ جالندھری، مرزا غلام نبی جانباز، سائیں محمد حیات پسروری اور دیگر شعراء نے پیش کیا۔
پانچواں اجلاس
پانچواں اجلاس جناب قاری عبدالرزاق صاحب کی تلاوت سے ہوا۔ یہ اجلاس بعد نماز ظہر ٹھیک اڑھائی بجے شروع ہوا۔ اس کی صدارت مولانا محمد اشرف ہمدانی نے کی۔ مولانا نور اللہ چترالی، حضرت مولانا مفتی عبدالرحمان نائب امیر مجلس تحفظ ختم نبوت، مولانا قاضی محمد مشتاق خطیب مانسہرہ، شیعہ رہنما مولانا غضنفر علی کراروی نے خطاب کیا۔ حافظ محمد شریف منچن آبادی، سائیں محمد حیات پسروری اور دیگر شعراء نے منظوم نذرانہ پیش کیا۔
آخری اجلاس
چھٹا اور آخری اجلاس حضرت امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب کی صدارت میں عشاء کے بعد شروع ہوا۔ اس اجلاس سے مولانا جمال اللہ الحسینی، مولانا عبدالروف، مولانا کریم بخش لاہور، مولانا ضیاء الدین آزاد، مولانا امداد الحسن نعمانی، مولانا نور الحق نور پشاور، مولانا سعید الرحمن احمد، مولانا احسان اللہ فاروقی، راؤ عبدالمنان، مولانا تاج محمود، مولانا عبدالمجید ندیم، مولانا محمد لقمان علی پوری، مولانا عبدالشکور دین پوری نے خطاب کیا۔ یہ اجلاس ٹھیک ۲ بجے رات حضرت امیر مرکزیہ کی پرسوز دعا پر اختتام پذیر ہوا۔ کانفرنس کی دو دن میں کل چھ نشستیں ہوئیں۔ تمام نشستوں میں سٹیج سیکرٹری کے فرائض خطیب ربوہ حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب اور مولانا سید منظور احمد شاہ حجازی نے انجام دیئے۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
پنڈال کا منظر
چنیوٹ کی طرف سے دریائے چناب کا دوسرا پل عبور کریں تو مسلم کالونی کا علاقہ شروع ہو جاتا ہے۔ چناب کے پل سے ہی مرکز ختم نبوت اور جامع مسجد ختم نبوت نظر آتی ہے۔ لیکن کانفرنس کے موقعہ پر وہاں شامیانے ہی شامیانے نظر آ رہے تھے۔ جس سے فیصل آباد اور لاہور کی طرف سے آنے والے سامعین کی رہنمائی ہو جاتی تھی اور وہ آسانی کے ساتھ سٹاپ پہ اتر کر مرکز ختم نبوت پہنچ جاتے تھے۔ سٹاپ پر باب امیر شریعت کے نام سے ایک خوبصورت دروازہ بنایا گیا تھا۔ جس پر ایک بہت بڑا بینر لگا ہوا تھا۔ جس کی دائیں جانب خانہ کعبہ کی شبیہ اور بائیں جانب مسجد نبوی کی شبیہ بڑے خوبصورت انداز میں کپڑے پر ڈیزائن کی ہوئی تھی۔ خانہ کعبہ پر کلمہ طیبہ ’لا اله الا الله محمد رسول الله‘ اور مسجد نبوی پر ’وما ارسلنک الا رحمۃ اللعالمین‘ بڑے خوبصورت عربی رسم الخط میں تحریر تھا اور درمیان میں لکھا تھا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے زیر اہتمام دو روزہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس۔ خانہ کعبہ کے ساتھ گول دائرے میں حدیث ’انا خاتم النبیین لا نبی بعدی‘، مسجد نبوی کے ساتھ دائرے ہی میں حدیث پاک ’اول الانبیاء آدم و آخرهم محمد‘ تحریر تھی۔
ریلوے پھاٹک عبور کریں تو ایک دروازہ ، ’باب خطیب پاکستان حضرت مولانا قاضی احسان احمد صاحب شجاع آبادی‘ کے نام سے بنایا گیا تھا۔ اس دروازے پر ایک بہت بڑا بینر لگا ہوا تھا جس پر آیت کریمہ ’ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبیین‘ تحریر تھا اور اس کے نیچے یہ شعر لکھا ہوا تھا۔
اس کے بعد تیسرا گیٹ تھا جو مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھری کے نام سے موسوم تھا۔ اس پر یہ حدیث پاک درج تھی۔ ’سيكون فى امتى ثلثون كذابون كلهم يزعم انه نبى الله و انا خاتم النبیین لا نبى بعدی‘ جس کے نیچے یہ اشعار تحریر تھے۔
نہ جب تک کٹ مروں میں خواجۂ یثرب کی عزت پر خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا
مسلم کالونی کا مسلم بازار
مسلم کالونی میں سوائے مرکز ختم نبوت کے اور کوئی آبادی نہیں تھی۔ لیکن کانفرنس کے ایام میں دریائے چناب کے پل پر کھڑے ہو کر جیسا نیچے دیکھتے تو شامیانوں اور قناتوں کا طویل سلسلہ دیکھ کر یوں محسوس ہوتا تھا جیسے یہاں کوئی نیا شہر آباد ہو گیا ہے یا پھر کئی ڈویژن فوج نے یہاں پڑاؤ ڈال رکھا ہے۔ جب تیسرا دروازہ یعنی باب مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھری گزریں تو وہاں سے مسلم بازار شروع ہو جاتا تھا۔ اس بازار پر ایک نظر ڈالنے سے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے کوئی بہت بڑا میلہ لگا ہوا ہے۔ چار پانچ چھوٹے بڑے ہوٹل تھے ۔ جن میں سو سے دو اڑھائی سو افراد کے بیک وقت بیٹھ کر کھانا کھلانے کا انتظام تھا۔ ہوٹلوں میں ہر قسم کی مٹھائی ، چھوٹے بڑے گوشت ، دال سبزی ، پلاؤ اور زردے وغیرہ کا انتظام تھا۔ ایک آدمی تین روپے سے آٹھ روپے میں ایک وقت کھانا کھا سکتا تھا۔ ہوٹلوں میں چائے کے ساتھ ٹھنڈے مشروبات کی بوتلیں بھی موجود تھیں ۔ علاوہ ازیں چائے اور مشروبات کے درجنوں سٹال تھے۔ چنیوٹ سے بیسیوں ریڑھی والے بھی آئے ہوئے تھے۔ جو پان ، شربت ، آئس کریم ، فروٹ ، کباب اور بچوں کے کھلونے فروخت کر رہے تھے۔ مرکز ختم نبوت کی دیوار سے
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء
ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
ملحقہ درجن بھر مکتبے سجے ہوئے تھے۔ بہت سے افراد عطریات، ٹوپیاں اور تسبیح فروخت کر رہے تھے۔ ان مکتبوں میں مجلس تحفظ ختم نبوت کا اپنا مکتبہ بھی تھا جس میں مجلس کی طرف سے شائع ہونے والی رد مرزائیت کی کتابیں موجود تھیں۔ مسلم بازار کی پچھلی جانب کھلے پارک میں سکوٹر اور سائیکل سٹینڈ بنایا گیا تھا۔
باب ختم نبوت
مرکز کے بڑے مشرقی گیٹ کو ”باب ختم نبوت“ کا نام دیا گیا تھا جسے نہایت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔ اس دروازے کے اوپر لگے ہوئے بینر پر آیت کریمہ ”یاایھا النبى انا ارسلنک شاہداً ومبشراً ونذیراً و داعیاً الیٰ اللہ باذنہ وسراجاً منیرا“ اور آیت کریمہ کے نیچے یہ شعر درج تھا ؎
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
لا يمكن الثناء كما كان حقه بعد از خدا بزرگ توئی قصه مختصر
سٹیج اور پنڈال
کانفرنس کے لئے سٹیج جامع مسجد ختم نبوت کے صحن میں لگایا گیا تھا۔ جو اینٹوں کی دو فٹ اونچی دیوار کھڑی کر کے تعمیر کیا گیا تھا۔ درمیان کی خالی جگہ میں مٹی بھر دی گئی تھی اور پورے سٹیج کو خوبصورت قالین اور دریوں سے ڈھانپ دیا گیا تھا۔ سٹیج پر صرف تین کرسیوں کا انتظام تھا۔ ایک صاحب صدر کے لئے دوسری مہمان خصوصی کے لئے تیسری مقرر کے لئے۔ اس طرح سٹیج پر زیادہ سے زیادہ افراد کے بیٹھنے کی گنجائش نکل آئی۔ کم از کم سو ڈیڑھ سو افراد سٹیج پر بیٹھ سکتے تھے۔ مسجد کے ہال سے لے کر مشرقی دیوار تک شامیانے لگائے گئے تھے تا کہ سامعین دھوپ کی تمازت سے محفوظ رہ سکیں۔ موسم انتہائی گرم تھا۔ حبس اور کثرت ہجوم کی وجہ سے گرمی کی شدت میں مزید اضافہ ہو گیا تھا۔ اس صورتحال سے بچنے کے لئے ہزاروں کی تعداد میں کھجور کے پٹھوں کے بنے ہوئے ہزاروں دستی پنکھے مہیا کئے گئے تھے۔ ہر شخص پسینے میں شرابور تھا۔ شوق و ذوق اور عقیدہ ختم نبوت سے قلبی لگاؤ اور عقیدت کا یہ عالم تھا کہ سامعین تھے کہ اٹھنے کا نام نہ لیتے تھے۔
حاضری
دو دن کی کل چھ نشستیں ہوئیں۔ پہلی نشست ۹ بجے صبح، دوسری بعد نماز ظہر، تیسری رات بعد نماز عشاء۔ دوسرے دن بھی اسی ترتیب سے نشستیں ہوئیں۔ دن کی نشستوں میں حاضری کم رہی جس کی وجہ یہ تھی کہ لوگ جو دور دراز کا سفر کر کے آئے تھے۔ وہ ربوہ کے وسط میں واقع مسجد محمدیہ دیکھنے کے لئے جوق در جوق جاتے رہے۔ سرگودھا، چنیوٹ، فیصل آباد اور ربوہ کے اردگرد کے علاقوں کے باشندے عموماً رات کی نشستوں میں شرکت کرتے تھے۔ جنہوں نے ربوہ پہنچنے کے لئے اسپیشل بسیں کی ہوئی تھیں۔ جب کہ قریب کے باشندے سائیکلوں، موٹر سائیکلوں، سکوٹروں اور ٹریکٹر ٹرالیوں اور بسوں کے ذریعے پہنچتے رہے۔
رات کی نشستوں کا یہ عالم تھا کہ مرکز ختم نبوت کا اندرونی حصہ کھچا کھچ بھرا ہوتا تھا۔ لاؤڈ اسپیکر کیمپوں میں بھی لگایا گیا تھا۔ جس کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں وہاں بھی سامعین بیٹھتے تھے اگر مجموعی حاضری کو دیکھا جائے تو ۹ کنال زمین جہاں یہ کانفرنس منعقد ہوئی میں تل
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
دھرنے کی جگہ باقی نہ رہے۔ عام خیال یہ ہے کہ پنڈال اور باہر گراؤنڈ کی حاضری کو دیکھا جائے تو مجموعی حاضری لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ بلکہ اس سے زیادہ تھی۔
کانفرنس کی نمایاں خصوصیت
اس کانفرنس کی جو سب سے زیادہ نمایاں بات تھی وہ یہ تھی کہ تمام مقررین نے قادیانیوں کے خلاف روایتی انداز سے ہٹ کر مثبت اور مؤثر تقریریں کیں۔ قادیانیوں کو ڈرانے، دھمکانے، سخت سست سنانے، طعنے اور کسی قسم کی اشتعال انگیزی اور دل آزاری کئے بغیر اسلام کی دعوت دی۔ امن کا پیغام پہنچایا اور انہیں یقین دلایا کہ وہ منزل کی تلاش میں یقیناً راہ حق سے بھٹک گئے ہیں اور ہم انہیں راہ حق کی نشاندہی کرنے، انہیں حضور رحمت للعالمین ﷺ کے دامن شفاعت میں آجانے کی دعوت دینے کے لئے آئے ہیں۔ بالخصوص ہفت روزہ لولاک کے ایڈیٹر حضرت مولانا تاج محمود کی تقریر ساری کی ساری اتحاد امت کی دعوت اور فرقہ واریت اور تعصب کے رد پر تھی۔ تقریر میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ ربوہ کی زمین جس کی ملکیت انجمن احمدیہ کے پاس، مکانوں کا ملبہ لوگوں کا ہے۔ لیکن مکان کی زمین کی ملکیت مرزا خاندان کی ہے۔ جس کی وجہ سے ربوہ کے مرزائی انتہائی مجبور انسان بن چکے ہیں۔
حضرت مولانا تاج محمود کی تقریر سے درج بالا بات اس لئے نقل کی کہ آج کل بھی چناب نگر (ربوہ) کے مرزائیوں کے ساتھ ان کی اپنی قیادت یہ سب کر رہی ہے۔ زمینیں انجمن کی ملکیت ہیں اور مکانات عام مرزائیوں کے بنے ہیں۔ اب وہ اس ڈر سے مرزائیت چھوڑ نہیں رہے کہ کہیں گھر سے نہ نکالے جائیں۔ حکومت کو اس معاملے پر خصوصی توجہ دینی چاہئے۔
(لولاک ستمبر، اکتوبر ۱۹۸۲ء)
ربوہ کانفرنس قومی اخبارات کی نظر میں
ختم نبوت کانفرنس ربوہ پر ملک کے تمام اخبارات نے رپورٹ، مضامین اور اداریے شائع کئے۔ روزنامہ مغربی پاکستان، وفاق لاہور، روزنامہ جنگ لاہور، روزنامہ نوائے وقت لاہور، روزنامہ امروز لاہور اور ملک کے دیگر روزناموں، ہفت روزوں اور ماہناموں نے کانفرنس کی کلی و جزوی کارروائی چھاپ دی تھی۔
ختم نبوت کانفرنس کوئٹہ
نومبر ۱۹۸۲ء کے آغاز میں کوئٹہ میں دو روزہ ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ کانفرنس میں کل دو اجلاس تھے۔ حضرت مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا اللہ وسایا، مولانا کریم بخش علی پوری، مولانا جمال اللہ حسینی، مولانا لقمان علی پوری، مولانا سید منظور احمد حجازی، مولانا محمد خان شیرانی اور مولانا خدا بخش شجاع آبادی نے بیانات کئے۔ کانفرنس کے انتظام وانصرام کی ذمہ داری مولانا نذیر تونسوی، مولانا قاری عبداللہ منیر، مولانا محمد نعیم ترین اور دیگر مقامی حضرات نے لی تھی۔ کانفرنس کی صدارت حضرت امیر شریعت کے رفیق خاص حاجی محمد یوسف نے کی۔
(لولاک مورخہ ۲۵؍ نومبر ۱۹۸۲ء)
ختم نبوت کانفرنس شیخوپورہ
۱۹؍ نومبر ۱۹۸۲ء کو شیخوپورہ جامع مسجد عید گاہ میں یک روزہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر، مولانا اللہ وسایا، مولانا سید ممتاز الحسن شاہ اور مقامی علماء نے بیانات فرمائے۔ مولانا سید عبدالمجید ندیم نے بھی شرکت اور بیان کیا۔ سید امین گیلانی،
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
(لولاک مورخہ ۲۵ /نومبر ۱۹۸۲ء)
حافظ محمد شریف منچن آبادی نے منظوم ہدیہ عقیدت پیش کیا۔
ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ
چنیوٹ ختم نبوت کانفرنس کا تذکرہ اور اہمیت کچھ پچھلے صفحات میں بیان ہو گئی۔ ۱۹۸۲ء کی کانفرنس تیسویں کانفرنس تھی۔ جو ۲۶، ۲۷، ۲۸ /دسمبر ۱۹۸۱ء کو پورے تزک واحتشام کے ساتھ منعقد ہوئی۔ چنیوٹ ، سرگودھا، چناب نگر ، فیصل آباد، جھنگ، مضافاتی علاقوں کی شرکت تین راتیں مسلسل جاری رہی۔ پاکستان کے دیگر شہروں پشاور، مردان، کوہاٹ ، کراچی ، حیدر آباد، سکھر ، ملتان، اسلام آباد اور دیگر چھوٹے بڑے شہروں سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ شریک ہوئے۔ دسمبر کی یخ بستہ اور ٹھنڈی راتوں کے باوجود شرکاء کی حاضری غیر معمولی رہی۔ ختم نبوت سے ان کی محبت وعقیدت دیدنی تھی۔
ہمیشہ کی طرح جلسہ گاہ سے باہر ایک مکان میں علماء کرام کی رہائش کا انتظام کیا گیا تھا۔ جب کہ دوسرے علاقوں سے آئے ہوئے شمع ختم نبوت کے پروانے گرلز سکول میں قیام پذیر تھے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما حضرت مولانا محمد شریف صاحب جالندھری، حضرت مولانا عزیز الرحمن صاحب جالندھری، حضرت مولانا قاضی اللہ یار صاحب اور مجلس کے مبلغین خطیب ربوہ مولانا خدا بخش شجاع آبادی، مولانا اللہ وسایا صاحب ربوہ، مولانا عبدالرؤف جتوئی ، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا ضیاء الدین آزاد، مولانا سید ممتاز الحسن شاہ صاحب گیلانی وغیرہم کے علاوہ مدرسہ ختم نبوت مسلم کالونی ربوہ کے اساتذہ قاری منیر احمد صاحب اور مدرسہ کے طلباء پوری مستعدی کے ساتھ مہمان حضرات کے خیر مقدم اور خدمت کے لئے ہمہ تن مصروف تھے۔ مجاہد تحریک ختم نبوت حضرت مولانا تاج محمود صاحب اور مولانا محمد اشرف ہمدانی بھی تین روز تک مسلسل چنیوٹ پہنچتے رہے۔
جو حضرات باہر سے کانفرنس میں شرکت کے لئے آئے تھے ان کے کھانے کا مکمل انتظام مجلس کے انتظامیہ نے کیا تھا۔ چنیوٹ مجلس کے سرکردہ راہنما حضرت مولانا نذیر احمد صاحب، حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب، جناب ظہور احمد صاحب، شیخ منظور احمد صاحب اور دیگر تمام دوستوں نے مہمانوں کے کھانے ، رہائش گاہ ، جلسہ گاہ اور اسٹیج کے انتظامات کو اچھی طرح نبھایا اور خود کو کانفرنس کے لئے وقف کئے رکھا۔
چنیوٹ کے زندہ دل مسلمان
بہت سے نوجوان پنڈال ، اسٹیج ، دفتر معلومات و استقبالیہ میں منتظمین کانفرنس کے ساتھ بھر پور تعاون کر رہے تھے۔ خاص طور پر چنیوٹ کے خاکسار رضا کار ہمیشہ کی طرح ایک مستعد اور چوکس سپاہی کی طرح ڈیوٹیوں پر مامور تھے۔ اسٹیج کے دونوں طرف تین چار سو کے لگ بھگ کرسیاں بچھائی گئی تھیں۔ جن کے لئے ٹکٹ تھے۔ ٹکٹ محض انتظامی مصلحتوں کے تحت رکھے گئے تھے۔ جن کی کوئی فیس نہیں تھی۔ مقامی صحافیوں اور پریس رپورٹروں کے لئے الگ انتظامات کئے گئے تھے۔ اسٹیج کے بائیں جانب پارک کے ایک گوشے میں شامیانے اور قناتیں لگا کر خواتین کے بیٹھنے کا انتظام کیا گیا تھا۔
پنڈال کو سردی کی وجہ سے شامیانوں سے ڈھانپ رکھا تھا اور اطراف میں قناتیں لگا دی گئیں تھیں۔ فرش پر بجائے دریوں کے پرالی بچھائی گئی تھی اور یہ صرف پنڈال ہی پر موقوف نہیں بلکہ گرلز سکول کے کمروں میں جہاں باہر سے آئے ہوئے مہمان ٹھہرے ہوئے تھے وہاں بھی پرالی کا انتظام کیا گیا تھا۔ پنڈال کو بجلی کی ٹیوبوں اور متعدد خوبصورت بینروں سے جن پر ختم نبوت زندہ باد، امیر شریعت زندہ باد، شہدائے ختم نبوت زندہ باد اور شہداء ختم نبوت کو سلام کے نعرے اور الفاظ تحریر تھے سجایا گیا تھا۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
مبلغین ختم نبوت کے دورے
یہ نامناسب ہوگا کہ ان مبلغین حضرات کی کوششوں کا تذکرہ نہ کیا جائے۔ جنہوں نے اس کانفرنس کو کامیاب کرنے کے لئے دورے کئے۔ حضرت مولانا قاضی اللہ یار، حضرت مولانا خدا بخش شجاع آبادی خطیب ربوہ، حضرت مولانا سید ممتاز الحسن شاہ صاحب گیلانی، حضرت مولانا احمد یار چاریاری اور مولانا اللہ وسایا صاحب نے ربوہ اور چنیوٹ کے اردگرد کے علاقوں فیصل آباد، جھنگ، شیخوپورہ وغیرہ اضلاع میں بھر پور تبلیغی دورے کئے اور لوگوں کو جہاں مجلس تحفظ ختم نبوت کی کارگزاریوں سے آگاہ کیا۔ وہاں اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت بھی دی۔ مولانا اللہ وسایا صاحب نے خوشاب اور سرگودھا کے مختلف مقامات کا دورہ کر کے جہاں فتنہ مرزائیت کا پردہ چاک کیا وہاں لوگوں کو کانفرنس میں شرکت کی دعوت بھی دی۔
اشتہارات
اس مرتبہ کانفرنس کے دو اشتہارات شائع کئے گئے تھے۔ پہلے چھوٹا اشتہار شائع کر کے تقسیم کیا گیا۔ بعد ازاں بڑا خوبصورت اشتہار شائع کر کے ربوہ اور چنیوٹ کے اردگرد کے علاقوں میں خصوصاً اور پورے ملک میں عموماً بذریعہ ڈاک بھیجا گیا۔ اخبارات بھی وقتاً فوقتاً خبریں شائع ہوتی رہیں۔ علاوہ ازیں مجلس تحفظ ختم نبوت کے ترجمان رسائل ہفتہ وار ”لولاک“ فیصل آباد اور ہفتہ وار ”ختم نبوت“ کراچی میں بھی ایک ماہ سے مسلسل اشتہارات شائع ہوتے رہے۔
خدشات
عام طور پر یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ ستمبر میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۶، ۷ / ستمبر ۱۹۸۲ء کو ربوہ میں جو تاریخی کانفرنس منعقد ہوئی اور جس میں کم و بیش ملک بھر سے ڈیڑھ لاکھ افراد نے شرکت کی۔ اس کے بعد شاید چنیوٹ کانفرنس میں وہ پہلی رونق نہیں ہو گی یہ خدشہ درست ثابت نہیں ہوا اور کانفرنس حسب روایات سابقہ پورے تزک واحتشام سے منعقد ہوئی۔ جس میں حاضری بھی بھر پور رہی۔
افتتاحی اجلاس
افتتاحی اجلاس ۲۶ / دسمبر ۱۹۸۲ء کو بعد نماز ظہر شروع ہوا۔ تلاوت قرآن کریم اور جناب مولانا محمد شریف ماہی تلمبہ، جناب صوفی حفیظ جالندھری صاحب کی ایمان افروز اور روح پرور نعتوں کے بعد مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد شریف جالندھری نے افتتاحی خطاب فرمایا۔ حضرت مولانا کی تقریر نہایت پر مغز اور جامع تھی۔ اسرائیل میں مرزائیوں کی ریشہ دوانیوں پر خاطر خواہ روشنی ڈالی۔ ان کے بعد ڈاکٹر محمد عبداللہ جتوئی (سابق مرزائی مبلغ) نے بیان فرمایا۔ ان کے بعد مولانا قاضی اللہ یار، مولانا ضیاء الرحمن آزاد نے بیانات فرمائے۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد یعقوب نے انجام دیئے۔
رات کی نشست
حاضری کے لحاظ سے بھر پور کامیاب رہی۔ جس کی صدارت تحریک ختم نبوت کے مجاہد، مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے مرکزی راہنما حضرت مولانا تاج محمود صاحب نے کی۔ تلاوت قرآن کریم کے بعد ممتاز شعراء ونعت خواں صوفی احمد بخش چشتی، صوفی حفیظ
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
جالندھری اور مجلس تحفظ حقوق اہل سنت کے ممتاز شاعر جناب حافظ سلطان احمد صاحب نے اپنا کلام پیش کیا۔ شعراء کے نعتیہ کلام کے بعد مولانا غلام مصطفیٰ صاحب بہاول پوری اور علامہ محمد احمد گوجرانوالہ کے خطاب کے بعد محدث عصر حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری صاحب کے صاحبزادے مولانا سید محمد بنوری نے اپنے مختصر خطاب میں مسئلہ ختم نبوت کے لئے پورے عزم و ہمت کے ساتھ کام کرنے کی تلقین کی اور یقین دلایا کہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان واحد جماعت ہے جو ناموس رسالت کے لئے ملک اور بیرون ملک میں مصروف ہے۔ مجلس کے رہنما جہاں حکم دیں گے میری خدمات حاضر ہیں۔ مولانا سید محمد بنوری صاحب کے خطاب کے بعد سٹیج سیکرٹری صاحب نے شیر اسلام خطیب ختم نبوت اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما حضرت مولانا محمد اشرف ہمدانی صاحب کو دعوت کلام دی۔
مولانا تاج محمود کا بیان
کانفرنس میں دیگر مقررین کے بیانات بھی نہایت پرمغز، دلکش اور مدلل تھے۔ مولانا تاج محمود نے نہایت ہی لازوال گفتگو فرمائی۔ آپ اس نشست کے صدر تھے۔ اپنی صدارتی تقریر میں مجلس کی پالیسی اور مرزائیوں کے خطرناک عزائم کا تفصیل سے تذکرہ فرمایا۔ آپ نے فرمایا:
چنیوٹ کے مسلمانوں کو مبارک باد
چنیوٹ اور اردگرد کے بہادر، غیور اور سچے پکے ساتھیو! یہ کانفرنس ہر سال چنیوٹ میں منعقد ہوتی ہے۔ آپ کو شاید علم ہو جب تک یہ ملک تقسیم نہیں ہوا تھا تو مسلمانوں کا پہلا مورچہ مرتدین اور مرزائیوں کے مقابلہ میں قادیان کے نزدیک ”بٹالہ شہر“ تھا۔ تقسیم ملک کے بعد یہ قرعہ فال چنیوٹ کے نام نکل آیا اور میں اپنے عزیز مولانا محمد یعقوب صاحب، مولانا نذیر احمد صاحب، جناب ظہور احمد صاحب، شیخ منظور احمد صاحب، اپنی جماعت کے پرانے ساتھیوں، شاہ صاحب کے پرانے خادموں اور جان نثاروں کو جو یہاں موجود ہیں یا نہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ یہ سب شاہ جی کا قافلہ ہے وہ سب اس قافلہ میں اتنی ہی اہمیت رکھتے ہیں جتنی اور رکھتے ہیں۔ میں اپنے چنیوٹ کے بہادر اور جانباز ساتھیوں سے کہتا ہوں ؎
احسان شاہ داں کہ بخدمت گزاشتی
یہ اس شہنشاہ کی مہربانی ہے کہ اس نے ختم نبوت جیسے مقدس مشن کے لئے ہم سب کی ڈیوٹی لگا دی اور اس مقدس مشن کے لئے ہمیں چن لیا۔ یہ مشن کتنا مقدس اور اہم ہے اس واقعہ آپ اندازہ لگا لیں۔
حضرت لاہوری کا واقعہ
میں (مولانا تاج محمود) اور مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین صاحب اختر قطب دوراں شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی صاحب لاہوری کی خدمت میں حاضر تھے۔ کچھ ختم نبوت کے ساتھیوں کا تذکرہ آ گیا۔ حضرت لاہوری نے فرمایا کہ: ”میں ختم نبوت کے ساتھیوں سے محبت کرتا ہوں۔“ اور پھر فرمایا کہ: ”میں کیا ان سے تو خود سرکار دو عالم ﷺ محبت فرماتے ہیں۔“ چنیوٹ کے ساتھیو! اس مقدس مشن اور ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے جن دوستوں نے کسی نہ کسی رنگ میں جو بھی خدمت کی ہے وہ سب مبارک باد کے مستحق ہیں۔ یہ چنیوٹ کی خوش قسمتی ہے ربوہ کے دروازے پر پہلی چوکی یہ چنیوٹ ہے۔ آپ لوگ حضور ﷺ کی ختم
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
نبوت کے لئے کام بھی کرو اور ساتھ خداوند مالک و خالق جل جلالہ کا شکر بھی ادا کرو کہ اس نے چنیوٹ کو اس مقدس خدمت کے لئے چن لیا ہے
بلال حبشی سے، صہیب روم سے، سلمان فارس سے آئے اور آکر حضور ﷺ کے غلاموں میں شامل ہوگئے۔ ابوجہل مکہ کا رہنے والا زم زم پی کر جوان ہونے والا مکہ میں رہ کر بھی ایمان جیسی دولت سے محروم رہا۔ چنیوٹ کے دوستو! یہ آپ پر بھی خدا کا فضل ہے اور آپ مبارک باد کے مستحق ہیں کہ آپ سے خدا، ناموس رسالت اور عقیدۂ ختم نبوت کی حفاظت کا کام لے رہا ہے۔
غازی علم دین شہید
لاہور میں ایک ہندو راجپال تھا اس نے ایک کتاب رنگیلا رسول شائع کی۔ جس میں دل آزاری کا مواد شائع کیا۔ شاہ محمد غوث میں جلسہ ہوا۔ اس جلسہ میں مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ اور سحبان الہند حضرت مولانا احمد سعید دہلوی جیسی اہم شخصیتیں موجود تھیں۔ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری کی تقریر تھی۔ انہوں نے تقریر کرتے ہوئے اپنے مخصوص انداز میں ہاتھ کا اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ”وہ دیکھو مفتی کفایت اللہ کے دروازے پر فاطمۃ الزہرا آئی ہیں اور فرماتی ہیں کہ ہے کوئی باغیرت جو میرے ابا کا انتقام لے“۔
پورے مجمع میں کہرام مچ گیا۔ اس وقت لاہور کی کل آبادی اڑھائی تین لاکھ افراد پر مشتمل تھی۔ یہ خوش قسمتی جس شخص کے حصے میں آئی وہ ایک ترکھان کا بیٹا غازی علم دین تھا۔ صبح ہوئی چھرا لیا۔ گستاخ رسول اور بے ادب راجپال کی دکان پر پہنچ کر اس کا کام تمام کر دیا۔ قتل کے جرم میں گرفتار ہوا۔ جیل گیا تا آنکہ اسے پھانسی کی سزا ہوئی۔ جس کو پھانسی کی سزا مل جائے تو پھر اسے پھانسی کوٹھری میں بند کر کے اس پر پھانسی پہرہ لگ جاتا ہے۔ اس پر پھانسی پہرہ لگ گیا۔ یہ میانوالی جیل کا واقعہ ہے۔ وہ سپاہی جو پھانسی پہرے پر متعین تھا اسکا کہنا ہے کہ اچانک اس کی کوٹھری میں روشنی ہوئی۔ سپاہی یہ سمجھا کہ یہ آگ لگا کر خودکشی کرنا چاہتا ہے۔ وہ دوڑ کر گیا اور کہا: علم دین! تیرے پاس ماچس ہے۔ اس نے کہا کہ نہیں ہے۔ وہ واپس گیا ہی تھا کہ پھر روشنی نمودار ہوئی۔ وہ پھر دوڑ کر گیا۔ لیکن اسے ماچس نہ ملی۔ واپس آیا ہی تھا کہ اچانک پھر کمرہ منور ہو گیا۔ اس نے پھر یہ سوچا کہ ہو نہ ہو کوئی ماچس، لائٹر یا آتشگیر مادہ اس کے کمرے میں ضرور موجود ہے اور یہ خود کشی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ آخر اس نے تالا کھولا۔ تلاشی لی ایک ایک چیز چھان ماری اسے کوئی چیز نظر نہ آئی۔ آخر اس نے پوچھا: علم دین یہ ماجرا کیا ہے اور کمرے میں یہ روشنی کیسی ہے؟ علم دین نے کہا کہ بات راز کی ہے لیکن تجھے میں بتا دیتا ہوں۔
”سرکار دو عالم رحمت اللعالمین ﷺ تین مرتبہ تشریف لا چکے ہیں۔ یہ جو تین مرتبہ کمرہ روشن ہوا یہ آپ ﷺ کی تشریف آوری کی وجہ سے ہوا۔ آپ نے مجھے تسلی دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ تھوڑی دیر کی بات ہے یہ تکلیف برداشت کر لو پھر حوض کوثر پہ میرے پاس پہنچ جاؤ گے۔ سبحان اللہ!“
حاجی مانک
یہ تو علم دین شہید کا واقعہ تھا۔ ابھی تھوڑے دنوں کی بات ہے ہماری جماعت کے ایک ساتھی حاجی مانک سندھ کے رہنے والے ہیں۔ وہ یہاں چنیوٹ کی کسی کانفرنس میں تشریف بھی لاچکے ہیں۔ آپ حضرات میں سے بہت سے دوستوں نے ان کی زیارت کی ہوگی۔ مرزائی مناظرہ کرنے کے لئے گئے۔ شرائط مناظرہ طے ہو رہی تھیں۔ مرزائی مناظر کہنے لگے عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوچکے۔ اس لے مناظرہ
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
وفات عیسیٰ پر ہوگا۔ ہمارے مناظر کہنے لگے کہ مرزا غلام احمد جھوٹا تھا اس لئے پہلے مناظرہ اس بات پر کریں کہ مرزا جھوٹا تھا یا سچا۔ گفتگو طویل ہوگئی۔ ایک مرزائی مناظر کہنے لگا کہ اگر آپ مرزا قادیانی کے صدق و کذب پر مناظرہ کریں گے تو یہ بحث محمد رسول اللہ ﷺ کے بارے میں بھی ہوسکتی ہے۔ (العیاذ باللہ) مانک شاہ اس محفل میں موجود نہیں تھا۔ اسے معلوم ہوا کہ فلاں بدبخت نے حضور اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بکواس کی ہے۔ صبح ہوئی۔ چھرا لیا اور اس کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ وہ شخص نہر کے کنارے باغ میں اکیلا مل گیا۔ اسے پکڑ کر نیچے گرا لیا اور اسے پوری طرح قابو کر کے اس کی زبان باہر نکال کر کہا کہ ”اسی زبان سے تو نے حضور پاک ﷺ کی شان پاک میں گستاخی کی تھی۔“
اس نے پہلے اس کی زبان کاٹی۔ پھر اس کا گلا کاٹ دیا اور پھر تھانے پہنچ کر کہا کہ میں نے فلاں گستاخ رسول ﷺ کو قتل کر دیا ہے۔ کیس رجسٹر ہو گیا۔ گرفتاری ہوئی۔ مقدمہ چلا۔ مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھری نے وہ مقدمہ لڑا اور حضرت مولانا محمد شریف صاحب جالندھری تشریف فرما ہیں۔ وہ حساب بتا سکتے ہیں اس مقدمہ پر جتنا پیسہ خرچ ہوا۔ وہ جماعت کا تھا۔
وکیل نے حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھری کو کہا کہ مولانا! حاجی مانک نے جو کام کیا وہ عشق و محبت کے جذبے سے سرشار ہو کر کیا ہے۔ قتل کی سزا موت ہے۔ جان بچانا فرض ہے۔ آپ کی وہ بات مانتا ہے۔ آپ اسے کہہ دیں کہ وہ اپنا بیان تھوڑا سا بدل لے۔ مولانا محمد علی نے مانک شاہ کو کہا کہ مانک شاہ! میں یہ تو نہیں کہتا کہ اپنا بیان بدل لے۔ لیکن اسلام میں جان بچانا فرض ہے۔ حتی کہ اگر کوئی شخص فاقے میں حال سے بے حال ہو جائے تو اسے بقدر ضرورت حرام کھا کر اپنی جان بچا لینا چاہئے۔ حاجی صاحب نے جب مولانا کی زبان سے یہ سنا تو ان کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔ اس نے کہا۔ مولانا! کم از کم آپ تو مجھ سے یہ بات نہ کہیں۔
راز کی بات
پھر اس نے کہا کہ مولانا! آج میں آپ کو راز کی بات بتا رہا ہوں۔ میں چھوٹا سا تھا مجھے خواب میں حضور سرکار دو عالم ﷺ کی زیارت کا شوق پیدا ہو گیا۔ کسی نے کہا کہ تم درود شریف پڑھا کرو۔ میں نے درود شریف پڑھنا شروع کیا۔ لیکن گوہر مقصود حاصل نہ ہوا۔ پھر کسی نے کہا کہ فلاں آیت کریمہ کا وظیفہ پڑھا کرو۔ میں نے اس پر عمل شروع کر دیا۔ پھر بھی زیارت نصیب نہ ہوئی۔ میری درود شریف پڑھتے ، وظیفے کرتے اتنی عمر بیت گئی ہے۔ میرے دل میں یہ تمنا تھی ، آرزو تھی کہ حضور ﷺ کی زیارت ہو جائے۔ لیکن جس دن سے میں اس بے ایمان، مرتد اور گستاخ کو قتل کر کے جیل پہنچا ہوں مجھے میرا گوہر مقصود مل گیا۔ کوئی رات ایسی نہیں گزرتی جس رات کو آقائے نامدار ﷺ کی زیارت سے محروم رہا ہوں۔ سبحان اللہ!
میں نے یہ چند باتیں اپنے دوستوں کے لئے عرض کی ہیں جو چنیوٹ کے محاذ پر ہیں۔ اگر وہ کسی وجہ سے اگلی صفوں کی بجائے پچھلی صفوں میں ہیں ، یہاں موجود ہیں یا نہیں ہیں وہ دوست مجھ پر میری جماعت پر شکوہ نہ کریں۔ بس وہ سبز گنبد والے کی طرف دیکھیں۔ اس کی عزت کی طرف دیکھیں اور اگلی صفوں میں آنے کی کوشش کریں۔ یہ مسئلہ تنظیم کا ہے۔ ایک ہونے کا ہے۔ باہمی اتفاق و اتحاد کا ہے۔ اس شکست و ریخت کے زمانے میں وہ جماعت کے ساتھ ملیں۔ اس انتظار میں نہ رہیں کہ میں آپ کے دروازے پر آؤں گا۔ میرے مبلغ اور ساتھی آپ کے پاس آئیں تو وہ خیرات ڈالیں۔ میں کالی کملی والے ﷺ کا غلام ہوں۔ میرے ساتھی کالی کملی والے کی عزت کے سپاہی ہیں۔ یہ آپ کے دروازے پر چلے جائیں تو یہ ان کی مہربانی ہے۔ لیکن فریضہ آپ کا ہے کہ آپ انہیں ڈھونڈ کر ملیں اور ان سے پوچھیں کہ جماعت کا کیا کام ہے۔
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
ایک اور بات
ایک بات میں اور عرض کرتا ہوں کہ چنیوٹ کے دوستو! تھوڑی سی تیاری کرلو۔ کچھ آزمائش آنے والی ہے۔ مجھے اس وقت ملک کی جو حالت ہے اس کا بخوبی اندازہ ہے افغانستان کی سرحد پر روس بیٹھا ہے اور موقعہ کی تلاش میں ہے کہ وہ بلوچستان میں کب اور کس طرح داخل ہو۔ یہ اندرا گاندھی حکومت شاید اس کے چکروں میں مبتلا ہو جائے۔ لیکن ہم لوگ ان کراڑوں کے چکروں کو سمجھتے ہیں۔ ہندوستان نے اتنا اسلحہ اکٹھا کیا ہے کہ اس کے رکھنے کے لئے ہندوستان کے پاس جگہ کوئی نہیں ہے۔ پچاس کے قریب آرڈیننس فیکٹریاں ان کی چل رہی ہیں جو دن رات گولے بنا رہی ہیں۔ بم بنا رہی ہیں۔ اسلحہ ٹینک، ہوائی جہاز بنا رہی ہیں۔ یہ سمندر کی مچھلیوں اور چین سے لڑنے کے لئے نہیں گئے تھے نہ ایک دفعہ چین سے لڑنے کے لئے گئے ہیں۔ بھیڑیوں کے ساتھ یہ بھی بھیڑ بن گئے اور پھر ایسے بھاگے کہ دہلی آ کر سانس لیا۔
یاد رکھو! صدر ضیاء الحق صاحب کو کام کرنے دو۔ وہ ملک کا ہیڈ ہے۔ سربراہ ہے اسے اپنی گیم کھیلنے دو۔ اپنی مشکلات وہ خود جانتے ہیں۔ وہ کہیں جائیں سمجھوتہ کریں، نہ کریں۔ یہ خارجہ پالیسی کی بات ہے۔ لیکن میں آپ لوگوں سے کہتا ہوں کہ آپ کو جلانے کے لئے، آپ کو تباہ کرنے کے لئے ارد گرد منصوبے بن رہے ہیں اور اسلحے اکٹھے کئے جا رہے ہیں۔ یہ پوزیشن بھی میرے سامنے ہے۔ لیکن اگر کچھ دوست ناراض نہ ہوں تو ایک عذاب الٰہی بھی آیا ہوا ہے۔ اس کی طرف بھی اشارہ کرتا ہوں۔
کوئی جماعت ایسی نہیں جسے استحکام اور مضبوطی حاصل ہو۔ جن جماعتوں کی بنیاد تقویٰ پر، فی سبیل اللہ محبت اور تقدس پر تھی آج وہ بھی دو لخت ہو چکی ہیں۔ روس اگر افغانستان میں داخل ہو کر آپ کی سرحدوں پر پہنچ چکا ہے تو یہ افغانستان کی پہاڑیوں کے لئے نہیں بلکہ اس کے پیش نظر پنجاب کے میدان اور بلوچستان کی بندرگاہیں ہیں۔ یہاں آنا چاہتا ہے۔ لیکن وہ پٹھان بابا راستے میں حائل ہے۔ ہمارے شاہ صاحب (حضرت امیر شریعت) پٹھانوں کی نقل اتارا کرتے تھے۔ وہ فرمایا کرتے تھے کہ پٹھان کسی دروازے پر مانگنے بھی جائے تو کہتا ہے: ’’خوچے مائی روٹی دیو‘‘
مائی بچوں کو کھانا کھلا چکی ہوتی ہے اور روٹی نہ ہو تو مائی کہہ دیتی ہے کہ خان بابا روٹی نہیں ہے تو وہ کہتا ہے: ’’خوچے کیوں نہیں روٹی۔‘‘ وہ غیور قوم روس کے راستے میں حائل ہے۔ اس قوم کا تیس لاکھ افراد اجڑ کر یہاں آیا ہوا ہے۔ جب میں فلسطینی مسلمانوں کی طرف دیکھتا ہوں جنہیں یہودیوں نے گھروں سے بے گھر کیا۔ بے دردی سے قتل کیا۔ مکھیوں کی طرح مارا، وہ آج تک اپنے گھروں کو واپس نہیں جاسکے۔ میں جب ان کی طرف دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ کیا یہ تیس لاکھ پٹھان اپنے گھروں کو واپس بھی جاسکیں گے؟ ملک کے حالات یہ ہیں اور اتفاق کا یہ عالم ہے کہ جماعتیں ٹکڑے ہو چکی ہیں۔ جن کی بنیادیں تحت الثریٰ تک تھیں۔ وہ جماعتیں ٹکڑے ٹکڑے ہو چکی ہیں۔
اس ماحول کے بعد جو میں نے آپ کے سامنے رکھا اب آئیے۔ ربوہ کی طرف، کیونکہ میں اب ربوہ کا باسی ہوں۔ ربوہ کا رہنے والا ہوں۔ میری وہاں پر پراپرٹی ہے۔ پلاٹ ہے۔ اگر اس شہر میں مرزا طاہر کو رہنے کا حق ہے تو تاج محمود کو بھی اس شہر میں رہنے کا حق ہے اور قانونی حق ہے۔ میں اتنا کہتا ہوں کہ جتنا ربوہ اور ربوہ کے مظلوم لوگ جن کی اس رائل فیملی نے عزتیں آبروئیں لوٹی ہیں، ظلم ڈھائے ہیں وہ طاہر احمد کے ساتھ نہیں۔ وہ تاج محمود کے ساتھ ہیں۔ آج مکانوں کے حقوق ملکیت ان کو مل جانے دو۔ پھر میں اگلے دن میں مرزا طاہر احمد کو ربوہ میں الیکشن لڑنے کا چیلنج دوں گا اور اگر میں نے ربوہ مرزا طاہر کی ضمانت ضبط نہ کرائی تو پھر میرا نام تاج محمود نہیں کچھ اور ہے۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
ہماری غلطی؟
ہم سے ربوہ میں ایک بہت بڑی غلطی ہو گئی۔ یہ جو ستمبر گزر رہا ہے اس میں ہم نے مسلم کالونی ربوہ میں ایک بہت بڑی کانفرنس کروائی۔ جس میں ڈیڑھ دو لاکھ افراد شریک ہوئے۔ مرزائیوں کی نظر میں وہ ہماری نا قابل معافی غلطی ہے اور انہوں نے گز بھر زبانیں نکال لیں۔ یہاں مولانا محمد یعقوب، مولانا نذیر احمد، بھائی ظہور یہ اس وقت کی بات ہے جب مرحوم الٰہی بخش شہید ہوئے تو ایک کانفرنس ہوئی تھی۔ جس میں شاہ صاحب شریک ہوئے تھے۔ اس وقت سے چنیوٹ کے دوستوں کو میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ ہمیشہ حضور ﷺ کے نام پر مر مٹنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ بہر حال ان دوستوں نے ربوہ میں ستمبر کی کانفرنس کو کامیاب کرنے کے لئے بھر پور کوشش کی۔ وہ کانفرنس ہوئی یہ غلطی تھی ہماری؟ اس کی کس سے معافی مانگیں۔ مرزا طاہر سے؟ جس کے دادا نے انگریز سے معافی مانگی تھی کہ جی آئندہ میں کوئی الہام شائع نہیں کروں گا۔ کیا یہ پیغمبروں کی شان ہے؟
حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا
پیغمبروں کی شان تو یہ ہے کہ حضور ﷺ معراج سے تشریف لائے۔ حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا سے سارا واقعہ بیان کیا اور فرمایا کہ میں جا کر اعلان کرنے لگا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے رات بیت المقدس پہنچایا۔ میں نے نبیوں کی امامت کی۔ میں نے آسمانوں کی سیر کی۔ سدرۃ المنتہیٰ اور قاب قوسین تک لے گیا۔ مائی خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا حضور ﷺ قوم پہلے ہی بہت مخالف ہے۔ آپ اعلان نہ کریں۔ قوم زیادہ مخالف ہو جائے گی۔ حضور ﷺ نے فرمایا۔ خدیجہ! میں کیوں اعلان نہ کروں۔ ”میں تو اللہ کا سچا نبی ہوں“ جو اللہ کی طرف سے آئے گا میں اسے ضرور پہنچاؤں گا۔ ’بَلِّغْ مَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ‘ ادھر مرزا انگریز کے ڈر سے کہتا ہے کہ میں آئندہ کوئی الہام شائع نہیں کروں گا۔
ایک اور غلطی
ایک اور غلطی ہم سے یہ ہو گئی کہ اس ستمبر میں کانفرنس کے موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے ربوہ کے مظلوموں کے حق میں بھی آواز اٹھائی کہ یہ پلاٹوں پر رہتے ہیں انہیں ان کا مالک بنایا جائے۔ یہ زمین مرزائیوں نے لیز پر دے رکھی ہے اور یہ آگے اسے لیز پر نہیں دے سکتے۔ اگر یہ مالک ہوئے تو اسی دن مرزائیت پر لعنت بھیج کر حلقہ بگوش اسلام ہو جائیں گے۔
تیسری غلطی
ایک غلطی ہم سے یہ ہوئی کہ اس میں جو تقریریں ہوئیں ان میں شرافت شستگی اور متانت تھی میں نے خود ہر مقرر کو یوں کہا کہ بخاری کی قبر کی لاج رکھنا۔ یہی بات مولانا مفتی احمد الرحمن اور میرے دوسرے اکابر نے کہی۔ بس اس سے مرزا طاہر ہم سے بگڑ گئے۔ یہ جو میں نے کہا کہ چنیوٹ کے لوگو! اب ہوشیار ہو جاؤ۔ تھوڑی سی آزمائش آنے والی ہے۔ یہ میں نے یوں ہی نہیں کہہ دیا۔ انہوں نے سکیم بنائی ہے۔ مرزا ناصر پہنچا وہیں جہاں اس کا دادا پہنچا۔ غلط پتہ اس پر نہیں لکھا گیا۔ لیکن وہ بہر حال ایجوکیشن کا آدمی تھا۔ پہلے وہ قادیان میں ہیڈ ماسٹر تھا۔ یہاں پرنسپل بن گیا اور پھر خلیفہ بن گیا۔ میں ان کے بارے خلیفہ کا لفظ نہیں بولتا۔ ان کے لئے خلیفہ کا لفظ بولنا حرام ہے۔ میں ہمیشہ ہیڈ آف دی ربوہ بولا کرتا ہوں۔ لیکن یہ مرزا طاہر مرزا ناصر سے مختلف ہے۔ اب داڑھی بڑھا لینے اور پگڑی باندھ لینے سے عادتیں نہیں بدلتیں۔
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
یہ وہی شخص ہے جس نے ربوہ اسٹیشن پر ۲۹ مئی ۱۹۷۴ء کو ملتان میڈیکل کالج کے لڑکوں کو پٹوایا تھا۔ اسے زعم اور گھمنڈ ہے کہ میں خدام الاحمدیہ نیم فوج فرقان بٹالین اور فرنٹیئر فورس میں گوریلا تربیت حاصل کرنے والوں کے ذریعے غنڈہ گردی کر کے ان ختم نبوت والوں کو یہاں سے بھگادوں گا تو اس کی خام خیالی ہے۔ میں ضلع جھنگ، چنیوٹ کی انتظامیہ کا شکر گزار ہوں کہ مرزائیوں نے جتنے واقعات کئے انہوں نے ایکشن لیا اور پرچے درج کرائے۔ پہلے مرزا طاہر نے ایک مسجد گروائی۔ وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ یہ جاگتے ہیں یا سوئے ہوئے ہیں۔
چوروں کی عادت
چور جب کسی گھر میں واردات کرنے کے لئے جاتے ہیں آپ لوگ جانتے ہیں یہاں علاقے کے چوہدری موجود ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ پہلے چور ایک روڑا پھینکتے ہیں۔ روڑا پھینکنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مالک مکان سو رہے ہیں یا جاگتے ہیں۔ یہاں بھی ایسا ہی ہوا۔ ایک چھوٹی سی مسجد کو گرایا گیا۔ وہ دیکھنا چاہتے تھے کہ ختم نبوت والے جاگتے ہیں یا سو رہے ہیں۔
اور مرزا طاہر! یاد رکھ جن کا تعلق تاجدار ختم نبوت ﷺ سے ہو وہ کبھی سو سکتے ہی نہیں۔ خدا گواہ ہے کہ دس ہزار نوجوان تو صرف ایک لاہور شہر میں ختم نبوت پر قربان ہوئے۔ اعظم خان نے انہیں گولیوں سے چھلنی کرایا اور مرزائیوں کو وردیاں پہنا کر آگے کیا۔ فیصل آباد، سیالکوٹ، راولپنڈی میں لاشے تڑپے۔ ۱۹۷۴ء میں ۳۳ نوجوانوں نے خون کا نذرانہ پیش کیا۔ اوکاڑہ میں لڑکیاں جلوس کی شکل میں باہر نکلیں۔ ٹیر گیس ان پر پھینکی گئی۔ علماء گرفتار ہوئے۔ ہم گرفتار ہوئے۔ یہ ربوہ سے ہمیں بھگا دے گا۔ یاد رکھ ! ہم تاجدار ختم نبوت کے غلام اور فدا کار ہیں۔ ہمیں دنیا کی کوئی طاقت ربوہ سے نہیں نکال سکتی۔
میں حکومت وقت سے بھی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہ جو ربوہ میں قیادت کی تبدیلی آئی ہے اور اس کے بعد سکول کے ایک ٹیچر محمد نواز کو مار مار کر ادھ موا کیا گیا۔ ایک ریلوے کے پھاٹک والے کا جبڑا توڑ دیا اور مسلمانوں کے قبرستان جس کی حد برآری ہمارے پاس ہے۔ اس کی دیوار گرادی گئیں اور مسلمانوں کی قبریں مسمار کر دی گئیں۔ یہ جو باتیں ہیں جو ہوا کا رخ بتاتی ہیں کہ یہ کچھ کرنا چاہتے ہیں۔
اسپین
اس کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اسپین میں عبادت گاہ کی بنیاد رکھی ہے اور ہم وہاں اسلام کا علم بلند کر رہے ہیں۔ ہم گو سپین کی حکومت کو پیغام دے چکے ہیں۔ لیکن اجازت چاہوں گا کہ اس کانفرنس کی طرف سے سپین کے صدر اور وزیر اعظم کو بھی یہ پیغام جانا چاہئے کہ تم نے جن لوگوں کو عبادت گاہ بنانے کی اجازت دی ہے یہ سامراجی طاقتوں کے ایجنٹ ہیں۔ اگر تم یہ چاہتے ہو کہ ان کو عبادت گاہ بنانے کی اجازت دینے سے دنیا کا ایک ارب مسلمان تم سے خوش ہوگا۔ ہم کہتے ہیں خوش نہیں ہوگا۔ بلکہ لعنت بھیجے گا۔ (ہاتھ اٹھا کر منظور کیا گیا)
مرزائی کہتے پھرتے ہیں کہ ہم اسلام کی خدمت کر رہے ہیں اور ایک خوبصورت فوٹو شائع کر کے پوری دنیا میں تقسیم کیا گیا ہے۔ یہ فریب دینے اور بتانے کے لئے کہ ہم اسلام کی خدمت کر رہے ہیں ...... مجھے یہاں شاہ صاحب یاد آگئے۔ وہ ایک شعر پڑھا کرتے تھے ۔
ایک طرف یہ کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں اور دوسری اپنے اخبار الفضل میں لکھا بھی ہے کہ ہم مسلمان ہیں۔ دنیا کی کوئی طاقت ہمیں غیر مسلم نہیں بنا سکتی۔ یہ آئین پاکستان اور مارشل لاء کی صریحاً خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ ۷ نومبر ۱۹۸۲ء کے پرچے میں انہوں نے مرزا طاہر کا ایک بیان لکھا جس میں اس نے کہا کہ : ”میں نے رسول اللہ کی زیارت کی مسجد کے محراب میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ گرو نانک کی شکل میں“
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبد اللہ معتصم
”استغفر اللہ معاذ اللہ“ یہ جو کچھ کر رہے ہیں اس سے ہوا کے رخ کا پتہ چلتا ہے اور اب تھوڑی آزمائش آنے والی ہے۔ میں پوچھتا ہوں کہ کیا مجلس تحفظ ختم نبوت کی ضرورت ہے یا نہیں۔ سب نے کہا: ”ہے ۔“ میں مرزا طاہر سے کہتا ہوں کہ تیرے دادا سے لے کر تیرے ابا تک ہمیں آزما چکے ہیں تو اگر آزمانا چاہتا ہے تو تو بھی آزمالے۔ آخر میں مولانا نے اعلان کیا کہ مجلس ایک غیر سیاسی جماعت ہے۔ یہ سٹیج مسلمانوں کا ایک مشترکہ سٹیج ہے۔
۲۷/ دسمبر ۱۹۸۲ء بروز سوموار
۲۷/ دسمبر ۱۹۸۲ء کانفرنس کا دوسرا دن تھا۔ نماز ظہر سے قبل پہلی نشست شروع ہوئی۔ دوسری نشست بعد نماز ظہر، تیسری نشست بعد نماز عشاء منعقد ہوئی۔ ان نشستوں سے خطیب ربوہ حضرت مولانا خدا بخش شجاع آبادی، مولانا عزیز الرحمن جالندھری مرکزی رہنما مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان، مولانا صاحبزادہ امداد الحسن نعمانی، مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے رہنما اور ہفت روزہ ختم نبوت کے مدیر مسئول جناب عبدالرحمن یعقوب باوا، جناب طارق محمود رضوی گوجرانوالہ، طالب علم رہنما اورنگزیب بھٹی، مجلس تحفظ ختم نبوت بہاول پور ڈویژن کے مبلغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، کالعدم خاکسار تحریک کے رہنما خان محمد اشرف خان، وفاقی مجلس شوریٰ کے رکن شیخ الحدیث مولانا محمد مالک کاندھلوی، ممتاز شیعہ رہنما جناب علامہ ع غ کراروی اور حضرت علامہ مولانا عبد الرحمن صاحب جامعہ اشرفیہ لاہور نے خطاب کیا۔
۲۸/ دسمبر ۱۹۸۲ء بروز منگل
۲۸/ دسمبر ۱۹۸۲ء بروز منگل دن کی نشست بارش کی وجہ سے بعد نماز ظہر اور آخری نشست بعد نماز عشاء منعقد ہوئی۔ جن میں مولانا سید ممتاز الحسن شاہ صاحب گیلانی، مولانا ضیاء الدین آزاد، مولانا منظور الحسینی کراچی، مولانا محمد یعقوب چنیوٹ، مولانا سید منظور احمد شاہ حجازی، مولانا اللہ وسایا صاحب، مولانا تاج محمود صاحب، تنظیم اہل سنت پاکستان کے مرکزی رہنما مولانا قاضی بشیر احمد صاحب، مولانا سید فضل الرحمن احرار سلانوالی نے خطاب کیا۔ آخری نشست میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، جناب عبد الرحمن یعقوب کراچی نے قراردادیں پیش کیں۔ جن کی تائید میں حضرت مولانا تاج محمود صاحب، حضرت مولانا محمد اشرف ہمدانی اور دوسرے حضرات نے تقریریں کیں۔ آخری تقریر مولانا قاضی بشیر صاحب نے کی۔ ان کی تقریر کے بعد قرارداد پیش کی گئیں اور متفقہ طور پر منظور ہو گئیں۔
(لولاک دسمبر ۱۹۸۲ء، جنوری ۱۹۸۳ء)
تعلیمی اداروں میں قادیانی عہدیداران
گزشتہ سالوں کے حالات و واقعات میں تعلیمی اداروں میں مرزائیوں کی سرگرمیوں کا کچھ تذکرہ ہوچکا کہ کس طرح وہ تعلیمی اداروں پر چھائے ہوئے تھے اور وہاں مذہب کا پرچار کرنے اور مسلمان طلباء میں شکوک وشبہات پھیلانے میں مصروف کار رہتے۔ اکتوبر ۱۹۸۲ء کو ہفت روزہ لولاک میں تعلیم الاسلام ہائی سکول ربوہ جو پہلے مرزائیوں کے قبضہ میں تھا۔ بعد میں حکومت نے اپنی تحویل میں لے لیا، کے متعلق کچھ معلومات چھپے ہوئے تھے۔ جن میں وہاں پر مرزائی ملازمین کے متعلق تفصیلات درج تھے اور حکومت سے ان کے ان اہم عہدوں پر سے ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ چونکہ تحریک ختم نبوت کی تاریخ کا ایک حصہ ہے۔ اس لئے اس مضمون سے صرف نظر نہ کر سکا۔ منتخب حصہ ملاحظہ فرمائیں اور غور فرمائیے کہ کس طرح تمام تعلیمی اداروں کو مرزائیوں نے اپنے شکنجہ اضلال و تضلیل میں کسا ہوا تھا۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب وتحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
گورنمنٹ تعلیم الاسلام ہائی سکول ربوہ میں اس وقت کل سٹاف ۵۱ (اکاون) ملازمین پر مشتمل ہے۔ جس میں سے ۳۹ (انتالیس) ملازمین قادیانی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں جب کہ ۱۲(بارہ) ملازمین مسلمان ہیں۔ ۱۹۷۲ء سے قبل یہ ادارہ قادیانیوں کا نجی ادارہ تھا۔نیشنلائزیشن کے بعد اب اس سکول میں گردونواح کے مسلمانوں کے بچے بھی زیر تعلیم ہیں جو تقریباً نصف یا اس سے بھی زیادہ ہیں۔ اس لئے ایک گورنمنٹ ہائی سکول میں اتنے اساتذہ و ملازمین قادیانی ان بچوں کے اخلاق وتربیت پر اثر انداز ہورہے ہیں۔ جس کی وجہ سے تعلیمی ادارے قادیانیوں کی تبلیغ کا اڈہ یا مرکز کہلائے جانے کا مستحق ہے۔حکومت کو اس کی طرف فوری توجہ دینی چاہئے۔
تعلیم الاسلام ہائی سکول ربوہ
S.S.T ۱ اقبال سعید مدت ملازمت ۱۴ سال ۲ محمد ابراہیم حنیف // ۱۵ // ۳ عبدالمجید // ۶ // ۴ محمد صدیق // ۱۰ // ۵ ملک عبدالرشید // ۱۵ // ۶ رشید احمد زبیروی // ۱۲ // ۷ محمد حسین // ۶ // ۸ اسلم ناصر // ۱۳ // ۹ بشیر احمد // ۱۴ // ۱۰ بشارت احمد // ۱۲ // ۱۱ عبدالرب // ۱۴ // ۱۲ مبارک احمد // ۱۰ // ۱۳ محمد سعید باجوہ // ۶ // E.S.T ۱۴ محمد اعظم // ۱۰ // ۱۵ منصور احمد // ۸ // ۱۶ نذیر احمد // ۱۲ // ۱۷ عبدالرحمن // ۴ // S.V ۱۸ احمد علی // ۸ //
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
۱۹ مسعود احمد // ۱۲ // ۲۰ ادریس احمد // ۱۲ // ۲۱ مظفر احمد // ۶ // ۲۲ اقبال احمد // ۶ // ۲۳ محمد عبداللہ // ۶ // ۲۴ سلطان احمد // ۱ // ۲۵ رشید اسلم // ۷ // ۲۶ محمد اسلم بٹ // ۷ // ۲۷ منور احمد // ۵ // کلرک قادیانی ۲۸،۲۹ ۲؍ افراد // ...... // قادیانی ملازمین درجہ چہارم ۳۰ تا ۳۹ ۱۰؍ افراد // ...... //
قادیانی اساتذہ ۲۷ افراد قادیانی کلرک ۲ // قادیانی ملازمین درجہ چہارم ۱۰ // کل تعداد ۳۹ افراد
کل ۳۹؍ افراد ہیں جنہوں نے مرزائیت کی تبلیغ سے سکول ہذا کے ماحول کو مکدر کر رکھا ہے۔ ربوہ کے گردونواح کے تعلیمی اداروں میں متعین سٹاف کی سرسری فہرست حسب ذیل ہے۔ لالیاں وغیرہ۔
- ۱...... زرین اختر ہیڈ مسٹریس گورنمنٹ گرلز ہائی سکول لالیاں
- ۲...... زاہدہ خاتون // // // لالیاں
- ۳...... راشدہ نسرین // // // لالیاں
- ۴...... امتہ الجلیل // // // لالیاں
- ۵...... غلام فاطمہ // // // لالیاں
- ۶...... ناصر احمد گورنمنٹ مڈل سکول کھیوہ
- ۷...... عبداللہ احمد // // احمد نگر
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
- ۸...... محمد احمد خان گورنمنٹ مڈل سکول ربوہ (چناب نگر)
- ۹...... ناصرہ ہیڈ مسٹریس گورنمنٹ گرلز ماڈل سکول احمد نگر
- ۱۰...... ہیڈ مسٹریس گورنمنٹ نصرت گرلز ہائی سکول ربوہ (چناب نگر)
- ۱۱...... مریم بی بی ہیڈ مسٹریس گورنمنٹ گرلز مڈل سکول چک نمبر ۱۳۱ ساڑھانوالہ
- ۱۲...... مبارکہ بی بی ہیڈ مسٹریس گورنمنٹ گرلز مڈل سکول رجوعہ سادات
- ۱۳...... مسز مومن ہیڈ مسٹریس گورنمنٹ گرلز مڈل سکول چک نمبر ۱۲۵ جبہ
- ۱۴...... مسز بٹ ہیڈ مسٹریس گورنمنٹ گرلز مڈل سکول چک نمبر ۱۲۵ جبہ
- ۱۵...... نور بیگم ہیڈ مسٹریس گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول جلے والا نزد لالیاں
- ۱۶...... ہیڈ مسٹریس گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول ولہ نزد لالیاں
- ۱۷...... فضل عمر گورنمنٹ ہائی سکول ربوہ
- ۱۸...... ہیڈ مسٹریس گورنمنٹ پرائمری گرلز سکول دارالنصر ربوہ
نمبر ۹ سے ۱۸ تک صرف ان سکولوں کی فہرست دی ہے جن کے سربراہ قادیانی معلمات ہیں۔ اگر ان اداروں میں متعین باقی قادیانی سٹاف کا جائزہ لیا جائے تو فہرست میں حیران کن اضافہ ہوسکتا ہے۔ ان اداروں میں اگر برائے نام مسلمان سٹاف ہے تو وہ قادیانی ہیڈ مسٹریس کی وجہ سے دبے ہوئے مجبور و مظلوم ہیں۔ علاوہ ازیں نصرت الاسلام گرلز سکول ربوہ میں تمام استانیاں جن کی کل تعداد ۵۰ ہے مرزائی ہیں۔
(ہفت روزہ لولاک مؤرخہ ۱۵؍اکتوبر ۱۹۸۲ء)
ملائیشیاء میں بھی مرزائی مرتد قرار
۴؍نومبر ۱۹۸۲ء کو مسلمانان عالم کو ایک اور خوش کن خبر ملی کہ اسلامی ملک ملائیشیا میں بھی مرزائیوں کو کافر قرار دیا گیا۔ ملائیشیاء کے نائب وزیر اعظم موسیٰ تہام نے بیان دیا : ’’جو لوگ قادیانی فرقہ کے کسی بھی گروہ سے اپنا تعلق قائم کریں گے ان کی ملائیشیاء کی شہریت ختم کر دی جائے گی ۔ مرزائیوں کے خلاف یہ فیصلہ ان کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ۔ قادیانی فتنہ ملک میں سرطان کی طرح پھیلتا جارہا ہے اور دھوکے اور جعلسازی سے قادیانیت کو جدید اسلام کہہ کر لوگوں کو مرتد بنارہے ہیں ۔ جن علاقوں میں تعلیم کی کمی اور جہالت کا وفور ہے وہاں پر قادیانیت اپنے پنجے نہایت تیزی سے پھیلا رہی ہے ۔ اس لئے حکومت اب پسماندہ علاقوں اور دیہات کی طرف توجہ دے رہی ہے تا کہ وہاں کے باسی قادیانیت کے سم قاتل سے بچ جائیں ۔‘‘
ملائیشیاء حکومت کے اس فیصلے کا عالم اسلام میں خیر مقدم کیا گیا۔ مسلمانوں نے اس دانشمندانہ فیصلے پر ملائیشیاء حکومت کو خراج تحسین پیش کیا ۔
(جنگ لاہور مؤرخہ ۴؍نومبر ۱۹۸۲ء)
ملائیشیاء حکومت کا یہ فیصلہ جنوبی افریقہ کی عدالت کا قادیانیوں سے متعلقہ فیصلہ کے نتیجے میں ہوا تھا ۔ ملائیشین حکام نے اپنی تقریروں میں واضح طور پر کہا تھا کہ جب عیسائیوں کی ایک عدالت جن کا یہ ٹولہ خود کاشتہ پودا ہے۔ انہیں کافر تسلیم کر رہی ہے تو ہم پر مسلمان ہونے کی وجہ سے زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
تحریک ختم نبوت
کے سلسلہ میں
۱۹۸۳ء
کے
حالات و واقعات
تحریک ختم نبوت(۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
مرزا غلام احمد کے کذب پر لاہور میں ایک مناظرہ
۲۵ / جنوری ۱۹۸۳ء کو لاہور انارکلی میں علماء اسلام اور مرزائی مبلغین کے درمیان ایک مناظرہ ہوا۔ مسلمانوں کی طرف سے حضرت مولانا محمد الیاس (جو حضرت مولانا قاضی مظہر حسین صاحب کے خلیفہ مجاز تھے)، حضرت مولانا حافظ عبدالرشید ارشد، حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود پی۔ ایچ۔ ڈی مناظر اور نمائندے تھے۔ مناظرہ کیسے طے ہوا ملاحظہ فرمائیں:
انارکلی لاہور میں ایک مسلمان جناب شاہد فاروق اور ان کے قادیانی دوست حامد خان صاحب کے درمیان دو موضوعات پر بات چل رہی تھی۔
- ۱...... کیا آنحضرت ﷺ کے بعد وحی جاری ہے؟
- ۲...... کیا مرزا غلام قادیانی امام مہدی ہیں؟
دونوں میں طے پایا کہ اپنے اپنے علماء کو بلا لیں اور ان موضوعات پر باہمی گفتگو ہو جائے۔ ۲۴ / جنوری ۱۹۸۳ء بروز منگل ساڑھے چھ بجے شام کا وقت طے ہوا۔ ۲۴ / جنوری کو حامد خان صاحب نے عذر کیا کہ ان کے مبلغ ربوہ سے نہیں آسکے۔ پھر ۲۵ / جنوری ساڑھے چھ بجے کا وقت طے ہوا۔ پونے سات بجے قادیانی مبلغ اپنے پندرہ ساتھیوں کے ساتھ کوئٹہ ہاؤس بلڈنگ احاطہ ہوتا سنگھ انارکلی لاہور پہنچے اور آتے ہی کہا کہ ان کے پاس پون گھنٹے کا ٹائم ہے۔ انہیں ساڑھے سات بجے کسی اور جگہ کام ہے اور انہیں جانا ہے۔
مسلمانوں کی طرف سے حضرت مولانا محمد الیاس صاحب، حضرت مولانا حافظ عبدالرشید صاحب ارشد فاضل خیر المدارس ملتان اور دیگر کئی اکابر علماء کرام موجود تھے۔ قادیانی نمائندے حامد خاں نے کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و وفات پر بات ہونی چاہئے۔ حالانکہ بات پہلے جن دو موضوعات پر چل رہی تھی ان میں یہ موضوع نہ تھا۔ دراصل حامد خان صاحب کو ان کے مبلغ یہ سکھا کر لائے تھے کہ وہ خلط مبحث کرے۔ جناب شاہد فاروق صاحب نے کہا۔ پہلے سے جن موضوعات پر بات چل رہی ہے وہ صرف دو ہیں۔
- ۱...... نبوت کا جاری رہنا۔
- ۲...... مرزا قادیانی کیا مہدی تھے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق اس وقت کوئی بحث نہیں ہے۔ مگر حامد خان صاحب نے اسی پر اصرار کیا کہ نزول مسیح پر بحث ہونی چاہئے۔ حضرت مسیح آسمان سے آئیں گے یا نزول مسیح سے مراد ایک مثیل مسیح کی آمد ہے۔ حامد خان مرزائی نے خلط مبحث کرنے کی کوشش کی۔ اس پر علمائے اسلام نے کہا۔ قادیانیوں کے نزدیک نزول مسیح کا عقیدہ قطعاً ایمانیات کا جزو نہیں۔ اب ان کا اسے اتنی اہمیت دینا صرف اس لئے ہے کہ لوگوں کی توجہ مرزا غلام احمد سے ہٹائی جاسکے اور لوگ ان کے صدق و کذب پر بحث نہ کریں۔
اس دعوے کے ثبوت میں علمائے اسلام نے دو حوالے پیش کئے۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں:
- ۱...... ”نزول مسیح کا عقیدہ نہ تو ہمارے ایمانیات کا جزو ہے نہ دین کے رکنوں میں سے کوئی رکن ہے۔ بلکہ صدہا پیش گوئیوں میں سے
ایک پیش گوئی ہے جس کا حقیقت اسلام سے کچھ بھی تعلق نہیں۔“
(ازالۃ الاوہام ص ۱۴۰، خزائن ج ۳ ص ۱۷۱)
- ۲...... ”کئی خواص اور اولیاء اور اہل اللہ کا یہی خیال تھا اگر یہ کوئی ایسا اہم امر ہوتا تو اللہ تعالیٰ اسی زمانہ میں اس کا ازالہ کر دیتا۔“
(احمدی اور غیر احمدی میں کیا فرق ہے؟)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
جناب شاہد فاروق صاحب نے پھر کہا کہ میری حامد خان صاحب سے جو بات پہلے سے چل رہی ہے وہ انہی دو موضوعات پر ہے۔
- ۱...... کیا سلسلہ وحی جاری ہے؟
- ۲...... کیا مرزا صاحب مہدی تھے؟
علمائے اسلام نے کہا کہ قادیانی مبلغ نے پون گھنٹہ بعد چونکہ چلے جانا ہے۔ اس لئے وہ موضوع شروع کرنا چاہئے جو مختصر وقت میں بھی کچھ واضح ہو سکے۔ سلسلہ وحی جاری ہے یا نہیں۔ ایک وسیع موضوع ہے اس کے لئے یہ وقت پون گھنٹہ بالکل ناکافی ہے۔ اس مختصر وقت میں تو صرف دوسرا موضوع ہی چل سکتا ہے اور ہم اس کا آغاز کرتے ہیں۔ اس کے بعد مناظرہ شروع ہو گیا۔
قادیانی مبلغین مرزا غلام احمد کے صدق و کذب پر بحث کرنے کے لئے کبھی جلدی تیار نہیں ہوتے۔ وہ ہمیشہ ان مباحث میں الجھنے اور الجھانے کی کوشش کرتے ہیں جسے عوام الناس آسانی سے نہ سمجھ سکیں۔ قرآن وحدیث عربی میں ہیں اور ان کی تشریحات بھی عربی اور علمی زبان میں۔ سو ان کے سہارے وہ اپنے عوام کو مغالطہ دینا آسان سمجھتے ہیں۔ مرزا غلام احمد کی کتابیں اور لٹریچر زیادہ تر اردو میں ہے اور اسے عوام آسانی سے سمجھ لیتے ہیں۔ اس لئے قادیانی اس کی طرف آتے ہی نہیں۔ ان کا حیات مسیح اور ختم نبوت کے مسائل میں پڑنا اس لئے ہوتا ہے کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کی سیرت پر پردہ ڈال سکیں۔
مناظرہ انار کلی کا خوشگوار پہلو یہ ہے کہ اس میں مرزا غلام احمد قادیانی کے صدق و کذب پر بحث ہوئی اور یہ کہ وہ بہت دلچسپ رہی۔ ملاحظہ فرمائیں:
علمائے اسلام: نحمده ونصلی علیٰ رسولہ الکریم
حضرات موضوع زیر بحث یہ ہے کہ مرزا قادیانی مہدی تھے یا نہ؟ ہم صاف کہتے ہیں کہ: ”مرزا غلام احمد قادیانی قطعاً مہدی نہ تھے۔ مہدی کے معنی ہیں۔ ہدایت یافتہ۔ ہدایت یافتہ شخص جھوٹ نہیں بولتا۔ مرزا قادیانی چونکہ جھوٹ بولتے تھے اور جھوٹ بولنے والا مہدی نہیں ہو سکتا۔ اس لئے مرزا قادیانی مہدی نہیں تھے۔ مہدی ہونا درکنار جھوٹ بولنے والا تو شریف انسان بھی نہیں سمجھا جاتا۔“
اب مرزا قادیانی کا جھوٹ ملاحظہ کیجئے۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں : ”احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ مسیح موعود چودھویں صدی کے سر پر آئے گا اور وہ چودھویں صدی کا مجدد ہوگا۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۱۸۸، خزائن ج ۲۱ ص ۳۵۹)
یہ صریح جھوٹ ہے۔ حضور ﷺ نے کسی حدیث میں چودھویں صدی کا ذکر نہیں فرمایا۔ حضور ﷺ پر یہ کھلا جھوٹ ہے۔ مرزا قادیانی نے احادیث کا دعویٰ کیا ہے۔ ہم کہتے ہیں احادیث درکنار ایک حدیث ہی دکھلا دو جس میں حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ مسیح موعود چودھویں صدی میں آئے گا۔ مرزا قادیانی نے صحیح احادیث کا دعویٰ کیا ہے۔ ہم کہتے ہیں کتب حدیث سے کوئی ضعیف حدیث ہی دکھا دو اور اگر نہ دکھا سکو تو تسلیم کرو کہ مرزا قادیانی نے واقعی جھوٹ بولا ہے اور جھوٹ بولنے والا جب شریف انسان بھی نہیں سمجھا جاتا تو اسے کوئی شخص مہدی (ہدایت یافتہ) کیسے مان سکتا ہے۔
قادیانی مبلغ: میں تسلیم کرتا ہوں کہ کسی حدیث میں جناب رسول اللہ ﷺ سے چودھویں صدی کا لفظ ثابت نہیں۔ لیکن حضرت مرزا صاحب نے جو بات کی ہے وہ بطور استدلال کہی ہے۔ لوگ پہلے سے کہہ رہے تھے کہ چودھویں صدی آخری ہے۔ قیامت چودھویں صدی میں آئے گی۔ ظاہر ہے کہ پھر مسیح موعود بھی تو چودھویں صدی میں ہی آنا تھا۔ حضرت مرزا صاحب نے اس مشہور عام بات سے استدلال کرتے ہوئے یہ بات کہی ہے آپ اس مجمع سے ہی پوچھ لیں۔
تحریک ختم نبوت(۴) ستمبر۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
بچہ بچہ گواہی دے گا کہ یہ بات زبان زد عام و خاص تھی کہ چودھویں صدی آخری صدی ہے اور اسی میں مسیح نے آنا ہے۔ سب علماء بھی یہی بات کہتے چلے آئے ہیں۔ مجمع سے لوگ بول اٹھے : ہر گز نہیں۔ ہمارے علماء نے کبھی نہیں کہا تھا کہ قیامت چودھویں صدی میں آئے گی۔ قادیانی کہنے لگے : لوگ یہی کہتے تھے۔ ہم نے یہی سن رکھا تھا۔ حضرت مرزا صاحب نے بھی اسی سے استدلال کیا ہے۔
علمائے اسلام: مرزا قادیانی کیا لوگوں سے سن کر اس بات کو حضورﷺ کے ذمہ لگا رہے تھے کہ مسیح موعود چودھویں صدی میں آئے گا؟ مرزا قادیانی نے یہاں اس کے لئے احادیث صحیحہ کا دعویٰ کیا ہے۔ اسے حدیث کی کسی کتاب میں دکھاؤ۔ یہ کیا جواب ہے کہ لوگ یہ بات کہتے تھے۔ اس لئے مرزا قادیانی نے استدلالاً اسے حدیث کہہ دیا ہے۔ یہ جواب بالکل غلط ہے۔ یہ جواب مولانا محمد الیاس دے رہے تھے۔ مولانا عبدالرشید صاحب ارشد نے کہا۔ ہم بچپن میں تو یہ بھی سنتے آئے ہیں کہ چاند میں بڑھیا چرخہ کات رہی ہے۔ تو کیا اسے عقیدہ بنالیں گے؟ ہر گز نہیں۔ عوام کی بات کا کیا اعتبار حدیث مبارک میں ہے: ’’من کذب علی متعمداً فلیتبوأ مقعدہ من النار‘‘ جس نے جان بوجھ کر مجھ پر کوئی جھوٹ باندھا۔ اسے چاہئے کہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے۔
مرزا غلام احمد حضورﷺ پر جھوٹ باندھ کر اس حدیث کی رو سے جہنمی ہوچکے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جہنمی مہدی نہیں ہو سکتا۔ لوگوں سے بات سن کر اسے حضورﷺ کے ذمہ لگا دینا یہ کسی شریف اور ایمان والے شخص کا کام نہیں ہے۔
قادیانی مبلغ: قرآن کریم میں لکھا ہے کہ دنیا میں جب بھی پیغمبر آئے لوگوں نے انہیں جھوٹا کہا۔ ہمارے پیغمبر ﷺ کو بھی جھٹلایا گیا۔ مرزا قادیانی بھی خدا کے پیغمبر تھے۔ اس لئے انہیں جھوٹا کہا جارہا ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ پیغمبروں سے شروع سے ہی ایسا ہوتا رہا ہے۔ اب میرا جانے کا وقت ہو گیا ہے۔ اس لئے میں جاتا ہوں۔
علمائے اسلام: پیغمبر کو جھٹلانا اور کسی بات میں پیغمبر پر جھوٹ ثابت کرنا ان دو باتوں میں بنیادی فرق ہے۔ یہ صحیح ہے کہ کئی لوگوں نے پیغمبروں کو ان کے دعویٰ رسالت میں جھٹلایا۔ لیکن کسی اور معاملے میں کسی پیغمبر پر جھوٹ بولنے کا الزام کبھی نہیں لگا۔ پیغمبروں کے اخلاق فاضلہ اتنے عالی ہوتے ہیں کہ ان پر کوئی شخص کوئی جھوٹ ثابت نہیں کرسکتا۔ اتنے میں دوسرے قادیانی مبلغ مولوی بشیر احمد تشریف لے آئے۔ سب قادیانیوں نے کھڑے ہو کر ان کا استقبال کیا۔ حامد خان صاحب نے کہا کہ لیجئے یہ آگئے ہیں جو ساری رات یہیں ہوں گے۔ کہیں نہ جائیں گے۔ ان سے جتنی بھی بحث چاہیں، کریں۔ علمائے اسلام کی طرف سے نئے آنے والے مبلغ سے پوچھا گیا کہ کیا آپ اپنی جماعت کے عہد کا اقرار کرتے ہیں کہ آپ سارے رات یہیں رہیں گے اور مجلس سے نہیں جائیں گے؟ انہوں نے کہا: اگر دین اور تبلیغ کی بات ہو تو میں ہر گز نہیں جاؤں گا۔ بلکہ یہ کہ جب تک بھی بیٹھنا ہوا بیٹھوں گا۔
علمائے اسلام نے کہا کہ آپ صاف لفظوں میں اقرار کرلیں کہ بحث سے اٹھ کر نہیں جائیں گے۔ قادیانی مبلغ نے کہا حضور جب کہا جائے کہ مال تو ایک طرف جان چاہو تو وہ بھی حاضر کردیں گے۔ اس میں مال کا اقرار تو ہے آپ ایک رات کہتے ہیں ہم تبلیغ کے کام سے کبھی نہ جائیں گے۔ علمائے اسلام نے کہا جناب شاعری نہ کریں صاف کہیں کہ ہم وعدہ کرتے ہیں کہ دوران بحث ہم اٹھ کر نہ جائیں گے۔ اس پر بات پھر سے شروع ہوگئی۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبد اللہ معتصم
علمائے اسلام نے کہا: حضرات پہلے سے یہ بات چلی آرہی ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ کہنا کہ حدیث میں ہے کہ مسیح موعود چودھویں صدی میں آئے گا، درست نہیں۔ مرزا قادیانی نے یہ حضور ﷺ پر جھوٹ باندھا ہے۔ واقعی کسی حدیث میں نہیں کہ مسیح موعود چودھویں صدی کا مجدد ہوگا۔ صحیح حدیث تو ایک طرف کسی ضعیف حدیث میں بھی یہ بات نہیں ملتی۔
صدر مجلس: جناب محمد اسلم صاحب پروپرائٹر نفیس کلاتھ ہاؤس نے کہا کہ مولوی بشیر احمد صاحب چونکہ ابھی آئے ہیں اس لئے انہیں وہ حوالہ سنا دیا جائے جس پر بحث ہورہی ہے۔ اس پر مرزا قادیانی کی کتاب ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم سے یہ عبارت پھر پیش کی گئی۔ ”احادیث صحیحہ میں آتا ہے کہ مسیح موعود چودھویں صدی کے سر پر آئے گا اور وہ چودھویں صدی کا مجدد ہوگا۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۱۸۸، خزائن ج۲۱ ص۳۵۹)
قادیانی مبلغ: ہمارا اصل نزاع اس میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں یا فوت ہو گئے ہیں۔ جب تک اس بات کا فیصلہ نہ ہو جائے، مرزا قادیانی کے بارے میں ہم کوئی بحث نہ کریں گے۔ اسی پر ہمارے سارے اختلافات کا مدار ہے۔
علمائے اسلام نے کہا: یہ تو آپ اپنے بانی سلسلہ سے بھی اختلاف کر رہے ہیں۔ مرزا قادیانی تو خود لکھتے ہیں کہ: ”نزول مسیح کا عقیدہ نہ تو ہمارے ایمانیات کا جزو ہے نہ دین کے رکنوں میں سے کوئی رکن ہے۔ بلکہ صدہا پیش گوئیوں میں سے ایک پیش گوئی ہے جس کو حقیقت اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ۱۴۰، خزائن ج۳ ص۱۷۱)
بانی سلسلہ تو یہ کہتے ہیں، آپ ان کے اچھے پیرو ہیں جو اس مسئلے کو اپنے ایمانیات کا مدار بتلا رہے ہیں۔ مرزا قادیانی تو کہتے ہیں کہ: ”مجھ سے پہلے جو لوگ حیات مسیح کا عقیدہ رکھتے تھے وہ اس عقیدے کی وجہ سے ہرگز گنہگار نہ تھے۔ اللہ کے ہاں وہ بالکل صاف اور بری تھے۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”ان الذین خلوا من قبلی لا اثم علیہم وھم مبرون“
(ضمیمہ حقیقت الوحی الاستفتاء ص۴۲، خزائن ج۲۲ ص۶۶۲)
اب یہ لوگ گنہگار کیوں ٹھہرے؟ مرزا قادیانی کے آنے کی وجہ سے تو پھر بیعت پر پکڑ کیوں نہ ہو جس کی وجہ سے حیات مسیح کا عقیدہ غلط ٹھہرا تھا اور اس سے پہلے یہ لائق عذر تھا۔
قادیانی مبلغ: یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ویکنسی (آسامی) تو موجود نہ ہو اور امیدوار کی اسناد اور اس کے حالات کی جانچ پڑتال شروع کر دی جائے۔ جب تک مسیح کی وفات نہ مانی جائے کرسی خالی نہ تسلیم کی جائے۔ اس کے امیدواروں کی جانچ پڑتال اور تحقیق اسناد بے فائدہ ہے۔ کبھی کسی دفتر میں دیکھا کہ ویکنسی تو نہ ہو اور اسناد کی تحقیق ہورہی ہو سینہ ناپا جا رہا ہو اور بعد میں کہا جاتا ہے کہ کپڑا ہی موجود نہیں۔ مہربانو! پہلے مسیحیت کی کرسی خالی مانو۔ وفات مسیح کا اقرار کرو۔ پھر مرزا قادیانی پر ان کے صدق و کذب پر اور محمدی بیگم کے واقعہ پر بحث کرو۔
صدر مجلس: جو بحث پہلے سے چلی آرہی ہے اور اس موضوع کو آپ سے پہلے مبلغ مان چکے تھے اور اس پر بحث جاری تھی۔ آپ اسے کیوں چھوڑتے ہیں۔ وہ بحث یہ تھی کہ مرزا قادیانی امام مہدی تھے یا نہ؟ پہلے اس کو طے کر لو۔ پھر حضرت مسیح پر بھی بحث ہو جائے گی۔
علمائے اسلام: نہایت مختصر سی بات ہے مرزا قادیانی نے کہا ہے۔ احادیث میں آیا ہے کہ مسیح موعود چودھویں صدی میں آئے گا۔ سوال یہ ہے کہ یہ حدیث کہاں ہے۔ اگر کہیں نہیں تو تسلیم کیجئے کہ مرزا قادیانی نے جھوٹ بولا ہے اور مرزا قادیانی نے بھی کہا ہے۔ جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا ایک برابر ہے۔
(حقیقت الوحی ص ۲۰۶، خزائن ج۲۲ ص۲۱۵)
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
اگر آپ کے پاس حدیث کا حوالہ ہے کہ حضور ﷺ نے چودھویں صدی کا نام لیا ہو تو پیش کریں۔ ایک منٹ میں یہ بحث نمٹ جائے گی۔ اس کے بعد ہم حیات مسیح پر بحث کرنے کے لئے تیار ہوں گے۔
قادیانی مبلغ: میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی نے جو فرمایا درست ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ مسیح موعود چودھویں صدی میں آئے گا۔ لیکن ہم وہ حدیث اس وقت پیش نہیں کریں گے۔ پہلے حیات مسیح پر بحث کریں۔ قرآن سے بحث کریں۔ حدیث بعد میں آئے گی۔
علمائے اسلام: قادیانیوں کی یہ بات درست نہیں کہ مسیحیت کی ویکینسی خالی نہیں ہے۔ قادیانی مرزا غلام احمد کو مثیل مسیح ماننے کے باوجود یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اس مسیح کے آنے کا اب بھی امکان ہے۔ جس پر احادیث کے ظاہر الفاظ صادق آسکیں۔ لیجئے مرزا قادیانی خود لکھتے ہیں: ”ممکن اور بالکل ممکن ہے کہ کسی زمانہ میں کوئی ایسا مسیح بھی آجائے جس پر حدیثوں کے بعض ظاہری الفاظ صادق آسکیں۔ کیونکہ یہ عاجز اس دنیا کی بادشاہت کے ساتھ نہیں آیا۔“
(ازالہ اوہام ص ۲۰۰، خزائن ج ۳ ص ۱۹۷)
اب دیکھئے اور Vacancy موجود ہے یا نہ؟ نیز ہم مرزا قادیانی کے صدق و کذب پر جو بحث کر رہے ہیں وہ بطور مسیح موعود کے نہیں بلکہ بحث یہ تھی کہ وہ مہدی تھے یا نہ؟ ظاہر ہے کہ جھوٹ بولنے والا مہدی نہیں ہو سکتا۔
قادیانی مبلغ: فریق مخالف نے دیانتداری سے کام نہیں لیا۔ کوئی اور مسیح بھی آئے گا یہ صرف امکان ہے۔ یہ نہیں کہ وہ ضرور آئے گا۔
علمائے اسلام: نہیں مرزا قادیانی کہتے ہیں۔ یہ ممکن اور بالکل ممکن ہے۔ مرزا قادیانی تو اسے بالکل ممکن کہتے اور آپ اسے صرف امکان کہہ رہے ہیں۔ کچھ بھی ہو بتائیے ویکینسی خالی ہے یا نہیں۔ آپ کے استدلال میں جب ہم نے یہ امکان ثابت کر دیا تو اس سے آپ کا استدلال خود بخود ختم ہو گیا۔ کوئی اور احتمال نکل آئے تو استدلال باطل ہو جاتا ہے۔
قادیانی مبلغ: ہم وفات مسیح ثابت کریں۔ آپ حیات مسیح پر بحث کریں۔ ہمارے پہلے مبلغ نے اگر مانا ہو کہ مرزا قادیانی پر بحث ہو گی تو ہم اپنی شکست مان لیں گے۔ ٹیپ پھر سے لگائیں اور بتائیں کہاں انہوں نے یہ موضوع مانا تھا کہ مرزا قادیانی کے صدق و کذب پر بحث ہوگی۔
علمائے اسلام: اگر انہوں نے یہ موضوع تسلیم نہیں کیا تھا تو انہوں نے بحث کیسے شروع کر دی تھی؟ کیا انہوں نے اس بات کے جواب میں کہ احادیث صحیحہ میں ہے کہ مسیح موعود چودھویں صدی میں آئے گا۔ یہ نہیں کہا تھا کہ مرزا قادیانی نے یہ بطور استدلال کہا تھا۔ کیونکہ عام لوگ کہتے تھے کہ مسیح موعود چودھویں صدی میں آئے گا۔ حضور ﷺ نے چودھویں صدی کا لفظ واقعی نہیں بولا۔ مرزا قادیانی کی یہ صفائی پیش کرنا کیا اس کو موضوع تسلیم کرنا نہیں؟
قادیانی مبلغ: میرے ساتھی نے اسے ہرگز موضوع تسلیم نہ کیا ہوگا۔ یہ کبھی نہیں ہو سکتا۔
سامعین: وہ تو اس موضوع پر بحث کر چکے ہیں۔ ٹیپ دوبارہ لگائی جائے آپ خود سن لیں گے۔
قادیانی مبلغ: ....... جب آپ حیات مسیح پر بحث نہیں کرتے تو ہم جاتے ہیں۔
علمائے اسلام: یہ تو آپ کا کھلا فرار ہے۔ اگر کچھ بھی ہمت ہے تو مرزا غلام احمد قادیانی کی پیش کردہ روایت حدیث کی کسی کتاب سے دکھاؤ کہ حضور ﷺ نے کہیں چودھویں صدی میں مسیح موعود کا آنا ضروری بتلایا ہو۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”اس شخص
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبد اللہ معتصم
سے منحرف مت ہو جاؤ۔ جس کا آنا اس صدی پر اس صدی کے مناسب حال ضروری تھا اور جس کی ابتداء سے نبی کریم ﷺ نے خبر دی تھی۔‘‘
(دافع الوساوس ص ۲۵۳، خزائن ج ۵ ص ایضاً)
اس عبارت میں بھی مرزا قادیانی نے اپنے چودھویں صدی میں آنے کو نبی کریم کی خبر بتلایا ہے۔ اس پر قادیانی مبلغ مع اپنے ساتھیوں کے ساتھ مجلس سے چلے گئے اور سب حاضرین نے ان کا مناظرے سے کھلا فرار دیکھا۔
(لولاک مؤرخہ ۲۵؍ جنوری ۱۹۸۳ء)
مولانا محمد اسلم قریشی کا اغواء
۷؍ فروری ۱۹۸۳ء کو مجلس تحفظ ختم نبوت کے ورکر مولانا محمد اسلم قریشی کو مرزائیوں نے اغوا کر لیا۔ ان کے اغوا کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما تھے مولانا محمد اسلم قریشی کا تعارف کیا ہے۔ ان کو کس نے اغواء کیا؟ ذیل میں ہم اس حوالے سے کچھ حقائق تحریر کرتے ہیں۔ یاد رہے امتناع قادیانیت آرڈیننس ۱۹۸۴ء (تذکرہ آگے آ رہا ہے) کی وجوہات میں ایک بڑی وجہ اور محرک یہی اغواء تھا۔
مولانا اسلم قریشی کا مختصر تعارف
مولانا محمد اسلم قریشی سکنہ ۲۹ محلہ امام صاحب ۱۹۳۴ء میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام روشن دین قریشی۔ اسلم قریشی صاحب نے ایف۔اے تک تعلیم مرے کالج سیالکوٹ میں حاصل کی۔ زمانہ تعلیم میں اور اس کے بعد ان کی ذاتی زندگی عام کالج کے لڑکوں جیسی تھی۔ مذہب سے کوئی خاص لگاؤ نہ تھا۔ بقول خود کبھی کبھار کسی مذہبی جلسے میں شریک ہو جاتا تھا اور بس۔
تعلیم کے بعد سی۔ ڈی۔ اے اسلام آباد میں بطور الیکٹریشن ملازم ہو گئے۔ غالباً اسی دوران میں اپنے اعزہ میں ان کی شادی ہوئی۔ اہل وعیال ان کے ہمراہ اسلام آباد ہی میں رہائش پذیر تھے۔ ان کی زندگی کا پہلا اہم ترین واقعہ جس نے ان کی زندگی کا رخ کلیتاً پلٹ دیا۔ وہ ۱۹۷۰ء میں ایم۔ایم احمد پر قاتلانہ حملہ ہے۔ انہوں نے کس پس منظر میں یہ حملہ کیا؟ خود ان کی زبانی سنئے:
’’ایک روز میں بازار سے بیکری لینے گیا۔ دوکاندار نے جس کاغذ میں بیکری لپیٹ کر دی وہ قادیانیوں کے کسی اخبار یا رسالے کا ورق تھا۔ میں نے سنا ہوا تھا قادیانی ختم نبوت کے منکر ہیں اور حضور ﷺ اور اصحاب وازواج رسول کے بارے میں گستاخانہ زبان استعمال کرتے ہیں۔ مگر پہلی دفعہ ان کی اس قسم کی تحریر پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ جس پر مجھے غصہ آگیا۔ میرے لئے اس کیفیت کا اظہار ممکن نہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ میں اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا اور گھر سے ایک تیز دھار آلہ لے کر سیکرٹریٹ پہنچ گیا۔ ایم۔ایم احمد کا دفتر میرا دیکھا ہوا تھا اور مجھے معلوم تھا یہ مرزا غلام احمد قادیانی کا پوتا یا دوہتا ہے۔ میں نے دفتر کے سامنے ہی ایم۔ایم احمد کو جالیا۔ میں نے اس سے سوال کیا کہ قادیانیوں کی طرف سے جنگ میں بھارتی حکومت کو ایک لاکھ روپے کی امداد کیوں دی؟ یہ بات سن کر ایم۔ایم احمد کو طیش آ گیا اور اس نے مجھے پے در پے تھپڑ مارنے شروع کئے۔ اس پر ہم دونوں گتھم گتھا ہو گئے اور میں نے اس پر خنجر کے دو وار کئے۔ وہ زمین پر گر گیا اور اس کا خون بہہ نکلا۔ مجھے پکڑ لیا گیا۔ بعد میں کیس ہوا۔ میرے وکیل نے مجھے جرم سے انکار کرنے کو کہا۔ لیکن یہ میری غیرت اور ضمیر نے گوارا نہ کیا اور میں نے عدالت میں برملا اعتراف کر لیا اور مجھے پندرہ سال قید بامشقت کی سزا ہو گئی۔ میرا کیس راجہ ظفر الحق نے بلا معاوضہ لڑا۔ جیل میں میں نے ترجمہ قرآن پڑھا۔ دینی لٹریچر خصوصاً رد قادیانیت پر مشتمل لٹریچر پڑھا۔ مولانا ابوالکلام آزاد کے قول فیصل اور علامہ اقبال کے مجموعے بانگ درا، بال جبریل اور ضرب کلیم نے مجھ پر بہت اثر ڈالا۔ میں بنیادی طور پر مذہب پرست انسان بن گیا۔ نماز اور تلاوت کا پابند بنا۔ بلکہ جیل میں اخلاقی قیدیوں کی اصلاح کی بھی اپنی سی کوشش کرتا رہا۔‘‘
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
عوام کے مطالبات اور مولانا غلام غوث ہزاروی (جس کے اس وقت کے وزیراعظم مسٹر ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ نہایت اچھے روابط تھے) کی مساعی سے اسلم قریشی صاحب کی سزا میں تخفیف ہوئی اور وہ دو سال آٹھ ماہ پندرہ یوم سزا کاٹ کر رہا ہو گئے۔ جیل سے نکلنے والا اسلم قریشی پوری شرعی داڑھی والا اسلم قریشی تھا۔ جس کے لئے مولانا کا سابقہ بے جواز نہیں ۔ رہائی کے بعد اسلم قریشی صاحب عمرہ اور تلاش روزگار کی غرض سے سعودی عرب چلے گئے ۔ عمرہ کی سعادت نصیب ہوئی۔ مگر روزگار میں دل نہ لگا اور وطن واپس آئے۔ وہ کہا کرتے تھے: ”زندگی اور موت اللہ کے اختیار میں ہے اور جب وقت آ جاتا ہے تو ٹل نہیں سکتا۔“ وہ اکثر بڑے گداز کے ساتھ یہ پڑھا کرتے ۔ شاید وہ اپنی زندگی کو بے مصرف خیال کرتے تھے ۔
کارواں سے دم بدم کٹتے چلے جاتے ہیں ہم
سعودی عرب سے واپسی کے بعد سیالکوٹ میں انہوں نے برتنوں کے کاروبار کا ڈول ڈالا ۔ مگر اس میں کامیابی نہ ہوئی ۔ دو وقت کی روٹی چلانے کے لئے دو ایک جگہ ملازمت بھی کی ۔ وہ جہاں بھی رہے اور جو کام بھی کیا اس میں ایک چیز ہر جگہ اور ہر وقت پیش رکھی اور وہ تھا عقیدہ ختم نبوت اور اس کی تبلیغ ۔ وہ قادیانیوں کے خلاف نہایت جارحانہ ذہن کے مالک تھے۔ وہ کہا کرتے تھے: ”قادیانی محض مذہبی اعتبار سے کینسر نہیں یہ سیاسی اعتبار سے بڑا فتنہ ہیں ۔ علامہ اقبال کے بقول یہ اسلام اور ملک دونوں کے غدار ہیں ۔ قادیانی جماعت کا پاکستان میں وجود برقرار رہنا خود پاکستان کی سلامتی کے لئے خطرہ ہے ۔ یہ اسرائیل اور امریکی استعمار کے ایجنٹ ہیں۔ ہمیں اپنی قوم اور ملک کو ان کے اثرات سے بچانا چاہئے۔“
اسلم قریشی صاحب کی عقیدہ ختم نبوت کے ساتھ یہی والہانہ لگن انہیں مجلس تحفظ ختم نبوت میں لے گئی ۔
۱۹۷۷ء کی تحریک نظام مصطفی میں وہ قومی اتحاد کے ناظم دفتر رہے ۔ بعد میں وہ ”دارالعلوم شہابیہ“ میں ناظم دفتر کی حیثیت سے ملازم ہو گئے ۔ ۱۹۸۲ء دسمبر میں ”دارالعلوم“ کو چھوڑ کر وہ پھر ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ میں آگئے اور رد قادیانیت کے ضمن میں نہایت سرگرمی کے ساتھ کام کرنے لگے ۔
فروری ۱۹۷۸ء میں انہوں نے ”قادیانی مسئلہ آئینی ترمیم کے مطابق قانون سازی کا تقاضا کرتا ہے“ کے عنوان سے ایک نہایت خوبصورت کتابچہ چھاپا ۔ یہ کتابچہ نعیم آسی کے ایک مطبوعہ مضمون پر مشتمل تھا۔ جو ۱۹؍ دسمبر ۱۹۷۷ء کے ہفت روزہ چٹان میں شائع ہوا اور جس میں لاہور ہائیکورٹ کے ایک فیصلہ پر تبصرہ کیا گیا تھا۔ جس میں عدالت نے قادیانیوں کو مسجد کی تعمیر اور استعمال کی ممانعت کرنے سے انکار کیا تھا۔ اسلم قریشی صاحب نے اس کتابچے کو ملک بھر میں عام کرنے کے لئے روزنامہ نوائے وقت میں صفحہ اوّل پر اشتہار چھپوانے کا اہتمام کیا ۔ یہ اشتہار ملک منظور الہی صاحب کی طرف سے شائع ہوا ۔ جس کے بعد سینکڑوں کی تعداد میں خطوط آئے اور اسلم قریشی صاحب نے بند بنڈلوں کی صورت میں متذکرہ کتابچے ”ڈسپیچ“ کئے۔
اس کتابچے کے ساتھ اسلم قریشی صاحب نے پندرہ بیس ہزار یونٹ کارڈ چھپوائے ۔ ان یونٹ کارڈز کو ملک بھر میں تقسیم کیا گیا ۔ جن میں صدر مملکت و چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل محمد ضیاء الحق سے قادیانی مسئلہ کے آئینی حل کے ضمن میں متعدد مطالبات کئے گئے تھے۔
ستمبر ۱۹۸۲ء کے شروع میں قادیانی مسئلہ اور موجودہ حکومت کے عنوان سے اسلم قریشی صاحب نے ایک تحریر شائع کی ۔ فل اسکیپ سائز کے چھ صفحات پر مشتمل یہ تحریر بھی نعیم آسی کی لکھی ہوئی تھی ۔ یہ تحریر دراصل نعیم آسی کا ایک مضمون تھا ۔ جو انہوں نے ہفت روزہ چٹان کے لئے لکھا ۔ مگر سنسر کے باعث حکام نے اسے چھاپنے کی اجازت نہ دی ۔ اس مضمون میں ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو پاکستان کا دورہ
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
کرانے ، ان کا مکان بطور قومی یادگار محفوظ کرنے اور راجہ منور احمد قادیانی کو صدر مملکت کا پولیٹیکل ایڈوائزر مقرر ہونے کے حوالے سے جنرل ضیاء کی حکومت پر تنقید کی گئی تھی۔ علاوہ ازیں ۱۹۷۳ء کے آئین کی دفعہ ۱۰۶ کی تنسیخ اور مرزا ناصر احمد کی طرف سے اس دفعہ کی تنسیخ کی پیش گوئی کے حوالے سے حکومت کے اندر قادیانی اثر ونفوذ کا تجزیہ بھی کیا گیا تھا۔ اسلم قریشی صاحب کی سرگرمیوں کے ضمن میں یہ ایک اہم تحریر تھی۔
سیالکوٹ کی قادیانی تنظیم
ضلع سیالکوٹ میں پسرور اور چونڈہ یہ قادیانیوں کے بڑے گڑھ تھے۔ مرزا غلام احمد ایک زمانہ میں سیالکوٹ میں عرائض نویس تھا۔ چنانچہ شہر کے اندر بھی اس کا ایک مؤثر حلقہ تھا۔ تقسیم ملک کے بعد ایم ایم احمد سیالکوٹ میں ڈپٹی کمشنر رہا۔ یہ شخص مرزا بشیر احمد ایم اے کا بیٹا تھا۔ اس کا تعلق سیالکوٹ میں اپنی جماعت کے افراد سے پختہ تھا۔ پاکستان کے سابق وزیر خارجہ اور قادیانیوں اور یہودیوں کے گماشتے سر ظفر اللہ خان کا تعلق ایم ایم احمد سے قریبی تھا۔ یہ وہی شخص ہے جس نے ملک کے پہلے وزیر خارجہ ہونے کے باوجود قائد اعظم کی نمازِ جنازہ نہ پڑھی۔ کیونکہ قائد اعظم اس کے نبی مرزا غلام احمد کو نبی نہ ماننے کی وجہ سے اس کی نظر میں مسلمان نہ تھے۔ سر ظفر اللہ خان ان قادیانیوں میں سرفہرست تھے جو اپنے مذموم عقائد میں کٹر پن اور تعصب کے باعث نہایت مشہور تھے۔ سیالکوٹ شہر کا خواجہ عبدالرحمن سیالکوٹ میں قادیانی جماعت کا اصل مہرہ تھا۔ یہ ربوہ کا معتبر ترین آدمی تھا۔ قادیانیوں کی تمام سرگرمیوں کو یہی منظم اور مربوط کرتا تھا۔ تقسیم ملک کے بعد ان لوگوں نے سیالکوٹ میں تبلیغ مرزائیت کا پروگرام ترتیب دیا جو دراصل ملک پر قادیانی غلبے کی سکیم کا ایک حصہ تھا۔ مگر ملک بھر میں مسلمانوں کے ردّعمل نے اس سکیم کو ناکام کر دیا اور ان کا سیالکوٹ کا پبلک جلسہ بھی درہم برہم ہو گیا۔ انہی واقعات سے ۱۹۵۳ء کی ختم نبوت کی بنیاد پڑی۔
۱۹۵۳ء کے بعد قادیانی ہمیشہ منقار زیر پر رہے۔ انہوں نے پبلک سرگرمیوں کو چھوڑ کر قومی اور ”مذہبی“ سرگرمیوں کو اپنایا آخر ۱۹۷۰ء کے آغاز میں قادیانی پہلی دفعہ باہر آئے۔ عبدالرحمن قادیانی شروع ہی سے خواجہ محمد صفدر صاحب (موجودہ چیئرمین مجلس شوریٰ) کا حامی اور مؤید رہا۔ لیکن ۱۹۷۰ء کے انتخابات میں جب قادیانی جماعت نے پنجاب اور سندھ میں پیپلز پارٹی اور سرحد اور بلوچستان میں خان عبدالقیوم خان کی مسلم لیگ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تو خواجہ عبدالرحمن ، خواجہ محمد صفدر سے منہ موڑ کر پیپلز پارٹی کے ساتھ جا ملے۔ قادیانیوں کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ہمیشہ ربوہ کی ہدایت کے مطابق چلتے ہیں اور یہ بات ان کے بیعت فارم میں موجود ہے۔ وہ اپنے مرکز سے سرمو انحراف نہیں کر سکتے۔ مرزا جانباز لکھتے ہیں:
”میں تحریک کشمیر سے مجلس احرار کے ساتھ وابستہ ہوں اور قادیانیوں کے مزاج اور نفسیات کو بخوبی سمجھتا ہوں۔ یہ اسی وقت اپنی تند مزاجی کا مظاہرہ کرتے ہیں جب اپنے تئیں طاقتور خیال کرتے ہیں۔ ۱۹۵۳ء کے بعد سترہ سال تک یہ سیالکوٹ میں کوئی اشتعال انگیزی نہ کر سکے۔ ۱۹۷۰ء میں پہلی دفعہ انہوں نے حرکت کی اور گلی میں مجلس احرار اسلام سیالکوٹ کے دفتر کے باہر سائن بورڈ ’احمدی مسلمان ہیں قائد اعظم کا ارشاد‘ کے عنوان سے چھپے ہوئے پوسٹر چسپاں کئے۔ تب آغا شورش کاشمیری زندہ تھے۔ انہوں نے چٹان میں اس پر نہایت سخت شذرہ لکھا۔ اخبارات میں اس بورڈ کی تصویریں چھپیں۔ قادیانی دن کی روشنی میں یہ جرأت دکھاتے تب تو کوئی بات تھی۔ انہوں نے اپنی روایتی بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شبخون کو مناسب جانا۔ ظاہر ہے یہ کام قادیانیوں کا تھا۔ ہم نے تھانہ سٹی میں رپورٹ لکھوا دی۔ کئی برس بورڈ پولیس کی تحویل میں رہا۔ آخر ایک روز پولیس نے مجھے کہہ ہی دیا۔ حافظ جی! اپنا بورڈ واپس لے جاؤ۔ پولیس چاہتی تو مقامی قادیانی جماعت کے سرکردہ آدمیوں سے پوسٹر لگانے والے آدمیوں کے نام معلوم کر کے قانونی کارروائی کر سکتی تھی۔ مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
سیالکوٹ میں قادیانیوں نے اپنے تمرد کا دوسرا مظاہرہ اس وقت کیا جب سینٹ کا الیکشن ہو رہا تھا پیپلز پارٹی نے سیالکوٹ سے ظہور الحق ”نیلام گھر“ والے کو نامزد کیا۔ یہ شخص قادیانی خاندان نبوت کا نہایت معتمد آدمی تھا۔ سیالکوٹ میں اس نامزدگی کے خلاف ایک آل پارٹیز میٹنگ ہوئی۔ جس میں اس نامزدگی کی مذمت کی گئی اور احتجاج کے لئے شہر میں سٹینسل لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔ جب ہمارے کارکن یہ سٹینسل لگا رہے تھے تو ریلوے اسٹیشن کے پہلے گیٹ پر چودہ پندرہ آدمیوں نے ہمارے کارکنوں پر حملہ کیا اور ایک کارکن مولوی محمد بشیر کو اس بری طرح زدوکوب کیا گیا کہ اس کی جان بچانا مشکل ہو گیا۔ ہم نے سابقہ تجربہ کے پیش نظر رپورٹ درج کرانا مناسب نہ سمجھا۔ اگر ہم چاہتے تو اس کے جواب میں سخت اقدام کر سکتے تھے۔ مگر ہم نے خون خرابے سے بچنے کے لئے اپنے مشتعل کارکنوں کو بصد مشکل ٹھنڈا کیا اور اگلے روز شہر کے دیگر علاقوں میں سٹینسل لگوا کر ان کا غصہ فرو کیا۔ اس واقعے کا دردناک پہلو یہ ہے کہ ہمارے کارکنوں پر حملہ پولیس کی موجودگی میں ہوا۔ پولیس کی جیپیں اور سپاہی وائر لیس سمیت ریلوے اسٹیشن کے دوسرے گیٹ پر کھڑے تھے۔ مگر انہوں نے کوئی مداخلت نہ کی۔
کیوں؟ اس کا جواب بھی ہمیں معلوم ہے۔ قادیانیوں نے اوپر سے لے کر نیچے تک انتظامیہ، پولیس، عدلیہ، پریس، سپورٹس، اور دیگر شعبوں میں جو سیل بنا رکھے ہیں وہ اپنی اس قسم کی غیر قانونی حرکات پر پردہ ڈالنے کے لئے انہیں حرکت میں لاتے اور اصل مسئلہ گول کرانے میں بالعموم کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اسلم قریشی صاحب کی بازیابی کے ضمن میں ان پہلوؤں کو ملحوظ رکھے بغیر کامیابی غیر ممکن ہے۔
ذیل میں ہم مولانا محمد اسلم قریشی کے متعلقین کے بیانات سپرد قلم کرتے ہیں جو انہوں نے تھانہ اور کورٹ میں لکھوائے تھے۔
مولانا اسلم قریشی کے بیٹے صہیب اسلم کا بیان
”میرے والد مولانا محمد اسلم قریشی نے ۱۷ فروری ۱۹۸۳ء جمعرات کے روز گھر میں بتلایا کہ آج بعد عصر ان کا ”معراجکے“ میں ایک تبلیغی پروگرام ہے۔ خواتین کی مجلس میں عقیدۂ ختم نبوت پر بیان ہوگا۔ کل وہاں جمعہ پڑھا کر گھر واپس آؤں گا۔ میرے والد کوئی دس بجے سائیکل پر گھر سے نکلے۔ وہ ۱۱؍ فروری کو بھی موضع معراجکے جمعہ پڑھانے کے لئے گئے تھے۔ جمعہ کی شام کو وہ واپس نہیں آئے۔ ہم سمجھے گاؤں والوں نے روک لیا ہوگا۔ کل یعنی ہفتہ کو آجائیں گے۔ مگر ہفتہ کی شام تک نہیں آئے۔ رات پریشانی میں گزری۔ اتوار کو میں نے والد صاحب کے ملنے والوں کے ہاں تلاش کیا۔ پھر کوٹھی سیداں گیا۔ اس دوران میں میں نعیم آسی صاحب کے ہاں پہنچا۔ یہ میرے والد کے پرانے اور مخلص جاننے والے ہیں اور جب میں نے ان کو بتلایا کہ والد صاحب ۱۷؍ فروری ۱۹۸۳ء سے گھر نہیں آئے تو وہ بڑے پریشان ہوئے اور انہوں نے کہا کہ معراجکے آدمی بھیج کر فوراً پتہ منگاؤ کہ وہ وہاں پہنچے بھی ہیں یا نہیں؟ انہوں نے مجھ سے کہا کہ اگر وہاں سے بھی لاعلمی ظاہر کی جائے تو پھر فوراً ایف۔آئی۔آر درج کرائی جائے۔ اس کام میں تاخیر نہ ہو۔ چنانچہ سالار محمد بشیر صاحب اور ملک منظور الٰہی صاحب معراجکے گئے اور انہوں نے آ کر بتایا کہ میرے والد صاحب وہاں نہیں پہنچے۔ چنانچہ میرے چچا اقبال قریشی صاحب مجھے لے کر چوکی اے ڈویژن پہنچے۔ مگر تھانیدار عبدالغنی نے رپورٹ درج کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ تھانہ پھلورہ سے پتہ کرو۔
اسلم قریشی کے دوست سالار محمد بشیر کا بیان
اسلم قریشی صاحب ۱۷؍ فروری ۱۹۸۳ء کو تقریباً بارہ ساڑھے بارہ بجے میرے پاس دکان پر آئے۔ وہ سائیکل پر تھے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ میں معراجکے جا رہا ہوں۔ آج بعد عصر وہاں ایک پروگرام ہے اور کل جمعہ پڑھاؤں گا۔ اسلم قریشی صاحب کے معراجکے جانے کا ایک پس منظر ہے۔ محمد یوسف نامی ایک شخص اس موضع کا میرا ملنے والا ہے۔ وہ ایک روز میرے پاس آیا اور اس نے کہا کہ وہاں
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
قادیانیوں کا بڑا زور ہے اور دو یتیم لڑکیاں انہوں نے بہلا پھسلا کر قادیانی کر لی ہیں۔ ہم قادیانیوں کا توڑ کرنا چاہتے ہیں۔ آپ کوئی ایسا آدمی دیں جو ختم نبوت پر وہاں وعظ کرے۔ میں نے وعدہ کر لیا کہ تمہیں آدمی دیں گے۔ چنانچہ میں نے اسلم قریشی صاحب سے بات کی۔ قریشی صاحب مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ تھے۔ وہ مان گئے اور جب محمد یوسف دوبارہ میرے پاس آیا تو میں نے کہا کہ تمہارے لئے مولوی صاحب کا بندوبست کر دیا ہے۔ چنانچہ اسلم قریشی صاحب ۱۱ فروری کو معراجکے گئے۔ وہاں اپنا پہلا جمعہ پڑھایا۔ ۱۶ فروری کا پروگرام اور ۱۸ فروری کا جمعہ بھی وہ محمد یوسف کے ایماء پر ہی وہاں پڑھانے کے لئے گئے۔
اسلم قریشی صاحب ۱۷ فروری کو جب میری دکان پر سے روانہ ہو گئے تو میں ظہر کی نماز پڑھنے کے لئے ڈپٹی باغ والی مسجد میں گیا۔ مسجد کے سامنے مجھے محمد یوسف ملا۔ اس نے کچھ سامان اٹھا رکھا تھا۔ وہ مجھے کہنے لگا میں ابھی آپ کی دکان پر آتا ہوں۔ میں نے اس سے کہا تمہیں میری دکان پر آنے کی ضرورت نہیں۔ تم معراجکے جاؤ۔ تمہارے مولوی صاحب جا چکے ہیں اور وہ چلا گیا۔
۲۰ فروری اتوار پیر کی درمیانی رات ملک منظور الٰہی صاحب کا بیٹا میرے گھر آیا اور اسلم صاحب کا پوچھا۔ میں نے کہا کہ وہ ۱۷ فروری کو معراجکے گئے تھے اور اس کے بعد مجھے نہیں ملے۔ ملک صاحب کے بیٹے نے مجھے بتایا کہ وہ معراجکے نہیں پہنچے ہیں اور نہ گھر واپس آئے ہیں۔ اس پر مجھے بڑی پریشانی ہوئی۔ چنانچہ طے ہوا کہ کل ہم کچھ لوگ معراجکے چل کر صورتحال معلوم کریں گے۔ حسب پروگرام ۲۱ فروری پیر کے روز ہم پانچ آدمی (میں) ملک منظور الٰہی، مولانا مہدی حسن، مولانا انور قاسمی اور ماسٹر حمید معراجکے گئے۔ وہاں محمد یوسف ہمیں نہ ملا مگر لوگوں نے بتایا کہ قریشی صاحب ۱۷ فروری کو معراجکے نہیں آئے اور نہ ہی انہوں نے جمعہ پڑھایا ہے۔
اغواء کا مختصر پس منظر
معراجکے سیالکوٹ سے دس بارہ میل دور بین الاقوامی سرحد کے قریب گاؤں ہے۔ اس علاقہ میں قادیانیوں کا اثر و رسوخ تھا۔ اس کی وجہ ایک تو یہ تھی کہ ضلع سیالکوٹ سابق وزیر خارجہ ظفر اللہ خان کا ضلع تھا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ پاکستان بننے کے بعد خود ایم ایم احمد ضلع سیالکوٹ کے ڈپٹی کمشنر رہ چکے تھے اور سابق قادیانی افسر بھی کافی تعداد میں اس علاقہ سے تعلق رکھتے تھے اور سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ قادیانیوں نے اپنی حکمت عملی کے تحت بین الاقوامی سرحد کے ساتھ منظم منصوبہ بندی کے ذریعے اپنے اثرات قائم کئے ہیں۔ برطانوی استعمار کا یہ خود کاشتہ پودا آج بھی سامراجی قوتوں کے لئے عالمی جاسوس گروہ کا کردار ادا کر رہا ہے اور بین الاقوامی سرحدات کے ساتھ ساتھ اپنے اثر و رسوخ کو فروغ دینا اس کی مخصوص حکمت عملی کا ایک حصہ ہے۔
معراجکے کے گاؤں سے یہ اطلاع ملی کہ وہاں کے نمبردار اور ایک با اثر مرزائی اپنے دو بیٹوں کا نکاح دو یتیم لڑکیوں سے کرانا چاہتے ہیں جو کہ مسلمان ہیں۔ اس پر مقامی مسلمان کافی مشتعل ہو گئے۔ لیکن چونکہ مرزائی نمبردار گاؤں کا با اثر اور طاقتور تھا اور اکثر مسلمان اس کے زیر دست تھے۔ اس لئے وہ کھل کر احتجاج نہ کر سکے۔ لیکن انہوں نے اتنا کیا کہ مولانا اسلم قریشی کو اس واردات کی اطلاع دی۔ مولانا محمد اسلم قریشی نے وہاں کے مسلمانوں کے توجہ دلانے پر ۱۱ فروری کو جمعہ کے موقعہ پر تقریر کی کہ مرزائی اسلام کی رو سے بھی کافر اور مرتد ہیں۔ ۱۹۷۳ء کے آئین اور موجودہ مارشل لاء حکومت کے عبوری آئین کی رو سے بھی غیر مسلم ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مرزا غلام احمد قادیانی، اس کا بیٹا مرزا محمود اور دوسرے تمام مرزائی مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں۔ بلکہ ان کے خود ساختہ نبی نے یہاں تک لکھا ہے کہ ہر مسلمان نے مجھے قبول کر لیا۔ مگر کنجریوں کی اولاد نے مجھے قبول نہیں کیا۔ اس نے یہ بھی لکھا کہ تمام مسلمان جنگلوں کے سور اور ان کی عورتیں کتیوں سے بدتر ہیں۔ مولانا
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
کی یہ تقریر قصبہ معراجکے کے بااثر مرزائی گھروں پر بجلی بن کر گری۔ چنانچہ جب مولانا کی تقریر ہوچکی اور اس تقریر کا چرچا عام ہوا، اور یہ بھی بتایا گیا کہ مولانا اگلے جمعہ کو پھر آئیں گے تو ایک مرزائی نے یہ کہا تھا کہ ”یہ مولوی اگلے جمعہ کو نہیں آئے گا۔“
مرزائی بااثر خاندان کو یہ خطرہ تھا کہ ہم نے دو مسلمان بچیوں سے جو شادی رچائی ہے اگر مولانا کی آمد اور تقریروں کا سلسلہ جاری رہا تو لامحالہ اس کے نتیجہ میں ہمیں ان دو مسلمان لڑکیوں سے ہاتھ دھونے پڑیں گے۔ اس لئے اس مرزائی خاندان کے ان لڑکوں جن سے مسلمان بچیوں کی شادی رچائی گئی ہے اور وہاں کے مرزائیوں کے امام اور دوسرے بااثر مرزائیوں نے مولانا اسلم قریشی کو آئندہ جمعہ کے آنے سے پہلے گم کر دیا۔ چونکہ مولانا قریشی ان دنوں مرزائیوں کے خلاف جنون کی حد تک سرگرم تھے۔ اس لئے سب کا گمان غالب بلکہ یقین تھا کہ ان کو ضرور مرزائیوں نے اغواء کیا ہے۔
ایف۔آئی۔آر
مولانا قریشی کے اغواء ہو جانے کے بعد تھانہ میں جو ایف۔آئی۔آر درج ہوا وہ درج ذیل ہے۔
بخدمت جناب سٹی انسپکٹر صاحب تھانہ سٹی
جناب عالی! گزارش ہے کہ سیالکوٹ کی مجلس تحفظ ختم نبوت کا دفتر قائم ہے۔ ان میں مولانا محمد اسلم قریشی ولد روشن دین مکان نمبر ۲۸۵/ ۷م امام صاحب سیالکوٹ بطور مبلغ کام کرتے ہیں۔ وہ تبلیغ کے کام پر مامور ہیں اور دیہات میں بھی دورہ کرتے ہیں۔ مورخہ ۱۱/فروری ۱۹۸۳ء بروز جمعہ موضع معراجکے تحصیل پسرور جامع مسجد میں انہوں نے ختم نبوت کے موضوع پر وعظ کیا جو بہت پسند کیا گیا اور مقامی لوگوں نے آئندہ جمعرات ۱۷/فروری کو مستورات میں شام کو وعظ کی دعوت دی۔
چنانچہ جمعرات کے روز مجھ سے اجازت لے کر معراجکے کے لئے روانہ ہوئے اور سائیکل ہمراہ تھی۔ انہوں نے جاتے ہوئے مسجد دارالعلوم میں نماز ظہر ادا کی اور قاری عبدالرحمن کو اپنی سائیکل سپرد کی اور کہا کہ میں کل جمعہ معراجکے پڑھا کر واپسی پر سائیکل لوں گا اور چلے گئے اور اب تک واپس نہیں آئے۔ ان کو معراجکے اور گردونواح میں بہت تلاش کیا۔ لیکن پتہ نہیں چل سکا۔ مجھے شبہ ہے کہ منکرین ختم نبوت (قادیانی جماعت نے انہیں کہیں جان سے نہ مار دیا ہو) اس شبہ کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ وہاں مسلمانوں نے ان کے وعظ کو بہت پسند کیا تھا تو دوسری طرف مرزائیوں نے ان کو بہت محسوس کیا۔ لہٰذا مولانا محمد اسلم قریشی کی تلاش کی جائے۔ العبد!
منظور الٰہی ملک صدر مجلس تحفظ ختم نبوت سیالکوٹ رکن مرکزی مجلس شوریٰ مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان ولد فقیر محمد قوم اعوان محلہ اعواناں سیالکوٹ
ایف۔آئی۔آر میں صراحتاً کہا گیا کہ اسلم قریشی کے اغواء میں مرزائی ملوث ہیں۔ لیکن سیالکوٹ پولیس تو مرزائیوں کے خلاف کارروائی کیا کرتی۔ انہوں نے الٹا مسلمانوں کو قصور وار ٹھہرانا شروع کر دیا۔ مولانا اسلم قریشی کے بھائیوں اور ان کے رشتہ داروں پر اسلم قریشی کے اغواء کا الزام لگایا اور ان کو جیلوں میں بند کر کے سنگین سزائیں دیں۔ اسلم قریشی کے بھائی اسلام قریشی اور اس کے برادر نسبتی اللہ رکھا کو حراست میں رکھا اور ان پر بے انتہاء تشدد کیا گیا۔ جناب اسلام قریشی اور اللہ رکھا نے عدالت میں اپنے بیان کے دوران پولیس کے تشدد کا تذکرہ کیا ہے۔ محمد اسلام قریشی نے لکھا ہے:
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
’’پولیس نے مجھے میرے اپنے ہی بھائی کے اغواء کے سلسلے میں گرفتار کیا۔ میری والدہ مسلسل صفائیاں دیتی رہی کہ میرے بیٹوں کے آپس کے تعلقات درست تھے۔ میرا بیٹا کبھی بھی اپنے بھائی کو اغوا نہیں کر سکتا۔ میرے ساتھ میرے اور محمد اسلم قریشی کے برادر نسبتی اللہ رکھا صاحب کو بھی شامل تفتیش کیا گیا۔ میرے برادر نسبتی اللہ رکھا پر بے انتہاء جسمانی تشدد کیا گیا۔ جو کہ مورخہ ۱۰/مارچ ۱۹۸۳ء کو ہوا۔ جس سے اس کی حالت نہایت نازک ہو گئی۔ چنانچہ چوکی پولیس مذکور میں اللہ رکھا کی اس نازک حالت کا مجلس عمل کے صدر نے بمع چند ممبران ملاحظہ کیا اور اس کے علاج کے سلسلہ میں ڈاکٹر محمد اسلم بھٹی کے پاس گئے۔ جنہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ میں پولیس چوکی میں جا کر علاج نہیں کر سکتا۔ آپ میرے ڈسپنسر کو لے جائیں۔ چنانچہ ایک ڈسپنسر کو پولیس چوکی لائے اور مضروب اللہ رکھا کا علاج کرایا اور ٹیکہ لگوایا۔ جب کہ مجھے پوری پوری رات جگائے رکھتے تھے اور سوالات کرتے رہتے اور یہ پانچ راتوں تک ہوتا رہا۔ جب کہ پولیس کو میری زبان اور میرے پاسپورٹ سے یہ بات یقیناً معلوم ہو چکی تھی کہ میں ان تاریخوں میں ملک سے باہر تھا۔ پورے پانچ روز مسلسل مجھے اور خادم حسین اور اللہ رکھا کو پولیس چوکی میں رکھا گیا۔ اس کے بعد گاہے بگاہے ہمیں بلایا جاتا رہا۔ دوران تفتیش پولیس کا رویہ میرے ساتھ نہایت ذلت اور ہتک آمیز رہا۔ حالانکہ میں ایک معزز شہری ہوں اور آج تک پولیس ریکارڈ میں میرے خلاف کوئی درخواست تک بھی نہیں۔ بلکہ مجھے دوران تفتیش کسی عالم اور ذمہ دار کا نام لینے پر مجبور کرتے رہے اور میں جھوٹ سے انکار کرتا رہا۔‘‘
اللہ رکھا کا بیان
مولانا محمد اسلم قریشی کے برادر نسبتی جن پر پولیس نے تشدد کیا تھا، نے اپنے بیان میں لکھا: ’’مجھے پہلے پولیس نے ۸/مارچ ۱۹۸۳ء کو طلب کیا اور شام کو چھوڑ دیا گیا۔ پھر ۹/مارچ کو چھ بجے طلب کیا گیا اور شامل تفتیش کیا گیا اور مسلسل چار روز تک مجھے زیر حراست رکھا گیا اور اس دوران مج مجھ پر بے پناہ تشدد کیا گیا۔ جس کا موقعہ پر صدر مجلس عمل اور دیگر ارکان نے بھی معائنہ کیا اور جب میری حالت غیر ہو گئی تو مجھے طبی امداد بذریعہ مجلس عمل چوکی پولیس میں پہنچائی گئی۔ جب کہ میں نے وہاں کہا تھا کہ بلاوجہ مجھ پر کیوں ظلم کر رہے ہو؟ اسی دوران سمبڑیال تھانہ مجھے پہنچایا گیا اور رسہ سے باندھا اور درخت سے الٹا لٹکایا گیا۔ جس سے میں چلنے سے بھی معذور رہا اور بمشکل اٹھنے کے قابل ہوا۔ اسلم قریشی کے اغواء پر ملک کے طول و عرض میں احتجاجی مظاہرے ہوئے اور ان کی بازیابی کا مطالبہ کیا گیا۔ لیکن عرصہ ۳ ماہ کچھ پتہ نہ چلا۔ پھر یہ عرصہ بڑھ کر ۵ ماہ ہو گیا۔ اس دوران تمام مسلمان کا موقف تھا کہ اسلم قریشی کو مرزائیوں نے اغواء کیا ہے۔ اس لئے کہ ۳ مہینے تک مرزائیوں نے کبھی اس کی تردید نہیں کی۔ بلکہ خاموشی اختیار کئے رکھی۔ حالانکہ مرزائیوں کی عادت تھی کہ چھوٹی سی بات اگر ان کے متعلق کہہ دی جاتی تو اگلے دن ’’الفضل‘‘ میں نمایاں اشتہار شائع کرتے اور اعلان برأت کرتے یا تردید کرتے اور اسلم قریشی کے حوالے سے ہر روز جرائد و اخبارات میں مرزائیوں پر الزام لگتا مگر مرزائی معنی خیز خاموشی اختیار کئے ہوئے تھے۔ تین مہینے مرزائی کوک شاستر ’’الفضل‘‘ نے دبے دبے الفاظ میں یہ اشتہار شائع کیا کہ اسلم قریشی کے متعلق ہمیں کوئی علم نہیں اور آہستہ آہستہ کھلے لفظوں میں اس معاملے سے انکار کر دیا۔ مزید سینہ زوری یہ دکھائی کہ الزام مجلس تحفظ ختم نبوت کے اوپر ڈال دیا اور کہا کہ محمد اسلم قریشی صاحب کو مجلس نے روپوش کیا ہوا ہے۔
حکومت کے اس بارے میں دو موقف تھے۔ ایک وہ جو گزر چکا کہ ان کے رشتے داروں اور گھر والوں پر الزام لگایا کہ آپ لوگوں نے اس کو روپوش کیا ہوا ہے اور ان سے اگلوانے کے لئے اپنے ’’روایتی ہتھکنڈے‘‘ بھی استعمال کئے اور دوسرا موقف یہ تھا کہ اسلم قریشی اپنی مرضی سے کہیں باہر ملک گئے ہوئے ہیں۔ گھر والوں کو علم ہے۔ لیکن انہوں نے تجاہل عارفانہ اختیار کیا ہوا ہے۔ تقریباً چھ مہینے بعد مولانا
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
اسلم قریشی صاحب اپنے گھر کو واپس لوٹ آئے ۔ لیکن کچھ بجھے بجھے سے کچھ مجذوب اور مخبوط الحواس سے ۔ اس دور میں کہا گیا کہ اغواء کاروں نے ان کو ذہنی طور پر ٹارچر کیا ہوا ہے۔
(لولاک فروری ، مارچ ، جون ۱۹۸۳ء)
لیہ میں شمع ختم نبوت کے پروانوں کا دھرنا اور کامیابی
لیہ شہر میں ۳؍ اپریل ۱۹۸۳ء کو ایک مرزائی محبوب کمپاؤنڈر مر گیا۔ ۴؍ اپریل ۱۹۸۳ء کو قادیانیوں نے اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دیا۔ حالانکہ ۱۹۸۱ء میں قادیانیوں نے اہل اسلام و انتظامیہ سے وعدہ کیا تھا کہ آئندہ وہ اپنے مردے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں کریں گے۔ اب مرزائیوں نے وعدہ خلافی کی اور محض مسلمانوں کو اشتعال دلانے کے لئے اپنے مردہ کو اہل اسلام کے قبرستان میں دفن کر کے امن کو تباہ کرنے کی شرارت کی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت لیہ کے ناظم مولانا عبدالصمد آزاد، امیر مجلس تحفظ ختم نبوت لیہ مولانا محمد حسین، وکلاء، معززین شہر اور علماء کا وفد اے سی لیہ سے ملا۔ حالات گوش گزار کئے۔ اے سی لیہ جناب ملک فیروز صاحب نے مال افسر کو بلا کر شوگر ملز لیہ کے قریب پانچ کنال چار مرلہ قادیانی مرگھٹ کے لئے قطعہ اراضی الاٹ کر دیا۔ حالانکہ قادیانیوں کے وہاں پر چند گھر تھے۔ جن کے لئے ایک کنال اراضی بھی کافی تھی۔ بہر حال مرزائیوں نے مسلمانوں کو تحریری یقین دہانی کرا دی کہ آئندہ وہ اپنے مردوں کو اہل اسلام کے قبرستان میں دفن نہیں کریں گے۔ مگر اسلامیان لیہ کا مطالبہ تھا کہ حالیہ مرزائی مردہ کو اہل اسلام کے قبرستان سے نکالا جائے۔ ۴ تا ۷؍ اپریل چار دن متواتر وفود ملتے رہے۔ ڈی سی، اے سی لیہ ان سے یہی کہتے رہے کہ ہم نے کمشنر ڈیرہ ڈویژن اور ڈی ایم ایل اے ملتان سے عرض کیا ہے جو وہ حکم دیں گے، اس کے مطابق عمل ہوگا۔ جب کہ اسلامیان لیہ کا مطالبہ تھا کہ کنری، کراچی، بہاول پور، بورے والا وغیرہ میں حال ہی میں مرزائیوں کے مردے اہل اسلام کے قبرستان سے نکال دیئے گئے ہیں۔ بورے والا کا مرزائی مردہ بیس دن کے بعد نکالا گیا۔ قانوناً بھی مرزائیوں کے مرگھٹ علیحدہ کر دیئے گئے۔ گزٹ نوٹیفکیشن موجود ہے۔ شرعی اعتبار سے بھی مرزائی غیر مسلم ہونے کے باعث اہل اسلام کے قبرستان میں اپنے مردے دفن نہیں کر سکتے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت لیہ کے ذمہ دار حضرات نے مرکزی دفتر ملتان سے رابطہ قائم کیا۔ مرکزی دفتر کے انچارج مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری کے حکم پر مولانا اللہ وسایا مبلغ ربوہ ۸؍ اپریل بروز جمعہ علی الصبح لیہ مرکز کی نمائندگی کے لئے پہنچ گئے۔
جامع مسجد کرنال والی لیہ میں تمام مکاتب فکر کے علماء کرام، معزز شہری، وکلاء کی صبح نو بجے میٹنگ طلب کی گئی۔ جس میں مجلس عمل قائم کی گئی۔ بریلوی مکتب فکر کے عالم دین مولانا مفتی امام بخش کو صدر، مولانا عبدالصمد آزاد کو ناظم، جناب محمد اصغر ایڈووکیٹ و محمود یار خان ایڈووکیٹ کو قانونی مشیر مقرر کر کے فیصلہ کیا گیا کہ آج تمام خطیب اپنے اپنے جمعہ کے اجتماع میں مسئلہ ختم نبوت پر بیان فرمائیں اور پھر اپنے مقتدیوں کو جمعہ کے بعد جامع مسجد انوار الحبیب لیہ میں تین بجے بعد از جمعہ جمع ہو جائیں۔ مولانا عبدالصمد اور ایک وکیل صاحب جا کر ڈی سی صاحب لیہ سے آخری ملاقات کر کے ان پر واضح کر دیں کہ وہ اگر مردہ کو نکالنا چاہتے ہیں تو جمعہ سے قبل نکال لیں۔ اگر انہوں نے ایسا نہیں کیا تو مسلمان خود مرزائیوں کے مردے کو قبرستان سے نکال پھینکیں گے۔ جامع مسجد انوار الحبیب میں تین بجے دن پورا شہر جمع ہو گیا۔ سڑکوں پر لوگوں کا اجتماع تھا۔ مقررین نے تلقین کی کہ ہم اب اجتماع کی شکل میں قبرستان جائیں گے۔ اشتعال انگیزی و تخریب کاری سے مکمل پرہیز کریں۔ قانون کو ہاتھ میں نہ لیں۔ امن عامہ برقرار رکھیں اور مطالبہ کریں کہ قانوناً و شرعاً مرزائی مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں ہو سکتے۔ لہٰذا اس مرزائی مردہ کو نکالا جائے۔ اگر انتظامیہ رکاوٹ پیدا کرے تو آپ مشتعل نہ ہوں۔ بلکہ وہاں بیٹھ جائیں اور اپنا مکالمہ جاری
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
رکھیں۔ یہ اجتماع ۴ بجے قبرستان کے قریب پہنچ گیا۔ تمام راستہ میں ”نعرۂ تکبیر، ختم نبوت زندہ باد، اسلام، پاکستان زندہ باد“ کے فلک شگاف نعرے لگتے رہے۔ کلمہ طیبہ، درود شریف کا ورد ہوتا رہا۔ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ پولیس نے پوزیشن سنبھال رکھی ہے۔ اے سی صاحب و ڈی ایس پی صاحب نے راستہ روک لیا۔ لوگ کھڑے ہو گئے۔ اے سی صاحب نے مختصر خطاب کیا۔ مگر عوام کا مطالبہ تھا کہ مرزائی مردہ نکالو، مولانا اللہ وسایا نے اے سی صاحب سے درخواست کی کہ قانون ہمارے مطالبہ کے حق میں ہے۔ شرعی اعتبار سے ہمارا مطالبہ جائز ہے۔ شواہد موجود ہیں کہ مختلف شہروں میں امن عامہ کی خاطر مرزائیوں کی شرارت کا بروقت نوٹس لے کر انتظامیہ نے ان کے مردے اہل اسلام کے قبرستان سے نکال دیئے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ مسلمان ہے۔ ان کی محبت و شفقت کا تقاضا تھا کہ وہ پہلے دن اس جائز مطالبہ کو پورا کر دیتی۔ متواتر چار دن مسلمان آقائے نامدار ﷺ کی عزت و ناموس کے نام پر بھیک مانگنے کے لئے کاسۂ گدائی لے کر آپ کے دروازہ پر آئے۔ مگر آپ حضرات نے بروقت اقدام نہ کیا۔ اگر مطالبہ اور جائز مطالبہ مان لیتے تو نوبت یہاں تک نہ پہنچتی۔ اے سی صاحب نے کہا کہ آپ کل شام تک کی مہلت دیں۔ مگر عوام نے کہا کہ پہلے ہی بہت تاخیر ہوچکی ہے۔ اب مزید تاخیر نقصان دہ ہے۔ چنانچہ اے سی و ڈی ایس پی صاحب نے جا کر ڈی سی صاحب سے پورے حالات بیان کئے۔
واقف کار لوگوں کا کہنا یہ تھا کہ مارشل لاء حکام نے کہا ہے کہ فوری طور پر مردہ باہر نکال دیں۔ چنانچہ ڈی سی صاحب کا حکم لے کر اے سی صاحب نے لوگوں کو سنایا کہ آپ کا مطالبہ منظور کر لیا گیا ہے۔ لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اے سی صاحب نے لوگوں سے اپیل کی کہ آپ واپس چلے جائیں۔ آپ کے نمائندے مولانا اللہ وسایا، مفتی امام بخش، مولانا عبدالصمد آزاد، مولانا محمد حسین، حافظ سراج احمد، مولانا عبدالرحیم، محمود یار خان کی موجودگی میں ہم رات کے آٹھ بجے تک دوسری قبر کا مرزائیوں کے مرگھٹ میں انتظام کر کے مردہ کو نکال دیں گے۔ چنانچہ رات آٹھ بجے ڈی ایچ او لیہ ایمبولینس لے کر آئے۔ کمیٹی لیہ کے خاکروبوں نے انتظامیہ و علماء و معززین کی موجودگی میں محبوب مرزائی کی لاش کو نکالا اور مرزائیوں کے مرگھٹ میں دبا دیا۔ اس طرح مسلمانوں کے ایک جائز مطالبہ کو قدرت نے پذیرائی بخشی اور انتظامیہ نے صحیح اقدام کر کے امن عامہ کو بچالیا۔
قصہ ایک مناظرے کا
مولانا حافظ محمد حنیف سہارنپوری مجلس کے مبلغ اور ہفت روزہ لولاک کے سب ایڈیٹر تھے۔ اپریل ۱۹۸۳ء کو ضلع خوشاب میں ایک مرزائی کے ساتھ ان کا مناظرہ ہوا ہے جو انہوں نے خود قلمبند فرمایا ہے۔ معلومات افزا ہونے کے ساتھ ساتھ دلچسپ بھی ہے۔ اس لئے نذر قارئین کرتے ہیں، ان کی اپنی شگفتہ اور سلیس تحریر میں ملاحظہ فرمائیں:
مناظرہ ایک فن ہے جو اس فن کا ماہر اور تجربہ کار ہو گا وہی مناظرہ کر سکتا ہے۔ راقم الحروف (حضرت حافظ محمد حنیف) اس فن سے بالکل کورا ہے۔ لیکن کچھ عرصہ قبل قصبہ روڈہ علاقہ تھل ضلع سرگودھا حال ضلع خوشاب میں مدرس تھا۔ وہاں مرزائیوں کے چند گھر ہونے کی وجہ سے مرزائی مبلغین کی آمد کا تانتا بندھا رہتا تھا۔ گلی کوچوں میں گھوم پھر کر تبلیغ کرنا اور میدان خالی پا کر مناظرے اور مباحثے کے چیلنج دینا ان مبلغین کا محبوب شغل تھا۔ اگر ان کے تعاقب کے لئے باہر سے کسی مبلغ کو بلاتے تو اس کے لئے جہاں وقت درکار ہوتا وہاں سرمائے کی بھی ضرورت ہوتی۔ انتہائی سوچ بچار کے بعد فیصلہ کیا کہ خود ہی تیاری کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ ضرور امداد فرمائے گا۔ اب مسئلہ تھا کہ کتابیں کہاں سے حاصل کی جائیں۔ خدا نے اس مسئلہ کو یوں حل فرمایا کہ مولوی نذر محمد صاحب جو مرکزی جامع مسجد کے خطیب تھے اس کے پاس قادیان
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
کی چھپی ہوئی کچھ کتابیں موجود تھیں ۔ کچھ کتابیں تردید مرزائیت کی تھیں ۔ ان کا نہ یہ موضوع تھا نہ مشن ۔ میں نے وہ کتابیں ان سے حاصل کر کے تیاری شروع کر دی ۔ تیاری دوطرح کی تھی ۔ ایک مطالعہ کے ذریعے اور دوسرے مرزائی مبلغین سے جھڑپوں کے ذریعے ۔ چند دن بعد یہاں تک نوبت پہنچی کہ ربوہ سے احمد علی نام کا ایک چھوٹے سے قد کا مبلغ آیا ۔ حقہ بہت پیتا تھا ۔ دیہات میں اجتماعی حقہ پینے کا رواج ہے ۔ اس نے کچھ ٹھکانے ایسے تاڑے ہوئے تھے جہاں حقہ پیا جاتا ہے ۔ بس وہ وہاں پہنچ جاتا ۔ میری سی آئی ڈی مجھے اطلاع دیتی کہ وہ اب فلاں جگہ پہنچ گیا ہے ۔ میں فوراً وہاں پہنچ جاتا اور گفتگو شروع کر دیتا ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ ڈیڑھ دو مہینہ وہاں رہا اور آخر تنگ آ کر وہاں سے چلا گیا ۔ اس کے بعد عبدالستار نامی مبلغ آیا ۔ وہ بھی گمراہی کے فن میں خوب ماہر تھا ۔ اس نے بھی یہی سلسلہ شروع کر دیا ۔ میں نے اس کا بھی تعاقب کیا ۔ نتیجتاً دو اڑھائی ماہ رہ کر وہ بھی وہاں کے مرزائیوں کو داغ مفارقت دے گیا ۔ اس عرصہ میں اپنی اچھی خاصی تیاری ہو گئی ۔ ان دو مبلغین کی واپسی کے بعد کوئی نیا مبلغ تو نہ آیا ۔ البتہ وہاں ایک علاقائی مبلغ تھا جو پوری تحصیل خوشاب میں گھومتا پھرتا رہتا تھا ۔ اس لئے میری مرزائیوں کے مقامی عہدے داروں سے تو عموماً گفتگو ہوتی رہتی تھی ۔ لیکن میں اس علاقائی مبلغ کی تاڑ میں تھا ۔ ایک دن ایسا ہوا کہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کی چند کتابیں لے کر آدھی کوٹ چک نمبر ۸ میں اسی تبلیغی مشن کے لئے بس اڈے پر پہنچا ۔ کتابیں ہوٹل میں رکھیں ۔ باہر آ کر بس کا انتظار کر رہا تھا کہ مرزائی مبلغ ابوذر اور ان کی مقامی جماعت کے سیکرٹری ملک نور جمال سے مڈبھیڑ ہوئی ۔ میں نے مبلغ صاحب سے کہا کہ میں تو مدت سے آپ کے انتظار میں تھا کہ آپ سے بات چیت کروں اور پتہ چلاؤں کہ آپ جس ”مذہب“ کی پیروی کر رہے ہیں وہ کیا ہے ۔ اس نے فوراً کہا کہ یہ تو بڑی خوشی کی بات ہے ۔ آیئے ایک جگہ بیٹھتے ہیں چنانچہ ہم ہوٹل میں بیٹھ گئے ۔ گفتگو شروع ہوئی یہاں تک کہ وہ گفتگو ایک غیر رسمی مناظرے میں تبدیل ہو گئی ۔ مناظرہ شروع ہونے کے لئے شرائط طے ہونے لگیں ۔ میں نے مرزائی مبلغ ابوذر سے کہا کہ آپ لوگوں کی عادت ہے کہ خود بولتے چلے جاؤ اور دوسرے کو بولنے کا موقع نہ دو تو بہتر ہو گا کہ ہر فریق کی تقریر کے لئے پانچ پانچ منٹ طے کر لئے جائیں ۔ جسے اس نے تسلیم کر لیا ۔ بعد ازاں خود اس کے اصرار پر موضوع ختم نبوت طے ہوا ۔ پورا کمرہ کھچا کھچ بھر گیا تھا ۔ صرف دو مرزائی تھے باقی سب کے سب مسلمان ۔ وہاں جو گفتگو ہوئی آج کی محفل میں اپنی یادداشتوں سے اسے ازسرنو مرتب کر کے قارئین کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں ۔ لیجئے ملاحظہ فرمایئے :
راقم الحروف : تعوذ وتسمیہ کے بعد...........
