غدار اسلام - غدار وطن
ظفراللہ خان قادیانی
جلد اول
تحقیق و تدوین
محمد طاہر عبدالرزاق
غدار اسلام غدار وطن
ظفراللہ خان قادیانی
جلد اوّل
تحقیق و تدوین
محمد طاہر عبدالرزاق
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، حضوری باغ روڈ ملتان
بسم الله الرحمن الرحيم
قَالَ اللّٰهُ تَعَالىٰ فِى الْقُرْاٰنِ الْمَجِيْدِ:
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ
اَبَا اَحَدٍ مِنْ رِّجَالِكُمْ
وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ
محمدؐ باپ نہیں کسی کا تمھارے مَردوں میں سے، لیکن رسولؐ ہے اللہ کا اور خَتم سب نبیوں پر
Muhammad is not the father of any one of your men, but the
Messenger of ALLAH (God) and the Seal upon all the Prophets.
قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
اَنَا خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ
میں ”خاتم النّبیّین“ ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں.
انتساب
- طبیعت میں عاجزی اور انکسار
- لباس میں نفاست ولطافت کی بہار
- گفتگو میں کلیوں کا تبسم، غنچوں کی چٹک اور بلبل کے نغموں کی مٹھاس
- خطابت میں کبھی آب رواں کا ترنم، کبھی نسیم سحری کی ٹھنڈک، کبھی
بجلی کا کڑکا اور کبھی مجاہد کی للکار
- صورت دلبر، سیرت دلکش، شخصیت دلنواز
- محاذ ناموسِ رسالت کا ایک شمشیر بکف سپاہی
- تحفظ ختم نبوت کے لیے سادات کی غیرت، اسلاف کی حمیت
اور شہیدوں کا جنوں
- قادیانیوں کے لیے ایک دہکتا ہوا آتش فشاں ۔۔۔ جو اس
فتنہ کو بھسم کرنے کے لیے بے قرار
- آستانہ عالیہ چورہ شریف کا مسند نشیں جو دلوں کو قرار، روحوں کو
سکون، آنکھوں کو حیا اور برہنہ سروں کو چادریں عطا کرتا ہے
حضرت پیر سید کبیر علی شاہ مدظلہ العالی کے نام ..... بصد احترام
فہرست
نقاب کشائی محمد طاہر عبدالرزاق
دشمن اسلام دشمن وطن ظفر اللہ خان قادیانی جناب جسٹس میاں نذیر اختر
ظفر اللہ خان...... کتے کے جو لائق تھے وہ سر ٹھہرے جناب شفیق مرزا
ظفر اللہ قادیانی مختلف شخصیات کی نظر میں محمد طاہر عبدالرزاق 26
چودھری ظفر اللہ قادیانی کا اصل روپ (تحریر ۔ سب سابق قادیانی) 30
ظفر اللہ نے پاکستان کو کیا دیا؟ قاضی احسان احمد شجاع آبادی 48
سر ظفر اللہ خان کا شرمناک کردار حافظ محمد ابراہیم 51
لیاقت علی خان کے قتل کی سازش ابن فیض 60
جب ظفر اللہ قادیانی نے انگریزی ٹاؤٹ سر فضل حسین کے جوتے اٹھائے مولانا تاج محمود 67
میاں افتخار الدین کی ظفر اللہ قادیانی پر گرفت صاحبزادہ طارق محمود 70
پچاس سال قبل پاکستان کے پہلے قادیانی وزیر خارجہ آنجہانی سر ظفر اللہ خان کا حلف نامہ مولانا مجاہد الحسینی 72
سر ظفر اللہ خان، شیخ مجیب الرحمان کے چرنوں میں صاحبزادہ طارق محمود 77
چودھری ظفر اللہ خان قادیانی مولانا عنایت اللہ چشتی 79
جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے بارے میں ظفر اللہ قادیانی کی ہرزہ سرائی صاحبزادہ طارق محمود 83
ظفر اللہ خان قادیانی کے زیر سایہ قادیانی مبلغین کی ارتدادی سرگرمیاں ماسٹر تاج الدین انصاری 87
چودھری ظفر اللہ خان
ظفر اللہ خان قادیانی
کیا سر ظفر اللہ خان تحری
ظفر اللہ قادیانی کی سا
ظفر اللہ قادیانی کی عب
ظفر اللہ قادیانی اور لیا
ٹیلی فون کی ایک کال
سابق وزیر خارجہ سر
سازش کے ملزم کی ے
سر ظفر اللہ کی قیمت
ادا کی؟ کون خریدا
تاریخی انکشاف
سر ظفر اللہ اور پاکستان
سر ظفر اللہ، ننگ وطن
آنجہانی ظفر اللہ قادی
آنجہانی سر ظفر اللہ
اخلاقی کارکردگی کی چ
سر ظفر اللہ خان قا
حکومت کی طرف ۔
خلاف ورزی کا افسوس
نوکر حکومت پاکستان کا
ظفر اللہ قادیانی کے ج
چودھری ظفر اللہ خان کے متعلق ایک مکتوب مولانا بہاء الحق قاسمی 92 ظفر اللہ خان قادیانی این لائی کے قدموں میں صاحبزادہ طارق محمود 96 کیا سر ظفر اللہ خان تحریک پاکستان میں شامل تھا؟ محمد عمر فاروق 99 ظفر اللہ قادیانی کی مکاریاں اور عیاریاں ماسٹر تاج الدین انصاری 107 ظفر اللہ قادیانی کی عبرتناک موت فیاض حسن سجاد 110 ظفر اللہ قادیانی اور لیاقت علی خان قتل کیس صاحبزادہ طارق محمود 113 ٹیلی فون کی ایک کال نے اس کی جان بچالی! سابق وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان کے قتل کی سازش کے ملزم کی ۲۷ سال بعد رہائی حامد سعیدی 120 سر ظفر اللہ کی قیمت 12 لاکھ روپے کس نے ادا کی؟ کون خریدار تھا؟ ایک حیرت انگیز تاریخی انکشاف نصر اللہ خان 125 سر ظفر اللہ اور پاکستان علامہ محمود احمد رضوی 129 سر ظفر اللہ، ننگ وطن کردار کی جھلکیاں چودھری رستم علی 132 آنجہانی ظفر اللہ قادیانی—چند خفیہ پہلو عبد اللطیف سیفی 139 آنجہانی سر ظفر اللہ خان کی سیاسی، مذہبی، اخلاقی کارکردگی کی چند جھلکیاں خواجہ عبد الحمید آف قادیان 146 سر ظفر اللہ خان قادیانی کی موت، ارباب حکومت کی طرف سے اسلام اور ملکی قوانین کی خلاف ورزی کا افسوس ناک مظاہرہ مولانا مجاہد الحسینی 156 نوکر حکومت پاکستان کا خدمات قادیانی جماعت کی صاحبزادہ طارق محمود 160 ظفر اللہ قادیانی کے جلسے کے پرخچے اڑ گئے ماسٹر تاج الدین انصاری 168
سر ظفر اللہ خان اور ایم ایم احمد قادیانی
غداریوں اور سازشوں کے مکروہ چہرے قاضی محمد اسلم فیروز پوری 172 ظفر اللہ قادیانی کا شرمناک جھوٹ مولانا تاج محمود 175 سر ظفر اللہ خان قادیانی کی عرب لڑکی سے شادی کی کہانی 177 چودھری ظفر اللہ خان کی خدمات؟ مولانا تاج محمود 182 ظفر اللہ خان قادیانی کی اسلام اور نبی اکرم ﷺ سے دشمنی محمد طاہر عبدالرزاق 186 سر ظفر اللہ خان قادیانی، سور کے گوشت کی قدرت اللہ شہاب گولیاں کھا گیا 189 مجادلت مولانا غلام غوث ہزاروی کی ظفر اللہ قادیانی پر جرح 190 اقبال کے حضور میں— قادیانی سر ظفر اللہ کے پروفیسر حکیم عنایت اللہ نسیم خلاف علامہ سے ایک بیان لینے کی دلچسپ کہانی سوہدروی 195 جب وزیراعظم لیاقت علی خان نے ظفر اللہ قادیانی کو کابینہ سے نکالنے کا فیصلہ کیا ماسٹر تاج الدین انصاری 198 لیاقت علی خان کا قتل...... پردہ اٹھتا ہے محمد حنیف ندیم 201
❁.......❁.......❁
قاضی محمد اسلم فیروزپوری 172 مولانا تاج محمود 175
مولانا تاج محمود 177 182
محمد طاہر عبدالرزاق 186 قدرت اللہ شہاب 189
پروفیسر حکیم عنایت اللہ نسیم 190 سوہدروی 195
ماسٹر تاج الدین انصاری 198 محمد حنیف ندیم 201
نقاب کشائی
اسے انگریز نے ایک خطرناک سازش کے ذریعے پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ بنوایا۔ جس نے اسلام کو مرزا قادیانی سے زیادہ نقصان پہنچایا۔ جو ساری زندگی پوری دنیا میں مرزا قادیانی کو اللہ کا نبی اور رسول متعارف کراتا رہا۔ اس نے وزیر خارجہ ہونے کی حیثیت سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے بیرونی ممالک میں پاکستان کے سفارت خانوں کو قادیانیت کے تبلیغی اڈوں میں تبدیل کر دیا۔ اس نے پاکستان کے کلیدی عہدوں پر قادیانیوں کو تعینات کروایا، جس سے سرکاری اداروں میں قادیانیوں کو زبردست اثر و رسوخ حاصل ہو گیا۔ انگریزوں نے اسے اپنا جاسوس بنا کر مسلمانوں کی صفوں میں داخل کیا تھا۔ اسکی اسلام دشمن فطرت دیکھتے ہوئے اسے سر فضل حسین جیسے غدار کے بعد وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کا ممبر بنایا۔ وہ ڈسکہ ضلع سیالکوٹ کا ایک ناکام وکیل، بے کار مقرر، ناشائستہ گفتگو کرنے والا لیکن بلا کا چاپلوس اور عیار تھا۔ وہ پنجابی لہجے میں انگریزی بولتا تھا جس پر اس کے دوست اسے چھیڑا کرتے تھے کہ تم انگریزی کھیت میں ’پنجابی ہل‘ چلاتے ہو۔ اسے اپنی ازدواجی زندگی میں ایک لمحہ بھی سکون میسر نہ ہوا۔ اس کا گھر ہمیشہ برباد رہا کیونکہ اس نے ہزاروں گھروں کو برباد کیا تھا۔ اس کی اپنی بیوی سے اس لیے نہ بن سکی کیونکہ وہ قادیانی خلافت کے گھرانوں میں دلچسپیاں رکھتا تھا۔ اس کی زندگی بھی مرزا قادیانی جیسی تھی اور اسے موت بھی مرزا قادیانی والی نصیب ہوئی۔ اس نے قائد اعظم کی نماز جنازہ نہ پڑھی کیونکہ وہ قائد اعظم کو کافر سمجھتا تھا کہ قائد اعظم مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے تھے۔ اس نے قادیانی مبلغین کی سینکڑوں جماعتیں بیرونی دنیا میں قادیانیت کی تبلیغ کے لیے بھجوائیں اور ”تبلیغ اسلام“ فنڈ کے نام پر کروڑوں روپے حکومت سے دلوائے۔ اس نے اپنے آقاؤں کی دی ہوئی پالیسی کے مطابق ساری زندگی برادر اسلامی ممالک سے پاکستان کے تعلقات کشیدہ رکھے۔ اس نے ایک گھناؤنی سازش کے ذریعے ضلع گورداس پور بھارت میں شامل کروا کر وہاں بیٹھے لاکھوں مسلمانوں کو قتل کروایا اور بھارت کو کشمیر پر قبضہ کرنے کا موقع مل گیا۔ اس نے سلامتی کونسل کے پلیٹ فارم پر مسئلہ فلسطین کے بارے میں عربوں سے غداری اور اسرائیل سے وفا داری کی۔ وہ حکومت پاکستان کا وزیر خارجہ ہونے کے باوجود، قادیانی جلسوں میں جا کر کفریہ تبلیغی تقریریں کرتا اور اپنے ہاتھوں سے ارتدادی لٹریچر بانٹتا۔ جب اسکی ارتدادی سرگرمیوں سے تنگ آ کر پاکستان کے مسلمانوں نے 1953ء کی تحریک ختم نبوت چلائی، جس میں سر ظفر اللہ قادیانی کو وزارت خارجہ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا لیکن اس وقت کے ہلاکو
خائنوں نے دس ہزار مسلمانوں کو تو شہید کر دیا۔ دو لاکھ عاشقانِ رسول کو قید تو کر لیا لیکن اس استعماری مہرے کو وزارت خارجہ سے نہ ہٹایا۔ جب وزیر اعظم لیاقت علی خان کو اس کی غداریوں، خباثتوں اور پاکستان پر قادیانی قبضہ کرنے کی سازشوں کا علم ہوا تو انہوں نے اسے کابینہ سے نکالنے کا فیصلہ کر لیا۔ راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ایک عظیم الشان جلسہ میں لیاقت علی خان نے اسے کابینہ سے نکالنے کا اعلان کرنا تھا۔ لیکن لیاقت علی خان ابھی سٹیج پر آکر اپنی تقریر کے چند الفاظ بول سکے تھے کہ اُس کے لے پالک جرمن نژاد قادیانی ”کنزے“ نے لیاقت علی خان پر فائرنگ کر کے انہیں شہید کر دیا۔ اس نے مرزا قادیانی کے پوتے اور منصوبہ بندی کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین مسٹر ایم ایم احمد قادیانی اور فوجی جرنیلوں کے ساتھ مل کر مشرقی پاکستان کا سانحہ رونما کرایا۔ وہ اپنے اس کارِ سیاہ کو اپنی زندگی کا بہترین ”کارنامہ“ کہتا تھا۔
اُس غدارِ عظیم کا نام ”سر ظفر اللہ قادیانی“ ہے۔
ہم اختصار کو مد نظر رکھتے ہوئے سر ظفر اللہ خان قادیانی کی زندگی کے چند پہلو آپ کے سامنے رکھتے ہیں۔ جن سے آپ اندازہ کر لیں گے کہ ظفر اللہ قادیانی کی اخلاقی زندگی کیا تھی؟ وہ کس گھناؤنے کردار کا مالک تھا؟
ظفر اللہ خان قادیانی 1893ء میں ڈسکہ ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوا۔ اُس کا باپ بھی مرتد تھا۔ باپ اور حکیم نور الدین نے مل کر ظفر اللہ قادیانی کو بھی 14 سال کی عمر میں (1907ء) مرزا قادیانی کے ہاتھ پر مرتد بنا دیا اور ظفر اللہ قادیانی کا شاہی خاندان میں آنا جانا شروع ہو گیا تھوڑی ہی مدت میں ظفر اللہ کی آنکھیں شرارے چھوڑنے لگیں تو باپ نے اُسے قابو کرنے کے لئے ایک سادہ سی دیہاتی لڑکی سے اُس کی شادی کر دی لیکن ظفر اللہ قادیانی تو کسی شوخ اور ماڈرن لڑکی کا آرزو مند تھا۔ لیکن باپ کے سامنے اُس کی پیش نہ چلی۔ ظفر اللہ قادیانی نے اُس سادہ دیہاتی لڑکی کو کبھی بیوی نہ سمجھا اور اُس سے کوئی تعلق نہ رکھا۔ وہ باپ کی موت کا شدت سے انتظار کرنے لگا۔ 1926ء میں والد کا انتقال ہو گیا تو اُس نے ایک تیز طرار آزاد خیال اور تعلیم یافتہ لڑکی ”بدر“ سے ”لو میرج“ کر لی جس سے ایک بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام امت الحی ہے۔ قادیانی شاہی خاندان میں ظفر اللہ قادیانی کی سرگرمیاں بہت بڑھ گئیں۔ وہ کئی کئی دن گھر نہ آتا۔ بیوی بھی ہوشیار تھی اُس نے گھات لگا کر سب کچھ معلوم کر لیا۔ میاں بیوی میں لڑائی رہنے لگی۔ آخر ”بدر“ نے ظفر اللہ قادیانی کے کرتوتوں سے تنگ آ کر 1962ء میں اُس سے علیحدگی اختیار کر لی اور فوراً ایک کروڑ پتی مشہور قادیانی شاہنواز سے شادی کر لی۔ اُدھر ظفر اللہ قادیانی نے دو بیویاں اُجاڑنے کے بعد ایک نو عمر اور خوبرو فلسطینی دوشیزہ، بشریٰ ربانی سے شادی رچا لی۔ تھرڈ ہینڈ بوڑھا دولہا اس تھرڈ میرج کو بھی نبھا نہ
سکا اور نتیجتاً طلاق ہو گئی۔
کیا وجہ تھی کہ ظفر اللہ قادیانی کے تینوں گھر اُجڑ گئے۔ جو بیوی آئی طلاق کا داغ لیکر گئی۔ اُس کی کیا وجوہات تھیں؟ دور نہیں جانا پڑتا۔ قادیانی لٹریچر سے ہی اس کا جواب مل جاتا ہے۔ قادیانی ماہنامہ ’المجاہد‘ کے ظفر اللہ خان نمبر میں قادیانی خلیفہ مرزا محمود کی سب سے چھوٹی بیوی ’مہر آپا‘ چوہدری ظفر اللہ قادیانی سے اپنے تعلقات کا اظہار یوں کرتی ہے۔
”اپنی کوٹھی تعمیر ہونے سے قبل جب کبھی آپ حضرت فضل عمر (مرزا محمود) سے ملاقات کیلئے آتے اور مرکز سلسلہ میں قیام فرماتے تو اپنے جس گھر میں حضور (مرزا محمود) کی باری ہوتی (مرزا محمود کی کئی بیویاں تھیں۔ ہر بیوی کے گھر باری باری جاتا تھا) آپ بھی اسی گھر کے مہمان شمار ہوتے۔ جب کبھی مجھے آپ کی میزبانی کا موقع ملتا تو میں آپ کی بیماری کے پیش نظر مناسب غذا تیار کرواتی۔ ایک دفعہ آپ نے حضور سے کہا کہ مہر آپا میرے کھانے کا بہت تکلف سے اہتمام کرتی ہیں (مضمون، چوہدری ظفر اللہ قادیانی کا اصل روپ، ہفت روزہ، ختم نبوت، از قلم، جناب م۔ب صاحب سابق قادیانی جلد 5 شمارہ 19 ص 21,20)
مہر آپا جو مرزا محمود کی ساتویں بیوی تھی۔ مرزا محمود کی عمر 60 سال اور مہر آپا کی عمر 19 برس تھی۔ ظفر اللہ قادیانی کی بہت سی سروس یورپ میں ہی گزری۔ مہر آپا جب بھی مرزا محمود کے ساتھ یورپ سیر کے لئے جاتی تو ظفر اللہ قادیانی کے وارے نیارے ہو جاتے۔ وہ تو خیر مہر آپا کے آگے پیچھے بھاگتا کہ خدمت میں کوئی کمی نہ رہ جائے۔ مہر آپا ”ظفر اللہ خان“ نمبر میں لکھتی ہے۔
”اس احساس کے تحت کہ میں گوشت کی کوئی چیز نہیں کھا رہی۔ چوہدری صاحب (ظفر اللہ) نے حضور سے کہا حضور! میں حسب سابق شرع کی پابندی ملحوظ رکھتے ہوئے مہر آپا کیلئے ایک خاص ڈش کا انتظام کر رہا ہوں۔ ان کو وہ ضرور پسند آجائے گی۔ یہ کہہ کر آپ نے اس ڈش کا آرڈر دیا۔ جب وہ ڈش تیار ہو گئی تو چوہدری صاحب نے حضور سے کہا۔ یہ خاص طور پر مہر آپا کے لیے بنوائی گئی ہے۔ ان سے کہیں اب تو کھا لیں۔ (چوہدری ظفر اللہ خان قادیانی کا اصل روپ، ہفت روزہ ختم نبوت۔ جلد 5 شمارہ 18 ص 21,20-19۔ از قلم، جناب م۔ب صاحب۔ سابق قادیانی)
مہر آپا مزید لکھتی ہے
اسی طرح آسٹریا میں ایک دفعہ کھانے کا وقت ہوا تو ہم ہوٹل میں آگئے۔ چوہدری صاحب نے میرے لئے بھی انڈوں کا سوپ منگوایا۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ مجھے یہ اچھا نہیں لگتا۔ جب چوہدری صاحب کو پتہ چلا کہ میں وہ نہیں پی رہی تو آپ نے ”زہر می خورم“ کہتے ہوئے پی لیا (حوالہ۔ ایضاً)
ایک بار وینس میں چوہدری صاحب نے ہم مستورات کیلئے کھلے سمندر کی سیر کا انتظام
کیا...... سیر کے دوران چوہدری صاحب بہت سے اہم تاریخی مقامات دکھاتے چلے گئے اور ساتھ ساتھ ان کا تاریخی پس منظر بھی بتاتے رہے (حوالہ۔ ایضاً)
ظفر اللہ خان قادیانی کی ان آوارہ گردیوں نے اُس کا گھر تباہ کیا۔ اس کے علاوہ اُس کے ساتھ نو عمر لڑکے بھی اکثر دیکھے جاتے تھے۔ ہوٹلوں کے کمروں میں بھی لڑکے اس سے ملاقات کیلئے آتے۔ وہ جب بھی جہاز سے اترتا اُس کے ساتھ ایک دو لڑکے ضرور ہوتے۔ اُسے یہ عادت مرزا محمود اور حکیم نور الدین سے ملی تھی۔ ساری زندگی ظفر اللہ قادیانی رائل فیملی کے شعلہ رخوں کا اسیر رہا۔ اُس کا اپنا گھر بن بن کر اُجڑتا رہا لیکن اُس نے اپنے گھر کی طرف کبھی توجہ نہ کی۔ جب عمر نوے سال کے قریب پہنچ گئی۔ قوتیں جواب دے گئیں۔ اعصاب مضمحل ہوگئے۔ بیماریوں نے گھیر لیا تو گھر یاد آیا۔ لیکن گھر تو تھا ہی نہیں۔ اب ہڈیوں کا ڈھانچہ و بیماریوں کا پٹارہ جاتا تو کہاں جاتا؟ آخر بیٹی کا گھر یاد آیا۔ لیکن بیٹی کو چھوڑے بھی مدتیں گزر گئی تھیں۔ دوسری مصیبت یہ کہ اُس کی مطلقہ بیوی بھی بیٹی کے گھر میں ہی رہتی تھی۔ آخر ذلیل ہو کر گھر میں آنا پڑا۔ بیٹی کے گھر آکر بہت رویا دھویا۔ آہ و بکا کی۔ سب سے معافیاں مانگیں۔ سابقہ بیوی سے بات کرنے کی کوشش کی تو اُس نے سختی سے جھڑک دیا۔ ایک دن ظفر اللہ قادیانی اپنا بیمار وجود لئے کھانے کی میز پر بیٹھا تھا۔ بیٹی اور اُس کے بچے بھی ساتھ تھے کہ اچانک اُس نے اپنی مطلقہ بیوی کی طرف دیکھ کر کہا۔
”اگر آپ بھی اس پروگرام میں شامل ہو جائیں تو یہ مجھ پر عنایت ہوگی“ (ظفر اللہ خان نمبر ص 47) لیکن طلاق یافتہ بیوی نے اُسے دھتکارتے ہوئے کہا کہ تیرا میرا کوئی تعلق نہیں جس پر وہ مجسمہ بن کے رہ گیا۔
اختصار مد نظر ہے اس لیے میں سر ظفر اللہ خان قادیانی کی تاریک شخصیت پر روشنی ڈالنے کے لئے تاریخ سے صرف چار واقعات بیان کرتا ہوں۔ جس سے آپ جان جائیں گے کہ وہ کتنا گھٹیا انسان تھا اور وہ کس ابلیسی کردار کا مالک تھا؟
جب ظفر اللہ قادیانی نے انگریزی ٹاؤٹ سر فضل حسین کے جوتے اٹھائے
یادش بخیر! ملک فیروز خان نون بھی بڑے مزے کے بزرگ ہیں۔ نوائے وقت کی اشاعت 13 اکتوبر میں ان کے کچھ رشحات قلم شائع ہوئے ہیں۔ ملک صاحب نے اپنے انہی قلمی مقالوں میں ایک خاص واقعہ کا اشارہ بھی کیا ہے کہ:
ایک دفعہ وہ سر ظفر اللہ خان کی دعوت پر ربوہ گئے اور مرزا بشیر الدین محمود سے ملے جب ملاقات کے کمرہ میں داخل ہوئے تو احتراماً جوتے اتار دیئے۔ ملاقات کے بعد جب اٹھے تو سر ظفر اللہ خان نے ان کے جوتے اٹھا کر ان کے سامنے رکھ دیئے۔ ملک صاحب سر ظفر اللہ خان
کی اس انکساری اور تواضع سے بہت متاثر ہوئے۔
ملک صاحب بھی عجیب سادہ لوح بزرگ ہیں انہیں یہ معلوم نہیں کہ دراصل سر ظفر اللہ خان پاکستان کے وزیر اعظم یعنی ملک کے دس کروڑ باشندوں کے نمائندوں کو اپنے گرو کے پاس لے جانے میں کامیاب ہو گیا اور اس طرح سے اس نے پورے ملک کی انتظامیہ اور افسروں کو یہ تاثر دیا کہ قادیانیوں کے متعلق باملاحظہ ہوشیار ہو کر رہیے کیونکہ میرے گرو کے دربار میں ملک کا سب سے بڑا حاکم بھی پاپوش کشیدہ اور نفس گم کردہ حاضر ہوتا ہے۔
ملک صاحب کا خیال ہے کہ دربار ربوہ میں سر ظفر اللہ خان نے ملک صاحب کا جوتا اٹھا کر انکساری اور تواضع کی اعلیٰ مثال پیش کی ...... لیکن ہمارا خیال یہ ہے کہ سر ظفر اللہ خان نے ملک نون کو ربوہ کی سرکار میں پیش کر کے پوری ملت اسلامیہ کے سر پر جوتے رسید کئے۔ اصل میں ملک فیروز نون بہت بھولے آدمی ہیں۔ تحریک پاکستان کے آخری ایام میں وہ مسلم لیگ میں شامل ہو کر تحریک پاکستان کی تائید کرنے لگے تھے بلکہ تحریک پاکستان کے سلسلے میں گرفتار ہو کر کچھ دنوں کے لیے قید بھی ہو گئے تھے۔ ملک صاحب کی گرفتاری اور قید کا سن کر ہمارے ایک بزرگ نے غالب کا یہ شعر پڑھا تھا:
اب آبروئے شیوہ اہل نظر گئی
ملک صاحب کا انہی دنوں کا ایک لطیفہ بڑا مشہور ہے کہ کسی جلسہ میں انہوں نے کہا تھا کہ مسلمانو! پڑھو کلمہ اللہم صلی علی محمد وعلیٰ آل محمد وبارک وسلم ۔
چوہدری ظفر اللہ خان کے جوتے اٹھانے کی بات ہو رہی تھی چوہدری صاحب کے جوتے اٹھانے کا ایک اور واقعہ بھی سن لیجئے جس زمانے میں ان کو میاں سر فضل حسین کی جگہ وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کا ممبر بنایا جا رہا تھا ان دنوں کا ذکر ہے کہ ایک وفد میاں سر فضل حسین کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میاں صاحب اس وقت شملہ میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ اس وفد میں (1) سید مرتضیٰ بہادر ممبر سنٹرل اسمبلی (2) منظور علی نائب مالک آرمی پریس شملہ (3) خطیب صاحب جامع مسجد شملہ (4) مولانا لال حسین اختر (5) احمد حسین شملوی شامل تھے۔
وفد نے میاں صاحب سے عرض کیا کہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل سے فارغ ہو کر پنجاب میں ہونے والے الیکشنوں میں حصہ لے کر وزیر اعلیٰ پنجاب بننا چاہتے ہیں اور اپنی جگہ مسلمان نمائندے کے طور پر سر ظفر اللہ خان قادیانی کو کونسل کا ممبر بنوا رہے ہیں آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہئے اور ظفر اللہ قادیانی کی جگہ کسی مسلمان کو کونسل کا ممبر بنوانا چاہئے۔
میاں صاحب نے وفد کی معلومات کی تصدیق کی اور کہا کہ میں ظفر اللہ خان کے علاوہ کسی اور کو ممبر بنوانا پسند نہیں کروں گا..... وفد مایوس ہو کر باہر نکلا تو میاں فضل حسین مرحوم کے ایک ملازم نے پوچھا کہ کہو بھائی! میاں صاحب نے تمہارا مطالبہ مان لیا، انہوں نے نفی میں جواب دیا۔ اس نے کہا میری ایک بات سنو پھر تمہاری سمجھ میں آجائے گا کہ میاں صاحب ظفر اللہ خان کو ہی کیوں ممبر بنوانا چاہتے ہیں۔ ہوا یہ کہ ایک دن میاں صاحب دفتر جانے کے لیے تیار ہو رہے تھے۔ اس وقت چوہدری ظفر اللہ خان بھی میاں صاحب کے پاس موجود تھے میاں صاحب نے مجھے آواز دی اور کہا کہ میرا جوتا لاؤ۔ میں ساتھ والے کمرے میں تھا جلدی سے آیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ میرے آنے سے قبل ہی سر ظفر اللہ خان نے میاں صاحب کا جوتا اٹھا کر ان کے سامنے رکھ دیا۔
یہ واقعہ سنا کر وہ ملازم کہنے لگا نواب آف چھتاری یا سر علی امام یا نواب اسمعیل یا ہندوستان اور پنجاب کا کوئی اور بڑا مسلمان میاں صاحب کی اتنی خوشامد نہیں کر سکتا ہے جتنی سر ظفر اللہ خان کر رہے ہیں اس لیے آپ جائیں یہ ظفر اللہ خان کو ہی ممبر بنوائیں گے، کسی اور کو ممبر بنوانا کبھی پسند نہیں کریں گے۔ اسی لیے تحریک آزادی کے دنوں میں مولانا ظفر علی خان اور سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ ایسے لوگوں کے متعلق یہ کہا کرتے تھے کہ:
”فلاں شخص انگریزوں کے بوٹ کی ٹو چاٹتا ہے۔“
ایسے کسی آدمی نے اگر ملک نون کا جوتا اٹھا کر رکھ دیا تو کون سی قیامت آ گئی جس سے ملک نون شرمائے جا رہے ہیں۔
بے چارے چوہدری ظفر اللہ خان جس فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں اس کی بنیاد ہی انگریز کی کفش برداری اور خوشامد پر ہے۔ اور چوہدری صاحب اس فرقہ کے مخلص اور سچے پیروکار
ہیں (ہفت روزہ لولاک۔ 17 اکتوبر 1966ء از قلم: مولانا تاج محمود)
سر ظفر اللہ خان قادیانی، سور کے گوشت کی گولیاں کھا گیا
ہالینڈ میں پہنچ کر محکمہ پروٹوکول کے ایک افسر نے مجھے بسبیل تذکرہ یہ بتایا کہ اگر ہم سو ر کے گوشت (پورک، ہیم، بیکن وغیرہ) سے پرہیز کرنا چاہتے ہیں تو بازار سے بنا بنایا قیمہ نہ خریدیں، کیونکہ بنے ہوئے قیمہ میں ہر قسم کا ملا جلا گوشت شامل ہو جاتا ہے اس انتباہ کے بعد ہم لوگ ہالینڈ کے استقبالیوں کا من بھاتا ”کھاجا“ قیمہ کی گولیاں (Meat Balls) کھانے سے اجتناب کرتے تھے۔ ایک روز قصر امن (Peace Palace) میں بین الاقوامی عدالت عالیہ کا سالانہ استقبالیہ تھا۔ چوہدری ظفر اللہ خان بھی اس عدالت کے جج تھے۔ ہم نے دیکھا کہ وہ قیمے کی گولیاں، سرکے اور چٹنی میں ڈبو کر مزے سے نوش فرما رہے تھے۔ میں نے عفت سے کہا، آج تو
چوہدری صاحب ہمارے میزبان ہیں۔ اس لیے قیمہ ٹھیک ہی منگوایا ہوگا۔ وہ بولی ذرا ٹھہرو پہلے پوچھ لینا چاہیے۔ ہم دونوں چوہدری صاحب کے پاس گئے۔ سلام کر کے عفت نے پوچھا، چوہدری صاحب یہ تو آپ کی (Reception) ہے۔ قیمہ تو ضرور آپ کی ہدایت کے مطابق منگوایا گیا ہوگا؟ چوہدری صاحب نے جواب دیا (Reception) کا موقع الگ ہے، قیمہ اچھا لائے ہوں گے۔ یہ کباب چکھ کر دیکھو۔ عفت نے ہر قسم کے تلے جلے گوشت کا خدشہ بیان کیا۔ چوہدری صاحب بولے ”بعض موقعوں پر بہت زیادہ کرید میں نہیں پڑنا چاہیے۔ حضور کا فرمان بھی یہی ہے“ دین کے معاملے میں عفت بے حد منہ پھٹ عورت تھی۔ اس نے نہایت تیکھے پن سے کہا یہ فرمان آپ کے حضور (مرزا قادیانی) کا ہے یا ہمارے حضور ﷺ کا؟“
(شہاب نامہ ص 1003 تا 1004 مصنفہ قدرت اللہ شہاب)
قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود اور ظفر اللہ قادیانی، فرانسیسی سینما گھر میں
جب میں ولایت گیا تو مجھے خصوصیت سے یہ خیال تھا کہ یورپین سوسائٹی کا عیب والا حصہ دیکھوں مگر قیام انگلستان کے دوران مجھے موقع نہ ملا۔ واپسی پر جب ہم فرانس France آئے تو میں نے چوہدری سر ظفر اللہ خان سے جو میرے ساتھ تھے کہا مجھے کوئی ایسی جگہ دکھائیں۔ جہاں یورپین سوسائٹی عریانی سے نظر آئے وہ بھی فرانس سے واقف نہ تھے مگر مجھے اوپرا (ڈانس گھر) میں لے گئے اور پیرا سینما کو کہتے ہیں جس کا نام مجھے یاد نہیں رہا یہ اعلیٰ سوسائٹی کی جگہ ہے جسے دیکھ کر آپ اندازہ لگا سکتے ہیں۔ میری نظر کمزور ہے اس لئے دور کی چیز اچھی طرح نہیں دیکھ سکتا۔ تھوڑی دیر کے بعد میں نے دیکھا تو معلوم ہوا کہ سینکڑوں عورتیں بیٹھی ہیں میں نے چوہدری صاحب سے کہا کیا یہ ننگی ہیں انہوں نے بتایا نہیں بلکہ کپڑے پہنے ہوئے ہیں مگر باوجود اس کے وہ ننگی معلوم ہوتی تھیں۔ (بیان خلیفہ محمود امام سلسلہ احمدیہ قادیانی اخبار الفضل 18۔ جنوری 1935ء)
قائد اعظم کی نماز جنازہ نہ پڑھی
بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی نماز جنازہ پڑھی جا رہی ہے لیکن ادھر ایک عجیب منظر ہے کہ پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ ظفر اللہ خان قادیانی ملکی سفیروں کے جھرمٹ میں ٹانگیں پسارے بیٹھا ہے۔ وہ کنکھیوں سے جنازے کا سارا منظر دیکھ رہا ہے۔ اس کے ہونٹوں پر ایک زہریلی مسکراہٹ اور اس کی آنکھوں میں ایک شرارت ہے۔ اپنے قائد کا جنازہ پڑھ کر مسلمان فارغ ہوئے تو صحافیوں نے سر ظفر اللہ قادیانی سے پوچھا:۔ ”آپ نے بانی پاکستان حضرت قائد اعظم کی نماز جنازہ کیوں نہ پڑھی“ ”سر ظفر اللہ قادیانی نے جواب دیا۔
”آپ مجھے ایک کافر ملک کا مسلمان وزیر خارجہ یا ایک مسلمان ملک کا کافر وزیر خارجہ سمجھ لیں۔“
سر ظفر اللہ اس ذومعنی جملے میں بہت کچھ کہہ گیا۔ وہ قائد اعظم کو کافر کہہ گیا وہ قائد اعظم کے کافر ہونے کا اعلان کر گیا۔ وہ اپنے اس عقیدے کی تشہیر کر گیا کہ جو مرزا قادیانی کو نبی نہ مانے وہ کافر اور پکا کافر ہے۔ دنیا بھر کے قادیانیوں نے اس پر خوب بغلیں بجائیں۔ کہ سر ظفر اللہ نے ڈٹ کر اپنے عقیدے کا اظہار کیا ہے۔
سر ظفر اللہ قادیانی کا ہولناک انجام
فتنہ قادیانیت کا پوپ سر ظفر اللہ بستر مرگ پر بے ہوش پڑا ہے...... کبھی کبھی معمولی سی آنکھیں کھول کر اپنے ارد گرد کھڑے لوگوں کو ہلکی سی نظر دیکھ لیتا ہے...... کھانے پینے سے عاجز ہے...... غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے گلوکوز کی بوتلیں چڑھا رکھی ہیں...... لیکن گلوکوز کا پانی پیلے رنگ کا محلول بن کر منہ کے راستے باہر نکل جاتا ہے اور اس پیلے رنگ کے محلول سے پاخانے جیسی بدبو اٹھ رہی ہے...... ڈاکٹر ٹشو پیپر سے بار بار اس غلاظت کو صاف کر رہے تھے لیکن غلاظت رکنے کا نام نہیں لیتی...... سر ظفر اللہ بستر پر پیشاب کر رہا ہے۔ کمرے میں اس شدت کی بدبو ہے کہ ٹھہرنا مشکل ہے...... بدبو اور دیگر حفاظتی تدابیر کو مد نظر رکھتے ہوئے قادیانی ڈاکٹروں نے اپنے منہ پر ماسک چڑھا رکھے ہیں۔ عام ملاقات پر سخت پابندی ہے کیونکہ سر ظفر اللہ کا یہ ہولناک انجام دیکھ کر کوئی بھی قادیانی، قادیانیت سے تائب ہو سکتا ہے...... اسی حالت میں ظفر اللہ ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جاتا ہے...... لیکن مرنے کے بعد بھی اس کے منہ سے غلاظت جاری رہتی ہے اس سے بچنے کے لیے قادیانی ڈاکٹر اس کا منہ کھول کر گلے میں روئی کا گولہ ٹھونس دیتے ہیں...... لیکن خدائی عذاب اس گولے سے کہاں رکتا ہے!!!
منہ پر ہی گرا جس نے چاند پہ تھوکا
خاکپائے مجاہدین ختم نبوت محمد طاہر عبدالرزاق لاہور یکم اگست 2007ء
”دشمن اسلام، دشمن وطن، ظفر اللہ خان قادیانی“
فتنہ قادیانیت کے منظر پر آنے کے بعد سب سے پہلے ۱۸۸۲ء میں علمائے لدھیانہ نے مرزا غلام احمد اور اس کے پیروکاروں کی تکفیر میں فتاویٰ صادر فرمائے۔ علمائے حق نے مرزا قادیانی کی زندگی میں ہی اس کے گمراہ کن عقائد و دعاوی کا تعاقب کیا۔ اسے جھوٹا مدعی نبوت ثابت کر کے خارج از اسلام قرار دیا۔ یہ فریضہ مولانا حضرت محمد عالم آسیؒ، حضرت ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالویؒ، حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ، حضرت مولانا سعد اللہ لدھیانویؒ، حضرت مولانا کرم دین ......، حضرت مولانا عبدالحق غزنویؒ، حضرت امام احمد رضا خاں بریلویؒ، حضرت پیر مہر علی شاہؒ اور حضرت حافظ محمد شفیع سکھرویؒ نے سرانجام دیا۔ مرزا غلام احمد نے ۱۹۰۱ء میں با قاعدہ اپنی نبوت کا اعلان کیا۔ حضرت امام احمد رضا خاں بریلویؒ نے ۱۹۰۱ء سے ۱۹۲۱ء تک متعدد فتاویٰ اس کے دعویٰ نبوت کے بطلان اور رد قادیانیت میں صادر کیے۔ بعد ازاں، بہت سی اہم ہستیاں، قافلہ مجاہدین ختم نبوت میں شامل ہوئیں جن میں بعض کے اسمائے گرامی یہ ہیں۔ حضرت سید انور شاہ کشمیریؒ، حضرت پیر سید جماعت علی شاہؒ، شاعر مشرق حضرت علامہ محمد اقبالؒ، حضرت مولانا عبدالعلیم میرٹھیؒ، امیر شریعت حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، حضرت مولانا ظفر علی خانؒ، حضرت علامہ ابوالحسنات محمد احمدؒ، حضرت علامہ سید یوسف بنوریؒ، حضرت علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ، حضرت مولانا یوسف لدھیانوی شہیدؒ، حضرت مولانا محمد حیاتؒ، حضرت مولانا محمد چراغ، حضرت علامہ شاہ احمد نورانیؒ اور شورش کشمیریؒ وغیرہم۔ ان تمام علماء مشائخ اور اکابرین نے اس حقیقت کو روزِ روشن کی طرح واضح کر دیا کہ مرزا غلام احمد اور اس کے پیروکار خارج از اسلام ہیں اور ان کا امت مسلمہ سے کوئی تعلق نہ ہے۔ اسی حقیقت کا اظہار ظفر اللہ خان قادیانی نے عملاً کیا، جب اس نے بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کی نمازِ جنازہ میں شمولیت نہ کی۔ جب مولانا محمد اسحاق مانسہروی اور کچھ صحافیوں نے اس ضمن میں ظفر اللہ خان سے استفسار کیا تو اس نے جواب دیا ”...... آپ مجھے کافر حکومت کا مسلمان ملازم سمجھ لیں، یا مسلمان حکومت کا کافر ملازم“...... حکومت تو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی تھی۔ اس لیے ہم ظفر اللہ خان کو مسلمان حکومت کا کافر ملازم ہی سمجھ سکتے ہیں۔
اس سے قبل ظفر اللہ خان نے سر فضل حسین کی نماز جنازہ سے بھی علیحدگی اختیار کی تھی۔ یہ عمل مرزا غلام احمد کی تعلیمات کے مطابق تھا جس نے اپنے پیروکاروں کو ہدایت کر دی تھی کہ غیر احمدیوں سے کوئی تعلقات نہ رکھیں اور ان کی غمی خوشی کی تقریبات میں بھی شامل نہ ہوں، چنانچہ ظفر اللہ خان نے اپنے عمل سے اپنے چہرے پہ پڑے نقاب کو اٹھا کر علی الاعلان عامۃ المسلمین کو بتا دیا کہ مجھے پہچان لو، میں ایک اسلامی مملکت کا غیر مسلم وزیر خارجہ ہوں۔ اس ایک نقاب کے علاوہ اس کے چہرے پر مبینہ لیاقت، قابلیت، شرافت، دیانت، خوش اخلاقی اور حب الوطنی کے بہت سے نقاب پڑے ہوئے تھے جن کی وجہ سے بہت سے پاکستانی اس ”نقاب پوش“ کے بارے میں لاعلم یا حسن ظن رکھتے تھے۔ لیکن بھلا ہو مؤلف کتاب ہذا محمد طاہر عبد الرزاق کا جنھوں نے بڑی محنت اور جانفشانی سے اس کتاب میں کم و بیش ۳۵ مضامین جمع کر دیے اور اس طرح ظفر اللہ خان کے چہرے پہ پڑے ہوئے تمام خوش رنگ نقاب اتار دیے اور اہل وطن کو اس کا اصل چہرہ دکھا دیا۔ ان کی کاوش لائق صد تحسین ہے۔ اور اس اعتبار سے جرأت مندانہ بھی ہے کیونکہ دور حاضر میں قادیانی اور ان کے ایجنٹ حکومتی اداروں میں پہلے سے زیادہ مقتدر وموثر ہیں۔
اس کتاب کے مطالعے سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ ظفر اللہ خان قادیانی اور جماعت قادیانیہ تخلیق پاکستان کے مخالف تھے۔ ظفر اللہ خان نے قرارداد پاکستان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ”جہاں تک ہم نے غور کیا ہے ہم اسے مجذوب کی بڑ اور ناممکن العمل خیال کرتے ہیں ۔ (حوالہ: ڈیوائیڈ انڈیا صفحہ ۲۰۷) تقسیم ہند کی مخالفت کرتے ہوئے مرزا محمود خلیفہ قادیان نے کہا ”میں نے یہ بات پہلے بھی کئی بار کہی اور اب پھر کہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک یہ تقسیم اصولاً غلط ہے۔ (اخبار الفضل قادیانی ۵ اپریل ۱۹۴۷ء)
اکھنڈ ہندوستان جماعت احمدیہ کا الہامی عقیدہ ہے۔ مرزا محمود نے اس سلسلے میں کہا ...... ”جماعت احمدیہ کا الہامی عقیدہ ہے کہ پاکستان کا وجود عارضی ہے اور کچھ وقت کے لیے دونوں قومیں جدا جدا رہیں ، مگر یہ حالت عارضی ہوگی ۔ بہر حال ہم چاہتے ہیں کہ اکھنڈ بھارت بنے اور ساری قومیں شیر وشکر ہوکر رہیں ۔ “ (اخبار الفضل قادیان ۵ اپریل ۱۹۴۷ء)
اس کے بعد ایک اور موقعہ پر مرزا محمود نے کہا ”اللہ تعالیٰ کی مشیت ہندوستان کو اکٹھا رکھنا چاہتی ہے۔ اگر عارضی علیحدگی ہوگی تو اور بات ہے۔ خوشی سے نہیں، بلکہ مجبوری سے اور پھر کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح متحد ہو جائے ۔“ (بیان مرزا محمود ۱۶ مئی ۱۹۴۷ء)
حیرت ہے کہ ان واضح بیانات اور عقائد کے باوجود (جن سے پاکستان دشمنی عیاں ہے) مرزائیوں کو پاکستان آنے اور یہاں آباد ہونے کی اجازت دی گئی۔ ویسے بھی انتقال
آبادی کے اصول کے تحت صرف مسلمانوں کو ہندوستان سے منتقل ہو کر پاکستان آنے کی اجازت تھی، غیر مسلموں اور کافروں کو نہیں...... مرزائیوں کا غیر مسلم ہونا ۱۸۸۴ء سے لے کر ۱۹۴۷ء تک علمائے کرام، مشائخ و صوفیائے عظام و دیگر اکابرین کی کاوشوں سے واضح ہو چکا تھا...... اصولاً ہندوستانی مرزائیوں کو قادیان میں ہی رہنا چاہیے تھا اور پاکستانی مرزائیوں کو منتقل ہو کر قادیان میں آباد ہونا چاہیے تھا۔ لیکن ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت عملاً اس کے برعکس ہوا اور مرزائی ہندوستان سے منتقل ہو کر پاکستان میں آ گئے اور اپنے عقیدے کے مطابق آج تک پاکستان کو کمزور کرنے اور اکھنڈ بھارت بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ (علاوہ ازیں، ان کی بھر پور کوشش ہے کہ کشمیر پاکستان کو ملے نہ ہندوستان کو بلکہ آزاد ہو کر ایک قادیانی ریاست بنے۔ اسی لیے ”کشمیر بنے گا پاکستان“ کے نعرے کو بدل کر ”آزادی، آزادی“ کے نعروں کو رواج دیا گیا۔ ایسے نعرے قادیانی پالیسی اور فکر کے آئینہ دار ہیں...... محب وطن پاکستانیوں کو ان سے خبردار رہنا چاہیے۔)
مؤلف کتاب ہذا نے قادیانی عقائد وعزائم کے خلاف تقریباً ۳۱ کتابیں اور ایک سو سے زائد کتابچے تصنیف کیے ہیں۔ جن کے مطالعے سے جہاں ایک طرف عامۃ المسلمین کو مرزا غلام احمد کے دعاوی اور مرزائی عقائد کی اصلیت کا پتہ چلا تو دوسری طرف بہت سے مرزائیوں کو حقیقت کا علم ہوا، انھیں ہدایت نصیب ہوئی اور وہ تائب ہو کر مشرف بہ اسلام ہوئے۔ محمد طاہر عبدالرزاق صاحب کی کتابیں اپنے ملک کے علاوہ امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، ہندوستان اور دیگر کئی ممالک میں پڑھی جا رہی ہیں۔ ان کے مطالعے سے حال ہی میں ایک نوجوان عرفان محمود برق مرزائیت سے تائب ہوا۔ اس نے اپنی والدہ اور سگے بھائی کو بھی مسلمان کیا اور رد مرزائیت میں ایک کتاب ”قادیانیت اسلام اور سائنس کے کٹہرے میں“ تحریر کی۔ مرزائیوں کی نسل نو پوری دنیا میں سخت ذہنی اضطراب اور الجھنوں کا شکار ہے۔ اگر وہ صدق دل سے مؤلف کی کتابوں کا مطالعہ کریں، تو امید واثق ہے کہ ان سب کو نور ہدایت نصیب ہو جائے گا۔
مؤلف کی زیر نظر کتاب کے مطالعے سے سر ظفر اللہ خان کی اصل شخصیت کی پہچان ہو جاتی ہے اور محض پروپیگنڈے کے زور سے اس کا تراشیدہ بت پاش پاش ہو جاتا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھیں تو مؤلف سنت ابراہیمی پر عمل پیرا ایک ”بت شکن“ نظر آتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر عطا فرمائیں، اور ان کی سعی جمیلہ کو قبولیت عامہ نصیب فرمائیں۔ آمین!
جسٹس (ر) میاں نذیر اختر
ظفر اللہ خاں...... کٹنے کے جو لائق تھے وہ سر ٹھہرے
۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد بڑی بڑی جاگیریں رکھنے والے مسلمان امراء اور زمیندار پسے تو تھے ہی لیکن اس عہد زوال میں بھی وہ اپنا غرور بانکپن گنوانے کے لیے تیار نہیں تھے چھوٹے زمینداروں کا حال البتہ بہت پتلا تھا اور وہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے انگریز سے مفاہمت ہی نہیں کچھ بھی کرنے کے لیے پوری طرح کمر بستہ تھے پستی اور ادبار کے اس دور میں سر فضل حسین، ظفر اللہ خاں کو گوشہ گمنامی سے نکال کر عملی سیاست کی رہداریوں میں لائے تا کہ وہ چھوٹے زمینداروں کے مفادات کی پاسبانی کا فریضہ انجام دے سکیں انھیں یہ ذمہ داری اس لیے سونپی گئی کہ سر فضل حسین اس حقیقت سے پوری طرح آشنا تھے کہ متنبی قادیان کے اس چیلے کو اگر کوئی ادنیٰ سا دنیوی منصب بھی دے دیا گیا تو وہ ہر رذالت کو قبول کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہے گا اور وقت نے ان کی اس قیافہ شناسی پر اس طرح مہر تصدیق ثبت کی کہ ظفر اللہ خاں نے اپنی روایتی خوشامد اور چاپلوسی سے خود ان کے ذہن و قلب پر اتنا تغلب حاصل کر لیا کہ وہ سب کچھ جاننے اور سمجھنے کے باوجود اپنے ”جوتے سیدھے کرنے اور اٹھا کر سامنے رکھنے“ والے اس شخص سے نجات پانے کے بارے میں سوچنے سے بھی گریز کرنے لگے، انھیں اپنے اس زاویہ نگاہ پر پختہ کرنے والی یہ حقیقت بھی تھی کہ وہ خوب سمجھتے تھے ۱۸۵۷ء کے معرکے کے بعد تاج برطانیہ ہندو مسلم اتحاد کے امکانات سے اس قدر لرزہ براندام ہو چکا ہے کہ اب وہ اپنے خود کاشتہ پودے کی شاخوں اور پھولوں کے علاوہ اور کسی پر اعتبار کرنے کے لیے تیار نہیں تھا اس پس منظر میں دیکھا جائے تو ظفر اللہ خاں کی ”ترقی“ ان کے کسی علم و فضل کی بنا پر نہیں اس خصوصی وصف کی بنا پر تھی کہ وہ مرزا غلام احمد کا پیروکار ہونے کے باعث مسلمانوں کی وحدت ملی کو پارہ پارہ کرنے کے لیے فرنگی راج کی سازشوں کو پروان چڑھانے کے لیے کچھ بھی کر گزرنے میں کوئی ندامت محسوس نہیں کرتا تھا اور اپنے اس طرز عمل پر اتنی ڈھٹائی سے قائم تھا کہ ۱۹۳۶ء میں جب تمام مسلم لیگی زعماء نے انگریز
کی چوکھٹ کی پاسداری کے صلے میں ملنے والے سر کے خطابات واپس کرنے کا فیصلہ کیا تو اس نے ایسا کوئی قدم اٹھانے سے صاف انکار کر دیا، تقسیم ہند کا فارمولا طے کرنے کے مرحلے پر باؤنڈری کمیشن میں مسلم لیگ کی نمائندگی کرنے کے لیے اس کا انتخاب کیا تو اس نے پارٹی موقف سے ہٹ کر یہ محضر نامہ پیش کر دیا کہ قادیانیوں کو مسلمانوں سے علیحدہ ایک اقلیت کے طور پر شمار کیا جائے اور اسی سبب سے گورداسپور اور پٹھان کوٹ کے مسلم اکثریتی علاقے ہندوستان میں چلے گئے لیکن پاکستان بن گیا تو قادیانی مسلم کاز سے کی جانے والی اس صریح قومی غداری سے آنکھیں موند کر انگریز کی حمایت واعانت سے آگ اور خون سے گزر کر آنے والے دیگر مسلمانوں کے بالکل برعکس نہایت محفوظ طریقے سے پاکستان میں منتقل ہو گئے اور بیوروکریسی کے طاقتور حلقوں کو یہ تاثر دے کر کہ وہ تاج برطانیہ سے اپنے پرانے تعلقات کی بنا پر پاکستان کے روابط مغربی دنیا سے بہتر بنانے کی جدوجہد کریں گے پہلی کابینہ میں ظفر اللہ خاں کو وزیر خارجہ بنانے میں کامیاب ہو گئے لیکن اس احسان کا بدلہ اس نے یہ دیا کہ بانی پاکستان کا جنازہ تک پڑھنے سے انکار کر دیا اور جوگندر ناتھ منڈل کے ساتھ ایک کونے میں کھڑا رہا اور جب ایک رپورٹر نے اس بارے میں استفسار کیا تو اس نے کہا کہ مجھے ایک کافر حکومت کا مسلمان وزیر یا مسلمان حکومت کا کافر وزیر سمجھ لیا جائے لیکن اپنا یہ موقف رکھنے کے باوجود اس نے نہ صرف بیوروکریسی کے ہر اہم شعبے میں قادیانیوں کے پنجے گاڑنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا بلکہ اپنے چھوٹے بھائی عبداللہ خاں کو سندھ کا سیٹلمنٹ کمشنر لگوا کر مرزا محمود احمد، اُس کے بھائیوں اور بیٹوں کے نام پر بڑی بڑی جاگیریں الاٹ کرا کے سندھ اور پنجاب میں نفرتیں پیدا کرنے کی ایسی مکروہ بنیاد رکھی جس نے اس خطے میں بسنے والے سادہ دل عوام کے صدیوں پرانے معاشرتی رویوں کو تلپٹ کر کے رکھ دیا، تذکرہ ہو رہا تھا باؤنڈری کمیشن میں ظفر اللہ خاں کے تباہ کن کردار کا کہ اس کی ذیل میں بعض ناگزیر ضمنی باتیں آ گئیں، میر نور احمد نے اپنی کتاب مارشل لاء سے مارشل لاء تک، میں چودھری ظفر اللہ خاں کی غداری کی جو تفصیل رقم کی ہے اس کی خاصی تفصیل زیر نظر کتاب میں موجود ہے لیکن یہ ایک طویل موضوع ہے اور اس پر شیخ عبداللہ مرحوم کی کتاب آتش چنار، ڈاکٹر علامہ اقبال کے خطوط، جناب امیر الدین کا انٹرویو نیز میاں افتخار الدین کی اسمبلی کی تقاریر سے بڑی مدد مل سکتی ہے اور ذوالفقار علی بھٹو شہید کا یہ تاریخی جملہ تو ظفر اللہ خاں کی ساری قابلیت کا بھرم کھولنے کے لیے
کافی ہے کہ ظفر اللہ خاں نے سلامتی کونسل میں بے مغز لمبی لمبی تقریریں کر کے سب کچھ الجھا کر رکھ دیا قادیانی جسٹس منیر کی فسادات پنجاب کی تحقیقاتی رپورٹ میں دیے گئے ان ریمارکس کو تو بڑے شد و مد سے پیش کرتے ہیں کہ ”میں باؤنڈری کمیشن کا ایک ممبر ہونے کی حیثیت سے چودھری ظفر اللہ خاں کی بہادرانہ جدوجہد پر تشکر و امتنان کا اظہار کرتا ہوں لیکن انہی جسٹس صاحب نے جب اپنی ملازمت کی مجبوریوں اور نظریہ ضرورت سے آزاد ہو کر روزنامہ مشرق لاہور کو ایک طویل انٹرویو دیتے ہوئے یہ انکشاف کیا کہ باؤنڈری کمیشن میں چودھری ظفر اللہ خاں کا رویہ ہمارے لیے شدید الجھن کا موجب بن گیا تھا تو قادیانی اس پر سراسیمہ ہو کر رہ گئے اور خلیفہ ربوہ مرزا محمود احمد کے پرانے نمک خوار مولوی اللہ دتہ المعروف ابوالعطاء جالندھری نے اپنے رسالہ ”الفرقان“ ربوہ میں ایک شذرہ لکھتے ہوئے اس پر یہ سرخی جمائی ”انقلابات ہیں زمانے کے“ قادیانیوں کو مسلمانوں سے لاگ بھی ہے اور لگاؤ بھی۔ وہ اپنے عقائد کے مطابق انھیں ایک ”نبی“ کا منکر ہونے کی وجہ سے کافر گردانتے ہیں اور ان کے بچوں تک کا جنازہ پڑھنے سے اس لیے انکار کر دیتے ہیں کہ سانپ کا بچہ سانپ ہی ہوتا ہے لیکن مسلم معاشرے میں رہنے کے لیے وہ ہر منافقت کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں تاکہ اس کے اقتصادی فوائد سمیٹنے میں انھیں کوئی مشکل پیش نہ آئے اور یہی نقطہ نظر ہے جس کے تحت وہ چودھری ظفر اللہ خاں کے دور سے لے کر اب تک ہر اہم شعبہ زندگی میں بڑے مناصب سے لے کر کلرکوں اور مہتروں تک کی چھوٹی چھوٹی ملازمتوں سے چھپکلیوں کی طرح چمٹے ہوئے ہیں اور اس استحصال کو قائم رکھنے کے لیے انھوں نے چناب کے کنارے قائم کردہ اپنی ریاست اندر ریاست میں ایک ایسا حکومتی ڈھانچہ بنا رکھا ہے جو ملک میں نکلنے والی ملازمتوں کا پورا ریکارڈ رکھتا ہے اور پھر پوری عیاری کے ساتھ ان میں قادیانیوں کو کھپانے کے لیے ہر جتن کرتا ہے، بھٹو دور میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو آگے بڑھانے کے لیے سرگرمی سے کام شروع کیا گیا تو ایم ایم احمد اور اٹامک انرجی کمیشن کے اندر مختلف عہدوں پر براجمان جلی و خفی قادیانیوں کے ذریعے ان لوگوں نے اس میں اپنی جڑیں مضبوط کر لیں اور پھر ڈاکٹر عبدالسلام نے انھیں اٹلی میں قائم کردہ اپنی ریسرچ لیبارٹری میں بڑی بڑی تنخواہوں پر ملازم رکھنے اور ازاں بعد مغربی ممالک میں منتقل کرنے کا لائحہ عمل طے کیا۔ صدر ضیاء الحق کو اپنے دورہ امریکہ میں جب پاکستان کی ایٹمی سرگرمیوں کی ساری تفصیلات کا بلیو پرنٹ دکھایا گیا تو وہ ششدر ہو
کر رہ گئے اور پھر جب تحقیقات کے بعد انھیں یہ پتہ چلا کہ یہ سارا کام ڈاکٹر عبدالسلام نے دوسرے قادیانیوں سے مل کر کیا تھا تو وہ اس طبقے کی اس خوفناک قومی غداری پر دل تھام کر رہ گئے۔ محکمہ تعلیم و صحت میں تو قادیانیوں کو گھسیڑنے کے لیے نظارت تعلیم خصوصی منصوبہ بندی کرتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ملک کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بالخصوص اسلامیات اور اردو پڑھانے والے اساتذہ میں قادیانیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور میں ایک قادیانی پرنسپل کے عہدے تک پہنچا اور حکومت سے کئی اعزازات بھی حاصل کیے لیکن اس کے ساتھ پندرہ پندرہ سال تک گزارنے والوں کو بھی یہ علم نہیں کہ وہ قادیانی تھا اور اب بک ہوم نے اس کی ایک سوانح شائع کی ہے اس میں بھی اس نے اپنی قادیانیت کو چھپانے کی کوشش کی ہے لیکن چوری آخر چوری ہے پکڑی جاتی ہے اور اس میں ضلع جھنگ میں چنیوٹ کے قریب احمد نگر نامی بستی میں تعلیم حاصل کرنے کی باتیں اور مبشر احمد راجپوت، پرویز پروازی اور دوسرے قادیانیوں کا تذکرہ صاف بتا دیتا ہے ان لوگوں کے ساتھ موصوف کے مراسم کیوں تھے میرے لیے حیران کن امر یہ ہے کہ اگر کوئی شخص صدق دل کے ساتھ حضور ﷺ کو حقیقی معنوں میں خاتم النبیین مان کر مسلمان ہو چکا ہے تو پھر اسے اس کا اعلان کرنے میں کیا امر مانع ہے ان قادیانی منافقین کی حالت سے تو یہی گمان ہوتا ہے کہ ان کی حالت ابھی تک ان لوگوں کی سی ہے جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ بدوان عرب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں ان سے کہہ دو کہ تم ایمان تو نہیں لائے لیکن شوکت اسلام کو دیکھ کر تم منقاد زیر پر ہو کر رہ گئے ہو۔
غلام رسول نامی ایک اور قادیانی جو اب ”پروفیسر“ غلام رسول کہلانے کا خواہاں ہے۔ اس نے بھی اپنی ساری مدت ملازمت میں مختلف کالجوں میں مسلمان طلباء کو قادیانی سٹائل میں ”اسلامیات“ پڑھائی اور اپنی قادیانیت کو قریب ترین ساتھیوں سے بھی اس طرح چھپائے رکھا جیسے ایک ناگتھا اپنا پیٹ چھپائے رکھتی ہے اس نے مذاہب عالم کے ”تقابلی مطالعہ“ پر متعدد کتب مولوی محمد علی لاہوری، عبدالحق ودیارتھی اور ریویو آف ریلیجنز کے مضامین سے لفظ بلفظ نقل کر کے لکھی ہیں جن میں سے قادیانیت جھلکتی ہی نہیں چھلکتی نظر آتی ہے ”تنویر القرآن“ اور اس نوع کی دوسری کئی کتب میں بھی وہ ملفوف انداز میں مسلمانوں کو گمراہ کر رہا ہے عورت کی گواہی کے سلسلے میں اس نے ایک نہایت ہی نامعقول کتاب کتب خانہ دانشوراں
کی طرف سے شائع کی اور اب وہ قادیانیوں کی در پردہ امداد سے اس قدر خود کفیل ہو چکا ہے کہ غلام رسول اینڈ سنز کے نام سے ٹیکسٹ بک بورڈ کی درسی کتب بھی شائع کر رہا ہے۔ اس کی ایک کتاب ”سیرت خیر البشر“ کا دیباچہ ظفر اللہ خاں نے اس عہد میں لکھا جب وہ قادیانی امت کے خلیفہ ثانی مرزا محمود کے عتاب میں آیا ہوا تھا مگر اس کے باوجود چودھری ظفر اللہ نے اس کی کتاب کا دیباچہ لکھا کہ آخر ”مروت“ بھی کوئی چیز ہے ”تقابل ادیان“ اور دوسرے کئی اسلامی موضوعات پر رطب و یابس لکھ کر شائع کرنے والا یہ شخص ”تقابل ابدان“ میں بھی گہرا درک رکھتا ہے کہ اس کے شوق ڈہریت اور ذوق مابونیت کی داستانیں ہیں لب عالم پر۔ لیکن یہ الگ موضوع ہے اس لیے اس کا تذکرہ پھر کسی وقت۔
جبل جہالت قسم کا ایک اور قادیانی جو آج کل ٹاؤن شپ کے کسی کالج میں اردو پڑھاتا ہے وہ صوبائی دارالحکومت میں ہونے والی ازکار رفتہ ادبی محفلوں کا کھوج لگانے کے لیے سگ آوارہ کی طرح سرگرداں ہوتا ہے کچھ عرصہ پیشتر اس نے اپنے آقاؤں کے اشارے پر عالمی شہرت یافتہ شاعر و افسانہ نگار احمد ندیم قاسمی کی طرف سے دائر کردہ ایک مقدمہ ہتک عزت میں ان کے موقف کے خلاف گواہی بھی دی تھی مگر یہ معاملہ صرف ان چند قادیانی منافقین تک محدود نہیں بلکہ اس کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ قادیانی مختلف نقاب اوڑھ کر ملت اسلامیہ کی نئی نسل کے ذہنوں کو آلودہ کرنے میں مصروف ہیں۔ ڈیرہ غازی خاں کے ایک قادیانی عبدالرحمن مبشر نے جو پیام شاہجہان پوری کا ہم زلف ہے۔ قرآن کریم کا تحریف پر مبنی ترجمہ کیا جس پر وہ ایک مقدمہ میں بھی ماخوذ ہوا۔ رحمت اللہ شاکر قادیانی نے ”شیطان کانفرنس“ کے نام سے ایک ڈرامہ نما کتابچہ لکھا جس کا آغاز یوں ہوتا ہے ”سنیے صاحبان کیا کہتا ہے خادم شیطان آج رات کفر گڑھ کے وسیع میدان میں رئیس الاشرار ابلیس کا دھواں دھار لیکچر ہوگا، اور پھر اس کے بعد تمام انبیاء علیہم السلام کی مخالفتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے اس نے مرزا غلام احمد کو بھی نعوذ باللہ صف انبیاء میں شامل کر کے اس کی مخالفت کرنے والوں کو بھی شیطان قرار دیا۔ ظفر اللہ خاں نے اس کے اس انداز بیان کو ٹالسٹائی جیسے نابغہ کے طرز تحریر سے مشابہ قرار دیا اور پھر اس کے بعد اسی آدمی نے ”مرزائی“ اور ”دور بین“ دو تبلیغی ناول لکھے جن کی ظفر اللہ خاں نے پھر تحسین کی حیرت ہے کہ آج قادیانی مرزائی کہلانے میں جھلاہٹ محسوس کرتے ہیں حالانکہ کسی زمانے میں ان کے بڑے خود فخر سے کہتے تھے۔ ”میں ہوں
مرزائی میں ہوں قادیانی“ میں یہاں تک لکھ چکا تھا کہ مجھے ایک اور قادیانی ضیاء اللہ یاد آگئے ان کی کتاب ”ہمارا خالق“ شیخ غلام علی اینڈ سنز نے شائع کی ہے جس کے کئی ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب مرزا غلام احمد کی کتابوں کے لفظ بلفظ طویل پیراگرافس پر مشتمل ہے مگر کسی ایک جگہ اشارہ بھی نہیں کیا گیا کہ یہ اقتباسات کہاں سے لیے گئے ہیں کیا منافقت کسی اور چڑیا کا نام ہے؟
ریڈیو اور ٹی وی میں بھی قادیانیوں کی بھرمار ہے چند سال پہلے پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کے رسالہ ”آہنگ“ میں مرزا غلام احمد کی ”دعویٰ نبوت“ سے پہلے کی ایک نظم آنحضرت ﷺ کی شان اقدس میں غلام احمد فرخ کے نام سے شائع کی گئی عوام تو درکنار خود قادیانیوں کی بڑی تعداد کو بھی یہ علم نہیں کہ بانی قادیانیت کبھی اپنی شاعری میں یہ تخلص بھی استعمال کیا کرتا تھا لیکن یہ ساری خفیہ کارروائی اس غرض سے تھی کہ اس کے بارے میں پڑھے لکھے طبقے کے ذہن میں نرم گوشہ پیدا کیا جائے قادیانیوں کی اس قسم کی نقب زنی تعلیم و صحت، ریڈیو، ٹی وی اور اشاعتی حلقوں میں ہر جگہ جاری ہے اور مسلم معاشرے میں اپنے ففتھ کالمسٹوں کو فٹ کرنے کی اس سازش کی داغ بیل ظفر اللہ خاں نے ہی ڈالی تھی پاکستان اور امت مسلمہ کے لیے اس کے تباہ کن کردار کے بارے میں اگر آپ مزید کچھ جاننے کے خواہاں ہیں تو محمد طاہر عبدالرزاق کی کتاب ”دشمن رسول، دشمن پاکستان“ ”سر ظفر اللہ خان قادیانی“، ضرور پڑھیں اس کے پڑھنے سے بہتوں کا بھلا ہوگا کیونکہ اس سے صرف ظفر اللہ خاں ہی نہیں پوری قادیانیت کا تورا بورا ہو گیا ہے اور ایسا ہی ہونا چاہیے کیونکہ سلسلہ عالیہ احمقیہ سدومیہ کے ماننے والوں کا یہی انجام ہوگا۔ خواہ وہ شہر سدوم چناب نگر میں ہوں یا کسی اور جگہ۔
شفیق مرزا روزنامہ جنگ، لاہور
ظفر اللہ قادیانی مختلف شخصیات کی نظر میں
محمد طاہر عبدالرزاق
- O...... بھارت کے مشہور اخبار ”ہندوستان ٹائمز“ میں بھارت کے سری پرکاش
کی قسط وار خود نوشت سوانح عمری چھپ رہی ہے۔ جس میں انہوں نے پاکستان کے سابق وزیر خارجہ اور عالمی عدالت کے جج سر محمد ظفر اللہ کے بارے میں لکھا ہے کہ 1947ء میں انہوں نے قائد اعظم کو بے وقوف قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اگر پاکستان بن گیا تو اس سے ہندوؤں سے زیادہ مسلمانوں کو نقصان پہنچے گا۔ مسٹر سری پرکاش نے مزید لکھا ہے کہ ”کچھ عرصہ بعد جب کراچی میں سر ظفر اللہ خان سے ملاقات ہوئی اور میں نے ان سے پوچھا کہ اب قائد اعظم اور پاکستان کے بارے میں کیا خیال ہے تو انہوں نے کہا میرا جواب اب بھی وہی ہے جو پہلے دن تھا۔“ (روزنامہ مشرق لاہور 15 فروری 1964ء)
- O...... معروف مسلم لیگی رہنما جناب میاں امیر الدین نے ایک انٹرویو میں
اس امر کا اعتراف کیا کہ: ”باؤنڈری کمیشن کے مرحلہ پر ظفر اللہ خان کو مسلم لیگ کا وکیل بنانا مسلم لیگ کی بہت بڑی غلطی تھی۔ جس کے ذمہ دار خان لیاقت علی خان اور چوہدری محمد علی تھے۔“ (ہفت روزہ ”چٹان“ لاہور ج 37 شمارہ نمبر 31-32، 6 تا 13 اگست 1984ء)
- O...... اسی انٹرویو میں میاں امیر الدین نے برصغیر پاک و ہند کی تقسیم کے موقع
پر سر ظفر اللہ خان کے کردار کی نشان دہی کرتے ہوئے کہا: ”اس نے پاکستان کی کوئی خدمت نہیں کی۔ بلکہ پٹھان کوٹ کا
علاقہ اس کی سازش کی بنا پر پاکستان کی بجائے ہندوستان میں شامل ہوا۔“ (ایضاً ”چٹان“ 6 تا 13 اگست 1984ء)
آستین کا سانپ
- O....... بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے جب انگریزوں سے ”عدم
تعاون“ اور ترک موالات کے سلسلے میں تمام اہل وطن سے اپیل کی کہ وہ انگریزوں کے عطا کردہ ”اعزازات“ و ”خطابات“ واپس کر دیں تو صرف چوہدری ظفر اللہ خان واحد شخص تھا جس نے انگریزوں کا عطا کردہ ”سر“ کا خطاب واپس کرنے سے صاف صاف انکار کر دیا تھا۔
(ماہنامہ ”صوت الاسلام“ ص 3 فیصل آباد مدیر مولانا مجاہد الحسینی، بحوالہ نوائے وقت لاہور)
- O....... پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان سے ایک مرتبہ سوال کیا گیا
کہ ”قائد اعظم نے خطابات کی واپسی کا مطالبہ کیا تھا۔ آپ کے پاس بھی تو سر کا خطاب تھا۔“ چوہدری صاحب نے جواب دیا کہ انہیں معلوم نہیں کہ انہوں نے کس وقت یہ اعلان کیا تھا کہ خطابات واپس کر دو۔
سوال: ”قائد اعظم نے خطابات کی واپسی کا مطالبہ کیا تھا۔ آپ کے پاس بھی تو سر کا خطاب تھا؟“
جواب: مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے کس وقت یہ اعلان کیا تھا کہ خطابات واپس کر دو۔
سوال: 1946ء میں
جواب: میں ان باتوں کو کوئی وقعت نہیں دیتا کہ خطاب ملے نہ ملے اور اگر خطاب ہو تو چھوڑ دیا جائے یا رکھ لیا جائے۔“ (آتش فشاں لاہور ج 9، شمارہ نمبر 9، مئی 1980ء)
- O....... یہ ایک نا قابل تردید حقیقت ہے کہ قائد اعظم بعد میں ظفر اللہ خان کی
وطن دشمنی، مشکوک سرگرمیوں سے آگاہ ہو چکے تھے۔ قائد اعظم نے 1948ء میں راجہ صاحب محمود آباد کی کراچی آمد کے موقع پر ان کو آگاہ کیا تھا کہ:
”قادیانی وزیر خارجہ (سر ظفر اللہ خان) کی وفاداریاں مشکوک
ہیں، میں ان پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہوں اور عملی اقدامات اٹھانے کے لیے مجھے مناسب وقت کا انتظار ہے۔“
(حوالہ قائد اعظم کی تقاریر)
- O....... آنریبل خان بلال خان وزیر بلدیات و مواصلات صوبہ سرحد نے ایبٹ
آباد میں ایک دفعہ تقریر کرتے ہوئے فرمایا:
”پاکستان کی پانچ سالہ تاریخ میں یہ بات نمایاں طور پر نظر آرہی ہے کہ حکومت کا جو معاملہ سر ظفر اللہ خان کے سپرد ہوا۔ اس میں حکومت کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ کشمیر وہ مسئلہ ہے جس کے ساتھ پاکستان کی حیات وابستہ ہے۔ جب تک وزارت خارجہ کے عہدے پر سر ظفر اللہ خان موجود ہے‘ کشمیر پاکستان کو ہرگز ہرگز نہیں مل سکتا۔“
(”آزاد اخبار“ لاہور‘ 30 جون 1952ء)
- O....... کراچی کی مسلم پارٹیز کنونشن‘ مورخہ 2 جون میں محمد ہاشم گزدر ممبر دستور
ساز اسمبلی پاکستان نے تقریر کرتے ہوئے کہا:
”چوہدری ظفر اللہ خان کشمیر کا مسئلہ پیش کرنے کے لیے ایک مرتبہ لیک سکسس گئے تھے۔ میں ان دنوں وہاں موجود تھا۔ وہاں لابی میں مشہور تھا کہ سر ظفر اللہ خان وہی کام کرنا چاہتے ہیں جو ہندوستان چاہتا ہے۔ میں نے اسی روز تمام احوال سے حکومت پاکستان کے منسٹر کو مطلع کر دیا۔ اس کے بعد میں نے تمام ممالک کا دورہ کیا اور محسوس کیا کہ اکثر ممالک میں ہمارے خارجہ دفاتر مرزائیت کی تبلیغ کے اڈے بنے ہوئے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ چوہدری ظفر اللہ خان کے انگریزوں اور ہندوؤں سے گہرے مراسم ہیں۔ ظفر اللہ خان قادیانی‘ پاکستان سے زیادہ اپنے امام مرزا بشیر الدین کے وفادار ہیں اور اپنے امام کی ہدایت کے مقابلہ میں حکومت پاکستان کے احکام کو ٹھکرا دیتے ہیں۔ (تقریر کرتے ہوئے کہا) میرے کئی
دوست محض دنیاوی فوائد کے لیے مجبوراً قادیانی ہو گئے۔ پاکستان میں جو شخص اکھنڈ بھارت کے نعرے لگاتا ہے وہ پاکستان کا دشمن ہے اور ہماری بدقسمتی ہے کہ اکھنڈ بھارت ہندوستان کا عقیدہ رکھنے والے مرزائی ملک کی ستر فیصد کلیدی آسامیوں پر فائز ہیں۔ اگر خدانخواستہ کسی وقت جنگ ہو گئی تو معلوم نہیں کہ ہمارا کیا حال ہوگا اور آفیسران کی پوزیشن کیا ہوگی۔“
(ہفت روزہ ”لولاک“ فیصل آباد ص 12، ج 24، شمارہ 11-10، 19 جون 1987ء)
- O....... ایک اور روزنامہ کی حب الوطنی اور حقیقت پسندی کا زاویہ نہایت ہی
چونکا دینے والا ہے۔ ایک درد مند صحافی نے کالم سپرد کرتے ہوئے لکھا: ”ہمارے وزیر خارجہ (ظفر اللہ خان) کی خارجہ پالیسی ہر لحاظ سے ناکام ہو چکی ہے۔ اس سے بھارت کی سیاسی اہمیت بڑھ چکی ہے اور اس بلاک نے منہ مانگی قیمت دے کر اپنے ساتھ ملا لیا ہے۔“ (روزنامہ ”آفاق“ لاہور 30 اپریل 1952ء)
- O....... وزیر خارجہ پاکستان ظفر اللہ خان کی وجہ سے ہمیں اسلامی برادری اور
خصوصاً عربوں کے سامنے شرمندہ ہونا پڑا۔ کیونکہ ظفر اللہ خان کا تعلق ایسی اسلام دشمن جماعت سے تھا جو اسلام کے بنیادی عقیدہ ختم نبوت کی باغی تھی۔ مصر کے مفتی اعظم جناب سید محمد حسنین المخلوف نے لکھا: ”کہ حضرت محمد ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ میں حیران ہوں کہ پاکستان جیسی اسلامی ریاست میں ایک قادیانی کو وزیر خارجہ کیسے مقرر کیا گیا۔“ (روزنامہ ”زمیندار“ لاہور 8 جولائی 1952ء)
◉ ◉ ◉
خدائی پکڑ ❦ گستاخ رسول مرزا بشیر الدین کے علاج کے لیے بیرون ملک سے ایک بہت بڑے ہومیو پیتھک ڈاکٹر کو بلایا گیا۔ ڈاکٹر نے مرزا بشیر الدین کا تفصیلی معائنہ کیا اور یہ کہہ کر چلا گیا: ”میں بیماری کا علاج تو کر سکتا ہوں لیکن خدائی پکڑ کا علاج نہیں کر سکتا“۔
چودھری ظفر اللہ قادیانی کا اصل روپ
(تحریر: م ۔ ب (سابق قادیانی)
چودھری ظفر اللہ خاں مشہور و معروف سیاست دان‘ قادیانیت کا ستون اور مثالی انگریز نواز تھے۔ وہ برٹش سامراج کی غلامانہ خدمات اور ان کے خود کاشتہ پودے (قادیانی مذہب) کے سرگرم رکن ہونے کے باعث دنیوی ترقی کی منازل بہت تیزی سے طے کرتے چلے گئے۔ سر ظفر اللہ چونکہ ساری زندگی بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہے۔ اس لیے اکثر نادان ان کی زندگی بڑی خوشگوار اور مطمئن خیال کرتے تھے۔ اور اب بھی اکثر لوگ سمجھتے ہیں‘ خاص طور پر قادیانی حضرات تو ان کی بظاہر شاندار زندگی اور بڑے عہدوں پر تعیناتی کو قادیانی مذہب کی حقانیت پر دلیل قرار دیتے ہیں لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ سر ظفر اللہ کی بظاہر شاندار زندگی اندر سے بالکل کھوکھلی اور عبرت ناک تھی۔ ان کو ساری عمر گھریلو سکون نصیب نہ ہوا۔ انہوں نے تین شادیاں کیں۔ تینوں کا انجام حسرت ناک رہا۔ کوئی شادی کامیاب نہ رہی۔ کوئی نرینہ اولاد نہ ہوئی۔ اس کا بھی انہیں ساری عمر قلق رہا۔ سر ظفر اللہ کو اعلیٰ صلاحیتوں کا مالک ہوتے ہوئے نیز حکومت اور اپنے مذہبی سربراہوں کی مکمل تائید و مدد کے باوجود ساری عمر جن جن حسرتوں‘ ناکامیوں اور نامرادیوں کا سامنا رہا‘ اور بالآخر نہایت عبرت ناک ذلت آمیز موت سے ہم آغوش ہونا پڑا۔ اس کا مفصل حال قارئین درج ذیل سطور میں پڑھیں گے۔ ان حالات سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مختلف نوع کے عذاب ان پر وارد کیے گئے تاکہ انہیں خبردار کیا جائے کہ قادیانیت سے توبہ کر لیں مگر انہوں نے اس مہلت سے فائدہ نہ اٹھایا۔
سر ظفر اللہ ۱۸۹۳ء میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مرزا غلام احمد سے متاثر تھے اور قادیان آتے رہتے تھے۔ ظفر اللہ بھی کبھی کبھار ان کے ساتھ قادیان جانے لگے۔ حکیم نور الدین کی دور بین نظر نے لڑکے کی صلاحیتوں کو بھانپ لیا اور ان کے والد کو خط لکھا کہ بیٹے کی بیعت کرا دو۔ یہ ۱۹۰۷ء کی بات ہے۔ پوسٹ کارڈ ظفر اللہ نے بھی پڑھا۔ جب والد کے ساتھ قادیان گئے، تو ان کا خیال تھا والد بیعت کے لیے کہیں گے۔ مگر نہ جانے کیوں انہوں نے بیٹے سے اس سلسلے میں کچھ بھی نہ کہا۔ حتیٰ کہ واپس سیالکوٹ جانے لگے۔ لیکن ظفر اللہ پر چونکہ حکیم نور الدین کا اثر تھا، اس لیے ان کے خط کے پیش نظر ستمبر ۱۹۰۷ء میں مرزا غلام احمد کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ ابتدائی تعلیم مشن اسکول سیالکوٹ میں حاصل کر کے ۱۹۱۱ء میں گورنمنٹ کالج سے گریجویشن کیا۔ ۱۹۱۱ء سے ۱۹۱۴ء تک کنگز کالج کیمبرج انگلینڈ میں پڑھے اور بیرسٹری پاس کی۔ نیز انگلستان، سوئٹزرلینڈ اور جرمنی کا سفر کیا۔ ان حالات سے معلوم ہوتا ہے کہ ظفر اللہ بچپن سے ہی مشن اسکول، قادیانیت اور برٹش سامراج کے جال میں پھنس گئے۔ نوعمری میں ہی انگلینڈ میں انہیں اپنی خاص نگرانی میں انگریزوں نے اعلیٰ تربیت دی اور پھر ساری عمر اس لڑکے کی عقل، علم، ہوشیاری اور صلاحیتوں کو جس طرح چاہا استعمال کیا۔
یورپ سے واپسی کے بعد ظفر اللہ قدرے ماڈرن ہو گئے تھے۔ ان کا گھرانہ زمیندارانہ تھا۔ ان کے والد اپنے خاندان کی ایک سیدھی سادی لڑکی سے ان کی شادی کرنا چاہتے تھے۔ جبکہ ظفر اللہ کسی ماڈرن لڑکی سے شادی کرنا چاہتے تھے لیکن والد کے سامنے پیش نہ چلی اور مجبوراً شادی ہو گئی۔ لیکن ظفر اللہ نے عملی طور پر اس لڑکی کو کبھی بیوی کے طور پر قبول نہ کیا۔ نہ اس سے میل جول رکھا۔ حتیٰ کہ ۱۹۲۶ء میں والد کا انتقال ہو گیا۔ والد کے انتقال کے بعد سر ظفر اللہ نے اپنی مرضی سے ایک ماڈرن، تعلیم یافتہ، اپنی پسند کی تیز طرار لڑکی "بدر" سے شادی کر لی۔ جس سے ان کے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی، جس کا نام امت الحئی ہے۔ اس کے بعد کوئی اور اولاد نہ ہوئی۔ سر ظفر اللہ کو نرینہ اولاد کی بہت خواہش تھی۔ اس کے لیے وہ ساری عمر بہت دعائیں، دوائیں، مجاہدے، خیرات، صدقے اور سب حیلے کرتے رہے۔ مگر نصیب میں بیٹا نہ تھا اور یہ نعمت قادیانی پیر اور برطانوی سامراج بھی دینے میں ناکام رہا۔ بعض بزرگوں نے تو ظفر اللہ سے کہہ دیا تھا کہ چونکہ تم نے
پہلی بیوی سے اچھا سلوک نہیں کیا اور دوسری شادی والد کی مرضی کے خلاف کی‘ اس طرح اس کی روح کو دکھ پہنچایا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ تم سے سخت ناراض ہے اور تمہارے ہاں بیٹا نہیں ہو گا۔ اس ماڈرن بیوی نے ویسے بھی چودھری صاحب (سر ظفر اللہ) کو وہ نتھنی کا ناچ نچایا کہ چودھری صاحب اس سے زیادہ تر دور ہی رہنے لگے۔ اور اپنے پیر و مرشد مرزا کی فیملی میں دلچسپی لینے لگے۔ مرزا بشیر الدین محمود‘ مرزا غلام احمد کے بیٹے جو کہ ۱۹۱۴ء میں قادیانیوں کے خلیفہ دوم بن چکے تھے۔ یہ سر ظفر اللہ کے قریباً ہم عمر تھے۔ مرزا بشیر الدین محمود بہت ہوشیار چالاک‘ تیز فہم آدمی تھے۔ انہوں نے شروع سے ہی ظفر اللہ سے یاری گانٹھ لی۔ ظفر اللہ کا بھی گھریلو چپقلش کے باعث اپنے گھر دل نہ لگتا تھا۔ اس لیے اپنے پیر کے لڑکے لڑکیوں میں دلچسپی لینے لگ گئے۔ یہ دلچسپی اتنی بڑھی کہ بیرون ملک سے پاکستان واپسی پر اپنے گھر کی بجائے مرزا محمود کے گھر ہی قیام کرتے۔ ادھر ان کی بیوی (والدہ امت الحئی) ان کی عدم توجہی سے شاکی رہنے لگی۔ غالباً ۱۹۶۲ء میں اس نے ظفر اللہ سے علیحدگی اختیار کر لی اور مشہور قادیانی سرمایہ دار شاہنواز سے شادی کر لی۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ظفر اللہ کا بشریٰ ربانی‘ ایک فلسطینی سے شادی کا سلسلہ بن رہا تھا جو ان کی بیوی پر گراں گزرا ہو۔ جب سابقہ بیوی نے شاہنواز سے شادی کر لی تو ظفر اللہ نے جو شائد اسی موقع کے منتظر تھے‘ فوراً فلسطینی خوبرو دوشیزہ بشریٰ ربانی سے شادی رچا لی۔ ظفر اللہ اس وقت ستر برس کے پیٹے میں تھے اور بشریٰ ربانی نو عمر دوشیزہ تھی۔ اس شادی پر مرزا غلام احمد کے صاحبزادے مرزا بشیر احمد نے قادیانی آرگن ”الفضل“ میں مضمون شائع کیا جس میں اس شادی پر بڑی خوشی کا اظہار کیا اور سب قادیانیوں سے بیٹے کی پیدائش کے لیے دعا کی درخواست کی اور خود بھی دعا کی کہ اللہ پاک چودھری صاحب (سر ظفر اللہ) کو بیٹا عنایت کرے۔
مگر وائے افسوس کسی قادیانی کی دعا اس بارے میں شرف قبولیت نہ پا سکی۔ ہو سکتا ہے اس طویل مہلت سے فائدہ اٹھا کر چودھری صاحب قادیانیت سے تائب ہو جاتے تو اللہ تعالیٰ انہیں اولاد نرینہ سے بھی نواز دیتا۔ یہ تیسری شادی بھی بے ثمر رہی۔ بڈھا گھوڑا لال لگام کے مصداق خوبصورت فلسطینی دوشیزہ کی ان سے نبھ نہ سکی۔ شنید ہے کہ بشریٰ ربانی کا نوجوان ناکام منگیتر اس سے ملنے کسی نہ کسی بہانے آتا رہتا تھا اور اس نے چودھری صاحب
پر پستول بھی اٹھایا تھا۔ بالآخر اس قسم کے ناگفتنی حالات کی بنا پر یہ شادی بھی ناکام ہوئی اور علیحدگی ہو گئی۔ اور ظفراللہ بھری دنیا میں اکیلے بے یار و مددگار رہ گئے۔ ان کی بیٹی بھی اپنی ماں کا ساتھ دیتی تھی۔ اس لیے چودھری صاحب پر بیٹی کا گھر بھی بند تھا۔ مرزا محمود جو ان کا پیر اور یار تھا‘ کئی سال سے مفلوج پڑا تھا۔ دو بھائی تکلیف دہ اموات سے مرچکے تھے اور چھوٹا بھائی اسد اللہ خان بھی فالج سے معذور تھا۔ کوئی ٹھکانا نہ تھا۔ کہنے کو ان دنوں ہالینڈ میں ہیگ کی انٹرنیشنل کورٹ میں جج تھے۔ بظاہر بڑی شان تھی لیکن اندرونی حالت یہ رہی کہ قریباً پندرہ سال ہالینڈ میں قادیانی مشن کے ایک چھوٹے سے کمرے میں رہتے رہے اور اس کے بعد ۱۹۷۳ء سے ۸۳ء تک انگلینڈ کے قادیانی مشن کے ساتھ ایک کوٹھڑی میں گزارے۔ کوئی عزیز پرسان حال نہ تھا۔ قادیانی مشنریوں کی بیویوں اور لڑکیوں سے دل بہلاتے رہتے۔ اکثر جب وہ ہوائی جہاز سے اترتے تو ان کے ساتھ کوئی نہ کوئی نو عمر لڑکا ہوتا۔ نو عمر لڑکوں سے ان کی دلچسپی مشہور عام تھی۔
ہم نے اوپر جو کچھ لکھا‘ وہ بلا ثبوت نہیں بلکہ اکثر باتیں قادیانیوں کی اپنی کتابوں‘ رسالوں‘ اخباروں میں ہی درج ہیں۔ مثال کے طور پر قادیانی ماہنامہ ”خالد“ کے ظفر اللہ خاں نمبر میں مرزا محمود کی سب سے چھوٹی بیوی ”مہر آپا“ چودھری ظفر اللہ سے اپنے تعلقات کا اظہار یوں کرتی ہیں:
”اپنی کوٹھی تعمیر ہونے سے قبل جب کبھی آپ حضرت فضل عمر (مراد مرزا محمود) سے ملاقات کے لیے آتے اور مرکز سلسلہ میں قیام فرماتے تو اپنے جس گھر میں حضور (مرزا محمود) کی باری ہوتی (مرزا محمود کی کئی بیویاں تھیں۔ ہر بیوی کے گھر باری باری جاتے) آپ بھی اسی گھر کے مہمان شمار ہوتے۔ جب کبھی مجھے آپ کی میزبانی کا موقعہ ملتا تو میں آپ کی بیماری کے پیش نظر مناسب غذا تیار کرواتی۔ ایک دفعہ آپ نے حضور سے کہا کہ مہر آپا میرے کھانے کا بہت تکلف سے اہتمام کرتی ہیں..... حضرت فضل عمر (مرزا محمود) کے سفر یورپ میں آپ تمام وقت حضور کے ساتھ ساتھ رہے۔ حضور کا تمام کام اپنے ہاتھ سے کرتے۔ آپ کا سامان خود اٹھاتے رہے کیونکہ وہاں ہمارے ہاں کی طرح سامان اٹھانے کے لیے قلی وغیرہ عام نہیں ہوتے....... دوران سفر وینس اٹلی پہنچے تو وہاں نہ کوئی قلی تھا نہ مزدور۔ حضرت چودھری صاحب نے تمام سامان اپنے کندھوں پر اٹھا اٹھا کر کار سے
گڈولے تک پہنچایا اور مسکراتے ہوئے فرمایا دیکھا میں نہ کہتا تھا کہ اس قدر سامان نہ لے جائیں۔ خیر بیبیوں کو پتہ تھا ظفر اللہ ساتھ ہے۔ خود ہی سامان اٹھاتا پھرے گا۔ وہ (چودھری ظفر اللہ) تو اپنے حبیب حضرت فضل عمر (مرزا محمود) کے عشق و محبت میں اپنی ذات سے بے نیاز ہو کر سب کام کر رہے تھے"۔
اس طرح کے واقعات رائل فیملی (خاندان مرزا) کے لوگ بڑے فخر سے بیان کرتے ہیں۔ جن سے بڑے بڑے قادیانیوں کی غلامانہ خدمات کا اظہار ہوتا ہے۔ مقصد یہ کہ عام قادیانی جب یہ پڑھے گا کہ ظفر اللہ جیسا پائے کا قادیانی بزرگ ”رائل فیملی“ کا اتنا غلام اور گر کر خدمت کرتا ہے تو وہ بھی ہر طرح غلامی اور خدمت میں ترقی کرے گا۔ نہ صرف خود بلکہ اپنی بیویوں اور بیٹیوں سے بھی ”رائل فیملی“ کی خدمت کروائے گا اور حقیقت بھی یہی ہے کہ قادیانی اپنی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کو رائل فیملی کے افراد سے پردہ نہیں کرواتے اور ان کو مجبور کرتے ہیں کہ رائل فیملی کی ہر طرح تن من دھن سے سیوا کریں۔ ان کی اطاعت ایسے کریں جیسے کوئی چیز بے حس و حرکت ہو اور اس سے کچھ بھی کر گزرا جائے وہ چوں نہ کرے۔ چنانچہ اسی ماہنامہ ”خالد“ کے ص ۱۴۹ پر ایک قادیانی مسمی عبدالمالک چودھری ظفر اللہ کی قادیانی خلیفہ مرزا ناصر سے ملاقات کا حال یوں بیان کرتے ہیں ”ملاقات کے دوران میں نے دیکھا کہ آپ حضور (مرزا ناصر) کے سامنے اس طرح سے کھڑے ہیں گویا کوئی چیز بے حس و حرکت ہے۔ اس روز خاکسار نے اندازہ لگایا کہ ہم میں اطاعت کی وہ روح تاحال موجود نہیں جو امام کی قدرومنزلت کے لحاظ سے ضروری ہے۔
قارئین اندازہ لگائیں کہ ایک طرف تو قادیانی اپنے مذہب کو اصل اسلام کہتے ہیں اور اہل اسلام کو گمراہ اور کافر قرار دیتے ہیں اور اپنے تئیں اسلام کے اندر سے برائیاں دور کر کے صحیح اسلام پر کاربند قرار دیتے ہیں لیکن اپنے گریبان میں منہ ڈال کر تو دیکھیں کہ یہ کہاں کا اصلی اسلام ہے کہ اپنے آپ اور اپنی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں غرضیکہ ہر چیز کو گدی نشینوں کے اس طرح قدموں میں ڈال دو کہ مکمل اطاعت ہو جس سے وہ جو چاہیں، کر گزریں۔ جائز ناجائز اور حلال و حرام کا فرق ہی نہ رہے۔ انسان کو خدائے لم یزل بنالینا، قادیانی مذہب کا شیوہ تو ہو سکتا ہے، اسلام کا ہرگز نہیں۔ جن قادیانیوں کی بیویاں رائل فیملی کی خدمت سے انکار کر دیتی ہیں، ان کا حال وہی ہوتا ہے جو ظفر اللہ کی بیویوں کا ہوا کہ خاوند
نے اپنا ایمان کامل مرزا پر ثابت کرنے کے لیے اپنی بیویوں کو چھوڑ دیا۔ قادیانی نبی اور ان کے خود ساختہ خلفا ہی نہیں ، دیگر بعض نام نہاد دنیا پرست اور گدی نشینوں کو بھی دیکھا گیا ہے کہ اگر کوئی دولت مند ان کے چکر میں پھنس جائے یا کار آمد شخص مریدی کے جال میں آ جائے تو کوشش کر کے اس کو گھر بار سے متنفر کر کے اپنے ڈیرے کے لیے وقف کر لیتے ہیں تاکہ اس کی صلاحیتوں اور دولت سے اپنی ذات کے لیے بھر پور فائدہ اٹھایا جائے۔ یہی قادیانی ”خلیفہ“ مرزا محمود نے ظفر اللہ کے ساتھ کیا کہ اسے گھر بار سے متنفر کر کے اپنی ذات کے لیے اس سے نوکر چاکر کی طرح کام لیا اور ذاتی فائدے کے لیے اپنی فیملی کی مستورات تک کو اس کے سپرد کر دیا اور ظفر اللہ کی صلاحیتوں سے بھر پور فائدہ حاصل کیا اور اس سے قادیانی مذہب کے لیے عالمی مبلغ کا کام لیا اور دنیا میں کئی جگہ ظفر اللہ کے ذاتی خرچ سے مشن ہاؤس تعمیر کروائے۔ اس سے ساری دولت وصیت نامے کے ذریعے قادیانی مشن (یعنی مرزا قادیانی کی آل اولاد جس کی وارث ہے) کے نام لکھوا لی۔
”مہر آپا“ جو مرزا محمود کی ساتویں بیوی تھیں ، مرزا محمود کی عمر ۶۰ سال کے قریب تھی اور مہر آپا قریباً ۱۹ برس کی تھی۔ جب یہ شادی ہوئی، سر ظفر اللہ اپنی سروس کے دوران زیادہ تر یورپ میں ہی رہے۔ اپنی بیویوں ، بیٹی ، گھر بار کی تو کبھی خبر نہ لی لیکن مرزا محمود اور ان کی فیملی کو خوب سیر و سیاحت کراتے۔ ”مہر آپا“ میں خصوصی دلچسپی لیتے تھے۔ محترمہ اپنے مضمون میں آگے چل کر تحریر کرتی ہیں:
”اس احساس کے تحت کہ میں گوشت کی کوئی چیز نہیں کھا رہی، چودھری صاحب نے حضور سے کہا (حضور سے مراد مرزا محمود ہے) حضور! میں حسب سابق شرع کی پابندی ملحوظ رکھتے ہوئے مہر آپا کے لیے ایک خاص ڈش کا انتظام کرتا ہوں۔ ان کو وہ ضرور پسند آجائے گی۔ یہ کہہ کر آپ نے اس ڈش کا آرڈر دیا۔ جب وہ ڈش تیار ہو گئی تو چودھری صاحب نے حضور سے کہا کہ یہ خاص طور پر مہر آپا کے لیے بنوائی گئی ہے۔ ان سے کہیں اب تو کھا لیں۔ ڈش دیکھنے میں خوش نظر تھی مگر میرا دل کسی طور راضی نہ ہوا اور میں نے ڈش چپکے سے چھپادی......
