رَدِّ قادیانیت
رسائل
حضرت مولانا ایم۔ ایس خالد وزیرآبادیؒ
احتساب قادیانیت
جلد ٢٢
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوۃ
حضوری باغ روڈ ، ملتان - فون : 4514122
ردّ قادیانیت
رسائل
حضرت مولانا ایم۔ایس خالد وزیرآبادی
احتساب قادیانیت
٢٢
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
بسم اللہ الرحمن الرحیم احتساب قادیانیت جلد ٢٢ مولانا ایم۔ایس خالد وزیر آبادیؒ ٤٦٠ ٢٥٠ فروری ٢٠٠٨ء ناصر زین پریس لاہور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت صدر دفتر حضوری باغ روڈ ملتان
بسم اللہ الرحمن الرحیم
عرض مرتب
لیجئے! احتساب قادیانیت کی جلد ٢٢ بھی پیش خدمت ہے۔ جو وزیر آباد ضلع گوجرانوالہ کے ممتاز عالم دین، مولانا محمد شفیع خالد وزیر آبادی کی کتاب ”صحیفہ تقدیر“ پر مشتمل ہے مولانا محمد شفیع خالد وزیر آبادی اپنا مخفف نام استعمال کرتے تھے (ایم۔ایس خالد وزیر آبادی) ہم نے بھی ٹائٹل پر اس کو اختیار کیا ہے۔ یہ کتاب ١٩٣٥ء کے لگ بھگ شائع ہوئی بہتر سال بعد اس کی دوبارہ اشاعت پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اللہ رب العزت کے حضور سجدہ شکر بجا لاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ مجلس کی ان خدمات کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت سے سرفراز فرمائیں آمین! بحرمۃ النبی الکریم۔
فقیر اللہ وسایا ٤ صفر ١٤٢٨ھ ١٢ فروری ٢٠٠٨ء
آہ! سید نفیسؔ
آئے گا سکوں کیسے؟ کیسی ہے شکیبائی
اے شاہِ نفیسؔ آ جا، خوابوں میں، خیالوں میں
دنیا مری ویراں ہے، کٹتی نہیں تنہائی
انوار کی بارش ہو، وہی رونقِ محفل ہو
لاہور کی بستی ہے اور تیرے تمنائی!
سید تری مسند میں، اللہ کی باتیں تھیں
گُل پاشِ محفل تھی سید تری گویائی!
تیرا لقب حُسینی ہے، للہ یہ تری نسبت
آقا ہے نفیسؔ اپنا، روضے سے صدا آئی
ہیں ختمِ نبوت پر خدمات تری شاہا!
دشمن کے مقدر میں، لکھی گئی رُسوائی
خُوشبُو ترے لفظوں کی پھیلی ہے زمانے میں
ہر سمت ترے جلوے، ہر سُو تری زیبائی
تری کلک نے دُنیا میں، موتی ہی بکھیرے ہیں
حرفوں سے ہویدا ہے ترے حُسن کی رعنائی
انگشت بدنداں سب ترے نقشِ مُرقع سے
اس فن سے خطاطوں کو دی تُو نے شناسائی
محتاجِ رشیدیؔ ہے، وارفتہ دعاؤں کا!
دُنیا میں ملے عزت، عُقبیٰ میں پذیرائی
عنایت اللہ رشیدیؔ
انا خاتم النبیین ﷺ لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
صحیفۂ تقدیر
ایس۔ ایم خالد وزیرآبادی
نذر عقیدت
صد شکر کہ آمدم بمیان دو رحیم
خادم ملت نہایت ادب و احترام سے بڑے عجز و انکسار کے ساتھ جمیع فرزندان توحید کی طرف سے عموماً اور جناب شیخ الاسلام حضرت گرامی قدر مولانا شبیر احمد عثمانی مدظلہ العالی ڈابھیل کی طرف سے خصوصاً یہ ناچیز ہدیہ موسومہ بہ صحیفہ تقدیر جناب سید الکونین، فخر موجودات، آقائے، دو عالمیان، سید ولد آدم، سرکار مدینہ آقائے بحر و بر، جناب محمد مصطفےٰﷺ خاتم النبیین، کافۃ للناس، رؤف الرحیم و رحمۃ اللعالمین کی خدمت بابرکت میں خلوص نیت و حضور قلب کے ساتھ بطور تحفہ پیش کرتا ہے۔
خاکسار! ایم۔ایس۔خالد مصنف: نوشتۂ غیب، نوبت مرزا، تصویر مرزا، صحیفہ تقدیر وغیرہ
بسم الله الرحمن الرحيم! الحمد لله وسلام على عباده الذين اصطفیٰ!
اما بعد ! اس قادر لایزال کا ہزار ہزار شکر ہے۔ جس نے فقیر کی دیرینہ خواہش کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ میرے جیسے کم علم و بے بساط آدمی کے لئے ایسی دقیق و علمی بحث میں الجھنا اور خوش اسلوبی سے تمت بالخیر کرنا ایک تعجب ہے۔ جسے میں خود نہیں سمجھ سکا۔ میرے دل میں ایک ولولہ و دماغ میں جوش اور ہاتھوں میں حرکت خارق کے طور سے موجزن ہے جو مجھے مجبور کرتی ہے کہ اس بد نظمی کے عالم میں جب کہ تنظیمی مرکز مفقود اور اہل اللہ کا قحط الرجال ہے۔ لکھتا چلا جاؤں اور طباعت کی دشواریوں اور خرچ کی زیر باریوں میں توکلت علی اللہ پر بھروسہ رکھوں۔
فکر ما در کار ما آزار ما
میں نے رد مرزائیت پر مختلف عنوانات سے اس وقت چودہ مسودے لکھے جن میں سے الحمد للہ کہ یہ چوتھے نمبر میں صحیفہ تقدیر آپ کی خدمت میں حاضر ہورہا ہے۔
بزم خالد کا یہ چوتھا سال ہے اور ابھی یہ اس کے بچپن کا زمانہ ہے۔ پھر بھی ہر سال ایک تحفہ قوم کی خدمت میں گرتے پڑتے پیش کر ہی دیا جاتا ہے۔ کاش قوم تھوڑی سی توجہ کرے اور پھر دیکھے کہ دجالیت کے بخیے کس عمدگی سے ادھڑتے ہیں۔
مجھ سے بہت سے احباب شکوہ کرتے ہیں کہ اخبار میں پروپیگنڈا کیوں نہیں کرتے۔ اسلامی پریس سے قوم تک آواز کیوں نہیں پہنچاتے۔ مگر میں ان بھولے بھائیوں کو کیا جواب دوں کہ اسلامی پریس ریویو کرنے سے بخل کرتی ہے اور اللہ غریق رحمت کرے زمیندار والوں کو جو وطن کا لحاظ بھی بھول گئے اور باقی رہا پروپیگنڈا۔
اس کا گھسنا اور لگانا درد سر یہ بھی تو ہے
یہاں کتابت وطباعت وکاغذ کے لئے دام مہیا نہیں ہوتے۔ ایسی صورت میں اخبار والے ہم کو دور سے ہی سلام کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے جو ہم گوشہ تنہائی میں بیٹھ کر دعا ہی پر اکتفا کر لیتے ہیں۔ باقی رہی آواز تو اس کے متعلق اتنا ہی کافی ہے کہ وہ جس کی ہے وہ خود پہنچا کر رہے گا۔
میں نے حتی الامکان کوشش کی ہے کہ الفاظ سادہ اور عام فہم ہوں۔ تاکہ موجودہ زمانے کو نئی روشنی سے تعبیر کرنے والے حضرات پوری طرح سے مستفیض ہوسکیں۔
اس کتاب کے لکھنے سے میرا ہرگز یہ مدعا نہیں کہ کسی کے جذبات کو ٹھیس لگاؤں یا کسی کے عیب وسقم بیان کروں۔ بخدا میرا یہ مطلب ہے کہ دنیا صراط مستقیم پہ گامزن ہوجائے۔
اس ساری کتاب سے میرا ماحصل نبی کریم ﷺ کی ایک پیش گوئی کو منظر عام پر لانا مقصود ہے جو آپ نے عیسیٰ ابن مریم کے لئے قسمیہ بیان فرمائی اور میری تمام جدوجہد اس چیز سے وابستہ ہے کہ سرکار دوعالم ﷺ کے اس فرمان کو یاد دلا دوں جو حضور ﷺ نے کمال شفقت ومہربانی سے امت مرحومہ کو بطور تنبیہ بیان فرمایا تھا۔
یہ حقیقت نفس امری ہے کہ ملت حنیف کی سب سے بڑی مصیبت آئمہ ضال کا وجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضور ﷺ نے اس کے متعلق آج سے ساڑھے تیرہ سو سال قبل ان مفاسد وفتن کو بیان فرماتے ہوئے تاکیداً توجہ دلائی تھی گویا کہ حضور ﷺ کی دور بین نگاہیں ان فتن ومفاسد کو دیکھ رہی تھیں۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے۔
”عن ثوبان قال قال رسول الله ﷺ انما اخاف علیٰ امتی الائمۃ المضلین (ترمذی ج٢ ص٤٧، باب ماجاء فی الائمۃ المضلین) وانہ سیکون فی
امتى كذابون ثلاثون كلهم يزعم انه نبي الله وانا خاتم النبيين لا نبي بعدى (ترمذی ج ٢ ص ٤٥ ، باب ماجاء لا تقوم الساعة حتى يخرج كذابون، ابوداؤد ج ٢ ص ١٢٧، باب ذكر الفتن ودلائلها) ”حضرت ثوبانؓ عرض کرتے ہیں کہ فرمایا نبی کریمﷺ نے مجھے اپنی امت کے حق میں گمراہ کرنے والے اماموں یعنی خانہ ساز نبیوں کی طرف سے بڑا کھٹکا ہے اور میری امت میں ضرور تیس جھوٹے فریبی ایسے پیدا ہوں گے جن میں سے ہر ایک اس بات کا مدعی ہوگا کہ وہ خدا کا نبی ہے۔ حالانکہ میں آخری نبی ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی مبعوث نہ کیا جائے گا۔“
ایسا ہی ایک دوسری حدیث میں آتا ہے کہ: ”عن ابي هريرةؓ قال قال رسول الله ﷺ لا تقوم الساعة حتى يبعث دجالون كذابون قريباً من ثلاثين كلهم يزعم انه رسول الله (مسلم ج٢ ص٣٩٧، باب في قوله ﷺ ان بين يدى الساعة كذابين قريباً من ثلاثين، بخاری ج١ ص٥٠٩، باب علامات النبوة فى الاسلام)“
زمانہ ماضی میں چند ایک سرپھروں کو زکام نبوت ہوتا تھا۔ مگر آج کل کا تو کچھ نہ پوچھو۔ جسے دیکھو نبوت کا ہیضہ ہو رہا ہے اور رسالت کے درد میں مبتلا ہے۔ جہاں جاؤ یہ برساتی نبی مینڈک کی طرح ٹراتے ہوئے موجود پاؤ گے۔ چنانچہ صادق المصدوق نے اسی فتنہ خبیثہ کو مدنظر رکھتے ہوئے کمال عطوفت ومہربانی سے فرمایا۔
راوی حدیث یعنی جناب حذیفہؓ بیان کرتے ہیں کہ لوگ تو نبی کریمﷺ سے خیر وبرکت کے متعلق استفسار کیا کرتے تھے۔ مگر میں شر وفتن کے متعلق اکثر پوچھا کرتا تھا۔ چنانچہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ ہم دور جاہلیت میں بڑے زیاں کار تھے۔ خدا نے ہمیں شرف اسلام بخشا، یہ تو فرمائیے دین حنیف میں آنے کے بعد تو کوئی شر وفتنہ رونما نہ ہوگا۔ حضورﷺ نے جواب میں ہاں کہی، میں نے عرض کیا اس کے بعد بھلائی بھی ہوگی۔ فرمایا ہاں بھلائی ہوگی مگر کدورت آمیز، میں نے کدورت کی تعریف پوچھی تو رحمت عالمﷺ نے جواب میں ارشاد کیا۔ ایسے ایسے لوگ ظاہر ہوں گے جو میری راہ ہدایت سے منحرف ہوکر اپنا علیحدہ طریقہ اختیار کریں گے۔ جو ان کا پیروکار بنے گا اسے اپنے ساتھ جہنم میں لے جائیں گے میں نے ان کی علامات پوچھیں تو فرمایا کہ وہ ہماری قوم میں ہوں گے۔ ان کا ظاہر تو علم وتقویٰ سے آراستہ ہوگا۔ مگر باطن ایمان وہدایت سے خالی، وہ ہماری ہی زبانوں کے ساتھ کلام کریں گے۔
میں نے عرض کیا ایسے وقت میں ہمارے لئے کیا ارشاد ہے تو فرمایا جب یہ موقعہ آئے تو مسلمانوں کی جماعت میں التزامی طور پر شریک کار رہو اور مسلمانوں کے امام اور خلیفہ کی خلاف ورزی نہ کرنا۔ میں نے عرض کی اگر اس وقت مسلمان متفرق ہوں اور کوئی امام نہ ہو تو فرمایا ایسی حالت میں گمراہ فرقوں سے الگ رہو۔ اگر تمہیں یہاں تک مصیبت آئے کہ درختوں کے پتے اور جڑیں چبا کر بسر اوقات ہو۔
(بخاری ج٢ ص ١٠٣٩، باب کیف الامر اذا لم تکن جماعۃ، مسلم)
ایسا ہی ایک دوسرے مقام پر ارشاد ہوا۔
ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ فرمایا نبی کریمﷺ نے کہ آخری زمانہ میں دجال و کذاب ظاہر ہونگے۔ وہ تمہارے سامنے ایسی ایسی باتیں پیش کریں گے جو نہ صرف تم نے بلکہ تمہارے آبا واجداد نے بھی نہ سنی ہوں گی۔ خبردار ان سے بچنا اور اپنے ایمان کی حفاظت کرنا۔ ایسا نہ ہو وہ تمہیں گمراہ کر کے فتنوں میں دھکیل دے۔
(مسلم ج١ ص١٠، باب النھی عن الروایۃ عن الضعفاء)
یہ بتانے کی چنداں ضرورت نہیں کہ یہ پیش گوئی آج کل کے سرکاری برساتی نبیوں کے متعلق ہے۔ جس میں مرزائیت کے افعال و اشغال پر پوری پوری روشنی ڈالی ہوئی ہے۔
جناب ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ برسبیل تذکرہ میں نے ابن صیاد کو مذاقاً پوچھا تیرا ستیاناس ہو کیا تو دجال ہونا پسند کرتا ہے تو وہ جواباً کہنے لگا اگر وہ تمام قدرت جو دجال کو دی جائے گی مجھے دے دی جائے تو میں دجال بننے کو تیار ہوں۔
(مسلم ج٢ ص٣٩٧، باب ذکر ابن صیاد)
جساسہ حدیث
فاطمہ بنت قیسؓ عرض کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں مسجد نبوی گئی اور نبی کریمﷺ کی اقتداء میں نماز پڑھی بعد از فراغت نماز آنحضور فخر دو عالم منبر پر رونق افروز ہوئے اور حسب عادت تبسم فرمایا اور حکم دیا کہ تمام بیٹھ جائیں۔ اس کے بعد فرمایا تم جانتے ہو آج کے اجتماع کی کیا وجہ ہے۔ صحابہؓ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول خوب جانتا ہے۔ حضورؐ نے فرمایا میں نے کسی ترغیب یا ترہیب کے لئے تمہیں نہیں بٹھایا۔ بلکہ امر واقعہ یہ ہے کہ تمیم داریؓ ایک عیسائی تھے جو آغوش اسلام میں آئے۔ وہ دجال کے متعلق تمہارے سامنے ایک واقعہ بیان کرتے ہیں جو ان تعلیمات ربانی سے مطابقت رکھتا ہے۔ جیسا کہ میں اکثر دجال کے متعلق تمہارے سامنے بیان کرتا رہا ہوں۔ اس کے بعد فرمایا کہ تمیم داری کا بیان ہے کہ میں نے جہاز میں سوار ہو کر سمندر کا سفر اختیار کیا۔ قبیلہ لخم اور جذام کے تیس افراد میرے رفیق سفر تھے۔ سمندر میں ایسی طغیانی ہوئی
کہ ہمارا جہاز بری طرح ہچکولوں کی گود میں کھیلنے لگا۔ بالآخر بہ خرابی بسیار ایک ماہ بعد خشکی کا کنارہ دیکھنا نصیب ہوا۔ یہ ایک جزیرہ تھا۔ چنانچہ ہم وہاں اترے۔ اثنائے راہ میں ایک ایسی عورت ملی جس کے لمبے لمبے بال تھے۔ ہم نے پوچھا تم کون ہو اس نے جواب میں کہا۔ میں جساسہ یعنی مخبر ہوں جو دجال کو خبریں پہنچاتی ہوں تم سامنے والے دیر میں دجال کو دیکھو گے۔ ہم ادھر ہی ہو لئے۔ وہاں پہنچے تو کڑیل جوان دیکھا اس سے پیشتر ایسا قوی ہیکل اور اس قد و قامت کا آدمی ہماری نظر سے نہ گزرا تھا۔ یہ شخص زنجیروں میں جکڑا تھا۔ اس کے ہاتھ گھٹنوں اور ٹخنوں کے بیچ میں سے نکال کر گردن سے بندھے تھے۔ ہم اس پیل تن کو دیکھ کر محو حیرت ہوئے اور پوچھا تو کون ہے۔ وہ بولا چونکہ تم نے مجھے دیکھ لیا اس لئے میرا مخفی رکھنا ٹھیک نہیں سو بتانے سے قبل تم کہو یہاں کیسے آئے اور کون ہو۔
ہم نے وہ تمام واقعہ بیان کیا جو یہاں آنے کا باعث ہوا تھا تو دجال بولا بتاؤ نخل بیسان ہنوز بار آور ہوا یا نہیں۔
ہم: ہاں اس میں برابر پھل آ رہا ہے۔
دجال: وہ وقت آنے والا ہے جب یہ کھجوروں کے درخت بے ثمر ہو جائیں گے۔ اس کے بعد پوچھا طبریہ میں پانی موجود ہے یا خشک ہو چکا۔
ہم: ہاں کافی پانی ہے۔
اس کے جواب میں کہا وہ وقت دور نہیں جب یہ پانی خشک ہو جائے گا۔ اس کے بعد پوچھا کیا چشمہ زغر میں پانی آ رہا ہے اور لوگ اپنی زمینوں کو سیراب کر رہے ہیں۔ ہم نے کہا ہاں۔ اس نے کہا کہ عنقریب یہ خشک ہو گا۔
دجال: بتاؤ امیوں کے نبی نے ظاہر ہو کر کیا کچھ کیا۔
ہم: وہ قوم پر غالب آئے اور لوگوں نے ان کی اطاعت کر لی۔
دجال: ہاں ان کے لئے اطاعت و سرفگندی ہی بہتر تھی۔
اس کے بعد کہنے لگا میں مسیح الدجال ہوں۔ مجھے عنقریب یہاں سے نکلنے کی اجازت ملے گی۔ میں روئے زمین کا دورہ کروں گا اور دنیا کی کوئی آبادی ایسی نہ ہو گی جہاں میں چالیس دن کے اندر نہ پہنچ جاؤں باستثناء مکہ اور طیبہ کے کیونکہ ان دو شہروں کے داخلے کی مجھے اجازت نہیں اور اگر میں ان میں داخل ہونے کی کوشش بھی کروں تو فرشتے میری مزاحمت کریں گے۔
اس واقعہ کے بیان کرنے کے بعد حضور ﷺ نے منبر پر تین مرتبہ عصاء کو زمین پر مار کر
فرمایا یہی طیبہ ہے، یہی طیبہ ہے، یہی
ناظرین ! ان ارشادات کریں۔ انشاء اللہ ! اس میں بہت کچھ چلنے اور عمل کرنے کی توفیق بخشے۔ آمین
رباعیات
ہو جا
اے
سوچا ۔
احساس
کر نفس
یہ ذوق
خوابیدہ
ناظر :
سن کر
دنیا اپنی بے ثباتی پر ہو انسانوں کے بل نکال کر رکھ دیئے و فرعون ہو کر خدا کہلائے اور عاجز مشق بنے۔ آہ! ان کے نوزائیدہ
فرمایا یہی طیبہ ہے، یہی طیبہ ہے، یہی طیبہ ہے۔ (مسلم ج ٢ ص ٤٠٤، ٤٠٥، باب ذکر الدجال، ابوداؤد) ناظرین! ان ارشادات گرامیہ کو ذہن نشین رکھتے ہوئے صحیفہ تقدیر کو شوق سے مطالعہ کریں۔ انشاء اللہ ! اس میں بہت سی مفید مطلب باتیں آپ کو ملیں گی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس پر چلنے اور عمل کرنے کی توفیق بخشے۔ آمین!
رباعیات
ہو جائے گا معدوم خیال ہستی
اے ہستی فانی پہ اکڑنے والو
سوچا ہے کبھی تم نے مآل ہستی
احساسِ خدا دل سے مٹا دیتی ہے
کر نفس کی خاطر نہ مسرت کا خیال
یہ ذوقِ سیہ کاری بڑھا دیتی ہے
خوابیدہ خیالات جگاتا ہوں میں
ناظر نہ میری ہستی ناچیز کو دیکھ
سن اس کو جو پیغام سناتا ہوں میں
بسم الله الرحمن الرحيم!
تمہید
دنیا اپنی بے ثباتی پر ہمیشہ روتی اور روتی رہے گی۔ حوادث زمانہ نے سینکڑوں جابر ومتکبر انسانوں کے بل نکال کر رکھ دیئے۔ بھتیرے سرپھرے اس نیلی چھت کے نیچے شداد، نمرود، ہامان وفرعون ہو کر خدا کہلائے اور عاجز و بے کس بندے ان کے جور و ستم ، ظلم و بربریت کا شکار ہو کر تختہ مشق بنے۔ آہ! ان کے نوزائیدہ معصوم و بے گناہ بچوں کو صرف اس جرم کے بدلے کہ وہ سبطی قوم
میں کیوں پیدا ہوئے۔ بے دریغ قتل عام کیا جاتا۔ اس وحشیانہ طریق کار کا شکار ایک دو نہیں دس بیس نہیں نوے ہزار سے زائد خدا کی وہ ننھی ننھی مخلوق، ماں کی گودوں اور زچہ کی چھاتیوں سے جبراً وقہراً چھین چھین کر جدا کی جاتی اور ندیدی شمشیروں کی پیاس بجھاتی۔ مامتا کی ماری ماں جب آغوش شفقت کو خالی پاتی تو جگر میں ایک بے پناہ درد اٹھتا اور دل خون ہو کر رہ جاتا۔ وہ گھنٹوں تصویر درد ساکت وصامت کلیجہ تھام کر بیٹھی آہیں سرد بھرتی اور دکھڑا روتی رہتی۔ اس جگر دوزی وجان سوزی کے باعث عرش عظیم تھرا اٹھا اور رحمت کردگار جوش میں آئی۔ ملائکۃ اللہ نے فلسفۂ عالم کا حیرت سے مطالعہ کیا۔ تو کم مائیگی فرعون کی بے بضاعتی پر خندہ زن ہوئی اور نامرادی کھل کھلا کر ہنسی۔ رحمانیت موسیٰ علیہ السلام کے لباس میں تشریف فرما ہو کر بنی اسرائیل کی نجات کا باعث بنی۔ اتمام حجت کے لئے بیسوں آیات اللہ معرض ظہور میں آئیں۔ مگر فرعونیت انہیں کب خاطر میں لانے والی تھی نہ ماننا تھا نہ مانا۔ بلکہ ٹھٹھا اور استہزاء کرتے ہوئے نہایت حقارت سے ٹھکراتے ہوئے کہہ دیا گیا۔ ”قال ان رسولکم الذی ارسل الیکم لمجنون (الشعراء:٢٧)“
حجۃ اللہ پوری ہو چکی تو فرمان ایزدی ہوا۔ اے موسیٰ! میرے بندوں کو راتوں رات نیل سے پار لے جا۔ ارشاد باری کی تعمیل ہوئی تو سمندر سد راہ ہوا اور عقب میں فرعونی ٹڈی دل لشکر ساز و سامان سے لیس بڑے کر و فر سے بھوکے شیر کی طرح شکار کے تعاقب میں آ رہا تھا۔ جونہی یہ لشکر قریب ہوا اسرائیلیوں کے ہوش گم اور اوسان خطا ہوئے اور وہ بے ساختہ پکار اٹھے ”انا لمدرکون (الشعراء:٦١)“ موسیٰ علیہ السلام نے تسلی تشفی دیتے ہوئے فرمایا ”قال کلا ان معی ربی سیهدین (الشعراء:٦٢)“ مگر چونکہ تمام ظاہری اسباب مفقود تھے۔ اس لئے جان جوکھوں میں پڑ رہی تھی۔ مگر وہ کوہ وقار و پیکر عزم وحی الٰہی پر کامل ایمان رکھتا تھا۔ لیکن نہ جانتا تھا کہ نجات کس طریق سے ہوگی۔ چونکہ راسخ الایمان تھا اس لئے اسے حق الیقین تھا کہ پروردگار عالم ضرور کوئی سبیل نکالے گا۔ جونہی یہ طاغوتی سیل قریب آیا۔ ارشاد ہوا اے کلیم اپنا اعجازی عصا نیل میں ڈال دے۔ اللہ اللہ وہ لہریں اور موجیں مارتا ہوا سمندر جس میں جہاز رانی کرنے سے ملاح بھی عاجز و خائف ہوتے ہیں کس طرح تعمیل ربانی کرتا ہوا بارہ صاف و شفاف سڑکوں میں بٹ جاتا ہے۔ اب نقشہ یوں سمجھئے کہ گویا پہاڑوں میں سڑکیں بچھی ہیں، پانی کی دیواریں اور چھت ہیں جو حرکت میں ہیں اور بنی اسرائیل جو بارہ قبائل میں منقسم ہیں ان میں بلا خوف و خطر نہایت اطمینان وانبساط سے ایک دوسرے قبیلے کے جھروکوں سے دیکھتے اور باتیں کرتے ہوئے نہایت آرام سے گزر رہے ہیں۔ جیسا کہ قرآن شاہد ہے۔ ”فاوحینا الی موسى ان
بے دریغ قتل عام کیا جاتا۔ اس وحشیانہ طریق کار کا شکار ایک دو نہیں دس ہزاروں وہ ننھی ننھی مخلوق، ماں کی گودوں اور زچہ کی چھاتیوں سے جبراً چھینی جاتی اور ندیدی شمشیروں کی پیاس بجھاتی ۔ مامتا کی ماری ماں جب دیکھتی کہ جگر میں ایک بے پناہ درد اٹھتا اور دل خون ہو کر رہ جاتا۔ وہ گھنٹوں تڑپتی، فریاد و فغاں، چیخ و پکار میں آہیں سرد بھرتی اور دکھڑا روتی رہتی ۔ اس جگر دوزی کو دیکھ کر عظیم قہر اٹھا اور رحمت کردگار جوش میں آئی ۔ ملائکۃ اللہ نے فلسفہ استخلاف کو نیم بسمل فرعون کی بے بضاعتی پہ خندہ زن ہوئی اور نامرادی کھل کھلا کر موسیٰ علیہ السلام کے لباس میں تشریف فرما ہو کر بنی اسرائیل کی نجات کا باعث بنی۔ فرعونیوں پر آیات اللہ معرض ظہور میں آئیں۔ مگر فرعونیت انہیں کب خاطر میں لانے والی تھی۔ بلکہ ٹھٹھا اور استہزاء کرتے ہوئے نہایت حقارت سے ٹھکراتے ہوئے کہا، ”ان رسول لکم الذی ارسل الیکم لمجنون (الشعراء:٢٧)“
پھر موسیٰ پر تجلی و قہرمان ایزدی ہوا۔ اے موسیٰ ! میرے بندوں کو راتوں رات نیل کے کنارے لے کر نکل حتیٰ کہ تعمیل ہوئی تو سمندر سدراہ ہوا اور عقب میں فرعونی ٹڈی دل بڑھے ہوئے بھوکے درندے بھوکے شیر کی طرح شکار کے تعاقب میں آرہا تھا۔ بے بس اسرائیلیوں کے ہوش گم اور اوسان خطا ہوئے اور وہ بے ساختہ پکار اٹھے ”انا لمدرکون (الشعراء:٦١)“ موسیٰ علیہ السلام نے تسلی تشفی دیتے ہوئے فرمایا ”قال کلا ان معی ربی سیھدین (الشعراء:٦٢)“ مگر چونکہ تمام ظاہری اسباب مفقود تھے۔ اس لئے مگر وہ کوہ وقار و پیکر عزم وحی الٰہی پر کامل ایمان رکھتا تھا۔ لیکن نہ جانتا تھا کہ کیا ہونے والی ہوگی۔ چونکہ راسخ الایمان تھا اس لئے اسے حق الیقین تھا کہ پروردگار ضرور دستگیری کرے گا۔ جونہی یہ طاغوتی سیل قریب آیا۔ ارشاد ہوا اے کلیم اپنا اعجازی عصا سمندر پر مارو۔ چنانچہ اللہ وہ لہریں اور موجیں مارتا ہوا سمندر جس میں جہاز رانی کرنے سے بھی خوف معلوم ہوتے ہیں کس طرح تعمیل ربانی کرتا ہوا بارہ صاف و شفاف سڑکوں میں منقسم ہو گیا۔ وہ یوں سمجھئے کہ گویا پہاڑوں میں سڑکیں چھپیں ہیں، پانی کی دیواریں اور چھتیں بن گئیں۔ موسیٰ اور بنی اسرائیل جو بارہ قبائل میں منقسم ہیں ان میں بلاخوف و خطر بھاگے جا رہے ہیں۔ ایک دوسرے قبیلے کے جھروکوں سے دیکھتے اور باتیں کرتے ہوئے جا رہے ہیں۔ جیسا کہ قرآن شاہد ہے۔ ”فاوحینا الی موسی ان
اضرب بعصاک البحر فانفلق فکان کل فرق کالطود العظیم وازلفنا ثم الآخرین وانجینا موسی ومن معہ اجمعین (الشعراء:٦٤،٦٣)“
جب موسیٰ علیہ السلام خیر وخوبی سے دریا پار ہوتے ہیں تو فرعون معہ لشکر کے کنارِ نیل پر پہنچ کر دریائے حیرت میں غرق عقل وخرد سے مجبور محو تماشہ ہے کہ سمندر اپنی روانی کو بھول رہا ہے۔ بارہ سڑکیں ہیں جن کی آبی دیواروں پر محرابی سقف آویزاں ہیں اور اس پہ پانی ٹھاٹھیں اور موجیں مار کر بہہ رہا ہے۔ اس عجوبہ نمائی نے ورطہ حیرت میں ایسا محو کیا کہ فرعون کی آنکھوں کے سامنے موسیٰ علیہ السلام کے بچپن کا وہ زمانہ جس میں ان کی والدہ ماجدہ نے انہیں فرعون کے ڈر سے دریا میں صندوق میں بند کر کے خدا کے وعدے پر بہا دیا تھا اور جو فرعون کے محل کی بائیں نہر میں دربارِ خاص کے سامنے بہتا ہوا جا رہا تھا اور جس کو فرعون نے پکڑنے اور کھولنے کا حکم دیا اور جب معصوم بچہ انگوٹھا چوستے ہوئے دیکھا تو دفعتاً نجومی کی پیش گوئی کا خیال آیا کہ شاید یہ وہی بچہ ہے جو میری سلطنت کو الٹ کر تاج وتخت کا مالک بن جائے گا۔ یہ خیال ابھی یقین کے مراتب تک نہ پہنچا تھا اور تصور نے ابھی خیالی تصویر کو تمام نہ کیا تھا کہ فرعون بوکھلا اٹھا اور موسیٰ کے قتل کا حکم دیا۔ مگر وہ نیک دل خاتون بی بی آسیہ جو اس وقت کی رانی تھی۔ آڑے آئی اور زندگی کا باعث بنی، تو پرورش کے لئے اچھی اچھی دایا تلاش ہونے لگیں۔ کیونکہ فرعون لاولد تھا اور اسی بچہ کو متبنیٰ قرار دیا گیا۔ مصر بھر کی تمام دایاں آئیں اور دودھ پلانے میں ناکام پلٹیں۔ بچہ ہے کہ کسی کا دودھ ہی نہیں پیتا اور بالآخر اس طریق سے اللہ نے اپنے وعدے کو سچ فرماتے ہوئے ماں کی گود میں پہنچا کر آنکھوں کی ٹھنڈک بنایا۔ اس کے بعد اس کی جوانی اور پاک دامنی کا دل میں مطالعہ کرتا رہا۔ کبھی خیال کرتا کہ وہ راست باز خدا کا رسول ہے۔ کبھی کہتا نہیں نہیں۔ یہ ہرگز نہیں ہو سکتا۔ وہ بہت بڑا جادوگر ہے۔ کبھی موسیٰ کا عصا اژدھا بنا ہوا آنکھوں میں پھر جاتا تو کبھی ہاتھ کی نورانیت چاند کو خجل کرتی معلوم ہوتی۔ غرضیکہ اسی تگ و دو میں وہ گھنٹوں مقید رہا اور برابر کم بختی سر پر سوار رہی۔ جس نے اطیعو اللہ ورسولہ کے نزدیک آنے سے یہ وسوسہ پیدا کرتے ہوئے روکے رکھا کہ تم خدا ہو اور یہ دنیا خود بخود تمہارے لئے ہی پیدا ہوئی ہے۔ اگر موسیٰ کو سچا رسول مانو گے تو دنیا والے تم سے تمسخر کریں گے۔ غرضیکہ انہیں خیالات میں ایسا الجھا کہ گھوڑے کی لگام تھامنا یا نیک وبد میں تمیز کرنا مشکل ہو گیا۔ انہیں توہمات کے ہیجان میں گھوڑے کو ایڑ لگائی۔ مصاحبوں نے تقلید کی اور فوجوں نے پیروی کی۔ چند منٹوں میں یہ تمام اعدا اللہ دریائے نیل کی انہیں محرابی سڑکوں میں تھے۔ ادھر موسیٰ علیہ السلام بھی حکم کے منتظر عصا لئے کھڑے تھے کہ وحی الٰہی ہوئی۔ ”فاضرب بعصاک
البحر‘‘ پس جونہی ارشاد ربانی کی تعمیل ہوئی۔ پانی کے وہ بے پناہ پہاڑ جو سروں پر حکم الٰہی سے چل رہے تھے۔ سطح پر ٹوٹ پڑے اور تمام فرعونیوں کو غرق کر دیا۔ اس کے بعد بنی اسرائیل پر انعامات کی بارش وقتاً فوقتاً ہوتی رہی اور سچ تو یہ ہے کہ جس قدر اس قوم کو نوازا گیا اس کی مثال قرون ماضی میں ڈھونڈے سے نہیں ملتی۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے ’’فاخرجناهم من جنات وعيون وكنوز ومقام كريم كذالك واورثنها بنى اسرائيل (شعراء:٥٧ تا ٥٩)‘‘ ہم نے فرعونیوں کو ان کے باغات، چشموں اور خزانوں اور اچھے اچھے مقاموں سے خارج کر دیا اور ان کی تمام جگہوں پر بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ مگر افسوس یہ قوم انتہائی پستی سے نکل کر بلندی کے مراتب تک تو پہنچی۔ مگر عادات و اطوار نہ سلجھے وہ لاعلمی و کم فہمی سے طرح طرح کے جہالت کے سوال موسیٰ علیہ السلام پر کرتے اور خوارق کے عجائبات کا تقاضہ کرتے مثلاً وہ کہتے کہ اے موسیٰ ہم پر آسمان سے پکا پکایا کھانا اتار، چنانچہ قرآن شاہد ہے کہ ان کی یہ آرزو بھی پوری ہوئی۔ ’’وانزلنا اليكم المن والسلوى (بقره:٥٧)‘‘ اور طرفہ یہ کہ ایسے کھلے کھلے نشانات دیکھنے کے بعد پھر وہ صراط مستقیم سے بھٹک جاتے۔ گویا غیرت الٰہی کو چیلنج کرتے۔ پھر کوئی تنبیہ آتی۔ جس سے وہ اپنی عافیت تنگ دیکھتے تو کہتے۔ اے جادوگر اپنے خدا سے دعا کر کہ یہ عذاب ہم سے ٹل جائے تا کہ ہم تم پر ایمان لاویں اور جب خدا کا رسول دعا کرتا اور وہ عذاب ٹل جاتا تو پھر وہ کفر کرتے۔ غرضیکہ یہ مد و جزر یونہی چلتا رہا۔ آپ تورات لینے گئے۔ قوم سامری کے دام میں آ کر گوسالہ پرست ہوگئی۔ حضرت ہارون نے بہتری کی کوشش کی مگر ناکام رہے۔ اللہ تعالیٰ نے فتح کا وعدہ دیا قوم نے ساتھ دینے سے انکار کیا اور کہا ’’قالوا يموسى انا لن ندخلها ابدا ماداموا فيها فاذهب انت وربك فقاتلا انا ههنا قاعدون (مائده:٢٤)‘‘ سچ ہے جس کو اللہ ہدایت دے۔ وہی سیدھا راستہ پاسکتا ہے۔ ’’ومن يهد الله فهو المهتد (بنى اسرائيل:٩٧)‘‘ قرون ماضی میں حضرت نوح علیہ السلام کی وہ لمبی زندگی یعنی ساڑھے نو سو برس اور اس میں ان کی وہ ان تھک تبلیغی دوڑ دھوپ جو برابر ساڑھے نو سو برس تک رہی کا مطالعہ کرو اور پھر نتیجہ میں فرقان حمید کو دیکھو ’’وما امن معه الا قليل (هود:٤٠)‘‘ اور پھر ان دعائیہ کلمات پر غور کرو۔ ’’رب لا تذر على الارض من الكافرين ديار انك ان تذرهم يضلوا عبادك ولا يلدو الا فاجراً كفاراً (نوح:٢٦،٢٧)‘‘ اس کے بعد دعا کی قبولیت کو دیکھو اور خدائے جبار کا انتقام ملاحظہ کرو کہ آپ کا بیٹا کنعان احکام سرمدی سے سرکشی کرتا ہے۔ نوح علیہ السلام
سمجھاتے ہیں وہ فرمانِ رسالت کی تکذیب کرتا ہوا موجوں کی نذر ہوتا ہے۔ نوح علیہ السلام خدا سے التجا کرتے ہیں کہ مولا یہ میرا لڑکا میرے اہل میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے۔ کیونکہ تو احکم الحاکمین ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ ”قال يا نوح انه ليس من اهلك (هود:٤٦)“ یعنی اے نوح یہ تیرے اہل سے نہیں کیونکہ یہ بدعمل واقع ہوا ہے اور مت سوال کر اس چیز کا کہ جس کا نہیں دیا گیا ہے تجھ کو علم، ایسا نہ ہو کہ تو جاہلین سے ہو جائے۔ غرضیکہ موسیٰ علیہ السلام کے چوداں سو برس بعد جب یہ قوم انتہائی طور سے بگڑ چکی اور بعض کی شکلیں تک مسخ ہو چکیں ۔ مگر کفر وعصیاں کا دامن رختِ حیات کا ساتھی رہا۔ انہوں نے حقیقت الٰہی کو اتفاقی معاملہ سے زیادہ کبھی وقعت نہ دی۔ ان کے عزائم و حوصلے ان کے ولولے اور جوش کفر کے گہوارے میں نشو و نما پاتے اور وہ حرص و ہوا کے بندے نفسیات کی پیروی کرتے۔ ان کے رہبان واحبار ان کے علماء و فضلا کاہن کے لقب کو اختیار کرتے اور توریت مقدس کی تحریف کو خدمتِ خلق سمجھتے۔ انہوں نے غرباء اور امراء کے الگ الگ شرعی قانون مقرر کر رکھے تھے۔ مثلاً اگر کوئی امیر زنا کرتا اس کا منہ کالا کرنے پر ہی اکتفا کرتے اور اگر غریب مرتکب ہوتا تو اس کو سنگ سار کر دیتے۔ ان کے اقوال افعال کے تابع نہ ہوتے۔ بلکہ وہ جو کچھ کرنے کا حکم دیتے اس پر بھولے سے بھی خود عمل نہ کرتے۔ یہی وجہ ہے جو مقدس توریت کی تحریف کے بعد زبور پاک کو نازل کرنے کا باعث ہوئی اور ایسا ہی جب زبور مقدس پر یہ نوبت پہنچی تو انجیل شریف نے اس کا ازالہ کیا اور ہماری یہ تمہید صرف اسی زمانہ کے واقعات پر روشنی ڈالنا مقصود ہے کہ کس طرح تاریکی کے فرزندوں اور قسمت کے بیٹوں نے مسیح علیہ السلام کے ساتھ برتاؤ کیا۔ چنانچہ آئندہ صفحات میں ہم آپ کی سوانح حیات پر مختصر روشنی ڈالنے کی کوشش کرتے ہوئے اصل بحث یعنی حیات مسیح پر دلائل قاطعہ و براہین ساطعہ پیش کریں گے اور انشاء اللہ یہ مضمون اپنی نوعیت میں نرالا اور دلچسپ ہوگا۔ ناظرین سے استدعا ہے کہ وہ یکسوئی سے بغور مطالعہ فرمائیں۔ چنانچہ بھائی حفیظ نے کیا خوب یہودیت کی تصویر کا خاکہ کھینچا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:
از خامۂ اثر جناب ابوالاثر حفیظ جالندھریؒ
ان ہی میں حضرت یوسف نے مرسل کا لقب پایا خدا نے ان کو اہل مصر پر مبعوث فرمایا
یہی بھائی تھے جن کے دل میں تھی بھائی کی بدخواہی یہی نادم تھے جب یوسف نے پائی مصر کی شاہی
مگر اس قوم پر بھی شرک نے جب دام پھیلایا تو انبوہ کثیر اس قوم کا حق سے پلٹ آیا
یہی لوگ اپنے لوگوں کو خدا کی قوم کہتے تھے یہی محبوب تھے لیکن یہی معتوب رہتے تھے
ہوئے اس قوم میں اکثر جلیل الشان پیغمبر چلانا چاہتے تھے جو اسے حق وصداقت پر
یہودی راہ پر آ کر بھی رستہ بھول جاتے تھے وہ اپنے راہنما کو ایک دیوانہ بتاتے تھے
کیا تھا مصر میں فرعون نے دعویٰ خدائی کا یہودی خوب دم بھرتے تھے اس سے آشنائی کا
عتاب آخر کیا شہنشاہوں کے شاہ نے ان پر مسلط کر دیا فرعون کو اللہ نے ان پر
کہ یہ بھی اک طریقہ تھا انہیں رستے پہ لانے کا انہیں ٹھوکر لگا کر خواب غفلت سے جگانے کا
بہت پستی دکھائی آخر اس رفتار نے ان کو لگائیں ٹھوکریں فرعون کی بے داد نے ان کو
مگر فرعون کے ظلم و ستم جب بڑھ گئے حد سے لگے عبرت پکڑنے لوگ ان کی حالت بد سے
خدائے پاک نے موسیٰ کو ان میں کر دیا پیدا جو بچپن ہی سے آزادی پے تھے شیدا
ظہور نور حق موسیٰ کو سینا پر نظر آیا خدا نے جانب فرعون انہیں مبعوث فرمایا
ید بیضا کے ساتھ اس خطہ ظلمت میں در آئے یہودی قوم کو آزاد کر کے مصر سے لائے
جگایا قوم کی تقدیر کو آواز موسیٰ نے کیا فرعون کو غرقاب نیل اعجاز موسیٰ نے
عصائے موسوی نے پتھروں کو موم کر ڈالا بیابانوں کو ان کے واسطے شاداب کر ڈالا
یہی وہ قوم ہے جس کے لئے کھانوں کے مینہ برسے کہ اترے من و سلویٰ ان کی خاطر آسماں پر سے
مگر جب آزمائش آ پڑی یہ قوم گھبرائی ہوئی باطل سے خائف اور راہ حق سے کترائی
کہا موسیٰ نے اٹھ اے قوم باطل کے مقابل ہو تیری عزت بڑھے جگ میں تیرا ایمان کامل ہو
تو بولی قوم اے موسیٰ ہمیں آرام کرنے دے خدا کی نعمتیں ملتی ہیں ان سے پیٹ بھرنے دے
خدا کو ساتھ لے جا اور باطل سے لڑائی کر ہمارے واسطے خود جا کے قسمت آزمائی کر
ہمیں کیوں ساتھ لے جاتا ہے بلا سے بھڑنے کو خدا اور اس کا پیغمبر بہت کافی ہیں لڑنے کو
ڈرایا بارہا موسیٰ نے ان کو قہر باری سے مگر اس قوم کو مطلب رہا مطلب برآری سے
یہ جب رفعت پر آئی راہ سوجھی اس کو پستی کی کہ چھوڑی حق پرستی اور گوسالہ پرستی کی
رکھی دنیا میں راہ و رسم حرص خام سے اس نے دکھائی سرکشی تورات کے احکام سے اس نے
دلائی حضرت داؤد نے اس قوم کو شاہی مگر اس نے نہ چھوڑی کج نگاہی اور گمراہی
زبور اس قوم کو بخشی گئی لیکن نہ یہ مانی یہ اپنی حمد کرتی تھی بجائے حمد ربانی
مگر یہ قوم اک راہ پر آ کر پلٹتی تھی ندینداری میں بڑھتی تھی نہ بے دینی سے ہٹتی تھی
اسے ایوبؑ زکریاؑ و یحییٰؑ نے بھی سمجھایا چلن اس قوم کا لیکن نہ ہرگز راہ پر آیا
ہو منزل گمراہی جن کی وہ کیونکر راہ پر آئیں ملیں اس قوم سے پیغمبروں کو سخت ایذائیں
یہ جھٹلاتی رہی ہر اک نصیحت کرنے والے کو بتاتی تھی اندھیرا موند کر آنکھیں اجالے کو
مسیح ابن مریم نے بہت اس کو ہدایت کی مگر یہ آخری دم تک رہی منکر رسالت کی
یہ جھٹلاتی رہی انجیل کی سچی منادی کو یہ سولی پر چڑھانے لے گئی اس پاک ہادی کو
خلیل اللہ سے جو وعدہ کیا تھا حق تعالیٰ نے وہ پورا کر دیا ہر طرح سے اس ذات والا نے
وطن بخشا گیا اس کو نمونہ باغ جنت کا مگر اس قوم میں جذبہ نہ تھا اس کی حفاظت کا
ملی اسحق کی اولاد کو شان حکومت بھی متاع دنیوی بھی اور روحانی رسالت بھی
مگر اس قوم نے ٹھکرا دیا ہر ایک نعمت کو یہ بھڑکاتی رہی ہر دور میں اللہ کی غیرت کو
نتیجہ یہ ہوا کفران نعمت کی سزا پائی عمل جیسے کئے ویسی در حق سے جزا پائی
خدا سے سرکشی کی سر جھکایا پائے دشمن پر رہا اغیار کا پنجہ مسلط اس کی گردن پر
سبھی اہل ستم کرتے رہے اس پر ستم رانی قبطی، بابلی، مصری، اسیری اور رومانی
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
کہ جس نے اپنے ہاتھوں خو خصلت نہیں بدلی
”اذ قالت امرت عمران رب انی نذرت لک ما فی بطنی محررا فتقبل منی انک انت السمیع العلیم . وانی اعیذہا بک وزریتہا من الشیطان الرجیم
(آل عمران:٣٥،٣٦)“
عمران کے عالی نسب گھرانے کی وہ نیک بخت وصاحب نصیب بی بی جو خدا کی بے شمار رحمتوں کا خزینہ بننے والی تھی اور جو مقدس ہیکل کے سامنے خدا کی جناب میں یوں عرض گزار ہوئی ۔ اے مولا جو کچھ بھی میرے پیٹ میں ہے وہ لڑکی ہو یا لڑکا میں نے اسے تیرے مقدس و مطہر نام کی نذر مانا، اور اپنے تمام حقوق سے آزاد کیا ۔ یا اللہ یہ میری ناچیز نذر کو شرف قبولیت عطاء فرما کیونکہ تو میری کمزوری و نحیف آواز اور میرے تمام ارادوں کو کما حقہ سننے اور جاننے والا ہے اور یا اللہ میں اس کو اور اس کی اولاد کو تیری پناہ میں دیتی ہوں ۔ یعنی ان کی عصمت وعفت کا تو ہی محافظ و نگہبان ہے ۔ یعنی تیرے نافرمان و سرکش راندۂ درگاہ سے ڈرتی ہوئی انہیں تیری پناہ
میں دیتی ہوں۔ یا اللہ میری ذریت کو شیطان کے وسوسوں سے بچائیو۔ چنانچہ اس کے جواب میں رب عزوجل ارشاد فرماتے ہیں۔
”فتقبلها ربها بقبول حسن وانبتها نباتا حسنا وكفلها زكريا (آل عمران:٣٧) ”اے میری جناب میں خشوع وخضوع سے نذر ماننے والی سعید عورت ہم نے تیری التجا کو سنا اور پسند فرماتے ہوئے بدرجۂ اتم قبول کیا اور شر شیطان سے محفوظ و مامون کیا اور وہ یوں بڑھے گی جیسا کہ سبزیاں جلد جلد بڑھتی ہیں۔ یعنی وہ جلد جلد جوان ہوگی اور میرے پیارے بندے زکریا علیہ السلام کی کفالت میں نشو و نما پائے گی۔
اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ عمران کی بیوی بیت المقدس کے سامنے جب کہ وہ حاملہ تھی۔ دستور زمانہ کے مطابق ایک نذر مانتی ہے اور مبہم الفاظ میں اشارۃً اپنے دلی راز کو آشکار کرتی ہے کہ مولا کریم مجھے اولاد نرینہ عطاء کرتا کہ وہ تارک الدنیا ہو کر تیری خلوص نیت وحضور قلب سے عبادت کرے اور تیرے مقدس گھر کا جاروب کش بنے۔ اس زمانہ میں ایسی نذریں عموماً مانی جاتی تھیں اور وہ شریعت موسوی میں جائز تھیں۔ یہ لوگ تارک الدنیا کہلاتے اور رشتۂ ازدواج میں منسلک نہ ہوتے۔ بلکہ دنیا سے الگ تھلگ رہتے تھے اور لذات دنیوی سے کنارہ کش رہتے۔ گاڑھے کے موٹے لمبے لمبے چوغے پہنتے اور مخصوص خانقاہوں اور گرجوں میں زندگی بسر کرتے تھے۔
چند مہینوں کے بعد جب اس مولود مسعود کا وقت آیا تو زچہ نے کمال حسرت ویاس کے لہجہ میں جناب باری میں التجاء کی ”قالت رب انی وضعتها انثی (آل عمران:٣٦) ”یعنی اے مالک میں نے ایک لڑکی کو جنا، قدیم دستور کے مطابق صرف لڑکے ہی اس خدمت کے لئے قبول کئے جاتے تھے۔ مگر چونکہ یہ نذر عام راہبوں اور اسقفوں کے سامنے مانی گئی تھی اور اس طریق سے قبل ایسا واقعہ نہ پیش آیا تھا۔ یعنی یوں وضع حمل سے پیشتر کسی نے نذر نہ مانی تھی۔ اس لئے عمران کی بیوی کا دل غم سے بیٹھا جاتا تھا اور وہ بار بار اس کا اعادہ کرتی تھی کہ اے کاش یہ لڑکا ہوتا تو میری مراد بر آتی۔ اس کے اس انتہائی حزن وملال کے جواب میں ارشاد ہوا۔
”والله اعلم بما وضعت وليس الذكر كالانثی (آل عمران:٣٦) ”یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات بابرکات خوب جانتی ہے جو کچھ اس نے جنا اور ایسا لڑکا نہ ہوا۔ جیسی کہ وہ لڑکی۔ اس پر حکمت ارشاد میں اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ اے نیک دل خاتون تو کیا جانتی ہے۔ اللہ ہی خوب جانتا ہے جو کچھ تو نے جنا ہے اور اس کے مراتب کو لڑکا بھلا کہاں پہنچ سکتا ہے اور تو تو کیا جانتی ہے کہ یہ مسیح علیہ السلام کی امانت کا ایک بیش قیمت خزانہ ہوگی اور ایک دنیا اس کے فیوض سے سیراب ہوگی۔
غرضیکہ یہ پہلی لڑکی تھی جو تارک الدنیا بنانے کے لئے مجاوران بیت المقدس نے قبول کی۔ چنانچہ آج تک نوے کروڑ فرزندان تثلیث اس کی تقلید کرتے ہوئے کنواری مریم کے نام پر ہزاروں لڑکیاں خانقاہوں کے سپرد کرتے ہیں۔ جنہیں عرف عام میں ننز کہا جاتا ہے اور عام بول چال میں ہر متنفس انہیں بہن کہہ کر پکارتا ہے۔ یہ علیحدہ امر ہے کہ وہ تمام سعید الفطرت نہ ہوں اور ان میں سے بعض شیطانی دھوکہ میں آ جائیں اور اس عہد کو فراموش کر بیٹھیں جو ان سے کنواری مریم کے نام پر لیا جاتا ہے۔ بہر حال یہ رسم آج تک جاری ہے اور برابر اس پر عمل ہو رہا ہے۔ جب مریم صدیقہ اس خدمت کے لئے یعنی تارک الدنیا کے لئے قبول کر لی گئی تو بڑی سختی سے مجاورین میں یہ سوال پیدا ہوا کہ اس کی پرورش کس کے ذمے قرار دی جائے۔ یہ جھگڑا بڑھتے بڑھتے ایک ہنگامی صورت اختیار کر گیا۔ جیسا کہ فرقان حمید ارشاد کرتا ہے۔ ”اِذْ يُلْقُوْنَ اَقْلَامَهُمْ اَيُّهُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ (آل عمران:٤٤)“ چنانچہ تورات لکھنے کے وہ قلم جن سے آیات الٰہی لکھی جاتی تھیں۔ مقدس پاپاؤں نے پانی کے بہاؤ پر بہائے اور یہ فیصلہ قرار پایا کہ جس کا قلم بہاؤ کے مخالف سمت بہے گا وہ مریم کا کفیل ٹھہرے گا۔ چنانچہ اس طریق قرعہ اندازی سے یہ خدمت حضرت زکریا علیہ السلام کے سپرد ہوئی اور حضرت زکریا علیہ السلام رشتے میں مریم کے سگے خالو تھے۔
مریم صدیقہ مدتوں اپنی خالہ کی آغوش شفقت میں رہی وہ ماں سے زیادہ اس سے پیار کرتی اور اس کی خدمت کو فرض الٰہی سمجھتی اور اس کی تکلیف کو خدا کی ناراضگی خیال کرتی۔ کیونکہ وہ مریم کو خدا کی امانت قرار دیتی تھی اور اس الٰہی خدمت کا صلہ نجات اخروی یقین کرتی۔ یہاں تک کہ مریم صدیقہ سن بلوغ کو پہنچی تو حضرت زکریا علیہ السلام کی تربیت کی برکات ظہور میں آنے لگے۔ وہ دن بھر ایک مخصوص حجرے میں جو مسجد میں صرف اسی کے لئے بنایا گیا تھا عبادت و ریاضت میں مشغول رہتی اور رات خالہ کے ہاں بسر کرتی۔ اس کے زہد و تقویٰ کی ایک دھوم مچ گئی اور دور دور سے دنیا زیارت کو کھنچی آتی اور عقیدت کا یہ حال تھا کہ بڑے بڑے اسقف دعا کے متمنی ہوتے تھے۔ وہ دن یاد الٰہی میں بسر کرتی تو رات مصلے پر گزارتی۔ غرضیکہ اس خدا کی بندی نے یہ دنیا پر ثابت کر دیا کہ دنیا سے کنارہ کشی کیا چیز ہے۔ یا یوں سمجھئے کہ وہ تارک الدنیا کی عملی تصویر تھی۔ اس کا اٹھنا اس کا بیٹھنا اس کا جاگنا اس کا سونا محض اللہ ہی کے لئے تھا۔ وہ ہمہ تن اسی شغل میں مصروف رہتی اور حاجت مند و بیمار لوگوں کا ایک ہجوم اس کے حجرے کے گرد بیٹھا رہتا۔ جن کی عقیدت اس حد تک پہنچ چکی تھی کہ وہ کڑاکے کی دھوپ برداشت کرتے۔ مگر اٹھنے کا نام نہ لیتے۔ یہاں تک کہ وہ اپنے حجرہ سے نکلتی اور فرداً فرداً ان کے لئے دعاء نہ کرتی۔
تارک الدنیا عورتوں کے لئے ایک اصول قائم کیا گیا تھا۔ جس کی رو سے کوئی متنفس ان کی خلوت گاہ میں قطعاً آمد و رفت کا مجاز نہ رکھتا تھا۔ ہاں وہ جو کفیل ہوتا وہ اس سے مبرا سمجھا جاتا تھا۔ وہ آ بھی سکتا اور جا بھی سکتا تھا۔ چنانچہ زکریا علیہ السلام جو مریم صدیقہ کے خالو تھے۔ وہ اکثر تربیت کے لئے جایا اور آیا کرتے تھے اور یہی مقدس گھر کے سب سے بڑے لاٹ پادری تھے۔ اکثر ان کی حیرت کی انتہاء نہ رہتی۔ جب وہ یہ دیکھتے کہ بے موسم کے پھل مریم کے حجرے میں موجود رہتے وہ سوال کرتے کہ اے مریم یہ سرما کے پھل گرما میں تمہارے پاس کہاں سے آگئے تو وہ جواب دیتیں کہ میرا پروردگار انہیں میرے لئے بھیج دیتا ہے اور وہ ذات بابرکات ایسی رحیم و کریم ہے۔ جو کو چاہے بے شمار رزق دیدے۔ چنانچہ قرآن مجید شاہد ہے۔ ”کلما دخل علیھا زکریا المحراب وجد عندھا رزقا قال یمریم انی لک ھذا قالت ھو من عند اللہ ان اللہ یرزق من یشاء بغیر حساب (آل عمران:٣٧)“
انہیں خوارق کو آئے دن اور اکثر زکریا علیہ السلام مشاہدہ فرماتے اور قدرت الٰہی پہ سر دھنتے انہیں اپنے بے موسم پھل کا خیال آیا۔ یعنی وہ بے اولاد تھے اور ان کا بڑھاپا انتہائی منزلیں طے کر چکا تھا اور اسی سن میں ان کی رفیقہ حیات تھی اور طرفہ یہ کہ وہ بانجھ بھی تھی۔ چنانچہ انہی بے موسمی میوؤں کو دیکھ کر ان کے دل میں ایک ولولہ اٹھا اور وہ بے اختیار پکار اٹھے۔ ”ھنالک دعا زکریا ربہ قال رب ھب لی من لدنک زریۃ طیبۃ انک سمیع الدعاء (آل عمران:٣٨)“ ﴿وہیں دعاء کی زکریا نے اپنے رب سے کہا اے رب میرے عطاء کر مجھ کو اپنے پاس سے اولاد پاکیزہ بے شک تو سننے والا ہے دعا کا۔﴾
جونہی یہ دعاء قلب کی گہرائیوں سے نکلی اجابت پذیر ہوئی ارشاد ہوا۔ ”فنادتہ الملائکۃ وھو قائم یصلی فی المحراب ان اللہ یبشرک بیحییٰ مصدقا بکلمۃ من اللہ وسیدا وحصورا ونبیا من الصلحین (آل عمران:٣٩)“ اور جب کہ وہ حجرے میں نماز کے اندر قیام کر رہے تھے۔ ملائکہ اللہ نے نداء کی کہ اے زکریا خدا تم کو خوشخبری دیتا ہے۔ یحییٰ کی جو خدا کے ایک حکم کی گواہی دے گا اور سردار ہوگا اور عورت کے پاس نہ جائے گا اور خدا کا پیامبر ہوگا اور صالحین میں سے ہوگا۔
جناب زکریا علیہ السلام کو بے موسم میوے مشاہدہ کرنے سے جو تحریک پیدا ہوئی تھی اس کو ثمر مل گیا۔ یعنی انہی ایک ایسے لڑکے کی بشارت عطاء ہوئی۔ جس میں ایک بات ایسی تھی جو انہیں ایک لاکھ چوبیس ہزار مرسلین سے نرالی دی گئی۔ یعنی باوجود یکہ وہ سردار ہوگا۔ یعنی وجیہہ
نوجوان توانا و تندرست ہوگا۔ مگر عورت کی خواہش نہ رکھے گا۔ یہ چیز ایک کامل مرد کے لئے انوکھی و نرالی ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی یہ حکمت تھی کہ تا کہ میری مخلوق یہ جان لے کہ میں ہر ایک چیز پر قادر ہوں ۔ يخلق مايشاء پیدا کرتا ہوں جو کچھ بھی چاہتا ہوں۔ نیز فرمایا اس کا نام یحییٰ ہوگا اور وہ میرے ایک حکم کی گواہی دے گا۔ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی جو بدوں باپ کے پیدا ہوگا اور حضرت یحییٰ لوگوں کو ان کی پیدائش کی خوشخبری دیتے تھے۔ جب یہ بشارت ہوئی تو زکریا علیہ السلام نے درگاہ رب العزت میں التجاء کی ۔ ” قال رب انى يكون لى غلام وقد بلغنى الكبر وامراتى عاقر (آل عمران:٤٠) “ مولا کہاں سے ہوگا۔ میرے ہاں لڑکا میں از حد بوڑھا ہو چکا ہوں اور اس پر میری عورت بھی بانجھ ہے۔ ارشاد ہوتا ہے” قال کذالک الله يفعل ما يشاء (آل عمران:٤٠) “ فرمایا اسی طرح اللہ کرتا ہے جو چاہتا ہے عرض کی مولا میرے اطمینان قلب کے لئے اس کا کوئی نشان عطاء فرما ارشاد ہوا اس کی نشانی یہ ہے کہ تو چنگا بھلا تین دن تک کسی سے بات نہ کرسکے گا۔ مگر اشارہ سے کہے گا جو چاہے گا۔
اللہ تعالیٰ کی قدرت ومشیئت سلسلہ اسباب کی پابند نہیں اسے ہماری طرح بودے سہاروں اور ٹکے وسائل کی ضرورت نہیں۔ گو نظام دنیا اسباب عادیہ سے مسببات کو پیدا کرتا ہے۔ لیکن وہ قادر کریم جو خلاق جہاں ہے۔ کبھی کبھی اسباب عادیہ کے خلاف غیر معمولی طریقہ سے کسی چیز کے پیدا کرنے پر قادر ہے اور یہ بھی اس کی خاص عادت میں داخل ہے۔ اصل میں یہ تمام واقعات یعنی مریم صدیقہ کے پاس خارق عادت طریق سے میوہ جات کو پہنچنا اور دیگر غیر معمولی واقعات کا ظہور پذیر ہونا ان حالات کی موجودگی میں حجرہ مریم میں زکریا کا بے ساختہ دعاء مانگنا اور مراد کا برآنا اصل میں اس عظیم الشان ولادت کا پیش خیمہ تھا۔ جو عنقریب کرشمہ قدرت سے ظہور میں آنے والی تھی اور جس کی خوشخبری جناب یحییٰ علیہ السلام لے کر آئے تھے اور جسے قرآن کریم نے کلمۃ اللہ کے خطاب سے یاد کیا ہے۔
”واذ قالت الملئکۃ یمریم ان الله اصطفک وطهرک واصطفک علٰی نساء العلمین ، یمریم اقنتی لربک واسجدی وارکعی مع الراکعین (آل عمران: ٤٢، ٤٣)“ ﴿اور جب فرشتے بولے۔ اے مریم اللہ نے تجھ کو پسند کیا اور پاک بنایا اور پسند کیا تجھ کو جہاں عورتوں پر۔ اے مریم بندگی کر اپنے رب کی اور سجدہ کر اور رکوع کر ساتھ رکوع کرنے والوں کے۔﴾
جناب زکریا علیہ السلام کے ضمنی مناسبات کے بعد جناب مریم صدیقہ کے فضل وشرف
کا ذکر خیر فرماتے ہوئے مالک کون و مکان کا ارشاد فرشتے عرض کرتے ہیں اور مریم کو اللہ تعالیٰ کے احسان جتلاتے ہیں کہ اے مریم خدا نے تجھے روز ازل ہی سے اپنے ایک جلیل القدر نشان کے لئے چن لیا تھا اور یہی وجہ ہے کہ باوجودیکہ تو لڑکی ہے مگر اس کی نیاز میں قبول ہوئی۔ حالانکہ یہ خدمت ہمیشہ لڑکوں ہی سے قبول کی جاتی ہے۔ یعنی کوئی لڑکی مسجد کی خدمت کے لئے قبول نہیں کی گئی۔ مگر اللہ تعالیٰ نے تمہیں پسند کیا اور اسی خدمت کے لئے چن لیا۔ پھر تم پر طرح طرح سے انعام و اکرام برسائے بے موسم پھل تمہیں عنایت کئے جلد جلد پرورش تمہاری فرمائی اپنی بے پناہ محبت تمہارے دل میں پیدا کی۔ بلند اخلاقی و پاک طینتی کا تمہیں مالک بنایا۔ اس کے علاوہ تمہیں مسجد کی خدمت کا موقعہ دیا اور جہاں کی عورتوں پر بعض وجوہ سے تمہیں فضیلت بخشی۔ مثلاً تم میں ایسی استعداد رکھی کہ بدون مس بشر صرف تمہارے وجود سے مسیح علیہ السلام جیسے اولو العزم پیغمبر کو پیدا کیا۔ جو اللہ تعالیٰ کے نشانات میں سے ایک اعلیٰ درجہ کا نشان ہے اور اے مریم انہیں احسانات ازلی کے شکریے میں ہمیشہ عجز و نیاز کے ساتھ اس کے حضور میں اپنی بندگی ہونے کا ثبوت دو۔ اس کے دربار میں ہمیشہ جھکتی اور سجدہ گزار ہوتی رہو۔
یہ زمانہ مریم صدیقہ کی عفیفہ قانتہ عابدہ زاہدہ زندگی پر اپنی پوری پوری روشنی ڈالتا ہے اور آپ کی اس زندگی یعنی سن طفولت سے لے کر سن بلوغت تک کی ضمانت کی بین دلیل پر دلالت کرتا ہے۔ یہ وہ زمانہ ہے جب کہ جناب صدیقہ عالم شباب کی منزلیں نہایت اطمینان و سکون سے یاد الٰہی میں بسر کر رہی تھیں۔ ان کی پارسائی کی دھوم ایک عالم میں مچ رہی تھی اور ان کی زہد و ریاضت کا ایک عالم معترف تھا۔ دور دور سے لوگ ناکام آتے اور کامیاب جاتے۔ دکھ لے کر آتے اور سکھ لے کر جاتے تھے۔ یہ وہ دور سعید تھا کہ جس میں انوار ازلیہ اور برکات سرمدیہ کی بارش ہو رہی تھی۔ فرشتے خوان نعمت لے کر آتے اور پیغام ربانی سے مسرور کرتے تھے۔ فضا کا ذرہ ذرہ کائنات قدرت کی ترجمانی کر رہا تھا تو ہوا کا جھونکا جھونکا اس کی واحدانیت کے پیغام پہنچا رہا تھا۔ غرضیکہ جناب صدیقہ نہایت اطمینان سے وظائف و نوافل میں مشغول اور یاد الٰہی میں مصروف تھی اور دنیا انہیں نہایت عزت و تکریم کی نگاہ سے دیکھتی اور ادب کرتی تھی۔ اب وہ ساعت سعید قریب آ رہی تھی کہ جس عظیم الشان نشان کے لئے آپ کو پسند کیا اور چنا گیا تھا اور یہ ہی وہ امتیازی چیز تھی جو جناب صدیقہ کو جہاں کی عورتوں پر فضیلت بخشتی تھی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے مقربین رسول آپ کی خدمت میں آئے اور یہ بشارت سنائی۔
” واذ قالت الملئکۃ یمریم ان اللہ اصطفک وطہرک واصطفک علی
نساء العلمين . يمريم اقنتى لربك واسجدى واركعى مع الراكعين . ذالك من انبآء الغيب نوحيه اليك وما كنت لديهم اذ يلقون اقلامهم ايهم يكفل مريم وما كنت لديهم اذ يختصمون . اذ قالت الملئكة يمريم ان الله يبشرك بكلمة منه اسمه المسيح عيسى ابن مريم وجيها فى الدنيا والآخرة ومن المقربين (آل عمران : ٤٢ تا ٤٥) ”اور جب فرشتوں نے کہا اے مریم اللہ تجھ کو بشارت دیتا ہے۔ اپنے ایک حکم کی جس کا نام مسیح ہے۔ عیسیٰ مریم کا بیٹا مرتبے والا دنیا میں اور آخرت میں اور اللہ کے مقربوں میں سے اور باتیں کرے گا لوگوں سے جب کہ ماں کی گود میں ہوگا اور جب کہ پوری عمر کا ہوگا اور نیک بختوں میں سے ہے۔“
اس آیت شریفہ پر روشنی ڈالنے سے قبل میں ان حضرات سے اپیل کروں گا۔ جو عصمت وعفت پر جان و مال قربان کرنا فرض منصبی سمجھتے ہوں ۔ وہ خدارا سوچیں اور سمجھیں کہ جب ایک ایسا خاندان جس کی احکم الحاکمین یوں تعریف فرمائے۔ ”ان الله اصطفى ادم ونوحاً وال ابراهيم وال عمران على العلمين ذرية بعضها من بعض . والله سميع عليم (آل عمران : ٣٣، ٣٤) ”بے شک اللہ نے پسند کیا آدم کو اور نوح کو اور ابراہیم علیہم السلام کے گھر کو اور عمران کے گھر کو سارے جہاں سے جو باہم ایک دوسرے کی اولاد تھے اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔“
رب کعبہ کا ارشاد ہے کہ ہمیں آدم اور نوح اور ابراہیم اور اس کی اولاد میں سے بعض اور عمران اور اس کی اولاد میں سے بعض سارے جہاں سے زیادہ محبوب ہیں۔ یعنی جناب سردار دو جہاں، فخر موجودات، سرکار مدینہ، اولاد ابراہیم سے اور جناب صدیقہ اولاد عمران سے سارے جہاں پر فضیلت رکھتے ہیں۔ ایسا عالی نسب خاندان ہو جہاں فرشتے شرم سے نگاہیں نیچی رکھیں اور حوریں پاکیزگی سیکھیں۔ وہ شرم وحیا کی تصویر اور عصمت وعفت کی پیکر یعنی جناب صدیقہ جس کے کان گناہ کے سننے کے مرتکب نہ ہوئے اور جس کی آنکھیں پاکیزگی اور انوار الٰہی کو دیکھ دیکھ کر مسحور ونور علیٰ نور تھیں اور جو ملائکہ اللہ کو بار ہا خوان کرم لاتے مشاہدہ کر چکی تھیں۔ یہ انوکھی چیز سن کر حیران وششدر رہ گئی۔ چنانچہ یہ واقعہ ہم ابھی تفصیلاً عرض کریں گے۔ سر دست فرشتوں نے یہ بشارت دی کہ اے مریم اللہ تجھ کو خوشخبری دیتا ہے۔ اپنے ایک حکم کی جس کا نام مسیح ہے۔ عیسیٰ مریم کا بیٹا مرتبے والا دنیا اور آخرت میں اور خدا کے قریب کئے گیوں میں سے ہے۔
دراصل یہ ایک انعامی وعدہ ہے جو جناب باری تعالیٰ مریم صدیقہ سے فرما رہے ہیں
اور یہ وہی انعام ہے جس کی بشارت یحییٰ علیہ السلام مدت ہوئی دے چکے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے کہ اے مریم تیرے ہاں جو بچہ پیدا ہوگا وہ کلمۃ اللہ ہوگا۔ یعنی میرا ایک حکم ہوگا جس کا نام مسیح ہے۔ موعودہ بچے کو خدا کا ایک حکم کہا گیا اور اس کے بعد اس حکم کا نام مسیح رکھا گیا اور مسیح دراصل عبرانی میں ماشیح تھا۔ جس کے معنی برکت والا کے ہیں۔ اس کے بعد اس بچے کو عیسیٰ کے لقب سے یاد کیا گیا۔ اصل میں یہ لفظ ایشوع تھا۔ جو معرب ہوکر عیسیٰ ہوا اور اس کے معنی سید ہیں۔ اس کے بعد ابن مریم کہا یہ مریم کا بیٹا کیوں کہا حالانکہ جناب صدیقہ ہی مخاطب تھیں۔ یہ چوتھا نام صرف اس لئے دیا کہ بدوں باپ کے ہونے کے اس کی نسبت صرف ماں ہی کی طرف سے ہوا کرے گی اور جب مسیح کا نام لیا جائے گا۔ قدرت کی یہ عجوبہ نمائی مریم کی پارسائی پر خراج تحسین و مرحبا کے پھول نچھاور کرے گی اور یوں جناب صدیقہ کی یاد خیر ابدالآباد تک قائم رہے گی۔ اس لئے مسیح کے نام کے ساتھ یہ ایک جزو قرار دے دیا گیا۔ جناب صدیقہ اس اعجازی خوشخبری سے مغموم سی ہوئی اور طرح طرح کے دل میں خیالات اٹھے کہ لوگ مجھ کو کیا کیا الزام دیں گے اور بچے کو کیا کیا طعن و شنیع سے یاد کریں گے۔ میں کس کس کو کیا کہوں گی اور کیا جواب دوں گی۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ نے ساتھ ہی تسلی و تشفی دیتے ہوئے پہلے ہی فرمادیا۔ ”وَجِيهاً فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ (آل عمران: ٤٥)‘‘ یعنی وہ دنیا اور آخرت دونوں میں مرتبے والا ہوگا۔ یعنی ہم اسے تمام الزام وطعن سے پاک کریں گے۔ وہ دنیا و عقبیٰ میں صاحب وجاہت ونجابت ہوگا۔ یعنی ہم اسے تمام مراتب میں فائض المرام کریں گے اور اسے تمام طعنوں سے بری الذمہ قرار دیں گے۔ وہ صاحب جاہ وحشم ہوگا۔ یعنی دنیا خود بخود اس کی وجاہت کو تسلیم کرلے گی اور یہی وجہ ہے کہ اس کو ایسے مبارک نام دیئے گئے اور یہاں تک ہی نہیں وہ ہمارے مقربین میں ہوگا۔ یعنی ہم اسے اپنے قریب رکھیں گے۔ اس کے بعد ارشاد ہوا اے مریم وہ بچہ کچھ ایسا عجیب الخلقت ہوگا کہ تمہاری گود میں لوگوں سے باتیں کرے گا۔ یعنی وہ تمام اتہام والزام جو یہود نا بکار اپنے خبث و بدباطنی کور چشمی و نالائقی کی وجہ سے کریں گے۔ ایسے مسکت و شافی جواب دے گا کہ وہ مبہوت ہو جائیں گے اور اپنا سا منہ لے کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بیٹھ جائیں گے اور یہی نہیں بلکہ وہ ادھیڑ عمر میں لوگوں سے ہم کلام ہوگا۔ یعنی ان کے اوہام باطلہ کو حکمت واصول کے موتیوں سے پاش پاش کر کے رکھ دے گا اور اے مریم تجھے مبارک ہو کہ وہ ہمارے نہایت مخلص اور چنے ہوئے نیک بختوں میں سے ہوگا۔
جب یہ پیغام فرشتے پہنچا چکے تو صدیقہ انتہائی غور و خوض فکر وتدبر کے بعد جناب الٰہی
میں یوں گویا ہوئی۔ ”قَال... عمران: ٤٧) ”مولا کہاں... اصل میں بمقتضا... مشاہدے کے خلاف اور قانو... وقوع کس طرح ظہور پذیر ہوگا... پھر بدوں مس بشر میرے ہاں... يَشَاءُ اِذَا قَضَى اَمْراً فَاِنَّمَ... تعجب نہ کر اور غمگین نہ ہو اسی ط... خلافِ عادت م... چاہے پیدا کردے۔ وہ مالک... اتنا ہی حکم دے دیتا ہے۔ ہو... فہم و ادراک سے بالاتر ہستی... کردگار تمام عیوب سے مبرا و... ان الفاظ پر ختم کیا۔ ”وَيُعَلِّمُه ا... اسرائیل (آل عمران: ٤٨... حکمت اور تورات و انجیل سک... یعنی اللہ تعالیٰ ب... ہدایت کا عموماً اور تورات و ان... خزینہ ہوگا۔ جس میں بے ش... یاب ومستفاد ہوگی۔ بہت... کریم وحدیث صحیحہ ہیں اور ... گذر چکا ہے تو وہ یہی قرآن ... اس عظیم الشان ... گہری سوچ میں گھنٹوں دو... تمتماتا تھا اور وہ سجدہ شکر میں ...