”ماکان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين“
یہ قانون قدرت ہے کہ ہر چیز کی ابتداء اور انتہاء ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے سلسلہ نبوت حضرت سیدنا آدم علیہ السلام سے شروع فرمایا اور سرکار دو عالم رحمتہ اللعالمین حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر اس کی تکمیل فرمائی ۔ پہلے جتنے بھی انبیاء آئے وہ مخصوص قوموں اور مخصوص علاقوں کے لئے آئے تھے ۔ قرآن پاک میں جب ہم دوسرے انبیاء کرام علیہم السلام کا تذکرہ دیکھتے ہیں تو وہ کچھ اس طرح ملتا ہے ۔ حضرت نوح علیہ السلام کے بارے میں ارشاد ہے ۔ ”ولقد ارسلنا نوحاً الى قومہ“ ”نوح علیہ السلام کو ان کی قوم کی طرف نبی بنا کر بھیجا ۔ ”والىٰ عادٍ اخاهم هوداً“ قوم عاد کی طرف انہیں کے بھائی ہود علیہ السلام کو بھیجا ۔ الغرض حضرت صالح علیہ السلام کو ان کی اپنی برادری ثمود کی طرف ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنی قوم کی طرف، یہاں تک کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کی طرف خدا کے پیغمبر اور رسول بن کر تشریف لائے ۔ قرآن پاک میں موجود ہے : ”لكل قوم هاد “ اور ”وان من قرية الا خلافيها نذيرا“ حضور اکرم ﷺ سے پہلے ہر قوم
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
اور ہر قریے کی طرف خدا کی طرف سے ایک ہادی، ایک نذیر اور رسول مبعوث ہوا۔ لیکن حضور اکرم ﷺ کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے کہیں یہ نہیں فرمایا کہ وہ مکہ معظمہ، مدینہ منورہ، ہاشمی، قریشی خاندان یا محض اہل عرب کی طرف رسول بن کر آئے۔ بلکہ اعلان فرمایا: ’’قل یا ایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعاً‘‘ کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔ جس طرح قرآن پاک کی ایک دوسری آیت کریمہ: ’’یاایھا الناس اعبدوا‘‘ میں تمام انسانوں کو خطاب ہے اسی طرح ’’قل یا ایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعاً‘‘ میں بھی کسی خاص گروہ یا قبیلے کو خطاب نہیں بلکہ تمام انسانوں کو خطاب ہے۔
آیت خاتم النبیین میں لفظ خاتم بول کر اس مسئلہ کو واضح کر دیا کہ حضور ﷺ تمام انبیاء کے خاتم ہیں۔ اس لئے ان کے بعد کوئی شخص بھی نبوت یا رسالت کا دعویدار بن کر نہیں آسکتا۔ خود حضور سرور کائنات ﷺ نے اس کی یوں تشریح فرمائی: ’’انا خاتم النبیین لا نبی بعدی‘‘ کہ میں سلسلہ نبوت کو ختم کرنے والا ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ ہم کلمہ طیبہ پڑھتے ہیں اس میں بھی ’’لا‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ ’’لا الہ الا اللہ‘‘ جس کا معنی یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ جس طرح کلمہ طیبہ میں ’’لا‘‘ بول کر ہر قسم کی جھوٹی الوہیت کی نفی کر دی ہے۔ اس طرح لا نبی بعدی فرما کر ہر قسم کی جھوٹی نبوت کی بھی نفی کر دی گئی ہے۔
مرزائی مبلغ ابوذر: بسم اللہ الرحمن الرحیم...... ما کان محمد...... الخ!
اس آیت کا معنی اور مطلب غلط بیان کیا گیا ہے۔ خاتم مہر کو کہتے ہیں۔ جس کا معنی یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نبیوں کی مہر تھے۔ اب کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا۔ جن پر حضور ﷺ کی مہر نہ لگی ہو۔ مرزا قادیانی نے جس نبوت کا دعویٰ کیا تھا وہ مستقل اور شریعت والی نبوت کا نہیں تھا بلکہ وہ ایسی نبوت کا تھا جو حضور ﷺ کی کمال اطاعت اور تابعداری سے ملے۔ ایسا ہی جیسا کہ حضرت ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام کے تابع نبی بنا کر بھیجا گیا تھا۔ اگر ہم یہ بات مان لیں کہ حضور اکرم ﷺ کے بعد ہر قسم کی نبوت بند ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مرتبہ حضور ﷺ سے بڑا ہے۔
حضور ﷺ دو جہاں کے سردار ہیں۔ تمام نبیوں سے ان کا مرتبہ بڑا ہے۔ آپ ہی بتائیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تو ایک نبی ایسا ملے جو ان کا تابع ہو اور حضور ﷺ کے بعد آپ کہتے ہیں کہ یہ سلسلہ ہی بند ہو گیا ہے۔ کیا اس سے بڑھ کر حضور ﷺ کی کوئی اور توہین ہو سکتی ہے؟
دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے: ’’ومن یطع اللہ والرسول فاولئک مع الذین انعم اللہ علیھم من النبیین والصدیقین والشھداء والصلحین‘‘
اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں گے ایسے لوگ نبیوں میں سے ہوں گے۔ صدیقوں میں سے ہوں گے۔ شہیدوں میں سے ہوں گے اور صالحین میں سے ہوں گے۔ آپ لوگ یہ کہتے ہیں کہ صدیق ہو سکتے ہیں۔ شہید ہو سکتے ہیں۔ نیکو کار اور صالح لوگ ہو سکتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ نبی نہیں ہو سکتے؟
راقم الحروف: بحث کا اصول یہ ہے کہ مخاطب جو دلائل دے پہلے ان کو رد کیا جائے اور پھر اپنے دعوے کے ثبوت میں دلائل دیئے جائیں۔ میں نے جو دلیلیں دی ہیں ان میں سے لفظ خاتم کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ باقی سب کی سب ہضم کر گئے۔ تاہم آپ نے جو غلط بیانیاں کی ہیں ان کا جواب دینا میرا فرض ہے۔ آپ نے کہا ہے کہ خاتم کا معنی مہر ہے یعنی اب وہ نبی بنے گا جس پر حضور ﷺ مہر لگائیں گے۔ پھر ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ مرزا قادیانی صاحب شریعت نبی نہیں تھے امتی نبی تھے۔ اگر اس آیت کریمہ کا معنی یہ لیا جائے کہ اب حضور ﷺ کی مہر سے نبی بنیں گے تو آیت میں خاتم کے بعد النبیین جمع ہے۔ جس میں شریعت والے اور بغیر شریعت والے سب شامل
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
ہیں ۔ مبلغ صاحب بتائیں کہ جب حضور ﷺ کی نبوت کامل اور آپ کی مہر کامل ومکمل ہے تو بغیر شریعت کے نبی کیوں آئیں گے۔ شریعت والے نبی کیوں نہیں آسکتے؟ اس کے بعد ہم قرآن سے پوچھیں کہ ”ختم“ کا لفظ ”اجراء“ کے لئے استعمال ہوا ہے یا بندش کے لئے ۔ دیکھئے! قرآن پاک میں ہے ۔ ”ختم اللہ علیٰ قلوبهم“ کہ اللہ نے بند لگا دیا ان کے دلوں پر کہ کفار اور مشرکین کا دل کسی اچھی بات کو قبول کرنے پر آمادہ ہی نہیں۔ ایک اور مقام پر روز محشر کے بارے میں ارشاد ہے۔ ”الیوم نختم علیٰ افواههم وتكلمنا ایدیهم“ اس آیت میں بھی ”نختم“ بندش کے معنی میں استعمال ہوا ہے کہ ان کی زبان بند ہو جائے گی تو وہ کچھ نہ بول سکیں گے اور ان کے ہاتھ اور دیگر اعضاء جواب دیں گے ۔ لیجئے ! اگر آپ کا مہر والا معنی کیا جائے تو اس کا مطلب بھی مذکورہ آیتوں کی روشنی میں بندش یا خاتمہ کا ہوا۔ آسان الفاظ میں یوں سمجھیں کہ کوئی مصنف کتاب لکھتا ہے جب اس کی کتاب مکمل ہو جاتی ہے تو آخر میں لکھ دیتا ہے ”ختم شد“ یعنی یہ کتاب مکمل ہو گئی ۔ کسی بھی قرآن پاک کو اٹھائیں اس کے سب سے آخر میں سورۃ الناس ہے ۔ اس کے بعد لکھا ہے : ”دعاء ختم القرآن“ جس کا معنی اور مطلب یہ ہے کہ ”سورۃ الناس“ پر قرآن پاک مکمل ہو گیا۔ اب قرآن مکمل کر لینے پر یہ دعا پڑھیں ۔
آیئے! اب ہم مرزا غلام احمد قادیانی جس نے نبوت کا دعویٰ کیا اور جو ان مرزائیوں کا نبی تھا ، اس سے اس کا معنی پوچھئے ۔
مرزا قادیانی کہتے ہیں : ” محمد ﷺ کی شریعت خاتم الشرائع ہے ۔“
(چشمہ معرفت ص ۳۲۴ ، خزائن ج ۲۳ ص ۳۴۰)
مرزا قادیانی کا ایک شعر ہے ؎
(در ثمین فارسی ص ۱۱۴)
مرزائی مبلغ صاحب! آپ نے اپنی گفتگو میں یہ کہا تھا کہ خاتم النبیین کا معنی نبیوں کی مہر ہے ۔ یعنی اب حضور ﷺ کی مہر سے نبی آئیں گے تو خاتم الشرائع کا معنی بھی یہ بنے گا کہ اب آپ ﷺ کی شریعت سے اور شریعتیں آئیں گی ۔ اگر یہ معنی یہاں غلط ہے تو ماننا پڑے گا کہ خاتم النبیین کا جو آپ لے رہے ہیں، وہ بھی غلط ہے ۔ مرزا قادیانی کے اس شعر کا صاف مطلب یہ ہے کہ ہر قسم کی نبوت حضور ﷺ پر اختتام پذیر ہوگئی ۔ یہاں اختتام بمعنی ختم ہے۔ جہاں تک حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کا تعلق ہے تو میں یہ بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ پہلے یہ ثابت کریں کہ حضرت ہارون علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام کی مہر سے نبی بنے تھے پھر یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ موسیٰ علیہ السلام بھی خاتم النبیین تھے ۔ ان کے پاس بھی کوئی مہر ایسی تھی جس کو لگا کر انہوں نے ہارون علیہ السلام کو نبی بنا دیا تھا۔ نبوت نہ تو کسبی چیز ہے کہ شخص ریاضت اور عبادت کر کے اسے حاصل کر لے اور نہ ہی نبوت کسی بڑے سے بڑے اور کامل سے کامل انسان کے اختیار میں ہے کہ وہ پروانہ نبوت لکھ کر کسی کو دے دے۔ اگر ایسا ہوتا تو سرکار دو عالم ﷺ کے نزدیک سیدنا ابو بکر صدیق ؓ، سیدنا فاروق اعظم ؓ ، سیدنا عثمان غنی ؓ اور سیدنا حیدر کرار ؓ سے زیادہ کوئی نہیں تھا۔ یقیناً حضور ﷺ خلافت راشدہ کے ان تاجداروں کو منصب نبوت سے سرفراز فرماتے۔ دراصل حضور ﷺ سے پہلے ایک وقت میں کئی کئی نبی ہوتے تھے۔ باپ نبی ہے تو بیٹا بھی نبی ہے ۔ حضرت ابراہیم نبی تھے ۔ ان کے بیٹے اسحاق اور اسماعیل بھی نبی تھے ۔ حضرت یعقوب نبی تھے ان کے بیٹے حضرت یوسف بھی نبی تھے ۔ ان میں سے کوئی بھی صاحب شریعت نبی نہیں ہے جو یہ کہا جا سکے کہ یہ سب امتی نبی تھے۔ یہ امتی نبی کا تصور ہی سرے سے غلط بلکہ احمقانہ ہے۔ پھر اگر حضرت موسیٰ کو ایک نبی ملا یہاں بھی آپ کے عقیدے کے مطابق صرف مرزا قادیانی ہی آئے ۔ اس لئے حضور کی توہین ہم نہیں کر رہے آپ کر رہے ہیں۔
رہی آیت کریمہ ”من يطع الله والرسول“ تو آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ اس آیت میں خدا اور رسول کے فرمانبرداروں کے لئے
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
جنت میں انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ رفاقت اور معیت کا ذکر ہے۔ نظام نبوت، صدیقیت وغیرہ ملنے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔
مرزائی مبلغ ابوذر: مجھے افسوس ہے کہ میں نے جو آیت کریمہ پیش کی تھی ”من یطع اللہ والرسول“ اس کا جواب دینے کی بجائے ادھر ادھر بھاگ رہے ہو۔ دیکھئے! آپ نماز میں یہ دعا کرتے ہو ”اہدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیہم“ اے اللہ ہمیں صراط مستقیم پر چلا۔ ان لوگوں کے صراط مستقیم پر جن پر تیرا انعام ہوا۔ آپ لوگ یہ مانتے ہیں کہ نبوت ایک انعام ہے۔ صدیقیت انعام ہے۔ شہادت انعام ہے۔ تقویٰ اور نیکی انعام ہے۔ ان انعامات خداوندی میں سے آپ مانتے ہیں کہ صدیقیت، شہادت اور صالحیت کا دروازہ کھلا ہے۔ نبوت کا دروازہ کیوں بند ہو گیا۔
جہاں تک لفظ خاتم کا تعلق ہے تو بات دراصل یہ ہے کہ خاتم کا لفظی (لغوی) معنی تو یہی ہے کہ ”مہر“ لیکن یہاں یہ لفظ فضیلت کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ حضور ﷺ کے پاس کوئی مہر تھی۔ بس وہ مہر لگ گئی اور نبی بن گئے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضور ﷺ کا مرتبہ اور مقام اتنا ارفع اور اعلیٰ ہے کہ جو ان کی تابعداری اور اتباع میں کمال پیدا کرے گا وہ نبی بن جائے گا۔ رہی یہ بات کہ ہمارے حضرت صاحب نے خاتم الشرائع کہا ہے تو ایک ہے ان کا اپنا کلام اور دوسرا ہے وحی خداوندی۔ یہ کوئی وحی خداوندی نہیں بلکہ ذاتی خیال ہے۔ ذاتی خیال غلط ہو سکتا ہے۔ خدا کی طرف سے جو وحی ہوتی ہے وہ غلط نہیں ہو سکتی۔ ”ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین“ وحی خداوندی ہے۔ اس لئے اس کا معنی یہی لینا پڑے گا کہ اب حضور ﷺ کی اتباع سے نبی بنیں گے۔ دیکھئے آپ یہ تو مانتے ہیں کہ مسیح آئے گا۔ حالانکہ مسیح کے بارے میں قرآن پاک کی آیت ”متوفیک ورافعک“ میں ان کی موت کی طرف واضح اشارہ موجود ہے۔
آپ کے عقیدے میں اور ہمارے عقیدے میں فرق صرف یہی ہے کہ آپ مسیح ابن مریم کو جو قریباً دو ہزار سال پہلے اس دنیا کی ہدایت کے لئے آئے تھے وہی دوبارہ آسمان سے نازل ہو کر آپ کو صراط مستقیم دکھائیں گے۔ جب کہ ہم یہ کہتے ہیں کہ وہ مسیح فوت ہو چکا ہے۔ جس مسیح کے بارے میں حدیث میں درج ہے وہ مثیل مسیح ہے نہ کہ مسیح ابن مریم۔ حیات عیسیٰ کا عقیدہ نہ صرف قرآن کے خلاف ہے بلکہ قانون قدرت کے بھی خلاف ہے اور عقل اس کو ماننے کے لئے تیار نہیں کہ کوئی شخص تقریباً دو ہزار سال تک بغیر کھائے پیئے زندہ رہے۔
راقم الحروف: طے ہے کہ ختم نبوت پر بات چیت ہوگی۔ آپ وفات مسیح کا مسئلہ شروع کر کے موضوع سے ہٹ رہے ہیں۔
مرزائی مبلغ: آپ کو بھی اجازت ہے۔
راقم الحروف: اچھا! تو چلئے۔
مرزائی مبلغ: یہ موضوع کے عین مطابق ہے۔ اس لئے کہ جب ختم نبوت کا ذکر آئے گا تو وہاں یہ سوال ضرور پیدا ہوگا کہ کیا عیسیٰ علیہ السلام کی آمد اور نزول ختم نبوت کے منافی نہیں؟
راقم الحروف: آیت کریمہ ”من یطع اللہ“ کے بارے میں، میں بتا چکا ہوں کہ اس آیت میں معیت اور رفاقت مراد ہے۔ جس کی آیت کے آخری جملوں ”وحسن اولئک رفیقا“ میں وضاحت موجود ہے۔ اگر اس پر بھی تسلی نہیں ہو رہی تو جناب سے میرا سوال ہے کہ اس آیت میں اطاعت اور فرمانبرداری کرنے والوں کو خوش خبری دی جا رہی ہے۔ انبیاء اور صدیقین وغیرہ کی معیت کی جب کہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ کی اطاعت صرف مرد ہی نہیں کرتے بلکہ عورتیں بھی کرتی ہیں۔ اسی طرح ”اہدنا الصراط المستقیم“ والی آیت ہر نماز میں مرد بھی پڑھتے ہیں عورتیں بھی پڑھتی ہیں۔ تو ذرا بتائیے کہ عورتوں نے کیا قصور کیا ہے کہ وہ نبوت کی نعمت سے محروم ہیں۔ اگر آپ یہ کہیں
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء
ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبد اللہ معتصم
کہ ان پر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب وہ احکام خداوندی سے مستثنیٰ ہوتی ہیں تو مرزا قادیانی پر بھی ایسا وقت آیا ہے۔ مرزا قادیانی خود یہ کہتے ہیں مجھے مریم سے تشبیہ دی اور پھر عیسیٰ کی روح مجھ میں پھونکی گئی۔ بتائیے جو شخص اپنے قول کے مطابق ایک عرصہ تک مریم بنا ہوا (نعوذ باللہ) اور خدا نے اس سے ہم بستری کی ہو۔ حتیٰ کہ اسے حیض بھی آتا ہو تو بتائیے کیا وہ اس قابل بھی ہے کہ منصب نبوت دے دیا جائے۔
مرزائی مبلغ: آپ حضرت صاحب کی کردار کشی نہ کریں۔
راقم الحروف: یہ بات میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ حیات یا وفات عیسیٰ کا مسئلہ خارج از موضوع ہے۔ آپ نے کیوں چھیڑا، اور جب میں نے اعتراض کیا تو آپ نے خود اجازت دی ہے۔ اب بات شروع ہوگئی ہے تو چلئے اس طرح نہ سہی اس طرح سہی۔
مرزائی مبلغ: یہ استعارے ہیں جنہیں آپ نہیں سمجھ سکتے۔
راقم الحروف: پہلے مجھے اپنی بات مکمل کر لینے دیں پھر استعاروں کی بات ہوگی۔
مرزائی مبلغ: اچھا ٹھیک ہے۔
راقم الحروف: جہاں تک آیت ”اهدنا الصراط المستقیم“ کا تعلق ہے۔ یہ آیت خود حضور اکرم ﷺ بھی ہر نماز میں پڑھتے تھے تو کیا اس کا مطلب یہ لے لیا جائے کہ حضور کو بھی اس دعا کی وجہ سے نبوت ملی۔ حالانکہ نبوت کسبی چیز نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ جسے بھی چاہے اس منصب جلیلہ کے لئے چن لیتا ہے۔ جیسا کہ اللہ فرماتے ہیں: ”الله يصطفى من الملئكة رسلاً ومن الناس“ اور ”الله اعلم حيث يجعل رسالة“ اگر آپ کے عقیدے اور نظریے کو صحیح مان لیا جائے کہ ”اهدنا الصراط المستقیم“ پڑھنے سے نبوت مل سکتی ہے تو پھر ہر ایرا غیرا نتھو خیرا یہ کہنے لگے گا کہ میں نے یہ دعا کی تھی نبوت مل گئی تو گویا نبوت نہ ہوئی کھیل ہو گیا۔
اب رہ گئی بات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تو گزارش یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ذات تو صرف ایک ہے وہ نئے نبی نہیں بلکہ پرانے نبی ہیں۔ آپ لوگوں کا عقیدہ ہے نبوت جاری ہے۔ اگر جاری ہے تو حضور ﷺ کے بعد تو درجنوں نبی آنے چاہئیں۔ بغیر شریعت والے بھی جیسا کہ ”النبیین“ کے لفظ سے ظاہر ہے۔ یہ ایک ہی پر دروازہ کیوں بند ہو گیا؟
مرزائی مبلغ: دیکھئے جی! کردار کشی نہ کریں۔ بات علمی ہو رہی ہے۔ اسے علمی ہی رہنا چاہئے۔
راقم الحروف: مرزا قادیانی کی کتابیں علم پر مبنی ہیں یا جہالت پر؟
مرزائی مبلغ: وہ تو سب علمی ہیں لیکن آپ غلط انداز میں بیان کر رہے ہیں۔
راقم الحروف: میں نے ابھی یہ بھی بتانا تھا کہ جس شخص کے بارے میں آپ کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ حضور ﷺ کی مہر یا حضور ﷺ کی تابعداری اور کمال اطاعت سے نبی بنا ہے۔ اس کے اعمال کیسے تھے، احوال کیسے تھے، اخلاق کیسا تھا؟ میں نے تو ان باتوں کو چھوا تک نہیں۔
مرزائی مبلغ: آپ جو حوالہ دیں کتاب پیش کرنی پڑے گی اور وہ عبارت اس طرح دکھانی پڑے گی۔ مبلغ صاحب یہ سمجھتے تھے کہ یہ خالی ہاتھ ہے۔ حالانکہ کتابیں موجود تھیں جو ایک کونے میں کپڑے میں بندھی ہوئی رکھی تھیں۔
راقم الحروف: میں جو حوالہ دوں گا اس کا میں ذمہ دار ہوں۔ اگر میں حوالہ نہ دے سکوں تو یہاں یہ پچاس ساٹھ مسلمان موجود ہیں میں ان کو گواہ کر کے کہتا ہوں کہ جو سزا میرے لئے تجویز کریں گے وہ مجھے منظور ہوگی۔ اگر میں حوالہ دکھا دوں تو آپ؟
مرزائی مبلغ: آپ کچھ بتائیں تو سہی پھر غور کریں گے۔
راقم الحروف: اصولاً تو پہلے جو بات چل رہی تھی اسے مکمل کرنا چاہئے تھا۔ لیکن آپ نے موضوع سے انحراف کر کے خود کو مجبور کر دیا
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء
ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
کہ میں آپ کو مرزا قادیانی کی کتابوں سے ہی اس کے دعوائے نبوت کی حقیقت واضح کروں۔ خدا کرے کہ یہ گفتگو مبلغ صاحب اور اس کے ساتھی کی ہدایت کا سبب بن جائے۔ میں چند اصول بیان کرنا چاہتا ہوں۔ پہلا یہ کہ: کسی سچے نبی نے اپنے سے پہلے نبی کی توہین نہیں کی۔
میں نے مبلغ صاحب سے سوال کیا کہ کیا مبلغ صاحب یہ اصول صحیح ہے یا غلط؟
مرزائی مبلغ: جی صحیح ہے۔
راقم الحروف: جب یہ اصول تسلیم کر لیا تو آئیے مرزا قادیانی کو دیکھتے ہیں وہ کیسے تھے۔ مرزا صاحب کا دعویٰ ہے کہ میں سچا نبی ہوں اور یہ بھی دعویٰ ہے کہ میں مثیل مسیح ہوں اور مرزا قادیانی یہ بھی کہتے ہیں کہ شراب ام الخبائث ہے۔ لیکن ساتھ ہی حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں العیاذ باللہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ: ”وہ شراب پیا کرتے تھے۔“
(کشتی نوح ص ۶۶، خزائن ج ۱۹ ص ۷۱)
مرزائی مبلغ: حوالہ دکھائیے؟
راقم الحروف نے کتابوں کی گٹھڑی منگوائی اور دو کتابیں ”ضمیمہ نصرۃ الحق“ اور ”کشتی نوح“ نکالی۔ پہلے نصرۃ الحق کا ص ۲۶، خزائن ج ۲۱ ص ۳۶ دکھایا جس پر لکھا ہے کہ: ”شراب ام الخبائث ہے۔“ اور پھر کشتی نوح کا ص ۶۶، خزائن ج ۱۹ ص ۷۱ دکھایا جس کے حاشیے پر لکھا ہے کہ: ”عیسیٰ ؑ شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔“
ایک اور کتاب میں کنجریوں سے میلان کا تذکرہ بھی کیا ہے۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص ۷، خزائن ج ۱۱ ص ۲۹۱ حاشیہ)
میں نے یہ عبارت پڑھی تو مبلغ مذکور کے ساتھ ان کی مقامی جماعت کا سیکرٹری صاحب طیش میں آ گیا اور مجھے فحش اور انتہائی گندی گالی نکالتے ہوئے کہا: ”بکواس بند کرو۔“
تمہارے نبی مرزا غلام احمد کی عبارت ہے۔ اتنا سنتے ہی وہ غصے میں اٹھ کھڑا ہوا اور میری طرف لپکا کہ ایک مسلمان ملک عطاء محمد صاحب نے اسے پکڑ کر ایک طرف دھکا دے کر گرا دیا اور اس کے بعد مبلغ صاحب کو ایک زناٹے کا تھپڑ رسید کیا کہ اس کی طرے دار پگڑی کھل کر دور جا پڑی۔ میں نے اور دوسرے مسلمانوں نے ملک صاحب کو روک دیا کہ کافی ہو چکی۔ اب کچھ نہ کہو۔ مبلغ صاحب اٹھے، پگڑی کو اٹھایا، اس سے مٹی کو جھاڑتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئے۔ وہ دن اور آج کا دن۔ اگر کہیں مجھ سے آمنا سامنا ہو تو نگاہیں نیچی کر کے پاس سے گزر جاتا ہے اور اگر نکلنے کا کوئی اور راستہ موجود ہو تو مجھے دیکھتے ہی وہ راستہ چھوڑ دیتا ہے۔ فالحمد للہ علیٰ ذالک!
ربوہ (چناب نگر) میں ایک مرزائی کا قتل اور مسلمانوں کے خلاف سازش
احمد نگر ضلع سرگودھا میں دو مرزائی خاندان تھے۔ ان کا آپس میں کسی بات پر تنازعہ ہوا۔ بات لڑائی تک پہنچ گئی۔ ایک خاندان نے دوسرے خاندان کے کچھ افراد کی پٹائی کی۔ چند دن بعد پٹنے والے خاندان کے دو آدمیوں نے رات کے وقت اپنے مخالف کے گھر پر دھاوا بول دیا۔ مخالف خاندان کے لوگ پہلے سے تیار بیٹھے تھے اور جیسے ہی یہ لوگ وہاں پہنچے تو مخالف خاندان نے ان پر فائرنگ کی۔ جس کے نتیجے میں حملہ آور دو آدمیوں میں ایک مارا گیا۔ مقتول کا نام محمد یار تھا جو مکڑی والا قصبہ احمد نگر کا رہائشی تھا۔ یہ واقعہ ۱۴؍مئی ۱۹۸۳ء کو پیش آیا۔ اگلے دن ملکی اخبارات میں خبر چھپی کہ مقتول مرزائی تھا اور قادیانی جماعت کے لاٹ پادری مرزا طاہر کا ملازم تھا۔ دوسرے دن ”الفضل“ نے تردید کی کہ مقتول کا قادیانیوں سے نہ تعلق تھا اور نہ ہمارے خلیفہ کا ملازم تھا۔
مقتول محمد شاہ اور اس کے خاندان کی دشمنی مرزا مبارک احمد مرزائی اور اس کے خاندان سے تھی۔ چونکہ مقتول اور قاتل خاندان
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
دونوں مرزائی تھے۔ اس لئے آپس میں گٹھ جوڑ کر کے انہوں نے مقتول محمد شاہ کے قتل کا مقدمہ ایک مسلمان مہر محمد عیسیٰ اور اس کے بیٹوں کے خلاف دائر کر دیا۔ ان دنوں مولانا اللہ وسایا بھی ربوہ میں خطیب اور مبلغ تھے۔ اس لئے انہوں نے بھی اس کیس میں پوری دلچسپی لی اور مسلمانوں کی نمائندگی فرمائی۔ انہوں نے اس کیس کی مختصر روداد قلمبند فرمائی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں لکھتے ہیں: محمد شاہ چاہ لگر والا قصبہ احمد نگر کے قتل کے سلسلہ میں قادیانی جماعت کا گھناؤنا کردار سامنے رکھئے کہ مقتول اور اس کے ہمراہیوں کی اصل دشمنی مرزائی خاندان مبارک کے ساتھ تھی اور وہ ان سے لڑنے آئے تھے۔ مقتول کی پارٹی نے گاؤں میں گالی گلوچ کیا تو لوگ آڑے آئے۔ لڑائی ہوئی۔ آدمی مارا گیا۔ مرزائیوں نے فوراً اپنے آدمی نکلوا دیئے اور قصبہ احمد نگر کے مرکز کونسل کے چیئرمین مہر محمد عیسیٰ اور ان کے لڑکوں کے خلاف پرچہ درج کرا دیا۔ ۳۰؍ مئی ۱۹۸۳ء کی شام اس کیس کی تفتیش کے سلسلہ میں تفتیشی آفیسر جناب چوہدری ذوالفقار ایس ایچ او لالیاں قصبہ احمد نگر آئے۔ صوبائی ، مرکزی شوریٰ کے رکن ، علاقہ کے کونسلر ، معززین ، عوام الناس ہزاروں کی تعداد میں پرائمری سکول احمد نگر کے وسیع گراؤنڈ میں جمع تھے۔ فقیر راقم الحروف (مولانا اللہ وسایا) بھی حاضر تھا۔ کیس کے سلسلہ میں ہر آدمی نے اپنی اپنی معلومات کے مطابق کہا کہ ناجائز طریقہ لوگوں کو ملوث کرنے کے لئے ربوہ سرکار کی کوشش و کاوش سے سارا ناٹک رچایا گیا ہے۔ فقیر کو اتنا معلوم تھا کہ پرچہ ناجائز ہوا ہے۔ کیونکہ اس میں ایسے آدمیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے جو لڑائی میں موجود تو درکنار وہ تو اس رات احمد نگر میں موجود نہ تھے۔ مثلاً مہر محمد عیسیٰ کا لڑکا لیاقت اس رات احمد نگر میں موجود بھی نہ تھا اور یہ بات مجھے میرے نمازی و جماعتی احباب نے احمد نگر کی مسجد میں بیٹھ کر یقین کے ساتھ بتلائی تھی۔
دلچسپ واقعہ ، افسوسناک رویّہ اور شرمناک طریقہ واردات
چنانچہ تفتیشی آفسر کے سامنے ہزاروں افراد کی موجودگی میں احمد نگر کے معروف قادیانی مبارک نے بھی بیان دیا۔ جب اس کا بیان مکمل ہو چکا تو سردار غلام عباس جو اس علاقہ کے پرانے جہاندیدہ زمیندار ہیں، نے مبارک قادیانی سے سوال کیا کہ وقوعہ کے روز آپ گھر پر تھے اور مقتول کی پارٹی لڑنے بھی آپ سے آئی تھی۔ مگر وقوعہ کے بعد آپ دو دن کہاں غائب رہے۔ اس نے ایک ایسا انکشاف کیا جو مرزائیت کے خلاف کام کرنے والوں کے لئے تو صرف ایک دلچسپ واقعہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ مگر اس سے قادیانی جماعت کے افسوس ناک رویّہ ، شرمناک طریقہ واردات اور اپنے عقیدہ کے مخالف لوگوں کو پھنسانے کی پرانی ، گھناؤنی اور مکروہ چال کی نقاب کشائی کرتا ہے۔ اس نے کہا کہ میں پہلے دن تو اس لئے چھپا رہا کہ اصل مقتول کی پارٹی ہم سے لڑنے آئی تھی تو گاؤں کے لوگوں سے لڑائی ہوئی۔ مگر اصل دشمن کے باعث مقدمہ میرے خلاف ہوگا۔ اس لئے چھپا رہا۔ دوسرے دن غائب رہنے کی وجہ یہ ہے کہ مجھے ربوہ جماعت کے امور عامہ کے انچارج ظہور باجوہ و عزیز بھانبڑی کا پیغام ملا کہ فوراً ربوہ پہنچو۔ میں ان کی جماعت سے تعلق رکھتا ہوں۔ جماعت کے حکم پر سر کے بل چل کر گیا تو ظہور باجوہ ناظر امور عامہ ربوہ عزیز بھانبڑی محتسب نے مجھے کہا کہ تم گواہی دے دو کہ مہر عیسیٰ اور اس کے لڑکوں نے قتل کیا ہے۔ اس سے تین فائدے ہوں گے۔
- ۱...... تم بچ جاؤ گے۔
- ۲...... محمد عیسیٰ ہمارے مخالف عقیدہ کا مسلمان ہے وہ احمد نگر میں بااثر ہونے کے باعث ہماری تبلیغ مرزائیت میں روک ہے۔ وہ ملوث
ہو جائے گا وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے قتل کے کیس میں ملوث ہو کر مٹ جائے گا۔
- ۳...... مقتول کے ورثاء کو ہم نے راضی کر لیا ہے وہ ہمارے قریب سے قریب تر ہو کر احمدیت کی آغوش میں آ جائیں گے۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
مگر میں نے ظہور باجوہ وعزیز بھانبڑی کو کہا کہ آپ ایک خاندان (محمد عیسیٰ) کو کیوں ناجائز ملوث کرتے ہیں۔ اس طرح تو ظلم ہے۔ یہ ظلم اور اپنے آپ کو مقدس جماعت کہتے ہیں اور پھر اس طرح کا ناجائز اقدام ظلم اور جھوٹ کا ارتکاب کرتے ہیں تو انہوں نے مجھے کہا کہ تم کو ہم نے اس لئے نہیں بلایا کہ ہمیں وعظ کرو بلکہ اس لئے بلایا ہے کہ تم گواہی دے دو تم بچ جاؤ گے۔ ایک خاندان جماعت کا دشمن ہے، مٹ جائے گا۔ میں نے کہا کہ میں تو بچ گیا ہوں۔ کیونکہ پرچہ میں میرا نام نہیں ہے اور ساتھ ہی لڑائی بھی میرے ساتھ نہیں ہوئی۔ گو وہ مجھ سے لڑنے آئے تھے۔ مگر ان کی مڈبھیڑ گاؤں کے لوگوں سے ہوگئی۔ مگر میں ایک خاندان کو بلاوجہ ظلماً اپنی گواہی سے نہیں پھنسوانا چاہتا۔ انہوں نے کہا کہ تمہاری سوچ غلط ہے۔ تم واپس جاؤ۔ ۲۴ گھنٹے کی مہلت ہے۔ کل ہم دونوں احمد نگر آئیں گے۔ آپ فیصلہ کر کے ہمیں بتا دیں کہ آپ گواہی دیتے ہیں یا نہ۔ میں گھر چلا آیا۔
سوچتا رہا کہ بیان دوں تو دنیا آخرت تباہ۔ اس لئے کہ وہ خالصتاً جھوٹ پر مبنی ہے۔ اگر بیان نہیں دیتا تو جماعت (مرزائی) ناراض۔ دوسرے دن وہ آئے۔ مجھے بلایا۔ مگر میں نے انکار کر دیا۔ انہوں نے دھمکی دی کہ تم نے ہمارے کہنے پر بیان نہ دیا تو ہم تم کو جماعت سے نکال دیں گے۔ میں نے کہا کہ آپ کی مرضی۔ مگر میں غلط گواہی نہیں دیتا۔ چنانچہ انہوں نے اس دن شام کو میرا، میرے لڑکے، میرے بھائی، بھتیجے پانچ افراد کو مرزائی جماعت سے نکال کر بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔ اس کشمکش میں دوسرے دن بھی غائب رہا۔ فقیر راقم (مولانا اللہ وسایا) کی بہت سارے لوگ جو اس مجلس میں موجود تھے، گواہی دیں گے کہ یہ اس شخص کا بیان ہے جو مرزائی جماعت کا کارکن تھا۔ اب آپ اندازہ لگائیں کہ مرزائی جماعت کس طرح جھوٹ، فریب کاری اور عیاری سے اپنے دشمنوں کو زیر کرنے کے لئے ناجائز قتل کے کیس تک درج کراتی تھی اور ان کے ڈھب پر پورا نہ اترنے والے کو چاہے وہ ان کی جماعت کا فرد کیوں نہ ہو، جماعت سے نکال باہر پھینکتی تھی اور بائیکاٹ جیسی سزا دے کر اپنی چنگیزیت کو تسکین پہنچاتی تھی اور آج تک مرزائیت کا یہی وطیرہ ہے۔
(لولاک مورخہ ۵/اپریل ۱۹۸۳ء)
اسپین اور مرزائی
جون ۱۹۸۳ء کو سپین سے ایک مسلمان جناب افتخار الٰہی، انچارج اسلامک سنٹر نے ہفت روزہ لولاک کے نام ایک خط بھیجا جس میں وہاں قادیانیوں کی سرگرمیوں کا تذکرہ ہوا تھا اور پاکستان کی ایمبیسی میں مرزائیوں کی تبلیغی مہم اور درپردہ قادیانیوں کی امداد کا پردہ فاش کیا تھا۔ ہفت روزہ لولاک نے وہ خط وزارت خارجہ کو بھیجا۔ وزارت خارجہ نے سپین میں تعینات پاکستان کے سفیر سے باز پرس کی۔ اس نے کچھ کہا وزارت خارجہ کو مطمئن کیا اور خط لکھنے والے افتخار الٰہی صاحب کو اپنا دشمن اور حاسد قرار دیا۔ جناب افتخار الٰہی نے سفیر کے جواب میں ایک اور خط لکھا۔ آپ ترتیب وار ملاحظہ فرمائیں:
میں آپ کی توجہ میڈرڈ (سپین) میں قادیانی حضرات کی سرگرمیوں اور یہاں کے پاکستانی سفارت خانے کے بعض افسروں کی درپردہ قادیانی حضرات کی امداد اور قادیانیوں کے ساتھ ان کے خصوصی تعلقات کی طرف دلانا چاہتا ہوں۔ امید ہے کہ آپ اپنی پہلی فرصت میں ان حقائق کو ارباب اختیار تک پہنچا کر ان باتوں کے سدباب کی کوشش کریں گے۔
میں یہاں میڈرڈ میں عرصہ ڈیڑھ سال سے مقیم ہوں اور یہاں کے اسلامک سنٹر میں کام کرتا ہوں۔ اخبارات کا مطالعہ کرنے اور دوسرے کاموں کے سلسلے میں اپنے سفارت خانے جانے کا اکثر اتفاق ہوتا ہے۔ سفارت خانہ جانے پر معلوم ہوا کہ یہاں آنے والے ایک پاکستانی کے مقابلے میں کسی بھی قادیانی کی زیادہ آؤ بھگت کی جاتی ہے۔ سیکرٹری صاحبان ان کو اپنے کمرے میں لے جا کر گپیں لگاتے ہیں
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
اور ان کو چائے بھی پیش کی جاتی ہے۔ لیکن دوسرے مسلمانوں کے ساتھ سیدھی طرح بات بھی نہیں کی جاتی۔ ۱۴؍ اگست ۱۹۸۲ء کی تقریب میں جب شاہد علی خان سیکرٹری سفارت خانہ میں داخل ہوئے تو وہ قادیانی حضرات سے گلے ملے۔ باقی لوگوں کو صرف سر کے اشارے سے سلام کیا اور پھر ان دونوں صاحبان کو لے کر اپنے دفتر میں چلے گئے اور تقریباً ایک گھنٹہ تک باتیں کرتے رہے اور پھر چائے کے لئے باہر آئے۔ کچھ دنوں کے بعد میں نے شاہد صاحب سے اس بات کا تذکرہ کیا اور ان کو کہا کہ آپ کو سفارت خانہ میں ان لوگوں سے ترجیحی سلوک نہیں کرنا چاہئے ۔ مگر سیکرٹری صاحب نے مجھے جواب دیا کہ ہم ڈپلومیٹ لوگ ہیں اور ہر کسی سے اچھی طرح ملنا پڑتا ہے اور قادیانی حضرات سے تو اس وجہ سے بھی ہمیں اچھا سلوک کرنا پڑتا ہے کیونکہ یہ لوگ بھی پاکستانی ہیں اور یہ نہ سمجھیں کہ حکومت ہم سے ہر جگہ امتیازی سلوک کرتی ہے۔ بعد میں پتہ چلا کہ یہاں کے مقیم قادیانی خاص کر ایک صاحب مسٹر رزاق (جو کہ یہاں ایک موٹر کمپنی میں کافی عرصہ سے ملازم ہیں) کے ساتھ سیکرٹری صاحبان کے خصوصی تعلقات ہیں اور ان کے ہاں جا کر یہ باقاعدہ دعوتیں کھاتے ہیں۔ یہاں جب بھی کبھی کسی پاکستانی کو کسی قسم کی مدد درکار ہوتی ہے تو سیکرٹری صاحب حاجت مند کو قادیانی حضرات کا ایڈریس اور فون نمبر دے کر ان سے ملنے کا مشورہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ ان صاحبان کے پاس جائیں۔ بڑے اچھے آدمی ہیں۔ آپ کی ضرور مدد کریں گے۔
پچھلے دنوں ڈاکٹر عبدالسلام جو کہ اٹلی میں میڈرڈ یونیورسٹی میں لیکچر دینے آئے، یہاں بھی آئے۔ ہمارے سیکرٹری صاحبان ان کو رخصت کرنے اور الوداع کہنے کے لئے ائیر پورٹ تک چلے گئے۔ حالانکہ ڈاکٹر صاحب حکومت سپین کی دعوت پر آئے تھے۔ پھر ۲۷؍ جنوری ۱۹۸۸ء میں سفیر صاحب نے ان کے اعزاز میں ایک دعوت اپنے مکان پر دی۔ اس رات یہاں کے ’’احمدیہ مشن‘‘ اور دوسرے قادیانی لوگوں کو بھی بلایا گیا تھا اور دعوت میں شامل کیا گیا تھا۔ پچھلے دنوں بارسلونا کے ایک اخبار نے اسلام کے بارے میں ایک مضمون شائع کیا۔ مگر اخبار والوں نے اس کے ساتھ سرکار دو عالم ﷺ کی ایک خیالی تصویر بھی شائع کی۔ بارسلونا اسلامک سنٹر والوں نے اس ناپاک جسارت کا فوراً نوٹس لیا۔ اخبار سے پرزور احتجاج کیا۔ اس اخبار کی فوٹو کاپیاں یہاں کے سارے مسلم ممالک کے سفارت خانوں کو روانہ کیں۔ ان سفارت خانوں نے بھی اخبار اور حکومت سپین سے فرداً فرداً احتجاج کیا اور کئی ملکوں نے اپنے ملک میں سپین کے سفارت خانوں سے احتجاج کیا۔ مگر ہمارے سفارت خانے کی کوئی کارروائی نظر نہ آئی۔ حالانکہ اخبار کی فوٹو کاپی ہمارے سفارت خانے کو بھی ملی تھی۔
جناب عالی! اب جو سب سے زیادہ دکھ کی اور ناقابل برداشت بات یہ ہے کہ اب قادیانی لٹریچر بھی ہمارے سفارت خانہ کی طرف سے تقسیم ہونا شروع ہو گیا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے میں سفارت خانہ میں گیا تو وہاں مجھے چند پمفلٹ قادیانی لٹریچر کے اس ریک پر نظر آئے جس پر پاکستانی اخبارات اور رسائل رکھے ہوتے ہیں۔ پتہ کرنے پر معلوم ہوا کہ یہاں میڈرڈ میں احمدیہ مشن کا انچارج کرم الٰہی ظفر آیا تھا اور وہ یہ پمفلٹ یہاں سٹاف میں تقسیم کرتا رہا ہے اور باقی اس نے یہاں ریک میں رکھ دیئے ہیں تا کہ اور لوگ بھی مستفید ہو سکیں۔ یہ سن کر یقین تو نہیں آتا تھا کہ اب ان میں اتنی ہمت پیدا ہو گئی ہے کہ وہ اپنا مکروہ مذہبی پروپیگنڈا پاکستان کے سفارت خانے کے ذریعے کرنا شروع کر دیں اور ان کو کوئی روکنے کی کوشش نہ کرے۔ اتفاق سے اس دن سفیر صاحب دفتر میں موجود نہیں تھے۔ اس لئے میں نے شاہد صاحب (سیکرٹری) سے ملاقات کر کے پوچھا کہ جناب یہ قادیانی لٹریچر ہماری ایمبیسی میں کیوں موجود ہے؟ تو موصوف نے مجھے نہایت لاپروائی اور بے نیازی سے جواب دیا کہ اس لٹریچر سے ہمارے اوپر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ عیسائی بھی تو یہاں آکر اپنا لٹریچر دے جاتے ہیں۔ آخر ہم کس کس کو منع کریں اور پھر مجھے کہنے لگے کہ تم حکومت پاکستان کو لکھ کر منع کرو کہ وہ ان لوگوں کو پاسپورٹ جاری نہ کرے اور قادیانیوں کو ملک سے باہر نہ باہر نہ باہر نہ آنے دے۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
جناب عالی! آخر سوچنے کی بات ہے کہ یہ شخص سفارت خانے میں کسی کی مرضی یا شہ سے ہی اس قسم کی حرکت کر سکتا ہے۔ یہ سارے پمفلٹ ہسپانوی زبان میں ہیں۔ اگر یہاں کا کوئی باشندہ سفارت خانہ میں ایسا لٹریچر دیکھے گا تو لازمی طور پر یہی سمجھے گا کہ یہ لٹریچر حکومت پاکستان کی طرف سے یا اس کی مرضی سے سفارت خانہ سے تقسیم ہو رہا ہے۔
جناب اعلیٰ! یہی چند وجوہات ہیں کہ ان کی اس طرح کی سرگرمیوں اور سفارت خانے کی امداد سے یہاں سپین میں قادیانیوں کا حلقہ وسیع ہو رہا ہے۔ میں آپ سے خدا کے نام پر اپیل کرتا ہوں کہ آپ اپنی پوری کوشش کر کے پاکستان میں حکام کو ان حالات سے مطلع فرماویں۔ تاکہ ان باتوں کا سدباب ہو سکے اور اس بات کی بھی تحقیقات ہونی چاہئے کہ ہمارا سفارت خانہ اس قسم کا کردار کس کے اشارے پر ادا کر رہا ہے۔ شکریہ!
والسلام! افتخار الٰہی (انچارج سنٹر اسلامک میڈرڈ سپین)
حاجی افتخار صاحب کے خط کا وزارت خارجہ نے نوٹس لیا اور لولاک کا ایک پرچہ جس میں حاجی افتخار الٰہی کا مراسلہ چھپا ہوا تھا وہ سپین کے سفیر کو بھجوا دیا اور سفیر کی جواب طلبی کی۔ سفیر نے وزارت خارجہ کے اطمینان کے لئے خط لکھا۔ جس میں اپنی صفائی دی گئی۔ جناب افتخار الٰہی کو جب علم ہوا تو انہوں نے دوبارہ ایک اور خط لکھ بھیجا۔ جس میں سفیر صاحب کے خط کا جواب دیا اور اپنے موقف کو مزید واضح فرمایا اور دلیل کے طور پر مرزائی لٹریچر بھی بھیجا۔ جو سفارت خانے میں لوگوں کو دیا جاتا رہا۔
السلام علیکم! امید ہے کہ آپ تمام حضرات اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل و کرم سے بخیریت ہوں گے۔ آپ کا نوازش نامہ موصول ہوا۔ یاد آوری کا بہت بہت شکریہ! لیکن ایک بات پر حیران ضرور ہوا ہوں کہ آپ نے کس طرح جناب سفیر صاحب کے خط کا جو اعتبار کر لیا ہے انہوں نے تو اپنی صفائی میں یہی لکھنا تھا کہ میں نے جھوٹ لکھا ہے۔ آپ خود سوچیں کہ کیا کسی مجرم نے کبھی اعتراف کیا ہے کہ میں نے یہ جرم کیا ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ جناب سفیر صاحب آپ کو یہ لکھتے کہ ہاں یہ باتیں سچی ہیں۔ انہوں نے تو اپنی صفائی میں یہی کچھ لکھنا تھا۔ ویسے اگر ان سے کوئی پوچھنے والا ہو تو پوچھ سکتا ہے کہ خان صاحب آپ کی افتخار الٰہی سے دشمنی کس بات کی ہے۔ ویسے بھی دیکھیں تو ایک نواب صاحب اور ایک عام پاکستانی مسلمان کا مقابلہ کیا ہے اور ان میں کیا دشمنی ہو سکتی ہے۔
جناب ملک صاحب! یہ کوئی دشمنی نہیں ہے بلکہ ایک مخالفت ہے وہ بھی اسلام کے نام پر اور یہ میری مخالفت انشاء اللہ آخر دم تک رہے گی۔ جب تک یہاں کے سفارت خانے کے افسر اپنا اسلام دشمن اور مرزائیت پسند رویہ ترک نہیں کرتے۔ یا ان کو یہاں سے تبدیل نہیں کر دیا جاتا۔ سفیر صاحب نے یہ بالکل غلط کہا کہ میں نے ان سے کسی قسم کی کوئی مراعات مانگی ہیں۔ میری تو ان سے ۲۳/ مارچ کی تقریب کے بعد کوئی ملاقات ہی نہیں ہوئی ہے۔
صرف ڈیڑھ ماہ پیشتر ٹیلیفون پر ان سے بات ہوئی تھی۔ ہوا یوں کہ جب آپ نے خط اور ہفت روزہ لولاک کی کاپی وزارت خارجہ والوں کو بھیجی تو انہوں نے بعینہ یہی کاپی سفیر صاحب کو ان کے ”Remarks“ کے ساتھ بھیج دی تو سفیر صاحب نے غصہ میں آ کر سفارت خانہ میں میرا داخلہ بند کر دیا۔ میں جب حسب سابق اخبارات کا مطالعہ کرنے کے لئے سفارت خانہ میں گیا تو سیکورٹی والوں نے مجھے اندر نہ آنے دیا۔ انہوں نے مجھے کہا کہ سفیر صاحب نے تمہارا داخلہ بند کر دیا ہے اور نہ ہی مجھے سفیر صاحب سے ملنے دیا۔ باہر سے جا کر میں نے سفیر صاحب کو فون کیا اور پوچھا کہ آپ نے کس قانون کے تحت اور کیوں سفارتخانہ میں میرا داخلہ بند کیا ہے تو سفیر صاحب نے کہا کہ تم سفارت خانہ میں آ کر پاکستانی لوگوں سے جھگڑتے ہو۔ میں نے ان کو بتایا کہ میں نے کسی پاکستانی سے جھگڑا نہیں کیا ہے۔ سوائے ایک
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
مرزائی شخص کرم الٰہی ظفر کے جس کو میں نے دھمکی دی تھی کہ اگر آئندہ تم سفارت خانہ میں اپنا مرزائیت کا مکروہ پروپیگنڈا لائے تو میں تمہارا برا حشر کروں گا۔ میری اسی بات پر سفارت خانہ کے افسر مجھ سے خفا ہوگئے ۔ حالانکہ اس شخص نے اپنی پاکستان کی شہریت چھوڑ کر سپین کی شہریت اختیار کر کے یہاں کا پاسپورٹ حاصل کرلیا ہے۔
ملک صاحب! سفیر صاحب نے جو آپ کو کہا ہے کہ میں نے جھوٹ لکھا ہے ۔ کیا آپ یا کوئی اور ان سے پوچھ سکتا ہے کہ کون سی بات جھوٹ ہے؟ کیا انہوں نے اپنے بنگلہ پر ڈاکٹر عبدالسلام کی دعوت نہیں کی تھیں اور اس دن میڈرڈ کے مرزائیوں کو نہیں بلایا تھا۔ کیا کرم الٰہی ظفر انچارج احمدیہ مشن میڈرڈ ہمارے سفارت خانہ میں اپنا مذہبی پروپیگنڈا نہیں لایا تھا۔ کیا شاہد علی خان سیکرٹری نے مجھے یہ نہیں کہا تھا کہ اس پروپیگنڈا سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ آخر عیسائی بھی تو اپنا لٹریچر دے جاتے ہیں۔ ہم کس کس کو منع کریں۔ تم حکومت پاکستان کو لکھو کہ وہ ان کو پاسپورٹ جاری نہ کرے اور ملک سے باہر نہ آنے دے ۔ کیا شاہد خان کے ان لوگوں سے خصوصی تعلقات نہیں ہیں اور وہ ان کے گھر دعوتیں نہیں کھاتا ہے ۔ کیا ان کی سفارت خانہ میں آنے پر ان لوگوں کی خصوصی پذیرائی نہیں ہوئی تھی۔ کیا ان کو اپنے دفتر میں بٹھا کر چائے نہیں پلائی جاتی تھی اور کیا ان کو واپسی پر لفٹ تک چھوڑنے نہیں جایا جاتا تھا۔ (ویسے اب وہ وقتی طور پر ان باتوں میں محتاط ضرور ہو گئے ہیں) ملک صاحب کس کس بات کا ذکر کروں۔ کیا ۲۳؍ مارچ کی تقریب میں تالیوں کی گونج میں جو کیک چھریوں سے کاٹا گیا تھا کیا اس پر پاکستان کا قومی پرچم نہیں بنا ہوا تھا اور اس ہلالی پرچم کی تضحیک پر سپین کی سیکورٹی پولیس کے کپتان نے ان کا مذاق نہیں اڑایا تھا اور پھر اس کپتان نے قومی پرچم کی اہمیت پر ان لوگوں کو ایک لیکچر نہیں دیا تھا۔
ملک صاحب! یہ سارے حالات میں نے تفصیل سے آپ کو اس لئے لکھے ہیں تا کہ آپ کو سارے حالات کی اچھی طرح سمجھ آجاوے اور تسلی سے جناب وزیر خارجہ صاحب سے رجوع فرماسکیں اور میں سمجھتا ہوں کہ میں نے مرزائیوں کے خلاف جہاد میں آپ کو اور دوسرے صاحب اختیار لوگوں کو یہاں کے اصل حالات سے باخبر کر کے اپنا فرض ادا کر دیا ہے اور آگے آپ نے اس سلسلے میں کارروائی کرنی ہے اور اگر آپ نے اب اس سلسلے میں کوتاہی کی یا کسی مصلحت کو مدنظر رکھا تو روز حشر آپ کو ضرور جواب دہ ہونا پڑے گا ۔ اللہ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہو۔ والسلام ! افتخار الٰہی
مرزا طاہر کا دور خلافت
جیسا کہ گزشتہ صفحات میں ہم ذکر کر چکے ہیں کہ مرزا طاہر کی خلافت پر اکثر مرزائی ناراض تھے۔ کچھ مرزائی مرزا رفیع احمد کو خلیفہ بنانا چاہتے اور کچھ مرزا مبارک احمد کو خلیفہ کے روپ میں دیکھنا چاہتے تھے۔ لیکن مرزا طاہر نے اپنی طبعی غنڈہ گردی اور متشددانہ طبیعت کے بل بوتے ان دونوں کو زیر کر لیا اور خلافت کی گدی پر متمکن ہو گئے ۔ مرزائیوں کو اقلیت قرار دلوانے کے لئے جو مجرمانہ اسباب پیدا ہوئے وہ بھی قدرت نے مرزا طاہر کی دہشت پسندانہ ذہنیت سے ہی تیار کروائے ۔ ۱۹۷۴ء میں نشتر میڈیکل کالج کے طلبہ پر مرزائیوں کے حملے کا ماسٹر مائنڈ یہی مرزا طاہر تھا۔ ربوہ کے مرزائیوں کی اکثریت مرزا طاہر احمد کے اس سیاہ کارنامے کی بناء پر اسے کوستی کہ وہ نشتر میڈیکل کالج کے طلبہ پر حملہ نہ کرواتے تو انہیں ذلت کے یہ دن دیکھنے نہ پڑتے ۔ مرزا طاہر کے دور میں مرزائیت اپنے جون میں واپس لوٹ آئی اور آئین کی خلاف ورزی، مسلمانوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ، قانون کی خلاف ورزی اور اسلام وملک دشمن سرگرمیوں میں جت گئی ۔ آئے روز کئی نہ کوئی شرارت کرتے اور مسلمانوں کو تنگ کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھاتے تھے۔ چند ایک واقعات مختصر ذکر کرتے ہیں۔ ان سے قارئین مرزا طاہر
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
کے دور میں مرزائیوں کی دسیسہ کاریوں کا اندازہ لگائیں۔
- ۱...... فروری ۱۹۸۳ء میں ربوہ میں مرزائیوں نے ریلوے کی حدود کے اندر ایک مسجد کا چبوترہ گرا دیا۔ پولیس اور دیگر حکام موقع پر پہنچے
اور چبوترے کی مرمت کرا دی گئی۔ لیکن کچھ دنوں کے بعد پھر دوبارہ واردات کا اعادہ ہوا۔ مسجد کا چبوترہ نہ صرف گرایا گیا بلکہ اس کا کچھ حصہ ملحقہ مکان میں شامل کر دیا گیا۔ دوبارہ انتظامیہ کو زحمت اٹھانا پڑی۔ مسجد کے چبوترے کی بحالی اور مرمت کر دی گئی اور ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہوئے انہیں گرفتار کیا گیا۔
- ۲...... فروری ہی کے مہینے میں تعلیم الاسلام ہائی سکول ربوہ کے گراؤنڈ میں مرزائی اور مسلمان طلباء کھیل رہے تھے۔ مسلمان طلباء آپس میں
الگ کھیل میں مگن تھے کہ ان کی گیند مرزائیوں کے حلقہ میں چلی گئی۔ مسلمان گیند کو لینے مرزائیوں کی طرف چلا گیا۔ مرزائیوں نے روایتی غنڈہ گردی کرتے ہوئے اسے زدوکوب کیا۔ اس دوران ایک مسلمان استاد محمد عثمان وہاں سے گزر رہے تھے۔ انہوں نے جب دیکھا تو طلباء کو چھڑانے کے لئے آگے بڑھے۔ مرزائی طلباء نے طالب علم کو چھوڑ کر استاد کی پٹائی شروع کر دی۔ اسے سخت زدوکوب کیا اور اس کی کلائی بھی توڑ دی۔
- ۳...... ربوہ کے وسط میں ایک ریلوے پھاٹک ہے۔ وہاں پر سٹیشن ماسٹر مرزائی تھا۔ ذیلی ملازمین میں دو ملازم مسلمان تھے۔ ریل میں
ربوہ شہر کے مرزائیوں کے کچھ پارسل تھے۔ جب سٹیشن پر اس سامان کی وصولی ہونے لگی تو مسلمان ملازمین نے محصول (ٹیکس) کا مطالبہ کیا۔ جس مرزائی کے نام بلٹی آئی تھی اس نے ٹیکس دینے سے انکار کیا اور کہا کہ میری دکان کی پیٹیاں آتی رہتی ہیں۔ میں کبھی ٹیکس نہیں دیتا۔ مسلمان ملازمین نے ٹیکس لینے پر اصرار کیا تو مرزائی سٹیشن ماسٹر رفیق احمد نے ملازمین کو کہا کہ ان سے ٹیکس نہ لیں یہ ہمارے حضرت خلیفہ کی ہدایت ہے۔ مسلمان ملازمین نے کہا کہ یہ سرکاری حق ہے۔ اس کو معاف کرنے کا اختیار آپ کے خلیفہ کو نہیں ہے۔ یہ سننا تھا کہ مرزائی سٹیشن ماسٹر اور مقامی مرزائی ان دونوں مسلمانوں پر پل پڑے اور انہیں مار مار کر ادھ موا کر دیا۔ مسلمان ملازمین کے لواحقین نے رپٹ درج کرائی۔ جس پر سٹیشن ماسٹر کو گرفتار کیا گیا۔
(لولاک مؤرخہ ۶؍ اپریل ۱۹۸۳ء)
- ۴...... لاڑکانہ کے مرزائیوں کے آپسی تعلقات کشیدہ تھے۔ وہاں پر لاہوری گروپ اور ربوائی گروپ دونوں کے مبلغین کی ایک دو
مرتبہ آپس میں ہاتھا پائی بھی ہوئی تھی۔ ایک مرتبہ ایک ہی بازار میں دونوں اپنے اپنے مذاہب کے پرچار میں مصروف عمل تھے کہ کسی آپس کی کسی بات پر دونوں میں جھگڑا ہوا اور مقامی دوکانداروں کے سامنے ربوائی گروپ کے مبلغ جو وہاں کے ایک سکول میں ہیڈ ماسٹر بھی تھے، نے لاہوری گروپ کے مبلغ کو سنگین نتائج کی دھمکی دے دی۔ کچھ عرصہ بعد جب معاملہ سرد پڑ گیا تھا۔ ربوائی جماعت کے مبلغ کا قتل کر دیا گیا۔ لاہوری مبلغ جن کا نام عبدالسمیع تھا وہ اس واقعہ سے کچھ دن قبل ہی وہاں سے رفو چکر ہو گیا تھا۔ تاہم مرزائیوں نے مقتول مبلغ کے قتل کا الزام مسلمانوں کے سر دھر ڈالا۔
مولانا حبیب اللہ کی شہادت
اس واقعہ کے چند دن بعد لاڑکانہ ہی کے مشہور عالم دین اور جمعیت علماء اسلام کے رہنما مولانا حبیب اللہ کو کسی نے نہایت بے دردی سے شہید کر دیا۔ مولانا حبیب اللہ کی شہادت پر مسلمانوں نے زبردست احتجاج کیا اور اس فعل کو سراسر مرزائیوں کی کارستانی قرار دیا۔
اس واقعہ کے کچھ ہی دنوں بعد ایڈیٹر لولاک حضرت مولانا تاج محمود کو ایک خط موصول ہوا۔ جس میں ایک مقامی مسلمان نے مولانا حبیب اللہ کی شہادت کے متعلق کچھ انکشافات کئے تھے۔ آپ بھی ملاحظہ فرمائیں:
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
محترم و مکرم جناب مولانا تاج محمد صاحب چیف ایڈیٹر ہفت روزہ لولاک
سلام مسنون مزاج اقدس
بعد از سلام عرض ہے کہ مقامی مسلمانوں کو بہت ہی دکھ اور صدمہ ہوا کہ مبلغ اسلام حضرت مولانا حبیب اللہ کو شہید کر دیا گیا۔ ہم سب مقامی دوستوں کی رائے بلکہ پختہ یقین ہے کہ حضرت مولانا حبیب اللہ کو قادیانیوں ہی نے شہید کیا ہے۔ اس لئے کہ حضرت شہید قادیانیوں کے لئے لاڑکانہ میں مرزائیت کے پرچار کے راستے میں سنگِ گراں تھے۔ مرزائی مبلغ جہاں جہاں اپنے ارتدادی مہم پر جاتے، مولانا شہید وہاں پہنچتے اور لوگوں پر مذہب مرزائیت کی حقیقت آشکارا فرما دیتے۔ انہوں نے باقاعدہ اپنے رفقاء کا تقرر کیا تھا جو ان کو مرزائی مبلغ کی تبلیغی سرگرمیوں کے احوال بتاتے۔ اس وجہ سے مولانا حبیب اللہ شہید کی موجودگی میں مرزائی مبلغ کو اپنی دال گلتی نظر نہیں آئی تو اس نے مولانا حبیب اللہ شہید کو راستے سے ہٹانے کا سوچا اور ان کو شہید کروا دیا۔ مقامی پولیس کی مرزائیوں سے ملی بھگت ہے۔ اس لئے وہ کہہ رہی ہے کہ مولانا حبیب اللہ کو راہزنوں نے شہید کر دیا ہے۔ ہم بھی کہتے ہیں کہ مولانا کو راہزنوں ہی نے شہید کیا ہے لیکن ایمان اور دین کے راہزنوں نے، میں آپ کے مؤقر جریدے کی وساطت سے حکومت سے درخواست کرتا ہوں کہ حضرت مولانا حبیب اللہ شہید کے قاتلوں کو جلد از جلد گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچائیں۔ والسلام!
غلام مرتضیٰ، مؤرخہ ۳۱ مئی ۱۹۸۳ء
مرزائیوں کی بھینس مسجد میں
۵...... جون ۱۹۸۳ء میں مرزائیوں کی سینہ زوری کا ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ ہوا یوں کہ ربوہ کے ایک مرزائی نوجوان نے از راہِ شرارت اپنی بھینس مسلم کالونی کی جامع مسجد کے پلاٹ کے اندر ہانک دی۔ طلباء نے اسے منع کیا اور بھینس واپس لے جانے کو کہا۔ لیکن وہ نوجوان گالی گلوچ اور اشتعال انگیزی کرنے لگا۔ اس کے ساتھ ہی اس نوجوان کا کوئی بزرگ بھی آموجود ہوا اور خطیب ربوہ مولانا اللہ وسایا صاحب اور وہاں رہنے والے دیگر علماء اور طلباء پر برسنے لگا۔ فحش گوئی، گالی گلوچ اور دھمکیاں دینا شروع کر دیں اور کہا کہ تم لوگ کون ہوتے ہو ربوہ میں مسجدیں بنانے والے اور اس میں جانور لانے سے ہمیں روکنے والے...... مولانا اللہ وسایا نے بڑی بلند حوصلگی سے اسے سمجھایا کہ بابا! بھینس مسجد کے صحن میں نہیں آنی چاہئے۔ اس نے یہاں آ کر ہمارے سرسبز و شاداب پودوں کو ضائع کر دیا ہے اور نقصان پہنچایا ہے۔ بہر حال مولانا صاحب نے اسے منت سماجت کر کے باہر نکالنے کی کوشش کی۔ اس دوران ایک مسلمان مزدور جو مسجد کے قریب سے گزر رہا تھا اس نے اتنا کہہ دیا کہ بابا! تمہیں اپنی بھینس کو ہماری مسجد کے علاقے کے اندر لانے، نقصان کرانے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ وہ مرزائی اس مزدور پر برس پڑا۔ بے نقط گالیاں سنائیں اور کہا کہ ربوہ ہمارا شہر ہے۔ تمہیں کوئی حق حاصل نہیں یہاں مسجد اور مدرسہ بناؤ۔ مرزائی جلدی جلدی اپنے گھر چلا گیا اور وہاں سے کلہاڑی نکال کر لایا اور اشتعال انگیزی اور بکواس بازی کرنے لگا۔ طلباء اور مولانا اللہ وسایا صاحب نے سب کچھ دیکھنے کے بعد بھی ان سے کوئی تعرض نہیں کی اور اس واقعہ کی اطلاع پولیس کو دی۔
مولانا اللہ وسایا صاحب نے ایک تحریری بیان ڈی.ایس.پی چنیوٹ کے پاس بھجوایا جو درج ذیل ہے:
بخدمت جناب ڈی.ایس.پی صاحب چنیوٹ
جناب عالی! گزارش ہے کہ مسجد ختم نبوت مسلم کالونی ربوہ میں علم الدین قادیانی کی بھینس نے بوٹوں وغیرہ کو نقصان پہنچایا۔ ایک دس / بارہ سالہ لڑکا بھینس لینے کے لئے آیا تو مدرسہ کے ۱۰/۱۱ سالہ طالب علم نے ٹوکا کہ بھینس آئندہ نہ آئے۔ ہمارا نقصان ہوتا ہے۔ اس پر
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
علم دین مسجد کے پلاٹ میں آیا اور طالب علموں کو فحش گالیاں دیں۔ بندہ کمرے میں بیٹھا تھا۔ شور سن کر باہر نکلا تو جا کر اس کی منت، معذرت کی کہ آپ مسجد کے پلاٹ میں شور شرارت نہ کریں۔ مگر وہ گالیاں دیتا رہا۔ اتنے میں پہاڑی کے ایک مزدور غلام علی نے آ کر اس کو روکا تو اس کو بھی ماں بہن کی گالیاں دیں۔ مجھے صدمہ ہوا کہ مزدور غلام علی کو میری وجہ سے گالیاں پڑ رہی ہیں۔ اس کو گالیوں سے روکا تو اس نے مجھے کہا کہ تم میری ایک کلہاڑی کی مار ہو۔ گالیاں دیتا ہوا اشتعال پھیلاتا ہوا اور قتل کی دھمکی دے کر چلا گیا۔ میں نے چوکی فون کیا۔ مگر پولیس کے آنے میں تاخیر ہو جانے کے باعث کسی نے مخبری کر دی کہ پولیس آ رہی ہے تو وہ سائیکل پر چڑھ کر دوڑ گیا۔ حالانکہ وقوعہ کے بعد وہ ڈنڈا لے کر پھرتا رہا۔ سینہ تان کر اشتعال انگیزی کے لئے چکر لگاتا رہا۔ میں نے درخواست لکھ کر چوکی بھجوائی۔ واپسی پر معلوم ہوا کہ وہ غلام علی مزدور کے گھر پر بھی پانچ فٹ کے دستے کی کلہاڑی لے کر چکر لگاتا رہا۔ رات ایک بجے کے قریب گھر آیا۔ شکایت نہیں، گلہ ضرور ہے کہ چوکی اور تھانہ اطلاع کے باوجود اس کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ وہ پھر رات کو مسجد کے قریب آ کر واہی تباہی کرتا رہا۔
جناب عالی! یہ بات ترش ضرور ہے۔ مگر حقیقت یہی ہے کہ جب علم دین نامی پہلے شخص کو چوہدری محمد شفیع کو قتل کرنے کے الزام میں پکڑ کر چھوڑ دیا گیا۔ حالانکہ اس نے بیسیوں دوستوں کی موجودگی میں قتل کی دھمکی دی تھی۔ جس کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی گئی۔
- ۲....... مولوی اللہ یار ارشد کے ساتھ سڑک پر قادیانی الجھے۔ آدمی پکڑ کر چھوڑ دیا گیا۔ اس قسم کے واقعات نے قادیانیوں کو جری کر دیا
ہے۔ وہ کسی وقت بھی ہمارے آدمیوں کو قتل کر سکتے ہیں۔ اب علم الدین کے متعلق قادیانیوں نے پروپیگنڈا شروع کیا ہے کہ وہ پاگل ہے۔
جناب عالی! اگر وہ پاگل ہے تو اسے پاگل خانہ بھجوایا جائے۔ اگر پاگل نہیں ہے تو وہ گھر پر دندنا رہا ہے۔ فون کر کے اطلاع دینے کے باوجود اس کو گرفتار نہ کرنے کی حکمت سمجھ سے بالاتر ہے۔ میں واضح طور پر عرض کر دینا چاہتا ہوں کہ قادیانیوں نے اس کو پاگل پاگل کر کے چھڑوا کر بڑی واردات میرے قتل کی کرنی ہے اور گراؤنڈ موجود ہو گی کہ پولیس کے ریکارڈ میں ہے وہ پاگل ہے۔ پہلے میرا ذہن یہ نہ تھا۔ اب حقیقت حال میرے سامنے ہے کہ اس کو صرف اس لئے بھیجا گیا کہ معمولی سانحہ کرو۔ پاگل پاگل کر کے چھڑوا دیں گے۔ ریکارڈ پر بات آ جائے گی۔ پھر اصل مسئلہ کو اس کو تیار کر کے قتل کی واردات کرا دیں گے۔ پچھلے دنوں مولانا تاج محمود صاحب ایڈیٹر لولاک، مولانا محمد شریف جالندھری اور سیالکوٹ کی مجلس عمل کے وفد کے ہمراہ اسلم قریشی کے سلسلے میں کرائمز برانچ کے ایس پی راجہ سرفراز سے ملے تو انہوں نے کہا کہ قادیانی کہتے ہیں کہ اگر ہم نے کسی کو قتل کرنا ہوتا تو ربوہ میں مولوی اللہ وسایا کو اور چنیوٹ میں مولوی منظور احمد کو کرتے۔ کیونکہ یہ ہمارے بڑے دشمن ہیں۔ میں نے راجہ صاحب سے بھی عرض کیا کہ یہ مجھے قتل کی تیاری میں ہیں اور میں آپ سے درخواست گزار ہوں کہ وہ اس پاگل کے ذریعے مجھے قتل کرانے کے درپے ہیں اور اس پاگل کو بچانے کی پہلے گراؤنڈ تیار کر چکے ہیں۔ اب معاملہ خدا کے سپرد ہے اور آپ کے کہ اس کو گرفتار کرا کر قرار واقعی سزا دلواتے ہیں یا نہیں۔
بہر حال اتنی بات ریکارڈ پر ضرور آ جائے کہ हमारा مطالبہ ہے کہ پاگل ہے تو پاگل خانہ بھجوانے کا آپ اہتمام کریں۔ صحیح ہے تو اس کی تفتیش کر کے اندر سے راز اگلوائیں کہ آخر یہ چاہتا کیا ہے۔ اتنی دیدہ دلیری کہ گھر آ کر گالیاں دے اور ہماری شرافت کہ منت کر کے اس کو ہنگامے سے باز رکھیں کہ کہیں یہ شعلہ جوالہ ملک کے لئے نقصان کا باعث نہ ہو۔ اللہ رب العزت آپ کو صحیح حالات سے نمٹنے کی توفیق دے۔ آمین!
عرضے اللہ وسایا، دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت ربوہ
(لولاک جنوری، فروری، اپریل، جون ۱۹۸۳ء)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
کنری میں قادیانی دسیسہ کاریاں
کنری سندھ میں ماسٹر عبدالرحمن ولد فضل کریم نامی ایک قادیانی تھا جو وہاں کا انتہائی بااثر اور مالدار آدمی تھا۔ کنری میں اکثر غریب گھرانوں کے لوگ اس کی وجہ سے قادیانیت کے اندھے کنویں میں گرتے تھے۔ وجہ یہ تھی کہ کنری میں ایک وسیع رقبہ اراضی اس کے ملکیت میں تھا اور مسلمان اس کے مزارع کی حیثیت سے وہاں کام کرتے تھے۔ تو وہ اپنی چودھراہٹ کے زور پر ان کو قادیانی کراتا تھا۔ جنوری ۱۹۸۲ء کو اس نے پنجاب سے محمد مالک نامی ایک مسلمان کو ملازمت کے بہانے کنری بلایا۔ محمد مالک غریب آدمی تھا۔ اس نے ملازمت اور پرکشش تنخواہ کا سن کر خوشی خوشی کنری کی راہ لی۔ لیکن جب کنری پہنچا اور عبدالرحمن قادیانی کے حالات درون سے واقف ہوا تو اس کے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی۔ عبدالرحمن قادیانی اور اس کے گھر والوں نے تو شروع میں محمد مالک اور اس کی اہلیہ کو بہت نوازا اور چکنی چپڑی باتیں کر کے اس کے ساتھ راہ و رسم بڑھائے۔ باتوں باتوں میں قادیانیت کی تبلیغ کرنے لگے اور مرزا قادیانی کی تعریف اور اس کی باتوں کی فصاحت و بلاغت اور معنی خیزی میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے۔ لیکن محمد مالک اپنے عقیدے سے خاصی واقفیت رکھتا تھا اور مرزائیت کے دجل و فریب سے آگاہی رکھتا تھا۔ اس لئے وہ ٹس سے مس نہ ہوا اور صراحتاً انکار کر کے کہہ دیا کہ میں مرزائی مذہب کو دجل و فریب کا ملغوبہ سمجھتا ہوں۔ عبدالرحمن قادیانی نے محمد مالک کے انکار کو دیکھ کر اس کو زدوکوب کیا اور اسے ذہنی طور پر ٹارچر کرنے کے لئے اس کی بیوی مسماۃ زبیدہ بیگم اور بیٹے مبشر حسین کو اغوا کرایا۔ اس جرم میں عبدالرحمن قادیانی کے ساتھ اس کے بھائی عزیز الرحمن اور ان کی بیگمات بشیراں اور اللہ رکھی بھی شامل تھے۔
محمد مالک نے جب عبدالرحمن قادیانی سے اپنی بیوی اور بیٹے کے بارے میں استفسار کیا تو اس نے اور دیگر قادیانی مشٹنڈوں نے محمد مالک کو لاٹھیوں سے مار مار کر بے ہوش کر دیا۔ کئی گھنٹوں بعد جب محمد مالک کو ہوش آیا تو اس نے اپنے آپ کو کنری جیل میں پایا۔ وہ بے چارہ حیران و پریشان، کہ خدایا ! یہ کیا ماجرا ہے۔ بیوی اور بیٹا بھی میرے اغوا ہو گئے اور سزا وار بھی میں ہوں۔ پولیس سے گرفتاری کی وجہ پوچھی۔ تو انہوں نے کہا عبدالرحمن کی بھتیجی کے ساتھ زبردستی زنا کیا ہے۔ محمد مالک نے یہ سنا تو اس کے حواس سن ہو گئے۔ وہ جیل میں اپنی صفائیاں دیتے دیتے تھک گیا۔ لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ دو دن بعد اس کو عمرکوٹ میں منتقل کر دیا گیا۔ خدا کی شان ! کہ مولانا محمد حبیب اللہ شہید اور مولانا عاشق الہی مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت کنری کے علم میں یہ بات آئی۔ انہوں نے کنری اور عمرکوٹ پولیس سے رابطہ کیا اور محمد مالک کے کیس کی تفصیلات اور اس کی بے گناہی کے بارے میں ان کو بتایا۔ لیکن زیر دست پولیس زبردستوں ( مرزائیوں ) کے ہاتھ مجبور تھی اور کچھ نہ کرسکی۔ مولانا محمد حبیب اللہ اور مولانا محمد عاشق الہی نے یہاں سے مایوس ہو کر تھر پارکر کے ایس . پی سے رابطہ کیا اور یہیں سے ان کی مراد بھر آئی۔ ایس . پی صاحب ایک سنجیدہ ، فہمیدہ اور باشعور انسان تھے۔ انہوں نے ہر دو حضرات کی بات پوری توجہ اور انہماک کے ساتھ، سنی اور محمد مالک کو چھڑا کر ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم دیا۔ کنری تھانہ میں ملزمان کے خلاف پرچہ ہوا۔ تمام ملزموں نے سیشن جج تھر پارکر کی عدالت سے عبوری ضمانت کرالیں۔ کنفرم کرنے کے لئے سیشن جج تھر پارکر نے ۱۹ / اکتوبر ۱۹۸۳ء کی تاریخ مقرر کر لی تو مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا نذیر احمد ، محمد مالک سمیت عدالت عالیہ میں حاضر ہوئے اور عدالت سے ان ملزموں کی ضمانتیں خارج کرنے کی درخواست کی۔ عدالت نے ملزمان کی ضمانتیں خارج کیں۔ لیکن ملزمان عزیز الرحمن اور مسماۃ بشیراں اور اللہ رکھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ بعد میں پتہ چلا کہ کنری کا اسلم قادیانی ان کو اپنے ساتھ کہیں روپوش کرانے کے لئے لے گیا۔ صرف عبدالرحمن قادیانی
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
گرفتار ہوا۔ رات گیارہ بجے کسی مخبر نے پولیس کو اطلاع دی کہ فلاں جگہ پر تمام ملزم موجود ہیں۔ پولیس نے بروقت چھاپا مارا تو عزیز الرحمن اور بشیراں بیگم گرفتار ہو گئی۔ لیکن اللہ رکھی فرار ہو گئی۔
(ملخص لولاک مؤرخہ ۱۰؍ ستمبر تا ۲۷؍ اکتوبر ۱۹۸۳ء)
مرزائیوں نے مسلمانوں کی مسجد گرادی
چنیوٹ اور سرگودھا روڈ پر نلکا اڈا ہماری مسلم کالونی چناب نگر کی مسجد اور مدرسہ ختم نبوت کے بالکل قریب سڑک پر ایک سٹاپ ہے۔ وہاں قبل از تقسیم ملک اہلِ اسلام نے ایک مسجد کا تھڑا بنایا ہوا تھا جو پچاس سال سے مسلمانوں کے قبضہ اور ان کے نماز پڑھنے کی جگہ تھی۔ اس کے ساتھ ہی انجمن اصلاح المسلمین چنیوٹ نے ایک نلکا لگوایا ہوا ہے۔ یہ نلکا اور یہ مسجد مسافروں اور پہاڑیوں پر کام کرنے والے مسلمان مزدوروں کے لئے تھی۔ چند اہلِ خیر نے چوہدری محمد شفیع کونسلر ٹاؤن کمیٹی ربوہ کے تعاون سے اس تھڑے کے شکستہ حصہ کو مرمت کیا اور صفائی وغیرہ کرادی۔ جس کے بعد مرزائیوں نے ازراہِ شرارت مسلمانوں کے اس قدیم چبوترہ پر آ کر باجماعت نماز پڑھنا شروع کر دی اور مسجد کے چبوترے کی حفاظتی دیوار کو جو چوہدری محمد شفیع صاحب نے بنوائی تھی گرا دیا۔ معاملہ پولیس تک پہنچا۔ پولیس اور انتظامیہ کے افسر موقعہ پر آئے اور انہوں نے مرزائیوں کو باجماعت نماز ادا کرنے کا سلسلہ بند کرنے کا حکم دے دیا اور وہاں پولیس کا ایک گارڈ متعین کر دیا تاکہ مرزائی مزید کوئی شرارت نہ کر سکیں۔
(لولاک مؤرخہ ۲۸؍ اکتوبر ۱۹۸۳ء)
ربوہ کی عدالت پر مرزائیوں کا حملہ
۱۹؍ نومبر ۱۹۸۳ء کو مسلح مرزائیوں نے ربوہ کی سب سے بڑی انتظامی عدالت پر دن دیہاڑے دھاوا بول دیا۔ ۱۹؍ نومبر کی صبح عملہ عدالت آر۔ ایم۔ او ربوہ اپنے سرکاری کام میں مصروف تھا کہ ایک لڑکا جس کے پیچھے قادیانی جماعت کے دو پالتو غنڈے لگے ہوئے تھے، بھاگ کر کمرہ عدالت میں آ گیا۔ موقعے پر موجود پولیس کانسٹیبل غلام محمد نے لڑکے کو دفتر میں بٹھا لیا اور خود باہر آ کر غنڈوں سے لڑکے کے تعاقب کی وجہ دریافت کی۔ غلام محمد کے مطابق غنڈے نشے کی حالت میں تھے اور اول فول بک رہے تھے۔ غلام محمد کانسٹیبل نے انہیں احاطہ کچہری سے نکال دیا۔ اس پر قادیانی غنڈے اشتعال میں آ گئے۔ لیکن وہاں موجود کچھ لوگوں نے بیچ بچاؤ کراتے ہوئے غنڈوں کو بھگا دیا۔
عدالت کا وقت ختم ہونے کے بعد قادیانی غنڈے احسان الٰہی عرف گاگا، سلطان عرف سلطانا قصائی، محمد نعیم اور جاوید عرف جیدا شام قریباً ۶ بجے دوبارہ عدالت میں آئے اور چوکیدار مسعود الحسن سے کانسٹیبل غلام محمد کے گھر کا پتہ دریافت کرنے لگے۔ مسعود الحسن نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ اس پر وہ طیش میں آ گئے اور مسعود الحسن چوکیدار کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہوئے یہ کہہ کر چلے گئے کہ ”صبح بات ہو گی“۔
۲۰؍ نومبر کو صبح قریباً ۱۰ بجے یہ غنڈے دوبارہ آ دھمکے۔ اتفاقاً اس دن کانسٹیبل غلام محمد چھٹی پر تھا۔ غنڈوں نے آ کر مسعود الحسن سے غلام محمد کے بارے میں پوچھا۔ اس نے جواب دیا کہ آج وہ چھٹی پر ہے۔ یہ سننا تھا کہ قادیانی غنڈے مشتعل ہو گئے اور اول فول بکنے لگے۔ ساتھ ہی احسان الٰہی عرف گاگا نے چھری نکال لی اور مسعود الحسن پر قاتلانہ حملہ کیا۔ موقع پر موجود شیر محمد ریڈر اور دیگر لوگوں نے قادیانی غنڈوں کو عدالت سے دھکے مار کر نکال دیا۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ربوہ پولیس نے تمام واقعات سے باخبر ہونے کے باوجود ملزمان کو گرفتار نہیں کیا۔ مسعود الحسن نے آر۔ ایم۔ او ربوہ کی واپسی پر تحریری رپورٹ کی۔ جس پر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج ہوا۔ لیکن ریزیڈنٹ مجسٹریٹ نے قادیانی جماعت کے دباؤ کے تحت پولیس کو فون پر حکم دے دیا کہ ملزمان کو گرفتار نہ کیا جائے تاکہ حالات قابو میں رہیں۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملزمان متذکرہ بالا ۲۳؍ نومبر کو پھر عدالت میں حملہ آور ہوئے۔ وہ خنجر اور پستول سے مسلح تھے اور تحصیل چوک میں مسعود الحسن کو علی
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء
ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
الاعلان قتل کرنے کا حتمی فیصلہ کر آئے تھے۔ یہ غنڈے تقریباً اڑھائی بجے عدالت میں آگئے اور مسعود الحسن سے کہا: ”آج تم ہم سے بچ نہ سکو گے ۔ کیونکہ تم نے عدالت میں ہمارے خلاف مقدمہ درج کرایا ہے۔ اس لئے ہم جیل جانے سے پہلے تجھے جہنم بھیج دیں گے ۔“ ابھی یہ دھمکیاں دے رہے تھے اور گاگا قادیانی خنجر سے حملہ آور ہوا ہی تھا کہ غلام محمد نائب کورٹ عدالت جرأت مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملزم احسان پر کود پڑا۔ جب کہ شیر محمد ریڈر لٹھ لے کر ملزم نعیم قادیانی کی طرف لپکا ۔ نعیم دوڑ گیا ۔ غلام محمد نے ہمت سے کام لے کر گاگا سے اسلحہ چھین لیا۔ اس دوران اور لوگ بھی جمع ہو گئے ۔ سب نے مل کر گا گا کو پکڑ کر بمعہ اسلحہ پولیس کے حوالے کر دیا۔ غلام محمد نائب کورٹ کی اس جرأت کو لوگوں نے بہت سراہا۔ وگرنہ پل بھر میں مسعود الحسن کو ابدی نیند سلا دیا ہوتا ۔
(لولاک مورخہ ۲۵؍ نومبر ۱۹۸۳ء)
چناب نگر میں جتنے غنڈے اور بدمعاش قسم کے لوگ تھے ان کے سرپرست اعلیٰ مرزا طاہر اور نگران حکیم خورشید نامی قادیانی ہوا کرتے تھے۔ اس حادثہ کے بعد خطیب ربوہ حضرت مولانا اللہ وسایا نے فیصل آباد ڈویژن کے ڈی۔ آئی۔ جی کے نام ایک خط لکھا جس میں قادیانی فتنہ پردازیوں اور غنڈہ گردیوں کا تذکرہ کیا ہے ۔ ملاحظہ فرمائیں:
بخدمت جناب ڈی۔ آئی۔ جی صاحب فیصل آباد ڈویژن
جناب عالی! گزارش ہے کہ قادیانیوں کی جارحانہ سرگرمیاں ربوہ میں اس حد تک بڑھ گئی ہیں کہ انہوں نے آر۔ ایم ربوہ کی عدالت میں کانسٹیبل ، ریڈر اور پی۔ ایس۔ آئی محمد علی شاہد جھنگ حال ربوہ پر قاتلانہ حملہ کیا۔ اس کی تفصیل جناب کے علم میں ہوگی ۔ اس کا کیس وغیرہ درج ہے۔
آج ۲۰ نومبر ۱۹۸۳ء کو قادیانیوں نے ایک بھری مجلس میں بڑے غرور سے کہا کہ ہم نے ڈی۔ آئی۔ جی فیصل آباد سے مل کر پی۔ ایس۔ آئی محمد علی شاہد کا ٹوبہ تبادلہ کرا دیا ہے ۔ اگر میری یہ اطلاع صحیح ہے تو قبلہ! مولانا اسلم قریشی کے مسئلہ میں ہمارے دل ابھی تک زخمی ہیں۔ ان قادیانیوں کی دیدہ دلیری کہ وہ اب ربوہ میں مسلمان ملازمین پر قاتلانہ حملے کر کے خوف و ہراس پھیلا رہے ہیں۔ میں اس بات کو جناب کے نوٹس میں لانا ضروری خیال کرتا ہوں کہ اگر ان حالات میں محمد علی شاہد کو ربوہ سے تبدیل کیا گیا تو اس سے قادیانیوں کے حوصلے بلند اور اسلامیان ربوہ جو چند گنے چنے لوگ ہیں ان کی دل شکستی ہوگی ۔ یہ جناب والا کے لئے بھی کسی نیک نامی کا باعث نہیں ہوگی ۔
قبلہ ! یہ زندگی چند روزہ ہے ۔ اس میں نرم گرم دن ضرور آتے ہیں ۔ ہم مسلمان ربوہ میں اقلیت میں ہیں۔ پچھلے دنوں قادیانیوں نے سازش کے تحت ربوہ سب تحصیل لالیاں منتقل کرا دی ۔ اللہ رب العزت نے فضل فرمایا کہ وہ سازش ناکام ہو گئی اور ربوہ تحصیل بحال ہوگئی۔ اب یہ بھی ہمارے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے ۔ آپ کی مرضی کہ پی۔ ایس۔ آئی محمد علی شاہد کا تبادلہ روک کر ممنون کریں یا پھر قادیانیوں نے جو حملہ کیا ہے وہ کہہ کر آپ کیس بھی ختم کرا دیں ۔ تاکہ قادیانی مکمل طور پر فائدہ حاصل کر سکیں۔ اللہ رب العزت آپ کو صحیح فیصلہ کی توفیق دے۔
اللہ وسایا ، سیکرٹری جنرل، مجلس تحفظ ختم نبوت ربوہ ضلع جھنگ
(لولاک مورخہ ۲۵؍ نومبر ۱۹۸۳ء)
مرزائیوں نے امام مسجد کا جبڑا توڑ دیا
ربوہ میں بخاری مسجد کے نام سے ایک مسجد ہے۔ اس کے پیش امام کا نام مولانا اللہ دتہ تھا۔ ستمبر کے شروع میں وہ عصر کی نماز پڑھا کر مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ کچھ مرزائی جوتوں سمیت مسجد کے احاطے میں گھس آئے ۔ مولانا اللہ دتہ صاحب نے ان کو منع کیا اور خانہ خدا کی
ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء
تقدیس اور عظمت کا تذکرہ کیا۔ یہ سن کر قادیانی بپھر گئے ۔ وہ کل ۴ بندے تھے۔ انہوں نے مل کر امام مسجد مولوی اللہ دتہ کو خوب زدوکوب کیا۔ مارتے مارتے ان کا جبڑا توڑ ڈالا۔ مقامی مسلمان امام مسجد کو ہسپتال لے کر گئے اور پولیس کے پاس ان مرزائی غنڈوں کے خلاف پرچہ درج کرا دیا۔ دو دن کے لئے گرفتار کئے گئے ۔ بعد میں ربوہ سرکار کی مداخلت پر ان کو چھوڑ دیا اور وہ دندناتے پھرتے رہے ۔
(لولاک، مؤرخہ ۲۵؍نومبر ۱۹۸۳ء)
سرگودھا بورڈ
نومبر کے اواخر میں سرگودھا سیکنڈری بورڈ میں صنعتی نمائش کا اہتمام کیا گیا تھا۔ جس کی انتظامیہ نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ ایک دن لڑکے نمائش دیکھیں گے اور ایک دن لڑکیاں جسے کچھ لڑکوں نے ناپسند کیا۔ جس دن لڑکیاں صنعتی نمائش دیکھنے کے لئے وہاں جمع تھیں اس دن لڑکوں کا ایک مختصر سا گروہ بورڈ کے دروازے پر جمع ہو گیا اور مطالبہ کرنے لگا کہ ہمیں نمائش دیکھنے کے لئے اندر جانے دیا جائے ۔ جب ان کی کوئی کوشش کامیاب نہ ہوئی تو ایک لڑکا سفید اور لمبی جعلی داڑھی لگا کر اندر داخل ہو گیا اور اس کے پیچھے کچھ اور لڑکے بھی داخل ہو گئے ۔ وہ لڑکا داڑھی کا مذاق بھی اڑاتا رہا اور ساتھ ہی مسلمان لڑکیوں کو چھیڑتا اور ان پر فقرے چست کرتا رہا۔ وہ لڑکا ان سب لڑکوں کا سرغنہ تھا۔ ان کی اس جرأت اور غنڈہ گردی سے بھگدڑ مچ گئی ۔ ہنگامہ کھڑا ہو گیا اور انتظامیہ نے انہیں باہر نکال دیا ۔ باہر نکل کر انہوں نے ربوہ میں حاصل کردہ تربیت سے کام لیتے ہوئے بورڈ کے دروازوں اور کھڑکیوں پر سنگ باری شروع کر دی ۔ سڑک پر سے گزرنے والی بسوں کے بھی شیشے توڑے گئے ۔ جس لڑکے نے جعلی داڑھی لگا کر لڑکیوں میں داخل ہونے کی جرأت کی اور فحش فقرے چست کرنے کے علاوہ چھیڑ خانی بھی کی وہ اسلم باجوہ وکیل کا لڑکا تھا۔ اسلم باجوہ کے دس بھائی اور بھی تھے جو فوج اور سول میں اہم عہدوں پر تعینات تھے ۔ دو بھائی ونگ کمانڈر تھے۔ ایک بھائی ان کا میجر مبارک تھا۔ جس نے مری میں مرزائیوں کو نام نہاد عبادت گاہ تعمیر کرنے کی نہ صرف اجازت دی بلکہ اپنی نگرانی میں تعمیر بھی شروع کرا دی۔ بالآخر مجلس تحفظ ختم نبوت مری نے وہاں کے مشہور مجاہد عالم دین مولانا قاری محمد اسد اللہ صاحب کی قیادت میں تحریک چلا کر اس فیصلہ کو واپس لینے پر مجبور کیا۔ اس وکیل کا ایک بھائی ظہور احمد باجوہ ربوہ میں تھا جو مرزائی جماعت کا ناظر امور عامہ تھا۔ یہ چک ۳۳ جنوبی سرگودھا کے رہائشی تھے۔ اس چک میں جہاں اکثریت مسلمانوں کی تھی اپنے فوج اور سول میں اہم عہدوں کی وجہ سے نمبرداری بھی انہیں کے پاس تھی ۔ سرگودھا بورڈ میں مرزائی لڑکے کی مسلمان لڑکیوں کے ساتھ غنڈہ گردی اور سرکار دو عالم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی سنت مبارک (یعنی داڑھی) کا مذاق اڑانے کا کوئی ایکشن نہیں لیا گیا ۔ کیوں ایکشن نہیں لیا گیا اور اس کو گرفتار کر کے کیوں سزا نہیں دی گئی ۔ اس کا جواب سرگودھا کی انتظامیہ سیکنڈری بورڈ کے اہلکاروں اور حکومت کے ذمہ تھا جو آج تک تشنہ ہے ۔
(لولاک، مؤرخہ ۳؍دسمبر ۱۹۸۳ء)
ایک اور دھمکی
ذیل میں ایک درخواست نقل کرتے ہیں جس میں مرزائیوں کی طرف ایک مسلمان کو قتل اور جلانے کی دھمکی کا تذکرہ ہے۔ ایسے سینکڑوں واقعات ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ مرزا طاہر کے دور امارت میں اس کی شہ پر مرزائی مسلمانوں کو برانگیختہ کرنے کے لئے کبھی دھمکیاں دیتے ۔ اسلامی اصطلاحات کا استعمال کرتے اور باوجود اقلیت ہونے کے اکثریت کو تنگ کرتے تھے ۔
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
۲۳؍نومبر کو اپنی دکان واقع متصل گندم منڈی سیالکوٹ سے گھر واپس آتے ہوئے چائے پینے کے لئے حمید مارکیٹ گندم منڈی سیالکوٹ میں محمد اعجاز سٹال کی دکان پر بیٹھا ہوا تھا کہ مسمی عبدالحمید قوم شیخ (مرزائی) مالک حمید مارکیٹ وہاں آگیا۔ محمد اعجاز ٹی سٹال والا میرا واقف کار تھا۔ باتوں باتوں میں عبدالحمید مرزائی کہنے لگا قرآن ایک جعلی کتاب ہے۔ جب قرآن لکھا گیا تھا اس وقت نہ سیاہی تھی اور نہ کاغذ۔ میں نے اس کو ایسی باتوں سے منع کیا اور کہا کہ تم ایسی باتیں نہ کرو جس پر عبدالحمید نے کہا کہ آج کے بعد میں تمہارے پیچھے غنڈے لگا دوں گا۔ تجھے قتل کر دیں گے۔ میں نے کہا ایسی کیا دشمنی ہے اگر کوئی غلطی ہو تو معاف کر دو۔ ایسی کیسی دشمنی ہے کہنے لگا کہ دشمنی بھی اسی دن بتا دوں گا۔ میں نے کہا انشاء اللہ تو کچھ نہیں کر سکے گا۔ جس پر عبدالحمید مرزائی طیش میں آ گیا اور مجھے گالیاں دیں اور قتل کی دھمکیاں دیں۔ اور مجھے بالوں سے پکڑ لیا اور محمد اعجاز ٹی سٹال والے کو کہنے لگا کہ محمد اکرم کو چھری مار دو۔ اوپر جو لگے گا میں لگا دوں گا اور کہا کہ میں تیری لاش برآمد نہ ہونے دوں گا۔ ہم تو لاش کی راکھ بھی ضائع کر دیتے ہیں۔ محمد اعجاز نے بڑی مشکل سے مجھے چھڑایا۔ مجھے عبدالحمید مرزائی سے سخت خطرۂ جان ہے۔ میں بعد ازاں وقوعہ کی اطلاع دینے کے لئے تھانہ پولیس گندم منڈی گیا تو ایس. ایچ. او چوہدری عبدالغنی صاحب نے کہا کہ لکھ کر دو جس پر میں نے درخواست لکھ کر دی۔ جس پر پولیس گندم منڈی نے ٹال مٹول کی۔ مؤرخہ ۳۱؍مارچ ۱۹۸۳ء کو انچارج چوکی پولیس گندم منڈی سیالکوٹ ملزم عبدالحمید مرزائی کو بلانے کے لئے سپاہی بھیج رہا تھا کہ انسپکٹر صاحب کا ٹیلیفون آ گیا کہ درخواست گزار کو (محمد اکرم) میرے پاس پیش کرو۔ پھر میں اسی وقت انسپکٹر صاحب کے پیش ہونے کے لئے سٹی تھانہ سیالکوٹ چلا گیا۔ انسپکٹر صاحب کہنے لگے کہ اس کیس کی پیروی چھوڑ دو، فائدے میں رہو گے۔ میں نے ڈر کے مارے کچھ نہیں کہا۔ لیکن تا دم تحریر مجھے حمید مرزائی سے خطرہ جان ہے۔ العارض!
(محمد اکرم ولد عبدالعزیز، مکان نمبر ۲/۵۸۵ شہر سیالکوٹ)
مدرسے کے طالب علم پر تشدد
پنوعاقل میں انوار القرآن کے نام سے ایک مدرسہ تھا۔ اس کے قریب جی. ٹی روڈ پر مرزائیوں کا اڈہ اور مکانات تھے۔ مدرسہ کے طلباء روزانہ شام کو تفریح کے لئے سڑک پر نکل جاتے تھے۔ حسب معمول ۱۳؍دسمبر ۱۹۸۳ء کو بعد نماز عصر تین کمسن طالب علم روڈ پر نکل گئے۔ جب کہ باقی طلبہ اپنے استاد جناب قاری عبدالتواب صاحب کی معیت میں لائبریری گئے ہوئے تھے۔ مرزائیوں نے موقعہ پا کر ۱۲ سالہ طالب علم حافظ عبداللطیف کورائی بلوچ کو پکڑ لیا اور قریب ہی کماد کے کھیت میں لے گئے۔ بقیہ دونوں طالب علم ڈر کر چیختے ہوئے مدرسہ پہنچے۔ جہاں مولانا جمال الدین صاحب الحسینی موجود تھے۔ مولانا صاحب نے پولیس اسٹیشن اطلاع کروائی۔ جہاں سے ایک ہیڈ کانسٹیبل کو روانہ کیا۔ جس نے طالب علم کو اس حالت میں برآمد کیا کہ اس کے دونوں ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔ مغرب کے بعد مولانا پولیس اسٹیشن پہنچے تو ان کے بعد مذکورہ طالب علم اور تین مرزائیوں کو لایا گیا۔ اس وقت طالب علم کے اغواء کی خبر پورے شہر میں پھیل چکی تھی اور شہر کے غیور مسلمان سینکڑوں کی تعداد میں غصے میں بھرے ہوئے پولیس اسٹیشن پہنچے۔ معلوم ہوا کہ مرزائیوں نے پولیس کو ایک فرضی قصہ سنایا ہے کہ مذکورہ طالب علم ایک مرزائی مسمی محمود کو قتل کرنے کے لئے آیا تھا۔ اس افسانہ کے سننے پر ہجوم اور بھی مشتعل ہو گیا۔ جب کہ پولیس نے مذکورہ مرزائیوں کو ایک کمرہ میں بند کر کے طالب علم کو رہا کر دیا اور مسلمانوں سے وعدہ کیا کہ قادیانیوں کو سخت سزا دی جائے گی۔ جس پر مسلمان مطمئن ہو کر واپس گئے۔
(لولاک مؤرخہ ۲۱؍دسمبر ۱۹۸۳ء)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
صدر جنرل ضیاء الحق کا بیان اور مرزا طاہر کی دھمکی
۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کو وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں قومی اسمبلی نے مرزائیوں کو غیر مسلم قرار دیا۔ قومی اسمبلی اجلاس کے ختم ہونے کے بعد ذوالفقار علی بھٹو صاحب سیدھے راولڈیم پہنچے۔ جہاں امریکن سفیر ان کے انتظار میں تھا۔ یہ دونوں ایک بجرے میں سوار ہو کر پانی میں کنارے سے دور چلے گئے ۔ امریکن سفیر نے بھٹو صاحب سے شکوہ کیا کہ آپ نے وعدہ کرنے کے باوجود وعدہ کی خلاف ورزی کیوں کی اور مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت کیوں قرار دیا ؟ بھٹو صاب اڑھائی گھنٹے تک اس بات کی وضاحت کرتے اور معذرت کرتے رہے کہ انہوں نے کیوں مرزائیوں کو غیر مسلم قرار دیا ہے۔ اس کے بعد بھٹو صاحب مرزا ناصر احمد سے ملے اور اسے یقین دلایا کہ جو کچھ ہو گیا وہ مجبوراً ہو گیا۔ آئندہ تمہارے لئے کوئی پریشانی نہیں پیدا کی جائے گی۔
چنانچہ مرزائیوں نے علی الاعلان آئین پاکستان کی دھجیاں بکھیرنا شروع کیں اور کھلے بندوں لکھنا اور کہنا شروع کر دیا کہ ہم مسلمان ہیں۔ ہمیں زبردستی غیر مسلم قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ جس اسمبلی نے ہمارے خلاف غیر مسلم ہونے کا فیصلہ صادر کیا اس میں زانی، شرابی اور چور بھی شامل تھے۔ جن کا فیصلہ کوئی وقعت نہیں رکھتا۔ پھر اس سے آگے بڑھ کر مرزائیوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ ہم اصلی مسلمان ہیں اور پاکستان کے دوسرے کلمہ گو سرکاری مسلمان ہیں۔ دھڑلے سے تبلیغ شروع کی۔ الفضل کا لہجہ سخت سے سخت تر ہوتا چلا گیا۔ مرزائی مبلغین کی زبان گستاخ سے گستاخ تر ہوتی گئی۔ بھٹو کی موت کو کتے کی موت قرار دیا۔ الیکشن کے فارموں میں گڑ بڑ کرائی گئی۔ جس سے خزانہ سرکار کو تصحیح کرنے کے باعث ایک کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ مردم شماری میں جرم کا ارتکاب کرتے ہوئے اپنے آپ کو غیر مسلم کی بجائے ’’احمدی مسلمان‘‘ لکھوایا۔ ووٹوں کی فہرستیں بنیں تو انہوں نے اپنے نام غیر مسلموں کی فہرست میں درج کرانے سے انکار کر کے جرم کا ارتکاب کیا۔
ان ساری باتوں کا ملت اسلامیہ پر سخت ردعمل ہوا۔ جھنجھلاہٹ پیدا ہوئی ، احتجاج کیا گیا۔ صدر ضیاء الحق سے پریس ، پلیٹ فارم اور وفود کے ذریعے مرزائیوں کی جارحیت کو روکنے کے لئے مطالبات کئے گئے ۔ لیکن صدر ضیاء الحق نے اس طرف توجہ نہ دی اور خدا جانے کن مصلحتوں یا مجبوریوں کے باعث مرزائیوں کو لگام دینا مناسب خیال نہ کیا۔ اس پر مسلمانوں میں صدر مملکت کے خلاف ایک گونہ ناراضگی پیدا ہوئی بعض لوگوں نے صدر جنرل ضیاء الحق پر مرزائی اور مرزائی نواز ہونے کا فتویٰ صادر کر دیا۔ جب کافی عرصہ تک صدر ضیاء الحق کی طرف سے اس مسئلہ پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا اور نہ مرزائیوں کی بڑھتی ہوئی شورشوں میں کوئی کمی آئی تو مسلمانوں میں مایوسی ، ناراضگی اور احتجاج شدید تر ہو گیا ۔ اس پر صدر ضیاء الحق نے اپنی صفائی دینی ضروری سمجھا اور اعلان کیا کہ میں پکا مسلمان ہوں ۔ قادیانیت پر میں لعنت بھیجتا ہوں اور میں ان کو کافروں سے بھی بدتر سمجھتا ہوں ۔ میرا یہ پکا ایمان اور یقین ہے کہ حضور سرور کائنات ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت ظلی یا بروزی کرنے والا زندیق اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
اس اعلان سے مسلمانوں پر خوشگوار اثر ہوا۔ اس اعلان کے چند دن بعد صدر صاحب نے ایک اور اعلان کیا کہ عوام اور انتظامیہ مل کر مرزائیوں کے خلاف کوئی راہ عمل تلاش کر لیں تا کہ امن وامان بھی قائم رہے اور یہ فتنہ بھی ختم ہو۔ صدر ضیاء الحق کے یہ بیانات مرزائیت کے ایوانوں پر بجلی بن کر گرے اور ان کے ہوش وحواس ان باتوں سے مختل ہو گئے ۔ صدر صاحب کے بیان کے ردعمل میں مرزائیوں نے درج ذیل انتظامات کر لئے ۔
تحریک ختم نبوت(۴)ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
- ۱...... اپنے دسمبر ۱۹۸۳ء کے سالانہ جلسے کا بڑے وسیع پیمانے پر انتظام کیا۔ ملک بھر کے تمام مرزائی بچوں، بوڑھوں اور عورتوں سمیت
اجتماع میں شریک ہوئے۔
- ۲...... ہزاروں مسلح ملیشیا (خدام الاحمدیہ) کے فوجی رضا کار بھی جلسے میں جمع کئے گئے۔
- ۳...... مرزا طاہر نے اپنی عام سابقہ تقریروں سے اس جلسہ میں سخت تقریریں کیں اور صدر ضیاء الحق کے جواب میں کہا کہ ہم کسی سے نہیں
ڈرتے۔ چاہے ہمارے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں اور ہڈیاں جلا کر ان کی راکھ دریا میں بہا دی جائے تو بھی ہم اپنی بات سے ادھر ادھر نہیں ہوں گے۔
- ۴...... کائنات کی کوئی طاقت ہمیں مسلمان کہلانے سے نہیں روک سکتی۔
- ۵...... دنیا پر احمدیت کا غلبہ ہو کر رہے گا اور باقی تمام ’باطل‘ ادیان ختم ہو جائیں گے۔
(لولاک مؤرخہ ۲۵؍ نومبر، چٹان نومبر ۱۹۸۳ء)
مولانا غلام حیدر صاحب انتقال کر گئے
مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد کے مبلغ، جماعت کے پرانے رفیق حضرت مولانا غلام حیدر صاحب (۲۰؍ شوال ۱۴۰۳ھ) داعیٔ اجل کو لبیک کہتے ہوئے اللہ کو پیارے ہو گئے۔
مولانا مجلس تحفظ ختم نبوت میں آنے سے پیشتر دسوہہ ضلع فیصل آباد کے ہائی سکول میں استاد رہے تھے۔ اس مصروفیت سے فارغ ہو کر مجلس تحفظ ختم نبوت میں شامل ہو گئے۔ مولانا موصوف بڑے زیرک معاملہ فہم اور بڑے مفکر و مدبر عالم دین تھے۔ اسی وجہ سے انہیں اسلام آباد میں تعین کیا گیا۔ محدث العصر حضرت علامہ مولانا سید محمد یوسف بنوری جن دنوں مجلس کے امیر مرکزیہ تھے ان دنوں مولانا غلام حیدر کی مساعی سے ہی اسلام آباد مجلس تحفظ ختم نبوت کا دفتر خریدا گیا۔ حضرت مرحوم چونکہ پڑھے لکھے اور سلجھے ہوئے آدمی تھے۔ اس لئے انہوں نے اسلام آباد خصوصاً مرکزی سیکرٹریٹ میں خصوصی تعلقات پیدا کر لئے۔ وزیر اطلاعات جناب راجہ محمد ظفر الحق صاحب سے بھی مولانا کے خصوصی تعلقات تھے۔ مجلس کو بعض مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ مولانا نے محنت شاقہ برداشت کی اور ان مقدمات کی پیروی کی۔ مولانا اپنے بڑھاپے اور کمزوری کی وجہ سے کچھ عرصہ کے لئے جماعت کا کام مولانا عبدالرؤف جتوئی کے سپرد کر کے گھر آ گئے۔ آپ کا گھر میاں چنوں کے قریب ایک گاؤں میں تھا۔
اسی دوران ان کی زندگی کا وقت پورا ہو گیا اور وہ اپنے مولا کے حضور چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مولانا غلام حیدر نے دینی تحریکوں خصوصاً عقیدۂ ختم نبوت کے لئے جو خدمات اور کارہائے نمایاں سرانجام دیئے اللہ تعالیٰ انہیں قبول فرمائے۔ انہیں جنت الفردوس میں بلند مقام نصیب فرمائے۔ ان کے پسماندگان کو صبر جمیل بخشے۔
(لولاک مؤرخہ ۲۵؍ نومبر ۱۹۸۳ء)
فیصل آباد میں مرزائیوں کے ساتھ مباحثہ
۲؍ دسمبر ۱۹۸۳ء کو جناح کالونی فیصل آباد میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ حافظ محمد حنیف صاحب اور مشہور مرزائی مناظر مولوی اکرام کے درمیان ایک مناظرہ ہوا۔ مناظرہ کی دو نشستیں ہوئیں۔ پہلی نشست میں حافظ محمد حنیف صاحب نے مرزائی کے ساتھ گفتگو فرمائی۔ دوسری نشست میں شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا بھی وہاں تشریف لے گئے اور گفتگو فرمائی۔ مولانا اللہ وسایا صاحب کے جانے کے بعد مرزائی مناظر مناظرہ تو کیا کرتا، بیٹھ بھی نہ سکا اور دم دبا کر بھاگ گیا۔ ذیل میں مناظرہ کی کارروائی اور پس منظر مختصراً ذکر کرتے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں:
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
مناظرہ کیسے طے ہوا
محمد طاہر صاحب جناح کالونی کے ایک مسلمان نوجوان تھے۔ ان کی ایک مرزائی نوجوان سے دوستی اور تعلقات تھے۔ طاہر صاحب نے ایک دن باتوں باتوں میں اپنے دوست کو کہا کہ آپ مرزائیت کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ مرزائی نوجوان نے کہا میں ضرور سمجھنے کی کوشش کروں گا۔ چنانچہ ان سے ایک مجلس میں گفتگو کا طے ہو گیا۔ طاہر صاحب نے حضرت مولانا تاج محمود صاحب سے فون پر رابطہ قائم کر کے صورتحال ان کے سامنے رکھی۔ مولانا نے اسے کہا کہ آپ اس نوجوان کو دفتر لولاک لے کر آجائیں۔ حافظ محمد حنیف یہاں موجود ہیں وہ گفتگو کریں گے اور اس نوجوان کو سمجھائیں گے۔ مولانا نے حافظ صاحب کو بتا دیا تھا کہ دونو جوان آرہے ہیں۔ آپ ان سے گفتگو کریں۔ حافظ صاحب یہاں انتظار کرتے رہے۔ لیکن وہ اپنی کسی مصروفیت کی وجہ سے یہاں نہ آسکے۔ اس کے بعد جمعہ ۲؍ دسمبر ۱۹۸۳ء کو طاہر صاحب مرزائی نوجوان سے گفتگو کا وقت طے کر کے آئے۔ ان کے ساتھ بخاری مسجد جناح کالونی کے خطیب مولانا محمد یونس صاحب بھی تھے۔ حافظ صاحب کے بارے میں پوچھا اور اپنا مدعا بیان کیا۔ ہر چند حافظ صاحب نے اصرار کیا کہ کوئی اور وقت مقرر کر لیں۔ اس دوران کچھ کتابیں بھی ربوہ سے منگوا لوں گا۔ لیکن چونکہ وقت طے تھا اس لئے انکار پر ان کا اصرار غالب آ گیا اور وہ صاحب انکے ساتھ چلے گئے۔ نماز عصر کے بعد وہاں پہنچے۔ تھوڑی دیر بعد مرزائی نوجوان بھی آگئے۔ ان کے ہمراہ مرزائی جماعت فیصل آباد کے ایک سرکردہ راہنما اکرام صاحب بھی تھے۔ ان کے کہنے پر مرزائی دوستوں کو مخاطب کرتے ہوئے حافظ صاحب نے سلسلہ کلام یوں شروع کیا۔
حافظ محمد حنیف: مجھے خوشی ہے آپ تشریف لائے۔ گفتگو شروع کرنے سے پہلے میری آپ سے گزارش ہے کہ میں اور میرے تمام دوست مسلمان اور محمدی ہیں۔ اگر ہمیں کسی کافر مشرک بھائی وغیرہ کو تبلیغ کا موقع ملے گا تو ہم اس کے سامنے سرکار دو عالم ﷺ کی خوبیاں، کمالات اور اپنے سچے نبی علیہ السلام کی صداقت اور حقانیت کو واضح کریں گے۔ یہ نہیں کہ اس کو ہم یہ تو بتا دیں کہ ہم محمدی ہیں۔ ہمارا مذہب اسلام ہے اور بحث ہم شروع کر دیں۔ اسی طرح اگر کوئی عیسائی ہمارے پاس آتا ہے اور ہمیں تبلیغ کرتا ہے تو وہ بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے والے نبی پر کبھی گفتگو نہیں کرے گا۔ بلکہ حضرت عیسیٰ بن مریم کی خوبیاں اپنے مذہب کے مطابق پیش کرے گا۔ اسی طرح آپ (مرزائی) ہمیں دعوت تو یہ دیتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نبی تھا۔ یہ تھا، وہ تھا اور جھگڑا شروع کر دیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا۔ یہ گفتگو خلاف اصول اور خلاف ضوابط ہے۔ آپ ہمیں یہ بتائیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی میں کیا کیا خوبیاں تھیں۔ ہم آپ کو یہ بتائیں گے کہ ان میں کیا کیا خامیاں تھیں۔ ان کا کردار کیا تھا۔ اخلاق کیسا تھا۔ وغیرہ وغیرہ! کسی باقاعدہ اور باضابطہ گفتگو سے پہلے ہمیں یہ موضوع متعین کرنا ہوگا کہ ہم فلاں موضوع پر گفتگو کریں گے۔
مولوی اکرم مرزائی: مولوی صاحب! ہمارا اور آپ کا اختلاف یہ ہے کہ آپ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ مانتے ہیں اور یہ قرآن کے خلاف ہے اور ہم نے گفتگو حیات و وفات عیسیٰ کے موضوع پر کرنی ہے اور میرا یہ دعویٰ ہے کہ آپ اس موضوع کی طرف نہیں آئیں گے۔
حافظ محمد حنیف: یہ آپ نے کیسے دعویٰ کر لیا کہ میں حیات عیسیٰ کی طرف نہیں آؤں گا۔ میں اس موضوع پر ضرور گفتگو کروں گا۔ لیکن پہلے موضوع کے تعین پر گفتگو ہو جائے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مار کر بھی آپ نے یہی کہنا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نبی تھا۔ اس لئے کیوں نہ ہم پہلے ہی مرزا قادیانی کی ذات پر گفتگو کر لیں۔ جس شخص نے سرکار دو عالم ﷺ کی مسند ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالا ہے اور امت میں انتشار پیدا کیا ہے۔ اس ذات پر کیوں بحث نہ کی جائے؟
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
مولوی اکرم مرزائی: دیکھا! میں کہتا تھا کہ حیات عیسیٰ پر گفتگو نہیں کریں گے۔ آپ اس کا ثبوت ہی نہیں دے سکتے کہ عیسیٰ زندہ ہے اور آسمان سے ان کا نزول ہوگا۔ کیا آپ قرآن میں دکھا سکتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر اٹھا لئے گئے؟
حافظ صاحب: اگرچہ ہمارا موضوع بحث نزولِ عیسیٰ ہے اور اس گفتگو کے لئے اسی کا تعین کیا جارہا ہے۔ تو میں یہ واضح کرتا چلوں کہ
قرآن کی آیت: ”وما قتلوہ یقیناً بل رفعہ اللہ الیہ و کان اللہ عزیزاً حکیما“
جس کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یقیناً قتل نہیں کیا گیا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ اللہ تعالیٰ بڑا غالب اور حکمت والا ہے۔ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ یعنی یہودی عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنا چاہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی عیسیٰ پیغمبر خدا کو اوپر اٹھا دیا۔ جسے وہ قتل کرنا چاہتے تھے۔ رہی یہ بات اس میں آسمان کا ذکر کہاں ہے؟ تو اس سلسلہ میں میری آپ سے یہ گزارش ہے کہ اگر میں آپ کو تفسیروں کے حوالے دوں تو آپ ان سے انکار کر دیں گے۔ اس لئے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ آیت کو حدیث رسول اللہ ﷺ کی طرف لے چلوں اور رسول اللہ ﷺ نے اسے تفصیل سے بیان کر دیا۔ مثلاً حضور ﷺ نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے آسمان سے۔
ابھی حافظ صاحب یہیں تک پہنچے تھے مرزائی اکرم درمیان میں بول پڑا۔
مولوی اکرم مرزائی: نہ......نہ......نہ......میرا مطلب یہ ہے کہ پہلے آپ رفع آسمانی ثابت کریں۔
حافظ صاحب: میں نے تو رفع ثابت کر دیا ہے جس کو قتل کرنا چاہتے تھے اس کا رفع فرمایا۔
حق بنتا ہے کہ آپ اپنے آپ کو مسلمان اور مرزا قادیانی کو نبی ثابت کرنے کے لئے اس کی ذات اور اس کے کردار پر بات کرنے کے لئے تیار ہو جائیں۔ آپ اس بات پر گفتگو کے لئے تیار ہو جائیں کہ مرزا قادیانی کیا تھے اور کیا نہیں تھے۔ ان کا کردار کیا تھا اور اخلاق کیسے تھے۔
مرزائی: نہیں ہم گفتگو اس موضوع پر کریں گے کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں یا نہیں؟
حافظ صاحب: آپ کا مقصد یہی ہے کہ مرزا قادیانی کے صدق و کذب کی آسان اور عام فہم بحث کو چھوڑ کر الفاظ کی بحث شروع کر دی جائے اور پھر لغت کی کتابوں تک نوبت پہنچ جائے جو نہ آپ کی سمجھ میں آنے والی ہے اور نہ ہی ان لوگوں کی جو یہاں موجود ہیں۔
دیکھئے جناب! مرزا صاحب آپ کے لئے حجت ہیں۔ وہ جو کچھ فرمائیں گے وہ ہم نہیں مانتے۔ لیکن آپ کو بلا چون و چرا قبول کر لینا چاہئے۔ آپ کے مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ مسئلہ حیات اور رفع نزول مسیح دین کے ارکان میں سے نہیں ہے۔ جب یہ مسئلہ دین کے ارکان میں سے ہی نہیں ہے اور آپ کے مرزا صاحب نے ہی لکھا ہے تو اس پر بحث کیوں کرتے ہیں؟
مرزائی: یہ غلط ہے۔ جھوٹ ہے۔ مرزا صاحب نے نہیں لکھا۔
حافظ صاحب: حوالہ دکھانا میری ذمہ داری ہے۔ اگر میں نہ دکھا سکوں تو میں جھوٹا۔
مرزائی: تو پھر ٹھیک ہے یہ حوالہ دکھائیں۔
سامعین: ٹھیک ہے یہ حوالہ ضرور دکھائیں۔ چنانچہ مرزائیوں اور مسلمان دوستوں کے مشورہ سے طے پایا کہ یہ گفتگو اچانک طے ہوئی تھی۔ کتابیں وغیرہ موجود نہیں تھیں۔ اس لئے گفتگو جمعہ ۹؍دسمبر کو ایک دوسرے مسلمان دوست ایوب صاحب کے مکان پر ہوگی۔ مرزائی دوست نے اصرار کیا کہ گفتگو میرے مکان پر ہو۔
حافظ صاحب: نہ آپ کی جگہ پر نہ میری جگہ پر...... یہ غیر جانبدار قسم کے دوست ہیں اس لئے گفتگو ایوب صاحب کے مکان پر ہوگی۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
نماز مغرب کا وقت لیٹ ہوا جارہا تھا۔ اس لئے طے ہوا گفتگو آئندہ پر ملتوی کر کے یہ مجلس برخاست کی جائے۔
۹/ دسمبر
ہمارا اندازہ تھا جو بالکل صحیح نکلا کہ آئندہ جمعہ کو یہ گفتگو سے بچتے ہوئے ربوہ سے اپنا کوئی بڑا لیڈر بلوائے گا۔ چنانچہ میں (حافظ محمد حنیف) نے بھی مولانا اللہ وسایا صاحب کو اطلاع دے کر لاہور سے بلوالیا۔ ۹/ بجے گفتگو کا طے تھا۔ طاہر صاحب جو اس گفتگو کا اصل محرک تھے انہیں قدرے تاخیر ہو گئی۔ حافظ صاحب نے فوراً رکشہ کیا اور جناح کالونی پہنچ گئے۔ تاکہ مرزائی دوست یہ نہ کہیں کہ دیکھو ۹/ بجے کا وعدہ کیا تھا اور نہیں آئے۔
معاملہ الٹ ہو گیا
یہ دونوں حضرات وہاں پہنچے تو معلوم ہوا کہ ایوب صاحب نے اپنے مکان پر گفتگو رکھنے کی بجائے فیصل آباد کے مشہور مرزائی مراد کلاتھ ہاؤس والوں کی کوٹھی پر رکھ دی ہے۔ ہم فوراً سمجھ گئے کہ حیلے بہانے سے یہ گفتگو سے جان چھڑانا چاہتے ہیں۔ لیکن پھر بھی یہ دونوں حضرات کتابیں اٹھا کر فوراً مرزائیوں کے مکان پر پہنچ گئے۔ مسلمان صرف پانچ یا چھ آدمی تھے اور مرزائی پندرہ، سولہ۔ وہ کچھ کمرے میں بیٹھ گئے۔ کچھ مکان کے صحن میں اور کچھ مکان سے باہر۔ یہ چھ مسلمان ان کے محاصرے میں تھے۔ اس پر مستزاد یہ کہ ایک پروفیسر نور الحق نور کو ربوہ سے بلایا ہوا تھا۔ ان حضرات نے کتابیں میز پر رکھیں تو پروفیسر صاحب نے اپنا یوں تعارف کرایا۔
”مجھے پروفیسر نور الحق نور کہتے ہیں۔ میں امریکہ، افریقہ اور دوسرے بہت سے ممالک کے دورے کرچکا ہوں۔“
مولانا اللہ وسایا: آپ کہاں سے تشریف لائے ہیں؟
پروفیسر صاحب: میں ربوہ رہتا ہوں اور وہیں سے حاضر ہوا ہوں اور آپ کا تعارف؟
مولانا اللہ وسایا: فقیر کا نام اللہ وسایا ہے۔ فقیر ربوہ میں ہی رہتا ہے اور مجلس تحفظ ختم نبوت کا ادنیٰ خادم ہے۔
چہروں پر ہوائیاں اڑنے لگیں
مولانا اللہ وسایا نے جب اپنا نام اور تعارف کرایا تو ان کے چہروں پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔ ایک رنگ آئے اور ایک جائے کہ یہ کون سی بلا ہمیں چمٹ گئی۔
پروفیسر صاحب: میں دو باتیں کرنا چاہتا ہوں......
مولانا اللہ وسایا: آپ دو چھوڑ تین باتیں کریں۔ لیکن پہلے میری ایک بات سن لیں۔
طاہر صاحب: ہمارے اور اکرام صاحب کے درمیان ایک حوالے پر آ کر گفتگو ختم ہوئی تھی۔ حوالہ یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی حیات کا مسئلہ ایمانیات کا جز نہیں ہے۔ مولانا محمد حنیف صاحب یہ حوالہ دکھانے کے پابند ہیں۔ پہلے حوالہ پھر کوئی اور بات، سب نے کہا اچھا تو سنائیے حوالہ؟
حافظ محمد حنیف: میرے اور اکرام صاحب کے درمیان موضوع کے تعین پر گفتگو ہورہی تھی۔ یہ کہتے تھے کہ حیات و وفات عیسیٰ پر گفتگو ہونی چاہئے۔ میں نے یہ کہا تھا کہ وجہ اختلاف مرزا قادیانی کی ذات ہے نہ کہ حیات و وفات کا مسئلہ۔ اس پر میں نے کہا تھا کہ مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ یہ مسئلہ ایمانیات کا جزو اور ارکان اسلام میں سے نہیں ہے۔ جب یہ ارکان اسلام میں سے نہیں ہے تو اس پر گفتگو کر کے کیوں وقت
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
ضائع کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حوالہ غلط ہے۔ میں نے کہا صحیح ہے۔ اس لئے میں یہ حوالہ دکھانے کا پابند ہوں۔ لیجئے حوالہ حاضر ہے۔ یہ میرے سامنے مرزا قادیانی کی کتاب ازالہ اوہام ہے۔ اس کے (ص ۱۴۰، خزائن ج ۳ ص ۱۷۱) پر لکھا ہے: ”مسیح کے نزول کا عقیدہ کوئی ایسا نہیں جو ہمارے ایمانیات کی جزء یا ہمارے دین کے رکنوں میں ہو۔ صد ہا پیش گوئیوں میں سے ایک پیش گوئی ہے جس کا حقیقت اسلام سے کوئی تعلق نہیں جس زمانے تک یہ پیش گوئی بیان نہیں کی گئی تھی اس زمانے تک اسلام کچھ ناقص نہیں تھا اور جب بیان کی گئی تو کچھ کامل نہیں ہو گیا۔“ یہ حوالہ انتہائی واضح ہے۔ ذرا سوچئے جب یہ مسئلہ دین رکنوں میں سے کوئی رکن نہیں ہے اور اس مسئلہ کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے تو پھر اختلاف اس پر نہ ہوا، مرزا صاحب کی ذات پر ہوا، مرزا صاحب خود لکھتے ہیں: ”کل مسلم یقبلنی ویصدق دعوتی الّا ذریۃ البغایا“ ہر مسلمان نے مجھے قبول کیا اور میری دعوت کی مگر کنجریوں کی اولاد نے مجھے قبول نہیں کیا۔
(آئینہ کمالات اسلام ص ۵۴۸، خزائن ج ۵ ص ایضاً)
مرزا قادیانی کو ساری دنیا کے مسلمان نہیں مانتے۔ اسی وجہ سے مرزا قادیانی نے تمام دنیا کے مسلمانوں کو کنجریوں کی اولاد قرار دے دیا۔ کنجریوں کی اولاد اس لئے نہیں کہ مسلمان حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ رکھتے ہیں بلکہ اس لئے کہ وہ مرزا قادیانی کو نہیں مانتے۔ آگے مرزا قادیانی کا ایک لڑکا بشیر احمد ایم. اے ہے۔ اس کتاب ”کلمۃ الفصل“ میں لکھا ہے جو یہ میرے ہاتھ میں ہے کہ: ”ہر وہ شخص موسیٰ کو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا۔ عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد رسول اللہ ﷺ کو نہیں مانتا۔ محمد رسول اللہ ﷺ کو مانتا ہے مگر مرزا غلام احمد کو نہیں مانتا، وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر ہے۔“
(کلمۃ الفصل ص ۱۱۰)
یہ تمام دنیا کے مسلمانوں کو جو کافر بلکہ پکا کافر قرار دیا عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کی وجہ سے نہیں بلکہ مرزا قادیانی کی ذات کی وجہ سے دیا ہے۔ حافظ صاحب کی گفتگو یہیں تک پہنچی تھی۔ ان سے اس کا جواب نہ بنتا تھا نہ بنا۔ البتہ گفتگو روکنے یا مزید ذلت و رسوائی سے بچنے کے لئے اکرام صاحب نے کترنی کی طرح زبان چلاتے ہوئے حضرت داؤد علیہ السلام حضرت یوسف علیہ السلام، حضرت یونس علیہ السلام، حضرت لوط علیہ السلام اور کچھ دوسرے نبیوں پر اتنے گندے اور سوقیانہ الزام لگائے کہ الامان والحفیظ۔
مولانا اللہ وسایا: کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ انبیاء کرام کے یہاں کوئی وارث نہیں ہیں۔ جب یہاں کسی دوسرے نبی کا ذکر ہی نہیں ہے تو اصل گفتگو سے فرار کیوں؟ اور خلط مبحث کیوں کیا جا رہا ہے۔ اگر آپ کا مطلب بحث برائے بحث ہے تو چشم ما روشن دل ما شاد۔ سنئے! مرزا قادیانی کی ایسی عبارت میں پیش کر سکتا ہوں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ العیاذ باللہ! خدا نے مرزا سے بدفعلی کی تھی۔ ابھی مولانا اللہ وسایا صاحب نے اتنی ہی بات کی تھی کہ مرزائیوں نے شور مچا دیا۔ بکواس ہے۔ غلط ہے۔
مولانا اللہ وسایا: شرافت کا جواب شرافت ہے۔ یہ شخص اٹھارہ نبیوں کی توہین کر گیا۔ آپ چپ رہے۔ میں نے مرزا قادیانی کی ایک بات کی تو گالیاں دیتے ہو۔ مجھ سے حوالہ مانگو کہ مرزا نے یہ کہاں لکھا ہے۔ لیکن مرزائیوں نے صاف انکار کر دیا کہ ہم کوئی بات نہیں کرتے۔ ان کے انکار پر دوستوں نے کتابیں اٹھائیں اور بخاری مسجد میں آ گئے۔ ان حضرات کو دیکھ کر وہاں محلہ کے نوجوان جمع ہو گئے۔
مولانا اللہ وسایا صاحب نے کتابیں سامنے رکھ لیں اور حوالے سنانے شروع کئے۔ حوالے سن کر سب توبہ توبہ کر اٹھے۔ سب نوجوانوں نے اصرار کیا کہ رات کو درس قرآن پاک ہو جائے۔ مولانا اللہ وسایا صاحب نے جمعہ سمندری پڑھانا تھا۔ وعدہ کر لیا گیا کہ میں سمندری سے شام کو واپس آ جاؤں گا۔ آپ درس قرآن پاک کا اعلان فرما دیں۔ رات کو اچھا خاصا اجتماع ہوا۔ مولانا اللہ وسایا صاحب نے درس قرآن پاک دیا اور مرزائیت کا کچا چٹھا کھولا۔ اگرچہ مرزائیوں کی ذلیل اور کمینہ حرکت کی وجہ سے گفتگو ادھوری رہ گئی تاہم دوستوں کے ساتھ مجلس اور رات کے درس قرآن سے وہ مقصد پورا ہو گیا۔
(لولاک مؤرخہ ۲۷؍ دسمبر ۱۹۸۳ء)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء
ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
تحریک ختم نبوت
کے سلسلہ میں
۱۹۸۴ء
کے
حالات و واقعات
تحریک ختم نبوت(۴)ستمبر۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
حضرت مولانا تاج محمود کی رحلت
۲۰؍ جنوری ۱۹۸۲ء بروز جمعتہ المبارک مجاہد ختم نبوت، اتحاد امت کے عظیم داعی اور کاروان امیر شریعت کے جرنیل حضرت مولانا تاج محمود عالم آخرت سدھار گئے۔ آپ کی وفات سے پورے ملک میں صف ماتم بچھ گئی۔ ہر آنکھ اشکبار اور ہر دل حزین تھا۔ دینی مدارس میں تعطیل ہوگئی۔ ایصال ثواب کے لئے قرآن خوانی شروع کر دی گئی اور ملک کی تمام دینی وسیاسی تنظیموں کی طرف سے تعزیتی اجلاس منعقد ہوئے۔ جن میں حضرت مولانا تاج محمود کی دینی، ملی، سیاسی اور سماجی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ آپ کے جانے سے صرف مذہبی حلقے ہی متاثر نہیں ہوئے بلکہ ادبی، صحافتی اور علمی محفلیں بھی ماند پڑ گئیں۔ آپ ایک بے مثال خطیب، ایک صاحب طرز ادیب اور ایک بیدار مغز مذہبی رہنما تھے۔
آپ کی وفات پر بہت سوں نے بہت کچھ لکھا۔ تعزیتی پیغامات، سوانحی مضامین، منظوم نوحے...... ہر تحریر جگر کے خون سے لکھی ہوئی ہے اور پڑھتے وقت آنکھیں چھلک جاتی ہیں۔ لیکن چند تحریریں ایسی ہیں جو آپ کے نہایت قریبی متعلقین نے تحریر فرمائی ہیں جن کے ساتھ آپ کی خلوت و جلوت رہی ہے اور جنہوں نے سب سے بڑھ کر آپ کو دیکھا اور سنا۔
ان میں سے ایک آپ کے فرزند ارجمند صاحبزادہ طارق محمود صاحب تھے۔ جو صحیح معنوں میں آپ کے جانشین تھے اور جنہوں نے آپ کے بعد تحریک ختم نبوت سے خوب خوب وفا کی۔ آپ کی وفات پر طارق محمود صاحب نے پہلا اداریہ تحریر کیا۔ بیٹا ہونے کی وجہ سے صاحبزادہ صاحب آپ کے حالات سے بنسبت دوسروں کے زیادہ واقف تھے۔ اس لئے ان کی یہ تحریر زیادہ مؤثر اور مبنی پر حقائق ہے۔ لکھتے ہیں:
داغ فراق
”سحری کے وقت ہمشیرہ کی گھبرائی ہوئی آواز نے مجھے نیند سے بیدار کیا اور کہا کہ ابا جان کی طبیعت خراب ہے۔ جلدی سے اٹھو۔ جب میں ان کے کمرہ میں آیا تو مولانا سامنے تکیہ پر پیشانی رکھے سجدہ کی حالت میں تھے۔ ان کی سانس پر گہرا اثر تھا۔ وہ برابر بے چینی اور اضطراب محسوس کر رہے تھے۔ چونکہ دو برس قبل ہم ان کی شدید مایوس کن بیماری دیکھ چکے تھے۔ اس لئے ہمارے لئے تشویش کی ایسی کوئی بات نہ تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب حضرت بلال کے وارثوں کی آوازیں خدا تعالیٰ کی کبریائی کا اعلان کر رہی تھیں اور شہر کی فضا میں ہر طرف سے اذانوں کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں۔ لیکن آج کسے معلوم تھا کہ ان گونجنے والی آذانوں کے بعد کون سی نماز کا اعلان ہونے والا ہے؟
ان کے مزاج اور طبیعت کا شناسا ہونے کے ناطے میں نے پوچھا کہ کیا آپ کے کسی دوست کو بلالوں؟ لیکن انہوں نے جواب میں صرف اتنا کہا کہ اس وقت کسی کو بلانا مناسب نہیں۔ میں نے دوبارہ پوچھا کہ اگر اجازت دیں تو میں آپ کے معالج پروفیسر سعادت علی زیدی کو بلالوں؟ لیکن انہوں نے برجستہ کہا: ”آج کسی کو بلانے کی ضرورت نہیں۔“ ان کا یہ فقرہ میرے دل و دماغ کی اتھاہ گہرائیوں میں اتر گیا اور میری سوچ کے دائرے ان کے اسی جوابی فقرہ میں سمٹ کر رہ گئے۔ جب سحر نکھری اور دن کا اجالا اپنی مسکراہٹیں اور نیک تمنائیں لئے نمودار ہوا تو میں نے ہمت کر کے مولانا کی بیٹھک سے فون پر چوہدری ڈاکٹر سعادت علی زیدی کو ان کی ناسازیٔ طبع کی اطلاع دی۔ انہوں نے کمال شفقت سے دس منٹ کے اندر اندر آنے کا وعدہ کیا۔ اسی دوران میری انگلی ٹیلیفون کی ڈائل کے ساتھ گھومی اور نمبر ۷۱۲۹۵ مل گیا۔ دوسری جانب سے والد محترم کے دیوانہ وار عقیدت مند رانا فضل کی بھاری آواز کانوں پر پڑی۔ میں نے انہیں بتایا کہ حضرت کی طبیعت کچھ...... صرف اتنا ہی کہہ پایا تھا کہ انہوں نے میرا جملہ کاٹتے ہوئے کہا: میں ابھی پہنچ رہا ہوں۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
میں فون کرنے کے بعد والد محترم کے کمرے میں آیا تو انہیں میری اس جسارت کا علم ہو چکا تھا۔ فوراً پوچھا: زیدی صاحب کو فون کیا ہوگا ؟ میری یہ عادت رہی ہے کہ میں نے ان کے سامنے ساری زندگی کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ ویسے بھی انہیں جھوٹ سے انتہائی نفرت تھی۔ میں نے اثبات میں جواب دیا۔ انہوں نے کہا: ”اچھا تو چارہ کر کے دیکھ لے۔“ ان کا یہ دوسرا فقرہ معنی خیز تھا جس نے میرے جگر میں آگ لگا دی۔ لیکن میں نے ضبط کا ساتھ اور صبر کا دامن نہ چھوڑا۔ تھوڑی دیر بعد مجھے حکم دیا کہ بیٹا مجھے سیب کی قاشیں کھانے کے لئے دو۔ میں نے سیب کاٹا۔ جلدی سے چند قاشیں بنائی اور پلیٹ میں رکھ کر ان کی خدمت میں پیش کر دیں۔ لیکن مجھے کیا خبر تھی کہ یہ میری آخری خدمت ہوگی۔ انہوں نے دو ٹکڑے کئے اور منہ میں لئے۔ پھر انہوں نے خدمت و سعادت میں سب کو مات کرنے والی اپنی پیاری اور لاڈلی بیٹی کو آخری خدمت کا موقع دیتے ہوئے آب زمزم پلانے کو کہا۔ اس نے ایک کپ میں اپنے عزیز باپ کو آب شفا پیش کیا۔ والد محترم نے نہایت اطمینان، سکون اور صبر کے ساتھ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھتے ہوئے تین گھونٹ پیئے۔
اتنے میں ڈاکٹر سعادت علی زیدی تشریف لے آئے۔ ابو جی نے انہیں دیکھتے ہی کہا: میں تو آپ کو بے وقت تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا۔ لیکن طارق نے خواہ مخواہ آپ کو زحمت دی۔ ڈاکٹر صاحب نے مولانا کی حالت کے پیش نظر حکم دیا کہ انہیں میری ہی گاڑی میں بٹھائیں تاکہ ہسپتال لے چلیں۔ ڈاکٹر سعادت علی زیدی ہسپتال اپنے وارڈ میں فون کرنے کے لئے مولانا کی بیٹھک میں واپس آگئے۔ اتنے میں رانا فضل بھی تشریف لے آئے۔ والد گرامی اب قدرے سکون میں تھے۔ بے چینی و اضطراب اور گھبراہٹ کے آثار بھی یکسر غائب ہو چکے تھے۔ وہ خود چار پائی سے اتر کر کرسی پر بیٹھے۔ پا بہ رکاب تھے۔ لیکن آج وہ اس سفر پر جانے کی تیاری میں تھے۔ جس میں نہ میر کارواں کی ضرورت ہوتی ہے نہ قافلے کی۔
معاً انہوں نے مجھ سے بڑی ہمشیرہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور بلند آواز میں تین مرتبہ ”اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمداً رسول الله “ سنایا۔ پھر نہ کبھی پلٹ کر دیکھنے والی محبت بھری حسرت آمیز نگاہوں کو دونوں بہنوں کے چہروں پر مجتمع کرتے ہوئے فرمایا۔ اچھا بیٹیو ! خدا حافظ۔
یہ تھے وہ آخری الفاظ جو انہوں نے گھر کی دہلیز پار کرنے سے پہلے کہے۔ پونے آٹھ بجے ہم ڈسٹرکٹ ہسپتال کے علی وارڈ پہنچے تو تمام ڈاکٹروں اور عملہ کو سراپا انتظار پایا۔ پروفیسر سعادت علی زیدی کی معاونت ڈاکٹر اکمل ، ڈاکٹر مشتاق ، ڈاکٹر سلطان کر رہے تھے۔ عملہ نے نہایت مستعدی اور خلوص سے مولانا کے علاج کا آغاز کیا۔ پہلے آکسیجن لگائی گئی۔ پھر ڈرپ لگانے کا مرحلہ آیا تو تمام رگیں (Veins) بے وفا ہوئیں۔ آخر بہت تگ و دو کے بعد مولانا کے پاؤں سے ایک رگ (Vein) ملی جہاں ڈرپ لگائی گئی۔ انجکشن لگائے گئے۔ تاکہ مریض دل کو کسی طرح قرار آ جائے۔ سب کچھ ایمرجنسی میں ہو رہا تھا۔ کچھ دیر بعد ہمیں کمرہ نمبر ۴ منتقل کر دیا گیا۔ دوران علاج ڈاکٹر سعادت علی زیدی نے مولانا سے طبیعت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب میں کہا۔ ”کچھ بہتر ہوں“ ساتھ ہی دعا دیتے ہوئے فرمایا: آپ کو بے وقت تکلیف دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطاء فرمائیں۔
اسی اثناء میں بھائی محمد اقبال (ایم۔ اے) اور صوفی محمد اشرف (میرے بہنوئی) کمرہ میں آ پہنچے۔ مولانا نے قدرے سکون محسوس کیا اور آنکھ لگ گئی ؎
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
مولانا چونکہ بستر پر ٹیک لگائے نیم دراز تھے۔ رانا فضل صاحب مولانا کے دائیں اور اقبال صاحب بائیں جانب تھے۔ جب کہ میں ان کے قدموں میں کھڑا تھا۔ تقریباً ۲۰ منٹ کے بعد مولانا نے آنکھیں کھولیں۔ میری جانب سے ہٹ کر دائیں طرف قبلہ رخ نہایت غور اور احترام بھری قدرے جھکی نگاہوں سے دیکھا۔ چند ساعت بعد دائیں ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے دو مرتبہ فرمایا: ”ہٹو ہٹو آ رہے ہیں“ اس جملہ کی ادائیگی کچھ اس انداز سے کی جس میں احترام، عجز وانکساری، عقیدت اور خلوص شامل تھا۔ لیکن آواز میں آہستگی ادب اور نقاہت بدرجہ اتم موجود تھی۔ یہ وہ لمحات تھے جن کو ہم اس وقت محسوس نہ کر سکے۔ ہمارا خیال کچھ اور تھا کہ شاید مولانا نیچے اترنے کے لئے کہہ رہے ہیں۔ لیکن ہم نہ جان سکے کہ اس وقت ختم نبوت کا عظیم مجاہد کس کی آمد کا انتظار اور خیر مقدم کر رہا تھا؟
آپ بستر سے اٹھ بیٹھے۔ چند ساعت بعد پیچھے ہٹے۔ ان کے لبوں میں جنبش آئی۔ ان کی قبلہ رخ ٹکی ہوئی مؤدب نگاہیں اپنے سامنے کھڑے اکلوتے بیٹے کو دیکھنے کی بجائے اسی حسین منظر کی دلکشی میں ڈوب گئیں۔ ان کی گردن قبلہ رخ جھکی تو رانا فضل اور محمد اقبال کی زبان سے بے ساختہ نکلا۔ ”اشهد ان لا اله الله واشهد ان محمدا رسول الله“
یہ وہ کلمہ تھا جو تھوڑی دیر قبل مولانا اپنی پیاری بیٹیوں کو سنا کر آئے تھے۔ میں سکتے میں آگیا۔ میری سوچنے سمجھنے اور دیکھنے کی تمام صلاحیتیں سلب ہو چکی تھیں۔ تاہم میری نظریں اپنے مشفق باپ کے مطمئن چہرے پر مرکوز تھیں۔ ڈاکٹر حضرات لپکے اور تمام انسانی کوشش صرف کر دیں تا کہ مولانا کو موت کی وادی سے کھینچ لیں۔ لیکن وہ تو ہماری نظروں سے اوجھل، آنے والوں کے ساتھ اس سفر پر روانہ ہوچکے تھے۔ جہاں سے کوئی لوٹ کر نہیں آیا۔ اس وقت گھڑی ساڑھے دس بجا رہی تھی۔ ان کی نبضیں ڈوب چکی تھیں اور ۶۶ برس تک دھڑکنے والا درد بھرا دل آج جواب دے چکا تھا۔ ”انا لله وانا اليه راجعون“
قانون خداوندی کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہوئے ان کے وصال کا یقین کرنا پڑ رہا ہے۔ ورنہ ان کے نام کے ساتھ مرحوم لکھتے ہوئے قلم لرزیدہ ، جگر شق ، دل زخمی ، اعصاب شکستہ، ذہن ماؤف ، قدم بوجھل ، نظریں اداس ، فضا سوگوار اور ماحول ویران ہے۔ اس لئے کہ بقول شاعر؎
وہ عظیم انسان جن کی شخصیت ، شرافت، ذہانت، سیادت، فراست، بصیرت، بصارت، سخاوت، شجاعت، قیادت اور دیگر بے شمار محاسن اور خوبیوں کا مجموعہ تھی۔ وہ ہم سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بہ آن و بہ شان رخصت ہوگئی۔ ان کی جدائی پر ان کے عزیز واقارب ان کے اہل خانہ ہی اشکبار نہیں۔ ان کے سانحہ ارتحال پر اہل فیصل آباد ہی غمگین نہیں۔ ان کے بچھڑنے پر دینی حلقے ہی متاثر نہیں۔ ان کے جانے پر ان کے عقیدتمند و احباب کی محفلیں اور بزم آرائیاں ہی سونی سونی نہیں ہوئیں۔ ان کے رخصت ہونے پر اسلامی ادب وصحافت کا رنگ ہی ماند نہیں پڑا۔ ان کی رحلت سے منبر ومحراب، خطابت کا گلشن ہی سوگوار نہیں ہوا۔ بلکہ پورا ملک اور عالم اسلام ان کی موت پر افسردہ اور اداس ہے۔ ان کے انتقال پر اتنے بڑے سوگ کی وجہ یہ ہے کہ وہ تمام عمر عشق ختم رسالت میں ڈوبے رہے اور قافلہ ختم نبوت کے سالار کی حیثیت سے عمر بھر جانب منزل رواں دواں رہے۔ مسئلہ ختم نبوت ان کی زندگی سے اور ان کی زندگی مسئلہ ختم نبوت سے وابستہ تھی۔ اسی مشن کی خاطر انہوں نے خون جگر سے تمناؤں کے دیپ جلائے۔ اپنی آرزوئیں بیچ کر دل کی تڑپ برقرار رکھی۔ ذاتی منفعت کا خیال تک دل میں نہ لائے۔ ناموری کو قربانی پر ترجیح دی۔ دولت کو غیرت پر ٹھکرا دیا۔ کبھی کسی کی دلآزاری نہ کی۔ عملاً تو کیا کبھی قولاً کسی کو برا نہ کہا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ ہر طبقہ زندگی، ہر مکتب فکر، ہر عمر اور ہر ذوق کے افراد کی آنکھ کا تارا تھے۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
رحم دلی اور دریا دلی ان کے دل اور ہاتھ کی عظیم صفات تھیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ان کی عظیم شخصیت کے خصائص کا احاطہ کرنا ہمارے قلم کی دسترس سے باہر ہے۔ وہ ایسی ہستی تھے جس نے فقیری میں بادشاہی اور بادشاہی میں فقیری کی۔
۱۹۳۰ء سے لے کر ۱۹۸۴ء تک ان کی زندگی کا کوئی لمحہ ایسا نہیں گزرا جس میں انہوں نے اپنے مشن سے غفلت برتی ہو۔ انہوں نے اپنی جوانی کی توانائیاں، بڑھاپے کی آرزوئیں ۔ غرضیکہ اپنی عمر عزیز کا ہر لمحہ اپنے مشن کے لئے قربان کر دیا۔ مولانا تاج محمود ایک نرم دل اور اعتدال پسند انسان تھے۔ مگر جہاں عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کا سوال آتا تو ان کا وجود اس ارشاد ربانی اشداء علی الکفار کے پیکر میں ڈھل جاتا اور وہ سیسہ پلائی دیوار بن جاتے ۔
یہ مسئلہ ان کی رگوں میں گردش کرنے والے خون کے ساتھ مل کر گردش کرتا تھا۔
وہ خود کہا کرتے تھے کہ مسئلہ ختم نبوت میری زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ اسی بناء پر انہیں عشق رسول کی وہ دولت عظمیٰ نصیب ہوئی۔ ہم نے اکثر دیکھا جب ان کے سامنے سید دوعالم ﷺ کا نام آتا تو بے اختیار ان کی آنکھیں اشکبار ہو جایا کرتی تھیں۔ انہوں نے شہرت کی تنگ و تاریک وادیوں سے نکل کر ناموس رسالت کا پرچم کچھ اس انداز سے بلند کیا کہ وہ خود سر بلند ہوگئے ۔ موت کی وادی میں اترنے تک اس ناموس کی بلندیوں ، اس کی اڑانوں اور اس کی عظمتوں میں فرق نہ آنے دیا ۔ ان کے تمام ساتھی اور ان کے رہنما ایک ایک کر کے سامنے سے رخصت ہوتے گئے ۔ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری، حضرت قاضی احسان احمد شجاع آبادی، مولانا محمد علی جالندھری، مولانا لعل حسین اختر، حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری ۔ یہ سب اس دارفانی سے داربقاء کی طرف چلے گئے ۔ مگر تاج محمود نے مایوس کن دور میں اپنے مشن کو جانفشانی، ریاضت کے ساتھ رواں دواں رکھا ۔ یہاں تک کہ اس قافلے کی رفتار، چال، بانکپن، جوش وخروش اور ولولہ میں خون جگر شامل کرنے والے حضرات کی برکت ۱۹۷۴ء کی کامیاب تحریک کی وجہ سے ہم آج فخر کے ساتھ ہم سر بلند کر سکتے ہیں کہ مولانا تاج محمود نے ایک بے داغ زندگی گزاری۔ وہ خود فرمایا کرتے تھے کہ میرا کردار ہر قسم کی آلودگیوں سے صاف ہے۔ اس لئے کہ میرا ضمیر مطمئن ہے ۔
یہی اطمینان اور سکون تھا جو تمام عمر ان کے ساتھ اور مرنے کے بعد بھی ان سے جدا نہ ہوا۔ یہی اطمینان اور سکون اس وقت بھی ان کے چہرے کی مسکراہٹ سے ہویدا ہو رہا تھا جو ایک مومن کا طرّہ امتیاز ہوا کرتا ہے۔
’’نشانِ مردِ مومن با تو گویم چوں مرگ آید تبسم بر لب اوست‘‘ کا نظارہ وفات سے لے کر لحد میں اتارے جانے تک دیکھنے میں آیا ۔ یہ مسئلہ ختم نبوت سے ان کی والہانہ شیفتگی کا نتیجہ تھا۔ تادم آخر اتحاد بین المسلمین کے داعی رہے اور اپنے پرچے لولاک کے صفحات کو بھی اتحاد بین المسلمین کی تحریک بنائے رکھا ۔ جماعت ختم نبوت ان کی امیدوں، آرزوؤں کا مرکز رہی ۔ جب کہ ’’لولاک‘‘ ان کی تمناؤں کا محور۔ انہوں نے بیس سال تک مسلسل ’’لولاک‘‘ کی آبیاری اپنے خون سے کی۔ ’’لولاک‘‘ انہیں اپنی اولاد سے بھی زیادہ عزیز تھا ۔ بے پناہ دینی، سماجی ، معاشرتی ، علمی و ادبی مصروفیات کے باوجود ’’لولاک‘‘ کبھی ان کے احاطہ نگاہ سے باہر نہ ہوا ۔ تاج محمود سے ہماری محبت کا تقاضا ہے کہ ان کے مشن زندہ رکھا جائے اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے پرچم کی اڑانوں میں رتی بھر فرق نہ آنے دیا جائے ۔ جسے انہوں نے تمام عمر سینے سے لگائے رکھا ۔ ان کے محبوب رسالے ان کی یادگار لولاک کو زندہ، نہ صرف زندہ رکھا جائے ۔ بلکہ زندہ پائندہ بنا دیا جائے ۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
جب تک عقیدہ تحفظ ختم نبوت کا مشن زندہ ہے تاج محمود بھی زندہ ہیں۔ ان کی قربانیاں ان کے کارنامے تاریخ ایک حصہ بن چکے ہیں۔ تاریخ میں ان کا نام ہمیشہ ہمیشہ یاد رہے گا۔ تاریخ کی جبیں ان کے ایثار و قربانی، عظمت و سطوت کے سامنے سرنگوں رہے گی اور عقیدہ ختم نبوت کا مبارک مشن جاری ہے اور جاری رہے گا۔ انشاء اللہ!