........اسی طرح آسٹریا میں ایک دفعہ کھانے کا وقت ہوا تو ہم ہوٹل میں آگئے۔ چودھری صاحب نے میرے لیے بھی انڈوں کا سوپ منگوایا۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ مجھے یہ اچھا
نہیں لگتا۔ جب چودھری صاحب کو پتہ چلا کہ میں وہ نہیں پی رہی تو آپ نے ”زہری خورم“ کہتے ہوئے پی لیا۔
ایک بار وینس میں چودھری صاحب نے ہم مستورات کے لیے کھلے سمندر کی سیر کا انتظام کیا...... صاحبزادی امت الجمیل‘ صاحبزادی امت المتین‘ (مرزا محمود کی صاحبزادیاں جو کہ دوسری بیویوں سے ہیں) اور میں سیر کے لیے گئے۔ سیر کے دوران چودھری صاحب بہت سے اہم تاریخی مقامات دکھاتے چلے گئے اور ساتھ ساتھ ان کا تاریخی پس منظر بھی بتاتے رہے۔ طوالت کے خوف سے صرف مختصر اقتباسات ہی درج کیے ہیں۔ قادیانیوں کے اپنے لٹریچر سے ثابت ہے کہ چودھری صاحب اپنے پیر اور ان کے کنبہ میں اس قدر مست تھے کہ انہیں اپنے گھر بار تک کا ہوش نہ تھا۔ اپنی ۹۳ سالہ عمر میں ۹۰ سال تک انہوں نے گھر کا رخ نہ کیا۔ تا آنکہ صحت نے بالکل جواب دے دیا اور موت سر پر منڈلاتی نظر آنے لگی تو ۱۹۸۳ء میں بیٹی کے پاس لاہور آگئے۔ اسی بیٹی کے گھر ان کی سابقہ بیوی بھی رہتی تھی۔ ساری عمر بیٹی کے گھر نہ ٹھہرتے تھے کہ ماں کو وہاں سے نکالو۔ مگر بیٹی اس کے لیے تیار نہ ہوئی۔ آخر مرن کنارے ذلیل ہو کر اسی بیٹی اور سابقہ بیوی کے سامنے اسی کے گھر رہ کر چل بسے۔
مرزا محمود نے بھی ظفر اللہ کو خوب پھانسے رکھا۔ ایک دفعہ مرزا محمود نے لندن میں میموں کا ڈانس دیکھنے کی خواہش ظاہر کی تو چودھری صاحب انہیں ایسی جگہ لے گئے جہاں میموں کا عریاں ڈانس ہو رہا تھا۔ اس اجمال کی تفصیل معہ حوالہ جات کے ”ختم نبوت انٹرنیشنل“ کے ایک گزشتہ شمارے میں تحریر ہو چکی ہے۔
بعض اور مشہور نامور مسلمان ہستیاں مثلاً مولانا محمد حسین بٹالوی‘ علامہ اقبال‘ سر فضل حسین‘ شیخ تیمور وائس چانسلر خیبر یونیورسٹی‘ ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالوی‘ میر عباس علی لدھیانوی‘ مولانا لال حسین اختر‘ زیڈ اے سلیری وغیرہ بھی شروع میں قادیانی تحریک سے متاثر ہوئے لیکن اپنی خداداد ذہانت اور بصیرت کے باعث وہ جلد ہی قادیانیت کے جال سے نکل گئے۔ اہل اسلام کو اور خاص کر ہندوستان کے نامور مسلمان لیڈروں کو سر ظفر اللہ سے بھی امید تھی کہ وہ جلد یا بدیر دوبارہ اہل اسلام میں واپس شامل ہو جائیں گے مگر جیسا کہ اوپر کے حالات سے معلوم ہوتا ہے‘ مرزا محمود نے ان کے اردگرد ایسا تانا بانا بن دیا تھا کہ وہ اس
میں سے نکل نہ سکے۔ مرزا محمود کو بھی دھڑکا تھا کہ سر ظفر اللہ ہاتھ سے نہ نکل جائے۔ اس لئے وہ چودھری صاحب پر ہر طرح کی نوازشات کرتے تھے۔ مثلاً یہ کہ بڑے بڑے پاکستان کے شہر مثلاً لاہور اور کراچی کی امارت ہمیشہ کے لیے چودھری صاحب کے خاندان کے نام کر دی۔ یعنی لاہور اور کراچی کی قادیانی جماعتوں کا سربراہ (جسے امیر جماعت کہا جاتا ہے) ہمیشہ چودھری ظفر اللہ کے خاندان سے ہو۔ چنانچہ لاہور کا پہلا امیر جماعت چودھری ظفر اللہ کا چھوٹا بھائی چودھری اسد اللہ رہا۔ جب وہ مفلوج ہو گیا تب سے چودھری ظفر اللہ کا بھتیجا اور داماد حمید نصر اللہ لاہور کی قادیانی جماعت کا امیر ہے۔ اسی طرح کراچی کی جماعت کا امیر سر ظفر اللہ کا بھائی چودھری عبد اللہ خان ساری عمر رہا۔ جب وہ بلڈ کینسر کی بیماری میں مبتلا ہو کر ۱۹۵۹ء میں مر گیا تو ان دنوں شیخ رحمت اللہ نائب امیر تھا۔ وہ چودھری عبد اللہ کی موت کی وجہ سے امیر جماعت ہو گیا۔ اس پر چودھری خاندان نے احتجاج کیا۔ چنانچہ فوری طور پر ربوہ سے مرزا محمود نے ایک وفد ، مولوی اللہ دتہ جالندھری ، مولوی جلال الدین شمس اور مولوی غلام احمد فرخ (جو چوٹی کے قادیانی مربی تھے) پر مشتمل ، کراچی بھیجا جس نے سمجھا بجھا کر نیز کچھ لوگوں سے الزامات لگوا کر شیخ رحمت اللہ کو امارت سے علیحدہ کیا اور اس کی جگہ چودھری ظفر اللہ کے قریبی عزیز چودھری احمد مختار کو امیر جماعت کراچی نامزد کر دیا۔ جو تب سے امیر چلا آ رہا ہے۔ یہاں یہ امر بھی خالی از دلچسپی نہ ہو گا کہ قادیانی قوانین کے مطابق کوئی امیر جماعت تین سال سے زائد نہیں رہ سکتا۔ تین سال بعد انتخابات کر کے دوسرا امیر بنانا ہوتا ہے لیکن چودھری احمد مختار ۲۶ سال سے امیر جماعت چلا آ رہا ہے۔
اسی طرح لاہور کا امیر جماعت چودھری ظفر اللہ کا بھتیجا ہے جو سالہا سال سے امیر جماعت چلا آ رہا ہے۔ اگر کسی جماعت کا امیر قادیانی خلیفہ کی مرضی کا نہ منتخب ہو تو وہ اس کا انتخاب کالعدم قرار دے کر اپنا کوئی پٹھو نامزد کر دیتا ہے۔ ان خاندانی مراعات کے علاوہ ظفر اللہ خاں کو پوری دنیا میں قادیانی سرکاری ترجمان کی حیثیت حاصل تھی۔ وہ جس ملک میں بھی جاتے ، قادیانی مشن کا پورا عملہ ان کے استقبال اور خدمت کو حاضر رہتا۔ وہ مشن ہاؤس میں رہتے اور وہاں کے مشنری اور ان کے بیوی بچوں کا فریضہ ہوتا کہ وہ ان کی ہر خدمت کریں۔ چنانچہ ہیگ میں عالمی عدالت کے جج کے دوران وہ ہیگ کے قادیانی مشن ہاؤس میں پندرہ سال ۱۹۵۸ء سے ۱۹۷۳ء تک قیام پذیر رہے۔ اس کے بعد لندن کے
قادیانی مشن ہاؤس میں فروری ۱۹۷۳ء سے ۱۹۸۳ء تک قیام پذیر رہے۔ قادیانی مشنری بھی اپنے خلیفے کی خوشنودی کے لیے اپنی فیملی کو چودھری صاحب کی سیوا کے لیے وقف کر دیتے۔ چنانچہ ہالینڈ کے قادیانی مشنری اپنے نو عمر بیٹے سے سر ظفر اللہ کے لگاؤ اور بے تکلفی کا اظہار فخریہ یوں کرتے ہیں ”ایک دفعہ میرا بیٹا عزیزم عزیز اللہ جب ہالینڈ آیا تو حضرت چودھری صاحب اسے مشن ہاؤس میں اپنا کمرہ دکھانے لگے ....... میرے لیے یہ امر خوشی کا باعث ہے کہ حضرت چودھری صاحب کا سلوک میرے لڑکے عزیزم عزیز اللہ کے ساتھ بھی بڑا مشفقانہ تھا۔ آپ بعض دفعہ بڑی بے تکلفی سے اس کے ساتھ گفتگو فرماتے ۔
لندن کے قادیانی مشن کے مشنری کی بیگم صاحبہ تحریر فرماتی ہیں: اس عاجزہ کو متواتر دس سال حضرت چودھری صاحب کی خدمت کی توفیق عطا ہوئی۔ یوں تو ۱۹۵۹ء سے ہی حضرت چودھری صاحب سے اس تعلق کا آغاز ہوا۔ آپ ان دنوں جب بھی لندن تشریف لاتے‘ ہمارے ہاں تشریف لاتے اور ایک وقت کا کھانا ضرور ہمارے ساتھ تناول فرماتے۔ لیکن ۱۹۷۳ء میں جب ہیگ سے مستقلاً نقل مکانی کرکے لندن تشریف لائے تو لندن مشن کے ایک فلیٹ میں‘ جو ہمارے فلیٹ سے ملحق تھا‘ رہائش پذیر ہوئے۔
جب میری بچی امت الجمیل کی شادی ہوئی تو آپ روزانہ ہی شادی کے انتظامات کے بارے میں دریافت فرماتے۔ شادی سے چند روز قبل فرمایا ...... میں اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ اسے کوئی اچھا سا تحفہ پیش کروں کیونکہ اس نے میری بڑی خدمت کی ہے۔ میری دوسری بیٹی امت النصیر کی شادی پاکستان آ کر ہوئی۔ رخصتانہ سے قبل آپ نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ آپ امت النصیر سے الگ ملنا چاہتے ہیں۔ اس کا انتظام کر دیا گیا۔ آپ اندر تشریف لے گئے ...... الخ
ہمارے پاکستان آنے کے بعد حضرت چودھری صاحب جب بھی ربوہ تشریف لاتے ہمارے گھر ضرور قدم رنجہ فرماتے۔ میرے خاوند نے کئی بار اصرار بھی کیا کہ آپ کو ہمارے ہاں آنے سے زحمت اٹھانی پڑتی ہو گی۔ اس لیے آپ جب ربوہ تشریف لائیں تو ہمیں اطلاع فرما دیں ہم حاضر ہو جائیں گے لیکن نہ مانتے“۔ (ایضاً‘ ص ۱۶۴-۱۶۳) طوالت سے بچنے کے لیے مختصر اقتباسات دیے گئے ہیں۔
سو قارئین حضرات ! یہ وہ حالات تھے جن میں مست ہو کر ظفر اللہ صاحب ساری عمر اپنا گھر بار، بیویاں بچے تج کر قادیانیت اور رائل مرزا فیملی کے بندہ بے دام بنے رہے۔ کاش کہ وہ اپنی ساری صلاحیتیں اور دولتیں اور عقیدتیں اس جھوٹے سے قادیانی سازشی گروہ پر نچھاور کرنے کی بجائے آنحضرت ﷺ کی عقیدت و محبت اور پوری دنیائے اسلام اور امت محمدیہ کے لیے وقف کر دیتے۔ اس طرح وہ دین و دنیا اور آخرت سب میں سرخرو ہو جاتے۔ مگر انہوں نے سمندر کی وہیل بننے کے بجائے کنوئیں کا مینڈک بننے کو ترجیح دی۔ اور ہمہ صلاحیت و عقل و دانش گھریلو زندگی میں بھی نامرادی میسر آئی اور جس تحریک کے لیے تن من دھن حتیٰ کہ اپنا مذہب دین اسلام چھوڑ بیٹھے تھے، اس کا بھی مرنے سے پہلے حسرت ناک انجام دیکھ لیا اور موت ایسے عبرت ناک حالات میں ہوئی کہ غیر مسلم قرار پا چکے تھے اور ان کا پیر و مرشد فرار ہو کر اپنی ولی نعمت ملکہ کی آغوش میں لندن پناہ لے چکا تھا۔
چودھری ظفر اللہ کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ خسیس ہونے کی حد تک کنجوس تھے۔ ان کی خساست کے بہت سے دلچسپ واقعات ان کے نہایت قریبی عزیزوں اور دوستوں نے بیان کیے ہیں۔ جن میں سے نمونے کے طور پر چند ایک قارئین کی ضیافت طبع کے لیے پیش خدمت ہیں۔
- ۱۔ پرنسس عابدہ سلطان آف بھوپال اقوام متحدہ امریکہ میں چودھری صاحب کی رہائش
گاہ کا احوال یوں بیان کرتی ہیں ”چوتھی منزل کے اوپر ایک بہت ہی چھوٹا سا کمرہ تھا۔ اس میں ایک ٹوٹا پھوٹا سا پلنگ پڑا تھا اور دوسری عام ضروریات بھی اچھی طرح مہیا نہ تھیں۔ میں یہ حالت دیکھ کر سمجھی کہ غالباً یہاں چوکیدار رہتا ہے۔ میں نے پوچھا کہ بھئی یہ کس کا کمرہ ہے۔ تو معلوم ہوا کہ یہاں پاکستان کے وزیر خارجہ رہتے ہیں۔..... مجھے تو بہت برا لگا۔ میں نے کہا کہ یہ کیا ہے۔ ان کو اتنا الاؤنس ملتا ہے، اتنی تنخواہ ملتی ہے، ان کے سارے اخراجات گورنمنٹ ادا کرتی ہے اور یہ ایسی پھٹیچر جگہ پڑے ہوئے ہیں اور یہ بات ہماری بدنامی کا باعث ہے کہ ہمارا وزیر خارجہ اس طرح پڑا ہوا ہے....... چونکہ میرے اور ان کے بہت بے تکلفی کے اور برسوں پرانے تعلقات تھے۔ چنانچہ پہلی فرصت میں، میں نے ان سے بہت جھگڑا کیا۔ میں نے کہا ظفر اللہ صاحب آپ کو کوئی عار محسوس نہیں ہوتی کہ آپ اس طرح پڑے ہوئے ہیں“۔ (قادیانی ماہنامہ ”خالد“ دسمبر ۱۹۸۵ء)
- ۲۔ چودھری ظفر اللہ خود بھی کہا کرتے تھے کہ میرے بارے میں مشہور ہے کہ یہ شخص
کنجوس ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ ہونے کے دوران ایک دوست آپ کے دفتر کے باتھ روم میں گئے اور دیکھا کہ ایک پرانے صابن کے ٹکڑے کے ساتھ نیا صابن جڑا ہوا ہے۔ یہ دیکھ کر وہ حیران ہوئے اور اس کا ذکر مکرم چودھری صاحب سے کیا۔ آپ نے فرمایا یہ ٹھیک ہے۔ میں پرانا بچا ہوا صابن بھی ضائع نہیں کرتا بلکہ اسے نئے صابن سے جوڑ کر استعمال کرتا
ہوں"۔ (ایضاً ص ۱۲۳)
- ۳۔ چودھری صاحب کے بھتیجے ادریس نصر اللہ بیان کرتے ہیں "ایک دفعہ ایک عزیز
نے پوچھا آپ کے پاس رومال ہے' فرمایا ہاں ہے اور اپنا رومال دے دیا۔ اس نے سارے رومال سے اپنے دونوں ہاتھ پونچھ لیے۔ نہایت شفقت سے فرمایا آپ کو دراصل تولیہ کی ضرورت تھی۔ رومال تو ہنگامی ضرورت کے لیے ہے۔ پھر فرمانے لگے "میں رومال کی مختلف تہیں کر کے ایک تہہ عموماً ایک ہفتہ استعمال کرتا ہوں اور پھر دوسری اور پھر تیسری اور اس طرح ایک دھویا ہوا رومال قریباً دو ماہ کفایت کرتا ہے۔ میرے پاس دو رومال ہیں اور جس دوست نے یہ رومال تحفتاً دیے تھے' ان کی وفات کو ۲۷ سال ہو چکے ہیں"۔ اسی طرح ایک دفعہ فرمایا "میں اپنے رومال' بنیان' جراب اور قمیض وغیرہ ہالینڈ میں خود دھوتا ہوں"۔ (یہ ان کی ناکام اور پریشان کن ازدواجی اور گھریلو زندگی کے انتشار کا خمیازہ بھی تھا) جبکہ اس وقت ان کی ماہوار آمدن تقریباً ۶۰ ہزار روپے سے زائد تھی۔ (ایضاً ص ۱۳۰)
- ۴۔ فرمایا کہ ”میری والدہ فرمایا کرتی تھیں کہ جب تم کوئی قمیض پہننی ترک کر دیتے ہو
تو پھر وہ کسی کام کی نہیں رہتی"۔ (ص ۱۶۹)
- ۵۔ ایک دفعہ گلے کا بٹن کپڑے پہنتے ہوئے گر گیا۔ برادرم مکرم حمید صاحب اسے
ڈھونڈنے لگے تو فرمایا ”تم رہنے دو میں خود ڈھونڈتا ہوں۔ تم ابھی کہہ دو گے کہ نہیں ملتا
اور لادیتا ہوں اور میرے پاس یہ بٹن ۴۵ سال سے ہے"۔ (ایضاً ص ۱۳۰)
- ۶۔ ایک دفعہ فرمانے لگے کہ ”ہالینڈ میں صبح کے ناشتے کے لیے دو انڈہ استعمال کرتا ہوں
جس میں دو زردیاں ہوتی ہیں۔ ایک زردی میں ایک دن کھاتا ہوں اور دوسری اگلے
روز"۔ (ص ۱۵۳)
- ۷۔ " آپ اپنی ذات پر بالکل نہ ہونے کے برابر خرچ کرتے تھے۔ واقعہ یہ ہے کہ آپ
ایک دفعہ موسم سرما کے شروع میں لندن امت الحئی بیگم صاحبہ نے فرمایا کہ ابا تھر ہے۔ اسے بھجوا رہی ہوں۔ اسے مرمت بیرونی کپڑے میں بھی جگہ جگہ سوراخ ہ نمونے بھجوا رہا ہوں۔ آپ پسند کرلیں سلوا دوں گا۔ بیگم صاحبہ نے فرمایا ریشمی بلکہ ہم پر شدید ناراض ہوں گے اور
ہے"۔ (ص ۱۳۸)
- ۸۔ عبدالکریم صاحب آف لندن
دفعہ ان کی بڑی بیٹی عزیزہ صادقہ کو اپنی الٹ دیں۔ جب کئی دن گزر گئے اور نے فرمایا کہ قمیص ابھی تک درست ہ کہ اس قمیص کا کالر تو پہلے ہی الٹایا جا
(ص ۷۲)
- ۱۰۔ ایک دفعہ چودھری صاحب
میں چودھری صاحب کے پاس بیٹھا تھا موجود وہی چیز آگے کردی۔ مگر اسی عرض کیا یہ رہنے دیں۔ یہاں سے اور جاتی تھی تو مائیں کہا کرتی تھیں اٹھا کر
- ۱۱۔ محترم مولانا شمس صاحب
دودھ پھٹ گیا ہے۔ چودھری صا ہے۔ چودھری صاحب نے فرمایا ... ایک کو ضائع کر دیتا ہے۔ دوسرے کے لیے لندن سے باہر گیا ہوا تھا۔ پڑا۔ وہ جانے سے پہلے گھر میں مو
ایک دفعہ موسم سرما کے شروع میں لندن سے لاہور تشریف لانے والے تھے۔ مجھے محترمہ امت الحئی بیگم صاحبہ نے فرمایا کہ ابا تشریف لا رہے ہیں اور ان کا کوٹ بہت بوسیدہ ہو چکا ہے۔ اسے بھجوا رہی ہوں۔ اسے مرمت کروا دیں۔ کوٹ کا نہ صرف استر پھٹ چلا تھا بلکہ بیرونی کپڑے میں بھی جگہ جگہ سوراخ ہو چکے تھے۔ میں نے عرض کیا کہ نئے کپڑے کے چند نمونے بھجوا رہا ہوں۔ آپ پسند کرلیں۔ میں ابا حضور کی آمد سے پہلے درزی سے نیا کوٹ سلوا دوں گا۔ بیگم صاحبہ نے فرمایا رشید! یہ ناممکن ہے۔ ابا ہرگز نیا کوٹ نہیں پہنیں گے۔ بلکہ ہم پر شدید ناراض ہوں گے اور ایسا ہی واقعہ آپ کے ایک جوتے کی مرمت کا بھی ہے“۔ (ص ۱۳۸)
- ۸۔ عبد الکریم صاحب آف لندن بیان کرتے ہیں ”حضرت چودھری صاحب نے ایک
دفعہ ان کی بڑی بیٹی عزیزہ صادقہ کو اپنی ایک قمیص بھجوائی کہ اس کا کالر پھٹ چکا ہے، اسے الٹ دیں۔ جب کئی دن گزر گئے اور قمیص درست ہو کر نہ آئی تو حضرت چودھری صاحب نے فرمایا کہ قمیص ابھی تک درست ہو کر واپس کیوں نہیں آئی۔ اس پر عزیزہ نے جواب دیا کہ اس قمیص کا کالر تو پہلے ہی الٹایا جا چکا ہے۔ اب اسے مزید الٹانے کی گنجائش نہیں“۔
(ص ۷۲)
- ۱۰۔ ایک دفعہ چودھری صاحب کے ساتھ کھانے میں اور دوستوں کے علاوہ میں بھی تھا
میں چودھری صاحب کے پاس بیٹھا تھا۔ کوئی چیز چودھری صاحب سے گر گئی۔ میں نے میز پر موجود وہی چیز آگے کردی۔ مگر اسی اثناء میں انہوں نے گری ہوئی شے اٹھالی۔ میں نے عرض کیا یہ رہنے دیں۔ یہاں سے اور لے لیں۔ فرمایا کہ یاد نہیں؟ بچپن میں اگر کوئی چیز گر جاتی تھی تو مائیں کہا کرتی تھیں اٹھا کر پھونک مار کر کھالو“۔ (ص ۷۳)
- ۱۱۔ محترم مولانا شمس صاحب نے پوچھا کیا بات ہے چائے میں کیا دیر ہے؟ جواب دیا
دودھ پھٹ گیا ہے۔ چودھری صاحب نے فرمایا کہاں ہے لے آؤ۔ جواب ملا پھینک دیا ہے۔ چودھری صاحب نے فرمایا ...... پھٹے ہوئے دودھ اور دہی میں کیا فرق ہے۔ مگر انسان ایک کو ضائع کر دیتا ہے۔ دوسرے کو شوق سے کھاتا ہے۔ پھر ایک واقعہ سنایا کہ میں چند دن کے لیے لندن سے باہر گیا ہوا تھا۔ اس دوران میرے میزبان ڈاکٹر آسکر برونر کو باہر جانا پڑا۔ وہ جانے سے پہلے گھر میں موجود اشیائے خوردنی کی ایک فہرست میز پر رکھ گئے۔ میں
واپس آیا تو دیکھا کہ دہی پر الی لگی ہوئی ہے۔ میں نے وہ ہٹا کر دہی کھالی۔ جو دوست چائے پلا رہے تھے، انہوں نے بڑی حیرت سے کہا چودھری صاحب آپ نے الی (پھپھوندی) لگا ہوا دہی کھا لیا۔ محترم چودھری صاحب نے بڑے پیار سے جواب دیا 'ہاں کھا لیا۔ (ص ۷۳)
سر ظفر اللہ نے لاکھوں کروڑوں کمائے مگر خود اچھا کھانا اور اچھا پہننا تک نصیب نہ ہوا۔ اور یہ دولت کبھی کسی غریب قادیانی کی مصیبت دور کرنے کے کام نہ آئی بلکہ ساری دولت جائیداد مرزا کے خاندان (رائل فیملی) کے لیے وقف ہو گئی۔ نیز اپنی آل اولاد پسماندگان کے نام بھی کچھ نہ کیا۔
اللہ تعالیٰ نے سر ظفر اللہ کو علم و عقل و دانش اور اعلیٰ صلاحیتوں سے نوازا۔ ان کو طویل مہلت قریباً ایک صدی کی دی۔ (۹۳ سال) کہ وہ قادیانی تحریک کا اندر اور باہر اچھی طرح چھان پھٹک کر پرکھ لیں اور تائب ہو کر دین اسلام کی طرف پلٹ آئیں۔ مگر انہوں نے بہر صلاحیت و دانش اس مہلت سے فائدہ نہ اٹھایا اور طرح طرح کے عذاب جو مختلف ناکامیوں، نامرادیوں، عزیزوں کی بیماریوں اور قادیانیت کے زبردست زوال اور دیگر مصائب جھیل کر بالآخر ایک حسرت ناک اور المناک موت مرے۔ اس عذاب کی ایک جھلک درج ذیل ہے:
- ۱۔ پہلی شادی کے موقع پر والد سے جھگڑا۔
- ۲۔ خلاف مرضی والد سے دب کر شادی پر مجبور ہونا پڑا۔
- ۳۔ پہلی بیوی سے نہ بنی۔ اس کی ساری عمر خبر نہ لی۔ کبھی میل جول نہ رکھا۔ اس بے
گناہ کی بد دعائیں لیں۔
- ۴۔ والد کے مرتے ہی اپنی مرضی کی ماڈرن دوشیزہ سے شادی کی مگر اس نے ظفر اللہ کا
ناک میں دم کر دیا کہ بیوی کے پاس رہنا مشکل ہو گیا۔ اس بیوی نے بے وفائی کر کے ایک دوسرے شخص شاہنواز سے شادی رچا لی۔
- ۵۔ بہت چلے کاٹے مگر نرینہ اولاد نہ ہوئی۔ بیٹے کی تمنا ساری عمر تڑپاتی رہی۔
- ۶۔ بیویوں سے ان بن رہنے سے مرزا محمود کی فیملی میں دلچسپی لینے لگے اور مرزا فیملی
نے ہر طرح کا لاسہ ڈال کر ساری دولت اور جائیداد بٹور لی اور زندگی بھر اس دولت اور صلاحیت کو جس طرح چاہا، استعمال کیا۔ غلام اور ذلیل بنا کے رکھا۔ تلووں تک کا کام لیا۔
- ۷۔ ساری عمر نہ اچھا کھانا نہ ا
پسماندگان کو کچھ نصیب نہ ہوا۔ یعنی ایک کے لیے ثابت ہوا۔
- ۸۔ اوائل جوانی میں اپنے نوجوان
- ۹۔ ۱۹۵۹ء میں ظفر اللہ کا سب سے
کر مرا۔
- ۱۰۔ ظفر اللہ کا ہمدم ہمراز اور پیرو
لے کر یورپ میں جگہ جگہ علاج کے لیے حملہ ہوا اور نو سال تک مفلوج ہو کے رہے مرزا غلام احمد نے فالج کو جھوٹوں
- ۱۱۔ باوجود مرزا محمود کے دست ر
نے نہ پوچھا اور مرزا محمود وصیت کر ہوگا۔
- ۱۲۔ چھوٹا بھائی اسد اللہ خاں ۱۵
کی مرگ کے قریبی دنوں میں مرا۔
- ۱۳۔ بڑھاپے میں تیسری شادی
سے جگ ہنسائی کروائی۔ قادیانی پیشواؤ
- ۱۴۔ قادیانیت کا عبرت ناک زو
علمائے اسلام کی طرف سے کفر کے صورت حال یہ تھی کہ پوری دنیائے نماز، مساجد اور شعائر اسلام کا استعما تھا۔ بعض قادیانی پھانسی کی سزا پاچکے۔
- ۱۵۔ اکلوتی بیٹی امت الحی کی
قادیانی سے ہوئی تھی مگر شادی کے بع کوشش کے بیٹی کو طلاق ہو گئی۔ جس
- ٧۔ ساری عمر نہ اچھا کھانا نہ اچھا پہننا نصیب ہوا۔ دولت اور جائیداد میں سے
پسماندگان کو کچھ نصیب نہ ہوا۔ یعنی ایک دیمک زدہ بے ثمر درخت اہل خانہ اور پسماندگان کے لیے ثابت ہوا۔
- ٨۔ اوائل جوانی میں اپنے نوجوان بھائی شکر اللہ کی وفات کا صدمہ دیکھا۔
- ٩۔ ۱۹۵۹ء میں ظفر اللہ کا سب سے چہیتا بھائی عبداللہ خان بلڈ کینسر سے ایڑیاں رگڑ رگڑ
کر مرا۔
- ١٠۔ ظفر اللہ کا ہمدم ہمراز اور پیرو مرشد مرزا محمود پر سن ۵۳ میں قاتلانہ حملہ ہوا جس کو
لے کر یورپ میں جگہ جگہ علاج کے لیے مارا مارا پھرنا پڑا مگر معمولی افاقہ ہونے کے بعد فالج کا حملہ ہوا اور نو سال تک مفلوج ہو کے پھٹے پر پڑا رہنے کے بعد عبرتناک موت مرا۔ (یاد رہے مرزا غلام احمد نے فالج کو جھوٹوں اور لعنتیوں کی بیماری لکھا ہے)
- ١١۔ باوجود مرزا محمود کے دست راست ہونے کے گدی نشینی کے وقت ظفر اللہ کو کسی
نے نہ پوچھا اور مرزا محمود وصیت کر گیا کہ آئندہ خلیفہ صرف اس کی اپنی اولاد میں سے ہوگا۔
- ١٢۔ چھوٹا بھائی اسد اللہ خاں ۱۵ سال تک بعارضہ فالج معذور پڑا رہنے کے بعد ظفر اللہ
کی مرگ کے قریبی دنوں میں مرا۔
- ١٣۔ بڑھاپے میں تیسری شادی فلسطینی دوشیزہ سے کی۔ اس کے منگیتر اور ساری دنیا
سے جگ ہنسائی کروائی۔ قادیانی پیشواؤں کی دعائیں بیٹے کے لیے قبول نہ ہو سکیں۔
- ١۴۔ قادیانیت کا عبرت ناک زوال دیکھا۔ ۱۹۱۴ء میں جماعت کے دو ٹکڑے ہوئے۔
علمائے اسلام کی طرف سے کفر کے فتوے، بالآخر اقلیت قرار پائے۔ مرنے کے وقت صورت حال یہ تھی کہ پوری دنیائے اسلام کا اجماع ہو چکا تھا کہ قادیانی غیر مسلم ہیں۔ کلمہ، نماز، مساجد اور شعائر اسلام کا استعمال ممنوع ہو چکا تھا۔ پیرو مرشد مرزا طاہر مفرور ہو چکا تھا۔ بعض قادیانی پھانسی کی سزا پا چکے تھے۔
- ١۵۔ اکلوتی بیٹی امت الحئی کی شادی ناکام ہو گئی۔ اس کی پہلی شادی ڈاکٹر اعجاز احمد
قادیانی سے ہوئی تھی مگر شادی کے بعد ہی ان بن رہنے لگی اور باوجود سر ظفر اللہ کی ہر طرح کوشش کے بیٹی کو طلاق ہو گئی۔ جس کا ظفر اللہ کو زبردست صدمہ ہوا۔ بعد میں اس کی
شادی ظفراللہ نے اپنے بھتیجے سے کروائی۔
- ۱۶- عبرت ناک موت: جیسا کہ اوپر بیان ہوچکا ہے ظفراللہ کی دوسری بیوی نے ۱۹۶۰ء
میں علیحدگی حاصل کر کے شاہنواز قادیانی سے شادی کر لی تھی۔ مگر یہ شادی چند سال تک ہی نبھی اور اس عورت نے شاہنواز سے بھی طلاق حاصل کر لی اور اپنی بیٹی امت الحئی (جو ظفراللہ سے تھی) کے ساتھ رہنے لگ گئی۔ سر ظفراللہ اپنی بیٹی اور سابقہ بیوی کے گھر جانا اپنی توہین سمجھتے تھے۔ اس لیے پاکستان آتے تو ربوہ میں مرزا فیملی کے مہمان بنتے اور مرزا محمود اور ان کے گدی نشینوں کے ہاں ہی رہائش رکھتے۔ لیکن نومبر ۸۳ء میں لندن میں صحت بہت خراب رہنے لگی اور آخری وقت نظر آنے لگا تو مجبوراً اپنی بیٹی اور سابقہ بیوی کے پاس وطن واپس آنے کا ارادہ کیا۔ لندن میں اپنے دوستوں سے اپنا عندیہ ظاہر کیا۔ دوست بھی حیران ہوئے کیونکہ سب سمجھتے تھے کہ ظفراللہ کا گھر اور ٹھکانہ تو لندن ہی ہے۔ اس لیے احباب نے کہا اب آخر وقت میں جاکر کیا کرو گے۔ یہیں رہ جاؤ۔ بقول شاعر۔
آخری عمر میں کیا خاک مسلماں ہوں گے
چنانچہ جب ایک خاص محب منصور بی ٹی نے پوچھا کہ چودھری صاحب یہ کیا سن رہا ہوں تو سر ظفراللہ نے جواب دیا "I Do Not Like To Go In A Box Mansoor" میں تابوت میں بند ہو کر واپس جانا نہیں چاہتا۔ صحت اس قدر خراب ہوچکی تھی کہ Wheel Chair پہیوں والی کرسی سے جہاز میں لے جایا گیا اور لندن سے لاہور پہنچ کر اپنی سابقہ بیوی اور بیٹی کے ہاں قیام پذیر ہوئے اور اپنی ساری عمر کی بے رخی پر بہت روئے دھوئے۔ اپنی بیٹی اور اس کے بچوں سے التجا کی کہ اب ہر وقت اور کھانے کی میز پر سب ان کے ساتھ اکٹھے کھانا کھایا کریں اور اپنی سابقہ بیوی کی طرف دیکھ کر فرمایا ”اگر آپ بھی اس پروگرام میں شامل ہو جائیں تو یہ مجھ پر عنایت ہوگی"۔ (ص ۴۷ ظفراللہ نمبر) لیکن سابقہ بیوی نے ان کے کسی پروگرام میں شرکت نہ کی۔ بلکہ ان سے کلام تک نہ کیا اور یہ حسرت دل میں ہی رہ گئی۔ لندن سے نومبر ۸۳ میں سخت جان کنی کی حالت میں لاہور آئے کہ بچوں کے سامنے آرام سے جان دیں گے مگر جان بھی آسانی سے نہ نکلی۔ دو سال سخت
تکلیف میں مبتلا رہے۔ آخری دو ماہ تقریباً ہوش میں آتے تو سخت اضطراب اور گھبراہ غصے میں برسنے لگ جاتے۔ کبھی شدت بیمار نہ آتی۔
آخری دنوں کی کیفیت ان کی بیٹی ام دن کی اس آخری بیماری میں پہلے پانچ دن تو نے آسمان سے صبر اتارا تھا ورنہ ان کی گرتی کمرے کا جو ماحول بنا رکھا تھا، اس کو برداش اس انتظار میں تھی کہ باپ مرے تو سکھ کا قبل ہر روز انہیں کئی کئی دفعہ مکمل ہوش بارش جاری ہوتی تھی۔ ..... مرض الموت . چہرے پر ایسا اثر رہنے لگ گیا کہ بیہوش بھی سے پہلے ہم لوگوں کو گھبراہٹ ہوتی تھی کہ (یعنی ایسی دہشت ناک حالت تھی کہ لواحق عرصہ میں جب بھی ہوش میں آتے تو صرف (پیر و مرشد کی در بدری جانکنی میں کتنی رہتے۔ میں انہیں بوسہ دیتی مگر وہ کچھ نہ دن میں نے عرض کی کہ میں ترس ng The Century Is Over" اور وحشت انگیز کیفیت میں یکم ستمبر ۱۹۸۵ء
مجموعی طور پر ظفراللہ خاں کی زن حرماں نصیبی کی تصویر ہے۔ وہ اپنے والد ا، ثابت ہوئے بلکہ وہ اپنی ذات کے لیے بھی ہونے کے باوجود انہیں اچھا کھانا، پہننا نصی جوتے، کھانے میں پھپھوندی وغیرہ کھاتے
تکلیف میں مبتلا رہے۔ آخری دو ماہ تقریباً مسلسل بے ہوشی کی حالت میں گزارے اور کبھی ہوش میں آتے تو سخت اضطراب اور گھبراہٹ میں ہوتے۔ ایک دم چلاتے اور کبھی شدید غصے میں برسنے لگ جاتے۔ کبھی شدت بیماری سے طبیعت بے چین ہو جاتی اور راتوں کو نیند نہ آتی۔
آخری دنوں کی کیفیت ان کی بیٹی امت الحئی یوں بیان کرتی ہیں ”ایک مہینہ اور ١٠ دن کی اس آخری بیماری میں پہلے پانچ دن تو آپ مکمل بے ہوش رہے۔ یہ محض خدا تعالیٰ نے آسمان سے صبر اتارا تھا ورنہ ان کی گرتی ہوئی صحت بلکہ ٹمٹماتی ہوئی زندگی نے ان کے کمرے کا جو ماحول بنا رکھا تھا، اس کو برداشت کرنا میرے لیے ناممکن ہو رہا تھا۔ (گویا بیٹی بھی اس انتظار میں تھی کہ باپ مرے تو سکھ کا سانس لیں)...... وصال سے کوئی سات آٹھ گھنٹے قبل ہر روز انہیں کئی کئی دفعہ مکمل ہوش آجاتا تھا۔..... آنکھوں سے آنسوؤں کی مسلسل بارش جاری ہوتی تھی...... مرض الموت کے آخری ہفتہ میں آپ بہت سنجیدہ ہو گئے اور چہرے پر ایسا اثر رہنے لگ گیا کہ بیہوش بھی ہوتے تھے تو کچھ کہنے سے پہلے یا کوئی دوا دینے سے پہلے ہم لوگوں کو گھبراہٹ ہوتی تھی کہ کہیں ہوش آگیا تو طبیعت پر ناگوار نہ گزرے (یعنی ایسی دہشت ناک حالت تھی کہ لواحقین بے ہوشی میں بھی قریب پھٹکنے ڈرتے تھے) اس عرصہ میں جب کبھی ہوش میں آتے تو صرف حضور (مرزا طاہر) کے بارے میں پوچھا کرتے۔ (پیر و مرشد کی در بدری جانکنی میں کتنی تکلیف دیتی ہو گی العیاذ باللہ) میری طرف دیکھتے رہتے۔ میں انہیں بوسہ دیتی مگر وہ کچھ نہ کہتے۔ عائشہ کی عادت بھی میری طرح تھی۔ ایک دن میں نے عرض کی کہ میں ترس گئی ہوں خدا کے لیے کچھ تو کہئے تو فرمایا "Darling The Century Is Over" (ص ۴۶، ظفراللہ نمبر) اسی عبرتناک اور وحشت انگیز کیفیت میں یکم ستمبر ۱۹۸۵ء کو پرلوک سدھار گئے۔
مجموعی طور پر ظفراللہ خاں کی زندگی پر اجمالی نظر ڈالئے تو وہ ناکامی، نحوست اور حرمان نصیبی کی تصویر ہے۔ وہ اپنے والد اور بیوی بچوں یعنی اہل خانہ کے لیے منحوس وجود ثابت ہوئے بلکہ وہ اپنی ذات کے لیے بھی منحوس ثابت ہوئے کہ اتنی کثیر مال و دولت میسر ہونے کے باوجود انہیں اچھا کھانا، پہننا نصیب نہ ہوا۔ پیوند لگے سوراخوں والے کپڑے اور جوتے، کھانے میں پھپھوندی وغیرہ کھاتے تھے۔ جیسا کہ اوپر ان کے عزیزوں نے بیان کیا
ہے۔ ملک وملت کے لیے بھی وہ منحوس وجود ثابت ہوئے اور جس جگہ بھی انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، وہاں ناکامی اور نامرادی ہاتھ آئی۔ مثلاً پنجاب کی تقسیم کے وقت مسلم لیگ نے اپنا کیس ریڈ کلف کمیشن کے سامنے ان سے پیش کرایا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جن علاقوں کی پوری امید تھی، وہ بھی ہاتھ سے نکل گئے اور پنجاب کے کئی مسلم اکثریت کے علاقے بھی ہاتھ سے نکل گئے، نتیجتاً کشمیر بھی پاکستان کے ہاتھ سے قریباً سارا ہی جاتا رہا۔ اسی طرح اقوام متحدہ (U.N.O) میں کشمیر کا مسئلہ اٹھانے کے لیے حکومت پاکستان نے ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا چاہا، ظفر اللہ نے بھی لمبی تقریروں کے ریکارڈ توڑ دیے مگر انجام وہی ناکامی و نامرادی۔ بلکہ اس کے بعد کشمیر میں جنگ بندی ہو گئی اور کشمیر میں مقامی جنگ سے جو تھوڑے بہت علاقے آزاد ہو کر پاکستان کو مل رہے تھے، وہ بھی وہیں رک گئے اور
اے قادیانیو! تمہارے لیے بھی ظفر اللہ کا وجود منحوس ثابت ہوا۔ کیونکہ سر ظفر اللہ کی وجہ سے عامۃ المسلمین نے ان کو وزارت خارجہ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا اور انہی کے قائد اعظم کا جنازہ نہ پڑھنے کے باعث مسلمانوں میں قادیانیوں سے شدید نفرت کا آغاز ہوا اور بالآخر ۱۹۵۳ء میں عظیم تحریک قادیانیت کے خلاف چلی۔ وہ اس اعتبار سے بھی منحوس وجود تھے کہ جس تحریک کے لیے انہوں نے اپنی ساری صلاحیتیں، مال و دولت، عزت سب کچھ وقف کر دیا تھا، مرنے سے پہلے اس کی اینٹ سے اینٹ بجتے دیکھ لی۔ غیر مسلم اقلیت قرار پانے اور مساجد، نماز اور شعائر اسلام پر پابندی کے علاوہ مرنے سے پہلے اپنے پیر و مرشد کا ملک سے چوروں کی طرح فرار ہونا دیکھنا پڑا۔ اس صدمے سے تو ان پر جانکنی کی کیفیت بن گئی جو ان کے ساتھ ان کی ساری نحوستوں کو بھی سمیٹ گئی۔ بالآخر قادیانی احباب سے بے لوث اور پر خلوص التجا انہی کے فائدے اور بہتری کے لیے ہے کہ وہ بصیرت سے کام لیں۔
آپ حضرات ظفر اللہ خاں کو اپنے مذہب کے بانی کا صحابی قرار دیتے ہیں اور پھر اپنے صحابی کو رسول کریم کے صحابہ کے ہم پلہ یا ان سے برتر قرار دیتے ہیں۔ آپ نے مندرجہ بالا احوال پڑھے، آپ پر واضح ہے کہ یہ سب مشہور واقعات ظفر اللہ صاحب کے دوستوں، عزیزوں کے بیان کردہ ہی ہیں۔ آپ خود غیر جانبدارانہ اور خوف خدا سے کام لے کر سوچیں کہ کیا ایسا ناکام، نامراد، منحوس اور حرماں نصیب شخص صحابہ رسول کے مرتبہ کا ہو سکتا ہے۔ ہرگز نہیں۔ آپ کو اپنے اس قسم کے فرسودہ عقائد سے فوراً توبہ کر کے دامان
محمدی میں واپس لوٹ آنا چاہیے اور اپنی عاقبت اور دنیا کو تباہی سے بچالینا چاہیے۔
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی، جلد ۵، شمارہ ۱۹-۲۰-۲۱)
٭ ٭ ٭
جب ایک قادیانی کی قبر کھولی گئی • کوٹ قیصرانی، تحصیل تونسہ، ضلع ڈیرہ غازی خان میں ایک امیرمند نامی قادیانی مر گیا۔ اس مردود کو قادیانیوں نے مسلمانوں کی مسجد کے صحن میں دفن کر دیا۔ مقامی مسلمان اس حادثہ سے چیخ اٹھے۔ ان غریبوں کی احتجاجی آواز کو بااثر قادیانیوں نے دبانے کی کوشش کی۔ مسلمانوں کی پکار پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ان کی مدد کے لیے بجلی کی سرعت سے پہنچی۔ خانقاہ تونسہ کے چشم و چراغ خواجہ مناف صاحب بھی عشقِ رسولؐ کے ہتھیار سے مسلح ہو کر خم ٹھونک کر میدان میں آ گئے۔ جلوس نکالے گئے، کانفرنسیں ہوئیں اور حکومتی حکام سے مطالبہ کیا کہ قادیانی مردے کو مسجد سے نکالا جائے۔ حکومت نے ٹال مٹول کے ہتھکنڈوں سے کام لیا، لیکن عوام کے طوفانی احتجاج کے سامنے حکومت بے بس ہو گئی اور اسے مسلمانوں کا مطالبہ تسلیم کرنا ہی پڑا۔ چوہڑوں کے ذریعے مردود کی قبر کشائی کی گئی۔ جونہی قبر کھلی، بدبو کے طوفان اٹھ کھڑے ہوئے۔ اس شدت کی بو کہ لوگوں کے سر چکرا گئے اور آنکھوں سے پانی نکل آیا۔ لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی۔ غلیظ اور کٹا پھٹا لاشہ باہر نکلا تو مارے خوف کے چوہڑے بھی کانپ گئے۔ لاش قادیانیوں کے حوالے کر دی گئی، جنہوں نے چوہڑوں کے ذریعے ہی اسے اپنے گھر کے صحن میں دفن کر دیا۔ لیکن چند دنوں میں گھر میں ایسا تعفن پھیلا کہ گھر میں رہنا مشکل ہو گیا۔ آخر قادیانیوں نے تنگ آکر اسے وہاں سے اکھاڑ کر اپنے کھیتوں میں دفن کر دیا۔ چشم دید گواہ کہتے ہیں کہ جب دوسری مرتبہ قادیانی کی لاش کو نکالا گیا تو اس کی بدبو کئی میل دور تک گئی اور لوگ کئی دنوں تک اس بدبو کو محسوس کرتے رہے۔ اس عبرتناک واقعہ کو دیکھ کر کئی قادیانی مسلمان ہو گئے، جن میں سے کچھ مردے کے خاندان میں سے بھی تھے۔
ہو دیکھنا تو دیدۂ دل وا کرے کوئی
ظفر اللہ نے پاکستان کو کیا دیا؟
- ۱۔ ظفر اللہ خان نے بحیثیت وزیر خارجہ ان ممالک سے پاکستان کے تعلقات کو مضبوط
تر کیا جو سامراجی عزائم کے آئینہ دار تھے اور جن سے قادیانی امت کو ہمہ قسم کی مراعات حاصل ہو سکتی تھیں۔ ہمارے اس دعویٰ کی تصدیق سردار بہادر خان، برادر خورد سابق صدر محمد ایوب خاں کی وہ تقریر کرتی ہے جو انہوں نے قومی اسمبلی میں عہد ایوبی میں کی تھی:
"آپ نے یہ کہہ کر کہ امریکہ اور برطانیہ ہمارے معاملات میں دخیل ہیں اور خواجہ ناظم الدین کے بعد جتنے انقلابات آئے ہیں، ان میں ان دونوں کا ہاتھ تھا، ملک میں سنسنی پیدا کر دی۔ لوگ سوچنے لگے ہیں کہ واقعی ہمارا نظام اتنا کمزور تھا، یا ہے کہ اس میں غیر حکومتیں دخل دے سکتی ہیں اور دخل بھی ایسا کہ جب چاہیں، حکومت بدل دیں۔"
چنانچہ ظفر اللہ خان کی کوشش تھی کہ امریکہ و برطانیہ سے تعلقات کو مضبوط سے مضبوط تر بنا دیا جائے بلکہ پاکستان کو ان کے بازوؤں میں اس طرح جکڑ کر رکھ دیا جائے کہ وہ ادھر ادھر نہ جاسکے۔ کیونکہ یہی وہ قابل اعتماد حکومتیں تھیں جو آڑے وقت میں قادیانیوں کی ہر قسم کی مدد کو پہنچ سکتی تھیں۔
- ۲۔ ظفر اللہ خان قادیانی کے عہد وزارت میں پاکستان سیٹو اور سینٹو کا رکن بنا۔ یہ وہ
معاہدے ہیں جو سامراجی عزائم کے آئینہ دار ہیں۔ جن میں آج تک ہمارا ملک جکڑا ہوا ہے۔ ہم نے ان معاہدوں کی وجہ سے اشتراکی ممالک اور آزاد دنیا کی دشمنی مول لی۔ سیٹو کی وجہ سے ہم اشتراکی ممالک سے مکمل طور پر کٹ کر رہ گئے۔ بالفاظ دیگر امریکہ و برطانیہ کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی بنا دیے گئے۔ سینٹو کی وجہ سے مشرقی وسطیٰ کے اسلامی ممالک کی نگاہوں میں ہمارا کردار مشکوک ہو کر رہ گیا۔
- ۳۔ ظفر اللہ خان نے اپنے عہد وزار
ہمارے تعلقات بگاڑے رکھے۔ ایسا کیا اسلامی اور عرب ملکوں سے اچھے ہو گئے تو وہ پاکستان کی مدد کو آسکتے ہیں یا اگر پاکستان کے ہو گئے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ اسلام ازم کی سپر کے مستقبل کو محفوظ کرنے کے لیے آپس میں کے ناکام ہونے کا شدید خدشہ لاحق ہو سکتا تھا اس قدر بگڑ گئے کہ جب مصر پر برطانیہ، فرا آوروں کا ساتھ دے رہے تھے اور غاصبوں دشمن بھارت، عرب ملکوں کی حمایت کر رہا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نفرت کا بیج بو دیا گیا۔ جس آ
- ۴۔ ظفر اللہ خان نے پاکستان کے تعلقا
اسلامی ممالک تھے مگر جن کی خارجہ پالیسی افغانستان سے بھی تعلقات کو خراب رکھا گ آمدید نہیں کہا۔
- ۵۔ ظفر اللہ خان کے عہد ہی میں ہمار
جس کا مقصد یہ تھا کہ اگر ان کے عزائم می جائے۔ چنانچہ پشاور کے اڈے کی طرف خ ایوبی میں ختم کر دیا گیا۔
- ۶۔ ظفر اللہ خان نے بیرونی ممالک
عقیدتاً احمدی تھے، تاکہ احمدی ریاست ، کرانے میں زیادہ دقتیں پیش نہ آئیں اور لئے۔ اس چیز کی طرف مرحوم حمید نظامی ایک ایڈیٹوریل میں حکومت کی توجہ مبذو
نگاہوں میں ہمارا کردار مشکوک ہو کر رہ گیا۔
- ۳۔ ظفر اللہ خان نے اپنے عہد وزارت میں اسلامی ممالک کے ساتھ خاص طور پر
ہمارے تعلقات بگاڑے رکھے۔ ایسا کیوں کیا؟ اس لیے کیا کہ پاکستان کے تعلقات اگر ان اسلامی اور عرب ملکوں سے اچھے ہو گئے تو وہ آڑے وقت میں، اسلام کے رشتہ کی وجہ سے پاکستان کی مدد کو آسکتے ہیں یا اگر پاکستان کے تعلقات ان عرب اور اسلامی ملکوں سے اچھے ہو گئے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ اسلام ازم کی سپرٹ دوبارہ پیدا ہو جائے اور اسلام اور مسلمانوں کے مستقبل کو محفوظ کرنے کے لیے آپس میں متحد ہو جائیں۔ اس سے قادیانیوں کے عزائم کے ناکام ہونے کا شدید خدشہ لاحق ہو سکتا تھا۔ چنانچہ عرب ملکوں کے ساتھ ہمارے تعلقات اس قدر بگڑ گئے کہ جب مصر پر برطانیہ، فرانس اور اسرائیل نے مل کر حملہ کیا تو ہم حملہ آوروں کا ساتھ دے رہے تھے اور غاصبوں کو خوش آمدید کہہ رہے تھے، جبکہ ہمارا ازلی دشمن بھارت، عرب ملکوں کی حمایت کر رہا تھا۔ اس طرح مسلمان ملکوں میں ہمارے خلاف ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نفرت کا بیج بو دیا گیا۔ جس کی سزا مدتوں ہم بھگتتے رہے۔
- ۴۔ ظفر اللہ خان نے پاکستان کے تعلقات ان ملکوں سے نہایت خوشگوار رکھے جو اگرچہ
اسلامی ممالک تھے مگر جن کی خارجہ پالیسی برطانوی و امریکی مفاد کے تابع رہی۔ اس طرح افغانستان سے بھی تعلقات کو خراب رکھا گیا کیونکہ غیور پٹھانوں نے کبھی قادیانیوں کو خوش آمدید نہیں کہا۔
- ۵۔ ظفر اللہ خان کے عہد ہی میں ہمارے ملک کے اندر غیر ملکی اڈے قائم کر دیے گئے
جس کا مقصد یہ تھا کہ اگر ان کے عزائم میں داخلی حالات سد راہ بنے تو انہیں ٹھیک کر دیا جائے۔ چنانچہ پشاور کے اڈے کی طرف خاص طور پر روس نے نشاندہی کرائی۔ جسے عہد ایوبی میں ختم کر دیا گیا۔
- ۶۔ ظفر اللہ خان نے بیرونی ممالک میں ان لوگوں کو سفارتی عہدوں پر مامور کیا جو
عقیدتاً احمدی تھے، تاکہ احمدی ریاست معرض وجود میں آجائے تو نئی ریاست کو تسلیم کرانے میں زیادہ دقتیں پیش نہ آئیں اور فوری طور پر نئی ریاست کو عالمی برادری تسلیم کر لے۔ اس چیز کی طرف مرحوم حمید نظامی ایڈیٹر روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور نے اپنے ایک ایڈیٹوریل میں حکومت کی توجہ مبذول کرائی تھی۔ نیز جب وہ غیر ملکی دورے سے
واپس آئے تو انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا تھا کہ ہمارے غیر ملکی سفارت خانے ایک خاص جماعت کی اشاعت کا کام کر رہے ہیں۔
یہ ایک جھلک ہے‘ ان کامیابیوں کی جو خارجی لحاظ سے ظفر اللہ خان قادیانی خلیفہ کے آئندہ عزائم کی تکمیل کے لیے انجام دی تھیں۔ لیکن کروڑوں رحمتیں ہوں‘ ان رضاکاروں پر جنہوں نے ختم نبوت کے نام پر جام شہادت نوش کر کے قادیانیوں کے عزائم کا رخ موڑ کر رکھ دیا اور وقتی طور پر وہ دب گئے۔ اسی طرح خدا کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے ان زعماء و اکابرین کو جنہوں نے ان سنگین حالات میں قوم کی صحیح رہنمائی کر کے قادیانیوں کی سازشوں کا پردہ چاک کر کے رکھ دیا۔
(قاضی احسان احمد شجاع آبادی‘ ص ۳۴۵ تا ۳۵۰‘ از نور الحق قریشی)
اور سلسلہ چلتا رہا
مجلس کے اختتام پر علیحدہ لے جا کر حضرت تھانوی نے مولانا اختر سے فرمایا کہ مولوی صاحب ایک بات کہتا ہوں‘ مگر آپ وعدہ کریں کہ انکار نہ کریں گے۔ مولانا اختر نے عرض کی کہ حضرت ارشاد فرمائیں‘ تعمیل ہو گی۔ حضرت تھانوی نے فرمایا کہ میں ماہانہ کچھ نہ کچھ آپ کو ڈاک کے ذریعہ رقم ہدیۃً بھجواؤں گا۔ آپ انکار نہ کریں گے۔ مولانا اختر فرماتے ہیں کہ اس کے بعد ہر ماہ حضرت کی طرف سے منی آرڈر ملنا شروع ہو گئے۔ کسی ماہ ناغہ ہوا تو اگلے ماہ دونوں ماہ کا اکٹھا مل جاتا۔ غرضیکہ اس طرح آپ کی زندگی میں یہ معاملہ چلتا رہا۔ جس ماہ آپ کا انتقال ہوا اس سے اگلے ماہ سردار احمد خان پتافی رئیس جام پور نے ماہ بماہ مجھے ہدیہ بھجوانا شروع کر دیا۔ حالانکہ اس سے قبل انہوں نے کبھی ایسے نہ کیا تھا۔ جس ماہ سردار صاحب کا انتقال ہوا اس سے اگلے ماہ میاں خان محمد صاحب جوئیہ ضلع سرگودھا نے ماہ بماہ میری اعانت شروع کر دی۔ حالانکہ اس سے قبل انہوں نے ایسا نہ کیا تھا۔ جب میاں صاحب کا انتقال ہوا تو مولانا محمد علی جالندھری نے اتنا میری تنخواہ میں اضافہ کر دیا۔ آپ فرماتے تھے کہ جو حضرت تھانویؒ نے میری وظیفہ مقرر کیا تھا ان کی کرامت ہے کہ ان کے وفات کے بعد بھی بند نہیں ہوا بلکہ مختلف ذرائع سے ملتا رہا۔
منظور ہمیں اس کے غلاموں کی غلامی
سر ظفر اللہ خان کا شرمناک کردار
یہ بات مسلمہ ہے کہ کسی ملک کی نیک نامی اور بدنامی میں اس ملک کی خارجہ پالیسی کو اولین حیثیت حاصل ہے۔ اور جتنی اس کی خارجہ حکمت عملی کامیاب ہوگی‘ اتنی ہی اس ملک کی اقتصادی و معاشرتی ترقی کے ساتھ ساتھ اس کی دفاعی پوزیشن بھی مضبوط ہوگی۔ گویا خارجہ پالیسی کو امور مملکت میں تقریباً تمام شعبوں پر سبقت حاصل ہے۔ آج ہم جب اپنے گردو پیش اور خطہ عالم پر نظر دوڑاتے ہیں تو وہ ممالک جن کی خارجہ پالیسی اور فارن ڈپلومیسی کامیاب ہے‘ وہ قومیں اور مملکتیں رو بہ ترقی ہیں۔ لیکن یہ ترقی اور عروج تب ممکن ہے جب اس ملک کے پالیسی ساز انتہائی زیرک‘ قابل اور عالمی سیاست سے آشنا ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے ملک اور قوم کے ساتھ ان میں انتہائی عقیدت‘ خلوص اور جذبہ حب الوطنی کی روح موجود ہو۔ اسی ولولے سے سرشار قومیں ہی قوم کی کشتی کو ساحل مراد تک پہنچا سکتی ہیں۔
بدقسمتی سے ہمارے ملک میں دوسرے شعبوں کی طرح یہ شعبہ بھی کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہ کر سکا اور نہ ہی پچاس سال گزرنے کے باوجود اس کی کارکردگی قابل رشک تو بہت دور کی بات ہے‘ حوصلہ افزا رہی جو کہ ہماری بدقسمت قوم اور حرماں نصیب ملک کے لیے ایک بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے اور اس کی بنیادی وجہ بالکل واضح ہے۔ جو لوگ تحریک پاکستان اور تقسیم برصغیر کے عمل سے واقف ہیں‘ ان کو یہ بات بخوبی معلوم ہے کہ ارض پاکستان کے منصہ شہود پر نمودار ہوتے ہی ایک ایسا شخص اس اہم ترین وزارت پر براجمان ہوا‘ جو عالمی استعمار کا ایجنٹ‘ سامراجی قوتوں کا زر خرید غلام اور امت محمدیہ ﷺ کا نہ
صرف دشمن بلکہ مرزائے قادیان کی نبوت کاذبہ کا پرجوش مبلغ اور سرگرم داعی تھا۔ جب اس کے ناپاک ہاتھوں ہماری خارجہ پالیسی کی بنیاد رکھی گئی اور اس کا سنگ افتتاح اس صیونی گماشتے نے رکھا تو ظاہر ہے
تا ثریا می رود دیوار کج
کے مصداق وہی ہوا ۔ جس کا مشاہدہ ہم گزشتہ کئی برسوں سے کر رہے ہیں۔ ملک تو آزاد ہوا لیکن آزاد خارجہ پالیسی کے لیے آج تک ہم منتظر اور چشم براہ ہیں ۔ آنجہانی سر ظفر اللہ خان کو ”یار لوگ“ مافوق الفطرت دماغ والا انسان ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور اس کو ایک نابغہ (Genius) کے طور پر پیش کرنے کی سعی لاحاصل میں مصروف ہیں ۔ بعض لوگوں کے خیال میں محمد علی جناح بانی پاکستان کو اس بات پر مجبور کیا گیا تھا کہ وہ سر ظفر اللہ خان کو پاکستان کی اولین وزارت خارجہ کا قلمدان سپرد کر کے اس عظیم اعزاز کا مستحق ٹھہرائے۔ چنانچہ انہوں نے بادل ناخواستہ اس کو اس غیر معمولی عہدے کے لیے نامزد کیا۔ جس کی سزا آج تک ہماری قوم بھگت رہی ہے حالانکہ اس کا شرمناک کردار تقسیم اور باؤنڈری کمیشن کے وقت الم نشرح ہو چکا تھا۔
کشمیر کے بارے میں بانی پاکستان محمد علی جناح نے کہا تھا کہ ”کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے“ کیونکہ پاکستان میں بہنے والے تمام دریاؤں کا سرچشمہ کشمیر ہے اور اسے تاریخی اور جغرافیائی اعتبار سے بھی پاکستان کا حصہ ہونا چاہیے ۔ لیکن جن دنوں حد بندی کمیشن پاکستان اور بھارت کی حد بندی اور علاقوں کی تعین میں مصروف تھا، کانگریس اور مسلم لیگ کے نمائندے اپنا اپنا موقف پیش کر رہے تھے اور پھر مزے کی بات یہ ہے کہ مسلم لیگ کی طرف سے سر ظفر اللہ خان وکالت کے فرائض انجام دے رہا تھا۔ انہی دنوں قادیانی جماعت کی طرف سے الگ محضر نامہ کمیشن کو پیش کیا گیا جس میں مرزائیوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کے مولد قادیان کو ویٹیکن سٹی (Vitigen City) قرار دینے کا مطالبہ کیا۔ قادیانیوں نے ریڈ کلف کمیشن کو اپنا نقشہ بھی پیش کیا، جس میں انہوں نے اپنے آپ کو مسلمانوں سے علیحدہ ظاہر کیا۔ قادیانی جماعت نے یہ نقشہ ۱۹۴۰ء میں تیار کیا تھا۔ حد بندی کمیشن کو الگ میمورنڈم پیش کرنے کا افسوس ناک پہلو یہ تھا کہ سر ظفر اللہ خان ایک طرف تو مسلم لیگ کی
وکالت کر رہا تھا اور دوسری طرف اس کی جماعت نے الگ محضر نامہ کمیشن کے سامنے رکھا تھا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مرزائیوں کا یہ مطالبہ تو تسلیم نہیں کیا گیا کہ قادیان کو ویٹیکن سٹی (Vitigen City) قرار دیا جائے۔ البتہ باؤنڈری کمیشن نے مرزائیوں کے محضر نامہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے احمدیوں کو مسلمانوں سے خارج کر کے گورداسپور کو مسلم اقلیت کا ضلع قرار دے کر اس کے اہم علاقے بھارت میں شامل کر دیے۔ اس طرح نہ صرف یہ کہ گورداسپور کا ضلع پاکستان کے حصہ میں نہیں آیا بلکہ بھارت کو کشمیر کے لیے راستہ بھی مل گیا۔ جس کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے۔
چنانچہ سید میر نور احمد سابق ڈائریکٹر تعلقات عامہ اپنی یادداشتوں "مارشل لاء سے مارشل لاء تک" میں رقم طراز ہیں:
"لیکن اس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ایوارڈ پر ایک مرتبہ دستخط ہونے کے بعد ضلع فیروزپور کے متعلق جن میں سترہ (17) اور انیس (19) اگست کے درمیانی عرصہ میں ردو بدل کیا گیا اور ریڈ کلف سے ترمیم شدہ ایوارڈ حاصل کیا گیا۔ کیا ضلع گورداسپور کی تقسیم اس ایوارڈ میں شامل تھی، جس پر ریڈ کلف نے 8 اگست کو دستخط کیے تھے۔ یا ایوارڈ کے اس حصہ میں بھی ماؤنٹ بیٹن نے نئی ترمیم کرائی .... ضلع گورداسپور کے بارے میں ایک اور بات قابل ذکر ہے، اس کے متعلق چودھری ظفر اللہ خان جو مسلم لیگ کی وکالت کر رہے تھے، خود بھی ایک افسوس ناک حرکت کر چکے تھے۔ انہوں نے جماعت احمدیہ کا نقطہ نظر عام مسلمانوں سے (جن کی نمائندگی مسلم لیگ کر رہی تھی) جداگانہ حیثیت میں پیش کیا۔ چنانچہ معروف مسلم لیگی رہنما میاں امیر الدین نے اس بات کا اعتراف کیا کہ باؤنڈری کمیشن کے موقع پر ظفر اللہ خان کو مسلم لیگ کا وکیل بنانا مسلم لیگ کی بہت بڑی غلطی تھی۔ جن کے ذمہ دار خان لیاقت علی خان اور چودھری محمد علی تھے۔ اس نے پاکستان کی کوئی خدمت نہیں کی، بلکہ پٹھان کوٹ کا علاقہ اس کی سازش کی بنا پر پاکستان کے بجائے ہندوستان میں شامل ہوا"
(بحوالہ قادیانیت کا سیاسی تجزیہ) جملہ معترضہ کے طور پر فارسی کا ایک مشہور شعر مجھے یاد آ رہا ہے کہ
ایں چنیں ارکان دولت ملک را ویراں کنند
پاکستان کی پہلی کابینہ میں بھی کچھ یہی صورت حال تھی۔ سر ڈگلس گریسی آزاد اور خود مختار پاکستان کی فوج کا کمانڈر ان چیف‘ سردار جوگندر ناتھ منڈل وزیر قانون اور سر ظفراللہ وزیر خارجہ۔ کیا ایسی کابینہ سے ملک و قوم کی تعمیر و ترقی کی توقع کی جاسکتی تھی؟
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے؟
یہ تو تھی مملکت خداداد پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ کی تقسیم ملک کے وقت شرمناک کردار کی ایک ادنیٰ جھلک۔ ذرا غور فرمائیے کہ کیا ایسا شخص اس اہم عہدے کے قلمدان کا اہل ہے؟ ہر گز نہیں۔ لیکن کیا کیا جائے مشہور مصرعہ ہے
کیا اس لیے ہزاروں مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہائی گئیں؟ ہزاروں عفیفات کی عصمتیں لٹیں‘ ہزاروں بچے یتیم ہو گئے‘ ہزاروں جوانوں نے جام شہادت نوش کیا اور کئی سر پھرے دار و رسن پر جھول گئے۔ ہزاروں سہاگ "اجڑ" گئے‘ کتنے بے گناہ تہہ تیغ کر دیے گئے۔ کتنوں کے سر نیزوں کی انیوں پر لہرائے گئے‘ کتنے بچوں کے پیٹ برچھیوں سے چاک کر دیے گئے اور مسلمان قوم نے یہ تمام مظالم اس لیے خندہ پیشانی سے جھیلے کیونکہ ان کے سامنے ایک مقصد تھا۔ ایک آرزو تھی‘ ایک دلی تمنا تھی کہ نئی مملکت میں اسلام کا بول بالا ہو گا۔ ہم نہ سہی‘ ہماری نسلیں اور ہمارے بچے اسلام اور شریعت کی بہاریں دیکھیں گے۔ اگر ان سرفروشوں کو یہ معلوم ہوتا کہ ہماری قربانیوں کا ثمر اس طرح ظہور پذیر ہو گا تو پھر وہ کبھی بھی اتنی بھاری قیمت ادا کرنے پر تیار نہ ہوتے۔
تو گل کبھی نہ تمنائے رنگ و بو کرتے
بہرحال یہ تو درمیان میں سخن گسترانہ بات آئی۔ اب چودھری کے کارہائے نمایاں کی ایک تصویر دوران وزارت خارجہ قارئین کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ دوران وزارت خارجہ آپ نے زیادہ وقت بیرون ملک گزارا اور پارلیمنٹ میں آنے سے کتراتے رہے۔ اس دوران آپ نے پاکستان کے نقطہ نظر سے ہٹ کر اپنے غیر ملکی آقاؤں کے حکم اور اپنی قادیانی جماعت کے زاویہ نگاہ سے خارجہ پالیسی وضع کی۔
وزارت خارجہ سے محب وطن افراد کو نکال کر مخصوص قادیانی وسیع پیمانے پر بھرتی کیے اور اسی طرح غیر ممالک میں وزارت خارجہ کے دفاتر مرزائیت کی تبلیغ اور جاسوسی کے اڈوں میں تبدیل ہو گئے۔ اسلامی ممالک سے روابط اور تعلقات بڑھانے کے بجائے یورپی ممالک بالخصوص امریکہ اور برطانیہ سے تعلقات بڑھائے گئے۔ عرب ممالک کے ساتھ رشتہ اخوت کو مستحکم کرنے کے بجائے انہیں پاکستان سے بدظن کرنے اور پاکستان سے دور کرنے کی پالیسی اختیار کی گئی اور عربوں کی جاسوسی کرنے کے لیے مختلف ممالک میں قادیانی سیل قائم کیے گئے۔ برادر ملک افغانستان اور مصر سے جان بوجھ کر تعلقات کشیدہ کیے گئے جس کا خمیازہ آج تک بھگتا جا رہا ہے۔ پاکستان کے جغرافیائی محل وقوع اور وطن عزیز کے دفاعی نقطہ نظر سے ہمسایہ ملک چین کے بجائے امریکہ جیسے خود غرض ملک کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھائی گئیں۔ مسئلہ کشمیر کو دیدہ دانستہ حل کرنے کے بجائے اور خراب کیا گیا۔ اسی لیے آج تک اس کی سزا ہم بھگت رہے ہیں۔ علاوہ ازیں اپنی جماعت سے وفاداری کا یہ عالم کہ وزیر خارجہ کی حیثیت سے تنخواہ قومی خزانے سے وصول کرتے رہے لیکن اندرون و بیرون ملک کام قادیانی جماعت کے لیے کرتے رہے۔ بحوالہ ”قادیانیت کا سیاسی تجزیہ“۔