میں یوں گویا ہوئی ۔ ”قالت رب انی یکون لی ولد ولم یمسسنی بشر (آل عمران: ٤٧) ”مولا کہاں سے ہوگا میرے ہاں لڑکا اور نہیں چھوا مجھ کو کسی آدمی نے۔“
اصل میں بمقتضائے بشریت جناب صدیقہ حیران و ششدر تھی۔ کیونکہ یہ چیز عام مشاہدے کے خلاف اور قانون قدرت کے مخالف واقع ہونے میں انہیں باور ہی نہ آتا تھا کہ یہ وقوع کس طرح ظہور پذیر ہوگا۔ جب کہ میری حالت یہ ہے کہ میں مس انسان سے پاک ہوں۔ پھر بدوں مس بشر میرے ہاں بچہ کس طرح پیدا ہوگا ارشاد ہوا ۔ ”قال کذالک اللہ یخلق ما یشاء اذا قضی امراً فانما یقول لہ کن فیکون (آل عمران: ٤٧) “ فرمایا اے مریم تعجب نہ کر اور غمگین نہ ہو اسی طرح بدوں مس بشر کے یہ پیدائش واقع ہوگی۔
خلاف عادت ہونے کی وجہ سے ہراساں نہ ہو۔ خلاق جہاں جو چاہے اور جس طرح چاہے پیدا کر دے۔ وہ مالک و مولا ایسی پاک ذات ہے کہ جب ارادہ کرتا ہے کہ کسی چیز کا بس اتنا ہی حکم دے دیتا ہے ہو پس وہ فوراً ہو جاتا ہے۔ اس کی قدرت کی حد بندی ہی نہیں ہو سکتی۔ وہ فہم و ادراک سے بالا تر ہستی نہ مادہ و ظاہری اسباب کی محتاج نہ کسی قانون و ضوابط کی پابند وہ ذات کردگار تمام عیوب سے مبرا و پاک ہے۔ اس ضمنی سوال و جواب کے بعد مقربین نے اس خوشخبری کو ان الفاظ پر ختم کیا۔
”ویعلمہ الکتب والحکمۃ والتوراۃ والانجیل ٠ ورسولاً الی بنی اسرائیل (آل عمران: ٤٨، ٤٩)“ اور اے مریم خدائے رحیم اس تیرے مسعود بچے کو کتاب اور حکمت اور تورات و انجیل سکھلائے گا اور وہ تمام بنی اسرائیل کی طرف رسول ہوگا۔
یعنی اللہ تعالیٰ براہ راست اپنی حکمت بالغہ سے اس کو لکھنا سکھائے گا اور تمام کتب ہدایت کا عموماً اور تورات و انجیل کا خصوصاً علم و عرفان عطاء کرے گا۔ یعنی اس کا سینہ رحمت کردگار کا خزینہ ہوگا۔ جس میں بے شمار لال و جواہر کے علمی موتی بھر پور ہوں گے۔ جن سے ایک دنیا فیض یاب و مستفاد ہوگی۔ بہت سے ائمہ مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ کتاب و حکمت سے مراد قرآن کریم و حدیث صحیحہ ہیں اور جب آپ سن کہولت میں لوگوں سے باتیں کریں گے۔ جس کا وعدہ قبل گزر چکا ہے تو وہ یہی قرآن و حدیث کے ارشادات کی تعمیل ہوگی۔
اس عظیم الشان خوشخبری سنانے کے بعد ملائکہ اللہ رخصت ہوئے تو جناب مریم ایک گہری سوچ میں گھنٹوں دوچار رہی۔ کبھی خدا کی عنایت و نوازشات کا خیال آتا تو چہرہ بشاشت سے تمتما اٹھتا اور وہ سجدہ شکر میں گر جاتی۔ کبھی موعودہ بچے کی ولادت کا نقشہ آنکھوں میں کھنچ جاتا تو م
کی طعن و تشنیع کا خیال رونگٹے کھڑے کر دیتا۔ غرضیکہ جناب صدیقہ مہینوں بیقرار اور شاکر رضا الہی رہیں۔ انہیں رہ رہ کر موعودہ بچے کا تصور ستاتا۔ مگر ساتھ ہی تائید الہی سکینت بخشتی۔ بہرحال وہ اس انوکھی اور اچنبہ خیز چیز سے حیران تھی اور نہ جانتی تھی کہ یہ وعدہ الہی کیونکر آیات اللہ ہو کر رہے گا اور دنیا کس طرح میری پاک دامنی کا یقین کرے گی۔ لیکن ساتھ ہی اس کی قدرت و رحمت پر بھروسہ ویقین بھی اس مراتب سے بالا تر پہنچ چکا تھا کہ جس میں دل اطمینان وخوشی کی میٹھی نیند سوتا ہے۔ بہر حال وہ خدا کی بندی صابرہ و شاکرہ رضا الہی میں مگن تھی اور قلب اطمینان یافتہ تھا۔ سنت اللہ ہمیشہ سے یونہی چلی آئی ہے کہ جب کوئی اہم کام جو خارق کی قسم سے ہو جب لینا مقصود ہو تو پہلے فرستادہ کے قلب کو مطمئن کر دیا جاتا ہے تا کہ اعجاز نمائی کے وقت عوام کی طرح اس کے دل میں کوئی خوف یا خدشہ نہ پیدا ہو جائے جو اعجاز کی عظمت و وقعت کو کم کردے۔ کیونکہ اگر صاحب اعجاز ہی ڈر جائے تو معجز نمائی نہیں رہتی۔ بلکہ جب حاضرین خائف ہوں تو وہ مطمئن و بشاش ہو۔ مثال کے طور پر جناب موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ ہی کو لے لیجئے۔ جب اللہ تعالیٰ سے سب سے پہلی ہم کلامی ہوئی۔ جب کہ آپ مدین سے اپنی رفیقہ حیات کو لئے اپنے ماموں حضرت شعیب علیہ السلام کے ہاں سے مصر کو آ رہے تھے اور اپنا راستہ بھول چکے تھے۔ رات کا موقعہ تھا اور ظلمت نے نور کو چاروں طرف سے گھیر رکھا تھا۔ سردی کا موسم اور جاڑے کی سرد ہواؤں نے جان پر بنا رکھی تھی اور طرفہ یہ کہ گھر میں امیدواری کے علاوہ راہ گم کر چکے تھے دور سے آگ دیکھی تو بیوی سے کہنے لگے آپ یہاں ٹھہریں اور چند منٹ آرام کریں تاکہ میں وہاں سے کچھ آگ تمہارے تاپنے کے لئے لے آؤں اور شاید کوئی راہبر بھی مل جائے جو ہمیں صحیح منزل پر پہنچا دے۔ چنانچہ جب آپ وہاں پہنچے تو ارشاد ہوا اے موسیٰ اپنی جوتیاں اتار دے کیونکہ تم مقدس میدان میں ہو اور میں ہی پروردگار عالم ہوں اور جو حکم تمہیں دیا جاتا ہے وہ دل کے کانوں سے سنو اور اس پر عمل کرو۔ فرعون بے نوا کی طرف جاؤ اور بنی اسرائیل کو آزاد کراؤ اور اے موسیٰ یہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے عرض کی گئی عصا ہے ارشاد ہوا یہ کس کام میں لاتے ہو۔ کہا مولا اس سے اپنے ریوڑ پر درختوں سے پتے گراتا ہوں اور جب تھک جاتا اس پر تکیہ لگا کر دم لیتا ہوں۔ ارشاد ہوا ذرا اس کو زمین پر تو ڈالو۔ تعمیل کی تو وہ اژدھا تھا۔ جناب موسیٰ کا دل دھڑکنے لگا، بدن پسینہ میں شرابور ہوا۔ چاہتے تھے کہ الٹے پاؤں بھاگ جائیں۔ ارشاد ہوا ٹھہرو کیوں ڈرے جاتے ہو۔ اس کو پکڑ لو اسے پھر پہلی حالت میں تبدیل کر دیں گے۔ یعنی یہ تمہارا عصا ہی ہوگا۔ چنانچہ اس طریق سے اس کا تجربہ کرایا گیا اور جب پختگی دیکھی تو فرعون کی طرف بھیجا اس کے بعد جناب موسیٰ علیہ السلام نے بیسیوں دفعہ اس سوٹے کا سانپ بنایا۔ مگر تھا۔ جناب صدیقہ کو خوشخبری صرف اس لئے آسکتے ہیں۔ ان کا سد باب کر کے دل مط مسعود کی بے شمار خوبیاں اور صفات بیان ہوئے قلب میں نورانیت کی طمانیت بخش ہوتی تو اغلب تھا کہ وہ حواس کھو دیتی یا جان دل کبھی اطمینان کی سانس نہ لیتا۔ اس چیز جب اظہار تعجب ہوا تو قدرت و طاقت کا اس طریق سے جناب مریم کے دل میں پکی اور گذری تو اس عظیم الشان نشان کا وقت ق قادریت کی ایک درخشاں دلیل ہے۔ "واذ شرقياً ٥ فاتخذت من دونهم ح سوياً ٥ قالت انى اعوذ بالرحمن لاہب لك غلاماً زكياً قالت انى قال كذالك قال ربك هو على هين مقضياً (مریم :١٦ تا ٢١) ﴾ اور اے م وہ جدا ہوئی اپنے لوگوں سے ایک شرقی مکا کے پاس اپنا فرشتہ پھر بن کر آیا اس کے آ ڈر رکھنے والا۔ بولا میں تو بھیجا ہوا ہوں تیر سے ہوگا۔ میرے ہاں لڑکا اور چھوا نہیں مجھ تیرے رب نے وہ مجھ پر آسان ہے اور اس ہے یہ کام مقرر ہو چکا۔ ﴾ اس واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ ج کی دلیل اور بالغیب کی سند سمجھی جاتی ہے کرنے کے لئے وہ بیت المقدس کے شرق کی چودھویں پندرھویں منزل طے کر رہی
بیسیوں دفعہ اس سوٹے کا سانپ بنایا۔ مگر کبھی دل میں ڈر کا وہم بھی نہ ہوا۔ کیونکہ دل مطمئن ہو چکا تھا۔ جناب صدیقہ کو خوشخبری صرف اس لئے پہلے دی گئی کہ بشریت کے تقاضے میں جو جو توہمات آ سکتے ہیں۔ ان کا سد باب کر کے دل مطمئن کر دیا جائے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اس لئے اس مولود مسعود کی بے شمار خوبیاں اور صفات بیان کیں اور اس طرح سے وساوس شیطانی کو دور فرماتے ہوئے قلب میں نورانیت کی طمانیت بخش دی۔ اگر بلا خوشخبری کے یہ آیات اللہ جناب مریم کو عطاء ہوتی تو اغلب تھا کہ وہ حواس کھو دیتیں یا جان سے ہاتھ دھو بیٹھتیں اور اگر یہ دونوں باتیں نہ ہوتیں تو دل کبھی اطمینان کی سانس نہ لیتا۔ اس چیز کو ملحوظ رکھتے ہوئے مولا کریم نے پہلے خوشخبری دی اور جب اظہار تعجب ہوا تو قدرت و طاقت کا یقین دلاتے ہوئے مولود مسعود کی صفات بیان کیں اور اس طریق سے جناب مریم کے دل میں سچی ڈھارس بندھائی۔ اس کے بعد کچھ مدت یاد الٰہی میں اور گزری تو اس عظیم الشان نشان کا وقت قریب آیا جو تمام جہاں کے لئے خدا کی واحدانیت اور قادریت کی ایک درخشاں دلیل ہے۔ ” واذکر فی الکتب مریم اذ انتبذت من اھلھا مکانا شرقیاً ، فاتخذت من دونھم حجابا فارسلنا الیھا روحنا فتمثل لھا بشراً سویا ، قالت انی اعوذ بالرحمن منک ان کنت تقیا ، قال انمآ انا رسول ربک لاہب لک غلما زکیا قالت انی یکون لی غلم ولم یمسنی بشر ولم اک بغیا ، قال کذالک قال ربک ھو علی ھین ولنجعلہ ایۃ للناس ورحمۃ منا وکان امرا مقضیا (مریم: ١٦ تا ٢١)“ ﴿اور اے محمدﷺ قرآن پاک میں مریم کا وہ واقعہ بیان کرو۔ جب وہ جدا ہوئی اپنے لوگوں سے ایک شرقی مکان میں پھر پکڑ لیا ان سے ایک پردہ پھر بھیجا ہم نے اس کے پاس اپنا فرشتہ پھر بن کر آیا اس کے آگے آدمی پورا۔ بولی مجھ کو رحمان کی پناہ تجھ سے اگر ہے تو ڈر رکھنے والا۔ بولا میں تو بھیجا ہوا ہوں تیرے رب کا کہ دے جاؤں تجھ کو ایک لڑکا ستھرا۔ بولی کہاں سے ہوگا۔ میرے ہاں لڑکا اور چھوا نہیں مجھ کو آدمی نے اور میں بدکار کبھی نہ تھی۔ بولا یونہی ہے فرما دیا تیرے رب نے وہ مجھ پر آسان ہے اور اس کو کیا چاہتے ہیں۔ نشانی اور مہربانی اپنی طرف سے اور ہے یہ کام مقرر ہو چکا۔ ﴾
اس واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ جناب مریم پر ان دنوں نسوانیت کی وہ پہلی منزل جو جوانی کی دلیل اور بالغیت کی سند سمجھی جاتی ہے پیش تھی اور یہ سب سے پہلا حیض تھا۔ جس کے پاک کرنے کے لئے وہ بیت المقدس کے شرق کی طرف غسل کے لئے سدھاریں۔ ان دنوں آپ عمر کی چودھویں پندرھویں منزل طے کر رہی تھیں۔ جو یہ واقعہ پیش آیا۔ آپ بہت کم گو ، گوشہ نشین
واقع ہوئی تھیں۔ لہٰذا اسی شرم وحیا نے مجبور کیا کہ بیت المقدس اور اس کے لوگوں سے الگ ہوں۔ یہی وجہ تھی جو وہ ایک شرقی مکان میں چلی گئیں۔ چنانچہ نصاریٰ نے اسی وجہ سے شرق کو اپنا قبلہ مقرر کر لیا۔ جب وہ وہاں پہنچیں تو ہر ایک طریق سے پردے کا مکمل انتظام کر لیا اور کواڑ بند کر لئے۔ اس تنہائی میں وہ ابھی اچھی فراغت پذیر ہوئی تھیں کہ ایک نہایت خوبصورت نوجوان آدمی معا نظر آیا۔ جناب صدیقہ اور تنہائی کا عالم ’کواڑ بند اور مسجد دور‘ ایک سناٹا تھا جو طاری تھا۔ حیران تھی کہ کیا کرے اور کہاں جائے۔ نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن والا معاملہ تھا وہ نوجوان ہے کہ سامنے کھڑا ہے۔ آپ بہت کچھ سکڑیں سمٹیں اور پردے کا پورا پورا انتظام کیا۔ مگر بدن بید کی طرح لرزہ بر اندام تھا اور ہاتھوں میں رعشہ کے آثار تھے۔ کیونکہ صدیقہ کی زندگی میں یہ پہلا موقعہ تھا کہ تنہائی میں وہ کسی آدمی کو یوں دفعتہ دیکھے۔ بہر حال وہ بہت کچھ گھبرائی اور حقیقتاً یہ عفاف زندگی کے لئے ایک کٹھن منزل تھی۔ اسی گھبراہٹ میں جناب جبرائیل علیہ السلام کے پر انوار چہرے پر نگاہ پڑی۔ جس سے انوار الٰہی کی تجلیاں ہویدا تھیں۔ دل میں اطمینان سا ہوا اور کچھ ڈھارس بھی بندھی کہ کوئی اللہ والا متقی شخص ہے۔ جناب صدیقہ پکاریں کہ میں اپنے آپ کو رحمان کی پناہ میں دیتی ہوں اور تجھ سے منت کرتی ہوں کہ اگر تو اللہ کا کچھ بھی ڈر رکھتا ہے تو میرے سامنے سے ہٹ جا اور مجھ سے کچھ بھی تعرض نہ کر۔ جبرائیل علیہ السلام جو ایک خوش منظر نوجوان کی شکل میں متمثل تھے بولے گھبراؤ نہیں میری طرف سے کوئی برا خیال دل میں آیا ہو تو نکال دو اور مطمئن ہو جاؤ میں آدمی نہیں بلکہ تیرے اور سارے جہاں کے پروردگار کی طرف سے بھیجا ہوا ایک فرشتہ ہوں اور اسی کی طرف سے آیا ہوں۔ جس کی تو پناہ ڈھونڈتی ہے اور اس لئے آیا ہوں کہ خدائے قدوس کی طرف سے تجھے ایک پاکیزہ صاف ستھرے مبارک مسعود لڑکے کی خوشخبری دوں جو حسب نسب اخلاق واطوار کے لحاظ واعتبار سے بالکل پاک وصاف ہوگا اور قدرت کاملہ کا ایک عجیب نمونہ ہوگا۔ جناب مریم کو ان ملائم ونرم الفاظ اور طرز تکلم سے یقین واثق ہوا کہ یہ واقعی انسان نہیں فرشتہ ہے۔ چنانچہ وہ گھبراہٹ جو نسوانیت پہ غالب آ چکی تھی کافور ہوئی۔ مگر ساتھ ہی تعجب ہوا اور حیرت سے پوچھا کہ جس عورت کا شوہر نہیں جو جائز طریق سے حق زوجیت لے سکتا اور جو عورت بدکار نہیں جو عصمت فروشی کر کے بچہ لے سکتی۔ اس کے ہاں بدوں مس انسان بچہ کیسے پیدا ہو سکتا ہے۔ جبرائیل علیہ السلام نے کہا بات تو یونہی ہے۔ یعنی تیرا نکاح نہیں ہوا اور نہ ہی تو بدکار ہے۔ یہ سچ ہے کہ تو مس انسان سے مبرّا اور پاک ہے مگر خدائے واحد جو تیرا اور جہاں کا خلاق و پروردگار ہے وہ فرماتا ہے کہ یہ مجھ پر آسان ہے۔ یعنی بنا چھوئے بشر
کے بھی میں اس بات پر قدرت رکھتا ہوں کہ تجھے لڑکا دے دوں اور یہ اس لئے کہ ہم اسے تمام جہاں کے لئے رحمت کا ایک نشان بنانا چاہتے ہیں۔ یعنی ہم اسے قدرت کاملہ کا ایک نمونہ بنانا چاہتے ہیں اور یہ صرف اس لئے کہ تا میری مخلوق یہ جان لے کہ میں ہر چیز پر قادر ہوں۔ ’یخلق ما یشآء‘ جو چاہتا ہوں پیدا کرتا ہوں اور یہ نشان ہمارے لطف و احسان کا ایک ادنیٰ نمونہ ہے اور خدا کے مقرب نے جنابہ صدیقہ کو آخری تسلی و تشفی دیتے ہوئے فرمایا کہ اے مریم اس حکم کا وقوع پذیر ہونا یعنی جناب مسیح علیہ السلام کی پیدائش کا بدوں مس بشر پیدا ہونا خدائے رحمان کی طرف سے مقرر ہو چکا ہے۔ یعنی ضرور ہو کر رہے گا۔ فرشتۂ غیب صحیفۂ تقدیر سنا کر غائب ہوا تو جنابہ مریم کے سامنے اپنے خالو کا واقعہ ایک عجیب سماں باندھ گیا۔ وہ دل ہی دل میں اس سے لطف اندوز ہونے لگیں۔ کبھی خالہ کی کبڑی پیٹھ اور سفید بالوں کا خیال آتا تو کبھی خالو کے پچکے ہوئے گال اور شکن آلود پیشانی پہ نظر جاتی۔ وہ تعجب سے دونوں کا انتہائی بڑھاپا سفیدی کئے ہوئے سر، گرے ہوئے دانت، خمیدہ قد، جھلڑی پڑے ہوئے گوشت پہ نگاہ دوڑاتی تو کبھی حیرت سے خالہ کے بانجھ پن کا مشاہدہ کرتی۔ اسے رہ رہ کر بے موسم کے میوے کا خیال آتا۔ جس کے لئے اس کے خالو آبا نے دعاء کی تھی۔ کبھی وہ دعائیہ کلمات پہ غور کرتی اور خالو کی جسارت کی داد دیتی کہ مانگا بھی تو بیٹا اور وہ بھی انتہائی بڑھاپے میں اور جب وعدہ ہوا کہ ملے گا تو لگے نشانیاں طلب کرنے۔ تو کبھی چیز مانگنے پر تعجب نہ ہوا اور جب سنا مراد بر آئے گی تو تعجب کیا۔ غرضیکہ گھنٹوں نیرنگی قدرت کا مشاہدہ کرتی اور سر دھنتی رہی اور بالآخر اس نتیجہ پر پہنچی کہ مولا تو واللہ علیٰ کل شئی قدیر ہے۔ تیرے آگے کوئی چیز انہونی نہیں۔ تو نے نمرود کے جلا کو ابراہیم کے لئے گلزار کیا تو نے ہاجرہ کی بے قراری پہ رحم کھاتے ہوئے سنگلاخ زمین میں چشمہ بہا دیا۔ تو نے اسماعیل کو چھری کے نیچے معراج کراتے ہوئے ذبح عظیم دیا۔ تو نے دیدۂ یعقوب کو بینائی دی۔ تو نے یوسف کو قید و بند سے نجات دیتے ہوئے تخت مصر کا وارث کیا۔ مولا میری بگڑی بھی تو ہی سنوارے گا۔ جس عظیم کام کے لئے مجھے منتخب کیا ہے اس کا ہر طرح سے تو ہی محافظ و نگہبان ہے۔ مولا یہ تیری بندی بیچاری ہر حال میں شاکر و صابر ہے۔ ہاں تیرے امتحان کی تاب نہیں لاسکتی۔ اپنے رحم سے اپنے کرم سے مشکل آسان فرما اور جو جو واقعات آنے والے ہیں ان میں میری صحیح راہنمائی فرما اور ثبات قدمی و فرمانبرداری کی توفیق دے۔ اس پیام ربانی کے تھوڑے عرصہ بعد جنابہ صدیقہ کو حمل کے آثار معلوم ہونے لگے۔ وہ روز روز اس میں اضافہ معلوم کرتی۔ حتیٰ کہ اس کا یہ خیال حق الیقین کے مراتب تک پہنچ گیا۔ اب وہ باقاعدگی سے اس کی احتیاط و حفاظت میں مصروف رہیں
اور چوغہ راہبانہ لباس زیب تن تھا۔ جو عموماً بہت ڈھیلا واقع ہوا ہے اور ویسے بھی وہ بلند اخلاق اعلیٰ چال چلن کی مالکہ تھیں۔ اس لئے نہ ہی کسی کو کچھ شک کرنے کا موقعہ یا تجسس لگانے کا امکان ہوا اور نیز راہبانہ زندگی میں اور مخصوص حجرہ میں کسی کو دخل دینے کا کوئی حق بھی نہ تھا۔ اس لئے یہ بھید سوائے صدیقہ کے اور کو معلوم نہ ہوا اور نہ ہی اس کی ضرورت تھی۔ دن گذرتے گذرتے تمام ہوئے اور اب وہ ساعت سعید قریب آئی جس کے لئے یہ تمام اہتمام کئے گئے تھے۔ جناب زکریا علیہ السلام ومریم صدیقہ کا واقعہ اسی عظیم الشان نشان کی تمہید تھا اور یہ وہ نشان ہے جسے خدائے قدوس نے آیۃ للناس ورحمۃ منا کے نام سے یاد کیا ہے۔ یعنی تمام جہاں کے لئے اس کی قدرت ورحمت کی ایک نہ بھولنے والی یاد ایک نہ فراموش ہونے والا واقعہ ہے۔ جس کو یخلق اللہ ما یشاء کی عملی تصویر اور واللہ علیٰ کل شئی قدیر کا زندہ فوٹو کہنا چاہئے۔ یہ وہ اہم مسئلہ ہے جس میں نصاریٰ ومسلمان وہ دنیا کے کسی خطہ کے ہوں متفق ہیں اور جن کی تعداد ڈیڑھ ارب سے زیادہ ہے۔ ہاں اس واقعہ سے موسیو محمد علی لاہوری امیر جماعت مرزائیہ کو انکار ہے۔ وہ مسیح علیہ السلام کو بن باپ کے نہیں مانتا۔ دیکھو (بیان القرآن ج١ص٢١٣، حاشیہ نمبر٢٤٧) اس میں اس کی ذاتی اغراض مضمر ہیں۔ روپہلی ٹکیوں اور سنہری مصلحتوں سے وہ ڈیڑھ اینٹ کی جداگانہ خانقاہ بسانے پر مجبور ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے:
کی ہویا جے اک جلاہیا ہو بیٹھا انکاری
”فحملته فانتبذت به مكانا قصيا فاجآءها المخاض الى جذع النخلة قالت يلیتنى مت قبل ھٰذا وكنت نسيا منسيا (مریم:٢٢،٢٣)“ ﴿پھر پیٹ میں لیا اس کو پھر یکسو ہوئی اس کو لے کر ایک بعید مکان میں پھر لے آیا اس کو درد زہ ایک کھجور کی جڑ میں بولی کسی طرح میں مرچکتی اس سے پہلے اور ہو جاتی بھول بسری۔﴾
اب اس موعودہ انعام باری کا وقت قریب آیا۔ یعنی مدت حمل اختتام پذیر ہوئی تو جناب مریم کو تشویش ہوئی اور وضع حمل کے لئے وہ مخصوص حجرہ ناکافی سمجھا گیا اور ویسے بھی مقدس ہیکل میں یہ چیز ادب کے منافی تھی۔ اس لئے ضرورت لاحق ہوئی کہ یکسوئی اختیار کی جائے اور خلوت میں یہ کام پورا ہو۔ چنانچہ شرم وحیا نے تقاضہ کیا اور عفت وعصمت منت گذار ہوئی تو جناب مریم نے جنگل کی راہ لی۔ درختوں کے پتوں نے شادیانے بجائے اور طیور خوش نوا نے ترانوں سے لبیک کہا۔ فضا کا ذرہ ذرہ استقبال کے لئے دوڑا۔ ہوا کے خوش گذار جھونکے پاسبان ہوئے۔ رحمت
الٰہی و تائید ربانی نے ساتھ دیا تو جناب صدیقہ نے جنگل کے ایک جھونپڑے کو زینت بخشی اور اس طرح سے خدا کی امانت کو صحرا کی اس شہزادی نے محفوظ کیا۔ اب وضع حمل کے آثار شروع ہوئے اور دل کو بے چینی شروع ہوئی۔ طبیعت نے اس مقید فضا سے نکلنے کا تقاضہ کیا درد نے علاج درمان تلاش کیا۔ وحشت نے جنگل کی راہ بتائی آہ وہ معصوم و عفت مآب دیوی بے مونس و غمگسار انسانی بستی سے دور جنگل میں بھٹکنے لگی۔ فرشتوں نے نظر ترحم سے دیکھا اور کائنات ارضی نے اس کی راہ میں آنکھیں بچھائیں۔ یونہی چلتے چلتے کھجور کے ایک خشک درخت تک پہنچیں تو درد نے جان پر بنا ڈالی۔ اب قدم اٹھانے کی طاقت بھی جاتی رہی اور حواس خمسہ بھی منہ موڑنے لگے۔ جناب صدیقہ پکاریں اے کاش میں اس سے پہلے مرچکی ہوتی اور آج بھولی بسری ہوتی۔ یہ فطرت انسانی کا تقاضہ تھا یا بشریت کی کمزوری۔ بہرحال یہ الفاظ درد و کرب سے بیساختہ منہ سے نکلے اور اس کے ساتھ ہی خدا کی امانت نے کفر کی تاریکیوں کو چاک کیا۔ دریائے رحمت نے انگڑائی لی تو فرشتے نے پردے میں ندا دی۔ گویا غیرت سرمدی کو یہ گوارہ نہ ہوا کہ اس حالت میں کوئی فرشتہ شکل انسانی میں متمثل ہو کر ہم کلام ہو۔ جیسا کہ قبل واقعہ گزر چکا ہے۔ وہاں آپ کی عفاف زندگی کا امتحان مقصود تھا اور یہاں غیرت و ادب کا لحاظ ملحوظ۔ غرضیکہ فرشتے نے پیغام ربانی یوں ادا کیا۔ ”فناداها من تحتها الا تحزنی قد جعل ربك تحتك سريا ٠ وهزى اليك بجذع النخلة تسقط عليك رطبا جنيا ٠ فكلى واشربى وقرى عينا فاماترين من البشر احدا ٠ فقولى انى نذرت للرحمٰن صوما فلن اكلم اليوم انسيا
(مریم: ٢٤ تا ٢٦) ” ﴿ پس آواز دی اس کو اس کے نیچے سے کہ غمگین مت ہو کر دیا تیرے رب نے تیرے نیچے ایک چشمہ اور ہلا اپنی طرف کھجور کی جڑ اس سے گریں گی تجھ پر پکی کھجوریں۔ اب کھا اور پی اور آنکھ ٹھنڈی رکھ۔ پھر اگر تو دیکھے کوئی آدمی تو کہیو میں نے مانا ہے رحمٰن کا روزہ سو بات نہ کروں گی آج کسی آدمی سے۔ ﴾
اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ وہ مقام جہاں جناب مریم نے کرب و بے چینی سے کھجور کی جڑ کا سہارا لیا تھا اور جہاں شدت درد میں زندگی کو موت پر ترجیح دی تھی۔ آہ جہاں بے مونس غمگسار غریب الوطنی و تنہائی و بیکسی کے سوا کوئی ساتھی نہ ہوا۔
ہاں مگر اک دم غریب آتا رہا جاتا رہا
افسوس جہاں سامان ضرورت مفقود و راحت کوسوں دور تھی اور جہاں سب سے بڑھ
کہ ایک مشہور پاک باز عفیفہ کو دینی حیثیت سے آئندہ بدنامی ورسوائی کا تصور کچوکے لگاتا اور دل منہ کو لاتا تھا۔ یہ مقام سطح زمین سے کچھ بلند واقع ہوا تھا۔ یا یوں سمجھئے ایک ٹیلا سا تھا جہاں جناب مریم نے زچگی کے مصائب اور بے سروسامانی کے نوائب برداشت کئے تھے۔ اسی ٹیلے کے نیچے سے ندا آئی کہ اے مریم دامن صبر ورضا کو ہاتھ سے نہ چھوڑ اس قدر غم وفکر میں مبتلا نہ ہو۔ خدا کی رحمتوں ونوازشوں کا مشاہدہ کر نیرنگی قدرت کا تماشہ کر کہ جنابہ ہاجرہ کے نوائب ومصائب کا اختتام آب زم زم سے ہوا تھا اور ایسا ہی چشمہ تمہاری سہولت و آرام کے لئے تمہاری پائیں۔ زمین پر موجیں اور لہریں مار رہا ہے۔ جس کا پانی نہایت شیریں اور سرد ہے اور اس بے برگ وبار کھجور کے تنے کو دیکھ جس کی شادابی مردنی کے لباس میں مدت سے سوچکی تھی اور جس کی جڑیں یاس وناامید کے وقت تو تھامے تھی کس شان بے نیازی سے سبز لباس زیب تن کئے لہرا رہا ہے۔ یقین ہے کہ تیرے قلب حزیں کو ان سے تسکین وتسلی ہوگی اور تمہیں اندوہ کرنے اور غم کھانے کی کیا ضرورت ہے۔ جب کہ تائید ربانی اور فضل رحمانی ہر حال میں تیرے شامل حال ہے اور اے مریم اطمینان وانبساط سے کھا اور پی اور اپنے لخت جگر ونور نظر سے آنکھوں کو سکھ کلیجے ٹھنڈے رکھ۔ اس کے آخر میں پیام ربانی ان الفاظ پر ختم ہوا کہ اے مریم اگر تو اس تنہائی کے موقعہ اور ہو کے عالم میں کسی متنفس کو دیکھے تو اس سے کلام نہ کرنا اور اگر وہ ہم کلام ہونے پہ بضد ہو تو صرف یہ اشارہ کر دینا کہ میں نے رحمٰن پاک کے لئے آج کے دن خاموش رہنے کا عہد مان رکھا ہے۔ اس لئے آج کسی کے استفسار کے جواب میں بھی نہ بولوں گی۔ اللہ اللہ جناب زکریا علیہ السلام نے جب گود بھرنے کی مزید تسلی تشفی کے لئے جناب الٰہی میں نشان طلب کیا تو ارشاد ہوا کہ تو چنگا بھلا تین دن تک کلام نہ کر سکے گا اور جب یہ وقوع میں آئے تو سمجھو کہ مراد بر آئی وہاں تو یہ عالم تھا کہ بولنے پر قادر نہ تھے۔ اس لئے چپ تھے اور یہاں یہ حال ہے کہ قدرت رکھنے پر بھی بولنے کا حکم نہیں۔ یہ خاموشی کا روزہ شریعت محمدیہ میں جائز نہیں۔ مگر دین موسوی میں جائز تھا اور اس پہ عام عمل درآمد ہوتا تھا۔ ”فاتت بہ قومھا تحملہ قالوا یمریم لقد جئت شیئاً فریا ، یٰاُخت ھرون ماکان ابوک امراسُوء وما کانت امک بغیا ، فاشارت الیہ ، قالوا کیف نکلم من کان فی المھد صبیا (مریم:٢٧تا٢٩) “پھر لائی اس کو (عیسیٰ) اپنے لوگوں کے پاس گود میں وہ اس کو کہنے لگے۔ اے مریم تحقیق لائی تو چیز عجب اے بہن ہارون کی نہ تھا۔ باپ تیرا آدمی برائی کا اور نہ تھی ماں تیری بدکار پس اشارت کی طرف اس کے کہا انہوں نے کیونکر کلام کریں۔ ہم اس شخص سے کہ ہے بیچ گود کے لڑکا۔
اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ جس وقت جناب مریم اس اہم کام کو سرانجام دے چکیں۔ یعنی زچگی کے مراحل طے ہوئے اور بدن میں چستی کے آثار دکھائی دیئے اور چلنے پھرنے کی پاؤں میں سکت معلوم ہوئی تو آپ نے خدا کی امانت کلمۃ اللہ روح اللہ کو ایک مصفیٰ سفید کپڑے میں لپیٹ کر گود میں لیا اور اللہ کے پاک نام پر قوم کی طرف چل دیں۔ جب افراد قوم نے دو، ایک دن کی غیر حاضری کے بعد جناب صدیقہ کو کمزور و لاغر حالت میں ڈگمگاتے قدموں سے آتے دیکھا تو وہ بے تابانہ اس کی طرف دوڑے اور جب قریب پہنچے تو دریائے حیرت و استعجاب میں غرق ہوئے۔ انہوں نے دیکھا کہ ہیکل کی سب سے معظمہ زن جس کے زہد و اتقاء کی دھوم کا ایک عالم معترف ہے۔ ایک نوزائیدہ بچہ اٹھائے چلی آرہی ہے۔ وہ تعجب و افسوس سے آپس میں ہم کلام ہوئے۔ کسی نے کہا ایسی ایسی اللہ والیوں کا یہ حال ہو تو عوام کا اللہ ہی مالک ہے۔ کسی نے کہا دیکھو تو اس پارسا چھوکری پر کتنی امیدیں تھیں۔ جن کو ڈبو دیا، کوئی بولا اسی لئے تو ہیکل کی خدمت عورتوں کے سپرد کرنا غلطی ہے۔ غرضیکہ اپنی اپنی عقل و بساط کے مطابق مختلف قیافہ آرائیاں ہوئیں۔ بہت سے عقیدت کیش خاموش رہے۔ بعض نے نگاہ کا دھوکا سمجھا اور بار بار انگلیوں سے آنکھوں کو ملتے ہوئے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھا۔ اسی آزردگی کے عالم میں جناب صدیقہ پاس پہنچ گئیں۔ اکابر قوم نے سختی سے مزاج پرسی کرتے ہوئے کہا کہ یہ طوفان بدتمیزی کیوں اٹھایا۔ اپنی عصمت و عفت کو چار چاند لگانے والی نیک بی بی ہماری ناک بھی صفائی سے کاٹ گئی۔ مقدس ہیکل کی عظمت کو بٹہ لگا۔ غرضیکہ طرح طرح کے ناپاک جملے کسے گئے اور اس کے بعد واقعۂ حال کی سختی سے جواب طلبی کی اور سلسلۂ کلام کو یوں شروع کیا کہ اے مریم تو نے یہ کیا کیا۔ تیری اس عجیب حرکت کا جس قدر بھی ماتم کیا جائے کم ہے۔ حالانکہ تو بلند مرتبت خاندان کی چشم و چراغ ہے۔ تیرا بھائی ہارون کیسا صالح تھا۔ تیرا باپ کس قدر متقی و پرہیزگار تھا۔ تیری ماں بھی نہایت شریف اللہ والی نیک بی بی تھی۔ یہ تجھ کو کیا ہوا جواب دے۔ بولتی کیوں نہیں۔ جواب کیوں نہیں دیتی کیا بہری ہو گئی یا سوجھائی نہیں دیتا۔ یہ کس قدر طوطا چشمی ہے ہم تم سے پوچھتے ہیں اور تو جواب ہی نہیں دیتی۔ بتا اور جلد بتا یہ بچہ کیسا ہے کس کا ہے اور تو نے کنوار پن کے عہد کو کیوں توڑا۔ مقدس ہیکل کے نام پر کیوں بٹہ لگایا۔
اس کے جواب میں تصویر درد جو ساکت و صامت کھڑی کھڑی تھی حرکت میں آئی اور انگلی شہادت سے خدا کی امانت کی طرف اشارہ کیا کہ جو کچھ بھی پوچھنا ہو اس سے پوچھ لو۔ اکابر قوم اور زیادہ برہم ہوئے اور غصے میں لال پیلے ہو کر بولے ہم اس بچہ کو کس طرح پوچھ سکتے ہیں۔ جو ابھی تیری گود میں ہے۔ یعنی وہ بچہ جو طرز تکلم سے آشنا نہیں وہ ہم کو بھلا کیا جواب دے سکتا ہے اور تو ہمیں یہ
کہہ کر (اشارہ) اور زیادہ استہزاء کرتی اور دکھ دیتی ہوئی ہمارے جذبات کو چیلنج کرتی ہے۔ جناب صدیقہ کے اس اشارے نے قوم کے جذبات میں ہیجان پیدا کر دیا۔ وہ جوش انتقام میں بھڑک اٹھے۔ قریب تھا کہ یہ معاملہ ہنگامی صورت اختیار کر لیتا۔ کیونکہ بظاہر اس کے تمام آثار پیدا ہو چکے تھے۔ ماتھوں پہ شکن، چہرہ پہ غضب، دل میں آگ، بدن میں جھنجھلاہٹ، خون میں جوش اور جوش میں انتقام ابل پڑا تھا۔ بھوئیں تن چکی تھیں۔ منہ سے بڑبڑانے اور غرغرانے کی آوازیں شروع ہی ہوئی تھیں کہ غیرت سرمدی جوش رحمت کے لباس میں نمودار ہوئی۔ زچہ کی عصمت مآبی کے لئے بچہ سے زیادہ اور کون سی بہتر شہادت ہو سکتی تھی اور یہی وجہ ہے جو جناب صدیقہ کو خاموش رہنے کی تلقین کی گئی تھی اور استفسار کے موقعہ پر اشارے ہی پر اکتفا کرنا موزوں سمجھا گیا۔ چنانچہ مشیت الٰہی کلمۃ اللہ کے پیکر میں یوں گویا ہوئی۔
”قال انی عبداللہ اتٰنی الکتٰب وجعلنی نبیا ٠ وجعلنی مبارکا این ما کنت واوصٰنی بالصلوٰۃ والزکوٰۃ مادمت حیا ٠ وبرا بوالدتی ولم یجعلنی جباراً شقیا ٠ والسلٰم علی یوم ولدت ویوم اموت ویوم ابعث حیا (مریم: ٣٠ تا ٣٣)“ ﴿کہا تحقیق میں بندہ اللہ کا ہوں دی ہے مجھ کو کتاب اور کیا ہے مجھ کو نبی اور کیا ہے مجھ کو برکت والا جہاں ہوں میں اور حکم کیا ہے مجھ کو ساتھ نماز کے اور زکوٰۃ کے جب تک رہوں میں جیتا اور خوش سلوک ساتھ ماں اپنی کے اور نہیں کیا مجھ کو سرکش وبد بخت اور سلام ہے اوپر میرے جس دن پیدا ہوا میں اور جس دن مروں گا میں اور جس دن اٹھوں گا میں زندہ ہو کر۔﴾
اللہ اللہ کیسا شافی و پر حکمت جواب ہے اور وہ بھی اس زبان سے جو طرزِ تکلم سے محض نا آشنا تصنع سے خالی اور بناوٹ سے کوسوں دور ہے اور اس سے بڑا اعجاز اور کیا ہو سکتا ہے کہ وہ بچہ جو ابھی نیکی و بدی میں تمیز کرنا تو کجا اپنے دکھ درد کا اظہار کرنے یا تکلیف کا باعث سمجھنے سے قاصر و عاجز ہے واللہ باللہ اس عمر میں صرف کلام کرنا ہی اتنا بڑا معجزہ ہے کہ بڑے سے بڑے شقی کا منہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند ہو جاتا ہے۔
جناب کلمۃ اللہ نے صرف بریت ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ مشیت ایزدی نے روح اللہ سے وہ وہ کلمات بلوائے جن سے رہتی دنیا تک کے معترضین بشرطیکہ ان میں دیانت وانصاف کا تھوڑا سا مادہ ہو اور عقل سلیم اور فکرِ فہیم بالکل کنارہ کش نہ ہو چکی ہو وہ تھوڑے سے تدبر اور معمولی سے تفکر کے بعد اس نتیجے پر پہنچے بغیر نہ رہ سکے گا کہ ان کی پیدائش بدوں مس بشر محض قدرتِ کاملہ
سے بطور نشان معرض ظہور میں آئی۔ سب سے پہلی چیز جو آپ نے بیان کی وہ نصاریٰ کے عقائد کا بنیادی پتھر ہے۔ یعنی ابن اللہ کی تردید آپ نے کہا یہ حقیقت نفس الامری ہے کہ میں اللہ کا بیٹا نہیں ہوں۔ بلکہ بندہ ہوں ہاں یہ اس کا انعام ہے کہ اس نے مجھ کو صاحب کتاب نبی بنایا ہے۔
اس کے بعد اپنے غلام ہونے کے دلائل پیش کئے۔ سب سے پہلے خدا کی اس عنایت ومہربانی کا تذکرہ کیا جو مخصوص انعام آپ کی ذات سے وابستہ ہے۔ ”وجعلنی مبارکا“ یعنی خدا کی تائید وبرکت میرے شامل حال ہے۔ جہاں بھی میں رہوں اس کا فضل واحسان تائید وحمایت ہر حال میں میری ساتھی ہے۔ یعنی وہ میرا آقا ومولا ایسا مہربان وشفیق ہے جو ہر ابتلاء ومصیبت کے وقت بھی مجھ کو نہیں بھولتا۔ بلکہ میری ہر آن میں مددونصرت کرتا ہے یا یہ کہ میرے وجود میں بعض ایسے خواص ودیعت فرما دیئے گئے ہیں جو ہر مشکل کے وقت اس کی مہربانی سے خود بخود میری مدد کرتے ہیں اور اسی نعمت ورحمت کے تقاضے میں اس نے مجھے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ بندہ ہونے کا عملی ثبوت دوں۔ چنانچہ اسی لئے اس نے مجھے نماز پڑھنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم دیا ہے اور یہ قید میری زندگی سے وابستہ ہے۔ یعنی جب تک میں جیتا رہوں اس پر پورا پورا عامل رہوں اور اس نے مجھے یہ بھی حکم دیا ہے کہ میں اپنی ماں کا پورا پورا تابعدار رہوں اور نیک سلوک کروں اور اس کا مجھ پر یہ بھی احسان ہے کہ اس نے میرے وجود میں وہ مادہ جو سرکشی وطغیانی کی طرف رجوع کراتا ہے نہیں رکھا۔ بلکہ اس کے برعکس اس نے مجھ میں اطاعت کیش وفرمانبرداری کے جوہر بھر دیئے ہیں اور بدبختی ونامرادی کو مجھ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دور کر دیا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس نے میری سلامتی کا وعدہ میری پیدائش سے لے کر میری موت تک اور موت سے لے کر میرے جی اٹھنے تک کا کیا ہے۔ یعنی اس کا سلام و پیام میرے شامل حال ہے۔ یعنی اس کی تائید وحمایت میرے ہر سانس کے ساتھ وابستہ ہے۔ یعنی میں جیتے بھی اس کا ہوں اور مر کر بھی اسی کا ہوں اور جب دوبارہ اٹھایا جاؤں پھر بھی اسی کا ہوں اور یہ تمام انعام واکرام وفضل ایزدی ہر زمانہ میں ۔ میں جہاں بھی ہوں اور جس حال میں ہوں میرے ساتھ ہیں۔
تفصیل اس کی یہ ہے کہ دراصل یہ ایک انعامی وعدہ ربانی ہے جو روح اللہ کے ساتھ اس وقت کیا جا رہا ہے جب کہ وہ ابھی صرف تین دن کے شیر خوار بچے ہیں اور لطف یہ کہ اس کا اقرار انہی کی زبانی کرایا جا رہا ہے۔ اس میں چند چیزیں ایسی ہیں جن کا بہت کچھ تعلق زمانہ حال کے ان بزرگ نما مولوی منش پادریوں سے ہے۔ جو ممات مسیح کے قائل اور بدوں مس بشر کے منکر ہیں۔ میرا یہ خطاب قادیانی ولاہوری دونوں جماعتوں سے ہے۔ اوّل الذکر ممات مسیح کی علمبردار
اور بلا باپ کی قائل ہے۔ لیکن مؤخر الذکر کا تو کچھ نہ پوچھو۔ بے پیندے کا لوٹا ہے۔ جس کی سیمابی حالت کو قرار ہی نہیں۔ وہ جہاں حیات مسیح کے قائل نہیں وہاں بدوں مس بشر یعنی اس اعجازی پیدائش کو بھی آیات اللہ نہیں مانتی۔ بلکہ یہود نامسعود کے نقش قدم پہ چلتی ہوئی کوئی دو ہاتھ آگے ہی نکل جاتی ہے۔ حالانکہ ان کا مسیح یعنی قادیان کا جھوٹا نبی بھی ان کے اس نظریے سے بیزار ہے۔ پادری محمد علی جب تک قادیان میں مرزا قادیانی کی زندگی میں لنگر کے ٹکڑے توڑتے رہے۔ برابر متفق چلے آئے۔ ان دنوں آپ کے ہاتھ میں مرزائی گزٹ کی باگ ڈور تھی۔ جس میں نت نئے الہام ڈنکے کی چوٹ مارکیٹ اور عام منڈیوں میں لانے کے لئے تشہیر کئے جاتے تھے اور مرزائی عقائد کی نشر و اشاعت کی ٹھیکیداری کرتے ہوئے بیسیوں مضامین اسی شک میں یعنی بن باپ ولادت پر آپ نے اپنی قلم سے لکھے۔ ١٩٠٨ء عیسوی میں مرزا قادیانی نے انتقال کیا تو یار لوگوں کو امارت کی امیدواری ہوئی۔ مگر دن پورے نہ ہونے کی وجہ سے ناکام رہے۔ اس کے بعد ١٩١٣ء تک آپ کا یہی عقیدہ تھا کہ جناب مسیح علیہ السلام آیات اللہ ہیں اور بن باپ کے ہیں۔ مگر جونہی ڈیڑھ اینٹ کی خانقاہ میں سنہری مرغ آنے شروع ہوئے آپ نے بھی جدت اختیار کرتے ہوئے سرے سے مسئلے کا انکار کر دیا۔ میرے خیال میں جس کام کو مرزا آنجہانی ناتمام چھوڑ گئے تھے۔ آپ نے تمام کیا اور ہو سکتا ہے کہ قادیانی فرشتے اب احمدیہ بلڈنگ پر نزول اجلال فرماتے ہوں اور چونکہ آپ مرزا قادیانی کے روحانی بیٹے اور مشیر خاص ہیں۔ اس لئے اسی مناسبت سے وہ جاتے جاتے کوئی کانا پھوسی کر جاتے ہوں۔ بہر حال یہ تو ایک ضمنی بات تھی جو بیچ میں آگئی۔
جنابہ صدیقہ کی بریت احسن طریق پر ہو چکی۔ ان کی اپنی قوم کا یہ کہنا کہ تیرا بھائی ماں اور باپ نہایت نیک متقی پرہیزگار تھے۔ گویا اس بات کا اعتراف تھا کہ تو اور تیرا تمام خاندان نہایت شریف اور خدا کے پسندیدہ بندوں میں سے ہے۔ مگر تعجب یہ ہے کہ تو تارک الدنیا ہوتے ہوئے بھی ایک ایسے فعل کی مرتکب ہوئی جو ہر لحاظ سے قابل شرم ہے۔ کیونکہ ہیکل کے خدمت گار لذات دنیوی سے کنارہ کش و متنفر رہنے کا عہد کرتے ہوئے دم واپسیں تک اسی عزم پر ڈٹے رہتے ہیں ان کو ازدواجی زندگی میں منسلک ہونا یا کسی سے رشتہ الفت پیدا کرنا یا کسی کا ناکح یا منکوحہ بننا سنت موسوی میں قطعاً حرام و قابل شرم ہے۔ دراصل ان کا یہ تعجب حقیقت پر مبنی تھا اور ہر شریف قوم کے افراد واقعہ حالہ پر یونہی اظہار تعجب کیا کرتے ہیں۔ مگر جب اس کی بریت ایک نہایت معصوم و شیر خوار بچہ نے کی تو خالق کی اس عجوبہ نمائی نے ورطہ حیرت میں غرق عقل و خرد سے مجبور خوض و فکر سے معذور محو تماشہ کر دیا۔ وہ حیران و ششدر نظریں پھاڑ پھاڑ کر ندیدی آنکھوں سے دیکھا کئے اور
ہے۔ لیکن مؤاخر الذکر کا تو کچھ نہ پوچھو۔ بے پیندے کا لوٹا ہے۔ جس کی نہیں۔ وہ جہاں حیات مسیح کے قائل نہیں وہاں بدوں مس بشر یعنی اس اعجازی نہیں مانتی۔ بلکہ یہود نامسعود کے نقش قدم پر چلتی ہوئی کوئی دو ہاتھ آگے ہی زمان کا مسیح یعنی قادیان کا جھوٹا نبی بھی ان کے اس نظریے سے بیزار ہے۔ قادیان میں مرزا قادیانی کی زندگی میں لنگر کے ٹکڑے توڑتے رہے۔ برابر دنوں آپ کے ہاتھ میں مرزائی گروہ کی باگ ڈور تھی۔ جس میں نت نئے مارکیٹ اور عام منڈیوں میں لانے کے لئے تشہیر کئے جاتے تھے اور مرزائی کی ٹھیکیداری کرتے ہوئے بیسیوں مضامین اسی مسلک میں یعنی بن باپ اپنے قلم سے لکھے۔ ١٩٠٨ء عیسوی میں مرزا قادیانی نے انتقال کیا تو یار لوگوں کو سوجھی۔ مگر دن پورے نہ ہونے کی وجہ سے ناکام رہے۔ اس کے بعد ١٩١٣ء یہ کہ جناب مسیح علیہ السلام آیات اللہ ہیں اور بن باپ کے ہیں۔ مگر جونہی سنہری مرغ آنے شروع ہوئے آپ نے بھی جدت اختیار کرتے ہوئے کر دیا۔ میرے خیال میں جس کام کو مرزا آنجہانی ناتمام چھوڑ گئے تھے۔ لگتا ہے کہ قادیانی فرشتے اب احمدیہ بلڈنگ پر نزول اجلال فرماتے ہوں گے۔ آپ ان کے روحانی بیٹے اور مشیر خاص ہیں۔ اس لئے اسی مناسبت سے وہ آکر جاتے ہوں۔ بہر حال یہ تو ایک ضمنی بات تھی جو بیچ میں آ گئی۔ تربیت احسن طریق پر ہو چکی۔ ان کی اپنی قوم کا یہ کہنا کہ تیرا بھائی ماں پرہیز گار تھے۔ گویا اس بات کا اعتراف تھا کہ تو اور تیرا تمام خاندان پسندیدہ بندوں میں سے ہے۔ مگر تعجب یہ ہے کہ تو تارک الدنیا ہوتے ہوئے اس فعل کی مرتکب ہوئی جو ہر لحاظ سے قابل شرم ہے۔ کیونکہ ہیکل کے خدمت گار عمر بھر رہنے کا عہد کرتے ہوئے دم واپسیں تک اسی عزم پر ڈٹے رہتے ہیں۔ ان کا منسلک ہونا یا کسی سے رشتہ الفت پیدا کرنا یا کسی کا ناکح یا منکوحہ بننا قابل شرم ہے۔ دراصل ان کا یہ تعجب حقیقت پر مبنی تھا اور ہر شریف قوم اظہار تعجب کیا کرتے ہیں۔ مگر جب اس کی بریت ایک نہایت معصوم بچے کی اس عجوبہ نمائی نے ورطہ حیرت میں غرق عقل وخرد سے مجبور خوض وفکر کر کے انسان حیران وششدر نظریں پھاڑ پھاڑ کر ندیدی آنکھوں سے دیکھا کئے اور
جناب کلمتہ اللہ اپنی نبوت کی بشارات اطمینان سے سناتے رہے۔ اب کون سا ایسا بد بخت باقی تھا جو زبان طعن دراز کرتا اور کسی کو جرأت تھی کہ وہ جناب صدیقہ سے کچھ مزید کہنے کی ہمت کرتا۔ قرآن کریم کی یہاں تک واقعہ بیانی کرنے کے بعد خاموشی اختیار کرنے کے یہ معنی سمجھے جاتے ہیں کہ تمام معترضین اطمینان قلب لے کر اٹھے اور روح اللہ کی پیدائش کو کرشمہ قدرت یا اعجاز الہی سمجھے۔
یہاں تک واقعہ بیان کرنے کے بعد ارشاد ہوتا ہے۔ ”ذلك عيسى ابن مريم قول الحق الذى فيه يمترون ما كان لله (مریم: ٣٤، ٣٥) ”یہ ہے عیسیٰ مریم کا بیٹا۔ سچی بات جس میں لوگ جھگڑتے ہیں۔ اللہ ایسا نہیں کہ رکھے اولاد، وہ پاک ذات ہے جب ٹھہرا لیتا ہے کسی کام کو کرنا سو یہی کہتا ہے اس کو کہ ہو وہ ہو جاتا ہے اور کہا بے شک اللہ ہے رب میرا اور رب تمہارا سو اس کی بندگی کرو۔ یہ ہے راہ سیدھی پھر بھی جدی جدی راہ اختیار کی۔ فرقوں نے ان میں سے سو خرابی ہے۔ منکروں کو جس وقت دیکھیں گے ایک دن بڑا۔ کیا خوب سنتے اور دیکھتے ہوں گے جس دن آئیں گے ہمارے پاس لیکن بے انصاف آج کے دن بہک رہتے ہیں اور ڈر سنا دے ان کو اس پچھتاوے کے دن کا جب فیصل ہو چکے گا کام اور وہ بھول رہے ہیں اور وہ یقین نہیں لاتے۔ ہم وارث ہوں گے زمین کے اور جو کوئی ہے اس پر اور وہ ہماری طرف پھر آئیں گے۔“
ارشاد ہوتا ہے اے محمد ﷺ یہ ہے وہ قطعی ویقینی سچا واقعہ جس میں خواہ مخواہ لوگ فضول جھگڑتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کس چیز کو سچی بات قرار دیا اور کس معاملے میں لوگ جھگڑتے تھے۔ تاریخ عالم کی اوراق گردانی کرنے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ یہود ونصاریٰ کا جھگڑا دو باتوں میں ہمیشہ سے چلا آیا ہے۔ ایک حیات و ممات مسیح کا اور دوسرا ابن اللہ کا ۔ چنانچہ فرقان حمید نے جہاں دیگر مسائل و عصمت انبیاء پر روشنی ڈالی ہے وہاں ان دو مسئلوں کا بھی شافی جواب دیا ہے۔ اوّل الذکر کے لئے تو یہ کتاب لکھی جا رہی ہے۔ اس لئے انشاء اللہ اسی چیز پر سیر حاصل بحث و تمحیص کی جائے گی۔ سردست اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ یہود کا خیال تھا کہ مسیح کو مصلوب و قتل کر دیا گیا اور وہ لعنتی موت مرا ۔ نصاریٰ نے اسی مسئلے کو کفارہ کے نام سے رائج کرتے ہوئے اپنی نجات کا باعث سمجھ لیا۔ گویا دونوں نے مصلوب و قتل کا اقرار کیا۔ فرقان حمید نے قرآن ناطق کی زبان فیض ترجمان سے اس کی پر زور تردید کرائی اور قتل و مصلوب ہونے کی نفی کی۔ دوسرا مسئلہ ابن اللہ کا تھا۔ جس کا دندان شکن جواب دیتے ہوئے طرح طرح سے مثالیں دے کر سمجھایا ۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے کہ ”ان مثل عيسى عند الله كمثل آدم خلقه من تراب ثم قال له كن فيكون
(آل عمران: ٥٩) ” ﴿عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک ایسی ہے جیسے آدم کی۔ پیدا کیا اس کو مٹی سے پھر کہا اس کو ہو جا پس وہ ہو گیا۔ ﴾
یعنی جناب روح اللہ کی اعجازی پیدائش میں شیطانی وساوس میں آنے والو گندے مادہ کے ناپاک قطرہ اتنی سی بات پر تمہارے بودے دماغ اور محدود عقل سٹھیا اٹھی کہ بلا باپ کے بچہ کیسے پیدا ہوا۔ ہماری قدرت و طاقت کا احاطہ کرنے والو عقل کے ناخن لو اپنی بے بسی و ناتمامی کو سوچو اور سینے پر ہاتھ رکھ کر کہو کہ آدم کو کون سی ماں نے جنا اور کون سے باپ نے رجولیت کا اظہار کیا۔ وہ تو ماں اور باپ دونوں ہی نہ رکھتے تھے۔ جب ہم اس بات پر قادر ہیں کہ بلا ماں اور بغیر باپ تمہارے جد امجد کو عالم عدم سے عالم وجود میں لے آئیں تو کیا اب ہماری طاقت کمزور ہو گئی ہے یا تمہارے خیال میں ہم پر بڑھاپا غالب آ گیا ہے یا ہمارے اختیارات سلب ہو چکے ہیں یا کون سی چیز کی کمی ہے جو ہم پر طاری ہو چکی ہے جو ہم اب ایسا کرنے سے قاصر ہو چکے۔ عقل کے اندھو اور قسمت کے کھوٹو ہم تمہاری طرح معذور و مجبور نہیں بلکہ ہم ”والله على كل شئی قدیر (آل عمران: ٦٩) “ ہیں یعنی ہم ہر ایک چیز پر قادر و مالک ہیں۔ ”يخلق ما يشاء “ ہیں جو چاہتے ہیں پیدا کرتے ہیں۔ ” يفعل ما يشاء “ ہیں جو چاہتے ہیں کرتے ہیں۔ ” لا يسئل عما يفعل وهم يسئلون “ ہیں ہماری کارکردگی پر کوئی ہم سے پوچھنے والا نہیں۔ یہ ہمارے مستعار و بخشش کئے ہوئے مال پر چند دن کے لئے اترانے والو ہماری ذات پاک تو وہ ہے ”ان يشاء يذهب كم ويات بخلق جديد وما ذالك على الله بعزيز (فاطر:١٦، ١٧) “ اگر ہم چاہیں تو آن واحد میں یہ تمہارے مال اور اونچے اونچے محل یہ باغ و چشمے یہ خزانے اور آرام دہ چیزیں اور اس کے علاوہ تمام وہ چیزیں جو روئے زمین کی زینت ہیں اور تمہاری جانیں بھسم کر دیں اور طرفۃ العین میں ایسی ہی ایک اور مخلوق اور سامان آرائش و رہائش پیدا کرنے اور بسانے پر کلی طور پر مختار ہیں اور تم سمجھتے ہو کہ یہ بڑا مشکل و اہم کام ہو گا۔ نہیں یہ تو بہت ہی آسان ہے۔ کیونکہ ہم تمہاری طرح نکمے وسائل اور بودے قوانین کے تابع نہیں۔ ہم تو جب ارادہ کرتے ہیں کسی امر کا تو اتنا ہی کافی ہے جو کہہ دیا جاتا ہے ہو جا۔ بس وہ فوراً ہو جاتا ہے۔ ”اذا اراد شيئا ان يقول له كن فيكون (یسین: ٨٢) “ اور جب کہ ہم ہر طرح سے مالک و مختار ہیں تو تم پوچھنے والے کون کہ بدوں مس بشر مسیح کیونکر پیدا ہوئے۔ یہ تو ہماری قدرت کاملہ و حکمت بالغہ کا ادنیٰ نمونہ ہے۔ عزیر علیہ السلام کے واقعہ پر غور کرو۔ جب وہ ایک کھنڈر جیسی بد نصیب و اجڑی بستی پر سے گزر رہے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ مکان اپنے چھتوں پر گرے پڑے ہیں اور مکین موت کی گہرائیوں میں میٹھی نیند
سورہے ہیں۔ کم بختی و نامرادی چھاتی پیٹ پیٹ کر ان کا ماتم کر رہی ہے اور ” لـمـن المـلـك الـيـوم (مومن:١٦)“ کا سماں بندھ رہا ہے۔ ان حالات سے وہ ایسے متاثر ہوئے کہ بشریت کے تقاضے میں ہم سے سوال کیا مولا اس اجڑی بستی اور اس کے مکینوں کو کس طرح زندہ کرے گا۔ ہم نے ان کے اطمینان قلب اور کرشمہ قدرت دکھانے کے لئے ان کو موت کی گہری نیند سلا دیا وہ برابر سو سال سویا کئے۔ اس کے بعد ہم نے ان کو دوبارہ زندگی بخشی اور ان سے پوچھا عزیر بھلا بتاؤ تو کتنے مدت آرام کیا بولے ایک دن یا کچھ کم۔ ارشاد ہوا اپنا کھانا اور پینا ملاحظہ کرو اور جب کیا، کھانا گرم تھا اور پانی میں بوسیدگی کا شائبہ تک نہ تھا۔ پھر حکم دیا اپنے گدھے کو تو دیکھو تعمیل ارشاد کی تو دیکھا کہ بوسیدہ و کرم خوردہ ہڈیوں کا ڈھانچہ ہے۔ حیرانگی ہوئی کہ کھانا گرم اور پانی صحیح ہے مگر یہ گدھے پہ کیا آفت پڑی جو اس کا گوشت پوست تو کیا ہڈیاں بھی مٹی ہو رہی ہیں۔ ارشاد ہوا عزیر تعجب نہ کرو اور اطمینان قلب کے لئے قدرت کی کرشمہ سازیاں مشاہدہ کرو وہ دیکھو ہڈیاں گوشت و پوست سے کس عجلت کے ساتھ ملفوف ہو رہی ہیں۔ پھر کیا تھا چند ساعتوں میں وہ جیتا جاگتا بولتا چلتا گدھا تھا۔ جناب عزیر سجدہ شکر میں گرے اور عرض کی ”قال اعلم ان الله على کل شئی قدیر “ ایسے ایسے اور سینکڑوں واقعات فرقان حمید میں شرح وبسط سے مذکور ہیں۔ ”تکاد السمٰوت يتفطرن منه وتنشق الارض وتـخـر الـجـبـال هـدا ان دعوا للرحمٰن ولدا (مریم: ٩٠، ٩١)“ چنانچہ سختی سے ابن اللہ ہونے کی تردید کی اور فرمایا ہماری غیرت کو جوش غضب میں لانے کے لئے اس سے زیادہ اور کوئی کلمہ نہیں۔
اس کلمہ کفر کے اعادہ سے قریب ہے کہ آسمان پھٹ جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں یہ تمام وقوع عمل میں آسکتے ہیں۔ مگر رحمان پاک کے لئے اولاد کا نسبت کرنا غیر ممکن نہیں۔ بلکہ محال ہے اور یہ ہو بھی کیسے سکتا ہے جب کہ اس کی کوئی مثال ہی نہیں کوئی نظیر ہی نہیں۔ ”ولا مثال له ولا نظير له “ اور جب کہ اس کی مثال دی ہی نہیں جاسکتی۔ ليس كمثله شئى!
اسی لئے زبان فیض ترجمان سے ہزاروں دفعہ اس کی تردید کرائی۔ مثلاً ”قـل هو الله احد الله الصمد لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا احد (سورة اخلاص) “ اور یہی وجہ ہے کہ سرکار مدینہ نے اپنی ساری زندگی میں کوئی ایسا خطبہ یا وعظ نہیں کہا۔ جس میں توحید باری کو ایک اہم امتیازی رتبہ نہ دیا ہو۔ اللہ اللہ توحید کے اس شیدائی نے مدتوں ”من قال لا الـه الا الله فـدخل الجنة “ کی صدائیں لگائیں۔ یعنی اے لوگو! جس کسی نے بھی خدائے واحد کی توحید کا اقرار کیا اور عامل رہا گویا اس نے اپنا ٹھکانا جنت میں بنالیا۔ یہی نہیں بلکہ
آپ نے اہل کتاب کو متعدد دعوتیں دیں اور کہا ”قل يا اهل الكتاب تعالوا الى كلمة سواء بيننا وبينكم (آل عمران: ٦٤)“
کہہ دے تو یا رسول اللہ آؤ طرف بات کے جو برابر یعنی مشترک ہے ہمارے اور تمہارے میں یہ کہ نہ شریک کریں عبادت میں کوئی معبود سوائے اللہ کے غرضیکہ سارا قرآن مجید توحید ربانی سے بھرا پڑا ہے اور یہی ایک امتیازی چیز ہے جو تمام ادیان پر اسلام کو فوقیت دیتی ہے۔ گو نواہی معصیت کے فوٹو اور گناہ کی عملی تصویریں ہیں اور ان کی سزائیں گناہ کے نوعیت پر کم و بیش مختلف ہیں۔ لیکن قابل عفو ہیں وہ معاف کی جاسکتی ہیں اور رحمت کردگار اپنی بے پایاں رحمت کے تصدق میں ان میں بہتوں کو معاف کردے گی اور ان افعال قبیحہ کے مرتکب دامان سرکار مدینہ سے بالکل قطع نہ ہوسکیں گے۔ بلکہ جناب رحمت اللعالمین شفاعت کے موقعہ پر ان کی سفارش فرمائیں گے۔ مگر آہ وہ بدبخت و بدنصیب جو شرک کے چنگل میں پھنسے اور اللہ تعالیٰ کی واحدانیت میں ایک رائی کے دانا کے برابر بھی کسی کو اس کا شریک بنایا مثلاً ذات باری کی مختص صفات میں اس کا کسی کو ساجھی بنایا وہ دیوی ہو یا دیوتا وہ پیر ہو یا پیامبر وہ جن ہو یا فرشتہ کوئی نہیں جو کسی کو مار یا جلا سکے۔ کس کو طاقت ہے کہ کسی کو بیٹا یا بیٹی دے۔ کون سا سورما و بہادر ہے جو مینہ برسائے اور پھل پھول ڈال پات پیدا کرے۔ کوئی نہیں جو کل کی خبر جانے یا ماں کے پیٹ میں بچی یا بچہ پہچانے۔ کون جانتا ہے کہ قیامت کب آئے گی۔ کس کو معلوم ہے کہ کب اور کہاں مرے گا۔ کون سا ایسا پیل تن ہے جو مکھی یا مچھر کا پر پیدا کرے کوئی نہیں جو مکھی کا اٹھایا ہوا کھانا اس سے چھین کر واپس لے سکے۔ یہ سب طاقتیں اور قدرتیں اللہ ہی کو سزاوار ہیں۔ جس کے لئے تمام عبادتیں اور ریاضتیں اور تمام اچھے اچھے اور پاکیزہ نام بلند کئے جاتے ہیں۔ چنانچہ شرک وہ نامراد ولا علاج بیماری ہے جس کا بیمار کبھی اچھا نہیں ہوتا۔ یہ وہ نجس و ناپاک جنس ہے جو ایمان کو ہڑپ کر جاتی ہے اور ڈکار تک نہیں لیتی چنانچہ ارشاد ہوتا ہے کہ:
”ان الله لا يغفر ان يشرك به ويغفر مادون ذلك لمن يشاء (نساء: ٤٨)“ ﴿تحقیق اللہ تعالیٰ نہیں بخشے گا شرک کو اور بخش دے گا اس کے سوا اور جس کو چاہے گا۔﴾
اس لئے جناب مسیح کو خدا کہنا یا خدا کا بیٹا قرار دینا صریح کفر اور گناہ عظیم ہے۔ مبارک ہیں وہ لوگ جو اس سے اجتناب کرتے ہیں۔ چنانچہ اسی لئے جناب مسیح کی زبانی کھلے لفظوں میں اس کا اعتراف کراتے ہوئے اعلان کرایا کہ میرا اور تمہارا ایک ہی خدائے واحد ہے جو تمام عالم کی
ربوبیت فرماتا ہے۔ اس لئے ہم سب کو اسی کی بندگی سزاوار ہے اور یہی سیدھا راستہ ہے جو جنت کو جاتا ہے اور خدا کی خوشنودی کو حاصل کرتا ہے۔ مگر افسوس باوجودیکہ پے در پے پیامبر بنی اسرائیل کی رشد و ہدایت کے لئے مبعوث ہوئے اور ہزاروں معجزات مشاہدے میں آئے مگر تاریکی کے فرزند خیرہ چشم ہی رہے۔ نیز ہدایت اور کوکب رسالت پوری آب تاب سے جلوہ فگن ہوئے۔ مگر کور باطنی نے صداقت و دیانت سے کوسوں دور ہی رکھا۔ نصاریٰ نے اس اعجازی آیات اللہ کو ابن اللہ قرار دیا اور توحید باری تعالیٰ کو تین حصص میں برابر تقسیم کر دیا۔ یعنی باپ، بیٹا اور روح القدس۔ یہود نامسعود نے جناب صدیقہ کی شان میں نہایت اوباشانہ و سخت کلمات استعمال کئے اور جناب مسیح کو نعوذ باللہ خاکم بدہن ہزار بار توبہ اللہ معاف کرے ولد الزنا ٹھہراتے ہوئے خدائے جبار کے غضب کو چیلنج کیا۔ اس طرح سے مختلف خیالات میں بٹے اور صحیح راستے سے بھٹک گئے اور باوجودیکہ دیدہ وا کئے حواس خمسہ کے صحیح ہوتے ہوئے وہ اس اعجازی تکلم کو مشاہدہ کر چکے تھے۔ لیکن دل کی آنکھیں اندھی کی اندھی رہ گئیں۔ ارشاد ہوتا ہے اے محمدﷺ یہ لوگ جو ہمارے معجزات کا انکار کر رہے ہیں ان کے لئے روز جزا میں از حد خرابی ہے۔ کاش کہ وہ اس بڑے دن کا خیال کرتے کہ جب تمازت آفتاب جان پر بنا ڈالے گی۔ جہاں مال کام آئے گا نہ اولاد۔ جہاں باپ بیٹے سے اور بیٹا باپ سے متنفر ہوگا اور ماں بچے کو دودھ پلانا بھول جائے گی۔ جہاں کوئی ساتھی ہوگا نہ رفیق، نہ عاشق نہ معشوق۔ ہر متنفس کی جان منہ کو آئی ہوگی۔ مگر تمنا پھر بھی نہ نکل سکے گی۔ جہاں سوائے عرش کے کوئی سایہ نہ ہوگا۔ جہاں عام لوگ باولے اور پیمبر نفسی نفسی پکاریں گے۔ ہاں ایک اور صرف ایک ایسی ذات ہوگی جو یا رب امتی یا رب امتی کا اعادہ کرے گی۔ لوگ اپنی جان کی فکر کریں گے اور وہ غم امت کا مداوا تلاش کرے گی۔ خدائے جبار تخت عدالت پر جلوہ افروز ہوگا اور میزان اعمال لوگوں کے حساب کرے گی۔ آہ وہ ایسا سخت دن ہوگا جس میں جوانی بڑھاپے میں اور سیاہی سفیدی میں بدل جائے گی اور اے میرے حبیب! اس دن یہ لوگ جنہوں نے انبیاء کی تکذیب اور آیات کی تحقیر کی ہوگی اپنے ہاتھوں کو کاٹیں گے اور کئے پر پچھتائیں گے۔ مگر اس سے کچھ نفع حاصل نہ ہوگا۔ ہاں وہ لوگ اس سے مبرا ہیں جو قلب سلیم لے کر آئیں گے۔ اس دن یہ مغضوب لوگ خوب دیکھتے اور سنتے ہوں گے۔ یعنی ان کی آنکھیں اور کان قوت سامعہ اور باصرہ سے اپنے سابقہ واقعات کو دل کی آنکھوں اور دل کے کانوں سے سن اور دیکھ رہے ہوں گے اور اے محمد اتمام حجت کیلئے ڈرا ان لوگوں کو اس نہایت کڑے مشکل و کٹھن دن سے جس دن ان کی بداعمالیوں کی پوری پوری سزا دی جائے گی اور جس دن گنہگار اپنی ہتھیلیاں
مسل رہے ہوں گے یہ دن ہمارے فیصلے کا دن ہوگا اور ہماری ہی بادشاہت ہوگی۔ گھڑیاں دنوں میں اور دن مہینوں اور سالوں میں کٹنے لگے۔
جیسے جیسے جناب مسیح علیہ السلام بڑھتے اور جوان ہوتے گئے ۔ ویسے ویسے یہود کا بغض وعناد بھی بڑھتا گیا۔ اب وہ دن قریب آئے جو چپقلش و کاوش کے نتیجہ میں آتے ہیں۔ یعنی وہ دبی ہوئی چنگاری جو اندر ہی اندر سلگتی رہتی ہے۔ شعلہ آتش میں بھڑک اٹھی در ایں میں عوام کے ساتھ ساتھ شاہی اراکین بھی کود پڑے۔ بن باپ کی ولادت سے وہ پہلے ہی بدظن تھے۔ آپ کی پندونصائح نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور وہ بری طرح سے جوش انتقام میں بھڑک اٹھے پھر کیا تھا جابجا منظم سازشیں شروع ہوئیں اور طرح طرح سے کلمۃ اللہ کو ستانے کے سامان ہونے لگے۔ انہوں نے بہت سی تجاویز سوچیں اور بہت سے حربے تلاش کئے ۔ مگر کسی ایک تدبیر پر اتفاق نہ ہوا۔ ان میں سے بعض یہ تھیں کہ گمنامی میں قتل کر دیا جائے کوئی کہتا تھا دین موسوی کے دشمن کو یوں بزدلی سے سزا دینا پرلے درجے کی حماقت ہے۔ کوئی کہتا تھا انصاف تو یہ ہے کہ جس طرح یہ اپنے آپ کو یہودیوں کا بادشاہ کہتا ہے اس پر سرکنڈوں کا تاج رکھا جائے اور طرح طرح سے استہزاء کرتے اور ستاتے ہوئے بھوکا اور پیاسا مارا جائے۔ بعض کہتے کہ وہ کوئی بڑا جادوگر ہے مٹی کے پرند بنا کر اڑا دیتا ہے۔ کوڑھوں اور اندھوں کو جادو کے زور سے اچھا کرتا ہے۔ ایک بہت بوڑھا بولا کہ میں ابھی اس کے پاس سے گزر کر آیا ہوں وہ مجھے کہتا تھا کہ تم آدھا دودھ پی کر آئے ہو اور بقیہ ڈھانپ کر شام کے لئے رکھ کر آئے ہو۔ میں حیران ہوا کہ میرے گھر میں سوائے میرے اور کوئی نہ تھا۔ پھر اسے کیسے پتہ لگ گیا۔ واقعہ میں وہ کوئی بڑا ہی جادوگر ہے۔ اس کے علاوہ اور بہت سے خیالات کا اظہار ہوا اور بالآخر یہ تجویز متفقہ طور پر پاس ہوئی کہ شاہی عدالت میں توہین مذہب کا مقدمہ چلایا جائے اور اس طریق سے اسقف اعظم کی سفارش سے اس کو مصلوب کرایا جائے۔ یہ تجویز پاس ہوئی تو اس کے متعلق جعل سازیاں اور مکاریاں جامہ عمل میں لانے کی تیاریاں ہونے لگیں۔
”انی قد جئتكم باية من ربكم انى اخلق لكم من الطين كهيئة الطير فانفخ فيه فيكون طيراً باذن الله وابرى الاكمه والابرص واحی الموتیٰ باذن الله وانبئكم بما تاكلون وما تدخرون فى بيوتكم ان فى ذلك لاية لكم ان كنتم مؤمنين. ومصدقا لما بين يدى من التورة ولاحل لكم بعض الذى حرم عليكم وجئتكم بآية من ربكم فاتقوا الله واطيعون ان الله ربى وربكم فاعبدوه هذا
صراط مستقيم (آل عمران:٤٩ تا ٥١) ”بے شک میں آیا ہوں تمہارے پاس نشانیاں لے کر تمہارے رب کی طرف سے۔ میں بنا دیتا ہوں تم کو مٹی سے پرندہ کی شکل۔ پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو ہو جاتا ہے وہ اڑتا ہوا جانور اللہ کے حکم سے اور اچھا کرتا ہوں مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو اور جلاتا ہوں مردے اللہ کے حکم سے اور بتا دیتا ہوں تم کو جو کھا کر آؤ اور جو باقی رکھ آؤ اپنے گھر میں۔ اس میں پوری نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو۔“
اس آیت کریمہ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ جب جناب کلمتہ اللہ روح اللہ نے اپنی نبوت کا اعلان کیا تو وہ قوم جو سرکشی و طغیانی میں بے باک و نڈر ہو چکی تھی اور جن کے دست ظلم سے بیشتر نبی ناحق ستائے اور مٹائے گئے تھے اور جو نبوت و رسالت کو مٹانے کی عادی ہو چکی تھی۔ جیسا کہ قرآن حکیم شاہد ہے۔ ويقتلون النبيين بغير حق ”بڑے زور و شور سے تکذیب و استہزاء کے لئے اٹھی اور جب آپ نے اپنی نبوت کا یقین دلایا تو وہ اور زیادہ برآ فروختہ ہو کر بولے کہ آئے دن نبوت کے علمبردار ہی چلے آتے ہیں۔ ٹھکانے لگاتے لگاتے ہم تو تنگ آ کر اکتا گئے۔ مگر یہ سلسلہ ہے کہ ختم ہی نہیں ہوتا۔ لو صاحب یہ ایک اور آ دھمکے کہو میاں نبی صاحب تمہارے سچے ہونے کے کیا دلائل ہیں۔ یہی نا تم کہو گے مجھے وحی آتی ہے۔ میں ملہم ہوں یا زیادہ سے زیادہ چند ایک بے تکی پیش گوئیاں جڑ دو گے۔ اس کے علاوہ اگر کوئی عملی دلائل ہوں تو بیان کرو۔ مگر سوچ سمجھ کر کہنا یہ جہالت و تاریکی کا زمانہ نہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ ہم اچھے اچھے اطباء و حکماء موجود ہیں۔ پرسوں تم نے دیکھا ہوگا کہ وہ کوڑھی کس قدر درد و مصیبت میں مبتلا تھی۔ بس پطرس کے ایک ہی قرص سے اچھی ہوگئی۔ لاوی صحرا نورد نے جنگل کا کونہ کونہ چھان کر اس جڑی بوٹی کو حاصل کر ہی لیا۔ جو پیتل کو سونا بنانے میں نایاب ہے۔ مسیح علیہ السلام نے اس کے جواب میں تبسم فرماتے ہوئے کہا اے نادانو سنو میں نے حکمت و کیمیا گری کا دعویٰ نہیں کیا۔ ہاں اس سے انکار نہیں۔ میں وہ طبیب بھی ہوں جو تمہاری ان بیماریوں کا جو اندر اندر ہی تمہاری جان کا روگ ہو رہی ہیں اور جن سے تم کو قطعاً لاعلمی ہے کا علاج کروں اور وہ روحانی بیماریاں مثلاً شرک فی التوحید ١؎ تم نے عزیر علیہ السلام کو خدا کا بیٹا کہہ کر اپنے خسران و خذلان کا سامان مہیا کرلیا۔ تمہارے راہبوں نے تورات پاک میں تحریف ٢؎ کرتے ہوئے مفید مطلب کو بڑھا اور غیر مفید کو گھٹا دیا۔ شریعت موسوی کو مدت ہوئی تم چھوڑ چکے۔ ہاں خالی ایک نام کی یاد باقی ہے۔ جس پر اس قدر تگ و دو
١؎ ”وقالت اليهود عزير ابن الله (توبه:٣٠)“ ٢؎ ”يحرفون الكلم عن مواضعه (المائده:١٣)“
ہو رہی ہے ورنہ تمہاری بدبختی کا بھی کوئی ٹھکانہ ہے جو انبیاء کی قاتل اور اتقیا کی دشمن ہے۔ ڈرو اس اللہ سے جس کے ساتھ شریک ملاتے ہو۔ وہ واحدہ لاشریک ایسی پاک ذات ہے جو بیوی اور بیٹوں سے پاک جو رشتوں اور ناطوں سے مبرا ہے۔ نہ اس کا کوئی بیٹا ہے نہ بیٹی۔
پھر کس قدر غضب ہے کہ تم ملائکۃ اللہ کو خدا کی بیٹیاں قرار دیتے ہو اور اپنے لئے بیٹے پسند کرتے ہو اور پھر اس بوتے اور حماقت پر اتراتے ہوئے صادقوں کو کاذب قرار دیتے ہو۔ مجھ سے میرے نبی ہونے کے برہان مانگتے ہو تو سنو بخدا میں اس خدائے رحمان کی طرف سے مبعوث کیا گیا ہوں۔ جس نے موسیٰ و ہارون، اسحاق، ابراہیم کو بھیجا تھا اور نشانات کے متعلق اس قدر کہہ دینا کافی ہے کہ خلاق جہاں نے مجھ کو یہ طاقت بخشی ہے کہ جب اور جس وقت چاہوں مٹی سے پرندوں کی شکل بنا کر اس میں پھونک دوں تو وہ بحکم ایزدی پرواز کرنے لگیں اور یہی نہیں تم اطباء کے گیت گاتے ہو لاؤ تو کوئی مادر زاد کوڑھی یا اندھی اور کہو تو ان حکماء کو کہ وہ اچھا کریں اس کو مگر یاد رکھو اور اچھی طرح سے سن لو یہ شرف بھی مجھ کو ہی ودیعت کیا گیا ہے۔ میں خدا کے فضل و کرم سے اچھا کرنے پہ قادر ہوں اور اسی پر بس نہیں مولا کریم کی مجھ پر اس قدر مہربانی و عنایت ہے کہ میں مردوں کو اس کے حکم سے زندہ کر سکتا ہوں اور اس کا یہ بھی احسان ہے کہ میں تمہارے اطمینان قلب کے لئے یہاں تک بتا سکتا ہوں کہ تم کیا کھا کر آ رہے ہو اور باقی اپنے گھروں میں کیا چھوڑ آئے ہو۔ اب ہر ذی خرد و صاحب عقل ان معجزات کو میرے من جانب خدا ہونے میں اور میری ولادت آیات اللہ میں کس قسم کا شک نہ لائے گا۔
عزرا یہ کلمات نہایت غور و فکر سے سنے اور خاموش رہا۔
جناب مسیح علیہ السلام کی عمر کی یہ تینتیسویں منزل قریب الاختتام تھی۔ ان دنوں آپ تبلیغ رسالت اور اعلائے کلمۃ الحق کے لئے ان تھک دوڑ و دھوپ میں مصروف تھے۔ آپ ان دنوں ہیکل میں اکثر پند و نصائح کے گوہر بہاتے اور فقیہوں کی خلوت و جلوت کے اشغال کا اظہار کرتے۔ ان کے تصنع کے لباس اور بناوٹ کی باتیں ان کی خلوت کی سیاہ کاریاں اور جلوت کی پاکبازیاں ہاتھی کے دانت تھیں۔ جو کھانے کے اور دکھانے کے اور کے مصداق تھیں۔ چنانچہ موجودہ انجیل ہمارے اس بیان کی مؤید ہے۔
(متی باب:٢٣، آیت ١ تا ١٢)
”اس وقت یسوع نے بھیڑ سے اور اپنے شاگردوں سے یہ باتیں کہیں کہ فقیہ اور فریسی موسیٰ کی گدی پر بیٹھے ہیں۔ پس جو کچھ وہ تم کو بتائیں وہ سب کرو اور مانو لیکن ان کے سے کام نہ کرو۔ کیونکہ وہ کہتے ہیں کرتے نہیں۔ وہ ایسے بھاری بوجھ جن کا اٹھانا مشکل ہے۔ باندھ کر
لوگوں کے کندھوں پر رکھتے ہیں۔ مگر آپ انہیں اپنی انگلی سے بھی ہلانا نہیں چاہتے۔ وہ اپنے سب کام لوگوں کے دکھانے کو کرتے ہیں۔ کیونکہ اپنے آپ کو بڑے بناتے اور اپنی پوشاک کے کنارے چوڑے رکھتے ہیں اور ضیافتوں میں صدر نشینی اور عبادت خانوں میں اعلیٰ درجے کی کرسیاں اور بازاروں میں سلام اور آدمیوں سے ربی کہلانا پسند کرتے ہیں۔ مگر تم ربی نہ کہلاؤ۔ تمہارا استاد ایک ہی ہے اور تم سب بھائی ہو اور زمین پر کسی کو اپنا باپ نہ کہو۔ کیونکہ تمہارا باپ ایک ہی ہے جو آسمانی ہے اور نہ تم ہادی کہلاؤ۔ کیونکہ تمہارا ہادی ایک ہی ہے۔ یعنی مسیح لیکن جو تم میں بڑا ہے وہ تمہارا خادم بنے اور جو کوئی اپنے آپ کو بڑا بنائے گا وہ چھوٹا کیا جائے گا اور جو اپنے آپ کو چھوٹا بنائے گا وہ بڑا کیا جائے گا۔‘‘
عقیدت وارادت کا ہر زمانے میں دور دورہ رہا ہے اور چلا آتا ہے۔ نیاز کیش و عقیدت مند اپنے بزرگ و محبوب کے حق میں کوئی کلمہ گستاخی سننا گوارہ نہیں کرتے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ جان لینا اور جان دینا محض ایک کھیل یا تماشا سمجھا جاتا ہے۔ عقیدت دیوانوں میں ہی نہیں فرزانوں میں بھی ہے۔ جہاں جاہل اس کے شکار ہوئے ہیں وہاں عالم بھی اس سے نہیں بچے۔ چنانچہ وہ لوگ جو فقیہوں اور فریسیوں کے دلدادہ وگرویدہ تھے۔ جناب مسیح کے متواتر خطبات سے تنگ آگئے اور جوش عقیدت نے انہیں اندھا بنا دیا۔ انہیں جھوٹ اور سچ میں تمیز کرنا مشکل ہو گیا وہ بے تابانہ کلمتہ اللہ کے تعاقب میں دوڑے جناب روح اللہ اس وقت یروشلم کے دھوبیوں کو خطاب کر رہے تھے۔ چنانچہ یہ مجمع بھی آ پہنچا جیسا کہ انجیل شاہد ہے۔
(لوقا، باب:١٢، آیت:١ تا ١٢)
’’اتنے میں جب ہزاروں آدمیوں کی بھیڑ لگ گئی۔ یہاں تک کہ ایک دوسرے پر گرا پڑتا تھا تو اس نے سب سے پہلے اپنے شاگردوں سے یہ کہنا شروع کیا کہ اس خمیر سے ہوشیار رہنا جو فریسیوں کی ریا کاری ہے۔ کیونکہ کوئی چیز ڈھکی نہیں رکھی جو کھولی نہ جائے گی اور نہ کوئی چیز چھپی ہے جو جانی نہ جائے گی۔ اس لئے جو کچھ تم نے اندھیرے میں کہا ہے وہ اجالے میں سنا جائے گا اور جو کچھ تم نے کوٹھریوں کے اندر کان میں کہا ہے کوٹھوں پر اس کی منادی کی جائے گی۔ مگر دوستوں سے میں کہتا ہوں کہ ان سے نہ ڈرو جو بدن کو قتل کرتے ہیں اور بعد اس کے کچھ اور نہیں کر سکتے۔ لیکن میں تمہیں جتاتا ہوں کہ کس سے ڈرنا چاہئے۔ اس سے ڈرو جس کو اختیار ہے کہ قتل کرنے کے بعد جہنم میں ڈالے ہاں میں تم سے کہتا ہوں کہ اس سے ڈرو۔ کیا دو پیسے کی پانچ چڑیاں نہیں بکتیں۔ تاہم خدا کے حضور میں ایک کی بھی بھول نہیں پڑتی۔ بلکہ تمہارے سر کے سب بال گنے ہوئے ہیں۔ ڈرو نہیں تمہاری قدر تو بہت سی چڑیوں سے زیادہ ہے اور میں تم سے کہتا ہوں کہ جو کوئی آدمیوں کے
سامنے میرا اقرار کرے ابن آدم بھی خدا کے فرشتوں کے سامنے اس کا اقرار کرے گا اور جو آدمیوں کے سامنے میرا انکار کرے خدا کے فرشتوں کے سامنے اس کا انکار کیا جائے گا اور جو کوئی ابن آدم کے خلاف کوئی بات کہے اس کو معاف کیا جائے گا اور جب وہ تم کو عبادت خانوں میں اور حاکموں اور اختیار والوں کے پاس لے جائیں تو فکر نہ کرنا کہ ہم کس طرح اور کیا جواب دیں یا کیا کہیں۔ کیونکہ روح القدس اس گھڑی تمہیں سکھا دے گا کہ کیا کہنا چاہئے۔“
ان پاکیزہ کلمات نے وہی کام کیا جو ریت پر پانی کرتا ہے۔ حالانکہ اس میں سراسر بھلائی ہی بھلائی تھی۔ وہ کہتے تھے کہ موسیٰ جیسے اولوالعزم اور صاحب کتاب و شریعت نبی کے بعد کیا ضرورت ہے کہ کوئی نبی آئے اور یہ چھوٹے چھوٹے نبی جو شریعت موسوی کی پیروی کی تلقین اور بعض احکام کا نسخ کرتے ہیں جھوٹے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان کا قتل جائز و کار ثواب ہے۔ ان کا یہ بھی خیال تھا کہ مسیح علیہ السلام کو خدا کا بیٹا ماننا خدا کی عین خوشنودی کو حاصل کرنا ہے۔ وہ یہ بھی کہتے تھے کہ تورات مقدس میں نسخ و حکم کا حق سوائے فقیہوں اور فریسیوں کے اور کسی کو نہیں۔ ان کے خیال میں سب سے بڑا گناہ راہبوں اور اسقفوں کی زندگی پر حرف گیری کرنا تھا۔ وہ اور تمام باتیں سن کر برداشت کر سکتے تھے۔ مگر نہ سن سکتے تھے۔ تو فقیہوں کی ہجو، وہ جانتے تھے کہ سبت کے دن تورات مقدس میں مجلس مشاورت کے ایما سے بعض قوانین کا توڑ موڑ ہوتا ہے اور چند آیات میں تحریف کی جاتی ہے۔ مگر اس چیز کو وہ خدمت خلق سے تعبیر کرتے تھے۔ ان کے خیال میں امراء کو سخت سزا دینا شریعت موسوی کی توہین کرنا تھا۔ کیونکہ وہ ضروریات دین کے وقت اپنے مالوں سے مدد کرتے ہیں اور غربا غربت کی وجہ سے اس ثواب سے محروم ہیں۔ غرضیکہ جناب مسیح کی نکتہ چینیاں جو فقیہوں اور فریسیوں کی اندرونی زندگی سے تعلق رکھتی تھیں۔ انہیں ایک آنکھ نہ بھاتی تھیں اور روز روز کے وعظ انہیں ستاتے اور انتقام پر مجبور کرتے تھے۔ یہ تو عوام کی زندگی تھی ادھر فقیہ و فریسی ان کلمات سے سیخ پا ہو رہے تھے۔ ان کے دل انتقام کی آگ میں جل اور بھن رہے تھے کہ کل کا چھوکرا ہمیں تہذیب سکھاتا ہے۔ ہماری عمریں خدمت دین میں گزر گئیں اور مقدس ہیکل کی جاروب کشی سے ہماری پیٹھیں کبڑی ہوگئیں۔ مراقبات اور چلات میں ہمارے اعضاء ہم کو جواب دے گئے توریت مقدس پڑھتے پڑھتے ہماری بینائی نے ہم سے منہ موڑا اور ضروریات دین میں قانون وضع کرتے کرتے عاجز آگئے۔ آج اس کا صلہ یہ دیا جاتا ہے جو اس طریق سے ہمارے ہی ہیکل میں ہماری ہجو ہوتی ہے۔ دنیا سنتی ہے اور خاموش رہتی ہے۔ حکومت پنبہ در گوش ہے۔ گاؤں گاؤں اور قریہ قریہ میں مسیح کے نقیب و مناد ہماری رسوائی و بربادی کی منادی کر رہے ہیں اور ہم ہیں
کہ خاموش ہیں وہ ہمارے نوجوان پیوس واسفانوس کو دیکھو جو ہماری رفاقت سے منہ موڑ کر اسی جادوگر کے ہو رہے ہیں۔ مقدس باپ عزیر کی ان پر لعنت ہو خدا کے بیٹے کی ناراضگی کو وہ چند شعبدہ بازیوں پر ترجیح دے رہے ہیں یہ بھی کوئی معجزے ہیں کہ مٹی سے چڑیاں بنائی جا رہی ہیں۔ ضرور کوئی بدروح جو ہمارے ہاتھ سے ستائی ہوئی تھی یہ اس جادوگر کا تصرف ہے۔ کیا جناب موسیٰ کے سامنے فرعون کے جادوگروں نے کرشمہ سازیاں نہ کی تھیں کیا رسیوں کے سانپ نہ بنائے گئے تھے۔ مگر کہاں سے لائیں اس عصا کو جو چھٹی کا دودھ یاد دلا دے۔ ہر زمانہ میں ساحر ہوتے آئے ہیں یہ کوئی نئی یا عجوبہ چیز نہیں بہتر ہے کہ کمر ہمت باندھو اور اٹھو حکومت وقت کو خواب گراں سے ہوشیار کرو اور اس فتنہ کی بیخ کنی کے لئے ہر ممکن کوشش کرو۔ یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ برجیس دوڑتا ہوا آیا اور کہنے لگا کہ آج پھر مقدس میں ہمارے خلاف زہر اگلا جائے گا۔ کیونکہ ابھی ابھی وہ جادوگر جس نے یائیر کی لڑکی کو زندہ کیا تھا اپنے شاگردوں کے ساتھ مقدس کو گیا ہے۔ چنانچہ یہ سب مقدس کو چل دیئے۔ جہاں جناب کلمتہ اللہ روح اللہ یہ تقریر فرما رہے تھے۔
(متی، باب:٢٣، آیت:١ تا ٣٩)
”اے ریا کار فقیہو اور فریسیو! تم پر افسوس ہے کہ آسمان کی بادشاہت لوگوں پر بند کرتے ہو۔ کیونکہ نہ تو آپ داخل ہوتے ہو اور نہ داخل ہونے والوں کو داخل ہونے دیتے ہو ...... اے ریا کار فقیہو اور فریسیو! تم پر افسوس ہے کہ ایک مرید کرنے کے لئے تری اور خشکی کا دورہ کرتے ہو اور جب وہ مرید ہو چکتا ہے تو اسے اپنے سے دونا جہنم کا فرزند بنا دیتے ہو۔ اے اندھے راہ بتانے والو تم پر افسوس ہے جو کہتے ہو کہ اگر کوئی مقدس کی قسم کھائے تو کچھ بات نہیں۔ لیکن اگر مقدس کے سونے کی قسم کھائے تو اس کا پابند ہوگا۔ اے احمقو اور اندھو کون سا بڑا سونا ہے یا مقدس جس نے سونے کو مقدس کیا اور پھر کہتے ہو کہ اگر کوئی قربان گاہ کی قسم کھائے تو کچھ بات نہیں۔ لیکن جو نذر اس پر چڑھی ہو۔ اگر اس کی قسم کھائے تو اس کا پابند ہوگا۔ اے اندھو کون سی بڑی ہے نذر یا قربان گاہ جو نذر کو مقدس کرتی ہے۔ پس جو قربان گاہ کی قسم کھاتا ہے وہ اس کی اور سب چیزوں کی جو اس پر ہیں۔ قسم کھاتا ہے اور جو مقدس کی قسم کھاتا ہے وہ اس کی اور اس کے رہنے والے کی قسم کھاتا ہے اور جو آسمان کی قسم کھاتا ہے وہ خدا کے تخت کی اور اس پر بیٹھنے والے کی قسم کھاتا ہے۔ اے ریا کار فقیہو اور فریسیو تم پر افسوس ہے کہ پودینے اور سونف اور زیرے پر دہ یکی دیتے ہو اور تم نے شریعت کی زیادہ بھاری باتوں یعنی انصاف اور رحم اور ایمان کو چھوڑ دیا ہے۔ لازم تھا کہ یہ بھی کرتے اور وہ بھی نہ چھوڑتے۔ اے اندھے راہ بتانے والو جو مچھر کو تو چھانتے ہو اور اونٹ کو نگل