تا آنکہ دشمنان دین اور باطل کے علمبردار ایک دن پرچم حق کے سامنے سرنگوں ہو جائیں۔ گو کہ مولانا کے انتقال نے ہمارے دلوں کو شق کر دیا ہے۔ مگر ہم آج یہ اعلان کرتے ہیں کہ ان سے ہماری محبت کا تقاضا ہماری دینی وملی غیرت کا اصرار اور ہمارے قلوب کی صدا یہ ہے کہ ان کے مشن کو اسی صورت میں جاری رکھا جائے۔ جس صورت میں وہ اسے ہمارے ہاتھوں میں چھوڑ گئے ہیں۔ اس لئے کسی بھی دشمن دین کو تاج محمود کی موت پر خوشیاں منانے اور اپنی تجارتی نبوت میں منافع کے خواب دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ جب تک لولاک، مولانا کی اولاد، ان کے عقیدتمند، ان کی جماعت اور شمع رسالت کے پروانے زندہ ہیں۔ حق کا ابلاغ، باطل کا ابطال اور ربوہ کی فرنگی ساختہ نبوت اور شہنشاہیت (مرزائیت) کا احتساب جاری رہے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔
عدو نہ سمجھیں کہ ہم دل دکھا کے بیٹھ گئے
(لولاک مؤرخہ ۲۷/جنوری ۱۹۸۴ء)
مولانا کی اپنی یادگار تحریر سے اقتباس
حضرت مولانا تاج محمود نے اپنے کچھ مختصر حالات خود قلمبند فرمائے تھے۔ جس میں اپنے اجداد، خاندان اور علاقائی پس منظر کا اجمالی تذکرہ کیا ہے۔ اس تحریر سے ایک مختصر اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
”میری طرح میرا خاندان بھی کسی خاص اہمیت کا حامل نہیں۔ میرے والد صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے آباؤ اجداد دریائے سواں ضلع راولپنڈی کے کنارے کسی گاؤں کے رہنے والے تھے۔ اعوان تھے۔ سواں کے کنارے پہاڑیوں سے لے کر سون سکیسر کی پہاڑیوں تک کے اس سطح مرتفع قسم کے علاقہ میں اکثر اعوان قوم آباد ہے۔ بالائی حصہ کو اعوان کاری اور پٹھوار بھی کہا جاتا ہے۔ کسی زمانہ میں کسی بیرونی حملہ آور کے حملہ یا اندرون ملک کی طوائف الملوکی اور خانہ جنگی کے ڈر سے یہ لوگ اپنا گھر بار چھوڑ کر کوہ گنگر ضلع ہزارہ میں جاپناہ گزین ہوئے۔ یہ سلسلہ کوہ تربیلا اور ہری پور کے درمیان دریائے سندھ کے کنارے کنارے چھچھ تک آیا ہوا ہے۔ اس سرسبز پہاڑ میں یہ لوگ اپنی بھیڑ، بکریاں، مال مویشی چرا کر بسر کرتے رہے۔ جب امن ہوا تو کچھ خاندان شاہیہ اور کچھ لوگ جن میں میرے اجداد شامل تھے ”بسوئے“ نامی ایک جگہ میں آگئے اور وہاں ڈیرہ جمالیا۔ وہاں سے قریب ایک گاؤں جاگل میں کچھ زمین خرید لی اور مکان بھی بنا کر آباد ہو گئے۔ ہمارے خاندان کے لوگوں کو اب بھی وہاں پٹھواری یا پٹھواری اعوان کہا جاتا ہے۔
وہ کون بزرگ تھے جو دریائے سواں سے اٹھ کر ہزارہ میں جا کر آباد ہوئے تھے یہ معلوم نہیں۔ میری چوتھی پشت کے بڑے بزرگ کا نام رمیض اللہ خان اور یہ نام ضلع راولپنڈی یا پٹھوار کے علاقہ کا نام نہیں ہے۔ یہ پختون علاقوں کا نام ہے۔ ہری پور ہزارہ کے گرد و نواح کے علاقہ کی زبان ہندکو ہے۔ لیکن ہری پوری سے چند میل مغرب میں واقع کوہ گنگر کے اوپر آباد لوگوں کی زبان پشتو ہے۔ قیاس یہی ہے کہ میرے جد امجد رمیض اللہ خان کی پیدائش اس زمانہ کی ہے جب یہ لوگ کوہ گنگر میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ رمیض اللہ خان جاگل میں رہتے تھے اور ان کی بھیڑ بکریاں مال مویشی جو بہت زیادہ تعداد میں ہوا کرتے تھے، بسوئے نامی ڈیرہ میں ہوا کرتے تھے۔ یہ جگہ کوہ گنگر کے دامن میں ہے اور یہاں جانوروں کے لئے چرائی وغیرہ میسر تھی۔ رمیض اللہ خان کے دو بیٹے خیر محمد اور مہر محمد تھے۔ خیر محمد حضرت سید احمد بریلوی کی فوج میں
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
شامل تھے اور سکھوں کے خلاف جہاد میں شریک رہے تھے۔ سکھوں کا زمانہ تھا۔ خیر محمد زرہ بند ہو کر تلوار، نیزہ اور ڈھال لے کر گھوڑے پر سوار ہو کر رات کے وقت اپنے گاؤں سے کہیں چلے جاتے اور پھر تین تین ماہ تک چند دنوں کے لئے گھر واپس آتے۔ جب گھر والوں کو صرف اتنا ہی معلوم ہوتا تھا کہ وہ سکھوں کے خلاف جہاد کے لئے کہیں جاتے ہیں۔ باقی معاملہ سخت راز داری میں رکھا جاتا تھا۔
سن و تاریخ کے اعتبار سے یہ وہ زمانہ تھا جب کوہ گنگر کے دوسری طرف دریائے سندھ کے پار حضرت سید احمد بریلوی ، شاہ اسماعیل شہید اور ان کے مجاہدین ایک چھوٹی سی اسلامی مملکت قائم کر چکے تھے اور سکھوں کے خلاف جہاد میں مصروف تھے۔ خصوصاً تربیلا گاؤں کے بمقابل دریائے سندھ کے پار ” کبل “ نامی گاؤں میں بھی موصوف کا ایک عرصہ قیام رہا تھا۔ غالب گمان یہی ہے کہ ہمارے یہ بزرگ سید احمد اور شاہ سماعیل کے مجاہدین میں شامل ہو کر سکھوں کے خلاف غزوات میں شریک ہوا کرتے تھے اور پھر کچھ دنوں کے لئے رخصت لے کر چند دنوں کے لئے چوری چھپے گھر بھی ہو جایا کرتے تھے۔ اس عاجز کو انگریزوں اور ان کے خود کاشتہ پودوں کے خلاف عمر بھر جدو جہد کی جو سعادت نصیب ہوئی اور میری زندگی سید عطاء اللہ شاہ بخاری جیسے مجاہدین فی سبیل اللہ کی ہمراہی میں گزری۔ یہ بلا وجہ نہ تھا۔ بلکہ یہ مجھے باطل کے خلاف جہاد اپنے جد امجد کے مجاہدانہ خون کی وجہ سے وراثت میں ملا ہے۔
(لولاک مؤرخہ ۲/ فروری ۱۹۸۴ء)
مجلس عمل ختم نبوت کا قیام اور امتناع قادیانیت آرڈیننس
مرزائی خلیفہ مرزا طاہر جارح اور شر پسند طبیعت کے مالک تھے۔ ربوہ ریلوے اسٹیشن کے مسلمان طلباء کو مارنے کا واقعہ جس کی وجہ سے پورے ملک میں قادیانیت کے خلاف تحریک اٹھی ، مرزا طاہر ہی کا کارنامہ تھا اور مرزائی غنڈوں کے اس جتھے کی قیادت طاہر ہی کر رہے تھے۔ مرزائی طاہر کے خلیفہ بننے کے بعد مرزائیوں کی جارحانہ سرگرمیوں میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہو گیا۔ مرزا طاہر کی گفتگو اور لہجے میں کھلی جارحیت جھلکتی تھی۔ خلیفہ بننے کے بعد اس نے اپنے خطبوں میں سر عام کہنا شروع کر دیا کہ دنیا کی کوئی طاقت ہمیں غیر مسلم قرار دے نہیں سکتی۔ ۹/ جنوری ۱۹۸۴ء کو اس نے ربوہ میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ : ” احمدیو متحد ہو جاؤ اور جو لوگ ان سے شعائر اللہ چھیننا چاہتے ہیں یا ان کے اسلام میں دخل اندازی کر رہے ہیں ان کے خلاف جہاد کے لئے تیار رہیں۔ تمام احمدی احباب کلمہ طیبہ کے بیج بنا کر سینوں پر لگا لیں تاکہ ہمارے طرف کفر کی نسبت کرنے والوں پر ہماری حیثیت ظاہر ہو ۔ “
(روزنامہ امروز مؤرخہ ۹/ جنوری ۱۹۸۴ء)
” شعائر اللہ اور جہاد “ اسلامی اصطلاحات کو استعمال کر کے مرزا طاہر نے یہ تاثر بھی دیا کہ مسلمانوں کے منع کرنے اور احتجاج کرنے کے باوجود ہم جہاں مسلمانوں کے شعائر استعمال کر رہے ہیں۔ وہاں اسلامی اصطلاحات پر بھی ہاتھ صاف کر رہے ہیں اور مسلمانوں کے ساتھ لڑنے کے لئے تیار بھی ہیں۔ اس دور کے اخبارات میں یہ بھی لکھا ملتا ہے کہ مرزا طاہر نے خدام الاحمدیہ اور فرقان فورس کے علاوہ دیگر مرزائیوں میں بھی اسلحہ تقسیم کیا تھا۔ مرزا طاہر کی جارحیت کا مندرجہ ذیل واقعات سے اندازہ لگائیں کہ اس کی خلافت کو ابھی ایک سال بھی پورا نہ ہوا تھا بلکہ بمشکل چند مہینے ہوئے تھے۔ لیکن اس کم مدت میں وہ کس دیدہ دلیری سے مسلمانوں کو زچ کر رہا تھا۔
- ۱...... بخاری مسجد ربوہ کے امام پر قاتلانہ حملہ۔
- ۲...... مسلم کالونی مسجد کے مدرسہ ختم نبوت پر یلغار، دھمکیاں اور گالیاں۔
- ۳...... آر. ایم. او، ربوہ کی عدالت میں غنڈہ گردی۔
- ۴...... اسلم قریشی کا اغواء۔
- ۵...... ربوہ میں مسلم اساتذہ کو عقیدہ ختم نبوت بیان کرنے سے روکنا۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
- ۶ ...... مولانا ثناء اللہ دوسایا کو مسلسل قتل کی دھمکیاں دینا۔
- ۷ ...... پنوں عاقل مدرسہ کے طالب علم کا اغواء۔
مرزا طاہر کے سربراہ بنتے وقت مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا تاج محمود نے ہفت روزہ لولاک میں یہ نشاندہی فرمائی تھی کہ مرزا طاہر احمد اپنے سابقہ سربراہوں جیسا نہیں ہے۔ وہ ایک جارحیت پسند اور مکروہ عزائم کا حامل شخص ہے۔ جو ضرور کوئی نہ کوئی گل کھلائے گا۔ مرزا طاہر کی خلافت کے بعد صرف مرزائیوں کے لہجوں میں درشتی اور جارحیت نہیں آئی تھی بلکہ ان کی تحریریں بھی زہر آلود اور تشدد پسندانہ بن گئیں تھیں۔ الفضل کا لہجہ آگ برسا رہا تھا اور اس نے اپنے اوپر فرض کے درجے میں یہ ذمہ داری عائد کر رکھی تھی کہ موقع محل ہو یا نہ ہو، ضرورت ہو یا نہ ہو لیکن اس نے اسلام کا دعویٰ کرنا ہے اور اسلامی اصطلاحات اور شعائر کا استعمال کرنا ہے۔
مرزائیوں کے ماہنامہ ”انصار اللہ“ ربوہ میں انہی دنوں ایک مرزائی مبلغ کی تحریر چھپی۔ جس میں مرزا قادیانی کے نام کے ساتھ ”علیہ الصلوٰۃ والتسلیمات“ کا لفظ لکھا تھا اور مرزے کو حضور ﷺ کا روحانی بیٹا لکھا تھا۔ اس تحریر کا ہفت روزہ لولاک میں ردعمل کے طور پر خوب خوب محاسبہ کیا گیا اور صاحبزادہ طارق محمود نے صدر جنرل ضیاء الحق کی توجہ اس طرف پھیر دی۔ قادیانی تحریر یہ تھی۔ ”خاکسار عرض کر چکا ہے کہ صد سالہ جوبلی کا سال ۱۹۸۹ء ہے۔ تاریخ اسلام میں ۲۳ / مارچ ۱۸۸۹ء وہ دن ہے جب سیدنا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے فرزند جلیل حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلوٰۃ والتسلیمات نے اللہ کے حکم کے مطابق لدھیانہ کے مقام پر چالیس مخلصین سے بیعت لے کر سلسلہ احمدیہ کی بنیاد رکھی۔“
(ماہنامہ انصار اللہ اپریل ۱۹۸۴ء)
اس سے چند روز قبل روزنامہ الفضل میں مرزا طاہر نے اپنی ایک تحریر میں عزت مآب سید الاولین والآخرین حضور ﷺ کو ”بابا گورو نانک“ کے مشابہ قرار دیا تھا۔
قادیانیوں کی اس دیدہ دلیری اور جارحیت کے ردعمل میں قادیانی مسئلہ ایک بار پھر عوامی توجہ کا مرکز بن گیا اور مسلمانوں نے حکومت سے مطالبہ کرنا شروع کر دیا کہ قادیانیوں سے آئین کی پابندی کرائی جائے۔ جب وہ غیر مسلم ہیں تو ان کے لئے مسلمانوں والی اسلامی اصطلاحات اور اسلامی شعائر کا استعمال ممنوع قرار دیا جائے اور قادیانیوں کو کلیدی عہدوں سے برطرف کیا جائے۔
۱۹۷۴ء کے دور کی آئینی ترمیم قادیانیوں کی خفیہ و برملا بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کو روکنے میں تقریباً ناکام ہو گئی تھی۔ کیونکہ اس کے مؤثر طور پر نافذ العمل ہونے میں عدم قانون سازی کے نقص سے قادیانی فائدہ حاصل کر رہے تھے۔ اس دور کے حکمرانوں نے مسلمانوں کے مطالبے سے مجبور ہو کر یہ ترمیم کر تو ڈالی۔ لیکن نہ اس پر عمل درآمد کیا اور نہ مرزائیوں کی خلاف آئین سرگرمیوں کا نوٹس لیا۔ ربوہ بدستور ریاست اندر ریاست بنا رہا اور قادیانی بے فکری سے اپنی سرگرمیوں میں مشغول تھے۔
مجلس تحفظ ختم نبوت اپنی حدود اور دائرہ کار میں رہتے ہوئے قادیانیوں کا احتساب و تعاقب کرتی رہی۔ اس کے باوجود مرزائیوں کی علانیہ بغاوت اور جارحیت میں اضافہ ہوتا رہا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے ترجمان ہفت روزہ ”لولاک“ نے اپنے اداریوں، مضامین اور خبروں کے ذریعے بار بار حکومت کو مرزائیوں کی اس دیدہ دلیری کی طرف متوجہ کیا۔ جلسوں اور کانفرنسوں میں بھی حکومتی اہل کاروں سے مرزائیوں کی اس جارحیت اور بغاوت کے خلاف نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔ مجلس کے رہنماؤں نے اس سلسلے میں دو دفعہ صدر جنرل ضیاء الحق سے ملاقات کرنے کے لئے ٹیلی گراف بھی بھیجے۔ لیکن نیچے کے اہلکاروں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ صدر صاحب مصروف ہیں۔ آپ سے ملاقات کے لئے ان کے پاس وقت نہیں۔ ان وجوہات کے پیش نظر مجلس تحفظ ختم نبوت نے اپنا فرض سمجھا کہ وہ دوسری دینی اور سیاسی
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
جماعتوں کو صورتحال سے آگاہ کر دے اور انہیں یہ بات سمجھائے کہ قادیانیت کی تنظیم، تحریک اور سیاسی دوائر میں ان کا اثر رسوخ حد سے بڑھ کر ایک بڑے خطرے کا پیش خیمہ بنتا جا رہا ہے۔ چنانچہ مجلس نے ۱۳؍نومبر ۱۹۸۳ء کو لاہور میں تمام دینی جماعتوں کی ایک مشترکہ میٹنگ طلب کی۔ جس میں فیصلہ ہوا کہ قادیانیوں کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ اور جارحیت کو روکنے کے لئے مشترکہ محاذ بنایا جائے اور ۱۹۷۴ء کے فیصلہ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے حکومت پر دباؤ ڈالا جائے۔
مجلس عمل ختم نبوت کی تاسیس کے حوالے سے پہلا اجلاس
۱۳؍ نومبر ۱۹۸۴ء کو مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ پیر طریقت حضرت مولانا خواجہ خان محمد کی دعوت پر تمام مکاتب فکر کے سرکردہ رہنماؤں کا ایک عظیم الشان مشترکہ اجلاس مدرسہ قاسم العلوم جامع مسجد شیرانوالہ گیٹ لاہور میں حضرت خواجہ خواجگان کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میں حضرت مولانا محمد شریف جالندھری (مرکزی ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت)، حضرت مولانا تاج محمود (مدیر اعلیٰ ہفت روزہ لولاک)، حضرت مولانا محمد اشرف ہمدانی (مجلس تحفظ ختم نبوت فیصل آباد)، حضرت مولانا علاؤ الدین صاحب (ڈیرہ اسماعیل خان)، حضرت مولانا زاہد الراشدی (جمعیت علماء اسلام گوجرانوالہ)، حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب (جمعیت علماء اسلام بھکر)، مولانا محمد اجمل قادری (لاہور)، حضرت مولانا ظہور الحق، جناب عبدالرحمن یعقوب باوا (مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی)، میاں ریاض الحسن گنگوہی (ڈیرہ اسماعیل خان)، حضرت مولانا عبدالستار خان نیازی (جنرل سیکرٹری جمعیت علماء پاکستان)، مولانا مفتی مختار احمد نعیمی (بریلوی مکتب فکر گجرات)، جناب شیر احمد خان نیازی، حضرت مولانا حافظ عبدالقادر روپڑی (اہل حدیث لاہور)، حضرت مولانا احسان الٰہی ظہیر (اہل حدیث)، حضرت مولانا عبدالخالق صاحب قدوسی، قاضی حسین احمد (جنرل سیکرٹری جماعت اسلامی)، جناب چوہدری غلام جیلانی صاحب، شیعہ عالم علامہ مرزا یوسف حسین صاحب (پرنسپل مدرسہ مظفر الواعظین لاہور)، علامہ علی غضنفر کراروی، جناب محبوب علی شمسی، مولانا محمد ضیاء القاسمی، مولانا اللہ وسایا اور دیگر علماء نے شرکت کی۔
اس اجلاس میں قادیانی ٹولے کی جارحانہ سرگرمیوں میں مسلسل اضافے اور قادیانی جارحیت کے سدباب کے لئے تمام مذہبی مکاتب فکر کی مشترکہ ”مرکزی مجلس عمل ختم نبوت“ کی تشکیل کا فیصلہ کیا گیا۔ مجلس عمل کی باقاعدہ تشکیل کے لئے تیرہ رکنی کنوینگ کمیٹی قائم کر دی گئی۔ جس میں تمام مکاتب فکر کے نمائندے شامل تھے۔ کمیٹی نے ۲۲؍ نومبر ۱۹۸۳ء کو لاہور میں پہلا اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا۔ اجلاس کے فیصلوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے یہ فیصلہ ہوا کہ ۲۵؍نومبر کو لاہور میں ایک روزہ ”کل پاکستان آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس“ منعقد کی جائے گی۔
اجلاس کی قراردادیں
اجلاس میں قرارداد منظور ہوئی کہ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو مسلمان سائنسدان کے طور پر سرکاری ذرائع سے پوری دنیا میں متعارف کرایا گیا ہے اور اسے عالمی اسلامک سائنس فاؤنڈیشن کا چیئرمین بنانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ حکومت وقت کو چاہئے کہ اس کا سدباب کرے۔
دوسری قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ حکومت مولانا اسلم قریشی کو جلد از جلد بازیاب کر کے عامۃ المسلمین کو مطمئن کرے۔
تیسری قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ فوج اور سول محکموں میں کلیدی عہدوں پر فائز تمام قادیانی افسران کو ان کے عہدوں سے الگ کیا جائے۔
چوتھی قرارداد میں ملک کی تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ ۱۹۷۳ء کے آئین کے تحفظ کے لئے کمربستہ ہوں۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
مجلس تحفظ ختم نبوت کا ”مجلس عمل“ کے قیام کے فیصلہ کو ہر عام و خاص نے سراہا اور تمام مذہبی اور اکثر سیاسی جماعتوں نے مجلس تحفظ ختم نبوت کو اس بروقت اقدام اور دانش مندانہ فیصلے پر خراج تحسین پیش کیا۔
(لولاک مؤرخہ ۱۵؍ نومبر، نوائے وقت مؤرخہ ۱۴، ۱۵؍ نومبر ۱۹۸۳ء)
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا پہلا اجلاس
طے شدہ پروگرام کے تحت ۲۲؍ نومبر ۱۹۸۳ء کو مدرسہ قاسم العلوم شیرانوالہ گیٹ لاہور میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی کنویننگ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ جس کی صدارت حضرت مولانا خواجہ خان محمد نے کی۔ شرکاء میں مولانا عبدالستار خان نیازی، مفتی مختار احمد نعیمی، ملک محمد اکبر ساقی، پیر اعجاز احمد صاحب ہاشمی، جناب مسعود احمد صاحب، علامہ احسان الٰہی ظہیر، مولانا عبدالقادر روپڑی، حضرت مولانا تاج محمود، مولانا محمد شریف جالندھری، چوہدری غلام جیلانی، مولانا گلزار احمد مظاہری، مولانا عبیداللہ انور، مولانا زاہد الراشدی، مولانا محمد اشرف ہمدانی، مولانا سید امیر حسین گیلانی، مولانا محمد عبداللہ بھکروی، مولانا محمد ضیاء القاسمی وغیرہ شامل تھے۔
اجلاس میں طے پایا کہ ۱۱؍ دسمبر ۱۹۸۳ء کو جامعہ قاسم العلوم شیرانوالہ گیٹ لاہور میں ایک عام کنونشن منعقد کیا جائے۔ جس میں تمام دینی و سیاسی جماعتوں کو شرکت کی دعوت دی جائے۔ اس کے علاوہ کلیدی عہدوں سے قادیانیوں کو معزول کرنے اور بیرون ملک قادیانی جو پاکستان کے وقار کو داغدار کر رہے تھے، کا بھی نوٹس لیا گیا اور حکومت سے ان امور کے سدباب کا مطالبہ کیا گیا۔ اجلاس میں دو وفود کی تشکیل ہوئی کہ وہ جماعت اسلامی کے امیر میاں طفیل محمد اور جمعیت علماء پاکستان کے مولانا شاہ احمد نورانی سے ملاقات کر کے ان کو مجلس عمل کے ۱۱؍ دسمبر کے کنونشن میں شرکت پر آمادہ کرے۔
(نوائے وقت مؤرخہ ۲۳؍ نومبر، لولاک مؤرخہ ۲۲؍ نومبر ۱۹۸۳ء)
مجلس عمل کے عہدیداروں کا انتخاب
۱۱؍ دسمبر ۱۹۸۳ء کو جامع مسجد شیرانوالہ گیٹ لاہور مجلس عمل ختم نبوت کے زیر اہتمام ”کل جماعتی ختم نبوت کنونشن“ منعقد ہوا۔ جس میں ملک کے چاروں صوبوں سے چار سو سے زائد مندوبین نے شرکت کی۔ صدارت حضرت خواجہ خواجگان مولانا خواجہ خان محمد نے فرمائی۔ اس کنونشن میں دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث، شیعہ مکاتب فکر کے جید علماء شریک ہوئے۔
تمام مندوبین نے مجلس عمل کے قیام اور اس کی تگ و دو سے اتفاق کیا۔ مجلس عمل کے عہدیداروں کا انتخاب درج ذیل ترتیب سے ہوا۔
- ۱...... صدر: حضرت مولانا خواجہ خان محمد (امیر مرکزیہ مجلس تحفظ ختم نبوت)
- ۲...... نائب صدر اول: مفتی مختار احمد نعیمی (مہتمم جامعہ غوثیہ گجرات)
- ۳...... نائب صدر دوم: مولانا حافظ عبدالقادر روپڑی (جامع مسجد قدس چوک لاہور)
- ۴...... جنرل سیکرٹری: مفتی مختار احمد نعیمی (گجرات)
- ۵...... جوائنٹ سیکرٹری: حضرت مولانا ضیاء القاسمی (فیصل آباد)
- ۶...... سیکرٹری نمبر ۲: مولانا محمد عبداللہ (بھکر)
- ۷...... سیکرٹری نمبر ۳: حضرت مولانا عبدالشکور دین پوری
- ۸...... رابطہ سیکرٹری: حضرت مولانا محمد شریف جالندھری (ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
- ۹....... سیکرٹری اطلاعات ونشریات: حضرت مولانا زاہد الراشدی
- ۱۰...... لیگل کمیٹی سربراہ: حضرت مولانا شریف جالندھری
- ۱۱...... ممبران: مولانا عبد الرشید ارشد، جناب خاقان بابر
- ۱۲...... محاسبہ کمیٹی سربراہ: مولانا منظور احمد چنیوٹی
- ۱۳...... ممبران: مولانا محمد اشرف ہمدانی، صاحبزادہ طارق محمود
ریاض الحسن گنگوہی، مولانا علاؤ الدین (ڈیرہ اسماعیل خان) حافظ محمد حمید اختر (گلگشت)، سید محبوب علی شمسی حضرت مولانا اللہ وسایا (خطیب ربوہ)
کنونشن میں یہ فیصلہ ہوا کہ حکومت نے مجلس عمل کے مطالبات ایک ماہ کے اندر پورے نہ کئے تو مجلس عمل ۱۵؍جنوری ۱۹۸۴ء کو اپنے اگلے اجلاس میں عملی جدوجہد اور فیصلہ کن اقدام کا اعلان کرے گی۔
(نوائے وقت مورخہ ۱۲؍دسمبر ۱۹۸۳ء)
صدر جنرل ضیاء الحق سے حضرت مولانا تاج محمود کی ملاقات
۴، ۵؍جنوری ۱۹۸۴ء کو وزارت مذہبی امور کی طرف سے علماء کنونشن کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ملک بھر سے دوسو سے زائد نامور علماء کرام شریک ہوئے۔ ان علماء نے صدر جنرل ضیاء الحق کے ساتھ اتحاد بین المسلمین، فرقہ واریت کا سدباب، معاشی مسائل اور زکوۃ وعشر کے مصارف ایسے موضوعات پر بات چیت کی۔ حضرت مولانا تاج محمود بھی شریک تھے۔ انہوں نے موقعہ ملتے ہی صدر جنرل ضیاء الحق کے سامنے قادیانی مسئلہ پر حکومت کے مجرمانہ تساہل پر بات کی۔ انہوں نے مجلس عمل کی طرف سے صدر جنرل ضیاء الحق کے سامنے بے باکی سے یہ موقف پیش کیا کہ قادیانیوں کی جارحیت اور بغاوت کے باوصف حکومت نے مجرمانہ چپ سادھ رکھی ہے۔ مولانا تاج محمود نے تقریر کے آغاز میں ہی صدر مملکت کو مخاطب کر کے ان سے پوچھا کہ اس دفعہ قادیانیوں نے ربوہ کے سالانہ جلسہ میں جس انداز سے تقریریں کیں ہیں ان کی رپورٹ آپ نے پڑھی ہے؟
صدر نے جواب دیا: تاحال نہیں پڑھی۔ اس پر مولانا تاج محمود نے کہا: حضور والا! پانی سر سے گزر چکا ہے۔ قادیانی اپنی تنظیم میں استحکام پیدا کر چکے ہیں۔ انہوں نے ۴۰ ہزار ملیشیا تیار کر لی ہے۔ جماعت کا بجٹ ۳۴ کروڑ روپیہ ہے۔ ذیلی تنظیموں کا بجٹ اس کے علاوہ ہے۔ اطفال احمدیہ کا بجٹ ۱۴لاکھ، انصار احمدیہ کا بجٹ ۳۴لاکھ۔ عورتوں کی تنظیم لجنہ اماء اللہ کا بجٹ، خدام الاحمدیہ کا بجٹ اور تحریک جدید کے لاکھوں کے بجٹ اس کے علاوہ ہیں۔ اربوں روپے ان کے ریزرو فنڈ میں موجود ہیں اور وہ بالکل اسی پیٹرن پر اپنی سرگرمیوں کو بڑھا رہے ہیں جس پیٹرن پر یہودی قیام اسرائیل سے قبل کام کرتے تھے۔ کل عربوں نے اسرائیل کے مقابلے میں غفلت برتی۔ آج ان کی اولاد اسی اسرائیل کے ہاتھوں عذاب کا شکار ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ اگر پاکستان کے مسلمانوں نے بروقت اس فتنے کی سرکوبی نہ کی تو یہ فتنہ آئندہ نسلوں کے لئے بہت بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔
مولانا تاج محمود نے صدر صاحب کے سامنے مجلس عمل کا ارادہ واشگاف لفظوں میں بیان کر دیا کہ اگر حکومت ہمارے ان مطالبات پر عمل درآمد نہیں کر رہی تو ہم خود میدان عمل میں اتریں گے۔
(لولاک مورخہ ۱۰؍جنوری ۱۹۸۴ء)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
۱۵؍جنوری مجلس عمل کا اجلاس
۱۵؍جنوری ۱۹۸۴ء کو جامع مسجد شیرانوالہ گیٹ میں حضرت مولانا خواجہ خان محمد کی زیرصدارت اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں حضرت مولانا تاج محمود، حضرت مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا محمد عبداللہ (اسلام آباد)، مولانا عبدالستار خان نیازی، مفتی مختار احمد نعیمی، مولانا اللہ وسایا، مولانا ضیاء القاسمی، مولانا علاؤ الدین، مولانا زاہد الراشدی، علامہ علی غضنفر کراروی اور دیگر کثیر تعداد میں مختلف مکاتب فکر کے علماء نے شرکت کی۔
اجلاس میں مختلف بیانات اور تجاویز کے بعد یہ متفقہ فیصلہ ہوا کہ ۱۷؍فروری ۱۹۸۴ء کو سیالکوٹ میں آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس، کل پاکستان سطح پر منعقد کی جائے۔ جس میں ملک کی تمام جماعتوں اور تمام مکاتب فکر کے راہنما شریک ہوں۔ مولانا مختار احمد نعیمی نے اعلان کیا کہ اس روز سیالکوٹ میں مکمل ہڑتال کی جائے گی۔ کانفرنس کے وفود کی آمد اور اس کے انعقاد میں اگر کسی قسم کی رکاوٹ پیدا کر دی گئی یا گورنمنٹ نے پابندی لگائی تو اسے توڑ دیا جائے گا۔
اجلاس میں مولانا ملک محمد اکبر ساقی کی قیادت میں ایک کمیٹی قائم کر دی گئی جو کلیدی آسامیوں پر موجود قادیانی ملازمین کی فہرست مرتب کرے۔ مولانا تاج محمود، مولانا محمد شریف جالندھری کمیٹی کے ممبر منتخب ہوئے۔
(جنگ، نوائے وقت مورخہ ۱۶؍فروری ۱۹۸۴ء)
آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس سیالکوٹ
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت نے سیالکوٹ ۱۷؍فروری ۱۹۸۴ء کو مجوزہ آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس کی کامیابی کے لئے ایک ملک گیر مہم چلائی۔ چاروں صوبوں سے متعلق تمام جید اور بااثر علماء کو اپیل کی کہ اپنے مقامی احباب کو سیالکوٹ کانفرنس میں شرکت پر آمادہ کریں۔ اس کے علاوہ مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین نے بھی مختلف علاقوں کے دورے کئے اور مسلمانوں کو سیالکوٹ کانفرنس میں شرکت کی ترغیب دی۔ حضرت مولانا ضیاء القاسمی، مولانا صاحبزادہ امداد الحسن نعمانی اور حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب نے پورے پنجاب کا دورہ کیا۔ یہ دورہ ۱۷؍جنوری سے ۲۹؍جنوری تک رہا۔ ان حضرات کا یہ دورہ نہایت کامیاب اور نتیجہ خیز رہا۔ اس کی وجہ سے پورا پنجاب بیدار ہوا اور جذبۂ عشق ومستی سے سرشار ہو کر لوگ سیالکوٹ قافلہ در قافلہ پہنچے۔
۱۶؍فروری مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا اجلاس
سیالکوٹ کانفرنس سے ایک دن قبل یعنی ۱۶؍فروری ۱۹۸۴ء کو مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا اجلاس دفتر مجلس ختم نبوت بیرون دہلی گیٹ لاہور میں منعقد ہوا۔ صدارت حضرت پیر طریقت مولانا خواجہ خان محمد نے فرمائی۔ مجلس عمل کے تمام مکاتب فکر سے متعلق تمام ممبران شریک ہوئے۔ حضرت مولانا تاج محمود کی وفات پر تمام شرکاء نے افسوس اور غم کا اظہار کیا اور ختم نبوت کے لئے ان کی لازوال خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ مختلف تجاویز کے بعد درج ذیل فیصلے ہوئے۔
- ۱...... سیالکوٹ ختم نبوت کانفرنس تمام تر رکاوٹوں کے باوجود منعقد ہوگی۔ اگر حکومت نے پابندیاں عائد کیں تو ان کو خاطر میں نہ لایا جائے گا۔ جہاں شرکاء کو سیالکوٹ جانے سے روکا گیا وہاں شرکاء عصر تک دھرنا مار کر بیٹھے رہیں گے۔
- ۲...... مولانا محمد اسلم قریشی کا معمہ حل کیا جائے۔ اگر ۳۰؍اپریل ۱۹۸۴ء تک مجلس عمل کے مطالبات کو نہ مانا گیا تو قادیانیوں کی عبادت گاہوں جو دراصل جاسوسی کے اڈے ہیں۔ ان سے مسجد ضرار کا سا معاملہ کیا جائے گا۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
- ......۳ ۳۰؍ اپریل سے قبل چاروں صوبوں کے صدر مقامات اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں چار عظیم الشان آل پاکستان ختم
نبوت کانفرنسیں منعقد کی جائیں گی۔
کل پاکستان ختم نبوت کانفرنس سیالکوٹ
حسب پروگرام ۱۷؍ فروری ۱۹۸۴ء کو سیالکوٹ ڈونگا باغ کی قلعہ نما، پرشکوہ، جامع مسجد حنفیہ غوثیہ کے بلند و بالا میناروں کے سائے میں کل پاکستان تحفظ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ ساتھ میں ایک عظیم الشان احتجاجی مظاہرہ اور ہڑتال کا بھی نظم تھا۔ کانفرنس، احتجاجی مظاہرہ اور ہڑتال تینوں نہایت کامیاب اور نتیجہ خیز رہے۔ ملک کے چپہ چپہ، قریہ قریہ سے ہزاروں لوگوں نے وفود کی شکل میں شرکت کی۔ چاروں صوبوں کا شاید ہی کوئی ایسا ضلع ہوگا جہاں سے کانفرنس میں کوئی وفد شریک نہ ہوا ہو۔
حضرت مولانا تاج محمود کی وفات سے اگرچہ مجلس عمل کی سرگرمیاں کافی حد تک ماند پڑ گئی تھیں اور اس میں کافی حد تک کمی آ گئی تھی۔ لیکن سیالکوٹ کانفرنس میں لوگوں کی جوق در جوق شرکت نے دوبارہ لوگوں میں نئی روح پھونک دی۔ ذیل میں ہم کانفرنس کی چند جھلکیاں پیش کرتے ہیں۔ مکمل کارگزاری وقت اور صفحات کا متقاضی ہے۔
- ......۱ کانفرنس میں ملک بھر کے علماء اور پاکستان کے چپہ چپہ سے آئے ہوئے لاکھوں سے زائد فرزندان اسلام نے شرکت کی۔
- ......۲ اتنی عدیم المثال کامیاب ہڑتال سیالکوٹ کی تاریخ میں کبھی دیکھنے میں نہ آئی تھی۔ صبح سے لے کر رات تمام کاروبار زندگی بالکلیہ
معطل رہا۔ اس دن شہر اقبال کے در و دیوار بلکہ ذرہ ذرہ سراپا احتجاج بنا ہوا تھا۔
- ......۳ صرف فیصل آباد سے ۷۰ بسوں، کاروں اور ۵۰ ویگنوں کے علاوہ ہزاروں افراد نے جی۔ٹی۔ایس اور پرائیویٹ بسوں کے
ذریعے کانفرنس میں شرکت کی۔
- ......۴ اس کے علاوہ پورے ملک اور بالخصوص پنجاب کا کوئی چھوٹا بڑا شہر، قریہ، نگر ایسا نہ تھا جہاں سے وفد نے کانفرنس میں شرکت نہ کی ہو۔
- ......۵ فیصل آباد کے وفد کی قیادت حضرت مولانا ضیاء القاسمی اور صاحبزادہ طارق محمود کر رہے تھے۔ صاحبزادہ طارق محمود کی اس کانفرنس میں
پہلی عوامی تقریر تھی۔ ان کی پرجوش تقریر سن کر حضرت مولانا خواجہ خان محمد نے ان کو تھپکی دی اور فرمایا: واہ بیٹا! تاج محمود کی یاد تازہ کر دی۔
- ......۶ مولانا ضیاء القاسمی نے جب اپنا جوش خطابت دکھایا تو حضرت مولانا خواجہ خان محمد نے ان کے سر پر دستار رکھی۔
- ......۷ کانفرنس کے اختتام سے چند منٹ پہلے صہیب اسلم کو سٹیج پر لایا گیا۔ اس کو دیکھ کر مجمع آہوں اور سسکیوں میں ڈوب گیا۔
- ......۸ کانفرنس میں تمام مکاتب فکر کے علماء نے شرکت کی۔
- ......۹ کانفرنس شروع ہونے سے قبل حکومت نے جن جن علماء پر سیالکوٹ میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی وہ سب علماء پابندی کو خاطر
میں نہ لاتے ہوئے کانفرنس میں شریک ہوئے۔ بالآخر حکومت نے پابندی واپس لے لی۔
- ......۱۰ سیالکوٹ میں جشن کا سماں تھا۔ جامع مسجد حنفیہ غوثیہ میں نیچے سے لے کر بالائی چھتوں تک تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ اردگرد کی عمارتوں
پر ہزاروں افراد کھڑے تھے۔ مسجد سے ملحق تمام چوکوں، چوراہوں پر انبوہ در انبوہ انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر موجزن تھا۔
- ......۱۱ کانفرنس کے آغاز سے لے کر اختتام تک معمول کے واقعات کے علاوہ کوئی بڑا واقعہ یا حادثہ پیش نہیں آیا۔
- ......۱۲ کانفرنس شروع ہونے سے پہلے انتظامیہ نے مسجد کے باہر سپیکر چلانے پر جو پابندی عائد کی تھی وہ مجلس عمل کے ترتیب شدہ پروگرام
کے تحت بالکل خاطر میں نہ لائی گئی۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
- ۱۳...... کانفرنس کے تمام شرکاء اور خطباء نے حضرت مولانا تاج محمود کو خراج عقیدت پیش کیا اور تحفظ ختم نبوت کے لئے ان کی کاوشوں
اور قربانیوں کو سراہا۔
- ۱۴...... کانفرنس کی صدارت مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد نے کی۔
- ۱۵...... مقررین حضرات میں مولانا ضیاء القاسمی، صاحبزادہ طارق محمود، مولانا زاہد الراشدی، مولانا منظور احمد چنیوٹی، صاحبزادہ امداد
الحسن نعمانی، مولانا اللہ وسایا، علامہ احسان الٰہی ظہیر، مولانا عبدالستار خان نیازی، مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا عبدالقادر روپڑی، مولانا محمد عبداللہ شہید خطیب اسلام آباد، مفتی مختار احمد نعیمی اور علامہ غضنفر کراروی کے علاوہ دیگر علماء و فضلاء شامل تھے۔ چاروں مکاتب فکر کے علماء، خطباء اور عوام نے شرکت کی۔ تمام خطباء نے اپنی تقریروں میں مرزا طاہر کو شامل تفتیش کرنے کا مطالبہ کیا۔ کلیدی عہدوں پر فائز مرزائیوں کو اپنے عہدوں سے ہٹانے اور سرکاری دفاتر میں ان کے بڑھتے ہوئے اثر رسوخ کے سدباب کا مطالبہ کیا گیا۔
حاضرین اور مقررین نے مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا تاج محمود کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کی بلندیٔ درجات کی دعا مانگی۔ اتحاد امت پر زور دیا گیا اور فرقہ وارانہ تقریروں اور تحریروں سے حتی الامکان اجتناب کی ترغیب دی گئی۔ خطباء نے اپنی تقریروں میں حکومت کو متنبہ کیا کہ ۳۰؍ اپریل تک اگر مطالبات نہ مانے گئے، قادیانیوں کو کلیدی عہدوں سے ہٹایا نہ گیا اور قادیانیوں کو اسلامی شعائر واصطلاحات کے استعمال سے روکا نہ گیا تو مجلس عمل خود میدان عمل میں اترے گی اور قادیانیوں کی عبادت گاہوں سے مسجد ضرار کا سا معاملہ ہوگا۔
(لولاک مؤرخہ ۲۱؍ فروری، نوائے وقت مؤرخہ ۱۸؍ فروری ۱۹۸۴ء)
۴؍ مارچ، مجلس عمل کا اجلاس، پانچ کانفرنسوں کا اعلان
۴؍ مارچ کو دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور میں مجلس عمل ختم نبوت کا اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں تمام مکاتب فکر کے جید علماء کرام نے شرکت کی۔ صدارت حضرت مولانا خواجہ خواجگان نے فرمائی۔ اجلاس میں مرکزی سطح پر مجلس عمل کی کانفرنسیں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ چنانچہ ۹؍ اپریل فیصل آباد، ۱۴؍ اپریل کوئٹہ، ۱۵؍ اپریل کراچی، ۱۶؍ اپریل سکھر اور ۲۷؍ اپریل کو راولپنڈی میں آل پاکستان ختم نبوت کانفرنسوں کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا اور کہا گیا کہ ان کانفرنسوں کے ذریعے حکومت پر زور دیا جائے گا کہ وہ مجلس عمل کے مطالبات کو فی الفور آئینی شکل دے کر ان کو پورا کر کے اسلامیان پاکستان کو مطمئن کرے۔
(لولاک مؤرخہ ۹؍ مارچ، نوائے وقت مؤرخہ ۶؍ مارچ ۱۹۸۴ء)
کل جماعتی ختم نبوت کانفرنس فیصل آباد
مجلس عمل کے ترتیب دیئے پروگرام کے مطابق ۹؍ اپریل ۱۹۸۴ء کو فیصل آباد کارخانہ بازار میں ایک تاریخی ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ اخبارات نے کانفرنس کے شرکاء کی تعداد ڈیڑھ لاکھ اور ۲ لاکھ کے مابین لکھی ہے۔ مذہبی اجتماعات میں یہ فیصل آباد کا سب سے بڑا اجتماع تھا۔ مشہور بازار ”کارخانہ بازار“ سے گھنٹہ گھر تک عوام کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا۔ کانفرنس میں تمام مکاتب فکر کے علماء اور عوام نے شرکت کی تھی۔ صدارت کے فرائض حضرت مولانا خواجہ خان محمد نے انجام دیئے۔ کانفرنس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ۲۷؍ اپریل تک مجلس عمل کے مطالبات تسلیم کئے جائیں۔ قادیانیوں کو اذان اور اسلامی اصطلاحات کے استعمال سے روکا جائے۔ شناختی کارڈ، پاسپورٹ وغیرہ میں قادیانیوں کو مسلمان ظاہر کرنے پر قابل دست اندازی پولیس جرم قرار دیا جائے۔ قادیانی اوقاف کو حکومت دیگر اوقاف کی طرح اپنی تحویل میں لے کر قادیانیوں کے تمام پمفلٹ اور لٹریچر ضبط کیا جائے۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبد اللہ معتصم
کانفرنس میں مولانا مفتی مختار احمد نعیمی، مولانا ضیاء القاسمی، صاحبزادہ طارق محمود صاحب، مولانا عبدالشکور دین پوری، مولانا زاہد الراشدی، شیعہ رہنما علی غضنفر کراروی، مولانا عبدالقادر روپڑی، مولانا منظور احمد چنیوٹی، مولانا سید عبدالمجید ندیم، مولانا عبداللہ (اسلام آباد)، حافظ عبدالرشید ارشد، مولانا محمد شریف جالندھری، قاضی حسین احمد، مولانا علاؤالدین، مولانا محمد رفیق جامی، صاحبزادہ امداد الحسن نعمانی اور دیگر چوٹی کے علماء نے خطاب کیا۔ مولانا اللہ وسایا صاحب نے سٹیج سیکرٹری کے فرائض نبھائے اور خوب نبھائے۔ اختتامی دعا امیر مرکزیہ حضرت خواجہ خان نے فرمائی۔
کانفرنس کے اختتام پر مولانا محمد اشرف ہمدانی اور مولانا اللہ وسایا کے خلاف ۱۶ ایم ۔ پی ۔ او اور ۳/۲ ڈبلیو پی ۔ آر کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ جب کہ آٹھ حضرات مولانا ضیاء القاسمی، مولانا زاہد الراشدی، قاضی حسین احمد، علامہ علی غضنفر کراروی، مولانا علاؤالدین (ڈیرہ اسماعیل خان)، مفتی مختار احمد نعیمی، مولانا محمد یعقوب، مولانا عبدالرؤف چشتی کے خلاف ۱۶ ایم ۔ پی ۔ او کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔
(لولاک مورخہ ۲۱؍اپریل ۱۹۸۴ء)
ختم نبوت کانفرنس کوئٹہ
۱۴؍اپریل ۱۹۸۴ء کو کوئٹہ میں مجلس عمل کے زیر اہتمام ایک عظیم الشان اور یادگار کانفرنس منعقد ہوئی۔ صدارت امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد نے فرمائی۔ کانفرنس میں بلوچستان کے چپے چپے اور گوشے گوشے سے شمع ختم نبوت کے ہزاروں پروانوں نے شرکت کی۔ مجلس کے عمائدین کے علاوہ دیگر مکاتب فکر، شیعہ، بریلوی، اہل حدیث کے بھی خطباء نے بیانات فرمائے۔ کانفرنس سے قبل حضرت امیر مرکزیہ اور بریلوی مکتب فکر کے ممتاز عالم دین مختار احمد نعیمی جب کوئٹہ پہنچے تو ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ روزنامہ جنگ اور دیگر قومی اخبارات نے کانفرنس کی کارروائی کے لئے خصوصی ایڈیشن شائع کئے۔
پہلا اجلاس رات کو بعد نماز عشاء حضرت امیر مرکزیہ کی صدارت میں شروع ہوا۔ اس اجلاس میں مولانا مختار احمد نعیمی، شیخ الحدیث مولانا محمد یعقوب شروری، مولانا جمال الحسینی، مولانا اللہ داد جمعیت علماء اسلام، اہل حدیث عالم مولانا ادریس فاروقی، شیعہ عالم آغا مولانا یعقوب، مولانا قاری سید افتخار کاظمی اور دیگر حضرات نے تقریریں فرمائیں۔ اس اجلاس میں اکثر خطباء نے حاضرین کے سامنے فتنہ قادیانیت کی حقیقت اور وطن عزیز میں ان کی بڑھتی سرگرمیوں کی وضاحت فرمائی۔ مسلکی اختلافات کی مذمت کی گئی اور اتحاد امت پر زور دیا گیا۔ کہا گیا کہ ہمیں اپنی صفوں میں وحدت اور یگانگت پیدا کرنا چاہئے۔ ملک میں شر پسند عناصر مسلکی اختلافات کو ہوا دے کر ہمیں گمراہ کر رہے ہیں۔ ہمیں آنکھیں کھلی رکھ کر اور پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہوگا۔
دوسرا اجلاس اگلے دن صبح دس بجے شروع ہوا۔ اس میں مولانا منظور احمد چنیوٹی، مولانا عبدالمجید ندیم، ملک محمد اکبر ساقی، مولانا محمد لقمان علی پوری، مولانا عبدالمالک شاہ اور وفاقی وزیر حاجی زمان محمد اچکزئی اور دیگر مقامی علماء نے بیانات فرمائے۔ خطباء نے اتحاد امت، قادیانیوں کی ملکی آئین کی خلاف ورزی، کلیدی آسامیوں سے علیحدگی کا مطالبہ، قادیانیوں کے متعلق قانون سازی جیسے موضوعات پر اظہار خیال کیا۔ کانفرنس کی اختتامی دعا حضرت امیر مرکزیہ نے فرمائی۔
(لولاک مورخہ ۲۷؍اپریل، ۵؍مئی، ۱۲؍مئی ۱۹۸۴ء)
ختم نبوت کانفرنس حیدرآباد
۱۶؍اپریل ۱۹۸۴ء کو مجلس عمل کے زیر اہتمام حیدرآباد مارکیٹ چوک میں ایک فقید المثال کل جماعتی ختم نبوت کانفرنس منعقد
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
ہوئی۔ جس میں تمام مکاتب کے علماء اور سیاسی جماعتوں کے قائدین نے شرکت کی۔ صدارت حضرت مولانا خواجہ خان محمد نے فرمائی۔ کانفرنس سے مولانا سید عبدالمجید ندیم، مفتی مختار احمد نعیمی، جماعت اسلامی حیدرآباد کے امیر میاں محمد شوکت، مولانا عبدالحق امیر جمعیت علماء اسلام سندھ، مولانا محمد لقمان علی پوری، مولانا احمد میاں حمادی، مولانا عبدالرؤف، مولانا نذیر احمد مبلغ ختم نبوت اور مولانا عبدالوحید قریشی نے خطاب کیا۔ حیدرآباد کے علاوہ ہالہ، کھپرو، ٹنڈو الہ یار، ٹنڈو آدم، کراچی اور گردو نواح کے ہزاروں مسلمانوں نے شرکت کی۔ شرکاء کی تعداد ۵۰ ہزار سے متجاوز تھی۔
کانفرنس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ قادیانیوں کو اسلامی شعائر واصطلاحات کے استعمال سے روکا جائے۔ کنری میں مرزائیوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کا سد باب کیا جائے۔ خطباء نے مجلس عمل کے پروگراموں کو کماحقہ کوریج نہ دینے پر اخبارات و جرائد کے ذمہ داران سے شکوہ کیا اور اپیل کی کہ ختم نبوت کوئی سیاسی ایشو نہیں بلکہ خالص مذہبی مسئلہ ہے۔ اس لئے اخبار نویس حضرات اپنا دینی فریضہ سمجھ کر اپنا کردار ادا کریں۔
کانفرنس امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد کی رقت آمیز دعا پر اختتام پذیر ہوئی۔
آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس کراچی
۱۹؍ اپریل ۱۹۸۴ء کو نشتر پارک کراچی میں مجلس عمل کے زیر اہتمام ایک عظیم الشان کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں کراچی اور اندرون سندھ کے تقریباً ایک لاکھ مسلمانوں نے شرکت کی۔ اس کانفرنس میں ملک کے تمام مکاتب فکر کے بڑے بڑے علماء نے شرکت کی۔ صدارت شیخ المشائخ حضرت مولانا خواجہ خان محمد نے کی۔ حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰن صاحب (نائب امیر مجلس تحفظ ختم نبوت) نے سپاسنامہ پیش کیا۔
کانفرنس سے حضرت مولانا فداء الرحمٰن درخواستی، مولانا زاہد الراشدی، مولانا ضیاء القاسمی، مولانا محمد اسفندیار خان، مولانا نور الہدیٰ، علامہ احسان الٰہی ظہیر، قاری محمد طیب کشمیری، مفتی مختار احمد نعیمی، مولانا محمد لقمان علی پوری، مولانا عظمت علی شاہ اور دیگر علماء و مشائخ نے خطاب کیا۔
کانفرنس میں مطالبہ کیا گیا کہ قادیانی کو کلیدی عہدوں سے برطرف کیا جائے۔ اس لئے کہ قادیانی تحریروں سے مترشح ہے کہ وہ پاکستان اور اسلام سے مخلص نہیں ہیں۔ ۱۹۷۳ء کا آئین ختم نبوت کی ضمانت ہے۔ قادیانی اس آئین کو کالعدم کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ اس آئین کو بہر حال بحال رکھا جائے۔ حکومت کو چاہئے کہ اپنے ذرائع کا استعمال کر کے قادیانیوں کی حقیقت دیگر اسلامی ممالک پر آشکارا کرے تاکہ بیرون ملک قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں رک جائیں۔
مولانا مفتی احمد الرحمٰن صاحب نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ ان کا پیش کردہ خطبہ استقبالیہ اور سپاسنامہ دونوں نہایت دلچسپ ہیں۔ لیکن طوالت کے خوف سے صرف نظر کر رہے ہیں۔
کانفرنس رات گئے تک جاری رہی۔ اختتامی دعا حضرت مولانا خواجہ خان محمد نے فرمائی۔
ختم نبوت کانفرنس گوجرہ
۲۹، ۳۰؍ اپریل ۱۹۸۴ء کو گوجرہ لائبریری گراؤنڈ میں مجلس عمل ختم نبوت دو روزہ ختم نبوت کانفرنس حضرت امیر مرکزیہ مجلس تحفظ ختم نبوت کی زیر صدارت منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے مولانا حافظ سید ممتاز الحسن شاہ، جناب غضنفر علی کراروی، حضرت مولانا اللہ وسایا، حضرت
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
مولانا عبدالحفیظ (اہل حدیث رہنما) ، حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر ، صاحبزادہ جناب طارق محمود نے خطابات فرمائے۔ آخری بیان مولانا فضل الرحمن اور مولانا ضیاء القاسمی کے ہوئے۔ فیصل آباد کانفرنس میں حکومت سے جو مطالبات ہوئے تھے گوجرہ کی کانفرنس میں اکثر و بیشتر وہی مطالبات ہوئے۔ اختتامی دعا حضرت امیر مرکزیہ نے فرمائی۔
وفاقی شوریٰ کے اراکین کے نام مجلس عمل کے رہنماؤں کا خط
مختلف جلسوں ، کانفرنسوں اور جلوسوں کے علاوہ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے قائدین نے ایک کام یہ کیا کہ وفاقی شوریٰ کے اراکین کے نام ایک خط لکھا جس میں قادیانیوں کے حوالے سے اپنے مطالبات کی تفصیل اور ان کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ذیل میں اس خط کا خلاصہ ملاحظہ فرمائیں:
گزارش ہے کہ قادیانی گروہ کے عزائم اور سرگرمیوں کے بارے میں ملک کا ہر باشعور شہری تشویش اور اضطراب سے دوچار ہے۔ پاکستان کے ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے یقیناً آپ بھی اس حساس اور نازک مسئلے کی موجودہ سنگین صورتحال سے بے خبر نہیں ہوں گے۔
برطانوی استعمار کا یہ خودکاشتہ پودا وطن عزیز اور عالم اسلام میں استعماری قوتوں کے ایجنٹ کا کردار ادا کر رہا ہے اور آج بھی اسرائیل میں اس کا مشن موجود ہے۔ پاکستان میں منتخب پارلیمنٹ نے ۱۹۷۴ء کے آئین میں ایک ترمیم کے ذریعہ متفقہ طور پر مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے تمام پیروکاروں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا ہے۔ لیکن یہ سازشی اور ہٹ دھرم گروہ اس فیصلے کو ماننے سے انکاری ہے۔
اس گروہ کے افراد سول اور فوج کے کلیدی عہدوں پر فائز ہیں اور قادیانی سازشوں کی مکمل پشت پناہی کر رہے ہیں۔ ہزاروں مسلح اور تربیت یافتہ افراد پر مشتمل نیم فوجی تنظیمیں قائم کر کے اس گروہ نے امن عامہ کے لئے مستقل خطرات پیدا کر رکھے ہیں۔ اسلم قریشی کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔ جب کہ ملک کے مختلف علاقوں میں دیگر علماء کو بھی قتل اور اغواء کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
ان حالات میں تمام مکاتب فکر کے سرکردہ علماء نے ”مجلس عمل تحفظ ختم نبوت“ کے پلیٹ فارم پر متحد ہو کر قادیانی سازشوں کی بیخ کنی اور ملت اسلامیہ کے عقائد وعزائم و مفادات کے تحفظ کے لئے جدوجہد کا فیصلہ کیا ہے۔ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے مطالبات درج ذیل ہیں:
- ...... قادیانیوں کے بارے میں اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو قانونی شکل دی جائے۔ جن میں مرتد کی شرعی سزا، قادیانیوں کو
مسلمان کہلانے یا اسلام کے نام پر تبلیغ یا اسلامی اصطلاحات بالخصوص اذان ومسجد کے استعمال سے روکا گیا ہے۔
- ...... قادیانیوں کو فوج اور سول کے تمام کلیدی عہدوں سے ہٹایا جائے۔
- ...... قادیانیوں کی تمام مسلح تنظیموں پر پابندی عائد کر کے اسلحہ ضبط کیا جائے۔
آنجناب وفاقی مجلس شوریٰ کے رکن ہیں اور پاکستان کے ایک باشعور اور ذمہ دار شہری کی حیثیت سے آپ کا بھی فرض ہے کہ ان مطالبات کی منظوری کے لئے مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے ساتھ تعاون کریں۔
مجلس عمل ۳۰؍ اپریل تک مطالبات کے منظور نہ ہونے کی صورت میں یکم مئی سے عملی جدوجہد شروع کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔ جس کا پہلا قدم قادیانی عبادت گاہوں سے مسجد ضرار کا سا معاملہ ہوگا...... آنجناب سے گزارش ہے کہ وفاقی مجلس شوریٰ کے ذریعہ صدر پاکستان کو مرکزی مجلس عمل کے مطالبات اور اس مسئلہ کی سنگینی کی طرف توجہ دلائیں۔
منجانب: (مولانا) خان محمد ، (مولانا) محمد شریف جالندھری ، (مولانا) عبدالستار نیازی ، مفتی مختار احمد نعیمی۔
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
ختم نبوت کانفرنس راولپنڈی
مولانا محمد ضیاء القاسمی، مولانا اللہ وسایا، مولانا امداد الحسن نعمانی دورہ کرتے ہوئے گوجرانوالہ، دینہ، جہلم میں خطابات کئے۔ مولانا محمد ضیاء القاسمی کو جہلم سے گرفتار کر کے بہاول پور جیل بھیج دیا گیا۔ طے شدہ پروگرام کے تحت ملک کے مختلف شہروں میں ختم نبوت کانفرنسوں کا انعقاد ہورہا تھا۔ ۲۷؍ اپریل کو راولپنڈی میں ہونے والی کانفرنس اس سلسلہ کی آخری کڑی تھی۔
مسلمانان پاکستان نے غیرت ایمانی اور مسئلہ ختم رسالت سے دلی وابستگی کا بے پناہ مظاہرہ کرنے کے لئے راولپنڈی کا رخ کیا۔ ۲۶؍ اپریل کی شام کو ہی شمع رسالت کے پروانے مرکزی دارالحکومت پہنچنا شروع ہوگئے۔ کانفرنس میں شرکت سے روکنے کے لئے قابل اعتراض تقاریر کرنے کے بہانے تحریک ختم نبوت کے عمائدین اور سرکردہ علماء کی ایک بڑی تعداد کو ۱۶؍ ایم۔ پی۔ او اور ۱۵۳۔ ت۔ پ کے تحت گرفتار کرنا شروع ہوا۔ انتظامیہ کی طرف سے عائد شدہ پابندیوں کے باوصف چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر سے اسلامیان پاکستان کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لئے امڈ پڑے۔ حکومت نے جب مسلمانوں کا یہ جوش و خروش دیکھا تو اس کو اپنی غلطی کا اندازہ ہوا اور اس نازک صورتحال کے پیش نظر دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں سے مذاکرات کی پیشکش کی۔ جس کے نتیجے میں امتناع قادیانیت آرڈیننس فوری طور پر نافذ العمل قرار دیا گیا۔ اس موقع پر مجلس تحفظ ختم نبوت کے اکابر اور رہنماؤں نے بھی کمال فراست اور دور اندیشی کا ثبوت دیتے ہوئے قوم اور خود کو بڑی ابتلاء اور آزمائش میں مبتلا ہونے سے بچایا۔
صدر جنرل ضیاء الحق سے مجلس عمل کے وفد کی ملاقات
مجلس عمل کی قیادت نے باہمی مشورے سے مذاکرات کی پیشکش قبول کرتے ہوئے صدر صاحب سے مذاکرات کئے۔ مجلس عمل کے اراکین نے امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد کو مکمل اختیار دے دیا کہ وہ اپنی صوابدید پر وفد کی تشکیل کرے جو صدر جنرل ضیاء الحق کے ساتھ ملاقات کرے اور ان مطالبات کو ان کے سامنے رکھے۔ امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد نے درج ذیل حضرات کو منتخب فرمایا۔
(۱) حضرت مولانا مفتی احمد الرحمان (کراچی)، (۲) حضرت مولانا محمد شریف جالندھری، (۳) حضرت مولانا حافظ عبد القادر روپڑی (اہل حدیث)، (۴) جناب خاقان بابر صاحب (شیعہ رہنما)، (۵) جناب مولانا قاضی اسرار الحق (راولپنڈی)، (۶) حضرت مولانا محمد عبداللہ (خطیب لال مسجد)، (۷) مولانا حکیم عبدالرحیم اشرف، (۸) مولانا مفتی زین العابدین، (۹) امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد بذات خود۔
صدر صاحب کے ساتھ ملاقات کرنے میں وفاقی وزیر اطلاعات اور مذہبی امور جناب راجہ ظفر الحق صاحب نے مجلس کے ساتھ تعاون فرمایا تھا۔ اس وفد کی قیادت حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب فرما رہے تھے۔ وفد نے صدر صاحب کے سامنے ملک بھر میں قادیانیوں کی اسلام و ملک دشمن سرگرمیوں اور اشتعال انگیز کارروائیوں سے باخبر کیا۔ ملک عزیز میں امت مسلمہ کی قادیانیوں کے خلاف شدید شدت و اضطراب کا پورا سروے، مجلس عمل کے مطالبات اور نہ پورا ہونے کی صورت مجلس عمل کے فیصلہ کی تفصیل بغیر لگی لپٹی رکھے پیش کی۔ کراچی سے خیبر تک مسلمانوں کے کرب و اضطراب اور مظلومیت، قادیانیوں کے ظلم و ستم اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بے حسی اور سرد مہری کا شکوہ کیا۔
راولپنڈی آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس کے پیش نظر حکومت نے بہت سارے مجلس کے خطباء کو ۱۶؍ ایم۔ پی۔ او کے تحت گرفتار کیا تھا۔ وفد نے صدر صاحب سے شکوہ کیا کہ راولپنڈی میں ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے لئے آنے والے وفود کے ارکان کو راولپنڈی کی حدود سے باہر روک کر تلاشی لی جارہی ہے اور ہر داڑھی والے کو اتار کر واپس کر دیا جاتا ہے۔ پنجاب پولیس کے اس رویے سے محسوس ہو رہا
تحریک ختم نبوت(۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب وتحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
ہے کہ اس ملک میں داڑھی رکھنا بھی جرم ہے۔ وفد کی اس ملاقات اور کارروائی کے متعلق روزنامہ جنگ ۱۶؍اپریل ۱۹۸۴ء میں ایک رپورٹ شائع ہوئی۔ اس سے منتخب کچھ حصہ ملاحظہ فرمائیں: عوامی اجتماعات اور مظاہروں کے ایک سلسلے کے بعد تحریک ختم نبوت کانفرنس کی مجلس عمل نے فیصلہ کیا کہ ۲۷؍اپریل ۱۹۸۴ء کو راولپنڈی میں علماء کا ایک اجلاس بلایا جائے اور مندرجہ ذیل مطالبات پیش کئے جائیں۔
- ۱...... قادیانیوں کا کلیدی عہدوں سے اخراج۔
- ۲...... دوسری ترمیم کا مؤثر نفاذ۔
- ۳...... اسلامی نظریاتی کونسل کی قادیانیوں کے متعلق سفارشات پر عمل درآمد (کونسل نے مرتد کے لئے سزائے موت کی سفارش کی تھی)
- ۴...... قادیانیوں کے صیہونیوں سے تعلق اور ان کی سیاسی و جاسوسی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت پر زور۔
کانفرنس میں شرکت سے روکنے کے لئے قابل اعتراض تقاریر کرنے کے بہانے تحریک ختم نبوت کے عہدے داروں اور سرکردہ علماء کی ایک بڑی تعداد کو سولہ ایم پی او اور ۱۵۳۔ت۔پ کے تحت گرفتار کرلیا گیا۔ انتظامیہ کی طرف سے عائد کردہ شدید پابندیوں کے باوجود جن میں علماء کی گرفتاریاں، لاؤڈ سپیکر کے استعمال پر پابندی، راولپنڈی شہر اور اس کے گردونواح میں دفعہ ۱۴۴ کا نفاذ شامل تھا۔ چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر سے لوگ اس کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لئے امڈ پڑے۔ مجلس عمل نے دھمکی دی کہ اگر اس کے مطالبات منظور نہ کئے گئے تو وہ راست اقدام کرے گی۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات راجہ ظفر الحق نے تحریک اور حکومت کے درمیان گول میز کانفرنس منعقد کرائی۔ انہوں نے اس مسئلے پر اہم اور قابل ستائش کردار ادا کیا۔ حکومت نے آخر کار عوامی تحریک کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے۔ جو بصورت دیگر مارشل لاء حکومت کے خلاف سیاسی تحریک بن سکتی تھی۔
(جنگ مؤرخہ ۱۶؍اپریل ۱۹۸۴ء)
امتناع قادیانیت آرڈیننس کا اجراء
اسلام آباد کانفرنس سے ایک یوم قبل (۲۶؍اپریل ۱۹۸۴ء) کو صدر پاکستان نے آرڈیننس ۲۰ مجریہ ۱۹۸۴ء جاری کیا۔ جس کو قادیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں کی غیر اسلامی سرگرمیوں کا (ممنوعہ اور تعزیری) آرڈیننس ۱۹۸۴ء کا نام دیا گیا۔ اس میں قادیانیوں، لاہوریوں اور احمدیوں کو غیر اسلامی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے روک دیا گیا تھا۔ تعزیرات پاکستان میں نئی دفعہ ۲۹۸۔بی کا اضافہ کیا گیا۔ جس میں ان گروہوں کے افراد اگر الفاظ کے ذریعے، تحریری یا تقریری یا نظر آنے والے اشارے سے مرزا غلام احمد قادیانی کے جانشینوں کو امیرالمؤمنین یا اس کے ساتھیوں کو صحابہ یا اس کے اہل خانہ کو اہل بیت یا اس کی جائے عبادت کو مسجد کا نام دیں تو ان کو تین سال قید اور جرمانے کی سزا دی جائے۔ اسی دفعہ کے تحت ہر اس شخص کو وہ سزا بھی دی جانی تھی جو اپنی عبادت کے لئے بلائے گئے الفاظ کو اذان کہے یا مسلمانوں کی طرح اذان دے۔ تعزیرات پاکستان میں مندرجہ نئی دفعہ کے تحت ہر اس شخص کو وہی سزا دی جانی تھی جو براہ راست یا بالواسطہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرے یا اپنے عقیدے کو اسلام کہے یا اپنے عقیدے کی تبلیغ اور پرچار کرے یا دوسروں کو اپنا عقیدہ قبول کرنے کی دعوت دے یا کوئی ایسا دیگر عمل کرے جس سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات برانگیختہ ہوں۔ اس آرڈیننس نے ضابطہ فوج داری ۱۸۹۸ء کی دفعہ ۹۹۔اے میں بھی ترمیم کر دی جس کی رو سے تعزیرات پاکستان میں داخل شدہ نئی دفعات کے خلاف چھاپے گئے کسی اخبار، کتاب، دستاویز یا تحریری مواد کو ضبط کرنے کے صوبائی حکومت کو اختیارات مل گئے۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
اس آرڈیننس سے مغربی پاکستان پریس اینڈ پبلی کیشن آرڈیننس ۱۹۶۳ء کی دفعہ ۲۴ میں بھی ترمیم ہوگئی۔ جس سے صوبائی حکومت کو یہ اختیار مل گیا کہ وہ کسی ایسے پریس کو بند کر دے جو تعزیرات پاکستان میں داخل شدہ نئی دفعات کی مخالفت میں کوئی اخبار یا کتاب چھاپے۔ کسی اخبار کا ڈیکلریشن منسوخ کر دے جو ان دفعات کی خلاف ورزی کرے اور ہر ایسی کتاب اور اخبار کو ضبط کرے جس میں ایسا مواد ہو جو ان دفعات میں ممنوعہ قرار دیا گیا ہو۔
(لولاک اپریل، مئی، جون ۱۹۸۴ء)
آرڈیننس کے شقوق
امتناع قادیانیت آرڈیننس میں درج ذیل شقوں کو ملحوظ نظر رکھا گیا ۔
- ۱...... یہ آرڈیننس قادیانی ولاہوری گروپ اور احمدیوں کے خلاف اسلام سرگرمیوں (امتناع و تعزیر) آرڈیننس ۱۹۸۴ء کے نام سے
موسوم ہوگا۔
- ۲...... یہ فی الفور نافذ العمل ہوگا۔
- ۳...... اس آرڈیننس کے احکام کسی عدالت کے کسی حکم یا فیصلے کے باوجود مؤثر ہوں گے۔
- ۴...... مجموعہ تعزیرات پاکستان ایکٹ نمبر ۴۵، ۱۹۶۰ء میں باب ۱۵ میں دفعہ ۲۹۸۔ اے کے بعد نئے دفعات بی اور سی کا اضافہ ہوا۔
۲۹۸۔ بی : بعض مقدس شخصیات یا مقامات کے لئے مخصوص القاب یا خطابات وغیرہ کا ناجائز استعمال :
- ۱...... قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو خود کو احمدی یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی شخص جو الفاظ کے ذریعہ خواہ
زبانی یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعہ۔
- الف...... حضرت محمد ﷺ کے خلیفہ یا صحابی کے علاوہ کسی شخص کو امیر المؤمنین، خلیفۃ المؤمنین، صحابی یا رضی اللہ کے طور پر منسوب کرے۔
- ب...... حضرت محمد ﷺ کی زوجہ مطہرہ کے علاوہ کسی ذات کو ام المؤمنین کے طور پر منسوب کرے یا مخاطب کرے۔
- ج...... حضرت محمد ﷺ کے خاندان (اہل بیت) کے کسی فرد کے علاوہ کسی شخص کو اہل بیت کے طور پر منسوب کرے یا موسوم کرے، پکارے۔
تو اسے کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائے گی جو تین سال تک ہو سکتی ہے اور وہ جرمانے کی سزا کا مستوجب ہوگا۔
- ۲...... قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو خود کو احمدی یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی شخص جو الفاظ کے ذریعہ خواہ
زبان ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے اپنے مذہب میں عبادت کے لئے بلانے کے طریقے یا صورت کو اذان کے طور پر منسوب کرے یا اس طرح اذان دے، جس طرح کہ مسلمان دیتے ہیں تو اسے کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائے جو تین سال تک ہو سکتی ہے اور وہ جرمانہ کی سزا کا مستوجب بھی ہوگا۔
۲۹۸۔ سی : قادیانی گروپ وغیرہ کا شخص جو خود کو مسلمان کہے یا اپنے مذہب کی تبلیغ یا تشہیر کرے اور دوسروں کو اپنا مذہب قبول کرنے کی دعوت دے یا کسی بھی طریقے سے مسلمانوں کے مذہبی احساسات کو مجروح کرے۔ کسی ایک قسم کی سزا اتنی مدت کے لئے دی جائے گی جو تین سال تک ہو سکتی ہے اور وہ جرمانہ کی سزا کا مستوجب ہوگا۔
اس آرڈیننس کے تحت سب پاکستان پریس اینڈ پبلی کیشن آرڈیننس ۱۹۶۳ء کی دفعہ ۲۴ میں ترمیم کی گئی۔ جس کی رو سے صوبائی حکومتوں کو یہ اختیار مل گیا کہ وہ ایسے پریس کو بند کرے جو تعزیرات پاکستان کی اس نئے اضافہ شدہ دفعہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کوئی کتاب یا اخبار چھاپتا ہے۔ اس کا ڈیکلریشن منسوخ کر کے اس پر قبضہ کر لے۔
(روزنامہ نوائے وقت مورخہ یکم اپریل ۱۹۸۴ء)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبد اللہ معتصم
آرڈیننس پر مسلمانوں کا اظہار مسرت
امتناع قادیانیت آرڈیننس کو مذہبی، سماجی اور سیاسی تنظیموں، مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں اور مسلمانان عالم نے عمومی طور پر خوش آمدید کہا۔ ملک کے سرکردہ اخباروں نے اسے بروقت اقدام قرار دیا اور حکومت کی ان کوششوں کی تعریف کی جو اس نے قادیانیوں کی اسلام مخالف سرگرمیاں روکنے کے لئے کیں۔ پاکستان کے سرکردہ روزناموں نے اس آرڈیننس کا خیر مقدم کیا اور اس کے مکمل نفاذ کا مطالبہ کیا۔ قادیانیوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ پاکستان میں پرامن شہریوں کی طرح رہیں اور اپنی غیر اسلامی سرگرمیوں کو ترک کر دیں۔
روزنامہ ”جسارت“ نے ایک عمدہ مضمون میں ربوہ کے سیاسی منصوبوں کو بے نقاب کیا اور صیہونیت کے ساتھ ان کے اشتراک کی مذمت کی۔ اخبار نے قادیانیت کو صیہونی اور سامراجی قوتوں کا وہ پودا قرار دیا جس کی جڑیں اسرائیل میں موجود تھیں اور مطالبہ کیا کہ:
- ۱...... ان کی لائبریریوں، مطبع خانوں اور مطالعاتی مرکزوں پر پابندی لگائی جائے۔
- ۲...... قادیانیوں کو کلیدی عہدوں سے ہٹایا جائے۔
- ۳...... قادیانی تاجروں کو جاری کئے گئے لائسنس اور پرمٹوں پر پابندی لگائی جائے۔
- ۴...... پاکستان کے تمام صوبوں میں ان کی تعداد معلوم کرنے کے لئے مردم شماری کی جائے۔
- ۵...... سرکاری ایجنسیوں کے ذریعے ایک پریشر گروپ کے طور پر کام کرنے کے ان کے طریق کار کو بے نقاب کیا جائے۔
- ۶...... مسلمانوں سے قادیانی بننے والوں کے لئے عمر قید کی سزا ہو۔
- ۷...... مسلمان ممالک کے درمیان رابطے کی ضرورت پر زور دیا تا کہ ان کے اپنے ممالک اور بیرون ممالک مرزائیوں کی سرگرمیوں کے
خاتمے کے لئے قانونی اقدامات کئے جائیں۔
(روزنامہ جسارت مورخہ ۲۸؍ اپریل ۱۹۸۴ء)
پاکستان ٹائمز نے اپنے اداریئے میں لکھا: ”اس دوسری آئینی ترمیم کے باوجود کہ یہ بڑی واضح اور غیر مبہم ہے۔ قادیانی اور لاہوری گروپ یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ دیگر مسلمانوں کی طرح کام کریں۔ حتیٰ کہ اپنے مذہب کو اندرون و بیرون ملک سچا قرار دیں۔ یہ اسلام کی غلط توضیح ہے۔ اس کا مقصد مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنا اور اسلام کے بنیادی اصولوں میں الجھن پیدا کرنا ہے۔ یہ بہت مناسب اور واضح تھا کہ اس مطابقت کو ختم کرنے کے لئے دوسری آئینی ترمیم کو اس کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ اس چیز کی بھی اشد ضرورت تھی کہ عوامی امن و امان کو یقینی بنایا جائے۔ وہ غیر ملکی عناصر جنہوں نے اس قانون کو تنگ نظری اور تعصب قرار دیا ہے ان کے لئے اس کی مناسب وضاحت کی جائے اور بتایا جائے کہ اس سارے مسئلے کا اصل پس منظر کیا ہے اور ایک نظریاتی ریاست میں اس کے نفاذ کے پس پردہ کیا حکم کارفرما ہے۔ اس بات کو بھی یقینی بنانے کی اشد ضرورت ہے کہ ذاتی مفادات ہمارے ترقی پسند اور وسیع النظر ہونے کے تخیل کو پراگندہ کرنے میں کامیاب نہ ہو جائیں۔“
(پاکستان ٹائمز مورخہ ۲۹؍ اپریل ۱۹۸۴ء)
روزنامہ مسلم نے ”مثبت قدم“ کے زیر عنوان لکھا: ”صدارتی آرڈیننس کا نفاذ جس میں قادیانیوں کی سرگرمیوں پر پابندی لگائی گئی ہے۔ ایک بروقت قدم ہے۔ جس سے اس مسئلے کے اردگرد حالیہ مہینوں میں پیدا ہونے والے تنازعات کا خاتمہ ہو جانا چاہئے۔ مسلمانوں کے جذبات کو ابھارا گیا اور عوامی نقطہ نظر کو اجاگر کیا گیا۔ اس آرڈیننس کی ضرورت پیدا ہو گئی تھی۔ ۱۹۷۴ء کی آئینی ترمیم کے دس سال بعد جس میں منتخب قومی اسمبلی کی متفقہ رائے شماری سے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا تھا اس میں بعض آئینی سقم باقی تھے۔ وہ نقص اور
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
ذو معنویت جو اس مسئلے پر لوگوں کے ذہنوں میں الجھن پیدا کر رہی تھی آخر کار ختم ہو گئی۔ یہ معاملات کی صحت کے لئے بہت ضروری تھا کہ تمام ابہامات یکسر واضح کر دیئے جاتے۔ تا کہ کسی تشدد کے دہرائے جانے کا دوبارہ موقع نہ پیدا ہوتا یا ان مفاد پرستوں کو موقع حاصل ہوتا جو اسے افراتفری کے ایک بہانے کے طور پر استعمال کرنا چاہتے تھے۔‘‘
(دی مسلم، اسلام آباد مورخہ ۲۹؍ اپریل ۱۹۸۴ء)
مرزا طاہر کا لندن فرار
آرڈیننس ۱۹۸۴ء کے اجراء نے مرزا طاہر احمد کو خوفزدہ کر دیا۔ انہیں اپنی پاپائیت کے المناک انجام اور گرفتاری کا خدشہ محسوس ہوا۔ وہ اپنی گرفتاری کے ڈر سے اس قدر گھبرائے ہوئے تھے کہ وہ ۳۰؍ اپریل ۱۹۸۴ء کو خطبہ جمعہ بھی نہ دے سکے اور اپنے پیروکاروں میں سے ایک شخص سلطان محمود سے کہا کہ وہ نماز کی امامت کرے۔ یہ افواہ پھیلی ہوئی تھی کہ انہیں گرفتار کر لیا جائے گا اور ایک یا دو دن میں ان پر مقدمہ چلایا جائے گا اور احمدیہ تنظیم کو بیرونی قوتوں سے امداد حاصل کرنے والی سیاسی جماعت قرار دے کر اس پر پابندی لگا دی جائے گی۔ صدر ضیاء کی مارشل لاء حکومت بڑے بڑے مرزائیوں کو قانون کی اعلیٰ عدالتوں میں گھسیٹے گی۔ مرزا طاہر پر احمدیت کے نام پر ایک غیر اسلامی اور ریاست مخالف تخریبی سیاسی تنظیم چلانے کا الزام عائد ہوگا۔ مرزا طاہر احمد نے ۲۹؍ اپریل ۱۹۸۴ء کو آرڈیننس کے اثرات کا جائزہ لینے کے لئے ربوہ میں سرکردہ قادیانیوں کا اجلاس بلایا۔ ۳۰؍ اپریل کو وہ اور کچھ دیگر رہنما حکومت سے مذاکرات کے بہانے اسلام آباد روانہ ہو گئے۔ ربوہ میں لوگوں کو یہ یقین تھا کہ مرزا طاہر حکومتی دباؤ کے آگے نہیں ٹھہر سکیں گے۔ لہٰذا وہ اس کے ساتھ کوئی سودے بازی کرنا چاہتے ہیں۔ در حقیقت وہ پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو فریب دے کر کار کے ذریعے کراچی فرار ہونا چاہتے تھے۔ تاہم وہ KLM کی ایک پرواز کے ذریعے اپنے خاندان اور سرکردہ قادیانیوں کے ایک گروہ کے ہمراہ لندن فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ انہوں نے ہوائی اڈے کے عملے سے اپنی شناخت چھپانے کی خاطر ایک عام مسافر کے روپ میں سفر کیا۔ کچھ لوگوں نے یہ الزام لگایا کہ ان کے اس کامیاب فرار میں حکومت شامل تھی۔
مرزا طاہر کی ہدایات کے مطابق قادیانیوں نے خاموشی مگر مجبوری سے بادل نخواستہ اس آرڈیننس کو قبول کیا۔ عبادت گاہوں سے لفظ مسجد مٹا دیا گیا اور ’بیت الحمد‘ اور ’بیت الذکر‘ وغیرہ کے الفاظ لکھ دیئے گئے۔
نماز کے لئے اذان ختم کر دی گئی اور خلافت لائبریری ربوہ اور دوسری کھلی جگہوں پر موجود احمدیہ لٹریچر جز وقتی طور پر ہٹا دیا گیا۔ بہت سے قادیانی زیر زمین چلے گئے۔ کچھ نے سیاسی پناہ حاصل کرنے کے لئے پاکستان سے سویڈن، (مغربی) جرمنی، ہالینڈ، ڈنمارک، برطانیہ، کینیڈا اور امریکہ وغیرہ کا رخ کیا۔ اس آرڈیننس نے انہیں بیرون ملک قیام اور مختلف لبادوں میں کام کرنے والی اسلام مخالف تنظیموں کی مدد حاصل کرنے کا بہانہ فراہم کر دیا۔ پاکستان میں قادیانیوں پر مظالم کا غلط نعرہ بلند کر کے اور ضیاء حکومت کے غیر منتخب کردار کا بہانہ استعمال کر کے انہوں نے سیاسی اور مالی معاملات میں بہت کچھ حاصل کیا۔
لندن میں اپنی آمد کے بعد مرزا طاہر نے صدارتی حکم سے پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے بیرونی مشنوں کا اجلاس طلب کر لیا۔ ظفر اللہ پہلے ہی لندن میں تھا۔ ڈاکٹر عبدالسلام اٹلی سے اور ایم ایم احمد واشنگٹن سے اجلاس میں شرکت کے لئے آئے۔ امریکہ، یورپ اور افریقی ممالک میں کام کرنے والے بڑے قادیانیوں نے پاکستان میں آرڈیننس کے بعد پیدا ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں لائحہ عمل تیار کرنے کے لئے شرکت کی۔ مرزا طاہر نے لندن میں قیام کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنے پیروکاروں کو اپنی تقاریر، خطبوں اور پاکستان میں کیسٹوں کے ذریعے ہدایات دینے کا فیصلہ کیا۔ اپنے ابتدائی خطبوں میں انہوں نے ان کے جذبات کو ابھارا اور کہا کہ اس بحران کے وقت
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
جب ان کی جماعت کو قیادت اور اتحاد و ترقی کے لئے ان کی رہنمائی کی اشد ضرورت تھی ان کی لندن میں بے ہنگم آمد درست قرار نہیں دی جاسکتی۔ اپنے جمعہ کے خطبوں میں حکومت پاکستان کے خلاف انہوں نے زہر اگلنا جاری رکھا۔
(ڈان کراچی، مورخہ ۵؍ مئی ۱۹۸۴ء)
مرزا طاہر کی حکومت پاکستان کے خلاف الزامات
۲۵؍ مئی ۱۹۸۴ء کو بی بی سی کی اردو سروس کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے ضیاء حکومت کی احمدیہ مخالف حکمت عملی پر کڑی تنقید کی اور ملک کی ترقی کے لئے اپنی جماعت کی خدمات کا ذکر کیا۔ صدر ضیاء اور اس کی حکومت کے خلاف ایک طاقتور مہم چلانے کے لئے انہوں نے اپنے پیروکاروں کو حکم دیا کہ ایمسٹرڈیم، پیرس، جنیوا، کوپن ہیگن، حیفہ (اسرائیل)، پریٹوریا، عکرہ، لاگوس اور واشنگٹن میں تشہیری مراکز قائم کریں اور پاکستان میں احمدیوں پر ہونے والے مظالم کے واقعات سے دنیا کو آگاہ کریں۔ ان مراکز نے بھاری تعداد میں لٹریچر شائع کیا اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی، بنیاد پرستوں کے ہاتھوں احمدیوں پر مظالم اور سماجی زندگی اور خدمات میں امتیازی برتاؤ کے سنگین الزامات لگائے۔
مرزا طاہر نے یہ الزام لگایا کہ فوجی حکومت اپنی شہرت کو بڑھانے کے لئے احمدی گروہ کو قربانی کے بکرے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جیل جانے کے لئے تیار ہیں۔ کیونکہ انہیں یقین تھا کہ عوامی رائے ان کے حق میں ہوگی۔ مگر احمدی روایات نے ان کے لئے کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے اپنی جماعت سے مشاورت کرنی لازم بنادی۔ انہیں یقین تھا کہ پاکستان چھوڑنے کی اجازت مل جائے گی۔ کیونکہ اب بھی حکومت ان کے خلاف نہیں۔
انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ پاکستان میں جو کچھ ہورہا ہے وہ ملّاؤں اور سیاسی جماعتوں کے مابین اقتدار کے حصول کی کشمکش ہے۔ ان کے خیال کے مطابق صدر ضیاء نے اس گروپ (مجلس تحفظ ختم نبوت) کے چند مطالبات کے آگے ہتھیار ڈال دیئے ہیں جس کو (مجلس احرار) ۱۹۵۰ء کے عشرے میں حکومت نے تقریباً ممنوع کر دیا تھا۔ محمد علی جناح بانی پاکستان جو حکومت کے پہلے سربراہ تھے ان سے لے کر بعد کے حکمرانوں نے احمدیوں کی حکومت میں شمولیت پر اصرار کیا تھا۔ انہوں نے احرار کو قابو میں رکھا۔ مرزا طاہر نے یہ دعویٰ کیا کہ دس سال پہلے وزیر اعظم بھٹو نے احمدی مخالف گروپ کو مطمئن کیا تھا اور آج ضیاء شہرت کی خاطر ان کے مطالبات منظور کر رہا ہے۔ صدر ضیاء کے پاس اپنی کوئی پالیسی نہیں۔ وہ سیاست اور ریاست سے نابلد ملّاؤں کے اشارے پر چلتا ہے اور ان کے کہنے پر آئینی ترمیم کرا رہا ہے۔ یہ اس کا غیر دانشمندانہ اور متعصبانہ اقدام ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ وہ حزب اختلاف کے سخت گیر طبقے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ صرف احراری اور مجلس ہی مرزائیوں کے مخالف نہیں ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب میں بھی کئی گروپوں نے احرار کے ساتھ اشتراک کیا ہوا ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ اسلامی ریاست کے استحکام کی بجائے احمدیوں کے خلاف مہم پاکستان کے مزید ٹکڑے کر دے گی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پاکستان میں ضیاء حکومت کی مخالفت بہت سے گروپوں اور علاقوں میں ہوئی ہے۔
(لولاک مورخہ ۲۵؍ مئی ۱۹۸۴ء، چٹان مورخہ یکم؍ جون ۱۹۸۴ء)
قادیانیوں کے سالانہ جلسے پر پابندی
آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد قادیانی جماعت کا سالانہ جلسہ جو ربوہ میں منعقد ہوتا تھا اور جسے نعوذ باللہ قادیانی ظلی حج کا درجہ دیتے تھے، پر پابندی لگ گئی۔ جس پر قادیانی بہت چیخے۔ لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ اس پر مرزا طاہر احمد نے اعلان کیا کہ احمدیوں کا بیسواں سالانہ کنونشن لندن سے بیس میل دور ٹل فورڈ کے مقام پر ۵ تا ۷؍ اپریل ۱۹۸۵ء کو ہوگا۔ اپنے برطانوی خیر خواہوں کی مدد سے اس نے بہت ہی
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
ارزاں نرخوں پر پچیس ایکڑ رقبہ خریدا۔ اس کا نام اسلام آباد رکھا اور اسے یورپی مراکز میں سے ایک مرکز اور مسند خلافت قرار دیا۔ اس کنونشن میں بقول مرزائیوں کے دنیا کے اڑتالیس ممالک کے مندوبین نے شرکت کی۔ جن میں جنوبی افریقہ اور اسرائیل کے مندوب بھی شامل تھے۔ مرزا طاہر احمد نے اپنے روایتی پرفریب بیانات اور الہام کی زبان میں اپنی جماعت کو خوشخبریاں دیں اور انہیں نصیحت کی کہ وہ تبلیغی مقاصد کے لئے دل کھول کر چندے دیں۔ تاکہ احمدیت کے مخالفین کی کوششوں کو کامیاب نہ ہونے دیا جائے۔ ایک ماہ قبل ۲۹؍مارچ ۱۹۸۴ء کو ربوہ میں احمدیہ جماعت کی مجلس مشاورت میں تحریک جدید کے چودہ کروڑ اور وقف جدید کے اکیس لاکھ ساٹھ ہزار روپے کے میزانیوں کو حتمی شکل دی گئی۔
”کنونشن میں ایک مرزائی رہنما مظفر احمد ظفر نے ایک پریس کانفرنس میں یہ واضح کیا کہ پاکستان میں احمدیہ جماعت کے ارکان کے ساتھ ہونے والے سلوک کے بارے میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ذیلی کمیشن کو مطلع کر دیا گیا ہے اور اس مسئلے کی پوری دنیا میں تشہیر کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ اس نے پاکستان میں احمدیہ ارکان کی ”حالت زار“ کے سلسلے میں ایک لمبا چوڑا بیان پڑھ کر سنایا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ حکومت کی شہہ پر ان پر ظلم ہو رہا ہے جو اس کے بقول معاملے کو سیاسی مقاصد کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ اس نے مغربی رائے عامہ سے اپیل کی کہ وہ صورتحال کا مغرب کی اعلیٰ انسانی اقدار کے تصور اور غیر سیاسی ذاتی مفادات کی بنیادوں پر جائزہ لے۔“
(ڈان کراچی، مورخہ ۳؍اپریل ۱۹۸۵ء)
مرزا طاہر کا شرانگیز اقدام
مرزا طاہر احمد نے اپنے پیروکاروں کو آرڈیننس کے خلاف جوابی جارحیت کی ہدایت جاری کر دیں کہ:
- ......١ کلمہ والے بیج لگائیں۔
- ......٢ اپنی عبادت گاہوں کے سامنے والے حصوں پر قرآنی آیات لکھی جائیں۔
- ......٣ احمدیہ لٹریچر تقسیم کیا جائے۔
- ......۴ اذان دی جائے۔
- ......۵ مسلمانوں کی عبادت گاہوں کا تقدس پامال کیا جائے۔
مرزا طاہر کی ہدایات کی روشنی میں قادیانی انتہاء پسندوں نے آرڈیننس کی کھلی اور واضح خلاف ورزی کی اور مسلمانان پاکستان کے جذبات کی پرواہ کئے بغیر کلمہ طیبہ کے بیج لگانے شروع کئے۔ اپنی عبادت گاہوں پر کلمہ لکھوایا۔ مسلمانوں کی مساجد پر بم پھینکے اور ان کے مقدس مقامات کی تذلیل کی۔ انہوں نے ان نہتے لوگوں کو حملوں کا نشانہ بنایا جنہوں نے ان کے باغیانہ رویے پر تنقید کی۔ پاکستان میں طبقاتی اور فرقہ وارانہ اختلافات پیدا کرنے کے لئے زرکثیر خرچ کیا۔ انہوں نے فرقہ وارانہ فسادات کے سائے میں اپنی عافیت تلاش کر لی۔ پاکستان کے طول وعرض میں وسیع پیمانے پر تخریبی مواد پھیلانے کے لئے پریس کا حوالہ دیئے بغیر ربوہ اور دیگر قادیانی مطابع میں بہت سا فرقہ وارانہ اور اشتعال انگیز لٹریچر تیار کیا گیا۔
مئی ۱۹۸۴ء سے لے کر ستمبر ۱۹۸۸ء تک تقریباً دو ہزار چھ سو باون قادیانی تخریب پسندوں کو آرڈیننس کی خلاف ورزیوں کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ تفصیل حسب ذیل ہے۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
’’۱۴۵ قادیانیوں نے اپنے آپ کو مسلمان قرار دیا۔ ۵۸۸ قادیانیوں نے کلمہ والے بیج لگائے۔ ۷۸ نے اسلام مخالف لٹریچر تقسیم کیا۔ ۳۲۱ قادیانیوں نے اپنی عبادت گاہوں پر کلمہ تحریر کیا۔ ۴۰۴ قادیانیوں نے اذان دی۔ ۶۲ قادیانیوں نے مقدس مقامات کی بے حرمتی کی۔ ۲۱۴ قادیانیوں نے اس آرڈیننس کی ایک یا زیادہ طرح سے خلاف ورزی کی۔ ۲۲۱ قادیانیوں کو جھوٹی افواہیں پھیلانے اور بیرون ملک سے سمگل شدہ حکومت مخالف لٹریچر تقسیم کرنے کے الزامات میں گرفتار کیا گیا اور جیل بھجوایا گیا۔‘‘ (انصار اللہ، مؤرخہ جنوری ۱۹۸۵ء)
کنند ہم جنس با ہم جنس پرواز
مرزا طاہر احمد نے یہ تمام اقدامات اور آئین کی خلاف ورزی کا رسک اس لئے لیا کہ وہ اپنے غیر ملکی آقاؤں کی امداد اور ہمدردیاں حاصل کرنا چاہتا تھا۔ چنانچہ آئین کے برخلاف اقدامات اور گرفتاریوں کے صلے میں قادیانیوں کو دنیا کے مختلف حصوں میں اپنے نصب العین کی حمایت میں سیاست دانوں، انسانی حقوق کے علمبرداروں، بیرون ملک انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ارکان اور صیہونی صحافیوں کی شکل میں بہت سے ہمدرد اور خیر خواہ مل گئے۔ انہوں نے قادیانیت کی سرپرستی کی اور ان کے مقاصد کو پروان چڑھایا۔ کیونکہ یہ طرزِ عمل مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے مترادف تھا۔ اسلام دشمن طاقتیں اسلامی بنیاد پرستی کی آڑ میں حملہ آور ہو رہی تھیں۔ وہ سامراج کی طرفدار قوتوں کے ساتھ الحاق کئے ہوئے تھے۔ اسرائیل میں فلسطینیوں کے خلاف ایک مضبوط مشن چلا رہی تھیں۔ جہاد کی مذمت کر رہی تھیں اور سامراجی بالادستی کے خلاف ہر قسم کی مزاحمت کو توڑنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ وہ اپنی بقاء کے لئے اسلام مخالف قوتوں کی مدد کی محتاج تھیں۔ یہ عرب ریاستوں کے استحکام کے خلاف ایک اڈے کے طور پر سرگرم عمل تھیں۔ وہ اسے پوری دنیا میں پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے تھے تاکہ ایک مذہبی تنظیم کے لبادے میں وہ ان کے تخریبی سیاسی عزائم کی تکمیل کر سکے۔
مرزائیوں کے معاملات کی پیچیدگیوں میں الجھے بغیر مرزائیت کے غیر ملکی ہمدردوں نے صرف مظالم کا راگ ہی الاپے رکھا۔ انہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کی لا تعداد تحریروں اور اس کے جانشینوں کے بیانات پر نظر ڈالنے کی تکلیف بھی نہیں کی۔ جن کے نتیجے میں مسلمانوں سے مکمل طور پر علیحدہ احمدیت کا وجود اور مذہبی و سیاسی کردار قائم کر دیا گیا تھا۔ حالانکہ آرڈیننس ۱۹۸۴ء میں صرف یہ یقینی بنایا گیا تھا کہ وہ جو ایک مذہبی اقلیت ہیں اور اپنے ہی معتقدات کے مطابق غیر مسلم ہیں۔ ان کو اپنے عقیدے پر درست طور پر عمل کرنا چاہئے تاکہ ان کی شناخت کے متعلق کوئی ابہام پیدا نہ ہو۔ اس نے صرف مسلمان امت کے تمام مکاتب فکر کے متفقہ فیصلے کو ایک آئینی شکل دی تھی جو قادیانیت کی پیدائش کے وقت سے موجود تھا۔ چنانچہ اس میں پوری دنیا کے کروڑوں مسلمانوں کے نظریات، خواہشات اور جذبات کی عکاسی کی گئی تھی۔
مرزا طاہر کی صیہونی امداد کے لئے درخواست
پاکستان اور اسلام کے بارے میں مرزا طاہر احمد کی ہمدردیاں اس وقت شدید تنقید کی زد میں آگئیں جب انہوں نے اپنے نصب العین کی حمایت میں صیہونی امداد کے حصول کے لئے ایک خصوصی وفد اسرائیل بھیجا۔ احمدیہ مشن اسرائیل کے نئے انچارج شیخ شریف احمد امینی نے اسرائیل مشن کے نئے سربراہ محمد حمید کو ساتھ لے کر اسرائیلی صدر سے ملاقات کی۔ ’’یروشلم پوسٹ‘‘ اسرائیل نے اسرائیلی صدر کی قادیانی رہنماؤں سے ملاقات کی تصویر دیتے ہوئے اس کے نیچے لکھا: ’’شیخ شریف احمد امینی جو کہ احمدیہ، ہندوستانی مسلمان فرقے کا اسرائیل چھوڑ کر جانے والا انچارج ہے اور آج کل حیفہ میں مقیم ہے وہ اپنے جانشین شیخ محمد حمید کا تعارف اسرائیل کے قائم مقام صدر ہرزوگ سے بیت حناسی میں کروا رہا ہے۔ فرقے کے نئے سربراہ نے جس کے اسرائیل میں بارہ سو پیروکار ہیں، پاکستان میں احمدیہ فرقے
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء
ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
پر ہونے والے مظالم کی تائید میں کئی دستاویزات صدر کو پیش کیں۔ رخصت ہونے والے شیخ امینی نے، جو انڈیا واپس جا رہا ہے، اپنے فرقے کو مکمل مذہبی آزادی فراہم کرنے پر اسرائیل کی تعریف کی ۔‘‘
(نوائے وقت، مورخہ ۱۲/ جنوری ۱۹۸۵ء)
آرڈیننس کے خلاف اپیل
قادیانیوں کے راولپنڈی کے امیر مجیب الرحمن درد نے لاہور عدالت عالیہ میں مرزا طاہر احمد کی ہدایات پر آرڈیننس کے خلاف اپیل دائر کر دی۔ لاہور عدالت عالیہ کے ایک ڈویژن بنچ نے بین العدالتی اپیل کی سماعت کی۔ قادیانیوں نے اپنی اپیل میں یہ موقف اختیار کیا کہ:
- ۱...... قادیانیت مخالف آرڈیننس ۱۹۸۱ء کے عبوری آئینی حکم نامے کی دفعہ ۱ کے خلاف ہے۔
- ۲...... یہ آئین کے آرٹیکل ۸ کے ورائے اختیار ہے۔ کیونکہ اس نے کل بنیادی حقوق کو بری طرح مجروح کیا ہے۔ جن میں ہر شہری کو اپنے مذہب پر قائم رہنے، عمل کرنے اور پرچار کرنے کی ضمانت دی گئی ہے۔
- ۳...... پاکستان نے انسانی حقوق کے چارٹر پر دستخط کئے ہیں اور وہ اپنے اس عہد پر قائم رہنے پر پابند ہے۔
- ۴...... یہ آرڈیننس ۱۱/ اگست ۱۹۴۷ء کو بابائے قوم کی آئین ساز اسمبلی میں کی گئی تقریر کے خلاف ہے۔
اس اپیل میں ربوہ گروپ کی طرف سے مجیب الرحمن اور لاہوری گروپ کی طرف سے کیپٹن ریٹائرڈ عبدالواجد لاہوری مرزائی پیش ہوئے۔ جب کہ مدعاعلیہ حکومت پاکستان کی طرف سے حاجی غیاث محمد ایڈووکیٹ، جناب ایم. بی زمان ایڈووکیٹ اور سید ڈاکٹر ریاض الحسن گیلانی ایڈووکیٹ نے پیروی کی۔ کیس کی سماعت ۱۵/ جولائی ۱۹۸۴ء سے ۱۲/ اگست ۱۹۸۴ء (سوائے چھٹیوں) کے جاری رہی۔
کیس کی سماعت میں مجلس تحفظ ختم نبوت کا کردار
سماعت میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد کے حکم پر حضرت مولانا محمد شریف جالندھری ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت نے مندرجہ ذیل اقدامات کئے۔
- ۱...... مجلس تحفظ ختم نبوت کی لائبریری ملتان سے بیسیوں بکسوں پر مشتمل ضروری کتب و رسائل کا ریکارڈ لاہور منگوا لیا۔
- ۲...... کراچی سے حضرت علامہ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید (ناظم نشریات مجلس تحفظ ختم نبوت)، ملتان سے مناظر اسلام مولانا عبدالرحیم اشعر (ناظم تبلیغ) اور ربوہ سے مناظر اسلام حضرت مولانا اللہ وسایا کو لاہور طلب کر لیا۔ لاہور میں ان حضرات کی معاونت کے لئے مولانا کریم بخش علی پوری جو ان دنوں لاہور مجلس کے مبلغ تھے، کی ڈیوٹی لگائی گئی۔ ناظم اعلیٰ حضرت جالندھری کے حکم پر ایک فوٹوسٹیٹ مشین کرایہ پر حاصل کر لی گئی۔ جامعہ اشرفیہ لاہور کے شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالرحمن اشرفی اور مولانا عبیداللہ صاحب مہتمم جامعہ نے جامعہ کی لائبریری ان حضرات کے لئے کھول دی۔ کیس کی سماعت تقریباً ۲۱ دن رہی۔ عدالت نے مولانا صدرالدین الرفاعی، پروفیسر محمود احمد غازی، علامہ تاج الدین حیدری، پروفیسر محمد اشرف (پشاور)، علامہ مرزا محمد یوسف، پروفیسر طاہر القادری اور قاضی مجیب الرحمن کو اپنی معاونت کے لئے بلایا جن کے تفصیلی بیانات ہوئے۔ حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود پی. ایچ. ڈی نے مناظر اسلام مولانا منظور احمد چنیوٹی کی معاونت سے ایک تحریری بیان مرتب کیا جو عدالت میں پڑھا تو نہ جاسکا۔ البتہ عدالت میں جمع کرا دیا گیا۔ بعد میں اسے جامعہ رشیدیہ ساہیوال کے ترجمان ’’الرشید‘‘ میں ’’قادیانیوں کی قانونی حیثیت‘‘ کے نام سے مستقل اشاعت میں شائع بھی کر دیا گیا۔ کیس کی سماعت کے دوران امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد اور حضرت مولانا سید نفیس الحسینی کی سربراہی میں لاہور کے علماء عدالت میں ہر روز تشریف
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
لاتے رہے۔ عدالت میں اتنا رش ہوتا کہ عدالت کا وسیع وعریض ہال اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود ناکافی ہو جاتا۔ آخر میں عدالت کو پاس جاری کرنے پڑے۔
ہر روز کی کارروائی کے بعد شام کو مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا محمد یوسف لدھیانوی، مولانا عبدالرحیم اشعر کے ساتھ مسلمان وکلاء کی جامعہ اشرفیہ فیروز پور لاہور کی لائبریری میں گھنٹوں ملاقات ہوتی۔ متعلقہ امور پر مشاورت، حوالہ جات کی تلاش ہوتی۔ ان کے فوٹوسٹیٹ حاصل کئے جاتے۔ بیانات لکھے جاتے۔ قادیانی وساوس اور دجل وفریب کے جواب تیار کئے جاتے اور یوں حق تعالیٰ کی طرف سے عنایت کردہ توفیق وکرم سے مہینہ بھر یہ محنت جاری رہی۔
جب مسلمان وکلاء کے بیانات وبحث شروع ہوئی تو عدالت کے سامنے وکلاء کے ساتھ پہلی لائن میں وسیع وعریض دو میز رکھے۔ جن پر اسلامی اور قادیانی کتب کا ذخیرہ سلیقے سے رکھا جاتا۔ وکلاء کو پہلے سے تیار شدہ حوالہ جات و کتب دینے کی ذمہ داری مناظر اسلام مولانا عبدالرحیم اشعر اور مولانا اللہ وسایا نے نبھائی۔ قادیانی وکلاء جب پیش ہوتے اور لایعنی تاویلیں کرتے تو مسلمانوں میں اشتعال اور قادیانی حاضرین پر اوس پڑ جاتی اور جب مسلمان وکلاء نے اپنے دلائل وبراہین کے انبار لگائے تو مسلمانوں کے چہرے ہشاش بشاش اور قادیانیوں پر شرمندگی کے آثار قابل دید ہوتے۔ مسلمان وکلاء کی دلائل سے متاثر ہو کر عدالت میں موجود تقریباً ۸ قادیانیوں نے مولانا عبدالقادر آزاد خطیب شاہی مسجد لاہور کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔
قومی اخبارات ہر روز کی کارروائی شہ سرخیوں میں چھاپتے تھے۔ جس سے اندرون وبیرون ملک تمام مسلمانوں کی نگاہیں اس کیس کی طرف لگی ہوتی تھیں اور اس کی متعلقہ خبروں کو بڑے اہتمام اور شوق کے ساتھ پڑھتے تھے۔ اللہ رب العزت کی رحمت وکرم اور رحمت عالم ﷺ کی توجہات عالیہ امت مسلمہ کے لئے واحد سہارا تھیں۔ قادیانی اپنے طور پر اندرون وبیرون ملک سے اس مسئلہ پر دباؤ ڈال رہے تھے۔ ملک کی تمام بے دین اور سیکولر لابیاں اسے اپنے لئے موت وحیات کا مسئلہ بنائے کھڑی تھیں۔ جنرل محمد ضیاء الحق چونکہ مارشل لاء کے ذریعے آئے تھے۔ اس کی آمریت کا ڈھنڈورا پیٹنے کے لئے بعض جمہوری بچوں اور سیکولر جماعتوں کے بعض کارکنوں کو قادیانیوں نے خوب خوب استعمال کیا۔ غرض یہ کہ کفر واسلام کا معرکہ تھا۔ حق وباطل کی جنگ تھی۔ قادیانی اپنے طور پر خوش تھے کہ جسٹس آفتاب پہلے ڈیرہ غازی خان کی ایک مسجد کے کیس میں قادیانیوں کے حق میں فیصلہ دے چکا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے زمانہ میں یہودیوں کی ایک تنظیم فری میسن پر پابندی لگا دی تھی۔ یہودیوں اور ان کے آلہ کار مرزائیوں نے لاہور ہائیکورٹ میں اس پابندی کو چیلنج کیا تو اسی جسٹس نے یہودی تنظیم پر سے یہ پابندی بھی ختم کی تھی۔ ایسے ڈھب کے جج کے مرزائیوں کے مطلب کے لئے بار آور ہونے میں کوئی شبہ نہ تھا۔
قادیانیوں کی اپیل خارج
آخر حق تعالیٰ کی شان کریمی کا اظہار ہوا۔ رحمت عالم ﷺ کی دعائیں امت کے کام آگئیں اور ۱۲؍ جولائی ۱۹۸۴ء اس جسٹس آفتاب صاحب کے قلم سے قادیانیوں کی اپیلیں خارج کر دی گئیں۔ قادیانیوں کو ذلت ورسوائی کا سامنا کرنا پڑا اور امت مسلمہ کو ایک مرتبہ پھر جھوٹی امت قادیانیت پر فتح حاصل ہوگئی۔
۱۲؍ جولائی ۱۹۸۴ء کو پہلے وقت جب بحث سمیٹی گئی تو تمام حاضرین ہال کے باہر آ گئے۔ جج صاحبان فیصلہ لکھنے کے لئے عدالت سے ملحقہ ریٹائرنگ روم میں چلے گئے۔ عدالت کے لان میں ایک پیپل کے درخت کے زیر سایہ علماء ومشائخ جمع تھے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد، حضرت مولانا سید نفیس الحسینی شاہ دونوں بزرگ زمین پر بیٹھے ہی سر جھکا مراقبہ میں چلے گئے۔ اس منظر کی آسان تعبیر یہ ہوگی کہ عدالت کے اندر جج صاحبان فیصلہ کے لئے قلم تول رہے تھے اور عدالت سے باہر یہ بزرگ اپنے رب کی رحمتوں کے دروازے پر دستک دے رہے تھے۔ اللہ رب العزت کا کرم و فضل ہوا کہ جسٹس آفتاب نے دوصفحاتی اجمالی فیصلہ لکھا۔ باقی تمام جج صاحبان نے دستخط کئے۔ متفقہ فیصلہ ہوا۔ وکلاء کو اندر بلایا گیا۔ اہل اسلام کے وکیل اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کی سعادت حاصل کرنے والے ایڈووکیٹ جناب سید ریاض الحسن گیلانی جب فیصلہ سن کر عدالت کے کمرے سے وکٹری کا نشان بنائے باہر آئے تو مسلمانوں نے عشق نبویؐ سے سرشار ہو کر صدائے اللہ اکبر بلند کی۔ نعرہ تکبیر کی آواز پر حضرت مولانا خواجہ خان محمد اور مولانا سید نفیس حسین شاہ نے سر اٹھایا تو دونوں بزرگوں کے چہروں پر خوشی کے آنسوؤں کی جھڑیاں لگی ہوئی تھیں۔ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی کا چہرہ خوشی سے ٹمٹما اٹھا اور حضرت مولانا محمد شریف جالندھری فیصلہ سنتے ہی سر بسجود ہو گئے۔
’’اسلام زندہ باد، ختم نبوت زندہ باد‘‘ کے کفر شکن نعروں سے ایک نورانی سماں بندھ گیا۔ فیصلہ سننے کے بعد قادیانی وکیل تو کسی عقبی دروازے سے کھسک گیا اور باقی قادیانی ایسے گم ہوئے جیسا کہ مرزا قادیانی کے دل سے شرم و حیاء گم ہوگئی تھی۔ اس دوصفحاتی فیصلہ پر لکھا تھا کہ تفصیلی فیصلہ بعد میں دیا جائے گا۔ جسٹس آفتاب ریٹائر ہوگئے تو اس کے بعد جسٹس فخر عالم چیف جسٹس وفاقی شرعی عدالت بنے رہے۔ انہوں نے اس مقدمہ کا تفصیلی فیصلہ ۲۹؍اکتوبر ۱۹۸۴ء کو سنایا۔ یہ فیصلہ تقریباً ۴۲۴ صفحات پر مشتمل تھا جو آب زر سے لکھنے کے قابل ہے۔ اس فیصلے نے قادیانیوں کی شرانگیز کارروائیوں، دسیسہ کاریوں اور فتنہ پردازیوں کے سامنے بند باندھ دیا۔ قادیانیوں کی کمر ٹوٹ گئی۔ قیادت لندن بھاگ گئی۔ مرزائیت رسوا ہوگئی اسلام جیت گیا۔
اس امتناعی آرڈیننس کے بعد پریس آرڈیننس میں بھی ترمیم کر دی گئی۔ جس کے تحت الفضل ربوہ بند ہوگیا تھا۔ (سالوں بعد محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنے دور اقتدار میں پریس کی آزادی کے ضمن میں اقدامات کرتے ہوئے پریس آرڈیننس کی ترمیم کو ختم کر دیا۔ جناب صدر غلام اسحاق خان نے اس پر تائیدی دستخط جاری کر دیئے اور الفضل دوبارہ جاری ہوگیا) مولانا فضل الرحمٰن (قائد جمعیت) ان دنوں اسمبلی کے ممبر تھے انہوں نے بڑی کوشش وسعی کی۔ مگر بے نظیر بھٹو اور وزیر داخلہ اعتزاز احسن نے پٹھے پر ہاتھ دھرنے نہ دیا۔
(لولاک اکتوبر ۱۹۸۴ء، ملخص تاریخی دستاویز ص ۴۰۰ تا ۴۱۰، تذکرہ خواجہ خواجگان)
مرزا طاہر کے لئے امریکی اور یورپین پریس کی ہمدردی
مرزا طاہر احمد کہتے ہیں: ’’مارچ ۱۹۸۴ء میں اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے اہلکار خصوصی طور پر ربوہ گئے اور اسے بتایا کہ ان کے پاس خصوصی اطلاعات ہیں جو اس جماعت کے مستقبل پر اثر انداز ہوسکتی ہیں۔ وہ ان اطلاعات کو واشنگٹن بھجوانے سے قبل ان کا ردعمل جاننا چاہتے تھے۔ مرزا طاہر کے کافی عرصہ سے برطانوی، فرانسیسی، کینیڈین، چینی اور کئی دوسرے سفارتخانوں سے رابطے استوار تھے۔ امریکی عہدے داروں نے انہیں مطلع کیا کہ جنرل ضیاء صوبہ سرحد سے آدمیوں کو بلا رہا تھا کہ وہ ان کے اسلام آباد میں گھر پر حملہ کریں۔ (ظاہر ہے کہ اس کا مقصد تھا اسے اندھیرے میں قتل کر دیں) اگرچہ جنرل ضیاء نے انٹیلی جنس بیورو کے ایک افسر کے ذریعے اسے پیغام بھجوایا تھا کہ وہ کسی چیز کے بارے میں فکر نہ کرے۔ آپ کی جان و مال کی حفاظت ہمارا فرض ہے۔ پاکستان انٹیلی جنس بیورو، پولیس اور انٹیلی جنس کے ایک دوسرے افسر نے اسے بروقت خبر دار کر دیا۔ انہوں نے مرزا طاہر سے گزارش کی کہ جتنا جلدی ممکن ہو سکے وہ اسلام آباد چھوڑ
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
دیں۔ مرزا طاہر اسلام آباد میں فرانسیسی کونسلر کو ان کی رہائش گاہ پر ملے جس نے انہیں سفارتی انداز میں پیغام دیا کہ وہ اسلام آباد فوراً چھوڑ دیں۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا ۔‘‘
(ایڈم سن خدا کا بندہ)
صیہونی پشت پناہی سے چلنے والا غیر ملکی پریس قادیانی نصب العین کا بڑا ہمدرد تھا اور اسلامی بنیاد پرستی پر شدید تنقید کر رہا تھا۔
قادیانیوں نے کمال عیاری سے اپنے معاملے کو دوسرے گمراہ کن معاملات مثلاً انسانی حقوق ، ضیاء حکومت کا غیر منتخب کردار ، سیاسی مظالم ، مارشل لاء میں گرفتاریوں وغیرہ کے ساتھ منسلک کر دیا ۔ انہیں وہ بیرونی پریس میسر آ گیا جو ان کے منصوبے کو ایک ترتیب سے پیش کر رہا تھا اور ان کے نصب العین کے ساتھ حد سے زیادہ ہمدرد تھا ۔ اسلام آباد میں مقیم واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے نے آرڈیننس کے نفاذ کے بعد کے واقعات کی اطلاع اس طرح دی۔
’’نجی طور پر پاکستانی اہلکار یہ کہتے ہیں کہ احمدیوں کے خلاف یہ پابندیاں اس لئے ضروری تھیں کہ احمدیوں کے خلاف ایک شدید تحریک کے اثرات کو کم کیا جائے ۔ احمدی کہتے ہیں کہ آرڈیننس سیاسی مقاصد پر مبنی ہے ۔ جنرل ضیاء صرف اپنی مقبولیت کو بنیاد پرست مسلمانوں کے درمیان بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے اور آنے والے ان قومی انتخابات جن کا اس نے وعدہ کر رکھا ہے ۔ ان میں فوجی حلقوں سے باہر اپنے حلقہ انتخاب کو بڑھانے کی تیاری کر رہا ہے ۔‘‘
نیو یارک ٹائمز کے خصوصی نمائندے نے لکھا: ’’احمدیوں کو اپنے عقائد کی سرعام تبلیغ اور عمل کو جرم بنانے میں جنرل ضیاء ملاؤں کے سامنے جھک گیا ہے ۔ قادیانی بڑی سرگرمی سے پوری دنیا میں ان لوگوں کی تلاش میں رہتے ہیں جن کو احمدی بنا سکیں ۔ اگرچہ ان کی کوئی مردم شماری نہیں ہوئی مگر احمدی کہتے ہیں کہ ان کے ایک کروڑ پیروکار ہیں ۔ اندازے ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کے ساڑھے آٹھ کروڑ لوگوں میں تیس سے لے کر ساٹھ لاکھ احمدی ہوں گے ۔ پاکستانی ملاؤں کے لئے مزید تکلیف دہ بات یہ ہے کہ کافی عرصہ سے احمدیوں کا ایک گروہ تل ابیب میں موجود ہے ۔ جب کہ احمدی کہتے ہیں کہ یہ لوگ تو اسرائیل کے قیام سے بھی بہت پہلے سے وہاں موجود ہیں ۔‘‘
(نیو یارک ٹائمز ، ۱۷ مئی ۱۹۸۴ء)
بروک لن کالج امریکہ کے مشرق وسطیٰ کی تاریخ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر سٹوارٹ سکار نے نیو یارک ٹائمز میں اپنے ایک مضمون میں پاکستان کے بارے میں امریکی حکمت عملی پر تنقید کی ۔ اس کے مضمون ’’پاکستان کے ظالم کے لئے ہمارا اندھا جوش‘‘ میں اس نے خیال ظاہر کیا کہ امریکی حکومت کو اپنے اتحادی کے متعلق اندھے جوش و جذبے پر نظر ثانی کرنی چاہئے اور جنرل ضیاء کی حکومت کے ساتھ ان کے اتحاد کے عواقب کو سمجھنا چاہئے ۔ جنرل ضیاء کی حکومت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بحث کرتے ہوئے اس نے پاکستان میں خصوصی طور پر احمدیوں پر مظالم کا حوالہ دیا اور دوسری اقلیتوں پر ظلم کے بارے میں اپنے خدشات ظاہر کئے وہ بیان کرتا ہے ۔
’’احمدیت کے چالیس لاکھ پیروکار ہیں جو ایک مسلم فرقہ ہے اور انیسویں صدی میں وجود میں آیا ۔ ان کو سرعام اپنے مذہب پر عمل کرنے سے روکا جا رہا ہے ۔ حکومت کے قریبی بنیاد پرست اسلامی رہنماؤں کے بیانات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ چھوٹی سی عیسائی برادری بھی ظلم کا شکار ہوچکی ہے ۔‘‘
(دی نیو یارک ٹائمز ، مورخہ ۱۴؍جون ۱۹۸۴ء)
اس نے امریکی سینٹ سٹاف رپورٹ کا حوالہ دیا جس نے کانگریس کو یہ سفارش کی تھی کہ وہ پاکستان کی ۳.۲ ارب ڈالر کی مجوزہ امداد پاکستان کے نیوکلیائی ہتھیاروں کے خاتمہ سے منسلک کرے اور زور دے کر کہا کہ : ’’کانگریس کا یہ عمل اب بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہوگا کہ وہ اس امداد کو پاکستان کے انسانی حقوق کے ریکارڈ سے منسلک کرے ۔‘‘
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
نیوز ویک نے مرزا طاہر اور ان کے قریبی جتھے کی تصاویر شائع کیں اور ان کے نیچے ”ایک مذہبی فرقے پر مظالم“ کے عنوان سے مندرجہ ذیل سطور تحریر کیں:
”پاکستان کے احمدیہ فرقے کے تیس لاکھ لوگوں کو اب ایک مذہبی تشدد کی لہر کا سامنا ہے۔ صدر محمد ضیاء الحق کی جنونی اسلامی حکومت کے لئے احمدی ایک نفرت انگیز چیز ہیں۔ اپریل میں ضیاء نے نئے قوانین لاگو کر دیئے جن کا مقصد یہ ہے احمدیوں کو اپنے مذہب اسلام کے خصوصی نقطہ نظر پر عمل کرنے کو محدود کیا جائے۔ درجنوں احمدیوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کی کئی مساجد کو بربریت کا نشانہ بنایا گیا ہے اور ان کے ایک رہنما کو قتل کیا جا چکا ہے۔ اب تک بظاہر حکومت کی ہدایت کے بغیر احمدیہ فرقے کے خلاف تشدد تیزی سے پھیل چکا ہے۔ اب ان پر دباؤ بڑھتا ہی جا رہا ہے اور پاکستان کے احمدی اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ آگے ان کے ساتھ کیا ہوگا۔“
(نیوز ویک، مؤرخہ ۱۶ جولائی ۱۹۸۴ء)
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بین الاقوامی پریس نے قادیانیوں کے خلاف خود ساختہ مظالم کس انداز سے اچھالے اور ان سے کتنی ہمدردی کی۔ انہوں نے کبھی بھی کھل کر مسلمانوں کی طرفداری نہیں کی۔ خصوصاً اُس وقت جب انہیں دنیا کے مختلف حصوں میں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ ان پر مظالم ڈھائے جارہے تھے اور ان کا خون بہایا جارہا تھا اور آج کل بھی مغربی میڈیا کا یہی طرزِ عمل ہے۔ ورنہ برما میں زندہ مسلمان جلائے گئے۔ ہزاروں، لاکھوں کو بے گھر کیا گیا۔ مغربی میڈیا نے خبر تو کجا ایک چھوٹا سا تراشہ بھی نہیں چھاپا۔ شام میں دن دیہاڑے مسلمانوں پر بمباری ہورہی ہے۔ فلسطین کے حال سے کون بے خبر ہے اور مغربی میڈیا بالکل دم سادھے خاموش ہے۔ اس پر گفتگو تک نہیں کرتا۔
۱۹۸۴ء میں مجلس کے زیر اہتمام منعقدہ کانفرنسیں
۱۹۸۴ء اسلامیان پاکستان کے لئے نہایت مسرت و شادمانی کا سال تھا کہ اس میں ۱۹۷۴ء کی قادیانیوں کے متعلق آئینی ترمیم کی تکمیل ہوئی اور امتناع قادیانیت آرڈیننس نے قادیانیوں کی مذبوحی حرکات کو سکون میں تبدیل کر کے ان کو بالکل ساکت و جامد کر دیا۔ اس سال بھی معمول کے مطابق پورے ملک میں تبلیغی اور تنظیمی کانفرنسوں اور جلسوں کا انعقاد ہوا۔
ذیل میں چند اہم کانفرنسوں کی مختصر کارروائی ذکر کرتے ہیں۔ تمام کانفرنسوں اور تبلیغی جلسوں کا تذکرہ زیادہ فرصت اور زیادہ صفحات کا متقاضی ہے۔ اس لئے چند پروگراموں کی مختصر کارروائی پر اکتفاء کرتے ہیں۔
راولپنڈی آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس
چونکہ مجلس عمل ۲۷ اپریل ۱۹۸۴ء کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کر چکی تھی اور پورے ملک سے لوگ اس کانفرنس میں شریک ہونے کے لئے بے تاب تھے۔ اس لئے مجلس عمل کے زیر اہتمام ختم نبوت کانفرنس ۲۷ اپریل کو منعقد ہو گئی۔ جس میں ملک بھر سے آئے ہوئے عاشقان رسول نے لاکھوں کی تعداد میں شرکت کی۔ دارالعلوم تعلیم القرآن راجہ بازار میں کانفرنس کا آغاز صبح ۹ بجے تھا۔ لیکن لوگ صبح نماز کے بعد سے وہاں پہنچنا شروع ہو گئے اور ۹ بجے تک تل دھرنے کو جگہ نہیں تھی۔ دارالعلوم سے ملحق چھتیں، راجہ بازار اور بازار بانسہانوالہ میں بیٹھ کر لوگوں نے علماء کی تقریریں سنیں۔
کانفرنس کے انتظامی امور کی ذمہ داری راولپنڈی اسلام آباد کے طالب علموں کو سونپی گئی تھی۔ ان طالب علموں کو لکڑی کے علامتی ڈنڈے مہیا کئے گئے تھے اور یہ ڈنڈا فورس ٹریفک کنٹرول کرنے، لوگوں کی رہنمائی کرنے اور گڑبڑ کے امکانات ختم کرنے کے لئے مستعد نظر آرہے تھے۔ راجہ بازار، فوارہ چوک اور بازار بانسہانوالہ چوک پر ڈنڈا فورس کا مکمل کنٹرول تھا۔ جب کہ ٹریفک پولیس، ضلعی انتظامیہ اور دیگر
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
پولیس راجہ بازار کے علاقہ میں داخل بھی نہ ہوئی۔ تاہم احتیاطی تدابیر کے پیش نظر شہر کے مختلف راستوں پر پولیس تعینات کی گئی تھی۔ کانفرنس کے خطباء میں مولانا محمد اشرف ہمدانی ، مولانا عبدالشکور دین پوری ، مولانا محمد یوسف خان ، علامہ غضنفر علی کراروی ، صاحبزادہ طارق محمود ، مفتی مختار احمد نعیمی ، مولانا حق نواز (جھنگ) ، مولانا قاری زاہد (جہلم) ، مولانا عبدالمجید ندیم ، مولانا عبدالرحیم اشعر ، مولانا محمد عبداللہ اور دیگر اکابر علماء کے نام شامل تھے۔ امتناع قادیانیت آرڈیننس پر صدر جنرل ضیاء الحق کو خراج تحسین پیش کیا گیا اور مولانا اسلم قریشی کی بازیابی کا مطالبہ کیا گیا۔ قادیانی عقائد ، مرزا طاہر کی سنگین اور جارحانہ اقدامات اور جارح لہجے کی مذمت کی گئی۔ دوپہر ڈیڑھ بجے کانفرنس میں نماز جمعہ کا وقفہ کیا گیا۔ ڈیوٹی پر متعین پولیس اہلکاروں نے بھی ختم نبوت کے بیج لگا رکھے تھے۔ راولپنڈی کی یہ کانفرنس اپنی حاضری کے اعتبار سے تاریخی حیثیت اختیار کر گئی تھی۔ نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے راجہ بازار کی کھلی سڑکوں پر بھی دریاں بچھائی گئی تھیں۔ کانفرنس میں پچاس سے زائد نامور مقررین اور خطباء نے حصہ لیا اور سامعین گوش بر آواز ہو کر کارروائی سنتے رہے۔ صبح نو بجے شروع ہونے والی کانفرنس شام چھ بجے امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد کی دعا پر اختتام پذیر ہوئی۔
(لولاک مؤرخہ ۵؍مئی ۱۹۸۴ء)
یاد رہے کہ ۲۶؍اپریل کو علماء کرام کی جنرل صاحب سے ملاقات کے وقت جہاں امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری ہوا۔ وہاں مولانا ضیاء القاسمی کی بہاول پور جیل سے رہائی کے بھی احکامات جاری ہوگئے۔
ختم نبوت کانفرنس پشاور
پشاور میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے اراکین نے امتناع قادیانیت آرڈیننس پر اظہار مسرت کے لئے مجلس عمل کے پروگرام کی روشنی میں پشاور میں ختم نبوت کانفرنس کے انعقاد کا فیصلہ کیا اور اس سلسلہ میں مرکزی مجلس عمل سے باضابطہ درخواست کی گئی۔ چنانچہ حضرت الامیر مرکزیہ الشیخ مولانا خواجہ خان محمد صاحب کے اجلاس فیصل آباد کے موقع پر ۲۱؍مئی کی تاریخ مقرر فرما کر اعلان کر دیا۔ مجلس پشاور کو اطلاع ملنے پر کانفرنس کی تیاریاں تیز ہوگئیں۔ اشتہارات کے علاوہ مقامی اخبارات خصوصاً روزنامہ مشرق اور روزنامہ جدت نے کانفرنس کے متعلق نمایاں طور پر خبریں دے کر سارے صوبہ میں کانفرنس کی تشہیر میں نمایاں کردار ادا کیا۔ مقامی اخبارات کے علاوہ جنگ اور نوائے وقت راولپنڈی نے بھی تعاون کیا۔
کانفرنس کے لئے چوک یادگار کا تاریخی مقام مقرر تھا۔ لیکن انتظامیہ کو اپنے ذرائع سے یہ اطلاع ملی کہ اس کانفرنس میں مولانا فضل الرحمن بھی شرکت کر رہے ہیں۔ حالانکہ مولانا فضل الرحمن پر ان دنوں زبان بندی کی پابندی تھی۔ جس کی بناء پر کانفرنس سے چند گھنٹے قبل چوک یادگار اور اس کے قرب و جوار میں کانفرنس کی اجازت نہ دینے کا انتظامیہ کی طرف سے منتظمین کو حکم صادر ہوا۔ یہاں انتظامیہ کی طرف سے اس اطلاع پر بدمزگی پیدا ہونے کی صورت نمایاں طور پر سامنے آگئی۔ چونکہ مجلس کے پروگرام میں ایسے حالات ہیں کہ جب صدارتی آرڈیننس کی ضرب سے مرزائیت دم توڑ رہی ہے اور مرزائیوں کی خواہش ہے اور مرزائی نوازوں کی کوشش تھی کہ مجلس اور حکومت کے درمیان ٹکراؤ کی صورت پیدا کر کے مرزائیت کو بچایا جائے اور اس ٹکراؤ سے مرزائی اپنے گھروں میں گھی کے چراغ جلائیں۔ لیکن مجلس کی طرف سے مولانا نور الحق نور رکن مرکزی مجلس شوریٰ ختم نبوت نے حکام سے تفصیلی بات چیت کے بعد انتظامیہ کی مرضی کے عین مطابق جامع مسجد مدنی نمک منڈی میں کانفرنس منعقد کرنے کا وعدہ کر کے مرزائی اور ان کے گماشتوں کی امیدوں کو خاک میں ملا دیا۔ شہر میں منادی کے
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
ذریعہ جگہ کی تبدیلی کا اعلان کرا دیا گیا اور اس سلسلہ میں پشاور کے علماء و ائمہ نے اپنی اپنی مساجد میں لاؤڈ سپیکر پر چوک یادگار کی بجائے جامع مسجد نمک منڈی میں ختم نبوت کانفرنس کا اعلان کر کے سارے شہر میں اس خبر کو مشتہر کر دیا۔ اس طرح چند ہی گھنٹوں میں سارے شہر میں خبر پھیل گئی۔ جس کی وجہ سے اجلاس شروع ہونے سے قبل ہی جامع مسجد کا وسیع صحن اور اس کے دومنزلہ عمارت شمع ختم نبوت کے پروانوں سے بھر چکی تھی اور مسجد اپنی وسعت کے باوجود تنگ نظر آ رہی تھی۔ لاؤڈ سپیکر کے معقول انتظام کی وجہ سے مسجد سے باہر سڑک پر بھی لوگوں کا ازدحام تھا۔ حضرت امیر مرکزیہ، قائد ملت اسلامیہ پیر طریقت الحاج حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب کے اعلان صدارت پر فضا ”اللہ اکبر، ختم نبوت زندہ باد، اتحاد بین المسلمین زندہ باد“ کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھی۔
اس عظیم کانفرنس سے خطاب کرنے والوں میں مولانا صاحبزادہ فضل الرحمن، مولانا علی غضنفر کراروی، مولانا مفتی نور اللہ صاحب، مولانا عبدالرحیم، مولانا عبدالعظیم، مولانا فضل حق، مولانا رحمت ہادی، مولانا زاہد الراشدی، مولانا محمد اکرم زاہد، مولانا غلام محمد صادق، مولانا ضیاء الدین، مولانا فخر الحسن کراروی، مولانا محمد امین کے نام قابل ذکر ہیں۔
مقررین حضرات نے اپنے اپنے خطاب میں یہ واضح کیا کہ آج جس طرح عرب کی دنیا اسرائیل کے ناسور سے پریشان ہے اس طرح پاکستان میں مرزائی اسرائیل کے جڑواں بھائی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ مسلمان دین کے معاملہ میں حد سے زیادہ غافل ہیں۔ دفتر میں چپڑاسی مرزائی اپنے افسر تک کو مرزائی لٹریچر دے کر مرزائیت کی تبلیغ میں لگا ہوا ہے اور اس کے مقابل بڑے سے بڑا افسر مسلمان عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت سے غافل ہے۔ ہم آج فروعی اختلاف کو تو بڑی شدومد سے بیان کر کے آپس میں نفاق کے بیج ڈال کر اغیاروں کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں اور اغیار انہی عیارانہ اور شاطرانہ چالوں کے ذریعہ انگریزوں کی پالیسی کے مطابق لڑاؤ اور حکومت کرو کا عمل دہرا رہا ہے۔
(لولاک مؤرخہ ۲۵؍ جون ۱۹۸۴ء)
ختم نبوت کانفرنس سرگودھا
۱۹؍ ستمبر ۱۹۸۴ء کو مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام سرگودھا کے قلب میں واقع جامع مسجد گول چوک میں ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جو اپنی نوعیت کے لحاظ سے اہم اور منفرد تاریخی کانفرنس تھی۔ سرگودھا میں اس کانفرنس کی تیاریاں کافی عرصہ سے جوش و خروش کے ساتھ جاری تھیں۔ یہ کانفرنس امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد کی خصوصی ہدایت پر منعقد ہو رہی تھی۔ اس سلسلہ میں مقامی مجلس عمل کے بہت سے اجلاس ہوئے۔ جن میں مختلف انتظامی امور پر غور کرنے کے بعد ایک فائنل پروگرام تیار کیا گیا۔ جس کے تحت اس کانفرنس کا انعقاد عمل میں لایا گیا۔ اس کانفرنس کی انتظامیہ نے کئی دن تک مسلسل شب و روز محنت کے بعد نہایت احسن طور پر اس کا انتظام و اہتمام کیا۔ کانفرنس سے کئی روز قبل ایک چھوٹا اطلاعی اشتہار شائع کیا گیا۔ شہر میں مختلف چوراہوں اور معروف شاہراہوں پر ”ختم نبوت کانفرنس“ کے بینر لگائے گئے اور بعد ازاں ایک بہت بڑا اور خوبصورت اشتہار جاری کیا۔ جس میں مقام و تاریخ کے علاوہ نہایت خوبصورت انداز سے مقررین کے ناموں کی فہرست بھی درج کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ دعوت ناموں، اعلانات اور اطلاعات کے ذریعے بھی کانفرنس کا پروگرام مشتہر کیا جاتا رہا۔
جامع مسجد گول چوک سرگودھا کے خوبصورت جنگلوں پر چاروں جانب رنگ برنگی جھنڈیوں، خوبصورت پرچم قادیانیت سے متعلق مشاہیر اسلام کے اقوال و اشعار پر مشتمل بینر لگائے گئے تھے جو شہر کے تقریباً تمام حصوں سے نظر آ رہے تھے۔ مسجد کی عمارت کو ٹیوب
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
لائٹوں، مرکری بلبوں اور رنگ برنگی روشنیوں سے دلہن کی طرح سجایا گیا تھا اور رات کی تاریکی میں جب یہ پرچم لہراتے تو روشنیوں سے یہ منظر اور بھی دلکش ہو جاتا تھا۔
کانفرنس کی انتظامیہ نے اپنی طرف سے حسن انتظام میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی اور مجلس عمل کے عہدیداران اور کارکنوں نے شب و روز کام کر کے اس کانفرنس کے حسن کو دوبالا کیا۔ اس کانفرنس کے مقررین کے ناموں کی فہرست پر ایک نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا تھا کہ یہ کسی سہ روزہ کانفرنس کا پروگرام ہے۔ لیکن واقعتاً ایسا نہیں تھا۔ یہ حیران کن امر ہے کہ ایک روز کے جلسہ میں بیس کے قریب مقررین نے خطاب کیا۔ حالت یہ تھی کہ ہر مقرر اپنی بات کو تفصیل سے بیان کرنے کا خواہاں معلوم ہوتا تھا۔ مگر وقت کی کمی اختصار کا تقاضا کرتی تھی۔ لہٰذا سٹیج سیکرٹری کی طرف سے مقرر کو تقریر شروع کرنے سے قبل ان کے ٹائم کا تعین کیا جاتا تھا۔ جلسہ نماز عشاء کے بعد سے شروع ہو کر رات ڈیڑھ بجے ختم ہوا۔ کانفرنس میں علامہ احسان الٰہی ظہیر، مولانا ضیاء القاسمی، علامہ ع غ کراروی، مفتی مختار احمد نعیمی، جناب سید ریاض الحسن شاہ گیلانی (آرڈیننس میں مسلمانوں کے وکیل)، صاحبزادہ طارق محمود اور دیگر علماء نے خطاب کیا۔
کانفرنس اگرچہ رات کے وقت تھی۔ لیکن حاضری دن کے اجتماع سے کسی طور پر کم نہ تھی۔ بلکہ دن میں ہونے والے جلسوں کی بنسبت یہ کانفرنس کہیں زیادہ با رونق تھی۔ جامع مسجد گول چوک کا تمام صحن اور باقی عمارت لوگوں سے بھری ہوئی تھی۔ یہاں تک کہ وہ لوگ جنہیں پنڈال میں جگہ نہ ملی، سیڑھیوں میں کھڑے رہے اور یہیں پر کانفرنس کی تمام کارروائی سنی۔