سر ظفر اللہ خان کے اس گھناؤنے کردار پر ایڈیٹر ”نوائے وقت“ جناب حمید نظامی نے اپنے غیر ملکی دورے سے واپسی پر اپنے اخبار میں ایک اداریہ تحریر کیا کہ بیرون ملک پاکستان کے سفارت خانے تبلیغ مرزائیت کے اڈے اور ان کے جماعتی دفاتر معلوم ہوتے ہیں۔ سر ظفر اللہ کے دور میں ناقص پالیسی کے باعث ہمیں سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی طور پر ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ چونکہ قادیانی جماعت برطانیہ کی خود کاشتہ اور امریکہ کی لے پالک تھی، اس لیے اس نے پاکستان کو یورپی ممالک کا دست نگر اور امریکہ کا اقتصادی بھکاری بنا دیا۔
اقوام متحدہ میں سب سے زیادہ تعداد اسلامی برادری کی تھی جبکہ پاکستان اسلامی ممالک کی سب سے بڑی مملکت تھا۔ اسلامی ریاستوں کے سرخیل ہونے کی حیثیت سے پاکستان کو اسلامی بلاک کی تشکیل و تنظیم کے سلسلہ میں بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے تھا۔ لیکن سر ظفر اللہ خان نے پاکستان کے وزیر خارجہ ہونے کی حیثیت سے اسلامی ملکوں کے ساتھ گہرے مراسم مسلسل روابط اور روایتی گرم جوشی کے برعکس سرد مہری کا رویہ اختیار کیے رکھا۔ انہی اسلامی ممالک سے تعلقات استوار کیے گئے جو امریکہ و برطانیہ کے حاشیہ بردار تھے۔
قادیانی جماعت کے نصب العین کے مطابق اسلام دشمنی اور اسرائیل دوستی ظفر اللہ خان کے جسم میں خون کے ساتھ گردش کرتی تھی۔
گو عربوں کی جاسوسی کے مشن کا آغاز مرزا بشیر الدین کے دور میں شروع ہو گیا تھا‘ لیکن چودھری ظفر اللہ خان کے دور میں خارجہ وزارت کی آڑ میں قادیانی جماعت کو عربوں کی مخبری اور جاسوسی کا سنہری موقع میسر آیا اور مختلف عرب ممالک کے سفارت خانوں میں قادیانی مردوں کو فٹ کر دیا گیا۔ عربوں کو جب قادیانیوں کے مشکوک کردار اور پراسرار سرگرمیوں کا پتہ چلا تو ان کے نوٹس لینے سے نہ صرف ہمارا قومی وقار مجروح ہوا بلکہ پاکستان کو عربوں میں ہدف تنقید بنایا گیا۔ (قادیانیت کا سیاسی تجزیہ‘ ص ۴۷۷) صاحبزادہ طارق محمود‘ مرتب ”قادیانیت کا سیاسی تجزیہ“ میں ہفت روزہ لولاک‘ ۷ اپریل ۱۹۷۴ء کے حوالے سے رقم طراز ہیں ”جب عرب نمائندے مسئلہ فلسطین کو یو این او میں پیش کرنا چاہتے تھے تو انہوں نے یو این او میں اپنی قرارداد کے حق میں فضا سازگار کرنے کے لیے دوست ملکوں کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں اور اپنی حمایت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ اس سلسلے میں وہ چودھری ظفر اللہ خان سے بھی ملے اور ان سے تعاون کی التجا کی۔ ظفر اللہ خان نے انہیں کہا کہ اگر ان کے امام جماعت اور مرزا بشیر الدین محمود خلیفہ ربوہ‘ اس بات کی ہدایت کریں گے تو ان کی مدد ضرور کریں گی۔ اس لیے آپ لوگ مجھے کہنے کے بجائے ربوہ میں ہمارے خلیفہ صاحب سے رابطہ قائم کریں۔ بے چارے عرب نمائندوں نے کسی نہ کسی طرح مرزا محمود صاحب سے رابطہ کیا اور ان سے تعاون کی درخواست کی۔ مرزا صاحب نے عرب نمائندوں کو یہاں سے تار دیا کہ ہم نے چودھری ظفر اللہ خان کو ہدایت کر دی ہے کہ وہ یو این او میں تمہاری امداد کریں“۔ (صفحہ ۴۷۹)
عرب ڈیلی گیشن نے امریکہ سے قادیانی جماعت کے نام جو تار ارسال کیا‘ وہ قادیانیوں کے آرگن رسالہ میں شائع ہوا۔ ”لیک سیکس“ ۶ نومبر ۔۔۔ عرب ڈیلی گیشن نے امریکہ سے بذریعہ تار حضرت امام جماعت احمدیہ کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کے ڈیلی گیشن چودھری سر ظفر اللہ خان کو مسئلہ فلسطین کے تصفیہ تک یہیں ٹھہرنے کی اجازت دی“۔ (الفضل‘ ۸ نومبر ۱۹۴۷ء)
سر ظفر اللہ خان کے اس بھیانک کردار پر مرزا غلام نبی جانباز لکھتے ہیں:
”یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے طرف سے لیک سیکس گئے تھے‘ تو پھر چاہیے تھا نہ کہ مرزا بشیر الدین محمود ظفر اللہ خان نے عرب ڈیلی گیشن کو یق کے حکم سے یہاں آیا ہوں۔ نیز اس ت گیشن کو پاکستان گورنمنٹ سے اجاز قادیانیت کا سیاسی تجزیہ) محولہ بالا کتاب ملاحظہ ہوں:
”جناب محمد نواز‘ ایم۔ اے ہی طراز ہیں: ظفر اللہ خان نے وزارت خار خبروں سے کیجئے۔ پہلی خبر یہ ہے کہ پاک کے صدر مسٹر شاہد سہروردی آج کل ہیں‘ جو ہمارے سفارت خانوں میں ط اخبارات اور عوام نے شدید غم و غ پرواہ نہ کی۔ اسی دوران انکشاف ہ یہودی ہیں اور محکمہ خارجہ کے ۸۰ معاصر کی اطلاع کے مطابق یہودی ج کورٹ کا ایک رجسٹرار تھا‘ چونکہ یہ اس کو اس سے علیحدہ کر دیا گیا۔ تقسیم ملک کے بعد اس کی آ گیا۔ چونکہ ماتحت افسران نوجوان زیادہ قابل اعتماد افسر خیال کیا جا۔ کھیل رہے تھے تو اس وقت پاکستان میں چھٹیاں منا رہے تھے۔ (گار جیمر
”یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر چودھری سر ظفر اللہ خان حکومت پاکستان کی طرف سے لیک سیکس گئے تھے، تو پھر عرب ڈیلی گیشن کا تار حکومت پاکستان کے نام آنا چاہیے تھا نہ کہ مرزا بشیر الدین محمود کے نام۔ اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ چوہدری سر ظفر اللہ خان نے عرب ڈیلی گیشن کو یقین دلایا تھا کہ میں تو اپنے لیڈر مرزا بشیر الدین محمود کے حکم سے یہاں آیا ہوں۔ نیز اس کے حکم سے یہاں مزید ٹھہر سکتا ہوں ورنہ عرب ڈیلی گیشن کو پاکستان گورنمنٹ سے اجازت لینا چاہیے تھی نہ کہ قادیانی خلیفہ سے (بحوالہ قادیانیت کا سیاسی تجزیہ) محولہ بالا کتاب کے صفحہ ۴۸۲ پر ظفر اللہ خان کے دو مزید کارنامے ملاحظہ ہوں:
”جناب محمد نواز، ایم۔ اے بیرون ملک قادیان سازش بے نقاب کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
ظفر اللہ خان نے وزارت خارجہ کے کام کو کس طرح چلایا، اس کا اندازہ ذیل کی دو خبروں سے کیجئے۔ پہلی خبر یہ ہے کہ پاکستان کے محکمہ خارجہ کی طرف سے پبلک سروس کمیشن کے صدر مسٹر شاہد سہروردی آج کل انگلستان میں ان امیدواروں سے انٹرویو لے رہے ہیں، جو ہمارے سفارت خانوں میں ملازمت کرنا چاہتے ہیں۔ یہ خبر پاکستان پہنچی تو یہاں کے اخبارات اور عوام نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ لیکن حکومت پاکستان نے اس کی کوئی پرواہ نہ کی۔ اسی دوران انکشاف ہوا کہ ہمارے محکمہ خارجہ کے جائنٹ سیکریٹری پکے یہودی ہیں اور محکمہ خارجہ کے ۸۰ فیصد ملازمین غیر ملکی خصوصاً انگریز ہیں۔ ایک انگریزی معاصر کی اطلاع کے مطابق یہودی جائنٹ سیکریٹری گریفتھ جو کہ تقسیم سے پہلے پنجاب ہائی کورٹ کا ایک رجسٹرار تھا، چونکہ یہ اپنے عہدے کے لحاظ سے ناموزوں انسان تھا، اس لیے اس کو اس سے علیحدہ کر دیا گیا۔
تقسیم ملک کے بعد اس کی قسمت چمکی اور وہ وزارت خارجہ کا جائنٹ سیکریٹری بن گیا۔ چونکہ ماتحت افسران نوجوان اور نا تجربہ کار تھے، اس لیے وزارت خارجہ کا سب سے زیادہ قابل اعتماد افسر خیال کیا جانے لگا۔ جب فلسطین میں یہودی عربوں کے خون سے ہولی کھیل رہے تھے تو اس وقت پاکستان کی وزارت خارجہ کے قابل اعتماد افسر صاحب اسرائیل میں چھٹیاں منا رہے تھے۔ (گارڈین بحوالہ کوثر، لاہور ۲۷ دسمبر ۱۹۴۹ء) اس خبر کے ساتھ یہ
انکشاف بھی ملاحظہ ہو۔
”ہمارے مصری سفارتی سٹاف میں دو (۲) نوجوان یہودی لڑکیوں کو ملازم رکھا گیا جس پر مصری عوام اور عربی اخبارات پاکستان سے بہت ناراض ہوئے۔ ان سے پہلے مصر میں پاکستانی سفیر کا پریس اتاشی بھی یہودی تھا“۔ (گارڈین، بحوالہ کوثر، لاہور، ۲۷ دسمبر ۱۹۴۹ء)
اسی طرح کے شرمناک واقعات کی ایک لمبی فہرست ہے جس کا یہ مختصر مقالہ متحمل نہیں ہو سکتا۔ البتہ جب ہمارے حکمرانوں نے خواب غفلت سے انگڑائی لی اور کچھ ہوش سنبھالا تو اس وقت پل کے نیچے سے کافی پانی بہہ چکا تھا اور آج تک ہم ان زہریلے اثرات سے جانبر نہ ہو سکے۔ بیرون ملک ہمارے سفارت خانے اور سفراء ملک کے بارے میں کوئی اچھا تاثر قائم نہ کر سکے۔ اس کا اندازہ وقتاً فوقتاً اخباری رپورٹوں اور بیرون ملک پاکستانیوں کے بیانات اور واقعات سے کیا جاسکتا ہے۔ جب تک ان سفارت خانوں کی مکمل تطہیر نہیں ہوتی اور ان کی جگہ قابل، نظریہ پاکستان سے مخلص اور دوسرے اہل افراد کا تقرر نہیں ہوگا، قعر مذلت میں ہم یوں ہی پڑے رہیں گے۔ ماضی قریب میں پاکستان کئی بار اہم موقعوں پر خارجی میدان میں رسوائی سے دوچار ہوا اور ہمارے روایتی بااعتماد دوستوں نے بھی ہمیں تنہا چھوڑ دیا تھا۔ اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں۔
جیسا کہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ سر ظفر اللہ خان کو حکومت پاکستان کی طرف سے وزارت خارجہ کی آڑ میں مرزائیت کی تبلیغ و ترویج کا ایک زریں موقعہ ہاتھ آیا تھا، چنانچہ اس کے چند نمونے ملاحظہ ہوں۔ ”قادیانیت کا سیاسی“ تجزیہ کے فاضل مرتب نے ایشیاء لاہور ۱۷ دسمبر ۱۹۶۲ء کے حوالے سے لکھا ہے ”اس طرح سر ظفر اللہ خان نے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کی حیثیت سے جزائر غرب الہند کا دورہ کیا اور اس دورہ میں ٹرینڈاڈ میں مرزا صاحب کا آخر الزمان نبی کی حیثیت سے تعارف کرایا“ فاضل مرتب آگے لکھتے ہیں کہ سر ظفر اللہ کی انہی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ تقریباً ۴۰ ممالک میں قادیانیوں کے ۱۳۲ مشن کام کر رہے ہیں۔ ان میں سے ایک اسرائیل میں بھی ہے۔ اس کے علاوہ ان ممالک سے ان کے ۲۲ اخبارات و رسائل بھی نکلتے ہیں۔ اور ۷۵ کے قریب مدارس کام کر رہے ہیں۔ (۱) ص ۴۸۴، اسی طرح فیصل آباد ہی کے حوالے سے سر ظفر اللہ کا ایک اور
کارنامہ ملاحظہ ہو
"حکومت ملائیشیا نے پاکستان کے چودھری سر محمد ظفر اللہ خان کی کتاب Islams Meaning For Modren Man یعنی ”اسلام کا مفہوم دور جدید کے آدمی کے لیے“ کی اپنے ملک میں خرید و فروخت اور در آمد کو ممنوع قرار دیا ہے۔ حکومت کے نزدیک سر ظفر اللہ خان کی یہ کتاب ملائیشیا کے سرکاری مذہب اسلام کے عقائد و نظریے کے منافی ہے“۔ (صفحہ نمبر ۵۔۵) آخر میں ہم ارباب بست و کشاد سے پاکستان کے پچاس سال مکمل ہونے پر بجائے اس کے کہ ”گولڈن جوبلی“ کی بیہودہ اور بے فائدہ تقریبات منائی جائیں، اپنی فاش اور عظیم غلطیوں کا ازالہ کرنے کے لیے محاسبہ کرنا چاہیے تاکہ ہم ایک عظیم مسلمان قوم اور اسلامی مملکت کی حیثیت سے اکیسویں صدی میں قدم رکھنے کے قابل ہو جائیں، ورنہ پھر بجائے ترقی و عروج کے تنزل و انحطاط کی طرف ہماری رجعت قہقری اسی طرح جاری رہے گی۔ جس کا نتیجہ ہماری مکمل تباہی کی صورت میں دنیا کے سامنے آجائے گا۔ والعیاذ باللہ۔ یہی وقت ہے ہمارے سنبھلنے کا اور ”احساس زیاں“ کے ادراک کا ورنہ بقول حکیم الامت ؎
صبحدم کوئی اگر بالائے بام آیا تو کیا؟
(ماہنامہ ”الحق“ اکوڑہ خٹک، اگست ۱۹۹۷ء، شمارہ نمبر ۱۳۵)
(از قلم حافظ محمد ابراہیم فانی مدرس دارالعلوم حقانیہ)
لیاقت علی خان کے قتل کی سازش
ابن فیض
کیا اس کے پیچھے قادیانیوں کا ہاتھ تھا؟
پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کی شہادت کے بارے میں مختلف نظریات ہیں کہ ان کا قتل اگرچہ صریحاً ایک سیاسی سازش سمجھا گیا۔ لیکن یہ کن عناصر کی سازش تھی۔ یہ بات کسی حد تک مستند شہادت رکھتی ہے کہ راولپنڈی کے جس جلسہ عام میں لیاقت علی خان کو گولی ماری گئی۔ اس میں اپنی تقریر کے لیے مرحوم نے جو مختصر نوٹ تیار کیے تھے۔ ان میں عالم اسلام کے اتحاد کے کسی منصوبے کی طرف اشارہ تھا اور یہ بات وہ ظاہر کر چکے تھے کہ راولپنڈی کی تقریر میں ایک انتہائی اہم اعلان کریں گے۔ اس لیے یہ بات قرین قیاس ہے کہ ان کے قتل کی سازش میں نہ صرف پاکستان دشمن عناصر کا بلکہ وسیع تر محاذ پر عالم اسلام کی دشمن طاقتوں کی بھی شمولیت موجود ہو۔
یہ بات بھی اس دور کے سیاسی واقعات سے ظاہر ہے کہ دولت مشترکہ کے ساتھ پاکستان کی وابستگی کے بارے میں مسئلہ کشمیر پر برطانیہ کے بھارت نواز رویہ اور دوسری معلومات کی بنا پر خان لیاقت علی خان کی ایک خاص پالیسی بن رہی تھی۔ انہوں نے علی الاعلان کہا تھا کہ برطانیہ پاکستان کو گھڑے کی مچھلی کی طرح سمجھتا ہے اور ہم اس رویہ کو برداشت نہیں کر سکتے۔ خود پاکستان کے سیاستدانوں اور اقتدار میں شامل ایسے افراد موجود تھے۔ جن کی برطانیہ سے وابستگی ڈھکی چھپی نہ تھی۔ اس بنا پر بھی لیاقت علی خان کے قتل کی سازش کے ڈانڈے ملک سے باہر اور ملک کے اندر ایک مخصوص طبقہ اور گروہ تک پہنچتے ہیں۔
سازش کے سیاسی ہو کی رخنہ اندازیاں ہوئیں ا جتن کیے گئے۔ موقعہ واردا اڑا کر یہ اطمینان کر لیا گیا ک دردناک اور سفاکانہ قتل ج کیفیت اور بعض معاملات طلب ہے کہ وزیر اعظم لیاق دشمن اور پراسرار ہاتھ ملو کے ذریعہ ہونے والی تبدی ایک اہم مسئلہ اہل فکر کی نظ قیام پاکستان کے فو مفادات کے لیے برطانیہ کا اقتدار سے وابستگی رکھتا تھا کی اجتماعیت کو پارہ پارہ کر خواہش کے مطابق قادیانی لیے مفید ہو سکتا تھا۔
مسلمان علماء اور ا اپنے عزائم اور مقاصد کے سے قبل اور پھر اس کے اٹھائی۔ پہلے پہل تو اس م ”قادیانیت“ کے اس سیا مفکر پاکستان علامہ اقبال ہر طبقہ فکر نے فوری اثر قب
آزادی کے بعد آواز سید حسین شہید سہر
سازش کے سیاسی ہونے ہی کا یہ نتیجہ تھا کہ اس اہم معاملہ کی تحقیقات میں طرح طرح کی رخنہ اندازیاں ہوئیں اور تحقیقات کو غلط سمتوں میں ڈالنے کے لیے طرح طرح کے جتن کیے گئے۔ موقعہ واردات پر سازش کے بڑے آلہ کار یعنی قاتل سید اکبر کو گولی سے اڑا کر یہ اطمینان کر لیا گیا کہ راز بے نقاب نہ ہونے پائے اور پھر یہی نتیجہ نکالا گیا کہ یہ دردناک اور سفاکانہ قتل جس نے پاکستان کی تاریخ پر گہرا اثر ڈالا صرف ایک شخص کی جنونی کیفیت اور بعض معاملات پر اس کے مجنونانہ رد عمل کا نتیجہ تھا۔ یہ سوال ابھی تک حل طلب ہے کہ وزیر اعظم لیاقت علی خان صاحب کے قتل کی سازش میں جو اسلام دشمن، ملک دشمن اور پراسرار ہاتھ ملوث تھے۔ ان کے سامراجی غیر ملکی مفادات اور پاکستان میں اس کے ذریعہ ہونے والی تبدیلی یا کسی تبدیلی کو روکنا، کس مقصد کے لیے تھا۔ اس سلسلہ میں ایک اہم مسئلہ اہل فکر کی نظر سے اوجھل چلا آ رہا ہے۔
قیام پاکستان کے فوراً بعد یہاں ایک طبقہ ایسا بھی تھا جو نہ صرف سیاسی اور مالی مفادات کے لیے برطانیہ کا وفادار تھا بلکہ مذہبی طور پر اور عقیدے کے اعتبار سے برطانوی اقتدار سے وابستگی رکھتا تھا۔ اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں انگریزوں نے مسلمان قوم کی اجتماعیت کو پارہ پارہ کرنے کے لیے قادیانیت کا فتنہ برصغیر میں پیدا کیا تھا اور انگریزوں کی خواہش کے مطابق قادیانی فرقے نے ہر وہ کام کرنا گوارا کیا جو انگریزی اقتدار کے تحفظ کے لیے مفید ہو سکتا تھا۔
مسلمان علماء اور اہل فکر کی نظر میں قادیانیت کا مسئلہ کوئی معمولی مسئلہ نہ تھا۔ یہ اپنے عزائم اور مقاصد کے لحاظ سے عالم اسلام کے لیے ایک اہم مسئلہ بن چکا تھا اور آزادی سے قبل اور پھر اس کے حصول کے بعد، برصغیر پاک و ہند کے جید علماء نے مذہبی آواز اٹھائی۔ پہلے پہل تو اس مسئلہ کو مخصوص طرزِ فکر سے چنداں اہم نہ سمجھا گیا مگر جس وقت ”قادیانیت“ کے اس سیاسی اور خطرناک عزائم کے کئی رخ سامنے آنے لگے تو شاعر مشرق، مفکر پاکستان علامہ اقبالؒ نے نہایت تفصیل کے ساتھ اس مسئلہ پر قلم اٹھایا، جس کا برصغیر کے ہر طبقہ فکر نے فوری اثر قبول کیا۔
آزادی کے بعد علماء ملت کے علاوہ سیاسی لیڈروں میں قادیانیت کے خلاف پہلی آواز سید حسین شہید سہروردی مرحوم نے اٹھائی اور ان کے مذموم عقائد اور مقاصد سے
وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین مرحوم کو ایک طویل خط کے ذریعہ آگاہ کیا۔ سر ظفر اللہ خاں کی بحیثیت وزیر خارجہ پاکستان تقرری سے مذہبی حلقوں میں بالخصوص اور سیاسی گوشوں میں بالعموم بے چینی پائی ہی جاتی تھی۔ کیونکہ یہ حلقے اور گوشے قادیانیوں کی ریشہ دوانیوں اور ناپاک عزائم سے پوری طرح آگاہ تھے۔ کیونکہ مرزا بشیر الدین محمود کا یہ بیان آنے والے خطرات کو سمجھنے کے لیے کافی تھا۔
”میں قبل ازیں بتا چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ہندوستان کو اکٹھا رکھنا چاہتی ہے۔ لیکن قوموں کی منافرت کی وجہ سے عارضی طور پر الگ بھی رکھنا پڑے تو یہ اور بات ہے ہم ہندوستان کی تقسیم پر رضامند ہوئے تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے۔ اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح جلد متحد ہو جائیں۔“
آزادی کے موقع پر جب ریڈ کلف کمیشن و باؤنڈری کمیشن تشکیل دیا گیا تو اس کے سامنے مرزائیوں نے اپنا الگ کیس پیش کیا اور قادیان کو ”ویٹی کن سٹی“ قرار دینے کا مطالبہ کیا اور قادیانیوں کی یہ الگ پوزیشن پاکستان کے مستقبل کے لیے کس قدر گراں قیمت اور خطرناک ثابت ہوئی۔ اس سے برصغیر میں مسائل کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جس سے ملت اسلامیہ آج تک نقصان اٹھا رہی ہے۔
یہ تمام بیانات‘ حالات اور عزائم قادیانیوں کی بین السطور سیاست کی غمازی کر رہے تھے۔ اس کے ساتھ قادیانیوں کی اپنی ”فرقان بٹالین“ اور حکومت کے مختلف محکموں میں ان کا بے پناہ اثر و رسوخ اور ظفر اللہ خاں کا وزارت خارجہ پر مسلسل متمکن رہنا پاکستان کے محب عناصر کے دلوں میں عجیب و غریب شبہات پیدا کر رہا تھا اور یہ سب کچھ اس امر کی غمازی کر رہا تھا کہ قادیانی پاکستان کو قادیانی سٹیٹ بنانے کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔
یہ صورت حال جیسا عرض کر چکا ہوں‘ محب وطن طبقہ کے لیے از حد پریشان کن تھی۔ اس سلسلے میں ملک بھر میں کانفرنسیں منعقد ہوئیں اور علماء حق نے امت مسلمہ کو قادیانیوں کے ان مذموم ارادوں سے خبردار کیا۔ اس کے ساتھ ہی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ممتاز عالم دین خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ نے مسلم لیگ کے برسر اقتدار اکابر اور دیگر زعمائے ملت سے ملاقاتوں کا ایک سلسلہ شروع کیا اور انہوں نے وزراء‘ سیاسی لیڈروں اور عدالت عالیہ کے بعض ججوں سے ملاقاتیں کر کے ان کو مرزائیت
کی مذہبی و سماجی حیثیت اور اس کے خطرناک عزائم سے آگاہ کیا۔ ان میں بیشتر زعمائے ملت کے علاوہ خواجہ ناظم الدین، چودھری محمد علی مرحوم، سردار عبد الرب نشتر مرحوم، سردار بہادر خان مرحوم، شیخ دین محمد گورنر سندھ مرحوم، ملک امیر محمد مرحوم، چیف جسٹس محمد منیر، سکندر مرزا، سید ہاشم گزدر وغیرہ شامل تھے۔ لیکن قاضی صاحب کی سب سے اہم ملاقات خان لیاقت علی خان وزیر اعظم پاکستان کے ساتھ تھی جو اس مضمون اور دعوت فکر کا سر عنوان ہے۔
۱۹۵۱ء کے انتخابات میں مسلم لیگ نے بعض قادیانی امیدواروں کو بھی اپنا ٹکٹ دیا اور بعض مرزائی امیدوار آزاد انتخابات لڑ رہے تھے۔ قاضی احسان احمد نے اپنی جماعت مجلس احرار کے فیصلہ کے مطابق ان مسلم امیدواروں کے حق میں کام کرنے کا فیصلہ کیا، جن کا مقابلہ مرزائی امیدوار کر رہے تھے اور اس کے ساتھ ان مرزائی امیدواروں کی بھر پور مخالفت کا عہد کیا جو لیگ کے ٹکٹ پر انتخاب لڑ رہے تھے۔ اس انتخابی مہم کے دوران خان لیاقت علی خان مرحوم پنجاب کا دورہ کر رہے تھے۔ سیالکوٹ کے قصبہ سمبڑیال میں ایک مرزائی امیدوار انتخاب لڑ رہا تھا۔ جس کے مقابلہ میں مسلم لیگ کا امیدوار بھی موجود تھا۔ ان دنوں قاضی صاحب مرحوم بھی ضلع سیالکوٹ کا دورہ کر رہے تھے اور سیالکوٹ میں ان کا قیام ماسٹر تاج الدین انصاری مرحوم کے مکان پر تھا۔ رات کو عشاء کی نماز کے بعد خواجہ محمد صفدر صاحب جنرل سیکرٹری مسلم لیگ قاضی صاحب کے پاس آئے اور درخواست کی کہ اگلے روز ۴ بجے بعد از دوپہر سمبڑیال میں مسلم لیگ کا جلسہ ہے جہاں خان لیاقت علی خان بھی تشریف لا رہے ہیں۔ آپ وہاں تشریف لے چلیں اور جلسہ سے خطاب فرمائیں۔ اس جلسہ کی اہمیت وزیر اعظم کے خطاب کے علاوہ اس وجہ سے بھی بڑھ گئی تھی کہ لیگی امیدوار کا مقابلہ ایک مرزائی امیدوار سے تھا۔ خواجہ صاحب نے فرمایا کہ چونکہ مقابلہ اہم ہے۔ اس لیے قاضی صاحب کی تقریر ضروری ہے۔ قاضی صاحب نے خواجہ صاحب سے پوچھا کہ آپ نے وزیر اعظم سے پوچھ لیا ہے کہ انہیں وہاں تقریر کرنے کی دعوت دی جا رہی ہے۔ خواجہ صاحب نے فرمایا یہ ان کی ذمہ داری ہے۔ چنانچہ قاضی صاحب اپنے مقامی ساتھیوں کی معیت میں سمبڑیال تشریف لے گئے اور یہ سفر انہوں نے تانگے پر طے کیا اور راستے میں اگوکی کے مقام پر بھی مختصر خطاب کیا۔ قاضی صاحب ۴ بجے شام سمبڑیال پہنچے تو جلسہ کی
کارروائی شروع ہو چکی تھی۔ جب قاضی صاحب جلسہ گاہ میں داخل ہوئے تو فضا مسلم لیگ زندہ باد‘ قاضی احسان احمد زندہ باد کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھی۔ ضلعی لیگی قائدین نے بڑھ کر قاضی صاحب کا استقبال کیا۔ چند منٹ گزرے تھے کہ وزیر اعظم بھی تشریف لائے تو سارے مجمع میں نعروں کی گونج پیدا ہو گئی۔ سب سے پہلے قاضی صاحب کو تقریر کی دعوت دی گئی آپ نے اپنے بیان میں اپنی جماعت اور اس کی دینی جدوجہد کا تعارف پیش کیا اور احرار نے استحکام دفاع پاکستان کے سلسلہ میں جو خدمات انجام دیں‘ اس کا ذکر کیا۔ امت مرزائیہ کی مذموم دینی و سیاسی سرگرمیوں کا مختصراً احوال بیان کیا۔ آپ کی تقریر کی لذت اور نوائے گرم سے سامعین جھوم جھوم رہے تھے۔ آپ کے بعد وزیر اعظم کا تاریخی خطاب ہوا۔ جلسہ کے اختتام پر وزیر اعظم نے ایک لیگی رہنما سے پوچھا کہ ”یہ مولوی صاحب کون ہیں ۔“ غالباً خواجہ صاحب نے ہی وزیر اعظم سے قاضی صاحب کا تعارف کرایا۔ جس پر خاں لیاقت علی خاں نے خواہش ظاہر کی کہ چند گھنٹوں میں سیالکوٹ کے جس جلسہ عام سے وہ خطاب کر رہے ہیں۔ اس سے قاضی صاحب بھی خطاب فرمائیں۔ قاضی صاحب نے خاں صاحب مرحوم رحمۃ اللہ علیہ کی دعوت قبول فرمائی۔
اسی روز شام سیالکوٹ شہر میں مسلم لیگ کا ایک تاریخی اجتماع تھا۔ جونہی اہل شہر کو معلوم ہوا کہ احرار کی طرف سے قاضی صاحب بھی تقریر کرنے والے ہیں تو لوگوں کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ لگ گئے۔ وزیر اعظم اور قاضی صاحب کی زبردست تقاریر ہوئیں اور اسی جلسے میں وزیر اعظم نے اپنا تاریخی فقرہ کہا تھا۔
”آپ ملک کو اندرونی دشمنوں سے محفوظ رکھیں ۔ میں ملک کو بیرونی دشمنوں سے محفوظ رکھوں گا“۔
جلسہ کے دوران نعرہ ہائے تکبیر‘ اور لیاقت علی خان‘ قاضی صاحب‘ مسلم لیگ و ختم نبوت زندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگائے گئے ۔ جلسہ کے اختتام پر قاضی صاحب نے بڑھ کر لیاقت علی خاں سے مصافحہ کیا اور عرض کیا کہ ”میں آپ سے بعض اہم امور پر تبادلہ خیال کرنا چاہتا ہوں“ جس پر لیاقت علی خاں نے کہا کہ آپ ابھی میرے سیلون میں تشریف لایئے‘ قاضی صاحب نے کہا کہ آدھ گھنٹہ میں حاضر ہوتا ہوں۔
قاضی صاحب فوراً اپنے ایک عزیز‘ جو وہاں ایک بنک میں کام کر رہے تھے‘ کے
یہاں پہنچے‘ قادیانیت کے لٹریچر کا ایک بڑا صندوق جس میں مرزا غلام احمد قادیانی کی تصانیف شامل تھیں اور اس کے علاوہ دوسرا عزیز بھی تھا۔ اپنے عزیز موصوف کو اٹھانے کو کہا۔ دونوں صندوق کے ساتھ اسٹیشن پہنچے‘ جہاں وزیر اعظم کا سیلون کھڑا تھا۔ پلیٹ فارم پر وزیر اعظم کو رخصت کرنے کے لیے صوبہ بھر کے ممتاز مسلم لیگی لیڈر موجود تھے اور اس انتظار میں ہی تھے کہ کب وزیر اعظم انہیں شرف باریابی بخشتے ہیں‘ جب قاضی صاحب اسٹیشن پر وزیر اعظم کے سیلون کی طرف بڑھے تو نواب صدیق علی خان نے کہا کہ وزیر اعظم آپ کا انتظار کر رہے ہیں‘ آپ نے دیر کردی۔
قاضی صاحب اپنے صندوق کے ساتھ جب سیلون میں جانے لگے تو صدیق علی خان نے کہا کہ ملاقات کے لیے دس منٹ مقرر ہیں۔ حفاظتی گارڈ نے قاضی صاحب‘ ان کے عزیز اور صندوق کی روایتی چیکنگ کی‘ لیاقت علی خان نے اپنی نشست کے ساتھ قاضی صاحب کو بٹھالیا۔ آپ نے ابتدائی بات چیت میں اپنی جماعت کے متعلق بعض غلط فہمیوں کا ازالہ کیا اور جماعت کی دفاع پاکستان کے سلسلے میں کوششوں سے آگاہ فرمایا۔ آپ نے ملک میں منعقدہ کئی جہاد کانفرنسوں کے انعقاد کے شاندار نتائج سے بھی وزیر اعظم کو آگاہ کیا۔ اس کے بعد آپ نے قادیانیت کے پس منظر‘ ان کے مذموم مذہبی اور سیاسی نظریات سے وزیر اعظم کو آگاہ کرنا شروع کر دیا۔ ان کے سیاسی عزائم کی ایک بھرپور جھلک بیشتر حوالوں سے ان کے سامنے رکھی اور پھر قادیانیوں کی ”تذکرہ“ دکھائی جس میں لکھا تھا کہ :
”نبی کریم محمد ﷺ پہلی رات کا چاند تھے اور میں مرزا غلام (احمد) چودھویں رات کا چاند ہوں.......(تذکرہ)“
خان لیاقت علی خان نے اس جملہ پر خود اپنی پنسل سے نشان لگایا اور اس کے بعد مرزا بشیر الدین محمود کی وہ سب تصانیف اور حوالے دکھائے جن میں حضور نبی کریم ﷺ حضرت فاطمۃ الزہراؓ ‘ حضرت حسنینؓ اور دیگر اہل اللہ کے خلاف توہین آمیز کلمات موجود تھے۔ لیاقت علی خان ان تمام حوالوں کو خود انڈر لائن کرتے گئے اور وہ کتابیں اپنی میز پر رکھ دیں۔ جب قاضی صاحب نے لیاقت علی خان کو اکمل قادیانی کے یہ شعر دکھائے ؎
محمد کو دیکھنا ہو جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیان میں
(استغفراللہ)
تو قاضی صاحب خود زار و قطار رو رہے تھے۔ لیاقت علی خان کی آنکھیں بھی ڈبڈبا گئیں اور دوسرے مذہبی اور سیاسی حوالے دیکھنے کے بعد قاضی صاحب سے فرمایا کہ ”قاضی صاحب آپ اسی سیلون میں میرے ساتھ کراچی چلیں۔“ قاضی صاحب نے اپنے طے شدہ جماعتی پروگراموں کو منسوخ کرنے کی بنا پر ساتھ چلنے سے معذرت چاہی۔ البتہ وعدہ کیا کہ چند روز تک کراچی حاضر ہو کر ملاقات کریں گے۔ قاضی صاحب کی لیاقت علی خاں سے یہ ملاقات ۴۵ منٹ جاری رہی اور رخصت ہوتے وقت لیاقت علی خان نے قاضی صاحب کو یہ الفاظ کہے کہ:
”مولانا آپ نے اپنا فرض ادا کر دیا‘ اب دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنا فرض ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔“
ایک ملاقات میں چودھری محمد علی سابق وزیر اعظم جن سے قاضی صاحب کے تعلقات انتہائی عزیزانہ ہو گئے تھے‘ نے کراچی میں قاضی صاحب سے کہا کہ جب سے لیاقت علی خاں نے آپ سے ملاقات کی ہے۔ اب کیبنٹ میٹنگ میں ظفر اللہ خان کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے بلکہ ایک میٹنگ میں ظفر اللہ خان کو ان الفاظ سے لیاقت علی خان نے مخاطب ہو کر کہا:
”میں جانتا ہوں کہ آپ ایک خاص جماعت کی نمائندگی کرتے ہیں“ اس کے تھوڑے عرصے بعد پاکستان کے اس مرد جلیل کو انتہائی پراسرار حالات میں شہید کر دیا گیا۔ قاضی صاحب نے ان کی شہادت کے بعد انکشاف کیا کہ لیاقت علی خان کا پروگرام تھا کہ قادیانیوں کو ایک سیاسی حیثیت دے کر خلاف قانون قرار دے دیا جائے۔ لیکن زندگی نے مہلت نہ دی اور اسی ملاقات کے بعد لیاقت علی خان کو ایک گہری سازش کے تحت شہید کر دیا گیا۔
(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی‘ از قلم: ابن فیض)
جب ظفر اللہ قادیانی نے انگریزی ٹاؤٹ
سر فضل حسین کے جوتے اٹھائے
مولانا تاج محمود
یادش بخیر! ملک فیروز خان نون بھی بڑے مزے کے بزرگ ہیں۔ نوائے وقت کی اشاعت 3 اکتوبر میں ان کے کچھ رشحات قلم شائع ہوئے ہیں۔ ملک صاحب نے اپنے انہی قلم قطعوں میں ایک خاص واقعہ کا اشارہ بھی کیا ہے کہ:
ایک دفعہ وہ سر ظفر اللہ خان کی دعوت پر ربوہ گئے اور مرزا بشیر الدین محمود سے ملے جب ملاقات کے کمرہ میں داخل ہوئے تو احتراماً جوتے اتار دیئے۔ ملاقات کے بعد جب اٹھے تو سر ظفر اللہ خان نے ان کے جوتے اٹھا کر ان کے سامنے رکھ دیئے۔ ملک صاحب سر ظفر اللہ خان کی اس انکساری اور تواضع سے بہت متاثر ہوئے۔
ملک صاحب بھی عجیب سادہ لوح بزرگ ہیں انہیں یہ معلوم نہیں کہ دراصل سر ظفر اللہ خان پاکستان کے وزیر اعظم یعنی ملک کے دس کروڑ باشندوں کے نمائندہ کو اپنے گرو کے پاس لے جانے میں کامیاب ہوگیا اور اس طرح سے اس نے پورے ملک کی انتظامیہ اور افسروں کو یہ تاثر دیا کہ قادیانیوں کے متعلق باملاحظہ ہوشیار ہو کر رہیے کیونکہ میرے گرو کے دربار میں ملک کا سب سے بڑا حاکم بھی پاپوش کشیدہ اور نفس گم کردہ حاضر ہوتا ہے۔
ملک صاحب کا خیال ہے کہ دربار ربوہ میں سر ظفر اللہ خان نے ملک صاحب کا جوتا اٹھا کر انکساری اور تواضع کی اعلیٰ مثال پیش کی ...... لیکن ہمارا خیال یہ ہے کہ سر ظفر اللہ خان نے ملک نون کو ربوہ کی سرکار میں پیش کر کے پوری ملت اسلامیہ کے سر پر جوتے رسید کیے ۔ اصل میں ملک فیروز نون بہت بھولے آدمی ہیں۔ تحریک پاکستان کے آخری
ایام میں وہ مسلم لیگ میں شامل ہو کر تحریک پاکستان کی تائید کرنے لگے تھے بلکہ تحریک پاکستان کے سلسلہ میں گرفتار ہو کر کچھ دنوں کے لیے قید بھی ہو گئے تھے ملک صاحب کی گرفتاری اور قید کا سن کر ہمارے ایک بزرگ نے غالب کا یہ شعر پڑھا تھا:
اب آبروئے شیوہ اہل نظر گئی
ملک صاحب کا انہی دنوں کا ایک لطیفہ بڑا مشہور ہے کہ کسی جلسہ میں انہوں نے کہا تھا کہ مسلمانو! پڑھو کلمہ اللھم صلی علی محمد وعلی آل محمد وبارک وسلم۔
چوہدری ظفر اللہ خان کے جوتے اٹھانے کی بات ہو رہی تھی چوہدری صاحب کے جوتے اٹھانے کا ایک اور واقعہ بھی سن لیجئے جس زمانہ میں ان کو میاں سر فضل حسین کی جگہ وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کا ممبر بنایا جا رہا تھا ان دنوں کا ذکر ہے کہ ایک وفد میاں سر فضل حسین کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میاں صاحب اس وقت شملہ میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ اس وفد میں (1) سید مرتضی بہادر ممبر سنٹرل اسمبلی (2) منظور علی تائب مالک آرمی پریس شملہ (3) خطیب صاحب جامع مسجد شملہ (4) مولانا لال حسین اختر (5) احمد حسین شملوی شامل تھے۔
وفد نے میاں صاحب سے عرض کیا کہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل سے فارغ ہو کر پنجاب میں ہونے والے الیکشنوں میں حصہ لے کر وزیر اعلیٰ پنجاب بننا چاہتے ہیں اور اپنی جگہ مسلمان نمائندے کے طور پر سر ظفر اللہ خان قادیانی کو کونسل کا ممبر بنوا رہے ہیں آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہئے اور ظفر اللہ قادیانی کی جگہ کسی مسلمان کو کونسل کا ممبر بنوانا چاہئے۔
میاں صاحب نے وفد کی معلومات کی تصدیق کی اور کہا کہ میں ظفر اللہ خان کے علاوہ کسی اور کو ممبر بنوانا پسند نہیں کروں گا...... وفد مایوس ہو کر باہر نکلا تو میاں فضل حسین مرحوم کے ایک ملازم نے پوچھا کہ کہو بھائی! میاں صاحب نے تمہارا مطالبہ مان لیا‘ انہوں نے نفی میں جواب دیا۔ اس نے کہا میری ایک بات سنو پھر تمہاری سمجھ میں آجائے گا کہ میاں صاحب ظفر اللہ خان کو ہی کیوں ممبر بنوانا چاہتے ہیں۔ ہوا یہ کہ ایک دن میاں صاحب دفتر جانے کے لیے تیار ہو رہے تھے۔ اس وقت چوہدری ظفر اللہ خان بھی میاں
صاحب کے پاس موجود تھے میاں صاحب نے مجھے آواز دی اور کہا کہ میرا جوتا لاؤ۔ میں ساتھ والے کمرے میں تھا جلدی سے آیا کیا دیکھتا ہوں کہ میرے آنے سے قبل ہی سر ظفر اللہ خان نے میاں صاحب کا جوتا اٹھا کر ان کے سامنے رکھ دیا۔
یہ واقعہ سنا کر وہ ملازم کہنے لگا نواب آف چھتاری یا سر علی امام یا نواب اسمعیل یا ہندوستان اور پنجاب کا کوئی اور بڑا مسلمان میاں صاحب کی اتنی خوشامد کر سکتا ہے جتنی سر ظفر اللہ خان کر رہے ہیں اس لیے آپ جائیں یہ ظفر اللہ خان کو ہی ممبر بنوائیں گے کسی اور کو ممبر بنوانا کبھی پسند نہیں کریں گے۔ اسی لیے تحریک آزادی کے دنوں میں مولانا ظفر علی خان اور سید عطاء اللہ شاہ بخاری ایسے لوگوں کے متعلق یہ کہا کرتے تھے کہ:
”فلاں شخص انگریزوں کے بوٹ کی ٹو چاٹتا ہے۔“
ایسے کسی آدمی نے اگر ملک نون کا جوتا اٹھا کر رکھ دیا تو کون سی قیامت آ گئی جس سے ملک نون شرمائے جارہے ہیں۔
بے چارے چوہدری ظفر اللہ خان جس فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں اس کی بنیاد ہی انگریزوں کی کفش برداری اور خوشامد پر ہے۔ اور چوہدری صاحب اس فرقہ کے مخلص اور سچے پیروکار ہیں۔
(لولاک 17 اکتوبر 1966ء)
ان تھک مجاہد
آپ کے داماد مولانا محمد صدیق صاحب ناظم مدرسہ خیر المدارس (ملتان) نے راقم کو ان کا ایک انوکھا واقعہ سنایا۔ کہتے ہیں ایک بار ہمارے گھر تشریف لائے تو لنگڑاتے ہوئے چلے آرہے تھے۔ اپنی بیٹی سے کہا ”مجھے ہلدی، گھی اور روٹی کا مرہم بنا دو“ پھر ہمیں پورا واقعہ سنایا کہ تقریر کے لیے کہیں وعدہ کر رکھا تھا۔ ریل گاڑی اس طرف ۲۴ گھنٹوں میں صرف ایک بار جاتی تھی۔ آپ تاخیر سے اسٹیشن پر پہنچے، گاڑی چل چکی تھی۔ بھاگے اور گر گئے، گھٹنے پر سخت چوٹ لگی مگر اس چوٹ کا زخم اس چوٹ کے زخم پر حاوی نہ ہو سکا جو مرزا قادیانی کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تاج و تخت ختم نبوت پر شب خون مارنے سے ان کے دل پر لگ چکی تھی۔ سنبھلے اور بھاگنا شروع کیا۔ بستر وغیرہ پھینک دیا مگر گاڑی پکڑنے میں کامیاب ہوگئے۔ کہتے تھے اللہ کا شکر ہے وعدہ پورا ہو گیا۔
(”حضرت مولانا محمد علی جالندھری“ ص 185، از ڈاکٹر نور محمد غفاری)
مجاہد جس گھڑی خیمے میں زخموں سے نڈھال آئے
میاں افتخار الدین کی ظفر اللہ قادیانی پر گرفت
صاحبزادہ طارق محمود
میاں افتخار الدین نے اپنی تقریر میں تفصیل کے ساتھ بتایا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کس طرح سامراجی طاقتوں کے اشارہ اور ان کے مفاد کے مطابق چل رہی ہے۔ چوہدری ظفر اللہ خان کے کارناموں پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے بڑی سختی کے ساتھ مطالبہ کیا کہ انہیں اپنے عہدہ سے برخاست کر دیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کی وزارت خارجہ کو جو ”قابل اور چالاک“ وزیر خارجہ کی نگرانی میں برطانوی سامراج کی آلہ کار بن چکی ہے وزارت خارجہ کے نام سے پکارنا اس لفظ کی توہین ہے۔
میاں صاحب نے کہا کہ مسلم ممالک گزشتہ پانچ چھ سو سال سے قعر مذلت میں گرے ہوئے ہیں۔ برطانیہ، فرانس، ہالینڈ اور دوسری نوآبادیاتی طاقتوں نے اقتصادی، سیاسی اور سماجی ہر اعتبار سے ان کو اپنے پنجے میں جکڑ رکھا تھا۔ اتنے طویل عرصہ تک خواب غفلت میں پڑے رہنے کے بعد اب جب ان کے اندر بیداری کی ذرا سی لہر پیدا ہوئی ہے اور وہ مصر، ایران، تیونس، مراکش اور دوسرے علاقوں میں اپنے حقوق کی حفاظت اور سامراجی طاقتوں کے پنجے سے نجات پانے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں تو ہمارے وزیر خارجہ صاحب ان ممالک کو اپنے مسلمہ دشمنوں سے سمجھوتہ کر لینے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ ہم سے اچھی تو ان ممالک کی وہ مسلم نو آبادی ہے جو کسی تاریخی، مذہبی یا ثقافتی رشتہ نہ ہونے کے باوجود اپنے وطنی بھائیوں کی آزادی کی جدوجہد میں نہ صرف ان کا ساتھ دے رہی ہے بلکہ اسے سراہ بھی رہی ہے۔ شرم کی بات ہے کہ بجائے اس کے کہ ہم ان ممالک کی مدد کرتے ہمارے وزیر خارجہ برطانیہ کی مدد کر رہے ہیں اور وہ بھی چوری چھپے نہیں اعلانیہ۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان مصر اور برطانیہ کے تنازعہ میں غیر جانبدار رہے۔ لیکن فریقین میں باعزت
سمجھوتہ کرانے کی کوشش کرے گا۔ میں ان سے دریافت کرتا ہوں کہ کیا غلامی اور آزادی‘ سچائی اور جھوٹ‘ نیک اور برے مقصد میں کوئی سمجھوتہ ہو سکتا ہے۔ اگر نہیں ہو سکتا ہے تو کیا وزیر خارجہ کے کہنے کے یہ معنی نہیں ہیں کہ وہ مصر سے یہ چاہتے ہیں کہ وہ اپنے جائز حقوق سے برطانیہ کی خاطر دستبردار ہو جائے۔
میاں صاحب نے آگے چل کر کہا کہ گزشتہ چھ ماہ میں چوہدری ظفر اللہ نے ایران‘ مصر اور برطانیہ کے درمیان جو پارٹ ادا کیا ہے وہ قابل مذمت ہے۔ ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے۔ اس دعویٰ کا قدرتی تقاضا یہ تھا کہ یہ ممالک اپنی آزادی کے لیے جو جدوجہد کر رہے ہیں‘ اس میں ہم ان کی مدد کرتے لیکن مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مدد تو کجا ہم اپنے موجودہ رویے سے ان ممالک کو اور الٹا نقصان پہنچا رہے ہیں۔
سلسلہ بیان جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی سے جو نقصان پہنچ رہا ہے اس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ پاکستان نے ایران اور مصر کے ساتھ ہمدردی کا اظہار تو ضرور کیا ہے لیکن یہ ہمدردی کا اظہار جس طریقے پر کیا گیا ہے اس سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے بھی برطانیہ اور امریکہ کا اشارہ ہی کام کر رہا ہے۔
میاں صاحب نے کہا کہ میں وزیر خارجہ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر برما کو ہتھیار بھیجے جا سکتے ہیں تو مصر کو کیوں نہیں بھیجے جا سکتے؟
آخر میں میاں صاحب نے کہا کہ وزیر خارجہ کا گزشتہ تین سال کا ریکارڈ یہی ہے کہ وہ برطانوی سامراج کے ساتھ چلتے رہے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ ان کی خدمات سے ایک وکیل کی حیثیت سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ سمجھنا غلط ہے کہ پیسے دے کر ان سے کام نہیں لیا جا سکتا۔ جس طرح پیسے لے کر وہ ساری عمر برطانیہ کی خدمت کرتے رہے اسی طرح پاکستان کا کام کرنے سے بھی انکار نہیں کریں گے ۔“ (ہفت روزہ حکومت‘ کراچی 14 اپریل 1952ء بحوالہ قادیانیت کا سیاسی تجزیہ ص 489 تا 491)
پلنگ ٭ اب بشیر الدین چلنے پھرنے سے قاصر ہو چکا تھا۔ اٹھنے بیٹھنے کی بھی ہمت نہ تھی۔ وہ نیم جاں لاشے کی طرح چارپائی پر پڑا رہتا لیکن کبھی کبھی وہ اچانک کروٹیں لینا شروع کر دیتا اور دھڑام سے بستر سے نیچے گر جاتا‘ جس سے اس کو چوٹیں بھی آتیں۔ اسے گرنے سے بچانے کے لیے اس کی چارپائی کے گرد لکڑی کی دیواریں لگا کر اسے جنازے والی چارپائی جیسا بنا دیا گیا۔
پچاس سال قبل پاکستان کے پہلے قادیانی وزیر خارجہ
آنجہانی سر ظفر اللہ خان کا حلف نامہ
مولانا مجاہد الحسینی
اس سے قبل ہم مارچ 2003ء کے شمارے میں مولانا مجاہد الحسینی مدظلہ کا باون سال قبل تحریر کیا ہوا ”اراکین اسمبلی کا حلف نامہ“ شائع کر چکے ہیں۔ ذیل میں پچاس سال قبل کا لکھا ہوا ”وزیر خارجہ کا حلف نامہ“ پیش خدمت ہے۔ یادرہے کہ اس وقت پاکستان کے وزیر خارجہ آنجہانی مسٹر ظفر اللہ خان قادیانی تھے۔ جنہوں نے اپنے حکومتی منصب سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ملکی خزانے کو قادیانیت کے فروغ کے لیے بے دریغ استعمال کیا۔ وہ اپنے عقیدے کے مطابق حکومت پاکستان کی بجائے تاج برطانیہ کے وفادار تھے۔ قادیانی آج بھی اسی عقیدے پر کاربند ہیں۔ حال ہی میں مرزا طاہر کا لندن میں انتقال ہوا ہے۔ قادیانیوں نے انہیں تاج برطانیہ کے زیر سایہ ہی دفن کرنے کا اہتمام کیا ہے۔ یہ حلف نامہ روزنامہ ”آزاد“ کے ”مطالبہ نمبر“ 11 ستمبر 1952ء میں شائع ہوا۔ اسے آج کے حالات کے تناظر میں بھی پڑھا جا سکتا ہے۔ (مدیر)
- ☆...... میں ”شہنشاہ معظم“ کو حاضر و ناظر جان کر قسم کھاتا ہوں‘ جس نے اپنے خاص فضل
و کرم اور اپنی خاص نظر عنایت سے مجھے وزارت خارجہ کی کرسی بطور انعام عطا کی ہے کہ میں اپنے ملک کا کبھی وفادار نہ بنوں گا۔
- ☆...... میں اپنی وفاداری ”شہنشاہ معظم“ کے ساتھ وابستہ رکھوں گا اور ”شہنشاہ معظم“ کی
حکمرانی دنیا میں قائم و دائم رکھنے کے لیے میں اپنی زندگی وقف کر دوں گا۔ میں قسم کھاتا ہوں ”شہنشاہ معظم“ کے تخت و تاج کی رکھوالی اور اس کی بقاء و احیاء میرے دین و ایمان کا ایک جزو لاینفک ہے۔
- ☆...... میں ”شہنشاہ معظم“ کی عظمت و بزرگی اور اس کے اثر و اقتدار کی قسم کھا کر عہد کرتا
ہوں کہ میرے ناتواں کندھوں پر وزارت خارجہ کا جو بارِ گراں ڈالا گیا ہے اور جس کے حصول کی مجھے بڑی دیرینہ خواہش بھی تھی۔ میں اس ”فرضِ منصبی“ کو زندگی میں کبھی بھی پورا نہ کروں گا۔ اور اس کے بجائے میں ہر اس کام کی تکمیل کروں گا جس کا ”وزارت خارجہ“ سے قطعا کوئی تعلق نہ ہوگا۔
- ☆...... میں ”شہنشاہ معظم“ کی ان کرم نوازیوں کی قسم کھا کر کہتا ہوں جن کی بدولت مجھے
”وزارت خارجہ“ کا جلیل القدر عہدہ نصیب ہوا ہے کہ میں اپنے عہدہ کی تنخواہ اپنے ملک کے خزانے سے پائی پائی وصول کروں گا اور قوم کا خون پسینہ ایک کر کے کمائی ہوئی دولت سے گلچھڑے اڑاؤں گا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ میں قسم کھا کر عہد کرتا ہوں کہ اس تنخواہ کے عوض میں ایک دھیلے کا کام بھی ہرگز پایہ تکمیل کو نہ پہنچاؤں گا۔
- ☆...... میں قسم کھا کر عہد کرتا ہوں اور سچ کہتا ہوں ساتھ ایمان کے میں جب تک وزیر خارجہ
رہوں گا اس وقت تک کوئی دن بھی اپنے ملک کے اندر رہ کر نہ گزاروں گا۔ بلکہ ہمیشہ دوسرے ملکوں میں رہ کر اپنے ملک کے سرکاری خزانہ سے روپے بٹور کر سیر و سیاحت کیا کروں گا۔ اور اس طرح میں ایک ”خارجی“ کی حیثیت سے زندگی گزارتا رہوں گا۔
- ☆...... میں عہد کرتا ہوں کہ میں اپنے ملک کے بہت بڑے رہنما اور اپنے ایسے محسن (بانی
پاکستان محمد علی جناحؒ جن کی بدولت مجھے اپنے ملک کے خزانہ سے کافی روپیہ ملتا ہے) کے ساتھ ایسی غداری کروں گا جو دنیا میں آج تک نہ کسی نے کی ہوگی اور نہ ہی آئندہ ایسی غداری کوئی کر سکے گا۔ کہ جب میرا یہ محسن اور ملک کا ہر دلعزیز رہنما اس دنیا سے رختِ سفر باندھ کر آخرت کی طرف کوچ کر جائے گا اس کا جنازہ میدان میں پڑا ہوگا۔ اپنے ملک کی پوری قوم ہی نہیں بلکہ پوری دنیا اس کی جدائی میں سوگوار ہوگی اور جگہ جگہ صف ماتم بچھ گئی ہوگی قوم اس کی نماز جنازہ پڑھنے اور اس کے حق میں دعائے مغفرت کرنے میں خداوند قدوس کے حضور دست بدعا ہوگی...... میں عین اس موقع پر اس محسن کے جنازہ اور اس کی قوم کی صفوں سے الگ ہو کر عیسائیوں، اچھوتوں اور دیگر ”اقلیتی“ فرقہ کے لوگوں کے ساتھ جا کر بیٹھ جاؤں گا۔ دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنے مذہبی عقائد کی بنا پر اس کے حق میں دعائے
مغفرت کریں گے تو میں قطعاً ان کے ساتھ شریک نہیں ہوں گا۔
- ☆ ....... میں قسم کھا کر اقرار کرتا ہوں۔ اگر مج مجھ سے پوچھا جائے کہ تو نے اپنے محسن کے
ساتھ اس کی زندگی کے آخری لمحات میں ایسی غداری کیوں کی؟ تو میں اس کا جواب دوں گا کہ میرے نزدیک چونکہ وہ محسن کافر تھا، اس لیے میں نے اس کے حق میں نہ تو دعائے مغفرت کی اور نہ ہی نماز جنازہ پڑھی اور یا اس محسن کے نزدیک میں کافر تھا، تو ایک کافر کسی مسلمان کی نماز جنازہ کیسے پڑھ سکتا ہے؟ اور اس کے حق میں دعائے مغفرت کیونکر کی جاسکتی ہے؟
- ☆ ....... میں ”شہنشاہ معظم“ کو حاضر و ناظر جان کر قسم کھاتا ہوں کہ میرے نزدیک اس ملک
کی پوری کی پوری قوم کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ کیونکہ اس قوم اور اس قوم کے سیاسی و مذہبی رہنماؤں نے اس شخص کو ”نبی“ تسلیم نہیں کیا ہے جس کو میں نبی تسلیم کر چکا ہوں اور جس نے اپنی زندگی کا قیمتی حصہ ”شہنشاہ معظم“ کی حکمرانی کے استحکام میں صرف کر دیا تھا۔
- ☆ ....... میں قسم کھا کر عہد کرتا ہوں کہ میں ایک وزیر خارجہ کی حیثیت سے جب دیگر ممالک میں
جا کر اپنے ملک کی نمائندگی کروں گا ...... تو ...... وہاں ملک کی نمائندگی کے بجائے اپنے عقائد ...... اور اپنی جماعت کے سیاسی عزائم اور اس کے پروگرام کی تبلیغ کروں گا۔ میں دیگر ممالک میں اپنی جماعت کے پروگرام اور اس کی خلاف ملک وملت ریشہ دوانیوں کی پوری پوری نشر و اشاعت کروں گا۔ چنانچہ مجھے اگر کسی بڑے ملک کے صدر سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا تو اپنے ملکی باشندوں کی ترجمانی یا ان کے عقائد و عزائم پیش کرنے کی بجائے اپنی جماعت کا تمام لٹریچر اس کی خدمت میں پیش کروں گا کہ میں نے صدر مملکت کی خدمت میں خدا کی مقدس کتاب ”قرآن مجید کا ہدیہ پیش کیا ہے۔
- ☆ ....... میں قسم کھا کر عہد کرتا ہوں کہ میں ایک بڑے ملک کے صدر مملکت سے ساز باز کر
کے اس ملک کی تمام لائبریریوں میں اپنی جماعت کا لٹریچر داخل کراؤں گا۔
- ☆ ....... میں قسم کھاتا ہوں کہ میں تمام بیرونی ممالک میں وزارت خارجہ کا کام کرنے کی
بجائے اپنی جماعت کے اراکین کے لیے ایسے اڈے قائم کراؤں گا جن کے ذریعے میری جماعت کے مبلغ آسانی کے ساتھ کفر و ارتداد پھیلا سکیں۔
- ...... میں قسم کھاتا ہوں‘ میں جب بھی کسی غیر ملکی نمائندے سے ملاقات کروں گا تو سب
سے پہلے اسے اپنے جماعتی مشن کی تبلیغ کروں گا اور اگر وہ سفیر یا نمائندہ مجھ سے وزارت خارجہ کے متعلق کوئی بات کرنے کا ارادہ ظاہر کرے گا تو میں اسے کسی دوسرے وقت پر ملاقات کے بہانے ایسے ٹرخاؤں گا کہ پھر وہ مجھ سے دوبارہ ملاقات نہ کر سکے گا۔
- ...... میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر میرا یا میری جماعت کا کسی ہمسایہ ملک سے اختلاف
ہوگا۔ تو اس کے ساتھ اپنے ملک کی کبھی صلح نہ ہونے دوں گا میں اپنے کسی نہ کسی بیان کے ذریعہ آپس میں ضرور کوئی کشیدگی پیدا کر دوں گا۔
- ...... میں قسم کھاتا ہوں کہ میں وزیر خارجہ کی حیثیت سے جب تک سرکاری خزانہ سے تنخواہ
حاصل کروں گا اس وقت تک اپنے ملک کے کسی کام میں کامیابی حاصل نہ کروں گا۔ میں اپنے کام کو الجھا کر اس قدر لمبا کر لوں گا جو ختم ہونے کا نام نہ لے گا۔
- ...... میں ”شہنشاہ معظم“ کو حاضر و ناظر جان کر قسم کھاتا ہوں کہ اگر مجھے بین الاقوامی کونسل‘
یا اقوام متحدہ کی کسی انجمن کے اجلاسوں میں شریک ہو کر اپنے ملک کی نمائندگی کرنا پڑے تو میں وہاں کے اجلاسوں میں اپنی لمبی لمبی تقاریر کا ایسا سلسلہ شروع کروں گا کہ دوسرے سننے والے اپنی کرسیاں چھوڑ کر بھاگ جائیں گے اور یا پھر وہ ہمیشہ کے لیے اپنا وطیرہ بنا لیں گے کہ جب بھی میری تقریر کی باری آیا کرے گی تو سامعین پہلے ہی جلسہ گاہ کو خالی کر دیا کریں گے۔ اور میں اکیلا کھڑا کئی کئی گھنٹے تک تقریر جاری رکھوں گا۔ اس طرح دنیا میں میری تقریر کی دھاک بیٹھ جائے گی اور دنیا کا کوئی ملک ہمارا مقابلہ نہ کر سکے گا اور نہ ہمارے ملک کی کوئی بات دنیا کی سمجھ میں آئے گی۔
- ...... میں قسم کھاتا ہوں کہ سلامتی کونسل یا کسی دوسرے اجلاسوں میں جہاں میں شریک
ہوں گا۔ اگر دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ نے کوئی مفید مطلب بات شروع کی تو میں اپنی کرسی پر بیٹھا سو جایا کروں گا۔ اور اس طرح اپنے ملکی مسائل پر غور و خوض کیا کروں گا۔
- ...... میں قسم کھاتا ہوں کہ اگر مجھے اپنے کسی ذاتی یا جماعتی کام پر باہر جانا یا کسی دیگر ملک
سے واپس آنا پڑے تو میں اخبارات کے ذریعے ایسے کام کا اعلان کر دیا کروں گا‘
جس کا ظاہراً سرکاری کام سے تعلق ہوگا۔ مگر میں اس طریق پر اپنے ملک کے حکمران طبقہ ...... اور ...... ملکی باشندوں کو ہمیشہ بے وقوف بنائے رکھوں گا۔
- ☆...... میں ”شہنشاہ معظم“ کو حاضر و ناظر جان کر قسم کھاتا ہوں کہ میں وزارت خارجہ کی
کرسی کو کسی قیمت پر ترک نہ کروں گا‘ چاہے پوری قوم مجھ سے یہ کرسی چھوڑنے کا مطالبہ کرے اور چاہے وہ لوگ بھی ایڑی چوٹی کا زور لگا لیں جنہوں نے مجھے یہ کرسی دی ہے یا جن لوگوں سے میں اس کرسی کی خاطر تنخواہ وصول کر رہا ہوں۔
- ☆...... میں قسم کھاتا ہوں کہ اگر ملک کے کسی سرکاری محکمہ میں کوئی کلیدی آسامی خالی ہو
جائے تو وہاں میں اپنی (قادیانی) جماعت سے تعلق رکھنے والے آدمی کو کامیاب کروں گا اور اگر دیگر ممالک میں سرکاری طور پر کوئی وفد جائے گا تو میں اس میں اکثر ایسے افراد منتخب کروں گا جو میری جماعت اور میرے عقائد سے تعلق رکھنے والے ہوں گے اور میرے عزائم کی تکمیل کا ذریعہ بنیں گے۔
- ☆...... میں ”شہنشاہ معظم“ کو ”سمیع و بصیر“ جان کر عہد کرتا ہوں کہ میں اپنے ملک کے
اقتصادی اور تجارتی اداروں پر اپنی جماعت کے افراد کا قبضہ کراؤں گا۔ تاکہ ملک اقتصادی ترقی میں کسی دیگر ملک سے پیچھے نہ رہے اور تاکہ ملک معاشی الجھنوں کا شکار ہونے سے محفوظ رہ سکے۔
- ☆...... میں قسم کھاتا ہوں کہ میں اپنی جماعت کے افراد کو ملک کی کلیدی آسامیوں پر قابض
کرانے اور ملک میں خوفناک سازش کرنے میں ایسی دلیری سے کام لوں گا کہ ملک کے کسی بڑے سے بڑے حاکم کو بھی مجھ سے باز پرس کرنے کی جرأت نہ ہو سکے گی۔
- ☆...... میں قسم کھاتا ہوں کہ میں اپنے اس عہد پر ہمیشہ قائم رہوں گا۔ میں اراکین ایوان کی