جاتے ہو اے ریا کار فقیہو اور فریسیو پیالی اور رکابی کو اوپر سے تو صاف کرتے ہو۔ مگر وہ اندر کھوٹ اور ناپرہیزگاری سے بھرے ہیں۔ اے اندھے فریسی پہلے پیالے اور رکابی کو اندر سے صاف کرتا کہ اوپر سے بھی صاف ہو جائے۔“ اس کے آخر میں یروشلم پر افسوس فرماتے ہوئے کہا۔ ”اے یروشلم اے یروشلم تو جو نبیوں کو قتل کرتی ہے اور جو تیرے پاس بھیجے گئے ۔ انہیں سنگسار کرتی ہے۔ کتنی ہی بار میں نے چاہا کہ جس طرح مرغی اپنے بچوں کو پروں تلے جمع کرتی ہے اسی طرح میں بھی تیرے لڑکوں کو جمع کرلوں۔ مگر تم نے نہ چاہا دیکھو تمہارا گھر تمہارے لئے ویران چھوڑا جاتا ہے۔ کیونکہ میں تم سے کہتا ہوں کہ اب سے مجھے پھر ہرگز نہ دیکھو گے۔ جب تک نہ کہو گے کہ مبارک ہے وہ جو خدا کے نام پر آتا ہے۔“
یہ تقریر فرما کر آپ ہیکل سے چل دیئے۔ مگر فقیہوں اور فریسیوں کی رگوں میں جو خون کھولنے لگا وہ اس تقریر کو اپنے وقار کے لئے موت کے مترادف سمجھے۔ جناب مسیح کو اپنے راستے کا زبردست کانٹا سمجھتے ہوئے نکالنے کی فکر میں محو ہوئے۔ تقریر کے سخت الفاظ ان کے سینوں پر سانپ بن کر لوٹ رہے تھے اور وہ انتقام کی آگ میں جل بھن کر کوئلہ ہو رہے تھے۔ ان کے دماغ میں خوفناک تصور کچوکے لگاتا اور دل جوش حسد میں پھٹا جاتا تھا۔ غرضیکہ وہ تمام راہب واسقف چلتے پھرتے بولتے چالتے خوفناک درندوں کی طرح جناب مسیح جیسی معصوم و بھولے شکار پر دانت تیز کئے ادھار کھائے بیٹھے وقت کا انتظار کر رہے تھے کہ انہیں مسیح کی اس پیش خبری نے بے چین کر دیا وہ یہ سن کر تلملا اٹھے اور برداشت کا مادہ قطعا جاتا رہا۔
(مرقس: ١٣، آیت: ١ تا ٢)
”اور یسوع ہیکل سے نکل کر جارہا تھا کہ اس کے شاگرد اس کے پاس آئے تا کہ اسے ہیکل کی عمارتیں دکھائیں اس نے جواب میں ان سے کہا کیا تم ان سب چیزوں کو نہیں دیکھتے میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ یہاں کسی پتھر پر پتھر باقی نہ رہے گا جو گرایا نہ جائے۔“
مقدس ہیکل کے حق میں یہ الفاظ سن کر ان کے جذبات میں تلاطم خیز طوفان اٹھا۔ بغض وحسد نے پہلے ہی سینے میں آتش مچارکھی تھی۔ یہ کلمات جلتی پر تیل کا کام کر گئے۔ ان کے دماغ فکر وتدبر سے خالی انصاف وعدل سے کورے ہو گئے اور وہ ہر وہ کام کرنے پر تل گئے جو ایسے مواقع پر سد باب کے لئے پیش آیا کرتے ہیں۔ انہوں نے ایک خاص مجلس مشاورت میں یہ تدبیر کی کہ یہ شخص ملحد وزندیق ہے اور خطرہ ہے کہ شریعت موسوی میں یہ فتنہ عظیم پیدا کرے گا۔ لہذا اس کی بیخ کنی کے لئے گربہ کشتن روز اول کے مصداق آج ہی استغاثہ دائر کر کے فوری مصلوب کرنے کا حکم لے لینا چاہئے۔ حکومت اپنی ہے حکام گھر کے ہیں قانون ہمارا غلام ہے پھر دیر کرنا گناہ ہے۔ دیکھیں
اور فریسیو پیالی اور رکابی کو اوپر سے تو صاف کرتے ہو۔ مگر وہ اندر کھوٹ سے پُر ہیں۔ اے اندھے فریسی پہلے پیالے اور رکابی کو اندر سے صاف کرنا چاہئے۔“ اس کے آخر میں یروشلم پر افسوس فرماتے ہوئے کہا۔ ”اے یروشلم تو جو نبیوں کو قتل کرتی ہے اور جو تیرے پاس بھیجے گئے۔ انہیں مارتی ہے میں نے چاہا کہ جس طرح مرغی اپنے بچوں کو پروں تلے جمع کرتی ہے میں تیرے لڑکوں کو جمع کرلوں ۔ مگر تم نے نہ چاہا دیکھو تمہارا گھر تمہارے لئے ویران چھوڑا میں تم سے کہتا ہوں کہ اب سے مجھے پھر ہرگز نہ دیکھو گے۔ جب تک نہ کہو کہ مبارک کے نام پر آتا ہے۔“
آپ ہیکل سے چل دیئے۔ مگر فقیہوں اور فریسیوں کی رگوں میں جو خون تھا وہ اپنے وقار کے لئے موت کے مترادف سمجھے۔ جناب مسیح کو اپنے راستے کا کانٹا نکالنے کی فکر میں محو ہوئے۔ تقریر کے سخت الفاظ ان کے سینوں پر تیر تھے اور وہ انتقام کی آگ میں جل بھن کر کوئلہ ہورہے تھے۔ ان کے دماغ سوچتا تھا اور دل جوش حسد میں پھٹا جاتا تھا۔ غرضیکہ وہ تمام راہب واسقف خونخوار درندوں کی طرح جناب مسیح عیسیٰ معصوم و بھولے شکار پر دانت پیسنے وقت کا انتظار کر رہے تھے کہ انہیں مسیح کی اس پیش خبری نے بے چین کر دیا کہ برداشت کا مادہ قطعاً جاتا رہا۔
(مرقس:١٣، آیت:١ تا ٢)
ہیکل سے نکل کر جارہا تھا کہ اس کے شاگرد اس کے پاس آئے تاکہ اسے عمارتوں نے جواب میں ان سے کہا کیا تم ان سب چیزوں کو نہیں دیکھتے میں تم سے کہتا ہوں کہ یہاں پتھر پر پتھر باقی نہ رہے گا جو گرایا نہ جائے۔“
اپنے حق میں یہ الفاظ سن کر ان کے جذبات میں تلاطم خیز طوفان اٹھا۔ بغض و عناد کی آتش بھڑکنے لگی۔ یہ کلمات جلتی پر تیل کا کام کر گئے۔ ان کے دماغ فکر اور تامل سے کورے بہرے اور وہ ہر وہ کام کرنے پر تل گئے جو ایسے مواقع پر اندھے کرتے ہیں۔ انہوں نے ایک خاص مجلس مشاورت میں یہ تدبیر کی کہ یہ خطرہ ہے کہ شریعت موسوی میں یہ فتنہ عظیم پیدا کرے گا۔ لہذا اس کی بیخ کنی اصول کے مصداق آج ہی استغاثہ دائر کر کے فوری مصلوب کرنے کا حکم حاصل کیا جائے۔ حکام ہمارے ہیں قانون ہمارا غلام ہے پھر دیری گناہ ہے۔ دیکھیں
تو یہ یہودیوں کے بادشاہ وہ بننے کا خبط کے زور میں اتراتا ہے اور مقدس ہیکل کی گستاخی کیا رنگ لاتی ہے۔ ہمارے بزرگ پاپاؤں کے حق میں زہر آلود کلمات کا اعادہ کرنے والا زندہ نہیں رہ سکتا اسے کوئی حق نہیں کہ وہ مقدس اور مقدس کی زمین پر اپنے ناپاک قدموں سے چلے اور توریت پاک پر زبان طعن دراز کرے۔ اس سے بڑا گناہ اس سے زیادہ ظلم اور کیا ہوسکتا ہے کہ وہ ہمیں محرف کلام خدا بتلاتا ہے۔ حالانکہ ہم نے جو کچھ کیا اور کر رہے ہیں یہ کتاب مقدس کی عین خدمت اور ضرورت وقت کی بہترین چیز ہے۔ چنانچہ اس موقعہ پر کلام مجید نے جو مختصر روشنی ڈالی ہے وہ ہمارے اس بیان کی مؤید ہے ارشاد ہوتا ہے۔
”فلما احس عیسیٰ منهم الکفر قال من انصاری الی الله قال الحواریون نحن انصار الله آمنا بالله واشهد بانا مسلمون ٠ ربنا آمنا بما انزلت واتبعنا الرسول فاکتبنا مع الشاهدین ٠ ومکروا ومکر الله والله خیر الماکرین (آل عمران:٥٢ تا ٥٤)“
٭پھر جب معلوم کیا عیسیٰ نے بنی اسرائیل کا کفر بولا کون ہے کہ میری مدد کرے۔ اللہ کی راہ میں کہا حواریوں نے ہم ہیں مدد کرنے والے۔ اللہ کے ہم یقین لائے اللہ پر اور تو گواہ رہ کہ ہم نے حکم قبول کیا۔ اے رب ہم نے یقین کیا اس چیز کا جو تو نے اتاری اور ہم تابع ہوئے رسول کے سو تو لکھ لے ہم کو ماننے والوں میں اور خفیہ تجویز کی کافروں نے اور تدبیر کی اللہ نے اور اللہ بہتر ہے تجویز کرنے والا۔٭
جناب کلمتہ اللہ کو بنی اسرائیل کے کفر وطغیان کا علم ہوا کہ وہ بجائے نورانیت کے اندھیروں میں مقید ہوئے جاتے ہیں۔ ان کے دن سرکشی وعصیان میں کٹتے ہیں۔ تورات فسق وفجور میں بسر ہوتی ہے۔ ہر صبح ان کی کور چشمی کا ماتم کرتی ہوئی رات کا دھوکہ دیتی ہے۔ کوکب رسالت کی تابانی شب دیجور کا دھوکہ دیتی ہوئی نامرادی کی طرف کشاں کشاں لئے جاتی ہے۔ غرضیکہ صبح و شام وہ سرکشی کے شیدائی اور بدبختی و نامرادی کے فدائی بنے رہتے ہیں اور نہیں جانتے کہ جس چیز کو وہ خیر سمجھتے ہیں وہ شر ہے اور سب سے مشکل ترین اور اذیت دہ یہ بات ہے کہ وہ میرے پند و نصائح کو جو فی الحقیقت ان کی اپنی ہی جانوں کے لئے مفید اور ضروری ہے نہیں سنتے اس لئے جناب مسیح نے ندا کی کہ کون ہے جو اللہ کے راستے میں یعنی اعلائے کلمتہ الحق میں میری مدد کرے۔ وہی دھوبی جو دریا پر کپڑے دھوتے ملے تھے اور جن کو آپ نے فرمایا تھا کہ کپڑے کیا دھوتے ہو آؤ میں تمہیں دل دھونے بتادوں۔ بولے ہم ہیں اللہ کی راہ میں مدد کرنے والے۔
چنانچہ انہیں بارہ حواریوں نے پیام خداوندی پہنچانے میں مدد کی ۔ مگر افسوس بنی اسرائیل بجائے سنورنے کے اور زیادہ بگڑ گئے اور جوش انتقام میں ایسے اندھے ہوئے کہ شمع ہدایت کے گل کرنے کی مکمل تیاریاں کر لی گئیں۔ چنانچہ تاریخ شاہد ہے اور انجیل مؤید ہے کہ مسیح علیہ السلام پر سرکاری عدالت میں دعویٰ کیا گیا اور آپ کی ذات پر زندیق وملحد ہونے کے علاوہ محرف کلام الہی ہونے کا الزام لگایا گیا ۔ باقاعدہ شہادتیں ہوئیں اور الزامات کی تصدیق کی گئی ۔ یہاں سب سے زیادہ قابل ذکر یہ بات ہے کہ وہ حواری جو جناب مسیح کے سچے ساتھی تھے ۔ وہ بھی رفاقت سے عاری اور اطاعت سے منہ موڑنے لگے ۔ چنانچہ ان میں سے یہودا اسکریوطی نے جاسوسی کر کے مسیح علیہ السلام کو گرفتار کرایا اور حواری ہونے سے عدالت میں انکار کیا اور اس کے نتیجہ میں بالآخر عدالت نے مسیح کے مصلوب کئے جانے کا حکم صادر کر کے اس پر دستخط ثبت کر دیئے ۔ اس کے بعد بنی اسرائیل نے ہر ممکن طریق سے اس معصوم و بے گناہ کے ساتھ کمال شوخی اور استہزاء کیا۔ سر پر سرکنڈوں کا تاج رکھا۔ طرح طرح سے تمسخر اڑایا اور سپاہیوں نے تمسخرانہ لہجے میں یہودیوں کا بادشاہ کہتے ہوئے سلام کیا ۔ اس کے بعد انہیں زیر حراست رکھا گیا ۔ جہاں جناب مسیح نے کمال خشوع و خضوع سے درگاہ رب العزت میں دعا کی کہ مولا تو خوب جانتا ہے کہ میں بے گناہ ہوں ۔ بھلائی چاہتا تھا برائی کرتے ہیں۔ تیرا احکام سنانے پر استہزاء ہوتی ہے۔ یا اللہ تو جانتا ہے کہ تیرے پیارے رسولوں پر جو مجھ سے پیشتر تیری جانب سے مبعوث ہوئے تھے۔ انہوں نے ان سے کیا کیا سلوک کیا اور اب مجھ سے کیا کرنا چاہتے ہیں۔ اے غیرت ابدی جوش میں آ ۔ اے رحمت سرمدی موج دکھلا ۔ مولا یہ کب تک تیری مخلوق پر دست ظلم دراز کریں گے ۔ ان کے ناپاک ہاتھ مجھ تک آنے سے روک دے اور اپنی خاص عنایت ومہربانی سے اس ابتلاء ومصیبت سے نجات دے ۔ ان دعائیہ کلمات کے جواب میں ارشاد ہوا مطمئن رہو اور گھبراہٹ کو دل سے نکال دو ۔ گو انہوں نے تمہارے مٹانے اور رسوا کرنے کی پوری پوری تجویز کر لی ہے ۔ مگر ہماری تدابیر کے سامنے بھلا ان کی کیا حقیقت وطاقت ہے اور ہم سے بہتر کون تدبیر کنندہ ہے ۔ چنانچہ ہمارے اس بیان کی تصدیق جہاں آقائے نامدار محمد مصطفے ﷺ سے لے کر خلفائے راشدین ، تابعین ، تبع تابعین ، آئمہ ، مجتہدین ، وامامین رحمہم اجمعین محدثین ومفسرین تا این زمان کرتے چلے آئے ہیں اور انشاء اللہ کرتے چلے جائیں گے اور خدا کے فضل سے ایک بھی ایسا نہیں جس نے حیات مسیح کی نفی کی ہو اور لطف تو یہ ہے کہ دجال قادیان کے مسلمہ مجددین بھی پر زور ہماری تائید وسفارش فرماتے ہیں ۔ اس لئے اختصاراً چند ایک کے پاکیزہ خیالات ملاحظہ فرمائیں۔
(تفسیر کبیر ج ٨ ص ٦٤ ، ٦٥ ، مصنفہ امام فخر الدین رازیؒ) فلما احس عیسی منهم الكفر قال من انصاری الی الله قال الحواریون نحن انصار الله امنا بالله واشهد بانا مسلمون ربنا امنا بما انزلت واتبعنا الرسول فاكتبنا مع الشہدین ومكروا ومكر الله والله خیر الماکرین ...... الخ! ”یہود کا مکر حضرت عیسیٰ سے یہ تھا کہ انہوں نے ان کے قتل کا ارادہ کیا اور اللہ تعالیٰ کا مکر یہود سے سو اس کی کئی صورتیں ہوئیں۔۔۔۔ ایک صورت یہ کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا اور یہ اس طرح ہوا کہ یہود کے ایک بادشاہ نے حضرت عیسیٰ کے قتل کا ارادہ کیا اور جبرائیل ایک گھڑی بھی حضرت عیسیٰ سے جدا نہ ہوتا تھا اور یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے اس قول کا وایدناہ بروح القدس یعنی ہم نے حضرت عیسیٰ کو جبرائیل سے مدد دی۔ پس جب یہود نے قتل کا ارادہ کیا تو جبرائیل نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ایک مکان میں داخل ہو جانے کے لئے فرمایا۔ اس مکان میں کھڑکی تھی۔ پس جب یہود اس مکان میں داخل ہوئے تو جبرائیل نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس کھڑکی سے نکال لیا اور حضرت عیسیٰ کی شباہت ایک اور آدمی کے اوپر ڈال دی۔ پس وہی پکڑا گیا اور پھانسی پر لٹکایا گیا ۔۔۔۔ غرضیکہ یہود کے ساتھ اللہ کے مکر کے معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا اور یہود کو حضرت مسیح کے ساتھ شرارت کرنے سے روک لیا۔
امام جلال الدین سیوطیؒ اپنی تفسیر (درمنثور ج ٢ ص ٣٥، ٣٦) میں ’ فلما احس عیسیٰ “ میں لکھتے ہیں ۔ پس جب عیسیٰ نے یہود کا کفر معلوم کر لیا اور یہود نے حضرت عیسیٰ کے قتل کا ارادہ کر لیا اور یہود نے حضرت عیسیٰ کے ساتھ مکر کر لیا۔ جب انہوں نے مقرر کیا ایک آدمی کو کہ وہ قتل کرے ۔ عیسیٰ علیہ السلام کو دھوکا سے اور اللہ نے یہود کے ساتھ مکر کر لیا اس طرح کہ ڈال دی شبیھہ حضرت عیسیٰ کی اس شخص پر جس نے ارادہ کیا تھا۔ ان کے قتل کا پس یہود نے قتل کیا۔ اس شبیھہ کو اور اٹھا لئے گئے حضرت عیسیٰ اور اللہ تعالیٰ تمام تدبیریں کرنے والوں سے بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔
شاہ ولی اللہ صاحبؒ محدث دہلوی اپنی بے نظیر کتاب ” تاویل الاحادیث“ میں فرماتے ہیں ۔ ” اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو گویا ایک فرشتے تھے کہ زمین پر چلتے تھے ۔ پھر یہودیوں نے ان پر زندیق ہونے کی تہمت لگائی اور قتل پر جمع ہو گئے ۔ پس انہوں نے تدبیر کی اور خدا نے بھی تدبیر کی اور اللہ بہترین تدبیریں کرنے والا ہے۔ اللہ نے ان کے واسطے ایک صورت مثالیہ بنادی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا اور ان کے گروہ ہی سے یا ان کے دشمن کے ایک آدمی
کو ان کی صورت کا بنا دیا۔ پس وہ قتل کیا گیا اور یہودی اسی کو عیسیٰ سمجھتے تھے۔"
حافظ ابن کثیر اپنی (تفسیر ج ٢ ص ٤٨، ٤٩) میں فرماتے ہیں:
”جب یہود نے آپ کے مکان کو گھیر لیا اور گمان کیا کہ آپ پر غالب ہو گئے ہیں۔ تو خدا تعالیٰ نے ان کے درمیان سے آپ کو نکال لیا اور اس مکان کی کھڑکی سے آسمان پر اٹھا لیا اور آپ کی شباہت اس پر ڈال دی۔ جو اس مکان میں آپ کے پاس تھا۔ سو جب وہ اندر گئے تو ان کو رات کے اندھیرے میں عیسیٰ خیال کیا۔ پس اسے پکڑا اور سولی دیا اور سر پر کانٹے رکھے اور ان کے ساتھ خدا کا یہی مکر تھا کہ اپنے نبی کو بچالیا اور اسے ان کے درمیان سے اوپر اٹھا لیا اور ان کو ان کی گمراہی میں حیران چھوڑ دیا۔“
تصدیق از مرزا غلام احمد قادیانی
”یہ بات ہم مقرر لکھنا چاہتے ہیں کہ قدرت اللہ پر اعتراض کرنا خود ایک وجہ سے انکار خدا تعالیٰ ہے۔ کیونکہ اگر خدا کی قدرت مطلقہ کو نہ مانا جائے ..... اس صورت میں تمام خدائی اس کی باطل ہو جاتی ہے۔..... حق یہی ہے کہ پرمیشر کو سرب شکتی مان اور قادر مطلق تسلیم کیا جائے اور اپنے ناقص ذہن اور ناتمام تجربہ کو قدرت کے بے انتہاء اسرار کا محک امتحان نہ بنایا جائے ورنہ ہمہ دانی کے دعوئی پر اس قدر اعتراض وارد ہوں گے کہ جن کا کچھ ٹھکانا نہیں۔ انسان کا قاعدہ ہے کہ جو بات اپنی عقل سے بلند تر دیکھتا ہے اس کو خلاف عقل سمجھ لیتا ہے۔ حالانکہ بلند تر از عقل ہونا شئے دیگر ہے اور خلاف عقل ہونا شئے دیگر ۔“
(سرمہ چشم آریہ ص ٦٣، ٦٤، خزائن ج ٢ ص ١١١، ١١٢)
”خدا کی قدرتوں کے اسرار اس قدر ہیں کہ انسانی عقل ان کا احاطہ نہیں کر سکتی۔ جب سے خدا تعالیٰ نے مجھے یہ علم دیا ہے کہ خدا کی قدرتیں عجیب در عجیب اور عمیق در عمیق اور وراء الوراء اور لا یدرک ہیں تب سے میں ان لوگوں کو جو فلسفی کہلاتے ہیں ۔ پکے کافر سمجھتا ہوں اور چھپے ہوئے دہریہ خیال کرتا ہوں۔“
(چشمہ معرفت ص ٢٦٩، خزائن ج ٢٣ ص ٢٨١)
”قوانین قدرت غیر متناہی اور غیر محدود ہیں۔ ہمارا یہ اصول ہونا چاہئے کہ ہر ایک نئی بات جو ظہور میں آئے پہلے ہی اپنے عقل سے بالا تر دیکھ کر اس کو رد نہ کریں۔ بلکہ اس کے ثبوت یا عدم ثبوت کا حال جانچ لیں۔ اگر وہ ثابت ہو تو اپنے قانون قدرت کی فہرست میں اس کو بھی داخل کر لیں۔ اگر ثابت نہ ہو تو کہہ دیں کہ ثابت نہیں ۔ مگر اس بات کے کہنے کے ہم مجاز نہیں کہ وہ امر قانون قدرت کے باہر ہے۔ قانون قدرت سے باہر کسی چیز کو سمجھنے کے لئے ہمارے لئے ضرور ہے کہ ہم ایک دائرہ کی طرح خدا تعالیٰ کے تمام قوانین ازلی وابدی پر محیط ہو جائیں اور بخوبی ہمارا
مگر اس بات پر احاطہ تام کر لے کہ خدا تعالیٰ نے روزِ ازل سے آج تک کیا کیا قدرتیں ظاہر کیں اور آئندہ اپنے ابدی زمانہ میں کیا کیا قدرتیں ظاہر کرے گا کیا وہ جدید در جدید قدرتوں کے ظاہر کرنے پر قادر ہو گا یا کولہو کے بیل کی طرح انہیں چند قدرتوں میں مقید محصور رہے گا۔ اگر انہیں میں مقید رہے گا تو باوجود غیر محدود الوہیت اور قدرت کے یہ مقید و محصور رہنا کس وجہ سے ہوگا۔ کیا وہ آپ ہی عاجز آئے گا.. یا کسی دوسرے قاہر نے اس پر جبر کیا ہوگا۔ بہر حال اگر ہم خدا تعالیٰ کی قدرتوں کو غیر محدود مانتے ہیں تو یہ جنون اور دیوانگی ہے کہ اس کی قدرتوں پر احاطہ کرنے کی امید رکھیں۔ اس صورت میں یہ نقص پیش آتا ہے کہ ہمارا ناقص تجربہ خدائے ازلی وابدی کی تمام قدرتوں کا حد بست کرنے والا ہوگا۔“
(سرمہ چشم آریہ ص ١٥، ١٦ خزائن ج ٢ ص ٦٣، ٦٤)
”اس کلمہ میں جس قدر کفر اور بے ادبی اور بے ایمانی بھری ہوئی ہے وہ ظاہر ہے....... ایک محدود زمانہ کے محدود در محدود تجارب کو پورا پورا قانون قدرت خیال کر لینا اس پر غیر متناہی سلسلہ قدرت کو ختم کر دینا ان پست نظروں کا نتیجہ ہے۔ جنہوں نے خدائے ذوالجلال کو جیسا کہ چاہئے شناخت نہیں کیا۔“
(سرمہ چشم آریہ ص ٧، خزائن ج ٢ ص ٦٥)
(انجیل، متی باب: ٢٦، آیت: ١ تا ٥) ”اور جب یسوع یہ سب باتیں کر چکا تو اپنے شاگردوں سے کہا تم جانتے ہو کہ دو دن کے بعد عید فصح ہوگی اور ابن آدم مصلوب ہونے کو پکڑوایا جائے گا۔ اس وقت سردار کاہن اور قوم کے بزرگ کائفا نام سردار کاہن کے دیوان خانہ میں جمع ہو گئے اور صلاح کی کہ یسوع کو فریب سے پکڑ کر قتل کریں۔ مگر کہتے تھے کہ عید کو نہیں ایسا نہ ہو کہ لوگوں میں بلوا ہو جائے۔“
(مرقس باب: ١٤، آیت: ٣٢ تا ٤٢) ”اس وقت یسوع ان کے ساتھ گتسمنی نام ایک جگہ میں آیا اور اپنے شاگردوں سے کہا کہ یہیں بیٹھے رہنا۔ جب تک کہ میں وہاں جا کر دعاء مانگوں اور پطرس اور زبدی کے دونوں بیٹوں کو ساتھ لے کر غمگین اور بیقرار ہونے لگا۔ اس وقت اس نے ان سے کہا میری جان نہایت غمگین ہے۔ یہاں تک کہ مرنے کی نوبت پہنچ گئی ہے۔ تم یہاں ٹھہرو اور میرے ساتھ جاگتے رہو۔ پھر تھوڑا آگے بڑھا اور منہ کے بل گر کر یہ دعاء مانگی۔ اے میرے باپ اگر ہو سکے تو یہ پیالہ مجھ سے ٹل جائے۔ تاہم جیسا میں چاہتا ہوں ویسا نہیں بلکہ جیسا تو چاہتا ہے ویسا ہی ہو۔ پھر شاگردوں کے پاس آ کر انہیں سوتے پایا اور پطرس سے کہا کیوں تم میرے ساتھ ایک گھڑی بھی نہ جاگ سکے۔ جاگو اور دعاء مانگو تا کہ آزمائش میں نہ پڑو۔ روح تو مستعد ہے مگر جسم کمزور ہے پھر دوبارہ اس نے جا کر یہ دعاء مانگی۔ اے میرے باپ اگر یہ میرے پیئے بغیر نہیں
ٹل سکتا تو تیری مرضی پوری ہو اور آکر انہیں پھر سوتے پایا۔ کیونکہ ان کی آنکھیں نیند سے بھری ہوئی تھیں اور انہیں چھوڑ کر پھر چلا گیا اور وہی بات پھر کہہ کر تیسری بار دعا مانگی تب شاگردوں کے پاس آکر ان سے کہا اب سوتے ہو اور آرام کرو۔ دیکھو وقت آ پہنچا ہے اور ابن آدم گنہگاروں کے ہاتھ میں حوالے کیا جاتا ہے۔ اٹھو چلیں دیکھو میرا پکڑوانے والا نزدیک آ پہنچا ہے۔‘‘
(انجیل، مرقس باب:١٤، آیت:٤٣ تا ٥٠) ”وہ یہ کہہ ہی رہا تھا کہ یہوداہ جو ان بارہ میں سے ایک تھا۔ آیا اور اس کے ساتھ بڑی بھیڑ تلواریں اور لاٹھیاں لئے ہوئے سردار کاہنوں اور قوم کے بزرگوں کی طرف سے آ پہنچی اور اس کے پکڑوانے والے نے انہیں یہ پتا دیا تھا کہ جس کا میں بوسہ لوں وہی ہے اسے پکڑ لینا اور فوراً یسوع کے پاس آکر کہا۔ اے ربی سلام اور اس کے بوسے لئے یسوع نے اس سے کہا میاں جس کام کو آیا ہے وہ کر لے۔ اس پر انہوں نے پاس آکر یسوع پر ہاتھ ڈالا اور اسے پکڑ لیا اور دیکھو یسوع کے ساتھیوں میں سے ایک نے ہاتھ بڑھا کر اپنی تلوار کھینچی اور سردار کاہن کے نوکر پر چلا کر اس کا کان اڑا دیا۔ یسوع نے اس سے کہا اپنی تلوار کو میان میں کر لے۔ کیونکہ جو تلوار کو کھینچتے ہیں وہ سب تلوار سے ہلاک کئے جائیں گے۔ آیا تو نہیں سمجھتا کہ میں اپنے باپ سے منت کر سکتا ہوں اور وہ فرشتوں کے بارہ تمن سے زیادہ میرے پاس ابھی موجود کر دے گا۔ مگر وہ نوشتے کہ یونہی ہونا ضرور ہے۔ کیونکر پورے ہوں گے۔ اسی گھڑی یسوع نے بھیڑ سے کہا کیا تم تلواریں اور لاٹھیاں لے کر مجھے ڈاکوؤں کی طرح پکڑنے نکلے ہو۔ میں ہر روز ہیکل میں بیٹھ کر تعلیم دیتا تھا اور تم نے مجھے نہیں پکڑا۔ مگر یہ سب کچھ اس لئے ہوا ہے کہ نبیوں کے نوشتے پورے ہوں اور اس پر سارے شاگرد اسے چھوڑ کر بھاگ گئے۔‘‘
ناظرین کرام ہمارے بیان کی تصدیق ان محترم ومکرم ہستیوں نے فرمائی جن کے متعلق مرزا قادیانی اس قدر حسن عقیدت رکھتا ہے کہ ایک باوقار مرید اپنے پیشوا سے، چنانچہ ذیل میں ان بزرگان دین کی امانت و دیانت کا نقشہ تحریرات مرزا سے برائے لطف و اتمام حجت پیش کیا جاتا ہے تاکہ کسی مرزائی کو ان کی تفاسیر کے سامنے سر مو جنبش کرنے کا موقعہ نہ ملے اور اگر کوئی مرزائی ان تحریرات کے مشاہدے کے بعد خبث و بد باطنی کا مظاہرہ کرے گا تو یقیناً وہ اپنے خسران و خذلان کا ذمہ دار ہوتا ہوا اپنا ٹھکانہ جہنم بنائے گا۔ اس لئے از راہ ہمدردی میں ایسے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ تعصب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جویائے حق ہو کر میری ان معروضات کو غور سے پڑھیں۔ نیز ہمارے اس بیان کی انجیل مقدس بھی مؤید ہے۔ کاش وہ تحریف شدہ نہ ہوتی اور کاش وہ حوادث زمانہ کا شکار نہ بنتی تو اور بہت ہی مفید مطلب باتیں نکلتیں۔ بہر حال معاملہ
نہایت بین و صاف ہے اور اس پر مزید حاشئے کی ضرورت نہیں۔
- ....... ١
”قرآن شریف کے وہ معانی و مطالب سب سے زیادہ قبول ہوں گے۔ جن کی تائید قرآن شریف ہی میں دوسری آیات سے ہوتی ہے۔“
( برکات الدعاء ص ١٣، غلام احمد رئیس قادیان )
- ....... ٢
”جو لوگ خدا تعالیٰ کی طرف سے مجددیت کی قوت پاتے ہیں وہ نرے استخواں فروش نہیں ہوتے۔ بلکہ وہ واقعی طور پر نائب رسول اللہ ﷺ اور روحانی طور پر آنجناب کے خلیفے ہوتے ہیں۔ خدا تعالیٰ انہیں تمام نعمتوں کا وارث بناتا ہے جو نبیوں اور رسولوں کو دی جاتی ہیں۔“
( فتح اسلام ص ٩ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٧ )
- ....... ٣
”یہ یاد رہے کہ مجدد لوگ دین میں کوئی کمی بیشی نہیں کرتے۔ گم شدہ دین کو پھر دلوں میں قائم کرتے ہیں اور یہ کہنا کہ مجددوں پر ایمان لانا کچھ فرض نہیں۔ خدا تعالیٰ کے حکم سے انحراف کرتا ہے وہ فرماتا ہے۔ من کفر بعد ذالك فاولئك هم الفاسقون“
(شہادۃ القرآن ص ٢٨، خزائن ج ٦ ص ٣٤٤، غلام احمد رئیس قادیان)
- ....... ٤
”مجدد کو فہم قرآن عطاء ہوتا ہے۔“ (ایام صلح ص ٥٥، خزائن ج ١٤ ص ٢٨٨)
- ....... ٥
”مجدد مجملات کی تفصیل کرتا اور کتاب اللہ کے معارف بیان کرتا ہے۔ تواتر قومی کے منکر پر خدا کے فرشتوں اور انسانوں کی لعنت ہو۔“
(حمامة البشریٰ ص ٧٥، خزائن ج ٧ ص ٢٩٠)
- ....... ٦
”جو شخص کسی اجماعی عقیدہ کا انکار کرے تو اس پر خدا اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔ یہی میرا اعتقاد ہے اور یہی میرا مقصود ہے اور یہی میرا مدعا ہے ۔ مجھے اپنی قوم سے اصول اجتماعی سے کوئی انکار نہیں ۔“
(انجام آتھم ص ١٤٤، خزائن ج ١١ ص ایضاً، مصنفہ غلام احمد رئیس قادیان)
اس کے علاوہ مرزائے قادیان انجیل شریف کے متعلق حسب ذیل عقیدہ رکھتا تھا۔ اس لئے انجیل مقدس قادیانیوں کے لئے حجت ہے۔
- ....... ١
”فاسئلو اهل الذكر ان کنتم لا تعلمون “ کے تحت میں لکھتے ہیں کہ ”اگر تمہیں ان بعض امور کا علم نہ ہو جو تم میں پیدا ہوں تو اہل کتاب کی طرف رجوع کرو اور ان کی کتابوں کے واقعات پر نظر ڈالو تا اصل حقیقت تم پر منکشف ہو جائے۔“
(ازالۃ اوہام ص ٦١٦، خزائن ج ٣ ص ٤٣٣، غلام احمد رئیس قادیان)
- ٢...... ”زبردستی سے یہ نہیں کہنا چاہئے کہ یہ ساری کتابیں (انجیل تورات)
محرف ومبدل ہیں۔ بلاشبہ ان مقامات (رفع جسمانی وغیرہ) سے تحریف کا کچھ علاقہ نہیں...... پھر ہمارے امام المحدثین حضرت اسماعیل صاحب اپنی صحیح بخاری میں یہ بھی لکھتے ہیں کہ ان کتابوں میں کوئی لفظی تحریف نہیں۔“
(ازالۃ اوہام ص ٣٢٧، خزائن ج ٣ ص ٢٣٨)
- ٣...... ”انجیل برنباس نہایت معتبر انجیل ہے۔“
(سرمہ چشم آریہ ص ١٧٨، خزائن ج ٢ ص ٢٣٠ حاشیہ)
اب ہم آپ کی خدمت میں انجیل برنباس سے چند ایک حوالے پیش کرتے ہیں جن کا تعلق حیات مسیح سے ہے اور قادیانی حضرات سے خصوصاً اور دیگر احباب سے عموماً اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس کو یکسوئی میں دیکھیں، سوچیں، سمجھیں اور بلا چون وچرا سرتسلیم خم کریں۔ کیونکہ مرزا قادیانی اس کے نہایت معتبر ہونے کی رائے پیش کر کے سفارش کر چکے ہیں۔
”اور یسوع گھر سے نکل کر باغ کی طرف مڑا تاکہ نماز ادا کرے...... اور چونکہ یہودا اس جگہ کو جانتا تھا۔ جس میں یسوع اپنے شاگردوں کے ساتھ تھا۔ لہٰذا وہ کاہنوں کے سردار کے پاس گیا اور کہا اگر تو مجھے وہ دے جس کا تو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے تو میں آج کی رات یسوع کو تیرے سپرد کردوں گا جس کو تم لوگ ڈھونڈ رہے ہو۔ اس لئے کہ وہ گیاراں رفیقوں کے ساتھ اکیلا ہے۔“
(انجیل برنباس فصل: ٢١٤، آیت: ١ تا ١٠ ص ٢٩٦، حمیدیہ سٹیم پریس لاہور)
”اور جب کہ سپاہی یہودا کے ساتھ اس جگہ کے نزدیک پہنچے جس میں یسوع تھا تو یسوع نے ایک بھاری جماعت کا نزدیک آنا سنا تب اسی لئے وہ ڈر کر گھر میں چلا گیا اور گیارہوں شاگرد سو رہے تھے۔ پس جب کہ اللہ نے اپنے بندے کو خطرے میں دیکھا۔ اپنے سفیروں جبرائیل، میکائیل، رقائیل اور اوریل کو حکم دیا کہ یسوع کو دنیا سے لے لیویں۔ تب پاک فرشتے آئے اور یسوع کو دکن کی طرف دکھائی دینے والی کھڑکی سے لے لیا۔ پس وہ اس کو اٹھالے گئے اور اسے تیسرے آسمان میں ان فرشتوں کی صحبت میں رکھ دیا جو ابد تک اللہ کی تسبیح کرتے رہیں گے۔“
(انجیل برنباس: ٢١٥، آیت: ١ تا ٥ ص ٢٩٧)
یہ تھے وہ واقعات جب کہ اللہ تعالیٰ نے مسیح علیہ السلام کی دعاء کو مستجاب فرماتے ہوئے تسلی و تشفی دی۔ جیسا کہ فرقان حمید شاہد ہے۔
”اذ قال الله يعيسى انى متوفيك ورافعك الى ومطهرك من الذين كفروا وجاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفروا الى يوم القيمة ثم الى
زبردستی سے یہ نہیں کہنا چاہئے کہ یہ ساری کتابیں (انجیل تورات) ان مقامات (رفع جسمانی وغیرہ) سے تحریف کا کچھ علاقہ نہیں...... پھر رت اسماعیل صاحب اپنی صحیح بخاری میں یہ بھی لکھتے ہیں کہ ان کتابوں "
(ازالہ اوہام ص ٢٧٣، خزائن ج ٣ ص ٢٣٨)
انجیل برنباس نہایت معتبر انجیل ہے۔"
(سرمہ چشم آریہ ص ٧٨، خزائن ج ٢ ص ٢٣٠ حاشیہ)
کی خدمت میں انجیل برنباس سے چند ایک حوالے پیش کرتے ہیں جن کا اور قادیانی حضرات سے خصوصاً اور دیگر احباب سے عموماً اپیل کرتے ہیں ں دیکھیں، سوچیں، سمجھیں اور بلا چون و چرا سر تسلیم خم کریں۔ کیونکہ ت معتبر ہونے کی رائے پیش کر کے سفارش کر چکے ہیں۔
گھر سے نکل کر باغ کی طرف مڑا تا کہ نماز ادا کرے۔ ...... اور چونکہ یہودا میں یسوع اپنے شاگردوں کے ساتھ تھا۔ لہذا وہ کاہنوں کے سردار کے وہ دے جس کا تو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے تو میں آج کی رات یسوع کو ں کو تم لوگ ڈھونڈ رہے ہو۔ اس لئے کہ وہ گیاراں رفیقوں کے ساتھ اکیلا
(انجیل برنباس فصل ٢١٤ ، آیت: ١ تا ١٠ ص ٢٩٦، حمیدیہ سٹیم پریس لاہور)
کہ سپاہی یہودا کے ساتھ اس جگہ کے نزدیک پہنچے جس میں یسوع تھا تو جماعت کا نزدیک آنا سنا تب اسی لئے وہ ڈر کر گھر میں چلا گیا اور گیارہوں ں جب کہ اللہ نے اپنے بندے کو خطرے میں دیکھا۔ اپنے سفیروں ئیل اور اوریل کو حکم دیا کہ یسوع کو دنیا سے لے لیویں۔ تب پاک فرشتے کی طرف دکھائی دینے والی کھڑکی سے لے لیا۔ پس وہ اس کو اٹھا لے گئے اور ان فرشتوں کی صحبت میں رکھ دیا جو ابد تک اللہ کی تسبیح کرتے رہیں گے۔"
(انجیل برنباس: ٢١٥ ، آیت: ١ تا ٥ ص ٢٩٧)
حات جب کہ اللہ تعالیٰ نے مسیح علیہ السلام کی دعاء کو مستجاب فرماتے ہوئے قرآن مجید شاہد ہے۔
الله يعيسى اني متوفيك ورافعك الى ومطهرك من الذين لذين اتبعوك فوق الذين كفروا الى يوم القيمة ثم الى
مرجعكم فاحكم بينكم فيما كنتم فيه تختلفون . فاماالذين كفروا فاعذبهم عذاباً شديدا فى الدنيا والآخرة ومالهم من نصرين . واما الذين آمنوا وعملوا الصلحت فيوفيهم اجورهم والله لا يحب الظلمين . ذلك نتلوه عليك من الآيت والذكر الحكيم . ان مثل عيسى عندالله كمثل آدم خلقه من تراب ثم قال له كن فيكون . الحق من ربك فلا تكن من الممترين . فمن حآجك فيه من بعد ماجآءك من العلم فقل تعالوا ندع ابنآء ناوابنآءكم ونسآءناونسآء كم وانفسنا وانفسكم ثم نبتهل فنجعل لعنت الله على الكذبين . ان هذا لهو القصص الحق وما من اله الا الله وان الله لهو العزيز الحكيم . فان تولوا فان الله عليم بالمفسدين (آل عمران: ٥٥ تا ٦٣) ﴿جس وقت کہا اللہ نے میں لے لوں گا تجھ کو اور اٹھالوں گا اپنی طرف اور پاک کر دوں گا تجھ کو کافروں سے اور رکھوں گا ان کو جو تیرے تابع ہیں۔ غالب ان لوگوں سے جو انکار کرتے ہیں قیامت کے دن تک۔ پھر میری طرف ہی تم سب کو پھر آنا ہے۔ پھر فیصلہ کروں گا میں تم میں جس بات میں کہ تم جھگڑتے تھے سو وہ لوگ جو کافر ہوئے ان کو عذاب کر دوں گا سخت عذاب دنیا میں اور آخرت میں اور کوئی نہیں ان کا مددگار اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک کام کئے سو ان کو پورا دے گا ان کا حق اور اللہ کو خوش نہیں آتے بے انصاف۔
یہ پڑھ سناتے ہیں ہم تجھ کو آیتیں اور بیان تحقیقی ۔ بے شک عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک ایسی ہے جیسے آدم کی۔ بنایا اس کو مٹی سے پھر کہا اس کو ہو جاؤ ہو گیا حق وہ ہے جو تیرا رب کہے۔ پھر تو مت رہ شک لانے والوں میں سے پھر جو کوئی جھگڑا کرے تجھ سے اس قصہ میں بعد اس کے کہ آچکی تیرے پاس خبر سچی تو تو کہہ دے آؤ بلائیں ہم اپنے بیٹے اور تمہارے بیٹے اپنی عورتیں اور تمہاری عورتیں اور اپنی جان اور تمہاری جان پھر التجا کریں ہم سب اور لعنت کریں اللہ کی ان پر جو کہ جھوٹے ہیں۔ بے شک یہی ہے بیان سچا اور کسی کی بندگی نہیں ہے۔ سوائے اللہ کے اور اللہ جو ہے وہی ہے زبردست حکمت والا ۔ پھر اگر قبول نہ کریں تو اللہ کو معلوم ہے فساد کرنے والے۔﴾
فوائد از عمدة المفسرین حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی صاحب
دیوبندی استاذی المعظم حدیث و تفسیر جامع اسلامیہ ڈابھیل (سورت)
"مکر کہتے ہیں لطیف وخفیہ تدبیر کو اگر وہ اچھے مقصد کے لئے ہو اچھا ہے اور برائی کے لئے ہو تو برا ہے۔ اسی لئے "ولا يحيق المكرالسیئ" میں مکر کے ساتھ سیئ کی قید لگائی اور
یہاں خدا کو خیر الماکرین کہا۔ مطلب یہ ہے کہ یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف طرح طرح کی سازشیں اور خفیہ تدبیریں شروع کر دیں۔ حتیٰ کہ بادشاہ کے کان بھر دیئے کہ یہ شخص معاذ اللہ ملحد ہے تورات کو بدلنا چاہتا ہے۔ سب کو بے دین بنا کر چھوڑے گا۔ اس نے مسیح علیہ السلام کی گرفتاری کا حکم دے دیا۔ ادھر یہ ہو رہا تھا اور ادھر حق تعالیٰ کی مشیت و خفیہ تدبیر ان کے توڑ میں اپنا کام کر رہی تھی۔ جس کا ذکر آگے آتا ہے۔ بے شک خدا کی تدبیر سب سے بہتر اور مضبوط ہے۔ جسے کوئی نہیں توڑ سکتا۔ بادشاہ نے لوگوں کو مامور کیا کہ مسیح علیہ السلام کو پکڑیں صلیب پر چڑھائیں اور ایسی عبرتناک سزا دیں۔ جسے دیکھ کر دوسرے لوگ اس کا اتباع کرنے سے رک جائیں۔ ”فبعث في طلبه من يأخذه ويصلبه وينكل به (ابن کثیر)“ خداوند قدوس نے اس کے جواب میں مسیح علیہ السلام کو مطمئن فرما دیا کہ میں ان اشقیاء کے ارادوں اور منصوبوں کو خاک میں ملا دوں گا۔ یہ چاہتے ہیں کہ تجھے پکڑ کر قتل کر دیں اور پیدائش اور بعثت سے جو مقصد ہے پورا نہ ہونے دیں اور اس طرح خدا کی نعمت عظیمہ کی بے قدری کریں۔ لیکن میں ان سے اپنی یہ نعمت لے لوں گا۔ تیری عمر مقدر اور جو مقصد عظیم اس سے متعلق ہے پورا کر کے رہوں گا اور تجھ کو پورے کا پورا صحیح و سالم لے جاؤں گا کہ ذرا بھی تیرا بال بیکا نہ کر سکیں۔ بجائے اس کے کہ وہ لے جائیں خدا تجھ کو اپنی پناہ میں لے جائے گا۔ وہ صلیب پر چڑھانا چاہتے ہیں۔ خدا تجھ کو آسمان پر چڑھائے گا۔ ان کا ارادہ ہے کہ رسوا کن اور عبرتناک سزائیں دے کر لوگوں کو تیرے اتباع سے روک دیں۔ لیکن خدا ان کے ناپاک ہاتھ تیرے تک نہ پہنچنے دے گا۔ بلکہ اس گندے اور نجس مجمعے کے درمیان سے تجھ کو بالکل پاک و صاف اٹھالے گا اور اس کی بجائے نہ تیری بے عزتی ہو اور لوگ ڈر کر تیرے اتباع سے رک جائیں۔ تیرے اتباع کرنے والوں اور نام لینے والوں کو قرب قیامت تک منکروں پر غالب و قاہر رکھے گا۔ جب تک تیرا انکار کرنے والے یہود اور اقرار کرنے والے مسلمان یا نصاریٰ دنیا میں رہیں گے۔ ہمیشہ اقرار کرنے والے منکرین پر فائق و غالب رہیں گے۔ بعدہ ایک وقت آئے گا جب تجھ کو اور تیرے موافق و مخالف سب لوگوں کو میرے حکم کی طرف لوٹنا ہے۔ اس وقت میں تمہارے سب جھگڑوں کا دو ٹوک فیصلہ کردوں گا اور سب اختلاف ختم کر دیئے جائیں گے۔ یہ فیصلہ کب ہوگا۔ اس کی جو تفصیل ”فاما الذين كفروا فاعذبهم عذاباً شديداً في الدنيا“ سے بیان کی گئی ہے وہ بتلاتی ہے کہ آخرت سے پیشتر دنیا ہی میں اس کا نمونہ شروع کرا دیا جائے گا۔ یعنی اس وقت تمام کافر عذاب کے نیچے ہوں گے۔ کوئی طاقت ان کی مدد و فریاد کو نہ پہنچ سکے گی۔ اس کے بالمقابل جو ایمان والے رہیں گے ان کو دنیا اور آخرۃ میں پورا پورا
اجر دیا جائے گا اور بے انصاف ظالموں کی جڑ کاٹ دی جائے گی۔ امت مرحومہ کا اجماعی عقیدہ ہے کہ جب یہود نے اپنی ناپاک تدبیریں پختہ کر لیں تو حق تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا۔ نبی کریم ﷺ کی متواتر احادیث کے موافق قیامت کے قریب جب دنیا کفر وضلالت اور دجل و شیطنت سے بھر جائے گی۔ خدا تعالیٰ خاتم الانبیاء بنی اسرائیل حضرت مسیح علیہ السلام کو خاتم الانبیاء علی الاطلاق حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے ایک نہایت وفادار جنرل کی حیثیت میں نازل کر کے دنیا کو دکھلا دے گا کہ انبیاء سابقین کو بارگاہ خاتم النبیین کے ساتھ کس قسم کا تعلق ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام دجال کو قتل کریں گے اور اس کے اتباع یہود کو چن چن کر ماریں گے۔ کوئی یہودی جان نہ بچا سکے گا۔ شجر وحجر تک پکاریں گے کہ ہمارے پیچھے یہ یہودی کھڑا ہے۔ قتل کرو حضرت مسیح صلیب کو توڑیں گے۔ نصاریٰ کے باطل عقائد و خیالات کی اصلاح کر کے تمام دنیا کو ایمان کے راستہ پر ڈال دیں گے۔ اس وقت تمام جھگڑوں کا فیصلہ ہو کر اور مذہبی اختلاف مٹ مٹا کر ایک خدا کا سچا دین اسلام رہ جائے گا۔ اسی وقت کی نسبت فرمایا ” وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته “ بہرحال میرے نزدیک ”ثم الی مرجعکم “ صرف آخرۃ کے متعلق نہیں بلکہ دنیا و آخرۃ دونوں سے تعلق رکھتا ہے۔ جیسا کہ آگے تفصیل کے موقعہ پر ” فی الدنيا والآخرة “ کا لفظ صاف شہادت دے رہا ہے اور یہ اس کا قرینہ ہے کہ ”الی یوم القيامة “ کے معنی قرب قیامت کے ہیں۔ چنانچہ احادیث صحیحہ میں مصرح ہے کہ قیامت سے پہلے ایک مبارک وقت ضرور آنے والا ہے۔ جب سب اختلافات مٹ مٹا کر ایک دین باقی رہ جائے گا۔ وللّه الحمد اوّلاً وآخراً چند امور اس آیت کے متعلق یاد رکھنے چاہئے ۔ لفظ توفی کے متعلق کلیات ابوالبقاء میں ہے۔ ”التوفی فی الاماتة وقبض الروح عليه استعمال العامة او لاستيفاء واخذ الحق وعليه استعمال البلغاء “ توفی کا لفظ عوام کے یہاں موت دینے اور جان لینے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ لیکن بلغاء کے نزدیک اس کے معنی ہیں پورا وصول کرنا اور ٹھیک لینا۔ گویا ان کے نزدیک موت پر بھی توفی کا اطلاق اسی حیثیت سے ہوا کہ موت میں کوئی عضو خاص نہیں۔ بلکہ خدا کی طرف سے پوری جان وصول کر لی جاتی ہے۔ اب اگر فرض کرو خدا تعالیٰ نے کسی کی جان بدن سمیت لے لی تو اسے بطریق اولیٰ توفی کہا جائے گا۔ جن اہل لغت نے توفی کے معنی قبض روح کے لکھے ہیں۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ قبض روح معہ البدن کو توفی نہیں کہتے نہ کوئی ایسا ضابطہ بتلایا ہے کہ جب توفی کا فاعل اللہ اور مفعول ذی روح ہو تو بجز موت کے کوئی معنی نہ ہو سکیں۔ ہاں چونکہ عموماً قبض روح کا وقوع بدن سے جدا کر کے ہوتا ہے۔
اس لئے کثرت وعادۃ کے لحاظ سے اکثر فوت کا لفظ اس کے ساتھ لکھ دیتے ہیں۔ ورنہ لفظ کا لغوی مدلول قبض روح مع البدن کو شامل ہے۔ دیکھئے ”اللہ یتوفی الانفس حین موتھا والتی لم تمت فی منامھا (الزمر: ٤٢)“ میں توفی نفس (قبض روح) کی دو صورتیں بتلائیں ۔ موت اور نیند ۔ اس تقسیم نے نیز توفی کو انفس پر وارد کر کے اور حین موتھا کی قید لگا کر بتا دیا کہ توفی اور موت دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ اصل یہ ہے کہ قبض روح کے مختلف مدارج ہیں۔ ایک درجہ وہ ہے جو موت کی صورت میں پایا جائے۔ دوسرا وہ جو نیند کی صورت میں ہو۔ قرآن کریم نے بتلادیا کہ وہ دونوں پر توفی کا لفظ اطلاق کرتا ہے۔ کچھ موت کی تخصیص نہیں ۔ ”یتوفاکم باللیل ویعلم ما جرحتم بالنھار (انعام: ٦٠)“ اب جس طرح اس نے دو آیتوں میں نوم پر توفی کا اطلاق جائز رکھا۔ حالانکہ نوم میں قبض روح بھی پورا نہیں ہوتا۔ اسی طرح اگر آل عمران اور مائدہ کی دو آیتوں میں توفی کا لفظ قبض روح مع البدن پر اطلاق کر دیا گیا تو کون سا استحالہ لازم آتا ہے۔ بالخصوص جب یہ دیکھا جائے کہ موت اور نوم میں لفظ توفی کا استعمال قرآن کریم ہی نے شروع کیا ہے۔ جاہلیت والے تو عموماً اس حقیقت سے ہی نا آشنا تھے کہ موت یا نوم میں خدا تعالیٰ کوئی چیز آدمی سے معطل کر لیتا ہے۔ اس لئے لفظ توفی کا استعمال موت ونوم پر ان کے یہاں شائع نہ تھا۔ قرآن کریم نے موت وغیرہ کی حقیقت پر روشنی ڈالنے کے لئے اوّل اس لفظ کا استعمال شروع کیا تو اسی کو حق ہے کہ موت ونوم کی طرح اخذ روح مع البدن کے نادر مواقع میں بھی اسے استعمال کر لے۔ بہر حال آیت حاضرہ میں جمہور کے نزدیک توفی سے موت مراد نہیں اور ابن عباسؓ سے بھی صحیح ترین روایت یہی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام زندہ آسمان پر اٹھائے گئے۔ کما فی روح المعانی وغیرہ زندہ اٹھائے جانے یا دوبارہ نازل ہونے کا انکار سلف میں کسی سے منقول نہیں ۔ بلکہ تلخیص الحبیر میں حافظ ابن حجرؒ نے اس پر اجماع نقل کیا ہے اور ابن کثیرؒ وغیرہ نے احادیث نزول کو متواتر کہا ہے اور اکمال اکمال المعلم میں امام مالکؒ سے اس کی تصریح نقل کی ہے۔ پھر جو معجزات حضرت مسیح علیہ السلام نے دکھلائے ان میں علاوہ دوسری حکمتوں کے ایک خاص مناسبت آپ کے رفع الی السماء کے ساتھ پائی جاتی ہے۔ آپ نے شروع ہی سے متنبہ کردیا کہ جب ایک مٹی کا پتلا میرے پھونک مارنے سے باذن اللہ پرند بن کر اوپر اڑا چلا جاتا ہے۔ کیا وہ بشر جن پر خدا نے روح اللہ کا لفظ اطلاق کیا اور روح القدس کے نفحہ سے پیدا ہوا۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ خدا کے حکم سے اڑ کر آسمان تک چلا جائے ۔ جس کے ہاتھ لگانے یا دو لفظ کہنے پر حق تعالیٰ کے حکم سے اندھے اور کوڑھی اچھے اور مردے زندہ ہو جائیں ۔ اگر وہ اس موطن کون وفساد سے الگ ہو کر ہزاروں برس فرشتوں
لحاظ سے اکثر فوت کا لفظ اس کے ساتھ لکھ دیتے ہیں۔ ورنہ لفظ کا لغوی کو شامل ہے۔ دیکھئے ”اللہ یتوفی الانفس حین موتھا والتی (زمر:٤٢) ”میں توفی نفس (قبض روح) دو صورتیں بتلائیں۔ موت اور الانفس پر وارد کر کے اور حین موتہا کی قید لگا کر بتا دیا کہ توفی اور موت دو اصل یہ ہے کہ قبض روح کے مختلف مدارج ہیں۔ ایک درجہ وہ ہے جو موت دوسرا وہ جو نیند کی صورت میں ہو۔ قرآن کریم نے بتلا دیا کہ وہ دونوں ہے۔ کچھ موت کی تخصیص نہیں۔ ”یتوفاکم باللیل ویعلم ما (انعام:٦٠) ”اب جس طرح اس نے دو آیتوں میں نوم پر توفی کا اطلاق قبض روح بھی پورا نہیں ہوتا۔ اسی طرح اگر آل عمران اور مائدہ کی دو روح مع البدن پر اطلاق کر دیا گیا تو کون سا استحالہ لازم آتا ہے۔ لئے کہ موت اور نوم میں لفظ توفی کا استعمال قرآن کریم ہی نے شروع کیا ۔ اس حقیقت سے ہی نا آشنا تھے کہ موت یا نوم میں خدا تعالیٰ کوئی چیز ۔ اس لئے لفظ توفی کا استعمال موت و نوم پر ان کے یہاں شائع نہ تھا۔ امر کی حقیقت پر روشنی ڈالنے کے لئے اوّل اس لفظ کا استعمال شروع کیا نوم کی طرح اخذ روح مع البدن کے نادر مواقع میں بھی اسے استعمال کر بقرہ میں جمہور کے نزدیک توفی سے موت مراد نہیں اور ابن عباس سے بھی روایت ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام زندہ آسمان پر اٹھائے گئے۔ کمافی روح جانے یا دوبارہ نازل ہونے کا انکار سلف میں کسی سے منقول نہیں۔ بلکہ ابن حجر نے اس پر اجماع نقل کیا ہے اور ابن کثیر وغیرہ نے احادیث نزول کو اکمال معلم میں امام مالک سے اس کی تصریح نقل کی ہے۔ پھر جو معجزات دکھلائے ان میں علاوہ دوسری حکمتوں کے ایک خاص مناسبت آپ کے کی جاتی ہے۔ آپ نے شروع ہی سے متنبہ کر دیا کہ جب ایک مٹی کا پتلا ، باذن اللہ پرند بن کر اوپر اڑا چلا جاتا ہے۔ کیا وہ بشر جن پر خدا نے روح روح القدس کے نفحہ سے پیدا ہوا۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ خدا کے حکم سے اڑ کر عیسیٰ کے ہاتھ لگانے یا دو لفظ کہنے پر حق تعالیٰ کے حکم سے اندھے اور کوڑھی نہیں ۔ اگر وہ اس موطن کون و فساد سے الگ ہو کر ہزاروں برس فرشتوں
کی طرح آسمان پر زندہ و تندرست رہے تو کیا استبعاد ہے۔ ”قال قتادہ فصار کالملئکۃ فھو معھم حول العرش وصار انسیاً ملکیاً سماویاً ارضیاً“
(بغوی، تفسیر عثمانی ص ٧٧، ٧٨ ، ادارہ تالیفات اشرفیہ ملتان)
ناظرین کرام! اب ہم آپ کی خدمت میں مرزا قادیانی کے خیالات پیش کرتے ہیں۔ وہ ”مکروا ومکر اللہ“ کے تحت میں (اربعین نمبر ٣ ص ٨، خزائن ج ١٧ ص ٣٩٤) میں لکھتے ہیں کہ: ”یہودیوں نے نعوذ باللہ! حضرت مسیح کے لئے صلیب کا حیلہ سوچا تھا۔۔۔۔ خدا نے مسیح کو وعدہ دیا کہ میں تجھے بچاؤں گا اور تجھے اپنی طرف رفع کروں گا ۔“
قرآن مجید فرقان حمید کے سیاق و سباق سے یہ روز روشن کی طرح واضح ہوتا ہے کہ مسیح علیہ السلام کے ساتھ بنی اسرائیل کیا سلوک کرنا چاہتے تھے۔ وہ صلیب دے کر قتل کرنا چاہتے تھے۔ یہ بھی عرض کرنا مفید ہوگا کہ اس زمانے میں پھانسی کا طریقہ آج کل کے طریق کار سے بالکل جداگانہ تھا۔ اس زمانہ میں لکڑی کے ایک تختے پر جو صلیب کی شکل پر بنا ہوتا تھا اور جیسا کہ آج تک صلیب کا نشان رائج الوقت ہے۔ گنہگار کو اس کے ہاتھوں اور پاؤں میں میخیں ٹھونک کر کھڑا کر دیتے تھے۔ اس کے بعد اس کے گھٹنے وغیرہ کی ہڈیاں توڑ دیتے تھے۔ بیچارا مصلوب سسک سسک کر بھوکا پیاسا کئی کئی گھنٹوں میں جان دیتا تھا۔ اس کے بعد اس کی لاش سے انتقام لیتے ہوئے اس کا سر تن سے جدا کیا جاتا تھا۔
بنی اسرائیل کی مجلس شوریٰ یہی خوفناک انتقام مسیح علیہ السلام سے لینا چاہتی تھی۔ جس کا مکمل انتظام ہو چکا تھا۔ بظاہر کوئی طاقت ایسی نہ تھی جو اس انتہائی ظلم و بربریت کو روک سکے۔ یہی وجہ ہے کہ حواری بھی تین پانچ ہونے کو ترجیح دیتے ہوئے سرک گئے۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر مسیح کے ساتھی قرار دیئے گئے تو ہمارے ساتھ بھی وہی سلوک ہوگا جو آئے دن ہو رہا ہے۔ اب ایک جان تھی جو بے یار و مددگار تن تنہا اکیلی تھی اور چاروں طرف سے دشمن مکان کا محاصرہ کئے ہوئے تھے۔ دشمن وقت کے منتظر کھڑے تھے اور ان میں سب سے زیادہ جناب مسیح کا وہ حواری تھا جو تیس درہم کے عوض مسیح کا جاسوس بنا اور جسے دنیا یہوداہ اسکر یوطی کے نام سے یا مرغ کی اذان سے تین دفعہ پہلے مسیح کا انکار کرنے والا کہتی ہے۔ بنی اسرائیل اپنے آخری نبی کے ساتھ انتہائی ذلت و ہتک کے سلوک پر تلی ہوئی ہے۔ آہ وہ بد بخت قوم نہیں جانتی کہ اس کے بعد ان کی ہدایت کے لئے کوئی نبی ان کی قوم میں بالخصوص مبعوث نہ کیا جائے گا۔ ادھر بنی اسرائیل طرح طرح کے ذلت کے سامان سوچ رہے ہیں۔ ادھر غیرت کردگار جوش رحمت میں وجیہا فی الدنیا کے بچاؤ اور عزت
کے سامان کر رہی ہے۔ تاریکی کے فرزند نہایت مستعدی سے پہرہ دے رہے ہیں اور قیدی کی ہر طرح سے پوری پوری حفاظت مقصود ہے۔ فقہی وفریسی اپنی خانقاہوں میں۔
چون بخلوت میروند آن کار دیگر میکند
کے مصداق مزے اڑا رہے ہیں۔ ان کے دل نہایت مطمئن ہیں۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ مقدس توریت کا دشمن کل صبح اپنے کیفر و کردار کو پہنچ جائے گا اور ہم اسے نہایت ذلت کی حالت میں بھوکا اور پیاسا جان توڑتے دیکھیں گے۔
جناب کلمۃ اللہ بظاہر قیدی مگر حقیقتاً بالکل آزاد نہایت فرحت وانبساط کے ساتھ لا تعداد ملائکہ میں بادشاہ بنے بیٹھے ہیں اور جان کا ساتھی روح الامین حکم کا منتظر کھڑا ہے اور جیسا کہ قرآن حکیم اس کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ”و ايدناه بروح القدس (بقرہ:٢٥٣)“ اور جیسا کہ انجیل شریف کا ہم حوالہ دے آئے ہیں۔ جس میں مسیح علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ بارہ تمن سے زیادہ فرشتے وہ میرے پاس بھیج دے گا۔
مسیح علیہ السلام کی پیدائش سے پیشتر اللہ تعالیٰ نے جناب صدیقہ سے یہ وعدہ فرمایا تھا۔ ”وجيهاً في الدنيا (آل عمران:٤٥)“ یعنی وہ دنیا میں صاحب مراتب و وجاہت ہوگا اور اللہ کا وعدہ ہمیشہ سچا ہوتا ہے۔ ”ان الله لا يخلف الميعاد (الرعد:٣١)“ اور اللہ تعالیٰ کے بول ہمیشہ سچے ہوتے ہیں۔ ”لا تبديل لكلمات الله (يونس:٦٤)“ اب واقعات پر نظر دوڑایئے اور حالات کو سوچئے کہ بچپن سے جناب مسیح پر پیدائش بن باپ کے طعن وتشنیع شروع ہے اور ہمیشہ چلی آتی ہے۔ اس کے بعد قوم ہے کہ وہ بات سننا گوارہ نہیں کرتی اور ان کی شقاوت قلبی اس حد کو پہنچ چکی ہے کہ وہ جان لینے کی متمنی ہے۔ رہ سہ کر چند حواری ملے تھے جو جان کے خوف سے چلتے بنے۔ چند ایک خدا پرست لوگ دبی زبان سے مسیح کی رسالت پر ایمان لائے نہ دولت پاس تھی نہ حکومت نہ نوکر تھے نہ چاکر نہ پیادہ فوج تھی نہ رسالے نہ ہی اور کوئی ظاہری اسباب ایسے تھے جن سے ”وجيهاً في الدنيا“ ثابت ہو سکے۔ تقریباً ساڑھے تینتیس برس کی عمر میں شام کی زمین آپ پر تنگ کر دی گئی اور معصوم جان کو تلف کرنے کے لئے حکومت وقت کے علاوہ ہزاروں فقہی وفریسی تل گئے اور اس طرح سے خدا کا وہ انعام ”وجيهاً في الدنيا“ کسی دوسرے وقت کا منتظر ہوا اور جیسا کہ جناب صدیقہ کو ایک اور خوشخبری بھی دی گئی تھی۔ جس کا پورا ہونا بھی از بس ضروری تھا۔ ”ويكلم الناس في المهد وكهلا (آل عمران:٤٦)“ کہل ادھیڑ عمر کو کہتے ہیں
اور جوانی چالیس برس تک رہتی ہے تو گویا مسیح علیہ السلام کو یہ عمر ابھی نصیب ہی نہیں ہوئی اور نہ ہی آپ نے ابھی وعدہ الٰہی کے مطابق باتیں کی ہیں اور یہ ادھیڑ عمر میں باتیں کرنا بھی ایک راز خداوندی ہے۔ ورنہ کون نہیں جانتا کہ کبھی دنیا اس عمر میں باتیں کرتی ہے۔ مسیح کا کہل میں باتیں کرنا حکمت خداوندی کے مطابق ہے۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ یہ کہل کی عمر کتنے سو برس بعد آپ کو ملے گی۔ مگر دیکھنے والے یہی اندازہ کریں گے کہ آپ کی عمر پچاس سے متجاوز نہیں۔ یہ بھی ایک معجزہ ہوگا۔ بہر حال یہ دوسرا وعدہ بھی معرض التوا میں ہے اور چونکہ یہ وعدے من جانب خدا ہیں۔ اس لئے ان پر ایمان لانا ایسا ہی فرض ہے جیسا کہ خدا کی توحید ملائکۃ اللہ اور جنات کے وجود اور حشر کے دن پر، بہت بدنصیب ہے وہ جو خدا کے وعدے پر ایمان نہ لائے یا ان کی بودی تاویلیں کر کے دنیا کو گمراہ کرے۔ اس کے بعد حالات کی نزاکت کو دیکھئے کہ یہود نا مسعود مسیح علیہ السلام سے کیا چاہتے تھے۔ چنانچہ مرزا قادیانی جناب مسیح کے متعلق اپنا عقیدہ بیان کرتا ہے کہ ”پھر بعد اس کے مسیح ان کے حوالے کیا گیا اور اس کو تازیانے لگائے گئے۔ گالیاں سننا، طمانچے کھانا، ہنسی اور ٹھٹھے میں اڑائے جانا اس نے دیکھا آخر صلیب پر چڑھا دیا۔
(ازالۃ الاوہام ص ٣٨٠، خزائن ج ٣ ص ٢٩٥)
”یہودیوں کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت یہ خیال تھا کہ وہ قتل بھی کئے گئے اور صلیب بھی دیئے گئے۔ بعض کہتے ہیں کہ پہلے صلیب دے کر پھر ان کو قتل کیا گیا۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٧٦، خزائن ج ٢١ ص ٣٢٥)
”عیسائیوں کا یہ بیان کہ درحقیقت مسیح پھانسی کی موت سے مر گیا..... اور عیسائیوں کے لئے کفارہ ہو گیا۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٢٧٣، خزائن ج ٣ ص ٢٩٢)
بہر حال مرزائی عیسائی اور یہودی اس بات پر متفق ہیں کہ مسیح نعوذ باللہ ذلت کی زندگی میں صلیب پر چڑھا دیا گیا۔ گویا دنیا میں وجاہت نصیب نہیں ہوئی اور اس پر بھی ان تینوں قوموں کا ایمان ہے کہ یہودیوں کا مکر مسیح کے ساتھ یہی تھا کہ صلیب پر چڑھائیں اور ذلت کی موت ماریں۔ اب کلام مجید کو دیکھئے وہ پر زور اس کی تردید کرتا ہے کہ ایسا نہیں ہوا نہ ہی مسیح کی ذلت کسی نے کی نہ ان سے کوئی ٹھٹھا کر سکا۔ نہ وہ صلیب پر دیئے گئے نہ ان کو کوئی قتل کر سکا۔ چنانچہ تفصیل اس کی یہ ہے کہ جب یہودیوں نے یہ ناپاک ارادہ کیا تو ہم نے جہاں مریم صدیقہ کے ساتھ چند وعدے مسیح کے متعلق کئے تھے وہاں خود مسیح کے ساتھ ایک وعدہ کیا اور وہ یہ ہے۔ ”اذ قال الله یعیسیٰ انی متوفیک ورافعک الی ومطہرک من الذین کفروا (آل عمران:٥٥) ”جب کہا اللہ نے اے عیسیٰ میں تجھ کو پورا لینے والا
ہوں اور اپنی طرف تجھے اٹھانے والا ہوں اور ان یہود سے تجھے پاک کرنے والا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے جناب کلمۃ اللہ سے یہ وعدہ کیا کہ میں تمہیں روح مع الجسم کے ساتھ لینے والا ہوں۔ یہ وعدہ عیسیٰ علیہ السلام سے ہو رہا ہے۔ جو روح مع الجسم سے مرکب تھا۔ یہ نہیں فرمایا کہ میں صرف تیری روح کو لینے والا ہوں۔ نہیں جناب عیسیٰ علیہ السلام کو کہا کہ ہم تمہیں لینے والے ہیں یہاں موت کا کوئی قصہ ہی نہیں اور اگر بفرض محال اس کے یہی معنی کئے جائیں جیسا کہ مرزا قادیانی کرتا ہے کہ میں تمہیں موت دینے والا ہوں تو اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ یہود تجھ کو مصلوب کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور چونکہ حکومت ان کے ہاتھ میں ہے۔ اس لئے ایسی حالت میں نعوذ باللہ گو میں تیری مدد کرنی چاہتا ہوں۔ مگر مرعوب ہوں اور ذرائع مسدود ہیں۔ اس لئے اس وقت مدد نہیں کر سکتا۔ ہاں تیری روح قبض کر دوں گا۔ سبحان اللہ کیا بودی چیز ہے۔ روح تو سبھی کا قبض ہوتا ہے پھر اس میں کیا تخصیص ہے ایک اور بے تکی بھی سنئے مرزائی ترجمہ اس آیت کا یہ ہوا کہ اے عیسیٰ میں تمہیں مارنے والا ہوں اور تیری روح اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔
العیاذ باللہ کلام مجید کی بلاغت پر دھبہ آتا ہے۔ کیونکہ تکرار آ گیا ہے۔ جو چیز ایک آیت سے بخوبی نکل سکتی تھی یعنی انی متوفیک میں تجھے مارنے والا ہوں اور جب مر گیا تو روح خود بخود پرواز کر گئی۔ یہ تکرار کیوں کی میں تمہیں مارنے والا ہوں۔ میں تمہاری روح لینے والا۔ مارنا اور روح کا لینا ایک ہی چیز تھی۔ کلام مجید کی بلاغت پر دھبہ لگا۔ اس لئے معلوم ہوا کہ ترجمہ غلط ہے۔ صحیح نہیں اور اس کے غلط ہونے کے بہت سے وجوہ ہیں اور سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ اگر بقول مرزا جناب مسیح کو موت آئے تو یہود نامسعود کی تائید ہوئی۔ کیونکہ وہ یہی چاہتے تھے۔ گویا یہود کی خفیہ تجویز کامیاب ہوئی اور خدا کی خفیہ تدبیر ناکام ہوئی۔ حالانکہ اللہ نے اپنے لئے خیر الماکرین فرمایا ہے۔ اس لئے اس کا ترجمہ وہی صحیح ہے جو شارع علیہ السلام سے لے کر آج تک اجماع امت میں چلا آیا ہے۔ چنانچہ ذیل میں اس بزرگ ہستی کا ترجمہ پیش کیا جاتا ہے۔ جو عندالمرزا نہایت معتبر اور جس کے لئے حضور سرکار مدینہ نے فہم کی زیادتی کی دعاء فرمائی تھی اور جو قرآن کو اوّل نمبر پر سمجھنے والے تھے۔
(ازالۃ الاوہام ص ٢٣٧، خزائن ج ٣ ص ٢٢٥)
چنانچہ عم زادہ رسول حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں۔ ”فاجتمعت اليهود على قتله فاخبره الله بانه يرفعه الى السماء يطهره من صحبة اليهود (نسائی وابن مردویہ ذکره فی السراج المنیر ج ١ ص ٥٣٩، طبع بیروت)“ ﴾ یعنی جب یہود مسیح کو قتل کرنے کے لئے اکھٹے ہوئے اس وقت اللہ تعالیٰ نے اسے خبر دی کہ
میں تجھے آسمان پر اٹھاؤں گا اور کفار یہود کی صحبت سے پاک رکھوں گا۔
اور ایسا ہی (تفسیر معالم ج ١ ص ١٦٢) میں ابن عباس سے روایت مرقوم ہے۔
جب وہ شخص جو مسیح کو پکڑنے کے لئے گیا تھا۔ مکان کے اندر پہنچا تو خدا نے جبرائیل کو بھیج کر مسیح کو آسمان پر اٹھا لیا اور اسی بدبخت یہودی کو (یعنی یہوداہ اسکریوطی ) مسیح کی شکل پر بنا دیا۔ پس یہود نے اس کو قتل کیا اور صلیب پر چڑھایا۔“
امام فخر الدین رازی (تفسیر کبیر ج ٨ ص ٧١، ٧٢) میں زیر آیت ” واذ قال الله يا عیسیٰ “ حسب ذیل ارشاد فرماتے ہیں۔
یہ مکر الہی اس وقت پایا گیا جب کہا خدا نے انی متوفیک اور انی متوفیک کے معنی ہیں۔ اے عیسیٰ میں تیری عمر پوری کروں گا اور پھر تجھے وفات دوں گا۔ پس میں ان یہود کو تیرے قتل کے لئے نہیں چھوڑوں گا۔ بلکہ میں تجھے اپنے آسمان اور ملائکہ کے مقر کی طرف اٹھالوں گا اور تجھ کو ان کے قابو میں آنے سے بچالوں گا اور یہ تفسیر نہایت ہی اچھی ہے۔ تحقیق توفی کے معنی ہیں کسی چیز کو ہر لحاظ سے اپنے قابو میں کر لینا اور کیونکہ اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ بعض آدمی خیال کریں گے کہ حضرت عیسیٰ کا جسم نہیں روح اٹھائی گئی تھی۔ اس واسطے انی متوفیک کا فقرہ استعمال کیا۔ تاکہ یہ کلام دلالت کرے اس بات پر کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جسم بمعہ روح آسمان کی طرف اٹھائے گئے۔ ان کی توفی کے معنی زمین سے نکل کر آسمان کی طرف اٹھایا جانا ہے اور اگر کہا جائے کہ اس صورت میں تو توفی اور رفع میں کوئی فرق نہ ہوا۔ بلکہ دونوں ہم معنی ہوئے۔ اگر ہم معنی ہوئے تو پھر رافعک الی کا فقرہ بلاضرورت تکرار کلام میں ثابت ہوا۔ جواب اس کا ہم یہ دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انی متوفیک سے صرف حضرت عیسیٰ کی توفی کا اعلان کرتا ہے اور توفی ایک عام لفظ ہے۔ جس کی ماتحت بہت قسمیں ہیں۔ ان میں سے ایک توفی موت کے ساتھ ہوتی ہے اور ایک توفی آسمان کی طرف بمعہ جسم اٹھا لینا ہے۔ پس جب انی متوفیک کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا و رافعک الی تو اس فقرہ سے توفی کی ایک قسم مقرر و معین ہو گئی۔ پس کلام میں تکرار نہ رہا اور مطهرك من الذين كفروا کے معنی یہ ہیں کہ میں تجھے ان یہود کی صحبت سے جدا کرنے والا ہوں اور تیرے اور ان کے درمیان علیحدگی کرنے والا ہوں اور امام جلال الدین سیوطیؒ (تفسیر جلالین ص ٥٢) ” واذ قال الله يا عیسیٰ “ کی تحت میں فرماتے ہیں۔
”جب کہا اللہ تعالیٰ نے اے عیسیٰ میں تجھ کو اپنے قبضے میں کرنے والا ہوں اور دنیا سے بغیر موت کے آسمان کی طرف اٹھانے والا ہوں اور تجھے الگ کرنے والا ہوں۔ کافروں کی صحبت
سے اور تیرے تابعداروں کو تیرے مخالفوں پر قیامت تک دلائل اور تلوار سے غالب رکھنے والا ہوں اور امام فخر الدین رازیؒ (تفسیر کبیر ج ٨ ص ٧٢، ٧٣) ”واذ قال الله یا عیسیٰ“ کے تحت میں فرماتے ہیں۔
”قول الٰہی رافعک الیٰ تقاضا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو زندہ اٹھا لیا اور واؤ ترتیب کا تقاضا نہیں کرتی۔ پس سوائے اس کے کچھ نہ رہا کہ کہا جائے کہ اس میں تقدیم و تاخیر ہے اور معنی یہ ہیں کہ میں تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور کفار سے بالکل پاک وصاف رکھنے والا ہوں اور تجھے دنیا میں نازل کرنے کے بعد فوت کرنے والا ہوں اور اس قسم کی تقدیم و تاخیر قرآن شریف میں بکثرت ہے۔“
ان تراجم وتفاسیر سے یہ روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ یہود کا وہ ناپاک منصوبہ جو جناب کلمتہ اللہ کے لئے انہوں نے تجویز کیا تھا کہ قتل کریں گے اور صلیب پر چڑھائیں گے یا طرح طرح سے ہنسی ٹھٹھا کریں گے اور تمسخر اڑائیں گے۔ پورا نہیں ہوا بلکہ مالک الملک نے ان کی تدبیر سؤ کے مقابل تدبیر خیر کی اور وہ یہی وعدہ تھا جو بلا توقف ایفاء کا متمنی تھا۔ اللہ تعالیٰ نے جناب جبرائیل اور اس کے ماتحتوں کو بھیجا۔ جیسا کہ اس کے وعدے کے الفاظ صاف دلالت کرتے ہیں کہ اے عیسیٰ میں تجھ کو پورا لینے والا ہوں اور اپنی طرف تجھے اٹھانے والا ہوں اور ان یہود سے تجھے پاک کرنے والا ہوں۔ جناب جبرائیل کلمتہ اللہ کو اس مکان سے جس میں کہ وہ محصور تھے نکال کر آسمان پر لے گئے اور اس طریق سے یہود نامسعود سے آپ کو پاک کیا اور ویسے بھی مسیح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے وہ وہ معجزات عطاء کر رکھے تھے جن کی نظیر ہی نہیں۔ مثلاً مادر زاد کوڑھی اور اندھوں کا اچھا کرنا، مٹی کے پرند بنا کر ان میں پھونک مارنا اور ان کا پرواز کرنا، مردوں کو زندہ کرنا یہ سب باتیں دلالت کرتی ہیں کہ ان میں کوئی خاص طاقت تھی اور جب ایسی ایسی خوبیاں موجود تھیں اور ان کا انکار نہیں کیا جاسکتا تو اس کا انکار کس طرح کیا جائے کہ مردے تو آپ کے حکم پر زندہ ہوں۔ اندھے سوجاکھے ہو جائیں۔ مادر زاد کوڑھے چنگے بھلے ہو جائیں اور جب اپنی جان خطرے میں ہو تو بے بس رہیں۔ یہ غیرممکن ہے کہ جب ان تمام معجزات کو مانا جاتا ہے جو بظاہر ناممکن اور سنت اللہ کے خلاف ہیں اور جن کا فاعل مسیح علیہ السلام ہے تو مسیح کے رفع الیٰ السماء کو کیوں نہ مانیں۔ جس کا فاعل باری تعالیٰ ہے۔ یا تو خدا کی قدرتوں اور طاقتوں کا سرے سے انکار کریں کہ مولا کو یہ طاقت نہیں کہ وہ کرۂ زمہریر و آتشین سے کسی خاکی کو لے جاسکے اور اگر یہ خیال فاسد و باطل ہے تو ایک انسان کیا وہ چاہے تو تمام مخلوق کو لے جاسکتا ہے۔ کیونکہ وہ ”واللہ علیٰ
روں کو تیرے مخالفوں پر قیامت تک دلائل اور تلوار سے غالب رکھنے والا ہوں ن (تفسیر کبیر ج ٨ ص ٧٢،٧٣) ”و اذ قال الله یا عیسیٰ“ کے تحت میں دارافعک الیّ تقاضا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو زندہ اٹھا لیا اور واؤ رتی۔ پس سوائے اس کے کچھ نہ رہا کہ کہا جائے کہ اس میں تقدیم و تاخیر ہے تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور کفار سے بالکل پاک وصاف رکھنے والا نازل کرنے کے بعد فوت کرنے والا ہوں اور اس قسم کی تقدیم و تاخیر قرآن ہے۔“
و تفاسیر سے یہ روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ یہود کا وہ ناپاک منصوبہ جو لئے انہوں نے تجویز کیا تھا کہ قتل کریں گے اور صلیب پر چڑھائیں گے یا ستھا کریں گے اور تمسخر اڑائیں گے۔ پورا نہیں ہوا بلکہ مالک الملک نے ان ا۔ تدبیر خیر کی اور وہ یہی وعدہ تھا جو بلا توقف ایفاء کا متمنی تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ں کے ماتحتوں کو بھیجا۔ جیسا کہ اس کے وعدے کے الفاظ صاف دلالت ئی میں تجھ کو پورا لینے والا ہوں اور اپنی طرف تجھے اٹھانے والا ہوں اور ان نے والا ہوں۔ جناب جبرائیل علیہ السلام کو اس مکان سے جس میں کہ وہ محصور لے گئے اور اس طریق سے یہود نا مسعود سے آپ کو پاک کیا اور ویسے بھی مسیح نے وہ وہ معجزات عطاء کر رکھے تھے جن کی نظیر ہی نہیں۔ مثلاً مادر زادہ کوڑھی مٹی کے پرند بنا کر ان میں پھونک مارنا اور ان کا پرواز کرنا، مردوں کو زندہ لت کرتی ہیں کہ ان میں کوئی خاص طاقت تھی اور جب ایسی ایسی خوبیاں انہیں کیا جا سکتا تو اس کا انکار کس طرح کیا جائے کہ مردے تو آپ کے حکم اچھے ہو جائیں۔ مادر زاد کوڑھے چنگے بھلے ہو جائیں اور جب اپنی جان ں رہیں۔ یہ غیر ممکن ہے کہ جب ان تمام معجزات کو مانا جاتا ہے جو بظاہر بخلاف ہیں اور جن کا فاعل مسیح علیہ السلام ہے تو مسیح کے رفع الیٰ السماء کو افاعل باری تعالیٰ ہے۔ یا تو خدا کی قدرتوں اور طاقتوں کا سرے سے انکار نہ کہیں کہ وہ کرۂ زہریر و آتشین سے کسی خاکی کو لے جاسکے اور اگر یہ خیال نسان کیا وہ چاہے تو تمام مخلوق کو لے جا سکتا ہے۔ کیونکہ وہ ”و الله علٰی
کل شیء قدیر“ ہے۔ وہ خطرناک کڑے جو برف اور آگ بنا دیتے ہیں وہ بھی اسی کی مخلوق ہیں اور انسانوں سے زیادہ تابع فرمان ہیں اور خدا کی حمد وتقدیس ہمہ وقت بیان کرتے ہیں۔ جیسا کہ قرآن حکیم شاہد ہے ”کل قد علم صلاته وتسبیحه (النور:٤١)“ ہر چیز اس کے تابع فرمان ہے اور اپنی زبان میں اس کی حمد وفکر کرنا جانتی ہے۔ جمادات ہی کو دیکھ لیجئے اور مثال کے طور پر جناب داؤد علیہ السلام کے واقعہ ہی کو لے لیجئے۔ قدرت نے انہیں وہ لحن عطاء کیا تھا جس کی نظیر ہی نہیں آپ جب حمد و ثناء کرتے تھے تو پرند اور پہاڑ جواب دیتے تھے۔ جیسا کہ قرآن شاہد ہے ”یا جبال اوبی معه والطیر (سبا:١٠)“ اس کے علاوہ جناب ابراہیم کی مثال آپ کے سامنے ہے۔ نمرود کی وجہ جس میں ہزاروں من لکڑیاں جل چکی تھیں اور جس پر پرند پرواز کرنے سے عاجز تھے۔ اللہ تعالیٰ کے ایک ہی حکم سے ”قلنا یانار کونی بردا و سلاما علٰی ابراهیم (الانبیاء:٦٩)“ ٹھنڈی ہوئی۔ مفسرین برداً وسلاماً کی تفسیر میں متفقہ طور پر لکھتے ہیں کہ اگر سلامتی والی سرد نہ کہا جاتا تو وہ اتنی سرد ہوتی کہ ابراہیم سردی سے ”واصل الی الحق“ ہو جاتے۔ دریائے نیل ہی کو دیکھ لیجئے کہ جہاں قبطیوں کے لئے قہار بنا وہاں سبطیوں کے لئے رحیم بھی تھا۔ اس لئے خدا کی وہ مخلوق وہ کرۂ زہریرہ ہو یا آتشین کی کیا طاقت ہے جو احکامِ سرمدی کے خلاف سرمو بھی فرق لائے۔ ہاں آج کل کے فلسفی بھلا اس بات کو کیا جانیں کہ روز شیاطین آسمان کی طرف صعود کرتے ہیں اور ملائکہ کے کاروبار اور باتوں کو سننے کی کوشش کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے دربان پہلے ہی دن سے اس بات پر مامور ہیں کہ جب وے آویں تو آگ کے شعلوں سے ان کی تواضع کی جائے۔ چنانچہ یہ ایک عام مشاہدے کی چیز ہے۔ جسے عرف عام میں ستاروں کا ٹوٹنا کہا جاتا ہے۔ حالانکہ آج کل کے فلسفی تو اس بات پر تل گئے ہیں کہ چاند اور ستاروں میں شہر آباد ہیں اور کوشش ہو رہی ہے کہ ان کے مکینوں سے ہم کلامی ہو۔ گو سائنس اور فلسفہ کلام مجید کے سامنے بیسیوں دفعہ خجل وشرمندہ ہوا اور ہوتا رہے گا۔ مثلاً کلام مجید نے اعلان کیا کہ تمہارے ہاتھ اور پاؤں تمہاری بداعمالیوں کی ویسی ہی گواہی دیں گے جیسے کہ تمہاری زبان ترجمانی کرتی ہے۔ یہ سن کر فلسفیوں کے پیٹ میں چوہے دوڑنے لگے۔ اس آیت کریمہ پر ”تشهد ارجلهم (یسین:٦٥)“ طرح طرح سے ایک کافی مدت تک اعتراض ہوتے رہے۔ آخر فوٹو گراف ایجاد ہوئی تو منہ پر تالے پڑے۔ اسی طرح حضور اکرمﷺ نے جنگ موتہ کا واقعہ بیان فرمایا جو قریباً ایک مہینہ کی مسافت پر واقعہ تھا۔ آپﷺ نے فرمایا زید شہید ہوا اب علم جعفر نے ہاتھ میں لیا وہ بھی واصل الی الحق ہوا۔ اس کے بعد علم عبداللہ بن رواحہ نے ہاتھ میں لیا وہ بھی شہید ہوا۔
اس کے بعد علم خالد بن ولیدؓ جو خدا کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے نے سنبھالا اور خدا کی مہربانی سے کامیاب ہوا۔ اسی حالت میں آپ جعفرؓ کے گھر تشریف لے گئے۔ جعفرؓ کی بیوی بچوں کو نہلا کر سرمہ لگا رہی تھی۔ آپ بچوں کو دیکھ کر آب دیدہ ہو گئے اور زانوں پر بٹھا لیا۔ اسماءؓ نے پوچھا کیا ان کے والد کی کوئی خبر آئی ہے۔ فرمایا ہاں وہ شہید ہوا۔ ایسی ایسی اور سینکڑوں ایجاد مدبروں فلسفیوں کا کھلونا بنی رہیں۔ بالآخر ٹیلی فون و برقی تاریں ایجاد ہوئیں تو شرم کے آنچل سے منہ چھپانا پڑا۔
یہاں تو معاملہ ہی صاف ہے۔ خلاق کائنات اپنی مخلوق کو جہاں چاہے اور جس طریق سے چاہے لے جائے اور رکھے کسی کا کیا حق ہے کہ زبان کو ذرا سی جنبش بھی کرے۔ جب کہ فرقان حمید میں ایسے بھی واقعات موجود ہیں۔ جناب سلیمان علیہ السلام کے عہد رسالت میں جہاں اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان پر شاہی دے رکھی تھی۔ وہاں جنات پر بھی شہنشاہی تھی اور پرندوں کی بول چال پر بھی خاصہ تصرف تھا۔ ایک دن جب کہ آپ فوج کا جائزہ لے رہے تھے۔ پرندوں میں سے ہدہد کو غائب پایا۔ اظہار ناراضگی فرماتے ہوئے غیر حاضری پر تعجب کیا اور معقول عذر پر معافی بتلائی۔ جب وہ حاضر ہوا تو عرض کی کہ میں نے آج ایک ایسے ملک پر پرواز کیا ہے جس کے لوگ چاند اور سورج کی پرستش کرتے ہیں اور ان پر ایک عورت حکمران ہے اور اس کی عدالت کا تخت بہت عمدہ اور بڑا ہے۔ آپ نے نامۂ ہدایت بھیجا۔ جس میں خدائے واحد اور اپنی رسالت پر ایمان لانے کی تلقین فرمائی۔ اس نے اس کے جواب میں نبوت اور سلطنت کے امتیاز کے لئے تحائف بھیجے۔ آپ نے اس کے جواب میں ڈانٹ پلائی اور سختی سے توحید پر ایمان لانے کو لکھا۔ اس وقت آپ دربار عام میں اجلاس فرما رہے تھے اور رسالت کا رعب آپ کے فرق مبارک سے ٹپک رہا تھا۔ جلالت نبوت میں آپ نے مصاحبین پر نظر دوڑائی اور فرمایا: ”ايکم ياتينی بعرشها قبل ان ياتونی مسلمين“ تم میں سے کون ہے جو اس سے پہلے کہ وہ مسلمان ہو کر آئے۔ اس کا تخت یہاں اٹھا لائے۔ ”قال عفريت من الجن انا آتيك به قبل ان تقوم من مقامك (النمل:٣٩) “ جنات میں سے ایک دیو بولا میں لا سکتا ہوں۔ اس کو اس سے پہلے کہ آپ کھڑے ہوئے اپنی جگہ پر بیٹھ جائیں۔ یعنی جو وقت کھڑے ہونے اور بیٹھنے میں خرچ ہوتا ہے۔ اسی تھوڑے سے وقت میں اس بھاری بھر کم تخت کو آپ کی خدمت میں حاضر کر سکتا ہوں اور اس پر میں زبردست امانت دار بھی ہوں۔ اس کے بعد ایک اور نے یوں لب کشائی کہ ”قال الذي عنده علم من الكتاب انا آتيك به قبل ان يرتد اليك طرفك (النمل:٤٠) “ عرض کیا جناب میں لا سکتا ہوں اس سے پہلے کہ آپ آنکھ جھپکیں۔ کیونکہ مجھے توریت کا علم دیا گیا ہے۔
اللہ اللہ خدا کا کلام اور اس کی ق سے بھاری بھر کم تخت آن واحد میں لا خلاق جہاں جو ساری دنیا وما فیہا کا مالک لے جانے کی طاقت نہ رکھتا ہو۔ مرزائی ہے مگر وہ اپنے قوانین کو نہیں بدلتا۔ اس کا ہمارے لئے ہے نہ کہ خلاق جہاں کے۔ یا حکم کا تابع نہیں اور اگر ہماری طرح و طاقتوں اور قدرتوں کی حدبست ہی نہ کر آئے ہیں۔ ایک انسان کا آسمان پر يذهب كم ويات بخلق جديد اعلان فرماتی ہے۔ یعنی اگر وہ مالک الم مال واملاک غرق کر دے اور اس سے کھاتی پیتی لڑتی جھگڑتی لے آوے او جہاں کے فرمان کے مطابق نہایت آ منگانا بھی ہم کمزور ایمان والوں کی تسل ہے کہ جب وہ ارادہ کرتی ہے کسی امر ہو جاتی ہے۔ نہ اسے ہماری طرح ہ ضرورت ہے۔ ہاں اس کے قادر وتو کے طوفان کے وقت ایک ایماندار بو خبر دی تو قوم نے استہزاء کیا۔ مگر وہ ملاتی ہوتی۔ عرض کرتی بیٹا نوح طوف اتفاق کی بات ہے کہ طوفان کے مو ہو چکی اور پانی کافور ہوا تو آپ کش ایک ہوا کا عالم تھا۔ جو چاروں طرف یہ آواز کیسی ۔ سامنے جھونپڑا نظر آیا بیٹا نوح کیا طوفان کے آنے کا دن
