جو ختم نبوت پہ فدا تھے!
محمد طاہر عبدالرزاق
جو ختم نبوت پہ فدا تھے!
تحقیق وتدوین محمد طاہر عبدالرزاق
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
تحفظ
مجلس
تحفظ
ط
انتساب
- ★ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری سے پچاس سالہ رفاقت کا اعزاز
- ★ فرنگی اور اُس کے ٹوڈیوں کو للکارتا ہوا حریت پسند
- ★ خوف اور مایوسی کے ماحول میں بیڑیاں اور ہتھکڑیاں پہنے پولیس
کے نرغے میں مسکراتا با عزم مجاہد
- ★ مرزا قادیانی ...... اور قادیانیت کے لیے .......
جنگ یمامہ کے شہیدوں کی تلوار
- ★ ایک فاقہ مست ! جسے عشق رسول کی سیری حاصل تھی
- ★ جس کا جسم ...... ٹارچر سیلوں میں ہولناک تشدد کا امین
- ★ جس کے کان ...... برصغیر کے آتش فشاں خطیبوں کی آتشیں خطابت
کے شاہد
- ★ جس کی آنکھیں ...... قدسی صفات بزرگوں، شیر دل لیڈروں، اور
انگریز کے باغی مسلمانوں کی تصویروں کا البم
- ★ جس کے پاؤں ...... ہندوستان میں منعقد ہونے والے تحفظ ختم
نبوت اور آزادی کے جلسوں کے سیاح
- ★ جس کا سینہ ...... ستر برس کی تاریخ کا خزینہ
- ★ جس کا چہرہ ...... ہزاروں بولتی داستانوں کی بند کتاب
عزت مآب مولانا محمد شریف احرار کے نام
فہرست
- ا خوشبو محمد طاہر عبدالرزاق
- ب اسلام کا بیٹا محمد متین خالد
- ج قانون رسالت اور عاشقان ختم نبوت ڈاکٹر محمد صدیق شاہ بخاری
- 1 علامہ انور شاہ کشمیریؒ اور میاں شیر محمد شرقپوریؒ 20
- 2 علامہ انور شاہ کشمیریؒ اور علامہ اقبالؒ 20
- 3 بشارت 22
- 4 ربوہ اور سگریٹ 22
- 5 میانوالی کا گمنام سپوت حافظ محمد احمدؒ 24
- 6 جب میں نے بددیانتی اور غبن کی نشاندہی کی تو مجھے ربوہ سے نکلوا دیا۔
ایک سابق قادیانی کی آپ بیتی 27
- 7 شاہ جی کی خطابت 28
- 8 حشر کے میدان میں پتہ چلے گا 29
- 9 تحریک ختم نبوت 1953ء میں مولانا سرفراز خان صفدر کی جیل میں مصروفیات 29
- 10 ظفر اللہ قادیانی کا جلسہ درہم برہم ہوگیا 30
- 11 نبوت محمدی کا آفتاب 31
- 12 جب تک جان باقی ہے 32
- 13 ہم کیوں برداشت کریں؟ 32
- 14 علامہ انور شاہ کشمیریؒ کا سراپا 33
- 15 ربوہ کی ورائٹی 35
- 16 مولانا بنوریؒ کا قادیانیوں سے ایک معرکہ 36
- 17 لاہور کا تاریخی اجلاس جس میں آپ امیر شریعت بنائے گئے 37
- 18 کیمرج یونیورسٹی میں محسن شاہ جیؒ کی للکار 38
- 19 زیارت حضرت عیسیٰ علیہ السلام 47
- 20 حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ زیارت 49
- 21 ایک قادیانی کی قبر کو تین دن تک آگ لگتی رہی آخر پھٹ گئی 50
فہرست
محمد طاہر عبدالرزاق محمد متین خالد ختم نبوت ڈاکٹر محمد صدیق شاہ بخاری یاں شیر محمد شرقپوریؒ مہ اقبالؒ
20 20 22 22 24 محمد احمدؒ ن کی نشاندہی کی تو مجھے ربوہ سے نکلوا دیا۔ شیخی 27 گا 28 میں مولانا سرفراز خان صفدر کی جیل میں مصروفیات 29 یہ ہم ہو گیا 29 30 31 32 32 33
ایک معرکہ 35 آپ امیر شریعت بنائے گئے 36 ق کی للکار 37 38
47
ہ زیارت 49 آگ لگتی رہی آخر پھٹ گئی 50
22 مرزائیت کا روپ 51 23 مرزائی تنگ ہو گیا 51 24 نبوت اور قومیت 52 25 پاکستان، قادیانی اور بھٹو (مرحوم) 54 26 نیک سیرت ڈی سی 54 27 رہائی نہیں اسیری چاہتے ہیں 55 28 ٥٣ء کی تحریک ختم نبوۃ میں ١٥ سے ٢٠ ہزار مسلمان شہید ہوئے۔ مرزا ناصر 56 29 حضرت شیخ بنوریؒ کا جہاد ختم نبوت 58 30 حضرت! آپ تو شہید ہو گئے مگر ہم 61 31 مولانا مودودیؒ کا ایک واقعہ 70 32 ایک مجاہد کی للکار 74 33 عمر ضائع کر دی 76 34 تکمیل ختم نبوت 78 35 آغا شورش کاشمیریؒ نے لاجواب کر دیا 79 36 نبوت اور تکمیل نبوت 80 37 چاچا فضل موچی (مرحوم) تحریک ختم نبوت کا گمنام سپاہی 81 38 تعارف 82 39 ایمان افروز کردار 83 40 خدمت خلق 84 41 تحریک تحفظ ختم نبوت ١٩٧٤ء کا آغاز اور غیرت ایمانی 84 42 حرف آخر 85 43 ایک سرکاری ملازم کا جذبہ ایمانی 85 44 تحریک ختم نبوت میں مولانا محمد ذاکرؒ کا مجاہدانہ کردار 86 45 مولانا مرحوم کی مساعی اور قادیانی فتنہ 90 46 ملت اسلامیہ کو قادیانیت کی ریشہ دوانیوں سے خبردار رہنا ہوگا 101 47 صوفی برکت علی مرحوم سالار والے سے ملاقات 108 48 محسن شاہ جی......... زندہ باد 109 49 مباہلہ میں ہارنے کے بعد قادیانی پاگل ہو گیا 110 50 جب مولانا بنوری کی بھٹو سے ملاقات ہو گئی 111
- 51 تکمیل نبوت تکمیل دین 112
- 52 مرزا قادیانی کی علمی حیثیت 113
- 53 مولانا سید شمس الدین شہید 113
- 54 خون میں خوشبو 116
- 55 خان صاحب مسلمان ہو گئے 117
- 56 مرزا قادیانی کی بیعت 118
- 57 مرزا قادیانی کی جادوگری 118
- 58 شکار فرار ہو گیا 119
- 59 امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری معاصرین کی نظر میں 120
- 60 ادبی شخصیات کا خراج تحسین 124
- 61 سیاسی عمائدین کا خراج تحسین 126
- 62 غیر مسلم رہنماؤں کا اعتراف عظمت 128
- 63 ہمارا فیصلہ 129
- 64 مرزا قادیانی ملعون کی جسارت 129
- 65 مرزا قادیانی کی منہ پھٹ بیوی 130
- 66 قاضی نذیر قادیانی کا پیشاب نکل گیا 132
- 67 معرکہ مصر 135
- 68 حضرت علامہ اقبالؒ کو حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ کا تحفہ 138
- 69 اقبال کا عشق رسولﷺ 139
- 70 میں تیار ہوں 140
- 71 فتنوں سے لڑنے کا مقام 140
- 72 غازی اور شہید 141
- 73 ان تھک مجاہد 143
- 74 زندگی کا واحد مقصد 143
- 75 وکیل ختم نبوت 144
- 76 کیا عجب لوگ تھے 145
- 77 رقت انگیز جواب 145
- 78 ایک ولی اللہ کا چیلنج 146
- 79 کاروان حیات کے چند نقوش از مولانا محمد شریف احرار 147
خو
وہ منظر کتنا حسین ہوتا ہے! جب مشرق کی گود سے سورج اپنے سر پر جب برسات کی رت میں آم کے باغوں جب باد نسیم گلوں سے چھیڑ چھاڑ کرتے جب گھنگھور کالی گھٹاؤں میں سفید براق جب چودھویں کا چاند ستاروں کے جھرمٹ جب گل و بلبل روبرو گفتگو کرتے ہیں، جب مست خرام ندی گنگناتی ہوئی کسی جب گلاب کے مکھڑے پر شبنم کے مو جب کسی صحرا میں رات کا سناٹا ستاروں جب شوخ و شنگ ہواؤں سے سیب رقص کرتی ہیں، جب سر شام طوطوں کی ڈاریں باتھ انگیز پرواز کرتی ہیں، جب باصرہ نواز چمنستانوں میں تتلیا جب چکور مہتاب کے گرد عاشقانہ جب حدی خوان کے دلفریب نغم دوڑتا چلا جاتا ہے، جب رات کی رانی کی خوشبو رات
خوشبو
وہ منظر کتنا حسین ہوتا ہے! جب مشرق کی گود سے سورج اپنے سر پر کرنوں کا تاج سجا کر طلوع ہوتا ہے، جب برسات کی رُت میں آم کے باغوں میں کوئل کوکتی ہے، جب بادِ نسیم گلوں سے چھیڑ چھاڑ کرتے چمن سے گزرتی ہے، جب گھمبیر کالی گھٹاؤں میں سفید براق کبوتر محوِ پرواز ہوتا ہے، جب چودھویں کا چاند ستاروں کے جھرمٹ میں اپنی محفل سجاتا ہے، جب گل و بلبل روبرو گفتگو کرتے ہیں، جب مست خرام ندی گنگناتی ہوئی کسی مرغزار سے گزرتی ہے، جب گلاب کے مکھڑے پر شبنم کے موتی جھلملاتے ہیں، جب کسی صحرا میں رات کا سناٹا ستاروں کی کتھا سنتا ہے، جب شوخ و شنگ ہواؤں سے سیب اور ناشپاتی کے درختوں کی ڈالیاں مستی میں رقص کرتی ہیں، جب سرِ شام طوطوں کی ڈاریں باتوں کی مستی میں اپنے بسیروں کی جانب سحر انگیز پرواز کرتی ہیں، جب باصرہ نواز چمنستانوں میں تتلیاں دلربا رقص کرتی ہیں، جب چکور مہتاب کے گرد عاشقانہ پرواز کرتا ہے، جب حدی خوان کے دلفریب نغموں سے مسحور ہو کر اونٹوں کا قافلہ مستانہ وار دوڑتا چلا جاتا ہے، جب رات کی رانی کی خوشبو رات پر اپنا سحر جماتی ہے،
جب موسم سے خوش ہو کر مور دیوانگی میں رقص کرتا ہے،
جب برسات کی اندھیری بھیگی راتوں میں جگنوؤں کا چراغاں ہوتا ہے،
جب نیلگوں آسمان سے لٹکتی ستاروں کی قندیلیں سیاہ راتوں پر نور کی کرنیں
پھینکتی ہیں،
جب فلک پر قوس قزح اپنے رنگوں کی جلوہ نمائی کرتی ہے،
جب بادلوں کی اوٹ سے چاند آنکھ مچولی کرتا ہے۔
میں سوچتا ہوں کہ اگر یہ مناظر اتنے حسین ہیں...... تو وہ ہستی کتنی حسین ہو گی، جس کے لیے یہ سارے مناظر پیدا کئے گئے۔ یہ سارے مناظر حسن محمد ﷺ کی خیرات ہیں۔ انہی کے لیے یہ بزم ہستی سجائی گئی۔ انہی کے لیے اس کائنات کے گیسو آراستہ کئے گئے۔ انہی کے لیے اس دنیا کو زیب و زینت عطا کی گئی۔ تو پھر کیوں نہ محمد ﷺ کے گیت گائے جائیں، کیوں نہ محمد ﷺ کی نعت کہی جائے۔ کیوں نہ محمد ﷺ کو رسول مانا جائے۔ کیوں نہ محمد ﷺ پر ایمان لایا جائے۔ کیوں نہ محمد ﷺ پر جان لٹائی جائے۔ کیوں نہ محمد ﷺ پر زندگیاں نثار کی جائیں۔ محمد ﷺ اس کائنات کی روح ہے۔ محمد ﷺ اس کائنات کا حسن ہے۔ محمد ﷺ اس کائنات کی آبرو ہے۔ محمد ﷺ اس کائنات کا خلاصہ ہے۔ محمد ﷺ اس کائنات کی وجہ تخلیق ہے۔ محمد ﷺ کو پتھر بھی سلام کرتے تھے۔ محمد ﷺ کو درخت بھی سلام کرتے تھے۔ محمد ﷺ کے اشارہ پر ابو جہل کی مٹھی کی کنکریاں بھی کلمہ پڑھتی تھیں۔ محمد ﷺ کی انگلی کے اشارے سے چاند دو ٹکڑے ہو جاتا تھا۔ محمد ﷺ کے ہاتھ کے اشارے سے ڈوبتا سورج واپس آ جاتا تھا۔ محمد ﷺ کے لعاب دہن سے کھاری کنویں میٹھے ہو جاتے تھے۔ محمد ﷺ کی انگلیوں سے چشمے جاری ہو جاتے تھے۔
محمد ﷺ اپنے رب کا اتنا پیارا ! کہ محمد ﷺ کا رب اور اس کے فرشتے محمد ﷺ پر درود بھیجتے ہیں۔ محمد ﷺ کو دنیا میں بھیج کر اس کے رب نے اہل دنیا پر احسان عظیم کیا۔ محمد ﷺ کے رب نے اس کا سایہ بھی پیدا نہ کیا۔ محمد ﷺ کے رب نے ساری زندگی اپنے محبوب ﷺ کے جسم اطہر پر مکھی نہ بیٹھنے دی۔ محمد ﷺ کا رب اپنے قرآن میں محمد ﷺ کی زندگی کی قسم اٹھائے۔ محمد ﷺ کا رب اپنی کتاب میں محمد ﷺ کے شہر کی قسم اٹھائے۔ محمد
ﷺ کا رب محمد ﷺ کے شہر کی خاک کو ”خاک شفا“ قرار دے۔ محمد ﷺ اپنے رب کا اتنا لاڈلا! کہ اللہ نے اسے ایسا نام دیا کہ پہلے دونوں لب ایک دوسرے کا بوسہ لیتے ہیں اور پھر اسم محمد ﷺ ادا ہوتا ہے اللہ نے محمد ﷺ کو خاتم النبیین بنایا۔ خاتم المرسلین بنایا۔ ان کے سر پر تاج ختم نبوت سجایا۔ پورے عالم کی فضاؤں میں ”لا نبی بعدی“ کا پرچم لہرایا۔ وہ سب سے پہلے باب جنت کھولیں گے۔ وہ سب سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ اللہ انہیں مقام محمود پر فائز کرے گا۔ انہیں سب سے پہلے شفاعت کا اذن ملے گا۔ وہ شافع محشر ہوں گے۔ وہ ساقی کوثر ہوں گے۔ وہ جنت میں سارے جنتیوں کے نبی اور سارے نبیوں کے نبی ہوں گے۔
محمد ﷺ اپنے رب کا اتنا چہیتا! کہ اللہ نے نبوت ان کے نام پر ختم کر دی۔ وحی ان کے نام پر ختم کر دی۔ ان کے نام پر ختم نبوت کا تاج سجا دیا۔ جو شخص ان کے محترم نام کو پڑھے وہ فوراً درود شریف پڑھے۔ جو شخص ان کے نام کو سنے وہ بھی فوراً درود شریف پڑھے۔ اللہ پاک نے اپنی آخری اور دائمی کتاب میں جگہ جگہ ان کے نام کو سجا دیا۔ کلمہ طیبہ میں اپنے نام کے ساتھ ان کے نام کو جوڑ دیا۔ اذانوں اور اقامتوں میں اپنے نام کے ساتھ ان کے نام کو بھی شامل کر لیا اور جو بدفطرت اس نام کی توہین کرے اس کے قتل کا حکم دے دیا۔ یہ نام کروڑوں مسلمانوں کے ناموں کا حصہ ہے۔ یہ نام مسلمانوں کے رگ و ریشہ میں رچا بسا ہے۔ قلب میں اس نام کی ٹھنڈک اور روح میں اس نام کی خوشبو ہے۔ مسلمانوں نے ہر زمانے میں اس نام کو اپنی جان سے زیادہ عزیز سمجھا ہے۔ جب کبھی کسی ملعون نے اس نام کی توہین کی تو غیور مسلمانوں کی تلواریں اس پر شعلہ بن کر لپکیں اور اسے جہنم واصل کیا۔ محکومی اور غلامی کے دور میں بھی ہزاروں مسلمانوں نے اس نام کی حرمت پر اپنی جانیں لٹائی ہیں۔ تختہ دار پر جھولے ہیں۔ لیکن دنیا کو بتا دیا کہ اس نام کی عزت کے لیے ہم اپنی جان بھی قربان کر دیتے ہیں۔
اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے
محمد ﷺ کی محبت آن ملت شان ملت ہے
محمد ﷺ کی محبت روح ملت جان ملت ہے
یہ رشتہ دنیاوی قانون کے رشتوں سے بالا ہے
محمد ﷺ ہے متاعِ عالم ایجاد سے پیارا
پدر، مادر، برادر، مال و جان، اولاد سے پیارا
محمد ﷺ کو پوری کائنات کا نبی بنا کر بھیجا گیا۔ محمد ﷺ کو پوری دنیا کا امام بنا کر بھیجا گیا۔ محمد ﷺ فرش والوں کا نبی، محمد ﷺ عرش والوں کا نبی، محمد ﷺ انسانات کا نبی، محمد ﷺ جنات کا نبی، محمد ﷺ نباتات کا نبی، محمد ﷺ جمادات کا نبی! محمد ﷺ جبرائیل کا نبی، محمد ﷺ میکائیل کا نبی، محمد ﷺ اسرافیل کا نبی، محمد ﷺ عزرائیل کا نبی، جو زمین کی تہوں میں رہتا ہے محمد ﷺ اس کا بھی نبی، جو ستاروں کی دنیا کا باسی ہے محمد ﷺ اس کا بھی نبی اور قرب قیامت جو ماں آخری بچے کو جنم دے گی اس کا نبی بھی محمد ﷺ ہے، مائیں بانجھ ہو گئیں، محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہو سکتا۔ خالق کائنات نے وہ سانچے ہی توڑ دیئے جن سے وہ انبیاء کو بنایا کرتا تھا۔ مصور کائنات نے وہ قلم ہی توڑ دیا جس سے وہ انبیاء علیہ السلام کی تصویر کشی کیا کرتا تھا۔ اب سورج تو اندھا ہو سکتا ہے۔ یہ چاند بے نور ہو سکتا ہے۔ ستاروں کی قندیلیں بجھ سکتی ہیں۔ اجرام فلکی ٹوٹ پھوٹ سکتے ہیں، عنادل کی نغمہ ریزیاں اور تتلیوں کے رقص معطل ہو سکتے ہیں، دریاؤں کی روانیوں کے رخ بدل سکتے ہیں، لیکن محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہو سکتا۔
غبار راہ کو بخشا فروغ وادی سینا
نگاہ عشق و مستی میں وہی اوّل وہی آخر
وہی قرآں، وہی فرقاں، وہی یٰسین وہی طٰہٰ
بدبخت مرزائیو! بدطینت قادیانیو! مرزا قادیانی ملعون کی جھوٹی نبوت کو دنیا میں چلانے اور پھیلانے والے سفاک مجرموں! سنو! اللہ نے اس جہان کو ”جہانِ نبوت محمدی ﷺ“ قرار دے دیا ہے۔ اللہ نے
قیامت تک کے زمانے کو ”زمانہ نبوت محمدی ﷺ“ قرار دے دیا ہے۔ اللہ نے وقت کی ایک ایک ساعت پر نبوت محمدی ﷺ کی مہر لگا دی ہے۔ اللہ نے پوری کائنات کی فضاؤں میں نبوت محمدی ﷺ کا پرچم لہرا دیا ہے۔ یہ آفتاب ”جہاں نبوت محمدی ﷺ“ میں طلوع ہوتا ہے اور اسی کی وسعتوں میں غروب ہوتا ہے۔ یہ مہتاب جہاں نبوت محمدی ﷺ میں ہی اپنی کرنیں بکھیرتا ہے۔ مہتاب و آفتاب کے پاس کرنیں کم ہیں ”جہاں نبوت محمدی ﷺ“ کی وسعتیں زیادہ ہیں۔
اے سارقانِ نبوت! رب ذوالجلال نے خاتم النبین ﷺ کو پوری انسانیت کا رہبر و راہنما بنا دیا ہے۔ انہیں ساری انسانیت کا معلم قرار دے دیا ہے۔ اب کلمہ وہ چلے گا جو محمد عربی ﷺ کا کلمہ ہے۔ اب اس کتاب کی حکمرانی ہوگی جو محمد عربی ﷺ کی کتاب ہے۔ اب شریعت وہ چلے گی جو محمد عربی ﷺ کی شریعت ہے۔ اب قبلہ ہوگا جو محمد عربی ﷺ کا قبلہ ہے۔ اب کامیاب وہ ہوگا جو محمد کریم ﷺ کے نقوشِ پا پر چلے گا۔ اب ہدایت یافتہ وہ ہوگا جس کے گلے میں محمد کریم ﷺ کی غلامی کا پٹہ ہوگا۔
فتنہ انکارِ ختمِ نبوت کے کار پردازو! اس کائنات کے جس ذرے کا اللہ، رب ہے محمد کریم ﷺ اس کے رسول ہیں۔ ربوبیت اللہ پر ختم ہے اور نبوت و رسالت محمد رسول اللہ ﷺ پر ختم ہے۔ اگر کوئی اللہ کے سوا کسی اور کو رب مانتا ہے تو وہ شرک فی الربوبیت ہے اور اگر کوئی رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی کو نبی یا رسول مانتا ہے تو وہ شرک فی النبوت ہے، مشرک فی الرسالۃ ہے اور یہ دونوں مشرک جہنمی ہیں۔ اللہ کے سوا اگر کوئی دعویٰ ربوبیت کرتا ہے تو وہ فرعون اور نمرود ہے اور رسول اللہ ﷺ کے بعد اگر کوئی دعویٰ نبوت کرتا ہے تو وہ اسود عنسی اور مسیلمہ کذاب ہے۔ اب اگر کوئی دعویٰ نبوت کرے گا تو اس کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے گا جو مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی کے ساتھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کیا تھا۔۔۔
بعد از رسول ہاشمی کوئی نبی نہیں
خاکپائے مجاہدین ختم نبوت: محمد طاہر عبدالرزاق بی ایس سی۔ ایم اے (تاریخ)
اسلام کا بیٹا
تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر اپنی منفرد شناخت اور الگ پہچان رکھنے والے معروف سکالر اور دانشور جناب محمد طاہر عبدالرزاق کی شخصیت کسی تعارف اور ان کی کوئی تصنیف کسی تقریظ کی محتاج نہیں۔ وہ اس لحاظ سے بے حد خوش نصیب ہیں کہ انہوں نے اپنی زندگی کی ہر ساعت تحفظ ختم نبوت اور فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے لیے وقف کر رکھی ہے۔ یعنی ”ایں سعادت بزور بازو نیست“ والا معاملہ ہے۔ وہ اس موضوع پر بے پناہ مطالعہ اور بے کراں مشاہدات کے حامل ہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ ان کی بصیرت اور بصارت بھی حیران کن حد تک آفاق گیر ہے۔ ظاہری طور پر بھی ان کی شخصیت بڑی رعب دار، دلکش اور مسحور کن ہے۔ کہا جا سکتا ہے
وہ آدمی ہے مگر دیکھنے کی تاب نہیں
عقیدہ ختم نبوت، اسلام میں اہم ترین اور نازک ترین حیثیت رکھتا ہے۔ سیدالمرسلین، رحمت اللعالمین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ بلاشک وشبہ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ تمام امت کا اس پر اجماع ہے کہ حضور نبی کریم علیہ التحیۃ والثناء کے بعد کسی قسم کا کوئی نیا نبی یا رسول نہیں آسکتا اور اب تا قیامت دروازہ نبوت بند کر دیا گیا ہے۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام کو اپنے کامیاب و شاندار فرائض منصبی ادا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں ہمیشہ کے لیے ”اس ذمہ داری سے فارغ“ کر دیا ہے۔ اب تا قیامت اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی شخص پر نہ وحی آسکتی ہے اور نہ کوئی دیگر پیغام۔ اب جس شخص نے کوئی بھی راہنمائی حاصل کرنا ہے، اسے صرف اور صرف نبی مکرم ﷺ کے در اقدس پر اپنی جبیں جھکانا ہو گی۔
اس کے برعکس قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ نبوت جاری ہے اور قادیان کا آنجہانی مرزا قادیانی اس دور کا نیا نبی اور رسول ہے جس کی اطاعت کے بغیر کسی شخص کی نجات نہیں ہو سکتی۔ (نعوذ باللہ) قادیانیت، درحقیقت نبوت محمدیؐ کے خلاف ایک بھیانک سازش ہے جس کا وجود نامسعود اسلام کی ابدیت اور امت مسلمہ کی وحدت کو چیلنج ہے۔ حکیم الامت حضرت علامہ اقبالؒ نے بالکل درست فرمایا تھا کہ ”مسلمانوں کا حقیقی سرمایہ قوت یہی عقیدہ ختم نبوت ہے اور اسی میں وحدت ملت کے تحفظ کا راز پوشیدہ ہے۔ اسی عقیدہ کے باعث مسلمان ایک اللہ کے سوا سب سے تعلق توڑ لیتا ہے اور ’امت مسلمہ کے بعد کوئی امت نہیں‘، کا نعرہ بلند کرتا ہے۔“
زیر نظر کتاب ”جو ختم نبوت پر فدا تھے“ برادر گرامی جناب محمد طاہر عبدالرزاق کی تازہ ترین تصنیف بلکہ ہمہ صفت خوبصورت ترین شہ پارہ ہے جسے انہوں نے تحفظ ختم نبوت کی تاریخ کے مطالعے اور پرانی عظمتوں سے وجدان حاصل کرکے قرطاس کے کینوس پر اتارا ہے۔ اس کتاب کی ہر تحریر آنکھوں کے راستے دل میں اترتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ بعض تحریروں کو پڑھتے وقت ایسی ایمان افروز کیفیت پیدا ہوتی ہے کہ خون جوش مارتا اور روح میں طوفانی اضطراب پیدا ہوتا ہے۔ وہ جس خوبصورت اور دلکش انداز میں حالات و واقعات کو مربوط کرتے ہیں، قاری پڑھتے ہوئے حقائق جاننے کے ساتھ ساتھ خود کو ایمانی اور وجدانی طور پر احسن تقویم کی بلندیوں پر بیٹھا محسوس کرتا ہے۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ انتہائی جرأت مندانہ اور بے لاگ انداز میں لکھتے اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے تئیں دیانت اور سچائی کو بھی ملحوظ رکھتے ہیں۔ انھوں نے اپنے قلم کو دفاع اسلام کے لیے شمشیر برہنہ بنا رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی اس مجاہدانہ روش کو ہر مکتبہ فکر میں تحسین و ستائش کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
بعض دوستوں کا کہنا ہے کہ جناب طاہر عبدالرزاق قادیانیوں کے خلاف بہت ”سخت“ لکھتے ہیں جو آداب کے منافی ہے۔ میں ان کرم فرماؤں کی خدمت میں عرض کروں گا کہ وہ ایک پکا اور سچا مسلمان ہے۔ اس کے دل و دماغ میں حضور نبی کریمﷺ کی محبت و عقیدت کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر موجزن ہے۔ جب وہ قادیانیوں کی طرف سے شان رسالت میں کی گئی ہرزہ سرائیوں اور گستاخیوں کو پڑھتا ہے تو اس کا خون کھول اٹھتا ہے۔ پھر وہ تمام
”مصنوعی آداب“ بالائے طاق رکھتے ہوئے ”طالبان“ بن جاتا ہے۔ اس کا قلم غازی علم الدین شہیدؒ کا خنجر بن کر گستاخان رسولؐ کے سینے میں پیوست ہوتا ہے جن کی چیخوں سے ان کے سرپرست، امریکہ اور برطانیہ دونوں پریشان ہو جاتے ہیں۔ قادیانیوں کی شان رسالتؐ میں گستاخیوں کے جواب میں لکھنوی لب ولہجہ میں آداب بجا لانا اور تسلیمات عرض کرنا بے غیرتی کا استعارہ اور بے حمیتی کی علامت ہے۔ بے غیرتی اور بے حمیتی کسی بھی صاحب ایمان کی سرشت و جبلت کا خاصہ نہیں ہو سکتی۔
جناب طاہر صاحب تحفظ ختم نبوت کے مختلف موضوعات پر 150 کے قریب اہم کتابچے اور 30 سے زائد قیمتی کتب تصنیف کر چکے ہیں۔ ایمان و ایقان کو قوی تر بنانے والی ان کی دلکش تحریروں کی مقناطیسی لہروں نے بے شمار نوجوانوں کو تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں وہ ہمہ وقت مصروف جہاد رہتے ہیں۔ یہ آج کے دور کی ایک زندہ حقیقت ہے، اس سے انکار صرف کوئی اندھا ہی کر سکتا ہے۔ باسعادت ہیں وہ لوگ جو اس فتنہ کی سرکوبی کے لیے علمی اور عملی میدان میں مصروف ہیں۔ بقول مولانا محمد علی مونگیریؒ ”فتنہ قادیانیت کا استیصال جہاد بالسیف سے کم نہیں۔“
میں طاہر صاحب کی خداداد صلاحیتوں میں مزید ترقی کے لیے دعا گو ہوں۔ اللہ تعالیٰ انہیں ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے۔ (آمین)
محمد متین خالد
قانون رسالت اور عاشقان ختم نبوت ﷺ
رسولوں کے بارے میں اللہ رب العزت نے یہ طے کر رکھا ہے کہ غلبہ ہمیشہ ان ہی کا مقدر ہے۔ قرآن مجید اس قانون کو یوں بیان کرتا ہے۔ ”کتب الله لاغلبن انا ورسلی ان الله قوى عزيز“ (٥٨:٢١) اللہ نے لکھ رکھا ہے کہ بے شک میں غالب رہوں گا اور میرے رسول۔ بے شک اللہ قوی اور عزیز ہے۔ رسول اصل میں اللہ کا سفیر اور اس کی عدالت بن کر آتا ہے۔ آخرت میں جزا اور سزا کا جو نظام اپنی حتمی شکل میں برپا ہونا ہے وہی ایک ہلکی شکل میں، رسولوں کی آمد کے بعد، اس کے براہ راست مخاطبین کے ساتھ برپا ہوتا ہے اور اس طرح گویا اللہ تعالیٰ ایک طرف صداقت رسالت پر اور دوسری طرف حقانیت آخرت پر ایک حسی دلیل مہیا کر دیتے ہیں۔ رسولوں کے بارے میں اللہ کے اس قانون کو ہم قانون رسالت کہہ سکتے ہیں اور یہ اس دھرتی پر دو طریقوں سے ظہور پذیر ہوتا ہے۔ اگر رسولوں کے ماننے والے قلیل اور کمزور ہوں تو اللہ ایک مدت کے بعد جو وہ اپنی حکمت سے طے کرتا ہے منکرین کو آسمانی عذاب سے نیست و نابود کر دیتا ہے جبکہ رسول اور اس کے متبعین کو بحفاظت وہاں سے ہجرت کروا دیتا ہے۔ دنیا کی تاریخ میں رسولوں کی بیشتر قومیں اسی طرح ہلاک و برباد ہوئیں۔ قوم نوح، لوط، شعیب، ہود و صالح علیہم السلام اسی کی مثالیں ہیں۔ آخرت میں ان منکرین رسالت کے ساتھ جو ہونا ہے اس کا ایک ہلکا سا مظاہرہ اللہ دنیا میں ہی برپا کر کے آنے والے رسول کے بارے میں گویا انسانوں کو خبردار کر دیتے ہیں اور ساتھ ہی اس بات کی مادی دلیل بھی مہیا کر دیتے ہیں کہ رسالت کے منکروں کا حشر اصل میں یہی ہے اور یہ کہ آخرت میں تو یہ اور بھی بھیانک طریقے سے سامنے آئے گا۔
رسولوں کے غلبے کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اللہ رسول اور اس کے متبعین کو ایک دار ہجرت مہیا کر کے وہاں اقتدار فراہم کرتے ہیں اور خود رسول اور اس کے ساتھیوں کے ہاتھوں منکرین کو ہلاک کروا دیتے ہیں اور بالآخر رسول اور اس کے ساتھیوں کا بالفعل غلبہ قائم کر
دیتے ہیں۔ منکرین یا تو ایمان لے آتے ہیں اور یا پھر مغلوب و مقہور بن کر رہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ تاریخ انسانی میں ایسی مثال صرف دو رسولوں کی پیش کی جاسکتی ہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور خاتم النبیین ﷺ۔
قرآن مجید کے نظائر سے تو اتنی ہی بات سامنے آتی ہے لیکن تاریخ کے مطالعے سے ایک اور حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ چونکہ رسول اللہ ﷺ اس دھرتی پر اللہ کے آخری رسول ہیں اس لیے ان کے غلبے کا اللہ نے ایک اور انتظام بھی کیا اور یہ فریضہ گویا ان کی پوری امت کو سونپ دیا کہ وہ ہمیشہ ختم نبوت کے بارے میں حساس اور خبردار رہے اور جہاں کہیں کسی دور میں بھی ایسی جسارت ہوئی اس کی بیخ کنی کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کرے۔ امت مسلمہ کی تاریخ ہمارے اس استنباط پہ شاہد ہے۔ اور اس طرح رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا غلبہ بالفعل آج تک قائم ہے اور انشاء اللہ رہے گا۔
زیر نظر کتاب ایسی ہی کاوش کی ایک خوبصورت تصویر ہے۔ جس طرح سرفروشان محمد ﷺ نے ہر دور میں اپنے خون سے شمع ختم نبوت کو روشن رکھا ہے اس طرح محترم محمد طاہر عبدالرزاق صاحب نے یہ مقدس فریضہ اپنے ذمہ لے رکھا ہے کہ وہ ان عشاق کی یادوں کو ہمارے دلوں میں تروتازہ رکھ کے گویا یاد نبی ﷺ اور محبت ختم نبوت کو زندہ رکھیں گے۔ الفاظ اپنے اندر بہر حال وہ وسعت نہیں رکھتے کہ جذبوں کے اس سمندر کو کما حقہ قرطاس پہ منتقل کرسکیں لیکن بہرحال کچھ نہ کچھ تو ضرور ہو ہی جاتا ہے اور اگر قلم طاہر کا ہو تو پھر تو بلاشبہ بہت کچھ منتقل ہو جاتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ تحفظ ختم نبوت کی ہر کاوش اللہ تعالیٰ کے قانون رسالت کا گویا ایک تسلسل ہے ہر مجاہد ہر شہید ہر عاشق اسی غیر مرئی نقرئی زنجیر کی گویا ایک کڑی ہے اور ان کے تذکرے کو محفوظ بنانے کی سعی و جہد بھی ایک دوسرے انداز میں اسی کا ایک حصہ اور جز ہے۔ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے غلبہ رسالت اور خاص طور پر ختم رسالت کا ایک قانون دائمی مقرر کر رکھا ہے اسی طرح وہ جو اس قانون کی تنفیذ میں کسی طریقے سے بھی کام آجاتے ہیں وہ بھی ایک طرح کا دوام پا جاتے ہیں اور کیا خبر ایسی کتابیں لکھنے اور پڑھنے والوں اور مجھ جیسے نکموں کو بھی کوئی حصہ مل جائے۔ اللہ کی رحمت واسعہ سے امید یہی ہے اور حضور ﷺ کے ارشاد کا مفہوم بھی غالباً یہی ہے کہ اللہ سے جو امید ہو وہ پوری کر دیتے ہیں اور اس سے جو خوف ہو دور کر دیتے ہیں۔ اللہم آمین
ڈاکٹر محمد صدیق شاہ بخاری حسن ٹاؤن، لاہور
قَالَ اللّٰهُ مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَّلٰكِنْ رَّسُوْلَ محمد باپ نہیں کسی کا تمہارے e of your men, but the al upon all the Prophets. اَنَا خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ میں "خاتم النبیین"
قال اللہ تعالیٰ فی القرآن المجید
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِيّٖنَ
محمد باپ نہیں کسی کا تمھارے مَردوں میں سے ، لیکن رسول ہے اللہ کا اور مُہر سب نبیوں پر
Muhammad is not the father of any one of your men, but the
Messenger of ALLAH (God) and the Seal upon all the Prophets.
قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَاٰلِهِ وَسَلَّم
اَنَا خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ
میں ”خاتم النبیین“ ہوں ، میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔
علامہ انور شاہ کشمیریؒ اور میاں شیر محمد شرقپوریؒ
ندوی نے اپنے رسالہ ”معارف“ میں لکھا کہ ”مرحوم کی مثال اس سمندر جیسی ہے جس کے اوپر کی سطح ساکن ہو لیکن گہرائی موتیوں سے لبریز ہو ۔“
میاں شیر محمد شرقپوری رحمۃ اللہ علیہ نے جب حضرت انور شاہ کا نام سنا اور ان کی شہرت سے آگاہ ہوئے تو دعا فرمایا کرتے کہ زندگی میں علامہ انور شاہ کی زیارت ہو جاتی۔ ایک بار یہ خبر سنی کہ حضرت انور شاہؒ تشریف لائے ہوئے تھے تو کار بھیج کر مدعو فرمایا۔ حضرت نے پہلے تو شرقپور روانگی میں عذر کیا لیکن مولانا احمد علیؒ کے اصرار پر شرقپور پہنچے تو حضرت میاں شیر محمد شرقپوریؒ بہت ہی خوش ہوئے اور حضرت انور شاہؒ کے سامنے دوزانو ہو کر تشریف فرما ہوئے اور لب کشا ہوئے کہ ”آپ نائب رسول اللہ ﷺ ہیں، میرا جی چاہتا ہے کہ میں آپ کے چہرہ پر انوار کو دیکھتا ہی رہوں ۔ حضرت شاہ جی خاموش سنتے رہے ۔ کہیں کہیں کچھ ارشاد بھی فرماتے رہے ۔ جب آپ رخصت ہونے لگے تو میاں شیر محمدؒ پختہ سڑک تک مشایعت کے لیے تشریف لائے پھر آپ کو الوداع کہنے کے بعد فرمایا کہ ”دیوبند میں چار نوری وجود ہیں ۔ ایک ان میں سے حضرت سید انور شاہؒ بھی ہیں ۔“
(روزنامہ پاکستان 21 ستمبر 2000 از قلم چوہدری اصغر علی کوثر وڑائچ)
خدا جانے بچھڑ کر ہم سے کس محور میں رہتے ہیں
(مؤلف)
”علامہ انور شاہ کشمیریؒ“ اور ”علامہ اقبالؒ“
اس زمانے میں پنجاب اور پورے برصغیر میں انگریزی تعلیم یافتہ طبقے میں قادیانی فتنے کی شر انگیزی اور اسلام کشی کا جو احساس پایا جاتا تھا اس میں بڑا دخل ڈاکٹر اقبالؒ کے اس لیکچر کا
تھا جو عقیدہ ختم نبوت پر تھا اور ساتھ ہی اقبالؒ کے اس انگریزی مقالہ کا بھی بڑا اثر تھا۔ جو قادیانیت کے خلاف شائع ہوا تھا۔ لیکن شاید یہ کم لوگوں کو معلوم ہو کہ ان دونوں تحریروں کا اصل باعث مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ ہی تھے۔
ایک مرتبہ انجمن خدام الدین کے سالانہ اجتماع میں شرکت کے لیے علامہ انور شاہ لاہور تشریف لائے تو ڈاکٹر اقبال ان سے ملاقات کے لیے خود ان کی قیام گاہ پر پہنچے پھر ایک شب انہیں اپنے ہاں کھانے پر بھی مدعو کیا۔ دعوت کا تو بہانہ ہی تھا۔ علامہ اقبالؒ کے پیش نظر اصل مقصد تو علامہ انور شاہ سے علمی استفادہ کرنا تھا۔ چنانچہ رات کے کھانے کے بعد ڈاکٹر اقبال نے عقیدہ ختم نبوت اور قتل مرتد کا مسئلہ چھیڑ دیا۔ جس میں اڑھائی گھنٹے تک گفتگو ہوتی رہی۔ ڈاکٹر اقبال کی عادت یہ تھی کہ جب وہ کسی اسلامی مسئلے پر کسی بڑے عالم سے گفتگو کرتے تھے تو بالکل ایک طالب علم کا انداز اختیار کر لیتے تھے۔ ہر زیر بحث مسئلے کے ایک ایک پہلو کو سامنے لاتے اور اس کے بارے میں اپنے شکوک و شبہات کو بے تکلفانہ بیان کرتے چلے جاتے تھے۔ چنانچہ علامہ انور شاہؒ کے ساتھ گفتگو میں بھی انہوں نے یہی انداز اختیار کیا۔ شاہ جی نے ان کے تمام شکوک و شبہات اور اعتراضات کو بڑے صبر و سکون کے ساتھ سنا اور اس کے بعد ایک ایسی جامع اور مدلل تقریر کی کہ ان دونوں مسائل کے بارے میں ڈاکٹر اقبال کو مکمل طور پر اطمینان ہو گیا اور ان مسائل کے بارے میں اگر کوئی خلش ان کے دل و دماغ میں تھی تو وہ جاتی رہی چنانچہ اس کے بعد انہوں نے عقیدہ ختم نبوت کے بارے میں وہ لیکچر تیار کیا جو ان کے چھ لیکچرز کے مجموعے میں شامل ہے۔ انہوں نے قادیانیت پر وہ حقیقت افروز مقالہ سپرد قلم کیا کہ جس نے انگریزی اخبارات میں شائع ہو کر پنجاب کی فضا میں تلاطم برپا کر دیا۔
علامہ اقبالؒ نے اس جلسے میں جو علامہ انور شاہؒ کی وفات کے بعد لاہور میں ہوا تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”اسلام کی ادھر کی پانچ سو سالہ تاریخ علامہ انور شاہؒ کی نظیر پیش کرنے سے عاجز ہے۔“
(روزنامہ پاکستان، 21 ستمبر 2000ء از چوہدری اصغر علی کوثر وڑائچ)
دیکھتے دیکھتے کیا کیا گل خنداں نہ رہے
(مؤلف)
بشارت
٢٣ / رمضان المبارک ١٣٧١ھ بعد از نماز صبح تقریباً سات بجے فاروقی مسجد کے حجرے میں سو رہا تھا کہ یکا یک خواب ہی میں یہ معلوم کر کے رونا شروع کیا (کہ میں سرکار مدینہﷺ کی مبارک مجلس میں ہوں ) کہ ”یا رسول اللہ فتنہ مرزائیت حد سے بڑھ گیا ہے۔ یا رسول اللہﷺ اس سے بچائیے۔“ سرورِ کائنات علیہ افضل الصلوات نے ارشاد فرمایا کہ ”رضيت بالله ربا و بالاسلام ديناً و بِمُحَمَّدٍ نبيا.“
پھر بیدار ہو گیا۔ ان ایام میں احقر کتاب ہذا کی ترتیب و تالیف میں مصروف تھا۔ اس خواب کی یہی تعبیر ذہن میں آئی کہ اس ناچیز تالیف پر ختم المرسلین کی نظر کرم ہے۔
علیک الصلوٰۃ اے نبیؐ والسلام
(فتنہ مرزائیت: از محمد امیر الزمان خان کشمیری فاضل دیوبند)
ربوہ اور سگریٹ
ربوہ کے تمام داخلی راستوں پر بڑے بڑے سائز کے بورڈ آویزاں تھے جن پر جلی حروف میں ”سگریٹ نوشی ممنوع ہے“ لکھا ہوا تھا۔ یہاں آنے والے اجنبی ان بورڈوں کو پڑھ کر اکثر سگریٹ پھینک دیتے یا جیبوں میں اچھی طرح چھپا دیا کرتے تھے۔ میں نے شہر میں پھرتے ہوئے دیکھا کہ ہر کریانے کی دکان پر نہ صرف سگریٹ فروخت ہوتے بلکہ چلتے پھرتے لوگ سگریٹ پیتے بھی نظر آتے تھے۔ جبکہ پان سگریٹ کے کئی کھوکھے بھی تھے۔ گول بازار میں پان سگریٹ کی سب سے بڑی دکان ”فہیم موٹے“ کی تھی۔ اس سلسلے میں لوگوں
سے پوچھا گیا کہ جب شہر میں سگریٹ نوشی م بتایا گیا کہ سرعام سگریٹ پینا منع ہے۔ گھروں بعد میں پتہ چلا یار لوگ پینے والی بہت سی چی تھی۔ جب سرعام سگریٹ پینے والوں کا جواب نہ مل سکا۔
ربوہ میں اردو کے ایک پروفیس مولوی احمد خان نسیم مرزائی مبلغ تھے جو پاک دیہاتیوں کو گھیر گھار کر مرزائی بناتے تھے۔ پیتے تھے۔ ان کے لیے شہر کا ایک مخصوص کرتا تھا۔ ڈاکٹر پروازی جامع احمدیہ کے کنارے چلتے ہوئے جب وہ تعلیم الاسلا ہوئے جاتے تھے جب کہ ایم ایم احمد کے تو کار میں آتے جاتے، کلاس پڑھاتے تھے۔ شہر میں سگریٹ نوشی کی جتنی ممانع مرزائیت کو میرا نارسا ذہن تو پہلے ہی ب ”مرزا غلام احمد“ کی نبوت کا فلسفہ مز مذہب ہے۔
سے پوچھا گیا کہ جب شہر میں سگریٹ نوشی ممنوع ہے تو یہاں سگریٹ کی دکانیں کیوں ہیں۔ بتایا گیا کہ سرعام سگریٹ پینا منع ہے۔ گھروں کے اندر سگریٹ ، حقہ اور بیڑی پی جاسکتی ہے۔ بعد میں پتہ چلا یار لوگ پینے والی بہت سی چیزیں چھپ کر پی لیں تو ان پر کوئی گرفت نہیں ہوتی تھی۔ جب سرعام سگریٹ پینے والوں کا ذکر کیا گیا تو ایک شرمندہ سے تبسم کے علاوہ کوئی جواب نہ مل سکا۔
ربوہ میں اردو کے ایک پروفیسر ڈاکٹر ناصر احمد پرویز پروازی تھے جن کے والد مولوی احمد خان نسیم مرزائی مبلغ تھے جو پاکستان بھر کے دیہات کے دورے کر کے سادہ لوح دیہاتیوں کو گھیر گھار کر مرزائی بناتے تھے۔ ڈاکٹر ناصر احمد پرویز پروازی ”قینچی“ کے سگریٹ پیتے تھے۔ ان کے لیے شہر کا ایک مخصوص دکان دار خصوصی طور پر اس برانڈ کے سگریٹ منگوایا کرتا تھا۔ ڈاکٹر پروازی جامع احمدیہ کے کوارٹروں میں رہتے تھے۔ ریلوے لائن کے کنارے کنارے چلتے ہوئے جب وہ تعلیم الاسلام کالج پڑھانے جاتے تو کھلے عام سگریٹ پیتے ہوئے جاتے تھے جب کہ ایم ایم احمد کے بھائی ہسٹری کے پروفیسر مرزا مجید عرف میاں موجی تو کار میں آتے جاتے ، کلاس پڑھاتے وقت اور سرعام بھی ”پائپ“ منہ میں ٹھونسے رکھتے تھے۔ شہر میں سگریٹ نوشی کی جتنی ممانعت تھی، اتنی زیادہ سگریٹ کی فروخت ہوتی تھی۔ مرزائیت کو میرا نارسا ذہن تو پہلے ہی سمجھتا تھا، مگر سگریٹ نوشی کے متعلق ان کی دورنگی نے ”مرزا غلام احمد“ کی نبوت کا فلسفہ مزید واضح کردیا کہ مرزائیت منافقت آگیں اور دو نمبر مذہب ہے۔
(احمقوں کی جنت۔ ص ٣٣-٣٤ مصنف جی آر اعوان)
میانوالی کا گمنام سپوت
حافظ محمد احمد
میانوالی کے مردم خیز خطہ کے علماء و فضلاء کے کارہائے نمایاں اگرچہ بہت ہیں۔ مگر منظر عام پر بہت کم آئے ہیں ذیل کا ایک یادگار واقعہ جس کے کردار مولانا حافظ محمد احمد مرحوم ہیں۔ پیش کیا جاتا ہے۔
نام محمد احمد ابن یار محمد شہر میانوالی سے مغرب میں واقع کچے کے گاؤں گلوگارہ میں ایک غریب اور علم کی روشنی سے محروم گھرانے کے چشم و چراغ تھے۔ مگر قدرت نے زیور علم سے آراستہ و پیراستہ کیا۔ اور والدین کا نام روشن کیا قدرت نے آپ کو علم و فضل سے نوازا۔ صبر و شکر، توکل و استغناء، ہمت و جرأت جیسی اوصاف کا پیکر بنایا۔ عمر عزیز کا بیشتر وقت اگرچہ تعلیم و تعلم میں گزارا، مگر وطن عزیز کی تحریکوں سے بے نیاز نہیں تھے۔ مجاہد تھے اور مجاہدوں کے قدر دان سید عطاء اللہ شاہ بخاری مرحوم کے عقیدت کیش تھے۔
اس عقیدت کو عمر بھر نبھایا اصول پسند اور دینی جذبہ سے سرشار تھے۔ حب رسول اور عشق مصطفیٰ ﷺ کی شمع دل میں فروزاں تھی۔ آنکھوں سے نابینا مگر دل کے بینا تھے ناموس رسالت کی خاطر قید و بند تک پہنچے۔ جب بات دین کی ہو اور مسلمان پیچھے ہٹ جائے ناممکن ہے۔ اس میں بینا و نابینا عالم و جاہل اور معذور و مجبور کی بات اور تمیز نہیں۔ ہوتی۔ ہر فرد بشر اپنا وقت اور اپنی جان و مال پیش کرنے میں سعادت سمجھتا ہے۔ حافظ صاحب مرحوم مدرسہ قاسم العلوم بلوخیل میں استاد رہے۔ اس واقعے کا تعلق 1953ء کی تحریک ختم نبوت سے ہے۔
(راقم الحروف ان دنوں مدرسہ کا طالب علم تھا۔ اور اس واقعہ میں حافظ صاحب مرحوم کے ہمراہ اس سفر میں رفیق سفر تھا۔)
تحریک ختم نبوت 1953ء میں دوسرے اضلاع کی طرح میانوالی میں بھی رواں دواں تھی۔ حکومت بزعم خویش ایک فریق تھی دوسرا فریق عوام سر ہتھیلیوں پر رکھ کر اور کفن سروں
پر باندھے ناموس رسالت پر قربان ہونے کے لیے بے قرار تھا جلسے اور جلوسوں کا بازار گرم تھا۔ عوامی رجحانات کہیں بہت تیز کہیں دھیمے، کسی شہر میں تحریک کی آندھیاں طوفان خیز تھیں۔ کہیں ہوش پر جوش غالب تھا کہیں جوش پر ہوش کی حکمرانی تھی۔ جہاں سے خبر ملتی کہ اس جگہ ذرا اور تیزی کی ضرورت ہے تو گرفتاریوں کی رفتار وہاں سے تیز کر دی جاتی۔
اسی اثنا میں حافظ صاحب مرحوم کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے۔ کیونکہ پکڑ دھکڑ اور شور وشغب سے حکومت اس تحریک کو ٹھنڈا رکھنا چاہتی تھی۔ فیصلہ ہوا۔ کہ گرفتار ہونا ہی ہے۔ تو وہاں سے گرفتاری پیش کی جائے۔ جس کے سبب حکومت کے لیے ضرب کاری ہو۔ تاکہ یہ گرفتاری لامتناہی گرفتاریوں کا پیش خیمہ ثابت ہو۔ لہٰذا بھکر میں جلسہ عام سے خطاب کرنے کے بعد عوام الناس کے سامنے ایک نابینا عالم دین اپنے آپ کو گرفتاری کے لئے پیش کرے گا۔ تو جذبہ زیادہ فزوں ہوگا (راقم کو بتایا گیا) دوپہر کا وقت تھا۔ کہ استاد محترم حافظ محمد احمد ایک ضروری معاملہ کے لیے بلا رہے ہیں۔ پتہ چلا پولیس کے آدمی گرفتار کرنے کے لیے مدرسہ میں ایک دو چکر لگا چکے ہیں۔ لہٰذا مدرسہ کی چار دیواری سے باہر جانا چاہتے ہیں مدرسہ سے نکل کر مغرب کی طرف چلے گئے۔ اور حقیقت حال کی وضاحت کے بعد حکیم عبدالرحیم خان کے پاس غیر معروف راستہ کاٹ کر پہنچے۔ حکیم صاحب کو بتایا گیا۔ کہ اہم مشن پر ہوں۔ عشق مصطفیٰ ﷺ کے صدقے قید و بند کی راہیں کھل گئی ہیں لہٰذا گرفتاری سے پہلے بھکر پہنچنا ضروری ہے۔ شام کے بعد ہم عید گاہ میانوالی کے پاس سے گزر کر مدرسہ
بلوخیل پہنچے۔ اور پھر جنوب کی جانب مخدوم حاجی صاحب کے مزار کی طرف چل پڑے۔ شاید پولیس تاک میں تھی۔ چند منٹ بعد وہاں پولیس پہنچی۔ مگر ناکام ہوئے پولیس والے حیران تھے۔ شہر کے راستوں پر ناکہ بندی تھی۔ اسٹیشن اور اڈوں پر سی آئی اے سٹاف متعین تھا۔ وہ گئے تو کہاں، نابینا شخص جو تنہا سفر نہیں کر سکتا معذوری کے سبب اکٹھے دو آدمی تو ہوں گے۔
حافظ صاحب کا ارادہ کندیاں پیدل جانے کا تھا فاصلہ اگرچہ زیادہ تھا۔ مگر جذبہ جواں تھا جب جذبہ بیدار ہو جائے اور انسان فیصلہ کر لے نصرت ایزدی شامل حال ہوتی ہے۔ پولیس میانوالی میں سرگرداں رہی حافظ صاحب کندیاں پہنچے اور صبح گاڑی پکڑ کر ”دریا خان“ جا
پہنچے۔ مجلس عمل کی ہدایت یہی تھی۔ کندیاں سے آگے پہنچانے کا پروگرام ان کا اپنا تھا۔ راقم الحروف کندیاں سے میانوالی آیا اور ذمہ دار حضرات کو صورت حال سے آگاہ کیا۔
ادھر تیسرے دن ایک طالب علم نئی ہدایات لیکر جا رہا تھا۔ کہ حافظ صاحب بھکر کل کس وقت پہنچیں اور جلسہ عام سے خطاب کریں۔ پولیس کا سپاہی اس گاڑی میں نامعلوم کب سوار ہوا۔ شاید راز آؤٹ ہو چکا تھا۔ گاڑیوں بسوں ہر جگہ موضوع بحث گرفتاریاں اور تحریک تھی۔ کسی طرح پولیس کے سپاہی کو حافظ مرحوم کے ”لنڈی بستی“ میں رہنے کا علم ہوا۔ پولیس وہاں پہنچی اور تحریک کی رگوں میں خون دوڑانے والا، جذبوں کو فروزاں کرنے اور مہمیز دینے والا تو مقصد میں کامیاب ہوا۔ مگر وہ مشن جس کے لیے انہوں نے اتنی تگ و دو کی۔ پیدل چلے، رات سفر میں کاٹی ناکام ہو گیا کیونکہ پولیس نے وہاں سے گرفتار کر لیا تھا۔ میانوالی جب آئے۔ تو سی۔ آئی سٹاف کے ایک افسر شاید ان کا نام اکرم الحق یا انعام الحق۔ انہوں نے نابینا عالم کو دیکھا۔ تو وہ عملہ کو سخت سست کہتے رہتے۔ مگر دوسری طرف فرض کی پکار کے ساتھ ساتھ انسانی ہمدردی کا جذبہ اور عالموں کی اس قربانی پر وہ حیران و ششدر رہ گیا۔ حافظ مرحوم کو بعد میں بتایا گیا تھا۔ کہ وہ یہ وعدہ ضرور کرتا رہا۔ کہ میں انہیں جلد از جلد رہا کرواؤں گا۔ قیامت کے دن میرے اعمال نامہ میں جب ایسے عالم و فقیہ کی گرفتاری کا حکم بارگاہ ایزدی میں میرے سامنے ہوگا۔ تو میرا کیا جواب ہوگا۔ میں یہ سوچ کر لرزہ براندام ہوتا ہوں۔
حافظ صاحب نے اس دوران قید و بند کے مراحل طے کیے۔ اور پھر رہائی کی پالیسی کے بعد رہا ہوئے جیل کے دنوں کی روئیداد کبھی کبھار بڑے مزے سے سناتے تھے۔
اتفاق ملاحظہ ہو۔ جب انہیں موت آئی تو اسی ”بستی لنڈی“ میں وہ ان دنوں اس بستی کے مدرسہ میں مقیم تھے دل کے مریض تو تھے ہی۔ مگر کسے معلوم ہوتا ہے کہ وقت کب آتا ہے۔ وہاں ہی دل کا دورہ پڑا ١٩ اکتوبر ١٩٥٩ء میں وہاں جان جان آفریں کے سپرد کی میت میانوالی لائی گئی۔ ہر مکتب فکر کے علماء انہیں خراج عقیدت پیش کرنے آئے ان کی قبر آج بلوخیل روڈ پر ”بن“ سلطان زکری مرحوم کے غربی کنارے موجود ہے۔ کبھی کبھار شاگرد اور سابق احباب گذرتے ہوئے چند ساعتیں اس مرد مجاہد کے پاس ٹھہرتے ہیں۔ مغفرت کے لیے ہاتھ
اٹھاتے ہیں جن کی زندگی کا مقصد رضائے الٰہی ہو۔ ان کے کارنامے تشہیر کے اگرچہ محتاج نہیں ہوتے مگر پھر بھی ان جذبوں اور قربانیوں سے دوسرے کچھ سبق حاصل کرتے ہیں۔ یہی جذبہ اس لکھنے کا سبب ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت جلد ٦ شمارہ ٣٥ فروری ١٩٨٦ء از قلم عبدالحق موسیٰ خیل)
جب میں نے بددیانتی اور غبن کی نشاندہی کی تو مجھے
ربوہ سے نکلوا دیا۔ ایک سابق قادیانی کی آپ بیتی
چند ماہ قبل ایک دوست کی وساطت سے ہفت روزہ ختم نبوت کے مطالعہ کا موقع ملا پھر تو ایسی چاٹ پڑی ہے کہ ہر ہفتہ اس کا انتظار رہتا ہے۔
راقم الحروف ایک زمانہ میں شامت اعمال سے قادیانیت کے جال میں پھنس گیا تھا اور اپنی اچھی خاصی نوکری چھوڑ کر ربوہ میں احمدیہ بک ڈپو کا انچارج لگ گیا۔ میرے دماغ میں ربوہ کا بڑا مقدس تصور تھا میں نے وہاں کے دفتروں میں ایسی ہیرا پھیری اور بدکرداری دیکھی کہ خدا کی پناہ بک ڈپو کا ڈائریکٹر، نور الحق منیر نہایت بددیانت تھا۔ کتابوں کی اشاعت و فروخت میں بہت مال غبن کر جاتا تھا۔ حساب کتاب میں بڑی گڑ بڑ تھی۔ میں نے جب آنجہانی خلیفہ ثالث کو رپورٹ کی تو الٹے لینے کے دینے پڑ گئے۔
نورالحق منیر خلیفہ کے بڑا منہ چڑھا ہوا تھا۔ اس نے مجھے ہی ربوہ سے نکلوا دیا۔ خیر اس میں اللہ کی مصلحت تھی۔ کہ اس منحوس جال سے پیچھا چھوٹا۔
آپ سے عرض ہے کہ جو لوگ کسی زمانے میں قادیانیت سے متاثر رہے اور پھر ان پر اس کی قلعی کھل گئی۔ ان سے درخواست کریں کہ مفصل روائیداد اشاعت کے لیے بھیجیں۔ دراصل سیدھے سادے مسلمان نبوت حیات مسیح اور دیگر علمی مباحث میں الجھ گئے نیز قادیانیوں کے کاروباری اخلاق سے متاثر ہو کر قادیانیت کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔
حالانکہ اگر سابق قادیانیوں کی روئیدادیں مرزا محمدی بیگم جیسے قصے مخاطب کے لیے خلاف تہذیب کلمات کا استعمال بشیر الدین محمود کی بدچلنی کی کہانیاں، باغی قادیانیوں کے قتل ان کے بیوی بچوں سے بدسلوکیاں ظلم و تعدی ربوہ اور قادیان کے گھروں سے اخراج کے واقعات کثرت سے شائع کیے جائیں تو امۃ المسلمین قادیانیوں کے تبلیغی مباحث کے جال میں پڑنے کی بجائے سیدھا ان سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے مرزا کے لچھن نعوذ باللہ نبیوں والے تھے۔ اسی طرح کیا بشیر الدین محمود ناصر اور طاہر مرزا کی بدچلنیاں فحاشی، قتل و غارت ظلم و ستم کی نعوذ باللہ خلفائے راشدین کے بلند کردار سے کوئی نسبت ہے۔ راقم: محمد اسماعیل بھاگا پوری کراچی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی۔ جلد ٥ شمارہ ٣ بابت جون ١٩٨٦ء از قلم محمد اسماعیل کراچی)
شاہ جی کی خطابت
آپ نے حضرت امیر شریعت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ راولپنڈی میں جلسہ تھا۔ انسانوں کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ شاہ جی کی تقریر جوبن پر تھی۔ ایک انگریز نے فوٹو لیا اور کہا کہ اقوام عالم کی زبانیں جانتا ہوتا تو دنیا کا واحد خطیب ہوتا۔
(خطاب: مولانا عبدالرحمن میانویؒ)
آنکھوں میں چمک آجاتی ہے دل ہے کہ دھڑکتا ہوتا ہے
(مؤلف)
حشر کے میدان میں پتہ چلے گا۔
میرے محترم بزرگو! اور بھائیو ........! خاتم الانبیاء کی تفسیر کا پتہ میدان محشر میں چلے گا......! جب پیغمبر آخر الزمان حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے سوائے کسی پیغمبر سے شفاعت کا حاصل ہونا ناممکن ہوگا۔
خدا کے لیے کچھ سوچو ....................! اپنا رشتہ کس ہستی سے توڑ کر کس کے ساتھ جوڑ رہے ہو۔
(خطاب۔ مولانا محمد عبداللہ درخواستی)
مگر یہ رنج رہے گا کہ زندگی کم ہے
(مؤلف)
تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء میں مولانا سرفراز خان صفدر
کی جیل میں مصروفیات
راقم اثیم تحریک ختم نبوت کے دور میں پہلے گوجرانوالہ جیل میں پھر نیو سنٹرل جیل ملتان میں کمرہ نمبر ١٤ میں مقید رہا۔ ہماری بارک نمبر ٦ دو منزلہ تھی اور اس میں چار اضلاع کے قیدی تھے اور سبھی ہی علماء طلباء تاجر اور پڑھے لکھے لوگ تھے جو دیندار تھے۔ اضلاع یہ ہیں ضلع گوجرانوالہ، ضلع سیالکوٹ، ضلع سرگودھا اور ضلع کیمبل پور (فی الحال ضلع اٹک) بحمد اللہ تعالیٰ جیل میں بھی پڑھنے پڑھانے کا سلسلہ جاری تھا۔ راقم اثیم قرآن کریم کا ترجمہ، موطا امام مالک، شرح نخبۃ الفکر اور حجۃ اللہ البالغہ وغیرہ کتابیں پڑھاتا رہا۔ دیگر حضرات علماء کرام بھی اپنے اپنے ذوق کے اسباق پڑھتے پڑھاتے رہے۔ آخر میں راقم اثیم کمرہ میں اکیلا رہتا تھا کیونکہ باقی ساتھی رہا ہو چکے تھے اور میں قدرے بڑا مجرم تھا۔ تقریباً دس ماہ جیل میں رہا اور ڈاکٹر غلام جیلانی صاحب برق کی تردید میں بجواب دو اسلام صرف ایک اسلام وہاں ملتان جیل ہی میں
راقم اثیم نے لکھی تھی۔
(توضیح المرام فی نزول المسیح علیہ السلام ص ١٢۔١٣ از مولانا محمد سرفراز خان صفدر)
آباد ہمیں سے ہیں نشیمن بھی قفس بھی
(مؤلف)
ظفر اللہ قادیانی کا جلسہ درہم برہم ہوگیا
مجھے یاد ہے۔ جب میں دارالعلوم میں بالکل ابتدائی کتابیں پڑھتا تھا عربی صرف و نحو کی کتابیں پڑھتا تھا تو ہمارے ایک استاد تھے حضرت مولانا امیر الزماں کشمیری صاحبؒ آزاد کشمیر کے تھے ابھی ان کا انتقال ہوا۔ تو ان کی نئی نئی شادی ہوئی نئی نویلی دلہن گھر میں تھی کہ انہی دنوں میں قادیانیوں نے ایک بڑی کانفرنس کراچی میں منعقد کی جہانگیر پارک اس زمانے میں کراچی کا مشہور باغ تھا اس زمانے میں بڑے بڑے جلسے وہیں ہوتے تھے اب تو نشتر پارک میں ہوتے ہیں جہانگیر پارک ہمارے گھر سے تقریباً ڈیڑھ میل کے فاصلے پر تھا مغرب کے بعد قادیانیوں کا جلسہ شروع ہونے والا تھا تو ہمارے استاد گھر پر تشریف لائے والد صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے والد صاحب کے وہ شاگرد تھے تو اپنا کچھ زیور کچھ نقدی کچھ امانتیں کچھ وصیت نامہ یہ سب لکھ کر (فہرست بنا کر) والد صاحب کی خدمت میں پیش کیا کہ حضرت میں تو اب جا رہا ہوں اس جلسہ گاہ میں۔ یا تو اس جلسے کو روکنے میں کامیاب ہو جاؤں گا ورنہ میں شہید ہو جاؤں گا اور یہ امانت آپ کی خدمت میں ہے میرے گھر پر میری بیوی ہے میرا کوئی بچہ نہیں ہے امید ہے کہ آپ دیکھ بھال کریں گے وہ بندۂ خدا تو والد صاحب کے پاس امانت اور وصیت رکھوا کر چلے گئے میں اس وقت موجود نہیں تھا میں آیا تو پتہ چلا کہ ہمارے استاد چلے گئے ہیں تو میں نے حضرت والد صاحبؒ سے اجازت چاہی کہ حضرت مجھے بھی اجازت دیجئے میں اور میرے بھائی مولانا ولی رازی صاحب اور ایک میرے پھوپھی
زاد بھائی تھے ہم چلے راستے میں بڑے زبردست پہرے تھے داڑھی والوں کو جلسے کے پاس تک نہیں جانے دے رہے تھے مگر میری داڑھی تو ابھی نکلنی ہی شروع ہوئی تھی اس وجہ سے ہمیں پہنچنے کا موقع مل گیا وہاں پہنچ کر کیا دیکھا وہ جلسہ کیا تھا جیسے جیل کے اندر کوئی تقریر کر رہا ہو کیونکہ سارے مسلمانوں نے اس جلسے کا گھیراؤ کر رکھا تھا کوئی قادیانی باہر نہیں نکل سکتا تھا اندر جانے کے لیے بڑے فوجی پہرے تھے جس کے ذریعہ سے وہ اندر جاتے تھے۔
لیکن انہوں نے لاؤڈ اسپیکر باہر دور تک لگائے ہوئے تھے تو ہم کوئی اور کام تو کر نہیں سکتے تھے دو کام ہم نے کئے کہ ان کھمبوں کو اکھاڑنا شروع کیا جن پر لاؤڈ اسپیکر لگے ہوئے تھے اور ان کی بتیوں کو ہم نے پتھروں سے مار مار کر توڑنا شروع کیا اور کچھ لوگوں کو جمع کر کے کچھ تقریر شروع کر دی کسی نے یہاں تقریر شروع کر دی میں نے وہاں شروع کر دی اس نے وہاں شروع کر دی تو وہاں تقریر ایک ہونی تھی یہاں تو بیس تقریریں ہو رہی تھیں خیر تھوڑی دیر میں پولیس آ گئی جلسہ درہم برہم ہو گیا کیونکہ ان کے لاؤڈ اسپیکر کا سارا نظام درہم برہم ہو گیا وہاں بھگدڑ مچی تو پولیس نے آ کر ہمیں گھیر لیا پھر لاٹھی چارج کیا بڑی مشکل سے جان بچائی مگر پھر الحمدللہ جلسہ کراچی میں قادیانیوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا اور پھر اس کے بعد ان کا کوئی جلسہ کراچی میں نہ ہوسکا۔
(خطاب: مفتی محمد رفیع عثمانی)
نبوت محمدی ﷺ کا آفتاب
جب آفتاب جہانتاب طلوع ہونے کو ہوتا ہے، چراغ سحری کی طرح ٹمٹماتے ستاروں کو پیغام دے دیا جاتا ہے۔ کہ اب تمہارا دور ختم ہو چکا ہے اب افق مشرق پر آفتاب کا نمود ہے۔
جب رحمۃ للعالمین کا آفتاب عالمتاب طلوع ہو گیا تو اب ننھے ستاروں پھڑپھڑاتے چراغوں، ٹمٹماتی شمعوں کی ضرورت نہیں۔ اب ایسا آفتاب نکل چکا ہے۔ جس نے عرش سے
فرش تک مشرق سے غرب تک تمام کائنات کو نور سے بھر دیا ہے۔ اس کی موجودگی میں اگر کوئی مٹی کا دیا جلائے۔ موم کی شمع بھڑکائے تیل کا چراغ روشن کرے تو کیا ؟۔ اور محمد ﷺ عربی ﷺ کے ہوتے ہوئے مرزا غلام احمد قادیانی نبوت کا دعویٰ کرے تو کیسا ؟
(خطاب: صاحبزادہ سید فیض الحسن شاہ صاحب)
جب تک جان باقی ہے
پھانسی کے تختوں پر گولیوں کی بوچھاڑ میں ہتھکڑیوں کی جھنکار میں جیلوں کی تنگ و تاریک کوٹھڑیوں میں جب تک جان میں جان باقی ہے اور منہ میں زبان ہے یہی مطالبہ کیے جائیں گے کہ مرزائیوں کو اقلیت قرار دو اور ظفر اللہ کو وزارت سے اتار دو۔
(خطاب: صاحبزادہ سید فیض الحسن شاہ صاحب)
جو تیرے عشق کو کونین کا حاصل سمجھتے ہیں
(مؤلف)
ہم کیوں برداشت کریں؟
اگر امریکہ میں ابراہیم لنکن کی توہین کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اگر روس میں اسٹالن کی توہین کی اجازت نہیں دی جاسکتی اگر انگلستان میں شاہ جارج کی توہین کی اجازت نہیں دی جاسکتی تو پاکستان میں کملی والے کی توہین کی اجازت کیوں دی جا رہی ہے؟ دنیا کے کسی ملک میں کسی خطہ میں کوئی اپنے قائد، اپنے امام، اپنے مقتداء، اپنے رہنما کی تذلیل برداشت نہیں کر سکتا تو ہم محمد عربی ﷺ کی تذلیل ہوتے دیکھ کر کیوں کر برداشت کرلیں؟
(خطاب: صاحبزادہ سید فیض الحسن شاہ صاحب)
یہ فتنہ آخر دور ہوگا قتل زندیق سے
(مؤلف)
علامہ انور شاہ کشمیریؒ کا سراپا!