(لولاک مؤرخہ ۲۵ ستمبر ۱۹۸۴ء)
ختم نبوت کانفرنس ربوہ (چناب نگر)
گزشتہ دوسالوں سے مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام ربوہ میں ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد ہورہا تھا۔ جس میں تمام مکاتب فکر کے علماء و مشائخ شریک ہوتے تھے۔ اسی سلسلہ کی تیسری دو روزہ کانفرنس ۱۲، ۱۳ اکتوبر ۱۹۸۴ء بروز جمعہ ہفتہ منعقد ہوئی۔ جس میں تمام مکاتب فکر کے علماء نے شرکت کر کے اتحاد و یگانگت کا بھرپور مظاہرہ کیا اور انگریز کے خود کاشتہ پودے مرزائے قادیانی کی ذریت پر واضح کر دیا کہ تمہاری سازشوں اور ریشہ دوانیوں کو اس ملک میں کبھی کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
اس کانفرنس میں پاکستان کے تمام صوبوں آزاد کشمیر اور قبائلی علاقہ جات حتیٰ کہ بلوچستان کے وہ علاقہ جات جہاں ہوائی جہاز کے بغیر سفر انتہائی دشوار ہے۔ وہاں سے بھی متعدد قافلے شریک ہوئے۔ تربت، مکران کا علاقہ ایسا ہی علاقہ ہے جہاں سے مولانا مفتی احتشام الحق آسیہ آبادی اور مولانا عبدالصمد کی قیادت میں ایک قافلہ ہوائی جہازوں کے ذریعے سفر کر کے کانفرنس میں شریک ہوا۔ اس قافلے کی شرکت کا مقصد اپنے علاقے کے عوام کی طرف سے اپنے مکمل تعاون کے یقین دلانے کے ساتھ ساتھ یہ بھی تھا کہ یہاں کے مسلمانوں کو وہ ’ذکری فرقے‘ کی ریشہ دوانیوں اور خلافِ اسلام عقائد و نظریات کی طرف متوجہ کرنا چاہتے تھے۔ چنانچہ مولانا مفتی احتشام الحق آسیہ آبادی نے کانفرنس میں جو تقریر کی اس میں انہوں نے بتایا کہ یہ فرقہ بھی مرزائیوں کی طرح ختم نبوت کا منکر ہے۔ انہوں نے اپنا ایک نبی بنایا ہوا ہے۔ ان کا نظریہ ہے کہ شریعت منسوخ ہو چکی ہے۔ کوہ مراد پر واقع انہوں نے ایک نقلی خانہ کعبہ بنایا ہوا ہے۔ جہاں اس فرقہ کے لوگ جا کر طواف کرتے ہیں اور اسے حج کا نام دیتے ہیں۔
اس قافلے کے علاوہ بلوچستان سے اور قافلے بھی کانفرنس میں شریک ہوئے۔ خاص طور پر کوئٹہ سے ممتاز صحافی جناب فیاض حسن سجاد صاحب اور مولانا نذیر احمد تونسوی مبلغ ختم نبوت کی قیادت میں ایک قافلہ شریک ہوا۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
صوبہ سندھ
صوبہ سندھ کے مختلف اضلاع حیدرآباد، نواب شاہ، سکھر وغیرہ سے متعدد قافلوں کے علاوہ انفرادی طور پر بھی شمع ختم نبوت کے پروانے کانفرنس میں شریک ہوئے۔ لیکن سب سے بڑا قافلہ ٹنڈو آدم سے مولانا احمد میاں حمادی کی قیادت میں بذریعہ ٹرین فیصل آباد پہنچا اور یہاں سے ایک سپیشل بس کے ذریعے ربوہ پہنچا۔ قافلے کے ہر رکن کے سینے اور بازوؤں پر ختم نبوت زندہ باد اور حدیث پاک ”انا خاتم النبیین لا نبی بعدی “ کے بیج آویزاں تھے۔ ایک بزرگ عالم دین جو قافلے کے آگے آگے چل رہے تھے انہوں نے ایک سفید پرچم اٹھایا ہوا تھا جس پر کلمہ طیبہ ”لا اله الا الله محمد رسول الله “ اور حدیث نبوی ”انا خاتم النبیین لا نبی بعدی “ کے الفاظ سنہرے دھاگے سے کڑھے ہوئے تھے۔ قافلے کے قائد مولانا احمد میاں حمادی نے پورے سندھ کی طرف سے نمائندگی کرتے ہوئے کانفرنس میں خطاب فرمایا۔ انہوں نے صوبہ سندھ میں مرزائیوں کی سرگرمیوں سے حاضرین کو آگاہ کیا۔
صوبہ سرحد
صوبہ سرحد سے ڈیرہ اسماعیل خان، پشاور اور مانسہرہ باقی اضلاع کے مقابلے میں سرفہرست تھے۔ ڈیرہ سے عوام کے جم غفیر کے علاوہ علماء کرام کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ ان میں حضرت مولانا علاؤ الدین، حضرت مولانا احمد جان غزنی خیل سابق ایم۔ این۔ اے، مرکزی جامع مسجد ڈیرہ کے خطیب مولانا محمد شعیب صاحب اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے جناب حضرت ریاض الحسن گنگوہی وغیرہم شامل تھے۔ حضرت مولانا مفتی محمود کے صاحبزادے اور جانشین حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب حج بیت اللہ سے واپسی کے بعد اپنے گاؤں عبدالخیل میں مقیم تھے۔ وہ بھی ختم نبوت کانفرنس چناب نگر میں شرکت کے لئے پہنچے۔
۱۲/ اکتوبر کو نماز جمعہ سے قبل انہوں نے زور دار خطاب فرمایا اور نماز جمعہ کی امامت فرمائی۔ کانفرنس سے مولانا احمد جان اور سرحد کے دوسرے علماء نے بھی خطاب کیا۔ پشاور سے مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے ممتاز رہنما اور مجلس کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن مولانا نورالحق نور کی قیادت میں قافلہ پہنچا۔ ضلع مانسہرہ سے حضرت مولانا عبداللہ خالد کی قیادت میں قافلہ پہنچا۔ داتہ ضلع مانسہرہ کا ایک قصبہ ہے۔ جسے ثانی ربوہ کہا جاتا ہے۔ وہاں سے ایک قافلہ کانفرنس میں شریک ہوا۔ باقی اضلاع سے چھوٹے چھوٹے قافلوں کے علاوہ انفرادی طور پر جماعتی دوستوں نے شرکت کی۔ سرحد سے ملحقہ قبائل سے بھی علماء کرام تشریف لائے ہوئے تھے۔
آزاد کشمیر
آزاد کشمیر سے باقاعدہ قافلے تو نہیں آئے البتہ جمعیت علماء آزاد جموں کشمیر کے ممتاز رہنما مولانا سعید الرحمٰن تنویر کی قیادت میں علماء کے ایک وفد نے شرکت کی۔
پنجاب
یوں تو پنجاب کے ہر ہر ضلع سے ہی بیسیوں قافلے سپیشل بسوں، ویگنوں، کاروں کے ذریعے ربوہ پہنچے تھے۔ لیکن گوجرانوالہ، سرگودھا، فیصل آباد، جھنگ، بھکر، خوشاب اور شیخوپورہ نزدیک اضلاع ہونے کی وجہ سے سرفہرست رہے۔ خاص طور گوجرانوالہ کے دوستوں حضرت حافظ محمد ثاقب صاحب، حافظ محمد یوسف عثمانی صاحب، چوہدری غلام نبی صاحب، امان اللہ خوشنویس، حافظ احسان الواحد صاحب
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
اور ان کے احباب نے نہ صرف کانفرنس کو کامیاب کرنے کے لئے اشتہار، سٹیکر اور خوبصورت کیلنڈر شائع کروائے بلکہ بیسیوں بسوں کے عظیم الشان قافلے کی صورت میں کانفرنس میں شریک ہوئے۔ گوجرانوالہ شہر کے علاوہ علی پور چٹھہ کے مولانا محمد اقبال نعمانی اور حافظ آباد سے مبلغ ختم نبوت حافظ عبدالوہاب جالندھری کی قیادت میں قافلے شریک کانفرنس ہوئے۔ سیالکوٹ ضلع سے مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے جنرل سیکرٹری مولانا مفتی مختار احمد نعیمی اور ملک منظور الٰہی صاحب کی قیادت میں ایک قافلہ ربوہ پہنچا۔ شیخوپورہ سے سید امین گیلانی اور مولانا عبداللطیف صاحب شاہ کوٹ کی قیادت میں ربوہ میں ہونے والی ہر کانفرنس اور ہر جلسے میں بسوں کے قافلے پہنچے ہیں۔ اس مرتبہ بھی قافلہ پہنچا۔ وہاں کے دوستوں نے کانفرنس کے انتظامات میں بھی پورا پورا تعاون کیا۔
لاہور
لاہور سے مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن الحاج بلند اختر نظامی کی قیادت میں ایک قافلہ پہنچا۔ جانشین شیخ التفسیر حضرت مولانا عبیداللہ انور ایک قافلہ کی قیادت میں پہلی مرتبہ ربوہ پہنچے۔ جہاں ہفتہ کے روز بعد نماز مغرب وسیع و عریض جامع مسجد میں مجلس ذکر ہوئی۔ جس سے حضرت نے خطاب فرمایا اور مجلس کے اختتام پر ربوہ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے تمام اداروں اور ان میں کام کرنے والے تمام کارکنوں کی کامیابی کے لئے دعا فرمائی۔ انہوں نے رات کے عظیم الشان اجتماع میں بھی مختصر سا خطاب اور دعا فرمائی۔
فیصل آباد
فیصل آباد ربوہ کا قریبی ضلع ہے جہاں سے مختلف قافلے اس کانفرنس میں ربوہ پہنچے ہیں۔ اس مرتبہ بھی سابقہ روایات کے مطابق غلام محمد آباد، گلبرگ، جناح کالونی، پیپلز کالونی، کچی آبادی ریلوے اسٹیشن کے علاقوں سے حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمی، مولانا محمد رفیق جامی، قاری محمد ابراہیم مدرسہ ام المدارس، صاحبزادہ طارق محمود، مشہور سماجی رہنما مولوی فقیر محمد صاحب شیخ الحدیث مولانا نذیر احمد صاحب مہتمم جامعہ اسلامیہ امدادیہ پیپلز کالونی، محلہ خالد آباد، پنجاب میڈیکل کالج ڈاکٹر قاری محمد صولت نواز صاحب، ڈاکٹر حافظ محمد اسلم صاحب، ڈاکٹر عبدالقیوم صاحب کی راہنمائی اور قیادت میں قافلے روانہ ہوئے۔
سرگودھا و جھنگ
سرگودھا بھی ربوہ کا قریبی ضلع ہے۔ اگرچہ سرگودھا سے پہلے بھی قافلوں کی صورت میں ہزاروں مسلمان کانفرنس میں شریک ہوتے تھے۔ لیکن اس مرتبہ وہ منظم اور مربوط انداز میں سرگودھا کے مجاہد ختم نبوت مولانا حافظ محمد اکرم طوفانی کی قیادت میں شریک ہوئے۔ جھنگ شہر اور جھنگ صدر سے قافلے پہنچے۔ چنیوٹ، لالیاں اور ربوہ کے اردگرد کے دیہات سے بسوں، ٹریکٹر، ٹرالیوں، سائیکلوں اور موٹر سائیکلوں کے ذریعے دو دن تک ہر ہر نشست میں ہزاروں کی تعداد میں مسلمان پہنچتے رہے۔
دیگر اضلاع
گوجرہ اور کوٹ آبادان سے مولانا محمد اسلم چشتی صابری اور مولانا احمد حسین شاکری بھکر سے حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب مہتمم مدرسہ دارالہدیٰ بھکر، ڈیرہ غازی خان سے مولانا اللہ وسایا صاحب، رحیم یار خان سے حضرت مولانا غلام ربانی صاحب ومولانا قاری حماد اللہ شفیق کی قیادت میں قافلے شریک کانفرنس ہوئے۔ مجلس کی طرف سے جو خیمے اور ٹینٹ لگائے گئے تھے انہیں دیکھنے سے پتہ چلتا تھا کہ
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
ملک کا کوئی صوبہ صوبے کا کوئی ضلع، ضلع کی کوئی تحصیل اور تحصیل کا کوئی اہم شہر ایسا نہیں تھا جہاں سے کانفرنس میں قافلوں یا انفرادی طور پر شمع ختم نبوت کے پروانے شریک نہ ہوئے ہوں۔
انتظامات
اس وقت ربوہ چونکہ مرزائیوں کا شہر تھا۔ اس لئے باہر سے آنے والے حضرات کی رہائش ایک مسئلہ ہوا کرتی تھی۔ مسلم کالونی ربوہ میں اس وقت تک ایک وسیع وعریض مسجد کے علاوہ صرف دس کمروں کی تعمیر مکمل ہو سکی تھی۔ جہاں مہمانان خصوصی کو ٹھہرایا گیا تھا۔ رہائشی مسئلہ کو حل کرنے کے لئے بڑے بڑے چار کیمپوں کے علاوہ سینکڑوں خیمے لگائے گئے تھے۔ خیموں کے ایک جانب قناتیں لگا کر باہر سے آنے والے حضرات کے لئے کھانے کا انتظام کیا گیا تھا۔ جہاں بیک وقت ایک ہزار افراد کھانا کھا سکتے تھے۔ داخلہ بذریعہ پاس تھا۔ کیمپ پر جھنگ، سرگودھا کے رضا کاروں، ختم نبوت کے علاوہ جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد، دارالعلوم، ام المدارس، مدرسہ فیض محمدی، مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے طلباء اور کارکن مامور تھے۔
مجلس کے اکثر مبلغین حضرت مولانا قاضی اللہ یار صاحب، مولانا خدا بخش شجاع آبادی، مولانا کریم بخش، مولانا عبدالرؤف، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا سید ممتاز الحسن، مولانا نذیر احمد تونسوی، مولانا احمد یار چاریاری، مولانا محمد امیر جھنگوی، استقبالیہ کے ناظم مولانا اللہ وسایا، قاری منیر احمد، قاری محمد اسحق مہمان حضرات کے استقبال اور دیکھ بھال میں ہمہ تن مصروف رہے۔
عظیم الشان پنڈال اور تاریخی اجتماع
کانفرنس کے لئے پنڈال کا انتظام عظیم الشان جامع مسجد ختم نبوت میں کیا گیا تھا۔ جسے بدلتے ہوئے موسم کے پیش نظر خوب صورت شامیانوں سے ڈھانپ دیا گیا تھا۔ قرآنی آیات، احادیث نبوی، اہم مطالبات پر مشتمل خوبصورت رنگ برنگے بینروں، بجلی کی ٹیوب لائٹوں اور قمقموں سے پوری جلسہ گاہ کو سجایا گیا تھا۔ اس مرتبہ مجلس کی طرف سے تیار کردہ بینروں کے علاوہ متعدد تنظیموں خصوصاً سرگودھا مجلس عمل کی طرف سے امت مسلمہ کے مطالبات پر مشتمل بینرز لگے ہوئے تھے۔ سٹیج تقریباً چار پانچ فٹ بلند بنایا گیا۔ جس پر خوبصورت قالین بچھائی گئی تھی۔ صاحب صدر اور مہمان خصوصی کی دیدہ زیب کرسیوں کے علاوہ مندوبین اور مقررین حضرات کے لئے چند کرسیاں رکھی گئی تھیں۔
کانفرنس کی نشستیں
کانفرنس کی کل چھ نشستیں ہوئی تھیں۔ ہر نشست کا آغاز تلاوت قرآن کریم اور نعت رسول مقبول ﷺ سے ہوا۔ پہلی نشست نماز جمعہ سے قبل شروع ہوئی تھی۔ جس سے مولانا فضل الرحمن صاحب نے خطاب کیا۔ انہوں نے اپنے بیان میں ملک کی عدالتی اور تعلیمی خستہ حالی پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ملک میں ابھی تک انگریز کا چھوڑا ہوا نظام چل رہا ہے۔ تعلیم، عدلیہ اور دیگر اہم محکموں پر انگریز کی واضح چھاپ ہے۔ صدر جنرل ضیاء الحق نے امتناع قادیانیت آرڈیننس کی ترمیم منظور کر کے دانشمندی کا ثبوت دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ختم نبوت کے نام پر قربانیاں دینے والے شہداء کی قربانیاں قیامت تک مثالی رہیں گی۔
دوسری نشست
دوسری نشست نماز جمعہ کے بعد امیر مرکزیہ قائد تحریک ختم نبوت حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب کی زیر صدارت شروع
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
ہوئی۔ اس میں رحیم یار خان سے کانفرنس کے مندوب اور مجاہد ختم نبوت مولانا قاری حماد اللہ شفیق نے تقریر کی۔ انہوں نے کہ مرزا طاہر آرڈیننس کے بعد راتوں رات ملک سے بھاگ گیا ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ انٹر پول کے ذریعے اس کو واپس لائے۔ اس لئے کہ اسلم قریشی کے اغواء کے ملزمان میں مرزا طاہر بھی نامزد ہے۔
مولانا غلام ربانی صاحب نے بیان فرمایا کہ آرڈیننس کی منظوری نے یہ بات ثابت کر دی کہ جب تک عملی میدان میں قدم نہ رکھا جائے۔ حکومت مطالبات تسلیم نہیں کرتی۔ پرامن احتجاج اور جلوسوں سے اس کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ غلام ربانی صاحب کے بعد حضرت مولانا ضیاء القاسمی نے تقریر کی اور کہا کہ قادیانیوں نے اب بجائے پاکستان کے دوسرے ممالک کو اپنے نشانے پر رکھا ہے اور بالخصوص پسماندہ ممالک میں اپنے اضلال وتضلیل کا مکروہ جال پھیلا رہے ہیں۔ باقی چار نشستوں سے مولانا عبدالرحیم اشعر، صاحبزادہ طارق محمود، مولانا اشرف ہمدانی، مولانا عبدالمجید ندیم، مولانا محمد عبداللہ خطیب لال مسجد اسلام آباد، مولانا حبیب اللہ خان، مولانا عبدالصبور ڈاہر اور مولانا غلام مصطفیٰ بہاول پوری نے بھی خطاب فرمایا۔
(لولاک مؤرخہ ۵ نومبر ۱۹۸۴ء)
ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ
مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ۳۲ ویں سالانہ کانفرنس حسب سابق ۲۶ تا ۲۸؍ دسمبر ۱۹۸۴ء کو پبلک پارک چنیوٹ میں منعقد ہونا تھی۔ لیکن ۲۴؍ دسمبر کی شام کو ڈی سی جھنگ نے بذریعہ فون اطلاع کی کہ آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ یہ اطلاع ملتے ہی پورے ملک کے جماعتی ورکروں کو پریشانی لاحق ہو گئی۔ مجلس عمل کے رہنماؤں مولانا فقیر محمد، مولانا اشرف ہمدانی، مولانا منظور احمد چنیوٹی، مولانا اللہ وسایا، صاحبزادہ طارق محمود نے ٹیلیفون پر مختلف حکام اور افسران بالا سے رابطہ شروع کر دیا۔ ادھر مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد شریف جالندھری کو ٹیلیفون پر اطلاع کی گئی تو مولانا موصوف بذریعہ طیارہ ملتان سے لاہور پہنچے اور مختلف افسران اور علماء کرام سے ملاقاتیں کیں۔
۲۵؍ دسمبر کو اے سی، ڈی ایس پی چنیوٹ نے مجلس کے احباب کو ملاقات کے لئے بلایا۔ جس میں مولانا عبدالوارث، مولانا اللہ وسایا، چوہدری ظہور احمد، شیخ منظور احمد، محمد سلیم اور کچھ مقامی کارکن شامل تھے۔ ان حضرات نے انتظامیہ سے ملاقات کی اور ان کے سامنے اپنا موقف وضاحت سے بیان کیا اور کہا کہ انتظامات ہو رہے ہیں۔ شامیانے قناتیں وغیرہ لگی ہیں۔ ۲۶؍ دسمبر کو صبح دس بجے تک اگر کوئی اطلاع نہ ملی تو ہم متبادل پروگرام بنائیں گے۔ لیکن نصف شب کے قریب انتظامیہ کے ملازمین شامیانے، قناتیں، لاؤڈسپیکر وغیرہ اتار کر لے گئے اور پبلک پارک چنیوٹ کے پنڈال میں پانی چھوڑ دیا گیا۔ کانفرنس کی منظوری نہ ملنے اور انتظامیہ کے افسوسناک رویّے کے خلاف پورے شہر میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی۔ آناً فاناً پورے شہر کے کاروباری ادارے بند ہو گئے۔ چنیوٹ کے نوجوانوں نے اس افسوسناک رویّے کے خلاف جلوس نکالا۔ آر ایم، اے سی اور ڈی ایس پی چنیوٹ نے دکانیں کھلوانے کے لئے دباؤ ڈالا اور پانچ نوجوانوں کو حراست میں لے لیا۔ جن میں عبدالجبار، غلام رسول، قمر، شہزادہ عالم شامل تھے۔
مقامی مجلس کے رہنماؤں نے ضلعی صوبائی انتظامیہ کے اس غلط رویّے پر احتجاج کیا۔ مولانا محمد شریف جالندھری نے ہوم سیکرٹری سے ملاقات کی اور انہیں مسلمانان پاکستان کے جذبات واحساسات سے مطلع کیا۔ ہوم سیکرٹری نے کمشنر فیصل آباد سے ملاقات کا کہا۔ کمشنر فیصل آباد ڈویژن نے پبلک پارک کی بجائے شاہی مسجد میں جلسہ کی اجازت دی۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
کانفرنس شاہی مسجد میں
کمشنر صاحب کی اجازت کے بعد کانفرنس کا افتتاحی اجلاس ۲۶/ دسمبر ۱۹۸۴ء بروز بدھ بعد نماز عشاء بادشاہی مسجد چنیوٹ میں منعقد ہوا۔ جس کی صدارت مولانا احمد یار چاریاری نے فرمائی۔ اس اجلاس سے مولانا سید ممتاز الحسن شاہ ، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ، مولانا ضیاء الدین آزاد نے خطاب کیا۔ بعد ازاں مجمع شاہی مسجد سے پبلک پارک کی طرف جلوس کی شکل میں روانہ ہوا۔ جہاں جامع مسجد گڑھا والی میں اجلاس شروع ہوا۔ جس کی صدارت مولانا عبید اللہ انور کے فرزند ارجمند مولانا محمد اجمل قادری نے کی۔ اجلاس سے مولانا اللہ وسایا ، مولانا منظور احمد چنیوٹی ، صاحبزادہ محمد اجمل قادری نے خطاب کیا اور یہ اجلاس صاحبزادہ اجمل قادری صاحب کی دعا پر اختتام پذیر ہوا۔
دوسرا اجلاس
۲۷/ دسمبر بروز جمعرات دس بجے دوسرا اجلاس شاہی مسجد میں شروع ہوا۔ جس کی صدارت حافظ محمد ثاقب گوجرانوالہ نے کی۔ اس اجلاس سے مولانا محمد اقبال مبلغ راولپنڈی ، مولانا محمد طفیل ارشد ، مولانا محمد یعقوب فاروق آباد شیخوپورہ نے خطاب کیا۔
تیسرا اجلاس
تیسرا اجلاس ۲۷/ دسمبر بروز جمعرات بعد نماز ظہر شروع ہوا۔ جس کی صدارت مولانا احمد حسن شاکری نے کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالحکیم سابق ایم۔این۔اے نے فرمایا کہ مسئلہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے علماء کرام کی جدوجہد اور مسلسل عمل سے کام ہوا ہے۔ مسئلہ کی تکمیل نہیں ہوئی۔ بلکہ ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ یہ ان علماء کرام کی مساعی کی برکت سے ہوا۔ جنہوں نے عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے جان ، مال ، عزت و آبرو کی قربانی پیش کی۔ جیلوں میں گئے۔ تختۂ دار کو چوما۔ مولانا نے تمام مکاتب فکر سے اتحاد و اتفاق کی اپیل کی۔ خطیب ربوہ مولانا خدا بخش شجاع آبادی نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ میں ملک سے آئے مندوبین ، مجلس تحفظ ختم نبوت کے قائدین ، مبلغین ، معاونین کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ جن کی مساعی سے مشن ختم نبوت میں پیش رفت ہوئی۔
پیر طریقت مولانا احمد یار چاریاری نے صدر مملکت جنرل محمد ضیاء الحق کو مرزائیوں کے سالانہ میلہ پر پابندی عائد کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس جلسہ پر ہمیشہ کے لئے پابندی عائد کر دی جائے۔ تا کہ ارتداد کی تبلیغ بند ہو سکے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ لندن سے آنے والی مرزا طاہر کی کیسٹوں کو ضبط کیا جائے۔ کیونکہ ان میں آئین پاکستان ، صدارتی آرڈیننس ، وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ کی توہین ہے اور وہ قابل گرفت ہیں۔ مذکورہ بالا علماء کرام کے علاوہ مولانا عبد الہادی شیخوپورہ نے بھی خطاب کیا اور یہ اجلاس مولانا احمد یار چاریاری کی دعا پر اختتام پذیر ہوا۔
چوتھی نشست
صدارت قائد تحریک ختم نبوت حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب۔ تلاوت کے بعد مختلف نعت خوانوں نے سرور کائنات ﷺ کو خراج تحسین پیش کیا۔ اس نشست کے پہلے مقرر تھے حافظ محمد اکبر اعوان صدر مجلس احرار اسلام پاکستان جنہوں نے قائدین تحریک ختم نبوت شہداء ختم نبوت ، مجاہدین ختم نبوت کو خراج عقیدت پیش کیا۔ سید محمد کفیل شاہ بخاری نواسہ حضرت امیر شریعت نے کہا کہ پاکستان کا بچہ بچہ ختم
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
نبوت کے تحفظ کے لئے اپنا تن من دھن قربان کر دے گا۔ لیکن کوئی سودہ بازی نہیں کرے گا۔
مولانا عبدالرؤف چشتی خطیب چنیوٹ نے کہا کہ گورنمنٹ پنجاب نے پبلک پارک چنیوٹ میں ختم نبوت کانفرنس پر پابندی لگا کر دانشمندی کا ثبوت نہیں دیا۔ انہوں نے شدید احتجاج کیا۔ مولانا ضیاء الرحمٰن فاروقی نے جلسہ پر ناروا پابندی پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلم قوم اور پنجاب کے غیور مسلمان مسئلہ ختم نبوت پر کسی قسم کی پابندی کو برداشت نہیں کریں گے۔
مولانا رشید احمد لدھیانوی نے کہا کہ جب تک مسئلہ ختم نبوت اپنے لوازمات سمیت حل نہیں ہوتا۔ تحریک جاری رکھنی چاہئے انہوں نے تحریک ختم نبوت کے شہداء کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔ ابن امیر شریعت سید عطاء المؤمن شاہ بخاری نے کہا کہ قوم ایسے لیڈروں کو جانتی ہے جو جمہوریت کے نام پر قوم کو میدان جہاد میں نکالتے ہیں۔ لیکن امتناع قادیانیت آرڈیننس کے خلاف نام نہاد انسانی حقوق کی بات کی جاتی ہے۔
مولانا سید عاشق حسین شاہ صاحب لاہور جو کہ بریلوی مکتب فکر کے نمائندے کی حیثیت سے تشریف لائے تھے، نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ جانور ’’گوہ‘‘ تو حضور ﷺ کی ختم نبوت کو سمجھ سکتے ہیں لیکن نام نہاد دانشوروں، سائنسدانوں کو یہ مسئلہ سمجھ نہیں آتا۔ شیعہ رہنما خاقان بابر نے کہا کہ شیعہ و سنی کا مرکز ارادت نبی کریم ﷺ ایک ہیں۔ اگر وہ مرکز محبت محفوظ ہے تو سنی بھی محفوظ ہے۔ شیعہ بھی محفوظ ہے۔ اگر مرکز محفوظ نہیں تو کچھ نہیں۔
مولانا عبدالشکور دین پوری نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔ مسئلہ ختم نبوت ازل تا ابد چلا آیا ہے اور چلتا رہے گا۔ صدیق اکبر ؓ نے بارہ سو صحابہ کی قربانی دے کر ثابت کر دیا ہے کہ مسئلہ ختم نبوت کے لئے بڑی سے بڑی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہئے۔ انہوں نے تمام مکاتب فکر سے اتحاد و اتفاق کی اپیل کی۔ آخری نبی، آخری صبح، آخری پیغام میں حضور ﷺ نے ختم نبوت کا پیغام دیا ہے۔ تکمیل دین کا اعلان کیا ہے۔
مولانا عبدالمجید ندیم شاہ صاحب نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ سرور کائنات ﷺ نے بنی نوع انسان کی شیرازہ بندی کا تصور دیا۔ یہ آپ کا اعجاز ہے کہ آپ کے نام پر تمام تر اختلاف کے باوجود امت اکٹھی ہو جاتی ہے۔ ہم اس دن مبارکباد پیش کریں گے جب نبوت کے غداروں کے متعلق رفیق نبوت کا فیصلہ نافذ کیا جائے گا۔
۲۸ / دسمبر آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس کے تیسرے روز کا پہلا اجلاس نماز جمعہ سے پہلے شروع ہوا۔ جس میں مبلغین ختم نبوت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد اقبال میلسوی نے خطاب کیا۔ جب کہ خطبہ جمعہ خطیب شاہی مسجد مولانا محمد حسین چنیوٹی نے ارشاد فرمایا۔ اس اجلاس کی صدارت امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد نے فرمائی۔ مولانا محمد حسین چنیوٹی نے کہا کہ ختم نبوت کے لئے میری مسجد ہر وقت حاضر ہے۔ میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتا ہوں۔ اس مسئلہ کے تحفظ کے لئے تمام امت مسلمہ کے مکاتب فکر مولانا خان محمد صاحب کی صدارت و قیادت پر متحد و متفق ہیں۔
جمعۃ المبارک کے بعد اجلاس کی صدارت حضرت الامیر نے فرمائی۔ تلاوت کے بعد مولانا سید عبدالمالک شاہ گوجرانوالہ نے فتنہ مرزائیت کی بیخ کنی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے مرزائیوں کی کلیدی آسامیوں سے علیحدگی کا مطالبہ کیا۔ اجلاس پیر طریقت حضرت مولانا خواجہ خان محمد کی دعا پر اختتام پذیر ہوا۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
آخری اجلاس
۲۸ / دسمبر ۱۹۸۴ء بعد از نماز عشاء مولانا محمد حسین چنیوٹی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس کا آغاز حافظ محمد اشرف متعلم مدرسہ ختم نبوت ربوہ کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ محمد یونس صوفی ارشاد احمد نے نظمیں پڑھیں۔ نظموں کے بعد مولانا اللہ وسایا نے قراردادیں پیش کیں اور قراردادوں کا پس منظر بیان کیا۔ صدر جلسہ مولانا محمد حسین چنیوٹی نے قراردادوں کی تائید کی۔ مولانا منظور احمد چنیوٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ قادیانیوں کے ظلی حج جو ۹۲ سال سے ہوتا چلا آ رہا ہے اب وہ نہیں ہو رہا۔ یہ آپ حضرات کی کامیابی ہے۔ انہوں نے مقامی انتظامیہ کی بدعہدی کی مذمت کی کہ انہوں نے اس مقدس کانفرنس کے ساتھ زیادتی کی کہ ہماری کانفرنس کو پبلک پارک میں نہ ہونے دیا۔ صاحبزادہ طارق محمود مدیر لولاک نے کہا کہ میں آج تقریر کے لئے نہیں بلکہ تاجدار ختم نبوت کی کانفرنس میں شرکت کے لئے حاضر ہوا ہوں۔ خدا نے تمام انبیاء کو مختلف ایوارڈ دیئے۔ کسی کو خلیل اللہ، کسی کو صفی اللہ کہا کسی کو روح اللہ، کلیم اللہ، ذبیح اللہ کہا۔ لیکن آپ کو رسول اللہ کہا۔ خاتم النبیین کہا۔ ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ کی یہ پہلی کانفرنس ہے کہ آج جہاں ہمارے محسن و مربی مولانا تاج محمود نہیں ہیں۔ جو اس سٹیج کے روح رواں ہوتے تھے۔
مولانا عبد القادر روپڑی اور مولانا سید امیر حسین گیلانی نے کہا کہ مسئلہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے ہم ایک ہیں جو ختم نبوت کا منکر ہے وہ پورا بے ایمان ہے۔ اس سٹیج پر صرف مسئلہ ختم نبوت کے متعلق بات ہونی چاہئے۔ ضیاء الحق نے مرزائیوں کا سالانہ جلسہ جو حج کی حیثیت رکھتا تھا کو بند کر کے جرأت مندی کا ثبوت دیا ہے۔
مولانا عبد القادر آزاد خطیب بادشاہی مسجد لاہور نے امیر شریعت کو خراج تحسین پیش کیا۔ جنہوں نے اس مقدس تحریک کی بنیاد رکھی آج وہ تحریک تکمیل پذیر ہو رہی ہے۔
صاحبزادہ افتخار الحسن شاہ فیصل آباد نے خاتم المقررین کا مفہوم بیان کرتے ہوئے کہا کہ جس کے بعد کوئی اور مقرر نہ ہو۔ ایسے ہی خاتم النبیین ہے۔ صاحبزادہ صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں ختم نبوت کی تفسیر بیان کی اور کہا کہ خدا اپنی وحدانیت میں لاشریک تھا۔ اس کی ذات و صفات میں کوئی شریک نہیں اور یہ ختم نبوت میں وحدہ لاشریک ہیں۔ حضرت قتادہ تشریف لائے کہ میری آنکھ نکلی ہوئی ہے۔ آپ نے لعاب دہن لگایا تو نکلی ہوئی آنکھ ٹھیک ہو گئی مگر جس کی اپنی آنکھ صحیح نہ ہو وہ نبی کیسا؟
میں ہارون آباد سے آ رہا تھا چیچہ وطنی کے قریب رات کے ایک بجے ٹریفک پولیس نے ایک ٹرک کو پکڑا ہوا تھا۔ میں نے کہا یہ کیوں؟ کہنے لگا کہ اس کی ایک بتی صحیح نہیں اور قانون کے مطابق ایک بتی والی گاڑی نہیں چل سکتی۔ میں نے کہا تمہاری ہائی وے اتنی مقدس اور قصر نبوت والی سڑک اتنی گئی گزری ہے اس پر ایک بتی آنکھ والا نبی بن گیا۔
رنجیت سنگھ نے مراسی کو کہا کہ تجھے پیدا ہوتے تو بہت دیر لگی ہوگی۔ اس نے کہا کہ میں نے آپ کی طرح جلدی نہیں کی کہ ایک آنکھ بھی نہ بننے دی۔ صاحبزادہ صاحب نے صدر پاکستان کو آرڈیننس کے نفاذ پر مبارکباد دی اور مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کو متحد و متفق ہونے کی اپیل کی۔
(یوں اس جلد کو دسمبر ۱۹۸۴ء کے حالات کے اس موڑ پر بند کرتے ہیں۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحریک ختم نبوت
کے سلسلہ میں
۱۹۸۵ء
کے
حالات و واقعات
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ہمارے قابل احترام بھائی اور ساتھی مولانا سید عبداللہ معتصم نے تحریک ختم نبوت ۱۹۸۴ء پر مشتمل کتاب ترتیب دی جو اگست ۲۰۱۵ء میں شائع ہوئی۔ کتاب ۶۸۸ صفحات پر معلوماتی دستاویز ہے۔ اس میں آپ نے ۲۶؍اپریل ۱۹۸۴ء کے امتناع قادیانیت آرڈیننس کا تو ذکر فرمایا مگر آرڈیننس کا مکمل متن شامل نہ کیا۔ ہم اس کتاب کا آغاز امتناع قادیانیت آرڈیننس کے متن سے کرتے ہیں تاکہ یہ ریکارڈ کا حصہ بن جائے۔ وہ یہ ہے:
آرڈیننس کا اجراء اور قادیانیوں کی کلمہ مہم کی ناکامی
یاد رہے کہ امتناع قادیانیت آرڈیننس کا ۲۶؍ اپریل ۱۹۸۴ء کو اجراء ہوا۔ حکومت پاکستان نے اسے شائع کیا جو یہ ہے:
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
پیش لفظ
صدر مملکت نے قادیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں کی خلاف اسلام سرگرمیوں کو روکنے کے لئے اور قانون میں ترمیم کے لئے ایک آرڈیننس بنام قادیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں کی خلاف اسلام سرگرمیاں (امتناع و تعزیر) ۱۹۸۴ء نافذ کیا ہے۔ یہ آرڈیننس ۲۶؍اپریل ۱۹۸۴ء کو نافذ کیا گیا ہے۔
تعزیرات پاکستان میں دفعہ ۲۹۸۔بی کا اضافہ کیا گیا ہے جس کی رو سے قادیانی گروپ، لاہوری گروپ کے کسی بھی ایسے شخص کو جو زبانی یا تحریری طور پر یا کسی فعل کے ذریعے مرزا غلام احمد کے جانشینوں یا ساتھیوں کو ’امیر المومنین‘، ’صحابہ‘ یا اس کی بیوی کو ’ام المومنین‘ یا اس کے خاندان کے افراد کو ’اہل بیت‘ کے الفاظ سے پکارے یا اپنی عبادت گاہ کو ’مسجد‘ کہے۔ تین سال کی سزا اور جرمانہ کیا جاسکتا ہے۔
اس دفعہ کی رو سے قادیانی گروپ، لاہوری گروپ یا احمدیوں کے ہر اس شخص کی بھی یہی سزا ہوگی جو اپنے ہم مذہب افراد کو عبادت کے لئے جمع کرنے یا بلانے کے لئے اس طرح کی اذان کہے یا اس طرح کی اذان دے جس طرح کے مسلمان دیتے ہیں۔
ایک نئی دفعہ ۲۹۸۔سی کا تعزیرات پاکستان میں اضافہ کیا گیا ہے۔ جس کی رو سے متذکرہ گروپوں میں سے ہر ایسا شخص جو بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرے اور اپنے عقیدے کو اسلام کہے یا اپنے عقیدے کی تبلیغ کرے یا دوسروں کو اپنا مذہب قبول کرنے کی دعوت دے یا کسی بھی انداز میں مسلمانوں کے جذبات مشتعل کرے اس سزا کا مستحق ہوگا۔
اس آرڈیننس نے قانون فوجداری ۱۸۹۸ء کی دفعہ ۹۹۔اے میں بھی ترمیم کردی ہے جس کی مدد سے صوبائی حکومتوں کو یہ اختیار مل گیا ہے کہ ایسے اخبار، کتاب اور دیگر دستاویز کو جو تعزیرات پاکستان میں اضافہ شدہ دفعہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شائع کی گئی تو ضبط کرسکتی ہے۔
اس آرڈیننس کے تحت ویسٹ پاکستان پریس اینڈ پبلی کیشن آرڈیننس ۱۹۶۳ء کی دفعہ ۲۴ میں بھی ترمیم کردی گئی ہے جس کی رو سے صوبائی حکومتوں کو یہ اختیار مل گیا ہے کہ وہ ایسے پریس کو بند کر دے جو تعزیرات پاکستان کی اس نئی اضافہ شدہ دفعہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کوئی کتاب یا اخبار چھاپتا ہے۔ اس اخبار کا ڈیکلریشن منسوخ کر دے جو متذکرہ دفعہ کی خلاف ورزی کرتا ہے اور ہر اس کتاب یا اخبار پر قبضہ کرلے جس کی چھپائی یا اشاعت پر اس دفعہ کی رو سے پابندی ہے۔
تحریک ختم نبوت(۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آرڈیننس فوری طور پر نافذ ہو گیا ہے۔ آرڈیننس کا متن مندرجہ ذیل ہے:
آرڈیننس نمبر ۲۰
مجریہ ۱۹۸۴ء
قادیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں کو خلاف اسلام سرگرمیوں سے روکنے کے لئے قانون میں ترمیم کرنے کا آرڈیننس۔
چونکہ یہ قرین مصلحت ہے کہ قادیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں کی خلاف اسلام سرگرمیوں سے روکنے کے لئے قانون میں ترمیم کی جائے۔
اور چونکہ صدر کو اطمینان ہے کہ ایسے حالات موجود ہیں جن کی بناء پر فوری کارروائی کرنا ضروری ہو گیا ہے۔
لہٰذا اب ۵/جولائی ۱۹۷۷ء کے اعلان کے بموجب اور اس سلسلے میں اسے مجاز کرنے والے تمام اختیارات استعمال کرتے ہوئے صدر نے حسب ذیل آرڈیننس وضع اور جاری کیا ہے۔
حصہ اوّل
ابتدائیہ
مختصر عنوان اور آغاز نفاذ
- ۱...... یہ آرڈیننس قادیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں کی خلاف اسلام سرگرمیاں (امتناع و تعزیری) آرڈیننس ۱۹۸۴ء کے نام
سے موسوم ہوگا۔
- ۲...... یہ فی الفور نافذ العمل ہوگا۔
آرڈیننس عدالتوں کے احکام اور فیصلوں پر غالب ہوگا
اس آرڈیننس کے احکام کسی عدالت کے کسی حکم یا فیصلے کے باوجود مؤثر ہوں گے۔
حصہ دوم
مجموعہ تعزیرات پاکستان
ایکٹ نمبر ۴۵، بابت ۱۸۶۰ء کی ترمیم
ایکٹ نمبر ۴۵ بابت ۱۸۶۰ء میں نئی دفعات
۲۹۸-ب اور ۲۹۸-ج کا اضافہ
مجموعہ تعزیرات پاکستان ایکٹ نمبر ۴۵، ۱۸۶۰ء میں باب ۱۵ میں دفعہ ۲۹۸-الف کے بعد حسب ذیل نئی دفعات کا اضافہ کیا جائے گا۔ یعنی
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۲۹۸- ب بعض مقدس شخصیات یا مقامات کے لئے مخصوص القاب، اوصاف یا خطابات وغیرہ کا ناجائز استعمال
- ......۱ قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو خود کو احمدی یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی شخص جو الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے:
- الف ...... حضرت محمد ﷺ کے خلیفہ یا صحابی کے علاوہ کسی شخص کو امیر المومنین، خلیفۃ المومنین، خلیفۃ المسلمین، صحابی یا رضی اللہ عنہ کے طور پر منسوب کرے یا مخاطب کرے۔
- ب ...... حضرت محمد ﷺ کی کسی زوجہ مطہرہ کے علاوہ کسی ذات کو ام المومنین کے طور پر منسوب کرے یا مخاطب کرے۔
- ج ...... حضرت محمد ﷺ کے خاندان (اہل بیت) کے کسی فرد کے علاوہ کسی شخص کو اہل بیت کے طور پر منسوب کرے یا مخاطب کرے۔
- د ...... اپنی عبادت گاہ کو ”مسجد“ کے طور پر منسوب کرے یا موسوم کرے یا پکارے۔
تو اسے کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائے گی جو تین سال تک ہو سکتی ہے اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہوگا۔
- ......۲ قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو خود کو احمدی یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی شخص جو الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری، یا مرئی نقوش کے ذریعے اپنے مذہب میں عبادت کے لئے بلانے کے طریقے یا صورت کو اذان کے طور پر منسوب کرے یا اس طرح اذان دے، جس طرح کہ مسلمان دیتے ہیں تو اسے کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائے گی جو تین سال ہو سکتی ہے اور وہ جرمانے کا مستوجب بھی ہوگا۔
۲۹۸ قادیانی گروپ وغیرہ کا شخص جو خود کو مسلمان کہے یا اپنے مذہب کی تبلیغ یا تشہیر کرے
قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو خود کو احمدی یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی شخص جو بلاواسطہ یا بالواسطہ خود کو مسلمان ظاہر کرے یا اپنے مذہب کو اسلام کے طور پر موسوم کرے یا منسوب کرے یا الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے اپنے مذہب کی تبلیغ یا تشہیر کرے یا دوسروں کو اپنا مذہب قبول کرنے کی دعوت دے یا کسی بھی طریقے سے مسلمانوں کے مذہبی احساسات کو مجروح کرے۔ کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائے گی جو تین سال تک ہو سکتی ہے اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہوگا۔
حصہ سوم
مجموعہ ضابطہ فوجداری ۱۸۹۸ء
(ایکٹ نمبر ۵ بابت ۱۸۹۸ء) کی ترمیم
ایکٹ نمبر ۵ بابت ۱۸۹۸ء کی دفعہ ۹۹۔ الف کی ترمیم
مجموعہ ضابطہ فوجداری ۱۸۹۸ء اور ایکٹ نمبر ۵ بابت ۱۸۹۸ء میں جس کا حوالہ بعد ازیں مذکورہ مجموعہ کے طور پر دیا گیا ہے دفعہ ۹۹۔ الف میں ذیلی دفعہ (۱) میں:
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- الف...... الفاظ اور سکتہ ”اس طبقہ کے“ کے بعد الفاظ ہندسے ”قوسین“ حرف اور سکتہ اس نوعیت کا کوئی مواد جس کا حوالہ مغربی پاکستان
پریس اور پبلی کیشنز آرڈیننس ۱۹۶۳ء کی دفعہ ۲۴ کی ذیلی دفعہ (۱) کی شق (ی،ی) میں دیا گیا ہے، شامل کر دیئے جائیں گے اور
- ب...... ہندسہ اور حرف ۲۹۸۔الف کے بعد الفاظ، ہندسے اور حرف دفعہ ۲۹۸۔ب یا دفعہ ۲۹۸۔ج شامل کر دیئے جائیں گے۔
ایکٹ نمبر ۵ بابت ۱۸۹۸ء کی جدول دوم کی ترمیم
مذکورہ مجموعہ میں جدول دوم میں دفعہ ۲۹۸۔الف سے متعلق اندراجات کے بعد حسب ذیل اندراجات شامل کر دیئے جائیں گے، یعنی:
١ ٢ ٣ ۴ ۵ ٦ ٧ ٨ ۲۹۸۔ب بعض مقدس شخصیات کے لئے مخصوص القاب، اوصاف ایضاً ایضاً ناقابل ایضاً تین سال کے لئے کسی ایک ایضاً اور خطابات وغیرہ کا ناجائز استعمال ضمانت قسم کی سزائے قید اور جرمانہ ۲۹۸۔ج قادیانی گروپ وغیرہ کا شخص جو خود کو مسلمان ظاہر کرے یا ایضاً ایضاً ایضاً ایضاً ایضاً ایضاً اپنے مذہب کی تبلیغ یا تشہیر کرے
حصہ چہارم
مغربی پاکستان پریس اور پبلی کیشنز آرڈیننس ۱۹۶۳ء
(مغربی پاکستان آرڈیننس نمبر ۳۰ مجریہ ۱۹۶۳ء) کی ترمیم
مغربی پاکستان آرڈیننس ۱۹۶۳ء کی دفعہ ۲۴ کی ترمیم
مغربی پاکستان پریس اور پبلی کیشنز آرڈیننس ۱۹۶۳ء (مغربی پاکستان آرڈیننس نمبر ۳۰ مجریہ ۱۹۶۳ء) میں دفعہ ۲۴ میں ذیلی دفعہ (۱) میں شق (ی) کے بعد حسب ذیل نئی شق شامل کر دی جائے گی، یعنی:
- (ی،ی) ایسی نوعیت کی ہوں جن کا حوالہ مجموعہ تعزیرات پاکستان (ایکٹ نمبر ۴۵ بابت ۱۸۶۰ء) کی دفعات ۲۹۸۔الف،
۲۹۸۔ب یا ۲۹۸۔ج میں دیا گیا ہے۔“
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اس آرڈیننس کے ذریعہ قادیانیوں پر جو قدغن لگی اور اہل اسلام کے مؤقف کو حکومتی سطح پر تسلیم کیا گیا، اس کو ملاحظہ فرمائیے:
- ۱...... اس آرڈیننس کی رو سے قادیانیوں کی سرگرمیوں کو خلاف اسلام قرار دیا گیا۔
- ۲...... اس آرڈیننس کی رو سے مرزا قادیانی کے دیکھنے والوں کو ”صحابی“ نہیں کہہ سکتے۔
- ۳...... اس آرڈیننس کی رو سے مرزا قادیانی کے دیکھنے والوں کو ”رضی اللہ عنہ“ نہیں کہہ سکتے۔
- ۴...... اس آرڈیننس کی رو سے قادیانی اپنے چیف گرو کو ”امیر المؤمنین“ نہیں کہہ سکتے۔
- ۵...... اس آرڈیننس کی رو سے قادیانی اپنے چیف گرو کو ”خلیفۃ المؤمنین“ نہیں کہہ سکتے۔
- ۶...... اس آرڈیننس کی رو سے قادیانی اپنے چیف گرو کو ”خلیفۃ المسلمین“ نہیں کہہ سکتے۔
- ۷...... اس آرڈیننس کی رو سے قادیانی مرزا غلام احمد قادیانی کی بیوی کو ”ام المؤمنین“ نہیں کہہ سکتے۔
- ۸...... اس آرڈیننس کی رو سے قادیانی مرزا غلام احمد قادیانی کے خاندان کو ”اہل بیت“ نہیں کہہ سکتے۔
- ۹...... اس آرڈیننس کی رو سے قادیانی اپنی عبادت گاہ کو ”مسجد“ نہیں کہہ سکتے۔
- ۱۰...... اس آرڈیننس کی رو سے قادیانی مسلمانوں کی طرح ”اذان“ نہیں کہہ سکتے۔
- ۱۱...... اس آرڈیننس کی رو سے قادیانی خود کو ”مسلمان“ نہیں کہہ سکتے۔
- ۱۲...... اس آرڈیننس کی رو سے قادیانی اپنے دھرم کو ”اسلام“ نہیں کہہ سکتے۔
- ۱۳...... اس آرڈیننس کی رو سے قادیانی اپنے دھرم قبول کرنے کی دعوت نہیں دے سکتے۔
- ۱۴...... اس آرڈیننس کی رو سے قادیانی کسی بھی اقدام سے مسلمانوں کے مذہبی احساسات کو مجروح نہیں کر سکتے۔
اگر وہ ایسا کریں گے تو ان کو تین سال کی عدالت سزا دے سکتی ہے اور جرمانہ بھی۔ گویا اب قادیانی خود کو کسی بھی طرح مسلمان نہیں کہہ سکتے۔
امتناع قادیانیت آرڈیننس کے اجراء کے بعد قادیانیوں نے وفاقی شرعی عدالت میں اپیل دائر کی جو خارج ہوگئی۔ وفاقی شرعی عدالت کا متفقہ تفصیلی فیصلہ ۲۸؍اکتوبر ۱۹۸۴ء کو ان کے خلاف آیا۔ اب قادیانیوں نے کلمہ طیبہ کے بیج سینوں پر لگا کر قانون شکنی کو تحریک کی شکل دی۔ قادیانیوں کی کلمہ دشمنی یا کلمہ دوستی کی ملک میں ایک بحث چھڑ گئی۔ مجلس نے اپنا کردار ادا کیا۔ اس کی تفصیلات اور ۱۹۸۵ء میں بھی قادیانیوں نے اس مہم کو آگے چلانے کی سعی لاحاصل کی۔ اس مہم سمیت بہت سارے قادیانیوں کی ملک دشمن کی جو باتیں قوم کے سامنے آئیں وہ آپ حضرات کتاب میں ملاحظہ فرمائیں گے کہ کس طرح قادیانیوں نے قانون شکنیاں کیں۔
امتناع قادیانیت آرڈیننس کی خلاف ورزی اور مجلس کا بروقت اقدام
امتناع قادیانیت آرڈیننس ۲۶؍ اپریل ۱۹۸۴ء کو جاری ہوا۔ قادیانی اخبار الفضل مسلسل خلاف ورزی کر رہا تھا۔ اس پر پابندی لگی۔ قادیانیوں نے کچھ وقت تو خاموشی سے گزار لیا لیکن پھر فیصل آباد کے دو اخبار ہفتہ وار ”امن“ جس کے ایڈیٹر حافظ اکرام اختر تھے اور روزنامہ ”پیغام“ جس کے ایڈیٹر سید محمد وکیل جیلانی تھے۔ ان دونوں اخبارات کی کئی اشاعتیں قادیانیوں کے اخبار الفضل کے بدل کے طور پر شائع ہوئیں۔ ۲۱؍جنوری ۱۹۸۵ء کو مولانا تاج محمود کی یاد میں پہلا جلسہ تھا جو میونسپل کارپوریشن ہال بیرون کارخانہ بازار فیصل آباد میں
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ۴۶۹ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہوا۔ جس میں مقررین نے مذکورہ بالا پرچوں کے مالکان سے شدید احتجاج کیا۔ پورے شہر فیصل آباد میں اس جلسہ سے بلند ہونے والی صداء بازگشت نے ایسا ماحول بنا دیا کہ دونوں اخبارات کے ایڈیٹروں کو منہ چھپانا مشکل ہو گیا۔ اگلے روز مجلس تحفظ ختم نبوت فیصل آباد کی طرف سے یہ اشتہار شائع ہوا۔
’’ایمان فروشی کا شرمناک مظاہرہ‘‘
سید محمد وکیل جیلانی اور حافظ اکرام کی عقیدۂ ختم نبوت سے غداری
عوامی ایڈیشن روزنامہ پیغام ہفت روزہ امن فیصل آباد جلد ۲۳ شمارہ ۱۶ ایڈیٹر نوید اختر غازی ایڈیٹر انچارج محمد اسلم ندیم مؤرخہ ۲۰؍جنوری ۱۹۸۵ء / ۲۷؍ربیع الثانی ۱۴۰۵ھ اسٹنٹ ایڈیٹر میاں سجاد احمد امام جماعت احمدیہ کی لندن میں مصروفیات حضرت امام جماعت احمدیہ یورپی ممالک کے دورہ کے بعد واپس مجلس انصار اللہ برطانیہ کے سالانہ اجتماع سے تمام جماعت احمدیہ یورپ کے بعد جرمنی اور فرانس کا دورہ کے خطابات خطبات جمعہ اور مجالس عرفان کا انعقاد مجالس عرفان اور خطابات جمعہ یورپین سنٹر میں ایک تقریب محترم چوہدری عبد الرحیم صاحب ایڈووکیٹ ملتان کا (خیر مقدم) ایڈیٹر، پبلشر: سید محمد وکیل جیلانی پبلشرز: حافظ اکرام الحق چناب پرنٹرز جڑانوالہ فیصل آباد پرنٹر: ارشد مجید مقام اشاعت: روزنامہ پیغام فیصل آباد مطبع: کمرشل نیوز پریس ریلوے روڈ فیصل آباد مقام اشاعت: گرینڈ ہوٹل کچہری بازار فیصل آباد
امتناع قادیانیت آرڈیننس کے تحت قادیانی اپنے مذہب کی تبلیغ یا تشہیر نہیں کر سکتے جس کے مطابق حال ہی میں روزنامہ ’’الفضل‘‘ اور ضیاء الاسلام پریس ربوہ کو حکومت نے سربمہر کر دیا ہے لیکن حافظ اکرام اختر پبلشر ہفت روزہ ’’امن‘‘ (نمائندہ خصوصی روزنامہ ’’مشرق‘‘ و سید محمد وکیل جیلانی پبلشر و ایڈیٹر روزنامہ ’’پیغام‘‘ نے چند ٹکوں کی خاطر عقیدۂ ختم نبوت اور شہدائے ختم نبوت کے خون سے غداری کرتے ہوئے اپنے پرچے مرزائیوں کو دے کر ایمان فروشی کا شرمناک مظاہرہ کیا ہے۔ اس طرح ان ایمان فروشوں نے قادیانیت کے خلاف حکومت کے جرأت مندانہ اسلامی اقدامات کو ناکام بنانے کی سعی مذموم کا ارتکاب کیا ہے۔
ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ قادیانیت کی تبلیغ و تشہیر کا ذریعہ بننے والے مذکورہ اخبارات کا ڈیکلریشن منسوخ کر کے امتناع قادیانیت آرڈیننس پر پوری طرح عمل درآمد کرایا جائے۔ حافظ اکرام اختر کو نیشنل پریس ٹرسٹ کی ملازمت سے نکالا جائے۔
مجلس تحفظ ختم نبوت فیصل آباد پاکستان‘‘
اس کے بعد ہفتہ وار ’’امن‘‘ کے ایڈیٹر حافظ اکرام اختر نے روزنامہ نوائے وقت لاہور کے آخری صفحہ پر درج ذیل وضاحتی اشتہار شائع کیا۔
تحریک ختم نبوت (۴) ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ضروری وضاحت....... حافظ اکرام الحق
جماعت احمدیہ ربوہ کے ترجمان ’الفضل‘ کے بند ہو جانے کے بعد مرزائیوں نے اپنے پراپیگنڈے کے لئے غیر قانونی طور پر ہفت روزہ ’امن‘ کے شمارہ ۹۷ مؤرخہ ۱۰؍ جنوری ۱۹۸۵ء کی دو جعلی کاپیاں بنا کر میرے علم کے بغیر کسی جگہ سے فوراً چھپوا کر تقسیم کی ہیں۔ میں نے اس ضمن میں متعلقہ حکام اور کوتوالی پولیس کو تحریری طور پر آگاہ کر دیا ہے۔ میں مرزائیوں کے ان اوچھے ہتھکنڈوں کی پر زور مذمت کرتا ہوں۔ میرے نزدیک نبی اکرم ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا کافر اور مرتد ہے۔ نیز مرزائیوں کے ساتھ ان کی تبلیغ کے لئے تعاون کرنا بھی میرے نزدیک کفر ہے۔ منجانب: حافظ اکرام الحق پبلشر ہفت روزہ ’امن‘ فیصل آباد
روزنامہ ’پیغام‘ کا عوامی ایڈیشن سازش ہے....... محمد وکیل جیلانی
مکرمی ایڈیٹر صاحب، مقامی مجلس ختم نبوت نے شہر میں میرے خلاف ایک پوسٹر دیواروں پر چسپاں کیا ہے جس میں مجھ پر ایسے الزامات لگائے گئے ہیں جن کا میں نے نہ تو ارتکاب کیا ہے اور نہ ہی میرے تصور میں اس کا ارتکاب آسکتا ہے۔ وہ الزام یہ ہے کہ روزنامہ ’پیغام‘ کی پیشانی کے ساتھ ایک ورق عوام ایڈیشن کے نام سے شائع کیا گیا ہے جس میں مرزائیوں کے متعلق چند خبریں ہیں اور یہ کہ میں نے اپنا اخبار مرزائیوں کو دے دیا ہے۔ یہ الزام سراسر غلط اور بے بنیاد ہے۔ مرزائیوں کے ساتھ ان کی تبلیغ کے لئے تعاون کرنا میرے نزدیک کفر ہے۔ چہ جائیکہ رقم لے کر اخبار کرایہ پر دے دیا جائے۔ الزام کی تردید سے پیشتر میں ضروری سمجھتا ہوں کہ ختم نبوت کے مسئلہ پر میں اپنے عقیدے کا اعلان کروں کہ رسول کریم ﷺ کی شریعت آخری اور مکمل شریعت ہے۔ رسول کریم ﷺ کا زمانہ نبوت آخری زمانہ ہے۔ اب نہ کوئی نبی آئے گا اور نہ ہی کوئی شریعت آئے گی۔ کوئی بدبخت انسان اگر کسی معنوں میں نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ کافر ہے اور اس بدبخت انسان کے دعویٰ کرنے اور اس پر ایمان لانے والے بھی کافر ہیں۔ اپنے مذہبی عقیدہ کے اظہار کے بعد ضروری سمجھتا ہوں کہ پیغام کی لوح کے ساتھ شائع ہونے والے ایک ورق عوامی ایڈیشن کے متعلق کچھ عرض کروں۔ آپ جانتے ہیں کہ کونسلر منتخب ہونے کے بعد علاقائی مسائل کی مصروفیات کی وجہ سے روزنامہ ’پیغام‘ کی ترتیب و تدوین کے لئے اتنا وقت نہیں دے سکتا، جتنا مجھے دینا چاہئے۔ آپ یقین کیجئے کہ یہ عوامی ایڈیشن میرے علم میں لائے بغیر شائع کیا گیا ہے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے پوسٹر کے بعد میں نے فائل دیکھی اور عوامی ایڈیشن کا مطالعہ کیا ہے۔ اس میں ایک نظم ہے، ایک غزل ہے۔ نوائے وقت میں شائع شدہ عبدالقادر حسن کی ایک ڈائری ہے۔ دو عام مضامین ہیں جن میں ایک مضمون قائد اعظم کے متعلق ہے جو روزنامہ ”جنگ“ میں شائع ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ چند خبریں مرزائی فرقہ کے متعلق ہیں جن میں مرزائیت کی تبلیغ وغیرہ کے متعلق ایک لفظ تک نہیں ہے۔ ان تمام حقائق کے باوجود شخصی عقیدہ کے پیش نظر مجھے اس عوامی ایڈیشن کی اشاعت پر خود اعتراض ہے اور میں تحقیقات کر رہا ہوں کہ اس کا پس منظر کیا ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے ایک سازش ہے جس سے میری کردار کشی مقصود ہے۔
مجھے افسوس ہے کہ مقامی مجلس تحفظ ختم نبوت نے مجھ سے وضاحت طلب کئے بغیر شدید ردعمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ وگرنہ رسول کریم ﷺ سے محبت ہی میرا سرمایہ حیات ہے اور اس جذبہ کے تحت بارگاہ رسالت میں نعتوں کا نذرانہ پیش کر کے روز قیامت اپنی بخشش کا سامان کر رہا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ آپ میری وضاحت اپنے مؤقر جریدہ میں شائع کر دیں گے۔ (سید محمد وکیل جیلانی ایڈیٹر روزنامہ ”پیغام“ و میونسپل کونسلر فیصل آباد)
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد، مؤرخہ ۳۰؍ جنوری ۱۹۸۵ء)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
روزنامہ ”پیغام“ اور ہفت روزہ ”امن“ کی مرزائیت نوازی سے دل برداشتہ ہو کر ذیل میں صاحبزادہ طارق محمود ایڈیٹر لولاک کا مضمون ملاحظہ ہو:
کالی بھیڑیں
کاش! یہ لوگ جانتے ہوتے کہ قلم کی آبرو ماں، بہن یا بیٹی کی آبرو سے کم نہیں ہوتی (ایڈیٹر)
ہم نے لولاک کے گزشتہ شمارہ میں روزنامہ ”پیغام“ اور ہفت روزہ ”امن“ کے متعلق مجلس تحفظ ختم نبوت فیصل آباد کا اشتہار اور دونوں اخبارات کے پبلشروں سید محمد وکیل جیلانی اور حافظ اکرام الحق کے وضاحتی بیانات شائع کر کے اس پر تبصرہ کا حق محفوظ رکھا تھا۔ ہم نے یہ محتاط اور سنجیدہ رویہ اس لئے اختیار کیا تھا تا کہ ہم صحیح صورت حال اور اصل حقائق تک پہنچ سکیں۔
تنظیم تحفظ ختم نبوت (طلباء) پنجاب میڈیکل کالج فیصل آباد کے زیر اہتمام مولانا تاج محمود کی برسی کے موقع پر جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مولانا اللہ وسایا نے انکشاف کیا تھا کہ ہفت روزہ ”امن“ قادیانیوں کی تبلیغ و تشہیر کے لئے استعمال ہو رہا ہے۔ اس پر شدید احتجاج کیا گیا۔ ۲۵/جنوری ۱۹۸۵ء بروز جمعۃ المبارک مقامی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ردعمل کے طور پر ایک پوسٹر شائع کیا جس میں روزنامہ ”پیغام“ اور ہفت روزہ ”امن“ میں شائع شدہ مواد کے فوٹو دستاویزی ثبوت کے طور پر پیش کئے گئے تا کہ حکومت اور عوام کو اصل حقائق سے آگاہ کیا جا سکے۔
تفصیلات کے مطابق روزنامہ ”پیغام“ ۲۰/جنوری اور ہفت روزہ ”امن“ ۱۰، ۱۱، ۱۶، ۲۳/جنوری کے شماروں کے ذریعے قادیانیوں کی تبلیغ ارتداد کرتے ہوئے اسلام دشمنی، ایمان فروشی، عقیدۂ ختم نبوت سے غداری اور امتناع قادیانیت آرڈیننس کی صریحاً خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ یہ تمام پرچے ہمارے پاس موجود ہیں۔ ان اخبارات میں نہ صرف قادیانی جماعت کی خبریں، سرگرمیاں اور رپورٹیں موجود ہیں بلکہ قادیانیت کی تبلیغ و تشہیر کا مکمل مواد ”الفضل“ کی شکل میں موجود ہے۔
ہمیں ہر دو حضرات سید محمد وکیل جیلانی اور حافظ اکرام الحق سے ذاتی دشمنی یا شخصی رنجش نہیں ہے اور نہ ہی وہ خود اس بات کا دعویٰ کر سکتے ہیں لیکن سرور کونین رسالت مآب ﷺ کی ناموس کے سامنے تعلق، دوستی یا رشتہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ ہم اپنے والد کے چھوڑے ہوئے مشن اور مقدس امانت میں خیانت برداشت نہیں کر سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے ان اخبارات کا سختی سے نوٹس لیا ہے۔ یہ سخت اقدام اس لئے بھی ضروری تھا کیونکہ ہماری معلومات کے مطابق مسلمان پریس میں سے اکثر حضرات ”ہم بھی تو پڑے ہیں راہوں میں“ کا مصداق بنے اپنے اخبار قادیانی جماعت کو دینے پر آمادہ نظر آ رہے تھے۔ ہماری صحافت کا المیہ ہمیں خون کے آنسو رلاتا ہے کہ ان ضمیر فروش اخبار نویسوں نے قلم کی آبرو پیشے کے تقدس اور حد یہ کہ ناموس رسالت کو بھی مالی منفعت کی خاطر داؤ پر لگانے سے گریز نہیں کیا۔
روزنامہ ”پیغام“ کے سید محمد وکیل جیلانی اور ہفت روزہ ”امن“ کے پبلشر حافظ اکرام الحق کے وضاحتی بیانات کے بعد ۳۱/جنوری ۱۹۸۵ء کو روزنامہ ڈیلی بزنس میں مقامی مجلس تحفظ ختم نبوت کا جو پریس نوٹ آیا ہے وہ حقائق کی بنیاد پر ایسی ٹھوس اور جامع سٹیٹمنٹ ہے جس کے بعد مذکورہ اخبارات کے کردار کی قلعی کھل جاتی ہے۔ اس سلسلہ میں ہم مقامی روزنامہ کے مشکور ہیں جس نے جرأت مندی کے ساتھ مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے عقیدۂ ختم نبوت سے غداری کرنے والی صحافی کالی بھیڑوں کے خلاف آواز بلند کر کے شاندار کردار ادا کیا ہے۔
تحریک ختم نبوت(۴)ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہمیں خوشی ہے کہ روزنامہ ”پیغام“ کے ایڈیٹر جناب سید وکیل جیلانی نے کسی حد تک اعتراف کر لیا ہے کہ اس اشاعت کی ذمہ داری اس پر عائد ہوتی ہے۔ باقی ان کا یہ کہنا کہ ان کے پرچے میں قادیانی جماعت کی چند خبروں کے علاوہ قادیانیت کی تبلیغ سے متعلق کوئی مضمون نہیں چھپا۔ یہ صریحاً جھوٹ ہے جو ان جیسے بزرگ صحافی کے منہ سے زیب نہیں دیتا۔ وہ ۲۰؍جنوری پیغام کا شمارہ ایک دفعہ دوبارہ دیکھیں۔ اگر ایسا مضمون انہیں نظر نہ آئے تو ہم سے رجوع کر لیں۔ ہفت روزہ ”امن“ کے پبلشر حافظ اکرام الحق نے ۲۷؍جنوری ۱۹۸۵ء نوائے وقت میں ایک اشتہار اور مختلف اخبارات کے ذریعہ اپنی وضاحت میں کہا ہے کہ قادیانیوں نے غیر قانونی طریقہ سے ۱۰؍جنوری ۱۹۸۵ء ہفت روزہ ”امن“ کا شمارہ ان کے علم کے بغیر کہیں سے چھپوا کر انہیں ایک سازش کے تحت بدنام کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ۱۰؍جنوری ۱۹۸۵ء کا شمارہ حافظ صاحب کی اجازت کے بغیر چھپایا گیا۔ جب کہ ۱۱؍جنوری ۱۹۸۵ء، ۱۶؍جنوری ۱۹۸۵ء اور ۲۳؍جنوری ۱۹۸۵ء کے شماروں کی اشاعت میں ان کی مرضی اور منشاء شامل تھی۔ ورنہ کوتوالی میں رپورٹ درج کرواتے وقت حافظ صاحب ان شماروں کا ذکر ضرور کرتے۔ دوسرا ستم حافظ اکرام نے یہ کیا کہ ۱۰؍جنوری ۱۹۸۵ء سے لے کر ۲۵؍جنوری ۱۹۸۵ء تک چپ سادھے رکھی۔ اس عرصہ میں انہوں نے نہ تو تردید کی اور نہ قادیانیوں کی اس مذموم حرکت کے خلاف احتجاج کیا اور نہ ہی مقامی انتظامیہ کو یا اعلیٰ حکام کو تحریری یا زبانی طور پر مطلع کرنا مناسب سمجھا۔ لیکن جونہی مقامی جماعت ختم نبوت کا پوسٹر ان کی مرزائیت نوازی اور ایمان فروشی کا پردہ چاک کرتا ہوا شہر میں تقسیم ہوا۔ انہیں وضاحت یاد آ گئی اور رپورٹ درج کروانا بھی یاد آ گیا۔
ہماری معلومات اور مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں مذکورہ بالا اخبارات اپنے منافقانہ کرتوت کے قطعی ذمہ دار ہیں۔ یہ اخبارات جرم کی نوعیت کے اعتبار سے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ ذاتی اثر و رسوخ اور روایتی ملی بھگت سے قطع نظر وہ قابل گرفت اور قابل تعزیر ہیں۔ ان کے اس شرمناک جرم کی بناء پر فیصل آباد کے شہریوں کو ان کے وجود سے گھن آنے لگی ہے۔ سب سے بڑھ کر انہوں نے حکومت کے جرأت مندانہ امتناع قادیانیت آرڈیننس کو ناکام بنانے اور اس کا مذاق اڑانے کا بھیانک مظاہرہ کیا ہے۔ ایسا گندہ عنصر صحافت کے ماتھے پر بدنما داغ سے کم نہیں۔ کاش یہ لوگ جانتے ہوتے کہ قلم کی آبرو ماں، بیٹا یا بیٹی کی آبرو سے کم نہیں ہوتی۔
(لولاک، مورخہ ۸؍فروری ۱۹۸۵ء)
سن تو سہی
سید وکیل جیلانی کے خط کا جواب
مکرمی جناب ایڈیٹر صاحب
آپ کے موقر جریدہ کے توسط سے ایک مذہبی و قومی مسئلہ کی طرف اسلامیان پاکستان کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ صدارتی آرڈیننس کی رو سے قادیانی اپنی تبلیغ نہیں کر سکتے۔ قادیانی جماعت کے آرگن روزنامہ الفضل ربوہ و دیگر قادیانی جرائد نے اس آرڈیننس کی خلاف ورزی کی۔ حکومت پنجاب نے پریس اینڈ پبلی کیشنز آرڈیننس کے تحت قادیانی پریس ضیاء الاسلام کو تین ماہ کے لئے سر بمہر کر دیا۔ جس کے باعث قادیانی جرائد کی اشاعت معطل ہو گئی۔ قادیانیوں نے روزنامہ ”پیغام“ اور ہفتہ وار ”امن“ فیصل آباد کی اشاعتوں سے اپنی ضرورت پوری کی۔ ان رسائل کو ہزاروں کی تعداد میں ربوہ اور اندرون و بیرون ملک تقسیم کیا گیا۔ یہ ہر دو (پیغام، امن) مسلمان ایڈیٹروں کے رسالے تھے۔ گویا قادیانیوں نے اپنے جرائد کی بندش سے ان مسلمان ایڈیٹروں کے جرائد کو اپنی جماعتی ضرورت کے لئے استعمال کیا۔ اس صورت حال سے مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کو شدید کوفت ہوئی۔ اس کا بر وقت نوٹس لیا گیا۔ فیصل آباد کے جلسہ عام میں اور مساجد میں
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قراردادوں کے ذریعہ اس پر شدید کرب واضطراب کا اظہار کیا گیا۔ چار پانچ روز گزر جانے کے بعد ان ایڈیٹرز حضرات کی طرف سے مکمل سکوت پا کر فیصل آباد کی مجلس کی طرف سے ایک پوسٹر شائع کیا گیا۔ جس کے جواب میں پیغام کے ایڈیٹر سید محمد وکیل جیلانی صاحب نے اخبارات کو ایک وضاحتی مکتوب اور پھر بعد میں اسے پوسٹر کی شکل میں شائع کیا۔
تاریخ کا ریکارڈ درست رکھنے کے لئے اس ضمن میں چند گزارشات پیش کرنا اپنا جماعتی فرض سمجھتا ہوں۔ سید جیلانی صاحب کے وضاحتی بیان سے تین امور پر اس وقت اظہار خیال ضروری ہے۔
- ......۱ میرے اخبار کا یہ ایڈیشن میرے علم میں لائے بغیر شائع کیا گیا اور اس سے میری کردار کشی ہوئی۔
- ......۲ مجھے افسوس ہے کہ مقامی مجلس ختم نبوت نے مجھ سے وضاحت طلب کئے بغیر انتہائی قدم اٹھایا۔
- ......۳ اس ایڈیشن میں مرزائیوں کی خبریں ہیں تبلیغ نہیں۔ یہ کہ میں ختم نبوت کا قائل ہوں۔
پہلے امر! کی بابت ان کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے اخبار کے عملہ میں اس گندے ذہن کو تلاش کریں جو کافروں کے اغراض کو نہ صرف پورا کرنے میں باک محسوس نہیں کرتا۔ بلکہ جیلانی صاحب کی کردار کشی کا باعث بنتا ہے۔ اس ذہن کو تلاش کرنا ، ان کو نکالنا یہ ان کی ذمہ داری ہے۔ ورنہ جو لوگ کافروں کی ضرورت (الفضل کی بندش کے باعث) کو پورا کرتے ہیں۔ وہ جیلانی صاحب کو کسی بڑی مصیبت میں بھی مبتلا کر سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جیلانی صاحب کو اپنی امان میں رکھیں اور اپنا فرض ادا کرنے کی توفیق دیں۔
امر دوئم! کہ مقامی مجلس ختم نبوت نے مجھ سے وضاحت طلب کئے بغیر انتہائی قدم اٹھایا۔ یہ مکرم جیلانی صاحب کی اپنے تمام تر احترام کے باوجود زیادتی ہے۔ ۲۰/جنوری ۱۹۸۵ء کو ان کا اخبار مرزائی جریدہ الفضل کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے ان کے عملہ سے مل کر مرزائیوں نے چھپوایا ہے جن کا خود جیلانی صاحب کو اعتراف ہے۔ ۲۱/ جنوری کے جس جلسہ عام میں احتجاج کیا گیا۔ اس میں موصوف نہ صرف موجود تھے بلکہ خود فرماتے ہیں کہ اس کے بعد جا کر میں نے اپنے اخبار کے فائل کو دیکھا تو اس میں یہ پرچہ موجود تھا۔ یہ ٹھیک ہے کہ یہ ان کے علم کے بغیر چھپا مگر معلوم ہو جانے کے بعد ان پر وضاحت کا جو فرض عائد ہوتا تھا۔ انہوں نے پورا نہ کیا۔
اس کے چار روز بعد مجلس نے اپنا فرض پورا کیا کہ پوسٹر شائع کیا۔ مکرم جیلانی صاحب کو مجلس پر برانگیختہ ہونے کی بجائے مجلس کا شکریہ ادا کرنا چاہئے کہ مجلس کے اس انتہائی اقدام کے بعد ان کو اپنے کئے پر ندامت اور آئندہ نہ کرنے کا عہد کرنا پڑا۔ اسے شریعت کی اصطلاح میں توبہ کہتے ہیں۔ اگر مجلس انتہائی قدم نہ اٹھاتی تو ان کو جس طرح چار روز گزر جانے کے باوجود وضاحت کی ضرورت محسوس نہ ہوئی آئندہ بھی شاید نہ ہوتی۔ یہ صورت حال مجلس کے لئے (جس کا طرّہ امتیاز ہی ختم نبوت کا تحفظ ہے) شاید پریشانی کا باعث ہوتی۔ مجلس کے پوسٹر چھاپنے سے مجلس کو تین فائدے حاصل ہوئے۔
- ......۱ مجلس نے اپنا فرض پورا کیا۔
- ......۲ الفضل کی بندش کے بعد مسلمانوں کے جرائد کو قادیانیوں نے استعمال میں لانا شروع کیا۔ اس کا ہمیشہ کے لئے دروازہ بند ہوا کہ
اب مسلمانوں کے شدید ردّعمل کے بعد کوئی مسلمان قادیانیوں کو اپنا پرچہ نہیں دے گا۔ اگر دینے کی جرأت کی تو وہ مسلمانوں کے جذبہ تحفظ ختم نبوت سے بچ نہ سکے گا۔
- ......۳ مجلس کے اس اقدام کے بعد ان مسلمان ایڈیٹروں کو جنہوں نے اپنے پرچے قادیانیوں کے مقاصد کے لئے استعمال کئے۔ ان کو
اپنے اس فعل پر ندامت ہوئی اور توبہ کی توفیق ہوئی۔ یہ مجلس کے لئے باعث افتخار ہے۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
امر سوئم ! کہ اس ایڈیشن میں مرزائیوں کی خبریں ہیں۔ تبلیغ نہیں یہ کہ میں ختم نبوت کا قائل ہوں۔ امر سوئم کا پہلا نقطہ کہ اس میں مرزائیوں کی تبلیغ نہیں۔ یہ محل نظر ہے۔ تفصیل کے لئے یہ سطور متحمل نہیں۔ تاہم جیلانی صاحب اس امر کو ضرور تسلیم فرما کر حقیقت پسندی کا ثبوت دیں گے کہ مرزائیوں کا الفضل بند ہونے کے بعد مرزائیوں نے ان کے اخبار کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا۔ بھلا سوچئے کہ تمام ملت اسلامیہ کی کوشش و کاوش کے بعد صدر مملکت کا ایمان پرور، جہاد آفریں آرڈیننس اس کی خلاف ورزی میں الفضل بند ہو۔ امت محمدیہ خوشیاں منائے اور مرزائی ہمارے مسلمان ایڈیٹرز کے اخبارات سے اپنی ضرورت پوری کریں۔ یہ امر مسلمانوں کے لئے اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے لئے شدید افسوس کا باعث تھا۔ جس کا مجلس اگر بروقت نوٹس نہ لیتی تو یہ اپنے کاز سے مجرمانہ غفلت کا ارتکاب کرتی۔ جس کا مجلس کے متعلقین تصور بھی نہیں کر سکتے۔ باقی رہا یہ کہ جیلانی صاحب ختم نبوت کے قائل ہیں۔ ہمیں گلہ بھی تو یہی ہے کہ ایک شخص عاشق رسول، سچا اور بہتر مسلمان ہے اس کا اخبار مرزائی ضرورت کے لئے استعمال ہو۔ ہمیں دکھ یا صدمہ اس لئے ہوا کہ مسلمان سے یہ توقع نہ تھی۔ گلہ اور شکوہ بھی تو اپنوں سے ہوتا ہے نہ غیروں سے۔ ہمیں خوشی ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کے ردعمل کا سنجیدگی سے مطالعہ کیا اور تلافی کی، ہمیں زیادہ خوشی اس دن ہوگی۔ جس دن وہ اپنے اخبار کے عملہ سے ان غلط افراد کو نکال باہر کریں گے، جو بقول ان کے یہ ایڈیشن شائع کر کے گہری سازش کا شکار ہوئے اور ایڈیٹر کی کردار کشی کا باعث بنے۔
جہاں تک ہفتہ وار ”امن“ کا تعلق ہے ان کی طرف سے صورت حال کو الجھایا جا رہا ہے۔ اس لئے میں اس پر کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں۔ تاہم ہر دو حضرات کو یقین دلانا اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ خدا گواہ ہے آپ سے کوئی ذاتی پرخاش نہیں۔ ربوہ میں آپ کے اخبارات کافروں کے ہاتھوں میں دیکھ کر ہم پر بجلی گری ہے۔ اس کا نوٹس لینا ہمارا فرض تھا۔ جسے حق سمجھا وہی کہا کہ یہ ضمیر کی آواز تھی۔ آپ سے ذاتی مخاصمت نہ کل تھی نہ آج ہے۔ مسئلہ سے جو مسلمان انحراف کرے گا اس کو روکنا ٹوکنا یہ ہمارے مشن کا تقاضا ہے۔ اللہ رب العزت اسی پر قائم رکھے اور اسی پر موت آئے۔ آخری سانس تک بلاخوف لومۃ لائم حق کہنے کی اللہ تعالیٰ توفیق دیں۔ مولائے کریم جو دلوں کے راز بہتر جانتے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ اس صورت حال سے ہمیں کتنی کوفت ہوئی۔ تاریخ کا ریکارڈ درست رکھنے کے لئے یہ سطور اپنے جریدہ میں شائع فرما کر ممنون و احسان فرمائیں گے۔
(لولاک، مورخہ ۸/فروری ۱۹۸۵ء)
۱۹۸۴ء کے آرڈیننس کے جاری ہوتے ہی قادیانی چیف گرو مرزا طاہر ملک سے مجرمانہ فرار اختیار کر کے برطانیہ کو سدھار گیا۔
قادیانی عالمی کی تبدیلی
ادھر پاکستان میں قادیانی اپنی قیادت کی عیاری ومکاری کے باعث خود کو تنہا محسوس کرنے لگے۔ اس آرڈیننس کے باعث پہلے جو پاکستان کا شہر چناب نگر پوری دنیا کی قادیانی جماعت کا عالمی مرکز تھا۔ اب یہ عالمی مرکز نہ رہا، بلکہ ان کا عالمی مرکز چناب نگر سے لندن منتقل ہو گیا۔ خلیفہ قادیان کی گدی گھوم پھر کر لندن میں جا کر مقیم ہوئی۔ قادیانی شاطر قیادت نے قادیانیوں کو نیا پروگرام دیا۔
قادیانیوں کی کلمہ مہم
قانون کہتا ہے قادیانی خود کو مسلمان ظاہر نہیں کر سکتے۔ قادیانیوں نے ایک مہم کے تحت اپنے سینوں پر کلمہ طیبہ کے بیج لگا کر اسلام کی سب سے بڑی علامت کو استعمال کر کے قانون کا مذاق اڑانا شروع کیا۔ نتیجتاً ان پر کیس ہوئے۔ اب قادیانیوں نے کیسوں کو بہانہ
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بنا کر اپنی خود ساختہ مظلومیت کو بیرون ملک کیش کرایا۔ پورے ملک میں قادیانی جماعت نے پروپیگنڈہ کیا۔
- ۱...... عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ’’قادیانیوں کی نئی شرارت‘‘ کے نام پر ایک ورقہ اشتہار مرتب کر کے شائع کیا۔ اس کے سٹیکر ز شائع کرائے اور یہ سب کچھ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے کیا۔
- ۲...... عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ رہنما حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے ’’قادیانیوں کی طرف سے کلمہ طیبہ کی توہین‘‘ کے عنوان پر ایک رسالہ ترتیب دیا۔ جس میں بیسیوں قادیانی لٹریچر کے حوالہ جات سے ثابت کیا کہ قادیانی کس طرح کلمہ کے نام پر اسلام اور پیغمبر اسلام کی اہانت کرتے ہیں۔ بلا مبالغہ یہ پمفلٹ لاکھوں کی تعداد میں شائع ہوا۔ اس کے انگلش ، سندھی ، پشتو میں تراجم بھی ہوئے۔
- ۳...... اس دوران میں قادیانیوں کی حمایت کے لئے پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ جناب حنیف رامے کا ۱۱؍فروری ۱۹۸۵ء کو روزنامہ ’’جنگ‘‘ لاہور میں کالم شائع ہوا کہ قادیانیوں کے سینوں پر کلمہ طیبہ کے بیج نہ لگنے دینا۔ یہ کلمہ دوستی نہیں بلکہ کلمہ دشمنی ہے۔ اس کے بعد ۲۱؍فروری ۱۹۸۵ء کے جنگ میں ہمارے مخدوم حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی کا یہ کالم شائع ہوا۔
مولانا محمد یوسف لدھیانوی (کراچی)
روزنامہ جنگ لاہور: مؤرخہ ۱۱؍فروری ۱۹۸۵ء کی اشاعت میں جناب حنیف رامے کا ایک مضمون شائع ہوا ہے جس میں قادیانیوں کی بھرپور وکالت کی گئی ہے۔ مجھے کسی طرح یقین نہیں آتا کہ کوئی ذی فہم مسلمان جس کے دل میں محمد عربی ﷺ کی ایک ذرہ محبت بھی ہو اور جو قادیانی کفر و ارتداد سے واقف بھی ہو وہ ان خیالات کا کبھی اظہار کر سکتا ہے۔
قادیانیوں نے کلمہ طیبہ کے پردہ میں اسلام کے نام پر جن کفریہ عقائد کو چھپا رکھا ہے۔ ان کا خلاصہ یہ ہے کہ:
- الف...... موجودہ دور میں ’’محمد رسول اللہ‘‘ کا ظہور مرزا قادیانی کی شکل میں ہوا۔ اس لئے قادیان کا اسود عنسی مرزا غلام احمد قادیانی (نعوذ باللہ ) خود ’’محمد رسول اللہ‘‘ ہے۔
(ایک غلطی کا ازالہ ص ۶ ، خزائن ج ۱۸ ص ۲۱۲)
- ب...... اور یہ کہ مرزا قادیانی کے زمانہ کی روحانیت محمد رسول اللہ ﷺ سے اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے۔ حضور ﷺ کے زمانہ کی روحانیت پہلی رات کے چاند کی طرح ناقص اور بے نور تھی اور مرزا کی روحانیت چودھویں کے چاند کی طرح روشن اور کامل ہے۔ حضور کا زمانہ روحانی ترقیات کا پہلا قدم تھا اور مرزا کا زمانہ روحانی ترقیات کی آخری معراج ہے۔
(خطبہ الہامیہ ص ۱۸۱ تا ۱۸۲، خزائن ج ۱۶ ص ۲۷۱ تا ۲۷۵)
- ج...... اور یہ کہ مرزا خدا کا ’’آخری نور‘‘ ہے۔
(کشتی نوح ص ۵۶، خزائن ج ۱۹ ص ۶۱)
- د...... اور یہ کہ مرزا افضل الرسل ہے۔ کیونکہ آسمان سے کئی تخت اترے۔ مگر مرزا کا تخت سب سے اونچا بچھایا گیا۔
(تذکرہ ص ۶۴۳ ، طبع چہارم)
- ہ...... اور یہ کہ آسمان و زمین اور پوری کائنات کی تخلیق صرف مرزا کی خاطر ہوئی ہے۔
(تذکرہ ص ۶۱۲ ، طبع چہارم)
- و...... اور یہ کہ مرزا کی وحی نبوت نے شریعت کی تجدید کی ہے۔ اس لئے اب مرزا کی وحی اور تعلیم ہی پوری انسانیت کے لئے مدار نجات ہے۔
(حاشیہ اربعین نمبر ۴ ص ۶ ، خزائن ج ۱۷ ص ۴۳۵)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ز....... اور یہ کہ مرزا کے بغیر دین اسلام مردہ، لعنتی ، شیطانی اور قابل نفرت ہے اور مرزا کو نہ ماننے والے تمام مسلمان کافر اور جہنمی ہیں۔
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۱۸۳، خزائن ج ۲۱ ص ۳۵۴، تذکرہ ص ۳۳۶، طبع چہارم)
الغرض قادیانی عقیدہ کے مطابق ”محمد رسول اللہ“ کا دوبارہ ظہور مرزا قادیانی کی شکل میں ہوا ہے اور یہ دوسرا ظہور محمد عربی کے ظہور سے اعلیٰ وافضل اور اکمل ہے۔ اس لئے مرزا خاتم النبیین اور آخری نبی بھی ہے۔ افضل الرسل بھی اور مدار نجات بھی۔ چنانچہ مرزا قادیانی کے ایک مرید قاضی ظہور الدین اکمل نے مرزا کی شان میں یہ قصیدہ نعتیہ پڑھا اور مرزا قادیانی سے داد تحسین وصول کی۔
غلام احمد ہے عرش رب اکبر مکاں اس کا ہے گویا لامکاں میں
غلام احمد رسول اللہ ہے برحق شرف پایا ہے نوع انس و جاں میں
محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں
(اخبار بدر قادیان،مؤرخہ ۲۵؍اکتوبر ۱۹۰۶ء)
قادیانی جو کلمہ ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ پڑھتے ہیں تو محض اس لئے کہ ان کے نزدیک مرزا قادیانی کا منجھلا لڑکا مرزا بشیر احمد ایم.اے لکھتا ہے: ”مسیح موعود (مرزا قادیانی) خود محمد رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔ اس لئے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں۔ ہاں! اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔“
(کلمۃ الفصل مندرجہ ریویو آف ریلیجنز مارچ ، اپریل ۱۹۱۵ء ص ۱۵۸)
انصاف کیجئے کہ کون سا باغیرت مسلمان ایسا ہوگا جو اس پاک سرزمین میں قادیان کے اسود عنسی، مسیلمہ پنجاب مرزا قادیانی کو محمد رسول کی حیثیت سے برداشت کرے اور قادیان کے جعلی ”محمد رسول اللہ“ کے نام کا کلمہ لکھنے کی اجازت دے۔ پاکستان میں ایک معمولی کانسٹیبل کی جعلی وردی پہننے والے کو گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ ہم پوچھتے ہیں کہ: ”محمد رسول اللہ“ کی جعلی وردی پہننے والوں کو کیوں کھلی چھٹی دی جائے۔ قادیانیوں کی عبادت گاہیں دراصل کفر وارتداد کے مراکز الحاد وزندقہ اور بے دینی کے اڈے اور حافظ ابن تیمیہ کے بقول ”بیت الشیاطین“ ہیں۔ ان معنوی غلاظت خانوں پر کلمہ طیبہ اور آیات قرآنی چپکانا ان مقدس کلمات کی توہین ہے۔ جس طرح گندگی کی جگہ سے مقدس کلمات کا مٹانا واجب ہے۔ ٹھیک اسی طرح قادیانیوں کی عمارتوں سے کلمہ طیبہ اور دیگر مقدس کلمات کا مٹانا مسلمانوں کا فریضہ ہے۔ اس کے باوجود اگر جناب حنیف رامے جیسے ”دانشور“ مرزائیوں کی وکالت کرتے ہیں تو اس کے سوا کیا عرض کیا جا سکتا ہے۔
اسی ۲۱؍فروری ۱۹۸۵ء کو ہی روزنامہ ”جنگ“ لاہور میں فقیر راقم کا کالم شائع ہوا جو یہ ہے:
قادیانیوں کے عقائد اور حنیف رامے
از: مولانا اللہ وسایا (ربوہ)
جناب رامے صاحب کے کلمہ طیبہ کے بیج سینوں پر لگانے والے فیصل آباد کے بائیس قادیانیوں کی گرفتاری پر علماء کرام کے
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
خیر مقدمی بیان سے برانگیختہ ہو کر ایک مضمون یہ کلمہ دوستی ہے یا کلمہ دشمنی پر اظہار خیال کرنا چاہتا ہوں ۔ خیر مقدم کرنے والوں میں بندہ بھی شامل ہے۔ اس لئے اس کا جواب میرے ذمہ بنتا ہے۔ مضمون اوّل سے آخر تک محل نظر ہے اس وقت دس باتیں سردست پیش خدمت ہیں۔
- ۱...... موصوف فرماتے ہیں: بات جماعت احمدیہ کی مخالفت سے بڑھ کر براہ راست خداوند تعالیٰ اور اس کے رسول مقبول (ﷺ) کی
مخالفت تک جا پہنچی ہے۔ قادیانی کلمہ طیبہ اور صاحب کلمہ حضرت محمد عربی (ﷺ) کے سرے سے قائل ہی نہیں۔ کیونکہ کلمہ طیبہ پڑھتے وقت ان کی مراد محمد رسول اللہ سے نعوذ باللہ مرزا قادیانی ہوتی ہے۔ ان کی اپنی کتب کے حوالہ جات ملاحظہ ہوں۔
- الف...... موجودہ دور میں ”محمد رسول اللہ“ کا ظہور مرزا قادیانی کی شکل میں ہوا ہے۔ اس لئے قادیان کا مرزا غلام احمد قادیانی
(نعوذ باللہ) خود ”محمد رسول اللہ“ ہے۔
(ایک غلطی کا ازالہ ص۶، خزائن ج۱۸ ص۲۱۲)
- ب...... اور یہ کہ مرزا قادیانی کے زمانہ کی روحانیت محمد رسول اللہ ﷺ سے اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے۔ حضور ﷺ کے زمانہ کی روحانیت
پہلی رات کے چاند کی طرح ناقص اور بے نور تھی اور مرزا قادیانی کی روحانیت چودھویں کے چاند کی طرح روشن اور کامل ہے۔ حضور ﷺ کا زمانہ روحانی ترقیات کا پہلا قدم تھا اور مرزا کا زمانہ روحانی ترقیات کی آخری معراج ہے۔
(خطبہ الہامیہ ص۱۸۱ تا ۱۸۲، خزائن ج۱۶ ص۲۷۱ تا ۲۷۵)
- ج...... اور یہ کہ مرزا خدا کا ”آخری نور“ ہے۔
(کشتی نوح ص۵۶، خزائن ج۱۹ ص۶۱)
- د...... اور یہ کہ مرزا افضل الرسل ہے کیونکہ آسمان سے کئی تخت اترے ۔ مگر مرزا کا تخت سب سے اونچا بچھایا گیا۔
(تذکرہ ص۶۲۳، طبع چہارم)
- ہ...... اور یہ کہ آسمان و زمین اور پوری کائنات کی تخلیق صرف مرزا کی خاطر ہوئی ہے۔
(تذکرہ ص۶۱۲، طبع چہارم)
- و...... اور یہ کہ مرزا کی وحی نبوت نے شریعت کی تجدید کی ہے اس لئے اب مرزا کی وحی اور تعلیم ہی پوری انسانیت کے لئے مدار نجات ہے۔
(حاشیہ اربعین نمبر ۴ ص۶، خزائن ج۱۷ ص۴۳۵)
- ز...... اور یہ کہ مرزا کے بغیر دین اسلام مردہ لعنتی ، شیطانی اور قابل نفرت ہے اور مرزا کو نہ ماننے والے تمام مسلمان کافر اور جہنمی ہیں۔
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۸۳، خزائن ج۲۱ ص۳۵۴، تذکرہ ص۳۳۶، طبع چہارم)
الغرض قادیانی عقیدہ کے مطابق ”محمد رسول اللہ“ کا دوبارہ ظہور مرزا قادیانی کی شکل میں ہوا ہے اور یہ دوسرا ظہور محمد عربی ﷺ کے ظہور سے اعلیٰ وافضل اور اکمل ہے۔ اس لئے مرزا خاتم النبیین اور آخری نبی بھی ہے۔ افضل الرسل بھی اور مدار نجات بھی۔ چنانچہ مرزا قادیانی کے ایک مرید قاضی ظہور الدین اکمل نے مرزا قادیانی کی شان میں یہ قصیدہ پڑھا اور مرزا قادیانی سے داد تحسین وصول کی ۔
محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں
(اخبار بدر قادیان، مورخہ ۲۵؍اکتوبر ۱۹۰۶ء)
قادیانی جو کلمہ ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ پڑھتے ہیں تو محض اس لئے کہ ان کے نزدیک مرزا قادیانی بعینہ محمد رسول اللہ کا ظہور کامل ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی کا منجھلا لڑکا مرزا بشیر احمد ایم۔اے لکھتا ہے: ”مسیح موعود (مرزا قادیانی) خود ”محمد رسول
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اللہ“ ہے جو اشاعتِ اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔ اس لئے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں۔ ہاں! اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔“
(کلمۃ الفصل ص ۱۵۸، مندرجہ ریویو آف ریلیجنز مارچ ، اپریل ۱۹۱۵ء)
خدارا! انصاف فرمائیے کہ کون سا باغیرت مسلمان ہوگا جو اس پاک سرزمین میں قادیان کے مرزا قادیانی کو ”محمد رسول اللہ“ کی حیثیت سے برداشت کرے اور قادیان کے جعلی محمد رسول اللہ کے نام کا کلمہ لکھنے کی اجازت دے۔ پاکستان میں ایک معمولی کانسٹیبل کی جعلی وردی پہننے والے کو گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ ہم پوچھتے ہیں کہ: ”محمد رسول اللہ“ کی جعلی وردی پہننے والوں کو کس طرح برداشت کر سکتے ہیں۔
- ٢...... کلمۃ الفصل ص ۱۵۸ کے مندرجہ بالا حوالہ سے معلوم ہوا کہ قادیانی جب کلمہ طیبہ پڑھتے ہیں تو ان کے عقیدہ کے مطابق اس میں
مرزا قادیانی بھی شریک ہوتا ہے۔ فرمائیے کہ ہم حضور ﷺ کی نبوت میں مرزا قادیانی کو شامل مان کر ”شرک فی النبوۃ“ کا ارتکاب کریں۔ کیا ”مشرکین فی النبوۃ المحمدیہ“ کو ”شرک فی النبوۃ“ سے روکنا خداتعالیٰ اور اس کے رسول مقبول (ﷺ) کے کلمہ کی مخالفت ہے یا عین ایمان ومحبت کا تقاضا ہے۔
- ٣...... رابطہ عالم اسلامی میں شریک پوری دنیا کے علماء، رامے صاحب کے رہنما بھٹو صاحب کے عہد اقتدار کی نیشنل اسمبلی، لوئر کورٹ
سے وفاقی شرعی عدالت تک، پاکستان سے افریقہ تک کی عدالتوں غرضیکہ جمہور امت کے نزدیک قادیانی دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ ان کی تکفیر انکار ختم نبوت، توہین انبیاء، دعویٰ نبوت، تکفیر امت مسلمہ اور انکار ضروریات دین کے باعث کی گئی ہے۔ قادیانی غیر مسلم ہو کر اسلام کے امتیازی نشان ٹریڈ مارک (کلمہ طیبہ) کو سینوں پر لگا کر، اپنے عبادت خانوں و در و دیوار پر لکھ کر، اپنے آپ کو مسلمان ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ مسلم وغیر مسلم میں امتیاز پیدا کرنے، کفر واسلام کے التباس سے بچنے کے لئے ان پر یہ پابندی ضروری تھی۔ صدر مملکت جنرل محمد ضیاء الحق کا ایمان پرور آرڈیننس جاری ہوا جس کی رو سے قادیانی کوئی ایسی نشانی یا علامت تحریراً یا تقریراً یا مرئی نقوش کے ذریعہ استعمال میں نہیں لاسکتے، جس سے کہ ان کا مسلمان ہونا سمجھا جائے۔ (کیونکہ وہ غیر مسلم ہیں) ایسا کریں گے یعنی اسلام کی کوئی اصطلاح یا نشانی اپنے آپ کو مسلمان ثابت کرنے کے لئے استعمال کریں تو ۲۹۸-سی کے تحت تین سال قید یا جرمانہ یا دونوں سزا کے مستوجب ہوں گے۔ فیصل آباد کے قادیانیوں نے اس آرڈیننس کی، جس کی توثیق پاکستان کی وفاقی شرعی عدالت واسلامی نظریاتی کونسل کرچکی ہیں، مخالفت کی۔ مقدمہ درج ہوا۔ قانون کا تقاضا پورا ہوا، ہم نے خیر مقدم کیا۔ قادیانی اب اپنے عقائد کے باعث عذاب الٰہی میں مبتلا ہیں۔ اگر مرزا طاہر ان کو اس عذاب سے نہیں بچاسکا تو رامے واعتزاز احسن ایسے قادیانیوں کے وکیل بھی ان کو نہیں بچاسکتے۔
- ۴...... قادیانی عبادت گاہوں سے کلمہ طیبہ ہٹایا جائے۔ یہ مطالبہ دراصل کلمہ طیبہ پر کافروں (مرزائیوں) کے غاصبانہ قبضہ کو ختم کرانے
کے لئے ہے۔ بھلا اگر کوئی منچلا شراب خانے پر آب زم زم کا بورڈ لگا دے تو اس بورڈ کو ہٹانا آب زم زم کی توہین ہے یا اس کے تقدس کو محفوظ کرنا ہے۔ منافقین کی عبادت گاہیں ابن تیمیہ کے بقول بیت الشیاطین ہیں۔ ان کی پیشانی پر کلمہ طیبہ یہ اس کی توہین ہے۔ کلمہ طیبہ کے تقدس کا تقاضا ہے کہ وہ مسلمانوں کی مساجد و گھروں کی زینت بنے نہ کہ کافر اس کو استعمال کر کے اپنے کفر کو چھپا کر مسلمان بنے پھریں اور کفر اسلام میں التباس پیدا کردیں۔
- ۵...... رامے صاحب فرماتے ہیں: کسی یہودی یا عیسائی نے اپنی کتاب میں اسلام یا پیغمبر اسلام کی تعریف میں اچھی بات لکھ دی ہو تو کیا
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آئندہ ہمارے علماء ان کتابوں کو بھی جلانے کا حکم دیں گے ۔‘‘ غیر مسلم اپنی کتابوں میں اگر اسلام یا پیغمبر اسلام کی تعریف میں کچھ لکھ دیں تو وہ ’’والفضل ما شھدت بہ الاعداء‘‘ کے طور پر ہم اسے بطور حوالہ پیش کریں گے ۔ مگر یہ دلیل یہاں پر قائم کرنا درست نہیں ۔ کیونکہ قادیانی ’’محمد رسول اللہ‘‘ سے مراد مرزا قادیانی لیتے ہیں ۔ مرزا بشیر الدین محمود کی کتاب حقیقت الرؤیا کے مطابق ان کے نزدیک مسلمانوں کا اسلام مردہ اسلام ہے ۔ اسی حوالہ کو پڑھ کر علامہ اقبال مرحوم نے کہا تھا کہ قادیانیت یہودیت کا چربہ ہے ۔ ہاں ! اگر باقی غیر مسلم بھی قادیانیوں کی طرح حضور ﷺ کا نام لے کر مراد کسی اور شخص کو لیں تو وہ بھی مسلمانوں کے نزدیک ناقابل برداشت امر ہوگا ۔ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ مرزائیوں نے پیغمبر اسلام سے مراد مرزا قادیانی، امہات المؤمنین سے مراد مرزا قادیانی کی بیوی، اہل بیت سے مراد مرزا قادیانی کی اولاد، سیدۃ النساء سے مراد مرزا کی دختر، صحابہ سے مراد مرزا قادیانی کے دیکھنے والے مرید، اور مسلمانوں سے مراد صرف مرزائی (باقی تمام کے تمام ستر کروڑ مسلمان بشمول رامے صاحب واعتزاز احسن کے حتیٰ کہ جنہوں نے مرزا قادیانی کا نام بھی نہیں سنا وہ تمام کافر (آئینہ صداقت ص ۳۵) حج سے مراد قادیان کا ظلی حج، جنت البقیع سے مراد بہشتی مقبرہ غرضیکہ اسلام و پیغمبر اسلام سے ہر امر میں کھلی بغاوت ۔ اب فرمائیے کہ وہ اسلام یا پیغمبر اسلام کی تعریف کر رہے ہیں یا عظمت اسلام کو پامال کر کے اسلام کی جملہ متاع عزیز (اسلامی شعائر و اصطلاحات) پر غاصبانہ قبضہ کر رہے ہیں؟ اگر ہم واگزاری کا مطالبہ کریں، تو وارثان اسلام کو کوسنا شروع کر دیا جائے؟
- ۶...... رامے صاحب فرماتے ہیں کہ ۱۹۴۷ء میں قادیانیوں نے پاکستان کی حمایت کی تھی اور جماعت اسلامی نے مخالفت ۔
جماعت اسلامی یا کسی بھی دوسری جماعت نے پاکستان بننے کی مخالفت کی تھی تو وہ ان کی سیاسی رائے تھی ۔ سیاسی رائے غلط ہو سکتی ہے ۔
مرزائیوں کی حمایت پاکستان کا نتیجہ ہے کہ گورداسپور کا ضلع پاکستان کی بجائے ہندوستان میں شامل ہوا اور اب بھی مرزائی جماعت کا مذہبی عقیدہ (سیاسی رائے نہیں) ہے جس کی بنیاد ان کے امام کے الہام پر ہے ۔ مرزا بشیر نے ظفر اللہ قادیانی کی موجودگی میں کہا کہ ’’ہم چاہتے ہیں کہ اکھنڈ ہندوستان بنے ۔‘‘
(الفضل مورخہ ۵؍اپریل ۱۹۴۷ء ص۳ کالم۲)
ہم ہندوستان کی تقسیم پر راضی ہوئے تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح جلد متحد ہو جائیں ۔
(الفضل مورخہ ۱۶؍مئی ۱۹۴۷ء ص۲ کالم۱)
یہی اکھنڈ بھارت کے عقیدہ کا نتیجہ ہے کہ وہ پاکستان میں اپنی نعشوں کو امانتاً دفن کرتے ہیں ۔ مزید ان کی پاکستان دوستی دیکھنی ہو تو شورش مرحوم کی عجمی اسرائیل کا مطالعہ کریں ۔ مرزا ناصر کی امریکہ میں روسی سفیر سے ملاقات، مرزا طاہر کی بیرون ملک میں حالیہ تقریریں، الیکشن کے زمانہ میں مرزا طاہر کی ہدایت پر صدارتی آرڈیننس کی خلاف ورزی کر کے ہیجان و جارحیت کی کیفیت پیدا کرنا ۔ کیا یہ سب کچھ ان کی حب الوطنی کی دلیل ہے؟ اگر وہ پاکستان دوست ہیں تو پھر پاکستان کا دشمن کوئی نہیں ۔ صدر مملکت کے مشیر مولانا ظفر انصاری کے بقول اسرائیلی فوج میں چھ سو قادیانی ملازم ہیں ۔ یہ ان کی اسلام دوستی ہے؟
- ۷...... رامے صاحب فرماتے ہیں کہ کلمہ تو نہیں مٹے گا ’’احمدیوں کی مساجد‘‘ قادیانی عبادت گاہوں کو مساجد کہنا خلاف اسلام اور صدارتی
آرڈیننس کی خلاف ورزی ہے ۔ حکومت کو اس کا نوٹس لینا چاہئے ۔ رامے صاحب قادیانیت نوازی میں اس حد تک بڑھ گئے ہیں کہ وہ نہ اسلام کا لحاظ کرتے ہیں نہ ملکی قانون کا خیال ۔ یہ بالکل صحیح ہے کہ کلمہ مٹنے کے لئے نہیں بلکہ اس کے تقدس کو پامال کرنے والے قادیانی یا ان کے اس فعل کو صحیح قرار دینے والے قادیانی نواز یقیناً قدرت خداوندی وقانون کے ہاتھوں بہت جلد اپنے منطقی انجام کو پالیں گے ۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۸...... رامے صاحب فرماتے ہیں کہ کہیں پاکستان کو گزند نہ پہنچ جائے۔ خاکم بدہن پاکستان دشمنوں کی یہ آرزو بھی پوری نہ ہوگی۔
اندرون ملک قادیانی نواز، بیرون ملک مرزا طاہر کی آرزوؤں کے علی الرغم پاکستانی قوم بفضلہ تعالیٰ اپنے ملک کے چپہ چپہ کے تحفظ کے لئے جان دے دے گی۔ پاکستانی قوم اپنے ملک و ایمان کے دشمنوں کو بخوبی جانتی ہے۔
- ۹...... رامے صاحب فرماتے ہیں: میرے دور نزدیک کے رشتہ داروں میں کوئی بھی قادیانی نہیں۔
بہت خوشی کی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے خاندان کو محمد عربی ﷺ کے باغیوں سے محفوظ رکھے۔ مگر یاد پڑتا ہے کہ ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت میں بعض حلقوں نے الزام لگایا تھا کہ آپ اور راجہ غالب احمد قادیانی ہم زلف ہیں اور یہ کہ آپ کی بیگم کوئٹہ قادیانی جماعت کے امیر کی دختر نیک اختر ہیں۔ اس کی تردید نظر سے نہیں گزری۔ کرم ہوگا کہ وضاحت کر دیں تاکہ غلط فہمی دور ہو۔ اس شبہ کو تقویت اس وقت ملی جب آپ کی بیگم شاہین رامے جو ہلال احمر پنجاب کی چیئرمین تھیں، نے ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کے مرکز ربوہ میں ’’ہلال احمر‘‘ کا سامان بھجوایا اور آپ نے ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت کی کامیابی پر شعلہ جوالا بن کر غالباً خانیوال میں تحریک کے رہنماؤں کے پیٹ پھاڑ کر حلوہ برآمد کرنے کی دھمکی دی۔ یہ وہ امور ہیں جن کے باعث اس تحریک سے وابستہ لوگ آپ کے بارہ میں مثبت رائے نہیں رکھتے۔ تاریخ کا ریکارڈ درست رکھنے کے لئے وضاحت کی زحمت فرمائیے، خوشی ہوگی تاکہ غلط فہمی دور ہو۔
- ۱۰...... فرماتے ہیں: اس سے زیادہ منافقت کیا ہوگی۔ یقیناً ہر انصاف پسند اسے کلمہ دوستی کے بجائے کلمہ دشمنی قرار دے گا۔
قبلہ! سب سے بڑا منافقانہ کردار تو یہی ہے کہ کفر دھوکہ دہی کے لئے کلمہ کو غلط استعمال کرے۔ یہ کلمہ دشمنی ہے کہ کفر کے ہاتھوں اس کی پامالی پر احتجاج کرنے والوں کے خلاف بے لگام گھوڑے کی طرح سرپٹ دوڑنا شروع کر دیں۔ کافروں کی وکالت بہرحال باعث نفریں ہے۔ شرعی عدالت کے فاضل جج، اسلامی نظریاتی کونسل، ملک بھر کے تمام مکاتب فکر کے علماء سب غلط ہیں۔ صرف آپ کی سوچ صحیح ہے۔ فرمائیے: انا انا کا سب سے پہلے کس نے علم بلند کیا تھا۔
بحث طوالت اختیار کرگئی۔ آخر زخم کاری تھا، مرہم پٹی پر دیر لگنا فطری امر تھا۔ اگر موصوف دیانتداری سے محولہ بالا اوریجنل کتب دیکھنا پسند کریں اور حقیقت پسندی کی زحمت کریں تو دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت مسلم کالونی ربوہ ضلع جھنگ کے پتہ پر حکم فرمائیں۔ فقیر حاضر ہو کر کتب دکھانے کی سعادت حاصل کرے گا۔ اپنے علم پر ناز کا ان کو حق ہے مگر حکمت مؤمن کی گم شدہ متاع ہے۔ کہیں سے ملے اسے حاصل کرنا چاہئے۔
(روزنامہ ’’جنگ‘‘ لاہور، مورخہ ۲۱؍فروری ۱۹۸۵ء)
ان دو مضامین کے شائع ہونے کے بعد الحمد للہ! روزنامہ ’’جنگ‘‘ میں مولانا زاہد الراشدی، جناب مولانا اختر کاشمیری، جناب مولانا نعیم آسی اور دیگر حضرات کے اس کثرت کے ساتھ مضامین شائع ہوئے۔ جنگ ایسے کثیر الاشاعتی روزنامہ میں مضامین کی اشاعت کے ساتھ ساتھ جناب یوسف مظفر گڑھی، جناب اشرف ہاشمی ایڈووکیٹ کے مضامین ہفتہ وار لولاک میں شائع ہوئے۔ غرض کراچی سے خیبر تک جس مسلمان کو بھی اللہ تعالیٰ نے توفیق دی قادیانی اور قادیانی نوازوں کے پروپیگنڈا کے جواب میں ایستادہ ہو گیا۔ ملک بھر کے جرائد میں قادیانی پروپیگنڈا کو آڑے ہاتھوں لیا گیا تو انہیں بجائے لینے کے دینے پڑ گئے۔ قادیانی مزاحمتی تحریک کا خیال زمین بوس ہو گیا۔ ان کے سازشی منصوبے سبوتاژ ہوئے۔ ان کی چالاکیاں تار عنکبوت کی طرح ایک ہی جھونکے سے تار تار ہوگئیں۔ ایک دفعہ پھر قادیانی کفر ہار گیا اسلام اور مسلمان جیت گئے۔ فلحمدللہ!
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق کے نام مولانا محمد عبداللہ اسلام آباد کا ایک کھلا خط
بخدمت جناب جنرل محمد ضیاء الحق صاحب (صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان راولپنڈی)
السلام علیکم! اسلامی تعلیمات اور آپ کے احکامات کی روشنی میں پاکستان میں اقلیتوں کی فلاح اور بہبود، ان کے جان و مال کا تحفظ اور روزمرہ کی زندگی میں انہیں مسلمانوں کے برابر حقوق دینا بلاشبہ ایک مستحسن عمل ہے۔ لیکن جب کسی اقلیتی فرقے کا کوئی رکن کسی اعلیٰ عہدہ پر فائز ہو اور اپنے وسیع اختیارات کا فائدہ اٹھا کر اپنے فرقے کے افراد کی جائز نا جائز پرورش کرے اور اس کے برعکس مسلمانوں کو بے دریغ مالی نقصان پہنچائے۔ انہیں پریشانیوں میں مبتلا کرے، ان میں بے چینی اور بددلی پیدا کرنے کے لئے باقاعدہ منصوبہ بندی کرے تو اس کا نوٹس لینا اور مناسب اقدامات کرنا بھی حکومت وقت کا فرض بن جاتا ہے۔
اس ضمن میں گزارش ہے کہ عبدالجلیل خان مسلمہ طور پر قادیانی فرقہ کا ایک بہت سرگرم رکن ہے۔ عرصہ چھ سال سے زائد ملٹری لینڈ اینڈ کنٹونمنٹ (D.M.L.E.C) وزارت دفاع حکومت پاکستان کے عہدہ پر تعینات ہیں۔ ان کی اپنے فرقے کی مدد اور مسلمانوں سے متعصبانہ روش کا مجسم ثبوت موجود ہے جو کہ مسلمانوں کے خلاف ان کی سازشوں کا آئینہ دار ہے اور آپ کی فوری توجہ اور مناسب کارروائی کا متقاضی ہے۔ ذیل میں عبدالجلیل خان کے متعلق چند قابل غور حقائق اور ان کے اعمال کی کچھ مثالیں پیش کی جاتی ہیں۔
- ۱...... حکومت پاکستان کی مرتب کردہ حساس فہرست (Sensitive List) کے مطابق کچھ کلیدی آسامیوں پر اقلیتی فرقے کے کسی
رکن کو تعینات نہیں کیا جاسکتا۔ اس فہرست میں (D.M.L.E.C) کی آسامی جو کہ پاکستان بھر میں تمام کنٹونمنٹ بورڈز کی حاکم اعلیٰ کی حیثیت رکھتی ہے، بھی شامل ہے۔ لیکن نامعلوم کن وجوہات کی بناء پر عبدالجلیل خان ۱۹۷۷ء سے اس عہدہ پر فائز چلے آ رہے ہیں۔
- ۲...... عبدالجلیل خان کو ۱۹۷۷ء میں سیکرٹریٹ گروپ نے مذہبی امور کی وزارت میں بحیثیت جوائنٹ سیکرٹری مقرر کیا تھا۔ لیکن انہوں
نے اسے نامنظور کیا اور اپنے اثر و رسوخ سے (M.L.E.C) گروپ میں گریڈ ۲۰ کی ترقی حاصل کر لی اور ڈپٹی ڈائریکٹر کی حیثیت میں دوہری ترقی پا کر ایڈیشنل ڈائریکٹر بننے کے بجائے ڈائریکٹر بن گئے۔
- ۳...... عبدالجلیل خان (D.M.L.E.C) بننے کے بعد جب کہ قادیانی آئینی طور پر ایک غیر مسلم اقلیتی فرقہ قرار دیئے جا چکے تھے۔
مسلمان بن کر اور پاکستانی وفد میں شامل ہو کر (R.C.D) کی ایک میٹنگ میں ترکی جانے میں کامیاب ہو گئے اور وہاں سے پھر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر کے عمرہ ادا کرنے کے لئے سعودی عرب چلے گئے۔ جب کہ بیت اللہ میں ان کا داخلہ سعودی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی تھی۔ لیکن زکوٰۃ آرڈیننس کے نفاذ کے بعد انہوں نے اپنے آپ کو حلفاً قادیانی ظاہر کیا اور اپنے بینک اکاؤنٹ میں سے زکوٰۃ کی کٹوتی کی رقم واپس وصول کی اور ایک بار پھر اپنی بیوی اور بچوں کے نام مسلمانوں کے لئے مخصوص قانون (Muslim Law) کے تحت اپنی جائیداد منتقل کروا کے ہزاروں روپیہ کے ٹیکس اور اشٹامپ ڈیوٹی ادا کرنے سے بچ گئے۔
- ۴...... عبدالجلیل خان نے ایبٹ آباد کنٹونمنٹ میں تقریباً ۵۰ پلاٹ اپنے فرقہ کے ملکی اور غیر ملکی افراد سے ربوہ کی درخواستیں حاصل کر
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے ملٹری اکیڈمی (Military Acadmy) کے قریب ایسی صورت میں الاٹ کر دیئے تاکہ وہاں بالآخر قادیانیوں کا تبلیغی مرکز بن جائے۔ جس سے مستقبل کے فوجی افسران کے ذہنوں کو متاثر کیا جاسکے۔
- ۵...... گوجرانوالہ کنٹونمنٹ میں ایک قادیانی آفس سیکرٹری کو اینٹی کرپشن والوں نے موقع پر گرفتار کیا لیکن عبدالجلیل خان نے اس کے
خلاف کوئی کارروائی نہ ہونے دی اور اسے ترقی دے کر سیکرٹری بنا دیا جو آج کل سرگودھا کنٹونمنٹ میں تعینات ہے۔
- ۶...... کراچی کنٹونمنٹ بورڈ کے دفتر میں ایک قادیانی انسپکٹر مسمی مسعود احمد کے خلاف بدعنوانی کا جرم ثابت ہوا اور اسے ملازمت سے
برطرف کر دیا گیا لیکن عبدالجلیل خان نے اسے دوبارہ ملازمت دے کر کوئٹہ کنٹونمنٹ میں بھیج دیا۔ مسعود احمد کوئٹہ میں بھی ایک سنگین جرم کا مرتکب ہوا اور اسے عدالت سے سزا ملنے پر ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔ لیکن عبدالجلیل خان نے اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے مسمی مسعود احمد کی برطرفی کے حکم کو ریٹائرمنٹ میں تبدیل کر دیا اور اسے تمام مراعات دلوا دیں اور وہ شخص اب بھی پنشن وصول کر رہا ہے۔
- ۷...... عبدالجلیل خان نے راولپنڈی چھاؤنی میں فردوسی روڈ پر اپنے نام پر ایک پلاٹ اس طرح سے الاٹ کروایا کہ اس کے عقب میں
ایک دوسرے پلاٹ کے لئے کوئی راستہ نہ رہا اور بعد ازاں دوسرا پلاٹ بھی اپنے نام الاٹ کروا کر اس پر قبضہ کر لیا۔
- ۸...... مری چھاؤنی میں عبدالجلیل خان نے اپنے قادیانی دوست ڈاکٹر محمد آصف کو معمولی شرائط پر بہت قیمتی کمرشل زمین دے دی جس
پر ڈاکٹر موصوف نے ۳۰ سے زائد دکانیں بنا کر بہت بڑی پگڑی کی رقم وصول کی اور اس طرح حاصل شدہ رقم سے اب وہ مری میں بقایا زمین پر ایک بہت بڑا اور جدید قسم کا ہوٹل تعمیر کر رہا ہے اور مری میں سب سے بڑی کمرشل جائیداد کا مالک بن گیا ہے۔
- ۹...... عبدالجلیل خان نے تمام لازمی تحقیقاتی کارروائی کو برطرف کر کے کراچی کنٹونمنٹ میں سرکاری فنڈ میں سے صرف تین دن میں
اٹھارہ لاکھ کی کثیر رقم ادا کر کے اپنے ایک قادیانی بھائی کی تین کوٹھیاں اپنے محکمہ کے لئے خرید لیں اور مسل کا پیٹ بھرنے کے لئے تحقیقاتی کارروائی بعد میں کی۔ ان کوٹھیوں کی مرمت پر بعد میں کئی لاکھ روپے خرچ کئے گئے۔
- ۱۰...... عبدالجلیل خان کے متعلق وزارت دفاع کے پاس بھی متعدد شکایات ہیں لیکن بقول ان کے ایک دوست ، عبدالجلیل خان کے
ہاتھ اتنے لمبے ہیں کہ ان کے خلاف اب تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ عبدالجلیل خان کے متعلق مجلس شوریٰ کے کچھ ممبران سوالات بھی کر چکے ہیں۔ لیکن ان کا کبھی کوئی واضح جواب حکومت کی طرف سے نہیں دیا گیا۔ اس کے علاوہ عبدالجلیل خان کے خلاف کچھ شکایات اس وقت محتسب اعلیٰ کے پاس بھی زیر غور ہیں۔
مرزائی پروری اور مسلمان دشمنی کی کئی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جنہیں ہم آپ کی جانب سے اس مسئلہ پر توجہ دینے پر پیش کر دیں گے۔ ان حالات میں مجلس تحفظ ختم نبوت آپ سے پرزور اپیل کرتی ہے کہ عبدالجلیل خان جب کہ وہ اپنے موجودہ عہدہ پر سات برس گزار چکا ہے۔ یہ آسامی حکومت کی حساس فہرست پر بھی موجود ہے اور قادیانی فرقہ کے موجودہ عزائم کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ برائے کرم عبدالجلیل خان کو فوری طور پر معطل کیا جائے اور اس کے خلاف مسلسل شکایات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائے۔ ہم یقین کرتے ہیں کہ آپ ہمارے بیان کی صداقت کو جاننا ضروری سمجھیں گے اور انصاف کا تقاضہ پورا کرنے کی غرض سے مناسب احکام جاری فرمائیں گے۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آخیر میں یہ عرض کر دینا بھی ضروری ہے کہ عبدالجلیل خان کے پیشرو مسلمان افسر کو اس بناء پر ہٹایا گیا تھا کہ وہ اپنے عہدہ کی پانچ سالہ میعاد (Tenure) پوری کر چکا تھا لیکن عبدالجلیل خان اسی عہدہ پر گزشتہ سات برس سے تعینات ہیں اور ابھی تک بلاخوف و خطر قائم ہیں۔ محمد عبداللہ خطیب مرکزی جامع مسجد اسلام آباد پاکستان منجانب:مجلس تحفظ ختم نبوت راولپنڈی / اسلام آباد
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۲ تا ۸؍فروری ۱۹۸۵ء)
نواب شاہ سندھ میں قادیانیوں کی قانون شکنی
۲۸؍جنوری ۱۹۸۵ء شام کو نواب شاہ میں قادیانیوں کی سرگرمیاں، اپنی عبادت گاہ میں حاضری خلاف معمول زیادہ تھی۔ معلوم ہوا کہ قادیانیوں نے پیتل کی تختی پر کلمہ طیبہ کا بورڈ لکھ کر عبادت گاہ کے سرے پر آویزاں کیا ہے۔ مولانا محمد ارشد امیر مجلس، مولانا محمد ابراہیم ناظم اعلیٰ، مولانا محمد درویش، مولانا محمد اسجد، علامہ فریدی، مولانا اللہ بخش، مولانا غلام قادر اگلے روز ۲۹؍جنوری کو جناب ڈی سی نواب شاہ سے ملے اور صورت حال بتائی کہ قادیانی شرارتاً ملک میں افراتفری کے لئے قانون کو ہاتھ میں لے رہے ہیں۔ قانوناً وہ اسلام کی کوئی علامت نہیں اپنا سکتے کہ وہ غیر مسلم ہیں۔ اسلام کی سب سے بڑی علامت کلمہ طیبہ کا استعمال قانون سے استہزاء کا اقدام ہے جو قادیانی کر رہے ہیں۔ ڈی سی صاحب نے اسی وقت قادیانی عبادت گاہ سے کلمہ طیبہ کا بورڈ ہٹوا کر کلمہ طیبہ کی قادیانیوں کے ہاتھوں توہین کو ناکام بنا دیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی، مورخہ ۲۳؍فروری تا یکم؍مارچ ۱۹۸۵ء)
زرتشت منیر احمد قادیانی کی معطلی
اعلیٰ حکام نے اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن کراچی کے سربراہ اور مبینہ طور پر قادیانی زرتشت منیر احمد کو ملازمت سے معطل کر دیا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق یہ کارروائی وفاقی تحقیقاتی ادارے کی تحقیقات کے بعد کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کارپوریشن کے اعلیٰ افسروں کے خلاف صدر مملکت تک مبینہ غبن، بے قاعدگیوں اور فراڈ کی شکایات بھی کی گئی ہیں۔ جب کہ سعودی عرب سے ۲۲ افراد جنہیں مبینہ طور پر قادیانی بتایا گیا، ان کی پاکستان واپسی کو بھی کارپوریشن کے لئے نقصان دہ قرار دیا جا رہا ہے اور اس طرح کارپوریشن کے ذریعے بیرون ملک ملازمت دلانے کے کاروبار میں بھی کمی واقع ہو گئی ہے۔ ان ذرائع نے کہا کہ وفاقی سیکرٹری محنت ایس ایم اے کاظمی کو کارپوریشن میں مبینہ غبن و بے قاعدگیوں کی رپورٹ دے دی گئی ہے۔ بتایا گیا کہ ایف آئی اے سے قبل ہونے والی ایک تحقیقاتی ٹیم نے ملک کے اعلیٰ حکام کی ہدایت پر کارپوریشن کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر، کراچی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، زرتشت منیر احمد، او آئی سی کراچی کے افتخار خان، او ای سی ایکسپریس کے عارف حمید اور ایک اور افسر جاوید اقبال کے خلاف سخت الزامات کی تحقیقات بھی کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی آفس کے سربراہ جو کہ مبینہ طور پر معروف قادیانی ہے کے خلاف لاکھوں روپے کے کمیشن کی تحقیقات بھی جاری ہیں۔ جب کہ اس نے عدالت عالیہ سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کی ہوئی ہے۔ بتایا گیا کہ کارپوریشن کے ذیلی ادارے اوورسیز ایکسپریس کو بند کر دیا گیا ہے جو کہ بے قاعدگیوں، مبینہ غبن اور بد نظمی کے باعث نقصان کا شکار ہو گئی تھی۔ ان ذریعوں نے کہا کہ ای ڈی کراچی کو معطل کرتے ہوئے بھی مبینہ طور پر فنی گنجائش رکھتے ہوئے اعلیٰ حکام نے کہا کہ وہ تین ماہ کے عرصہ کے لئے معطل کیا جا رہا ہے۔ ان ذرائع نے کہا کہ ملازمت کی معطلی میں عرصہ مقرر نہیں کیا جاتا۔ مزید بتایا گیا کہ تحقیقاتی ادارے کو ریکارڈ کے حصول میں بھی سخت دشواری کا سامنا ہے۔ کیونکہ ریکارڈ کو
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اپنی جگہ سے خفیہ مقام تک پہنچانے کے بارے میں بتایا جا رہا ہے۔ بتایا گیا کہ لاکھوں روپے کے مبینہ غبن وفراڈ کے سلسلہ میں ایف.آئی.اے کو کارپوریشن کی طرف سے تحقیقات کی پہلے ہی درخواستیں دی گئی ہیں۔ جن پر سابق سربراہ کی موجودگی کے سبب اور اس کے اثر کی وجہ سے عمل نہیں ہو سکے گا۔ تاہم ایف.آئی.اے نے اب مزید تحقیقات شروع کی ہیں۔
(روزنامہ نوائے وقت کراچی، مؤرخہ ۲۳؍جنوری ۱۹۸۵ء)
گزشتہ صحبت میں قادیانی تلبیس کی ایک تازہ ترین مثال کی روشنی میں حکومت سے گزارش کی گئی تھی کہ قادیانی مہروں پر کڑی نگاہ رکھی جائے۔ آج کی صحبت میں بھی قارئین نے مرزائی امت کے ہونہار چشم و چراغ زرتشت منیر احمد کی کارکردگی سے متعلق روزنامہ نوائے وقت کی خبر ملاحظہ فرمائی جس سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ قادیانی کس قماش کے ہوتے ہیں اور ان کی تربیت کس طرح سے کی جاتی ہے اور وہ قوم وملک کے حق میں کس قدر مخلص ہوتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر ان کی نگاہوں میں قانون کی کیا اہمیت اور قدر منزلت ہوتی ہے۔
مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی طرف سے بار بار اس پر تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا کہ اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن کراچی کا سربراہ زرتشت منیر احمد انتہائی بدبودار اور سڑا ہوا قادیانی ہے اور اس کا اس عہدہ پر رہنا قوم وملک کے مفاد میں بہتر نہیں اور وہ غبن، فراڈ اور بے قاعدگیوں کے علاوہ سینکڑوں قادیانیوں کو مسلمانوں کے پاسپورٹ پر سعودی عرب اور دوسرے عرب ممالک میں جہاں قادیانیوں کا داخلہ ممنوع ہے۔ بلا دھڑک بھیج رہا ہے۔ نیز حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ فوراً اس کو معطل کر کے اس کے خلاف تعزیری کارروائی کی جائے۔ مگر نامعلوم کن وجوہات کی بناء پر ہماری مصلحت پوش انتظامیہ اس کو اب تک ٹالتی رہی ہے۔
بدقسمتی سے جب وہ رنگے ہاتھوں دھر لیا گیا تو ہماری انصاف پسند انتظامیہ نے ایسی قابلِ تقلید فراخ دلی کا ثبوت دیا جس کی مثال نہیں پیش کی جاسکتی۔ کیا ایسا شخص بھی کسی رعایت کا مستحق ہو سکتا ہے۔ جس کے خلاف صدر مملکت کو شکایات گئیں ہوں اور وفاقی تحقیقاتی ادارے کی تحقیقات کے مطابق ثابت ہو جائے۔ اس کے خلاف لاکھوں روپے کے غبن کی کمیشن تحقیقات کر رہا ہے اور وہ بائیس قادیانیوں کو مبینہ طور پر سعودی عرب بھیج چکا ہے۔ جو تاحال وہاں موجود ہیں اور اس کی رسائی اور اثر رسوخ کا یہ عالم ہو کہ ایف آئی اے کا عملہ بھی اس کے خلاف تحقیقات کرنے سے قاصر رہا ہو اور اس کے خلاف قائم کئے گئے تحقیقاتی ادارہ کو ریکارڈ حاصل کرنے میں سخت دشواریوں کا اس لئے سامنا کرنا ہو کہ ریکارڈ کو خفیہ مقام تک پہنچا دیا گیا ہو۔ پھر اوورسیز ایکسپریس کو (جو کارپوریشن کا ذیلی ادارہ تھا) محض اس لئے بند کر دیا گیا کہ وہ مذکورہ قادیانی کی کارستانی کے باعث نقصان کا شکار ہو گیا تھا۔
جب ایسا شخص کسی رعایت کا مستحق نہیں تو ہم پوچھنا چاہیں گے کہ اس کی ضمانت قبل از گرفتاری کیونکر کی گئی؟ پھر ایسے سنگین مجرم کے ساتھ رعایت برتتے ہوئے مبینہ طور پر خلاف قانون اسے صرف تین ماہ کے لئے معطل کرنا کہاں کی دانشمندی ہے۔ جب کہ قانوناً ملازمت سے معطلی کی مدت مقرر نہیں کی جاسکتی؟
کیا یہ سب آئینی تقاضوں سے ہم آہنگ؟ کیا یہ کھلی مرزائیت نوازی نہیں؟ کیا اس سے مرزائیت اور لاقانونیت کو فروغ نہیں ملے گا؟ ضروری ہے کہ اس کی تحقیق کی جائے کہ کہیں متعلقہ ادارہ میں اعلیٰ پوسٹ پر کوئی قادیانی تو نہیں بیٹھا؟ خدارا پاکستان پر رحم کیجئے اور اس کو مرزائیوں کے رحم و کرم پر نہ چھوڑیئے۔
(مولانا سعید احمد جلالپوری، ہفت روزہ لولاک مؤرخہ یکم؍مارچ ۱۹۸۵ء)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جنیوا کے وومن کمیشن میں قادیانیوں کی درخواست اور اس کا جواب
۲/ مارچ ۱۹۸۵ء کو حضرت حاجی بلند اختر مرحوم کے ہمراہ فقیر کی جناب ریاض الحسن گیلانی ایڈووکیٹ سپریم کورٹ سے ملاقات ان کے دفتر لاہور میں ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ قادیانیوں نے وومن کمیشن جنیوا میں پاکستان گورنمنٹ کے خلاف درخواست دی جس میں کہا کہ:
- ۱...... پاکستان میں ہماری مذہبی آزادی سلب ہے۔
- ۲...... ہماری جان مال محفوظ نہ ہے۔
- ۳...... یہ کہ قادیانی ہونے کے باعث ہمیں ملازمتوں سے نکالا جا رہا ہے۔
سوئٹزرلینڈ میں جنیوا کمیشن کا اجلاس تھا اور پاکستان کا وہاں سفیر قادیانی تھا۔ اس ملعون نے حکومت کی طرف سے جواب دینے کی بجائے قادیانی درخواست پاکستان گورنمنٹ کو بھجوا دی کہ آپ اس کا جواب دیں۔
جناب گیلانی صاحب نے بتایا کہ ۲۳/ فروری ۱۹۸۵ء کو اسلام آباد میں اجلاس ہوا۔ مذہبی امور، وزارت داخلہ، وزارت خارجہ، وزارت قانون، وزارت اطلاعات کے وفاقی سیکرٹری صاحبان کے اجلاس میں قادیانی درخواست کا جواب لکھا گیا جو ۲۵/ فروری کو جنیوا بھجوا دیا گیا۔ اس اجلاس میں حکومت نے بطور خاص جناب گیلانی صاحب کو بلوایا تھا۔ ذیل میں روزنامہ جسارت کراچی کی خبر ملاحظہ ہو۔
’’اسلام آباد میں ۲۰، ۲۱/ فروری کو اعلیٰ سطح کا ایک اجلاس دو روز جاری رہنے کے بعد ختم ہو گیا۔ اجلاس میں اقوام متحدہ کے کمیشن برائے بنیادی حقوق کے لئے حکومت پاکستان کا ’’بریف‘‘ تیار کیا گیا۔ بریف خاص طور پر اس عرض داشت کے پیش نظر تیار کیا گیا ہے جو قادیانیوں نے کمیشن کے سامنے پیش کی ہے۔ کمیشن کا یہ اجلاس آج کل جنیوا میں ہو رہا ہے۔ جہاں ایک اطلاع کے مطابق قادیانی جماعت کا سربراہ مرزا طاہر اور دوسرے قادیانی رہنما موجود ہیں۔ قادیانیوں نے کمیشن سے یہ شکایت کی ہے کہ ان کے ساتھ پاکستان میں وہ سلوک نہیں ہو رہا ہے جو کسی بھی ملک میں اقلیتوں کے ساتھ ہونا چاہئے۔ اسلام آباد کے اجلاس میں دوسرے اعلیٰ حکام کے علاوہ پاکستان کے ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بھی شرکت کی۔ خیال ہے کہ پاکستان کا وفد قادیانیوں کی شکایت کا جواب لے کر جلد جنیوا روانہ ہو جائے گا۔ ’’بریف‘‘ ان حقائق کو سامنے رکھ کر کیا گیا ہے کہ کسی قادیانی کو پاکستان میں اس کے عقائد کی وجہ سے ملازمت سے علیحدہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی زندگی کے کسی شعبہ میں ان سے امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔ قادیانیوں کے اخبارات، رسائل اور جرائد پوری آزادی سے پاکستان میں شائع ہو رہے ہیں۔ ان کی عبادت گاہیں کھلی ہوئی ہیں۔ البتہ اقلیت قرار دینے کے بعد انہیں مسلمانوں کے انداز میں تبلیغ کرنے سے منع کر دیا گیا ہے۔ اسلام آباد کے اجلاس کی صدارت وزارت داخلہ کے سیکرٹری جنرل روئیداد خان نے کی۔ اجلاس میں وزارت اطلاعات و نشریات کے سیکرٹری لیفٹیننٹ جنرل مجیب الرحمٰن وزارت مذہبی امور کے ایڈیشنل سیکرٹری انچارج چوہدری شوکت، وزارت عدل و انصاف اور وزارت خارجہ کے سیکرٹریوں نے بھی شرکت کی۔
(بشکریہ جسارت کراچی، مؤرخہ ۲۲/ فروری ۱۹۸۵ء، ہفت روزہ ختم نبوت کراچی، مؤرخہ ۱۶ تا ۲۲/ مارچ ۱۹۸۵ء)
رائس ایکسپورٹ کارپوریشن میں قادیانیوں کی خرمستیاں
۲۵/ اپریل ۱۹۸۵ء کو کراچی کے اخبارات میں ایک خبر شائع ہوئی جس میں کہا گیا تھا کہ: ’’پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے ایک جہاز کے کراچی سے دبئی پہنچنے پر ایک کنٹینر سے جس میں چاول لدا ہوا تھا ایک ٹن ہیروئن برآمد کر لی گئی۔ یہ چاول پاکستان رائس ایکسپورٹ کارپوریشن نے دبئی کی ایک فرم کو برآمد کیا تھا۔‘‘
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہفت روزہ ختم نبوت کراچی میں اس خبر کے بعد ایک تفصیلی رپورٹ شائع ہوئی جس میں بتایا گیا تھا کہ: ’’دبئی پہنچنے والے جہاز سے ہیروئن کی برآمدگی میں مرزائی لابی کی سازشیں کارفرما ہیں۔ کیونکہ چاول، رائس کارپوریشن کی ذمہ داری پر ایکسپورٹ ہوتا ہے اور چاول کی ترسیل سے متعلق شعبہ کا منیجر حمزہ بن عبدالقادر پکا قادیانی ہے۔ جو کہ بارہ سال سے اسی شعبہ سے متعلق ہے۔ ایکسپورٹ کے حوالہ سے چاول کی تیاری، پیکنگ، جہاز پر روانگی سب کا ذمہ دار یہی حمزہ بن عبدالقادر ہے۔ رائس ایکسپورٹ کارپوریشن کا ایک شعبہ پروکیومنٹ اور فنانس کا ہے جس کے منیجر بالترتیب ایس. کے ملک اور عبدالغنی قادیانی ہیں۔‘‘
اس رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا تھا کہ دبئی پہنچنے والے جہاز سے ایک ٹن برآمد ہونے والی ہیروئن میں انہی قادیانیوں کا ہاتھ ہے۔ پاکستانی حکومت کے نوٹس میں جب یہ بات لائی گئی تو انہوں نے تحقیقات کے نام پر ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کر لیا۔ دبئی حکومت نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ہیروئن کی اسمگلنگ کے الزام میں جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا وہ سب کے سب قادیانی اور ربوہ کے رہائشی ہیں۔ خبر ملاحظہ ہو:
کسووال (نامہ نگار) گزشتہ دنوں ربوہ کے چار قادیانیوں کو ابوظہبی میں ہیروئن اسمگل کر کے فروخت کرنے کے جرم میں تین تین سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔ تفصیلات کے مطابق فیکٹری ربوہ کے قادیانی زاہد منیر، طاہر منیر، طارق احمد اور مسرور احمد کو ابوظہبی میں پاکستان سے ہیروئن اسمگل کرنے کے الزام میں گرفتار کر کے مذکورہ سزا سنائی گئی۔ جب کہ اس گروہ میں شامل بشیر احمد اور اس کی بیوی گرفتاری سے بچنے میں کامیاب ہو کر خفیہ طور پر پاکستان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
(روزنامہ ’’جنگ‘‘ کوئٹہ، مؤرخہ ۲۷ مئی ۱۹۸۵ء)
اس خبر کے کچھ ہی دنوں بعد حضرت مولانا مفتی احمد الرحمن نائب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو رائس ایکسپورٹ کارپوریشن کے ایک اندرونی واقف کار کا خط ملا۔ ملاحظہ ہو:
رائس ایکسپورٹ کارپوریشن میں قادیانیوں کی خرمستیاں
ایک اندرونی واقف کار کا مولانا مفتی احمد الرحمن صاحب کے نام خط، خط کے تمام مندرجات سے ادارہ کا اتفاق ضروری نہیں۔ (ادارہ)
جناب مفتی احمد الرحمن صاحب دارالعلوم اسلامیہ نیوٹاؤن مسجد کراچی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ جناب عالی!