لم خالد بن ولیدؓ جو خدا کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے نے سنبھالا اور خدا کی مہربانی ہوا۔ اسی حالت میں آپ جعفرؓ کے گھر تشریف لے گئے۔ جعفر کی بیوی بچوں کو نہلا کر رہی۔ آپ بچوں کو دیکھ کر آب دیدہ ہو گئے اور زانوں پر بٹھا لیا۔ اسماءؓ نے پوچھا کیا ان کی خبر آئی ہے۔ فرمایا ہاں وہ شہید ہوا۔ ایسی ایسی اور سینکڑوں اخبار مدتوں فلسفیوں کا ہیں۔ بالآخر ٹیلی فون و برقی تاریں ایجاد ہوئیں تو شرم کے آنچل سے منہ چھپانا پڑا۔ بھی صاف ہے۔ خلاق کائنات اپنی مخلوق کو جہاں چاہے اور جس طریق سے چاہئے رکھے کسی کا کیا حق ہے کہ زبان کو ذرا سی جنبش بھی کرے۔ جب کہ فرقان مجید میں ت موجود ہیں۔ جناب سلیمان علیہ السلام کے عہد رسالت میں جہاں اللہ تعالیٰ نے پر شاہی دے رکھی تھی۔ وہاں جنات پر بھی شہنشاہی تھی اور پرندوں کی بول چال پر تھا۔ ایک دن جب کہ آپ فوج کا جائزہ لے رہے تھے۔ پرندوں میں سے ہدہد کو ہار ناراضگی فرماتے ہوئے غیر حاضری پر تعجب کیا اور معقول عذر پر معافی بتلائی۔ آیا تو عرض کی کہ میں نے آج ایک ایسے ملک پر پرواز کیا ہے جس کے لوگ چاند اور کرتے ہیں اور ان پر ایک عورت حکمران ہے اور اس کی عدالت کا تخت بہت عمدہ نے نامہ ہدایت بھیجا۔ جس میں خدائے واحد اور اپنی رسالت پر ایمان لانے کی سا نے اس کے جواب میں نبوت اور سلطنت کے امتیاز کے لئے تحائف بھیجے۔ ر جواب میں ڈانٹ پلائی اور سختی سے توحید پر ایمان لانے کو لکھا۔ اس وقت آپ اس فرما رہے تھے اور رسالت کا رعب آپ کے فرق مبارک سے ٹپک رہا تھا۔ آپ نے مصاحبین پر نظر دوڑائی اور فرمایا ”ایكم یاتینی بعرشها قبل ان ین“ تم میں سے کون ہے جو اس سے پہلے کہ وہ مسلمان ہو کر آئے ۔ اس کا تخت قال عفریت من الجن انا آتيك به قبل ان تقوم من مقامك نات میں سے ایک دیو بولا میں لا سکتا ہوں۔ اس کو اس سے پہلے کہ آپ کھڑے بیٹھ جائیں۔ یعنی جو وقت کھڑے ہونے اور بیٹھنے میں خرچ ہوتا ہے۔ اسی میں اس بھاری بھر کم تخت کو آپ کی خدمت میں حاضر کر سکتا ہوں اور اس پر میں بھی ہوں۔ اس کے بعد ایک اور نے یوں لب کشائی کہ ”قال الذی عنده اب انا آتيك به قبل ان يرتد اليك طرفك (النمل:٤٠)“عرض کیا اس سے پہلے کہ آپ آنکھ جھپکیں۔ کیونکہ مجھے توریت کا علم دیا گیا ہے۔
اللہ خدا کا کلام اور اس کی مخلوق کے ادنیٰ افراد کو تو یہ طاقت ہو کہ وہ مہینوں کی مسافت سے بھاری بھر کم تخت آنِ واحد میں لانے میں قدرت رکھتے ہوں اور لا کر حاضر کر دیں۔ مگر وہ خلاق جہاں جو ساری دنیا و مافیہا کا مالک ہو رزاق ہو۔ اپنی مرضی ومشیت کے مطابق جہاں چاہے لے جانے کی طاقت نہ رکھتا ہو۔ مرزائی عموماً جہالت سے کہہ دیا کرتے ہیں کہ طاقت و قدرت تو ہے مگر وہ اپنے قوانین کو نہیں بدلتا۔ اس کا سہل اور صحیح جواب تو یہ ہے کہ قانون قدرت کی تابعداری ہمارے لئے ہے نہ کہ خلاقِ جہاں کے لئے۔ ہم احکام سرمدی کے تابع فرمان ہیں۔ وہ کسی قانون یا حکم کا تابع نہیں اور اگر ہماری طرح وہ بھی تابع و مطیع ہو جائے تو واللہ علی کل شئی قدیر کیسا اس طاقتوں اور قدرتوں کی حد بست ہی نہیں۔ جیسا کہ ہم مرزا قادیانی کے حوالوں سے قبل ثابت کر آئے ہیں۔ ایک انسان کا آسمان پر لے جانا تو کیا وہ تو وہ غالب و قادر ہستی ہے جو ”ان یشاء يذهب كم ويات بخلق جديد وما ذالك على الله بعزيز (ابراهیم: ١٩، ٢٠)“ کا اعلان فرماتی ہے۔ یعنی اگر وہ مالک الملک چاہے تو ہم سب کو ایک سیکنڈ کے بیسویں حصے میں معہ مال و املاک غرق کر دے اور اس سے تھوڑے عرصے میں ایک ایسی ہی اور نئی مخلوق ہماری طرح کھاتی پیتی لڑتی جھگڑتی لے آوے اور تم تو یہی کہو گے کہ یہ قطعا محال و غیرممکن ہے۔ مگر وہ خلاق جہاں کے فرمان کے مطابق نہایت آسان ہے اور یہ مسیح علیہ السلام کے لئے روح الامین کو بھیج کر منگانا بھی ہم کمزور ایمان والوں کی تسلی کے لئے تھا ورنہ وہ پاک ذات تو ایسی زبردست و زور آور ہے کہ جب وہ ارادہ کرتی ہے کسی امر کا تو بس اتنا ہی حکم کر دیتی ہے کہ ہو جا اس حکم کے ساتھ ہی وہ ہو جاتی ہے۔ نہ اُسے ہماری طرح بودے سہارے اور وسائل مطلوب ہیں اور نہ ہی ان کی کوئی ضرورت ہے۔ ہاں اس کے قادر و توانا ہونے کا ایمان ہونا چاہئے۔ کتب سیر میں لکھا ہے کہ نوح کے طوفان کے وقت ایک ایماندار بوڑھی غریب عورت تھی جب جناب نوح نے طوفان کی آمد کی خبر دی تو قوم نے استہزاء کیا۔ مگر وہ ڈری اور ایمان لائی۔ چنانچہ جب بھی وہ نوح علیہ السلام سے ملاقی ہوتی۔ عرض کرتی بیٹا نوح طوفان کے وقت مجھے یاد رکھنا اور اپنی کشتی میں مجھے بھی جگہ دینا۔ اتفاق کی بات ہے کہ طوفان کے موقعہ پر وہ نوح علیہ السلام کی یاد سے اتر گئی۔ جب دنیا زیر و زبر ہو چکی اور پانی کافور ہوا تو آپ کشتی سے اترے نہ کہیں مکان تھے نہ محل نہ باغ تھے نہ وادیاں۔ ایک ہو کا عالم تھا۔ جو چاروں طرف حاوی تھا۔ چلتے چلتے چکی کی کھر کھر اہٹ کی آواز سنی۔ تعجب ہوا یہ آواز کیسی۔ سامنے جھونپڑا نظر آیا۔ کواڑ بند تھا۔ دستک دی تو وہی بڑھیا لڑکھڑاتی سامنے آئی اور کہا بیٹا نوح کیا طوفان کے آنے کا دن آ گیا اور تم مجھے لینے آئے ہو۔ جناب نوح نے جواب دیا اماں
وہ تو گذر چکا اور دنیا غرق ہوئی۔ اس نے تعجب سے ہاتھوں کو مسلا اور کہا واللہ مجھے تو اس کا کچھ علم بھی نہ ہوا۔ آپ نے جواب دیا تم روز گیہوں کو پیستی ہو مگر وہ چند گیہوں جو کیلی کے ساتھ چمٹے رہتے ہیں صحیح و سالم ہی رہتے ہیں۔ ان پر کوئی آنچ تک نہیں آتی۔ اسی طرح جو خدائے واحد کی واحدانیت سے لگاؤ رکھتے ہیں وہ ہمیشہ محفوظ و مامون رہتے ہیں تو حاصل یہ ہوا کہ ایمان ہونا چاہئے دیکھئے ہمیں تعلیم ہی کچھ ایسی دی گئی ہے۔ یؤمنون بالغیب ظاہر کی آنکھ سے ہم نے خدا کو نہیں دیکھا۔ ملائکہ اور جنات کو نہیں دیکھ سکے۔ سرور دو جہاں ﷺ کو نہیں دیکھا۔ قرآن منزل من اللہ ہوتے نہیں دیکھا۔ معراج جسمانی کے ہم شاہد نہیں۔ شق القمر کے ہم تماشائی نہیں۔ اس کے علاوہ اور بیسیوں چیزیں ہیں جو ہمارے مشاہدے میں نہیں آئیں۔ مگر ہم سب کا اس پر کامل بھروسہ اور ایمان ہے کہ یہ سب چیزیں صحیح اور درست ہیں۔ حالانکہ ہمارے عقل و فکر سے وراء الورا ہیں۔ اصل میں ہمارے ایمان ایمان نہیں رہے یا تو وہ سرے سے ہم سے کنارہ کش ہو گئے یا وہ توہمات باطلہ سے اس قدر کمزور ہو گئے ہیں کہ ان میں وہ اہلیت کا مادہ ہی نہیں خیر القرون میں ہمارے جیسے چند ایک گنوار دیہاتی سرکار مدینہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور ایمان لانے کا اقرار کیا۔ زبان فیض ترجمان سے مشیت الٰہی نے جواب دلوایا۔
”قالت الاعراب امنا قل لم تؤمنوا ولكن قولوا اسلمنا (حجرات:١٤) “ کہا گنواروں نے کہ ایمان لائے ہیں ہم کہہ دے میرے حبیب کہ نہیں ایمان لائے تم ولیکن یہ کہو کہ مسلمان ہوئے ہم اور ابھی نہیں داخل ہوا ایمان بیچ دلوں تمہارے کے، اور یہاں تو مسیح علیہ السلام کے آسمان پر جانے میں اشکال ہی نہیں۔ جب کہ سرور دو جہاں ﷺ کا معراج جسمانی ہماری آنکھوں کے سامنے موجود ہے اور جمہور امت کا اس پر ایمان ہے ارشاد ہوتا ہے ۔”سبحان الذی اسرى بعبده لیلاً من المسجد الحرام الى المسجد الاقصا الذي (بنی اسرائيل:١) “ پاک ذات ہے وہ مولا جو لے گیا اپنے بندے کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک۔
مگر افسوس یہاں بھی مرزائی الٹی کھوپڑی کا ثبوت دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ کو خواب میں سیر کرایا گیا اور یہ چیزیں روح نے دیکھیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے اپنے بندے کو سیر کرایا۔ اب بندہ روح مع الجسد دونوں کا مجموعہ ہے۔ اسی طرح یا عیسى انی متوفيك ورافعك الی میں عیسیٰ روح مع الجسد ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ عیسیٰ کو پورا پورا لینے کا وعدہ فرمارہے ہیں۔ نہ کہ خالی روح کو اور یہ روح کی حقیقت بھلا مرزا جیسے باتونی کیا جانیں۔ حالانکہ وہ ٹوٹتی پھوٹی گفتگو نری عربی سرقہ کر کے جوڑ توڑ ملا سے عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر جانا ثابت کر۔ ہوتا ہے۔ ”ويسئلونك عن الروح قال ا سوال کرتے ہیں اے محمد ﷺ تجھ ایک حکم ہے۔ ناظرین! آپ نے ابھی اسی کت جناب یحییٰ نے یہ بشارت دی تھی۔ ”ومصد ایک کلمتہ اللہ کی تصدیق کرتا ہوں اور کلمتہ اللہ ک اس کے بعد جناب مریم کو ملائکہ ۔ بكلمة منه (آل عمران:٤٥) “ یعنی تحقیق اب یہ دیکھنا ہے کہ یہ کلمتہ اللہ یا ر القاها الى مريم (نساء:١٧١) “ وہ اک اور ان کلمات کے متعلق اللہ تعالیٰ (بقرہ:٢١٠) ”والی اللہ کی طرف تمام ا ”اليه يصعد الكلم الط کے طرف چڑھتے ہیں کلمے پاک اور عمل نیک ثابت ہوا کہ خدا کے کلمات خ تھے۔ اس لئے اللہ ہی کی طرف لوٹ گئے۔ مرزائی صاحبان ایک اور اعتر دو جہاں خاتم النبیین ﷺ جو تمام انبیاء ۔ ہیں۔ وہ تو مدینہ طیبہ میں آرام کریں اور ۔ حضور سرور کائنات ﷺ کی ہتک ہے اس نہیں ہے۔ بلکہ کمال عزت ہے کہ ان کے جرنیل کی حیثیت سے اسوہ نبی ﷺ پر چلنا کو روشن کرنے کے لئے پیش گوئی کو پورا اطہر پر حاضر ہو اور حسب پیش گوئی سرکار دے، غلیظ کو باطل ثابت کرے۔ تمام
غرق ہوئی۔ اس نے تعجب سے ہاتھوں کو مسلا اور کہا واللہ مجھے تو اس کا کچھ علم نہ جواب دیا تم روز گیہوں کو پیستی ہو مگر وہ چند گیہوں جو کیلی کے ساتھ چمٹے تے رہتے ہیں۔ ان پر کوئی آنچ تک نہیں آتی۔ اسی طرح جو خدائے واحد کی کہتے ہیں وہ ہمیشہ محفوظ و مامون رہتے ہیں تو حاصل یہ ہوا کہ ایمان ہونا چاہئے بجو الہی وحی گئی ہے۔ یؤمنون بالغیب ظاہر کی آنکھ سے ہم نے خدا کو نہیں ت کو نہیں دیکھ سکتے۔ سرور دو جہاں ﷺ کو نہیں دیکھا۔ قرآن منزل من اللہ راج جسمانی کے ہم شاہد نہیں۔ شق القمر کے ہم تماشائی نہیں۔ اس کے علاوہ ، جو ہمارے مشاہدے میں نہیں آئیں۔ مگر ہم سب کا اس پر کامل بھروسہ اور عقیدیں صحیح اور درست ہیں۔ حالانکہ ہمارے عقل و فکر سے وراء الوراء ہیں۔ نا ایمان نہیں رہے یا تو وہ سرے سے ہم سے کنارہ کش ہوئے یا وہ توہمات ر ہیں کہ ان میں وہ اہلیت کا مادہ ہی نہیں خیر القرون میں ہمارے جیسے چند دے ﷺ کی خدمت میں آئے اور ایمان لانے کا اقرار کیا۔ زبان فیض ا یہ جواب نے دلوایا۔
ت الاعراب امنا قل لم تؤمنوا ولكن قولوا اسلمنا یہا گنواروں نے کہ ایمان لائے ہیں ہم کہہ دے میرے حبیب کہ نہیں ایمان مسلمان ہوئے ہم اور ابھی نہیں داخل ہوا۔ ایمان بیچ دلوں تمہارے کے، اور کے آسمان پر جانے میں اشکال ہی نہیں۔ جب کہ سرور دو جہاں ﷺ کا نکھوں کے سامنے موجود ہے اور جمہور امت کا اس پر ایمان ہے ارشاد ہوتا اسری بعبده ليلاً من المسجد الحرام الى المسجد الاقصا : ١) ”پاک ذات ہے وہ مولا جو لے گیا اپنے بندے کو مسجد حرام سے
یہاں بھی مرزائی الٹی کھوپڑی کا ثبوت دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ کو ر یہ چیزیں روح نے دیکھیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے ب بندہ روح مع الجسد دونوں کا مجموعہ ہے۔ اسی طرح یا عیسی انی ئ میں عیسیٰ روح مع الجسد ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ عیسیٰ کو پورا پورا لینے کا وعدہ روح کو اور یہ روح کی حقیقت بھلا مرزا جیسے باتونی کیا جانیں۔ حالانکہ وہ
ٹوٹی پھوٹی گفتگو عربی سرقہ کر کے جوڑ توڑ ملانے پر ہی قادر تھے۔ غور سے سنئے ہم اسی بحث میں سے عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر جانا ثابت کرتے ہیں۔ مگر گوش ہوش چاہئے اور دل کی صفائی ارشاد ہوتا ہے۔ ”ويسئلونك عن الروح قل الروح من امر ربی (بنی اسرائیل: ٨٥)“ سوال کرتے ہیں اے محمد ﷺ تجھ سے روح کیا ہے۔ کہہ دے روح میرے مالک کا ایک حکم ہے۔ ناظرین! آپ نے ابھی اسی کتاب میں زکریا علیہ السلام کے بیان میں پڑھا ہے کہ جناب یحییٰ نے یہ بشارت دی تھی۔ ”ومصدقاً بكلمة من الله (آل عمران: ٣٩)“ یعنی میں ایک کلمۃ اللہ کی تصدیق کرتا ہوں اور کلمۃ اللہ کا ترجمہ ہے روح اللہ کا یا حکم اللہ کا۔
اس کے بعد جناب مریم کو ملائکہ نے ایک بشارت دی اور وہ یہ ہے۔ ”ان الله يبشرك بكلمة منه (آل عمران: ٤٥)“ یعنی تحقیق اللہ تجھ کو خوشخبری دیتا ہے اپنے ایک حکم کی۔
اب یہ دیکھنا ہے کہ یہ کلمۃ اللہ یا روح اللہ کون ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: ”كلمة القاها الى مریم (نساء: ١٧١)“ ”وہ اللہ کا کلمہ تھا جو مریم کی طرف القاء کیا گیا تھا۔﴾ اور ان کلمات کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ”والى الله ترجع الامور (بقرہ: ٢١٠)“ ”اسی اللہ کی طرف تمام امور رجوع ہوتے ہیں۔﴾
”اليه يصعد الكلم الطيب والعمل الصالح يرفع (فاطر: ١٠)“ ”اسی کے طرف چڑھتے ہیں کلمے پاک اور عمل نیک بلند ہوتے ہیں۔﴾
ثابت ہوا کہ خدا کے کلمات خدا کی طرف ہی لوٹ جاتے ہیں اور مسیح چونکہ کلمۃ اللہ تھے۔ اس لئے اللہ ہی کی طرف لوٹ گئے۔
مرزائی صاحبان ایک اور اعتراض کر کے جہلاء کو عموماً پھسلا لیا کرتے ہیں وہ یہ سرور دو جہاں خاتم النبیین ﷺ جو تمام انبیاء کے سردار ہیں اور جو ساری مخلوق کی طرف مبعوث ہوئے ہیں۔ وہ تو مدینہ طیبہ میں آرام کریں اور بنی اسرائیل کا آخری نبی آسمان کو زینت بخشے۔ اس میں حضور سرور کائنات ﷺ کی ہتک ہے اس کا جواب یہ ہے کہ آقائے نامدار ﷺ کی اس میں ہتک نہیں ہے۔ بلکہ کمال عزت ہے کہ ان کے عہد رسالت میں ایک صاحب کتاب رسول ایک وفادار جرنیل کی حیثیت سے اسوہ نبی ﷺ پر چلتا ہوا محمدی امام کی اقتداء میں نماز پڑھے۔ حضور کی صداقت کو روشن کرنے کے لئے پیش گوئی کو پورا کرے۔ آسمان سے آوے اور نبی عربی کی سلامی کو روضہ اطہر پر حاضر ہو اور حسب پیش گوئی سرکار مدینہ حج کرے۔ صلیب کو توڑے، خنزیر کا کھانا حرام قرار دے، تثلیث کو باطل ثابت کرے۔ تمام اہل کتاب کو لوائے محمدی کی پناہ میں لاوے اور اس قدر
عاشق زار ہو کہ زندگی میں امت محمدیہ میں ہونے کی خواہش کرے اور جب دم واپسین ہو تو محمد عربی ﷺ کے روضہ اطہر میں دفن ہونے کی آرزو کرے اور آپ ﷺ کے پہلو میں دفن ہو اور لطف تو یہ ہے کہ بموجب پیشگوئی یتیم مکہ ﷺ روز جزا کو جناب صدیقؓ وعمرؓ کے درمیان اللہ کے دو محبوب اکٹھے اٹھیں ۔ ذیل میں ایک مضمون جناب مولانا شیخ الحدیث والتفسیر مولوی شبیر احمد عثمانی صدر المدرسین کا پیش کیا جاتا ہے۔ پڑھئے اور سر دھنئے۔
”افضل البشر کی عظمت میں کسی کا کیا منہ ہے کہ ہم سے گوئے سبقت لے جائے۔ ایک وہ ہیں جن کے خیال میں حضرت مسیح علیہ السلام برائے چندے آسمان پر رہ کر افضل بن سکتے ہیں اور ہم وہ ہیں جن کا عقیدہ ہے کہ واللہ وہ سرزمین جس پر سرور کائنات ﷺ کے قدم پڑتے ہیں۔ اس آسمان سے ہزار درجہ افضل ہے۔ جہاں حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھ اس کے غیر متناہی فرشتے بھی آباد ہیں ۔ ایک وہ ہیں جو مکین کو مکان کی وجہ سے شرف دیتے ہیں اور ہم وہ ہیں جو مکان کو مکین کی وجہ سے اشرف سمجھتے ہیں ۔ ”لا اقسم بهذا البلد وانت حل بهذا البلد (بلد: ١، ٢) ”اے محمد ﷺ میں اس شہر مکہ کی قسم اس لئے کھاتا ہوں کہ تو اس میں رہتا ہے۔ خدا کی جنت اس کے نام کے گرد دور کرتی ہے اور اس کے جہنم اس کے متبرک نام سے خائف ہیں ۔ کوئی نہیں جس پر ایمان لانا اس کے بعد درست ہو۔ اس لئے کہ اب وہ آگیا جو سارے جہاں کو تسلی دینے والا ہے۔ ہر پیاسا اسی کے بحر شریعت سے سیراب ہوگا۔ ہر بھوکا اسی کے دستر خوان سے شکم سیر ہوگا اور ہر خائف اس کے حریم امن میں پناہ پائے گا۔ اس کا دامن خدا تعالیٰ کے دائمی رضا کا ضامن ہے۔ کوئی نہیں جس کا نام اس کے نام سے اونچا ہو سکے۔ کوئی نہیں جو اس کی نبوت کے بعد اپنی طرف دعوت کا حق رکھتا ہو۔ اس لئے کہ امام آگیا اور وہ حامل لواء ہے اور سب اس کے جھنڈے کے نیچے ہیں۔ اس راز کو آشکارا کرنے کے لئے عیسیٰ علیہ السلام جیسا اولوالعزم نبی آئے گا اور دنیا کو دکھلا دے گا کہ یہ وہ نبی ہے جس کے دور میں انبیاء امتی بن کر بسر کرتے ہیں اور دوسروں کے شفیع بن کر خود اس کی شفاعت سے مستغنی نہیں ۔“
اور ویسے بھی جناب کلمتہ اللہ کی دعاء جو انجیل میں اب تک موجود ہے۔ ایک آرزو تھی جو پوری ہوگی۔
”اے رب بخشش والے اور رحمت میں غنی تو اپنے خادم کو قیامت کے دن اپنے رسول کی امت میں ہونا نصیب کر۔“
(انجیل برنباس: ٢١٢، آیت: ١٤ص ٢٩٤)
اور کیا مسلمان عہد میثاق کو بھول گئے ۔ جب اللہ تعالیٰ نے ارواح انبیاء سے عالم قدس
میں نبی کریم ﷺ کی مدد و نصرت کا وعدہ لیا تھا اور کیا سرکار مدینہ ﷺ نے تمام انبیاء کی مسجد اقصیٰ میں امامت نہیں فرمائی اور وہ تمام مقتدی نہیں ہوئے اور کیا وہ حدیث پاک یاد سے اتر گئی۔ ”اول ما خلق اللہ نوری“
مرزائیوں کے لئے تو اتنا ہی کافی ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام کی ولادت قوانین قدرت کے مطابق ان کے باپوں سے ہوئی۔ مگر مسیح علیہ السلام کی ولادت بدوں مس بشر ہوئی۔ یہ بھی تو ایک نرالی بات اور فضیلت ہے۔ اس پر کیوں نہیں سیخ پا ہوتے اور عیسائیوں کے لئے اس پر اترانا حماقت ہے۔ جب کہ آدم علیہ السلام ماں اور باپ دونوں ہی نہ رکھتے تھے۔ یہ قدرت کے کارخانے ہیں۔ اس نے جس طرح چاہا اور جیسے منظور ہوا اور جو کچھ منظور ہوا بنا دیا یہ کوئی فضیلت کی چیز نہیں اور اگر یہی فضیلت ہے تو شیطان بھی تو ہزاروں برس فرشتوں میں آسمان پر رہا ہے۔ معلوم ہوا کہ مکان کی وجہ سے مکین کو فضیلت نہیں ہو سکتی۔ فضیلت تو وہ ہے جو اللہ تعالیٰ عطاء کرے۔ ”ذالك فضل الله يوتيه من يشاء والله ذوالفضل العظيم“
اور ہمارے اس بیان کی تصدیق جہاں اجماع امت سے ہوتی ہے۔ وہاں خود مرزا قادیانی اور موجودہ انجیل بھی پر زور تائید کرتی ہیں کہ نہ تو مسیح علیہ السلام قتل ہوئے۔ نہ صلیب دیئے گئے۔ نہ اس کو کسی نے طمانچے لگائے نہ ہنسی نہ ٹھٹھا کیا اور جو کیا گیا وہ اس سے کیا گیا۔ جو مسیح علیہ السلام کو پکڑنے کے لئے مکان کے اندر آیا تھا اور جیسا کہ تفصیلاً ہم ابھی بیان کریں گے۔ چنانچہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ:
”یہودیوں نے حضرت مسیح کے لئے صلیب کا حیلہ سوچا تھا۔ خدا نے مسیح کو وعدہ دیا کہ میں تجھے بچاؤں گا اور تیرا اپنی طرف رفع کروں گا۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ٨، خزائن ج ١٧ ص ٣٩٤)
”خدا کا مکر اس حالت میں کہا جاتا ہے...... جب ایک شریر آدمی کے لئے اس کے پوشیدہ منصوبوں کو اس کے سزا یاب ہونے کا سبب ٹھہراتا ہے۔ قرآن کی رو سے یہی خدا کا مکر ہے جو مکر کرنے والے کی پاداش میں ظہور میں آتا ہے...... کافروں نے ایک بد مکر کیا کہ خدا کے رسول ﷺ کو مکہ سے نکال دیا اور خدا نے نیک مکر کیا۔ وہی نکالنا اس رسول کو فتح کا موجب ٹھہرا دیا...... خدا کے اس قسم کے بھی کام پائے جاتے ہیں کہ جس گڑھے کو ایک بدذات ایک شریف کے لئے کھودتا ہے۔ خدا اسی کے ہاتھ سے اس میں اسی کو ڈال دیتا ہے۔“
(چشمہ معرفت ص ١٠٨، ١٠٩، خزائن ج ٢٣ ص ١١٦، ١١٧)
معاملہ نہایت صاف و روشن ہے۔ یہودیوں نے مسیح کے لئے جو تجویز سوچی تھی۔ یعنی
قتل و صلیب وہ الٹ کر انہیں پر پڑی اور ان میں سے جو سب سے زیادہ محرک و مجرم تھا۔ وہ پھانسی اور صلیب پر لٹکایا گیا۔
چنانچہ مرزا قادیانی وعدہ الٰہی کے متعلق جو مسیح علیہ السلام کے ساتھ بچانے کے لئے کیا گیا تھا۔ لکھتے ہیں کہ ”وعدے کے الفاظ صاف دلالت کرتے ہیں کہ وعدہ جلد پورا ہونے والا ہے اور اس میں کچھ توقف نہیں۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص٤٢٦، خزائن ج٥ ص ایضاً)
اور لگے ہاتھ اس آیت شریف انی متوفیک ورافعک کے ترجمہ پر بھی مرزا قادیانی کے دستخط کرا دوں کہ وہی ترجمہ صحیح ہے۔ جو شارع علیہ السلام سے لے کر آج دن تک چلا آیا ہے۔ چنانچہ آپ اپنی اس مایہ ناز کتاب میں جو براہین احمدیہ کہلاتی ہے اور جسے قطبی کا خطاب دیتے ہوئے قطب ستارہ سے زیادہ محکم کہا گیا ہے اور جس کی رجسٹری کا اقرار سرکار مدینہ سے بزعم مرزا ہوچکا ہے اور جو تربوز کی شکل میں دکھلائی گئی اور جس کا رس مرزا قادیانی کی داڑھی اور کہنیوں تک ہاتھوں کا ستیاناس کر گیا، کے (ص ٥١٩ حاشیہ، خزائن ج١ ص ٦٢٠) پر فرماتے ہیں۔ ”میں تجھ کو پوری نعمت دوں گا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا۔“
یہی ہے فتنہ آخر زمانی دیکھتے جاؤ
کجا شان پیمبر اور مرزا غلام احمد
یہ تلبیس حکومت کی نشانی دیکھتے جاؤ
اب خیال کیجئے کہاں پوری نعمت اور کہاں موت یہ بے جوڑ کے تراجم شاید کسی قادیانی مرزا کی لغات ہی میں ملیں گے یا اصطلاح قادیان میں توفی موت کا دوسرا نام ہے۔ کہاں نعمت واتمام ترجمہ کرنا کہاں موت مارنا یہ الٹ پلٹ یہ کچھ پنجابی نبی ہی کو زیب دیتا ہے۔ جہاں شاید شادی میں رونا اور ماتم میں ہنسنا جائز سمجھا جاتا ہے۔ اب ہم آپ کی خدمت میں وہ انجیل پیش کرتے ہیں جو مرزائیوں کے لئے قابل حجت ہے اور جس کی صحت کا اقرار مرزا قادیانی سابقہ اوراق میں کر چکے ہیں۔
”اور یہودا زور کے ساتھ اس کمرہ میں داخل ہوا۔ جس میں یسوع اٹھالیا گیا تھا اور شاگرد سب کے سب سو رہے تھے۔ تب عجیب اللہ نے ایک عجیب کام کیا۔ پس یہودا بول اور چہرے میں بدل کر یسوع کے مشابہ ہو گیا۔ یہاں تک کہ ہم لوگوں نے اعتقاد کیا وہی یسوع ہے۔ لیکن اس نے ہم کو جگانے کے بعد تلاش کرنا شروع کیا تھا تاکہ دیکھے کہ معلم (مسیح) کہاں ہے۔
اس لئے ہم نے تعجب کیا اور جواب میں کہا اے سید تو ہی تو ہمارا معلم ہے۔ پس تو اب ہم کو بھول گیا۔ مگر اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔ کیا تم احمق ہو کہ یہودا اسخریوطی کو نہیں پہچانتے اور اسی اثناء میں وہ یہ بات کہہ رہا تھا کہ سپاہی داخل ہوئے اور انہوں نے اپنے ہاتھ یہودا پر ڈال دیئے۔ اس لئے کہ وہ ہر ایک وجہ سے یسوع کے مشابہ تھا۔ لیکن ہم لوگوں نے جب یہودا کی بات سنی اور سپاہیوں کا گروہ دیکھا۔ تب ہم دیوانوں کی طرح بھاگ نکلے۔“
(انجیل، برنباس فصل: ٢١٦، آیت: ١ تا ١٠ ص ٢٩٧)
پس سپاہیوں نے یہودا کو پکڑا اور اس سے مذاق کرتے ہوئے باندھ لیا۔ اس لئے کہ یہودا نے ان سے اپنے یسوع ہونے کا انکار کیا۔ بحالیکہ وہ سچا تھا۔..... یہودا نے جواب میں کہا شاید تم دیوانے ہو گئے ہو تم تو ہتھیاروں اور چراغوں کو لے کر یسوع ناصری کو پکڑنے آئے ہو۔ گویا کہ وہ چور ہے تو کیا تم مجھی کو باندھ لوگے۔ جس نے کہ تمہیں راہ دکھائی ہے۔ تا کہ مجھے بادشاہ بناؤ..... یہودا نے بہت سی دیوانگی کی باتیں کیں۔ یہاں تک کہ ہر ایک آدمی نے تمسخر میں انوکھا پن پیدا کیا۔ یہ خیال کرتے ہوئے وہ درحقیقت یسوع ہی ہے اور یہ کہ وہ موت کے ڈر سے بناوٹی جنون کا اظہار کر رہا ہے..... اور میں یہ کیوں کہوں کہ کاہنوں کے سرداروں ہی نے یہ جانا کہ یہودا یسوع ہے۔ بلکہ تمام شاگردوں نے بھی معہ اس لکھنے والے حواری برنباس کے یہی اعتقاد کیا۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ یسوع کی بیچاری ماں کنواری نے معہ اس کے قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کے یہی اعتقاد کیا۔ یہاں تک کہ ہر ایک کا دکھ تصدیق سے بالاتر تھا۔ قسم ہے اللہ کی جان کی یہ کہ لکھنے والا اس سب کو بھول گیا۔ جو کہ یسوع نے اس سے کہا تھا۔ ازیں قبل کہ وہ دنیا سے اٹھا لیا جائے گا اور یہ کہ ایک دوسرا شخص اس کے نام سے عذاب دیا جائے گا اور یہ کہ وہ دنیا کا خاتمہ ہونے کے قریب تک نہ مرے گا۔ اسی لئے یہ لکھنے والا یسوع کی ماں اور یوحنا کے ساتھ صلیب کے پاس گیا۔ تب کاہنوں کے سردار نے حکم دیا کہ یسوع کو مشکیں بندھا ہوا اس کے روبرو لایا جائے اور اس سے اس کے شاگردوں اور اس کی تعلیم کی نسبت سوال کیا۔ پس یہودا نے اس بارہ میں کچھ جواب بھی نہ دیا۔ گویا کہ وہ دیوانہ ہو گیا۔ اس وقت کاہنوں کے سردار نے اس کو اسرائیل کے جیتے جاگنے خدا کے نام کا حلف دیا کہ وہ اسے سچ کہے۔ یہودا نے جواب دیا۔ میں تم سے کہہ چکا ہوں کہ وہی یہودا اخریوطی ہوں۔ جس نے یہ وعدہ کیا تھا کہ یسوع ناصری کو تمہارے ہاتھوں میں سپرد کر دے گا۔ مگر میں نہیں جانتا کہ تم کس تدبیر سے پاگل ہو گئے ہو اس لئے کہ تم ہر ایک وسیلہ سے یہی چاہتے ہو کہ میں ہی یسوع ہو جاؤں..... کاہنوں کے سردار نے جواب میں کہا کیا اب تم کو یہ خیال ہو سکتا
ہے کہ اس سزا سے جس کا تو مستحق ہے اور تو اسی لائق ہے۔ پاگل بن کر نجات پا جائے گا۔ قسم ہے اللہ کی جان کی کہ تو ہرگز اس سے نجات نہ پائے گا۔ یہودا نے جواب میں کہا اے آقا تو مجھے سچا مان کہ اگر تو میرے قتل کا حکم دے گا تو بہت بڑے ظلم کا مرتکب ہوگا۔ اس لئے کہ تو ایک بے گناہ قتل کر دے گا۔ کیونکہ میں خود یہودا اسخریوطی ہوں نہ کہ وہ یسوع جادوگر ہے۔ پس اس نے اس طرح اپنے جادو سے مجھ کو بدل دیا ہے۔...... غرضکہ اللہ نے جس نے انجاموں کی تقدیر کی ہے یہودا کو صلیب کے واسطے باقی رکھا تا کہ وہ اس ڈراؤنی موت کی تکلیف کو بھگتے۔ جس کے لئے اس نے دوسرے کو سپرد کیا تھا...... انہوں نے اس کے ساتھ ہی دو چوروں پر صلیب دیئے جانے کا حکم لگایا ...... یہودا کو ننگا کر کے صلیب پر لٹکایا اور یہودا نے کچھ نہیں کیا۔ سو اس چیخ کے کہ اے اللہ تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔ اس لئے مجرم تو بچ گیا اور میں ظلم سے مر رہا ہوں۔ میں سچ کہتا ہوں کہ یہودا کی آواز اور اس کا چہرہ اور اس کی صورت یسوع سے مشابہ ہونے میں اس حد تک پہنچ گئی تھی کہ یسوع کے سب ہی شاگردوں اور اس پر ایمان لانے والوں نے اس کو یسوع ہی سمجھا۔“
(انجیل برنباس فصل: ٢١٧، آیت: ٣٥ تا ٨٠، ص ٣٠٠ تا ٣٠٢)
”یسوع کے چلے جانے کے بعد شاگرد اسرائیل اور دنیا کے مختلف گوشوں میں پراگندہ ہو گئے۔ رہ گیا حق جو شیطان کو پسند نہ آیا۔ اس کو باطل نے دبا لیا۔ جیسا کہ یہ ہمیشہ کا حال ہے۔ پس تحقیق شریروں کے ایک فرقہ نے جو دعویٰ کرتے ہیں کہ یسوع کے شاگرد ہیں یہ بشارت دی کہ یسوع مر گیا اور وہ جی نہیں اٹھا اور دوسروں نے یہ تعلیم پھیلائی کہ وہ درحقیقت مر گیا۔ پھر جی اٹھا اور اوروں نے منادی کی اور برابر منادی کر رہے ہیں کہ یسوع ہی اللہ کا بیٹا ہے اور انہیں لوگوں کے شمار میں بولص نے بھی دھوکا دیا۔ اب رہے ہم تو ہم محض اس کی منادی کرتے ہیں کہ میں نے ان لوگوں کے لئے لکھا ہے کہ وہ اللہ سے ڈرتے ہیں تا کہ اخیر دن میں جو اللہ کی عدالت کا دن ہو گا چھٹکارا پائے جائیں۔“
(انجیل برنباس فصل: ٢٢٢، آیت: ١ تا ٦، ص ٣٠٨)
چنانچہ اس اجمال کی تفصیل کی تائید شارع علیہ السلام کے اس معتبر و عزیز صحابی نے کی جو عند المرزا قرآن کریم کو اوّل نمبر پر سمجھنے والے تھے اور جن کے حق میں قرآنی فہم کی حضور اکرم ﷺ نے دعا بھی فرمائی تھی۔ چنانچہ حضرت ابن عباسؓ سے (تفسیر معالم ج ١ ص ١٦٢) میں روایت منقول ہے۔
”جب وہ شخص جو مسیح کو پکڑنے کے لئے مکان کے اندر پہنچا تو خدا نے جبرائیل کو بھیج کر مسیح کو آسمان پر اٹھا لیا اور اسی بدبخت یہودی کو مسیح کی شکل پر بنا دیا۔ پس یہود نے اس کو قتل کیا اور صلیب پر چڑھایا۔“
ناظرین! معاملہ نہایت صاف وعیاں ہے کہ مسیح علیہ السلام کے لئے جو مکر یہودیوں نے سوچا تھا۔ جیسا کہ کلام مجید شاہد ہے۔ ”ومکروا ومکر الله والله خير الماكرين (آل عمران: ٥٤) “ ﴿یعنی تدبیر کی انہوں نے (یہود نے) اور تدبیر کی اللہ نے اور اللہ بہتر ہے تدبیر کرنے والا ۔﴾
اب یہ ظاہر ہے اور تاریخ انجیل قرآن وحدیث وجمہور امت بلکہ مرزا قادیانی کا اس پر اتفاق ہے کہ یہود کی تدبیر مسیح کی رسوائی قتل وصلیب وغیرہ تھی اور خدا کی تدبیر حسب وعدہ وجاہت فی الدنیا تھی۔ یعنی یہود برائی کرنا چاہتے تھے اور اللہ اس برائی سے بچانا چاہتا تھا۔ اس لئے یہود کی تدبیر اور اللہ کی تدبیر میں ایک خاص مخالفت تھی۔ اب واقعہ کی نزاکت ونوعیت کو دیکھئے۔ یہود نے مکان کا محاصرہ کر رکھا تھا اور قتل وصلیب کا حکم حکومت وقت صادر کر چکی تھی۔ اس میں اگر دیر تھی تو وہ صرف وقت کے پورا ہونے کی تھی۔ گویا یہود اپنی تدبیر میں کامیاب تھے۔ اس حالت میں جناب مسیح نے دعاء فرمائی۔ چنانچہ وہ دعائیہ کلمات ہم مرزا قادیانی کی زبانی پیش کرتے ہیں غور سے سنئے اور معاملہ کو سمجھنے کی کوشش کیجئے۔
”چنانچہ یہ بات قرار پائی کہ کس طرح اس کو (مسیح کو) صلیب دی جائے۔ پھر کام بن جائے گا۔ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ حالت دیکھی تو ان کے ظلم وجور سے بچنے کے لئے دعاء مانگی۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ١٢، خزائن ج ١٧ ص ١٠٦)
”حضرت مسیح نے خود اپنے بچنے کے لئے تمام رات دعاء مانگی تھی اور یہ بالکل بعید از قیاس ہے کہ ایسا مقبول درگاہ الٰہی تمام رات رورو کر دعاء مانگے اور وہ دعاء قبول نہ ہو۔“
(ایام صلح ص ١١٤، خزائن ج ١٤ ص ٣٥١، غلام احمد قادیانی)
”یہ قاعدہ مسلم الثبوت ہے کہ سچے نبیوں کی سخت اضطرار کی ضرور دعاء قبول ہو جاتی ہے۔“
(تبلیغ رسالت ج ٣ ص ٨٣، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ١٠ حاشیہ، غلام احمد قادیانی)
مرزا قادیانی خود اقرار کرتا ہے کہ مسیح نے یہود کے شر سے بچنے کے لئے ساری رات رو رو کر جناب الٰہی میں التجاء کی اور اس کا بھی اعتراف کرتا ہے کہ ایسے مقبول کی دعاء قبولیت سے خالی نہیں رہتی۔ چنانچہ یہی یہود کا مکر تھا۔ جس سے بچنے کے لئے مسیح علیہ السلام نے دعاء کی تھی اور اس کے جواب میں ارشاد ہوا۔ ” ومكر الله والله خير الماكرين“ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہود کیا چاہتے تھے۔ قتل ومصلوب کرنا، اور اللہ کیا چاہتا تھا مسیح کو بچانا۔ چنانچہ اس دعاء کی قبولیت میں ارشاد ہوتا ہے۔ ”یاعیسیٰ انی متوفیک“ ﴿اے عیسیٰ میں لے لوں گا تجھ کو۔﴾
جناب مسیح اطمینان قلب کے لئے عرض کرتے ہیں۔ مولا تو مجھے کس طریق سے بچائے گا۔ ارشاد ہوتا ہے ”ورافعك الی“ ﴿اور اٹھالوں گا اپنی طرف۔﴾
جناب مسیح عرض کرتے ہیں یا اللہ یہ یہود جو میرے خون کے پیاسے مکان کو محصور کئے ہوئے وقت کے منتظر کھڑے دانت پیس رہے ہیں ارشاد ہوا۔ ”ومطهرك من الذين كفروا“ ﴿اور پاک کردوں گا تجھ کو کافروں سے۔﴾ اور ان یہود سے تمہیں بالکل پاک کرنے والا ہوں۔ یعنی یہ کم بخت پھر تمہیں دیکھ نہ سکیں گے اور ان کی گرفت تم تک نہ پہنچ سکے گی۔
جناب مسیح عرض کرتے یا اللہ میرے حواری اور تابعداروں کا کیا ہوگا وہ میرے اٹھائے جانے کے بعد طرح طرح کے مظالم کے شکار ہوں گے۔ ارشاد ہوا: ”وجاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفروا الى يوم القيمة“ ﴿اور رکھوں گا ان کو جو تیرے تابع ہیں۔ غالب ان لوگوں سے جو انکار کرتے ہیں۔ قیامت کے دن تک۔﴾
یہ تھی وہ کیفیت یہود کے مکر کی کہ مسیح کو ذلت وخواری سے قتل ومصلوب کریں اور اس کا جواب خدا نے مکر خیر سے یہ دیا تھا کہ نہیں ہم اپنے بندے کو دنیا و آخرت دونوں میں رسوا و ذلیل نہ ہونے دیں گے۔ بلکہ تمہاری منحوس صحبت سے بالکل جدا کر لیں گے اور یہی نہیں تمہاری اس بداعمالی اور مکاری کی سزا قیامت تک تمہاری آل واولاد تک کو بھگتنی پڑے گی اور مسیح کے نام لیوا یعنی (عیسائی و مسلمان) قیامت تک تم پر غالب و حکمران رہیں گے۔ چنانچہ دنیا جانتی ہے کہ کرہ زمین پر یہود کی آج تک سلطنت نہیں ہوئی اور نہ ہی کوئی ملک وکوئی قوم ان کی ہمسائیگی کو دوست رکھتی ہے۔ آج فرانس سے اخراج ہورہا ہے تو کل جرمن دھکے دے رہا ہے۔ غرضیکہ کوئی ملک ان کی بودوباش پسند نہیں کرتا۔ رہ سہ کر ان کا مسکن و مامن بیت المقدس تھا۔ جو سنہری مصلحتوں کی ضرورت سے ان کی آبادی کا حال ہی میں مرکز بنا۔ مگر وہاں عربوں نے ان کو وہ بھنگی کا ناچ نچا رکھا ہے کہ توبہ ہی بھلی ہے۔ غرضیکہ یہ راندۂ درگاہ قوم دنیا کے کونے کونے میں بھٹکتی اور خوار ہوتی پھرتی ہے۔ مگر کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اب اگر مرزا قادیانی کے معنی ومفہوم کو لیا جائے یعنی یہ ترجمہ کیا جائے کہ اے عیسیٰ میں تجھ کو موت دوں گا اور تیری روح کو اپنی طرف اٹھالوں گا تو اس کے یہ معنی ہوئے کہ یہود پلید نے جو تمہاری رسوائی اور موت کی تدبیر کی ہے یعنی وہ جو تم کو قتل وصلیب دینا چاہتے ہیں ان کے مقابل میں میں نے یہ تجویز لطیف کی ہے کہ تمہیں ضرور موت بذریعہ قتل وصلیب دی جائے گی۔ سبحان اللہ کیا اچھی تجویز ہے کہ وہ تمہیں مارنا چاہتے ہیں اور میری تدبیر تجھے مارکر
چھوڑے گی۔ یہ تو یہود کی تائید ہوئی ا کہا۔ جب کہ اور کوئی تدبیر ہی نہیں آ جو صلیب پر مرے وہ لعنتی ہوتا ہے۔ د جھوٹ بکے۔ وہاں تو یہ لکھا ہے کہ لٹکا کہ تیری روح کو اپنی طرف اٹھالوں ہے۔ ہاں یاد آیا بہشتی مقبرہ کے نام کرتے ہیں چاہے مردہ دفن ہونے بعد چاہئے اس کی قبر میں جہنم کی آگ میں جائے یا جنت میں انہیں تو اپنے ایسا محکمہ بھی کھول رکھا ہو جو موسمی و اُ خیال کرتے ہوں۔ اس کی روح کو د جی کے حجرہ خصوصی میں رکھ دیں۔ ہم نیک عمل اس کی طرف صعود کرتے ہو کروں گا اور مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ بھی ٹھونگی گئیں۔ منہ پہ طمانچے بھی لگا الحاکمین جو جناب مسیح کا وعدہ کنندہ تھ رہا۔ ہاں اس نے کیا تو یہ کیا کہ عذراء مسیح کو کس قدر تکلیف پہنچی ہو۔ مگر صلی تو بہ ہزار بار تو بہ خاکم بد ہے۔ مگر میں تو ان کفریہ کلمات سے اس بناوٹی مسیح پر جو مثیل مسیح بن کر س جاتا ہے کہ کیوں صاحب خدا نے؟ باوجود مسیح ساری رات دعاء مانگتا رہ دوں گا اور موت کی خبر سنانے کے بع دیتے ہیں کہ مسیح کی تسلی تشفی کے لئے حیرت آتی ہے اس بود
چھوڑے گی۔ یہ تو یہود کی تائید ہوئی اور اگر نعوذ باللہ مسیح ہے تو ”واللہ خیر الماکرین“ کیوں کہا۔ جب کہ اور کوئی تدبیر ہی نہیں آتی اور کتنا دجل ہے جو یہ کہا جاتا ہے کہ یہودیوں کے نزدیک جو صلیب پر مرے وہ لعنتی ہوتا ہے۔ حالانکہ یہ ایک سفید جھوٹ یا دجالانہ چکر ہے۔ لعنتی تو وہ ہے جو جھوٹ بکے۔ وہاں تو یہ لکھا ہے کہ گنہگار و مجرم جو صلیب دیا جائے وہ لعنتی ہوتا ہے اور پھر یہ ترجمہ کرنا کہ تیری روح کو اپنی طرف اٹھاؤں گا کس قدر بودا اور مضحکہ خیز ہے۔ کیا روحیں کوئی اور بھی اٹھاتا ہے۔ ہاں یاد آیا بہشتی مقبرہ کے نام پر ٹکڑے توڑنے والے زاہد نما گرگ جو جنت کے ٹکٹ تقسیم کرتے ہیں چاہے مردہ دفن ہونے سے پیشتر عذاب الہی میں گرفتار ہو، اور پردہ فاش کرنے کے بعد چاہئے اس کی قبر میں جہنم کی آگ ہی کیوں نہ بچھائی جائے۔ یار لوگوں کو اس سے کیا، مردہ جہنم میں جائے یا جنت میں انہیں تو اپنے حلوے مانڈے کی خیر منانی چاہئے۔ شاید ان لوگوں نے کوئی ایسا محکمہ بھی کھول رکھا ہو جو موصی ١/١٠ حصہ نہ ادا کر سکا ہو اور اس کے رشتہ دار قادیان کو دوزخی مقبرہ خیال کرتے ہوں۔ اس کی روح کو وہ محکمہ ناظر امور عامہ کی جناب میں کسی ڈبیہ میں بند کر کے خلیفہ جی کے حجرہ خصوصی میں رکھ دیں۔ ہم کلام مجید کے حوالے سے ثابت کر آئے ہیں کہ تمام کلمات اور نیک عمل اس کی طرف صعود کرتے ہیں۔ پھر اس میں تخصیص کیسی کہ اے عیسیٰ میں تیری روح کو رفع کروں گا اور مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ مسیح پھانسی پر تو ضرور چڑھایا گیا۔ ہاتھوں اور پاؤں میں کیلیں بھی ٹھونکی گئیں۔ منہ پر طمانچے بھی لگائے گئے اور طرح طرح سے استہزاء بھی کئے گئے۔ مگر وہ احکم الحاکمین جو جناب مسیح کا وعدہ کنندہ تھا کچھ نہ کرسکا۔ دیکھتا اور سنتا رہا۔ مگر دل ہی دل میں افسوس کرتا رہا۔ ہاں اس نے کیا تو یہ کیا کہ عزرائیل سے منت کی کہ دیکھ یار تجھے ہی ہماری رعایت کرنا چاہئے مسیح کو کس قدر تکلیف و سختی ہو۔ مگر صلیب پر مسیح کی جان نہ نکالنا ایسا نہ ہو کہ وہ لعنتی موت مرے۔
توبہ ہزار بار توبہ خاکم بدہن کڑوڑ بار خاکم بدہن، اللہ معاف کرے گو نقل کفر کفر نباشد ہے۔ مگر میں تو ان کفریہ کلمات سے بخدا اس قدر خائف ہوں کہ بیان نہیں کرسکتا۔ حیرت آتی ہے اس بناوٹی مسیح پر جو مثیل مسیح بن کر مسیح کو کوستا کیا بے نقط سناتا ہے۔ امت مرزائیہ سے جب پوچھا جاتا ہے کہ کیوں صاحب خدا نے بھی اپنے رسول کو چھوڑتے ہوئے یہود نامسعود کا ساتھ دیا۔ باوجودیکہ مسیح ساری رات دعاء مانگتا رہا۔ مگر سچے خدا نے بھی جواب دے دیا کہ میں تمہیں موت ہی دوں گا اور موت کی خبر سنانے کے بعد یہ کیوں کہا کہ تیری روح کو اپنی طرف اٹھاؤں گا تو جواب دیتے ہیں کہ مسیح کی تسلی تشفی کے لئے کہ گو تو صلیب پر مر رہا ہے مگر پھر بھی لعنتی نہیں ہے۔
حیرت آتی ہے اس بودے نظریے اور ردی اعتقاد پر کہ یہ مرزائیوں کی عقل پر کیا پتھر
پڑے کہ ان سے سچ اور جھوٹ میں تمیز کرنے کا مادہ ہی جاتا رہا۔ ان بھلے مانسوں سے کوئی پوچھے کہ جس بزرگ ہستی کو ”وجيهاً في الدنيا والاخرة ومن المقربين (آل عمران:٤٥)“ جیسے انعام عطاء ہوئے۔ بدوں مس بشر پیدائش ہوئی۔ صالح کا خطاب عنایت ہوا۔ بیسیوں اعجوبہ خیز، عقل و فکر سے بالاتر معجزات عنایت ہوئے۔ کتاب و حکمت، تورات وانجیل من جانب خدا سکھلائی گئی۔ روح القدس سے تائید کی گئی۔ ایسی بزرگ ہستی کو کسی مزید تسلی تشفی کو بھی کوئی ضرورت ہے؟ ہرگز نہیں پھر اگر مرزا کی عقائد سے ”ورافعك الیَّ“ کا یہ ترجمہ کیا جائے کہ میں تمہاری روح کو درجات دونگا تو اس کی کیا خاک تسلی ہوگی۔ جب کہ اس کی آنکھوں کے سامنے اور دل کے اوپر وجیها فی الدنیا کا وعدہ موجود ہو وہ تو یہ کہے گا۔ جیسی پہلے وعدے کی ایفا ہوئی ایسا ہی اب رفع الیٰ اللہ ہوگی اور یہ تو یہودیوں کی عین تائید ہے۔ وہ یہی چاہتے تھے کہ مسیح کو مصلوب کریں اور جب وہ موت دیئے گئے تو یہود کی تمنا بدرجہ اتم بر آئی۔ اس لئے توفی کے معنی وہی صحیح ہیں جو لغت عرب کی رو سے ہیں اور جن پر دنیا کے ستر کروڑ انسانوں کا ایمان ہے اور وہ یہ ہیں۔
(تفسیر بیضاوی ج ١ ص ٢٥٣ طبع مصر) زیر آیت ”فلما توفيتنی ، التوفی اخذ الشئی وافیاً“ یعنی توفی کے معنی ہیں کسی چیز کو پورا لینے کے۔
(تفسیر کبیر ج ٢ ص ٢٨١) میں محاورہ عرب بیان ہوا۔ ”توفیت منه درهمی“ میں نے اس سے اپنے درہم پورے لے لئے۔
اساس البلاغہ میں بھی یہ اصول لکھا ہے۔ ”استوفاه وتوفاه استکمله“ یعنی استیفا اور توفی دونوں کے معنی پورا پورا لے لینا ہے۔
توفی کا لفظ وفا سے نکلا ہوا ہے اور باب تفعل کا صیغہ ہے۔ اسی طرح ایفا، توفی اور استیفا بھی اسی مادہ وفا سے بالترتیب باب افعال تفعل اور استفعال کے صیغے ہیں۔ پس باب تفعل اور استفعال میں اخذ یعنی لینے کے معنی زائد ہوجاتے ہیں۔ پس توفی اور استیفا کے معنی ہوئے۔ ”اخذ الشئی وافیاً“ یعنی کسی چیز کو پورا پورا لے لینا۔ چنانچہ جناب امام ابن تیمیہؒ اپنی کتاب (الجواب الصحیح لمن بدل دین المسیح ج ١ ص ٨٥) پر فرماتے ہیں۔
”عربی زبان میں، توفی کے معنی ہیں کسی چیز کو پورا پورا لے لینا اور اس کو اپنے قابو میں کر لینا اور اس کی پھر تین قسمیں ہوتی ہیں۔ ان میں سے ایک نیند کی توفی ہے دوسری موت کی توفی اور تیسری روح اور جسم کی توفی اور عیسیٰ اسی تیسری توفی کے ساتھ اہل زمین سے جدا ہو گئے۔“
اب ہم آپ کی خدمت میں قرآن کریم سے جناب امام تیمیہ کے اس فرمان کی
تصدیق کراتے ہیں تاکہ پھر کسی مرزائی کو چوں کے قابل ہے کہ سارے کلام مجید میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے اور اس کے معنی پورا لینے کے بیان ہوا۔ اس کے ساتھ کوئی قرینہ لگا دیا گیا۔ اس کے حقیقی معنی موت نکلیں۔
فیصلہ کن اصول
- .......١ یہ کہ جب توفی کے ا
اس وقت توفی کبھی موت کے معنوں میں نہیں کے خلاف کوئی مثال دکھلا سکے۔
- .......٢ جب کبھی بھی کسی مو
سے کوئی بولا جائے۔ جہاں ذات حق فاعل، مجرور اس کا ضمیر ہو۔ اسم ظاہر نہ ہو اور وہ ا اٹھانے کے اور کوئی معنی ہی نہیں ہو سکتے۔ ب کوئی مثال دکھلا دے تو ہم سے منہ مانگا انعا
یہ بازو میرے
کلام مجید میں جہاں بھی کہیں ح وہ صرف اماتت واحیا ہے اور اس موت ا ہے۔ ہزارہا احادیث و اقوال الرجال میں زندگی کی نسبت کی گئی ہے وہ حیات و موت حیات کی ضد بیان ہوئی موت ہی کہا گیا ہوا۔ جہاں بھی مقابلہ کیا گیا تو انہیں دونوں بیان ہی نہیں ہوا۔ نہ سارے قرآن میں ومفسر یا مجدد نے لفظ توفی کو حقیقی طور پر م سکتا ہے۔ جب کہ موت اور زندگی دینا ا جب بھی حقیقی نسبت کے لئے یہ لفظ استعا
تصدیق کراتے ہیں تاکہ پھر کسی مرزائی کو چون و چرا کرنے کا یارا ہی نہ رہے اور یہ نقطہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ سارے کلام مجید میں یہ لفظ جب بھی بلفظ توفی کہا گیا ہے۔ مجاز کے طور پر ہی استعمال ہوا ہے اور اس کے معنی پورا لینے کے ہی لئے گئے ہیں اور جب کبھی کسی مطلب کے لئے بیان ہوا۔ اس کے ساتھ کوئی قرینہ لگا دیا گیا۔ یہ کبھی نہیں ہوا کہ بغیر قرینہ کے توفی بیان کیا گیا ہو اور اس کے حقیقی معنی موت نکلیں۔
فیصلہ کن اصول
- ١....... یہ کہ جب توفی کے بعد رفع آجائے اور رفع کا صدور توفی کے بعد آئے تو
اس وقت توفی کبھی موت کے معنوں میں نہیں آسکتا اور کس کو طاقت ہے کہ وہ لغت عرب سے اس کے خلاف کوئی مثال دکھلاسکے۔
- ٢....... جب کبھی بھی کسی موقعہ پر ”رفع ، يرفع ، رافع “ ان تینوں الفاظ میں
سے کوئی بولا جائے۔ جہاں ذات حق فاعل ہو اور مفعول جوہر ہو۔ عرض نہ ہو اور صلہ الیٰ مذکور ہو اور مجرور اس کا ضمیر ہو۔ اسم ظاہر نہ ہو اور وہ ضمیر فاعل کی طرف راجع ہو تو وہاں سوائے آسمان پر اٹھانے کے اور کوئی معنی ہی نہیں ہو سکتے۔ ہے کوئی مرد میدان ہے تو لغت عرب سے اس کے خلاف کوئی مثال دکھلاوے تو ہم سے منہ مانگا انعام پاوے۔ مگر کسی نے کیا خوب کہا:
یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں
کلام مجید میں جہاں بھی کہیں حقیقی موت یا زندگی کے لئے کوئی لفظ استعمال ہوا ہے تو وہ صرف اماتت واحیا ہے اور اس موت اور زندگی کی فاعلی نسبت صرف اللہ ہی کی طرف کی گئی ہے۔ ہزار ہا احادیث واقوال الرجال میں اور عام عربی بول چال میں جہاں بھی موت اور زندگی کی نسبت کی گئی ہے وہ حیات وموت ہی سے ہے۔ کہیں توفی سے نہیں ۔ جہاں بھی کہیں حیات کی ضد بیان ہوئی موت ہی کہا گیا۔ جہاں بھی کہیں محاورہ بیان ہوا زندگی اور موت ہی ہوا۔ جہاں بھی مقابلہ کیا گیا تو انہیں دونوں الفاظ سے کیا گیا۔ کہیں حیات کے مقابلے میں توفی بیان ہی نہیں ہوا۔ نہ سارے قرآن میں نہ حدیث میں نہ ہی اقوال الرجال میں۔ کسی محدث و مفسر یا مجدد نے لفظ توفی کو حقیقی طور پر موت کے معنی میں استعمال نہیں کیا اور کر بھی کیسے کوئی سکتا ہے۔ جب کہ موت اور زندگی دینا اور لینا اللہ ہی کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ اسی لئے جب کبھی حقیقی نسبت کے لئے یہ لفظ استعمال ہوا تو وہ صرف موت ہی تھا اور جب توفی بیان ہوا تو
وہ مجازی تھا۔ کیونکہ توفی کے فاعل فرشتے اور آدمی اور خدا اور خود موت ہیں ۔ اب ظاہر ہے کہ فرشتے آدمی اور موت خدا نہیں اور یقیناً خدا نہیں ۔ اس لئے مانا پڑے گا کہ توفی کے حقیقی معنی پورا لینے کے ہیں اور اگر یہ حقیقی معنوں میں اس کا مطلب موت ہوتا تو یقیناً اس کے فاعل غیر اللہ نہ ہوتے ۔ بلکہ وہی یحیی ویمیت ہوتا ۔ مثال کے طور پر چند ایک آیات قرآن کریم سے پیش کرتا ہوں ۔ جہاں موت اور زندگی کا حقیقی معنوں میں استعمال ہوا ہے اور اس کا فاعل خدا ہے نہ کہ فرشتے یا انسان یا خود موت ۔ اس کے بعد توفی کے وہ مقامات بیان کروں گا ۔ جہاں جہاں یہ لفظ وارد ہوا ہے اور اس کے معنی مجاز کے طور ہی لئے گئے ہیں ۔
- ......١ ” وما یستوی الاعمی والبصیر ولا الظلمت ولا النور ولا
الظل ولا الحرور وما یستوی احیاء ولا الاموات ان اللہ یسمع من یشآء
(پارہ : ٢٢)“
- ......٢ ”خلق الموت والحیوۃ لیبلوکم ایکم احسن عملا
(پارہ : ٢٩)“
- ......٣ ” یخرج الحی من المیت ویخرج المیت من الحی ویحی
الارض بعد موتها وکذالک النشور “
- ......٤ ”یخرج الحی من المیت ومخرج المیت من الحی (انعام،
پارہ : ٧)“
- ......٥ ” وتخرج الحی من المیت وتخرج المیت من الحی (آل
عمران، پارہ : ٣)“
- ......٦ ”فیمسک التی قضٰے علیها الموت ، لا یذوقون فیها الموت
الا الموتة الا ولٰے“
اسی طرح اور سینکڑوں جگہ یہ الفاظ آئے ہیں جو حقیقی موت کے لئے ہیں اور ان کا فاعل صرف خدا ہے ۔
اب ہم آپ کی خدمت میں توفی کے وہ مقامات پیش کرتے ہیں جو اس قدر دلچسپ ہیں کہ وہ آپ کو یقین دلا دیں گے کہ جہاں بھی یہ بیان ہوئے پورا لینے کے معنوں میں ہی آئے ۔ ہاں مجازی طور پر کوئی قرینہ لگا کر موت کے مفہوم کو ادا کیا گیا ، مگر فاعلی نسبت عام ہے خاص نہیں اور اس کے مقابلے میں احیاء واموات میں کس قدر اہتمام کیا گیا کہ وہاں فاعلی نسبت سوائے ذات
باری کے کسی دوسرے کو قطعاً نہیں دی گئی۔
- ١...... ”والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجا یتربصن
بانفسهن اربعة اشهر وعشر (بقره)“
- ٢...... ”والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجا وصیه لا
زواجهم متاعا الی الحول“
- ٣...... ”والتی یاتین الفاحشة من نسائکم فاستشهدوا اربعة
منکم فان شهدوا فامسکوهن فی البیوت حتی یتوفهن الموت او یجعل الله لهن سبیلا“
- ٤...... ”ان الذین یتوفهم الملائکة ظالمی انفسهم قالوا فیم کنتم
قالوا کنا مستضعفین فی الارض“
- ٥...... ”حتی اذا جاء احدکم الموت توفته رسلنا وهم لا یفرطون (انعام)“
- ٦...... ”حتی اذا جائتهم رسلنا یتوفونهم (اعراف)“
- ٧...... ”اذ یتوفی الذین کفروا الملائکة یضربون وجوههم (انفال)“
- ٨...... ”فکیف اذا توفتهم الملائکة یضربون وجوههم (محمد)“
- ٩...... ”الذین تتوفهم الملائکة ظالمی انفسهم (نحل)“
- ١٠...... ”الذین تتوفهم الملائکة طیبین (نحل)“
- ١١...... ”قل یتوفکم ملک الموت الذی وکل بکم (سجده)“
- ١٢...... ”واما نرینک بعض الذی نعدهم او نتوفینک فالینا
مرجعهم (یونس)“
- ١٣...... ”واما نرینک بعض الذی او نتوفینک فعلینا البلاغ (رعد)“
- ١٤...... ”واما نرینک بعض الذی او نتوفینک فالینا یرجعون (مؤمن)“
- ١٥...... ”والله خلقکم ثم یتوفکم ومنکم من یرد الی ارذل العمر (نحل)“
- ١٦...... ”ومنکم من یتوفی ومنکم من یرد الی ارذل العمر لکیلا
یعلم من بعد علم شیئا (حج)“
- ١٧...... ”ومنکم من یتوفی من قبل ولتبلغوا اجلا مسمی ولعلکم
تعقلون (مؤمن)“
- ١٨....... ”وكفر عنا سيئاتنا وتوفنا مع الابرار (آل عمران)“
- ١٩....... ”توفنی مسلما والحقنی بالصالحین (یوسف)“
- ٢٠....... ”هو الذی یتوفکم باللیل ویعلم ماجرحتم بالنهار ثم
یبعثکم فیه لیقضی اجل مسمی (انعام)“
- ٢١....... ”الله یتوفی الانفس حین موتها والتی لم تمت فی منامها
فیمسک التی قضی علیها الموت ویرسل الاخریٰ الیٰ اجل مسمی (زمر)“
- ٢٢....... ”ربنا افرغ علینا صبرا وتوفنا مسلمین (اعراف)“
ناظرین تمام آیات مذکورہ بالا میں جہاں بھی توفی کا لفظ اطلاق ہوا ہے اس کے ساتھ قرینہ موجود ہے۔ بلا قرینہ لگانے کے کوئی آیت نہیں اور وہ قرینہ ہی ہم کو مجبور کرتا ہے کہ ہم یہاں توفی کے معنی موت لیں۔ مثلاً پہلی آیت شریف میں یہ آیا ہے۔ ترجمہ تم میں سے جو لوگ اپنی عمر پوری کر لیتے ہیں اور چھوڑ جاتے ہیں اپنی عورتیں وہ وصیت کر جایا کریں۔ اب دیکھئے کہ عورتوں کا چھوڑ جانا اور وصیت کا حکم ہم کو مجبور کرتا ہے کہ ہم یہاں توفی کے معنی مجازی طور پر موت لیں۔ دوسری آیت میں بھی بیویوں کا پیچھے چھوڑ جانا اور اس کی عدت کا حکم صریح قرینہ ہے۔ یعنی یتوفون کے معنی یہ ہوں گے اپنی عمر کو پورا کر لینا ایسا ہی نہیں۔ حیات کا ذکر کرنے کے بعد توفی استعمال ہوا جو صاف قرینہ ہے کہیں خاتمہ بالخیر کہیں کچھ غرضیکہ بلا قرینہ کے ہم یہ امتیاز ہی نہیں کر سکتے کہ اس کے معنی کیا ہیں۔ اس کے بعد توفی کے تین فاعل بیان ہوئے۔ فرشتے آدمی اور موت حالانکہ حیات وممات صرف اللہ ہی کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ مگر یہاں فرشتے آدمی اور موت فاعل ہیں۔ اب چند ایک آیات کے معنی پیش کرتا ہوں وہ ملاحظہ کیجئے اور انصاف سے کہئے کہ کیا کبھی ایسا ہو سکتا ہے۔ آیت نمبر ٢ کا ترجمہ یہ ہوا وہ لوگ جو اپنے آپ کو موت دیتے ہیں اب کیا یہ معنی صحیح ہیں۔ ہرگز نہیں۔ ایسا ہی آیت نمبر ٣ کے معنی یوں ہوں گے۔ یہاں تک کہ موت ان کو موت دے دے۔ کیا موت بھی موت دیا کرتی ہے۔ ہرگز نہیں۔ پھر مرزائیو! یہاں کیا معنی کروگے۔ حتّٰی یتوفھن الموت ظاہر ہے کہ توفی کے معنی موت نہیں۔ کیونکہ یہاں موت فاعل ہے۔ کیا موت توفی کرتی ہے اور توفی کے معنی تمہارے ہاں خود موت ہیں۔ ایسا ہی آیت نمبر ٢١ ایک اور مزیدار اور فیصلہ کن بات پیش کرتی ہے۔ یعنی اس آیت میں توفی کا مفعول انفس ہے۔ یعنی روح اگر تمہارے معنی مان لئے جائیں تو ماننا پڑے گا کہ اللہ روح کو موت دیتا ہے۔ حالانکہ یہ امر بالکل غلط ہے اور اس
کے آگے چلے تو جاہلیت کا بھانڈا ہی پھوٹ جاتا ہے۔ یعنی الله يتوفى الانفس کے بعد ارشاد ہوتا ہے۔ والتى لم تمت فى منامها۔ اب دیکھئے کہ توفی کا حکم بھی جاری ہے۔ مگر ساتھ ہی نہیں مرے بلکہ زندہ ہیں۔
چنانچہ مرزا قادیانی ہمارے اس بیان حقہ کی پرزور تائید کرتا ہوا لکھتا ہے کہ ”چنانچہ دو مقامات پر توفی کے لفظ کا اطلاق نیند پر کرنا ایک استعارہ ہے جو بہ سبب قرینہ نوم استعمال کیا گیا ہے۔ یعنی صاف لفظوں میں نیند کا ذکر کیا گیا ہے تا ہر ایک شخص سمجھ لیوے کہ اس جگہ توفی سے مراد حقیقی موت نہیں بلکہ مجازی موت مراد ہے جو نیند ہے۔“
(مندرجہ ازالہ اوہام ص ٣٣٢، خزائن ج ٣ ص ٢٦٩)
مرزا قادیانی اپنی باون سالہ مشرکانہ زندگی سے لے کر اٹھاسٹھ سالہ مدت عمر یعنی لین کلیر تک اسی امید موہوم میں برابر صبح سے شام اور شام سے صبح تک لگا رہا اس کوشش پیہم میں مبتلا رہا کہ میری نبوت کا انحصار صرف عیسیٰ علیہ السلام کی موت ثابت کرنے پر موقوف ہے۔ اگر میں اس مشن میں کامیاب ہوا تو کیمیا گری ہے اور اگر ناکام ہوا تو گھر کا اثاث البیت بھی گویا بھٹی کی نذر ہوا۔ چنانچہ یہ سولہ سال اس تگ و دو کہوں یا دوڑ دھوپ غرض دکھوں میں کٹے، اپنی اس آخری عمر میں ذیابیطس اور دوران سر کو لبیک کہا۔ کاہلی اور سستی کو خوش آمدید کہا۔ ضعف قلب اور مراق کا استقبال کیا۔ مسیح موعود کی صفات کو حاصل کرنے کے لئے آہ اس پیرانہ سالی میں قوت باہ کے نسخوں میں کستوری، مروارید، عنبر، کچلا، زعفران، افیون اور ٹانک وائن کو پیا کہ کسی طرح لیٹنے کی حالت میں تو وہ بالکلی نہ جاتا رہے۔ افسوس اس ارذل العمری میں صرف مسیح بننے کے خاطر محمدی کے ناکام عشق میں وہ وہ صعوبتیں برداشت کیں اور وہ وہ مصائب جھیلے کہ توبہ ہی بھلی ہے۔ اغیار و انصار کے طعنے سنے، اپنوں اور بیگانوں کی پھبتیاں سنیں۔ مگر یہ مسیح موعود بننے کا خبط جن کی طرح سر پہ مسلط و سوار ہی رہا۔ اپنی اس عمر میں جو بھی کتابیں لکھیں ان میں سوائے اس کے کہ مسیح مر گیا وہ یوں صلیب دیا گیا۔ اسے یوں طمانچے لگے۔ یوں استہزاء ہوئی ہاتھوں اور پاؤں میں کیل ٹھونکے گئے۔ آندھی آئی، طوفان آیا۔ رات اندھیری تھی، صبح سبت کا دن تھا۔ جلدی میں سپاہیوں نے نہ دیکھا کہ مرا ہے یا نہیں۔ غلطی سے، بھول سے صلیب سے اتار دیا۔ وہ تین دن تک قبر میں یا خفیہ مکان میں رہا۔ جہاں تیمارداری ہوتی رہی۔ مرہم عیسیٰ تیار ہوئی۔ ایسے ایسے خرافات جن کا نہ کوئی سر ہے نہ پیر لکھ لکھ کر اپنے مراقی ہونے کا وہ ثبوت دیا جس کی نظیر ہی نہیں۔ چنانچہ چند ایک عبارتیں بطور نمونہ پیش کی جاتی ہیں۔ ملاحظہ کیجئے:
”یہود کے علماء نے ان کے لئے ایک کفر کا فتویٰ تیار کیا اور ملک کے تمام علمائے کرام اور عامہ عوام نے اس فتویٰ پر اتفاق کیا اور مہریں لگا دیں۔ مگر پھر بھی بعض عوام الناس میں سے تھوڑے ہی آدمی ان کے ساتھ رہ گئے۔ ان میں سے بھی یہود نے ایک کو رشوت دے کر اپنی طرف پھیر لیا اور دن رات یہ مشورے ہونے لگے کہ توریت کی نصوص صریحہ سے اس شخص کو کافر ٹھہرانا چاہئے تاکہ عوام بھی ایک دفعہ بیزار ہو جائیں اور بعض نشانوں کو دیکھ کر دھوکہ نہ کھائیں۔ چنانچہ یہ بات قرار پائی کہ کسی طرح اس کو صلیب دی جائے پھر کام بن جائے گا۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ١٢، خزائن ج ١٧ ص ١٠٦،١٠٥)
- ٢....... ”یہود نے نعوذ باللہ حضرت مسیح کو رفع سے بے نصیب ٹھہرانے کے لئے
صلیب کا حیلہ سوچا تھا۔ اس سے دلیل پکڑیں کہ عیسیٰ ابن مریم ان صادقوں میں سے نہیں ہے جن کا رفع الی اللہ ہوتا ہے۔ مگر خدا نے مسیح سے وعدہ دیا کہ میں تجھے صلیب سے بچاؤں گا۔“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٥، خزائن ج ١٧ ص ٤٤)
- ٣....... ”مسیح پر جو مصیبت آئی کہ وہ صلیب پر چڑھایا گیا اور کیلیں اس کے اعضاء
میں ٹھوکی گئیں۔ جن سے وہ غشی کی حالت میں ہو گیا۔ یہ مصیبت درحقیقت موت سے کچھ کم نہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٩٣، خزائن ج ٣ ص ٣٠٢)
- ٤....... ”قرآن کریم میں ’انی متوفیک ورافعک الی‘ وارد ہے۔ سو اس
گھبراہٹ کے وقت میں مسیح نے خیال کیا کہ شاید آج ہی وہ وعدہ پورا ہوگا۔ چونکہ مسیح ایک انسان تھا اور اس نے دیکھا کہ تمام سامان میرے مرنے کے موجود ہوگئے ہیں۔ لہذا اس نے برعائت اسباب گمان کیا کہ شاید آج میں مر جاؤں گا۔ سو بباعث ہیبت تجلی جلالی حالت موجودہ کو دیکھ کر ضعف بشریت اس پر غالب ہو گیا تھا۔ تب ہی اس نے دل برداشتہ ہو کر کہا ”ایلی ایلی لما سبقتنی“ یعنی اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا اور کیوں اس وعدہ کا ایفاء نہ کیا جو تو نے پہلے سے رکھا تھا کہ تو مرے گا نہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٩٤، خزائن ج ٣ ص ٣٠٣،٣٠٢)
اب حوالہ نمبر ٥ بھی ملاحظہ فرمادیں۔ ”چونکہ اس عاجز کی بھی (مرزا) مسیح کی طرح ذلت کی گئی ہے کوئی کافر کہتا ہے اور کوئی ملحد کوئی بے ایمان نام رکھتا ہے اور فقیہہ اور مولوی صلیب دینے کے بھی تیار ہیں۔ جیسا کہ میاں عبدالحق اپنے اشتہار میں لکھتے ہیں کہ اس شخص کے لئے مسلمانوں کو کچھ ہاتھ سے بھی کام کرنا چاہئے۔ انہیں الہام بھی ہو گئے ہیں کہ یہ جہنمی ہے۔ آخر جہنم میں پڑے گا اور ان میں داخل نہیں ہوگا۔ جن کا عزت کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف رفع ہوتا ہے۔
”یہود کے علماء نے ان کے لئے ایک کفر کا فتویٰ تیار کیا اور ملک کے تمام بڑے عوام نے اس فتویٰ پر اتفاق کیا اور مہریں لگا دیں۔ مگر پھر بھی بعض عوام سے چند آدمی ان کے ساتھ رہ گئے۔ ان میں سے بھی یہود نے ایک کو رشوت دے کر ملا لیا اور دن رات یہ مشورے ہونے لگے کہ توریت کی نصوص صریحہ سے اس پر لعنت ثابت کریں تا کہ عوام بھی ایک دفعہ بیزار ہو جائیں اور بعض نشانوں کو دیکھ کر دھوکہ نہ کھائیں قرار پائی کہ کسی طرح اس کو صلیب دی جائے پھر کام بن جائے گا۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ١٢، خزائن ج ١٧ ص ١٠٥، ١٠٦)
”یہود نے نعوذ باللہ حضرت مسیح کو رفع سے بے نصیب ٹھہرانے کے لئے یہ تہیہ کیا ۔ اس سے دلیل پکڑیں کہ عیسیٰ ابن مریم ان صادقوں میں سے نہیں ہے جن کا رفع ہوتا ہے۔ مگر خدا نے مسیح سے وعدہ دیا کہ میں تجھے صلیب سے بچاؤں گا۔“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٥، خزائن ج ١٧ ص ٤٤)
”مسیح پر جو مصیبت آئی کہ وہ صلیب پر چڑھایا گیا اور کیلیں اس کے اعضاء میں ٹھوکی گئیں اور اس سے وہ غشی کی حالت میں ہو گیا۔ یہ مصیبت درحقیقت موت سے کچھ کم نہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٩٣، خزائن ج ٣ ص ٣٠٢)
”قرآن کریم میں ”انی متوفیک ورافعک الی“ وارد ہے۔ سو اس میں مسیح نے خیال کیا کہ شاید آج ہی وہ وعدہ پورا ہوگا۔ چونکہ مسیح ایک انسان تھا دیکھتا تھا کہ تمام سامان میرے مرنے کے موجود ہو گئے ہیں۔ لہٰذا اس نے برعائت بشریت یقین کر لیا کہ آج میں مرجاؤں گا۔ سو باعث ہیبت تجلی جلالی حالت موجودہ کو دیکھ کر خوف اس پر غالب ہو گیا تھا۔ تب ہی اس نے دل برداشتہ ہو کر کہا ”ایلی ایلی لما سبقتانی“ اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا اور کیوں اس وعدہ کا ایفا نہ کیا جو تو نے مجھ سے کیا تھا۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٩٤، خزائن ج ٣ ص ٣٠٣، ٣٠٤)
نمبر ٥ بھی ملاحظہ فرمادیں۔ ”چونکہ اس عاجز کی بھی (مرزا) مسیح کی طرح تکفیر کی گئی ہے اور کوئی ملحد کوئی بے ایمان نام رکھتا ہے اور فقیہہ اور مولوی صلیب دینے کے درپے ہیں۔ جیسا کہ میاں عبدالحق غزنوی اپنے اشتہار میں لکھتے ہیں کہ اس شخص کے لئے صلیب دینا چاہئے۔ انہیں الہام بھی ہو گئے ہیں کہ یہ جہنمی ہے۔ اور جو جہنم میں داخل نہیں ہوگا۔ جن کا عزت کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف رفع ہوتا ہے۔
سو آج میں اس الہام کے معنی سمجھا جو اس سے کئی سال پہلے براہین میں درج ہو چکا ہے اور وہ یہ ہے۔ یا عیسیٰ انی متوفیک ورافعک الی وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیامة“
(ازالہ اوہام ص ٣٨٩، خزائن ج ٣ ص ٣٠١)
حوالہ نمبر ١ میں مرزا قادیانی خواہ مخواہ دجل کی بھٹی میں ابال کھاتا ہوا فتویٰ اور مہروں کے ہیر پھیر میں علمائے کرام وصوفیائے عظام کو بدنام کر رہا ہے اور وہ صرف اس لئے کہ ما بدولت کی مماثلت تمام ہو جائے۔ ورنہ فتوے اور مہر کی وہاں ضرورت ہی نہ تھی۔ گھر کی حکومت تھی اور انبیاء کا قتل شیر مادر کی طرح جزو عادت ہو چکا تھا۔ بہر حال نمبر ١، ٢ میں یہ مسلم الثبوت ہے کہ یہود کا مکر یا خفیہ تدبیر یہی تھی کہ جناب مسیح کو مصلوب کر دیا جائے اور یہ بھی مرزا قادیانی نے تسلیم کیا ہے کہ خدا کی خفیہ تدبیر یہ تھی کہ مسیح کو صلیب سے ضرور بچایا جائے گا۔ بلکہ یہ وعدہ الٰہی تھا۔ حوالہ نمبر ٣ میں مراقی مثیل مسیح قادیان کا جھوٹا نبی نفی کو اثبات میں تسلیم کرتا ہوا جناب مسیح کے ہاتھ اور پاؤں میں توازن دماغ کے درہم برہم ہونے سے کیلیں ٹھونک رہا ہے۔ بھلے مانس سے کوئی پوچھے کہ وعدہ الٰہی کیا ہوا، کیا اللہ میاں کے وعدے قرآن کو کبھی دل کی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ ”ان اللہ لا يخلف الميعاد“ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف کبھی نہیں کرتا۔ حوالہ نمبر ٤ اور ٥ بانگ دہل اعلان کر رہا ہے کہ وعدہ یہی تھا۔ اے عیسیٰ تجھ کو پورا پورا لے لوں گا۔ (یعنی روح مع جسم) جیسا کہ عیسیٰ کے خطاب سے مترشح ہے۔ یعنی عیسیٰ مرکب بہ روح وجسد تھا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا۔ چنانچہ مرزا قادیانی اس کا پورا پورا اعتراف کرتے ہیں کہ اسی وعدہ ایفائی کے لئے اس نے جناب باری میں التجاء کی اور بلکہ بشریت کے تقاضے میں یہاں تک کہہ دیا کہ اے خدا، اے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔ اس کا صحیح اور واضح مطلب یہ ہے کہ مولا تیرا وعدہ تھا کہ میں تجھے بچاؤں گا اور اپنی طرف اٹھالوں گا اور یہودیوں کی ناپاک صحبت سے تمہیں بالکل پاک کروں گا اور اب وہ وقت قریب ہے اور ابھی تک وعدہ ایفائی نہیں ہوئی۔ کیا تو نے مجھے چھوڑ دیا یا فراموش کر دیا۔
حوالہ نمبر ٥ میں پھر مماثلت کا بخار ہو رہا ہے اور سچائی سر پر چڑھ کر بول رہی ہے یعنی اعمال تمثل ہو کر سامنے آ رہے ہیں اور گناہ ہیبت ناک منظر پیش کر کے ڈرا رہے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ جو کچھ بھی عالم ہو کر تم نے کیا وہ جاہل بھی کرنے کو تیار نہیں۔ بخدا ہمیں تو آج تک یہ بھی معلوم نہ ہوا کہ آپ عورت ہیں یا مرد؟ اور کون سی متبرک ہستی ایسی باقی ہے جس کی پگڑی آپ کے ہاتھوں نہ اچھالی گئی۔ مگر شکر ہے کہ آج آپ کو ”انی متوفیک“ سمجھ میں آیا۔ ”اس کو بھولا نہ جانئے جو پھر آئے شام“ مگر استقامت کی ضرورت ہے اور وہ آپ کی فطرت
میں نہیں۔ ابھی دیکھ لینا آپ اس نظریے کو خیر باد کہہ جائیں گے۔
”پیش گوئی جو براہین میں درج ہے اس کی طرف اشارہ کر رہی ہے اور وہ الہام یہ ہے۔ ”یا عیسی انی متوفيك ورافعك الى وجاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفروا الى يوم القيامة“ اس مسیح کو بھی یاد رکھو جو اس عاجز کی ذریت میں بھی پکارا گیا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص٤١٨، خزائن ج٣ ص٣١٨)
معزز ناظرین! میں نہ کہتا تھا کہ مرزا قادیانی میں استقامت کا مادہ ہی نہیں۔ سچ ہے قادیانی نبوت بے پیندے کا لوٹا واقع ہوئی ہے۔ اس کی حالت سیمابی سی ہے جسے قرار ہی نہیں۔ لیجئے اب اس الہام کی ارزانی ہو رہی اور اپنے اختیارات اولاد میں تقسیم ہو رہے ہیں۔ مرزا قادیانی نے یا عیسی انی متوفیک ورافعک والا سرقہ شدہ الہام اپنی ذریت پر خواہ مخواہ تھوپنے کی ناکام کوشش اس لئے کی کہ وہ سعید الفطرت لوگ جو جھانسے میں آنے سے بچ گئے ہیں۔ وہ کسی طرح مغالطہ میں آکر یہ سمجھیں کہ آخر مسیح موعود ذریت مرزا سے ہی ہوگا۔ اس لئے مرزا قادیانی کو نر سے مادہ ہی سمجھ لیں۔ یعنی غلام احمد کو مریم بی بی ہی قرار دے کر مسیح موعود کی انتظار کریں۔ بہر حال اس کھلے میں جو الو پھنس جائیں گے وہ بھی تو اپنے ہی ہیں کیا مضائقہ ہے مابدولت عیسیٰ نہ سہی مریم ہی سہی۔ ضرورت تو دجل کی ہے وہ کسی طرح چل جائے۔ مگر فقیر کے خیال میں مرزا قادیانی کو ایک بات پر قرار ہی نہیں واقعات کے تمام پہلو ہر طریق سے اپنے ہی ہیں۔ لڑکا ہوا تو سچے اور لڑکی ہو تو سچے اور کچھ نہ ہو تو سچے، کیونکہ بشارتیں تینوں ہی قسم سے دی گئی ہیں۔ زچہ کو لڑکا ساس کو لڑکی اور پڑوسن کو جاتے جاتے کہہ دیا کہ اولاد اس کے مقسوم میں ہی نہیں۔ جو لڑکا ہوا تو ساس بولی تم نے تو لڑکی کہی تھی۔ راول کڑک کر بولا اپنی بہو کو سوگند دے کر پوچھ تمہیں غلطی لگی ہے اور پڑوسن نے مقسوم کا رونا رویا تو نظر بد کا پہرہ دے دیا۔ چلو بچی ہوئی جوگی کی ولایت سچی۔ اس کے باپ کی کچی اور کہنے والے کا مفت میں منہ کالا۔ یہی حال مرزا قادیانی کا ہے۔ دیکھئے پنجابی نبی کا ذریت کو تفویض شدہ حق غصب کرنا واہ رے میرے بے دم کے شیر۔
”انا اذا ودعنا الدنيا فلا مسيح بعدنا الى يوم القيمة یعنی میرے بعد (مرزا کے بعد) قیامت تک کوئی مسیح نہ ہوگا۔“
(اعجاز احمدی ص٧، خزائن ج١٩ ص١١٣)
ہے کوئی مسیح کا لال جو ان دونوں الہاموں میں تطبیق دے دے اور اس کے صلہ میں مبلغ سوا آنہ سکھا شاہی انعام میں پاوے۔ یہ تھی پنجابی نبوت اور سنئے ، ہم تمہیں مرزا قادیانی کے الہامی تھیلے یا براہین احمدیہ یا قطبی کے ایک اور صرف ایک حاشیے کی سیر کرائیں۔ دیکھئے الہامات کی بارش
لینا آپ اس نظریہ کو خیر باد کہہ جائیں گے۔ کی جو براہین میں درج ہے اسی کی طرف اشارہ کر رہی ہے اور وہ الہام یہ انی متوفيك و رافعك الى وجاعل الذين اتبعوك فوق الذين امة “ اس مسیح کو بھی یاد رکھو جو اس عاجز کی ذریت میں بھی پکارا گیا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٤١٨، خزائن ج ٣ ص ٣١٨)
رین! میں نہ کہتا تھا کہ مرزا قادیانی میں استقامت کا مادہ ہی نہیں۔ سچ ہے پیندے کا لوٹا واقع ہوئی ہے۔ اس کی حالت سیمابی سی ہے جسے قرار ہی نہیں۔ ارزانی ہو رہی اور اپنے اختیارات اولاد میں تقسیم ہو رہے ہیں۔ انی نے یعیسیٰ انی متوفیک ورافعک والا سرقہ شدہ الہام اپنی ذریت پر خواہ کوشش اس لئے کی کہ وہ سعید الفطرت لوگ جو جھانسے میں آنے سے بچ گئے لطہ میں آ کر یہ سمجھیں کہ آخر مسیح موعود ذریت مرزا سے ہی ہوگا۔ اس لئے ادہ ہی سمجھ لیں۔ یعنی غلام احمد کا مریم بی بی ہی قرار دے کر مسیح موعود کی انتظار گلے میں جو الو پھنس جائیں گے وہ بھی تو اپنے ہی ہیں کیا مضائقہ ہے ریم ہی سہی۔ ضرورت تو دجل کی ہے وہ کسی طرح چل جائے۔ مگر فقیر کے کو ایک بات پر قرار ہی نہیں واقعات کے تمام پہلو ہر طریق سے اپنے ہی لڑکا ہی ہو تو سچے اور کچھ نہ ہو تو سچے، کیونکہ بشارتیں تینوں ہی قسم سے دی گئی لڑکی اور پڑوسن کو جاتے جاتے کہہ دیا کہ اولاد اس کے مقسوم میں ہی نہیں۔ تم نے تو لڑکی کہی تھی۔ راول کڑک کر بولا اپنی بہو کو سوگند دے کر پوچھ تمہیں نے مقسوم کا رونا رویا تو نظر بد کا پہرہ دے دیا۔ چلو چھٹی ہوئی جوگی کی ولایت بچی داد کہنے والے کا مفت میں منہ کالا۔ یہی حال مرزا قادیانی کا ہے۔ ت کو تفویض شدہ حق غصب کرنا واہ رے میرے بے دم کے شیر۔
ودعنا الدنيا فلا مسيح بعدنا الى يوم القيمة یعنی میرے بعد تک کوئی مسیح نہ ہوگا۔“
(اعجاز احمدی ص ٧، خزائن ج ص )
کا لال جوان دونوں الہاموں میں تطبیق دے دے اور اس کے صلہ میں مبلغ یس پاوے۔ یہ تھی پنجابی نبوت اور سنئے ہم تمہیں مرزا قادیانی کے الہامی ا کے ایک اور صرف ایک حاشیے کی سیر کرائیں۔ دیکھئے الہامات کی بارش
ہو رہی ہے اور اس کے بہاؤ میں دجال اکبر تیراکیاں کر رہا ہے۔
”بہت سے الہامات بطور اسرار ہیں جن کو یہ عاجز بیان نہیں کر سکتا۔ بارہا عین مخالفوں کی حاضری کے وقت میں ایسا کھلا کھلا الہام ہوا ہے۔ جس کے پورا ہونے سے مخالفوں کو بجز اقرار کے اور کوئی راہ نہیں۔ آیا ابھی چند روز کا ذکر ہے کہ ایک دفعہ بعض امور میں تین طرح کا غم پیش آ گیا تھا۔ جس کے تدارک کی کوئی صورت نظر نہیں آتی اور بجز حرج و نقصان اٹھانے کے اور کوئی سبیل نمودار نہ تھی۔ اسی روز شام کے قریب یہ عاجز اپنے معمول کے مطابق جنگل میں سیر کو گیا اور اس وقت ہمراہ ایک آریہ ملاوا مل نامی تھا۔ (صاحبان یہی مرزا قادیانی کا پیٹنٹ گواہ ہے جس کا ہزاروں بار شہادتوں میں تذکرہ ہے۔ اس لئے میں اس کو مرزا قادیانی کا پرائیویٹ سیکرٹری کہوں گا۔ کیونکہ یہ ہمیشہ مرزا قادیانی کے ساتھ رہتا ہے۔ کم بخت رفع حاجت اور وحی خانہ کے وقتوں میں بھی نہیں ٹلتا) جب واپس آیا تو گاؤں کے دروازے کے قریب یہ الہام ہوا۔ (فقیر دو دفعہ قادیان گیا مگر بخدا کسی نے آج تک وہاں دروازہ نہیں دیکھا) ”ننجيك من الغم“ پھر دوبارہ الہام ہوا ”ننجيك من الغم الم تعلم ان الله على كل شئى قدير“ یعنی ہم تمہیں اس غم سے نجات دیں گے۔ کیا تو نہیں جانتا کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے۔ چنانچہ اسی قدم پر جہاں الہام ہوا تھا اس آریہ کو اس الہام سے اطلاع دی گئی۔ (کوتوالی میں گویا رپورٹ کر دی گئی) پھر خدا نے وہ تینوں طور کا غم دور کر دیا۔ ”فالحمدلله على ذالك“ (یہ محمدی کے نکاح کا غم تھا جو الہام سے دور ہو گیا) اور ایک اتفاقات عجیبہ سے یہ بات ہے کہ جس وقت شہاب الدین موحد نے مولوی صاحبان ممدوحین کی رائے بیان کی اس رات انگریزی میں ایک الہام ہوا۔ جو شہاب دین کو سنایا گیا۔ (بڑی مہربانی فرمائی) اور وہ یہ ہے۔
Through all men should be angery but God is with you. He shell help you wards of God can not ex-change.