علامہ انور شاہ کشمیریؒ! جسم، نور کی چادر میں لپٹا ہوا۔ چہرہ مہتابی، چودھویں رات کا چاند۔ رنگ خوب کھلا ہوا گورا، چاندی کی چاندنی میں دھلا ہوا۔ بزرگوں سے سنا جوانی میں سیب کی طرح سرخ تھے ادھیڑ عمر میں رنگ ہلکا سنہرا زعفرانی تھا، بڑھاپے میں سپیدی پر زردی سی چھائی رہتی تھی وصال سے پہلے زردی ہی زردی تھی۔
پیشانی شاہی مسجد دہلی کی محراب کی طرح وسیع اور بلند تھی۔ آنکھیں معصوم اور کسی قدر مغموم! نہ بڑی نہ چھوٹی، اکثر اوقات رکوع میں رہتیں جب قیام کے لیے اٹھتیں تو نور یقین کی چمک سے چاندی سی پھیل جاتی جب درس میں روایت حدیث کے ساتھ درایت کار فرما ہوتی اور محسوس ہوتا کہ آپ مقام اجتہاد سے بہت قریب ہیں تو آواز میں بلندی اور نگاہوں میں تیزی پیدا ہو جاتی اور شاگرد اس کی تپش اپنے سینوں میں محسوس کرتے۔ خاص طور پر اس وقت جب مذاہب اربعہ کے بیان کے بعد امام ابن تیمیہؒ سے مخاطب ہوتے اور مسلک جمہور کو ترجیح دیتے! سننے والے چند منٹ میں کئی مقامات طے کر لیتے۔ اہل علم خود اندازہ فرما سکتے ہیں کہ سننے والوں کا کیا عالم ہوگا۔
حضرت شاہ صاحبؒ کبھی آسمان کی طرف دیکھتے اور کبھی شاگردوں کی طرف خاص شان سے فرماتے کہ!۔
”میں امام بخاریؒ کے قدموں میں بیٹھ کر بات کرتا ہوں اور امام ابن تیمیہؒ سے سر اٹھا کر بات کرتا ہوں۔“
اس جملہ کو کئی پہلو سے ادا کرتے اور ہم لوگ ہونٹوں کے اتار چڑھاؤ سے اندازہ کرتے کہ آج بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے۔
حضرت کے ہونٹ گداز تھے۔ خاموشی میں محبوبیت کی شان تھی۔ بولنے میں محبوبیت کی یہ شان اور دوبالا ہو جاتی۔ جب بات میں ابلاغ کی شان ہوتی تو شاگردوں کو پیار سے ”جاہلین“ کہہ کر خطاب کرتے۔ مگر کسی فرد کو کبھی جاہل نہ کہتے۔ قابل اور ذی استعداد طلبہ
کو ”صاحب سواد“ کہتے قابل اور صاحب سواد طلبہ یہ تھے۔ ادریس کاندھلوی، بدر عالم میرٹھی، محمد صدیق نجیب آبادی۔ مناظر احسن گیلانی، محمد یوسف شاہ میر واعظ کشمیری، محمد شفیع دیوبندی، ابوالوفا شاہجہاں پوری، محمد طیب قاسمی، عتیق الرحمن عثمانی، سید میرک شاہ کشمیری، لطف اللہ پشاوری، احمد اشرف راندیری، فصیح الدین بہاری، انوار الحسن شیرکوٹی، سید محمد یوسف بنوری اور سعید احمد اکبر آبادی، زین العابدین میرٹھی اور حبیب الرحمن مکی۔
ہر دورۂ حدیث کے صاحب سواد طلبہ الگ ہوتے میرا حال سب سے الگ تھا نہ صاحب سواد تھا نہ جاہلین میں سے! ہمیشہ نظر خاص سے فیضیاب رہا۔ دل ہی دل میں اکثر حضرت الاستاذ سے مخاطب ہوتا اور کہتا:۔
مری عاشقی بھی کوئی چیز ہے
آپ بھولے نہ ہونگے میں سراپا لکھ رہا ہوں بات چہرہ سے ہونٹوں تک اور حسن سے حسن کلام تک پہنچی ہے۔ اب آواز پر آئیے۔
آواز میں ترنم تھا اور ترنم میں گنگناہٹ تھی جس سے آہنگ میں دل کشی کے ساتھ شان امتیاز پیدا ہو جاتی۔ اور آواز اپنی عالمانہ خصوصیات کے ساتھ الگ پہچانی جاتی۔ شعر پڑھتے تو آواز کئی بلندیوں اور وادیوں سے گزرتی کئی موڑ لیتی اور آخر میں نون غنہ لہراتا اور سننے والوں کو اس لب و لہجہ پر بے اختیار پیار آتا۔
اب قد و قامت کا تصور فرمائیے۔ قد سرو تھا نہ صنوبر نہ بڑا نہ چھوٹا بلکہ کھنچتا ہوا درمیانہ، تن بدن نہ اکہرا نہ دوہرا بلکہ موزوں اور متناسب، سراپا میں عظمت و وقار، روحانیت کا حسن اور شخصیت کا جلال، چلتے تو راستہ بن جاتا نظر اٹھتی تو ہجوم کے دو ٹکڑے ہو جاتے اور صراطِ مستقیم تیار ہو جاتی اور حضرت الاستاذ اپنے خاص شاگردوں کے ساتھ گزر جاتے۔
چال بہت ہی ہلکی قدم بہت نرم نرم اور بے حد نازک اتنے نرم کہ چیونٹی قدموں کے نیچے آجائے تو درود پڑھتی ہوئی اپنی راہ چلی جائے۔ جب چلتے تو نظریں نیچی رہتیں کبھی کبھی نظر اٹھا کر سامنے دیکھتے۔ راستے میں بات کرنے اور ادھر اُدھر دیکھنے کی عادت نہ تھی۔ چلتے ہوئے نظر کے ساتھ کمر ہلکی سی جھکی رہتی اس طرح قدم اٹھاتے جیسے پستی سے بلندی کی طرف جارہے ہوں۔ درسگاہ سے قیام گاہ یا مسجد جاتے دونوں طرف شاگردوں کا صحیح معنی میں
عاشقوں کا ہجوم ہوتا دل چاہتا حضرت الاستاذ ہمارے سامنے سے گذرتے رہیں اور ہم عمر بھر دیکھتے رہیں۔
لباس! تن زیب ایسا کہ اب تک دیکھا نہ سنا سر سے پاؤں تک سبز حلہ، سر پر سبز رومال، بدن پر سبز رنگ کا چوغا قدموں کو چومتا ہوا ایسا معلوم ہوتا کہ جنت کے سبزہ زار سے کوئی فرشتہ زمین پر اتر آیا۔ لباس کا سبز رنگ گہرا نہ تھا بلکہ کھلتا ہوا۔ تصوف کے سات رنگ مشہور ہیں ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ ساتوں رنگ ایک ذات اور ایک رنگ میں سمٹ آئے ہیں جیسے کشمیر کی ساری بہار ایک سراپا میں تحلیل ہوگئی ہے سچ یہ ہے کہ کشمیر کی طرح آپ بھی جنت نظیر تھے۔
خوش قسمت ہیں وہ لوگ جنہوں نے علامہ انور شاہ کو دیکھا۔ ان سے فیض پایا ان سے درس حدیث حاصل کیا ان کے فیضان علم سے علم وتحقیق کو جلا دی۔ ان کی صحبت سے مستفید ہوئے اور ان کی مشعل علم سے روشنی حاصل کر کے دنیا کی سرحدوں تک، ڈاکر سے لیکر قازان روس اور سائبیریا تک علوم وفنون کا نور لیکر پہنچے حق یہ ہے کہ جن اہل علم اور اصحاب کمال کو اس عجوبہ عالم شخصیت سے تعلق رہا انہیں ہفت عجائبات عالم کو دیکھنے کی نہ فرصت ملی نہ کبھی تمنا ہوئی۔
(ماہنامہ دارالعلوم ستمبر ١٩٨٠ء: از مولانا حامد الانصاری غازی)
ربوہ کی ورائٹی
”رحمت بازار غلہ منڈی“ میں لاہور ہاؤس، شاہد کلاتھ ہاؤس، بھٹی چیپ سٹور، سلیم ورائٹی ہاؤس، نعیم کیپ ہاؤس اور دارالخیر جنرل سٹور بہت مشہور دکانیں تھیں۔ دکاندار تو سارے ہی مرزائی اور اپنے ”نبی“ کی طرح بڑے طرار تھے لیکن شاہد کلاتھ ہاؤس اور دارالخیر جنرل سٹور والے سب پر بازی لے گئے تھے۔ یہ دونوں ہاتھوں سے لوٹتے بھی تھے اور ان کی دکانوں میں حوروں کی بھیڑ بھی لگی رہتی تھی۔ بتانے والے بتاتے ہیں کہ دارالخیر جنرل سٹور کے مالک امین کی بیوی معمولی شکل وصورت کی خاتون تھی۔ اس کے ایک دوست نے اس کی توجہ
اس جانب مبذول کرائی تو امین نے بے نیازی سے کہا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ شہر کی ہر ماہ جبین تو میری جیب اور دکان پر ہوتی ہے۔
(احمقوں کی جنت ص ٣٥-٣٤۔ مصنف جی آراعوان)
مولانا بنوریؒ کا قادیانیوں سے ایک معرکہ
جمعیت العلمائے سرحد سے تعلق کے زمانے میں ہمیں محسوس ہوا کہ پشاور میں قادیانی اپنے پاؤں پھیلا رہے ہیں، اور دین سے ناواقف طبقہ کو گمراہ کر رہے ہیں، پشاور کا ایک قادیانی مسمی غلام حسین، جو قرآن کریم کی قادیانی تفسیر (یا بلفظ صحیح تحریف) بھی لکھ چکا تھا، وہ پشاور میں صبح کو درس قرآن دیتا تھا، نوجوان وکلاء اور کالجوں کے ناپختہ ذہن طالب علم اس میں شریک ہوا کرتے تھے، پشاور کا مشہور لیڈر، جو بعد میں مسلم لیگ اور پاکستان کا بڑا رہنما بنا (سردار عبدالرب نشتر) وہ بھی ان کے درس میں شریک ہوتا تھا۔ پشاور کے اسلامیہ کالج کا وائس پرنسپل تیمور مرزا بشیر الدین قادیانی کا رشتہ دار تھا، صاحبزادہ عبدالقیوم بانی اسلامیہ کالج کا چچازاد بھائی عبداللطیف قادیانی، صوبہ سرحد کی قادیانی جماعت کا امیر تھا۔ قادیانی سال میں ایک دفعہ ”یوم النبیؐ“ کے نام سے ایک بڑا جلسہ کرتے تھے، جس میں شرکت کے لیے تمام سرکاری افسروں کو دعوت نامے بھیجے جاتے، اس طرح کھلے بندوں قادیانیت کی تبلیغ کے لیے راستہ ہموار کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔
جب ہم جمعیت العلماء کے کام میں منہمک تھے، تو میں نے دیکھا کہ قصہ خوانی بازار میں قادیانیوں کے اس جلسے کے اشتہارات لگ رہے ہیں۔ جن میں اسلامیہ کلب میں ”یوم النبیؐ“ کا اعلان تھا میں نے مولانا بنوریؒ سے مشورہ کیا کہ قادیانیوں کی اس کھلی جارحیت کا سد باب ہونا چاہئے، میں اُن دنوں اسلامیہ سکول میں عربی کا معلم اور استاذ تھا۔ میں نے سکول کی نویں اور دسویں جماعت کے طلبہ کو قادیانیت کی حقیقت بتائی اور قادیانیوں کے ”یوم النبیؐ“ کے نام پر لوگوں کو بہکانے کی مکاری عیاں کی، اور انہیں بھی اس معرکہ میں حصہ لینے کے لیے تیار کیا، جس کا نقشہ میں اور مولانا بنوریؒ بنا چکے تھے۔
مقررہ تاریخ پر قادیانیوں نے اسلامیہ کلب میں قالین بچھائے، سٹیج لگایا۔ اور جلسہ کا انتظام کرنے لگے، ہم دونوں بھی وہاں پہنچ گئے۔ اور جا کر اعلان کر دیا کہ یہاں اہل اسلام کا جلسہ ہوگا۔ ہماری اور قادیانیوں کی کشمکش ہوئی، جس میں قاضی یوسف نامی قادیانی نے مجھ پر لاٹھی سے حملہ کر دیا۔
ہمارے رفقاء نے اس کو پکڑ کر نیچے گرا دیا، جو قادیانی کرسیوں پر براجمان تھے، انہیں بھی فرش پر گرا دیا۔ قادیانی ذلت و نامرادی کے ساتھ بھاگ کھڑے ہوئے، اب اسٹیج پر مسلمانوں کا قبضہ تھا۔ مولانا بنوریؒ نے بڑی فصیح و بلیغ اور طویل تقریر فرمائی، مسلمانوں اور قادیانیوں کی کش مکش سن کر پورا شہر امڈ آیا، اور خوب جلسہ ہوا، قادیانیوں کو ایسی ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا کہ جب سے اب تک انہیں پشاور میں ایسا ڈھونگ رچانے کی دوبارہ جرأت نہیں ہوئی۔
(ماہنامہ بینات۔ بنوری نمبر ص ٢٩ تا ٣١ مضمون مولانا لطف اللہ پشاوری)
لاہور کا تاریخی اجلاس جس میں
آپ امیر شریعت بنائے گئے
مئی ١٩٣٠ء کا جو تاریخی اجلاس انجمن خدام الدین لاہور کا ہو رہا تھا جس کا سماں آج بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے اس وقت امام شیخ رحمۃ اللہ علیہ کا اسم گرامی مولانا ظفر علی خاں نے امارت کے لیے پیش کیا، حضرت شیخ نے کھڑے ہو کر تقریر فرمائی اور اپنی کمزوری کی وجہ سے معذرت پیش کی اور سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی امارت کی نہ صرف تجویز دی بلکہ امیر بنا کر فرمایا میں بھی اس مقصد کے لیے ان کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہوں، آپ حضرات بھی ان سے بیعت کریں اور اپنے دونوں ہاتھ مبارک سید بخاری کے ہاتھ میں دے دیئے۔ وہ منظر بھی عجیب تھا کہ مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری رو رہے تھے اور کہتے ہیں کہ خدا کے لیے مجھے معاف فرمائیں میں اس کا اہل نہیں اور حضرت شیخ اصرار فرما رہے ہیں۔ اس وقت سب سے
پہلے مولانا عبدالعزیز گوجرانوالہ نے پہلی بیعت فرمائی۔ پھر مولانا ظفر علی خاں مرحوم نے بیعت کی راقم الحروف بھی اس مجمع میں شریک تھا اور غالباً تیسرا نمبر بیعت کرنے والوں میں میرا تھا، اس وقت شاہ جی امیر شریعت بنائے گئے اور ان کی شخصیت میں مقبولیت اور جاذبیت کا دور شروع ہوا جو اس سے پہلے کبھی نہ تھا اور اس کے بعد اخلاق کے ساتھ خدمت کی توفیق ان کو ملی۔ وہ ان کی زندگی کا تاریخی دور ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ حضرت سید عطا اللہ شاہ بخاری کی یہ عام مقبولیت اور مجاہدانہ سرگرمیاں منصفانہ خدمات اور حیرت انگیز تاثیر اور بے پناہ محبوبیت حضرت مولانا انور شاہ کی کرامت تھی۔ اپنے ہاتھ مبارک جو ان کے ہاتھوں میں رکھ دیئے تھے اس کی وجہ تھی اور حضرت مولانا انور شاہ صاحب کو جو قادیانی فرقہ سے بغض وعناد تھا اس نے عطاء اللہ کی صورت اختیار کر لی تھی۔ دراصل شاہ جی کا وجود حضرت مولانا انور شاہ کشمیری کی کرامت تھا جس کی وجہ سے علماء، صلحاء، عرفاء و اتقاء وقت کے بڑے بڑے اہل فضل و کمال مولانا عطا اللہ کے جاں نثار محب والہانہ معتقد بن گئے تھے۔
ذالک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء واللہ ذوالفضل العظیم
(ماہنامہ نقیب ختم نبوت ۔ امیر شریعت نمبر حصہ اوّل ص ٣٣٢)
کیمرج یونیورسٹی میں محسن شاہؒ جی کی للکار
چنانچہ جمعہ کے روز حسب وعدہ ہم لوگ قریباً بارہ بجے مسجد پہنچے، صوفی رفیق صاحب جہلمی ہمارے گائیڈ تھے۔ اختتام جمعہ کے بعد مدیر ماہنامہ الرشید، حافظ عبدالرشید ارشد صاحب اور مبلغ ختم نبوت مولانا نذیر احمد بلوچ صاحب سے ملاقات ہوئی ان کے علاوہ دیگر کئی معتقدین کے جلو میں ہم اپنے میزبان کی رہائش گاہ پہنچے جہاں پر تکلف چائے کا اہتمام تھا۔ عصر کی نماز ہم نے وائٹ چیپل کی جامع مسجد میں جا کر ادا کی۔ اس عرصہ میں کیمرج یونیورسٹی کے چند طلباء کا ایک گروپ وہاں پہنچ گیا جس میں پاکستان، سوڈان، یمن، مصر، اردن اور شام کے طالب علم شریک تھے۔ ان کی آمد کا مقصد اس وقت کسی کو معلوم نہیں تھا۔ اتفاقاً ایسا ہوا کہ
ایک طالب علم نے مجھ سے پوچھا کہ یہاں کوئی عالم دین موجود ہیں؟ میں نے اثبات میں جواب دیا تو وہ قدرے بے تکلفی سے کہنے لگا ہم ایک ضروری کام سے یہاں آئے ہیں۔ اگر ان عالم صاحب سے ہماری بات کرا دی جائے تو مہربانی ہوگی، اسی اثنا میں طلبا گروپ کے پاکستان رکن نے حافظ عبدالرشید صاحب سے کسی قدر تفصیل سے اپنا مدعا بیان کیا تو حافظ صاحب نے انہیں مبارک دیتے ہوئے کہا آپ خوش نصیب ہیں کہ آج ایک ایسی شخصیت سے ملاقات کریں گے جو دینی مشن کی نمائندہ ہے۔ یہ باتیں مسجد کے صحن میں ہورہی تھیں جب کہ عم محترم ملنے والوں کے ہمراہ مسجد کے وسیع وخوبصورت ہال میں بیٹھے ہوئے تھے۔ حافظ عبدالرشید صاحب طلباء کے ہمراہ اندر پہنچے اور قدرے بلند آواز سے کہا۔
”شاہ جی اللہ نے آج آپ سے ایک کام لینا ہے، کیمرج یونیورسٹی سے طلباء کا یہ گروپ آیا ہے اور کچھ کہنے کا خواہش مند ہے۔
عرب نوجوانوں کو دیکھ کر انہیں جس قدر خوشی ہورہی تھی وہ بیان سے باہر ہے، انتہائی بے تکلفی سے فرمایا میں ان سے عربی میں ہی بات کروں گا۔ طلباء کے نمائندے نے جو احوال بیان کیا وہ یہ تھا کہ قادیانی گروپ ہر سال پورے یورپ کی بڑی بڑی یونیورسٹیوں میں پروگرام ترتیب دیتا ہے جس میں مختلف ادیان و مذاہب کے نمائندوں کو مدعو کیا جاتا ہے، جب کہ مسلمانوں کی نمائندگی یہ لوگ خود کرتے ہیں۔ دین متین کی غلط تفسیرات بیان کی جاتی ہیں۔ مرزا قادیانی کو پہلے مصلح اور پھر نبی کی حیثیت سے متعارف کرانے کے لیے تدریجاً گفتگو کی جاتی ہے۔ نوجوان اور لاعلم طلباء کو گمراہ کیا جاتا ہے۔ گذشتہ دو برسوں سے یہ سلسلہ بڑی تیزی و تندہی سے جاری ہے۔ عرب نوجوان جس کا نام ”احمد صالح“ تھا۔ نے بتایا کہ پچھلے سال تو ہم نے یہ پروگرام جیسے تیسے ملتوی کرا دیا تھا۔ لیکن اس بار قادیانی پوری تیاری اور رسوخ کے ساتھ اپنا پروگرام منعقد کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ ہماری خواہش ہے کہ آپ ابھی اور اسی وقت ہمارے ساتھ چلیں تا کہ وہاں مسلمانوں کے نمائندہ کے طور پر آپ کو پیش کیا جاسکے۔
عم محترم کا چہرہ اس وقت قابل دید تھا۔ جذبات و انبساط کی شدت و آمیزش نے چہرے پر عجیب جلال پیدا کر دیا تھا۔ آنکھوں میں آنسو لیے اور زبان سے الحمد للہ، الحمد للہ، الحمد للہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے ...... دینی غیرت سے لبریز جلالی انداز میں فرمایا، اب ایک لمحہ بھی ضائع نہیں ہونا چاہیے۔ پھر حافظ عبدالرشید صاحب سے مخاطب ہوئے اور انگریزی
ناجائز اولاد سے نمٹنے کا اللہ نے سنہرا موقع دیا ہے۔ میرے مالک تو لاج رکھ لینا!!!
یہ کہتے ہوئے صوفی رفیق صاحب جن کی گاڑی میں ہم لوگ مسجد تک آئے تھے۔ انہیں ساتھ لیکر عم محترم گاڑی میں بیٹھ گئے۔ بہت مختصر وقت میں تین چار گاڑیوں کا ایک قافلہ بن گیا اور بغیر وقت ضائع کیے ہم کیمبرج کے لیے روانہ ہو گئے۔ لندن شہر سے کیمبرج جانب سفر کرتے ہوئے وہ زیادہ تر خاموش ہی رہے لیکن جب کیمبرج کا علاقہ شروع ہوا تو اچانک پیچھے دیکھا اور مجھ سے مخاطب ہو کر فرمانے لگے تمہارا کیمرہ اور ٹیپ ریکارڈ ساتھ ہے نا؟ عرض کیا جی ہاں ساتھ ہیں! فرمانے لگے آج بہت قیمتی لمحات ہوں گے انہیں ضائع مت ہونے دینا، جو کچھ وہاں ہو اسے ٹیپ اور کیمرہ سے محفوظ کر لینا۔ عرض کیا انشاء اللہ ایسا ہی ہو گا۔
مغرب کی نماز ہم نے کیمبرج کی مسجد میں ادا کی وہاں اطراف عالم سے تعلیم کے لیے آئے ہوئے مسلم طلباء کا ہجوم تھا اور جیسے جیسے انہیں شاہ جی کا تعارف ہو رہا تھا وہ دیوانہ وار ملنے کے لیے چلے آ رہے تھے۔ عم محترم عرب طلباء سے عربی میں بات کرتے تو وہ خوش ہو جاتے کہ کوئی ان کی بات پوری طرح سمجھ سکتا ہے۔ بعد از نماز مختصر مشاورت کے بعد یہ طے پایا تھا کہ کسی قسم کی ہلہ بازی کیے بغیر بہت خاموشی سے پروگرام میں شرکت کے لیے ہال میں پہنچا جائے اور پھر جیسے جیسے پروگرام بڑھتا جائے گا فیصلے ہوتے رہیں گے۔ لیکن ہوا یہ کہ جب ہم لوگ طلباء کے ہجوم کے ساتھ ہال میں داخل ہونے کے لیے پہنچے، مین گیٹ پر کھڑے ہوئے قادیانیوں نے ہمارے اندر جانے پر اعتراض کرنا شروع کر دیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ آپ دعوتی کارڈ دکھائیں، جب کہ ہمارا اور طلباء کا مؤقف تھا کہ اعلان کے مطابق یہ عوامی پروگرام ہے جس میں ہر کوئی شرکت کر سکتا ہے۔ بالخصوص یہاں کے طلباء کو کوئی نہیں روک سکتا۔ ایک قادیانی لڑکا جو مین گیٹ پر پولیس کے حصار میں پناہ لیے ہوئے تھا بضد رہا کہ کسی کو اندر نہیں جانے دیتا۔ طلباء کے اصرار اور قادیانیوں کے انکار کے باعث خاصہ شور و غل برپا ہو گیا تھا جب کہ یونیورسٹی کی نام نہاد مہذب انتظامیہ اس قسم کے شور شرابے کی عادی نہ تھی، معاملہ ایک دوسرے کو دھکیلنے تک پہنچا تو مزید کسی گڑ بڑ کے پیش نظر انتظامیہ کو ہتھیار ڈالنے پڑے، اسی اثناء میں گیٹ پر کھڑے قادیانی نوجوان (فرخ) نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے پولیس آفیسر کو متوجہ کیا اس کے پاس کیمرہ اور ٹیپ ہے جو اندر نہیں جانی چاہئے۔
ا موقع دیا ہے۔ میرے مالک تو لاج رکھ لینا!!! ں صاحب جن کی گاڑی میں ہم لوگ مسجد تک آئے تھے۔ ے گئے ۔ بہت مختصر وقت میں تین چار گاڑیوں کا ایک قافلہ مبرج کے لیے روانہ ہو گئے۔ لندن شہر سے کیمبرج جانب ہی رہے لیکن جب کیمبرج کا علاقہ شروع ہوا تو اچانک ماننے لگے تمہارا کیمرہ اور ٹیپ ریکارڈ ساتھ ہے نا؟ عرض کہ آج بہت قیمتی لمحات ہوں گے انہیں ضائع مت ہونے سے محفوظ کر لینا ۔ عرض کیا انشاء اللہ ایسا ہی ہوگا۔ رج کی مسجد میں ادا کی وہاں اطراف عالم سے تعلیم کے ور جیسے جیسے انہیں شاہ جی کا تعارف ہو رہا تھا وہ دیوانہ محترم عرب طلباء سے عربی میں بات کرتے تو وہ خوش ج سمجھ سکتا ہے۔ بعد از نماز مختصر مشاورت کے بعد یہ مہ بہت خاموشی سے پروگرام میں شرکت کے لیے ہال بڑھتا جائے گا فیصلے ہوتے رہیں گے۔ لیکن ہوا یہ کہ ہال میں داخل ہونے کے لیے پہنچے، مین گیٹ پر ندر جانے پر اعتراض کرنا شروع کر دیا۔ ان کا مطالبہ ہمارا اور طلباء کا موقف تھا کہ اعلان کے مطابق یہ ت کر سکتا ہے۔ بالخصوص یہاں کے طلباء کو کوئی نہیں پر پولیس کے حصار میں پناہ لیے ہوئے تھا بضد رہا اصرار اور قادیانیوں کے انکار کے باعث خاصہ شور و نہاد مہذب انتظامیہ اس قسم کے شور شرابے کی عادی پہنچا تو مزید کسی گڑ بڑ کے پیش نظر انتظامیہ کو ہتھیار ے قادیانی نوجوان (فرخ) نے میری طرف اشارہ س کے پاس کیمرہ اور ٹیپ ہے جو اندر نہیں جانی
پولیس آفیسر میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ آپ اگر اندر جانے کے خواہشمند ہیں تو پھر یہ دونوں چیزیں باہر چھوڑنا پڑیں گی میں نے ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ میری قیمتی چیزیں ہیں باہر چھوڑنے کی صورت میں نقصان ہو سکتا ہے۔ لہٰذا میں انہیں اپنے ساتھ ہی لے جاؤں گا۔ عم محترم جو قریب قریب دروازے تک پہنچ چکے تھے مجھے اپنے ساتھ نہ پا کر دوبارہ باہر چلے آئے، دیکھا کہ میں بحث و تکرار میں مصروف ہوں۔ پوچھا کیا معاملہ ہے؟
میں نے تمام صورت حال جلدی سے گوش گزار کر دی۔ فرمایا! کوئی بات نہیں، یہ چیزیں نہیں آنے دیتے تو نہ سہی لیکن اس پولیس آفیسر سے کہہ دو کہ ہم یہ چیزیں اسی سے وصول کریں گے۔ چنانچہ بہت تکرار کے بعد کیمرہ اور ٹیپ پولیس آفیسر جس کا نام ”پال اینڈرسن“ تھا کے سپرد کیں اور طلباء کے ہجوم کے ساتھ ہال میں داخل ہو گئے۔ کیمبرج یونیورسٹی کے وسیع ہال کی تقریباً تمام سیٹیں بھر چکی تھیں۔ لیکن عم محترم کے اکرام میں عرب طلباء اپنی سیٹیں چھوڑ کر عین وسط میں کھڑے ہو گئے اور بلانے لگے کہ شیخ آپ یہاں آ جائیے۔ یہ منظر اپنی جگہ دیدنی تھا۔ ہر طالب علم کی خواہش تھی کہ شاہ جی اس کی جگہ پر تشریف فرما ہوں۔ دین کی نسبت سے عزت و عظمت ملنے کا ایسا والہانہ انداز و مظاہرہ اہل برطانیہ بالخصوص کیمبرج زدہ مخلوق نے کب دیکھا ہوگا۔ فَلِلّٰہِ الحمد کہ اعزاز واکرام کا بیش قیمت تاج میرے خانوادے کے ایک فرد جلیل کے سر پر سجا۔ یہ ناقابل فراموش منظر دیکھ کر فخر وشکر کے جذبات سے آنکھیں چھلک پڑیں۔ قادیانی گروہ کے افراد بھی حیرت زدہ سے دیکھتے رہے۔ شاید سوچتے ہوں کہ ایک غریب الدیار مسافر جیسی تکریم ان کے کسی قادیانی پادری کے حصہ میں کبھی آسکی ہے؟؟؟
پروگرام کی کارروائی شروع ہوئی، جس میں بدھ، سکھ، ہندو، یہودی اور عیسائی مذاہب کے نمائندے الٹی منطقیں ادھورے فلسفے، تحریف شدہ آسمانی حوالے، اوتاروں اور گروں کی بیہودہ داستانیں سنا سنا کر رخصت ہوتے رہے اور پھر وہ تاریخ ساز لمحات آن پہنچے جب معرکہ حق و باطل کا طبل بج اٹھا۔ ایک معروف قادیانی لیڈر (عطاء المجیب) مسلمانوں کی نمائندگی کی دستار سنبھالے خوف و ہراس سے جکڑا ادھر ادھر دیکھتا کاغذوں کا پلندا لیے مائیک تک آگیا۔
لعنت اللہ والملئکۃ والناس اجمعین
موذی و مردود مرزا کی ذریت خبیثہ میں سے ایک نطفہ ناہنجار ، صاحب قرآنﷺ
کی نبوت آخرہ کا منکر گارنٹی شدہ جہنمی، قرآن کی تلاوت کی جسارت کر رہا تھا۔ ابھی اس نے اعوذ باللہ اور بسم اللہ کے بعد انا اعطیناک الکوثر تک ہی پڑھا تھا۔ کہ غیور اعظم ، اقلیم نبوت کے آخری فرماں روا، حبیب کبریا، محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ سے نسبت نسب رکھنے والا غیرت مند، اپنے جد و اب کی سنت ادا کرنے اٹھ کھڑا ہوا۔
بکواس بند کر مجیب ...... اب اپنی ناپاک زبان سے تم نے میرے نانا ﷺ پر اترنے والے قرآن کو پڑھا تو میں تمہارے جبڑے چیر دوں گا۔
فضا میں رعد کی دل ہلا دینے والی گرج پیدا ہوئی اور پورا ماحول سکوت کے سمندر میں غرق ہو گیا۔ عم محترم کی آواز سے یوں لگا جیسے آسمان پوری قوت سے زمین کے ساتھ ٹکرا گیا ہو۔ بقول سید ابوذر بخاری رحمۃ اللہ علیہ
اتنی شدت سے مرا رعد فغاں کڑکے گا
اتنی ہیبت ناک کڑک کے بعد ہر شخص اپنے حواس درست کرنے کی سعی میں مصروف تھا کہ ایک بار پھر عم محترم کی آواز گونجی لیکن یہ آواز وہ نہیں تھی۔ جو چند لمحے پہلے ہم سن چکے تھے، بلکہ یوں لگا جیسے ریگزار عرب کی شب میں کوئی دیوانہ اپنی مستی و سرشاری میں صرف وہ کہہ رہا ہے جو اس کے دل میں ہے اور وہ خواہش مند ہے کہ سرکش ہوا کے جھونکے اس کی دیوانگی کی گواہی دور دور تک پہنچا دیں۔ عم محترم قرآن پڑھ رہے تھے۔ میں نے قرآن پڑھتے انہیں سینکڑوں بار دیکھا مگر وہ لمحے !!!
کیا مثال دوں ......... سوچتا ہوں، شاید قاتل المرتدین سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے یونہی قرآن پڑھا ہو گا ؟؟؟؟
یا پھر فرزند رسول ، أَشِدَّاءُ عَلَى الكُفَّارِ، خطاب کے بیٹے عمر رضی اللہ عنہ نے مکہ کے جہالت مآبوں کو اسی طرح قرآن سنایا ہو گا ؟؟؟؟؟
آہ .......... گستاخ آنکھیں جھکتے جائیں
جو قرآن شناسا تھا، جو زبان و صوت کے کاری وار سمجھنے کی اہلیت رکھتے تھے ان عربی و عجمی حاضرین و سامعین کی تو چیخیں نکل گئیں۔ لیکن جو بد بخت مشرک و مرتد تھے راندۂ
درگاہ تھے۔ رزق جہنم تھے، مستحق عذاب الیم تھے۔ وہ بھی اس سحر بے اماں سے بچ نہیں سکے تھے۔ ان کی آنکھیں بھی ششدر، ان کے ذہن مفلوج، اور دل؟؟؟ دل تو شاید پھٹ جانے کو تھے۔۔۔۔۔۔۔ میں نے عطاء اللہ شاہ بخاری کا جوش بیان اور سحر صوت نہ دیکھا نہ سنا۔ لیکن اپنے جدواب کی آبرو عم محترم سید عطاء الحسن بخاری رحمۃ اللہ علیہ کو قرآن پڑھتے سنا بھی اور دیکھا بھی۔ اب میں تصور کرسکتا ہوں کہ عطاء اللہ شاہ کا جلال خطابت، ان کے لحن حجاز کا سحر، کس طرح سماعتوں اور اذہان و قلوب کو تسخیر کرتا ہوگا۔ میں نے دیکھا کہ جس مالک الملک کا کلام تھا اس نے پڑھنے والے کے گلے میں جہان بھر کی حلاوتیں انڈیل دی تھیں۔
عم محترم نے ہاتھ بلند کیا اور بائیسویں پارہ سے سورہ احزاب کی آیات پڑھنی شروع کیں۔
الذین یبلغون رسلت اللہ سے و کان اللہ بکل شئی علیما تک تلاوت کی
۔۔۔۔۔۔۔ کلام اللہ کی قوت تاثیر اپنی جگہ برحق، لیکن اس وقت پڑھنے والے کے جذب و صدق کی توانائیوں کا ظہور بھی خود اپنی آنکھوں سے دیکھنا نصیب ہوا اور اس طرح کہ بارہ برس بعد آج بھی ہر لمحہ دل و دماغ پر نقش ہے۔ پروگرام کی صدارت ایک انگریز لیڈی میئر کر رہی تھی۔ اس نے تمام مذاہب کے نمائندوں کی خرافات انتہائی بے زاری اور بے توجہی سے سنیں لیکن جب نزول قرآن جیسی کیفیت میں عم محترم تلاوت فرما رہے تھے اس نے میز پر پھیلے ہوئے اپنے ہاتھ سمیٹ لیے، اپنا لباس درست کیا، پھر اپنے سرخ دستی رومال کو جلدی سے سر پر اوڑھ لیا اور ہاتھ باندھ کر انتہائی مؤدب طریقے سے قرآن سننے لگی۔ ہال میں بیٹھے ہوئے ہر شخص کا چہرہ عم محترم کی طرف ہی تھا، کچھ دیر کے لیے لوگ پلکیں جھپکنا بھی بھول گئے تھے اور سناٹا ایسا تھا کہ شاید سوئی بھی گرتی تو اسکی آواز ہر سماعت تک پہنچ جاتی۔ تلاوت ختم ہوئی تو گویا ہال میں بیٹھا ہوا ہر شخص سحر جیسی کیفیت سے باہر آگیا، میں نے چاروں طرف نظر دوڑائی تو دیکھا کونسی آنکھ تھی جو نم نہیں تھی اور کون سی زبان تھی جو سبحان اللہ کے ورد سے معمور نہ تھی۔
عم محترم نے تلاوت ختم کی اور ایک بار پھر عطاء المجیب کو پکارا بلکہ للکارا فرمایا! ایہا الجاهلون۔ ہذا ھوالقرآن۔ او عطاء المجیب۔۔۔۔۔۔ سنا تم نے یہ ہے قرآن۔۔۔۔۔۔ عرب نوجوانوں نے یہ سب کچھ زندگی میں پہلی بار دیکھا اور سنا تھا۔ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے
لبریز تھیں اور بعض تو باقاعدہ ہچکیوں سے رو رہے تھے۔ نعرہ ہائے تکبیر بلند کرتے ہوئے ان کی حالت دیدنی تھی۔ اے کاش یہ منظر کیمرہ سے محفوظ اور تصویر کشی ہو سکتی ہے۔
عطاء المجیب تو بس سکتے کے عالم میں کھڑا ہی رہ گیا ...... حقیقت بھی یہی تھی کہ اس کے بعد کہنے کے لیے اس کے پاس بچا ہی کیا تھا۔ مسلم طلباء کھڑے ہو گئے اور عطاء المجیب گو بک کے نعرے لگنے لگے اور اس شدت سے کہ کان پڑی آواز بھی سنائی نہیں دے رہی تھی۔ یہ احتجاجی منظر دیکھ کر پروگرام کی صدر مجلس۔ لیڈی میئر اپنی جگہ پر کھڑی ہو گئی اور حاضرین سے پوچھنے لگی کہ مجھے بتائیں آپ احتجاج کیوں کر رہے ہیں؟ آپ نے سب لوگوں کو بہت اطمینان سے سنا آخر ان کی بات سننے میں کیا حرج ہے؟
عم محترم ایک بار پھر کھڑے ہوئے لیکن رش کے باعث یہ ممکن نہ تھا کہ وہ کسی کو متوجہ کر سکتے چنانچہ کرسی پر کھڑے ہو گئے اللہ نے انہیں قد و قامت عطاء کی تھی اسی لیے فوراً ہی سب کی نظریں ان پر مرکوز ہو گئیں آپ نے ہاتھ کے اشارے سے تمام حاضرین کو خاموش کرایا۔ اور پھر براہ راست لیڈی میئر اور دیگر منتظمین حضرات سے مخاطب ہو کر فرمایا۔
حضرات محترم اور میڈم میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ یہ لوگ کون ہیں؟ یہ جو آپ کے پیچھے کھڑے ہیں اور جن کا دعویٰ ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔ ان کی حقیقت اس کے برعکس ہے جو یہ بیان کرتے ہیں، کہ یہ لوگ نہ مسلمان ہیں اور نہ ہی مسلمانوں کے نمائندے۔ میرے پاس اس وقت بھی دستاویزی ثبوت موجود ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ بلکہ یہ غداران اسلام ہیں۔ ١٩٧٤ء میں حکومت پاکستان نے انہیں غیر مسلم قرار دے دیا تو ان کے سرغنے دم دبا کر یہاں بھاگ آئے اور جھوٹا پروپیگنڈا کرنے لگے کہ ان کے ساتھ پاکستان میں ظلم ہو رہا ہے۔
انہیں تحفظات پہلے بھی آپ نے دیئے اور اب بھی ان کے محافظ آپ ہی ہیں۔ میرے پاس پاکستان کے قومی اخبارات موجود ہیں اس کے علاوہ برطانیہ میں شائع ہونے والے اخبارات بھی آپ کو دکھائے جا سکتے ہیں جن میں عالمگیر سچائی شائع ہو چکی ہے کہ یہ لوگ مسلمان نہیں بلکہ قادیانی ہیں۔ کیا آپ بتا سکتی ہیں کہ کوئی قانون ایسا بھی ہے جس میں اس بات کی اجازت ہو کہ ایک مسلمان عیسائیت کا نمائندہ بن کر اپنی مرضی سے عیسائیت کو
لوگوں کے سامنے پیش کر سکے؟ یقیناً آپ کا جواب نفی میں ہوگا۔ تو پھر ہمارے احتجاج پر بری شکلیں کیوں بنائی جا رہی ہیں۔ یہاں جتنے مسلمان موجود ہیں وہ حاضرین میں بیٹھے ہیں اور آپ کے سامنے ہیں اور جو مسلمان نہیں وہ اپنے ہی جیسوں کے ساتھ آپ کے پیچھے کھڑے ہیں۔ اگر آپ چاہتی ہیں کہ یہ پروگرام عافیت کے ساتھ چلتا رہے تو پھر جو اسلام کا نمائندہ ہے اسے سٹیج پر بلائیے تاکہ وہ اپنے مذہب کی حقانیت خود بیان کر سکے۔ اور اگر یہ منظور نہیں تو پھر ہم اس پروگرام کو مزید نہیں چلنے دیں گے امید ہے آپ کو معلوم ہو گیا ہوگا کہ ہم احتجاج کیوں کر رہے ہیں۔ اب یہ آپ پر منحصر ہے۔ سوچ لیجئے کیا کرنا ہے ہم نے جو کہنا تھا کہہ دیا۔
یہ کہہ کر آپ کرسی سے نیچے اتر آئے، پھر تو یوں لگا جیسے اب کوئی قادیانی زندہ باہر نہیں جا سکے گا۔ ہر طرف ایک عجیب سا شور برپا تھا۔ غیرت مند مسلمانوں کی للکار یلغار سے سہمے ہوئے قادیانیوں نے ایک بار پھر اپنے پالنہار انگریز سرکار کی مدد طلب کر لی۔ پروگرام ختم کر دیا گیا۔ قادیانیوں کو بچانے کے لیے پولیس کی ایک بڑی تعداد ہال میں داخل ہو گئی اور حاضرین کو باہر دھکیلا جانے لگا۔ عم محترم نے دروازہ کے ساتھ پڑا ہوا ایک بھاری بھر کم صوفہ اپنی خداداد قوت کے بل بوتے پر سر سے اوپر اٹھا لیا، پولیس یہ سمجھی کہ شاید یہ صوفہ اب ہوا میں اڑتا ہوا اسٹیج کی طرف جائے گا چنانچہ اسی اندیشہ کے پیش نظر ایک افسر نے بڑھ کر درخواست کی کہ برائے مہربانی آپ اس کی زد میں کسی کو نہ لائیں۔ عم محترم بے اختیار ہنس دیے اور فرمایا اگر میں نے کسی کو مارنا ہوتا تو اس کو اتنی دیر اوپر اٹھائے رکھنے کا تکلف نہ کرتا بلکہ اٹھاتے ہی سٹیج کی طرف اچھال دیتا، میرا یہ مقصد نہیں ہے میں نے تو راستہ بنانے کی غرض سے اس کو اٹھا لیا ہے تاکہ لوگ آرام سے باہر چلے جائیں۔ وہ بے چارہ افسر اس قوت و حجم کے آدمی کی نرم بات سن کر ایک طرف ہو گیا۔
جب ہم لوگ عم محترم کی معیت میں ہال سے باہر آئے تو پال ایڈرسن نامی پولیس افسر بھی رش میں سے جگہ بناتا ہوا ہم تک پہنچ گیا، اس نے ہاتھوں میں کیمرہ اور ٹیپ سنبھال رکھے تھے کہنے لگا جناب یہ اپنی امانتیں سنبھالیئے۔ طلباء کا ہجوم تھا جو ملنے کے لیے ٹوٹ پڑا تھا، ہر شخص کی خواہش تھی کہ وہ عم محترم کے قریب آ کر کھڑا ہو جائے لیکن صورت حال یہ کہ صورت حال یہ تھی کہ نہ
پائے رفتن نہ جائے ماندن رات کا کھانا عرب طلباء نے بڑی منتوں سے اپنے ہاں کھلایا۔
رات تقریباً ساڑھے دس بجے جب ہم ان سے رخصت ہونے کے لیے باہر آئے تو ایک نوجوان نے فرمائش کی ”شیخ کوئی نصیحت فرماتے جائیے۔“
آپ نے فرمایا! دیکھو آج جو کچھ ہوا ہے اس کو اپنے لیے تائید آسمانی سمجھو اور اب ڈٹ جاؤ کہ پھر کبھی یہ لوگ ایسی حرکت نہ کر سکیں۔ اس طرح کے پروگرام تم خود ترتیب دو۔ پھر علماء کو بلاؤ مجھ عاجز کو یاد کرو گے تو انشاء اللہ بہ شرط زندگی میں بھی چلا آؤں گا۔
لیکن ان بدمعاشوں کے پاؤں یہاں مت جمنے دینا۔ یہ دینی غیرت کا تقاضا ہے۔ ہم غیرت مند رسول کی امت ہیں اس لیے بے غیرتی ہمارا شعار نہیں بننا چاہئے۔ اپنے اندر جرات پیدا کرو۔ تم حق پر ہو۔ پھر ڈر کس بات کا، اللہ تمہاری مدد فرمائے، تمہارا حامی و ناصر ہو۔ السلام علیکم عم محترم نے بات ختم کی اور اجازت چاہی تو مصافحہ کرنے والوں کی ایک بار پھر لائن لگ گئی۔ کوئی ہاتھوں کو بوسے دے رہا تھا تو کوئی آنکھوں سے لگا رہا تھا۔ میں نے دیکھا کہ ان سب کی آنکھیں اس انوکھی ملاقات اور پھر جدائی پر نمناک تھیں۔ گاڑیاں اسٹارٹ ہوئیں اور ہم کیمبرج سے لندن کی جانب روانہ ہو گئے۔
جب تک کیمبرج کی روشنیاں دکھائی دیتی رہیں۔ میں یہی سوچتا رہا کہ اس تاریخ ساز دن کو اور سید عطاء الحسن بخاری کو کیمبرج کے لوگ اور اس کی فضائیں کبھی نہ بھول سکیں گی؟ دل سے یہی جواب آتا رہا! نہیں، ہرگز نہیں، کبھی نہیں، جب ہم لندن کی جانب محو سفر تھے حافظ عبدالرشید صاحب اور مولانا نذیر احمد بلوچ صاحب بار بار یہی کہتے رہے۔
شاہ صاحب آپ کو مبارک ہو آج اللہ کریم نے حضرت امیر شریعت کی طرح آپ سے بھی اپنے دین کا کام لے لیا ہے۔ آپ کی محنت و لگن قبول ہو گئی ہے۔ عم محترم پر رقت طاری تھی اور ان کی زبان پر استغفر اللہ اور کبھی الحمد اللہ کے الفاظ جاری ہو جاتے رہے...... کئی دنوں تک ان پر ایک عجیب سی کیفیت رہی۔ ایک روز میں نے از راہ تفنن عرض کیا کہ کیمبرج میں آپ کی تلاوت کے دوران اس لیڈی میئر نے سر پر جو رومال اوڑھا وہ سرخ رنگ کا تھا۔ فرمانے لگے پھر؟ عرض کیا کہ آپ نے اسے بھی احراری بنا ڈالا۔ فرمانے لگے احراری تو خیر اس نے کیا بننا ہے اللہ اسے مسلمان بنا دے۔ وہ جہنم کا ایندھن بننے سے بچ جائے۔ میری تو
یہی دعا ہے۔
پھر فرمایا اللہ نے باطل کے سامنے حق کہنے کی توفیق دی، ساری زندگی اس کا شکر ادا کرتے گزر جائے تو بھی کم ہے۔ استغفر اللہ، یہ میرا کوئی کارنامہ نہیں، بس اسی کی دی ہوئی توفیق سے سب کچھ ہو گیا۔ الحمدللہ
شر نفس سے پناہ کی طلب اور انعام و اکرام پر کلمات تشکر کا ادا ہونا بجائے خود ایک بہت بڑی نعمت ہے اور یہ نعمت انہیں تازیست حاصل رہی، حتیٰ کہ دم توڑتی ہوئی ان ساعتوں میں بھی جب انسانی حواس مختل ہو جاتے ہیں، نگاہیں پتھرا جاتی ہیں، وہ اس نعمت خاصہ سے متمتع رہے۔
میرا ایمان ہے کہ میرے عم محترم نے زندگی بھر جو دینی خدمات سرانجام دیں وہ بارگاہ الٰہی میں شرف قبولیت پا چکیں۔ اللہ کریم نے انہیں اپنی بے پناہ عنایات سے نوازا، انعامات کی بارش میں بھگویا، عفو و درگزر کی چادر میں لپیٹا، اور پابند حکم نورانیت کے پیکر ملائکہ کی معیت میں وہاں بھیج دیا جہاں مؤمنین و صالحین کو پہنچانے کا وعدہ کیا گیا ہے....... اور اب وہ مکین خلد بریں ہیں۔
اللھم اغفر و ارحم و ارفع درجاتہ
(ماہنامہ الاحرار لاہور دسمبر ١٩٩٩ء: مضمون سید محمد معاویہ بخاری)
زیارت حضرت عیسٰی علیہ السلام
١٣٧٤ھ، ١٩٥٣ء میں تقریباً سحری کا وقت تھا کہ خواب میں مجھ سے کسی نے کہا کہ حضرت عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام آ رہے ہیں۔ میں نے پوچھا کہاں آ رہے ہیں؟ تو جواب ملا کہ یہاں تمہارے پاس تشریف لائیں گے میں خوش بھی ہوا کہ حضرت کی ملاقات کا شرف حاصل ہوگا اور کچھ پریشانی بھی ہوئی کہ میں تو قیدی ہوں حضرت کو بٹھاؤں گا کہاں؟ اور کھلاؤں پلاؤں گا کیا؟ پھر خواب ہی میں یہ خیال آیا کہ راقم کے نیچے جو دری، نمدہ اور چادر
ہے یہ پاک ہیں، ان پر بٹھاؤں گا۔ خواب میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ اتنے میں حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام اور ان کے ساتھ ان کا ایک خادم تشریف لائے حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا سر مبارک ننگا تھا، چہرہ اقدس سرخ اور داڑھی مبارک سیاہ تھی، لمبا سفید عربی طرز کا کرتا زیب تن تھا اور نظر نہیں آتا تھا مگر محسوس یہ ہوتا تھا کہ نیچے حضرت نے جانگیہ اور نیکر پہنی ہوئی ہے اور آپ کے خادم کا لباس سفید تھا، فٹ کرتا اور قدرے تنگ شلوار اور سر پر سفید اور اوپر کو ابھری ہوئی نوک دار ٹوپی پہنے ہوئے تھے۔ راقم اثیم نے اپنے بستر پر جو زمین پر بچھا ہوا تھا، دونوں بزرگوں کو بٹھلایا، نہایت ہی عقیدت مندانہ طریقہ سے علیک سلیک کے بعد راقم اثیم نے حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام سے مودبانہ طور عرض کیا کہ حضرت! میں قیدی ہوں اور کوئی خدمت نہیں کرسکتا صرف قہوہ پلا سکتا ہوں، حضرت نے فرمایا لاؤ۔ میں خواب ہی میں فوراً تنور پر پہنچا جہاں روٹیاں پکتی تھیں، میں نے اس تنور پر گھڑا رکھا اور اس میں پانی چائے کی پتی اور کھانڈ ڈالی اور تنور خوب گرم تھا، جلدی ہی میں قہوہ تیار ہوگیا۔ راقم اثیم خوشی خوشی لے کر کمرہ میں پہنچا اور قہوہ دو پیالیوں میں ڈالا اور یوں محسوس ہوا کہ اس میں دودھ بھی پڑا ہوا ہے۔ بڑی خوشی ہوئی اور دونوں بزرگوں نے چائے پی، پھر جلدی سے حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام اٹھ کھڑے ہوئے اور خادم بھی ساتھ اٹھ گیا، میں نے التجا کی حضرت ذرا اور آرام کریں اور ٹھہریں تو حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہمیں جلدی جانا ہے، پھر ان شاء اللہ العزیز جلدی آجائیں گے۔ یہ فرما کر رخصت ہوگئے۔ راقم اثیم استاد محترم حضرت مولانا عبدالقدیر صاحبؒ کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضرت بھی تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ہمارے ساتھ جیل میں مقید تھے اور ان کے سامنے خواب بیان کیا، حضرت نے فرمایا میاں تمہیں معلوم ہے کہ حضرات انبیاء کرام اور فرشتوں کی (جو تمام معصوم ہیں) شکل و صورت میں شیطان نہیں آسکتا، واقعی تم نے حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام ہی کو دیکھا ہے اور میاں ہو سکتا ہے کہ تمہاری زندگی ہی میں تشریف لے آئیں۔ استاد محترم کا راقم اثیم سے بہت گہرا تعلق تھا اور ان کے حکم سے ان کی علمی کتاب تدقیق الکلام کی ترتیب میں راقم اثیم نے خاصا کام کیا ہے۔ حضرت کی قبل از وفات اپنی خواہش و ان کے جملہ لواحقین اور متعلقین کی قلبی آرزو کے مطابق ١٦ جمادی الاوّل ١٤١١ھ، ٤ دسمبر ١٩٩٠ء کو مومن پور علاقہ چھچھ ضلع اٹک میں راقم اثیم نے ان کا جنازہ پڑھایا اور دفن کرنے کے بعد ان کی قبر پر سنت کے موافق دعا مانگی اللہ تعالیٰ مرحوم
کے درجات بلند فرمائے آمین ثم آمین۔
(توضیح المرام فی نزول المسیح علیہ السلام ص ١٣۔١٤ از مولانا محمد سرفراز خان صفدر)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ زیارت
راقم اثیم نے دوسری مرتبہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو خواب میں دیکھا کہ حضرت شلوار پہنے ہوئے تھے اور گھٹنوں سے ذرا نیچے تک قمیص زیب تن تھی اور سر مبارک پر سادہ سا کلہ اوپر پگڑی باندھے ہوئے تھے اور کوٹ میں جو گھٹنوں سے نیچے تھا ملبوس تھا اور بڑی تیزی سے چل رہے تھے راقم اثیم کو پتہ چلا کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام جا رہے ہیں تو راقم بھی پیچھے پیچھے چل پڑا اور سلام عرض کیا۔ یوں محسوس ہوا کہ بہت آہستہ سے جواب دیا اور رفتار برقرار رکھی راقم بھی ساتھ ساتھ چلتا رہا۔ کافی دور جانے کے بعد زور زور کی بارش شروع ہو گئی حضرت اس بارش میں بیٹھ گئے اور اوپر ایک سفید رنگ کی چادر تان لی، کافی دیر تک مغموم اور پریشان حالت میں بیٹھے رہے، پھر بارش میں ہی اٹھ کر کہیں تشریف لے گئے اور پھر نظر نہ آئے، اس خواب کے چند دنوں بعد مہاجرین فلسطین کے دو کیمپوں صابرہ اور شتیلہ کا واقعہ پیش آیا کہ یہودیوں نے تقریباً بتیس ہزار مظلوم مسلمان مردوں، عورتوں، بوڑھوں، بچوں اور مریضوں کو گولیوں سے بھون ڈالا اس واقعہ کے پیش آنے کے بعد راقم اثیم خواب کی تعبیر سمجھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا شدید بارش میں چادر اوڑھ کر بیٹھنا اور پریشان ہونا اس کی طرف اشارہ تھا کہ تقریباً ستر لاکھ ظالم یہودیوں کے ہاتھوں تقریباً تیرہ کروڑ کی آس پاس کی مسلمان حکومتوں کی موجودگی میں جنہوں نے بے غیرتی کا مظاہرہ کیا اور مصلحت کی چادر اوڑھ رکھی ہے اور مظلوم مسلمانوں پر بارش کی طرح گولیوں کی بوچھاڑ ہورہی ہے۔
(توضیح المرام فی نزول المسیح علیہ السلام ص ١٤۔١٥ از مولانا سرفراز خان صفدر)
ایک قادیانی کی قبر کو تین دن تک
آگ لگتی رہی بالآخر پھٹ گئی!
اللہ تبارک و تعالیٰ کی یہ عادت ہے کہ وہ گستاخان رسول ﷺ کو ڈھیل دیتا ہے کہ وہ گستاخی سے باز آجائیں اور اپنی گمراہی سے توبہ کر کے مسلمان ہو جائیں۔ یہ الگ مسئلہ ہے۔ کہ اگر کوئی شخص رسول خدا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی شان میں گستاخی کرے تو اس کی توبہ بھی قبول نہیں ہوتی اور اس کا ابدی ٹھکانہ جہنم ہے۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایسا بد باطن شخص مرتا ہے تو اس کی موت اس کے پیروکاروں بلکہ پوری دنیا کے لیے سامان عبرت بن جایا کرتی ہے۔ مرزا قادیانی نے آنحضرت ﷺ کے بعد نہ صرف نبوت کا دعویٰ کیا بلکہ اس نے یہاں تک جسارت کی کہ خود محمد رسول اللہ بن بیٹھا۔ نعوذ باللہ۔
خدا نے اسے ڈھیل دی لیکن وہ اپنی غلط حرکتوں اور گستاخی رسول سے باز نہ آیا آخر اس حالت میں مرا کہ اس کے دونوں راستے جاری تھے۔ اور آخر وقت میں اس کی زبان پر کسی نیک اور پاک کلمہ کی بجائے یہ الفاظ تھے کہ ”مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے“ یہ الفاظ اس کی زبان سے نکلے اور سر تڑاخ سے چارپائی کے ساتھ جالگا۔ اس حالت میں اس کی موت واقع ہونا کہ کمرے میں ہر طرف غلاظت بکھری ہوئی تھی اس کے پیروکاروں کے لیے تازیانہ عبرت ہے۔ اگر وہ سمجھیں یہ تو مرزا قادیانی کا حال تھا۔ مرزا قادیانی کے پیروکاروں کے ساتھ بھی ایسے واقعے پیش آتے رہتے ہیں ہفت روزہ ختم نبوت میں ایسے کئی واقعات شائع ہو چکے ہیں۔ ذیل میں جو واقعہ ہم پیش کر رہے ہیں وہ ڈیرہ غازیخان کے قصبہ الہ آباد کا ہے۔ ہوا یوں کہ اس قصبے میں ایک قادیانی ماسٹر تھا جو انتہائی متعصب اور گستاخ تھا جب فرشتۂ اجل نے اسے آ دبوچا تو مسئلہ پیدا ہوا کہ اسے کہاں دبایا جائے۔ مسلم قبرستان میں اگر دباتے تو مسلمانوں میں اشتعال کا پھیل جانا ضروری امر تھا آخر اس کے عزیز و اقارب نے اسے اس کی اپنی زمین میں دبا دیا۔ دبانے کے ٹھیک تین دن بعد اس کے گڑھے کو آگ لگ گئی اور یہ
کیفیت تین دن تک جاری رہی اور بالآخر وہ جگہ پھٹ گئی۔ اس کے بعد قادیانیوں نے اس کے گڑھے کو پختہ کر دیا۔ اس واقعہ کی تصدیق وہاں کے علماء کرام حتیٰ کہ اس قادیانی ماسٹر کے بھتیجے نے بھی کی ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی۔ جلد ٥ شمارہ ٨: از قلم ۔ محمد حنیف)
مرزائیت کا روپ
یہ ختم نبوت، اجزائے نبوت کے مسائل یہ آیات کا الٹ پھیر۔ یہ سب کچھ مرزائیوں نے محض خود کو ایک دینی فرقہ اور ایک مذہبی پارٹی ظاہر کرنے کے لیے اٹھا رکھے ہیں۔ ورنہ مرزائیت نہ تو کوئی مذہب ہے اور نہ ہی اس کا کسی دین سے کوئی تعلق ہے۔ یہودیوں کا نصرانیوں کا، سکھوں کا ہندوؤں کا تو کوئی مذہب ہے۔ وہ سچا ہو یا جھوٹا، حق ہو یا باطل۔ لیکن مرزائیوں کا کوئی مذہب نہیں۔ ان کا کسی مذہبی فرقے، کسی دینی گروہ سے کوئی رشتہ و تعلق نہیں۔ بلکہ جس طرح کوئی عادی مجرم، کوئی ملزم، کوئی قاتل اپنے جرم کے اظہار کے خوف سے خود کو محفوظ کرنے کے لیے گلے میں لمبا سا کرتہ پہن لیتا ہے۔ چہرے پر راکھ مل لیتا ہے، کمر میں زنجیر باندھ لیتا ہے، اور ہاتھ میں موٹا سا ڈنڈا پکڑ کر فقیر یا سادھو بن جاتا ہے۔ اسی طرح مرزائیوں نے حقیقت حال کے اظہار کے خوف سے مذہب کا یہ جامہ، دین کا یہ لبادہ اور اسلام کا یہ چوغہ پہن رکھا ہے۔ ورنہ اصل میں یہ محض ایک پولیٹکل پارٹی، ایک سیاسی گروہ، اور انگریزی جاسوسوں کا ایک گروپ ہے۔ جسے انگریز نے اپنی اغراض کے لیے پیدا کیا تھا۔
(خطاب مولانا محمد علی جالندھریؒ)
مرزائی گنگ ہو گیا
میں ایک روز ملتان میں ایک مسجد میں بیٹھا تھا۔ ایک طرف ایک مرزائی ایک مولوی
صاحب سے بحث کر رہا تھا۔ مرزائی بار بار یہ کہتا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں۔ اور مولوی صاحب انکار میں سر ہلا دیتے۔ پندرہ بیس منٹ اسی رد و قدح میں گزر گئے۔ میں اٹھ کر ان کے پاس آ بیٹھا اور میں نے اس مرزائی کو اپنی طرف مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ آپ مولوی صاحب کو معاف فرمائیں اور ان کی جگہ مجھ سے بات کریں۔ وہ جھٹ کہنے لگا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں۔ میں نے ہاتھ اٹھا کر کہا آؤ دعا کریں اللہ تعالیٰ انہیں جنت نصیب کریں۔ اور اب آگے بولیئے۔ وہ حیران سا رہ گیا اور کہنے لگا، اچھا نبوت جاری ہے۔ میں نے کہا تو پھر۔ وہ کہنے لگا، مرزا صاحب نبی ہیں۔ میں نے کہا، میں نبی ہوں۔ وہ کہنے لگا، تم کیسے۔ میں نے کہا مرزا کیسے۔ اگر وہ نبی ہو سکتے ہیں تو میں کیوں نہیں، اور اگر میں نبی نہیں ہو سکتا تو وہ کیونکہ ہو گئے۔ اس پر وہ بیچارہ اس طرح خاموش ہو گیا کہ جیسے زبان گنگ ہو گئی اور اس کا تمام علم ختم ہو گیا ہو۔
(خطاب مولانا محمد علی جالندھری)
کاش مل جائیں مجھ کو کوچہ جاناں کے دیے
(مؤلف)
نبوت اور قومیت
سب سے پہلے سوچئے کہ ایک قوم دوسری سے الگ کیوں ہوئی ہے۔ ہندوستان میں ہم ایک قوم تھے، اور ہندو ایک قوم، عیسائی ایک قوم تھے، اور سکھ ایک قوم۔ وہ کونسی اختلافی چیز تھی کہ جس نے ایک گروہ کو دوسرے سے الگ کر دیا۔ ہندو بھی اسی ملک میں اسی فضا میں رہتے سہتے، جیتے مرتے تھے۔ جس میں ہم۔ ان کے ظاہری اعضاء و افعال بھی وہی تھے جو ہمارے۔ وہ بھی نیکی کو اچھا اور برائی کو برا سمجھتے تھے اور ہم بھی۔ تو پھر کیا قوم اس لیے بدل گئی کہ ہم خالق کائنات کو اللہ کہتے ہیں اور وہ رام کہتے تھے۔ ہم شلوار پہنتے ہیں وہ دھوتی باندھتے تھے۔ آخر وہ کونسی خصوصیت تھی کہ جس کی بنا پر ایک ہی ملک، ایک ہی فضا اور ایک سے ماحول
میں رہنے والے ایک سے انسانوں میں تفریق ہوگئی۔ سنئے میں بتاتا ہوں۔ قومیت کی بنیاد نبوت پر ہے۔ جس نے محمدﷺ کو مانا وہ مسلمان ہے، جس نے کرشن کو مانا وہ ہندو ہے، جس نے نانک کو مانا وہ سکھ ہو گیا، اور جس نے عیسیٰ علیہ السلام کو مانا وہ عیسائی ہو گیا۔ میں سچے اور جھوٹے کی بحث نہیں کر رہا جو شخص بھی خود کو نبی کہتا ہے۔ چاہے اس کا دعویٰ حق ہو یا باطل جو اسے نبی مانیں گے وہ دوسروں سے کٹ جائیں گے اور پھر آپ خود فرض کیجئے۔
ایک شخص حضرت موسیٰ علیہ السلام کو خدا کا نبی مانتا ہے، وہ یہودی کہلاتا ہے۔ بیس برس کے بعد وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا نبی مان لیتا ہے، اب وہ یہودی نہیں رہا بلکہ عیسائی ہو گیا۔ اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نبوت کا انکار نہیں کیا بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کا اقرار کیا ہے۔ اب یہی شخص دس سال بعد نبی اکرمﷺ کو اپنا نبی، امام، ہادی، اور مقتدا مان لیتا ہے۔ تو وہ عیسائیت سے نکل کر اسلام میں داخل ہو جاتا ہے۔ اور اسلام میں داخل ہونے کے لیے اس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کا انکار نہیں کیا بلکہ حضور نبی اکرمﷺ کی نبوت کا اقرار کیا ہے۔
اور اب آگے سمجھئے کہ اگر یہی شخص مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مان لیتا ہے تو وہ اسلام سے نکل کر مرزائیت کے دائرے میں داخل ہو جاتا ہے۔ اور اس کے لیے حضورﷺ کی نبوت کا انکار شرط نہیں بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کا اقرار شرط ہے۔ اور جس طرح یہودیت، عیسائیت سے الگ قوم ہے اور عیسائیت اسلام سے الگ قوم ہے۔ اسی طرح مرزائیت بھی اسلام سے الگ ہے۔ اگر کافر اور مومن ایک قوم نہیں، ہندو اور مسلمان ایک قوم نہیں۔ جس طرح ایک نبی کا اقرار اور انکار کرنے والے یعنی مومن اور کافر الگ الگ قوم تصور ہوتے ہیں۔ اسی طرح مرزا غلام احمد قادیانی کا اقرار و انکار کرنے والے بھی ایک دوسرے سے علیحدہ جدا قومیں ہیں۔
(خطاب مولانا محمد علی جالندھریؒ)
لاریب وہ جنت کا سزا وار نہیں ہے
خاموش رہے سن کے جو اسلام کی توہین
بے شرم ہے بزدل ہے وہ خود دار نہیں ہے
(مؤلف)
پاکستان ، قادیانی اور بھٹو (مرحوم)
احمدیہ مسئلہ! یہ ایک مسئلہ تھا جس پر بھٹو صاحب نے کئی بار کچھ نہ کچھ کہا ایک دفعہ کہنے لگے، رفیع یہ لوگ چاہتے ہیں کہ ہم ان کو پاکستان میں وہ مرتبہ دیں جو یہودیوں کو امریکہ میں حاصل ہے۔ یعنی ہماری ہر پالیسی ان کی مرضی کے مطابق چلے۔
ایک بار انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی نے ان کو غیر مسلم قرار دیا ہے۔ اس میں میرا کیا قصور ہے؟ ایک دن اچانک مجھ سے پوچھا کہ کرنل رفیع ، کیا احمدی آج کل یہ کہہ رہے ہیں کہ میری موجودہ مصیبتیں ان کے خلیفہ کی بدعا کا نتیجہ ہیں کہ میں کال کوٹھڑی میں پڑا ہوں؟ ایک مرتبہ کہنے لگے کہ بھئی اگر ان کے اعتقاد کو دیکھا جائے تو وہ حضرت محمد ﷺ کو آخری نبی ہی نہیں مانتے اور اگر وہ مجھے اپنے آپ کو غیر مسلم قرار دینے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں تو کوئی بات نہیں۔ پھر کہنے لگے میں تو بڑا گناہگار ہوں اور کیا معلوم کہ میرا یہ عمل ہی میرے گناہوں کی تلافی کر جائے اور اللہ تعالیٰ میرے تمام گناہ اس نیک عمل کی بدولت معاف کردے بھٹو صاحب کی باتوں سے میں یہ انداز لگایا کرتا تھا کہ شاید انہیں گناہ وغیرہ کا کوئی خاص احساس نہ تھا لیکن اس دن مجھے محسوس ہوا کہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔
(”بھٹو کے آخری 323 دن“ از کرنل رفیع الدین)
نیک سیرت ڈی سی
1953ء کی تحریک ختم نبوت کا جب آغاز ہوا۔ وہ پنجاب میں احراری عناصر کے ذریعے سے ہوا۔ میانوالی میں بھی احراری عناصر کے ذریعے سے تحریک شروع ہوئی میں نے اس کی ضرورت کو شدت سے محسوس کیا۔ اور اس کی اہمیت سے آگاہ ہوا۔ بلکہ یہی میری زندگی
کا وہ موڑ تھا جب مجھے قادیانیت کی اصلیت سے شناسائی ہوئی۔ اور ہم نے فتنہ قادیانیت کے خلاف اعلان جہاد کر دیا۔ ختم نبوت کے عنوان سے جلسے ہوتے۔ میانوالی اور گرد و نواح میں ہم نے اس سلسلہ کو مربوط اور منظم کر دیا۔ ضلع انتظامیہ نے دفعہ 144 نافذ کر دیا یہ ضلع میانوالی کا پہلا دفعہ 144 تھا ہم نے یہ دفعہ توڑا۔ جیل گئے۔ جیل میں DC ہمیں ملنے آیا اور اس نے ہمیں کہا کہ ہماری بات مان جاؤ۔ ہم تمہیں ابھی رہا کر دیتے ہیں۔ ہم نے کہا کہ ہم رہائی نہیں چاہتے قادیانی کے پلید وجود کی تلفی چاہتے ہیں اگر ہمیں رہا کر دیا تو باہر جا کر بھی پھر دفعہ 144 توڑیں گے۔ ہمارا ساتھی ایک مولوی رمضان دلیر اور صاحب بصیرت انسان تھا۔ اس نے ہمارا ساتھ دیا ہم نے اپنے اس موقف پر استقامت اختیار کر لی۔ ڈی سی گولڑہ شریف سے مرید تھا اس نے کہا ”تم توڑو یا نہ توڑو چلو باہر جاؤ میں ختم نبوت کے مسئلہ میں قادیانیوں کا طرفدار کیوں بنوں؟“
(ماہنامہ سوئے حجاز ۔مئی جون ٢٠٠٢ء انٹرویو صوفی ایاز صاحب)
رہائی نہیں اسیری چاہیے
ہم تین ماہ تک قید و بند سے لذت اندوز ہوتے رہے۔ اس گرفتاری اور جیل کے اندر جو لطف تھا وہ کسی آزادی میں حاصل نہیں ہوا۔ مجھے میرے ایک دوست نے میری مرضی کے بغیر خود ہی اپنے طور پر کوشش کر کے رہا کروایا جبکہ میرے دوسرے کئی ساتھی میری رہائی کے پندرہ بیس روز بعد بھی جیل میں رہے۔ اپنی رہائی پر خوشی کے بجائے مجھے دکھ ہوا اور میں نے اپنے اس ساتھی سے تلخ کلامی کی کہ میں کسی دنیا داری کے حوالے سے تو جیل نہیں گیا تھا کہ تو نے ضمانت پر رہا کروایا ہے میں تو حضورﷺ کی عظمت کے سلسلہ میں جیل گیا تھا یہ شرمندگی کا باعث نہیں بلکہ الحمد للہ عزت اور وقار کا باعث ہے۔
(ماہنامہ سوئے حجاز ۔مئی جون ٢٠٠٢ء: انٹرویو صوفی ایاز صاحب)
کوئی کانٹا جو چبھ جائے گا طیبہ کے بیاباں میں
(مؤلف)
٥٣ء کی تحریک ختم نبوۃ میں ١٥ سے ٢٠ ہزار مسلمان
شہید ہوئے: مرزا ناصر
کراچی (ختم نبوت رپورٹ) جناب منیر احمد قریشی برطانوی خفیہ پولیس میں ملازم ہیں وہ کافی عرصہ پاکستان رہے پھر برطانیہ چلے گئے انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں قادیانیوں کے عزائم سے پردہ اٹھایا ہے۔ انہوں اس کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ جب ١٩٥٣ء کی تحریک مقدس ختم نبوت پنجاب میں چلی تو میں میو سکول آف آرٹس ساندہ روڈ لاہور میں وائی ایم سی اے ہوسٹل میں مقیم تھا۔ انہی دنوں میری غیر مسلم کافر و مرتد مرزا غلام احمد کے پوتے آنجہانی مرزا ناصر احمد سے ملاقات پہلی مرتبہ ہوئی تھی وہ برانڈرتھ روڈ والے احمدیہ ہوسٹل میں ہوا کرتے تھے۔ میری ان سے دوستی ہوگئی اکثر فنون لطیفہ پر ہماری بحثیں اور شاعری پر باتیں ہوا کرتی تھیں۔ وہ اکھنڈ بھارت کے قائل تھے اور قائد اعظمؒ کو اپنا لیڈر تسلیم نہیں کرتے تھے۔ مجھے مرزا ناصر نے ہی بتایا تھا کہ عبدالرحمن چغتائی اور یحییٰ بھٹی قادیانی تھے اور عبدالرحیم بھی قادیانی تھے۔ ان سب سے مرزا ناصر آنجہانی کے ہاں ہی میری اکثر ملاقاتیں ہوا کرتی تھیں کپور تھلہ ریاست کے رہنے والے میرے ایک دوست نے جو کہ مرزا ناصر احمد کی والدہ کے گاؤں کے رہنے والے مرزا کے ”صحابی“ تھے۔ میرا تعارف کرایا تھا۔ میں نے مرزا ناصر احمد اور مرزا بشیر الدین محمود قادیانی سے بھی کئی کتابیں لے کر پڑھی تھیں اور ان کے نادر کتب خانے سے بے بہا استفادہ کیا تھا۔ قاضی احسان احمد شجاع آبادی اور مرحوم آغا عبد الکریم شورش کاشمیری بانی چٹان جنگ آزادی کے عظیم مجاہد تھے۔ ان کو میں نے ہی ساری خفیہ اور اہم ترین
حوالہ جاتی کتب لے کر فراہم کی تھیں۔ جو بعد ازاں مجلس احرار اسلام پاکستان نے مسٹر جسٹس منیر انکوائری کمیشن کے سامنے اپنے کیس میں پیش کی تھیں۔ میں تحریک ختم نبوت کے حق میں تقریریں بھی کیا کرتا تھا اقتصادیات اور کمیونزم کے بارے میں ایک کتاب بشیر الدین محمود کی خود مرزا ناصر احمد ان کے آنجہانی بیٹے اور جانشین نے مجھے دی تھی۔ ناصر احمد اپنے باپ کے بالکل برعکس جدیدیت کا حامی اور بے پناہ ادبی ذوق رکھتے تھے۔ وہ گاندھی اور لینن کے حامی تھے اور سٹالن کے علاوہ ہٹلر سے بھی کافی لگاؤ ہمدردی اور رغبت رکھتے تھے وہ اکثر سوشلسٹ لٹریچر پڑھتے تھے اور ماوزے تنگ کے سخت مخالف تھے لیکن ہوچی منہہ اور نہرو سے کافی محبت رکھتے تھے۔ جنسیات اور دیگر جدید علوم کے بارے میں ان کا کافی مطالعہ تھا وہ مصوری کو پسند کرتے تھے اور مجھے اکثر اپنے ذوق و شوق کے بارے میں بتایا کرتے تھے۔
چنانچہ جب ١٩٥٣ء میں لاہور میں بالخصوص اور سارے صوبہ پنجاب میں اعظم خان کا مارشل لاء لگا تو لاہور میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ مارے گئے تھے۔ آنجہانی مرزا ناصر نے بتایا تھا کہ ان کی مصدقہ اطلاعات کے مطابق پندرہ ہزار سے بیس ہزار کے درمیان مسلمان ختم نبوت کی تحریک چلانے کے جرم میں مسلم لیگی حکومت کے ایماء پر مارشل لاء کے دوران فوج اور پولیس کے ہاتھوں شہید ہوگئے تھے جو کہ اعظم خان کے مرزائی نواز مارشل لاء کی مخالفت کرتے ہوئے گولیاں کھاتے تھے۔ لاشوں سے بھرا ہوا کارپوریشن کا گندگی اٹھانے والا ایک ٹرک میرے سامنے نشاط سینما کے آگے سے جب گزرا تھا تو اس طرح شہید مسلمانوں کی لاشیں لادی گئی تھیں کہ وہ لٹک کر زمین پر بُری طرح گھسٹتی ہوئی چلی جا رہی تھیں کہ جانور بھی اس طرح لاد کر نہیں لے جائے جاتے میں بے حد شرمسار ہو کر دھاڑیں مار کر یہ انسانیت سوز منظر دیکھ کر رو پڑا تھا۔ ان دنوں نعرے لگا کرتے تھے۔ پاکستان کے تین خدا۔ اعظم ناظم ظفر اللہ پاکستان کا مطلب کیا، گولی کرفیو مارشل لاء وغیرہ جو بھی نعرہ مارتا تھا اسے غدار اور ملک دشمن قرار دیتے ہوئے فوراً گولی مار دی جاتی تھی۔ یہ بڑا سخت دور تھا۔ میں اس کرب ناک غیر انسانی غیر جمہوری ماحول سے بھاگنا چاہتا تھا اس لیے میں ٥٤ء میں پاکستان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر بیرون ملک قسمت آزمائی کرنے کے لیے نکل پڑا اور تب سے اب تک دیار غیر میں زندگی بسر کر رہا ہوں میں کولمبو منصوبے کے تحت ایک امریکی ادارے کو درخواست دے کر امریکہ چلا گیا نیویارک میں دو تین ماہ گزارنے کے بعد وہاں چونکہ دل نہ لگا تھا تو پھر
انگلستان چلا گیا اور لندن میں ایک دو راتیں قیام کرنے کے بعد اپنے ایک چچا زاد کے پاس برمنگھم چلا گیا وہاں میں نے اپنا مکان خریدا بعد ازاں اسے مسجد میں تبدیل کر دیا۔ یہاں قادیانی لاہوری عقیدے کے قادیانی اسماعیلی ، پرویزی ہر فرقے کے لوگ آ کر نماز پڑھ لیا کرتے تھے کیونکہ اور کوئی مسجد نہیں تھی۔ میں نے ایک امام بارگاہ و امام باڑہ بھی حافظ علی احمد جالندھری کے تعاون سے بنایا یہ احمد برادرز، احمد الیکٹریکل برمنگھم کے مالک ہیں۔ ہماری مسجد میں ہر شخص نماز پڑھ لیتا ہے اس وقت برمنگھم میں ٥٦ مسجدیں ہیں جن کے قیام میں میں نے حصہ لیا ہے۔
سابق وزیر خارجہ پاکستان سرظفر اللہ خان قادیانی کے دور میں برطانیہ میں اکثر پاکستان سفارت کار قادیانی یا مرزائی نواز تھے جو سرظفر اللہ کے ذریعے برطانیہ اور یورپ کے ملکوں میں پھیل چکے تھے اس کے بعد برطانیہ میں قادیانیوں کی الگ مسجدیں قائم ہونی شروع ہوئیں۔
وہ برطانوی خفیہ پولیس میں ملازم ہونے کی حیثیت سے اپنی سیاسی سوچ کا کھل کر اظہار کرنے سے معذور تھے مگر اس خیال کے ضرور حامی تھے کہ مرزائی براعظم افریقہ میں ایک احمدی مملکت قائم کرنے کی جدوجہد تیز کر چکے ہیں وہ اسرائیل کی فوج میں موجودہ مرزائیوں کو بھی عالم اسلام کی وحدت کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۔ جلد ٥ شمارہ ٨ بابت جولائی ١٩٨٦ء)
حضرت شیخ بنوریؒ کا جہاد ختم نبوت
١٩٧٥ء میں انڈونیشیا کے ایک بہت بڑے عالم الشیخ الحبشی الشافعی مشرقی وسطیٰ کے دورہ سے واپسی پر حضرتؒ کی خدمت میں کراچی تشریف لائے کئی دن ان کا قیام رہا اور انہوں نے حضرتؒ کے سامنے انڈونیشیا میں قادیانی سرگرمیوں اور نصرانی سازشوں کی تفصیلات پیش کیں یہ بھی بتایا کہ ”قادیانیوں سے ہمارا معرکہ رہتا ہے جب ہم مرزا غلام احمد کا کوئی حوالہ پیش کرتے ہیں تو قادیانیوں کی طرف سے اصل کتاب پیش کرنے کا مطالبہ ہوتا ہے۔ میں نے
مولانا ابوالحسن علی ندوی مدظلہ کو لکھا تھا کہ اس سلسلہ میں ہماری راہنمائی کریں۔ انہوں نے جواب دیا کہ اس فن کے امام مولانا شیخ محمد یوسف بنوری ہیں۔ کراچی میں ان سے رجوع کرو۔ اس لیے میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں۔
حضرتؒ نے ان کی بہت ہی قدر اور ہمت افزائی کی اور ان سے فرمایا کہ ہم نہ صرف قادیانیوں کا سارا لٹریچر آپ کے لیے مہیا کریں گے بلکہ ایک ایسا عالم بھی بھیجیں گے جو قادیانیت کا پورا ماہر ہو۔ کیونکہ قادیانیوں کی بیشتر کتابیں اُردو میں ہیں۔ ہمارے آدمی آپ کے یہاں کے علماء کو قادیانی کتابوں کے حوالوں کا ترجمہ عربی میں نوٹ کرا دیں گے۔ اور قادیانیت پر ایسی تیاری کرا دیں گے کہ اس کے بعد آپ حضرات کو کسی اور سے مراجعت کی حاجت نہیں ہو گی۔ وہ نقشہ آج بھی راقم الحروف کی آنکھوں کے سامنے ہے جب شیخ حسین رخصت ہوتے ہوئے حضرت کی پیشانی اور ریش مبارک کو بوسہ دے رہے تھے ان کی آنکھوں سے سیل اشک رواں تھا۔ اور وہ بڑے رقت انگیز لہجے میں حضرت سے درخواست کر رہے تھے۔
یاسیدی! زوّدنی، بما زوّد سیدنا رسول اللہ ﷺ معاذ بن جبل حین بعثہ الی الیمن۔“
اور جواب میں حضرتؒ نے اسی رقت آمیز مگر بزرگانہ لہجہ میں فرمایا:
زوّدک اللہ التقویٰ، واستودع اللہ دینکم و امانتکم و خواتیم اعمالکم.