خدمت میں دردمندانہ اپیل کروں گا کہ وہ مجھ ناچیز‘ عاجز‘ فقیر پر تقصیر کو اپنی خصوصی دعاؤں میں یاد رکھیں اور خلوص نیت اور صمیم قلب سے دعا کریں کہ ”شہنشاہ معظم“ مجھے اپنے ”نیک مقاصد“ کو پورا کرنے کی توفیق بخشے۔ اور ”شہنشاہ معظم“ مجھ ایسے وفادار پیدا کرے تا کہ وہ اپنے مقاصد میں کامیابی کا منہ دیکھ سکیں۔
”شہنشاہ معظم“ میرا حامی و ناصر ہو! (آمین)
(ماہنامہ نقیب ختم نبوت‘ مئی 2003ء)
سر ظفر اللہ خان شیخ مجیب الرحمٰن کے چرنوں میں
صاحبزادہ طارق محمود
1970ء کے عام انتخابات میں جماعت احمدیہ نے اپنا سارا وزن پاکستان پیپلز پارٹی کے پلڑے میں ڈال دیا تھا۔ نام نہاد غیر سیاسی جماعت نے پہلی مرتبہ کھل کر سیاست میں حصہ لیا۔ حسن اتفاق کہ پہلی دفعہ ہی نشانہ خطا گیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کی عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان مرحوم میں ریکارڈ کامیابی حاصل کی۔ سیاسی اصول کے مطابق حکومت سازی کا حق عوامی لیگ کا بنتا تھا۔ سیاسی حلقوں کا تاثر بھی یہی تھا کہ شیخ مجیب الرحمٰن پاکستان کے آئندہ وزیر اعظم ہوں گے اور عوامی لیگ کو حکومت بنانے کی دعوت دی جائے گی۔ انتخابی نتائج جماعت احمدیہ کی امیدوں کے برعکس نکلے، برسر اقتدار ٹولے کی کاسہ لیسی جماعت احمدیہ کا شعار اور روایت رہی ہے۔ قادیانی جماعت نے سوچا کہ اس سے پہلے کہ شیخ مجیب الرحمٰن قلمدانِ حکومت سنبھالیں، انہیں رام کر کے اپنے شیشے میں اتارا جائے۔ چنانچہ ”اندھوں میں کانا راجہ“ یعنی قادیانیوں کے کھڑپینچ سر ظفر اللہ خان کو اس مشن کے لیے ڈھاکہ بھیجا گیا۔ چوہدری صاحب ربوہ (دسمبر) کے سالانہ اجتماع سے فارغ ہو کر ڈھاکہ پہنچے اور شیخ مجیب الرحمٰن کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ پہلے روز تو شیخ صاحب نے ایک استعجاب بھری بلند آواز کے ساتھ کہا’ اوہو! چوہدری صاحب آپ بھی آ گئے...... چوہدری صاحب کو ٹرخا دیا اور کہا کہ ”آج تو ملاقات کا وقت نہیں ہے۔ کل تشریف لائیے ۔“ (ہفت روزہ ’لولاک‘ لائل پور ص 8 ج 7 شمارہ 43، 2 فروری 1971ء)
اس بات کی تائید مولانا شاہ احمد نورانی کے ایک بیان سے ہوتی ہے جس میں انہوں نے شیخ مجیب الرحمٰن کے حوالے سے بتایا کہ ایم ۔ ایم ۔ احمد قادیانی ڈھاکہ گئے میں مارا
مارا پھرتا رہا لیکن شیخ صاحب نے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا ..... بعدازاں چوہدری ظفر اللہ خان نے شیخ مجیب الرحمن سے دو تین مرتبہ ملاقات کی اور ان سے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ چوہدری کے دورہ کا مقصد ایک تو شیخ صاحب کی ہمدردیاں حاصل کرنا تھا، اور دوسرا ایم۔ ایم۔ احمد قادیانی کی ملازمت کے تحفظ کی بھیک مانگنا تھا کیونکہ ایم۔ ایم۔ احمد ریٹائر ہونے والے تھے۔ سیاسی حلقوں کا کہنا تھا کہ شیخ مجیب الرحمن ایم۔ ایم۔ احمد کے بارے میں سخت برہم تھے۔ انہوں نے ایم۔ ایم۔ احمد کو ان کی ناقص پالیسیوں اور بنگالیوں کو احساس محرومی کا شکار کرنے کی پاداش میں ملازمت سے علیحدہ کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ یہ الگ بات کہ شیخ مجیب الرحمن پاکستان کے اقتدار کے قریب تھے، لیکن اقتدار ہی ان سے دور ہو گیا۔ وہ وزیر اعظم تو بنے لیکن بنگلہ دیش کے ..... جسے کبھی مشرقی پاکستان کے نام سے پکارا جاتا تھا۔
(قادیانیت کا سیاسی تجزیہ: ص 576-577)
زہے نصیب
استاذی المکرم حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب درخواستی دامت برکاتہم حج کے لیے حجاز مقدس تشریف لے گئے۔ آپ کا ارادہ تھا کہ اب واپس پاکستان نہیں جاؤں گا۔ مدینہ طیبہ قیام کے دوران آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی خواب میں زیارت ہوئی۔ آپ نے فرمایا کہ یہاں دین کا کام ہو رہا ہے۔ پاکستان میں آپ کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں جا کر میرے بیٹے عطا اللہ شاہ بخاری کو میرا سلام کہنا اور کہنا کہ ختم نبوت کے محاذ پر تمہارے کام سے گنبد خضراء میں خوش ہوں، ڈٹے رہو، اس کام کو خوب کرو میں تمہارے لیے دعا کرتا ہوں۔
حضرت درخواستی حج سے واپسی پر سیدھے ملتان آئے۔ شاہ جی چارپائی پر تھے۔ خواب سنایا۔ شاہ جی تڑپ کر نیچے گر گئے۔ کافی دیر بعد ہوش آیا۔ بار بار پوچھتے درخواستی صاحب میرے آقا، مولیٰ نے میرا نام بھی لیا تھا۔ حضرت درخواستی صاحب کے اثبات میں جواب دینے پر پھر وجد کی کیفیت طاری ہو جاتی۔
تیری یادوں کے چراغ جلتے ہیں
جیسے آندھی میں ٹوٹی قبروں پر
سہمے سہمے چراغ جلتے ہیں
چوہدری ظفر اللہ خان قادیانی
مولانا عنایت اللہ چشتیؒ
چوہدری سر ظفر اللہ خان ڈسکہ ضلع سیالکوٹ کا رہنے والا تھا۔ اس کے والد کا نام چوہدری نصر اللہ خان تھا اور وہ ضلع کچہری میں وکیل تھا۔ ظفر اللہ خان اس کا بڑا لڑکا ہے۔ بدبختی سے مرزا غلام احمد کے جال میں پھنس گیا اور آبائی دین حق ’’اسلام‘‘ چھوڑ کر مرزا کا مرید اور ’’مرتد‘‘ ہو گیا۔ کچھ زمین دارہ بھی تھا۔ لڑکوں کو پڑھایا اور وہ بھی ایل۔ایل۔بی کر کے وکیل بن گئے۔ لیکن عام وکیل تھے۔ بہ حیثیت وکیل کوئی زیادہ اہمیت نہ تھی۔ ظفر اللہ اور اسد اللہ دونوں وکیل تھے۔ میں نے دونوں کو دیکھا ہے ان کا ایک تیسرا بھائی بھی میں نے دیکھا ہے جس کا نام شکر اللہ خان ہے۔ وہ ان پڑھ ہے۔ سیدھا سادا زمین دار ہے اور گھر پر ہی رہتا ہے۔
نصر اللہ مرزائی ہوا تو اس کی بیوی بھی مرزائی ہوگئی۔ ظفر اللہ برادرز کو مرزائیت ورثہ میں ملی۔ ظفر اللہ خان اچھا بول لیتا تھا اور محنت کر کے قانون کا مطالعہ کر لیا تھا۔ پریکٹس کے لیے لاہور آ گیا اور بڑی قابلیت کا مالک تھا جب کانگریس کی طرف سے ’’آزادئ ہندوستان‘‘ کا مطالبہ ہوا اور یہ تحریک عوام میں اچھی طرح مقبول ہو کر چل پڑی اور ہندوستانی رعایا کا ایک بڑا عنصر کانگریس کے اس مطالبہ کی تائید کرنے لگا اور مسلمانوں میں بھی بعض ’’ذہین افراد‘‘ کانگریس کی ہم نوائی کرنے لگے مگر ان کی تعداد بہت کم تھی۔ ہمارے پنجاب میں سر فضل حسین اور میاں عبدالقادر۔ قصوری اور مولانا ظفر علی خان کانگریس کے ہم نوا ہوئے تو کانگریس نے پنجاب میں سر فضل حسین کو چنا اور وہ پنجاب
کانگریس کے نامزد پریذیڈنٹ مقرر ہوئے۔ انگریز فضل حسین کی ذہانت و فطانت کو خوب جانتا تھا۔ اس لیے انگریز نے میاں سر فضل حسین کو سبز باغ دکھائے تو وہ انگریز کے جھانسے میں آگیا اور کانگریس کی چیئرمینی کیا، اس کی ابتدائی ممبری سے بھی استعفاء دے دیا۔ انگریز کی دور بین نگاہیں دیکھ رہی تھیں کہ میاں ”جوہر قابل“ ہے اس لیے اس نے سب سے اعلیٰ ملازمت جو ایک ہندوستانی کے لیے ہو سکتی تھی سر فضل حسین کے حوالہ کر دی۔ اور وہ تھی ”وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کی ممبری“ اب سر فضل حسین وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کے ممبر تھے۔ ہمارے پارلیمانی نظام میں جسے ”مرکزی کابینہ“ کہا جاتا ہے۔ انگریزی امپیریلزم میں اسے ”ایگزیکٹو کونسل“ کہا جاتا تھا اور اسے بغیر وائسرائے کے کسی کے سامنے جواب دہ نہیں ہونا پڑتا تھا۔ ہمارے لیے خوشی کا مقام تھا کہ ایک ہندوستانی کو اتنا بڑا عہدہ دینے پر انگریز رضا مند ہوا۔ غالباً اس سے پہلے انگریز نے شاید ہی کسی ہندوستانی کو اتنے بڑے عہدہ پر فائز کیا ہو۔ لیکن ہمیں خوشی کی جگہ دکھ ہوا، کیونکہ اسے یہ ”عہدہ“ ”ہندوستانی قوم سے غداری“ کے صلہ میں ملا تھا۔ جب اس کے عہدہ کی میعاد ختم ہونے لگی تو اس نے مسلم قوم سے شدید غداری کی اور اپنی جانشینی کے لیے ایک مرزائی کی سفارش کر کے اپنے عہدہ سے سبکدوش ہو گیا۔ وہ مرزائی کون تھا؟ وہ سر ظفر اللہ خان تھا۔ مسلمانوں نے بڑا احتجاج کیا اور مسلمانوں کے کئی وفود شملہ میں جا کر سر فضل حسین سے ملے اور اسے کہا کہ: ”مسلمان قوم پر یہ ظلم نہ کرو“ مگر ڈھاک کے وہی تین پات۔ وہ اپنی اسی ضد پر آخر دم تک اڑا رہا اور جب چوہدری ظفر اللہ خان سرکاری طور پر اس کا باقاعدہ ”جانشین نامزد“ ہو چکا وہ سبکدوش ہو کر گھر آیا۔
انگریزی حکومت میں یہ بہت بڑا عہدہ تھا۔ تمام والیان ریاست اس کے ماتحت تھے۔ ظفر اللہ کٹڑ مرزائی تھا۔ اور اپنے عہدہ کی پروا کیے بغیر ہر وقت مرزائیت کی ترقی و بہبود کی ارتدادی مہم میں مصروف کار رہتا تھا۔ قادیان کے دیہات میں پیدل جا کر مرزائیت کی تبلیغ کرتا تھا جب کہ اس کی ”سیلون“ قادیان اسٹیشن پر کھڑی ہوتی تھی۔ حضرت امیر شریعت سید عطا اللہ شاہ بخاریؒ کے مشہور مقدمہ میں کھڑا ہو کر اپنے وکیل اور مؤکل کی مدد کرتا دیکھا گیا۔ غرض کہ وہ کون سا مقام تھا کہ مرزائیوں کو کوئی حادثہ پیش آیا ہو اور ظفر اللہ خان ان کی امداد کو وہاں نہ پہنچا ہو؟
یہ اس کی ترقی کا پہلا ترقی کا بڑا دروازہ کھل چکا تو پھر تھا۔ قیام پاکستان کے بعد جب وزارت خارجہ کے جلیل القدر عہ ملک بھی ہزار ہا مسلمانوں کے ای بہرہ تھے۔ اس لیے انہیں نبی آخ عرض پاکستان میں احتجاجی تحری مرزائیت کو سمجھ چکا تھا اس کی ہ چنگاری اندر ہی اندر سلگتی رہتی ت شعلہ جوالہ بن کر اٹھی اور خرمن تحریک میں بالکل بے باک اور قیادت کرتا رہا۔ اب جب کہ م ”غیر مسلم“ قرار دے دے تو میں ”ہم آخر دم تک لڑیں گے اور کھیتی پک چکی تھیں اور ظفر الل کچھ ہونا تھا آخر ہو کر رہا۔ مسل اقلیت“ قرار دیا جائے اور دو جائے۔“ بھٹو حکومت کے دورا قربانی اور اٹل موقف سے متاثر ہاں تو سر ظفر اللہ کا ت بنیادی مقتضیات سے قطعاً ناہ منحرف تھی اس نے وزارت خ نے ناکامی و نامرادی کو اس کا نامرادی نے آگے بڑھ کر ا پاکستان“ کا ہوا۔ مسئلہ کشمیر ا
یہ اس کی ترقی کا پہلا دروازہ تھا جو سر فضل حسین نے اس کے لیے کھولا۔ جب ترقی کا بڑا دروازہ کھل چکا تو پھر کون سی ”بلند سیڑھی“ تھی جس پر چڑھنا اس کے لیے مشکل تھا۔ قیام پاکستان کے بعد جب لیگ گورنمنٹ برسر اقتدار آئی تو اس نے ظفر اللہ خان کو وزارت خارجہ کے جلیل القدر عہدہ پر نامزد کر دیا۔ جس کے بل بوتے پر اس نے بیرون ملک بھی ہزار ہا مسلمانوں کے ایمان پر ڈاکہ مارا۔ چونکہ اکثر لیگی لیڈر اسلام سے قطعاً بے بہرہ تھے۔ اس لیے انہیں نبی آخر الزماں ﷺ کی ختم نبوت کا قطعاً احساس نہ تھا۔ طول و عرض پاکستان میں احتجاجی تحریکات اٹھیں مگر انہیں بزور شمشیر خاموش کرا دیا گیا۔ مسلمان مرزائیت کو سمجھ چکا تھا اس کی ہر تحریک بزور سنگین دبا دی جاتی تھی لیکن مسلم کے ایمان کی چنگاری اندر ہی اندر سلگتی رہتی تھی اور جب اسے موقع ملتا تو بھڑک اٹھتی۔ آخر ایک دن شعلہ جوالہ بن کر اٹھی اور خرمن مرزائیت کو بھسم کر کے رکھ دیا۔ چوہدری ظفر اللہ بھی ہر ایک تحریک میں بالکل بے باک اور عریاں ہو کر مرزائیت کی پشت پناہی بلکہ سیاسی اور سرکاری قیادت کرتا رہا۔ اب جب کہ مرزائیت دم توڑ رہی تھی اور قریب تھا کہ پاکستان اسمبلی اسے ”غیر مسلم“ قرار دے دے تو میں نے چوہدری ظفر اللہ کا اخبارات میں ایک بیان پڑھا کہ: ”ہم آخر دم تک لڑیں گے اور مسلمانوں کے فیصلہ کے آڑے آئیں گے۔“ مگر چڑیاں کھیت چگ چکی تھیں اور ظفر اللہ ”جان بلب مرزائیت“ کو جھوٹی تسلیاں دے رہا تھا اور جو کچھ ہونا تھا آخر ہو کر رہا۔ مسلمانوں کے دو مطالبات تھے ایک یہ کہ مرزائیوں کو ”غیر مسلم اقلیت“ قرار دیا جائے اور دوسرے یہ کہ ”مرزائیوں کو تمام کلیدی آسامیوں سے ہٹایا جائے۔“ بھٹو حکومت کے دوران میں اسمبلی نے مسلمانوں کی مسلسل تحریک، زبردست جانی قربانی اور اٹل موقف سے متاثر ہو کر انہیں ”غیر مسلم اقلیت“ قرار دے دیا تھا۔
ہاں تو سر ظفر اللہ کا تذکرہ ہو رہا تھا کہ مسلم لیگی حکومت نے جو اسلام کی اصولی اور بنیادی مقتضیات سے قطعاً نابلد اور نفاذ شریعت کے متفقہ مطالبہ سے بالکل گریزاں اور منحرف تھی اس نے وزارت خارجہ کا قلم دان سر ظفر اللہ خان کے سپرد کر دیا تھا۔ ادھر قدرت نے ناکامی و نامرادی کو اس کا مقدر بنا دیا تھا، جو کام بھی اس کے سپرد ہوا اس میں ناکامی و نامرادی نے آگے بڑھ کر اس کا استقبال کیا اور دینی و قومی سطح پر نقصان ”اسلامیان پاکستان“ کا ہوا۔ مسئلہ کشمیر اس کے سپرد ہوا تو ظفر اللہ نے اسے امریکا اور برطانیہ کے
مشترکہ کفریہ اور بین الاقوامی مفاد و منشاء کے مطابق ابتداء سے ہی ایسا الجھایا کہ اب اس کے سلجھانے کے لیے ”عمر نوح“ چاہئے۔ ہمسایہ ملک افغانستان مسلمان تھا اور پاکستان کو بہ حیثیت ایک مسلمان ملک اس کی مخالفت گوارا نہیں تھی مگر سر ظفر اللہ کو کابل سے ذاتی دشمنی تھی کیونکہ دنیا بھر میں کابل حکومت وہ واحد مسلمان سنی حنفی حکومت تھی جس نے آج سے نصف صدی پہلے ”مرزائی مرتدین“ کو سنگسار کرا دیا تھا اس لیے سر ظفر اللہ خان نے افغانستان میں مرزائی ارتداد کی تحریک کی ناکامی کا کابل سے یہ انتقام لیا کہ پاکستان سے اس کی ”دائمی دشمنی کی بنیاد“ رکھ دی۔ اسی طرح سر ظفر اللہ نے بہ حیثیت وزیر خارجہ تمام مسلم ممالک میں مرزائیت کو نہ صرف ”روشناس“ کرایا بلکہ اس کے لیے لاکھوں روپے مختلف خفیہ تدابیر اور بہانوں سے وصول کر کے اپنی مرزائی قوم کو بھجوائے اور انہیں مالی طور پر بے انتہاء مضبوط کیا اور مرزائی مبلغین کے لیے بڑا میدان صاف اور ہموار کیا اور بے شمار بیرونی مسلمانوں کو پاکستانی وزارت خارجہ کے عہدہ کے زبردست سہارے پر اپنا جھوٹا ”اسلام“ پیش کر کے گمراہ کیے رکھا۔
خواہش
حضرت تھانوی رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں مولانا خیر محمد جالندھری کے ہمراہ السید عطا اللہ شاہ بخاری حاضر ہوئے۔ حضرت شاہ صاحب نے فرمایا کہ حضرت! شعبہ تبلیغ احرار اسلام قادیان میں تبلیغی و تدریسی خدمت سر انجام دے رہا ہے۔ مبلغین ختم نبوت کی ایک جماعت قادیان اور اس کے مضافات میں تحفظ ختم نبوت اور تردید قادیانیت کا فریضہ سر انجام دے رہی ہے۔ اس کا ملکی سیاست سے قطعاً کوئی تعلق نہیں۔ حضرت تھانویؒ نے فرمایا کہ ختم نبوت کے شعبہ میں شمولیت کے لیے فیس رکنیت کا کیا ہے۔ حضرت شاہ صاحب نے فرمایا کہ سالانہ ایک روپیہ۔ اس پر حضرت تھانوی نے پچیس روپے عنایت فرمائے کہ میری طرف سے شعبہ ختم نبوت میں شمولیت کے لیے پچیس سال کی فیس رکنیت ہے۔ اگر اس عرصہ میں فوت ہو گیا تو ختم نبوت کے رضا کاروں میں میرا بھی شمار ہو گا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کی شان کہ آپ اسی عرصہ میں فوت ہوئے۔
(روایت: حضرت مولانا محمد عبداللہؒ شیخ الحدیث جامعہ رشیدیہ)
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
جناب
- سابق
اعظم ذوالفقار علی بھٹو ’’ احمد قادیا کہ باور
اسے ظفر مرحوم کے دور میں کا
- سابق
قادیانیوں نے بانی حوالہ سے یہ ثابت میں تھا۔
دم خبر دی کتے کے اس کی م
جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے بارے میں
ظفر اللہ قادیانی کی ہرزہ سرائی
صاحبزادہ طارق محمود
- ہ سابق وزیر خارجہ چوہدری ظفر اللہ خان نے سابق وزیر خارجہ اور سابق وزیر
اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف خبث باطن اور تنگ نظری کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا:
”کہ بھٹو کا باون سال کی عمر میں مرنا مرزا صاحب (مرزا غلام احمد قادیانی) کی صداقت کی دلیل ہے کیونکہ مرزا صاحب نے کہا تھا کہ باون سال کی عمر میں ایک کتا مرے گا۔“
(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی 26 جون تا 2 جولائی 1987ء)
اسے ظفر اللہ خان کی پیشہ ورانہ رقابت سمجھئے یا بھٹو دشمنی‘ کیونکہ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے دور میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا۔
- ہ سابق وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دیے جانے کے بعد
قادیانیوں نے بانی جماعت احمدیہ مرزا غلام احمد قادیانی کے مجموعہ الہامات ”تذکرہ“ کے حوالہ سے یہ ثابت کرنے کی مذموم کوشش کی کہ مرزا صاحب کا یہ الہام مسٹر بھٹو کے بارے میں تھا:
”ایک شخص کی موت کی نسبت خدا تعالیٰ نے اعداد تہجی میں مجھے خبر دی‘ جس کا ماحصل یہ ہے کلب یموت علیٰ کلب یعنی وہ کتا ہے اور کتے کے عدد پر مرے گا۔ جو باون سال پر دلالت کر رہے ہیں۔ یعنی اس کی عمر باون سال سے تجاوز نہیں کرے گی۔ جب باون کے اندر
قدم دھرے گا تب اسی سال کے اندر اندر راہی ملک بقا ہوگا۔“
(ازالہ اوہام‘ ص187‘ مجموعہ الہامات ”تذکرہ“ ص186 حضرت مسیح موعود علیہ السلام‘
الناشر الشرکۃ الاسلامیہ لمیٹڈ)
- o آنجہانی چوہدری ظفر اللہ خان نے لاہور کے ایک رسالہ کو 1980ء میں انٹرویو
دیتے ہوئے سابق وزیراعظم‘ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کو مرزا غلام احمد قادیانی کے الہام سے ثابت کرنے کی کوشش کی۔
”جس دن ہماری جماعت کے نوے سال پورے ہوئے‘ اس سے عین اگلے دن اس وقت ان کی ریویو پٹیشن (نظر ثانی کی درخواست) خارج ہوئی تھی۔ لندن میں ہماری جماعت کا ایک جلسہ تھا۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ نوے سال کل پورے ہو گئے۔ خدا تعالیٰ کا فیصلہ بھی ساتھ ساتھ شروع ہوگیا ہے مگر ایک مرحلہ ابھی باقی ہے رحم کا۔ جہاں تک میرے ذاتی تاثر یا رائے کا تعلق ہے‘ میں چاہتا ہوں کہ اگر اس کی جان بخشی ہوجائے تو ممکن ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بعید نہیں کہ یہ خدا تعالیٰ کے ساتھ صلح کر لے۔ میں نے انہیں بتایا کہ دیکھو ہمارا اس میں کسی طرح بھی دخل نہیں۔ نہ ہم چاہتے تھے نہ ہم ہیں۔ نہ ہم کسی کے خلاف ہیں‘ نہ ہمارا کسی سے گلہ ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا قانون ہے‘ اس لیے تم کوئی ایسی بات منہ سے نہ نکالنا جس سے یہ سمجھا جائے کہ آپ لوگوں کے ساتھ کچھ ہوا۔ میں نے کہا یہ ہمارا معاملہ نہیں‘ اللہ تعالیٰ کا معاملہ ہے۔
س: آپ کے ہم عقیدہ اس بات کا بہت ذکر کرتے ہیں کہ آپ کے بانی سلسلہ کی اس سلسلے میں کوئی پیش گوئی ہے کہ ایک شخص آئے گا‘ وہ تمہیں نقصان پہنچائے گا اور اس کا یہ حال ہوگا۔
ج: میں آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں۔ بھٹو صاحب کی سپریم کورٹ سے اپیل خارج ہوئی تھی 6 فروری 1979ء کو۔ شیخ اعجاز احمد کے چچا زاد بھائی اور علامہ اقبالؒ کے صاحبزادے جسٹس جاوید اقبال نے شیخ اعجاز احمد‘ چوہدری بشیر احمد اور مجھے 8 فروری 79ء کو دوپہر کے کھانے پر بلوایا ہوا تھا۔ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مولوی مشتاق حسین صاحب بھی وہاں موجود تھے۔ ڈاکٹر جاوید اقبال کے خسر بھی وہاں تھے۔ بس اتنے ہی تھے۔ کھانے سے پہلے ہم برآمدے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ کھانے کے لیے اندر چلے گئے۔
کھانا ختم ہوا۔ یہ سب لوگ باہر چلے گئے تو مولوی مشتاق حسین وہاں ہاتھ دھونے لگے۔ مولوی صاحب کو بڑی فکر تھی کہ اگر یہ اپیل منظور ہو گئی میرے فیصلے کے خلاف تو پھر میری کوئی جگہ نہیں۔ مولوی صاحب نے جب ہاتھ دھو لیے تو میں نے ان سے کہا‘ مولوی صاحب مجھے سپریم کورٹ کے ساتھ ایک شکوہ ہے۔ انہوں نے کہا : کیا۔ میں نے کہا: پرسوں اپیل خارج ہوئی ہے اور پرسوں میرا یوم پیدائش تھا۔ ایسی منحوس بات میرے یوم پیدائش پر ہوئی۔ خیر یہ تو مذاق کی بات تھی اب میں اصل بات کی طرف آتا ہوں۔ میں نے کہا مولوی صاحب میں ایک بات آپ سے کہتا ہوں‘ آپ اچھی طرح ذہن نشین کرلیں۔ اگر آپ کو خیال ہو کہ شاید بھول جائیں تو جا کر نوٹ کرلیں۔ اگر خدا تعالیٰ نے مجھے مہلت دی تو میں آئندہ سال چھ فروری کو بھی یہیں ہوں گا۔ اگر تو اس وقت بھٹو زندہ ہوا تو آپ مجھے ٹیلی فون کردیں کہ ظفر اللہ خان جو بات تو نے مجھ سے کہی تھی وہ ٹھیک نہیں نکلی اور اگر یہ مر گیا تو آپ ٹیلی فون کردیں کہ بات تو ہو گئی۔ آج شام میں آپ کے ساتھ کھانا کھاؤں گا اور بتانا کہ کس بنا پر تم نے مجھ سے یہ بات کہی تھی۔ مولوی صاحب نے کہا: اچھی بات‘ مجھے یاد رہے گا۔ میں نے کہا: میں یہ نہیں کہتا کہ یہ پھانسی لگے گا یا خودکشی کرے گا یا اس پر بجلی گرے گی یا بیماری سے مر جائے گا‘ لیکن اپنی عمر کے 52 ویں سال کے دوران زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہے گا‘ چنانچہ جب اس کی 51 ویں سالگرہ (5 جنوری 1979ء) ہوئی تو بیگم بھٹو نے بڑے سے برتھ ڈے کیک پر مٹھائی سے جیل کی شکل بنوائی تھی اور ایک ہتھوڑے کے ساتھ اسے توڑا کہ اس طرح گویا ہم ان کو جیل سے نکال لیں گے۔ خیر‘
تو پھر جب میں دوسرے سال (1980ء) یہاں آیا تو مولوی مشتاق حسین صاحب 6 فروری سے پہلے ہی تشریف لے آئے۔ بیٹھتے ہی بولے: بتاؤ وہ بات۔ میں نے کہا‘ کھانے کے کمرے میں چلیں گے‘ آرام سے بیٹھیں گے۔ بات شروع ہوئی تو میں نے ان سے کہا کہ میں اول قرآن کریم کی دو آیات کی طرف آپ کی توجہ دلاتا ہوں کہ وہاں اس قسم کے لوگوں کا انجام ایسے طور پر درج ہے‘ بالکل اس واقعہ پر بھی چسپاں ہوتا ہے۔ سورہ ابراہیم کی آیات ہیں تیرہ اور چودہ۔
میں نے وہ آیات سنا کر کہا یہ تو ہے اللہ تعالیٰ کا اصول۔ یہ ایک عجیب بات ہے کہ اس کے بعض فیچر بالکل لفظاً اس پر چسپاں ہوتے ہیں۔ پھر میں نے انہیں وہ الہام بتایا
جو ہمارے بانی سلسلہ کو ہوا تھا‘ جو 1891ء میں چھپا بھی تھا۔ اس کے الفاظ تھے: کل یموت علی کلْب کتا ہے‘ کتے کے لفظ کے اعداد پر مرجائے گا۔ تو ”ک“ کے اعداد ہیں بیس‘ ”ل“ کے تیس‘ ”ب“ کے دو۔ مولوی صاحب نے کہا: یہ دونوں حوالے مجھے نکال دو۔ س: بس اتنا ہی مزید کچھ نہیں؟ ج: آگے اس کی وضاحت بھی آپ نے کی کہ اس کے باون لفظ بنتے ہیں۔ باون برس میں قدم رکھے گا اور مرجائے گا۔ س: کسی فرد کا نام لے کر نشان دہی نہیں کی اور نہ اس قسم کی کوئی تفصیل ہے کہ وہ آپ لوگوں کو اقلیت قرار دے گا یا نقصان پہنچائے گا۔ ج: نہیں‘ بس اتنا ہی جتنا میں کہہ چکا ہوں۔ س: پھر تو آپ لوگوں کا محض یہ اندازہ ہے کہ یہ پیش گوئی بھٹو کے متعلق ہے۔ ج: کراچی کے کسی اخبار میں چھپا بھی تھا کہ کم سے کم اس کو ایک سال کی مہلت دے دینی چاہئے ورنہ مرزائی کہیں گے ہماری پیش گوئی پوری ہوگئی۔“
(بہ شکریہ ”آتش فشاں“ لاہور ص 12 ج 9 شمارہ 9 مئی 1980ء انٹرویو: منیر احمد منیر)
◉ ◉ ◉
قبر میں زلزلہ ! بھارت کے صوبہ بہار کے حکیم محمد حسین نے خواب دیکھا کہ مرزا قادیانی کی قبر میں تدفین ہوگئی ہے۔ لوگ مٹی ڈال کر گھروں کو چل رہے ہیں۔ قبر میں سخت اندھیرا اور خوف ہے۔ اللہ کے فرشتے سوال جواب کے لیے آ پہنچے ہیں۔ مرزا قادیانی سخت گھبرایا ہوا ہے اور تھر تھر کانپ رہا ہے۔ اللہ کے فرشتے اس سے سوال کر رہے ہیں اور جواب میں وہ اول فول بک رہا ہے۔ قبر میں قریب ہی شیطان کھڑا ہے۔ وہ مرزا قادیانی کو کہہ رہا ہے کہ اے مرزا قادیانی! تو میرا بہترین ساتھی تھا۔ تو نے میرے مشن کے لیے بہت کام کیا۔ شب و روز محنت کر کے لوگوں کو گمراہ کیا۔ مجھے تیری موت کا بہت دکھ ہوا لیکن آج اس مشکل میں میں تیرے کسی کام نہیں آسکتا۔ یہ عذاب تو اب تجھے سہنا ہی پڑے گا۔ یہ کہا اور شیطان غائب ہو گیا اور اس کے ساتھ ہی مرزا قادیانی سخت ترین عذاب میں مبتلا ہو گیا اور اس کی چیخوں سے قبر میں ایک زلزلہ بپا ہو گیا۔
لقمہ خاک ہوئے زہر اگلنے والے!
ظفر اللہ خاں قادیانی کے زیر سایہ
قادیانی مبلغین کی ارتدادی سرگرمیاں
ماسٹر تاج الدین انصاری
مجلس عمل کا ایک وفد خواجہ صاحب سے 22 جنوری 53ء کو ملا۔ اس مرتبہ خواجہ صاحب نے متاثر ہو کر یہ مہربانی کی کہ اپنی کیبنٹ کے معزز اراکین کو بھی بلا لیا۔ سر ظفر اللہ خان کے علاوہ باقی سب حضرات تشریف لے آئے۔ مولانا عبدالحامد بدایونی نے ایک اعتراض کیا اور کہا کہ سر ظفر اللہ خاں انہی لوگوں کو سفارتوں میں آگے لاتے ہیں جو مرزا محمود کے ہاتھ پر بیعت کر لیں۔ خواجہ صاحب نے فرمایا دیکھئے مولانا ! وہ بات نہ کہئے جو پایہ ثبوت کو نہ پہنچ سکے۔ ہم اپنے عقیدے پر پکے ہیں۔ ہمارا ایمان ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کے بعد کوئی پیغمبر نہیں ہے۔ میرا اس پر ایمان ہے۔ میرے ایمان اور سر ظفر اللہ خاں کے ایمان میں بین فرق ہے۔ مگر میں ان کے خلاف باتیں نہیں سن سکتا۔
مولانا بدایونی صاحب نے فرمایا حضور والا اگر میں نام بتا دوں تو؟ خواجہ صاحب نے فرمایا بتائیے کوئی ایسا واقعہ؟ مولانا نے ایک ایک سفارت خانے کے افسر کا نام لیا۔ کیبنٹ کے ایک وزیر نے تائید کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات ہم نے بھی سنی ہے اور یہ درست معلوم ہوتا ہے۔ تب خواجہ صاحب پر زیادہ اثر ہوا۔ وہ ہمیں زیادہ تسلی تو نہ دے سکے مگر انہیں یہ یقین ہو گیا کہ مسلمان شکایات کرنے میں حق بجانب ہیں۔ اس ملاقات میں چونکہ سردار بہادر خاں تشریف نہ لا سکے اس لیے ہم نے مناسب سمجھا کہ ان کے بنگلے پر بھی حاضری دیں۔ چنانچہ فون پر ان سے بات ہوئی۔ اور ملاقات کا وقت مقرر کر کے ہم ان سے بھی جا ملے وہ بڑے صاف قسم کے انسان ہیں فرمانے لگے کہ میری سر ظفر اللہ خان سے
اچھی خاصی دوستی ہے مگر میں اپنے عقیدے کا پکا ہوں۔ ہم نے ان سے عرض کیا کہ آپ وزیر مواصلات ہیں آپ کی موجودگی میں مرزائیوں کو ریلوے کے محکمے میں پھلنے پھولنے کا بہت موقع ملا ہے۔ سردار بہادر خاں نے فرمایا کہ آج تک سرظفر اللہ خان نے مجھ سے کسی مرزائی کی سفارش نہیں کی پھر میں کیسے مان لوں کہ ان کے اثر ورسوخ سے مرزائیوں کا ریلوے میں تسلط ہو رہا ہے۔ ہم نے ان سے ایک واقعہ کا تذکرہ کیا۔ واقعہ یہ تھا کہ ریلوے میں غالباً بتیس (32) ٹی ٹی کی آسامیاں خالی تھیں۔ درخواستیں مانگی گئیں۔ جب ان آسامیوں کو پر کیا جانے لگا تو تیس مرزائی لے لیے گئے۔ اور صرف دو یا تین مسلمانوں کو لیا گیا ان میں بھی ایک ہوشیار نوجوان نے مرزائیوں کی سی اچھوتی داڑھی رکھ لی اور ملازم ہو کر حلیہ درست کر لیا۔ سردار بہادر نے تحقیقات کا وعدہ فرمایا۔ یہ ایک ایسا واقعہ تھا جو ”آزاد“ میں شائع ہو چکا تھا۔ اس ملاقات میں ہمیں معلوم ہوا کہ سرظفر اللہ خان کتنے ہوشیار اور کس احتیاط سے کام کر رہے ہیں۔
سردار بہادر نے یہ بھی فرمایا کہ مجھے یاد ہے سرظفر اللہ خان نے صرف ایک دفعہ مجھے ایک مرزائی افسر کے تبادلے کے بارے میں کہا تھا اور میں نے انکار کر دیا تھا۔ مگر بعد میں مجھے وہ تبادلہ اس لیے منسوخ کرنا پڑا کہ خود مسلمانوں نے میری چوکھٹ گھسا ڈالی کہ میں نے تبادلہ منسوخ کر دیا۔ آپ کے مسلمان ہی مرزائی افسر کے لیے ہاتھ باندھ رہے تھے۔ فرمائیے میں کیا کرتا؟ ہم نے حالات کی نزاکت کو اچھی طرح بھانپ لیا کہ یہ مرزائی کس طرح مسلمان وزیروں کو ہموار کرتے ہیں۔ اور کس طرح چیدہ مگر نامعقول قسم کے مسلمانوں کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔
ریلوے میں بڑے بڑے افسر جنہیں مسلمان سمجھا جاتا تھا۔ اچانک معلوم ہوا کہ انہیں ایک ایک کر کے کس طرح ربوے کی سیر کرائی اور پھر اندر ہی اندر انہیں کس ترکیب سے مرتد بنانے کی کوشش ہوئی۔ اس خطرناک صورت حال نے ہمیں اور چوکنا کر دیا۔ کوئی گوشہ نیک اور درد دل رکھنے والے مسلمانوں سے خالی نہیں چنانچہ ایک ذمہ دار مسلمان افسر نے ہمارے کیمپ میں اطلاع بھیجی کہ فلاں مسلمان افسر بہکی بہکی باتیں کرنے لگا ہے اس کا ایمان ڈانواں ڈول ہو رہا ہے۔ کسی اچھے مبلغ کو بھیجئے۔ تا کہ ایک باحیثیت مسلمان افسر کے ایمان کو بچایا جا سکے۔ قاضی احسان احمد صاحب اپنے بکس سمیت ان کے بنگلے پر تشریف
لے گئے۔ ان کی واپسی پر معلوم ہوا کہ افسر مذکورہ کی باتوں سے ایسا اندازہ ہوتا تھا کہ وہ مرزائیت کی روحانیت یا اصلیت کا زیادہ قائل نہیں جتنا کہ وہ موجودہ ماحول میں مرزائیت کے لیے فضا سازگار پا کر مرزائیت کی طرف مائل ہے مگر قاضی صاحب نے انہیں ایمان کی قدر و قیمت بتا دی مبلغ کا کام تبلیغ کرنا ہے، نتیجہ خدا کے ہاتھ میں ہے واپسی پر قاضی صاحب سو فیصد مطمئن نہ تھے مگر اتنا تو ہوا کہ افسر مذکور نے بہکی بہکی باتیں کرنا ترک کر دیں۔ یہ واقعہ میں نے اس لیے عرض کیا کہ قارئین کرام اندازہ لگا سکیں کہ ہم نے کن حالات میں اور کیسی دشواریوں میں ردّ مرزائیت کا کام کیا۔ مجلس عمل مرزائیت کے پھیلائے ہوئے جال کو کاٹنے اور سمیٹنے کی فکر میں تھی۔ مرزا محمود کو معلوم ہوا تو وہ بڑے متفکر ہوئے اور سر ظفر اللہ خان کی معرفت انہوں نے اپنے مبلغوں کی ایک ٹولی جن میں اللہ دتہ جالندھری وغیرہ شامل تھے کراچی بھیج دی۔ ان مرزائیوں نے مسلمان وزراء پر ”تبلیغ“ کا ہلہ بول دیا وہ ایک ایک وزیر کی کوٹھی پر جانے لگے۔
سردار نشتر نے تو ان سے باقاعدہ دو دو ہاتھ کیے۔ وہ اچھے خاصے مولوی ہیں اور ایسے ماں باپ کی آغوش میں پرورش پائی ہے جہاں دین کا چرچا ہوتا تھا۔ ان سے مرزائی گھبراتے تھے۔ اگر سردار عبدالرب نشتر نے اپنی گورنری کے زمانے میں ”الشہاب“ ضبط نہ کی ہوتی۔ (الشہاب وہ کتاب تھی جو شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ نے قتلِ مرتد کے بارے میں لکھی تھی) تو ہم سردار صاحب کو اپنا سردار مان لیتے۔ الشہاب کی ضبطی کا داغ ان کی گورنری کے دامن پر لگ ہی گیا۔ بہرحال وہ مذہبی ذہن کے وزیر تھے اس لیے کابینٹ اور مرزائی کیمپ میں انہیں مولوی نشتر کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ میں یہ عرض کر رہا تھا کہ مرزائی مبلغوں نے غلام احمد کی کتابوں کا پلندا بغل میں دبا کر ہر مسلمان منسٹر کا پیچھا کیا۔ سب سے پرلطف اور مختصر مناظرہ فضل الرحمن صاحب وزیر تعلیم سے ہوا۔ مرزائیوں نے تبلیغ کے لیے ملاقات کی اجازت چاہی۔ سر ظفر اللہ کے ہوتے ہوئے کون کہتا کہ معاف کرو باوا ہم تمہیں اور تمہارے پیغمبر کو جانتے ہیں۔ چاروناچار موقع دینا ہی پڑتا تھا فضل الرحمن صاحب کے ہاں جب مرزائی مبلغ پہنچے تو وہ چوکس ہو کر بیٹھ گئے۔
جب مرزائی مبلغ کتابوں کا پلندا کھولنے لگے تو فضل الرحمن صاحب نے فرمایا کہ ”سنیے مولوی صاحبان ہم زیادہ باتیں کرنا نہیں جانتے اور نہ زیادہ بحث میں پڑنا چاہتے
ہیں ۔ آپ میری ایک بات سن لیں اور وہ یہ ہے کہ اگر دنیا بھر کے مسلمان جو غلام احمد کو نبی نہیں مانتے کافر ہیں تو میں کافر ہوں۔ خدا کے لیے مجھے کافر ہی رہنے دو۔ میں مسلمانوں کے ساتھ کافر رہنا چاہتا ہوں اب آپ فرمائیے آپ اور کیا کہتے ہیں۔
مرزائیوں نے بغلیں جھانکنا شروع کیں اور پلندے کو پھر سے باندھ کر رخصت چاہی۔ فضل الرحمن صاحب نے کہا کہ آپ شوق سے جاسکتے ہیں۔ مرزائی مبلغوں کے اس دورے میں یہ سب سے بڑھیا قسم کی ملاقات تھی۔
دراصل سر ظفر اللہ خان وزیروں کی نبضوں پر ہاتھ رکھ چکے تھے۔ ہمیں کیبنٹ کے مسلمان وزراء میں سے صرف ایک وزیر کے بارے میں معلوم ہوا تھا کہ وہ ربوہ تشریف لے گئے تھے یا کسی ترکیب سے وزیر صاحب کو ربوہ بھجوایا گیا تھا۔ مگر ہر چند کوشش کے بعد یہ معلوم نہ ہوسکا کہ وہ وزیر کون تھا؟ مجلس عمل کی جدوجہد کے بعد یہ سلسلہ رک گیا۔ اور ایسا بریک لگ گیا کہ مرزائی مبلغوں کو مسلمان وزراء کے بنگلوں پر جانے کی جرات نہیں ہوئی۔
انڈیا ہاؤس
ہندوستان تقسیم ہوا تو ہندوستان کی غیر منقولہ جائیداد جو بیرونی ممالک میں تھی وہ بھی تقسیم ہوئی۔ بغداد میں انڈیا آفس کے نام کی ایک شاندار عمارت پاکستان کے حصے میں آئی۔ چونکہ وزارت خارجہ کا قلمدان سر ظفر اللہ خان کے پاس تھا اور بیرونی سفارت خانے انہی کے ماتحت تھے اس لیے بغداد کی اہمیت کے پیش نظر مرزائیوں نے بغداد کا رخ کیا اور مسلمانوں کو نکال کر مرزائیوں نے انڈیا ہاؤس پر قبضہ جمالیا اور اسے مرزائیت کا مستقل اڈا بنالیا۔ مسلمان بہت سیخ پا ہوئے۔ وہ جب احتجاج کرنے پر اتر آئے اور بات مرکز تک پہنچی تو انڈیا ہاؤس پر مرزائیوں کے قبضے کا چرچا ہوا۔ صورت ایسی ہوئی کہ یہ علاقہ مرزائیوں کی دستبرد سے باہر ہوگیا میں وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ کس مسلمان سفیر نے حوصلہ کیا اور مسلمانوں کی داد رسی کی کہ انڈیا ہاؤس پر مرزائیوں کا قبضہ نہ رہا۔ انہی دنوں مجلس عمل نے جس حد تک ہو سکا بیرونی سفارتخانوں پر دھیان دیا اور یہ جاننا چاہا کہ امت مرزائیہ جو اندرون ملک میں مسلمانوں کی آنکھوں میں دھول ڈال کر جو کچھ نظر آتا ہے ہتھیا لیتی ہے۔
باہر جہاں وزارت خارجہ کی دیوار ہے خدا جانے کیسا اندھیر ہوگا معلوم ہوا کہ مرزائی لٹریچر سرکاری ذرائع سے بیرونی ممالک میں بھیجا جا رہا ہے۔ اس صورت حال نے مسلمانان پاکستان کو مجبور کر دیا کہ وہ سر ظفر اللہ خان کی علیحدگی کا مطالبہ سختی سے کریں۔ اور سارا زور اس پر لگا دیں کہ کسی صورت میں سر ظفر اللہ خان سے وزارت خارجہ کا قلمدان چھین لیا جائے۔ ردّ مرزائیت کے سلسلے میں مجلس عمل کے راہنما حالات کا تجزیہ کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ اگر سر ظفر اللہ آج وزارت خارجہ سے علیحدہ ہو جاتے ہیں تو مرزائیت کی کمر ٹوٹ جائے گی۔ آدھی فتح صرف اس مطالبے کے تسلیم کر لیے جانے میں مضمر ہے۔ عام اندازہ یہی تھا کہ سر ظفر اللہ کی علیحدگی سے مرزائیت کا پچاس فیصد زور ختم ہو جائے گا اور اقلیت قرار دیئے جانے پر بقایا کا صفایا ہوگا۔
جذبہ صادق
راقم کا اپنا مشاہدہ ہے کہ کئی بار وہ ریلوے اسٹیشن پر تاخیر سے پہنچے اور گاڑی کی روانگی کا وقت ہوتا تو اس پیرانہ سالی میں جب کہ مثانہ کے غدود کا آپریشن ہوئے زیادہ مدت بھی نہ گزری تھی‘ وہ ریل گاڑی میں بھاگ کر سوار ہوتے۔ دو تین بار ایسا ہوا کہ چلتی گاڑی میں پائیدان پر چڑھ کر اور دروازے کے ڈنڈے کو تھام کر سفر کر رہے ہیں۔ تاخیر کی صورت میں سلاخوں کے جنگلوں سے گزرنا اور بھاگتے ہوئے گاڑی پر سوار ہونا تو تقریباً معمول بن چکا تھا۔ کیا اس جانفشانی کو مقصد سے عشق کے سوا کوئی اور نام بھی دیا جا سکتا ہے کہ بڑھاپا اور شدید مرض بھی ان کے جذبہ صادق کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ بن سکا۔ ان کا جواں سال عزم دیوانہ وار اپنی منزل کی طرف بڑھتا رہا اور ایک لمحہ کی غفلت بھی برداشت نہ کر سکا۔
جان و دل ما بردہ ای‘ این است رسم دلبری
کئی بار ایسا بھی ہوا کہ جس جگہ تقریر کرنے جانا ہوتا وہاں تک کسی سواری کا انتظام نہ ہوتا تو پیدل چلتے رہتے، سائیکل پر سوار ہو جاتے اور چند واقعات تو ان کے گدھے پر سوار ہو کر جانے کے بھی ہیں۔
(”حضرت مولانا محمد علی جالندھری“ ص ۱۸۰۔۱۸۱ از ڈاکٹر نور محمد غفاری)
یہ نکتہ ہے مسلماں کی حیات جاودانی کا
چودھری ظفر اللہ خان کے متعلق ایک مکتوب
"محترم ایڈیٹر صاحب، ہفت روزہ "لولاک" لائل پور، السلام علیکم! گزارش ہے کہ "نوائے وقت" (۱۱ فروری) میں سر راہے کے کالم نویس نے علماء اسلام کی تنقیص و مذمت اور چودھری ظفر اللہ خان کی مدح و منقبت کے سلسلے میں جو کچھ لکھا ہے، میں اس کے بعض اجزاء کی نسبت مختصر گزارشات پیش کرتا ہوں۔
کالم نویس نے اپنے بزرگ چودھری ظفر اللہ خان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ: "ہم نے اللہ تعالیٰ سے یہ وعدہ کیا تھا کہ جب پاکستان مل جائے گا تو ہم اس میں اسلامی اور قرآنی نظام حیات قائم کریں گے۔ لیکن ہم نے دین کو دنیا کا تابع کر دیا۔ اللہ تعالیٰ کی گرفت دیر سے شروع ہوتی ہے، لیکن بڑی سخت ہوتی ہے"۔
میں کالم نویس صاحب کی وساطت سے ان کے بزرگ چودھری صاحب سے پوچھتا ہوں کہ آپ اسی پاکستان کے کئی سال تک وزیر خارجہ رہ چکے ہیں، کیا آپ نے اپنے زمانہ وزارت میں پاکستان میں قرآنی اور اسلامی نظام حیات قائم کرنے کی کوئی کوشش کی تھی؟ اگر کی تھی تو بتائیے اس کی نوعیت کیا تھی اور اس کا کیا نتیجہ برآمد ہوا؟ اور اگر آپ نے ایسی کوئی کوشش نہیں کی تو آپ کو تسلیم کر لینا چاہیے کہ آپ نے دین کو دنیا کا تابع بنایا۔ پھر آپ کس منہ سے مسلمانوں کو خدا کی گرفت میں آنے کی وعید سنا رہے ہیں۔ آپ کو خود کبر مقتا عند اللہ ان تقولوا ما لا تفعلون O کی وعید سے ڈرنا چاہیے۔ اور اگر قرآنی نظام حیات سے آپ کی مراد آپ کے مخصوص عقائد کی تبلیغ اور اس کے لیے فضا ہموار کرنا ہے تو بلاشبہ آپ نے اس "فرض" کی ادائیگی میں اپنے دور وزارت میں بھی نہ صرف پاکستان میں، بلکہ بیرونی ممالک میں بھی نہایت اہم کردار پیش کیا ہے۔ اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا، ہر کہ شک آرد "کافر" گردد۔ چودھری صاحب کا قول مذکور نقل کرنے کے بعد "نوائے وقت" کے کالم نویس صاحب فرماتے ہیں:
"ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ مسلمانوں کو اس یاد دہانی کی سعادت ایک ایسے بزرگ کو حاصل ہوئی ہے، جسے عام مسلمان "مرزائی" کہتے ہیں اور علماء دین "مسلمان" ہی تسلیم نہیں کرتے۔ اب ہم علماء دین کو کیسے یاد دلائیں کہ یہ فرض ان کا تھا لیکن ادا کرنے کی سعادت چودھری ظفر اللہ خان کو ہوئی"۔
خدا جانے کالم نویس صاحب سے کس مسخرے نے کہہ دیا ہے کہ یہ سعادت صرف چودھری صاحب کے حصہ میں آئی اور علماء اسلام اس سعادت سے محروم رہے؟ واقعہ یہ ہے کہ علماء اسلام پاکستان کے یوم تاسیس سے اس وقت تک پاکستان کی تمام وزارتوں اور حکومتوں کے دور میں اسلامی نظام کے قیام کا پر زور مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ تقریروں، تحریروں، قرار دادوں، تاروں، محضر ناموں اور ارباب اقتدار سے ملاقاتوں کے ذریعہ برابر صدائے حق بلند کرتے رہے ہیں اور اب بھی کر رہے ہیں۔ لیکن علماء کرام کی یہ آواز وزارتوں اور حکومتوں کے نقار خانے میں ہمیشہ طوطی کی صدا بن کر رہ گئی۔ حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی رحمتہ اللہ علیہ اور جمعیتہ علماء اسلام کی کوشش سے خان لیاقت علی خان مرحوم کے عہد میں خدا خدا کر کے قرارداد مقاصد منظور ہوئی تھی لیکن شاطران سیاست نے اس قرار داد کو مات دے دی۔ پھر اس صورت حال کے ہوتے ہوئے چودھری ظفر اللہ خان کی عمر کے آخری دور کی ایک خلاف معمول تقریر کو (جس کے "راز دروں" کا پردہ مستقبل ہی اٹھائے گا) بنیاد ٹھہرا کر علماء اسلام کو اعلائے کلمۃ الحق کی سعادت سے محروم قرار دینا انتہائی غیر ذمہ دارانہ حرکت نہیں تو اور کیا ہے؟
کالم نویس صاحب نے یہ بھی تحریر فرمایا ہے کہ:
"بارشیں نہیں ہو رہیں، ہوتی ہیں تو نہ ہونے کے برابر۔ ابر آتا ہے، لیکن برستا نہیں۔ روزانہ زلزلے آ رہے ہیں، لیکن ہم مسلمان ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا اشارہ نہیں سمجھ رہے ہیں۔ کوئی عجب نہیں گرفت شروع ہو چکی ہو اور بڑوں اور علماء کرام کی نافرمانیوں کی سزا ساری ملت کو بھگتنی پڑے"۔
اس عبارت کو پڑھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے مرزا غلام احمد صاحب قادیانی
آنجہانی بول رہے ہیں۔ مرزا صاحب بعینہ اسی طرح تمام زمینی اور آسمانی بلاؤں کے نزول کا سبب علمائے کرام کی ”نافرمانیوں“ کو قرار دیا کرتے تھے۔ اگر ”نوائے وقت“ کے کالم نویس صاحب ”کرے مونچھوں والا اور پکڑا جائے داڑھی والا“ کے فلسفہ کے قائل نہیں ہیں تو وہ مہربانی کر کے بتائیں تو سہی کہ خدا کی نافرمانیوں اور گناہوں کا جو سیلاب موجود ہے اور معصیتوں اور بد معاشیوں اور الحاد و زندقہ کا جو طوفان برپا ہے‘ اس کا ذمہ دار کون ہے؟ زنا کاری‘ قمار بازی‘ شراب نوشی‘ ناچ رنگ‘ سینما‘ فحاشی‘ بے حیائی‘ سود‘ چوری‘ ڈکیتی‘ رشوت‘ خیانت کے کاروبار کون کرتا ہے؟ اور اس کاروبار کو فروغ دینے والے کون لوگ ہیں؟ اور کیا یہی وہ جرائم نہیں ہیں جن کی گرم بازاری خدائے قہار کے عذاب کو دعوت دینے کا موجب ہے؟ پھر یہ بھی سوچئے کہ کیا بد عملی کے ساتھ بد اعتقادی اور الحاد و زندقہ کی اعلانیہ نشر و اشاعت نے قوم کو ”نیم چڑھا کریلا“ بنا کر نہیں رکھ دیا ہے؟
جب کچھ لوگ خاتم الانبیاء والمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت و پیغمبری کا دعویٰ کرنے لگیں اور ان کی تصدیق کے لیے کچھ لوگ اٹھ کھڑے ہوں اور بعض لوگ ”رواداری“ کے ہیضہ کا شکار ہو کر ان کی پیٹھ ٹھونکنے لگیں اور بعض منافقین حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو حاکمانہ اور وقتی اور ہنگامی اطاعت قرار دے کر مسلمانوں کو اسلام ہی سے باغی بنانے کی سعی لاحاصل میں لگے ہوئے ہوں تو اللہ تعالیٰ کا غضب و غصہ کیوں نہ بھڑکے؟
یہ وہ ہولناک جرائم ہیں جو اس ملک میں ڈنکے کی چوٹ ہو رہے ہیں اور جن پر قرآن و حدیث میں جابجا شدید عذابوں سے ڈرایا گیا ہے۔ حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی دنیا کے آخر پر مختلف عذابوں کے آنے کی پیش گوئی فرمائی ہے۔ یہ پیش گوئی انجیل متی‘ باب ۲۴‘ آیت ۴ تا ۱۱ میں موجود ہے۔ آپ نے فرمایا (جس کا خلاصہ یہ ہے) کہ:
”بہتیرے میرے نام سے آئیں گے اور کہیں گے کہ میں مسیح ہوں اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کریں گے اور تم لڑائیاں اور لڑائیوں کی افواہ سنو گے۔ قوم پر قوم اور سلطنت پر سلطنت چڑھائی کرے گی اور جگہ جگہ کال پڑیں گے اور
بھونچال آئیں گے۔ (الی قولہ) بہت سے جھوٹے نبی اٹھ کھڑے ہوں گے اور بہتیروں کو گمراہ کریں گے"۔
علماء اسلام دنیاوی وسائل و اسباب سے محرومی بلکہ بے نیازی کے باوجود دین کے مختلف شعبوں میں جو خدمات سرانجام دے رہے ہیں ' اس پر اگر "نوائے وقت" ان کو داد تحسین نہیں دے سکتا تو کم از کم ان کی توہین کر کے دشمنان دین کے ہاتھ بھی تو مضبوط نہ کرے۔
"نوائے وقت" کے کالم نویس صاحب نے یہ بھی لکھا ہے کہ :
"ممکن ہے کل یہ علماء ہمارا جنازہ پڑھانے سے ہی انکار کر دیں۔ لیکن ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے مصلحت پسند علماء کو ' جو حق بات کہنے کی بھی جرات نہیں رکھتے ' جلد سے جلد اپنے پاس بلالے ' ہم ان کے بغیر ہی اچھے ہیں"۔
آپ نے بجا فرمایا۔ لیکن مطمئن رہئے ' آپ نماز جنازہ کے بغیر دفن نہیں ہوں گے۔ مرزا ناصر احمد یا ان کا کوئی قائم مقام آپ کا جنازہ پڑھا دے گا۔ بشرطیکہ آپ علماء اسلام کی موت اور ربوہ اور قادیان کی سلامتی کی دعائیں بالالتزام فرماتے رہیں"۔
("ہفت روزہ "لولاک" لائل پور ' ۱۱ مارچ ۱۹۶۶ء ' مضمون مولانا بہاء الحق قاسمی)
حسین خواب
"نفحۃ العنبر" ص ۲۰۴ حضرت بنوری مرحوم خود لکھتے ہیں :
میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک مصلیٰ پر ایک طرف عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام اور دوسری طرف حضرت سید انور شاہ کشمیریؒ تشریف فرما ہیں۔ میں کبھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے روح پرور چہرہ اقدس کی طرف دیکھتا اور کبھی چہرہ انور کی طرف دیکھتا۔ یہ کیفیت مجھ پر طاری تھی کہ ہر دو حضرات کے مبارک چہروں سے استفاضہ و شرف زیارت سے مستفید ہو رہا تھا کہ بیدار ہو گیا۔ بیداری کے وقت خوشی و غم کی ملی جلی کیفیت تھی۔ خوشی ان حضرات کی زیارت کی اور غم کہ جلدی کیوں بیداری ہو گئی۔ اے کاش زیادہ وقت نظارہ کی سعادت نصیب ہو جاتی۔ اے مولیٰ کریم قیامت کے دن ان حضرات کی معیت نصیب فرما۔ (آمین)
ظفر اللہ خان قادیانی، چواین لائی کے قدموں میں
صاحبزادہ طارق محمود
اس میں شک نہیں کہ دنیا کے نقشہ پر ابھرنے والے انقلابی ملک چین نے زرعی، اقتصادی اور حربی میدان میں زبردست ترقی کی۔ چین بلاشبہ ایک خاموش سپر طاقت ہے۔ روس کی بڑھتی ہوئی طاقت اور جارحیت کے پیش نظر امریکہ نے چین کے ساتھ تعلقات کی بنیاد رکھی۔ امریکہ کے چین کے ساتھ خیرسگالی کے جذبات اور تعلقات کا واضح مقصد روس کے گرد گھیرا ڈالنا تھا۔ بین الاقوامی سیاست میں یہ ایک انقلابی تبدیلی تھی کہ دو سپر پاورز ایک دوسرے کے نزدیک ہوئیں اور ان کے درمیان خوشگوار تعلقات قائم ہوئے۔ قادیانی جماعت کے رہنما اور سابق عالمی عدالت کے جج سر ظفر اللہ خان نے سوچا کہ اس صورت حال سے فائدہ اٹھا کر چین میں قادیانی جاسوسی کا اڈہ قائم کرنا چاہئے۔ چنانچہ سر ظفر اللہ نے اچانک چین کا دورہ کیا۔ چینی لیڈروں اور بالخصوص چینی وزیراعظم چواین لائی سے اس ’’گہرے‘‘ مقصد کے لیے مذاکرات کیے۔ اس ملاقات کی تفصیل مولانا تاج محمودؒ نے اپنے ہفتہ وار رسالہ ”لولاک“ میں کچھ اس طرح سپرد قلم کی ہے:
”ہمیں معتبر ذرائع سے یہ معلوم ہوا ہے کہ کچھ عرصہ پیشتر جب امریکہ بہادر اور چین کے تعلقات استوار ہونا شروع ہوئے تو چوہدری ظفر اللہ خان بھی اچانک چین جا پہنچے۔ چونکہ وہ پاکستان کے کئی سال تک وزیر خارجہ رہے تھے، پھر ہمارے حکمرانوں کی حماقت سے وہ یو این او میں پاکستان کے نمائندہ رہے، پھر عالمی عدالت کے جج بنے رہے، اپنے اس تعارف کی بدولت وہ چین پہنچ کر دوسرے چینی رہنماؤں کے علاوہ چواین لائی سے بھی ملے اور ان سے درخواست کی کہ انہیں چین میں جماعت احمدیہ کا مشن قائم کرنے
کی اجازت دی جائے۔ چو این لائی نے چوہدری ظفر اللہ خان سے کہا کہ ہماری اطلاعات کے مطابق آپ کی جماعت استعماری طاقتوں کی ایجنٹ اور جاسوس ہے۔ چوہدری صاحب نے کہا کہ نہیں‘ ہمارے متعلق کسی نے غلط اطلاعات بہم پہنچائی ہیں۔ ہمارا سامراجی طاقتوں سے کوئی تعلق نہیں‘ ہم تو اسلام کی تبلیغ کرتے ہیں۔ چو این لائی نے کہا کہ اسرائیل پوری دنیائے اسلام کا دشمن ہے۔ پاکستان نے ابھی تک اسے تسلیم نہیں کیا ہے‘ پھر کیا وجہ ہے کہ اسرائیل اور تمہاری جماعت کے دوستانہ تعلقات ہیں۔ تمہارا مشن وہاں موجود ہے جبکہ اسرائیل نے عیسائیوں کے تمام مشن بھی وہاں سے نکال دیے ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ تم اسلام اور مسلمانوں کے وفادار نہیں‘ بلکہ ان کے دشمنوں سے گٹھ جوڑ رکھتے ہو۔ چو این لائی کے جواب سے چوہدری صاحب کو پسینہ آ گیا اور وہ آئیں بائیں شائیں کرنے لگے۔
چو این لائی نے چوہدری صاحب سے دوسرا سوال یہ کیا کہ جس اسلام کی تم تبلیغ کرنا چاہتے ہو‘ وہ کسی نظام مملکت کو چلا سکتا ہے اور دنیا میں تمہاری کون سی مملکت ہے جہاں یہ نظام کامیابی سے نافذ ہے۔ چوہدری صاحب نے کہا کہ ہاں ہم جس اسلام کی تبلیغ کرتے ہیں‘ وہ نظام مملکت کی بھی رہنمائی کرتا ہے لیکن ابھی جماعت احمدیہ کوئی ملک حاصل نہیں کرسکی۔ چو این لائی نے پھر پوچھا: وہ ملک تم کہاں حاصل کرنا چاہتے ہو۔ اس سے سر ظفر اللہ خان چو این لائی کا مطلب سمجھ گیا اور بہت پریشان ہو گیا اور بات ٹالنے کی کوشش کرتا رہا کہ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ دنیا میں کہیں ہماری مملکت قائم ہو جائے۔
بہر حال چو این لائی چوہدری صاحب کے دام میں نہ آئے اور انہوں نے چین میں مرزائیوں کو کوئی جاسوسی اڈہ قائم کرنے کی اجازت نہ دی‘ البتہ چوہدری صاحب کے چو این لائی سے ملنے کا یہ اثر ہوا کہ چین کی حکومت نے مرزائی جماعت کا مزید مطالعہ کیا۔ یہاں تک کہ پاکستان میں مقیم چین کے سفیر ربوہ آئے اور ایک رات یہاں قیام کیا اور مرزائی لیڈروں سے تبادلہ خیالات کیا۔ غالباً چینی سفیر نے ربوہ کا دورہ کرنے کے بعد اپنی حکومت کو جو رپورٹ بھیجی‘ اس میں بھی چو این لائی کی سابقہ اطلاعات کی توثیق کر دی گئی۔‘‘
(ہفت روزہ ”لولاک“ فیصل آباد‘ یکم فروری 1976ء
ج 12 ش 42‘ ص 1 ایڈیٹر مولانا تاج محمود مرحوم)
17 اپریل 1972ء کو چینی سفیر نے اچانک ربوہ کا دورہ کیا۔ یہ دورہ اتنا خفیہ تھا کہ ہفت روزہ ”المنبر“ کو لکھنا پڑا:
”17 اپریل 1972ء کو یہ حیرت انگیز واقعہ رونما ہوا کہ پاکستان کے عظیم دوست چین کے سفیر نے ربوہ کا خفیہ دورہ کیا۔ تقریباً 24 گھنٹے ربوہ میں رہے مگر اس کی خبر کہیں شائع نہ ہوئی۔“
(ہفت روزہ ”المنبر“ لائل پور ص 15‘ ج 19‘ ش 45‘ 5 دسمبر 1974ء)
نوٹ: چینی سفیر کے دورۂ ربوہ کی مکمل تفصیل 24 اپریل 72ء کے ”المنبر“ میں شائع ہوئی۔
چینی سفیر نے ربوہ کا جب دورہ کیا تو واپسی پر چینی سفیر فیصل آباد کے ایک ریسٹ ہاؤس میں ٹھہرے تھے جہاں غازی سراج الدین منیر مرحوم (غازی سراج الدین صاحب کا ذکر منیر انکوائری رپورٹ میں بھی ملتا ہے۔ موصوف 1953ء میں قائم کیے جانے والے تحقیقاتی بنچ میں پیش ہوئے تھے) نے ان سے ملاقات کی۔ غازی صاحب نہایت وجیہہ، اعلیٰ تعلیم یافتہ اور حکومتی و سفارتی حلقوں کی جانی پہچانی شخصیت تھے۔ ایک مدت بعد جب راقم کی غازی سراج الدین منیر سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے چینی سفیر کے ساتھ ملاقات کی تفصیلات جاننا چاہیں تو مرحوم نے فرمایا تھا کہ اس ملاقات کی تفصیل میں نے آپ کے والد گرامی مرحوم کو بتا دی تھیں۔ اسی ذریعہ (Source) کی معرفت والد محترم نے اپنے جریدہ ”لولاک“ میں چو این لائی اور ظفر اللہ خان کی ملاقات پر اداریہ سپرد قلم کیا تھا۔ غازی صاحب مرحوم نے راقم کو بتایا تھا کہ قادیانی چین میں اپنا مرکز قائم کرنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔ تاہم میں نے انہیں قادیانیوں کے عقائد اور ناپاک عزائم سے آگاہ کر دیا ہے۔ غازی صاحب کے پاس اس سلسلہ میں کچھ دیگر معلومات بھی تھیں۔ راقم اس ذخیرے کا متلاشی تھا۔ لیکن ناگہاں غازی سراج الدین کا انتقال ہو گیا اور وہ تمام معلومات جو مرحوم کے پاس محفوظ تھیں، ہمیں حاصل نہ ہو سکیں۔