گزارش ہے کہ ۲۵ اپریل ۱۹۸۵ء کے روزنامہ جنگ میں آپ کا ایک بیان نظر سے گزرا جس میں کہا گیا ہے کہ رائس ایکسپورٹ کارپوریشن میں بڑے پیمانہ پر دبئی کے جہاز سے جو ہیروئن پکڑی گئی ہے اس سلسلہ میں قادیانیوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ آپ کا فرمانا بڑی حد تک درست ہے۔ کیونکہ رائس ایکسپورٹ کارپوریشن میں ایک جنرل منیجر حمزہ بن عبدالقادر اور ساران خان ملک دو نام قابل ذکر ہیں۔ اوّل ہیروئن کے بڑے گروپ سے تعلق رکھتا ہے جس میں سابق چیئرمین اظہار الحق اور سابق سیکرٹری کامرس کی حمایت حاصل رہی جن کے اثر کی وجہ سے کارپوریشن کا دوسرا عملہ بالکل بیکار ہے جو حمزہ بن عبدالقادر کرتا ہے۔ وہی ٹھیک سمجھا جاتا ہے۔ سارن خان ملک کا کام یہ ہے کہ وہ پنجاب سے قادیانیوں کو لا کر بھرتی کرتا ہے تا کہ یہ جس منصوبہ بندی میں عمل پیرا ہیں اس کو بطریق احسن سرانجام دیتے ہیں۔ گزشتہ سال کے ریکارڈ سے معلوم ہوگا کہ کس قدر قادیانی بھرتی کئے گئے ہیں۔ گزشتہ سالوں میں سعودیہ کو خراب چاول بھیجا گیا۔ احتجاج پر ایک ہزار ٹن چاول بغیر حساب کے دینے کا وعدہ کیا گیا۔ وہ ریکارڈ پر موجود ہے جس کی تحقیقات جنرل منیجر اختر الحق نے کی تھی۔ اس طرح
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سے دو فائدے حاصل کئے گئے کہ پاکستان اچھا مال دکھا کر خراب دیتا ہے۔ نمبر دو چاولوں کی چوری کہ جب خراب مال واپس نہیں آیا تو کس طرح اچھا مال دیا جا سکتا ہے۔ اس کا ثبوت اب فراہم ہو گیا کہ نامعلوم کس کس طریقہ سے یہ حکومت کو نقصان پہنچاتے رہے ہیں۔ میں ایک پارٹی کا نام تحریر کر رہا ہوں۔ چاولوں کی ایکسپورٹر مبینہ طور پر قادیانی ہے۔ اس کا نام واسم ہے جو دبئی، شارجہ کو چاول پاکستان سے لے کر فراہم کرتا ہے۔ یہ ایک ہزار ٹن بھی اسی کے ذریعہ روانہ کرنا چاہتا ہوگا۔ حمزہ بن عبدالقادر تو کھل کر کہتا ہے کہ تم لوگ ہم کو کافر کہتے ہو۔ ۱۹۸۰ء میں قاسم گودام پیری میں صدر کے حکم کے تحت نماز کی جگہ بنائی گئی تھی۔ اس نے اس وقت جملہ ادا کیا تھا اور مسجد کو ہٹا دیا تھا کہ میری موجودگی میں مسجد نہیں بنے گی۔ لیکن بعد میں یہ شکایت چیئرمین سے کی گئی تو مسجد تو بن گئی لیکن جدوجہد کرنے والے انسپکٹر کو ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑے۔ اس نے شرطیہ استعفیٰ دیا جس میں اس کا نام لکھا کہ مسجد کے سلسلہ میں اس سے جھگڑا رہتا ہے۔ بغیر تحقیقات کے اپنا اثر استعمال کرتے ہوئے چیئرمین نے اس کا استعفے منظور کر لیا اور جب وہ ملا تو چیئرمین کہتا ہے میں مجبور ہوں۔ جب یہاں پر دین کا کام کرنے والوں کے ساتھ یہ سلوک ہوگا تو کیا امید کی جاسکتی ہے کہ یہاں دین پھلے پھولے گا۔ کوئی ہمت کر سکتا ہے؟ آپ لوگ بھی مجبور ہیں۔ مصلحت آپ کے اور حکومت کے مدنظر رہتی ہے۔ اگر یہی حال رہا تو مصلحت میں ہی اس ملک کو تباہی دیکھنا پڑے گی اور یہ ہو رہا ہے اور دشمن بے فکر ہے۔ اب میں آپ کو اس گروپ کی نشاندہی کرتا ہوں جو مبینہ طور پر قادیانی یا قادیانی نواز ہیں۔
- ۱...... اظہار الحق سابق چیئرمین آر۔ ای سی، سابق کامرس سیکرٹری (آج کل معلوم ہوا ہے ملک سے باہر گیا ہوا ہے)
- ۲...... فیض الرحمٰن انکم ٹیکس ایڈوائزر مختلف ٹریول ایجنسیاں اور کمپنیز۔
- ۳...... زکریا سعید، مالک ”اوشن شپنگ کمپنی“ جس کے دو جہاز مبینہ طور پر ہیروئن کے سلسلہ میں ایک شارجہ اور ایک امریکہ میں
زیر حراست ہیں۔ واردات پر دبئی فرار۔
- ۴...... امین اعزازی کونسلر جنرل آف پاکستان۔ داماد زکریا سعید حمزہ بن عبدالقادر کا قریبی رشتہ دار۔
- ۵...... ایک صاحب اور ہیں نام ابھی معلوم نہیں ہو سکا۔ ماڈرن موٹرز والے حال ہی میں گلیور ٹریول ایجنسی خریدی ہے۔ اسی ٹریول ایجنسی
ہی نے مرزا طاہر احمد کا ٹکٹ بنایا تھا۔
جب حکومت کی لاعلمی کا یہ حال ہو تو خدا ہی حافظ ہے۔ رائس ایکسپورٹ کارپوریشن ہیروئن کا اڈا نہ بنے گی تو کیا ہوگا۔ لہٰذا اب آپریشن ڈائریکٹر حمزہ بن عبدالقادر، ساران خان ملک اور چیئرمین جو بالکل نالائق بیوروکریٹ ہے کے خلاف آر۔ ای سی کی تحقیقات کسی ملٹری سی۔ آئی جو قادیانی نہ ہو سے کرائی جائے۔ یہ میں نے اس لئے لکھا ہے کہ عبدالرحمٰن نے کسی ملٹری والے قادیانی کے کہنے سے حمزہ بن عبدالقادر کے خلاف مبینہ طور پر ریکارڈ تبدیل کیا ہے۔ حمزہ بن عبدالقادر نے ہر کلیدی عہدہ پر پی۔ اے اپنے زرخرید غلام یا قادیانی رکھے ہوئے ہیں تاکہ ہر وقت کی خبر اسے معلوم ہوتی رہے۔ چاولوں کا ٹھیکیدار ”عالم“ ہے جو حمزہ بن عبدالقادر کا حصہ دار ہے۔ اس کے ذریعہ یہ ربوہ اور دیگر ملک مثلاً اسپین کی مسجد اور افریقہ میں قادیانیوں کے خلاف مقدمہ میں روپیہ روانہ کرتا ہے۔
چیئرمین نے کس قانون کے تحت ایڈوانس میں ایک لاکھ روپیہ حکومت کا اس کو دیا۔ ٹھیکیدار کو حمزہ کی وجہ سے ناجائز کام کرنے کے سرٹیفکیٹ ملتے رہے ہیں۔ اس کی تحقیقات نہایت ضروری ہے جس کی وجہ سے حکومت کو بہت نقصان ہوا ہے۔ مثلاً کم فاصلہ پر چاول پڑا ہے۔ زیادہ دور چاول ظاہر کر کے اس کا سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا۔ چاولوں اور بوریوں میں آگ لگوائی گئی جس سے زیادہ سے زیادہ نقصان ظاہر کر
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے فائدہ لیا گیا اور آئندہ خراب چاول کو نیلام کرایا گیا اور اچھا مال باہر نکالا گیا۔ عرصہ دراز سے ایک علاقہ میں تعیناتی کی وجہ سے سیکورٹی بالکل بے کار ہو گئی ہے اور یہ اس کا ماہر ہے کہ ہر آدمی کی قیمت لگاتا ہے اور حرام کے مال سے بیت المال قائم کیا ہوا ہے۔ جس سے غریبوں کو روپیہ دیتا ہے اور کوئی شکایت نہیں کرتا۔ دوسرا قادیانیت کی تبلیغ کرتا ہے۔
یہ حالات میں نے تحریر کر دیئے ہیں۔ اس پر آپ تحقیقات کرا سکتے ہیں۔ جب معلوم ہو گا کہ قادیانی ہمارے ملک میں کس قدر بااثر اور کلیدی عہدوں پر فائز ہیں اور حکومت خاموش۔ خط لمبا ہو گیا ہے یہ فقط میں نے آپ کے اخبار کے بیان کے تحت لکھنے کی جرأت کی ہے۔ سچی بات کہنے پر سزا تو مل سکتی ہے۔ چاروں طرف سے بھیڑیے اور گیدڑ تو حملہ کر سکتے ہیں۔ لیکن باضمیر یہ سوچ کر چپ ہو جاتے ہیں کہ کس کی شکایت کس سے کریں۔ کس کو اپنا دشمن بنائیں۔ جب کہ حکومت کچھ کرنا ہی نہیں چاہتی۔ اللہ کو گواہ کر کے تحریر کر رہا ہوں کہ واقعات ایسے ہی ہیں۔ آج تک کسی واقعے کی تحقیقات کی رپورٹ عوام کو معلوم نہیں ہوئی۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ج ۲۲ ش ۱۰، ۱۱ ص ۱۵، مورخہ ۳۰ مئی ۱۹۸۵ء)
میر پور خاص میں ایک مسلمان کی شہادت
میر پور خاص میں تین قادیانیوں نے ایک مسلمان کو لوہے کے سریے مار کر شہید کر دیا۔ مقتول جان محمد ولد عبد اللہ زرداری ساکن رحیم نگر، مل میں ملازم تھا اور قادیانی جو اس کے ساتھ ملازم تھے۔ مرزا طاہر کا بیان ٹیپ ریکارڈ اور کیسٹوں کے ذریعے روز سناتے۔ مقتول نے ان کو منع کیا۔ نوبت تلخ کلامی تک جا پہنچی۔ جس پر تین قادیانی ملازمین نے سریوں سے مار مار کر مقتول کو لہولہان کر ڈالا۔ زخمی حالت میں ان کو میر پور ہسپتال پہنچایا گیا تو ڈاکٹروں نے علاج کرنے سے انکار کر دیا۔ کیونکہ میر پور خاص مل کا ڈائریکٹر قادیانی تھا اور اس کے اثر رسوخ کی وجہ سے ڈاکٹروں نے جواب دے دیا۔ بعد ازاں اس کو زخمی حالت میں حیدر آباد لایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکا۔ پولیس رپورٹ درج کرانے اور ملزموں کو گرفتار کرنے میں ٹال مٹول سے کام لیتی رہی۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے راہنما حضرت مولانا احمد میاں حمادی صاحب کو جب ٹنڈو آدم میں اس واقعہ کی اطلاع ہوئی تو فوراً میر پور پہنچے اور ایک وفد لے کر ڈپٹی کمشنر میر پور خاص سے ملے اور رپورٹ درج نہ کرانے کی وجہ دریافت کی۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ مذہب سے بالاتر یہ ذاتی نوعیت کا جھگڑا تھا۔ احمد میاں حمادی صاحب نے ڈی سی کو نہایت معقول بات کہی کہ آپ محلے کا راؤنڈ لگا لیں اور اہل محلہ کی رائے لے لیں۔ بعد ازاں رپورٹ درج کرائی گئی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی توجہ دلانے پر میر پور خاص، ٹنڈو آدم، حیدر آباد اور مضافات کی مساجد میں نماز جمعہ کے اجتماعات اور کانفرنسوں میں علماء کرام نے زبردست بیانات کئے اور احتجاج کیا کہ قاتلوں کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت، مورخہ ۳۱ مئی تا ۶ جون ۱۹۸۵ء)
مردان میں کلمہ طیبہ کی توہین کا مقدمہ
۷ جولائی ۱۹۸۵ء کو ضلع مردان میں دو قادیانی جاوید اور بشیر کلمہ طیبہ کی توہین کے مرتکب ہوئے۔ دونوں نے کلمہ طیبہ کے بارے میں نازیبا کلمات کہے اور اپنے مکان کی لیٹرین کے اوپر کلمہ طیبہ لکھوایا۔ مقامی مسلمان ان کی اس حرکت پر نہایت مشتعل ہوئے اور قریب تھا کہ دونوں قادیانیوں پر اپنے غم و غصے کا مظاہرہ کرتے کہ انتظامیہ نے بروقت کارروائی کر کے ان دونوں کو گرفتار کر لیا اور صدارتی آرڈیننس کی خلاف ورزی پر دفعہ ۲/۲۹۵ اور ۲۹۸-ج کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔ قادیانیوں نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے مردان کے
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سیشن جج سے قبل از گرفتاری ضمانت منظور کرانے کے لئے از حد سعی کی۔ لیکن سیشن جج جناب اشتیاق نور صاحب نے ضمانت قبل از گرفتاری منسوخ کرتے ہوئے دونوں قادیانیوں کو بدستور جیل میں رکھنے کا حکم دیا۔ ان دونوں قادیانیوں کی رہائی کے لئے قادیانی جماعت نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ ربوائی قصر سے براہ راست اس کیس کی نگرانی ہوتی رہی۔ مسلمانوں کی طرف سے حافظ حسین احمد صاحب اس مقدمے کے مدعی تھے۔ حافظ صاحب جامعہ تحفیظ القرآن پارہوتی مردان کے مہتمم تھے۔ مسلمانوں کی جانب سے جناب سردار خان اور جناب محمد اقبال ایڈووکیٹ نے وکالت کے فرائض سرانجام دیئے اور غیر مسلم قادیانیوں کی نمائندگی حسام الدین ایڈووکیٹ نے کی۔ کیس کی پیشی کے موقع پر سینکڑوں مسلمان سیشن کورٹ کا رخ کرتے۔ جس دن سیشن جج نے قادیانی ملزمان کی ضمانت مسترد کر دی۔ مسلمانوں میں انبساط و خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی اور وہ عدالت سے ایک عظیم الشان جلوس کی شکل میں نکلے۔ ختم نبوت زندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگ رہے تھے۔ جلوس پاکستان چوک تک پہنچا تو اے سی مردان نے مسلمانوں سے درخواست کی کہ آگے جلوس نہ نکالیں۔ ہم آپ کے جذبات کی قدر کرتے ہیں لیکن امن وامان کا لحاظ رکھتے ہوئے آپ سے جلوس ختم کرنے کی التجاء کرتے ہیں۔ اس وقت چونکہ مردان میں قادیانی کافی تعداد میں آباد تھے۔ اس لئے ان کے فسادی مزاج کے پیش نظر جلوس کے قائدین نے اے سی کی بات کو ملحوظ رکھ کر جلوس ختم کر دیا۔
یہ مقدمہ مردان میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی تنظیم سازی کے لئے بنیاد بن گیا۔ اس سے قبل مردان میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے کارکن کافی تعداد میں موجود تھے لیکن باقاعدہ ایک منظم جماعت کی شکل میں کام نہیں ہوا تھا۔ تنظیم سازی کے سلسلے میں ۲؍ اگست ۱۹۸۵ء کو جامع مسجد فردوس خان میں مردان کے علماء کرام اور معززین شہر پر مشتمل ایک عظیم الشان اجتماع منعقد ہوا۔ جس میں مردان شہر کی تنظیم کا وجود عمل میں لایا گیا۔ اجلاس میں الحاج مولانا قاضی نور رحمان، مولانا مدار اللہ صاحب، ڈسٹرکٹ خطیب مولانا سیف الرحمٰن، مولانا معین اللہ جان، مولانا عبدالقیوم، حافظ حسین احمد، حافظ جمشید، مولانا کرامت اللہ شاہ، حاجی محمد عبداللہ، مولانا گوہر رحمان ایم این اے، مولانا محمد یونس خطیب جامع مسجد مینار بکٹ گنج اور حافظ محمد اسماعیل کے علاوہ تقریباً تین سو افراد شریک تھے۔ درج ذیل تنظیم کا قیام عمل میں آیا۔
سرپرست اعلیٰ: الحاج مولوی قاضی نور رحمان فاضل دیوبند خطیب جامع مسجد پارہوتی مردان۔ امیر: مولانا سیف الرحمٰن صاحب خطیب جامع مسجد حدی خیل۔ نائب امیر: مولانا سعید اللہ جان خطیب جامع مسجد بنوں خیل۔ ناظم اعلیٰ: حافظ حسین احمد مہتمم جامعہ تحفیظ القرآن الکریم پارہوتی مردان۔ ناظم: ابوسعید ناظم تفہیم القرآن مردان۔ ناظم اطلاعات: حاجی خورشید احمد صدر انجمن دوکانداران گنج مردان۔ خزانچی: حاجی محمد عبداللہ کراکری ڈیلر بازار خواجہ گنج مردان۔
اجلاس میں قرارداد منظور ہوئی جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ حافظ حسین احمد نے جو دو قادیانیوں کے خلاف مقدمہ کلمہ طیبہ کی توہین کرنے کے تحت صدارتی آرڈیننس کی خلاف ورزی کرنے پر دائر کر دیا ہے ان کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ مقدمے کی حمایت اور ناموس رسالت کے تحفظ کی خاطر کئی مقامات پر ریلیاں بھی نکالی گئیں۔ جس میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے صوبائی ناظم اعلیٰ مولانا نور الحق نور، مولانا غلام محمد صادق چارسدہ، مولانا حمد اللہ جان ڈاگئی اور دیگر علماء نے مختلف مقامات پر بیانات کئے اور کلمہ طیبہ کی توہین کے مقدمے کی حساسیت کو اور ختم نبوت کے حوالے سے اپنے جذبات کا اظہار کیا اور یہ واضح کیا کہ ملک میں صدارتی آرڈیننس پر عمل درآمد کرانے کی
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جس وقت تک مرزائی اپنے آپ کو قانون اور آئین پاکستان کا پابند نہیں بنا لیتے۔ مقررین نے ریلیوں میں یہ اعلان کیا کہ ہم ختم نبوت کے تحفظ کی خاطر تادم مرگ جدوجہد جاری رکھیں گے اور اس سلسلے میں آنے والی موت کو ہم اپنی سعادت اور نجات کا ذریعہ سمجھیں گے۔
چونکہ مردان کے مرزائیوں کے خلاف ایک منظم تحریک چلی اور کلمہ طیبہ کے مرتکب دونوں قادیانی قرار واقعی سزا پائے۔ اس سے مردان کے قادیانیوں میں مسلمان کے خلاف غم وغصہ پایا جانے لگا اور موقع بہ موقع وہ قائدین ختم نبوت کو تکلیف پہنچانے اور عام مسلمانوں کے مذہبی جذبہ کو ٹھیس پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے تھے۔ جامع مسجد فردوس میں منعقد اجلاس کے کچھ ہی عرصے بعد جامع مسجد مینار بکٹ گنج کے خطیب مولانا محمد یونس اور ان کے رفقاء شوکت علی، رحمت علی، نیاز، محمد سلیم، یار محمد جاوید اور خان شاہ پر مرزائیوں نے اندھا دھند فائرنگ کی۔ جس کے نتیجے میں مولانا محمد یونس کے کئی رفقاء زخمی ہوئے۔ مزید برآں ان مرزائیوں نے عقیدۂ ختم نبوت کے خلاف غلیظ زبان بھی استعمال کی۔ مرزائیوں کی اس حرکت سے مسلمانوں میں سخت اشتعال اور غم وغصے کی لہر دوڑ گئی۔ مقامی انتظامیہ نے موقع کی نزاکت کا پاس کرتے ہوئے واقعہ کے ذمہ دار مرزائیوں کو فوری طور پر گرفتار کر لیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سرحد کے ناظم اعلیٰ مولانا نور الحق نور اور مجلس کے دیگر ذمہ دار عہدیداران ہنگامی طور پر مردان پہنچ گئے اور مقامی مسلمانوں کو پرامن رہنے کی تلقین کی۔
سرگودھا میں آئین کی خلاف ورزی
حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی حفظہ اللہ ان دنوں سرگودھا میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ کے طور پر فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ انہوں نے بھی سرگودھا کی دیہات کے حوالے سے یہ بات حکام کے نوٹس میں لائی کہ مارشل لاء کے خاتمے کے بعد مرزا طاہر لندن سے بذریعہ کیسٹ قادیانیوں کو احکام بھیجتے رہتے ہیں کہ اپنے عبادت خانوں کو مساجد کے نام سے یاد کرو اور اذانیں دینا شروع کر دو۔ میں نے کئی مقامات پر پولیس کے نوٹس میں یہ بات لائی۔ پولیس نے منع کر دیا لیکن گاہے گاہے پھر بھی قادیانی حرکت کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ حکومت خود ہی آرڈیننس جاری کرتی ہے اور پھر اپنے سامنے اس کی دھجیاں بکھرتے دیکھتی ہے۔ اگر حکومت خود کو بااختیار سمجھتی ہے تو مقامی انتظامیہ کو حکم دے کر سختی سے اس قانون پر عمل کرائے۔
(ہفت روزہ لولاک، جولائی ۱۹۸۵ء)
صابن دستی میں قادیانیوں کی شہ پر مسلمانوں پر پابندی
گوٹھ صابن دستی تھانہ ٹنڈو غلام علی ضلع بدین مسلمانوں کی اکثریت کا علاقہ تھا۔ صرف تین گھر قادیانیوں کے تھے۔ صدارتی آرڈیننس سے قبل وہ قادیانی مسلمانوں کی مسجدوں میں نماز پڑھتے تھے۔ آرڈیننس پاس ہونے کے بعد ایک مقامی مسلمان ڈاکٹر محمد اقبال نے ان کو منع کیا کہ چونکہ تم غیر مسلم قرار پائے، اس لئے مسلمانوں کی عبادت گاہ میں اب نہیں آسکتے۔ اس سے قادیانیوں کو بڑی تکلیف ہوئی اور انہوں نے مقامی ایس ایچ او سے ساز باز کر کے پولیس کے سامنے جھوٹ بولا کہ ۴/جولائی ۱۹۸۵ء کو بعد از نماز جمعہ مسلمان ہمارے گھروں پر حملہ کرنے والے ہیں۔ ٹنڈو غلام علی کا ایس۔ ایچ۔ او مذکورہ وقت پر پوری ویگن سپاہیوں کی لے کر صابن دستی پہنچا۔ حقیقت حال سامنے آنے پر ایس۔ ایچ۔ او قادیانیوں کو جھوٹا قرار دے کر واپس ہوئے۔ مگر قادیانیوں نے اپنا اثر ورسوخ استعمال کر کے صابن دستی میں اے سی صاحب اور ڈی ایس پی صاحب کو بلوایا اور کھلی کچہری کا نام دے دیا۔ انتظامیہ سے مقامی مسلمانوں پر رعب ڈلوایا۔ انتظامیہ نے کھلم کھلا قادیانیوں کی حمایت کی اور مسلمانوں کو حکم دیا کہ تم لاؤڈ سپیکر استعمال نہیں کر سکتے۔ ڈاکٹر محمد اقبال انتظامیہ کے اس فیصلے سے نہایت
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مایوس ہوئے لیکن ہمت نہ ہاری اور مقامی علماء سے ملاقاتیں شروع کردیں۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے ذمہ دار مولانا محمد حسین صاحب سے جب ڈاکٹر صاحب کی ملاقات ہوئی تو مولانا صاحب نے ان کو تسلی دی اور کہا کہ یہ کام اب مزید جماعت کرے گی۔ آپ بے فکر رہیں۔ مولانا محمد حسین صاحب نے فوراً جماعت کا اجلاس طلب کر لیا۔ جس میں ماتلی کے جید علماء کرام اور دیگر جماعتوں کے نمائندے بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ اجلاس میں وفد کا انتخاب ہوا۔ جس نے اے سی صاحب سے ملاقات کی اور مسلمانوں کے ساتھ اس غیر مناسب رویے کے بارے میں استفسار کیا اور انہیں مطلع کیا کہ ختم نبوت کے مسئلے پر مسلمان سمجھوتہ نہیں کرتے۔ اگر انتظامیہ کا رویہ یہی رہا تو حالات بگڑ سکتے ہیں۔ ختم نبوت کا اعجاز کہ انتظامیہ کو فوراً اپنی غلطی کا احساس ہوا اور انہوں نے مسلمانوں پر لگائی ناجائز پابندی اٹھالی۔ مولانا نذیر احمد مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت کو جب اس واقعہ کی اطلاع ملی تو انہوں نے فوراً ٹنڈو غلام علی کا دورہ کیا اور مقامی کارکنوں کو عالمی مجلس کی طرف سے ہر قسم کے تعاون کا یقین دلایا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی، ۳۰/اگست ۱۹۸۵ء)
سکھر میں جامع مسجد پر قادیانیوں کا دستی بم سے حملہ
سکھر میں دریائے سندھ کے کنارے تاریخی مسجد منزل گاہ واقع ہے۔ مسجد سے ملحق جامعہ حمادیہ کے نام سے ایک دینی درس گاہ بھی ہے۔ مدرسے کے مہتمم مولانا محمد مراد صاحب نے جو سندھ کے جمعیۃ علمائے اسلام کے امیر اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے راہنمایان میں شامل تھے۔ ۱۲/اگست ۱۹۸۵ء بمطابق ۲/رمضان کو مسلمان روزے کی حالت میں صبح کی نماز ادا کر رہے تھے کہ قادیانیوں نے مسجد پر دستی بم پھینکے۔ جس سے دو مسلمان شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔ اس سنگین واقعہ پر پورے ملک میں شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا۔ صوبہ سندھ میں تو بالخصوص بہت سخت ردعمل کا مظاہرہ کیا گیا۔ سکھر شہر میں دو دن پہیہ جام ہڑتال رہی اور مرکزی راہنما مولانا اللہ وسایا اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری اس واقعہ کے فوراً بعد سکھر پہنچے۔ بم دھماکے کے شہداء کے جنازے میں پچاس، ساٹھ ہزار سے زائد مسلمانوں نے شرکت کی۔ حالات کو کنٹرول میں رکھنے کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے آل پارٹیز پر مشتمل مجلس عمل ختم نبوت قائم کی۔ جن میں تمام مکاتب فکر کے علماء وقائدین شریک تھے۔ وزیر اعلیٰ سندھ سکھر آئے اور مجلس عمل کے نمائندگان سے ملاقات کی۔ مجلس عمل کے مطالبہ پر ضلع سکھر سے قادیانیوں کا انخلاء کر دیا گیا۔ تحقیقات کے لئے ایس ایس پی کی سربراہی میں ایک ٹیم تشکیل دی گئی۔ جس میں دو ڈی ایس پی اور دو انسپکٹر شامل تھے۔ طے پایا گیا کہ مجلس عمل کی لیگل کمیٹی تحقیقاتی ٹیم کی کارکردگی سے ہر وقت عوام کو باخبر رکھے گی۔ حضرت ناظم اعلیٰ، مولانا اللہ وسایا اور امیر مرکزیہ حضرت خواجہ خواجگان نے ملک بھر کے مسلمانوں سے اپیل کی کہ واقعہ سکھر کی مذمت میں پروگراموں کا انعقاد کریں۔ اس سے قبل ۱۱، ۱۲/جولائی ۱۹۸۵ء کو سکھر سٹیڈیم میں مجلس کے زیر اہتمام کانفرنس منعقد ہوئی تھی۔ کانفرنسوں میں اس کی رپورٹ موجود ہے۔
مارشل لاء کا خاتمہ اور قادیانی اشتعال انگیزیاں
۱۹۸۵ء میں مارشل لاء کے خاتمے کا اعلان ہوا۔ اس سے قادیانیوں کی اشتعال انگیزیوں میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ انہوں نے برسرعام اپنے مرزاوڑوں میں اذانیں دینا شروع کیں۔ اشتعال انگیزی اور جارحیت کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے تھے۔ وزارت مذہبی امور نے بارہا وضاحت بھی کی کہ مارشل لاء ختم ہونے سے قادیانیوں پر مذہبی شعار کے حوالے سے لگی پابندیاں ختم نہیں ہوئیں۔ مرزائیوں پر یہ پابندیاں دفعہ ۲۹۸-بی اور ۲۹۸-سی کے تحت لگائی گئی ہیں جو کہ بدستور نافذ العمل ہیں۔
(روزنامہ ”جنگ“، مؤرخہ ۸/جون ۱۹۸۵ء)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ۴۹۲ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لیکن وزارت مذہبی امور کی یہ آواز بصحرا ثابت ہوئی۔ مرزائیوں کی اشتعال انگیزیاں کم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔ ذیل میں چند واقعات کا تذکرہ کرتے ہیں۔ جن سے قارئین اندازہ لگا لیں کہ مرزائی مذہبی جنون میں کس حد تک بڑھ گئے تھے۔
پشاور میں قادیانی کو شعائر اسلام کے استعمال پر سزا
ستمبر ۱۹۸۵ء کو پشاور شہر چکہ گلی کے مقامی تھانے میں ایک رپورٹ درج کرائی گئی۔ رپورٹ کچھ مقامی معززین نے ایک قادیانی ٹیلر ماسٹر کے خلاف درج کرائی تھی۔ جس میں قادیانی ٹیلر پر الزام تھا کہ اس نے اپنی دوکان میں سورۃ اخلاص، کلمہ طیبہ، درود شریف کے کتبے اور مرزا قادیانی کے اقوال لگائے تھے۔ مقامی لوگوں نے اس پر واضح کیا کہ تم مذہباً قادیانی ہو اور یہ شعائر اسلام ہیں۔ تمہارے لئے اس کا استعمال ناجائز ہے۔ ٹیلر جس کا نام ادریس تھا، نے مؤقف اختیار کیا کہ واقعی میں مذہباً قادیانی ہوں لیکن سورۃ اخلاص اور کلمہ طیبہ پر بھی ایمان رکھتا ہوں۔ مسلمانوں نے اس کے خلاف رپورٹ درج کرائی۔ جس میں کہا گیا کہ قادیانی کا مذہب زندقہ ہے اور زندیق کے لئے ان چیزوں کا استعمال شرعاً و قانوناً ناجائز ہے۔ رپورٹ کے بعد ہشت نگری پولیس نے اس کو گرفتار کر لیا۔ بعد میں ضمانت پر رہا ہو گیا، لیکن کیس کے دوران وہ اپنے مؤقف پر ڈٹا رہا کہ کلمہ طیبہ، سورۃ اخلاص اور مرزا قادیانی کے اقوال میرے عقیدے کا حصہ ہے۔ اس لئے میں ان کے استعمال کا شرعاً مجاز ہوں۔ جون ۱۹۸۶ء میں کیس کا فیصلہ ہوا۔ عدالت نے اس کا فعل غیر اسلامی اور غیر آئینی قرار دے کر اس کو ۱۰؍ سال قید اور ۱۰؍ ہزار روپے جرمانہ و سزا کا حکم سنایا اور کہا کہ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مزید اس کو سات ماہ قید بامشقت گزارنا ہو گی۔
عدالت میں اس اہم فیصلہ کے سننے کے لئے سینکڑوں افراد آئے ہوئے تھے اور پورا احاطہ عدالت اسلام کے شیدائیوں سے بھرا ہوا تھا۔ ان میں جمعیۃ علماء اسلام اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے کارکنوں کی کثرت تھی۔ عدالت کا فیصلہ سننے کے بعد وہاں موجود سینکڑوں افراد نے مولانا نور الحق نور، مولانا عبید اللہ چترالی، مولانا فضل احمد عرف مولانا عبد العزیز اور مولانا فضل حق کی قیادت میں کچہری سے ایک جلوس نکالا جو ہسپتال روڈ سوئیکارنو سکوائر قصہ خوانی بازار اور بازار دالگراں سے گزرتا ہوا چوک یادگار پر اختتام پذیر ہو گیا۔ اس موقع پر علماء کرام نے جلوس کے شرکاء سے خطاب کیا اور عدالت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا۔
(ہفت روزہ لولاک، مؤرخہ ۲۶؍ ستمبر ۱۹۸۶ء، ص ۲۱)
سٹیل ٹاؤن کا واقعہ
کراچی سٹیل مل ملک کا سب سے بڑا صنعتی ادارہ ہے جو کراچی شہر سے تقریباً ۳۰ کلو میٹر باہر نیشنل ہائی وے پر واقع ہے۔ یہ روس کے تعاون سے تیار ہوا ہے۔ تقریباً ۱۸؍ ہزار چھ سو ایکڑ کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ سٹیل مل میں کام کرنے والے ملازمین کے لئے مل کے احاطے میں ایک رہائشی ٹاؤن بنایا گیا تھا۔ جسے سٹیل ٹاؤن کہا جاتا تھا۔ اکتوبر ۱۹۸۵ء میں سٹیل ٹاؤن کے رہائشی ایک قادیانی کی ماں مرگئی۔ اس وقت تک اس قادیانی افسر کے مذہب کا علم مسلمانوں کو نہ تھا۔ وہ اس کو اپنی طرح مسلمان سمجھتے تھے لیکن والدہ فوت ہونے پر اس افسر نے قادیانی مبلغوں کو بلایا۔ ان مبلغوں نے اس عورت کی آخری رسومات ادا کیں۔ بعض سادہ لوح لاعلمی میں ان رسوم (بقول ان کے نماز جنازہ) میں شریک بھی ہوئے۔ بعد میں معلوم ہوا تو بیچارے توبہ و استغفار کرنے لگے۔ اس کے بعد قادیانی افسر نے اپنی افسری کے گھمنڈ میں ماں کی لاش کو اٹھایا اور مسلمانوں کے لئے وقف قبرستان میں دبوایا۔ مسلمان مسئلہ پوچھنے کے لئے علماء کی طرف مراجعت کرنے لگے۔ ایک وفد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے دفتر میں پہنچا اور وہاں سے جامعہ علوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن گیا۔ دفتر ختم نبوت، جامعہ علوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن اور شہر کے دیگر علماء نے فتویٰ دیا کہ قادیانی مردہ مسلمانوں کے لئے وقف قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں۔ خبر
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مشہور ہو گئی۔ پورے شہر خاص طور پر سٹیل ٹاؤن کے علاقے میں زبردست احتجاج ہوا۔ اس سلسلے میں مجلس تحفظ ختم نبوت نے بھی اپنا کردار ادا کیا۔ قادیانی اپنا مردہ مقامی بھنگیوں اور جمعہ داروں کے ذریعے خود ہی اکھاڑ کر لے گئے اور دوسری جگہ جا کر دبا دیا۔
اس موقع پر قادیانیوں نے بڑا واویلا کیا بلکہ بہت سے قادیانی نواز مسلمانوں نے بھی بڑا شور مچایا۔ ایک اخبار میں ”جمعہ خان“ کے نام ایک لکھاری نے لکھا: ”اسٹیل ملز ٹاؤن شپ میں ایک قادیانی خاتون کا انتقال ہو گیا۔ معمر خاتون کو اسٹیل مل کے قادیانیوں نے ایک مقامی قبرستان میں دفن کر دیا تھا، لیکن ایک گروہ (مسلمان) کے افراد نے قادیانی خاتون کی مسلمانوں کے قبرستان میں تدفین پر مقامی سطح پر شور وغوغا کیا اور آخر قادیانی خاتون کی لاش کو پندرہ روز بعد ۱۰؍دسمبر کو مقامی قبرستان سے نکلوا کر دم لیا۔ بعدازاں اسے اسٹیل ٹاؤن شپ کے تعاون سے ایک اور جگہ دفن کیا گیا۔ ایک انسانی لاش کی اس طرح بے حرمتی افسوس ناک ہے۔ کوئی بھی شریف النفس اور غیرت مند شہری اسے پسند نہیں کرے گا۔ یہ حرکت اسلام کو بدنام کرنے کے مترادف ہے۔“
(امن، مورخہ ۱۶؍ دسمبر ۱۹۸۵ء)
اسے کہتے ہیں مدعی سست گواہ چست۔ اس موقع پر قادیانیوں کے اپنے جتنے جرائد ہیں تمام کے تمام خاموش رہے لیکن اس نام نہاد مسلمان لکھاری نے ان کے کہنے کے لئے کچھ نہ چھوڑا۔ اوّل تو مسلمانوں نے لاش کی توہین کی نہیں۔ اس لئے کہ لاش جمعہ داروں اور بھنگیوں سے قادیانیوں نے خود ہی نکلوایا اور اگر قبر سے لاش نکالنا توہین ہی ہے۔ پھر مرزائیوں کی ام المؤمنین ربوہ میں امانتاً دفن ہے اور مرزا محمود کی وصیت ہے کہ جب بھی حالات سازگار ہو یعنی اکھنڈ بھارت بنے (جو مرزا محمود کا الہام ہے) تو ہماری میتیں ربوہ کے قبرستان سے اکھاڑ کر قادیان پہنچا دی جائیں تو کیا اس وصیت سے مرزا محمود کی ماں کی لاش کی بے حرمتی نہ ہوگی۔
جمعہ خان کے کالم کے جواب میں ہفت روزہ لولاک میں جناب حنیف ندیم نے ایک مضمون لکھا جس کا خلاصہ پیش نظر ہے۔
”اس واقعہ پر مرزائی ترجمان (ہم مرزائی ترجمان اس لئے کہہ رہے ہیں کہ قادیانی جماعت جو بات ربوہ سے شائع ہونے والے رسائل میں قانوناً نہیں لکھ سکتی وہ یہ اخبار دھڑلے سے شائع کر رہا ہے۔ حتیٰ کہ قرآن پاک میں معنوی تحریف کا بھی مرتکب ہو رہا ہے) نے ایک خود ساختہ اور نام نہاد مسلمان کا بیان شائع کیا جس میں کہا گیا کہ: ”اسٹیل ملز ٹاؤن شپ میں ایک قادیانی خاتون کا انتقال ہو گیا۔ معمر خاتون کو اسٹیل مل کے قادیانیوں نے ایک مقامی قبرستان میں دفن کر دیا تھا۔ لیکن ایک گروہ (مسلمانوں) کے افراد نے قادیانی خاتون کی مسلمانوں کے قبرستان میں تدفین پر مقامی سطح پر شور وغوغا کیا اور آخر قادیانی خاتون کی لاش کو پندرہ روز بعد ۲۹؍دسمبر کو مقامی قبرستان سے نکلوا کر دم لیا۔ بعدازاں اسے اسٹیل ملز ٹاؤن شپ کے تعاون سے ایک اور جگہ دفن کیا گیا۔ ایک انسانی لاش کی اس طرح بے حرمتی افسوس ناک ہے۔ کوئی بھی شریف النفس اور غیرت مند شہری اسے پسند نہیں کرے گا۔ یہ حرکت اسلام کو بدنام کرنے کے مترادف ہے۔“
(مورخہ ۱۶؍ جنوری ۱۹۸۶ء)
یہ دنیا کا عام اصول اور قاعدہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کی جائیداد پر ناجائز قبضہ کر لے تو اسے حق حاصل ہے کہ وہ ناجائز قابضین کو وہاں سے ہٹائے۔ آج کے دور میں اس قسم کے واقعات پر قتل وغارت گری تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ مال ومتاع ہتھیا لیا جاتا ہے۔ پردہ دار خواتین کی بے حرمتی ہوتی ہے۔ حتیٰ کہ معصوم بچوں تک کا خیال نہیں کیا جاتا۔ یہاں ایسا مسئلہ پیدا نہیں ہوا۔ مسلمانوں نے صرف پرامن احتجاج کیا تھا۔ جس کے نتیجہ میں قادیانیوں نے اپنے مردہ کو خود ہی نکال کر دوسری جگہ دفن کر دیا۔ جب وہاں کوئی مسلمان ہی موجود نہیں تھا تو لاش کی بے حرمتی کیسے ہوگئی؟ کسی نے کی ہے تو وہ لاش نکالنے والے تھے۔ چاہے وہ بھنگی تھے یا قادیانی...... اگر لاش دوبارہ نکالنے سے اس کی بے حرمتی ہو جاتی ہے تو مرزا طاہر کے باپ اور ماں (مرزا محمود اور اس کی بیوی) کو ربوہ میں امانتاً دفن کیا گیا ہے۔ اس بارے میں
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مرزا محمود کی یہ وصیت ہے کہ جب بھی حالات سازگار ہوں (یعنی اکھنڈ بھارت بنے جو مرزا محمود کا الہام اور پیش گوئی ہے۔ دیکھئے الفضل مئی ۱۹۴۷ء) تو ہماری میتیں یہاں (ربوہ کے بہشتی مقبرے) سے نکال کر قادیان پہنچا دی جائیں۔ کیا اس وصیت پر عمل کرنے سے مرزا محمود کو تو چھوڑیئے۔ مرزا طاہر بلکہ تمام قادیانیوں کی ماں جو ایک عورت ذات ہے اس کی لاش کی بے حرمتی نہیں ہوگی؟ پھر اگر لاش ربوہ کے بہشتی مقبرے سے نکل سکتی ہے جو قادیانیوں کا اپنا قبرستان ہے اور جس میں دفن ہونا گویا جنت میں دفن ہونا ہے تو اسٹیل مل کے قبرستان میں تو قادیانیوں کا سرے سے کوئی حق ہی نہیں بنتا۔ بلکہ یہ تو وقف ہی مسلمانوں کے لئے ہے۔ جب سے قادیانی آئینی طور پر غیر مسلم قرار دیئے گئے ہیں۔ اس وقت سے جس شہر یا بستی میں ان کے دس یا پندرہ گھر ہیں وہاں ان کے مرگھٹ الگ بنا دیئے گئے ہیں۔ قادیانی ہی نہیں جتنی بھی اقلیتیں ملک میں بستی ہیں ان کی اپنے مردے دبانے یا جلانے کے لئے جگہ مخصوص ہیں۔ اگر کسی جگہ ایک یا دو گھر عیسائیوں کے آباد ہوں اور وہاں ان کے پاس مردے دفنانے کے لئے کوئی جگہ نہ ہو وہ اپنا مردہ جا کر مسلمانوں کے قبرستان میں دبا دیں تو کیا انہیں اس بات کی اجازت دی جا سکتی ہے کہ وہ مسلمانوں کے قبرستان میں لے جا کر مردہ دبائیں۔ یقیناً خود قادیانی بھی ایسا کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں گے۔ عیسائی تو عیسائی قادیانیوں نے تو ایک قادیانی کی لاش کو جو مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی وغیرہ سب کچھ مانتا تھا اکھاڑ پھینکا تھا۔ جس پر لاہوری پارٹی کے آرگن ”پیغام صلح“ کو لکھنا پڑا۔
”اگر یہ واقعہ صحیح ہے کہ ایک ایسے قادیانی احمدی کو جس پر بہشتی مقبرہ کی شرائط صادق نہ آتی تھیں غلطی سے ان میں دفن کر دیا گیا اور بعد میں غلطی معلوم ہونے پر اس کی نعش اکھاڑ کر پھر دوسرے قبرستان میں دفن کی گئی تو یہ عملی مثال احرار کے فعل شنیع سے بھی (کہ انہوں نے قادیانی میت کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہونے سے روکا) بڑھ کر گھناؤنی اور شرمناک ہے۔“
(پیغام صلح لاہور ج ۲۴ نمبر ۱۹، مورخہ ۳؍اگست ۱۹۳۶ء، بحوالہ قادیانی مذہب الیاس برنی ص ۴۳۹)
بتائیے! جب خود قادیانیوں کی لاشیں ان کے اپنے قبرستان سے اکھاڑ پھینک دی جاتی ہیں اور لاش کی اس سے بے حرمتی نہیں ہوتی تو مسلمانوں کے قبرستان سے نکال کر دوسرے جگہ دبا دینے سے کیسے بے حرمتی ہو گئی؟ مسلمانوں کو ایک کافرہ کی لاش پر بے حرمتی کا طعنہ دینے والے کبھی اپنے گریبان میں بھی جھانک کر دیکھ لیا کریں اور اپنے نام نہاد خلفاء کے کرتوت بھی دیکھ لیا کریں کہ ان کا طرز عمل کیا تھا؟ ایک مرتبہ مرزائیوں کے نام نہاد خلیفہ آنجہانی مرزا محمود سے کسی نے سوال کیا کہ: ”کیا غیر مبائع (یعنی لاہوری قادیانی) بہشتی مقبرے میں دفن ہو سکتے ہیں؟“
تو مرزا محمود نے کہا: ”ہمارے نزدیک بیعت سے باہر رہنا گناہ ہے۔ اس لئے غیر مبائع (لاہوری قادیانی) مقبرہ میں دفن ہو سکتا۔“
(مکتوب مرزا محمود الفضل قادیان ج ۹ نمبر ۹۹، مورخہ ۱۹؍جون ۱۹۲۲ء)
لاہوری جماعت والے جو مرزا قادیانی کو مانتے ہیں لیکن وہ مرزا محمود یا مرزا طاہر کے ہاتھ پر بیعت نہیں کرتے وہ بھی اس جرم کی وجہ سے مقبرہ میں دفن نہیں ہو سکتے تو دنیا کے کروڑوں مسلمان جو ان کے عقیدے کے مطابق کافر ہیں۔...... وہ مسلمانوں سے شادی غمی، رشتے ناطے میں شرکت کو حرام سمجھتے ہیں تو ایسے میں کسی قادیانی کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ اپنا مردہ مسلمانوں کے قبرستان میں لے جا کر دبائے۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ قادیانی چونکہ مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں۔ اس لئے کراچی میں اسٹیل ٹاؤن کے مسلمانوں نے قادیانی مردے کے دفن پر احتجاج کیا اور قادیانی مردہ نکالنے پر مجبور ہو گئے۔ یہ کوئی انتقامی کارروائی نہیں تھی بلکہ یہ سب اس لئے کیا کہ قادیانی مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی، رسول، مسیح مانتے ہیں اور یہ شخص وہ تھا جس نے سینکڑوں دعوے کئے اور سب سے بڑھ کر یہ دعویٰ بھی کیا کہ نعوذ
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
باللہ ! ” میں محمد رسول اللہ ہوں اور قرآن پاک میں محمد سے مراد میں ہی ہوں ۔“ ان دعوؤں اور ان عقائد کی وجہ سے مرزا قادیانی اور اس کی ذریت مرتد ، زندیق اور کافر ہے اور کافر منکر اور نافرمان کی قبر کے بارے میں حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ : ”آگ کے گڑھے ہیں ۔“ جب کہ سچے اور کھرے مسلمانوں کی قبر کے بارے میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ وہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہیں۔ حضور ﷺ کے فرمان کے مطابق کسی کافر، ملحد ، زندیق یا مرتد کو یہ حق نہیں دیا جاسکتا کہ حضور اکرم ﷺ کے امتیوں کی قبروں کے نزدیک جاکر وہ آگ کے گڑھے کھودیں اور وہاں خدا اور رسول ﷺ کے کسی باغی یا منکر کو دفن کردیں۔ لہذا اسٹیل ٹاؤن میں جو کچھ ہوا وہ بالکل صحیح تھا اور کسی مرتد کی لاش کو وہاں سے نکالنا اسلام اور شریعت محمدیہ ﷺ کے عین مطابق ہے۔ (محمد حنیف ندیم)“
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۸،۹، مورخہ ۲۴ تا ۳۰؍ جنوری ۱۹۸۶ء)
اسٹیل ٹاؤن میں جلسہ ختم نبوت کا اعلان
۵؍ نومبر ۱۹۸۵ء کو اسٹیل ٹاؤن میں ایک عظیم الشان جلسہ ختم نبوت کے انعقاد کا اعلان کیا گیا۔ جلسہ کی تیاری کے سلسلے میں ختم نبوت کے مقامی احباب نے اسٹیل ٹاؤن کے مضافات میں اشتہارات لگانے شروع کئے۔ عجیب بات یہ ہے کہ دن کو ختم نبوت جلسے کے اشتہارات لگتے تو اگلے دن ان اشتہارات کے اوپر مرزائیوں کے اشتہارات چسپاں نظر آتے۔ چنانچہ فدائیان ختم نبوت نے ایک مرتبہ رات کو تعاقب کیا۔ پتہ چلا کہ قادیانیوں کا ایک پورا گروہ کاروں، موٹر سائیکلوں اور سائیکلوں پر منظم طریقہ پر اشتہارات لگا رہا ہے۔ مختلف انگریزی اور اردو اخبارات میں قادیانیوں کے حق میں لکھے گئے کالمز اور تراشوں کو انہوں نے اشتہارات کی شکل میں چھپوایا تھا اور جلسہ ختم نبوت کے پوسٹرز پر ان اشتہارات کو چسپاں کرتے رہے۔ فدائیان ختم نبوت جناب جعفر صاحب محمد افضل صاحب اور محمد خالد نعیم نے ان کو للکارا تو پورا قادیانی گروپ چوروں کی طرح بھاگ کھڑا ہوا۔ موقع پر تین قادیانی، اسٹیل مل کا فورمین بشیر، ایکسین اقبال شاہد اور ناصر احمد پکڑے گئے۔
جلسہ ختم نبوت اسٹیل ٹاؤن
طے شدہ پروگرام کے مطابق نومبر ۱۹۸۵ء میں اسٹیل ٹاؤن میں بعد نماز عشاء ایک عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا۔ جس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما رئیس المبلغین ناظم تبلیغ مولانا عبد الرحیم اشعر مہمان خصوصی تھے جب کہ آپ کے علاوہ ہفت روزہ ختم نبوت کے مدیر جناب عبدالرحمن یعقوب باوا، مبلغ مولانا منظور احمد الحسینی، مولانا مفتی کفایت اللہ، مولانا محمد عبداللہ جنوبی افریقہ اور مولانا احمد مبلغ جماعت زمبابوے نے شرکت کی۔ اسٹیل ٹاؤن کی مساجد کے تمام ائمہ کرام، خطباء عظام اور کثیر تعداد میں لوگ شریک تھے۔ نہایت کامیاب جلسہ ہوا۔ خطباء نے سامعین کو ختم نبوت اور ناموس رسالت کے بارے میں شعور دیا۔ اس جلسہ کا نقد ثمرہ یہ نکلا کہ اسٹیل ٹاؤن میں باقاعدہ عالمی مجلس کے یونٹ اور رکن سازی کا اہتمام ہوا اور منظم طریقے سے اکابر کی سرپرستی میں مقامی جماعت بنائی گئی جو عالمی مجلس کی ہدایات کے زیر اثر کام کرے گی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت، نومبر، دسمبر ۱۹۸۵ء، لولاک دسمبر ۱۹۸۵ء)
ہجکہ بھیرہ میں قادیانی شرارت
۳۰؍نومبر ۱۹۸۵ء کو شبان ختم نبوت ہجکہ (بھیرہ) ضلع سرگودھا کے صدر حسنات یسین کو گورنمنٹ کالج بھلوال جاتے ہوئے راستہ میں اغواء و قتل کرنے کی کوشش کی گئی۔ واقعات کے مطابق حسنات یسین جب کالج جارہے تھے تو راستہ میں ہجکہ کی طرف سے ایک نیلے رنگ
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کی جیپ ایل ایچ ۴۳۴۴ آئی جو بگویہ رائس ملز کے سامنے آ کر رکی اور اس میں سے تین آدمی نیچے اترے۔ ان میں سے دو کے پاس رائفلیں تھیں جنہوں نے حسنات یسین کو رائفلوں کے بٹوں سے مارنا شروع کر دیا اور انہیں اٹھا کر جیپ میں ڈالنے کی کوشش کی۔ اسی اثناء میں شور و غل سن کر اردگرد سے کچھ لوگ آ گئے جنہوں نے حسنات یسین کو منت سماجت کر کے ملزمان سے بچا لیا۔
حسنات یسین نے اس موقع کی تفصیل بتاتے ہوئے یہ انکشاف کیا کہ ان پر یہ عتاب صرف ہجکہ میں سیرت خاتم النبیین کانفرنس منعقد کرانے اور وہاں کی مسجد پر مسلمانوں کا قبضہ بحال کرانے کی کوششوں کی وجہ سے نازل ہوا ہے۔ کیونکہ جب مسجد کی جگہ کا تصفیہ ہو گیا جو جگہ قادیانیوں کے تصرف میں تھی۔ اسے باہمی معاہدے سے تقسیم کر لیا گیا تو حسنات یسین نے اپنے ساتھیوں سے مل کر ہجکہ میں مذکورہ کانفرنس منعقد کرائی جس میں مقررین نے مرزائیت کے حقیقی چہرے کو عوام کے سامنے بے نقاب کیا۔ اس پر علاقہ کے مرزائی بہت تلملائے اور وہیں پر موجود بعض مرزائی نوجوانوں جن کے نام حسنات یسین کے مطابق ظفر اقبال اور شاہد ہیں، نے یہ گفتگو کی تھی کہ ”اب حسنات کا علاج کرنا ہی پڑے گا“ چنانچہ اس کے کچھ ہی دن بعد یہ واقعہ رونما ہوا جس کی بابت یقین ہے کہ یہ مرزائیوں نے باہر سے غنڈے منگوا کر کرایا ہے۔ حسنات یسین کا کہنا ہے کہ وہ جیپ میں سوار ملزمان کو سامنے آنے پر پہچان سکتے ہیں اور کانفرنس کے موقع پر مرزائی نوجوانوں کی گفتگو کا گواہ بھی موجود ہے۔
حسنات یسین نے اس حملہ کے بعد علاقہ کے تھانہ میں ایک درخواست زیر دفعہ ۱۴۸/۵۰۶، ۱۰۹/۱۴۹ ت۔پ دائر کی جس پر تا حال کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔ انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ فی الفور اس مسئلے کا نوٹس لے اور عوام الناس اور ختم نبوت کے کارکنوں کی جانوں کے تحفظ کے لئے مناسب اقدامات کرے اور امن و امان تباہ کرنے والے غنڈوں کو فی الفور کیفر کردار تک پہنچائے۔ اگر اس زیادتی کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی گئی تو انتقامی کارروائیاں شروع ہو جانے کا خدشہ ہے۔ جس سے علاقہ کا امن و امان بھی تباہ ہو سکتا ہے۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ج ۲۲ ش ۴۱ ص ۱۹، مورخہ ۳/ جنوری ۱۹۸۶ء)
مجلس تحفظ ختم نبوت کی سرگرمیاں
حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب سے انٹرویو
ہفت روزہ ”تکبیر“ کراچی کے بہاول پور کے نمائندہ شوکت مامون اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے حضرت قبلہ سے انٹرویو لیا۔ جس کی اشاعت ۵ تا ۱۱/ جنوری ۱۹۸۵ء کے ہفت روزہ ”ختم نبوت“ میں بھی ہوئی۔ ملاحظہ ہو:
مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے مرکزی امیر اور تحریک تحفظ ختم نبوت کے روح رواں شیخ المشائخ حضرت مولانا خان محمد صاحب بہاول پور میں آنکھوں کے آپریشن کے سلسلے میں تشریف لائے تو بعض مقامی صحافیوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ حالات حاضرہ پر حضرت والا سے ایک انٹرویو ریکارڈ ہو جائے تو ہفت روزہ ”تکبیر“ کراچی کے نمائندہ خصوصی برائے بہاول پور جناب شوکت مامون اور راقم الحروف حضرت والا کی قیام گاہ پر پہنچے اور عرض مدعا کیا۔ حضرت والا نے شفقت فرماتے ہوئے صبح کی نماز کے بعد کا وقت دیا تو اگلی صبح جناب شوکت مامون اور محمد اسماعیل شجاع آبادی قیام گاہ پر پہنچے اور حضرت والا سے گفتگو کا آغاز ہوا۔ اکثر سوالات نمائندہ تکبیر نے کئے۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سوال: مولانا آپ اپنی جائے پیدائش اور ابتدائی تعلیم اور تعلیم سے فراغت کے بعد اس منصب پر آپ کی زندگی کا سفر کیسے شروع ہوا؟ ذرا وضاحت فرمائیں۔
جواب: ضلع میانوالی، کندیاں شریف کے قریب دریائے سندھ کے کنارے پر ایک قصبہ ”بکھڑہ“ نامی قصبہ تھا جو بعد میں دریا برد ہوا تو اس قصبہ کے لوگوں نے مختلف بستیاں آباد کیں اور کچھ لوگ تھل کے علاقہ میں جا بسے۔ ان بستیوں میں سے ایک بستی ڈنگ کے نام سے معروف ہوئی جو میری جائے پیدائش ہے۔ تقریباً ۱۹۲۴ء میں میری پیدائش ہوئی اور بستی کے پرائمری سکول میں پرائمری کا امتحان پاس کیا اور قریبی قصبہ ”کھولا“ میں چھٹی جماعت پڑھی۔ ہمارے خاندانی بزرگوں میں سے حضرت مولانا احمد خان صاحب نے اپنی آبائی زمین میں ایک بستی قائم کی جس کا نام ”خانقاہ سراجیہ“ رکھا۔ حضرت نے میرے والدین سے میری تعلیم کے لئے مجھے لے لیا۔ میں نے قرآن مجید اور فارسی کی ابتدائی کتابیں خانقاہ ہی میں پڑھیں۔ صرف ونحو ”بھیرہ“ کی شاہی مسجد (جسے شیر شاہ سوری نے بنایا تھا) میں واقع دارالعلوم عزیزیہ جسے مولانا احمد صاحب بگوی نے بنایا تھا، پڑھیں۔ حضرت نے مجھے وہاں بھیجا اور وہیں ہدایہ اخیرین تک کتابیں پڑھیں۔ اس دوران حضرت مولانا ظہور احمد صاحب بگوی کا انتقال ہو گیا تو میرے پیر و مرشد حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب نے ۱۹۴۳ء، ۱۹۴۴ء میں مجھے دارالعلوم دیوبند بھیج دیا۔ کچھ ساتھیوں کی وجہ سے ہم ڈابھیل چلے گئے۔ وہاں موقوف علیہ حضرت مولانا بدر عالم میرٹھی، مولانا محمد یوسف بنوری، مولانا عبدالرحمن امروہی سے پڑھا۔ دوسرے سال دورہ کے لئے ”دارالعلوم دیوبند“ بھیج دیا۔ ان دنوں حضرت مدنی جو کہ شیخ الحدیث تھے، تین سال کے لئے نظر بند کر دیئے گئے تو بخاری، ترمذی، شیخ الادب مولانا اعزاز علی سے پڑھیں۔ دیوبند سے واپسی کے بعد حضرت نے مجھے لنگر کی خدمت سپرد کر دی۔ تقریباً تیرہ سال مسلسل حضرت کی خدمت میں رہا۔ حضرت کی رحلت کے بعد متعلقین نے متفقہ طور پر مجھے ان کی جانشینی کے لئے نامزد کیا۔ ہمارے مشائخ حضرت مولانا احمد خان، مولانا محمد عبداللہ ملکی حالات سے دلچسپی تو رکھتے تھے لیکن فرنٹ پر نہیں ہوتے تھے۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے بعد انکوائری کمیشن جسٹس منیر کی سربراہی میں مقرر ہوا تو لاہور میں حضرت ثانی نے حکیم عبدالمجید صاحب سیفی کے مکان پر رہائش رکھی اور انکوائری کی پیروی کی۔
گرفتاری
اسی تحریک ختم نبوت میں حضرت ثانی نے فرمایا کہ یا تو میں گرفتاری پیش کروں یا آپ (یعنی مولانا خان محمد) تو میں نے گرفتاری پیش کی اور پانچ ماہ بیس دن تک لاہور کی جیل میں رہا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت میں شمولیت ۱۹۷۳ء میں جب حضرت مولانا محمد یوسف بنوری جماعت کے امیر بنے تو انہوں نے مجھے از خود نائب امیر مقرر کر دیا اور اس کی اطلاع مولوی اللہ وسایا صاحب مبلغ ربوہ (چناب نگر) کے ذریعہ حضرت بنوری کے مکتوب گرامی سے دی، جو وہ ملتان سے خانقاہ شریف ساتھ لائے تھے۔ مجھے تعجب اور حیرانی ہوئی کہ میں تو اس میدان کا آدمی نہیں لیکن مشفق استاد کے حکم سے انکار مناسب نہ سمجھا۔ حضرت کے امیر منتخب ہونے کے تھوڑے عرصہ بعد تحریک ۱۹۷۴ء شروع ہوئی (جو کہ بحمد اللہ کامیابی سے ہمکنار ہوئی) دریں اثناء حضرت بنوری کی رحلت ہو گئی تو نائب امیر ہونے کی حیثیت سے مجھے خود بخود جماعت کی نگرانی سنبھالنی پڑی۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا
مجلس تحفظ ختم نبوت کی امارت
تقریباً چھ ماہ کے بعد چنیوٹ میں اجلاس ہوا۔ جس میں میں شریک نہ ہوا اور ایک عریضہ کے ذریعہ معذرت پیش کی۔ لیکن احباب جماعت نے چنیوٹ کانفرنس کے موقع پر مجھے امیر منتخب کر لیا جو تاحنوز چلا آ رہا ہوں۔
سوال: آپ کو کچھ یاد ہے کہ آپ مجلس کے ممبر کب بنے؟
جواب: یوں تو تمام مسلمان ہی اس جماعت کے ممبر ہیں۔ میں جماعت کا (فارم پر کر کے) باقاعدہ ممبر نہیں تھا۔ حضرت بنوریؒ نے ہی مجھے نائب امیر نامزد کر دیا۔ جس کی اطلاع حضرت کے گرامی نامہ سے ہوئی۔
سوال: آپ کا تعلق جمعیۃ علماء اسلام سے بھی رہا ہے؟
جواب: جمعیۃ علماء اسلام سے تعلق بحیثیت ممبر تو عرصہ سے چلتا آیا ہے جو کہ مولانا غلام غوث ہزاروی کی وجہ سے قائم ہوا۔ اس وقت جمعیۃ کی باگ ڈور حضرت مولانا مفتی محمد شفیع، مولانا احتشام الحق تھانوی کے ہاتھوں میں تھی۔ بعد ازاں حضرت لاہوری کی صدارت میں ملتان میں جمعیۃ کا کنونشن ہوا تو حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب کو دعوت دی گئی تو حضرت والا نے مولانا قاضی شمس الدین (درویش) ہری پور ہزارہ، مفتی عطاء محمد ڈیرہ اسماعیل خان کو بھیجا، جو شرکت کے بعد واپس چلے گئے۔ اسی کنونشن میں جمعیۃ کی جدید تشکیل ہوئی۔ جس میں حضرت مولانا احمد علی لاہوری کو امیر اور مولانا غلام غوث ہزاروی کو ناظم اعلیٰ منتخب کیا گیا۔ مولانا ہزاروی کا تعلق چونکہ ”خانقاہ شریف“ سے تھا۔ ان کی ترغیب سے میں بھی کبھی کبھی اجلاسوں میں شریک ہو جایا کرتا۔ حضرت لاہوری کے انتقال کے بعد جب حضرت درخواستی مدظلہ العالی امیر منتخب ہوئے تو مولانا نے مجھے شوریٰ کا ممبر نامزد کر دیا جو کہ اب تک چلا آ رہا ہے۔
سوال: جب سے آپ مجلس سے وابستہ ہوئے تو آپ کی کتنی مرتبہ گرفتاری ہوئی؟
جواب: اسلام آباد میں مرزا ناصر کی موت کے دنوں میں مرزا ناصر کی کوٹھی کے بالمقابل ایک مسجد میں جلسہ منعقد ہوا۔ جس کی صدارت میں نے کی۔ اسی جلسہ کے دوران مرزا ناصر کو دل کا دورہ ہوا تو پولیس والے کچھ آدمیوں کو تھانے لے گئے جن میں میں بھی شامل تھا۔ رات تھانہ میں گزاری۔ صبح کو مجھے بغیر ضمانت کے رہا کر دیا گیا۔ جب کہ میرے رفقاء مولانا عبدالشکور دین پوری، مولانا قاری محمد امین راولپنڈی، مولانا نور محمد اسلام آباد کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
سوال: نبی کریم ﷺ کی رحلت کے بعد مختلف آدمیوں نے مختلف اوقات میں نبوت کا دعویٰ کیا۔ ان میں سے کئی ایک کو قتل کیا گیا۔ کئی ایک مر گئے، لیکن پاکستان کے مخصوص حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ نے قادیانیوں کی ریشہ دوانیوں کے لئے کیا لائحہ عمل مرتب کیا؟ ذرا وضاحت فرما دیں۔
جواب: مسئلہ ختم نبوت بنیادی عقیدہ کی حیثیت رکھتا ہے جو کہ امت کی وحدت کے لئے اشد ضروری ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں مسلمان ایک ارب کے قریب ہیں جو عقیدہ ختم نبوت کی برکت سے ملت واحدہ کہلاتی ہے۔ اگر اس میں کچھ نرمی و ترمیم کی جائے تو وحدت ملت باقی نہیں رہتی۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان اور پوری دنیا میں مرزا قادیانی سے قبل کسی مدعی نبوت کو برداشت نہیں کیا گیا۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ انگریز سامراج نے اپنے مفادات کے لئے مرزا قادیانی کو استعمال کیا۔ اسی وقت سے علماء حق کا ایک قافلہ
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اس کے خلاف جدوجہد کرتا چلا آیا۔ جس کی برکت سے انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ پاکستان بنتے وقت انگریز نے اپنے مخصوص مفادات کی خاطر ظفر اللہ خان کو وزیر خارجہ بنوایا۔ قائد اعظم نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو کہا کہ ہم ظفر اللہ خان کا وزیر خارجہ ہونا پسند نہیں کرتے تو اس نے جواب دیا کہ پھر پاکستان بھی نہیں بنے گا۔ اس لئے مجبوراً اسے برداشت کرنا پڑا۔
سوال: پاکستان اسلام کے لئے معرض وجود میں آیا۔ تھانے سے لے کر سپریم کورٹ تک تمام ادارے بھی مسلمانوں کے ہیں۔ تمام مسلمان عقیدہ ختم نبوت پر یقین رکھتے ہیں۔ اس کے باوجود تحریک ختم نبوت کے قائدین کو کن دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا؟
جواب: سب سے بڑی دشواری مسلمانوں کا انگریزی ذہن ہے۔ چونکہ مرزائی ”انگریز کا خود کاشتہ پودا“ ہیں۔ اس لئے انگریز نے انہیں بڑے بڑے عہدوں پر فائز کیا تو انگریزی ذہن ہمارے لئے دشواری کا باعث بنا ہے۔
سوال: تحریک ختم نبوت کے لئے قیام پاکستان سے لے کر اب تک کتنے لوگ گرفتار ہوئے؟ اور کتنوں نے جام شہادت نوش کیا؟ ان کا صحیح اندازہ ہو تو فرمائیں۔
جواب: قیام پاکستان کے بعد جب بھی مرزائیوں کے خلاف کوئی تحریک چلی تو ان کی جارحانہ سرگرمیوں کی وجہ سے اٹھی۔ چنانچہ مرزا بشیر الدین محمود نے ۱۹۵۲ء میں اعلان کیا کہ ۱۹۵۲ء گزرنے نہ پائے کہ کم از کم بلوچستان کو ہم قادیانی صوبہ بنالیں۔ یہ آج بھی اخبارات کی فائلوں میں محفوظ ہے۔ چنانچہ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے فرمایا کہ ۱۹۵۲ء مرزا محمود کا ہے تو ۱۹۵۳ء ہمارا ہے۔
ظفر اللہ خان وزیر خارجہ تھا اس نے کراچی میں تقریر کرنے کی کوشش کی۔ مسلمانوں نے احتجاج کیا۔ وزیر خارجہ، خواجہ ناظم الدین کے روکنے کے باوجود نہ رکا تو تحریک چلی۔ مشہور ہے کہ مارشل لاء کی وجہ سے دس ہزار مسلمان شہید ہوئے۔ ہزاروں کی تعداد میں گرفتاریاں عمل میں آئیں۔ اگر کوئی مقرر اپنی تقریر میں مرزا قادیانی کو کافر کہتا تو اس کے خلاف مقدمہ قائم ہو جاتا۔ بے شمار مسلمانوں کے خلاف مقدمات ہوئے۔
تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء بھی ان کی جارحانہ سرگرمیوں کی وجہ سے شروع ہوئی۔ ہوا یوں کہ نشتر میڈیکل کالج ملتان کے کچھ طالب علم پشاور کے ٹور کے لئے چناب ایکسپریس پر جب ربوہ سے گزرے تو انہوں نے چند نعرے لگائے۔ واپسی پر ریلوے کے عملہ سے ملی بھگت کے ساتھ تین گھنٹہ تک مرزائی غنڈوں نے طلباء پر تشدد کیا۔ جس کے ردعمل میں تحریک چلی۔ بالآخر پاکستان قومی اسمبلی نے آئین میں وہ شق منظور کر لی جس کی وجہ سے یہ آئینی طور پر کافر قرار دیئے گئے لیکن انہوں نے اس آئینی ترمیم کو تسلیم نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ مردم شماری میں انہوں نے اپنے آپ کو مسلمان لکھوایا۔
سوال: تحریک ختم نبوت کی وجہ سے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کو بھی سزائے موت دی گئی تو کیا وجہ تھی کہ انہوں نے اس مسئلہ کو اپنے ہاتھ میں نہیں لیا؟
جواب: مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے دوران کتابچہ ”قادیانی مسئلہ“ لکھا۔ اس کے تمام تر حوالہ جات مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی نے لکھوائے۔ جب عدالت میں بحث ہوئی تو انہوں نے کہا کہ یہ حوالہ جات مجھے قاضی صاحب نے دیئے۔ آپ انہیں سے رجوع کریں تو قاضی صاحب نے تمام حوالہ جات عدالت میں پیش کئے۔ باقی ان کی اپنی مصلحتیں تھیں۔ انہوں نے اس مسئلہ کو اپنے ہاتھ میں کیوں نہیں لیا؟ میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سوال: حاضرین میں ایک آدمی نے سوال کیا کہ ایسا بھی ہوا کہ انہوں نے تحریک سے بے وفائی کی ہو اور معافی مانگ لی ہو؟
جواب: انہوں نے معافی نہیں مانگی۔ مولانا مودودی کے علاوہ مولانا عبدالستار خان نیازی اور مولانا خلیل احمد قادری کو پھانسی کا حکم سنایا گیا اور یہ تینوں حضرات سنٹرل جیل کے احاطہ میں رہتے تھے۔ جب مارشل لاء ختم ہوا تو تمام مقدمات بھی واپس لے لئے گئے تو یہ حضرات باہر آگئے اور باہر آکر مولانا مودودی نے بیان دیا کہ: ”ہمیں خواہ مخواہ اس میں گھسیٹا گیا۔ ہم تخریب کاری اور لوٹ مار وغیرہ میں شریک نہیں تھے۔ اس قسم کا بیان مولانا مودودی نے دیا معافی نہیں مانگی۔ البتہ یہ کہا کہ میری مثال اس آدمی کی ہے کہ راستے سے دور ہٹ کر ایک کھیت میں کھڑا ہو تو ٹرک آکر اس کو روند ڈالے“ مولانا مودودی کو تحریک کی وجہ سے سزا نہیں دی گئی بلکہ ”قادیانی مسئلہ“ نامی کتاب لکھنے کے جرم کی پاداش میں یہ سزا سنائی گئی۔
سوال: مذکورہ بالا افراد کا جیل سے رہائی کے بعد اب تک کیا ردعمل رہا۔ کیا تحریک میں شامل ہیں یا نہیں؟
جواب: تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء میں یہ حضرات شریک تھے۔ خوش قسمتی یہ تھی کہ اسمبلی میں ہمارے بعض علماء کرام مثلاً مولانا مفتی محمود، مولانا غلام غوث ہزاروی، مولانا عبدالحکیم ہزاروی، مولانا شاہ احمد نورانی اسمبلی کی حزب اختلاف میں تھے اور حزب اختلاف کی تمام جماعتیں بشمول نیپ وغیرہ سب مجلس عمل میں آگئیں۔ ہمیں کسی کے دروازے پر نہیں جانا پڑا۔
مولانا اسلم قریشی (۱۷ فروری ۱۹۸۳ء) کے اغوا کے بعد ۲۷، ۲۸؍اکتوبر ۱۹۸۳ء کو ربوہ میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس میں مجلس عمل کی تجویز پیش کی گئی جس کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا حبیب اللہ فاضل رشیدی اور مولانا علاؤ الدین ڈیرہ اسماعیل خان مولانا تاج محمود، جناب ریاض الحسن گنگوہی شامل تھے۔ جس کے ذمہ لگایا گیا کہ یہ مختلف مکاتب فکر کے رہنماؤں سے ملیں۔ ۵، ۶، ۷؍نومبر ۱۹۸۳ء تبلیغی اجتماع رائے ونڈ سے فراغت کے بعد یہ حضرات لاہور آکر مختلف حضرات کو ملیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ یہ حضرات مولانا عبدالستار خان نیازی، حافظ عبدالقادر روپڑی، علامہ احسان الٰہی ظہیر، علامہ محمود احمد رضوی کو ملے اور جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ بھی گئے۔ شیعہ حضرات میں سے کچھ حضرات کو ملے۔ ان ملاقاتوں کے بعد طے پایا کہ لاہور کی سطح پر ایک اجلاس بلایا جائے۔ چنانچہ ۱۲؍نومبر ۱۹۸۳ء کو شیرانوالہ گیٹ میں مختلف مکاتب فکر کا بھرپور نمائندہ اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں لاہور کے علاوہ اور علاقوں سے بھی کچھ حضرات پہنچ گئے۔ جس میں جمعیۃ علماء پاکستان کی طرف سے مولانا عبدالستار خان نیازی اور ملک اکبر ساقی کے علاوہ بھی کچھ لوگ شریک ہوئے۔
سوال: اب ذرا مولانا اسلم قریشی کیس کی طرف آئیے کہ آج تک جو موصوف کی بازیابی کے لئے تفتیش وغیرہ ہوئی ہیں۔ آپ ان سے مطمئن ہیں یا نہیں؟
جواب: مولانا اسلم قریشی کیس کے لئے جتنی بھی ٹیمیں بنی ہیں انہوں نے آج تک حب الوطنی اور اخلاص کے جذبہ سے کام نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ معاملہ جوں کا توں ہے۔
سوال: اس وقت جو ٹیم مصروف کار ہے اس کے سربراہ کے متعلق یہ افواہ گشت کر رہی ہے کہ اس کا تعلق قادیانی گروہ سے ہے؟ وضاحت فرمائیں۔
جواب: موجودہ تفتیشی ٹیم کا سربراہ میجر مشتاق احمد ڈی۔آئی۔جی فیصل آباد ہے جو پہلے گوجرانوالہ کا ڈی۔آئی۔جی رہ چکا ہے۔ اگرچہ اس کے خاندان والے اسے مسلمان کہتے ہیں۔ لیکن اس کی کارروائی سے ہم مطمئن نہیں بلکہ اس کی تمام تر ہمدردیاں مرزائیوں کے
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ساتھ ہیں۔ ہم کئی ایک اجلاسوں میں اس پر عدم اعتماد کا اظہار کر چکے ہیں۔ جو اخبارات میں آچکی ہیں۔
سوال: قاری محمد اشرف ہاشمی ، قاری اللہ یار ارشد کے اغواء کیسوں کی نوعیت کے متعلق ارشاد فرمائیں۔
جواب: قاری محمد اشرف ہاشمی کے متعلق میں نہ کچھ جانتا ہوں اور نہ کچھ کہوں گا۔ البتہ قاری اللہ یار ارشد کا واقعہ رمضان المبارک میں ہوا۔ پانچ چھ آدمیوں کے خلاف مقدمہ درج کرایا۔ چنیوٹ اور جھنگ میں ان کی ضمانتیں نہ ہوسکیں تو ہائیکورٹ میں انہوں نے ضمانت کی درخواست دائر کی۔ جس کے متعلق پولیس نے یہ کہا کہ یہ کیس مارشل لاء عدالت میں پہنچ چکا ہے۔ لہذا ہائیکورٹ میں ضمانتیں نہ ہوسکیں۔ بعدازاں میں حج پر چلا گیا اور مارشل لاء نے کیس واپس کر دیا۔ کیا وجوہات تھیں؟ میرے علم میں نہیں۔
سوال: قادیانیوں کی اشتعال انگیز سرگرمیوں اور ان کے محتسب اعلیٰ عبدالعزیز بھانپڑی (جو کہ ۱۹۷۴ء میں ربوہ ریلوے اسٹیشن پر مرزائیوں کی مسلح غنڈہ گردی کی قیادت کر رہا تھا) ان کے جارحانہ عزائم کے انسداد کے لئے حکومت نے کیا نوٹس لیا ہے؟
جواب: میرے خیال میں کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔
سوال: صدارتی آرڈیننس کے نفاذ سے پہلے آپ کی صدر مملکت سے جو ملاقات ہوئی۔ اس میں کون کون سے امور زیر بحث آئے؟
جواب: ہمیں مذاکرات کے لئے نہیں بلایا گیا تھا بلکہ آرڈیننس تیار شدہ موجود تھا۔ اس کے دکھلانے کے لئے کچھ ابتدائی باتیں ہوئیں۔ مولانا اسلم قریشی ، مرزائیوں کا کلیدی آسامیوں پر فائز ہونا وغیرہ امور پر گفتگو ہوئی۔ پھر کہ وہ آرڈیننس منگوایا گیا جو کہ انگریزی میں تھا۔ راجہ ظفر الحق نے اس کا اردو ترجمہ پڑھ کر ہمیں سنایا۔ آرڈیننس کے متعلق ہم نے وہیں کہا کہ جو کچھ ہے ٹھیک ہے۔ لیکن ابھی بہت سی باتیں باقی ہیں ، ہم نے آرڈیننس کو خوش آمدید کہا اور دیگر مطالبات کے تسلیم ہونے تک تحریک باقی اور جاری رکھنے کا اعلان کر دیا۔
سوال: کیا اس آرڈیننس پر سرکاری سطح پر عمل درآمد کرانے کی کوشش کی گئی ہے یا نہیں؟
جواب: پہلے دن کچھ عمل درآمد ہوا۔ جب ہم صدر ضیاء الحق سے واپس لوٹے تو وفاقی وزیر اطلاعات راجہ ظفر الحق ہمراہ تھے وہ اپنی کوٹھی پر لے گئے اور انہوں نے ہمارے بارے ریڈیو ، ٹیلی ویژن والوں کو فون پر اطلاع دی۔ رات کے آٹھ بجے تھے۔ ٹی وی والوں نے یہ خبر نشر کر دی۔ اس اعلان کے بعد مرزائیوں نے صبح کی اذانیں عبادت گاہوں میں نہیں دیں اور اپنی عبادت گاہوں سے ”مسجد“ کا لفظ بھی مٹا دیا۔ بس اس سے آگے کچھ نہ ہوا۔ جب حکومتی اداروں کو شکایت کی جاتی ہے تو ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں۔
سوال: صدارتی آرڈیننس سے مرزائیوں کی سرگرمیاں کس حد تک متاثر ہوئیں؟
جواب: اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس سے مرزائیوں کی کمر ٹوٹ گئی اور عامۃ الناس میں آرڈیننس کے بارے اچھا اثر ہوا اور لوگ یہ سمجھے کہ یہ مسلمانوں سے الگ امت ہے۔ تبھی تو انہیں اذان و تکبیر سے منع کر دیا گیا ہے۔
سوال: اس آرڈیننس کا ربوہ پر کیا اثر ہوا؟
جواب: اس آرڈیننس کے بعد ربوہ میں اذانیں بند ہوئیں۔ نام نہاد بہشتی مقبرہ سے مرزا قادیانی کے نام نہاد صحابی کی قبروں پر لگے ہوئے کتبوں پر سے قابل اعتراض الفاظ مٹا دیئے گئے۔ جیسے صحابی ”رضی اللہ عنہ“ وغیرہ۔
سوال: کیا یہ بات درست ہے کہ مرزائیوں نے اپنے متبرک مقامات پر مسلح پہرہ لگایا ہوا ہے؟
جواب: یہ بات بالکل درست ہے کہ انہوں نے اپنے نام نہاد ”متبرک“ مقامات پر مسلح پہرہ لگایا ہوا ہے اور انہوں نے کئی ایک مسلح تنظیمیں
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بنائی ہوئی ہیں ۔ جیسے ”خدام الاحمدیہ“ ، ”انصار اللہ“ جو کہ تربیت یافتہ فوجی ہیں ۔ یہ بات حکومت کے علم میں ہونے کے باوجود قابل اعتنا نہیں سمجھی گئی جب کہ مسلمانوں کی ایسی تنظیموں ”خاکسار“ وغیرہ کو بیلچہ اٹھانے کی اجازت نہیں ۔
سوال: ایک افواہ یہ گشت کر رہی ہے کہ گزشتہ دنوں ربوہ میں اسلحہ کا ایک ٹرک آیا ۔ آیا یہ حکومت کے علم میں ہے یا نہیں ۔ اگر ہے تو قوت گرفت نہیں یا مرزائی اس قسم کی کارروائی کی اجازت نہیں دیتے یا حکومت تساہل سے کام لے رہی ہے؟ وضاحت فرمائیں ۔
جواب: مرزائی سامراجی قوتوں کے ایجنٹ ہیں ۔ یہ بیک وقت امریکہ کے بھی ایجنٹ ہیں اور روس کے بھی ۔ جیسے اسرائیل جس کی مادی امداد امریکہ کرتا ہے اور افرادی امداد روس کہ وہ اپنے ملک کے یہودیوں کو اسرائیل منتقل کر دیتا ہے۔ یہ اسرائیل کی شاخ ہے جس کا بدستور سامراجی قوتوں کے ساتھ تعلق و رابطہ ہے ۔
سوال: صدارتی آرڈینینس کے بعد آپ کو بھی مطالبہ کرنا چاہئے تھا کہ مرزائیوں کے ”ضیاء الاسلام“ پریس کو ضبط کیا جائے؟
جواب: ہمارا مطالبہ جاری ہے کہ ان پریسوں کو بند کیا جائے یا کم از کم ان کے نام تبدیل کئے جائیں ۔ (الحمد للہ ! تین ماہ کے لئے ان کا ضیاء الاسلام پریس سر بمہر ہو چکا ہے۔ ناقل!)
سوال: مرزا طاہر کا ملک سے ڈرامائی انداز میں فرار سے متعلق آپ کیا جانتے ہیں؟
جواب: اس سلسلہ میں ہماری معلومات وہی ہیں جو اخبارات میں آتی رہیں ۔ اس کا ملک سے فرار حکومت کی اجازت کے بغیر ممکن نہیں ۔ ہم صراحۃً حکومت کو قصور وار ٹھہراتے ہیں ۔
سوال: ساہیوال کے المناک واقعہ کے متعلق آپ کے کیا تاثرات ہیں؟
جواب: ہم یہ مطالبہ کرتے چلے آ رہے ہیں کہ ان کی عبادت گاہوں پر کلمہ طیبہ اور آیات قرآنی ہٹائی جائیں، لیکن حکومت نے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی۔ چنانچہ کئی مقامات پر ایسے واقعات رونما ہوئے کہ مسلمانوں نے خود ان کی عبادت گاہوں سے یہ کلمات ہٹائے ۔ جیسے گوجرانوالہ، چنیوٹ ، مغل پورہ لاہور ۔ اسی طرح ساہیوال میں واقعہ رونما ہوا ۔
ساہیوال کا واقعہ اس طرح ہوا کہ مرزائیوں کی عبادت گاہوں پر کلمہ طیبہ وغیرہ لکھا ہوا تھا اور شہر میں یہ افواہ گشت کر رہی تھی کہ وہ آہستہ آواز سے اذان دیتے ہیں تو چند نوجوانوں نے بغیر کسی منصوبہ اور سوچی سمجھی سکیم کے اور بغیر کسی ہتھیار کے تحقیق حال کے لئے گئے کہ اذان ہوتی ہے یا نہیں ۔ یہ ۲۶ ؍اکتوبر ۱۹۸۴ء ۴ بج کر ۵۵ منٹ کا واقعہ ہے جو کہ عین اذان کا وقت تھا ۔ جس میں اکثر لوگ جاگ رہے تھے اور انہوں نے گولی چلا کر دو نوجوانوں کو شہید کر کے غنڈہ گردی اور بربریت کی انتہاء کر دی۔
سوال: اس مسلح غنڈہ گردی سے نمٹنے کے لئے آپ نے کچھ لوگوں سے رابطہ قائم کیا ہوگا۔ جیسے جماعت اسلامی اور جمعیتہ علماء پاکستان کے راہنماء ان کا کیا رد عمل ہے؟
جواب: جماعت اسلامی تو مجلس عمل میں شامل ہے۔ جب کہ جمعیتہ علماء پاکستان کے نیازی صاحب ، ملک اکبر ساقی ”انتخاب مجلس“ کے پہلے تو ساتھ تھے ، لیکن جماعتی طور پر نہیں۔ بلکہ ذاتی طور پر اپریل ۱۹۸۴ء کے پہلے ہفتہ میں ہماری کراچی میں کانفرنس تھی ۔ جس کے بعد میں مولانا عبدالمجید ندیم، مولانا محمد بنوری، مولانا شاہ احمد نورانی کو ملے اور انہیں دعوت دی تو انہوں نے تحریک ۱۹۷۴ء کی داستان چھیڑ دی۔ میں نے عرض کیا کہ ہم اس کارروائی کی تکمیل میں لگے ہوئے ہیں۔ لہٰذا آپ بھی ہمارا تعاون فرمائیں تو انہوں نے کہا کہ میں جمعیتہ علماء پاکستان کی مجلس شوریٰ کی اجازت کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا۔
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء
ترتیب تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سوال: شیعہ حضرات من حیث الجماعت آپ کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں یا انفرادی طور پر؟
جواب: امسال ربوہ کانفرنس کے موقع پر طے ہوا کہ مختلف مکاتب فکر کے رہنماؤں، مشائخ، علماء کرام سے ملاقاتیں کی جائیں۔ چنانچہ میں، مولانا ضیاء القاسمی، مولانا منظور احمد چنیوٹی، مولانا مختار احمد نعیمی راولپنڈی گئے اور گولڑہ شریف بھی گئے۔ اتفاقاً سجادہ نشین گولڑہ شریف باہر گئے ہوئے تھے۔ پیر دیول شریف سے ملاقات کی کوشش کی لیکن ملاقات نہ ہوسکی۔ البتہ ان کے ایک معتمد کو خط دے دیا۔
اسی طرح شیعہ حضرات کی دونوں تنظیموں میں موسوی صاحب والے گروپ سے ملاقات ہوگئی۔ انہوں نے مکمل یقین دھانی کرائی بلکہ انہوں نے تحریر بھی دی۔
سوال: مختلف جنرل حضرات کے متعلق یہ افواہیں ہیں کہ وہ مرزائی ہیں۔ مثلاً کے. ایم عارف صاحب، غلام اسحاق خان، جنرل رحیم الدین خان وغیرہ آپ کی کیا رائے ہے؟
جواب: غلام اسحاق بنوں کے رہنے والے ہیں۔ وہاں کے لوگ کہتے ہیں کہ یہ قادیانی نہیں ہیں۔ جنرل رحیم الدین خان صدر بھارت ڈاکٹر ذاکر حسین مرحوم کے بھانجہ ہیں۔ جب کہ بیگم ڈاکٹر مرحوم کے چھوٹے بھائی کی لڑکی ہے یہ خاندان اہل سنت والجماعت دیو بندی مکتب فکر سے متعلق ہے۔ جنرل کے. ایم عارف کے متعلق صدر مملکت نے خود کہا کہ: ”وہ میرے بتیس سال سے رفیق ہیں۔ یہ قادیانی نہیں ہے۔ لوگ جسے بدنام کرنا چاہیں اسے مرزائی کہہ دیتے ہیں۔ امروٹی شاہ صاحب (مولانا محمد شاہ امروٹی) تو مجھے ابھی تک قادیانی سمجھتے ہیں۔“
سوال: تعلیمی اداروں میں چھائے ہوئے قادیانیوں کے متعلق کوئی پیش رفت ہوئی؟
جواب: ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ ہمارا مطالبہ صرف تعلیمی اداروں میں چھائے ہوئے قادیانیوں سے متعلق ہی نہیں بلکہ تمام محکموں میں قادیانیوں کے متعلق ہے۔
سوال: وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ کے بعد آپ کے جذبات و احساسات کیا تھے؟
جواب: اس پر ہمیں خوشی ہوئی لیکن اس میں دو تین حروف جو مذہبی آزادی (کی غلط تشریح) سے متعلق تھے ان پر دکھ ہوا۔
سوال: کئی سالوں سے نوجوان نسل کا اسلام کی طرف راغب ہونا ڈھکی چھپی بات نہیں۔ بہت سے نوجوان مرزائی غنڈوں کے خلاف ”جذبات“ رکھتے ہیں۔ لیکن مجلس عمل نے انہیں پابند کیوں رکھا ہوا ہے؟
جواب: مجلس عمل آئین کی حدود میں رہتے ہوئے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئی ہے۔ کیونکہ ملکی سالمیت کا مسئلہ سب سے مقدم ہے۔ اس لئے نہایت سوچ سمجھ کر اور نہایت حوصلہ اور بردباری کے ساتھ ہم اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ خداوند قدوس ہمیں کامیابی و کامرانی سے ہمکنار فرمائے۔
سوال: ۱۹۷۴ء کی تحریک کا آغاز طلباء پر مسلح غنڈہ گردی اور حال ہی میں ساہیوال میں بھی ایک طالب علم کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے تو آج بھی تعلیمی اداروں میں آواز اٹھ سکتی ہے؟
جواب: اگر ہم یہ چاہیں تو یہ معمولی بات ہے، لیکن ہم کوئی تشدد آمیز کارروائی پسند نہیں کرتے۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا
سوال: آئندہ کے لئے مجلس کا لائحہ عمل کیا ہوگا؟ جواب: مجلس عمل اپنے مقاصد کے حصول کے لئے مختلف پروگرام بنا رہی ہے۔ آہستہ آہستہ ہم اپنی منزل کے قریب ہورہے ہیں۔ سوال: اندرا گاندھی کے قتل کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟ جواب: اس قسم کے واقعات کو کوئی ذی شعور آدمی تحسین کی نظر سے نہیں دیکھ سکتا۔ سکھوں نے انتہائی قدم اٹھایا ہے۔ جس کے جواب میں وہاں کی اکثریت نے سوچے سمجھے جو قدم اٹھایا ہے۔ مرزائیوں کی جارحانہ سرگرمیوں کی وجہ سے یہ واقعہ یہاں بھی پیش آسکتا ہے۔ سوال: حضرت ہمارا اصل انٹرویو تو ختم ہو گیا ہے۔ آپ کا کوئی پیغام ہو تو ارشاد فرمائیں؟ جواب: ہمارے مطالبات سیدھے سادے ہیں۔ حکومت کو مطالبات تسلیم کر کے مسلمانوں کو ابتلاء سے بچانا چاہئے۔ مسلمانان پاکستان سے ہماری یہ اپیل ہے کہ تمام اختلاف مٹا کر مجلس عمل کے پلیٹ فارم پر جمع ہو جائیں۔ ہماری حمایت و تائید کریں۔ ہمارے اختلافات کی وجہ سے مسئلہ کھٹائی میں پڑ رہا ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت مورخہ ۵ تا ۱۱/ جنوری ۱۹۸۵ء)
ختم نبوت دفتر حیدر آباد
مجلس تحفظ ختم نبوت کے ۱۹۴۹ء میں قیام کے ساتھ ہی حیدر آباد میں مجلس کے کام کا آغاز ہو گیا تھا۔ مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھری، مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی، مولانا لال حسین اختر کے تبلیغی اسفار ہوئے۔ کنری، میر پور جاتے ہوئے بزرگوں کا یہاں قیام ہوتا۔ آگے چل کر حضرت قاری منظور الحق مرحوم مجلس حیدر آباد کے ناظم عمومی مقرر ہوئے۔ کافی عرصہ تک ان کی مسجد میں دفتر رہا۔ شہر کے مختلف مقامات پر کرایہ کی جگہوں پر بھی دفتر قائم رہا۔ ۱۹۸۴ء میں یہاں لطیف آباد نمبر ۲ آٹو بھان روڈ پر دفتر کے لئے پلاٹ خریدا گیا۔ اس زمانہ میں اس کی قیمت ایک لاکھ بیس ہزار ادا کی گئی۔ اس پر نقشہ کے مطابق تعمیر کا آغاز ہوا۔ ۴/ فروری ۱۹۸۵ء کو دفتر کی گراؤنڈ فلور مکمل ہونے پر افتتاحی تقریب منعقد ہوئی۔ مولانا منظور احمد الحسینی مرحوم، محترم عبدالرحمن یعقوب باوا، مولانا نذیر احمد بلوچ مرحوم، مولانا قاری منظور الحق، مولانا عبد الحق، مولانا سیف الرحمن، مولانا عبد السلام، مولانا رب نواز مرحوم، الحاج خالد صاحب، مولانا غلام حسین اور دوسرے حضرات افتتاحی دعا کی تقریب میں شریک ہوئے۔ یوں اس دن سے وہ دفتر مجلس کا ملکیتی قائم ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کی خدمات کے لئے سدا بہار رکھیں۔ آمین!
مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس
مرکزی مجلس شوریٰ کا پچپن واں اجلاس ۴/ مارچ ۱۹۸۵ء کو ملتان میں منعقد ہوا۔ اس کی مکمل کارروائی شوریٰ کی کارروائیوں کے باب میں آئے گی۔
غلہ منڈی بہاول پور میں دفتر ختم نبوت کا مئی ۱۹۸۵ء میں افتتاح
بہاول پور میں مجلس تحفظ ختم نبوت کا دفتر جامع مسجد الصادق کے سامنے کی رنگیلا بازار کی بالائی منزل پر تھا۔ کئی دہائیوں تک یہ دفتر رہا۔ یہاں پہلے مبلغ مولانا غلام مصطفیٰ رہے۔ پھر مولانا غلام محمد صاحب مرحوم علی پور بہت تھوڑے عرصہ کے لئے مولانا خدا بخش شجاع آبادی نے خدمات سرانجام دیں۔ مولانا عبد اللطیف ارائیں علاقہ جتوئی کے بھی مبلغ رہے۔ پھر مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی بطور مبلغ کے یہاں
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تشریف لائے ۔ ۱۹۸۵ء میں یہاں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی مجلس کے مبلغ تھے۔ مولانا کے زمانہ میں یہ بازار شارٹ سرکٹ سے آتشزدگی کا شکار ہوئی۔ جس سے دفتر کے حصہ عمارت کو بھی بہت نقصان پہنچا۔ حتیٰ کہ وہ قابل استعمال نہ رہا۔ پھر دفتر چوک شہزادی کے ایک چوبارہ پر رہا۔ پھر احمد پوری گیٹ کے اندر مولانا سعید الرحمن بن حضرت حاجی ذکر اللہ صاحب کی دکان تھی۔ یہاں پر دفتر منتقل ہوا۔ غرض سال ڈیڑھ میں دو تین جگہ دفتر منتقل کرنا پڑا۔ پاکستان کے قیام کے زمانہ میں جب بہاول پور ماڈل ٹاؤن میں غلہ منڈی کے لئے جگہ مختص ہوئی تو یہاں حضرت مولانا محمد علی جالندھری نے عالمی مجلس کے لئے جگہ خرید لی ۔ جس میں ایک بڑی دکان اور اوپر دو چوبارے تعمیر کرائے ۔ لکڑی کا سامان صادق آباد کے تاجر حضرت الحاج تاج الدین سیالکوٹی نے مہیا کیا۔ اس زمانہ میں عالمی مجلس بہاول پور کے امیر حکیم محمد ابراہیم جالندھری ہوتے تھے ۔ تعمیرات کا حساب ان کے پاس رہا۔ چنانچہ مجلس کی غلہ منڈی کی یہ دکان اور چوبارے بنے اور پھر کرایہ پر دے دیئے گئے ، جو اب بھی کرایہ پر تھے۔ مجلس کا دفتر کرایہ کی جگہ پر تھا ۔ وہ جگہ آتشزدگی کا شکار ہوئی تو دوسری جگہ دفتر تبدیل کرنا پڑا۔ مجبوراً ضرورتاً غلہ منڈی کی دکان کے چوبارہ کو خالی کرانا پڑا۔ کرایہ دار نے خالی کرنے سے انکار کر دیا تو عدالتی کارروائی سے جا کر کامیابی ملی اور فریقین میں مصالحت ہو گئی ۔ اس کے بعد یہاں ۳۹ - بی غلہ منڈی ماڈل ٹاؤن میں دفتر منتقل ہوا ۔ اس کی افتتاحی تقریب کے لئے حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب مئی ۱۹۸۵ء میں بہاول پور تشریف لائے ۔ ہر چند کہ نومبر ۱۹۸۴ء میں ایک چوبارہ خالی ہو کر دفتر یہاں منتقل کر کے کام کا آغاز ہو گیا تھا ۔ مزید دوستوں کو نئے دفتر کی جگہ دکھا دی جائے تا کہ رابطہ میں آسانی رہے ۔ اس کے لئے باضابطہ افتتاح کی ضرورت تھی ۔
مولانا محمد اسماعیل نے دعوت نامے جاری کئے ۔ چنانچہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب کی تشریف آوری پر قومی اسمبلی کے ممبر ڈاکٹر ذوالفقار علی برق، مولانا عبد الرحیم اشعر، مولانا قاضی محمد اللہ یار خان، مولانا شمس الدین انصاری، مولانا محمد یوسف، الحاج سیف الرحمن، محمد شفیع خان ایڈووکیٹ، مولانا عبد الحکیم، مولانا غلام حسین حاصل پوری، مولانا غلام مصطفےٰ، حافظ محمد طیب اور دیگر حضرات نے شرکت کی۔ بیانات ہوئے ۔ حضرت خواجہ صاحب نے دعا فرمائی اور یوں غلہ منڈی بہاول پور کا دفتر اس دور سے تادم تحریر خدمات سرانجام دے رہا ہے ۔ تقریب افتتاح کی کارروائی ہفتہ وار ختم نبوت کراچی ۷ تا ۱۳ / جون ۱۹۸۵ء میں شائع ہوئی ۔
مرکزی مجلس شوریٰ کا ۵۶ واں اور مجلس عمومی کا انتخابی اجلاس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دستور کی رو سے ہر تین سال بعد مجلس کے مرکزی سالانہ انتخابات ہوتے ہیں ۔ اس کے لئے پہلے پورے ملک میں ممبر سازی کی جاتی ہے اور پھر مقامی مجالس کے انتخابات ہوتے ہیں ۔ تمام جماعتیں اپنی ممبر شپ کے اعتبار سے مرکزی مجلس عمومی کے لئے اپنے ممبران منتخب کرتے ہیں ۔ یوں مرکزی مجلس عمومی کی تشکیل مکمل ہونے کے بعد وہ مجلس عمومی اپنے انتخاب میں آئندہ تین سالوں کے لئے مجلس کے امیر مرکزیہ اور نائب امیر کا انتخاب کرتی ہے ۔ اس کے بعد امیر مرکزیہ بقیہ مجلس کے عہدہ داروں کو نامزد کرتے ہیں اور یوں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی انتخابات مکمل ہوتے ہیں۔ اس سال ۱۹۸۵ء میں نئے انتخابات ہونے تھے ۔ جس کے لئے ملتان دفتر مرکزیہ میں مجلس عمل کا اجلاس منعقد ہوا۔ جس کی کارروائی شوریٰ کے اجلاسوں کی کارروائی باب میں پڑھیں گے۔
متفرقات
۱۹۸۵ء میں حضرت خواجہ خان محمد صاحب امیر مرکزیہ کے نام یہ اشتہار رسائل میں شائع ہوا۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
ملت اسلامیہ کی بین الاقوامی تنظیم ہے
جو حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے قائم فرمائی۔ مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھری نے چار چاند لگائے اور شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوری نے اس تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کیا اور اب شیخ المشائخ حضرت مولانا خان محمد دامت برکاتہم کی قیادت میں قادیانیت کے خاتمہ کی مہم پر ہے۔
اغراض ومقاصد
اسلام کی دعوت وتبلیغ، ناموس ختم نبوت کی پاسبانی، قادیانی قزاقوں کی سرکوبی، باطل قوتوں کا مقابلہ، مجلس کا عظیم اور مقدس مقصد ہے۔ قادیانیوں کے سربراہ مرزا طاہر نے جب سے اپنا مستقر لندن منتقل کیا ہے اور پوری دنیا کے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لئے اربوں کھربوں کے منصوبے شروع کر دیئے ہیں۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کی ذمہ داریوں میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔ اندرون و بیرون ملک مجلس کے مبلغ دفاتر، مدارس، مساجد ان ذمہ داریوں سے عہدہ براء ہونے کے لئے وقف ہیں۔ مجلس کا سالانہ میزانیہ کئی لاکھ کا ہے۔ لاکھوں روپے کا صرف لٹریچر اندرون و بیرون ملک تقسیم کیا جاتا ہے۔ جامع مسجد ربوہ، جامع مسجد کراچی اور دیگر شہروں میں مجلس کے تعمیراتی منصوبے تشنۂ تکمیل تھے۔ جب کہ لندن اور دوسرے ممالک میں بھی دفاتر قائم کئے جارہے ہیں۔ اندرون و بیرون ملک قادیانیوں کے ساتھ مقدمات کی وجہ سے مجلس کی ذمہ داریاں بہت بڑھ گئی ہیں۔ ختم نبوت کی خدمت اور مالی اعانت اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی اور آنحضرتﷺ کی شفاعت کا ذریعہ ہے۔ آنجناب سے توقع رکھتے ہیں کہ آپ اس کار خیر میں ضرور شریک ہوں گے۔
واجركم على الله والسلام عليكم ورحمة الله
فقیر : خان محمد امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
مجالس کے انتخابات
یکم؍ مارچ ۱۹۸۵ء کو ڈیرہ اسماعیل خان اور ۹؍ مارچ کو مانسہرہ کی مجلس کے انتخاب کی خبر شائع ہوئی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت، مورخہ ۲۹؍ مارچ تا ۴؍ اپریل ۱۹۸۵ء)
۱۶؍ مارچ کو حضرت امیر مرکزیہ کی تشریف آوری پر رحیم یار خان کا انتخاب عمل میں لایا گیا۔ اس وقت کے ضلعی مبلغ مولانا احمد بخش نے اجلاس طلب کیا۔ امیر: مولانا بشیر احمد حامد، نائب امیر: مولانا عبدالکریم ندیم (خان پور)، نائب امیر: مولانا غلام مصطفےٰ (لیاقت پور)، ناظم اعلیٰ: مولانا عبدالصبور ڈاہر، نائب ناظم: مولانا عبدالرشید نعمانی (صادق آباد)، ناظم نشر واشاعت: گل محمد ظفر، ناظم تبلیغ: مولانا عبدالرشید خاکی (چک نمبر ۳۷۔ پی)۔
۲۴؍ مارچ کو گھارو سندھ مجلس کے انتخاب ہوئے۔ مولانا منظور الحسینی اور جناب عبدالرحمٰن یعقوب باوا نے نگرانی کی۔ کنڈیاں، دریا خان، نواں جنڈانوالہ، کلور کوٹ، اٹک واہ کینٹ اور ۱۷؍ مارچ کو سرگودھا کے انتخاب ہوئے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت، مورخہ ۱۲ تا ۱۸؍ اپریل ۱۹۸۵ء)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لیہ ، بھکر ، کوئٹہ ، سکھر ، حیدرآباد میں عالمی مجلس کے انتخابات کی خبریں شائع ہوئی ہیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت ، مؤرخہ ۲۶؍ اپریل تا ۲؍ مئی ۱۹۸۵ء)
ٹاہلی، حافظ آباد، سجاول، خضدار میں مجلس کے انتخابات کی خبریں شائع ہوئیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی، مؤرخہ ۱۷ تا ۲۳؍ مئی ۱۹۸۵ء)
ٹاہلی ، حافظ آباد ۔
عالمی مجلس عمل کا وفد متحدہ عرب امارات کے دورے پر
۱۹۸۵ء میں لندن کے کامیاب دورے کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے وفد نے متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا۔ اس وفد میں شہید اسلام مولانا محمد یوسف لدھیانوی، مولانا مفتی احمد الرحمٰن، جناب عبدالرحمٰن یعقوب باوا اور مولانا منظور احمد الحسینی شامل تھے۔ مولانا منظور احمد الحسینی نے اس دورے کی تفصیل ہفت روزہ ختم نبوت میں شائع کی تھی۔ ملاحظہ فرمائیں ۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا وفد متحدہ عرب امارات کے دورے پر
مجلس تحفظ ختم نبوت عالمی کے چار رکنی وفد نے جس کی قیادت مجلس کے نائب امیر مولانا مفتی احمد الرحمٰن کر رہے تھے۔ متحدہ عرب امارات کا دورہ مکمل کر لیا۔ یہ دورہ جمعیۃ اہل السنۃ متحدہ عرب امارات کی دعوت پر کیا گیا ۔ وفد میں مولانا محمد یوسف لدھیانوی، جناب عبدالرحمٰن یعقوب باوا اور راقم الحروف شامل تھے۔ ۹؍ ستمبر ۱۹۸۵ء رات دس بجے دبئی ائیر پورٹ پر جب یہ وفد پہنچا تو وہاں اس کا شاندار پرتپاک استقبال کیا گیا۔ مولانا محمد اسحاق خان، مولانا خلیل احمد ہزاروی، مولانا محمد فہیم ، جناب اشتیاق حسین عثمانی، مولانا محمد اسماعیل، جناب رفیق صابری کے علاوہ متحدہ عرب امارات کی تمام ریاستوں سے کثیر تعداد میں علماء کرام اور مسلمانوں نے وفد کے اراکین کو خوش آمدید کہا ۔ ائیر پورٹ سے یہ وفد قصیص پہنچا ۔ دوسرے روز گیارہ بجے یہ وفد ابوظہبی پہنچا۔ وہاں حضرت مولانا محمد اسعد مدنی مدظلہ سے ملاقات ہوئی ۔ شام ۴؍ بجے جناب رفیق صابری صاحب کے گھر متحدہ عرب امارات کے سب سے بڑے عربی اخبار روزنامہ ”الاتحاد“ کے اسلامی ایڈیشن کے ایڈیٹر جناب محمد باسل الرفاعی سے خصوصی ملاقات کی گئی ۔ مولانا خلیل احمد ہزاروی نے وفد کے تمام اراکین کا تفصیلی تعارف کرایا ۔ محمد باسل الرفاعی نے کہا کہ ہمیں وفد ختم نبوت سے مل کر بہت خوشی ہوئی ہے ۔ قادیانیوں کے خلاف جو انہوں نے کام کیا ہے وہ تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا ۔ مولانا اسعد مدنی سے جناب الرفاعی نے ہندوستان کے مسلمانوں کے حالات پر تفصیلی انٹرویو لیا ، جو انہوں نے ۱۳؍ ستمبر ۱۹۸۵ء بروز جمعہ الاتحاد کے اسلامی ایڈیشن ”الہدیٰ“ میں شائع کیا ۔ نیز انہوں نے دو کالمی سرخی سے عرب امارات میں وفد ختم نبوت کی آمد کی تفصیلی خبر شائع کی ۔
جمعیۃ اہل السنۃ والجماعۃ الدعوۃ والارشاد کے زیر اہتمام اسی رات کو بعد نماز عشاء جامع مسجد علی ابن طالب میں ایک جلسہ کا اعلان کیا گیا ۔ جس میں علماء، مساجد کے خطباء حضرات کے علاوہ کثیر تعداد میں مسلمانوں نے شرکت کی ۔ اس جلسے کا آغاز جناب قاری وصیف الرحمٰن کی تلاوت کلام پاک سے ہوا ۔ بعد ازاں مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے تفصیلی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ختم نبوت کی جماعت رسول اللہ ﷺ کی باڈی گارڈ ہے۔ تاج ختم نبوت کی پاسبان اور پہرے دار ہے جو قزاق ڈاکو آپ ﷺ کی آبرو پر حملہ آور ہیں یہ جماعت ان کے مقابلے میں سینہ سپر ہے۔ آپ ﷺ کی خصوصی نظر التفات ختم نبوت والوں پر ہے۔ وہ حضرات بہت خوش قسمت ہیں جو اس سلسلے میں
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کام کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے خصوصی دفتر میں ان کا نام لکھا جا چکا ہے۔
آپ نے زور دے کر کہا جب تک ایک قادیانی بھی اس دھرتی پر باقی ہے۔ محمد ﷺ کے غلاموں کی ذمہ داری ختم نہیں ہوگی۔
جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا اسعد مدنی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نبوت کسبی نہیں ہوتی کہ جو شخص چاہے اپنی محنت اور کوشش سے نبی بن جائے۔ جس کو اللہ چاہتے تھے نبی بناتے تھے۔ تمام انبیاء علیہم السلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں تشریف لائے اور سب سے آخر میں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ آخری نبی بنا کر بھیجے گئے۔ پھر جن کو اللہ تعالیٰ نے منتخب فرمایا تھا۔ اپنی مرضی کے مطابق کمالات سے بھی نوازا تھا۔ تمام انبیاء کے لئے ایک بنیادی بات ضرور ہوتی ہے کہ وہ جھوٹ نہیں بولتے تھے، دھوکہ نہیں دیتے تھے، وعدہ خلافی نہیں کرتے تھے اور حرام نہیں کھاتے تھے۔ اگر کوئی نبی آئے اور غلط بات کہے تو خدا کی طرف سے دی گئی دوسری باتوں کو کیسے یقین کیا جا سکتا ہے۔
دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک معمولی انسان کے لئے بھی ان چیزوں کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ ان عیبوں سے پاک ہو۔ چہ جائیکہ اللہ کے نبی۔ ہمارے پیارے نبی محمد ﷺ تو تمام دنیا کے سردار تھے۔ پوری دنیا میں ایسی کوئی ہستی آئی ہی نہیں۔ آپ ﷺ کے جانی دشمن کفار مکہ آپ ﷺ کی صداقت کے بارے میں گواہی دیتے ہوئے ’’الصادق الامین‘‘ کہہ کر پکارتے تھے۔ ابو جہل نے کئی مرتبہ اس امر کا اقرار کیا۔ ابوسفیان نے ہرقل کے دربار میں اقرار کیا۔ آپ ﷺ نے ’’امیہ‘‘ کے بارے میں کہا تھا کہ وہ میرے ہاتھ سے مارا جائے گا۔ اس کی بیوی نے کہا اگر محمد (ﷺ) نے یہ کہا ہے تو یہ ضرور ہو کر رہے گا۔ کیونکہ وہ الصادق ہیں۔
ادھر مرزا قادیانی کمبخت ملعون شیطان کی طرف دیکھئے۔ اس نے جو بات کہی خدا نے جھوٹی کر دی۔ کس قدر مغضوب وملعون ہیں وہ لوگ جو اس جھوٹے قادیانی کو مان کر جہنم کا ایندھن بن رہے ہیں اور آخرت برباد کر رہے ہیں پڑھے لکھے لوگ ہیں۔ مگر ان کی عقل مار دی گئی ہے۔ جب اللہ ناراض ہو جاتے ہیں تو عقل سلب کر لیتے ہیں۔ جس کو اللہ گمراہ کر دیں تو اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے دین کا مجاہد بنائے۔ کامل ایمان پر ہمیں موت دے۔ سینے کو نور ایمان کے لئے کھول دے اور اسی پر باقی رکھے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان گمراہیوں سے بچائے۔ آخر میں آپ نے فرمایا۔ آپ حضرات مسلمانوں کو گمراہی سے بچانے کے لئے ہمہ قسم کی قربانی کے لئے تیار رہیں۔ اس جلسے سے راقم الحروف (مولانا منظور احمد الحسینی) نے بھی خطاب کیا۔ جب کہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض جناب اشتیاق حسین عثمانی انجام دے رہے تھے۔ آخر میں یہ جلسہ حضرت مولانا مفتی احمد الرحمن کی دعا پر اختتام پذیر ہوا۔
اگلے روز ۱۱ ستمبر ۱۹۸۵ء دوپہر مولانا خلیل احمد ہزاروی اور مولانا محمد سلیمان بلوچ کی معیت میں یہ وفد العین روانہ ہوا۔ اسی رات کو عشاء کی نماز کے بعد جامع مسجد بلدیہ میں ایک عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا۔ جس کی صدارت حاجی خان محمد بلوچ نے کی۔ جلسے کا آغاز جناب قاری محبوب علی خیاط کی تلاوت سے ہوا۔ سب سے پہلے خطبہ استقبالیہ مولانا خلیل احمد ہزاروی نے پشتو میں پیش کیا۔ بعد ازاں مولانا عبدالقدوس ممتاز رہنما جمعیۃ اہل السنۃ والجماعت للدعوۃ والارشاد العین نے پشتو میں خطاب کیا۔ پھر مولانا مفتی احمد الرحمن کو دعوت خطاب دی گئی۔ آپ نے رد قادیانیت پر ایک گھنٹہ تفصیلی تقریر کی۔ آپ نے کہا اس وقت دنیا میں سب فتنوں سے بڑا فتنہ قادیانی ہے۔ برصغیر کے مسلمانوں نے بھر پور مقابلہ کیا۔ پاکستان بننے کے بعد ختم نبوت کے لئے زبردست قربانی دی گئی۔ تین بڑی تحریکیں چلیں۔ یہاں تک کہ قادیانیوں کا موجودہ سربراہ پاکستان سے راہ فرار اختیار کر کے لندن پہنچ گیا ہے۔ وہاں ہم نے جمعیۃ علماء برطانیہ کے تعاون سے ۴؍ اگست ۱۹۸۵ء کو ویمبلے کانفرنس سینٹر میں بین الاقوامی ختم نبوت کانفرنس منعقد کی ہے۔ جس کے دور رس اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
مولانا نے زور دے کر کہا کہ ان شاء اللہ ہم عزم مصمم کر چکے ہیں۔ اب قادیانیوں کا پورے یورپ میں تعاقب کیا جائے گا۔ مولانا
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
محمد یوسف لدھیانوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج قادیانی بھیڑیے اور قزاق ختم نبوت کی چادر کو نوچ رہے ہیں اور تاج ختم نبوت کو کھلونا بنا کر اس سے کھیل رہے ہیں۔ ہم محمد ﷺ کی ختم نبوت کا جھنڈا لے کر نکلے ہیں اور ان شاء اللہ اس پھریرے کو پوری دنیا میں لہرائیں گے۔ تمام مسلمان حضور ﷺ کے غلام اور ختم نبوت کے ممبر ہیں۔ ہم سب عہد کرتے ہیں کہ اس فتنے کے سدباب کے لئے ہر قسم کی قربانی دیں گے۔ آخر میں یہ جلسہ مولانا عبد الخالق بلوچ کی دعا پر اختتام پذیر ہوا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۳ ش ۲۲ ص ۹ ، ۱۰ ، مورخہ ۱۵ / نومبر ۱۹۸۵ء)
دبئی میں درس قرآن کی اختتامی تقریب سعید میں شرکت
متحدہ عرب امارات کی ریاستوں میں ایک بڑی ریاست دبئی ہے۔ یہاں بھی علماء کافی تعداد میں ہیں لیکن ان میں سرفہرست اور سب کے روح رواں حضرت مولانا محمد اسحاق خان المدنی کشمیری مدظلہ ہیں۔ آپ یہاں ۸ / سال سے مقیم ہیں۔ آپ کا تعلق آزاد کشمیر ضلع پونچھ کے مشہور خطہ منگ سے ہے۔ آپ نے ۱۹۶۵ء میں جامعہ علوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی سے دورہ حدیث کی تکمیل کی اور وفاق المدارس کے امتحان میں نمایاں حیثیت سے کامیابی حاصل کی۔ ۱۹۶۶ء میں جامعہ خیر المدارس ملتان سے تخصص کیا۔ پھر ۱۹۷۱ء تک دارالعلوم پلندری میں نونہالان اسلام کی علمی پیاس بجھاتے رہے۔ ۱۹۷۲ء میں اسلامی یونیورسٹی مدینہ میں داخلہ لیا اور وہاں سے امتیازی حیثیت میں سند فراغت پائی اور ایک ہزار سعودی ریال نقد انعام حاصل کیا۔ ارض حرمین شریفین میں آپ نے اپنے چار سالہ قیام کے دوران مدینۃ الرسول میں روضہ اطہر کے سائے میں قرآن پاک کا اردو ترجمہ و تفسیر بیان کرنے کی سعادت بھی حاصل کی۔ آج کل سعودی عرب کی طرف سے متحدہ عرب امارات میں قائم کئے گئے۔ اسلامک مشن کے رکن کے طور پر مرکز دعوت و ارشاد دبئی کے زیر اہتمام تبلیغی خدمات انجام دینے میں مصروف ہیں۔ آپ دبئی میں روزانہ مغرب و عشاء اور فجر کے بعد کئی مساجد میں قرآن پاک وتفسیر و تشریح کا سلسلہ شروع کئے ہوئے ہیں۔ مولانا موصوف کی تفسیر قرآن کا یہ سلسلہ جو اردو زبان میں ہوتا ہے۔ اپنی امتیازی خصوصیات کی وجہ سے امارات بھر میں ایک منفرد دینی و علمی خدمات کے طور پر مشہور و معروف ہے۔ ۶ / سال قبل جامع مسجد العزیز ڈیرہ دبئی (نزد پرانی بکر منڈی) قرآن پاک کی تفسیر کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا وہ ۱۵ / ستمبر ۱۹۸۵ء کو تکمیل کو پہنچا۔ اس درس کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کو ۵۰۰ کیسٹوں میں ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تمام ممالک میں اس کو بھیجا جا رہا ہے۔ پوری دنیا میں اس کی مانگ ہے۔ اس سلسلہ میں بعد نماز عشاء اسی جامع میں ایک تقریب سعید رکھی گئی جس میں پورے امارات سے کافی تعداد میں علماء کرام اور مسلمانوں نے شرکت کی۔ کیونکہ وفد ختم نبوت بھی ان دنوں متحدہ عرب امارات کے دورے پر تھا۔ لہٰذا اس کو بھی خصوصی دعوت دی گئی۔ چنانچہ ۱۵ / ستمبر کو یہ وفد مولانا خلیل احمد ہزاروی کے ہمراہ ابوظہبی سے دبئی روانہ ہوا۔ عشاء کی نماز جامع مسجد العزیز میں پڑھی گئی۔ نماز کے فوراً بعد پروگرام شروع ہو گیا۔ اس مبارک تقریب میں وفد ختم نبوت کے علاوہ امارات کی تمام ریاستوں سے آئے ہوئے کافی تعداد میں علماء کرام ، شیوخ اور مسلمانوں نے شرکت کی۔ اس مجمع میں ڈیڑھ سو حضرات وہ تھے جنہوں نے روزانہ درس قرآن کے انوار سے جھولیاں بھری تھیں۔ سب سے پہلے حضرت مولانا محمد اسحاق خان صاحب نے تقریباً پون گھنٹہ آخری سورۃ ”فلق“ اور ”والناس“ کی تفسیر و تشریح بیان کی۔ پھر درس کے شرکاء میں سے ایک نے عربی اور دوسرے رفیق نے اردو میں مولانا محمد اسحاق خان صاحب کو سپاسنامہ پیش کیا۔
پھر شیخ احمد سلامہ برکہ مصری نمائندہ دعوت و ارشاد دبئی نے عربی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام پریشانیوں کا حل قرآن مجید میں ہے۔ اصل چیز قرآن پر عمل ہے۔ اگر عمل نہیں تو ہم مردہ ہیں۔ چاہے بڑی بڑی عمارتیں بنائیں۔ قیمتی کاروں میں دوڑیں ، عمدہ غذائیں
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کھائیں ۔ درس قرآن کی مجالس اس لئے منعقد کی جاتی ہیں کہ ہم قرآن مجید کو سمجھ کر عمل کرنے والے بن جائیں ۔ آپ کے بیان کے بعد مولانا خلیل احمد ہزاروی نے عربی میں خطاب کیا اور وفد مجلس تحفظ ختم نبوت کا تعارف کراتے ہوئے مجلس کی تاریخ پر مفصل روشنی ڈالی ۔ آپ کے بعد مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید کی آخری سورۃ میں ’’ الوسواس الخناس ‘‘ کے شر سے پناہ مانگنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ اس زمرے میں مرزا قادیانی اور اس کی امت بھی آتی ہے ۔ آپ نے کہا کہ مرزا قادیانی براہ راست حضور اقدس ﷺ کی ذات گرامی پر حملہ آور اور آپ ﷺ کے مقابلے پر اتر آیا ہے ۔ اس کا دعویٰ ہے کہ میں خود آخری نبی اور محمد رسول اللہ ہوں ۔ (العیاذ باللہ ) آپ نے زور دے کر کہا کہ ختم نبوت کے مسئلے میں پوری امت کو غیرت وحمیت کا ثبوت دینا چاہئے ۔ آپ نے ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے اسلامی سائنس فاؤنڈیشن کے سربراہ بنائے جانے پر سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیس اسلامی سائنسی فاؤنڈیشن ہے جس کا سربراہ ایک غیر مسلم کافر زندیق قادیانی ہے ۔ آخر میں یہ اجلاس شیخ محمد صالح الرئیس کی دعا پر اختتام پذیر ہوا ۔ رات بارہ بجے سماحۃ الشیخ عبدالجبار محمد الماجد ڈائریکٹر وزارت شئون الاسلامیہ والاوقاف دبئی سے خصوصی ملاقات کی گئی ۔ ملاقات کے فوراً بعد یہ وفد ابو ظہبی روانہ ہو گیا ۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج۴ نمبر ۲۳ ص۱۴، ۱۵، مورخہ ۲۲؍نومبر ۱۹۸۵ء)
۱۹۸۵ء میں قادیانیت ترک کر کے اسلام قبول کرنے والوں کی رپورٹ
ایک قادیانی کا قبول اسلام
ایک مورخہ ۱۵؍جنوری ۱۹۸۵ء بعد نماز عصر مدینہ مسجد میں محمد رفیق نامی ایک قادیانی نے مرزائیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا ہے ۔ حضرت مولانا قاضی محمد زاہد الحسینی نے اس کا اسلامی نام محمد رفیق سلمانی رکھا ہے ۔ اس سے چند دن پہلے ان کے بھائی جناب ناصر بھی مشرف بہ اسلام ہو چکے ہیں ۔ قارئین کرام ان کی استقامت کے لئے دعا فرمائیں ۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۱۵، مورخہ ۲۶؍اپریل تا ۲؍مئی ۱۹۸۵ء)
ایک قادیانی کا قبول اسلام
مسمی محمود احمد خان عباسی ولد احمد خان عباسی سکنہ جنڈ ضلع اٹک ، حال مقیم (برائے ملازمت) مغربی جرمنی نے مولانا بشیر احمد اور مبلغ ختم نبوت کی موجودگی میں برضاء وخوشی ، مولانا خلیل احمد خطیب جامع مسجد وناظم اعلیٰ ختم نبوت سکھر کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا اور حضور ﷺ کو آخری رسول و نبی تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حضور ﷺ کے بعد ہر مدعی نبوت خصوصاً مرزا غلام احمد قادیانی اپنے دعوؤں میں کذاب ، دجال ، کافر ، دائرہ اسلام سے خارج ، فریب کار اور مکار ہے اور مرزائیت سے توبہ و برأت کا اعلان کیا ۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۱۲، مورخہ ۲ تا ۸؍فروری ۱۹۸۵ء)
کوئٹہ کے ایک قادیانی کا قبول اسلام
میں مسمی عزیز احمد ولد ڈاکٹر نذیر احمد قوم راجپوت بھٹی ساکن کوئٹہ دلی طور پر قادیانیت سے تائب ہو چکا ہوں ۔ آج مورخہ ۱۰؍فروری ۱۹۸۵ء کو خطیب جامع مسجد طوبیٰ کوئٹہ جناب سید افتخار احمد کے روبرو تحریری طور پر اعلان کرتا ہوں کہ میں سچا اور پکا مسلمان ہو چکا ہوں اور مرزا قادیانی اپنے دعویٰ نبوت اور مجددیت میں بالکل جھوٹا تھا ۔ میں عام مسلمانوں کی طرح زندگی گزاروں گا ۔ یہ بیان میں نے
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بغیر کسی دباؤ اور لالچ کے تحریر کیا ہے۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص۱۹، مؤرخہ یکم/مارچ۱۹۸۵ء)
چناب نگر کے دو قادیانی گھرانوں کا قبول اسلام
۸/ مارچ ۱۹۸۵ء کو چناب نگر مسجد محمدیہ میں حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب تشریف لائے۔ اس موقع پر وحید احمد ولد رشید احمد بھٹی نے خاندان سمیت قادیانیت ترک کر کے اسلام قبول کیا۔
اسی طرح قبل ازیں یکم/مارچ کو حنیف احمد ولد لطیف احمد قوم کھوکھر نے بھی قادیانیت ترک کر کے اسلام قبول کیا۔
۱۹ تا ۲۵/مارچ ۱۹۸۵ء کے ہفت روزہ ختم نبوت کراچی کے ص۱۸ پر خبر ہے کہ: ’’چناب نگر میں مولانا اللہ وسایا کے ہاتھ پر چھ قادیانیوں نے، قاری محمد اسحق (فیصل آباد) مدرس مدرسہ ختم نبوت چناب نگر کے ہاتھ پر ایک شخص نے، اور چار افراد نے چھنی قریشیاں میں مولانا محمد عابد حسین کے ہاتھ پر قادیانیت ترک کر کے اسلام قبول کر لیا۔‘‘ ان تمام کے نام وغیرہ کی تفصیلات مندرجہ بالا رسالہ میں موجود ہیں۔
اسی طرح اٹک میں پہلے ناصر صاحب نے قادیانیت ترک کر کے اسلام قبول کیا تھا۔ اب اس کے بھائی محمد رفیق صاحب نے مدنیہ مسجد اٹک میں حضرت مولانا قاضی زاہد الحسینی صاحب کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔ فالحمد للہ!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی، مؤرخہ ۱۹تا ۲۵/ اپریل ۱۹۸۵ء)
قبول اسلام
مجلس تحفظ ختم نبوت ربوہ میں مرکزی دفتر ختم نبوت کی اطلاع کے مطابق ربوہ میں کافی قادیانی اسلام قبول کر رہے ہیں۔ چنانچہ گزشتہ دو ہفتوں میں مولانا اللہ وسایا کے ہاتھ پر ربوہ الف محلہ کے عبدالعزیز ارائیں، ان کی بیوی اور بچیوں پر مشتمل چھ افراد نے اسلام قبول، اس کے علاوہ مولانا قاری محمد اسحاق صاحب کے ہاتھ پر چودھری نواب دین ولد فقیر محمد ٹھیکیدار عرف پہلوان سکنہ مسلم کالونی ربوہ نے، محمد حسین آزاد، بشیر احمد، احمد حسین، بشیر حسین، چار بھائیوں نے ربوہ کے محلہ چھنی قریشیاں کے قریشی خاندان نے قادیانیت سے توبہ کر کے مولانا عابد حسین کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا ہے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت ربوہ کے مطابق حالیہ آرڈیننس سے قادیانیوں کو اسلام میں آنے کے لئے سوچنے کا موقعہ ملا ہے اور بتدریج مسلمان ہو رہے ہیں۔ جس کی واضح مثال یہ ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں میں ربوہ کے گیارہ افراد مسلمان ہوئے۔
اللہ رب العزت ان کو استقامت فی الدین نصیب فرمائیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۱۸، مؤرخہ ۱۹تا ۲۵/ اپریل ۱۹۸۵ء)
قبول اسلام
ہم مقراں مسمی محمد بوٹا ولد محمد حسین قوم جٹ، مسمی محمد حسین ولد محمد علی قوم جٹ، مسماۃ رشیدہ بی بی زوجہ محمد حسین مذکور ساکنان چک گھٹیالیاں تحصیل پسرور ضلع سیالکوٹ اپنے سابق مذہب مرزائیت اور قادیانیت سے تائب ہو کر دین حق اسلام قبول کرتے ہیں۔ ہم ہر سہ مقراں اقرار کرتے ہیں کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اس معنی میں خاتم النبیین ہیں کہ آپ آخری نبی اور آخری رسول ہیں اور آپ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا ہر شخص جھوٹا، کذاب ودجال اور ملعون ہے۔ لہٰذا ہم اقرار کرے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی بھی دعویٰ نبوت میں جھوٹا تھا۔ ہم مرزا غلام احمد قادیانی کی تمام باتوں اور باطل عقائد سے توبہ کرتے ہیں اور اقرار کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام زندہ آسمانوں پر اٹھائے گئے اور وہ آسمان پر اب بھی زندہ ہیں اور قیامت کے قریب نازل ہوں گے۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہم اللہ پاک کے نام کی سچی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ہماری یہ توبہ اور ہمارا یہ قبول اسلام کسی دنیاوی غرض سے نہیں ہے بلکہ ہم نے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے اور اپنی آخرت سنوارنے کے لئے قادیانیت سے اور نام نہاد احمدیت سے توبہ کر کے دین اسلام قبول کیا ہے اور ہم اس اقرار پر تا زندگی رہیں گے۔ ہم ہر سہ مقراں روبروئے گواہاں نام نہاد احمدیت یعنی مرزائیت اور قادیانیت کو چھوڑنے اور دین حق یعنی اسلام قبول کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۸، مورخہ ۱۹؍اپریل ۱۹۸۵ء)
ایک قادیانی کا قبول اسلام
احمد خان ولد مہر بہاول قوم بھروانہ سیال سکنہ چاہ لڈیانہ موضع چنڈ تحصیل و ضلع جھنگ نے، بروز جمعہ بقائمی ہوش و حواس اپنے سابقہ عقیدہ مرزائیت سے توبہ کر کے چنڈ کے خطیب صاحب کے ہاتھ پر بعد نماز جمعہ اسلام قبول کر لیا۔ مورخہ ۴؍اپریل بروز جمعرات احمد خان مدرسہ علوم شرعیہ میں حاضر ہوا اور حضرت مولانا سید صادق حسین شاہ امیر ختم نبوت جھنگ، مولانا محمد اسد اللہ قاسمی، مولانا رشید احمد مدنی، غلام حسین ناظم ختم نبوت کی موجودگی میں یہ تحریری بیان دیا کہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کو کافر، مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔ جو مرزا غلام احمد قادیانی کو کافر نہ سمجھے اور نہ کہے اس کو بھی کافر کہتا ہوں اور سمجھتا ہوں اور حضرت محمد ﷺ کو خدا کا آخری نبی مانتا ہوں اور آپ ﷺ کی تابعداری میں نجات سمجھتا ہوں۔ حضرت شاہ صاحب نے اور تمام احباب نے احمد خان کو مبارک باد پیش کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۱۲، مورخہ ۱۰ تا ۱۶؍مئی ۱۹۸۵ء)
قادیانیت سے تائب بھائیوں کا قبول اسلام
محمد بشیر، محمد حنیف اور محمد پرویز ولد عبداللطیف نے قادیانیت چھوڑنے کا اعلان کیا ہے۔ تینوں بھائیوں نے کہا کہ ہم حضور نبی کریم ﷺ سے محبت رکھتے ہیں۔ ہماری جان بھی حضور پرنور ﷺ پر قربان ہے۔ ہم مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والوں کو مرتد، کافر اور دائرہ اسلام سے خارج تصور کرتے ہیں۔ تینوں بھائیوں نے مجلس تحفظ ختم نبوت کی رکنیت بھی حاصل کی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت حافظ آباد کے خادم محمد رشید اختر نے قادیانی نوجوانوں کے اسلام قبول کرنے پر حافظ عبدالوہاب جالندھری کو مبارک باد پیش کی اور نو مسلمانان کی ثابت قدمی کے لئے دعا کی۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد، مورخہ ۳۰؍مئی ۱۹۸۵ء)
چک نمبر ۹۶ کوٹ ابدان کے ۶؍افراد کا قبول اسلام
چک نمبر ۹۶ کوٹ ابدان کے نوجوان محمد اسلم عرف غفور ولد عبدالمجید بمعہ اہل خانہ نے مرزائیت سے توبہ کر لی ہے اور مسلمان ہو گئے ہیں۔ ان کے قبول اسلام میں مولانا حسین احمد شاکری صاحب کی کاوشیں پیش پیش تھیں۔ نوجوان کے قبول اسلام کو غلام مصطفیٰ، ابراہیم ملک حاجی فیض نے سراہا ہے۔ اس سے قبل محمد اسلم کے والد اور والدہ تائب ہو کر مسلمان ہو چکے ہیں۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۷، مورخہ ۳۰؍اگست ۱۹۸۵ء)
ایک قادیانی کا قبول اسلام
مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکز جامع مسجد محمدیہ ریلوے اسٹیشن ربوہ میں ایک قادیانی محمد سلیم فریدی ولد عبدالرشید نے مرزائیت کو ترک کر کے مجلس تحفظ ختم نبوت ربوہ کے رہنماء اور جامع مسجد محمدیہ ریلوے اسٹیشن ربوہ کے امام قاری شبیر احمد عثمانی کے ہاتھ پر مورخہ
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۲۶؍اگست ۱۹۵۵ء کو اسلام قبول کرلیا ہے۔ نومسلم نے کہا کہ میں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو خدا تعالیٰ کا سچا اور آخری نبی تسلیم کرتا ہوں اور کہا میں حضور ﷺ کے بعد ہر مدعی نبوت کو مرزا غلام احمد قادیانی سمیت جھوٹا، کذاب، دجال، کافر اور مرتد سمجھتا ہوں۔ نو مسلم فریدی صاحب نے کہا کہ مجھے اسلام قبول کر کے قلبی طور پر اطمینان اور سکون ملا ہے۔ قاری شبیر احمد عثمانی نے نومسلم کے لئے استقامت کی دعاء کی اور جماعت کے لٹریچر کا سیٹ بھی پیش کیا۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۶ ،مؤرخہ ۲۰؍ستمبر ۱۹۸۵ء)
ایک قادیانی کا قبول اسلام
کروڑ لعل عیسن (نمائندہ ختم نبوت) جامع مسجد محمدیہ مجلس تحفظ ختم نبوت ریلوے اسٹیشن روڈ ربوہ کے امام وانچارج قاری شبیر احمد عثمانی کے ہاتھ پر ایک قادیانی طارق احمد ولد محمد اسماعیل قوم بٹ سکنہ احمد نگر تحصیل چنیوٹ نے مرزائیت سے تائب ہوکر اسلام قبول کرلیا ہے۔ نومسلم نے اقرار کیا کہ حضور ﷺ کو خاتم النبیین ﷺ سمجھتا ہے۔ نومسلم نے کہا کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو جھوٹا، دجال اور کذاب سمجھتا ہوں اور حضرت محمد ﷺ کے بعد ہر مدعی نبوت کو کافر مرتد سمجھتا ہوں۔ اس پر مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں سمیت تمام کارکنوں نے نومسلم طارق احمد کو مبارک باد دی۔ مبارک باد دینے والوں میں مولانا خدا بخش، قاری عبد الہادی، قاری محمد اسحاق، شیخ منظور احمد، چوہدری محمد رمضان اور شیر محمد کے نام شامل ہیں۔ دریں اثناء گزشتہ ہفتہ ایک قادیانی محمد سلیم نے بھی قاری شبیر احمد عثمانی کے ہاتھ پر اسلام قبول کرلیا۔ نومسلم کو دین اسلام سے متعلقہ کتابوں کا سیٹ بھی پیش کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۴،مؤرخہ ۶ تا ۱۳؍دسمبر ۱۹۸۵ء)
ربوہ کے ایک قادیانی کنبہ نے اسلام قبول کرلیا
جامع مسجد محمدیہ ریلوے اسٹیشن ربوہ (چناب نگر) میں مؤرخہ ۲۱؍نومبر ۱۹۸۵ء کو ایک قادیانی ثمر احمد ولد نثار احمد قوم اعوان سکنہ فاروقہ تحصیل وضلع سرگودھا حال ربوہ نے اپنے بچوں سمیت مرزائیت سے تائب ہوکر اسلام قبول کرلیا ہے نومسلم ثمر احمد نے ایک تحریر بھی لکھ کر دی ہے جس میں اس نے لکھا ہے کہ میں حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ کو خدا تعالیٰ کا سچا اور آخری نبی تسلیم کرتا ہوں اور لکھا کہ میں حضور ﷺ کے بعد ہر مدعی نبوت کو دجال وکذاب اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں اور یہ بھی لکھا کہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کو جھوٹا، دجال، دھوکہ باز، بے ایمان اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔ مسجد محمدیہ میں موجود نمازیوں نے نومسلم کو اسلام قبول کرنے پر مبارک باد پیش کی اور نومسلم کے لئے استقامت کی دعا کرائی۔ اسلام قبول کرنے والوں میں ثمر احمد ولد نثار احمد، ندیم احمد ولد ثمر احمد، رفیق احمد ولد ثمر احمد، شبانہ، فرزانہ دختران ثمر احمد شامل ہیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۷، مؤرخہ ۱۳ تا ۱۹؍دسمبر ۱۹۸۵ء)
ننکانہ میں ایک قادیانی گھرانہ کا قبول اسلام
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ کی کاوشوں سے کل پاکستان ختم نبوت کانفرنس ننکانہ کے نتیجہ میں واپڈا ملازم جناب ظہیر صاحب اور ان کی اہلیہ قادیانیت پر لعنت بھیج کر سچے دل سے مسلمان ہو گئے۔ انہوں نے حضرت مولانا عبدالرسول اور حضرت مولانا درویش علی کے دست مبارک پر اسلام قبول کیا۔ قبول اسلام کے بعد اسی مجلس میں تجدید نکاح بھی ہوا۔ عالمی مجلس ننکانہ کے سرپرست حاجی عبدالحمید رحمانی نے مبارک باد پیش کرتے ہوئے تعاون کا یقین دلایا۔ مجلس کے ناظم محمد حسین علوی نے دونوں نومسلموں کے اعزاز میں پر تکلف عشائیہ دیا اور قرآن پاک ہدیہ میں پیش کیا۔ محمد اکرم ناز نے متعلقہ لٹریچر بھی دیا۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ج ۲۳ ش ۴۲ ،مؤرخہ ۲۳؍جنوری ۱۹۸۶ء)
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب وتحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا
انڈونیشیاء میں بڑی تعداد میں لوگ قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر رہے ہیں
مکۃ المکرمہ (نمائندہ خصوصی) رابطہ عالم اسلامی کے مرکزی دفتر واقع مکۃ المکرمہ میں موصولہ اطلاعات کے مطابق جکارتہ (انڈونیشیاء) میں بڑی تعداد میں لوگ قادیانیت سے تائب ہو کر مشرف بہ اسلام ہو رہے ہیں۔ رابطہ عالم اسلامی کی جکارتہ برانچ سے حال ہی میں موصول ہونے والی ایک رپورٹ میں ایک شخص مسمی احمد ہاریادی کے قادیانیت سے تائب ہو کر مشرف بہ اسلام ہونے کی تفصیلات معلوم ہوئی ہیں۔ جن کے مطابق احمد ہاریادی کا کہنا ہے کہ گزشتہ دس سال سے قادیانیت کا مذہب اپنائے ہوئے تھے۔ مگر اب اللہ تعالیٰ نے اس کو ہدایت بخشی ہے اور اس کی آنکھیں کھلی ہیں اور اسے نور اسلام کی روشنی نصیب ہوئی ہے اور اب وہ اپنے گزشتہ سالوں کے غیر اسلامی عقائد پر نادم ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اسلام میں دوبارہ لوٹ آنا اس کے لئے بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ وہ آج نئے سرے سے پیدا ہوا ہے۔
احمد ہاریادی کے بقول وہ اپنے گزشتہ دس سالوں کی زندگی کے حالات سے سخت پریشان ہے اور وہ یہ کہ اسلام ہی دین حق ہے اور قادیانی مذہب ایک من گھڑت اور فرضی مذہب ہے جس کی قطعاً کوئی بنیاد نہیں ہے اور یہ کہ قادیانی مذہب کے پیروکاروں پر اللہ کی لعنت ہو اور ان کی موت بہت ہی بری حالت میں آئے۔ جب احمد ہاریادی سے اس کے مذہب اسلام قبول کر لینے کے بعد اس کے اہل خانہ کے ردعمل کے بارے میں دریافت کیا گیا تو اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ اب جب کہ وہ خود صحیح اسلامی عقائد پر عمل پیرا ہو گیا ہے تو اس کے اہل خانہ بھی بہت خوش ہیں اور وہ بھی قادیانیت سے تائب ہو کر صحیح اسلامی عقائد کی پیروی کرنے لگے ہیں۔
(رپورٹ: محمد اکرم فضلی ایم۔اے الریاض سعودی عرب نمائندہ خصوصی)
۱۹۸۵ء کی ختم نبوت کانفرنسوں اور تبلیغی سرگرمیوں کی رپورٹ
یوم احتجاج (۷؍ فروری ۱۹۸۵ء)
۷؍ فروری ۱۹۸۵ء کو ملک بھر میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی اپیل پر یوم احتجاج منایا گیا۔ ۷؍ فروری کو گوجرانوالہ ختم نبوت کنونشن منعقد ہوا۔ شیرانوالہ باغ کی مسجد میں حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب کی زیرصدارت اجلاس مولانا حافظ عبدالقادر روپڑی، مولانا زاہد الراشدی، جناب علی غضنفر کراروی، فقیر اللہ وسایا، مولانا کریم بخش علی پوری و دیگر حضرات کے بیانات ہوئے۔
رات کو سیالکوٹ میں جلسہ ہوا۔ بہت سارے مقررین نے خطاب کیا۔ حضرت مولانا خواجہ خان محمد نے صدارت فرمائی۔ فقیر نے اپنے بیان میں خواجہ صفدر صاحب سے شکوہ کیا کہ اسلم قریشی آپ کے شہر سے اغوا ہوا۔ آپ جنرل ضیاء الحق کی شوریٰ کے چیئرمین ہیں۔ آپ نے اپنے شہر کے لاپتہ شخص کے لئے ایک بیان بھی نہیں دیا۔ اس پر اس کے حامیوں نے جلسہ میں شور کیا لیکن فقیر نے بحمدہ تعالیٰ بات پوری کی۔ اگلے روز خواجہ محمد صفدر صاحب کا جنگ لاہور میں بیان چھپ گیا۔ اسلم قریشی کو بازیاب کیا جائے۔ اس پر حضرت خواجہ خان محمد صاحب نے بھرپور خوشی کا اظہار کیا۔ پوری کارروائی جناب مولانا نعیم آسی نے ہفت روزہ چٹان لاہور میں شائع کی۔
پشاور، گوجر خان، ٹنڈو آدم، چناب نگر، بہاول پور، ساہیوال، شکر گڑھ کے یوم احتجاج کی خبریں ۲۳ تا ۲۹؍ مارچ ۱۹۸۵ء کے ہفت روزہ ختم نبوت میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ ۷؍ فروری ۱۹۸۵ء کو مانسہرہ جامع مسجد میں مولانا عبدالحئی صاحب کی زیرصدارت ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ قاضی چن پیر، مولانا عبدالحکیم راولپنڈی، مولانا شفیق الرحمٰن ایبٹ آباد، قاضی مشتاق احمد، قاری فضل ربی، قاری محمد افضل، سید منظور احمد شاہ آسی اور دیگر نے خطاب کیا۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس ملتان
۴؍ مارچ ۱۹۸۵ء کو ملتان حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب کی زیر صدارت مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس ہوا۔ حضرت مولانا محمد شریف جالندھری کے وصال کے باعث حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری کو عالمی مجلس کا ناظم اعلیٰ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب نے مقرر کر دیا تھا۔ آج شوریٰ نے اس کی توثیق کر دی۔ رات کو ملتان جامع ختم نبوت کے گراؤنڈ میں ختم نبوت کانفرنس حضرت امیر مرکزیہ کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ حضرت مولانا مفتی احمد الرحمن، حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عبدالواحد کوئٹہ، مولانا عبدالحق مجاہد، مولانا قاری انوار الحق کوئٹہ، سید امین گیلانی، جناب مولانا محمد شریف ماہی، مولانا عبدالرحیم اشعر، جناب عبدالرحمن یعقوب باوا، مولانا احمد میاں حمادی، مولانا سلطان محمود ضیاء اور دوسرے حضرات نے خطاب کیا۔
ختم نبوت کانفرنس اسلام آباد
ملک بھر میں ۱۷؍ فروری ۱۹۸۵ء کو یوم احتجاج منایا گیا۔ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کے اجلاس میں طے ہوا تھا کہ ۱۷؍ فروری کو اسلام آباد مرکزی جامع مسجد میں ختم نبوت کانفرنس منعقد کی جائے گی۔ انتخابات کی گہما گہمی کے باعث یہ ملتوی کر دی گئی۔ ۱۰؍ مارچ ۱۹۸۵ء کو لاہور میں مرکزی مجلس تحفظ ختم نبوت کے قائدین کا اجلاس ہوا جس میں فیصلہ ہوا کہ ۲۲؍ مارچ کو اسلام آباد کانفرنس منعقد کی جائے۔ چنانچہ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے اس کانفرنس کی رپورٹ لکھی جو یہ ہے:
’’اشتہارات، بینرز، بیجز کے ذریعہ کانفرنس کی خوب تشہیر کی گئی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے مبلغین مولانا قاضی اللہ یار خان، مولانا اللہ وسایا، مولانا خدا بخش، حافظ عبدالواحد (چیچہ وطنی)، مولانا محمد طفیل ارشد، مولانا عبدالرؤف، مولانا محمد اقبال ظفر، حافظ محمد ثاقب، الحاج ریاض الحسن گنگوہی اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، حضرت الامیر دامت برکاتہم کے حکم پر اسلام آباد پہنچ گئے۔ جہاں انہوں نے مختلف علاقوں: راولپنڈی، جہلم، چکوال، تلہ گنگ، اٹک، مانسہرہ، ایبٹ آباد، بالاکوٹ، ہری پور ہزارہ اور دیگر اضلاع اور شہروں کا دورہ کیا اور کانفرنس کی کامیابی کے لئے شب و روز مصروف عمل رہے۔
۲۰؍ مارچ کے اخبارات میں ڈی سی اسلام آباد کی طرف سے مولانا عبدالرؤف مبلغ اسلام آباد اور مولانا محمد عبداللہ خطیب مرکزی مسجد کو یہ چٹھی موصول ہوئی اور ساتھ ہی اخبارات کو بیان جاری کر دیا گیا کہ: ’’مارشل لاء کی دفعہ نمبر ۵۰ کے تحت اسلام آباد میں کوئی کانفرنس اور اجلاس منعقد نہیں ہو سکتا۔‘‘ اور کانفرنس کو ناکام بنانے کے لئے ہر جائز و ناجائز حربہ استعمال کیا گیا۔ تحریک تحفظ ختم نبوت کے قائد مخدوم المشائخ حضرت مولانا خان محمد دامت برکاتہم کو خانقاہ شریف میں نظر بند کر دیا گیا۔
اسلام آباد، راولپنڈی کے علماء کرام اور مبلغین ختم نبوت کا اجلاس ۲۱؍ مارچ دفتر اسلام آباد میں منعقد ہوا اور فیصلہ کیا گیا کہ کانفرنس حسب پروگرام بہر صورت ہو گی۔ چنانچہ ائمہ و خطباء اسلام آباد نے جرأت مندی اور عقیدۂ ختم نبوت سے والہانہ عقیدت کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے اپنے حلقہ احباب اور مساجد میں خوب اعلانات کرائے کہ کانفرنس پروگرام کے مطابق ہو گی۔ چنانچہ ۲۲؍ مارچ کی صبح ہوتے ہی لوگ پہنچنا شروع ہو گئے۔ انتظامیہ کی تمام تر رکاوٹوں کے باوجود کانفرنس ہوئی اور خوب ہوئی۔ کانفرنس کے دو اجلاس ہوئے۔ پہلا اجلاس دس بجے شروع ہوا جو جمعہ کی اذان تک جاری رہا۔ اجلاس کی صدارت اسلام آباد کے بزرگ خطیب مولانا عبدالرؤف نے کی۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اجلاس سے مولانا عبدالستار توحیدی راولپنڈی، مولانا محمد طفیل ارشد مبلغ ختم نبوت کنری سندھ، مولانا غلام محمود اسلام آباد، مولانا سید ممتاز الحسن شاہ گیلانی، اہل حدیث مکتب فکر کے راہنما مولانا محمد بشیر مترجم فیصلہ وفاقی شرعی عدالت، بریلوی مکتب فکر کے خطیب مولانا نور الہی اسلام آباد، مولانا سعید الدین مردان، مولانا عبدالواحد راولپنڈی، خطیب ربوہ مولانا خدا بخش شجاع آبادی، مولانا سید چراغ الدین شاہ راولپنڈی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا فیروز خان ڈسکہ، مولانا عبدالجلیل، مولانا عبدالمعبود، مولانا قاضی احسان الحق خلف الرشید حضرت شیخ القرآن مرحوم، مولانا قاضی اللہ یار خان، مولانا قاری عبدالمالک، صاحبزادہ طارق محمود فیصل آباد، مولانا نورالحق پشاور، مولانا صادق صدیقی اسلام آباد و دیگر علماء کرام نے خطاب فرمایا۔ خطبہ جمعہ حسب معمول اسلام آباد کے جرأت مند، بہادر و نڈر خطیب مولانا محمد عبداللہ نے دیا۔
دوسرا اجلاس بعد نماز جمعہ شروع ہوا جو عصر کی نماز تک جاری رہا۔ اس اجلاس کی صدارت شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوری کے فرزند گرامی مولانا محمد بنوری نے کی اور اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد کے مبلغ مولانا عبدالرؤف جتوئی نے سرانجام دیئے۔ اجلاس کا آغاز قاری محمد صالحین کی تلاوت سے ہوا۔ قراردادیں مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے شعلہ بیان خطیب و مقرر مولانا اللہ وسایا نے پیش کیں۔ قراردادوں کے بعد قومی اسمبلی کے نو منتخب ممبر اور اسمبلی میں شریعت گروپ کے پارلیمانی لیڈر جناب ملک محمد اسلم کچھیلا نے خطاب کیا جو جاندار رہا۔ بعد ازاں ملک کے مایہ ناز خطباء اور مجلس عمل کے قائدین مولانا محمد سفارش مری، حافظ محمد اکرم زاہد جہلمی، خاقان بابر ایڈووکیٹ لاہور، سید محمد کفیل بخاری، قاری نور الحق قریشی ایڈووکیٹ ملتان، جناب ملک محمد اکبر ساقی، ابن امیر شریعت سید عطاء المؤمن شاہ بخاری، مولانا نعیم آسی، سب ایڈیٹر چٹان شجاعت علی مجاہد سیالکوٹ، مولانا امیر حسن گیلانی اوکاڑہ، الحاج زمان خان اچکزئی، علامہ ع۔ غ کراروی، مولانا الطاف الرحمن ایبٹ آباد، مولانا عبدالمجید شاہ ندیم نے مجمع کو گرمایا اور کہا کہ جب تک مسئلہ ختم نبوت حل نہیں ہو جاتا۔ ہم چین سے نہ بیٹھیں گے۔ پر امن اور قانونی تحریک کو جاری رکھیں گے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ مرکزی مجلس عمل کے مطالبات تسلیم کر کے عقیدہ ختم نبوت سے والہانہ عقیدت اور دعویٰ نفاذ اسلام کا عملی ثبوت دے۔ مقررین نے مرزائیوں کو مشورہ دیا کہ وہ مسلمان ہو جائیں یا آئینی فیصلہ قبول کر لیں۔
جھلکیاں:
- یہ کانفرنس پاکستان قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس کے موقع پر منعقد ہوئی تاکہ منتخب نمائندوں کو یہ باور کرایا جاسکے۔ جہاں آپ کو
ملک وملت کے مستقبل کے متعلق فیصلہ کرنا ہے۔ وہاں ملک عزیز میں سب سے اہم مسئلہ تحریک ختم نبوت کے مطالبات کا ہے۔
- کانفرنس کے انتظامات کے لئے اسلام آباد اور راولپنڈی کے غیور علماء کرام اور مبلغین ختم نبوت نے بھر پور محنت کی۔
- اسلام آباد کے مختلف سیکٹروں میں کانفرنس اور مجلس عمل کے مطالبات کے متعلق بینرز لگائے گئے جو کہ مرکزی دارالحکومت کی
پولیس نے اپنی ’روایتی جرأت مندی‘ کا ثبوت دیتے ہوئے اتار لئے۔
- ڈی سی اسلام آباد نے کانفرنس کو ناکام بنانے کے لئے ہر قسم کے ہتھکنڈے استعمال کئے۔ اخبارات کو بیان جاری کیا کہ کانفرنس
پر پابندی ہونے کی وجہ سے نہیں ہو گی۔ مجلس عمل کی کمپوز شدہ خبریں اخبارات میں نہ لگنے دیں۔ اسلام آباد کی طرف آنے والے تمام راستوں کو بلاک کر دیا گیا۔
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ”اسلامی حکومت“ کی ”اسلامی پولیس“ نے ہر اس آدمی کو گاڑیوں سے اتار لیا جس کے منہ پر سنت رسول ﷺ ”داڑھی“ تھی اور داڑھی جیسے اسلامی شعائر کی توہین وتذلیل کر کے مملکت ”اسلامیہ“ کی ”اسلامی“ حکومت نے اسلام کا مذاق نہایت ہی بہترین طریقے سے اڑایا۔
- مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے امیر مرکزیہ مولانا خان محمد جنہیں کانفرنس کی صدارت کرنا تھی۔ انہیں خانقاہ شریف میں نظر بند کر دیا گیا اور مسلح پہرہ بٹھا دیا۔
- سابق وفاقی وزیر بلدیات الحاج زمان خان اچکزئی اور سیدنا امیر حسین گیلانی جب مسجد میں تشریف لائے تو نعروں سے مسجد گونج اٹھی۔
- ملک محمد اسلم کچھیلا وہ خوش نصیب ایم.این.اے ہیں جنہوں نے اسمبلی میں مسئلہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے خدمات پیش کیں اور مرکزی مجلس عمل کو تعاون کا یقین دلایا۔
- دیوبندی مکتب فکر کی نمائندگی مولانا عبدالمجید ندیم، قاری نور الحق قریشی، سید عطاء المؤمن بخاری، سید امیر حسین گیلانی کے علاوہ دیگر کئی علمائے کرام نے کی۔ بریلوی مکتب فکر کی نمائندگی جمعیۃ علمائے پاکستان پنجاب کے سیکرٹری جنرل جناب محمد اکبر ساقی نے کی۔ جب کہ شیعہ حضرات کی طرف سے خاقان بابر ایڈووکیٹ، علامہ علی غضنفر کراروی نے اپنی خطابت کے جوہر دکھلائے۔ جمعیۃ اہل حدیث کے راہنما مولانا حافظ عبدالقادر روپڑی کو راولپنڈی کے تھانہ میں پابند رکھا گیا۔
- کانفرنس میں، اسلام آباد کی سخت ناکہ بندی کے باوجود تقریباً نوے ہزار افراد نے شرکت کی۔ باہر تک پورا گراؤنڈ بھرا ہوا تھا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت، مورخہ ۱۹ تا ۲۵؍اپریل ۱۹۸۵ء)
جیسا کہ آپ حضرات نے پڑھا کہ آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل ومجلس تحفظ ختم نبوت کے سربراہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب کو گھر پر نظر بند کر دیا گیا تا کہ وہ اسلام آباد تشریف نہ لاسکیں۔ اسکی قدرے تفصیل حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب نے اپنی ڈائری پر خود قلم بند فرمائی تھی جو یہ ہے۔
”۱۹؍مارچ ۱۹۸۵ء کی ڈائری میں حضرت خواجہ صاحب نے تحریر فرمایا: ”الحمدللہ! بعافیت ۹؍بجے شب خانقاہ پاک پہنچے۔ یہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ ایک مجسٹریٹ صاحب آئے تھے۔ تھوڑی دیر بعد رفیق صاحب ڈی.ایس.پی اپنے گارڈ کے ساتھ آگئے۔ فقیر کے پہنچنے کا پوچھا جو کہ ان کو نہ بتایا گیا۔ رات کو ۱۲؍بجے کے بعد ان کو فون پر اطلاع دی کہ فقیر آگیا ہے۔“
۲۰؍مارچ ۱۹۸۵ء کی تاریخ میں آپ نے تحریر فرمایا: ”آج صبح ۸؍بجے ڈی.ایس.پی صاحب آئے۔ ان سے بات ہوئی۔ انہوں نے کہا سیکرٹری وزارت مذہبی امور بات کرنا چاہتے ہیں اور ڈی سی اسلام آباد بھی بات کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ رفیق صاحب (ڈی.ایس.پی) کے سامنے سیکرٹری مذہبی امور کا فون آیا۔“
ان سے بات ہوئی وہ ۲۲؍مارچ کی کانفرنس ملتوی کرانا چاہتے تھے۔ اس کے بعد رفیق صاحب نے کالونی (واپڈا کالونی میانوالی) جاکر ڈی سی میانوالی کو اطلاع دی کہ بات ہوگئی۔ اس کے بعد ڈی سی صاحب نے رفیق صاحب کو کہا کہ جاکر فقیر (مولانا خواجہ خان محمد) کو پیغام دیں کہ ان پر پابندی ہے کہ وہ ایک ہفتہ خانقاہ سے باہر نہیں جاسکتے۔ پھر رفیق صاحب نے فقیر کو اطلاع دی۔ فقیر نے کہا کہ یہ بات درست نہیں۔ آپ باقاعدہ تحریری طور پر مجھے نوٹس دیں۔ ورنہ فقیر آج چلا (اسلام آباد) جاوے گا۔ چنانچہ رفیق صاحب واپس
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گئے اور ۲؍بجے واپس آئے۔ ہمراہ ایک مجسٹریٹ افضل خان بھی ہے جو کہ سمن ساتھ لایا۔ ظہر کی نماز کے بعد سمن پر دستخط ہوئے۔ اصل وہ ساتھ لے گئے۔ نقل فقیر کو دے گئے۔ تعمیل کے بعد ایک ہفتہ کی پابندی ہے۔ رات کو فون پر اسلام آباد حاجی یعقوب صاحب کو اطلاع دی کہ یہاں یہ واقعہ ہو گیا ہے۔ لہٰذا فقیر کی انتظار نہ کریں اور کانفرنس ضرور کریں۔
۲۱؍مارچ کی ڈائری پر آپ نے تحریر فرمایا کہ : ’’آج ۱۲؍بجے کے بعد میانوالی کے نمائندہ نوائے وقت نے صورت حال دریافت کی جو کہ اس کو بتا دی گئی۔‘‘
۲۲؍مارچ کی ڈائری پر آپ نے تحریر فرمایا کہ آج شام کو جہلم سے حافظ محمد عابد بستی سراجیہ خانیوال نے اطلاع دی کہ کانفرنس (۲۲؍مارچ اسلام آباد) بڑے پیمانہ پر ہوگئی ہے۔ والحمد للہ علیٰ ذالک!