بہر حال ان کی درخواست پر حضرتؒ نے جناب مولانا عبدالرحیم اشعر اور رفیق محترم مولانا اللہ وسایا صاحب کو قادیانیوں کا ضروری لٹریچر دے کر انڈونیشیا بھیجا، ان حضرات نے وہاں قادیانیوں کو مناظرہ و مباحثہ کی دعوت دی، مگر کوئی مقابلے پر نہیں آیا، وہاں مختلف مقامات پر ان کے بیانات ہوئے جن کا ترجمہ ساتھ کے ساتھ انڈونیشین زبان میں ہوتا رہا۔ وہاں کے ریڈیو پر بھی ان کی تقریریں نشر ہوئیں اور سب سے اہم کام یہ کیا کہ قریباً دو صد حضرات علماء و عوام اور طلبہ کی ایک بڑی جماعت کو عربی میں قادیانیت سے متعلق مختلف موضوعات پر تیاری کرائی۔ قادیانیوں کی کتابوں کے اصل مآخذ کی نشاندہی کرا کے ان کا عربی میں ترجمہ کرایا۔ اس طرح ایک بڑی جماعت کی رَدّ قادیانیت پر تیاری مکمل کرائی۔ فالحمد للہ علیٰ ذالک۔
ان دونوں احباب کی میزبانی کے فرائض شیخ حسین الحبشی نے ادا کیے۔ مگر سفر
کے جملہ مصارف حضرتؒ نے جماعت کی طرف سے برداشت کیے اور قادیانی لٹریچر کا یہ ذخیرہ بھی انڈونیشیاء چھوڑ دیا گیا یہ دورکنی وفد ٢٦ / ذوالحجہ ١٣٩٥ھ مطابق ٢٢ / دسمبر ١٩٧٥ء کو کراچی سے روانہ ہوا اور ٢٧ محرم ١٣٩٦ھ مطابق ٢٤ / جنوری ١٩٧٦ء کو واپس ہوا، ان کی واپسی پر شیخ حسین نے حضرتؒ کی خدمت میں شکریہ کا خط لکھا جس میں ان حضرات کی مساعی کی تفصیل کا ذکر کرتے ہوئے لکھا: ”ان حضرات کا قیام اگرچہ ایک مہینہ رہا، لیکن ہم نے ان سے ایک سال کا استفادہ کیا۔“
رمضان مبارک ١٣٩٥ھ میں ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کے فاضل مبلغ جناب مولانا سید منظور احمد شاہ صاحب کو متحدہ عرب امارات میں کام کرنے کے لیے بھیجا وہاں روابط قائم کرنے کے لیے حضرتؒ نے ابوظہبی میں شؤن دینیہ کے سربراہ جناب ڈاکٹر عبد المنعم النمر اور ابوظہبی کے قاضی القضاۃ شیخ احمد بن عبدالعزیز المبارک کے نام عربی میں الگ الگ گرامی نامے تحریر فرمائے۔ نیز ابوظہبی کے پاکستانی حضرات کے نام اردو میں حسب ذیل گرامی نامہ تحریر فرمایا۔
اس وقت اسلام جن فتنوں سے گھرا ہوا ہے، محتاج بیان نہیں، مسلمان دنیا کے جس خطے میں ہو اسلام کا داعی اور مبلغ ہے، اور ہر شخص اپنی بساط کے مطابق اس کا مکلف ہے کہ دینی خدمات انجام دے اور آخرت کی سرخروئی اور قیامت کی جوابدہی حاصل کرے۔
مجلس مرکزی تحفظ ختم نبوت نے اپنی شاخ کے افتتاح کا ارادہ کیا ہے، تاکہ اس کے ذریعہ ابوظہبی اور امارات خلیج میں دینی خدمت ہو سکے اس خدمت کے لیے اپنے ایک داعی ومبلغ مولانا منظور احمد شاہ کا تقرر کیا ہے۔
آپ حضرات کے دینی مزاج اور مکارم اخلاق سے مجھے پوری توقع ہے کہ موصوف کی مقدور بھر امداد میں جس طرح بھی ہو سکے دریغ نہیں فرمائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو ان دینی خدمات کی توفیق عطا فرمائے۔“
چنانچہ موصوف نے وہاں کے احباب کے توسط سے اکابر علماء اور شیوخ سے رابطہ قائم کیا، انہیں قادیانیت کے مالہ، وماعلیہ سے آگاہ کیا، قادیانی لٹریچر سے، جو ساتھ لے کر گئے تھے۔ قادیانیوں کے مرتدانہ نظریات وعقائد نکال کر دکھائے اور ان کی اسلام کش سرگرمیوں کی تفصیلات بتائیں جس کے نتیجہ میں وہاں کے رئیس القضاۃ شیخ احمد بن عبدالعزیز المبارک نے قادیانیت کے خلاف وہ فیصلہ لکھا جو جماعت کی طرف سے ”قادیانیوں کا ایک اور عبرت ناک
انجام‘ کے عنوان سے شائع ہو چکا ہے۔ مولانا منظور احمد شاہ صاحب نے ١٩٧٦ء میں متحدہ عرب امارات کے علاوہ کویت اور بحرین کا دورہ بھی کیا اور وہاں مجلس تحفظ ختم نبوت کی شاخیں قائم کیں۔ ١٩٧٥ء میں مولانا مقبول احمد کو ختم نبوت کے داعی کی حیثیت سے انگلینڈ بھیجا۔ موصوف نے وہاں کے نہ صرف پاکستانی حضرات سے رابطہ قائم کیا بلکہ ممالک عربیہ کے طلبہ میں بھی کام کیا۔
١٩٧٦ء کو ”مدرسہ عربیہ اسلامیہ“ کے متخصص جناب مولانا اسد اللہ طارق کو فجی آئرلینڈ کے لیے داعی ومبلغ بنا کر بھیجا، موصوف نے وہاں ایک سال سے زیادہ عرصہ کام کیا، اس کے بعد جرمنی تشریف لے گئے، اور وہاں قادیانیت کا ناطقہ بند کیا۔
(ماہنامہ بینات شیخ بنوری نمبر، ص ٤٧٠ تا ٤٧٢ : از قلم مولانا محمد یوسف لدھیانوی)
باغ سے وہ بلبل شیریں نوا جاتا رہا
(مؤلف)
حضرت! آپ تو شہید ہو گئے ، مگر ہم ............
مولانا محمد مسعود اظہر
میں بستر کی موت نہیں مروں گا...... شہید مروں گا ، شہادت پاؤں گا ، یہ الفاظ چند دن پہلے سنے تھے۔ مگر کس کی زبان سے؟ اس خوش نصیب ہستی کی زبان سے، جنہیں حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ جیسے استاد، حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ جیسے سرپرست، حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنیؒ جیسے شیخ، حضرت ڈاکٹر عبدالحئی صاحبؒ جیسے مربی نصیب ہوئے۔ ہاں اس مردِ جلیل کی زبان سے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی اکرم ﷺ کی ختم نبوت کے دفاع کے لیے منتخب فرمایا تھا، ہاں اس نابغۂ روزگار شخصیت سے جس نے عشق رسول ﷺ میں مست ہو کر قادیانیت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی، جس نے عشقِ صحابہؓ میں مست ہو
عیسائیت کے دماغ پر وار کر کے اس کا بھیجا باہر نکال دیا، جس نے سنت کی روشنی میں، صراط مستقیم کو تلاش کیا اور پھر اپنے دل اور جگر کے خون کو قلم کی سیاہی بنا کر لاکھوں بھٹکے ہوئے انسانوں کو صراط مستقیم کا راستہ بتایا، ہاں یہ الفاظ اس عظیم شخصیت کے تھے جس کی زبان سے معرفت اور جس کے قلم سے علم کے دریا بہتے تھے، جی ہاں وقت کا ولی اور زمانے کا نباض مصنف یہ اعلان فرما رہا تھا کہ میں شہادت کی موت کی لذت والی میٹھی میٹھی پیاری پیاری موت کا مزہ چکھ کر زندہ و جاوید ہو جاؤں اور وہ شخص جسے قادیانی مارنا چاہتے ہیں۔
جسے گمراہی کے سوداگر قتل کرنا چاہتے ہیں، وہ ایسی موت پائے گا جس پر لاکھوں زندگیاں فدا، دشمن اسے مارنا چاہتے ہیں لیکن وہ نہیں مرے گا بلکہ شہادت پا کر زندہ ہو جائے گا اور رب تعالیٰ کی طرف سے اعلان ہو جائے گا کہ: ”اسے مردہ مت کہو، اسے مردہ مت سمجھو۔“ تب دشمنان اسلام ماتم کریں گے کہ جسے ہم مارنا چاہتے تھے وہ تو زندہ ہو گیا ہے۔ تھوڑا سا ماضی کی طرف نظر دوڑائیے، جامعۃ الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کے بانی حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کی نظر انتخاب ایک فقیر منش شخص پر پڑتی ہے، نگاہوں کا تبادلہ ہوا، قلندر وقت نے مستقبل کے قلندر کو پہچان لیا، مختصر قامت و جسامت والا ایک پرنور فقیر بنوری ٹاؤن آکر بیٹھ گیا، دیکھنے والوں کو غالباً حضرت بنوریؒ کے انتخاب سے حیرانی ہوئی ہو لیکن حقیقت کچھ اور تھی اور ایک ایسا فرد کراچی کی سرزمین پر وارد ہو چکا تھا جس کے قلم میں لاکھوں موتی اور اس کی زبان میں کروڑوں جواہر پوشیدہ تھے، ایسا شخص جس کے یہاں سعادت کے انبار تھے اور اس کا انجام عظیم شہادت تھی، اس فقیر کے متوازن اور مستقل قلم نے آہستہ آہستہ جنبش شروع کر دی سبحان اللہ! کیا عظیم شخص تھا ہر میدان میں نہایت احتیاط سے پھونک پھونک کر قدم رکھتا تھا لیکن پھر دیکھتے ہی دیکھتے سب سے آگے نکل جاتا تھا، ماہنامہ بینات میں اس کے جواہر کھلنے لگے، حضرت بنوریؒ نے جن بصائر و عبر کی بنیاد ڈالی تھی، اس مرد جلیل نے انہیں پروان چڑھایا، جنگ اخبار خوش قسمت نکلا اس کے صفحات کے ذریعے پاکستان ہی نہیں، دنیا بھر کے مسلمانوں نے اس شخصیت کے کمالات سے استفادہ کیا، متحدہ عرب امارات میں رہنے والے ایک مسلمان نے اس فقیر سے صراط مستقیم کا پتا پوچھا تو صرف پندرہ روز میں اس کے قلم نے ایسی جولانیاں فرمائیں کہ دیکھنے والے دنگ رہ گئے اور اختلافات کے سیاہ بادلوں کے درمیان صراط
مستقیم کا سورج مسکراتا ہوا طلوع ہو گیا ربوہ اور لندن کی تعلیم گاہوں میں قادیانی تحریکات کے خوفناک جالے بنے تھے لیکن اس مرد قلندر کے ایک تحفے نے قادیانیت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی، کراچی کے بازاروں میں گھومنے والے ایک دردمند صوفی نے اس مصلح امت کے دل کے ایک تار کو چھیڑا تب دنیا نے ایک ایسی تحریر دیکھی جس نے بگڑے چہروں کو مدنی نور عطا کر دیا، اچانک آنے والے حوادث نے جامعہ اسلامیہ بنوری ٹاؤن کی مسند حدیث کو ویران کرنے کی ٹھانی تب اس مسند پر امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا ایک لائق شاگرد علامہ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ ہمکلام نظر آیا اور یوں محسوس ہونے لگا کہ علامہ بدر الدین عینی اور ملا علی قاری دوبارہ زندہ ہو گئے ہیں، کسریٰ کے پجاری اسلامی جبے پہن کر آل رسول ﷺ کی محبت کا لبادہ اوڑھ کر جب رفض کے خنجر لیے اصحاب رسول کی طرف بڑھے تب اس شخص نے ابن سبا کی ذریت کے گریبان میں اپنا آہنی ہاتھ ڈالا اور ایک ہی جھٹکے میں گستاخوں کے دانت جڑوں سے نکال کر رکھ دیئے، تاریکی کے سوداگر روشن خیالی کا جھوٹا نعرہ لگا کر جب اسلامی نظریات کی سرحدوں کی طرف بڑھے تو یہی فقیر عالم دین اسلام کی نظریاتی سرحدات پر دن کی روشنی اور رات کی تاریکی میں مستعد نظر آیا اور اس نے الحاد کے پردے ایک ہی وار میں تار تار کر دیئے، دشمنان اسلام پریشان تھے حیران تھے وہ جدھر سے وار کرنا چاہتے تھے انہیں وہاں پر اس مرد مجاہد کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور یہ مزاحمت پہاڑوں کی طرح مضبوط اور ستاروں کی طرح بلند تھی، اس شخص کی آڑ میں مبلغین ختم نبوت ...... قادیانیت کے مراکز کو مسمار کر رہے تھے اور اس کے سائے میں داعیان اسلام نہایت سکون سے آگے بڑھ رہے تھے علم و معرفت کا یہ دریا پوری آب و تاب سے بہہ رہا تھا کہ اچانک اسی دریا نے سرخ ہونے کا اعلان کر دیا، چند مہینے پیچھے کی طرف مڑ کر دیکھئے...... کراچی کی مسجد فلاح جو آج اشکبار ہے، اس دن کچاکھچ بھری ہوئی تھی، حال کا شاہد اور مستقبل کا شہید عجیب شان کے ساتھ اس مسجد کے محراب میں منبر کا تکیہ لگائے بیٹھا تھا، اس نے اپنی پہلو میں ایک چھوٹے سے مجاہد کو یوں بٹھا دیا تھا...... جس طرح شفیق ماں اپنے لاڈلے بیٹے کو گود میں بٹھاتی ہے اور منبر پر اسی مرد درویش کا ایک باصفا اور باوفا مرید مجمع سے مخاطب تھا وہ مجاہدین کے حال اور مستقبل کو بیان فرما رہا تھا ...... بیان کے دوران اس نے نہایت عزم کے
ساتھ اعلان کیا، آج علماء کرام نے مجاہدین اسلام کے قافلے کو متحد کرنے کا عزم کر لیا ہے، سب مجاہدین اپنے اختلافات اور اپنے سابقہ عہدے اور نام چھوڑ کر جیش محمد ﷺ کے جھنڈے کے تلے جمع ہو جائیں، ابھی یہ الفاظ سامعین کے کانوں سے ٹکرائے ہی تھے کہ محراب میں بیٹھے ہوئے عظیم مجاہد نے اپنے دونوں ہاتھ ساتھ بیٹھے ہوئے چھوٹے مجاہد کے ہاتھوں پر رکھ دیئے اور کفر کے ایوانوں میں زلزلہ برپا کر دینے والا اعلان فرمایا میں اس کے ہاتھ پر سب سے پہلے جہاد کی بیعت کرتا ہوں یہ مجھے جہاں تشکیل کرے گا میں وہاں جاؤں گا، اس اعلان نے منبر پر موجود دردمند خطیب پر اور پورے مجمع پر رقت طاری کردی خطیب صاحب نے تقریر چھوڑ دی اور روتی آنکھوں کے ساتھ ان چاروں ہاتھوں پر اپنے دو مبارک ہاتھوں کا اضافہ کر دیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں افراد تکبیر کے بلند نعروں کے درمیان بیعت علی الجہاد کے مبارک عمل کو زندہ کرنے لگے یقیناً بلا مبالغہ آسمانوں پر جشن کا سماں ہوگا مظلوموں کے دلوں کو نہ معلوم کتنی ٹھنڈک پہنچی ہوگی کافروں نے اسلام دشمنوں نے اس گھڑی ایک فیصلہ کر لیا تھا اوپر سے نیچے تک وائرلیس اور سیٹلائٹ فون بج اٹھے تھے ...... نام کے سفید اور کام کے کالے محلات میں ماتم برپا تھا، بالاکوٹ کی پہاڑیوں پر بکھرے خون کے بعد بیعت علی الجہاد کا یہ منظر اپنوں اور غیروں کو بہت کچھ بتا رہا تھا بہت ساری باتیں سمجھا رہا تھا، اس روح پرور گھڑی کے تھوڑی دیر بعد یہ عظیم مجاہد ایک جنازہ پڑھانے کے لیے کراچی کی مسجد دارالسلام تشریف لے گیا اس مسجد میں اس پر عجیب والہانہ کیفیت طاری تھی، اس نے اس چھوٹے سے مجاہد کو پھر گلے سے لگایا لوگوں کے سامنے اس کا تعارف کرایا، اپنی بیعت علی الجہاد کو دہرایا اور دس ہزار روپے کا عطیہ، مجاہدین کے لیے نچھاور فرمایا اور جنازے کے بعد ایک ایسی بات ارشاد فرمائی جس نے سمجھنے والوں کے دل ہلا دیئے، وہی بات جس کے تذکرے سے یہ مضمون شروع ہوا ہے، انہوں نے اللہ کے بھروسے پر ایمانی فراست کی روشنی میں ارشاد فرمایا: ”میں بستر کی موت نہیں مروں گا، میں شہید مروں گا۔“...... یہ اعلان کوئی رسمی جملہ یا جذباتی نعرہ نہیں تھا، مرد حق نے جو کہا تھا اس کی تیاری فوراً شروع فرمادی کراچی میں جیش محمد ﷺ کے مرکزی دفتر کے افتتاح میں تشریف لے گئے اور اس کی خاطر تکلیف دہ سفر برداشت فرمایا، ملتان جانا ہوا تو بغیر دعوت کے جیش محمد ﷺ کے دفتر دعا کے لیے آپہنچے، لاہور تشریف لے گئے تو لوگوں نے کہا
جیش محمد ﷺ نے مجاہدین میں تفرقہ ڈال دیا ہے؟ مرد حق نے فرمایا: جو کچھ بھی ہو ہم جیش محمد ﷺ کے ساتھ ہیں اور پھر اپنے پیسوں سے جیش محمد ﷺ کا رسالہ خریدا، کراچی واپس تشریف لائے تو افغانستان کے سفر کے لیے کمر باندھ لی اور دیکھنے والے حیران رہ گئے اس سفر سے پہلے، خود دعوت دے کر علماء کرام کو اپنی مسجد میں بلوایا اور جہاد کی دعوت ان تک پہنچائی پھر وہ دن بھی آپہنچا....... جب یہ مرد حق اپنے رفقاء کرام کے ساتھ کراچی سے کوئٹہ اور کوئٹہ سے افغانستان کی پاکیزہ سرزمین میں داخل ہوا، قندھار کے گورنر نے استقبال کیا، دست بوسی کا شرف حاصل کیا، حضرت امیر المومنین خود ملاقات کے لیے تشریف لائے اور آدھے گھنٹے تک مسلمانوں کے دو عظیم قائد آمنے سامنے بیٹھے رہے، وفد کے اراکین نے خوب باتیں کیں مگر مرد حق خاموش رہا اور دعاؤں سے نوازتا رہا، کئی وزراء کرام نے زیارت کا شرف حاصل کیا، قوانین کا جائزہ لیا وقت تیزی سے دوڑ رہا تھا افغانستان میں خوشی کی ایک لہر تھی مگر سب حیران تھے کہ مرد حق بالکل خاموش ہے، زبان پر ذکر جاری رہتا ہے اور آنکھیں اسلام کی عظمت کے مناظر دیکھ کر آبدیدہ ہوتی ہیں، پھر ملنے والے کو دعاؤں کا انمول تحفہ ملتا ہے مگر امام غزالی اور امام رازی رحمہم اللہ لکھتے ہیں کہ نکتے بیان کرنے والے اور شاہ ولی اللہ کی حجۃ البالغہ کا شارح اور کچھ نہیں فرماتا....... اسلامی حکومت نے قندھار سے کابل کے لیے طیارے کا بندوبست کر دیا فضائیہ کا سربراہ دھوپ میں کھڑا الوداع کہہ رہا تھا....... مرد حق کی آنکھوں میں چمک اور زبان پر ذکر پہلے سے تیز تھا کابل میں اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں مجاہدین کے معسکر میں تشریف لے گئے تو فائرنگ سے پہاڑیاں گونج اٹھیں ...... جی ہاں مجاہدین استقبال کر رہے تھے، اس شخص کا جس کے استقبال کی، آسمانوں پر تیاریاں تھیں، محاذ جنگ قریب تھا...... مرد حق کی گاڑیوں کا قافلہ اگلے مورچوں پر جا پہنچا، مجاہدین کی خوشیوں کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا، دشمن سامنے تھا موت ہر طرف رقص کر رہی تھی مگر مرد حق پرسکون تھا، کلاشنکوف کو لوڈ کیا گیا اور پھر تسبیح پر چلنے والی اور قلم کو ....... طوفانی رفتار سے چلانے والی انگلیاں حرکت کرنے لگیں ...... تو تڑ کی سحر انگیز آواز نے کفر اور نفاق کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا ..... جی ہاں بوڑھا مرد حق کسی جوان مجاہد کی طرح دشمن پر فائرنگ کر رہا تھا، رات کو مجاہدین نے عشائیہ دیا نامور کمانڈر دوزانوں بیٹھے تھے، مگر اللہ کی ملاقات کا دیوانہ اپنی تسبیح میں اور مجاہدین کے لیے دعاؤں میں مگن رہا
ایئر پورٹ واپسی پر گاڑی میں دو باتیں فرمائیں پہلی یہ کہ: یہاں کوئی داڑھی منڈا نظر نہیں آیا بے حد خوشی ہوئی صرف ایک فرد نظر آیا وہ بھی غیر ملکی تھا، دوسری یہ کہ: اللہ کرے احمد شاہ مسعود کا کانٹا جلد نکل جائے تاکہ امارت اسلامیہ مضبوط ہو، پہلی بات میں خوشی چھلک رہی تھی جبکہ دوسری بات میں اپنے مجاہدین کے لیے ایک پیغام تھا...... ایک حکم تھا جی ہاں ایسے لوگ اسی انداز میں حکم دیا کرتے ہیں اور سننے والے سمجھ لیتے ہیں...... اللہ کرے مجاہدین کو ان کا یہ حکم پورا کرنے کی سعادت مل جائے مجاہدین نے کابل میں بھی جنگی جہاز کا بندوبست کیا تا کہ مرد حق قندھار جاسکے، جہاز میں سب نے بولنے کی کوشش کی بعض چہروں پر تشویش بھی نمایاں تھی مگر مرد حق کی زبان اور دل ذکر سے جاری تھے، اور چہرے پر سکون ہی سکون تھا البتہ کبھی کبھار کسی مجاہد پر نظر پڑتی تو مسکراہٹ کا تحفہ اس کا مقدر بن جاتا...... قندھار ایئر پورٹ پر جہاز اترا تب کھڑے ہونے سے پہلے ایک کمانڈر کو بلا کر گلے سے لگایا اور دعائیں دیں، رات کو افغان وزیر خارجہ سے ملاقات تھی، سوال و جواب کا سلسلہ جاری تھا مرد حق کی خاموشی بدستور قائم تھی سوال کرنے والوں نے ایک دو سوال عجیب قسم کے کر ڈالے تو مرد حق نے انہیں نصیحت فرمائی غالباً وہ امارت اسلامیہ کے بارے میں کسی طرح کی سیاسی بات سننا گوارا نہیں کرتے تھے انہیں تو احمد شاہ مسعود کا وجود بھی گوارا نہیں تھا اور ایسا لگتا تھا کہ وہ امارات اسلامیہ کی حفاظت کے لیے تشریف لائے ہیں، جو شخص بھی ان کی نظر میں کچھ کرنے کی طاقت رکھتا تھا اسے ترغیب دیتے تھے کہ اس کانٹے کو نکال دو، بدقسمت احمد شاہ مسعود کی شقاوت کے لیے اتنا کافی ہے اور اس مرد قلندر کا دورہ اس کی تباہی کا باعث بنے گا...... ایسا سبھی محسوس کر رہے ہیں، مرد حق واپس کراچی تشریف لے آیا شہادت کا جنون، افغانستان کے مورچوں پر پورا ہو سکتا تھا لیکن ختم نبوت کے اس محافظ اور اسلامی نظریات کی سرحدات کے اس پہرے دار کی ڈیوٹی حضرات بنوری کراچی لگا کر گئے تھے تب کیسے ممکن تھا کہ وہ اپنا مورچہ چھوڑ دیتا، افغانستان سے واپسی پر جوش جہاد اور بڑھ چکا تھا، لوگ ان کی زبان سے افغانستان کے حالات سننا چاہتے تھے مگر خاموشی نہیں ٹوٹی آئندہ کی تیاری کے وقت کو باتوں میں ضائع نہیں کیا گیا، مگر یہ ارادہ کرلیا گیا کہ جمعہ المبارک کے دن حضرت اس بارے میں کچھ ارشاد فرمائیں گے، یہ اعلان دوستوں نے سنا تو بے تابی سے جمعہ کا انتظار کرنے لگے مگر دشمنوں نے سمجھ لیا کہ جمعہ کا اعلان ان پر
بھاری ہوسکتا ہے اور ان کے عزائم کو خاک میں ملاسکتا ہے دوست، احباب، مجاہدین اور مریدین جمعہ کے دن حضرت کی زبان سے جہاد کی باتیں اور قتال کا پیغام سننے کی تیاری کر رہے تھے۔....... بالآخر انہوں نے اس نور کو بجھانے اور امت مسلمہ کے سینے پر وار کرنے کا عزم کرلیا، جمعرات کا دن طے ہوگیا جس دن کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے اہل اسلام کے لیے برکت رکھی ہے معلوم نہیں حضرت نے صبح اپنے رب سے ملاقات کے لیے کتنی آہ و زاری کی ہوگی، اپنے مقررہ وقت پر حضرت کی گاڑی گھر سے نکل پڑی ملک کی حفاظت کے دعویدار معلوم نہیں کہاں سورہے تھے یا سلا دیئے گئے تھے قریب ہی موجود پولیس چوکی کا عملہ جو علماء کرام کی نگرانی کرنے میں چوکس رہتا ہے، معلوم نہیں کیوں غافل تھا، چوک پر بیٹھے ہوئے خفیہ ایجنسی کے اہلکار جنہیں علماء کرام کی ایک ایک حرکت نوٹ کرنے کے بارے میں کبھی کوئی سستی نہیں ہوتی، سگریٹ پینے کے لیے پیچھے والے گراؤنڈ میں نکل گئے اور یوں وہ شخصیت تنہا چھوڑ دی گئی جس کی حفاظت حکمرانوں کے ذمہ تھی اور ان جیسی شخصیات کی برکت سے یہ ملک باقی ہے، بدبخت شقی القلب قاتل اپنے ہاتھوں میں اسلحہ لے کر پہنچ چکے تھے، آج وہ پوری امت مسلمہ کو رلانے کا سامان کرکے آئے تھے رائفلیں سیدھی ہوئیں اور مرد حق نے سینے پر گولی کھا کر اللہ کے ساتھ کیے ہوئے عہد کو سچا کر دکھایا، پوری دنیا میں یہ خبر جنگل کی آگ کیطرح پھیل گئی کہ مسلمانوں کے عظیم رہبر، امن عالم کے علمبردار اہل حق کے وکیل حضرت اقدس مولانا محمد یوسف لدھیانوی زخمی کر دیئے گئے ہیں، لاکھوں آنکھیں آنسو بہانے لگیں، دل پارہ پارہ ہوگئے مظلوموں کی چیخیں نکل گئیں۔....... سر سجدوں میں خم ہوگئے، یا اللہ حضرت کو مزید زندگی عطا فرما....... ابھی تو مجاہدین ان کے بے حد محتاج ہیں، ابھی تو ختم نبوت کے دفاع کی مسند کو ان کی ضرورت ہے، ابھی طالبان علوم نبوی نے اپنی پیاس بجھانی ہے، ابھی تو قلم و کاغذ کی بزم تشنہ ہے، یہ دعائیں ان آسمانوں تک پہنچ رہی تھیں، जहां کا فیصلہ کچھ اور تھا وہاں تو حور و ملائک استقبال کی تیاریاں کر رہے تھے، اللہ تعالیٰ کی جنت اللہ کے راستے میں تھک کر چور ہونے والے مرد مجاہد کو اپنی آغوش میں لینے کے لیے بے تاب تھی، حوریں پاک آنکھوں کے بوسے لینے کے لیے بے چین تھیں اور اکابر کی ارواح اپنے فرزند جلیل سے ملنے کی مشتاق تھیں، زخمی ہونے کی اطلاع کے تھوڑی دیر بعد لرزتی آوازیں دل تھام کر ایک دوسرے کو یہ خبر دے رہی
تھیں کہ حضرت شہید ہو گئے ہیں، کسی کا دل اس خبر کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھا مگر خبر سچی تھی...... سودا پکا ہو چکا تھا...... رب تعالیٰ نے اپنے پیارے بندے کی جان جنت کے بدلے خرید لی تھی، ہر دم دیوانوں کی طرح اللہ اللہ کہنے والا، اب اللہ تعالیٰ کے پاس اس کا مہمان تھا اس کی روح نئی زندگی پا چکی تھی، جبکہ اس کا خون سے مہکتا دمکتا جسم، اسلام کی زندگی اور اس کی عظمت کی گواہی دے رہا تھا وہ سازش جو بڑے کافروں نے منافقوں کے ساتھ مل کر سوچی بظاہر کامیاب ہو چکی تھی، صبر کے خوگر مجاہدین غم کی وجہ سے نڈھال تھے، اور ان کے آنسو روکے نہیں رکتے تھے، وہ ہاتھ جن پر حضرت نے اپنے مبارک ہاتھ رکھ کر جہاد کا عزم کیا تھا، مٹھیاں بھینچ رہے تھے ختم نبوت کے دفاع کی مسند آہیں بھر رہی تھی، طلباء کرام خود کو یتیم محسوس کر رہے تھے اور معرفت کے چشمے سے پیاس بجھانے والے خون کے آنسو رو رہے تھے، اور ان سب کے درمیان اللہ کا سچا عاشق، ہنستا، مسکراتا خون میں نہاتا اللہ تعالیٰ کے حضور پہنچ چکا تھا۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا اس موقع پر کیا کیا جائے۔ یہ ملک جو ہمارے اکابر نے خون دے کر بنایا تھا آج اس کی زمین ان اکابر کے جانشینوں پر تنگ کی جا رہی ہے۔ اللہ کی قسم اگر اس ملک کی تباہی کا خطرہ نہ ہوتا تو پورے ملک میں آگ لگا دی جاتی۔ یہ حادثہ کوئی چھوٹا سانحہ نہیں ہے اور نہ ہی حضرت کے محبین اور شاگرد اس قدر بے بس ہیں کہ وہ کچھ نہ کر سکیں، لیکن ہمارے اکابر نے ہمیں صبر کا حکم دیا ہے، اس لیے ہم سب کچھ کر سکنے کے باوجود خاموشی سے آنسو بہا رہے ہیں، لیکن قصاص تو ہوگا اور بہت شاندار ہوگا، اور ہونا بھی چاہئے ہم انشاء اللہ اصل قاتلوں تک پہنچیں گے، اور انہیں قانون کے حوالے کریں گے البتہ ان قاتلوں کے آقاؤں سے ہم یہی کہتے ہیں کہ تم نے اپنی موت کو آواز دی ہے، تم جس آواز کو دبانا چاہتے تھے، وہ تو اب تمہارے ایوانوں میں گھس چکی ہے، تم جس قلم کو توڑنا چاہتے تھے وہ تو تمہارے دلوں میں سوراخ کر چکا ہے، تم جس ہستی کو ختم کرنا چاہتے تھے وہ تو پہلے سے زیادہ مضبوط زندگی پا چکی ہے۔ اے اسلام دشمنو! ہم سمندر کی جھاگ نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ کی امت کے سپاہی ہیں، تم نے ہمارے سینے پر وار کیا ہے، اب اپنے سینے کی حفاظت کا سوچو، تم نے ہم سے روشنی چھیننے کی کوشش کی ہے، ہم بھی انشاء اللہ تمہیں ذلت کی تاریکیوں میں ڈبو دیں گے، تمہیں اپنی طاقت پر ناز ہے تو ہمیں اپنے رب پر بھروسہ ہے، تمہیں اپنے اثر و رسوخ کا گھمنڈ ہے تو ہم بھی اپنے نالے اس ذات تک
پہنچا رہے ہیں جس کے قبضے میں سب کچھ ہے، آج اگر وقتی طور پر تم خوشیاں منا رہے ہو تو سن لو عنقریب تمہیں ماتم کرنا ہوگا اور پھر تم میں سے ہر فرد اس بات کی گواہی دے گا کہ مولانا محمد یوسف لدھیانوی زندہ ہیں۔ حضرت اقدس آپ کو شہادت مبارک ہو، آپ نے سعادت کی زندگی اور شہادت کی موت پائی ہے، آپ کو کروڑوں بار یہ عظیم اور میٹھا انجام مبارک ہو، یقیناً آپ قابل رشک ہیں، آپ کی زندگی کا ہر لمحہ قابل رشک ہے، آپ جس قدر عظیم تھے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ویسا ہی عظیم انجام بھی عطا فرمایا، حضرت آپ نے وہ سب کچھ پالیا جس کی آپ تمنا فرمایا کرتے تھے، حضرت! آپ تو پہلے ہی بہت اونچے تھے، اب اور بھی اونچے ہو گئے ہیں، حضرت آپ کے فضائل پہلے بھی کیا کم تھے، مگر اب تو آپ نے میدان ہی مار لیا ہے، حضرت آپ کا خون ہم میں سے کسی کو بھی آرام سے نہیں بیٹھنے دے گا، حضرت آپ نے جو نیک کام کیے، آپ کے سینے کے خون نے ان پر مقبولیت کی مہر لگا دی ہے، حضرت آپ کا مبارک لہو رائیگاں نہیں جائے گا اور یہ خون کافروں کو ہرگز ہضم نہیں ہوگا، حضرت آپ ہمارے دلوں کی ٹھنڈک اور آنکھوں کا نور تھے، اللہ تعالیٰ ان کی آنکھوں کو ویران کرے جنہوں نے ہم سے اس نور کو چھینا ہے، حضرت آپ نے جہاد میں ابھی قدم رکھا اور پھر فوراً اس کی بلندیوں تک جا پہنچے، حضرت آپ کا خون امارت اسلامیہ افغانستان کو مضبوط اور عقیدۂ ختم نبوت کو مزید مستحکم کرے گا، حضرت آپ کے قاتل نہیں بچ سکیں گے ان ظالموں کو آسمان پناہ دے گا نہ زمین، حضرت آخر میں نہایت ادب سے عرض کرتا ہوں کہ آپ کو تو شہادت مبارک ہو مگر ہم آپ کے بغیر خود کو تنہا محسوس کر رہے ہیں، آپ تو اپنے محبوب کے سائے میں چلے گئے، مگر ہمیں آپ کے سائے کی بہت ضرورت تھی، حضرت کفر منظم ہو چکا ہے، اسلام دشمن طاقتیں وطن عزیز میں گھس چکی ہیں، مسلمان عام طور پر جہاد سے غافل ہیں، غیروں کے ساتھ اپنے بھی ہماری جڑیں کاٹنے کی کوششیں کر رہے ہیں، ان حالات میں ہمیں آپ جیسے مضبوط سالار قافلہ کی ضرورت تھی، حضرت ہمارا عزم تھا کہ ہم آپ کی سرپرستی میں کشمیر کو آزاد کرائیں گے، حضرت ہماری تمنا تھی کہ ہم اپنے قیدی بھائیوں کو چھڑا کر آپ جیسے اکابر کے پاس لائیں گے اور آپ سے دعائیں لیں گے، حضرت ہماری خواہش تھی کہ ہم بابری مسجد کو دوبارہ بنا کر آپ کے مغموم دل کو خوش کریں گے، حضرت آپ کی مسکراہٹ ہمارا اسلحہ، آپ کی دعائیں ہماری
قوت اور آپ کی سرپرستی ہماری پونجی تھی اور حضرت اقدس مفتی رشید احمد صاحب اطال اللہ بقاہ کے بعد آپ کی حمایت ہمارا حوصلہ تھی، حضرت کڑی دھوپ کے اس دشوار سفر میں آپ جیسے سایہ دار درخت ہماری راحت تھے، حضرت ہم بے حد غمگین ہیں، ہمارا دل پریشان اور آنکھیں اشکبار ہیں، مگر ہم زبان سے وہی کچھ کہہ رہے ہیں جو ہمارے مالک کو راضی کرنے والا ہے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون
اللهم اجرنی فی مصیبتی و اخلف لی خیراً منہا اللهم لا تحرمنا اجرہ ولا تفتنا بعدہ۔
یا اللہ اے دو جہان کے مالک، اے کمزوروں اور مظلوموں کے مددگار، اے مجاہدین سے محبت کرنے والے آقا، ہم صدمے سے نڈھال ہیں، ہم کس سے تعزیت کریں، ہم تو خود تعزیت کے حق دار ہیں، اے غیاث المستغیث آپ تو حالت اضطرار میں مشکل کشائی فرماتے ہیں اور اندوہناک حالات میں سہارا دیتے ہیں، اس مشکل گھڑی میں ہماری مدد فرما اور ہم پر رحم فرما، اے رب غفور و شکور ہمارے حضرت کی عظیم قربانی کو قبول فرما اور ہماری لڑکھڑاتی صفوں کو حوصلہ عطا فرما، حضرت! مبارک ہو کروڑوں بار مبارک ہو، آپ نے جام شہادت پی لیا مگر ہم ابھی تک منتظر ہیں۔
مولانا مودودی کا ایک واقعہ
اسی قسم کا ایک واقعہ اور ایک تاثر ٥٤۔٥٥ء میں میرے سامنے جماعت کے ایک امدادی کیمپ برائے سیلاب زدگان میں جماعت کے کسی ذمہ دار رہنما نے بیان کیا تھا وہ یہ تھا۔ کہ غالباً ضلع سیالکوٹ میں ایک قادیانی پولیس افسر جو تھانہ کا انچارج تھا اور لوگوں کو قادیانی لٹریچر پڑھاتا تھا اور اس تبلیغ میں اپنا سرکاری اثر و رسوخ بھی پوری طرح استعمال کرتا تھا اور کم علم اور سادہ لوح اس سے متاثر ہو رہے تھے۔ جماعت کے ایک رکن جو کسی سکول میں ٹیچر تھے، وہ ان سے کسی کام کے سلسلہ میں ملے، انہوں نے انہیں بھی مرزا غلام احمد قادیانی کی
ایک کتاب تھما دی۔ وہ لے آئے۔ دوسرے روز وہ پھر تھانے گئے اور مولانا مودودی صاحب کی کتاب شہادت حق لے گئے۔ اور ان سے کہنے لگے کہ میں نے آپ کی دی ہوئی کتاب پڑھی۔ میں بھی ایک چھوٹی سی کتاب آپ کے لیے لایا ہوں۔ اس نے وہ لے لی اور ان کو ایک اور کتاب مرزا صاحب کی دے دی۔
مذکورہ پولیس افسر شہادت حق گھر لے گئے۔ رات کو جب سونے کے لیے بستر پر لیٹے تو شہادت کی ورق گردانی کرنے لگے اور پھر مطالعہ شروع کیا۔ انداز تحریر کی کشش نے اسے پڑھنے پر مجبور کردیا۔ یہاں تک کہ آدھی کتاب پورے انہماک سے پڑھ گئے۔ انہیں ایسا محسوس ہوا کہ میری اب تک کی زندگی تو گمراہی میں گزری ہے۔ اسلام تو یہ ہے، لیکن پھر عصبیت ابھری۔ اور اسے کہا کہ تو گمراہ ہو جائے گا۔ اسے نہ پڑھ۔ اس نے کتاب میز پر پھینک دی اور سونے کی کوشش کی۔ لیکن اس کے اندر ایک شدید کش مکش برپا ہوگئی۔ ضمیر کی آواز تھی کہ اگر یہ حق ہے جو اس کتابچہ سے ظاہر ہو رہا ہے، تو کیا اس سے منہ موڑنے سے خدا کے ہاں جواب دہی سے بچ جائے گا؟ دو گھنٹہ کی کش مکش کے بعد پھر کتاب اٹھالی اور مکمل کر کے رکھی اس وقت ان کی حالت بڑی عجیب تھی۔ اپنی گزشتہ زندگی پر جو گمراہی میں گزری سخت متاسف تھے۔ بار بار یہ خیال آ رہا تھا کہ اگر اسی گمراہی میں موت آجاتی تو کیا حشر ہوتا۔ ساری رات کروٹیں بدلتے گزری۔ آنکھوں سے آنسو بہتے رہے، قلب و روح کا سکون چھن گیا تھا۔ صبح اٹھا تو آنکھیں سرخ، جسم ٹوٹ رہا تھا۔ ان کی بیگم نے ناشتہ کے لیے کہا تو انکار کر دیا، کہ میری طبیعت ناشتہ کے لیے تیار نہیں۔ غسل کر کے بغیر ناشتہ کیے تھانے چلے گئے۔ تھانے میں کچھ دیر بعد جماعت کا مذکورہ کارکن بھی پہنچ گیا، وہ کچھ اور کتابچے مولانا کے لئے لایا۔ اس کارکن کو دیکھتے ہی کہنے لگے کہ مولوی تو مجھے برباد کر کے چھوڑے گا۔ جواب میں جماعت کے کارکن نے کہا۔ محترم! ہم تو اپنے کسی دشمن کی بربادی نہیں چاہتے۔ آپ تو ہمارے محترم ہیں۔ جو کتابچے وہ لے گئے تھے۔ ان میں دین حق وغیرہ کے ساتھ ایک ”اہم استفتاء“ بھی تھا۔ جس میں انگریزی حکومت کی ملازمت ایک مسلمان کے لیے حرام بتائی گئی تھی۔
مذکورہ پولیس افسر کے متعلق بتایا گیا کہ وہ مرزا صاحب کے صحابیوں میں سے تھے۔ جنہیں صحابیت کی پینشن بھی ملتی تھی۔ انہوں نے ادھر ملازمت سے استعفیٰ دے دیا اور ادھر
قادیان کو لکھ دیا کہ میں آپ کے مذہب سے تائب ہو گیا ہوں۔ اس لیے اب میرا تعلق آپ سے ختم ہو گیا ہے۔ قادیان میں یہ خط پہنچا۔ تو انہوں نے یہ کارروائی کہ ایک طرف ان کے سسرال اطلاع کر دی کہ تمہارا فلاں داماد مرتد ہو گیا ہے اس لیے اپنی بیٹی فوری طور پر وہاں سے لے آؤ اور دوسری طرف ان کے والد کو اطلاع دی کہ اسے عاق کر دو، وہ مرتد ہو گیا ہے۔
محکمہ پولیس کے ذمہ داروں نے استعفیٰ نامنظور کر دیا اور لکھا کہ تمہاری ٹریننگ پر گورنمنٹ کا اتنا خرچہ ہو چکا ہے وہ ادا کرو، تب استعفیٰ منظور کیا جائے گا۔ ادھر والد نے عاق کر دیا، اور اسی ہفتہ ان کے خسر آئے اور فوری طور پر اپنی بیٹی کو مع بچوں کے اپنے ساتھ لے گئے۔ کہ میری بیٹی ایک مرتد کے گھر نہیں رہ سکتی...... جب استعفیٰ نامنظور ہونے کی اطلاع ملی تو وہ ڈیوٹی پر جانے کی بجائے وہاں سے رات کو لاہور چلے گئے۔ لاہور سے بہاولپور چلے گئے جہاں نواب بہاولپور کی حکومت تھی۔ دو تین روز کا فاقہ تھا۔ تنگ آکر اپنی قیمتی شیروانی جو بالکل نئی تھی۔ کھڑے ہو کر بازار میں نیلام کر دی۔ اور جو پیسے ملے ان میں سے پہلے کھانا کھایا۔ پھر بقایا پیسے سے پان اور بیڑی کا کاروبار فٹ پاتھ پر شروع کر دیا۔ جماعت اسلامی بہاولپور کے دفتر سے رابطہ کیا۔ لیکن اپنے حالات سے کسی کو آگاہ نہ کیا۔ دن کو فٹ پاتھ پر روزی کماتے اور رات جماعت کے دفتر میں لٹریچر کا مطالعہ بھی کرتے اور وہیں سو رہتے۔ انہیں مقامی رہنما اور کارکن ایک جماعت کا متفق سمجھ کر رکھ رہے تھے، ان کے ماضی سے کسی کو واقفیت نہ تھی۔ وہ اپنے حال میں خوش، حالات سے سمجھوتہ کر کے مطمئن، کہ دنیا بے شک بگڑ جائے آخرت میں اللہ کی رضا مل جائے گی۔ اس حال میں انہیں سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا۔
ان کی اہلیہ جو ایک پڑھی لکھی خاتون تھی، ان سے غافل نہ ہوئی بلکہ اپنے ذرائع سے معلومات کرتی رہی۔ بالآخر اسے معلوم ہو گیا کہ ان کا سرتاج بہاولپور شہر میں جماعت کے دفتر میں ہے، اس نے انہیں نہایت ہی درد ناک خط لکھا۔ جس کا مفہوم یہ بتایا گیا تھا۔
میرے سرتاج۔ آپ نے مجھے ایسے بھلا دیا جیسے کبھی واسطہ ہی نہ رہا ہو۔ لیکن میں نے آپ کو ایک لمحہ کے لیے بھی فراموش نہیں کیا۔ میرے دن رات آپ کی یاد اور تلاش میں بسر ہوتے رہے ہیں۔ میرے اللہ نے کرم فرمایا اور مجھے آپ کا پتہ معلوم ہوا، خدا کرے یہ پتہ درست ہو اور میرا خط آپ تک پہنچ جائے...... اب میں آپ سے پوچھنا چاہتی ہوں، کہ اگر آپ کو کوئی حق ایسا مل گیا تھا جسے آپ دنیا اور آخرت کی کامیابی کا ضامن سمجھتے ہیں، تو کیا
آپ کا فرض یہ نہ تھا کہ مجھے بھی اس حق سے آگاہ کرتے، مجھے بھی اس کی دعوت دیتے؟ میں ایک پڑھی لکھی عورت تھی، جاہل نہ تھی۔ اگر آپ کی بات نہ مانتی۔ تو آپ کا یہ رویہ درست ہوتا کہ مجھے بھول جائیں...... آپ نے مجھے بھلا کر ایک ایسا جرم کیا ہے۔ کہ جس کی سزا سے آپ حشر میں بچ نہیں سکیں گے۔ جب بارگاہ الہی میں آپ کا دامن پکڑ کر کہوں گی، کہ اے رب العالمین، یہ میرے وہ سرتاج ہیں جنہوں نے خود تو راہ حق اختیار کر لی لیکن مجھے گمراہی میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیا، اس لیے اس جرم میں اس کی مغفرت نہ فرما؟ آپ کے پاس کیا عذر ہوگا؟ آپ حق پا کر بھی عذاب سے نہ بچ سکیں گے۔
آپ کے یہ بچے جن کے چہروں پر آپ کے زندہ ہونے کے باوجود یتیمی برسنے لگی ہے۔ کبھی آپ کو یاد آئے؟ کیا یہ آپ کے لخت جگر نہیں ہیں۔ ان کے معصوم جذبات کا بھی آپ کو خیال نہیں آیا۔ کیوں، حق پرست ایسے سنگدل تو نہیں ہوتے...... کیا اس سنگدلی کی سزا آپ برداشت کرلیں گے...... ابھی کچھ نہیں بگڑا۔ تلافی کا موقع ہے۔ مجھے فوری طور پر اس حق سے آگاہ کیا جائے۔ ورنہ آپ کی دنیا کے ساتھ آخرت کی تباہی بھی یقینی ہوگی۔ اگر یہ خط مل جائے تو مجھے فوری طور پر جواب دیں پتہ اس نے اپنی کسی سہیلی کا دے دیا۔
اس خط کا ملنا تھا کہ سارا سکون تباہ ہو گیا، ساری رات روتے اور تڑپتے رہے۔ اور صبح نماز کے بعد خشوع و خضوع کے ساتھ دعا مانگی اور جماعت کے لٹریچر کا ضروری سیٹ اور اپنی غلطی کا اعترافی خط، اپنی بیگم کو ارسال کر دیا۔ ایک ہفتہ کے بعد جواب آ گیا۔ کہ لٹریچر اور خط مل گیا ہے، میرے دوسرے خط کا انتظار کریں۔ تقریباً ایک ماہ بعد بیگم کا دوسرا خط ملا۔ جسمیں خوش خبری دی گئی تھی کہ اس نے سارا لٹریچر پڑھ لیا ہے، اور اس دعوت پر ایمان لے آئی ہوں۔ نیز ابا جان کو اس بات پر رضامند کرلیا ہے، کہ آپ کی گفتگو سن سکیں۔ اب یہ آپ کا کام ہے کہ کس طرح یہ دعوت بہتر سے بہتر انداز میں پیش کریں، کہ ابا بھی گمراہی سے نکل آئیں۔ اس لیے اب آپ جلد از جلد یہاں آنے کی کوشش کریں۔ چنانچہ دونوں میاں بیوی کی کوشش سے پورا سسرال قادیانیت سے تائب ہو گیا۔ لیکن ان کے والد اپنی ضد پر قائم رہے۔
(زندگانی کی گزرگاہوں میں۔ از ملک نصر اللہ خان عزیز مشمولہ دیباچہ۔ کمال سالار پوری)
ایک مجاہد کی للکار
ہمارا دوست قمر الزمان فاروقی مسلمان طلبہ میں زبردست قسم کا مرد مجاہد تھا۔ تھیا لوجی کے استاد اسلم منگلا کے ساتھ ایک بار اس نے ایسی ٹکر لی کہ منگلا سمیت پوری کالج انتظامیہ کے چھکے چھڑا دیے۔ اسلم منگلا قرآن پاک کی تفسیر پڑھا رہے تھے۔ انہوں نے حسب عادت مرزائی خلیفہ مرزا محمود کا ترجمہ پڑھانا شروع کر دیا۔ قمر الزماں نے کھڑے ہو کر کہا۔
”سر! قرآن مجید کا جو ترجمہ آپ کر رہے ہیں وہ غلط ہے۔“ اسلم منگلا نے قمر کو بیٹھ جانے کے لیے کہا مگر اس نے انکار کرتے ہوئے کہا۔
”میں ایک مسلمان کی حیثیت سے ایک غیر مسلم شخص کو قرآن کا غلط ترجمہ کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔“
اسلم منگلا کا چہرہ غصے سے لال بھبوکا ہو گیا۔ انہوں نے کلاس چھوڑ دی اور شکایت کرنے چودھری محمد علی کے پاس جا پہنچے۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب مرزائی کافر قرار دیئے جا چکے تھے اور ربوہ کھلا شہر بن چکا تھا۔ پرنسپل نے فوری طور پر قمر کو اپنے دفتر میں طلب کر لیا اور کہا۔
”قمر الزماں! تم نے اسلم منگلا سے گستاخی کی ہے لہٰذا معافی مانگو۔“
قمر نے کہا ”گستاخی میں نے نہیں اسلم منگلا نے کی ہے، قرآن پاک کے معانی تبدیل کرنے کے جرم پر وہ معافی مانگیں۔“
چودھری محمد علی نے یہ جواب سنا تو گرجدار آواز میں کہا ”لڑکے اپنی آواز بند کرو، تمہیں معلوم نہیں تم کیا کہہ رہے ہو۔“
قمر نے کہا ”سر! آپ میری آواز بند نہیں کر سکتے، ہماری آواز کی گرج آپ سے کہیں زیادہ ہے اور اس گرج سے مرزائی عورتوں کے حمل گر جایا کرتے ہیں۔ بطور استاد اسلم منگلا کا احترام لازم سہی لیکن قرآن پاک کا غلط ترجمہ کرنے والا کسی احترام کا مستحق نہیں۔“
چودھری محمد علی صاحب غصے سے کانپ رہے تھے۔ کمرے میں خاموشی تھی، کچھ دیر
بعد انہوں نے قمر کو سرزنش کرتے ہوئے کہا۔
”تمہیں شاید معلوم نہیں کہ میں تمہیں کالج سے تین سال کے لیے نکال سکتا ہوں۔ اگر ایسا کر دیا گیا تو تمہیں کسی کالج میں داخلہ نہیں مل سکے گا۔“ قمر نے پھر بھر پور وار کیا اور کہا
”سر! ہم مسلمان اور قرآن کے محافظ ہیں اگر کسی نے اس کے الفاظ و معانی میں کوئی تحریف کی تو ہم اس کی کھال اتار سکتے ہیں۔ آپ کو بھی شاید اس بات کا علم نہیں۔“ پرنسپل کے کمرے میں موجود دیگر اساتذہ نے قمر کو چپ کرانے کی کوشش کی تو وہ اور بھڑک اٹھا اور کہا:
”پرنسپل صاحب! آپ اگر مجھے اس مقدس جرم کی پاداش میں کالج بدر کر دیں گے تو یہ میری خوش نصیبی ہوگی۔ لیکن یاد رکھیں، اگر آپ کے کسی استاد نے قرآن حکیم کے ترجمے میں کوئی تبدیلی کی تو میں آپ سمیت سب کو الٹا لٹکا دوں گا۔ آپ کو اپنے ”نبی“ کی نبوت، سنت اور تفاسیر پر بڑا مان ہے تو ہم بھی اپنے پیارے کالی کملی والے (ﷺ) کے غلام ہیں، ہمیں روپوشی نہیں آتی۔“
پرنسپل اور اسلم منگلا دونوں چپ تھے انہیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ قدرے توقف کے بعد فون اٹھاتے ہوئے پرنسپل نے کہا۔
”میں پولیس کو بلاتا ہوں تاکہ وہ اس نعرے باز لڑکے کو جیل میں بند کرے۔“
قمر پھر گرجا اور کہا ”بے شک بلا لیں پولیس کو، دیکھتے ہیں سلاخوں کے پیچھے کون جاتا ہے میں یا آپ۔“
اب جبکہ کوئی بات کارگر ثابت نہ ہوئی تو پرنسپل نے ایس ایم شاہد کو بلوایا کہ وہ قمر کو سمجھائیں۔ جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے کہ ایس ایم شاہد ہمیشہ پل کا کردار ادا کرتے تھے انہوں نے قمر کو یقین دلایا کہ آئندہ کلاس میں مرزائی تفاسیر سے کوئی ترجمہ نہیں کیا جائے گا۔ تب جا کر معاملہ ٹھنڈا ہوا۔
قمر الزمان ہمارے دوستوں میں سب سے زیادہ نڈر اور دلیر تھا۔ اس نے شورش کاشمیری کی تحریر اور تقاریر پڑھ اور سن رکھی تھی وہ اسی انداز میں مرزائیوں کے ”لتے“ لیا کرتا تھا۔ اس نے ذاتی مصروفیات کی بنا پر یونین کے الیکشن میں حصہ نہیں لیا ورنہ مرزائیوں کی عقل ٹھکانے لگ جاتی۔ یونین کے الیکشن کے دوران مرزائیوں کو یہ دھڑکا ہی لگا رہا کہ قمر الزماں کہیں مسلمان طلبہ کا امیدوار نہ بن جائے۔
(احمقوں کی جنت۔ ص ١٦٥: مصنف جی آر اعوان)
ظالم سے انتقام ستم لینا چاہئے
(مؤلف)
عمر ضائع کردی
قادیان میں ہر سال ہمارا جلسہ ہوتا تھا اور مولانا سید محمد انور شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی اس میں شرکت فرمایا کرتے تھے۔ ایک سال حسب معمول جلسے میں تشریف لائے۔ میں بھی آپ کے ساتھ تھا۔ ایک صبح نماز فجر کے وقت میں حاضر ہوا تو دیکھا حضرت اندھیرے میں سر پکڑے بہت مغموم بیٹھے ہیں۔ میں نے پوچھا ”حضرت! کیسا مزاج ہے؟“ کہا ”ہاں! ٹھیک ہی ہے۔ میاں، مزاج کیا پوچھتے ہو؟ عمر ضائع کر دی۔“
میں نے عرض کیا ”حضرت! آپ کی ساری عمر علم کی خدمت اور دین کی اشاعت میں گزری ہے۔ آپ کے ہزاروں شاگرد، علماء اور مشاہیر ہیں جو آپ سے مستفید ہوئے اور خدمت دین میں لگے ہوئے ہیں۔ آپ کی عمر اگر ضائع ہوئی تو پھر کس کی عمر کام میں لگی؟“ فرمایا ”میں تم سے صحیح کہتا ہوں، عمر ضائع کر دی۔“ میں نے عرض کیا ”حضرت، بات کیا ہے؟“
فرمایا ”ہماری عمر کا، ہماری تقریروں کا، ہماری ساری کدوکاوش کا خلاصہ یہ رہا ہے کہ دوسرے مسلکوں پر حنفیت کی ترجیح قائم کر دیں، امام ابو حنیفہؒ کے مسائل کے دلائل تلاش کریں اور دوسرے ائمہ پر آپ کے مسلک کی فوقیت ثابت کریں۔ یہ رہا ہے محور ہماری کوششوں کا، تقریروں کا اور علمی زندگی کا۔
”اب غور کرتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ کس چیز میں عمر برباد کی! ابو حنیفہؒ ہماری ترجیح کے محتاج ہیں کہ ہم ان پر کوئی احسان کریں؟ ان کو اللہ تعالیٰ نے جو مقام دیا ہے وہ لوگوں سے خود اپنا لوہا منوائے گا، وہ تو ہمارے محتاج نہیں۔
”اور ہم امام شافعیؒ، مالکؒ اور احمدؒ بن حنبل اور دوسرے مسلک کے فقہاء کے مقابلے
میں جو ترجیح قائم کرتے ہیں، کیا حاصل ہے اس کا؟ ارے میاں! اس کا تو کہیں حشر میں بھی راز نہیں کھلے گا کہ کون سا مسلک صواب تھا اور کون سا خطا، لہٰذا اجتہادی مسائل کا صرف اس دنیا میں فیصلہ کیسے ہو سکتا ہے۔ دنیا میں ہم تمام تر تحقیق و کاوش کے بعد زیادہ سے زیادہ یہی کہہ سکتے ہیں کہ یہ بھی صحیح ہے اور وہ بھی صحیح، یا یہ کہ یہ صحیح ہے لیکن احتمال موجود ہے کہ یہ خطا بھی ہو اور وہ خطا ہے اس احتمال کے ساتھ صواب ہو۔ دنیا میں تو یہ ہے ہی، قبر میں بھی منکر نکیر نہیں پوچھیں گے کہ رفع یدین حق تھا یا ترک رفع یدین حق تھا؟ آمین بالجہر حق تھی یا بالسر حق تھی۔
”اللہ تعالیٰ شافعیؒ کو رسوا کرے گا نہ ابوحنیفہؒ کو، مالکؒ کو رسوا کرے گا نہ احمد بن حنبلؒ کو۔ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کے علم کا انعام دیا ہے، جن کے ساتھ اپنی مخلوق کے بہت بڑے حصے کو لگا دیا ہے، جنہوں نے نور ہدایت چار سو پھیلایا ہے، جن کی زندگیاں سنت کا نور پھیلانے میں گزریں، اللہ تعالیٰ ان میں سے کسی کو رسوا نہیں کرے گا کہ وہاں میدان حشر میں کھڑا کر کے یہ معلوم کرے کہ ابوحنیفہ نے صحیح کہا تھا یا شافعی نے غلط کہا تھا یا اس کے برعکس۔
”تو جس چیز کو دنیا میں کہیں نکھرنا ہے نہ برزخ میں اور نہ محشر میں، اسی کے پیچھے پڑ کر ہم نے اپنی عمر ضائع کر دی اور جو صحیح اسلام کی دعوت تھی اور سبھی کے مابین جو مسائل متفقہ تھے اور دین کی ضروریات جو سبھی کے نزدیک اہم تھیں، جن کی دعوت انبیائے کرام لے کر آئے تھے، جن کی دعوت کو عام کرنے کا ہمیں حکم دیا گیا تھا اور جن منکرات کو مٹانے کی کوشش ہم پر فرض کی گئی تھی، آج وہ دعوت تو نہیں دی جا رہی۔ آج ضروریات دین تو لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہو رہی ہیں اور اپنے اور اغیار ان کے چہروں کو مسخ کر رہے ہیں اور وہ منکرات جن کو مٹانے میں ہمیں لگے ہونا چاہئے تھا، پھیل رہے ہیں۔ گمراہی پھیل رہی ہے، الحاد آ رہا ہے، شرک و بت پرستی چل رہی ہے اور حلال و حرام کا امتیاز اٹھ رہا ہے، لیکن ہم لگے ہوئے ہیں ان فروعی بحثوں میں۔“
حضرت شاہ صاحب نے آخر میں فرمایا ”یوں غمگین بیٹھا ہوں اور محسوس کر رہا ہوں کہ عمر ضائع کر دی۔“
(بحوالہ ماہنامہ البلاغ کراچی۔ جلد نمبر ٣٠ شمارہ نمبر ٢ جولائی ١٩٩٥ء: از قلم مفتی محمد شفیع صاحب)
تکمیل نبوت
اور یہ سب کچھ اہتمام قدرت میں کیا گیا۔ قدرت نے آسمان کھڑا کیا۔ یہاں شامیانے تانے گئے، قدرت نے زمین پھیلائی، یہاں دریاں بچھائی گئیں، قدرت نے جگمگ کرتے ستاروں سے آسمان کو مزین کیا یہاں رنگ برنگ کے قمقمے روشن کیے گئے اور قدرت نے فرش بنایا، یہاں سٹیج سجایا گیا، یہ سب کچھ کس لیے ہے، کیا سٹیج درکار ہے شامیانے مطلوب ہیں، کیا فرش مقصود ہے، نہیں نہیں بلکہ کسی کی آمد مطلوب ہے۔ یہاں مولانا احمد علی لاہوریؒ اور حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی تشریف آوری مقصود ہے۔ قدرت نے یہ سب کچھ کس کے لیے کیا، یہ کائنات کس لیے استوار کی کس کی آمد مطلوب تھی۔ کون ذات مقصود تھی۔ کیا سورج کی تابانی مقصود تھی، کیا دریا کی روانی مقصود تھی، کیا ستاروں کا رقص مقصود تھا۔ اور کیا ستاروں کی شب افروزی مطلوب تھی۔ نہیں نہیں مقصود تو کوئی اور ہی تھا۔ یہ اہتمام تو کسی اور ہی کے لیے تھا۔ یہ تیاری تو کسی دوسرے کے لیے ہی تھی۔ آدمؑ بھی مقصود نہ تھا۔ وہ تو ایک وسیلہ تھا۔ موسیٰؑ بھی مطلوب نہ تھا، عیسیٰؑ بھی منظور نہ تھا۔ جب کائنات ارض و سماء کی تخلیق ہو گئی اور زمین پھیل گئی اور آسمان چھا گیا۔ جب جلسہ قدرت پر رونق ہو گیا۔ تو آدمؑ سے کہا۔ آنے والے کی تو شان بیان کر، ابراہیمؑ سے کہا تحریک صدارت پیش کرو۔ موسیٰؑ سے کہا۔ تائید تو کر اور عیسیٰؑ سے کہا۔ ”اس“ کی آمد کا اعلان کردے۔ ”واذقال عیسیٰ ابن مریم یابنی اسرائیل انی رسول اللہ الیکم مصدقا لما بین یدی من التوراۃ و مبشرا برسول یاتی من بعد اسمہ احمد“ جلسہ مکمل ہو چکا تھا۔ اور مخلوق خدا جمع تھی ہر چیز اپنی جگہ موجود تھی۔ صرف کرسی صدارت خالی تھی۔ پھر مولا نے کہا۔ کملی والے اب تو مقصود ہے۔ اور وہ کرسی بھی پر ہو گئی۔ آخری پیغام جو خالق نے مخلوق کو دینا تھا دے دیا۔ اور کہا کہ میری بات پوری ہو گئی پیغام پورا ہو گیا قانون پورا ہو گیا دین مکمل ہو گیا۔ الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دینا اور ہاں یہ صوری نمود تھی نہ کہ اس کے وجود کی شہود۔ موجود تو وہ اس وقت بھی تھا جب خاک کے خمیر سے آدم کا ہیولا تیار
ہو رہا تھا۔ ”انا اوّل الانبیاء فی الخلـ (خطاب: صاحبزادہ سید فیض الحسن شاہ صاحـ
غبارِ راہ کو
نگاہِ عشق و مسـ
وہی قرآں، وہی
آغا شورش کا
آغا شورش کاشمیری مرحو بہت بڑا سیلاب آیا تھا، پنجاب کے کہنے لگا: ”آغا صاحب! اب تو ہما کے حضرت؟“ کہا ”حضرت مسیح مـ انگریز کے اس آلہ کار جھوٹے دجا دریائے چناب کے کنارے چنیو آغا صاحب نے کہا کہ ”ادھر در گیا۔ وہاں سیلاب نہیں آیا، ادھـ معلوم ہوتا ہے کہ نبی اور مہہ دالـ ایک خاص محلہ ہے جسے آپ لـ کرتے شرم آتی ہے) آغا صاحـ مغربی کنارہ جہاں ”ربوہ“ آبا سیلاب کا پانی نہیں آتا اس لیـ (جب پنجاب
ہو رہا تھا۔ "انا اوّل الانبیاء فی الخلق و آخرہم فی البعث
(خطاب: صاحبزادہ سید فیض الحسن شاہ صاحب)
غبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادیِ سینا
نگاہِ عشق و مستی میں وہی اوّل وہی آخر
وہی قرآں، وہی فرقاں، وہی یٰسیں، وہی طٰہٰ
(مؤلف)
آغا شورش کاشمیریؒ نے لاجواب کر دیا
آغا شورش کاشمیری مرحوم سنایا کرتے تھے۔ ١٩٧٣ء میں پاکستان کے دریاؤں میں بہت بڑا سیلاب آیا تھا، پنجاب کے بہت سے شہر متاثر ہوئے، ایک قادیانی میرے پاس آیا اور کہنے لگا: ”آغا صاحب! اب تو ہمارے حضرت پر ایمان لائیں“ میں نے کہا ”کون سے آپ کے حضرت؟“ کہا ”حضرت مسیح موعود مرزا غلام احمد قادیانی پر“ میں نے کہا ”کروڑ کروڑ لعنت انگریز کے اس آلہ کار جھوٹے دجال پر“ قادیانی کہنے لگا ”دیکھیں جی کتنا بڑا سیلاب آیا ہے، دریائے چناب کے کنارے چنیوٹ تباہ ہو گیا اور ”ربوہ“ بچ گیا، اس میں سیلاب نہیں آیا۔“ آغا صاحب نے کہا کہ ”ادھر دریا راوی میں بھی بڑا سیلاب آیا لیکن لاہور کا ”ٹبی“ محلہ بچ گیا۔ وہاں سیلاب نہیں آیا، ادھر آپ کے ٹبہ ”ربوہ“ پر سیلاب کا پانی نہیں آیا، وہ بچ گیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ ٹبی اور ٹبہ والے ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔“ معلوم رہے کہ ٹبی ایک خاص محلہ ہے جسے آپ لاہور والوں سے ہی پوچھ سکتے ہیں۔ ہمیں تو اس کی صراحت کرتے شرم آتی ہے) آغا صاحب کا یہ جواب سن کر وہ شرمندہ ہو کر چلا گیا۔ دریائے چناب کا مغربی کنارہ جہاں ”ربوہ“ آباد ہے، وہ اونچا ہے۔ ایک طرف پہاڑی سلسلہ ہے، وہاں اکثر سیلاب کا پانی نہیں آتا اس لیے اس میں کوئی کرامت کی بات نہ تھی۔