(قادیانیت کا سیاسی تجزیہ ص 578 تا 582)
کیا سر ظفر اللہ خان تحریک پاکستان میں شامل تھے؟
محمد عمر فاروق
اے این پی کے رہبر خان عبدالولی خان کچھ عرصہ کی خاموشی کے بعد پھر بانی پاکستان محمد علی جناح اور مسلم لیگ کے درپے ہیں۔ انھوں نے چند سال پہلے اپنی کتاب میں یہ مضحکہ خیز دعوی کیا تھا کہ قرارداد پاکستان سابق وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان قادیانی نے تیار کی تھی چونکہ سر ظفر اللہ خان قادیانی کا تحریک پاکستان میں کردار جناب ولی خان کے دعویٰ کی نفی کرتا ہے۔ اس لیے اس سلسلے میں کچھ معروضات پیش خدمت ہیں۔
یہ حقیقت ذہن میں رہنی چاہیے کہ آنجہانی چودھری ظفر اللہ خان سکہ بند قادیانی تھے اور وہ اپنے قادیانی سربراہ مرزا بشیر الدین محمود کے تمام احکام کو مقدم سمجھتے اور ان کی بجا آوری کو مذہبی فریضہ جان کر انجام دیتے۔ جس کی تصدیق ظفر اللہ خان کی کتاب ”تحدیث نعمت“ سے کی جاسکتی ہے۔ قادیانی جماعت روز اوّل سے ہی تحریک آزادی اور آخر میں تحریک قیام پاکستان کی شدید مخالف رہی۔ اہل نظر بخوبی آگاہ ہیں کہ قادیانیت کی اٹھان ہی انگریز کی بلاشروط اطاعت سے ہوئی تھی اس لیے ان کا ہر قدم اور عمل انگریز سرکار کی خوشنودی کے لیے ہوتا تھا۔ خود بانی قادیانیت آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی اپنے آپ کو ”انگریز کا خود کاشتہ“ پودا کہلاتے اور انگریزی حکومت کے وفادار ہونے پر خوشی سے بغلیں بجاتے تھے۔ نیز ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں مجاہدین کے خلاف اپنے والد مرزا غلام مرتضی کی انگریزی خدمات کا تذکرہ کرنا باعث فخر سمجھتے تھے۔ مرزا قادیانی کی کتب انگریز حکومت کی تعریفوں سے بھری پڑی ہیں۔ مرزا کے فرزند و جانشین مرزا بشیر الدین محمود بھی سرکار برطانیہ کی خدمت گزاری میں اپنے والد سے کم نہ تھے۔ مرزا بشیر الدین نے ہی سر ظفر اللہ
خان کو حکومت برطانیہ کے ایماء پر فلسطین کے دورے پر بھیجا تھا۔ جنھوں نے صیہونی ریاست اسرائیل کے قیام کے لیے اپنی صلاحیتیں بروئے کار لائیں۔
پنجاب میں انگریزوں کے سب سے بڑے حاشیہ بردار سر فضل حسین تھے۔ وہ جناح صاحب کا پنجاب میں مقبول ہونا سخت ناپسند کرتے تھے۔ جب بانی پاکستان محمد علی جناح نے مجلس احرار اسلام جمعیت علماء ہند اور دیگر مسلمان حریت پسند جماعتوں کے ساتھ مل کر مسلم پارلیمنٹری بورڈ بنایا تھا تو انہی سر فضل حسین کی کارستانیوں کے طفیل جناح کا مسلم اتحاد کا وہ خواب چکنا چور ہو گیا تھا۔ سر فضل حسین گورنمنٹ کی ہدایت پر ظفر اللہ خان پر حد درجہ مہربان تھے۔ آپ نے پہلی گول میز کانفرنس میں سر ظفر اللہ خان کو لندن بھجوایا۔ جس کا مقصد ان کے اپنے بقول یہ تھا کہ ”سر ظفر اللہ خان کانفرنس میں کانگریسی لیڈروں کی غیر موجودگی میں محمد علی جناح کو دو بدو جواب دے اور یہ کہہ سکے کہ جناح کے خیالات ہندوستانی مسلمانوں کے خیالات نہیں ہیں (سر میلکم ہیلی کے نام سر فضل حسین کا خط ۱۰ مئی ۱۹۳۰ء) گویا گول میز کانفرنس میں ظفر اللہ خان محمد علی جناح کے بالمقابل چنے گئے اور انھوں نے یہ خدمت بھی بطریق احسن انجام دی۔
لندن سے واپسی پر ۲۵ دسمبر ۱۹۳۱ء کو آل انڈیا مسلم لیگ دہلی کے اجلاس کی صدارت کے لیے قادیانیوں نے شب خون مارا اور ظفر اللہ خان کی صدارت کا اعلان کر دیا۔ جس کا ردعمل مسلمانوں میں شدید ہوا اور ان کی یہ سازش ناکام بنا دی گئی۔ تو قادیانیوں نے مسلم لیگ کو دو دھڑوں میں تقسیم کرا دیا۔ ظفر اللہ خان مسلمانوں میں اپنی قادیانیت اور سازشی ذہن کی وجہ سے مشکوک اور ”متروک“ ہو گئے۔ اس ناپسندیدگی کا اظہار نہ صرف عام مسلمانوں بلکہ صف اول کی مسلمان قیادت میں بھی پایا جاتا تھا۔ جس کا اظہار علامہ محمد اقبال کے اس خط سے بھی ہوتا ہے۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب ۱۹۳۱ء میں مجلس احرار اسلام کی تحریک کشمیر کے نتیجے میں پچاس ہزار افراد گرفتار ہوئے تھے۔ بعد ازاں اکثر اسیروں پر مقدمات قائم کیے گئے جو طویل عرصہ تک چلتے رہے۔ ۱۹۳۴ء میں علامہ اقبال نے بعض مقدمات کی پیروی کے لیے مسٹر نعیم الحق اور شیخ عبدالحمید ایڈووکیٹ کو آمادہ کیا۔ اسی دوران میر پور کے ایک مقدمہ کے کاغذات انھیں موصول ہوئے اور علامہ اقبال یہ مقدمہ بھی مسٹر نعیم الحق ایڈووکیٹ کے سپرد کرنا چاہتے تھے کہ معلوم ہوا کہ اس کیس کی پیروی چودھری ظفر
اللہ خان کریں گے۔ جس پر علامہ اقبال نے لکھا کہ ”چودھری ظفر اللہ خان کیوں اور کس کی دعوت پر وہاں جا رہے ہیں۔ شاید کشمیر کانفرنس کے بعض لوگ ابھی تک قادیانیوں سے خفیہ تعلقات رکھتے ہیں (مکاتیب اقبال صفحہ ۲۴۵)
گول میز کانفرنسوں میں سر ظفر اللہ خان مسلمانوں کے ہر جائز مسئلے اور مطالبے کی مخالفت پر کمر بستہ رہے۔ یہاں تک کہ تیسری گول میز کانفرنس کے موقع پر لفظ پاکستان اور پاکستان سکیم کو طلباء کی سکیم اور اسے ناقابل عمل اور باطل خیال قرار دیا۔
(قائد اعظم از جی الانہ ص ۳۰۷)
ظفر اللہ خان کی ان برطانوی خدمات کا سر سیموئل ہور وزیر ہند نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ”ہندوستان میں ان کا مستقبل نہایت شاندار ہے اور امید ظاہر کی کہ آپ دولت برطانیہ کے ہمیشہ مخلص رہیں گے۔ (الفضل قادیان ۲۴ جولائی ۱۹۳۴)
جب سر فضل حسین ۱۹۳۲ء میں وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل سے علیحدہ ہوئے تو انھوں نے ظفر اللہ خان کو اپنا جانشین مقرر کرانا چاہا۔ سر فضل حسین ایسے قدیمی خدمت گزار کی بات انگریز کب ٹال سکتا تھا۔ لہٰذا اس تجویز پر حکومتی حلقوں میں غور و خوض شروع ہوا۔ جب اس کی اطلاع مسلمانوں کو ہوئی تو اس پر شدید احتجاج ہوا۔ مجلس احرار اسلام کا ایک وفد وائسرائے سے ملا جس میں مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی میر احمد حسین شملہ اور مسٹر محمود احمد کاظمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ الہ آباد شامل تھے۔ وفد نے مسلمانوں کی سیٹ (Seat) پر قادیانی نمائندے کی تقرری پر احتجاج کیا لیکن سر فضل حسین اور قادیانیوں کی دوہری حمایت کے صلے میں ۱۰ اکتوبر ۱۹۳۲ء کو سر ظفر اللہ کو وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کا ممبر نامزد کر دیا گیا۔
۱۹۳۴ء میں پنڈت نہرو نے قادیانیوں کی حمایت میں مضمون شائع کیا تو اس کے جواب میں علامہ محمد اقبال نے کئی مضامین لکھے۔ جس پر قادیانی حلقوں میں بجلی کوند گئی اور قادیانی علامہ اقبال کے خلاف ریشہ دوانیوں میں مصروف ہو گئے اور کانگریس سے راہ و رسم بڑھانے لگے۔ ۱۹۳۶ء میں قادیانیوں نے لاہور کے مقام پر پنڈت نہرو کا زبردست استقبال کیا جس میں سر ظفر اللہ خان کے حقیقی بھائی چودھری اسد اللہ خان اپنے بھائی کی نمائندگی کے لیے موجود تھے۔ (الفضل ۳۱ مئی ۱۹۳۶ء)
۲۳ مارچ ۱۹۴۰ء میں جب مسلمانان ہند نے قرارداد پاکستان منظور کی تو قادیانی
بوکھلا گئے اور تحریک پاکستان کی راہ میں روڑے اٹکانے کے لیے تیزی سے سرگرم ہو گئے۔ ظفر اللہ خان نے ۱۲ مارچ ۱۹۴۰ء کو لارڈ لنلتھگو کے نام ایک طویل خط میں علیحدہ مسلم ریاست کے قیام کی شدید مخالفت کی۔ گویا انھوں نے قرارداد پاکستان کی منظوری سے قبل ہی انگریز سرکار کے لیے جاسوسی کا آغاز کر دیا تھا۔
قادیانی قیام پاکستان کو اپنی جماعت کے لیے مضر خیال کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ پاکستان کی مخالفت کے لیے کانگریس کی ہمنوائی سے بھی دریغ نہیں کر رہے تھے۔ تحریک پاکستان میں ڈیڈ لاک پیدا کرنے کے لیے ظفر اللہ خان کسی سے پیچھے نہ تھے۔ ان کی بھرپور کوشش تھی کہ پاکستان معرض وجود میں نہ آئے۔ جس کے لیے انھوں نے ۱۹۴۴ء میں ایک پمفلٹ بھی تحریر کیا۔ جس کا نام ”دی ہیڈ آف احمدیہ موومنٹ“ تھا اور انھوں نے اس میں مرزا بشیر الدین محمود کے پاکستان دشمن خیالات و نظریات اور ان کی شخصیت کو پیش کیا۔ اس میں ظفر اللہ نے مرزا بشیر الدین کے نظریات کی ترجمانی کرتے ہوئے اور اپنے خبث باطن کا مظاہرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ”مرزا بشیر الدین محمود احمد“ اکھنڈ بھارت کے مؤید ہیں اور پاکستان جیسی علاقائی تحریک کے مخالف ہیں (سر ظفر اللہ دی ہیڈ آف احمدیہ موومنٹ صفحہ ۲۶ لندن ) اس پمفلٹ کو وسیع پیمانے پر ہندوستان بھر میں پھیلایا گیا۔ مذکورہ عبارت سے ظفر اللہ اور مرزا بشیر الدین کے پاکستان دشمن خیالات پر غور فرمائیے۔ ایک طرف تو وہ بعد میں مسلم لیگ کی محبت کا دم بھرنے لگے تھے اور دوسری طرف اکھنڈ بھارت کے منصوبے کو بھی پروان چڑھا رہے تھے۔ اسی اثناء میں مرزا بشیر الدین نے قادیان کو خود مختار اور علیحدہ ریاست کے طور پر برقرار رکھنے کے لیے خاص تگ و دو کی۔ اس نے لیبر حکومت کو ایک میمورنڈم کے ذریعے قادیان کو رومن کیتھولک پوپ کے شہر ویٹیکن کا درجہ دینے کی استدعا کی جو مسترد کر دی گئی اور مزید برآں بشیر الدین محمود نے سکھ لیڈر وریام سنگھ سے آزاد پنجاب کے سوال پر گفت و شنید اور پنجاب کو تقسیم ہونے سے بچانے اور قادیان کے تحفظ کے لیے کافی دوڑ دھوپ کی جو کامیاب نہ ہو سکی (قادیانی ترجمان الفضل ۱۲ جنوری ۱۹۵۵ء)
۱۹۴۵ء مسلم لیگ کے عروج کا دور تھا۔ جب قادیانیوں نے بعض مصلحتوں کے پیش نظر مسلم لیگ کی حمایت کا اعلان کیا۔ لیکن در پردہ یونینسٹوں اور آزاد امیدواروں کے حق میں ووٹ ڈالے اور جب قادیانی مذہبی ڈیرے داروں اور ان کے سیاسی شاطروں کی شدید
مخالفت اور چالبازیوں کے باوجود پاکستان کا قیام ایک اٹل حقیقت بن کر دکھائی دینے لگا تو مرزا بشیر الدین‘ ظفر اللہ کے بھائی اسد اللہ خان اور دیگر قادیانیوں کے ہمراہ دہلی گئے اور وہاں ممتاز لیگی رہنماؤں کے علاوہ پنڈت نہرو سے بھی ملاقات کی۔ پاکستان کی واضح حقیقت نظر آنے پر مرزا بشیر الدین نے پینترا بدلا اور ۱۴ مئی ۱۹۴۷ء کو کہا کہ ”میں قبل ازیں بتا چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ہندوستان کو اکٹھا رکھنا چاہتی ہے لیکن قوموں کی منافرت کی وجہ سے عارضی طور پر الگ بھی کرنا پڑے...... یہ اور بات ہے کہ ہم ہندوستان کی تقسیم پر رضا مند ہوئے تو خوشی سے نہیں‘ بلکہ مجبوری سے اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح پھر متحد ہو جائیں (الفضل ۱۷ مئی ۱۹۴۷ء) مرزا کا یہ بیان اکھنڈ بھارت منصوبے کا بھی واضح اشارہ دیتا ہے۔ اس سے پہلے مرزا نے ۱۱ جون ۱۹۴۷ء کو اپنی ایک تقریر میں پاکستان کے مطالبے کو غلامی مضبوط کرنے والی زنجیر قرار دیا تھا۔
اسی طرح ۳ جون ۱۹۴۷ء کو مرزا بشیر الدین نے اپنے ایک پمفلٹ ”سکھ قوم کے نام دردمندانہ اپیل“ میں لکھا کہ ”میں دعا کرتا ہوں کہ اے میرے رب میرے اہل ملک کو سمجھا دے۔ اوّل تو ملک بٹے نہیں اور اگر بٹے تو اس طرح بٹے کہ پھر مل جانے کے راستے کھلے رہیں“ پھر ۳ اپریل ۱۹۴۷ء کو ظفر اللہ خان کے بھتیجے کی تقریب نکاح میں بھی انہی خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ ”انھیں کوشش کرنی چاہیے کہ یہ حالت جلد دور ہو اور اکھنڈ ہندوستان بنے۔ جہاں ساری قومی شیر وشکر ہوں ۔“ (الفضل ۵ اپریل ۱۹۴۷ء)
ان بیانات سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مسلم لیگ کی حمایت کا اعلان قادیانیوں نے عوام اور رہنماؤں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے کیا تھا۔ جب کہ ان کے متذکرہ بیانات و اعلانات ان کی مسلم دشمنی اور ملک دشمنی کے گواہ ہیں۔ سر ظفر اللہ اپنے اس روحانی پیشوا کے ہمنوا اور ہمرکاب تھے اور انھوں نے مرزا بشیر الدین کے ہر قول و فعل پر حرف تصدیق ثبت کیا۔
جب ہندوستان کی تقسیم اور اس کی حد بندی کا مرحلہ درپیش آیا تو پاکستان کی طرف سے باؤنڈری کمیشن کے تین ممبر منتخب ہوئے۔ جن میں جسٹس منیر احمد‘ ظفر اللہ خان اور جسٹس دین محمد شامل تھے۔ باؤنڈری کمیشن میں بحیثیت ممبر سر ظفر اللہ خان نے بھیانک کردار ادا کیا۔ علاوہ ازیں مسلم لیگ کے کیس کو کمزور کرنے کے لیے قادیانی جماعت نے
کمیشن کے سامنے اپنا علیحدہ میمورنڈم پیش کیا جو آج بھی ریکارڈ پر موجود ہے سر ظفر اللہ خان اگرچہ مسلم لیگ کے وکیل تھے لیکن انھوں نے قادیانی جماعت کی وکالت کو مقدم رکھا۔ کمیشن کے تیسرے ممبر جسٹس دین محمد مسلم لیگ کے میمورنڈم کا مطالبہ کرنے کے تھوڑی دیر بعد ایک تقریب میں چودھری ظفر اللہ خان سے ملے۔ انھوں نے علیحدگی میں چودھری ظفر اللہ کی توجہ اس بات کی طرف مبذول کرائی کہ میمورنڈم میں مسلم لیگی مطالبات کو عجیب طرح پیش کیا گیا تھا۔ جس کا نتیجہ خطرناک ہو سکتا ہے۔ چودھری ظفر اللہ خان نے جواب دیا کہ مسلم لیگ نے مجھے وکیل مقرر کیا ہے۔ مطالبات مرتب کرنا مسلم لیگ کا کام تھا۔ وکیل کا کام صرف مؤکل کے مطالبات کی وکالت کرنا ہے
(مارشل لاء سے مارشل لاء تک از نور احمد )
اس بیان سے ظفر اللہ خان کا منافقانہ اور سازشی کردار عیاں ہوتا ہے۔ ظفر اللہ خان کی عیاری سے ہی گورداسپور‘ کشمیر اور پٹھان کوٹ کے مسلم اکثریتی علاقے ہندوستان کی طرف چلے گئے کیونکہ ان کا مقصد یہ تھا کہ قادیان جو کہ ضلع گورداسپور میں تھا‘ ہندوستان میں ہی رہے۔ جب کبھی قادیانیوں پر پاکستان میں مشکل وقت آ گئے تو قادیان ان کے لیے مضبوط پناہ گاہ کا کام دے سکے۔ ممتاز مسلم لیگی رہنما میاں امیر الدین مرحوم نے ۶ اگست ۱۹۸۴ء کو ”ہفت روزہ چٹان“ سے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا ہے کہ ”باؤنڈری کمیشن کے مرحلہ پر ظفر اللہ خان کو مسلم لیگ کا وکیل بنانا مسلم لیگ کی بہت بڑی غلطی تھی۔ جس کے ذمہ دار لیاقت علی خان اور چودھری محمد علی تھے۔ ظفر اللہ خان نے پاکستان کی کوئی خدمت نہیں کی بلکہ پٹھان کوٹ کا علاقہ اسی کی سازش کی بناء پر پاکستان کی بجائے ہندوستان میں شامل ہوا ۔“
جب جناح صاحب کی قیادت میں آل انڈیا مسلم لیگ نے ۲۹ جولائی ۱۹۴۶ء کے اجلاس میں راست اقدام کرنے کے فیصلے کے علاوہ یہ بھی فیصلہ کیا کہ اپنے اعزازات و خطابات جو غیر ملکی گورنمنٹ نے عطاء کیے ہیں۔ واپس کر دیے جائیں تو ظفر اللہ واحد آدمی تھے۔ جس نے انگریزوں کی یادگار اور ان کے عطاء کردہ خطاب ”سر“ کو واپس کرنے سے صاف صاف انکار کر دیا تھا۔ جب ہفت روزہ ”آتش فشاں“ لاہور کے نمائندے نے ۹ مئی ۱۹۸۰ء کو ظفر اللہ خان سے اس کی بابت سوال کیا تو انھوں نے کمال بے نیازی بلکہ ہٹ دھرمی سے جواب دیا کہ ”میں ان باتوں کو کوئی وقعت نہیں دیتا کہ خطاب ملے نہ ملے اور اگر خطاب ہو تو چھوڑ دیا جائے یا رکھ لیا جائے ۔
وہ خطاب چھوڑ بھی کیسے سکتے تھے کہ یہ ان کے فرنگی آقا کی نشانی تھی اور خدمت و اطاعت فرنگ ان کے مذہب کا تقاضا اور منشا تھی۔ بانی پاکستان نے ایسے ہی لوگوں کے متعلق فرمایا تھا کہ ”میری جیب میں کھوٹے سکے ہیں۔“ جناح صاحب نوزائیدہ ملک پاکستان کے لیے انہی کھوٹے سکوں سے ہی کام لے رہے تھے۔ انھوں نے اپنی مصلحتوں کے پیش نظر جنرل سر ڈگلس گریسی کو پاکستان آرمی کا کمانڈر چیف، سردار جوگندر ناتھ منڈل کو وزیر قانون اور ظفر اللہ خان کو وزیر خارجہ بنانے کا فیصلہ کیا۔ جب ظفر اللہ نے وزارت خارجہ جیسے اہم منصب کو قادیانیت کی بیرون ملک تبلیغ اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کو سامراجیت کی بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے اپنے فرائض کا ناجائز فائدہ اٹھایا تو جناح صاحب نے ان کی سازشوں سے آگاہ ہوتے ہی انھیں وزارت خارجہ سے نکالنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ ۱۹۴۸ء میں کشمیر سے واپسی پر کراچی میں راجہ صاحب محمود آباد کو آپ نے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ”سر ظفر اللہ کی وفاداریاں مشکوک ہیں میں ان پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہوں اور عملی اقدامات اٹھانے کے لیے اب مجھے مناسب وقت کا انتظار ہے۔“
(بحوالہ قائد اعظم کی تقاریر)
لیکن آپ کی دن بدن گرتی ہوئی صحت اور پھر اچانک رحلت کی وجہ سے یہ معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا۔ جناح صاحب کی زندگی میں ظفر اللہ خان محتاط اور چوکنا تھے لیکن ان کی وفات کے بعد جب کہ ابھی ان کا جسد خاکی لحد میں بھی نہ اترا تھا ظفر اللہ خان کی قادیانیت میں ابال آیا اور انھوں نے بانی پاکستان اور اپنے عظیم محسن کا جنازہ پڑھنے سے انکار کر کے نمک حرامی اور محسن کشی کی مثال قائم کر دی جب ان سے جنازہ نہ پڑھنے کے متعلق پوچھا گیا۔ تو انھوں نے انتہائی دیدہ دلیری سے زہر افشانی کرتے ہوئے جواب دیا کہ ”مجھے کافر حکومت کا مسلمان وزیر یا مسلمان حکومت کا کافر وزیر سمجھ لیں۔“ ان کا یہ کہنا اس پس منظر میں تھا کہ قادیانیوں کے نزدیک مرزا غلام احمد قادیانی کو نہ ماننے والے تمام لوگ کافر ہیں۔ انھوں نے جناح صاحب کو بین السطور کن الفاظ سے پکارا اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے۔ سر ظفر اللہ خان اور ان کی جماعت نے قادیانی پوپ پال کے حکم پر قیام پاکستان کو ناممکن بنانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا لیکن اللہ کے فضل و کرم سے ایسے غداروں کے ناپاک ارادوں کے علی الرغم پاکستان دنیا کے نقشے پر ابھر کر رہا۔ تحریک پاکستان میں ظفر اللہ خان اور ان کی جماعت کی آخری دور میں شمولیت فقط انگریز کے ایک
مہرے کے طور پر تھی تاکہ مسلم لیگ کے اکابر کی سرگرمیوں کی رپورٹ ان کے ذریعے حکام تک پہنچتی رہے اور در پردہ قادیانی مسلمانوں کے لیے مسائل و مشکلات پیدا کرتے رہیں۔ ایسے ہی احسان ناشناسوں کی بدولت ملک و قوم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا جس کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔ ظفر اللہ خان اگر قادیان بچانے کے لیے کشمیر کا سودا نہ کرتے تو آج کشمیری مسلمان پاکستان کی آزاد فضاؤں میں سانس لے رہے ہوتے۔ اسی طرح ظفر اللہ خان نے ملکی خارجہ پالیسی کو برطانوی اور امریکی سامراج کی حسب منشا اس طرح ترتیب دیا کہ پاکستانی قوم آج تک ان کے چنگل سے نہیں نکل سکی اور ستم یہ کہ بیرونی پاکستانی سفارت خانوں کے ذریعے قادیانیت کی تبلیغ کر کے سینکڑوں سادہ لوح مسلمانوں کو ارتداد کا شکار کیا۔ ممتاز صحافی جناب حمید نظامی مرحوم کے بقول ”پاکستانی سفارت خانے قادیانی تبلیغ کے اڈے بنے ہوئے تھے“ وطن عزیز اور عوام آج جن اقتصادی اور سیاسی مسائل کا شکار ہیں اگر ان کا بغور جائزہ لیا جائے تو منکشف ہوگا کہ اس تمام بگاڑ کے پیچھے سر ظفر اللہ خان‘ ایم ایم احمد‘ جنرل نذیر احمد‘ جنرل عبدالعلی‘ جنرل اختر حسین اور ڈاکٹر عبدالسلام ایسے قادیانیوں کا نادیدہ ہاتھ کارفرما ہے۔
چاہے یہ بحران ناقص خارجہ پالیسی کی شکل میں ہو یا ابتر معاشی منصوبہ بندیوں کی صورت میں یہ بحران ہم پر مسلط کی گئی ۱۹۶۵ء یا ۱۹۷۱ء کی جنگوں کی شکل میں ہو یا سائنسی ترقی اور ٹیکنالوجی کی عدم فراہمی اور مسائل کی صورت میں‘ ان سب میں یہ حضرات اپنے قادیانی پیشواؤں کی ہدایات پر کسی نہ کسی طرح ملوث رہے ہیں اور یہ تمام ناقابل تردید حقائق آن دی ریکارڈ ہیں۔ بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان تو برسوں پہلے منکرین ختم نبوت کی دسیسہ کاریاں دیکھ کر کہہ گئے ہیں۔
کتر کے جیب لے گئے‘ پیمبری کے نام
ظفر اللہ قادیانی کی مکاریاں اور عیاریاں
ماسٹر تاج الدین انصاریؒ
لیاقت علی خان مرحوم خواجہ ناظم الدین سے زیادہ مضبوط اور ذی رائے وزیر اعظم تھے۔ انہوں نے بھی ایک مرحلہ پر یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ چند وزراء کو مرکزی کابینہ سے نکال دیں گے۔ جن میں چوہدری ظفر اللہ خان شامل تھے۔ حال ہی میں سرحد کی مشہور شخصیت سردار بہادر خاں نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ لیاقت علی خان مرحوم راولپنڈی میں اپنی زندگی کی اہم ترین تقریر کرنے گئے اور شہید کر دیئے گئے۔ آج بچے بچے کی زبان پر ہے کہ لیاقت علی خان مرحوم کی شہادت کا خاص پس منظر تھا۔ انہوں نے ظفر اللہ خان کو وزارت سے ہٹانا چاہا لیکن خود راستے سے ہٹا دیے گئے۔ خواجہ ناظم الدین ایک شریف کمزور وزیر اعظم تھے اور پھر کوئی ذی رائے لیڈر بھی نہیں تھے۔ جس طاقت نے لیاقت علی خان کو گولی مروا دی تھی اس طاقت نے اب خواجہ ناظم الدین کو بغیر گولی مارے ہی ٹھنڈا کر دیا۔ اور محض سیاسی دباؤ ڈال کر انہیں ظفر اللہ کو نکالنے سے روک دیا گیا۔ ظفر اللہ خان اگست کے پہلے ہفتہ ربوہ پہنچے تھے اور مرزا محمود سے استعفیٰ کے متعلق اجازت اور مشورہ لینے آئے تھے۔ مرزا محمود یہ کس طرح مان سکتے تھے کہ ظفر اللہ خان وزارت خارجہ سے استعفیٰ دے دیں اور اس کے بعد قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے۔ مرزا محمود نے ڈٹے رہنے کا مشورہ دیا۔ اور خود سرکار امریکہ اور برطانیہ سے خفیہ رابطہ پیدا کیا۔ پاکستان کی سیاست میں امریکہ اور برطانیہ کی مداخلت کا اندازہ لیاقت علی خان مرحوم کی موت سے کیا جا سکتا ہے۔ اس مداخلت کا اعتراف خواجہ ناظم الدین نے انکوائری کورٹ میں اپنی شہادت کے دوران بھی کیا۔ انہوں نے اپنی شہادت میں صاف
صاف تسلیم کیا کہ ظفر اللہ خان کو نکالنے کے بعد امریکہ کی طرف سے ایک دانہ اناج پاکستان کو نہیں مل سکتا تھا۔ اور کشمیر کے مسئلے میں بھی امریکہ نے کوئی مدد نہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔ چنانچہ مرزا محمود خلیفہ ربوہ کی فریاد پر امریکہ اور برطانیہ دونوں نے خواجہ ناظم الدین پر دباؤ ڈالا۔ اور خواجہ صاحب گول ہو گئے۔
ظفر اللہ کا پینترا
چوہدری ظفر اللہ خان کی یہ ہمیشہ پالیسی رہی کہ وہ حکومت پاکستان کے اعلیٰ مناصب پر فائز ہوتے ہوئے بھی بڑے دھڑلے سے مرزائیت کی تبلیغ کیا کرتے تھے اور کھلم کھلا مرزائیوں کی مدد کیا کرتے تھے وہ اپنی اس روش سے کبھی باز نہ آئے۔ انہیں معلوم تھا کہ میرا کھونٹا مضبوط ہے جب انہیں معلوم ہو جاتا کہ میرے نکالنے کا سوال ٹل گیا ہے اور میں اب خطرہ میں نہیں ہوں تو وہ اپنی دیدہ دلیری اور مسلمان وزراء کی بے غیرتی پر مہر ثبت کرنے کے لیے اس طرح کا بیان دے دیتے۔ ذیل میں ہم چوہدری ظفر اللہ خان کے وہ الفاظ نقل کر رہے ہیں جو انہوں نے احمدیہ ہال کراچی میں اس موقعہ پر کہے تھے۔ ملاحظہ فرمائیں اور اندازہ لگائیں کہ چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد ”مجھے قائد اعظم محمد علی جناح نے وزیر خارجہ مقرر کیا تھا بنا علیہ میں اس عہدہ کو انعام غیبی سمجھتا ہوں اور اس سے مستعفی ہونا میرے لیے کفران نعمت کے مترادف ہے۔ جماعت احمدیہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو پریشان نہ ہونا چاہئے۔ وزارت خارجہ سے میرے مستعفی ہونے کی اطلاع سراسر غلط اور بے بنیاد ہے۔ میں کسی مخالف یا شور و شغب کے خوف سے ہرگز مستعفی ہونے کے لیے تیار نہیں ہو سکتا۔ میں دھمکیوں اور مخالفتوں سے مرعوب ہونے کا عادی نہیں ہوں لیکن اس معاملہ کی ایک آئینی صورت بھی ہے۔ وہ یہ کہ وزیر اعظم پاکستان کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کابینہ کے جس رکن سے چاہیں استعفیٰ طلب کر سکتے ہیں اس کا امکان بھی بہت کم ہے اس لیے کہ میرے اور خواجہ ناظم الدین کے درمیان بہت گہرے روابط ہیں۔ وہ اس ہنگامہ اختلاف سے پہلے جس خلوص اور فراخ دلی کے ساتھ مجھ سے پیش آیا کرتے تھے اب بھی پیش آ رہے ہیں لیکن اگر وہ میرے خلاف پھیلی ہوئی ناراضگی سے پیدا شدہ صورت حال کا دلیری سے مقابلہ کرنے کے لیے تیار نہ ہوں تو اس صورت میں وہ مجھ سے استعفیٰ
بھی طلب کر سکتے ہیں۔ جاؤں گا اور پھر یہاں ٹھہ مکتوب لکھا ہے کہ تم ان خارجہ کو اور یہاں چلے آؤ چوہدری ظفر ال پختہ زناری اور خواجہ ناظم واضح ثبوت ملتا ہے وہ جہانگیر پارک والے جلس مضطرب اور برافروختہ تھ قوم کو گولیوں سے چھل دینے کی دھمکیاں دی جا سنایا جا رہا تھا۔
ڈاکٹر کا مشورہ :
کروڑوں روپے خرچ کیے منگوائیں۔ اعلیٰ سے اعلیٰ ڈا بلایا گیا تو اس نے کہا کہ مر لیے وہ قادیان کو یاد کر کر لیے نسخہ تجویز کیا کہ مریض میں کئی مرتبہ یہ مشق کرے بتایا گیا کہ مریض چلنے پھرنے ربوہ کا خلیفہ اپنے پاؤں کی ع مشق کرنے کے بھی قابل ن
بھی طلب کر سکتے ہیں۔ اگر یہ صورت پیش آئی تو میں فوراً وزارت خارجہ سے کنارہ کش ہو جاؤں گا اور پھر یہاں ٹھہروں گا بھی نہیں۔ میرے ایک دوست نے حال ہی میں مجھے ایک مکتوب لکھا ہے کہ تم ان قدر ناشناسوں میں کہاں پڑے ہوئے ہو۔ چھوڑو اس وزارت خارجہ کو اور یہاں چلے آؤ۔“
چوہدری ظفر اللہ خان کی اس تقریر کے ایک ایک لفظ سے چوہدری صاحب کی پختہ زناری اور خواجہ ناظم الدین اور اس کے ہمراہیوں کی بزدلی منافقت اور بے غیرتی کا واضح ثبوت ملتا ہے وہ اس وزیراعظم کے ساتھ اپنے گہرے روابط بتا رہا تھا جس کے جہانگیر پارک والے جلسہ میں شمولیت کے منع کرنے پر یہ باز نہیں آیا تھا۔ ساری قوم ناراض مضطرب اور برافروختہ تھی اور یہ اسے صورتِ حالات کا دلیری سے مقابلہ کرنے یعنی اپنی قوم کو گولیوں سے کچل دینے کے مشورے دے رہا تھا۔ استعفیٰ کی صورت میں ملک چھوڑ دینے کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں اور پاکستان کی پوری باغیرت قوم کو ناقدر شناسی کا طعنہ سنایا جا رہا تھا۔
ڈاکٹر کا مشورہ باغی ختم نبوت مرزا بشیر الدین کے لاعلاج امراض پر قادیانیوں نے کروڑوں روپے خرچ کیے۔ ہوائی جہاز کے ذریعے بیرون ممالک سے بہترین سے بہترین دوائیں منگوائیں۔ اعلیٰ سے اعلیٰ ڈاکٹروں کو علاج کے لیے بلایا۔ ایک ماہر نفسیات کو جب علاج کے لیے بلایا گیا تو اس نے کہا کہ مریض کے جسم کے علاوہ اس کے خیال میں بھی فالج نفوذ کر چکا ہے، اسی لیے وہ قادیان کو یاد کر کر کے روتا ہے۔ اس کے خیالات کو ہٹانے کے لیے ڈاکٹر نے اس کے لیے نسخہ تجویز کیا کہ مریض ایک گیند لے کر اسے دیوار پر مارے، پھر پکڑے، پھر مارے اور دن میں کئی مرتبہ یہ مشق کرے۔ اس سے اس کے خیالات کا رخ بدل جائے گا لیکن جب ڈاکٹر کو یہ بتایا گیا کہ مریض چلنے پھرنے کے قابل نہیں تو پھر ڈاکٹر نے اس کے متبادل یہ علاج بتایا کہ مریض ربڑ کا گیند اپنے پاؤں کی محراب کے نیچے رکھ کر اسے دن میں کئی مرتبہ گھمائے۔ لیکن مریض یہ مشق کرنے کے بھی قابل نہیں تھا، لہٰذا ڈاکٹر مذکورہ کا علاج چھوڑ دیا گیا۔
ظفر اللہ قادیانی کی عبرتناک موت
فیاض حسن سجاد‘ کوئٹہ
مرزا غلام احمد قادیانی کے حواری انگریز حکومت کے خطاب یافتہ چودھری ظفر اللہ خاں قادیانی آنجہانی ہو گئے۔ دنیا ان کے وجود سے پاک ہو گئی۔ ظفر اللہ قادیانی برطانوی سامراج کی آخری نشانی تھے۔ انہوں نے انگریزوں کے لیے جاسوسی کی اور ملت اسلامیہ کے اتحاد کو پارہ پارہ کیا۔ وہ ریڈ کلف باؤنڈری کمیشن میں مسلمانوں کے نمائندے کی حیثیت سے پیش ہوئے۔ ان کے ہوتے ہوئے قادیانیوں نے علیحدہ نمائندگی پیش کی جس میں اپنا موقف پیش کیا۔ آنجہانی ظفر اللہ نے قادیانی نمائندہ کی تائید کی اور غداری کی جس سے مسلم اکثریت کا علاقہ گورداسپور بھارت میں چلا گیا جہاں قادیان بھی واقع ہے۔
کشمیر کا مسئلہ بھی اسی وجہ سے کھڑا ہوا‘ اس تقسیم سے لاکھوں مسلمان بے گھر ہوئے ہزاروں شہید‘ سینکڑوں بیٹیوں کی عصمتیں لوٹی گئیں۔ اس خون کی ذمہ داری گائے کے حواری ظفر اللہ قادیانی کے سر پر ہے۔ انہوں نے ہر جگہ پاکستان کی حکومت کی نمائندگی کم اور قادیانیوں کی نمائندگی زیادہ کی۔ اقوام متحدہ میں جب ظفر اللہ خان نے حکومت پاکستان کی ہدایت پر فلسطینیوں کے موقف کی حمایت کی اس وقت فلسطین اور عرب ملکوں کے نمائندہ نے حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کرنا چاہا تو ظفر اللہ نے کہا کہ شکریہ ربوہ کا ادا کیا جائے۔ جس پر بہت سے تار شکریے کے ربوہ بھیجے گئے تھے۔
موت برحق ہے۔ جس سے کسی بشر کو انکار نہیں۔ کسی کی موت پر خوشی منانا اسلام میں جائز نہیں۔ لیکن ہر ایک کی موت دوسروں کے لیے عبرت کا مقام ہوتی ہے۔ جو درس دیتی ہے کہ موت سے قبل اپنی اصلاح کر لو۔ قادیانیوں نے حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ‘ قاضی احسان احمدؒ شجاع آبادی‘ مولانا محمد علی جالندھریؒ‘ مولانا مفتی محمودؒ‘ مولانا سید یوسف بنوریؒ غرض قافلہ حریت کے ہر شخص کی موت پر مسرت کا اظہار کیا۔
قادیانی ہمیشہ سے اپنے مخالفین کو موت کی دھمکی دے کر ڈراتے رہے۔ مرزا قادیانی آتھم کے انجام کا اعلان کیا۔ عبدالکریم کو مباہلہ کی دعوت دی۔ آخر میں مولانا ثناء اللہ امرتسری کو مباہلہ کی دعوت دی۔ ایک خط تحریر کیا۔ جس میں تحریر کیا کہ مولوی ثناء اللہ تو مجھ پر الزام لگاتا ہے اگر تو سچا ہے تو میں پہلے مرجاؤں اگر میں سچا ہوں تو تو پہلے مرجائے۔ یعنی سچے کی زندگی میں جھوٹا مرجائے۔ مولانا ثناء اللہ امرتسری نے یہ چیلنج قبول کرلیا۔ مرزا قادیانی ان کی زندگی میں سدھار گیا۔ مولانا ثناء اللہ امرتسری صداقت کا نشان بن کر چالیس سال تک زندہ رہے۔
مرزا گامے کی موت پر اخبار ”پیغام صلح“ کا ایک ضمیمہ شائع ہوا جس میں تسلیم کیا گیا کہ مرزا جی کی موت بیت الخلاء میں واقع ہوئی۔ من و عن الفاظ یہ تھے:
”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نقاہت کی وجہ سے بیت الخلاء نہیں جا سکتے تھے۔ احمدیہ بلڈنگ کے کمرے میں جہاں وہ لیٹے ہوئے تھے۔ وہیں کموڈ رکھ دیا گیا۔ حضرت وہیں فارغ ہوتے رہے اور اسی جگہ انتقال کر گئے۔“
اپنے باپ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے مرزا ناصر احمد بھی لوگوں کو مارنے میں بڑے تیز تھے۔ ۱۹۷۵ء میں جب سعودی عرب کے شاہ فیصل شہید ہوئے تو ربوہ میں چراغاں کیا گیا اور مسرت کا اظہار کیا گیا۔ ایک موقع پر مرزا ناصر احمد نے تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ جس نے احمدیت کی مخالفت کی‘ اس کا یہی انجام ہوگا۔ یہ انجام ان کو اقلیت قرار دینے والے شخص کا بھی ہوگا۔
مرزا ناصر کا اشارہ اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی طرف تھا۔ مرزا ناصر کی اس گوہر افشانی پر مجلس ختم نبوت گوجرانوالہ کی طرف سے ایک پوسٹر شائع کیا گیا۔ جس کا عنوان تھا۔ ”کیا بھٹو قتل ہوں گے؟“ نیچے مرزا ناصر کی تقریر درج تھی۔ اس پوسٹر کے شائع کرنے پر گوجرانوالہ پولیس نے مقدمہ درج کرلیا اور مجلس کے رہنماؤں کو گرفتار کیا۔ جن میں ممتاز عالم دین مولانا ضیاء الدین آزاد بھی شامل تھے۔
اپنے کذاب و دجال رہنما‘ مرزا قادیانی اور اس کے خلیفہ کی پیروی کرتے ہوئے ظفر اللہ قادیانی نے ہفت روزہ ”آتش فشاں“ کو ایک طویل انٹرویو دیا جس کو بعد میں ”حریت“ کے قادیانی میگزین ایڈیٹر نے ”حریت“ کراچی میں بھی شائع کیا۔ جس میں ظفر
اللہ قادیانی نے کہا ”انہوں نے جسٹس مولوی مشتاق احمد اور ڈاکٹر جاوید اقبال کو ایک دعوت میں بتایا تھا کہ ہمارے مرزا قادیانی نے پیش گوئی کی ہے کہ بھٹو جس نے ہمیں نقصان پہنچایا ہے‘ پھانسی پائے گا اور ادارہ (قومی اسمبلی) اور دستاویز (۱۹۷۳ء کا آئین) نہیں رہے گا جس نے احمدیت کو نقصان پہنچایا۔
ظفر اللہ قادیانی ایسا شخص جو دوسرے کی موت کا اعلان کرے۔ اس کی اپنی موت عبرت ناک واقع ہوئی۔ وہ قادیانی جماعت کے سرکردہ لیڈر تھے۔ ۱۹۷۴ء میں مرزا بشیر الدین محمود‘ عبد العزیز بھانبڑی اور ظفر اللہ قادیانی نے ربوہ کے قبرستان کو بہشتی مقبرہ کا نام دیا۔ اس میں دو حصے بنائے گئے۔ ایک قصر خلافت کے لیے اور دوسرا عام قادیانیوں کے لیے جو مطلوبہ رقم فراہم کردیں۔ ظفر اللہ قادیانی نے اپنی وصیت میں یہ کہا ہوا ہے کہ ان کو مستقل طور پر قادیان میں ان کی والدہ کے پہلو میں دفن کیا جائے۔ بعد میں انہوں نے مرزا بشیر الدین محمود کے پاؤں میں دفن ہونے کی خواہش ظاہر کی۔ تیسری مرتبہ مرزا ناصر احمد کے پہلو میں دفن ہونے کی خواہش ظاہر کی۔ دو سال قبل وہ ڈسکہ میں شدید بیمار ہوئے تو ربوہ کے امور عامہ کے محکمے نے ان کے لیے قبر کی جگہ مخصوص کرائی۔ وہ آخری مرتبہ ایک ماہ قبل شدید بیمار ہوئے اور جسم سوکھ گیا۔ رنگ سیاہ پڑ گیا۔ آنکھیں نکل آئیں۔
قارئین کرام نوٹ فرمالیں کہ آنجہانی ظفر اللہ قادیانی کی عبرت ناک بیماری دیکھ کر قادیانیوں کو پتہ چل گیا تھا کہ پل دو پل کے مہمان ہیں۔ انہوں نے اس کی زندگی کے حالات تیار کر کے رکھے ہوئے تھے۔ موت کے نصف گھنٹے کے بعد اخبارات کے دفتر میں پہنچا دیے گئے۔
(ہفت روزہ ”لولاک“ فیصل آباد‘ جلد ۲۲‘ شمارہ ۲۸)
ظفر اللہ قاد
پاکستان کے پہلے ہے۔ یہ پہلا سیاسی قتل قومی وطن اور ایک مضبوط رہنما ۔ اس لیے انہیں راہ سے ہٹا جلسہ عام میں اس وقت گو ہوئے تھے۔ وزیر اعظم لیاق کے قتل کیس کو اس قدر چو آسکے۔
وزیر اعظم لیاقت قتل تھا۔ لیاقت علی خان ۔
- ہ...... لیاقت علی خان ۔
دستوری آئینی او
- ہ...... لیاقت علی کے بعد
جھولی میں ڈال آ دیا۔ یہی وجہ ہے
- ہ...... لیاقت علی کے بعد
- ہ...... قادیانی گروہ کا عمل
ظفر اللہ قادیانی اور لیاقت علی خان قتل کیس
صاحبزادہ طارق محمود
پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کا قتل ہماری تاریخ کا المناک باب ہے۔ یہ پہلا سیاسی قتل قومی سانحہ اور ملی المیہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ چونکہ لیاقت علی خان محب وطن اور ایک مضبوط رہنما تھے جنہوں نے سالہا سال قائد اعظم کی رفاقت میں کام کیا تھا‘ اس لیے انہیں راہ سے ہٹانے کے لیے ٹھکانے لگا دیا گیا۔ لیاقت علی خان کو راولپنڈی کے جلسہ عام میں اس وقت گولی مار کر شہید کیا گیا‘ جب وہ عوام سے خطاب کے لیے کھڑے ہوئے تھے۔ وزیر اعظم لیاقت علی خان کا قتل چونکہ سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ تھا‘ اس لیے ان کے قتل کیس کو اس قدر پیچیدہ بنا دیا گیا کہ لیاقت علی خان کے حقیقی قاتل منظر عام پر نہ آسکے۔
وزیر اعظم لیاقت کا قتل درحقیقت پاکستان کی سالمیت‘ استحکام اور اس کے دفاع کا قتل تھا۔ لیاقت علی خان کے قتل سے پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔
- o...... لیاقت علی خان کے قتل کے بعد ملک میں شخصی آمریت کی راہیں ہموار ہوئیں۔
دستوری‘ آئینی اور قانونی قدروں کو پامال کیا گیا۔
- o...... لیاقت علی کے بعد وہ لوگ برسراقتدار آئے جنہوں نے ملک کو امریکہ و برطانیہ کی
جھولی میں ڈال کر ملک کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے معاشی و اقتصادی طور پر گروی رکھ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم آج تک امریکہ کے اقتصادی چنگل سے آزاد نہیں ہوسکے۔
- o...... لیاقت علی کے بعد برسراقتدار آنے والوں نے قادیانیوں کو تحفظ دیا۔
- o...... قادیانی گروہ کا عمل دخل پاکستان کی انتظامی مشینری میں بنیادی حیثیت اختیار کر گیا۔
سول سروسز بالخصوص وزارت خارجہ اور فوج کے کلیدی عہدوں پر قادیانیوں کی اکثریت براجمان ہو گئی۔ یہاں تک کہ قادیانی اقتدار کے خواب دیکھنے لگے۔
- o۔۔۔۔۔ وزیر اعظم لیاقت علی خان قادیانیوں کے خفیہ عزائم اور مشکوک سرگرمیوں سے باخبر ہو
چکے تھے۔ خاص طور پر چوہدری سرظفر اللہ خان وزیر خارجہ کی من مانی پالیسیوں اور کردار کی حقیقت ان پر واضح ہو چکی تھی۔
- o۔۔۔۔۔ وزیر اعظم لیاقت علی خان نے کشمیر کے مسئلہ پر واضح اور ٹھوس موقف اختیار کیا تھا اور
وہ ہندوستان کو آنکھیں دکھانے والے اور مکا لہرانے والے پہلے وزیر اعظم تھے۔ ہندوستانی حکومت لیاقت علی خان کو اپنے لیے مستقل خطرہ تصور کرنے لگی تھی۔
روزنامہ ”جنگ“ نے ہفت روزہ ”تکبیر“ 1986ء کراچی کے حوالہ سے مضمون شائع کیا‘ جس میں پاکستان کے سراغرسان جیمز سالومن زنسٹ کی یادوں کے حوالے سے بتایا گیا کہ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو سید اکبر نے نہیں‘ بلکہ کنزے نامی جرمن قادیانی نے قتل کیا تھا۔ لیاقت علی خان کے قتل سے متعلق یہ رپورٹ آج بھی سنٹرل انٹیلی جنس کراچی میں موجود ہے۔ (نوٹ: یہ رپورٹ سنٹرل انٹیلی جنس کراچی میں یقیناً نہیں ملے گی کیونکہ قادیانیوں کے لمبے ہاتھوں نے ایسی دستاویز کو غائب کروا دیا ہوگا) جیمز سالومن کے اس انکشاف نے سیاسی حلقوں کو حیرت زدہ کر دیا کیونکہ ”لیاقت قتل کیس“ کو الجھانے کے لیے سید اکبر کو موقع پر ہلاک کر کے لیاقت علی خان کا قاتل مشہور کر دیا گیا۔ جیمز سالومن کا بیان حسب ذیل ہے:
”پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو سید اکبر نے نہیں بلکہ ایک جرمن قادیانی کنزے نے قتل کیا تھا۔ کنزے کی پرورش قادیانی لیڈر سر ظفر اللہ نے کی تھی۔ یہ انکشاف کراچی سے شائع ہونے والے ایک جریدے میں پاکستان کے سراغرسان جیمز سالومن نے کیا ہے کہ اس جرمن شخص نے عیسائیت ترک کر کے قادیانی مذہب اختیار کیا تھا اور قادیانی گھرانے میں شادی کے بعد وہ پاکستان میں مقیم ہو گیا۔ جیمز سالومن کے مطابق کنزے آج کل مشرقی برلن میں قیام پذیر ہے۔ کنزے سرظفر اللہ کے بھائی چوہدری
عبداللہ کے پاس باقاعدگی سے آیا کرتا تھا، جو اس وقت کراچی میں ایڈیشنل کسٹوڈین تھے۔ انہوں نے کہا کہ اسے گرفتاری سے پہلے ملک سے باہر بھیج دیا گیا۔ جب کمپنی باغ راولپنڈی میں کنزے نے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو گولی ماری تو پولیس نے جو پوری طرح ملوث تھی اور وقت کے سازشی سیاست دانوں اور بیورو کریٹس کی ہدایت پر سید اکبر کو گولی مار دی اور پھر سید اکبر ہی قاتل کی حیثیت سے مشہور کر دیا گیا، حالانکہ سید اکبر تو کیموفلاج تھا۔ کنزے نے اس وقت پٹھانوں والا لباس پہن رکھا تھا اور ہماری معلومات کے مطابق وہ وزیر اعظم کو قتل کرنے کے بعد سیدھا ربوہ پہنچا اور پھر وہاں سے اسے باہر بھیج دیا گیا۔ کنزے ہیمبرگ میں قادیانیوں کے ہتھے چڑھا تھا، جہاں قادیانیوں کی جماعت اسے پاکستان لے آئی اور یہ ربوہ میں تعلیم پاتا رہا۔ جیمز سالومن نے کہا کہ ڈائریکٹر انٹیلی جنس کاظم رضا کی ہدایت پر میں نے جو تفتیش کی اس میں یہ بات واضح ہو گئی تھی کہ کنزے ہی اصل قاتل ہے مگر سید کاظم رضا اسے گرفتار کرنے سے قاصر رہے۔ میری یہ اوریجنل رپورٹ آج بھی سنٹرل انٹیلی جنس کراچی کے دفتر میں موجود ہے۔“ (روزنامہ ”جنگ“ لاہور 9 مارچ 1986ء)
گزشتہ دنوں میجر ریٹائرڈ امیر افضل کا ایک سنسنی خیز مضمون بعنوان ”لیاقت علی کا قتل...... تصویر کا دھندلا پہلو“ روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور میں شائع ہوا۔ موصوف حقائق بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:
”دوسرا تاریخی پہلو یہ ہے کہ کیا سید اکبر لیاقت علی خان کا قاتل تھا؟ ہمارے ایک فقیر قسم کے بریگیڈیئر نوشیروان مرحوم ہوتے تھے۔ ایک دن انہوں نے جنرل ایوب کے سیکیورٹی افسر میجر ظفر اور چند دوسرے اہم افسروں کے سامنے ایک ڈرامہ کیا۔ ہم بات کو نہ سمجھے۔ کہنے لگے: نادانو! بڑے افسروں کے ساتھ پھرتے رہتے ہو، معمولی
بات نہیں سمجھتے۔ میں نے سید اکبر پر لیاقت کے قتل کے الزام کا ڈرامہ کیا ہے۔ سید اکبر بے چارہ بے قصور تھا۔ اس کو قربانی کا بکرا بنایا گیا‘ لیاقت علی کو گولی مارنے والے اور تھے‘ اور سید اکبر کو پولیس والے ایبٹ آباد سے پنڈی اسی غرض سے لائے تھے کہ اس کو قربانی کا بکرا بنائیں وغیرہ ...... یہ 1954ء کی بات ہے یعنی لیاقت علی خان کے قتل کے صرف تین سال بعد کی بات ہے۔ بریگیڈیئر صاحب نے مزید کہا کہ لیاقت علی خان کو ان لوگوں نے مروایا جو اس کے بعد برسر اقتدار آئے۔“ (لیاقت علی خان کا قتل ...... تصویر کا دھندلا پہلو‘
میجر ریٹائرڈ امیر افضل‘ روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور‘ یکم جنوری
1986ء)
میجر ریٹائرڈ امیر افضل کے مضمون اور اس سے پہلے کنزے کی رپورٹ کو سامنے رکھ کر پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کے قتل کے محرکات اور اسباب کو تلاش کیا جاسکتا ہے۔ لیاقت علی خان کے بعد جو لوگ برسر اقتدار آئے‘ وہ سخت قادیانی نواز تھے۔ انہیں دینی تقدس کے برعکس اقتدار میں زیادہ دلچسپی تھی۔ قیام پاکستان کے بعد قادیانی جماعت نے قدم جمانے شروع کیے۔ جیسا چوہدری ظفر اللہ خان کو وزارت کا قلمدان ملا تو مختلف محکموں اور بالخصوص فوج میں قادیانی افسروں کا اثر و رسوخ اتنا بڑھا کہ قادیانی جماعت اقتدار کے خواب دیکھنے لگی۔ بقول راجہ صاحب محمود آباد : قائد اعظم محمد علی جناح چوہدری ظفر اللہ خان کے مشکوک کردار سے آگاہ ہو چکے تھے‘ لیکن اپنی گرتی ہوئی صحت اور گوناگوں ملکی و قومی مسائل کی بنا پر وہ کوئی قدم اٹھانے سے قاصر تھے۔
مسلم لیگ کی قیادت قادیانی مسئلہ کی نزاکت اور قادیانیوں کے پوشیدہ عزائم و مقاصد سے بے خبر تھی۔ قادیانی فتنہ کا محاسبہ کرنے والے صرف احراری تھے اور وہ بھی معتوب تھے۔ قادیانیوں نے احرار کے خلاف جو زہریلا پراپیگنڈا کر رکھا تھا‘ اس کے اثرات مسلم لیگ قیادت پر نمایاں تھے۔ ماضی بعید میں احرار اور مسلم لیگ کے متحارب ہونے کی وجہ سے احرار کا مسلم لیگی حکومت سے رابطے کا فقدان تھا۔ مولانا تاج الدین انصاریؒ لکھتے ہیں:
”احرار کی مخلصانہ خدمت نے نواب زادہ لیاقت علی خان مرحوم کو رائے بدلنے پر مجبور کر دیا۔ چنانچہ مرحوم نے اپنے خاص ایلچی کے ذریعہ تبادلہ خیال کے لیے بلا بھیجا۔ بات ہوتی رہی۔ تعلقات بہت بہتر ہونے لگے۔ نوابزادہ مرحوم بڑی احتیاط سے گفتگو کرتے تھے۔ قاضی احسان احمد شجاع آبادی نے ایک روز ان کے سامنے مرزائیت کا پٹارہ کھول کر رکھ دیا۔ مرحوم بہت ذہین انسان تھے۔ مسائل کو بہت جلد سمجھ لیتے تھے۔ قاضی صاحب نے اس بڑی لمبی اور تفصیلی ملاقات کے بعد متعدد بار انہیں مرزائی ریشہ دوانیوں سے خبردار کیا۔ وہ احرار کے بالکل قریب آگئے۔ انہیں یقین ہو گیا کہ احرار کے خلاف سب سے زیادہ اور خطرناک قسم کا پراپیگنڈا صرف مرزائیوں نے کیا ہے اور اس کی وجہ بھی ظاہر ہے کہ احرار کے سوا باقیوں سے مرزائی اچھی طرح نپٹ لیتے ہیں۔ آخری دنوں میں مرحوم طے کر چکے تھے کہ وہ احرار سے مکمل تعاون کریں گے اور تعمیری کاموں میں احرار کی خدمات حاصل کر لی جائیں گی۔“
(تحریک ختم نبوت 1953ء ص 83 از مولانا اللہ وسایا صاحب)
- امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے حکم پر قاضی احسان احمد شجاع آبادی
نے کراچی میں وزیر اعظم لیاقت علی خان سے قادیانی مسئلہ پر مذاکرات کیے۔ قاضی صاحب نے قادیانیوں کے مذہبی عقائد اور سیاسی عزائم کے بعض دستاویزی ثبوت لیاقت علی خان کو فراہم کیے۔ لیاقت علی خان کو پہلی مرتبہ قادیانیوں کے ناپاک عزائم کا علم ہوا تو وہ حیران رہ گئے۔ اس ملاقات میں لیاقت علی خان نے قیمتی معلومات کے مہیا کرنے پر قاضی احسان احمد شجاع آبادی کا شکریہ ادا کیا اور حقیقت حال سے آگاہی کے بعد تاریخی جملہ فرمایا ”کہ اب یہ بوجھ آپ کے کندھوں سے اتر کر میرے کندھوں پر آن پڑا ہے۔“ راقم کے والد گرامی مولانا تاج محمود مرحوم اپنے جریدہ میں وزیر اعظم لیاقت علی خان اور قاضی احسان احمد شجاع آبادی کی ملاقات کی تفصیل قلمبند کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:
”خان لیاقت علی خان مرحوم و مغفور کو اپنے آخری دور حیات میں چوہدری ظفر اللہ خان کی حقیقت کا علم ہو چکا تھا اور وہ اس طرح ہوا کہ لیاقت علی خاں مرحوم ضلع سیالکوٹ کے ایک قصبہ نارووال کے ریلوے اسٹیشن پر اپنی گاڑی میں ٹھہرے ہوئے تھے، مجلس تحفظ ختم نبوت کے سابق صدر قاضی احسان احمد شجاع آبادی رحمۃ اللہ علیہ بھی ضلع سیالکوٹ کے تبلیغی دورہ پر پہنچے ہوئے تھے، جب قاضی صاحب مرحوم کو معلوم ہوا کہ خان لیاقت علی خاں
مرحوم نارووال کے پلیٹ فارم پر گاڑی میں ٹھہرے ہوئے ہیں اور رات وہیں قیام ہے۔ تو قاضی صاحب اپنا قادیانی کتابوں سے بھرا ہوا مشہور ٹرنک ساتھ لے کر پہنچ گئے وقت مانگا تو 15 منٹ کے لیے ملاقات کا وقت مل گیا۔ قاضی صاحب کو اللہ تعالیٰ نے ایک صحیح مبلغ کا دماغ اور زبان عطا کی ہوئی تھی۔ خاں صاحب سے قادیانیت کے موضوع پر گفتگو کی۔ قادیانیت کی مذہبی اور دینی حیثیت واضح کرنے کے بعد قادیانیت سے ملک اور اسلام کو جو سیاسی خطرات لاحق تھے وہ بیان کیے۔ جب گفتگو کرتے آدھ گھنٹہ گزر گیا تو نواب صدیق علی خان جو لیاقت علی خاں کے پولیٹیکل سیکرٹری تھے۔ اندر داخل ہوئے اور عرض کیا کہ قاضی صاحب کی ملاقات کا وقت ختم ہو گیا ہے۔ اور باہر ملاقاتی ملاقات کے لیے بہت بے چین ہیں۔ لیاقت علی مرحوم نے فرمایا کہ سب کی ملاقاتیں منسوخ ان سب کو پھر کوئی دوسرا وقت دیا جائے گا اور اب میں کسی اور سے ملاقات نہیں کروں گا۔ قاضی صاحب سے فرمایا کہ آپ جلدی نہ کریں۔ مجھے اطمینان سے یہ قضیہ سمجھائیں آپ جتنا وقت لیں گے دیا جائے گا۔ قاضی صاحب نے فرمایا: کہ قادیانی امت اور اس کا ایک فرد چوہدری ظفر اللہ خان سب سے پہلے اپنے خلیفہ کے فرمانبردار اور وفادار ہیں۔ نہ کہ آپ کے یا مملکت پاکستان کے۔
دو مثالیں
پھر قاضی صاحب نے مثال کے طور پر دو واقعات کا ذکر کیا۔ پہلا علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کا کہ وہ کسی زمانہ میں کشمیر کمیٹی کے جنرل سیکرٹری اور خلیفہ قادیان مرزا محمود اس کمیٹی کے صدر تھے۔ بعد میں علامہ اقبال نے اس کمیٹی سے یہ کہہ کر استعفیٰ دیا کہ مجھے یقین ہو گیا ہے کہ ہر قادیانی اولین طور پر اپنے خلیفہ کا وفادار ہے۔ اور دوسرے کسی شخص یا مقصد کا وفادار نہیں ہو سکتا‘ دوسری مثال قاضی صاحب نے یہ دی کہ کچھ عرصہ پہلے فلسطین کا مسئلہ یو این او میں پیش ہو رہا تھا اب ظاہر ہے کہ پاکستان کی قیادت نے عربوں کی ہمیشہ حمایت کی ہے۔ یہاں تک کہ اسرائیل کے وجود نامسعود کو تسلیم ہی نہیں کیا ہے۔ پاکستان کی اسی پالیسی کی وجہ سے چوہدری ظفر اللہ خان کو جو یو این او میں پاکستان کے نمائندہ تھے عربوں کی ڈٹ کر حمایت کرنا تھی لیکن چوہدری ظفر اللہ خان نے بلیک میلنگ کی اور عربوں کو کہا کہ میں
آپ کی تب مدد کر سکتا ہوں، جب میرا خلیفہ ربوہ مرزا محمود مجھے آپ کی مدد کرنے کا حکم دے ان بے چاروں ضرورت کے ماروں نے خلیفہ ربوہ سے بذریعہ تار امداد کی درخواست کی۔ خلیفہ ربوہ نے یو این او میں عرب ڈیلیگیشن کو بذریعہ تار اطلاع دی کہ میں نے آپ کی درخواست کے مطابق چوہدری ظفر اللہ خان کو ہدایت کر دی ہے۔ کہ وہ تمہاری مدد کرے اس تار پر عرب ڈیلیگیشن نے ربوہ کے خلیفہ صاحب کو شکریہ کا تار بھیجا خدا کی قدرت یہ دونوں تار ربوہ کے دفتروں سے کسی نہ کسی طرح اڑ کر ہمارے ہاتھ لگ گئے ہیں۔ اور ان تاروں سے پتہ چلا ہے کہ چوہدری ظفر اللہ خاں تنخواہ پاکستان کے خزانہ سے حاصل کرتا ہے۔ نوکر آپ کا ہے لیکن وفاداری بشرط استواری خلیفہ ربوہ سے ہے اور کام اپنی جماعت کا کر رہا ہے۔ اسے کیا حق پہنچتا تھا کہ وہ آپ کی بجائے خلیفہ ربوہ کا تعارف عربوں سے کراتا، لیاقت علی خان مرحوم نے دونوں تاروں کو دیکھا اور درخواست کی کہ آپ یہ دونوں تار مجھے دے سکتے ہیں۔ قاضی صاحب نے دونوں تار دے دیئے۔
چنانچہ لیاقت علی خاں مرحوم کی شہادت کے بعد چندریگر صاحب نے قاضی احسان احمد صاحب کو پشاور گورنمنٹ ہاؤس میں کہا کہ جو باتیں چوہدری ظفر اللہ خان کے متعلق آپ اور خاں صاحب مرحوم کے درمیان ہوئی تھیں وہ خاں صاحب نے من وعن مجھے بتا دی تھیں۔ اس تفصیل سے یہ بتانا مقصود ہے کہ جب لیاقت علی خان کو حقیقت کا علم ہوا تو انہوں نے چوہدری ظفر اللہ خان کو وزارت سے نکالنے کا فیصلہ کر لیا لیکن وہ چاہتے تھے کہ اس کا تھوڑا سا عوام میں طلسم توڑا جائے تا کہ اسے آسانی کے ساتھ وزارت سے نکال باہر کیا جائے۔
مجھے یاد ہے۔ چنیوٹ کانفرنس کے بعد لاہور میں ایک بہت بڑے جلسہ سے حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری خطاب فرما رہے تھے سر ظفر اللہ خان کا ذکر آیا تو حضرت شاہ صاحب نے یہ مصرعہ پڑھتے ہوئے اس امر کی طرف ایک بلیغ اشارہ فرمایا تھا۔ وہ مصرعہ یہ تھا۔ پہلے میں مشکل میں تھا اب یار تو مشکل میں ہے۔ لیکن خدا کی قدرت کہ لیاقت علی خاں اپنے ارادہ میں کامیاب نہ ہو سکے فرنگی کی حکمت عملی کام کر گئی اور لیاقت علی خاں شہید کر دیئے گئے۔
(ہفتہ وار ”لولاک“ فیصل آباد، ص 5، جلد 6، شمارہ 43، 13 مارچ 1970ء)
ٹیلی فون کی ایک کال نے اس کی جان بچالی!