یعنی اگر تمام آدمی ناراض ہوں مگر خدا تمہارے ساتھ ہے وہ تمہاری مدد کرے گا۔ خدا کی باتیں بدل نہیں سکتیں۔ پھر ماسوا اس کے اور بھی چند الہامات ہوئے جو نیچے لکھے جاتے ہیں۔
”من الخير كله فى القرآن كتاب الله الرحمان اليه يصعد الكلم الطيب“ یعنی تمام بھلائی قرآن میں ہے جو اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے۔ وہی اللہ جو رحمان ہے۔ اسی رحمان کی طرف کلمات طیبہ صعود کرتے ہیں۔ ”هو الذى ينزل الغيث من بعد ما قنطوا وينشر رحمة الله“ وہ ذات کریم ہے جو ناامیدی کے بعد مینہ برساتا ہے اور اپنی
رحمت کو دنیا میں پھیلاتا ہے۔ یعنی عین ضرورت کے وقت تجدید دین کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ "یجتبی الیه من یشاء من عبادہ" جس کو چاہتا ہے بندوں میں سے چن لیتا ہے۔ "وکذلک مننا علی یوسف لنصرف عنه السوء والفحشاء ولتنذر قوما ما انذر اباؤهم فهم غافلون" اور اسی طرح ہم نے یوسف پر احسان کیا تا ہم اس سے بدی اور فحش کو روک دیں اور تا تو ان لوگوں کو ڈراوے جن کے باپ دادوں کو کسی نے نہیں ڈرایا۔ سو وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ اس جگہ یوسف کے لفظ سے یہی عاجز مراد ہے کہ جو باعتبار کسی روحانی مناسبت کے اطلاق پایا واللہ اعلم بالصواب بعد اس کے فرمایا "قل عندی شهادة من الله فهل انتم مؤمنون ان معی ربی سیهدین رب اغفر وارحم من السماء ربنا عاج رب السجن احب الی مما یدعوننی الیه رب نجنی من غم ایلی ایلی لما سبقتنی" کہ عطائے تو مارا کرد گستاخ ۔ کہہ میرے پاس خدا کی گواہی ہے۔ پس کیا تم ایمان نہیں لاتے۔ یعنی خدا تعالیٰ کا تائیدات کرنا اور اسرار غیبیہ پر مطلع فرمانا اور پیش از وقوع پوشیدہ خبریں بتلانا اور دعاؤں کا قبول کرنا اور مختلف زبانوں میں الہام دینا اور معارف اور حقائق الٰہیہ سے اطلاع کرنا یہ سب خدا کی شہادت ہے۔ جس کو قبول کرنا ایماندار کا فرض ہے۔ پھر بقیہ الہامات بالا کا یہ ہے کہ یہ تحقیق میرا رب میرے ساتھ ہے۔ وہی مجھے راہ بتاوے گا۔ اے میرے رب میرے گناہ بخش اور آسمان سے رحم کر ہمارا رب عاجی ہے۔ اس کے معنی ابھی تک معلوم نہیں ہوئے۔ جن نالائق باتوں کی طرف مجھ کو بلاتے ہیں ان سے اے میرے رب مجھے زندان بہتر ہے۔ اے میرے خدا مجھ کو میرے غم میں نجات بخش۔ اے میرے خدا اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔ تیری بخششوں نے ہم کو گستاخ کر دیا۔ یہ سب اسرار ہیں۔ جو اپنے اپنے اوقات پر چسپاں ہیں۔ جن کا علم حضرت عالم الغیب کو ہے۔ پھر بعد اس کے فرمایا "هو شعنا نعسا" یہ دونوں فقرے شاید عبرانی ہیں اور ان کے معنی ابھی تک اس عاجز پر نہیں کھلے۔ پھر بعد اس کے دو فقرے انگریزی ہیں۔ جن کے الفاظ کی صحت بباعث سرعت الہام ابھی تک معلوم نہیں ہوئے اور وہ یہ ہیں۔
I Love You, I Shell you, You a large party of Islam.
چونکہ اس وقت یعنی آج کے دن اس جگہ کوئی انگریزی خوان نہیں اور نہ اس کے پورے پورے معنی کھلے ہیں۔ اس لئے بغیر معنوں کے لکھا گیا۔ پھر اس کے بعد یہ الہام ہوا۔ "یا عیسی انی متوفیک ورافعک الی وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم
القيٰمة ثلة من الاولين وثلة من الآخرين ‘‘ اے عیسیٰ میں تجھے کامل اجر بخشوں گا یا وفات دوں گا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا۔ رفع درجات کروں گا یا دنیا سے اپنی طرف اٹھاؤں گا اور تیرے تابعین کو جو ان پر منکر ہیں قیامت تک غلبہ بخشوں گا۔ پہلوں میں سے بھی ایک گروہ ہے اور پچھلوں میں سے بھی ایک گروہ ۔ اس جگہ عیسیٰ کے نام سے بھی یہی عاجز مراد ہے۔ پھر اس کے بعد اردو الہام فرمایا۔ میں اپنی چمکار دکھلاؤں گا اپنی قدرت نمائی سے تجھ کو اٹھاؤں گا ۔ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔ لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔ ’’الفتنة ههنا فاصبر كما صبر اولو العزم ‘‘ اس جگہ ایک فتنہ ہے سو اولو العزم نبیوں کی طرح صبر کر۔
’’فلما تجلى ربہ للجبل جعلہ دکا‘‘ جب خدا مشکلات کے پہاڑ پر تجلی کرے گا تو انہیں پاش پاش کرے گا۔ ’’قوة الرحمان لعبيد اللہ الصمد ‘‘ یہ خدا کی قوت ہے جو اپنے بندے کے لئے وہ غنی مطلق ظاہر کرے گا۔ ’’مقام لا تترقى العبد فيہ يسعى الاعمال ‘‘ یعنی عبداللہ الصمد ہونا ایک مقام ہے۔ جو بطریق موہبت خاص عطاء ہوتا ہے۔ کوششوں سے حاصل نہیں ہو سکتا ’’یا داؤد عامل بالناس رفقا واحسانا واذ احيتم بتحیة فحیو باحسن منها واما بنعمت ربك فحدث ‘‘ ’’یوشل ڈووہاٹ آئی ٹولڈ یو‘‘ تم کو وہ کرنا چاہئے جو میں نے فرمایا ہے ۔ ’’اشکر نعمتى رايت خديجتى انك اليوم لذو حظ عظيم انت محدث اللہ فيك فاروقیة ‘‘ اے داؤد خلق اللہ کے ساتھ رفق اور آسانی کے ساتھ معاملہ کر اور سلام کا جواب احسن طور پر دے اور اپنے رب کی نعمت کا لوگوں کے پاس ذکر کر۔ میری نعمت کا شکر کر تو نے اس کو قبل از وقت پایا۔ آج تجھے حظ عظیم ہے تو محدث اللہ ہے تجھ میں مادہ فاروقی ہے ۔ ’’سلام عليك يا ابراهيم انك اليوم لدينا مكين امين ذو عقل متين، حسب اللہ خليل اللہ اسد اللہ وصل على محمد ما ودعك ربك وما قلى الم نشرح لك صدرك، الم نجعل لك سهولة في كل امر بيت الفكر وبيت الذكر ومن دخلہ کان امناً‘‘ تیرے پر سلام ہے اے ابراہیم تو آج ہمارے نزدیک صاحب مرتبہ اور امانت دار اور قوی العقل ہے اور دوست خدا ہے۔ خلیل اللہ ہے، اسد اللہ ہے اور محمد پر درود بھیج۔ یعنی یہ اس نبی کریم کی متابعت کا نتیجہ ہے اور بقیہ ترجمہ یہ ہے کہ خدا نے تجھ کو ترک نہیں کیا اور نہ وہ تجھ پر ناراض ہے۔ کیا ہم نے تیرا سینہ نہیں کھولا۔ کیا ہم نے ہر ایک بات تیرے لئے آسانی نہیں کی۔ کیا تجھ پر بیت الذکر اور بیت الفکر عطاء کیا اور جو شخص بیت الذکر میں باخلاص
وقصد تعبد ، صحت نیت وحسن ایمان داخل ہوگا۔ وہ سوئے خاتمہ سے امن میں آجائے گا۔ بیت الفکر سے مراد اس جگہ وہ چوبارہ ہے جس میں یہ عاجز کتاب کی تالیف کے لئے مشغول رہا ہے اور رہتا ہے اور بیت الذکر سے مراد وہ مسجد ہے جو اس چوبارہ کے پہلو میں بنائی گئی ہے اور آخری مذکورہ بالا اس مسجد کی صفت میں بیان فرمایا ہے۔ جس کے حروف سے بنائے مسجد کی تاریخ بھی نکلتی ہے اور وہ یہ ہے۔ ”مبارك ومبارك وكل امر مبارك يجعل فيه“ یعنی یہ مسجد برکت دہندہ اور برکت یافتہ ہے اور ہر ایک امر مبارک اس میں کیا جائے گا۔ پھر اس بعد اس کے اس عاجز کی نسبت فرمایا ”رفعت وجعلت مباركا“ ”تو مرزا اونچا کیا گیا اور مبارک بنایا گیا ۔“ والذين آمنوا ولم يلبسو ايمانهم بظلم اولئك لهم الامن وهم مهتدون“ یعنی جو لوگ ان برکات وانوار پر ایمان لائیں گے جو کہ مجھ کو خدا تعالیٰ نے عطاء کئے ہیں اور ایمان ان کا خالص اور وفاداری سے ہوگا تو ضلالت کی راہوں سے امن میں آجائیں گے اور وہی ہیں جو خدا کے نزدیک ہدایت یافتہ ہیں۔ ”يريدون ان يطفؤا نور الله قل الله حافظ عنايت الله حافظك نحن نزلناه وانا له لحافظون ، الله خير حافظا وهو ارحم الرحمين ويخوفونك من دونه ، ائمة الكفر لا تخف انك انت الاعلى ، ينصرك الله فى مواطن ، ان يومى لفضل عظيم ، كتب الله لا غلبن انا ورسلى ، لا مبدل لكلماته بصآئير للناس ، نصرتك من لدنى ، انى منجيك من الغم ، وكان ربك قدير ، انت معى وانا معك ، خلقت لك ليلاً ونهارا ، اعمل ماشئت فانى قد غفرت لك ، انت منى بمنزلة لا يعلمها الخلق“ مخالف لوگ ارادہ کریں گے کہ تا خدا کے نور (یعنی مرزا قادیانی) کو بجھادیں کہ خدا اس نور کا خود محافظ ہے۔ عنایت اللہ تیری نگہبان ہے۔ ہم نے اتارا ہے اور ہم ہی محافظ ہیں۔ خدا خیر الحافظین ہے اور وہ ارحم الرحمین ہے اور تجھ کو اور چیزوں سے ڈرائیں گے۔ یہی پیشوایان کفر ہیں۔ مت خوف کر تجھ ہی کو غلبہ ہے۔ یعنی حجت اور برہان اور قبولیت اور برکت کے رو سے تو ہی غالب ہے۔ خدا کئی میدانوں میں تیری مدد کرے گا۔ یعنی مجادلات ، مناظرات ، بحث میں تجھ کو غلبہ رہے گا۔ پھر فرمایا کہ میرا دین حق ہے اور باطل نہیں فرق بین کرے گا۔ خدا لکھ چکا ہے کہ غلبہ مجھ کو اور میرے رسولوں کو ہے۔ کوئی نہیں کہ جو خدا کی باتوں کو ٹال دے۔ یہ خدا کے کام دین کی سچائی کے لئے حجت ہیں۔ میں اپنی طرف سے تجھے دوں گا۔ میں خود تیرا غم دور کر دوں گا اور تیرا خدا قادر ہے تو میرے ساتھ ہے اور میں تیرے ساتھ ہوں۔ تیرے لئے میں نے رات اور دن پیدا کیا جو کچھ بھی تو چاہئے کر میں نے تجھے بخشا۔ تو مجھ سے وہ منزلت
رکھتا ہے جس کی لوگوں کو خبر ہی نہیں۔ ( ہیں۔ بلکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ تیری تیری فطرت میں ڈالی گئی ہے۔ گویا جـ ایمانیات اس کی نظر میں بطور فطری تقا يشاء وقالوا ان هذا افك افترى بنى آدم وفضلنا بعضهم على آية للمؤمنين ، ام حسبتم ان قل هو الله عجيب ، كل يـ واستيقنتها انفسهم ظلما وعلـ الله فلا تكفروا ان كنتم مؤمـ الغم ، تفردنا بذالك فاتخذ و ہے ۔ ہم نے اپنے بزرگوں میں سنی کئے گئے۔ بعض کو بعض پر خدا نے تا مومنوں کے لئے نشان ہو۔ کیا تم ہـ ختم ہیں۔ نہیں بلکہ وہ خدا تو ہمیشہ صا ایک دن میں وہ ایک شان میں ہے۔ لوگوں نے محض علم کی راہ سے انکار کـ دلوں میں رعب ڈالیں گے۔ کہہ خدا ابراہیم پر سلام ہم نے اس کو خالص کـ نقش قدم پر چلو۔ یعنی رسول کریم کا بعض یہودیوں کی طرح صرف طور بـ یہ طریقہ خداوند کریم کے عاجز بندہ ۔
”يا عيسى انى متو كفرو الى يوم القيامة “ یہ صرف خالی ورق بھی ہونے چاہئے تا کہ دجا
رکھتا ہے جس کی لوگوں کو خبر ہی نہیں۔ اس آخری فقرہ کا یہ مطلب نہیں کہ منہیات شرعیہ تجھے حلال ہیں۔ بلکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ تیری نظر میں منہیات مکروہ کئے گئے ہیں اور اعمال صالحہ کی محبت تیری فطرت میں ڈالی گئی ہے۔ گویا جو خدا کی مرضی ہے وہ بندے کی مرضی بنائی گئی ہے اور سب ایمانیات اس کی نظر میں بطور فطرتی تقاضا کے محبوب کی گئیں۔” ذالك فضل الله يوتيه من يشاء وقالوا ان هو افك افترى وما سمعنا بهذا فى اباء نا الاولين . ولقد كرمنا بنى آدم وفضلنا بعضهم على بعض . اجتبيناهم واصطفيناهم كذالك ليكون آية للمؤمنين . ام حسبتم ان اصحاب الكهف والرقيم كانوا من آياتنا عجبا . قل هو الله عجيب . كل يوم هو فى شان ففهمناها سليمان وجحدوا ربها واستيقنتها انفسهم ظلما وعلوا . سنلقى فى قلوبهم الرعب قل جاء كم نور من الله فلا تكفروا ان كنتم مؤمنين . سلام على ابراهيم صافيناه ونجيناه من الغم . تفردنا بذالك فاتخذوا من مقام ابراهيم مصلى “ اور کہیں یہ جھوٹ بنالیا ہے۔ ہم نے اپنے بزرگوں میں یعنی اولیاء سلف میں یہ نہیں سنا۔ حالانکہ بنی آدم یکساں نہیں پیدا کئے گئے۔ بعض کو بعض پر خدا نے بزرگی دی اور ان کو دوسروں میں سے چن لیا۔ یہی سچ ہے تا مومنوں کے لئے نشان ہو۔ کیا تم خیال کرتے ہو کہ ہمارے عجیب کام فقط اصحاب کہف ہی تک ختم ہیں۔ نہیں بلکہ وہ خدا تو ہمیشہ صاحب عجیب ہے اور اس کے عجائبات کبھی منقطع نہیں ہوتے۔ ہر ایک دن میں وہ ایک شان میں ہے۔ پس ہم نے وہ نشان سلیمان کو سمجھائے۔ یعنی اس عاجز کو اور لوگوں نے محض ظلم کی راہ سے انکار کیا۔ حالانکہ ان کے دل یقین کر گئے ۔ سو عنقریب ہم ان کے دلوں میں رعب ڈالیں گے۔ کہہ خدا کی طرف سے نور اترا ہے۔ سوتم اگر مؤمن ہو تو انکار مت کرو۔ ابراہیم پر سلام ہم نے اس کو خالص کیا اور غم سے نجات دی۔ ہم نے ہی یہ کام کیا سو تم ابراہیم کے نقش قدم پر چلو۔ یعنی رسول کریم کا طریقہ حقہ جو حال کے زمانہ میں اکثر لوگوں پر مشتبہ ہو گیا ہے اور بعض یہودیوں کی طرح صرف طور پرست اور بعض مشرکوں کی طرح مخلوق پرستی تک پہنچ گئے ہیں۔ یہ طریقہ خداوند کریم کے عاجز بندہ سے دریافت کر لیں اور اس پر چلیں۔
(براہین احمدیہ ص ٥٥٣ تا ٥٦٢، خزائن ج ١ ص ٦٥٩ تا ٦٧١)
”يا عيسى انى متوفيك ورافعك الى وجاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفرو الى يوم القيامة “ یہ صرف الہام ہے۔ ترجمہ جو مرزا قادیانی چاہے کرے۔ الہامی پٹارہ میں خالی ورق بھی ہونے چاہئے تاکہ دجالیت نشو و نما پاتی رہے اور کذاب من مانی موج کھیلتا رہے۔
یہ الہام صرف سادہ ہی رکھا گیا ہے تاکہ ضرورت ایجاد کی ماں بن جائے اور ہتھیار وہ جو وقت پر کام آئے کے مصداق جھٹ مداری پٹارہ سے ہاتھی کا گھوڑا اور گھوڑے کا الو کا پٹھہ بن سکے۔ ہاں صاحب کیا کہنے ہیں پنجابی نبی کے۔ مسیح کو عاجز و مسکین ٹی ۔ ٹائم میں مجدد محدث، حاضری کے وقت ظلی و بروزی نبی ۔ ڈنر کے وقت نبی اور امتی اور بریک فاسٹ کے وقت؎
منم محمد واحمد کہ مجتبیٰ باشد
(تریاق القلوب ص ٣٣، خزائن ج ١٥ ص ١٣٤)
اور یہ کیوں نہ ہو جب کہ آپ کی وحی کا لب ولہجہ ایسا ہے جیسے کہ کوئی بڑا انگریز سر پر کھڑا بول رہا ہے۔
”یا عیسی انی متوفیک ورافعک الی وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیامۃ“ اے عیسیٰ میں تجھ کو پوری نعمت دوں گا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا اور تیرے نام لیووں کو قیامت تک منکروں پر غالب رکھوں گا۔ (براہین احمدیہ ص ٥١٩، خزائن ج ١ ص ٦٢٠) میٹھا میٹھا ہپ اور کڑوا تھو، سنا تھا آج آنکھوں سے دیکھ لیا۔ اے کاش کہیں اپنے پہ بھی وہی ترجمہ کیا ہوتا۔ جو جناب کلمۃ اللہ کے لئے پسند فرمایا تھا یہاں کیوں نہیں کہتے کہ اے مرزا تجھ کو موت دینے والا ہوں۔ مگر یاد آیا تم تو عالم کشف میں مردوں سے اپنی زندگی کو لمبا کرنے کے لئے لڑا کرتے ہو اور دھینگا مشتی کر کے بہ زور آمین کرایا کرتے ہو۔ (مکاشفات نمبر ٣٣) پھر بھلا اپنے نام پر مرنے کا لفظ کیوں پسند کرو گے۔ جب کہ تم اپنی عمر بنانے کے لئے الہامی چکر میں ایسے الجھے کہ بیسیوں متضاد الہام دجل کی مشین پر بن ڈالے۔ جن سے آپ کی عمر ٦٨ ، ٦٩ ، ٧٥ ، ٨٠، ٨٤، ٨٣، ٨٧ اور کشف والی دعا جو گردن پہ گھٹنہ رکھ کر کرائی گئی تھی کریلہ اور نیم چڑھا کے مصداق ہو جائے تو ٩٥ سال ہوتی ہے۔
”یا مریم اسکن انت وزوجک الجنۃ نفخت فیک من لدنی روح الصدق“ یعنی اے مریم تو معہ اپنے دوستوں کے بہشت میں داخل ہو۔ میں نے تجھ میں اپنے پاس سے صدق کی روح پھونک دی۔ خدا نے اس آیت میں میرا نام روح الصدق رکھا۔ یہ اس آیت کے مقابل پر ہے۔”نفخنا فیہ من روحنا“ پس اس جگہ گویا استعارہ کے رنگ میں مریم کے پیٹ میں عیسیٰ کی روح جا پڑی۔ جس کا نام روح الصدق ہے۔“ پھر سب کے آخر (براہین احمدیہ ص ٥٥٦) میں وہ عیسیٰ جو مریم کے پیٹ میں تھا اس کے پیدا ہونے کے بارہ میں یہ الہام ہوا۔
”يا عیسیٰ انی متوفیک ورافعک الیّ وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القيامۃ “ اس جگہ میرا نام عیسیٰ رکھا گیا اور اس الہام سے ظاہر ہوا کہ وہ عیسیٰ پیدا ہو گیا۔ جس کے روح کا نفخ ص ٤٩٦ میں ظاہر کیا گیا تھا۔ پس اس لحاظ سے میں عیسیٰ بن مریم کہلایا ۔ کیونکہ میری عیسوی حیثیت مریمی حیثیت سے خدا کے نفخ سے پیدا ہوئی اور دیکھو (براہین احمدیہ ص ٤٩٦، ٥٥٦) اور اس واقعہ کو سورۃ تحریم میں بطور پیش گوئی کمال تصریح سے بیان کیا گیا ہے کہ عیسیٰ بن مریم اس امت میں اس طرح پیدا ہوگا کہ پہلے کوئی فرد اس امت کا مریم بنایا جائے گا اور پھر بعد اس کے مریم میں عیسیٰ کی روح پھونک دی جائے گی۔ پس وہ مریمیت کے رحم میں ایک مدت تک پرورش پا کر عیسیٰ کی روحانیت میں تولد پائے گا اور اس طرح پر وہ عیسیٰ بن مریم کہلائے گا۔ یہ وہ خبر محمدی ابن مریم کے بارے میں ہے جو قرآن شریف یعنی سورۃ تحریم میں اس زمانہ سے تیراں سو برس پہلے بیان کی گئی ہے اور پھر براہین احمدیہ میں سورۃ تحریم کی ان آیات کی خدا تعالیٰ نے خود تفسیر فرمادی ۔ قرآن شریف موجود ہے ایک طرف قرآن شریف کو رکھو اور ایک طرف براہین احمدیہ کو۔ پھر انصاف اور عقل اور تقویٰ سے سوچو کہ وہ پیش گوئی جو سورۃ تحریم میں تھی یعنی یہ کہ اس امت میں بھی کوئی فرد مریم کہلائے گا اور پھر مریم سے عیسیٰ بنایا جائے گا۔ گویا اس میں سے پیدا ہوگا وہ کس رنگ میں براہین احمدیہ کے الہامات سے پوری ہوئی۔ کیا یہ انسان کی قدرت ہے۔ کیا یہ میرے اختیار میں تھا اور کیا میں اس وقت موجود تھا۔ جب کہ قرآن شریف نازل ہورہا تھا۔ تا میں عرض کرتا کہ مجھے ابن مریم بنانے کے لئے کوئی آیت اتار دی جائے اور اعتراض سے مجھے سبکدوش کیا جائے اس نے براہین احمدیہ کے تیسرے حصہ میں میرا نام مریم رکھا۔ پھر جیسا کہ براہین احمدیہ سے ظاہر ہے۔ دو برس تک صفت مریمیت میں میں نے پرورش پائی اور پردہ میں نشوونما پاتا رہا اور پھر جب اس پر دو برس گزر گئے تو جیسا کہ براہین احمدیہ حصہ چہارم ص ٤٩٦ میں درج ہے مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینوں کے بعد جو دس مہینہ سے زیادہ نہیں بذریعہ اس الہام جو سب سے آخر براہین احمدیہ کے حصہ چہارم ص ٥٥٦ میں درج ہے۔ مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا اور اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا فاجاءھا المخاض الی جذع النخلۃ قالت یالیتنی مت قبل ھذا وکنت نسیا منسیا “یعنی پھر مریم کو جو مراد اس عاجز سے ہے درد زہ کھجور کی طرف لے آئی ..... کاش میں اس سے پہلے مرجاتی اور میرا نام نشان نہ رہتا ۔“
(کشتی نوح ص ٤٥ تا ٤٧ ، خزائن ج ١٩ ص ٤٨ تا ٥١)
”بابو الہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کسی اور ناپاکی پر اطلاع پائے۔ تجھ میں حیض نہیں رہا۔ بلکہ وہ بچہ ہوگیا۔ جو بمنزلہ اطفال اللہ کے ہے۔“ (یعنی اللہ کا بیٹا ہے)
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١)
نبی کے غصہ میں ڈوبی ہوئی نگاہ سے ڈر
جناب غوث الاعظم نور اللہ مرقدہ کا ارشاد گرامی ہے۔ تیرا عمل تیرے عقائد کی دلیل ہے اور تیرا ظاہر تیرے باطن کی علامت ہے۔ فرماتے ہیں جب عالم زاہد نہ ہو تو وہ اپنے زمانہ والوں پر عذاب ہے۔ کیونکہ جو شخص اپنے نفس کا اچھی طرح سے معلم نہیں ہو سکتا وہ دوسروں کا کس طرح ہوگا۔ آپ نے یہ بھی فرمایا ایک شخص رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا میں آپ سے محبت رکھتا ہوں۔ فرمایا فقر کے لئے چادر بنا ایک اور شخص نے کہا میں خدا تعالیٰ سے محبت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا بلا کے لئے چادر بنا۔ کیونکہ اللہ اور رسول کی محبت فقر و فاقہ اور بلا سے ملی جلی ہوئی ہے۔ ان کا یہ بھی حکم ہے تکبر اور نخوت اور اترانے کو چھوڑ اپنی خوشی کو کم کر اور حزن کو بڑھا کہ تو دارالحزن یعنی دنیا میں قید ہے۔ ہمارے نبی کریم ہمیشہ غمگین رہتے خوشی کم کرتے اور ہنستے نہیں تھے۔ وہ یہ بھی فرماتے کیا تجھے شرم نہیں آتی کہ تو اسے حکم کرتا ہے کہ وہ تیری قسمت کو بدل ڈالے کیا تو اس سے زیادہ حاکم اور زیادہ عادل اور زیادہ رحیم ہے۔
سرکار مدینہ فداہ ابی وامی ﷺ کا ارشاد ہے۔ ”ثلاثون کذابون کلھم یزعم انہ نبی اللہ وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی (ترمذی ج ٢ ص ٤٥، باب ماجاء لا تقوم الساعة حتی یخرج کذابون)“ فرمایا میرے بعد تیس بہت جھوٹ بنانے والے اور بہت جھوٹ بولنے والے ایسے خبطی بھی پیدا ہوں گے جو اپنے زعم باطل میں یہ سمجھتے ہوں گے کہ ہم اللہ کے رسول و نبی ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ میں نبیوں کا ختم کنندہ ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ فرمان رسالت کی روشنی میں کذاب قادیان میرے خیال میں ہی نہیں۔ جمہور اسلام کے نزدیک دجال اکبر ہے۔ جیسا کہ علمائے کرام کا متفقہ طور سے اس پر صاد ہے۔ اب اسی آواگون کے چکر ہی کو دیکھ لیجئے کہ اس بھول بھلیوں میں آپ کیا سے کیا بنے اور کون کون سا روپ اختیار کیا اور اس بہروپئے کے انجام کو ملاحظہ فرمائیں کہ کولہو کے بیل کی طرح ناکام چکر کاٹتے ہوئے جہاں سے چلے تھے وہیں کھڑے ہیں۔ پنجابی میں ایک مثال ہے بھوں چوں کے لعنتی اگو دے چک۔
اللہ اللہ الہام ”یا عیسی انی متوفیک ورافعک“ کی قدر و منزلت کو کم کرنے کے لئے اس قدر ارزانی کی کہ سینکڑوں دفعہ تو ذات شریف پر مختلف معانی و مفہوم سمجھتے ہوئے چسپاں کر لیا۔ جس کا مطلب سوائے جناب کلمتہ اللہ پر فوقیت اور سبقت لینے کے اور کچھ نہ تھا۔ جیسا کہ وہ اس کا خود اظہار کرتا ہے۔
من عجب تراز مسیح بے پدر
ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے
(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)
عیسیٰ کجاست تا بنہد پا بمنبرم
(ازالہ اوہام ص ١٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٠)
مطلب یہ تھا کہ ما بدولت رئیس قادیان جن کے آبا نے اور آبا کے باوا نے گورنمنٹ برطانیہ کی راہ میں جانیں قربان کرنا سعادت عظمیٰ سمجھا تھا اور خود ایں جناب سرکار نبی حکومت کا خود کاشتہ پودا باوا اور باوا کے ابا سے کچھ کم نہیں۔ کیونکہ میں گورنمنٹ کی خوشنودی مزاج کے لئے ”اولى الامر منكم “ کا ترجمہ انگریز محض اس لئے کیا کہ مجھے کوئی خطاب یا مربع ہی مل جائے۔ جناب قیصرہ ہند کی خدمت میں تحفہ قیصریہ ہدیہ فقیرانہ یا برگ سبز تحفہ درویش کر کے بھیجا جس میں جہاد کو حرام قرار دیا اور ان وحشی مولویوں کے نام بطور سی آئی ڈی لکھے جو ان جذبات کو فروغ دینا چاہتے تھے۔ اس رسالہ میں میری کوئی خاص ذاتی غرض نہ تھی۔ ہاں یہ خیال ضرور تھا کہ وہ ناکام مقدمہ بازی جو میرے والد نے مدتوں کی اور جس میں میں نے ایک کافی عرصہ ساتھ دیا اور بالآخر ١٥ روپے کی نوکری کو بیکاری اور مفلسی پر ترجیح دیتے ہوئے وطن کو خیر باد کہا۔ شاید مراحم خسروانہ کے تصدق میں وہ زمین واپس مل جائے اور ویسے تو ہم فقیر منش اللہ والے درویشوں کو اس بات کی خواہش ہی نہیں ہوتی کہ کسی کی خوشنودی مزاج سنیں اور تحسین و آفرین سے کان آشنا ہوں یا مرحبا سے طبیعت ہی میں بشاشت آئے۔ مگر بَتقاضائے بشریت اکثر جناب ممدوحہ کے گرامی نامہ کے الفاظ کا انتظار رہا ہے۔ طبیعت ایک دفعہ بے قابو ہو گئی اور جذبات مچل گئے تو ایک اور عرضداشت بھیجی جو خون دل کی سیاہی سے عقیدت کے ہاتھوں کمال انکساری
وعاجزی سے لکھی گئی اور جس میں صرف یہ اپیل کی کہ خدا کے لئے ہمارے اس رسالے کو صرف ایک دفعہ پڑھ یا سن لیا جائے جس پر ہم نے اس قدر محنت کی اور ایک خطیر رقم کے مصارف سے طبع کرایا اور یہ بھی عرض کی کہ مجھ خادم کو جو اخلاص و عقیدت جناب ممدوحہ سے ہے۔ وہ میں بیان نہیں کر سکتا اور میرا یقین یہ کہتا ہے اور دل یہ گواہی دیتا ہے کہ یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ جناب قیصرہ نے غریب کا عقیدت کیشانہ رسالہ تحفہ قیصریہ پڑھا ہو اور پھر دو لفظوں سے نوازا نہ جاؤں۔ اگر جناب ممدوحہ ملکہ قیصرہ نے پڑھا ہوتا تو ضرور شاہانہ الفاظ سے نوازا جاتا۔
اور یہ الہام جو روز ستاتے ہیں سونے نہیں دیتے وقت بے وقت ساون بھادوں کی بارش کی طرح آئے دن آتے ہی رہتے ہیں یہ کوئی ہمارے اختیار میں تھوڑے ہیں یا ہم ان کو کسی طرح روک سکتے ہیں۔ ہاں البتہ ہم اس بات پر قادر ہیں کہ ڈپٹی کمشنر بٹالہ کے حکم پر ان کی تبلیغ واشاعت کو بند کر دیں۔ مگر وہ آتے تو روز ہیں جن دنوں میں ہم نے جناب ملکہ معظمہ کو تحفہ قیصریہ بھیجا تھا۔ تعجب کی بات ہے کہ ہمارے خدا نے ہمیں دو الہام بھی پارسل کر دیئے تھے۔ پہلا الہام تو یہ تھا ”لك خطاب العزت“ یعنی ایک عزت کا خطاب، خاں صاحب، رائے صاحب، سردار صاحب وغیرہ تمہیں ملنے والا ہے اور دوسرا یہ تھا ”ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کی طرف سے شکریہ۔“ گو ہم فقیر کوئی خطاب یا شکریہ پسند نہیں کرتے۔ مگر الہام تو ہمارے بس کا روگ نہیں وہ تو ہو جاتے ہیں۔ چونکہ ان دونوں الہاموں کی ایفاء مرزا قادیانی کی زندگی میں نہیں ہوئی۔ اس لئے ہمارے خیال میں جب مرزا قادیانی کا وہ بیٹا جو مسیح موعود ہو کر آئے گا اور جس کے متعلق مرزا قادیانی کا وعدہ ہم لکھ آئے اور جس کے متعلق یہ الہام مرزا قادیانی کو ہو چکا ہے۔ ”يـــا عيسى انـي متوفيك ورافعك الى ومطهرك من الذين كفر والى يوم القيامة“
(کشتی نوح ص ٤٥، خزائن ج ١٩ ص ٤٩)
اس کا پورا پورا انعام اس وقت جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کی ذریت سے جو صاحب سریر آرائے سلطنت ہوگا۔ مرزا قادیانی کے اس نونہال کو جو مسیح موعود بن کر آئے گا۔ کوئی عزت کا خطاب ملے گا اور اس طرح سے قادیانی خدا ان الہاموں کو پورا کرے گا۔
فالحمد لله على ذالك !
بخدا ہمیں تو مرزا قادیانی کی رسالت پر رحم آتا ہے کہ ایک ساٹھ سالہ سفید بھویں اور داڑھی والا بوڑھا آدمی کس طرح بیک جنبش مرد سے عورت بنا۔ بیچارے کو حیض آیا حاملہ ہوا۔ دو برس تک پیٹ میں مقید رہا۔ دس ماہ تک حاملہ ہوا آخر درد زہ کے مصائب جھیلے پھر زچگی کے
نوائب میں مبتلا ہوا اور مر کر بچہ جنا جو باسٹھ سالہ تھا اور دانت گرے ہوئے تھے۔ ہنسی کی بات نہیں سوچنے کا موقعہ ہے کہ کون سے ایسے سورما جوان کو یہ طاقت ہے کہ مرزا قادیانی کا اس فن میں مقابلہ کرے کسی میں ہمت ہے تو مرد میدان بنے اور ہم سے منہ مانگا انعام پاوے۔
کتب خرافات وزللیات میں ایک نہایت معتبر روایت جناب غوث پاک سے منسوب ہے۔ اس کے راوی مرزا قادیانی کے راویوں سے زیادہ معتبر ہیں۔ وہاں ملا دامل کھتری اور عبیداللہ سنوری ہیں تو یہاں کھوجا رام کونجڑہ اور بلندا ہجڑا جیسے ثقہ اصحاب ہیں۔ جنہوں نے سچائی کو کبھی ہاتھ تک نہیں لگایا۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ہمارے محلہ کا ایک گرانڈیل جوان جو اپنی رفیقہ حیات سے روز جھگڑا کرتا تھا۔ مچھلی لایا اور بیوی کو اس کے پکانے کی فوری تاکید کی وہ نیک بخت بولی کہ تم ندی سے پانی کا گھڑا بھر لاؤ میں اسے تیار کرتی ہوں۔ جب وہ دریا پر پہنچا تو گرمی محسوس ہوئی اور نہانے کا طبیعت نے تقاضہ کیا۔ گھڑے کو کنارے پر رکھا اور خود دریا میں غوطہ زن ہوا۔ اس کی بیوی غوث پاک کی عقیدت کیش تھی اور اس کی آتش مزاج کا کئی دفعہ دکھڑا رو چکی تھی۔ جناب غوث کی دعاء نے آج ظہور کیا وہ گرانڈیل جوان غوطے ہی غوطے میں کہاں سے کہاں پہنچ گیا اور کسی دوسری بستی کے کنارے پر ایک نہایت خوبصورت عورت کے وجود میں ظاہر ہوا۔ وہاں کسی جوان نے اسے اپنی منکوحہ بی بی بنالیا۔ وہ مدت تک ازدواجی زندگی میں منسلک رہا۔ سات بچے جنے اس کے بعد ایک دن اسی گھاٹ پر نہانے کو وہ آیا کہوں یا آئی۔ پھر نہانے کو طبیعت نے تقاضہ کیا دریا میں اتری اور پہلے ہی غوطہ میں وہاں پہنچی جہاں گھڑا مرد ہونے کی صورت میں رکھا تھا۔ بس جونہی پانی سے ابھری گویا کہ وہی گرانڈیل آدمی تھا۔ گھڑا بھرا گھر میں پہنچا تو بیوی مچھلی تیار کر چکی تھی۔ مزے سے دونوں نے سیر ہو کر کھائی اور یہ واقعہ بھی ساتھ ساتھ بیان کیا۔ فالحمدللہ علی ذالک ! یہ عربی الفاظ مرزا قادیانی کی ہر ناممکن واقعات کی تحریر کے بعد ہوا کرتے ہیں۔ اس لئے ہم نے بھی اسے پسند کرتے ہوئے عمل کیا ہے۔ مرزائی حضرات معاف رکھیں۔ اب ہم آپ کی خدمت میں دجال قادیان کی دجالیت نوازیاں اور جدت طرازیاں پیش کرتے ہیں۔ جن سے یہ روز روشن کی طرح معلوم ہو جائے گا کہ وہ کس طرح دجل بنایا کرتے اور مغالطے دیا کرتے تھے۔ اب نص قرآن کی متعدد آیات سے اس کا صریح اور بدیہہ ثبوت موجود ہے کہ یہود نا مسعود نے جناب مسیح کلمۃ اللہ کے لئے صلیب و قتل کا حیلہ سوچا تھا اور وہ قریباً قریباً اس میں کامیاب تھے۔ مگر قدرت سرمدی کو یہ گوارہ نہ ہوا۔ لہذا اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں یہ تجویز فرمایا اور مسیح کو اضطرار کی حالت میں وعدہ دیا کہ میں تمہیں بچاؤں گا۔ اب یہ کہنا کہ صلیب پر تو چڑھایا گیا۔ کیلیں ٹھونکی
گئیں رسوائی ہوئی۔ مگر بیہوشی اور نیم مردگی میں صلیب سے اتارے جانے کی وجہ سے جان بچ گئی۔ کس قدر ڈھٹائی اور بے ایمانی ہے۔ جب کہ اللہ یہ فرمائے کہ ان کو کوئی ہاتھ نہ لگا سکا اور اس کو کوئی قتل ومصلوب نہ کر سکا۔ اب ایک طرف قرآنی آیات ہیں اور دوسری طرف توہمات مرزا۔ ”انا هديناه السبيل اما شاكرا واما كفورا“ اب دونوں راستے تمہارے سامنے ہیں اور کفر وشکر تمہارے اپنے اختیار میں ہے۔ اگر کفر کرو گے تو تمہاری اپنی ہی جانوں کا نقصان ہے اور اگر شکر کرو گے تو اس میں تمہارا اپنا ہی فائدہ ہے۔ اللہ بے نیاز ہے، ذیل میں مرزا قادیانی کا وہ بیان ہے جس کی کوئی سند ہی نہیں۔ بلکہ قرآن کے خلاف، حدیث کے خلاف، خلفائے راشدین اس سے بیزار، آئمہ اربعہ اس سے ناراض، مجدد محدث اس سے برہم، مفسر وصوفی اس سے پناہ گزیں، رہ سہ کر ایک پنجابی نبی ہیں۔ جنہیں ٹیچی، شیرعلی، خیراتی اور آئیل نے تنگ کر رکھا ہے اور یہ چاروں قادیانی فرشتے مرزا قادیانی کے قلب پر اس کو القاء کرتے ہوئے اس کی تشہیر کی منت گزاریاں کر رہے ہیں اور لطف تو یہ ہے کہ دنیا کی کوئی تاریخ اس کو پناہ نہیں دیتی۔ اب ”یا عیسیٰ انی متوفیک“ کا ترجمہ وتفسیر کذاب قادیان کی زبانی سنئے۔
”پھر بعد اس کے مسیح ان کے حوالے کیا گیا اور اس کو تازیانے لگائے گئے اور جس قدر گالیاں سننا اور فقیہوں اور مولویوں کے کہنے سے طمانچے کھانا اور ہنسی اور ٹھٹھے سے اڑائے جانا اس کے حق میں مقدر تھا۔ سب اس نے دیکھا آخر صلیب دینے کو تیار ہوئے۔ یہ جمعہ کا دن تھا اور عصر کا وقت اور اتفاقا یہودیوں کی عید فصح کا بھی دن تھا۔ اس لئے فرصت بہت کم ملتی تھی اور آگے سبت کا دن آنے والا تھا جس کی ابتدا غروب آفتاب سے ہی سمجھی جاتی تھی۔ کیونکہ یہودی لوگ مسلمانوں کی طرح پہلی رات کو اگلے دن کے ساتھ شامل کر لیتے تھے اور یہ ایک شرعی تاکید تھی کہ سبت میں کوئی لاش صلیب پر لٹکی نہ رہے۔ تب یہودیوں نے جلدی سے مسیح کو دو چوروں کے ساتھ صلیب پر چڑھا دیا۔ تا شام سے پہلے ہی لاشیں اتاری جائیں۔ مگر اتفاق سے اس وقت ایک سخت آندھی آ گئی جس سے سخت اندھیرا ہو گیا۔ یہودیوں کو یہ فکر پڑ گئی کہ اب اگر اندھیری ہی میں شام ہو گئی تو ہم اس جرم کے مرتکب ہو جائیں گے جس کا ابھی ذکر کیا گیا ہے۔ سو انہوں نے اس فکر کی وجہ سے تینوں مصلوبوں کو صلیب پر سے اتار لیا اور یاد رکھنا چاہئے کہ یہ بالاتفاق مان لیا گیا ہے کہ وہ صلیب اس قسم کی نہیں تھی۔ جیسا کہ آج کل کی پھانسی ہوتی ہے اور گلے میں رسہ ڈال کر ایک گھنٹہ میں کام تمام کیا جاتا ہے۔ بلکہ اس قسم کا کوئی رسہ نہیں ڈالا جاتا تھا۔ صرف بعض اعضاء میں کیلیں ٹھوکتے تھے اور پھر احتیاط کی غرض سے تین تین دن مصلوب بھوکے پیاسے صلیب پر چڑھائے رہتے تھے پھر
اس کے ہڈیاں توڑی جاتی تھیں اور پھر یقین کیا جاتا تھا کہ اب مصلوب مر گیا۔ مگر خدا تعالیٰ کی قدرت سے مسیح کے ساتھ ایسا نہ ہوا۔ عید فسح کی کم فرصتی اور عصر کا تھوڑا وقت اور آگے سبت کا خوف اور آندھی کا آجانا ایسے اسباب یک دفعہ پیدا ہو گئے۔ جس کی وجہ سے چند منٹ میں ہی مسیح کو صلیب پر سے اتار لیا گیا اور دونوں چور بھی اتار لئے گئے۔ ہڈیوں کے توڑنے کے وقت خدا تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ کا یہ نمونہ دکھایا کہ بعض سپاہی پلاطوس نے جن کو در پردہ خواب کا خطرناک انجام سمجھایا گیا تھا وہ اس وقت موجود تھے۔ جن کا مدعا یہی تھا کہ کسی طرح مسیح کے سر سے یہ بلا ٹل جائے۔ ایسا نہ ہو کہ مسیح کے قتل ہونے کی وجہ سے وہ خواب سچی ہو جائے۔ جو پلاطوس کی بیوی نے دیکھی تھی اور ایسا نہ ہو کہ پلاطوس کسی بلا میں پڑے۔ سو پہلے انہوں نے چوروں کی ہڈیاں توڑیں اور چونکہ سخت آندھی تھی اور تاریکی ہو گئی تھی اور ہوا تیز چل رہی تھی۔ اس لئے لوگ گھبرائے ہوئے تھے کہ کہیں جلد گھروں کو جائیں سو سپاہیوں کا اس موقعہ پر خوب داؤ لگا۔ جب چوروں کی ہڈیاں توڑ چکے اور مسیح کی نوبت آئی تو ایک سپاہی نے اپنے ہاتھ رکھ کر کہہ دیا کہ یہ تو مر چکا ہے۔ کچھ ضرور نہیں کہ اس کی ہڈیاں توڑی جائیں اور ایک نے کہا میں ہی اس لاش کو دفن کروں گا اور آندھی ایسی چلی کہ یہودیوں کو اس نے دھکے دے کر اس جگہ سے نکالا۔ پس اس طور سے مسیح زندہ بچ گیا۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٨٠، ٣٨٢، خزائن ج ٣ ص ٢٩٥ تا ٢٩٧)
دیکھئے مرزا قادیانی نے اپنے استاد فہم سے سوگز آگے ہو کر استقبال کیا اور فقیر کے خیال میں نقش قدم پر چلتے ہوئے تمام کذابین سے ایک خاص طغرۂ امتیاز حاصل کیا۔ بہر حال یہ جدت بھی دوسرے کی چیز پر اپنا ٹھپہ ہی ٹھپہ ہے۔ (تفسیر احمدی ص ٢٤٤، ٢٤٥، طبع ١٨٩٨ء) میں ہے۔
”جس دن حضرت عیسیٰ صلیب پر چڑھائے گئے وہ جمعہ کا دن اور یہودیوں کے عید فسح کا تہوار تھا۔ دو پہر کا وقت تھا جب ان کو صلیب پر چڑھایا گیا ان کی ہتھیلیوں میں کیلیں ٹھونکی گئیں۔ عید فسح کے دن ختم ہونے پر یہودیوں کا سبت شروع ہونے والا تھا اور یہودی مذہب کی رو سے ضرور تھا کہ مقتول یا مصلوب کی لاش قبل ختم ہونے دن کے یعنی قبل شروع ہونے سبت کے دفن کر دی جائے ۔ مگر صلیب پر انسان اس قدر جلدی مر نہیں سکتا تھا۔ اس لئے یہودیوں نے درخواست کی کہ حضرت مسیح کی ٹانگیں توڑ دی جائیں تا کہ وہ فی الفور مر جائیں۔ مگر حضرت عیسیٰ کی ٹانگیں توڑی نہیں گئیں اور لوگوں نے جانا کہ وہ اتنی ہی دیر میں مر گئے جب لوگوں نے غلطی سے جانا کہ حضرت در حقیقت مر گئے ہیں تو یوسف نے حاکم سے ان کے دفن کرنے کی درخواست کی وہ نہایت متعجب ہوا کہ ایسے جلد مر گئے۔ یوسف کو دفن کرنے کی اجازت مل گئی اور حضرت عیسیٰ صرف تین چار گھنٹے
صلیب پر رہے۔ یوسف نے ان کو ایک لحد میں رکھا اور اس پر ایک پتھر ڈھانک دیا۔ حضرت عیسیٰ صلیب پر مرے نہ تھے۔ بلکہ ان پر ایسی حالت طاری ہو گئی تھی کہ لوگوں نے ان کو مردہ سمجھا تھا۔ رات کو وہ لحد میں سے نکال لئے گئے اور مخفی اپنے مریدوں کی حفاظت میں رہے۔ حواریوں نے ان کو دیکھا اور پھر کسی وقت موت سے مر گئے۔ بلاشبہ ان کو یہودیوں کی عداوت کے خوف سے نہایت مخفی طور پر کسی نامعلوم مقام میں دفن کر دیا گیا ہوگا۔ جو اب تک نامعلوم ہے۔‘‘
(تفسیر احمدی ص٤٤٤، ٤٤٥، سرسید احمد خان علی گڑھی)
”وما قتلوہ وما صلبوہ پہلے ما نافیہ سے قتل کا سلب مراد ہے اور دوسرے سے کمال کا کیونکہ صلیب پر چڑھانے کی تکمیل اسی وقت تھی جب صلیب کے سبب موت واقع ہوتی۔ حالانکہ صلیب پر موت واقعہ نہیں ہوئی۔“ (یعنی بعد میں طبعی موت مرے)
(تفسیر احمدی ص٤٣١)
”رفع کے لفظ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جسم کا آسمان پر اٹھا لینا مراد نہیں۔ بلکہ ان کی قدرومنزلت مراد ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی موت سے مرے اور خدا نے ان کے درجے اور مرتبے کو مرتفع کیا۔“
(تفسیر احمدی ص٤٣١، سرسید احمد خان علی گڑھ)
ورافعک الیٰ کا ترجمہ و تفاسیر مرزا بھی ملاحظہ فرمائیں: ”رفع سے مراد روح کا عزت کے ساتھ اٹھایا جانا ہے۔ جیسا کہ لغات کے بعد بموجب نص قرآن اور حدیث صحیح کے ہر ایک مومن کی روح عزت کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف اٹھائی جاتی ہے اور مسیح کے رفع کا جو اس جگہ ذکر کیا گیا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ مسیح کو دعوت حق میں قریباً ناکامی رہی اور یہودیوں نے خیال کیا کہ یہ کاذب ہے۔ کیونکہ ضرور تھا کہ سچے مسیح سے پہلے ایلیاء آسمان سے نازل ہو۔ سو انہوں نے اس سے انکار کیا کہ مسیح کا اور نبیوں کی طرح عزت کے ساتھ رفع نصیب نہ ہو۔ بلکہ اس کو نعوذ باللہ لعنتی قرار دیا اور لعنتی اس کو کہتے ہیں جس کو عزت کے ساتھ رفع نصیب نہ ہو۔ خدا تعالیٰ کو تو منظور تھا کہ یہ الزام مسیح کے سر سے اٹھائے۔ سو اول اس نے اس بنیاد کو باطل ٹھہرایا جس بنیاد پر حضرت مسیح کا لعنتی ہونا نابکار یہودیوں اور عیسائیوں نے اپنے اپنے دلوں میں سمجھ لیا تھا اور پھر بعد اس کے بتصریح یہ بھی ذکر کر دیا کہ مسیح نعوذ باللہ ملعون نہیں جو رفع سے روکا گیا ہے بلکہ عزت کے ساتھ اس کا رفع ہوا ہے۔ چونکہ مسیح ایک بے کس کی طرح دنیا میں چند روزہ زندگی بسر کر کے چلا گیا اور یہودیوں نے اس کی ذلت کے لئے بہت سا غلو کیا۔ اس کی والدہ پر ناجائز تہمتیں لگائیں اور اس کو ملعون ٹھہرایا اور راستبازوں کی طرح اس کے رفع سے انکار کیا اور نہ صرف یہودیوں نے بلکہ عیسائی بھی موخر الذکر خیال میں مبتلا ہو گئے اور کمینگی کی راہ سے اپنی
نجات کا یہ حیلہ نکالا کہ ایک راست باز کو ملعون ٹھہرا دیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٨٧، خزائن ج ٣ ص ٢٩٩)
کذاب قادیان بھلا کیا جانے کہ نبوت ورسالت کا کیا مرتبہ ہے۔ خدائی نظام میں عیب و سقم کمزوریاں و عاجزیاں وہی تلاش کرتا ہے جو خود بودا و کمزور ہونے کے علاوہ ایمان کی دولت سے بہرہ ور نہیں۔ کہاں انسانی بودے اور نکمے ارادے اور کجا مشیت ازلیہ کے کارنامے۔ نہ وہاں سہاروں کی ضرورت نہ وسائل کی تلاش۔ وہ تو وہ ذات پاک ہے جو ہر چیز پر قدرت و طاقت رکھتی ہے۔ اس کا ارادہ ہی اتنا زبردست و طاقتور ہے کہ وہ ڈوبتوں کا سہارا اور گرتوں کا سنبھالا ہے۔ کوئی چیز اس کے آگے انہونی نہیں۔ یاس و نا امیدی کا وہاں گزر ہی نہیں۔ نامرادی و ناکامی وہاں بھٹک ہی نہیں سکتی۔ مشکل و کٹھن مراحل کا وہاں دخل ہی نہیں۔ اسباب و علل پر وہاں بھروسہ ہی نہیں۔ وہاں تو سب کام خود بخود اس کے احکام کے تابع رہتے ہیں۔ جیسا کہ وہ خود بیان فرماتا ہے: ”اذا اراد شيئا ان يقول له كن فيکون“ اس کی تو یہ شان ہے کہ جب کوئی کام اس کی مشیت میں منظور ہو، بس کہہ دیا جاتا ہے۔ پھر کیا ہے۔ وہ خود بخود ہو جاتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ کبھی بگڑا ہی نہ تھا۔ اس نے دیکھا کہ پنجاب میں نسبتاً دوسرے ممالک کے، دین اسلام کے زیادہ شیدائی ہیں۔ ان میں لاکھوں تو میرے کلام کو سینوں میں جان کا ساتھی بنائے ہیں اور لاکھوں ایسے ہیں جو میرے نام کے فدائی ہیں اور ایسا ہی لاکھوں میرے لئے گھر بار لٹانے والے شیدا ہیں اور بیسیوں دارالحدیث ایسے کھلے ہیں جن میں قال الرسول یعنی تعلیم خیر الوریٰ جاری ہے۔ غرضیکہ توحید وسنت کے یہ شیدائی تبلیغ حقہ میں سرشار و سرگرم ہیں اور چونکہ سنت اللہ یونہی چلی آئی ہے:
”الم احسب الناس ان یترکوا ان یقولوا آمنا وہم لا یفتنون ولقد فتنا من قبلہم (عنکبوت:٢)“ ﴿لوگوں کے صرف اس قدر کہنے سے کہ ہم خدائے واحد اور اس کی توحید اور یتیم مکہ کی رسالت پر ایمان لے آئے ہیں۔﴾
یہ سمجھ لیا جائے کہ وہ ٹھیک کہہ رہے ہیں اور ان کے اس دعوے میں آزمائش کی ضرورت نہیں۔ حالانکہ زمانہ قدیم سے یہ ہمارا دستور چلا آیا ہے کہ آزمائش میں لاکر امتحان لیا کرتے ہیں کہ مصیبت و ابتلاء میں کون کون ثابت قدم رہ کر ہماری ویسی ہی اطاعت و عبادت میں مشغول رہتا ہے کہ جیسا کہ اس حالت میں تھا۔ جبکہ اس کے پاس مال املاک تھا۔ اب آزمائش یہ ہوئی مال واملاک خدا کے حکم سے سلب ہوئے۔ جیسا کہ وہ خود شاہد ہے:
”ولنبلونکم بشئ من الخوف والجوع ونقص من الاموال والانفس والثمرات (بقرہ:١٥٦)“ ”البتہ ہم تم کو خوف، بھوک، مال کا کم کرنا“ اور جانوں اور میوہ جات
سے آزمائیں گے اور خوشخبری دے صبر کرنے والوں کو وہ جو جب ان کو مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہیں اور اس کی طرف رجوع ہونے والے ہیں۔ ﴾
اور جب یہ حالت ہے تو ہم اہل پنجاب کو کیوں آزمائش کا موقعہ نہ دیں۔ اس لئے مشیت ایزدی کو جب یہ منظور ہوا تو دجال اکبر کو قادیان کی بد بخت زمین سے پیدا کر کے امت مرحومہ کے سر پر مسلط کر دیا۔ لیکن الحمد للہ آٹے میں نمک کے برابر بھی لوگوں نے ٹھوکر کھائی۔ جو اب اپنی غلطی کا احساس کر کے پچھتاتے ہوئے واپس آرہے ہیں اور انشاء اللہ وہ دن دور نہیں کہ تمہیں نظر اٹھا کر بھی کوئی فرقہ ضالہ کا ایک فرد نہ ملے گا۔ بلکہ تمام وکمال سب لوائے محمدی کے نیچے آجائیں گے۔ مسلمانوں واللہ باللہ یہ تمہاری آزمائش کے لئے فتنہ اکبر ہے۔ یہ تمہارے امتحان کے لئے ایک مشکل گھڑی ہے۔ مبارک ہیں وہ جو ٹھوکر نہ کھائیں اور امتحان میں پورے اتریں۔
کوشش کرو اور متفق ہو کر اس کا سد باب کرو۔ بخدا رسول اکرم ﷺ کی رسالت پر اس سے مشکل وقت اور کوئی نہ آیا ہوگا۔ مسیلمہ کذاب واسود عنسی کے زمانے میں حضور ﷺ کے وزیر خوش تدبیر موجود تھے۔ آہ ! شمع رسالت کے تمام پروانے موجود تھے۔ ان کے ایمان ہم سے کروڑ درجہ زیادہ مضبوط تھے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ جناب صدیق اکبرؓ نے جہاں اسامہ بن زیدؓ سترہ سالہ غلام کا بچہ جس کو سرکار مدینہ ﷺ نے مسلمان مجاہدین کا سردار مقرر کیا تھا اور جس کے جھنڈے کے نیچے حضرت عمرؓ بن خطاب امیر المومنین خلیفہ دوم جیسے شہ زور فتاک اصحاب موجود تھے۔ مصر ہو کر اور یہ کہہ کر روانہ کیا تھا کہ خدا کی قسم اگر تمام لوگ اسامہؓ کی سرداری سے ناخوش ہو کر اس کے جھنڈے سے علیحدہ ہو کر منہ موڑ لیں گے تو یہ بوڑھا صدیقؓ اکیلا اس کے جھنڈے کے نیچے لڑے گا اور آقائے نامدارؐ کے اس خورد سالہ جرنیل کی اطاعت وفرمانبرداری سے منہ نہ موڑے گا۔ حتیٰ کہ اس دنیا کو خیر باد کہہ جائے۔ وہاں مسیلمہ کذاب کے فتنہ خبیثہ کا استیصال کرنے کے لئے اس غربت وقلت کے زمانہ میں جبکہ چاروں طرف ارتداد و مخالفت کا سیلاب امنڈا ہوا تھا جناب خالدؓ بن ولید کو روانہ کیا اور تاکید فرمائی کہ یا تو اللہ اور اس کے سچے رسول کے عزت وعظمت پر مٹ جاؤ یا ہر ممکن طریقہ سے اس شجر خبیثہ کو بیخ و بن سے اکھاڑ کر نابود کر دو۔ وہ خیر القرون قرنی تھا۔ آہ ! ان لوگوں کے دل، آنکھیں، جان و مال محمد عربی کے نام پر عزت وحرمت اسلام کی آن پر قربان تھیں اور آج وہ وقت ہے کہ اس کا عشر عشیر بھی نہیں۔ اسی لئے میں نے اس فتنہ کو فتنہ اکبر کے نام سے یاد کیا ہے۔ میں پوچھتا ہوں کہ اللہ نے وعدہ دیا تھا کہ اے عیسیٰ میں تجھ کو یہود پلید کی ناپاک تدبیر سے بچاؤں گا اور مجھ سے بہتر بچانے میں کوئی نہیں ہے۔ جیسا کہ قرآن شاہد ہے : ’’ و مکروا ومکر اللہ واللہ
خیر الماکرین‘‘ اگر بقول مرزا قادیانی ایک سیکنڈ کے کروڑویں حصہ کے لئے بھی مان لیا جائے کہ جناب مسیح کو صلیب پر چڑھا دیا گیا۔ ان کے اعضاؤں میں کیلیں ٹھونکی گئیں۔ ان کے منہ پر طمانچے لگائے گئے۔ بدن پہ تازیانے برسے۔ انہیں ناپاک گالیاں دی گئیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ نعوذ باللہ من ذالک خاک بدہن خدا نے مسیح سے وعدہ جھوٹا کیا اور وعدہ ایفائی کے عوض بے وفائی کی تو وعدہ اس کی یاد سے اتر گیا یا وہ خود ناکام ہو گیا اور وہ یہود کا مقابلہ نہ کر سکا۔ بچانا چاہتا تھا مگر حکومت کی طاقت زیادہ تھی۔ وہ اکیلا تھا پھر وہ کس طرح فوجوں اور رسالوں کا مقابلہ کرتا۔ یہود پلید نے من مانی باتیں مسیح سے کیں اور گویا خدا کی تدبیر مغلوب ہوئی۔ حالانکہ وعدہ الہی میں خیر الماکرین تھا۔ مگر وہ عاجز آ گیا اور پھر اس زعم فاسد و خیال باطل کو صحیح اور حق دکھانے کے لئے کاغذی پیکر کھڑا کرنا اور یہ لکھنا کہ عصر کا وقت تھا۔ عید فصح تھی۔ کل سبت کا دن آ رہا تھا۔ آندھی آ گئی۔ طوفان بپا ہو گیا۔ دنیا پر تاریکی چھا گئی۔ پلاطوس کی بیوی کو خواب آیا۔ سپاہیوں نے بے ایمانی کی اور جیتے جاگتے مسیح کو مردہ سمجھ کر صلیب سے اتار لیا اور ساتھ والے دو چوروں کو بھی اتار لیا۔ اللہ اللہ ! بے سند خرافات اور بے ہودہ توہمات یاوہ گوئی اور گوز شتر نہیں تو اور کیا ہے اور ان ہذیانات کا کونسا ثبوت آپ کے پلے ہے۔ حالانکہ قرآن شاہد ہے کہ مسیح علیہ السلام کو ماں کی گود میں جو اعجازی تکلم کرایا تھا گویا مسیح کے پردے میں کوئی اور بول رہا تھا جیسے کہ مولانا رومؒ فرماتے ہیں:
گرچه از حلقوم عبدالله رود
”قال انی عبدالله آتانی الکتاب وجعلنی نبیاً مبارکاً اینما کنت (مریم: ٣١) ﴿”فرمایا میں اللہ کا بندہ ہوں اور بندہ بھی کیسا صاحب کتاب نبی اور میں برکت دیا گیا ہوں جہاں بھی میں رہوں اور جس حال میں ہوں۔﴾ پھر فرمایا ”وجیہاً فی الدنیا والاخرة (آل عمران: ٤٥) ﴿”یعنی مسیح کو ہم نے دنیا اور آخرت دونوں میں صاحب عزت و شرف بنایا۔﴾ یعنی وہ اپنے زمانہ کے عزت داروں کا سردار ہوگا۔ اس سے زیادہ عزت اور کسی کو نہ ملے گی اور عزت بھی وہی ہے جس کو خدا دے۔ یہ جھوٹی عزت بھی کوئی چیز ہے۔ پھر فرمایا و ایدناہ بروح القدس! یعنی ہم نے مسیح کی جان کا ساتھی جبرائیل کو بنا دیا اور وہ ہر موقعہ پر تائید و نصرت میں مدد دیتا تھا۔ اب ان قرآنی شواہد کی موجودگی میں کون بدبخت و نامراد ہے جو یہ یقین کرے کہ مسیح کو
خوشخبری دے صبر کرنے والوں کو وہ جو جب ان کو مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے لئے ہیں اور اس کی طرف رجوع ہونے والے ہیں۔﴾ بھائیو! یہ حالت ہے تو ہم اہل پنجاب کو کیوں آزمائش کا موقعہ نہ دیں۔ اس لئے یہ منظور ہوا تو دجال اکبر کو قادیان کی بدبخت زمین سے پیدا کر کے امت میں کھڑا کر دیا۔ لیکن الحمد للہ آٹے میں نمک کے برابر بھی لوگوں نے ٹھوکر کھائی۔ جو اس کو مان کر پچھتاتے ہوئے واپس آ رہے ہیں اور انشاء اللہ وہ دن دور نہیں کہ کوئی فرقہ ضالہ کا ایک فرد نہ ملے گا۔ بلکہ تمام وکمال سب لوائے محمدی کے نیچے ہوں واللہ باللہ یہ تمہاری آزمائش کے لئے فتنہ اکبر ہے۔ یہ تمہارے امتحان کی گھڑی ہے۔ مبارک ہیں وہ جو ٹھوکر نہ کھائیں اور امتحان میں پورے اتریں۔ اور اس کا سد باب کریں۔ بخدا رسول اکرم ﷺ کی رسالت پر اس سے مشکل وقت نہ آیا ہوگا۔ مسیلمہ کذاب واسود عنسی کے زمانے میں حضور ﷺ کے وزیر خوش تدبیر اور رسالت کے تمام پروانے موجود تھے۔ ان کے ایمان ہم سے کروڑ درجہ زیادہ مضبوط تھے۔ یاد ہوگا کہ جناب صدیق اکبر نے جہاں اسامہ بن زید سترہ سالہ غلام کا بچہ جسے مسلمان مجاہدین کا سردار مقرر کیا تھا اور جس کے جھنڈے کے نیچے امیر المومنین خلیفہ دوم جیسے جلیل القدر اصحاب موجود تھے۔ مصر ہو کر اور یہ دیکھ کر کہ خدا کی قسم اگر تمام لوگ اسامہ کی سرداری سے ناخوش ہو کر اس کے جھنڈے کے نیچے نہ چلیں گے تو یہ بوڑھا صدیق اکیلا اس کے جھنڈے کے نیچے لڑے گا اور اس خرد سالہ جرنیل کی اطاعت و فرمانبرداری سے منہ نہ موڑے گا۔ حتی کہ اس نے وہاں مسیلمہ کذاب کے فتنہ خبیثہ کا استیصال کرنے کے لئے اس وقت میں کہ چاروں طرف ارتداد و مخالفت کا سیلاب امنڈا ہوا تھا جناب خالد بن ولید کو بھیجا اور کہا کہ یا تو اللہ اور اس کے سچے رسول کے عزت و عظمت پر مٹ جاؤ یا ہر ممکن طریقہ سے اس کو بیخ و بن سے اکھاڑ کر نابود کر دو۔ وہ خیرالقرون قرنی تھا۔ آہ ! ان لوگوں کی جانیں محمد عربی کے نام پر عزت و حرمت اسلام کی آن پر قربان تھیں اور آج تم میں وہ عشر عشیر بھی نہیں۔ اسی لئے میں نے اس فتنہ کو فتنہ اکبر کے نام سے یاد کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وعدہ دیا تھا کہ اے عیسیٰ میں تجھ کو یہود پلید کی ناپاک تدبیر سے بچاؤں گا میرے سوا کوئی نہیں ہے۔ جیسا کہ قرآن شاہد ہے: ”ومکروا ومکر اللہ واللہ
پھانسی دیا گیا ہاتھوں اور پاؤں میں کیلیں ٹھونکی گئیں۔ طمانچے رسید کئے گئے۔ بدن پہ تازیانے لگائے گئے اور گندی فحش گالیاں دی گئیں۔ پھر کلمۃ اللہ کو جس کو خدا اپنا کہے مزا تو تب تھا کہ مسٹر ڈوئی، ڈپٹی کمشنر بٹالہ کے کتے کو مرزا قادیانی یوں بے رحمی سے قتل کر دیتے پھر دیکھتے کہ کتے کا مالک مرزا قادیانی کو چھٹی کا دودھ یاد دلواتا ہے یا نہیں۔ یہ تم لوگوں نے خدا کو کیا سمجھ رکھا ہے جو خدا کا بندہ ہو اور جس کو اللہ عزت دار اور جہاں ہو اور جس حال میں ہو برکت والا کہے اور جس کی جبرائیل امین چوکیداری کریں۔ اس کو کوئی کچھ کہہ سکتا ہے۔ کیا اس کے اختیارات ڈپٹی کمشنر بٹالہ سے بھی کم درجے کے ہیں یا اس کے ذرائع ایسے ہی محدود اور کمزور ہیں کہ وہ اپنے ایک بندے کی حفاظت نہ کر سکے اور ایسا ناکام نبی صاحب کتاب بنا کر ایسی قوم کی طرف بھیجے جو کرۂ ارض کی مالک بنی بیٹھی ہو اور ہو بھی اس قوم کے لئے آخری نبی اور پھر وہ یوں ناکام تبلیغ رسالت میں کورا، خدا کی کتاب کو بغل میں دبائے ظلم و بربریت سے کمال ہتک و بے عزتی کے ساتھ سولی پر کھینچ دیا جائے اور خدا اس کا کچھ بھی پاسدار نہ ہو اور انتقام تک نہ لے سکے۔ سنو اور خوب غور سے سنو۔ یہ خیال ہی نہایت بیہودہ مردود و فضول ہے۔ کیوں اس کی وجہ یہ ہے کہ جس کو یہ طاقت دی گئی ہو کہ وہ ان اندھوں کو جو مادر زاد اندھے ہوں آنکھیں بخش دے۔ کیا اس میں یہ طاقت نہیں کہ حالت غضب میں بطور حفاظت جان وعدہ الٰہی کے اندر مشیت ایزدی کے حکم کے مطابق سوہانکوں کی آنکھیں سلب کرے جو مادر زاد کوڑھوں کو اچھا کر سکتا ہے وہ ہٹے کٹے اعدا اللہ کو کوڑھے بھی کر سکتا ہے۔ ان کے ہاتھوں اور پاؤں کی طاقت بھی سلب کر سکتا ہے۔ جو مردوں کو دوبارہ زندگی بخش سکتا ہے وہ زندوں سے زندگی بھی چھین سکتا ہے۔ کیونکہ جو دے سکتا ہے وہ لے بھی سکتا ہے اور لینا تو نہایت آسان ہے۔ دینا ہی مشکل ہے اور جو گھر میں رکھی ہوئی چیزوں کو بلا دیکھے بتا سکتا ہے وہ خفیہ تدبیروں کے دفعیہ کی دیکھ بھال بھی کر سکتا ہے۔ کون ہے جو ان حالات کی موجودگی میں اس کی طرف انگلی بھی کھڑی کرے اور اس کی انگلی کاٹ کر نہ رکھ دی جائے۔ کس کو طاقت ہے کہ اس باز کے پلٹے زبان طعن دراز کرے اور اس کی زبان گدی سے کھینچ کر باہر نہ نکال لی جائے۔ کون ہے اور کس کو طاقت ہے کہ اس کو بید لگائے اور پھر وہ آن واحد کے لئے سلامت رہے۔ کونسا بد بخت و نامراد ہے جو آپ کے رخ انور پر طمانچے لگائے اور پھر منہ نوچ کر کتوں کے آگے نہ ڈلوایا جائے۔ کوئی نہیں جو اس کو آنکھ بھر کر بھی دیکھ سکے اور پھر اس کی بینائی قائم رہے۔ یہ خیال ہی مردود ہے۔ ظالم ہے وہ جو ان بیہودہ و لغو خیال کو صحیح سمجھے یا اس کی عوام الناس میں تشہیر کرے۔ یہودیوں کو دیکھو لو کہ انہوں نے صرف ناپاک تجویز سوچی تھی اور آج تک اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں اور
قیامت تک ہاتھ ملتے رہیں گے۔ فتدبر اور لگے ہاتھ اس مضمون پر ہے۔ پس سنئے: براہین احمدیہ وہ کتاب ہے ہے اور یہ کتاب جو قطب ستارے سے ہے جو خدا کے حکم والہام سے لکھی گئی اور (کے ص ٥٦٠، خزائن ج ١ ص ٦٢٠) پر ایک عـ بیان کی مؤید ہے: ”انی متوفیک وراف کفروا الی یوم القيامة ولا تحـ ان اولیاء الله لا خوف عليهم و الجنة . انشاء الله امنين سـ جعلت مبارکا . سمع الله لمـ امراض الناس وبرکاته ا عليك وانى فضلتك على العالـ اور جو لوگ تیری متابعت اختیار کر بخشوں گا اور ست مت ہو اور غم مـ مقربان الٰہی ہوتے ہیں ان پر نہ کـ جب خدا تجھ پر راضی ہوگا۔ پس بحـ پاک ہو گئے۔ سو تم امن کے ساتھ سن لی وہ دعاؤں کو سنتا ہے۔ تو وہ سے چند مرتبہ الہامی طور پر خد اجعلني مباركاً حيث بود و باش کروں۔ برکت میرے آپ ہی فرمائی تھی قبول کر لی او سوال جاری کرنا اور پھر یہ کہنـ
یا اور پاؤں میں کیلیں ٹھونکی گئیں۔ طمانچے رسید کئے گئے ۔ بدن پہ تازیانے فحش گالیاں دی گئیں ۔ پھر کس کے منہ پر کلمتہ اللہ کو جس کو خدا اپنا کہے مرزا تو جب کمشنر بٹالہ کے کتے کو مرزا قادیانی یوں بے رحمی سے قتل کر دیتے پھر دیکھتے کہ یانی کو چھٹی کا دودھ یاد دلواتا ہے یا نہیں۔ یہ تم لوگوں نے خدا کو کیا سمجھ رکھا ہے س کو اللہ عزت دار اور جہاں ہو اور جس حال میں ہو برکت والا کہے اور جس کی پوری کریں۔ اس کو کوئی کچھ کہہ سکتا ہے۔ کیا اس کے اختیارات ڈپٹی کمشنر بٹالہ سے بھی کم ہیں یا اس کے ذرائع ایسے ہی محدود اور کمزور ہیں کہ وہ اپنے ایک بندے کی پنا ناکام نبی صاحب کتاب بنا کر ایسی قوم کی طرف بھیجے جو کرہ ارض کی مالک اس قوم کے لئے آخری نبی اور پھر وہ یوں ناکام تبلیغ رسالت میں کورا ، خدا کی لئے ظلم و بربریت سے کمال ہتک و بے عزتی کے ساتھ سولی پر کھینچ دیا جائے رسوا نہ ہو اور انتقام تک نہ لے سکے ۔ سنو اور خوب غور سے سنو۔ یہ خیال ہی فضول ہے۔ کیوں اس کی وجہ یہ ہے کہ جس کو یہ طاقت دی گئی ہو کہ وہ ان اندھے ہوں آنکھیں بخش دے ۔ کیا اس میں یہ طاقت نہیں کہ حالت غضب وعدہ الٰہی کے اندر مشیت ایزدی کے حکم کے مطابق سوجھاکوں کی آنکھیں کوڑھوں کو اچھا کر سکتا ہے وہ چنگے بھلے اعداء اللہ کو کوڑھی بھی کر سکتا ہے ۔ ان کی طاقت بھی سلب کر سکتا ہے ۔ جو مردوں کو دوبارہ زندگی بخش سکتا ہے وہ چھین سکتا ہے۔ کیونکہ جو دے سکتا ہے وہ لے بھی سکتا ہے اور لینا تو نہایت آسان کام ہے اور جو گھر میں رکھی ہوئی چیزوں کو بلا دیکھے بتا سکتا ہے وہ خفیہ دیکھ بھال بھی کر سکتا ہے۔ کون ہے جو ان حالات کی موجودگی میں اس کی پرس کرے اور اس کی انگلی کاٹ کر نہ رکھ دی جائے۔ کس کو طاقت ہے کہ اس باز اس کی زبان گدی سے کھینچ کر باہر نہ نکال لی جائے ۔ کون ہے اس کو بید لگائے اور پھر وہ آن واحد کے لئے سلامت رہے ۔ کونسا بد بخت رخ انور پر طمانچے لگائے اور پھر منہ نوچ کر کتوں کے آگے نہ ڈلوایا آنکھ بھر کر بھی دیکھ سکے اور پھر اس کی بینائی قائم رہے ۔ یہ خیال ہی مردود مردود و لغو خیال کو سچ سمجھے یا اس کی عوام الناس میں تشہیر کرے ۔ یہودیوں کو ناپاک تجویز سوچی تھی اور آج تک اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں اور
قیامت تک ہاتھ ملتے رہیں گے ۔ فتدبروا یا اولی الابصار!
اور لگے ہاتھ اس مضمون پر مرزا قادیانی کے دستخط بھی کرادوں کہ جو لکھا گیا ہے وہ صحیح ہے ۔ پس سنئے :
براہین احمدیہ وہ کتاب ہے جس کی رجسٹری سرکار مدینہ میں بقول مرزا قادیانی ہوچکی ہے اور یہ کتاب جو قطب ستارے سے زیادہ محکم ہے اور الہامی نام اس کا قطبی ہے اور یہ وہ کتاب ہے جو خدا کے حکم والہام سے لکھی گئی اور جس کی تفسیر خود خدا نے اپنے ہاتھ سے کردی۔ اسی کتاب (کے ص ٥٢٠، خزائن ج ١١ ص ٦٢٠) پر ایک طویل نری عربی عبارت الہاماً تحریر کرتے ہیں جو ہمارے اس بیان کی مؤید ہے :
”انی متوفیک ورافعک الیٰ ، وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفرو الی یوم القیامۃ ولا تحزنوا ولا تحزنوا وکان اللہ بکم رؤفاً رحیما ، الا ان اولیاء اللہ لا خوف علیہم ولا ہم یحزنون ، تموت وانا راض منک فادخلو الجنۃ ، انشاء اللہ امنین سلام علیکم طبتم فادخلوہا امنین سلام علیک جعلت مبارکا ، سمع اللہ انہ سمیع الدعاء انت مبارک فی الدنیا والاخرۃ ، امراض الناس وبرکاتہ ان ربک فعال لما یرید ، اذ کر نعمتی التی انعمت علیک وانی فضلتک علی العالمین“ ”میں تجھ کو پوری نعمت دوں گا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا اور جو لوگ تیری متابعت اختیار کریں ان کو ان کے مخالفوں پر جو کہ انکاری ہیں قیامت تک غلبہ بخشوں گا اور سست مت ہو اور غم مت کر۔ خدا تم پر بہت ہی مہربان ہے۔ خبردار ہو تحقیق جو لوگ مقربان الٰہی ہوتے ہیں ان پر نہ کچھ خوف ہے اور نہ کچھ غم کرتے ہیں تو اس حالت میں مرے گا کہ جب خدا تجھ پر راضی ہوگا۔ پس بہشت میں داخل ہو انشاء اللہ امن کے ساتھ تم پر سلام تم شرک سے پاک ہو گئے ۔ سو تم امن کے ساتھ بہشت میں داخل ہو تجھ پر سلام تو مبارک کیا گیا ۔ خدا نے دعاء سن لی وہ دعاؤں کو سنتا ہے ۔ تو دنیا اور آخرت میں مبارک ہے۔ یہ اس طرف اشارہ فرمایا پہلے اس سے چند مرتبہ الہامی طور پر خدا تعالیٰ نے اس عاجز کی زبان پر یہ دعاء جاری کی تھی۔ ”رب اجعلنی مبارکاً حیث ماکنت “ یعنی اے میرے رب مجھ کو ایسا مبارک کر کہ ہر جگہ میں بودوباش کروں ۔ برکت میرے ساتھ رہے ۔ پھر خدا نے اپنے لطف واحسان سے وہ میری دعاء کہ جو آپ ہی فرمائی تھی قبول کر لی اور یہ عجیب بندہ نوازی ہے کہ اوّل آپ ہی الہامی طور پر زبان پر سوال جاری کرنا اور پھر یہ کہنا تیرا سوال منظور کیا گیا اور اس برکت کے بارے میں ١٨٦٨ء یا
١٨٦٩ء میں بھی ایک عجب الہام اردو میں ہوا تھا اور وہ یہ ہے۔ فرمایا تیرا خدا تیرے فعل سے راضی ہوا اور وہ تجھے بہت برکت دے گا۔ یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔ پھر بعد اس کے عالم کشف میں وہ بادشاہ دکھلائے گئے جو گھوڑوں پر سوار تھے۔‘‘
(براہین احمدیہ ص ٥٢١، خزائن ج ١ ص ٦٢٢)
ناظرین مندرجہ بالا عبارت نے میرے لفظ لفظ کی پوری پوری تائید کر دی اور بقول شخصے کہ؎
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
یا مرزا قادیانی اپنے تیل میں آپ ہی بالکل تیار ہو گئے۔
میں پوچھتا ہوں اے حضرت کہ یہ کیا دیانت ہے کہ جب آیت انی متوفیک ورافعک مقام نزول پر ہو تو آپ ترجمہ یہ کریں۔ میں تجھ کو موت دوں گا اور تیری روح کو اپنی طرف اٹھاؤں گا اور جب آپ خود اس کا مصداق بنیں تو ترجمہ اے مرزا میں تجھ کو پوری نعمت دوں گا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا۔ کہیں یہ میٹھا میٹھا ہپ اور کڑوا کڑوا تھو کا کیا معاملہ ہے۔ نیز بقیہ تمام الہاموں کے ترجمے کو نہ سمجھنا اور لنگڑی عربی یا لغو کا ترجمہ نہ کرنا کون سی دیانت ہے۔ اچھے الہام ہیں جن کا ترجمہ ہی نہیں ہو سکتا۔ کوئی مرزائی جوان لفظوں کا عربی قاعدے کی رو سے ترجمہ کر دے۔ ”امراض الناس وبرکاته ان ربک فعال لما یرید“
اور مرزا قادیانی کی جانے بلا کہ جس پھٹے میں وہ ٹانگ اڑا رہا ہے وہ کیا ہے۔ یہاں تو معاملہ ہی دیگر ہے اور مثال اس کی بالکل یہی ہے کہ مینڈکی کو نعل بندھوانے کا شوق اس قدر غالب ہوا کہ وہ گھوڑوں کی جہاں نعل بندی ہورہی تھی کشاں کشاں پہنچی اور جاتے ہی ٹانگ بڑھا دی۔ آہ ! ایک ہی ضرب سے بیچاری کا کچومر نکل گیا۔ یہ چیز جو ہم نے بیان کی یعنی جناب مسیح کا آسمان پر جانا اس واقعہ کو بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ ایک سنہری اٹل سرٹیفکیٹ پیش فرماتے ہوئے ان الفاظ میں اس کی صداقت پر مہر تصدیق ثبت فرماتے ہیں۔ ”ان هذا لهو قصص الحق“ یعنی یہ قصہ جو بیان ہوا نہایت صحیح اور سچا ہے۔ اب جس کو اللہ سچا فرمائے اس کو جھوٹا کون کہے اور جو جھوٹا کہے وہ جھوٹوں کا جھوٹا ہے۔ آہ ! یہ تو وہ اہم مسئلہ ہے جس کی سچائی پر حضورﷺ نے نجران کے عیسائیوں کو مباہلہ کی دعوت دی، واقعہ یوں ہے کہ وہ ایک وفد کی صورت میں تحقیق کے لئے حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ بہت دیر تک تبادلہ خیال ہوتا رہا دنیا جانتی ہے کہ ان کے
عقائد میں دو چیزیں بسی ہوئی تھیں۔ اول یہ کہ مسیح خدا کا بیٹا ہے اور وہ ہماری نجات اخروی کے لئے گناہوں کا کفارہ ہوگیا۔ یعنی صلیب پر چڑھ گیا اور دوسرا یہ کہ وہ تین دن تک مرے رہنے کے بعد زندہ ہوا اور جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر اٹھا لیا گیا۔ اول الذکر کی حضور ﷺ نے پر زور تردید کی جیسا کہ فرقان حمید نے اس پر شرح وبسط سے روشنی ڈالی ہے۔ موخر الذکر کے لئے سورۃ آل عمران اتری جس میں دوسرے خیال کی ان الفاظ میں تائید وتردید فرمائی کہ تمہارا یہ کہنا کہ مسیح صلیب دیا گیا اور تین دن بعد جی اٹھا غلط ہے اور اس میں تمہارے پادریوں نے سخت دھوکہ کھایا ہے۔ اصل میں وہ ایک شبہ اور مغالطہ میں پڑ گئے تھے۔ جو جناب مسیح کو مصلوب کیا گیا سمجھے۔ ورنہ حقیقتاً معاملہ یوں ہے کہ نہ کسی نے صلیب دیا اور نہ ہی کوئی قتل کر سکا۔ بلکہ اللہ نے انہیں یہود نا مسعود سے پاک کرتے ہوئے زندہ آسمان پر اٹھا لیا۔ اس کے بعد وہ اپنے عقائد کو منوانے کے لئے مصر ہوئے تو ارشاد باری ہوا واقعہ وہ ہی صحیح ہے جو آپ نے بیان کیا۔ یہ لوگ تو ظن کی پیروی کرتے ہوئے تم سے فضول جھگڑا کرتے ہیں۔ انہیں منوانے کے لئے ایک ہی طریقہ باقی ہے اور وہ میری طرف رجوع کرنے کا ہے۔ ارشاد ہوا ان کو کہہ دے کہ اگر تم میری باتوں کو قبول نہیں کرتے تو ”تعالوا ندع ابناءنا وابناءكم ونساءنا ونساءكم وانفسنا وانفسكم ثم نبتهل فنجعل لعنت الله على الكذبين (آل عمران:٦١) “ ﴿ آؤ بلائیں ہم بیٹوں اپنوں کو اور بیٹوں تمہاروں کو اور بیبیوں اپنی کو اور بیبیوں تمہاری کو اور جانوں اپنی کو اور جانوں تمہاری کو پھر التجا کریں پس کر دیں ہم لعنت اللہ کی اوپر جھوٹوں کے۔ ﴾
چنانچہ اس دعوت حق کو انہوں نے قبول کیا تو نبی کریم ﷺ جناب علیؓ جناب فاطمہؓ اور شہزادگان علیؓ یعنی زہرا کے دونوں لال جناب حسنؓ اور حسینؓ کو لے کر نکلے۔ آہ جب نصرانیوں نے ان پاک ومقدس منور ومطہر چہروں کو دیکھا تو پادریوں نے قوم سے خطاب کیا بخدا یہ وہی نبی اور اس کا نورانی خاندان معلوم ہوتا ہے۔ جس کا تذکرہ تمام آسمانی کتابوں میں موجود ہے اور جو آل اسماعیل میں سے ہوگا۔ بخدا اگر یہ پہاڑ کو حکم دیں تو وہ اپنی جگہ سے ٹل جائے گا۔ ان کے مقابل نہ آنا ورنہ تم اور تمہاری اولاد تباہ وبرباد ہو جائے گی۔ اس نظارے سے متاثر ہو کر ان لوگوں نے حضور ﷺ سے خراج دینے کا وعدہ کیا اور صلح کی درخواست کی۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ نبی کریم ﷺ فرماتے تھے کہ اگر نجران کے عیسائی ہم سے مباہلہ کرتے تو بخدا ان کی وادی پر آسمان سے آگ برستی اور وہ تباہ وبرباد ہو جاتے۔ صاحبان یہ ایسا اہم مسئلہ ہے کہ جس پر نصاریٰ کو بھی حوصلہ نہ ہوا۔ چہ جائیکہ قادیان کا بے نوا دیہاتی رئیس جو گرگٹ کی طرح سینکڑوں رنگ بدلے اور
کسی ایک حالت میں نظریئے پر قائم نہ رہے اور لطف تو یہ ہے کہ بہت سی نسلوں کو باعث فخر سمجھے اور اس پر اتراتا ہوا کفن پھاڑے۔ جیسے کہ وہ خود کہتا ہے۔
نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار
(براہین احمدیہ ص ١٠٣، خزائن ج ٢١ ص ١٣٣)
مرزا قادیانی نے (ازالہ اوہام ص ٣٢٩، خزائن ج ٣ ص ٢٦٧) میں ایک اصول تسلیم کیا ہے کہ ”یہ بالکل غیر ممکن اور بعید از قیاس ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے بلیغ اور فصیح کلام میں ایسے تنازع کی جگہ جو اس کے علم میں ایک معرکہ کی جگہ ہے۔ ایسے شاذ اور مجہول الفاظ استعمال کرے جو اس کے تمام کلام میں ہرگز استعمال نہیں ہوتے۔ (مثلاً رفع الی اللہ کے معنی رفع روحانی نہیں آتے) اگر ایسا کرے تو گویا خلق اللہ کو آپ ورطۂ شبہات میں ڈالنے کا ارادہ رکھتا ہے اور ظاہر کہ اس نے ہرگز ایسا نہ کیا ہوگا۔“
اب دیکھنا یہ ہے کہ یا عیسیٰ انی متوفیک ورافعک الی کا ترجمہ کون ظالم ہے جو یوں کرے کہ اے عیسیٰ میں تم کو موت دوں گا اور اپنی طرف تیری روح کو اٹھاؤں گا۔ حالانکہ خطاب خداوندی عیسیٰ سے تھا جو روح مع الجسم دونوں سے مرکب تھا اور اگر ایسا ہوتا یعنی روح عیسیٰ کو ہی اپنی طرف اٹھانا ہوتا تو عبارت آیہ یوں ہوتی ”یا روح عیسیٰ انی متوفیک ورافعک الی“ خطاب تو عیسیٰ سے ہو رہا ہے نہ روح عیسیٰ سے اور اگر وہ آسمان پر نہ اٹھایا گیا ہوتا تو کلام مجید نے جہاں اہانت و مصلوبیت کی تردید فرمائی تھی۔ وہاں اس اہم مسئلہ پر کیوں روشنی نہ ڈالی۔ کلام مجید سے کوئی ایک آیت ایسی بتا دیجئے جس سے یہ ثابت ہو جائے کہ مسیح واقعہ صلیب کے بعد جیسا کہ تمہارا خیال ہے کہ ٨٧ برس تک وہ کشمیر میں گمنامی کی زندگی بسر کر کے مر گیا اور اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو بندۂ خدا کیوں خدا پر جھوٹ وافتراء باندھتے ہو اور اگر تمہاری یہ بات بھی مان لی جائے تو فرمائیے کہ وہ بار نبوت و تبلیغ رسالت کہاں گئی اور کیا وجہ ہے کہ باوجودیکہ مسیح ٨٧ برس برابر کشمیر میں رہا۔ مگر ایک متنفس بھی اپنا ساتھی نہ بنا سکا اور آج تک ایک کشمیری بھی عیسائی نہیں ہے۔ جاؤ ساری کشمیر تلاش کر جاؤ کوئی ایک مسیح کا نام لیوا خالص کشمیری نہ ملے گا اور اگر یہ شق بھی معاف کر دی جائے تو بتائیے کہ وہ وعدہ الٰہی کیا ہوا۔ یعنی وجیھاً فی الدنیا اللہ نے وعدہ تو یہ دیا کہ وہ دنیا میں مرتبے اور عزت والا ہوگا اور عزت حکومت وسلطنت سے ہوتی ہے وہ نصیب ہی نہیں ہوئی۔ وہ تو بیچارا بیکسی اور گمنامی میں زندگی کے سانس فاقوں اور مشقت سے بسر کر کے رخصت
ہوا۔ یہ دوسرا وعدہ الٰہی بھی خاکم بدہن جھوٹا ہوا۔ نعوذ باللہ! ہزار بار توبہ اس کی وعدہ ایفائی میں تو یہودی لاؤ لشکر مزاحم تھے اور دوسری میں شدت کی سردی کہوں یا کالے کالے پہاڑ اور یہ بھی کوئی انصاف یا دیانت ہے کہ تمہیں حال میں ایک سکہ مل جائے جس پر عیسیٰ کا نام کنندہ ہو۔ کیا تاریخ سڑ گئی اور مفسر مر گئے اور مبصر اندھے ہوئے جو کسی ایک نے بھی بھولے سے مسیح کی لمبی گمنامی کی زندگی پر یا شاہانہ شکوہ وحشمت پر ایک لفظ تک نہ لکھا اور اگر یہ نہیں تو تمہاری عقل کو جب گھاس چرنے سے فراغت ہو تو فولادی رسہ سے ٹل منارہ کے ساتھ باندھو اور دو دن بھوکا رکھو اور پھر خالد وزیر آبادی کا پیغام سناؤ تو پھر انشاء اللہ وہ سکہ دجالیت کا مرکب نظر آئے گا تو یہ گھوڑا نہیں گدھا ضرور دکھائی دے گا۔ لیجئے ہم کلام مجید سے جمہور امت کے اس عقیدے کی تاکید کراتے ہوئے آپ کی چندھیائی ہوئی آنکھوں میں سرمہ لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وما توفیقی الا باللہ!