رات کو مولانا عزیز الرحمٰن صاحب (جالندھری) نے اطلاع دی کہ کانفرنس اللہ تعالیٰ کے فضل سے شاندار طریقہ سے ہو گئی۔ باوجود پابندیوں کے لوگ پہنچ آئے۔
(خواجہ خان محمد صاحب کی ڈائریاں ص۱۴۴، ۱۴۵)
ختم نبوت کانفرنس کوئٹہ
اپریل ۱۹۸۵ء میں کوئٹہ میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ صدارت مجلس کوئٹہ کے امیر حضرت مولانا منیر الدین نے فرمائی۔ مولانا محمد امیر بجلی گھر، مولانا نذیر احمد تونسوی، مولانا حسین احمد شیرانی اور دوسرے حضرات نے خطاب فرمایا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی، مؤرخہ ۱۰ تا ۱۶؍ مئی ۱۹۸۵ء)
ختم نبوت کانفرنس برمنگھم، ختم نبوت موڑ پکھل مانسہرہ، سمندری ضلع فیصل آباد میں منعقد ہوئی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی، مؤرخہ ۱۷ تا ۲۳؍ مئی ۱۹۸۵ء)
ختم نبوت کانفرنس سرگودھا
مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان گوجرہ کے زیر اہتمام حضرت الامیر شیخ المشائخ مولانا خان محمد صاحب دامت برکاتہم سجادہ نشین آف کندیاں کی سرپرستی میں کل جماعتی دو روزہ پانچویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس لائبریری گراؤنڈ گوجرہ میں ۱۴، ۱۵؍ مئی ۱۹۸۵ء بروز منگل، بدھ منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے پہلے اجلاس منعقدہ ۱۴؍ مئی کو قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن، صاحبزادہ طارق محمود، جناب عبدالمتین چوہدری، مولانا ضیاء الدین آزاد، حافظ محمد اسلم جنرل سیکرٹری تنظیم طلباء تحفظ ختم نبوت پنجاب میڈیکل کالج فیصل آباد، مسٹر حمزہ اور مولانا سید طفیل احمد نے عوام الناس سے خطاب فرمایا۔ جب کہ تلاوت قاری محمد صدیق فیصل آباد، قاری محمد اکرم مدنی اور قاری خلیل الرحمٰن نے کی اور نعت و نظم سید سلیمان گیلانی اور مرزا غلام نبی جانباز نے پیش کی۔
جانشین مفکر اسلام مولانا فضل الرحمٰن نے کانفرنس سے خطاب میں تحریک ہائے تحفظ ختم نبوت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان تحریکوں کی کامیابی کا سہرا مسٹر بھٹو یا ضیاء الحق کے سر نہیں باندھنا چاہئے بلکہ اس کا سہرا مجلس عمل تحفظ ختم نبوت، مولانا خواجہ خان محمد اور مجاہدین ختم نبوت کے سر باندھنا چاہئے جنہوں نے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا اور اس کے لئے جانی و مالی قربانیاں پیش کیں۔ انہوں نے ۱۹۷۳ء کے آئین کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قادیانیوں کو مسلم قرار دینے والی ترمیم دنیا کی پارلیمانی تاریخ میں پہلی ترمیم تھی جس پر حزب اختلاف نے متفقہ طور پر دستخط کئے تھے۔ انہوں نے فرمایا : اگر ۱۹۷۳ء کا آئین متنازعہ بنتا ہے تو پھر تمام
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دفعات متاثر ہوتی ہیں اور سب سے زیادہ نقصان اسلامی دفعات اور قادیانیوں کے بارے میں کی جانے والی ترمیم کا ہوگا۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر ملک کے متفقہ دستور کو متنازعہ کیوں بنایا جارہا ہے؟
مقررین نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت مسلمانوں کا بنیادی اور اجماعی مسئلہ ہے جس کے دل میں ختم نبوت کا جذبہ نہیں وہ مسلمان نہیں ہے۔انہوں نے شہدائے ساہیوال کیس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس کی سماعت ملٹری کورٹ میں ہوچکی ہے۔ ایف۔آئی۔آر میں ہم نے لکھوایا ہے کہ کس کس مجرم کے پاس کس کس قسم کا اسلحہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس کیس پر اڑھائی ماہ تک سماعت ہوئی۔ ۱۹۸۵ء سے آج تک کسی کیس پر اتنا وقت صرف نہیں ہوا۔ انہوں نے پرزور مطالبہ کیا کہ فیصلے کا اعلان جلد از جلد کیا جائے اور قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ج ۲۲ نمبر ۱۰، ۱۱ ص ۱۶، مورخہ ۳۰؍مئی ۱۹۸۵ء)
ختم نبوت کانفرنس سکھر
۱۱، ۱۲؍ جولائی ۱۹۸۵ء کو سکھر کے میونسپل سٹیڈیم میں بھی دوروزہ عظیم الشان کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ایک لاکھ کے قریب شمع ختم نبوت کے پروانوں نے شرکت کی۔ یہ کانفرنس انتہائی مختصر نوٹس پر منعقد ہوئی۔ تاہم مجلس تحفظ ختم نبوت صوبہ سندھ کے معروف راہنما مولانا جمال اللہ الحسینی ، مولانا عبدالحمید لنڈ ، مولانا عبدالقادر رند، مولانا عبداللہ چاچڑ اور دیگر مقامی علماء نے آس پاس کے دیہات کے علاوہ خیر پور، شکار پور، حبیب آباد، لاڑکانہ اور نواب شاہ جیسے دور دراز اضلاع کا دورہ کیا اور لوگوں کو کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔ سکھر شہر میں دو دن خوب گہما گہمی، چہل پہل اور میلے کا سماں رہا۔ کانفرنس کے انتظامات، مہمان حضرات کی خدمت، کھانے کا انتظام اور پنڈال کی ذمہ داری کے لئے کم و بیش دوسو رضا کار متعین تھے۔ تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین نے شرکت کی۔
پہلے روز کانفرنس کی صدارت حضرت میاں عبدالخالق سجادہ نشین پیر آف بھرچونڈی شریف اور دوسرے روز اجلاس کی صدارت امیر مرکزیہ، حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب نے کی۔ پہلے روز کے اجلاس میں سکھر کی معروف شخصیت مولانا مفتی محمد حسین صاحب، مولانا محمد مراد صاحب، مولانا جمال الدین صاحب، مولانا قاضی احسان الحق راولپنڈی، مولانا محمد سلیمان صاحب خطیب اہل حدیث، علامہ علی غضنفر کراروی، خان منور خان ممبر صوبائی اسمبلی، اسلام الدین شیخ وفاقی وزیر، مولانا اللہ وسایا اور مولانا محمد ضیاء القاسمی نے تقریریں کیں۔ سید سلیمان گیلانی نے نظم پیش کی۔ دوسرے روز کی نشست میں مولانا سید عبدالمجید ندیم، مولانا محمد اسعد تھانوی مہتمم جامعہ اشرفیہ سکھر، ملک اکبر ساقی، مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت، پروفیسر کریم بخش نظامانی، مولانا محمد لقمان علی پوری، مولانا فضل الرحمٰن قائد جمعیۃ علماء اسلام نے تقریریں کیں۔ کانفرنس میں تمام مکاتب فکر کے علماء اور عوام نے بھر پور حصہ لیا۔ اتحاد و یگانگت کا روح پرور منظر دیکھنے میں آیا۔
ختم نبوت کانفرنس ٹنڈو آدم
۱۳؍ جولائی ۱۹۸۵ء ٹنڈو آدم میں ہونے والی یہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ایک مثالی کانفرنس تھی۔ آس پاس کے دیہاتوں سے لوگوں نے دن میں ہی پہنچنا شروع کر دیا تھا۔ دیہاتی اور قصبوں کے عوام کا لحاظ کرتے ہوئے جمعہ سے پہلے اور نماز عصر کے بعد دو نشستوں کا اضافہ کیا گیا۔ یہ دونوں نشستیں مرکزی جامع مسجد ختم نبوت میں رکھی گئیں۔ یہ مسجد بہت خوبصورت ، عالی شان اور خاصی وسیع ہے۔ نماز جمعہ کے موقعہ پر مسجد کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔ جمعہ کی نشست سے پہلے مولانا سید ممتاز الحسن شاہ صاحب گیلانی اور مولانا قاضی اللہ یار صاحب نے خطاب فرمایا اور نماز جمعہ مولانا مفتی محمد حسین صاحب آف سکھر نے پڑھائی۔ نماز عصر کے بعد استاذ المناظرین حضرت مولانا
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عبدالرحیم صاحب اشعر نے فتنہ مرزائیت کا خود ان کی کتابوں سے پوسٹ مارٹم کیا۔ مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن صاحب جالندھری اور مولانا سید ممتاز الحسن شاہ صاحب نے دوسری مساجد میں جمعہ کا خطبہ دیا۔
رہائش کا انتظام: علماء کرام اور مقررین حضرات کی رہائش کا معقول انتظام تھا۔ حضرت مولانا محمد لقمان علی پوری، مولانا علی غضنفر کراروی اور کچھ دوسرے حضرات کو مقامی ریسٹ ہاؤس میں ٹھہرایا گیا تھا۔ جب کہ کچھ حضرات جامع مسجد ختم نبوت کے متصل ہی ایک دوست کے مکان میں رہائش پذیر تھے۔ حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب اشعر جہاں بھی جاتے ہیں ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ دفتر میں ہی ٹھہریں۔ چنانچہ وہ اور ان کے ساتھ کچھ دوستوں نے دفتر ختم نبوت میں ہی رہائش اختیار کی ہوئی تھی۔
کھانے کا انتظام: مہمانانِ خصوصی اور آس پاس سے آنے والے حضرات کے کھانے میں کوئی خاص امتیاز نہیں برتا گیا۔ سب کو پر تکلف کھانا دیا گیا۔ کھانے اور دوسرے انتظامات کے لئے جناب نواب کنور نصیر محمد خان رکن مرکزی مجلس عمومی، حاجی وزیر محمد صاحب امیر مجلس حکیم حفظ الرحمن صاحب ناظم اعلیٰ میاں محمد ناظم کونسلر بلدیہ، محمد رفیق صاحب رفیق ٹریڈنگ کمپنی، جناب عبدالرشید مغل، مولانا محمد عرفان قادری، جناب محمد عمر صاحب، اعظم خان اور احمد خان صاحبان، حاجی محمد اسماعیل صاحب، حاجی محمد حسن صاحب، جناب امام الدین شوقین اور تنظیم مجاہدین ختم نبوت ٹنڈو آدم کے نوجوان پیش پیش رہے۔ ہماری ان تمام بزرگوں، نوجوانوں اور جن کے نام ہمیں معلوم نہیں ہو سکے۔ ان تمام دوستوں کے لئے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں دین و دنیا کی کامیابیاں و کامرانیاں عطاء فرمائے اور قیامت کے دن تاجدارِ ختم نبوت ﷺ کے جھنڈے کے نیچے اس طرح اکٹھا فرمائے، جس طرح وہ آج پرچم ختم نبوت کے نیچے جمع ہیں اور سرکار دوعالم ﷺ کی عزت و ناموس کی حفاظت کے لئے خود کو وقف کئے ہوئے ہیں۔
رات کی نشست: رات کی نشست چھتری چوک میں ہوئی جو ٹنڈو آدم کا مشہور و معروف چوک ہے۔ اجتماع مثالی اور تاریخی تھا۔ ایک اندازے کے مطابق تیس، چالیس ہزار کے لگ بھگ حاضری ہوئی۔ شمع ختم نبوت کے پروانے سپیشل بسوں اور ویگنوں کے ذریعے قافلوں کی صورت میں پہنچ کر شریک ہوئے اور کانفرنس کو کامیاب کیا۔ عوام کے جوش و خروش کا یہ عالم تھا کہ دورانِ اجلاس بجلی بند ہو گئی لیکن سامعین جم کر بیٹھے رہے۔ لاؤڈاسپیکر خراب ہوا تو حاضری میں کوئی فرق واقع نہیں ہوا۔ رات کی نشست کی صدارت مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن صاحب جالندھری نے فرمائی۔ اس نشست میں مولانا محمد لقمان، جناب عبدالعزیز غوری، مولانا محمد خالد، مولانا نذیر احمد بلوچ، مولانا احمد میاں حمادی، مفتی حسین قادری، شیخ الحدیث مولانا محمد مراد سکھر، پروفیسر کریم بخش نظامی، مولانا علی غضنفر کراروی و دیگر حضرات کے علاوہ جمعیۃ طلباء اسلام، انجمن طلباء اسلام اور اسلامی جمعیۃ طلباء کے رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۴ ش ۱۳ ص ۱۲، ۱۳، مؤرخہ ۶؍ ستمبر ۱۹۸۵ء)
پشاور میں ختم نبوت کنونشن اور کانفرنس
۱۴؍ جولائی ۱۹۸۵ء کو دارالقراء نمک منڈی پشاور کی جامع مسجد میں عظیم الشان ختم نبوت کنونشن اور کانفرنس منعقد ہوئے۔ جن کا اہتمام مجلس تحفظ ختم نبوت پشاور نے کیا۔ مولانا قاری فیاض الرحمن نے تلاوت فرمائی۔ اجلاس کی صدارت حضرت مولانا ایوب جان بنوری نے فرمائی۔ مولانا نور الحق نور، مولانا سید عبدالستار شاہ بنوں، مولانا محمد عمر سجادہ نشین لنڈی کوتل، مولانا قاری محمد عبداللہ بنوں، حضرت مولانا حبیب گل، جناب جاوید ابراہیم پراچہ کوہاٹ، صوفی ریاض الحسن ڈیرہ اسماعیل خان نے خطاب فرمایا۔ اس موقعہ پر مجلس عمل تحفظ ختم نبوت
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
صوبہ سرحد کی تشکیل بھی کی گئی جو یہ ہے:
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت صوبہ سرحد کی تشکیل:
امیر: حضرت مولانا محمد ایوب جان بنوری صاحب شیخ الحدیث و مہتمم دارالعلوم سرحد پشاور نائب امیر اوّل: حضرت مولانا حبیب گل صاحب آف ٹل نائب امیر دوم: حضرت مولانا عبدالعظیم صاحب اہل حدیث نائب امیر سوم: بریلوی مکتبہ فکر نائب امیر چہارم: شیعہ مکتبہ فکر، ان دو حضرات کے ناموں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا ناظم اعلیٰ: حضرت مولانا نور الحق نور صاحب پشاور ناظم اوّل: حضرت مولانا غلام محمد صادق صاحب چارسدہ ناظم دوم: حضرت مولانا عبید اللہ صاحب مالاکنڈ ڈویژن ناظم سوم: حضرت مولانا عبدالستار صاحب بنوں ناظم چہارم: صاحبزادہ مولانا محمد عمر صاحب لنڈی کوتل خازن: مفتی شہاب الدین صاحب پوپلزئی
اس کے علاوہ ہر ضلع سے ایک ایک نمائندہ پر مشتمل مجلس شوریٰ کے ارکان کا انتخاب ہوا۔
پشاور: مولانا محمد امیر صاحب بجلی گھر مردان: مولانا حافظ محمد ایوب صاحب کوہاٹ: مولانا جنان صاحب مانسہرہ: مولانا عبدالحئی صاحب ایبٹ آباد: مولانا شفیق الرحمن صاحب کوہستان ہزارہ: مولانا عبدالحق صاحب کرک: مولانا مرزا جان صاحب بنوں: مولانا احمد جان صاحب ڈی آئی خان: حاجی مہربان صاحب سوات: مولانا عبدالرحمن دیر: حافظ حسین احمد صاحب باجوڑ: مولانا محمد صادق صاحب کرم ایجنسی: مولانا شیر محمد صاحب اورکزئی ایجنسی: میاں جلال الدین صاحب
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ج۲۲ ش۲۱ ص۲۰، مورخہ ۹؍ اگست ۱۹۸۵ء)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس میر پور
۱۴؍ جولائی ۱۹۸۵ء رات کو مدینہ مسجد میر پور خاص میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس حضرت مولانا فیض اللہ صاحب کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ حالانکہ کوئی اشتہار وغیرہ شائع نہیں کئے گئے تھے لیکن پھر بھی میر پور خاص میں یہ تاریخی اجتماع تھا۔ یہ میر پور خاص وہی جگہ ہے جہاں تین شقی القلب قادیانی مرتدوں نے جان محمد زرداری مرحوم کو صرف اس لئے شہید کیا تھا کہ اس نے قادیانی ہونے اور قادیانیوں کے پیشوا مرزا طاہر کی لندن سے آمدہ کیسٹیں سننے سے انکار کر دیا تھا۔ لیکن ابھی اس کیس کا کچھ نہیں ہوا اور اسی لئے یہ کانفرنس منعقد ہوئی تھی۔ قاری شاہ مراد صاحب کی تلاوت قرآن کے بعد مولانا سید ممتاز الحسن شاہ صاحب گیلانی فیصل آباد ، مولانا نذیر احمد مبلغ حیدر آباد ، مولانا قاضی اللہ یار خان ، مرکزی ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت مولانا عزیز الرحمٰن صاحب جالندھری ، مولانا عبد الرحیم اشعر اور حضرت مولانا محمد لقمان صاحب علی پوری نے ایمان افروز خطاب کیا۔ جب کہ سٹیج سیکرٹری کے فرائض کنری میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا طفیل ارشد نے انجام دیئے۔
اگلے روز یہ کاروان ختم نبوت کنری پہنچا۔ کنری کو ثانی ربوہ کہا جاتا ہے اور ہے بھی وہ ربوہ ثانی اس لئے کہ برطانوی سامراج کی کاسہ لیسی، خوشامد، جاسوسی، مسلمانوں پر کفر کے فتوے صادر کرنے کے عوض اور جہاد کو حرام قرار دینے، نبوت، مسیحیت، مہدویت وغیرہ کے دعوے کرنے کے صلہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کے خاندان کو ہزاروں ایکڑ زمینیں الاٹ ہوئی تھیں اور بعد میں بھی قادیانیوں نے مغربی سامراج یہودی، ساہوکاروں اور یہودی سلطنت کی طرف سے ملنے والی امداد کے بل بوتے پر ہزاروں ایکڑ زمین خریدی یہی وہ جگہ ہے کہ جہاں مرزائیوں نے سول نافرمانی کی تحریک شروع کی ہوئی ہے۔ جہاں کلمے کی کھلے عام توہین کی جارہی ہے اور دولت کے بل بوتے پر کچھ ایسے افسران کی بے توجہی سے جنہیں مرزائی دستر خوان سے تر نوالے ملتے ہیں۔ مسلح جلوس نکال کر مظاہرے کر کے مسلمانوں کو ڈرایا دھمکایا جارہا ہے۔
یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ : ”ہر فرعونے را موسیٰ“ کے مصداق کنری جیسے ربوہ ثانی میں بھی مجلس تحفظ ختم نبوت کا مرکز موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھری کی قبر پر وہ اپنی زندگی میں بخاری مسجد کے نام سے یہ مرکز قائم کر کے گئے تھے۔ کبھی وہ دور تھا کہ اس شہر میں ختم نبوت کا مسئلہ بیان کرنا جان جوکھوں میں ڈالنا تھا۔ آج وہ دور ہے کہ ختم نبوت کے شیر صبح و شام اور جمعہ کو ڈنکے کی چوٹ حق کا اظہار کرتے ہیں۔ وہاں سالانہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ہوتی ہے۔ کانفرنس کے علاوہ مبلغین ختم نبوت وہاں پہنچتے رہتے ہیں۔ باقاعدہ مجلس تحفظ ختم نبوت کی تنظیم قائم ہے۔
ختم نبوت کانفرنس کنری
۱۵؍ جولائی ۱۹۸۵ء کو کنری میں ختم نبوت کانفرنس کا اعلان تھا جس کے لئے باقاعدہ اشتہار شائع کیا گیا تھا۔ اگر چہ یہ کانفرنس مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے تھی لیکن کانفرنس کے انتظامات کے لئے جہاں مجلس کے عہدہ دار اور کارکن شب و روز ایک کئے ہوئے تھے۔ وہاں ختم نبوت یوتھ فورس کے نوجوانوں نے بھی اپنے کو وقف کیا تھا۔ کانفرنس کی ایک نشست بعد نماز ظہر ہوئی اور دوسری بعد نماز عشاء دن کو حاضری کم تھی۔ تاہم رات کو بخاری مسجد اندر باہر اوپر نیچے سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔ دن کی نشست میں مناظر ختم نبوت مولانا قاضی اللہ یار ، مولانا سید ممتاز الحسن شاہ صاحب اور دوسرے حضرات نے تقریریں کیں۔ رات کے بھر پور اجتماع میں استاذ المناظرین حضرت مولانا عبد الرحیم اشعر ، مولانا نذیر احمد بلوچ ، مولانا قاضی اللہ یار مبلغ سندھ ، مولانا جمال اللہ الحسینی ، شیعہ مکتب فکر کے راہنما علامہ علی غضنفر کراروی
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اور حضرت مولانا محمد لقمان علی پوری نے خطاب کیا۔ تقریباً رات کے دو بجے تک یہ پروگرام رہا۔ عوام کے جوش وخروش اور جذبہ ایمانی کا یہ عالم تھا کہ مقررین کی تقریروں میں بار بار نعرہ تکبیر اللہ اکبر ختم نبوت زندہ باد اور مرزائیت مردہ باد کے فلک شگاف نعروں سے فضا گونج اٹھتی تھی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۴ ش ۱۲ ص ۲۰، مورخہ ۳۰؍اگست تا ۵؍ستمبر ۱۹۸۵ء)
پہلی سالانہ ختم نبوت کانفرنس لندن
۲۶؍اپریل ۱۹۸۴ء کو امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کیا۔ قادیانی لاٹ پادری مرزا طاہر نے پاکستان سے مجرمانہ فرار اختیار کیا۔ قادیانی جماعت کے سالانہ جلسہ چناب نگر پر قانونی قدغن لگی۔ قادیانیوں نے پاکستان چناب نگر سے اپنا عالمی ہیڈ کوارٹر لندن منتقل کر لیا۔ اب چناب نگر صرف پاکستان کے قادیانیوں کا ہیڈ کوارٹر ہے۔ قادیانیوں نے اپنی سالانہ جلسہ کو جسے وہ ظلی و بروزی حج قرار دیتے ہیں، لندن میں منتقل کر لیا۔ اس کے جواب میں حضرت مولانا عبدالحفیظ مکی، حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمی، حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی، مولانا سید اسعد مدنی کی مشاورت سے وہاں ختم نبوت کانفرنس کے انعقاد کی بابت فیصلہ ہوا۔
۱۱؍جولائی ۱۹۸۵ء کو سکھر میں آل پارٹیز عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس تھی جو سکھر سٹیڈیم میں منعقد ہوئی۔ برطانیہ کانفرنس کے لئے مولانا محمد ضیاء القاسمی نے حضرت مولانا خواجہ خان محمد سے مشاورت کی۔ محترم جناب عبدالرحمن یعقوب باوا، مولانا منظور احمد الحسینی پہلے برطانیہ کے لئے سفر کر چکے تھے۔ فقیر راقم کے لئے طے ہوا کہ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی کے ساتھ سفر کیا جائے گا۔ چنانچہ ۲۰، ۲۱؍جولائی ۱۹۸۵ء کے صفحہ ڈائری سے اس زمانہ کی یادداشت ذیل میں نقل کرتا ہوں جو یہ ہے:
’’صبح چار بجے سامان گاڑی میں ڈالا شاہنواز کے ہمراہ مولانا لدھیانوی صاحب کے گھر گئے۔ ان کا سامان گاڑی میں رکھا۔ ان کے ایک صاحبزادے اور ایک دوسرے عزیز کے ہمراہ ایئرپورٹ کے لئے روانہ ہوئے۔ ایئرپورٹ پر مولانا کی امامت میں نماز پڑھی۔ مولانا متالا صاحب کافی انتظار کیا۔ مگر ان کی گاڑی پنکچر ہو جانے کے باعث مولانا محمد یوسف لدھیانوی، فقیر اور علامہ خالد محمود کا سامان وزن کرا لیا گیا۔ مولانا لدھیانوی کے ایک تعلق والے کی وجہ سے ایئرپورٹ پر عثمان صاحب نے بہت تعاون کیا۔ امیگریشن وغیرہ کی تفصیلات سے فارغ ہو کر ہم انتظار گاہ میں آگئے۔ اتنے میں مولانا متالا صاحب بھی تشریف لائے۔ اعلان ہونے پر جہاز کے لئے کوچ مسافروں کو لے کر روانہ ہوئی۔ جہاز کے سامنے اب مسافروں کی لائن لگ گئی۔ انہوں نے پھر سے ایک ایک مسافر کا سامان چیک کرنا شروع کیا کہ گھنٹوں وقت صرف ہوا۔ چونکہ شام کی ایئر لائن پر ہم نے سوار ہونا تھا۔ شام آج کل روس کا اتحادی ہے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ اس کی ٹھنتی ہے۔ اس لئے وہ ہائی جیکنگ کے خطرہ کے باعث سخت چیکنگ کرتے تھے۔ خدا خدا کر کے آٹھ بجے جہاز روانہ ہوا۔ ساڑھے دس بجے ہم دہران ایئرپورٹ پر پہنچے۔ پون گھنٹہ جہاز نے سٹاپ کیا۔ جن مسافروں نے آگے جانا تھا ان میں سے کوئی نہ اترنے دیا گیا۔ دہران سعودی عرب کی سرزمین ہے۔ میرے نبی رحمت ﷺ کے مبارک ملک میں حاضری اور پھر مکہ و مدینہ طیبہ کی حاضری سے محرومی پر شدید افسوس ہوا۔ میں سب مصروفیات ترک کر کے درود شریف پڑھتا رہا۔ تا آنکہ جہاز دمشق کے لئے روانہ ہوا۔ ساڑھے بارہ بجے دمشق ایئرپورٹ پر اترے۔ بڑا ہی خوبصورت ایئرپورٹ ہے۔ دمشق میں دو گھنٹے رکنا تھا۔ مگر ویزا نہ ہونے کے باعث شہر کی بجائے ایئرپورٹ پر رہے۔ اس شہر کی جامع مسجد کی زیارت نہ کر سکے۔ مسجد کے بانی سیدنا معاویہ ؓ تھے۔ اس کے صحن میں حضرت یحییٰ ؑ کی قبر ہے۔ اس کے قریب حضرت حسن ؓ کا سر مبارک اور ساتھ سلطان صلاح الدین ایوبی کا مزار ہے۔ اس مسجد کے مینار آج بھی عیسیٰ ؑ کے لئے سراپا
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
انتظار کھڑے ہیں۔ دمشق سے چار گھنٹے بعد ہیتھرو ائیر پورٹ لندن پر اترے۔ مولانا یوسف متالا کی طرف سے دعوت نامہ دکھلاتے ہی تین ماہ کا ویزا مل گیا۔ ائیر پورٹ پر باوا صاحب، حسینی صاحب اپنے رفقاء سمیت تشریف لائے ہوئے تھے۔ متالا صاحب اپنے عزیز کی عمرہ سے آمد کے باعث ملنے کے لئے لندن چلے گئے۔ ہم لوگ لیسٹر کے لئے روانہ ہوئے۔ مولانا احمد علی جو کراچی سے ہمارے ساتھ تھے ان کا مکان مسجد لیسٹر جس میں ان کے والد مولانا آدم جی خطیب ہیں۔ رات ۱۲؍ بجے وہاں پہنچے۔ مسجد کا خوبصورت ہال دیکھ کر خوشی ہوئی۔ ایک امریکی کمپنی کا ہوٹل تھا۔ اسے خرید کر مسجد بنا دی گئی۔ اتنا خوبصورت دیدہ زیب ہال، اوپر سکول و مدرسہ کے لئے کمرے ہیں۔ مدرسۃ البنات قائم ہے۔ بچے بچیاں وہاں پڑھتے ہیں۔
۲۱؍ جولائی ۱۹۸۵ء دن کے ایک بجے بعد ظہر مولانا محمد یوسف صاحب لدھیانوی نے جامع مسجد لیسٹر میں پون گھنٹہ کے قریب فاضلانہ خطاب فرمایا۔ کھانے کے بعد سفر کیا۔ راستہ میں مدینۃ العلوم برمنگھم مولانا متالا صاحب کے مدرسہ میں گئے۔ مدرسہ کیا ہے اتنا خوبصورت وسیع تر۔ فوجی کی چھاؤنی جو ۷۲ ایکڑ رقبہ پر مشتمل ہے۔ خرید کر مدرسہ بنایا۔ اسے دیکھا۔ سفر شروع ہوا۔ مغرب کے قریب ہولکمب بری دارالعلوم پہنچے۔ مدرسہ کے طلباء، علماء سے ملاقاتیں ہوئیں۔ ساڑھے تین صد طلباء ملکی و غیر ملکی اس میں پڑھتے ہیں۔ اس کے ماحول و دینی ذوق کو دیکھ کر انتہائی خوشی ہوئی اور دینی فضاء سے دل باغ باغ ہوگیا۔‘‘
ہولکمب بری دارالعلوم میں قیام رہا۔ اگلے دن حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمی رفقاء کے ساتھ تشریف لائے۔ ملاقات ہوئی تو خوشی کا اظہار فرمایا۔ آج سے حضرت لدھیانوی، حضرت مکی صاحب، حضرت قاسمی صاحب، باوا صاحب، مولانا حسینی، مولانا منظور احمد چنیوٹی، مولانا زاہد الراشدی، علامہ خالد محمود کی ملک بھر کے تبلیغی اسفار کی ترتیب قائم ہوئی۔ فقیر کی تشکیل مولانا محمد ضیاء القاسمی صاحب کے گروپ میں ہوئی۔ آج ۲۲؍ جولائی بری مسجد بلال بری میں بیان، ۲۳؍ جولائی بولٹن مسجد الرحمٰن، ۲۴؍ جولائی اولڈہم مانچسٹر، ۲۵؍ جولائی ظہر مرکز تبلیغ ڈیوز بری، عصر کے بعد رچڈیل، ۲۶؍ جولائی رچڈیل، ۲۷؍ جولائی بولٹن، رات مانچسٹر میٹنگ، ۲۸؍ جولائی بولٹن، رچڈیل، ۲۹، ۳۰؍ جولائی گلاسگو، ایڈنبرا، ۳۱؍ جولائی دارالعلوم ہولکمب بری، یکم اگست لندن کے لئے سفر، ۲؍ اگست حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب، حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰن، حضرت مولانا صاحبزادہ محمد عابد لندن تشریف لائے۔ ۳؍ اگست لندن، ۴؍ اگست ۱۹۸۵ء کو پہلی سالانہ ختم نبوت کانفرنس ویمبلے کانفرنس سنٹر لندن میں منعقد ہوئی۔ اس کی تفصیلی رپورٹ مولانا سید عبداللہ معتصم نے مرتب کی جو یہ ہے:
’’عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی کوششوں سے جب ربوائی قصر کا زور ٹوٹا اور ربوہ میں مسلم کالونی وجود میں آئی۔ ریاست در ریاست کا وجود ختم ہوا تو مرزائی قیادت ربوہ اور پاکستان کو اپنے لئے غیر محفوظ سمجھنے لگی اور اپنے لئے محفوظ پناہ گاہ تلاش کرنے لگی۔ ایسے میں ان کی نظر انتخاب فرنگی سرزمین پر جا پڑی۔ کیونکہ فرنگی نبوت کے لئے فرنگی سرزمین ہی ایک محفوظ جگہ تصور کی جاسکتی تھی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے بہت پہلے سے بین الاقوامی سطح پر قادیانیت کا تعاقب شروع کیا تھا۔ چنانچہ ۱۹۷۵ء میں مجلس کی طرف سے مولانا عبدالرحیم اشعر اور مولانا اللہ وسایا نے انڈونیشیاء، سنگاپور، تھائی لینڈ اور ملائیشیاء کا تبلیغی دورہ کیا۔ تقریباً ۱۹۶۰ء میں مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر نے برطانیہ اور آسٹریلیا کا دورہ کیا۔ ۱۹۷۴ء کو محدث العصر حضرت مولانا محمد یوسف بنوری نے یورپ اور افریقہ کے کئی ممالک کا دورہ کیا۔ اس طرح مجلس کے کئی وفود نے فجی، افریقی ممالک اور امریکا اور یورپ کا بارہا دورہ کیا۔ ۴؍ اگست ۱۹۸۵ء کو ویمبلے کانفرنس سینٹر لندن میں ایک روزہ انٹرنیشنل کانفرنس منعقد ہوئی۔ یہ کانفرنس مولانا سید اسعد مدنی، مولانا عبدالحفیظ مکی، مولانا ضیاء القاسمی اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے کارکنوں نے
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جمعیۃ علماء برطانیہ کے تعاون سے منعقد کی ۔ کانفرنس میں شرکت کے لئے برطانیہ کے تمام چھوٹے بڑے شہروں سے ہزاروں ختم نبوت کے پروانے ویمبلے کانفرنس ہال پہنچے۔ برطانیہ کے سینکڑوں علماء کرام کے علاوہ سعودی عرب ، پاکستان ، بنگلہ دیش ، مصر ، افریقہ ، کینیڈا ، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک سے ممتاز علماء کرام اور رہنماؤں نے شرکت کی۔ لندن سے چھپنے والے اردو اخبار روزنامہ جنگ اور وطن کی رپورٹ کے مطابق ویمبلے ہال میں ہونے والی تمام مسلمز کانفرنسوں کے مقابلے میں اس کی حاضری سب سے زیادہ رہی۔ کانفرنس کے ہال میں تین ہزار افراد کے بیٹھنے کی گنجائش تھی۔ سارا دن بارش ہونے کے باوجود نہ صرف ہال سامعین سے کھچا کھچ بھر گیا ، جب کہ بے شمار لوگ سیڑھیوں پر بیٹھے اور کھڑے رہے۔ اس کے باوجود بہت سے افراد کو کانفرنس ہال میں گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے جانا پڑا۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے کانفرنس میں شرکت کے لئے اپنے تین وفد بھیجے۔ پہلا وفد ۱۳؍ جولائی ۱۹۸۵ء کو پہنچا جو جناب عبدالرحمٰن یعقوب باوا مدیر ہفت روزہ ختم نبوت اور مولانا منظور الحسینی پر مشتمل تھا۔ دوسرا وفد ۲۰؍ جولائی کو پہنچا جو کہ شہید اسلام مولانا محمد یوسف لدھیانوی ناظم نشریات مجلس تحفظ ختم نبوت اور حضرت مولانا اللہ وسایا پر مشتمل تھا۔ جب کہ تیسرا وفد ۳؍ اگست کو پہنچا جو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی امیر حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب اور نائب امیر مرکزیہ حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰن پر مشتمل تھا۔ کانفرنس کی دو نشستیں ہوئیں۔ پہلی نشست صبح ایک بجے سے دو بجے تک اور دوسری نشست تین بجے سے شام سات بجے تک تھی۔ مجموعی طور پر کانفرنس کا دورانیہ آٹھ گھنٹے رہا۔ پہلی نشست کی صدارت عالمی مجلس کے مرکزی امیر شیخ المشائخ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب نے کی۔ جب کہ دوسری نشست جمعیۃ علماء ہند کے امیر حضرت مولانا سید اسعد مدنی کی زیر صدارت منعقد ہوئی۔
مقررین پہلی ختم نبوت کانفرنس برطانیہ:
مولانا خلیل احمد ہزاروی (متحدہ عرب امارات) ، جناب السید ناجی صادق مفتی (سعودی سفارت خانہ لندن) ، ممتاز مصری عالم شیخ (زہران) ، حضرت مولانا سید اسعد مدنی (بھارت) ، حضرت حافظ جی حضور (بنگلہ دیش) ، ڈاکٹر عبداللہ عمر نظیف (سیکرٹری جنرل رابطہ عالم اسلامی) ، مولانا قاری عبدالحی (لاہور) ، مولانا میاں اجمل قادری (لاہور) ، مولانا مفتی محی الدین (کراچی) ، مولانا مفتی احمد الرحمٰن (کراچی) ، مولانا محمد زکریا (ایم ۔ پی ۔ اے کراچی) ، مولانا عبدالقادر آزاد (لاہور) ، قاری محمد حنیف جالندھری (ملتان) ، مولانا محمد ضیاء القاسمی (فیصل آباد) ، مولانا زاہد الراشدی ، مولانا منظور احمد چنیوٹی ، مولانا ڈاکٹر خالد محمود ، مولانا اللہ وسایا ، مولانا محمد یوسف لدھیانوی ، مولانا عبدالرحمٰن قاسمی ، مولانا امداد الحسن نعمانی ، مولانا موسیٰ قاسمی ، مولانا عبدالرؤف ، چوہدری فضل الٰہی ، مولانا محمد یوسف پلندری (کشمیر) ، مولانا مظہر عالم (کینیڈا) ، مولانا اشتیاق حسین ، مولانا منظور احمد الحسینی ، مولانا محمد طیب عباسی ، مولانا حسین علی (راولپنڈی)
مولانا غلام حبیب (چکوال) نے دعا کرائی ۔ کانفرنس کے آغاز میں تلاوت اور نظم کے بعد سب سے پہلے صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا جو لندن میں پاکستانی سفارت خانہ کے آفیسر مسٹر مراد علی نظامی نے پڑھ کر سنایا ۔ صدر صاحب کا پیغام یہ تھا:
Message From GENERAL M. ZIA-UL-HAQ President Islamic Republic of Pakistan
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
To
INTERNATIONAL KHATM-E-NABUWWAT CONFERENCE
LONDON
(04-06 AUGUST 1985)
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
In the name of Allah, the most Beneficent, the most Merciful
الحمدللہ رب العٰلمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ خاتم النبیین
Praise be to Allah Lord of the Worlds, Blessings and Peace be upon the seal of he Prophets.
I wish to take this opportunity to pay a tribute to the organisers of the International Khatm-e-Nabuwwat Confrernce for focusing world attention on an issue of such pre-eminent significance to the World of Islam. The concept to Finality of the Prophethood of Hazrat Muhammad (peace be upon him) is not only the cornerstone of our faith as Muslims, but also a blessing to humanity through which the universality of Allah's message for mankind has been established for all times fo come.
Over the ages and, in fact, even during the lifetime of the Holy Prophet (peace be upon him), impostors and liars, motivated by ulterior designs, have tried to pose as saviours and prophets, and even sought to convert people to their ways and beliefs. However the Ummah has waged a continuous struggle against such heresies and heretics and staunchly upheld the Faith in all its purity and glory.
It is a matter of great pride for the Muslims of South Asia, that they have successfully exposed the misguided beliefs of the founder of the Qadiani movement, and firmly thwarted the attempt to spread the heretical claim of Zilli, or Bruzi Nabi by him, or his claim as Jesus Christ or a re-incarnation of the Prophet.
In
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
people of Pakistan, extend our wholehearted suppord to the noble aims and objectives of this International Khatm-e-Nabuwwat Confernece, and pledge overselves to protect the unity and solidarity of Muslim Ummah at all costs.
(تاریخی ختم نبوت کانفرنس لندن حالات و واقعات کی روشنی میں، مولانا محمد ضیاء القاسمی ص ۵۹ تا ۶۱ )
قراردادیں:
انٹرنیشنل ختم نبوت کانفرنس کو چونکہ عالمی حیثیت حاصل تھی، اس لئے کانفرنس نے مسئلہ ختم نبوت کے تحفظ اور استیصال مرزائیت کے ساتھ ساتھ عالم اسلام کے مسلمانوں پر توڑے جانے والے مظالم کے خلاف بھی آواز بلند کی اور عالم اسلام کے مظلوم مسلمانوں کو اخلاقی ہمدردی اور ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ اس سلسلہ میں متعدد قراردادیں منظور کی گئیں جو کانفرنس کی تاریخی حیثیت کی حامل ہیں۔ افغانستان کے مظلوم حریت پسند مسلمانوں کا مسئلہ ہو یا آزادی فلسطین کے غازیوں کے تاریخی جہاد کی آواز، شام کے قابل فخر اہل سنت علماء اور اسلام پر پروانہ وار جان نچھاور کرنے والے نوجوانوں کی بات ہو یا مسجد اقصیٰ کی آزادی کے لئے جہاد کرنے والوں کا تذکرہ ہو یا عالم اسلام کے اسلام دوست مجاہدین کا ذکر ہو۔ انٹرنیشنل ختم نبوت کانفرنس نے ان تمام مجاہدین کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اپنے تاریخی اجلاس میں قراردادیں پاس کر کے ان مجاہدین کو خراج تحسین اور مکمل ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ اس طرح ختم نبوت کانفرنس لندن عالم اسلام کے دلوں کی دھڑکن بن گئی اور پوری دنیا میں اسے محبت اور تحسین کی نظروں سے دیکھا گیا۔
جو قراردادیں انٹرنیشنل ختم نبوت کانفرنس میں منظور کی گئیں، ان کا متن حسب ذیل ہے:
- ۱...... انٹرنیشنل ختم نبوت کانفرنس لندن کا یہ عظیم اجتماع ان تمام حضرات کا شکریہ ادا کرتا ہے جنہوں نے کانفرنس کے نام اپنے خصوصی
پیغامات ارسال کئے ہیں۔ خصوصاً صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق صاحب کا جنہوں نے اپنے خصوصی پیغام میں فتنہ قادیانیت کو عالم اسلام کے لئے کینسر قرار دیا ہے۔ نیز یہ عظیم اجتماع ڈاکٹر عبداللہ عمر نظیف جنرل سیکرٹری رابطہ عالم اسلامی شیخ محمد جمعہ سالم نائب وزیر مذہبی امور متحدہ عرب امارات شیخ احمد عبدالعزیز المبارک چیف جسٹس متحدہ عرب امارات شیخ زہران جامعہ ازہر مصر، السید ناجی صادق مفتی نائب سعودی سفیر لندن، مولانا مظہر عالم کینیڈا، مولانا سید اسعد مدنی انڈیا، مولانا نور محمد برما اور بنگلہ دیش و پاکستان کے علماء کا بھی شکریہ ادا کرتا ہے۔ فجزاهم الله خيرا !
- ۲...... انٹرنیشنل ختم نبوت کانفرنس لندن کا یہ عظیم اجتماع صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق صاحب سے مطالبہ کرتا ہے کہ جن قادیانیوں نے
از خود پاکستان چھوڑ کر پاکستان کی مخالفت کو اپنی زندگی کا مشن بنا لیا ہے۔ فی الفور ان کی پاکستانی شہریت کو ختم کیا جائے۔ نیز یہ اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ حکومت پاکستان قادیانی ملازمین کے گھروں پر چھاپے لگوا کر ان کیسٹوں اور وڈیو کیسٹوں پر قبضہ کرے جن میں پاکستان سے بغاوت پر اکسایا گیا اور ایسے افراد جن کے پاس یہ سامان ملے انہیں ملازمتوں سے فارغ کر کے ان پر ملکی بغاوت کا مقدمہ چلا کر قرار واقعی سزا دی جائے۔
- ۳...... انٹرنیشنل ختم نبوت کانفرنس لندن کا یہ عظیم اجتماع بیروت میں شیعہ ملیشیاء، اسرائیل اور عیسائیوں کی مشترکہ سازش کا شکار مجاہدین
فلسطین اور ان کے اسلحہ سے شہید ہونے والے تمام شہداء فلسطین کے لئے مغفرت کی دعا کرتا ہے۔ نیز یہ اجتماع ان تمام نام نہاد مسلم ممالک سے اپیل کرتا ہے جو شیعہ ملیشیاء کی مدد کر کے نہ صرف مسئلہ فلسطین کو ختم کر رہے ہیں بلکہ مسلمانوں کی تمام قوتوں کو پاش پاش کر رہے ہیں کہ
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
وہ شیعہ ملیشیاء کی مدد سے باز رہیں۔ وگرنہ پوری دنیا شیعہ سنی فساد کی لپیٹ میں آجائے گی اور اس کی ذمہ داری ان مسلم ممالک پر عائد ہوگی اور بالآخر وہ ممالک بھی اس کا نقصان اٹھائیں گے۔
- ۴...... انٹرنیشنل ختم نبوت کانفرنس لندن کا یہ عظیم اجتماع ایران عراق جنگ پر انتہائی رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے دونوں حکومتوں سے
اپیل کرتا ہے کہ وہ اس جنگ کو فی الفور بند کر کے مسلمانوں کے مال اور جان کی حفاظت کرے۔ نیز یہ اجتماع ایران کی تمام مسلم ممالک میں مداخلت کی پرزور مذمت کرتا ہے۔ کعبۃ اللہ اور مسجد نبوی میں تصاویر لے کر جانے اور منیٰ، عرفات، مکہ، مدینہ میں جلوس نکالنے اور سیاسی نعرے بازی کی پرزور مذمت کرتا ہے اور ایران کے انقلاب کو شیعہ انقلاب قرار دیتے ہوئے اسے اہل سنت کے لئے پوری دنیا میں مصیبت کا سبب قرار دیتا ہے۔ یہ عظیم اجتماع حکومت ایران سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اہل سنت کو تہران اور ایران میں انسانی حقوق فراہم کرے۔ اجتماع اس بات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتا ہے کہ تہران میں عیسائیوں، یہودیوں، بدھ مت، ہندومت اور سکھوں کی تو عبادت گاہیں موجود ہیں لیکن اہل سنت کے لئے ایک مسجد تک نہیں۔ ہر سال سنی عیدین کی نمازیں برسرعام پڑھتے تھے لیکن خمینی حکومت نے دو سال قبل عید الفطر کے موقعہ پر اہل سنت پر لاٹھی چارج کر کے نماز عید سے محروم کر دیا۔ خمینی اور ایرانی قیادت سے یہ اجتماع اہل سنت کے لئے ان کی تعداد کے مطابق ملازمین اور حقوق طلب کرتا ہے۔
- ۵...... انٹرنیشنل ختم نبوت کانفرنس کا اجتماع مسلمانوں کے تمام مسلمہ مکاتیب فکر سے درخواست کرتا ہے کہ وہ مسلمانوں میں باہمی اتحاد
پیدا کرنے کے لئے پوری توانائیاں صرف کریں اور عقیدہ تحفظ ختم نبوت کے لئے متحد ہوکر کام کریں۔ یہ عظیم اجتماع ان تمام کانفرنسوں کی شدت سے مذمت کرتا ہے جو حرمین شریفین کو سعودی حکومت سے چھین کر بین الاقوامی کنٹرول میں دینے کا مطالبہ کرتا ہے۔ نیز ائمہ حرمین پر کفر کے فتویٰ پر نفرت کا اظہار کرتا ہے۔ یہ عظیم اجتماع جلالۃ الملک فہد بن عبدالعزیز کی حکومت کو اسلام اور مسلمانوں کی ہمدردی پر خراج تحسین پیش کرتا ہے اور ان کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتا ہے۔
- ۶...... انٹرنیشنل ختم نبوت کانفرنس کا یہ عظیم اجتماع ختم نبوت کے عنوان سے منعقد ہونے والی اس کانفرنس کو وقت کی پکار اور مذہبی فریضہ
قرار دیتا ہے اور انٹرنیشنل ختم نبوت مشن کے صدر الشیخ ملک عبدالحفیظ مکی اور سیکرٹری جنرل مولانا ضیاء القاسمی کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ وہ دنیا کے ان تمام مقامات پر ایسی ختم نبوت کانفرنسیں منعقد کریں جہاں ایک مرزائی گھر بھی موجود ہے۔ نیز ہر ملک بالخصوص برطانیہ میں علماء کے تربیتی کورس قائم کریں تاکہ تربیت یافتہ علماء اپنے حلقوں میں تربیتی کورس قائم کرسکیں۔
- ۷...... یہ عظیم اجتماع مجاہدین افغانستان و فلسطین کو ان کے جہاد میں اپنے مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے اس عظیم کانفرنس کو ان مجاہدین
کے ساتھ یکجہتی کا عالمی مظاہرہ قرار دیتا ہے اور تمام مسلم حکومتوں سے بھی انسانیت کے نام پر ان مظلوموں کی معاونت کا مطالبہ کرتا ہے۔
- ۸...... یہ عظیم اجتماع مسلم ممالک خصوصاً قحط زدہ یا سیلاب زدہ مسلم ممالک میں عیسائی مشنریوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر تشویش کا
اظہار کرتے ہوئے تمام مسلم ممالک کو متحد ہوکر اس کے فوری سدباب اور اس کے مقابلہ میں تبلیغی نظام قائم کرنے کی اپیل کرتا ہے۔
- ۹...... انٹرنیشنل ختم نبوت کانفرنس لندن کا یہ عظیم اجتماع شام میں شیعہ اقلیتی حکومت کے ہاتھوں شہر حما اور دیگر شہروں میں سنی مدارس اور
مساجد کے انہدام اور اہل سنت اکثریت علماء کا قتل عام اور تقریباً بتیس ہزار مسلمانوں کو ذبح کرنے پر بے حد رنج و الم کا اظہار کرتا ہے اور شام کی اقلیتی حکومت کے اس عمل اور بیروت میں شیعہ ملیشیاء کی مدد کراکر سنیوں کو قتل کرانے کی پرزور مذمت کرتا ہے اور اسلامی ممالک سے اپیل کرتا ہے کہ سفارتی ذرائع سے شام پر پورا دباؤ ڈال کر اس سفاکی کو رکوانے کی کوشش کی جائے۔
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۱۰....... انٹرنیشنل ختم نبوت کانفرنس کا یہ اجتماع صدر مملکت جنرل محمد ضیاء الحق صاحب کو ہدیہ تبریک پیش کرتا ہے کہ انہوں نے نیک نیتی
کے ساتھ ختم نبوت آرڈیننس نافذ کیا اور پوری دنیا میں قادیانی فتنہ کے خلاف تاریخ پاکستان میں پہلی دفعہ حکومت پاکستان کی طرف سے حکومتی سطح پر جو لٹریچر شائع کر کے دنیا بھر میں تقسیم کیا اللہ تبارک وتعالیٰ انہیں اس کا دارین میں اجر عطا فرمائیں اور ان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ تمام پاکستانی سفارت خانوں میں تحفظ ختم نبوت سیل کے نام سے ایک ایسے شعبہ کا اضافہ کریں جو مسلمانان عالم ، مسلم اور غیر مسلم حکومتوں پر یہ واضح کرتا رہے کہ قادیانی مسلمانوں سے علیحدہ ایک امت ہیں ۔ ان کا اسلام اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے کوئی تعلق نہیں ۔ اس سیل میں مبلغین رکھے جائیں اور اس ضمن میں قادیانی لٹریچر کا بھر پور مقابلہ کیا جائے ۔ انٹرنیشنل ختم نبوت مشن اس سلسلہ میں حکومت پاکستان سے بھر پور تعاون کرے گا ۔
- ۱۱....... یہ عظیم اجتماع صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق صاحب سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ قادیانیوں کی لندن میں قائم کردہ مرکز اسلام آباد جو
کہ پاکستان اور اسلام کے خلاف زہریلا مرکز بن چکا ہے ۔ اس کے مقابلہ میں لندن میں انٹرنیشنل ختم نبوت مشن کا شایان شان مرکز بنانے میں بھر پور تعاون کریں ، جہاں انٹرنیشنل ختم نبوت مشن تبلیغ کا مرکز تصنیف وتالیف کا ادارہ اور دنیا بھر کی تبلیغ مساعی کو کنٹرول کرنے کا مرکز بن سکے۔
- ۱۲....... یہ عظیم اجتماع حکومت پاکستان سے پر زور مطالبہ کرتا ہے کہ مولانا اسلم قریشی کے قتل کی تحقیق کی جائے اور ان مسلمان شہداء کے
خون کا بدلہ لیا جائے جو ساہیوال، سکھر اور میر پور خاص میں شہید ہوئے ، قادیانیوں کے ناجائز اور ظلم وتشدد وحشیانہ بربریت کا نشانہ بنے ۔
- ۱۳....... یہ عظیم کانفرنس ان تمام حکومتوں اور دنیا بھر کی جماعتوں کو ہدیہ تبریک پیش کرتی ہے جنہوں نے قادیانیوں کو کافر قرار دیا اور اس
سلسلہ میں کامیاب کوشش فرمائی ہے ۔ بالخصوص حکومت پاکستان ، سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، کویت ، لیبیاء ، مصر ، ملائیشیاء اور رابطہ عالم اسلامی وغیرہ وغیرہ ۔
(تاریخی ختم نبوت کانفرنس لندن حالات و واقعات کی روشنی میں از مولانا ضیاء القاسمی ص ۵۱ تا ۵۶)
ختم نبوت کانفرنس لندن کے کامیاب انعقاد کے بعد چونکہ حج قریب تھا۔ ہندو پاک سے تشریف لانے والے علماء تو حج کے لئے تشریف لے گئے ۔ محترم باوا صاحب ، مولانا منظور احمد الحسینی کانفرنس سے بہت پہلے تشریف لائے تھے ۔ وہ حضرت لدھیانوی ، حضرت مفتی احمد الرحمن ، حضرت خواجہ صاحب ، صاحبزادہ محمد عابد صاحب یہ تمام حضرات حج کے لئے تشریف لے گئے ۔ فقیر کی تشکیل برطانیہ کے لئے ہوئی کہ کانفرنس کے بعد پورے برطانیہ کا تبلیغی دورہ کیا جائے ۔ دارالعلوم کے طلباء کو ختم نبوت پر درس دیئے جائیں ۔
فقیر کا برطانیہ میں مستقل قیام ...... تجویز
اس دوران میں حضرت مولانا محمد یوسف متالا نے حضرت مولانا مفتی احمد الرحمن سے فرمایا کہ مولوی اللہ وسایا کو ہم دارالعلوم میں مدرس رکھ لیتے ہیں ۔ دارالعلوم کی طرف سے ان کے ویزا کی اپلائی کرتے ہیں ۔ ان دنوں آسانی سے رہائشی وسکونتی ویزا مل جاتا تھا۔ ہر دو حضرات نے فقیر سے فرمایا کہ آپ مستقل برطانیہ رہ جائیں ۔ فقیر نے ایک لمحہ سوچے بغیر فوری عرض کیا کہ میرے لئے یہ ممکن نہیں ۔ ہر دو حضرات متعجب تو ہوئے کہ یہ برطانیہ کی رہائش کے لئے آمادہ نہیں لیکن فقیر کے صاف انکار کے سامنے ان حضرات نے خاموشی اختیار کر کے احسان فرمایا ۔
فقیر آج سوچتا ہے تو اس انکار کو خدا تعالیٰ کی قضاء وقدر کے انتخاب کا نتیجہ قرار دیتا ہے ۔ اگر وہاں رہ جاتا تو بعد میں پاکستان میں جتنی خدمات سرانجام دیں ۔ یہ ہرگز نہ دے پاتا ۔ سچ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں ۔ بہرحال لندن کانفرنس کے بعد فقیر
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۵، ۶؍اگست کو لندن رہا۔ ۷؍اگست کو شیفلڈ ، ۸؍اگست کو دارالعلوم ہولکمب بری میں میٹنگ، ۹؍اگست بریڈ فورڈ، ۱۰؍اگست سلو، ۱۱؍اگست رچڈیل کانفرنس ہوئی، ۱۲؍اگست ڈیوز بری، برنلے، ۱۳؍اگست مانچسٹر، ۱۴؍اگست بلیک برن، ۱۵؍اگست سے دارالعلوم کے طلباء کو ختم نبوت پر لیکچر دینے شروع کئے، ۱۷؍اگست کو باٹلے میں پروگرام ہوا، ۱۸، ۱۹؍اگست بریڈفورڈ، ۲۰، ۲۱؍اگست ہڈرسفیلڈ، ۲۱، ۲۲؍اگست بریڈفورڈ، ۲۳، ۲۴؍اگست مسجد نور ہڈرسفیلڈ ، ۲۵؍اگست مسجد بلال ہڈرسفیلڈ ، ۲۶؍اگست مسجد عثمان ہڈرسفیلڈ ، ۲۷، ۲۸، ۲۹؍اگست ڈیوز بری مانچسٹر، ۳۰؍اگست رچڈیل، ۳۱؍اگست باٹلے۔
یکم ستمبر سے ۸؍ستمبر تک باٹلے میں دروس بیانات ہوئے۔ حق تعالیٰ بہت جزائے خیر دیں۔ مولانا یوسف ماما کو کہ انہوں نے مرتب کر کے کتاب بنادی۔ حضرت مولانا منور حسن سواتی نے ”دروس و بیانات ختم نبوت باٹلے“ کے نام پر وہ کتاب شائع کردی۔ اس کے بعد پھر دارالعلوم میں دروس ہوئے۔ آسٹن، مانچسٹر، نوٹنگھم، ساؤتھ ہال، لندن، ریڈنگ سیلز میں ۹؍ستمبر سے ۳؍اکتوبر دروس و بیانات کا سلسلہ جاری رہا۔ ۴؍اکتوبر کو لندن سے مصر کے راستہ جدہ کا سفر شروع ہوا۔ ۵؍اکتوبر کو جدہ حاضری ہوئی۔ چھ دن مکہ مکرمہ، چار دن مدینہ طیبہ گزار کر کراچی پاکستان واپسی ہوئی۔ اس سفر کے دوران میں فقیر نے بعض حضرات کو خطوط لکھے جو محترم مولانا سید عبداللہ معظم نے لولاک سے جمع کر دیئے۔ ملاحظہ ہوں:
مکتوبات مولانا اللہ وسایا
تحریک ختم نبوت کے روح رواں حضرت مولانا اللہ وسایا دامت برکاتہم کا برطانیہ میں قیام تقریباً اڑھائی مہینے رہا۔ اس دوران انہوں نے پورے برطانیہ کا دورہ کیا اور مرزائیت کے سیاہ چہرے پر تنی خوشنما چادر کو چاک کر کے اس کے تار و پود بکھیر دیئے۔ مولانا اللہ وسایا صاحب کا ایک امتیاز یہ ہے کہ ختم نبوت کے حوالے جو بھی خدمت انجام دیتے ہیں۔ بزرگوں کی سرپرستی اور ان کے علم میں لاکر کرتے ہیں۔ گویا اس حدیث پر پورے پورے عامل ہیں۔ البرکة مع اکابرکم۔ دورہ برطانیہ کی کارگزاری انہوں نے حضرت ناظم اعلیٰ صاحب مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری، امیر مرکزیہ حضرت خواجہ خان محمد اور دیگر احباب کو لکھ کر بھیجی۔ ذیل میں وہ خطوط ترتیب وار ذکر کئے دیتے ہیں۔
مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری کے نام
فقیر اللہ رب العزت کا شکر کن الفاظ میں ادا کرے کہ دن رات صرف اور صرف مسئلہ ختم نبوت کی خدمت کے لئے وہم و گمان سے بھی بڑھ کر اللہ رب العزت نے رحمت فرمائی۔ یہ حضرت الامیر کی دعاؤں کا صدقہ ہے کہ آپ کو یاد ہوگا کہ آپ نے سکھر سے فقیر کو فیصل آباد جمعہ کے لئے بھیج دیا تھا۔ جمعہ کے بعد سفر لندن زیر تجویز تھا تو فقیر نے جمعہ کے اجتماع میں احباب سے دعا کرائی کہ اگر تو اللہ رب العزت نے مسئلہ کا کام لینا ہے تو پھر جانے کی سبیل پیدا ہو جائے اور اگر مسئلہ ختم نبوت کی خدمت نہیں ہونی تو پھر اللہ رب العزت ایسی رکاوٹ پیدا فرما دیں کہ جا نہ سکوں۔ سفر انگلینڈ کے لئے فقیر کے دل میں قطعاً کوئی دلچسپی نہ تھی۔ سوائے مسئلہ ختم نبوت کی خدمت اور آپ حضرات کے حکم کی تعمیل کے تو اب آپ اندازہ فرمائیں کہ کوئی دن ایسا خالی نہیں گیا جس دن بیان نہ ہوا ہو۔
بریڈفورڈ ، ہڈرسفیلڈ میں تربیتی اجتماعات ہوئے۔ جس میں دو، دو صد سے کسی طرح بھی حاضری کم نہ تھی۔ ہر طبقہ کے حضرات علماء کرام وعوام نے شرکت کی۔ بیان کے بعد سوالات کے جوابات کی مجلس سے دلچسپی اور بڑھی۔ باٹلے ڈیوز بری یہ جگہ تبلیغی جماعت کے رائے ونڈ کی طرح پورے یورپ کا مرکز تبلیغ ہے۔ باٹلے ڈیوز بری میں دیوبند، سہارن پور، ڈابھیل، گجرات، سورت کے علماء کرام کی کثرت ہے جو
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مختلف مساجد میں خطیب و امام ہیں۔ تبلیغ کے حضرات کا دارالعلوم ہے۔ ان میں یہ حضرات مدرس بھی ہیں۔ ان سب حضرات پر مشتمل علماء کی ایک مقامی تنظیم ہے۔ رابطہ العلماء اسلامیہ کے رہنماؤں اور برطانیہ جمعیۃ العلماء کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرشید نے باٹلے میں علماء کرام کی خدمت و مسئلہ مرزائیت سے شناسائی و تعارف ان کے دجل و فریب سے پردہ اٹھانے کے لئے حکم فرمایا۔ انہوں نے گجراتی و اردو میں اشتہار تقسیم کیا جو لف ہذا ہے۔ علماء کرام فضلائے دیوبند ڈابھیل کا ہفتہ بھر خصوصی اجتماع ہر روز ظہر کے بعد ڈیڑھ گھنٹہ منعقد ہوتا تھا۔ فقیر کی تمام معروضات کو وہ قلمبند کرتے تھے۔ اس کے علاوہ ہفتہ بھر ٹیپ کرتے رہے۔ جس کی کیسٹیں تیار کر کے تبلیغ کے نقطۂ نظر سے اب تقسیم ہو رہی ہیں۔ ان حضرات نے اس پروگرام میں اپنی مساجد کے نمازوں کے اوقات کو تبدیل کیا۔ پورے باٹلے میں ایک وقت پر نماز کی گئی تا کہ پروگرام میں تاخیر نہ ہو۔ ان حضرات علمائے کرام، صلحائے امت کا رد قادیانیت کے لئے متوجہ ہو جانا عطیہ خداوندی ہے۔ کروڑوں تعریفیں حمد و ثناء اس ذات کی جس نے اپنے نیک بندوں کو اس کام کی طرف متوجہ فرمایا اور کروڑوں سلام اس نبی آخر الزمان ﷺ کی ذات گرامی پر جن کی عزت و ناموس کا تحفظ کرنے والوں کے لئے بے شمار بشارات ہیں۔
ہفتہ بھر ہر روز مختلف مساجد میں بیانات ہوئے ہر روز نیا موضوع رد قادیانیت پر رہا۔ اس کی کیسٹ بھی تیار ہو کر تقسیم ہو رہی ہے۔ انگلینڈ میں انڈین، پاکستانی تمام حضرات کے نوعمر بچے انگلش بولتے ہیں۔ ان کے لئے علیحدہ ایک ہال میں پروگرام رکھا۔ انگریزی میں اس کے اشتہارات شائع کئے خیال تھا کہ نوجوان پود انگلینڈ کی رنگینیوں میں شاید اتنی الجھ چکی ہوگی کہ وہ اس دینی اجتماع میں بہت کم شریک ہوگی۔ خیال تھا کہ ہال بھی نہ بھرے گا۔ مگر صاحب ختم نبوت کی شان اعجاز پر قربان جائیں کہ جب آپ کی ذات اقدس کا مسئلہ آتا ہے۔ اللہ رب العزت سب کے قلوب اسی طرف پھیر دیتے ہیں۔ جب رات آٹھ بجے ہال میں قدم رکھا تو تمام سیٹیں پر ہو چکی تھی۔ سولہ سال سے پچیس سال کے نوجوانوں کی مسئلہ ختم نبوت سے فریفتگی اور دلی لگاؤ اور قادیانیت سے نفرت کا یہ منظر بھی دیکھنے میں آیا کہ سیٹیں پر ہو گئیں تو کپڑے بچھا کر اس پر بیٹھ گئے۔ پینٹ پہنے ہوئے ہونے کے باعث پاؤں پھیلا کر بیٹھے ہیں جو بیٹھ نہ سکے۔ وہ کھڑے رہے۔ تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ فقیر کی اردو تقریر کا ساتھ ساتھ تبلیغی جماعت کے مرکز ڈیوزبری کے مترجم انگریزی میں ترجمہ کرتے جاتے تھے۔ سوا دو گھنٹے بیان ہوا پھر سوالات شروع ہوئے۔ مسلمان نوجوانوں کے گراں قدر سوالات سے معلوم ہوتا تھا کہ مرزائیت کے مسئلہ پر بحمدہ تعالیٰ انگلینڈ کا مسلم نوجوان بھی گہری نظر اور مقابلہ کی جرأت رکھتا ہے۔ قدرت نے ان سوالات کے جوابات کی توفیق بخشی۔ حضرت مولانا محمد علی جالندھری مرحوم و مغفور میرے محبوب مربی و محسن اور قائد تھے۔ آپ کا ارشاد ہے کہ اس محاذ ختم نبوت پر کام کرنے والوں کی پشت پر آقائے نامدار ﷺ کی دعائیں شامل ہیں۔ فقیر نے مشاہدہ کیا کہ گھنٹوں کی یہ اردو انگلش مجلس بیان و جوابات کے پر رونق بہار آفرین منظر سے مسلمانوں کے قلب و جگر ٹھنڈے ہو گئے۔ دشمن پر اوس پڑ گئی۔ اللہ تعالیٰ دشمن کو مزید رسوا کرے۔ آمین! اس کے کیسٹ بھجوا رہا ہوں۔ مغربی جرمنی سے دو مسلمان لندن آئے۔ یہ سرگودھا و لاہور کے رہنے والے ہیں۔ مغربی جرمنی میں کام کرتے ہیں۔ مرزائیت کی مغربی جرمنی میں سازشوں اور وساوس کا حل چاہتے ہیں۔ ہر دو حضرات ربوہ چنیوٹ کانفرنس میں شرکت کی وجہ سے فقیر کو جانتے تھے۔ فقیر کو شناسائی نہ تھی۔ لندن آکر ان کو معلوم ہوا کہ میں بریڈفورڈ میں ہوں۔ وہاں گئے تو معلوم ہوا کہ ہڈرسفیلڈ ہوں اور آج بیان ہے۔ یہ وہاں گئے۔ یہ مسجد میں گئے فقیر بیان مکمل کر کے رہائش گاہ پر آ گیا تھا۔ یہ ایک دوست کی گاڑی میں بیٹھ کر وہاں تشریف لائے۔ کیسٹ ٹیپ ریکارڈ ہمراہ تھا۔ ان کے ذوق و ضرورت کا اندازہ آپ اس سے لگائیے کہ دس بجے سے لے کر رات ایک بجے تک تین گھنٹے وہ سوالات کرتے رہے۔ فقیر جوابات دیتا رہا۔ مسئلہ ختم نبوت، حیات عیسیٰ علیہ السلام، کذب مرزا قادیانی اور پاکستان میں قادیانیت کی جارحیت اور ان کی فرضی مظلومیت غرضیکہ تمام
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۷۴ تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عنوانات پر جامع گفتگو ہوئی۔ ان کے سوالات سے اندازہ ہوتا تھا کہ مغربی جرمنی میں بھی کام کی شدید ضرورت ہے۔ وہ پتہ دے گئے ہیں۔ میں آپ کو بھجوا رہا ہوں۔ ان کو لٹریچر بھجوا دیں۔ وہ ربوہ کانفرنس کے کیسٹ اور ویڈیو کے خواہشمند تھے۔ آپ میرے اس عریضہ کے بعد مکرم ڈاکٹر صولت صاحب کو فرما دیں۔ آج کل دارالعلوم بری میں ہوں۔ یہ حضرت شیخ الحدیث کا قائم کردہ ادارہ ہے۔ انگلستان میں واحد دینی ادارہ ہے، جہاں سینکڑوں یورپ، افریقہ حتیٰ کہ مکہ مکرمہ پاکستان ہندوستان کے طلباء پڑھتے ہیں۔ دورۂ حدیث تک تعلیم ہوتی ہے۔ حضرت مولانا محمد یوسف متالا کا وجود اس دھرتی کے لئے انعام الٰہی ہے ان کی اخلاص بھری شخصیت پر پروانہ وار لوگ قربان ہونے کو تیار ہیں۔ ان کے وجود سے بے شمار دینی محاذوں پر دینی اقدار کا تشخص اجاگر ہورہا ہے۔ یہاں پر فقیر ظہر کے بعد چار جماعتوں کو عشاء کے بعد موقوف علیہ ودورہ کے ساتھیوں کو مرزائیت پر تیاری کراتا ہے۔ ان حضرات کی خدمت سے دل مطمئن ہے۔ وجدانی کیفیت یہ ہے کہ ان شاء اللہ ان مقدس طالب علموں کی اس دیار غیر میں خدمت اور جوتیاں سیدھی کرنے سے ضرور نجات ہوگی۔ انا عند ظن عبد بی! والی بات ہو جائے تو فهو المقصود!
یہاں سے ۱۹؍ستمبر کو فارغ ہو کر پھر تبلیغی سفر ہیں۔ ۲۲؍ستمبر اتوار کو نوٹنگھم میں ختم نبوت کانفرنس ہے۔ یہ سن کر آپ کو خوشی ہوگی کہ پورے انگلستان میں ختم نبوت کانفرنسوں کا سلسلہ چل نکلا ہے۔ دشمن پر اوس پڑ گئی ہے۔ وہ گھبرایا گھبرایا سا ہے۔ کانفرنس سے فراغت کے بعد لندن سے واپسی ہے۔ لندن میں تربیتی کلاس، ووکنگ، ریڈنگ سلو میں جلسے ہیں۔ وہاں شریک ہوں گا۔ یہ تمام پروگرام ۲۶؍ستمبر تک ختم ہو جائیں گے۔ مرزائیوں کے اکا دُکا بیانات اخبارات میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ کانفرنس کے بعد ان کے ردعمل کے توڑ کے لئے ہی آپ نے یہاں بھجوایا تھا۔ سو ان کے جوابات اخبارات میں ہم بھی اپنی طرف سے شائع کراتے رہتے ہیں۔ الحمدللہ! ہر محاذ پر بڑی ہی تندہی سے کام ہورہا ہے۔ ضرورت، مسیح علیہ السلام مرزا قادیانی کی نظر میں، عقائد وعزائم ان وسائل کے انگلش وعربی میں ترجمے شائع کر کے یہاں بھجوانے کی ہے۔ انگلش یہاں کی زبان ہے۔ باقی ملک بھر کی تمام یونیورسٹیوں میں عرب طلباء کے لئے عربی لٹریچر درکار ہے۔ اس کی طرف آپ توجہ فرمائیں۔
امید ہے کہ آپ کے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔ حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب، قاضی صاحب، قاری صاحب، مولانا عبدالواحد صاحب، بشیر صاحب، ایاز صاحب، دفتر کے باقی حضرات و جملہ مبلغین و متعلقین سے تسلیمات۔ میں علیحدہ حضرت اقدس امیر مرکزیہ کو خط نہیں لکھ سکا۔ آپ یہ خط پڑھ کر حضرت اقدس کو بھجوا دیں۔ اس سوء ادبی کی معافی کے ساتھ، طالب دعا: اللہ وسایا (انگلینڈ)
حضرت الامیر مولانا خان محمد صاحب کے نام خط
حضرت اقدس سیدی ومولائی سلام مسنون مزاج گرامی
دارالعلوم بری سے میٹنگ کے بعد احباب نے فقیر کا جمعہ بریڈ فورڈ رکھ دیا۔ ہفتہ کو بجائے گلاسگو کے فقیر کو لندن سے آگے سلو کے مقام پر تقریر کے لئے جانا پڑا۔ خیال تھا کہ شیفیلڈ کے استقبالیہ میں تشریف آوری پر زیارت ہو جائے گی مگر آپ تشریف نہ لاسکے۔ اللہ رب العزت کا لاکھوں لاکھ شکر ہے کہ تمام تر کام خوب سے خوب تر ہورہا ہے۔ قادیانیوں نے ۱۷؍اگست باٹلے، ۱۸؍اگست بریڈ فورڈ میں اپنے جلسوں کا اعلان کیا۔ اردو، انگلش اخبارات میں متواتر انہوں نے ہزاروں پاؤنڈ خرچ کر کے اشتہارات دیئے۔ بنام خدا ہم نے انہی تاریخوں میں ختم نبوت کانفرنس کا اعلان کر دیا۔ ۱۷؍اگست باٹلے میں ان کو وہاں کی منظوری مسلمانوں کی بر وقت کوشش سے نہ مل سکی۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہم نے ۱۶؍اگست کا حضرت مفتی صاحب، حضرت لدھیانوی صاحب، حسینی صاحب نے تقریباً تمام مساجد میں بیان ہوئے۔ فضا بن گئی۔ ۱۷؍اگست کو ہماری تاریخی کانفرنس ہوئی۔ مسجد میں ہمارا جلسہ شروع ہوا۔ بریلوی حضرات بھی تشریف لائے۔ ختم نبوت ایکشن کمیٹی قائم کر دی گئی۔
۱۸؍اگست کو بریڈفورڈ میں گردونواح کے علاقہ کے تمام مسلمانوں کا عظیم اجتماع منعقد ہوا جس ہال میں مرزائیوں نے جلسہ کرنا تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کسی مرزائی کو آنے کی جرأت نہ ہوئی۔ ہمارا اپنی مسجد میں جلسہ عصر تک جاری رہا۔ یوں قدرت نے مرزائیوں کے دونوں پروگراموں پر پانی پھیر دیا اور وہ سخت ہزیمت خوردہ پسپائی کا نشان بن گئے۔ ۱۹؍اگست کو مفتی صاحب، لدھیانوی صاحب، باوا صاحب، حسینی صاحب حج کے لئے روانہ ہو گئے۔ آج ۲۰؍اگست کو ہڈرسفیلڈ میں مرزائیوں کے ایک کیس میں مسلمانوں کی پیشی تھی۔ ابھی اس سے فارغ ہو کر حاضر ہوئے ہیں۔ اس کی رپورٹ یہ ہے کہ باٹلے یارک شائر میں مرزائیوں نے سکول کے لئے درخواست دی۔ وہاں کے مسلمانوں نے موقف اختیار کیا کہ مرزائی اسلام کے نام پر کفر کی تبلیغ کر کے دھوکہ دے رہے ہیں۔ ان کو اجازت نہ ملنی چاہئے۔ چنانچہ کونسلر حضرات پر مشتمل تعلیمی کمیٹی کو انہوں نے درخواست بھیج دی۔ آج اس کمیٹی کا اجلاس تھا۔ ڈیوزبری، باٹلے، ہڈرسفیلڈ کے علماء اور عوام بیسیوں جمع تھے۔ فقیر کو بھی بطور خاص بلوایا تھا۔ الحمدللہ! کہ کمیٹی کے تمام کونسلر ممبران پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ مرزائیوں کو سکول کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ میرا یہ عریضہ حج کے سفر کے بعد آپ کو ملے گا۔ امید ہے کہ اپنے ایک روسیاہ رضا کار کو اپنی دعاؤں میں ضرور یاد فرمائیں گے۔ طالب دعا: اللہ وسایا (انگلینڈ)
ایڈیٹر لولاک کے نام
مکرم بھائی طارق صاحب زید مجدکم سلام مسنون
آپ کا مرسلہ سامان بندہ کو عابد صاحب نے بتایا کہ میرے پاس ہے۔ مگر ان کا ہمارا قیام الگ تھلگ تھا۔ ان کے سامان میں ہی مکہ مکرمہ چلا گیا۔ گویا آپ کے ارسال کردہ تحفہ جات انگلستان کی سیر مکہ مکرمہ کی زیارت کے بعد آپ کے پاس واپس پہنچ جائیں گے۔ فقیر محروم رہا۔ میرے عریضے آپ کو مل رہے ہیں یا نہیں بہر حال آپ حضرات میں سے کسی کا کوئی نوازش نامہ نہیں ملا۔ انگلستان میں میری وابستگی صرف کام سے ہے۔ وہ خوب سے خوب تر ہو رہا ہے۔ اس لئے خوش ہوں۔ مکرم ڈاکٹر صولت نواز صاحب، ڈاکٹر قیوم صاحب، ڈاکٹر اسلم صاحب، مکرم اقبال صاحب، شفیق صاحب، احمد صاحب، رانا صاحب، میاں صاحب، سیف صاحب، امیر سلطان گھر پر والدہ صاحبہ غرضیکہ جملہ حضرات سے تسلیمات۔ روزانہ اخبارات میں فوٹو اور خبریں شائع ہو رہی ہیں۔ مگر جمال دین صاحب سے رابطہ کی کوئی شکل نہیں ہوئی۔ حالانکہ ہر جگہ اشتہارات و اجتماعات بھی ہوئے مجھے ان کا پتہ معلوم نہیں۔ انہوں نے کوشش نہیں کی۔ واپسی پر عمرہ کا بھی خیال ہے مگر ٹکٹ میں دقت پیش آ رہی ہے۔ مرزائیت کی کتب ساتھ ہیں وہ سعودی عرب والے اپنے ہاں جانے نہیں دیتے۔ اس لئے خیال ہے کہ اگر عمرہ کے لئے شکل نہ ہوسکی تو واپسی پر بہرحال دمشق ایک دو دن کے لئے ضرور گنجائش نکالوں گا تا کہ جامع دمشق جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے نازل ہونا ہے وہ دیکھ کر آؤں۔ امید ہے کہ آپ حضرات کے مزاج بخیر ہوں گے۔ پہلے کسی عریضہ میں واپسی جواب کے لئے پتہ لکھا تھا اسی پر اکتفاء کرتا ہوں۔ خدا کرے مرزائیت کا جلد بیڑہ غرق ہو۔ ان شاء اللہ ہو کر رہے گا۔ والسلام! طالب دعا: اللہ وسایا (از بریڈ فورڈ)
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ج۲۲ ش ۳۰ ص ۹ تا ۱۱، مؤرخہ ۲۴؍اکتوبر ۱۹۸۵ء)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے رہنما مولانا اللہ وسایا سے انٹرویو
انٹرویو: محمد طفیل تارڑ
مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے پرجوش راہنما مولانا اللہ وسایا برطانیہ کا اڑھائی ماہ کا تبلیغی دورہ اور عمرہ کی سعادت حاصل کرتے ہوئے گزشتہ دنوں وطن واپس پہنچے۔ مولانا اللہ وسایا کا دورۂ برطانیہ اس لحاظ سے انفرادیت کا حامل ہے کہ انہوں نے باقی راہنماؤں کی نسبت وہاں کے طول وعرض کا تفصیلی دورہ کیا۔ انہوں نے انٹرنیشنل ختم نبوت کانفرنس لندن میں شرکت کے علاوہ دیگر شہروں میں بے شمار کانفرنسوں، تربیتی کلاسوں اور وہاں کی مختلف تنظیموں کے زیر اہتمام عقیدۂ ختم نبوت اور تردید مرزائیت پر مفصل لیکچر دیئے۔ انہوں نے اخبارات وجرائد کے ذریعہ قادیانیوں کے مذہبی عقائد وسیاسی عزائم کو بے نقاب کیا۔
سوال: آپ کو دورۂ برطانیہ کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟
جواب: صدر مملکت جنرل محمد ضیاء الحق کے ۲۶؍ اپریل ۱۹۸۴ء کے آرڈیننس امتناع قادیانیت کے بعد مرزا طاہر کے مجرمانہ فرار اور لندن میں قادیانی جماعت کے ہیڈ کوارٹر سے اسلام اور پاکستان کے خلاف تخریبی سازشی سرگرمیوں اور معاندانہ کارروائیوں کے بعد مجلس تحفظ ختم نبوت نے ضرورت محسوس کی کہ اپنا وفد یورپ کے لئے روانہ کرے۔ اسی دوران، مولانا عبدالحفیظ مکی کی مساعی جمیلہ سے جمعیۃ علماء برطانیہ نے لندن میں ختم نبوت کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کیا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے سربراہ مولانا خان محمد، مولانا مفتی احمد الرحمن، مولانا محمد یوسف لدھیانوی، صاحبزادہ محمد عابد، جناب عبدالرحمن یعقوب باوا، مولانا منظور الحسینی، مولانا عزیز احمد نے برطانیہ کا دورہ کیا۔ مولانا محمد ضیاء القاسمی نے سکھر ختم نبوت کانفرنس کے موقعہ پر مولانا خواجہ خان محمد اور مولانا عزیز الرحمن جالندھری سے فرمایا کہ پاکستان اور دوسرے ممالک سے ختم نبوت کانفرنس لندن میں شریک ہونے والے تمام مندوب کانفرنس کے فوراً بعد سعودی عرب یا اپنے اپنے ملکوں کو واپس چلے جائیں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کانفرنس کے بعد قادیانیت پر مکمل عبور رکھنے والے ایک ایسے مبلغ کا لندن میں مزید قیام ضروری ہوگا تاکہ کانفرنس کے بعد قادیانیوں کے ردِعمل کے توڑ کے لئے وہ برطانیہ کے مسلمانوں کی رہنمائی کرسکیں۔ اس کے لئے قرعہ فال میرے نام نکلا۔ چنانچہ کانفرنس لندن کے بعد میں نے مزید اڑھائی ماہ برطانیہ میں گزارے اور قادیانی دجل وفریب کا برطانیہ کے مسلمانوں کے سامنے پردہ چاک کیا۔
سوال: آپ اپنی اور مجلس تحفظ ختم نبوت کی بیرونی ملک سرگرمیوں پر روشنی ڈالیں۔
جواب: میں نے جب سے میدان عمل میں قدم رکھا ہے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت سے وابستہ ہوں۔ میری خواہش ہے کہ زندگی کی آخری ساعت تک اس سے وابستہ رہوں اور قیامت کے دن اسی جماعت کے ساتھ میرا حشر ہو۔ مجلس تحفظ ختم نبوت ہمیشہ بیرونی دنیا میں تبلیغ اسلام اور عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے مختلف وفود بھیجتی رہتی ہے۔ چنانچہ ۱۹۷۵ء میں مجلس کی طرف سے مولانا عبدالرحیم اشعر اور بندہ نے انڈونیشیا، سنگاپور، ملائیشیا، تھائی لینڈ کا تبلیغی دورہ کیا تھا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے بانی رکن مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر نے آج سے پچیس سال قبل برطانیہ، آسٹریلیاء کا تین سال کا دورہ کیا تھا۔ برطانیہ میں انہوں نے اپنے قیام کے دوران مختلف مقامات پر مجلس کی شاخیں اور دفاتر قائم کئے تھے۔ ان کے قیام برطانیہ کے دوران قادیانی جماعت کے تیسرے سربراہ آنجہانی مرزا ناصر انگلستان کے سفر پر گئے تو مولانا نے ان کو مناظرہ کے لئے للکارا، لیکن وہ سامنے نہ
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آئے۔ والئی بھوپال کی ایک تاریخی مسجد شاہ جہاں ووگنگ جو لندن سے پچیس میل کی مسافت پر واقع ہے۔ مرزائیوں نے اس پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا تھا۔ اس کو مولانا لال حسین نے واگزار کرایا۔ بشیر مصری جو اس کا امام تھا وہ مولانا کے ہاتھ پر مسلمان ہوا۔ مولانا کی گرانقدر مساعی سے آج تک وہ مسجد نہ صرف مسلمانوں کے قبضہ میں ہے بلکہ اس کے جملہ انتظامات پاکستان کے سفارت خانہ واقع لندن کے پاس ہیں۔ اسی طرح ۱۹۷۴ء کے تاریخی فیصلہ کے بعد مجلس تحفظ ختم نبوت کے سربراہ مولانا محمد یوسف بنوری نے یورپ، افریقہ اور عرب ممالک کا دورہ کیا۔ اس سفر میں وفاقی شرعی عدالت کے جسٹس مولانا تقی عثمانی مجلس کی ورکنگ کمیٹی کے رکن ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر آپ کے ساتھ تھے۔ مکہ مکرمہ میں عالم اسلام کی سب سے بڑی تنظیم رابطہ عالم اسلامی کی رپورٹ جو اخبار العالم الاسلامی مکہ مکرمہ میں شائع ہوئی۔ اس کے مطابق حضرت بنوری کے اس دورہ میں کئی قادیانیوں کو اسلام کی سعادت نصیب ہوئی۔ پچھلے چند سالوں میں افریقہ، امریکہ، یورپ کا مجلس کے رہنماؤں نے سفر کیا۔ مولانا عبدالرحیم اشعر، مولانا محمد یوسف لدھیانوی، جناب عبدالرحمٰن یعقوب باوا، مولانا منظور الحسینی، مولانا مفتی احمد الرحمٰن نے متعدد غیر ملکی تبلیغی سفر کئے۔ عرب امارات کا مجلس کے کئی وفود نے دورہ کیا۔ آج بھی بحمدہ تعالیٰ پوری دنیا میں لٹریچر، خط و کتابت وفود وغیرہ کے ذریعہ مجلس کا ایک مربوط نظام موجود ہے۔
سوال: مولانا آپ کی برطانیہ میں کیا مصروفیت رہی۔ جب کہ وہاں کے لوگوں کی زندگی بڑی مصروف ہے۔ آپ کا وہاں کے لوگوں سے کس طرح رابطہ رہا؟
جواب: اس میں کوئی کلام نہیں کہ برطانیہ میں لوگوں کی بڑی مصروف زندگی ہے۔ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وہاں کے رہنے والے مسلمانوں کے دل میں اسلام کے لئے بے حد محبت و تڑپ کا جذبہ موجود ہے۔ مرزا طاہر کے وہاں جانے سے مسلمانوں میں قادیانیت کو سمجھنے کے لئے جذبہ و شوق پیدا ہوا۔ ۲۰؍ جولائی سے ۴؍ اکتوبر ۱۹۸۵ء تک میں نے برطانیہ میں قیام کیا۔ یہ تو ہوا کہ ایک دن میں چار چار مقامات پر بیانات ہوئے۔ مگر یہ نہیں ہوا کہ میرا کوئی دن بیان ہوئے بغیر خالی گیا ہو۔ لندن سے گلاسگو تک کے تمام اہم اور قابل ذکر مقامات پر درس، جلسہ ہائے عام، کانفرنسیں ہوئیں۔ ہڈرسفیلڈ، باٹلے، ڈیوزبری، ہولکمب، بری میں تربیتی کلاسوں کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں علماء، خطباء، طلباء اور عوام کی بہت بڑی تعداد شریک ہوئی تھی۔ قادیانیت کی اوریجنل کتب وحوالہ جات ان کو پڑھ کر سنائے گئے۔ فوٹوسٹیٹ تقسیم کی گئیں۔ انہوں نے میرے بیانات کو قلمبند کیا۔ ٹیپ کے ذریعہ تمام بیانات کو محفوظ کیا۔ تبلیغی نقطۂ نظر سے نہ صرف برطانیہ بلکہ مغربی جرمنی تک وہ کیسٹ بھجوائے اور تقسیم کئے گئے۔ سوالات وجوابات کی بڑی خوش کن محفلیں منعقد کی گئیں۔ مساجد کے علاوہ مختلف ہال بک کرا کے وہاں ترجمہ کا اہتمام کر کے بیانات کرائے۔ اس طرح جہاں پر میرے شب وروز مسئلہ ختم نبوت کی تبلیغ کے لئے مصروف گزرے۔ وہاں اس بات کی بھی خوشی ہے کہ وہاں کے مسلمانوں کو مکمل طور پر قادیانیت سمجھنے کا موقعہ ملا۔ ان کے سوالات سے اندازہ ہے کہ وہ مرزائیت کی حقیقت کو سمجھتے ہیں۔
سوال: لندن میں ہونے والی ختم نبوت کانفرنس کے بعد مرزائیوں کا ردعمل کیا رہا اور آپ نے اس کا کیا توڑ کیا؟
جواب: ہماری لندن میں ختم نبوت کانفرنس ۴؍ اگست کو منعقد ہوئی۔ اس کے جواب میں قادیانیوں نے ۱۷؍ اگست کو باٹلے اور ۱۸؍ اگست کو بریڈفورڈ میں اپنی طرف سے کانفرنسوں کا اعلان کیا اور مسلمانوں کو اخبارات واشتہارات، بیانات کے ذریعہ شرکت کی دعوت
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دی۔ ہم نے بھی انہی تاریخوں میں انہیں مقامات پر ختم نبوت کانفرنسوں کا اعلان کر دیا۔ باٹلے اور ڈیوزبری میں مسلمان پچاس ہزار سے زائد ہیں۔ جب کہ قادیانی بقول خود صرف چھ افراد یہ بھی انہوں نے غلط بیانی کی۔ حقیقت میں وہاں وہ صرف تین شخص ہیں۔ اس لئے باٹلے میں ان کو کانفرنس کی اجازت نہ مل سکی۔ جب کہ ہماری بہت بڑی کانفرنس ہوئی۔ اس سے یہ بات بخوبی سمجھ میں آ سکتی ہے کہ برطانیہ کا مسلمان قادیانیت سے کتنا باخبر اور کس طرح اس سے نفرت رکھتا ہے۔
دوسرے روز ۱۸؍اگست کو بریڈفورڈ میں قادیانیوں کو جلسہ کی منظوری مل چکی تھی مگر باطل کی ہمیشہ یہ عادت رہی ہے کہ وہ مصیبت وابتلاء کے وقت دم دبا کر بھاگ نکلنے میں اپنی عافیت سمجھتا ہے جب کہ حق مصیبت وابتلاء کا ڈٹ کر مقابلہ کرتا ہے۔ اسے کربلا کے میدان کی طرح بڑی سے بڑی قربانی کیوں نہ دینے پڑے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی مسلمان کسی بھی بڑے سے بڑے مفاد یا امتحان کی خاطر اپنے نبی کی توہین کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ مگر مرزائی اپنے مفادات کی خاطر بیرون ملک جانے کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی کو کافر لکھ کر دے دیتے ہیں۔ اپنے نبی کے کفر پر دستخط کر کے اپنے آپ کو مسلمان کہہ کر حلف نامہ پر کر دیتے ہیں اور باہر چلے جاتے ہیں۔ پکڑے جائیں تو مرزا قادیانی کو ایسی صلواتیں سناتے ہیں کہ الامان۔ انہوں نے منظوری مل جانے کے باوجود بریڈفورڈ میں جلسہ نہیں کیا جب کہ ہمارا بہت بڑا جلسہ ہوا جو صبح ۹؍بجے سے عصر تک جامع مسجد میں جاری رہا۔ اس کے بعد قادیانیوں نے علی الاعلان کوئی جلسہ نہیں کیا۔ البتہ اپنے مرکز میں وہ جمع ہو کر کھیلوں کے مقابلے کراتے رہے۔ قادیانیوں نے اخبارات میں مختلف قسم کے مراسلے شائع کرائے جن کا جواب ہم نے اخبارات میں شائع کیا۔ بہرحال حالات سے بخوبی یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ برطانیہ کا مسلمان اتنا باخبر ہو گیا ہے کہ قادیانی وہاں اب پر پرزے نہیں نکال سکیں گے۔
سوال: مرزا طاہر کا اخبارات میں بیان چھپا کہ کانفرنس میں کرسیاں خالی تھیں۔ تعداد کم تھی؟ جواب: لندن کے اخبارات میں میرے قیام کے دوران خبر نہیں چھپی۔ خدا کرے کہ وہاں کے اخبارات میں خبر شائع ہو جائے تاکہ مسلمان اور مرزائیوں میں واضح ہو کہ مرزا طاہر جھوٹ بولنے میں کس طرح شرافت کا دامن چھوڑ دیتے ہیں۔ آپ سے میری درخواست ہے کہ یہ خبر لندن کے اخبارات میں ضرور شائع کرائیں تا کہ دوست، دشمن مرزا طاہر کی کذب بیانی کا مطالعہ کر سکیں۔ قادیانی جماعت نے یہ بیان یہاں کے اخبارات میں شائع کرایا ہے۔ ان کو برطانیہ کے اخبارات میں شائع کرانا چاہئے تا کہ وہاں کے لوگ ان کی کذب بیانی کے گواہ ہو سکیں۔
سوال: جنرل ضیاء الحق کا پیغام لندن کانفرنس کے کیا اثرات تھے؟ جواب: جب ہمارے سفارت کار نے یہ بیان کانفرنس ہال میں پڑھ کر سنایا تو ہال جنرل ضیاء الحق اور پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا۔ اس بیان سے پاکستان کے وقار میں اضافہ ہوا اور پوری اسلامی دنیا کے نمائندگان نے اس کی تحسین کی۔
سوال: برطانیہ میں قادیانی جماعت کی تعداد واثر ونفوذ کیا ہے؟ جواب: برطانیہ کے اخبارات میں قادیانی جماعت کے ایک ترجمان کا بیان شائع ہوا کہ ہماری برطانیہ میں تعداد دس ہزار ہے۔ یہ تعداد بجائے خود مبالغہ آمیزی پر مشتمل اور محل نظر ہے۔ تاہم اگر اسے صحیح تسلیم کر لیا جائے تو بھی برطانیہ میں ایشیائی وعرب مسلمانوں کی تعداد تیس لاکھ ہے۔ صرف بریڈفورڈ میں مسلمان سوا لاکھ ہیں۔ چنانچہ بریڈفورڈ کا میئر مسلمان ہے۔ اب تیس لاکھ کے مقابلہ میں دس ہزار کی کیا وقعت ہے۔ اس کا ہر آدمی اندازہ کر سکتا ہے۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سوال: برطانیہ میں ختم نبوت کے محاذ پر کام کرنے والوں کے لئے آپ کی کیا نئی تجاویز وعزائم ہیں؟
جواب: برطانیہ میں مستقل دفتر وقادیانیت کے ماہر مبلغ کی طرف فوری توجہ دی جارہی ہے۔ دفتر قائم ہوچکا ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ذاتی دفتر لندن میں خرید کرنے کی ہنگامی بنیادوں پر تیاری ہورہی ہے۔ تحفظ ختم نبوت کے نگران اعلیٰ مولانا محمد یوسف سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ مناسب جگہ دفتر کے لئے خریدیں۔ اسی طرح عربی چونکہ برطانیہ کی تمام یونیورسٹیوں میں کثرت سے عرب طلباء پڑھتے ہیں۔ انگلش اردو میں لٹریچر شائع ہونا شروع ہو گیا ہے۔ وہ لاکھوں کی تعداد میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان سے وہاں بھجوائے گی۔ مجلس پاکستان کا شائع ہونے والا رسالہ ہفت روزہ ختم نبوت کراچی جو ہزاروں کی تعداد میں برطانیہ بھجوایا جارہا ہے۔ علماء کرام کو مستقل بنیادوں پر تیاری کرانے کے لئے مزید تربیتی کلاسوں کا اہتمام کیا جائے گا۔ برطانیہ سے مستند وجید علماء کرام کو مجلس اپنے خرچے پر مرکز ملتان میں بلوا کر ردقادیانیت کورس کرائے گی۔ قادیانیت، ردقادیانیت پر مشتمل جملہ لٹریچر برطانیہ میں مجلس کی لائبریری میں مہیا کیا جائے گا۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ج ۲۲ ش ۳۵ ص ۵ تا ۷، مورخہ ۲۲؍نومبر ۱۹۸۵ء)
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام پہلی ختم نبوت کانفرنس لندن کی شاندار کامیابی کے بعد عالمی مجلس کے قائدین کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ڈینس سینٹر ویمبلے میں ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔
ڈینس سینٹر ویمبلے میں تحفظ ختم نبوت کانفرنس
مانچسٹر (نمائندہ ختم نبوت) مورخہ ۱۲؍اکتوبر ۱۹۸۵ء بروز اتوار مسلم ایجوکیشنل اینڈ کلچرل سوسائٹی ویمبلے کے زیر اہتمام تحفظ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں ویمبلے کے تعلیم یافتہ افراد نے شرکت کی۔ قرآن کریم کی تلاوت کے بعد حافظ محمد اقبال صاحب رنگونی نے قرآن وحدیث کی روشنی میں سنت کا مقام بتلایا۔ آپ کے بعد حضرت مولانا محمد موسیٰ صاحب قاسمی بولٹن نے اپنے خطاب میں عالمی ختم نبوت کانفرنس کی شاندار کامیابی پر خدا کا شکر کرتے ہوئے حضرات علماء کرام کی بے مثال قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ آپ کے بعد مناظر اسلام حضرت مولانا محمد یوسف صاحب رحمانی نے مسئلہ ختم نبوت کو قرآن وحدیث کی روشنی میں بیان کیا۔ آپ نے کہا کہ مسئلہ ختم نبوت اسلام کا ایک نہایت ہی اہم اور بنیادی رکن ہے اور مرزا قادیانی کی گمراہی کی ابتداء دراصل اس کے انکار سے ہونی شروع ہوئی اور اس مسئلہ میں اگر کسی نے تاویل کی راہ نکالی یا شکوک وشبہات پیدا کرنے کی کوشش کی تو اس کا اسلام سے کچھ بھی رشتہ نہ رہے گا۔ آخر میں ویمبلے کالج کے ایک پروفیسر صاحب کی خواہش پر حافظ محمد اقبال صاحب رنگونی نے مرزا قادیانی کے تین دور سے متعلق تفصیلات بیان کیں اور نزول مسیح کا عقیدہ قرآن وسنت کی روشنی میں بتلایا۔ آپ نے کہا کہ قادیانی جب مسلمانوں کی نئی نسل کو ان کے دام تزویر وتلبیس کا شکار ہوتے نہیں دیکھتے تو پھر ان نوجوان سے کہتے ہیں کہ جب تم حضور ﷺ کو خاتم النبیین مانتے ہو تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد کے قائل کیوں ہو؟ ان کی اس چال سے اسلامی تعلیمات سے ناآشنا نوجوان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ چنانچہ حافظ صاحب موصوف نے اس مسئلے پر مختصر اور جامع خطاب کیا اور مرزا غلام قادیانی کی تاویلات باطلہ اور مزعومات فاسدہ کا پردہ چاک کیا۔ حاضرین جلسہ مرزا قادیانی کی مضحکہ خیز تاویلات سن کر ششدر رہ گئے اور کہنے لگے کہ ایسا شخص تو پاگل یا مراقی لگتا ہے۔ اجلاس حضرت مولانا قاری محمد بلال صاحب مظاہری مدظلہ خلیفہ حضرت اقدس شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب مہاجر مدنی کی دعا پر برخاست ہوا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۴ ش ۲۶ ص ۸، ۹، مورخہ ۱۳ تا ۱۹؍دسمبر ۱۹۸۵ء)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا اللہ وسایا کے اعزاز میں استقبالیہ
برطانیہ کے کامیاب دورے سے واپسی پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بہاول پور کے منتظمین نے حضرت مولانا اللہ وسایا کے اعزاز میں ایک شاندار استقبالیہ دیا۔ جس میں علماء کرام، طلباء عظام، وکلاء، پروفیسرز، ڈاکٹر، انجمن تاجران کے عہدیداران نے شرکت کی۔ استقبالئے میں قاری محمد سالم قاسمی فرزند ارجمند حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب نے بھی شرکت کی۔ انہوں نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی خدمت کے حوالے سے کئے گئے خدمات کا اعتراف کیا اور مولانا اللہ وسایا صاحب کو خراج عقیدت پیش کیا۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی مبلغ ختم نبوت بہاول پور نے مولانا اللہ وسایا صاحب کی خدمت میں سپاسنامہ پیش کیا۔
مولانا اللہ وسایا صاحب کا بیان
تقریب کے آخر میں حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب نے مختصر خطاب بھی کیا۔ اجمالاً ملاحظہ ہو:
مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے عالمی مبلغ مولانا اللہ وسایا نے کہا کہ قادیانیت ایک ناسور ہے اور عالم اسلام کے خلاف استعماری طاقتوں کی آلہ کار اور ایجنٹ ہے۔ آج بھی اسرائیل کی فوج میں قادیانی نہ صرف بھرتی ہو کر عرب مسلمانوں کے سینے چھلنی کر رہے ہیں بلکہ اسرائیل میں قادیانی جماعت کے مراکز موجود ہیں۔ خدا نہ کرے اگر کسی وقت اسرائیلی جارحیت کا رخ پاکستان کی تنصیبات کی طرف ہو تو انہیں معلومات پہنچانے میں قادیانی پیش پیش ہوں گے۔ مولانا اللہ وسایا یہاں اپنے اعزاز میں دی گئی ایک استقبالیہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے جو مولانا کے دورہ برطانیہ سے واپسی پر مجلس تحفظ ختم نبوت بہاول پور کی طرف سے منعقد کی گئی۔ مولانا نے کہا کہ برطانیہ کے مسلمان قادیانیت کے فتنہ سے پوری طرح آگاہ ہو چکے ہیں۔ اب یورپ میں قادیانیت کا پرزور تعاقب شروع کر دیا گیا ہے۔ مولانا نے کہا کہ قادیانیت کا پوری دنیا میں تعاقب کیا جا رہا ہے۔ لٹریچر، نشر و اشاعت، دفاتر، تنظیم و تبلیغ کے ذریعہ ان کے اسلام و پاکستان دشمنی کا مؤثر جواب دیا جا رہا ہے۔ عنقریب امریکہ، کینیڈا، جزائر، فجی آئی لینڈ میں انٹرنیشنل سطح پر ختم نبوت کانفرنسوں کا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ذریعہ انتظام کیا جا رہا ہے۔ مولانا نے کہا کہ ہر فتنہ کی ایک طبعی عمر ہوتی ہے۔ قادیانیت اپنی طبعی عمر گزار کر اپنے منطقی انجام کو پہنچنے والی ہے۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ج ۲۲ ش ۳۹ ص ۱۸، مؤرخہ ۲۰؍ دسمبر ۱۹۸۵ء)
سالانہ ختم نبوت کانفرنس بہاول پور
۱۴؍ اگست ۱۹۸۵ء کو جامع مسجد الصادق بہاول پور میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی نے فرمائی۔ مولانا عبدالرحیم اشعر، مولانا قاضی عبداللطیف اختر، مولانا عبدالکریم ندیم، مولانا محمد عبداللہ خان، مولانا محمد احمد جالندھری، مولانا حبیب اللہ علی پوری، مولانا محمد اسحق ساقی اور دیگر حضرات نے خطاب فرمایا۔ محمد اسحق شجاع آبادی، مخمور احمد عصر نے نعتیہ کلام پیش کیا۔ سٹیج سیکرٹری مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی تھے۔
ختم نبوت کانفرنس ڈیرہ اسماعیل خان
اگست ۱۹۸۵ء میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ سٹیج سیکرٹری قاری محمد نواز فاروقی تھے۔ تلاوت حضرت مولانا قاری فیاض الرحمن علوی نے فرمائی۔ کانفرنس سے قاری محمد علی جان جنوبی وزیرستان، صاحبزادہ طارق محمود فیصل آباد،
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا غلام محمد ٹانک، مولانا نور الحق نور پشاور، مولانا عزیز الرحمن جالندھری، احمد ندیم نشتر سیکرٹری جمعیتہ طلباء اسلام نے خطاب فرمایا۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد، مورخہ ۱۳؍ستمبر ۱۹۸۵ء)
وادیٔ سون جابہ میں ۲۹؍ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس
۳،۴؍ستمبر ۱۹۸۵ء جابہ ضلع خوشاب میں ۲۹؍ویں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ہوئی۔ کانفرنس کا افتتاح مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ رہنما سید ممتاز الحسن صاحب نے کیا۔ آپ نے فرمایا کہ مسئلہ ختم نبوت دین کا اہم مسئلہ ہے۔ اس کے لئے ہر دور میں قربانیاں دی گئیں۔ آپ نے جماعت کے اکابرین سید عطاء اللہ شاہ بخاری، قاضی احسان احمد، مولانا محمد علی، مولانا لال حسین، مولانا محمد حیات، مولانا محمد شریف جالندھری کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔ دوسری نشست سے مولانا احمد یار چاریاری صاحب نے سیرۃ النبی ﷺ کے موضوع پر مفصل خطاب کیا اور جماعت کے کام پر روشنی ڈالی۔ آخری اجلاس میں خطیب ربوہ مولانا خدا بخش صاحب نے خطاب کیا۔ آپ نے مسئلہ ختم نبوت اور حیات عیسیٰ علیہ السلام کے عنوان پر مفصل بیان کیا اور ربوہ میں جماعت کی کارکردگی سے عوام کو آگاہ کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ امتناع قادیانیت آرڈیننس پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بعض مقامات پر قادیانی اس کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ اس کا فوری نوٹس لیا جائے۔ انہوں نے ظفر اللہ خان کی موت پر صدر، وزیر اعظم، گورنر پنجاب، وزیر اعلیٰ پنجاب کے تعزیتی بیان اور دعائیہ کلمات پر سخت احتجاج کیا کہ حکومت نے ایک مرتد کی موت پر ایسا بیان دے کر نہ صرف کروڑ ہا مسلمانوں کی دل آزاری کی ہے بلکہ اپنے نافذ کردہ آرڈیننس کو بھی پس پشت ڈال دیا ہے۔ کانفرنس سے قاضی محمد رضا آف نلی، قاضی عبد المالک جھاوریاں، قاضی محمد سعید عثمانی، حافظ عبدالرحمن آف تلہ گنگ نے بھی خطاب کیا۔ آخر میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا خدا بخش نے دعا کرائی اور کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ج ۲۲ نمبر ۲۶ ص ۱۵، ۱۶، مورخہ ۲۰؍ستمبر ۱۹۸۵ء)
چوتھی سالانہ کل پاکستان ختم نبوت کانفرنس چناب نگر (ربوہ)
۲۴، ۲۵؍ اکتوبر ۱۹۸۵ء بروز جمعرات و جمعہ چوتھی سالانہ کل پاکستان ختم نبوت کانفرنس چناب نگر میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز مولانا محمد اسماعیل کی تلاوت سے ہوا۔ جمعرات قبل از دوپہر پہلے اجلاس کی صدارت جناب الحاج بلند اختر نظامی نے کی۔ کانفرنس کا افتتاح مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے کیا۔ ان کے بعد حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر نے خطاب فرمایا۔ کانفرنس کے کل چھ اجلاس منعقد ہوئے۔ کانفرنس کے خطباء کی فہرست پر نظر دوڑائیں۔ حضرت مولانا خواجہ خان محمد، حضرت مولانا فضل الرحمن، جناب محمد اسلم کچھیلہ ایم۔ این۔ اے، مولانا عبدالقادر روپڑی، مولانا عبدالقادر آزاد، مولانا عبدالرحمن جامعہ اشرفیہ، مولانا محمد لقمان علی پوری، جناب ریاض الحسن گیلانی ایڈووکیٹ، مولانا منظور احمد چنیوٹی ایم۔ پی۔ اے، مولانا اللہ وسایا، مولانا صاحبزادہ سید افتخار الحسن گیلانی، مولانا علی غضنفر کراروی، جناب آغا مرتضیٰ پویا، مولانا غلام مصطفیٰ رضوی، مولانا محمد یوسف انور، مولانا طفیل احمد ضیاء، مولانا محمد حسین چنیوٹی، مولانا محمد اشرف ہمدانی، مولانا امیر حسین گیلانی، ڈاکٹر حافظ محمد اسلم، جناب عبدالرحمن یعقوب باوا، جناب میاں فضل حق لاہور، ملک رب نواز چنیوٹ، مولانا عبد المالک منصورہ لاہور، مولانا زاہد الراشدی، حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی، سید محمد کفیل بخاری، مولانا فضل الرحمن احرار سلانوالی، مولانا امداد الحسن نعمانی، قاری سعید الرحمن راولپنڈی، مولانا عبد الوارث چنیوٹ، مولانا قاضی اللہ یار خان، مولانا احمد
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میاں حمادی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، صاحبزادہ طارق محمود، مولانا محمد عبداللہ اسلام آباد، مولانا نورالحق نور۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ج ۲۲ ش ۳۲، مورخہ یکم؍نومبر ۱۹۸۵ء)
کانفرنس کی عمومی رپورٹ
ربوہ کے گردونواح پورے ضلع جھنگ کے مبلغین حضرات نے مسلسل دورے کئے اور لوگوں کو کانفرنس میں شرکت کا پیغام پہنچایا۔ ربوہ میں کانفرنس سے ایک دن پہلے ہی سے آمد شروع ہو گئی تھی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ربوہ نے اس سال لوگوں کے قیام طعام کے لئے بہترین انتظامات کئے تھے۔ جامع مسجد سے متصل خالی پلاٹ پر خیمے نصب کرائے تھے۔ مسجد کے باہر ٹی سٹال کا اچھا انتظام تھا اور عارضی دواخانہ بھی قائم کیا گیا تھا۔ کانفرنس میں امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضرت مولانا خان محمد صاحب دامت برکاتہم ایک دن پہلے ہی تشریف لائے تھے۔ کانفرنس کا افتتاح مناظر اسلام حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر نے کیا۔ اس دو روزہ کانفرنس میں مجلس کے رہنماؤں مبلغین کے علاوہ دیوبندی، بریلوی، شیعہ، اہل حدیث مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء نے بھی خطاب کرتے ہوئے اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔
۲۵؍اکتوبر کو کانفرنس کے دوران ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ باہر چند مسلمان جو قادیانی عبادت گاہ کے قریب سے گزر رہے تھے قادیانیوں نے اپنی عبادت گاہ کی چھت پر سے پتھراؤ شروع کر دیا اور فائرنگ بھی کی۔ جس سے تین چار مسلمان زخمی ہو گئے۔ انتظامیہ کے افسران بھی موقع پر پہنچ گئے۔ قادیانیوں کی یہ کاروائی جلسے کو ناکام کرنے کی ایک سازش تھی۔ بہر حال یہ کانفرنس کامیاب ترین کانفرنس تھی جو آخری رات دو بجے تک جاری رہی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۴ ش ۲۳ ص ۱۹، مورخہ ۲۲؍نومبر ۱۹۸۵ء)
فائرنگ کیس کے ملزموں کی ضمانت لینے اور درج مقدمہ میں ردوبدل کرنے کی تحقیقات کا مطالبہ
فیصل آباد (نمائندہ خصوصی) مجلس تحفظ ختم نبوت فیصل آباد کے سیکرٹری اطلاعات مولوی فقیر محمد نے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں نواز شریف اور آئی۔ جی پنجاب حافظ صباح الدین جامی سے مطالبہ کیا ہے کہ ۲۵؍اکتوبر ۱۹۸۵ء کو ربوہ مسلم کالونی میں کل پاکستان ختم نبوت کانفرنس کے موقعہ پر قادیانیوں کی طرف سے مسلمان پر فائرنگ اور پتھراؤ کرنے پر درج شدہ مقدمہ کی دفعات ۳۰۷ کو تبدیل کر کے ملزمان کو رعایت دے کر ضمانتیں لینے کے واقعہ کی فوری تحقیقات کرائی جائے اور ایس۔ ایچ۔ او تھانہ ربوہ اور آر۔ ایم ربوہ کو بلا تاخیر وہاں سے تبدیل کیا جائے۔ ۱۲؍ربیع الاوّل کو مسلمانوں کی طرف سے ربوہ میں میلادالنبی ﷺ کے جلوس پر قادیانیوں کے متوقع حملہ کی روک تھام کے لئے قادیان بھارت سے آئے ہوئے مرزائی عبدالقدیر کا ویزا منسوخ کر کے واپس بھیجا جائے۔ انہوں نے کہا اس دفعہ مرزائیوں نے ۲۴، ۲۵؍اکتوبر کو منعقدہ ختم نبوت کانفرنس ربوہ پر حملہ کا پروگرام بنایا تھا۔ جس کے پیش نظر ملحقہ عبادت گاہ بیت الحمد میں قادیانیوں نے اسلحہ اور پتھر جمع کر رکھے تھے۔ ۲۴؍اکتوبر کا دن خیریت سے گزر گیا اور ۲۵؍اکتوبر کو قادیانیوں نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مسلمانوں پر پتھراؤ اور فائرنگ کی جس پر مسلمانوں میں اشتعال پھیل گیا اور اکابرین جلسہ نے مجمع کو کنٹرول کئے رکھا۔ کانفرنس میں اس واقعہ کی شدید مذمت کی گئی۔ بعد ازاں ایس۔ ایچ۔ او تھانہ ربوہ چوہدری ذوالفقار علی کی رپورٹ پر دفعہ ۳۰۷، ۱۴۸، ۱۴۹ پر پرچہ درج کیا گیا۔ جس کا نمبر ۲۱۹/۱۹۶ ہے۔ ایف۔ آئی۔ آر میں یہ بات درج ہے کہ قادیانی عبادت گاہ بیت الحمد سے ایک قادیانی نے مسلمان پر ریوالور سے تین فائر کئے جس پر پہلے آٹھ قادیانیوں کو گرفتار کیا گیا اور دو مجرموں کو بعد میں گرفتار کیا۔ مقام افسوس ہے کہ ایس۔ ایچ۔ او تھانہ ربوہ نے قادیانیوں
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے ساتھ ملی بھگت سے ایف آئی آر کی دفعہ ۳۰۷ کو تبدیل کر کے دفعہ ۳۲۶ کر دیا گیا اور تمام قادیانی مجرمان کو آر ایم ربوہ نے ضمانت پر رہا کر دیا۔ جس کی وجہ سے قادیانیوں کو آئندہ غنڈہ گردی کرنے کی شہ دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال میلاد النبی ﷺ کے موقعہ پر ربوہ میں مسلمان جلوس نکالتے ہیں۔ اس دفعہ مرزائیوں نے اس جلوس پر حملہ کا پروگرام بنایا ہے۔ قادیانی ربوہ میں کھلے عام قادیانی نوجوانوں کو غلیلیں اور شیشے کی گولیاں بھی تقسیم کی جا رہی ہیں اور قادیانی کھلے عام ربوہ میں ڈنڈے لئے پھرتے ہیں اور اسلحہ اکٹھا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قادیان بھارت کے لنگر خانہ کا انچارج مرزائی ان دنوں ربوہ آیا ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ایک اور قادیانی فتح محمد ہے۔ اس کی بیوی ۱۱؍ستمبر ۱۹۸۵ء کو پہلے ہی پہنچ چکی ہے۔ یہ مرزائی بھارتی جاسوس معلوم ہوتا ہے جو ربوہ میں گڑبڑ کرا کے ملک میں خون خرابہ کرانے کا پروگرام بنا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آر ایم ربوہ اور ایس ایچ او ربوہ کو فوراً تبدیل کیا جائے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۴ ش ۴۴ ص ۲۵، مورخہ ۲۹؍ نومبر تا ۵؍ دسمبر ۱۹۸۵ء)
ختم نبوت کانفرنس اٹک
۲۰؍ نومبر ۱۹۸۵ء بروز بدھ اٹک میں ضلعی ختم نبوت کانفرنس تھی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے سربراہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب ۱۱ بجے دن راولپنڈی بمقام ترنول تشریف لائے۔ آپ کے ہمراہ مانسہرہ مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما مولانا عبداللہ خالد اور حضرت کے خادم خاص جمیل صاحب تھے۔ آپ کے استقبال کے لئے مجلس تحفظ ختم نبوت اٹک کے رہنما جناب مولانا قریشی صاحب خطیب جامع مسجد مرکزی اٹک جناب فیصل صاحب، مولانا اللہ وسایا، مولانا عبدالرؤف، مولانا محمد اقبال ظفر صاحب پہلے موجود تھے۔ کاروں پر مشتمل یہ کارواں اٹک کے لئے روانہ ہوا۔ اٹک سے بیس کلو میٹر باہر شاہراہ پاکستان پر حضرت شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوری کے خلیفہ مجاز اور مجلس تحفظ ختم نبوت اٹک کے سرپرست مولانا قاضی زاہد الحسینی، حضرت شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان مرحوم کے مدرسہ اشاعت اسلام کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد صدیق، مجلس اٹک کے رہنما مرزا عزیز بیگ، جناب عابد حسین صدیقی کی قیادت میں اٹک ضلع کے علماء، مشائخ، طلباء اور عوام نے حضرت الامیر کا استقبال کیا۔ بیسیوں کاریں، سکوٹر، ویگنوں پر مشتمل یہ جلوس اٹک شہر کے لئے روانہ ہوا۔ سب سے پہلے مجاہدین ختم نبوت نوجوان طلباء سکوٹروں پر سوار ایک دستہ تھا۔ ان کے پیچھے ویگن پر نصب شدہ سپیکر پر طلباء کی جماعت تھی۔ ان کے پیچھے حضرت الامیر کی کار اور پچھلے میل، ڈیڑھ میل پر پھیلا ہوا لمبا جلوس، پورے راستہ میں نعرے لگاتا ہوا جب روانہ ہوا تو جگہ جگہ عوام دورویہ استقبال کے لئے موجود تھے۔ شہر کے اہم بازاروں سے گزرتا ہوا یہ جلوس ظہر کے بعد جامعہ مدنیہ اٹک میں اختتام پذیر ہوا جس وقت جلوس شہر کے اہم راستوں سے گزر رہا تھا تو ایسا سماں تھا جس سے تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء، ۱۹۷۴ء، ۱۹۷۷ء کی تحریک کی یادیں تازہ ہو گئیں اور پورا ضلع تحریک ختم نبوت کے لئے شعلہ جوالا بن گیا۔ عصر کے بعد حضرت الامیر نے مولانا قاضی زاہد الحسینی کے نئے مدرسہ، جامع مسجد ختم نبوت، مدرسہ اشاعت اسلام اور مولانا غلام اللہ خان مرحوم کی قبر پر حاضری دی۔
عشاء کی نماز کے بعد جامع مسجد مرکزی میں جلسہ شروع ہوا۔ عوام کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا۔ مولانا محمد صدیق سٹیج سیکرٹری تھے۔ ضلع کے علماء، ٹیکسلا کے خطیب اور سرحد مجلس کے ناظم اعلیٰ مولانا نور الحق، مولانا عبدالرؤف مبلغ اسلام آباد نے خطاب فرمایا۔ تلاوت ملک عزیز کے معروف قاری فیاض احمد پشاوری نے کی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے مبلغ مولانا اللہ وسایا نے اپنے پونے دو گھنٹے کے خطاب میں مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت اور شہدائے ختم نبوت کو خراج تحسین پیش کیا۔ قادیانیت کی بڑھتی ہوئی جارحانہ سرگرمیوں اور حکومت کے امتناع
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانیت آرڈینینس کی مسلسل خلاف ورزی کی افسوس ناک صورتحال پر اظہار خیال کیا۔ مولانا محمد صدیق نے قراردادیں پیش کی۔ مولانا منظور احمد چنیوٹی نے ایمان افروز خطاب کیا۔ رات کے ایک بجے حضرت الامیر مولانا خواجہ خان محمد صاحب کی دعا پر اجلاس اختتام پذیر ہوا۔ مولانا قاضی زاہد الحسینی کی بصیرت افروز تقریر اور مولانا اللہ وسایا کے مجاہدانہ خطاب نے کانفرنس میں آنے والے ضلع بھر کے علماء وعوام میں ایک نیا جوش و ولولہ پیدا کر دیا۔ اس کانفرنس سے پورا ضلع جاگ اٹھا۔ حضرت مولانا قاضی احسان الحق صاحب مولانا غلام اللہ خان مرحوم کے جانشین اس کانفرنس میں شرکت کے لئے بطور خاص راولپنڈی سے تشریف لائے تھے۔ آپ کی مجاہدانہ للکار نے مولانا غلام اللہ خان مرحوم کی یاد تازہ کر دی۔
(ہفت روزہ لولاک ج ۲۲ ش ۳۸ ص ۱۴، مؤرخہ ۱۳؍ دسمبر ۱۹۸۵ء)
اسلام آباد میں استقبالیہ و ختم نبوت کانفرنس
۲۱؍ نومبر ۱۹۸۵ء کو عصر کے بعد مولانا قاری احسان الحق کی جامع مسجد میں حضرت الامیر مولانا خواجہ خان محمد صاحب کی خدمت میں ایک استقبالیہ کا اہتمام کیا گیا تھا۔ راولپنڈی، اسلام آباد کے علماء وخواص نے بھاری تعداد میں شرکت کی منتظمین کی طرف سے استقبالیہ پڑھا گیا۔ جس میں حضرت الامیر کی اندرون و بیرون ملک تحریک ختم نبوت کی کامیاب قیادت کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ حضرت الامیر مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کی طرف سے مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے مبلغ مولانا اللہ وسایا نے استقبالیہ میں جوابی تقریر کی۔ جس میں انہوں نے مجلس اور تحریک ختم نبوت کے کارناموں اور قادیانیوں کی پسپائی پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ حضرت الامیر کی دعا کے بعد شرکاء کی مشروبات سے تواضع کی گئی۔ مغرب کے بعد جلسہ شروع ہوا۔ حضرت الامیر کی صدارت میں مقامی علماء، خطباء راولپنڈی مجلس حقوق اہل سنت کے روح رواں جناب اکرم زاہد، مجلس تحفظ ختم نبوت راولپنڈی کے مبلغ مولانا محمد اقبال ظفر اور بلوچستان سے سینٹ آف پاکستان کے سینیٹر جناب جوگیزئی نے سیرت النبی ﷺ کے مقدس عنوان پر فاضلانہ خطاب کئے۔ جہاں یہ جلسہ تھا۔ اس مسجد کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے قریب ہی قادیانیوں کا خود ساختہ دارالخلافت ہے۔ درمیان میں صرف سڑک کا فرق ہے۔ آج سے چند سال پہلے اسی مسجد میں جلسہ عام تھا۔ حضرت الامیر دامت برکاتہم کی صدارت میں مولانا عبدالشکور دین پوری، سید امین گیلانی اور مولانا اللہ وسایا نے فاضلانہ خطاب کیا۔ حضرت الامیر دامت برکاتہم کی صدارت میں ہونے والی کانفرنس نے اسلام آباد کے عوام کو تحریک ختم نبوت میں کام کرنے کے لئے ایک نیا جذبہ عطاء کیا رات گئے حضرت امیر مرکزیہ کی ایمان پرور دعا پر یہ کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔ سٹیج سیکرٹری مولانا عبدالرؤف مبلغ اسلام آباد تھے۔
(ہفت روزہ لولاک ج ۲۲ ش ۳۸ ص ۱۵، مؤرخہ ۱۳؍ دسمبر ۱۹۸۵ء)
راولپنڈی و کہوٹہ میں خطبات جمعہ
۲۲؍ نومبر ۱۹۸۵ء کا جمعہ حضرت الامیر نے مولانا قاری محمد امین کے مدرسہ ورکشاپی محلہ میں پڑھا۔ اس موقعہ پر نیشنل اسمبلی کے ممبر جناب شیخ رشید نے خطاب کرتے ہوئے تحریک ختم نبوت میں تن من دھن قربان کرنے کا حضرت الامیر سے عہد کیا۔ جامع مسجد کہوٹہ ضلع راولپنڈی میں جمعہ کے ہزاروں کے قابل دید اجتماع سے مولانا اللہ وسایا نے معلومات افزاء خطاب کیا۔ حافظ حسین احمد نے نعت خوانی کی۔ بعد میں مولانا اللہ وسایا کے اعزاز میں ظہرانہ کا اہتمام کیا گیا تھا۔ جس میں علماء عوام وخواص نے شرکت کی۔
(ہفت روزہ لولاک ج ۲۲ ش ۳۸ ص ۱۵، مؤرخہ ۱۳؍ دسمبر ۱۹۸۵ء)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ساہیوال میں ختم نبوت کانفرنس
۲۷؍ نومبر ۱۹۸۵ء بروز بدھ کو حضرت امیر مرکزیہ مولانا خان محمد صاحب صاحبزادہ محمد عابد اور مجلس کے مبلغ مولانا اللہ وسایا ساہیوال تشریف لائے۔ ظہر کی نماز کے بعد جامعہ علوم شرعیہ جی ٹی روڈ ساہیوال میں مولانا علامہ غلام رسول کی درخواست پر حضرت امیر مرکزیہ کی صدارت درس قرآن کی تقریب منعقد ہوئی۔ معروف قاری عالمگیر صاحب رحیمی نے تلاوت کی، ابتدائی کلمات جامعہ علوم شرعیہ ساہیوال کے روح رواں علامہ غلام رسول نے ارشاد فرمائے۔ گھنٹہ بھر مولانا اللہ وسایا نے مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت پر درس قرآن دیا۔ اس تقریب میں جامعہ کے تمام مدرسین و طلباء کے علاوہ شہریوں نے بھی بھاری تعداد میں شرکت کی۔ عصر کے بعد حضرت امیر مرکزیہ نے جامع مدنیہ ای بلاک فرید ٹاؤن ساہیوال میں مجلس تحفظ ختم نبوت ساہیوال کے دفتر کا افتتاح فرمایا۔ مغرب کے بعد جامعہ علوم شرعیہ کی ایک شاخ تحفیظ القرآن میں حضرت امیر مرکزیہ نے مدرسہ کے حفظ مکمل کرنے والے طالب علم کو قرآن مجید کی آخری سورتیں پڑھائیں اور دعا فرمائی۔
رات کو ساہیوال فرید ٹاؤن میں جلسہ عام منعقد ہوا۔ ضلع بھر سے تشریف لائے ہوئے عوام و علماء سمیت مقامی شہریوں کی بھاری تعداد نے شرکت کی۔ جامعہ اشرفیہ لاہور کے شیخ الحدیث مولانا صاحبزادہ عبدالرحمن اشرفی صاحب اور مجلس کے مبلغ مولانا اللہ وسایا نے خطاب کیا۔ ۲۸؍ نومبر کو حضرت امیر مرکزیہ نے کمالیہ کے ایک مدرسہ کی تقریب میں شرکت کی۔ جب کہ مولانا اللہ وسایا نے ریلوے کالونی فیصل آباد کے ایک جلسہ میں شرکت کی۔ جس میں مولانا اللہ وسایا کے علاوہ صاحبزادہ طارق محمود، ڈاکٹر قاری صولت نواز، مولانا صابر سرہندی، مولانا منیب الرحمن، مولانا ادریس ہزاروی اور کونسلر غازی عبدالجبار نے خطاب کیا۔
(ہفت روزہ لولاک ج ۲۲ ش ۳۸ ص ۱۶، مورخہ ۱۳؍ دسمبر ۱۹۸۵ء)
ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ختم نبوت کانفرنس
۲۹؍ نومبر ۱۹۸۵ء بروز جمعتہ المبارک ٹوبہ ٹیک سنگھ کی مختلف مساجد میں جمعہ کے اجتماعات سے مولانا عبدالرحیم اشعر، مولانا خدا بخش، مولانا محمد اسماعیل، مولانا سید ممتاز الحسن شاہ مبلغین ختم نبوت نے خطاب کیا۔ مجلس کے مرکزی ناظم و مبلغ مولانا عبدالرحیم اشعر نے ٹوبہ ٹیک سنگھ کی غلہ منڈی کی جامع مسجد میں خطاب فرمایا۔ حضرت امیر مرکزیہ نے جمعہ کی نماز کی امامت فرمائی۔ رات کو جلسہ عام منعقد ہوا جس سے مجلس کے مبلغین مولانا اللہ وسایا، مولانا خدا بخش، مولانا محمد اسماعیل، مولانا ممتاز الحسن شاہ، علاوہ ازیں مولانا حبیب اللہ ساہیوال، چوہدری عبدالمتین ایڈووکیٹ، مولانا منظور احمد چنیوٹی نے خطاب کیا۔ ملک عزیز کے معروف شاعر ختم نبوت سید امین گیلانی نے جمعہ سے پہلے اور رات کے اجلاس میں اپنی ایمان پرور نظموں سے کانفرنس کو رونق بخشی۔ کانفرنس حاضری کے اعتبار سے بھرپور کامیاب ہوئی۔ ضلع بھر سے عوام بسوں، ٹرالیوں کے ذریعہ وفود کی شکل میں شرکت کر کے کانفرنس کی رونق کو دوبالا کیا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت ٹوبہ ٹیک سنگھ کے روح رواں مولانا محمد عبداللہ لدھیانوی نے قراردادیں پیش کیں جو نعروں کی گونج میں بالاتفاق پاس ہوئیں۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ج ۲۲ ش ۳۸ ص ۱۶، مورخہ ۱۳؍ دسمبر ۱۹۸۵ء)
مردان ختم نبوت کانفرنس
مردان کے مسلمانوں میں مذہبی شعور نہایت تیزی سے بڑھا اور نہایت تھوڑے وقت میں علاقائی اور ضلعی سطح پر کئی کانفرنسیں انعقاد پذیر ہوئیں۔ نومبر ۱۹۸۵ء کو نوجوان عالم دین حافظ حسین احمد صاحب مہتمم مدرسہ حفظ و تجوید القرآن نے بکٹ گنج بازار میں ایک عظیم الشان
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جلسہ ختم نبوت کا اہتمام کیا ۔ جس کے لئے سارے بازار کو دلہن کی طرح سجایا گیا اور جگہ جگہ ختم نبوت کی حفاظت کے نعروں پر مشتمل کتبے لگائے گئے ۔ استقبالیہ دروازے بنائے گئے ۔ جلسہ میں پنجاب اسمبلی کے رکن مولانا منظور احمد چنیوٹی ، عالمی مجلس صوبہ سرحد کے ناظم اعلیٰ مولانا نور الحق نور ، مولانا سعید اللہ جان خطیب پارہوتی مردان ، مولانا قاری معین الدین صاحب رستم ، مولانا مدار اللہ ڈسٹرکٹ خطیب مردان کے علاوہ مقامی علماء کرام اور معززین نے کثیر تعداد میں شرکت کی ۔
دوسرا جلسہ ایک ہفتہ بعد بکٹ گنج میں مینار والی مسجد میں منعقد ہوا ۔ جس حلقہ بکٹ گنج کے امیر ختم نبوت مولانا محمد یونس ، الحاج یعقوب خان ممبر قومی اسمبلی اور دیگر معززین نے تقریریں کیں ۔
ختم نبوت کانفرنس ننکانہ
ساتویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس جامع مسجد غوثیہ دسمبر ۱۹۸۵ء میں منعقد ہوئی ۔ اس موقعہ پر جناب محمد متین خالد سٹیج سیکرٹری تھے ۔ گولڈ میڈل انعامی تحریری مقابلہ کے نتائج کا بھی اعلان کیا گیا ۔ مولانا عبد الہادی ، مولانا عبد اللطیف انور نے کانفرنس سے خطاب فرمایا ۔
شاہی مسجد میں یک روزہ تینتیسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ
دریائے چناب کے قریب واقع تاریخی شہر چنیوٹ میں ہر سال ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوتی ہے ۔ قادیانی فتنہ کے خلاف محاسبہ کے سلسلہ میں چنیوٹ کو وہی حیثیت حاصل ہے جو قیام پاکستان سے قبل قادیان کے پاس بٹالہ کو حاصل تھی ۔ اہل چنیوٹ نے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور قادیانی فتنہ کے خلاف جہاد میں ہمیشہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس شہر میں گزشتہ ۳۳ برس سے تواتر کے ساتھ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہو رہی ہے ۔ جس کے پلیٹ فارم پر مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء ، زعماء اور رہنما شرکت کرتے ہیں ۔ اتحاد بین المسلمین اور اسلامی بھائی چارہ کے شاندار اور ایمان پرور مناظر یہاں دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ آقائے نامدار جناب محمد مصطفیٰ ﷺ کی ختم نبوت کا اعجاز ہے کہ کفر کے مقابلہ میں شیعہ ، سنی ، دیوبندی ، بریلوی ، اہل حدیث ، ختم نبوت کے اسٹیج پر اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر باہمی محبت اور خلوص کے انمٹ نقوش مسلمانوں کے دلوں پر چھوڑتے ہیں ۔
ختم نبوت کانفرنس جو پبلک پارک میں منعقد ہوا کرتی تھی ۔ گزشتہ دو برس سے اجازت نہ ملنے کی بناء پر شاہی مسجد چنیوٹ میں منعقد ہو رہی ہے ۔ عوامی حلقوں نے حکومت اور انتظامیہ کے اس اقدام پر سخت احتجاج کیا ہے کہ ختم نبوت کانفرنس اکابرین ملت کی یادگار ہے ۔ وہی پبلک پارک جہاں کبھی بخاری خطابت کے موتی رولتا تھا ۔ آج بھی کانوں میں گونجتے ہیں بخاری کے زمزمے ۔ امیر شریعت کی تصویر قاضی احسان احمد شجاع آبادی ، مولانا لال حسین اختر ، مولانا محمد علی جالندھری ، مولانا تاج محمود ، مولانا محمد شریف جالندھری ، آغا شورش کاشمیری ، مولانا مفتی محمود ، جناب مظفر علی شمسی کے علاوہ بیسیوں زعمائے ملت یہاں مسلمانان پاکستان کے قلوب کو تڑپاتے اور گرماتے رہے ۔ چنیوٹ کے عوام اپنے اس احتجاج پر حق بجانب ہیں ۔ اس میں شک نہیں کہ حکومت نے قادیانیوں کے سالانہ اجتماع پر پابندی عائد کر کے ایک تاریخی کارنامہ سرانجام دیا ہے، لیکن اس پابندی کا یہ مطلب تو نہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ بھی وہی سلوک روا رکھا جائے ۔ ۲۷؍ دسمبر بروز جمعتہ المبارک یک روزہ ختم نبوت کانفرنس شاہی مسجد چنیوٹ میں منعقد ہوئی ۔ اس کانفرنس کا پروگرام اگرچہ مختصر تھا مگر اس قدر جامع اور پرتاثیر تھا کہ سامعین نے تین روز کا ذہنی زاد راہ ایک روز میں سمیٹ لیا ۔ صبح کا اجلاس تلاوت کلام پاک سے شروع ہوا ۔ طارق حفیظ جالندھری کی نعت کے بعد مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ ، مولانا محمد علی جالندھری کے خلف الرشید مولانا
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب وتحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا
عزیز الرحمن جالندھری نے دلکش انداز میں خطاب فرمایا۔ مولانا نے عقیدۂ ختم نبوت کی عظمت اور مسلمانوں کی ذمہ داریوں پر فکر انگیز بیان فرمایا۔ انہوں نے کہا کہ خدا تعالیٰ کے کروڑوں احسان ہیں کہ کبھی قادیانی فتنہ کے خلاف بات کرنا قابل تعزیر جرم تھا لیکن آج قادیانیت ایک گالی بن چکی ہے۔ یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ قادیانی فتنہ انگریزی سامراج کا پیدا کردہ تھا اور اس نے اپنے اقتدار میں مکمل طور پر اس فتنہ کو پھلنے پھولنے میں مدد دی۔ مولانا جالندھری نے شہدائے ختم نبوت کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے اپنے خون جگر سے تحریک ختم نبوت کو ایک ولولہ تازہ دیا۔ اس مسئلہ پر ملنے والی کامیابیاں شہدائے ختم نبوت کے خون کا صدقہ ہیں۔
۳۳ ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ کا دوسرا اجلاس جماعت کے معمر رہنما مولانا احمد حسین شاکری کی صدارت میں منعقد ہوا۔ حافظ محمد شریف مچن آبادی نے نعت پیش کی۔ اس اجلاس کے آخری مقرر مولانا اللہ وسایا تھے۔ انہوں نے اپنے مجاہدانہ اور ولولہ انگیز خطاب میں اپنے دورہ برطانیہ کی رپورٹ پیش کی اور اعلان کیا کہ برطانیہ میں قادیانیوں کی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ انگلستان میں بھی قادیانیت اپنے انجام کو پہنچے گی۔ انہوں نے حضرت الامیر مولانا خان محمد دامت برکاتہم کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔ جن کی سر پرستی میں مجلس تحفظ ختم نبوت اب ایک عالمی جماعت بن چکی ہے۔ قادیانیت کا تعاقب پوری دنیا میں کیا جائے گا۔ مولانا اللہ وسایا نے اپنی مفصل تقریر میں قادیانی جماعت کے مذہبی عقائد کا کچا چٹھہ بھی بیان کیا۔