سابق وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان کے قتل کی سازش کے
ملزم کی ۲۷ سال بعد رہائی
رپورٹ ۔۔۔ حامد سعیدی
سورج طلوع ہونے میں ابھی کچھ دیر تھی اور جیل کی فضا پر موت کا سکوت طاری تھا۔ اچانک ٹیلیفون کی گھنٹی بجنے لگی، جس کی آواز تاریک رات کے پرہول سناٹے کو اور زیادہ پراسرار بنا رہی تھی۔ جیل کے دفتر کا یہ ٹیلیفون موت کے دہانے پر کھڑے ہوئے ایک بے بس انسان کو نئی زندگی کا پیغام دینے کے لیے بے قرار تھا۔ ادھر جیل کے ایک دور دراز گوشے میں کچھ لوگ اپنے ہی جیسے جیتے جاگتے انسان کو موت کے گھاٹ اتارنے کی رسم ادا کرنے کے لیے بڑے چاق و چوبند اور مستعد نظر آرہے تھے۔
موت کی رسم ادا کرنے والوں میں سے کسی نے زندگی کا پیغام دینے والے ٹیلیفون کی پکار بالآخر سن ہی لی اور اس طرح موت اور زندگی کی یہ کشمکش یوں ختم ہوئی کہ زندگی موت پر غالب آگئی۔
نئی زندگی کا پیغام صدر مملکت کا وہ حکم تھا، جس کے تحت سردار محمد سلیمان کی سزائے موت منسوخ کر دی گئی تھی۔ ٹیلیفون پر ہوم ڈیپارٹمنٹ کے سیکرٹری حکام سے کہہ رہے تھے کہ محمد سلیمان کو پھانسی نہ دی جائے، کیونکہ صدر مملکت نے اس کی رحم کی اپیل منظور کرتے ہوئے سزائے موت منسوخ کر دی ہے اور موت کی سزا کو عمر قید میں بدل دیا گیا ہے۔
سردار محمد سلیمان وہ خ پھانسی کے تختہ پر اس درمیان چند سانسوں ک محمد سلیمان کو اسٹیشن پر ریلوے کے گئی تھی۔ پاکستان کی تصادم کے نتیجے میں ر کراچی سے پشاور جار کر رہے تھے جو ہال زبردست تحریک چل ایک سازش قرار د کوشش کی تھی، حام اس تحقیقات کے دو اسسٹنٹ اسٹیشن ما اسسٹنٹ اسٹیشن ما کو ہلاک کرنے کی س والد کا تعلق ایک ا تھی۔
تحقیقات کے کیا گیا اور چھ ماہ تک گچھ کے دوران ی اس اعتراف کے ب سابق وزیر خارجہ ک لاپرواہی برتنے کے ہو گئیں۔ عدالت
سردار محمد سلیمان وہ خوش نصیب انسان تھا جسے عین اس وقت زندگی کی نوید سننے کو ملی جبکہ پھانسی کے تختہ پر اس کے گلے میں رسی کا پھندا ڈالا جا چکا تھا اور اس کی زندگی و موت کے درمیان چند سانسوں کا فاصلہ رہ گیا تھا۔
محمد سلیمان کو تقریباً ۲۸ سال قبل کراچی اور حیدر آباد کے درمیان جھمپیر ریلوے اسٹیشن پر ریلوے کے ایک ہولناک حادثے میں ملوث ہونے کے جرم میں پھانسی کی سزا دی گئی تھی۔ پاکستان کی تاریخ کا یہ بدترین حادثہ خیبر میل اور آئل ٹینکر کے درمیان ہولناک تصادم کے نتیجے میں رونما ہوا تھا، جس میں تقریباً ایک ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ خیبر میل کراچی سے پشاور جارہی تھی اور اس وقت کے وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان بھی اس میں سفر کر رہے تھے جو بال بال بچ گئے۔ یہ وہ دور تھا جب پنجاب میں قادیانیوں کے خلاف زبردست تحریک چل رہی تھی اور وزیر خارجہ ظفر اللہ خان نے اس حادثہ کو اپنے خلاف ایک سازش قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس طرح ان کے دشمنوں نے ان کی جان لینے کی کوشش کی تھی، حادثہ کے بعد تحقیقات شروع ہوئیں جو طویل عرصہ تک جاری رہیں۔ اس تحقیقات کے دوران بہت سے افراد گرفتار کیے گئے، جن میں جھمپیر کا اسٹیشن ماسٹر، اسٹنٹ اسٹیشن ماسٹر اور پوائنٹس مین سردار محمد سلیمان بھی شامل تھا۔ اسٹیشن ماسٹر اور اسٹنٹ اسٹیشن ماسٹر کو کچھ عرصہ بعد رہا کر دیا گیا لیکن سلیمان کے خلاف قادیانی وزیر خارجہ کو ہلاک کرنے کی سازش میں ملوث ہونے کے الزام میں مقدمہ قائم کیا گیا، کیونکہ اس کے والد کا تعلق ایک ایسی جماعت سے تھا جو قادیانیوں کے خلاف تحریک چلانے میں پیش پیش تھی۔
تحقیقات کے دوران محمد سلیمان کو اٹک کے قلعہ میں لے جایا گیا، جہاں اس پر تشدد کیا گیا اور چھ ماہ تک پوچھ گچھ کا سلسلہ جاری رہا۔ سلیمان نے تشدد سے بچنے کے لیے پوچھ گچھ کے دوران بعض ایسی باتوں کا اعتراف کر لیا جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اس اعتراف کے بعد حیدر آباد کی سیشن کورٹ میں اس کے خلاف مقدمہ چلایا گیا۔ اس پر سابق وزیر خارجہ کو ہلاک کرنے کی سازش میں شریک ہونے اور اپنے فرائض سے غفلت و لاپرواہی برتنے کے الزامات عائد کیے گئے، جس کے نتیجے میں بہت سی انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ عدالت نے ملزم محمد سلیمان کو سزائے موت کے ساتھ ساتھ تعزیرات پاکستان کی
مختلف دفعات کے تحت قید بامشقت کی متعدد سزائیں بھی سنائیں جن کی مجموعی مدت ۲۵ سال بنتی تھی۔ محمد سلیمان نے سزائے موت کے خلاف ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کیں جو مسترد ہو گئیں، پھر اس نے گورنر مغربی پاکستان سے رحم کی اپیل کی، یہ اپیل بھی مسترد کر دی گئی۔ بعد ازاں سلیمان کی جانب سے صدر مملکت کے سامنے رحم کی درخواست پیش کی گئی، اس وقت جناب اسکندر مرزا ملک کے صدر تھے لیکن انہوں نے بھی اپیل مسترد کرتے ہوئے سزائے موت بحال رکھی۔
حادثہ کی تحقیقات، مقدمہ کی کارروائی، سزائے موت کے خلاف ہائی کورٹ میں اور سپریم کورٹ میں اپیلوں کی سماعت اور پھر رحم کی درخواستوں کا فیصلہ ہونے میں کئی سال بیت گئے۔ محمد سلیمان نے جیل کی تنگ و تاریک کال کوٹھری میں بھی تین سال تک اپنی قسمت کے فیصلے کا انتظار کیا، اسی دوران ملک میں ایوب خان نے اقتدار سنبھال لیا۔ جیل کے اندر محمد سلیمان موت و زیست کی کشمکش میں مبتلا تھا اور جیل کے باہر اس کی بہن بلقیس اپنے بھائی کی زندگی بچانے کے لیے دوڑ دھوپ کر رہی تھی۔ لیکن وہ بھی در بدر ٹھوکریں کھانے کے بعد تھک ہار کر بیٹھ گئی۔
وہ ایک روز انتہائی مایوسی کے عالم میں بیٹھی ہوئی اپنے بھائی کو یاد کر رہی تھی کہ اچانک ایک نیا خیال اس کے ذہن میں آیا جو امید کی نئی کرن بن کر ابھرا اور اس نے اپنے بھائی کی جان بچانے کے لیے آخری کوشش کے طور پر اس نئے خیال کو عملی جامہ پہنانے کا تہیہ کر لیا۔
اس نے سوچا کہ نئے سربراہ مملکت ایوب خان سے براہ راست رحم کی اپیل کرنے کی بجائے کیوں نہ بالواسطہ طور پر کوشش کی جائے، کیونکہ اس سے قبل سرکاری افسران اور سرکاری دفاتر کے توسط سے صوبائی اور مرکزی حکومتوں کے سربراہوں کو بھیجی جانے والی اپیلوں کا جو نتیجہ نکلا تھا، وہ اس کے سامنے تھا۔ چنانچہ وہ اپنے نئے منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کی غرض سے سابق صدر ایوب خان کے آبائی گاؤں ”ریحانہ“ پہنچی، جہاں وہ کسی نہ کسی طرح ایوب خان کی ضعیف العمر والدہ سے ملاقات کرنے میں کامیاب ہو گئی، اس ملاقات کے دوران اس نے ایوب خان کی والدہ کو تفصیل کے ساتھ اپنے بھائی کی کہانی سنائی اور انہیں حقائق سے آگاہ کیا۔
ایوب خان کی والدہ اس کی داستان سن کر بہت متاثر ہوئیں اور انہوں نے بلقیس سے وعدہ کیا کہ وہ اپنے بیٹے ایوب خان سے رحم کی اپیل منظور کرنے کو کہیں گی۔ ان کے اس وعدے سے وقتی طور پر بلقیس کی ڈھارس بندھ گئی لیکن بدقسمتی سے ایوب خان اس وقت غیر ملکی دورے پر تھے اور ادھر محمد سلیمان کو پھانسی دینے کی تاریخ مقرر ہونے والی تھی۔ جیل میں بلقیس کا بھائی جہاں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہا تھا‘ وہاں جیل سے باہر اس کی بہن کی حالت بھی اس سے مختلف نہیں تھی‘ وہ بھی ذہنی انتشار اور اعصابی کرب میں مبتلا تھی‘ اپنے بھائی کی طرح اس کے لیے بھی دن کا چین اور رات کی نیند حرام ہو چکی تھی‘ وقت بڑی تیزی سے گزرتا رہا اور آخر کار سلیمان کو پھانسی دینے کی تاریخ اور وقت کا تعین ہو گیا‘ جس کے ساتھ ہی رہی سہی امید بھی ختم ہو گئی۔
بھائی کو پھانسی دینے کی تاریخ مقرر ہونے پر بلقیس تڑپ اٹھی لیکن اس نے ہمت اب بھی نہیں ہاری اور وہ ایک مرتبہ پھر ایوب خان کے آبائی گاؤں ”ریحانہ“ گئی‘ جہاں اس نے ایوب خان کی والدہ کو ان کا وعدہ یاد دلایا اور کہا کہ خدارا میرے بھائی کی جان بچانے کے لیے کچھ کیجئے کیونکہ پھانسی دینے کی تاریخ آن پہنچی ہے۔
یہ محمد سلیمان کی خوش قسمتی ہی تھی کہ صدر ایوب اسی دن غیر ملکی دورے سے واپس آگئے اور رات گئے ان کی والدہ نے ٹیلیفون پر محمد سلیمان اور اس کی بہن کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے محمد سلیمان کی رحم کی اپیل منظور کرنے کی سفارش کی۔ جسے ایوب خان نے فوراً مان لیا اور اپنے سیکرٹری کو ہدایت کی کہ وہ حیدرآباد جیل میں محمد سلیمان کو دی جانے والی پھانسی کی سزا پر عملدرآمد نہ ہونے دیں اور اس سلسلے میں فوری کارروائی کریں۔ صدر کے اس حکم سے محمد سلیمان کی جان بچ گئی اور سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا گیا۔
سردار محمد سلیمان مقبوضہ کشمیر (سری نگر) کا رہنے والا ہے‘ اس کا تعلق ایک دینی گھرانے سے ہے‘ اس کے والد سردار عالم دین خان مقبوضہ کشمیر کی ایک سیاسی شخصیت تھے‘ مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے رکن بھی رہ چکے تھے۔ سلیمان اٹھارہ انیس سال کی عمر میں گھر سے بھاگ کر کراچی آگیا تھا اور اس نے یہاں ریلوے میں ملازمت کر لی تھی۔ سلیمان کے کراچی آنے کے بعد اس کے والد اور خاندان کے دیگر افراد بھی پاکستان آگئے اور یہاں
حیدر آباد میں رہنے لگے‘ جہاں سلیمان کے والد نے وکالت شروع کر دی تھی‘ سلیمان کو جمپو ریلوے اسٹیشن پر حادثہ کے سلسلے میں جس وقت گرفتار کیا گیا‘ اس وقت وہ ۲۱ سالہ نوجوان تھا اور اب جبکہ اس ماہ کی ۱۰ تاریخ یعنی ۱۰ فروری ۱۹۸۰ء کو وہ کوئٹہ جیل سے رہا ہوا ہے تو اس کی عمر ۴۸ سال ہے‘ اس طرح اس نے اپنی عمر کا زیادہ حصہ یعنی ۲۷ سال جیل میں گزارے۔
وہ کوئٹہ کے علاوہ کراچی‘ حیدر آباد‘ بہاولپور‘ ملتان‘ ساہیوال‘ پشاور‘ ہری پور‘ ہزارہ اور ڈیرہ اسماعیل خان کی جیلوں میں بھی رہ چکا ہے۔ اور ۱۹۶۵ء کی پاک بھارت جنگ میں اس نے سیالکوٹ کے محاذ پر اور ۷۱ء کی جنگ میں کھیم کرن کے محاذ پر بھی خدمات انجام دی ہیں‘ کوئٹہ جیل سے رہائی کے بعد کراچی پہنچنے پر محمد سلیمان نے ایک ملاقات کے دوران کہا کہ وہ اپنی بہنوں سے ملاقات کے لیے بے تاب ہے جو حیدر آباد میں رہتی تھیں۔ لیکن آج کل تربت گئی ہوئی ہیں‘ اس نے بتایا کہ اس کی بہن بلقیس ڈاکٹر بن چکی ہے جبکہ دیگر دو بہنیں پروین اور رضیہ جن کی عمریں ۱۳ اور ۱۵ سال ہیں‘ اسکول میں زیر تعلیم ہیں اور وہ اپنی بہنوں سے ملنے کے لیے فوری طور پر تربت جا رہا ہے۔ محمد سلیمان سے جب یہ سوال کیا گیا کہ کیا وہ شادی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ وہ پہلے اپنی تینوں بہنوں کی شادی کرے گا اور بعد میں اپنی شادی کے بارے میں سوچے گا۔
(بہ شکریہ جنگ کراچی‘ ۱۷ فروری ۱۹۸۰ء)
باعث نجات
بہاولپور میں حضرت علامہ محمد انور شاہ کشمیری قدس سرہ نے فرمایا تھا کہ ہمارا نامہ اعمال تو سیاہ ہے ہی۔ یہ بات یقین کے درجہ کو پہنچ چکی ہے کہ ہم سے تو گلی کا کتا بھی اچھا ہے۔ شاید یہ بات مغفرت کا سبب بن جائے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا جانبدار ہو کر بہاولپور میں آیا تھا۔ تمام مجمع چیخیں مار اٹھا۔ حضرت اقدس قدس سرہ پر اس واقعہ کو سن کر بہت رقت طاری ہوئی۔ فرمایا کہ واقعی شاہ صاحب تو آیۃ من آیات اللہ تھے۔
("حیات طیبہ" ص ۳۵۳‘ از ڈاکٹر محمد حسین انصاری)
شفاعت روز جزا چاہتے ہیں
سر ظفر اللہ کی قیمت ۱۲ لاکھ روپے
کس نے ادا کی؟ کون خریدار تھا؟
ایک حیرت انگیز تاریخی انکشاف
جب قائد اعظم انڈین نیشنل کانگریس کے سرگرم لیڈر تھے تو انہیں گاندھی اور نہرو اور دوسرے کانگریسی لیڈروں سے بہت سی باتوں پر اختلاف تھا۔ مثلاً وہ مطالبات منوانے کے لیے بھوک ہڑتال کرنے کے قائل نہیں تھے۔ کانگریسی لیڈروں کی طرح وہ اپنی لیڈری کی دکان چمکانے کے لیے بلا سبب اور بلا جواز برطانوی حکومت کی قانون شکنی کر کے جیل جانا پسند نہیں کرتے تھے، اس سلسلے میں یہ کہا کرتے تھے کہ بھوک ہڑتال تادم مرگ کرنا عورتوں کی طرح شوہروں سے اپنے مطالبات منوانے کے مترادف ہے۔ اس نوعیت کی سیاست کو وہ کانگریس کی زنانہ سیاست گردانتے تھے۔ قائد اعظم سیاست دان ہونے کے علاوہ ماہر قانون بھی تھے۔ لہٰذا وہ برطانیہ کے قوانین کو قانون کے دائرے میں رہ کر رد کرنے کو ترجیح دیتے۔ وہ صاف ستھرے انسان تھے اور ان کی سیاست اصولی تھی۔ اس میں ہیر پھیر اور منافقت شامل نہیں تھی۔ کانگریسی لیڈر بھی ان کا احترام کرتے۔ وہ بے باک اور نڈر بھی تھے۔
پاکستان کے حصول میں بھوپال کے فرمانروا نواب حمید اللہ خان نے قائد اعظم کا دل کھول کر ساتھ دیا۔ نواب صاحب سیاست دانوں میں بڑی اہمیت کے حامل تھے۔ اور وہ بڑے قد آور سیاست دان بھی تھے۔ یہاں ایک بات لکھتا چلوں کہ برطانیہ میں کانگریس کی
ترجمانی کرنے کے لیے ہندوستان سے نکلنے والے بے شمار انگریزی اخبار تھے۔ جن کے مالکان ہندو صنعت کار تھے اور انگریزوں کے اخبارات کا جھکاؤ بھی کانگریس کی طرف تھا۔ لہٰذا انگلستان کے حلقہ اثر میں مسلم لیگ کی اتنی ترجمانی نہیں ہوتی تھی، جتنی کانگریس کی، اور جب قائد اعظم کو اس کا احساس ہوا تو انہوں نے نواب حمید اللہ خان سے کہا کہ اس بات کی شدت سے ضرورت ہے کہ مسلم لیگ اور برصغیر کے مسلمانوں کے موقف کی وضاحت اور ترجمانی کے لیے کوئی فرنگی حکمرانوں کا مزاج شناس انگلستان میں متعین کیا جائے چنانچہ اس سلسلے میں چوہدری ظفر اللہ خان پر اتفاق ہوا۔ چنانچہ چوہدری ظفر اللہ خان سے نواب صاحب نے یہ کہا کہ وہ وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل سے مستعفی ہو کر انگلستان میں ان کے سفیر کی حیثیت سے کام کریں۔ کیونکہ نواب صاحب کانگریسی لیڈروں سے بات چھپانا چاہتے تھے کہ ظفر اللہ خان مسلم لیگ کے موقف کی وضاحت اور اس کی ترجمانی کرنے کے لیے لندن میں متعین کیے گئے ہیں۔ چنانچہ ظفر اللہ خان کا بارہ لاکھ روپے میں سودا ہو گیا۔ یہ بات بھی بتا دوں کہ نواب صاحب ایوان شہزادگان کے روح رواں بھی تھے۔ اس لیے ان کی بات پر کوئی شبہ بھی نہیں کر سکتا تھا اور انہیں بارہ لاکھ روپے کی جو رقم دی گئی۔ اس میں سے چھ لاکھ نواب صاحب نے دیے اور باقی رقم دیگر مسلم ریاستوں سے چندے کے طور پر وصول کی گئی۔
اور جب ظفر اللہ خاں پہلی مرتبہ لندن سے آئے تو انہوں نے یہ بتایا کہ مجوزہ پاکستان کا جو نقشہ انہوں نے وائسرائے کے ہوم سیکریٹری کے دفتر میں دیکھا تھا۔ تو ایسا ہی نقشہ انہوں نے لندن میں سیکریٹری آف اسٹیٹ کے دفتر میں بھی دیکھا۔ اس دائرے میں جس میں پاکستان کا نقشہ ہے۔ آدھے سے زیادہ پنجاب شامل نہیں ہے۔ اس کے علاوہ گورداسپور سے کشمیر تک ایک پٹی بھی پاکستان کے دائرے میں شامل نہیں ہے۔
اگرچہ مسلم لیگ کے مطالبے میں پورا پنجاب پاکستان میں شامل تھا۔ لیکن کچھ مدت گزرنے کے بعد کانگریس نے کھل کر اپنی اور فرنگی حکمرانوں کی ملی بھگت اور درپردہ سازش کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ صوبوں کی مجموعی آبادی کے مطابق ملک کی تقسیم عمل میں نہیں آئے گی بلکہ علاقائی آبادی کے بنیاد پر قائم کی جائے گی۔ بھلا کون یہ نہیں جانتا کہ شروع شروع میں قائد اعظم ملک کی تقسیم کے حق میں نہیں تھے۔ بلکہ وہ یہ چاہتے تھے کہ فرنگی
حکومت کے جانے کے بعد مسلمانوں کے حقوق پورے کیے جائیں اور ضمانت دی جائے کہ ہندوؤں کی طرح انہیں بھی مکمل آزادی دی جائے گی اور ان کے حقوق کی حفاظت کی جائے گی اور مسلمانوں کو فوج اور پولیس اور دوسرے کلیدی عہدوں پر ان کی آبادی کے مطابق فائز کیا جائے گا۔ لیکن قائد اعظم کے مشوروں پر کٹر ہندو کانگریسی آمادہ نہیں ہوئے۔ قائد اعظم کے بارے میں یہ کہا جاتا تھا کہ ان کی حیثیت ہندوستان میں سفیر امن کی ہے۔ لیکن جب قائد اعظم نے یہ دیکھا کہ در پردہ ہندوستان سے برطانوی حکومت کے جانے کے بعد فرنگیوں سے مل کر ہندوؤں نے مسلمانوں کو بری طرح کچلنے کا منصوبہ بنایا ہے تو ان کے پاس پاکستان کے حصول کے سوا اور کوئی طریقہ باقی نہ رہا۔ کانگریس پارٹی جو فرنگی حکمرانوں سے جنگ کر رہی تھی۔ ہندوستان کی آزادی کے بعد جب ملک کی تقسیم عمل میں آئی تو اس نے ملکہ برطانیہ کے رشتے کے چچا اور پنڈت نہرو سے گہرے خاندانی روابط رکھنے والے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو ہندوستان کا گورنر جنرل مقرر کر دیا‘ اس طرح ہندو کانگریس کی پشت پناہی کرنے پر برطانوی حکومت بھی مجبور ہو گئی۔ پنڈت نہرو نے قائد اعظم کو بھی یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ بھی پاکستان کا گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو بنائیں۔ قائد اعظم نے سوچا کہ ایسا کرنا پاکستان کو مزید خطرے میں ڈالنا اور ہندو کانگریس اور فرنگی حکمرانوں کی سازشوں اور ان کے رحم و کرم پر چھوڑنا ہو گا اور جب پاکستان کی تقسیم ہو چکی تو دونوں ملکوں کی سرحدوں کا تعین کرنے کے بارے میں یہ کہا گیا کہ ریڈ کلف پاکستان اور ہندوستان کی حکومتوں کے دلائل سن کر باؤنڈری مقرر کرے گا۔ ریڈ کلف کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی تھے۔ جنہیں باؤنڈری کمیشن کہا یا سمجھا جاتا تھا۔ لیکن سارے معاملات ریڈ کلف کے ہاتھ میں تھے‘ آخری فیصلہ اسے کرنا تھا۔
ظفر اللہ خان نے اپنی خود نوشت ”حدیث نعمت“ میں ایک جگہ یہ لکھا ہے کہ وہ پنجاب میں باؤنڈری کمیشن کو پاکستان کی طرف سے رپورٹ تیار کرنے میں تن تنہا مصروف رہے اور ممدوٹ اور دولتانہ صاحبان نے اس سلسلے میں ان کی کوئی مدد نہیں کی یہاں تک کہ انہیں ایک اسٹینو ٹائپسٹ تک نہیں دیا گیا‘ البتہ اس سلسلے میں لاہور کے کمشنر عبدالرحیم مرحوم نے ان کی ہر ممکن مدد کی اور جب ریڈ کلف صاحب لاہور آئے تو انہوں نے پاکستان اور ہندوستان کے مندوبین کی نہ رپورٹیں دیکھیں اور نہ ہی دلائل سنے اور ایک طیارے
میں اپنے کمیشن کے کارکنوں کے ساتھ انہیں بھی سوار کر کے انہوں نے اڑان بھری اور ان سے یہ کہا کہ ہمارا طیارہ جن علاقوں سے گزرے گا یا پرواز کرے گا۔ وہی دونوں ملکوں کی باؤنڈری ہو گی۔ ریڈ کلف کے ہاتھ میں پہلے سے ایک نقشہ تھا۔ اس نقشے کے مطابق بہت سے اہم مقامات اور علاقے پاکستان سے چھین کر بھارت کی جھولی میں ڈال دیئے گئے۔ قائد اعظم نے اس سلسلے میں یہ فرمایا کہ جس پاکستان کا ہم نے مطالبہ کیا تھا۔ اس کے بجائے ایک کٹا پھٹا پاکستان ہمیں دے دیا گیا ہے اور پھر قائد اعظم نے اپنی جیب سے رومال نکال کر کہا کہ ہمیں جو کچھ مل گیا ہے اس پر ہمیں سجدہ شکر بجا لانا چاہیے۔ انشاء اللہ ہم اسی پاکستان کو ایک مثالی ملک بنائیں گے۔
(ہفت روزہ ”تکبیر“ ۸ جولائی ۱۹۹۳ء)
از قلم : نصر اللہ خاں
اور جج حیرت میں ڈوب گیا
۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں میانوالی سے قافلے گرفتاری کے لیے لاہور جاتے تھے۔ ایک قافلہ میں میاں فضل احمد موچی بھی جا کر گرفتار ہو گیا۔ ان کی گرفتاری مارشل لاء کے تحت عمل میں آئی۔ مارشل لاء عدالت نے ان کے بڑھاپے کو دیکھ کر دیگر ساتھیوں کی نسبت کم سزا دی۔ اس پر وہ بگڑ گئے۔ عدالت سے احتجاج کیا کہ میرے ساتھ انصاف کیا جائے۔ اس سے عدالت نے سمجھا کہ شاید یہ سزا کم کرانا چاہتا ہے۔ عدالت نے جب پوچھا تو کہا کہ مجھ سے کم عمر کے لوگوں کو دس سال کی سزا دی ہے تو اس نسبت سے مجھے بیس سال سزا ملنی چاہیے، آپ نے مجھے کم سزا دی، میرے ساتھ انصاف کیا جائے اور میری سزا میں اضافہ کیا جائے۔ یہ سن کر مارشل لاء عدالت کانپ اٹھی۔ اس بوڑھے جرنیل کی ایمانی غیرت پر جج انگشت بدنداں اٹھ کر عدالت سے ملحق کمرہ میں چلا گیا۔ انہوں نے عدالت میں کپڑا بچھا کر اپنی گرفتاری و سزا اور آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے اپنی قربانی کی بارگاہ خداوندی میں قبولیت کے لیے نوافل پڑھنے شروع کر دیے۔
(”تحریک ختم نبوت“ ۱۹۵۳ء ص ۵۵۲‘ از مولانا اللہ وسایا)
یہ عاشق کون سی بستی کے یارب رہنے والے ہیں
سر ظفر اللہ اور پاکستان
علامہ محمود احمد رضوی
- ۱۔ قرارداد پاکستان پر ظفر اللہ کی تصریحات: ”جہاں تک ہم نے اس پر غور کیا
ہے ہم اسے مجذوب کی بڑ اور ناممکن العمل خیال کرتے ہیں۔“ (ڈیوائڈ انڈیا ص۲۰۷)
مندرجہ بالا حوالہ سے صاف عیاں ہے کہ سر ظفر اللہ پاکستان کے نعرے کو ایک مجذوب کی بڑ سمجھتے تھے یا بالفاظ دیگر پاکستان کا نعرہ لگانے والوں کو پاگل خیال کرتے تھے اور اپنے خصوصی عقائد کی بناء پر یہی خیال کرتے تھے کہ انگریز جو ان کے نزدیک اولی الامر ہے، ہندوستان سے نہیں جاسکتا اس لیے پاکستان بھی نہیں بن سکتا۔
- ۲۔ پاکستان کی اطاعت کی بجائے اطاعت خلیفہ محمود: لیک سس ۶ نومبر عرب
ڈیلیگیشن نے امریکہ سے بذریعہ تار حضرت امام جماعت احمدیہ کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان ڈیلی گیشن کے لیڈر چودھری محمد ظفر اللہ خاں کو مسئلہ فلسطین کے تصفیہ تک یہیں ٹھہرنے کی اجازت دی۔ (اخبار الفضل ۸ نومبر ۱۹۵۲ء)
مندرجہ بالا حوالہ سے صاف ظاہر ہے کہ سر ظفر اللہ وزارت خارجہ سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے مرزائیت کا پروپیگنڈہ کر رہا ہے اور بیرونی ممالک میں یہ ظاہر کرنے کی ناپاک سازش کی گئی کہ پاکستان کا امیر مرزا بشیر ہے اگر ایسا نہیں تھا تو شکریہ کا تار حکومت پاکستان کی بجائے مرزا بشیر کو کس حیثیت میں ظفر اللہ نے دلوایا یہ ایک سیدھا سادہ سوال ہے جس کے جواب کے لیے عوام مضطرب ہیں وہ حیران ہیں کہ یہ کیا کھیل کھیلا جارہا ہے۔
وزیر خارجہ یا مبلغ مرزائیہ
۲۸ مئی ۱۹۵۲ء جہانگیر پارک کراچی میں مرزائیوں کی جو دو روزہ کانفرنس ہوئی اور جس پر یہ حکومت کی طرف سے پابندی عائد کی گئی تھی کہ کانفرنس میں کسی اختلافی مسئلہ پر تقریر نہیں ہوگی۔ اس کانفرنس کے آخری اجلاس میں سر ظفر اللہ خان قادیانی نے جو گوہرافشانی کی وہ مندرجہ ذیل سطور میں مرزائیوں کے اخبار الفضل ۳۱ مئی کی اشاعت سے نقل کی جاتی ہے۔ یاد رہے کہ اسی تقریر سے مسلمانان کراچی کی رپورٹ کے مطابق ڈیڑھ گھنٹہ تک پاکستانی پولیس نے اشک آور گیس کے بموں کا استعمال کر کے مسلمانوں کو مرعوب کرنا چاہا اور اندھا دھند لاٹھی چارج کر کے انہیں کفر و ارتداد کی تبلیغ روکنے سے باز رکھنے کی کوشش کی گئی۔
”آخر میں چودھری (سر ظفر اللہ خاں) صاحب نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود کے دعوٰی سے پہلے مسلمانوں کی ناگفتہ بہ حالت تھی۔ لیکن آپ کے دعوے کے بعد یہ حالت بدل گئی۔ کسی مسلمان کو آج بھی جب کسی آریہ سے ہندو یا عیسائی سے مقابلہ کرنا پڑتا ہے تو وہی دلائل پیش کرتا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب میں درج ہیں۔ کیونکہ ان دلائل کے بغیر آج چارہ نہیں۔ ان تمام باتوں سے واضح ہوتا ہے کہ احمدیت خدا تعالیٰ کا لگایا ہوا پودا ہے۔ یہ پودا اسلام کی حفاظت کے لیے کھڑا کیا گیا ہے۔ جس کا وعدہ قرآن مجید میں دیا گیا ہے۔ اگر نعوذ باللہ آپ کے (غلام احمد) وجود کو درمیان سے نکال دیا جائے تو اسلام کا زندہ مذہب ہونا ثابت نہیں ہوسکتا۔ بلکہ اسلام بھی دیگر مذاہب کی طرح ایک خشک درخت شمار کیا جائے گا اور اسلام کی کوئی برتری دیگر مذاہب سے ثابت نہیں ہو سکتی۔“
الصلح کراچی ۲۳ مئی ۱۹۵۲ء منقول الفضل ۳۱ مئی ص ۵ کالم ۲
سر ظفر اللہ وزیر خارجہ کی نسبت پاکستانی اخبارات کی رائے
- ۱۔ وہ بہت منحوس گھڑی تھی جب چودھری ظفر اللہ کو وزارت خارجہ کا قلمدان سپرد کیا گیا۔
(مغربی پاکستان لاہور)
- ۲۔ سر ظفر اللہ امور خارجہ میں پاکستان کو برطانیہ کا خیمہ بردار نہ بنائے۔ (نوائے وقت)
- ۳۔ چودھری ظفر اللہ اپنے ذاتی رجحانات کی بنا پر پاکستان کی خارجہ حکمت عملی کا بیڑہ غرق کر
رہے ہیں۔
(شعلہ )
- ۴۔ چودھری ظفر اللہ خان اپنے مذہبی عقائد کی بنا پر بھی انگریز کو اپنا آقا اور مولا سمجھنے پر مجبور
ہیں۔ اس کے علاوہ یہ واقعہ ہے کہ ڈپلومیسی کے میدان میں وہ آج تک کامیاب نہیں ہوسکے۔
(زمیندار ۳۱ مارچ ۵۲ء)
- ۵۔ بہرحال یہ واقعہ ہے کہ اگر پاکستان کی خارجی پالیسی ابھی تک مضبوط بنیادوں پر قائم
نہیں ہوسکی تو اس کا حقیقی سبب ظفر اللہ خاں کی ذات ہے جس کی خوش عقیدگی کا دامن برطانیہ سے بندھا ہوا ہے۔ لہٰذا ہمارے نزدیک اگر پاکستان کشمیر کے مسئلہ کو پرامن ذرائع سے حل کرنے کا متمنی ہے تو اسکی اپنی خارجہ پالیسی پر اس وقت تک نظرثانی نہیں ہوسکتی جب تک چودھری ظفر اللہ خاں کو موجودہ عہدے سے سبکدوش نہیں کیا جاتا۔
(زمیندار ۳۱ مارچ ۵۲ء)
- ۶۔ جہاں تک پاکستان کے فہمیدہ طبقوں کا تعلق ہے ان کا ایک فرد بھی اس سے اختلاف
نہیں کرے گا واقعہ یہ ہے کہ ہمارے وزیر خارجہ کی پالیسی ہر لحاظ سے ناکام ہوچکی ہے۔ ہم نے اینگلو امریکی بلاک سے ضرورت سے زیادہ دوستی کے تعلقات بڑھائے لیکن اس دوستی سے ہمیں فائدہ کی بجائے الٹا نقصان ہوا۔ کیونکہ اس سے بھارت کی سیاسی اہمیت بڑھ گئی اور اسے اس بلاک نے منہ مانگی قیمت دے کر اپنے ساتھ ملا لیا۔
(آفاق ۱۳ اپریل ۱۹۵۲ء)
- ۷۔ چودھری صاحب ان لوگوں میں ہیں جو ہر گورے کو لیفٹینٹ گورنر سمجھتے ہیں اور اس کی
مافوق الفطرت صلاحیتوں پر ایمان رکھتے ہیں۔
(تسنیم لاہور ۲۷ مارچ ۵۲ء)
ختم نبوت کی تبلیغ
مولانا کو اس سنگین خطرہ کا جو مسلمانوں کے سروں پر منڈلا رہا تھا، پورا احساس تھا اور اس کے مقابلہ کا ان کو اس قدر زائد اہتمام تھا کہ یہ کہا کرتے تھے کہ: ”اتنا لکھو اور اس قدر طبع کراؤ اور اس طرح تقسیم کرو کہ ہر مسلمان جب صبح سو کر اٹھے تو اپنے سرہانے رد قادیانی کی کتاب پائے“۔
(”سیرت مولانا محمد علی مونگیری“ ص ۳۰۲ از سید محمد الحسنی)
سر ظفر اللہ
ننگ وطن کردار کی جھلکیاں
سر ظفر اللہ کی وفات سے قادیانیت کی تاریخ کا ایک باب ختم ہو گیا۔ سر ظفر اللہ نے مرزا غلام احمد قادیانی کو بچپن میں دیکھا اور ان کی نبوت پر ایمان لے آئے کیونکہ ان کا گھرانہ قادیانیت کی آغوش میں آ چکا تھا۔ ۱۹۰۴ء میں مرزا غلام احمد سیالکوٹ میں ایک لیکچر دینے گئے تو سر ظفر اللہ اس مجلس میں موجود تھے۔ وفاداری بشرط استواری کے اصول کے تحت آپ نے تمام عمر قادیانیت کیلیے وقف کر دی۔ مرزا قادیانی کے بعد حکیم نور الدین کے دور (۱۹۰۸۔۱۴ء) میں آپ نے لندن میں تعلیم مکمل کی اور پھر مرزا محمود (۱۹۱۴/۱۹۶۵ء) کے انتہائی قریبی ساتھیوں میں رہے۔ مرزا محمود کے بعد تیسرے قادیانی سربراہ مرزا ناصر احمد اور موجودہ سربراہ مرزا طاہر احمد سے بھی آپ نے بھر پور تعاون کیا اور کسی طور بھی قادیانی مسلک کی ترویج اور اپنے مشن کے لیے کام کرنے میں کوتاہی نہ کی۔ اگرچہ اس دور میں قادیانیت کو بہت سخت اور صبر آزما حالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
سر ظفر اللہ کی شخصیت کے کئی پہلو ہیں آپ ایک وکیل، آئینی و سیاسی مدبر اور قانون دان تھے۔ برطانوی دور میں ان عہدوں کے علاوہ آپ وائسرائے کی کونسل کے ایک ممبر بھی تھے اور اس لحاظ سے انگریز کی نو آبادیاتی پالیسی سے بخوبی آگاہ رہتے تھے۔ سر ظفر اللہ کا تمام کیریئر اس بات پر منحصر تھا کہ آپ انگریز کے خود کاشتہ پودے کی ٹہنی کا پتہ تھے۔ برطانوی سامراج کی پالیسیوں کی تکمیل اور ان کے نو آبادیاتی عزائم کو پورا کرنے میں ہر وقت اور ہر طرح مستعد رہتے تھے۔ مرزا محمود سربراہ دوم اور برطانوی اعلیٰ افسروں کے درمیان رابطے کا اہم ذریعہ آپ
ہی کی ذات تھی۔ انگریز کو آپکی وفاداری تاج برطانیہ سے محبت برطانوی راج کے استحکام کے لیے سرفروشی اور فدائیت پر پورا پورا یقین و اعتماد تھا۔ برطانوی حلقوں میں آپ شاہ (انگلستان) سے زیادہ وفادار سمجھے جاتے تھے۔ قادیانی جماعت نے ۱۹۱۴ء سے ۱۹۴۷ء تک جن جن سیاسی سازشوں میں حصہ لیا اس کے پس پردہ آپ کی مشاورت اور مرزا محمود کے احکامات کو گہرا دخل تھا۔ ۱۹۱۴ء کی جنگ عظیم اوّل ترکی خلافت عدم تعاون ہجرت وغیرہ کی تحریکوں میں قادیانیوں کے گھناؤنے اور اسلام دشمن سیاسی کردار میں سر ظفر اللہ کا بڑا حصہ تھا۔ آپ ہی نے پہلی دفعہ مرزا محمود کے ساتھ ۱۹۱۷ء میں یہودی سیکرٹری آف سٹیٹ لارڈ منٹو سے دہلی میں ملاقات کی اور سیاسی امور خصوصاً خود مختار حکومت کے مسئلہ پر قادیانی موقف کی وضاحت کی اس کے بعد ہر نئے وائسرائے ہند کو جماعت احمدیہ نے جو ایڈریس پیش کیے ان میں آپ پیش پیش رہے۔ ان ایڈریسوں میں جماعت کی انتہائی وفاداری انگریز کی سچی خدمت اور اطاعت کامل کے جذبات کا اظہار ہوتا اور تجدید عہد کی جاتی انگریز کی سیاسی پالیسیوں اور شاطرانہ چالوں کی تکمیل کے لیے احمدیہ جماعت کو خفیہ فنڈز سے معتد بہ حصہ ملتا تھا مرزا محمود نے کئی خطبوں میں کہا ہے کہ وہ انگریز کی سیاسی خدمات انجام دیتے رہے۔ حتیٰ کہ احمدیہ جماعت برطانوی حکومت کی ایک سیاسی ایجنسی سمجھی جاتی تھی اور احمدی انگریز کے جاسوس قرار دیے جاتے تھے۔ انگریز ایک طرف خفیہ مالی ذرائع مہیا کرتا۔ تو دوسری طرف مسلمانوں کے کوٹے سے قادیانیوں کو اعلیٰ عہدے عطا کر کے وفادار جماعت کی ترقی میں مدد دیتا۔
سر ظفر اللہ برطانوی سول سروس کے افسروں اور قادیانی امیدواروں کے درمیان ایک اہم رابطہ تھے۔ آپ قادیانیوں کی ایک مقررہ تعداد کو فوج سول اداروں اور خفیہ اداروں میں بھرتی کراتے اور ان کو بڑھنے پھولنے کے مواقع مہیا کرتے تاکہ خلافت کے چندوں میں اضافہ ہو۔ مرزا قادیانی کی امت بڑھے اور انگریز کے راز محفوظ رہیں۔
سر ظفر اللہ کو سر فضل حسین کی زبردست سر پرستی حاصل رہی۔ آپ کو گول میز کانفرنس میں سر فضل حسین نے بھجوایا تاکہ قائد اعظم محمد علی جناح کی آواز کو دبائیں ان کانفرنسوں میں آپ نے سر فضل حسین کی سیاسی پالیسی کے ترجمان کے طور پر کام کیا اور انگریز سے خراج تحسین حاصل کیا اور سر کا خطاب پایا۔ چوہدری رحمت علیؒ کی پاکستان سکیم کو آپ نے واہمہ اور ناقابل عمل بتایا۔
۱۹۳۱ء میں انگریز کے خلاف ہندوستانی انقلابیوں کی تحریکوں میں سر ظفر اللہ انگریز کے قانونی مشیر تھے اور دہلی سازش کیس میں سرکار کے وکیل تھے۔ سر جیمز کیرئیر رکن داخلہ سرکار برطانیہ آپ کو کراؤن کونسل مقرر کرنے میں از حد دلچسپی رکھتے تھے۔ اسی سال ۱۹۳۱ء میں قادیانی حلقوں نے برطانوی اہل کاروں، سرکار پرستوں، جاگیرداروں اور نوجوانوں کی مدد سے مسلم لیگ کی قیادت کو چار بڑے دھڑوں میں تبدیل کر کے ایک دھڑے کی صدارت کے لیے سر ظفر اللہ کو منتخب کیا لیکن اسلامیان ہند نے مسلم لیگ کا یہ اجلاس نہ ہونے دیا۔ ایک کوٹھی میں چھپ چھپا کر چند ریزولیشن پاس کر کے پریس کو دے دیے گئے۔ اس زمانے (۱۹۳۲ء) میں وائسرائے نے آپ کو اپنی کونسل میں بطور ممبر لے لیا۔ سر فضل حسین نے اس کی بھر پور سفارش کی۔
۱۹۳۵ء کے بعد آزادی کشمیر کی جدوجہد میں مسلم زعماء نے ہندوستان سے ایک تحریک کی تو اٹھائی قادیانی خلیفہ مرزا محمود نے کشمیر میں قادیانی سٹیٹ قائم کرنے کی ایک سازش تیار کر کے انگریز کی مدد سے ایک وسیع تبلیغی پروگرام تیار کیا۔ ظفر اللہ نے برطانوی نو آبادیات کی سیاسی پالیسی کی تکمیل کے لیے برطانوی سیکرٹری آف سٹیٹ کے اشاروں پر کشمیر میں سیاسی رہنماؤں کو خریدا اور ریاست میں قادیانی مشن قائم کرائے۔ مرزا محمود نے کشمیر کمیٹی کے پلیٹ فارم کو ان مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا انگریز کشمیر اور شمالی سرحدی علاقوں میں وفادار جماعتوں اور جاسوسوں کو پروان چڑھا کر ایک تو روسی توسیع پسندی کا مقابلہ چاہتا تھا۔ دوسرے اس علاقے کے نقش کو بدلنا چاہتا تھا۔ احرار رہنماؤں نے قادیانیوں کی ان سازشوں کا بھر پور مقابلہ کیا اور سر ظفر اللہ بطور مسلمان وائسرائے کی کونسل میں تقرر کے خلاف آواز اٹھائی۔ قادیان میں احرار کی تحریک (۱۹۳۴ء) جسٹس کھوسلے کے جرات مندانہ فیصلے کشمیر چلو کے نعرے اور احرار رضا کاروں کی گرفتاریوں نے سامراجی تنظیم قادیانیت پر کاری ضرب لگائی۔ ان حالات میں سر ظفر اللہ نے خود اور اپنی والدہ کی معرفت وائسرائے پر کافی اثر ڈالا اور احرار کی تحریک کو ناکام بنانے میں ہر حربہ اختیار کیا۔
شہید گنج کی تحریک کے در پردہ سیاست میں سر ظفر اللہ اور سر فضل حسین کی شاطرانہ چالوں کو گہرا دخل تھا۔ قادیانی رضا کاروں نے مسلمانوں اور احرار کے زعماء کے درمیان تصادم پیدا کرنے اور پنجاب کی سیاست میں سرکار نواز یونینسٹ طبقے کو ابھرنے کا موقع دینے میں پوری توانائیاں صرف کیں جس کے نتیجے میں ”احرار کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی ۔“
۱۹۳۵ء کے ایکٹ کے تحت جو انتخابات ہوئے ان میں قادیانی جماعت پنجاب کی یونینسٹ قیادت کے ساتھ تھی۔ قادیانیوں نے مسلم لیگ کی بھر پور مخالفت کی اور کانگرسی وزارتوں کے قیام پر خوشی کے شادیانے بجائے۔ لاہوری جماعت کے اخبار پیغام صلح کے ۱۹۳۷ء کے فائل قادیانیت کے سیاسی چہرے کی نقاب کشائی کرتے ہیں اور ظفر اللہ کے سیاسی کردار کے خدوخال پیش کرتے ہیں۔ لاہوری جماعت نے مسلم لیگ کی پالیسی سے اتفاق کیا جبکہ قادیانی جماعت نے کانگرس کا ساتھ دیا اور بعض کانگرسی رہنماؤں کو قادیان مدعو کیا گیا۔ ۱۹۳۵ء میں حضرت علامہ اقبالؒ کے جرأت مندانہ مقالے نے قادیانیت کے سیاسی عزائم اور دینی غداریوں کو واضح کر دیا تھا جس کے بعد قادیانی پنڈت نہرو سے عقیدت کا اظہار کر رہے تھے پنڈت جی کا لاہور سٹیشن پر قادیانی رضا کاروں نے استقبال کیا اور فخر قوم کے نعرے لگائے۔ ۱۹۳۵ء سے ۱۹۴۵ء تک کا زمانہ کانگرس سے پینگیں بڑھانے میں گزر گیا۔
دوسری جنگ عظیم میں سر ظفر اللہ انگریز کا نفس ناطقہ تھا۔ قادیانی جماعت نے جنگ میں بھرتی دی۔ مالی تعاون کیا اور بین الاقوامی سطح پر تحریک جدید کے مشنوں کے تحت انگریز کے لیے جاسوسی کی۔ سر ظفر اللہ اور مرزا محمود ان تمام کارروائیوں کے پس پردہ برطانوی مہروں کے طور پر کام کرتے رہے۔ انھوں نے کبھی بھی مسلمانوں کی آزادی و حریت کے حق میں آواز نہ اٹھائی۔ جتنی جتنی انگریز نے ہندوستان کو آزادی دینے کی پالیسی میں اپنے مفاد کے لیے لچک پیدا ہوئی ۱۹۴۵ء سے لے کر ۱۹۴۶ء تک نہ تو سر ظفر اللہ نے اور نہ ہی مرزا محمود نے پاکستان کے حق میں کوئی آواز بلند کی ان کی تمام تر توجہ قادیان کو اپنی مملکت بنانے پر مرکوز رہی۔ ۱۹۴۶ء کے الیکشن میں قادیانی جماعت نے مسلم لیگ کی نام نہاد حمایت کا جو اعلان کیا وہ انتہائی منافقت‘ عیاری اور موقع پرستی پر مبنی تھا ہر حلقے کے انتخاب میں قادیانیوں نے الگ پالیسی اختیار کر رکھی تھی‘ اکثر جگہوں پر یونینسٹ امیدواروں کا ساتھ دیا گیا اور کئی آزاد امیدواروں نے قادیان میں آ کر جماعت احمدیہ کا تعاون حاصل کرنے کے معاہدے کیے۔
سر ظفر اللہ ایک اہم سیاسی شخصیت کو سیالکوٹ سے قادیان لائے اور مرزا محمود سے ایک معاہدہ کرنے کی سفارش کی۔ کئی انتخابی حلقوں میں قادیانیوں نے مسلم لیگ کے امیدواروں کے خلاف ذلیل پراپیگنڈہ کیا اور انھیں ناکام بنانے کے حربے اختیار کیے۔ سر ظفر اللہ کا ایک بھی ایسا بیان موجود نہیں جس میں انھوں نے پاکستان کی حمایت کا اعلان کیا ہو۔ یا مسلم لیگ کی
۱۹۳۵ء سے ۱۹۴۷ء تک کی سیاسی پالیسی کے حق میں کوئی واضح بیان دیا ہو آپ کو انگریزی حکومت کے ہمیشہ کے قیام میں اپنی اور قادیانیت کی بقاء مضمر نظر آتی تھی آپ کے دینی عقائد سیاسی مزاج اور برطانوی آقاؤں سے تعلقات اس بات کی کسی طور پر اجازت نہ دیتے تھے کہ آپ انگریز کی بالا دستی کو ڈھلتا ہوا دیکھیں۔ قادیان کی آزادانہ حیثیت کے قیام کے لیے ۱۹۴۷ء کے وسط میں مرزا محمود نے اپنی سیاسی پالیسی میں جو معمولی تبدیلی پیدا کی اور مسلم لیگ کی طرف جس جھکاؤ کا اظہار کیا اس کا خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہ ہو سکا کیونکہ پنجاب کی تقسیم کا اعلان ہو چکا تھا اور پاکستان کا وجود ایک حقیقت بن کر ابھر رہا تھا۔ قادیان میں علیحدہ ویٹیکن قسم کی ریاست عملاً دشوار امر تھا۔
سر ظفر اللہ نے پاکستان کے وزیر خارجہ کے طور پر برطانوی اور بعد میں امریکی اشاروں پر جو خارجہ پالیسی وضع کی اس کے مضمرات ہمارے سامنے ہیں کشمیر کے مسئلے پر آپ نے وہ رویہ اختیار کیا جو مرزا قادیانی نے برطانوی جاسوس مولوی لطیف کی سنگساری اور مرزا محمود نے دوسرے قادیانی جاسوسوں کے افغانستان میں قتل کے سلسلہ میں روا رکھا۔ فلسطین یا دیگر اسلامی ممالک کی آزادی کے سلسلے میں سر ظفر اللہ نے پاکستان کی سیاسی پالیسی اور اس کے عربوں کی حمایت کے موقف کو پیش کیا۔ اپنی ذاتی حیثیت سے وہ ان اسلامی ممالک کے تمام باشندوں کو مطلق کافر اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے تھے۔ ان ممالک کے سربراہوں نے اپنے نیم خود مختار یا انقلابی اقتدار میں قادیانی مشن یا تو قائم نہ ہونے دیئے یا ان کے قیام کے بعد ان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کا جرم کیا۔ مرزا قادیانی نے دنیا کے تمام اسلامی ممالک میں اپنا لٹریچر روانہ کر کے وہاں کے علماء زعماء اور خلافت ترکیہ کے خلاف نہایت بدگوئی کی اور ان کی تباہی کی پیش گوئیاں اور انگریز کی حکومت کے غلبے کی دعائیں کیں۔ مرزا محمود نے اپنے جاسوسوں اور صیہونی ایجنٹوں اور یہودی آقاؤں کی مدد سے اسلامی ممالک کی سالمیت کو نقصان پہنچایا۔ ان حقائق کے ہوتے ہوئے اس شجر خبیثہ کا ایک پھل کس طرح مسلمانوں کا بہی خواہ ہو سکتا تھا؟ وہ ایک تنخواہ دار وکیل کی طرح تھا جس کو فیس ادا کر کے آپ کسی قسم کے کیس کی وکالت کرا سکتے ہیں پاکستان کی وزارت خارجہ سے علیحدگی کے بعد وفات تک کے تقریباً تیس سالوں میں سر ظفر اللہ قادیانی جماعت مرزا محمود مرزا ناصر اور مرزا طاہر میں سے کسی نے بھی فلسطین یا اسلامی ممالک کے لیے کوئی آواز بلند نہ کی۔ انھوں نے تو صیہونی اشاروں پر فلسطین میں ۱۹۴۸ء
سے لے کر آج تک مسلمانوں کے خلاف گھناؤنی سازشیں کیں جن کی تفاصیل کتاب ” قادیان سے اسرائیل تک“ مکتبہ المصنفین اکوڑہ خٹک میں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔
عالمی عدالت انصاف میں امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ مسٹر ڈلٹر کی اعانت سے سرظفر اللہ جج مقرر ہوئے یہ پاکستان میں امریکی خدمات کی انجام دہی کا ثمرہ تھا۔ پاکستان کو سیٹو جیسے معاہدوں میں پھنسانے کے صلے میں آپکی عزت افزائی کی گئی۔ سر ظفر اللہ نے جنوبی افریقہ کے انقلاب کے مسئلے پر عالمی عدالت میں جو گھناؤنا کردار ادا کیا اس کے نتیجے میں برطانوی اور امریکی آقاؤں کی اشیر باد حاصل کر کے آپ کو عدالت کی صدارت تو مل گئی لیکن یہ داغ کسی طرح دھل نہ سکے گا۔ برطانوی سامراج کی شخصی یادگار سر ظفر اللہ محکوم اقوام کی آزادی کا ترجمان بن ہی نہیں سکتا تھا۔
۱۹۴۷ء کی تحریک میں بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے میں لندن مشن اور سر ظفر اللہ کے بیانات تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں اور ان کی تلخی ابھی تک ہمیں یاد ہے۔ بین الاقوامی عدالت میں ظفر اللہ کے کردار کا ذکر ہی کیا ۱۹۴۵ء میں برطانوی سامراج نے آزادی پسند چین کی تحریک حریت کے زمانے میں آپ کو اپنا اے۔ جی نامزد کر کے خصوصی خدمات کی بجا آوری کے لیے چین روانہ کیا۔ ایسے ہی تحریک پاکستان کے آخری ایام میں جون ۱۹۴۷ء تک جب تک برطانوی وزیر اعظم نے تقسیم ہند کے منصوبے کا اعلان نہیں کیا تھا۔ سرظفر اللہ انڈین فیڈرل کورٹ کے جج تھے اور جج کی حیثیت سے کسی قسم کی سیاسی تحریک میں کوئی حصہ نہ لے سکتے تھے۔ ۳ جون ۱۹۴۷ء کے بعد آپ استعفیٰ دے کر نواب بھوپال کے آئینی مشیر بن گئے۔ انگریز ان کی خدمات والیان ریاست ہائے ہند کے مفادات کے تحفظ اور برطانوی حکومت کے ساتھ ان کے خصوصی تعلقات کے سلسلے میں معاہدات کی تشکیل کے لیے مستعار لینا چاہتا تھا۔ لیکن آزادی کے ایکٹ اور لیبر حکومت کے دیگر اعلانات سے سیاسی صورت حال بدل گئی۔ سر ظفر اللہ نے انگریز گورنر پنجاب اور دیگر افسروں کے اشارے پر پنجاب کی سیاست میں قدم جمانے کے لیے راہ ہموار کی سر خضر حیات کو استعفیٰ کا مشورہ دیا اور خود چیف منسٹر بننے کی امید لگا بیٹھے۔
سر ظفر اللہ کٹر قادیانی تھے۔ مسلمانوں کو کافر دائرہ اسلام سے خارج قرار دینے پر ایمان رکھتے تھے اسی لیے قائد اعظم کا جنازہ نہ پڑھا۔ قادیانیوں کو سروسز میں لانے اور جماعت
کے لیے سیاسی اور مادی فوائد کے حصول میں کوشاں رہے۔ عجم کے کرنل لارنس اور برطانوی سامراج کے عظیم حاشیہ بردار تھے۔ آپ استحصالی اسلام دشمن اور حریت کش طبقات کے ترجمان اور آزادی کے متوالوں کے سخت مخالف تھے۔ برطانیہ امریکہ اسرائیل اور قادیانی خلیفوں کے درمیان اہم رابطہ تھے۔ آپ کے ذاتی کردار کے بارے میں اگر کسی صاحب کو دلچسپی ہو تو ۱۹۳۸ء سے ۱۹۴۰ء کے الفضل قادیانی اور پیغام صلح لاہور ملاحظہ کرے۔ خاص طور پر اس زمانے کی تحریرات جبکہ خلافت جوبلی ۱۹۳۹ء پر آپ نے مرزا محمود کو روپوں کی تھیلی پیش کی اور لاہوری امیر جماعت محمد علی نے آپ کو باہمی اختلافات میں ثالث بننے کی ایک دعوت دی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی۔ جلد ۶۔ شمارہ ۲۴۔ نومبر ۱۹۸۵ء۔ از قلم چوہدری رستم علی)
❁……❁……❁
حضرت لاہوریؒ کا بستر ❦ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کو بھی گرفتار کیا گیا۔ آپ نے قید و بند کی صعوبتیں انتہائی خندہ پیشانی سے برداشت کیں۔ جیل میں آپ کی بزرگی کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ کے سونے کے لیے ایک چارپائی کا اہتمام کیا گیا۔ حضرت لاہوریؒ نے جب اپنے بستر کے قریب چارپائی دیکھی تو احباب سے پوچھا کہ یہ چارپائی کس کے لیے؟
احباب نے جواب دیا کہ آپ کے لیے۔
”چارپائی کو فوراً اٹھا لو۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اسیران تحریک ختم نبوت تو زمین پر سوئیں اور احمد علی چارپائی پر!“ حضرت لاہوریؒ نے فرمایا۔
آپ نے یہ الفاظ کچھ اس انداز سے فرمائے کہ حاضرین کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ آپ کے حکم کی تعمیل میں چارپائی واپس کر دی گئی اور آپ کا بستر شمع ختم نبوت کے پروانوں کے ساتھ زمین پر بچھا دیا گیا۔
انہیں کہیں سے بلاؤ بڑا اندھیرا ہے
آنجہانی ظفر اللہ قادیانی
چند خفیہ پہلو
روزنامہ نوائے وقت کراچی ۲۴ ستمبر ۱۹۸۵ء میں جناب عبداللطیف صاحب سیٹھی کا ایک مضمون بعنوان ”چوہدری سر ظفر اللہ خاں ...... ایک جائزہ شائع ہوا ہے اس مضمون میں چوہدری سر ظفر اللہ قادیانی کی زندگی کے بعض ان پہلوؤں کی نشاندہی کی گئی ہے جو عوام کی نظروں سے اوجھل تھے کچھ پہلو ایسے ہیں جو مشہور ہیں لیکن انھیں غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ سیٹھی صاحب کے اس مضمون کے کچھ اقتباسات ہم روز نامہ نوائے وقت کراچی کے شکریہ کے ساتھ ذیل میں پیش کر رہے ہیں اور اس پر تبصرہ کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔
(ادارہ ہفت روزہ ختم نبوت کراچی)
چوہدری ظفر اللہ کو قادیانی عقائد ورثہ میں ملے تھے شروع شروع میں یہ گروہ خاصی اسلامی اپیل رکھتا تھا لیکن رفتہ رفتہ اس کے عقائد پر مہدویت اور الہام من اللہ کے دعوے کا غلبہ ہو گیا جس سے اس نے اپنی ابتدائی اپیل کھو دی اور مسلمانوں نے اسے مسترد کر دیا بقول علامہ اقبال ......
آنکہ در قرآن بغیر از خود ندید
مسلمانوں کی طرف سے مخالفت کے بعد اس فرقہ کی قیادت نے انگریزی حکومت سے حفاظت طلب کر لی اور تعاون پیش کیا ......
دولت اغیار را رحمت شمرد
رقص ہا گرد کلیسا کرد و مرد
عام لوگوں کا خیال تھا کہ چوہدری صاحب ایک جیورسٹ ہیں اس لیے خود قائل ہوں گے یا دوسروں کو قائل کرلیں گے لیکن انھوں نے اپنے استدلال کا زور علم کی بجائے ہٹ اور ضد پر رکھا جس کی وجہ سے مسلمانوں کی اکثریت ان سے مایوس ہوتی چلی گئی۔ ممکن ہے کہ وہ اپنے عقیدہ پر پختہ کاری سے ایمان رکھتے ہوں لیکن برصغیر کے مسلمان اس کے قائل نہ ہو سکے اور بالآخر اس فرقہ کو غیر مسلم اقلیت کی حیثیت دے دی گئی۔
چوہدری صاحب جب وائسرائے کی کونسل کے ممبر مقرر ہوئے تو اس تقرری پر بھی مسلمانوں نے ایک ہنگامہ کھڑا کر دیا کیونکہ انھیں یہ رکنیت مسلمانوں کی نمائندہ حیثیت سے ملی تھی۔ مسلمانوں نے کہا کہ اپنے عقیدہ کی وجہ سے وہ مسلمانوں کی نمائندگی نہیں کر سکتے انہی دنوں جب انجمن حمایت اسلام لاہور کا جلسہ ہوا تو حاضرین نے یہ مطالبہ کر دیا کہ پہلے چوہدری صاحب کی رکنیت کے خلاف ایک قرارداد منظور کی جائے۔ انجمن کا موقف یہ تھا کہ یہ جلسہ انجمن کے سکولوں اور کالجوں کے لیے حکومت سے گرانٹ لینے کے لیے منعقد کیا جاتا ہے۔ اس جلسہ کی سٹیج سیاسی سٹیج نہیں ہے۔ لہٰذا اس سٹیج پر یہ قرارداد پیش نہیں ہونی چاہیے لیکن حاضرین نے انجمن کے موقف کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور اصرار کیا کہ جب تک یہ قرارداد پاس نہیں ہوتی جلسہ کی کاروائی رکی رہے گی۔ مولوی محی الدین قصوری اس وقت انجمن کے سیکرٹری تھے وہ جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے آٹھ آٹھ آنسو رونے لگے لیکن حاضرین کا مطالبہ جاری رہا۔ مرحوم حمید نظامی اس وقت میرے ساتھ جلسہ میں بیٹھے ہوئے تھے اونچی آواز میں کہنے لگے ”مگر مچھ کے آنسو“۔ بہرحال جلسہ کی کاروائی رکی رہی ڈیڈلاک پیدا ہو گیا حتیٰ کہ مولانا ظفر علی خان کو بلایا گیا وہ آئے اور انھوں نے قرارداد پیش کی جو منظور ہوئی کہ چوہدری ظفر اللہ خان مسلمانان ہند کے نمائندہ نہیں مگر وائسرائے نے ان کی رکنیت بحال رکھی لیکن یہ چوہدری صاحب کی ذاتی حیثیت میں تھی نمائندہ حیثیت میں نہ تھی اور چوہدری صاحب کو ہمیشہ اس کا احساس رہا۔ جس کا وہ اظہار بھی کرتے تھے کہ میری پشت پر قوم کی سپورٹ نہیں ہے۔
دوسری عالم گیر جنگ ۱۹۳۹ء میں چھڑ گئی۔ تو چوہدری صاحب سپلائی ممبر مقرر ہو
گئے ۔ یہ ممبری وزارت کے عہدہ کے برابر ہوتی تھی ۔ باوجود اس کے کہ چوہدری صاحب مسلمانوں کے نمائندہ نہ تھے ان کے سپلائی کے محکمہ کے سربراہ ہونے کی حیثیت میں بعض پڑھے لکھے مسلمانوں کو بڑا فائدہ پہنچا اور تعلیم یافتہ مسلمان نوجوان بھی مرکزی دفاتر میں بھرتی ہونے لگے ۔ اگرچہ ان میں خاصی تعداد قادیانیوں کی بھی تھی ان دنوں بھی اگرچہ قادیانیوں کو مسلمان نہ سمجھا جاتا تھا لیکن برطانوی حکومت کے ریکارڈ میں وہ مسلمان سمجھے جاتے تھے اور مسلمانوں کے کوٹہ سے انھیں ملازمتیں ملتی تھیں ۔
باؤنڈری کمیشن میں چوہدری صاحب سے ایک سہو ہو گیا وہ یہ کہ جب چوہدری صاحب سے کمیشن کے ممبروں نے سوال کیا کہ کیا احمدی فرقہ کے پیروکار عام مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں تو چوہدری صاحب گول مول جواب دے سکے اور اس طرح جواب دیا ۔ جس سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ عام مسلمان اسی طرح قادیانیوں کو کافر کہتے ہیں جس طرح کہ قادیانی دوسرے مسلمانوں کو کافر خیال کرتے ہیں ۔ اس پر ضلع گورداس پور کی تقسیم ہوگئی اور قادیان بھارت میں چلا گیا ۔ یہ دوسری بات ہے کہ ہندوؤں نے ”مسلمان“ سمجھا اور ان پر بھی تشدد ہوا اور شدید دباؤ کی وجہ سے ترک وطن کرنا پڑا اور قادیان کی بجائے انھوں نے ربوہ کو مرکز بنا لیا ۔
چوہدری صاحب قادیانی جماعت سے تعلق رکھتے تھے اس لیے ہر قادیانی یہ کہتا تھا کہ چوہدری صاحب اس کا ہر وہ کام کریں گے جو وہ انھیں کہے گا کہ یہ ان کا ”مذہبی فریضہ ہے اس لیے قادیانی نوجوان خاص طور پر چوہدری صاحب کو بہت تنگ کیا کرتے تھے ۔ ہر ڈاک میں بیسیوں سفارشیں تمام ملک سے چوہدری صاحب کو پہنچتی تھیں کئی خطوط میں تو مرزا بشیر الدین محمود کی سفارش آتی تھی ۔ چوہدری صاحب کا طریق کار یہ تھا کہ خاص خاص دفاتر میں ایک دو آدمی ایسے ہوتے تھے جن پر انھیں اعتماد ہوتا تھا وہ سفارشی خطوط انھیں بھجوا دیے جاتے تھے ۔ سفارش کرنے والے قابلیت کو تقرری کا معیار نہ بناتے تھے بلکہ ان کا قادیانی ہونا یا کسی بڑے آدمی کی طرف سے سفارش حاصل کر لینا پوسٹ پر تقرری کی کوالیفکیشن سمجھا جاتا تھا ۔ چونکہ مرکز میں مسلمانوں کا کوٹہ مقرر ہو گیا ہوا تھا اور اس سارے کوٹہ کے حق دار چوہدری صاحب کی وساطت سے صرف قادیانی بن بیٹھے تھے ۔ ضلع سیالکوٹ میں ایک گاؤں ہے ۔ جس کا نام بہلول پور ہے وہاں کا رہنے والا ایک نوجوان محکمہ سپلائی میں بھرتی ہو گیا تھا اس محکمہ کے دو دفاتر تھے ایک کلکتہ میں اور دوسرا دلی میں کلکتہ والا دفتر امیونیشن پروڈکشن کا محکمہ کہلاتا تھا ۔ بہلول پور کے اس نوجوان
کی پوسٹنگ کلکتہ میں ہو گئی تھی۔ جس روز سے وہ کام پر گیا تھا اسی روز سے چوہدری صاحب کو خط لکھ لکھ کر دق کرنا شروع کر دیا لیکن تقرری تو چوہدری صاحب کرا سکتے تھے انھوں نے کرا دی سکے۔ تعیناتی چوہدری صاحب نہیں کر سکتے تھے وہ نہ کرا سکے حکومت کے کاروبار کے لیے ہر کسی کو کاروبار حکومت کے تقاضوں کے مطابق مقرر اور تعینات کیا جاتا ہے یا ٹرانسفر کیا جاتا ہے پھر انگریز حاکم تھے معمولی باتوں کے لیے سفارش کرتے رہنا بھی برا لگتا تھا۔ اس نوجوان نے آخر ایک خط لکھا کہ کلکتہ کی آب و ہوا اسے موافق نہیں آ رہی اور وہ بیمار ہو چلا ہے اس لیے بہتر ہوگا کہ اس کا تبادلہ دہلی کرا دیا جائے ضرورت مند دیوانہ ہوتا ہے اور ایسی بات کو معمولی سمجھتا ہے لیکن جس نے سفارش کرنی ہو اس کی سوا مشکل ہوتی ہے۔ چوہدری صاحب خط کا جواب با قاعدگی سے دینے کے عادی تھے اور اسے اخلاقی فریضہ سمجھتے تھے۔ جب اس نوجوان نے کلکتہ کی آب و ہوا اور اس سے لاحق ہونے والی بیماری کا ذکر کیا تو چوہدری صاحب کی ظرافت کی رگ پھڑک اٹھی انھوں نے حکومت کے لیٹر پیڈ پر جواب میں نہایت موٹے حروف میں ٹائپ کرا کے چٹھی پوسٹ کرا دی کہ اگر کلکتہ تمھیں سوٹ نہیں کرتا تو تمہاری مناسب جگہ بہلول پور کا گاؤں ہے تشریف لے جائیے۔ کئی قادیانی لڑکے جو دفتر میں ملازمت کرتے تھے اپنی کثرت اولاد کی وجہ سے چوہدری صاحب سے مالی امداد کے بھی خواہاں ہوتے تھے۔ چوہدری صاحب ”از رقعہ دوختہ بہ“ کے مصداق کچھ نہ کچھ روپیہ بھجوا دیتے تھے لیکن وہ نوجوان چوہدری صاحب کی چٹھی کی دفتر میں پریڈ کراتا تھا اور ان سے اپنے تعلقات خصوصی جتا کر اپنی اہمیت ظاہر کرتا تھا۔
ایک دفعہ جی ایچ کیو میں سویلین گزیٹڈ افسروں کی پوسٹیں نکلیں جنھیں مختلف چھاؤنیوں میں تعینات کرنا تھا۔ ایک قادیانی نوجوان نے درخواست میں اپنے جاننے والے یعنی ریفرنس کے خانے میں بہت سے آئی سی ایس اور پی سی ایس افسروں کے نام لکھے اور سب سے اوپر چوہدری ظفر اللہ خان ممبر وائسریکل کونسل کا نام لکھ دیا دفتر میں کرتا دھرتا امام دین تھے جو سیالکوٹ کے رہنے والے تھے۔ یہ امام دین بڑے بذلہ سنج اور خاص سج دھج کے آدمی تھے۔ طبیعت میں ظرافت بہت زیادہ تھی صفائی پسند تھے۔ بڑے خوش پوش صاحب ذوق اور خوبصورت شخصیت کے مالک تھے۔ مسلمانوں کے خاص خیر خواہ تھے ان کے سپرد مسلمانوں کا کوئی کام ہوتا تو وہ حتی الوسع کرتے تھے سیکرٹریٹ میں مسلمان عملہ کے ایک قسم کے لیڈر تھے یہ امام دین صاحب موجودہ سیکرٹری خارجہ مسٹر نائیک کے والد گرامی تھے جب درخواست انھوں نے پڑھی تو یہ ریمارک دیا
کہ درخواست کنندہ کو چاہیے کہ وہ ریفرنس کے لیے پنجاب اور مرکزی حکومت کی سول لسٹیں ساتھ منسلک کر دے چوہدری صاحب کے نوٹس میں جب یہ بات آئی تو بہت ہنسے۔
آزادی سے پہلے جب قادیانیوں کے خلاف ایجی ٹیشن زوروں پر ہو گیا اور احرار نے تبلیغی کانفرنسیں کرنا شروع کر دیں سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور مولانا ظفر علی خان کی خطابت اور سیاسی شاعری کا روئے سخن قادیانیوں کی طرف ہو گیا تو ملک میں ایک طرح کی لاء اینڈ آرڈر کی صورت پیدا ہو گئی۔ احراریوں نے قادیان میں کانفرنس رکھ دی بھیڑ اس قدر زیادہ تھی کہ ریلوے نے سپیشل گاڑیاں چلا دیں سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے ساری ساری رات تقریر کرنے میں ریکارڈ مات کر دیے تو اس کشیدگی کی بنا پر چوہدری ظفر اللہ نے ایک تجویز میں کہا کہ بہتر ہو گا کہ احمدیوں کو مسلمانوں سے علیحدہ اقلیت قرار دے دیا جائے اگر چہ عام مسلمانوں کو اس میں کوئی اعتراض نہ تھا لیکن ”خاص“ مسلمانوں نے اسے چوہدری صاحب کے فکر چالاک کی ایک اپچ خیال کیا بات یہ تھی کہ مسلمانوں نے ہند کے ان چند صوبوں میں اپنی آبادی کی عددی اکثریت کی بنا پر علیحدہ وطن بنانے کی تحریک بھی چلائی ہوئی تھی اور مرکز میں 33 فیصد کوٹہ کا مطالبہ بھی تھا اس وقت قادیانی بھی مسلمان آبادی کا ایک حصہ سمجھے جاتے تھے۔ چوہدری صاحب کا مطلب یہ تھا کہ قادیانیوں کے نکل جانے سے مسلمانوں کی آبادی کی عددی اکثریت قدرے ان کے خلاف متاثر ہو گی یعنی مسلمانوں کو نقصان پہنچنے کی صورت نکل آئے گی۔ اور قادیانیوں پر مسلمانوں کی مخالفت کا دباؤ کم ہو جائے گا جو مسلمان آبادی کے مخصوص کوٹہ سے کچھ نہ کچھ لے کر مریں گے۔ بہرحال یہ بات آئی گئی ہو گئی۔ اور حکومت کی سطح پر کسی نے بھی اس کا نوٹس نہ لیا لیکن آزادی کے بعد جس طرح قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا گیا ہے اور اس کے جو نتائج نکلے ہیں وہ سب کو معلوم ہیں اور قادیانیوں نے اسے شدت سے محسوس بھی کیا ہے۔ لیکن یہ شوشہ چوہدری صاحب کا اپنا چھوڑا ہوا تھا خود کردہ را علاجے نیست۔“
زمیندار کے کالموں میں یہ بات اکثر چھپتی رہتی تھی کہ قادیانی انگریز سے مراعات لینے کے لیے اس سے کہتے تو رہتے تھے کہ ان کا فرقہ انگریز کا ہی خود کاشت پودا ہے یہ بات کسی قادیانی نے تحفظ کے لیے اپیل کرتے ہوئے اپنی کسی درخواست میں لکھ دی تھی جسے ان کے خلاف استعمال کیا گیا تھا۔ اصل بات صرف یہ تھی کہ رولٹ ایکٹ کی بے آئینیوں کے زمانہ میں قادیانیوں کو حفاظت کی ضرورت محسوس ہوئی تھی جو انھیں لاہور کے فوجی کمانڈر کی طرف سے تحریراً
مل گئی تھی ہوا یہ تھا کہ ملک میں عام بے امنی تھی اور قادیانیوں کو خوف تھا کہ کہیں مسلمان اکثریت ان کی جان و مال کو خطرے میں نہ ڈال دے چوہدری ظفر اللہ خان نے ایک عرض داشت مراسلہ کی شکل میں انگریزی میں مرتب کی یہ مراسلہ ان کے خلیفہ مرزا۔ بشیر الدین محمود کے دستخطوں سے ان کی طرف سے لکھا گیا تھا۔ مراسلہ تاجدار برطانیہ اور وائسرائے کے نام تھا اس مراسلہ میں حکومت کو یقین دلایا گیا تھا کہ فرقہ احمدیہ کے لوگ ہر لحاظ سے سلطنت برطانیہ کے وفادار ہیں اور اس فرقے کے کسی فرد کا کسی قسم کا تعلق بھی رولٹ ایکٹ کے خلاف مظاہرے کرنے والوں سے نہیں۔ حکومت برطانیہ نے اس مراسلہ کی رسید لارڈ سنہا انڈر سیکرٹری آف سٹیٹ کے دستخطوں سے مرزا صاحب کو دے دی تھی اور یقین دلایا تھا کہ حکومت برطانیہ احمدیوں کو وفادار رعایا سمجھتی ہے اور ان کے جان و مال کی حفاظت میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا جائے گا۔ یہ خط و کتابت چھپ گئی تھی اور خود قادیاں کے ایک انگریزی ماہنامہ میں چھپی تھی۔ اس سے مخالفین نے یہی سمجھا کہ قادیانی حکومت برطانیہ کے وفادار ہیں اس لیے ان کا شمار ملک دشمن عناصر میں ہونا چاہیے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ جب تک برطانیہ کا راج ہند پر قائم رہا برطانیہ نے ہمیشہ ان کی وفاداری پر انحصار کیا اور قادیانیوں نے بھی انگریز سے وفاداری بشرط استواری میں اپنے قول و فعل سے کوئی فرق نہ آنے دیا۔ اسی وفاداری کے اظہار کی وجہ سے قادیان سے ترک جہاد کا فتویٰ صادر ہوا تھا جس پر علامہ اقبال نے ہی لکھا تھا.....
یورپ زرہ میں ڈوب گیا دوش تا کمر
ہم پوچھتے ہیں شیخ کلیسا نواز سے
مشرق میں جنگ شر ہے تو مغرب میں بھی ہے شر
قادیانیوں نے اپنی اقلیت کو غیر محفوظ پایا تھا لیکن وہ جس حد تک انگریز کے جاہ و جلال کے دعا گو ہو گئے ہیں ان کا دینی مزاج مشتبہ ہو گیا۔ مسلمانوں نے یہ بھی محسوس کیا کہ کوئی قوم محکومیت سے آزاد نہ ہو سکے تو یہ جدا بات ہے لیکن محکومیت کی پائیداری کے لیے الہامی وجہ جواز تلاش کرنا اور پھر اسے اسلامی رنگ دینا بے خبری کی دلیل ہے اور اسی چٹان پر احمدیت کی
تحریک پاش پاش ہو گئی۔
جو مسلمان کو سلاطین کا پرستار کرے
چوہدری ظفر اللہ خان سے توقع تھی کہ وہ اس معاملہ میں جرات گفتار یا جرات کردار کا مظاہرہ کر کے اس تحریک کو صحیح رخ پر ڈال سکیں گے۔ لیکن وہ تقلید میں بہت آگے نکل گئے اور اس مقام پر جا پہنچے کہ جسے ایک بار صداقت سمجھ لیا اس پر نظر ثانی کی گنجائش نہ کی گئی۔
۞ …… ۞ …… ۞
قادیانیت سے توبہ ❦ ایک شخص جیون خان ساکن تلونڈی موسیٰ خان ضلع سیالکوٹ اپنا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں شومئی قسمت سے قادیانی ہو گیا۔ ایک رات خواب دیکھا کہ ایک کارواں حج کے لیے مکہ مکرمہ جا رہا ہے۔ میں بھی کارواں میں شامل ہو گیا۔ کارواں بخیریت مکہ مکرمہ پہنچا اور ہم حرم کعبہ میں پہنچ گئے۔ اذان ہوئی۔ ہم سب وضو کر کے نماز کے لیے کعبہ کی طرف منہ کر کے کھڑے ہو گئے۔ اچانک ایک قوی ہیکل انسان نمودار ہوا اور اس نے بڑی قوت سے مجھے گردن سے آ دبوچا اور میرا منہ موڑ کر دوسری طرف کر دیا۔ بے تحاشا مارنا شروع کر دیا۔ چہرہ لہولہان کر دیا۔ دائیں بائیں کی پسلیاں توڑ دیں۔ میں نے مار کھاتے کھاتے پوچھا کہ یہ مجھے کس جرم کی سزا مل رہی ہے؟ اس نے نہایت گرجدار آواز میں جواب دیا کہ تم مرزائی ہو، تمہارا کعبہ سے کیا تعلق؟ تم مرزے کے گھر کی طرف منہ کرو، تمہارا اللہ سے کوئی تعلق نہیں۔ جیون خان نے خواب میں ہی زور زور سے چلانا شروع کر دیا۔ پورے محلے کے لوگ اکٹھے ہو کر آگئے۔ مجھے سہارا دیا اور بٹھایا۔ میں سخت خوف کی حالت میں تھا اور مجھ پر کپکپی طاری تھی۔ لوگوں نے مجھ سے پوچھا، کیا ہوا؟ میں نے کہا پہلے میرے جسم کو دباؤ، میرا جوڑ جوڑ درد کر رہا ہے۔ لوگوں نے میرے سارے جسم کو اپنے ہاتھوں میں لے کر دبانا شروع کیا۔ کچھ دیر کے بعد اوسان بحال ہوئے تو میں نے سب کو واقعہ سنایا اور فوری طور پر قادیانیت پر لعنت بھیج کر مسلمان ہو گیا۔
آنجہانی سر ظفر اللہ خاں
کی سیاسی مذہبی اخلاقی کارکردگی کی چند جھلکیاں
(از قلم : خواجہ عبدالحمید آف قادیان)
دھوکہ دیتے ہیں یہ بازی گر کھلا
(غالب)
آنجہانی سر ظفر اللہ خان ولد نصر اللہ خان قادیانی سابق وزیر خارجہ پاکستان کے متعلق بچہ بچہ جانتا ہے کہ اس نے مرزائی جماعت کی حمایت اور اس کی ترقی کے لئے مرزا محمود نام نہاد خلیفہ قادیان سے زیادہ کام کیا اور اس کی اسلام دشمنی سے بڑھ کر اسلام دشمنی کی وہ مسلمانوں کے ہر قومی کاز کو اپنی منافقت سے نقصان دیتا رہا، وہ مرزائی جماعت کا پالیسی میکر اور منیجنگ ڈائریکٹر یا شیئر ہولڈر تھا اور مرزائیوں کے سالانہ میلہ میں جس کو وہ جلسہ کا نام دیتے اپنی سرکاری اور غیر سرکاری حیثیت سے تقریر کرتا اور مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے میں کوئی کسر نہ چھوڑتا تھا۔ اس معاملہ میں انگریزی حکومت کی اس کو تائید حاصل ہوتی، حکومت کا خود کاشتہ پودا ہونے کی وجہ سے.................. صرف مرزائیت کو ہی حقیقی اسلام کہتا اور غیر ممالک میں تو صرف مرزائیت ہی کا پرچار کرتا تھا۔
حال ہی میں سر ظفر اللہ خان کی جس بیماری سے لاہور میں موت واقع ہوئی ہے بعض افراد کا خیال ہے کہ سر ظفر اللہ خاں کی موت اپنے نبی مرزا غلام احمد عرف سندھی کی سنت پر ہوئی۔ عام کیا خاص لوگوں کو بھی اس بیمار کو دیکھنے کی اجازت نہ تھی۔ غلام احمد عرف سندھی کی موت بھی لاہور میں ہوئی تھی۔ جو مرض ہیضہ سے مرا بعض مسلم صاحب اقتدار لوگوں نے دانستہ طور پر عامۃ المسلمین کے جذبات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اس کی موت پر جو بیانات دیئے ہیں وہ نہ
صرف ناپسندیدہ بلکہ قابل ا کی حمایت و تعریف پر احتجاج ہمارے مسلم رہن حالانکہ وہ بخوبی مرزائیوں ب اور کہتے رہے اور انہوں نے
مرزائیوں کا فتویٰ عام
”غیر احمدیوں ؟ نہیں، فتویٰ مفتی سرور شاہ، مف صاحب کی نبوت کا انکار کر جائز نہیں ۔ (اخبار الفضل ب
تو پھر جنازہ کیا ہے
حضرت مسیح مو تعلقات نہ رکھیں، ان کی غمی شامل نہیں ہونا تو جنازہ کیسا
- ا۔ اسی وجہ سے سرف
پوچھا گیا کہ تم وہ بھی ملاحظہ ہو ”بے شک می پوچھا کیوں؟ م مولانا نے فرما کو کافر سمجھتے ہو مسلمان ملازم“
- ۲۔ مرزائیوں کے
صرف ناپسندیدہ بلکہ قابل افسوس ہیں۔ جس پر غیرت مند عامتہ المسلمین نے سر ظفر اللہ خان مرتد کی حمایت و تعریف پر احتجاج کیا ہے۔ ہمارے مسلم رہنماؤں نے سر ظفر اللہ خان کو مرحوم لکھا اور ان کے لئے دعائے مغفرت کی حالانکہ وہ بخوبی مرزائیوں کے طرز عمل اور فتویٰ کو جانتے ہیں کہ مرزائی ہمیشہ مسلمانوں کو کافر سمجھتے اور کہتے رہے اور انہوں نے کبھی بھی مسلمانوں کے لئے دعائے مغفرت نہیں کی۔
مرزائیوں کا فتویٰ عام
”غیر احمدیوں کا کفر بینات سے ثابت ہے۔ اور کفار کے لئے دعائے مغفرت جائز نہیں، فتویٰ مفتی سرور شاہ مفتی سلسلہ قادیان، اخبار الفضل قادیاں ۷ فروری ۱۹۲۱ء) ”جو شخص مرزا صاحب کی نبوت کا انکار کرتا ہے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے اس کے لئے دعائے مغفرت جائز نہیں ۔ (اخبار الفضل ۱۷ اکتوبر ۱۹۲۱ء)
تو پھر جنازہ کیا ہے
حضرت مسیح موعود نے (بنام منشی غلام احمد) صاف حکم دیا کہ غیر احمدیوں سے کوئی تعلقات نہ رکھیں، ان کی غمی خوشی کے معاملات میں شامل نہ ہوں۔ جب ہم نے ان کے غم میں شامل نہیں ہونا تو جنازہ کیسا؟ (اخبار الفضل قادیان ۱۶ جون ۱۹۱۶ء)
- ۱۔ اسی وجہ سے سر ظفر اللہ خان نے حضرت قائد اعظم کا جنازہ نہیں پڑھا، جب ان سے
پوچھا گیا کہ تم نے اپنے محسن کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا؟ تو اس نے برجستہ جواب دیا وہ بھی ملاحظہ ہو۔
”بے شک میں نے قائد اعظمؒ کا جنازہ نہیں پڑھا۔ مولانا نے پوچھا کیوں؟ سر ظفر اللہ نے جواب دیا کہ میں اس کو سیاسی لیڈر سمجھتا تھا‘ مولانا نے فرمایا، کیا تم مرزا قادیانی کو پیغمبر نہ ماننے والے تمام مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہو۔ سر ظفر اللہ نے جواب دیا کہ آپ مجھے کافر حکومت کا مسلمان ملازم سمجھ لیں یا مسلمان حکومت کا کافر نوکر‘
(الفلاح پشاور ۲۸۔ اگست)
- ۲۔ مرزائیوں کے جلسہ جہانگیر پارک کراچی منعقدہ ۲۸۔ مئی ۱۹۵۲ء میں سر ظفر اللہ نے
تقریر کرتے ہوئے کہا ”اگر نعوذ باللہ آپ مرزا غلام احمد قادیانی کے وجود کو اسلام میں سے نکال دیں ، تو اسلام زندہ مذہب ہونا ثابت نہیں کر سکتا بلکہ اسلام بھی دیگر مذاہب کی طرح ایک خشک درخت شمار کیا جائے گا۔ اور اسلام کو دیگر مذاہب پر کوئی برتری نہیں مل سکتی۔
پاکستان کے متعلق سرظفر اللہ کا عقیدہ
- ۳۔ قرارداد پاکستان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ”جہاں تک ہم نے غور کیا ہے ہم اسے
مجذوب کی بڑ اور ناممکن العمل خیال کرتے ہیں (ڈیوائیڈ انڈیا صفحہ ۱۰۶،۱۰۷)
- ۴۔ تقسیم ملک کے وقت سرظفر اللہ خاں مسلم لیگ کی طرف سے نمائندہ مقرر ہوئے کہ وہ
ریڈکلف ایوارڈ میں مسلمانوں کے میمورنڈم کی تائید کریں اور پاکستان کو اس کا علاقہ صحیح ملے اور ضلع گورداس پور مسلم اکثریت کا علاقہ پاکستان کو ملے مگر سرظفر اللہ نے جہاں مسلم لیگ کی طرف سے وکالت کرنی تھی۔ انہوں نے ساتھ ہی مرزائیوں کی طرف سے بھی باؤنڈری کمیشن میں احمدیہ میمورنڈم پیش کرایا جو کہ مرزا محمود کے اشارہ پر تھا اور بحث کی ملا حظہ ہو۔
”قادیان اسلامی دنیا کی ایک بین الاقوامی وانٹر نیشنل یونٹ بن چکا ہے اس لئے اس یونٹ کا حق ہے کہ وہ فیصلہ کر لے کہ آیا وہ ہند یونین میں آنا چاہتی ہے یا پاکستان میں۔“
قادیان ضلع گورداسپور میں واقع ہے ضلع گورداسپور میں مسلمانوں کی ۵۱ فیصدی کی اکثریت تھی قادیانی اور ارد گرد کی آبادی نکال دی جائے تو اس کی اکثریت تھی قادیان اور ارد گرد کی آبادی نکال دی جائے تو اس کی اکثریت ۵۱ فیصد کی بجائے 1/2 48 فیصد رہ جاتی ہے۔ جب سرظفر اللہ خان پاکستانی وکیل‘ باؤنڈری کمیشن کے روبرو ضلع گورداسپور کو غیر مسلموں کی اکثریت کا ضلع بنا دیا تو ضلع گورداسپور پاکستان کو کیسے مل سکتا تھا۔
پاکستان کو صرف تحصیل شکر گڑھ دی گئی اور ہند یونین کو تحصیل بٹالہ‘ تحصیل گورداسپور‘ تحصیل پٹھان کوٹ دے دی گئی اور پاکستان سے ضلع گورداسپور کو خارج کر دیا گیا۔ جس سے
ہندوستان کو کشمیر کا راستہ بنانے کا موقع مل گیا۔ یہ میمورنڈم مرزا محمود خلیفہ قادیان کے حکم سے سر ظفر اللہ نے پیش کیا کہ مرزا محمود خلیفہ قادیان اس سے پہلے کئی دفعہ اعلان کر چکا تھا۔
پاکستان کا مطالبہ غلط ہے
” میں نے یہ بات پہلے بھی کئی بار کہی اور اب پھر کہتا ہوں کہ ہمارے نزدیک ہر تقسیم اصولاً غلط ہے۔“ بیان مرزا محمود خلیفہ قادیان اخبار الفضل قادیان ۱۲ اپریل ۱۹۴۷ء
مطلب یہ ہے کہ ہندوستان میں مل کر رہنے سے فائدہ ہے۔
الفضل ۱۶۔ اپریل ۱۹۴۷ء قادیان
اکھنڈ ہندوستان الہامی عقیدہ ہے
ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ ہندو مسلم سوال اٹھ جائے اور ساری قومیں شیر و شکر ہو کر رہیں تاکہ ملک کے حصے بخرے نہ ہوں اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ساری قومیں متحد رہیں۔ (اللہ تعالیٰ چاہتا ہے مگر تم تو مسلمانوں اور پاکستان کے ساتھ متحد نہیں رہنا چاہتے) تاکہ احمدیت (مرزائیت) اس وسیع ملک میں ترقی کرے چنانچہ خدائی اشارہ میں اس طرف اشارہ ہے کہ ممکن ہے کہ عارضی طور پر افتراق ہو اس لئے جماعت احمدیہ کا الہامی عقیدہ ہے کہ پاکستان کا وجود عارضی ہے اور کچھ وقت کے لئے دونوں قومیں جدا جدا رہیں مگر یہ حالت عارضی ہوگی بہرحال ہم چاہتے ہیں کہ اکھنڈ بھارت بنے اور ساری قومیں شیر و شکر ہو کر رہیں۔
(اخبار الفضل قادیان ۱۵ اپریل ۱۹۴۷ء)
متحدہ ہندوستان
اللہ تعالیٰ کی مشیت ہندوستان کو اکٹھا رکھنا چاہتی ہے اگر عارضی علیحدگی ہو گئی تو اور بات ہے۔ خوشی سے نہیں۔ بلکہ مجبوری سے اور پھر کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح متحد ہو جائے۔ (بیان مرزا محمود خلیفہ امام جماعت احمدیہ قادیان ۱۶ مئی ۱۹۴۷ء)
مرزائی قادیانی بھگوڑے
حالات اس قدر نازک صورت اختیار کر گئے ہیں کہ عاشقان احمد (مرزائی) ہجرت پر مجبور ہو گئے اور اس قدر صدمہ ہوا کہ ہجرت کے بعد سلسلہ کے بزرگ اور حضرت مسیح موعود کے
بعض صحابہ ( قادیانی کمپنی کے حصص دار اس دار فانی سے کوچ کر کے اپنے حقیقی مولا سے جا ملے ۔ ) اے کاش انڈین یونین میری بات کو سمجھے کہ احمدیوں نے قادیان اور قادیان والوں کی خاطر ساری دنیا کو چھوڑا ہے اب وہ اس کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں ۔ اللّٰہم صَلِّ علٰی محمد وعلی آل محمد وعلیٰ عبدہ المسیح الموعود وبارک وسلم انّک حمید مجید:
(اخبار الفضل قادیان ۱۶ مئی ۱۹۴۸ء)
پاکستان میں انٹورپ
سر فرانس موڈی گورنر پنجاب نے سر ظفر اللہ اور شیخ بشیر احمد مرزائی ایڈووکیٹ لاہور کی بھاگ دوڑ پر جاتی دفعہ اپنے خودکاشتہ پودا کی پرورش کی اور ربوہ بنانے کے لئے ۱۰۳۵ ایکڑ رقبہ چنیوٹ کے قریب تقریباً ایک آنہ فی مرلہ حساب سے دلوایا ۔
قادیانی زبانی حلف نامہ
قادیانی حلف نامہ جو سر ظفر اللہ خان اور مرزا محمود خلیفہ قادیان نے مل کر تیار کیا۔ احمدیہ والنٹیرز کور، مجلس خدام الاحمدیہ نیشنل لیگ ۔ حزب اللہ ۔ انصار اللہ ۔ مجلس ۔ اطفال احمدیہ کے ممبران سے لیا گیا ہے ۔ وہ حسب ذیل ہے۔
”خدا تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر اقرار کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے قادیان کو جماعت احمدیہ کا مرکز بنایا ہے میں اس حکم کو پورا کرنے کے لئے ہر قسم کی کوشش اور جدوجہد کرتا رہوں گا اور اس مقصد کو کبھی بھی اپنی نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دوں گا اور اپنے نفس کو اور اس مقصد کو کبھی بھی اور نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دوں گا اور اپنے نفس کو اور اپنے بیوی بچوں کو اور اگر خدا تعالیٰ کی مشیت یہی ہو تو اولاد کو ہمیشہ اس بات کے لئے تیار کرتا رہوں گا ۔ کہ وہ قادیان کے حصول کے لئے ہر چھوٹی بڑی قربانی کے تیار رہیں ۔ اے خدا مجھے اس عہد پر قائم رہنے اور اس کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرما ۔
(بحوالہ کتاب پاکستان میں مرزائیت)
مرتضیٰ احمد خان ایڈیٹر روزنامہ مغربی پاکستان لاہور ۔
ناظرین۔ اس حلف نامہ میں ہر قسم کی کوشش کا جامع لفظ ہے۔ جو قابل غور ہے جس میں پاکستان کی جاسوسی اور پاکستان سے غداری‘ فراری‘ بغاوت سب شامل ہو سکتا ہے۔
احمدی اقلیت تسلیم کی جائے:
آنجہانی سر ظفر اللہ۔ اپنے سرکاری عہدہ پر قائم رہتے ہوئے اور غیر سرکاری حالت میں بھی مرزا محمود کے نمائندہ کی حیثیت سے پاکستان بننے سے پہلے اور بعد میں بھی صرف اور صرف مرزائیوں کے حقوق کے لئے اور مسلمانوں سے علیحدگی کے لئے کوشش کرتا رہا۔
ملاحظہ ہو ”میں نے نمائندہ کی معرفت (سر ظفر اللہ خاں) اگرچہ نام نہیں لیا ایک بڑے ذمہ دار انگریز آفیسر کو کہلوا بھیجا کہ پارسیوں اور عیسائیوں کی طرح ہمارے حقوق بھی تسلیم کئے جائیں جس پر اس آفیسر نے کہا کہ وہ تو اقلیت ہیں (یعنی ہندوؤں مسلمانوں سے الگ قوم کی حیثیت سے) اور تم ایک پارسی پیش کرو۔ میں اس کے مقابلہ میں دو۔ دو احمدی پیش کروں گا۔ (مرزا محمود خلیفہ قادیان کا بیان۔ اخبار الفضل قادیان ۱۳۔ نومبر ۱۹۴۶ء)
سر ظفر اللہ خان کی بیرون ملک سرگرمیاں
لیک سکس نومبر ۶ ”عرب ڈیلی گیشن (Deligation) نے امریکہ سے بذریعہ تار حضرت امام جماعت احمدیہ قادیان کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان ڈیلیگیشن (Deligation) کے لیڈر سر ظفر اللہ خان کو مسئلہ فلسطین کے تصفیہ تک یہیں ٹھہرنے کی اجازت دی۔ (اخبار الفضل قادیان ۸ نومبر ۱۹۴۷ء)
سر ظفر اللہ خان کے متعلق یہ تار حکومت پاکستان کو آنا چاہئے تھا جس کا وہ نمائندہ تھا مگر سر ظفر اللہ خان نے عرب نمائندوں سے یہ تار اپنے خلیفہ کو بھجوایا‘ مجھے چند دن ہوئے پاکستان کی حکومت کا تار ملا کہ وزیر مال۔ امریکہ میں ہے تمہارے متعلق ضروری کام ہے تم ان سے ملنے کے بعد امریکہ سے روانہ ہونا میں نے جواباً تار دیا کہ میرا ارادہ یہاں سے ۲۹ کو چلنے کا ہے مزید میرے لئے ٹھہرنا مشکل ہے۔
(خط ظفر اللہ خان۔ ۲۱ نومبر منقولہ اخبار زمیندار لاہور۔)
بہی خواہان پاکستان کا اضطراب
آنریبل خان جلال خان وزیر بلدیات و بحالیات صوبہ سرحد نے ایبٹ آباد میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا پاکستان کی پانچ سالہ تاریخ میں یہ بات نمایاں طور پر نظر آ رہی ہے کہ حکومت کا جو معاملہ سر ظفر اللہ خان کے سپرد ہوا اس میں حکومت کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا، جس کے ساتھ پاکستان کی حیات وابستہ ہے جب تک وزارت خارجہ کے عہدہ پر سر ظفر اللہ خان موجود ہے کشمیر پاکستان کو ہرگز ہرگز نہیں مل سکتا۔ (اخبار آزاد لاہور ۔ ۳۰ جون ۱۹۵۲ء)
کراچی میں مسلم پارٹیز کنونشن
مورخہ ۲ جون میں محمد ہاشم گزدر ممبر دستور ساز اسمبلی پاکستان نے تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ
چوہدری ظفر اللہ خان کشمیر کا مسئلہ پیش کرنے کے لئے لیک سکس گئے ہوئے تھے میں ان دنوں وہاں موجود تھا وہاں لابی میں یہ مشہور ہے کہ سر ظفر اللہ خان وہی کام کرنا چاہتے ہیں جو ہندوستان چاہتا ہے چنانچہ میں نے اسی روز تمام احوال سے حکومت پاکستان کے منسٹر کو مطلع کر دیا تھا اس کے بعد میں نے تمام ممالک کا دورہ کیا اور محسوس کیا کہ اکثر ممالک میں ہمارے دفاتر خارجہ مرزائیت کی تبلیغ کے اڈے بنے ہوئے ہیں آپ نے فرمایا کہ چوہدری ظفر اللہ خان کے انگریزوں اور ہندوؤں سے گہرے مراسم ہیں سر ظفر اللہ خان قادیانی پاکستان سے زیادہ اپنے امام مرزا بشیر کے وفادار ہیں اور اپنے امام کی ہدایات کے مقابلہ میں حکومت کے احکام کو ٹھکرا دیتے ہیں تقریر کرتے ہوئے کہا میرے کئی دوست محض دنیاوی فوائد کے لئے مجبوراً قادیانی ہو گئے۔ پاکستان میں جو شخص اکھنڈ بھارت کے نعرے لگاتا ہے۔ وہ پاکستان کا دشمن ہے اور ہماری بد قسمتی ہے کہ اس وقت اکھنڈ ہندوستان کا عقیدہ رکھنے والے مرزائی ملک کی ستر ۷۰ فیصد کلیدی آسامیوں پر فائز ہیں اگر خدانخواستہ کسی وقت جنگ ہو گئی تو نا معلوم ہمارا کیا حال ہوگا۔ اور آفیسران کی پوزیشن کیا ہوگی۔
مصر میں احتجاج
قاہرہ ۷ جولائی ۱۹۵۲ء مصر کے مفتی اعظم سید محمد حسنین المخلوف نے لکھا کہ محمدﷺ
بحالیات صوبہ سرحد نے ایبٹ آباد میں ں یہ بات نمایاں طور پر نظر آرہی ہے کہ حکومت کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا جس کے خارجہ کے عہدہ پر سر ظفر اللہ خان موجود
(۳ جون ۱۹۵۲ء)
ز اسمبلی پاکستان نے تقریر کرتے ہوئے
کے لئے لیک سکس گئے ہوئے تھے میں ظفر اللہ خان وہی کام کرنا چاہتے ہیں جو سے حکومت پاکستان کے منسٹر کو مطلع کر دیا ں کیا کہ اکثر ممالک میں ہمارے دفاتر نے فرمایا کہ چوہدری ظفر اللہ خان کے د خان قادیانی پاکستان سے زیادہ اپنے کے مقابلہ میں حکومت کے احکام کو ٹھکرا دنیاوی فوائد کے لئے مجبوراً قادیانی ہو ا ہے۔ وہ پاکستان کا دشمن ہے اور ہماری الے مرزائی ملک کی ستر ۷۰ فیصد کلیدی تو نامعلوم ہمارا کیا حال ہوگا۔ اور آفیسران
محمد حسنین المخلوف نے لکھا کہ محمد ﷺ
خاتم النبیین ہیں میں حیران ہوں کہ پاکستان جیسی اسلامی ریاست میں ایک قادیانی کو وزیر خارجہ کیسے مقرر کر دیا گیا۔
(زمیندار ۸ جولائی ۱۹۵۲)
ہمارے وزیر خارجہ کی خارجہ پالیسی ہر لحاظ سے ناکام ہو چکی ہے۔ اس سے بھارت کی سیاسی اہمیت بڑھ گئی اس بلاک نے منہ مانگی قیمت دے کر اپنے ساتھ ملا لیا۔ (روزنامہ آفاق لاہور ۳ اپریل ۱۹۵۲)
ہمارے سفارت خانے اور مرزائی
حکومت اسرائیل کے امریکی سفارت خانے کے سیکرٹری نے واقفیت ہونے پر لنچ Lunch پر بلایا اس موقع پر ان کو تبلیغ کی گئی مسئلہ فلسطین کے متعلق پاکستانی نکتہ نگاہ کے متعلق بحث کی گئی۔
ڈاکٹر آرایف پنج جو مسئلہ فلسطین میں یو این او کی طرف سے ثالث تھے ان کے ساتھ لنچ پر تقریب پیدا ہوئی اس موقع پر دو گھنٹے تعلیم اسلام پر گفتگو ہوئی۔ (تعلیم اسلام سے مراد مرزائیت کی تعلیم )
مسٹر جارج حکیم آف لبنان سے سلسلہ احمدیہ کے متعلق باتیں ہوئی سفارت خانہ پاکستان کے بعض افسروں کو مسجد میں مدعو کیا گیا اور جماعت احمدیہ کی اسلامی خدمات سے واقف کیا گیا اس سے بڑھ کر مرزائیت کی تبلیغ اور مسلمانوں کو مرتد کرنے کے لئے پاکستانی سفارت خانوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔
سپین Spain اراگون Aragon
اراگون کے چوٹی کے اخبار نے خاکسار کے فوٹو کے ساتھ مختصر سا آرٹیکل شائع کیا (مرزائیوں کے مبلغ) کالم دراصل جرنلسٹ نے بندہ سے دوران گفتگو میں بعض سیاسی حالات پر تبادلہ خیال کیا جس میں مصر اور ایران کے ساتھ سلوک تھا بندہ نے فرمایا کہ دنیا کے موجودہ حقیقی رہنما امام جماعت احمدیہ نے ہند و پاکستان کی آزادی سے قبل انگلستان کو مشورہ دیا تھا کہ انگلستان کے لئے بہتر ہوگا کہ انگلینڈ ان ملکوں کو آزاد کر دے جو غلام ہیں تاکہ ان ملکوں کے کئی لاکھ سپاہی اپنے آپ کو آزاد سمجھتے ہوئے از خود کمیونزم کا مقابلہ کریں۔
(الفضل ۲۲ جنوری ۱۹۵۲ء)
ظفر اللہ خان وزیر خارجہ کی دھمکی
سر ظفر اللہ نے حال ہی میں ایک تقریر کرتے ہوئے صاف صاف کہہ دیا مجھے وزارت سے علیحدہ کیا گیا تو میں پاکستان میں نہ ٹھہروں گا بلکہ کسی اور جگہ چلا جاؤں گا۔
(تقریر ظفر اللہ مندرجہ اخبار زمیندار ۱۳ اگست۔۱۹۵۲ء)
گویا سر ظفر اللہ تبھی پاکستان رہ سکتے ہیں کہ ان کو وزیر خارجہ رکھا جائے ورنہ وہ دشمن ملک میں چلے جائیں گے۔
ناظرین سر ظفر اللہ اور مرزا محمود دونوں ہم پیالہ و ہم نوالہ تھے جیسے باہمی گوشت پوست آخر میں دونوں کی سیاسی، مذہبی اخلاقی زندگی ایک ہی جیسی تھی ان کی غیر ملکی تبلیغ کی جھلک بھی ملاحظہ ہو۔
فرانسیسی ناچ گھر میں پیر و مرشد کی تبلیغ
جب میں ولایت گیا تو مجھے خصوصیت سے یہ خیال تھا کہ یورپین سوسائٹی کا عیب والا حصہ دیکھوں مگر قیام انگلستان کے دوران مجھے موقع نہ ملا واپسی پر جب ہم فرانس France آئے تو میں نے چوہدری سر ظفر اللہ خان سے جو میرے ساتھ تھے کہا مجھے کوئی ایسی جگہ دکھائیں۔ جہاں یورپین سوسائٹی عریانی سے نظر آئے وہ بھی فرانس سے واقف نہ تھے مگر مجھے اوپیرا (ڈانس گھر) میں لے گئے اوپیرا سینما کو کہتے ہیں جس کا نام مجھے یاد نہیں رہا یہ اعلیٰ سوسائٹی کی جگہ ہے جسے دیکھ کر آپ اندازہ لگا سکتے ہیں۔ میری نظر کمزور ہے اس لئے دور کی چیز اچھی طرح نہیں دیکھ سکتا۔ تھوڑی دیر کے بعد میں نے دیکھا تو معلوم ہوا کہ سینکڑوں عورتیں بیٹھی ہیں میں نے چوہدری صاحب سے کہا کیا یہ ننگی ہیں انہوں نے بتایا نہیں بلکہ کپڑے پہنے ہوئے ہیں مگر باوجود اس کے وہ ننگی معلوم ہوتی ہیں۔
بیان خلیفہ محمود امام سلسلہ احمدیہ قادیان اخبار الفضل ۱۸۔ جنوری ۱۹۳۸ء
ناظرین آپ کو یاد ہوگا کہ سر ظفر اللہ خان کے خلیفہ مرزا محمود نے جب لاہور میں سسلی ہوٹل سے اٹلی کی مشہور ڈانسر مس روفو کو لاہور سے اغوا کیا تھا تو وہ قادیان کے قصر خلافت سے برآمد ہوئی تھی اور خلیفہ محمود قادیان قانون کی زد میں آنے والا تھا کہ سر ظفر اللہ خان کی امداد انگریز سرپرستی کی خدمات) کام آئی اور جب مرزا ناصر آنجہانی ڈلہوزی کوٹھی میں پولیس میں گرفتار ہوا
تو شیخ نور محمد صاحب سابق ڈپٹی کمشنر ہوئی اور جب مرزا محمود نے جواباً خان نے بھی ۷۵ سالہ عمر میں ایک جو بعد میں سراب ثابت ہوئے پھر
پس سر ظفر اللہ خان او کے مخالف محمدؐ عربی کی رسالت ۔ بینات سے ثابت ہے۔ پاکستان عذاب کو دعوت ہے اس غلطی پر فو
”ایک روز صدر ایو ایک سینئر افسر وجد کی کیفیت عقیدت سے بھرائی ہوئی آوا شان جھلک رہی تھی“۔
یہ خراج وصول کر سینئر افسر مرزائی عقیدے سے ایوب سچ مچ اس جھوٹ موٹ اڑنے لگیں۔ چنانچہ اس غبا گزارش کی ”جناب ان صاح پیغمبروں کی شان کا تجربہ ہے“
تو شیخ نور محمد صاحب سابق ڈپٹی کمشنر اور سر ظفر اللہ خان کی امداد سے مرزا ناصر کی رہائی ہوئی اور جب مرزا محمود نے جو ابوبکر جمال عرب کی لڑکی سے شادی کی اس کی تقلید میں سر ظفر اللہ خان نے بھی ۷۵ سالہ عمر میں ایک نوجوان عرب لڑکی سے شادی کی۔ پہلے اس کو سبز باغ دکھائے جو بعد میں سراب ثابت ہوئے، پھر اس نے ظفر اللہ سے طلاق حاصل کر لی۔ پس سر ظفر اللہ خان اور مرزا محمود خلیفہ قادیان دونوں ہم پیالہ ہم نوالہ تھے دین اسلام کے مخالف محمد عربی کی رسالت کے باغی۔ دشمن اسلام غدار وطن تھے۔ پھر ظفر اللہ خان کا کفر بینات سے ثابت ہے۔ پاکستان سے غداری پھر اس کے لئے دعا مغفرت، خدا تعالیٰ کے غضب و عذاب کو دعوت ہے اس غلطی پر فوری توجہ اور غلطی کا اقرار بہتر ہے۔
وما علینا الا البلاغ.