”بسم اللہ الرحمن الرحیم ، یوم یجمع اللہ الرسل...... احدا من العلمین (مائدہ:١٠٩)“ ﴿جس دن جمع کرے گا اللہ سب پیغمبروں کو، پھر کہے گا تم کو کیا جواب ملا تھا۔ وہ کہیں گے ہم کو خبر نہیں تو ہی ہے چھپی باتوں کو جاننے والا، جب کہے گا اللہ اے عیسیٰ مریم کے بیٹے یاد کر میرا احسان جو ہوا ہے تجھ پر اور تیری ماں پر جب مدد کی میں نے تیری روح پاک سے تو کلام کرتا تھا لوگوں سے گود میں اور ادھیڑ عمر میں اور جب سکھائی میں نے تجھے کتاب اور پتے کی باتیں اور توریت اور انجیل اور جب تو بناتا تھا گارے سے جانور کی صورت میرے حکم سے پھر پھونک مارتا تھا اس میں تو ہو جاتا تھا وہ اڑنیوالا میرے حکم سے اور اچھا کرتا تھا مادر زاد اندھے کو اور کوڑھی کو میرے حکم سے اور جب نکال کھڑا کرتا تھا مردوں کو میرے حکم سے اور جب روکا میں نے بنی اسرائیل کو تجھ سے اور جب تو لیکر آیا ان کے پاس نشانیاں تو کہنے لگے جو کافر تھے ان میں کہ کچھ نہیں یہ مگر جادو ہے صریح ، اور جب میں نے دل میں ڈال دیا حواریوں کے کہ ایمان لاؤ مجھ پر اور میرے رسول پر تو کہنے لگے کہ ہم ایمان لائے اور تو گواہ رہ کہ ہم فرمانبردار ہیں۔ جب کہا حواریوں نے اے عیسیٰ مریم کے بیٹے تیرا رب کر سکتا ہے کہ اتارے ہم پر خوان بھرا ہوا آسمان سے بولا ڈرو اللہ سے اگر ہو تم ایمان والے۔ بولے ہم چاہتے ہیں کھائیں اس میں سے اور مطمئن ہو جائیں ہمارے دل اور ہم جان لیں کہ تو نے ہم سے سچ کہا ہے اور ہیں ہم اس پر گواہ کہا عیسیٰ مریم کے بیٹے نے اے اللہ اتار ہم پر خوان بھرا ہوا آسمان سے کہ وہ دن عید رہے ہمارے پہلوں اور پچھلوں کے واسطے اور نشانی ہو تیری طرف سے اور روزی دے ہم کو تو ہی ہے سب کو بہتر روزی دینے والا ۔ کہا اللہ نے میں بے شک اتاروں گا وہ خوان تم پر پھر جو کوئی تم میں ناشکری کرے گا۔
اس کے بعد تو میں اس کو وہ عذاب دوں گا جو کسی کو نہ دوں گا جہاں میں ۔﴾
فوائد : خدا کی نافرمانی کرنے والا انجام کار رسوا اور ذلیل ہی ہوتا ہے۔ حقیقی کامیابی کا چہرہ نہیں دیکھتا۔ یہ سوال محشر میں امتوں اور پیغمبروں سے کیا جائے گا کہ دنیا میں جب تم پیغام حق ان کے پاس لے کر گئے تھے تو انہوں نے کیا جواب دیا اور کہاں تک دعوت الٰہی کی اجابت کی۔ گذشتہ رکوع میں بتلایا تھا کہ خدا کے یہاں جانے سے پہلے بذریعہ وصیت وغیرہ یہاں کا انتظام ٹھیک کرلو۔ اب تنبیہ فرماتے ہیں کہ وہاں کی جواب دہی کے لئے تیار رہو۔ محشر کے ہولناک دن میں جب خدائے قہار کی شان جلالی کا انتہائی ظہور ہوگا۔ اکابر واعاظم کے بھی ہوش بجانہ رہیں گے۔ اولوالعزم انبیاء کی زبان پر نفسی نفسی ہوگا۔ اس وقت انتہائی خوف وخشیّت سے حق تعالیٰ کے سوال کا جواب لا علم لنا (ہمیں کچھ خبر نہیں) کے سوا نہ دے سکیں گے۔ پھر جب نبی کریم ﷺ کے طفیل میں سب کی طرف خدا کی نظر لطف و رحمت ہوگی۔ تب کچھ عرض کرنے کی جرأت کریں گے۔ حسن ؒ ومجاہد ؒ وغیرہ سے بھی ایسا منقول ہے۔ لیکن ابن عباس ؓ کے نزدیک لا علم لنا کا مطلب یہ ہے کہ خداوندا تیرے علم کامل ومحیط کے سامنے ہمارا علم کچھ بھی نہیں۔ گویا یہ لفظ تأدب مع اللہ کے طور پر کہے جائیں گے۔ ابن جریج ؒ کے نزدیک لا علم لنا سے یہ مراد ہے کہ ہم کو معلوم نہیں انہوں نے ہمارے پیچھے کیا کچھ کیا۔ ہم صرف انہیں افعال واحوال پر مطلع ہو سکتے ہیں۔ جو ہمارے سامنے ظاہری طور پر پیش آئے تھے۔ بواطن اور سرائر کا علم علام الغیوب ہی کو ہے۔ آئندہ رکوع میں حضرت مسیح علیہ السلام کی زبانی نقل فرماتا ہے۔ ”وكنت عليهم شهيداً“ اس سے آخری معنی کی تائید ہوتی ہے اور صحیح حدیث میں ہے کہ جب حوض پر بعض لوگوں کی نسبت حضور ﷺ فرمائیں گے ۔ ہٰؤلا اصحابی تو جواب ملے گا ”لا تدري ما احدثوا بعدك“ یعنی آپ ﷺ کو کیا خبر کہ آپ ﷺ کے پیچھے انہوں نے کیا حرکات کیں۔ غالباً یہ پورا رکوع آنے والے رکوع کی تمہید ہے۔ احسانات یاد دلا کر وہ سوال ہوگا جو آئندہ رکوع میں مذکور ہے۔ یعنی ”آء انت قلت للناس“ اوّل تو اولاد پر احسان کرنا من وجہ ماں باپ پر احسان ہے۔ دوسرے لوگ ظالم جو تہمت مریم صدیقہ علیہا السلام پر لگاتے حق تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ان کی برأت اور نزہت کے لئے برہان مبین بنا دیا اور تولد مسیح سے پہلے اور بعد عجیب وغریب نشانات حضرت مریم علیہا السلام کو دکھلائے۔ جو ان کی تقویت وتسکین کا باعث ہوئے۔ یہ احسانات بلا واسطہ ان پر تھے۔ گود میں جو کلام کیا اس کا ذکر سورۂ مریم میں ہے۔ ”انی عبدالله اتانی الکتاب“ تعجب ہے عیسائیوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کے تکلم فی المہد کا ذکر کچھ نہیں کیا۔ البتہ یہ لکھا ہے بارہ
اسرائیل عنك“ کی تفسیر بھی سن لیجیے۔
(مسیح ہندوستان میں ص ٥٢، خزائن ج ١٥ ص ٥٢) پر بیچارے لکھ کر منہ پونچھتے ہیں۔
”یہ اللہ تعالیٰ کی شان۔ یہ کہ مسیح کے بچانے کے لئے اندھیرا ہوا۔ بھونچال آیا، پلاطوس کی بیوی کو خواب آئی، سبت کے دن کی رات قریب آئی۔ جس میں مصلوبوں کو صلیب پر رکھنا روا نہ تھا۔ حاکم کا دل بوجہ خوفناک خواب کے مسیح کے چھڑانے کے لئے متوجہ ہوا یہ تمام واقعات خدا نے اس لئے ایک ہی دفعہ پیدا کر دیئے کہ تا مسیح کی جان بچ جائے۔ (گویا خدا بھی ظاہری اسباب کا محتاج ہے۔ ہت تیرے کی) اس کے علاوہ مسیح کو غشی کی حالت میں کر دیا تا ہر ایک کو مردہ معلوم ہو اور یہودیوں پر اس وقت ہیبت ناک نشان بھونچال وغیرہ دکھلا کر بزدلی خوف اور عذاب کا اندیشہ طاری کر دیا اور یہ دھڑکہ اس کے علاوہ تھا کہ سبت کی رات میں لاشیں صلیب پر نہ رہ جائیں۔ پھر یہ بھی ہوا کہ یہودیوں نے مسیح کو صلیب پر دیکھ کر سمجھ لیا کہ فوت ہو گیا ہے۔ اندھیرے اور گھبراہٹ اور بھونچال کا وقت تھا۔ گھروں کا بھی ان کو فکر پڑا کہ شاید اس بھونچال اور اندھیرے سے بچوں پر کیا گزرتی ہوگی اور یہ دہشت بھی دلوں پر غالب ہوئی کہ اگر یہ شخص کاذب اور کافر تھا۔ جیسا کہ ہم نے دل میں سمجھا تو اس کے دکھ دینے کے وقت ایسے ہولناک عذاب کیوں ظاہر ہوئے۔ جو اس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئے ۔“
اب مرزا قادیانی سے کوئی پوچھے اجی قادیانی مدعی نبوت صاحب اس بیان کی کہیں سے تصدیق تو کرا دیجئے۔ کیونکہ انجیل میں تو کہاں ملے گا اور تاریخ عالم میں تو لکھا ہی نہیں اور قرآن کریم تو اس کی دھجیاں اڑاتا ہوا صرف اتنے الفاظ پر ”وقولهم انا قتلنا المسيح ابن مریم“ کہ انہوں نے یہ ناپاک الفاظ کیوں بکے کہ مسیح کو ہم نے قتل کر دیا۔ اللہ نے یہود پر لعنت کی اور صرف اس قول کی وجہ سے کی۔ آپ نے اس خشک اور بے ربط مضمون پر ہزاروں صفحات سیاہ کئے اور اس بے لذت گناہ میں صرف اسی مضمون کو ہیرا پھیری کرتے ہوئے آج ازالہ اوہام میں لکھا تو کل مسیح ہندوستان میں نقل کیا اور پرسوں تحفہ گولڑویہ میں دہرایا۔ کیا آپ کی پیامبری سیاہی اور کاغذ کو ردی کرنے پر ہی محدود تھی۔ یہ مسیح کو مارنے کا جن آپ کو کہاں سے چڑھا تو جواب دیں گے مابدولت رئیس قادیان، سلسلہ عالیہ احمدیہ کے بانی، ٹل منارے کے واحد مالک، بہشتی مقبرے کے موجد، مسجد اقصیٰ کے بانی، کشتی نوح کے ملاح یعنی اپنے مکانوں کو اس نام سے اینٹھ کر وسعت دینے کو کس کا منہ ہے۔ جو پوچھے وہ نہیں جانتا کہ ہم کون ہیں۔ ہم وہ ہیں جن کے حق میں یہ الہام ہوا۔
" وما ينطق عن الهوى ان هو الا وحی یوحٰی " مرزا قادیانی کی زبان نطق ہی نہیں کرتی۔ جب تک ہم اس کو نطق نہ کرادیں۔ اب کسی کو طاقت ہے جو پوچھے، ایک اور بیان بھی ملاحظہ فرمائیں انشاء اللہ! دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔
(تحفہ گولڑویہ ص ٢٧، خزائن ج ١٧ ص ١٩٩) پر لکھتے ہیں۔ ”اب تک خدا تعالیٰ کا وہ غصہ نہیں اترا جو اس وقت بھڑکا تھا۔ جب کہ اس وجیہہ نبی کو گرفتار کرا کر مصلوب کرنے کے لئے کھوپڑی کے مقام پر لے گئے تھے اور جہاں تک بس چلا تھا ہر ایک قسم کی ذلت پہنچائی تھی۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٩٢، خزائن ج ٣ ص ٣٠٢) پر لکھتے ہیں کہ ”مسیح پر جو مصیبت آئی کہ وہ صلیب پر چڑھایا گیا اور کیلیں اس کے اعضاء میں ٹھونکی گئیں۔ جن سے وہ غشی کی حالت میں ہو گیا۔ یہ مصیبت درحقیقت موت سے کچھ کم نہ تھی۔“
قادیانی بیان سے یہ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ بھی ایفاء کے مراتب تک پہنچنے سے قاصر رہا۔ گویا کہ قرآنی آیت " واذ کففت بنی اسرائیل عنك " یعنی ہم نے بنی اسرائیل کو تم سے روک لیا۔ جو احسان ونعمت کے طور پر یاد کرائی جارہی تھی جھوٹی نکلی اور یہ اللہ کا پانچواں وعدہ ہے جو مسیح علیہ السلام کے متعلق جھوٹا ہوا اور وہ جھوٹے وعدے جو قادیانی زعم میں معیار صداقت پر پورے نہ اترے یہ ہیں۔
- ١...... " وجعلنی مبارکاً اینما کنت (مریم:٣١) "
- ٢...... " ومن المقربین (آل عمران:٤٥) "
- ٣...... " وجیهاً فی الدنیا (آل عمران:٤٥) "
- ٤...... " یا عیسٰی انی متوفیك ورافعك الیٰ ومطهرك من الذین
کفروا (آل عمران:٥٥) "
- ٥...... " وايدناه بروح القدس (بقرہ:٨٧) "
- ٦...... " واذ کففت بنی اسرائیل عنك (مائدة:١١٠) "
اب ہم آپ کی خدمت میں ان جلیل القدر ہستیوں کی تفسیر پیش کرتے ہیں جو عندالمرزا نہایت معتبر تھے اور جن کے قول کو رد کرنے والا فاسق و بے ایمان ہے۔
زیر آیت ” واذ کففت بنی اسرائیل عنك “ فرماتے ہیں ”جب حضرت عیسیٰ نے یہ عجیب غریب معجزات دکھائے تو یہود نے ان کے قتل کا ارادہ کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو یہود سے خلاصی دی اس طرح کہ آپ کو آسمان پر اٹھا لیا۔“ (تفسیر کبیر ص ١٢٧، امام فخر الدین رازیؒ)
”واذ کففت بنی اسرائیل عنک “ کے تحت ”یاد کر ہماری اس نعمت کو جب کہ ہم نے روک لیا بنی اسرائیل کو تجھ سے جس وقت ارادہ کیا یہود نے تیرے قتل کا۔“
(تفسیر جلالین ص ١١٠)
زیر آیت ”واذ کففت بنی اسرائیل عنک “ ”یعنی اے مسیح تو وہ نعمت یاد کر جو ہم نے یہود کو تم سے دور ہٹائے رکھنے سے کی۔ جب تو ان کے پاس اپنی نبوت و رسالت کے ثبوت میں یقینی دلائل اور قطعی ثبوت لے کر آیا تو انہوں نے تیری تکذیب کی اور تجھ پر تہمت لگائی کہ تو جادو گر ہے اور تیرے قتل و سولی دینے میں سعی کرنے لگے تو ہم نے تجھ کو ان میں سے نکال لیا اور اپنی طرف اٹھا لیا اور تجھے ان کی میل سے پاک رکھا اور ان کی شرارت سے بچا لیا۔“
(تفسیر ابن کثیر ص ٢٠١ ج ٣)
ناظرین کرام! آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ اپنے بندے مسیح کو وہ احسان یاد دلا رہا ہے جب کہ یہود پلید نے جناب کلمۃ اللہ کو ہر ممکن دکھ دینے کے لئے زیر حراست کر لیا تھا اور جناب مسیح بتقاضائے بشریت از حد خائف و مایوس ہو چکے تھے۔ بظاہر اسباب رہائی مفقود تھے اور کوئی وجہ نہ نظر آتی تھی کہ اس قوم سے نجات حاصل کریں۔ جو انبیاء کا قتل شیر مادر سمجھتی تھی۔ ہاں جہاں تمام دروازے بند تھے وہاں ایک بڑا دروازہ ”احکم الحاکمین“ کا نظر آیا اور خدا کے وعدوں پر بغور نظر کی دل نے اطمینان کی ڈھارس بندھائی تو ایمان نے قلب کو سکون بخشا۔ جناب مسیح اس کی جناب میں سر بسجود ہوئے اور درد میں ڈوبی ہوئی دعاء کی۔
لے مولا میں بھی حاضر ہوں مجھے ڈر ہے نہ خدشہ ہے
بچالے یورش اعداء سے مولا اپنے بندے کو
بھروسہ تیری رحمت پر صدا ہے تیرے بندے کو
بچالے مکر اعداء سے تو قادر ہے میرے مولا
میں راضی ہوں رضا پر جس طرح چاہے تو اے مولا
صلیبی موت گر تو دے تو اے مالک تیری مرضی
بدن میں کیل ٹھک جائیں گر اس میں ہو تیری مرضی
طمانچے منہ پر برسیں یا بدن بیدوں سے چھد جائے
تمنا ہے یہ لاشہ بھی تیری ہی نذر ہو جائے
تیری توحید پر کچھ حرف غیر آئے نہ اے مالک
بشارت تھی تیری مولا میرے حق میں وجاہت کی
کروں کیسے زبان سے شکر جو جو بھی عنایت کی
دعاء سے فارغ ہوئے تو ارشاد باری ہوا ”یا عیسیٰ انی متوفیک ورافعک الی ومطھرک من الذین کفروا “ یعنی اے عیسیٰ میں تم کو اپنے قبضہ میں لے لوں گا اور اپنی طرف تجھے اٹھالوں گا اور یہود سے بکلی تمہیں پاک کردوں گا۔
اس وعدے کے ایفاء میں یہ نعمت ”واذ کففت بنی اسرائیل “ یاد کرائی جارہی ہے۔ یعنی اے مسیح وہ وقت یاد کرو۔ جب تم پر مصائب کے بادل گھر آئے تھے اور نوائب کی اندھیریاں چھا رہی تھیں۔ زمین کا ذرہ ذرہ تمہارا دشمن ہورہا تھا اور پتہ پتہ تمہیں گھیرے ہوئے تھا اور بشریت تم پر غالب آچکی تھی۔ مگر تم آزمائش میں میزان عمل پر پورے اترے تھے۔ وہ تمہارے امتحان کا وقت تھا اور جب تم معیار صداقت پر پورے اترے تو ہم نے تمہیں سکینت بخشی اور روح القدس سے تمہاری مدد کی اور کفار کو تم سے روک دیا اور وعدے کے مطابق تمہیں آسمان پر اٹھالیا۔
اب اگر بفرض محال مرزائی عقائد کو مان لیا جائے تو جناب مسیح یہ کہنے میں کیا حق بجانب نہ ہوں گے کہ مولا یہ بھی کوئی احسان ہے جو یوں جتلایا جارہا ہے۔ کیا میرے منہ پہ طمانچے نہیں پڑے۔ کیا میرے بدن پر بیدوں کی مشق نہیں ہوئی۔ کیا میرے ساتھ استہزاء نہیں کیا گیا۔ کیا صلیب پر مجھے نہیں چڑھایا گیا۔ کیا میرے ہاتھ پاؤں اور دیگر اعضاء میں کیلیں ٹھونک ٹھونک کر چھلنی نہیں کردیا گیا۔ یہ اتفاق کی بات ہے کہ رات کے اندھیرے میں زلزلہ اور اندھیری کی وجہ سے میں جب کہ مردوں سے بدتر ہوچکا تھا اور غش نے انہیں دھوکہ دیا۔ وہ مجھے مردہ سمجھے اور صلیب سے مجھ کو اتار گئے۔ مگر میں حقیقتاً نہ مرا تھا گو مرنے سے بدتر تھا۔ چپکے چپکے رات کی تاریکی میں خون میں لت پت زخموں سے لاچار درد سے بیقرار نہ چلنے کی ہمت نہ ٹھہرنے کا حوصلہ چوروں کی طرح گرتا پڑتا جان کے خوف سے بھاگا مگر جاتا کہاں میرے لئے کوئی پناہ کی جگہ ہی نہ تھی۔ گرتا پڑتا نہایت درد و کرب میں جان پر کھیل کر دھوبی گھاٹ پہنچا اور ایک حواری کے گھر پناہ لی تو یہ بھی نہ کرسکا کہ وہ جس کے ہاتھ سے مادر زاد کوڑھی اچھے اور اندھے سوجھا کے اور مردے زندہ ہوا کرتے تھے اس کے اپنے زخموں کو آہ جب کہ اس کی اپنی حالت قابل رحم تھی۔ زخم کھاتا اور اچھا کر دیتا مگر تو
رحیم ہی نہیں۔ اس بیکسی کے عالم میں جب کہ بھوکا و نادار تھا اور جب کہ میرے وجود میں بالکل سکت نہ تھی اور جب کہ میری جیب درہم و دینار سے خالی تھی۔ مجھے مجبور کرایا کہ اپنے زخموں کے لئے بھیک مانگوں اور مرہم تیار کروں آہ مدتوں میرے زخم رستے رہے اور میں کراہتا رہا تو نے نہ پوچھا کہ بھوکا ہے یا پیاسا اور قصور کیا تھا کہ تیرا نام کیوں بلند کیا۔
کیا تیرے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہے
اور نعمت کیسی یہ بھی اچھی نعمت ہوئی کہ مجھ کو دنیا کے کروڑ ہا یہود و نصاریٰ لعنتی خیال کرتے رہے اس کا شکریہ کروں وہ تیرے وعدے کیا ہوئے جب کہ تو ایفاء عہد ہی نہیں جانتا۔ اب کس چیز کا مجھے احسان جتلاتا ہے اور کون سے شکریے کا طالب ہے۔ نعوذ باللہ من ذالک گو یہ الزامی جواب ہے اللہ معاف کرے۔ نہ تو یہ مسیح علیہ السلام نے کہا اور نہ ہی وہ کہہ سکتے ہیں۔ کیونکہ وہ اللہ کے رسول صاحب کتاب نبی، دنیا اور آخرت میں مرتبے والے اور خدا کے مقرب ہیں۔ دنیا کے بادشاہ جو خدا کے ادنیٰ فقیر ہیں وہ تو اپنے مقربین کو اپنے تخت کے پاس عزت کی جگہ دیں۔ ان کے لباس و طعام کا خیال رکھیں۔ مگر وہ احکم الحاکمین جو سب سے بڑا شہنشاہ ہے وہ اپنے مقربین کی یوں رسوائی و روسیاہی کراتے ہوئے تختہ دار پر کھنچوا دے۔ طرح طرح سے دکھ و مصیبت کے پہاڑ ان پر گریں اور وہ دیکھتا رہے اور کچھ نہ کرسکے۔ اچھا خدا ہے اور اچھی اس کی شہنشاہی دنیا کے بادشاہ تو مقرب لوگوں سے جدا ہونا پسند نہ کریں۔ مگر وہ ستار جہاں جس کو مقرب بنا دے اس کو اپنے پاس لے جانے کو بھی قادر نہ ہو اور کھلانے کو نان جویں بھی مہیا نہ کرسکے۔ یہ عجیب خدائی ہوئی اور اچھا احکم الحاکمین ہے کہ لوگوں کی وعدہ خلافی پر سرزنش کرے اور اپنے وعدہ کا ڈکار تک نہ لے۔ اللہ معاف کرے یہ سب لغویات الزامی جواب ہیں جو بیان ہوئے اس نے مسیح علیہ السلام کو ”ومن المقربین“ کہا اور قرب دینے کے لئے اپنے قریب لے گیا۔ اب ذرا دجال قادیان کی تصریحات ملاحظہ کریں۔
مرزا قادیانی اس آیت پر یوں اعتراض کرتا ہوا
(نزول المسیح ص ١٥١، خزائن ج ١٨ ص ٥٢٩)
اس نعمت کو اوہام باطلہ میں چھپانا چاہتا ہے۔ یہ عدل اللہ نہیں چاہتا کہ کوئی وعدہ الٰہی سچا ہو۔ جہاں مسیح علیہ السلام پہ برس رہا تھا۔ وہاں رحمت اللعالمین پر بھی اپنی کم فہمی اور جہالت کا ثبوت دے گیا۔ ”دیکھو! آنحضرت ﷺ سے بھی عصمت کا وعدہ کیا گیا تھا۔ حالانکہ احد کی لڑائی میں
آنحضرت ﷺ کو سخت زخم پہنچے تھے اور یہ حادثہ وعدہ عصمت کے بعد ظہور میں آیا تھا۔ (یعنی یہ وعدہ الٰہی بھی سچا نہ ہوا تھا۔ نعوذ باللہ من ذالك!) اس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو فرمایا تھا ”واذ كففت بنى اسرائيل عنك“ یعنی یاد کرو وہ زمانہ جب بنی اسرائیل تمہارے قتل کا ارادہ رکھتے تھے۔ میں نے تجھ کو بچا.......... حضرت مسیح کو یہودیوں نے گرفتار کر لیا تھا اور صلیب پر کھینچ دیا تھا۔ لیکن خدا نے آخر جان بچا دی۔ پس یہی معنی اذ کففت کے ہیں۔ جیسا کہ والله یعصمك من الناس کے ہیں۔“
مرزا قادیانی کی تعلیاں دیکھو تو شیطان کی آنت سے زیادہ لمبی ہوتی ہیں اور ختم ہونے کو نہیں آتیں۔ سچ ہے جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں۔ انگریزی میں ایک مثل ہے کہ بھونکنے والے کتے کاٹتے نہیں۔ جنہیں قرآنی معارف آتے ہوں وہ تاریخ سے بے بہرہ نہیں ہوتے۔ نبوت کے دعویدار کو جھوٹ کا مرتکب ہونا ایسا ہے جیسا کہ خدا کی توحید میں اس کے ہمسر ماننا۔ انبیاء اور جھوٹ بولیں۔ وہ کوئی پنجابی نبی ہوگا۔ توبہ! یہ تو نبوت کے نام کی تذلیل ہے اور اسی لئے لعنت الله علی الکاذبین کہا گیا ہے۔ اب مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ یتیم مکہ فداہ ابی و امی کو بھی عصمت کا وعدہ دیا گیا تھا اور وہ گویا جھوٹا ہوا۔ کیونکہ وعدہ الٰہی کے بعد حضور ﷺ کو جنگ احد میں سخت زخم آئے۔ سبحان اللہ! یہ ہے آپ کی قرآن دانی اور تاریخ کے تو گویا آپ حافظ ہیں۔ جنگ احد شوال سن ٣ ہجری میں ہوئی اور سورۃ المائدہ سن ٥ ہجری کے اواخر یا ٦ ہجری میں اتری۔ اب ایمان سے کہئے کہ جو وعدہ ٢ سال بعد میں ہوا اس کا ایفاء ٢ سال پہلے ہونا چاہئے تھا؟ تف ہے اس عقل پر! اور عصم اور کف کو ہم معنی قرار دینا یہ آپ کے مبلغ علم کی روتی ہوئی مردہ تصویر ہے۔ کیوں صاحب! واقعہ کو ہونے ہی نہ دینا اور ہو کر جان سے بچا لینا ایک ہی چیز ہے؟ ہرگز نہیں۔ عصم کے معنی ہیں جان سے بچا دینا اور کف کے معنی ہیں واقعہ ہی کو ہونے نہ دینا۔ مثال کے طور پر سمجھئے۔
زید سے عصم کا وعدہ ہے وہ بکر سے لڑتا ہے۔ زخم آتے ہیں مگر جان سے مارا نہیں جاتا۔ عمر سے کف کا وعدہ ہے مرزا قادیانی عمر کا سخت دشمن ہے۔ وہ اسے قتل کرانا چاہتا ہے۔ مگر قادر ہی نہیں ہو سکتا۔ اس کو موقعہ ہی نہیں ملتا۔ وہ کبھی ایک دوسرے کے مقابل ہی نہیں آتے۔
میرے خیال میں کسی مرزائی کے پیٹ میں دجل کے چوہے نہ دوڑنے لگیں۔ اس لئے جنگ احد کی تاریخ پر اسلامی اور مرزائی دستخط کرائے دیتا ہوں:
”غزوہ بنی انمار کے زمانہ میں یہ آیت والله یعصمك من الناس سفر میں نازل
ہوئی تھی اور اس قول کے بیان کرنے والے جناب امام جلال الدین سیوطیؒ ہیں جو عندالمرزائیہ مفسر ہیں۔“
(تفسیر اتقان جز اول ص ١٩)
اور دوسرا نمبر مرزا قادیانی کے روحانی بیٹے پادری محمد علی امیر جماعت مرزائیہ لاہور اپنی تفسیر بیان القرآن زیر آیت ”واللہ یعصمک من الناس“ لکھتے ہیں۔ ”ان مضامین پر جن کا ذکر اس سورۃ (مائدہ) میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے اور یہی رائے اکثر محققین کی بھی ہے کہ اس سورۃ کے اکثر حصے کا نزول پانچویں اور ساتویں سال ہجری کے درمیان ہے۔“
(بیان القرآن محمد علی)
اب بڑے مرزا قادیانی کی بھی سنئے: ”آنحضرت ﷺ چند صحابی کو برعایت ظاہر حفاظت کے ہمراہ رکھا کرتے تھے۔ پھر جب آیت واللہ یعصمک من الناس نازل ہوئی تو آنحضرت نے سب کو رخصت کر دیا کہ اب مجھ کو تمہاری حفاظت کی ضرورت نہیں۔“
(اخبار الحکم ٢٤؍اگست ١٨٩٩ء ص ٢)
پنجابی نبی کے لاڈلے خلیفے مرزا آنجہانی کے بیٹے مرزا محمود جو اس وقت قادیان کے تخت خلافت پر براجمان ہیں اور جو پچھلے دنوں سیسل ہوٹل لاہور سے مس روفو ٹائین حسینہ کو اپنے داہنے بازو موٹر میں بٹھا کر قادیان لے بھاگے تھے اور جس پر مدتوں اخباروں میں خوش گپیاں ہوتی رہیں اور مضاحیہ مضامین نکلتے رہے۔ آج سے کچھ عرصہ پہلے باوا کے الہام سنانے کو لائل پور جا دھمکے۔ وہاں آپ نے ایک لمبی چوڑی اونچی نیچی تقریر کے دوران میں آبا کی ہمنوائی کرتے ہوئے کہا: ”رسول کریم نے دعویٰ کیا واللہ یعصمک من الناس مکہ والوں نے سارا زور لگایا کہ آپ کو قتل کریں مگر آپ بچ گئے۔“
(اخبار الفضل ٢٤؍اپریل ١٩٢٢ء)
یہاں ایک اور بھی مزے کی چیز پیش کردوں تمہارے مرزا تو وہ پہلوان نبی ہیں جنہوں نے تمام انبیاء کے خطابات رحمانیہ کو دن دہاڑے ڈاکہ ڈالا اور یہ نہ دیکھا کہ مذکر ہیں یا مونث اور دیکھا کیسے جاتا ڈاکہ زنی میں بھلا تمیز کہاں رہتی ہے۔ مرزا قادیانی نے جہاں انبیاء عظام کے الہام چوری کئے وہاں جناب صدیقہ کے الہاموں پر بھی ہاتھ صاف کیا۔ اب دیکھئے! چوری یوں کھلی کہ مرزا قادیانی گھر سے نکلتے ہیں تو سر پر عمامہ منہ پر نورانی داڑھی ہاتھ میں عصا مگر پاؤں میں زنانہ جوتی اور زنانہ شلوار پوچھا جاتا ہے۔ اجی حضرت! یہ کیا تو فرماتے ہیں میں مریم ہوں اور اب حیض نہیں رہا۔ بچہ ہے اور کیا کروں دردِ زہ کھجور کے تنے کو دس ماہ حاملہ رہنے کے بعد لئے جاتی ہے۔
بھلا اس کا جواب کون دے سکتا ہے اور کس کو طاقت ہے کہ نبیوں کے پہلوان کو جواب دے۔ ہاں صاحب آخر نبی جو ہوئے اب یہی الہام والله يعصمك من الناس آپ کہتے ہیں کہ ما بدولت سلسلہ عالیہ احمدیہ کے بانی کو بھی ہوا ہے۔
(انجام آتھم ص ٦٠، خزائن ج ١١ ص ٦٠)
رسول اکرم ﷺ پر تو اعتراض کرنے سے آپ نہ رکے۔ چاہئے وہ جہالت کی وجہ سے ہی تھا۔ یعنی الہام دو سال بعد ہوا اور واقعہ کے دو سال پہلے پر چسپاں ہو رہا ہے۔ جیسا کہ وہ آپ کی دو بکریاں (شاتان تذبحان وكل من عليها فان الہام مرزا قادیانی) یعنی دو بکریاں ذبح کی جائیں گی۔ کہیں عقیقہ ہوگا کہیں صاحب، ایک بکرا آسمانی خسر اور دوسرا غریب رقیب مرزا ناکح محمدی بیگم منکوحہ آسمانی جب یہ الہام یہاں ٹھیک نہ بیٹھا تو جو دو مرید کابل میں تبلیغ کو گئے تھے وہاں مرتد قرار دیتے ہوئے قتل کئے گئے۔ تو نبوت کی باسی کڑاہی میں ابال آیا اور یہ نشانہ بھی معقول سمجھا۔ اس لئے جھٹ یہ الہام سنا دیا گیا۔ لوگوں نے اعتراض کیا اجی حضرت! دوبارہ یہ ارشاد ہوا بکتے ہو بکے جاؤ۔
اب ایمان سے کہئے ٹوپی سر کی اور زبر دستی پہنائی جاتی ہے پاؤں میں کیا یہ ہی قادیانی نبوت ہے۔ قبلہ مولانا ظفر علی خاں صاحب مدظلہ نے کیا خوب کہا۔
برازی ہے خلافت قادیاں کی
ہیں احمق جس قدر ہندوستان میں
ہے آباد ان سے جنت قادیاں کی
اب ایمان سے کہئے کہ مرزا قادیانی کو الہام والله يعصمك من الناس کے بعد کس قدر مصائب برداشت کرنے پڑے۔ سارا سارا دن عدالتوں میں کھڑے رہے۔ پانی پینے کی اجازت نہ تھی۔ جہاں جاتے دنیا اینٹ پتھروں سے خوش آمدید کرتی باہر نکلتے تو ایک جم غفیر ساتھ ہوتی اور شکار کا دھوکہ ہوتا۔
پس یہ ثابت ہو گیا کہ جو وعدہ مسیح علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کیا تھا یعنی میں تمہیں لے لوں گا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا وہ کما حقہ پورا ہوا۔ کیونکہ یہود نامسعود کو خدا نے روکے رکھا اور وہ عیسیٰ علیہ السلام کی گرفت پر قادر نہ ہو سکے۔ سو یہ آیت ”واذ كففت بنى اسرائيل عنك“ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جب یہود مسیح علیہ السلام پر قادر ہی نہ ہو سکے تو وہ کس طرح صلیب دے سکتے ہیں یا طمانچے یا استہزاء کر سکتے ہیں، اور ایک نقطہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے وہ یہ کہ اگر
دے سکتا ہے اور کس کو طاقت ہے کہ نبیوں کے پہلوان کو جواب دے۔ ہاں جناب یہی الہام والله يعصمك من الناس آپ کہتے ہیں کہ بندہ کو بھی ہوا ہے۔ (انجام آتھم ص ٦٠، خزائن ج ١١ ص ٢٠) مسیح پر تو اعتراض کرنے سے آپ نہ رکے۔ چاہے وہ جہالت کی وجہ سے ہو یا بعد ہوا اور واقعہ کے دو سال پہلے پر چسپاں ہو رہا ہے۔ جیسا کہ آپ کا الہام (ان تذبحان وكل من عليها فان الہام مرزا قادیانی) یعنی دو بکریاں عقیقہ ہوگا نہیں صاحب، ایک بکرا آسمانی خسر اور دوسرا غریب رقیب مرزا بھائی جب یہ الہام یہاں ٹھیک نہ بیٹھا تو جو دو مرید کابل میں تبلیغ کو گئے تھے وہاں قتل کئے گئے۔ تو نبوت کی ہانڈی کڑاہی میں ابال آیا اور یہ نشانہ بھی جھٹ یہ الہام سنا دیا گیا۔ لوگوں نے اعتراض کیا اجی حضرت ! وہ بکرا ہے
اسے کہتے ہیں ٹوپی سر کی اور زبردستی پہنائی جاتی ہے پاؤں میں کیا یہ ہی قادیانی منطق ہے ظفر علی خاں صاحب مدظلہ نے کیا خوب کہا۔
برازی ہے خلافت قادیاں کی
ہیں احمق جس قدر ہندوستان میں
ہے آباد ان سے جنت قادیاں کی
ان سے کہئے کہ مرزا قادیانی کو الہام والله يعصمك من الناس کے بعد کیسے جوتے پڑے۔ سارا سارا دن عدالتوں میں کھڑے رہے۔ پانی پینے کو ترستے۔ دنیا اینٹ پتھروں سے خوش آمدید کرتی باہر نکلتے تو ایک جم غفیر ساتھ ہوتا۔ ثابت ہو گیا کہ جو وعدہ مسیح علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کیا تھا یعنی میں تمہیں اٹھاؤں گا وہ کما حقہ پورا ہوا۔ کیونکہ یہود نامسعود کو خدا نے روکے رکھا اور وہ اس پر قادر نہ ہو سکے۔ سو یہ آیت ”واذ كففت بنی اسرائیل عنك“ شاہد ہے کہ جب یہود مسیح علیہ السلام پر قادر ہی نہ ہو سکے تو وہ کس طرح صلیب دے سکتے ہیں یا استہزاء کر سکتے ہیں، اور ایک نقطہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے وہ یہ کہ اگر
١٢ برس کی عمر میں یہود کے سامنے ایسے حکیمانہ دلائل و براہین بیان فرمائیں کہ تمام علماء عاجز ومبہوت رہ گئے اور سامعین عش عش کرنے لگے۔ یوں تو روح القدس سے حسب مراتب سب انبیاء علیہم السلام بلکہ بعض مومنین کی بھی تائید ہوتی ہے۔ لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام جن کا وجود ہی نفخہ جبریلیہ سے ہوا کو خاص قسم کی فطری مناسبت اور تائید حاصل ہے۔ جسے تفضیل انبیاء کے صدر میں بیان فرمایا گیا ۔ ”تلك الرسل فضلنا بعضهم على بعض منهم من كلم الله ورفع بعضهم درجت واتينا عيسى ابن مريم البينات وايدناه بروح القدس (بقره:٢٥٣)“
روح القدس کی مثال عالم ارواح میں ایسی سمجھو جیسے عالم مادیات میں قوت کہربائیہ (بجلی) کا خزانہ جس وقت اس خزانہ کا مدبر معین اصول کے موافق کرنٹ چھوڑتا اور جن اشیاء میں بجلی کا اثر پہنچاتا ہے ان کا کنکشن درست کر دیتا ہے تو فوراً خاموش اور ساکن مشین بڑے زور شور سے گھومنے لگتی ہیں۔ اگر کسی مریض پر بجلی کا عمل کیا گیا تو مشلول اعضاء اور بے حس ہو جانے والے اعصاب میں بجلی کے پہنچنے سے حس وحرکت پیدا ہو جاتی ہے۔ بعض اوقات ایسے بیمار حلق میں جن کی زبان بالکل بند ہو گئی ہو۔ قوت کہربائیہ کے پہنچانے سے قوۃ گویائی واپس آ گئی ہے۔ حتیٰ کہ بعض نامی ڈاکٹروں نے تو یہ دعویٰ کر دیا ہے کہ ہر قسم کی بیماری کا علاج قوت کہربائیہ سے کیا جاسکتا ہے۔ ( دائرۃ المعارف فرید وجدی ) جب اس معمولی مادی کہربائیہ کا حال یہ ہے تو اندازہ کرلو کہ عالم ارواح کی کہربائیہ میں جس کا خزانہ روح القدس ہے۔ کیا کچھ طاقت ہو گی۔ حق تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ذات گرامی کا تعلق روح القدس سے کسی ایسی خاص نوعیت اور اصول کے ماتحت رکھا۔ جس کا اثر کھلے ہوئے غلبہ روحانیت، تجرد اور مخصوص آثار حیات کی شکل میں ظاہر ہوا۔ ان کا روح اللہ سے ملقب ہونا بچپن جوانی اور کہولت میں یکساں کلام کرنا خدا کے حکم سے مٹی کی مورتیں تیار کر کے اس میں باذن اللہ روح حیات پھونکنا مایوس العلاج مریضوں کو باذن اللہ بدون توسط اسباب عادیہ کے کارآمد اور بے عیب بنا دینا حتیٰ کہ مردہ لاشہ میں باذن اللہ دوبارہ روح حیات کو واپس لے آنا۔ بنی اسرائیل کے ناپاک منصوبوں کو خاک میں ملا کر آپ کا آسمان پر اٹھا لیا جانا اور آپ کی حیات طیبہ پر اس قدر طولِ عمر کا کوئی اثر نہ ہونا وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب آثار اسی تعلق مخصوص سے پیدا ہوئے ہیں۔ جو رب العزۃ نے کسی مخصوص نوعیت واصول سے آپ کے اور روح القدس کے مابین قائم فرمایا ہے۔ ہر پیغمبر کے ساتھ کچھ امتیازی معاملات خدا کے ہوتے ہیں۔ ان کے علل واسرار کا احاطہ اسی علّام الغیوب کو ہے۔ ان ہی
امتیازات کو علماء کی اصطلاح میں فضائل جزئیہ کہتے ہیں۔ ایسی چیزوں سے کلی فضیلت ثابت نہیں ہوتا۔ چہ جائیکہ الوہیت ثابت ہو۔ ”واذ تخلق من الطین “ میں خلق کا لفظ محض صوری اور حسی لحاظ سے استعمال کیا گیا ہے۔ ورنہ خالق حقیقی احسن الخالقین کے سوا کوئی نہیں۔ اسی لئے باذن کا بار بار اعادہ کیا گیا اور آل عمران میں حضرت مسیح کی زبان سے باذن اللہ کی تکرار کر لی گئی۔ بہر حال جو خوارق ان آیات میں اور ان سے پہلے آل عمران میں حضرت مسیح علیہ السلام کی طرف منسوب ہوئے ہیں۔ ان کا انکار یا تحریف صرف اسی ملحد کا کام ہو سکتا ہے۔ جو آیات اللہ کو عقل شخصی کے تابع کرنا چاہئے۔ باقی جو لوگ قانون قدرت کا نام لے کر معجزات وخوارق کا انکار کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا جواب ہم نے ایک مستقل مضمون میں دیا ہے۔ ان کے مطالعہ سے انشاء اللہ تمام شکوک کا ازالہ ہو سکتا ہے۔ معجزات اور فوق العادت تصرفات کو جادو کہنے لگے اور انجام کار حضرت مسیح کے قتل کے درپے ہوئے۔ حق تعالیٰ نے اپنے لطف وکرم سے حضرت مسیح کو آسمان پر اٹھا لیا۔ اس طرح یہود کو ان کے ناپاک مقصد میں کامیاب ہونے سے روک دیا گیا۔ کر سکتا ہے اس لئے کہا کہ آپ کی رعایت اور دعاء سے ہمارے لئے بطور خرق عادت نہ معلوم ایسا کرے یا نہ کرے۔ یعنی آسمان کی طرف سے بے محنت روزی پہنچ جایا کرے۔ یہ ضرور نہیں کہ وہ خوان جنت کا ہی ہو۔ یعنی ایماندار بندہ کو لازم نہیں کہ ایسی غیر معمولی فرمائش کر کے خدا کو آزمائے۔ خواہ اس کی طرف سے کتنی ہی مہربانی کا اظہار ہو۔ روزی انہی ذرائع سے طلب کرنا چاہئے۔ جو قدرت نے اس کی تحصیل کے لئے مقرر فرما دیئے ہیں۔ بندہ جب خدا سے ڈر کر تقویٰ اختیار کرے اور اسی پر ایمان واعتماد رکھے تو حق تعالیٰ ایسی جگہ سے اسے رزق پہنچائے گا جہاں سے وہم و گمان بھی نہ ہوگا۔ ”ومن یتق اللہ یجعل له مخرجاً ويرزقه من حيث لا يحتسب (طلاق) “ یعنی آزمانے کو نہیں مانگتے بلکہ برکت کی امید پر مانگتے ہیں کہ غیب سے روزی ملتی رہے بے محنت، تا اطمینان قلب اور دلجمعی سے عبادت میں لگے رہیں اور آپ نے جو غیبی خبریں نعماء جنت وغیرہ کے متعلق دی ہیں۔ ایک چھوٹا سا نمونہ دیکھ کر ان کا بھی یقین کامل ہو جائے اور ایک غیبی شاہد کے طور پر ہم اس کی گواہی دیں۔ جس سے معجزہ ہمیشہ مشہور رہے۔ بعض مفسرین نے نقل کیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے وعدہ فرمایا تھا کہ تم خدا کے لئے تیس دن کے روزے رکھ کر جو کچھ طلب کرو گے وہ دیا جائے گا۔ حوارین نے روزے رکھ لئے اور مائدہ طلب کیا۔ ”ونعلم ان قد صدقتنا “ سے یہی مراد ہے۔ یعنی وہ دن جس میں مائدہ آسمانی نازل ہوا ہمارے اگلے پچھلے لوگوں میں عید ہو جائے کہ ہماری قوم ہمیشہ اس دن کو بطور تہوار منایا کرے۔ اس تقریر کے موافق ”تکون لنا عیداً “ کا
میں فضائل جزئیہ کہتے ہیں۔ ایسی چیزوں سے کلی فضیلت ثابت نہیں ہوتی۔ ”و اذ تخلق من الطین “ میں خلق کا لفظ محض صوری اور حسی ہے ۔ ورنہ خالق حقیقی احسن الخالقین کے سوا کوئی نہیں۔ اسی لئے باذن کا بار بار حضرت مسیح کی زبان سے باذن اللہ کی تکرار کرائی گئی۔ بہر حال جو ان سے پہلے آل عمران میں حضرت مسیح علیہ السلام کی طرف منسوب ہیں صرف اسی طبقہ کا کام ہوسکتا ہے۔ جو آیات اللہ کو عقل شخصی کے تابع قانون قدرت کا نام لے کر معجزات وخوارق کا انکار کرنا چاہتے ہیں۔ ان مضمون میں دیا ہے۔ ان کے مطالعہ سے انشاء اللہ تمام شکوک کا ازالہ ی العادت تصرفات کو جادو کہنے لگے اور انجام کار حضرت مسیح کے قتل کے نے اپنے لطف وکرم سے حضرت مسیح کو آسمان پر اٹھا لیا۔ اس طرح یہود کو کامیاب ہونے سے روک دیا گیا۔ کر سکتا ہے اس لئے کہا کہ آپ کی ے لئے بطور خرق عادت نہ معلوم ایسا کرے یا نہ کرے۔ یعنی آسمان کی پہنچ جایا کرے۔ یہ ضرور نہیں کہ وہ خوان جنت کا ہی ہو۔ یعنی ایماندار معمولی فرمائش کر کے خدا کو آزمائے۔ خواہ اس کی طرف سے کتنی ہی انہی ذرائع سے طلب کرنا چاہئے۔ جو قدرت نے اس کی تحصیل کے بندہ جب خدا سے ڈر کر تقویٰ اختیار کرے اور اسی پر ایمان واعتماد رکھے تو رزق پہنچائے گا جہاں سے وہم وگمان بھی نہ ہوگا۔ ”و من یتق الله یرزقه من حیث لا یحتسب (طلاق) “ یعنی آزمانے کو نہیں مانگتے ہیں کہ غیب سے روزی ملتی رہے بے محنت، تا اطمینان قلب اور دلجمعی اور آپ نے جو غیبی خبریں نعماء جنت وغیرہ کے متعلق دی ہیں۔ ایک بھی یقین کامل ہو جائے اور ایک غیبی شاہد کے طور پر ہم اس کی گواہی مشہور ہے۔ بعض مفسرین نے نقل کیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے لئے تیس دن کے روزے رکھ کر جو کچھ طلب کرو گے وہ دیا جائے گا۔ ئے اور مائدہ طلب کیا۔ ”ونعلم ان قد صدقتنا “ سے یہی مراد مائدہ آسمانی نازل ہوا ہمارے اگلے پچھلے لوگوں میں عید ہو جائے کہ در تہوار منایا کرے۔ اس تقریر کے موافق ”تکون لنا عیداً “ کا
اطلاق ہوا۔ جیسا کہ ”الیوم اکملت لکم دینکم “ کے متعلق بخاری میں یہود کا یہ مقولہ نقل کیا ہے۔ ”انکم تقرؤن آیۃ لونزلت فینا لا تخذناها عیداً “ جس طرح آیت کو عید بنانے کا مطلب اس کے یوم نزول کو عید بنانا ہے ۔” کما ھوا مصرح فی روایات الآخَر “ اسی پر مائدہ کے عید ہونے کو قیاس کر لو ۔ کہتے ہیں کہ وہ خوان اترا اتوار کو جو نصاریٰ کے یہاں ہفتہ کی عید ہے ۔ جیسے مسلمانوں کے یہاں جمعہ ۔ یعنی تیری قدرت کی اور میری صداقت کی نشانی ہو۔ یعنی بدون تعب وکسب روزی عطاء کرے۔ آپ کو یہاں کیا کمی ہے اور کیا مشکل ہے۔“
ناظرین (سورۃ المائدۃ رکوع: ١٤) کا ترجمہ حضرت شیخ الہند قبلہ مولانا محمود حسن دیوبندی نور اللہ مرقدہ کی زبان فیض ترجمان کا آپ کے سامنے ہے اور فوائد عمدۃ المفسرین حضرت مولانا قبلہ شبیر احمد صاحب عثمانی دیوبندی کے آپ کے سامنے ہیں۔ جن سے آپ کو یہ بخوبی روشن ہو چکا ہے کہ ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ اپنے احسان جناب کلمتہ اللہ کو یاد کرا رہا ہے۔ جن کی تفصیل سورۃ آل عمران میں قبل گزر چکی ہے۔ یہاں صرف اس قدر ہی عرض کر دینا کافی ہے کہ وہ کیا کیا احسان تھے۔
- ......١ پہلا احسان کہ فرمایا یہ جبرائیل امین یعنی روح القدس سے تمہاری مدد
اس وقت فرمائی جب کہ تم ماں کی گود میں شیر خواری کی حالت میں تھے اور قدرت گویائی سے قطعاً محروم تھے۔
- ......٢ دوسرا احسان یہ فرمایا کہ تم کچھ نہ جانتے تھے ہم نے تم کو کتاب وحکمت کی
باتوں کے علاوہ توریت وانجیل سکھلائی۔
- ......٣ تیسرا احسان یہ فرمایا کہ تم کو وہ معجزات نادرہ عطاء کئے۔ مثلاً مٹی سے پرند
بنانا اور ان میں میرے حکم سے روح پھونک کر پرواز کرانا مادر زاد اندھوں اور کوڑھوں کا میرے حکم سے اچھا کرنا۔ مردوں کو میرے حکم سے زندہ کرنا وغیرہ۔
- ......٤ چوتھا احسان یہ فرمایا اور یاد کرو وہ وقت جب یہود نامسعود تم کو پکڑنا اور
صلیب دینا چاہتے تھے اور میں نے دوٹوک ان کو روک دیا تھا۔ یعنی وہ تمہاری گرفت پر قادر ہی نہ ہوسکے۔
ان آیات کریمہ سے یہ روشن کی طرح عیاں ہے کہ یہود پلید کا جناب مسیح کی شان میں گستاخیاں کرنا یا طمانچے لگانا یا ہاتھوں اور پاؤں میں کیلیں ٹھونکنا تو درکنار وہ ہاتھ تک نہیں لگا سکے اور لگا کس طرح سکتے تھے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ دے رکھا تھا کہ اے عیسیٰ میں تم کو اپنے قبضہ میں
لے لوں گا اور اپنی طرف اٹھالوں گا اور یہود پلید سے تمہیں پاک کردوں گا۔ جیسا کہ فرقان حمید شاہد ہے۔ ”یا عیسیٰ انی متوفیک ورافعک الی مطہرک من الذین کفروا“ ان واقعات کی موجودگی میں ان حالات کے ہوتے ہوئے یہ کہنا کہ جناب مسیح صلیب پر تو ضرور چڑھائے گئے مگر مرے نہیں۔ ڈھٹائی اور بے ایمانی نہیں تو اور کیا ہے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے کے الفاظ مطہرک یعنی میں تمہیں یہود سے پاک کردوں گا۔ فرمائیے جناب اگر وہ جناب کلمتہ اللہ کو دار پر کھینچ دیں تو وعدہ الٰہی کیا سچا رہتا ہے؟ ہرگز نہیں اور اس آیت کی تائید ”واذ کففت بنی اسرائیل عنک“ ارشاد ہوتا ہے۔ اے مسیح ہماری اس نعمت کو یاد کرو۔ جب ہم نے بنی اسرائیل کو تم سے روک دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ تو بطور انعام واحسان واقعہ مکر یہود کی یاد تازہ دلاتے ہوئے اپنی مہربانیوں کا تذکرہ کریں کہ وہ مشکل ترین نازک وقت یاد کرو جب یہود تمہیں صلیب دینے کو تل گئے تھے اور انہوں نے اپنی خفیہ تدبیر کو عملی جامہ پہناتے ہوئے تمہیں زیر حراست کر لیا تھا۔ اس مشکل وکٹھن موقعہ پر ہم نے ”ان وعد اللہ حق“ اپنے وعدے کو سچا فرماتے ہوئے تمہیں یہود پلید سے پاک کیا۔ یعنی اپنی طرف اٹھا لیا۔ جیسا کہ وعدہ تھا اور جس کی بشارت تمہارے اعجازی تکلم کے وقت کرائی تھی۔ جیسا کہ قرآن کریم شاہد ہے ”وجعلنی مبارکاً اینما کنت“ ارشاد ہوتا ہے کہ ”اے عیسیٰ میں برکت دیا گیا ہوں۔ جہاں بھی رہوں اب اگر تمہیں یہود پلید پکڑ لیتے اور بیدزنی کرتے یا طمانچے لگاتے یا استہزاء کرتے اور بالآخر دار پر کھینچ کر ہاتھوں اور پاؤں وغیرہ میں کیلیں ٹھونکتے تو جہاں ہمارے اور بہت سے وعدوں پر جو تمہارے بچاؤ اور بزرگی کے متعلق تھے حرف آتا۔ وہاں یہ وعدہ بھی مورد طعن بنتا۔ اس لئے ہم نے اپنے وعدے کو سچا فرماتے ہوئے اپنے الفاظ کی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے تمہیں برکت دی اور جیسا کہ وعدہ کے الفاظ جلد وفا کے متمنی تھے اپنی طرف اٹھا لیا۔
ناظرین کرام! اب دیکھنا یہ ہے کہ یکف کے الفاظ قرآن کریم میں اور کہاں کہاں آئے ہیں اور وہاں کیا معانی ومفہوم لیا گیا ہے۔ قبل اس کے کہ وہ مواقع پیش کروں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ کف کے معنی لغت عرب اور عام عربی بول چال یا محاورے میں کیا ہیں۔
کف کے معنی ہیں باز گردانید یعنی روکے رکھنا، کلام مجید میں یہ لفظ پانچ چھ مواقع پر استعمال ہوا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں۔
- ١...... ”عسی الله ان یکف باس الذین کفروا واللہ اشد باسا
(نساء: ٨٤)“
- ......٢ ” فان لم یعتزلوکم ویلقوا الیکم السلم ویکفوا ایدیہم
(نساء:٩١) “
- ......٣ ” یا ایہا الذین آمنوا اذکروا نعمۃ اللہ علیکم اذ ہم قوم ان
یبسطوا الیکم ایدیہم فکف ایدیہم عنکم (مائدہ:١١) “ ﴿اے مسلمانوں تم اللہ کی نعمت یاد کرو جو اس نے تم پر کی۔ جب کفار نے تم پر دست درازی کرنی چاہی تو ہم نے ان کے ہاتھ تم سے روکے رکھے۔﴾
- ......٤ ” وہو الذی کف ایدیہم عنکم وایدیکم عنہم ببطن مکۃ
(فتح:٢٤) “
- ......٥ ” الم تر الی الذین قیل لہم کفوا ایدیکم واقیموا الصلوۃ
(نساء:٧٧) “
قارئین کرام! قرآنی آیات وتراجم آپ کے سامنے ہیں۔ ان کے سیاق وسباق کو بغور ملاحظہ فرمائیں۔ تمام آیات ہماری مؤید وممد ہیں اور بالاتفاق اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ کف کے معنی روکے رکھنا ہی کے ہیں اور یہ کف کا لفظ عموماً احسانات باری تعالیٰ کے جتلانے کے ہی موقعہ پر استعمال ہوا ہے۔ مثال کے طور پر صلح حدیبیہ کے موقعہ کو ہی لے لیجئے۔ جس میں بظاہر واقعات اس قدر طوالت پکڑ گئے تھے کہ ایک نہایت مہلک جنگ کے آثار دکھائی دیتے تھے اور نہیں کہا جاسکتا تھا کہ اس میں فریقین کے کتنے ہزار جوان کام آئیں گے۔ اس جنگ کے اہتمام میں جس کا مقصد سوائے قصاص قاصد (جناب عثمانؓ جامع القرآن) کے اور کچھ نہ تھا۔ حضور انور سرکار مدینہﷺ نے ایک عام عہد لیا جو بیعۃ الرضوان کے نام سے مشہور ہے اور جس میں بالآخر اللہ تعالیٰ کے فضل وحکمت سے ایک معاہدہ جو بظاہر مسلمانوں کے لئے مفید نہ تھا۔ مگر بہ باطن اسلام کے عروج کا پیش خیمہ تھا۔ بوساطت سہیل بن عمرو وکیل قریش مرتب ہوا اور جس میں کئی ایک سفیروں نے قریش کی طرف سے حق سفارت ادا کیا۔ جن میں سے عروۃ کا وہ خطاب جو اس نے حضور اکرمﷺ سے واپسی کے موقعہ پر اپنی قوم یا اہل مکہ کو سنایا وہ قابل قدر ہے اور جسے سیرۃ النبی جلد اوّل ص ٢٣٢ پر علامہ شبلی نعمانی مرحوم نور اللہ مرقدہ نے ان الفاظ میں ادا فرمایا۔
”عروۃ نے رسول اللہﷺ کے ساتھ صحابہ کی حیرت انگیز عقیدت کا جو منظر دیکھا اس نے اس کے دل پر ایک عجیب اثر کیا قریش سے جاکر کہا میں نے قیصر و کسریٰ ونجاشی کے دربار دیکھے ہیں۔ یہ عقیدت اور وارفتگی کہیں نہیں دیکھی۔ محمدﷺ بات کرتے ہیں تو سناٹا چھا جاتا ہے۔
کوئی شخص ان کی طرف نظر بھر کر نہیں دیکھ سکتا۔ وہ وضو کرتے ہیں تو پانی جو گرتا ہے اس پر خلقت ٹوٹ پڑتی ہے۔ بلغم یا تھوک گرتا ہے تو عقیدت کیش ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں اور چہرہ اور ہاتھوں پر مل لیتے ہیں۔
چنانچہ اس موقعہ پر اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو احسان جتلاتے ہوئے فرماتے ہیں۔ ”ھو الذی کف ایدیہم عنکم وایدیکم عنہم ببطن مکۃ من بعد ان اظفرکم علیہم (فتح:٢٤) ”اللہ تعالیٰ کی ذات گرامی وہی ہے جس نے مکہ میں ان لوگوں کا ہاتھ تم سے اور تمہارا ہاتھ ان سے روک دیا۔ بعد اس کے کہ تم کو ان پر قابو دے دیا تھا۔“
معاملہ نہایت صاف ہے اور اس پر مزید حاشیہ آرائی کی ضرورت ہی نہیں کہ خدائے جبار نے یہودیوں کو دو ٹوک روک رکھا اور وہ جناب کلمۃ اللہ تک قطعاً نہ پہنچ سکے۔ جن لوگوں کو خدائے واحد پر پورا یقین اور بھروسہ ہے کہ وہ واللہ علیٰ کل شئی قدیر ہے۔ ان کے لئے یہ جناب مسیح پر خدا کا احسان فرمانا زادتہ ایمانا ہے۔ ہاں وہ بھی ہیں جو دنیا کو مغالطہ میں ڈال کر صراط مستقیم سے دور لے جانے کو مسیحائی سمجھتے ہوئے کہتے ہیں۔
منم محمد واحمد کہ مجتبیٰ باشد
(تریاق القلوب ص٣، خزائن ج١٥ ص١٣٣)
اور قرآن دانی کی ڈینگ مارتے ہوئے اس کے حقائق ومعارف پہ لاف زنی کرتے ہیں اب ذرا ان کی تفسیر بھی سن لیجئے۔
”اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو فرمایا تھا ”اذ کففت بنی اسرائیل عنك“ یعنی یاد کرو وہ زمانہ جب کہ بنی اسرائیل کو جو قتل کا ارادہ رکھتے تھے میں نے تجھ سے روک دیا۔ حالانکہ تواتر قوی سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح کو یہودیوں نے گرفتار کر لیا تھا اور صلیب پر کھینچ دیا تھا۔ لیکن خدا نے آخر جان بچادی۔ پس یہی معنی اس کففت کے ہیں۔“
(نزول المسیح ص٥١، خزائن ج١٨ ص٥٢٩، غلام احمد قادیانی)
اب دجل میں ڈوبی ہوئی ایک اور تحریر ملاحظہ فرمائیں۔ جو سابقہ بیانات ”انی متوفيك“ کے تحت میں بیان ہوئی۔ اس میں اور اس پہلے بیان میں بہت سی باتیں ایسی ملیں گی جن میں تضاد وابہام ملے گا۔ مراقی نبی نے پوری ایک کتاب (مسیح ہندوستان، خزائن ج١٥) میں صرف اسی دجل پر لکھی جس میں مسیح کی گرفتاری استہزاء وغیرہ سے لے کر مصلوب ہونے کے بعد کے ہاتھ کے زخموں کی مرہم اور ان کے ہوئے اس کے آخیر میں مسیح کا واقعہ صلیب درہ خیبر کی خاک چھانتے ہوئے پنجاب مپرسی کی حالت میں کشمیر جانا اور وہاں نام سے قبر میں دفن ہونا بیان کیا ہے۔ دیں گے ہم نبی ہیں اور نبی جھوٹ تھوڑ اعتبار نہ ہو تو ننکانہ صاحب کے مہنت خطاب واہ گور جی مہاراج کیوں دی آریوں سے پوچھ لو کہ میرے حق میں تیری مہما گیتا میں لکھی ہے۔ یہ سب ہونے کے متعلق لوگوں نے ثبوت مانگا
کسی نے سوال کیا مرزا ق ثبوت ہے اس کا جواب یہ دیا۔
”میرے پاس فارسی ہو الہام (”خذوا التوحید خذوا ال اے فارس کے بیٹو) اس زمانے کا ہے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں لکھا
پھر کسی نے پوچھا جی حضر فاطمہ ہونے میں کیا الہام ہے۔ ”الح نعمتی رائیت خدیجتی“ ی دامادی اور فخر علو نسب جو دونوں مماثل عزت عطاء کی اور نیز بنی فاطمہ امہات نعمت کا شکر کر کہ تو نے میری خدیجہ کو وجہ سے ایک تو آبائی عزت تھی اور دو سادات کی دامادی کی طرف اس عاجز سے ہیں۔ میر درد کے خاندان سے تعل
کے ہاتھ کے زخموں کی مرہم اور ان کے لگانے میں خرافات واہیہ میں فضول وقت ضائع کرتے ہوئے اس کے اخیر میں مسیح کا واقعہ صلیب کے مقام سے چوری چوری بھاگنا افغانستان، نیپال، درہ خیبر کی خاک چھانتے ہوئے پنجاب میں آنا اور قادیان میں قضائے حاجت کرنا۔ پھر کس مپرسی کی حالت میں کشمیر جانا اور وہاں ٨٧ برس کی گمنامی میں رہ کر محلہ خان یار میں یوز آصف کے نام سے قبر میں دفن ہونا بیان کیا ہے۔ مگر اس کا ثبوت مانگو تو ندارد اور زیادہ تنگ کرو گے تو کہہ دیں گے ہم نبی ہیں اور نبی جھوٹ تھوڑا ہی بولتے ہیں۔ رام جانے ہم تو سچے رسول ہیں اور اگر اعتبار نہ ہو تو ننکانہ صاحب کے مہنت سے پوچھ لیجئے۔ اگر ہم جھوٹے ہوتے تو جے سنگھ بہادر کا خطاب واہ گورجی مہاراج کیوں دیتے اور اگر اور زیادہ تسلی چاہئے ہو تو گورکل کانگڑی والے آریوں سے پوچھ لو کہ میرے حق میں کرشن بھگوان نے جو یہ کہا۔ آریوں کا بادشاہ ہے رودر گوپال تیری مہما گیتا میں لکھی ہے۔ یہ سب غلط تھوڑا ہی ہے۔ چنانچہ جب آپ سے بہت سی نسلوں کے ہونے کے متعلق لوگوں نے ثبوت مانگا تو آپ نے بڑے طمطراق سے جواب دیا۔ ملاحظہ ہو۔
کسی نے سوال کیا مرزا قادیانی یہ تو کہئے کہ آپ کے پاس فارسی النسل ہونے کا کیا ثبوت ہے اس کا جواب یہ دیا۔
”میرے پاس فارسی ہونے کے لئے بجز الہام الٰہی کے اور کچھ بھی ثبوت نہیں ۔ لیکن یہ الہام (" خذو التوحيد خذو التوحيد يا ابناء الفارس “ یعنی توحید کو پکڑو توحید کو پکڑو اے فارس کے بیٹو ) اس زمانے کا ہے کہ جب اس دعوے کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔ یعنی آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں لکھا ہے۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ١٨، خزائن ج ١٧ص ١١٦)
پھر کسی نے پوچھا اجی حضرت فاطمی النسل ہونے کے دلائل تو کہئے ۔ جواب دیا ”اور بنی فاطمہ ہونے میں یہ الہام ہے۔ ”الحمد لله الذی جعل لکم الصهر و النسب اشکر نعمتی راثیت خدیجتی“ یعنی تمام حمد و تعریف اس خدا کے لئے ہے۔ جس نے تمہیں فخر دامادی اور فخر علو نسب جو دونوں مماثل اور مشابہ ہیں عطاء فرمایا۔ یعنی تمہیں سادات کا داماد ہونے کی عزت عطاء کی اور نیز بنی فاطمہ امہات میں سے پیدا کر کے تمہارے نسب کو عزت بخشی اور میری نعمت کا شکر کر کہ تو نے میری خدیجہ کو پایا ۔ ( شاید یہ خدا کی لڑکی کا نام ہے نعوذ باللہ !) بنی اسحاق کی وجہ سے ایک تو آبائی عزت تھی اور دوسری بنی فاطمہ ہونے کی عزت اس کے ساتھ ملحق ہو گئی اور سادات کی دامادی کی طرف اس عاجز کی بیوی کی طرف اشارہ ہے جو سیدہ سندی سادات دہلی میں سے ہیں۔ میر درد کے خاندان سے تعلق رکھنے والے اس فاطمی تعلق کی طرف اس کشف میں اشارہ
ہے۔ جو آج سے تیس برس پہلے براہین احمدیہ میں شائع کیا گیا۔ جس میں دیکھا تھا کہ حضرات پنجتن سید الکونین، حسنین، فاطمۃ الزہرا اور علیٰ عین بیداری میں آئے اور حضرت فاطمہؓ نے کمال محبت اور مادرانہ عطوفت کے رنگ میں اس خاکسار کا سر اپنی ران پر رکھ لیا اور عالم خاموشی میں ایک غمگین صورت بنا کر بیٹھے رہے۔ اسی روز سے مجھ کو اس خونی آمیزش کے تعلق پر یقین کلی ہوا۔ فالحمدللہ علیٰ ذالک‘‘
(تحفہ گولڑویہ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ١١٨)
کوئی اور مانے نہ مانے میں تو کشف کا قائل ہوں۔ ابھی پرسوں ہی کا واقعہ ہے کہ جناب مرزا قادیانی مع دخیل عین بیداری میں تشریف لے آئے اور ان کے ساتھ ایک عورت بھی تھی۔ میں نے دیکھا کہ ان دونوں میں کچھ محبت تھی کچھ نفرت بھی معلوم ہوئی۔ اتفاق کی بات ہے کہ جس مکان میں ملاقات ہوئی وہ مکان خاکروبوں کا تھا۔ مرزا قادیانی اور وہ عورت ایک تخت چوب پر بیٹھ گئے اور میں نے محمدی کے نکاح کے متعلق کچھ بات چیت شروع کر دی۔ آپ بہت دیر ناکام عاشق زار و قطار روتے رہے۔ مجھے بھی آنسوؤں کی بارش دیکھ کر خیال ہوا کہ میں بھی ساتھ روؤں۔ مگر آنسو نہ آئے میں نے نظر بچا کر پانی کا چھینٹا منہ پر دے لیا۔ وہ عورت قہقہہ زن ہوئی میں نے مرزا قادیانی کو توجہ دلائی آپ اس قدر دکھی ہیں اور رو رہے ہیں مگر یہ آپ کی ساتھ والی ماتم میں خوشی کر رہی ہے تو مرزا قادیانی برہم ہو کر بولے تم نہیں جانتے یہ کون ہے۔ یہ وہی (پھجے دی ماں یعنی آپ کی پہلی بیوی) ہے جس نے میرا ستیاناس کر دیا اور اس نکاح میں از حد مخالفت کی وہ بولی آپ نے بھی تو مجھے طلاق دی۔ میرے بچوں کو عاق کیا۔ آہ! میرا جواں مرگ بیٹا آپ کی اطاعت میں جب بیوی کو طلاق دے کر بیمار ہوا تو کوئی تیمارداری کرنے والا پاس نہ تھا۔ دوائی تو کیا بیچارے کو غذا نہ ملی اور سسک کر دم توڑا۔ آپ کی نبوت پہ تھوکوں آپ سے یہ بھی نہ ہو سکا اور تمہارا خون اس قدر سفید ہو گیا کہ اس کی نماز جنازہ نہ پڑھ سکے۔ اس پر معاملہ بڑھ گیا اور نوبت ہاتھا پائی تک پہنچی۔ میں نے بہتیرا بیچ بچاؤ کیا۔ مگر لا حاصل لڑتے لڑتے وہ دونوں گڑھوں میں گر گئے۔ یہ دو ایسے گڑہے تھے جن میں ایک گندگی (پاخانہ) پڑا تھا اور دوسرے میں جنگلی شہد۔ آہ! مرزا قادیانی کی بیوی گندگی میں گر گئی اور مقام شکر ہے مرزا قادیانی شہد میں گرے۔ مگر میری حیرت کی انتہاء جاتی رہی جب یہ دیکھا کہ وہی جوڑا جو ابھی لڑ جھگڑ رہا تھا ایسا مونس و غمگسار ہوا کہ ایک دوسرے کو زبان سے چاٹ کر صاف کرنے لگا۔ مجھ سے جاتے جاتے مرزا قادیانی نے اتنا کہا کہ محمدی میری ہے اور میں اس کا ہوں۔ فالحمدللہ علیٰ ذالک!
یہ تو ایک ضمنی بات تھی جو درمیان میں آ گئی۔ اب وہ مرزائی تفسیر ’’وَاِذْ كَفَفْتُ بَنِي
اس وعدہ الہی کا ترجمہ اے عیسیٰ میں تجھ کو موت دوں گا اور تیری روح کو اپنی طرف اٹھاؤں گا اور تجھ کو یہود سے پاک کروں گا جیسے کہ قرآنی الفاظ ”یــا عیسی انـی متوفیک ورافعک الی ومطهرك من الذين كفروا “ کے کئے جائیں جو مرزا قادیانی کرتا ہے تو یہاں اور بھی اشکال بڑھ جاتے ہیں وہ یہ کہ اس ترجمہ کے مطابق اگر جناب مسیح مصلوب ہوں تو جہاں اور بہت سے وعدے جھوٹے ہوتے ہیں وہاں یہ آیت یہود کی تائید کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی تجویز میں ناکام رہا اور یہودی کامیاب ہو گئے۔ اس کے علاوہ مشکل یہ پڑتی ہے کہ مرزا قادیانی کہتا ہے کہ خدا نے موت کا وعدہ دیا تھا۔ مگر مسیح زخموں کی وجہ سے بیہوش ہو گیا اور پھانسی پر نہ مرا گویا کہ خدا کا یہ وعدہ کہ میں تم کو موت دوں گا پورا نہ ہوا۔ وہ بیہوشی میں جہاں یہود کو دھوکہ دے گیا وہاں خدا بھی دھوکے سے نہ بچ سکا۔ وہ بھی یہ سمجھا کہ مسیح مر گیا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ نہیں مرا بلکہ بیہوش ہو گیا۔ اب اس کے ساتھ دوسرا وعدہ میں تیری روح کو اٹھاؤں گا بھی جھوٹا ہوا۔ کیونکہ جب وہ مرا ہی نہیں تو روح کیسے اٹھائی جاسکتی ہے اور اس کے بعد تیسرا وعدہ یعنی میں تم کو یہود سے پاک کروں گا بھی جھوٹا ہوا۔ کیونکہ جب یہود نے من مانی باتیں حسب خواہش کر لیں اور اپنے مکر میں کامیاب ہوئے تو یہ وعدہ بھی جھوٹا ہوا، اس کے علاوہ مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ وہ بیچارا مارا مارا پھرتا رہا اور آخر بمشکل کشمیر پہنچا اور ٨٧ برس کی زندگی غربت و کس مپرسی میں بسر کرنے کے بعد محلہ خانیار میں دفن ہوا۔ اچھا خدا ہے جو ٨٧ برس پہلے وعدہ کر رہا ہے کہ میں تمہیں موت دوں گا اور وعدہ کر کے ٨٧ برس بھول ہی گیا اور اس مدت مدید کے بعد ایفاء یاد آئی۔ مگر افسوس اب مسیح مسیح نہ تھا نہ وہ صاحب کتاب نبی رہ گیا تھا۔ نہ اس کے پاس معجزات تھے نہ اس کے دوش گردن پر تبلیغ رسالت تھی۔ نہ ہی اس نے وہ کہولت میں وعدہ الہی کے مطابق کلام کیا۔ بلکہ وہ بیچارا تو صلیب سے اس قدر خائف ہوا کہ کشمیر میں مسیح کا نام ظاہر کرتے ہوئے بھی کانپا اور اپنا نام یوز آسف رکھ لیا اور تبلیغ رسالت شاید اس لئے نہ کی کہ کشمیری زبان کو وہ نہ جانتا تھا اور اہل کشمیر عبرانی زبان سے محض کورے تھے۔ باقی رہے معجزات تو وہ صلیب کے ڈر سے کنارہ کش ہو گئے۔ کیونکہ بقول مرزا جو صلیب پر چڑھایا جائے وہ لعنتی ہو جاتا ہے اور بھلا لعنتی کے پاس معجزات کہاں اور اس طرح سے اللہ تعالیٰ کا وہ وعدہ بھی جھوٹا ہوا جو ”وجـیـهـا فـی الـدنـیـا“ کا تھا۔ غرضیکہ ان خرافات و توہمات پر اگر یقین کریں تو خدا کی خدائی باطل ہوتی ہے اور یہ جو انـی مـتـوفـیـک کے معنی طبعی موت قادیانی اصطلاح میں لئے جاتے ہیں۔ لغت کی کسی کتاب سے یا عام عربی محاورہ اور بول چال سے یا اقوال الرجال سے یا شارح علیہ السلام سے قطعاً منقول نہیں اور ہر جگہ ان معانی کی تحقیر وتذلیل ہی ہوتی ہے۔ اگر کوئی قادیانی
برس پہلے براہین احمدیہ میں شائع کیا گیا۔ جس میں دیکھا تھا کہ حضرات ین، فاطمۃ الزہرا اور علیؓ عین بیداری میں آئے اور حضرت فاطمہؓ نے کمال ت کے رنگ میں اس خاکسار کا سر اپنی ران پر رکھ لیا اور عالم خاموشی میں ایک بیٹھے رہے۔ اسی روز سے مجھ کو اس خونی آمیزش کے تعلق پر یقین کلی ہوا۔ ک“
(تحفہ گولڑویہ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ١١٨)
ا نے نہ مانے میں تو کشف کا قائل ہوں۔ ابھی پرسوں ہی کا واقعہ ہے کہ و تمثیل عین بیداری میں تشریف لے آئے اور ان کے ساتھ ایک عورت بھی سان دونوں میں کچھ محبت تھی کچھ نفرت بھی معلوم ہوئی۔ اتفاق کی بات ہے قات ہوئی وہ مکان خاکروبوں کا تھا۔ مرزا قادیانی اور وہ عورت ایک تخت ما نے محمدی کے نکاح کے متعلق کچھ بات چیت شروع کر دی۔ آپ بہت دیر روتے رہے۔ مجھے بھی آنسوؤں کی بارش دیکھ کر خیال ہوا کہ میں بھی ساتھ میں نے نظر بچا کر پانی کا چھینٹا منہ پر دے لیا۔ وہ عورت قہقہ زن ہوئی میں ولائی آپ اس قدر دکھی ہیں اور رو رہے ہیں مگر یہ آپ کی ساتھ والی ماتم رزا قادیانی برہم ہو کر بولے تم نہیں جانتے یہ کون ہے۔ یہ وہی (محمدی ماں ) ہے جس نے میرا ستیا ناس کر دیا اور اس نکاح میں از حد مخالفت کی وہ بولی ق دی۔ میرے بچوں کو عاق کیا۔ آہ! میرا جواں مرگ بیٹا آپ کی اطاعت دے کر بیمار ہوا تو کوئی تیمارداری کرنے والا پاس نہ تھا۔ دوائی تو کیا بیچارے دم توڑا۔ آپ کی نبوت پر تھوکوں آپ سے یہ بھی نہ ہو سکا اور تمہارا خون س کی نماز جنازہ نہ پڑھ سکے۔ اس پر معاملہ بڑھ گیا اور نوبت ہاتھا پائی تک بچاؤ کیا۔ مگر لاحاصل لڑتے لڑتے وہ دونوں گڑھوں میں گر گئے۔ یہ دو ایسے یک گندگی (پاخانہ) پڑا تھا اور دوسرے میں جنگلی شہد۔ آہ ! مرزا قادیانی کی ر مقام شکر ہے مرزا قادیانی شہد میں گرے۔ مگر میری حیرت کی انتہاء جاتی ہی جوڑا جو ابھی لڑ جھگڑ رہا تھا ایسا مونس و غمگسار ہوا کہ ایک دوسرے کو زبان نے لگا۔ مجھ سے جاتے جاتے مرزا قادیانی نے اتنا کہا کہ محمدی میری ہے
الحمدلله على ذالك!