(جب پنجاب اسمبلی نے ربوہ کا نام چناب نگر رکھا۔ ص ٢٩۔٣٠ از مولانا منظور احمد چنیوٹی)
جانے والوں کا جانا یاد آجاتا ہے
(مولف)
نبوت اور تکمیل نبوت
یہ جلسہ منعقد کیا گیا۔ یہ مجلس برپا کی گئی۔ ایک مقصد ہمارے سامنے ہے۔ اس مقصد کو مقصود تک پہنچانا ہے۔ یہ اسٹیج بنایا گیا۔ دریاں بچھائی گئیں۔ گیس روشن کیے گئے۔ اشتہار لگائے گئے۔ منادی کی گئی۔ آپ کو بلایا گیا۔ ہم کو لایا گیا۔ لیکن مقصود کیا ہے یہ دریاں مقصود نہیں یہ دیئے مقصود نہیں۔ میں مقصود آپ مقصود نہیں۔ مقصود وہ پیغام ہے جو پہنچانا ہے۔ وہ قصہ ہے جو دہرانا ہے وہ بات ہے جو سنانی ہے۔ قدرت نے بھی ایک جلسہ منعقد کیا حق نے بھی ایک محفل برپا کی زمین کی دریاں بچھائی گئیں آسمان کے شامیانے تانے گئے۔ آفتاب و ماہتاب کی شمع روشن کی گئیں۔ ہواؤں کے سوتے کھولے گئے۔ دنیا کی اسٹیج سجائی گئی اور آدم سے کہا جا کر جلسہ کا اعلان کر دے۔ نوح سے کہا نظم پڑھ دے۔ موسیٰ سے کہا کہ تحریک صدارت پیش کر دے۔ عیسیٰ سے کہا تائید صدارت کر دے سب کچھ ہو چکا تھا۔ آنے والے آچکے تھے۔ صرف کرسی صدارت خالی تھی۔ اور پھر مولیٰ نے فرمایا کملی والے اب تو چل۔ اور وہ کرسی بھی پر ہو گئی۔ پیغمبر نے پیغام دے دیا۔ جلسہ کا مقصد پورا ہو گیا۔ تمدن کا آخری پیغام آگیا۔ ارتقائے انسانی کے لیے آخری قانون آگیا تو جلسہ برپا کرنے والے نے کہہ دیا۔ "الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دینا۔"
تکمیل دین ہو گئی۔ مقصد زندگی بیان کر دیا گیا۔ اب جو آنا چاہتے ہیں میں ان سے پوچھتا ہوں، تم کیا چاہتے ہو۔ کیا لے کر آئے ہو کیا حلال کو حرام کرو گے؟ یا حرام کو حلال کرو گے؟ آخر کرو گے کیا؟
اور میرے مدعا پر بحث ہو چکی
یہ کہنے والے اب کیا کہنا چاہتے ہیں ان کے پاس کوئی پیغام نہیں لیکن پیغامبر بننا چاہتے ہیں۔ طب سے آشنا نہیں لیکن طبیب بننا چاہتے ہیں۔ دوا سے راہ و رسم نہیں لیکن ڈاکٹر بننا چاہتے ہیں۔ نقاش نہیں لیکن نقش بنانا چاہتے ہیں۔ حالانکہ آنے والے نے خود کہہ دیا۔ ایک محل تیار تھا در و دیوار مکمل ہو چکے تھے۔ کمروں کی آرائش ہو چکی تھی صرف ایک اینٹ کی جگہ خالی تھی۔ اور اس کی پیشانی کی وہ اینٹ آخری تھی۔ وہ بھی میں لگ گئی۔ اب اس میں کسی طرح کی کوئی گنجائش نہیں۔ جب نقشہ کی تکمیل ہو چکی۔ جب ڈیزائن کی ترتیب ہو چکی اب جو کمی بیشی ہوگی جو اضافت بھی کی جائے گی وہ جمالیاتی نقطہ نظر سے تناسب و توازن کے نقطہ نظر حسن نہیں ہو گا قباحت ہوگی۔ تعمیر نہیں ہوگی تخریب ہوگی۔ قریب کی بات کہتا ہوں۔ قدرت نے انسانی جسم کی تکمیل کر دی۔ انگلیاں پانچ بنائی گئیں آنکھیں دو بنائی گئیں۔ ناک ایک رکھا گیا۔ اب اگر انگلیاں پانچ کی چھ کر دو یہ اضافہ حسن نہیں ہوگا۔ بدصورتی ہوگی ناک دو کر دو آنکھ ایک کر دو۔ یہ سب کچھ قباحت ہے۔ حسن نہیں تکمیل کے بعد ہر قدم تخریب ہے۔
(خطاب: سید فیض الحسن شاہ صاحبؒ)
چچا فضل موچی (مرحوم) تحریک ختم نبوت کا گمنام سپاہی
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہوگئیں
گو میرا حقیقی چچا کوئی نہیں۔ تاہم والد صاحب (صوفی عبدالرحیم خان نیازی آف موسیٰ خیل) کے دوست اور رفقا حقیقی چچا سے کم نہیں ہیں۔ جو زندہ ہیں۔ انہوں نے بھتیجوں کی طرح عزیز جانا اور جو وفات پاچکے وہ اپنے بیٹوں سے کم نہیں سمجھتے تھے۔ ان میں سے ایک چچا فضل موچی تھے۔ جو کئی سال ہوئے اللہ کو پیارے ہوگئے ہیں۔ وہ والد صاحب کے ساتھیوں
میں سے میانوالی میں ایک بے لوث اور بہادر ساتھی تھے۔ جس نے اپنی تمام عمر مجلس احرار اسلام اور مجلس تحفظ ختم نبوت پر قربان کی۔ یوں تو کاروان ختم نبوت کا ہر فرد اپنے جذبہ ایثار اور اخلاص کی بنا پر بذات خود ایک تاریخ اور داستان ہے لیکن چاچا فضل موچی کی زندگی کے چند درخشاں واقعات ایسے ہیں جن کا تذکرہ نہ صرف قارئین کے لیے تازگی ایمان کا باعث ہوگا بلکہ ضلع میانوالی میں کاروان ختم نبو ت کی تاریخ پر بھی روشنی پڑے گی۔
تعارف
آپ ضلع میانوالی کے موضع بھٹھی نزد سکندر آباد کے رہنے والے تھے۔ لیکن کچھ عرصہ بعد وہ مستقل طور پر میانوالی شہر منتقل ہو گئے۔ میری عمر بارہ سال تھی۔ جب مجھے پہلی بار انہیں دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اس وقت انگریز کا راج تھا۔ دوسری جنگ عظیم زوروں پر تھی۔ انگریز برصغیر کے تمام وسائل اور ذرائع اپنے بچاؤ اور دفاع پر صرف کر رہا تھا۔ اس لیے اس ملک (سابق ہندوستان) کی ترقی کے لیے سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا۔ اس کے برعکس مجلس احرار اسلام ہند کی ملک گیر پالیسی کے تحت ہر جگہ شعبہ خدمت خلق کام کر رہا تھا۔ میانوالی میں چاچا فضل اس شعبہ کے سرگرم رکن تھے۔ اور اس وجہ سے تمام علاقہ میں نمایاں تھے۔ وہ دن بھر تو جوتیوں کو سی کر اور مرمت کر کے مزدوری کرتا لیکن شام کو سرخ قمیص پہن کر اسٹیشن پر پہنچ جاتا۔ وہاں مسافر گاڑیوں کے اوقات میں مسافروں کو مفت پانی پلاتا۔ اُن ایام میں ریلوے گاڑیوں پر ہجوم زیادہ ہوتا تھا دیگر ذرائع آمد و رفت محدود تھے۔ اس لیے میانوالی میں میں خصوصاً اسٹیشن پر گاڑیاں کی آمد و رفت کے اوقات میں کافی گہما گہمی ہوتی تھی۔ جب گاڑی سٹیشن پر آتی۔ تو یہ اپنے مخصوص لباس میں دیگر رضا کاروں کے ہمراہ ”احرار واٹر“ ”آزاد واٹر“ کی صدا لگاتا۔ اور اس طرح خدمت خلق کے فرائض اس جذبہ کے تحت سرانجام دیتا کہ:
میں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہوگا
ایمان افروز کردار
پاکستان بن جانے کے بعد مجلس احرار اسلام نے اپنی تمام سرگرمیاں مرزائیت کے خلاف تبلیغ پر مرکوز کیں جس کے نتیجہ میں ملک میں پہلی بار ١٩٥٣ء کی ملک گیر تحریک چلی۔ دیگر اضلاع کی طرح میانوالی نے بھی اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ جو رضا کار میانوالی سے لاہور مسجد وزیر خان گئے۔ ان میں چچا فضل موچی بھی تھا۔ وہاں وہ مارشل لاء کے تحت گرفتار ہو گیا۔ جب مارشل کی عدالت نے دیگر ساتھیوں کے ساتھ بوجہ ضعیفی نسبتاً کم قید سنائی۔ تو آپ نے زبردست احتجاج کیا۔ اور عدالت سے درخواست کی کہ میرے ساتھ انصاف کیا جائے۔ عدالت نے یہ سمجھا کہ شاید یہ اپنی قید کے خلاف احتجاج کر رہا ہے۔ لیکن اس کے برعکس اس نے عدالت کو بتایا کہ مجھے کم قید دوسرے کی نسبت سے کیوں سنائی گئی۔ جبکہ مجھ سے کم عمر کے ساتھیوں کی قید دس سال ہے۔ تو اس عمر کے تقاضے سے مجھے ٢٠ سال قید ملنی چاہئے۔ اور عدالت سے اصرار کیا۔ کہ مجھے زیادہ قید دی جائے۔ تاکہ انصاف کا تقاضا پورا ہو۔ عدالت انگشت بدنداں رہ گئی۔
میرا یہ خیال ہے۔ کہ جج صاحبان اس ضعیف مجاہد کے جذبۂ ایمان سے ضرور متاثر ہوئے ہوں گے اور کہتے ہوں گے۔
یہ عاشق کونسی بستی کے یارب رہنے والے ہیں
جب عدالت نے اس کی درخواست کو درخور اعتناء نہ سمجھا۔ تو اس نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ وہیں اپنی چادر زمین پر بچھا دی۔ اور سزا پر شکرانے کے نوافل ان الفاظ کے ساتھ ادا کیے کہ اے میرے مولا ہم تو ناموس نبوت کی خاطر بڑی قربانی دینے آئے تھے۔ لیکن آپ کو شاید یہ حقیر قربانی منظور تھی۔ یہ تھوڑی سی قربانی اپنے پیارے حبیب کے صدقے قبول فرما۔ آپ کے اس جذبہ کو دیکھ کر بقول شاعر کہنا پڑتا ہے۔
قربان ہونے والے پہ قربان جائیے
خدمت خلق
خدمت خلق کی تربیت امیر شریعتؒ اور احرار کے ہر رضا کار کو حاصل ہے۔ اور اسی طرح یہ جذبہ اُن میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ پہلا واقعہ جو تعارف کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ تحریک تحفظ ختم نبوت ١٩٥٣ء کے بعد جب تمام قیدیوں اور اسیروں کو رہا کر دیا گیا۔ تو انہوں نے رہائی کے بعد علاقہ تھل میں رہائش اختیار کی اور وہاں بسوں اور گاڑیوں کی چوک پر جہاں ان کی آمد ورفت اکثر رہتی تھی مسافروں کو پانی پلاتا اور نماز کے لیے پانی کے لوٹے پانی سے بھر بھر کر رکھتا تا کہ مسافر آسانی سے نماز ادا کر سکیں۔ آپ نے یہ وقت روڑہ۔گروٹ چوک پر گزارا جو کہ خوشاب کے جنوب میں علاقہ تھل میں واقع ہے۔ تھل میں پانی کی قلت اور گرمی روایتی طور پر مشہور ہے۔ اب اگر چہ حالات بدل گئے ہیں۔ لیکن ان ایام میں جبکہ اس علاقہ میں تبدیلی نہیں آئی تھی۔ پانی کی قلت اور گرمی کی شدت پوری طرح محسوس ہوتی تھی۔ گرمی کے موسم میں ضعیفی کے باوجود مسافروں کی خدمت میں کئی سال اس نے اس مقام پر گزارے۔ اس نے کسی سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کیا۔ چوک میں ایک درخت کے ساتھ جھونپڑی میں اس نیت سے زندگی بسر کی کہ۔
کہ کام آئے دنیا میں انسان کے انسان
تحریک تحفظ ختم نبوت
١٩٧٤ء کا آغاز اور غیرت ایمانی
اس میں کوئی شک نہیں کہ تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء کے آغاز کا تعلق ربوہ میں نشتر کالج کے طلباء سے مرزائیوں کے ناروا سلوک سے ہوا۔ لیکن حقیقت میں چچا فضل میانوالی میں اس سے قبل اپنی غیرت ایمانی کا مظاہرہ کر چکا تھا۔ واقعہ ربوہ سے کچھ عرصہ پہلے وہاں ایک مقامی مرزائی نے جب نازیبا اور ناقابل برداشت الفاظ سر عام استعمال کیے تو اس سے برداشت نہ ہو سکا اور اپنی جان پر کھیل کر اپنی روایتی کلہاڑی سے حملہ آور ہوا اور غیرت ایمانی
سے یہ ثابت کیا۔ کہ اس بڑھاپے کے باوجود بھی وہ یہ کہلانے میں حق بجانب ہے۔ کہ ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں۔
اتفاق سے اس واقعہ کے فوراً بعد ربوہ کا حادثہ پیش آیا۔ جس کے بعد ١٩٧٤ء کی ملک گیر تحریک شروع ہوگئی۔ جیسے میں سمجھتا ہوں کہ جب چا فضل اکیلا میانوالی میں ناموس رسالت کا پاسبان بن کر میدان میں آ رہا ہوگا۔ تو کاتب تقدیر زبان حال سے پکار رہا ہوگا۔ کہ اے فضل! تم اب اکیلے ناموس نبوت کے لیے میدان میں نہیں جا رہے بلکہ آپ کی غیرت ایمانی سے تمام ملک ناموس نبوت کی حفاظت کے لیے دیوار سکندری ثابت ہوگا اور واقعی ایسا ہی ہوا۔ درحقیقت آپ کا یہ عمل بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوا۔
حرف آخر
اس میں کوئی مبالغہ نہیں کہ کاروان ختم نبوت کا ہر فرد دین کا سپاہی رہا ہے۔ لیکن چا فضل موچی کا ختم نبوت سے والہانہ اور مردانہ وار قلبی لگاؤ تھا۔ اس نے دنیا میں اپنے کاروبار اور اولاد کو پس پشت ڈال دیا تھا۔ اس نے تمام عمر اپنے جماعتی پروگرام کو سر انجام دینے میں بسر کی۔ صرف عمر کے انتہائی آخری ایام میں کمزوری کے باعث اپنے بیٹے کے ہاں نور پور تھل چلے گئے تھے۔ اور سنا ہے وہاں مدفون ہیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت۔ جلد ٣۔ شمارہ ٢٦ دسمبر ١٩٨٥ء : از قلم:۔ غلام محمد خان نیازی)
ایک سرکاری ملازم کا جذبہ ایمانی
ہمارے ایک دوست ملک نصیر الدین صاحب مرحوم (سٹیشن ماسٹر) ضلع گورداسپور کے مہاجر تھے، ان کے بعض رشتہ دار قادیانی بھی تھے۔ ملک صاحب ختم نبوت کے سچے عاشق اور پروانے تھے۔ قادیانیوں کے خلاف تبلیغ کرنے کا شوق انہیں جنون کی حد تک تھا، با قاعدہ حوالہ جات کے لیے کتابیں رکھتے تھے۔ دوران سرکاری ملازمت مرزائی ملازمین سے
مناظرے کرتے تھے۔ میں نے اپنی زندگی میں یہ واحد سرکاری ملازم دیکھا ہے جو اپنی ملازمت کی بھی پروا کیے بغیر جنون کی حد تک مرزائیوں کے خلاف علمی مباحث میں حصہ لیتا تھا۔ میرے ساتھ خط و کتابت کرتے رہتے تھے، ڈاک سنسر ہوتی تھی۔ کئی مرتبہ ملازمت سے معطل بھی کر دیئے گئے لیکن اس مجاہد کو اس بات کی ذرا پروا نہ تھی۔ کہا کرتے تھے ”اگر قادیانی سرکاری ملازمین اپنے باطل مذہب کی تبلیغ کرتے ہیں اور یہ جرم نہیں تو ہم پاکستان میں سچے مذہب اسلام کی تبلیغ کرتے ہیں، یہ کیسے جرم ہوگا؟“ انہوں نے سنسر کی بناء پر اپنا قلمی نام ”ابوامجد“ رکھا ہوا تھا۔ میرے استاذ محترم فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیات صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے بھی انہیں بڑی عقیدت تھی۔ انہیں اپنے گھر مہمان رکھ کر ان کی خدمت بھی کرتے اور ان سے استفادہ بھی کرتے بلکہ حضرت استاذ مکرم نے اپنے آخری ایام مرض الوفات جناب ملک صاحب مرحوم کے گھر قصور میں ہی گزارے۔
(جب پنجاب اسمبلی نے ربوہ کا نام چناب نگر رکھا۔ ص ٣٤ از مولانا منظور احمد چنیوٹی)
تحریک ختم نبوت میں مولانا محمد ذاکر کا مجاہدانہ کردار
جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ اس فتنہ کی سرکوبی کے لیے علماء نے پہلے دن سے ہی کام شروع کر دیا تھا۔ غلام احمد مرزا کے عقائد باطلہ کی حقیقت کو واضح کرنے کے لیے علمی سطح پر کتب لکھیں اور عوام الناس کو آگاہ کرنے کے لیے تبلیغی اجلاس منعقد کیے۔ پاکستان بننے کے بعد جب قادیانی امت نے ربوہ کی زمین حکومت وقت کے اعلیٰ حکام سے ساز باز کر کے لیز پر لے لی اور اسے اپنی جماعت کے مشن کا ایک مستقل فوجی، علمی اور سیاسی مرکز کی حیثیت دے دی تو علمائے وقت نے حکومت وقت کو اس جماعت کی اسلام اور ملک دشمنی باور کرانے کے لیے کما حقہ مساعی کیں۔ عوام الناس سے لے کر خواص تک کو اس جماعت کی فتنہ سامانی سے آگاہ کیا۔ اخبارات نے اپنے خصوصی مضامین میں حکام بالا کو متوجہ کرنے کی کوشش کی لیکن حکام کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی اور اسے مذہبی فرقہ وارانہ اختلافات کا رنگ دے کر نظر انداز کیا جاتا رہا۔ جبکہ جماعت مذکورہ اپنی پالیسی پر گامزن رہی۔ ملک کے نامور
عہدوں پر فائز لوگوں کو اپنے ساتھ ملا کر زیادہ سے زیادہ سول اور فوجی عہدوں پر احمدی بھرتی کروائے گئے، جس سے حکومت کے ہر محکمہ میں ان کے آدمی آگئے ، جنہوں نے حکومتی حلقوں میں رہ کر اس جماعت کی سرگرمیوں کو زیادہ سے زیادہ تقویت دی اور مسلمانان پاکستان کو ہر طرح سے پس ماندہ رکھنے کی کوشش کرتی رہی جس پر امت مسلمہ خاصی پریشان ہوئی۔ یہاں تک کہ احمدیوں کی ان جارحانہ سرگرمیوں پر مسلمانوں نے اس وقت اپنے احتجاج کو ایک تحریک کی صورت دے دی ، جب سر ظفر اللہ خان احمدی ، جو کہ پاکستان کی وزارت خارجہ کی کرسی پر متمکن تھا، نے ایک پبلک جلسہ میں فولادی جیکٹ پہن کر خطاب کرتے ہوئے کہہ دیا کہ ہماری کامیابی و کامرانی کی منزل قریب آ چکی ہے۔ ہمارے مخالفین نہایت قلیل مدت میں برباد ہو جائیں گے۔
اسی طرح احمدی اخبارات و رسائل کے مضامین میں جارحانہ اور باغیانہ جذبات کو دیکھ کر ملت اسلامیہ سراپا احتجاج بن گئی۔ برکت علی اسلامیہ ہال میں علمائے کرام کا ایک کنونشن اوائل دسمبر ١٩٥٢ء کو ہوا ، جس میں تازہ تر صورت حال کے حوالے سے جماعت احمدیہ کے عزائم و مقاصد اور سرگرمیوں پر غور کیا گیا۔ اس کنونشن میں مندرجہ ذیل تین مطالبات مرتب کئے گئے:
- ا۔ سر ظفر اللہ کو ان کے عقائد باطلہ اور برطانوی حکومت سے علی الاعلان وفاداری کا دم
بھرنے کی وجہ سے وزارت خارجہ سے علیحدہ کیا جائے۔
- ٢۔ پاکستان کی اسلامی سلطنت میں ملت اسلامیہ سے اپنے آپ کو علیحدہ سمجھنے اور خاتم
المرتبت حضرت محمد ﷺ کو کسی مسئلہ میں آخری حجت نہ ماننے والوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔
- ٣۔ پاکستان ایک اسلامی حکومت ہے۔ اس لیے اس کے تمام کلیدی عہدوں پر صرف
مسلمانوں کو فائز کیا جائے اور ایسے تمام افراد کو ان آسامیوں سے علیحدہ کر دیا جائے جو اپنے آپ کو امت مسلمہ سے علیحدہ سمجھتے ہیں اور حضور اکرم ﷺ کو آخری نبی نہیں مانتے۔
اس کنونشن کے بعد علمائے کرام نے اپنے مطالبات کو تحریک کی صورت دے دی۔ عوام الناس نے تحریک میں بھر پور حصہ لیا۔ گورنمنٹ پنجاب کی طرف سے وزارت اعلیٰ پر فائز
ممتاز دولتانہ نے نہ صرف ظاہری ہمدردی دکھا کر تحریک کو مرکز کی طرف موڑ دیا، جس کی وجہ سے علماء کا ایک وفد فروری ١٩٥٣ء کے آخری عشرہ میں گورنر پاکستان خواجہ ناظم الدین سے ملنے کراچی گیا، جسے وہاں گرفتار کر لیا گیا اور اس طرح قافلے پر قافلے بن کر کراچی جانے لگے۔ جو وہاں پر گرفتار کر لیے جاتے اور اس طرح تحریک کمزوری کا شکار ہوگئی۔ پنجاب چونکہ انتہائی حساس علاقہ تھا اور یہاں کی گرفتاریاں تحریک کو تقویت دے سکتی تھیں لیکن جناب ممتاز دولتانہ کی جھوٹی ہمدردی اور مجلس احرار کے کارکنوں کی غلط فہمی کی وجہ سے کراچی میں گرفتاریاں پیش کرنے پر توجہ دی گئی، جس کے نتائج بڑے برے نکلے۔ گرفتاریوں کے بعد تحریک کے زعماء کو اس بات کا احساس ہوا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ تحریک کو کامیاب کرنے کے لیے لاہور ہی سے گرفتاریاں پیش کی جائیں۔
اس کے ساتھ یہ بھی طے ہوا کہ تصادم سے مکمل طور پر گریز کیا جائے۔ لیکن حکومت تحریک کو تشدد کا شکار کر کے کچلنے کا پروگرام رکھتی تھی اس لیے اس نے ایک ڈی۔ ایس پی کو نامعلوم افراد سے گولی مروا کر تحریک کو تشدد میں داخل کر دیا۔ ٤ مارچ کو پولیس کی طرف سے جلوسوں پر زبردست فائرنگ ہوئی۔ کئی قادیانی تنظیموں کے دستے بھی پولیس کی وردیوں میں فائرنگ میں شریک کیے گئے جنہوں نے چن چن کر مسلمانوں کا قتل عام کیا۔ دہلی دروازے پر متعین تحریک کے چار کارکنوں کو گولی سے چھلنی کر دیا گیا۔ اسی طرح مال روڈ پر نعرہ تکبیر اور نعرہ رسالت لگاتے ہوئے سینہ تانے نوجوانوں کو پولیس نے اپنی زبردست فائرنگ سے بھون کر رکھ دیا۔ اس تشدد کے نتیجہ میں عوام الناس کا بھڑکنا لابدی تھا۔ جس پر ٦ مارچ کو مارشل لاء لگا دیا گیا لیکن اس کے باوجود مسلمانوں نے انتہائی پرامن طریقوں سے اپنے جذبات کا اظہار جاری رکھا۔
٩ مارچ کو اسمبلی کا اجلاس تھا، جس کی وجہ سے تحریک کے کئی نامور کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا، لیکن احتجاج پھر بھی نہ تھما۔ جس پر اسمبلی کا اجلاس ٢٢ مارچ تک ملتوی کر گیا۔ روزنامہ ”زمیندار“، ”الفضل“ اور ”آزاد“ کی اشاعتوں پر ایک سال کی پابندی عائد کر دی گئی۔ خواجہ ناظم الدین کے کہنے پر میاں ممتاز دولتانہ نے وزارت اعلیٰ سے استعفیٰ دے دیا اور ملک فیروز خان نون کو وزارت اعلیٰ پر فائز کر دیا گیا۔ مارشل لاء کے نفاذ اور دھڑا دھڑ گرفتاریوں کی وجہ سے تحریک دبا دی گئی۔ اس تحریک میں بے شمار کارکنوں نے جان اور مال کے نذرانے پیش کیے۔
تحریک کو راست اقدام کی صورت دینے میں مولانا حامد بدایونی، مولانا سید ابوالحسنات، مولانا محمد اسمعیل صاحب، صاحبزادہ فیض الحسن، سید مظفر علی شمسی، مولانا لال حسین اختر، مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا تاج الدین انصاری اور مولانا عبد الستار نیازی جیسے نامور علماء کی مساعی کا بڑا دخل ہے۔ اس تحریک میں جماعت اسلامی کو اس کی علمی اور اشاعتی تحریک کی وجہ سے مورد الزام ٹھہرایا گیا۔ جماعت کے کئی کارکنوں نے بالواسطہ طور پر تحریک میں نمایاں خدمت بھی دیں۔ لیکن جماعت مجموعی طور پر راست اقدام کے حق میں نہیں تھی۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کو ان کے رسالہ ”قادیانی فتنہ“ پر گرفتار کر لیا گیا۔ مولانا عبدالستار نیازی اور مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کو بغاوت پھیلانے کے جرم میں پھانسی کی سزا سنائی گئی لیکن رائے عامہ اور امت مسلمہ کے زبردست دباؤ کی وجہ سے حکومت کو اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا اور اس طرح ٢٩ اپریل ١٩٥٥ء کو رہا کر دیئے گئے۔
٥٣ء کی یہ تحریک ملت اسلامیہ کو قادیانی فتنہ کی اصل صورت دکھانے کا بہت بڑا سبب بنی۔ اس تحریک کے دوران ہونے والے فسادات پر جسٹس منیر کی سربراہی میں جو عدالتی تحقیقاتی بورڈ بنایا گیا، اس کے مطابق تمام فسادات کی ذمہ داری احرار اور مجلس عمل پر ڈالی گئی۔
حکومت پنجاب کو اس بات کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا کہ اس نے جان بوجھ کر مسئلہ کو مرکزی حکومت کے ذمہ ڈال دیا حالانکہ معمولی سی پابندی سے حالات قابو میں کیے جاسکتے تھے۔ جماعت اسلامی کے بارے میں کہا گیا کہ وہ اگرچہ راست اقدام کے حق میں نہیں تھی لیکن پھر بھی تحریک کی کھل کر مخالفت نہ کر سکی۔ عدالت نے فسادات کو ہوا دینے میں احمدیوں کو برابر کا سزاوار ٹھہرایا۔ عدالت نے مرزا بشیر الدین محمود کی کوئٹہ والی تقریر کو اشتعال انگیز قرار دیا، جس میں انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کی ساری آبادی کو احمدیت کے حلقہ بگوش بنا لیا جائے تاکہ اس صوبے کو احمدیت کا اڈا بنایا جاسکے۔ نیز عدالت نے اس بات کو تسلیم کیا کہ احمدی سرکاری افسروں کی سرگرمیاں قابل اعتراض رہیں۔
١٩٥٣ء کی اس تحریک کو وقتی طور پر بظاہر دبا دیا گیا لیکن زخم زیادہ مندمل نہ رہ سکے۔ قادیانیوں کی تخریبی سرگرمیاں ان پر برابر نمک پاشی کرتی رہیں۔ چنانچہ ١٩٥٤ء میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا قیام عمل میں لایا گیا، جس کے زیر اہتمام تبلیغی سطح پر قادیانیوں کی
سرگرمیوں کا محاسبہ کیا جاتا رہا۔ کئی مباحثے اور مباہلے ہوئے، کئی کانفرنسز ہوئیں، جن میں قادیانی سرگرمیوں کا پردہ چاک کر کے عوام الناس کو فتنہ کی زہرناکی سے آگاہ کیا جاتا رہا۔ لیکن حکومت نے اپنے اقتدار اور سیاسی وقار کی خاطر اس انگریز پروردہ جماعت کی پوری پوری سرپرستی کی، جس کی وجہ سے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی مذموم سرگرمیاں پھر جرأت جارحانہ کے اظہار پر اتر آئیں۔
٢٨ مئی ١٩٧٤ء کو مسلمان طلبہ کی ریل گاڑی پر ربوہ ریلوے اسٹیشن پر کھڑے قادیانی رضا کاروں نے اچانک حملہ کر دیا، جس سے پاکستان کے اندر اس فتنہ کے خلاف مدت مدید کی دبی ہوئی نفرت اور انتقام کی آگ بھڑک اٹھی۔ ربوہ کے ارد گرد کی بستیوں سے احتجاج کی آواز اٹھی اور صوبہ پنجاب کے کوچہ کوچہ سے چاروں صوبوں میں پھیل گئی۔ گرفتاریاں اور مار دھاڑ شروع ہو گئی۔ پولیس اور سیکیورٹی فورس نے لا اینڈ آرڈر کے پردے میں ناموس رسالت پر مٹنے والے جاں نثاروں پر مظالم توڑنا شروع کر دیئے۔ علمائے کرام اور پیارے وطن کے زعماء نے قیادت کو ہاتھ میں لے لیا۔ مجلس عمل کی تشکیل دی گئی، جس میں مذہبی سطح پر دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث، شیعہ علماء اور سیاسی جماعتوں کی سطح پر نیشنل عوامی پارٹی، مسلم لیگ، خاکسار، جمعیت علمائے پاکستان، جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی جیسی جماعتوں کے سیاسی زعماء کو شامل کیا گیا۔
ممتاز عالم دین مولانا محمد یوسف بنوری اس کے مرکزی صدر منتخب ہوئے اور مولانا سید محمود احمد رضوی کو سیکرٹری بنایا گیا۔ مجلس عمل نے تحریک کو بھر پور انداز میں چلایا اور مندرجہ ذیل مطالبات پر بھر پور زور دیا گیا:
- ١۔ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔
- ٢۔ قادیانیوں کو کلیدی عہدوں سے برطرف کیا جائے۔
- ٣۔ ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔
مولانا مرحوم کی مساعی اور قادیانی فتنہ
مولانا مرحوم شروع دن ہی سے اسلام اور اکابرین اسلام کی عظمت پر جان چھڑکنے کے لیے بے قرار دل رکھتے تھے۔ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے عقائد باطلہ کو آپ اسلام
کے لیے ناسور سمجھتے تھے۔ تحریک کشمیر میں جب قادیانی امت کی مخفی سرگرمیاں کھل کر مسلمانوں کے سامنے آگئیں اور تحریک احرار نے ان کا محاسبہ کرنا شروع کر دیا تو مولانا مرحوم نے اپنے علاقہ میں اس کا سرگرم رکن ہو کر کام کیا۔ قیام پاکستان سے قبل ہی آپ اپنے علاقہ میں جامعہ محمدی کی بنیاد رکھ چکے تھے اور اس میں آپ نے شعبہ دارالتبلیغ قائم کیا۔ اس شعبہ کے تبلیغی مشن میں توحید، رسالت، ختم نبوت، عظمت صحابہ، بدعات سیئہ کی روک تھام اور تعلیمات و اخلاقیات اسلام کی ترویج کے مضامین شامل تھے۔
قیام پاکستان کے بعد مرزائی امت قادیان سے نکل کر ربوہ کی سرزمین پر جب اپنے مورچے قائم کرنے لگی تو مولانا مرحوم کے لیے ان کا محاسبہ امر ضروری ہو گیا۔ کیونکہ اب ان کے اڈے انہی کے علاقہ میں قائم ہو گئے تھے۔ محمدی شریف کے قرب میں ایک بستی موضع سمندر تھی، جہاں چند مچھرا خاندان کے افراد پہلے ہی مرزائیت قبول کر چکے تھے۔ مولانا نے ان کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی۔ ان کی دعوت اور اصلاح کے لیے متعدد تبلیغی اجتماعات وہاں منعقد کرائے، جن کی وجہ سے مرزائیت کی اشاعت بالکل رک گئی۔
١٩٥٣ء میں جب قادیانیوں کے خلاف امت مسلمہ اٹھ کھڑی ہوئی تو آپ بھی چپ نہ رہ سکے۔ ٧ مارچ کو جامعہ محمدی میں قادیانی امت کو غیر مسلم قرار دینے، قادیانیوں کو کلیدی عہدوں سے ہٹانے اور ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے کی تین قراردادوں پر ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ہوئی۔ حضرت خواجہ قمر الدین سجادہ نشین آستانہ عالیہ سیال شریف نے صدارت کی۔ کئی نامور علماء نے قادیانی امت کے عقائد اور عزائم کا پوسٹ مارٹم کیا۔ اس کے بعد علاقہ میں تحریک پھیلا دی گئی۔ ہر روز گرفتاریاں پیش کی جاتیں، جس میں ١٥ مارچ ١٩٥٣ء کو چنیوٹ میں آپ نے گرفتاری پیش کی۔ آپ کے ساتھ دس مزید ختم نبوت کے رضا کار بھی گرفتار ہوئے۔ اسی روز رات بارہ بجے آپ کے چھوٹے بھائی مولانا محمد نافع صاحب کو بھی چنیوٹ کی مسجد شاہی سے گرفتار کر کے انہیں جھنگ جیل پہنچا دیا گیا۔
اس تحریک میں بے شمار گرفتاریاں ہوئیں اور ہزاروں جان نثاروں نے جان کے نذرانے پیش کیے اور ہزاروں میں رضا کار زخمی ہوئے۔ شہداء کی نعشیں تک غائب کر دی گئیں۔ مسجد وزیر خان لاہور، چوک دالگراں اور مزنگ لاہور میں تو شہادت دینے والوں نے اپنے جذبۂ ایمان کی وہ مثالیں قائم کیں، جو تاریخ تحریک ختم نبوت کا درخشاں باب ہیں اور
اسی طرح ملک کے دیگر تمام علاقوں، شہروں اور قصبات میں ختم نبوت سے ایمانی وابستگی کے بڑے روشن واقعات رضا کاروں نے اپنے خون کے نذرانوں سے رقم کیے۔
مولانا محمد نافع صاحب جھنگ مکھیانہ جیل سے ١٤ اگست ١٩٥٣ء اور مولانا محمد ذاکر مرحوم کو ١٥ جون ١٩٥٣ء کو سنٹرل جیل لاہور سے رہا کیا گیا۔ یکم ستمبر ١٩٥٣ء کو مولانا محمد ذاکر مرحوم نے اپنا تحریری بیان تحقیقاتی عدالت میں پیش کیا اور اپنے علاقہ میں دارالتبلیغ کے ذریعہ سے مہم جاری رکھی۔ جس کا تفصیلی ذکر آئندہ کے صفحات میں کیا جائے گا۔ ماہنامہ ’الجامعہ‘ کے ذریعے رائے عامہ کو اس جماعت کے مذموم عزائم اور منصوبوں سے ہوشیار کیا جاتا رہا۔
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت جب سے بنی، آپ کا ان سے مسلسل رابطہ رہا اور ضلع جھنگ کے مختلف مقامات پر تبلیغی اجتماعات کا اہتمام مولانا مرحوم کی نگرانی میں ہوتا رہا جن میں مجلس ختم نبوت کے سید عطاء اللہ شاہ بخاری، جناب دوست محمد قریشی صاحب، جناب عبدالستار تونسوی صاحب، مولانا لال حسین اختر صاحب، مولانا سید نور الحسن شاہ بخاری، مولانا عبدالعزیز صاحب میانوالی، مولانا محمد عبداللہ صاحب، قاری لطف اللہ صاحب، مولانا محمد حیات صاحب فاتح قادیان، مولانا محمد علی جالندھری، مولانا غلام غوث صاحب اور مولانا بہاء الحق قاسمی صاحب جیسے ممتاز مبلغین شرکت فرماتے رہے۔
١٩٧٠ء کے انتخابات میں مرزائیوں نے اپنے بیس ہزار ووٹ مولانا کو دینے پر آمادگی ظاہر کی بشرطیکہ مولانا لینا قبول کرلیں۔ مولانا کو اس پر آمادہ کرنے کے لیے کئی آپ کے عزیز اور تعلق دار احباب کو بھیجا گیا لیکن آپ قطعاً نہ مانے ان میں ایک حکیم سلطان محمود صاحب تھے۔ وہ مولانا کے بڑے ہی پیارے اور راز دار تھے۔ ان کو خصوصی طور پر بھیجا گیا۔ ان کے بیان کے مطابق وہ شام کے وقت آپ سے ملے اور مولانا سے گزارش کی کہ ہمارے حلقہ میں مقابلہ بڑا سخت ہے۔ پیپلز پارٹی کا بڑا زور ہے اور بیس ہزار ووٹ اہل ربوہ آپ کو دینا چاہتے ہیں۔ اگر آپ یہ ووٹ لینا چاہیں تو ہمیں انتخابی مقابلہ کے نقطہ نظر سے بڑی امداد مل سکتی ہے۔ اگر یہ ووٹ مخالف امیدوار کو چلے گئے تو ہمیں بڑا نقصان ہوگا۔ مولانا حکیم صاحب کی یہ بات سن کر بڑے افروختہ ہوگئے اور فرمایا کہ جن لوگوں کی نمائندگی میں نہیں کرسکتا، ان کے میں ووٹ کیوں لوں۔ جبکہ مقابلہ جیتنا یا ہارنا ان لوگوں پر منحصر نہیں ہے۔ خدا کی بھی ایک ذات ہے، جو سب پر قادر ہے۔ آخر مولانا کا یہ جذبہ صادق اور توکل
الہی جیت گیا اور مولانا بڑی بھاری اکثریت سے قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہو گئے۔ یہ واقعہ مولانا کی مرزائی عقائد سے اس نفرت کا آئینہ دار ہے۔ جو آپ کے دل میں شدت سے موجود تھی۔ ذاتی مصلحت کے پیش نظر ان اسلام دشمن لوگوں کے ووٹ تک لینے قبول نہ کیے۔ ٢٩ مئی ١٩٧٤ء کو مولانا مرحوم نے اچانک اپنی جملہ علالت اور کمزوری کے باوجود قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں شرکت کرنے کا ارادہ کیا اور اس سے پہلے جامعہ کے طلبہ سے گفتگو کرنا چاہی۔ چنانچہ انجمن طلبہ نے فوری طور پر تمام طلبہ کو اکٹھا کر کے جلسہ کا اہتمام کیا جس میں مولانا مرحوم نے اپنی حد درجہ علالت و کمزوری کے باوجود ڈیڑھ گھنٹہ تقریر کی۔ مولانا نے اپنی تقریر میں طلبہ کو ان کی ذمہ داریوں سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تم لوگ یوں سمجھو کہ قدرت نے پوری دنیا سے چن لیا ہے۔ ملت اسلامیہ کی پاسبانی کا کام تمہارے سپرد کیا جانے والا ہے۔ ملت اسلامیہ کی عظمت رفتہ کو آواز دیتے ہوئے آپ نے طلبہ کو اتحاد کی اہمیت سے آگاہ کیا اور متنبہ کیا کہ سوشلزم کی یلغار اور قادیانی فتنہ کی دسیسہ کاریوں سے اب آپ کو نمٹنا ہے۔ اس لیے آپ ہر قسم کی تفرقہ بازی سے بچ کر اللہ کی راہ میں نکل کھڑے ہوں۔ اللہ کی ذات پر مکمل بھروسہ رکھیں جو کہ ابابیلوں سے ابرہہ کا لشکر تباہ کر سکتا ہے۔ اس لیے اس کے دین کی خدمت کے لیے آپ اٹھ کھڑے ہوں اور نتائج اس کی ذات پر چھوڑ دیں۔ پھر آپ دیکھیں گے کہ وہ ذات قادر مطلق ہمیں کس شان سے سرفراز کرتی ہے۔
مولانا کی اس اچانک ولولہ انگیز اور جذبات سے رندھی ہوئی تقریر پر اس وقت حیرت ہو رہی تھی لیکن دوسرے دن جب یہ اطلاع پہنچی کہ ربوہ ریلوے اسٹیشن پر کل مرزائی طلبہ نے مسلمان طلبہ پر حملہ کر کے بڑا خون خرابہ کیا ہے تو پھر احساس ہوا کہ ایک قلندر کی نگاہ سے کوئی واقعہ مخفی نہیں ہوتا اور انہوں نے اپنے خطاب میں جس بشارت کی نوید سنائی ہے، وہ یقیناً ملت اسلامیہ کو سرخرو کرے گی۔
جونہی حادثہ کی خبر ٣٠ مئی کو پہنچی تو جامعہ کے ہر فرد کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ شوق شہادت موجیں مارنے لگا۔ طلبہ کے جذبات قابو سے باہر ہو گئے۔ قائدین طلبہ نے جذبات کو جلسہ احتجاج کی صورت میں منظم کر کے قادیانیوں کی اس جسارت کی پر زور مذمت کی اور حکمران طبقہ سے مطالبہ کیا کہ:
- ١۔ مرزائیوں کو فی الفور غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔
- ٢۔ ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔
- ٣۔ مرزائیوں کو کلیدی آسامیوں سے ہٹایا جائے۔
- ٤۔ حادثہ ربوہ کے مرتکبین کو قرار واقعی سزا دی جائے۔
قائدین طلبہ نے مختلف وفود تیار کیے جو مختلف شہروں میں جا کر وہاں کے طلبہ قائدین سے مشترکہ لائحہ عمل تیار کریں اور اس جسارت پر قادیانی امت کے خلاف ایک منظم تحریک چلائیں۔ چنانچہ یہ وفود لاہور، فیصل آباد، سرگودھا اور جھنگ گئے۔ وہاں کے قائدین طلبہ سے مل کر تحریک ختم نبوت کو منظم صورت میں چلانے کے لیے مشاورت کی۔
٣١ مئی کو ایک بہت بڑا جامع محمدی سے جلوس نکلا، جس کی قیادت انجمن طلبہ جامعہ محمدی کے جنرل سیکرٹری حافظ محمد سعد اللہ صاحب نے کی۔ یہ جلوس چنیوٹ گیا اور وہاں پر شہریوں اور طلبہ کے مشترکہ جلوسوں میں شامل ہوگیا۔ حافظ محمد سعد اللہ صاحب نے اہالیان چنیوٹ سے کئی مقامات پر خطاب کیا اور واقعہ کی نزاکت کو اپنے پورے پس منظر میں بیان کیا۔ شہریوں اور طلبہ کو اس بات کا یقین دلایا کہ ہم سب مسلمان ہیں اور ناموس رسالت کی حفاظت ہی ہمارا اصل ایمان ہے جس کے لیے ہم بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔
٢ جون کو ایک بہت بڑا جلوس انجمن طلبہ کے قائدین کی قیادت میں قریبی قصبہ بھوآنہ گیا۔ پولیس کی بھاری نفری نے جلوس کو منتشر کرنے کی کوشش کی لیکن قائدین نے انتظامیہ کو مشتعل طلبہ کو اپنی حرکت سے مزید مشتعل کرنے سے روکا اور جلوس کو پرامن طریقے سے اپنے جذبات کے اظہار کرنے کے لیے موقع کی درخواست کی۔ آخر انتظامیہ کے تعاون سے یہ جلوس بڑے پرامن طریقے سے اپنے جذبات کا اظہار کرتا ہوا بھوآنہ کے جملہ بازاروں میں پھرا۔ جلوس نے مختلف مقامات پر انجمن طلبہ کے صدر حافظ غلام حسین سفری، سیکرٹری حافظ محمد سعد اللہ اور جواں سال مقرر میاں غلام رسول کوکب نے خطاب کیا۔ اپنے خطابات میں عوام الناس کی نمائندگی کرتے ہوئے انہوں نے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے، ان کو کلیدی عہدوں سے ہٹانے، ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے اور قادیانی عسکری تنظیموں کو خلاف قانون دینے کا مطالبہ کیا۔
٤ جون کو انجمن طلبہ ہی کے زیر اہتمام محمدی شریف میں ایک احتجاجی جلسہ ہوا، جس
میں عوام کی بھاری اکثریت نے شرکت کی۔ صدارت جامعہ کے شیخ الجامعہ حضرت سید محمد متین ہاشمی صاحب نے فرمائی۔ حافظ غلام رسول قاضی، حافظ غلام حسین سفری اور حافظ محمد سعد اللہ نے شرکائے جلسہ کو مرزائیوں کے پس منظر اور ان کی تخریبی سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔ آخر میں صدر جلسہ نے اپنی پرجوش اور معلوماتی تقریر میں فتنہ مرزائیت کے خدوخال سے نام نہاد اسلامیات کا غلاف اتارا اور برطانوی پروردہ نبی کی حقیقت سے عوام کو آگاہ کیا۔
٥ جون کو قریبی گاؤں قلعہ کنگراں میں انجمن طلبہ کے زیر اہتمام احتجاجی جلسہ ہوا۔ جلسہ میں مقررین نے عوام الناس کو مرزائیت کے تار و پود بکھیر کر اس کے اصل روپ سے آگاہ کیا اور عوام الناس سے ناموس رسالت پر کٹ مرنے کا عہد لیا۔
غرض اس طرح کے کئی اجلاس طلبہ کی قیادت میں علاقہ کے مختلف قصبات میں کیے گئے۔ ٢٠ جون کو طلبہ و اساتذہ پر مشتمل وفود لاہور، سرگودھا، لائلپور اور چنیوٹ بھیجے گئے جو وہاں کے آئمہ مساجد، خطباء اور دیگر تنظیموں کے سربراہوں سے مل کر رائے عامہ کو بیدار کرنے کی کوشش کریں اور علاقہ کے ممبران قومی و صوبائی اسمبلی کو مجبور کریں کہ وہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے میں اپنا کردار ادا کریں۔
طلبہ کی زبردست خواہش پر مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا محمد حیات صاحب فاتح قادیان کو دعوت دی گئی کہ وہ آ کر طلبہ کو قادیانی امت کے عقائد اور عزائم سے علمی طور پر مختلف لیکچرز میں آگاہ کریں۔ یہ ریفریشر کورس دو ہفتہ جاری رہا جس میں مرزا غلام احمد کے کذب، مرزائیت کے پس منظر، پیش منظر اور ان کے سیاسی عزائم سے انہی کی کتب اور دستاویزات سے آگاہ کیا گیا۔
٣٠ جون کی شام کو مولانا جب اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لیے روانہ ہوئے تو چنیوٹ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ہونے والی کانفرنس کی صدارت کی۔ اس کانفرنس میں ہر مکتبہ فکر کے علماء، سیاست دان اور علاقے کے نامور افراد شریک ہوئے۔ علاقے کے تمام ممبران قومی و صوبائی اسمبلی نے اس کانفرنس میں عوام کے جذبات کے مطابق اپنے عزائم کا اعادہ کیا۔ مولانا مرحوم ان دنوں خاصے علیل تھے۔ چلنا پھرنا تک دشوار تھا۔ لیکن ختم نبوت کے آوازہ نے آپ کو آرام سے بیٹھنے نہ دیا۔ اتنے لمبے سفر پر تیار ہو گئے۔
کانفرنس کی صدارت کی اور اسی رات اسلام آباد روانہ ہو گئے جہاں جا کر اسمبلی میں ٤ جون ١٩٧٤ء کو قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لیے بھیجے گئے بل پر حکومت کی کارروائی پر اراکین اسمبلی کو اعتماد میں لینا تھا۔ بل کی عبارت یوں تھی:
قومی اسمبلی کی یہ رائے ہے کہ:
- (الف) چونکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی جدول سوم متعلقہ دفعہ ٤٢ کی
رو سے مرزائی (احمدی) فرقہ اپنے عقائد کے لحاظ سے دائرہ اسلام سے خارج ہے، جس کے ثبوت میں ان کا شائع شدہ لٹریچر شاہد ہے اور ان کی طرف سے اس قسم کا اظہار مسلسل ہوتا چلا آیا ہے۔
- (ب) مذہبی اختلاف کے علاوہ سماجی اور سیاسی حیثیات سے پاکستان میں اپنے
آپ کو الگ فرقہ سمجھتا ہے اور واقعات کے لحاظ سے یہ انگریز اسرائیل اور بھارت کا پاکستان میں ففتھ کالم ہے۔ پاکستان سے ان کی وفاداری نہایت ہی مشکوک ہے۔ چنانچہ تقسیم کے وقت سے ہی انہوں نے اپنی جماعت کا ایک حصہ قادیان میں متعین کر رکھا ہے تاکہ بوقت ضرورت کام آسکے۔
حالیہ حادثہ اسٹیشن ربوہ اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ دراصل ان کا پروگرام پاکستان میں اپنی ریاست در ریاست قائم کرنا ہے۔ اس کا اظہار مختلف مواقع پر ان کے کارکنوں کی طرف سے ہوتا آرہا ہے۔ اس لیے اس فرقہ کو معمولی تصور نہ کیا جائے۔ بیشتر اسلامی ممالک اس فرقہ پر عدم اعتماد کا اظہار کر چکے ہیں۔ لہٰذا پاکستان کی سالمیت اور اسلام کی برتری بحال رکھنے کے لیے نہایت ضروری ہے کہ اس مرزائی احمدی فرقہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ کلیدی اسامیوں سے انہیں الگ کیا جائے اور ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے تاکہ نظریہ پاکستان اور ملکی سالمیت کا کما حقہ تحفظ ہو سکے۔
مخلص
محمد ذاکر غفرلہ
٤-٦-٧٤، ایم۔این۔اے (جھنگ)
ناظم عمومی جامعہ محمدی شریف، ضلع جھنگ
تحریک ابھی ابتدائی مراحل میں تھی اور حکومت کو یقین تھا کہ حسب سابق اس
تحریک کو دبا لیں گے۔ چنانچہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے اپنے خط بحوالہ ایف ١٧ (١٩)/٧٤ (آر۔ڈی) نمبر ٢٥، اسلام آباد کو مورخہ ١٢ جون ١٩٧٤ء میں آپ کو مطلع کیا کہ آپ کا بل بعنوان ”قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے ۔“ حسب قواعد ضابطہ کارروائی و انصرام کارروائی برائے قومی اسمبلی ١٩٧٣ء کے قاعدہ ١٢٧ بملاحظہ قاعدہ ١٢٦ (ج) کے تحت اسپیکر نے نامنظور کر دیا ہے۔
چنانچہ آپ نے اس نامنظوری پر مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا مفتی محمود اور پروفیسر غفور احمد جیسے نامور ممبران سے رابطہ پیدا کیا اور بل کی نامنظوری سے مطلع کیا۔ لیکن انہی دنوں تحریک تحفظ ختم نبوت زور پکڑ گئی اور حالات حکومت کے قابو سے باہر ہو گئے۔ چنانچہ وزیر اعظم نے ١٣ جون ١٩٧٤ء کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے وعدہ کیا کہ جمہوری طریقے سے اس مسئلہ کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا اور وہ جو فیصلہ کرے گی وہ مجھے اور پوری قوم کو قابل قبول ہوگا۔
آخر ٣٠ جون ١٩٧٤ء کو حکومت کی طرف سے قرارداد پیش ہوئی، جس میں حضور اکرم ﷺ کی ختم نبوت پر یقین نہ کرنے والوں یا انکے بعد کسی دوسرے کو نبی یا مصلح قرار دینے والوں کی حیثیت کے تعین کی اپیل کی گئی۔ اس قرارداد میں اہل ربوہ اور قادیانی گروہ کا کوئی نام نہیں لیا گیا تھا۔ چنانچہ حزب اختلاف کے تعاون سے مولانا شاہ احمد نورانی پارلیمانی لیڈر جمعیت علمائے پاکستان نے دوسری قرارداد پیش کی جس میں غلام احمد مرزا اور اس کے عقائد کی واضح نشاندہی کی گئی نیز امت مسلمہ کے واضح فیصلوں کو بھی باور کرایا گیا اور اس طرح سفارش کی گئی کہ قومی اسمبلی میں ایک سرکاری طور پر بل پیش ہو، جس میں قادیانی مرزا کی امت کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے اور ان کے حقوق و مفادات کے تحفظ و تعین کے لیے احکام وضع کرنے کی خاطر آئین میں مناسب ترامیم کی جائیں۔ اس قرار داد پر حزب اختلاف کے جملہ نامور عہدہ داران اور ممبران کے دستخط تھے۔ دستخط کرنے والے ممبران اسمبلی کی تفصیل درج ذیل ہے:
- ١۔ مولانا مفتی محمود ٢۔ مولانا شاہ احمد نورانی
- ٣۔ مولانا سید محمد علی رضوی ٤۔ چودھری ظہور الٰہی
- ٥۔ مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری ٦۔ پروفیسر غفور احمد
- ٧۔ مولانا عبدالحق (اکوڑہ خٹک)
- ٨۔ سردار شیر باز خان مزاری
- ٩۔ مولانا ظفر احمد انصاری
- ١٠۔ صاحبزادہ احمد رضا قصوری
- ١١۔ مولانا صدر الشہید
- ١٢۔ جناب عمرہ خان
- ١٣۔ سردار شوکت حیات خان
- ١٤۔ راؤ خورشید علی خان
- ١٥۔ جناب عبدالمجید جتوئی
- ١٦۔ جناب محمود اعظم فاروقی
- ١٧۔ مولوی نعمت اللہ
- ١٨۔ سردار مولا بخش سومرو
- ١٩۔ حاجی علی احمد تالپور
- ٢٠۔ رئیس عطا محمد مری
- ٢١۔ مخدوم نور محمود
- ٢٢۔ جناب غلام فاروق
- ٢٣۔ نوابزادہ محمد ذاکر قریشی
- ٢٤۔ جناب کرم بخش اعوان
- ٢٥۔ میر غلام حیدر بھروانہ
- ٢٦۔ صاحبزادہ صفی اللہ
- ٢٧۔ ملک جہانگیر خان
- ٢٨۔ جناب اکبر خان مہمند
- ٢٩۔ حاجی صالح خان
- ٣٠۔ خواجہ جان محمد کوریجہ
- ٣١۔ جناب غلام حسن خان دھاندلہ
- ٣٢۔ صاحبزادہ محمد نذیر سلطان
- ٣٣۔ جناب محمد ابراہیم برق
- ٣٤۔ صاحبزادہ نعمت اللہ شنواری
- ٣٥۔ جناب عبدالسبحان خان
- ٣٦۔ میجر جنرل جمال داد
- ٣٧۔ جناب عبدالمالک خان
اس قرارداد کے پیش ہونے کے بعد قادیانیت سے متعلقہ جس قدر لٹریچر دستیاب ہو سکا، وہ اسمبلی کے ممبران میں تقسیم ہو گیا۔ ممبران سے ذاتی رابطے پیدا کیے گئے اور ختم نبوت کے مسئلہ پر انہیں آگاہ کیا گیا۔ اسمبلی میں موجود قادیانی لابی کی سرگرمیوں کے جواب میں مسلمان ممبران کے دلوں سے شکوک و شبہات کو دور کیا گیا۔ ان تمام سرگرمیوں میں مولانا شاہ احمد نورانی اور ان کے دیگر حلیف سرگرم رہے۔ مولانا شاہ احمد نورانی ان مساعی میں مولانا محمد ذاکر کی خدمات کا اعتراف اپنے ایک انٹرویو میں یوں کرتے ہیں جو انہوں نے ماہنامہ ”ضیائے حرم“ کے ختم نبوت نمبر کے سلسلہ میں دیا۔ آپ سے جب ماہنامہ کے نمائندہ نے ان مردان کار کا پوچھا، جنہوں نے اسمبلی میں ان کے ساتھ بھرپور تعاون کیا تو آپ نے فرمایا مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری، مولانا محمد ذاکر، مولانا محمد علی، پروفیسر غفور احمد، مولانا مفتی محمود،
سردار شیر باز خان مزاری ، مخدوم نور محمد ہاشمی اور صاحبزادہ احمد رضا قصوری۔ ٣٠ جون ١٩٧٤ء کے بعد سے جب کمیٹی کے مسلسل اجلاس شروع ہوگئے تو قادیانی ربوہ گروپ اور لاہوری گروپ کے سربراہوں نے اپنی طرف سے صفائی پیش کرنے اور اپنے عقائد کی وضاحت کرنے کے لیے کمیٹی سے حاضری کی اجازت مانگی جسے کمیٹی نے بخوشی دے دیا۔
مرزا ناصر احمد سربراہ ربوہ گروپ نے اپنا تحریری محضر نامہ پیش کیا جس پر کمیٹی کے علماء نے کافی تعداد میں سوال کیے۔ مولانا عبدالمصطفیٰ ازہری کی روایت کے مطابق مولانا محمد ذاکر، سید محمد علی رضوی اور صرف انہوں نے ٧٥ سوال کیے۔ اس کے محضر نامہ کا جواب تیار کرنے میں مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری، مولانا محمد علی رضوی، اور مولانا محمد ذاکر کی خدمات بڑی نمایاں ہیں جو مسلسل مہینوں کے اس اجلاس میں شرکت کے لیے اسلام آباد مقیم رہے۔ مولانا کی علالت طبع اور اس قدر جانکاہ کام کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ آپ کو حضور اکرم ﷺ سے کس قدر عشق تھا کہ جس کی وجہ سے باوجود سخت علالت اور معذوری کے آپ نے اتنی طویل مدت میں اس قدر محنت سے اپنا فرض ادا کیا۔ آخر ان سرفروشان ناموس رسالت کی رات دن کی محنت پھل لائی اور اس حکومت کو جو سراسر قادیانی امت کی سرپرست تھی، ٧ ستمبر ١٩٧٤ء کو اسے غیر مسلم اقلیت قرار دینا پڑا۔
جس پر مرزائیوں نے مسلمانوں اور حکومت پاکستان کے خلاف اس قدر زہر اگلا کہ خدا کی پناہ۔ اشتہارات شائع کیے، رسائل اور کتابیں لکھ کر تقسیم کیں۔ بعض غیر ملکی حکومتوں سے رجوع کیا۔ ظفر اللہ خان نے اس فیصلے کے خلاف بیان دیا۔ مرزا ناصر نے اشتعال انگیز تقاریر کیں۔ ان کے پروپیگنڈے سے یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی کہ پاکستان سے اسلام کا جنازہ نکال دیا گیا ہے۔ اس مسموم فضا کو اور مکدر کرنے کے لیے انہوں نے فوری طور پر چار عالمی مراکز تجویز کیے۔ یورپ میں لندن، افریقہ میں زیمبیا، مشرق وسطیٰ میں ابوظہبی اور مشرق بعید میں جزائر فجی۔ قادیانیوں نے ان مقامات پر اپنے سینکڑوں مبلغ بھیجے۔ ربوہ کے محاذ کو مضبوط کرنے کی سوچ بچار کی گئی۔ ان سرگرمیوں پر حکومت خاموش تماشائی بن گئی جس پر مجلس تحفظ ختم نبوت نے فوراً نوٹس لیا اور باہمی مشاورت کے بعد قادیانیوں کی بیرونی دنیا میں اسلام دشمن سرگرمیوں کو روکنے کے لیے وفود تیار کر کے بھیجے جن کی مساعی سے ایک لاکھ مرزائیوں
نے توبہ کر کے اسلام قبول کر لیا۔ ٤٤ اسلامی ممالک میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا جس سے قادیانیوں کے اسلام کے نام پر بنائے گئے تمام مراکز بند ہو گئے۔ ربوہ کو مسلمانوں کے لیے کھلا شہر بنا دیا گیا جس میں مسلمانوں کے لیے ایک مسجد اور مدرسہ قائم کر کے کام شروع کر دیا گیا۔
قادیانیوں نے اپنے آپ کو انتخابی فہرستوں، شناختی کارڈوں اور اپنے رسائل میں آئینی اقدام کے باوجود مسلمان ہی ظاہر کیا اور ملک میں موجود اصل مسلمانوں کے ساتھ پنجہ آزمائی اور جارحیت اختیار کر لی۔ جس پر ملک کے اخبارات، تنظیموں اور علمائے کرام نے زبردست شور مچایا۔ جولائی ١٩٧٧ء کو صدر جنرل محمد ضیاء الحق نے اقتدار اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ ان تلخ حالات میں فوجی حکومت نے نئے انتخابات کی راہ نہ پا کر تطہیر کا کام شروع کر دیا۔ چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل محمد ضیاء الحق نے جب صدر کا عہدہ سنبھالا اور اپنی گورنمنٹ کو جمہوری صورت دے کر اسلامی نظام حکومت کے قیام کا عزم ظاہر کیا تو علمائے کرام نے صدر جنرل محمد ضیاء الحق کی توجہ قادیانیوں کی ان سرگرمیوں کی طرف دلاتے ہوئے خصوصی احکامات صادر کرنے کی درخواست کی۔ چنانچہ اپنے ایک صدارتی آرڈیننس میں چند اسلامی حدود اور تعزیرات کا نفاذ کیا۔ قادیانی جماعت چونکہ اپنی تخریبی سرگرمیوں سے پیچھے نہیں ہٹ رہی تھی۔ جس پر صدر مملکت نے اپنے خصوصی اختیارات کے تحت ٢٦ اپریل ١٩٨٤ء کو امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کیا۔
(ذکر ذاکر۔ سوانح حیات مولانا محمد ذاکرؒ ص ١٥٤ تا ١٦٧)
ملت اسلامیہ کو قادیانیت کی ریشہ دوانیوں
سے خبردار رہنا ہوگا
از قلم : چوہدری اصغر علی کوثر وڑائچ
ایوان مہر علی شاہؒ کے زیر اہتمام ٢٧ اگست کو ایوان اقبال ایجرٹن روڈ لاہور میں قومی خاتم النبیین کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ، درگاہ غوثیہ مہریہ گولڑہ شریف کے پیر سید غلام معین الحق گیلانی اس بابرکت محفل کے صدر اور درگاہ حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒ پاک پتن شریف کے دیوان میاں مودود مسعود چشتی مہمان خصوصی تھے ۔ مقررین میں مولانا منظور احمد چنیوٹی ، فیڈرل شریعت کورٹ کے سابق چیف جسٹس میاں محبوب احمد ، جسٹس میاں نذیر اختر ، جسٹس منیر احمد مغل ، پروفیسر عبدالجبار شاکر ، نذیر احمد غازی ، جی اے حق محمد چشتی ، میاں عزیز الحق قریشی اور چودھری اصغر علی ایڈووکیٹ کے اسمائے گرامی شامل ہیں ۔ قاری سید صداقت علی نے نہایت روح پرور آواز میں قرآن مجید فرقان حمید کی چند آیات تلاوت کیں ۔ فیض احمد علوی فیضی نے اپنے والد مولانا ساجد علوی کا نعتیہ کلام پیش کیا ۔ نعت خواں اختر قریشی نے حضرت پیر مہر علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی مشہور پنجابی نعت سنائی ۔ دو تین بند آپ بھی ملاحظہ فرما لیجئے ۔
کیوں جندڑی اداس گھنیری اے
لوں لوں وچ شوق چنگیری اے
اج نیناں لائیاں کیوں جھڑیاں
.............
مکھ چند بدر شاہشانی اے
متھے چمکے لاٹ نورانی اے
مخمور اکھیں ہن مدھ بھریاں
....................
ایس صورت نوں میں جان آکھاں
جان آکھاں کہ جانِ جہان آکھاں
سچ آکھاں تے رب دی شان آکھاں
جس شان توں شاناں سب بنیاں
....................