❁.......❁.......❁
قادیانی پیغمبری
”ایک روز صدر ایوب نے حسب معمول اپنے سیاسی فلسفہ پر طولانی تقریر ختم کی تو ایک سینئر افسر وجد کی کیفیت میں آکر جھومتے ہوئے اٹھے اور سینے پر دونوں ہاتھ رکھ کر عقیدت سے بھرائی ہوئی آواز میں بولے ”جناب آج تو آپ کے افکار عالیہ میں پیغمبری شان جھلک رہی تھی“۔
یہ خراج وصول کرنے کے لیے صدر ایوب نے بڑی تواضع سے گردن جھکائی۔ یہ سینئر افسر مرزائی عقیدے سے تعلق رکھتے تھے۔ معاً مجھے یہ خطرہ محسوس ہوا کہ کہیں صدر ایوب سچ مچ اس جھوٹ موٹ کے اڑن کھٹولے میں سوار ہو کر بھک سے اوپر کی طرف نہ اڑنے لگیں۔ چنانچہ اس غبارے سے ہوا نکالنے کے لیے کھڑا ہو گیا اور نہایت احترام سے گزارش کی ”جناب ان صاحب کی باتوں میں ہرگز نہ آئیں۔ کیونکہ انہیں صرف خود ساختہ پیغمبروں کی شان کا تجربہ ہے“۔
(”شہاب نامہ“ از قدرت اللہ شہاب)
سر ظفر اللہ خاں قادیانی کی موت
ارباب حکومت کی طرف سے اسلام اور ملی قوانین
کی خلاف ورزی کا افسوس ناک مظاہرہ
پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ اور مشہور قادیانی رہنما چوہدری ظفر اللہ خان ایک ہسپتال میں کئی روز تک موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد ۹۳ برس کی عمر میں لقمہ اجل بن گئے۔ سر ظفر اللہ خاں کی شہرت اور اقتدار میں فرنگی سامراج کا گہرا ہاتھ رہا ہے اور یہ اس کی مہربانی تھی کہ ڈسکہ ضلع سیالکوٹ کے ایک دور افتادہ و پسماندہ دیہات کے غیر معروف وکیل کے صرف ”قادیانی“ عقیدے کا فرد ہونے کے ناطے سے بازو پکڑ کر ہندوستان کے انگریز حکمراں وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کا ممبر بنا دیا گیا۔ اور انگریزی حکومت کا بڑا اعزاز ”سر“ کا خطاب دے کر دنیا میں سربلند کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔
سر ظفر اللہ خاں پر انگریزوں کی ”نگاہ کرم“ صرف اس وجہ سے تھی کہ وہ فرنگیوں کے ”خود کاشتہ پودے“ مرزائیت و قادیانیت کی شاخ بلکہ جڑ کا ایک حصہ تھا۔ فرنگی سامراج نے اس جڑ کو مضبوط سے مضبوط تر کرنے کے لئے جدید ترین ذرائع کے ساتھ آبیاری کر کے اس تناور درخت بنانے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔
چنانچہ سر ظفر اللہ خان نے بھی اپنی پوری زندگی فرنگی مفادات کے تحفظ میں گزار دی اس نے ”تحدیث نعمت“ کے زیر عنوان سات سو صفحات پر مشتمل ضخیم کتاب میں فرنگیوں کے انہی احسانات اور ”انعام و اکرام“ کا تذکرہ کیا ہے۔
سر ظفر اللہ نے فرنگی مفادات کی خاطر اسلام اور ملت اسلامیہ کو کیا کیا نقصانات پہنچائے ان کی تفاصیل کسی دوسرے وقت پیش کی جاسکیں گی۔ آج اس کے رخ کردار کے نمایاں
حصے سے نقاب اٹھایا جارہا ہے تا کہ تاریخی حقائق ہمہ وقت آنکھوں کے سامنے رہ سکیں۔
- ۱۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے جب انگریزوں سے ”عدم تعاون“ اور ترک
”موالات“ کے سلسلے میں تمام اہل وطن سے اپیل کی کہ وہ انگریزوں کے عطا کردہ ”اعزازات“ و ”خطابات“ واپس کر دیں تو صرف چوہدری ظفر اللہ خاں واحد شخص تھا جس نے ”سر“ کا خطاب واپس کرنے سے صاف صاف انکار کر دیا تھا۔
- ۲۔ مسلم اور غیر مسلم آبادی کی اکثریت کا فیصلہ کرنے اور پنجاب کی تقسیم کا از سر نو جائزہ
لینے کے لئے ”ریڈ کلف مشن“ کے روبرو ضلع گورداس پور کے قادیانیوں نے اپنا الگ مؤقف پیش کرتے ہوئے یہ پہلو نمایاں کیا تھا کہ احمدیوں، ”قادیانیوں“ کو مسلمانوں سے الگ شمار کیا جائے، نتیجتاً ضلع گورداس پور غیر مسلم اکثریت کا علاقہ قرار پایا اور پاکستان سے الگ کر دیا گیا۔ یہ سب کچھ فرنگی مفادات کے محافظ ”سر ظفر اللہ خاں“ ہی کی فکری کاوشوں اور عملی کوششوں کا ثمرہ ہے۔
- ۳۔ سر ظفر اللہ خان قادیانی نے اپنی کتاب تحدیث نعمت کے صفحہ ۵۲۶ پر قائد اعظم کی
خواہش کہ میں وزارت خارجہ کا قلمدان سنبھالوں کے زیر عنوان خود اعتراف کیا ہے۔ کہ قیام پاکستان کے وقت قائد اعظم نے بطور خاص پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خاں کو کہہ کر وزارت خارجہ کے عہدہ جلیلہ پر متمکن کرایا تھا، مگر احسان فراموش کا یہ عالم کہ اس محسن اعظم محمد علی جناح کے سانحہ ارتحال کے بعد جب ان کی نماز جنازہ ادا کی جانے لگی تو پاکستان کا یہی وزیر خارجہ ظفر اللہ خان نماز جنازہ میں شریک ہونے کے بجائے قریب ہی کھڑے پاکستان میں متعین غیر ملکی سفارتی نمائندوں کی صف میں جا کر پاکستان کے پہلے وزیر قانون جوگندر ناتھ منڈل (اچھوت) کے ساتھ کھڑا ہو گیا تھا۔
یہ پہلو کوئی معمولی نوعیت کا نہیں کہ نظر انداز کر دیا جائے اس حرکت کی بابت ایک سوال کے جواب میں ظفر اللہ خاں نے کہا تھا کہ:
”مجھے کافر حکومت کا مسلمان وزیر یا مسلم حکومت کا کافر وزیر سمجھ لیا جائے۔“
صد افسوس .........! کہ مسلمانوں کی صف چھوڑ کر اچھوت کے ہمدوش ہونے پر فخر کرنے کی کوشش کے ساتھ پاکستان کے ”مسلم حکمران“ نے ”کافر وزیر“ کا سا سلوک کرنے کے بجائے اسے ارتداد پھیلانے اور قادیانیت کو پوری دنیا میں متعارف کرانے کے تمام تر ذرائع فراہم کئے رکھے، جس کی نشاندہی کرتے ہوئے نامور محب وطن صحافی جناب حمید نظامی مرحوم ایڈیٹر روزنامہ نوائے وقت لاہور نے اپنے غیر ملکی دورے سے واپسی پر ایک اداریے میں لکھا تھا کہ بیرونی ممالک میں پاکستان کے ”سفارت خانے“ ”تبلیغ مرزائیت“ کے اڈے اور ان کے جماعتی دفاتر معلوم ہوتے ہیں۔ (روزنامہ نوائے وقت لاہور ) کا تازہ ادارتی نوٹ بھی ہم اسی پرچے میں شریک اشاعت کر رہے ہیں۔ جو سر ظفر اللہ کی موت پر شائع ہوا ہے۔
ان احوال و واقعات سے بآسانی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسلام اور ملت اسلامیہ کو نقصان پہنچانے کے سلسلے میں سر ظفر اللہ خان قادیانی کا کیا رول اور کیا رخ کردار رہا ہے۔
اگر بنگال کے جعفروں اور دکن کے صادقوں کی ”غداریوں“ کے تذکرے کے بغیر ہم اپنی تاریخ کے صحیح خدوخال نہیں دیکھ سکتے تو اسلام اور پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانے والے دشمنانِ دین و وطن کی ناقابل فراموش ”غداریاں“ اور ”بے وفائیاں“ کیونکر نظر انداز ہو سکتی ہیں۔
نیز اس صورت حال پر بھی ہمہ وقت نگاہ رہنی چاہئے۔ کہ اسرائیلیوں اور قادیانیوں کا دنیائے اسلام کے خلاف ایک محاذ قائم ہے۔ دنیا کی بڑی بڑی خبر رساں ایجنسیوں اور اخبارات پر یہودی سرمایہ داروں کا قبضہ اور تسلط قائم ہے وہ نہایت خفیہ اور غیر مرئی طریقے سے اسلام اور ملت کے خلاف سرگرم عمل ہیں۔ انہوں نے سر ظفر اللہ خاں کی موت کے بعد اسے ایک مسلم رہنما اور قومی رہنما اور قومی ہیرو کے طور پر پیش کرنے اور اس کی خدمات کا پرچار کرنے کی بہت کوشش کی ہے۔ مگر ملی غیرت اور دینی حمیت سے سرشار اخبارات نے صاف انکار کر دیا، ایک اخبار کی طرف سے اس کی موت کی خبر نمایاں چھاپنے کی بابت واقفان حال کے بقول وہ اشتہار کی صورت میں تھی اور مادی منفعت کے تحت ......! جو حد درجہ افسوسناک ہے۔ ......
البتہ ........... جن ارباب حکومت نے سر ظفر اللہ خاں قادیانی کی شارع عام پر نماز جنازہ پڑھنے کی اجازت دی ہے انہوں نے نہ صرف اسلام کے احکام کی خلاف ورزی کی ہے۔
بلکہ مارشل لاء کی موجودہ حکومت کے سربراہ جنرل ضیاء الحق کے نافذ کردہ ان قوانین اور آرڈی نینسوں کا بھی مذاق اڑایا اور تضحیک کی ہے جن کی رو سے قادیانی اور لاہوری مرزائیوں کو اسلام کی مقدس اصطلاحات استعمال کرنے سے منع کر دیا گیا ہے۔ اور وہ اپنی عبادت گاہوں کا نام مسجد‘ عبادت کا نام نماز وغیرہ نہیں رکھ سکتے۔ ”نماز جنازہ“ بھی اسلام ہی کی اصطلاح ہے‘ اس کی شارع عام اجازت اسلام اور ملکی قوانین کی واضح خلاف ورزی ہے۔ کیا قائد اعظم کی نماز جنازہ کے منکر کے ساتھ مسلم ارباب حکومت کا یہ سلوک کسی طور پر بھی درست قرار دیا جاسکتا ہے؟
(ماہنامہ صوت الاسلام فیصل آباد۔ ستمبر ۱۹۸۵ء از قلم: مولانا مجاہد الحسینی)
یہ وفاداریاں یہ وفاشعاریاں
مجلس تحفظ ختم نبوت ۔۔۔ جو آپ کے زمانہ میں ایک عالمگیر تنظیم بن چکی تھی اور اہل حق کی تمام مذہبی تنظیموں میں سے امیر ترین تصور کی جاتی تھی۔۔۔ کے میر مجلس ہونے کے باوجود سفر ہمیشہ تھرڈ کلاس میں کیا کرتے تھے۔ دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت سے ریلوے اسٹیشن ملتان تک اور اسٹیشن سے دفتر تک انہوں نے صرف اپنی ذات کی خاطر کبھی ٹیکسی یا تانگہ کرایہ پر نہیں لیا۔ ہمیشہ عام غریب مسلمانوں کے ساتھ تانگہ جو ان دنوں سستی ترین سواری تھی۔۔۔ میں سوار ہو کر آتے جاتے۔
سردیوں میں بعض اوقات بھاری بستر ہمراہ لے کر جاتے اور کتابوں‘ ضروری سامان اور ادویات کے لیے ایک معمولی سا بیگ بھی ہوتا مگر ریل گاڑی میں سوار ہونے یا اتر کر تانگہ وغیرہ تک آنے کے لیے وہ پیرانہ سالی کے باوجود کبھی قلی نہیں لیا کرتے تھے اور سارا سامان سر اور کندھے پر اٹھائے پھرتے اور دعا کرتے رہتے:
”اے اللہ تو جانتا ہے میں بوڑھا ہوں‘ میرے قویٰ مضمحل ہو گئے ہیں‘ اگر میں قلی کی خدمات کرایہ پر لوں تو میری جماعت مجھے ضرور اجازت دے گی مگر میں یہ تکلیف اس لیے برداشت کرتا ہوں کہ میری جماعت ایک غریب جماعت ہے میں چاہتا ہوں کہ اس کا خرچ کم از کم کروں۔ اے اللہ یہ پیسے جو میں قلی کو اپنا سامان اٹھوانے کے لیے دیتا‘ وہ میری طرف سے مجلس تحفظ ختم نبوت کے لیے بطور چندہ قبول کر لے“۔
(”حضرت مولانا محمد علی جالندھری“ ص ۱۷۹‘ از ڈاکٹر نور محمد غفاری)
روشن ہے میری آبلہ پائی سے رہگزر
نوکر حکومت پاکستان کا خدمات قادیانی جماعت کی
صاحبزادہ طارق محمود
سر ظفر اللہ خان پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ بنے۔ انہوں نے پاکستان کے نکتہ نظر سے ہٹ کر اپنے غیر ملکی آقاؤں کے حکم اور اپنی جماعت احمدیہ کے زاویہ نگاہ سے خارجی پالیسی وضع کی۔ چوہدری ظفر اللہ خان کے کردار اور ان کے دور میں وزارت خارجہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے:
- o...... وزیر خارجہ ظفر اللہ خان نے اپنے دور وزارت میں زیادہ وقت بیرون ملک گزارا اور
پارلیمنٹ میں آنے سے کتراتے رہے۔
- o...... وزارت خارجہ سے محب وطن افراد کو نکال کر مخصوص قادیانیوں کو وسیع پیمانے پر بھرتی
کیا گیا۔
- o...... پاکستان کی خارجہ پالیسی پاکستان کے نکتہ نظر کی بجائے جماعت احمدیہ کی پالیسی کے
مطابق وضع کی گئی۔
- o...... غیر ممالک میں ہمارے خارجہ دفاتر کو قادیانیت کی تبلیغ اور جاسوسی کے اڈوں میں
تبدیل کیا گیا۔
- o...... اسلامی ملکوں سے روابط اور تعلقات بڑھانے کی بجائے یورپی ممالک خصوصاً امریکہ
و برطانیہ سے تعلقات بڑھائے گئے۔
- o...... عرب ممالک سے رشتہ اخوت مستحکم کرنے کی بجائے انہیں پاکستان سے بدظن کرنے
اور پاکستان سے دور کرنے کی پالیسی اختیار کی گئی اور عربوں کی جاسوسی کے لیے مختلف ممالک میں قادیانی سیل قائم کیے گئے۔
- o...... اسلامی ہمسایہ برادر ملک افغانستان اور مصر سے جان بوجھ کر تعلقات کشیدہ کیے
گئے۔ جن کا خمیازہ آج تک بھگتا جا رہا ہے۔
- o..... پاکستان کے جغرافیائی محل وقوع اور وطن عزیز کے دفاعی نکتہ نظر سے ہمسایہ ملک چین
کی بجائے امریکہ جیسے خود غرض ملک کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھائی گئیں۔
- o...... مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی بجائے دیدہ دانستہ طور پر خراب کیا گیا اور اس مسئلے کا کوئی
پائیدار حل تلاش نہ کیا گیا۔
- o...... چوہدری ظفر اللہ خان پاکستان کے وزیر خارجہ کی حیثیت سے تنخواہ قومی خزانے سے
وصول کرتے تھے‘ لیکن اندرون و بیرون ملک وہ جماعت احمدیہ کے لیے کام کرتے تھے۔
- o...... نامور صحافی جناب حمید نظامی مرحوم ایڈیٹر نوائے وقت لاہور نے اپنے غیر ملکی دورے
سے واپسی پر اپنے اخبار میں ایک اداریے میں لکھا تھا کہ بیرونی ممالک میں پاکستان کے سفارت خانے تبلیغ مرزائیت کے اڈے اور ان کے جماعتی دفاتر معلوم ہوتے ہیں۔
چوہدری ظفر اللہ خان کے دور میں ناقص پالیسی کے باعث ہمیں سیاسی‘ اقتصادی اور ثقافتی طور پر نا قابل تلافی نقصان پہنچا۔ چونکہ احمدیہ جماعت برطانیہ کی خود کاشتہ اور امریکہ کی لے پالک تھی‘ اس لیے اس نے پاکستان کو یورپی ممالک کا دست نگر اور امریکہ کا اقتصادی بھکاری بنا دیا۔ اقوام متحدہ میں سب سے زیادہ تعداد اسلامی برادری کی تھی جب کہ پاکستان اسلامی ممالک کی سب سے بڑی مملکت تھا‘ اسلامی ریاستوں کے سرخیل ہونے کی حیثیت سے پاکستان کو اسلامی بلاک کی تشکیل و تنظیم کے سلسلہ میں بھر پور کردار ادا کرنا چاہیے تھا لیکن سر ظفر اللہ خان نے پاکستان کے وزیر خارجہ کی حیثیت سے اسلامی ملکوں کے ساتھ گہرے مراسم‘ مسلسل روابط اور روائتی گرم جوشی کے برعکس سرد مہری کا رویہ اختیار کیے رکھا۔ انہی اسلامی ممالک سے تعلقات استوار کیے گئے جو امریکہ و برطانیہ کے حاشیہ بردار تھے۔ احمدیہ جماعت کے نصب العین کے مطابق اسلام دشمنی اور اسرائیل دوستی ظفر اللہ خان کے جسم میں خون کے ساتھ گردش کرتی تھی۔ گو عربوں کی جاسوسی کے مشن کا آغاز مرزا بشیر الدین کے دور میں شروع ہو گیا تھا لیکن چوہدری ظفر اللہ خان کے دور میں خارجہ وزارت کی
آڑ میں کادیانی جماعت کو عربوں کی مخبری اور جاسوسی کا سنہری موقع میسر آیا اور مختلف عرب ممالک کے سفارت خانوں میں اسرائیل کی خاطر عربوں کی جاسوسی کے لیے کادیانی مہروں کو فٹ کر دیا گیا۔ عربوں کو جب کادیانیوں کی مشکوک اور پراسرار سرگرمیوں کا پتہ چلا تو ان کے نوٹس لینے سے نہ صرف ہمارا قومی وقار مجروح ہوا بلکہ پاکستان کو عربوں میں ہدف تنقید بنایا گیا۔ دمشق کے مطبوعہ رسالہ ”القادیہ“ کی ایک تحریر سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عرب ممالک میں کادیانیوں کا وجود پاکستان کے لیے بدنامی اور رسوائی کا باعث بنا۔ رسالہ لکھتا ہے:
”کہ کسی بھی عرب ریاست میں ان کے لیے کوئی جگہ نہیں بلکہ ان کے وجود کی بدولت پاکستان کو عربوں میں ہدف بنایا جاتا ہے۔“
- ہ...... کادیانی جماعت اور ظفر اللہ خان کے کردار نے پاکستان کے وقار کو مجروح کیا۔
عربوں کی نظروں میں ہم کیونکر گرے اس کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے۔
”جب عرب نمائندے فلسطین کا مسئلہ یو۔ این۔ او میں پیش کرنا چاہتے تھے تو انہوں نے یو۔ این۔ او میں اپنی قرارداد کے حق میں فضا سازگار کرنے کے لیے دوست ملکوں کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں اور اپنی حمایت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ اس سلسلہ میں وہ چوہدری ظفر اللہ خان سے بھی ملے اور ان سے تعاون کی التجا کی۔ ظفر اللہ خان نے انہیں کہا کہ اگر ان کے امام جماعت اور مرزا بشیر الدین محمود خلیفہ ربوہ انہیں اس بات کی ہدایت کریں گے تو وہ ان کی ضرور مدد کریں گے اس لیے آپ لوگ مجھے کچھ کہنے کی بجائے ربوہ میں ہمارے خلیفہ صاحب سے رابطہ قائم کریں۔ بیچارے عرب نمائندوں نے کسی نہ کسی طرح مرزا محمود صاحب سے رابطہ قائم کیا اور ان سے امداد کی درخواست کی۔ مرزا صاحب نے عرب نمائندوں کو یہاں سے تار دیا کہ ہم نے چوہدری ظفر اللہ خان کو ہدایت کر دی ہے کہ وہ یو۔ این۔ او میں تمہاری امداد کرے۔ اتفاق سے یہ تار خطیب پاکستان قاضی احسان احمد شجاع آبادی کے
ہاتھ آ گیا۔ انہوں نے لیاقت علی خان مرحوم سے ملاقات کی اور ان سے دریافت کیا کہ مملکت پاکستان کے سربراہ آپ ہیں یا مرزا محمود اور انہیں تار اور سارا ماجرا کہہ سنایا۔ لیاقت علی مرحوم نے قاضی صاحب مرحوم سے وہ تار اور چند دوسری چیزیں لے لیں اور ظفر اللہ خان کو وزارت خارجہ سے علیحدہ کرنے کا ارادہ کر لیا۔ کچھ عرصہ بعد لیاقت علی خان مرحوم شہید ہو گئے اور ظفر اللہ خان علیحدہ نہ کیے جا سکے۔“
(ہفت روزہ ”لولاک“ لائل پور 17 اپریل 1973ء ج 17 شمارہ نمبر 2)
- o...... عرب ڈیلی گیشن نے امریکہ سے جماعت احمدیہ کے سربراہ کے نام جو تار ارسال کیا
وہ قادیانیوں کے آرگن رسالہ میں شائع ہوا۔ ”لیکس سکس 6 نومبر عرب ڈیلی گیشن نے امریکہ سے بذریعہ تار حضرت امام جماعت احمدیہ کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کے ڈیلی گیشن چوہدری سر ظفر اللہ خان کو مسئلہ فلسطین کے تصفیہ تک یہیں ٹھہرنے کی اجازت دی۔“
(الفضل 8 نومبر 1947ء)
- o...... عرب ڈیلی گیشن کا جو تار انجمن احمدیہ لاہور کے دفتر میں موصول ہوا اس بارے میں
الفضل لکھتا ہے اس سے ہمیں بے حد اطمینان ہوا ہے اور ہمیں امید ہے کہ اس سے عربوں کے مطالبہ کو بے حد تقویت حاصل ہوگی۔ سر ظفر اللہ خان کے اس بھیانک کردار اور قادیانی جماعت کے اثر و نفوذ پر حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے مرزا غلام نبی جانباز لکھتے ہیں:
”یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر چوہدری سر ظفر اللہ حکومت پاکستان کی طرف سے لیک سکس گئے تھے تو پھر عرب ڈیلی گیشن کا تار حکومت پاکستان کے نام آنا چاہئے تھا نہ کہ مرزا محمود بشیر الدین محمود کے نام۔ اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ چوہدری سر ظفر اللہ نے عرب ڈیلی گیشن کو یقین دلایا تھا کہ میں تو اپنے لیڈر مرزا
بشیر الدین محمود کے حکم سے یہاں آیا ہوں۔ نیز اسی کے حکم سے یہاں مزید دنوں کے لیے ٹھہر سکتا ہوں۔ ورنہ عرب ڈیلی گیشن کو پاکستان گورنمنٹ سے اجازت لینی چاہئے تھی نہ کہ قادیانی خلیفہ سے۔“
اس واقعہ کے کچھ دنوں بعد الفضل میں یہ خبر بھی شائع ہوئی کہ چوہدری سر ظفر اللہ نے واشنگٹن سے تار دیا ہے کہ مسٹر ٹرومین کے محل کے قریب احمدیہ جماعت کے دفتر کے لیے ایک بلڈنگ خرید لی گئی ہے۔
اگر مندرجہ بالا واقعات کی صحت سے انکار نہیں تو پھر اپنے ملک کے وزیر اعظم سے سوال کیا جا سکتا ہے۔
آپ کو ان حالات کا علم ہے؟ اگر یہ ٹھیک ہے تو کیا اسلامی ریاست کے ایک وزیر کو بیرونی دنیا میں اپنے ملک کی نگرانی کے لیے مقرر کیا جاتا ہے یا کفر کی تبلیغ کے لیے؟
جب وزیر خارجہ اپنے فرض سے غافل ہو کر دوسرے ملکوں میں یہ کھیل کھیل رہے ہوں تو کل کلاں کو اگر پاکستان کو کسی بیرونی حملے کا احتمال رہا ہو یا اس کے استحکام کو کوئی خطرہ درپیش ہو تو خواجہ ناظم الدین کو بحیثیت وزیر دفاع چوہدری سر ظفر اللہ سے کیا توقع ہو سکتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود بھی خواجہ صاحب ایسا بھولا آدمی اس کی تعریف میں رطب اللسان ہے۔ انہوں نے ڈالمیا کے ایک اخبار جس کا ایڈیٹر مرزائی ہے کے حوالے سے پاک پارلیمان میں تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان ہمارے وزیر خارجہ کی بڑی تعریف کر رہا ہے۔
محترم خواجہ صاحب ! اگر بھارت کے اخبارات یا بھارت کے لوگوں کی رائے ٹھیک ہے تو پھر کیا یہ بھی ٹھیک ہے؟
”بمبئی 15 جنوری بلٹز کے نامہ نگار کا بیان ہے کہ پاکستان کے وزیر خارجہ چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان نے 2 جنوری کو اپنا استعفیٰ بھیج دیا تھا۔ ابھی تک یہ استعفیٰ منظور نہیں ہوا۔ مسٹر لیاقت علی اسے منظور کر لینا چاہتے تھے لیکن خواجہ ناظم الدین گورنر جنرل کی مداخلت پر یہ طے ہوا کہ لندن سے واپسی پر مصالحت کی کوشش کی جائے گی۔
لیکن کہا جاتا ہے کہ مسٹر لیاقت علی اور چوہدری ظفر اللہ میں کشمیر کے سوال پر شدید اختلافات پیدا ہو چکے ہیں۔“
(اخبار ویر بھارت‘ 17 جنوری 1951ء)
انہی دنوں اخبار زمیندار نے اپنے نامہ نگار نور الامین مقیم کراچی کے حوالہ سے یہ خبر شائع کی تھی کہ:
”مسٹر لیاقت علی خان کی واپسی پر وزارت خارجہ میں کوئی اہم تبدیلی ہونے والی ہے۔“
گو مجھے دشمن کی ایسی باتوں پر اعتماد نہیں تاہم ویر بھارت کی مندرجہ بالا خبر پر ہماری گورنمنٹ نے کوئی تردیدی بیان پریس کو نہیں دیا۔ پریس خواہ اپنا ہو یا پرایا اس کی قوت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ قوم اور گورنمنٹ دونوں کو ان پر بھروسہ کرنا پڑتا ہے اور پھر آج کل تو جمہوریت کا دور دورہ ہے۔ اس میں تو عوام پر اعتماد کرنا ہی پڑے گا۔ اس کے بغیر نہ تو گورنمنٹ ہی چل سکتی ہے اور نہ ملک کا امن ہی قائم رہ سکتا ہے۔ پریس عوام کا دوسرا نام ہے۔
مارچ کے آخری ہفتہ میں پاک پارلیمان کے حالیہ اجلاس میں وزیر خارجہ چوہدری سر ظفر اللہ پر جو نکتہ چینی ہوئی اور اس پر پاکستان کے پریس نے جو کچھ لکھا ہو سکتا ہے مصروفیت کی بنا پر گورنمنٹ پاکستان کی نظروں سے وہ اخبار غیر ارادی طور پر اوجھل رہے ہوں۔ چنانچہ میں ان مضامین کو ایک کتابچہ کی صورت میں شائع کر رہا ہوں۔ تاکہ انہیں دیکھنے اور پڑھنے کے بعد پاکستان گورنمنٹ کسی اچھے نتیجے پر پہنچ سکے۔“
(”وزیر خارجہ“ ص 5‘ 6‘ 7 از جانباز مرزا)
- o...... جناب محمد نواز ایم۔ اے بیرون ملک قادیانی سازش بے نقاب کرتے ہوئے رقم
طراز ہیں:
”ظفر اللہ خان نے وزارت خارجہ کے کام کو جس طرح چلایا اس کا اندازہ ذیل کی دو خبروں سے کیجئے۔
- 1۔ پہلی خبر یہ ہے کہ ”پاکستان کے محکمہ خارجہ کی طرف سے پبلک سروس کمیشن کے
صدر مسٹر شاہد سہروردی آج کل انگلستان میں ان امیدواروں سے انٹرویو لے رہے ہیں جو
ہمارے سفارت خانوں میں ملازمت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ خبر پاکستان پہنچی تو یہاں کے اخبارات اور عوام نے شدید غم وغصہ کا اظہار کیا۔ لیکن حکومت پاکستان نے اس کی کچھ پرواہ نہ کی۔ اسی دوران انکشاف ہوا کہ ہمارے محکمہ خارجہ کے جوائنٹ سیکرٹری خیر سے یہودی ہیں اور محکمہ خارجہ کے 80 فیصد ملازمین غیر ملکی خصوصاً انگریز ہیں۔ ایک انگریزی معاصر کی اطلاع کے مطابق یہودی جوائنٹ سیکرٹری گریفتھ کوئین تقسیم سے پہلے پنجاب ہائی کورٹ کا رجسٹرار تھا۔ چونکہ یہ اپنے عہدے کے لحاظ سے ناموزوں انسان تھا اس لیے اس کو اس سے علیحدہ کر دیا گیا۔ تقسیم ملک کے بعد اس کی قسمت چمکی اور وہ وزارت خارجہ کا جوائنٹ سیکرٹری بن گیا۔ چونکہ ماتحت افسران نوجوان اور ناتجربہ کار تھے اس لیے وزارت خارجہ کا سب سے زیادہ قابل اعتماد افسر خیال کیا جانے لگا۔ جب فلسطین میں یہودی عربوں کے خون سے ہولی کھیل رہے تھے تو اس وقت پاکستان کی وزارت خارجہ کے قابل اعتماد افسر اسرائیل میں چھٹیاں منا رہے تھے۔
(گارجین بحوالہ کوثر لاہور 27 دسمبر 1949ء)
اس خبر کے ساتھ یہ انکشاف بھی ملاحظہ ہو:
”ہمارے مصری سفارت خانے کے سٹاف میں دو نوجوان یہودی لڑکیوں کو ملازم رکھا گیا جس سے مصری عوام اور عربی اخبارات پاکستان سے بہت ناراض ہوگئے۔ ان سے پہلے مصر میں پاکستانی سفیر کا پریس اٹاچی بھی یہودی تھا۔“
(گارجین بحوالہ کوثر لاہور 27 دسمبر 1949ء)
ہماری وزارت خارجہ کا یہ پہلا کارنامہ تھا کہ اس نے پاکستان کے خارجی معاملات میں یہودی اثرونفوذ کی بنیاد رکھی جس کے نتیجے میں عرب ممالک کو پاکستان سے ناراض کردیا۔
- 2- دوسری خبر ایوبی دور سے تعلق رکھتی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو وزیر خارجہ تھے۔ ان
کے زمانے میں ہمارے غیر ملکی سفارت خانوں پر قادیانیوں کے اثرات ملاحظہ ہوں:
”مجھے کچھ عرصہ قبل بغداد کے اندر پاکستانی سفارت خانہ میں جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں یہ دیکھ کر بہت تعجب ہوا کہ لاہوری
قادیانیوں کے تبلیغی رسالے سرکاری ٹیبل پر نہ صرف موجود ہیں بلکہ ان کو سرکاری لٹریچر سے بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے اور قادیانیت ہی کو پاکستان کا سرکاری مذہب سمجھا جاتا ہے۔...... اس سے پاکستان کی سخت بدنامی ہوتی جا رہی ہے۔ پھر یہ صرف بغداد تک محدود نہیں بلکہ جس سفارت خانے میں قادیانیوں کو ملازمت مل جاتی ہے وہ سفارت خانے کو قادیانیت کی تبلیغ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔“
(مکتوب عبدالرحمن شاہ ولی مقیم قاہرہ بحوالہ ایشیا لاہور 7 اگست 1962ء)
اسی طرح سر ظفر اللہ نے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کی حیثیت سے جزائر غرب الہند کا دورہ کیا اور اس دورہ میں ٹرینیڈاڈ میں مرزا صاحب کا آخر الزماں نبی کی حیثیت سے تعارف کرایا۔ (ایشیا لاہور 17 ستمبر 1962ء)
سر ظفر اللہ کی انہی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ تقریباً 40 ممالک میں قادیانیوں کے 132 مشن کام کر رہے ہیں۔ ان میں سے ایک اسرائیل میں بھی ہے۔ اس کے علاوہ ان مختلف ممالک سے ان کے 22 اخبارات و رسائل بھی نکلتے ہیں اور 57 کے قریب مدارس کام کر رہے ہیں۔ (”المنبر“ لاہور 14 جولائی 1967ء)
محکمہ خارجہ کے علاوہ قادیانیوں نے پاکستانی حکومت کے مختلف محکموں میں گھسنے کا منصوبہ بنایا اور خاص طور پر پاکستان کی فوج میں انہوں نے اپنے اثر و نفوذ کے دائرہ کو خاصی وسعت دی۔ اس سلسلے میں قادیانیوں کے خلیفہ صاحب نے اپنے مریدوں کو واضح الفاظ میں تلقین کی کہ:
”پاکستان میں اگر ایک لاکھ احمدی سمجھ لیے جائیں تو 9 ہزار احمدیوں کو فوج میں جانا چاہئے۔ فوجی تیاری نہایت اہم چیز ہے۔ جب تک آپ جنگی فنون نہیں سیکھیں گے کام کس طرح کریں گے۔“ (”الفضل“ 11 اپریل 1950ء)
ظفر اللہ قادیانی کے جلسے کے پرخچے اڑ گئے
ماسٹر تاج الدین انصاریؒ
سیالکوٹ اور لائل پور سے شکست کھانے کے بعد مرزائیت نے کراچی میں سر جا نکالا۔ یہی ان کا آخری اور مضبوط قلعہ تھا۔ پاکستان میں مرزائیت کا دارومدار خلیفہ محمود کی دماغی قابلیت اور سر ظفر اللہ خان کے بل بوتے پر تھا ورنہ مرزائیت میں نہ ہی کوئی کشش ہے اور نہ جاذبیت۔ چنانچہ فیصلہ ہوا کہ کراچی میں کھلے بندوں تبلیغ مرزائیت کے لیے جلسہ عام منعقد ہو جس میں سر ظفر اللہ خاں وزیر خارجہ تقریر فرمائیں۔ اس حکم کی تعمیل میں مسلم لیگ کے وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خاں ارتداد پھیلانے کے لیے آمادہ و تیار ہو گئے۔ غیر ملکی سفارت خانوں میں دعوت نامے بھیجے گئے حکومت کی ساری مشینری حرکت میں آگئی۔ پولیس سے رضا کاروں کا کام لیا گیا۔ اس جلسے میں سر ظفر اللہ خان کی تقریر کا عنوان تھا ”زندہ اسلام“ (یعنی مرزائیت زندہ اسلام اور اصل اسلام مردہ اسلام) کراچی کی دیواروں پر جب اس جلسے کے قد آدم پوسٹر چسپاں ہوئے۔ تو کراچی کے اسلامی حلقوں میں بڑی ہلچل ہوئی۔ مولانا لال حسین صاحب کے پاس دیندار طبقہ اور مذہب سے محبت رکھنے والے مسلمانوں کا تانتا بندھ گیا۔ جلسہ گاہ کے اردگرد پولیس کی گاڑیوں نے خاردار تاروں کا کام دیا۔ چنانچہ اس جلسے کا باقاعدہ اعلان ہوا۔ بازاروں میں پوسٹر لگائے گئے۔ مسلمانوں کو اس دعوت پر وہاں جانا ہی تھا مگر حکومت کو اس غیر معمولی طریقے پر متحرک دیکھ کر لوگوں میں چہ میگوئیاں ہوئیں۔ جلسہ گاہ کے اردگرد لوگوں کے ٹھٹھ لگ گئے۔ کچھ لوگ جلسہ گاہ میں داخل ہونا شروع ہوئے مگر سب کی زبان پر یہی بات تھی کہ ان قادیانیوں کا اسلام زندہ ہے تو ہمارا اسلام کیا معاذ اللہ مردہ ہے؟
جلسے کا آغاز اور گڑبڑ
مولانا لال حسین صاحب جلسے میں موجود تھے وہ سننا چاہتے تھے کہ کیا ارشاد ہوتا ہے اور زندہ اسلام پیش کرتے ہوئے سر ظفر اللہ خان کیا ارشاد فرماتے ہیں۔ اور مسلمانوں کو مرتد کرنے کی کس طرح کوشش فرماتے ہیں۔ جلسے کا آغاز مسلمانوں کی طرح مرزائیوں نے بھی کلام پاک کی تلاوت سے شروع کیا مگر مرزائیوں کی بسم اللہ ہی غلط ہوئی یعنی مرزائی مبلغ نے قرآن مجید کی آیت ہی غلط پڑھی۔ مولانا لال حسین نے اٹھ کر ٹوکا اور فرمایا کہ خدا کے لیے قرآن تو صحیح پڑھئے۔ بس مولانا کا یہ کہنا تھا کہ مرزائی پل پڑے پولیس چڑھ دوڑی اور لٹھ گھمانے لگی، لوگوں کے سر پھوڑ ڈالے، پکڑا دھکڑی شروع ہوگئی۔ گڑبڑ میں جلسہ تو برخاست ہوا مگر ساتھ ہی اعلان ہوا کہ کل پھر اسی جگہ جلسہ ہوگا۔ شہر میں مرزائیوں اور مقامی حکومت کی اس ملی بھگت اور دھاندلی پر غم و غصے کا اظہار ہوا۔ اب مسلمانوں میں یہ بات چل رہی تھی کہ کفر کو ارتداد پھیلانے کی اجازت کس نے دے رکھی ہے؟
اے ٹی نقوی چیف کمشنر کراچی
نقوی صاحب کو منٹ منٹ کی خبر پہنچائی جا رہی تھی سب کو سر ظفر اللہ خان کی خوشنودی مقصود تھی۔ چنانچہ نقوی صاحب نے اعلان کیا کہ اب اگر کسی نے قادیانیوں کے جلسے میں گڑبڑ کی تو سختی سے کام لیا جائے گا۔ اور شر پسند عناصر کو کچل کر رکھ دیا جائے گا۔ ظاہر ہے کہ یہ اعلان مولانا لال حسین اختر اور ان کے رفقاء کے لیے تھا۔ مولانا لال حسین نے دوسری جگہ جلسے کا اعلان کیا اور احتیاط سے کام لیتے ہوئے یہ چاہا کہ مسلمانوں کو مرزائیوں کے جلسے سے دور رکھا جائے تاکہ کسی قسم کا بہانہ بنا کر سر ظفر اللہ مسلمانوں کو گزند نہ پہنچا سکے۔
حکومت بھی حرکت میں آئی
شہر کے مسلمانوں نے خواجہ ناظم الدین کو پچاسوں تاریں بھیجیں کہ مرزائیوں کے جلسے کی یہ نئی بدعت ہمارے شہر میں نہ پھیلے۔ پاکستان کے مرکزی شہر میں اس طرح کھلم کھلا ارتداد پھیلانے کی اجازت دینا صریح ظلم ہے۔ خواجہ صاحب کی خدمت میں وفود بھی
بھیجے گئے۔ معززین شہر نے ان سے زبانی بھی عرض کیا کہ آپ دیندار حاکم ہیں۔ آپ نے اپنے ماتحتوں کو ارتداد پھیلانے کی کس طرح اجازت دے رکھی ہے؟ خواجہ صاحب نے بات تو سمجھ لی مگر اب سوال یہ تھا کہ قادیانی بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے؟ ان دنوں سردار عبدالرب نشتر جو اب مسلم لیگ کے صدر ہیں مرکز میں وزیر تھے کابینہ میں رات کے جلسے کا چرچا تھا خواجہ صاحب نے بالآخر فیصلہ کیا کہ وہ سر ظفر اللہ خان کو بلا کر یہ کہیں کہ آپ کابینہ میں شامل ہیں۔ بحیثیت وزیر خارجہ آپ کی ذمہ داریاں بہت نازک ہیں۔ مسلمانوں میں اشتعال ہے۔ آپ اس جلسے میں نہ جائیں۔ یہاں میں ایک بات بتانا چاہتا ہوں احرار کی تبلیغ کانفرنسوں میں احرار کے راہنما بار بار حکومت سے کہہ رہے تھے کہ ہر مرزائی سرکاری ملازم خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا چپڑاسی ہو یا وزیر خارجہ اس کی پوزیشن مشکوک ہے۔ سب سے پہلے وہ ربوہ کا وفادار ہے۔ اس کے بعد حکومت پاکستان کی وفاداری کا نمبر آتا ہے اگر کسی وقت یہ مشکل درپیش آئی کہ ایک حکم ربوہ سے جاری ہوتا ہے اس کے خلاف حکومت پاکستان نے کوئی حکم جاری کیا تو مرزائی ملازم ربوہ کا حکم مانے گا۔ اور حکومت پاکستان کے حکم کو پس پشت ڈال دے گا۔ احرار نے یہ بات مرزائیت کے لٹریچر اور مرزا محمود کے ذہن کے مطالعہ کے بعد کہی تھی۔ مگر ان کے پاس اس کا کوئی واضح ثبوت موجود نہ تھا۔ خدا بڑا کارساز ہے اس کی خوشنودی اور رضا جوئی کے لیے قدم اٹھایا جائے تو وہ ضرور امداد کرتا ہے۔
خواجہ ناظم الدین نے سر ظفر اللہ خاں کو روکا
کراچی شہر کے معززین کے وفود اور تاروں کا یہ اثر ہوا کہ خواجہ صاحب نے سر ظفر اللہ کو بلایا اور سردار عبدالرب نشتر کی موجودگی میں ان سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ عوام کے اشتعال اور ناراضگی کے پیش نظر آپ جلسہ میں شرکت نہ کریں۔ تاکہ حکومت کی پوزیشن خراب نہ ہو۔ چوہدری صاحب نے خواجہ ناظم الدین کو کورا جواب دیا اور کہا کہ وہ وزارت خارجہ سے استعفیٰ دے سکتا ہے لیکن جماعت کے جلسہ میں جانا منسوخ نہیں کر سکتا۔ خواجہ ناظم الدین اپنی ذاتی نیکی اور شرافت کے باوجود پٹڑی سے اتر گئے اور خاموش ہو گئے۔ اگر اس دن ہی ظفر اللہ خان سے استعفیٰ طلب کر لیتے تو آج تک یہ ملک مسلم لیگ
کے قبضہ اقتدار میں ہوتا اور بعد میں ملک جتنی سیاسی بربادیوں اور اخلاقی تباہ کاریوں کا شکار ہوا ہے۔ وہ نہ ہوتا۔
چنانچہ سر ظفر اللہ خان لوہے کی ٹوپی سر پر پہن کر اور پاکستان کی پولیس کی سنگینوں کے شدید ترین پہرے میں جلسہ گاہ میں تشریف لے گئے تھے۔ بیرونی سفیروں اور نمائندوں کو کیا معلوم تھا کہ مرزائیت کیا بلا ہے؟ وہ سر ظفر اللہ خان کی دعوت پر جلسہ گاہ میں پہلے سے موجود تھے اعلیٰ درجہ کی کاروں کی قطاریں لگ گئی تھیں۔ اور بڑے بڑے جفادری مرزائی جلسے میں موجود تھے۔
سخت گڑ بڑ
سر ظفر اللہ خان جونہی تقریر کے لیے اٹھے، ختم نبوت زندہ باد اور تاجدار ختم نبوت کے نعروں سے فضا گونج اٹھی۔ پولیس حکام کی بھگدڑ مچی لاٹھی چلی۔ پکڑ دھکڑ شروع ہوئی سر ظفر اللہ خان اور ان کے ساتھیوں کو بھاگ جانے کی سوجھی۔ تو میری کار میں اور میں تیری کار میں ۔ ڈرائیور چلا رہا ہے کہ ہمارے صاحب کو تو آنے دیجئے مگر صاحب وہاں تو نفسا نفسی کا عالم تھا بھاگم بھاگ گردان جاری تھی۔ جگہ جگہ پولیس متعین تھی، گلی کوچوں میں بھگدڑ مچ گئی۔ اور مرزائیوں کا نہایت اہتمام سے منعقد کیا ہوا یہ جلسہ عام مرزائیت کے تابوت میں کیل ٹھونک کر ختم ہو گیا۔ پچاسوں مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا دوسرے دن صبح سویرے اس جلسے کی روئیداد پر لگا کر ملک بھر میں جا پہنچی۔ جب یہ خبر لاہور پہنچی تو یہاں سخت ہلچل ہوئی مجلس احرار لاہور نے جلسہ عام کا اعلان کیا۔ اخباروں کے ذریعے کراچی کے جلسے کا سب کو علم ہو چکا تھا۔ لاہور میں احرار کی جانب سے باغ بیرونی دہلی دروازہ میں عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا ہم نے لاہور کے اس جلسے میں سخت احتجاج کیا اور حکومت کو مرزائیت نوازی پر مطعون کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ یا تو سر ظفر اللہ سے وزارت خارجہ کا قلمدان چھین لیجئے اور یا اسے منع کر دیجئے کہ وہ زندہ اسلام اور مردہ اسلام کی وعظ کہنا چھوڑ دے۔
سر ظفر اللہ خان اور ایم ایم احمد قادیانی
غداریوں اور سازشوں کے مکروہ چہرے
پنجاب بقول مولانا ظفر علی خاں سیاسی قبرستان تھا اور پنجاب کا شمالی حصہ انگریز کو فوجی بھرتی مہیا کرتا تھا۔ وہی فوجی انگریز کی حمایت میں مکے اور مدینے پر گولیاں چلانے سے دریغ نہیں کرتے تھے۔ فرنگی سیاست اور مصلحت کا تقاضا تھا کہ پنجاب کے عوام کو سیاسی بیداری سے باز رکھا جائے اور ان میں خوئے انقلاب اور روح انقلاب قطعاً پیدا نہ ہونے دی جائے مولانا ظفر علی مرحوم کے الفاظ میں پنجاب پر انگریز کے ٹوڈی خاندانوں کی اجارہ داری تھی۔
پنجاب میں ۱۸۵۷ء کے مختلف گزٹیڈ خاندانوں کے افراد و اشخاص انگریز کے خطاب یافتہ حکمران تھے انگریز بہادر نے اپنے فیض یافتہ اور ممنون احسان لوگوں کو خان بہادر اور سر کے خطابات سے نوازا تھا۔ ان انگریز کے ٹوڈیوں میں بٹالہ کے سر فضل حسین کیمبل پور کے سر سکندر حیات اور سرگودھا کے سر خضر حیات ٹوانہ امتیازی نشان رکھتے تھے سر فضل حسین وہی ذات شریف ہے جس نے ۱۹۳۵ء میں انگریز اور سکھوں سے ساز باز کر کے اس ملک کی بہادر مجاہد اولوالعزم باطل شکن، جماعت مجلس احرار پر شہید گنج کا ملبہ گرایا تھا۔ سر فضل حسین کی ذہانت ڈاکٹر محمد عالم مولانا ظفر علی خاں اور مولانا عبد القادر قصوری کو سیاسی جل دینے میں کامیاب ہو گئی میاں سر فضل حسین نے اپنی وفات سے پہلے انگریز کے ذہن میں یہ بات اچھی طرح پیوست کر دی کہ میرے بعد فرنگی مفادات ۔ فرنگی سیاست اور پنجاب میں فرنگی مصالح کے لئے سر ظفر اللہ سے بڑھ کر کوئی بااعتماد شخصیت نہیں ہو سکتی چنانچہ انگریز نے اپنے ازلی و ابدی زلہ خوار غدار ابن غدار غلام احمد قادیانی ولد غلام مرتضیٰ قادیانی کو انگریزی نبوت سے نوازا تھا۔ مرزا غلام احمد نے انگریز کی حمایت میں پچاس الماریاں کتابیں تصنیف کیں اپنے مخالفوں کو ولد الزنا اور کنجری زادے
قرار دیا۔ قادیانیوں کو مسلمانوں کے معصوم بچوں کے جنازے میں شرکت سے منع کیا علمائے امت کو گالیاں دیں صلحاء واتقیاء پر کیچڑ اچھالا ۔ انبیاء علیہم السلام کا مذاق اڑایا۔ قرآن وحدیث کو نا قابل اعتبار گردانا۔ قرآن اور مسلمانوں کے مسلمہ عقیدہ حیات مسیح علیہ السلام کا کھلم کھلا انکار کیا۔ مکے اور مدینے کی چھاتیوں کو خشک قرار دیا۔ کربلا حضرت حسین ابن علی اور فاطمۃ الزہرہ رضی اللہ عنہم کو العیاذ باللہ خندہ استہزاء کی نذر کیا۔ انگریز کو خوش کرنے کے لئے اسلام کے مہتم بالشان مسئلہ جہاد کا صاف انکار کیا غلط دعاوی جھوٹی پیش گوئیاں امت مسلمہ میں افتراق اپنے مخالف مسلمانوں کو مغلظ گالیاں مرزا قادیانی کا سرنامہ حیات ہے مرزا غلام احمد نے تبلیغ رسالت جلد ہفتم میں اپنے آپ کو انگریز کا خود ساختہ پودا قرار دیا جبھی تو انگریز نے اپنی پوری منصوبہ بندی اپنی فرنگی حکمت عملی اور نوازش ہائے خسروانہ سے مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے جانشین قادیانیوں کو نوازا۔
سر ظفر اللہ خان اسی سلسلۃ الغدر کی ایک سیاہ کڑی ہے سر ظفر اللہ خان کی تمام دماغی صلاحیتیں ذہنی قوتیں اور جسمانی توانائیاں زندگی بھر قادیانیت کو فروغ دینے قادیانیوں کو مضبوط و مستحکم کرنے اور انگریز کی غلامی کی زنجیروں کو دراز تر کرنے کے لئے وقف رہیں قیام پاکستان کے وقت بونڈری کمیشن میں سر ظفر اللہ کا کردار ایک سیاہ باب کی حیثیت رکھتا ہے۔
ملت اسلامیہ ظفر اللہ خان کے اس کارنامے کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی، کہ اس کی ریشہ دوانیوں سے پٹھان کوٹ بٹالہ اور گورداس پور کی تحصیلیں بھارت کو دے دی گئیں جس کی وجہ سے مسئلہ کشمیر ایک سلگتی آگ اور آتش فشاں ہمیشہ کے لئے قائم کر دیا گیا۔ اگر گورداسپور پاکستان میں شامل کر دیا جاتا تو آج مسئلہ کشمیر نام کا بساط عالم میں کوئی مسئلہ نہ ہوتا سر ظفر اللہ خان گورداس پور میں احمدی سٹیٹ قائم کرنا چاہتے تھے لیکن ہندو کی ذہانت نے ظفر اللہ کی ایک نہ چلنے دی اور اس گورداس پور میں احمدی سٹیٹ کا مسئلہ اٹھانے کی صلہ میں بھارتی زعما اور بھارتی قیادت ہمیشہ ظفر اللہ کی پیٹھ ٹھونکتی رہی ہے تفصیلات کے لئے دیکھئے میر نور احمد کی کتاب ”مارشل لاء سے مارشل لاء تک۔“
سر ظفر اللہ خان کا دوسرا عظیم الشان کارنامہ مسئلہ کشمیر ہے ۱۹۳۰/۳۱ء میں سر ظفر اللہ کے گرو گھنٹال مرزا محمود احمد نے پنجاب کے انگریز گورنر کے اشارہ ابرو پر حریت کشمیر کو بری طرح الجھانے کی کوشش کی لیکن مجلس احرار کی بہادر قیادت اور جیالے رضا کاروں نے ۵۰ ہزار کی
تعداد میں گرفتاریاں پیش کر کے کشمیر ایجی ٹیشن میں اس کے دام ہم رنگ زمین کے پرخچے اڑا دیئے اور اسے کشمیر کمیٹی سے راہ فرار اختیار کرنے ہی میں عافیت نظر آئی جنرل اسمبلی اور اقوام متحدہ میں سر ظفر اللہ خان نے اپنی غدارانہ روایات کے مطابق اور قادیانی مصالح کے پیش نظر انتہائی طور پر مسئلہ کشمیر الجھا دیا جنرل اسمبلی اور اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر پر تین نشستوں میں ۹ گھنٹے کی طویل ترین تقریر بھارتی نمائندہ نے آدھ گھنٹہ میں صاف کر دی۔
انگریز کی اسلام دشمنی اور مسلمان دشمنی نے عالمی یہودی تنظیم سے جنگ عظیم ثانی میں مالی مدد لے کر ارض فلسطین میں یہودی غنڈوں کی اسرائیل کے نام سے سلطنت قائم کر کے مسلمانوں کے سینوں پر مونگ دلی۔ ظاہر بات ہے سر ظفر اللہ خواہ پاکستان کا ہی نمائندہ کیوں نہ ہو وہ اپنے آقایان ولی نعمت انگریز کے مفاد اور انگریز کی مصلحتوں کو کیسے نظر انداز کر سکتا ہے؟ یہ کارنامہ بھی سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہے۔ کہ ۱۹۷۱ء میں روس اور بھارت کی ملی بھگت سے پاکستان کے بازو مشرقی پاکستان کو کاٹنے کی ظالمانہ جارحانہ منصوبہ بندی کی گئی۔ امریکہ سی آئی اے نے بھی اپنا بھرپور منافقانہ کردار پیش کیا۔ ان دنوں سر ظفر اللہ خان نے بڑے لطیف پیرائے میں بلیغ اشاروں اور قرآنی اصطلاحات کے پردے میں اما امساک بالمعروف اور تسریح باحسان کے عنوان سے روس بھارت امریکہ برطانیہ اور عوامی لیگ کو خوش کرنے کے لئے روسی بھارتی سازش پر مہر تصدیق ثبت کی مشرقی پاکستانیوں کو مغربی پاکستان کے مسلمانوں سے برگشتہ کرنے میں غلام احمد کے شاہی خاندان کے چشم و چراغ مشہور قادیانی ایم ایم احمد کی ذہنی شرارتوں، سوچی سمجھی منصوبہ بندیوں اور اقتصادی و معاشی پالیسیوں کی ترتیب کو نوے فیصد دخل حاصل ہے۔ کیا اس حقیقت سے انکار کیا جا سکتا ہے کہ سر ظفر اللہ خان نے پاکستان سے زیادہ اپنی جماعت کی خدمت کی ہے اور پوری چابک دستی سے سر ظفر اللہ منصوبہ بندی کمیٹیوں اور ملک کی دیگر اہم کلیدی آسامیوں میں گھسیڑا جہاد کے انکار کے عقیدے کے باوجود سر ظفر اللہ خان نے بری، بحری اور فضائیہ کے حساس ممتاز عہدوں پر فائز کیا۔
(ماہنامہ صوت الاسلام فیصل آباد) از قلم: قاضی محمد اسلم فیروز پوری ٭ ٭ ٭
ظفر اللہ قادیانی کا شرمناک جھوٹ
مولانا تاج محمود
مشہور قادیانی سر ظفر اللہ خان نے مرزا محمود آنجہانی کی موت کے بعد ان کے متعلق ایک مضمون سپرد قلم کیا ہے۔ جس میں قادیانی روایات کے مطابق اپنے خبث باطن کا اظہار کرتے ہوئے فخر موجودات سرور کائنات سرور انبیاء اولیاء خواجہ یثرب و بطحا فداہ ابی و امی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں ناقابل برداشت گستاخیاں کی ہیں۔ نقل کفر کفر نہ باشد پہلے ذرا اس گستاخ رسول کی دریدہ دہنی اور بکواس ملاحظہ فرمائیں:
- 1۔ مرزا محمود سابق خلیفہ ربوہ کے متعلق مضمون کی سرخی یہ ہے:
دیر آمدہ از راہ دور آمدہ!“
- 2۔ وہ (مرزا محمود سابق خلیفہ ربوہ) مظہر الاول والآخر مظہر الحق والعلاء آئے تو دیر
سے لیکن رخصت اس قدر جلد ہو گئے کہ دل کی حسرتیں دل ہی میں رہ گئیں۔ وہ تو از آسمان بودی بآسمان رفتی ہو گئے ۔ کان اللہ نزل من السماء میں یہی راز مضمر تھا کہ جو آسمان سے آئے گا وہ آسمان کو لوٹ جائے گا۔“
- 3۔ آپ (مرزا محمود سابق خلیفہ ربوہ) مثیل مسیح موعود تھے۔ جیسے (مرزا محمود نے)
فرمایا کہ مسیح موعود کا مثیل ہونے اور اس کا خلیفہ ہونے کے لحاظ سے ایک رنگ میں میں بھی مسیح موعود ہوں ...... مثیل مسیح ہونے کے لحاظ سے آپ (مرزا محمود نے) حضور علیہ السلام (مرزا غلام احمد قادیانی) کے حسن و احسان میں نظیر تھے اور حضور علیہ السلام (مرزا قادیانی) نے خطبہ الہامیہ میں فرمایا جس نے میرے اور میرے آقا محمد مصطفیٰ ﷺ کے درمیان فرق
کیا اس نے میرے مقام کو نہیں پہچانا۔“
خلاصہ یہ کہ مثیل مسیح موعود (مطابق مرزا محمود خلیفہ ربوہ) اپنے آقا محمد ﷺ کے رنگ میں رنگین تھے۔۔۔۔۔ آپ کا تخلق خلق محمدی کا ظل اور عکس تھا۔
4۔ آگے لکھتے ہیں کہ ایک قادیانی عورت نے خواب دیکھا کہ یکا یک فضا تیز روشنی سے بھر گئی۔ اور پھر فوراً اندھیرا ہو گیا۔ اس کے بعد پھر ویسے ہی تیز روشنی ہوئی۔ اور اس تیز روشنی میں رسول مقبول ﷺ معہ ایک زمرہ انبیاء علیہم السلام کے تشریف لائے اور فرمایا:
ہم محمود کو لینے آئے ہیں۔ ان نیک بی بی نے باادب عرض کیا کہ یا حضور! ہمارا تو سالانہ جلسہ ہونے والا ہے پھر ہمارے پاس کون ہوگا؟
حضورؐ نے فرمایا:
”تمہارے پاس ناصر ہوگا۔“
(ہفت روزہ ”لولاک“ 8 جولائی 1966ء)
مسلمانوں کے ایمان کا محافظ
مولانا محمد علی (مونگیری) کا ایک اہم کارنامہ جس کے ذکر کے بغیر ان کی تاریخ نامکمل رہے گی، قادیانیت کا مقابلہ اور سرکوبی ہے۔ انہوں نے اس کے لیے اپنی پوری قوت صرف کر دی اور جب تک اس مہم میں کامیاب نہ ہوئے، اطمینان کی سانس نہ لی۔ انہوں نے قادیانیت کی تردید میں سو سے زائد کتابیں اور رسائل تصنیف کیے ہیں جس میں سے صرف 40 کتابیں ان کے نام سے طبع ہوئیں اور بقیہ دوسرے نام سے۔ انہوں نے اس کو وقت کا افضل ترین جہاد قرار دیا اور اس کے لیے لوگوں کو ہر قسم کی کوشش اور قربانی پر آمادہ کرنے کی کوشش کی اور بڑی دلسوزی کے ساتھ اس کی اہمیت سمجھائی۔ ان کوششوں سے بہار (جس پر قادیانیوں نے اس زمانہ میں بھرپور حملہ کیا تھا اور بڑی تعداد میں مسلمان اس کا شکار ہو رہے تھے) اس خطرہ سے محفوظ ہو گیا اور ہندوستان کے اور دوسرے علاقوں میں بھی جہاں کہیں مولانا کی تصنیفات پہنچیں یا مولانا کے مبلغین پہنچے قادیانیت کے قدم اکھڑ گئے۔ مسلمانوں پر اس نئے دین کی حقیقت اچھی طرح واضح ہو گئی اور ہزاروں لاکھوں مسلمان اس فتنہ سے محفوظ ہو گئے۔
(”سیرت مولانا محمد علی مونگیری“ ص ۲۹۱-۲۹۲ از سید محمد الحسنی)
کس کام میں مصروف ہے باطل کی ہوا دیکھ
سر ظفر اللہ خاں قادیانی کی عرب
لڑکی سے شادی کی کہانی
بشریٰ ربانی کے سابق شوہر محمود قرق نے اخبار ”الیوم“ کے نامہ نگار کو ایک بیان میں بتایا کہ ظفر اللہ خاں نے میری منکوحہ بشریٰ ربانی کو کس طرح خریدا اور جبراً طلاق دلوائی۔
پہلی ملاقات میں ظفر اللہ خاں نے لڑکی سے پوچھا ”تیرا کیا نام ہے“ لڑکی نے عقیدت و ادب سے ہاتھ چوم کر جواب دیا ”آپ کی کنیز کو بشریٰ ربانی کہتے ہیں۔“
دمشق میں احمدی خانقاہ نے قادیانی خلیفہ کے اعزاز میں ایک جلسہ کیا جو علاج کے لیے ظفر اللہ خاں کے ساتھ یورپ جا رہے تھے۔ میری بیوی بھی اپنی ماں کے ساتھ جلسے میں حاضر تھی تاکہ دوسرے احمدیوں کی طرح ظفر اللہ خاں کا استقبال کرے، اور امیر المومنین کے ہاتھ کو بوسہ دے۔ ظفر اللہ خاں نے خلیفہ سے کچھ سرگوشی کی تو حاضرین نے ”امیر المومنین“ کو بلند آواز سے فرماتے سنا۔ ”یہ تو اس خاندان کے لیے سب سے بڑی عزت ہے۔“ اور سننے والے سمجھ گئے کہ کس شادی کا ذکر ہو رہا ہے۔ پھر ظفر اللہ خاں نے دمشق کے بڑے قادیانی سردار کے کان میں کچھ کہا تو سردار نے اونچی آواز میں جواب دیا۔ اس کا صرف ایک ہی بھائی ہے۔ اب ظفر اللہ خاں نے بھی اونچی آواز میں گفتگو شروع کر دی۔ کہنے لگے کیا اس کا بھائی یہاں دمشق کے پاکستان سفارت خانے میں ملازمت پسند کرے گا اور دوسرے ہی دن میری بیوی کے بھائی محمود ربانی کو سفارت خانے میں عہدہ مل گیا۔
منگنی اور طلاق
پھر ظفر اللہ خاں نے اپنی خاص مجلس میں دمشق کے معزز احمدیوں سے کہا۔ ”میں اس لڑکی کو خوش نصیب اور اس کے خاندان کو خوشحال بنا دوں گا“۔ عرض کیا گیا کہ لڑکی اپنے خالہ زاد بھائی سے منسوب ہو چکی ہے۔ جو خلیج فارس کے ایک ملک میں دولت کمانے گیا ہوا ہے۔
ظفر اللہ خاں نے برہم ہو کر کہا ”یہ کتنا بڑا ظلم ہے کہ اس نازک پھول کو اس خوفناک کانٹے کی گود میں ڈال دیا جائے“۔
عرض کیا گیا ”مگر دونوں کا نکاح بھی ہو چکا ہے۔“
ظفر اللہ نے اور زیادہ خفگی سے کہا ”طلاق کا بندوبست کرو۔“
عرض کیا گیا ”ممکن ہے خود لڑکی آپ کے عمر کے آدمی سے رشتہ جوڑنا پسند نہ کرے اور کہے کہ آپ کی بیوی بھی موجود ہے اور اولاد بھی۔“
ظفر اللہ خاں نے جواب دیا:
”میں اپنی بیوی کو طلاق دے دوں گا۔“ اور انہوں نے یہی کیا بھی۔ تاکہ بشریٰ ربانی کو حاصل کر سکیں۔
دوسری ملاقات
دوسرے دن ”حضرت“ لڑکی کے گھر پہنچے اور جب وہ چائے لے کر آئی تو اس پر نگاہیں گاڑے ہوئے کہنے لگے۔
”بشریٰ تو کیا کہتی ہے۔ دیکھ ظاہری شکل پر نہ جانا میں آج بھی۔۔۔۔۔۔“
بشریٰ کی نظریں شرم سے جھک گئیں اور چہرہ گلابی ہو گیا۔ پھر آہستہ سے کہنے لگی۔
”مالک میں تو حضور کی کنیز ہوں۔“
یہ سنتے ہی ظفر اللہ خاں نے جیب سے ایک ڈبیہ کھولی اور ہیرے کا کینٹھا نکال کر خود اپنے ہاتھ سے لڑکی کے گلے میں ڈال دیا۔ پھر اس کی انگلیوں پر ٹکٹکی باندھ دی۔ وہ سمجھ گئی‘ اس نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور انگلی سے میرے نکاح کی انگوٹھی اتار دی۔
تین دن بعد ظفر اللہ خاں لاہائی (ہالینڈ) جانے کے لیے تیار ہو گئے‘ جہاں وہ بین الاقوامی عدالت کے جج ہیں۔ جاتے وقت بشریٰ کی ماں اور بھائی کے ہاتھ میں ایک بڑی رقم دیتے ہوئے حاکمانہ انداز سے فرمانے لگے۔ ”دیکھو بشریٰ کی طلاق کا معاملہ جلد سے جلد انجام پا جانا چاہیے۔ خرچ کی پروا نہ کرنا۔“
فریب محبت
میری عقل کچھ کام نہیں دیتی۔ اب تک سمجھ ہی میں نہیں آتا کہ آخر یہ کیا ہوا اور سمجھ میں آئے بھی کیسے۔ میں نے اپنے وجود سے محبت کی تھی اور حق الیقین تھا کہ بشریٰ بھی مجھے سچے دل سے چاہتی ہے۔ ہم دونوں گھڑیاں گن رہے تھے کہ رخصتی کا دن آئے اور ہم دونوں ایک جان ہو جائیں۔ میں خلیج فارس کے علاقے میں بہت دور تھا۔ مگر بشریٰ کے محبت بھرے خطوں سے ڈھارس بندھی رہتی تھی۔ بشریٰ ہر ہفتے کئی کئی خط لکھتی۔ تصویروں کے تراشے بھیجتی۔ یہ دیکھیے تراشے میں ایک جوڑے کی تصویر ہے جو عروسی لباس پہنے ہوئے ہے اور یہ عبارت تراشے پر خود بشریٰ کے قلم سے لکھی ہے۔ ”اللہ ! ہم دونوں کب ایسا ہی جوڑا پہنیں گے۔“ یہ دوسرا تراشہ ہے‘ دو بچے کھڑے ہیں اور بشریٰ نے اس پر لکھا ہے ”خدا ہمیں بھی ایسے ہی بچے دے گا۔“
قادیانی کیوں ہوا؟
بہت سے خط سنا کر بد نصیب شوہر چپ ہو گیا اور کسی گہرے خیال میں ڈوب گیا۔ پھر قصہ اس کے منہ سے پھوٹ پڑا اور اس نے کہا کہ کوئی خیال بھی نہیں کر سکتا تھا کہ بشریٰ کے یہ سب جذبات سراسر فریب تھے اور وہ میرے دل سے صرف کھیل رہی تھی۔ کیا دولت کی طمع اس پر غالب آگئی۔ میں کیونکر مان لوں‘ اس نے تو مجھے اس وقت قبول کیا تھا‘ جب میں بالکل فقیر تھا۔ میں قادیانی نہیں تھا‘ محض بشریٰ کو حاصل کرنے کے لیے میں نے قادیانیت قبول کی۔ بشریٰ اور اس کا خاندان قادیانی بن چکا تھا۔ ظفر اللہ خان قادیانی مذہب کے ایک بڑے رکن ہیں اور میرے دل میں وہم بھی پیدا نہیں ہو سکتا تھا کہ یہی ظفر اللہ میرے دل کو
کچل ڈالیں گے اور قادیانیت کے امام اور امیرالمومنین اپنے ایک مرید و معتقد کی زندگی اس بے دردی سے اجاڑ کر رکھ دیں گے۔ بے شک اس قسم کی کوئی بات بھی خیال میں نہیں آ سکتی تھی۔ لیکن فلسطین میں ایک کہاوت ہے۔ ”گھنی داڑھیوں کی آڑ میں کبھی بندر بھی چھپے ملتے ہیں“ اور ظفراللہ کی داڑھی واقعی عجائبات کو چھپائے ہوئے تھی۔
سب سے بڑا خوش نصیب
محمود قزق نے سلسلہ گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا۔ ۱۹۵۳ء میں‘ میں نے کتنی کوشش کی کہ لبنان میں کوئی روزگار مل جائے۔ مگر کامیابی نہ ہوئی۔ پھر میں شام چلا آیا اور ایک سکول میں مدرسی مل گئی۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں اپنی خالہ سے ملنے دمشق آیا اور خالہ کی لڑکی کو دیکھتے ہی دل دے بیٹھا۔ دوسرے دن بشریٰ کے ساتھ سینما گیا۔ فلم میں ہیرو اور ہیروئن کی شادی دکھائی جا رہی تھی۔ بشریٰ میرے کان میں کہنے لگی ”یہ خوشی ہمیں کب نصیب ہوگی۔“
۵۴ء میں ہمارا نکاح ہوگیا۔ میں پھر خلیج فارس کی ایک ریاست میں چلا گیا تاکہ جلد سے جلد بہت سا روپیہ جمع کر کے لوٹوں اور اپنی دلہن کو رخصت کرالاؤں۔
بشریٰ کے خط دسمبر کے مہینے سے بند ہوگئے۔ آخر ایک خط بہت دنوں کے بعد ملا۔ اس کی عبارت یہ تھی:
”مولانا امیرالمومنین دمشق آئے۔ ظفراللہ خاں بھی تھے۔ کس قدر چاہتی تھی کہ تم بھی یہاں موجود ہوتے اور حضرت امیرالمومنین کی زیارت کرتے۔“
طلاق
بشریٰ کے خط نے میرا دماغ اور بھی خراب کر دیا اور میں طرح طرح کے مطلب نکالنے لگا۔ دمشق پہنچتے ہی سیدھا خالہ کے گھر گیا۔ مگر بشریٰ کی انگلی میرے عقد کی انگوٹھی سے خالی تھی۔
میں نے کہا ”انگوٹھی اور چوڑیاں غائب ہیں؟“
بشریٰ: ”میں آزاد ہوں۔ تم میری خالہ کے بیٹے ہو‘ اس لیے میں تم سے شادی منظور
نہیں کر سکتی۔“
اس کے بھائی محمود نے مجھ سے کہا۔
”بشریٰ تمہیں پسند نہیں کرتی۔ تم طلاق کیوں نہیں دے دیتے؟“
میں بے اختیار چلا اٹھا ”ابھی قاضی کے پاس چلو، طلاق نامہ لکھے دیتا ہوں۔“
قاضی نے جب معاملہ سنا تو خفا ہوئے۔ میں تو غصہ سے بے خود ہو ہی رہا تھا۔ کہا گیا
”قاضی صاحب نکاح فرضی تھا اور میں بشریٰ کو طلاق دے چکا ہوں۔“
بعد میں معلوم ہوا کہ ظفر اللہ خان نے ۴۵ ہزار پونڈ میں بشریٰ کو خرید لیا ہے اور بیس ہزار پونڈ میں بشریٰ کے خاندان کے لیے ایک مکان دمشق کے محلہ ”بستان الحجری“ میں مول لے دیا ہے۔ پھر سنا کہ ظفر اللہ چند روز میں دمشق آ رہے ہیں تاکہ بشریٰ سے شادی رچائیں اور میں نے طے کر لیا کہ اس شخص کو قتل کر ڈالوں گا۔ میں نے پستول خرید لیا۔ مگر بشریٰ کے خاندان نے ظفر اللہ کو خبر کر دی۔ اس پر جلسے کا پروگرام روک دیا گیا اور آدھے گھنٹے کے اندر ہی ظفر اللہ نکاح کر کے ہوائی جہاز سے بھاگ گئے۔
(بشکریہ روزنامہ نوائے پاکستان لاہور)
کیا عجیب لوگ تھے
آپ کے رفیق کار مولوی خدا بخش شجاع آبادی نے اسی طرح ایک اور واقعہ سنایا۔ کہتے ہیں ”میری ایک روشن چہرے والے نہایت وجیہہ بزرگ تھرڈ کلاس بوگی میں ایک سیٹ کے نیچے فرش پر لیٹے ہوئے ہیں۔ اس سیٹ پر عام غریب دیہاتی مسافر بیٹھے تھے۔ وہ کہتے ہیں ”میں نے غور سے دیکھا تو پتہ چلا کہ مجاہدِ ملت مولانا محمد علی جالندھری ہیں“ میں نے عرض کیا ”اللہ اکبر! حضرت آپ ہیں؟“ فرمانے لگے ”ہاں محمد علی ہوں، اچھی آرام دہ جگہ مل گئی تھی میں نے سوچا ذرا کمر سیدھی کر لوں“۔