تیسرا اجلاس بعد نماز عشاء مجلس تحفظ ختم نبوت کے ڈویژنل امیر مولانا محمد اشرف ہمدانی کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں مولانا حافظ عبدالقادر روپڑی، جناب آغا مرتضیٰ پویا صاحب، مولانا علی غضنفر کراروی، مولانا محمد حسین چنیوٹی، صاحبزادہ طارق محمود، مولانا ضیاء الدین آزاد، مولانا منیب الرحمن، مولانا احمد یار چاریاری نے خطاب کیا۔ جب کہ نعت محمد شریف جامی نے پیش کی اور نظم کے ذریعہ صوفی حفیظ جالندھری نے سامعین کو گرمایا۔ ختم نبوت کے مبلغ مولانا احمد یار چاریاری نے کہا کہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنے تمام دعوؤں کے اندر جھوٹا نکلا۔ قادیانی مذہب کی بنیاد ہی جھوٹ پر رکھی گئی ہے۔ انہوں نے قادیانیوں کو دعوت فکر دی کہ وہ اپنے مذہب پر کھلے دل کے ساتھ غور کریں۔ اس جھوٹے اور پرفریب مذہب پر لعنت بھیج کر اسلام قبول کرلیں۔ مولانا ضیاء الدین آزاد نے پرجوش تقریر میں کہا کہ قادیانی نہ اسلام کے بلکہ پاکستان کے دشمن نمبر ۱ ہیں وہ تخریب کاری اور اشتعال انگیزی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ انہوں نے فیصل آباد کے گروپ ریلوے انسپکٹر کی طرف سے قرآن مجید کی ، کی گئی توہین پر زبردست احتجاج کیا۔ مولانا منیب الرحمن خلف الرشید مولانا انیس الرحمن لدھیانوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ قادیانیت کے دن گنے جا چکے ہیں۔ ان شاء اللہ ! اس فتنہ ضالہ کا قلع قمع ہو کر رہے گا۔ مولانا محمد حسین چنیوٹ خطیب بادشاہی مسجد نے اپنی تقریر میں اعلان کیا کہ مسئلہ ختم نبوت پر میری خدمات حاضر ہیں۔ شاہی مسجد چنیوٹ ان شاء اللہ! ختم نبوت کا قلعہ ثابت ہوگی۔ انہوں نے توہین قرآن کرنے والے قادیانی گروپ انسپکٹر کے خلاف سخت غم وغصے کا اظہار کیا اور کہا کہ اسلام کے نام پر حاصل کردہ ملک کے اندر توہین قرآن برداشت نہیں کی جاسکتی۔ اگر اس قادیانی افسر کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو حالات کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔
مولانا محمد اشرف ہمدانی نے جماعت کی پالیسی کی وضاحت کی اور کہا کہ ہماری جماعت غیر سیاسی تنظیم ہے۔ ہم صرف اور صرف عقیدہ ختم نبوت کے محافظ ہیں۔ ہم مدنی سرکار ﷺ کے دیوانے اور پروانے ہیں۔ ملک کے اندر مارشل لاء اٹھائے جانے کا غلغلہ ہے۔ یہ ان لوگوں کے لئے باعث مسرت ہوگا جن کو حق کہنے میں دقت محسوس ہوگی۔ مارشل لاء ہو یا غیر مارشل لاء ہم اعلائے کلمۃ الحق بلند کرنے پر
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آئیں تو اپنا فرض نبھا کر رہتے ہیں۔ مولانا ہمدانی نے کہا کہ گزشتہ دو برس سے ہم کو پبلک پارک میں کانفرنس کرنے کی اجازت نہیں مل رہی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم وہاں کانفرنس نہیں کر سکتے۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں اعلان کیا کہ ہم جب چاہیں اور جہاں چاہیں ختم نبوت کانفرنس منعقد کر سکتے ہیں۔
صاحبزادہ طارق محمود ایڈیٹر لولاک نے اپنے ولولہ انگیز خطاب میں کہا کہ قادیانیت دم توڑ رہی ہے۔ وہ وقت دور نہیں جب قادیانیت کے تابوت کو دریائے چناب میں پھینکا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا اسلم قریشی کیس میں حکومت کی سردمہری حکومت کو مہنگی پڑے گی۔ اسلم قریشی کا خون کبھی رائیگاں نہیں جائے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ضلع شیخوپورہ میں ہونے والے پولیس مقابلہ کی تحقیقات کرائی جائے کہ یہ مقابلہ کس کے حکم پر ہوا اور اس مقابلہ میں کیوں کر غلط منصوبہ بندی کی گئی؟ نیز اس بات کا کھوج بھی لگایا جائے کہ اس مقابلہ میں ضلع شیخوپورہ کی بجائے لاہور سے پولیس کیوں بھیجی گئی اور ایس۔ پی لاہور کو اس سلسلہ میں اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا؟ غلط منصوبہ کے نتیجہ میں پولیس کے تین ہونہار، بہادر اور فرض شناس آفیسران مارے گئے۔ اس کا ذمہ دار کون ہے؟ شیعہ عالم علامہ علی غضنفر کراروی نے دل نشین تقریر میں اعلان کیا کہ قادیانی فتنہ کی بیخ کنی اور عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے سلسلہ میں ہم پہلے مسلمان ہیں پھر شیعہ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قادیانیت کے خلاف سنت صدیق پر عمل کیا جائے۔ یہ اس مسئلے کا واحد حل ہے اور یہی وقت کا تقاضا ہے۔ علامہ کراروی نے پبلک پارک میں اجازت نہ دینے پر حکومت کے خلاف احتجاج کیا۔
جناب آغا مرتضیٰ پویا ایڈیٹر دی مسلم اسلام آباد نے اپنے خطاب میں قادیانی جماعت کے مکر و فریب کا پردہ چاک کیا۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی جماعت انگریزی سامراج کی یادگار ہے۔ یہ ایسی خطرناک پولیٹیکل جماعت ہے جو اپنے آقاؤں کے مخصوص مفادات کے لئے کام کرتی ہے۔ قادیانی جماعت کے ساتھ پاکستان کے اندر وہی سلوک ہونا چاہئے جو ایران میں بہائی جماعت کے ساتھ کیا گیا ہے۔ آغا مرتضیٰ پویا نے اس امر پر سخت افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان کے اندر بہائی تحریک منظم طور پر کام کر رہی ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ ان کی سرگرمیوں پر کڑی نگرانی رکھے۔ ورنہ یہ تحریک قادیانی تحریک کی طرح خطرناک ثابت ہوگی۔ اہل حدیث مکتب فکر کے مولانا حافظ عبد القادر روپڑی اجلاس کے آخری خطیب تھے۔ انہوں نے نہایت دردمندی سے مسلمانوں کے تمام مکتب فکر سے اپیل کی کہ وہ حضور ﷺ کی ختم المرسلینی کی خاطر اکٹھے ہو جائیں۔ ارتداد کے خلاف ہمارا اتحاد نہ صرف وقت کی اہم ضرورت ہے بلکہ ہمارے لئے وسیلۂ نجات بھی ہے۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد یعقوب برہانی نے ادا کئے اور قراردادیں مولانا اللہ وسایا نے پیش کیں۔ جنہیں اتفاق رائے اور تائید کے ساتھ منظور کیا گیا۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ج ۲۲ ش ۴۲ ص ۱۸، مورخہ ۱۰؍جنوری ۱۹۸۶ء)
شاہ کوٹ میں عظیم الشان جلسہ ختم نبوت
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت شاہ کوٹ کے زیر اہتمام ایک عظیم الشان جلسہ ختم نبوت مورخہ ۳۱؍دسمبر ۱۹۸۵ء بروز بدھ بعد نماز عشاء ایک بڑے ہال میں منعقد ہوا۔ جس کی صدارت مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا عبداللطیف انور نے کی اور مہمان خصوصی جناب مفتی قاری غلام مرتضیٰ صاحب تھے۔ جلسہ کا آغاز حافظ حبیب اللہ صاحب کی تلاوت سے ہوا۔ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے نوجوان شعلہ بیان مقرر جناب طارق صاحب نے کہا کہ مسئلہ ختم نبوت اتنا اہم اور پاکیزہ ہے کہ اس مسئلہ کی خاطر حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے بارہ سو صحابہ کرام ؓ کو شہید
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کرا دیا اور جن میں سات سو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حافظ قرآن تھے۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی صدارتی آرڈیننس کی خلاف ورزی کر کے مسلمانوں کی دل آزاری کر رہے ہیں اور کلمہ طیبہ کی توہین بھی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی اپنی ان حرکتوں سے باز آ جائیں ورنہ شاہ کوٹ کی گلیوں اور کوچوں میں ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
نو مسلم عبدالغفار صاحب نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ قادیانی مذہب جھوٹ کا پلندہ ہے۔ ہم پوری طرح سوچ سمجھ کر اس فتنہ پر لعنت ڈال کر امت محمدیہ میں شامل ہوئے ہیں۔ خادم ختم نبوت محمد متین خالد نے جلسہ ختم نبوت سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج مسلمانوں کے ذلیل ہونے کی واحد وجہ حضور ﷺ کے احکامات سے روگردانی ہے۔ آج بھی اگر امت مسلمہ نبی کریم ﷺ کی غلامی کا طوق اپنے گلوں میں ڈال لے تو : یہ جہاں چیز کیا ہے۔ لوح وقلم امت کے ہاتھ میں دے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ قادیانی حضور نبی کریم ﷺ کے سب سے بڑے گستاخ ہیں اور ابو جہل اور راجپال کے نمائندے اور چیلے ہیں۔ کاش! مسلمان متحد ہو جائیں اور اپنے تمام فروعی اختلافات کو بھلا کر اس فتنہ کی سرکوبی کریں۔ آخر میں مولانا عبداللطیف انور صاحب نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اب قادیانی فتنہ اپنے منطقی انجام کو پہنچنے والا ہے۔ جلسہ کا اختتام مولانا قاری مرتضیٰ کی دعا سے ہوا۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض جناب جاوید اقبال نے ادا کئے۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ج ۲۳ ش ۲۲ ص ۲۰ ، ۲۱ ، مورخہ ۲۳؍جنوری ۱۹۸۶ء)
وفیات ۱۹۸۵ء
حضرت مولانا عبدالعزیز رائے پوری
حضرت مولانا عبدالعزیز رائے پوری چک نمبر ۱۱ چیچہ وطنی والوں کا وصال ۳۰؍ اکتوبر ۱۹۸۴ء کو ہوا۔ کتاب تحریک ختم نبوت ۱۹۸۴ء میں ان کا تذکرہ آنا چاہئے تھا مگر نہ آسکا۔ چونکہ مولانا عبدالعزیز رائے پوری اپنے شیخ حضرت مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوری کے بعد ختم نبوت کے محاذ پر تکوینی طور پر سر پرست و مرشد اعلیٰ کا مقام رکھتے تھے۔ اس لئے ان کا ذکر خیر یہاں بہت ضروری تھا جو عرض کر دیا ہے۔ تفصیل سے آپ کا تذکرہ چمنستان ختم نبوت کے گلہائے رنگا رنگ کی جلد سوم ص ۱۲۰۸ تا ۱۲۱۱ پر موجود ہے۔ وہاں دیکھا جا سکتا ہے۔
مولانا محمد شریف جالندھری
مولانا محمد شریف جالندھری کا وصال ۱۴؍فروری ۱۹۸۵ء کو ملتان دفتر مرکزیہ میں ہوا۔ آپ ان خوش نصیب حضرات میں شامل تھے جن کا جنازہ مجلس کے دفتر سے اٹھایا گیا۔ مولانا محمد شریف جالندھری کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ مجلس تحفظ ختم نبوت کی جب بنیاد رکھی گئی تب اس کی ابتدائی کارروائی بھی آپ نے تحریر فرمائی اور تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء کی کامیابی پر مبارک بادی اور شکریہ کی قرارداد جو مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کی طرف سے منظور کی گئی وہ بھی آپ کی تحریر کردہ ہے۔ ۲۶؍ اپریل ۱۹۸۴ء کے امتناع قادیانیت آرڈیننس کے اجراء میں تو آپ کا بنیادی کردار تھا۔ آپ وہ فاتح بامراد جرنیل ہیں کہ جس محاذ پر اپنی کارروائی کا آغاز کیا اس محاذ کو فتح کر کے فاتح قرار پائے۔ زہے نصیب! وصال کے وقت آپ مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ تھے اور مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے آپ رابطہ سیکرٹری تھے۔ ان کے تفصیلی حالات تو چمنستان ختم نبوت کے گلہائے رنگا رنگ جلد اوّل ص ۲۳۲ تا ۲۴۳ پر ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔ البتہ آپ کی بیماری اور وصال کی چند تفصیلات ذکر کئے بغیر گزارہ نہیں ۔ جو یہ ہے :
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا محمد شریف جالندھری کی علالت و رحلت
۳۲ ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ میں ۲۶؍ تا ۲۸؍دسمبر ۱۹۸۴ء کو منعقد ہوئی۔ اس موقعہ پر حضرت مولانا محمد شریف جالندھری بیمار ہو گئے۔ ۲۹؍دسمبر ۱۹۸۴ء صبح کو جناب ڈاکٹر محمد صولت نواز صاحب آپ کو چنیوٹ سے فیصل آباد لائے اور ڈسٹرکٹ ہسپتال فیصل آباد میں داخل کرا دیا گیا۔ ۲۹؍دسمبر ۱۹۸۴ء سے ۵؍جنوری ۱۹۸۵ء تک آپ یہاں زیر علاج رہے۔ مولانا محمد ضیاء القاسمی، مولانا محمد اشرف ہمدانی، مولانا سید منظور احمد حجازی، مولانا محمد یعقوب چنیوٹی، مولانا نذیر احمد چنیوٹی، میجر مشتاق احمد ڈی آئی جی فیصل آباد، قاری محمد یوسف عثمانی گوجرانوالہ، حافظ ثاقب، جناب چوہدری متین، جناب امان اللہ قادری گوجرانوالہ سے عیادت کے لئے تشریف لائے۔ حافظ امیر سلطان، چوہدری محمد اقبال، صاحبزادہ طارق محمود، ڈاکٹر محمد اسلم، ڈاکٹر عبدالقیوم خان، ڈاکٹر صولت نواز نے اس دوران بہت خدمت کی۔
۵؍جنوری ۱۹۸۵ء کو آپ چناب ایکسپریس کے ذریعہ ملتان تشریف لائے۔ تغلق روڈ ملتان دفتر ختم نبوت کی بالائی منزل پر آپ کا قیام تھا۔ علاج چلتا رہا۔ یہاں پر ملاقات کے لئے حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب تشریف لائے۔ مولانا محمد شریف کی رحلت کے بعد ایک میٹنگ میں حضرت خواجہ صاحب نے فرمایا کہ عیادت کے موقعہ پر مولانا محمد شریف صاحب نے مجھے فرمایا کہ دل کی یہ تکلیف شاید سفر خلد آباد کا باعث بن جائے۔
مولانا محمد شریف جالندھری ۵؍جنوری ۱۹۸۵ء سے ۱۴؍فروری ۱۹۸۵ء ملتان ہی میں رہے۔ اس دوران کبھی کبھار صحت ٹھیک ہونے پر حضوری باغ روڈ میں دفتر تشریف لاتے۔ میٹنگوں میں شرکت فرماتے لیکن بیرون ملتان کا سفر نہیں فرمایا۔ ۱۳؍فروری کی شام آپ کو دوبارہ دل کا دورہ ہوا۔ بالا خانہ سے نیچے حصہ میں لایا گیا۔ یہاں پہنچتے ہی جان بحق ہو گئے۔ حق تعالیٰ بال بال مغفرت فرمائیں۔ مولانا سید عبداللہ معتصم نے تحریر کیا کہ:
مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم اعلیٰ، تحریک ختم نبوت کے روح رواں اور قافلہ بخاری کی آخری یادگار حضرت مولانا محمد شریف جالندھری ۱۴؍فروری ۱۹۸۵ء کو ۸؍بجے رات مرکزی دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان، ملتان میں انتقال کر گئے۔ وفات کے وقت آپ کی عمر ۶۸ برس تھی۔ آپ کا شمار تحریک ختم نبوت کے مجاہدین کے اولین قافلے میں ہوتا تھا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کی نیو اٹھانے والے حضرات میں آپ شامل تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ میں بے پناہ خوبیاں ودیعت کی تھیں۔ تنظیمی صلاحیتوں سے آپ کما حقہ بہرہ ور تھے۔ کشادہ ذہن اور اعلیٰ بصیرت کے حامل تھے۔ بڑے بڑے بحرانوں اور پیچیدہ مسائل کو ٹھنڈے دل و دماغ اور خداداد بصیرت کی بدولت حل کرنے کے آپ ماہر تھے۔ نہایت شفیق، ملنسار اور دوسروں کے دل و دماغ پر یادگار نقوش چھوڑ جانے والی محبوب شخصیت تھے۔
مولانا محمد شریف جالندھری کے انتقال کی خبر سن کر پورے ملک سے مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں اور کارکنوں کے علاوہ دیگر دینی جماعتوں کے اراکین بڑی تعداد میں مرکزی دفتر ملتان پہنچنا شروع ہو گئے۔ ۱۵؍فروری صبح ۱۰؍بجے آپ کا جنازہ اٹھایا گیا تو آنسوؤں اور سسکیوں سے فضا سوگوار ہو گئی۔ عیدگاہ خانیوال روڈ ملتان میں نماز جنازہ امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد نے پڑھائی۔ جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ بعد ازاں مولانا مرحوم کی میت ایمبولینس کے ذریعہ ان کے گاؤں ۵؍رکسی کبیر والہ لے جائی گئی۔ جہاں دوبارہ مولانا سید نفیس الحسینی کی اقتداء میں لوگوں کی بہت بڑی تعداد نے نماز جنازہ میں شرکت کی۔ رحمہ اللہ تعالیٰ رحمۃً واسعۃً! آپ کو گاؤں کے قبرستان میں رحمت خداوندی کے سپرد کیا گیا۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد، مورخہ ۲۲؍فروری ۱۹۸۵ء)
تحریک ختم نبوت(۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مجلس کے نئے ناظم اعلیٰ
مولانا محمد شریف جالندھری کے سانحہ ارتحال کے ساتھ ہی حضرت الامیر مولانا خواجہ خان محمد صاحب نے مولانا عزیز الرحمن جالندھری کو مرکزی ناظم اعلیٰ نامزد فرمادیا تھا۔ ۴؍ مارچ ۱۹۸۵ء کو مرکزی مجلس شوریٰ کا ملتان میں اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں حضرت الامیر کے فیصلہ کی مجلس شوریٰ نے تصدیق کی۔ اس موقعہ پر لولاک کے اداریہ میں یہ شائع ہوا:
’’مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی مرکزی شوریٰ نے مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھری کے جانشین حضرت الحاج الحافظ مولانا عزیز الرحمن جالندھری کو مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کا ناظم اعلیٰ مقرر کیا ہے۔ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے اس انتخاب کو ملک بھر کے جماعتی حلقوں میں بڑی قدر کی نگاہوں سے دیکھا جارہا ہے۔ حضرت الامیر مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کے اس فیصلے سے پورے ملک کے جماعتی کارکنوں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔ توقع ہے کہ مولانا عزیز الرحمن جالندھری اپنی ذہانت، امانت، دیانت، اخلاص و بہادری اور انتظامی صلاحیتوں سے مجلس کو زیادہ سے زیادہ منظم کریں گے۔ دریں اثناء مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے اس ہفتہ لاہور، گوجرانوالہ جماعت اور مجلس عمل کے اجلاسوں میں شرکت کی۔ جماعتی احباب سے ملاقاتیں کیں۔ مقامی جماعتوں کے حسابات آڈٹ کئے۔ مبلغین کو ہدایات دیں۔ آپ نے ملک بھر کے جماعتی احباب اور مبلغین سے اپنے ایک بیان میں اپیل کی ہے کہ وہ مقامی مجالس کے انتخابات فوری مکمل کر کے مجلس عمومی کے لئے اپنے نمائندگان کے نام مرکز کو بھجوائیں تاکہ مرکزی انتخابات کی تیاری مکمل کی جاسکے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری کو اپنے والد گرامی حضرت مولانا محمد علی جالندھری اور اپنے چچا مولانا محمد شریف جالندھری کا صحیح جانشین بنائے، ان کی یہ مسند مولانا کو مبارک ہو۔ وہ زیادہ سے زیادہ اپنے بزرگوں کی امانت کا بار گراں اٹھا کر قریہ قریہ ان کے پیغام کو پہنچا کر سرخرو ہوں۔ ادارہ لولاک ان کی کامیابی کے لئے دعا گو ہے۔‘‘
(لولاک، مورخہ ۲۳؍ مارچ ۱۹۸۵ء)
مولانا عبید اللہ انور کی وفات حسرت آیات
۲۸؍ اپریل ۱۹۸۵ء کو برصغیر کے ممتاز دینی خانوادے کے چشم و چراغ اور حضرت شیخ التفسیر امام لاہوری کے دلبند و جانشین حضرت مولانا عبید اللہ انور چند دن صاحب فراش رہنے کے بعد اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ مولانا عبید اللہ انور اس نو مسلم خاندان سے تعلق رکھتے تھے جنہوں نے خون جگر سے گلشن اسلام کی آبیاری کی۔ مولانا عبید اللہ سندھی معروف انقلابی دینی راہنما سے مولانا عبید اللہ انور نے تربیت حاصل کی۔ مولانا سندھی نے برصغیر پاک و ہند میں اسلام کی سربلندی اور آزادی کی تحریک میں تاریخ ساز کردار ادا کیا۔ مولانا عبید اللہ انور مرحوم کے والد شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری نے خدمت دین تبلیغ اسلام اور اسلامی تعلیمات کے فروغ کے سلسلہ میں بے مثال کام کیا۔ ان کی وفات کے بعد مولانا عبید اللہ انور ان کی روایات کے امین بنے اور جانشینی کا حق ادا کرتے ہوئے ۳۳؍ برس تک مسلسل تبلیغ و اصلاح کے محاذ پر شبانہ روز محنت کرتے رہے۔ مولانا عبید اللہ انور اپنے والد حضرت لاہوری کی روحانی ورثہ کی صحیح تصویر تھے۔ مولانا مرحوم نے مسلمانوں کے قلوب کو ذکر الٰہی سے منور کرنے کی خاطر ذکر کا سلسلہ باقاعدہ موت تک جاری رکھا۔ شیرانوالہ گیٹ کی مسجد میں ہر جمعرات کو باقاعدگی سے سلسلہ قادریہ کے مطابق مجلس ذکر منعقد ہوتی تھی۔ آپ مدت العمر جمعیۃ علماء اسلام کی کشتی کے ناخدا رہے۔ حق تعالیٰ نے آپ کو خوبیوں کا مرقع بنایا تھا۔ آپ بجاطور پر ولی ابن ولی تھے۔ آپ ہمیشہ عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے اپنے والد گرامی
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کی روایات کے امین رہے۔ بجا طور پر وہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اپنے والد گرامی کے بعد سرپرست اور مربی و بہی خواہ تھے۔ آپ کے حالات ”چمنستان ختم نبوت کے گلہائے رنگارنگ“ جلد سوم ص ۱۴۱۶ تا ۱۴۱۸ پر ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔
حضرت مولانا محمد عبداللہ رائے پوری
حضرت مولانا محمد عبداللہ رائے پوری کا وصال ۱۵؍جون ۱۹۸۵ء کو ہوا۔ آپ حضرت مولانا مفتی فقیر اللہ صاحب کے صاحبزادے دارالعلوم دیوبند کے فاضل اور حضرت مولانا خیر محمد جالندھری بانی جامعہ خیرالمدارس کے ممتاز شاگرد تھے۔ شاہ عبدالقادر رائے پوری کے خلیفہ مجاز تھے۔ جامعہ رشیدیہ ساہیوال کے شیخ الحدیث تھے اور بلا مبالغہ ہزاروں علماء کرام کے استاد تھے۔ آپ اس دھرتی پر علم وعمل، زہد وتقویٰ، اخلاص وللہیت کی چلتی پھرتی تصویر تھے۔ حق تعالیٰ نے آپ کو خوبیوں کا مرقع بنایا تھا۔ تقویٰ میں عمر بن عبدالعزیز خلیفہ اموی کا پرتو تھے۔ عمر بھر مدرسہ کے لنگر سے کھانا نہیں کھایا۔ اگر کہیں مجبوراً مہمانوں کے ساتھ کھانا پڑا تو اس کے پیسے جمع کرا دیئے۔ مدرسہ کے ٹائم کے دوران کوئی ذاتی مہمان ملنے کے لئے آگیا اسے وقت ملاقات دینا پڑا تو منٹوں، سیکنڈوں تک حساب لکھ لیتے اور مہینہ بعد مدرسہ سے تنخواہ لیتے وقت وہ حساب وضع کرا دیتے۔ عمر بھر مدرسہ کی دوات سے سیاہی استعمال نہیں کی۔ ایسے لوگ تو اب شاید کتابوں میں ملیں یا مزاروں میں۔ دھرتی پر اب بھی ہوں گے لیکن ہماری معلومات کی دسترس میں نہیں۔
رفقاء کرام کے لئے خوشی وفرحت کا باعث ہوگا کہ مجلس تحفظ ختم نبوت کی تشکیل میں پہلے دن سے آپ بھی شریک عمل تھے۔ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری، حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی، مولانا محمد علی جالندھری، مولانا لال حسین اختر، مولانا محمد حیات کے دور امارت تک مسلسل آپ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی نائب امیر رہے۔ حق تعالیٰ آپ کی تربت کو بقعۂ نور فرمائیں۔ آپ کے درجات کو جنت الفردوس میں بلند سے بلند تر فرمائیں۔ آپ کے حالات کا تفصیلی تذکرہ چمنستان ختم نبوت کے گلہائے رنگارنگ جلد اوّل ص ۲۳۲ تا ۲۴۳ پر موجود ہے۔ ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔
مولانا حبیب اللہ فاضل رشیدی
مولانا حبیب اللہ فاضل رشیدی کا وصال ۷؍دسمبر ۱۹۸۵ء کو ہوا۔ آپ بھی حضرت مولانا مفتی فقیر اللہ صاحب کے صاحبزادے، دارالعلوم دیوبند کے فاضل، حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی کے شاگرد رشید اور جامعہ رشیدیہ ساہیوال کے ناظم اعلیٰ تھے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کی تشکیل میں برابر کے شریک عمل تھے۔ تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء میں آپ نے یادگار زمانہ اور تاریخی کردار ادا کیا۔ تینوں بھائی مولانا محمد عبداللہ رائے پوری، مولانا قاری لطف اللہ اور مولانا حبیب اللہ رشیدی ۱۹۵۳ء کی تحریک میں گرفتار رہے۔ آپ کا جامعہ رشیدیہ سیل کر دیا گیا۔ مولانا حبیب اللہ صاحب رشیدی کا مجلس تحفظ ختم نبوت کے نامور فاضل مبلغین ومتکلمین میں شمار ہوتا تھا اور آپ ختم نبوت کے ترجمان سمجھے جاتے تھے۔ چمنستان ختم نبوت کے گلہائے رنگارنگ جلد دوم ص ۸۲۰ تا ۸۲۲ پر آپ کا تذکرہ قابل ملاحظہ ہے۔
مبلغین ختم نبوت کا تبلیغی دورہ
گزشتہ ماہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے مرکزی مبلغین کا اجلاس ملتان مرکز تبلیغ میں منعقد ہوا، جس میں فیصلہ کیا گیا کہ
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عالمی مجلس کے شعبہ تبلیغ کو متحرک کیا جائے۔ مجلس کے مبلغین بھر پور تبلیغی دورے کریں۔ بالخصوص ان علاقوں میں جہاں مرزائی آبادی ہے اور دیہات میں رہنے والے بھولے بھالے مسلمانوں کو وقتاً فوقتاً پریشان کرتے رہتے ہیں اور فیصلہ ہوا کہ بہاول پور ڈویژن کے مبلغین مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد طفیل ارشد، مولانا احمد بخش صاحب ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں گے اور ڈویژن بھر میں تبلیغی دورے کئے جائیں گے۔ چنانچہ بعض علاقوں میں مذکورہ بالا مبلغین نے دورے کئے جن کی رپورٹ پیش خدمت ہے۔
چک نمبر ۱۲- بی سی بہاول پور: مولانا احمد بخش صاحب اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے جمعتہ المبارک کے اجتماعات سے خطاب کیا اور مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت اور تحریک ختم نبوت کے لئے ملت اسلامیہ پاکستان کی عظیم الشان قربانیوں اور مجلس تحفظ ختم نبوت کی خدمات پر روشنی ڈالی جس پر چک مذکور کے مسلمانوں نے مسرت و شادمانی کا اظہار کیا۔ آخر میں مجلس کا لٹریچر تقسیم کیا گیا۔
نور پور نورنگا: ۱۴/ ربیع الثانی / ۲۷/ دسمبر ۱۹۸۵ء کو مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے نور پور نورنگا میں خطبہ جمعتہ المبارک اور مقامی جماعت کے عہدہ داران مولانا عطاء اللہ، مولانا رشید احمد، مولانا مطیع اللہ، عبد الحمید اور ماسٹر شبیر احمد سے ملاقات کی اور مختلف جماعتی امور پر مشاورت ہوئی۔
اوچ شریف: گورنمنٹ گرلز ہائی سکول کی ہیڈ مسٹرس قادیانی ہے۔ اس نے اپنے ادارہ میں ہفتہ ہلال احمر کے عنوان سے ایک پروگرام ترتیب دیا۔ جس میں وی سی آر پر مختلف فحش فلمیں دکھلانے کا پروگرام بنایا گیا اور ۱۱/ ربیع الاول/ ۲۴/ نومبر ۱۹۸۵ء کو اپنے ادارہ میں ہانگ کانگ کے شعلے نامی فلم دکھلانا شروع کی کہ مقامی علماء کرام اور معززین شہر مولانا محمد اسماعیل قاسمی، مولانا رشید احمد عباسی، حاجی محمد عباس نے اے سی احمد پور سے رابطہ کیا۔ اے سی صاحب نے جاکر فلم بند کرادی تو مقامی دوستوں نے بہاول پور جماعت کے امیر کے نام خط تحریر کیا جس پر مجلس بہاول پور کے مبلغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی موقع پر تشریف لے گئے اور مقامی احباب سے ملاقاتیں کیں اور مکمل تعاون کا یقین دلایا اور اوچ شریف سے واپسی پر احمد پور شرقیہ مجلس کے عہدیداروں مولانا غلام احمد، شیر محمد قریشی، محمد اسلام قریشی سے ملاقات کی اور صبح کی نماز کے بعد جامعہ فاروقیہ محلہ سوڈھگان اوچ شریف میں عظیم اجتماع سے خطاب کیا اور معاملہ کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
بہاول پور میں مجلس کا اجلاس: مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے مقامی جماعت کے امیر حاجی سیف الرحمن کو تمام تر صورتحال سے آگاہ کیا تو حاجی صاحب نے اجلاس بلانے کا حکم دیا چنانچہ ۱۶/ ربیع الثانی / ۲۹/ دسمبر ۱۹۸۵ء بعد نماز ظہر اراکین مجلس کا اجلاس منعقد ہوا۔ جس کی صدارت الحاج سیف الرحمن نے کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پورے شہر کی اہم جامع مسجد میں احتجاجی قراردادیں منظور کی جائیں اور ڈائریکٹر محکمہ تعلیم سے ملاقات کر کے صورتحال کی نزاکت کا احساس دلایا جائے جس میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جو ڈائریکٹر سے ملاقات کرے گی۔
بہاول نگر: مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے مرکزی ناظم اعلیٰ کے حکم پر مجلس کے مبلغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی بہاول نگر تشریف لے گئے۔ جہاں مجلس کے رہنماؤں قاری عبد الغفور، مولانا فیض احمد، مولانا طفیل ارشد سے ملاقات کی اور جامع مسجد مہاجر کالونی، جامع الفردوس، جامع القریش اور جامع مسجد ڈگی والی میں درس القرآن مجید کے اجتماعات سے خطاب کیا۔
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
فقیر والی: مجلس کے مبلغین مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ، مولانا محمد طفیل ارشد کا ایک وفد فقیر والی پہنچا۔ جہاں جامعہ قاسم العلوم میں قیام کیا۔ جامعہ کے اساتذہ کرام مولانا محمد قاسم ، مولانا بشیر احمد ، بابو تاج محمد ، مولانا محمد منیر چن آبادی سے ملاقات ہوئی۔ صبح کی نماز کے بعد جامعہ قاسم العلوم کے اساتذہ کرام اور طلباء سے مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت اور عقیدہ ختم نبوت سے مسلمانوں کی والہانہ عقیدت کے موضوع پر خطاب فرمایا اور طلباء سے اپیل کی کہ وہ محنت اور لگن سے پڑھیں اور علم میں دسترس حاصل کریں اور فراغت کے بعد جہاں اور دینی معاملات کی طرف توجہ دیں ، وہاں مسئلہ ختم نبوت پر بھر پور مطالعہ کریں اور عالمی سطح پر مرزائیت کا تعاقب کرنے میں مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کا ہاتھ بٹائیں۔
ہارون آباد: پھر یہ وفد ہارون آباد آیا جہاں عشاء کی نماز کے بعد جامع مسجد گراؤنڈ والی میں جلسہ منعقد ہوا جس کی صدارت مدرسہ تعلیم القرآن کے صدر مدرس مولانا محمد صدیق نے کی ۔ مولانا محمد طفیل ارشد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ختم نبوت مسلمانان عالم کا اجتماعی عقیدہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے مسلمانوں نے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے عظیم الشان قربانیاں پیش کیں لیکن مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت کو برداشت نہیں کیا۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے اے سی ہارون آباد اور ڈی سی بہاول نگر کی توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ قادیانی مختلف چکوک میں آئین پاکستان اور صدارتی آرڈیننس کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، انہیں لگام دی جائے تاکہ ملک میں امن وامان کی صورتحال خراب نہ ہو۔ جلسہ رات گئے تک جاری رہا۔ صبح کی نماز کے بعد بھی مبلغین نے مختلف مساجد میں درس دیئے۔
چک نمبر ۹۳-آر /۶: میں قادیانیوں نے ۲۶/ دسمبر ۱۹۸۵ء کو جلسہ کیا جس میں کہا گیا کہ جو ہمیں ایک مرتبہ کافر کہے گا ہم اسے ہزار مرتبہ کافر کہیں گے جو انگلی حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کی طرف اٹھے گی وہ کاٹ دی جائے گی۔ جو آنکھ ہمیں غلط نگاہ سے دیکھے گی نکال لی جائے گی۔ اس اشتعال انگیزی کے بعد مقامی دوستوں نے بہاول نگر رابطہ قائم کیا تو مولانا علی احمد ناظم اعلیٰ مدرسہ تعلیم القرآن کی قیادت میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی چک مذکور میں پہنچے۔ خطبہ جمعہ کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مولانا شجاع آبادی نے قادیانیوں کو متنبہ کیا کہ وہ ملک وملت کے خلاف ریشہ دوانیوں سے باز آجائیں ورنہ ان کا انجام عبرتناک ہوگا۔ مولانا نے مقامی احباب کو مشورہ دیا کہ چک مذکور کے قادیانیوں کے خلاف پرچہ درج کرایا جائے ۔ اگر ایس ایچ او پرچہ درج نہ کرے تو بہاول پور کی جماعت سے رابطہ قائم کیا جائے تا کہ ان کی ریشہ دوانیوں کا انسداد کیا جا سکے۔ مولانا محمد طفیل ارشد جامع مسجد دار السلام ہارون آباد میں خطبہ جمعہ کے عظیم اجتماع سے خطاب فرمایا۔
چک نمبر ۱۲-آر /۱: یہ وہ چک ہے جہاں عرصہ دراز سے ایک قادیانی نمبرداری پر قابض چلا آ رہا تھا۔ مقامی مسلمانوں نے مطالبہ کیا کہ قادیانی کو نمبرداری سے علیحدہ کیا جائے ۔ اے سی ہارون آباد کی عدالت میں کیس چلا ۔ اے سی نے مسلمانوں کے خلاف اور قادیانیوں کے حق میں فیصلہ دیا۔ کمشنر بہاول پور کی عدالت میں اپیل کی گئی۔ کیس چلتا رہا۔ کمشنر نے آدھی نمبرداری مسلمانوں کو دے دی جب کہ آدھی نمبرداری قادیانیوں کے پاس ہے۔ مذکورہ چک میں عشاء کی نماز کے بعد جلسہ منعقد ہوا جس میں مبلغین ختم نبوت نے حوالہ جات سے قادیانیوں کی خباثتوں کا پردہ چاک کیا اور غلط عقائد کی پر زور تردید کی اور قادیانیوں کو دعوت دی کہ قادیانی دجال کو چھوڑ کر رحمت عالم ﷺ کے دامن ختم نبوت سے وابستہ ہو کر دین و دنیا میں سرخروئی حاصل کریں ۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص۲۲، ۲۳، مورخہ ۱۴/ فروری ۱۹۸۶ء)
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء
ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
کی
مرکزی شوریٰ کے اجلاسوں
کی
کارروائیاں
۱۹۷۴ء تا ۱۹۸۵ء
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے قیام سے تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء سے قبل تک مرکزی مجلس شوریٰ کے مکمل ۳۹؍ اجلاسات کی کارروائیاں ہمیں دستیاب ہوئی تھیں، جو تحریک ختم نبوت کی دوسری جلد کے آخری باب میں درج کر دی گئی تھیں۔ اب تحریک ختم نبوت کی اس چوتھی جلد میں ستمبر ۱۹۷۴ء کے بعد سے ۱۹۸۴ء تک مجلس شوریٰ کے کل پندرہ اجلاس منعقد ہوئے۔ ذیل میں ان کارروائیوں کی تلخیص پیش خدمت ہے۔
نمبر شمار مقام اجلاس تاریخ صدر اجلاس
۴۰ دفتر مرکزیہ ملتان ۳۰؍ نومبر ۱۹۷۴ء، مطابق ۱۵؍ ذیقعدہ ۱۳۹۴ھ حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری
۴۱ جامع مسجد ھالیجی شریف ۱۱؍ جولائی ۱۹۷۵ء، مطابق ۳۰؍ جمادی الثانی ۱۳۹۵ھ // // //
۴۲ جامعہ اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی ۱۰؍ جنوری ۱۹۷۶ء، مطابق ۷؍ محرم ۱۳۹۶ھ // // //
۴۳ دفتر مرکزیہ ملتان ۱۰؍ اگست ۱۹۷۷ء، مطابق ۲۴؍ شعبان ۱۳۹۷ھ // // //
۴۴ گورنمنٹ گرلز مڈل سکول چنیوٹ (جنرل کونسل) ۲۷؍ دسمبر ۱۹۷۷ء، مطابق ۱۶؍ محرم ۱۳۹۸ھ فاتح قادیان مولانا محمد حیات
۴۵ خانقاہ سراجیہ کندیاں ضلع میانوالی ۱۷؍ جنوری ۱۹۷۸ء، مطابق ۷؍ صفر ۱۳۹۸ھ خواجہ خواجگان حضرت خواجہ خان محمد
۴۶ دفتر مرکزیہ ملتان ۱۹؍ فروری ۱۹۷۸ء، مطابق ۱۱؍ ربیع الاوّل ۱۳۹۸ھ // // //
۴۷ دفتر مرکزیہ ملتان ۹؍ نومبر ۱۹۷۸ء، مطابق ۷؍ ذیقعدہ ۱۳۹۸ھ // // //
۴۸ دفتر مرکزیہ ملتان ۱۰، ۱۱؍ فروری ۱۹۸۰ء، مطابق ۲۲، ۲۳؍ ربیع الاوّل ۱۴۰۰ھ // // //
۴۹ دفتر مرکزیہ ملتان ۱۴، ۱۵؍ دسمبر ۱۹۸۰ء، مطابق ۵، ۶؍ صفر ۱۴۰۱ھ // // //
۵۰ دفتر مرکزیہ ملتان (جنرل کونسل) ۸؍ مارچ ۱۹۸۱ء، مطابق یکم؍ جمادی الاوّل ۱۴۰۱ھ // // //
۵۱ دفتر مرکزیہ ملتان ۹؍ اگست ۱۹۸۱ء، مطابق ۸؍ شوال ۱۴۰۱ھ // // //
۵۲ دفتر مرکزیہ ملتان ۲۵؍ مئی ۱۹۸۲ء، مطابق یکم؍ شعبان ۱۴۰۲ھ // // //
۵۳ دفتر مرکزیہ ملتان ۲۷؍ اپریل ۱۹۸۳ء، مطابق ۱۳؍ رجب ۱۴۰۳ھ // // //
۵۴ دفتر مرکزیہ ملتان ۱۱؍ اگست ۱۹۸۴ء، مطابق ۱۳؍ ذیقعدہ ۱۴۰۴ھ // // //
۵۵ دفتر مرکزیہ ملتان (اجلاس شوریٰ) ۴؍ مارچ ۱۹۸۵ء، مطابق ۱۱؍ جمادی الاوّل ۱۴۰۵ھ // // //
۵۶ دفتر مرکزیہ ملتان (جنرل کونسل) ۱۷؍ جولائی ۱۹۸۵ء، مطابق ۱۸؍ شوال المکرم ۱۴۰۵ھ // // //
۵۷ دفتر مرکزیہ ملتان (اجلاس شوریٰ) ۱۷؍ جولائی ۱۹۸۵ء، مطابق ۱۸؍ شوال المکرم ۱۴۰۵ھ // // //
(۴۰واں) اجلاس شوریٰ
۱۹۷۴ء میں مجلس شوریٰ کے تین اجلاس منعقد ہوئے۔ پہلے دو اجلاس کی کارروائی تحریک ختم نبوت کی دوسری جلد میں شائع ہوگئی تھی۔ تیسرے اجلاس کی یہ ہے:
مجلس شوریٰ تحفظ ختم نبوت پاکستان مؤرخہ ۳۰؍ نومبر ۱۹۷۴ء، مطابق ۱۵؍ ذیقعدہ ۱۳۹۴ھ، بروز شنبہ دفتر مرکزیہ ملتان
شرکاء: (۱) حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری، (۲) حضرت مولانا تاج محمود، (۳) سردار میر عالم لغاری، (۴) حافظ
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء
ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
عزیز الرحمن (کراچی)، (۵) قاری سعید الرحمن (راولپنڈی)، (۶) مولانا منظور احمد چنیوٹی، (۷) مولانا عبدالرحیم اشعر، (۸) مولانا محمد شریف جالندھری، (۹) مولانا عبدالرحمن میانوی، (۱۰) حضرت مولانا محمد عبداللہ رائے پوری، (۱۱) حضرت مولانا محمد حیات، (۱۲) حضرت مولانا فضل احمد (تلہ گنگ)، (۱۳) حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی، (۱۴) حضرت حاجی سیف الرحمن، (۱۵) مولانا غلام محمد علی پوری، (۱۶) حضرت مولانا محمد شریف بہاول پوری۔
صدارت: حضرت شیخ الاسلام امیر مرکزیہ دامت برکاتہم
تلاوت: مولانا قاری سعید الرحمن صاحب (راولپنڈی)
حضرت امیر دامت برکاتہم نے ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء، مطابق ۱۹؍ شعبان ۱۳۹۴ھ، بروز ہفتہ کے فیصلہ کے متعلق اللہ رب العزت کا شکر ادا فرمایا۔
- ۱...... بقایا مطالبات اور ملک بھر میں تحریک ختم نبوت کے دوران قائم شدہ مقدمات جو حکومت نے باوجود کئی دفعہ وعدہ کرنے پر بھی
واپس نہیں لئے۔ فیصلہ ہوا کہ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا اجلاس طلب کیا جائے۔
- ۲...... مذکورہ ذیل مصارف کی منظوری عطاء فرمائی گئی۔ ملت اسلامیہ کا موقف، انجمن القادیانی، وکیل صمدانی کورٹ۔
- ۳...... فیصلہ ہوا کہ محلہ غریب آباد ملتان مسجد کے لئے دس ہزار روپے مرکز ادا کر دے تاکہ ملتان میں کام کی رفتار تیز ہوسکے۔ نیز فیصلہ ہوا
کہ عالمی تبلیغ کے لئے عظیم تر مرکز قائم کرنے کے لئے جس میں جامع مسجد بھی ہو، ملتان میں اراضی خریدی جائے۔ جابہ ضلع سرگودھا مسجد کے لئے اڑھائی ہزار روپے اور کنری مسجد کے لئے پانچ ہزار روپے مرکزی فنڈ سے خرچ کرنے کی اجازت دی گئی۔ اس پر کنری میں علاقائی ضرورت کے پیش نظر پانچ ہزار حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے اپنی طرف سے عطاء فرمانے کا وعدہ فرمایا۔
- ۴...... ہفت روزہ لولاک کی جملہ آمد و صرف دفتر مرکزیہ ملتان کے ذمہ ہو۔ مولانا اللہ وسایا صاحب بطور نائب ایڈیٹر کام کریں۔
- ۵...... تمام مبلغین کے دو گروپ بنائے جائیں اور دونوں گروپ یکے بعد دیگرے تربیتی کورس میں شرکت کے لئے دس دس دن مدرسہ
عربیہ نیو ٹاؤن کراچی قیام کریں۔
- ۶...... شعبہ تصنیف و تالیف کے لئے مولانا محمد یوسف لدھیانوی ملتان دفتر میں قیام کریں۔ مکان کا انتظام کیا جائے اور مولانا یوسف
تبلیغ و دعوت کے انداز پر کتابچے لکھیں۔
- ۷...... مبلغین حضرات کی اس سفارش کو منظور کیا جاتا ہے کہ مدارس عربیہ کی طرح ہر عید پر پانچ رخصت اور دس رخصت فی سال اضافی
کا حق دیا جائے۔
- ۸...... فیصلہ ہوا کہ انگلستان دفتر کی بہتر حالت اور کام کو منظم چلانے کے لئے مبلغ جلد بھیجا جائے اور اس مبلغ کا انتخاب حضرت امیر اپنی
صواب دید پر کریں اور چونکہ حضرت دامت برکاتہم دورۂ انگلستان سے تشریف لائے ہیں۔ اس لئے کام کی لائن مرتب فرمائیں۔
- ۹...... چونکہ لندن دفتر کا ایک ٹرسٹ رجسٹرڈ ہے اور اس کے رکن مولانا لال حسین صاحب وصال فرما چکے ہیں۔ ان کی جگہ مولانا مفتی
عبدالباقی مقیم لندن کو ٹرسٹی قانونی طور پر مقرر کیا جائے۔ ہڈرسفیلڈ میں جو دفتر ہے اس کا فیصلہ اور کام کے اجراء کی بات نئے ٹرسٹ اور جانے والے مبلغ مل کر کریں۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معظم
فیصلہ ہوا کہ جنگل امیر حسین اور شاخ مدینہ والی اراضی فروخت کر دی جائے اور پرمٹ کی غیر آباد اراضی میں ٹیوب ویل نصب کیا جاوے ۔ جتنی امداد ہو سکے گورنمنٹ سے حاصل کی جاوے ۔ تربیت مبلغین کا نظم بہتر کیا جاوے اور حالات اور مہنگائی کے پیش نظر دار المبلغین کے ہر طالب علم کو علاوہ قیام ، خوردونوش، کاغذ، قلم کی رعایت کے پچاس روپے ماہوار وظیفہ دیا جاوے ۔
محتاج دعا احقر محمد شریف جالندھری محمد یوسف بنوری ۱۶ / ذیقعدہ ۱۳۹۴ھ
(۴۱رواں) مشاورتی اجلاس
مجلس کا ہنگامی و خصوصی اجلاس ۱۹۷۶ء میں ایک اجلاس منعقد ہوا جس کی کارروائی یہ ہے: بمقام جامع مسجد ہالیجی شریف (سندھ) مورخہ ۱۱ / جولائی ۱۹۷۵ء ، مطابق ۳۰ / جمادی الثانی ۱۳۹۵ھ ، بروز جمعہ شرکاء : (۱) حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری ، (۲) حضرت مولانا خواجہ خان محمد ، (۳) سردار میر عالم لغاری ، (۴) مولانا محمود حسن ھالیجی شریف ، (۵) حضرت مولانا محمود اسعد ھالیجی شریف ، (۶) مولانا محمد انور (سکھر) ، (۷) مولانا نذیر حسین (پنوں عاقل) ، (۸) مولانا جمال اللہ الحسینی ، (۹) مولانا گل محمد ، (۱۰) مولانا محمد شریف جالندھری ۔
صدارت : حضرت شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف صاحب بنوری دامت برکاتہم ، امیر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
تلاوت کلام پاک کے بعد محمد شریف جالندھری نے اجلاس کی غرض وغایت بیان کی کہ سندھ میں کام کی اشد ضرورت ہے۔ اس غرض کے لئے حضرت امیر کی اجازت سے مولانا عبدالکریم صاحب شیخ الحدیث پیر شریف کی خدمت میں عریضہ تحریر کیا تھا۔ حضرت موصوف نے اس غرض کے لئے سکھر میں علماء و بہی خواہان ختم نبوت کی مجلس سکھر میں طلب فرمائی ۔ دو اجلاس ہو چکے ہیں ۔ کام شروع ہے لیکن مالیاتی نظام علیحدہ کر لیا ہے ۔ جو جماعت مرکزی کے طریق کار کے خلاف ہے ۔ مستقبل میں کسی اختلاف کا باعث ہو سکتا ہے ۔ اس لئے حضرت امیر مدظلہ کی تجویز پر یہ اجلاس ھالیجی شریف میں منعقد ہوا ہے ۔ مولانا عبدالکریم شیخ الحدیث پیر شریف کو دعوت تھی ، منظور بھی فرما لیا تھا لیکن وہ اتفاقی حادثہ ہو جانے کے باعث تشریف نہیں لائے ۔ گرامی نامہ ارسال فرمایا ہے کہ بازو پر سخت چوٹ آئی ہے ۔
- ۱...... فیصلہ ہوا کہ مولانا جمال اللہ اور مولانا گل محمد بحیثیت مبلغ ختم نبوت کام کریں۔ دونوں حضرات پہلے جماعت میں کام کر چکے ہیں۔ جب
دستور مالیاتی نظام مرکزی دفتر ملتان کے تحت رہے ۔ پروگرام ، مشاہرات و مصارف کا تعلق مرکزی دفتر ملتان کے ساتھ ہی رہے ۔
- ۲...... ماہانہ مشاہرات کے علاوہ سفر خرچ ، کرایہ بھی دفتر ملتان ادا کرے گا ۔ بل سفر خرچ ہر دو حضرات بدستور جماعت کے مطبوعہ فارم پر
ارسال کریں گے ۔ اخراجات دفتر کی طرف سے ملیں گے ۔
- ۳...... مذکورہ ہر دو حضرات مبلغین کی تقرری یکم رجب ۱۳۹۵ھ سے شمار ہوگی ۔
چونکہ حضرت پیر شریف تشریف نہیں لائے اس لئے اس کارروائی کی کاپی حضرت ھالیجی شریف کے دستخط سے ان کی خدمت میں ارسال کی جاوے ۔ حضرت امیر مدظلہ کے ارشادات گرامی کے بعد باتفاق فیصلہ ہوا کہ مجلس تحفظ ختم نبوت کا نظام جس طرح چل رہا ہے کام اور نتائج کے لحاظ سے وہی بہتر ہے ۔ مالیاتی مرکز ایک ہی ہونا ضروری ہے ۔ تمام ملک کی آمد و صرف کا ذمہ دار دفتر ملتان ہی ہو گا تاکہ ایک ہی جگہ
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبد اللہ معتصم
سے جب دستور کام تنظیم کے ساتھ کیا جاسکے۔ حضرت دامت برکاتہم نے ارشاد فرمایا کہ مرکز کا قوی اور ایک ہونا ضروری ہے۔ حضرت کے ان نصائح کے بعد حضرات کی نیک دعاؤں کے ساتھ اجلاس برخاست ہوا۔
مؤرخہ ۲/ رجب ۱۳۹۵ھ محمد یوسف بنوری
(۴۲ رواں) اجلاس شوریٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام نیو ٹاؤن مدرسہ عربیہ کراچی
مؤرخہ ۱۰/ جنوری ۱۹۷۶ء، مطابق ۷/ محرم ۱۳۹۶ھ، بروز ہفتہ
شرکاء: (۱) حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری، (۲) حضرت مولانا خواجہ خان محمد، (۳) حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی، (۴) حضرت مولانا تاج محمود، (۵) حضرت قاری سعید الرحمن، (۶) مولانا غلام محمد، (۷) حضرت حاجی سیف الرحمن (بہاول پور)، (۸) مولانا نور الحق نور (پشاور)، (۹) حضرت مولانا محمد شریف جالندھری، (۱۰) سردار میر عالم لغاری۔
صدارت: حضرت شیخ الاسلام مولانا بنوری دامت برکاتہم
تلاوت: مولانا قاری سعید الرحمن صاحب (راولپنڈی)
- ۱...... حضرت اقدس مولانا محمد زکریا صاحب آغا جی مرحوم، حافظ عزیز الرحمن رکن مرکزی مجلس شوریٰ، آغا شورش صاحب کشمیری،
مولانا محمد شریف صاحب بہاول پوری مرکزی مبلغ ختم نبوت، مولانا گل محمد سکھر مرحومین کے لئے دعائے مغفرت کی گئی۔
- ۲...... حضرت امیر مرکزیہ کے دورۂ عرب و افریقی ممالک کی رپورٹ، مجلس تحفظ ختم نبوت کا قیام۔ سردار میر عالم لغاری نے پڑھ کر سنائی۔
- ۳...... گزشتہ فیصلہ شوریٰ کے تحت پچاس مرلہ اراضی حضوری باغ روڈ ملتان میں خریدی ہوئی ہے۔ اس اجلاس میں بحث ہوئی کہ عالمی
تبلیغ کا مرکز، لاہور، اسلام آباد یا کراچی میں ہونا چاہئے۔ فیصلہ ہوا کہ ایسا دفتر تو ملتان خرید کردہ اراضی پر ہی بنے تو اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں جماعت کے ملکیتی دفتر تعمیر کئے جائیں۔ حضرت امیر مرکزیہ اسلام آباد تشریف لے جاکر پلاٹ کے لئے کوشش فرمائیں۔
- ۴...... چونکہ بیرون ملک کام کثرت سے بڑھ رہا ہے۔ اس لئے حضرت امیر کے پاس بیرون ملک ڈاک ترسیل لٹریچر اور دیگر امور کے
لئے موزوں صاحب کی خدمات حاصل کی جائیں۔
- ۵...... ربوہ میں کسی مرزائی سے مکان یا پلاٹ خرید نہ کیا جائے۔
- ۶...... جتوئی کے منتظمین مدرسہ نصرت العلوم کی درخواست پیش ہوئی جو باتفاق منظور ہوئی۔ محرم ۱۳۹۶ھ سے جماعت انتظام اور
مصارف کو سنبھال لے۔
- ۷...... قاری اللہ وسایا پرمٹ، مولانا سید حبیب اللہ شاہ سیالکوٹ، مولانا حفیظ الرحمن مرکزی دفتر ملتان کی تقرریاں منظور کی جاتی ہیں۔
- ۸...... کنری، بہاول پور کے لئے نئے مبلغ رکھے جائیں۔
- ۹...... مبلغین کی ترقی کی منظوری دی جاتی ہے۔ کارکردگی یا کمی کا حق ناظم اعلیٰ کو بمشورہ امیر مرکزیہ ہوگا۔
- ۱۰...... کیمبلپور کیس میں جو مرزائیوں کے خلاف ۳۰۲/ ت. پ کا کیس چل رہا ہے، مرکزی جماعت کی طرف سے اخراجات دیئے جانے
کی اجازت دی جاتی ہے۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
- ......۱۱ ”ملت اسلامیہ کا مؤقف“ نامی کتاب دوبارہ شائع کی جائے۔ لیکن اس کے ساتھ جماعت کے تعارف کے طور پر جزو رق کور
۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کے فیصلوں کی سرکاری نقل لف کی جائے۔
- ......۱۲ دوران تحریک تحفظ ختم نبوت قائم شدہ مقدمات تاحال گورنمنٹ نے باوجود اعلان کے واپس
نہیں کئے۔ مرزائی غیر مسلم اقلیت کے متعلق ابھی قانون سازی نہیں ہوئی۔ ربوہ میں مسلم کالونی میں کئی اشکالات ہیں۔ اس کے متعلق فیصلہ ہوا کہ مجلس کا وفد وزیر اعظم پاکستان کے ساتھ ملاقات کرے۔ اراکین وفد، حضرت امیر مرکزیہ، مولانا ظفر احمد انصاری، مولانا سید محمود رضوی، جناب سید مظفر علی شمسی الحاج سردار میر عالم خان لغاری، میاں فضل حق اہل حدیث، مولانا تاج محمود صاحب ہوں ۔
محمد یوسف بنوری ۸ محرم ۱۳۹۶ھ، کراچی
۱۹۷۷ء میں شوریٰ و جنرل کونسل کے دو اجلاس ہوئے، پہلے اجلاس کی کارروائی یہ ہے:
(۴۳ رواں) اجلاس شوریٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان دفتر تحفظ ختم نبوت ملتان
مؤرخہ ۱۰/اگست ۱۹۷۷ء، مطابق ۲۴/شعبان ۱۳۹۷ھ
شرکاء: (۱) حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری، (۲) حضرت مولانا خواجہ خان محمد، (۳) حضرت مولانا تاج محمود، (۴) حضرت مولانا محمد حیات، (۵) حضرت مولانا نور الحق نور، (۶) حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر، (۷) حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی، (۸) حضرت مولانا غلام محمد، (۹) حضرت مولانا محمد شریف جالندھری۔
تلاوت: مولانا محمد یوسف صاحب لدھیانوی
- ......۱ (الف) ربوہ میں جو مسلمان رہتے ہیں ان کے ساتھ دنگا فساد، سیکرٹری بلدیہ کے ہاں چوری، ریلوے اسٹیشن پر مسلمان ماسٹر کی
ڈیوٹی کے وقت چوری جس سے ریل لیٹ ہوئی۔ فیصلہ ہوا کہ وکلاء سے مشورہ کیا جائے اور مولانا تاج محمود مناسب اقدام کریں۔
- (ب) اگر کسی سیاسی جماعت نے کسی مرزائی کو امیدوار کھڑا کیا یا کسی امیدوار نے مرزائیوں کی حمایت من حیث الجماعۃ حاصل
کرنے کی کوشش کی تو مجلس تحفظ ختم نبوت اس کی بھر پور مخالفت کرے گی۔
- (ج) ریلوے اسٹیشن ربوہ کی جامع مسجد کے لئے امداد مسجد کے نام سے حاصل کی جاوے۔ مقامی طور پر مجلس کا انتخاب ہو۔
انتظامیہ میں مولانا تاج محمود صاحب کے مشورہ سے اراکین رکھے جائیں۔ خازن مجلس کا مبلغ ہو۔ اگر مزید رقم کی ضرورت ہو تو دفتر ملتان ادا کرے۔ مسلم کالونی ربوہ کی ۹ کنال اراضی کا نقشہ مرتبہ کرنل امیر حسین کراچی مسجد بہت بڑی بنادی ہے۔ جماعت کی ضرورت یہ ہے کہ مسجد کے ساتھ دوسرے ادارہ جات دارالمبلغین جس سے اندرون و بیرون ملک کے لئے مبلغ تیار کئے جائیں۔ بہت بڑے درجہ کا مدرسہ عربی جس کے ساتھ تعلیم انگریزی کا بھی شعبہ ہو۔ اساتذہ و مبلغین کے کوارٹر رہائش گاہ ہوں۔ اس لئے ضروری ہے کہ مسجد کا رقبہ ۱/۴ حصہ سے زائد نہ ہو۔ ۳/۴ میں دیگر اہم ضروریات کے لئے عمارت بنائی جائیں۔ اب نیا نقشہ مولانا تاج محمود صاحب تیار کرائیں۔ اسٹیشن والی مسجد کے لئے فوری دفتر ملتان ارسال کرے۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
- ۲...... ہڈرسفیلڈ انگلینڈ میں پہلی عمارت ناکافی ہونے کے باعث نئی جگہ حاصل کر لی گئی ہے۔ تعمیرات جدیدہ، پرانی عمارت کی فروخت،
مولانا عبدالباقی کو رکن ٹرسٹ بنانے اور جماعت کی تنظیم کے لئے محمد شریف جالندھری کا پاسپورٹ بنایا جائے اور بعد رمضان سفر کیا جائے۔
- ۳...... مرکزی دفتر میں پریس نصب کرنے کے متعلق فیصلہ ہوا کہ ملتان نہیں جب اسلام آباد میں نیا دفتر بنے گا وہاں لگایا جاوے۔
- ۴...... مبلغین و ملازمین کی ترقی میں فیصلہ علی الحساب کیا جاوے جو مبلغ پابند نظم و ضبط نہ ہوں، ناظم اعلیٰ ان کی رپورٹ امیر مرکزیہ کو پیش کرے۔
- ۵...... مولانا عبدالواحد کوئٹہ، مولانا منظور احمد چنیوٹ، مولانا قاری سعید الرحمن راولپنڈی، حضرت امیر مرکزیہ نے مجلس شوریٰ سے
خارج کرنے کا ارشاد فرمایا۔ کیونکہ یہ حضرات الیکشن و سیاست میں کھل کر حصہ لیتے ہیں۔ اراکین مجلس شوریٰ نے تسلیم کیا۔ البتہ اراکین کی گزارش پر حضرت الامیر نے قبول فرمایا کہ اعلان اخبار میں نہ ہو۔ محض خطوط لکھوا دیئے جائیں۔
- ۹...... حضرت نائب امیر (مولانا خواجہ خان محمد)، مولانا محمد عبداللہ ساہیوال، مولانا تاج محمود صاحب، سردار میر عالم خان لغاری پر
مشتمل ایک کمیٹی بنائی گئی جو کام کی پڑتال کے لئے ہر سہ ماہی ملتان میں اجلاس کیا کرے۔
- ۱۰...... مولانا حافظ عبدالمالک جتوئی، مولانا سعید احمد بہاول نگر، مولانا محمد اسماعیل شجاع آباد کی تقرری کی منظوری دی گئی۔ مولانا
عبدالمالک کے متعلق فیصلہ ہوا کہ انہیں کراچی بھیج دیا جائے۔
محررہ سید یوسف بنوری
نوٹ: حضرت امیر مرکزیہ شیخ الاسلام مولانا بنوری ۳/ ذیقعدہ ۱۳۹۷ھ مطابق ۱۷/ اکتوبر ۱۹۷۷ء سی. ایم. ایچ ہسپتال راولپنڈی میں صبح پانچ بجے واصل بحق ہوئے۔ اسی دن نو بجے رات مدرسہ نیوٹاؤن کراچی تدفین عمل میں آئی ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
(۴۴ واں) اجلاس شوریٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
۱۹۷۷ء میں مجلس کا یہ دوسرا اجلاس جو شوریٰ و جنرل کونسل کا مشترکہ کہنا چاہئے حضرت الامیر حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری کے وصال کے باعث برائے انتخاب امیر و نائب امیر در چنیوٹ بموقعہ سالانہ کل پاکستان تحفظ ختم نبوت کانفرنس۔
مؤرخہ ۲۷/ دسمبر ۱۹۷۷ء، مطابق ۱۶/ محرم ۱۳۹۸ھ، بعد ظہر منعقد ہوا۔
شرکاء: (۱) سردار میر عالم خان لغاری، (۲) حضرت مولانا عزیز احمد (کنڈیاں)، (۳) حضرت مولانا نذیر احمد (کنڈیاں)، (۴) سید احمد علی شاہ (سرگودھا)، (۵) ڈاکٹر محمد رفیق (کنری)، (۶) جناب غلام حیدر (میاں چنوں)، (۷) حافظ نجیب اللہ (انگہ)، (۸) حافظ محمد امین (گوجرانوالہ)، (۹) حکیم عبداللہ (گوجرانوالہ)، (۱۰) حامد علی رحمانی (حسن ابدال)، (۱۱) عبدالحمید (کھرڑیانوالہ)، (۱۲) حاجی فیروز الدین (چنیوٹ)، (۱۳) ارشاد احمد (گوجرانوالہ)، (۱۴) جمال اللہ الحسینی (جیکب آباد)، (۱۵) حاجی نذر حسن (فیصل آباد)، (۱۶) عبداللطیف قریشی تلمبوی، (۱۷) قاری محمد شریف قریشی (بہاول نگر)، (۱۸) فیض احمد (ناظم اعلیٰ بہاول نگر)، (۱۹) عبدالحفیظ (بہاول نگر)، (۲۰) قاری عبدالغفور (بہاول نگر)، (۲۱) محمد احمد میاں علی (ضلع شیخوپورہ)، (۲۲) محمد خان (مبلغ سیالکوٹ)، (۲۳) عبداللہ خان (گوجرانوالہ)، (۲۴) یوسف علی قریشی ہاشمی (گوجرانوالہ)، (۲۵) اللہ وسایا (فیصل آباد)، (۲۶) محمد اسلم قریشی (سیالکوٹ)، (۲۷) محمد علی جانباز (سمندری)، (۲۸) شیخ منظور احمد (چنیوٹ)، (۲۹) عبدالحمید آزاد (لاہور)،
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ۵۶۰ ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
(۳۰) عبدالقیوم (لاہور)، (۳۱) حاجی منظور احمد مغل (لاہور)، (۳۲) زاہد اختر (لاہور)، (۳۳) عبداللطیف (بہاول پور)، (۳۴) بلند اختر (لاہور)، (۳۵) محمد عبداللہ (ٹوبہ ٹیک سنگھ)، (۳۶) محمد ابراہیم (سکھر)، (۳۷) شوکت حیات (حافظ آباد)، (۳۸) عبدالوہاب (حافظ آباد)، (۳۹) بشیر احمد (لاہور)، (۴۰) محمد انور قاسمی، (۴۱) عبیداللہ، (۴۲) صوفی افتخار الحق، (۴۳) قاری منظور الحق (حیدر آباد)، (۴۴) سعید احمد (بہاول نگر)، (۴۵) محمد موسیٰ (لودھراں)، (۴۶) بشیر احمد، (۴۷) مشتاق احمد، (۴۸) قاری اللہ وسایا (ربوہ)، (۴۹) محمد بنوری (کراچی)، (۵۰) مسافر خان، (۵۱) حافظ محمد عبدالمالک، (۵۲) محمد عبداللہ خالد (مانسہرہ)، (۵۳) قاری محمد اجمل خان (گوجرانوالہ)، (۵۴) ضیاء الدین آزاد (گوجرانوالہ)، (۵۵) سلطان محمد (لاہور)، (۵۶) ظہور احمد (چنیوٹ)، (۵۷) سید مبارک شاہ، (۵۸) خاور شاہ (جابہ)، (۵۹) غلام حسن بزدار (ڈیرہ غازی خان)، (۶۰) محمد خان لغاری (ڈیرہ غازی خان)، (۶۱) یقین محمد (ڈیرہ غازی خان)، (۶۲) محمد حسنین (ڈیرہ غازی خان)، (۶۳) سید عبدالغنی، (۶۴) اللہ وسایا (ڈیرہ غازی خان)، (۶۵) عبدالرحیم اشعر، (۶۶) نور الحق نور (پشاور)، (۶۷) محمد اجمل قادری (لاہور)، (۶۸) غلام محمد (علی پور)، (۶۹) احمد حسین (کوٹ ابادان)، (۷۰) محمد حیات پسروری، (۷۱) محمد یوسف لدھیانوی، (۷۲) سراج الدین (ڈیرہ اسماعیل خان)، (۷۳) خدا بخش (خطیب ربوہ)، (۷۴) جاوید اقبال قریشی (چناب نگر)، (۷۵) ملک اللہ دتہ چنیوٹی، (۷۶) حافظ عبدالکریم ڈیروی، (۷۷) غلام حسن (چارسدہ)، (۷۸) فاضل حبیب اللہ رشیدی (ساہیوال)، (۷۹) ملک خالد محمود گھلو (ڈیرہ غازی خان)، (۸۰) حافظ نور (ڈیرہ غازی خان)، (۸۱) محمد شریف جالندھری (ملتان)
۲۷ دسمبر ۱۹۷۷ء بمطابق ۱۶ محرم ۱۳۹۸ھ، بروز منگل بعد از ظہر گورنمنٹ زنانہ مڈل سکول چنیوٹ کے ہال میں مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی جنرل کونسل کا برائے انتخاب امیر مرکزیہ و نائب امیر اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت فاتح قادیان مولانا محمد حیات نے کی۔ تلاوت کلام پاک مولانا قاری محمد اجمل خان لاہور نے کی۔ مولانا محمد شریف جالندھری نے سابقہ جنرل کونسل کے اجلاس منعقدہ ملتان بتاریخ ۹ اپریل ۱۹۷۴ء کی کارروائی پڑھ کر سنائی۔ مولانا تاج محمود صاحب نے شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوری مرحوم کی وفات حسرت آیات کو مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی یتیمی اور عالم اسلام کے لئے عظیم نقصان اور سانحہ فاجعہ قرار دیا۔ حضرت مرحوم کی علمی خدمات اور مجلس تحفظ ختم نبوت کی شاندار قیادت با سعادت پر آپ کو خراج تحسین کیا۔ اندرون و بیرون ملک آپ کے عظیم دینی منصوبہ جات کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کا عہد کیا۔ مولانا تاج محمود کی اپیل پر شرکاءِ اجلاس نے چشم پرنم سے حضرت مرحوم کے لئے دعا فرمائی اور آپ کے مشن تحفظ ختم نبوت کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کا عہد کیا۔
بعدہ حضرت مولانا نذیر احمد خطیب کندیاں ضلع میانوالی نے حضرت مولانا خان محمد صاحب دامت برکاتہم کا درج ذیل تاریخی پیغام پڑھ کر سنایا۔
بعد الحمد والصلوۃ وارسال التسلیمات فقیر ابوالخلیل خان محمد عفی عنہ نائب امیر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی طرف سے حضرات گرامی قدر اراکین کرام مجلس شوریٰ و عاملہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان سلمکم اللہ تعالیٰ وعافاکم مطالعہ فرماویں کہ آپ حضرات کا اس مبارک اجتماع میں شریک ہونا سلف صالحین کرام اور غازیان اسلام کی یاد تازہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے اسلاف کرام کی پوری پوری اتباع ہم سب کو نصیب فرمادے اور اپنے اکابر کے مسلک پر استقامت اور اس کی حفاظت واشاعت کی توفیق مرحمت فرمادے۔ آمین!
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
سب سے پہلے آپ حضرات کی خدمت میں حضرت اقدس شیخ الاسلام علامہ بنوری نوراللہ تعالیٰ مرقدہ کی رحلت سے متعلق تعزیت عرض ہے ۔ یہ حادثہ فاجعہ ہم سب کے لئے اور سارے عالم اسلام کے لئے مشترک المیہ ہے اور ہم سب اس غم میں برابر کے شریک ہیں ۔ سارے عالم اسلام اور پاکستان کے لئے عموماً اور مسلک حقہ دیوبند سے تعلق رکھنے والوں اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے لئے خصوصاً یہ عظیم حادثہ ہے اور ناقابل تلافی نقصان ہے۔ یہ ایک ایسا خلا پیدا ہوا ہے جس کی تلافی ناممکن ہے ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون !
حضرت شیخ الاسلام رأس العلماء والصلحاء مولانا محمد یوسف بنوری قدس سرہ العزیز امیر کل پاکستان مجلس تحفظ ختم نبوت کا دور امارت ہر لحاظ سے بفضلہ تعالیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت کے مقاصد عظیمہ کی فقیدالمثال کامیابی اور فائزالمرامی کا دور ثابت ہوا ہے۔ حضرت مولانا کی رہنمائی میں اندرون ملک اور عالمی سطح پر تحفظ ختم نبوت کے ادارے نہ صرف قائم ہوئے بلکہ ملحدین و زنادقہ اور فرقہ ضالہ مرزائیہ کے ظاہر اور خفیہ اڈوں اور کمین گاہوں پر مبلغین تحفظ ختم نبوت کی مضبوط تبلیغی پیش قدمی کے راستے کھل گئے اور عالمی سطح پر دشمنانِ اسلام کی اہلِ اسلام کو گمراہ کرنے کی ناپاک سرگرمیاں سرد پڑ گئیں اور اہلِ اسلام پر ان کا دجل و فریب گمراہی اور کفر واضح ہوگیا اور حضرت اقدس نے بنفس نفیس خود افریقہ اور لندن وغیرہ کا دورہ کیا اور اس پیرانہ سالی کے باوجود اس فرقہ ضالہ مرزائیہ کا تعاقب کیا اور کامیابی وکامرانی کے ساتھ واپسی ہوئی۔ اللہ تعالیٰ آئندہ بھی نصرت و تائید فرمادے۔ آمین !
اگر اندرون اور بیرون ملک مبلغین اراکین و ہمدردان اور مخلصان تحفظ ختم نبوت کی تبلیغ دعوت وارشاد کی رفتار اور پیش قدمی اسی طرح جاری رہی تو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور نصرت سے امید ہے کہ اس بدترین فتنہ مرزائیت کے بقیہ آثار اور ادارے حرف غلط کی طرح مٹ جائیں گے اور دینِ حق اسلام کا دور دورہ ہوگا اور خلافت الٰہیہ علیٰ منہاج الکتاب والسنۃ کا قیام ممکن ہوسکے گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ !
فقیر کی صحت بحمداللہ تعالیٰ روبہ ترقی ہے لیکن ابھی کافی کمزوری ہے اور اسی عذر کی وجہ سے اس مہتم بالشان اور بابرکت اجتماع میں شرکت اور حاضری کی سعادت حاصل نہیں کرسکا۔ امید ہے کہ آپ حضرات اس فقیر کا عذر قبول فرمائیں گے اور اپنی دعاؤں سے اس ناچیز کی فلاح دارین کے لئے مدد فرمائیں گے ۔ والعذر عند کرام الناس مقبول !
اسی لئے اپنی طرف سے مولانا نذیر احمد صاحب، خطیب جامع مسجد کندیاں اور فرزندی عزیز احمد آپ کی خدمت میں بھیج رہا ہوں ۔ اس اجتماع میں آپ حضرات کو آئندہ کے لئے تنظیمی انتخاب کرنا ہے اور اس میں خاص طور پر امیر کا انتخاب خاص اہمیت کا حامل ہے ۔ اب آپ حضرات کو حضرت مولانا محمد یوسف بنوری کی جگہ پر کرنے کے لئے انہی کے علم و فضل اور عمل و اخلاص کے پایہ کے عالمِ حق کو اس منصب کے لئے منتخب کرنا ہے جو صاحبِ قلم بھی ہو اور قادرالکلام مقرر بھی ، عالم باعمل بھی ہو اور عالمی شہرت کا حامل بھی ہو اور ادارہ مجلس تحفظ ختم نبوت کی اہمیت وافادیت کا دل و جان سے قائل بھی ہو۔ اس کے علاوہ کسی مرکزی حیثیت کے شہر کا جو ذرائع آمدورفت کی سہولتوں سے پوری طرح بہرہ ور ہو ، قیام پذیر بھی ہو ۔ اللہ تعالیٰ آپ حضرات کو ایسے عالمِ حق کے انتخاب کی راہنمائی اور توفیق عطاء فرمائے ۔ آمین !
جہاں تک اس فقیر کا تعلق ہے اپنے آپ کو تحفظ ختم نبوت کا ایک ادنیٰ خادم ہی بننا اپنے لئے ذریعہ فلاح دارین سمجھتا ہے ۔ ایک دور دراز گوشۂ ملک میں رہتا ہے ۔ جہاں آمدورفت کے وسائل محدود اور دشوار ہیں نہ اہلِ قلم ہے نہ ہی مقرر ہے اور اس عظیم مرتبہ کے لئے
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبد اللہ معتصم
ضروری اوصاف سے بالکل عاری اور نا آشنا ہے یہ کسر نفسی نہیں بلکہ حقیقت کا اظہار ہے۔ اس ناچیز کا اس منصب جلیلہ کے لئے زیر غور لانا حقیقتاً اس منصب عالیہ کی توہین اور اہانت ہے۔ آپ نے اگر نائب امیر ہونے کی حیثیت سے اس عہدے کو سامنے رکھا تو یہ آپ حضرات کی دیانتدارانہ رائے کے سراسر خلاف ہوگا اور آپ حضرات اپنی ذمہ داری کی ادائیگی میں کوتاہی کے مرتکب ہوں گے۔ اگر اس فقیر کو اپنی تمام نالائقی کے باوجود منتخب کر لیا گیا اور اس فقیر سے اپنی نالائقی کی بناء پر کوتاہیاں سرزد ہوئیں جو کہ یقینی ہیں اور ”یاتی بالعجائب“ کا نمونہ پیش کیا تو اس میں آپ حضرات برابر کے شریک ہوں گے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ محفوظ و مصئون رکھے۔ آمین!
لہٰذا آپ حضرات کی خدمت میں نہایت دردمندانہ اپیل ہے کہ اس کے متعلق اپنی دیانت کے مطابق پوری سوچ اور فکر کے ساتھ فیصلہ کریں۔ اللہ تعالیٰ آپ حضرات کی مدد و نصرت اور راہنمائی فرمادے اور صحیح فیصلہ کرنے کی توفیق رفیق گردانے۔ آمین!
فقیر دعا گو ہے کہ مولائے کریم و رحیم جل شانہ آپ حضرات اور جملہ اراکین و ہمدردان مجلس تحفظ ختم نبوت اور جملہ اہل اسلام کا اقصائے عالم میں ظاہری و باطنی خیر و برکت اور صحت و عافیت دارین اور فتح و نصرت اور تمکین و رسوخ سے نوازے اور دین حقہ اسلام کی بیش از بیش خدمت تبلیغ اور اشاعت کی توفیق کرامت فرمادے اور اپنے فضل وکرم اور رضاء، حفظ خاص سے سرفراز فرما کر اپنے انصار اللہ اور حزب اللہ کے زمرہ میں محشور فرمادے۔ آمین!
باالنبی الامی خاتم الانبیاء والمرسلین ﷺ
محمد یوسف عفی عنہ خانقاہ سراجیہ کندیاں ضلع میانوالی ۱۴؍ محرم الحرام ۱۳۹۸ھ
پیغام کے پڑھے جانے کے بعد مولانا تاج محمود صاحب نے اجلاس سے خطاب کیا اور فرمایا کہ حضرت مولانا خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے جن شرائط اور صلاحیتوں کا اس پیغام میں ذکر فرمایا ہے وہ تمام کی تمام حضرت موصوف میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں۔ ہم نے اس پیغام کا ایک ایک حرف دل کی گہرائیوں سے سنا ہے اور اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ اکابرین کی یہ امانت مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی صحیح قیادت حضرت مولانا خان محمد صاحب دامت برکاتہم ہی فرما سکتے ہیں۔ اس لئے آئندہ تین سال کے لئے مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے امیر مرکزیہ کے لئے میں حضرت مولانا خان محمد صاحب کا نام پیش کرتا ہوں۔ ان کے بعد حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر نے تائیدی کلمات کہے۔ مولانا تاج محمود صاحب کی تجویز اور مولانا عبدالرحیم کی تائید سے تمام شرکاء اجلاس نے بھر پور تائید کے ذریعہ حضرت مولانا خان محمد کو آئندہ تین سال کے لئے دستور کی دفعہ نمبر ۶ شق نمبر ۱ کے تحت امیر مرکزیہ منتخب کر لیا گیا۔
امیر مرکزیہ کے انتخاب کے بعد مولانا تاج محمود نے تجویز پیش کی کہ حضرت امیر مرکزیہ نے ایک گونہ امارت سے بزرگانہ معذرت فرمائی ہے۔ اس لئے اس ہاؤس کے جذبات حضرت کی خدمت میں پہنچانے کے لئے مجلس کے خدام کا ایک وفد خانقاہ سراجیہ جائے گا اور حضرت سے درخواست کرے گا کہ وہ کاروان بخاری کے اس لٹے پٹے یتیموں کے قافلہ کی سرپرستی فرمائیں۔ جسے ہاؤس نے بالا تفاق منظور کر لیا۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء
ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
اس کے بعد نائب امارت کے لئے مولانا عبداللطیف مبلغ بہاول پور نے مولانا مفتی احمد الرحمٰن صاحب کراچی اور سردار میر عالم خان لغاری نے مولانا تاج محمود صاحب فیصل آباد کا نام پیش کیا۔ مولانا تاج محمود نے اپنی صحت کی خرابی کا عذر فرمایا اور وعدہ کیا کہ میں ہمیشہ کی طرح بغیر کسی عہدہ کے مجلس کے خادم کی حیثیت سے کام کروں گا۔ لہٰذا لغاری صاحب میرا نام واپس لے لیں۔ کافی غور و فکر کے بعد دونوں مجوزین نے دونوں نام واپس لے لئے۔ بعدہ مولانا محمد شریف جالندھری نے حضرت مولانا محمد عبداللہ شیخ الحدیث جامعہ رشیدیہ ساہیوال کا نائب امارت کے لئے نام پیش کیا جسے بالاتفاق منظور کر لیا گیا۔ مولانا تاج محمود صاحب کے حکم پر مولانا حبیب اللہ فاضل جالندھری نے دعا کرائی۔ آپ کی دعا پر یہ اجلاس بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوا۔
محمد حیات
(۴۵ رواں) اجلاس شوریٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
۱۹۷۸ء میں تین اجلاس منعقد ہوئے۔ پہلے اجلاس کی کارروائی یہ ہے:
اجلاس طلب کردہ حضرت امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ
مؤرخہ ۷؍ صفر ۱۳۹۸ھ، مطابق ۱۷ جنوری ۱۹۷۸ء، بمقام خانقاہ سراجیہ کندیاں
شرکاء: (۱) حضرت امیر کے علاوہ، (۲) مولانا تاج محمود صاحب، (۳) سردار میر عالم لغاری، (۴) مولانا اللہ وسایا صاحب، (۵) مولانا غلام محمد صاحب، (۶) مولانا محمد شریف جالندھری۔
یہ اجتماع مرکزی عہدیداران و اراکین مرکزی مجلس شوریٰ کی نامزدگی کے لئے طلب فرمایا گیا تھا۔ چنانچہ حضرت امیر دامت برکاتہم نے مذکور ذیل حضرات کو بطور اراکین مجلس شوریٰ و مرکزی عہدیداران نامزد فرمایا:
(۱) حضرت امیر مرکزیہ مدظلہ، (۲) مولانا محمد عبداللہ شیخ الحدیث جامعہ رشیدیہ ساہیوال نائب امیر، (۳) مولانا عبدالرحیم صاحب اشعر ناظم اعلیٰ، (۴) سردار میر عالم خان لغاری ناظم، (۵) محمد شریف جالندھری ناظم تبلیغ، (۶) حاجی سیف الرحمٰن (بہاول پور)، (۷) حاجی بلند اختر (لاہور)، (۸) مولانا تاج محمود صاحب (فیصل آباد)، (۹) قاضی فیض احمد (ٹوبہ ٹیک سنگھ)، (۱۰) مولانا نور الحق صاحب نور (پشاور)، (۱۱) مولانا علاء الدین (ڈیرہ اسماعیل خان)، (۱۲) الحاج محمد یوسف صاحب (اسلامیہ پریس کوئٹہ)، (۱۳) حاجی محمد ابراہیم (سکھر)، (۱۴) مولانا محمد رمضان (راولپنڈی)، (۱۵) مولانا محمد عبداللہ (اسلام آباد)، (۱۶) مولانا عبدالرزاق سکندر (کراچی)، (۱۷) مولانا محمد تقی عثمانی (کراچی)، (۱۸) مولانا سید محمد بنوری (کراچی)، (۱۹) مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری (فیروزہ)، (۲۰) مولانا غلام محمد، (۲۱) مولانا سید منظور احمد شاہ، خازن کا عہدہ حضرت امیر مدظلہ نے زیر تجویز رکھا۔ فی الحال تا فیصلہ مولانا غلام محمد صاحب کام کریں گے۔
مذکورہ ذیل تجاویز پر غور و فیصلہ ہوا۔
- ۱...... چیف ایڈمنسٹریٹر آف پاکستان جنرل ضیاء الحق صاحب سے مسئلہ ختم نبوت و دیگر امور متعلقہ کے لئے ملاقات کی جائے۔ وفد کے
اراکین (۱) حضرت امیر مرکزیہ، (۲) مولانا تاج محمود صاحب، (۳) مولانا تقی عثمانی، (۴) مولانا عبدالرزاق اسکندر، (۵) سردار میر عالم خان لغاری، (۶) محمد شریف جالندھری۔ فیصلہ ہوا کہ سردار میر عالم صاحب جنرل صاحب سے وقت لیں۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معصم
- ۲...... ڈیرہ غازی خان مسجد کے کیس کا فیصلہ ہوا کہ اس کی اپیل کی جائے اور اخراجات جماعت ادا کرے۔
- ۳...... مجلس شوریٰ کا اجلاس بعد منظوری اراکین حضرات وسط فروری ملتان میں طلب کیا جائے۔ فقیر خادم سید محمد علی
(۴۶) اجلاس شوریٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
۱۹۷۸ء کے دوسرے اجلاس کی کارروائی یہ ہے:
اجلاس شوریٰ منعقدہ ۱۱؍ ربیع الاول ۱۳۹۸ھ، مطابق ۱۹ فروری ۱۹۷۸ء زیر صدارت امیر مرکزیہ حضرت اقدس مولانا خان محمد صاحب دامت برکاتہم
آغاز اجلاس بعد نماز ظہر
تلاوت: مولانا محمد رمضان صاحب (راولپنڈی)
حضرت امیر دامت برکاتہم نے خانقاہ سراجیہ میں ایک تجویز دی۔ اجلاس کے وقت جو عارضی عہدیداران مقرر فرمائے تھے اس کو کالعدم قرار دے کر بمشورہ اراکین شوریٰ مندرجہ ذیل نئے عہدیداران مقرر فرمائے۔
شرکاء: (۱) حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب، (۲) حضرت مولانا عبداللہ رائے پوری، (۳) حضرت مولانا تاج محمود، (۴) حضرت مولانا نور الحق نور، (۵) حضرت مولانا محمد عبداللہ (اسلام آباد)، (۶) حضرت مولانا محمد بنوری (کراچی)، (۷) حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، (۸) حضرت مولانا غلام محمد، (۹) حاجی محمد یوسف (کوئٹہ)، (۱۰) الحاج بلند اختر (لاہور)، (۱۱) حضرت مولانا محمد شریف جالندھری (ملتان)، (۱۲) سردار میر عالم خان لغاری (کراچی)، (۱۳) الحاج سیف الرحمن (بہاول پور)، (۱۴) حضرت مولانا علاؤ الدین (ڈیرہ)، (۱۵) حضرت مولانا محمد رمضان (راولپنڈی)، (۱۶) جناب شیخ فرزند علی (سکھر)، (۱۷) مولانا عبدالرحیم اشعر۔
مولانا عبدالرحیم صاحب اشعر ناظم اعلیٰ مولانا محمد شریف صاحب جالندھری ناظم تبلیغ مولانا حافظ عزیز الرحمن جالندھری خازن
طے پایا کہ مولانا عزیز الرحمن صاحب ۱۳۹۴ھ تا ۱۳۹۷ھ کے حسابات کی پڑتال کریں اور چار سالہ حسابات کو آڈٹ کے لئے تیار کریں۔ اس عرصہ میں اندازاً تین ماہ صرف ہوں گے۔ اتنا عرصہ حسب دستور مولانا غلام محمد بحیثیت خازن کام کرتے رہیں تا نکہ پڑتال کے بعد حسابات آڈٹ کرائے جائیں۔
طے پایا کہ حسب سابق ناظم کا عہدہ خالی رکھا جائے۔ البتہ اہم معاملات کو صحیح طور پر انجام دینے اور تبلیغی، تنظیمی، تعمیراتی وغیرہ امور کے لئے الگ الگ شعبہ جات قائم کر دیئے جائیں۔
حاجی بلند اختر اور مولانا تاج محمود نے دستور میں بعض ترامیم کئے جانے کا اظہار کیا جس پر باتفاق رائے طے پایا کہ اراکین شوریٰ دستور میں ترامیم کے متعلق تجاویز مرتب کر کے امیر مرکزیہ کو ارسال کریں۔ موصولہ ترامیم پر غور و خوض اور سفارشات کے لئے امیر مرکزیہ اپنی صوابدید سے ایک کمیٹی مقرر فرمائیں گے جو آئندہ اجلاس شوریٰ میں موصولہ ترامیم بمعہ تجاویز پیش کرے گی۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
مالیاتی سب کمیٹی! مالیاتی امور کی نگہداشت اور پڑتال کے لئے حاجی بلند اختر صاحب، مولوی فقیر محمد صاحب، مولانا عزیز الرحمن پرمشتمل ایک سب کمیٹی مقرر کر دی گئی جس کے کنوینر مولانا عزیز الرحمن صاحب ہوں گے۔
املاک و تعمیرات ! جماعت کی زرعی و سکنی املاک اور خاص طور پر مسلم کالونی ربوہ میں مدرسہ اور مسجد کی تعمیر کے لئے سردار میر عالم صاحب لغاری، مولانا تاج محمود صاحب، شیخ محمد حبیب، مولانا عزیز الرحمن صاحب پر مشتمل ایک تعمیراتی کمیٹی بنادی گئی ، جس کے کنوینر سردار میر عالم خان لغاری ہوں گے۔
شعبہ تنظیمی امور ! جس کے لئے مولانا محمد شریف صاحب جالندھری، حاجی بلند اختر، حاجی محمد یوسف (کوئٹہ)، حاجی فرزند علی (سکھر)، مولانا نور الحق نور (پشاور)، مولانا عبد الرحیم اشعر مقرر کئے گئے۔ اس کمیٹی کے کنوینر مولانا محمد شریف مقرر ہوئے۔
تالیف و تصنیف کے کام کو نئی ضرورتوں اور بہتر طور پر مؤثر بنانے کے لئے اہل قلم حضرات پر مشتمل ایک مشاورتی کمیٹی بنادی گئی جس کے اراکین مندرجہ ذیل حضرات ہوں گے : مولانا عبد الرزاق اسکندر (کراچی) ، مولانا محمد یوسف صاحب لدھیانوی، مولانا عبد الرحیم صاحب اشعر، مولانا محمد شریف صاحب جالندھری اس کمیٹی کے کنوینر مولانا محمد یوسف صاحب لدھیانوی ہوں گے۔
طے پایا کہ مولانا تاج محمود، سردار میر عالم خان، مولانا محمد شریف، مولانا محمد عبد اللہ پر مشتمل ایک وفد وزیر قانون اے ۔ کے ابروہی صاحب سے ملاقات کرے اور دیگر امور کے علاوہ مسلم کالونی ربوہ مکمل طور پر مسلمانوں کو دیئے جانے کا مطالبہ پیش کرے اور علاقہ کے مسلمانوں کے حقوق اور ان کی ضروریات کا احساس دلائے اور اس کے انتخابات میں قادیانیوں کو واضح طور پر الگ رکھنے کے متعلق طریق کار متعین کروائے۔
طے پایا کہ جامع مسجد مسلم کالونی ربوہ کا سنگ بنیا د رکھا جائے جس کے لئے خاص طور پر جنرل ضیاء الحق صاحب، جناب ریاض الخطیب صاحب کو دعوت دی جائے۔
طے پایا کہ اسلامک سنٹر جدہ سے رابطہ قائم کر کے اس کی رکنیت حاصل کی جائے۔ یہ کام مولانا تاج محمود صاحب، سردار میر عالم خان لغاری اور مولانا عبد الرزاق اسکندر صاحب کے سپرد کیا گیا۔
طے پایا کہ اقبال اور ختم نبوت پر ایک کتاب کسی پروفیسر سے مرتب کرائی جائے جس کے عنوان ، تالیف و تصنیف کی سب کمیٹی بمشورہ مولانا تاج محمود صاحب تجویز کرے گی۔
طے پایا کہ مسلم کالونی کی زیر تعمیر مسجد میں مدرسہ تعلیم القرآن ختم نبوت کا قیام عمل میں لایا جائے جس کے لئے ایک استاد اور دس طلباء کے قیام و طعام کی منظوری دی گئی۔
طے پایا کہ نئی زیر تعمیر عمارت چناب نگر میں عمارت اور اکابرین جماعت کے اسمائے گرامی کی پتھر کی سلیٹیں مع ضروری وضاحتوں کے جن سے مجلس کے بنیادی نصب العین کی طرف راہنمائی ملتی ہو نصب کی جائیں۔
طے پایا کہ مدرسہ جتوئی جو ابتداءً بوجہ وفات جام غلام رسول صاحب مجلس نے اپنی تحویل میں لیا تھا تا کہ درجہ تعلیم القرآن جاری رہے لیکن بعد میں اس کے مصارف منظوری سے زیادہ ادا ہوئے اور ادائیگی میں شدید بے قاعدگی پائی جانے کے باعث مجلس نے مدرسہ کی سر پرستی ختم کر دینے کا فیصلہ کیا اور طے پایا کہ حسب دستور ۳۰ / شعبان ۱۳۹۸ھ تک مصارف ادا کئے جائیں۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ۵۶۶ ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
مولانا مشتاق احمد صاحب جو بطور معاون دفتر مرکزیہ میں کام کرتے تھے ان وجوہات کی بناء پر جو اراکین شوریٰ کو زبانی تفصیلاً بتائی گئی تھیں جماعت سے فارغ کر دیا گیا اور فوری طور پر ان سے ضروری حسابات لئے جانے کا فیصلہ ہوا۔
امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے مولانا محمد حیات صاحب کو اعزازی طور پر شوریٰ کا رکن نامزد کیا۔ چنانچہ عام اراکین نے اسے پسند کیا۔ اسی طرح کراچی سے حضرت حاجی لال حسین کو اور گوجرانوالہ سے جناب مولانا عبدالرحمن صاحب ڈکٹیٹر کو مجلس شوریٰ کا رکن نامزد کیا۔
آخر میں تمام علاقائی مبلغین کی فہرست اور ان کے حلقہ ہائے تبلیغ پر تبادلہ خیال کیا گیا اور مندرجہ ذیل تبادلے کئے گئے۔
مولانا عبدالرزاق صاحب رحیمی کوئٹہ سے لاہور ، مولانا عبدالرؤف صاحب ملتان سے کنری، حافظ اللہ وسایا صاحب ربوہ سے کنری ، مولانا کریم بخش صاحب لاہور سے رحیم یار خان۔
فقیر خادم ختم نبوت غفرلہ
(۴۷واں) اجلاس شوریٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
۱۹۷۸ء کے تیسرے اجلاس کی کارروائی یہ ہے:
۷/ ذیقعدہ ۱۳۹۸ھ، مطابق ۹/ نومبر ۱۹۷۸ء
زیر صدارت امیر مرکزیہ حضرت اقدس مولانا خان محمد صاحب دامت برکاتہم
آغاز اجلاس بعد نماز ظہر
تلاوت: حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ صاحب نائب امیر مرکزیہ
شرکاء: (۱) حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب، (۲) حکیم عبدالرحمن (گوجرانوالہ)، (۳) حضرت مولانا محمد عبداللہ رائے پوری، (۴) مولانا محمد حیات، (۵) الحاج بلند اختر، (۶) مولانا تاج محمود، (۷) مولانا عزیز الرحمن، (۸) سید منظور احمد شاہ، (۹) مولانا محمد شریف جالندھری، (۱۰) مولانا علاؤ الدین، (۱۱) مولانا عبدالرحیم اشعر، (۱۲) الحاج سیف الرحمن۔
آنے والے انتخابات کے لئے بحیثیت مسلمان جو فارم چھپا ہے اس کے اقرار نامہ کی عبارت مبہم غیر واضح ہے اور مبینہ طور پر ربوہ سے یہ وضاحت جاری ہوئی ہے کہ ان کے پیروکار ، اہل اسلام کا فارم پر کریں نہ کہ احمدیوں والا۔ فیصلہ ہوا کہ جماعت کا وفد امیر مرکزیہ دامت برکاتہم مشتمل بر مولانا تاج محمود، مولانا محمد شریف جالندھری، ۱۴/ اکتوبر حضرت مفتی محمود صاحب سے مل کر ان کے ذریعہ صدر مملکت سے ملاقات کرے اور اس کی جگہ شناختی کارڈ کے حلف والی عبارت درج کرائے۔
ربوہ کی تعمیرات کے متعلق فیصلہ ہوا۔
اسٹیشن والی محمدیہ مسجد کے متعلق فیصلہ ہوا کہ بقایا ضروری تعمیرات کے مصارف مرکز ادا کرے۔ فیصلہ ہوا کہ شیخ منظور احمد چنیوٹی نے محنت ، دیانت سے پہلا مسلم کالونی والا کام کرایا ہے۔ رضا کارانہ طور پر محمدیہ مسجد کی بقایا تعمیرات مکمل کرائیں۔ اگر وہ رضا کارانہ طور پر خدمات انجام نہ دے سکیں تو نگرانی کے فرائض دفتر مرکزیہ ادا کرے۔
مسلم کالونی کی تعمیرات کے متعلق فیصلہ ہوا کہ مستقبل قریب میں ملک بھر سے بہی خواہاں مجلس تحفظ ختم نبوت اور مخیر حضرات کا ایک اجتماع خصوصی جامع مسجد مسلم کالونی کے احاطہ میں کر لیا جائے۔ اسی تقریب میں سنگ بنیاد رکھ دیا جائے۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
ہفت روزہ لولاک عرصہ دراز سے بطور ترجمان مجلس شائع ہو رہا ہے۔ اس کی عظیم خدمات ہیں۔ حضرت مولانا تاج محمود صاحب نے اس کے اجراء اور اشاعت کے لئے عظیم خدمات انجام دی ہیں۔ اب مولانا نے اپنی خرابی صحت اور نائب ایڈیٹر مولانا اللہ وسایا کی عدم فرصت کی مشکلات کے باعث تجویز دی کہ لولاک کو آئندہ ملتان سے شائع کیا جائے۔ مولانا عبدالرحیم ناظم اعلیٰ کی معذرت پر فیصلہ ہوا کہ حافظ عبدالرشید نور پوری کو لائل پور کے لئے رکھ لیا جائے۔ فیصلہ ہوا کہ ان کے ساتھ گفتگو حضرت حاجی سیف الرحمٰن رکن شوریٰ کریں۔ تب تک لولاک بدستور سابق لائل پور سے ہی شائع ہوتا رہے۔ مولانا اللہ وسایا سوائے جمعہ ربوہ کے اپنا تمام وقت لولاک کو دیں۔
حضرت امیر مرکزیہ نے ممبر سازی کے متعلق دریافت فرمایا اور ممبر سازی کی توسیع پر زور دیا۔ فیصلہ ہوا کہ محرم ۱۳۹۹ھ سے پرزور تحریک کے ذریعہ ممبر سازی کی مہم جاری کی جائے۔ ممبر بننے کی اجازت تو ہمہ وقتی ہے لیکن تین ماہ بطور خاص منصوبہ بندی کے ساتھ ملک کے اندر و باہر ممبر سازی کی جائے اور عامۃ المسلمین کو جماعت کا فارم پر کرنے کے لئے خصوصی کوشش کی جائے۔
ربوہ کے مقابلہ میں چنیوٹ کانفرنس بدستور سابق جاری رکھی جائے۔ اس کے انتظامات کے لئے حضرت امیر مرکزیہ مستقبل قریب میں بمعیت مولانا تاج محمود، مولانا سید منظور احمد، مولانا محمد شریف، مولانا حافظ عزیز الرحمٰن صاحب چنیوٹ تشریف لے جائیں۔
مولانا محمد یوسف لدھیانوی ناظم شعبہ نشر واشاعت مرکزی مجلس ختم نبوت کی خدمات جماعتی مفاد کے لئے روزنامہ جنگ کے لئے منظور کی گئیں۔ فیصلہ ہوا کہ حضرت مولانا کراچی میں بدستور جماعت کی نشر واشاعت کا کام کرتے رہیں اور ہر ماہ جماعتی ضرورت کے لئے ملتان دفتر بھی تشریف لاتے رہے۔ مولانا نور محمد صاحب مبلغ ضلع مظفر گڑھ کو جماعت کی ذمہ داریوں سے فارغ کر دیا جائے۔
فقیر خان محمد غفرلہ
(۴۸رواں) اجلاس شوریٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
۱۹۸۰ء میں دو اجلاس ہوئے۔ پہلے اجلاس کی کارروائی:
مؤرخہ ۲۲، ۲۳؍ ربیع الاوّل ۱۴۰۰ھ، مطابق ۱۰، ۱۱؍ فروری ۱۹۸۰ء
صدارت: حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم
تلاوت: حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب (اسلام آباد)
مجلس شوریٰ کے تین اجلاس ۱۰؍ فروری ۱۹۸۰ء بعد ظہر تا مغرب بعد عشاء تا ۱۲؍ بجے شب، ۱۱؍ فروری ۱۹۸۰ء ۹؍ بجے صبح تا ۳؍ بجے سہ پہر منعقد ہوئے۔
شرکاء: (۱) حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم، (۲) حضرت مولانا تاج محمود صاحب، (۳) حضرت مولانا محمد رمضان علوی، (۴) حضرت الحاج فرزند علی، (۵) حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری، (۶) حضرت مولانا محمد عبداللہ رائے پوری، (۷) حضرت مولانا سید منظور احمد، (۸) حضرت مولانا محمد شریف جالندھری، (۹) حضرت مولانا محمد عبداللہ (اسلام آباد)، (۱۰) حضرت مولانا عبدالرزاق اسکندر، (۱۱) حاجی لال حسین، (۱۲) حضرت مولانا محمد بنوری، (۱۳) حضرت مولانا نور الحق نور، (۱۴) حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر، (۱۵) حضرت مولانا عبدالرحمٰن (گوجرانوالہ)، (۱۶) حضرت الحاج بلند اختر
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء
ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
اجلاس اوّل ۲۲؍ ربیع الاوّل بعد نماز ظہر۔
مولانا عبدالرحیم صاحب اشعر ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان نے سال گزشتہ کی کارروائی پڑھ کر سنائی۔ حضرت امیر مرکزیہ نے تصدیق فرمائی۔
تجاویز
- ۱...... قادیانی نئے سرے سے اپنے اپنے دوائر میں تشدد اور افتراق کی باتیں کر رہے ہیں۔ اس لئے فیصلہ ہوا کہ مجلس کا ایک وفد جلد جنرل چشتی سے ملاقات کرے۔ حالات صدر مملکت تک پہنچائے۔ وفد میں مولانا تاج محمود، مولانا محمد عبداللہ (اسلام آباد)، مولانا غلام اللہ خان ضرور ہوں اور جسے مناسب خیال فرمائیں اپنے ساتھ لگالیں۔
- ۲...... مولانا تاج محمود صاحب نے فرمایا کہ عدالت عالیہ کے چیف جسٹس جناب مشتاق حسین نے اکثر اضلاع میں خصوصیت کے ساتھ سیشن جج قادیانی لگائے ہیں۔ فیصلہ ہوا کہ ماتحت مجالس، ورکرز اور مبلغین کے ذریعہ ملک بھر کا سروے کریں، ایسی فہرست تیار کریں۔
- ۳...... قادیانی اپنے کو مسلمان ظاہر کر کے سعودی عرب اور اسلامی ممالک میں جارہے ہیں۔ ان کا توڑ اندرون ملک سے مشکل ہے۔ اس لئے ان اسلامی ممالک کی سفارشوں سے بات طے کی جائے کہ مجلس تحفظ ختم نبوت جماعتی سطح پر جن قادیانیوں کی نشاندہی کرے ۔ متعلقہ حکومتیں اپنے ممالک سے نکال دیں۔ مجلس تحفظ ختم نبوت اپنا یقین حاصل کرنے کے بعد متعلقہ سفارتوں کو ایسی فہرست مہیا کرے گی۔ اس کے لئے وفد بذریعہ جماعت، اسلام آباد سفارت کار اسلامی ممالک سے ملاقات کی جائے۔
- ۴...... عارضی طباعت کے لئے اگر دفتر مرکزی ضرورت محسوس کرے تو شوریٰ کی طرف سے سائیکلو سٹائل مشین خرید کرنے کی اجازت ہے۔
- ۵...... یکم؍ اپریل ۱۹۸۰ء سے نیو ٹاؤن کراچی جامعہ اسلامیہ میں پانچ فارغ التحصیل علماء کو دارالمبلغین ختم نبوت میں داخل کیا جائے اور تربیت شروع کی جائے۔ تربیت کے فرائض مولانا محمد یوسف لدھیانوی ادا فرمائیں۔ ہر طالب علم کو تین صد ماہوار وظیفہ دیا جائے۔ بہترین طلباء کے حصول کے لئے ملک کے اعلیٰ مدارس حضرات سے بات کی جائے۔ دارالمبلغین مذکور کے کورس تین حصوں میں کر دیا جائے۔ نصاب کا فیصلہ مولانا محمد یوسف لدھیانوی، مولانا عبدالرزاق، مولانا محمد اسحاق صدیقی، مولانا اشعر صاحب ناظم اعلیٰ کریں۔ ان علماء میں ایسے عالم کو جو انگریزی جانتا ہو اسے ترجیح دی جائے گی۔
- ۶...... مرکزی دفتر کی جانب سے مذکورہ ذیل ہدایت پر عمل کرنا ضروری ہے کہ جہاں جہاں رمضان شریف میں درس قرآن کا اہتمام ہے وہاں وہاں دفتر کی جانب سے تردید مرزائیت پڑھانے والے حضرات تشریف لے جائیں یا ایسے طلباء کو تربیت دینے کے لئے مرکز کی طرف سے انتظام کیا جائے۔
- ۷...... مجلس شوریٰ نے کافی بحث کے بعد کہا کہ نشرواشاعت کے شعبہ میں وسعت پیدا کی جائے۔
- ۸...... اس کی تفصیلات مولانا محمد یوسف (کراچی)، مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مولانا عبدالرحیم اشعر، مولانا محمد شریف جالندھری طے کریں۔
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء
ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
- ۹...... مجلس تحفظ ختم نبوت کے تعارف کے لئے محترم ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر نے جو کتابچہ عربی زبان میں تحریر فرمایا ہے اس کی اشاعت
خصوصیت کے ساتھ عرب ممالک میں کی جائے اور اگر ضرورت محسوس ہو تو اسے علیحدہ انگریزی میں بھی شائع کیا جائے ۔
- ۱۰...... مرکزی دفتر ( تغلق روڈ ) ملتان کی موجودہ عمارت میں دراڑیں پڑ چکی ہیں ۔ حاجی بلند اختر ، حاجی منظور احمد نے تمام عمارت کا
معائنہ کر کے شوریٰ کے اجلاس میں رپورٹ پیش کی ۔ اجلاس نے ناظم اعلیٰ اور خازن صاحب کو اختیار دیا کہ وہ مرمت یا بعض حصوں کو گرا کر یا بدل کر کوئی اصلاحی کام کرنا چاہیں تو وہ مجاز ہیں ۔
- ۱۱...... مرکزی کتب خانہ کی عمارت ناکافی اور بوسیدہ ہے ۔ اس لئے سیڑھیوں کے ساتھ والے بڑے کمرے کو بطور کتب خانہ استعمال کرنے
کی اجازت دی جاتی ہے ۔ کتابیں رکھنے کے لئے الماریاں جس قسم کی ناظم اعلیٰ اور خازن صاحب مناسب خیال فرمائیں بنالیں ۔
- ۱۲...... مسلم کالونی ربوہ کی جامع مسجد کی تعمیر مجلس اپنے خرچ سے کرے ۔ ہاؤسنگ سوسائٹی کی امداد نہ لی جائے ۔ ان تعمیرات کی نگرانی
مولانا تاج محمود ، حاجی بلند اختر اور مولانا عزیز الرحمن خازن مرکزی کریں تو باہمی مشورہ سے عمارت مکمل فرمائیں ۔
- ۱۳...... دفتر جدید حضوری باغ روڈ ملتان مجلس اپنے ذرائع سے عمارت مکمل کرے ۔
- ۱۴...... مجلس مرکزیہ کے دستور میں بعض ترامیم ناگزیر ہیں ۔ اس سلسلہ میں حاجی بلند اختر کچھ ترامیم لکھ کر ہمراہ لائے ہیں ۔ مولانا تاج
محمود ، مولانا حکیم عبدالرحمن آزاد گوجرانوالہ ، مولانا محمد شریف جالندھری ترامیم کریں ، مسودہ تیار کریں اور شعبان ۱۴۰۰ھ میں مجلس شوریٰ ، جنرل کونسل ، مبلغین کی میٹنگ بلا کر جنرل کونسل میں ترامیم منظور کرائی جائیں ۔ ناظم اعلیٰ تمام اراکین شوریٰ کی خدمت میں دستور کی ایک ایک کاپی فوری طور پر ارسال کر دیں ۔ اراکین شوریٰ اپنی اپنی تجاویز ، ترامیم تحریر کر کے دفتر مرکزیہ ملتان ارسال کریں ۔
- ۱۵...... مندرجہ ذیل حضرات کی عارضی تقرریوں کی منظوری دی جاتی ہے ۔ حافظ محمد حنیف برائے لولاک ، محمد اسلم برائے سیالکوٹ ، مولانا
حسین احمد برائے کنری ، مولانا حبیب اللہ برائے حیدرآباد ، مولانا محمد اسماعیل رحیم یار خان ، مولانا منظور احمد کراچی ۔ فیصلہ ہوا کہ یہ تقرری عارضی ہے ۔ بعد نگرانی ، کارروائی مستقل فیصلہ ہو گا ۔ ناظم اعلیٰ نے رپورٹ کی کہ مولانا محمد اسلم باوجود کوشش کرنے کے چل نہیں سکے ۔ محمد اسلم سیالکوٹی کی تقرری عارضی بمشورہ ملک منظور الہیٰ ہوئی ہے ۔
- ۱۶...... مولانا حافظ احمد بخش صاحب کا تقرر ناظم اعلیٰ کی سفارش پر ہوا ۔ تقرری منظور کی جاتی ہے ۔ مرکز مناسب جگہ پر بھی ہے ۔
- ۱۷...... (الف) تبلیغی نظام کو مؤثر بنانے کے لئے مستقبل میں مبلغین کے علاقائی گروپ بنانا ضروری ہے ۔ جس کی تفصیلات عند
الضرورت طے ہوتی رہے گی ۔ سردست ربوہ مرکز بنا کر اس کے قرب و جوار میں کام ضروری ہے ۔ مولانا سیف الرحمن مبلغ سرگودھا ربوہ گروپ میں شامل ہوں ۔
- (ب) حضرت مولانا صوفی اللہ وسایا ڈیرہ غازی خان کا بعض جماعتی امور کے باعث ربوہ گروپ میں کام کرنا ضروری ہے ۔
ناظم اعلیٰ ان سے بات کریں ۔
- ۱۸...... حافظ آباد ، گوجرانوالہ ، سیالکوٹ کے مبلغ کام کو منظم طریق پر چلانے کے لئے مولانا حکیم عبدالرحمن امیر مجلس ختم نبوت گوجرانوالہ
و رکن مرکزی شوریٰ کی نگرانی میں کام کریں ۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
- ۱۹...... مولانا غلام حیدر بیماری و عمر کے تقاضے کے باعث اب اسلام آباد کی جماعتی ضرورتیں پوری نہیں کر سکتے۔ ان کی موجودگی میں کوئی
نئے مبلغ وہاں بھیجے جائیں۔ جو ان کی نگرانی میں کچھ عرصہ کام سمجھ لیں۔ ان کی تربیت کے بعد مولانا غلام حیدر کو کوئی نئی مناسب ذمہ داری سونپ دی جائے۔
- ۲۰...... مجلس شوریٰ میں علاقائی نمائندگی کے لئے حضرت امیر مرکزی نے مندرجہ ذیل تین حضرات کے نام منظور فرمائے۔ الحاج ملک منظور
الٰہی سیالکوٹ، راؤ عبدالمنان سرگودھا، حضرت مولانا منیر الدین کوئٹہ۔
- ۲۱...... کنری میں مرزائیوں کا مرکز ہے۔ ان کے برابر مجلس تحفظ ختم نبوت بھی مسجد، مدرسہ، دفتر کچھ دکانات بنانے میں کامیاب ہوگئی
ہے۔ مسجد کے جنوب کی جانب چار دکانیں ایسی ہیں جن کی اراضی جماعت کی خرید کردہ ہے لیکن خرید سے قبل ہی سے دکاندار قابض ہیں۔ جن کے ساتھ اراضی فارغ کرانے کے لئے کارروائی ضروری ہے۔ اس لئے جماعت کی طرف سے بشیر احمد ارائیں رکن مجلس تحفظ ختم نبوت کنری کے نام مختار نامہ بھیج دیا جائے اور انہیں لکھا جائے کہ قابض مسلمانوں کے جائز حقوق ادا کر کے قبضہ حاصل کریں۔
- ۲۲...... محمدیہ مسجد ریلوے اسٹیشن ربوہ میں ابھی تکمیل کے لئے کچھ اخراجات کی ضرورت ہے۔ مجلس ہدایت کرتی ہے کہ مصارف میں
کفایت شعاری اور تعمیر میں حتی الامکان سادگی اختیار کی جائے۔
- ۲۳...... مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان اپنی دستوری روش میں صرف تبلیغی و سماجی جماعت ہے۔ اس کے عہدیدار اور مبلغ الیکشن میں کسی
صورت حصہ نہیں لے سکتے۔ گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں ربوہ اور کنری میں بالترتیب قاری شبیر احمد معلم تعلیم القرآن و پیش امام محمدیہ مسجد ربوہ نے الیکشن لڑا۔ کنری میں میاں بشیر احمد بی۔ اے صدر مجلس کنری نے الیکشن لڑا اور کامیاب رہے۔ کیونکہ ہر جگہ مرزائیوں کی اکثریت اور ان کے غلبہ سے مقابلہ تھا۔ اس لئے مجلس ان کے اس فعل سے صرف نظر کرتی ہے۔ اگرچہ صوفی اللہ وسایا نے ڈیرہ غازی خان میں ایسی ہی وجوہات کے باعث الیکشن میں حصہ لیا۔ چونکہ وہاں مرزائی غلبہ کا مسئلہ نہیں اس لئے مجلس ان کے اس فعل کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتی ہے۔
- ۲۴...... جابہ میں مرزائیوں کا گرمائی ہیڈ کوارٹر تھا۔ مجلس نے بھی وہاں مرکز بنایا۔ اللہ پاک نے بے پناہ کامیابی عطاء کی۔ مسجد جابہ مرکز
میں زیر تعمیر ہے۔ مولانا قاضی عبدالمالک یہاں پسند کرتے ہیں کہ مسجد کی تکمیل عمارت کے لئے علاقہ سے چندہ کیا جائے۔ مجلس کے ناظم اعلیٰ اور محمد شریف جالندھری کو ہدایت کرتی ہے کہ وہ مستقبل قریب میں قاضی صاحب کی معیت میں اس علاقہ سے فراہمی کریں۔
- ۲۵...... اراکین شوریٰ اپنے اطمینان کا اظہار کرتے ہیں کہ مولانا غلام محمد اندرون مدت پانچ سال رقم ادا کریں گے۔ بصورت دیگر بعد
فروخت اراضی جماعت کی رقم وصول کر لی جائے گی۔
- ۲۶...... مولانا جمال اللہ الحسینی مبلغ علاقہ سندھ ایک ہفتہ فی ماہ علاقہ کنری میں کام کریں۔
- ۲۷...... دفتر مرکزی ملتان فوری طور پر زیر تعمیر مسجد حضوری باغ روڈ میں اذان و نماز باجماعت کا اہتمام کرے۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
- ۲۸....... اجلاس میں مولانا عبدالرحیم صاحب ناظم اعلیٰ نے بیان فرمایا کہ مجلس تحفظ ختم نبوت بہاول پور مقامی طور پر ایثار پیشہ اور منظم
جماعت ہے اور مرکز کی مالی امداد کے لحاظ سے صف اوّل میں شامل ہے۔ مقامی جماعت کے پاس جو دفتر ہے وہ بوسیدہ ہے اور مالک مکان خالی کرا رہا ہے۔ مقامی مبلغ کے اہل وعیال کے لئے مکان کی ضرورت ہے۔ مقامی جماعت کے تحت مدرسہ عربی جاری تھا جو ایک عرصہ سے کرایہ کا مکان نہ ملنے کے باعث بند ہے۔ مقامی جماعت کی تجویز پر میری (ناظم اعلیٰ کی) درخواست ہے کہ مرکزی مجلس تحفظ ختم نبوت کی ملکیتی جائیداد دکان نمبر ۳۹ واقعہ غلہ منڈی بہاول پور کے بالاخانہ جات ان ہر سہ امور کے لئے کافی ہیں۔ مجلس شوریٰ کے اراکین اور حضرت امیر مرکزی کی خدمت میں التماس ہے کہ دکان نمبر ۳۹ مع بالاخانہ جات کرایہ داروں سے فارغ کرانے کی اجازت عطاء فرمائی جائے تاکہ مقامی جماعت کی جائز ضروریات پوری ہو جائیں۔ تمام اراکین اور حضرت امیر مرکزی نے بلا اختلاف اتفاق فرمایا کہ باہمی افہام وتفہیم یا دعویٰ دیوانی کے ذریعہ اس عمارت کو خالی کرا لیا جائے اور مقامی جماعت کی مذکورہ بالا جائز اور ضروری ضروریات کو پورا کیا جائے۔ فیض احمد حسن محمد علی
(۴۹ رواں) اجلاس شوریٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
۱۹۸۰ء کے دوسرے اجلاس مجلس شوریٰ کی کارروائی حسب ذیل ہے:
شرکاء: (۱) حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم، (۲) حضرت مولانا محمد عبداللہ (اسلام آباد)، (۳) حضرت مولانا نور الحق نور، (۴) حضرت مولانا تاج محمود، (۵) حضرت مولانا محمد بنوری، (۶) حضرت مولانا سید منظور احمد شاہ، (۷) حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر، (۸) جناب عبدالرحمن یعقوب باوا، (۹) حکیم عبدالرحمن (گوجرانوالہ)، (۱۰) منظور الٰہی ملک، (۱۱) حضرت مولانا محمد شریف جالندھری، (۱۲) حاجی لال حسین (کراچی)، (۱۳) حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، (۱۴) حضرت مولانا عبداللہ رائے پوری۔
اجلاس مجلس شوریٰ تحفظ ختم نبوت پاکستان منعقدہ ۵، ۶؍ صفر ۱۴۰۱ھ، مطابق ۱۴، ۱۵؍ دسمبر ۱۹۸۰ء بروز اتوار، سوموار، بمقام: دفتر جدید تحفظ ختم نبوت ملتان
پہلا اجلاس صبح دس بجے دن اتوار تا نماز ظہر، دوسرا اجلاس بعد ظہر تا مغرب، تیسرا اجلاس صبح ساڑھے آٹھ بجے دن سوموار تا ظہر
تلاوت: حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب (اسلام آباد)
- ۱...... ابتداء میں ان حضرات کے لئے جو دار فانی سے دار جاودانی کی طرف تشریف لے گئے ہیں۔ دعا مغفرت کی گئی۔ بالخصوص فاتح
قادیان مولانا محمد حیات صاحب، شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان صاحب، مولانا احتشام الحق تھانوی، شیخ الحدیث قائد ملت، قائد تحریک اسلامی مولانا مفتی محمود، برادر حاجی عمر دین (بہاول پور)، مولانا محمد رمضان علوی (بھیرہ) کے والد بزرگوار مرحوم مولانا عبدالشکور کوئٹہ، چوہدری محمد علی سابق وزیر اعظم۔ اللہ تعالیٰ ان سب حضرات کی مغفرت فرمائے اور درجات میں ترقی ہو۔
- ۲...... قاضی فیض احمد (ٹوبہ ٹیک سنگھ)، مولانا عبدالرزاق اسکندر (کراچی) کے معذرت و شوریٰ میں عدم شرکت کے خط حضرت
امیر مرکزیہ کی خدمت میں پیش ہوئے۔ مولانا عبدالرحیم صاحب اشعر ناظم اعلیٰ نے پچھلے اجلاس شوریٰ کی کارروائی پڑھ کر سنائی۔ جس پر شق وار عمل ہونے یا نہ ہونے پر بحث ہوئی۔ تمام حضرات نے حصہ لیا۔ اراکین شوریٰ نے مجلس مرکزی کے مبلغین کی ملک
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء
ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معصوم
بھر کی کارکردگی کو بنظر استحسان دیکھا اور اس امر کا اظہار کیا کہ جس قدر مرزائی محاذ پر کام کی ضرورت ہے۔ اس لئے کہ کام ناکافی ہے۔ نئے ولولہ کے تحت کام میں شدت اور جفاکشی کی مزید ضرورت ہے۔ جیسی کہ اکابر کے دور میں تھی۔ اجلاس شوریٰ میں جو تجاویز و فیصلے ہوں، ضروری ہے کہ ان پر مکمل عمل درآمد ہو۔ اس وقت ملک کے بعض حصوں میں کام کی رفتار بہت سست ہے اور بعض حصوں میں مبلغین ضرورت کے موافق تشریف نہیں لے گئے۔ ناظم اعلیٰ اور دفتر مرکزی کو اس کمی کے پورا کرنے کی طرف ضروری توجہ مبذول کرنی چاہئے۔
- ۳...... حکومت پاکستان نے قادیانیوں کے اسلامی ممالک میں جانے پر پابندی عائد کی اور عدم قادیانی ہونے کا مذہبی سرٹیفکیٹ حاصل
کرنے کا پابند کیا۔ لیکن عمل درآمد میں نقص کے باعث بہت سے قادیانی اسلامی ممالک اور بالخصوص سعودی عرب میں جا چکے ہیں۔ جن کے متعلق یقین ہے کہ وہ اسرائیل کے حق میں اسلامی ممالک کے سفراء بالخصوص سعودی عرب کے سفیر سے مل کر فیصلہ کریں کہ جن اشخاص کے متعلق مرکزی جماعت ختم نبوت ملتان سفراء کو اطلاع دے، سفراء اپنی حکومتوں سے ان کے اخراج کا انتظام کریں۔ مجلس شوریٰ نے مولانا محمد عبداللہ صاحب کے ذمہ یہ ذمہ داری سپرد کرنے کے ساتھ دفتر مرکزی ختم نبوت کو پابند کیا کہ وہ فوری طور پر ایسے مرزائیوں کی فہرست تیار کر لے جو اسلامی ممالک بالخصوص سعودی عرب میں مقیم ہیں۔
- ۴...... دارالمبلغین ختم نبوت کی عملاً دو صورتیں تھیں۔ کسی ایک مرکزی دفتر میں سہ ماہی کورس جس میں فارغ التحصیل علماء داخل ہوں اور
ان کی تربیت کا انتظام کیا جائے۔ یہ تربیت حضرت مولانا لال حسین یا حضرت مولانا محمد حیات کے ذریعہ انجام پذیر ہوتی تھی۔ دوسری صورت یہ تھی کہ ملک بھر میں جہاں جہاں رمضان المبارک میں ترجمہ قرآن کریم کا انتظام ہے۔ وہاں مربی حضرات تشریف لے جائیں اور شریک ترجمہ علماء کو تردید مرزائیت و عیسائیت کا کورس پڑھائیں۔ لیکن اب کچھ عرصہ سے ایسا نہیں۔ تنظیم اہل سنت کے ساتھ مل کر مجلس تحفظ ختم نبوت کا دارالمبلغین قائم ہوا ہے اور دو ہفتہ تک شرکاء کو تردید مرزائیت کی تیاری کرائی جاتی ہے۔ امسال نیو ٹاؤن کراچی اور شیرانوالہ دروازہ لاہور کی طرف سے ملتان دعوت آئی کہ یہاں سے استاذ بھیجے جائیں۔ لیکن اس پر عمل نہ ہوا۔ مجلس شوریٰ نے اس صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا اور فیصلہ ہوا کہ آئندہ تین ماہ کا کورس دارالمبلغین ربوہ مسلم کالونی میں جاری کیا جائے اور حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب تمام مصروفیت کو چھوڑ کر اپنے بزرگوں کی طرز پر تربیت کا انتظام فرمائیں۔ مولانا تاج محمود، استاذ دارالمبلغین کے لئے مولانا محمد امین صاحب اوکاڑہ سے بات کریں۔ ربوہ کا دارالمبلغین مولانا تاج محمود صاحب کی زیر نگرانی ہو اور استاذ اوّل مولانا محمد امین ہوں گے۔ اگر خدانخواستہ ربوہ میں انتظام نہ ہو سکے تو ملتان دفتر میں کورس مولانا عبدالرحیم صاحب انجام دیں۔ اسی طرح حسب دستور سابق ترجمہ قرآن کے مدارس میں بھی تربیت کا انتظام کیا جائے۔
- ۵...... اراکین شوریٰ کو شعبہ نشر و اشاعت ختم نبوت سے باخبر رکھنے کے لئے فیصلہ ہوا کہ :
- الف...... جملہ کتب شائع شدہ کا ایک ایک نسخہ اراکین کو ارسال کیا جاوے۔
- ب...... آئندہ جو نسخے شائع ہوں وہ اراکین کو ایک نسخہ کے حساب سے بھیجے جائیں۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء
ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
- ج ...... آئندہ شائع ہونے والے لٹریچر میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے تعارف کا ایک دو صفحہ ضرور لگایا جاوے۔
- د ...... متقدمین کی مصنفہ کتب شائع کرنے کی بجائے ان کا ماحصل موجودہ اردو ادب میں شائع کیا جاوے۔
- ۶ ...... مسلم کالونی ربوہ مجلس کے احاطہ میں دارالقرآن کے لئے آٹھ کمرے مع برآمدہ زیر تعمیر ہیں جن کے لئے فیصل آباد کے ایک مخیر نے
۵۳ ہزار کی خطیر رقم بواسطہ مولانا تاج محمود صاحب عطیہ کی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر عطا فرمائیں۔ فیصلہ ہوا کہ روپیہ کی کمی کے باعث کام ادھورا نہ چھوڑا جائے۔ جو رقم زائد خرچ ہو وہ مجلس کے فنڈ سے خرچ کر کے دارالقرآن کی عمارت مکمل کر لی جائے۔
- ۷ ...... تعمیرات کے سلسلہ میں ایک کمیٹی مشتمل بر مولانا تاج محمود، الحاج بلند اختر (لاہور)، الحاج خواجہ محمد حبیب قائم کی گئی۔ جس کے
ذمہ حسب ذیل امور ہوں گے۔
- الف ...... دفتر قدیم کرایہ پر دے بایں صورت کہ کرایہ دار مدت قبضہ کے بعد عمارت خالی کر دے۔ کسی پیش کش کے ذریعہ دفتر قدیم کی
قیمت فروخت معلوم کریں۔ فروخت کی صورت میں مجلس شوریٰ سے استصواب ضروری ہوگا۔
- ب ...... دفتر جدید (حضوری باغ روڈ) کی بقایا عمارت کی تکمیل کا انتظام کریں۔
- ۸ ...... مجلس تحفظ ختم نبوت کنری کا زرخرید پلاٹ جس میں متعدد دکانیں، دفتر ختم نبوت، مدرسہ تعلیم القرآن و جامع مسجد بخاری کی
عمارات ہیں، جانب شمال میں ایسے حضرات اپنی دکانیں بنا کر کام کرتے ہیں جو اس وقت سے قابض ہیں۔ جب یہ اراضی ہندو کی ملکیت تھی۔ بعد ازاں مجلس نے خریدی۔ فیصلہ ہوا کہ ان دکانداروں کے ساتھ افہام و تفہیم کر کے دکانیں مسجد کے لئے فارغ کرائی جائیں۔ مقدمہ بازی نہ کی جائے۔ مقدمہ بازی کے لئے جو مختار نامہ مولانا اختر کی طرف سے بھیجا گیا ہے اسے منسوخ کر دیا جائے اور مقامی جماعت کنری کا جدید انتخاب کیا جائے۔
- ۹ ...... دفتر تحفظ ختم نبوت کراچی (سائرہ مشن بالمقابل ریڈیو پاکستان اسٹیشن) بوسیدہ عمارت میں ہونے کے باعث اس کے حقوق پچاس
ہزار روپے میں فروخت کر دیئے گئے۔ کراچی کی اہمیت کے پیش نظر معقول عمارت کا دفتر کے لئے ہونا ضروری ہے۔ حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰن، حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی کی ہدایات کے تحت محترم ناظم اعلیٰ کراچی مجلس عبدالرحمٰن یعقوب باوا مسجد باب الرحمت اور اس کے ساتھ دفتر کا اہتمام کر رہے ہیں جو ہر لحاظ سے موزوں تر ہے۔ حضرت امیر مرکزی نے خصوصیت سے ارشاد فرمایا کہ اگر مسجد مذکور اور ساتھ ہی دفتر کی تعمیر میں کامیابی نہ ہو تو مناسب جگہ پر پلاٹ خرید کر کے دفتر تعمیر کیا جائے۔
- ۱۰ ...... وادی سون سکیسر میں قادیانیوں نے النخلہ تعمیر کیا تھا۔ مجلس نے ان کے مقابل جابہ میں ادارہ قائم کیا اور مسجد کی بنیاد رکھی۔ الحمدللہ!
قادیانی النخلہ چھوڑ کر ربوہ بھاگ گئے۔
- ۱۱ ...... مسجد تاحال زیر تعمیر ہے۔ دو کنال رقبہ کی چار دیواری ہو کر پمپ لگ چکا ہے۔ مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن جاری ہے۔ مسجد کی چھت
کے لئے ایک مخیر ملک کریم بخش صاحب مالک سپر ٹرانسپورٹ نے وعدہ فرمالیا ہے۔ دیگر عمارت کی ضروریات کے لئے مبلغ ۱۰ ہزار روپے مرکزی جماعت کی طرف سے ارسال کرنے کی اجازت دی گئی۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
- ۱۲....... عبدالرحمن یعقوب باوا ناظم اعلیٰ کراچی نے تین علماء کی خدمات حاصل کی تھیں۔ مولانا سعید احمد، مولانا عبدالحکیم، مولانا محمد اکرم۔
مولانا عبدالحکیم کو یومیہ کام نہ کر سکنے پر فارغ کر دیا ہے۔ مولانا سعید احمد کو جز وقتی نصف مشاہرہ پر رکھ لیا ہے اور مولانا محمد اکرم صاحب مستقل مبلغ کے طور پر کام کرتے ہیں۔ مجلس شوریٰ نے مذکورہ صورت کی منظوری دی۔
- ۱۳....... مولانا محمد طفیل صاحب ارشد برائے سکھر، شکار پور، مولانا محمد امیر برائے بہاول نگر، مولانا حبیب اللہ برائے کنری، مولانا
عبدالرحیم صاحب برائے اسلام آباد عارضی طور پر تین ماہ کے لئے متعین ہوئے تھے۔ مولانا عبدالرحیم ایک ماہ بعد کام چھوڑ گئے۔ باقی ہر سہ حضرات کام بہتر انجام دے رہے ہیں۔ ان کی مستقل تقرری کی منظوری عطاء کی گئی۔ جدید دفتر میں جامع مسجد کی امامت کے لئے منظوری دی جاتی ہے۔ موجودہ امام عارضی ہیں۔ مناسب امام ملنے پر سبکدوش کر دیئے جائیں گے۔ جب ضرورت دفتر جدید کے لئے چوکیدار دفتر قدیم کے لئے ایک چوکیدار کا تقرر منظور ہے۔ دفتر قدیم میں ضرورت ختم ہونے کے بعد چوکیدار فارغ کر دیا جائے۔ دفتر جدید کے لئے مستقل ایک چوکیدار کی اجازت ہے۔
- ۱۴....... گزشتہ عرصہ میں مبلغین حضرات کا نظم و نسق بہتر صورت میں نہیں رہا۔ فیصلہ ہوا کہ ناظم اعلیٰ صاحب اس طرف فوری توجہ فرمائیں
اور ہر چار ماہ بعد جملہ مبلغین کا اجلاس ملتان یا کسی مناسب جگہ پر طلب فرمائیں اور اس میں مبلغین کی کارکردگی زیر بحث ہو۔
فقیر خان محمد غفرلہ
(۵۰رواں) اجلاس جنرل کونسل وشوریٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
۱۹۸۱ء میں دو اجلاس ہوئے۔ پہلا جنرل کونسل کا دوسرا مجلس شوریٰ کا۔ پہلے اجلاس جنرل کونسل کی رپورٹ یہ ہے: اجلاس جنرل کونسل مجلس تحفظ ختم نبوت، مؤرخہ یکم / جمادی الاول ۱۴۰۱ھ، مطابق ۸ / مارچ ۱۹۸۱ء، صبح ۹ / بجے بمقام: دفتر مرکزیہ ملتان
شرکاء: (۱) حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم، (۲) حضرت حاجی منظور احمد (تاج گڑھ رحیم یار خان)، (۳) مستری برکت علی (کنری)، (۴) حضرت مولانا محمد شریف جالندھری، (۵) حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر، (۶) حضرت مولانا محمد بنوری (کراچی)، (۷) حاجی محمد شفیع (پل موسیٰ)، (۸) حضرت مولانا غلام حسین (حاصل پور، بہاول پور)، (۹) الحاج عبدالرحمن (قائم پور ضلع بہاول پور)، (۱۰) احمد حسین (فیصل آباد)، (۱۱) حضرت مولانا عبدالحق مجاہد (ملتان)، (۱۲) عبدالرشید (ملتان)، (۱۳) تاج محمد (بہاول نگر)، (۱۴) غلام مرتضیٰ (شیخوپورہ)، (۱۵) حافظ محمد حیات (جابہ)، (۱۶) غلام رسول رحمانی (بہاول پور)، (۱۷) عبدالرحمن یعقوب باوا (کراچی)، (۱۸) شیخ منظور احمد (چنیوٹ)، (۱۹) شبیر احمد (ربوہ)، (۲۰) فیض رسول (مظفر گڑھ)، (۲۱) محمد طفیل (سکھر)، (۲۲) جمال اللہ الحسینی (سکھر)، (۲۳) فاروق احمد (پنوں عاقل)، (۲۴) سیف اللہ (پنوں عاقل)، (۲۵) حسن علی (کوٹ ادو)، (۲۶) رشید احمد لدھیانوی (رحیم یار خان)، (۲۷) حضرت مولانا محمد لقمان علی پوری، (۲۸) حمد اللہ شفیق (رحیم یار خان)، (۲۹) حکیم سعید احمد (ساہیوال)، (۳۰) محمد فاروق (مظفر گڑھ)، (۳۱) حضرت مولانا ضیاء الدین آزاد، (۳۲) شیخ محمد یونس (لاہور)، (۳۳) حضرت مولانا محمد منیر الدین (کوئٹہ)، (۳۴) منظور احمد (فیصل آباد)، (۳۵) غلام احمد (احمد پور شرقیہ)، (۳۶) شبیر احمد لاشاری (ٹھل نو)،
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
(۳۷) حضرت مولانا نذیر احمد تونسوی، (۳۸) الحاج ذکر اللہ (بہاول پور)، (۳۹) غلام حسین (جھنگ)، (۴۰) حبیب الرحمٰن (جھنگ)، (۴۱) بشیر احمد حصاروی (رحیم یار خان)، (۴۲) حاجی فیروز الدین (چنیوٹ)، (۴۳) ممتاز الحسن گیلانی (کھرڑیانوالہ)، (۴۴) مولانا احمد یار یاری (لالیاں)، (۴۵) عبدالکریم میلسوی، (۴۶) خلیل احمد (سکھر)، (۴۷) بشیر احمد (سکھر)، (۴۸) میر محمد میمن (سکھر)، (۴۹) اقبال محمود (فیصل پارک لاہور)، (۵۰) حاجی منظور احمد (لاہور)، (۵۱) خادم حسین (لاہور)، (۵۲) غلام رسول، (۵۳) محمد حسین، (۵۴) محمد بشیر احمد، (۵۵) چوہدری رحمت اللہ، (۵۶) عبدالغفور، (۵۷) عبدالحمید آزاد (لاہور)، (۵۸) حافظ ممتاز (سرگودھا)، (۵۹) حاجی شیخ عبدالحمید (لاہور)، (۶۰) خدا بخش، (۶۱) مولوی فیض اللہ، (۶۲) عبدالعزیز ہاشمی (کوٹلی، آزاد کشمیر)، (۶۳) اللہ وسایا (ڈیرہ غازی خان)، (۶۴) محمد حسین، (۶۵) غلام محمد (ڈیرہ غازی خان)، (۶۶) محمد اشرف ہمدانی (فیصل آباد)، (۶۷) مولانا علاؤ الدین (ڈیرہ اسماعیل خان)، (۶۸) محمد رمضان علوی (راولپنڈی)، (۶۹) قاضی محمد اللہ یار، (۷۰) رضا محمد (پنوں عاقل)، (۷۱) عبدالرشید (جلال پور)، (۷۲) سید منظور احمد شاہ حجازی، (۷۳) جمعہ خان، (۷۴) محمد ادریس ظفر (ملتان)، (۷۵) امام بخش، (۷۶) اللہ بخش، (۷۷) غلام حسین، (۷۸) قاری عبدالغفور، (۷۹) محمد امیر خان (بہاول نگر)، (۸۰) پیر بخش، (۸۱) محمد اسماعیل (بہاول پور)، (۸۲) منیر احمد (ٹالہی)، (۸۳) غلام محمد، (۸۴) نور محمد مجاہد، (۸۵) عبدالمجید (لودھراں)، (۸۶) محمد امان اللہ (جھلار مدینہ ملتان)، (۸۷) محمد موسیٰ (لودھراں)، (۸۸) عبدالغفور (کبیروالا)، (۸۹) گل محمد سرگانہ، (۹۰) شیخ محمد رفیق، (۹۱) محمد احمد (کہروڑ پکا)، (۹۲) ظفر اقبال، (۹۳) الحاج عطاء الرحمٰن، (۹۴) عبدالمجید لدھیانوی (کہروڑ پکا)، (۹۵) عبدالرؤف (گوجرانوالہ)، (۹۶) حافظ محمد رمضان، (۹۷) محمد امین (قاسم العلوم ملتان)، (۹۸) حافظ عبدالرحمٰن، (۹۹) نور احمد، (۱۰۰) محمد شاہ، (۱۰۱) حافظ محمد شریف، (۱۰۲) خدا بخش، (۱۰۳) کریم بخش، (۱۰۴) محمد یوسف، (۱۰۵) غلام حیدر، (۱۰۶) سعید احمد (جھگی والا)، (۱۰۷) حضرت مولانا اللہ وسایا، (۱۰۸) حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری، (۱۰۹) منظور احمد الحسینی، (۱۱۰) فاروق احمد (سکھر)، (۱۱۱) شیخ عبدالحمید، (۱۱۲) حافظ محمد عابد (خانیوال)، (۱۱۳) سعید احمد بخاری (مظفر گڑھ)، (۱۱۴) محمد یوسف (پرمٹ)، (۱۱۵) محمد مسعود (قاسم العلوم ملتان)، (۱۱۶) عبدالبحر محمد قاسم، (۱۱۷) حافظ محمد عبدالخالق (ٹھٹھہ)، (۱۱۸) سید غلام مصطفیٰ، (۱۱۹) غلام مصطفیٰ (مخدوم رشید)، (۱۲۰) حافظ محمد رمضان (خوشاب)، (۱۲۱) عبدالکریم حصاری (خانیوال)، (۱۲۲) محمد ریاض الحسن (ڈیرہ اسماعیل خان)، (۱۲۳) مشتاق احمد (علی پور)، (۱۲۴) عبداللطیف (مظفر گڑھ)، (۱۲۵) محمد صادق پتافی، (۱۲۶) عبداللطیف (شجاع آباد)، (۱۲۷) حکیم عبداللطیف اٹھارہ ہزاری (جھنگ)
جنرل کونسل مجلس تحفظ ختم نبوت کا یہ عظیم الشان اجلاس یکم جمادی الاوّل ۱۴۰۱ھ، مطابق ۸/ مارچ ۱۹۸۱ء بوقت ۹ بجے صبح دفتر تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان میں منعقد ہوا۔ ملک بھر سے وفود کی صورت میں کارکن تشریف لائے۔ جن میں سے وفود کے امراء ومعززین نے رجسٹر ہٰذا پر دستخط ثبت کئے۔ صدارت کے فرائض حضرت امیر مرکزیہ سیدنا خواجہ خان محمد صاحب نے ادا فرمائے۔ تمام شرکاء کے دستخط کرانے مشکل تھے اس لئے چیدہ چیدہ حضرات سے دستخط کرائے گئے۔ اجلاس کی کارروائی جناب مولانا حافظ قاری شبیر احمد کی تلاوت قرآن پاک سے شروع ہوئی۔ سب سے پہلے دعوت نامہ اجلاس ہٰذا کی عبارت حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت نے پڑھ کر سنائی جو حسب ذیل ہے:
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دعوت نامہ
اجلاس جنرل کونسل مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
جناب مکرم .......................................................................... زید مجدکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مزاج گرامی!