سبحان اللہ، مااجملک ، مااحسنک ، مااکملک
کتھے مہر علیؒ کتھے تیری ثنا گستاخ اکھیں کتھے جا اڑیاں
مشہور نعت خواں مرغوب احمد ہمدانی نے اپنی سحر آفریں آواز میں کلامِ اقبالؒ پیش کیا تو سارا ایوان ان کے ساتھ جھوم جھوم کر پڑھ رہا تھا:
قصیدۂ بردہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کرنے کے لیے پانچ معصوم بچے خاص طور سے گولڑہ شریف سے تشریف لائے تھے۔ ہر بچہ سفید شلوار قمیض اور سبز کلاہ میں ملبوس تھا۔ اس وقت ایوانِ اقبالؒ پر ایک سکوت طاری تھا اور یوں لگ رہا تھا کہ پانچ ملائکہ قصیدۂ بردہ پیش کر رہے تھے۔ اس کانفرنس کے کنوینئر مولانا فیاض باقر تھے، جبکہ نظامت کے فرائض ابصار عبدالعلیٰ نے ادا کیے۔ روزنامہ نوائے وقت اور انگریزی اخبار نیشن کے ایڈیٹر انچیف مجید نظامی ایوانِ اقبالؒ میں منعقد ہونے والی تقاریب میں عموماً رونق افروز ہوا کرتے تھے، مگر اپنی علالت کی وجہ سے وہ قومی خاتم النبیین کانفرنس میں تشریف آور نہ ہوسکے۔ البتہ ان کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا جس میں انہوں نے فرمایا کہ ”فتنہ قادیانیت جس تیزی سے اٹھا تھا اور جس طرح اس نے برصغیر میں مسلمانوں کے عقائد بگاڑنے کا آغاز کیا تھا۔ حضرت پیر مہر علیؒ شاہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے علم، کلام اور عالمانہ تحریر و تقریر کے ذریعے اتنا موثر طور پر اس کا رد فرمایا کہ فساد عقیدہ کا وہ سیل یکسر رک گیا جو قادیان سے اٹھا تھا۔ حضرت پیر مہر علیؒ شاہ نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے الگ وطن قائم کرنے کے سلسلے میں اپنے طور پر بھی جدوجہد کی تھی اور اس سلسلے میں
علامہ اقبال سے بھی ان کا فکری وعلمی رابطہ استوار رہا۔“
قومی خاتم النبیین کانفرنس کی کارروائی کے آغاز کا وقت ساڑھے دس بجے صبح طے کیا گیا تھا، مگر سامعین کے اشتیاق آمد کے منظر سے لطف اندوز ہونے کے لیے ہم قریباً دس بجے ہی ایوان میں پہنچ گئے، لیکن یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ اتنا وسیع و عریض ہال ٧٥ فیصد بھر چکا تھا اور فرزندان اسلام جوق در جوق کشاں کشاں ایوان میں وارد ہو رہے تھے۔ حتیٰ کہ بلند ترین گیلری سمیت ہال اپنی گنجائش تک بھر گیا۔ خواتین کی گیلری میں بھی کوئی نشست خالی نہ تھی۔ وہ شخصیات جو اظہار خیال کے لیے تشریف آور ہوئیں۔ سٹیج پر براجمان تھیں۔ سامعین میں علمائے کرام و مشائخ عظام کے علاوہ کئی محکموں کے افسران بھی موجود تھے۔ ہال کے اندر اول سے آخر تک فضا نہایت باوقار اور پرامن رہی، حالانکہ کارروائی کا سلسلہ چار گھنٹے سے بھی متجاوز ہو چکا تھا۔ آغاز میں جب صدر مجلس پیر سید غلام معین الحق گیلانی تشریف آور ہوئے تو تمام ہاؤس میں شخصیات نے ایستادہ ہو کر ان کا خیر مقدم کیا۔ حقیقتاً یہ عمل حضرت پیر مہر علی شاہؒ کی عظیم دینی خدمات کو شاندار خراج ستائش پیش کرنے کے مترادف تھا۔ انہوں نے فتنۂ قادیانیت کی روک تھام کے لیے تمام علمائے برصغیر کو مجتمع کیا اور جب مرزا غلام احمد قادیانی نے کہا کہ اگر امت محمد (مصطفیٰ ﷺ) میں کوئی ہے تو میرے مقابلے میں آئے۔ تو حضرت پیر مہر علی شاہؒ نے ان کا چیلنج قبول کیا اور آج سے ٹھیک ایک سو سال پہلے ٢٥ اگست ١٩٠١ء کو بادشاہی مسجد لاہور میں مناظرے کا وقت طے کیا گیا۔ اس زمانے میں مولانا ثناء اللہ امرتسری جیسے جید عالم بھی حیات تھے۔ چنانچہ حضرت پیر مہر علی شاہؒ چالیس دیگر جید علمائے کرام کے ساتھ بادشاہی مسجد پہنچے۔ بڑا انتظار کیا گیا مگر مرزا غلام احمد قادیانی وہاں نہ پہنچا بلکہ اُس نے ایک چال چلی کہ ایک رات پہلے ہی بادشاہی مسجد کے آس پاس پوسٹر لگوا دیئے کہ پیر مہر علی شاہؒ مقالے اور مناظرے سے گریزاں ہو چکے تھے۔ یہ صریحاً ایک دروغ تھا، کیونکہ حقیقت یہ تھی کہ مرزا غلام احمد قادیانی خود راہ فرار اختیار کر گیا اور اُسے کسی مسلمان عالم دین کا سامنا کرنے کی جرأت نہ ہوئی۔
دراصل دنیا کی باطل اور طاغوتی طاقتوں نے ہمیشہ یہ کوشش کی کہ اسلام کی اکائی ٹوٹ جائے اور اس دین پر ایمان رکھنے والے، فرقوں میں بٹ جائیں، تاکہ طاغوت و کفر کے مقابلے میں ان کی طاقت اس حد تک کمزور ہو جائے کہ بالآخر اسلام پر کفر غالب آجائے۔
مرتدین بھی اسلام پر کاری ضرب لگانے کی پوری کوشش کرتے رہے ہیں۔ خاص طور سے نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی وفات کے بعد کفر و طاغوت نے دنیائے اسلام کو کچل کر نابود کر دینے کے لیے بڑی سازشیں کیں، لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ نے پہلے خلیفہ اسلام حضرت ابوبکر صدیقؓ کو اتنی تقویت و بصیرت و فراست عطا فرمائی کہ انہوں نے مرتدین اور باطل داعیان نبوت کا قلع قمع کر دیا۔ مرتدین سے جو جنگیں پیش آئیں ان کا شمار زمانہ اسلام کی فیصلہ کن جنگوں میں ہوتا ہے۔ اگر ان جنگوں میں مسلمان فتحیاب نہ ہوتے تو تھوڑے ہی عرصے میں عرب دوبارہ اسی پرانی جاہلیت کا شکار ہو جاتے، جسے فنا کرنے کے لیے ختم الانبیاء و ختم المرسلین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اس دنیا میں تشریف لائے، لیکن اللہ تعالیٰ نے مقدر کر دیا تھا کہ اس کا دین غالب رہے گا اور اس عظیم مقصد اسلام کی تکمیل کے لیے اس نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو منتخب کیا۔ چنانچہ انہوں نے انتہائی پامردی سے دشمنان اسلام کا مقابلہ کر کے انہیں دوبارہ حلقہ بگوش اسلام ہونے پر مجبور کر دیا۔
واقعات نے ایسی صورت اختیار کی قبائل عبس، ذبیان، بنو بکر اور ان کے وہ مددگار جنہوں نے مدینہ پر چڑھائی میں حصہ لیا تھا۔ اپنا داغ ہزیمت دھونے کے لیے طلیحہ بن خویلد اسدی سے جاملے۔ مزید برآں قبیلہ طے، غطفان، سلیم اور وہ بدوی قبائل بھی جو مدینہ کے مشرق اور شمال مشرق میں آباد تھے۔ طلیحہ کے حامی بن گئے تھے اور کہتے تھے کہ ”ہمیں اسد اور غطفان قبیلے کا نبی طلیحہ قریش کے نبی سے زیادہ محبوب ہے، کیونکہ محمد (ﷺ) وفات پاچکے ہیں لیکن طلیحہ زندہ ہے۔“
ان لوگوں کو یہ بھی خوب معلوم تھا کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ ان پر ضرور حملہ کریں گے، اس لیے طلیحہ جو پہلے سمیرا میں مقیم تھا آخر بزاخہ میں آگیا، کیونکہ اس کے خیال میں لڑائی کے لیے بزاخہ نسبتاً زیادہ مناسب اور محفوظ جگہ تھی۔ دراصل دیگر کذابین اسود عنسی اور مسیلمہ کی طرح طلیحہ نے بھی حضرت محمد ﷺ کی زندگی کے آخری ایام میں اپنے نبی ہونے کا جھوٹا دعویٰ کر دیا تھا۔ یعنی رسول اللہ ﷺ کی حیات طیبہ کے دوران ہی طلیحہ نے بنی اسد، اسود عنسی نے یمن میں اور مسیلمہ نے یمامہ میں نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر دیا تھا۔ بہر حال حضرت خالدؓ بن ولید سے شکست کھانے کے بعد طلیحہ نے اسلام قبول کر لیا تھا اور عراق کی جنگوں میں ایرانیوں کے مقابلے میں اس نے کارہائے نمایاں انجام دیے۔
اس کے بعد خالد بن ولید کی برق پاش تلوار مسیلمہ کذاب کے خلاف بے نیام ہوئی۔ مسیلمہ نے اپنا لشکر یمامہ کی ایک جانب عقرباء میں جمع کیا تھا اور سارا مال اسباب لشکر کے پیچھے رکھا تھا۔ اس کا لشکر چالیس سے ستر ہزار کے درمیان تھا۔ اتنے طاقتور لشکر کا ذکر اس سے قبل عربوں نے کم ہی سنا تھا۔ لیکن حضرت خالد بن ولید بھی تائید ایزدی کے ساتھ مسیلمہ کذاب پر غالب ہونے کے لیے اس کے سامنے صف آرا ہوئے۔ آخری اعلان کا انتظار تھا۔
ہر ایک کو یقین تھا کہ فتح مندی اور کامرانی اس کے حصے میں آئے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ جنگ یمامہ کا دن اپنی نوعیت کے لحاظ سے تاریخ اسلام میں ایک منفرد دن تھا، کیونکہ اس روز لشکر اسلام اور نبوت کے ایک جھوٹے دعویدار مسیلمہ کذاب کے بڑے لشکر کی تلواریں ٹکرانے والی تھیں، مسیلمہ پر یمن، عمان، مہرہ، بحرین اور حضرموت کی آنکھیں لگی ہوئی تھیں، جبکہ ایرانی بھی بڑی بے صبری سے اس جنگ کا نتیجہ معلوم کرنے کے منتظر تھے۔ دوسری طرف مسلمانوں کا لشکر بھی اپنی ہیئت کے اعتبار سے کچھ کم طاقتور نہ تھا۔ حضرت خالد بن ولید سپاہ اسلام کے سپہ سالار تھے۔ لشکر میں قرآن مجید کے حفاظ اور قراء حضرات کی بھی کمی نہ تھی۔ چنانچہ جنگ کا آغاز ہوا تو پہلے ہلے ہی میں حضرت عمر خطاب کے بھائی زید بن خطاب نے مسیلمہ کذاب کی طاقت کے ایک بڑے ستون نہار الرجال کو گرا کر تہ تیغ کر دیا۔ بہر حال شدید معرکے کے بعد مسیلمہ کذاب نے راہ فرار اختیار کی اور اس کا لشکر بھی اس کے پیچھے ایک ایسے باغ میں داخل ہو گیا جو میدان جنگ کے قریب ہی تھا۔ حدیقتہ الرحمان کے نام سے مشہور تھا اور مسیلمہ کذاب کی ملکیت تھا۔ مسلمانوں نے اس باغ کا گھیراؤ کر لیا، مگر اندر جانے کا راستہ نہیں مل رہا تھا۔ چنانچہ براء بن مالک کے اصرار پر انہیں باغ کی دیوار پر چڑھایا گیا اور اندر دشمن کے بڑے لشکر میں اتر گئے۔ اگر چہ تن تنہا تھے مگر نہایت بے جگری سے لڑتے ہوئے باغ کا وہ دروازہ کھولنے میں کامیاب ہو گئے جس میں سپاہ اسلام کو اندر داخل ہونے کا راستہ مل گیا، مگر باغ کے اندر بھی مسیلمہ کے لشکر کی بڑی تیاری تھی۔ بنی حنیفہ جان توڑ کر لڑے۔ عین معرکے کے دوران حبشی غلام وحشی، جس نے جنگ احد میں نیزہ مار کر حضرت حمزہ بن عبدالمطلب کو شہید کر دیا تھا، مگر بعد ازاں فتح مکہ کے وقت مسلمان ہو گیا تھا۔ مسیلمہ کذاب کے خلاف اس جنگی معرکے میں موجود تھا۔ اس نے جنگ کے دوران باغ کے اندر مسیلمہ کذاب کو پہچان لیا اور اپنا ایک چھوٹا سا نیزہ ایسا تاک کر مسیلمہ کذاب پر پھینکا کہ وہ سیدھا اسے جا کر لگا۔ اس وقت ایک
انصاری نے بھی مسیلمہ پر تلوار کا وار کیا اور وہ جہنم واصل ہو گیا۔
جب باغ کا معرکہ ختم ہو چکا تو حضرت خالد بن ولید اپنے خیمے سے مجاعہ کو لے کر آئے اور اس سے کہا کہ وہ مقتولین کو دیکھ کر بتائے کہ ان میں مسیلمہ کونسا ہے۔ جب وہ محکم الیمامہ کے پاس سے گزرے تو حضرت خالد بن ولید نے پوچھا ”کیا یہ ہے تمہارا صاحب“ مجاعہ نے جواب دیا نہیں یہ تو محکم الیمامہ ہے جو مسیلمہ سے بہت بہتر اور نیک انسان تھا۔ آخر پھرتے پھرتے وہ ایک زرد رو ٹھگنے قد کے لاشے پر پہنچے تو مجاعہ نے کہا کہ یہ مسیلمہ ہے، جسے تم نے قتل کر دیا ہے۔ اس پر حضرت خالد بن ولید نے کہا کہ ”یہ وہی شخص ہے جس نے تمہیں گمراہ کر کے ایک عظیم فتنہ برپا کر دیا تھا“۔ دراصل مسیلمہ کذاب کے قتل ہو جانے سے نبوت کے جھوٹے دعویداروں کا سلسلہ ختم نہ ہوا۔ اس سلسلے کی صرف ایک کڑی ختم ہوئی اور اسی سلسلے کی ایک کڑی مرزا غلام احمد قادیانی تھا۔ جس نے انگریز کے ایما پر مسلمانوں کی ملت واحدہ کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور نقصان پہنچانے کے لیے ١٩٠١ء میں اپنے نبی ہونے کا جھوٹا دعویٰ کیا، جس کا سدباب کرنے کے لیے حضرت پیر مہر علی شاہ اور دیگر علمائے کرام میدان میں اترے۔ چنانچہ مرزا غلام احمد کے چیلنج کا جواب دینے کے لیے ٢٥ اگست ١٩٠١ء کو بادشاہی مسجد میں مناظرہ کا اہتمام کیا گیا اور اس مناظرے کے سلسلے میں مرزا غلام احمد کی تمام شرائط منظور کی گئیں، مگر اس کے باوجود اس نے راہ فرار اختیار کی اور مناظرے کے لیے بادشاہی مسجد نہ پہنچا۔ ٢٧ اگست کی قومی خاتم النبیین کانفرنس مرزا غلام احمد قادیانی کے اس فرار کی یاد تازہ کرنے کے لیے منعقد کی گئی جس میں تمام مقررین نے قادیانیت کی مذمت کی اور مسلمانان پاکستان سے کہا کہ وہ قادیانیوں کے ہتھکنڈوں اور ریشہ دوانیوں سے پوری طرح باخبر رہیں۔ حکومت پر بھی زور دیا گیا کہ وہ قادیانیوں کی سرگرمیوں پر پوری طرح نظر رکھے اور شعائر اسلام کے استعمال سے انہوں نے امت مسلمہ کی دل آزاری کا جو وتیرہ اختیار کیا ہوا ہے اسے روکے اور مرزائیوں اور قادیانیوں کو ان کی حدود کے اندر رکھنے کی کوشش کرے۔
جسٹس نذیر اختر نے نہایت پرمغز اور واشگاف تقریر کی۔ انہوں نے کہا کہ عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے مسلمانان پاکستان کو اپنے دلوں میں وہی چنگاری روشن کرنا چاہئے جو عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے حضرت ابوبکر صدیق کے دل کو منور کیے ہوئے تھی۔ انہوں نے فرمایا کہ حضرت محمدﷺ کی ذات اقدس کو ہدف بنانے والی جو کتابیں دشمنان اسلام شائع
کر رہے ہیں۔ ان کا جواب دیا جانا ناگزیر ہے۔ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بارے میں ”سب و شتم“ کا سلسلہ روک دینا اور دشنام طراز زبانوں کو بند کر دینا عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔ اگر دشمنان اسلام اپنی اس حرکت سے باز نہ آئیں تو پھر غازی علم الدین شہید کا قانون بھی ہمارے سامنے ہونا چاہئے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ قیام پاکستان سے قبل لاہور کے ایک ہندو مسمّی راج پال نے نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات اقدس کے بارے میں اپنی ایک کتاب کے اندر اتہام تراشی کی تھی، جس پر لاہور کے ایک نوجوان علم الدین نے ہسپتال روڈ لاہور پر واقع مسمّی راجپال کی کتابوں کی دکان کے اندر اسے جہنم واصل کر دیا تھا اور غازی علم الدین کہلائے۔ پھر مقدمہ چلا جس میں بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح بھی غازی علم الدین کے وکیل کے طور پر پیش ہوئے۔ مگر قانونی تقاضے پورا کرنے کے لیے لازم تھا کہ غازی علم الدین مسمّی راجپال کے قتل سے انکار کر دیتے، مگر انہوں نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے دشمن کو تہ تیغ کر دینے کی جو عظمت حاصل کر لی تھی۔ وہ کسی قیمت پر اس سے محروم نہیں ہونا چاہتے تھے۔ اس لیے وہ خندہ پیشانی سے ”اعتراف کار معظم“ کرتے رہے اور ١٩٢٩ء کو شمع رسالت کا یہ پروانہ تختہ دار کی زینت بن کر ”غازی علم الدین شہید“ کہلانے کی عظمت پر فائز ہو گیا۔
تاریخ اسلام کے اس عظیم واقعہ کو پیش نظر رکھ کر جسٹس نذیر اختر نے فرمایا کہ اگر شعائر اسلام کو استعمال کرنے اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات اقدس کے بارے میں کوئی شخص اپنی ہرزہ سرائی سے باز نہیں آتا تو پھر حضرت غازی علم الدین شہید کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے۔
پنجاب لائبریری فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر پروفیسر عبدالجبار شاکر نے بھی بڑی سائنٹفک تقریر کی اور فرمایا کہ انگریز نے مرزا غلام احمد قادیانی کے ذریعے حصار اسلام میں نقب لگانے کی کوشش کی اور مسلمانوں کو روح جہاد سے محروم کرنے کے لیے قادیانیت کا فتنہ کھڑا کیا جو آج بھی اپنی حدود میں رہنے سے گریزاں ہے۔ اس کی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے علامہ اقبال نے ١٩٣٥ء میں حکومت سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دے دیا جاتا۔ آج بھی قادیانی اپنی مذموم سرگرمیوں کو پوری طرح جاری رکھے ہوئے ہیں اور میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ تنسیخ جہاد قادیانیوں کا بنیادی عقیدہ ہے اور جو شخص تنسیخ جہاد کو اپنا عقیدہ
سمجھتا ہو وہ مجاہدین اسلام میں کیسے شامل ہو سکتا ہے۔ اس لیے لازم ہے کہ افواج پاکستان میں جو قادیانی شامل ہیں۔ وہ خود بخود فوج سے الگ ہو جائیں، کیونکہ پاکستان کی افواج میں ان کا رہنا یا شامل ہونا جہاد کو سراسر نقصان پہنچانے اور نقصان اٹھانے کے مترادف ہے۔
صوفی برکت علی مرحوم سالار والے سے ملاقات
ملک صاحب کا اور میرا رشتہ باہمی جنون ”ربوہ“ نام کی تبدیلی کا بھی تھا۔ انہوں نے تجویز دی کہ ربوہ سٹیشن کا نام اگر بدل جائے تو پھر ربوہ شہر کا نام بھی بدل جائے گا۔ حالانکہ یہ بات بالکل غیر معقول تھی کیونکہ سٹیشنوں کے نام تو شہروں کے نام کی مناسبت سے ہوتے ہیں جب تک شہر کا نام نہ بدلے، سٹیشن وغیرہ کا نام تبدیل نہیں ہو سکتا مگر شوق جنون میں بغیر سوچے سمجھے ان کی تجویز پر سٹیشن کا نام تبدیل کرانے کی تدبیر سوچی کہ اس وقت ریلوے کے وزیر عبدالحفیظ چیمہ صاحب ہیں اور وہ صوفی برکت علی مرحوم سالار والے کے مرید ہیں۔ صوفی برکت علی صاحب کے پاس چلتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ اپنے مرید وزیر موصوف سے سٹیشن کا نام تبدیل کرنے کے لیے کہیں۔ چنانچہ ہم دونوں صوفی صاحب کے پاس سالار والا پہنچے۔ صوفی صاحب کا نام تو کافی سنا ہوا تھا مگر ان سے ملاقات کا شرف اس سے قبل حاصل نہ تھا، یہ پہلی ملاقات اپنے خاص جنون کی وجہ سے تھی۔ معلوم ہوتا تھا کہ صوفی صاحب کو حضور سرکار دو عالم ﷺ سے سچی محبت ہے اور ختم نبوت کے عاشق ہیں۔ میرا تعارف جب ان سے ہوا تو جس گدی پر تشریف فرما تھے، فوراً چھوڑ دی اور مجھ ناچیز کو زبردستی اپنی گدی پر بٹھا دیا جبکہ خود میرے سامنے دوزانو اس طرح بیٹھ گئے جیسے کوئی مرید اپنے پیر کے سامنے بیٹھتا ہے۔ آپ فرمانے لگے کہ ”اصل کام تو آپ کر رہے ہیں، ہم تو بے کار لوگ ہیں“ فرمایا ”جب بڑا بادشاہ آجاتا ہے تو نائبین گدی چھوڑ دیتے ہیں۔ آپ اس گدی کے زیادہ مستحق ہیں۔“ میں صوفی صاحب کی انکساری اور تواضع سے بہت متاثر ہوا۔ ان کی یہ عقیدت میرے بارے میں شاید اس وجہ سے تھی کہ میں ختم نبوت کے لیے عملی کام جنون کی حد تک شوق سے کر رہا تھا۔ اس کے بعد آپ نے دودھ سے ہماری تواضع فرمائی اور ایک سبز چادر منگوا کر میرے اوپر ڈال
دی۔ آخر ہم نے آنے کا مدعا بیان کیا تو انہوں نے کہا ”میں وزیر موصوف سے کوئی کام کہتا تو نہیں لیکن یہ بات ان سے ضرور کروں گا۔ مجھے امید واثق ہے کہ صوفی صاحب نے چیمہ صاحب سے ضرور بات کی ہوگی لیکن وہ اس بات کو کسی افسرانہ طریقے سے ٹال گئے ہوں گے۔ مگر ہم نے اپنا ذوق پورا کیا، حکومتی سطح پر یہ ہماری پہلی کوشش تھی۔
(جب پنجاب اسمبلی نے ربوہ کا نام چناب نگر رکھا۔ ص ٣٥ از مولانا منظور احمد چنیوٹی)
محسن شاہ جی ....... زندہ باد
تحصیل تلہ گنگ کا کوئی قصبہ اور گاؤں ایسا نہیں ہے کہ جہاں ان کے قدم نہ پہنچے ہوں۔ انہوں نے یہاں دس دس میل پیدل سفر کر کے اور بغیر کسی معاوضہ و لالچ کے اللہ کے دین کی تبلیغ کی۔ حضور کریم ﷺ کی ختم نبوت اور اصحاب رسول رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دفاع کی خاطر انہوں نے مصائب و تکالیف برداشت کیں۔ لیکن حرف شکایت سے اُن کی زبان آشنا ہی نہ تھی۔ ١٩٦٩ء میں قادیانیوں نے پچند کو اپنی ناپاک سرگرمیوں کا مرکز بنایا۔ اپنی عبادت گاہ تعمیر کی اور کئی مسلمان خاندانوں کو لالچ دے کر مرتد کر دیا۔ خدشہ یہ پیدا ہوا کہ اگر قادیانیوں کو نکیل نہ ڈالی گئی تو قادیانیت کے دام تزویر میں پورا علاقہ آ جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانان تحصیل تلہ گنگ کو اس فتنے سے بچانے کے لیے سید عطاء الحسن بخاری رحمہ اللہ کو رحمت کا فرشتہ بنا کر یہاں بھیجا۔ جنہوں نے مجلس احرار اسلام تلہ گنگ کے کارکنوں کو منظم کیا اور قادیانیوں کی شر انگیزیوں کے خلاف ایک بہت بڑا جلوس تلہ گنگ میں نکالا۔ جس کی قیادت خود بخاری صاحب نے کی۔ دوسرے روز پچند میں ”ختم نبوت کانفرنس“ منعقد کی۔ جس میں چکڑالہ کے احرار کارکن، کپتان غلام محمد کی سرپرستی میں خاص طور پر شریک ہوئے۔ علاقے کے ایک بہت بڑے زمیندار نے پچند میں بخاری صاحب کے قدم رکھنے پر گولی مار دینے کی دھمکی دی۔ لیکن وہ انتہائی دلاور انسان تھے کہ خوف جن کی چمڑی میں بھی نہ تھا۔ برسر
عام کانفرنس کی اور تاریخی تقریر فرمائی۔ جس سے قادیانی ہمیشہ کے لیے دم دبا کر بھاگ گئے۔
(ماہنامہ نقیب ختم نبوت دسمبر ١٩٩٩ء۔ از قلم: محمد عمر فاروق)
شاہوں کے سروں سے تاج گر پڑتے ہیں
(مؤلف)
مباہلہ میں ہارنے کے بعد قادیانی پاگل ہو گیا
مکوال کے علاقہ پنڈمکو کے گورنمنٹ ہائی سکول کا قادیانی ہیڈ ماسٹر مباہلہ میں ہارنے کے بعد پاگل ہو گیا۔ بیوی بچوں کو چھوڑ دیا۔ گورنمنٹ ہائی سکول پنڈمکو کا ہیڈ ماسٹر مبارک احمد باجوہ سکول میں اساتذہ اور بچوں کو قادیانیت کی تبلیغ کیا کرتا تھا۔ سٹاف نے اسے کئی دفعہ منع کیا کہ بچوں میں تبلیغ نہ کیا کرے۔ لیکن وہ باز نہ آیا۔ اس کے اس رویہ پر سکول کے کلرک ظفر شاہ نے ہیڈ ماسٹر مبارک احمد قادیانی کو مباہلہ کا چیلنج کر دیا۔ ہیڈ ماسٹر نے قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ مرزا غلام احمد قادیانی آخری نبی ہے۔ اس کے بعد ظفر احمد شاہ نے قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ حضورﷺ اللہ رب العزت کے آخری اور سچے نبی ہیں۔ دونوں نے قرآن پاک پر ہاتھ رکھنے سے پہلے کہا تھا کہ جھوٹے کا انجام خود سامنے آجائے گا۔ قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر بیان دینے کے تھوڑی دیر بعد ہی مبارک احمد قادیانی نے اپنی بیوی کو طلاق دیدی اور بچوں کو چھوڑ دیا۔ اس کے بعد وہ فوراً لاہور چلا گیا۔ وہاں سے لنڈا بازار سے کئی پینٹیں اور شرٹیں خریدیں۔ واپس آنے پر ہر پانچ منٹ کے بعد ایک بدل کر دوسری پہن لیتا ہے۔ اس واقعہ سے پہلے اس نے داڑھی رکھی ہوئی تھی۔ لیکن اب داڑھی اور مونچھیں بالکل صاف کروا دی ہیں۔ ہر وقت یہ لفظ اس کی زبان پر ہوتے ہیں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔ یہ کہتے ہی بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ مناظرہ کے اگلے روز ڈی ای او سیکنڈری سکول ملک ملازم حسین نے سکول میں چھاپہ مار کر اس کی غیر حاضری کی رپورٹ تیار کر کے حکام بالا کو ارسال کر دی ہے۔ ہیڈ ماسٹر کے دو بیٹے اور بیٹیاں ہیں۔ ایک بیٹی کی حال ہی میں جرمنی میں شادی ہوئی
ہے۔ ہیڈ ماسٹر کو پاگل پن کے مسلسل دورے پڑ رہے ہیں اور ریلوے اسٹیشن پنڈ مکو کی طرف دوڑ جاتا ہے۔ اکثر ٹرینوں میں آتے جاتے لوگ بڑی حیرت زدہ آنکھوں سے اسے دیکھتے ہیں۔ اس وقت یہ ٹرین میں چھپ جاتا ہے اور یہ لفظ دہراتا ہے کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔ اب سکول سے مسلسل غیر حاضر ہے۔ ابھی تک اس ماہ کی تنخواہوں کے لیے اساتذہ کے بلوں پر دستخط بھی نہیں کیے گئے۔ اساتذہ نے حکام بالا سے مطالبہ کیا کہ اس کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ اگر وہ واقعی پاگل ہو چکا ہے تو اسے نوکری سے برخاست کر کے نیا ہیڈ ماسٹر تعینات کیا جائے۔ اس واقعہ کے بعد طلباء اساتذہ اور علاقہ بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
(جنگ لاہور ٢٥ جون ٢٠٠٠ء)
جب مولانا بنوریؒ کی بھٹو سے ملاقات ہوئی
تصوف اور علم باطن سے مولانا کو بہت شغف تھا۔ اور اولیاء کبار کے ساتھ بڑی عقیدت رکھتے تھے، ظاہریہ سے خوش نہیں تھے۔ علمائے دیوبند کے بہت زیادہ معتقد تھے، مگر اس کے باوجود حجاز میں عبداللہ بن باز اور سابق وزیر امور دینیہ کے ساتھ (جو شیخ محمد بن عبدالوہاب کے پوتے تھے) خاصا تعلق تھا۔ شاہ فیصل شہید کے بڑے قدردان تھے شاہ فیصل کے مشیروں نے ان سے آپ کی قابلیت و ذہانت اور خلوص و دیانت کی تعریف کی تھی، شاہ فیصل سے مولانا کی جو آخری ملاقات ہوئی، اس میں انہوں نے مولانا سے فرمایا تھا کہ میں نے بھٹو کو ملاقات کے وقت صاف صاف بتا دیا تھا کہ پاکستان کے تین دشمن ہیں، قادیانی، کمیونسٹ اور مغربی ممالک مولانا نے بھٹو سے جو ملاقات لاہور میں کی تھی، اس میں آپ نے بھٹو سے فرمایا کہ کیا تم کو ملک فیصل نے نہیں بتایا کہ قادیانی، کمیونسٹ اور مغربی بلاک، پاکستان کے تین دشمن ہیں۔ اور انہی لوگوں نے سازش کر کے لیاقت علیخان کو مروایا تھا۔ مسٹر بھٹو نے مولانا سے کہا کہ کیا تم مجھ کو بھی مروانا چاہتے ہو۔ مولانا نے برجستہ فرمایا کہ ایسی موت کسی کو
نصیب ہو تو اس پر ہزاروں زندگیاں قربان جو شخص شہادت کی موت مرتا ہے، وہ مرتا نہیں بلکہ زندہ جاوید ہو جاتا ہے۔
(ماہنامہ بینات کراچی۔ شیخ بنوری نمبر۔ ص ٢٣ از قلم: مولانا لطف اللہ پشاوری)
کچھ نہیں ہوتا یہاں بے گرمی سوز بلال
(مؤلف)
تکمیل نبوت....... تکمیل دین
”حضرت رسالت مآب ﷺ کی تشریف آوری سے خدا کی نعمتیں کمال کو پہنچ گئیں۔ دین مکمل ہو گیا، شریعت پر تکمیل کی مہر لگ گئی۔ نبوت کے خزانوں کے دروازے پوری طرح کھول کر اور اس کی تمام دولتیں نچھاور کر کے اس کے دروازے بند کر دیئے گئے اور اب قیامت تک کوئی شخص یہ ادعا لے کر نہیں آئے گا کہ میں خدا کی طرف سے فرستادہ ہوں، آؤ اور مجھ پر ایمان لاؤ۔ اب رشد و ہدایت کا ایک ہی دروازہ ہے، اب رضاء الٰہی کے حصول کی ایک ہی راہ ہے اور اب نجات و فلاح کا ایک ہی راستہ ہے۔ اس لیے ہدایت پانا آسان ہو گیا ہے اور نجات پانا سہل بنا دیا گیا ہے۔ مینائے نبوت کے منہ پر مہر لگا دی گئی ہے۔ اگر حضور ﷺ کے بعد جدید انبیاء کا سلسلہ قائم رہتا تو دین ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا۔ امت محمدیہ کا شیرازہ بالکل بکھر جاتا۔ ملت اسلامیہ مختلف انبیاء کے پیروؤں میں تقسیم ہو کر رسول اکرم سے دور جا پڑتی۔ اس لیے کہ انبیاء کی آمد ایک بڑا امتحان ہے اور قومیں ہمیشہ مومنین اور کافرین میں تقسیم ہو جایا کرتی ہیں لیکن اللہ کو منظور یہ تھا کہ اب محمدؐ ہی کا تخت اجلال دنیا پر بچھایا جائے۔ ہدایت کی بھیک اسی کے در سے مانگی جائے۔ بہشت کے دروازوں کی کنجی اسی سے طلب کی جائے۔ رضائے خدا وندی اسی کے ذریعہ تلاش کی جائے۔ اس لیے حضور ﷺ پر نبوت کاملہ کا نزول فرما کر انبیاء کا مزید سلسلہ بند کر دیا۔“
(سید عطاء الرحمن جعفری۔ ماخوذ۔ جب حضور آئے۔ مرتبہ محمد متین خالد)
مرزا قادیانی کی علمی حیثیت
مولوی نور الدین، مرزا غلام احمد اور میرے والد کے دوستانہ تعلقات تھے۔ ایک مرتبہ مولوی نور الدین نے مرزا صاحب کے متعلق رائے پوچھی۔ والد صاحب نے کہا کہ وہ عربی کی غلط تاویلیں پیش کرتے ہیں، حالانکہ یہ کوئی اصولی چیز نہیں۔ دوسرے معاملات میں ان کا کیا اعتبار ہوسکتا ہے۔ نیز مرزا صاحب کو لکھنا نہیں آتا۔ جس کتاب کو اٹھاؤ، حاشیہ در حاشیہ چلی جاتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوا کہ ان کے دماغ میں کوئی مطلب صاف نہیں۔
مولوی نور الدین نے اپنے متعلق پوچھا تو کہا کہ آپ تو سوال کا پورا جواب بھی نہیں دے سکتے، تشنہ چھوڑ جاتے ہیں۔ (پھر اپنی جیب سے ایک کارڈ نکال کر پیش کیا) اور کہا کہ یہ میرے پاس آپ کا خط ہے۔ میں نے آپ سے دوا پوچھی۔ آپ نے دوا تو لکھ بھیجی لیکن یہ نہ بتایا کہ اسے کھاؤں، سونگھوں، گھس کر لگاؤں یا گھوٹ کر پیؤں۔ نہ وزن لکھا کہ ماشہ کھاؤں، تولہ کھاؤں، من کھاؤں۔ حکیم نور الدین بالکل چپ ہوگئے۔ ذکی شاہ صاحب نے بتایا کہ میرا تاریخی نام 'احمد مختار' ہے۔
(روایات اقبال ص ١٣٠ از ڈاکٹر محمد عبداللہ چغتائی روایت سید ذکی شاہ ابن مولوی میر حسن)
مولانا سید شمس الدین شہید
جب قومی اسمبلی نے قرآن پاک کی طباعت و کتابت کو تحریف و اغلاط سے پاک رکھنے کا بل منظور کیا تو مولانا شمس الدین شہید فورٹ سنڈیمن اپنے گھر میں تھے کسی نے خبر دی کہ قادیانیوں نے قرآن پاک کے وہ نسخے فورٹ سنڈیمن میں تقسیم کرنا شروع کر دیئے جو انتہائی دجل و فریب کے ساتھ قرآن کے معنی و مفہوم میں ملحدانہ تحریف کر کے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لیے بطور خاص شائع کیے ہیں تو مولانا کی غیرت ایمانی جوش میں آئی، حکام سے
رابطہ قائم کر کے انہیں یہ بات سمجھائی کہ قادیانیوں کی یہ حرکت غیور مسلمانوں کو اشتعال دلا سکتی ہے۔ جس کا نتیجہ بدامنی کی صورت میں ظاہر ہو گا اس لیے فوری طور پر تحریف شدہ قرآن کریم کے نسخے ضبط کیے جائیں اور قادیانیوں کو ضلع سے نکال دیا جائے۔ حکام نے اسے معمولی بات سمجھ کر ٹالنے کی کوشش کی۔ اس ناپاک حرکت پر فورٹ سنڈیمن کے غیور مسلمان سراپا احتجاج بن گئے عوام نے اپنے عقائد کی کھل کھلا توہین کے خلاف احتجاج کے لیے ١٥ جولائی ١٩٧٤ء ایک مقامی پارک میں جلسہ عام کا اعلان کر دیا۔ جلسہ میں عوام کے جذبات عروج پر تھے وہ کسی مقرر کی تقریر سننے کے روادار نہ تھے۔ ان کا ایک ہی نعرہ تھا کہ تقریروں کی بجائے عملی قدم اٹھاؤ جلسہ کے بعد ایک منظم اور پرامن جلوس پولیٹیکل ایجنٹ کو اپنے جذبات و مطالبات سے آگاہ کرنیکے لیے اس کے بنگلہ کی طرف روانہ ہوا، راستہ میں ایک عاقبت نا اندیش قادیانی دکان کھولے بیٹھا تھا لوگوں نے بہت سمجھایا کہ مسلمانوں کے جذبات سے نہ کھیلو مگر وہ ضد پر اڑا رہا۔ نتیجہ اپنی ہٹ دھرمی کی بھینٹ چڑھ کر جہنم رسید ہو گیا اور مولانا شہیدؒ ، مولانا محمد خان شیرانی اور صاحبزادہ نور الحق سمیت ٣٦ سرکردہ حضرات رضا کارانہ طور پر گرفتاری کے لیے پیش ہوئے، ان سب حضرات کو تھانہ لے جایا گیا اور رات انہوں نے تھانہ ہی میں گزاری حکام نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح مولانا شہیدؒ اور صاحبزادہ نور الحق کو قیدیوں سے الگ کر کے واپس بھیجوا دیں مگر کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی۔ صاحبزادہ صاحب کو تو اس بہانہ نکال دیا کہ آپ کے والد صاحب باہر ملاقات کے لیے تشریف لائے ہیں مگر مولانا شہیدؒ کسی طور پر ساتھیوں سے علیحدہ ہونے پر آمادہ نہ ہوئے۔ رات کو ٢ بجے مولانا شہیدؒ کو جگا کر کہا کہ ان کی گاڑی دروازہ میں کھڑی ہے، آپ اپنی گاڑی کسی اور جگہ کھڑی کردیں۔ لیکن یہ حیلہ بھی اس مرد درویش پر نہ چل سکا وہ یہ کہہ کر پھر لیٹ گئے کہ جہاں گاڑی کھڑی ہے وہیں رہنے دو اور رات بھر ساتھیوں کے ہمراہ رہے۔ صبح ہوئی تو کچھ دیر بعد ڈی آئی جی بھی آگئے، یہ صاحب مبینہ طور پر قادیانی تھے انہوں نے ڈرانے کی کوشش کی مگر بات نہ چلی، اسی تھانہ میں قادیانی بھی زیر حراست تھے۔ جنہیں پولیس کسی اور جگہ منتقل کرنا چاہتی تھی۔ مسلمان قیدیوں نے مشورہ دیا کہ انہیں دن کی بجائے رات کو یہاں سے نکالا جائے ورنہ مسلمانوں کے اشتعال کی زد میں آجائیں گے پولیس نے حسب ہدایت بات نہ مانی قادیانی اسیروں کو دن کی روشنی میں تھانہ سے باہر نکالا ایک قادیانی جو لٹریچر کی تقسیم میں نمایاں آیا کرتا تھا کسی نامعلوم شخص کی گولی کا
نشانہ بن کر زخمی ہو گیا اور پولیس ان قادیانیوں کو پھر تھانہ لے جانے پر مجبور ہو گئی۔
دوسرے روز پولیس مسلمان قیدیوں کو منتقل کرنا چاہتی تھی انہیں گاڑی پر سوار کر کے باہر نکلے تو غیور مسلمانوں نے تمام راستوں کی ناکہ بندی کر رکھی تھی۔ مولانا شہید کو پتہ چلا تو وہ بھی آگئے اور حکام سے کہا کہ مجھے آگے جانے کی اجازت دو میں آپ کو راستہ طے کر دیتا ہوں اس پر قادیانی ، ڈی آئی جی طیش میں آ گیا اور مولانا شہید کا گریبان پکڑ لیا۔ موقع پر موجود مسلمان اس حرکت کو گوارا نہ کر سکے۔ بات آگے بڑھی مجسٹریٹ نے گولی چلانے کا حکم دیا مگر پولیس نے گولی چلانے سے انکار کر دیا۔ مجسٹریٹ چیخ چیخ کر گولی کا آرڈر دیتا رہا مگر خود اسے ہی موقع سے بھاگنا پڑا۔ رات ایک بجے مجسٹریٹ نے ملیشیا اور پولیس کے اڑھائی سو نوجوانوں کے ساتھ مولانا شہیدؒ کے گھر کو گھیر لیا مولانا پہلے منتظر تھے والدہ صاحبہ کی چار پائی پر گئے ان سے اجازت طلب کر لی اور ماں کی دعاؤں کے ساتھ گھر سے رخصت ہوئے۔ اس گرفتاری کے بعد ایک ماہ تک عوام کو کوئی پتہ نہیں چلا کہ مولانا کہاں ہیں اس بنا پر فورٹ سنڈیمن میں ٢ ہفتے ہڑتال رہی۔ غیور نوجوانوں نے مولانا سید شمس الدین شہیدؒ کی گمشدگی کے خلاف احتجاج کے طور پر بھوک ہڑتال کر دی۔ جمعیۃ علمائے اسلام کے مرکزی امیر حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی اور قائد جمعیۃ مولانا مفتی محمود صاحب بھی بلوچستان تشریف لائے بھوک ہڑتالیوں سے ملاقات کر کے حوصلہ دیا۔ آخر کار بہت تکلیفوں کے بعد حکومت کے لیے مولانا کی رہائی کے سوا کوئی چارہ کار نہ رہا تو ١٨ اگست کو انہیں رہا کر دیا گیا۔ رہائی کے بعد مولانا شمس الدین نے اپنی گرفتاری کی کیفیت ان الفاظ میں بیان کی:۔
”وہ مجھے ٤٥ میل دور افغانستان سرحد کی طرف لے گئے کیونکہ باقی تمام راستے ہمارے نوجوانوں نے بند کر رکھے تھے۔ ٢٥ میل دور ایک گاؤں میں پہنچے اور لوگوں کو معلوم ہوا تو انہوں نے گھیرا ڈال دیا ان کے دو نمائندے آئے اور کہا کہ تم مولوی شمس الدین کو واپس لے جاؤ یا پھر ہم مریں گے یا تم مرو گے بہر حال مجھے وہاں سے پھر فوجی چوکی میں واپس لائے اور وہاں سے مجھے بذریعہ ہیلی کاپٹر میوند لے جایا گیا۔ فوج جس کی تعداد ٨٠٠ تھی اس کے محاصرہ میں مجھے رکھا گیا مجھ پر پہلے چار دن فوج کے آٹھ افراد متعین رہے میں انہیں تبلیغ کرتا رہا وہ بہت غور سے سنتے لیکن جب حکومت کو معلوم ہوا تو روزانہ نئی گارڈ آتی لیکن میں نے پھر بھی تبلیغ کا سلسلہ بند نہ کیا۔ وہاں پر گورنر اور وزیراعلیٰ کی طرف سے مختلف پیغامات کے ذریعے
وزارت اعلیٰ منہ مانگی دولت اور عہدہ قبول کرنے کی پیشکش کی لیکن میں نے جواب دیا کہ میں آج تو ایک قیدی ہوں ایک قیدی کیسے وزیر اعلیٰ بن سکتا ہے۔ ایک دفعہ وزیر اعلیٰ میرے پاس خود آیا مگر میں نے اس کی باتوں پر کان نہ دھرا۔
مولانا شمس الدین ١٣ مارچ کو کوئٹہ سے فورٹ سنڈیمن کے لیے روانہ ہوئے۔ مبینہ طور پر روانگی کے موقعہ پر فورٹ سنڈیمن ہی کا ایک شخص شاہ وزیر سوار ہوا یہ شخص خود بھی سمگلر تھا اور خاندان کے دوسرے افراد بھی جرائم پیشہ ہیں۔ یہ آدمی پہلے پشتون خواہ میں تھا بعد میں پیپلز پارٹی میں چلا گیا۔ مولانا شہیدؒ کے ساتھ اگلی سیٹ پر بیٹھا بہت سے افراد نے، بلکہ خود مولانا کے بھائی سید ضیاء الدین صاحب نے جو ایک ٹینکر پر سوار فورٹ سنڈیمن سے کوئٹہ آ رہے تھے دیکھا۔
ابھی بمشکل ١٢٠ میل کا فاصلہ طے کر پائے ہوں گے کہ موضع ”حل گئی“ کے قریب اس شقی القلب نے پیچھے سے مولانا شمس الدین کی کنپٹی پر پستول کی نالی رکھ کر فائر کر دیا اس نے تین گولیاں چلائیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ نور اللہ مرقدہٗ
خون میں خوشبو
مولانا سید امام شاہ اور خان محمد زمان خان نے بتایا کہ مولانا شمس الدین شہیدؒ کے خون مقدس سے ایسی خوشبو آ رہی تھی کہ اس جیسی خوشبو کسی چیز میں نہیں دیکھی حتی کہ بعض افراد نے جن کے ہاتھوں کو خون لگ گیا تھا سارا دن ان سے خوشبو آتی رہی یہ خوشبو لوگوں نے عام طور پر محسوس کی۔ امیر مرکزیہ حضرت درخواستی دامت برکاتہم اور قائد جمعیۃ مولانا مفتی محمود صاحب کو جمعہ کے روز جب کوئٹہ پہنچے تو خان محمد زمان خان اچکزئی نے جماعتی کارکنوں کے ہمراہ انتہائی سوگوار فضا میں قائدین کا خیر مقدم کیا، ہوائی اڈہ سے فورٹ سنڈیمن کے لیے روانگی ہوئی عشاء سے قبل وہاں پہنچے۔ حضرت مولانا سید محمد زاہد صاحب مدظلہ اور دیگر خاندان کے افراد قائدین نے اظہار تعزیت کیا۔ ہفتہ کے دن صبح دس بجے جمعیۃ علماء اسلام فورٹ سنڈیمن کے زیر اہتمام جلسہ عام مولانا سید میرک شاہ صاحب سرپرست جمعیۃ علماء اسلام فورٹ سنڈیمن کی صدارت میں منعقد ہوا۔ عوام کا بے پناہ ہجوم قائدین کے ارشادات سے مستفید ہونے اور محبوب رہنما کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے جمع تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس
سے قبل فورٹ سنڈیمن میں اتنا بڑا جلسہ نہیں
متعدد حضرات نے راقم الحروف مزار پر دعا میں مصروف تھے اس وقت مز لوگوں نے اٹھائے۔ بعض لوگوں کو خیال ہو درختوں کے پھول اڑ کر آ رہے ہیں، لیکن جـ کے پھولوں سے قطعی مختلف تھے لوگوں نے فارغ ہو کر قائدین فورٹ سنڈیمن سے کوئٹہ
ارفع بہشت سے
(ہفت رو
خان صاح
چار سدہ کا ایک پٹھان ہدا کو احمدیوں سے سخت نفرت تھی۔ وہ اکثر مہربانی کر کے ہمارے لیے دعا کرو تا کہ اسے پوچھا ”خان صاحب! آپ مرزائی خراب تھی۔ ایک بار اپنے ایک دوست ہوئی جو احمدی تھا۔ اس نے مجھے نہ جانے جگہ ہمارے کالی کملی والے نبی ﷺ کو مرزائی تو اپنے جیسے مسلمان ہیں۔ لہٰذا ا دنوں بھر پور اور خوبصورت نوجوان تھا۔ بیٹی بہت خوبصورت تھی۔ اسے میں لیے میں نے بغیر کسی حیل و حجت کے ا
سے قبل فورٹ سنڈیمن میں اتنا بڑا جلسہ نہیں دیکھا گیا تھا۔
متعدد حضرات نے راقم الحروف کو بتایا کہ جب قائدین جمعیت مولانا شہیدؒ کے مزار پر دعا میں مصروف تھے اس وقت مزار پر سفید رنگ کے پھول برس رہے تھے جو کئی لوگوں نے اٹھائے۔ بعض لوگوں کو خیال ہوا کہ شاید ہوا کے ساتھ قریبی باغ سے بادام کے درختوں کے پھول اڑ کر آرہے ہیں، لیکن جب ان پھولوں سے موازنہ کیا گیا۔ تو یہ پھول بادام کے پھولوں سے قطعی مختلف تھے لوگوں نے بجا طور پر اسے شہید کی کرامت سمجھا۔ مزار سے فارغ ہو کر قائدین فورٹ سنڈیمن سے کوئٹہ واپس آگئے۔
ارفع بہشت سے بھی تیرا مقام ہے
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی۔ جلد ٤ شمارہ ٣٦ ازقلم سید حبیب اللہ شاہ)
خان صاحب مسلمان ہوگئے
چارسدہ کا ایک پٹھان ہدایت اللہ خان ہمارے ابا جی کا دوست بن گیا۔ اس کو احمدیوں سے سخت نفرت تھی۔ وہ اکثر ہمارے گھر آتا اور ابا جی سے کہتا ”صوفی صاحب! مہربانی کر کے ہمارے لیے دعا کرو تا کہ ہم اس جہنم سے کسی طرح نکل جائیں۔“ ابا جی نے اسے پوچھا ”خان صاحب! آپ مرزائی ہوئے کیسے؟“ کہنے لگا ”بھائی کیا بتاؤں میری قسمت خراب تھی۔ ایک بار اپنے ایک دوست سے ملنے گورداس پور گیا۔ وہاں ایک شخص سے ملاقات ہوئی جو احمدی تھا۔ اس نے مجھے نہ جانے کیسے شیشے میں اتارا کہ میں قادیان چلا گیا۔ شہر میں ہر جگہ ہمارے کالی کملی والے نبی ﷺ کی شان میں اشعار پڑھنے کو ملے۔ میں نے سوچا کہ یہ مرزائی تو اپنے جیسے مسلمان ہیں۔ لہٰذا ان کا دین قبول کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ میں ان دنوں بھر پور اور خوبصورت نوجوان تھا۔ مذکورہ شخص مجھے اپنے ایک عزیز کے گھر لے گیا جس کی بیٹی بہت خوبصورت تھی۔ اسے میں نے دیکھا تو پھر کوئی ہوش ہی نہ رہا۔ اس سے شادی کے لیے میں نے بغیر کسی حیل و حجت کے احمدیت قبول کر لی۔ ان لوگوں نے وہیں میری شادی کر
دی۔ میرے والد مرزائیت کے سخت خلاف تھے لہٰذا میں واپس گھر نہیں جا سکتا تھا۔ چنانچہ قادیان کا ہی ہو کر رہ گیا۔ بعد ازاں تقسیم کے بعد ربوہ آگیا۔ ان میں رہ کر اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ مذہب نہ صرف جھوٹا ہے بلکہ اس کے بانیوں اور ماننے والوں میں مکاری اور چالبازی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ اب تو میری بیوی بھی میری ہم خیال ہوچکی ہے۔ اور ہم دونوں احمدیت سے تائب ہونا چاہتے ہیں۔
ابا جی، خان صاحب کو سلار والا کے صوفی برکت صاحب کے پاس لے گئے جہاں خان صاحب نے اسلام قبول کیا اور کچھ عرصہ بعد ربوہ کو چھوڑ کر چارسدہ واپس چلے گئے۔
(احمقوں کی جنت۔ ص ٤٢۔٤٣ مصنف جی آراعوان)
مرزا قادیانی کی بیعت
ایک دفعہ مرزا غلام احمد قادیانی اور پنڈت شیورام، مولوی میر حسن کی بیٹھک میں بیٹھے تھے۔ والد نے مرزا صاحب سے پوچھا کہ میں خدا اور رسول ﷺ کو مانتا ہوں، قرآن کو مانتا ہوں، نماز پڑھتا ہوں، شریعت کا حکم مانتا ہوں، صرف آپ کی بیعت نہیں کی۔ شیورام نہ خدا کو مانتا ہے، نہ رسول ﷺ اور قرآن کو، نہ شریعت پر چلتا ہے: اُس نے بھی آپ کی بیعت نہیں کی۔ گویا بیعت نہ کرنے میں یہ اور میں دونوں برابر ہیں، باقی ساری باتوں میں ایک دوسرے سے بالکل الگ الگ ہیں۔ کیا ہم دونوں کو یکساں عذاب ہوگا؟ مرزا صاحب بولے کہ آپ نے جو سوال کیا ہے، اس کا جواب چند لفظوں میں نہیں دیا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے کتاب لکھنے کی ضرورت ہے۔
(روایاتِ اقبالؒ ۔ ص ٤٨ از ڈاکٹر محمد عبداللہ چغتائی روایت سید ذکی شاہ امین مولوی میرحسن)
مرزا قادیانی کی جادوگری
ان کی صحبت میں دلجمعی اور طمانیت قلب حاصل ہوتی تھی اور فکر مندی دور ہو جاتی تھی۔ اُس زمانے میں سائیں کیسر شاہ صاحب ایک صوفی بزرگ تھے۔
مولانا سید میر حسن صاحب اور شیخ نور محمد صاحب (والد علامہ مرحوم) کو ان سے عقیدت تھی۔ مرزا غلام احمد قادیانی بھی اُن دنوں سیالکوٹ میں مقیم تھے۔ سائیں کیسر شاہ اور سید میر حسن کو اس زمانے میں بھی مرزا صاحب سے انس پیدا نہیں ہوا حالانکہ وہ بند کوٹھڑی میں اندھیرا کر کے اور چراغ جلا کر عملیات کرتے تھے۔
(روایات اقبال ص ١٩٥ از ڈاکٹر محمد عبداللہ چغتائی روایت مولوی ابراہیم میر سیالکوٹی)
شکار فرار ہو گیا
ابا جی کو محکمہ کی طرف سے دو ”بیلدار“ ملے ہوئے تھے۔ ان کی رہائش گاہ بھی ہمارے گھر کے قریب تھی۔ ان میں سے ایک کا نام طالب حسین تھا جبکہ دوسرا متھیلا تھا۔ طالب حسین اچھی شکل وصورت کا چالاک آدمی تھا۔ ان لوگوں کے پڑوس میں ایک شخص ظفر رہتا تھا۔ جس کی بیوی کا نام زبیدہ تھا۔ دونوں میاں بیوی نے طالب حسین کو مرزائیت میں داخل کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔ زبیدہ تو طالب حسین پر باقاعدہ ”لٹو“ بھی ہوگئی۔ ابا جی کو اس صورتحال کا علم ہوا تو انہوں نے طالب حسین کو بلا کر سمجھایا۔ پہلے تو اس نے ٹالا ”ایسی کوئی بات ہی نہیں“ مگر جب ابا جی کی طرف سے سرزنش ہونے کے ساتھ یہ دھمکی بھی ملی کہ اس کا تبادلہ کرا دیا جائے گا تو کہنے لگا ”یہ بات درست ہے کہ مذکورہ شخص ظفر اور اس کی بیوی نے اسے مرزائیت کے بہت قریب کر دیا ہے۔“ ابا جی طالب حسین کو لے کر فوراً دریائے چناب پر واقع وادی عزیز کے سجادہ نشین صوفی محمد علی صاحب کے پاس لے گئے اور ان سے بیعت کرا دیا۔ جب ظفر اور اس کی بیوی زبیدہ کو یہ خبر ہوئی کہ طالب حسین مرزا ناصر احمد کی بیعت کرنے کی بجائے کسی مسلمان پیر کا مرید بن گیا ہے تو انہوں نے طالب پر اپنے گھر کے دروازے بند کر دیئے۔
(احمقوں کی جنت۔ ص ٤٣ مصنف جی آر اعوان)
امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ
معاصرین کی نظر میں
نامور دینی وعلمی اور انقلابی شخصیات کا خراج تحسین
- ☆ مولانا ابوالکلام آزاد: خطابت آپ کو عطیہ الہی ہے، آپ خطاب کے سمندروں سے
موتی نکال لاتے ہیں۔ آپ کا اردو خطابت میں وہی مقام ہے جو اردو شاعری میں میر انیس کا درجہ ہے۔ قومی جدوجہد پر ملک وملت کا ہر گوشہ آپ کا شکر گزار ہے۔ اللہ کے ہاں آپ کا بڑا اجر ہے۔“
- ☆ مولانا سید حسین احمد مدنیؒ : ان کا دل صرف اسلام کے لیے دھڑکتا ہے۔ وہ اس
زمانے میں اسلام کی زبان ہیں۔“
- ☆ علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: وہ یگانہ روزگار خطیب ہیں۔ قادیانیوں کے خلاف ان کی
ایک تقریر ہماری پوری تصنیف سے بڑھ چڑھ کر ہے۔ عطاء اللہ عہد نبوت میں ہوتے تو ناقۂ رسالت کے حدی خواں ہوتے۔“
- ☆ حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑویؒ: شاہ جی! قدرت نے آپ کو لسان پیدا کیا ہے۔
اس میدان میں آپ کبھی بیٹھے نہیں رہیں گے۔“
- ☆ حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ: ان کی باتیں تو عطاء الہی ہوتی ہیں۔“
- ☆ حضرت مفتی کفایت اللہ دہلویؒ: ”عطاء اللہ شاہ علماء کی آبرو ہیں۔“
- ☆ علامہ محمد اقبالؒ: شاہ جی، اسلام کی چلتی پھرتی تلوار ہیں۔“
- ☆ مولانا محمد علی جوہرؒ: آپ مقرر نہیں ساحر ہیں، تقریر نہیں جادو کرتے ہیں۔ آپ لوگوں
کو مرغ و بریانی کھلائیں گے تو ہمارا ساگ ستو کون پوچھے گا“؟
- ☆ مولانا ظفر علی خانؒ : اردو میں شاہ جی سے بڑا خطیب پیدا نہیں ہوا اور آئندہ بھی کئی
نسلیں اتنا بڑا خطیب پیدا نہ کرسکیں گی۔“
- ☆ مولانا حسرت موہانیؒ : شاہ جیؒ
- ☆ مولانا مظہر احرار چودھری افضل
میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ انکی دو تقریروں
- ☆ مولانا آغا شورش کاشمیریؒ : ”
ہوتے۔“
- ☆ مولانا مدبر احرار ماسٹر تاج ال
تدبر کی محفلوں کا چراغ تھے“
- ☆ مولانا ضیغم احرار شیخ حسان ال
گل ہونے والے اس محفل کے چرا
- ☆ مولانا مظہر علی اظہرؒ : ”ان کی
کی مثال دنیا کے کسی انسان میں نہیں
- ☆ مولانا مظفر علی شمسیؒ : ”وہ حض
- ☆ مولانا جانباز مرزاؒ : ”تیرے
- ☆ مولانا محمد علی جالندھریؒ : ”
- ☆ قاضی احسان احمد شجاع آبا
- ☆ مولانا عبدالرحمن میانویؒ :
- ☆ مولانا محمد ابراہیم میر سیالکو
- ☆ مولانا سید محمد داؤد غزنویؒ
ہونا مشکل ہے۔“
- ☆ شیخ الحدیث مولانا محمد زکر
گمراہی سے لوگوں کو نکالنے کو چھو
- ☆ مولانا سید محمد یوسف بنور
میں ایک ادارے سے مشکل ہو
- ☆ مولانا خیر محمد جالندھریؒ :
بھی عقیدت مند بنا چھوڑا۔ وہ ما
- ☆ مولانا حسرت موہانی : شاہ جیؒ خطابت کے شہسوار ہیں‘
- ☆ مولانا مفکر احرار چودھری افضل حقؒ : ”مجلس احرار اسلام کا وہ قیمتی ہیرا، جو خطابت
میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ انکی دو تقریروں نے میرا کام تمام کر دیا۔“
- ☆ مولانا آغا شورش کاشمیریؒ : ”قرون اولیٰ میں پیدا ہوتے تو یقیناً ایک جلیل القدر صحابی
ہوتے۔“
- ☆ مولانا تاجور احرار ماسٹر تاج الدین انصاریؒ : ”وہ علم وادب ، فکر و دانش، سیاست و
تدبر کی محفلوں کا چراغ تھے“
- ☆ مولانا ضیغم احرار شیخ حسان الدینؒ : ”وہ فن خطابت کے امام تھے۔ ان کی وفات سے
گل ہونے والے اس محفل کے چراغ ہمیشہ روشنی کو ترسیں گے۔“
- ☆ مولانا مظہر علی اظہرؒ : ”ان کی سیاسی بصیرت کے علاوہ ان کی دینی، ادبی اور علمی بصیرت
کی مثال دنیا کے کسی انسان میں نہیں ملتی۔“
- ☆ مولانا مظفر علی شمسیؒ : ”وہ حقیقتاً فنا فی الرسول تھے۔“
- ☆ مولانا جانباز مرزاؒ : ”میرے قدموں میں رہا تاج فرنگی کا وقار۔“
- ☆ مولانا محمد علی جالندھریؒ : ”وہ فقر واستغنا کا پہاڑ تھے۔“
- ☆ قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ : ”وہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔“
- ☆ مولانا عبد الرحمن میانویؒ : ”جس سے جگر لالہ میں ٹھنڈک ہو، وہ شبنم“۔
- ☆ مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹیؒ : ”شاہ جیؒ امیر جہاد ہیں۔“
- ☆ مولانا سید محمد داؤد غزنویؒ : ”بخاری مرحوم جیسا اسلام کا شیدائی دنیا میں پیدا
ہونا مشکل ہے۔“
- ☆ شیخ الحدیث مولانا محمد زکریاؒ : ”حضرت شاہ جیؒ جو دینی تاثر بالخصوص قادیانیت کی
گمراہی سے لوگوں کو نکالنے کا چھوڑ گئے ہیں۔ ان کے صدقات جاریہ اور دائمی ثواب ہیں۔“
- ☆ مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ : ”ایک ایسی شخصیت، جس نے ایسا کام کیا جو ایک صدی
میں ایک ادارے سے بمشکل ہوسکے۔“
- ☆ مولانا خیر محمد جالندھریؒ : ”مجھے ان کے اخلاق واخلاص کے علاوہ ان کے کمالات نے
بھی عقیدت مند بنا چھوڑا۔ وہ ماہر اسرار کلام اللہ ہیں۔“
- ☆ مولانا مفتی محمد شفیعؒ (مفتی اعظم پاکستان): ”ان کی موت سے علماء کی صف میں پیدا
ہونے والا خلا مدتوں پر نہ ہوگا۔“
- ☆ مولانا منظور احمد نعمانیؒ: ”اسلام اور مسلمانوں کے سچے وفادار تھے۔ وہ برطانوی
سامراج کے اولیٰ مخالف مجاہد تھے۔ اُن کی بے پناہ قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔“
- ☆ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ: ”آج مسلمان ایک اہم شخصیت سے محروم ہو گئے ہیں۔
یہ کہنا مناسب ہوگا کہ مولانا وقت کے سب سے بڑے خطیب تھے۔“
- ☆ مولانا امین احسن اصلاحیؒ: ”ہم ایک بڑی طاقتور مذہبی شخصیت سے محروم
ہوگئے۔“ شاہ صاحب کی تقریر سننے کے لیے ہمیں دو دو تین تین گھنٹے اور لوگوں کی تقریریں سننا پڑتی تھیں۔ اشتیاق کا یہ عالم ہوتا کہ اتنا پہلے جا کر بیٹھ جاتے گویا وہی بات تھی۔ جو غالب نے کہی۔
سینہ شمشیر سے باہر ہے، دم شمشیر کا
- ☆ مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ: ”اگر کسی زندہ و بیدار قوم میں ایسا باکمال و مخلص پیدا ہوتا
تو وہ قوم بام عروج پر پہنچ جاتی اور شاید دوسرے ملکوں میں انقلاب کا ذریعہ ہوتی۔
- ☆ مولانا ابوالحسنات قادریؒ: ”آپ بڑی خوبیوں کے مالک تھے۔ ان کی خدمات پر
ملت ہمیشہ فخر کرے گی۔“
- ☆ مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ: ”ان کی پاکیزہ نورانی صورت، ان کی پاکیزہ سیرت کی
ترجمان ہے۔“
- ☆ مولانا سید محمد میاںؒ (دہلی): ”ایسا بزرگ، جس پر جماعت کو ناز تھا۔“
- ☆ مولانا عبدالحامد بدایونیؒ: ”شاہ جیؒ اس دور کے علماء و زعماء میں سے تھے۔ جنہوں نے
مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علیؒ، مولانا عبدالباریؒ اور عبد الماجد بدایونیؒ کے ہمراہ برطانوی سامراج کے خلاف جہاد عظیم میں نمایاں حصہ لیا تھا۔ ان کی تقاریر سحر آفرین تھیں۔“
- ☆ مولانا مفتی محمودؒ: ”شاہ جیؒ نے ہندوستان کے چپہ چپہ پر فرنگی اقتدار کو چیلنج کیا۔“
- ☆ مولانا حفظ الرحمٰن سیوہارویؒ: ”شاہ جیؒ کی شخصیت، ان کا جوشِ عمل، ان کی قربانیاں
اور سب سے بڑھ کر ان کی ساحرانہ خطابت، تحریک آزادی وطن، اس کی پرورش اور ترقی کے
لیے ایک بڑی مدد اور بیش قیمت اثاثہ تھی۔ ان کی زندگی کے روشن نقوش نہ صرف تاریخ کے صفحات بلکہ لاکھوں اور کروڑوں انسانوں کے دماغوں پر منقش ہو چکے ہیں۔“
- ☆ مولانا احمد علی لاہوریؒ: ”وہ ولی کامل اور اسلام کی برہنہ شمشیر ہیں۔ جب تک وہ زندہ
ہیں اسلام کو کوئی خطرہ نہیں۔“
- ☆ مولانا شبیر احمد عثمانیؒ: ”وہ کسی ایک کے نہیں سب کے ہیں۔ وہ اسلام کی مشین ہیں۔
اس قسم کے نابغہ لوگ روز روز پیدا نہیں ہوتے۔ وہ روز مرہ کی زبان میں دین کے بڑے بڑے مسئلے حل کر جاتے ہیں۔“
- ☆ مولانا عبداللہ درخواستیؒ: ”آپ اسلام اور پاکستان کی زبردست طاقت تھے۔“
- ☆ مولانا سید احمد سعید کاظمیؒ: ”انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کو بیدار کرنے کے لیے
عمر بھر جدوجہد کی اور آزادی کے لیے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کی تھیں۔ اسے مسلمانان برصغیر کبھی فراموش نہیں کر سکتے۔“
- ☆ مولانا عبید اللہ انورؒ: ”آپ کی زندگی اعلائے کلمۃ الحق، زہد وتقویٰ اور حسن عمل کا
مستقل باب ہے۔“
- ☆ مولانا دوست محمد قریشیؒ: ”خطابت ان کا فن نہیں، فطرت تھی۔“
- ☆ مولانا علاؤالدین صدیقیؒ: ”اسلام اور آزادی پر دل و جان سے قربان ہو جانا ان کی
زندگی کا منبع تھا۔“
- ☆ مولانا احتشام الحق تھانویؒ: ”ان کی موت سارے عالم اسلام کے لیے نقصانِ عظیم
ہے۔“
- ☆ مولانا خان مہدی زمان خانؒ: ”شاہ جیؒ، جن صفاتِ حمیدہ کے حامل تھے۔ وہ شاید
ہی آئندہ کسی ایک شخصیت میں جمع ہوسکیں۔ ان کی شخصیت اتنی جاذب تھی کہ تقریر کے لیے اٹھتے تو جی چاہتا تھا کہ آپ کو دیکھتا ہی رہے۔“
- ☆ مولانا لقاء اللہ عثمانیؒ: ”آہ! وہ ہستی جن کو ہم پیار سے جیل میں ”ابو“ کہہ کر پکارتے
تھے، ہم سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو گیا ہے۔ آج وہ کل ہماری باری ہے۔“
- ☆ مولانا اظہر الحق سہیل عباسیؒ: ”وہ انقلاب لانے والوں کی صفِ اول میں شامل
تھے۔ امام الہند شیخ الاسلام اور سبحان الہند کے ناموں کے ساتھ ساتھ امیر شریعتؒ کا نام بھی
اصحاب رقیم کی طرح تاریخ میں رقم رہے گا۔
- ☆ مولانا عبدالشاہد خان (علی گڑھ): ’’ان کی خطیبانہ سرگرمیوں اور مجاہدانہ عملی زندگی
نے ملک کے گوشہ گوشہ میں وطن پروری اور ملکی آزادی کی لہر دوڑا دی۔ قادیانیت کے بڑھتے ہوئے سیلاب پر آپ ہی کے جوش خطابت نے بند لگایا اور انگریز پرست جماعت کے حوصلے پست کیے۔‘‘
- ☆ مولانا جمیل احمد تھانوی: ’’ان کو حق تعالیٰ نے وہ ملکہ عطا فرمایا تھا کہ جس بات کو بیان
کرنا چاہتے، سننے والے کے دل میں اتار دیتے۔‘‘
- ☆ مولانا علی بہادر: ’’ایک فقیر جس کے دل میں خوف خدا اور عشق رسول کے سوا کچھ
نہ تھا۔‘‘
ادبی شخصیات کا خراج تحسین
- ☆ ابوالاثر حفیظ جالندھری: ’’دور اوّل کے مجاہدین اسلام کے گروہ سے ایک سپاہی راستہ
بھول کر اس زمانہ میں آ نکلا ہے۔ وہی سادگی، مشقت پسندی، پیکر عمل، اخلاص اور للّٰہیت جو ان میں تھی وہ عطاء اللہ شاہ میں بھی ہے۔‘‘
- ☆ ماہر القادری: ’’خطابت شاہ جی کی کرامت تھی۔ ان کی زندگی جفاکشی اور مجاہدہ کی زندگی
تھی۔ آداب شریعت کی وہ نگہداشت نہ کرتے تو اور کون کرتا کہ وہ ’’امیر شریعت‘‘ تھے۔‘‘
- ☆ فیض احمد فیض: ’’میں اپنے آپ کو تصور کا پیرو سمجھتا ہوں اور میں نے سید عطاء اللہ شاہ
بخاری سے کسب فیض کیا ہے۔‘‘ (روزنامہ ’’جنگ‘‘ لندن کو انٹرویو)
- ☆ عبداللہ ملک: ’’وہ لیلائے حریت کی تلاش میں سیاست کی پرخار وادیوں میں دیوانہ وار
مصروف رہے۔‘‘
- ☆ احمد ندیم قاسمی: ’’ان کے بے داغ و بے لوث خلوص کی قسمیں صدیوں بعد بھی کھائی
جاتی رہیں گی۔‘‘
- ☆ احمد ندیم قاسمی: ’’ان کے بے داغ و بے لوث خلوص کی قسمیں صدیوں بعد بھی کھائی
جاتی رہیں گی۔‘‘
- ☆ ڈاکٹر وزیر آغا: ’’ایک ایسا شخص...... جو اپنے زمانے میں، مسلمان معاشرے کے
سارے طبقوں میں ہر دلعزیز تھا۔ جس میں بلا کی استقامت تھی اور جسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نگاہ دور بین کے علاوہ دل پر درد بھی عطاء ہوا تھا۔“
- ☆مختار مسعود: ”اردو نے جب بھی اپنے سرمایہ افتخار پر ناز کیا تو اسے بہت سے لوگ
یاد آئیں گے، ان میں سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ بھی شامل ہوں گے۔ جن کے لیے سیاست دراصل ایک سٹیج، سیاسی جماعتیں صرف منتظمین جلسہ، ملک بھر کی آبادی محض سامعین اور زندگی ایک طویل اردو تقریر تھی۔ اس خطیبانہ زندگی میں ان کے ہم عصر تو بہت تھے مگر ہمسر کوئی نہ تھا۔“
- ☆عبدالمجید سالک: ”جیل خانے کی چار دیواری میں آپ کے قہقہے زیادہ وسیع ہو
جاتے ہیں۔“
- ☆چراغ حسن حسرت: ”شاہ جیؒ تقریر نہیں کرتے، غزل کہتے ہیں۔ ہر شعر علیحدہ اور مکمل
ہوتا ہے۔“
- ☆ڈاکٹر سید عبداللہ: ”وہ واقعی ان عظیم اشخاص میں سے تھے۔ جن کی ہستی کی ترکیب و
تعمیر میں قدرت کے غیر معمولی قوانین نے کارفرمائی کی۔“
- ☆حبیب جالب: ”تجھ سے پہلے عام کہاں تھی دار و رسن کی بات۔“
- ☆علامہ انور صابری: ”کرے گی ناز تجھ پر حشر تک تاریخ انسانی۔“
- ☆عبدالحمید عدم: ”اخوت کا پیکر، لگن کا سفیر۔“
- ☆خواجہ حسن نظامی: ”انہیں دیکھ کر قرون اولیٰ کے مسلمان یاد آتے ہیں۔“
- ☆مولانا غلام رسول مہر: ”ان کے وجود کی ماہیت اور معنویت کا ذرہ ذرہ اسلامیت سے
سرشار تھے۔“
- ☆زیڈ اے سلیہری: ”میں نے زندگی میں سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ سے زیادہ مؤثر مقرر
نہیں سنا۔ ایک بار دہلی میں گھر سے کچھ خریدنے کو جامع مسجد کے پاس بازار کو بھیجا گیا تو دیکھا کہ مسجد کے سامنے لال قلعے کے قریبی قطعے پر شامیانے لگے ہوئے ہیں۔ جلسہ ہو رہا ہے اور شاہ صاحبؒ خطاب فرما رہے ہیں۔ سودا سلف بھول گیا اور سننے لگا۔ چھے گھنٹے کھڑا رہا۔ شاہ صاحبؒ ہنساتے، رلاتے رہے۔ قرآن کریم کی ایسی دل کھینچ لینے والی تلاوت فرماتے کہ آدمی دنیا و مافیا سے بے خبر اور بے نیاز ہو جاتا۔“
- ٭ پروفیسر مرزا محمد منور : ”میرے پلے رتی بھر ایمان کی دولت جو ہے، اس کا ذرہ میرے
قلب میں شاہ جیؒ اور مولانا ظفر علی خانؒ نے ودیعت کیا تھا۔ میں اس جہاں میں بھی ان دونوں کی جوتیوں کا خادم اور اگلے جہاں میں بھی۔“
- ٭ نسیم حجازیؒ : ”جب آزادی کا قافلہ نئے حوصلوں اور تازہ ولولوں کے ساتھ تنگ و
تاریک اور ناہموار راستوں پر نمودار ہو رہا تھا اور جب انگریز کی سلطنت کا سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔ تب سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کا دل و دماغ، روح آزادی کا امین تھا۔ جو لوگ آزادی کے قافلوں کے مقتدا اور پیشوا ہوتے ہیں۔ ان کے متعلق صرف یہ لکھا جا سکتا ہے کہ جس رات میں انہوں نے اپنے سوئے ہوئے قافلے کو آوازیں دی تھیں۔ وہ کتنی تاریک اور بھیانک تھی اور کیسی پامردی اور حوصلہ مندی کے ساتھ انہوں نے وقت کی آندھیوں اور طوفانوں کے سامنے عزم و یقین کی مشعلوں کو روشن کیے رکھا۔ میں پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ جب کہیں آزادی کے درس کی تشریح کی جائے گی تو سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کا وہاں ذکر ضرور آئے گا۔“
- ٭ ساغر صدیقیؒ : ”میں سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ جیسے جید عالم دین کے دست شفقت سے
سرفراز ہوا۔“
سیاسی عمائدین کا خراج تحسین
- ٭ فیلڈ مارشل محمد ایوب خانؒ : ”وہ جنگ آزادی کے عظیم سپاہی اور اسلام کے بہت
بڑے مجاہد تھے۔ قدرت نے انہیں علم و بیان کی نعمتوں سے نوازا تھا۔“
- ٭ ذوالفقار علی بھٹوؒ : ”سید عطاء اللہ بخاریؒ اردو کے سب سے بڑے خطیب تھے۔
انہوں نے مرزائیت کے خلاف زبردست جدوجہد کی اور میں نے مرزائیت کا نوے سالہ مسئلہ حل کر دیا۔“
- ٭ ممتاز دولتانہؒ : ”شاہ جیؒ جنگ آزادی کے بہادر جرنیل تھے۔ سیاسی اختلافات کے
باوجود میں نے ہمیشہ ان کی خدمات کا اعتراف کیا اور ان کی قدر کی۔“
- ٭ سردار عبدالرب نشترؒ : ”انہوں نے خطابت میں انا الحق کی بنیاد رکھی ہے۔ وہ بیک
وقت سرو و سمن اور دار و رسن کے خطیب ہیں۔“
- ٭ خان عبدالغفار خانؒ : ”شاہ جیؒ ، ہمارے ملک کی آزادی کے لیے جنگ کے بہادر