(”حضرت مولانا محمد علی جالندھری“ ص ۱۴۳، از ڈاکٹر نور محمد غفاری)
برسوں مجھے گلشن کی فضا یاد کرے گی
چوہدری ظفر اللہ خاں کی خدمات
مولانا تاج محمودؒ
گزشتہ دنوں مرزائیوں کے مشہور لاٹ پادری چوہدری ظفر اللہ خاں عالمی جج کے عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے تو انہیں سبکدوشی کے موقعہ پر صدر بھٹو کی طرف سے ایک رسمی پیغام بھیجا گیا جو پاکستان کے اخبارات میں شائع ہوا ہے اس پیغام میں صدر بھٹو نے چوہدری صاحب موصوف کو بڑا خراج تحسین پیش کیا ہے۔ انہیں مسلمانوں کا بہت بڑا محسن اور ان کے لیے عظیم خدمات سرانجام دینے والا خصوصاً پاکستان کے بنانے میں بہت بڑا حصہ لینے والا بتایا ہے۔
ہمیں افسوس ہے کہ ہم صدر مملکت کا دلی احترام کرنے کے باوجود ان کے اس بیان سے اتفاق نہیں کر سکتے یا تو یہی بیان سرے سے صدر مملکت کا ڈرافٹ کیا ہوا ہی نہیں اور اگر اس بیان کو انہوں نے خود مرتب کیا ہے تو وہ اپنی تمام تر تاریخ دانی کے باوجود خلاف واقعہ بات کہہ گئے ہیں اور ان کی معلومات صحیح نہیں ہیں۔ اور انہوں نے وہی کچھ کہہ دیا ہے جو چوہدری صاحب کے متعلق مرزائی کہتے رہتے ہیں۔ چوہدری صاحب کے متعلق مرزائی حلقے جو باتیں کہتے ہیں وہ حسب ذیل ہیں۔
- 1۔ چوہدری ظفر اللہ خان بہت بڑا قانون دان اور عظیم وکیل ہے۔
- 2۔ چوہدری ظفر اللہ خان نے پاکستان کے بنانے میں پرزور حصہ لیا ہے۔
- 3۔ چوہدری ظفر اللہ خان نے پاکستان کے وزیر خارجہ کی حیثیت سے پاکستان اور
مسلمانوں کی عظیم خدمات سرانجام دی ہیں۔
یہ تینوں باتیں خلاف واقعہ ہیں۔ چوہدری صاحب بڑے قانون دان نہیں اور نہ ہی وہ کبھی کامیاب ہوئے ہیں۔ کسی پی ایل ڈی میں کسی ایسے مقدمہ کا حوالہ موجود نہیں ہے
جو چوہدری صاحب نے جیتا ہو۔ اس مقدمے کے حوالے کو ججوں نے قانون کی ایک سند کے طور پر پی ایل ڈی میں درج کیا ہو۔ بلکہ انہوں نے کبھی کوئی قابل ذکر مقدمہ جیتا ہی نہیں ہے۔ یو این او میں مسئلہ کشمیر کے سلسلہ میں وہ کئی کئی گھنٹے لمبی تقریریں کرتے رہے لیکن انہوں نے محض لمبی تقریریں کیں۔ کشمیر کا کچھ نہ بنا لہٰذا مقدمہ لمبا ہو گیا۔ دشمن کو موقع مل گیا اس نے کشمیر پر اپنا قبضہ مضبوط سے مضبوط تر کر لیا۔ اور نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے۔
- (1) چوہدری صاحب کی قابلیت کا ایک واقعہ بھی سن لیجئے۔ امیر شریعت سید عطاء
اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ پر ایک دفعہ قادیان کی ایک تقریر کے مقدمہ میں حضرت شاہ نے اپنی صفائی کے گواہوں میں چوہدری ظفر اللہ خاں کے مرشد اور مرزائیوں کے بڑے بشپ مرزا محمود صاحب خلیفہ قادیان کو طلب کرا لیا۔ جب مرزا محمود بحیثیت گواہ عدالت میں پیش ہوئے تو چوہدری صاحب نے آگے بڑھ کر عدالت سے عرض کیا کہ میں حضرت صاحب کی طرف سے پیش ہونا چاہتا ہوں‘ عدالت نے دریافت کیا کہ آپ کس حیثیت سے پیش ہونا چاہتے ہیں۔ چوہدری صاحب نے کہا کہ میں حضرت صاحب کے وکیل کی حیثیت سے پیش ہونا چاہتا ہوں عدالت نے کہا چوہدری صاحب آپ ہوش میں ہیں کبھی گواہ کی طرف سے بھی کوئی وکیل پیش ہو سکتا ہے چوہدری صاحب ہوش میں آئے کہنے لگے آئی۔ایم۔ساری۔
حقیقت یہ ہے کہ چوہدری ظفر اللہ خان ایک نالائق وکیل تھا اس نے یو۔این۔او میں کشمیر کا مسئلہ لڑا اور اس کا بٹھہ گل کر دیا اسے ایسا الجھایا اور اتنا لمبا کیا کہ اب شاید وہ کبھی سلجھنے کے قابل نہ ہو سکے گا۔
- (2) اسی طرح چوہدری صاحب نے پاکستان کی تحریک میں کوئی حصہ نہیں لیا بلکہ وہ
تحریک پاکستان کے مخالف تھے۔ انہوں نے قائد اعظم مرحوم کی یہ کہہ کر توہین کی تھی کہ پاکستان کا نعرہ دیوانے کی بڑ ہے۔
چوہدری ظفر اللہ مرزا محمود خلیفہ قادیان کے زبردست چیلے تھے۔ چوہدری صاحب کے گرو خلیفہ قادیان نے پاکستان کے خلاف بیان دیئے اور آخری وقت تک پاکستان کی مخالفت کرتے رہے ان کا پاکستان کی مخالفت میں آخری بیان 15 مئی 1947ء کے ”الفضل“ قادیان میں شائع ہوا تھا اور جون 1947ء کو پاکستان کا اعلان ہوا۔ جب گرو 15
مئی تک پاکستان کی مخالفت کر رہا تھا تو گرو کے اس چیلے نے کب اور کہاں پاکستان بنانے میں خدمات سرانجام دیں اور حصہ لیا۔
چوہدری صاحب اکیلے وہ ٹوڈی تھے جنہوں نے آخر دم تک انگریز کا طوق امتیاز و وفا اپنے گلے میں ڈالے رکھا۔ قائد اعظم کے حکم پر بڑے بڑے ٹوڈی مسلمانوں نے بھی اپنے خطابات و القابات واپس کر دیئے تھے لیکن چوہدری صاحب کو خدا نے توفیق ہی نہ دی کہ وہ سرکاری خطاب ترک کر دیں وہ کسی بات میں بھی قائد اعظم کے پیروکار نہ تھے۔
- (3) یہ کہنا کہ چوہدری ظفر اللہ خان نے وزیر خارجہ کی حیثیت سے پاکستان کی
بہت بڑی خدمت سرانجام دی ہے بالکل غلط اور خلاف واقعہ ہے۔ چوہدری صاحب نے اتنی ناکام خارجہ پالیسی کی بنیاد استوار کی کہ آج تک ملک کو اس کا صحیح مقام حاصل ہو ہی نہیں سکا۔ انہوں نے وزیر خارجہ کی حیثیت سے مرزائی مہروں کو اور مرزائی مفادات کو دنیا کے کونے کونے میں سیٹ کر دیا۔ اور ملک کو برطانیہ کا دم چھلہ بنا دیا۔ ظفر اللہ خان کی وزارت خارجہ سے علیحدگی کے بعد ہم نے آنکھیں کھولنا شروع کیں۔
انگریزوں اور امریکیوں کے علاوہ چین اور بعض دوسرے ملکوں سے تعلقات قائم ہوئے اگر سر ظفر اللہ خان ہم پر مسلط رہتا تو چین جیسے ہمسایہ ملک سے ہمارے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا تھا۔ اس موقعہ پر ہم چوہدری صاحب کی وزارت خارجہ کے زمانہ کے واقعات کا ذکر بطور نمونہ عرض کیے دیتے ہیں۔
جب عرب نمائندے فلسطین کا مسئلہ یو۔ این۔ او میں پیش کرنا چاہتے تھے انہوں نے یو این او میں اپنی قرار داد کے حق میں فضا سازگار کرنے کے لیے دوست ملکوں کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں اور اپنی حمایت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ اس سلسلہ میں چوہدری ظفر اللہ خان سے بھی ملے اور ان سے تعاون کی التجا کی ظفر اللہ خان نے انہیں کہا کہ اگر ان کے امام جماعت احمدیہ مرزا بشیر الدین محمود خلیفہ ربوہ انہیں اس بات کی ہدایت کریں گے تو وہ ان کی ضرور مدد کریں گے اس لیے آپ لوگ مجھ سے کچھ کہنے کی بجائے ربوہ میں ہمارے خلیفہ صاحب سے رابطہ قائم کریں۔ بیچارے عرب نمائندوں نے کسی نہ کسی طرح مرزا محمود صاحب سے رابطہ قائم کیا اور ان سے امداد کی درخواست کی۔ مرزا صاحب نے عرب نمائندوں کو یہاں سے تار دیا کہ ہم نے چوہدری ظفر اللہ خان کو ہدایت
کر دی ہے کہ وہ یو این او میں تمہاری امداد کرے۔۔۔۔۔۔۔
اتفاق سے یہ تار خطیب پاکستان قاضی احسان احمد شجاع آبادی مرحوم کے ہاتھ آگیا انہوں نے لیاقت علی خان مرحوم سے ملاقات کی اور ان سے دریافت کیا کہ مملکت پاکستان کے سربراہ آپ ہیں یا مرزا محمود اور پھر انہیں تار اور سارا ماجرا کہہ سنایا۔ لیاقت علی مرحوم نے قاضی صاحب مرحوم سے وہ تار اور چند دوسری چیزیں لے لیں اور ظفر اللہ خان کو وزارت خارجہ سے علیحدہ کرنے کا ارادہ کر لیا۔ کچھ عرصہ بعد لیاقت علی مرحوم شہید ہوگئے اور ظفر اللہ خان علیحدہ نہ کیے جاسکے۔
دوسرا واقعہ جہانگیر پارک کراچی کے جلسہ کا ہے۔ وہاں مرزائیوں کا سالانہ جلسہ ہو رہا تھا ظفر اللہ خان وزیر خارجہ پاکستان جلسہ میں شریک ہونے والے تھے کراچی کے مسلمانوں نے احتجاج کیا۔ خواجہ ناظم الدین وزیر اعظم پاکستان نے ظفر اللہ خان کو منع کیا کہ ایسے حالات میں آپ اس جلسہ میں شرکت نہ کریں اس سے حکومت کے وقار کو نقصان پہنچتا ہے لیکن ظفر اللہ خان نے اپنے وزیر اعظم کا کہنا ماننے سے انکار کر دیا۔ جلسہ میں گئے جہاں فساد ہوا اور وہی فساد پھیل کر بالآخر ایک زبردست تحریک بن گیا۔ ان دونوں واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ ظفر اللہ خان حکومت پاکستان کے وفادار نہ تھے اپنے ہیڈ کوارٹر ربوہ کے وفادار تھے۔ آج بھی یہی حال ہے جتنے مرزائی سرکاری ملازمتوں میں ہیں وہ تنخواہیں پاکستان کے خزانے سے وصول کرتے ہیں لیکن احکام ربوہ سے حاصل کرتے ہیں۔ ان میں راز داری اور باہمی رابطے کا اتنا زبردست نظام قائم ہے جسے صرف وہی شخص سمجھ سکتا ہے جس نے صیہونی تحریک کا کچھ مطالعہ کیا ہوا ہو۔ پہلے بھی وقت نے بتایا کہ ظفر اللہ خان نہ پاکستان کا اور نہ پاکستان کے سربراہوں کا وفادار تھا اب بھی وقت بتائے گا کہ تمام مرزائی سرکاری ملازمین نہ بھٹو صاحب اور نہ ہی ملک کے وفادار ہیں بلکہ وہ صرف ربوہ کے وفادار ہیں۔ غرضیکہ ہم صدر بھٹو صاحب کے ظفر اللہ خان والے بیان کی نہ صرف یہ کہ تائید نہیں کر سکتے۔ بلکہ تاریخی اور واقعاتی اعتبار سے اسے غلط سمجھتے ہیں اور اس پر احتجاج کرتے ہیں۔
(لولاک 17 اپریل 1973ء)
ظفر اللہ خان قادیانی کی
اسلام اور نبی اکرمﷺ سے دشمنی
محمد طاہر عبد الرزاق
قادیانی پوپ اور یہود و نصاریٰ کے پالتو گماشتے ظفر اللہ خان قادیانی کے دل میں بغض اسلام اور عناد پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کوٹ کوٹ کر بھرے ہوئے تھے۔ اسے جہاں بھی موقعہ ملتا اپنی نیش زنی سے باز نہ آتا۔ وہ پوری زندگی ساری دنیا میں مرزا قادیانی ملعون کو اللہ کا نبی اور اس کے خود ساختہ کفریہ مذہب کو اسلام کے نام سے متعارف کراتا رہا۔ اس نے ملت اسلامیہ کو جو کاری زخم لگائے ہیں ان زخموں کو مندمل ہونے میں ایک لمبی مدت لگے گی۔ ذیل میں اس کی چند خباثتیں درج کی جاتی ہیں۔ اسے پڑھئے اور سوچئے کہ کیا یہ شخص انسان کے روپ میں شیطان مجسم نہ تھا؟
ظفر اللہ قادیانی کی اسلام دشمنی
ان تمام باتوں سے واضح ہوتا ہے کہ احمدیت خدا تعالیٰ کا لگایا ہوا پودا ہے۔ یہ پودا اسلام کی حفاظت کی غرض سے کھڑا کیا گیا ہے جس کا وعدہ قرآن مجید میں دیا گیا تھا۔ اگر نعوذ باللہ آپ کے وجود (یعنی مرزا غلام احمد) کو درمیان سے نکال دیا جائے تو اسلام کا زندہ مذہب ہونا ثابت نہیں ہو سکتا بلکہ اسلام بھی دیگر مذاہب کی طرح ایک خشک درخت شمار کیا جائے گا اور اسلام کی کوئی برتری دیگر مذاہب سے ثابت نہیں ہو سکتی۔ ملاحظہ ہو ”الفضل“
(لاہور مورخہ 31 مئی 1952ء) و (مصلح کراچی 23 مئی 1952ء)
ظفر اللہ قادیانی کی گستاخانہ کتاب پر پابندی
ملائیشیا کے دارلحکومت کوالالمپور کی ایک خبر ملاحظہ فرمائیے۔
”حکومت ملائشیا نے پاکستان کے چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان کی کتاب (Islam's meaning for modren man) ”اسلام کا مفہوم دور جدید کے آدمی کے لیے“ کی اپنے ملک میں خرید و فروخت اور درآمد کو ممنوع قرار دے دیا ہے۔ حکومت کے نزدیک سر محمد ظفر اللہ خان کی یہ کتاب ملائشیا کے سرکاری مذہب اسلام کے عقائد و نظریات کے منافی ہے۔ ایک اور مصنف فرانسس پوٹر کی کتاب ”عظیم مذہبی قائدین“ کو بھی ممنوع قرار دے دیا ہے۔ ملائشیا کے ریڈیو کے تبصرے کے مطابق اس کتاب میں بھی اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف ناروا مواد شائع کیا گیا ہے۔“
(ہفت روزہ ”المنبر“ ص 13 ج 9 ش 11 21 دسمبر 1964ء)
ظفر اللہ خان قادیانی کی حضور اکرم ﷺ سے دشمنی
”امریکہ کے کثیر الاشاعت ہفتہ وار رسالہ ”ٹائم“ نے اپنی ایک حالیہ اشاعت میں رسول کریم ﷺ کی تصویر چھاپی تھی اور پاکستان کے گوشہ گوشہ سے اس کی سخت مذمت کی گئی۔ چونکہ اس سے پہلے بھی اس قسم کے واقعات پیش آچکے ہیں اور پاکستان ان پر سفارتی احتجاج کر رہا ہے۔ اس لیے اس مرتبہ بھی واشنگٹن کے (پاکستانی) سفارت خانے نے فوراً ہی امریکی حکام سے احتجاج کیا لیکن ہماری وزارت خارجہ (سر ظفر اللہ خان وغیرہ) کا رویہ چونکہ اب بدل چکا ہے اس لیے اسے جیسے ہی پتہ چلا تو پاکستانی سفارت خانے کو فوراً ہی ایک سخت ہدایت نامہ بھیجا گیا کہ پاکستان اسلام کے وقار کا تنہا محافظ نہیں ہے۔ آئندہ اس قسم کے احتجاج نہ کیے جائیں۔“
(روزنامہ امروز لاہور 19 جون 1952ء)
ظفر اللہ قادیانی کا مسلمانوں کے خلاف مقدمہ
حال ہی میں قادیانی بھگت سر ظفر اللہ خان نے لندن کی عدالت میں جناب عبدالغفور احمد اور رابطہ عالم اسلامی مکہ المکرمہ کے قابل احترام راہنما جو رابطہ کے آرگن اخبار ”العالم الاسلامی“ کے مدیر بھی ہیں کے خلاف ایک مقدمہ دائر کیا ہے اس بنیاد پر کہ انہوں نے قادیانیت کے خلاف کچھ کہا.....؟ اسے کہتے ہیں چوری اور سینہ زوری۔ امت
کے ان باغیوں نے ملت اسلامیہ اسلام اور خود آنحضرت ﷺ، امہات المومنین، صحابہ کبار رضوان اللہ علیہم اجمعین کے خلاف اپنی کتب اور رسائل میں جو بکواس کی ہے اور امت کے خلاف جن سازشوں میں یہود و ہنود کے ساتھ شریک ہیں خواہ وہ پاکستان کے خلاف ہوں یا اقصیٰ پر یہود کا قبضہ ہو، مشرقی پاکستان کی علیحدگی ہو یا زعیم اسلام فیصل اعلیٰ اللہ مقامہ کی شہادت ہو، سب میں ان کے ہاتھ خون سے رنگین ہیں۔ مگر الٹا وہ ہمیں ہی کوستے ہیں......؟ ایں چہ بوالعجبیست؟
ذیل میں ہم اخبار ”العالم الاسلامی“ مکۃ المکرمہ کا ایک مقالہ معہ ترجمہ دے رہے ہیں، جس سے صحیح صورت حال بھی واضح ہوگی اور اس گروہ کی عقل و دانش سے پردہ بھی اٹھے گا۔ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے اکابرین، عوام، علماء، متحدہ جمہوری محاذ اور حکومت پاکستان کے لیے وہ باتیں لمحہ فکریہ رکھتی ہیں، جو صاحب مقالہ نے انہیں مخاطب کر کے کہی ہیں!
ہم توقع رکھتے ہیں کہ مکۃ المکرمہ سے جو آواز آئی ہے اس پر اہل پاکستان کان دھریں گے اور مناسب اقدام کریں گے۔ (ادارہ)
(جلد 20، شمارہ 30/31 ہفت روزہ ”البصیر“ 13/20 اگست 1975ء)
ظفر اللہ قادیانی اور مرزا قادیانی کی نبوت
”پورٹ آف سپین، 5 ستمبر (نمائندہ جنگ) کل شب ٹرینی ڈاڈ میں ہمالیہ کلب کے ایک جلسہ میں پاکستانی مندوب سر محمد ظفر اللہ خان نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ قرآن پاک ہی ایک ایسی کتاب ہے جس میں دنیا کے ہر مسئلہ کا حل موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ نے فرمایا ہے کہ ہر دور میں اس نے دنیا کی ہدایت کے لیے ایک نہ ایک نبی بھیجا ہے، چنانچہ اس سلسلہ کا آخری نبی غلام احمد پاکستان کی سرزمین میں 1908ء میں فوت ہوا۔ سر ظفر اللہ خان کی اس تقریر سے ٹرینی ڈاڈ میں آباد مسلمانوں میں شدید مایوسی کی لہر دوڑ گئی۔ ان مسلمانوں میں 90 فیصدی مسلمان سنی العقیدہ ہیں اور 10 فیصد احمدی اور لاہوری فرقے سے متعلق ہیں۔ چوہدری ظفر اللہ کی تقریر کے بعد احمدی مبلغین کو اچھا موقع ہاتھ آیا اور انہوں نے بعد میں احمدیت کے سلسلہ سے تبلیغی تقریریں شروع کردیں۔ اس جلسہ میں بے شمار ہندو اور مسلمان شریک تھے۔“ (”جنگ“ کراچی 7 ستمبر 1962ء)
سر ظفر اللہ خان قادیانی ، سور کے گوشت کی گولیاں کھا
گیا
ہالینڈ میں پہنچ کر محکمہ پروٹوکول کے ایک افسر نے مجھے بر سبیل تذکرہ یہ بتایا کہ اگر ہم سور کے گوشت (پورک، ہیم، بیکن وغیرہ) سے پرہیز کرنا چاہتے ہیں تو بازار سے بنا بنایا قیمہ نہ خریدیں، کیونکہ بنے ہوئے قیمے میں ہر قسم کا ملا جلا گوشت شامل ہو جاتا ہے۔ اس انتباہ کے بعد ہم لوگ ہالینڈ کے استقبالیوں کا من بھاتا ”کھاجا“ قیمہ کی گولیاں (Meat Balls) کھانے سے اجتناب کرتے تھے۔ ایک روز قصر امن (Peace Palace) میں بین الاقوامی عدالت عالیہ کا سالانہ استقبالیہ تھا۔ چودھری ظفر اللہ خان بھی اس عدالت کے جج تھے۔ ہم نے دیکھا کہ وہ قیمے کی گولیاں، سرکے اور چٹنی میں ڈبو کر مزے سے نوش فرما رہے تھے۔ میں نے عفت سے کہا ”آج تو چودھری صاحب ہمارے میزبان ہیں۔ اس لیے قیمہ بھی ٹھیک ہی منگوایا ہوگا۔ وہ بولی ذرا ٹھہرو پہلے پوچھ لینا چاہیے۔ ہم دونوں چودھری صاحب کے پاس گئے۔ سلام کر کے عفت نے پوچھا، چودھری صاحب یہ تو آپ کی (Reception) ہے۔ قیمہ تو ضرور آپ کی ہدایت کے مطابق منگوایا گیا ہو گا؟ چودھری صاحب نے جواب دیا (Reception) کا موقع الگ ہے، قیمہ اچھا لائے ہوں گے۔ یہ کباب چکھ کر دیکھو۔ عفت نے ہر قسم کے ملے جلے گوشت کا خدشہ بیان کیا۔ چودھری صاحب بولے ”بعض موقعوں پر بہت زیادہ کرید میں نہیں پڑنا چاہیے۔ حضور کا فرمان بھی یہی ہے“ دین کے معاملے میں عفت بے حد منہ پھٹ عورت تھی۔ اس نے نہایت تیکھے پن سے کہا یہ فرمان آپ کے حضور (مرزا قادیانی) کا ہے یا ہمارے حضور ﷺ کا؟“
(”شہاب نامہ“ از قدرت اللہ شہاب)
مجاہد ملت مولانا غلام غوث ہزارویؒ کی ظفر اللہ قادیانی پر جرح
مولانا غلام غوث ہزارویؒ صاحب مارشل لاء کے نفاذ تک لاہور میں رہے اور تحریک کی پشت پر رہ کر راہنمائی فرماتے رہے۔ آپ کے متعلق حکومت کی طرف سے گولی مار دینے کا حکم تھا۔ مارشل لاء کے نفاذ کے بعد آپ خانقاہ سراجیہ اور وہاں سے پھر بھلوال کے دیہات میں رہے۔ ان دنوں منیر کمیشن انکوائری کر رہا تھا۔ اخبارات میں ظفر اللہ خان قادیانی اور مرزا بشیر الدین کے متعلق خبر آئی کہ وہ عدالت میں پیش ہو رہے ہیں۔ آپ نے ان دونوں پر جرح کے لیے سوالات لکھ کر صوفی احمد یار بھلوال والوں کی معرفت حکیم عبدالمجید سیفی مرحوم کو لاہور بھجوائے انہوں نے مجلس عمل کے وکیل حضرات کو وہ جرح مہیا کی جو یہ ہے۔
ظفر اللہ قادیانی پر جرح
- 1- کیا کشمیر کی جنگ روکنے کے وقت یو این او کے ذریعہ ایسا معاہدہ ہوا تھا کہ فیصلہ
استصواب رائے سے ہو اور استصواب راجہ کشمیر کی نگرانی میں ہو۔ پاکستانی یا قبائلی افواج کشمیر خالی کردیں۔ اور ہندوستانی فوج میں بقدر مناسب تخفیف ہو؟
- 2- اگر اس کا جواب اثبات میں ہو تو دوسرا سوال کریں۔ کیا اس پر آپ کے بھی دستخط
تھے۔ یا کیا آپ نے اس کو منظور کر لیا تھا؟
- 3- اگر جواب اثبات میں ہو تو پھر سوال کیا جائے کہ آپ نے ہندوستانی افواج کے مکمل
تخلیہ پر کوئی زور نہ دیا اور کیوں پاکستان گورنمنٹ کو اس کے بغیر دستخط کرنے کے خلاف یا یہ معاہدہ مان لینے کے خلاف مشورہ نہ دیا اور مہاراجہ کشمیر کی نگرانی کو کیوں قبول کیا؟
- 4- کیا میجر جنرل نذیر احمد جو لیاقت علی خان مرحوم کے کیس میں سزا پا چکے ہیں بقول
تمہارے مرزائی ہیں۔ کیا وہ تمہارے ہم زلف ہیں؟
- 5- کیا آپ عصمت اللہ (مرزائی) کے مقدمہ قتل کے دوران لائل پور آئے تھے؟
- 6- کیا آپ کو کراچی میں جہانگیر پارک کے قادیانی جلسہ میں تقریر نہ کرنے یا شریک نہ
ہونے کے لیے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین اور سردار عبدالرب نشتر نے مشورہ دیا تھا؟
- 7- کیا خواجہ ناظم الدین وزیر اعظم کے اعلان کے بعد کہ کوئی سرکاری ملازم یا وزیر
فرقہ وارانہ تبلیغ میں حصہ نہ لے۔ آپ نے کوئی بیان دیا تھا کہ تبلیغ جو مذہبی حق ہے‘ کو کسی سے نہیں چھینا جاسکتا؟
- 8- کیا آپ کے پاس اس طرح کی درخواستیں بھی ملازمت چاہنے والوں کی طرف
سے پیش ہوتی ہیں جن میں درخواست دہندوں نے اپنے دستخطوں کے ساتھ احمدی (مرزائی) لکھا؟
- 9- کیا آپ نے قادیان اور پھر ربوہ کے سالانہ جلسوں میں شرکت کی ہے؟
- 10- وائسرائے ہند کی ایگزیکٹو کونسل کی ممبری اور ریلوے انچارج ہونے کے بعد آپ
نے قادیان کے تبلیغ فنڈ میں کتنا چندہ دیا تھا؟ کیا گزشتہ سے پیوستہ سال ربوہ کے مرزائی فنڈ میں آپ نے اور آپ کی فیملی کے بعض زنانہ افراد نے بھی چندہ دیا تھا؟
- 11- کیا اسد اللہ خاں آپ کا بھائی ہے؟ کیا یہ مرزائیوں کے جلسوں کی صدارتیں کرتا
رہتا ہے؟
- 12- کیا آپ برٹش کامن ویلتھ سے وابستگی اچھی سمجھتے ہیں؟
- 13- کیا برطانیہ سے پاکستان کے سیاسی اور تجارتی تعلقات زیادہ مضبوط اور بہتر ہونے
مولانا محمد علی مونگیری کی قادیانیت کے خلاف علمی و عملی جدوجہد
اس مناظرہ کے بعد مولانا نے قادیانیت کے خلاف باقاعدہ اور منظم طریقہ پر زبردست مہم شروع کی۔ اس کے لیے دورے کیے‘ خطوط لکھے‘ رسائل اور کتابیں تصنیف کیں‘ دہلی اور کانپور سے کتابیں طبع کروا کے مونگیر لائے اور اشاعت کرنے میں خاصا وقت صرف ہوتا تھا اور حالات کا تقاضا یہ تھا کہ اس میں ذرا بھی سستی اور تاخیر نہ ہو۔ اس لیے مولانا نے خانقاہ میں ایک مستقل پریس قائم کیا۔ اس پریس سے (اور کتابوں کے علاوہ) سو سے زائد چھوٹی بڑی کتابیں شائع ہوئیں جو سب مولانا کے قلم سے ہیں۔
("سیرت مولانا محمد علی مونگیری" ص ۲۹۹‘ از سید محمد الحسنی)
لاریب وہ جنت کا سزا وار نہیں
چاہئیں یا امریکہ سے؟ آپ کس کو زیادہ پسند کرتے ہیں؟ اگر کہے کہ دونوں سے تو -21 پھر اصرار کر کے پوچھنا چاہئے کہ کیا دونوں کے ساتھ بالکل برابر تعلقات ہوں یا -22 ایک سے زیادہ ایک سے کم؟
- 14- کیا تم نے کبھی یہ تقریر کی تھی کہ پاکستان کو مشرق وسطیٰ کی دفاعی اسکیم میں شریک -23
ہونا چاہئے؟ (اس کا یہ بیان کہ پاکستان اور افغانستان کو دفاعی اسکیم میں شریک ہونا -24 چاہئے اخباروں میں آچکا ہے) اگر وہ کہے کہ ہاں تو پھر یہ سوال کیا جائے۔
- 15- کیا کسی وقت روس اور امریکہ کی جنگ عظیم شروع ہو جائے تو اس کی لپیٹ میں
پاکستان کا آجانا اور میدان جنگ بن جانا مفید ہے یا غیر جانب دار رہ کر اپنے -25 حالات بہتر بنانے کی کوشش کرنا۔ اگر وہ کہے کہ محل وقوع یا دیگر ضروریات یا -26 حالات کے تحت غیر جانب داری ناممکن ہے تو یہ سوال کیا جائے۔
- 16- کیا گزشتہ جنگ میں ترکی اور افغانستان جیسے ملک غیر جانب دار نہیں رہے؟ -27
- 17- اگر وہ کہے کہ میں نے ایسی تقریر نہیں کی تو پھر پوچھا جائے کہ اچھا آپ کی رائے
میں پاکستان کا مشرق وسطیٰ کی دفاعی سکیم میں شریک ہونا مفید ہے یا مضر (اگر وہ -28 مضر بتائے تو امریکہ کی نظروں سے گرے اگر مفید بتائے تو امریکہ کا ایجنٹ ثابت -29 ہو اور گیہوں کا مسئلہ حل ہو) -30
- 18- کیا انڈونیشیا کے سفیر نے اردو کا آپ سے استاد مانگا تھا؟ اور آپ نے مہیا کر دیا -31
تھا۔ اگر جواب اثبات میں ہو تو پوچھا جائے کہ کیا وہ سفیر پھر احمدی ہو گیا تھا یا نہیں اور کیا وہ استاد احمدی تھا؟
- 19- کیا آپ مرزا غلام احمد قادیانی کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بہتر سمجھتے ہیں، اس کا
ان سے درجہ بڑا سمجھتے ہیں؟
- 20- کیا یہ شعر مرزا غلام احمد کے ہیں؟ -32
اس سے بہتر غلام احمد ہے -33
ایں منم کہ حسب بشارت آمدم -34
عیسیٰ کجا ہست تا بنہد پا بمنبرم -35
- 21- کیا تم مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی سمجھتے ہو؟
- 22- جو اس کو دعویٰ نبوت یا دعویٰ مسیحیت میں سچا نہ جانے اس کو تم مسلمان کہتے ہو یا
کافر؟
- 23- کیا حقیقت الوحی میں مرزا نے اپنے مخالفین و منکرین کو کافر کہا ہے؟
- 24- کیا آپ نے اور مرزا محمود نے پیرس فرانس میں ایک سینما دیکھا تھا جس میں نیم
برہنہ عورتیں ناچتی تھیں اور جن کے بارے میں خلیفہ جی (نام نہاد) نے پوچھا کہ کیا یہ ننگی ہیں اور آپ نے کہا کہ ننگی تو نہیں لیکن لباس ایسا ہے کہ بالکل ننگی ہیں؟
- 25- کیا مرزا محمود کو واجب الاطاعت امیر سمجھتے ہیں؟
- 26- کیا کسی وقت ان کی اور پاکستان کی گورنمنٹ کی وفاداری کا مقابلہ آ جائے تو آپ
کس کو ترجیح دیں گے؟
- 27- اگر آپ کے ہاتھ میں پاکستان کی حکومت آ جائے تو کیا اپنے خلیفہ کی اس پیش گوئی
کو عملی جامہ پہنائیں گے کہ پانچ (مشہور) خونی ملاؤں سے انتقام لیں؟
- 28- کیا ان پانچ نے کوئی مرزائی قتل کیا یا کرایا؟
- 29- تو پھر یہ خونی کیسے ہوئے؟
- 30- دوسرے کی جگہ ان سے انتقام کا کیا معنی؟
- 31- کیا پاکستان کی حکومت تمہارے ہاتھ میں آ جائے تو مسلمانوں کو مرزائی بنانے کا
کام تیز تر کر دو گے کیا مرزائیوں کو کھلم کھلا ایسے تبلیغی جلسے کرنے میں امداد دو گے اگر وہ کہے کہ نہیں تو پھر پوچھا جائے کہ جہانگیر پارک کی حرکت کیا غیر ذمہ دارانہ تھی؟
- 32- کیا تم نے کسی وقت عبدالقیوم وزیر سرحد سے سرحد میں کوئی زمین تبلیغ کی خاطر دینے
کے لیے کہا تھا؟
- 33- کیا ایگزیکٹو کونسل کے ممبر ہونے کے وقت ملک کے علماء اور مسلمانوں نے جلسوں
کے ذریعہ آپ کی مخالفت کی تھی؟
- 34- کیا مسلمانوں کا کوئی وفد وائسرائے یا گورنر پنجاب کو ملا تھا؟
- 35- کیا امریکہ نے گیہوں خیراتی دیا ہے؟
- 36- کیا یہ تمہارے بغیر اور تمہارے وزیر خارجہ رہے بغیر واقعی امریکہ نہیں دیتا تھا؟
- 37- کیا وہ گندم پاکستانی عوام کو یا حکومت کو دیتے تھے۔ یا تمہاری ذات کو؟
- 38- کیا ختم نبوت کے بارے میں اخبارات کو کچھ لکھنے کی ممانعت ہے؟
- 39- کیا تم مارشل لاء میں لاہور گئے ہو؟
- 40- کتنی بار؟
- 41- مارشل لاء حکام سے کتنی بار ملاقاتیں کیں اور کیا کچھ کہا جنرل اعظم نے ان پر کتنا
عمل کیا؟
- 42- کیا محمود کا بیٹا رہا کرایا جو گولی چلانے کے جرم میں ماخوذ تھا؟
- 43- کیا مرزا غلام احمد قادیانی کا تحفہ گولڑویہ میں یہ لکھنا صحیح ہے کہ تم پر قطعی حرام ہے کہ
کسی مکفر یا مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو؟
- 44- کیا مرزا غلام احمد نے اپنے نہ ماننے والوں کو کافر کہا ہے؟
- 45- کیا یہ کتاب مرزا محمود کی ہے جس میں اس نے لکھا ہے کہ تمام مسلمان کافر ہیں اور
غلام احمد اسی طرح نبی ہے جس طرح اور نبی، کیا تم ان باتوں کو صحیح سمجھتے ہو؟
- 46- کیا تم نے قائد اعظم کا جنازہ نہیں پڑھا تھا؟
- 47- کیا تم نے آج تک کسی مسلمان کا جنازہ پڑھا ہے؟
انتہائے شوق
مقدمہ بہاولپور میں آپ کے تاریخی بیان کے بعد فیصلہ کا مرحلہ تھا جو ظاہر ہے کہ کچھ عرصہ بعد ہونا تھا۔ شاہ صاحب نے واپس ڈابھیل کا سفر کرنا تھا تو اپنے تلامذہ کو وصیت کی کہ اگر فیصلہ میری زندگی میں ہوا تو خود سن لوں گا اور اگر میری وفات کے بعد ہو تو اس فیصلہ کی اطلاع میری قبر پر آکر دی جائے تاکہ میری روح کو تسکین ہو کہ مرزا اور اس کے متبعین کو کافر تسلیم کر لیا گیا ہے۔ (چنانچہ مولانا محمد صادق بہاولپوری نے اس وصیت پر عمل کیا)
(”ملخصا“ نقش دوام ”ص 190)
اٹھا کے لائیں گے خود فرشتے چراغ خورشید کے جلا کر
اقبالؒ کے حضور میں
قادیانی سر ظفر اللہ کے خلاف علامہ سے ایک بیان لینے کی دلچسپ کہانی
پروفیسر حکیم عنایت اللہ نسیم سوہدروی
مارچ ۱۹۳۷ء کا ایک دن میری زندگی میں ایسی یادگار حیثیت اختیار کر گیا کہ اس کی یادوں کی چاندنی آج بھی میرے افکار اور محسوسات کی دنیا کو جگمگائے ہوئے ہے۔ یہ وہ دن تھا جب مجھے زندگی میں پہلی بار نابغہ روزگار حکیم الامت حضرت علامہ اقبالؒ کے حضور حاضر ہونے کی سعادت نصیب ہوئی۔
میں ان دنوں طبیہ کالج مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں زیر تعلیم تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ملت اسلامیہ کے دلوں میں قادیانیوں کے دل آزار معتقدات اور ژاژ خائیوں کے باعث بے زاری کا ایک طوفان برپا تھا۔ پنجاب میں انجمن حمایت اسلام نے اپنے ایک تاریخی اجلاس میں جو علامہ اقبالؒ کی صدارت میں ہوا تھا، قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیتے ہوئے انجمن کے اداروں سے الگ کر دیا تھا۔ پنجاب کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بھی طلبہ نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے اور یونیورسٹی کے اداروں سے الگ کر دینے کا مطالبہ کر رکھا تھا۔ اس سلسلے میں مولانا ظفر علی خانؒ اور سید عطا اللہ شاہ بخاریؒ جیسی قومی شخصیات کی تقریریں یونیورسٹی میں گونج چکی تھیں اور طلبہ میں زبردست ذہنی ہیجان برپا تھا کہ اچانک یہ انکشاف طلبہ پر برق بن کر گرا کہ ڈاکٹر ضیاء الدین احمد وائس چانسلر مسلم یونیورسٹی نے سر ظفر اللہ خان قادیانی کو کانووکیشن ایڈریس پڑھنے کی دعوت دی ہے جسے موخر الذکر نے منظور کر لیا ہے۔ سر ظفر اللہ خان ان دنوں وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کے ممبر تھے اور اس
حیثیت میں بہت اثر و رسوخ کے مالک تھے یہاں تک کہ مسلمانوں کے زبردست احتجاج کے باوجود مسلمانوں کی نمائندگی کر رہے تھے۔
یہ خبر یونیورسٹی کے ان طلبہ پر برق بن کر گری جو یونیورسٹی سے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے کے لیے سرگرم عمل تھے چنانچہ طلبہ نے باہم مشورے سے فیصلہ کیا کہ وہ سر ظفر اللہ کی یونیورسٹی آمد پر زبردست مخالفت کریں گے۔ قاری محمد انوار صمدانی‘ محمد شریف چشتی‘ سردار عبدالوکیل خان اور راقم الحروف نے مل کر طے کیا کہ اس تحریک کے سلسلے میں علامہ اقبالؒ سے رجوع کیا جائے۔ مسلم اخبارات الجمعیۃ‘ زمیندار وغیرہ میں اداریے اور شذرات لکھوائے جائیں چنانچہ ان اخبارات نے یونیورسٹی کے ارباب حل و عقد کے اس فعل کی مذمت کی کہ ان کی دعوت پر سر ظفر اللہ مسلم یونیورسٹی کے جلسہ انعامات سے خطاب کریں اور طلبہ میں اسناد تقسیم کریں۔
تمام ساتھیوں کے مشورے سے راقم الحروف علامہ اقبالؒ سے ملاقات کے لیے لاہور روانہ ہوا۔ علامہ ان دنوں جاوید منزل میں مقیم تھے۔ جاوید اقبال ابھی بچے تھے۔ میں سہ پہر کے وقت جاوید منزل پہنچا اور علامہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ وہ ان دنوں بیمار تھے اور ملاقات کی اجازت خاص خاص لوگوں کو تھی۔ جب میں نے اطلاع بھجوائی کہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے طلبہ کا پیغام لے کر حاضر ہوا ہوں تو فوراً ہی اذن باریابی مل گیا۔
علامہ اقبالؒ ہال نما کمرے کی ایک جانب ایک بغلی کمرے میں چارپائی پر تشریف فرما تھے۔ سامنے چند کرسیاں موجود تھیں اور شلوار قمیص کے سادہ لباس میں ملبوس تھے۔ ایک طرف بڑا تکیہ رکھا ہوا تھا۔ راقم الحروف نے علامہ کو ساری صورت حال سے آگاہ کیا اور اس سلسلے میں وہ استفتاء بھی دکھایا جو دہلی میں مفتی کفایت اللہ اور مولانا احمد سعید سے قادیانیوں کی بابت حاصل کیا تھا جس پر لاہور سے مولانا احمد علی اور مولانا سید داؤد غزنوی کے دستخط لیے گئے تھے۔ علامہ نے ساری صورت حال سے آگاہی کے بعد مجھے ہدایت فرمائی کہ فضل کریم درانی سے ملوں‘ جو ہفتہ وار اخبار ٹرتھ (Truth) کے ایڈیٹر تھے اور ان سے میمورنڈم (یادداشت) تیار کروا کر ٹائپ کرا کے لاؤں۔
راقم الحروف عرب ہوٹل پہنچا جہاں ان دنوں فضل کریم درانی مقیم تھے۔ میں نے ان سے میمورنڈم تیار کرا کے ٹائپ کروایا اور حسب ہدایت اگلے روز دوبارہ علامہ کے نیاز
حاصل کیے۔ علامہ اقبالؒ نے اس پر دستخط کر کے مجھے ہدایت کی کہ اس پر مولانا ظفر علی خانؒ کے دستخط حاصل کروں‘ چنانچہ میں نے مولانا ظفر علی خان اور دیگر اکابر ملت کے دستخط حاصل کیے۔ اس طرح میمورنڈم کے ایک طرف علماء کا فتویٰ تھا اور دوسری جانب بہ زبان انگریزی ”میمورنڈم“ درج تھا۔ یہ میمورنڈم جملہ ارکان انتظامیہ کو بھیج دیا گیا اور اہم اداروں اور اخبارات میں تقسیم کیا گیا۔ علامہ کی رائے ملت کی نگاہوں میں انتہائی اہم سمجھی جاتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ علامہ کا بیان اخبارات نے اہتمام کے ساتھ شائع کیا اور پمفلٹوں کی صورت میں بھی اشاعت پذیر ہوا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ظفر اللہ کو بطور مہمان خصوصی بلائے جانے کا فیصلہ منسوخ ہو گیا۔
دوران ملاقات علامہ اقبال نے مجھ سے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کی ساری صورت حال معلوم کی اور طلبہ کے نام پیغام دیا کہ وہ اشتراکیت اور قادیانیت کی بھر پور مخالفت کریں اور ڈاکٹر سید ظفر الحسن صدر شعبہ فلسفہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کی ان خدمات کو زبردست سراہا جو وہ مجلس اسلامیات کے پلیٹ فارم سے یونیورسٹی میں سر انجام دے رہے تھے اور طلبہ کو تاکید کی کہ وہ ان سے فیضان اور رہنمائی حاصل کریں۔ علامہ نے پروفیسر عبدالستار خیری‘ پروفیسر حمید الدین اور پروفیسر عطا اللہ کا ذکر بھی اچھے انداز میں کیا۔ اگرچہ اس میمورنڈم کے بعد سر ظفر اللہ کا کانووکیشن ایڈریس منسوخ ہو گیا‘ حالانکہ قادیانی اقلیت قرار نہ پا سکے‘ البتہ یونیورسٹی میں ان کی عملاً موت واقع ہو گئی۔
میری ایک ذاتی کتاب پر علامہ اقبالؒ کے ان دنوں کے دستخط بخط انگریزی آج بھی موجود ہیں جو میرے لیے سرمایہ فخر و اعزاز ہیں۔ علامہ کے ان ولولہ انگیز حقائق و بیان سے ہر طرف غلغلہ مچ گیا۔ علامہ اقبال سے اس اولین ملاقات کے نقوش آج بھی میرے لوح دل پہ ثبت ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ علامہ اقبال طلبہ مسلم یونیورسٹی سے جو محبت و عقیدت رکھتے تھے اس کا اظہار الفاظ میں ممکن نہیں ہے۔ وہ طلبہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کو قوم کے مستقبل کا معمار اور غیرت ملی و حمیت کا پاس دار خیال کرتے تھے۔ ان کی ذہنی و دلی خواہش تھی کہ علی گڑھ اپنے کردار کے لحاظ سے عظمت ملی کا گہوارہ اور اسلام کی شان کا ایک ایسا مجلّا آئینہ ثابت ہو جس کی آب و تاب کو حالات و انقلاب کی کوئی آندھی بھی دھندلا نہ سکے۔
(ماہنامہ نقیب ختم نبوت ۔ اگست ۱۹۹۲ء)
جب وزیر اعظم لیاقت علی خان نے ظفر اللہ قادیانی کو
کابینہ سے نکالنے کا فیصلہ کیا
ماسٹر تاج الدین انصاریؒ
خان لیاقت علی خان مرحوم و مغفور کو اپنے آخری دور حیات میں چوہدری ظفر اللہ خان کی حقیقت کا علم ہو چکا تھا اور وہ اس طرح ہوا کہ لیاقت علی خاں مرحوم ضلع سیالکوٹ کے ایک قصبہ نارووال کے ریلوے اسٹیشن پر اپنی گاڑی میں ٹھہرے ہوئے تھے مجلس تحفظ ختم نبوت کے سابق صدر قاضی احسان احمد شجاع آبادی رحمۃ اللہ علیہ بھی ضلع سیالکوٹ کے تبلیغی دورہ پر پہنچے ہوئے تھے جب قاضی صاحب مرحوم کو معلوم ہوا کہ خان لیاقت علی خاں مرحوم نارووال کے پلیٹ فارم پر گاڑی میں ٹھہرے ہوئے ہیں اور رات وہیں قیام ہے۔ تو قاضی صاحب اپنا قادیانیت سے بھرا ہوا مشہور ٹرنک ساتھ لے کر پہنچ گئے وقت مانگا تو 15 منٹ کے لیے ملاقات کا وقت مل گیا۔ قاضی صاحب کو اللہ تعالیٰ نے ایک صحیح مبلغ کا دماغ اور زبان عطا کی ہوئی تھی۔ خاں صاحب سے قادیانیت کے موضوع پر گفتگو کی۔ قادیانیت کی مذہبی اور دینی حیثیت واضح کرنے کے بعد قادیانیت سے ملک اور اسلام کو جو سیاسی خطرات لاحق تھے وہ بیان کیے۔ جب گفتگو کرتے آدھ گھنٹہ گزر گیا تو نواب صدیق علی خان جو لیاقت علی خاں کے پولیٹیکل سیکرٹری تھے۔ اندر داخل ہوئے اور عرض کیا کہ قاضی صاحب کی ملاقات کا وقت ختم ہو گیا ہے۔ اور باہر ملاقاتی ملاقات کے لیے بہت بے چین ہیں۔ لیاقت علی مرحوم نے فرمایا کہ سب کی ملاقاتیں منسوخ ان سب کو پھر کوئی دوسرا وقت دیا جائے گا اور اب میں کسی اور سے ملاقات نہیں کروں گا۔ قاضی صاحب سے فرمایا کہ آپ جلدی نہ کریں۔ مجھے اطمینان سے یہ قضیہ سمجھائیں آپ جتنا وقت لیں گے دیا جائے
گا۔ قاضی صاحب نے فرمایا: کہ قادیانی امت اور اس کا ایک فرد چوہدری ظفر اللہ خان سب سے پہلے اپنے خلیفہ کا فرمانبردار اور وفادار ہے نہ کہ آپ کا یا مملکت پاکستان کا۔
دو مثالیں
پھر قاضی صاحب نے مثال کے طور پر دو واقعات کا ذکر کیا۔ پہلا علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کا کہ وہ کسی زمانہ میں کشمیر کمیٹی کے جنرل سیکرٹری اور خلیفہ قادیان مرزا محمود اس کمیٹی کے صدر تھے۔ بعد میں علامہ اقبال نے اس کمیٹی سے یہ کہہ کر استعفیٰ دیا کہ مجھے یقین ہو گیا ہے کہ ہر قادیانی اولین طور پر اپنے خلیفہ کا وفادار ہے۔ اور دوسرے کسی شخص یا مقصد کا وفادار نہیں ہو سکتا، دوسری مثال قاضی صاحب نے یہ دی کہ کچھ عرصہ پہلے فلسطین کا مسئلہ یو این او میں پیش ہو رہا تھا اب ظاہر ہے کہ پاکستان کی قیادت نے عربوں کی ہمیشہ حمایت کی ہے۔ یہاں تک کہ اسرائیل کے وجود نا مسعود کو تسلیم ہی نہیں کیا ہے۔ پاکستان کی اسی پالیسی کی وجہ سے چوہدری ظفر اللہ خان کو جو یو این او میں پاکستان کے نمائندہ تھے عربوں کی ڈٹ کر حمایت کرنا تھی لیکن چوہدری ظفر اللہ خان نے بلیک میلنگ کی اور عربوں کو کہا کہ میں آپ کی تب مدد کر سکتا ہوں جب میرا خلیفہ ربوہ مرزا محمود مجھے آپ کی مدد کرنے کا حکم دے ان بے چاروں ضرورت کے ماروں نے خلیفہ ربوہ سے بذریعہ تار امداد کی درخواست کی۔ خلیفہ ربوہ نے یو این او میں عرب ڈیلیگیشن کو بذریعہ تار اطلاع دی کہ میں نے آپ کی درخواست کے مطابق چوہدری ظفر اللہ خان کو ہدایت کر دی ہے۔ کہ وہ تمہاری مدد کرے اس تار پر عرب ڈیلیگیشن نے ربوہ کے خلیفہ صاحب کو شکریہ کا تار بھیجا خدا کی قدرت یہ دونوں تار ربوہ کے دفتروں سے کسی نہ کسی طرح اڑ کر ہمارے ہاتھ لگ گئے ہیں۔ اور ان تاروں سے پتہ چلا ہے کہ چوہدری ظفر اللہ خان تنخواہ پاکستان کے خزانہ سے حاصل کرتا ہے۔ نوکر آپ کا ہے لیکن وفاداری بشرط استواری خلیفہ ربوہ سے ہے اور کام اپنی جماعت کا کر رہا ہے۔ اسے کیا حق پہنچتا تھا کہ وہ آپ کی بجائے خلیفہ ربوہ کا تعارف عربوں سے کراتا۔ لیاقت علی خاں مرحوم نے دونوں تاروں کو دیکھا اور درخواست کی کہ آپ یہ دونوں تار مجھے دے سکتے ہیں۔ قاضی صاحب نے دونوں تار دے دیئے۔
چنانچہ لیاقت علی خاں مرحوم کی شہادت کے بعد چندریگر صاحب نے قاضی
احسان احمد صاحب کو پشاور گورنمنٹ ہاؤس میں کہا کہ جو باتیں چوہدری ظفر اللہ خان کے متعلق آپ اور خاں صاحب مرحوم کے درمیان ہوئی تھیں وہ خاں صاحب نے من وعن مجھے بتا دی تھیں اس تفصیل سے یہ بتانا مقصود ہے کہ جب لیاقت علی خان کو حقیقت کا علم ہوا تو انہوں نے چوہدری ظفر اللہ خان کو وزارت سے نکالنے کا فیصلہ کر لیا لیکن وہ چاہتے تھے کہ اس کا تھوڑا سا عوام میں طلسم توڑا جائے تاکہ اسے آسانی کے ساتھ وزارت سے نکال باہر کیا جائے۔
مجھے یاد ہے۔ چنیوٹ کانفرنس کے بعد لاہور میں ایک بہت بڑے جلسہ سے حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری خطاب فرما رہے تھے سر ظفر اللہ خان کا ذکر آیا تو حضرت شاہ صاحب نے یہ مصرعہ پڑھتے ہوئے اس امر کی طرف ایک بلیغ اشارہ فرمایا تھا۔ وہ مصرعہ یہ تھا۔ پہلے میں مشکل میں تھا اب یار تو مشکل میں ہے۔ لیکن خدا کی قدرت کہ لیاقت علی خاں اپنے ارادہ میں کامیاب نہ ہو سکے فرنگی کی حکمت عملی کام کر گئی اور لیاقت علی خاں شہید کر دیئے گئے۔
تاکید و نصیحت
حاجی لیاقت حسین بھاگلپوری کو ایک مفصل خط کے آخر میں لکھتے ہیں: ”تم کو چاہیے کہ اپنے تمام گاؤں کے بھائیوں اور جو لوگ تمہارے زیر اثر ہیں‘ ان کو اس کام میں نظام کے ساتھ متوجہ کرو۔ یہ میری تحریر معمولی نہیں ہے‘ یہ کام تو خدا کا ہے گا اور ضرور ہوگا۔ دیکھئے کہ کون اس خدائی کام کو انجام دیتا ہے اور کون اس سے محروم رہتا ہے“۔
(”سیرت مولانا محمد علی مونگیری“ ص ۳۰۵‘ سید محمد الحسنی)
لاریب وہ جنت کا سزاوار نہیں ہے
خاموش رہے سن کے جو اسلام کی توہین
بے شرم ہے‘ بزدل ہے‘ وہ خوددار نہیں ہے
لیاقت علی خان کا قتل ...... پردہ اٹھتا ہے
شہید ملت خان لیاقت علی خان کے قتل کی تحقیقات کرنے والے تین ممتاز دانشوروں بیرسٹر مبین خان، سردار عبدالمجید اور اصغر حسین ایڈووکیٹس نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ”سر ظفر اللہ خان کو وزیر خارجہ کی حیثیت سے ہٹانے کے ارادے سے باز رکھنے کے لیے قائد ملت کو قتل کیا گیا تھا ان افراد نے آج بیرسٹر مبین خان کی رہائش گاہ پر ہونے والی ایک پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ ملک کے ایک بزرگ صحافی نے شہادت دی ہے کہ لیاقت علی خان راولپنڈی کے جلسہ عام میں سر ظفر اللہ خان کو وزیر خارجہ کی حیثیت سے علیحدہ کرنے کا اعلان کرنے والے تھے مگر انہیں ابتدائی کلمات ادا کرنے کے بعد ہی گولی مار کر شہید کر دیا گیا، انہوں نے اس کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ سر ظفر اللہ خان نے ایک جرمن شہری کو قادیانی بنایا اور راولپنڈی کے ڈی آئی جی پولیس کی بیٹی سے اس کی شادی کرا دی یہ ڈی آئی جی قادیانی تھا اور اسی ڈی آئی جی نے قائد ملت کے قاتل سید اکبر کو گولی مار کر ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا تھا کہ اس گھناؤنی سازش کے تارو پود نہ کھل سکیں۔ بیرسٹر مبین خان نے بتایا کہ خان لیاقت علی خان کے قتل کے سلسلہ میں جسٹس منیر اور اختر حسین کی رپورٹ جلد شائع کر دی جائے گی۔“
(روز نامہ نوائے وقت لاہور ۲۶ / اکتوبر ۱۹۸۵ء)
ہفت روزہ ختم نبوت میں گزشتہ دنوں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی قائدین حضرت مولانا احمد الرحمٰن صاحب اور حضرت مولانا عزیز الرحمٰن صاحب جالندھری کا ایک پریس بیان شائع ہوا تھا جس میں انہوں نے فرمایا تھا کہ
”راولپنڈی کے جس جلسہ عام میں پاکستان کے پہلے وزیر اعظم کو گولی کا
نشانہ بنایا گیا اس جلسہ میں لیاقت علی خان نے ظفر اللہ قادیانی کی وزرات خارجہ سے برطرفی کا اعلان کرنا تھا۔‘‘
قائد ملت لیاقت علی خان کے قتل کی تحقیقات کرنے والے تین ممتاز دانشوروں کے بیان سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی قائدین کے بیان کے تصدیق ہو جاتی ہے۔ عالمی مجلس کے مرکزی قائدین اور تین ممتاز دانشوروں کا یہ انکشاف حیران کن ضرور ہے لیکن جن لوگوں کو اس وقت کے سیاسی حالات کا علم ہے یا جو قادیانی جماعت کی سازشوں، دسیسہ کاریوں اور خطرناک عزائم سے آگاہ ہیں ان کے لیے اس انکشاف میں حیرانی کی کوئی بات نہیں ہے۔ ہمارے خیال میں اس کی حسب ذیل وجوہات ہیں۔
- 1- بانی پاکستان ہوں یا شہید ملت خان لیاقت علی خان، انہیں قادیانی جماعت کے مذہبی
اعتقادات سیاسی نظریات اور خطرناک عزائم کے بارے میں قطعاً معلومات نہ تھیں یہی وجہ تھی کہ انہوں نے ظفر اللہ جیسے کٹر قادیانی کو پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ مقرر کر دیا۔
- - بانی پاکستان قیام پاکستان کے تھوڑا عرصہ بعد ہی رحلت کر گئے اس لیے ان پر ظفر اللہ
قادیانی اور قادیانی جماعت کی حقیقت منکشف نہ ہوسکی البتہ ان کے بعد قائد ملت نے ظفر اللہ اور اس کی قادیانی جماعت کو پہچان لیا تھا۔ کیونکہ ظفر اللہ وزرات خارجہ جیسے اہم منصب پر فائز تھا جس نے وزرات خارجہ کے دفتر کو اپنی جماعت کا دفتر اور پاکستان کے تمام سفارت خانوں کو اپنی جماعت کے تبلیغی اڈے بنا دیا تھا۔ انہی وجوہات کی بناء پر قائد ملت ظفر اللہ قادیانی کو اپنی کابینہ میں کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے۔
- 2- جب ملک میں پہلا الیکشن ہوا تو مسلم لیگ نے تمام سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے
کیے۔ سیالکوٹ جو ظفر اللہ قادیانی کا آبائی ضلع ہے وہاں وہ لیگی امیدواروں کے مقابلے میں قادیانی امیدواروں کو لے آیا قیام پاکستان کے بعد ضلع سیالکوٹ کا پہلا ڈپٹی کمشنر مرزا غلام احمد قادیانی کا پوتا مسٹر ایم ایم احمد تھا اور اس نے ضلع گورداسپور (جو سیالکوٹ کا ملحقہ ضلع اور قادیان کی وجہ سے وہاں قادیانی کافی تعداد میں آباد تھے) سے قاد بہترین زمینیں ایم احمد کی وجہ خان لیاقت علی خرابی کرتے ہوئے مسلم لی
- 3- قائد ملت لیاقت
علی خان کا مکا نیوں کو دکھایا تھا کے حوالے کیا گ اپنی تمام تر توانا علی خان کو بھار
- 4- لیاقت علی خان
مطابق اکھنڈ بھا اگر ہوئی تو عارض ہندوستان) ایک لیاقت علی خان کھڑے ہو گئے سیاسی افراتف لیاقت علی خان کی اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت سپر پاور طاقت تھی۔ خواجہ ناظم کہہ کر مسترد کر دیا کہ امریکہ ہ پروانوں نے جام شہادت نوش اگر یہ تبدیلی عمل می
تھے) سے قادیانیوں کو دریائے راوی پار کرا کے نہ صرف آباد کیا بلکہ سیالکوٹ کی بہترین زمینیں اور مکانات بھی انہیں الاٹ کیے ظفر اللہ قادیانی یہ سمجھتا تھا کہ مسٹر ایم ایم احمد کی وجہ سے قادیانی امیدواروں کی کامیابی یقینی ہے۔ خان لیاقت علی خان کے پیش نظر یہ مسئلہ بھی تھا کہ ظفر اللہ نے مسلم لیگ کی نمک حرامی کرتے ہوئے مسلم لیگی امیدواروں کے مقابلہ میں اپنے امیدوار کھڑے کیے۔
- 3- قائد ملت لیاقت علی خان بانی پاکستان کے بعد ملک کی قد آور شخصیت تھے۔ لیاقت
علی خان کا مکا آج بھی زبان زد خاص و عام ہے جو انہوں نے کشمیر کے لیے بھارتی بنیوں کو دکھایا تھا اور کشمیر ہی وہ خطہ ہے جو ظفر اللہ قادیانی نے تھالی میں رکھ کر بھارت کے حوالے کیا تھا اگر لیاقت علی خان مرحوم زندہ ہوتے تو حصول کشمیر کے لیے یقیناً اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر ڈالتے قادیانیوں اور ظفر اللہ نے عین ممکن ہے لیاقت علی خان کو بھارتی بنیوں کے اشارے پر قتل کرایا ہو۔
- 4- لیاقت علی خان اتحاد پاکستان کی علامت تھے جبکہ قادیانی مرزا محمود کے الہام کے
مطابق اکھنڈ بھارت کے حامی ہیں۔ مرزا محمود کا نظریہ تھا۔ کہ اول تو تقسیم ہو گی نہیں اگر ہوئی تو عارضی ہوگی اور ہم کوشش کریں گے کہ دوبارہ یہ ملک (پاکستان اور ہندوستان) ایک ہو جائیں۔
لیاقت علی خان کی شہادت سے ملک میں انتشار کی راہ ہموار ہوئی۔ بیشمار مسائل کھڑے ہو گئے سیاسی افراتفری نے جنم لیا۔ جس کا نتیجہ مارشل لاء کی صورت میں ظاہر ہوا۔
لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد ۱۹۵۳ء میں ظفر اللہ کو وزارت خارجہ سے ہٹانے اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لیے زبردست تحریک چلی ظفر اللہ کی پشت پر ایک سپر پاور طاقت تھی۔ خواجہ ناظم الدین مرحوم نے ظفر اللہ خان کو وزارت سے ہٹانے کا مطالبہ یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ امریکہ ہماری گندم بند کر دے گا۔ اس تحریک میں شمع ختم نبوت کے دس ہزار پروانوں نے جام شہادت نوش کیا بالآخر ظفر اللہ کو وزارت سے الگ ہونا پڑا۔
اگر یہ تبدیلی عمل میں نہ آتی تو آج پاکستان قادیانی اسٹیٹ ہوتا کیونکہ لیاقت علی خان
کی شہادت کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی افراتفری سے مارشل لاء ملک کا مقدر بن چکا تھا جبکہ فوج میں کم و بیش بیس جنرل قادیانی تھے۔ جن میں سے سترہ جنرلوں کو ۷۴ء کی تحریک ختم نبوت کے دوران اور بعد میں فوج سے ریٹائرڈ یا الگ کیا گیا۔ اگر وہ اپنی پوسٹوں پر بحال رہتے تو آج ملک کے سیاہ و سپید کے مالک ہوتے۔ قصہ مختصر یہ کہ لیاقت علی خان ظفر اللہ قادیانی سے نالاں تھے اور وہ اس کو وزارت سے ہٹانا چاہتے تھے۔ اسی لیے ظفر اللہ قادیانی نے سول اور فوج میں اہم پوسٹوں پر متعین قادیانیوں کی ملی بھگت سے خان لیاقت علی خان کو قتل کرایا۔ اس وقت کی حکومت نے اس قتل کی تحقیقات کے لیے جو کمیٹی مقرر کی تھی اس نے اس قتل کی تحقیقات مکمل کر لی تھیں لیکن وہ فائلیں جس ہوائی جہاز کے ذریعے کراچی بھیجی جا رہی تھیں اس جہاز کو حادثے کا شکار بنا دیا گیا اور یوں وہ تمام فائلیں بھی جہاز کے ساتھ ہی جل کر خاکستر ہوگئیں۔
اب ملک کے تین ممتاز دانشوروں کے بیان کے بعد یہ حقیقت الم نشرح ہو چکی ہے کہ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم کے قتل میں نہ صرف ظفر اللہ قادیانی ملوث تھا بلکہ اہم پوسٹوں پر متعین قادیانی خواہ وہ سول میں تھے یا فوج میں وہ سب کے سب اس قبیح جرم میں برابر کے شریک تھے۔
اس انکشاف کے بعد قادیانی یا احمدیہ نام کی کسی جماعت یا گروہ کا وجود وطن عزیز پاکستان میں قطعاً نا قابل برداشت ہے اور ہم یہ مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہیں کہ قادیانیوں پر لیاقت علی خان کے قتل کا کیس چلایا جائے۔ اور اس ملک دشمن اور اسلام دشمن گروہ کو فوری طور پر خلاف قانون قرار دیا جائے۔
(ہفتہ روزہ ختم نبوت کراچی۔ جلد ۶ شمارہ ۲۴ نومبر ۱۹۸۵ء از قلم : محمد حنیف ندیم)
۞ ۞ ۞
زندگی کا واحد مقصد
اس کے بعد قاضی صاحب نے بتایا کہ ”میرے متعلق تحقیقاتی رپورٹ میں ججوں نے یہ لکھ دیا ہے ۔ اس شخص کی زندگی کا واحد مقصد مرزائیت کی تردید اور ان کی بیخ کنی کرنا ہے۔ چنانچہ میں نے اپنے متعلقین کو کہہ دیا ہے کہ جب میں مروں تو یہ الفاظ کاٹ کر میرے کفن میں رکھ دینا کیا عجب کہ یہی بات میری بخشش کا سبب بن جائے“۔
(”حیات طیبہ“ ص ۶۰۱ از ڈاکٹر محمد حسین انصاری)
وفا کی آرزو لے کر ہمارے گیت گاؤ گے
ظفر اللہ خان قادیانی
تحقیق و تدوین
محمد طاہر عبدالرزاق
- اسے انگریز نے ایک خطرناک سازش کے ذریعے پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ بنوایا۔
- جس نے اسلام کو مرزا قادیانی سے زیادہ نقصان پہنچایا۔
- جو ساری زندگی پوری دنیا میں مرزا قادیانی کو اللہ کا نبی اور رسول متعارف کراتا رہا۔
- اس نے وزیر خارجہ ہونے کی حیثیت سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے بیرونی ممالک میں پاکستان کے سفارت خانوں کو قادیانیت کے تبلیغی اڈوں میں تبدیل کر دیا۔
- اس نے پاکستان کے کلیدی عہدوں پر قادیانیوں کو تعینات کروایا جس سے سرکاری اداروں میں قادیانیوں کو زبردست اثر و رسوخ حاصل ہو گیا۔
- انگریزوں نے اسے اپنا جاسوس بنا کر مسلمانوں کی صفوں میں داخل کیا تھا۔ اسکی اسلام دشمن فطرت دیکھتے ہوئے اسے سر فضل حسین جیسے غدار کے بعد
وائسرائے کی ایگزیکٹیو کونسل کا ممبر بنایا۔
- وہ ڈسکہ ضلع سیالکوٹ کا ایک ناکام وکیل ، بے کار مقرر، ناشائستہ گفتگو کرنے والا، لیکن بلا کا چاپلوس اور عیار تھا۔
- وہ پنجابی لہجے میں انگریزی بولتا تھا۔ جس پر اس کے دوست اسے چھیڑا کرتے تھے کہ تم انگریزی کھیت میں ”پنجابی ہل“ چلاتے ہو۔
- اسے اپنی ازدواجی زندگی میں ایک لمحہ بھی سکون میسر نہ ہوا۔ اس کا گھر ہمیشہ برباد رہا کیونکہ اس نے ہزاروں گھروں کو برباد کیا تھا۔
- اس کی اپنی بیوی سے اس لیے نہ بن سکی کیونکہ وہ قادیانی خلافت کے گھرانوں میں دلچسپیاں رکھتا تھا۔
- وہ یورپ میں کیا کھاتا تھا؟ کیا پیتا تھا؟ کون سی چیزیں دیکھنے کا شوقین تھا؟
- اسکی زندگی بھی مرزا قادیانی جیسی تھی اور اسے موت بھی مرزا قادیانی والی نصیب ہوئی۔
- اس نے قائد اعظم کی نماز جنازہ نہ پڑھی کیونکہ وہ قائد اعظم کو کافر سمجھتا تھا کہ قائد اعظم مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے تھے۔
- اس نے قادیانی مبلغین کی سینکڑوں جماعتیں بیرونی دنیا میں قادیانیت کی تبلیغ کے لیے بھجوائیں اور ”تبلیغ اسلام“ فنڈ کے نام پر کروڑوں روپے حکومت سے دلوائے۔
- اس نے اپنے آقاؤں کی دی ہوئی پالیسی کے مطابق ساری زندگی برادر اسلامی ممالک سے پاکستان کے تعلقات کشیدہ رکھے۔
- اس نے ایک گھناؤنی سازش کے ذریعے ضلع گورداس پور بھارت میں شامل کروا کر وہاں بیٹھے لاکھوں مسلمانوں کو قتل کروایا اور بھارت کو کشمیر پر قبضہ کرنے کا موقع مل گیا
- اس نے سلامتی کونسل کے پلیٹ فارم پر مسئلہ فلسطین کے بارے میں عربوں سے غداری اور اسرائیل سے وفاداری کی۔
- وہ حکومت پاکستان کا وزیر خارجہ ہونے کے باوجود قادیانی جلسوں میں جا کر کفریہ تبلیغی تقریریں کرتا اور اپنے ہاتھوں سے ارتدادی لٹریچر بانٹتا۔
- جب اس کی ارتدادی سرگرمیوں سے تنگ آکر پاکستان کے مسلمانوں نے 1953ء کی تحریک ختم نبوت چلائی جس میں سر ظفر اللہ قادیانی کو وزارت خارجہ سے
ہٹانے کا مطالبہ کیا لیکن اس وقت کے ہلاکو خانوں نے دس ہزار مسلمانوں کو تو شہید کر دیا۔ دو لاکھ عاشقان رسول کو قید تو کر لیا لیکن اس استعماری مہرے کو وزارت خارجہ سے نہ ہٹایا۔
- جب وزیر اعظم لیاقت علی خان کو اس کی غداریوں ، خباثتوں اور پاکستان پر قادیانی قبضہ کرنے کی سازشوں کا علم ہوا تو انہوں نے اسے کابینہ سے نکالنے کا
فیصلہ کر لیا۔ راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ایک عظیم الشان جلسہ میں لیاقت علی خان نے اسے کابینہ سے نکالنے کا اعلان کرنا تھا۔ لیاقت علی خان ابھی سٹیج پر آکر اپنی تقریر کے چند الفاظ بول سکے تھے کہ سر ظفر اللہ قادیانی کے لے پالک جرمن نژاد قادیانی ”کنزے“ نے لیاقت علی خان پر فائرنگ کر کے انہیں شہید کر دیا۔
- اس نے مرزا قادیانی کے پوتے اور منصوبہ بندی کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین مسٹر ایم ایم احمد قادیانی اور چند قادیانی فوجی جرنیلوں کے ساتھ مل کر مشرقی پاکستان
کا سانحہ رونما کرایا۔ سر ظفر اللہ اپنے اس کارسیاہ کو اپنی زندگی کا بہترین ”کارنامہ“ کہتا تھا۔
مطالعہ فرمائیے ......... اور وطن عزیز کو قادیانیوں سے بچائیے
صفحات: 208 قیمت -/100روپے ، مجاہدین ختم نبوت کے لیے خصوصی رعایت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، حضوری باغ روڈ، ملتان