امیر مرکزیہ حضرت اقدس مولانا خان محمد صاحب دامت برکاتہم کے حکم پر جنرل کونسل مجلس تحفظ ختم نبوت کا اجلاس مرکزی دفتر ملتان میں بتاریخ ۸؍ مارچ ۱۹۸۱ء، مطابق یکم جمادی الاوّل ۱۴۰۱ھ بروز اتوار بلایا گیا ہے۔ جس میں:
سہ سالہ مرکزی انتخاب ہوگا۔
حضرت امیر دامت برکاتہم مرکزی عہدیداروں کا تقرر فرمائیں گے۔
دستور مجلس تحفظ ختم نبوت میں بعض ترامیم پر مشاورت اور اس کی منظوری
نوٹ: (۱) تمام اراکین حضرات ۸؍ مارچ صبح ۹ بجے تک جدید دفتر حضوری باغ روڈ تشریف لائیں۔
- (۲) تجاویز ۲؍ مارچ تک آجانی چاہئیں۔ عبدالرحیم اشعر، ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
بعد ازاں حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب اشعر ناظم اعلیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان نے مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبارک مشن کی ابتداء بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ: چونکہ حضرت اقدس مولانا محمد علی صاحب قدس سرہ کا قیام تقسیم ملک سے قبل ملتان میں تھا۔ تقسیم ملک کے بعد قادیانیوں نے ارتداد کی تبلیغ تیز کر دی۔ قادیان اور مشرقی پنجاب سے آنے والے کارکن کسی ایک جگہ آباد نہ ہو سکے تھے، اس لئے قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمی کے پیش نظر ملک بھر سے اہل اسلام کے خطوط حضرت مولانا محمد علی صاحب مرحوم کے نام آئے۔ جس میں کارکنوں نے التجاء کی کہ قادیانی مبلغ شہروں اور دیہات میں اہل اسلام کو مناظرہ مباہلہ کا چیلنج دے رہے ہیں۔ عام علماء ان کے جوابات دینے سے قاصر ہیں۔ انتظام کیا جائے۔ اس اثناء میں حضرت امیر شریعت قدس سرہ بھی خان گڑھ کا قیام ترک فرما کر ملتان تشریف لا چکے تھے اور ان کے پاس بھی کارکن وعلماء کرام حاضر ہوئے کہ تردید مرزائیت کا کام ہونا چاہئے۔ حضرت امیر شریعت نے اپنی رفقاء وحلقہ اثر کے علماء کا ملتان اجتماع فرما کر مجلس تحفظ ختم نبوت کی بنیاد رکھی اور تردید مرزائیت کا کام نہایت سرعت سے ملک بھر میں پھیل گیا۔ عامۃ المسلمین نے مجلس کی آواز پر لبیک کہا اور ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت برپا ہوئی۔ جس کے باعث قادیانیوں کی تحریک ارتداد اور ملک پر قبضہ کا خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہوا۔ یہ کام فضل ایزدی اور حضرت امیر شریعت اور ان کے رفقاء بالخصوص خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمد اور مفکر اسلام حضرت مولانا محمد علی صاحب قدس سرہٗ کی شبانہ روز محنت اور ایثار سے انجام پذیر ہوا۔ ان حضرات کا ایثار و خلوص کام لایا اور مجلس ختم نبوت کا پودا ایک تناور درخت کی صورت میں بار آور ہوا کہ یہ حضرات یکے بعد دیگرے عالم آخرت کو تشریف لے گئے۔
مولانا محمد علی صاحب امیر ثالث کے تشریف لے جانے کے بعد مناظر اسلام مولانا لال حسین صاحب اختر، فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیات نے مجلس تحفظ ختم نبوت کی رہنمائی فرمائی۔ ہر دو حضرات نے دارالمبلغین کے ذریعہ مستقبل کے لئے سینکڑوں مبلغین اسلام
تحریک ختم نبوت (۴) ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
ومناظر پیدا کئے اور مجلس ختم نبوت کی تنظیم پاکستان سے باہر بھی دور دور تک پھیل گئی۔ ان حضرات کے اس دار فانی سے چلے جانے کے بعد مجلس کی حیثیت ایک یتیم کی رہ گئی کہ اللہ پاک نے امام العصر حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری کے جانشین اور ان کے علوم کے شارح حضرت شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف صاحب بنوری قدس سرہ کو مجلس کی سرپرستی اور رہنمائی کے لئے منتخب فرمالیا۔ حضرت بنوری کی امارت اور حضرت مولانا خان محمد صاحب کی نائب امارت میں اللہ پاک نے ہزاروں شہداء ختم نبوت کے خون کو قبول فرمایا اور ستمبر ۱۹۷۴ء میں مرزائیت وطن عزیز میں غیر مسلم اقلیت قرار دے دی گئی۔
برطانیہ عظمیٰ کی عنایات کے باعث قادیانیت عالم اسلام کے لئے فتنہ عظیمہ کی صورت اختیار کر گئی ہے۔ ہمارے بزرگوں اور بانیان مجلس ختم نبوت کا اخلاص رنگ لایا اور مجلس تحفظ ختم نبوت اپنے مقاصد میں یک گونہ کامیاب ہوئی۔ یہ سب ہمارے مرحوم بزرگوں کے اخلاص اور للہیت کا نتیجہ ہی تھا اور ہمارے بزرگ بالخصوص حضرت اقدس مولانا محمد علی صاحب قدس سرہ فرمایا کرتے تھے کہ ختم نبوت کا مسئلہ اسلام کا بنیادی مسئلہ ہے اور حضور پاک ﷺ کا وہ وصف خاص ہے جس کے باعث حضرت نبی آخر الزمان ﷺ تمام انبیاء علیہم السلام میں ممتاز حیثیت کے مالک ہیں اور حضور علیہ السلام کی شفقت اور توجہ اس مسئلہ کی برکت سے ختم نبوت کی تحریک کی طرف مبذول ہے۔ اب اگرچہ وہ حضرات تشریف نہیں رکھتے، لیکن ان کا خلوص آج بھی ہماری رہنمائی فرما رہا ہے۔ میں آپ حضرات کا اس موسم میں دور دراز سے سفر کر کے ملتان تشریف لانے کو خوش آمدید کہتا ہوں اور جماعت کی کامیابی اس کے کارکنوں کے اخلاص کے لئے دعا کی درخواست پر اپنی معروضات کو ختم کرتا ہوں۔
بعد ازاں حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے مرکزی رہنما مولانا تاج محمود صاحب کو اظہار خیال کی دعوت دی۔ مولانا تاج محمود صاحب بڑھاپے، بیماری اور سفر کی تھکان کے باعث مضمحل تھے، تاہم حضرت امیر گرامی قدر کے ارشادات کے باعث اجلاس سے خطاب شروع فرمایا۔ مولانا تاج محمود صاحب چونکہ جماعت کے بانیوں میں سے ہیں اور انہوں نے اکابر مرحومین کے ساتھ مجلس کی بنیاد رکھی اور کام میں شریک رہے۔ اس لئے مولانا مرحوم نے اپنا بیان ہندوستان میں انگریز کی آمد، سلطنت برطانیہ کے مظالم اور عالم اسلام پر اس کی قہرمانی کی درد ناک تصویر پیش کی اور اہل اسلام خصوصاً علماء ہند کا انگریز کی مزاحمت میں جہاد اور ایثار و قربانی کا مفصل بیان کر کے فرمایا کہ علماء کی زبان اور ان کے اخلاص کے سامنے انگریز کی حکومت لاچار ہو گئی تو اس نے سیاسی لیڈروں اور پادریوں کے مشترک اجلاس منعقدہ لندن میں فیصلہ کیا کہ اہل اسلام کا عقیدہ چونکہ مہدی آخر الزمان کی آمد اور مسیح ابن مریم کے دوبارہ نزول کا ہے۔ اس لئے ہندوستان میں کسی ایک شخص سے مذکورہ دعویٰ کرانے چاہئیں اور سلطنت برطانیہ کو اس کی پشت پناہی کرنی چاہئے اور اس آدمی سے جہاد کی حرمت اور انگریز کی اطاعت کے فتاویٰ جاری کرانے چاہئیں۔ چنانچہ اس غرض کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی کا انتخاب ہوا اور انگریز نے مرزا غلام احمد اور اس کی جماعت کی بھرپور امداد کی۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب علماء اسلام انگریز کے خلاف جہاد میں مصروف تھے۔ آخر علماء اسلام کامیاب ہوئے اور انگریز ۱۹۴۷ء میں نہ صرف ہندوستان سے بستر بوریا باندھ کر چلتا بنا بلکہ دنیا کے نقشہ پر عالم اسلام کا سب سے بڑا ملک پاکستان بھی قائم ہو گیا۔ قادیانی پہلے تو قیام پاکستان کے ہی خلاف تھے، لیکن جب وطن عزیز قائم ہو گیا اور مشہور قادیانی چوہدری ظفر اللہ پاکستان کے وزیر خارجہ بن گئے۔ ایم۔ ایم۔ احمد سیالکوٹ ڈپٹی کمشنر بن گئے۔ اس طرح فوج، سول، عدلیہ، انتظامیہ میں قادیانی کلیدی آسامیوں پر فائز ہو گئے تو وہ علماء حق جو انگریز کے خلاف جہاد میں صف اوّل کے رہنما تھے اور جنہوں نے تقسیم ملک سے ربع صدی قبل
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
قادیان میں مرزائی ضلالت کا مقابلہ کیا تھا ان علماء حق اور ان کے رفقاء نے مجلس تحفظ ختم نبوت کی بنیاد رکھی اور انگریز کے اس خودکاشتہ پودے کے استیصال کی طرف اپنی پوری توجہ مبذول کر دی اور ہمارے بزرگ اپنے نیک مقصد میں کامیاب رہے، قادیانی تحریک روسیاہ ہوئی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت جس کی ابتداء حسین آگاہی ملتان کی مسجد سراجاں کے ایک حجرہ سے ایک روپیہ یومیہ کے خرچ سے ہوئی تھی۔ اب ایک منظم اور مضبوط جماعت ہے، جس کے دفاتر، مبلغین، مدارس عربیہ، مساجد ملک بھر میں موجود ہیں۔ بیرون ملک بھی مجلس کا تبلیغی نظام پھیل چکا ہے۔ مجلس کا سرمایہ تبلیغی نظام ہے۔ جس کی دو صورتیں ہیں۔ خطباء ومناظرین اسلام اور نئے حضرات پیدا کرنے کے لئے دارالمبلغین تبلیغ دین اور تردید باطل کے لئے شعبہ نشر واشاعت، ہر دو شعبے کامیابی سے مصروف عمل ہیں۔ وقت کے صلحاء، علماء اور اہل اللہ کی دعائیں مجلس کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ الحمدللہ! مجلس کے لئے ہر زمانہ میں ان حضرات کی دعائیں رحمت الٰہی ثابت ہوئی ہیں۔ میں حاضرین حضرات سے پرزور اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنی شبانہ روز دعوات صالحہ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کو یاد رکھیں۔
مجلس تحفظ ختم نبوت کی عظیم کامیابیوں میں ربوہ کے اندر مجلس کی کارکردگی عظیم الشان ہے۔ ربوہ جو شاطر خلیفہ دوم قادیان نے انگریز کے مشورہ سے اس صورت میں آباد کیا تھا کہ وہ خالص مرزائی آبادی ہوگی اور قلب پاکستان میں یہود ونصاریٰ کے لئے وہی کام کرے گی جو عالم عرب میں یہود ونصاریٰ، اسرائیلی حکومت سے لے رہے ہیں۔ اب ربوہ میں جماعت کی مساجد، مدارس عربیہ نہایت کامیابی سے چل رہے ہیں اور ربوہ جس میں مرزائی چالیس ہزار کی تعداد میں آباد ہیں۔ آبادی کے لحاظ سے ٹاؤن کمیٹی ربوہ کے بارہ رکن ہیں۔ مسلمانوں کی تعداد سینکڑوں کے لحاظ سے وہ بھی ترمیم ۱۹۷۴ء کے بعد ہے۔ گزشتہ یونین کونسلوں کے انتخاب میں ٹاؤن کمیٹی ربوہ کے بارہ رکن مسلمان ہی منتخب ہوئے ہیں اور ربوہ ٹاؤن کمیٹی کا انتظام مسلمان باحسن وجوہ پورا کر رہے ہیں۔
حضرت مولانا تاج محمود صاحب نے اپنے خطیبانہ انداز میں مجلس کی کارکردگی اکابر مرحوم کے احوال و واقعات، قادیانیوں کی ہزیمت پر پون گھنٹہ خطاب فرمایا۔
ازاں بعد جنرل کونسل کے اجلاس کی غرض وغایت بیان فرما کر نہایت دردناک انداز میں حضرت سیدنا مولانا خواجہ خان محمد صاحب سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ نقشبندیہ کندیاں شریف کی خدمت میں التجاء کی کہ حضرت والا آئندہ کے لئے بھی مجلس کی مرکزی صدارت کو زینت بخشیں۔ تمام حاضرین نے پرجوش الفاظ اور نعروں کی گونج میں اس تجویز کی تصدیق کی، حضرت نے معذرت فرمائی۔ لیکن حضرت مولانا تاج محمود صاحب اور حاضرین اجلاس کے اصرار پر آپ نے مرکزی صدارت قبول فرمالی۔ شرکاء اجلاس نے حضرت والاشان کے اثبات پر مسرت وشادمانی کا پرجوش اظہار کیا۔ ازاں بعد جناب عبدالرحمن یعقوب باوا ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی نے نائب امارت کے لئے حضرت مولانا مفتی احمد الرحمن صاحب جانشین حضرت شیخ الاسلام بنوری قدس سرہ کا اسم گرامی پیش فرمایا۔
مولانا صوفی اللہ وسایا (ڈیرہ غازی خان) نے مرکزی خازن حضرت مولانا حافظ عزیز الرحمن کا نام نامی نائب امارت کے لئے پیش کیا۔ مولانا حافظ عزیز الرحمن صاحب مرکزی خازن نے ارشاد فرمایا کہ اس وقت مجلس کے نائب امیر حضرت مولانا حافظ محمد عبداللہ شیخ الحدیث جامعہ رشیدیہ ساہیوال ہیں، انہی کو بدستور نائب امارت کے لئے نامزد فرمایا جاوے۔
ہر سہ مجوزہ نائب امراء کی مختلف حضرات نے تائید کی۔ جس کے باعث ضروری ہوا کہ ہاؤس سے رائے طلب کی جائے۔ مولانا غلام محمد صاحب مہتمم مدرسہ قاسم العلوم ڈیرہ غازی خان نے جو اکابرین جماعت کے ہم سفر رہے ہیں نے فرمایا کہ کسی بھی عہدہ کے لئے رائے
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
شماری اکابرین کے طرز کے خلاف ہے۔ اس لئے مولانا غلام محمد صاحب نے تجویز پیش کی کہ حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم ان ہر سہ حضرات میں سے کسی صاحب کو منتخب فرمائیں اور ہاؤس تائید کردے۔ اس پر حضرت امیر مرکزیہ نے مولانا مفتی احمد الرحمٰن صاحب کا اسم گرامی نائب امارت کے لئے مقرر فرمایا اور تمام ہاؤس نے نعرۂ تکبیر سے مسرت کا اظہار فرمایا۔ چونکہ حضرت مفتی صاحب شریک اجلاس نہیں۔ اگر وہ خدانخواستہ کسی صورت میں نائب امارت کے لئے تیار نہ ہوں تو باوا صاحب نے فرمایا کہ میں نے ان سے بات کر لی ہے وہ ان شاء اللہ قبول فرمالیں گے۔ حضرت امیر مرکزی نے فرمایا کہ بصورت ان کے انکار کے نائب امیر حضرت شیخ الحدیث ساہیوال ہوں گے۔
مولانا عزیز الرحمٰن صاحب مرکزی خازن نے فرمایا کہ مجلس کے دستور میں بعض شقیں ایسی ہیں کہ ان میں ترمیم کے متعلق اکثر کارکن دفتر ملتان تحریر فرماتے رہتے ہیں۔ چنانچہ اجلاس مجلس شوریٰ منعقدہ ۱۰، ۱۱ / فروری ۱۹۸۰ء کی تجویز نمبر ۱۴ میں فیصلہ ہوا تھا کہ تمام شوریٰ کے اراکین اپنی اپنی تجاویز بھی تیار کریں اور ایک کمیٹی حضرت مولانا تاج محمود صاحب، مولانا حکیم عبد الرحمٰن صاحب آزاد گوجرانوالہ، جناب الحاج بلند اختر اور مولانا محمد شریف جالندھری پر مشتمل ایک کمیٹی ترامیم کا مسودہ تیار کرنے کے لئے بنائی گئی ہے۔ کمیٹی کا مسودہ اور اراکین کی تجاویز آچکی ہیں۔ مولانا نے حاضرین میں قدیم دستور کی مطبوعہ کاپیاں تقسیم کیں اور ترامیم کے مسودہ کی روشنی میں ہاؤس میں منظوری کے لئے مذکورہ ذیل ترامیم پیش کیں۔
مولانا عزیز الرحمٰن نے فرمایا کہ دستور میں مرکزی اور مقامی طریق انتخاب ایک ہی تھا کہ اراکین مجلس بلاواسطہ انتخاب کے ذریعہ امیر، نائب امیر اور مقامی عہدیداروں کا انتخاب کریں۔ ترمیم کے ذریعہ ہر دو انتخابات کا طریق علیحدہ علیحدہ کر دیا گیا ہے۔ مقامی جماعتوں کا طریق کار علیٰ حالہ رکھا گیا ہے۔ مرکزی انتخاب اراکین جماعت بلاواسطہ نہ کریں گے، بلکہ مقامی اراکین اپنی تعداد کے لحاظ سے مرکزی جماعت کے لئے نمائندگان کا انتخاب کریں گے اور وہ منتخب اراکین مجلس عمومی کے اراکین ہوں گے۔
مرکزی امیر و نائب امیر کا انتخاب اراکین مجلس عمومی براہ راست کریں گے۔ (وہ تمام ترمیمات شوریٰ کے رجسٹر کے چار صفحات پر محیط ہیں۔ یہاں ان کا اندراج غیر ضروری سمجھ کر حذف کیا جاتا ہے)
دستور میں ترامیم کی منظوری کے بعد ایجنڈا کی کارروائی ختم ہونے پر حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے شرکاء حضرات سے فرمایا کہ مجلس کی ترقی، مرزائی محاذ کی ضروریات پر تمام حضرات مناسب تجاویز پیش کریں۔
مولانا عبدالرحیم بستی تھہیم والہ متصل علی پور مہتمم مدرسہ عربیہ نظامیہ نے فرمایا کہ ابتداء جماعت سے مجلس کے مبلغ کا ہیڈکوارٹر علی پور رہا ہے۔ وہاں مرزائی بڑے مضبوط ہیں۔ اب علی پور میں ہیڈکوارٹر نہیں۔ اس خلاء کو پر کیا جائے۔
مولانا غلام حیدر مبلغ اسلام آباد نے فرمایا کہ مجلس کی سٹیج کی سرگرمیاں کمزور ہو گئی ہیں۔ قادیانی آگے بڑھ رہے ہیں۔ اس لئے ضلعی، صوبائی، مرکزی سطح پر کانفرنسیں ہونا ضروری ہیں۔ ہاؤس نے بالاتفاق تائید کی۔
مولانا عبدالغفور بہاول نگر نے فرمایا کہ لولاک کی حیثیت کو بہتر سے بہتر بنایا جائے۔ عملہ لولاک کی طرف سے تشریح کی گئی کہ سنسر کی وجہ سے محض ”قادیانی“ کا لفظ کاٹ دیا جاتا ہے۔ بامر مجبوری یہ خلاء ہے۔ جونہی سنسر نرم ہوا لولاک اپنی روایات کو برقرار رکھے گا۔
مولانا خلیل احمد ناظم مجلس سکھر نے فرمایا کہ اگرچہ مجلس تائب شدہ مرزائیوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے، لیکن اس سلسلہ میں مزید اقدام کی ضرورت ہے۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
مولانا محمد ریاض الحق گنگوہی ڈیرہ اسماعیل خان نے فرمایا کہ ہمارا علاقہ پسماندہ اور دور دراز ہے۔ قادیانی کثرت سے اس طرف رخ کر رہے ہیں۔ مجلس کو اس طرف پوری توجہ کرنی چاہئے۔ تمام ہاؤس نے ان کی تجویز سے اتفاق کیا۔ عبدالرحمن یعقوب باوا ناظم اعلیٰ کراچی نے تجویز پیش کی کہ قادیانی آفیسرز، تجار، مل مالکان کی فہرست تیار کی جائے۔ اگر کسی آفیسر کا تبادلہ ایک جگہ سے کسی جگہ ہو تو وہاں کے کارکنوں کو اطلاع دی جائے۔ مولانا بشیر احمد امیر مجلس رحیم یار خان نے تجویز کی کہ صدر مملکت سے رابطہ قائم کر کے بقایا مطالبات کو منظور کرایا جائے۔ محمد شاہ صاحب قریشی ملتان نے پیشکش کی کہ دارالمبلغین ملتان میں اگر انگریزی مضمون کی تیاری کی ضرورت ہو تو ان کی خدمات فی سبیل اللہ حاضر ہیں۔
پرمسرت ماحول میں اجلاس اڑھائی بجے ختم ہوا۔ مرکزی رہنما مولانا تاج محمود نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔ حضرت اقدس نے دعا کرائی۔ ........... میں تمام ہاؤس نے سوز والحاح کے ساتھ عالم اسلام کے امن، ترقی ، پاکستان کی سالمیت ، نظام مصطفےٰ کی کامیابی ، مسئلہ ختم نبوت کے لئے کام میں اخلاص وللہیت اور کامیابی کے لئے اجتماعی دعا کی۔
بعد ظہر حضرت اقدس امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے مذکورہ ذیل حضرات کو مرکزی عہدیدار، اراکین شوریٰ نامزد فرمایا۔ مرکزی عہدیداران آئندہ تین سال کے لئے بعد انتخاب و نامزدگی حسب ذیل ہوں گے۔
امیر مرکزیہ: حضرت اقدس سیدنا خواجہ خان محمد صاحب (گدی نشین خانقاہ سراجیہ نقشبندیہ کندیاں) نائب امیر: حضرت مکرم مولانا مفتی احمد الرحمن صاحب (مہتمم جامعہ اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی) ناظم اعلیٰ: حضرت مولانا محمد شریف جالندھری خازن مرکزی: مولانا حافظ عزیز الرحمن صاحب جالندھری ناظم تبلیغ: حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب اشعر ناظم نشر واشاعت: حضرت مولانا حافظ محمد یوسف لدھیانوی اراکین مرکزی شوریٰ: مولانا الحاج محمد صاحب، بنوری ٹاؤن کراچی عبدالرحمن یعقوب باوا، کراچی حاجی لال حسین صاحب، کراچی مولانا عبدالحی شیخ الحدیث دارالہدیٰ ٹھیڑی خیر پور میرس حاجی فرزند علی صاحب، ہمدرد کلاتھ ہاؤس شاہی بازار سکھر حضرت مولانا منیر الدین احمد، خطیب مرکزی جامع مسجد کوئٹہ حاجی سیف الرحمن صاحب، صراف مچھلی بازار بہاول پور الحاج خواجہ محمد حبیب صاحب، حسن پروانہ کالونی ملتان حضرت اقدس مولانا حافظ محمد عبداللہ صاحب، شیخ الحدیث جامع رشیدیہ ساہیوال
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
حضرت مولانا تاج محمود صاحب، خطیب جامع مسجد و ایڈیٹر لولاک فیصل آباد حاجی فیض احمد صاحب، ٹوبہ ٹیک سنگھ ضلع فیصل آباد الحاج سردار فضل محمود خان صاحب، ۹۔ ڈی ماڈل ٹاؤن اے بہاول پور الحاج بلند اختر، ویسٹ پارک ٹریڈرز شاہ عالم لاہور مولانا عبدالرحمن صاحب، جامعہ اشرفیہ لاہور الحاج منظور الٰہی ملک اعوان منزل رنگ پوری سیالکوٹ مولانا حکیم عبدالرحمن آزاد چاہ شاہان گوجرانوالہ حضرت مولانا محمد رمضان علوی، خطیب جامع مسجد گلشن آباد راولپنڈی حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب، خطیب مرکزی جامع مسجد اسلام آباد مولانا نور الحق صاحب نور، پیپل منڈی پشاور مولانا قاری محمد امین صاحب، خطیب و مہتمم مدرسہ محلہ ورکشاپی راولپنڈی مولانا علاؤ الدین صاحب، جامعہ نعمانیہ ڈیرہ اسماعیل خان سرحد مولانا سید محمد اشرف صاحب، ہمدانی فیصل آباد مولانا الحاج ڈاکٹر عبدالرزاق صاحب جامعہ اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی
فقیر خان محمد عفی عنہ
مجلس شوریٰ کے اجلاس ۹؍ اگست میں نامزدگی فرمائی گئی۔
(۵۱رواں) اجلاس شوریٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
۱۹۸۱ء میں دوسرے اجلاس کی کارروائی یہ ہے:
اجلاس شوریٰ مجلس تحفظ ختم نبوت، مؤرخہ ۸؍ شوال ۱۴۰۱ھ، مطابق ۹؍ اگست ۱۹۸۱ء
بمقام: دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
شرکاء: (۱) حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم، (۲) حضرت مولانا عبدالرحمن، (۳) حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی، (۴) جناب منظور الٰہی ملک، (۵) حضرت مولانا محمد عبداللہ (اسلام آباد)، (۶) حضرت مولانا فضل محمود (بہاول پور)، (۷) حضرت مولانا محمد اشرف ہمدانی (فیصل آباد)، (۸) حضرت مولانا محمد عابد، (۹) حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، (۱۰) قاری محمد امین، (۱۱) حضرت مولانا محمد رمضان علوی (راولپنڈی)، (۱۲) حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر، (۱۳) عبدالرحمن یعقوب باوا، (۱۴) حضرت مولانا نور الحق نور (پشاور)، (۱۵) حضرت مولانا محمد شریف جالندھری
میٹنگ ہذا کے لئے مرسلہ ایجنڈا:
- ١...... قادیانیوں کے متعلق بقایا مطالبات کی ترتیب اور صدر مملکت سے منظوری کے ذرائع پر غور وخوض۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء
ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
- ۲ ...... مجلس کی غیر منقولہ جائیداد کی فہرست۔
- ۳ ...... دفتر جدید ملتان، گزشتہ تنازعہ، بقایا تعمیر، مستقبل میں مصرف۔
- ۴ ...... تعمیرات مسلم کالونی ربوہ و توسیع مدرسہ عربی۔
- ۵ ...... پرانے دفتر کا مصرف، کرایہ، فروخت یا تنصیب پریس۔
- ۶ ...... گوجرانوالہ، سیالکوٹ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے نام مسجد، مدرسہ، دفتر کی تعمیر کے لئے وقف اراضی۔
- ۷ ...... مسجد باب الرحمت کراچی۔
- ۸ ...... تعمیر مدرسہ و دفتر سکھر۔
- ۹ ...... مرکزی گم شدہ رسید بکوں کی منسوخی و عرصہ دراز سے فارغ شدہ رسید بکوں کی تلفی۔
- ۱۰ ...... بعض اخراجات کی منظوری۔
- ۱۱ ...... تقرریاں و تبادلے۔
دیگر امور با اجازت حضرت امیر مرکزیہ زید مجدہم۔
طالب دعا: محمد شریف جالندھری، دفتر تحفظ ختم نبوت ملتان
۱۲؍ رمضان المبارک ۱۴۰۱ھ
تجاویز ایجنڈا پر کارروائی:
- ۱ ...... قادیانیت کے متعلق بقایا مطالبات مولانا محمد یوسف صاحب لدھیانوی مرتب کریں اور محمد شریف جالندھری مختلف مکاتب فکر کے سرکردگان سے تصدیقی دستخط کروائے۔
- الف ...... مولانا محمد عبداللہ ومولانا محمد رمضان علوی بذریعہ راجہ ظفر الحق صدر مملکت تک پہنچائیں اور وفد کی ملاقات کی بھی کوشش کی جائے۔
- ب ...... اس عظیم عمارت میں سردست کالجز میں کام کرنے کی ابتداء کی جائے۔ ٹیوشن سنٹر یا اقامتی ہوسٹل اور اس کے قواعد وضوابط اور اجراء کے لئے ایک کمیٹی مشتمل بر مولانا عزیز الرحمٰن، مولانا محمد یوسف لدھیانوی، سردار فضل محمود خان (بہاول پور)، محمد شریف جالندھری قائم کی گئی۔
- ۲ ...... مجلس کی غیر منقولہ جائیداد کی فہرست معزز اراکین شوریٰ کی خدمت میں سنائی گئی۔
- ۳ ...... اجلاس شوریٰ منعقدہ ۵، ۶؍ صفر ۱۴۰۱ھ کی تجویز نمبر ۷ میں ایجنڈا ہذا کی شق نمبر ۲ کے متعلق ایک کمیٹی مشتمل بر مولانا تاج محمود، حاجی بلند اختر لاہور، الحاج خواجہ محمد حبیب صاحب ملتان تشکیل دی گئی تھی، جس کی رپورٹ اس مسئلہ پر تاحال وصول نہیں ہوئی۔ اس کمیٹی کے معزز ارکان آج کے اجلاس میں شرکت نہیں فرماسکے۔ ان معزز ارکان سے دوبارہ رابطہ قائم کیا جائے اور عرض کیا جائے کہ وہ دفتر جدید کے مسئلہ میں جس نتیجہ پر پہنچے ہوں اس سے حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم کو مطلع فرمائیں۔
- ۴ ...... مسلم کالونی ربوہ کی تعمیرات جس رفتار سے جاری ہیں، مناسب ہے، اللہ تعالیٰ تکمیل تک پہنچادیں گے۔ مسلم کالونی میں توسیع مدرسہ، سرکاری کالج ربوہ کے طلباء، اساتذہ کو رہائشی سہولتیں تاکہ وہ قادیانیوں کے جال میں نہ پھنسیں۔ ان امور کا فیصلہ کرنے کے لئے حضرت مولانا تاج محمود اور حضرت مولانا سید محمد اشرف صاحب ہمدانی کی نگرانی میں کام کو وسعت دی جائے۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
- ۵...... پرانے دفتر کا مصرف: فیصلہ ہوا کہ ابوظہبی سے اس مقصد کے لئے بیت المال میں ایک لاکھ کی رقم آئی ہوئی ہے، کہ پریس لگایا
جائے۔ اس دفتر میں تین تار بجلی کا کنکشن موجود ہے۔ جو اب جدید لینا مشکل ہے۔ مولانا سید محمد اشرف صاحب ہمدانی، مولانا فیض احمد صاحب، قاسم العلوم ملتان، مولانا عزیز الرحمٰن صاحب خازن، محمد صادق بھٹی بذریعہ مولانا ہمدانی پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی کہ وہ ضروری معلومات، اخراجات، مکان کی حالت، حکومت سے اجازت ہر بات پر غور وفکر کے حضرت امیر مرکزیہ کی خدمت میں اندرون تین ماہ رپورٹ پیش کریں اور حضرت اقدس تنصیب پریس کا حکم دیں۔ دوبارہ اس مقصد کے لئے اجلاس شوریٰ کی ضرورت نہیں۔
- ۶...... گوجرانوالہ، کنگنی والا، سیالکوٹ میں وقف اراضی پر واقف حضرات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اجلاس ہذا طے کرتا ہے کہ ہر دو جگہ
ضرورت کے تحت اتنی تعمیرات کی جائیں جن کے مصارف مقامی جماعتیں ہی پورا کریں۔ مرکز پر ان تعمیرات کا بوجھ نہ ڈالا جائے۔ ہاؤس نے تسلیم کیا کہ ان اضلاع بالخصوص سیالکوٹ میں مرزائیت کے خلاف کام کی بہت ضرورت ہے۔ ان مراکز کی تعمیر کی شدید ضرورت ہے۔ حضرت اقدس امیر مرکزیہ دامت برکاتہم ہر دو شہروں کچھ قیام کے لئے بعد از سفر مقدس وقت عطاء فرمائیں اور کام شروع کیا جائے۔
- ۷...... مسجد باب الرحمت کراچی: کراچی دفتر بوسیدہ عمارت میں تھا۔ جو فروخت کر دیا گیا۔ اس کی قیمت محفوظ ہے۔ کراچی کے معزز
اراکین حضرت نائب امیر مرکزیہ حاجی لال حسین صاحب مقامی امیر و مقامی ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی نے باہمی کوشش واخلاص سے مسجد باب الرحمت نزد پرانی نمائش ایم اے جناح روڈ کراچی کی تولیت ایک ٹرسٹ کے ماتحت کر لی ہے۔ اس کے ساتھ دفتر کے لئے جگہ بھی ہے۔ طے ہوا کہ جماعت کی طرف سے مسجد و دفتر کی تعمیر جدید کا انتظام کیا جائے۔ کراچی سے مالی امداد کے لئے جدید رسید بکیں بصورت دس، پچاس، سو کے نوٹ کی چھاپ لی جائیں تاکہ حضرات سے امداد لینے میں آسانی ہو۔ اعلیٰ حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم کی سفر مقدس سے واپسی پر کام تیزی سے مکمل کر لیا جاوے۔ کراچی جماعت کی طلب پر فیصلہ ہوا کہ آنے والے ربیع الاوّل کی مناسب تاریخوں میں جماعت کی طرف سے عظیم تر ختم نبوت کانفرنس کراچی میں منعقد کی جاوے۔
- ۸...... تعمیر مدرسہ دفتر سکھر کے لئے محمد شریف جالندھری سکھر جائے اور حضرت مولانا خلیل احمد صاحب خطیب جامع مسجد بندر روڈ سکھر
حضرت مولانا محمد اسعد صاحب تھانوی دامت برکاتہم سے تعاون حاصل کر کے کام شروع کیا جائے۔
- ۹...... اجلاس منعقدہ ۳، ۵، نومبر ۱۹۷۴ء تجویز نمبر ۱۰ کی روشنی میں مجلس کی اراضی واقعہ شاخ مدینہ تحصیل ملتان کی فروخت کی توثیق کی
جاتی ہے۔ ناظم اعلیٰ و خازن بعد از تکمیل بیع وصول کر کے جماعت کے حساب میں جمع کرائیں۔
- ۱۰...... اس سال ۷ ستمبر ۱۹۸۱ء مسلم کالونی ربوہ میں سیرت کانفرنس ختم نبوت کا مناسب انتظام کیا جائے۔
- ۱۱...... اجلاس نے درخواست کی کہ دستور کی رو سے اراکین مجلس شوریٰ میں توسیع ہو سکتی ہے۔ اس لئے حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق
صاحب کو رکنیت مجلس شوریٰ کے لئے حضرت امیر نامزد فرمادیں جو حضرت اقدس نے منظور فرمالی۔
- ۱۲...... اجلاس نے درخواست کی بیرون ملک تبلیغی وفد کی سرپرستی، حضرت اقدس امیر مرکزی بعد از سفر مقدس قبول فرمائیں اور مناسب
مبلغین کو وفد میں شریک فرمالیں۔ جو حضرت امیر نے منظور فرمائی۔ فقیر خازن عزیز الرحمٰن
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
(۵۲ رواں) اجلاس شوریٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
۱۹۸۲ء میں شوریٰ کا ایک اجلاس منعقد ہوا۔ رپورٹ یہ ہے:
اجلاس مرکزی مجلس شوریٰ مجلس تحفظ ختم نبوت، مؤرخہ ۱۰؍ شعبان ۱۴۰۲ھ، مطابق ۲۵؍ مئی ۱۹۸۲ء
بمقام: دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
شرکاء: (۱) حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم، (۲) حضرت مولانا نور الحق نور، (۳) حضرت مولانا علاؤ الدین، (۴) عبدالرحمٰن یعقوب باوا، (۵) حکیم عبدالرحمٰن آزاد (گوجرانوالہ)، (۶) محمد عبداللہ (اسلام آباد)، (۷) احمد الرحمٰن (کراچی)، (۸) قاری محمد امین (راولپنڈی)، (۹) حضرت مولانا محمد رمضان علوی (راولپنڈی)، (۱۰) محمد شریف جالندھری، (۱۱) حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی، (۱۲) حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری، (۱۳) حضرت الحاج فضل محمود، (۱۴) مولانا محمد اشرف ہمدانی، (۱۵) حضرت مولانا محمد عبداللہ رائے پوری
اجلاس ہذا بروز منگل صبح ۹ بجے زیر صدارت حضرت امیر مرکزیہ مدظلہ شروع ہوا۔
تلاوت: حضرت مولانا قاری محمد امین صاحب (راولپنڈی)
حاضرین میں ایجنڈا کی تقسیم کی گئی۔ ایجنڈا اجلاس ہذا حسب ذیل ہے۔
- ۱...... آرڈینینس صدر مملکت مجریہ ۱۹۸۲ء بابت ترمیم نمبر ۲، ۱۹۷۴ء
- ۲...... قادیانیوں کی اندرون و بیرون ملک ریشہ دوانیاں۔
- ۳...... جانچ پڑتال مرکزی حسابات۔
- ۴...... بقایا تعمیر دفتر جدید۔
- ۵...... تعمیرات ربوہ، سکھر، جامع مسجد جابہ۔
- ۶...... دفتر قدیم و جدید ملتان میں تعلیمی منصوبہ بندی، رسالہ ہفت روزہ ختم نبوت کراچی
- ۷...... بنگلہ دیش میں دارالمبلغین کا قیام، دیگر امور با اجازت حضرت صدر زید مجدہ کام میں وسعت کے پیش نظر ۲۶؍ مئی کا دن فارغ لائیں۔
کارروائی اجلاس صبح ۹ بجے
- ۱...... مندرجہ ذیل حضرات مرحومین کے لئے دعا مغفرت کی گئی اور ان کے سانحہ ارتحال پر رنج وغم کا اظہار کیا گیا۔ حضرت اقدس شیخ
الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب کاندھلوی ثم مدنی، مولانا مفتی محمد خلیل (گوجرانوالہ)، مولانا محمد شریف مہتمم خیر المدارس۔
- ۲...... جنرل محمد ضیاء الحق صدر مملکت نے آرڈینینس نمبر ۲۷ کے ذریعہ ۸؍ جولائی ۱۹۸۱ء کو ۳۳۴، قوانین منسوخ کئے جو پی۔ایل۔ڈی
جنوری ۱۹۸۲ء میں گورنمنٹ نے شائع کئے۔ اس میں سیریل ۲۷۲ پر ترمیم نمبر ۲، ۱۹۷۴ء جس کے ذریعہ آئین پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا، منسوخ تھی۔ نیز سیریل نمبر ۳۱۳ پر ترمیمی آرڈینینس (۷) ب مجریہ ۱۹۷۹ء منسوخ تھا۔ جس کی بناء پر قادیانی ہر دو گروپ صرف غیر مسلم اقلیتوں کی نشست پر ہی انتخاب میں حصہ لے سکتے تھے اور ان کے ووٹر بھی صرف
تحریک ختم نبوت(۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
قادیانی ہی ہو سکتے تھے۔ پی۔ ایل۔ ڈی جنوری ۱۹۸۲ء شائع ہونے کے بعد ملک میں ان پر دو قوانین کی منسوخی پر ہیجان پیدا ہوا۔ مجلس نے اس آواز کو اٹھایا۔ پریس کانفرنسیں ہوئیں۔ وفاقی مجلس شوریٰ میں بھی صدائے بازگشت پہنچی۔ صدر مملکت نے آرڈینینس ۱۹۸۲ء کے ذریعہ نمبر ۲۷۲ پر منسوخ ہونے والی ترمیم نمبر ۲، ۱۹۷۴ء کو بحال کر دیا۔ لیکن آرڈینینس میں نمبر ۳۱۳ پر منسوخ ہونے والی عبوری آئین کی دفعہ جس کی رو سے قادیانی غیر مسلم نشستوں پر قادیانی غیر مسلم ووٹر کے پابند تھے۔ اس کی بحالی کا ذکر تک نہیں۔ مجلس شوریٰ مجلس ختم نبوت نے فیصلہ کیا کہ عبوری آئین کی اس دفعہ کی بحالی کے لئے وفاقی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں آواز اٹھائی جائے۔
- ۳...... (الف) گزشتہ دنوں پاکستان ٹیلی ویژن پر نبوت، رسالت، ختم نبوت پر ایک مکالمہ کاسٹ ہوا، جس میں نبوت و رسالت کی
تشریح کے ساتھ ختم نبوت کی اہمیت بیان کی گئی کہ سب سے پہلے صحابہ کرام کے اجماع اور حضور ﷺ کے بعد سب سے پہلا صحابہ کرام کا جہاد مدعی نبوت کے خلاف ہوا تھا اور امت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ نے کبھی اپنی تاریخ میں کسی مدعی نبوت کو برداشت نہیں کیا۔
- (ب) قادیانیوں کے خلاف جناب راجہ محمد ظفر الحق صاحب وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کا ایک اہم بیان شائع ہوا۔ جس میں
راجہ صاحب نے مسئلہ ختم نبوت کی تشریح، اہمیت، ضرورت بیان کرنے کے بعد قادیانیوں کے غیر مسلم ہونے اور ان کی آئینی حیثیت کا بتفصیل ذکر کیا۔ تقسیم ملک کے بعد بارہا ختم نبوت رسالہ کے لئے ڈیکلریشن کی کوشش کی گئی۔ لیکن کسی حکومت نے بھی اس مبارک نام پر ڈیکلریشن نہیں دیا۔ اب جناب راجہ محمد ظفر الحق صاحب کی ذاتی توجہ سے کراچی سے ختم نبوت ہفت روزہ کا ڈیکلریشن دیا گیا ہے۔ مجلس شوریٰ نے ان ہر سہ امور پر راجہ صاحب کی مساعی کی۔ مبارک باد دی اور فیصلہ کیا کہ راجہ صاحب کو مرکزی دفتر سے مبارک باد کا خط لکھا جائے اور راجہ صاحب کی سلامت روی کے لئے دعا کی گئی۔
- ۴...... مرکزی دفتر ملتان کی غیر مکمل تعمیر کا فیصلہ ٹھیکیدار سے لیا گیا تھا۔ بعض ضروری و اہم تعمیر کا حصہ مولانا عزیز الرحمن نے اپنی نگرانی میں
کیا۔ تا حال اصل نقشہ کے مطابق کافی تعمیر باقی ہے۔ فیصلہ ہوا کہ ایسی ضروری تعمیر جس کی اشد ضرورت ہو، کر لی جائے۔ باقی تکمیل آنے والے وقت کے لئے ملتوی کی جائے۔
- ۵...... سکھر میں عرصہ دراز سے دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت قائم ہے۔ دفتر میں مدرسہ تعلیم القرآن محمدیہ جاری ہے۔ یہ دفتر نزول کی جگہ میں
عارضی تعمیر کر کے قائم تھا۔ اب حسب ضابطہ اس کی قیمت ادا کر کے جگہ حاصل کر لی گئی ہے، مرکزی جگہ مینارہ شاہ محمد معصوم مرحوم کے ساتھ برلب سڑک مناسب جگہ پر ہے۔ مرکز آج تک وہاں مجلس شوریٰ کے فیصلہ کے تحت مبلغ چالیس ہزار، ملتان سے بھیج چکا ہے۔ چونکہ پہاڑی کو کاٹ کر جگہ ہموار کی گئی ہے۔ اس لئے مصارف بہت آگئے ہیں۔ اس کی تکمیل تعمیر کے لئے فیصلہ ہوا کہ سکھر و اطراف سکھر سے مخیر حضرات سے امداد حاصل کی جائے۔ بالخصوص حضرت نائب امیر مولانا مفتی احمد الرحمٰن صاحب کراچی سے اپنے اثر و رسوخ سے امداد فراہم کریں اور دفتر ہذا و مدرسہ کی تعمیرات مکمل کی جائیں۔
- ۶...... مسلم کالونی ربوہ میں ۹ کنال اراضی برائے تعمیر دفاتر مدرسہ و جامع مسجد مجلس کے زیر قبضہ ہے۔ جس میں بعد تنصیب ٹیوب ویل،
تعمیرات کا سلسلہ شروع ہے۔ تا امروز ۶۱۲۵۱۸/۵۵ خرچہ ہو کر ان کے تمام بل ہائے مصارف ملتان فائل ہو چکے ہیں۔ علاوہ
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
مبلغ -/۲۲۰۰۰ روپے شیخ منظور احمد کی تحویل میں خرچہ ہوئے ہیں۔ وہ اس رقم کے علاوہ ہیں۔ ان کے بل ہائے تا حال نہیں آئے۔ اس طرح اس مد میں جمع شدہ چندہ خرچ ہو کر مصارف بڑھ رہے ہیں۔ جب کہ تعمیرات میں ابھی کافی کام باقی ہے۔ اس لئے فیصلہ ہوا کہ بیرونی چار دیواری، مین گیٹ، غسل خانے، طہارت خانے جو زیر تعمیر ہیں۔ اس وقت صرف ان ہی کی تعمیر مکمل کی جائے۔ باقی تعمیرات اس کے بعد شروع کی جائیں گی۔ ان شاء اللہ!
- ۷ ...... مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کا کھاتہ یونائیٹڈ بینک حرم گیٹ ملتان میں کھولا گیا۔ تب مولانا محمد حیات صاحب صدر اور مولانا
عزیز الرحمٰن مرکزی خازن تھے۔ لین دین انہی کے نام سے ہونا بینک میں لکھایا گیا تھا۔ ایک عرصہ سے کوئی رقم نہیں نکلوائی گئی۔ اس اثناء میں مولانا محمد حیات صاحب کا انتقال ہو گیا ہے اور اب چونکہ مذکورہ ذیل حضرات مرکزی جماعت کے عہدیدار ہیں۔
امیر مرکزیہ: حضرت مولانا خان محمد صاحب (سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کندیاں) نائب امیر: حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰن (جامعہ اسلامیہ نیو ٹاؤن کراچی) ناظم اعلیٰ: محمد شریف جالندھری دفتر تحفظ ختم نبوت ملتان مرکزی خازن: مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری
دستور کی دفعہ نمبر ۱۶ شق نمبر ۷ کے تحت مذکورہ چار حضرات میں سے کسی دو کے دستخطوں سے لین دین ہوگا۔
- ۸ ...... عرصہ دراز سے مجلس تحفظ ختم نبوت کی کوشش رہی ہے کہ ”ہفت روزہ ختم نبوت“ کا ڈیکلریشن حاصل کیا جائے۔ لیکن سابقہ کسی میں
حکومت نے مجلس کی اس درخواست کو قبول نہیں کیا۔ گزشتہ ماہ میں کراچی مجلس کے ناظم اعلیٰ عبدالرحمٰن یعقوب باوا نے اس نام پر ڈیکلریشن حاصل کرنے کی درخواست دی اور جدوجہد کی۔ صوبائی حکومت کے نامنظور کرنے کے باوجود راجہ ظفر الحق وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات نے خصوصی توجہ سے ڈیکلریشن منظور کر لیا۔ جس کا پہلا پرچہ ۲۹ مئی ۱۹۸۲ء کو کراچی سے شائع ہوا۔ مجلس شوریٰ کے اجلاس میں اس رسالہ کے اخراجات کے متعلق گفتگو شروع ہوئی تو حضرت مولانا محمد یوسف صاحب لدھیانوی نے ارشاد فرمایا کہ مجلس مرکزیہ پرچہ کے سال بھر کے مصارف برداشت کرے تو ایک سال کے بعد مجلس کی جملہ صرف شدہ رقم واپس کر دی جائے گی اور پرچہ بھی بفضلہ تعالیٰ اپنے پاؤں پر کھڑا ہوگا۔ مولانا نے ارشاد فرمایا کہ اس میں کراچی مجلس مبلغ بیس ہزار روپے جمع کر چکی ہے جو صرف بہی خواہاں مجلس نے اس پرچہ ہی کے لئے عطا کئے ہیں۔ مجلس شوریٰ نے بالاتفاق فیصلہ دیا کہ کراچی دفتر سابقہ کی رقم جو پچاس ہزار روپے کراچی میں جمع ہیں اور دفتر اب جامع مسجد باب الرحمت میں بخوبی چل رہا ہے۔ وہ رقم رسالہ کی مد میں صرف کر لی جائے۔ اس طرح مولانا لدھیانوی کی تجویز پر عمل کیا جائے کہ اس رقم سے مصارف پورے کر کے رسالہ کی فروخت اس درجہ کی جائے کہ اصل رقم میں نقصان نہ ہو۔
- ۹ ...... جابہ، قادیانیوں نے گرمائی ہیڈ کوارٹر وادی سون ضلع سرگودھا میں النخلہ کے نام پر قائم کیا تھا۔ تب امیر شریعت مرحوم نے ارشاد
فرمایا کہ وہاں تبلیغی دفتر تحفظ ختم نبوت قائم کیا جائے۔ چنانچہ وادی سون کے مرکزی مقام جابہ میں برلب سڑک خوشاب، سرگودھا دو کنال اراضی موقوفہ پر جلسہ کا انتظام کیا گیا۔ جابہ بستی میں مدرسہ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ آہستہ آہستہ دو کنال اراضی کی چار دیواری کر کے دو کمرے بنائے گئے اور مدرس و مبلغ کا انتظام کیا گیا۔ پھر تعمیر جامع مسجد کا مرحلہ آیا تو مولانا فضل احمد مرحوم
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
سابق رکن مرکزی مجلس شوریٰ کی کوشش سے اس کی تعمیر شروع ہوئی۔ مولانا اللہ کو پیارے ہوئے تو مولانا قاضی عبدالمالک جھاوریاں، مولانا قاضی محمد رضا نے اس مسجد مدرسہ کی تعمیر کی طرف خصوصی توجہ فرمائی۔ اب مسجد مکمل ہے۔ مدرسہ کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔ فیصلہ ہوا کہ اب جب کہ قادیانی النخلہ چھوڑ کر واپس آچکے ہیں۔ جابہ کی تعمیرات پر مزید مصارف نہ کئے جائیں۔ البتہ مدرسہ و مسجد کے احاطہ میں پانی کا انتظام کیا جائے اور اس کے مصارف مرکزی مجلس ادا کرے۔
- ......۱۰ مجلس شوریٰ کے معزز رکن مولانا سید محمد اشرف ہمدانی فیصل آباد نے دو تجویزیں پیش فرمائیں۔ مؤرخہ ۶، ۷ /ستمبر آل پاکستان ختم
نبوت کانفرنس ربوہ (مسلم کالونی) میں کی جائے۔ مسلم کالونی، مدرسہ میں عربی تعلیم کا انتظام کیا جائے۔ کانفرنس ربوہ کے متعلق فیصلہ ہوا کہ کانفرنس ربوہ مؤرخہ ۶، ۷ /ستمبر ۱۹۸۲ء کو کی جائے۔ اس کی اہمیت کے پیش نظر مذکورہ ذیل کمیٹی بنائی گئی۔ سرپرست حضرت مولانا تاج محمود، صدر استقبالیہ مولانا سید محمد اشرف ہمدانی، رکن استقبالیہ غلام نبی گوجرانوالہ، الحاج بلند اختر لاہور، محمد شریف جالندھری، ناظم استقبالیہ مولانا اللہ وسایا، رکن مولانا عزیز الرحمن۔ فیصلہ ہوا کہ صدر استقبالیہ کمیٹی مذکور کے علاوہ مجلس تحفظ ختم نبوت چنیوٹ، فیصل آباد، شیخوپورہ، سرگودھا اور جھنگ کے احباب اجلاس ربوہ میں طلب کریں۔ کانفرنس کے جملہ انتظامات اور متعلقہ امور کے متعلق اس میٹنگ میں فیصلے کریں۔ جامع مسجد محمدیہ اور مسلم کالونی میں بالترتیب قاری شبیر احمد اور قاری منیر احمد بطور مدرس و امام مسجد عرصہ دراز سے متعین ہیں۔ جامع مسجد محمدیہ میں صرف ملازمین کے بچے کلام پاک پڑھنے آتے ہیں۔ مسلم کالونی میں بیرونی طلباء کی رہائش کا انتظام ہے اور مقامی بچے بھی کلام پاک پڑھنے کے لئے آتے ہیں۔ لیکن مستقل طلباء بھی کبھی کوئی آگیا کبھی کوئی چلا گیا، کا سلسلہ ہی قائم ہے۔ اکثر اراکین کا خیال تھا کہ مسلم کالونی میں تعلیم القرآن کے ہی شعبہ کو منظم کیا جائے۔ حضرت مولانا سید محمد اشرف صاحب ہمدانی نے فرمایا کہ شعبہ تعلیم القرآن کی ترقی بھی اس پر منحصر ہے کہ ابتدائی عربی تعلیم کا شعبہ قائم کیا جائے۔ چنانچہ فیصلہ ہوا کہ حضرت ہمدانی صاحب عربی مدرس کا انتخاب کریں اور تجربہ ایک سال تک ابتدائی عربی اور تعلیم القرآن دونوں کام کریں۔ اگلے سال ان شاء اللہ آنے والے اجلاس شوریٰ میں اس پر غور ہوگا۔
- ......۱۱ دفتر قدیم وجدید میں تعلیمی منصوبہ بندی، مرکزی دفتر کی طرف سے اجلاس میں عرض کیا گیا کہ دفتر جدید میں ملک بھر سے حافظ قرآن
طلباء کو حسب ضرورت استطاعت لیا جائے اور ان کی انگریزی تعلیم کا انتظام کیا جائے کہ وہ مختصر وقت میں دسویں کا امتحان دے سکیں اور ساتھ ہی ان طلباء کو قادیانیوں کے متعلق معلومات فراہم کی جائیں۔ اس اثناء مدرسہ عربی خیرالمدارس کے ناظم حضرت مولانا محمد صدیق صاحب تشریف لے آئے اور انہوں نے اس تجویز سے اختلاف کیا۔ فرمایا کہ جو لوگ اس دور میں اپنے بچوں کو کلام پاک حفظ کراتے ہیں آپ ان کو پھر انگریزی تعلیم کی طرف دھکیلتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ آپ میٹرک پاس طلباء لیں۔ ان کی رہائش و قیام کا انتظام کریں اور مختصر نصاب درس نظامی کا انہیں پڑھائیں۔ چنانچہ ہاؤس نے اس تجویز سے اتفاق کیا۔
- ......۱۲ بنگلہ دیش میں دارالمبلغین کا قیام: مشرقی پاکستان کے علیحدہ ہو جانے کے باعث وہاں جماعتی نظام قائم نہ رہ سکا۔ اب وہاں
مرزائی اپنی تبلیغ کو وسعت دے رہے ہیں۔ اس لئے اس بات پر غور وخوض ہوا کہ وہاں کام کی کیا صورت ہو اور کس طرح مقامی علماء کے لئے دارالمبلغین قائم کیا جائے۔ فیصلہ ہوا کہ مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) کے علماء کے ساتھ خط و کتابت کریں۔ خود تشریف لے جائیں اور کام کی راہ نکالیں۔ اگر ضرورت ہوئی تو خود ہی یا کسی مبلغ صاحب کے ساتھ وہاں کا سفر کروں گا۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
- ۱۳...... مولانا محمد عبداللہ اسلام آباد نے اسلام آباد میں جماعتی کام کی وسعت کے لئے فرمایا کہ ایک آدمی مبلغ صاحب کی اعانت کے
لئے رکھا جائے جو بقدر ضرورت اردو، انگریزی لکھ پڑھ سکتا ہو۔
فقیر خاکسار محمد یوسف عفی عنہ
(۵۳ رواں) اجلاس شوریٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
۱۹۸۳ء میں مجلس شوریٰ کا اجلاس منعقد ہوا۔ کارروائی ملاحظہ ہو:
اجلاس مرکزی مجلس شوریٰ مجلس تحفظ ختم نبوت، مورخہ ۱۳/رجب ۱۴۰۳ھ، مطابق ۲۷/اپریل ۱۹۸۳ء بمقام: دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
شرکاء: (۱) حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم، (۲) حضرت مولانا تاج محمود، (۳) حضرت مولانا محمد شریف جالندھری، (۴) فضل محمود، (۵) حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر، (۶) شیخ محمد حبیب، (۷) حکیم عبدالرحمن (گوجرانوالہ)، (۸) عبدالحئی الحسینی (گھوٹکی)، (۹) حضرت مولانا نور الحق نور، (۱۰) حاجی لال حسین (کراچی)، (۱۱) حضرت مولانا احمد الرحمن، (۱۲) محمد رفیق صابری، (۱۳) حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری
ایجنڈا معزز اراکین کی خدمت میں دوبارہ تقسیم کیا گیا جو حسب ذیل ہے۔
- ۱...... قادیانیوں کے جارحانہ اقدامات (مبلغ سیالکوٹ کا اغواء ربوہ اور ملک بھر میں اشتعال انگیزیاں)
- ۲...... مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے احیاء کی کارروائی کا جائزہ۔
- ۳...... وفاقی مجلس شوریٰ پاکستان میں ترمیم ۱۹۷۴ء کے متعلق قانون سازی کی جدوجہد کا جائزہ۔
- ۴...... مسلم کالونی ربوہ میں جمعہ کا اجراء اور مدرسہ عربی نصاب جدید۔
- ۵...... مرکزی دفتر ملتان میں تعلیمات کا اجراء۔
- ۶...... تقرریاں، تبادلے، ترقیاں، منظوری سالانہ اخراجات ۱۴۰۲ھ۔
- ۷...... دیگر امور با اجازت حضرت امیر مرکزیہ زید مجدہم۔
تلاوت کلام پاک حضرت مولانا مفتی احمد الرحمن صاحب جامعہ اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی نے فرمائی۔
(۱) حضرت مولانا تاج محمود صاحب نے اجلاس میں ابتدائی تقریر ارشاد فرمائی
فرمایا کہ جب مرزائی خلیفہ رابع مرزا طاہر احمد انتخاب میں کامیاب ہوئے تو ہمارا فوراً اس طرف خیال گیا کہ اب مرزائی محاذ پر خیریت نہ رہے گی۔ کیونکہ مرزا ناصر احمد قادیانی خلیفہ ثالث تعلیم یافتہ آدمی تھا اور متانت سے کام لیتا تھا۔ یہ صاحب غنڈہ صفت ہیں۔ اپنی کمزوریاں اور غنڈہ گردی کو چھپانے کے لئے نئے نئے مسائل پیدا کرے گا۔ چنانچہ ہمارا یہ خیال درست ثابت ہوا۔ محمد اسلم قریشی کو سیالکوٹ ایسے شہر سے اغواء کیا گیا۔ اندرون ربوہ بھی فضا خراب کرنے کی کوشش کی گئی۔ مولانا عبد الہادی شیخوپورہ کو قادیانیوں نے پیٹا۔ قادیانی جارحانہ اقدامات کر رہے ہیں۔ چنانچہ اس وقت اصل مسئلہ محمد اسلم قریشی کا نہیں بلکہ قادیانی جارحیت کا ہے۔ آج تک اکابر علماء دیوبند نے ہماری سرپرستی فرمائی ہے۔ مجلس کے اکابر واصاغر نے بھی علماء دیوبند کی اطاعت اور حفاظت کی ۔ اب علماء حق میں خود تشتت وافتراق ہے۔ جس کے باعث ہماری جماعتی زندگی بھی کمزوری کا شکار ہے۔ اس لئے اب نہایت بیدار مغزی اور جفاکشی کے ساتھ کام کی
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبد اللہ معتصم
ضرورت ہے۔ ہمیں اپنی تنظیم کو مضبوط بنانے کی طرف پوری توجہ دینی چاہئے۔ اب ہمارے اخلاص اور مسئلہ کی اہمیت کا تقاضہ ہے کہ آج جب کہ ہم اس کام کے تقاضے پورے نہیں کر سکتے تو یہ کام کس دوسرے گروپ یا ادارہ کے سپرد کر کے بری الذمہ ہو جائیں۔ ہاؤس نے پہلی تجویز (کہ کام میں جفاکشی اور تندہی سے کام کرنا چاہئے) اتفاق کیا اور دوسری تجویز کہ جماعت کو یہ کام کسی دوسری تنظیم یا ادارہ کے سپرد کرنا چاہئے۔ سخت اختلاف کیا۔ حاجی لال حسین صاحب کراچی نے شدت سے اختلاف فرمایا۔ جماعت کی مفصل تاریخ اور کام کی تفصیل بیان کرتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی۔ قادیانی محاذ پر جماعت کی جس قدر خدمات ہیں وہ کسی دوسرے ادارہ کی کسی باطل محاذ پر نہیں اور نہ ہی آج کوئی ادارہ مجلس تحفظ ختم نبوت ایسی تنظیم، مبلغین کی ہمہ وقتی جدوجہد، تردید قادیانیت بذریعہ پمفلٹ ورسائل کی مثال پیش نہیں کر سکتا اور پھر مجلس ایک خاص طرز عمل سے لاکھوں کا صرفہ سالانہ پورا کر رہی ہے۔ ہمارے بزرگوں نے نہایت بیدار مغزی سے کام کی ایسی صورت پیدا فرمائی ہے کہ اب ان حضرات کی سعی بار آور ہو رہی ہیں اور مجلس سے بڑھ کر کوئی ادارہ یکجہتی اور تنظیم سے کام کر ہی نہیں رہا تو ہم کسی کے کیسے سپرد کر دیں۔ حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰن نے مولانا تاج محمود صاحب کی تجویز پر سخت حیرت کا اظہار کیا۔ ہاؤس کی اس قدر بالاتفاق مخالفت پر حضرت مولانا تاج محمود صاحب نے ارشاد فرمایا کہ میری مراد مجلس کسی دوسرے ادارہ کے تحت کرنے کی نہ تھی۔ یہ صرف اس لئے عرض کیا تھا کہ کام کی جس قدر ضرورت ہے اس قدر نہیں ہوا۔ اس میں جذبات کو برانگیختہ کرنا مقصد تھا۔ ایجنڈا کی پہلی تجویز اس گفتگو کے بعد مزید مثبت بات ہوئی اور قادیانیوں کی طرف جارحانہ اقدامات پر جن کی تفصیل مولانا تاج محمود بیان فرما چکے ہیں۔ سخت نفرت کا اظہار کیا گیا اور قادیانیوں کی طرف سے ان اشتعال انگیزیوں کو سوچی سمجھی سکیم بیان کیا گیا۔ فیصلہ ہوا کہ قادیانی چونکہ ملک وملت کے وفادار نہیں۔ اس لئے یہ اشتعال انگیزیاں ان کی طرف ملک کے خلاف سازش ہیں۔ انہیں کھل کر بیان کیا جائے۔ رائے عامہ کو قادیانیوں کے متعلق خبردار کیا جائے اور گورنمنٹ سے بذریعہ وفود و اجلاس عام مطالبہ کیا جائے کہ قادیانیوں کے خلاف اس وقت اقدام ضروری ہے۔
(۲) مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے احیاء کی کارروائی کا جائزہ
امت مسلمہ مختلف فرقوں شیعہ، سنی، اہل حدیث، حنفی، دیوبندی، بریلوی میں بٹ کر اصل مقصد سے دور جا چکی ہے۔ ماضی میں ہمارے بزرگوں نے تمام مسلمان فرقوں کو قادیانیوں کے تعاقب کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا تو اس کے نتائج بہت ہی شاندار نکلے۔ سب سے پہلا مجلس عمل کا قیام ۱۹۵۳ء میں ہوا اور ختم نبوت کے تحفظ کے لئے مثالی کام ہوا۔ دوبارہ ۱۹۷۴ء میں زیر قیادت حضرت بنوری قدس سرہ مجلس عمل قائم ہوئی اور قادیانیوں کو قانون ساز اسمبلی پاکستان نے غیر مسلم اقلیت قرار دیا اور امت مسلمہ کا دیرینہ مطالبہ تسلیم کر لیا گیا۔ اتحاد ملت نے ہمیشہ ہی باطل کے خلاف عظیم کامیابیاں حاصل کیں۔ ۱۹۷۴ء کے بعد قادیانیوں نے کچھ دیر خاموشی کے بعد دوبارہ تنظیم اور اسراف زر سے کام کرنا شروع کر دیا اور بدقسمتی سے مسلمان فرقوں کے رہنماؤں نے باہمی اختلاف کو ہی مقصد حیات قرار دینا شروع کر دیا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کا بنیادی مقصد ہی تمام مسلمان فرقوں کا اتحاد ہے۔ اس لئے مجلس نے سرتوڑ کوشش کی لیکن وہ موجودہ دور میں ایسے اتحاد کا وجود قائم کرنے میں ناکام رہی اور پھر موجودہ حکومت مارشل لاء میں قادیانیوں کو بے پناہ مراعات سے نوازا۔ قادیانی آئینی طور پر غیر مسلم ہونے کے باوجود برملا کہتے اور لکھتے رہے کہ وہی خالص مسلمان ہیں۔ اہل اسلام کی طرف بار ہا مطالبہ کے باوجود حکومت ٹس سے مس نہ ہوئی۔ الٹا قادیانی افسروں کی ترقیوں کا سلسلہ شروع رہا۔ عبدالسلام سائنسدان اور ڈاکٹر محمود الحسن کی مثال سے واضح ہوتا ہے کہ موجودہ مارشل لاء حکومت قادیانیوں کے خلاف کچھ کرنا نہیں چاہتی۔ اب قیام مجلس عمل میں دو رکاوٹیں ہیں گورنمنٹ قادیانیت نوازی سے
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
اس مسئلہ کو کمزور کرنے کا باعث ہے۔ مسلمان فرقوں کی باہمی مناقشت دن بدن تیز ہورہی ہے۔ کوئی فرقہ بالخصوص بریلوی حضرات جن کی ملک میں اکثریت ہے۔ قطعاً اس طرف نہیں آتے۔ ایسے میں مرکزی شوریٰ کے معزز اراکین نے فیصلہ کیا کہ مجلس عمل کے قیام کی کوشش جاری رہے اور مولانا تاج محمود (فیصل آباد)، مولانا حکیم عبدالرحمن آزاد، محمد شریف جالندھری باہم مشورہ کر کے تمام مسلمان فرقوں کے رہنماؤں سے رابطہ قائم کر کے قیام مجلس عمل کی کوشش کریں۔ ساتھ ہی فیصلہ کیا جماعت کی طرف سے کام میں تیزی پیدا کرنے کے لئے ضلعی کانفرنسیں کی جائیں۔ مجلس کے مرکزی رہنما ایسی کانفرنسوں میں شرکت کریں اور مجلس اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے۔ علاقائی کنونشن بلائے جائیں اور وہاں کے مذہبی رہنماؤں کو شریک کیا جائے تاکہ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے لئے راستہ ہموار ہو۔ ۲۰؍ مئی ۱۹۸۳ء کی تاریخ برائے احتجاج مقرر کی گئی۔ فیصلہ ہوا کہ بذریعہ اشتہارات ملک بھر میں یوم احتجاج منایا جائے۔ قراردادیں مرکز اور صوبائی حکومتوں کو بھیجی جائیں۔ سیالکوٹ میں یوم دعا کے لئے ایک عظیم اجتماع بلایا جائے۔ ملک بھر سے فدایان ختم نبوت کو شرکت کی دعوت دی جائے۔
(۳) وفاقی مجلس شوریٰ میں ترمیم ۱۹۷۴ء کے متعلق قانون سازی کی جدوجہد کا جائزہ
محمد شریف جالندھری نے قیام مجلس شوریٰ سے لے کر آج تک کی جدوجہد کی تفصیل بیان کی اور کہا کہ وفاقی شوریٰ کے صدر خواجہ محمد صفدر سیالکوٹ کے باشندے ہیں اور قادیانیوں کے متعلق ان کے جذبات مصالحانہ ہیں۔ انہوں نے بلطائف الحیل قانون سازی کا مسودہ ہی بحث لئے پیش نہیں ہونے دیا۔ خود وفاقی مجلس شوریٰ کا طریق کار اتنا پیچیدہ ہے کہ قیام شوریٰ سے لے کر ہم آج تک ہر اجلاس کے وقت اسلام آباد جاتے رہے۔ مطالبات کے متعلق پمفلٹ ہر رکن شوریٰ تک پہنچائے۔ ملاقاتیں کر کے اراکین کو تیار کیا کہ جب بھی مسودہ پیش ہو تو اس کی تائید کریں۔ تمام اراکین سے ان کے علاقوں میں کارکنان ختم نبوت نے ملاقاتیں کیں۔ تمام اراکین گرم جوشی سے تائید کے لئے تیار ہیں۔ لیکن باوجود قاری سعیدالرحمن، مولانا سمیع الحق، قاضی عبداللطیف کی کوششوں کے مسودہ آج تک کسی اجلاس میں پیش نہیں ہوا۔ ہاؤس نے فیصلہ کیا کہ اس وقت قانون سازی کے لئے بھی مکمل جدوجہد جاری رکھی جائے۔
(۴) مسلم کالونی ربوہ میں جمعہ کا اجراء اور مدرسہ عربی میں نصاب جدید
مسجد محمدیہ ریلوے اسٹیشن ربوہ میں اس کی تاسیس سے قبل کا جمعہ مجلس کے ماتحت ہوتا ہے۔ مجلس کے مبلغ خطابت کے فرائض انجام دیتے ہیں اور جمعہ کما حقہ کامیاب ہے۔ اب کچھ عرصہ سے ربوہ میں مقیم حضرات نے مسلم کالونی میں جمعہ شروع کر دیا۔ کسی سے مشورہ نہیں کیا۔ مرکزی ناظم اعلیٰ نے خط لکھا کہ اس جمعہ کا اثر ہمارے محمدیہ مسجد کے جمعہ پر پڑے گا۔ جب کہ قادیانی جن کی ربوہ میں عظیم اکثریت ہے ان کا ایک جمعہ ہوتا ہے تو مسلمان جو وہاں بہت ہی کم ہیں ان کے ایک ہی جماعت کے زیر نظم دو جمعہ نہ ہونے چاہئیں۔ لیکن ربوہ کے ساتھیوں نے اسے قبول نہ کیا۔ اس لئے مسئلہ اجلاس شوریٰ میں پیش ہوا۔ ہاؤس نے مولانا تاج محمود کے ارشاد پر کہ اب جب کہ ۶ ماہ سے جمعہ شروع ہے اسے بند نہ کیا جائے، کے ساتھ اتفاق کیا اور اجراء جمعہ کا فیصلہ بحال رہا۔ کچھ عرصہ سے مسلم کالونی میں درجہ حفظ کے علاوہ درس کتب کا بھی اجراء کر لیا گیا ہے۔ مولانا عبدالرحمن صاحب بطور مدرس عربی تشریف لے آئے ہیں۔ انہوں نے نصاب جدید کے تحت دینیات کا درس شروع کیا۔ جس کا اثر درجہ حفظ پر بھی ہوا اور نصاب جدید بھی ایسا شروع کیا گیا کہ اس کے لئے انگریزی، عربی، فارسی، ریاضی کے اساتذہ کی ضرورت ہوگی اور سینکڑوں طالب علموں کا انتظام کرنا ہوگا۔ اس لئے مرکز نے خواہش ظاہر کی کہ صرف درجہ حفظ کو ہی ترقی دی جائے اور بالخصوص نصاب جدید جسے بڑے بڑے ہمارے مدرسہ جاری نہیں کر سکے ہم بھی اس میں اپنی طاقت صرف نہ کریں۔ مرزائی محاذ پر ہی کام میں
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
بے پناہ ضرورت ہے۔ مولانا تاج محمود نے فرمایا کہ اب تو اسے جاری رہنے دیا جائے۔ البتہ نئے سال یعنی بعد رمضان میں خود اس کا معائنہ کروں گا اور تمام معاملات کو سمجھ کر اپنی صوابدید پر کام شروع کروں گا یا پابند کر دیا جائے گا۔ ہاؤس نے مولانا کی اس تجویز کو قبول کر لیا۔
(۵) مرکزی دفتر ملتان میں تعلیمات کا اجراء
مرکزی دفتر ملتان کی عظیم عمارت وسیع ہے۔ عمارت کا اکثر حصہ دفتر کے شعبہ جات، لائبریری، درس گاہ برائے مبلغین، قیام مبلغین، درس حفظ قرآن، باورچی خانہ کے زیر استعمال ہیں۔ لیکن اس کے باوجود اس میں گنجائش ہے کہ تعلیمات کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ مرکز سے گزارش کہ ملتان میں مستورات کے لئے تعلیم کا انتظام نہیں۔ اس لئے تعلیم النساء کے لئے مدرسہ کی اجازت دی جائے۔ ہاؤس نے اس سے اتفاق نہیں کیا بلکہ فیصلہ کیا کہ دارالمبلغین کو مزید وسعت دی جائے۔ نصاب دو ماہ کی بجائے ایک سال کا رکھا جاوے۔ دینی مدارس سے بطور خاص طلباء حاصل کئے جاویں جن کی رہائش، خوراک و وظیفہ کا انتظام کیا جائے تاکہ مستقبل کے لئے بہتر مبلغ پیدا ہوں۔
انگلینڈ (ہڈرسفیلڈ) میں دفتر تحفظ ختم نبوت کے لئے عمارت حضرت مناظر اسلام مولانا لال حسین صاحب اختر نے اپنی دورۂ یورپ میں خرید فرمائی تھی۔ جس سے تبلیغی و مجلسی امور انجام پاتے رہے۔ جب حضرت شیخ الاسلام مولانا بنوری نے یورپ کا تبلیغی سفر کیا تو یہ عمارت بوجہ بوسیدہ ہونے کے قابل استعمال نہ رہی تھی۔ حضرت والا کی تشریف آوری کے بعد گورنمنٹ نے اس کا استعمال قانوناً بند کر دیا۔ حضرت والا نے اپنے واپسی سفر پر ہی اس کے فروخت کرنے کا ارشاد فرمایا تھا۔ چنانچہ اس سال یہ عمارت تین ہزار پونڈ میں فروخت کر دی گئی۔ جن میں سے ایک سو پونڈ مقامی اخراجات وکیل کے ادا کر کے مبلغ ۹۰۰ پونڈ مقامی جماعت نے ہڈرسفیلڈ میں نئی تعمیر مسجد میں استعمال کر کے مبلغ دو ہزار پونڈ ملتان ارسال فرمائے۔ جو بیت المال میں جمع ہو گئے۔ ملتان کے قریب حضرت اقدس مولانا محمد علی صاحب مرحوم نے ۱۷؍ ایکڑ اراضی شاخ مدینہ پر خرید فرمائی تھی۔ اب مرکزی جماعت کے فیصلہ پر اسے فروخت کر دیا گیا اور اس کی جملہ رقم مجلس کے حساب میں جمع ہوئی ہے۔
فقیر خان محمد عفی عنہ
۱۳؍ ذیقعدہ ۱۴۰۴ھ
(۵۴؍واں) اجلاس شوریٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
۱۹۸۴ء کے امتناع قادیانیت آرڈیننس کے بعد اجلاس کارروائی پیش خدمت ہے:
اجلاس مرکزی مجلس شوریٰ مجلس تحفظ ختم نبوت، مؤرخہ ۱۳؍ ذیقعدہ ۱۴۰۴ھ، مطابق ۱۱؍ اگست ۱۹۸۴ء بمقام: دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
شرکاء: (۱) حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم، (۲) حضرت مولانا احمد الرحمن (کراچی)، (۳) حضرت مولانا محمد عبداللہ (اسلام آباد)، (۴) حضرت مولانا علاؤ الدین (ڈیرہ اسماعیل خان)، (۵) حضرت مولانا فضل محمود (بہاول پور)، (۶) حضرت بلند اختر (لاہور)، (۷) حضرت مولانا نور الحق نور (پشاور)، (۸) جناب عبدالرحمن یعقوب باوا (کراچی)، (۹) حضرت مولانا محمد رمضان علوی (راولپنڈی)، (۱۰) قاری محمد امین (راولپنڈی)، (۱۱) حکیم عبدالرحمن آزاد (گوجرانوالہ)، (۱۲) حضرت مولانا محمد شریف جالندھری، (۱۳) حضرت مولانا محمد اجمل خاں، (۱۴) مولانا محمد اشرف ہمدانی، (۱۵) حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب اشعر، (۱۶) حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، (۱۷) حضرت حاجی محمد حبیب۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء
ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
ایجنڈا:
- ۱...... حالیہ صدارتی آرڈیننس کے مثبت اور منفی اثرات کا جائزہ۔
- ۲...... مرکزی مجلس عمل کو مزید مؤثر بنانے کے لئے طریق کار اور تجاویز۔
- ۳...... قریشی کیس کی موجودہ اور آخری تفتیش کے نتائج۔
- ۴...... مولانا اللہ یار ارشد پر مرزائیوں کا قاتلانہ حملہ اور ملزمان کے خلاف مقدمہ کی کارروائی کا جائزہ۔
- ۵...... مجلس کے مرکزی انتخابات کے انعقاد کی تاریخ اور انتظامات۔
- ۶...... تیسری سالانہ کانفرنس ربوہ کی تاریخ اور انتظامات۔
- ۷...... تعمیرات مسلم کالونی ربوہ۔
- ۸...... تکمیل تعمیر مدرسہ و دفتر سکھر۔
- ۹...... سالانہ آمد و صرف بابت ۱۴۰۴ھ کا گوشوارہ۔
- ۱۰...... سالانہ اخراجات ۱۴۰۴ھ کی توثیق اور بعض اخراجات کی منظوری۔
- ۱۱...... تقرریاں، تبادلے اور گرانی کے پیش نظر مبلغین کے مشاہرات کا جائزہ۔
- ۱۲...... دیگر امور با اجازت حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم۔
- ۱۳...... گوجرانوالہ میں مدرسہ و مسجد ختم نبوت کی تعمیر اور اس کے متعلق مسائل۔
تلاوت: مولانا محمد عبداللہ (اسلام آباد)
تعزیت حضرت مولانا مجاہد ختم نبوت تاج محمود صاحب قدس سرہ۔ (۲۰؍جنوری ۱۹۸۲ء یوم وفات)
حضرت مولانا موصوف مجلس تحفظ ختم نبوت کے بانی رکن تھے۔ مخلص، مجاہد، نڈر، ایثار پیشہ تھے۔ کوئی ایسا وقت نہیں آیا جب انہوں نے مجاہدانہ طور پر مجلس کی رہنمائی نہ فرمائی ہو اور مجلس کے یومِ تاسیس سے لے کر ہر شوریٰ کے اجلاس، مرکزی کانفرنس کے اجلاس دوسری جماعتوں اور حکومت کے ساتھ گفتگو میں شرکت فرماتے رہے اور اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے رہنمائی فرمائی۔ حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم اور جملہ اراکین نے آں مرحوم کے لئے ترقی درجات اور مغفرت کی دعا کی۔ پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعا فرمائی۔
تجاویز:
- ۱...... حالیہ صدارتی آرڈیننس کے متعلق مولانا مفتی احمد الرحمٰن صاحب نائب امیر نے اظہار خیال فرماتے ہوئے فرمایا کہ ملک بھر میں آرڈیننس کے مندرجات پر عمل ہو رہا ہے۔ کراچی عید گاہ میں قادیانی برسوں سے نمازِ عید ادا کر رہے تھے۔ اس سال ان کی نماز عید گاہ میں نہیں ہوئی مجلس کے مطالبہ پر پولیس نے پابندی لگا دی اور پولیس شام تک وہاں موجود رہی۔ تمام قادیانی عبادت گاہوں سے لفظ ”مسجد“ مٹا دیا گیا۔ مولانا محمد عبداللہ صاحب اسلام آباد نے اسلام آباد، مانسہرہ، ایبٹ آباد کے واقعات سنا کر حضرت مفتی صاحب کی تائید کی۔
- ۲...... مرکزی مجلس عمل اور اس کے مصارف: مرکزی مجلس عمل کو مزید مؤثر بنانے پر تمام معزز اراکین نے اتفاق فرمایا اور فیصلہ ہوا کہ ستمبر میں پنجاب میں مجلس عمل کی کانفرنس کی جائیں اور مفصل و جامع پروگرام کے لئے حضرت اقدس امیر مرکزیہ کے حج سے واپس
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء
ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
تشریف لانے کا انتظار کیا جاوے۔ فیصلہ ہوا کہ مجلس عمل کے نام پر نہ رسید بکیں چھاپی جائیں نہ چندہ عام کیا جائے۔ کیونکہ ایسی مقدس تحریک کا چندہ کا کنٹرول آمد و صرف کی صحیح صورت مشکل ہے۔ اس لئے جملہ مصارف مجلس تحفظ ختم نبوت ادا کرے اور مجلس ہی اپنے ضوابط کے تحت آمد وصول کرے۔ مدعوین حضرات کا انتظام مجلس کرے اور ان کے زاد راہ ادا کرے۔ البتہ ہوائی جہاز کا سفر سوائے لمبے سفر کے ترک کیا جائے اور اعلیٰ درجہ کا سفر ریل یعنی ایئر کنڈیشنڈ سفر سے بھی احتراز کیا جائے۔ سلیپر، فرسٹ کلاس کے کرایہ جات ادا کئے جائیں۔
- ۳...... اسلم قریشی کے اغواء اور برآمد پر خاص تشویش کا اظہار کیا گیا اور حکومت پر عدم اعتماد کا اظہار کیا کہ انتظامیہ خصوصاً ضلعی انتظامیہ نے جان بوجھ کر تساہل سے کام لیا ہے۔ فیصلہ ہوا کہ تحریک بازیابی پر مکمل کام کیا جائے۔ اس سلسلہ میں صدر مملکت اور صوبائی گورنر پر دباؤ ڈالا جائے۔ ملاقات کے ذریعہ آں موصوف کی بازیابی کے لئے کوشش کی جائے۔
- ۴...... مولانا اللہ یار مبلغ مسجد احرار ربوہ پر قادیانیوں کے مظالم پر اظہار نفرت کیا گیا۔ مقدمہ کی کارروائی قادیانیوں کا چالان مولانا کا کیس مارشل لاء میں جانے پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ محمد شریف جالندھری کو ہدایت کی گئی کہ وہ مقدمہ سے بہت باخبر رہیں اور حضرت شاہ صاحبان سے باقاعدہ رابطہ رکھیں اور جس قدر مجلس تحفظ ختم نبوت کی ضرورت ہو وہ ضرورت پوری کریں۔
- ۵...... مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے مرکزی انتخابات کو تاخیر ہو رہی ہے۔ فیصلہ ہوا کہ مارچ ۱۹۸۵ء میں مرکزی انتخابات کی تاریخ مقرر کی جائے اور اس سے قبل ممبر سازی، ماتحت مجالس کا انتخاب مرکز کے لئے نمائندگان کی نامزدگی مکمل کی جائے۔
- ۶...... تیسری سالانہ کانفرنس ربوہ کے لئے تاریخ مطابق ۲۶، ۲۷ محرم مقرر کی گئی۔ فیصلہ ہوا کہ بھرپور کامیابی کے لئے ابھی سے کوشش شروع کی جائے اور ماتحت جماعتوں بالخصوص گوجرانوالہ، سرگودھا، بہاول پور، ٹنڈوآدم سے رابطہ قائم کر کے پروگرام طے کیا جائے۔
- ۷...... تعمیرات مسلم کالونی ربوہ: مسلم کالونی ربوہ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی ملکیت ۹ کنال اراضی ہے جس میں کافی تعمیرات مدرسہ تعلیم القرآن کی عمارت، باورچی خانہ، رہائشی مکان، ٹیوب ویل، وضو و طہارت، غسل خانہ اور ایک جامع مسجد کا ہال موجود ہیں۔ مسجد کا ہال ڈھانچہ مکمل ہے۔ دروازے، کھڑکیاں، محراب، فرش باقی ہے۔ مولانا محمد اشرف صاحب ہمدانی کی زیر نگرانی تعمیرات کا کام ہو رہا ہے۔ فیصلہ ہوا کہ ولایت کے دفتر ختم نبوت ہڈرسفیلڈ کی رقم جو دفتر مرکزیہ میں موجود ہے وہ فوری طور پر بھیج دی جائے جو چالیس ہزار ہے۔ بعد ازاں مزید کوشش کی جائے۔
- ۸...... تکمیل و تعمیر مدرسہ و دفتر سکھر، سکھر میں جماعت کا دفتر عرصہ دراز سے نزول کی اراضی میں کام کرتا ہے۔ اسی جگہ مدرسہ تعلیم القرآن اور مبلغ کی رہائش ہے۔ چند برس پہلے حاج فرزند علی، حاجی محمد ابراہیم اور نواب عبدالغنی صاحب نے کوشش کر کے یہ اراضی نزول کے خریدا اور دفتر کے لئے نئی تعمیر کا کام شروع کر دیا۔ مرکزی جماعت اور مقامی حضرات کی کوشش سے تعمیر مکمل ہو چکی ہے اور عمارت نہایت مضبوط اور شاندار تیار ہے۔ مقامی ناظم اعلیٰ کا خط آیا۔ انہوں نے مرکزی جماعت کا شکریہ ادا کیا کہ مرکزی محنت سے مقامی جماعت اس قابل ہوگئی ہے کہ دفتر کی ملکیت دکانوں کے کرایہ سے مقامی مدرسہ و جماعت کے اخراجات پورے کرے گی۔ اس خط کی روشنی میں مرکزی مجلس شوریٰ نے فیصلہ کیا کہ یہ رجحان بالکل غلط ہے کہ جو دفتر مرکزی امداد سے مل جل کر تعمیر ہوا ہے وہ کسی بھی مقامی جماعت کے سپرد کر دیا جائے۔ اس طرح مرکز کمزور ہو جائے گا اور انارکی پھیل جائے گی۔ فیصلہ کیا کہ کسی جمعہ پر مولانا مفتی احمد الرحمٰن نائب امیر کو کراچی سے بلا لیا جائے اور مولانا عزیز الرحمٰن اور محمد شریف جالندھری
تحریک ختم نبوت (۲) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
ملتان سے جائیں اور میٹنگ بلا کر احباب سے افہام وتفہیم کے ذریعہ صحیح صورت پر عمل کرنے کی بات کریں۔ مولانا عزیز الرحمن حج کے لئے تشریف لے گئے۔ محمد شریف جالندھری نے مقامی ناظم اعلیٰ کو خط لکھ دیا کہ مولانا کی حج سے واپسی پر تعمیل ہوگی۔
- ۹، ۱۰، ۱۱ آمد و صرف کا گوشوارہ مفصل مولانا عزیز الرحمن نے پیش کیا۔ اراکین شوریٰ نے حساب کی صفائی پر مبارک باد پیش کی اور سالانہ
اخراجات کی توثیق اور قابل منظور اخراجات کی منظوری دی۔ مولانا نذیر احمد بشرط درستگی حساب گزشتہ، مولانا محمد طفیل ارشد، جناب ایاز صاحب، مولانا حافظ محمد اکرم (سرگودھا)، مدرسہ مسلم کالونی کی تقرری کی منظوری دی۔
- ۱۲...... با اجازت حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم :
- الف...... ہمارے بزرگوں کے ساتھی حضرت محمد یوسف علی کھیالی ضلع گوجرانوالہ نے گوجرانوالہ، لاہور روڈ پر فیکٹری ایریا میں ایک بیگھہ
اراضی برائے دفتر تحفظ ختم نبوت ملتان اور ایک بیگھہ اراضی برائے دارالعلوم دیو بند وقف کی تھی۔ عرصہ دراز تک حاجی صاحب کا مطالبہ رہا کہ اس اراضی جامع مسجد، مدرسہ تعلیم القرآن ختم نبوت دارالمبلغین قائم کیا جائے۔ لیکن کل امر مرهون باوقاته کے قاعدہ کے تحت تعمیرات کی کوئی صورت نہ بن سکی۔ اب اعلیٰ حضرت امیر مرکزیہ نے خانقاہ سراجیہ سے متعلق گوجرانوالہ کے تاجر حضرت حافظ نذیر احمد کو اس طرف توجہ دلائی۔ چنانچہ مورخہ ۲۷/ جمادی الثانی ۱۴۰۲ھ، مطابق ۲۲/ اپریل ۱۹۸۲ء کو اس عالی شان عمارت کا سنگ بنیاد حضرت اقدس نے بموجودگی علماء کرام و حضرت حاجی محمد یوسف علی صاحب کھیالی رکھا اور حضرت حافظ نذیر احمد نے اپنے طور پر بے پناہ محنت شاقہ اور کثیر صرفہ سے عظیم الشان جامع مسجد، طلباء و مبلغین کے لئے درس گاہیں اور اگر ضرورت پڑے تو کرایہ پر دینے کے لئے دوکانات کی تعمیر مکمل کر کے دفتر مرکزیہ کو لکھا کہ عمارت حسب تجویز نقشہ مکمل ہیں۔ مرکز اس کا انتظام سنبھال لے۔ آج مجلس شوریٰ کے اجلاس میں یہ مسئلہ پیش ہوا۔ معزز اراکین شوریٰ نے حضرت حافظ صاحب کا شکریہ ادا کیا۔ اعلیٰ حضرت امیر مرکزیہ نے دعا فرمائی اور مذکورہ ذیل تجویز پاس ہوئی۔ گوجرانوالہ میں جامع مسجد، مدرسہ تعلیم القرآن ختم نبوت، دارالمبلغین کے لئے جو عظیم الشان عمارت حضرت الحاج حافظ نذیر احمد صاحب کے اہتمام میں تکمیل پذیر ہوئی ہے اس کے انتظام وانصرام کے لئے مذکورہ ذیل حضرات پر مشتمل کمیٹی مقرر کی جاتی ہے۔
مرکزی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر، نائب امیر، خازن، ناظم اعلیٰ، حضرت الحاج حافظ نذیر احمد صاحب گوجرانوالہ، حضرت الحاج حافظ صاحبزادہ محمد عابد سراجیہ بستی خانیوال، مزید ایک صاحب جو بمشورہ حافظ نذیر احمد صاحب اعلیٰ حضرت امیر مرکزیہ۔ یہ سات رکنی کمیٹی جس کے منتظم اعلیٰ حضرت حافظ نذیر احمد ہوں گے۔ عمارت مذکور کی جملہ ضروریات تقرری خطیب و امام، اساتذہ کرام، طلباء عزیز کی تقرریاں، ترقیاں اور اخراج کمیٹی مذکور کے ذمہ ہوگا۔ کسی رکن کے مستعفی یا موت کی صورت میں باقی ارکان اس کی جگہ آمد و صرف کو پر کرنے کے مجاز ہوں گے۔
- ب...... کوئٹہ میں مجلس کے خرید پلاٹ میں تعمیر دفتر کا کام شروع ہے۔ اس لئے -/۱۲۰۰۰ کی رقم منظور کی جاتی ہے جو مقامی جماعت نے
مرکز کی رسید بک پر جمع کی ہے۔ جس کا اندراج مرکز میں ہوا اور مرکز کی منظوری سے وہاں خرچ کی اجازت دی گئی۔
- ج...... مبلغین و مبلغین کی سالانہ ترقیوں کے لئے فیصلہ ہوا کہ آنے والے سال ۱۴۰۵ھ کی ترقیاں مولانا عزیز الرحمن صاحب، محمد
شریف جالندھری، اعلیٰ حضرت امیر مرکزیہ کے مشورہ سے امسال ذی الحجہ میں طے کرلیں تاکہ محرم سے نئے سال کے حساب میں ترقیاں دی جاسکیں۔
غیر مطبوعہ رجسٹر محضر مجلس شوریٰ
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء
ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
(۵۵ واں) اجلاس شوریٰ
اجلاس مرکزی مجلس شوریٰ تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام دفتر مرکزیہ ملتان۔
مؤرخہ ۴؍ مارچ ۱۹۸۵ء، مطابق ۱۱؍ جمادی الثانی ۱۴۰۵ھ، بروز سوموار منعقد ہوا۔
شرکاء: (۱) حضرت مولانا خواجہ خان محمد مدظلہ، (۲) حضرت مولانا عبدالرحمٰن اشرفی جامعہ اشرفیہ لاہور، (۳) حضرت مولانا سید محمد بنوری کراچی، (۴) حضرت مولانا محمد نور الحق نور پشاور، (۵) حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی کراچی، (۶) حضرت مولانا محمد عبداللہ اسلام آباد، (۷) حضرت الحاج سیف الرحمٰن بہاول پور، (۸) حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر ملتان، (۹) سردار فضل محمود بہاول پور، (۱۰) جناب عبدالرحمٰن یعقوب باوا کراچی، (۱۱) جناب محمد ریاض الحسن گنگوہی ڈیرہ اسماعیل خان، (۱۲) جناب قاضی فیض احمد ٹوبہ ٹیک سنگھ، (۱۳) الحاج بلند اختر نظامی لاہور، (۱۴) حضرت مولانا محمد اشرف ہمدانی فیصل آباد، (۱۵) حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری ملتان، (۱۶) حضرت مولانا احمد میاں حمادی، (۱۷) حضرت مولانا عبدالحئی الحسینی گھوٹکی، (۱۸) حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر کراچی، (۱۹) جناب شیخ فرزند علی سکھر، (۲۰) حضرت مولانا علاؤ الدین ڈیرہ اسماعیل خان، (۲۱) جناب حکیم عبدالرحمٰن آزاد گوجرانوالہ، (۲۲) قاری محمد امین راولپنڈی، (۲۳) حضرت مولانا محمد رمضان علوی راولپنڈی، (۲۴) حضرت مفتی احمد الرحمٰن کراچی۔
مجلس شوریٰ کے اجلاس کی کارروائی پونے دس بجے صبح مولانا قاری محمد امین راولپنڈی کی تلاوت کلام سے ہوئی۔
اجلاس کی صدارت امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ نے فرمائی۔
مجلس شوریٰ کا یہ ہنگامی اجلاس مجلس کے روحِ رواں، قافلہ تحفظ ختم نبوت کے سالار، کاروان بخاری کے انتھک رضا کار حضرت مولانا محمد شریف صاحب جالندھری کی اچانک وفات و حسرت آیات پر منعقد ہوا۔ (موصوف کا انتقال ۲۳؍ جمادی الاوّل ۱۴۰۵ھ، بمطابق ۱۴؍ فروری ۱۹۸۵ء بروز جمعرات آٹھ بجے شب) مجلس شوریٰ نے مرحوم کی وفات کو مجلس تحفظ ختم نبوت کے لئے نا قابل تلافی نقصان قرار دیا۔ اور تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر موصوف کی گراں قدر خدمات کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا کہ موصوف کی پوری زندگی مسئلہ ختم نبوت کے تحفظ، مجلس کی تنظیم و ترقی میں گزری۔
موصوف کی وفات سے جماعت ایک عظیم مدبر و مفکر، متواضع و متحمل مزاج اور مردم شناس شخصیت سے محروم ہوگئی۔ مولائے کریم انہیں کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائیں ہم سب دست بدعاء ہیں کہ خداوند قدوس، مرحوم کی وفات سے جو عظیم ذمہ داریاں ہمارے ناتواں کندھوں پر آپڑی ہیں ان سے عہدہ برآ ہونے کی توفیق عطا فرمائیں۔
مجلس شوریٰ کے معزز رکن الحاج خواجہ محمد حبیب صاحب ملتان، مولانا نور محمد صاحب اسلام آباد، مولانا محمد فہیم صاحب لاہور، مولانا مفتی محمد عبداللہ صاحب ڈیروی ملتان، حافظ حسام الدین صاحب ماموں کانجن اور سلسلہ عالیہ رائے پور کے تاجدار حضرت اقدس مولانا عبدالعزیز صاحب (چک نمبر ۱۱) جیسے علماء کرام، صلحاء، اور عظیم شخصیات کی اچانک اور ناگہانی رحلت و وفات پر رنج و غم کا اظہار کیا گیا اور مرحومین کے لئے ترقی درجات اور قبولیت حسنات کی دعا کی گئی۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
ایجنڈا کے مطابق باضابطہ کارروائی کے آغاز پر ناظم اعلیٰ کے تقرر کے سلسلہ میں امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے معزز اراکین سے رائے طلب فرمائی۔ عہدہ کی ذمہ داریوں کی نزاکت کے پیش نظر سب سے اہم مسئلہ ناظم اعلیٰ کے چناؤ کا تھا۔ بظاہر کسی جامع شخصیت کا جو ہر طرح نظامت عظمیٰ کی ذمہ داریوں کو نبھا سکے کا نام پیش کرنا مشکل تھا۔
- ......۱ حضرت مفتی احمد الرحمن صاحب نے مجلس میں کام کرنے والے حضرات میں سے حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی کا نام پیش
کیا۔ جس کی ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر صاحب، جناب عبدالرحمن صاحب یعقوب باوا، مولانا محمد عبداللہ اسلام آباد نے تائید کی۔
- ......۲ مولانا محمد اشرف صاحب ہمدانی نے حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر کا نام پیش کیا۔ جس کی سردار فضل محمود خان اور دیگر چند اراکین
نے تائید کی۔
- ......۳ حکیم عبدالرحمن صاحب آزاد، حاجی سیف الرحمن صاحب بہاولپور نے مولانا عزیز الرحمن جالندھری کا نام پیش کیا۔ مولانا محمد رمضان
صاحب علوی، مولانا قاری محمد امین صاحب راولپنڈی، مولانا علاءالدین صاحب، حاجی فرزند علی صاحب سکھر نے تائید کی۔
اس پر تمام حضرات نے اتفاق رائے کا اظہار کیا۔ کہ مولانا محمد یوسف صاحب لدھیانوی ، مولانا عبدالرحیم اشعر موزوں ترین ہیں، لیکن مولانا لدھیانوی کی کراچی میں تبلیغی اور تحریری ذمہ داریوں کے پیش نظر ان پر مزید ذمہ داریاں نہ ڈالی جائیں ۔ مولانا عبدالرحیم اشعر کی تیس سالہ خدمات کے باوجود ان کے بڑھاپے اور علالت کے پیش نظر ان کی صحت اور آرام کا خیال کرتے ہوئے ان پر بھی یہ ذمہ داری نہ ڈالی جائے۔ معزز اراکین کی آراء کو سننے کے بعد تا انتخاب جدید مولانا عزیز الرحمن جالندھری کو ناظم اعلیٰ نامزد کر دیا گیا۔
ایجنڈا کی شق (۲) مرکزی حسابات کی پڑتال ہے۔ ناظم اعلیٰ مولانا محمد شریف جالندھری کی رحلت کی وجہ سے مجلس کے حسابات کی مکمل پڑتال انتہائی اہم اور ضروری امر ہے جس کے لئے ایک سہ رکنی کمیٹی ترتیب دی گئی جس کے ممبر حاجی بلند اختر نظامی صاحب لاہور، حاجی فرزند علی صاحب سکھر، حاجی فیض احمد صاحب ٹوبہ ٹیک سنگھ ہوں گے، اور یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ پندرہویں صدی ہجری کے پہلے چار سال ۱۴۰۱ھ، ۱۴۰۲ھ، ۱۴۰۳ھ، ۱۴۰۴ھ، کے حسابات کسی اچھی اور بہتر آڈٹ کنندہ فرم سے پڑتال کرائے جائیں۔ اور آڈٹ ہونے سے تمام تر حسابات کی تفصیلی پڑتال خود بخود ہو جائے گی۔ فوری طور پر مذکورہ بالا کمیٹی اجلاس ہٰذا کے اختتام کے بعد مناسب طور پر حسابات ملاحظہ کر کے اطمینان کرلے اور آئندہ اجلاس میں رپورٹ پیش کرے مجلس شوریٰ نے جو کمیٹی حسابات کی پڑتال کے لئے مقرر کی، حضرت امیر مرکزیہ نے اسے حکم فرمایا کہ وہ اس اجلاس کے اختتام پر تمام مبلغین وملازمین کی تنخواہوں کا جائزہ لے کر ۱۴۰۶ھ کے لئے تنخواہوں اور ترقیوں کا تقرر کر دے۔ تاکہ تنخواہوں میں کمی و بیشی کا صحیح جائزہ لیا جاسکے۔ اجلاس میں آئندہ سال کے لئے ترقیاں تجویز کر دی جائیں۔ کمیٹی جو ترقیاں تجویز کرے وہ حتمی اور طے شدہ ہوں جسے محرم ۱۴۰۶ھ سے ادا کیا جائے۔
۲۲ / مارچ ۱۹۸۵ء کو اسلام آباد میں ختم نبوت کانفرنس کے انعقاد کا مسئلہ زیر غور آیا جبکہ انہیں دنوں قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس بھی منعقد ہو رہا ہوگا، اس موقع پر انتظامیہ راستوں کی ناکہ بندی کر کے شرکاء کو پریشان کرتی ہے۔ اس لئے بعض اراکین نے یہ تجویز پیش کی کہ کانفرنس ایک ہفتہ کے لئے مؤخر کر دی جائے جب کہ اشتہارات ۲۲ / مارچ ۱۹۸۵ء کے مرتب ہو چکے تھے۔ اور حضرت الامیر دامت برکاتہم اسی سلسلہ میں راولپنڈی، اسلام آباد، مری، کہوٹہ کا تفصیلی دورہ فرما چکے ہیں۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
لہٰذا یہی طے پایا کہ مجوزہ کانفرنس اپنے وقت پر منعقد ہو اور اس سے قبل مؤرخہ ۱۱؍ مارچ ۱۹۸۵ء کو مرکزی مجلس عمل کا اجلاس لاہور میں بلا کر تمام مکاتب فکر کے نمائندگان کو پابند کیا جائے، کہ وہ اپنی تمام تر مصروفیات کو نظر انداز کر کے کانفرنس میں شریک ہوں۔
گوجرانوالہ میں جو پلاٹ حاجی محمد یوسف صاحب کھیالی نے وقف کیا تھا، جس کی تعمیر حاجی نذیر احمد صاحب کی نگرانی عرصہ دو سال سے ہو رہی تھی، حضرت الامیر دامت برکاتہم نے اس کی تکمیل کی خوشخبری سنائی، اور فرمایا کہ بائیس دوکانیں، خوبصورت اور بہترین مسجد اور شعبہ تعلیم کی پوری عمارت پایہ تکمیل کو پہنچ چکی ہے، ان شاء اللہ العزیز! رمضان المبارک کے بعد اس کا باقاعدہ افتتاح ہوگا۔ اس سے قبل مجلس شوریٰ سات رکنی کمیٹی اس ادارہ کے قیام اور انتظام کے لیے تجویز کر چکی ہے، جس کے نگران حافظ نذیر احمد صاحب خود ہوں گے۔
حضرت الامیر مدظلہ نے فرمایا کہ شوریٰ کے فیصلے کی نقل حافظ صاحب کو ارسال کر دی جائے۔
جامع مسجد باب الرحمت کراچی، کی جگہ اگرچہ مسجد کے لئے مخصوص ہے لیکن کاغذات میں یہ جگہ ہجرہ کمیٹی کے نام ہے، جس کے سربراہ جناب اے۔ کے بروہی ہیں۔
اس جگہ کے حصول کے لئے جو طریقہ کار بھی اختیار کیا جائے اس سے متعلقہ شخصیت کراچی یا اسلام آباد میں رہتی ہے۔ اس لئے حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰن صاحب کی تجویز پر طے ہوا کہ اس کام کی نگرانی اور ذمہ داری مولانا محمد عبداللہ صاحب اسلام آباد کے سپرد کی جائے، جس کے لئے مولانا موصوف تمام ممکنہ ذرائع بروئے کار لائیں گے، جناب باوا صاحب ان سے مسلسل رابطہ قائم رکھیں گے، نیز مولانا موصوف جس کی ضرورت محسوس کریں گے وہ ان سے تعاون کریگا، تاکہ یہ مسئلہ حل ہو سکے اور یہ بھی طے ہوا کہ بوقت ضرورت مولانا ظفر احمد انصاری سے تعاون لیا جائے اور اس کے لئے مولانا اشعر صاحب بہترین ذریعہ ہیں، جنوبی افریقہ کے سفر کی رفاقت کی وجہ سے بہترین مراسم ہیں، مولانا عبدالرحمٰن خان صاحب جامعہ اشرفیہ لاہور نے فرمایا کہ اگر بروہی صاحب سے کچھ کہنا ہو تو میری خدمات حاضر ہیں، عند الضرورت جہاں جس جگہ پہنچنے کا حکم فرمایا جائے گا حاضر ہو جاؤں گا، بہرصورت مسجد باب الرحمت کراچی والے پلاٹ کی جماعت کو اشد ضرورت ہے یہ جگہ بہت موزوں ہے، باوا صاحب، مولانا عبداللہ صاحب سے مسلسل رابطہ رکھیں اور مولانا عبداللہ صاحب متعلقہ اشخاص سے بات چیت کریں اور آئندہ اجلاس میں رپورٹ پیش کریں۔
دفتر ختم نبوت سکھر کی عمارت مکمل ہو چکی ہے، پہلی منزل میں دو دکانیں اور دوسری منزل میں دفتر قائم کیا گیا ہے، بعض علاقوں مثلاً سکھر، حیدرآباد میں مجلس کے دفاتر اپنے ملکیتی قائم کئے گئے ہیں، اندرون صوبہ سندھ میں یہ مجلس کا تیسرا ملکیتی دفتر ہے، جس پر مجموعی طور پر سے ایک لاکھ چھیالیس ہزار چھ سو روپے (۱۴۶۶۰۰) بطور امداد بھیجے گئے۔
حاجی فرزند علی نے یہ تجویز پیش کی کہ ملتان شہر دفتر مرکزیہ سمیت پاکستان میں جہاں کہیں جماعت کی غیر منقولہ جائیداد ہے اور اس کے کاغذات ملکیتی مجلس مرکزیہ ملتان کے نام ہیں۔ اسی طرح مجلس کی مملوکہ دوکانات یا مکانات کا کوئی حصہ اگر کرایہ پر دیا جائے تو کرایہ نامہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ملتان کے نام تجویز کرایا جائے اور کرایہ براہ راست دفتر مرکزیہ ملتان کے نام بھیجنے کی شرط لازمی رکھی جائے تاکہ نزاع کی صورت میں مقدمات بے دخلی وغیرہ ملتان کی عدالت میں دائر کئے جاسکیں۔ اس تجویز کو تحسین کے ساتھ قبول کیا گیا۔ حاجی
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
صاحب موصوف نے بتلایا کہ سکھر کی دوکانیں میں نے کرایہ پر حاصل کی ہیں۔ اس کا کرایہ نامہ مجلس مرکز یہ ملتان کے نام تحریر کراؤں گا۔ مولانا محمد اشرف صاحب ہمدانی نے ربوہ میں تعمیرات کی مکمل رپورٹ پیش کی۔ جو ان کی زیر نگرانی ہوئیں۔ جس میں مسجد کا اندرونی حصہ پلستر کیا گیا۔ بجلی کی مکمل فٹنگ کرائی گئی۔ پنکھے، بلب، ٹیوبیں لگائی گئیں۔ برآمدہ مسجد و گیلری تعمیر کرائے گئے۔ محراب تعمیر کرایا گیا۔ مسجد کے اندرونی فرش پر چپس لگوائی گئی۔ نیز دو دو فٹ دیواروں پر چپس کی پٹی لگوائی گئی۔ مینار تعمیر کرایا گیا اور ایک عدد مہمان خانہ بھی تعمیر کرایا گیا۔ مذکورہ بالا تعمیرات پر مبلغ ۳۹۰۸۵/۸۰ روپے خرچہ آیا۔ مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے درخواست کی کہ مذکورہ بالا اخراجات کے تمام بلوں پر ہمدانی صاحب کے بطور نگران تعمیرات تصدیقی دستخط ضروری ہیں۔ کیونکہ اتنی بڑی رقم بغیر دستخطوں کے درج کرنا مناسب نہیں۔ اس رائے سے مکمل اتفاق کیا گیا۔ آئندہ تعمیرات مدرسہ چناب نگر کے لئے مجلس شوریٰ نے ایک تعمیراتی کمیٹی مقرر کی جس کے ارکان مولانا محمد اشرف ہمدانی کے علاوہ مولانا عزیز الرحمن جالندھری اور حاجی بلند اختر نظامی ہوں گے۔ فقیر طارق حسن محمد غفرلہ
(۵۶ واں) اجلاس جنرل کونسل مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
۱۸ / شوال ۱۴۰۵ھ، مطابق ۷ / جولائی ۱۹۸۵ء، بمقام دفتر مرکز یہ ملتان منعقد ہوا۔
شرکاء: (۱) حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب، (۲) حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی، (۳) حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر، (۴) مولانا احمد میاں حمادی، (۵) مولانا نذیر احمد بلوچ حیدرآباد، (۶) مستری برکت علی کنری سندھ، (۷) مولانا دوست محمد نواب شاہ، (۸) غلام قادر لاہور، (۹) منظور احمد مغل لاہور، (۱۰) منیر احمد ٹالہی سندھ، (۱۱) مولانا عزیز الرحمن جالندھری فیروزہ، (۱۲) فیاض حسن سجاد کوئٹہ، (۱۳) عبدالعزیز جتوئی، (۱۴) حاجی وزیر احمد ٹنڈو آدم، (۱۵) محمد علی ژوب، (۱۶) حفظ الرحمن ٹنڈو آدم، (۱۷) احمد بخش رحیم یار خان، (۱۸) خدا بخش شجاع آبادی ربوہ، (۱۹) قاری محمد اللہ یار چیچہ وطنی، (۲۰) مولانا اللہ وسایا ملتان، (۲۱) مولانا محمد اسماعیل بہاول پور، (۲۲) مولانا کریم بخش علی پوری لاہور، (۲۳) شبیر احمد جامعہ مسجد محمدیہ ربوہ، (۲۴) قاری محمد یوسف گوجرانوالہ، (۲۵) ممتاز الحسن فیصل آباد، (۲۶) مولانا ضیاء الدین آزاد ماموں کانجن، (۲۷) دین محمد فریدی بھکر، (۲۸) نذیر احمد لاہور، (۲۹) حافظ نذیر احمد گوجرانوالہ، (۳۰) محمد حیات جابہ، (۳۱) مولانا احمد حسین شاکری گوجرہ، (۳۲) چوہدری غلام نبی گوجرانوالہ، (۳۳) عبدالوہاب حافظ آباد، (۳۴) بلند اختر نظامی لاہور، (۳۵) محمد فیاض اختر روہیلانوالی، (۳۶) اصغر علی ملتان، (۳۷) شیخ منظور احمد چنیوٹ، (۳۸) عبدالواحد چیچہ وطنی، (۳۹) حافظ غلام غوث ڈگری، (۴۰) بشیر احمد علی پور، (۴۱) محمد احمد بہاول پور، (۴۲) محمد اسماعیل عاصم ملتان، (۴۳) شیخ عابد حسین اٹک، (۴۴) فخر الاسلام فیصل اٹک، (۴۵) عبدالسمیع گجرات، (۴۶) محمد خلیل گجرات، (۴۷) عبدالرزاق گجرات، (۴۸) امتیاز احمد لاہور، (۴۹) محمد ثاقب لاہور، (۵۰) احمد حسین گوجرانوالہ، (۵۱) دوست محمد گوجرانوالہ، (۵۲) مولانا عبدالرحمن خیر پور سادات، (۵۳) ظفر اقبال ضلع جھنگ، (۵۴) محمد مشتاق صادق آباد، (۵۵) محمد الیاس رحیم یار خان، (۵۶) دین محمد رحیم یار خان، (۵۷) محمد اسلم صادق آباد، (۵۸) رحمت اللہ صادق آباد، (۵۹) مولانا مفتی عطاء الرحمن بہاول پور، (۶۰) سید سراج الحق نوشہرہ صدر، (۶۱) مولانا فیض احمد بہاول نگر، (۶۲) محمد شریف بہاول نگر، (۶۳) شیخ محمد اعجاز سرگودھا، (۶۴) قاری نذیر احمد مکی مسجد انارکلی لاہور،
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
(۶۵) عبدالغفار ملتان، (۶۶) احمد عبدالرحمٰن صدیقی ایم۔اے نوشہرہ صدر ضلع پشاور، (۶۷) حبیب الرحمٰن گجرات، (۶۸) محمد اقبال ظفر میلسی، (۶۹) محمد موسیٰ، (۷۰) نور محمد مجاہد لودھراں، (۷۱) خواجہ عبدالحمید بٹ لودھراں، (۷۲) منظور احمد شاہ آسی مانسہرہ، (۷۳) قاری محمد علی جان وانہ، (۷۴) مولوی غلام رسول ڈیرہ اسماعیل خان، (۷۵) صوفی اللہ وسایا ڈیرہ غازی خان، (۷۶) حاجی میزبان، (۷۷) محمد ریاض الحق گنگوہی ڈیرہ اسماعیل خان، (۷۸) مولوی اللہ بخش ڈیرہ اسماعیل خان، (۷۹) محمد شعیب گنگوہی، (۸۰) مولوی جانباز تحصیل ٹانک، (۸۱) محمد شفیع کونسلر ربوہ، (۸۲) محمد علی ربوہ، (۸۳) مولوی غلام محمد ٹانک، (۸۴) رفیق احمد اعظم گوجرہ، (۸۵) محمد زاہد، (۸۶) حافظ محمد ثاقب گوجرانوالہ، (۸۷) غلام محمد ڈیرہ غازی خان، (۸۸) محمد حسین، (۸۹) اللہ وسایا ڈیرہ غازی خان، (۹۰) محمد اختر ڈیرہ غازی خان، (۹۱) خوشی محمد ڈیرہ غازی خان، (۹۲) مولانا عبداللہ لیہ، (۹۳) نبی بخش ڈیرہ غازی خان، (۹۴) محمد حسین ڈیرہ غازی خان، (۹۵) غلام مصطفیٰ ڈیرہ غازی خان، (۹۶) غلام قادر ڈیرہ غازی خان، (۹۷) اللہ بخش ڈیرہ غازی خان، (۹۸) حافظ عبدالستار خان بنوں، (۹۹) رحیم بخش ڈیرہ غازی خان، (۱۰۰) حاجی محمد حسین ڈیرہ غازی خان، (۱۰۱) نور محمد ڈیرہ غازی خان، (۱۰۲) مولانا عبداللہ اسلام آباد، (۱۰۳) اللہ وسایا ڈیرہ غازی خان، (۱۰۴) مولانا محمد اکرم طوفانی سرگودھا، (۱۰۵) حافظ رفیع الدین بھکر، (۱۰۶) جمعہ خان بھکر، (۱۰۷) عبدالرحمٰن، (۱۰۸) عبدالرحمٰن یعقوب باوا کراچی، (۱۰۹) مولانا عبدالمجید لدھیانوی کہروڑ پکا، (۱۱۰) ظفر اقبال کہروڑ پکا، (۱۱۱) عبدالہادی شیخوپورہ، (۱۱۲) فیض محمود کہروڑ پکا، (۱۱۳) محمد احمد شیخوپورہ، (۱۱۴) محمد یعقوب شیخوپورہ، (۱۱۵) محمد امجد مدنی نواب شاہ، (۱۱۶) اشفاق علی، (۱۱۷) سید صادق حسین جھنگ صدر، (۱۱۸) محمد اسلم گوجرہ (۱۱۹) حسین علی واربرٹن، (۱۲۰) محمد عبداللہ، (۱۲۱) محمد علی سرگودھا، (۱۲۲) محمد انوار الحق کوئٹہ، (۱۲۳) محمد رفیق خانیوال، (۱۲۴) احمد حسن خانیوال، (۱۲۵) محمد اکرم محمد پور دیوان، (۱۲۶) محمد عبدالستار بہاول پور، (۱۲۷) عبدالغنی، (۱۲۸) قاری عتیق الرحمٰن ناصر لاہور، (۱۲۹) لئیق راؤ سرگودھا، (۱۳۰) سیف الرحمٰن بہاول پور، (۱۳۱) مقبول حسن جھنگ، (۱۳۲) محمد اقبال جھنگ، (۱۳۳) غلام محمد، (۱۳۴) عبدالغفور خیر پور سادات علی پور، (۱۳۵) شبیر احمد علی پور، (۱۳۶) مولانا عزیز احمد خانقاہ سراجیہ، (۱۳۷) بشیر احمد، (۱۳۸) صاحبزادہ محمد عابد خانیوال، (۱۳۹) محمد یوسف کھیالی، (۱۴۰) محمد عارف ہارون آباد ضلع بہاول نگر، (۱۴۱) رشید احمد پسرور، (۱۴۲) محمد امیر معاویہ بہاول نگر، (۱۴۳) عبدالحکیم کمالیہ، (۱۴۴) حبیب الرحمٰن، (۱۴۵) خالد حسین لاہور، (۱۴۶) محمد یوسف، (۱۴۷) محمد ریاض چغتائی بہاول پور، (۱۴۸) محمد عبدالمجید چوک منڈا، (۱۴۹) عبدالرحیم شکرگڑھ، (۱۵۰) محمد ایوب، (۱۵۱) حسین احمد جلال پور پیروالہ، (۱۵۲) ولی محمد لودھراں، (۱۵۳) حافظ عبدالشکور جلال پور، (۱۵۴) محمد اشرف فقیروالی، (۱۵۵) محمد سعید انور شاہ کوٹ، (۱۵۶) محمد قاسم قاسمی فقیروالی، (۱۵۷) انوار الحق مرکزی جامع مسجد کوئٹہ، (۱۵۸) محمد شریف ملتان، (۱۵۹) سید منظور احمد شاہ، (۱۶۰) احمد بخش شجاع آبادی، (۱۶۱) محمد ابراہیم فیصل آباد، (۱۶۲) ظہور احمد جھنگ، (۱۶۳) سید غلام مصطفیٰ جھنگ، (۱۶۴) غلام حسین جھنگ، (۱۶۵) امجد اقبال جھنگ، (۱۶۶) کوثر شاہ احمد پور سیال، (۱۶۷) جانباز ٹانک، (۱۶۸) احمد یار چاریاری لالیاں، (۱۶۹) حاجی عزیز الرحمٰن جھنگ صدر، (۱۷۰) محمد شاہ نواز سرگانی کوٹ سلطان، (۱۷۱) مولانا محمد منیر الدین کوئٹہ، (۱۷۲) خدا بخش ملتان، (۱۷۳) ہدایت اللہ ملتان، (۱۷۴) مولانا محمد باقر بہاول پور، (۱۷۵) مولانا عبدالجواد صدیقی، (۱۷۶) مولانا محمد معاذ الصادق بہاول پور، (۱۷۷) عبدالحق جتوئی، (۱۷۸) قاری محمد حنیف جالندھری
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
مہتمم جامعہ خیر المدارس ملتان ، (۱۷۹) محمد عبداللہ مرکزی مسجد اسلام آباد ، (۱۸۰) محمد سیف اللہ خالد نقشبندی جامع مسجد مکی اسلام آباد ، (۱۸۱) قاری عبدالسلام بہاول نگر ، (۱۸۲) مولوی فقیر محمد فیصل آباد ، (۱۸۳) طارق محمود فیصل آباد ، (۱۸۴) محمد زکریا کلورکوٹ ، (۱۸۵) محمد عبداللہ خالد مانسہرہ ، (۱۸۶) حضرت مفتی احمد الرحمٰن کراچی ، (۱۸۷) محمد بنوری کراچی ، (۱۸۸) محمد مظفر اقبال مانسہرہ ، (۱۸۹) سید اسرار الحق شاہ مانسہرہ ، (۱۹۰) قاضی فیض احمد ٹوبہ ٹیک سنگھ ، (۱۹۱) نذیر احمد مانسہرہ ، (۱۹۲) محمد سعید اللہ مانسہرہ ، (۱۹۳) ابوالیاس اسلام آباد ، (۱۹۴) نثار احمد گلگت ، (۱۹۵) محمد یوسف ربوہ ، (۱۹۶) تاج محمد مدرس قاسم العلوم فقیروالی ، (۱۹۷) عبدالکریم نیاز فاضل پور ضلع راجن پور ، (۱۹۸) ڈاکٹر محمد عبدالستار بہاول پور ، (۱۹۹) شبیر احمد ، (۲۰۰) عبدالسلام حاصل پور ، (۲۰۱) محمود حسن مشتاق بہاول پور ، (۲۰۲) حافظ عبدالرشید کچا کھوہ ، (۲۰۳) ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر کراچی ، (۲۰۴) رشید احمد بہاول نگر ، (۲۰۵) محمد رمضان جھنگ ، (۲۰۶) محمد مسعود قاسم العلوم ملتان ، (۲۰۷) ملک محمد یوسف حاصل پور۔
اجلاس مجلس عمومی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ساڑھے نو بجے صبح بمقام دفتر مرکزیہ مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان شروع ہوا۔ ملک بھر سے اراکین مجلس عمومی کثیر تعداد میں تشریف لائے۔ جنہوں نے رجسٹر پر اپنے اپنے دستخط ثبت فرمائے۔ عقیدۂ ختم نبوت سے گہری وابستگی رکھنے والے حضرات جو ابتداء ہی سے بانیان مجلس سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری، مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری اور حضرت قاضی احسان احمد شجاع آبادی سے وابستہ تھے۔ انہوں نے تبرکاً دستخط کرنے کی خواہش کی۔ جس کا بااجازت امیر مرکزیہ مدظلہ احترام کیا گیا اور ان حضرات نے دستخط فرمائے۔ اراکین مجلس عمومی کو جو دعوت نامہ ارسال کیا گیا اس کی عبارت درج ذیل ہے۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مکرم و محترم جناب .................................................. دام مجدہ السلام علیکم ورحمة الله مزاج گرامی!
امیر مرکزیہ حضرت اقدس مولانا خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے مؤرخہ ۱۸؍ شوال ۱۴۰۵ھ مطابق ۷؍ جولائی ۱۹۸۵ء بروز اتوار نو بجے صبح دفتر مرکزیہ ملتان میں مجلس عمومی ، مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کا خصوصی اجلاس طلب فرمایا ہے۔ جس میں امیر مرکزیہ اور نائب امیر کا سہ سالہ انتخاب عمل میں لایا جائے گا۔ نیز وطن عزیز پاکستان میں قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی جارحانہ اور اسلام دشمن سرگرمیوں پر مشاورتی اور عملی تجاویز پر غور و فکر ہوگا۔ بحیثیت رکن مجلس عمومی آپ کی شرکت انتہائی ضروری ہے۔ والسلام ! براہ کرم دعوت نامہ ہمراہ لائیں۔ عزیز الرحمٰن جالندھری، دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
- ۱...... صدارت: حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب زیدمجدہ امیر مرکزیہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
- ۲...... تلاوت: محترم قاری شبیر احمد صاحب علی پوری۔
- ۳...... تعزیت: اس کے بعد مرکزی ناظم تبلیغ حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر نے اکابرین میں علماء ،صلحاء ،مجاہدین حضرات جو سالہائے
گزشتہ میں وفات پاچکے ، کے لئے حاضرین مجلس سے درخواست کی کہ مرحومین کے لئے دعائے مغفرت اور ترقی درجات اور اعلیٰ علیین میں بلند مقامات کے لئے بارگاہ ایزدی میں دعا کی جائے۔ تمام حضرات نے مرحومین کے لئے بلندی درجات کی دعا فرمائی۔
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
مرحومین کے اسماء گرامی درج ذیل ہیں:
- ......۱ حضرت اقدس مولانا عبدالعزیز صاحب رائے پوری
- ......۲ حضرت مولانا تاج محمود صاحب فیصل آباد
- ......۳ حضرت مولانا محمد شریف جالندھری ملتان
- ......۴ حضرت قاری رحیم بخش ملتان
- ......۵ حضرت مولانا مفتی محمد عبداللہ ملتان
- ......۶ حضرت مولانا محمد عبداللہ رائے پوری ساہیوال
- ......۷ حضرت مولانا عبیداللہ انور لاہور
- ......۸ حضرت مولانا عبدالرحمن میانوی وفات کراچی
- ......۹ حضرت مولانا خواجہ قمر الدین سیالوی سرگودھا
- ......۱۰ حضرت مولانا محمد علی صاحب جانباز سمندری
- ......۱۱ حضرت مولانا غلام حیدر میاں چنوں
- ......۱۲ حضرت مولانا نور محمد اسلام آباد
- ......۱۳ حضرت حافظ حسام الدین ماموں کانجن
- ......۱۴ حضرت مولانا محمد گوندلوی گوجرانوالہ
- ......۱۵ حضرت مولانا قاضی شمس الدین گوجرانوالہ
- ......۱۶ حضرت مولانا عبدالمجید شاکر کہروڑ پکا
- ......۱۷ حضرت مولانا سید نورالحسن شاہ بخاری ملتان
- ......۱۸ شہید میر پور خاص
- ......۱۹ شہداء ساہیوال
- ......۲۰ شہداء سکھر
افتتاحی خطاب: مجلس کے مرکزی ناظم نشر و اشاعت حضرت مولانا محمد یوسف صاحب لدھیانوی نے افتتاحی خطاب فرمایا۔ جس میں مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت، تاریخ تحریک ختم نبوت، تحریک ختم نبوت کے قائدین اور کارکنان کے کارنامے بیان فرمائے۔ حضرت امام العصر سید محمد انور شاہ کشمیری، امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری، قاضی احسان احمد شجاع آبادی، مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھری، حضرت مولانا محمد حیات، حضرت مولانا لال حسین اختر، شیخ الاسلام سید محمد یوسف بنوری کی مساعی جمیلہ اور خدمات جلیلہ کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا اور فرمایا کہ یہ تمام تر رونق جو یہاں مشاہدہ ہے یہ انہی حضرات کے برکات و فیوض کا ثمرہ ہے۔ آج بھی الحمدللہ! حضرت الامیر مدظلہ تمام تر عوارض اور بڑھاپے کے باوجود اس عظیم مشن کو لے کر چل رہے ہیں۔ خداوند کریم آپ کا سایہ تادیر سلامت رکھے۔ آمین! حضرت لدھیانوی نے قادیانیوں کے سالانہ میزانیہ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ قادیانیوں نے ارتداد کو پھیلانے کے لئے امسال پچیس کروڑ روپے کا بجٹ منظور کیا ہے۔ جب کہ اس کے مقابلہ میں ہمارا بجٹ چند لاکھ ہے۔ یہ سب سرکار دو عالم ﷺ کی روحانی توجہات اور تصرف کا نتیجہ ہے۔ آپ نے ختم نبوت کے لئے کام کرنے والوں کو سرکار دو عالم ﷺ کا حفاظتی دستہ قرار دیا اور محنت ولگن سے کام کرنے کی تلقین فرمائی۔
دوسرے نمبر پر مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا حافظ عزیز الرحمن جالندھری مائک پر تشریف لائے۔ آپ نے مجلس عمومی کے گزشتہ اجلاس کی کارروائی پڑھ کر سنائی اور گزشتہ چار سالوں میں جماعت جن حالات سے دوچار ہوئی ان کا تفصیلی تذکرہ کیا۔ قادیانیوں کی جارحیت کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ دن دور نہیں کہ قادیانیت کا فتنہ اپنے انجام سے دوچار ہو جائے گا۔ اپنے خطاب کے اختتام پر انتخابی عمل کا آغاز کیا گیا۔ مولانا عزیز الرحمن نے نہایت ہی مؤدبانہ انداز میں حضرت الامیر مدظلہ کی خدمت میں التجاء کی کہ ہماری انتہائی خواہش ہے کہ آئندہ کے لئے بھی آپ مسند امارت کو زیب بخشیں۔ اتنے الفاظ سنتے ہی ہال تائیدی کلمات سے گونج
تحریک ختم نبوت (۴) ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
اٹھا۔ ساتھ ہی نائب امارت کے لئے حضرت مفتی احمد الرحمن صاحب مدظلہ کی خدمت میں گزارش کی آپ بھی آئندہ کے لئے ہماری سرپرستی قبول فرمائیں۔ تمام حاضرین نے تائید کی۔ حضرت مفتی صاحب معذرت کے لئے کھڑے ہوئے تو تمام نمائندگان نے آپ کی معذرت سننے سے انکار کیا۔ چنانچہ باتفاق حضرت خواجہ خان محمد صاحب کو آئندہ کے لئے امیر مرکزیہ اور حضرت مفتی احمد الرحمن کو نائب امیر مرکزیہ منتخب کر لیا گیا۔ چنانچہ انتخابی عمل کی تکمیل کے بعد مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ اور مجلس عمل کے رابطہ سیکرٹری مولانا اللہ وسایا نے اندرون ملک مجلس تحفظ ختم نبوت کی گزشتہ چار سالوں کی کارکردگی، مجلس کو حاصل ہونے والی کامیابیاں اور متعلقہ دیگر امور کے متعلق رپورٹ پڑھ کر سنائی۔ آپ کے بعد ہفت روزہ ختم نبوت کے ایڈیٹر جناب عبدالرحمن یعقوب باوا نے مجلس کی بیرون ملک سرگرمیاں اور کارکردگی، دورۂ افریقہ اور دیگر ممالک کے دوروں کی رپورٹ پیش کی اور بیرون ملک جماعت کی شاخوں کے قیام کا تفصیلی تذکرہ کیا۔
اختتام اجلاس پر حضرت الامیر مدظلہ نے دعا فرمائی اور آپ کی دعا پر سوا ایک بجے دوپہر یہ نشست ختم ہوئی۔ اختتام اجلاس پر مقامی مجالس کے امراء کی استدعاء پر حضرت الامیر مدظلہ نے چار بجے تا پانچ بجے بعد دوپہر تجاویز پیش کرنے کے لئے وقت دیا اور درمیانی وقت کھانے اور نماز ظہر کی ادائیگی کے لئے وقفہ کیا گیا۔ حسب پروگرام مجلس عمومی کے اجلاس کی دوسری نشست چار بجے شروع ہوئی۔ حضرت امیر مرکزیہ مدظلہ نے صدارت فرمائی اور تمام نمائندگان سے تجاویز پیش کرنے کے لئے کہا گیا اور حاضرین نے پوری آزادی سے تجاویز پیش کیں۔
تجاویز حسب ذیل ہیں:
- ۱...... قاری دوست محمد خلیل: صوبائی سطح پر مجلس کی تنظیمیں قائم کی جائیں۔ چونکہ دستور میں ذکر نہیں، لہٰذا ترمیم کی جائے۔
- ۲...... دستور میں مقامی تنظیم میں نائب امیر کا عہدہ نہیں۔ دستوری ترمیم کے ذریعہ نائب امیر کے عہدہ کا اضافہ کیا جائے۔
- ۳...... (گنگوہی صاحب) صوبائی تنظیموں کے ساتھ تحصیل و ضلع کی سطح پر بھی تنظیم قائم کی جائے۔
- ۴...... (گنگوہی صاحب) ناظم اعلیٰ کے ساتھ چار ناظم مقرر کئے جائیں جو ہر صوبہ کا ایک ناظم ہو اور وہاں کام کریں۔
- ۵...... مجاہدین ختم نبوت کی رضا کار تنظیمیں مرکزی، صوبائی، ضلعی اور تحصیل کی سطح پر قائم کی جائیں۔
- ۶...... (صوفی اللہ وسایا، حمادی صاحب) امیر مرکزیہ کی مدت تین سال کے بجائے تاحیات کی جائے۔
- ۷...... (فیاض احمد سجاد کوئٹہ) ممبر سازی کی مہم کو مؤثر اور مربوط بنایا جائے۔ مجلس کا موجودہ نظم قابل تعریف ہے۔ تاہم دور حاضر کے
تقاضوں کے مطابق ضروری تبدیلی کی جائے۔
- ۸...... (دین محمد بھکر) بھکر میں مجلس کے کام کے لئے مستقل مبلغ متعین کیا جائے اور مقامی مبلغ ہر تحصیل میں تین دن دورہ کرے۔
- ۹...... معاون اخبارات کا بھر پور شکریہ ادا کر کے ان کا مزید تعاون حاصل کیا جائے۔
- ۱۰...... (نذیر احمد حیدر آباد) ہر ضلع سے مرکزی شوریٰ کے لئے ایک ایک ممبر لیا جائے۔
- ۱۱...... (نذیر احمد حیدر آباد) سرحد اور بلوچستان میں منظم طور پر کام شروع کیا جائے۔
ان تمام تجاویز پر آئندہ مجلس شوریٰ غور کرے گی۔
فقیر خان محمد عفی عنہ
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
(۵۷ واں) اجلاس جدید مجلس شوریٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
۱۸/ شوال ۱۴۰۵ھ، مطابق ۷/ جولائی ۱۹۸۵ء، بمقام دفتر مرکزیہ ملتان منعقد ہوا۔
اجلاس زیر صدارت امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ۔
شرکاء: (۱) حضرت مولانا خواجہ خان محمد، (۲) حضرت مولانا محمد عبداللہ اسلام آباد، (۳) حضرت مولانا محمد بنوری، (۴) جناب بلند اختر نظامی لاہور، (۵) حضرت مولانا منیر الدین کوئٹہ، (۶) جناب عبدالرحمن یعقوب باوا، (۷) حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، (۸) صوفی محمد ریاض الحسن گنگوہی، (۹) حضرت مولانا عبدالرزاق اسکندر، (۱۰) حضرت مولانا مفتی احمد الرحمن کراچی، (۱۱) حضرت مولانا انوار الحق کوئٹہ، (۱۲) حضرت مولانا ابوزاہد اشرف ہمدانی، (۱۳) حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی، (۱۴) حضرت مولانا احمد میاں حمادی، (۱۵) حضرت صاحبزادہ طارق محمود فیصل آباد۔
اجلاس کا آغاز حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب اسلام آباد کی تلاوت قرآن مجید سے ہوا۔ سابق اراکین شوریٰ میں سے تین حضرات حضرت مولانا محمد رمضان، حضرت مولانا قاری محمد امین، حضرت مولانا علاؤ الدین کی بوجہ علالت عدم حاضری کی معذرت قبول کی گئی۔ نیز مولانا نور الحق نور صاحب آف پشاور جماعتی کام میں مصروفیت کی وجہ سے حاضر نہ ہو سکے۔ اس لئے ان کا عذر بھی قبول کیا گیا۔ اس اجلاس میں حضرت امیر مرکزیہ مدظلہ نے جن حضرات کو اراکین شوریٰ نامزد کیا ان کے اسماء گرامی درج ذیل ہیں:
- ۱...... حضرت مولانا خان محمد صاحب بحیثیت امیر مرکزیہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
- ۲...... حضرت مولانا مفتی احمد الرحمن صاحب بحیثیت نائب امیر مرکزیہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
- ۳...... حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب بحیثیت ناظم تبلیغ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
- ۴...... حضرت مولانا محمد یوسف صاحب ناظم شعبہ نشر واشاعت مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
- ۵...... حضرت مولانا عزیز الرحمن صاحب بحیثیت ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
- ۶...... حضرت مولانا محمد صاحب، جامعہ اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی
- ۷...... حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر صاحب
- ۸...... حضرت مولانا عبدالرحمن صاحب جامعہ اشرفیہ لاہور
- ۹...... حضرت مولانا منیر الدین صاحب کوئٹہ بلوچستان
- ۱۰...... حضرت مولانا انوار الحق صاحب خطیب مرکزی مسجد کوئٹہ بلوچستان
- ۱۱...... حضرت مولانا احمد میاں حمادی صاحب خطیب ٹنڈو آدم
- ۱۲...... جناب عبدالرحمن یعقوب باوا ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی
تحریک ختم نبوت (۴) ستمبر ۱۹۷۴ء تا دسمبر ۱۹۸۵ء ترتیب و تحقیق: مولانا محمد عبداللہ معتصم
- ۱۳...... جناب حاجی لال حسین صاحب امیر مجلس کراچی
- ۱۴...... مولانا محمد رمضان صاحب خطیب جامع مسجد گلشن آباد راولپنڈی
- ۱۵...... حضرت مولانا قاری محمد امین صاحب مدرسہ عثمانیہ راولپنڈی
- ۱۶...... حضرت مولانا عبداللہ صاحب اسلام آباد
- ۱۷...... حضرت مولانا حکیم عبدالرحمن صاحب گوجرانوالہ
- ۱۸...... مولانا محمد اشرف صاحب ہمدانی فیصل آباد
- ۱۹...... مولانا محمد نور الحق صاحب پشاور
- ۲۰...... جناب حاجی فرزند علی صاحب سکھر
- ۲۱...... جناب حاجی سیف الرحمن صاحب بہاولپور
- ۲۲...... جناب حاجی فیض احمد صاحب ٹوبہ ٹیک سنگھ
- ۲۳...... جناب حاجی بلند اختر نظامی صاحب لاہور
- ۲۴...... جناب ملک منظور الہی صاحب سیالکوٹ
- ۲۵...... جناب ریاض الحسن گنگوہی صاحب ڈیرہ اسماعیل خان
- ۲۶...... حضرت صاحبزادہ طارق محمود صاحب فیصل آباد
- ۲۷...... حضرت مولانا سید نفیس الحسینی شاہ صاحب لاہور
مذکورہ فہرست کے مطابق ستائیس حضرات کو شوریٰ کا رکن نامزد کیا گیا ، قدیم ممبران کے علاوہ پانچ نئے ممبران کا اضافہ کیا گیا ، جس میں مولانا انوار الحق خطیب کوئٹہ ، سید نفیس شاہ صاحب لاہور ، مولانا احمد میاں حمادی صاحب آف ٹنڈو آدم ، صاحب زادہ طارق محمود صاحب فیصل آباد ، جناب ریاض الحسن گنگوہی صاحب ڈیرہ اسماعیل خان ۔
مولانا عزیز الرحمن صاحب جو کہ قائمقام ناظم اعلیٰ تھے انہیں مستقل ناظم اعلیٰ مقرر کیا گیا ، اور جناب ملک بشیر احمد عنایت پوری صاحب محاسب کو مستقل مرکزی خازن مقرر کیا گیا ۔
سالانہ دارالمبلغین میں وفاق المدارس کے سند یافتہ علماء کرام کو داخلہ کی اجازت دی گئی ، جن کی زیادہ سے زیادہ تعداد دس اور کم سے کم چھ مقرر کی گئی بشرطیکہ زبانی اور تحریری انٹرویو جو کہ ان کی قوت تقریر اور تحریر کے جائزہ کے لئے ہوگا، پاس کریں گے۔
ان کے لئے سہ روزہ لگانا ، جمعرات شام ابدالی مسجد میں حاضری ضروری قرار دی گئی ۔
گوجرانوالہ میں چونکہ کوئی مستقل مبلغ نہیں ، اس لئے تا وقت کہ وہاں کوئی مستقل مبلغ مقرر کیا جائے ، ہر ماہ ایک ہفتہ کے لئے قاضی محمد اللہ یار صاحب اور چھ یوم کے لئے مولانا خدا بخش صاحب آف ربوہ دفتر گوجرانوالہ ڈیوٹی دیں گے۔
فقیر خان محمد غفرلہ
تحریک ختم نبوت پر ایک تاریخی دستاویز
نابغہ و عبقری شخصیت کے مالک حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کو تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر ایک جری، دلیر اور تہور پیشہ سپہ سالار کی حیثیت حاصل ہے۔ تقریر و تحریر ہو یا مباحثہ و مناظرہ، دونوں میں انہیں لاثانی خداداد ملکہ حاصل ہے۔ مطالعہ و تحقیق اور تصنیف و تالیف ان کے محبوب و مرغوب مشاغل ہیں۔ ان کی گرانقدر مطبوعہ کتب ”قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر بحث کی مصدقہ رپورٹ، چمنستان ختم نبوت کے گلہائے رنگارنگ، دروس و بیانات ختم نبوت، آئینہ قادیانیت، یاد دلبراں اور قادیانی شبہات کے جوابات“ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ یہ ایک غیر مختتم سلسلۃ الذہب ہے۔ ؎ اللہ کرے یہ مرحلہ شوق نہ ہو طے
حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کی نئی کتاب ”تحریک ختم نبوت“ نہایت مبسوط، مدلل، مربوط، جامع اور تحقیقی کتاب ہے۔ ۱۸۹۷ء کی ختم نبوت کانفرنس قادیان سے دسمبر ۲۰۱۹ء تک تحریک ختم نبوت جن مراحل سے گزرتی رہی اس کی لمحہ بہ لمحہ رپورٹ کو جمع کر دیا گیا ہے، دس ضخیم جلدوں کے ساڑھے چھ ہزار صفحات پر مشتمل قریباً ایک صدی کی عشق و محبت کی داستان لازوال جو ایمان پرور، جہاد آفرین بھی ہے اور حقائق افروز بھی۔ اس کی ترتیب و تہذیب اور تالیف و تدوین بڑی عرق ریزی، دقت نظر اور حسن عقیدت سے کی گئی ہے۔ اندازِ نگارش ایسا سحر انگیز ہے کہ اس کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے جیسے مولانا خود ان تمام حالات و واقعات کے عینی شاہد ہیں۔
یہ کتاب کارکنان تحفظ ختم نبوت کے لیے ایک دستور العمل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس میں ایمان پرور واقعات، اکابرین کے ولولہ انگیز خطابات، پس پردہ حقائق، ہوش ربا انکشافات، حکمرانوں کی قادیانیت نوازی اور مختلف اعلیٰ عدالتی فیصلوں کا بھرپور تذکرہ ہے جس کے مطالعہ سے دلوں میں عقیدت و محبت کی ایک برقی رو دوڑ جاتی ہے۔ دینی غیرت و حمیت کی ایسی پر سوز و گداز کیفیت پیدا ہوتی ہے کہ خون جوش مارتا اور آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں۔ ایسی کیفیات اور احساسات کو جاننے اور سمجھنے کے لیے اس تاریخی کتاب کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ امید ہے کہ یہ کتاب کارکنان تحفظ ختم نبوت کے لیے انمول سوغات اور سدا بہار گلدستہ ثابت ہو گی۔ مزید برآں اس اہم موضوع پر ریسرچ کرنے والے سکالرز اور طالب علموں کے لیے بھی چراغ راہ کا کام کرے گی۔ دعا ہے کہ رب کائنات حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کی ہمت کو جواں اور ان کے قلم کو رواں دواں رکھے۔ آمین
محمد متین خالد لاہور