بات تھی جو درمیان میں آگئی۔ اب وہ مرزائی تفسیر ”واذ كففت بنى
لغت کی کسی کتاب سے یہ معنی نکال دے تو علاوہ انعام کے ایک سو روپیہ چہرے شاہی نذرانہ لے مگر کسی میں ہمت بھی ہے؟
کس قدر ڈھٹائی اور بے ایمانی ہے کہ واقعہ کی نوعیت کو عمداً سمجھنے کی کوشش کی بجائے اس پر ایک نہایت بھونڈے اور بھدے انداز میں دھول ڈال کر واقعات کو چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ سچ ہے سوئے ہوئے کو تو جگایا جا سکتا ہے مگر جاگتے کو بھلا کون جگائے۔ حالانکہ یہ واقعہ ہی نہایت سادہ اور سیدھا ہے۔ اس میں کوئی پیچ پیچ یا بھول بھلیاں نہیں۔ یہود مسیح کے لئے قتل وصلیب کا حیلہ سوچتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جو علام الغیوب ہے وہ ان کی خفیہ تجویز کے مقابل نیک تدبیر بناتا ہے۔ وہ قتل کرنا چاہتے ہیں اور مشیت الٰہی اسے ایک دراز زمانہ کے لئے زندہ رکھنا چاہتی ہے۔ وہ اسے قتل وصلیب کے لئے گرفتار کر لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اسے جبرائیل امین کے ذریعے مدد دیتا ہے اور آسمان پر اٹھا لیتا ہے اور مسیح کی شبیہ اس کے گرفتار کرنے والے سب سے زیادہ قصوروار اعداء اللہ پر جو مسیح کے لئے گڑھا کھود رہا تھا پہ ڈال دیتا ہے۔ چنانچہ ”چاہ کندہ را چاہ در پیش“ کے مصداق وہ اس میں خود گرتا ہوا مصلوب ہو جاتا ہے۔ اب یہودی یہ سمجھتے ہیں کہ مسیح مصلوب ہو گیا۔ عیسائی یہودیوں سے یہی چیز اپنے عقیدہ میں داخل کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مسیح ہمارے گناہوں کے کفارہ کے لئے پھانسی چڑھ گیا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ ان دونوں کی پرزور تردید کرتے ہیں اور اصل واقعہ یوں ہے۔ جیسا کہ فرقان حمید اس پر روشنی ڈالتا ہے۔
”تلك الرسل فضلنا بعضهم على بعض منهم من كلم الله ورفع بعضهم درجت واتينا عيسى ابن مريم البينت وايدناه بروح القدوس (بقرہ:٢٥٣)“ ﴿یہ سب رسول فضیلت دی ہم نے ان میں بعض کو بعض سے کوئی تو وہ ہے کہ کلام فرمایا اس سے اللہ نے اور بلند کئے بعضوں کے درجے اور دیئے ہم نے عیسیٰ مریم کے بیٹے کو معجزے صریح اور قوت دی اس کو روح القدس یعنی جبرائیل سے۔﴾
چنانچہ مرزا قادیانی خود اقرار کرتے ہیں کہ ”یہودیوں نے حضرت مسیح کے لئے صلیب کا حیلہ سوچا تھا خدا نے مسیح کو وعدہ دیا کہ میں تجھے بچاؤں گا اور تیرا اپنی طرف رفع کروں گا۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ٨، خزائن ج ١٧ ص ٣٩٤)
چنانچہ اس کی تائید میں اللہ تعالیٰ نے بار بار فرمایا کہ ہم نے مسیح کو روح القدس سے مدد دی۔ اب اگر کوئی سرپھرا خدائی خوار اس سے انکار کرے کہ جبرائیل نے مسیح کی کوئی مدد نہیں کی تو اس بد لگام کو باری تعالیٰ پر بھروسہ اور ایمان نہیں۔
شارع علیہ السلام کے وہ نیک بخت و صاحب نصیب صحابی جو عند المرزا نہایت معتبر اور قابلِ احترام ہیں اور ”جن کے حق میں قرآن کے سمجھنے اور حافظہ کی دعاء سرکارِ مدینہ نے فرمائی۔“ (ازالہ اوہام ص١٠٢) وہ تو یہ فرمائیں۔
”جب یہود مسیح کو قتل کرنے کے لئے اکٹھے ہوئے اس وقت اللہ تعالیٰ نے اسے خبر دی کہ میں تجھے آسمان پر اٹھالوں گا اور کفار یہود کی صحبت سے تمہیں پاک رکھوں گا۔“
اب اس آیت کی تفسیر بھی ملاحظہ فرمائیں جس کے قائل ابن عباسؓ ہیں۔
”جب وہ شخص مسیح کو پکڑنے کے لئے گیا تھا مکان کے اندر پہنچا تو خدا نے جبرائیل علیہ السلام کو بھیج کر مسیح علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا اور اسی بدبخت یہودی کو مسیح کی شکل پر بنا دیا۔ پس یہود نے اسی کو قتل کیا اور صلیب پر چڑھایا۔ تفسیر معالم!“ (نسائی و ابن مردویہ ذکرہ فی السراج المنیر)
اور اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جناب مسیح کو بطور احسان یہ فرمائے۔ ”اِذْ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ اذْکُرْ نِعْمَتِیْ عَلَیْکَ وَعَلٰی وَالِدَتِکَ اِذْ اَیَّدْتُّکَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ“
﴿جب کہے گا اللہ، اے عیسیٰ مریم کے بیٹے یاد کر میرا احسان جو ہوا تجھ پر اور تیری ماں پر جب مدد کی تیری میں نے روحِ پاک سے۔﴾
خدا تو اس مدد کا احسان جتلاوے اور مرزا یہ ترجمہ کرے کہ اے عیسیٰ میں تجھے موت دوں گا اور تیری روح کو اپنی طرف اٹھاؤں گا۔ حیف ہے اس ترجمے پر اور افسوس ہے اس نظریے پر حیران ہوں کہ مدد دینے کو جان لینے کے مترادف کیونکر سمجھا گیا؟ اور روح القدس تو انبیاء کے پاس خوشخبریاں لے کر آتے ہیں اور تذکرہ بھی ایسا ہی ہے اور مرزا قادیانی کہتا ہے کہ میں تیری جان لوں گا۔ گویا یہود پلید کی تجویز کو کامیاب بناؤں گا۔ اگر مدد مرزائی عقائد کے مطابق ہوتی تو اللہ تعالیٰ جان سے مارنے کو بطور احسان کے یاد نہ دلاتے اور جان لینا جبرائیل کا کام نہیں وہ تو عزرائیل کی ڈیوٹی ہے اور ایسے مقام پر وہی آتا ہے۔ یہاں تو جبرائیل سے مدد دینے کا سوال ہے اور واقعہ بھی سوائے صلیب دینے کے کوئی نہیں اور یہ مدد کا دینا کسی اہم و کٹھن موقعہ کا متقاضی ہے اور وہ قرآن کے سیاق و سباق سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ مدد واقعہ صلیب کے وقت ہی ہوئی۔ جیسا کہ اجماع امت میں چلا آتا ہے۔ ہاں شاید کوئی اور واقعہ اس جھوٹے نبی کو بتایا گیا ہو جو ذات باری کو اللہ تعالیٰ کے نزول کا مقام قرار دیتا ہو! باری سے استدلال لیتا ہو، اور جو غلام قادر بڑے بھائی کا غلام کاٹ کر قادر کو خدا بنالیتا ہو اور جو دجل پور کی تعریف کرتا ہوا قاضی سے کادی اور کادی سے کدہ
اور مکہ سے قادیان بنانے میں نہ شرمائے، اور جو بڑے انگریز سے الہام سنے اور اسے قطعی میں درج کرے، اور الہاموں کا ترجمہ آریوں سے کرائے۔ جیسا کہ براہین احمدیہ میں ص٤٨٠ پر وہ خود اقرار کرتا ہے۔ ”ایک دفعہ کی حالت یاد آئی کہ انگریزی میں اول یہ الہام ہوا۔ ’آئی۔لو۔یو‘ یعنی میں تم سے محبت رکھتا ہوں۔ پھر یہ الہام ہوا ’آئی۔ایم۔ود۔یو‘ یعنی میں تمہارے ساتھ ہوں۔ پھر الہام ہوا ’آئی۔شیل۔ہیلپ۔یو‘ یعنی میں تمہاری مدد کروں گا۔ پھر الہام ہوا ’آئی۔کین۔ وٹ۔آئی۔ول۔ڈو‘ یعنی میں کر سکتا ہوں جو چاہوں گا۔ پھر اس کے بعد بہت ہی زور سے جس سے بدن کانپ گیا یہ الہام ہوا ’وی۔کین۔وہٹ۔وی۔ول۔ڈو‘ یعنی ہم کر سکتے ہیں جو چاہیں گے اور اس وقت ایک ایسا لہجہ اور تلفظ معلوم ہوا کہ گویا ایک انگریز ہے جو سر پر کھڑا ہوا بول رہا ہے۔ ص٤٨٤ پر دو فقرے انگریزی میں الہام ہوئے۔ ”گاڈ۔از۔کمنگ۔بائی۔ہز۔آرمی‘ ’ہی۔از۔ود۔یو۔ٹو۔کل۔انیمی“ یعنی خدا تعالیٰ دلائل اور براہین کا لشکر لے کر چلا آتا ہے وہ دشمن کو مغلوب اور ہلاک کرنے کے لئے تمہارے ساتھ ہے۔ اسی طرح اور بھی بہت سے فقرات تھے جن میں سے کچھ تو یاد ہیں اور کچھ بھول گئے ۔“
(براہین احمدیہ ص٤٨٤، خزائن ج١ ص٥٧٦)
یہ بھی بتا دوں کہ مرزا قادیانی کی وحی کا کون کاتب تھا اور کون مصدق ہوا کرتے تھے۔ ”ایک پنڈت کا بیٹا شام لال نامی جو ناگری اور فارسی دونوں میں لکھ سکتا تھا بطور روزنامچہ نویس ( کیا نبوت کی دوکان کھول رکھی تھی ) کے نوکر رکھا ہوا تھا اور بعض امور غیبیہ جو ظاہر ہوتے تھے اس کے ہاتھ سے وہ ناگری اور فارسی خط میں قبل از وقوع لکھائے جاتے تھے اور پھر شام لال مذکور کے اس پر دستخط کرائے جاتے تھے۔ چنانچہ پیش گوئی بھی بدستور اس سے لکھائی گئی اور اس وقت کئی آریوں کو بھی خبر دی گئی اور ابھی پانچ روز نہیں گذرے تھے جو پنتالیس روپیہ کا منی آرڈر جہلم سے آگیا ...... کچھ عرصہ گذرا کہ خواب میں دیکھا تھا کہ حیدر آباد سے نواب اقبال الدولہ صاحب کی طرف سے خط آیا ہے اور اس میں کس قدر روپیہ دینے کا وعدہ لکھا ہے۔ یہ خواب بھی بدستور روزنامچہ مذکورہ بالا میں اس ہندو کے ہاتھ سے لکھائی گئی اور کئی آریوں کو اطلاع دی گئی۔ پھر تھوڑے دنوں بعد حیدرآباد سے خط آیا اور نواب صاحب موصوف نے سو روپیہ بھیجا۔ فالحمد للہ علیٰ ذالک!“
(براہین احمدیہ ص٤٧٨، خزائن ج١ ص٥٦٩)
یہ ہیں پنجابی نبوت کے کارنامے جن پر دجال قادیان اترایا کرتا ہے۔ یہاں اسرارِ الٰہی کہاں یہاں رموزِ سرمدی کھلیں یہ ناممکن ہے یہ تو صاحب انگریزی پودا ہے جو سرکاری بنگلوں ہی کو
سبب دیتا ہے۔ اسے اللہ والوں کی طرف حرم والوں سے وہاں قرآن اتر اب بڑے انگریز کے لب و ا کہ واذ ایدناہ بروح القدس کا کیا ناپاک مادے کا بنایا ہوا انسان کارخانہ قابلیت ہی نہیں رکھتا۔ اسی لئے یہ حکم م تمہاری رفاقت کریں وہاں تک رہا کرو استفادہ حاصل کرو۔ معارف دقیقہ کا س سے نہیں عمل سے ہے۔ رموزِ الٰہی کا مآخذ پورے پورے قابض تھے۔ اسرار یزدانی کو خدا سے زیادہ عزیز نہ رکھے وہ کیا جا کی خواہیں دیکھتا اور مال واملاک کے کش مانگتا اور کوڑیوں کی زمین کو کیمیا بناتا ہوا لنگر کے نام پر ہزاروں اینٹھ لے اور ن لگائے اور پھر الہام بھی کیسے گول مول ن
- ١...... چوہدری رستم علی
- ٢...... بستر عیش
- ٣...... انشاء اللہ
- ٤...... آج سے یہ شر
- ٥...... افسوس صد افس
- ٦...... ایک دانہ کس ک
- ٧...... گورنر جنرل ک
- ٨...... اس کتے کا آخ
- ٩...... میں سوتے سو
زیب دیتا ہے۔ اسے اللہ والوں کی طرف سے کیا کام۔ اکبر الہ آبادی مرحوم کیا ٹھیک کہہ گئے۔
وہاں قرآن اترا تھا یہاں انگریز اترے ہیں
اب بڑے انگریز کے لب ولہجہ کا عادی انسان، رموز الٰہی اور اسرار یزدانی کو کیا جانے کہ واذ ایدناہ بروح القدس کا کیا مطلب ہے۔ ڈیڑھ انچ کی اوندھی کھوپڑی والا گندے اور ناپاک مادے کا بنایا ہوا انسان کارخانہ الوہیت کو کیا سمجھے اور کس برتے پہ سمجھے؟ جب کہ سمجھنے کی قابلیت ہی نہیں رکھتا۔ اسی لئے یہ حکم شارع علیہ السلام نے فرمایا کہ جہاں تک تمہارے دماغ تمہاری رفاقت کریں وہاں تک رہا کرو اور کوئی بات جو تمہاری سمجھ میں نہ آئے اہل ذکر وفکر سے استفادہ حاصل کرو۔ معارف دقیقہ کا سمجھنا قال سے نہیں حال سے ہے۔ ایمان کا مظاہرہ باتوں سے نہیں عمل سے ہے۔ رموز الٰہی کا کما حقہ وہی سمجھے جو پاک لوگ تھے اور جو خواہشات ونفسیات پر پورے پورے قابض تھے۔ اسرار یزدانی کو وہ جانے جو دنیا کے تفکر مال واملاک اولاد، بیوی، جان کو خدا سے زیادہ عزیز نہ رکھے وہ کیا جانے جو منی آرڈروں پر دستخط کرتا اور روپیہ سنبھالتا، زرو جواہر کی خوابیں دیکھتا اور مال واملاک کے کشف بیان کرتا کہیں کتابوں کے نام پہ، تو کہیں تبلیغ کے کام پہ مانگتا اور کوڑیوں کی زمین کو کیمیا بناتا ہوا، بہشتی مقبرہ کہہ دے اور جو اپنی قبر چاندی کی بیان کرے۔ اور لنگر کے نام پر ہزاروں اینٹھ لے اور نبوت کے نام کی تذلیل کرے اور الہامات کے نام پہ بٹہ لگائے اور پھر الہام بھی کیسے گول مول نہ سر نہ پیر۔ الٰہی خیر، نمونہ ملاحظہ ہو۔
- ١...... چوہدری رستم علی
(البشریٰ ج ٢ ص ٩٤، تذکرہ ص ٥٣٢)
- ٢...... بستر عیش
(البشریٰ ج ٢ ص ٨٨، تذکرہ ص ٤٩٩)
- ٣...... انشاء اللہ
(البشریٰ ج ٢ حصہ اول ص ٦٥، تذکرہ ص ٤٠١)
- ٤...... آج سے یہ شرف دکھلائیں گے ہم
(البشریٰ ج ٢ ص ٦٨، تذکرہ ص ٤٠٧)
- ٥...... افسوس صد افسوس
(البشریٰ ج ٢ ص ٧١، تذکرہ ص ٤١٩)
- ٦...... ایک دانہ کس کس نے کھایا
(البشریٰ ج ٢ ص ١٠٧، تذکرہ ص ٥٩٥)
- ٧...... گورنر جنرل کی پیش گوئیوں کے پورا ہونے کا وقت آ گیا
(البشریٰ ج ٢ ص ٥٧، تذکرہ ص ٣٣٢)
- ٨...... اس کتے کا آخری دم
(رسالہ مکاشفات مرزا ص ٢٢، تذکرہ ص ٤٧٧)
- ٩...... میں سوتے سوتے جہنم میں پڑ گیا
(البشریٰ ج ٢ ص ٩٥، تذکرہ ص ٥٣٥)
- ١٠...... خیر مبین
(ملفوظات ج٦ ص١٤٠)
- ١١...... کیا عذاب کا معاملہ درست ہے۔ اگر درست ہے تو کس حد تک
(البشریٰ ج ٢ص ٩٧، ٩ مئی ١٩٠٨ء)
- ١٢...... اس پر آفت پڑی اس پہ آفت پڑی
(مکاشفات ص ٤١، تذکرہ ص ٥٥٥)
- ١٣...... زندگیوں کا خاتمہ
(البشریٰ ج ٢ص ١٠٣، تذکرہ ص ٥٧٧)
- ١٤...... ہم نے وہ جہاں چھوڑ دیا
(البشریٰ ج ٢ص ٩٥، تذکرہ ص ٥٣٢)
یہ الہام ہیں یا گوزشتر۔ سبحان اللہ! اس برتے پہ نبوت ہو رہی ہے اور کلام مجید کے معارف کی ڈینگیں ماری جاتی ہیں۔ سنو اور خوب غور سے سنو، نبوت تو اس پاکوں کے پاک اور خاصوں کے خاص پر ختم ہوگئی اور جو بھی اس کے بعد دعویٰ کرے وہ متنبّی وکاذب ہے، اور آیت ایدناہ بروح القدس کے معنی وہی ٹھیک ہیں جو حضورﷺ نے سمجھے، صحابہ کبار نے بیان کئے آئمہ نے دھرائے۔ حیاتِ مسیح ایک ایسا اہم اور یقینی اعتقادی مسئلہ ہے جس پر اجماع امت ہے۔ کوئی نہیں جو اس کی تحقیر کرے اور ایمان نہ لائے اور پھر مسلمان کہلائے۔ تمام محدث، مفسر، اولیاء، اقطاب، ابدال، امام، مجدد، تابعین، تبع تابعین اس پر متفق ہیں۔ کوئی نہیں جو مسیح کو مردہ خیال کرے یا تاویلات باطلہ میں سرکار مدنی کی امت کو گمراہ کرے۔ مرزا قادیانی کا اپنا بیان ہے کہ یہ اجماعی عقیدہ ہے اور جو اس عقیدہ کو نہ مانے وہ پکا بے ایمان ہے۔ ملاحظہ ہو:
”مسیح موعود (عیسیٰ ابن مریم) کے بارے میں جو حدیث میں پیش گوئی ہے وہ ایسی نہیں ہے کہ جس کو صرف آئمہ حدیث نے چند روایتوں کی بناء پر لکھا ہو وبس۔ بلکہ یہ ثابت ہوگیا ہے کہ یہ پیش گوئی عقیدہ کے طور پر ابتداء سے مسلمانوں کے رگ وریشہ میں داخل چلی آئی ہے۔ گویا جس قدر اس وقت روئے زمین پر مسلمان تھے اسی قدر اس پیش گوئی کی صحت پر شہادتیں موجود تھیں۔ کیونکہ عقیدہ کے طور پر وہ اس کو ابتداء سے یاد کرتے چلے آتے تھے۔ اگر نعوذ باللہ یہ افتراء ہے تو اس افتراء کی مسلمانوں کو کیا ضرورت تھی اور کیوں انہوں نے اس پر اتفاق کرلیا ہے اور کس مجبوری نے انہیں اس افتراء پر آمادہ کرلیا۔“
(شہادۃ القرآن ص ٨،خزائن ج٦ ص ٣٠٤)
ان حقائق سے یہ روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جبرائیل امین سے آپ کی اعانت اور جیسا کہ معراج میں سرکار مدینہﷺ کی فرمائی اور زندہ روح مع الجسم آسمان پر اٹھا لیا۔ ”سبحان الذی اسریٰ بعبدہ لیلاً من المسجد الحرام الی المسجد الاقصیٰ“
مرزائی یہاں اعتراض کیا کر حالانکہ اسی رکوع میں جہاں اللہ تعالیٰ نے ا و انجیل سکھانے کا بھی احسان جتلایا۔ اگر احسان جتلانا کیا معنی رکھتا ہے اور پھر سید بخاری کا یہ عقیدہ ہے، فلاں بزرگ کا یہ عقی لیتے ہیں۔ وگرنہ کوئی بھی اللہ کا بندہ ایسا نہیں اپنی تفسیر بیان القرآن زیر آیت ”وایدنا میں روح القدس کے معنی انجیل ہیں۔ اس تردید کراتے ہیں ملاحظہ فرمائیں:
ہم جناب امام ابن جریر کی مب پیش کرتے ہیں۔ بہترین تاویلات میں لیتے ہیں اس لئے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ السلام کو تائید دی ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے اذکر نعمتی علیک وعلیٰ والدتک کے ساتھ اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت جو ”ایدتک بروح القدس“ او والانجیل“ تکرار بغیر معنی کے ہو مراد ہو تو پھر انجیل کا لانا بے فائدہ۔ حال صاف معلوم ہوا کہ جو روح القدس سے یہ نیم یہودی اس مقام پر ذریعے انہیں سوائے آسمان کے اور کسی انبیاء کے پاس وہ آتے رہے۔ مگر انھو انوکھا اور نرالہ مسئلہ ہے۔ جو عقل انسانی میں تمہیں اپنی طرف اٹھاوں گا۔ اب دوسرا وعدہ تھا کہ میں تمہیں صحبت یہو یہودی بھائی پھیلے ہوئے تھے۔ پھر ان
مرزائی یہاں اعتراض کیا کرتے ہیں کہ روح القدس کے معنی انجیل شریف ہے۔ حالانکہ اسی رکوع میں جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے احسان گنوائے وہاں کتاب اور تہہ کی باتیں توریت وانجیل سکھانے کا بھی احسان جتایا۔ اگر روح القدس کے معنی انجیل ہے تو پھر انجیل کا دوبارہ احسان جتلانا کیا معنی رکھتا ہے اور پھر سینہ زوری سے معصومین کے نام پر دنیا کو گمراہ کرنا کہ امام بخاری کا یہ عقیدہ ہے، فلاں بزرگ کا یہ عقیدہ ہے کہ مسیح مر گیا۔ یہ سب مغالطے دجل کی پرورش کے لئے ہیں۔ وگرنہ کوئی بھی اللہ کا بندہ ایسا نہیں جس نے یہ گندہ اعتقاد پیش کیا ہو۔ اب پادری محمد علی اپنی تفسیر بیان القرآن زیر آیت ”وایدناہ بروح القدس“ کہتا ہے کہ امام ابن جریر کے عقیدہ میں روح القدس کے معنی انجیل ہیں۔ اس لئے ہم جناب امام موصوف سے اس برے عقیدے کی تردید کراتے ہیں ملاحظہ فرمائیں:
ہم جناب امام ابن جریر کی مبسوط کلام کو بخوف طوالت چھوڑتے ہوئے انکا اپنا فیصلہ پیش کرتے ہیں۔ بہترین تاویلات میں سے یہاں صحیح وہی ہے جو روح القدس سے مراد جبرائیل لیتے ہیں اس لئے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہاں ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تائید دی ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے۔ ”اذ قال اللہ یا عیسی ابن مریم اذکر نعمتی علیک وعلی والدتک اذ ايدتك بروح القدس“ پس اگر روح القدس جس کے ساتھ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو تائید دی تھی۔ انجیل ہو تو البتہ قول باری تعالیٰ میں جو ”اذ ايدتك بروح القدس“ اور ”واذ علمتك الكتب والحكمة والتوراة والانجيل“ تکرار بغیر معنی کے ہوتا ہے۔ کیونکہ تائید اور تعلیم ایک چیز ہے۔ اگر پہلے ہی انجیل مراد ہو تو پھر انجیل کا لانا بے فائدہ۔ حالانکہ باری تعالیٰ کی کلام اس تکرار بلا معنی سے منزہ ہے۔ تب صاف معلوم ہوا کہ جو روح القدس سے مراد انجیل لیتے ہیں وہ غلط ہے۔
یہ نیم یہودی اس مقام پر ایک اور اعتراض کرتے ہیں کہ کیا اللہ تعالیٰ جبرائیل کے ذریعے انہیں سوائے آسمان کے اور کسی دوسری جگہ مدد نہ دے سکتے تھے۔ حالانکہ اس سے پہلے بھی انبیاء کے پاس وہ آتے رہے۔ مگر انہوں نے کبھی اس قسم کی مدد نہ کی۔ یہ مسیح کو آسمان پر اٹھا لینا ایک انوکھا اور نرالا مسئلہ ہے۔ جو عقل انسانی سے بالاتر ہے۔ جواب اس کا یہ ہے کہ وعدہ الٰہی یونہی تھا کہ میں تمہیں اپنی طرف اٹھاوں گا۔ اب کہیے جناب کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو اٹھانے پہ قادر نہیں۔ دوسرا وعدہ تھا کہ میں تمہیں صحبت یہود سے پاک کروں گا اور ظاہر ہے کہ کرہ زمین پر تمہارے یہ یہودی بھائی پھیلے ہوئے تھے۔ پھر ان کی صحبت سے کیسے پاک ہو سکتے تھے اور یہ ایسی نامراد قوم تھی
جس کی شاخیں کرۂ ارض پر پھیلی ہوئی تھیں۔ انہیں جہاں بھی پتہ چلتا کہ مسیح وہاں ہے جھٹ پہنچ جاتے اور اس طریق سے وعدہ الٰہی ایفاء کے مراتب سے گر جاتا۔ نیز جناب مسیح کلمۃ اللہ تھے روح اللہ تھے ان میں صفات ملکیہ زیادہ تھیں۔ کیونکہ وہ نفخ جبرائیلؑ سے پیدا ہوئے تھے۔ اس لئے بھی کہ سنت انبیاء میں ہجرت کرنا سنت قدیم سے چلا آیا تھا۔ اس لئے ان کا آسمان پر ہی جانا مناسب تھا۔ کیونکہ ارواح اور کلمات کا مرجع وہی ہے اور ظاہر ہے کہ زمین پر یہ جنس نایاب نہیں ہے اور نہ ہی قادیان میں اس کا کوئی ادارہ کھلا ہے۔ نیز اس لئے بھی کہ اللہ تعالیٰ کو یہ منظور تھا کہ انہیں اپنی قدرت کاملہ کا ایک نمونہ بنائیں اور ایک لمبی زندگی دینے کے بعد اپنے پسندیدہ دین کی خدمت کرائیں۔ ”ان الدين عند الله الاسلام“ اور اپنے قادر ہونے کی عظمت تم جیسے دہریوں کو منوائیں۔ اس لئے ایک عرصہ کے لئے انہیں آسمان پر اٹھا لیا نیز یہ تو فرمائیے کہ تمام انبیاء اور دنیا کی پیدائش اللہ تعالیٰ نے عورت اور مرد کے باہمی ملاپ کے نتیجہ پر بتائی۔ مگر جناب مسیح کو بدوں باپ پیدا کیا۔ چونکہ ان کی پیدائش ہی اعجازی بنائی۔ اس لئے ان کی ہجرت بھی ایسی ہی ہونی چاہئے تھی جو اعجازی ہو۔ اس لئے انہیں آسمان پر اٹھا لیا اور اگر اس لمبی زندگی دینے پر ہی اعتراض ہے تو ملائکہ بھی تو لا تعداد ہزاروں برس سے آسمان پر زندہ موجود ہیں اور خدا بھی موجود ہے۔ کیا اس سے اس کی توحید میں خلل نہیں آتا۔ جو ایک مسیح کے زندہ ماننے میں تمہارے توازن دماغ کھوئے جا رہے ہیں۔ شیطان مع اپنی ذریت کے بھی تو زندہ ہے۔ ان دونوں کو بھی تو مارنے کی کوشش کرو اور بتاؤ کہ تمام انبیاء تو ماں اور باپ سے پیدا ہوں۔ مگر مسیح بن باپ جو جواب اس کا دو گے وہی جواب آسمان پر جانے کا ہے۔ سنو اور خوب غور سے سنو کہ اللہ تعالیٰ نے سرکار مدینہ ﷺ کی عظمت وسطوت کے لئے ایک صاحب کتاب نبی کو ایک وفادار جرنیل کی حیثیت میں خدمت دین کے لئے قرب قیامت میں بھیجنا مقدر کر رکھا ہے جو محمدی امام الصلوٰۃ کی اقتداء میں نماز ادا کرے گا خود امام بننا بھی گوارہ نہ کرے گا اور یہ کیوں کہ اس نے امت محمدیہ میں ہونے کی آرزو کی تھی جو دعائیں زبور میں بر بنا اس کی انجیل میں موجود ہے اور جو سابقہ اوراق میں بیان ہوئی، اور نیز ان کا آنا قیامت کے نشانات میں سے ایک نشان ہے جہاں تم یہ مانتے ہو کہ پہاڑ قرب قیامت میں ایسے اڑیں گے۔ جیسا کہ روئے کے گالے وہاں یہ کیا مشکل ہے کہ ایک انسان ایک لمبی زندگی گزارنے کے بعد امر مقرر کے ماتحت آسمان سے نازل ہو، اور جب کہ سرکار مدینہ کی پیش گوئی یہی ہے اور جیسا کہ صحاح ستہ میں سینکڑوں احادیث اس کی مؤید ہیں۔ یہ حضور ﷺ کی عزت و وقار کو بڑھانے کی چیز ہے نہ کم کرنے کی اور خدا کا کلام یہ کہتا ہے کہ مسیح اپنی امت پر قیامت کے دن گواہ ہوگا وہ
گواہی فرقانی الفاظ میں یوں لکھی ہے۔ ” ويوم القيامة يكون عليهم شهيدا “ اور باقی رہی موت تو اس کے متعلق بھی اتنا عرض کئے دیتا ہوں کہ وہ بھی جام موت پیئیں گے۔ مگر کب جب تمام یہود و نصاریٰ ان پر ایمان لے آئیں گے اور جیسا کہ قرآن کریم فرماتا ہے ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته“
یقین ہے میرے مرزائی دوست سمجھنے اور سدھرنے کی کوشش کریں گے اور اگر بفرض محال ابھی ان کے دل زنگار آلود ہی ہوں تو کلام الہی میں تریاق کا قحط نہیں۔ بیمار کو چاہئے کہ وہ مایوس و دل برداشتہ نہ ہو جائے۔ شافی مطلق نے دواؤں میں وہ وہ تاثیرات رکھے ہیں کہ سبحان اللہ اور یہ روحانی بیماریاں تو فرقانی تریاق کے سامنے ہیچ ہیں۔ ذرا غور و فکر کی ضرورت ہے اور پرہیز صرف اس قدر ہے کہ ان دہریوں اور نیچریوں کے پاس نہ بیٹھا جائے۔ اللہ بس باقی ہوس!
”وقولهم انا قتلنا المسيح عيسى ابن مريم رسول الله وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم وان الذين اختلفوا فيه لفي شك منه مالهم به من علم الا اتباع الظن وما قتلوه يقيناً بل رفعه الله اليه وكان الله عزيزا حكيما“ اور ان کے اس کہنے پر کہ ہم نے قتل کیا مسیح مریم کے بیٹے کو جو رسول تھا اللہ کا اور انہوں نے نہ اس کو مارا اور نہ سولی چڑھایا لیکن وہی صورت بن گئی ان کے آگے اور جو لوگ اس میں مختلف باتیں کرتے ہیں کچھ نہیں ان کو اس کی خبر صرف اٹکل پر چل رہے ہیں اور اس کو قتل نہیں کیا بے شک، بلکہ اس کو اٹھا لیا اللہ نے اپنی طرف اور اللہ ہے زبردست حکمت والا ۔
فوائد: از حضرت شیخ الحدیث جناب مولانا قبلہ شبیر احمد صاحب عثمانی مدظلہ العالی ۔
”اور ان کے اس قول پر کہ فخر سے کہتے تھے۔ ہم نے مار ڈالا عیسیٰ مریم کے بیٹے کو جو رسول اللہ کا تھا۔ اس وجہ سے ان پر عذاب اور مصیبتیں نازل ہوئیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے قول کی تکذیب فرماتا ہے کہ یہودیوں نے نہ عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کیا نہ سولی پر چڑھایا یا یہود جو مختلف باتیں اس بارہ میں کہتے ہیں اللہ نے ان کو شبہ میں ڈال دیا۔ خبر کسی کو بھی نہیں واقعی بات یہ ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا اور اللہ سب چیزوں پر قادر ہے اور اس کے ہر کام میں حکمت ہے۔ قصہ یہ ہوا کہ جب یہودیوں نے حضرت مسیح کے قتل کا عزم کیا تو پہلے ایک آدمی ان کے گھر میں داخل ہوا۔ حق تعالیٰ نے ان کو تو آسمان پر اٹھا لیا اور اس شخص کی صورت حضرت مسیح کی صورت کے مشابہ کر دی۔ جب باقی لوگ گھر میں گھسے تو اس کو مسیح سمجھ کر قتل کر دیا۔ پھر خیال آیا تو کہنے لگے کہ اس کا چہرہ تو مسیح کے چہرہ کے مشابہ ہے اور باقی بدن ہمارے ساتھی کا معلوم ہوتا ہے۔
کسی نے کہا کہ اگر یہ مقتول مسیح ہے تو ہمارا آدمی کہاں ہے۔ اب صرف اٹکل سے کسی نے کچھ کہا کسی نے کچھ کہا۔ علم کسی کو بھی نہیں، حق یہی ہے کہ حضرت عیسیٰ ہرگز مقتول نہیں ہوئے۔ بلکہ آسمان پر اللہ نے اٹھا لیا اور یہود کو شبہ میں ڈال دیا۔ حضرت عیسیٰ آسمان پر زندہ موجود ہیں۔ جب دجال پیدا ہو گا تب اس جہاں میں تشریف لا کر اسے قتل کریں گے۔“
ناظرین کرام! آپ کے سامنے دجال قادیانی کا ترجمہ اسی آیت شریفہ کا پیش ہوتا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:
”انہوں نے کہا کہ لو ہم نے اس مسیح عیسیٰ ابن مریم کو قتل کر دیا۔ جو رسول اللہ ہونے کا دعویٰ کرتا تھا۔ درحقیقت یہودیوں نے مسیح ابن مریم کو قتل نہیں کیا اور نہ پھانسی دیا۔ بلکہ یہ خیال ان کے دلوں میں شبہ کے طور پر ہے۔ یقینی نہیں اور خدا تعالیٰ نے ان کو آپ ہی شبہ میں ڈال دیا تا ان کی بیوقوفی ان پر اور نیز اپنی قادریت ان پر ظاہر کرے اور پھر فرمایا کہ وہ لوگ جو شک میں پڑے ہیں کہ شاید مسیح پھانسی پر ہی مر گیا ہو ان کے پاس کوئی یقینی و قطعی دلیل اس بات پر نہیں صرف ایک ظن کی پیروی کر رہے ہیں اور وہ خوب جانتے ہیں کہ انہیں یقینی طور پر اس بات کا علم نہیں کہ مسیح پھانسی دیا گیا۔ بلکہ یقینی امر یہ ہے کہ وہ فوت ہو گیا اور اپنی طبعی موت سے مرا اور خدا تعالیٰ نے اس کو راست باز بندوں کی طرح اپنی طرف اٹھا لیا اور خدا عزیز ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٧١، خزائن ج ٣ ص ٢٩٠)
کذاب قادیان کے مخلص حواریو! ایمان سے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہو یہ ترجمہ جو تمہارے سلطان القلم یا نبیوں کے پہلوان نے کیا ہے۔ زنگی کا نام کافور اور شب دیجور کا ترجمہ صبح صادق کہاں تک صحیح اور درست ہے؟ کچھ تو خوف خدا کرو اور صرف اس قدر بتا دو کہ یہ الفاظ بلکہ یقینی امر یہ ہے کہ وہ فوت ہو گیا اور اپنی طبعی موت سے مرا۔
کن الفاظ کا ترجمہ ہے اور کہاں سے لیا گیا ہے۔ آہ جو شخص کلام مجید کے تراجم میں یوں دیدہ دلیری کرے اور نفسانی خواہش کی پیروی کرتا ہوا خدا کے کلام میں دخل دینے سے نہ شرمائے اور پھر اس قدر منہ زور ہو کہ اس غلط و بے ربط ترجمہ کی تفسیر میں ایسا بد لگام ہو جائے کہ منہ زور یہ کہتا ہوا گر پڑے کہ یہ ترجمہ جو میں نے کیا ہے خدا کے حکم پر کیا ہے۔
”اور مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ابھی اور اسی وقت کشفی طور پر یہ صداقت مذکورہ بالا میرے پر ظاہر کی گئی اور اسی معلم حقیقی کی تعلیم سے میں نے وہ سب لکھا ہے جو ابھی لکھا ہے۔ فالحمد لله على ذالك (ازالہ اوہام ص ٣٧٢، خزائن ج ٣ ص ٢٩٣)
ہے تو ہمارا آدمی کہاں ہے۔ اب صرف اٹکل سے کسی نے کچھ کہا کسی ں، حق یہی ہے کہ حضرت عیسیٰ ہرگز مقتول نہیں ہوئے۔ بلکہ آسمان پر بہ میں ڈال دیا۔ حضرت عیسیٰ آسمان پر زندہ موجود ہیں۔ جب دجال تشریف لا کر اسے قتل کریں گے۔“
، آپ کے سامنے دجال قادیانی کا ترجمہ اسی آیت شریفہ کا پیش ہوتا ہا کہ لو ہم نے اس مسیح عیسیٰ ابن مریم کو قتل کر دیا۔ جو رسول اللہ ہونے کا ہودیوں نے مسیح ابن مریم کو قتل نہیں کیا اور نہ پھانسی دیا۔ بلکہ یہ خیال ان ہے۔ یقینی نہیں اور خدا تعالیٰ نے ان کو آپ ہی شبہ میں ڈال دیا تا ان کی ریت ان پر ظاہر کرے اور پھر فرمایا کہ وہ لوگ جو شک میں پڑے ہیں ہو ان کے پاس کوئی یقینی و قطعی دلیل اس بات پر نہیں صرف ایک ظن کی خوب جانتے ہیں کہ انہیں یقینی طور پر اس بات کا علم نہیں کہ مسیح پھانسی ہے کہ وہ فوت ہو گیا اور اپنی طبعی موت سے مرا اور خدا تعالیٰ نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا اور خدا عزیز ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٧١، خزائن ج ٣ ص ٢٩٠)
ت کے مخلص حواریو! ایمان سے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہو یہ ترجمہ جو تمہارے پہلوان نے کیا ہے۔ زنگی کا نام کافور اور شب دیجور کا ترجمہ صبح صادق ہے؟ کچھ تو خوف خدا کرو اور صرف اس قدر بتا دو کہ یہ الفاظ بلکہ یقینی امر پنی طبعی موت سے مرا۔
ترجمہ ہیں اور کہاں سے لیا گیا ہے۔ آہ جو شخص کلام مجید کے تراجم میں نفسانی خواہش کی پیروی کرتا ہوا خدا کے کلام میں دخل دینے سے نہ رتا ہو کہ اس غلط و بے ربط ترجمہ کی تفسیر میں ایسا بد لگام ہو جائے کہ منہ ترجمہ جو میں نے کیا ہے خدا کے حکم پر کیا ہے۔ ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ابھی اور اسی وقت وردہ بالا میرے پر ظاہر کی گئی اور اسی معلم حقیقی کی تعلیم سے میں نے وہ ہے فالحمد ولله علی ذالك“
(ازالہ اوہام ص ٣٧٢، خزائن ج ٣ ص ٢٩٣)
اب ان مکاشفات والہامات کو کون روکے یہ حوض کے گواہ مینڈک جھٹ ٹپک پڑتے ہیں اور جہاں یہ کام نہ دیتے ہوں وہاں رؤیا صادقہ ستیاناس کر جاتی ہے۔ اب میں چند ایک مثالیں ان تینوں حربوں کی پیش کرتا ہوں۔
سب سے پہلا الہام جو اس پاک نام کی تذلیل کرتا ہے وہ اس وقت سوجھا جب بڑے مرزا قادیانی کا لین کلیر ہو رہا تھا۔ سخت جانی عزرائیل کا مقابلہ کر رہی تھی۔ آپ کو الہام ہوا والسماء والطارق اب ترجمہ بھی ملاحظہ فرمائیں یعنی قسم ہے آسمان کی جو قضا و قدر کا مبدأ ہے اور قسم اس حادثہ کی جو آج آفتاب کے غروب کے بعد نازل ہوگا اور آپ کو سمجھایا گیا کہ یہ الہام بطور عزا پرسی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور حادثہ یہ ہے کہ آج ہی آپ کا والد آفتاب کے غروب کے بعد فوت ہو جائے گا۔
(حضرت مسیح موعود کے مختصر حالات ملحقہ براہین احمدیہ ص ٨٠، مصنفہ معراج الدین عمر قادیانی)
اور جب مرزا کے باوا سرگباش ہوئے تو وہ بیچارا روتا دھوتا قادیان پہنچا اور پہنچتا نہ کیسے جب کہ وہ مرزا قادیانی سے تھا اور مرزا قادیانی اس میں سے تھے۔ یہ خونی تعلقات کچھ چھوٹنے والے تھوڑے ہی تھے یہ پلونٹھی کا الہام کچا کیسے نکل جاتا۔ اسی لئے تو مرزا کے ابا کی موت کے واقعہ کی قسم کھائی اور یہ پہلی قسم ہے جو مرزائی خدا نے کھائی اور یہ بھی بتا دوں کہ اس خدا کے مرزائی اصطلاح میں چار نام ہیں۔ سب سے بڑا نام مرزا، دوسرا یلاش، تیسرا عاج اور چوتھا ..... افسوس یہ معلوم نہیں ہوا۔ کہ عزا پرسی کتنے روز تک رہی یا فوراً ہی واپس چلا گیا اور ٹینچی، شیر علی، خیراتی اور آتھل چاروں فرشتے ساتھ تھے یا اکیلا تھا۔
”کچھ عرصہ گزرا ہے کہ ایک دفعہ سخت ضرورت روپے کی پیش آئی۔ جس ضرورت کا ہمارے اس جگہ کے آریوں، متعصبوں کو بخوبی علم تھا اور یہ بھی ان کو خوب معلوم تھا کہ بظاہر کوئی ایسی تقریب پیش نہیں ہے کہ جو جائے امید ہو سکے۔ بلکہ اس معاملے میں ان کو ذاتی طور پر واقفیت تھی۔ جس کی وہ شہادت دے سکتے ہیں۔ پس جب کہ وہ ایسے مشکل اور فقدان اسباب حل مشکل سے کامل طور پر مطلع تھے۔ اس لئے بلا اختیار دل میں اس خواہش نے جوش مارا کہ مشکل کشائی کے لئے حضرت احدیت میں دعاء کی جائے۔ تا اس دعاء کی قبولیت سے ایک تو اپنی مشکل حل ہو جائے اور دوسری مخالفین کے لئے تائید الٰہی کا نشان پیدا ہو۔ ایسا نشان کہ اس کی سچائی پر وہ لوگ گواہ ہو جائیں سو اس دن دعاء کی گئی اور خدا تعالیٰ سے یہ مانگا گیا کہ وہ نشان کے طور پر مالی مدد سے اطلاع بخشے تب یہ الہام ہوا۔ دس دن کے بعد میں موج دکھاتا ہوں۔ ”الا ان نصر اللہ قریب فی شایل مقیاس “ دن دل یوگئو امرتسر یعنی دس دن کے بعد روپیہ آئے گا۔ خدا کی مدد نزدیک ہے
اور جیسے جب جننے کے لئے اونٹنی دم اٹھاتی ہے تب اس کا بچہ جننا قریب ہوتا ہے۔ ایسا ہی مدد الٰہی بھی قریب ہے اور پھر انگریزی فقرے میں یہ فرمایا کہ دس دن کے بعد جب روپیہ آئے گا تب تم امرتسر بھی جاؤ گے۔ فالحمد للہ علیٰ ذٰلک!‘‘
(براہین احمدیہ ص ٤٦٩ ،خزائن ج ١ص ٥٥٩)
تیل دیکھو اور تیل کی دھار دیکھو۔ باڑہ ہندو راؤ دیکھو اور بارہ من کی دھوبن دیکھو۔ سبحان اللہ! یہ ہیں پنجابی نبی کی کرشمہ سازیاں اور یہ ہیں وہ آپ کے بھاری بھرکم معجزات۔ خیر اس سے تو ہمیں کچھ غرض نہیں کہ روپیہ کے لئے کیوں دعاء کی گئی۔ آخر نبوت کا کاروبار کوئی یونہی تھوڑا ہی چلتا ہے۔ ہزاروں کرائے کے مبلغ اور بھاڑے کے ٹٹو خریدے جاتے ہیں اور لکڑا توڑ مزدور تو قصر نبوت کے گردا گرد گدھوں کی طرح منڈلاتے پھرتے ہیں۔ بخدا حیرانگی ہے اس بے تکے گنگا جمنی، لنگوٹری الہام پر جو اوپر سے گدھا اور نیچے سے آدمی یا آدھا تیتر اور آدھا بٹیر اور ذائقہ بس کچھ نہ پوچھئے کریلا اور نیم چڑھا اور نوعیت دیکھئے پہلے بے ربط اردو بعد فرقانی سرقہ اس کے آگے ایسی زبان جو دنیا کے کسی حصہ پر نہ ملے۔ شاید جنات کی زبان ہو۔ اس کے آگے غلط انگریزی اور ترجمہ تو سبحان اللہ! ایسا رنگین کہ لکھنؤ والے سر دھنیں اور پر لطف ایسا کہ بار بار پڑھنے کو دل چاہے اور محاورہ وہ کہ بابائل اور گدائے لم یزل کی لغات سے تو کیا فتح پور سیکری کے پرانے کھنڈرات سے بھی نہ ملے اور سجع تو دیکھئے ظالم نے کمال ہی کر دیا۔ آخر خدا کا کلام ہے اس میں لطف نہ آئے تو بیربل اور ملاں دوپیازہ کے سر کی قسم تربوز کھانا چھوڑ دوں اور مرزا قادیانی کا خدا تو وہ ہے جو ذیل کے خاکہ سے اپنی کمال محبت اور عطوفت کے رنگ میں رنگین نظر آتا ہے۔
”حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) نے ایک موقعہ پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی کہ کشف کی حالت آپ پر طاری ہوئی۔ گویا کہ آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا۔“
(اسلامی قربانی مصنفہ قاضی یار محمد صاحب!)
”بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع پائے۔ مگر خدا تعالیٰ تجھے اپنے انعامات دکھلائے گا جو متواتر ہوں گے۔ تجھ میں حیض نہیں رہا بلکہ وہ بچہ ہو گیا۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٣، خزائن ج ٢٢ص ٥٨١)
یہ تلبیس حکومت کی نشانی دیکھتے جاؤ
(تفسیر جلالین ص ٩١) زیر آیت ”وقولهم انا قتلنا المسیح عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ“ اور لعنت کی ہم نے یہود پر اس وجہ سے بھی کہ وہ فخر کے ساتھ کہتے تھے کہ یقیناً ہم
نے عیسیٰ بن مریم کو قتل کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے دعوے قتل کی تردید کرتے ہوئے فرماتے ہیں نہ قتل کر سکے یہود حضرت عیسیٰ کو اور نہ پھانسی پر ہی لٹکا سکے ان کو بلکہ بات یوں ہوئی۔ کہ یہود کے لئے حضرت مسیح کی شبیہ بنا دی گئی اور وہی قتل کیا گیا اور سولی دیا گیا۔ وہ یہود کا آدمی تھا۔ عیسیٰ کے ہمراہ یعنی تفصیل اس کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کی صورت و شبیہ یہود کے آدمی پر ڈال دی اور یہود نے اس شبیہ عیسیٰ کو عین عیسیٰ سمجھ لیا اور تحقیق جن لوگوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اختلاف کیا وہ اس کے قتل کے متعلق شک میں مبتلا تھے۔ کیونکہ ان میں بعض نے جب مقتول کو دیکھا تو کہنے لگے اس کا منہ تو بالکل عیسیٰ کا ہے اور باقی جسم اس کا معلوم نہیں ہوتا اور باقی کہنے لگے نہیں بالکل وہی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان کو حضرت عیسیٰ کے قتل کے بارے میں کوئی یقینی علم نہیں ہے۔ بلکہ صرف اس ظن کی پیروی کرنے لگے جو خود انہوں نے گھڑ لیا اور یقینی بات یہ ہے کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ کو قتل نہیں کیا بلکہ اٹھا لیا اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف، اور اللہ تعالیٰ اپنی بادشاہی میں بڑا زبردست اور اپنے کاموں میں بڑا ہی حکمت والا ہے۔“
چنانچہ اس کی تصدیق جناب امام فخر الدین رازیؒ کی عبارت سے یوں معلوم ہوتی ہے۔ ”اور مطلب عزیز کا قدرت میں کامل، اور مطلب حکیم کا علم میں کامل۔ پس ان الفاظ میں خدا تعالیٰ نے بتلا دیا کہ حضرت عیسیٰ کا دنیا سے آسمان کی طرف اٹھانا اگرچہ انسان کے لئے مشکل سا ہے مگر میری قدرت اور حکمت کے لحاظ سے اس میں کوئی وجہ باعث اشکال نہیں اور کسی قسم کا اس میں تعذر نہیں ہو سکتا۔“
ناظرین! معاملہ نہایت صاف واضح اور روشن ہے۔ اس میں کوئی دقیق بات ہی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہود کے اس قول پر لعنت کی کہ وہ یہ کیوں کہتے ہیں کہ ہم نے مسیح کو قتل کر دیا اور آج بھی جو یہ عقیدہ رکھے کہ مسیح قتل و مصلوب ہوا اس کے ہاتھ اور پاؤں میں کیلیں ٹھونکی گئیں۔ وہ اس سے زیادہ اس بات کا مستحق ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ خود اس گندے اور ناپاک عقیدہ کی تردید کر چکے کہ مسیح کو کسی نے ہاتھ تک نہیں لگایا۔ قتل یا مصلوب کرنا تو کارے دارد چیز تھی۔ کوئی ان کی ہوا تک نہ پہنچ سکا۔ یہ ہمارا بیان ہی نہیں خدا کا اعلان ہونے کے بعد زبان فیض ترجمان نے سینکڑوں ارشادات میں اس کی تردید کی۔ تابعین نے کی، تبع تابعین نے کی، آئمہ رحمہم اللہ اجمعین اس سے متفق رہے۔ کسی ایک مفسر، محدث، امام، مجدد نے انکار نہ کیا۔ تیراں سو برس سے یہ مسئلہ عقائد میں داخل چلا آتا ہے۔ جمہور امت کا اس پر اجماع ہے کہ مسیح علیہ السلام زندہ آسمان پر موجود ہیں اور وہ قرب قیامت میں حضورﷺ کے ارشادات گرامی کے مطابق پیش گوئی کو چار چاند لگاتے ہوئے
نزول اجلالی فرمائیں گے اور شریعت محمدیہ پر خود عمل کریں گے اور کرائیں گے اور یہ محض دھوکہ دیا جاتا ہے کہ وہ رسول ہو کر اور صاحب کتاب ہو کر کس طرح شریعت محمدیہ کے متبع ہوں گے۔ ان کی عقول پر پتھر پڑ گئے ہیں جو وہ نہیں سمجھتے کہ ان کا زمانہ رسالت گزر چکا اور وہ صرف بنی اسرائیل کے لئے مبعوث ہوئے تھے۔ ریٹائر ہونے کے بعد امر مقدر یونہی تھا کہ وہ امتی کی حیثیت میں آئیں۔ مگر عہدہ وہی ہو، اور یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ تمام انبیاء کا ایک ہی دین اور ایک ہی مقصد ہوتا ہے۔ توریت و زبور، صحائف انبیاء و انجیل سب خدا کی کتابیں ہیں اور سبھی ہدایت خلق کے لئے اپنے اپنے زمانے اور وقت کے لئے اتاری گئی تھیں۔ مگر افسوس مرزا جیسے چال باز چالاک لوگوں نے ان میں من مانی تحریف کی اور جیسا کہ ابھی آپ کے سامنے اس اندھے کی مثال میں سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کسی اندھے کو فیرنی پیش کی گئی۔ اس نے پوچھا اس کا رنگ کیا ہے۔ کہا گیا سفید، پوچھا سفید کیسا رنگ ہوتا ہے کہا گیا جیسے بگلا۔ اندھا بولا بگلا کیسا ہوتا ہے تو بتانے والے نے اندھے کا ہاتھ پکڑ کر پنجہ جھکاتے ہوئے اس کی شکل بتائی، اندھا کانوں پر ہاتھ دھرتا ہوا کہنے لگا، بابا میں فیرنی سے باز آیا یہ تو میرے حلق میں اٹک جائے گی اور میرا خاتمہ ہو جائے گا، تو عرض یہ ہے دین الٰہی تو ہمیشہ سے ایک ہی نہایت سیدھا اور فطرت انسانی کے عین مطابق چلا آیا ہے۔ ہاں زمانہ کے مطابق اس میں بعض تمدنی معاشرتی تبدیلیاں ہوتی رہی ہیں اور بالآخر ہر چیز کے آغاز کے بعد انجام کا ہونا لازمی ہے۔ ہر صبح کے بعد شام کا آنا لازم ہے۔ ہر شروع کا ختم یقینی ہے۔ چنانچہ سلسلہ انبیاء کا آغاز آدم صفی اللہ سے شروع ہوا اور انتہاء خاتم النبیین ﷺ پر ہوئی۔ نہ ان کے بعد کوئی نبی آسکتا ہے اور نہ شریعت، اور یہاں ایک اور مغالطہ دیا جاتا ہے وہ یہ کہ اگر عیسیٰ علیہ السلام کا آنا قبول کیا جائے تو خاتم النبیین کی مہر ٹوٹتی ہے تو جواب اس کا یہ دینا چاہئے کہ عیسیٰ علیہ السلام تو انبیاء سابقین میں سے ہیں اور مہر ٹوٹے گی تو کیا، بلکہ اور زیادہ مستحکم ومضبوط ہوگی۔ اس لئے کہ حضور ﷺ کی پیش گوئی یونہی ہے کہ عیسیٰ بن مریم قرب قیامت میں تشریف لائیں گے اور یہ کیوں آئیں گے زبان فیض ترجمان سے سنئے۔ اس لئے آئیں گے کہ ”تکرمۃ اللہ ھذہ الامۃ“ کی گواہی دیں۔
(مشکوٰۃ باب نزول عیسیٰ علیہ السلام)
”وقولھم انا قتلنا المسیح عیسٰی ابن مریم رسول اللہ“ کی مرزائیہ تفسیر بالآخر اس معصوم کو طوعاً و کرہاً ان ظالموں کے حوالے کر دیا۔ مگر ان کم بختوں نے ان کو سخت دکھ دیئے اور کئی دن ان کو فاقے رکھ کر آخر جمعہ کے دن اپنے سب خورد و کلاں کو بلایا اور سارے شہر میں ڈھنڈورا پھرایا کہ آج ایک جانباز سولی چڑھے گا۔ پس مظلوم کے کپڑے اتروائے اور صلیب
کے بلے اسے اٹھوائے کانٹوں کے ہار پہنائے اور کشاں کشاں سارے شہر میں پھراتے مضحکے اڑاتے تالیاں بجاتے شہر کے باہر گلگتھے کے میدان میں لے آئے۔ وہاں جمعہ کے دن صلیب گاڑ کر دو بجے دن کے قریب انہیں سولی پر لٹکا دیا اور اپنے خرمن اقبال کو جلا دیا۔ صلیب پر لٹکنا ہی تھا کہ رات بھر کی ایلی ایلی لما سبقتنی کی دعاء اپنی قبولیت کا رنگ لائی۔ خدا کی غیرت جوش میں آئی بادلوں کے دل اس نظارہ ظلم عظیم کو دیکھ کر پھٹے اور لشکر رعد و برق اور طوفان باد و باراں کو لے کر فوج یہود پر یکبارگی حملہ کر کے ٹوٹ پڑے اور انہیں مبہوت و منتشر کر دیا۔ ادھر پلاطوس کو آمادہ کیا گیا کہ وہ حکمت عملی سے مسیح کو بچاوے۔ اس نے یہود سے مخفی اندر ہی اندر یوسف ارمتی کے ساتھ مل کر مسیح کو بچانے کا منصوبہ پکایا اور خدا نے ہڈی توڑ کر مار ڈالنے کا خیال سب کے دل سے بھلایا۔ ایک ظالم نے پسلی میں بھالا لگایا تو خون اور پانی بہ کر زندگی کا ثبوت سامنے لایا۔ پلاطوس نے یہ موقعہ پا کر اسے زندہ صلیب سے اتروا دیا اور یوسف ارمتی کے حوالے کیا۔ اس نے اس کو ایک معطر اور ہوادار تہ خانہ میں رکھ کر اس کے زخموں اور ضعف کا حکیمانہ علاج پوشیدہ طور سے کرایا۔ پھر جب اس طرح مسیح نے کچھ افاقہ پایا تو وہاں رہنا مشکل سمجھ سیاحت پر دل بھر آیا۔ وہاں سے نکل کر گلیل کا رستہ لیا اور حواریوں کو چپکے سے کہلا بھیجا کہ اسی طرف راہ میں آ ملیں اور درد دل سنائیں اور سنیں۔ ان سے ملے اور مچھلی اور روٹی کھانے نے حیات کے ثبوت پر اور بھی جلا بڑھایا۔ نسخہ مرہم عیسیٰ کا استعمال ایک اور رنگ لایا اور خدا نے اسی ثبوت کے لئے آج تک ہزاروں کتب میں اس کو محفوظ رکھا۔ بارے افتاں خیزاں سب گلیل تک پہنچے۔ گلیل میں بیٹھ کر الگ الگ ملک تبلیغ کے لئے حواریوں کو سونپ اسرائیل کی بھیڑوں کو اکٹھا کرنے کے لئے خود مسیح نے پہاڑ کی راہ لی اور نصیبین سے گزر کر لق و دق جنگل کاٹے دریاؤں اور پہاڑوں کے سفر طے کرتے اور اسرائیلی بھیڑوں کا سراغ لگاتے لگاتے کچھ گروہ تو وسط ایشیاء اور کچھ افغانستان میں نظر آیا اور بہتوں کا پتہ کشمیر میں پایا اور 'آوینھما الی ربوۃ ذات قرار و معین' کا راز ہاتھ آیا وہیں پہنچ اپنا گھر بنایا۔ 'ان اتخذو من الجبال بيوتاً' کا حکم بجا لایا۔ آخر ٨٧ء میں دار دنیا سے رخصت ہو سرینگر کے محلہ خان یار میں مدفن بنایا۔ کہیں لاک اور کہیں بدھ نام پایا اور کہیں یوز آسف اور شہزادہ نبی کہلایا اور دو ہزار برس تک یہ بھید مخفی رکھ لوگوں کو خوب کھپایا۔“
(حضرت مسیح موعود کے مختصر حالات مؤلفہ معراج الدین عمر منظور نظر مرزا قادیانی آنجہانی، تاریخ طبع ١٢ اپریل ١٩٠٦ء)
یہ قادیانی تفسیر مرزا قادیانی کے نہایت منظور نظر صحابی کی ہے اور اس کی مقبولیت کا اندازہ اسی امر سے ہو سکتا ہے کہ اس کو براہین احمدیہ کی ایک جزو بناتے ہوئے اسی کاغذ اسی تقطیع
اسی سائز پر چھپوا کر براہین کے ساتھ الحاق کر دیا گیا ہے۔ نیز آج تک اس کو نہایت مقبولیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ یہ مرزا قادیانی کی زندگی میں طبع ہوئی اور ضروری ہے کہ ان کی نظر سے گزری اور میرا ایمان ہے کہ مرزا قادیانی کی ایماء سے کرایہ پر لکھوائی گئی۔ مگر آج تک اس کے ایک لفظ کی تردید نہیں ہوئی۔ اس لئے اس کتاب کو مرزا قادیانی کے الہامی تھیلے (براہین احمدیہ) کا دیباچہ تصور کریں۔ کیونکہ اس میں مرزا قادیانی کے تمام حال احوال چال ڈھال رنگ ڈھنگ الہام رؤیا چھوٹی بڑی سب باتیں لکھی ہوئی ہیں اور یہی صاحب براہین احمدیہ کے ناظم ناشر اور پبلشر بھی ہیں۔ اب جن خرافات کو آپ نے پیش کیا ہے وہ فسانہ آزاد ہیں تو کہاں الف لیلیٰ میں بھی شاید نہ ملے گی۔ ایسا طوفان بے تمیزی نہ سنا اور نہ دیکھا۔ اجی حضرت ! یہ تو فرمائیے کہ ان واقعات کی سند کیا ہے۔ کہاں سے آپ نے اس کو اخذ کیا۔ تمام کتب سماوی میں تو اس کا ذکر ہی نہیں۔ بلکہ فرقان مجید اس کی پرزور تردید کرتا ہوا اعلان کرتا ہے۔ "واذ كففت بنى اسرائيل عنك " یعنی یہود نامسعود تو جناب کلمۃ اللہ کو چھو بھی نہ سکے اور صلیب کے لیے اٹھوانا تو کیا قرآن کریم بانگ دہل اعلان کرتا ہے۔ ”وقولهم انا قتلنا المسيح عيسى ابن مريم رسول الله وما قتلوه وما صلبوه“ یعنی یہود پلید کے اس قول پر فعل پر نہیں بلکہ صرف قول پر اس لئے اللہ تعالیٰ نے لعنت کی کہ وہ یہ کیوں ناپاک کلمہ زبان پر لاتے ہیں کہ ہم نے مسیح کو جو اللہ کے رسول تھے قتل یا صلیب دے دیا۔ اب آپ ہی ایمان سے کہئے آپ بلے اٹھوا رہے ہیں اور ڈھنڈورہ پیٹ رہے ہیں کہ کل ایک مظلوم صلیب دیا جائے گا اور یہ ایمان رکھتے ہیں کہ وہ صلیب دیا گیا۔ تمہاری عقل کو کبھی گھاس چرنے سے فرصت بھی ملتی ہے اور اگر کبھی اتفاق سے وہ فارغ ہو تو خالد وزیر آبادی کا پیغام اس کو دینا کہ اللہ تعالیٰ تو یہ فرمائے کہ کوئی مردود، مسیح کو نہ چھوسکا اور مصلوب کرنا تو کارے دارد ہے کوئی اس کی ہوا کو بھی نہ پہنچ سکا۔
جیسا کہ قرآن شاہد ہے ” ومطهرك من الذين كفروا “ اب تم یہ کہتے ہو کہ ہاتھوں اور پاؤں میں کیل لگائے گئے۔ تم سچے ہو یا خدا؟ یقیناً خدا سچا ہے۔ پھر یہ تم نے گمراہی کی ٹھیکیداری کیوں لے رکھی ہے۔ عقل کی بات کرو ایک بے بنیاد واقعہ جس کی تاریخ گواہی نہ دے کتب سماوی منہ توڑیں اقوال الرجال مخالفت کریں۔ ساڑھے تیراں سو برس سے وہ جزو ایمانیات میں رگ جان کی طرح چلا آئے۔ اب یہ تم کون جو خواہ مخواہ تو مان نہ مان میں تیرا مہمان بنیں۔ آخر یہ لچر اور بیہودہ قصہ یاوہ گوئی نہیں تو اور کیا ہے۔ کتنا ظلم ہے کہ خدا تعالیٰ کو تم بودا سمجھتے ہوئے خواہ مخواہ اندھیری اور بارش میں الجھ رہے ہو اور تمہارا قادیانی بھونچال اور
ظلمت کا سہارا لے رہا ہے۔ سنو اور غور سے سنو نہ اس کو کسی بودے سہارے کی تلاش ، نہ اسباب کی ضرورت وہ تو وہ ذات پاک ایسی ہے جو ایک لفظ کن سے جو چاہے سو کرے۔ شرم کرو کیا نظریہ پیش کر رہے ہو کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت تو یہ چاہتی تھی کہ مسیح کو بچادے۔ مگر آہ ارادہ ازلی یہودیوں سے مرعوب و خائف موقعہ کا متلاشی رہا۔ پہلے اندھیری کی منت کی بعد میں بادل کی خوشامد ہوئی اور جب یہ سامان پیدا ہوئے تو بیچارا ڈرتے ڈرتے پلاطوس کی اعانت کا طالب ہوا اور اس طرح سے مسیح کو جو مرنے سے بدتر ہو چکا تھا جس کا بدن موٹے موٹے کیلوں سے چھلنی ہو چکا تھا اور کئی دن کا بھوکا اور پیاسا بے ہوشی کے عالم میں مردہ ہو چکا تھا۔ ایک زبردست بھالے کا کچوکہ لگواتے ہوئے صلیب سے اتروا دیا اور یوسف آرمتی کی منت گزاری کی کہ خوشبو دار تہ خانہ میں رکھیو اور کستوری نہ ہو تو کیا، قادیان سے منگا لینا۔ مرہم عیسیٰ کا نسخہ تیار کرو اور چپکے چپکے زخموں پر لگاتے جاؤ۔ مگر دیکھنا کہیں یہودی نہ دیکھ لیں۔ ورنہ پھر تم کو میری مجبوری اور معذوری کا تو علم ہی ہے نہ بچا سکوں گا۔ استغفر اللہ! آخر یہ کیا سمجھ کر ایمان کے پیچھے لٹھ لئے پھرتے ہو۔ کچھ تو خوف خدا کرو یہ مرہم عیسیٰ کا چکر کہیں نمک سلیمانی اور طلا و پٹی صاحب ہی نہ لے جائے۔ یہ تو بازاری حکیموں کے چربے ہیں۔ وہ وسط ایشیاء میں مسیح کی بھیڑیں موسیٰ خیل اور عیسیٰ خیل یعنی ڈوبتے ہوئے کو تنکوں کا سہارا تلاش کرنا ساحل مراد ہیں اور وسط ایشیاء میں کتنی بھیڑیں رہتی ہیں تمہاری جہالت کی بھی کوئی حد ہے کہ اس معصوم مسیح کو ایک مشرک بے نماز و بے زکوٰۃ شخص سے تشبیہ دے رہو۔ جو بدھ کے نام سے مشہور ہے۔ گویا کہ بدھ مسیح تھا۔ جیسا کہ تمہارے قادیانی نے مسیح ہندوستان کے نام سے جو کتاب لکھی ہے۔ اس میں بدھ اور مسیح کو ایک ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور مارا ہے۔ اگر بدھ ہی مسیح تھا تو گویا مرہم عیسیٰ اور الٰہی مدد سے وہ ایسا برگشتہ ہوا کہ خدا کی توحید کا وہ قائل نہ رہا اور یہی وجہ ہے کہ اس نے اس الہامی نام کو جو بطور انعام جناب مریم کو ملائکہ کی بشارت سے ملا تھا۔ چھوڑ دیا اور بدھ کے نام کو پسند کیا۔ آپ کے اس نظریے سے تو یہ معلوم ہوا کہ چینی اور عیسائی دراصل بھائی بھائی ہیں جو نہیں جانتے کہ ان کا ریفارمر ایک ہی ہے۔ واقعی یہ آپ نے بڑا احسان کیا۔ کوئی مانے نہ مانے آپ نے تو کہہ دیا اور یوز آسف اور شہزادہ نبی کی بھی خوب کہی ۔ گویا نعوذ باللہ خاکم بدہن نقل کفر کفر نباشد کے مصداق ، مسیح نے جہاں توحید الٰہی سے منہ موڑا وہاں نصاریٰ سے بھی بے وفائی کی۔ مسیح سے لایک بنا اور لایک سے بدھ ہوا اور بدھ سے پھر یہودی بنا اور یوز آسف نام رکھا اور یہاں بھی قرار نہ آیا تو آخر شہزادہ نبی کے نام سے مر گیا۔ سبحان اللہ ! قربان جاؤں آپ
کی اس نرالی منطق اور بے پیندے کی رسالت پر، ہے کوئی مسیح کا لال یا تمام سوگئے۔ جو یہ بتانے کی زحمت گوارہ کرے کہ یہ خرافات کی پوٹ کس معیار صداقت پر پوری اتر سکتی ہے۔ اگر کوئی مرزائی ان چاروں ناموں کو ایکنام میں مدغم کر دے اور تاریخ سے اس کی تصدیق کراوے تو علاوہ انعام موعودہ کے یکصد روپیہ بطور انعام پیش کیا جائے گا اور اس کی معیاد تاقیام زمانہ ہے۔ اگر کوئی جیتا جاگتا مرزائی ہے تو دامن رسالت کاذبہ سے اس دھبے کو دھونے کی کوشش کرے ورنہ سمجھا جائے گا کہ نواب کلو مر گئے جو فاختہ اڑایا کرتے تھے۔ مگر؎
کہ اس نواح میں سودا برہنہ پا بھی ہے
”وقولهم انا قتلنا المسيح عيسى ابن مريم رسول الله“ اس آیت کریمہ نے قادیانی جھونپڑے کو گویا آگ ہی دکھلا دی اور گویا اب اس میں وہ طاقت ہی نہ رہی کہ جس سے دجل کی مشینری چل سکے۔ میرے خیال میں تو اب اس کے پرزے ہی اس قابل نہیں کہ کچھ بھی کذب بن سکیں۔ کیونکہ ان کے زبردست دلائل ہی کچھ ایسے ہیں جو مرزائی تانے بانے کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیں۔ پس غور سے سنئے ہجرت سنت انبیاء ہے اور سبھی پیامبر اس سنت کریمہ پر عمل پیرا ہوتے آئے ہیں اور یہ مسلمہ اور مصدقہ مرزا قادیانی ہے کہ جناب مسیح واقعہ صلیب سے قبل ساڑھے تینتیس سالہ مدت العمر میں اس اہم فرض سے سبکدوش نہ ہوسکے۔ اب وعدہ الٰہی یا عيسى انی متوفيك ورافعك الى جلوہ نما کا متمنی ہے اور مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ وہ ٨٧ برس کشمیر میں رہے۔ اگر ترجمہ بقول مرزا ہوتا کہ اے عیسیٰ ہم تمہیں موت دیں گے اور تیری روح کو اپنی طرف اٹھائیں گے پھر بھی موت دینے کے فوراً بعد اٹھانے کا وعدہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ٨٧ برس والا معاملہ کشمیر محض من گھڑت اور تراشیدہ ہے اور اگر ترجمہ قوائد توفی کے تحت میں کیا جائے۔ جیسا کہ صحیح ہے کہ توفی کے معنی سوائے پورا لینے کے اور کچھ ہے ہی نہیں اور جہاں بھی اس کے معنی موت کے لئے گئے ہیں وہ مجازی ہیں اور کوئی قرینہ ساتھ ہے۔ اب معاملہ یوں ہے کہ مسیح علیہ السلام یہود کے محاصرے میں گرفتار ہیں۔ اس گرفتاری میں وہ خدا سے اعانت کی دعاء کرتے ہیں۔ اللہ وعدہ دیتا ہے کہ اے عیسیٰ میں تمہیں اپنے قبضے میں لینے والا ہوں یا پورا پورا لینے والا ہوں اور تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔ بس یہاں دو ہی باتیں ہیں یا تو یہ مان لیا جائے کہ یہود کی تجویز کامیاب ہوگئی اور خدا کی تدبیر ناکام ہوئی۔ یہود خدا پر غالب آئے اور اس کے رسول کو مصلوب کر دیا اور اگر یہ نہیں اور یقیناً نہیں تو اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ کو جو مرکب تھا روح معہ جسد کے
بے پیندے کی رسالت پر، ہے کوئی مسیح کا لال یا تمام سوگئے۔ جو یہ ثابت کرے کہ یہ خرافات کی پوٹ کس معیار صداقت پر پوری اترتی ہے۔ اگر وہ ان ناموں کو ایکنام میں مدغم کر دے اور تاریخ سے اس کی تصدیق کرائے تو رقم موعودہ کے یکصد روپیہ بطور انعام پیش کیا جائے گا اور اس کی معیاد کے اندر کوئی جیتا جاگتا مرزائی ہے تو دامن رسالت کاذبہ سے اس دھبے کو دھونے کے لئے آگے بڑھے ورنہ سمجھا جائے گا کہ نواب کلومر گئے جو فاختہ اڑایا کرتے تھے۔ مگر
کہ اس نواح میں سودا برہنہ پا بھی ہے
وقولہم انا قتلنا المسیح عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ“ ”اس آیت پر پڑے گویا آگ ہی دکھلا دی اور گویا اب اس میں وہ طاقت ہی نہ رہی کہ کوئی حل کر سکے۔ میرے خیال میں تو اب اس کے پرزے ہی اس قابل نہیں کہ دیکھیں ۔ کیونکہ ان کے زبردست دلائل ہی کچھ ایسے ہیں جو مرزائی تانے بانے کو ادھیڑ دیتے ہیں۔ پس غور سے سنئے ہجرت سنت انبیاء ہے اور کوئی پیامبر اس سنت کریمہ پر عمل کیے اور یہ مسلمہ اور مصدقہ مرزا قادیانی ہے کہ جناب مسیح واقعہ صلیب سے قبل مدت العمر میں اس اہم فرض سے سبکدوش نہ ہو سکے۔ اب وعدہ الٰہی یا متوفیک ورافعک الیٰ کا جلوہ نما ہونا حتمی ہے اور مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ وہ وفات پا چکا ہے۔ اگر ترجمہ بقول مرزا ہوتا کہ اے عیسیٰ ہم تمہیں موت دیں گے اور تیری روح کو اٹھائیں گے پھر بھی موت دینے کے فوراً بعد اٹھانے کا وعدہ اس بات پر دلالت کرنے والا معاملہ کشمیر محض من گھڑت اور تراشیدہ ہے اور اگر ترجمہ توفیٰ کا توفی کے تحت یہ صحیح ہے کہ توفی کے معنی سوائے پورا لینے کے اور کچھ ہے ہی نہیں اور جہاں بھی معنی لئے گئے ہیں وہ مجازی ہیں اور کوئی قرینہ ساتھ ہے۔ اب معاملہ یوں ہے کہ وہ یہود کے محاصرے میں گرفتار ہیں۔ اس گرفتاری میں وہ خدا سے اعانت کی دعاء کرتے ہیں تو خدا مژدہ دیتا ہے کہ اے عیسیٰ میں تمہیں اپنے قبضے میں لینے والا ہوں یا پورا پورا لینے والا اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔ بس یہاں دو ہی باتیں ہیں یا تو یہ مان لیا جائے کہ سازش کامیاب ہو گئی اور خدا کی تدبیر ناکام ہوئی۔ یہود خدا پر غالب آئے اور اس کے رسول کو قتل کر دیا۔ ایسا ہوا نہیں اور یقیناً نہیں تو اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ کو جو مرکب تھا روح معہ جسد کے
پورے طور پر اپنی طرف اٹھا لیا اور یہی مسیح کی ہجرت ہے اور اگر مقام ہجرت کی وجہ سے رگ الحاد پھڑکے، تو اتنا اور عرض کر دوں کہ چونکہ جناب مسیح کی ولادت نفخہ جبرائیل سے تھی اور ان میں صفات ملکیہ زیادہ تھے۔ اس لئے ان کی ہجرت بھی ایسے ہی مقام پر موزوں تھی اور نیز جناب مسیح علیہ السلام سے چند وعدہ ربانی بھی کچھ ایسے ہی تھے کہ جن کی وجہ سے ان کا زمین پر رہنا قطعاً موزوں نہ تھا۔ مثلاً سن کہولت میں کلام کرنا اور یہ ظاہر ہے کہ ایک لمبی عمر زمین پر گزارنا قوائے انسانی پر تاثرات زمانہ کی وجہ سے بے حد مضر اثر ڈالتا ہوا پیر فرتوت بنا دیتا ہے اور نیز اس لئے بھی کہ اگر وہ زمین پر ایک دراز عرصہ بسر فرماتے تو تم جیسے لاکھوں انسان ان کے گردا گرد حلقہ کھینچ، ناک میں دم کر دیتے اور نیز عہد رسالت نبوی میں رخنہ اندازی ہوتی اور سب سے بڑی بات یہ ہوتی کہ سن کہولت نہ رہتی اور وعدہ الٰہی یہ تھا کہ وہ ادھیڑ عمر میں کلام کریں گے اور اگر زمین پر ہوتے تم جیسے دہریہ لوگ صبح سے شام تک دماغ چاٹتے رہتے اور دنیا جس مقصد کے لئے بنائی گئی ہے وہ جاتا رہتا وہ یہ کہ امتحان کا موقعہ اور ایمانی مظاہرہ مفقود ہو جاتا اور سب سے اہم بات یہ ہوتی کہ دنیا خدا کی قدرت پر حرف لاتی اور کہتی کہ اگر مسیح کو اتنی لمبی عمر دینا ہی مقصود تھا تو انہیں دنیا کے مذاق کے لئے کیوں چھوڑ دیا گیا۔ خدا میں یہ طاقت نہیں کہ وہ اپنے بندے کو آسمان پر لے جاتا اور اس کے علاوہ یہود کی صحبت سے پاک کرنے کا وعدہ تھا اور اگر وہ زمین پر کہیں بھی ہجرت کرتے تو یہود پلید کی صحبت سے قطعاً پاک نہ رہ سکتے تھے۔ اس کے علاوہ امر مقدر یونہی تھا۔ جیسا کہ وکان امراً مَقْضِيًّا سے عیاں ہے۔ یہ تھا دیباچہ اس آیت کریمہ کا اب سنئے۔
مرزائیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ مسیح کو ہر ممکن تکلیف جسمانی اور روحانی دی گئی۔ طمانچے لگائے گئے منہ پر تھوکا گیا۔ بدن پر تازیانہ زنی ہوئی۔ طرح طرح سے استہزاء کیا گیا اور بالآخر صلیب پر چڑھایا گیا۔ مگر چونکہ خدا خفیہ تجویز فرما چکا تھا۔ اس لئے چاہئے اس کو بھوک پیاس درد و کرب میں طرح طرح کے مصائب جھیلنے پڑے۔ مگر وہ ایسا سخت جان واقع ہوا کہ جان نہ نکلی اور یہی خدا کا مکر تھا اور یہی بہترین تجویز الٰہی ہو سکتی تھی۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ خیال ہی مردود ہے۔ خدا نے ان کے فعل پر لعنت نہیں کی۔ بلکہ قول پر کی ہے کہ وہ ایسا کہتے ہیں کہ ہم نے مسیح کو قتل کر دیا ہے اور مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ فعل پر کی ہے اگر فعل پر لعنت کی ہوتی تو پھر عبارت یوں نہ ہوتی۔ بلکہ مثل سابق انبیائے سابقین کی طرح جو یقیناً معصوم و بے گناہ رسول تھے اور جن کا ذکر ایک عام انداز میں قرآن حکیم نے کیا ہے جیسا کہ فرمایا ”ویقتلون النبیین بغیر حق“ ”وقـتـلـهـم الانـبـيـاء بـغـيـر حـق“ یہاں لعنت یہود کے فعل پر ہوئی۔ مگر آیت مذکورہ
بالا میں لعنت یہود کے قول پر کی۔ اب غور کیجئے کہ یہ جو معصوم انبیاء یہود کے ہاتھوں قتل ہوئے اور ظاہر ہے اور مرزا قادیانی کا اس پر اتفاق ہے کہ یہود کا طریق کار یہی تھا کہ وہ پہلے مصلوب کرتے بعد میں ہڈیاں توڑتے تھے اور اسی کو قتل و مصلوب کہتے تھے۔ انصاف سے کہئے اور ایمان کی روشنی میں جواب دیجئے کہ کیا یہ سب نعوذ باللہ لعنتی موت مرے اور ان کی روح آسمان پر نہ اٹھائی گئی۔ قرآن شاہد ہے کہ وہ معصوم بے گناہ پاک نبی تھے۔ مگر کسی ایک کی روح کے اٹھانے کو قرآن نہیں کہتا ہے۔ کیوں نہیں کہتا صرف اس لئے کہ وہ اعلان کر چکا۔
”اليه يصعد الكلم الطيب والعمل الصالح يرفعه (فاطر:١٠) “ یعنی تمام روحیں اسی کی طرف صعود کرتی ہیں۔ نیک عمل اسی کی طرف بلند ہوتے ہیں۔ پھر دوبارہ کہنے کی ضرورت نہ تھی۔ اس لئے خاموشی اختیار کی اور نہ ہی اس کی کوئی ضرورت تھی۔ مگر اس آیت میں فعل قتلهم یا صلبهم پر لعنت نہیں کی۔ بلکہ وقولهم پر لعنت کی۔ اگر یہود پلید نے قتل کر دیا ہوتا تو اس کے تذکرہ کی یوں تردید در تردید کی ضرورت ہی نہ تھی۔ جس طرح سابقہ معصومین تختہ دار کی نظر ہوئے یونہی غریب مسیح بھی وقتلهم الانبیاء میں آ جاتے۔
اب قرآن کریم کے اعجاز کو ملاحظہ کیجئے۔ اللہ اللہ ایسی فصیح وبلیغ کلام ہے اور اس کے لفظ لفظ میں وہ وہ معارف بھرے ہیں کہ سبحان اللہ ! مگر آنکھیں چاہئیں ظاہر کی نہیں باطن کی ، ارشاد ہوتا ہے۔ وماقتلوہ دراصل یہ یہود کے باطل عقیدے کا رد ہے۔ ان کے زعم باطل میں تھا کہ ہم نے مسیح کو قتل بالصلیب کیا ہے۔ جیسا کہ ان کا رواج مذکور ہو چکا۔ اللہ فرماتے ہیں یہود مسیح کو قتل نہ کر سکے اور پھر دوبارہ فرمایا یقیناً یہود پلید مسیح کو قتل نہ کر سکے۔ اس کے بعد ارشاد ہوا۔ ”وما صلبوہ “ یعنی نصاریٰ کا عقیدہ ہے کہ مسیح پھانسی چڑھ کر ہمارے گناہوں کا کفارہ ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ان کے اس ردی عقیدے کی تردید فرماتے ہیں کہ یہود مسیح کو مصلوب بھی نہ کر سکے۔ ان دونوں مدعیوں کے دعویٰ کو باطل قرار دینے کے بعد اب سوال ہوتا ہے کہ وہ قیدی جس کو مصلوب و قتل کے لئے چنا گیا تھا اور جو قتل ومصلوب ہونے سے بچ گیا۔ وہ کون تھا اور پھر وہ کہاں گیا۔
قبل اس کے کہ میں اس سوال کا جواب دوں۔ یہاں ایک اور اشکال پڑتا ہے۔ مناسب ہے کہ پہلے وہی حل کروں وہ یہ کہ یہود کو کیا ضرورت تھی کہ وہ مسیح کو پھانسی دیں۔ یہ چیز اپنے اعتقاد میں داخل کرلیں۔ ان کا خیال صحیح ہے کہ انہوں نے کسی کو پھانسی ضرور دیا اور کلام مجید بھی اس کی تائید کرتا ہے کہ کوئی پھانسی ضرور ہوا۔ مگر وہ مسیح نہ تھا۔ اسی لئے یہ الفاظ اس کے آگے فرمائے۔ ولکن شبه لهم!
کے قول پر کی۔ اب غور کیجئے کہ یہ جو معصوم انبیاء یہود کے ہاتھوں قتل ہوئے اور قادیانی کا اس پر اتفاق ہے کہ یہود کا طریق کار یہی تھا کہ وہ پہلے مصلوب کرتے تے تھے اور اسی کو قتل ومصلوب کہتے تھے۔ انصاف سے کہئے اور ایمان کی روشنی ہ کیا یہ سب نعوذ باللہ لعنتی موت مرے اور ان کی روح آسمان پر نہ اٹھائی گئی۔ معصوم بے گناہ پاک نبی تھے۔ مگر کسی ایک کی روح کے اٹھانے کو قرآن کہیں کہتا صرف اس لئے کہ وہ اعلان کر چکا۔
يصعد الكلم الطيب والعمل الصالح يرفعه (فاطر: ١٠) یعنی رف صعود کرتی ہیں۔ نیک عمل اسی کی طرف بلند ہوتے ہیں۔ پھر دوبارہ کہنے س لئے خاموشی اختیار کی اور نہ ہی اس کی کوئی ضرورت تھی۔ مگر اس آیت میں صلبہم پر لعنت نہیں کی۔ بلکہ وقولہم پر لعنت کی۔ اگر یہود پلید نے قتل کر دیا کی یوں تردید در تردید کی ضرورت ہی نہ تھی۔ جس طرح سابقہ معصومین تختہ دار یب مسیح بھی وقتلہم الانبیاء میں آ جاتے۔
ن کریم کے اعجاز کو ملاحظہ کیجئے۔ اللہ اللہ کیسی فصیح و بلیغ کلام ہے اور اس کے رف بھرے ہیں کہ سبحان اللہ ! مگر آنکھیں چاہیں ظاہری نہیں باطن کی ، ارشاد صل یہ یہود کے باطل عقیدے کا رد ہے۔ ان کے زعم باطل میں تھا کہ ہم نے یا ہے۔ جیسا کہ ان کا رواج مذکور ہو چکا۔ اللہ فرماتے ہیں یہود مسیح کو قتل نہ کر یقیناً یہود پلید مسیح کو قتل نہ کر سکے۔ اس کے بعد ارشاد ہوا ۔ ’ ’ وما صلبوه “ ہے کہ مسیح پھانسی چڑھ کر ہمارے گناہوں کا کفارہ ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ان کے اس فرماتے ہیں کہ یہود مسیح کو مصلوب بھی نہ کر سکے۔ ان دونوں مدعیوں کے نے کے بعد اب سوال ہوتا ہے کہ وہ قیدی جس کو مصلوب وقتل کے لئے چنا گیا ہونے سے بچ گیا۔ وہ کون تھا اور پھر وہ کہاں گیا۔
کے کہ میں اس سوال کا جواب دوں۔ یہاں ایک اور اشکال پڑتا ہے۔ ہی حل کروں وہ یہ کہ یہود کو کیا ضرورت تھی کہ وہ مسیح کو بلا صلیب دیتے۔ یہ تل کرلیں ۔ ان کا خیال صحیح ہے کہ انہوں نے کسی کو پھانسی ضرور دیا اور کلام تا ہے کہ کوئی پھانسی ضرور ہوا۔ مگر وہ مسیح نہ تھا۔ اسی لئے یہ الفاظ اس کے آگے لهم!