رہنما تھے۔ وہ میرے ساتھی تھے اور میرے مہربان تھے۔“
- ☆ میاں محمد شفیع (م۔ش): ”میں ان کی سادگی اور خطابت کا قلب و جگر سے معترف
ہوں۔“
- ☆ نواب بہادر یار جنگ: ”اے کاش! میں اس شخص کو مسلم لیگ میں لاسکتا؟ اگر یہ
میرے ساتھ ہو تو چھے ماہ کے اندر ملک میں انقلاب برپا کردوں۔“
- ☆ قائد کشمیر چودھری غلام عباس: ”شاہ جیؒ کی شخصیت نہایت جاذب اور ان کا مبلغ علم،
ان کی سحر بیانیاں، ان کا اخلاق واقعی قابل ستائش تھے۔ اُن کے مکتب فکر کا نعم البدل اب خارج از بحث ہے۔ ان کی تمام زندگی مسلسل قربانیوں اور قومی جدوجہد کا پیکر تھی۔ کشمیر کے لیے بالخصوص انہوں نے جو کچھ کیا، کوئی کشمیری اسے فراموش نہیں کرسکتا۔“
- ☆ محمود علی قصوری: ”ان کا چلن زندگی کے سفر میں چراغِ راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔“
- ☆ ابو سعید انور: ”ان کی ذات میں جو ذاتی رشتہ تھا۔ اس کے سوا بھی ان کی شخصیت برصغیر
پاک و ہند کی جدوجہد آزادی میں اس قدر اہم کردار ادا کرچکی ہے کہ ان کی عظمت اور یاد ہمیشہ دلوں میں زندہ رہے گی۔“
- ☆ خان عبدالولی خان: ”امیر شریعتؒ نے برطانوی سامراج کے خلاف جہاد کیا اور ملک
کو آزاد کرالیا۔“
- ☆ سید احمد سعید کرمانی: ”سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی خطابت کا یہ عالم تھا کہ گھنٹوں
بولتے تھے اور سامعین کی یہ خواہش ہوتی تھی کہ وہ بولتے چلے جائیں۔ ان کی تلاوت کے سحر سے انسان ہی نہیں درختوں کی ٹہنیاں بھی جھوم رہی ہوتی تھیں۔
- ☆ ڈاکٹر غلام جیلانی برق: ”آج دنیا اس سلاست، حلاوت اور فصاحت کو ترس رہی ہے
جو شاہ جیؒ دنیا میں تقسیم کیا کرتے تھے۔“
- ☆ مولانا کوثر نیازی: ”پاک و ہند کی تاریخ آزادی میں ان کی زندگی ایک روشن باب کی
حیثیت رکھتی ہے۔“
- ☆ عزیز ہندی (قائد تحریک ہجرت ١٩٢٠ء): ”وہ مجھے خادمانِ ملی کی صف میں سب
سے پیارا اور باوصف دکھائی دیتا ہے۔“
- ☆ ڈاکٹر کے ایم اشرف (سیکرٹری انڈین کمیونسٹ پارٹی): ”آپ لوگوں پر جادو
کرتے ہیں اور ان کے سوچنے کی قوت ماؤف ہو جاتی ہے۔ آپ کی تقریروں سے انقلاب کا خطرہ ہوتا ہے۔ اگر ہم لوگ برسر اقتدار آگئے تو سب سے پہلے آپ کو گولی ماریں گے۔“
غیر مسلم رہنماؤں کا اعتراف عظمت
- ☆ مہاتما گاندھی: ”وہ ہوا کو روک کر اس سے روانی اور سمندر کو ٹھہرا کر اس سے
طغیانی لیتے ہیں۔ شاہ جیؒ وہ آگ ہیں جو دشمنوں کے نشیمن پھونکتی اور دوستوں کے چولہے جلاتی ہے۔“
- ☆ موتی لال نہرو: ”شاہ صاحب! آپ ہندوستان کے دل کی آواز ہیں۔ کانگریس ستیہ
گرہ کی کامیابی صرف آپ سے وابستہ ہے۔“
- ☆ جواہر لال نہرو: ”ان کی وفات سے اردو خطابت کا تاج محل ڈھہ گیا ہے اور زمانہ
ایک ایسی شخصیت سے محروم ہو گیا ہے جس کا وجود اس برعظیم کے لیے ایک عظیم عطیہ تھا۔ تاریخ ان کے مقام کا ضرور فیصلہ کرے گی لیکن ہمارے دل ان کے مقام کا تعین کر چکے ہیں کہ ان کی رحلت سے آنکھیں اشک بار ہیں۔ نجانے اب ان سے کہاں ملاقات ہوگی؟
- ☆ بھیم سین سچر: ”وہ ان چند بے خوف شخصیتوں میں سے ہیں جن کے لیے میرا دل ہمیشہ
بے پناہ احترام کے جذبات سے معمور رہا ہے۔“
- ☆ دیوان سنگھ مفتون: ”وہ تاریخ آزادی کے ایک بہادر، نڈر مجاہد، بیباک اور حق گو
شخصیت کے مالک ہیں۔“
- ☆ پون کمار لاہوری (ہندو صحافی): ”شاہ جی ویدوں اور اپنشدوں کے زمانے کے رشی
ہیں۔ ان کی شکل ”والمیک رشی“ کی لاہور کے عجائب گھر میں رکھی ہوئی تصویر سے مشابہ ہے آواز میں ان کی گنگا کی پوترتا اور جمنا کی سندرتا ہے۔“
- ☆ کرنل ہاڈر (سپرنٹنڈنٹ جیل راولپنڈی): ”جن قیدیوں نے مجھے اثنائے ملازمت
میں متاثر کیا ان میں عطاء اللہ شاہ بخاری نام کا ایک سیاسی قیدی بڑی ہی دلفریب شخصیت کا مالک تھا، اس کا چہرہ مہرہ چرچ کے ان مقدس راہبوں کی طرح تھا جن کی تصویریں یسوع مسیح سے مشابہ ہوتی ہیں۔ یا پھر ان مستشرقین کی طرح جنہیں یورپ میں خاص عزت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ہم اسے عرب کے بڑے بڑے قاموسیوں سے بھی تشبیہہ دے سکتے ہیں لیکن ان
کے صحیح شناسا ہمارے ہاں کتنے ہیں؟ میں اسے اپنا دوست بنانا چاہتا تھا لیکن ہمارے درمیان سب سے بڑی روک ہماری مختلف زبانیں تھیں۔ وہ ١٨٥٧ء کے اس ”اینٹی برٹش“ ذہن کی باقیات میں سے تھا، جنہیں ہمارے پیشروؤں نے علماء کو پھانسی دے کر پیدا کیا تھا۔“
- ☆ وزیر ہند (گول میز کانفرنس لندن میں اعتراف): ”سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ ایسا
ہے، شخص جو اپنی ایک تقریر سے ...... بیک وقت دو حکومتوں کے نظام کو معطل کر دیتا ہے۔“
- ☆ مسٹر ڈبلیو سی سمتھ (مشہور انگریز مؤرخ): ”یہ غیر معمولی انسان ہندوستان کی سب
سے زیادہ اثر آفریں شخصیت ہونے کا نہایت قوی دعویٰ کر سکتا ہے۔“ (”ماڈرن اسلام ان انڈیا“ صفحہ ٢٦٦، مطبوعہ لندن ١٩٤٦ء)
ہمارا فیصلہ
ہم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ زندہ رہیں گے تو ناموس محمد (ﷺ) کی حفاظت کے لئے اور مریں گے تو محمد عربی (ﷺ) کی عزت کے لئے کوئی قوت، کوئی دھمکی، کوئی خوف ہمیں اس فیصلہ سے ہٹا نہیں سکتا۔
(خطاب: شیخ حسام الدین)
وہ لوگ بھی کیا ہیں جو غم دل نہیں رکھتے
(مؤلف)
مرزا قادیانی ملعون کی جسارت
بھائیو! یہاں آقائے دو جہاںﷺ کی بارگاہ کا کتا بننے کی تمنا ہے۔ اگر سرکار اپنا کتا فرما دیں تو ہمارے نزدیک دونوں جہاں کی نعمتوں سے بہتر ہے۔ لیکن ایک غلام احمد کا دل گردہ ہے کہ وہ نبی بننا چاہتا ہے۔
(خطاب: مولانا احمد سعید دہلویؒ)
مرزا قادیانی کی منہ پھٹ بیوی
اور تو اور وہ مرزا قادیانی کی بیوی کا قصہ سنیے مرزا قادیانی کو دہلی کی لڑکی بیاہی ہوئی تھی یہ لڑکی خواجہ میر درد کے گھرانے کی ہے اور میرے محلے کی ہے اب تک میرے مکان کے قریب بارہ دری میر درد کے نام سے گلی مشہور ہے یہ لڑکی بارہ دری کی تھی جو ایک دفعہ میکے گئی جہاں تک مجھے یاد ہے مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد کا واقعہ ہے جب بیگم صاحبہ دہلی گئی تو پاس پڑوس کی عورتیں ملنے آئیں۔ کسی نے کہا کہو بوا اچھی ہو۔ مرزا صاحب کیا بیمار ہوئے تھے۔ تمہاری سوکن کا کیا حال ہے۔ کسی نے بیگم کہا کسی نے نام لیا۔ کسی نے مرزا کی دلہن کہا۔ جب یہ عورتیں ان کو خطاب کر رہی تھیں تو ایک دفعہ ہی بیگم صاحبہ بولیں مجھے ام المومنین کہو۔ اگر ام المومنین نہ کہو گی تو گنہگار ہوگی۔ اول اول تو دہلی کی عورتیں سمجھی نہیں کہ ام المومنین کیا ہے۔ کسی نے پوچھا کہ یہ کوئی پنجابی بولی ہے؟ کسی نے کہا کیا قادیان میں دلہنوں کو ام المومنین کہا کرتے ہیں۔ جب عورتوں نے زیادہ اصرار کیا کہ اچھی یہ ام المومنین کیا ہے تو مرزا صاحب کی اہلیہ محترمہ اس کی تشریح کرنے بیٹھیں کہ بوا یہ نبی کی بیوی کا لقب ہوتا ہے۔ جیسے وہ اللہ کے نبی تھے نا میں ان کے نکاح میں گئی تو میں ام المومنین ہوئی۔ عورتیں پھر بھی نہ سمجھیں کہ کون نبی؟ کیا نبی؟ آخر مزید گفت و شنید کے بعد عورتوں کی سمجھ میں آیا کہ یہ اپنے خاوند کو اللہ کا رسول کہتی ہے۔ اور خاتم النبیین کے بعد کسی نئے نبی کا نام لیتی ہے اور اپنے کو ازواج مطہرات میں سے شمار کرتی ہے۔ پھر تو عورتوں نے ان بیگم صاحبہ کو ایسے آڑے ہاتھوں لیا کہ خدا کی پناہ، سینکڑوں گالیاں تو انہوں نے مرزا صاحب کو سنائیں۔ اور ان سے کہا بوا! یہ باتیں جا کر قادیان میں کرنا۔ بارہ دری میں اس قسم کا کفر بکا تو چوٹی کا ایک ایک بال الگ کر دیا جائے گا۔
(خطاب: مولانا احمد سعید دہلویؒ)
قاضی نذیر قادیانی کا پیشاب نکل گیا
یہ واقعہ ١٩٦٥ء سے شروع ہوا اور ٦٧ء کے آخر میں اختتام پذیر ہوا۔ واقعہ کچھ اس طرح ہے ہومیوپیتھی کو سرکاری سطح پر تسلیم کرانے کے لیے ہم دوستوں نے ڈسٹرکٹ ہومیو پیتھک ایسوسی ایشن ضلع میانوالی قائم کی بندہ اس کا سیکرٹری نشر و اشاعت مقرر ہوا۔ ہر ماہ اجلاس ہوتا تھا۔ کچھ اجلاسوں کے بعد مشن سے ہٹ کر فرقہ واریت کی گفتگو چل پڑی جسے ہم کنٹرول کرتے تھے۔ ہمارے اجلاس میں دو آدمی پر اسرار انداز سے آتے اور مجھ سے دور دور رہتے۔ اسی طرح ایک اجلاس میں علیک سلیک کے بعد میں ابھی بیٹھا ہی تھا کہ ڈاکٹر عبدالکریم شاد نے حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کیے۔ میں نے صدر اجلاس کو مخاطب کیا کہ ہم یہاں فن ہومیوپیتھی کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں مگر کچھ عرصہ سے میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ ہم اپنے مشن سے ہٹ کر کہیں اور جا رہے ہیں۔ ابھی ڈاکٹر عبدالکریم صاحب نے جس قسم کے الفاظ استعمال کیے ہیں وہ اس اجلاس کے سراسر منافی ہیں ایسی پھوٹ ہم میں صرف ایک طبقہ ڈالتا ہے اور وہ ہے قادیانی۔ کہیں ڈاکٹر صاحب کسی قادیانی کے زیر اثر تو نہیں آگئے۔ ابھی صدر اجلاس بولے نہیں تھے کہ ان پر اسرار آدمیوں میں سے ایک بول اٹھا کہ دیکھو جی سوال ان سے کچھ ہوا اور یہ احمدیت کو طعنہ دے رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ کون ہیں میرے قریب ڈاکٹر دیوان عبدالرشید صاحب بیٹھے تھے اس نے کہا کہ یہ قادیانی مربی ہے۔ میں نے کہا کہ اس کا ہمارے اجلاس میں کیا کام ہے۔ کیا یہ ہومیو پیتھک ڈاکٹر ہے۔ اس نے کہا کہ میں ہومیو پیتھک ڈاکٹر تو نہیں مگر مجھے ہومیوپیتھی سے عقیدت ہے۔ ڈاکٹر نور خان میرے دوست ہیں اور میں انجمن کو ماہانہ چندہ دیتا ہوں۔ میں نے کہا کہ آپ دس روپیہ ماہوار چندہ دے کر ہمارا ایمان خراب کر رہے ہو اور ہمارے اندر انتشار پیدا کر رہے ہو۔ اجلاس سے فوراً نکل جاؤ۔ ورنہ میں تمہیں نکالنا جانتا ہوں۔ قادیانی اس ایسوسی ایشن میں دراصل مجھ سے خائف تھے۔ کیونکہ میرا قریبی تعلق مولانا
غلام غوث ہزاروی اور مولانا محمد علی جالندھری سے تھا۔ اجلاس میانوالی شہر میں ہوتے تھے۔ مجھے ہرنولی سے جانا پڑتا اور کام بھی ہوتے تھے۔ قادیانیوں نے میانوالی میں ایسوسی ایشن کے اہم داعی ڈاکٹر نور خان صاحب پر اثر ڈال لیا تھا ہر وقت اس کا گھیراؤ رکھتے تھے۔ کیونکہ قادیانی مرکز ڈاکٹر صاحب کی دکان کے قریب تھا۔ اجلاس ختم ہوا تو میں سیدھا حضرت مولانا محمد رمضان صاحب، موتی مسجد میانوالی کے ہاں جا پہنچا۔ اور تمام حالات بتائے۔ مولانا صاحب نے اپنا ایک شاگرد محمد امیر ڈاکٹر نور خان کی دکان پر چھوڑ دیا۔ ہمیں تمام حالات ملنے لگے میں نے ڈاکٹر نور خان صاحب سے دوٹوک بات کی ڈاکٹر صاحب کہنے لگے کہ میں تو مرزا غلام احمد کو ظلی نبی تسلیم کر چکا ہوں۔ ربوہ کا بھی کئی دفعہ چکر لگا چکا ہوں۔ اور میرے ذہن کے مطابق یہ سچے ہیں۔ اب ان کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے کوئی نکتہ بتاؤ۔ ڈاکٹر نور خان کا پہلے تعلق بریلوی مکتب فکر سے تھا۔ اللہ نے میرے دل میں ڈالی، میں نے کہا کہ انہوں نے مرزا کے لیے درود ایجاد کر رکھا ہے۔ ڈاکٹر نور خان کہنے لگا کہ نہیں درود تو صرف نبی کریم ﷺ کے لیے ہے۔ میں نے کہا کہ پوچھ لو۔ یہ مرزا کو محمد رسول اللہ ﷺ مانتے ہیں اور اس پر درود بھیجتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب سے ملا تو انہوں نے کہا کہ تمہارے جانے کے بعد مرزائی مربی آیا تو میں نے یہ سوال کر دیا کہ آیا مرزا غلام احمد پر بھی درود نازل ہوا ہے۔ مربی اچانک کرسی سے اتر کر ادب سے نیچے بیٹھا اور مرزا غلام احمد قادیانی پر درود پڑھنے لگا۔ ڈاکٹر نور خان کہنے لگا کہ مجھ پر ان کا فراڈ ظاہر ہو گیا ہے۔ فریدی صاحب اب ان کو میدان سے بھگاؤ۔ میں نے کہا کہ تم مضبوط رہو انشاء اللہ ان کو میدان میں عبرتناک شکست ہوگی۔ مولانا محمد رمضان صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا، تمام گفتگو بتائی مولانا صاحب نے فرمایا کہ مدرسہ درالہدیٰ بھکر کا سالانہ جلسہ قریب ہے۔ مولانا لال حسین اختر وہاں تشریف لا رہے ہیں۔ تم بھی وہاں آؤ وہاں کوئی فیصلہ کرتے ہیں۔ ہم نے مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اختر سے تفصیلی گفتگو کی۔ مولانا نے ٢٦ مارچ ١٩٦٦ء کی تاریخ میانوالی کے لیے مقرر کر دی اور میرے لیے حکم ہوا کہ تم وہاں پہنچ کر مرزائی مربی کو قابو کرو اور میری آمد خفیہ رکھو۔ تاریخ مقررہ پر میں حضرت مولانا محمد ابراہیم صاحب کے ہمراہ میانوالی پہنچا۔ جیسے ہی بس سے اترا تو مرزائی مربی گھبرایا ہوا اڈے پر دکھائی دیا۔ میں قریب گیا تو پوچھا جناب کیا بات ہے؟ یہ ہوائیاں کیوں اڑ رہی ہیں۔ مربی کہنے لگا کہ
اعلان سنا ہے کہ لال حسین اختر آئے ہوئے ہیں۔ میں ہکا بکا ہوگیا کہ منصوبہ خفیہ تھا اعلان کر کے غلطی کی گئی۔ مرزائی نے مجھے پوچھا کہ آپ کیسے آئے۔ میں نے فوراً بات بتائی کہ میں بھی مولانا لال حسین اختر کا سن کر آیا تھا مگر پتہ چلا کہ وہ تو چکڑالہ چلے گئے۔ یہاں غلط اعلان ہوا۔ اتنا کہہ کر مولانا ابراہیم صاحب کا ہاتھ پکڑا اور واپسی کی بس میں سوار ہوگیا۔ ساتھ ہی مولانا کا ہاتھ دبایا کہ خاموش رہیں۔ اگلے چوک پر بس سے اترا اور سیدھا وہاں پہنچا جہاں مولانا لال حسین اختر کھڑے ہوئے تھے۔ میں نے پوچھا کہ اعلان بلاوجہ کیوں ہوا۔ مولانا نے کہا کہ ایک ساتھی سے غلطی ہوگئی۔ اچھا ہوا تم نے سنبھال لی۔ کچھ دیر کے بعد میں ڈاکٹر نور خان کے مطب میں گرو بازار آیا۔ اتنے میں مرزائی مربی بھی آگیا۔ مجھے دیکھتے ہی کہنے لگا کہ آپ تو واپس چلے گئے تھے پھر کیسے آگئے۔ میں نے کہا کہ کچہری چوک میں ڈاکٹر صاحب نے دیکھ لیا یہ مجھے لے آئے۔ گفتگو چلی، میں نے مرزائی مربی سے کہا کہ بھئی تم نے کیا چکر چلا رکھا ہے۔ میدان میں آکر بات کرو۔ ڈاکٹر نور خان کو فیصلہ کرنے میں آسانی ہو۔ مرزائی مربی کہنے لگا کہ بات کون کرے گا میں نے کہا کہ بندہ حاضر ہے۔ مولانا محمد رمضان موجود ہیں، بات کرو۔ مرزائی ہمارے قابو آگیا ساتھ ہی مکان میں رہائش جناب چودھری یوسف صاحب مجسٹریٹ کی تھی۔ چودھری صاحب، اعجاز یوسف صاحب ایڈووکیٹ کوئٹہ والے کے والد ہیں۔ ہم نے ان سے بات کی کہ آپ اس گفتگو میں بحیثیت صدر تشریف لائیں۔ ایک میاں صاحب تھے ڈی ایف سی ضلع میانوالی ان کے مکان پر بعد نماز عصر دونوں اطراف سے دس دس افراد گفتگو میں بیٹھ سکیں گے۔ میں یہ بات طے کر کے فوراً مسجد زرگراں قیام گاہ مولانا لال حسین اختر پہنچا تو مولانا صاحب نے بہت داد دی اور کہا کہ اب میں آگے خود سنبھال لوں گا۔ مگر ابھی میرا آنا ظاہر نہ ہو۔ بعد از نماز عصر، دونوں فریق اکٹھے ہوئے۔ میں نے ڈاکٹر نور خان کا ہاتھ پکڑا اور دروازے میں کھڑا ہوگیا۔ مرزائی مربی نے کہا کہ پہلے تعارف ہو جائے۔ اس نے پہلے مرزائیوں کا تعارف کرایا۔ مسلمانوں کی جانب سے تعارف مولانا محمد رمضان صاحب نے کرایا۔ جب مولانا لال حسین اختر کی طرف آیا تو مولانا نے از خود فرمایا کہ بندہ کو لال حسین اختر کہتے ہیں۔ اتنا کہنا تھا کہ مرزائی مربی کو جیسے شاک لگا، اٹھ کر کھڑا ہوا کہنے لگا کہ میرے ساتھ دھوکا ہوا ہے۔ دور بھاگنے لگا میں دروازے میں ڈٹ کر کھڑا تھا۔ میں
نے اس مربی کو پکڑا اور للکار کر کہا کہ بہت مدت ہوگئی مسلمانوں کا ایمان خراب کرتے ہوئے اب سامنے بیٹھو اور گفتگو کرو۔ اس مربی کی ایک ہی رٹ تھی میں مناظرہ نہیں کرتا، میں بحث نہیں کرتا، میرے ساتھ دین محمد نے دھوکا کیا۔ مولانا لال حسین فرمانے لگے کہ تمہارے ساتھ کون بحث کرتا ہے آرام سے بیٹھو وقت مقرر کرو اپنے بڑوں کو لے آؤ اور مناظرہ کراؤ مناظرہ کے اصول طے کرو۔ بڑی ردوکد کے بعد ٢٦ اپریل ١٩٦٦ء مناظرے کا دن طے ہوا۔ صدق و کذب مرزا۔ اجرائے نبوت و ختم نبوت اور حیات و وفات عیسیٰ علیہ السلام کی شرائط پر مناظرہ ہونا قرار پایا۔ چودھری محمد یوسف مجسٹریٹ نے آئندہ بھی صدارت قبول کر لی ہم نے چودھری صاحب کی صدارت اس وجہ سے رکھی تھی کہ اس وقت کئی اہم پوسٹوں پر میانوالی میں مرزائی لگے ہوئے تھے۔ انہوں نے دباؤ دینا تھا بعد میں ایک ماہ تک یہی چکر چلا۔ ڈی ایف سی صاحب کا مکان مناظرہ کے لیے طے ہوا تھا انہوں نے دباؤ کے پیش نظر جگہ دینے سے انکار کردیا۔ ڈاکٹر نور خان صاحب نے اپنے مکان واقع گرو بازار میں جگہ دی۔ چودھری صاحب نے امن کی تمام تر ذمہ داری قبول کر لی۔ بہت سخت دباؤ تھا۔ ڈاکٹر صاحب کو بھی ہراساں کیا گیا۔ دونوں طرف سے پچیس پچیس آدمی مناظرے میں طے ہوئے۔ وقت مقررہ پر مرزائیوں کا مناظر قاضی نذیر لائلپوری اپنے ساتھیوں سمیت پہنچ گیا۔ مناظرہ کا وقت تین گھنٹے دس منٹ تھا۔ پہلی تقریر مرزائی نے کرنی تھی۔ پچھلی تقریریں بیس بیس منٹ بقایا دس دس منٹ تھی۔ قاضی نذیر پہلی تقریر میں صدق و کذب مرزا کی بجائے حیات وفات عیسیٰ علیہ السلام کی طرف نکلا۔ جوابی تقریر میں مولانا لال حسین اختر نے بیس منٹ میں بیس جواب دے کر سوالات کی بوچھاڑ کر دی مناظرہ چلتا رہا۔ سامعین مناظرہ نے قاضی نذیر کی بوکھلاہٹ کو اچھی طرح محسوس کرلیا۔ دوران مناظرہ مولانا لال حسین اختر نے حضرت حسینؓ کی توہین کا ذکر کیا۔ قاضی نذیر قادیانی نے اپنے وقت میں مرزا کے شعر کا غلط ترجمہ کیا۔ مولانا نے فوراً گرفت کی۔ مطالبہ کیا کہ مرزا کا لکھا ہوا ترجمہ صاحب صدر خود کرے آخر کتاب صاحب صدر چودھری محمد یوسف مجسٹریٹ کے پاس آئی۔ صاحب صدر نے مرزا کا ترجمہ پڑھا تو بات مولانا لال حسین اختر کی صحیح ثابت ہوئی۔ خاص بات یہ کہ آخری تقریر قاضی نذیر قادیانی کی تھی۔ قاضی نذیر نے بات سمیٹنے کی بجائے اپنا رعب قائم کرنے کے لیے مناظرہ کا چیلنج دے دیا۔ مولانا لال حسین
اختر نے فوراً قبول کر کے رعب دار آواز میں کہا کہ مجھے چیلنج قبول ہے۔ یہاں اس وقت تین گھنٹہ دس منٹ مناظرہ ہوتا رہا۔ مولانا نے زور دار آواز سے جیسے ہی مناظرہ کا چیلنج قبول کیا۔ قاضی نذیر کا بوکھلاہٹ میں پیشاب خارج ہو گیا اور ناک کی گندگی بھی بہہ نکلی اور مناظرہ سے انکار کر دیا۔ صاحب صدر کے مطالبہ پر قاضی نذیر نے بھری مجلس میں مناظرے کا چیلنج واپس لیا الحمد للہ اس مناظرہ کا یہ اثر ہوا کہ ڈاکٹر نور خان اور اس کے تمام ساتھیوں کا ایمان محفوظ ہو گیا۔ مسلمان پوری طرح فتح یاب ہوئے۔
(ماہنامہ نقیب ختم نبوت ملتان مئی ١٩٩٩ء : ازقلم : ڈاکٹر دین محمد فریدی)
معرکۂ مصر
آج سے تقریباً نصف صدی قبل کی یہ بات ہے۔ ہوا یوں کہ لاہوری مرزائیوں نے دو البانوی قادیانی لڑکوں کو کسی خاص منصوبہ اور جعل سازی سے ازہر یونیورسٹی مصر (جامعہ ازہر) کے اصول الدین کالج میں داخل کرا دیا۔ اس کالج میں صرف مسلمان طالب علموں کو ہی داخلہ مل سکتا ہے اور صرف مسلمان لڑکے ہی اس کالج میں پڑھ سکتے ہیں تو ان دو قادیانی لڑکوں کو اصول الدین کالج میں داخلہ مل جانے کے بعد قادیانی پارٹی لاہور کے ہیڈ پادری محمد علی آنجہانی نے بڑے طنطنے سے مرزائی پارٹی قادیان کو اپنی شیخی دکھائی کہ ہمارے دو لڑکے ازہر یونیورسٹی کے اصول الدین کالج میں داخل ہو گئے ہیں۔ مثل مشہور ہے کہ جب سانپ کی موت آتی ہے تو وہ راستہ میں آ بیٹھتا ہے۔ تو لاہوری قادیانی پارٹی کا بھی یہی حشر ہوا۔ اور یہ حضور ختمی مرتبت ﷺ کی نبوت کا ایک معجزہ ہی سمجھئے کہ ان دونوں لڑکوں کو اصول الدین کالج سے نکلنا پڑا۔ لاہوری مرزائیوں سے حماقت یہ ہوئی کہ انہوں نے ان دو لڑکوں کے نام سے دو رسالے عربی زبان میں چھاپ کر مصر میں اور عرب دنیا میں پھیلائے ایک رسالہ کا نام تھا ”تعلیم الاحمدیہ“۔ (احمدی تعلیمات) اور دوسرے رسالہ کا نام تھا ”الاحمدیة کما عرفناھا“۔ (جیسے کہ ہم نے احمدیت کو سمجھا ہے) ان رسالوں میں لاہوری پارٹی نے اپنی شہرہ آفاق دوغلی منافقت سے زبردست کام لے کر حضور خاتم النبیین ﷺ کی تعریفوں کے پلندے
میں بڑی خوبصورتی سے اپنے زہر کو چھپا کر عرب دنیا کے سامنے پیش کیا تا کہ اس طرح مرزائی کفر کو سامنے پیش کیا جاسکے اور ان ممالک میں بھی مرزائی ارتداد کی راہ ہموار ہو سکے۔
اللہ تعالیٰ کا مسلمانانِ عالم پر یہ احسانِ عظیم تھا کہ اصول الدین کالج ازہر مصر سے فارغ التحصیل ہونے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے ان کا پردہ چاک اور راز فاش کر دیا ورنہ اصول الدین کالج کے سندات حاصل کر لینے کے بعد وہ دنیا بھر میں اپنے مسلمان ہونے کا ڈھنڈورہ پیٹتے۔
وکفی الله المومنين القتال
سرزمین مصر میں انگریزی ڈپلومیسی نے جس مضبوطی سے اپنے خونی پنجے گاڑ رکھے تھے اس کی وجہ سے وہ وہاں خاصی مؤثر تھی اور وہی ان قادیانیوں کی پشت پناہی کر رہی تھی مگر اللہ کے کاموں کو کون روک سکتا ہے عربی زبان کی خوبصورت جاذب نظر طباعت، کے یہ دو رسالے سامنے آنے کے بعد مصر کے باخبر ذی علم حلقوں میں بے چینی اور ہل چل پھیلی اور پھر یہ تحریک بڑھتے بڑھتے آگے چلی اور اصول الدین کالج کے عمید (پرنسپل) علامہ الشیخ عبدالحمید اللبان سے باخبر حضرات نے ملاقات کی اور ان کے سامنے اپنی بے چینی اور اس فتنہ کے مضر نتائج اور عواقب تفصیل سے رکھے حضرت الشیخ کو بھی فکر پیدا ہوئی اور ان کی تائید سے ایک وفد نے ازہر یونیورسٹی کے چانسلر علامہ ڈاکٹر مصطفیٰ المراغی مرحوم سے ملاقات کی اور تفصیل سے ان کے سامنے تمام صورت حال رکھی اس طرح بات آگے بڑھی چنانچہ علامہ مراغی چانسلر نے ایک تحقیقاتی کمیٹی مقرر کی جو مقدمہ کے تمام پہلوؤں کی چھان بین کرے اس کمیٹی کے صدر تو علامہ الشیخ عبدالحمید اللبان پرنسپل اصول الدین کالج تھے۔ اور چار رکن اور تھے جن کے اسماء گرامی یہ ہیں۔
- ١۔ فضیلۃ الشیخ ابراہیم الجبالی
- ٢۔ فضیلۃ الشیخ محمد فتاح العنان
- ٣۔ فضیلۃ الشیخ محمود آلسی
- ٤۔ فضیلۃ الشیخ محرم العدوی
یہ شیخ عدوی وفد کے ساتھ ہندوستان آچکے تھے اور لاہور میں پادری محمد علی آنجہانی
ہیڈ لاہوری پارٹی سے مل چکے تھے پارٹی کے متعلق دل میں نرم گوشہ ر قاہرہ نے پروفیسر، الیاس برنی م کے متعلق آخری سند تصور ہوتے تصنیفات اور اردو فارسی تصنیفات بھیجتے رہے ان دنوں قاہرہ اور حی عبدالقدوس ہاشمی جو آج کل کراچ بڑی لگن سے انہوں نے ترجمہ مرحوم نے ادا کیا تھا۔ یہ ہاشمی صا عظیم کتب خانہ کے لائبریرین ۔ تو ہاشمی صاحب اور پروفیسر برن کمیٹی کو مقدمہ کے سمجھنے ان کے دونوں مرزائیوں کو کافر مرتد قرار صاحب سے کی اس طرح لاہور دونوں مرزائی طالب علم بیک ب گئے اور یہ فتنہ سر اٹھانے سے پہ محبّ الدین الخطیب مصری اور درازی کے لیے دعا کریں تو یہ مصر پر جامعہ ازھر مصر کے اندر
(ہفت روزہ خت
ہیڈ لاہوری پارٹی سے مل چکے تھے اور اس چکنی چپڑی منافقانہ ملمع سازی سے متاثر ہو کر لاہوری پارٹی کے متعلق دل میں نرم گوشہ رکھتے تھے۔ مصر کے علامہ محب الدین الخطیب ایڈیٹر اخبار الفتح قاہرہ نے پروفیسر الیاس برنی صاحب مرحوم سے رابطہ قائم کیا پروفیسر برنی مرحوم مرزائیت کے متعلق آخری سند تصور ہوتے تھے چنانچہ پروفیسر برنی مرحوم مرزا قادیانی کی عربی اصل تصنیفات اور اردو فارسی تصنیفات کے اقتباسات کے عربی ترجمے بڑی تعداد میں کئی ماہ تک بھیجتے رہے ان دنوں قاہرہ اور حیدرآباد دکن کے درمیان کافی عرصہ یہ ڈاک چلتی رہی۔ علامہ عبدالقدوس ہاشمی جو آج کل کراچی میں ہیں ان دنوں حیدرآباد دکن میں تھے صحت بھی جوانی تھی بڑی لگن سے انہوں نے ترجمہ کی خدمات انجام دیں جس کا شکریہ بطور خاص پروفیسر برنی مرحوم نے ادا کیا تھا۔ یہ ہاشمی صاحب بعد میں کافی عرصہ ادارہ تحقیقات اسلامی اسلام آباد کے عظیم کتب خانہ کے لائبریرین تھے۔ بہت خوبیوں کے بزرگ ہیں فقیر کے خاص کرم فرما تھے۔ تو ہاشمی صاحب اور پروفیسر برنی صاحب کی کوشش بالآخر کامیابی سے ہمکنار ہوئیں تحقیقاتی کمیٹی کو مقدمہ کے سمجھنے ان کے تعاون سے بہت مدد ملی اور کمیٹی نے اپنے مکمل اتفاق سے ان دونوں مرزائیوں کو کافر مرتد قرار دے کر اصول الدین کالج سے خارج کرنے کی سفارش چانسلر صاحب سے کی اس طرح لاہوری مرزائیوں کے خواب ”خواب و خیال“ ہو کر ہی رہ گئے اور وہ دونوں مرزائی طالب علم بیک بینی و دو گوش جامعہ ازہر کے اصول الدین کالج سے نکال دیئے گئے اور یہ فتنہ سر اٹھانے سے پہلے ہی کچل کر رکھ دیا گیا۔ قارئین سے درخواست ہے کہ وہ علامہ محب الدین الخطیب مصری اور پروفیسر صاحب کی مغفرت اور علامہ ہاشمی کی صحت مند عمر کی درازی کے لیے دعا کریں تو یہ تھا وہ اہم معرکہ مصر جو ١٩٣٩ء میں مرزائیت کے خلاف سرزمین مصر پر جامعہ ازھر مصر کے اندر مسلمانوں کے حق میں سر ہوا وللہ الحمد ۔
( ہفت روزہ ختم نبوت ۔ جلد ٣ شمارہ ٢٢ نومبر ١٩٨٥ء ۔ از قلم : قاضی محمد شمس الدین درویش )
حضرت علامہ اقبالؔ کو
حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ کا تحفہ
حکیم الامت حضرت اقبالؒ اگر چہ فلسفے پر خود پورا عبور رکھتے تھے اور اسی مضمون میں انہوں نے ایم اے بھی کیا تھا۔ پھر اسلامیات کا بھی وسیع مطالعہ رکھتے تھے جس کا اندازہ ان کی شاعری، خطبات اور دیگر تصانیف سے بھی ہوتا ہے لیکن بہ ایں ہمہ انہوں نے Reconstruction of Religious Thoughts کے عنوان سے انگریزی زبان میں جو ٦ لیکچرز تیار کیے ان میں علامہ انور شاہ کشمیری سے خاطر خواہ مدد لی۔ ”حدوثِ عالم“ پر علامہ انور شاہ کا منظوم رسالہ اگرچہ بہت مختصر ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ رسالہ ”حدوثِ عالم“ کے موضوع پر قدیم و جدید فلسفہ اور اس پر جامع تنقید کا نچوڑ ہے۔ یہ رسالہ جب چھپا تو علامہ انور شاہ نے اس کا ایک نسخہ بدست مولانا سعید احمد اکبر آبادی تحفۃً ڈاکٹر اقبال کو بھی ارسال فرمایا۔ چنانچہ علامہ اقبال نے پڑھنے کے بعد مولانا سعید احمد اکبر آبادی سے کہا کہ میں مولانا انور شاہ کا رسالہ پڑھ کر دنگ رہ گیا ہوں کہ رات دن قال اللہ و قال الرسول سے واسطہ رکھنے کے باوجود فلسفہ میں بھی ان کو اس درجہ درک و بصیرت ہے اور اس کے مسائل پر وہ اس قدر گہری نگاہ رکھتے ہیں کہ حدوثِ عالم پر اس رسالے میں انہوں نے جو کچھ لکھ دیا ہے اس کی توقع تو یورپ کے بڑے سے بڑے فلسفی سے بھی نہیں کی جاسکتی۔ مولانا سعید احمد اکبر آبادی ان دنوں بطور طالب علم لاہور میں مقیم تھے اور علامہ اقبال کو اس کا علم تھا۔ علامہ اقبال یہ بھی جانتے تھے کہ علامہ انور شاہؒ سے بھی مولانا سعید احمد اکبر آبادی کی گہری ارادت تھی اس لیے انہوں نے چار شعروں پر نشان لگا کر یہ رسالہ ان کے سپرد کیا کہ جب بھی آپ کی ملاقات علامہ انور شاہ سے ہو تو ان سے کہئے گا کہ ان چار اشعار کا مفہوم مجھے سمجھ نہیں آیا۔ آپ بتا دیجئے کہ ان کا مطلب کیا ہے مگر علامہ انور شاہ نے رسالہ لیکر مولانا سعید احمد کو کچھ کہنے کے بجائے ان اشعار کے مفہوم کے بارے میں ڈاکٹر اقبال کو فارسی میں
ایک طویل خط لکھا۔ البتہ یہ خط مولانا سعید احمد ہی لے کر آئے اور ڈاکٹر اقبال کو دیا۔
(روزنامہ پاکستان، ٢١ ستمبر ٢٠٠٠ء۔ از قلم چوہدری اصغر علی کوثر وڑائچ)
یہ وہ برسات ہے جس کا کوئی موسم نہیں ہوتا
(مؤلف)
اقبال کا عشق رسول ﷺ
١٩٠٨ء میں جب اقبال انگلستان سے واپس وطن تشریف لائے تو سیالکوٹ کی مشہور جامع مسجد دو دروازے والی میں ایک روز انہوں نے ایک عظیم اجتماع سے خطاب کیا اور بڑی اچھی اچھی علمی اور دینی باتیں بتائیں۔ ان کی تقریر کے دوران میں کسی نے سوال کیا کہ خدا کی ہستی کس طرح ثابت ہوتی ہے؟ اقبال نے اس کے جواب میں پہلے اکبر الہ آبادی کا یہ شعر پڑھا:
ڈور کو سلجھا رہا ہے، پر سرا ملتا نہیں
پھر کہا کہ عالم انسانیت کی وہ عظیم ہستی، جس کو نبوت ملنے سے پہلے بھی لوگ صادق اور امین کے لقب سے پکارتے تھے، فرماتے ہیں کہ خدا موجود ہے، اس لیے ہمیں اس بحث میں پڑنا ہی نہیں چاہئے۔ میرے نزدیک خدا کی ہستی پر سب سے بڑی دلیل خود پیغمبر خدا ﷺ کا اپنا وجود ہے اور ہمیں بے چون و چرا ان کی بات پر یقین کر کے اپنے ایمان کی پختگی کا ثبوت دینا چاہئے۔
(روایات اقبال ص٧٠، از ڈاکٹر محمد عبداللہ چغتائی روایت پروفیسر محمد دین بھٹی)
میں تیار ہوں
اگر حضور ﷺ علیہ الصلوۃ والسلام کی عزت و ناموس پر کٹ مرنا ”تخریب“ ہے، اگر ملت اسلامیہ کو ایک مفتری اور کاذب کی دست برد سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرنا ”فساد“ ہے، اگر پاکستان کی وحدت و یکجہتی کو برقرار رکھنے کے لیے حکومت کو آستین کے سانپوں سے آگاہ کرنا ”فتنہ“ ہے، اگر حصول کشمیر کے لیے ایک ایسے وزیر خارجہ کی برطرفی کا مطالبہ کرنا جس پر قوم کے کسی بھی صحیح العقیدہ فرد کو اعتماد نہیں رہا ”افتراق“ ہے تو بخدا میں ”تخریب پسند“ ہوں اور مجھے اس ”فتنہ و فساد“ اور ”افتراق و نفاق“ پر بے پناہ فخر ہے۔ حتی کہ اگر اس نصب العین کی خاطر مجھے تختہ دار پر بھی لٹکا دیا جائے تو میں اس سے دست بردار ہونے کو تیار نہیں ہوں۔
(خطاب: مولانا اختر علی خاںؒ)
شفاعت روز جزا چاہتے ہیں
(مؤلف)
فتنوں سے لڑنے والوں کا مقام
حق تعالیٰ کا نظام قدرت و حکمت بھی عجیب ہے۔ بعض حضرات بزمِ جہاں میں دیر سے آتے ہیں، مگر ان کو نشست ”صدیقین اولین“ کے پہلو میں دی جاتی ہے، امام بیہقی نے ”دلائل النبوۃ“ میں آنحضرت ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے: انہ سیکون فی آخر ھذا الامۃ قوم لھم مثل اجر اولھم، یأمرون بالمعروف وینھون عن المنکر ویقاتلون اھل الفتن. (مشکوۃ ص ٥٨٤)
”اس اُمت کے آخر میں کچھ لوگ ہوں گے جن کو اجر، امت کے پہلوں کا سا دیا جائے گا۔ یہ لوگ ”معروف“ کا حکم کریں گے، بُرائیوں سے روکیں گے اور اہل فتنہ سے لڑیں گے۔“
یعنی ”المعروف“ کا حکم کرنا، ”المنکر“ سے روکتے رہنا اور فتنہ پردازوں سے برسر پیکار رہنا، یہی تین وصف ایسے ہیں جو پچھلوں کو پہلوں سے ملا دیتے ہیں۔ بلاشبہ علم و فضل، طہارت و تقویٰ، زہد و تقدس وغیرہ ایمانی و انسانی اوصاف بھی نہایت گرانقدر ہیں، مگر ان سارے اوصاف سے آدمی مقبولیت عند اللہ میں اپنے ہمعصروں سے آگے نکل سکتا ہے، اور اپنے زمانہ کا مقتدا بن سکتا ہے، تاہم شمار اس کا اسی زمانے میں ہوگا جس میں وہ پیدا ہوا اور اس کے اجر و ثواب اور درجات کا پیمانہ بھی اسی دور کے لحاظ سے متعین ہوگا۔ لیکن جو چیز قرون متاخرہ کے افراد کو قرون اولیٰ کی شخصیت بنا دیتی ہے، وہ صرف امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور اہل فتن سے جہاد ہے۔
(ماہنامہ بینات ۔ کراچی ۔ شیخ بنوری نمبر ص ٢٧٩ از قلم: مولانا یوسف لدھیانوی)
غازی اور شہید
ختم نبوت کی حفاظت اسلام کی حفاظت ہے۔ اور اسلام کی حفاظت جہاد اکبر ہے۔ اور جو اس راستے میں جدوجہد کرے وہ غازی اور جو تحفظ ختم نبوت کے سلسلے میں جدوجہد کرتا ہوا مر جائے وہ شہید ہے۔ بلکہ ختم نبوت کا تحفظ شفاعت نبوی کے حصول کا قریب ترین راستہ ہے۔
(خطاب: حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستیؒ)
کہ اپنے غلاموں پہ ہے فیضان محمدؐ
(مؤلف)
میری جان بھی قربان
ایک بار اس وفا کے پتلے کو چک ٦، تحصیل چشتیاں (ضلع بہاولنگر) جانا ہوا۔ چشتیاں تک ریل گاڑی میں سفر کیا۔ آگے چک تک منتظمین جلسہ نے تانگے کا انتظام کیا۔ راستے میں تانگہ خراب ہو گیا۔ طرفہ تماشا یہ ہوا کہ اسی تانگہ میں جلسہ کے لیے لاؤڈ سپیکر اور بیٹری بھی لدے ہوئے تھے۔ آپ کی علمی وجاہت کے پیش نظر یہ سوچا گیا کہ کسی اور سواری کا انتظام کیا جائے اور انتظار کیا جائے۔ آپ نے لے جانے والے ساتھی سے کہا ”میاں دوسری سواری کے آنے تک ہم پیدل چل کر جلسہ گاہ تک پہنچ جائیں گے“ آپ تو پیدل چل لیتے مگر مسئلہ لاؤڈ سپیکر اور بیٹری کا تھا۔ آپ نے اپنے ساتھی کو سمجھا بجھا کر آمادہ کر لیا کہ وہ لاؤڈ سپیکر سر پر اٹھائے اور آپ بیٹری اٹھائیں گے۔ فرمایا کرتے تھے ”بیٹری وزنی تھی، میں تھک کر چور ہو گیا مگر چلتا رہا اور دعا کرتا گیا اے اللہ ! تیرے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کی خدمت ہے قبول کر لینا۔ اس محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے میری جان بھی قربان ہو جائے تو زہے نصیب“۔
(”حضرت مولانا محمد علی جالندھری“ ص ١٨١۔ ١٨٢’ از ڈاکٹر نور محمد غفاری)
کچل دوں گا خلاف اس کے کہیں ہو فتنہ گر پیدا
یہ قربانیاں ہیں رسول اللہ کے لیے
راقم کے ایک دوست محمد اسلم جاوید صاحب، لیکچرر بارانی کالج راولپنڈی نے راقم کو اپنے ایک دوست کے حوالہ سے بتایا کہ وہ ایک بار اپنے گاؤں سے ریل گاڑی میں سوار ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک روشن چہرے والے نہایت وجیہہ بزرگ تھرڈ کلاس بوگی میں ایک سیٹ کے نیچے فرش پر لیٹے ہوئے ہیں۔ اس سیٹ پر عام غریب دیہاتی مسافر بیٹھے تھے۔
وہ کہتے ہیں ”میں نے غور سے دیکھا تو پتہ چلا کہ مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری ہیں“ میں نے عرض کیا ”اللہ اکبر! حضرت آپ ہیں؟“ فرمانے لگے ”ہاں محمد علی ہوں‘ اچھی آرام دہ جگہ مل گئی تھی میں نے سوچا ذرا کمر سیدھی کرلوں“۔
(”حضرت مولانا محمد علی جالندھری“ ص ١٨٣‘ از ڈاکٹر نور محمد غفاری)
برسوں مجھے گلشن کی فضا یاد کرے گی
ان تھک مجاہد
آپ کے داماد مولانا محمد صدیق صاحب ناظم مدرسہ خیر المدارس (ملتان) نے راقم کو ان کا ایک انوکھا واقعہ سنایا۔ کہتے ہیں ایک بار ہمارے گھر تشریف لائے تو لنگڑاتے ہوئے چلے آ رہے تھے۔ اپنی بیٹی سے کہا ”مجھے ہلدی‘ گھی اور روئی کا مرہم بنا دو“ پھر ہمیں پورا واقعہ سنایا کہ تقریر کے لیے کہیں وعدہ کر رکھا تھا۔ ریل گاڑی اس طرف ٢٤ گھنٹوں میں صرف ایک بار جاتی تھی۔ آپ تاخیر سے اسٹیشن پر پہنچے گاڑی چل چکی تھی۔ بھاگے اور گر گئے، گھٹنے پر سخت چوٹ لگی مگر اس چوٹ کا زخم اس چوٹ کے زخم پر حاوی نہ ہو سکا جو مرزا قادیانی کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تاج و تخت ختم نبوت پر شب خون مارنے سے ان کے دل پر لگ چکی تھی۔ سنبھلے اور بھاگنا شروع کیا۔ بستر وغیرہ پھینک دیا مگر گاڑی پکڑنے میں کامیاب ہوگئے۔ کہتے تھے اللہ کا شکر ہے وعدہ پورا ہو گیا۔
(”حضرت مولانا محمد علی جالندھری“ ص ١٨٥‘ از ڈاکٹر نور محمد غفاری)
مجاہد جس گھڑی خیمے میں زخموں سے نڈھال آئے
زندگی کا واحد مقصد
اس کے بعد قاضی صاحب نے بتایا کہ ”میرے متعلق تحقیقاتی رپورٹ میں ججوں نے یہ لکھ دیا ہے کہ اس شخص کی زندگی کا واحد مقصد مرزائیت کی تردید اور ان کی بیخ کنی کرنا ہے۔
چنانچہ میں نے اپنے متعلقین کو کہہ دیا ہے کہ جب میں مروں تو یہ الفاظ کاٹ کر میرے کفن میں رکھ دینا کیا عجب کہ یہی بات میری بخشش کا سبب بن جائے“۔
(”حیات طیبہ“ ص ٦٦١ از ڈاکٹر محمد حسین انصاری)
وفا کی آرزو لے کر ہمارے گیت گاؤ گے
وکیل ختم نبوت
نیز قاضی صاحب نے حضرت کو بتایا کہ تحقیقاتی عدالت میں یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ مسلمان لوگ مرزائیوں کی تقریروں اور تحریروں سے اس لیے بھی مشتعل ہوتے ہیں کہ یہ لوگ مسلمانوں کی مخصوص اصطلاحات کو استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً یہ لوگ مرزا صاحب کی بیوی کو سیدۃ النساء کہتے ہیں۔ اس پر مسٹر منیر نے مرزائی وکیل سے سوال کیا تو اس نے جواب دیا کہ سیدۃ النساء کا معنی ہے عورتوں کی سردار۔ اس لیے ہم کہتے ہیں کہ ہمارے مرزا صاحب کی بیوی صاحبہ اپنے فرقہ کی عورتوں کی سردار تھیں۔ اس پر مسٹر منیر نے میری طرف دیکھا تو میں نے کھڑے ہو کر کہا جناب اگر چماروں کی کوئی پنچایت ہو اور ان کا سرپنچ کسی معاملہ کا فیصلہ کرے اور پھر ان چماروں میں سے کوئی آدمی سرپنچ کی جگہ چیف جسٹس کا لفظ بولے اور یوں کہے کہ ہمارے چیف جسٹس نے یوں فیصلہ دیا ہے تو کیا اس طرح کہنا جائز ہوگا۔ مسٹر منیر نے کہا NEVER یعنی ہرگز نہیں۔ قانوناً اس طرح کہنا جائز نہ ہوگا کیونکہ یہ لفظ عدالت عالیہ کے ججوں کے لیے مخصوص ہے۔ اس پر میں نے کہا کہ یہ لوگ ہم مسلمانوں کی اصطلاحیں استعمال کرتے ہیں اور مرزا صاحب کی بیوی کو سیدۃ النساء کہتے ہیں حالانکہ یہ لفظ کسی نبی کی بیوی کے لیے نہیں بولا گیا۔ خود حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عورتوں کے لیے نہیں بولا گیا بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تین بیٹیوں کے لیے بھی نہیں بولا گیا۔ یہ لفظ صرف حضور کی چوتھی بیٹی حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کے لیے مخصوص ہے جس کو اب یہ لوگ بلا تکلف استعمال کرتے ہیں اور مسلمانوں کا دل دکھاتے ہیں۔ چنانچہ میں نے ”اخبار الفضل“ نکال کر دکھایا جس میں مرزا صاحب کی بیوی کے انتقال کے موقعہ پر پہلے
صفحہ پر جلی حروف میں یہ سرخی دی گئی ہے ”سیدۃ النساء کا انتقال“ اس پر ججوں نے کہا تھا کہ اس پر مسلمانوں کا مشتعل ہونا حق بجانب تھا۔
(حیات طیبہ‘ ص ٦٠٢‘ از ڈاکٹر محمد حسین انصاری)
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے
کیا عجیب لوگ تھے
آپ کے رفیق کار مولوی خدا بخش شجاع آبادی نے اسی طرح ایک اور واقعہ سنایا۔ کہتے ہیں ”میری کاروان ختم نبوت میں شمولیت کے ابتدائی ایام میں میر کارواں مولانا محمد علیؒ مجھے اپنے ساتھ رکھتے۔ ایک بار مظفر گڑھ کے سفر پر روانہ ہوئے تو آپ نے دو سادہ توس لفافہ میں بند کر کے تھیلے میں رکھ لیے۔ جب مظفر گڑھ کے بس سٹاپ پر اترے تو آپ نے ایک گلاس لسی کا منگوایا۔ اس میں ایک گلاس پانی ڈالا‘ یوں دو گلاس بنا کر ایک گلاس اور ایک توس مجھے دیا اور ایک گلاس اور توس خود نوش فرمانے بیٹھ گئے۔ اس تکلیف دہ سادگی پر میری طبیعت الجھنے لگی۔ آپ بھانپ گئے۔ فرمایا مولوی خدا بخش دل برداشتہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ جنت میں تمام تکالیف کا اجر اللہ کریم سے مل جائے گا مگر میرے پاس جو پیسہ ہے وہ قوم کا ہے جو انہوں نے تحفظ ختم نبوت کے لیے دیا ہے“۔
(”حضرت مولانا محمد علی جالندھری“ ص ١٩٠‘ از ڈاکٹر نور محمد غفاری)
غنچے غنچے سے مجھے بوئے وفا آتی ہے
رقت انگیز جواب
مولانا محمد انوری نے لکھا ١٩٣٤ء بہاولپور جامع مسجد میں حضرت مولانا انور شاہؒ نے تقریر فرمائی۔ حضرات میں نے ڈابھیل جانے کے لیے سامان سفر باندھ لیا تھا کہ یکا یک مولانا غلام محمد شیخ الجامعہ کا خط دیوبند موصول ہوا کہ شہادت دینے کے لیے بہاولپور آئیے۔ چنانچہ اس عاجز
نے ڈابھیل کا سفر ملتوی کر دیا اور بہاولپور کا سفر کیا۔ یہ خیال کیا کہ ہمارا نامہ اعمال تو سیاہ ہے ہی شاید یہی بات میری نجات کا باعث بن جائے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جانبدار ہو کر بہاولپور میں آیا تھا۔ بس اس فرمانے پر تمام مسجد میں چیخ و پکار پڑ گئی۔ لوگ پھوٹ پھوٹ کر رو رہے تھے۔ خود حضرت پر بھی ایک عجیب کیفیت وجد طاری تھی۔ ایک مولوی (عبدالحنان ہزاروی) نے اختتام وعظ پر فرمایا کہ حضرت شاہ صاحب کی شان ایسی ہے اور آپ ایسے بزرگ ہیں۔ وغیرہ۔ حضرت فوراً کھڑے ہوئے اور فرمایا حضرات ان صاحب نے غلط کہا ہے۔ ہم ایسے نہیں بلکہ ہم سے تو گلی کا کتا بھی اچھا ہے۔ ہم اس سے گئے گزرے ہیں۔ وہ اپنی گلی و محلے کا حق نمک خوب ادا کرتا ہے۔ ہمارے ہوتے ہوئے لوگ ناموس رسالت پر حملہ کرتے ہیں اور ہم حق غلامی و امتی کا ادا نہیں کرتے۔ اگر ہم ناموس پیغمبر کا تحفظ کریں گے تو قیامت کے دن شفاعت کے مستحق ٹھہریں گے۔ تحفظ نہ کیا یا نہ کر سکے تو ہم مجرم ہوں گے اور کتے سے بھی بدتر۔
(”کمالات انوری“)
بٹھایا کفر کو لا کر نبی کے ہم نشینوں میں
حدیث اسمہ احمد غلام احمد پر چسپاں ہیں
پڑے خاک اس سلیقے پر لگے آگ ان قرینوں میں
ایک ولی اللہ کا چیلنج
جلال الدین شمس مرزائی مبلغ کو ١٩٣٣ء بہاولپور عدالت میں فرمایا کہ اگر اس طرح نہیں مانتے تو عدالت میں کھڑے کھڑے دکھا سکتا ہوں کہ مرزا قادیانی جہنم میں جل رہا ہے۔
(”نقش دوام“ ص ٤٩)
راست بازوں کی زباں میں ہے اثر تلواروں کا
کاروانِ حیات
کے
چند نقوش
مولانا محمد شریف احرار
مرزائیوں کے جلسے درہم برہم
واقعہ نمبر 1:
ہندوستان کی تقسیم سے قبل کا واقعہ ہے کہ کھاریاں ضلع گجرات میں قادیانیوں کا جلسہ ہونا تھا ادھر جہلم میں مجلس احرار کے کارکنوں کو بھی اس بات کا علم ہو گیا اور طے پایا کہ قادیانیوں کا جلسہ کہیں بھی کامیاب نہیں ہونا چاہئے۔ اگر جلسہ ہو تو درہم برہم کر دیا جائے۔ چنانچہ ساتھی کھاریاں میں مرزائیوں کا جلسہ ناکام کرنے کا مشن لے کر جہلم سے آگئے ہر رضا کار کی الگ الگ ڈیوٹی لگا دی گئی۔ ایک رضا کار نے شامیانوں کی رسیاں کاٹنی تھیں دوسرے کے ذمہ گیس کا بجھانا اور تیسرے نے سب کو بروقت آگاہ کرنا تھا۔ میری ڈیوٹی سب سے الگ تھی اور وہ یہ تھی کہ جب شامیانے گرنے لگیں تو مجھے مٹی کے چھوٹے چھوٹے پانچ چھے مرتبان سٹیج پر پھینکنے تھے اس مشن پر جب ہم روانہ ہونے لگے جہلم میں ہمارے ایک نیک سیرت بزرگ جماعت کے سرگرم رکن اور ہمدرد ساتھی نے مجھے کہا کہ بیٹا جانے سے پیشتر مجھ سے مل کر جانا وہ بزرگ بتاشوں کا کام کرتے تھے۔ اُس زمانے میں شام چھ بجے راولپنڈی سے آنے والی گاڑی جہلم سے چھ بجے کھاریاں پہنچ جاتی تھی یہ ٹرین لاہور تک جاتی تھی بہر حال میں اپنے بزرگ ساتھی جو شاندار چوک کے مقابل بتاشے بناتے تھے ان کی خدمت میں حاضر ہوا اُنہوں نے تھیلے میں پانچ چھ مٹی کے چھوٹے چھوٹے مرتبان جن کے منہ موٹے کاغذ سے بندھے مجھے دیئے اور فرمایا پنڈال میں کسی کونے میں بیٹھے رہنا اور جب شامیانے گرنے کے لیے حرکت میں آئیں ایک ایک کر کے مرتبان سٹیج پر پھینکتے جانا مجھے معلوم نہیں تھا کہ مرتبانوں میں کیا ہے اور میں نے پروگرام کے مطابق ایسا ہی کیا مرتبانوں کا سٹیج پر گرنا ہی تھا کہ ان میں سے بھڑیں آناً فاناً نکلیں اور چمڑ گئیں اُنہوں نے سٹیج پر موجود قادیانیوں کو کاٹنا شروع کر دیا۔ کسی کی ناک پر کسی کے ہونٹ اور کسی کی آنکھ کسی کے کان اور گال پر یہ عجیب منظر تھا اُدھر
سائبانوں کے گرنے کی وجہ سے بھگڈر مچی ہوئی تھی تو ادھر سٹیج پر بھڑوں نے اپنا پروگرام شروع کیا ہوا تھا دوسرے روز قادیانی بازار سے گذرے تو ان کی حالت قابل دید تھی کیونکہ بھڑوں نے ان کا حلیہ بگاڑ دیا تھا!
واقعہ نمبر 2:
مذکورہ واقعہ کے بعد کچھ ہی یوم گزرے ہوں گے کہ مرزائیوں نے اپنے مرزا واڑے (عبادت گاہ) کے سامنے لالہ موسیٰ میں ایک جلسہ رکھا گرمیوں کا موسم تھا چونکہ جلسے عموماً رات ہی کو ہوا کرتے تھے رات کو ہوا چلنی شروع ہوئی ہم نے پھر پروگرام ترتیب دیا اس مرتبہ انداز پہلے سے جدا تھا۔ گیس لیمپ اور سائبانوں کی ڈیوٹیاں تو حسب سابق ہی تھیں مگر سٹیج کا نشانہ علیحدہ تھا ہم چند ساتھی سامنے کے مکانوں کی چھتوں پر چڑھ گئے ہمارے ہاتھوں میں لوہے کی بڑی بڑی پچکاریاں تھیں جن میں سیاہی بھری ہوئی تھی جب جلسہ شروع ہوا پہلے گیس لیمپ توڑے گئے جس سے اندھیرا ہو گیا۔ سٹیج کی مخالف سمت سے ہم نے پچکاریاں چلانا شروع کر دیں ان میں موجود گاڑھی سیاہی نے سٹیج پر موجود تمام مرزائیوں کے چہروں کو سیاہ کر دیا کافی روز گزرنے کے بعد بھی ان کے مکروہ اور ڈب کھرے چہروں سے سیاہی نہ اُتر سکی۔
ڈسٹرکٹ جیل جہلم
واقعہ نمبر 3:
جہلم شہر کے ڈاکٹر نذر محمد مرحوم کو ایک قادیانی ڈی ایس پی منور احمد کے بکواس کرنے پر میں نے اُس کے سامنے کھڑے ہو کر بے نقط گالیاں دیں اور مجھ کو گرفتار کر لیا گیا ساڑھے تین ماہ جیل کی قید کے دوران جماعت اسلامی کے چوہدری محمد اسلم کی موجودگی مولوی عبدالمالک (رکن جماعت اسلامی جہلم) نے حضرت امیر شریعت کے متعلق نازیبا الفاظ کہے ! بے شمار میری زندگی کی شکستہ یادیں ہیں کئی ایک واقعات جو میری یادداشت سے اوجھل ہو چکے تھے جیسا کوئی واقعہ ذہن میں آتا ہے تو فوراً لکھنے لگ جاتا ہوں تاکہ بھول نہ جاؤں اور دو آپریشن ہو چکے ہیں مثانے پر 35 ٹانکے لگے ہوئے ہیں دایاں گردہ بھی ڈاکٹروں نے نکال دیا ہے۔ جس کی وجہ سے زیادہ دیر بیٹھ بھی نہیں سکتا اس لیے جو لکھتا ہوں آپ کو بھیج دیتا ہوں۔
میں اُس کا لب ولہجہ برداشت نہ کرسکا سالن سے بھرا ہوا پیالہ اُس کے منہ پر دے مارا اور خوب بے نقط سنائیں چوہدری محمد اسلم مرحوم نے اُسے خوب ڈانٹا اور کہا کہ میں نے تمہیں پہلے بھی کہا ہے کہ تم حضرت شاہ جی کے متعلق معقول لب ولہجہ اختیار کیا کرو مگر تم باز نہیں آئے تم نے ان کے ایک جانثار کے سامنے یہ حرکت کرکے بہت برا کیا۔
ہر طریقہ داخل آداب زنداں ہوگیا
...................
عمر بھر کا داغ ہے یہ ایک دو دن کا نہیں
(قافلہ احرار سے بچھڑا ہوا شریف احرار ١٧٠، ڈی بلاک بورے والا)
1935ء کا زمانہ سیاسی اعتبار سے بہت حد تک امن کا زمانہ تھا۔ تاہم مسجد شہید گنج کی ہماہمی نے پنجاب کی فضا کو بہت حد تک مکدر کر رکھا تھا اور یہ سال مجلس احرار اسلام پر بڑے عتاب کا سال تھا۔ تحریک مسجد شہید گنج میں مسلمان قوم اس بری طرح سے سرکاری عناصر کے ہاتھوں میں کھیل گئی کہ شاید صدیوں تک اس غلطی کا ازالہ نہ ہو سکے۔ ان دنوں قادیان میں مسلمانوں کو نماز جمعہ پڑھنے کی اجازت نہ تھی اور یہ پابندی برٹش گورنمنٹ کی طرف سے تھی خلیفہ قادیاں کے ایماء پر انگریز کی اس حرکت کو مداخلت فی الدین سمجھا گیا یہی وجہ تھی کہ مجلس احرار اسلام کے رہنماؤں نے انگریز کے اس حکم کی خلاف ورزی کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ دفعہ ١٤٤ کے خلاف سب سے پہلے حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاریؒ نے اقدام کیا اور وہ قادیاں تشریف لے گئے۔ یادرہے میں اُس وقت اٹھارویں (١٨) سال کی منزل میں تھا اور درس نظامی کی بڑی کتب میں شامل ہو چکا تھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ حضرت شاہ جی کے بااعتماد خدام میں بھی شامل تھا۔ باوجود علالت کے اس سفر میں حضرت شاہ جی کے ہمراہ تھا۔ راستہ میں پولیس کی بھاری جمعیت نے آپ کو گرفتار کر لیا۔ مجھ سے دریافت کیا گیا تم کون ہو میں نے فوراً جواب دیا کہ میں حضرت امیر شریعت کا خادم ہوں اور آپ کے ہمراہ سفر کر رہا ہوں۔ بہرحال آپ کے ساتھ مجھے بھی گرفتار کر لیا گیا اور قادیاں میں سپیشل مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا گیا اور ہم دونوں کو مختصر کاروائی کے بعد دسمبر 1935ء کو تین تین ماہ قید سخت
پانچ سو روپیہ جرمانہ کی سزا کا حکم ہوا اور ساتھ ہی بی کلاس میں رکھنے کا حکم ہوا ہم دونوں کو پولیس کی گاڑی میں گورداسپور جیل میں لے جایا گیا۔ دوسرے دن برادرم مرزا غلام نبی جانباز مرحوم اور مولانا محمد قاسم شاہ جہانپوری بھی پہنچ گئے اور حضرت قاضی احسان احمد صاحب شجاع آبادی اور یکے بعد دیگرے علماء کی آمد سے جیل بھر گئی غالباً پندرہ روز کے بعد میری زیادہ علالت کے باعث مجھے شاہ پور جیل میں تبدیل کر دیا گیا۔
شاہ پور جیل کے متعلق مشہور ہے کہ یہاں ایک صدی پہلے اللہ کے کسی نیک بندے کی بیٹھک تھی گاؤں والوں نے ایک کنواں کھدوا دیا تھا چونکہ اس علاقہ کی زمین نمکین واقع ہوئی ہے اس لیے پانی نمکین نکلا جب بزرگ مذکور کو اس کا پتہ چلا تو آپ نے دُعا کی اور پانی میٹھا ہو گیا نہ جانے یہ کب کی بات ہے لیکن پانی اچھا دیکھ کر پنجاب گورنمنٹ نے بیمار قیدیوں کے لیے بطور ہسپتال کے یہ جگہ جیل کے لیے ماضی کے اُس دور میں منتخب کر لی واقعی اس جیل کا پانی میٹھا اور زود ہضم ہے جب مجھے یہاں لایا گیا تو ایسا محسوس ہوا کہ میں کسی بڑے باغیچے میں لایا گیا ہوں۔ بھلے آپ یقین کریں یا نہ کریں لیکن یہ واقعہ ہے کہ اتنی خوبصورت جیل پنجاب میں کوئی نہیں یہاں پہنچ کر میری صحت چند دنوں میں اچھی ہوگئی۔
انہی دنوں ہندوستان چھوڑ دو کی تحریک کا آغاز ہو چکا تھا اور پنجاب کے تمام سیاسی قیدی یہیں نظر بند تھے زندگی کے اس موڑ پر پہنچ کر جوانی نے دامن حیات کو بُری طرح اپنی خواہشات کی طرف کھینچا کہ اگر عزم، حوصلہ اور ایمانی قوت خام ہوتی تو دامن تار تار رہ جاتا لیکن بحمد اللہ کہ اس راہ کی ہزار خوبصورتی مجھے اپنی طرف مائل نہ کر سکی۔ جوانی کو دیوانی سمجھ کر اس کی ہر خواہش کو قدموں کے نیچے روندتا رہا بہر حال یہ قید بھی کاٹ کر جب مرکزی دفتر مجلس احرار اسلام لاہور پہنچا تو اتفاقاً حضرت شاہ جی بھی اسیری کے دن کاٹ کر لاہور دفتر میں تشریف فرما تھے فرمایا میرے لال! تھوڑا آرام کر کے اپنے تعلیمی مرکز پر چلے جاؤ اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو۔
باقی بشرط صحت ۔ انشاء اللہ محمد شریف احرار
1970ء سے لے کر تا اختتام تحریک ختم نبوت 7 ستمبر 1974ء میرا قیام مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی بندر روڈ بالمقابل ریڈیو پاکستان سائرہ مینشن بلڈنگ میں رہا۔ مجھ سے پہلے فیصل آباد کے ایک مشہور مقرر مرکزی مبلغ کی حیثیت سے کراچی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر
میں تعینات تھے وہ اپنے دور میں کراچی صدر کے با رونق علاقہ پیراڈائز ہوٹل میں ایک لاہوری مرزائی سے حیات عیسیٰ علیہ السلام پر مناظرہ کرتے ہوئے لوگوں کو مطمئن نہ کر سکے جس سے حاضرین کسی نتیجہ پر نہ پہنچ سکے۔
اُن دنوں مولانا لال حسین اختر رحمۃ اللہ علیہ مجروح حالت میں، موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا لاہور کے ایک ہسپتال میں داخل تھے اور گردن کا منکا ٹوٹ جانے کی وجہ سے بات کرنے سے معذور ہو چکے تھے معلوم نہیں اُن کے کان میں ختم نبوت کے مبلغ کے مرزائی مبلغ سے ہار جانے کی خبر کس طرح پہنچی۔ بہرحال مولانا محمد شریف جالندھری مرحوم اور مرزا غلام نبی جانباز مرحوم جب ان کی عیادت کے لیے کوٹ لکھپت ہسپتال گئے تو حضرت مولانا لال حسین اخترؒ نے ان دونوں سے تحریری سوال کیا۔ کیا یہ شکست کا واقعہ صحیح ہے مولانا محمد شریف جالندھری مرحوم نے کہا ہاں ایسا ہی ہے اس پر مولانا لال حسین اختر صاحب نے ان دونوں حضرات کو بحیثیت امیر مجلس تحفظ ختم نبوت حکم دیا کہ محمد شریف احرار جہاں کہیں ہو اُس کو میرے پاس لاؤ۔ میں اُن دنوں دنیا پور میں قیام پذیر تھا۔ چنانچہ مولانا محمد شریف جالندھری مرحوم اور مولانا محمد شریف بہاولپوری کی معیت میں، میں حضرت مولانا لال حسین صاحب اخترؒ کی خدمت میں کوٹ لکھپت ہسپتال میں حاضر ہوا مجھے دیکھ کر حضرت مولانا کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے میں نے گذارش کی آپ کا خادم آپ کے سامنے حاضر ہے حکم فرمائیں ناموسِ ختم نبوت پر مر مٹنے کے لیے ہر وقت تیار ہوں میں نے حضرت شاہ جیؒ کا وہ شعر پڑھا۔
اس پر حضرت مولاناؒ مسکرا پڑے ایک کاغذ پر لکھ کر میرے سامنے رکھ دیا کہ جماعت کی طرف سے فوراً کراچی جاؤ اور اُسی ہوٹل میں اُس خنزیر کے کفر کے بخیے اُدھیڑ دو حضرت مولانا لال حسین اخترؒ کے حکم پر مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان کی طرف سے میں کراچی گیا اور اُسی ہوٹل میں ڈاؤ میڈیکل کالج کے سامنے اُس لاہوری مرزائی مبلغ کو ایسا دبوچا کہ ہاتھ جوڑنے لگا میں نے کہا حیات مسیح بھی کوئی مسئلہ ہے تمہارے مجدد کے کردار پر اس کی تصنیفات پر بات ہوگی، خدا کی قسم میں تمہارے مجدد پر ایمان لانے پر تیار ہوں تم اُسے شریف زادہ تو ثابت کرو میں ثابت کروں گا کہ وہ حرام زادہ تھا ایک چکلے کے کنجر میں شرافت ہو سکتی ہے مگر مرزا غلام احمد میں نہیں تم
کبھی بھی مرزا کو شریف ثابت نہیں کر سکتے۔ جب میں نے آئینہ کمالات، تریاق القلوب، درثمین، نجم الہدیٰ کی عبارات اُس کی اپنی کتابوں میں سے پڑھنا شروع کر دیں تو ایک شیعہ نوجوان نے بے قابو ہو کر اُس کے سر پر جوتے مارنے شروع کر دیئے اس پر پولیس والے آگے کہنے لگے کیا بات ہے وہی شیعہ نوجوان آگے ہو گیا کہنے لگا کہ اس کے مرزا نے امام حسین رضی اللہ عنہ اور پنجتن پاک کو گالیاں دی ہیں۔ اور یہ کتابیں ان کے مرزا کی لکھی ہوئی ہیں اتفاق سے وہ پولیس ہیڈ کانسٹیبل بھی شیعہ تھا اُس نے گشت والے سپاہیوں کو کہا کہ اس ماں...... کو جوتے مارو اور اُس لاہوری مرزائی کو کہا کہ اگر ہم نے آئندہ تمہیں اِدھر دیکھ لیا تو تھانے میں بند کر کے جوتے ماریں گے 1974ء تک میں کراچی میں رہا پھر میں نے کبھی اس کو صدر کراچی یا کسی ہوٹل میں بیٹھا ہوا نہیں دیکھا۔ قادیانیوں سے مناظرہ کرتے ہوئے میں نے اکثر اس ٹیکنیک کو استعمال کیا ہے اور کامیابی نے قدم چومے ہیں لیکن ایسا انداز اپنانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔
...................O...................
کراچی میں قیام کے انہی دنوں کا ایک واقعہ ہے۔ عبدالستار صاحب افغانی جو بعد میں مسٹر کراچی بھی بنے ان کا تعلق جماعت اسلامی کے ساتھ رہا ہے اچانک دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت میں آ گئے کہنے لگے میڈیکل کالج بندر روڈ پر پروفیسر افتخار احمد قادیانی میڈیکل کالج کے طلباء کو پراگندہ کر رہا ہے اور وہ کہتا ہے لے آؤ میرے پاس کسی مولوی کو آپ خدا کے لیے میرے ساتھ چلیں اور ابھی چلیں میں اُن کے ساتھ کچھ کتابیں مرزا غلام احمد کی ہمراہ لے کر چل پڑا۔ ڈاؤ میڈیکل کالج کے استقبالیہ کمرے میں جیسے ہی ہم پہنچے تو اسٹوڈنٹس اور پروفیسر افتخار احمد مرزائی بھی فوراً پہنچ گیا بڑا زبان دراز آدمی تھا فوراً اُس نے بڑے زور دار انداز سے میرے اوپر سوال کر دیا کہ جب اسلام صبر و بردباری کا سبق دیتا ہے اور غصہ کو برداشت کرنے کا حکم دیتا ہے لیکن آپ لوگ جذبات میں مغلوب ہو کر بے قابو ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ ان چھوٹی چھوٹی باتوں سے کیا ہوتا ہے جب کہ ہماری احمدیت میں بڑی پختگی ہے۔ آپ ہماری کسی کتاب کو اُٹھا کر نالی میں پھینک دیں، ہمارے گھروں کو آگ لگا دیں ہمارے حضرت مسیح موعود کو گالی دیں، ہمیں بالکل غصہ نہیں آتا۔ پروفیسر افتخار قادیانی کا سوال سن کر بیٹھے ہوئے لوگوں کی گردنیں اُٹھنے لگیں کہ اب اتنی ناقابلِ تردید بات کا کیا جواب ہو سکتا ہے۔ میں نے
اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے تحقیقی جواب کی بجائے زوداثر الزامی جواب دینے کا عزم کیا کیونکہ مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ اگر میں نے جواب دینے میں تردد کیا یا لمبی تقریر کی تو سامعین کا مجمع نہیں سمجھے گا اور خوش ہوں گے کہ پروفیسر نے ایسا سوال تلاش کر لیا ہے جس کا ختم نبوت کا مبلغ جواب نہیں دے سکا۔
میں نے مرزائی پروفیسر افتخار احمد کی بات ختم ہوتے ہی کہا کہ پروفیسر صاحب اگر کوئی گستاخ آدمی آپ کے گھر میں گھس کر آپ کے سامنے آپ کی بیوی پر دست درازی کرے یا آپ کی بہو بیٹی کی عصمت دری کی کوشش کرے تو آپ صبر کریں گے ناں؟ پروفیسر مرزائی فوراً چونکا اور کہنے لگا ہرگز نہیں میں اپنی عزت کا دفاع کروں گا میں نے کہا اس کے برعکس ہمارے ہاں دین اور شعائر دین کی قدر ہماری ذاتی عزت و ناموس سے زیادہ ہے ہم نے خدا اور اُس کے آخری پیغمبر جناب محمد رسول اللہ ﷺ اور ختم نبوت کی عزت و ناموس پر جانیں لڑا دیں اور اپنے خون کے نذرانے پیش کر دیئے مگر اپنے دین حق اور کتاب پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جب کہ آپ لوگوں کے ہاں آپ کی ذات کی اہمیت مرزا غلام احمد قادیانی کی جھوٹی اور باطل نبوت سے زیادہ ہے میں نے اپنے دلائل کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے جلالی انداز میں کہا اگر تمہارا اپنی ذات کے لیے غصے میں آنا برا نہیں تو ہمارا اپنے دین کے لیے اور حضور سرکار دو عالم کی ختم نبوت کی عزت و ناموس کی حفاظت کے لیے غصہ میں آنا کیوں برا ہوا اس سے معلوم ہوا کہ تمہارے مذہب کی بنیاد غیرت و ایمان پر نہیں بلکہ بے غیرتی اور عصمت فروشی پر رکھی گئی ہے۔ جب کہ ہمارے مذہب و دین کا تعلق اور اس کی بنیاد اللہ کی وحی پر رکھی گئی ہے جو اللہ کے آخری نبی حضرت محمد ﷺ کو بھیجی گئی جب کہ تمہارا مرزا غلام احمد قادیانی تریاق القلوب میں لکھتا ہے میں نے برطانوی سامراج کی مدح و ستائش پر اتنی کتابیں لکھ دی ہیں کہ پچاس الماریاں بھری جا سکتی ہیں۔
لعنت ہو ایسی باطل نبوت پر اور اللہ کی پھٹکار ہو اُس کے ماننے والوں پر جن کا قبلہ و کعبہ مکہ و مدینہ کے مقابلے پر برطانوی سامراج ہو
ہمارے حضور پُر نور محمد رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔
من قاتل لِتَكُوْنَ كلمة الله هِيَ العُليا فهو في سَبِيلِ الله
ترجمہ : جو لڑا اس لیے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو تو وہ اللہ کے راستے میں ہے الحمد للہ اس جواب
نے اُس کے شیطانی جال کے تار و پود بکھیر دیئے اور کافر نے حسب سابق اپنی گردن جھکالی۔
ڈاؤ میڈیکل کالج کے وہ طلباء جو پروفیسر افتخار احمد قادیانی کے جھوٹے اور گمراہ کن پروپیگنڈے کی وجہ سے اشکال میں پڑ چکے تھے انہوں نے اپنے ایمان کی از سر نو تجدید کی اور اُسی نشست میں مرزا قادیانی پر لعنت بھیجی اس مناظرہ کا اثر یہ ہوا کہ مرزائی پروفیسر خود بخود اپنی ٹرانسفر کرا کر کسی اور جگہ چلا گیا۔
محمد شریف احرار
......................O......................
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فَخَلَفَ مِن بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا۔
ترجمہ: اور پھر اُن کے بعد اُن کے ناخلف آئے جنہوں نے نماز چھوڑ دی اور مزوں کے پیچھے پڑ گئے عنقریب ایسے لوگ گمراہی میں جا پڑیں گے۔
ہمارے بزرگوں اور اساتذہ کا خیال یہ ہے کہ اس آیت کا اطلاق آج کے صاحبزادگان پر بھی ہوتا ہے۔ شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ گان و بان سے پناہ مانگا کرتے تھے لیکن بہت عرصہ یہ راز رہا کہ آخر حضرت کس چیز سے پناہ مانگتے ہیں۔ اس کا معنی اور مقصد کیا ہے۔ ایک بے تکلف نے ہمت کر کے پوچھا تو فرمایا کہ صاحبزادگان مراد ہیں۔
حضرت امیر شریعتؒ کی ایک بات بہت مشہور ہے اُن کے ایک پُرانے دوست بڑے عرصے کے بعد ملنے کے لیے آئے تو آپؒ نے اپنے خلف الرشید سید ابوذر مرحوم سے فرمایا حافظ جی! چچا آئے ہیں۔ ان سے ملیں۔ چچا نے کہا شاہ جی یہ صاحب زادہ ہے فرمایا صاحب زادہ نہیں بیٹا ہے پھر بیٹے سے فرمایا کہ فلاں الماری سے کتاب نکالو۔ جو فارسی زبان میں حضرت خواجہ سلیمان تونسوی رحمۃ اللہ علیہ کے ملفوظات تھے ایک مخصوص صفحہ کی نشاندہی فرما کر درج شدہ ملفوظات پڑھنے کا حکم دیا جس کا خلاصہ یہ تھا۔ پہلی قومیں عتاب الہی کا شکار ہوتیں تو اُن کے افراد بندر اور سُؤر بن جاتے جب کہ اس اُمت پر صاحب زادگی کی شکل میں عذاب آیا ہوا ہے۔
......................O......................
1947ء نومبر کی کوئی تاریخ راولپنڈی محلہ ورکشاپی میں ایک جلسہ جس کی صدارت راجہ غضنفر علی مرکزی وزیر کر رہے تھے شاہ جی کو دعوت تقریر دیتے ہوئے کہا کہ شاہ جیؒ جس لیگ کے مخالف تھے اُس لیگ نے انہیں پناہ دی یہ طنزیہ جملہ تھا۔ حضرت شاہ جی نے اُٹھتے ہوئے جواب دیا ہاں بھائی یہ پناہ آج سے نہیں مل رہی اس کی بڑی لمبی تاریخ ہے میرے ابا کو بھی پٹنے کے بعد تمہارے ابا کے گھر میں پناہ ملی تھی اور مجمع پر یکا یک سناٹا چھا گیا۔ یادداشت احرار
...................o...................
شاہ جی کی باتوں میں گُلوں کی خوشبو
شاہ جی تحریر کے سخت مخالف تھے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے زندگی بھر کوئی مضمون نہیں لکھا وہ خط بھی شاذ ہی لکھتے تھے وہ خود ایک بڑے آدمی تھے لیکن اپنے عہد کے بڑے آدمیوں سے ان کی مطلق خط و کتابت نہ تھی فرماتے انسانی سوسائٹی میں سب فتنے تحریر سے پیدا ہوئے ہیں۔ تلواروں نے انسانوں کی روحیں فنا کر ڈالی ہیں اس معاملہ میں ان سے زیادہ بے نیاز آدمی میں نے نہیں دیکھا۔ فی الحقیقت وہ ایک عہد ایک ادارہ ایک انجمن اور ایک تاریخ تھے گفتگو طرازی میں ان کا مثیل ملنا مشکل ہے۔ وہ خاص صحبتوں میں بالکل ایک ادیب، ایک فقیر، ایک شاعر، ایک درویش، ایک متکلم، ایک صوفی، ایک عالم اور ایک دوست ہوتے تھے ان میں جس تار کو بھی چھیڑ لو وہی نغمے پھوٹنے لگتے۔ ایک نقص یہ ضرور تھا کہ اپنی گفتگو لکھنے نہیں دیتے تھے ورنہ انہوں نے تمام زندگی الفاظ و تراکیب کے اتنے انبار لگائے اور لطائف و ظرافت کے ایسے موتی بکھیرے ہیں کہ ایک شاہکار دماغ ہی سے اس کی توقع کی جا سکتی ہے۔ حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کا ارشاد تھا کہ ...... عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی باتیں عطاء الٰہی ہوتی ہیں۔
...................o...................
سیرت کے ایک جلسہ میں فرمایا یہ بڑا نازک مضمون ہے۔ سیاسی تقریر ہو ایک آدھ جملہ نیچے اوپر یا ادھر اُدھر ہو جائے تو ڈر نہیں لگتا زیادہ سے زیادہ قید ہو جاتی ہے دو سال پانچ
سال لیکن سیرت یا حدیث کے مضمون پر بولتے ہوئے ایک آدھ جملہ بھی کم و بیش ہو جائے تو ایمان کا ضیاع ہے اور دوزخ کی آگ اس میدان میں بخاری بزدل ہے جہنم کے قید خانے کی تاب اس میں نہیں۔
حضور ﷺ کی بشریت کے منکرین کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا بھائی لوگو آپ کے کبوتروں کی بھی نسل ہو اور بٹیروں کی بھی.......لیکن ایک ہم سید ایسے ہیں کہ جن کی نسل نہیں حضور ﷺ کو تم بشر نہیں مانتے ہو تو پھر ہم کس کی اولاد ہوئے؟
...................O...................
حضرت امیر شریعت سید عطا اللہ شاہ بخاریؒ
پہاڑ گنج دہلی کے قریب پنجکوئیاں روڈ پر عہد عالمگیری کے ایک عظیم بزرگ حضرت سید حسن رسول نماؒ کا مزار ہے۔ اس مزار پر عرس کے موقع پر تمام زنانے اور ہیجڑے بھی جمع ہوتے تھے اور اس کے بارے میں یہ حکایت مشہور تھی کہ ایک روز دہلی کے زنانوں نے سید حسن صاحب کے ساتھ دل لگی کرنے کا پروگرام بنایا اور ایک مسہری پر زندہ ہیجڑے کو لٹا کر مردے کی طرح ان کے پاس لے گئے اور کہا کہ اس کی نماز جنازہ پڑھا دو سید صاحب نے کہا کہ مردے کی نماز جنازہ پڑھاؤں یا زندہ کی؟ زنانوں نے کہا کہ مردے کی۔ سید صاحب نے اس پر جنازہ کی نماز پڑھا دی۔ زنانوں نے مسہری کے اوپر سے کپڑا ہٹایا تو دیکھا کہ وہ زنانہ واقعی مُردہ پڑا تھا۔
اس کرامت کی وجہ سے زنانے ہر عرس میں شریک ہوتے تھے اب وہ صورت نہیں رہی ایک دفعہ پہاڑ گنج میں مجلس احرار کی کانفرنس تھی۔ تقسیم سے پہلے کی بات ہے مجلس احرار کے رہنما محلہ سنگتراشاں میں ٹھہرے ہوئے تھے ان میں حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ بھی تھے۔ حضرت شاہ جی کے ایک عقیدت مند حافظ عبدالعزیز صاحب نے کہا۔ شاہ جی ہمارے قریب اتنے بڑے بزرگ کا مزار ہے اور ان کے عرس میں زنانے جمع ہوتے ہیں اور بڑی بیہودگی ہوتی ہے۔ علاقے کے نوجوان اوباش لڑکے ان سے چھیڑ خانی کرتے ہیں۔ آپ
ہمیں اجازت دیں تو ہم احرار کے رضا کاروں کے ذریعہ اس بدعت کو ختم کرادیں اور ہیجڑوں کو عرس میں نہ آنے دیں۔ شاہ جی کو رات کی تقریر کا ایک دلچسپ موضوع مل گیا بولے اچھا حافظ صاحب آپ مجھے رات کو تقریر سے پہلے اشارہ کر کے یاد دلا دینا۔
رات کو حضرت شاہ جیؒ کی تقریر جب شروع ہوئی تو شرارتی قسم کے مسلم لیگی بھی جلسہ خراب کرنے کے لیے جمع ہو گئے۔ شاہ جیؒ کو بتلادیا گیا۔ شاہ جیؒ نے تقریر شروع کی اور یہاں سے شروع کی کہ۔ ہمارے حافظ عبدالعزیز صاحب نے دہلی کے مشہور بزرگ کے مزار پر عرس کے موقع پر دلی کے مردانوں کے ساتھ دلی کے زنانوں کے جمع ہونے کی شکایت کی ہے۔ پہلے میں حافظ صاحب سے نمٹ لوں پھر دوسری باتیں کروں گا حافظ عبدالعزیز صاحب! دنیا میں تین قسم کے آدمی ہیں جنس ثقیل مرد جنس لطیف عورتیں اور جنس کثیف زنانے گویا ہیجڑے اس جنس کثیف سے عالمگیر بادشاہ بھی بہت تنگ تھا۔
اُس نے ایک دفعہ حکم دیا کہ دلی سے تمام ہیجڑوں کو نکال دیا جائے ہو سکتا ہے عالمگیر کو یہ اطلاع ملی ہو کہ دہلی کے زنانے سید صاحب کو پریشان کرتے ہیں۔ صبح کو جب عالمگیر قلعہ سے باہر نکلا تو دیکھا کہ شہر کے تمام زنانے قطار باندھے ایک دوسرے کے پیچھے کھڑے ہیں۔ عالمگیر نے آدمی بھیجا کہ یہ کیا حرکت ہے؟ زنانوں نے جواب دیا ...... حضور بادشاہ سلامت کا حکم یہ ہے کہ دلی سے نکل جاؤ۔ ہم کہاں جائیں سارے ملک میں بادشاہ سلامت کی حکومت ہے اس لیے ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ جہاں سے نکلے ہیں وہیں داخل ہو جائیں۔ عالمگیر کو ہنسی آ گئی اور ہیجڑوں کو وہاں سے بھگا دیا گیا۔ یہ حافظ عبدالعزیز کہتے ہیں کہ ان زنانوں کو درگاہ پر آنے سے روکا جائے۔ میں ان سے کہتا ہوں کہ یہ تو کھلے ہیجڑے گویا زنانے ہیں۔ اور یہ ہمارے نوجوان زنانوں کی صورتیں بنا کر زنانے کپڑے پہن کر بازاروں میں نکلتے ہیں ان کا کیا علاج سوچا ہے؟ جن کو خدا نے جنس ثقیل بنایا ہو ڈاڑھی مونچھیں دی ہوں، چوڑا، چکلا سینہ دیا ہو بھاری بھر کم کڑاکے دار آواز دی ہو۔
یہ کہتے ہوئے شاہ جی نے اپنی مونچھوں پر تاؤ دیا پھر ڈاڑھی پر ہاتھ پھیرا پھر کندھے پر احرار کی نشانی کلہاڑی رکھی اور اپنا چوڑا چکلا سینہ اُبھارا اور فرمایا یہ جنس ثقیل اگر جنس کثیف بننے لگے تو پھر اس پر میرے نانا جان حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی پھٹکار پڑے پھر حدیث پاک سنائی لَعَنَ اللّٰہُ المتشبھین و المتشبھات خدا کی پھٹکار ہو ان مردوں پر جو عورتوں کی مشابہت کرتے ہیں
شاہ جی جیسا قادر ال دکھائے اور سامعین پر بے خودی
شاہ جی نے موضوع اُن مسلم لیگی نوجوانوں پر پڑھی آہستہ آہستہ یہ لوگ کھسک گئے سے مولانا کی نوک جھونک ہوتی رہے تھے تو مولانا احمد سعید نے
وقت پیری شباب آ نے اپنے بالوں کو جھٹکا دیا اور
مت سننا دل کے دکا
میرے عزیز محمد طا حضرت شاہ جیؒ کے واقعہ کے کے اخلاص اور جن کی روحا جتنا تعارف ہو سکے اچھا ہے کرلیں حضرت سید عطاء اللہ ہوا کرتے تھے بخار اللہ شاہ آ جو چاندی ہوئی ہے بے و موٹریں دروازوں پر کھڑی کویت کے سرہانے رکھے
شاہ جی کی پیر جماعتی اثرات بھی تھے اور سے مکان میں گزار دی
جو عورتوں کی مشابہت کرتے ہیں اور ان عورتوں پر جو مردوں کی مشابہت کرتی ہیں۔
شاہ جی جیسا قادر الکلام اور بذلہ سنج بے بدل خطیب کسی مسئلہ پر خطابت کا زور دکھائے اور سامعین پر بے خودی طاری نہ ہو؟
شاہ جی نے موضوع کی مناسبت سے ڈاڑھی منڈوں کا جو مذاق اڑایا تو اس کی زد اُن مسلم لیگی نوجوانوں پر پڑی جو جلسہ میں گڑ بڑ کرنے آئے تھے یہ طنز سُن کر ایک ایک کر کے آہستہ آہستہ یہ لوگ کھسک گئے مولانا احمد سعید دہلویؒ بھی اسٹیج پر بیٹھے ہوئے تھے اور شاہ جی سے مولانا کی نوک جھونک ہوتی رہتی تھی شاہ جی جب اپنی مونچھوں پر تاؤ دیکر اپنا سینہ ابھار رہے تھے تو مولانا احمد سعید نے اُس وقت پیچھے سے یہ شعر پڑھا۔
وقت پیری شباب کی باتیں ایسی ہیں جیسے خواب کی باتیں مولانا کے شعر پر شاہ جی نے اپنے بالوں کو جھٹکا دیا اور پیچھے مڑ کر دیکھا اور برجستہ یہ شعر پڑھا
دل کے دکھ جانے سے ناداں عرش بھی ہل جائے ہے
.....................O.....................
میرے عزیز محمد طاہر رزاق صاحب! یہاں آپ کہہ سکتے ہیں کہ میں بے جوڑ باتیں حضرت شاہ جیؒ کے واقعہ کے ساتھ لکھ رہا ہوں لیکن کیا کروں میں چاہتا ہوں کہ جن بزرگوں کے اخلاص اور جن کی روحانیت کا مسلمانوں نے پاکستان کے شوق میں اندازہ نہیں لگایا ان کا جتنا تعارف ہوسکے اچھا ہے جن لوگوں کے دلوں میں اب تک غبار ہے وہ اپنے سینہ کو صاف کرلیں حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کو مسلم لیگ کا اخبار الامان اور وحدت جو دلی سے شائع ہوا کرتے تھے بخار اللہ شاہ لکھا کرتے تھے پاکستان بننے کے بعد پاکستان کے مذہبی قائدین کی جو چاندی ہوئی ہے یہ وہ سب پر عیاں ہے علماء کرام اب کوٹھیوں اور بنگلوں میں ہیں۔ موٹریں دروازوں پر کھڑی ہیں۔ ہوائی جہاز کے ٹکٹ امریکہ کے لندن کے سعودی عربیہ اور کویت کے سرہانے رکھے رہتے ہیں۔
شاہ جی کی پیری مریدی کا دائرہ بھی پنجاب میں وسیع تھا اور پھر مجلس احرار کے جماعتی اثرات بھی تھے اور اب بھی ہیں لیکن اس مرد درویش نے ساری زندگی ایک چھوٹے سے مکان میں گزار دی میرے عزیز کوئی لکھے نہ لکھے لیکن میں اس لیے مجبور ہوں کہ ایک
کارکن کی حیثیت سے ان کے ساتھ برس ہا برس میں نے گزار دیے۔
............ O ............
رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ کو ہم سے جدا ہوئے 43 برس بیت چکے ہیں۔ لیکن دہلی کی سرزمین ہمیشہ گواہی دیتی رہے گی کہ میرے دامن پر ہنوز ایک ایسا انسان آرام کر رہا ہے جس نے انگریزی سامراج سے ٹکرا کر اپنا سر نہیں پھوڑا بلکہ تاریخ عالم سے سلطنت برطانیہ کے نشان تک مٹا دیئے۔ جب وہ گرج کر برستے تو باطل کی صفوں میں انتشار پھیل جاتا۔ جب وہ احکام شرعیہ پر اپنا فیصلہ دیتے تو یوں معلوم ہوتا جیسے عمر فاروقؓ ہیں کہ دین سے انحراف کرنے والوں کو تنبیہہ کر رہے ہیں ان کی پیشانی کی شکنوں سے برطانوی سامراج پر سینکڑوں شکن پڑ جاتے اور جب وہ مسکراتے تو سنت نبوی ﷺ کی روشن قندیلیں چمک اٹھتیں۔
یہ تھے مولانا حبیب الرحمن ان سے میری پہلی ملاقات 1939ء میں جالندھر کے ایک گاؤں نکودر میں ہوئی۔ میرا وہ دور طالب علمی کا تھا یہاں ان دنوں مدرسہ عربیہ کا سالانہ جلسہ ہو رہا تھا سیاسی اعتبار سے یہ دن پاک و ہند کی آزادی کی جدوجہد کے دن تھے۔ برطانوی سامراج سے ٹکر لینے کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔ یہی ٹکر آگے چل کر نمکین ستیہ گرہ کے نام سے مشہور ہوئی۔
1940ء کے اوائل میں گجرات ڈسٹرکٹ جیل میں مجھ کو حضرت مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ کی خدمت میں 3 ماہ تک رہنے کا موقع ملا۔ انہیں قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا بھی یہ سنہری موقع تھا۔ مولانا مرحوم جس طرح باہر سے اُجلے تھے۔ ان کا اندر بھی ویسا ہی صاف ستھرا تھا۔ وہ فرقہ پرست ہندو اور مسلم کے بھی ویسے ہی دشمن تھے جتنا کہ انہیں انگریز سے بیر تھا وہ اپنے رضا کاروں سے اسی قدر محبت کرتے جس طرح ایک جرنیل کو اپنی فوج سے ہونی چاہئے۔ ان کی سادگی ان کے وقار کی طنابیں تھامے رہتی تھی۔ کسی نئے سورج کی روشنی انہیں راس نہ آئی۔ وہ ہمیشہ کہا کرتے تھے۔ میں ناخوش و بیزار ہوں مرمر کی سلوں سے میرے لیے مٹی کا حرم اور بنا دو۔
خیالات کے ہجوم سے اگر ان واقعات کا انتخاب کرنے بیٹھوں جن کے مجتمع کرنے سے تاریخ احرار اور داستان حبیب الرحمن مرتب ہو سکتی ہے تو مجھے ڈر ہے قانون مجھ سے ناراض
ہو جائے گا تاہم اُن جیسے بہادروں کو خراج عقیدت پیش نہ کرنا ان کی وفاؤں سے مذاق کرنا ہے جو ہمیشہ جفاؤں سے مذاق کرتے رہے ہیں۔
اور یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے غیر ملکی سامراج کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور پھر دار و رسن کو دعوت دی جیل خانوں کو عمر بھر آباد کیے رکھا فرنگی رائفلوں کی گولیاں دیوار بن کر ان بزرگان دین کے راستے میں حائل ہوئیں مگر ان سرفروش لوگوں کے قدم اپنی منزل کی طرف بڑھتے چلے گئے۔ ان کی موت اپنے بعد آنے والی نسلوں کے لیے سنگ میل بن کر آج بھی راستہ دکھا رہی ہے۔
میرے عزیز بیٹے طاہر رزاق صاحب! یاد رکھیں مورخ کا قلم زمانے کا دل اور اپنے پرائے مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانویؒ، امیر شریعت عطا اللہ شاہ بخاریؒ ایسے ہزاروں محبّ وطن لوگوں کو بھول سکتے ہیں۔ لیکن پروردگار اپنے بندوں کو جنہوں نے بندگی کی اپنے پروردگار کی اور حاجت روا جانا اپنے پالنہار کو ان کی گردنیں صرف اسی کے سامنے جھکیں انہوں نے قانون مانا صرف اپنے رب کا یقیناً قیامت کے دن بلند درجات کے مالک ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کے اور ہم سب کے حال پر رحم فرمائے!
جولائی 1931ء میں لاہور اسلامیہ کالج کے حبیبیہ ہال میں مجلس احرار اسلام کا پہلا اجتماع ہوا اس اجلاس کی صدارت بھی مولانا حبیب الرحمٰنؒ فرما رہے تھے اس اجلاس کے اختتام پر وہ مجلس احرار اسلام کے صدر منتخب ہوئے ان کی صدارت میں مجلس احرار اسلام نے کشمیر کی آزادی کے لیے جو خدمات انجام دیں تاریخ اُسے کبھی نظر انداز نہیں کر سکتی۔ مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانویؒ کی تاریخ ہماری جدوجہد آزادی کی پوری تاریخ ہے جس کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے پہلا حصہ ان کے بزرگوں کی تاریخ کا جو 1857ء کی پہلی جنگ آزادی سے شروع ہوتا ہے اور دوسرا وہ حصہ ہے جو مولانا کی اپنی زندگی سے تعلق رکھتا ہے اس میں 1920ء سے 1947ء تک کی تاریخ آتی ہے۔ آج مولانا مرحوم کے انتقال کے بعد جب میں پلٹ کر ماضی کی طرف دیکھتا ہوں اور اس میں مولانا کی تصویر اُن سے پہلی ملاقات اور تعلقات کی ابتداء کو تلاش کرتا ہوں اور پھر اس وقت سے اب تک کے واقعات کا جائزہ لیتا ہوں تو وہ مجھے ایک اچھی خاصی کتاب کا مواد نظر آتا ہے۔
3 ستمبر 1956ء امیر شریعت سید عطا اللہ شاہ بخاری کو جب رئیس احرار حضرت مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی کے انتقال کی خبر دی گئی تو شاہ جی دیر تک سکتے کے عالم میں رہے اور جب نامہ نگار نے شاہ صاحب سے حضرت مولانا مرحوم پر بیان دینے کو کہا تو فرمایا۔ ایک اچھے رفیق مونس و غم خوار اور سراپا ایثار ساتھی کی جدائی نے میرے سینے میں ایک اور زخم کا اضافہ کیا ہے مولانا کی وفات ملت کے لیے ایک سانحہ عظیم ہے اس سانحہ عظیم پر حضرت امیر شریعت دن بھر سوگوار رہے اور مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی کے ساتھ اپنی دیرینہ رفاقت اور مختلف مراحل کا بار بار ذکر کرتے رہے۔
یادداشت۔ محمد شریف احرار
................O................
میرے عزیز محمد طاہر رزاق صاحب! مجلس احرار اسلام کے بڑے بڑے جلسوں اور عظیم الشان کانفرنسوں کے زندہ و جاوید کارنامے اور جھلکیاں ہیں جن کو دیدہ دانستہ طور پر تاریخ کے صفحات سے اوجھل کر دیا ہے میرے کانوں میں حضرت سید بخاریؒ کے الفاظ ابھی تک گونج رہے ہیں کہ ہم نے مجلس احرار اسلام کی بنیاد قربانی پر رکھی ہے مسلم لیگ والو! اگر یوسف علیہ السلام جیسا نبی اپنی عصمت کو بچانے کے لیے جیل میں جانے پر مجبور ہو سکتا ہے تو اور کون ہے جو کہہ سکے کہ میں آزادی حاصل کرنے کی راہ پر بھی چلوں اور قید بھی نہیں ہوں گا۔ محمد طاہر رزاق صاحب تقسیم کے پس منظر میں بڑے بھیانک خطرناک راز پوشیدہ ہیں میں یہاں مجبور ہوں۔
رانچی کانفرنس کی رات کی پہلی نشست میں مجھ کو پون گھنٹہ تقریر کا وقت دیا گیا جس میں انگریزی فوج میں بھرتی ہونا اور قسم پریڈ کے موقع پر حلف اٹھانا کہ اگر کسی اسلامی ملک پر بھی مجھ کو گولی چلانے کا حکم دیا گیا تو عمل کروں گا چاہے مکہ مدینہ اور بغداد کیوں نہ ہو ایسے لوگوں کو میں نے شمر ابن زیاد یزید و فرعون کی نسل قرار دیا اگر ایسے لوگوں نے تجدید ایمان نہیں کی تو یہ کفر پر مرے ہیں۔ تاریخ بیان کرتے ہوئے میں نے کہا شیر اسلام حضرت سلطان ٹیپو رحمۃ اللہ علیہ کے نام پر کئی میموں کے حمل گر جاتے تھے اس کانفرنس کے خاتمہ کے بعد بڑے پیمانے پر احراریوں کی گرفتاریاں ہوئیں اور حضرت شاہ جی بھی گرفتار کر لیے گئے مجھ کو سی پی
کے مشہور شہر چھندواڑہ کی جامع مسجد کے خطیب مولانا محمد سلیم صاحب کی قیام گاہ سے گرفتار کر کے گیا جی شہر کی جیل میں پابند سلاسل کر دیا گیا۔ یہ بدھ مذہب کا بہت قدیمی شہر ہے جگہ جگہ گوتم بدھ کے مجسمے بنے ہوئے ہیں۔ اس شہر میں آٹے میں نمک کے برابر مسلمان ہیں۔ کلکتہ یہاں سے 90 میل ہے آپ حیران ہوں گے جیل کے تمام قیدیوں میں مسلمان قیدی مجھ سے پہلے کوئی نہ تھا کھانے پکانے والے تمام ہندو مرہٹے قیدی تھے۔
1940ء غالباً ماہ فروری یا مارچ کے یہ ایام ہوں گے۔ مجھ کو گیا جی کی اس جیل میں پولیس کی معیت میں دس بجے شب لایا گیا۔ جیل کی ڈیوڑھی میں داخل ہوتے ہی جیل کے عملے نے میری جامہ تلاشی لی دیگر ضروری کاروائی کے بعد مجھ کو ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل کے سامنے پیش کیا گیا۔ اُس کے حکم سے سات نمبر ڈویژن میں جب مجھ کو لے جایا گیا تو میں نے دیکھا کہ جیل کے اس احاطہ میں کوئی روشنی نہیں میرے دریافت کرنے پر جیل کے واڈرن نے کہا فکر نہ کریں روشنی کا انتظام ہو جائے گا ویسے میں نے جیل کی ڈیوڑھی گویا جیل کے بڑے پھاٹک سے داخل ہوتے ہی محسوس کر لیا تھا کہ یہ تو سارا اسٹاف ہی ہندوؤں کا معلوم ہوتا ہے۔ میرے مزید پوچھنے پر اُنہوں نے کہا کہ اس جیل میں داروغہ جیل سے لے کر پورا اسٹاف غیر مسلم ہندوؤں کا ہے ان میں کوئی مسلمان نہیں ہے اور جیل میں تمام قیدی بھی غیر مسلم ہیں اور سوائے آپ کے اس وقت کوئی سیاسی قیدی بھی نہیں ہے۔ سب اخلاقی قیدی ہیں۔ بہرحال سات نمبر ڈویژن کے ایک اندھیرے گھپ کمرے میں بند کر دیا گیا۔ ایک دری اور دو کمبل مجھ کو دیے گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد تانبے کے کٹورے میں دال اور لوہے کی پلیٹ میں روٹی لے کر جب وہ میرے پاس آئے تو میں نے روٹی لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ میں مسلمان ہوں لہٰذا غیر مسلم کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا نہیں کھاؤں گا۔ جیل کے ڈیوٹی پر وارڈنوں نے کہا کہ آپ کو یہی کھانا کھانا پڑے گا۔ آپ اکیلے کے لیے الگ انتظام مشکل ہو گا بہر حال میں نے کہا جو کچھ بھی ہو میں سب کچھ برداشت کر لوں گا مگر کھانا ہندو کے ہاتھ کا پکا ہوا نہیں کھاؤں گا۔ اُنہوں نے جیلر کو جا کر میرے کھانا نہ کھانے کی رپورٹ دے دی جس پر ڈیوٹی آفیسر جیلر پہنچ گیا۔ بڑی نرمی اور محبت سے مجھ کو کھانا کھانے پر مجبور کرتا رہا اور جیل کے اسٹاف کی مجبوریاں پر مجھ کو درس دیتا رہا لیکن میری ایک ہی بات تھی کہ میں مسلمان ہوں غیر مسلم کے ہاتھ کا کھانا نہیں کھاؤں گا اس پر اُس نے مجھ کو اپنے رُعب سے جھکانا چاہا۔ چونکہ میں ایک سیاسی قیدی تھا
اس کی پریشانی میں اضافہ بھی لازمی امر تھا بہرحال تھوڑی دیر کے بعد ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل پھر داروغہ جیل گویا سپرنٹنڈنٹ جیل شری رام نرائن بھی آ پہنچے۔ پہلے نرمی اور محبت اور بڑے پیار سے باتیں کرتے رہے لیکن جب وہ میرے صبر و استقامت کے آگے بے بس ہو گئے تو پھر اُنہوں نے اپنے افسرانہ گھمنڈ میں دھمکیاں دینا شروع کر دیں کہ یاد رکھو اگر تم نے کھانے سے انکار کیا اپنی ضد نہ چھوڑی تو ہم قیدی نمبر داروں سے تم پر جوتے برسائیں گے۔
اُن کی ان باتوں پر میں بھی مشتعل ہو گیا اور اپنے آپ کو اپنے رب کے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ میں یہاں پر آپ کے قبضے میں اپنے وطن سے ہزار میل دور ایک قیدی مسافر ہوں۔ تم یہاں اس جیل میں مجھ کو جلادوں سے بیشک پٹوا سکتے ہو میری لاش کو جیل میں گمنام بھی کر سکتے ہو لیکن میرے دل اور سینے سے میرا عقیدہ اور ایمان تم نہیں چھین سکتے۔ اس پر وہ افسران جیل نادم ہو کر واپس چلے گئے۔ پانچ یوم تک بھوک اور پیاس کی شدت کو برداشت کرتے ہوئے گیا جی جیل کے شب و روز سے میں کس طرح گذر رہا تھا اس کو میں لفظوں میں تحریر نہیں کر سکتا پھر میں کوئی قد آور یا طاقتور جسیم آدمی بھی نہ تھا بالکل سنگل پسلی کا 5 فٹ ڈھائی انچ کا پتلا دبلا سا شریف احرار لیکن جو ایمانی اور روحانی رقت مجھ پر پانچ یوم تک طاری رہی اُس کا ذائقہ مجھ کو انشاء اللہ قبر کی آغوش میں بھی محسوس ہوتا رہے گا اگر میرے جیسے گنہگار سیہ کار انسان کو اللہ نے بخشا ہے تو نماز ، روزہ اور تسبیحات پر نہیں بلکہ ایسے حالات و کوائف پر ہی کچھ بخشش کی اُمید لگائے بیٹھا ہوں۔ بہرحال پانچ یوم گذر چکنے کے بعد جیل خانہ کے ڈائریکٹر جنرل مسٹر ایمری جیل کے اسٹاف کے ہمراہ میرے ہاں آ گئے اور کہا کہ ہم نے تمہارے لیے جیل کے باہر ایک مسلمان ہوٹل سے کھانے اور ناشتے کا انتظام کر دیا ہے۔ تم فکر نہ کرو۔ جب تک تم جیل میں نظر بند ہو تمہارا کھانا پکا کر مسلمان ہوٹل والا خود لایا کرے گا یوں میں گیا جی جیل میں موت کے بالکل قریب ہو کر واپس لوٹا۔ اب ہوٹل والے کی بات بھی ضرور سنیں۔ جب ہوٹل کے مالک عبدالرحمن بنگالی کے سامنے میرے حالات و کوائف آئے اور میری بھوک ہڑتال کا واقعہ جب اُس نے سنا تو اُس نے عقیدت و محبت اور پرخلوص مہمان نوازی اور اسلامی اخوت کا جو لازوال نقش میری اسیری کے دوران قائم کر دیا میری زندگی کا وہ بھی اثاثہ حیات بن چکا ہے۔ صبح کا ناشتہ انڈوں اور پراٹھوں کا اور معلوم نہیں کیا کچھ ہوتا تھا۔ دوپہر کبھی مرغی کا گوشت کبھی بکرے کا۔ اس طرح مغرب کو یا رات کا کھانا میرے منع کرنے پر
وہ ناراض ہوتا اور کہتا مجھ کو جنت لوٹنے دو۔ وہ چاند پور بنگال کا رہنے والا تھا قرآن پاک کا حافظ تھا۔ سارا گھرانہ ہی دین داروں کا تھا جب میں چار ماہ کی نظر بندی سے رہا ہوا تو دو یوم اُس نے جبراً مجھے اپنے ہاں مہمان رکھا کافی عرصہ تک میری اُس کے ساتھ خط و کتابت رہی کچھ تحفے تحائف دے کر مجھ کو اُس نے رخصت کیا۔ جب میں دہلی مجلس احرار اسلام کے دفتر میں پہنچا تو ماسٹر تاج الدین انصاری صاحب شیخ حسام الدین صاحب مرحوم اور حضرت شاہ جیؒ بیٹھے ہوئے تھے بغل گیر ہوئے، پیار کیا، فرمانے لگے برخوردار جیل سے آئے ہو۔ میں نے کہا ہاں جی مسکرا کر فرمایا کہ ہم بھی تو جیلوں سے آئے ہیں تم تو ایسے لگتے ہو جیسے سسرال سے آ رہے ہو میں نے کہا جی جیل کے سارے واقعات و کوائف گوش گزار کیے بڑے خوش ہوئے فرمانے لگے۔
.................O.................
لاہور ہائی کورٹ میں امیر شریعت کی للکار
ناموس رسول اللہ ﷺ کی خاطر قربانی کا بے پناہ جذبہ
قادیان کانفرنس کے خطبہ کی بنا پر جس دفعہ 153 کے ماتحت مجھے گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کی سزا زیادہ سے زیادہ صرف دو سال ہے۔ میرا جرم یہ ہے کہ میں محمد رسول اللہ ﷺ کا خادم ہوں۔ اس جرم میں یہ سزا بالکل کم ہے میں رسول اللہ ﷺ کے ناموس پر ایسی ہزار جانیں قربان کرنے کے لیے تیار ہوں۔ مجھے شیروں چیتوں سے ٹکڑے ٹکڑے کرا دیا جائے اور پھر کہا جائے کہ تجھے بجرم عشق محمد ﷺ تکلیفیں دی جا رہی ہیں تو میں خندہ پیشانی سے اس سزا کو قبول کروں گا۔ میرا آٹھ سالہ بچہ عطاء المنعم اور اس جیسے خدا کی قسم ہزار بچے رسول اللہ ﷺ کی کفش پر سے نچھاور کر دوں جب حضرت شاہ جیؒ عدالت سے باہر نکلے تو آپ کے دونوں ہاتھوں میں ہتھ کڑیاں لگی ہوئی تھیں لاتعداد احرار رضا کار لاہور ہائی کورٹ کے احاطہ میں موجود تھے پولیس کی کافی تعداد موجود تھی۔ حضرت امیر شریعت کو اس حالت میں دیکھ کر میں
نے لعنت بر پدر فرنگ کا نعرہ لگا دیا۔ بس پھر کیا تھا سب انسپکٹر پولیس خان قربان علی خان نے بید کے ساتھ میری وہ پٹائی کی کہ بس توبہ ہی بھلی لاہور لنڈا بازار میں واقع پرانی کوتوالی کے عقوبت خانے میں بند کر کے اس قدر مارا کہ میں بیہوش ہو چکا تھا ایک ہفتہ کے بعد میاں قمر الدین رئیس اچھرہ مجھ کو ضمانت پر رہا کرا کر اپنے گھر لے گئے میرے زخموں کا علاج کراتے رہے یہ ظالم اور درندہ صفت خان قربان علی خان وہ ہے جو پاکستان میں صوبہ پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس کے عہدہ سے ریٹائرڈ ہو چکا ہے۔
.........................O.........................
مقدمہ بہاولپور کے موقع پر حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری پر قادیانی وکیل نے سوال کیا کہ شاہ صاحب ہمارا بھی ایمان اس قرآن پر ہے جس میں یہ لکھا ہے ومن اظلم ممن منع مساجد الله ان یذکر فیه اسمه اس کے جواب میں فوراً حضرت انور شاہ صاحب نے فرمایا کہ ہمارا بھی اسی قرآن پر ایمان ہے جس میں یہ ہے ومن اظلم ممن افتریٰ علی الله کذباً او قال اوحی الی ولم یوح الیه شئی یہ سُن کر وہ ایسا ساکت ہوا کہ کوئی جواب نہ دے سکا۔ اسی موقع پر حضرت مولانا انور شاہ کشمیریؒ نے جج کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ مرزا قادیانی کہتا ہے کہ حضورﷺ کو مسیح ابن مریم کی حقیقت معلوم نہ تھی لہٰذا یہ حقیقت مجھ پر کھلی پس میں مسیح ابن مریم ہوں تو معلوم ہوا کہ دجال کی حقیقت بھی مرزا قادیانی پر کھلی لہٰذا مرزا جی دجال بھی ہیں اس پر کرسی پر بیٹھا ہوا جج خوشی سے اُچھل پڑا۔ انشاء اللہ اس ضمن میں آئندہ خط میں حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیر رحمۃ اللہ علیہ کے دلائل اور آپ کی شخصیت کے متعلق دلچسپ واقعات تحریری گذارش کروں گا۔ اگر میرے خط کو کچھ دیر ہو جائے تو آپ محسوس کر لیں کہ باباجی کی طبیعت زیادہ علیل ہو گی معمولی علالت کو میں نے کبھی محسوس نہیں کیا۔
.........................O.........................
مقدمہ بہاولپور 1932
حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کے ایک مضمون سے قادیانی وکیل
کا استدلال اور حضرت مولانا محمد انور شاہؒ کی طرف سے جواب
قادیانی وکیل نے کہا کہ تحذیر الناس میں مولانا محمد قاسم نانوتوی صاحبؒ نے بھی خاتم النبیین کے بعد نبی کا آنا تجویز کیا ہے اس پر شاہ صاحب نے فرمایا۔ حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے الہامی مضمون میں آنحضرت ﷺ کے خاتم النبیین ہونے پر بہت قوی دلائل و براہین قائم کیے ہیں اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی گرانقدر علمی توجیہات بیان فرمائی ہیں اس رسالہ میں حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ نے جا بجا نبی کریم ﷺ کا خاتم النبیین ہونا اور اس کا اجماعی عقیدہ ہونا اور مضمون ختم نبوت کا بدرجہ تواتر منقول ہونا اور اس کے منکر کا کافر ہونا ثابت فرمایا ہے پھر حضرت مولانا محمد انور شاہ صاحبؒ نے جج صاحب کو تحذیر الناس کے صفحہ 10 کی عبارت پڑھ کر سنائی۔ اور فرمایا کہ حضرت مولانا نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب مناظرہ عجیبہ جو اس موضوع پر ہے نیز آب حیات قاسم العلوم وغیرہ دیکھیں۔
حضرت مولانا نانوتویؒ نے حضور ﷺ کے لیے ایک دو نہیں بلکہ تین قسم کی خاتمیت ثابت فرمائی ہے۔ (١) بالذات یعنی مرتبہ حضور ﷺ کا خاتمیت ذاتی کا ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ وصف نبوت کے ساتھ موصوف بالذات ہیں اور دوسرے سب انبیاء کرام علیہم السلام موصوف بالعرض اور آپؐ کے واسطے سے جیسا کہ عالم اسباب میں موصوف بالنور بالذات آفتاب ہے اور اس کے ذریعہ سے تمام کواکب قمر وغیرہ اور دیگر اشیاء ارضیہ متصف بالنور ہوتی ہیں یہی حال وصف نبوت کا ہے حضور ﷺ کو اسی وجہ سے سب سے پہلے نبوت ملی اور آیت وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ النَّبِیّٖنَ سے واضح ہے کہ نبی کریم ﷺ جیسا کہ اس کے رسول ہیں نبی الانبیاء بھی ہیں۔ تمام انبیاء کی جماعت کو ایک طرف رکھا گیا اور نبی کریم ﷺ کو ایک طرف اور سب سے حضور ﷺ پر ایمان لانے اور مدد کرنے کا عہد و پیمان لیا گیا اور آیت میں ثُمَّ جَآءَکُمْ فرما کر یہ بھی تصریح کر دی گئی کہ حضور ﷺ کا زمانہ ظہور سب سے آخر ہوگا۔ (٢) خاتمیت زمانی
یعنی آپ کا زمانہ نبوت اس عالم مشاہدہ میں تمام انبیاء علیہم السلام کے آخر میں ہے آپ کے بعد کسی کو نبوت تفویض نہ ہوگی۔ ساتویں جلد روح المعانی میں حضرت ابی بن کعبؓ سے مرفوعاً مروی ہے۔ بُدِئَ بِیَ الخلقُ و کُنتُ آخِرَھم فِی البعثِ. مجھ سے پیدائش مخلوق کی ابتدا کی گئی لیکن میری بعثت سب سے آخر میں ہوگی۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے مرفوعاً مروی ہے کُنتُ اَولَ النبیینَ فِی الخَلقِ و آخِرَھم فِی البعث میری پیدائش تمام انبیاء سے پہلے ہوئی اور بعثت سب کے بعد ہوگی۔ حضرت مولانا نانوتویؒ نے تیسری خاتمیت مکانیہ ثابت فرمائی ہے یعنی وہ زمین جس میں نبی کریم ﷺ جلوہ افروز ہوئے وہ تمام زمینوں میں بالا تر ہے اور آخری ہے اور اُس کے اوپر کوئی زمین نہیں اس کو بدلائل ثابت فرمایا۔ قادیانی وکیل نے کہا کہ امام مالکؒ سے منقول ہے کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کی موت کے قائل ہیں۔ حضرت شاہ صاحبؒ نے اُسی وقت اُبی کی شرح مسلم منگوا کر جلد اوّل صفحہ ٢٢٦ مطبوعہ مصر سے عبارت وفی العتبیۃ قال مالک بینما الناس قیام پڑھ کر سنائی عتبیہ میں ہے کہ امام مالکؒ نے فرمایا درآنحالیکہ لوگ کھڑے نماز کی اقامت سن رہے ہوں گے اچانک ان کو ایک بادل ڈھانپ لے گا اور یکا یک حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے غرض یہ کہ امام مالکؒ کا بھی وہی عقیدہ ہے جو ساری امت محمدیہ کا اجماعی اور متواتر عقیدہ ہے۔
قادیانی وکیل نے اعتراض کیا کہ علماء بریلوی علمائے دیوبند پر کفر کا فتویٰ دیتے ہیں اور علمائے دیوبند علمائے بریلوی پر۔ اس پر شاہ صاحبؒ نے فرمایا میں بطور وکیل تمام جماعت دیوبند کی جانب سے گذارش کرتا ہوں کہ حضرات دیوبند ان کی تکفیر نہیں کرتے اہلسنت والجماعت اور مرزائی مذہب والوں میں قانون کا اختلاف ہے اور علماء دیوبند و علماء بریلی میں واقعات کا اختلاف ہے قانون کا نہیں۔ چنانچہ فقہا حنفیہ رحمہم اللہ نے تصریح کی ہے کہ اگر کوئی مسلمان کسی شبہ کی بنا پر کلمہ کفر کہتا ہے تو اس کی تکفیر نہ کی جائے گی دیکھو ردالمختار ، بحرالرائق وغیرہ۔ قادیانی وکیل نے سوال کیا کہ اجماع نزولِ عیسیٰ پر ہے یا حیات پر؟ حضرت شاہ صاحبؒ نے جواب دیا کہ حیات ونزول کا ایک ہی مسئلہ ہے چنانچہ حافظ ابن حجرؒ کی تلخیص الحبیر میں ہے کہ اس پر اجماع ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں پھر حضرت شاہ صاحبؒ نے فرمایا ہمارے پاس احادیث موجود ہیں۔ جن سے حیات ثابت ہوتی ہے جبکہ
نزول عیسیٰ علیہ السلام کی احادیث تو متواتر ہیں۔ نوٹ:۔ حضرت مولانا انور شاہ صاحب کشمیریؒ کا اس بارے میں رسالہ التصریح بما تواتر فی نزول المسیح مع تعلیقات عالیہ مہمہ شیخ عبد الفتاح ابی غدہ عم فیوضہم بھی عرصہ دراز سے طبع ہوگیا ہے۔ (احرار)
................O................
1946ء شعبان المعظم میں حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں دورہ تفسیر قرآن مقدس پڑھنے کے لیے شیرانوالہ لاہور میں جب میں نے داخلہ لیا تو ایک دن دوران اسباق حضرت لاہوری رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت مولانا محمد انور شاہ صاحب کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کا علمی مقام بیان کرنا شروع فرما دیا۔ 1908ء کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ حضرت مولانا انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے ایک دفعہ دیوبند کی جامع مسجد میں قادیانیوں کے خلاف تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ 1908ء میں کشمیر میں میں نے خواب دیکھا کہ میرا اور مرزا غلام احمد قادیانی کا مناظرہ ہو رہا ہے اور میں اُس پر غالب رہا۔ یہ خواب کسی نے اخبارات میں شائع کرا دیا مرزا غلام احمد مناظرے کے لیے تیار ہو گیا۔ میں بھی کشمیر سے چل پڑا۔ لاہور آ کر سنا کہ مرزا قادیانی تو قادیاں سے لاہور آ کر کل ہیضے سے چل دیا۔ خیر ہم تو غالب ہی رہے۔ بہاولپور سے چلتے وقت مولانا غلام محمد صاحب گھوٹوی رحمۃ اللہ علیہ اور مولانا محمد صادق صاحبؒ جو جامع عباسیہ کے دوم مدرس تھے سے حضرت علامہ محمد انور شاہ صاحب کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ جب مقدمہ کا فیصلہ ہمارے حق میں ہو جائے تو میری قبر پر آ کر آواز دے کر سنانا حضرت شاہ صاحب کے وصال کے کئی ماہ بعد مقدمہ کا فیصلہ مسلمانوں کے حق میں ہوا تو مولانا محمد صادق صاحبؒ نے حضرت شاہ صاحبؒ کی وصیت کو پورا کرنے کے لیے دیوبند کا سفر کیا اور آپ کی قبر مبارک پر روتے ہوئے آواز دی اور فیصلہ اونچی آواز میں پڑھ کر سنایا۔ مولانا محمد صادق صاحب کو حضرت شاہ صاحب سے بڑی محبت اور عقیدت تھی۔
................O................
شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت العلامہ مولانا محمد انور شاہ صاحب کشمیریؒ رحمۃ اللہ علیہ کی وفات پر دیوبند میں تعزیتی جلسہ میں
فرمایا تھا کہ میں ایسے حضرات کو بھی جانتا ہوں جن کو ایک لاکھ حدیثیں یاد ہیں ایسے حضرات کو بھی جانتا ہوں جن کو صحیحین حفظ تھیں لیکن ایک ایسا عالم دین کہ کتب خانے کا کتب خانہ ہی سینہ میں محفوظ ہو، سوائے حضرت مولانا انور شاہ صاحب کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کے اور کوئی نہیں دیکھا۔ علامہ زاہد کوثری حضرت شاہ صاحب کی بڑی تعریف فرمایا کرتے تھے عقیدۃ الاسلام جدید ایڈیشن میں حضرت مولانا محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ کا مقدمہ دیکھنا چاہئے۔ علامہ محمد زاہد کوثری عبارتوں پر عبارتیں نقل کرتے چلے گئے ہیں۔ حضرت العلامہ انور شاہ صاحب کی عقیدۃ الاسلام اور التصریح تواتر فی نزول المسیح یہ دونوں کتابیں علامہ محمد زاہد کوثری تعویز کی طرح اپنے پاس رکھتے تھے یہ حضرت بڑے صاحب کمال حافظ حدیث والفقہ قسطنطنیہ میں ایک بڑے عہدہ پر فائز تھے پھر مصطفیٰ کمال پاشا سے اختلاف کے باعث مصر تشریف لے آئے بڑی نادر تحقیق کتب کے مصنف ہیں حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ کو علامہ البحر المحر کے الفاظ سے یاد کرتے تھے۔
......................O......................
1973ء دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی قیام کے دوران ڈاکٹر وقار احمد قادیانی ڈیفنس سوسائٹی کے ساتھ اپنے مناظرے کی روئیداد حضرت مولانا محمد یوسف صاحب بنوری رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں گذارش کرتے ہوئے عرض کیا کہ حضرت توفی حیات کے ساتھ جمع بھی تو ہوسکتی ہے؟ فرمایا ہاں الله يتوفى الانفس حين موتها والتی لم تمت فی منامها اس میں یہ ہے کہ توفی ہو رہی ہے موت واقع نہیں ہوئی جیسے نیند میں توفی ہوئی ہے سوئے آدمی کو مردہ کوئی نہیں کہتا ھوالذی یتوفکم باللیل پھر میں نے قصہ سنایا کہ مرزائی ڈاکٹر وقار احمد کے ساتھ حیات عیسیٰ علیہ السلام پر بحث کرتے ہوئے میں نے دریافت کیا کہ کیا تمہارا رات کے وقت جنازہ نکل جاتا ہے بچے یتیم ہوجاتے ہیں عورت تمہاری بیوہ ہوجاتی ہے اس پر حضرت مولانا محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ بہت خوش ہوئے اور تبسم فرماتے رہے۔ اور میری کمر پر اپنا ہاتھ پھیرتے رہے اللہ تعالیٰ اُن کی قبر پر کروڑ ہا رحمتوں کا نزول فرمائے۔ کیا عظیم لوگ تھے۔
زندگی کا سفر دلچسپ ضرور ہے لیکن اس سفر کی بعض
یادیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں انسان فراموش کرنا بھی
چاہے تو نہیں کرسکتا
1927ء کے سائمن کمیشن کی آمد کا شور سارے برصغیر میں برپا ہو چکا تھا انگریز حکمرانوں نے مسلمانوں پر جو مظالم ڈھائے تھے اور انہیں پس ماندہ قوم بنانے کے سلسلے میں جو ہتھکنڈے استعمال کیے تھے۔ اُنکی وجہ سے مسلمان عوام کی اکثریت سائمن کمشن سے بائیکاٹ کرچکی تھی اور ابنائے وطن سے تعاون کررہی تھی۔ قادیانی فرقے کا سربراہ سائمن کمشن کے حق میں تھا جب کہ مسلم کانفرنس والے بھی سائمن کمشن سے تعاون کررہے تھے مجلس احرار اسلام سائمن کمیشن کے مقاطعہ کے حق میں پیش پیش تھی۔ اُس وقت میری عمر 21 برس کی تھی اور میں درس نظامی کی موقوف علیہ تک کتابیں پڑھ چکا تھا اور مجلس احرار اسلام کے ایک پُر جوش مبلغ کی حیثیت سے بڑے بڑے جلسوں میں تقریریں کرنے کا آغاز کرچکا تھا۔ اس تحریک کے سلسلہ میں جب دہلی دروازہ کے باغ میں مجلس احرار اسلام کا ایک عظیم الشان جلسہ ہوا اس میں کم و بیش ایک لاکھ انسان جمع تھے سٹیج پر حضرت امیر شریعت، حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب لدھیانوی، شیخ حسام الدین صاحب، غازی عبدالرحمن صاحب، ماسٹر تاج الدین انصاری، قاضی احسان احمد شجاع آبادی اور مولانا محمد علی جالندھری بیٹھے ہوئے تھے۔ مولانا عبدالرحمن صاحب نکودری کو قرار داد پیش کرنا تھی اور مجھے اور چوہدری عبدالعزیز صاحب بیگووالیہ کو اس کی تائید میں بیان کرنے کا حکم حضرت امیر شریعت نے دیا۔
بہر حال ایک لاکھ کے اجتماع میں جب چوہدری عبدالعزیز صاحب بیگووالیہ کے بعد حضرت امیر شریعت نے مجھ کو قرار داد کی تائید میں تقریر کرنے کا حکم دیا تو میں گھبرا رہا تھا کیونکہ ملک کے عظیم زعماء اور نابغہ روزگار خطیبوں کی موجودگی میں مجھ ایسے نوجوان کا تقریر کرنا کارِ دارد تھا لیکن حضرت امیر شریعت نے میرے چہرہ پر گھبراہٹ کے آثار دیکھ کر فرمایا گھبرانے کی کوئی بات نہیں میرے بیٹے بے دھڑک ہو کر تقریر کرو سمجھو کہ تمہارے سامنے پودے
جھاڑیاں اور درخت ہیں یا پھر سننے والے سب بیوقوف ہیں اور اُن میں ایک تم ہی قابل ہو۔ چنانچہ متعلقہ قرارداد پر تقریر کرنے کا موقع آیا تو میں نے بڑی جرات سے اسی فارمولا پر عمل کیا اور پون گھنٹہ تک انتہائی پر جوش تقریر کی۔
جس کے دوران بار بار نعرے لگتے رہے۔ جلسہ ختم ہوا تو حضرت شاہ جیؒ نے مجھے تھپکی دی اس کے بعد بڑے بڑے جلسوں میں تقریریں کیں اور مجھے کبھی خوف اور ڈر محسوس نہیں ہوا۔
.....................O.....................
انہی ایام میں ضلع جہلم کی سابق تحصیل چکوال کے علاقہ میں ایک گاؤں موہڑا تھئیل کے ملک رب نواز صاحب اور محمد خان ملک صاحب نے مرکزی دفتر مجلس احرار اسلام لاہور میں حضرت شاہ جیؒ سے ملاقات کی اور قادیانیوں کے ایک مبلغ راجہ فضل احمد کے بارے میں کہا کہ اُس کی ارتداد کی تبلیغ سے کئی ایک نوجوان مرزائی بن چکے ہیں آپ اپنے مبلغ کو ہمارے ساتھ بھیجیں تا کہ سادہ لوح مسلمانوں کے ایمان محفوظ رہ سکیں یہ وہ دور تھا جب مجلس احرار کو چاروں طرف سے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ دفتر احرار اسلام میں اتفاقاً میرے سوا اور کوئی نہیں تھا۔ حضرت شاہ جیؒ نے مجھے حکم دیا کہ تم جاؤ۔ میں نے مناظرے کی متعلقہ کتابیں لے لیں اور اُن کے ہمراہ روانہ ہو گیا۔ جب ہم موہڑہ تھئیل میں پہنچے تو جہاں اہلسنت والجماعت والوں نے میرا استقبال کیا وہاں اُس گاؤں کے شیعہ حضرات نے بھی مجھ کو خوش آمدید کہا وہاں کے ایک شیعہ اصغر علی شاہ نے مجھ کو کہا کہ قادیانی مبلغ نے مجھ کو مرزائیت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ شاہ صاحب احمدیت کو قبول کرو اسی میں نجات ہے۔ میں نے اُس کو کہا کہ میں ضرور احمدی ہو جاتا لیکن آپ کے مرزا صاحب نے اہل بیت کی توہین کی ہے تو مجھ کو مرزائیوں کے مبلغ نے جواب دیا کہ یہ مولوی بہت جھوٹ بولتے ہیں ہمارے حضرت صاحب تو اہل بیت کے خادم ہیں۔
آپ مناظرے میں اس پر بھی روشنی ڈالیں میں نے اصغر علی شاہ شیعہ کو کہا کہ آپ مناظرہ شروع ہوتے ہی یہ سوال مجھ سے کر دیں اور مرزائیوں کے مبلغ کو پابند کر دیں کہ سب سے پہلے اس کا جواب دیں۔ یاد رہے کہ اصغر علی شاہ بڑا قوی ہیکل جوان تھا بڑی بڑی مونچھیں اُس کی تھیں اور اُس گاؤں میں شیعوں کی تعداد بھی ٹھیک ٹھاک تھی۔
بہر حال نماز عشاء کے بعد مناظرے کی شرائط طے ہوئیں اجرائے نبوت، حیات عیسیٰ علیہ السلام، وقت پندرہ پندرہ منٹ مناظرے کی ابتدا کرتے ہوئے جب میں نے خطبہ مسنونہ کے بعد قرآن مجید کی آیات اور احادیث کی عربی عبارات ختم نبوت کے موضوع پر پڑھنا شروع ہی کی تھیں کہ ایک دم اصغر علی شاہ شیعہ عقیدہ رکھنے والا کھڑا ہو گیا کہنے لگا کہ ہم شیعہ اور سنی یہ سب کچھ سنتے چلے آ رہے ہیں آپ ہم کو یہ بتائیں کہ مرزا صاحب نے اہل بیت رسول ﷺ کی اپنی کن کن کتابوں میں توہین کی ہے چونکہ ان کے مبلغ راجہ فضل احمد صاحب نے مجھ کو کہا ہے کہ مولوی جھوٹ بولتے ہیں۔ اس لیے سب سے پہلے اس مسئلے کو صاف کریں بعد میں حیات حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور اجرائے نبوت کی بات ہم سنیں گے موہڑہ تھیل کے سنیوں اور شیعوں نے اس پر اتفاق کر لیا اس پر قادیانی بوکھلا گئے اور کہنے لگے کہ یہ بعد میں دیکھا جائے گا اس پر دونوں فریقوں نے مجھ کو پابند کر دیا کہ اس پر پہلے بات ہونی چاہئے۔
مرزائیوں نے کہا کہ ہم مناظرہ کرتے ہی نہیں اس پر اصغر علی شاہ نے کہا کہ اگر تم نے بھاگنے کی کوشش کی تو ہم تمہاری گردنیں اڑا دیں گے مجھ کو کہا کہ آپ بیان کریں۔
..................O..................
اہل بیت کی توہین
میں نے کہا اہل بیت رسول ﷺ کی شان میں گستاخی اور جسارت کی مرزا غلام احمد قادیانی نے انتہا کر دی ہے میں نے ایک غلطی کا ازالہ حاشیہ صفحہ 11 مصنف مرزا غلام احمد قادیانی کی جب عبارت مندرجہ ذیل پڑھی۔ ”حضرت فاطمہؓ نے کشفی حالت میں اپنی ران پر میرا سر رکھا اور مجھے دکھایا کہ میں اس میں سے ہوں“ میں یہ عبارت پڑھ ہی رہا تھا کہ چکوال کی پولیس مع انچارج تھانہ چکوال سید خادم حسین شاہ بھی پہنچ گئے اتفاق سے وہ بھی شیعہ تھا۔ میں نے کہا کہ مرزائیو! اگر یہ تمہارے مرزا کی لکھی ہوئی کتاب نہ ہو تو میں اپنی گردن کٹوانے کے لیے تیار ہوں اور برطانوی گورنمنٹ کی پولیس گواہ ہے۔
”مرزا کہتا ہے کہ میں خدا کا کشتہ ہوں لیکن تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے پس
فرق کھلا کھلا ہے۔‘‘ (اعجاز احمدی صفحہ 82)۔ میں نے کہا مرزائی زہر کا پیالہ پی لیں گے لیکن مرزا کی اس کتاب کا انکار نہیں کر سکتے اس پر شیعوں اور سنیوں نے مل کر کہا لعنت لعنت۔ ’’مرزا غلام احمد پر لعنت مرزا کی تیسری کتاب تم نے خدا کے جلال اور مجد کو بھلا دیا اور تمہارا ورد حسین ہے کیا تو انکار کرتا ہے پس یہ اسلام پر ایک مصیبت ہے کستوری کی خوشبو کے پاس (حسین) گوہ کا ڈھیر ہے‘‘ (اعجاز احمدی صفحہ 82)
اس پر تھانے کا انچارج انسپکٹر خادم حسین شاہ مشتعل ہو کر کھڑا ہو گیا سب سے پہلے اُس نے میری داڑھی کو چوما اور کہا کہ مجھے اس سے پہلے ان کے عقائد کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا بلکہ میں یہ سمجھتا تھا کہ مولوی لوگ ایسے ہی اپنی طرف سے باتیں بنا کر ان کو بدنام کرتے ہیں یہ تو ان بہن ....... اور ماں ....... کی اپنی کتابیں ہیں۔ اور پھر یہ سادہ لوح مسلمانوں کو بھی بے ایمان کر رہے ہیں اس پر ملک رب نواز اور ملک محمد خان نے تھانے دار خادم حسین شاہ کو کہا کہ انہوں نے تو ہم کو چیلنج دیا تھا کہ لاؤ کوئی مولوی جو ہمارے ساتھ بات کرے اس پر تھانیدار نے کہا کہ مولویوں نے ان سے کیا بات کرنی ہے۔ ان کی ماں کو ....... والے احراری علماء واقعی سچے ہیں۔ پولیس کے سپاہیوں کو تھانیدار نے حکم دیا کہ ان سب کو یہاں قابو کرو اور ان کی ان مسلمانوں کے سامنے دل کھول کر چھترول کرو اور پھر ان کو چکوال کی حوالات میں بند کر کے ان پر چھتروں کی بارش کرو پھر با قاعدہ ان کے خلاف ایف آئی آر کاٹی گئی۔ برطانوی گورنمنٹ کے ڈیفنس رولز گویا انڈیا ایکٹ 153 الف کے تحت ان کے خلاف مقدمہ چلا مع قادیانی مبلغ راجہ فضل احمد دس مرزائیوں کو چھ چھ ماہ کی قید بامشقت ہوئی۔ 100-100 روپیہ جرمانہ بھی۔ عزیزم محمد طاہر رزاق صاحب! میں نے من وعن جس طرح تھانیدار خادم حسین شاہ نے مع گالیوں کے ان کے ساتھ جو سلوک کیا اُسی طرح میں نے آپ کو یہ واقعہ تحریر کر دیا ہے آگے آپ ترمیم کر سکتے ہیں۔ حضرت شاہ جیؒ نے جب یہ کاروائی سُنی تو اُن کی خوشی کا عالم دیدنی تھا اور میرے حق میں عجیب انداز میں دعا مانگ رہے تھے اس پر حضرت مولانا لال حسین اخترؒ نے امیر شریعت کو کہا کہ مرزائیوں کے ساتھ جارحانہ انداز میں مناظرہ کرنے میں اور اُن کی ایسی
قلعی پھیرنے میں یہ اپنی مثال آپ ہے شاہ جی نے فرمایا کون؟ مولانا لال حسین اختر نے کہا شاہ جی یہی تاریخ احرار کچھ عرصہ کے بعد اصغر علی شاہ کا شیعیت سے توبہ کرنا اور مجلس احرار کا سالار بننا یہ بھی لکھوں گا۔
سید اصغر علی شاہ نے بھی 100 روپے مجلس احرار اسلام کی رسید کٹوائی۔ 200 روپیہ ملک رب نواز اور ملک محمد خان نے جماعتی فنڈ میں دیا ۔ 25 روپیہ تھانیدار خادم حسین شاہ نے احرار فنڈ میں دیئے ۔ شاہ جی نے اس پر کہا واہ سید بخاری واہ۔
........................o........................
1948ء میں مجلس احرار اسلام کے اکابر نے غیر سیاسی
ہونے کا فیصلہ کیا
- 1- ان اکابر مرحومین کے اسماء گرامی یہ ہیں امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری، ضیغم
احرار جناب شیخ حسام الدین امرتسری، جناب ماسٹر تاج الدین انصاری مدیر احرار لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہم اجمعین ۔
- 2- 1949ء میں مجلس احرار اسلام کے زیر اہتمام دارالمبلغین قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا
چونکہ مجلس احرار اسلام کا شعبہ تبلیغ پہلے قادیان میں تھا اور پاکستان بننے کے بعد جماعت کے اکابر بھی تقسیم ہند کی اٹھا پٹخ کا شکار ہوئے تھے۔ حالات سازگار نہ تھے۔ اپنی پونجی سنبھالنے میں دو سال لگ گئے ادھر مرزائیوں نے ربوہ میں فرنگی اور مسلم لیگ کی سرپرستی میں کئی سو بیگھہ زمین حاصل کر کے مرزائیت کا ایک بڑا مرکز قائم کر لیا تھا اس لیے بزرگوں نے رد مرزائیت کے لیے ربوہ میں یا ربوہ کے آس پاس جگہ حاصل کرنے کے لیے بہت ہاتھ پاؤں مارے مگر مرزائی نواز مسلم لیگ کی حکومت نے مجلس احرار کی ایک نہ چلنے دی تب حضرت امیر شریعت رحمۃ اللہ کی اپنی نگرانی میں ملتان میں ہی شعبہ تبلیغ کی ابتداء کی گئی۔ یوں دارالمبلغین قائم ہوا جس میں حضرت مولانا محمد حیات رحمۃ اللہ اور حضرت مولانا لال حسین اختر مجلس احرار اسلام کی نظامت میں
تعینات کیے گئے یہی بزرگ ختم نبوت، حیات عیسیٰ علیہ السلام اور رد مرزائیت کے موضوعات پر احرار کے مستند اور ماہر مناظر تھے اور انہیں ان موضوعات پر زبردست کمانڈ حاصل تھی اور ان دونوں شخصیات کو راقم پر کافی اعتماد تھا۔ انہی دنوں ڈگری ضلع تھرپارکر سندھ کے مولانا حافظ محمد شفیع صاحب مرحوم حضرت امیر شریعتؒ سے ایک وفد کے ساتھ ملتان ملاقات کے لیے آئے اور مرزائیوں کی تحریک ارتداد سے حضرت شاہ جیؒ کو آگاہ کیا اور ایک مناظر اور مبلغ مجلس احرار اسلام کی زبردست ضرورت کی گذارش کی جس پر حضرت مولانا محمد حیاتؒ اور مولانا لال حسین اخترؒ نے حضرت شاہ جی کو میرے بارے میں کہا مرزائیوں کی اسٹیٹ سندھ میں محمد شریف احرار کو روانہ کر دینا زیادہ بہتر ہوگا بہرحال حضرت امیر شریعت کے حکم سے راقم مرزائیوں کی اسٹیٹ سندھ میں آخری اسٹیشن نابلی جو کہ قادیانیوں کا مرکزی مقام تھا۔ پہنچ گیا اگلی کہانی پھر کسی موقع پر گذارش کروں گا۔ فی الحال مجلس احرار اسلام اور تحفظ ختم نبوت کا ذکر گذارش کر رہا تھا۔
ربوہ میں مرزائیوں نے مرکز بنانے کے بعد انگریز اور مسلم لیگ سے حاصل کیے گئے سرمائے کے بل بوتے پر پاکستان کے گوشے گوشے میں تبلیغ مرزائیت کا جال پھیلا دیا تو مجلس احرار اسلام نے اپنی خداداد جرأت و بہادری شجاعت و بسالت اور ہمت و سرفروشی کی روداد رقم کرتے ہوئے 1950ء تا 1952ء کے دوران مرزائیوں کے خلاف بھر پور کام کیا اور ان کے تعاقب میں سندھ اور بلوچستان کے دور و دراز علاقوں میں بھی گئے جس کے نتیجے میں 1953ء میں ختم نبوت کی تحریک چلی تحریک نے جہاں مرزائیت کی کمر توڑ دی وہاں مسلم لیگ کی حکومت بھی زیر و زبر ہو گئی جس کی پاداش میں مجلس احرار اسلام کو خلاف قانون جماعت قرار دے دیا گیا دفاتر بند اثاثہ و ریکارڈ ضبط اور اکابر احرار جیل کی کال کوٹھڑیوں میں بند ہم نے تمام عمر اس طرح گزاری ایک سال بعد احرار کے اکابر رہا ہوئے تو پھر آشیانے کے تنکے چننے لگے مگر وہ شاخ ہی نہ رہی جس پر آشیانہ تھا کالعدم مجلس احرار اسلام کے اکابر جمع ہوئے اور باہمی طویل مشاورت سے طے پایا کہ مجلس احرار اسلام کا شعبہ تبلیغ تحفظ ختم نبوت تو موجود ہے اس کو نئے سرے سے منظم کیا جائے۔ چنانچہ اس فیصلہ کے بعد شعبہ تبلیغ تحفظ ختم نبوت کے نام سے سرگرم ہو گیا اور اس کی نگرانی حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے سپرد کر دی گئی ان دنوں حضرت مولانا محمد علی جالندھری مرحوم مجلس احرار اسلام صوبہ پنجاب کے صدر تھے انہیں اس شعبہ تبلیغ کے حساب و کتاب کی نگرانی سپرد کی گئی کچھ دنوں کے بعد حضرت مولانا جالندھری
مرحوم ایک دستور مرتب کر کے لے آئے جس میں شعبہ تبلیغ کو مستقل جماعت کی حیثیت دینے کا اعلان کیا گیا یہ گھڑی احرار ساتھیوں کے لیے بڑی اذیت ناک تھی مگر ان کے پر کٹے ہوئے تھے احرار خلاف قانون تھی ساتھی کچھ نہ کر سکتے تھے احرار دوہری پالیسی کی زد میں تھی چنانچہ 1956ء میں حضرت امیر شریعت رحمۃ اللہ علیہ کی رہائش گاہ پر پانچ روز کی مسلسل کشمکش کے بعد شیخ حسام الدین صاحب ماسٹر تاج الدین انصاری صاحب اور نواب زادہ نصر اللہ خان صاحب ، مولانا محمد علی جالندھری مرحوم کی احرار سے عدم موافقت اور عدم موانست سے تنگ آ کر الگ ہوگئے اور احرار کے آزاد ہونے کا انتظار کرنے لگے۔
.................... O ....................
داستان پارینہ
یوں تو میں حضرت مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ کو اپنی طالب علمی کے زمانے سے جانتا تھا اور کون پڑھا لکھا مسلمان ایسا ہے جس نے اس شیر بیشہ کی گرج نہ سنی ہو مگر حضرت مولاناؒ سے تعلقات کی نوعیت 1939ء سے پیدا ہوئی 1945ء میں قاضی مولانا عبد اللطیف صاحب مرحوم خطیب جامع مسجد گنبد والی کی دعوت پر سیرت النبی ﷺ کے سالانہ جلسہ کے موقع پر جہلم تشریف لائے ۔ صبح کی چائے کا انتظام ڈاکٹر نذر محمد صاحب مرحوم صدر مجلس احرار اسلام ضلع جہلم کے مکان پر تھا۔ اتفاق سے حضرت مولانا لدھیانویؒ کے بہت قریب مجھ کو نشست ملی اپنی جگہ پر بیٹھنے سے پہلے میں نے سلام عرض کیا اور ہاتھ بھی ملایا لیکن حضرت مولاناؒ مجھ کو پہچان نہ سکے میرے بیٹھ جانے کے بعد آپ نے مجھ کو غور سے دیکھنے کے بعد فرمایا شریف ہے ۔ میں نے گذارش کی کہ حضرت والا میں محض شریف ہی نہیں بلکہ محمد شریف احرار ہوں اس پر حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب لدھیانویؒ نے نہایت سنجیدگی کے ساتھ فرمایا تم کھڑے ہو جاؤ ۔ میں ڈرا کہ کہیں مجھ سے بے ادبی تو نہیں ہوگئی۔ مگر جب میں نے دیکھا کہ مولانا اپنا عربی عباء سنبھالتے ہوئے اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور اُن کے حسین چہرے پر تبسم کی بجلیاں چمک رہی ہیں تو جان میں جان آ گئی ۔ اور کھڑا ہو گیا حضرت مولاناؒ
نے بڑی گرم جوشی کے ساتھ مجھ سے مصافحہ فرمایا اور معانقہ بھی کیا پھر فرمانے لگے تم سے ملنے کو بہت جی چاہتا تھا۔ میں نے فوج والی تمہاری داستان سنی کہ تم نے ختم نبوت کے قزاق قادیانی افسران کو واصل جہنم کیا ہے اور اس پر جو ظلم و تشدد اور بربریت کا تم نے سامنا کیا ہے میں تم کو جہاں مبارک باد پیش کر رہا ہوں وہاں تم کو جنت کی خوشخبری بھی دے رہا ہوں انشاء اللہ تم جنتی ہو جب میں حضرت لدھیانویؒ سے رخصت ہونے لگا تو وعدہ لے لیا کہ میرے پاس لدھیانہ آؤ اور کچھ یوم میرے ہاں قیام کرو۔
محترم عزیز محمد طاہر رزاق صاحب! السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ آپ کا خیریت نامہ مورخہ 2000-9-2ء بروز ہفتہ مجھ کو موصول ہوا اچھا ہوا کہ آپ نے جو مسودہ جات میں نے آپ کو بذریعہ ڈاک روانہ کر دیے ہیں اُن کی وصول یابی کی اطلاع آپ نے مجھ کو بذریعہ خط دے دی مجھ کو بہت فکر رہتا ہے کہ آپ کو میرا خط مع بازگشت ملا ہے یا کہ نہیں چونکہ اپنی زندگی کی یادداشتوں پر زور دینا اور پھر حافظے پر دوبارہ سہ بارہ زور دینا کہ کوئی بات بھی سقم والی مجھ سے تحریر نہ ہو جائے جس کا میں اپنے رب کے ہاں جواب دہ ہو جاؤں۔ تاریخ ایک امانت ہے اور خیانت بدترین جرم ہے۔ جیسا کہ کئی لوگوں کے نام آپ کو دیے گئے ہیں لیکن ملک کی تقسیم سے پہلے مجلس احرار اسلام میں اُن کا ذکر تک نہیں آپ نے ان کی ظاہری شکل و صورت پر اعتماد کیا ہے اگر آپ کی عمر 60-70 برس کی ہوئی تو آپ اُن پر کبھی اعتماد نہ کرتے اب جوابدہ وہ ہیں آپ نہیں آپ تو اس مقدس تحریک کے ساتھ جنون کی حد تک پہنچ چکے ہیں رب کے ہاں آپ اجر عظیم کا حق حاصل کر چکے ہیں انشاء اللہ بہر حال تحریک ختم نبوت کے سلسلے میں میری طرف سے روانہ کردہ اقتباسات وصول ہونے پر مجھ کو آگاہ کر دیا کریں مہربانی کے ساتھ شکریہ گھر میں عزیزان کے لیے دعائیں عزیزہ فاطمہ طاہر اور عزیزم حمزہ طاہر کے لیے پیار اور دعائیں۔ باقی نئی تصنیفات کب آ رہی ہیں۔
والسلام دُعا گو۔ محمد شریف احرار 107 ڈی بلاک بورے والا ضلع وہاڑی
میرے عزیز محمد طاہر رزاق صاحب
میری حالت تو اس شعر کے مصداق بن کر رہ گئی ہے
فقط اک درد ہے زندہ فقط اک یاد ہے باقی
قادیانیت کو حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب لدھیانویؒ قطعا ایک سیاسی تحریک سمجھتے تھے۔ حضرت مولانا کی رائے تھی کہ ہندوستان پر قبضہ کرنے کے بعد مسلمانوں میں انگریزوں کی مخالفت اور اُن سے نفرت کا جو لاوا اُبلتا رہا اور جو کبھی تحریک سید شہیدؒ اور کبھی انقلاب 1857ء اور کبھی انبالہ کیس کی صورت میں نمودار ہوا اس کو سرد کرنے کی بہترین صورت یہ تھی کہ قادیانی نبی کو مسلمانوں کا پیشوا بنا دیا جائے جس نے جہاد کو منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا تھا اور انگریزی حکومت کی تائید میں پچاس الماری کتابیں تصنیف کی تھیں اس کا ایک فائدہ یہ بھی تھا کہ مسلمانان ہند کی توجہات بلاد عربیہ کی طرف سے ہٹ جاتی تھیں اور حرمین اور بیت المقدس کی بجائے ان کی عقیدتوں کا مرکز قادیان بن جاتا تھا۔ اصل میں مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ کے جد بزرگوار مولانا مفتی شاہ محمد صاحبؒ نے جس طرح تمام علماء ہند سے پہلے 1888ء میں مسلمانوں کو شرکت کانگرس کا فتویٰ دیا تھا اسی طرح مرزا غلام احمد قادیانی کے مرتد اور انگریز کے ایجنٹ ہونے کا بھی فتویٰ دیا تھا۔ پھر حضرت الاستاذ علامہ سید انور شاہ کشمیریؒ کی صحبت میں مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ کی اس خاندانی بصیرت میں مزید چمک پیدا ہوئی۔ آخر تحریک کشمیر میں مولانا نے قادیانیت سے جماعتی حیثیت سے ٹکر لی۔
................ O ................
موہڑہ تھہیل سابق ضلع جہلم کی تحصیل چکوال کا واقعہ
میرے اُس قادیانی مبلغ راجہ فضل احمد کے ساتھ مناظرہ کے بعد اور قادیانیوں کی
ذلت آمیز شکست کے بعد اصغر علی شاہ لاہور مرکزی دفتر مجلس احرار اسلام میں شاہ جی کی ملاقات کے لیے آئے بغیر کسی بحث و تمحیص کے حضرت امیر شریعت کے سامنے شیعہ مذہب سے توبہ کرتے ہوئے حضرت شاہ جی کے ہاتھ پر بیعت بھی کی اور مجلس احرار اسلام میں شامل ہو گئے جس پر حضرت شاہ جی نے ڈاکٹر نذر محمد صدر مجلس احرار اسلام ضلع جہلم اور خادم حسین صاحب بٹ جنرل سیکرٹری ضلع جہلم کو حکم دیا کہ میں نے اصغر علی شاہ صاحب کو ضلع جہلم کا سالار مقرر کر دیا ہے پھر انہی اصغر علی شاہ صاحب نے مجلس احرار کے پلیٹ فارم سے بڑی بہادری کے کارنامے بھی سرانجام دیئے ایک مرتبہ 1946ء میں حضرت شاہ جیؒ سنگوہی ضلع جہلم میں تشریف لائے خطاب کے دوران جب شاہ جی نے برطانوی سامراج کی فوج پر گرجنا شروع کیا تو ایک صوبیدار میجر نے کھڑے ہو کر تقریر بند کرنے کے لیے کہا حضرت شاہ جی جواب دینے والے ہی تھے کہ اصغر علی شاہ سالار باز کی طرح صوبیدار میجر پر ایسا جھپٹا کہ اُس کی گردن کو دبوچ کر جلسہ گاہ سے باہر لے جا کر خوب اُس کا دھوبی پٹڑا کیا۔
......................O......................
عزیزم طاہر عبدالرزاق صاحب! میری سیاسی تربیت میں دو عظیم شخصیتوں کا براہ راست تعلق ہے۔ اوّل حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ دوم حضرت مولانا حبیب الرحمٰن صاحب لدھیانویؒ۔ میری فطرت ثانیہ بن چکی ہے کہ نرمی کے آگے جھک جاتا ہوں رعب اور اکڑ کے آگے اکڑ جاتا ہوں۔ 1934ء کی پہلی دہائی میں طالب علمی کے دور میں احرار ورکر کی حیثیت میں گجرات جیل میں مجھ کو بند کر دیا گیا اسی جیل میں مولانا حبیب الرحمٰن صاحب لدھیانوی اور مجلس احرار کے مشہور لیڈر چوہدری عبدالعزیز بیگوالیہ ریاست کپور تھلہ سے پہلی ملاقات ہوئی۔ حضرت مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانویؒ کی خدمت کا مجھ کو موقع بھی نصیب ہوا۔ یہ جیل اُن دنوں مسلمان اور سکھ رضا کاروں اور کارکنوں سے بھری پڑی تھی۔ مختلف طریقوں سے انہیں مجبور کیا جاتا کہ وہ معافی مانگ لیں۔ اخلاق سوز مظالم ڈھائے جاتے۔ مجھے بان بٹنے کی مشقت دی گئی۔ ایک روز ہیڈ وارڈن کی شکایت پر دس سیر مُونج کوٹنے کو دے دی۔ میری صحت اور جسمانی ساخت کے مقابلے پر یہ مشقت انتہائی ظالمانہ تھی۔ میں نے دو تین روز تو یہ مشقت برداشت کی لیکن اس کے بعد اس مشقت سے انکار کر دیا۔ جس پر سپرنٹنڈنٹ جیل کے سامنے میری پیشی ہوئی اور مجھے رات کو اُلٹی ہتھکڑی لگانے کی سزا دی گئی۔
میں نے یہ سزا برداشت کر لی لیکن مشقت کرنے سے انکار کر دیا۔ اب الٹی ہتھکڑی کے ساتھ ڈنڈا بیڑی اور ٹاٹ وردی کی سزا بھی مل گئی۔ ان سزاؤں کی وجہ سے میری ضد میں بہت اضافہ ہو گیا۔ اور اُدھر مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانویؒ خدا ان کی قبر پر کروڑوں رحمتوں کا نزول فرمائے۔ اُنہوں نے جیل کی انتظامیہ کو بھوک ہڑتال کی دھمکی دے دی۔ جس سے الٹی ہتھکڑی اور ڈنڈا بیڑی اور ٹاٹ وردی سے مجھ کو نجات مل گئی۔ مولانا حبیب الرحمٰن صاحب لدھیانویؒ نے میرا نام طوفان میل رکھا ہوا تھا یاد رہے یہ طوفان میل رات کو 9 بجے لاہور اسٹیشن دو نمبر پلیٹ فارم سے کلکتہ کے لیے روانہ ہوتی تھی سب ٹرینوں سے یہ سپر ٹرین تھی۔ مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانویؒ پر ایک شعر
عمر بھر کا داغ ہے یہ ایک دو دن کا نہیں
.......................O.......................
جب دو قومی نظریہ کے شور سے فضائے ہندوستان پر آشوب تھی تو آپ نے خود اپنوں کی اکثریت کے خلاف جو ان کے نزدیک حق تھا جو اُن کے ضمیر کی آواز تھی اُنہوں نے مسلم لیگ کی بھی مخالفت کی اور جب انڈین نیشنل کانگرس نے مجبور ہو کر ملک کا بٹوارہ تسلیم کر لیا تو یہی حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ تھے کہ جمعیت علماء ہند کے صدر کی حیثیت سے آپ نے اس کی بھی مخالفت کی وہ ایک منٹ کے لیے بھی ایسے فیصلے کو منظور کرنے کے لیے تیار نہیں تھے جو اپنے پہلو میں لاکھوں انسانوں کی ہلاکت و تباہی اور کروڑوں انسانوں کی پریشانیوں کا مستقبل لیے ہوئے ہو۔
حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کے بعد دارالعلوم دیوبند کی علمی عظمت و شان آپ ہی کے دم قدم سے قائم رہی۔ کم و بیش 35 سال تک اسلامی دنیا کے اس مرکز کے صدر نشین رہے اور حقیقت یہ ہے کہ آپ کے عہد میں دارالعلوم کی شہرت میں غیر معمولی اضافہ ہوا اور مسند رشد و ہدایت تو اس شان سے بچھی کہ دیوبند کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی یہ وہ تاریخ ہے جو میرے طالب علمی کے آج سے قبل 59 برس جس پر بیت چکے ہیں اور میں حقیر و ناکارہ اس پر گواہ ہوں۔
.......................O.......................
دارالعلوم دیوبند سے دورہ حدیث کی سند فراغت کے بعد دارالفرقان لکھنؤ میں حضرت مولانا منظور احمد نعمانی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں چھ ماہ تک قیام کے دوران منکرین ختم نبوت قادیانی فرقے کا محاسبہ و تعاقب کرنے کے لیے علم مناظرہ پڑھا۔ حضرت مولانا منظور احمد نعمانیؒ پوری دنیائے اسلام میں ایک عظیم سکالر تسلیم کئے جاتے رہے ہیں۔ عقائد باطلہ کے خلاف آپ کی تصنیفات ایک منفرد مقام حاصل کر چکی ہیں آپ کو علوم مناظرہ پر عالمی شہرت حاصل تھی۔ میں نے قادیانیوں کی تکنیک باطلہ کا مقابلہ نحوی ترکیب اور جدید منطق و فلسفہ کی بنیاد پر حضرت علامہ موصوف و مرحوم سے مناظرہ پڑھا بلکہ سیکھا بھی اللہ کے فضل و کرم سے منکرین ختم نبوت سے جتنے مناظرے میں کر چکا ہوں مجھے کبھی کوئی دقت محسوس نہیں ہوئی تین مناظرے میں نے اچانک اور بغیر کسی تیاری کے کیے ہیں۔ اور ان کے ارتداد کے تابوت میں آخری کیل تک ٹھونکی ہے یہ حضور رحمت دو عالم ﷺ کی ختم نبوت کا کمال ہے۔ ورنہ میں من آنم کہ من دانم بقول پیر گلڑویؒ
....................O....................
میرے محترم عزیز طاہر رزاق صاحب
میری زندگی کا وہ حصہ جو دنیائے اسلام کی عظیم یونیورسٹی میں گزرا کچھ اُس کے حالات و کوائف بھی قلم کے سپرد کرتے ہوئے بطور امانت سونپنا چاہوں گا۔ 1940ء کا سال بھی میں نے سیاسی ہنگاموں اور کچھ جماعتی پروگراموں کی وجہ سے ضائع کر دیا۔ 1941ء کے وسط میں دارالعلوم دیوبند میں بحیثیت طالب علم پہنچا سب سے پہلے حضرت مولانا اعزاز علی رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت تسلیمات کا شرف حاصل کیا۔ اُن کے توسط سے شیخ العرب والعجم سیدی و مرشدی حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی نور اللہ مرقدہٗ کی خدمت میں اس گنہگار کو شرف ملاقات نصیب ہوا۔ میں نے شیخ الاسلام کی خدمت میں اسی شریف میں قیام کے دوران جن کتب سے میں نے حضرت مولانا غلام رسول صاحب عرف بابا جی والا رحمۃ اللہ علیہ و حضرت
مولانا ولی اللہ صاحبؒ سے استفادہ کیا اور خورجہ میں حضرت شیخ الحدیث مولانا نصیر الدین رحمۃ اللہ علیہ سے جن کتابوں سے فیض حاصل کیا دونوں مقامات کی اسناد پیش کر دیں جس کی وجہ سے بغیر امتحان کے دنیائے اسلام کی عظیم و مشہور درس گاہ میں مجھ کو داخلہ مل گیا۔ دارالعلوم دیوبند میں صدر مدرس شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے شب و روز کا یہ عالم کہ دارالعلوم دیوبند میں جب طلبہ کو درس حدیث دیتے تو شب کو کئی گھنٹے مسلسل تقریر اس کے بعد سفر اور صبح کو مدرسہ میں پہنچ کر مسلسل کئی گھنٹہ تک اڑھائی سو بلکہ بعض اوقات تین سو طلبہ کو درس دیتے جس میں ہر قابلیت اور مذاق کے طلبہ موجود ہوتے تھے۔ جن میں بعض وہ بھی ہوتے جو کئی سال مدرسی کر کے محض سماعت حدیث کے لیے حاضر ہوتے۔ آپ کی اس غیر معمولی دلچسپی کا نتیجہ لامحالہ یہ ہوتا کہ طلبہ گرویدہ ہی نہیں ہوتے تھے بلکہ بہت سے وہ ہوتے جو آپ کے رنگ میں رنگے جاتے تھے۔ اس رنگ کا ایک چھینٹا یہ ہوتا کہ جو آپ سے روحانی تربیت کے لیے بیعت کیا کرتا تھا اُس سے آپ بیعت جہاد بھی لیتے۔ عزیمت و ہمت کا مقام بلند شیخ العرب والعجم سید مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے سامنے ایسے مسائل بھی آئے کہ اگر عوام کے رجحانات کی پیروی کرتے تو کروڑوں گردنیں آپؒ کے سامنے جھک سکتی تھیں لیکن آپؒ نے ضمیر کی آواز کو بلند کرنے میں نہ اعزاز و احترام کا خیال کیا نہ عوام کی برگشتگی کا خوف آپؒ کے پائے عزیمت میں کوئی جنبش پیدا کر سکا۔ یہی عزیمت و ہمت اور حق و صداقت کی مردانہ وار جرأت تھی جس نے آپ کو کبھی مالٹا میں اسیر کیا اور کبھی کراچی و کانپور کی جیلوں میں محبوس کیا۔
........................O........................
حریف کو مات دینے کے لیے سیاسیات کی سوچ میں بعض ایسی راہیں آتی ہیں جس سے دشمن تو بہرحال سٹپٹاتا ہے لیکن ضمیر غیر مطمئن رہتا ہے۔ ویسے بھی عشق اور جنگ کے میدان میں تخریب کی ہر تدبیر کو جائز قرار دیا گیا ہے۔ حریف اور رقیب کو جن اطوار سے بھی شکست دی جائے بُرا نہیں پھر قادیاں تو ایسی بستی تھی جہاں کے جھوٹے وقار نے وہاں کی مظلوم آبادی کو ہراساں کیا ہوا تھا۔ مذہب اور سیاست ان کی جیب گھڑی تھی برسر اقتدار مرزائی خاندان کا کوئی فرد اگر بازار سے گذرتا تو اس کی پذیرائی میں سارا بازار سروقامت کھڑا ہو جاتا
مرزا غلام احمد کا خاندان نہیں بلکہ جارج پنجم کی اولاد ہے جس کی سواری قادیاں کے کوچہ و بازار سے گزرے تو آبادی کے ہر فرد پر لازم تھا کہ اُس کے احترام میں اپنی جگہ کھڑا ہو جائے خواہ وہ عام قادیانی ہی کیوں نہ ہو اس ڈرامے کے ایکٹروں کا یہ مصنوعی لباس اُتار کر انہیں سرعام ننگا کرنا بھی احرار کے نزدیک اسلام اور انسانیت کی بڑی خدمت تھی۔ ان دنوں جناب ماسٹر تاج الدین صاحب انصاری مرحوم قادیان میں دفتر مجلس احرار اسلام کے انچارج تھے ملمع سازی کی اس دوکان کو اُجاڑنے اور پیتل کو سونے کے بھاؤ بیچنے والے ان ملمع سازوں کو بے نقاب کرنے کے لیے جناب ماسٹر جی نے ایک منصوبہ بنایا جس کے تحت قادیاں کے ایک نوجوان محمد حنیف کو جو بھیک منگوں کا لڑکا تھا تیار کیا اس کے ذمہ لگایا کہ وہ مرزا بشیر الدین محمود خلیفہ قادیان کے بھائی مرزا شریف احمد کو جب وہ بازار میں نکلے تو سرعام پیٹ ڈالے اور موقعہ واردات سے فرار ہو جائے باقی دیکھا جائے گا۔ چنانچہ اس سکیم پر عمل پیرا ہوتے ہوئے محمد حنیف نے وقت کا جائزہ لیا کہ مذکورہ آدمی کب نکلتا ہے جب اُسے گرد و پیش کا اندازہ ہو گیا ایک دن محمد حنیف ہاکی سے مسلح مرزائیوں کی مسجد اقصیٰ کے قریب کھڑا ہو گیا اتنے میں مرزا شریف احمد سیاہ اچکن پہنے سنہری کلاہ پر سفید پگڑی باندھے سفید شلوار، پیٹنٹ کی سیاہ گرگابی اور ہاتھ میں چھڑی لے کر قادیاں کے مین بازار میں تفریح کے لیے نکلا ابھی وہ اپنی شاہی رفتار سنبھال ہی رہا تھا کہ ڈیوٹی پر کھڑے محمد حنیف نے ہاکی شریف احمد کی دونوں ٹانگوں کے درمیان اڑا کر اُسے ایسی پٹخنی دی کہ وہ منہ کے بل گرا۔
اور پھر اوپر سے تین چار ہاکیاں اُس کے چوتڑوں پر رسید کر دیں اور بھاگ نکلا یہ سارا کچھ اس قدر عاجلانہ طور پر ہوا کہ بازار کے لوگ اس انہونی کاروائی پر ایک دوسرے کا منہ تکتے رہ گئے آن کی آن میں یہ خبر قصر خلافت سے ہو کر قادیاں میں پھیل گئی کہ احراریوں نے شعائر اللہ کی توہین کر دی گویا مرزا شریف احمد کے چوتڑ شعائر اللہ تھے گویا اللہ کی نشانی۔ استغفر اللہ...... سارے شہر میں کہرام مچ گیا مرزائیوں کے گھروں میں صف ماتم بچھ گئی۔ قریباً نصف صدی کا دام فریب جس کی طنابیں ابلیس نے تھام رکھی تھیں تار تار ہو کر بکھر گیا عزت و احترام کا کاغذی پھول پاؤں تلے مسل دیا گیا۔ جھوٹی نبوت کے قصر خلافت کو ایک فقیر نے ایسا پتھر مارا کہ لات و ہبل کی بنیادیں ہل گئیں۔
اب ملزم کی تلاش شروع ہوئی۔ پولیس نے دفتر احرار کو اپنی تفتیش کا مرکز بنا کر محترم جناب ماسٹر تاج الدین انصاری رحمۃ اللہ علیہ کی نگاہوں میں نگاہیں ڈال کر ملزم کو ڈھونڈنا چاہا مگر یہ تو بحر قلزم تھا۔ یہاں ان چھوٹی موٹی چیزوں کا اتہ پتہ کہاں مل سکتا تھا قادیان سے باہر جانے والے تمام راستے مسدود کر دیئے گئے۔ لیکن ہوائیں بھی ملزم کی بو سونگھنے میں ناکام رہیں۔ مرزائیوں کی اپنی سی آئی ڈی اور ضلعی انتظامیہ مسلسل تلاش کے بعد جب مایوس ہوگئیں تو رات کے پچھلے پہر محمد حنیف کو قادیان سے نکال کر صبح ہونے تک پٹھانکوٹ پہنچا دیا گیا اور عدالت سے ضمانت کرا لی گئی۔ اب محمد حنیف قانون کی حفاظت میں تھا۔ مرزائی اسے کچھ کہہ بھی نہیں سکتے تھے مگر دل ہی دل میں زہر کے گھونٹ پی رہے تھے قادیان پہنچ کر حنیف کو کچھ رقم دے دی گئی جس سے وہ منڈی سے آموں کا ٹوکرا خرید لاتا اور مرزائی محلوں میں فروخت کرتا مرزائی عورتیں آم خریدنے کے بہانے حنیف کو دیکھتیں اور اس طرح آدھ گھنٹے کے اندر اندر آموں کا ٹوکرا فروخت کر کے دوسرا لے آتا۔ تمام دن شغل رہتا۔ حنیف دن بھر بھیک مانگ کر مشکل سے پیٹ پالتا۔ مگر اب وہ اچھا خاصا خوانچہ فروش بن گیا اور مزے سے روزی کمانے لگا۔
کچھ دنوں تو یہ سلسلہ رہا۔ آخر جمعہ کے روز مرزا بشیر الدین محمود نے اپنی تقریر میں کہا (مرزائیو) تمہیں شرم نہیں آتی کہ تم لوگ اُس آدمی سے سودا خریدتے ہو۔ جس نے کل سرعام شعائر اللہ کی توہین کی تھی۔ اس پر مرزائی عورتیں حنیف سے آم تو نہ خریدتیں مگر چپکے سے دروازے کی دراڑوں سے حنیف کو دیکھ ضرور لیتیں۔ آخر دو ماہ مقدمہ چلنے کے بعد محمد حنیف کو چھ ماہ قید کی سزا ہو گئی اس دوران مقامی جماعت اس کے اہل خانہ کی مالی امداد کرتی رہی۔
................O................
عقیدہ ختم نبوت میں قادیانی حصار کو توڑنا اسلام کا بنیادی حصہ تھا کفر کا یہ قلعہ برطانوی پناہ میں تھا اس میں دراڑ ڈالنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا احرار نے ہر رُخ سے اس پر یلغار اور حملہ مناسب سمجھا تاکہ یہ بت ٹوٹ جائے اور اس کی پرستش سے لوگوں کے ایمانوں کی حفاظت ہو سکے۔ (دوسرے معاملات کو بعد میں دیکھ لیں گے ۔)
سال رواں کے دم توڑتے دنوں کی بات ہے کہ جناب محترم ماسٹر تاج الدین
انصاریؒ کی تجویز پر دنیا نگر ضلع (گورداسپور) سے شیعہ رہنما مظفر علی شمسی کو قادیان بلوایا گیا تاکہ محرم کے دنوں میں قادیان میں جلوس نکالنے کا اہتمام کیا جاسکے چنانچہ اندر خانہ اس کی تیاریاں شروع کر دی گئیں اس کے لیے آسمان کے کون کون سے تارے توڑنے پڑے سمندر کی کن گہرائیوں سے موتی نکالنے پڑے اور پہاڑوں کا سینہ چیر کر کیونکہ راستہ ہموار کیا گیا یہ راز سربستہ ہے (وقت خاص پر انکشاف کروں گا) لیکن دسویں محرم کو قادیان کی تاریخ میں پہلا دن تھا جب اس کے بازاروں میں نواسہ رسول سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عظیم شہادت کا عظیم الشان جلوس گزر رہا تھا اس کی رہنمائی مظفر علی شمسی کر رہے تھے جلوس کے گرد پولیس کے ہمراہ احرار سرخپوش بھی جلوس کے ساتھ تھے شہر کے ہندو اور سکھوں نے اپنے محلوں میں پانی کی سبیلیں لگائیں قادیان کے مسلمانوں نے اہل جلوس کی تواضع مٹھائی اور ٹھنڈے پانی سے کی دن بھر شہر میں گھوم پھر کر شہادت امام حسینؓ کا جلوس نماز مغرب کے قریب نہایت امن وسکون سے ختم ہوا۔ قصر خلافت کے کنگرے اور قادیان کے مرزائیوں کے دل اس واقعہ کو کس طرح برداشت کر سکے یہ بحث کا دوسرا رُخ ہے۔
لیکن مرزا شریف احمد پر حملہ اور قادیان میں شہادت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جلوس نے نبوۃ باطلہ کے تمام وقار کو مٹی میں ملا دیا اور قادیان کی رہی سہی ساکھ تحریک جمعہ پر پابندی نے اڑا دی۔
..............o..............
عرض حال
پھول کچھ میں نے چنے ہیں اُن کے دامن کے لیے
حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی ہنگامہ خیز زندگی کو ضبط تحریر میں لانا بہت بڑا کام ہے اس کے لیے یہ مختصر تو کیا ایک ضخیم کتاب بھی کافی نہیں ہو سکتی تاہم میں نے
ہندو پاکستان کے اس جلیل القدر فرزند کے کچھ حالات اور ملفوظات ان اوراق میں تحریر کرنے کی کوشش کی ہے جو میں بذریعہ ڈاک آپ کو روانہ کر رہا ہوں۔
میرے عزیز محمد طاہر عبدالرزاق صاحب ! شاہ جی کی زندگی دو لفظوں کا ماحصل ہے قول اور عمل وہ اپنے عقائد کے مطابق تبلیغ و دعوت اور اس کی پاداش میں ابتلاء و مصیبت ان دونوں فرائض کو شاہ صاحب نے اس اہتمام کے ساتھ ادا کیا ہے کہ نہ تسلسل میں فرق آیا اور نہ مدارج میں کمی وہ خطاب کرتے اور جیل چلے جاتے جیل سے آتے ہی پھر گرجنا اور برسنا شروع کر دیتے شاید ہی ہندو پاکستان میں کوئی شخص ہو جو اس معاملے میں شاہ جی کی ہم سری کر سکے۔ 1921ء میں وہ خلافت کی خاطر جیل میں گئے۔ واپس آئے تو یکا یک راجپال فتنہ نمودار ہوا اور شاہ جیؒ حرمت رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کی پاداش میں جیل چلے گئے اس مرحلے سے فارغ ہوئے تھے کہ حقوق کا ہنگامہ برپا ہوگیا اور انہیں آزادیٔ وطن کی خاطر جیل کی زیارت کا اتفاق ہونے لگا۔ اس معاملے میں انہوں نے قوت عمل کا ایسا ثبوت دیا کہ اگر پرانے زمانوں کا ماحول ہوتا تو انہیں اُن نمازیوں سے تشبیہ دی جاسکتی جنہوں نے ہندوستان کے ایک سرے میں علم جہاد بلند کیا اور دوسرے سرے پر پہنچ کر دم لیا۔ تحریک حریت سے فراغت نصیب ہوئی تو قادیانی فتنے نے ان کی غیرت اور ایمان و جذبۂ جہاد کا امتحان لینا چاہا یہاں بھی وہی صورت پیش آئی اور اُس کی پاداش میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند کر دیے گئے۔ اُن کے مقدمہ گورداسپور نے تاریخی حیثیت حاصل کر لی اور اُن کی روحانیت نے جج سے اس قسم کے الفاظ فیصلہ مقدمہ میں درج کرائے کہ پوری قادیانی قوم کے ٹسوے ان کو نہ مٹا سکے۔
........................O........................
1935ء غالباً جون کا مہینہ ہوگا میں اُن دنوں انجمن نعمانیہ میں درسِ نظامی کا طالب علم تھا اور اس کے ساتھ مجلس احرار اسلام کا پر جوش ورکر تھا۔ مجلس احرار کے زیر اہتمام ایک جلسہ دہلی دروازہ احرار پارک میں منعقد ہوا تھا اور اس میں امیر شریعت معارف قرآنی بیان فرما رہے تھے حاضرین کی تعداد پچاس ہزار کے قریب تھی۔ شاہ جی کی تقریر کا اثر جو مجھ پر تھا وہ تو تھا ہی لیکن بعض مخالفین نے بھی اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ شاہ صاحب کی قرأت کے وقت ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آسمان سے فرشتوں کا نزول ہو رہا ہے۔
بسلسلہ تحریک قادیان 1935ء کے اوائل میں بمقام جالندھر تقریر فرما رہے تھے کہ کسی نے
شہد کی مکھیوں کے چھتے کو چھیڑ دیا مکھیوں نے جلسہ گاہ کا رخ کیا۔ حاضرین کے علاوہ حضرت شاہ جی کے چہرہ کو بھی تختۂ مشق نیش زنی بنایا لیکن آپ بدستور استقلال کے ساتھ تقریر کرتے رہے جو لوگ مکھیوں کو دیکھ کر بھاگنا چاہتے تھے اُن کو بھی اس انداز سے روکا کہ آخر تک جلسہ گاہ میں بیٹھے اور خطاب سنتے رہے میں شاہ جی کا خطاب سننے کے لیے لاہور سے جالندھر تک بغیر ٹکٹ ٹرین پر بیٹھ کر جلسہ گاہ میں پہنچ گیا تھا۔ ان ہی دنوں پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے سلسلہ میں بستی شیخاں میں شیخ غلام حیدر وکیل فیروز پور احرار امیدوار کی کامیابی کے لیے جلسہ منعقد ہوا یہ گاؤں پٹھانوں کا تھا اور مخالفین کا اس میں کافی اثر تھا۔ جلسہ میں پہلی تقریر مولانا مظہر علی اظہر صاحب کی تھی۔ مولانا مظہر علی اظہر صاحب مرحوم نے مخالفین کی گھناؤنی سازش کے چہرہ سے پردہ اٹھانا شروع کیا تو چاروں طرف سے پتھر برسنے لگے ایک طوفان بے تمیزی برپا ہو گیا۔ آخر شاہ جی کھڑے ہوئے اور خطبہ مسنونہ کے بعد تقریر شروع کی مخالفین بدستور شور و شر برپا کرتے رہے شاہ جی نے بہت سمجھایا لیکن اس کا کچھ اثر نہ ہوا جلسہ گاہ میں ایک بجے رات تک طوفان بے تمیزی بپا رہا۔ آخر شاہ جی نے ٹوپی اُتاری اور سر کے بالوں کو جھٹکا دیا۔ تلوار گلے سے اُتار کر میز پر رکھ دی اور بآواز بلند فرمایا بجرم عشق تو ام می کشد غوغا نیست تو نیز بر سر بام آ کہ خوش تماشائیست ۔ اس کے بعد مخالفین کو چیلنج کیا اور کہا آپ بیشک پتھر برسائیں اگر بخاری نام ہے تو قتل ہونا منظور ہے مگر پیغام حق سُنا کے چھوڑوں گا قتل ہونا سیدوں ہاشمیوں کے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے کربلا میں بھی حق کی آواز بلند کرنے کے سلسلے میں مسلمانوں کے ہاتھوں رسول اللہ ﷺ کے نواسہ شہید ہوئے تھے میں بھی سرورِ اولین و آخرین محمد رسول اللہ ﷺ کا نواسہ ہوں حق کہوں گا اور حق کے اظہار سے ہرگز باز نہ رہوں گا۔ شاہ جی کی اس گرج کے بعد پتھروں کی بارش رُک گئی اور جلسہ گاہ میں امن و سکون قائم ہو گیا۔ آپ کی تقریر کے اثر سے گاؤں والوں نے نہ صرف آپ سے معذرت کی بلکہ احرار والوں کے لیے آرام و رہائش کا انتظام بھی کیا اور احرار امیدوار کو کامیاب بھی کرایا۔
حضرت شاہ جی رحمۃ اللہ علیہ تقریر کے دوران بعض دفعہ نہایت اہم اہم مسائل لطائف کی صورت میں بیان کر جاتے تھے۔ جن میں عبرت و موعظت کے نکتے پوشیدہ ہوتے تھے۔ 1936ء میں راولپنڈی کی ایک تقریر میں آپ نے فرمایا کہ ایک مسجد میں ایک شخص کو
میں نے دیکھا وہ گردن پر ہاتھ باندھ کر نماز پڑھ رہا ہے جب فارغ ہوا تو میں نے کہا آفرین۔ چار مصلے تو آئمہ فقہا نے سنبھال رکھے ہیں لیکن پانچویں مصلے کے تم ہی مالک ہو اُس نے کہا شاہ صاحب! کیا کروں مجبور ہوں اگر ہاتھ پر ہاتھ باندھ کر نماز پڑھوں تو لوگ بدعتی سُنی کہتے ہیں اور اگر کھول دیتا ہوں تو رافضی کی پھبتی کسی جاتی ہے اور اگر سینے پر ہاتھ رکھتا ہوں تو نجدی وہابی کہہ کر مسجد سے نکال دیتے ہیں اس لیے تنگ آ کر میں نے گردن پر ہاتھ باندھنا شروع کر دیئے تاکہ کسی کو ناراض ہونے کا موقع نہ ملے اس لطیفہ میں مسلمانوں کے فرقہ وارانہ نزاع اور فروعی اختلاف کو دُور کرنے کی کس قدر اعلیٰ اور احسن طریق پر کوشش کی گئی ہے۔ اس طرح مساوات اسلامی پر ایک دفعہ گفتگو فرماتے ہوئے کہا کہ میں ایک گاؤں میں چارپائی پر بیٹھا ہوا تھا بعض لوگ مجھے ملنے کے لیے آئے لیکن وہ میرے پاس بیٹھنے کی بجائے الگ زمین پر بیٹھ گئے میں نے کہا بھئی مجھ سے کیوں ڈرتے ہو۔ میرے پاس آ کر بیٹھو۔ وہ کہنے لگے کہ آپ تو سید بادشاہ ہیں۔ ہم آپ کے پاس کس طرح بیٹھ سکتے ہیں۔ میں نے کہا نعوذ باللہ سید اتنی ہی ناپاک جنس ہے کہ تم اس کے قریب آنے سے ڈرتے ہو۔
......................o......................
تقریروں کا بے مثال اثر
کیسا ہی ہنگامہ کیوں نہ ہو آپ کی تقریر کے اثر سے فوراً بند ہو جاتا تھا۔ مولانا محمد علی جوہر مرحوم نے ”ہندوستان کا سب سے بڑا ساحر“ کا خطاب دیا ہوا تھا قرآن اس خوش الحانی سے پڑھتے تھے کہ غیر مسلم بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے تھے۔ راقم 1939ء میں ایک مرتبہ پشاور ہندو دوستوں کو ملنے کے لیے گیا۔ 1938ء کے دوران راولپنڈی جیل کے ساتھی تھے۔ مسٹر چمنی لال کیسر چند جاوید اور کچھ اور نوجوانوں نے دریافت کیا کہ شاہ صاحب کب پشاور تشریف لائیں گے۔ میں نے پوچھا آپ کو شاہ صاحب سے کیا کام ہے اُنہوں نے کہا ”آساں نوں شاہ صاحب دا قرآن پڑھنا بڑا چنگا لگدا اے او قرآن بڑا سوہنا پڑھدا اے
پشاور آنا ہووے تے ایس اپنے گھر دے وچ شاہ صاحب دا قرآن سناں گے۔“ شاہ صاحب کی صرف تلاوت قرآن مجید ہی سننے کے لیے بعض عقیدت مند سینکڑوں روپے خرچ کر کے آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے۔ لوگوں کو شاہ جی کی تقریر سننے کا اس قدر شوق تھا کہ میلوں کا سفر کر کے شاہ صاحب کے جلسوں میں شرکت کے لیے آتے تھے۔
بہاولپور کا مشہور تاریخی مقدمہ
اس معرکۃ الآراء مقدمہ کے تاریخی حالات وکوائف نہایت جامعیت اور تحقیق کے ساتھ قلم بند کرتے ہوئے آپ کو بذریعہ ڈاک روانہ کر رہا ہوں یہ ایک خاص نوعیت اور اہمیت کا مقدمہ تھا از 1926ء تا 1935ء کامل 9 سال کی تحقیق و تنقیح کے بعد ڈسٹرکٹ جج صاحب بہادر نے اس تاریخی مقدمہ کا بصیرت افروز فیصلہ بحق مدعیہ سنایا اس جگہ یہ بیان کر دینا میں ضروری سمجھتا ہوں۔ اگر چہ یہ مقدمہ ایک عرصہ سے چل رہا تھا اور مدعا علیہ فخر و مباہات کے طور پر اعلانیہ کہا کرتا تھا کہ قادیاں کا خزانہ اور منظم جماعت اُس کی پشت پر ہے مگر مسلمانوں نے اس کو شخصی مقدمہ سمجھے رکھا اور مدعیہ کی مالی امداد میں کبھی کوئی حصہ نہ لیا۔ عدالت کے اس حکم کے بعد مسلمانانِ بہاولپور میں قدرتاً یہ احساس پیدا ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مدعیہ کا افلاس اور اُس کی ناداری اُس کو شہادت شرعی پیش کرنے سے قاصر رکھے مدعیہ کی طرف سے شہادت کے لیے شیخ الاسلام حضرت مولانا سید محمد انور شاہ صاحب کشمیری رحمۃ اللہ علیہ، مولانا سید محمد مرتضیٰ حسن صاحب چاند پوری مولانا محمد نجم الدین صاحب، پروفیسر اورینٹل کالج لاہور، مولانا مفتی محمد شفیع صاحب، دارالعلوم دیوبند پیش ہوئے۔ خصوصاً حضرت مولانا محمد انور شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی تشریف آوری نے تو تمام ہندوستان کی توجہ کے لیے جذبہ مقناطیسی کا کام کیا متحدہ ہندوستان میں اس مقدمہ کو غیر فانی شہرت حاصل ہو گئی۔
حضرات علماء کرام نے اپنی اپنی شہادتوں میں علم و عرفان کے دریا بہا دیئے اور فرقہ
ضالہ مرزائیہ کا کفر و ارتداد روز روشن کی طرح ظاہر کر دیا خصوصاً حضرت مولانا محمد انور شاہ صاحب محدث کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی شہادت میں ایمان، کفر، زندقہ، ارتداد، ختم نبوت، اجماع، تواتر، متواترات کی اقسام، وحی کشف، الہام کی تعریفات اور ایسے اصول و قواعد بیان فرمائے جن کے مطالعہ سے ہر ایک انسان علیٰ وجہ البصیرت بطلان مرزائیت کا یقین کامل حاصل کر سکتا ہے۔
حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ نے ایسی باطل شکن جرح فرمائی جس نے مرزائیت کی بنیادوں کو کھوکھلا اور مرزائی دجل و فریب کے تمام پردوں کو پارہ پارہ کر دیا۔ بہاولپور کے اس تاریخی مقدمہ کے فیصلہ کی ایک کتاب علمائے ربانی کی تحقیق حضرت مولانا ابوالوفا صاحب نعمانی شاہ جہان پوری رحمۃ اللہ علیہ نے مرتب فرما کر شائع کی تھی اُس کی ایک کاپی میرے پاس تھی افسوس کہ 1987ء اور 1988ء کے دوران دینہ میں قیام کے دوران پولیس نے میری رہائش گاہ پر چھاپہ مارا اور جہاں میرے گھر کا تمام سامان تباہ و برباد کر دیا گیا وہاں میرے دفتر میں گھس کر میری تمام کتابوں اور میری زندگی کی پرانی فائلیں اور کاغذات کو اُٹھا کر لے گئی۔ کم از کم ڈیڑھ ہزار کی تعداد کتابوں کی ہوگی اس طرح میرا اصل سرمایہ تباہ و برباد کر دیا گیا اُس وقت پنجاب کا وزیر اعلیٰ نواز شریف تھا اس میں یہ نادر نسخہ بھی ضائع ہوگیا۔ بڑھاپے کے عالم میں اپنے کمزور حافظہ پر بہت زور دے کر تحریک ختم نبوت کے لیے آپ کے خلوص اور ایمانی فراست اور حضور سرور کائنات ﷺ کی ختم نبوت کے ساتھ لگن اور والہانہ عشق کے پیش نظر یہ قیمتی متاع قلم بند کرکے آپ کے حوالہ کر رہا ہوں میرے عزیز موت و زندگی کا کچھ پتہ نہیں میں اگر پہلے مرگیا تو آپ نے میرے جنازہ پر پہنچنا ہو گا میری قبر پر اپنے ہاتھوں سے مٹی ڈالنا ہوگی۔ میں نے اپنی بیٹی کو وصیت بھی کر دی ہے۔ تحریک ختم نبوت کے ساتھ آپ کی وابستگی نے میرے دل و جگر میں آپ کی جو محبت پیدا ہوچکی ہے وہ میں تحریر میں قلم بند کرنے سے قاصر ہوں میرے لیے خاتمہ ایمان کی ضرور دُعا فرمائیے گا اتفاق سے یہ باتیں میرے سامنے آگئیں اور میں نے تحریر کر دیں۔
نال سبباں دے ہو جاندا اے ایہہ قسمت دا میلا
میاں محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ۔ مصنف سیف الملوک
مدعیہ عائشہ جس خاتون کے نام پر مقدمہ دائر ہوا
مسمات غلام عائشہ بنت مولوی الہی بخش قوم ملانہ عمر 18-19 سال سکنہ احمد پور شرقیہ بمختاری مولوی الہی بخش ولد محمود ذات ملانہ ساکن احمد پور شرقیہ معلم مدرسہ عربیہ
مدعا علیہ
عبدالرزاق ولد مولوی جان محمد ذات بابہ عمر 23 سال ساکن مہند تحصیل احمد پور شرقیہ بعد میں مقیم میلسی ضلع ملتان ۔
مولوی الہی بخش والد مدعیہ اور مولوی عبدالرزاق مدعا علیہ باہمی رشتہ دار تھے۔ مولوی الہی بخش نے اپنی لڑکی مسمات غلام عائشہ مدعیہ کا نکاح اس کے ایام نابالغی میں عبدالرزاق مدعا علیہ سے کر دیا تھا۔ جب کہ ایک عرصہ کے بعد اس نے اپنے سابقہ اعتقادات سے انحراف کر کے مرزائی مذہب اختیار کر لیا اور اپنے قادیانی مرزائی ہونے کا اعلان کر دیا اور پھر کچھ عرصہ کے بعد مولوی الہی بخش سے مدعیہ کے رخصتانہ کے متعلق اصرار کرنا شروع کر دیا۔ مولوی الہی بخش نے جواب دیا کہ جب تک وہ مرزائی مذہب ترک نہ کرے گا مدعیہ کا بازو اُس کے حوالہ نہیں کیا جائے گا جب عبدالرزاق کو کامیابی کی کوئی صورت نظر نہ آئی تو اُس نے ریاست بہاولپور سے ترک سکونت کر کے علاقہ لودھراں میں سکونت اختیار کر لی لیکن والد مدعیہ اور مدعا علیہ کے درمیان کشیدگی پیدا ہو گئی اور والد مدعیہ نے مدعیہ کی طرف سے بحیثیت اس کے مختار کے 24 جولائی 1926ء کو مدعا علیہ کے خلاف یہ دعویٰ دائر کیا کہ مدعیہ اب تک نابالغ رہی ہے اب عرصہ دو سال سے بالغ ہو چکی ہے مدعا علیہ خاوند مدعیہ نے مذہب اہلسنت والجماعت ترک کر کے مرزائی مذہب اختیار کر لیا ہے اور اس وجہ سے وہ مرتد ہو گیا ہے اُس کے مرتد ہونے کے باعث مدعیہ اب اُس کی منکوحہ نہیں رہی کیونکہ وہ شرعاً کافر ہو گیا ہے اس لیے ڈگری تنسیخ نکاح بحق مدعیہ صادر کی جاوے۔
مدعیہ اور مدعا علیہ کے حالات و کوائف میں نے ضمناً تحریر کر دیئے ہیں اگر مناسب سمجھیں تو شائع کر دیں میں نے فقط آپ کی معلومات کے لیے تحریر کر دیا ہے۔
سب سے پہلے یہ دعویٰ منصفی احمد پور شرقیہ میں دائر ہوا جس میں مدعیہ اور مدعا علیہ
کے بیانات ہوتے رہے جس کی لمبی چوڑی تفصیل ہے مختصر یہ ہے کہ مدعیہ کی طرف سے جو درخواست منصفی احمد پور شرقیہ میں پیش کی گئی تھی کہ مدعاعلیہ جس کا مذہبی اعتقاد یہ ہو جس کی وجہ سے وہ مرتد ہو چکا ہے اور مسلمان نہیں ہے اور اس کا ثبوت بذمہ مدعیہ عائد کیا جائے مگر عدالت نے اس درخواست پر کوئی التفات نہ کی اور اُسے شامل مسل کر دیا اس کے بعد 7 مئی 1927ء عدالت عالیہ چیف کورٹ کے حکم سے محمد اکبر خان صاحب بی اے ایل ایل بی ڈسٹرکٹ جج بہاول نگر ریاست بہاولپور میں منتقل ہوا اور عدالت 17 دسمبر 1927ء کو مدعاعلیہ کے وکلاء نے مرزائیت کے عقائد کی ایک فہرست پیش کی جس کا کچھ ذکر میں پہلے خط میں کر چکا ہوں وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَنَعَ مَسَاجِدَ اللّٰہِ ۔
........................ O ........................
قادیانی وکیل کے اعتراضات اور اُن کے جوابات
از حضرت مولانا محمد انور شاہ صاحبؒ
قادیانی وکیل نے کہا کہ اہل قبلہ کی تکفیر جائز نہیں اور جو کلمہ لا الہ الا اللہ کہے اُس کو بھی کافر کہنا درست نہیں اس کے جواب میں حضرت شاہ صاحبؒ نے فرمایا یہ بات کہ اہل قبلہ کی تکفیر جائز نہیں بے علمی اور نا واقفیت پر مبنی ہے کیونکہ حسب تصریح و اتفاق علماء اہل قبلہ کے یہ معنی نہیں کہ جو قبلہ کی طرف منہ کرے وہ مسلمان ہی ہے چاہے سارے عقائد اسلام کا انکار ہی کرے قرآن مجید میں منافقین کو عام کفار سے زیادہ کافر ٹھہرایا گیا ہے حالانکہ وہ فقط قبلہ کی طرف منہ ہی نہیں کرتے تھے بلکہ تمام ظاہری احکام اسلام بھی ادا کرتے تھے اہل قبلہ سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اتفاق کیا ضروریات دین پر اور اہل قبلہ کی تکفیر نہ کرنے کی مراد یہ ہے کہ کافر نہ ہوگا جب تک کہ نشانی کفر کی اور علامتیں کفر کی اور کوئی چیز موجبات کفر میں سے نہ پائی گئی ہو 25 اگست 1932 کو حضرت مولانا محمد انور شاہ صاحب کا بیان شروع ہوا تو کمرہ عدالت علماء رُوسا اور امراء سے پر ہو گیا تھا اور عدالت کے باہر میدان میں بھی دُور دُور تک زائرین کا اجتماع تھا آپ کا بیان متواتر پانچ دن رہا جس میں روزانہ 5 تا 6 گھنٹے علم و عرفان کے دریا بہاتے رہے حضرت شاہ صاحب کے بیان ساطع البرہان میں مسئلہ ختم نبوت مرزا کے
ادعاء نبوت و وحی اور مدعی نبوت کے کفر و ارتداد کے متعلق اس قدر مواد جمع ہے اور ان مسائل و حقائق کی توضیح و تفصیل کے لیے ضمنی مباحث بھی موجود ہیں۔ مرزائی نبوت کے رد میں اتنا ٹھوس علمی ذخیرہ کسی ضخیم سے ضخیم کتاب میں یکجا نہیں ملے گا۔
........ O ........
1948ء جنوری جب کہ ابھی مجلس تحفظ ختم نبوت کا
قیام عمل میں نہیں آیا تھا
مجلس احرار اسلام کا وجود برقرار تھا اور حضرت امیر شریعتؒ خانگڑھ ضلع مظفر گڑھ میں نواب زادہ نصر اللہ خان کی طرف سے دی گئی عارضی رہائش گاہ میں قیام پذیر تھے۔ کبھی کبھی لاہور مرکزی دفتر میں تشریف فرما ہوتے۔
بہر حال اُس دور میں میری سیاسی اور جماعتی زندگی کا ایک عجیب و غریب واقعہ اور قادیانیت کے مقابلہ پر ایک دلچسپ روائیداد یوں ہے۔ نورنگ تحصیل کھاریاں ضلع گجرات میں راجپوت برادری کا ایک مشہور بڑا گاؤں تھا۔ کھاریاں چھاؤنی کی حدود میں شامل ہونے کی وجہ سے دیگر دیہات اور قصبات کے ساتھ نورنگ گاؤں میں آباد لوگوں کو اُن کی آبادیوں کی قیمتیں دے کر وہاں سے بے دخل کر دیا گیا۔ مذکورہ گاؤں کی آبادی میں اکثریت قادیانیوں کی تھی اور اہلسنت مسلمان بہ نسبت مرزائیوں کے کم تھے۔ لیکن خاندانی لحاظ سے سارا گاؤں راجپوتوں کا ہی تھا اور آپس میں رشتے ناطوں کے بندھن میں بھی جکڑے ہوئے تھے۔ قادیانی فوج میں بڑے بڑے مناصب پر فائز تھے۔ یہاں کے مسلمانوں نے احرار رہنماؤں سے درخواست کی کہ کسی احراری مبلغ کو ہمارے ہاں بھیج دیں تاکہ مزید ارتداد کے فتنے کو روکا جاسکے صدر مجلس احرار اسلام شیخ حسام الدین مرحوم کی طرف سے مجھ کو مذکورہ نورنگ گاؤں میں بھیج دیا گیا یہ گاؤں ضلع گجرات تحصیل کھاریاں میں عمومی طور پر مرزائیوں کا مشہور تھا بہر حال عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے پوری تحصیل کھاریاں میں بالخصوص اور ضلع گجرات میں بالعموم میں نے سرگرمی سے کام شروع کر دیا۔ میرے جانے کے بعد اس گاؤں کے مرزائیوں
نے کفر و ارتداد کی حفاظت کے لیے میرے مقابلہ پر قاضی نذیر احمد بھیروی قادیانی مبلغ کی خدمات حاصل کیں۔ میرا اور اُس کا مقابلہ تقریری انداز میں شروع ہو گیا۔ گرمی کے موسم کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے قادیانی مبلغ قاضی نذیر احمد مرزائیوں کے مکانوں کی چھت پر قادیانی مردوں اور عورتوں کے مجمع میں اجرائے نبوت، وفات مسیح علیہ السلام جیسے موضوع پر تقریریں کرتا اُس کے مقابلے پر مسلمانوں کے مکانوں کی چھتوں پر مسلمانوں کے سامنے ختم نبوت اور حیات عیسیٰ علیہ السلام کے موضوع پر میں تقریر کرتا۔ اُس دور میں دیہاتوں اور قصبات میں اکثر بجلی کا نظام نہ ہونے کے برابر تھا۔ تقریری مقابلہ میں جب میری آواز اُس کی آواز سے ٹکراتی تو مجھ کو جو لطف آتا میں لفظوں میں تحریر نہیں کر سکتا۔
تقریری مقابلے کا فائدہ یہ ہوا کہ راجپوت برادری کی بنیاد پر جو سنیوں گویا مسلمانوں اور مرزائیوں کے آپس میں شادی بیاہ کے رشتے منسلک ہو چکے تھے وہ ٹوٹنے شروع ہو گئے۔ مسلمانوں کی لڑکیاں جو مرزائی خاوندوں کے عقد میں جکڑی ہوئی تھیں۔
- اُنہوں نے اپنے قادیانی شوہروں سے طلاقیں لینا شروع کر دیں اسی طرح
مسلمان مردوں کے نکاح میں جو قادیانی عورتیں تھیں اور اپنے باطل عقیدہ پر قائم رہنے پر بضد تھیں مسلمان مردوں نے ان کو فارغ کرنا شروع کر دیا۔ اللہ کے فضل سے یہ میری حقائق پر مبنی تقریروں کا اثر تھا۔ اب بڑے بڑے خنزیر قادیانیوں نے پریشان اور مجبور ہو کر قادیانی مبلغ کو میرے ساتھ باضابطہ مناظرہ کے لیے مجبور کرنا شروع کر دیا لیکن میرا مارشل انداز جو تقریر کا تھا اُس کے پیش نظر وہ میرے ساتھ مناظرہ کرنے کی جرأت نہ کر سکا آج بھی بیاسی 82 برس کی عمر میں بے تکلف دو اڑھائی گھنٹے اللہ کی مدد سے بول سکتا ہوں اور میری بھاری آواز میں دراڑ پیدا نہیں ہوگی حالانکہ اعصابی لحاظ سے میں ضرور کمزور اور نحیف ہوں۔
- بہر حال نورنگ قصبہ کے مرزائیوں نے مجبور ہو کر میرے ساتھ مناظرہ کرنے کے
لیے مشہور قادیانی عبد الرحمن خادم ایڈووکیٹ کو گجرات سے اچانک رات کو لے آئے۔ جب کہ اُس کے ساتھ ایک شخص عبد المالک مشہور قادیانی بھی تھا۔ عبدالرحمن خادم وہ قادیانی ہے جس نے احمدیہ پاکٹ بک کتاب مرتب کی ہے بغیر توقف کے اُس نے آتے ہی مجھے مناظرے کا چیلنج دے دیا۔ اب میرے لیے مشکل یہ بنی کہ اگر میں اُن کو یہ کہتا ہوں کہ مجھ کو اتنا وقت دے دو کہ میں بھی مجلس
احرار اسلام کے کسی مبلغ یا کسی شخصیت کو تعاون کے لیے بلا لوں تو یہ قادیانی کہیں گے کہ یہ احراری فرار کا راستہ تلاش کر رہا ہے۔ میں نے اُسی وقت بارگاہ خداوندی میں سجدہ ریز ہو کر گڑگڑا کر دعا مانگی۔ پروردگار عالم ! اگر میں حق پر ہوں اور یقیناً میں حق پر ہوں تو ان منکرین ختم نبوت کے مقابلہ پر میری مدد فرما۔ نورنگ گاؤں کے مسلمان اگرچہ قادیانیوں کے مقابلہ میں تھوڑے تھے مگر انہوں نے اپنی غیرت ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ مولانا مناظرہ کی جنگ تو آپ نے لڑنی ہے اس کے برعکس اگر مرزائیوں نے کوئی شرارت کی یا آپ پر حملہ آور ہوئے تو ہم انشاء اللہ ان کے کفر کو اور ان کو پاش پاش کر دیں گے۔ بہرحال قادیانیوں کے مناظر عبدالرحمٰن خادم اور اس عاجز محمد شریف احرار کا آمنا سامنا ہوا۔ شرائط مناظرہ سے پہلے پندرہ پندرہ منٹ تقریر کرنے کا وقت متعین کیا گیا میرے حریف قادیانی مناظر نے حیات و ممات عیسیٰ علیہ السلام پر مناظرہ کرنے کی شرط پر زور دیا۔ جب کہ میں نے دونوں موضوع ختم نبوت اور حیات عیسیٰ علیہ السلام پر بات کرنے پر زور دیا۔ لیکن عبدالرحمٰن خادم قادیانی اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر مصر رہا۔ آخر کار میں نے اللہ کی ذات پر کامل یقین اور بھروسہ کرتے ہوئے اپنے روایتی انداز میں زور دار اور گرج دار آواز میں للکارتے ہوئے کہا او عبدالرحمٰن خادم چلو میں نے تمہاری شرط کو مان لیا اب تم کو بھی میری شرط ماننا پڑے گی۔ کہنے لگا وہ کونسی شرط ہے۔ میں نے قادیانیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا سب سے پہلے میں لکھ کر دیتا ہوں کہ اگر میں حیات عیسیٰ علیہ السلام قرآن و حدیث سے پھر عقلی اور نقلی اقوال و دلائل سے اور مرزا قادیانی کی اپنی تصنیف شدہ کتب سے ثابت نہ کر سکوں تو میں تمہاری قادیانیت کو تسلیم کرلوں گا اور اگر عبدالرحمٰن خادم وفات عیسیٰ علیہ السلام ثابت نہ کر سکا تو پھر عبدالرحمٰن خادم کو مرزا غلام احمد قادیانی کی جھوٹی نبوت سے اور اُس کے تمام دعوؤں سے دست بردار ہونے کا اعلان کرنا پڑے گا۔ اس پر مرزائیوں میں سے راجہ بوستان میجر ریٹائرڈ نے کہا بالکل درست ہے۔ ہم آپ کی اس شرط کو تسلیم کرتے ہیں۔ اس پر قادیانی عبدالرحمٰن خادم ایڈووکیٹ فبہت الذی کفر کے گھیراؤ میں آ کر کہنے لگا ایک گھنٹہ کے لیے مناظرہ ملتوی کر دیا جائے تاکہ میں جواب دے سکوں اس پر میجر راجہ بوستان خان راجہ کرم داد خان ریٹائرڈ
صوبیدار لال خان قادیانیوں کی طرف سے بول اُٹھے۔ عبدالرحمن خادم صاحب اب تم ایک گھنٹے کے بعد کیا کرو گے سوائے ذلت اور رسوائی کے تمہارے مقدر میں اور کیا ہے۔ بیشک قادیانیوں کا مذہب جھوٹ اور فریب پر مبنی ہے مرزا قادیانی اپنے تمام دعوؤں میں جھوٹا ہے۔ آج کے بعد ہم اُس کو کافر سمجھتے ہیں اور مرتے دم تک ہم مرزائیت پر لعنت بھیجتے رہیں گے۔ میجر راجہ بوستان علی خان، راجہ کرم داد، صوبیدار لال خان مع اہل وعیال کلمہ پڑھتے ہوئے مسلمان ہو گئے۔ روزنامہ آزاد کے آخری صفحہ پر حق وصداقت کی کامیابی اور منکرین ختم نبوت کی شکست موٹی سرخی سے شائع ہوئی اس پر مجھ کو حاضرین مسلمانوں کی طرف سے 500 روپیہ انعام دیا گیا جو میں نے جماعتی فنڈ میں دے دیا۔ ماشاء اللہ
کامیاب مناظرہ کے بعد مجلس احرار اسلام کے مرکزی دفتر میں جب حاضر ہوا تو حضرت شاہ جی رحمۃ اللہ علیہ تشریف فرما تھے۔ میرے کامیاب مناظرے کی خوشخبری پر شاہ جی نے میری پیشانی کو چوما اور فرمایا کہ یہ میرا بیٹا احرار ہے اس سعادت پر مجھ کو فخر ہے کہ حضرت امیر شریعت کی زبان سے نکلا کہ یہ میرا بیٹا احرار ہے اور انشاء اللہ یہ سعادت میری بخشش کا ذریعہ ثابت ہوگی۔ انہی دنوں کی بات ہے۔ ضلع گجرات کے ایک مشہور قصبہ جوکالیاں جو کہ دریائے چناب کے کنارے پر واقع ہے شمال کی طرف دریا عبور کیا جائے تو رسول نگر ایک بڑا قصبہ ہے تقسیم ہندوستان سے پہلے ہندؤوں کے نزدیک رام گڑھ کے نام سے مشہور تھا یہ علاقہ گوجرانوالہ سے مل جاتا ہے بہر حال جوکالیاں کے بریلوی مکتب فکر کے ایک جید عالم دین قاضی محمد عالم صاحب مرحوم تھے۔
جو کہ عرصہ دراز تک گوجرانوالہ شہر کی مشہور جامع مسجد ملک لال خان کے خطیب تھے ان کی بیٹی کو ایک قادیانی افسر کے بیٹے نے ایک گہری سازش کے تحت اغوا کر لیا۔ لاہوری اور قادیانی رسائل و اخبارات میں یوں خبر شائع ہوئی غیر احمدیوں کے مشہور عالم کی بیٹی ایک احمدی نوجوان کے ساتھ فرار ہو گئی۔ حضرت شاہ رحمۃ اللہ علیہ نے جب یہ خبر پڑھی تو تڑپ اُٹھے کئی دن تک شاہ جی کے آنسو بند نہیں ہوئے۔ فرماتے جب تک کسی بڑے خنزیر مرزائی کی بیٹی کوئی مسلمان نوجوان بھگا کر نہیں لے جاتا مجھ کو چین نہیں آئے گا۔ چنانچہ حضرت شاہ جی نے چوہدری معراج دین مرحوم سالار مجلس احرار اسلام لاہور کو میرے پاس نورنگ بھیج کر مجھ کو لاہور مجلس احرار اسلام کے دفتر میں بلا لیا دفتر میں موجود زعمائے احرار شیخ حسام الدین سردار محمد شفیع مولانا عبدالمنان مرحومین کے سامنے میری طرف مخصوص نگاہ جمائے ہوئے فرمانے لگے میرے
میاں شریف تمہیں معلوم ہے ایک عالم دین کی بیٹی کی عزت کو ایک خنزیر قادیانی کے بیٹے نے لوٹ لیا ہے۔ کیا تم اس پر کچھ کر گزرنے کے لیے تیار ہو۔ میں نے جواباً گذارش کی انشاء اللہ عمل ہوگا۔ میں واپس نورنگ پہنچ کر اسی جدوجہد میں لگ گیا آخر تھوڑی ہی عرصہ میں ریٹائرڈ فوجی کیپٹن راجہ منصب خان جو قادیاں میں مرزا بشیر الدین محمود کی خصوصی ورکنگ کمیٹی کا رکن چلا آ رہا تھا اور کرنل راجہ مہدی خان کا باپ تھا اُس کی دوسری بیوی میں سے اٹھارہ برس کی کنواری اکلوتی بیٹی کو میں اپنی گرفت میں لے چکا تھا۔ ایف اے کا امتحان پاس کر چکی تھی۔ میرے ساتھ بحث وتمحیث میں پیغمبر اسلام ﷺ کی ختم نبوت اور حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام پر میرے دلائل کے آگے گھٹنے ٹیک کر راسخ العقیدہ مسلمان بن چکی تھی چند مسلمانوں کے علاوہ کسی کو کانوں کان خبر تک نہ تھی۔ آخر ایک دن رات کے دس بجے نورنگ میں چھ سات معزز مسلمانوں کی موجودگی میں شرعی ایجاب وقبول کے بعد رات کے ایک بجے کھاریاں اسٹیشن سے پسنجر ٹرین پر سوار ہو کر صبح چھ بجے ہم لاہور پہنچ گئے اس جہاد کی اطلاع میں نے حضرت مولانا لال حسین اخترؒ کو لاہور کر دی تھی اُنہوں نے فیض باغ لاہور میں بوہڑ کے احاطہ میں کرایہ پر مکان حاصل کر لیا تھا۔
کفر سے میرے اس انتقام پر احرار کے رہنماؤں اور کارکنوں میں جہاں ایک خوشی و مسرت کی لہر دوڑ گئی ۔ وہاں حضرت امیر شریعت کی خوشی کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے۔ بالخصوص جب یہ خبر زمیندار اور آزاد اخبار میں سرخی کے ساتھ لگی تو اس کے تاثرات میں لفظوں میں تحریر نہیں کر سکتا۔
”قادیانیوں کی ایف اے پاس لڑکی مبلغ احرار کو بھگا کر لے گئی۔ اس موڑ پر بھی اللہ تعالیٰ نے ہمیں فتح عطا فرمائی اور منکرین ختم نبوت کا منہ کالا ہوا افسوس کہ میری وہ اہلیہ ایک برس بھی زندہ نہ رہی ٹائیفائڈ کا شکار ہو کر دنیا فانی سے رخصت ہو گئی۔ اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَیْهِ رَاجِعُوْن o
آج تک یہ باتیں راز داری میں ہی چل آرہی تھیں خوش قسمت ہیں محمد طاہر عبدالرزاق جو مجلس احرار کی خفیہ تحریک کو حاصل کر رہے ہیں۔ یاد رہے میں اس وقت 84 برس کا ہو چکا ہوں میری نواسی کے بھی تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے جو کہ لاہور میں ہے۔ لیکن میں اپنی دو بیٹیوں کے ہاں بورے والہ میں قیام پذیر ہوں نرینہ اولاد سے محروم ہوں۔
...............O...............
محترم عزیز جناب محمد طاہر عبدالرزاق صاحب سلامت رہو
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ خلاصۃ المرام آپ کا خط مجھ کو موصول ہوا یاد آوری کا شکریہ۔ باقی میں نے تو اپنی زندگی میں سنگین اختلاف رکھنے والوں سے بھی کبھی ہاتھ کھینچنے کی کوشش نہیں کی چہ جائیکہ آپ جیسے پیارے اور محسن شخصیت سے ہاتھ کھینچوں۔ پھر آپ تو وہ ہیں جو اس گئے گزرے دور میں آقائے دو عالم ﷺ کی ختم نبوت کی نامہ نگاری کا حق ادا کر رہے ہیں جو اسلام کا مرکزی نقطہ ہے۔ جس پر حضرت مولانا محمد انور شاہ صاحب کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے 1932 میں مقدمہ بہاولپور میں فرمایا تھا لَوْ لَمْ یَظْہَرُ محمد بن عبداللہ ﷺ بَطَلَتْ نُبُوَّةُ سَائِرِ الْانْبِیَاء ''اگر محمد بن عبداللہ ﷺ کا ظہور نہ ہوتا تو تمام انبیاء کی نبوتیں باطل ہو جاتیں۔ سو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا ظہور ہی تمام انبیاء علیہم السلام کی نبوت کی تصدیق فعلی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں بَلْ جَاءَ بِالْحَقِّ وَصَدَّقَ الْمُرْسَلِینَ بہاولپور کے مشہور تاریخی مقدمہ کے وقت میری عمر پندرہ برس کی تھی اور میں اُتی تحصیل پھالیہ ضلع گجرات میں درس نظامی کی کتابیں پڑھ رہا تھا۔ اپنے اُستادِ معظم حضرت مولانا ولی اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ہمراہ اُس اجتماع میں جہاں شریک تھا وہاں حضرت مولانا محمد انور شاہ صاحب قدس سرہ کی زیارت کا بھی شرف حاصل کر رہا تھا۔ آپ کا ارتداد قادیانیت کے خلاف عدالت میں بیان سننے کے لیے نہ صرف ریاست بہاولپور اور ملحقہ علاقہ کے علماء وعوام و امیران ریاست بلکہ کراچی، بلوچستان اور پنجاب اور دیگر دور دراز علاقوں کے علماء و فضلاء پہنچ گئے تھے۔ عدالت کے باہر میدان میں بھی دور دور تک زائرین کا ایک جم غفیر تھا۔ آپ نے مرزائیت کے کفر و ارتداد اور دجل وفریب کے تمام پہلو آفتاب نصف النہار کی طرح روشن فرما دیئے۔ شاید مرزائی نبوت باطلہ کے رد میں اتنا ٹھوس علمی ذخیرہ کسی ضخیم سے ضخیم کتاب میں بھی یکجا نہیں ملے گا۔ 1946ء میں دہلی جامع مسجد کے سامنے مجلس احرار اسلام کے دفتر میں بحیثیت ناظم اور مبلغ کے میں متعین تھا۔ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ تشریف فرما تھے۔ ملاقات کرنے والے بہت سے حضرات بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت شاہ جیؒ نے اپنا ایک واقعہ بیان کرنا
شروع فرمایا کہ حضرت مولانا انور شاہ صاحب محدثؒ کے متعلق فرمایا کہ جب حضرت انور شاہ صاحب کا انتقال ہو گیا تو میں حضرت مولانا خیر محمد صاحبؒ جالندھری کے ہمراہ تھانہ بھون گیا حضرت تھانویؒ نہایت شفقت سے ملے اور مجھے بغل میں لے کر مسجد کے حوض سے سہ دری میں جہاں حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ بیٹھے تھے لے گئے میں نے عرض کیا کہ حضرت اب آپ ہی ہمارے سر پر ہاتھ رکھیں۔
ہمارے سرپرست تو رخصت ہو گئے تو حضرت تھانویؒ فرمانے لگے جی حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ کے کیا کہنے میں تو انور شاہ صاحبؒ کے وجود کو اسلام کی حقانیت کی دلیل سمجھتا ہوں۔
میرے محترم عزیز محمد طاہر رزاق صاحب! میں تو آپ کو پروانہ ختم نبوت سمجھتا ہوں آپ سے محبت ایمان کی جز تسلیم کرتا ہوں آپ کی محبت کا ثبوت ہے کہ کافی یوم کی علالت کے باعث آپ کو خط لکھنے بیٹھ گیا ہوں دراصل 1986ء میں آپریشن کے ساتھ میرا دایاں گردہ نکال دیا گیا تھا اب دس بارہ یوم سے بائیں گردہ میں بھی تکالیف محسوس کر رہا ہوں۔ علاج کے ساتھ قدرے افاقہ ہے آپ کے علم میں ہوگا کہ میری نرینہ اولاد نہیں۔ تین بیٹیاں ہیں۔ بڑی بیٹی لاہور اور دو بیٹیاں بورے والا میں تینوں بیٹیاں خدمت گذار ہیں مگر منجھلی بیٹی بہت زیادہ میرا خیال رکھتی ہے۔ اس کے پاس مجھ کو سکون زیادہ ملتا ہے کیا بتاؤں میرے ساتھیوں نے کچھ نہ کچھ بنا لیا اور کچھ چھوڑ بھی گئے مگر میں تو جب پیدا ہوا تو تین دن کے بعد میری ماں مرگئی اور میں مرتے وقت تک مہاجر بنا دیا گیا۔ ہوش سنبھالی تو عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے قبضے میں آ گیا اور ساری زندگی اُن کے ساتھ گزار دی۔ انشاء اللہ مجھے یقین ہے کہ میرا خاتمہ ایمان پر ہوگا اور یہی خزانہ لے کر دنیا سے چلا جاؤں گا۔ آمین
1۔ خط بند کرتے ہوئے ایک واقعہ یاد آ گیا تحریر کرتا چلوں۔ 1954ء کا ذکر ہے حضرت امیر شریعتؒ فیصل آباد تشریف لائے۔ میں حضرت شاہ جیؒ کے ہمراہ تھا۔ ایک مکان پر دعوت چائے تھی۔ مولانا احمد رضا بجنوری بھی تھے۔ حضرت مولانا انور شاہ کشمیریؒ کی باتیں ہونے لگیں حضرت بجنوری نے کہا حضرت انور شاہ کشمیری یوں فرماتے تھے۔ قہوہ حمری سزد انور دار چینی دعوت پیغمبر اس پر سید عطاء اللہ شاہ بخاری پھڑک گئے۔ کہ اس سے معلوم ہوا کہ مدح خدا پوری ہی نہیں ہوتی جب تک نعت رسول نہ کہی جائے۔
جو ختم نبوت پہ فدا تھے!
تاریخ تحفظ ختم نبوت سیریز 16
تحقیق و تدوین محمد طاہر عبدالرزاق
- عشق رسول ﷺ میں ڈوبے ضوفشاں پیکر
- غیرت و حمیت کی درخشاں تصویریں
- تحفظ ختم نبوت کی بے نیام شمشیریں
- تاج و تخت ختم نبوت کی حفاظت پر متعین اجلے کردار
- حضرت خاتم النّبیین ﷺ کے غم خوار
- جنگ یمامہ کے شہیدوں اور غازیوں کے پرچم بردار
- حریمِ نبوت کے پاسبان ...... ناموس رسالت کے نگہبان
- مجاہدِ اعظم ختم نبوت سیّدنا صدیق اکبرؓ کے مشن کے وارث
- مرتدوں کے سامنے خالد بن ولیدؓ کی للکار
- قادیانیوں کے روبرو حضرت زیدؓ بن خطاب کی تلوار کی جھنکار
- بدر کی رزم گاہ سے قرون اولیٰ کے مجاہدین کی پکار
- مرزا قادیانی کیلئے وحشیؓ بن حرب کے نیزے کی دھار
- ہتھکڑیوں اور بیڑیوں کا زیور پہنے مسکراتے کڑیل جوان
- جیلوں کے اندھیروں میں روشنیاں بکھیرتے استقامت و عزیمت کے چراغ
- ظالم حکمرانوں کی آگ اگلتی مشین گنوں کے سامنے عاشقوں کے سینوں کی دیوار
- قادیانی اژدھا کے دانت توڑتے ...... سر کچلتے دلاور سپاہی
پڑھیں ...... اور اپنا کردار ادا کریں ....... ہم بھی رسول اللہ ﷺ کے امتی ہیں
بہترین کاغذ، اعلیٰ پرنٹنگ، چار رنگا خوبصورت ٹائٹل
صفحات: 208، قیمت -/ 90 روپے، مجاہدین ختم نبوت کے لیے خصوصی رعایت