اب نحو کے قاعدہ کی رو سے عبارت یوں ہوگی۔ ” ولكن قتلو وصلبو شبه لهم “ لیکن قتل ہوا اور صلیب دیا گیا وہ شخص جو مسیح کے مشابہ تھا اور واضح طور پر یوں سمجھئے جیسے ” ما قام زيد ولكن عمر “ اب یہ عبارت نحو کی رو سے یوں سمجھی جائے گی ۔ ” ما قام زيد ولكن قام عمر “ یعنی نہیں کھڑا ہوا زید ولیکن کھڑا ہوا عمر ۔ یہ قاعدہ کلیہ ہے کہ لیکن کا ماقبل مضمون مابعد کے مخالف ہو ۔ یعنی جس چیز کی پہلے نفی کی گئی ہے لیکن کے مابعد کے مضمون میں اسی چیز کا اثبات ہو ۔ مثلاً ”ما مات زيد ولكن عمر “ اب نحو کی رو سے یہ فقرہ یوں ہوگا ۔ ”ما مات زيد ولكن مات عمر “ یعنی پہلے فقرے میں زید کے مرنے کی نفی کی جارہی ہے لیکن دوسرے میں عمر کی موت کا اقرار ہورہا ہے۔ ایسا ہی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” وما قتلوه وما صلبوه “ یعنی نہیں کیا کسی نے اس کو قتل اور نہیں صلیب دیا کسی نے اس کو یہ دونوں کی ضمیریں مسیح علیہ السلام کی طرف پھرتی ہیں۔ یعنی مسیح قتل وصلیب نہیں ہوا ان دونوں الفاظ میں مسیح کے قتل وصلیب کی نفی کی جارہی ہے۔ اب نحو کے قاعدے کی رو سے ساری عبارت یوں ہوگی ۔ ” وما قتلوه وما صلبوه ولكن صلبوا وقتلوا شبه لهم “ یعنی نہیں قتل ہوا وہ اور نہیں صلیب دیا گیا وہ، ولیکن قتل ہوا اور صلیب دیا گیا وہ شخص جو اس کی مشابہت رکھتا تھا۔
رسول اکرم ﷺ کا وہ مربی چچا ابو طالب جس نے حضور ﷺ کی رفاقت کو قوم پر ترجیح دی فاقے کاٹے ۔ مگر رفاقت کو نہ چھوڑا اپنے منہ میں نوالہ یتیم مکہ کے کھلانے کے بعد ڈالا۔ جب اس دنیا سے عالم بقاء کو جا رہا تھا تو حضور ﷺ اس کے سرہانے بیٹھے یہ فرماتے تھے کہ اے چچا ایک دفعہ اور صرف ایک دفعہ تو کلمہ شہادت میرے کان میں کہہ دے ۔ تاکہ دن قیامت کے میں تمہاری سفارش کر سکوں۔
” انك لا تهدى من احببت ولكن الله يهدي من يشاء “
اب دیکھئے ولکن سے پہلے ہدایت دینے کی نفی ہو رہی ہے کہ تمہاری دلی محبت کسی کو ہدایت نہیں دے سکتی۔ ولیکن اللہ جس کو چاہے ہدایت دے سکتا ہے ۔ جس چیز کی پہلے فقرے میں نفی کی گئی دوسرے میں اس کا اثبات ہوا۔
ایک اور نقطہ بھی حل کر دوں مرزا قادیانی چونکہ مراقی تھا۔ اس لئے اس کے دماغ میں یہ وہم بس گیا تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام مر گئے اور یہ ان کا مار دینا ہی میری صداقت کی دلیل ہے۔ چنانچہ ہر فرقانی آیت میں اسے مسیح کی موت ہی موت نظر آتی تھی ۔ سچ ہے ساون کے اندھے کو ہریاول ہی ہریاول نظر آتی ہے۔
اب دیکھئے وما قتلوه وما صلبوہ کا صحیح ترجمہ لغت عرب کے مطابق صحیح یہ ہے کہ نہ قتل کیا یہود نے اس کو نہ صلیب دیا یہود نے اس کو، مرزا قادیانی تو وہم باطلہ کی رو سے صلیب کا ترجمہ سولی پہ مارنا کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ لغت عرب اور عام محاورے کے قطعاً خلاف ہے۔ کیونکہ اگر صلبوہ کے معنی صلیب پر موت دیا ہوا قبول کئے جائیں تو یہود کا تو یہی عقیدہ تھا کہ ہم نے مسیح کو جو اللہ کا رسول تھا صلیب کے ذریعے مار دیا۔ یہ تو صریحاً یہود پلید کی تائید ہوئی۔ اگر ایسا ہوا تو پھر خدائے حکیم کو صرف آیت یوں نازل کرنی چاہئے تھی۔ ”وقولهم انا صلبنا المسيح ابن مريم رسول الله“ مگر آیت یوں اتاری گئی ۔”وقولهم انا قتلنا المسيح ابن مريم رسول الله“ اب قادیانی ترجمے کی رو سے معنی اس کے یوں ہو جائیں گے۔
یہودیوں کا یہ کہنا کہ ہم نے قتل کر دیا مسیح ابن مریم کو جو صلیب پر مرا ہوا تھا اور یہ ترجمہ بلاغت قرآنی پر ایک بد نما دھبہ ہے۔ نیز صلیب اور اس کا اسم مفعول اگر مصلوب کے معنی سولی پر مارنا کے صحیح تسلیم کئے بھی جائیں تو مرزا قادیانی کی عبارت کے پلے کیا خاک رہ جاتا ہے۔ سنئے:
”صرف بعض اعضاء میں کیلیں ٹھونکتے تھے اور پھر احتیاط کی غرض سے تین تین دن مصلوب کو بھوکے پیاسے صلیب پر چڑھائے رکھتے۔ پھر بعد میں اس کی ہڈیاں توڑی جاتی تھیں۔ پھر یقین کیا جاتا تھا کہ اب مصلوب ہو گیا۔“
(ازالۃ اوہام ص ٣٨١، خزائن ج ٣ ص ٢٩٦)
اب غور کیجئے کہ جو مصلوب ہو گیا۔ یعنی بقول مرزا مر گیا اس کو بھوک و پیاس کیسی اور مرزا قادیانی کی عبارت کے معنی کیا ہوئے کہ پھانسی پر مرا ہوا مر گیا۔ سبحان اللہ ! اس برتے پہ اتر آنا حماقت نہیں تو اور کیا ہے؟ سنو یہاں پھانسی دینے اور قتل کرنے کا کوئی امکان ہی نہیں۔ اللہ تعالیٰ یہاں کسی فعل کی نفی نہیں فرماتے بلکہ قول کی فرماتے ہیں۔ یعنی یہود مسیح کو صلیب پر چڑھا ہی نہیں سکے۔ کیوں اس لئے کہ اگر یہود نے مسیح کو سولی پر کھینچ دیا ہوتا۔ جیسا مرزا قادیانی کہتا ہے تو قرآنی الفاظ وقولهم نہ ہوتے بلکہ ویکذبهم ہوتے۔ یعنی وہ جھوٹ کہتے ہیں کہ ہم مسیح کو قتل کر دیا ہے اور سولی پر کھینچ دیا ہے۔ چنانچہ شاہ ولی اللہ صاحب محدث وما صلبوہ کا ترجمہ یوں فرماتے ہیں کہ ”بردار نہ کردند اورا“ یعنی جناب مسیح کو سولی پر یہود نے نہ چڑھایا اور شاہ عبد القادر صاحب بھی ان الفاظ قرآنی کا ترجمہ یہ فرماتے ہیں کہ ”نہ سولی پر چڑھایا اس کو“ اور لغت عرب بھی متفقہ طور سے صلب کے معنی سولی پر چڑھانا لیتی ہے اور یہاں وما صلبوہ کا ترجمہ سوائے اس کے اور ہو ہی نہیں سکتا۔ نہ سولی پر چڑھایا مسیح کو کسی نے۔
وما قتلوہ وما صلبوہ کا صحیح ترجمہ لغت عرب کے مطابق صحیح یہ ہے کہ نہ قتل کیا دیا یہود نے اس کو، مرزا قادیانی تو وہم باطلہ کی رو سے صلیب کا ترجمہ سولی انکہ یہ لغت عرب اور عام محاورے کے قطعاً خلاف ہے۔ کیونکہ اگر صلبوہ دیا ہوا قبول کئے جائیں تو یہود کا تو یہی عقیدہ تھا کہ ہم نے مسیح کو جو اللہ کا یسے مار دیا۔ یہ تو صریحاً یہود پلید کی تائید ہوئی۔ اگر ایسا ہوا تو پھر خدائے نازل کرنی چاہئے تھی۔ ”وقولهم انا صلبنا المسيح ابن مريم یوں اتاری گئی۔ ”وقولهم انا قتلنا المسيح ابن مريم رسول کی رو سے معنی اس کے یوں ہو جائیں گے۔
یہ کہنا کہ ہم نے قتل کر دیا مسیح ابن مریم کو جو صلیب پر مرا ہوا تھا اور یہ ترجمہ ساختہ ہے۔ نیز صلب اور اس کا اسم مفعول اگر مصلوب کے معنیٰ سولی پر جائیں تو مرزا قادیانی کی عبارت کے لئے کیا خاک رہ جاتا ہے۔ سنئے :
س اعضاء میں کیلیں ٹھونکتے تھے اور پھر احتیاط کی غرض سے تین تین دن صلیب پر چڑھائے رکھتے۔ پھر بعد میں اس کی ہڈیاں توڑی جاتی تھیں۔ ب مصلوب ہو گیا۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٨١، خزائن ج ٣ ص ٢٩٦)
کر جو مصلوب ہو گیا۔ یعنی بقول مرزا مر گیا اس کو بھوک و پیاس کیسی اور کے معنی کیا ہوئے کہ پھانسی پر مرا ہوا مر گیا۔ سبحان اللہ ! اس برتے پر اترانا ؟ سنو یہاں پھانسی دینے اور قتل کرنے کا کوئی امکان ہی نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے بلکہ قول کی فرماتے ہیں۔ یعنی یہود مسیح کو صلیب پر چڑھا ہی نہیں گر یہود نے مسیح کو سولی پر کھینچ دیا ہوتا۔ جیسا مرزا قادیانی کہتا ہے تو قرآنی بلکہ ویکذبهم ہوتے۔ یعنی وہ جھوٹ کہتے ہیں کہ ہم مسیح کو قتل کر دیا ہے اور پیشوا شاہ ولی اللہ صاحب محدث وما صلبوہ کا ترجمہ یوں فرماتے ہیں کہ ”بردار مسیح کو سولی پر یہود نے نہ چڑھایا اور شاہ عبدالقادر صاحب بھی ان الفاظ ہیں کہ ”نہ سولی پر چڑھایا اس کو“ اور لغت عرب بھی متفقہ طور سے صلب حق ہے اور یہاں صلبوہ کا ترجمہ سوائے اس کے اور ہو ہی نہیں سکتا۔ نہ نے۔
اب حیرانگی ہے کہ جب مسیح سولی پر چڑھائے ہی نہ گئے ہوں اور مرزا قادیانی خود کہہ چکا ہو۔ ”خدا نے مسیح سے وعدہ دیا کہ میں تمہیں صلیب سے بچاؤں گا۔“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٥، خزائن ج ١٧ ص ٤٤)
اب سولی پر ہاتھوں اور پاؤں میں کیل ٹھونکے گئے۔ ہڈیاں توڑی گئیں۔ کہاں سے لے لیا گیا۔ اس لئے معلوم ہوا کہ یہ گندہ و ناپاک عقیدہ ان لوگوں کا ہے۔ جو خدا کے نافرمان اور راندۂ درگاہ ہیں۔ اگر کسی قادیانی کی رگ الحاد پھڑکنے سے نہ رکے تو وہ کوئی ایسا لفظ لغت عرب سے پیش کرے۔ جس کا معنی صلیب پر مرنے کے ہوں اور وہ تلاش کرتا کرتا مر ہی کیوں نہ جائے۔ مگر سوائے صلیب کے اس کو اور دوسرا کوئی نہ ملے گا اور اس کے معنی صلیب پر مارنے کے نہیں ہوتے بلکہ صلیب پر چڑھانے کے ہوتے ہیں۔ اس کے آگے ارشاد ہوتا ہے۔ ”وان الذين اختلفوا فيه لفى شك منه ما لهم به من علم الا اتباع الظن“ اور جو لوگ یعنی نصاریٰ اس میں مختلف باتیں کرتے ہیں کچھ نہیں ان کو اس کی خبر صرف قیاس واٹکل پر چل رہے ہیں۔
اس آیت کریمہ میں عیسائیوں کے ان مختلف الخیال فرقوں کا ابطال ہے جو جناب مسیح کے بارے میں جدا جدا رائے خیال کرتے ہیں۔ بعض کا خیال ہے کہ وہ تین دن تک مرے رہے اور اس کے بعد جی اٹھے بعض کہتے ہیں کہ وہ تین گھنٹے تک مرے رہے۔ ایسے ہی مختلف اٹکل پچو خیالات رکھتے ہیں۔
ارشاد ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے خیال اور مختلف باتیں کسی یقینی امر کی متبع نہیں۔ یہ قیاس آرائیاں اور توہمات تو صرف ظن کی پیروی میں کرتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ انہیں حقیقت سے روشناسی ہی نہیں اور جیسا کہ انجیل کہتی ہے کہ اس واقعہ کے وقت تمام حواریوں نے راہ فرار اختیار کی اور باقی وہاں کون تھا جو صحیح واقعات کی اطلاع دیتا۔ اس لئے وہ غلطیوں میں پڑ گئے اور مختلف عقیدے بنالئے۔ اللہ فرماتے ہیں ”وما قتلوه يقيناً“ یعنی اصل واقعہ یہ ہے کہ جناب کلمتہ اللہ کو یقیناً یہود نے قتل نہیں کیا۔ گویا یہ واقعہ ہی غلط ہے جو بیان کیا جاتا ہے کہ مسیح کو سولی دیا گیا۔ یا قتل کیا گیا۔ یہ ایک مغالطہ ہے۔ جس میں یہود نے خواہ مخواہ خدا کے عتاب کو مول لیا اور نصاریٰ نے ان کی اس جھوٹی بات کو یقین کے مرتبہ پر سمجھتے ہوئے اپنے عقائد میں نقل کر لیا۔ اصل میں دونوں قوموں نے دھوکہ کھایا۔ واقعہ میں مسیح کو کوئی قتل نہ کر سکا نہ ہی کوئی صلیب پر چڑھا سکا۔ اب پھر یہ سوال ہوتا ہے کہ وہ یعنی مسیح کیا ہوا اور کہاں گیا تو اس کے متعلق ارشاد ہوتا ہے۔ بل رفعه الله اليه اللہ فرماتے ہیں بلکہ ہم نے تو اس کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ یعنی آسمان پر اٹھا لیا اور
کیوں اٹھا لیا اس کا جواب میں ارشاد ہوتا ہے۔ ”وكان الله عزيزاً حكيما“ اللہ اپنی بادشاہی میں بڑا زبردست اور بڑا ہی حکمت والا ہے۔
اس آیت کریمہ میں دو چیزیں بیان ہوئیں۔ بڑا زبردست اور بڑا حکمت والا، کون نہیں جانتا اور کس کو انکار ہے کہ وہ بڑا ہی زبردست ہے۔ کس کو طاقت ہے کہ اس کے سامنے آئے یا مقابلہ کرے۔ کس کو جرأت ہے کہ اس کے کسی فعل کی کچھ بھی باز پرس کرے۔ کون ہے جو اس کے سامنے اس کی کارکردگی پر سوال ہی کرے۔ وہ اپنی طاقت و سطوت کا یوں اظہار کرتا ہے۔
”ولله جنود السموات والارض وكان الله عزيزاً حكيما“
ارشاد ہوتا ہے کہ آسمانوں اور زمینوں کے لشکر اللہ ہی کے واسطے ہیں۔ اس لئے کہ وہ بڑا ہی زبردست اور بڑا ہی حکمت والا ہے۔
اور اللہ تعالیٰ کی حکمت کے متعلق اتنا اور عرض کر دوں کہ کیوں اس نے جناب مسیح کو آسمان پر اٹھایا اور کیوں سرکار مدینہ ﷺ نے مسیح کی آمد کی قسمیں کھائیں اور کیوں ستاروں سے زیادہ اقوال الرجال نے اس پر لکھا اور ایمان کا جزو قرار دیا اور کیوں اجماع امت ہے۔ سنو اور دل کے کانوں سے سنو۔ اللہ تعالیٰ نے جس قدر بھی پیغمبر اور رسول اس دنیا پر مبعوث فرمائے اور ان کے ساتھ ساتھ آسمانی روشنیاں یعنی شریعتیں یا کتب سماوی نازل کیں۔ ان کا مقصد سوائے اس کے کچھ نہ تھا کہ میری مخلوق گمراہی سے نکل کر راہ راست پر آ جائے۔ اندھیروں میں بھٹکنے کی بجائے فضائے نور میں رہے۔ میرے احکام دیکھے اور میری خوشنودی کو حاصل کرے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رحمت اور برکت بھیج کر خوش ہوتا ہے۔ وہ نیک عمل کرتے ہیں تو اس کے صلہ میں ان کے درجات بڑھاتا ہے اور طرح طرح سے جنت کے وعدے دیتا ہوا خوش ہوتا ہے۔ برائیوں سے روکتا اور بھلائیوں کی ترغیب دیتا ہے۔ اس لئے کہ میرے بندے عذاب جہنم سے بچ جائیں۔ وہ نہیں چاہتا کہ ہم اپنی جانوں پر ظلم کریں اور جہنم کا ایندھن بنیں۔
ایک بزرگ کہیں باہر تشریف لے جا رہے تھے۔ آپ کے عقیدت کیش ان کے ساتھ تھے۔ چلتے چلتے ایک کمہار برتن بنانے والے کے مکان سے گزرے۔ دیکھا کہ وہ مٹی کے طرح طرح کے برتن بنا رہا ہے۔ کسی پہ پھول، کسی پہ بیل، کسی کو روغن اور کسی کو سنوار رہا ہے۔ وہ بزرگ بولے اسی طرح اللہ اپنے بندوں کو طرح طرح سے سنوارتا اور بناتا ہے۔ بزرگ نے کہا جاؤ اس کو کہو کہ وہ پیر جی کہتے ہیں کہ یہ تمام برتن توڑ دو ایک عقیدت کیش سر پہ پاؤں رکھ کر دوڑا اور کہا بابا ہمارے بزرگ پیر صاحب کہتے ہیں کہ تم اپنے یہ تمام برتن توڑ دو۔ وہ ہنسا اور جواب دیا کہ اچھا
بزرگ ہے اور اچھی رائے دیتا ہے میں بناتا ہوں وہ توڑ دیتا ہے۔ جا اس کو کہہ دے کہ میں توڑنے کو تیار نہیں۔ جو کہنا ہے کہہ لے اور جو کرنا ہے کر لے۔ جب پیر جی نے سنا تبسم کیا اور فرمایا جب یہ ادنیٰ کمہار چند پیسوں کے برتن توڑنے کو تیار نہیں تو وہ احسن الخالقین اپنی مخلوق کو کس طرح جہنم میں دھکیل دے گا۔
تو غرض یہ ہے کہ اس وقت کرۂ زمین پر اس قدر یہود و نصاریٰ آباد ہیں جن کی تعداد اربوں تک پہنچتی ہے۔ کیا وہ سب کے سب جہنم میں ڈال دے۔ نہیں ضرور ان کے سنوارنے اور نوازنے کے لئے کوئی ایسا عظیم الشان معجزہ ہونا چاہئے۔ جس سے یہ راہ حق سے بھٹکی ہوئی مخلوق راہ راست پر آ جائے۔ اور یہی ایک نکتہ ہے جس کے لئے یتیم مکہ نے قسمیں کھائیں اور طرح طرح سے یقین دلایا۔ چنانچہ بشارات محمدی کے مطابق وہ قرب قیامت میں ضرور تشریف لائیں گے اور ان کا تشریف لانا چپکے نہ ہوگا۔ بلکہ دنیا جس طرح اور آفتاب و مہتاب کو طلوع ہوتے دیکھتی ہے اسی طرح جناب عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان سے نازل ہوتے دیکھے گی۔ جیسا کہ قرآن ناطق کے ارشادات گرامی جو آئندہ پیش ہونے والے ہیں بتائیں گے اور جیسا کہ انجیل اور مرزا قادیانی کے بیان ہیں جو ابھی بیان ہوں گے۔ جب اس طریق سے دنیا کے چھوٹے بڑے آسمان سے مسیح کو نازل ہوتے دیکھیں گے تو کون بدبخت و نامراد ہو گا جو سچ پر ایمان نہ لائے گا۔
انجیل متی، مرقس، لوقا، متفقہ طور سے مندرجہ ذیل بیان دیتی ہیں ”اور جب وہ زیتون کے پہاڑ پر بیٹھا تھا تو اس کے شاگرد الگ اس کے پاس آ کر بولے ہمیں بتا کہ یہ باتیں کب ہوں گی اور تیرے آنے اور دنیا کے آخر ہونے کا نشان کیا ہو گا۔ یسوع نے جواب میں ان سے کہا۔ خبردار کوئی تمہیں گمراہ نہ کرے۔ کیونکہ بھتیرے میرے نام سے آئیں گے اور کہیں گے کہ میں مسیح ہوں اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کریں گے اور تم لڑائیاں اور لڑائیوں کی افواہ سنو گے۔ خبردار گھبرا نہ جانا۔ کیونکہ ان باتوں کا واقع ہونا ضرور ہے۔ لیکن اس وقت خاتمہ نہ ہو گا۔ کیونکہ قوم پر قوم اور بادشاہت پر بادشاہت چڑھائی کرے گی اور جگہ جگہ کال پڑیں گے اور بھونچال آئیں گے۔ لیکن یہ سب باتیں مصیبتوں کا شروع ہی ہوں گی۔ اس وقت لوگ تمہیں تکلیف دینے کے لئے پکڑوائیں گے اور تمہیں قتل کریں گے اور میرے نام کے سبب ساری قومیں تم سے عداوت رکھیں گی اور اس وقت بھتیرے ٹھوکر کھائیں گے اور ایک دوسرے کو پکڑوائیں گے اور ایک دوسرے سے عداوت رکھیں گے اور بہت سے جھوٹے نبی اٹھ کھڑے ہوں گے اور بھتیروں کی محنت ٹھنڈی پڑ جائیں گی۔ مگر جو آخر تک برداشت کرے گا وہ نجات پائے گا اور بادشاہت کی اس خوشخبری کی
منادی تمام دنیا میں ہوگی۔ تاکہ سب قوموں کے لئے گواہی ہو اور اس وقت خاتمہ ہوگا۔ پس جب تم اس اجاڑنے والی مکروہ چیز کو (دابتہ الارض اور دجال) جس کا ذکر دانیال نبی کی معرفت ہوا۔ مقدس مقام پر کھڑا.....ہوا دیکھو۔ پڑھنے والا سمجھ لے تو جو یہودیہ میں ہوں وہ پہاڑوں پر بھاگ جائیں اور جو کوٹھے پر ہو وہ اپنا اسباب لینے کو نیچے نہ اترے اور جو کھیت میں ہو وہ اپنا کپڑا لینے کو پیچھے نہ لوٹے۔ مگر ان پر افسوس ہے جو ان دنوں میں حاملہ ہوں اور جو دودھ پلاتی ہوں۔ پس دعاء مانگو کہ تمہیں جاڑوں میں یا سبت کے دن بھاگنا نہ پڑے۔ کیونکہ اس وقت ایسی بڑی مصیبت ہوگی کہ دنیا کے شروع سے نہ اب تک ہوئی نہ کبھی ہوگی۔ اگر وہ دن گھٹائے نہ جاتے تو کوئی بشر نہ بچتا۔ مگر برگزیدوں کی خاطر وہ دن گھٹائے جائیں گے۔ اس وقت اگر کوئی تم سے کہے کہ دیکھو مسیح یہاں ہے تو یقین نہ کرنا۔ کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھ کھڑے ہوں گے اور ایسے بڑے نشان اور عجیب کام دکھائیں گے کہ اگر ممکن ہو تو برگزیدوں کو بھی گمراہ کرلیں۔ دیکھو میں نے پہلے ہی تم سے کہہ دیا ہے۔ پس وہ اگر تم سے کہیں کہ دیکھو وہ بیابان میں ہے تو باہر نہ جانا۔ دیکھو وہ کوٹھریوں میں ہے تو یقین نہ کرنا۔ کیونکہ جیسے بجلی پورب سے کوند کر پچھم تک دکھائی دیتی ہے۔ ویسے ہی ابن آدم کا آنا ہوگا۔ جہاں مردار ہے وہاں گدھ جمع ہوجائیں گے اور فوراً ان دنوں کی مصیبت کے بعد سورج تاریک ہو جائے گا اور چاند اپنی روشنی نہ دے گا اور ستارے آسمان سے گریں گے اور آسمانوں کی قوتیں ہلائی جائیں گی اور اس وقت ابن آدم کا نشان آسمان پر دکھائی دے گا اور اس وقت زمین کی ساری قومیں چھاتی پیٹیں گی اور ابن آدم کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آسمانوں کے بادلوں پر آتے دیکھیں گی اور وہ نرسنگھے کی بڑی آواز کے ساتھ اپنے فرشتوں کو بھیجے گا اور وہ اس کے برگزیدوں کو چاروں طرف سے آسمان کے اس سرے سے اس سرے تک جمع کریں گے۔“
انجیل شریف نے ہماری تائید کرتے ہوئے چند باتیں ایسی بھی پیش کیں جو بطور پیش گوئی کے ہیں۔ مثلاً:
- ١....... بہتیرے میرے نام سے آئیں گے اور کہیں گے کہ میں مسیح ہوں اور بہت
سے لوگوں کو گمراہ کریں گے۔
- ٢....... بہت سے جھوٹے نبی اٹھ کھڑے ہوں گے اور بہتیروں کو گمراہ کریں گے۔
- ٣....... جہاں مردار ہے وہاں گدھ جمع ہو جائیں گے۔
مندرجہ بالا تینوں باتیں کذاب قادیان کے متعلق جناب مسیح نے بطور پیش گوئی ارشاد فرمائیں۔
- .......١ مرزا قادیانی نے خواہ مخواہ گرگٹ کی طرح سینکڑوں رنگ بدلتے ہوئے
آخر مسیح کے نام پر نا کام قبضہ کیا اور سارا زور اسی چیز پر خرچ کیا کہ میں ہی مسیح ابن مریم ہوں۔
- ......٢ مرزا کے مسیح بنتے ہی امت کو نبوت کا ہیضہ ہو گیا۔ بس پھر کیا تھا ان
طوطمگڑوں نے اودھم مچا دیا کوئی تناپور سے انا ولا غیری کا نعرہ لگا رہا ہے، تو کوئی خاس قادیان میں احمد نور کابلی رسول بنا بیٹھا ہے۔ کسی کو اروپ میں درد نبوت بے چین کر رہا ہے، تو کوئی چنگا بنگیال میں والدین کو رو رہا ہے۔ غرضیکہ دو درجن کے قریب مرزا قادیانی کے امتی اس وقت دھما چوکڑی مچا رہے ہیں۔ مرزا قادیانی کا نبوت کا دریچہ جب سے کمبخت کھل گیا ہے امت کو اور کوئی وہم ہی نہیں ہوتا۔ بس جب بخار ہوتا ہے تو رسالت کا اور جب زکام ہوتا ہے تو نبوت کا۔
- ......٣ یہ بھی صحیح ہے کہ اس نبوت کے مرکز پر لنگڑے لولے منارہ سے مشرق کی طرف
سکول کے سامنے گدھوں کی طرح دیگ پر روز منڈلاتے نظر آتے ہیں۔ بخدا اگر آج یہاں سے کھانا نہ ملے تو توندیں ڈھیلی ہو جائیں اور عافیت یاد آجائے۔
اب آپ کی خدمت میں وہ بات پیش کی جاتی ہے جو بظاہر ناممکن تھی۔ مگر خدائے رحمان نے کذاب قادیان کو ملزم گرداننے کے لئے آپ ہی اس کے منہ سے نکلوا دی اور پھر یہ ایسی ویسی کتاب کا حوالہ نہیں یہ اس کتاب میں لکھی ہوئی ہے۔ جس کی رجسٹری سرکار مدینہ ﷺ سے مرزا قادیانی نے کروائی تھی اور قطب ستارہ سے کہیں زیادہ محکم گردانتے ہوئے اس کو قطعی کا خطاب دیا تھا اور یہ خدا کی مرضی اور القاء کے ماتحت لکھی گئی۔ یہ صرف الہامی کتاب ہی نہیں بلکہ اس کی تفسیر بھی اللہ تعالیٰ نے بقول مرزا خود کر دی۔ اس کا نام ہے (براہین احمدیہ ص ٢٩٨ حاشیہ در حاشیہ) میں جناب مرزا غلام احمد قادیانی خاکسار ورئیس قادیان قرآنی استدلال پیش کرتے ہیں۔ سنئے: ”ھو الذی ارسل رسوله بالھدی ودین الحق لیظھره علی الدین کلہ“ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے۔ وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق واقطار میں پھیل جائے گا۔“
(براہین احمدیہ ص ٢٩٨، خزائن ج ١ ص ٥٩٣)
مرزا قادیانی نے قرآن کریم سے مسیح کے نزول من السماء کا اقرار کیا اور کہا کہ وہ دوبارہ (یعنی آمد ثانی) اس دنیا میں تشریف لائیں گے۔ یعنی پہلی بار واقعہ قتل صلیب کے موقعہ پر جب وہ اس دنیا سے آسمان پر اٹھالئے گئے تھے۔ اب دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے۔ یعنی موجودہ
وقت میں زمین پر نہیں ۔ کیونکہ زمین کی ضد آسمان ہے تو معلوم ہوا وہ سب قصہ غلط و یاوا کوئی تھا نہ مسیح کو صلیب پر چڑھایا گیا نہ کیلیں ٹھونکی گئیں نہ مرہم پٹی نہ لگائی گئی ۔ نہ بھیڑوں کو اکٹھا کرنے کے لئے سیاحت کی گئی، نہ بدھ بنے نہ شہزادہ نبی ہوئے اور نہ یوز آصف کے نام کو اختیار کر کے محلہ خانیار میں قبر کو زینت دی ۔ یہ کوئی قصہ ہی نہیں ہوا اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ اور قدرت کاملہ سے آسمان پر اٹھا لیا ۔ یہاں مرزائیوں سے ایک چیز میں بھی پوچھ لوں کیوں حضرت یہ تو بتاؤ کہ دوبارہ آنے کا جناب مسیح کے لئے تمہارے مرزا قادیانی وعدہ کر رہے ہیں ۔ اب جناب مسیح آئیں گے یا جناب مسیح کی روح آئے گی ۔ اب فرمان رسالت سے اس کی تصدیق حدیث نبوی
(مشکوۃ باب النزول عیسیٰ بن مریم)
"عبداللہ بن عمرؓ روایت کرتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ عیسیٰ بیٹے مریم کے زمین کی طرف نازل ہوں گے ۔ پس وہ نکاح کریں گے اور ان کے اولاد ہوگی اور پینتالیس برس تک زمین پر رہیں گے پھر فوت ہوں گے اور میرے پاس میرے مقبرے میں دفن ہوں گے۔ پھر میں اور عیسیٰ بیٹا مریم کا ایک ہی مقبرہ سے اٹھیں گے ابوبکرؓ اور عمرؓ کے درمیان ۔"
اس حدیث کی عظمت صحت اور بزرگی مرزا قادیانی کو ایسی تھی کہ جس کا اندازہ اس امر سے ہو سکتا ہے کہ آپ نے بار بار اس کو اپنی کتابوں میں شائع کیا۔ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٢ طبع دوم، نزول المسیح ص ٤٧، کشتی نوح ص ١٥ طبع ششم ، حقیقت الوحی ص ٣٢٩، خزائن ج ٢٢ ص ٤٢٠، ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٥١، خزائن ج ٢٢ ص ٦٧٤، عسل مصفیٰ ص ٤١) اس حدیث کی صحت پر مرزا قادیانی کے بیٹے خلیفہ بشیر الدین محمود نے بھی دستخط کر دیئے ۔
(دیکھو انوار خلافت ص ٥٠)
یہاں جب مرزائی پہنچتے ہیں تو انہیں اور تو کوئی چیز سہارا نہیں دیتی نہ قرآن نہ انجیل نہ حدیث نہ خود مرزا تو وہ جھنجھلا کر اوچھے ہتھیاروں پر آ جاتے ہیں اور کہتے ہیں بل رفعہ اللہ الیہ میں لفظ بل ابطالیہ ہے ۔ کیونکہ نحویوں کے نزدیک یہ لفظ قرآن میں نہیں آسکتا ۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کفار کا قول نقل کرے تو بغرض تردید آ سکتا ہے۔ جیسا کہ مرزائیوں نے بھی خود مسلم رکھا ہے۔ (دیکھو احمدیہ پاکٹ بک ص ٣٣٤) اور اس کے علاوہ مرزا قادیانی کے دستخط کی ضرورت ہو تو وہ بھی حاضر ہیں۔ ادھار کرنے کی یہاں عادت ہی نہیں سنئے : (ازالہ اوہام ص ٥٩٩، خزائن ج ٣ ص ٤٢٣، طبع اول ) ”مسیح مصلوب مقتول مردود نہیں مرا بلکہ خدا تعالیٰ نے عزت کے ساتھ اس کو اپنی طرف اٹھا لیا اور رفع سے مراد وہ موت ہے جو عزت کے ساتھ ہو ۔“
کہتے صاحب بل کا لفظ تردید کے بعد بلکہ کہا یا نہیں اور آ خلاف ایسے مردود معنی لینا جو کلام م کچھ مرزا جیسے شیخ چلی ہی کو زیب د میں تکرار کرنا شان بلاغت کے منا معنی موت ہی کئے تھے ۔ اب عبارت ہو گیا ۔ ”یا عیسی انی متوف موت دوں گا اور تجھ کو موت دوں گا کی ڈبل تائید ہوئی وہ بھی تو موت ہ تم چھوٹے بھائیوں نے بیچارے آ ”ومکروا ومکر اللہ واللہ متفقہ تجویز کی کہ مسیح کو مصلوب کریں بچانے کے موت دی اور یہی موت اب یہود اس آیت میں مار تو دیا مگر وہ عزت کی موت مرا۔ عزت بھی ہانکے جاتے ہو۔ یہ تو کہو تھے یا ان کی روح عزت کے ساتھ نہیں کیا ۔ ایک اور بھی اعتراض ہوتا کی طرف پھرتی ہے ۔ سبحان اللہ ! ک ”وما قتلوہ وما صلبوہ ضمیریں مسیح کی طرف پھرتی ہیں ۔ الجسم کے مرکب سے یہ کاروبار کیا ساحل مراد پر کبھی نہ لے جائیں گے کہ پہلی تینوں ضمیریں تو جناب مسیح کی غرضیکہ بل لفظ ابطالیہ
کہئے صاحب بل کا لفظ مرزا قادیانی نے بھی قبول کرتے ہوئے مصلوب کے قتل کی تردید کے بعد بلکہ کہا یا نہیں اور آگے چل کر رفع کے معنی موت کئے حالانکہ تمام لغت عرب کے خلاف ایسے مردود معنی لینا جو کلام مجید کی بلاغت پر دھبہ لائیں اور اسے ادبی معیار سے گرائیں۔ کچھ مرزا جیسے شیخ چلی ہی کو زیب دیتے ہیں۔ کیونکہ جو چیز ایک بات سے حاصل ہو سکتی ہے۔ اس میں تکرار کرنا شانِ بلاغت کے منافی ہے۔ اگر رفع کے معنی موت ہوتے تو توفی کے معنی بھی آپ نے موت ہی کئے تھے۔ اب عبارت ذیل کا ترجمہ مہربانی کر کے ذرا دیکھیں کہ کیسا بھونڈا اور پھسڈا ہو گیا۔ ”يا عيسى اني متوفيك ورافعك الى“ تو بقول شاطر مترجم یہ ہوا اے عیسیٰ میں تجھ کو موت دوں گا اور تجھ کو موت دوں گا۔ یہ ڈبل موت قادیان والوں کو ہی مبارک ہو اور یہ تو یہود پلید کی ڈبل تائید ہوئی وہ بھی تو موت ہی دینا چاہتے تھے۔ مگر وہ ایک موت دینے سے ناکام رہے اور تم چھوٹے بھائیوں نے بیچارے مسیح کو ڈبل موت دے دی۔ کہئے وہ خدا کے وعدے کیا ہوئے۔ ”ومكروا ومكر الله والله خير الماكرين“ کا مفہوم بقول شما یہ لیا جائے گا کہ یہود نے متفقہ تجویز کی کہ مسیح کو مصلوب کریں اور خدا نے مسیح سے وعدہ کیا کہ میں تمہیں بچاؤں گا مگر بجائے بچانے کے موت دی اور یہی موت دینا خدا کی بہترین تجویز ہے۔ شرم کرو!
اب یہود اس آیت میں کہتے ہیں کہ ہم نے مسیح کو مار دیا اور تم یہ جواب دیتے ہو کہ ہاں مار تو دیا مگر وہ عزت کی موت مرا۔ یہ ہے تمہاری دیانت یہود کی تائید بھی کرتے ہو اور ساتھ عزت عزت ہی ہانکے جاتے ہو۔ یہ تو کہو کہ وہ پہلے انبیاء جو یہود نے قتل کئے۔ عزت کی موت نہ مرے تھے یا ان کی روح عزت کے ساتھ نہ اٹھائی گئی تھی اور اگر اٹھائی گئی تو ان کا ذکر کلام مجید نے کیوں نہیں کیا۔ ایک اور بھی اعتراض ہوتا ہے وہ یہ کہ وما قتلوہ میں ہ کی ضمیر مسیح کی طرف نہیں پھرتی۔ روح کی طرف پھرتی ہے۔ سبحان اللہ! کیا کہنے ہیں آپ کی اس نرالی منطق کے دیکھئے۔ اس آیت میں ”وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم“ میں تین دفعہ یہی لفظ ہ کا آیا ہے۔ یہ تینوں ضمیریں مسیح کی طرف پھرتی ہیں۔ یا روح مسیح کی طرف یہ کہئے کہ قتل روح کی جاتی ہے یا روح مع الجسم کے مرکب سے یہ کاروبار کیا جاتا ہے۔ کچھ تو خوف خدا کرو آخر یہ بودے سہارے تمہیں ساحل مراد پر کبھی نہ لے جائیں گے۔ بلکہ بری طرح ڈبو کر ہی چھوڑیں گے۔ یہ کون سی دیانت ہے کہ پہلی تینوں ضمیریں تو جناب مسیح کی طرف پھریں مگر چوتھی روح کی طرف راجع ہو۔
غرضیکہ بل لفظ ابطالیہ ہے اور نحو کی رو سے جہاں بھی یہ لفظ بولا جائے گا۔ اس کے
مضمون ماقبل میں فعل کو پہلے تسلیم کیا جائے گا۔ فعل مابعد میں اس کی تردید ہو گی اور ایسا ہی فعل ماقبل سے فعل مابعد میں ضرور تضاد ہو گا۔
مثلاً وہ کہتے ہیں مولوی صاحب ملتان گئے تھے۔ نہیں بلکہ وہ تو دہلی گئے تھے۔ غور فرمائیں مولوی صاحب کا ملتان جانا پہلے وقوع میں آیا تھا اس کے بعد لوگوں نے کہا تھا کہ وہ دہلی گئے تھے۔ عمر آدمی نہیں بلکہ فرشتہ ہے۔ زید حیوان نہیں بلکہ انسان ہے۔
ان مثالوں سے یہ معلوم ہوا کہ بل کے قبل اور مابعد والے مضمون میں تضاد و مخالفت ہے۔ اب غور سے سنئے کہ قتل ہونے اور روح کے اٹھائے جانے میں تو کوئی مخالفت نہیں۔ کیونکہ مرنے کے بعد روح کا جدا ہونا لازم ملزوم ہے اور مرزا قادیانی کو اس بات کا اقرار ہے کہ مسیح رسول اللہ معصوم و بے گناہ تھا۔ اب اگر وہ مصلوب کئے جاتے تو کوئی وجہ نہ تھی۔ جو ان کی روح آسمان پر نہ اٹھائی جاتی۔ مگر لفظ بل یہ روز روشن کی طرح ثابت کرتا ہے کہ یہ وہاں ہی آتا ہے جہاں ضد اور مخالفت ہو۔ کیونکہ یہ ابطالیہ ہے اور یہاں بقول مرزا کوئی مخالفت ہی نہیں۔ پھر سوال ہو گا کہ یہ لفظ بل یہاں کیوں آ گیا۔ اب قرآن کریم کی اس آیت کے سیاق و سباق کو ملاحظہ کیجئے۔
”وقولهم انا قتلنا المسيح عيسى ابن مريم رسول الله وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم وان الذين اختلفو لفى شك منه ما لهم به من علم الا اتباع الظن وما قتلوه يقيناً بل رفعه الله اليه وكان الله عزيزاً حكيما
(نساء: ١٥٧)“
دیکھئے یہود کے قول قتل و صلیب کی نفی کیسے ارفع و اعلیٰ پیمانہ پر کی گئی ہے۔ پہلے قتل مسیح کی نفی کی ، بعد میں صلیب پر چڑھانے کا انکار ہوا۔ اس کے بعد اس کے شبہ کی حقیقت بیان کی ، بعد میں ان کی کم علمی اور جہالت کا تذکرہ کرتے ہوئے ظن کو ان کا رہبر ٹھہرایا۔ اس کے بعد بڑے وثوق سے کہا وما قتلوه یقیناً یعنی یہود نے صحیح بات یہ ہے کہ یقیناً مسیح کو قتل نہیں کیا۔ بلکہ ہم نے اس کو اٹھا لیا اپنی طرف۔
اب سوال یہ ہے کہ مرزائیوں کا یہ کہنا کہ مسیح کو نہیں روح کو اٹھا لیا ہے۔ کیسا بودا اور مضحکہ خیز ہے۔ مسیح تو قتل ہی نہیں ہوئے۔ وہ تو صلیب پر چڑھائے ہی نہیں گئے۔ پھر کس طرح ان کی روح اٹھائی گئی۔ جب کہ روح جناب مسیح سے نکلی ہی نہیں۔ نیز قرآنی خطاب عیسیٰ سے ہے جو مرکب ہے۔ روح مع الجسد کے، اب اللہ تعالیٰ جو اپنی بادشاہی میں بڑا ہی زبردست و حکمت والا ہے۔ وہ تو یہ فرمائے کہ میں نے عیسیٰ مریم کے بیٹے کو اٹھا لیا ہے اور مرزائیہ کہے کہ روح اٹھائی گئی ہے
یہ تو ہوا سلیس سادہ ترجمہ۔ اب نحو کی رو سے دیکھئے لفظ بل اضرابیہ چاہتا ہے کہ جس مضمون کے مابعد میں آ رہا ہوں اس کا ماقبل مضمون مجھ سے اختلاف کرے۔ یعنی میرے سیاق و سباق میں ضد واختلاف ہو اور مضمون ماقبل کا ظہور پہلے ہو اس کی میں تردید مابعد میں کروں۔
اب دیکھئے بل کے ماقبل مضمون میں یہود و نصاریٰ قتل وصلیب مسیح کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے دعوے کو واقعات سے غلط ثابت کرتے ہوئے فرماتے ہیں یقیناً یہود نے مسیح کو قتل نہیں کیا۔ بلکہ ہم نے مسیح کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ رفع کے متعلق اتنا ہی کافی ہے کہ جب رفع یا اس کے مشتقات سے کوئی لفظ بولا جائے اور خدا اس کا فاعل ہو اور مفعول جوہر ہو عرض نہ ہو اور اس کا صلہ الیٰ مذکور ہو مجرور اس کا ضمیر ہو۔ اسم ظاہر نہ ہو اور وہ ضمیر فاعل کی طرف لوٹے وہاں سوائے آسمان پر اٹھانے کے اور کوئی معنی ہی نہیں ہوتے۔ اس اصول کے خلاف اگر کوئی مرزائی قرآن وحدیث سے ثبوت بہم پہنچادے تو منہ مانگا انعام پاوے۔
اب کہئے یہاں اشکال کیا ہے۔ یقیناً یہی صحیح ترجمہ وتفسیر ہے اور اسی پر اجماع امت اسی کی قرآن شہادت دیتا ہے۔ اسی کو انجیل پسند کرتی ہے۔ نہ مسیح کو کسی نے قتل کیا، نہ کوئی بدبخت اس کو سولی پر کھینچ سکا، نہ اس کے ساتھ استہزاء ہوئی، نہ اس کے منہ پر تھوکا گیا، نہ اعضاء میں کیل ٹھونکے، نہ وہ بھوکا پیاسا رہا، نہ کسی نامراد نے اس کی پسلی میں بھالا مار کر توڑنے کا قصد کیا، نہ مرہم عیسیٰ کسی نے بنائی، نہ تہ خانہ میں پوشیدہ رکھا، نہ بھیڑیں تلاش کرنے کو وہ وسط ایشیاء میں آیا، نہ افغانستان گیا، نہ نیپال کے چکر کاٹے، نہ کشمیر میں ٨٧ برس گمنامی میں بسر کر کے محلہ خان یار میں مرا نہ وہ لاما بنا، نہ بدھ مت اس نے جاری کیا، نہ اس نے یوز آسف کے روپ کو پسند کیا، نہ وہ شہزادہ نبی کہلایا۔
یہ قصہ ہی لغو لچر فضول وبکواس ہے۔ کیونکہ فرقان حمید اس آیت کے آخر میں ایک ایسی چیز بیان کرتا ہے جو یقیناً مرزا کی من گھڑت رسالت کے لئے ایک زبردست توپ خانہ ہے۔ جو یقیناً ایک مرزا تو کیا اگر بیک وقت کروڑوں متنبی آجائیں تو تباہ وبرباد ہو جائیں۔ کیونکہ اس آیت شریفہ کو مولا کریم نے ان الفاظ پر ختم فرمایا:
”وان من اهل الکتب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ویوم القیامۃ یکون علیہم شہیداً (نساء:١٥٩)“ اور جتنے فرقے ہیں اہل کتاب کے سو عیسیٰ پر یقین لائیں گے۔ اس کی موت سے پہلے اور قیامت کے دن ہوگا ان پر گواہ۔
یہ آیت کریمہ نصوص قطعیہ سے دلالت کرتی ہے۔ اس بات پر کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ موجود ہیں آسمان پر۔ جب دجال پیدا ہوگا تب اس جہاں میں تشریف لا کر اسے قتل کریں گے اور یہود و نصاریٰ ان پر ایمان لائیں گے۔ بے شک عیسیٰ زندہ ہیں مرے نہ تھے اور قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے حالات و اعمال کو ظاہر کریں گے کہ یہود نے میری تکذیب و مخالفت کی اور نصاریٰ نے مجھ کو خدا کا بیٹا کہا۔
اللہ جل شانہ نے اس آیت کریمہ میں متنبی قادیان کو بے موت مار دیا۔ کیونکہ قبل موتہ صاف و بین طور سے یہ دلالت کرتی ہے کہ مسیح کی موت سے پہلے تمام یہود و نصاریٰ ان پر ایمان لا کر اسلام میں مدغم ہو جائیں گے۔ روئے زمین پر صرف ایک ہی قوم رہ جائے گی جو توحید و سنت کی علمبردار اور اسلام کی شیدائی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ اپنی عاجز و بے کس مخلوق پر احسان عظیم فرماتے ہوئے بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئے مسیح علیہ السلام کو آسمان سے نازل فرمائیں گے اور جس طرح سورج کے طلوع سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور اس کی تمازت اندھوں کو بھی یہ یقین دلا دیتی ہے کہ آفتاب طلوع ہو چکا بعینہ ابن مریم کا آسمان سے آنا ہوگا جو دنیا اپنی آنکھ سے ان کے نزول کا مشاہدہ کرے گی تو کون بد بخت ہوگا جو اپنے خسران و خذلان کا سامان مہیا کرے۔ سبھی ایمان لائیں گے اور ایمان کی دولت سے بہرہ ور ہو جائیں گے۔ باقی رہا عقائد کا سوال تو وہ خود بخود درست ہو جائیں گے۔ کیونکہ مسیح کے آسمانی نزول کا معجزہ کچھ ایسا شاندار ہوگا کہ اس کی عظمت و ہیبت دلوں پر چھا جائے گی اور جب کہ وہ خود اپنے بندہ ہونے کا اعلان کریں گے تو کون ہے جو انہیں خدا کا بیٹا کہے اور ان کی معصومیت کا کون ہے جو انکار کرے۔ جب کہ وہ ایک لمبی عمر بسر کریں گے۔ بسن کہولت یعنی ادھیڑ عمر میں ہی ہوں گے۔ یہ کوئی چھوٹا سا معجزہ ہے کہ ایک دراز عمر گزارنے کے بعد ان کے قوائے بہت مضبوط ہوں۔ ان کی آواز میں کوئی فرق نہ آئے۔ ان کے چہرے کے خط و خال دیکھنے والے کو یہ یقین دلائیں کہ ان کی عمر پچاس سال سے متجاوز نہیں۔ حالانکہ وہ ایک دراز عمر بسر کرنے کے بعد تشریف فرما ہوں۔ یہ ہی سن کہولت ہے۔ جس کا وعدہ فرقان حمید نے دیا ہے اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے اور سوائے اس کے کسی کو کیا علم ہو سکتا ہے کہ وہ کیا کیا معارف ہوں گے جو آپ بیان فرمائیں گے۔ وہ حکمت سے لبریز باتیں اور گوہر بے بہا علمی نکات جن کا ذکر قرآن حکیم نے کیا ہے۔ ’’تکلم الناس فی المہد وکھلا‘‘ وہ ایسے ہی ہوں گے جو یہود نصاریٰ کو موم بنا دیں اور ان کے شکوک و شبہات کو حرف غلط کی طرح کالعدم کردیں۔ اللہ اللہ کیا شان ربی ہے کہ نزول مسیح کے وقت لاکھوں یہود اور کروڑوں نصاریٰ ’’یدخلون فی دین اللہ
افواجاً“ کا نظارہ دکھلائیں گے اور روئے زمین پر ایک یہودی اور نہ کوئی نصاریٰ ایسا باقی رہے گا جو دولت ایمان سے بہرہ ور نہ ہو اور اسلام کا شیدائی اور محمد کا گدائی نہ بنیں۔ کیا یہ اسلام کی ہتک ہے کیا یہ رسول اکرم ﷺ کی بڑائی اور شہنشاہی نہیں کہ تمام قومیں لوائے محمدی کو اپنا ملجاء اور ماوٰی قرار دیتے ہوئے شفاعت محمدی میں پناہ گزین ہو جائیں۔ نار جہنم سے بچیں اور خدا کے جنت کو آباد کریں۔ حدیث میں آیا ہے کہ قیامت کے روز یتیم مکہ ﷺ اکثریت امت پر ناز فرمائیں گے۔ قرآن کریم شاہد ہے ’ یوم ندعو کل اناس بامامهم “ حضور اکرم ﷺ فرماتے ہیں بعض انبیاء عظام ایسے بھی ہوں گے جن کے ساتھ چند گنتی کے آدمی ہوں گے۔ بعض کی امتیں سینکڑوں تک پہنچیں گی اور بعض ہزاروں سے تجاوز نہ کریں گے۔ مگر سرکار مدینہ ﷺ کی امت کا اندازہ سوائے اللہ تعالیٰ کے کون کر سکتا ہے۔
ناظرین کرام! اب آپ کی خدمت میں بزرگان سلف کی تفاسیر پیش کی جاتی ہیں۔ جن سے یہ معلوم ہوگا کہ آیت کریمہ مذکور بالا کے متعلق ان کے کیا پاکیزہ خیال تھے۔ پس غور سے سنئے۔
سب سے پہلے آپ کی خدمت میں حضور اکرم سرکار مدینہ ﷺ کا ترجمہ صرف اس لئے پیش کرتا ہوں کہ قرآن صامت کو سب سے زیادہ سمجھنے کا حق قرآن ناطق کا ہے۔ کیونکہ ملہم اپنے الہام سے کما حقہ واقف ہوتا ہے اور پھر یتیم مکہ ﷺ جن کا سینہ رحمت کردگار کا خزینہ تھا۔ آپ ﷺ وہ عرب کا چاند جو صداقت کا منبع سچائی کی تصویر عدل کا پیکر اور حیاء کا پتلا تھا۔ وہ جس نے کفر کی تاریکیوں کو چاک کیا اور جس کی نورانیت سے کفر کی اندھیریاں توحید کی فضاؤں میں بدلیں اور جس نے سب سے پہلے ان جاہل و بے تربیت بدوؤں کو جن کا پیشہ ڈکیتی و راہزنی اور چلن وحشیانہ تھا جو شراب کے دلدادہ اور جوئے کے عادی تھے جن کا دامن توحید سے کوسوں دور جن کا عجز و نیاز بتوں کے حضور میں ہوتا تھا۔ وہ ظلم و بربریت کے پتلے جو تمدن سے محض نا آشنا اور تہذیب سے کورے تھے اور جن کے لباس غربت کی غمازی کرتے تھے اور جنہیں پیٹ بھرنے کو نان جوین اور پہننے کو چیتھڑا بھی نہ ملتا تھا اور جو ننھی اور معصوم بچیوں کو فخریہ زندہ درگور کرتے اور اتراتے تھے اور جو رحم و کرم عفو وبخشش کو گویا جانتے ہی نہ تھے۔ اس کملی پوش آقا اس بے یارو مددگار یتیم نے جسے وطن عزیز سے نکال دیا گیا تھا اور جس کے سر کی قیمت فاحشہ عورت کی خوشی کو حاصل کرنے کے لئے کئی مردوں نے حاصل کرتے ہوئے سعی ناکام کی اس آقائے نامدار نے جسے قرآن یٰسین والضحیٰ طٰہ کے خطابات سے یاد کرتا ہے نے بس اک آن میں وہ کایا پلٹ کی کہ عرب کے ان خانہ بدوش بدوؤں سے زیادہ
کرہ زمین پر کوئی نیک و پاکباز نہ تھا۔ ان سے زیادہ کوئی متقی و پرہیز گار نہ تھا۔ اس آیت کریمہ کے متعلق ان سے ایک حدیث اس بزرگ محترم کی روایت سے نقل کی جاتی ہے جو ثقہ راوی ہیں اور جنہیں سینکڑوں فرمان رسالت ازبر تھے اور جو بھوکے رہتے مگر حضور ﷺ کی مجلس سے ایک منٹ جدا نہ ہوتے تھے۔ اکثر حضور ﷺ نے ان کے اس فعل پر فہمائش کی کہ جب ایسا موقعہ آئے اور کھانے کو نہ ملے تو بھوکے نہ رہا کرو۔ بلکہ عبدالرحمٰن بن عوف ابو بکر وعلی رضوان علیہم اجمعین کو مطلع کر دیا کرو۔ وہ اور ان کے علاوہ بھی تمہاری مدد کیا کریں گے۔ مگر عاشق کی خوراک دیدار محبوب ﷺ ہی رہی اور دست سوال کبھی بلند نہ ہوا۔ حضور اکرم کے پاس ایک دن کوئی صحابی ؓ خرمے لایا۔ حضور ﷺ نے ابو ہریرہ ؓ کے گلے میں چادر کی گتنی باندھ کر وہ خرمے اس میں رکھ دیئے اور فرمایا کہ جب بھوک لگے اس میں سے جتنے ضرورت ہوں نکال کر کھا لیا کرو۔ آہ خلافت عمرؓ تک ان خرموں نے وفا کی اور انہوں نے بیان کیا کہ واللہ میں نے روز سیر ہو کر خرمے کھائے مگر جب بھی دیکھا وہ خرمے ویسی ہی مقدار میں موجود رہے۔ جو آقا نے دیئے تھے۔ آپ گورنر ہوئے تو کھانستے ہوئے خوش ہو کر فخریہ فرماتے تھے۔ دنوں بھوکا رہنے والا آج آقا کی مہربانیوں سے حاکم بنا بیٹھا ہے۔ اطلس کے رومالوں سے ناک صاف کرتا ہے۔ وہ اس آیت کریمہ کے متعلق حضور اکرم ﷺ کا ارشاد سناتے ہیں۔ ”عن ابی ھریرة قال قال رسول الله ﷺ والذی نفسی بیده لیوشکن ان ینزل الیکم ابن مریم حكما عدلا فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیة ویفیض المال حتیٰ لا یقبله احد حتیٰ تکون السجدة الواحدة خیر من الدنیا وما فیها ثم تقول ابوھریرة فاقروا ان شئتم وان من اھل الکتاب الا لیؤمن به قبل موته (مشکوٰة ص ٤٧٩، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام) “ حضرت ابو ہریرہ ؓ سرور دو عالم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا مجھے اس ذات پاک کی قسم ہے جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ تحقیق اتریں گے تم میں ابن مریم حاکم عادل ہو کر پس صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر قتل کریں گے اور جزیہ اٹھا دیں گے۔
ان کے زمانہ میں مال اس قدر ہوگا کہ کوئی قبول نہ کرے گا۔ یہاں تک کہ ایک سجدہ عبادت الٰہی دنیا وما فیہا سے بہتر ہوگا۔ یہ حدیث بیان کر کے ابو ہریرہ ؓ کہتے ہیں۔ اگر تم چاہتے ہو کہ اس حدیث کی تائید قرآن سے ہو تو پڑھو آیت ”وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن به قبل موته“ یعنی خدا فرماتا ہے آخری زمانہ میں کوئی اہل کتاب میں سے ایسا نہ ہوگا جو مسیح پر اس کی موت سے پہلے ایمان نہ لائے گا۔
اس حدیث سے یہ ثابت اٹھاتے ہوئے امت کو یقین دلانے دیں اور وہ پوری نہ ہو یہ ناممکن ہے اور نہیں بیسیوں دفعہ تاکیداً صفات بیان کریں گے۔ اب کہئے جو فرمان رسالت شاہد ہے کہ جو بدبخت سرِ مو سرتابی کر۔ ”فلا وربك لا یؤمنو اے محمدؐ قسم ہے مجھے آپ کے رب تک وہ اپنے اختلاف اور جھگڑوں میں ان کے دلوں میں کوئی انقباض بھی پید اس حدیث کی صحت پر مرزا قادیانی نے اس کو صحیح تسلیم کرتے کہ آنے والا مسیح میں ہی ہوں۔ مسیح میری ماں کا نام مریم نہیں میرا نام م بھی یونہی کہتا ہے اور بہت سے اردو ”آئی ایم بائی عیسیٰ“ گو میرا نام غلام احمد بن انسان تھے میں بھی ہوں۔ وہ تو صرف عیسیٰ تھے می سمجھتے اب دیکھو دانیال نبی نے اپنی خدا کی مانند۔ اب یہ میرا قصور تھوڑ کتابوں میں حدیث کی صحت وعظم (ایام اور چونکہ یہ حدیث قسم کوئی گھاس خور منہ مارنے کی کوش تاویل کی۔ اس لئے گنجائش نہیں م
اس حدیث سے یہ ثابت ہوا کہ جناب فخر دو عالم ﷺ نے آیت مذکورہ کے ضمن میں قسم اٹھاتے ہوئے امت کو یقین دلانے کے لئے انتہائی کوشش فرمائی۔ حضور اکرم ﷺ کوئی بات کہہ دیں اور وہ پوری نہ ہو یہ ناممکن ہے اور پھر بات بھی وہ جس کے لئے حلف اٹھائیں اور ایک دو دفعہ نہیں بیسیوں دفعہ تاکیداً صفات بیان فرمائیں۔ جیسا کہ ہم آئندہ صفحات پر بیان کرنے کی کوشش کریں گے۔ اب کہئے جو فرمان رسالت کو نہ مانے وہ نبی ہے یا مجدد، محدث یا امام۔ چنانچہ قرآن شاہد ہے کہ جو بدبخت سرمو سرتابی کرے وہ پکا بے ایمان ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔
” فلا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم (نساء: ٦٥) “
اے محمدؐ قسم ہے مجھے آپ کے رب کی یعنی اپنی ذات کی کہ کوئی انسان مومن نہیں ہو سکتا۔ جب تک وہ اپنے اختلاف اور جھگڑوں میں آپ کو ثالث نہ مان لیں اور پھر آپ کے فیصلہ کے خلاف ان کے دلوں میں کوئی انقباض بھی پیدا نہ ہو اور آپ کے فیصلہ کے سامنے سر تسلیم خم کر دیں۔
اس حدیث کی صحت پر کسی مرزائی کو کوئی حق نہیں کہ چون و چراں کرے۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے اس کو صحیح تسلیم کرتے ہوئے مندرجہ ذیل کتابوں میں درج کیا ہے۔ مگر دھوکہ یہ دیا کہ آنے والا مسیح میں ہی ہوں۔ مسیح ابن مریم سے مراد مثیل مسیح ہے کیا ہوا۔ اگر میرا نام عیسیٰ نہیں میری ماں کا نام مریم نہیں میرا نام جب خدا عیسیٰ رکھے تو تم کون ہو۔ جیسا کہ ایک الہام انگریزی بھی یونہی کہتا ہے اور بہت سے اردو فارسی عربی کے الہام بھی اس کی ہمنوائی کرتے ہیں۔ الہام:
”آئی ایم ہائی عیسیٰ“
(براہین احمدیہ ص )
گو میرا نام غلام احمد بن چراغ بی بی ہے۔ مگر یہ نام کا فرق بھی کوئی چیز ہے۔ وہ بھی آخر انسان تھے میں بھی ہوں۔
وہ تو صرف عیسیٰ تھے میں عیسیٰ بھی ہوں اور مریم بھی ہوں۔ بلکہ تم بیوقوف ہو جو نہیں سمجھتے اب دیکھو دانیال نبی نے اپنی کتاب میں میرا نام میکائیل رکھا ہے اور میکائیل کا ترجمہ ہے خدا کی مانند۔ اب یہ میرا قصور تھوڑا ہی ہے دانیال کو پوچھو۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے مندرجہ ذیل کتابوں میں حدیث کی صحت و عظمت کا اقرار کیا ہے۔
(ایام صلح ص ٩١، تحفہ گولڑویہ ص ٤١، شہادت القرآن ص ٩، خزائن ج ٦ ص ٣٠٧)
اور چونکہ یہ حدیث قسم سے بیان ہوئی اس لئے اس میں قطعاً تاویل جائز نہیں اور اگر کوئی گھاس خور منہ مارنے کی کوشش کرے تو اس کا کان پکڑ کر کہہ دینا چاہئے کہ حلفیہ بیان میں تاویل کی کسی طرح گنجائش نہیں ہو سکتی کہ قسم کا فائدہ ساقط ہو جاتا ہے اور اس طرح سے دنیا کی
سچائی کا کوئی معیار باقی نہیں رہتا۔ اس لئے قسم میں استثناء جائز نہیں اور یہ مسلمہ چیز ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی ہمارے اس نظریے کی تائید کرتے ہیں۔
”نبی کا کسی بات کو قسم کھا کر بیان کرنا اس بات پر گواہ ہے کہ اس میں کوئی تاویل نہ کی جائے نہ استثناء بلکہ اس کو ظاہر پر محمول کیا جائے۔“
(حاشیہ حمامة البشریٰ ص١٤، خزائن ج٧ ص١٩٢)
اب ذیل میں ان بزرگ ومحترم ہستیوں کی تفاسیر پیش کی جاتی ہیں۔ جو عندالمرزا مجدد دین تھے اور جن کی رائے سے سرمو فرق کرنا کفر و الحاد کو دعوت دینا ہے۔ (عسل مصفےٰ ج١ ص١٦٥) زیر آیت ”وان من اهل الکتب الا لیؤمنن به قبل موته“ حضرت مولانا شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں۔
”اور اہل کتاب میں سے کوئی نہ ہوگا مگر یہ کہ وہ یقینا ایمان لائے گا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر حضرت عیسیٰ کی موت سے پہلے اور حضرت عیسیٰ قیامت کے دن ان اہل کتاب پر اس کی گواہی دیں گے۔“
(الیواقیت والجواہر ج٢ ص١٤٦) امام عبدالوہاب شعرانی زیر آیت ”وان من اهل الکتب الا لیؤمنن به قبل موته“ فرماتے ہیں ”حضرت عیسیٰ کے نازل ہونے پر یہ آیت دلیل ہے۔ جس کے یہ معنی ہیں کہ حضرت عیسیٰ کی موت کے وقت کے یہودی حضرت عیسیٰ کی موت سے پہلے ضرور ان پر ایمان لے آئیں گے۔ معتزلہ، فلسفیوں، یہودیوں اور عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ کے آسمان پر بمعہ جسم اٹھائے جانے سے انکار کیا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دوبارہ رفع جسمانی حضرت مسیح کے ”وانه لعلم للساعة“ اور ضمیر ”انه“ کی حضرت عیسیٰ کی طرف پھرتی ہے اور سچ یہ ہے کہ وہ بمعہ جسم کے آسمان پر اٹھائے گئے ہیں اور ان کے رفع جسمی پر ایمان لانا واجب ہے۔ کیونکہ ان کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ”بل رفعه الله الیه“ بلکہ اٹھا لیا اللہ نے ان کو اپنی طرف اور اللہ ہے غالب حکمت والا۔“
”اس عموم کا لحاظ زیادہ مناسب ہے۔ اس دعویٰ سے کہ موت سے مراد کتابی کی موت کیونکہ اس سے ہر ایک یہودی و نصرانی کا ایمان لانا ثابت ہوتا ہے اور یہ واقعہ کے خلاف ہے۔ اس لئے کہ جب خدا تعالیٰ نے یہ خبر دی کہ تمام اہل کتاب ایمان لائیں گے تو ثابت ہوا کہ اس عموم سے مراد عموم ان لوگوں کا جو نزول مسیح کے وقت موجود ہوں گے کوئی بھی ایمان لانے سے اختلاف نہیں کرے گا۔ جو اہل کتاب فوت ہو چکے ہوں گے وہ اس عموم میں شامل نہیں ہو سکتے۔ جیسے یہ کہا جاتا ہے۔ ”لا یبقی بلد الا دخله الدجال الا مکة والمدينة“ پس یہاں مدائن سے مراد وہی
مدائن یعنی شہر ہو سکتے ہیں جو اس وقت موجود ہوں گے اور اس پر ہر ایک یہودی اور نصرانی کے ایمان کا سبب ظاہر ہے۔ وہ یہ کہ ہر ایک کو معلوم ہو جائے گا کہ مسیح رسول اللہ ہیں جس کو اللہ تعالیٰ کی تائید حاصل ہے۔ نہ وہ کذاب ہیں نہ وہ خدا ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس پر ایمان کا ذکر فرمایا ہے جو حضرت مسیح کے تشریف لانے کے وقت ہوگا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کا رفع اس آیت میں ذکر فرمایا۔ ”انی متوفیک ورافعک الی“ اور مسیح علیہ السلام قیامت سے پیشتر زمین پر اتریں گے اور فوت ہوں گے اور اس وقت کی خبر دی کہ سب اہل کتاب مسیح کی موت سے پیشتر ایمان لائیں گے۔“
(الیواقیت والجواہر ج ٢ ص ٢٨١)
(الساری شرح صحیح بخاری) ابن جریر اپنی تفسیر میں حضرت ابن عباسؓ سے باسناد صحیح روایت کرتے ہیں کہ آیت ”وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن به قبل موته“ میں وہ اہل کتاب مراد ہیں جو اس زمانہ میں ہوں گے۔ پس وہ ایک ہی مذہب اسلام پر آجائیں گے۔“
ناظرین یہ دونوں حضرات جناب ابن عباسؓ وابن جریرؒ عند مرزا نہایت معتبر ہیں اور ان کے سامنے چون و چراں کرنا گویا کفر کو دعوت دینا ہے۔
الجواب الصحیح لمن بدل دین المسیح میں احمد بن عبدالحلیم تقی الدین ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں۔
”وان من اہل الکتب الا لیؤمنن به قبل موته“ اس آیت کی تفسیر اکثر علماء نے یہی کی ہے کہ مراد قبل موتہ سے حضرت مسیح کی وفات سے پہلے ہے اور یہودی کی موت کے معنی بھی کسی نے کئے ہیں اور یہ ضعیف ہے۔ کیونکہ اگر موت سے پہلے ایمان لایا جائے تو نفع دے سکتا ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرتا ہے۔ جب غرغرہ تک نہ پہنچے اور اگر یہ کہا جائے کہ ایمان سے مراد غرغرہ کے بعد کا ایمان ہے تو اس میں کوئی فائدہ نہیں۔ اس لئے غرغرہ کے بعد ہر ایک امر جس کا وہ منکر ہے اس پر ایمان لاتا ہے۔ پس مسیح علیہ السلام کی کوئی خصوصیت نہیں اور یہاں ایمان سے مراد نافع ہے۔ اس لئے کہ خدا تعالیٰ نے اپنی پاک کلام میں اس ایمان کے متعلق قبل موتہ فرمایا ہے۔ اس آیت میں ”لیؤمنن به“ مقسم علیہ ہے۔ یعنی قسمیہ خبر دی گئی ہے اور یہ مستقبل میں ہی ہو سکتا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ یہ ایمان لانا اس خبر کے بعد ہوگا اور اگر موت سے مراد یہودی کی موت ہوتی تو پاک اللہ اپنی کتاب میں یوں فرماتے ۔”وان من اہل الکتاب الا من یؤمن به“ اور لیؤمنن به ہرگز نہ فرماتے اور نیز ”وان من اہل الکتاب“ یہ لفظ عام ہے۔ ہر ایک یہودی ونصرانی کو شامل ہے۔ پس ثابت ہوا کہ تمام اہل کتاب یہود و نصاریٰ حضرت عیسیٰ کے نزول
کے وقت ان کی موت سے پہلے پہلے حضرت عیسیٰ پر ایمان لے آئیں گے۔ تمام یہودی و نصاریٰ ایمان لائیں گے کہ مسیح ابن مریم اللہ کا رسول ہے۔ کذاب نہیں جیسے یہودی کہتے ہیں اور نہ وہ خدا ہیں۔ جیسے نصاریٰ کہتے ہیں۔
ناظرین کرام! آپ کی خدمت میں خدا کا کلام معہ سلیس لفظی ترجمہ کے پیش ہوا اصل میں یہ ایک زبردست پیش گوئی ہے۔ جو نص صریحہ سے نزول مسیح وحیات مسیح پر مہر صداقت ثبت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ تمام یہود ونصاریٰ مسیح علیہ السلام پر اس بات کا ایمان لائیں گے کہ وہ خدا کے سچے رسول ہیں اور یقیناً خدا کے بیٹے نہیں۔ بلکہ بندے ہیں اور وہ قتل ومصلوب نہیں ہوئے تھے۔ بلکہ زندہ آسمان پر اٹھائے گئے تھے اور یہود ونصاریٰ کے اس ایمان لانے کی گواہی جناب مسیح دن قیامت کے اللہ تعالیٰ کے دربار میں دیں گے۔ فقیر کے خیال میں اس مبارک وقت میں وہ وعدہ الٰہی پورا ہوگا۔ جس کا تذکرہ قبل گزر چکا۔ یعنی ”وجيهاً في الدنيا“ یہ تو ظاہر ہے کہ مسیح کی پہلی زندگی میں یہ وجاہت نصیب نہیں ہوئی۔ وعدہ الٰہی یہ ہے کہ میں تمہیں دنیا و آخرت دونوں میں عزت دوں گا۔ مرزا قادیانی کہتا ہے کہ ان کی سخت تذلیل ہوئی منہ پر تھوکا گیا۔ طمانچے لگائے گئے۔ ہاتھوں اور پاؤں میں کیلیں ٹھونکی گئیں۔ بھوکا پیاسا صلیب پر جان توڑتا رہا۔ گالیاں سنتا اور استہزاء ہوتا دیکھا گیا۔ مگر بے بس ولاچار کچھ جواب نہ دے سکا۔ اس کے بعد بچارا بچتا چھپتا افغانستان ہوتا ہوا نیپال کے راستہ سے ہندوستان پہنچا۔ مسیح کے نام کو خیر باد کہی۔ کہیں مشرک بنا اور لامک کے نام کو پسند کیا۔ یہ نام بھی کچھ بھلا معلوم نہ ہوا تو بدھ کے لقب کو اختیار کر کے مدتوں جنگلوں میں فاقہ مستی و راہبانہ زندگی سے دو چار رہا۔ یہ مشرب بھی پسند نہ ہوا تو پنجاب کی خاک چھانتا شہزادہ نبی کہلاتا رہا۔ اس بے مزہ زندگی کو بھی خیر باد کہی تو جموں کے راستے کشمیر پہنچا۔ وہاں یوز آسف کے نام سے درویشی میں چندے گذران کی اور آخر محلہ خان یار میں مدفون ہوا۔
مگر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں مسیح تو وہ ہے جو ”وجعلني مباركاً اينما كنت“ یعنی وہ نہایت مبارک ہے۔ جس کو برکت دی گئی ہے۔ جہاں بھی وہ ہو پھر فرمایا ”وايد ناه بروح القدس“ یعنی مسیح تو وہ ہے جسے روح القدس یعنی جبرائیل مدد دینے کو خادم بنا رہتا ہے اور تعریفیں یہ کی کہ اس کی نگاہ لطف اندھوں کو آنکھیں اور کوڑھوں کو صحت بخشتی ہے اور اس کے دم سے مردے زندہ ہوتے ہیں۔ وہ دنیا میں نہایت عزت اور مرتبے والا ہے۔ پھر یہ کیا افتاد پڑی کہ شفاء کا نام بیماری رکھ لیا گیا اور کافور کو زنگی قرار دیا جارہا ہے۔ خدا تو عزت اور وجاہت کہے اور تم ہتک اور بے
عزتی ثابت کئے جاؤ۔ چنانچہ مرزا قادیانی کو اقرار ہے کہ مسیح نے پہلی زندگی میں یعنی اوائل وقت میں عزت نہیں پائی۔ ہاں ایک سکہ اور صرف ایک ہی سکہ ان کو کہیں سے ایسا ملا ہے جس سے وہ وجیهاً فی الدنیا کا اقرار کرتے ہیں۔ مگر یہ سکہ سوائے مرزا آنجہانی کے کسی دوسرے کو دیکھنا نصیب نہیں ہوا اور نہ ہی تاریخ اس کی گواہی دیتی ہے۔ شاید قادیان ٹکسال کا ہوگا۔
قرآن کریم کے بعد حدیث شریف نے تصدیق کی اور حدیث کے صحیح ہونے کی مرزا قادیانی نے تصدیق کی۔ اس کے بعد مجددین زمان نے نہایت شرح وبسط سے تائید کی اور اس وقت کے علمائے کرام تائید کرتے ہیں اور کرتے چلے جائیں گے۔ حتیٰ کہ وہ مبارک وقت آجائے گا۔ جب مسیح علیہ السلام نزول اجلال فرمائیں گے اور یہود ونصاریٰ ان پر ایمان لاکر دولت اسلام سے بہرہ ور ہوں گے۔ مگر مرزا کی امت کا حشر اللہ ہی جانتا ہے کہ کیا ہوگا۔ کیونکہ کلام پاک تو ایمان اہل کتاب کا بیان کرتی ہے اور یہ نہ اہل کتاب ہیں نہ مسلمان، فقیر کے خیال میں یہ اس مبارک وقت سے پہلے پہلے ختم ہو جائیں گے اور اگر کوئی باقی ہوگا تو وہ جناب مسیح کا انکاری کرے گا۔ کیونکہ وہ ایک دفعہ مسیح کاذب کو مسیح صادق سمجھ کر مصدق ہو چکا اور یہ ظاہر ہے کہ مسیح موعود یعنی وہ مسیح جس کا وعدہ دیا گیا ہے۔ وہ صرف ایک ہی ہوگا۔ اب مرزا قادیانی کا ترجمہ اس آیت کے متعلق ملاحظہ ہو۔
(الحق دہلی ص ٣٢، خزائن ج ٤ ص ١٦٢) ”کوئی اہل کتاب میں سے ایسا نہیں جو اپنی موت سے پہلے مسیح پر ایمان نہیں لائے گا۔ دیکھو یہ بھی تو خالص استقبال ہی ہے۔ کیونکہ آیت اپنے نزول کے بعد کے زمانے کی خبر دیتی ہے۔ بلکہ ان معنوں پر آیت کی دلالت صریحہ ہے۔“
صاحبان غور فرمائیں کہ موتہ کی ضمیر مرزا قادیانی نے کتابی کی طرف پھیری۔ حالانکہ لیؤمنن بہ اور اس سے قبل کی تمام ضمیریں جناب مسیح ہی کی طرف پھرتی ہیں۔ ذیل میں پوری آیت ملاحظہ فرمائیں۔
”وقولهم انا قتلنا المسيح عيسى ابن مریم رسول الله وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم وان الذين اختلفوا فيه لفى شك منه ما لهم به من علم الا اتباع الظن وما قتلوه يقيناً بل رفعه الله اليه وكان الله عزيزاً حكيما وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته (نساء)“
یہ نیا ظلم ہے کہ تمام ضمیریں تو مسیح کی طرف پھریں۔ مگر قبل موتہ اہل کتاب کی طرف حالانکہ یہ جمہور امت کے خلاف ہے اور اگر یہ ضمیر کتابی کی طرف پھرنی مقصود ہوتی تو قرآنی
عبارت یوں ہوتی۔ مگر ان گھاس خوروں کو تو دجل دینا ہی مقصود ہے۔ ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمن به“
مگر ایسا نہیں ہوا بلکہ آیت ”الا ليؤمنن به“ پکار کر کہہ رہی کہ قبل موتہ سے مراد قبل موت عیسیٰ ہے۔ کتابی نہیں اس لئے مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ موتہ کی ضمیر کتابی کی طرف راجع ہے۔ قطعاً غلط اور دجالانہ دھوکہ ہے۔ جب کہ مرزا قادیانی خود یہ مقرر کر چکے ہیں۔ (برکات الدعاص١٨، خزائن ج٦ ص١٨) پر لکھتے ہیں ۔ ”اس میں کچھ شک نہیں کہ سب سے زیادہ قرآن شریف کے سمجھنے والے ہمارے پیارے اور بزرگ نبی حضرت رسول کریمﷺ ہی تھے۔ پس اگر آنحضرتﷺ سے کوئی تفسیر ثابت ہو جائے تو مسلمان کا فرض ہے کہ بلا توقف اور بلا دغدغہ قبول کرے۔ نہیں تو اس میں الحاد اور فلسفیت کی رگ ہوگی۔“
جب یہ اصول مرزائیوں کے سامنے پیش کیا جاتا ہے تو ان کی رگ الحاد کٹنے کی بجائے اور زیادہ ابھرتی ہے۔ وہ اس کے مقابل میں ایک حدیث قبل موتہم والی قرآت جو ابن عباسؓ سے مروی ہے۔ جھٹ پیش کرتے ہوئے کہہ دیتے ہیں کہ دیکھئے صاحب یہ بھی تو ابن عباسؓ ہی کی حدیث ہے۔ حالانکہ یہ صریح دھوکہ ہے صحیح حدیث کا معیار کیا ہے۔ جس کے راوی نہایت معتبر اور کذب سے پاک ہوں۔ آئمہؒ نے ایک ایک راوی کی پوری پوری جانچ پڑتال کی اور جس کسی کو بھی خامی پایا صاف لکھ گئے کہ یہ راوی جھوٹا ہے اور اس کی بات قابل اعتبار نہیں اور پھر اسی پر ہی اکتفاء نہیں کیا۔ ان کی گھریلو زندگی سے اس کی تصدیق کراتے ہوئے بے اعتبار ثابت کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی قبور کو نور سے بھردے۔ جنہوں نے اتنی محنت و جانفشانی کی اور یہ بھی حضورﷺ کا کرم ہے کہ امت خیرالانام میں ایسے ایسے شیدائی بہت چلے آتے ہیں۔ جنہیں اپنی جان سے بڑھ کر دین پیارا رہا ہے اور رہے گا۔ اب سنئے کہ مندرجہ بالا قرآت جو ابن عباسؓ سے مروی پیش کی جاتی ہے۔ اس کے دو راوی مرزا قادیانی کے بھائی ہیں۔ جو کذاب ہونے کے علاوہ چور بھی ہیں۔ جہاں حدیث کو دیکھا تھا وہاں راویوں کی صحت بھی دیکھتے تو یہ شرمندگی نہ اٹھانی پڑتی۔ یہ سچ ہے کہ کلام مجید میں ”لا تقربو الصلوٰۃ“ ہے۔ یعنی نہ نزدیک جاؤ نماز کے مگر یہ بھی تو لکھا ہے ”وانتم سکارٰی“ یعنی جب حالت سکر میں ہو۔ ایسا ہی اس کے دو راوی مجروح ہیں۔ اوّل خصیف دوسرا عتاب ابن بشیر۔ اوّل الذکر کے لئے میزان الاعتدال میں ہے۔ ضعیف الحدیث اور سیئی الحافظہ اور مرجیہ ہونے کے علاوہ چور بھی تھا۔ بیت المال سے چادر اڑا کر امیرانہ ٹھاٹھ بنانے کے لئے کندھوں پر ڈال لی۔ رہا آخرالذکر عتاب وہ بھی ضعیف ہے اور کتاب المیزان میں ہے۔ (ترجمہ ص٣٩٣)
”امام نسائی نے اس کی تضعیف کی ہے۔ اسی طرح ابن مدینی وغیرہ نے بھی اس کو ضعیف کہا۔ زیادہ بسط میزان الاعتدال حافظ شمس الدین ذہبی کی کتاب میں ہے۔“
یہ تو تھی مرزا قادیانی کی وہ حدیث جو عمداً جھوٹی سمجھتے ہوئے مغالطہ دہی کے لئے پیش کی گئی۔ مگر ہم کس کس کی روک تھام کریں۔ یہاں تو نبوت ہی بے پیندے کا لوٹا بن رہی ہے۔ سابقہ حوالے میں مرزا قادیانی نے موتہ کی ضمیر کتابی کی طرف پھیری اور اب ایک اور نیا گل کھلا رہے ہیں۔ ملاحظہ کریں ۔
اپنی مایہ ناز کتاب (ازالہ اوہام ص ٢٨٤، خزائن ج ٣ ص ٢٩٨) پر بیان کرتے ہیں کہ:
” وان من اہل الکتٰب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ “ پیش گوئی کی صورت پر نہیں جیسا کہ ہمارے بھائی مولوی صاحبان جو بڑے علم کا دم مارتے ہیں۔ خیال کر رہے ہیں۔ بلکہ یہ تو اس واقعہ کا بیان ہے جو آنحضرت ﷺ کے وقت موجود تھا۔ یعنی یہودیوں اور عیسائیوں کے خیالوں کی جو اس وقت حالت تھی خدا تعالیٰ اتماماً للحجۃ انہیں سنا رہا ہے اور ان کے دلوں کی حقیقت ان پر ظاہر کر رہا ہے اور ان کو ملزم کر کے انہیں یہ سمجھا رہا ہے کہ اگر ہمارا یہ بیان صحیح نہیں تو مقابل پر آکر صاف طور پر دعویٰ کرو کہ یہ خبر غلط بتائی گئی ہے اور ہم لوگ شکوک و شبہات میں مبتلا نہیں بلکہ یقینی طور پر سمجھ بیٹھے ہیں کہ مسیح سچ مچ مصلوب ہو گیا۔ اس جگہ یہ بھی یاد رہے کہ آخر آیت میں جو یہ واقعہ ہے کہ قبل موتہ اس کلام سے اللہ جل شانہ کا یہ مطلب ہے کہ کوئی شخص مسیح کی عدم مصلوبیت سے یہ نتیجہ نہ نکال لیوے کہ چونکہ مسیح صلیب کے ذریعے سے مارا نہیں گیا۔ اس لئے وہ مرا بھی نہیں سو بیان فرمایا کہ یہ تمام حال تو قبل از موت طبعی ہے۔ اس سے اس کی موت کی نفی نہ نکال لینا۔ جو بعد اس کے طبعی طور پر مسیح کو پیش آگئی ۔ گویا اس آیت میں یوں فرماتا ہے کہ یہود اور نصاریٰ ہمارے اس بیان پر بالاتفاق ایمان رکھتے ہیں کہ مسیح یقینی طور پر صلیب کی موت سے نہیں مرا۔ صرف شکوک و شبہات میں سو قبل اس کے جو وہ لوگ مسیح کی موت طبعی پر ایمان لائیں جو درحقیقت واقعہ ہو گئی ہے۔ اس موت کے مقدمہ پر ایمان ہے۔ کیونکہ جب مسیح صلیب کی موت سے نہیں مرا جس سے یہود اور نصاریٰ اپنے اپنے اعتراض کی وجہ سے خاص خاص نتیجے نکالنا چاہتے ہیں۔ تو پھر اس کی طبعی موت پر بھی ایمان لانا ان کے لئے ضروری ہے۔ کیونکہ پیدائش کے لئے موت لازمی ہے۔ سو قبل موتہ کی تفسیر یہ ہے کہ قبل ایمانہ بموتہ اور دوسرے طور پر آیت کے یہ بھی معنی ہیں کہ مسیح تو ابھی مرا بھی نہیں تھا کہ جب سے یہ خیالات شک و شبہ کے یہود نصاریٰ کے دلوں میں چلے آتے ہیں۔ پس ان معنوں کی رو سے بھی قرآن کریم بطور اشارۃ النص مسیح کے فوت ہو جانے کی شہادت دے رہا ہے۔“
کذاب قادیان کے مخلص حواریو یہ تو کہو کہ مخبر صادق ﷺ کے ارشاد گرامی کے بعد کسی کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ کوئی متضاد سرکلر جاری کرے اور پھر مسلمانی کا دعویٰ بھی کرے۔ اللہ تعالیٰ تو پیش خبری فرمائیں کہ مسیح کی آمد ثانی کے وقت تمام یہود و نصاریٰ يدخلون في دين الله افواجاً ہو جائیں گے۔
مخبر صادق تو آمد ثانی کی حلف اٹھائیں کہ مسیح ابن مریم آئے گا اور تم خواہ مخواہ مان نہ مان میں تیرا مہمان بنتے ہوئے پچر لگائیں کہ نہیں ابن مریم نہیں بلکہ ابن چراغ بی بی ہے۔ مسیح نہیں بلکہ مثیل مسیح آئے گا اور مماثلت کا ثبوت معجزات ہیں۔ وہ آپ کے پلے ہی نہیں بلکہ ان آیات اللہ کی یعنی معجزات مسیح کی جو تحقیر آپ نے کی وہ ایک مسلمان کی شان سے اتنا ہی بعید ہے جیسا توحید میں شرک۔ اتنی لمبی عبارت یونہی ہیرا پھیری کر کے بات وہی کہی جو دجل آمیز تھی۔ اس مغالطہ آرائی سے آپ کا یہ مطلب ہے کہ مسیح صلیب پر تو نہیں بلکہ اس کے بعد طبعی موت مر گیا۔ بہر حال قبل موتہ کی ضمیر مسیح کی طرف ہی پھیری گئی ہے۔ حالانکہ اس سے پہلے حوالے میں ”دروغ گو را حافظ نباشد“ نے موتہ کی ضمیر کتابی کی طرف پھیری تھی۔ تو حاصل مطلب یہ ہوا کہ یہود پلید کا یہ عقیدہ کہ مسیح قتل وصلیب کے ذریعے فوت ہوئے غلط ہے اور ساتھ ہی قادیانی کا مسیح کو صلیب پر کھینچنا اور کشمیر میں مارنا باطل و دروغ بے فروغ ہے۔ دونوں جھوٹے ہیں۔ کیونکہ ابھی یہود مسیح پر ایمان نہیں لائے اور جب وہ قرب قیامت میں وعدہ الٰہی کے مطابق آویں گے تو تمام یہودی ان کی موت سے پہلے ان پر ایمان لائیں گے۔ اگر مرزا مسیح ہوتا تو یہودی ضرور ایمان لاتے۔ چونکہ فرقان حمید کا یہ نشان ابھی ایفاء کا متمنی ہے۔ اس لئے جناب مسیح کا آنا بھی لازمی ہے اور مرزا قادیانی بس یونہی گھاس خور ہیں۔
اب آپ کی خدمت میں قادیانی مفسر یا مرزائی روح القدس حکیم نور دین صاحب خلیفہ اوّل کا ترجمہ پیش کرتے ہیں۔
(فصل الخطاب حصہ دوم ص ٧٢ حاشیہ) زیر آیت ’وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موتہ‘ ”نہیں کوئی اہل کتاب میں سے مگر البتہ ایمان لاوے گا ساتھ اس کے پہلے موت اس کے اور دن قیامت کے ہوگا اوپر اس کے گواہ۔“
”وشہد شاهد من اهلها“ نے مرزا قادیانی کی رہی سہی کمر ہمت توڑ دی۔ کیونکہ مندرجہ بالا ترجمہ اسلامی نظریے اور فطرت انسانی کی تائید کرتا ہے۔ یعنی حکیم جی آخر حکیم تھے۔ اس لئے یہاں صحیح الدماغی کا ثبوت دیتے ہوئے قبل موتہ کی ضمیر مسیح کی طرف ہی پھیری ہے۔
ناظرین ! غور فرمائیں یہ آیت کریمہ مسیح کی زندگی پر قطعی درخشاں دلیل ہے اور واضح الفاظ میں یہ اعلان کرتی ہے کہ تمام اہل کتاب مسیح کی موت سے پہلے ایماندار ہو جائیں گے اور یہ ظاہر ہے کہ ابھی تک یہود جناب مسیح کو نعوذ باللہ کاذب لعنتی ہی سمجھتے ہیں۔ اس لئے معلوم ہوا کہ ابھی وہ سعید وقت نہیں آیا اور جب آئے گا یہودی یہودی نہیں رہیں گے۔ بلکہ تمام وکمال مسلمان ہو جائیں گے اور ابھی نصاریٰ کا وہم بھی بدستور وہی ہے کہ مسیح ہمارے گناہوں کے کفارہ کے لئے پھانسی چڑھ گیا۔ جب جناب مسیح کا نزول اجلال ہوگا اور وعدہ الٰہی کے مطابق وہ زمانہ کہل میں حکمت کے موتی لٹائیں گے تو یہ فاسد عقیدہ بھی نہ رہے گا۔ بلکہ نصاریٰ اس بات پر ایمان لائیں گے کہ مسیح کو اللہ تعالیٰ نے ”انی متوفیک ورافعك“ کے وعدے کے مطابق بلا صلیب کے دکھ و تکلیف دیئے زندہ اٹھا لیا تھا اور یہود کا ایمان یہ ہوگا کہ ”وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن قتلوا وصلبوا شبہ لہم“ یعنی نہیں قتل کیا تھا کسی نے مسیح کو اور نہ ہی سولی دیا گیا تھا وہ مگر جو مشابہ کیا گیا تھا مسیح کے اور مسیح، اللہ کے سچے رسول ہیں اور وہ وعدہ الٰہی کے مطابق جسد عنصری سے زندہ آسمان پر اٹھائے گئے تھے۔ یہ ہے اہل کتاب کا ایمان جو قرب قیامت میں نزول مسیح کے وقت وہ لائیں گے اور جناب مسیح یہود و نصاریٰ کے ان باطل عقائد کے چھوڑنے کی گواہی قیامت کے روز بارگاہ رب العزت میں دیں گے۔
مرزا آنجہانی اپنے زعم میں نبی تھے اور معارف قرآن میں ید طولیٰ رکھنے کی ہمیشہ لاف زنی کرتے تھے۔ مگر بخدا ان کی نبوت صرف اس بات پر مبنی تھی کہ کسی طرح تقدس کے جامہ کی نمائش کرتے ہوئے دنیا کو الو بناتے ہوئے ”روٹی تو کسی طور کما کھائے قلندر“ کے مصداق شکم پروری کا سامان مہیا کیا جائے۔ ورنہ قرآن کریم کو سمجھنا اور معارف کی ڈینگ مارنا تو ایسا ہے جیسا کوے کو گلیل، بیسیوں آیات تو انہوں نے غلط لکھیں اور لطف یہ ہے آگاہ ہونے پر بھی تصحیح نہ کر سکے۔ اس کی ظاہر وجہ تو یہ معلوم ہوتی ہے کہ انہیں ایک الہام نے تنگ کر رکھا تھا۔
”قرآن شریف خدا کا کلام اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔“
(تذکرہ ص ٢٤١)
اور غلط آیات کا نمونہ بھی ملاحظہ کریں۔
(ازالہ اوہام ص ٦٢٩، خزائن ج ٣ ص ٤٣٩) میں لکھتے ہیں کہ ”اللہ جل شانہ قرآن کریم میں اشارہ فرماتا ہے۔ ”وما ارسلنا من رسول ولا نبی اذا تمنی القی الشیطان فی امنیتہ“ ایسا ہی انجیل میں بھی لکھا ہے کہ شیطان اپنی شکل نوری فرشتوں کے ساتھ بدل کر بعض لوگوں کے پاس آ جاتا ہے۔“
نہ انجیل میں نہ قرآن میں وہ مرزا قادیانی کی زبان میں ہے کوئی جیتا جاگتا مرزائی یا تمام سوگئے۔ جو قرآن کریم سے یہ آیت جو قادیانی نے لکھی ہے دکھلا دے یا انجیل مقدس سے عبارت بعض لوگوں کے پاس موجود ہے یہی دکھلا دے اور اس کارکردگی کے عوض مبلغ پانچ صد روپے کھرے شاہی انعام پاوے۔ انجیل مذکور میں عبارت یوں ہے اور فرقان حمید میں یہ آیت شریف یوں ہے۔ ”وما ارسلنا من قبلك من رسول ولا نبي الا اذ تمنى“ اور لطف یہ (آئینہ کمالات اسلام ص٣٥٢) میں پھر اس آیت کو غلط ہی لکھا۔ حالانکہ اس میں روح القدس کی آمد کا ہر دم و ہر لحظہ دعویٰ بھی جڑ دیا۔ جو شخص قرآن کریم کو اپنے منہ کی باتیں قرار دے اور قرآنی الفاظ میں تغیر وتبدل کرنے سے نہ شرمائے ایمان سے کہئے وہ تراجم و تفاسیر میں کب جھجکے گا۔ مرزائی قرآنی تحریف کے متعلق کہہ دیا کرتے ہیں کہ یہ کتابت کی غلطیاں ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ ”لعنت الله علی الکاذبین“ اگر کاتب کی سہو ہوتی تو ترجمہ تو صحیح ہوتا۔ یہ ترجمہ بھی کاتب کھا گیا اور امت کو کیا سانپ سونگھ گیا۔ جو اغلاط درست نہیں کرتی۔ اب نفس مضمون کو سمجھئے کہ جو شخص اتنا دلیر ہو۔ قرآنی الفاظ کھا جائے ترجمہ ہضم کرلے اور ہزار نبیوں کے ہمپلہ ہونے کا دعویٰ کرے اور لطف یہ کہ آیات اللہ سے محض کورا ونابلد ہو وہ کس طرح ان چھوٹے چھوٹے نبیوں کے معجزات تسلیم کر لے۔ ذیل کا مضمون چشم بصیرت سے دیکھئے اور ایمان سے کہئے کہ مرزا قادیانی کا مرکب دجل کس میدان میں کسی ایک متنبی سے پیچھے رہا ہے۔
دوسری غلط آیت ملاحظہ فرمائیں۔ (حقیقت الوحی ص١٥٤) پر لکھتے ہیں کہ: ”یوم یأتی ربک فی ظلل من الغمام“ یعنی اس دن بادلوں میں میرا خدا آئے گا۔“
حالانکہ آیت غلط ہے قرآن حکیم میں ارشاد ربانی یوں ہے۔ (پارہ:٢، رکوع:٩) ”هل ینظرون الا ان یاتیہم الله فی ظلل من الغمام“
اگر کوئی سچ مچ یہ حقیقت الوحی کی مندرجہ بالا آیت کلام مجید میں دکھلادے تو مبلغ پانچ صد روپے نقد کھرے شاہی انعام پاوے۔ مگر یہ یاد رہے۔
کہ اس نواح میں سودا برہنہ پا بھی ہے
تیسری غلط آیت ملاحظہ فرمائیں۔ (نور الحق ص٤٦ حصہ اوّل، تبلیغ رسالت ج٣ ص١٩٤) ”وقال جادلهم (ای جادل
النصارى) بالحكمة والموعظة الحسنة“ اور ”وجادلهم بالتی ھی احسن “ اس نے یہ تو کہا کہ عیسائیوں سے حکمت اور نیک نصیحت کے طور پر بحث کرو۔“
حالانکہ آیت قطعاً غلط ہے اور فرقان حمید میں یوں ارشاد ہوتا ہے۔ ”ادع الی سبیل ربك بالحكمة والموعظة الحسنة وجادلهم بالتي هي احسن (نحل: ١٢٥)“
کیا میاں اندلسی اور دمشقی کسی گھاس خور کو فراغت نہیں سب پیٹ کے دھندے کے پھندے میں غلطان و پیچاں ہیں۔ جس کسی کو فرصت ہو وہ مندرجہ بالا دونوں کتابوں کی آیت مذکورہ کو کلام مجید سے نکال کر پیش کرے تو مبلغ پانچ صد روپیہ نقد چہرے شاہی انعام پاوے۔
چوتھی غلط آیت ملاحظہ فرمائیں۔
(حقیقت الوحی ص ١٣٠) ”الم يعلموا انه من يحادد الله ورسوله يد خله ناراً خالداً فيها ذالك الخزى العظيم “
حالانکہ آیت قطعی غلط ہے فرقان حمید یوں ارشاد کرتا ہے۔ ”الم یعلموا انه من يحاد الله ورسوله فان له نار جهنم خالدا فيها ذالك الخزى العظيم (توبه: ٦٣)“
کہاں ہیں وہ مرزا کو رسول و مجدد ماننے والے اور اسے کیا سے کیا بنانے والے۔ کیا یہی سلطان القلمی ہے کہ قرآنی آیات بھی غلط ہی لکھے اور ترجمہ الٹا کرنے پر شیخ چلی کے باپ سے زیادہ لاف و گزاف کے بلند بانگ دعاوى کئے جاتے ہیں۔
آنچہ دادہ است ہر نبی را جام دادآں جام را مرا بتمام
(در ثمین ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
مرزائیو! مرد میدان بنو اور مندرجہ بالا آیت کو کلام مجید سے نکال کر پیش کرو۔
پانچویں غلط آیت ملاحظہ فرمائیں۔
(نور الحق ج ١ ص ١٠٩ ، سرمہ چشم آریہ ص ١٠ حاشیہ، حقیقت الوحی ص ٢٣٨) ”وان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار التي وقودها الناس والحجارة“
حالانکہ یہ آیت غلط ہے فرقان حمید میں یہ آیت یوں مرقوم ہے۔ ”فان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار التي وقودها الناس والحجارة (بقره:٢٤)“
مسیح قادیانی کی چاہتی بھیڑو خدا لگتی کہو کہ یہ تمہارے مسیح کو کیا ہو گیا۔ میری نظر سے پانچ جگہوں سے یہ آیت آپ کی کتابوں میں گذری جس کے حوالے دیئے گئے ہیں۔ پانچوں جگہ غلط، گویا صحیح لکھنے کی توفیق ہی نہیں ہوئی اور پھر امت کو بھی ایسا سانپ سونگھا کہ بارہا ایڈیشن چھپے مگر تصحیح نہ کی۔ مگر کلام مرزا کو دیکھتا کون ہے۔ ہے کوئی سچ کا لال جو یہ آیت صحیح ثابت کر دکھلائے اور اس کی کارکردگی میں پانچ صد روپیہ انعام پاوے۔
چھٹی غلط آیت ملاحظہ کریں۔
(براہین احمدیہ ص ٤٨٨، حاشیہ نمبر ١١ شروع سطر) پر لکھتے ہیں کہ ”مقاصد قرآنیہ کا ایک ایجاز لطیف ہے اس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے۔ ”انا آتيناك سبعاً من المثاني والقرآن العظيم“ یعنی ہم نے تجھے اے رسول سات آیتیں سورۃ فاتحہ کی عطاء کی ہیں۔ جو مجمل طور پر تمام مقاصد قرآنیہ پر مشتمل ہیں۔“
حالانکہ آیت فرقان حمید میں یوں ہے۔ ”ولقد آتينك سبعا من المثاني والقرآن العظيم (حجر : ٨٧)“ ہے کوئی رودر گوپال قادیانی کا روحانی فرزند جو پنجابی نبی کی پیشانی سے یہ داغ دھو دے اور اس کے عوض مبلغ پانچ صد روپیہ نقد انعام پاوے۔
ساتویں غلط آیت ملاحظہ کریں۔
(براہین احمدیہ ص ٥٠٤، ٥٠٥، آخری سطر حاشیہ نمبر ٣) ”عسی ربکم ان یرحم علیکم وان عدتم عدنا وجعلنا جهنم للكفرين حصيرا“
حالانکہ کلام مجید یوں مرقوم و مسطور ہے۔ ”عسی ربکم ان يرحمكم وان عدتم عدنا وجعلنا جهنم للكفرين حصيرا (اسری : ٨)“
مسیح قادیانی کی چاہتی بھیڑو یہ کیا اندھیر نگری ہے۔ جو بھی آیت دیکھو غلط ہے۔ کوئی جیتا جاگتا مرزائی جو مندرجہ بالا آیت قرآن حکیم سے دکھلاوے اور اس کے عوض مبلغ پانچ صد روپیہ انعام میں پاوے۔
ناظرین! ایسی ایسی اور بیسیوں آیات ہیں جو غلط ہیں۔ میں نے مشتے نمونہ از خروارے ضیافت طبع میں پیش کر دی ہیں۔ یہ تو قرآن کریم کا حال تھا۔ اب ذرا حدیث شریف کی طرف آئیے اور دیکھئے مرزا قادیانی کا اس میں کتنا دسترس ہے اور مرزا قادیانی کے زاویہ نگاہ میں رسول
کریمﷺ کے ارشادات کی کیا وقعت ہے۔ یہ بھی مختصر الفاظ میں سنئے ؎
علی من رد قول نبینا
هل النقل شئی بعد ایحاء ربنا
فای حدیث بعده نتخیر
اخذنا من الحی الذی لیس مثله
وانتم عن الموتی رویتم ففکروا
رأینا وانتم تذکرون رواتکم
(اعجاز احمدی ص ٥٧، خزائن ج ١٩ ص ١٦٨)
خدا کی وحی کے بعد حدیث کی حقیقت ہی کیا ہے۔ پس ہم خدا کی حدیث کے بعد کس حدیث کو مان لیں۔ ہم نے اس سے لیا کہ وہ حی قیوم اور وحدہ لا شریک ہے اور تم لوگ مردوں سے روایت کرتے ہو۔ ہم نے دیکھ لیا اور تم اپنے راویوں کا ذکر کرتے ہو۔
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٠، خزائن ج ١٧ ص ٥١) ”جو شخص حکم ہو کر آتا ہے اس کو اختیار ہے کہ حدیثوں کے ذخیرے میں سے جس انبار کو چاہے خدا سے علم پا کر قبول کرے اور جس ڈھیر کو چاہے خدا سے علم پا کر رد کر دے۔“
(اعجاز احمدی ص ٣٠، خزائن ج ١٩ ص ١٤٠) ”میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میرے دعوے کی بنیاد حدیث نہیں بلکہ قرآن اور وحی ہے۔ جو میرے اوپر نازل ہوئی ہاں تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٤) ”جب کہ مجھے اپنی وحی پر ایمان ہے۔ جیسے تورات انجیل و قرآن پر تو کیا انہیں مجھ سے توقع ہو سکتی ہے کہ میں ان کی ظنیات بلکہ موضوعات کے ذخیرہ کو سن کر اپنے یقین کو چھوڑ دوں۔“
مرزائیو! گئے گذرے ایمان سے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہو کہ کس منہ سے تم ایسے شخص کو مسلمان کہہ سکتے ہو۔ جو ایسے فاسد خیالات کا مالک ہو۔ فرمان رسالت کو اپنے اوہام پر ترجیح دے اور امتی کہلائے اور نبی ہونے کا دعویٰ کرے اور ظل و بروز کے ڈھکوسلے ایجاد کرے۔ یہ تو بتاؤ کہ حدیث کو چھوڑ کر تم اسوہ حسنہ پہ کیونکر چل سکتے ہو۔ تمہارا تمدن قائم رہ سکتا ہے نہ تمہاری معاشرت۔
آہ تم نے قرآن صامت کو تمیز ہی نہیں کیا۔ تمہاری کم نصیبی کا جس قدر بھی ماتم کیا جائے کم ہے۔ تمہیں قرآن کا صحیح علم بجز قرآن ناطق کے ہو ہی نہیں سکتا۔ قرآن کریم مجمل ہے اور حدیث ان احکام ازلیہ کی عملی تصویر۔ مگر چونکہ ہر متنبئ کے تانے بانے کو اس سے آگ لگ جاتی ہے۔ اس لئے ہر دور میں تمام متنبئ حدیث سے خائف رہتے آئے ہیں۔ یہی وجہ ہے جو مرزا قادیانی نے اپنا راستہ صاف کرنے کے لئے فرمان رسالت کو راستے کا روڑا سمجھتے ہوئے ٹھکرا دیا۔ کیونکہ حدیث کی موجودگی میں مرزا قادیانی کا کاروبار چلنا ناممکن تھا۔ آہ اسلامی سیزدہ صد سالہ روایات کو جس پر ریت کے ذروں اور آسمان کے ستاروں سے زیادہ شواہد موجود ہیں اور جس پر دنیائے اسلام جن کی تعداد ٦٠ کروڑ سے زیادہ ہے کا انحصار و دارومدار ہے۔ پر یوں چند دنیوی مصلحتوں کے لئے پانی پھیرنا بے ایمانی اور کفر عظیم نہیں تو اور کیا ہے۔ صرف منہ سے مسلم مسلم کہہ دینا اور اسلام اسلام کی رٹ لگانا مسلمانی نہیں۔ جب تک اس کے ہر حکم کے سامنے بلا چون و چرا سر تسلیم خم نہ ہو اور اگر مسلمانوں کا نام رکھ لینے اور زبانی طور سے قرآن صامت و قرآن ناطق کی تصدیق کر دینے سے مومن ہو سکتا ہے تو ذیل کے جھوٹے متنبئ کیوں نہ مسلمان شمار کئے جائیں۔ مرزائیو ! فراخ دلی سے انہیں مرزائیت کے پہلے پیغمبر تسلیم کر لو۔ کیونکہ تمہارے مرزا قادیانی انہیں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے انہیں کی تعلیم سے بہرہ ور ہونے کے علاوہ انہیں کے دستر خوان کے ٹکرے توڑنے والے تھے۔ جیسا کہ ہم ذیل کی چند مثالوں میں پیش کریں گے۔
(اصول الدین ص ١٦٢) پر امام ابو منصور عبدالقاہر بغدادی تمیمی متوفی ٤٢٩ھ فرماتے ہیں۔
یزید بن امیہ خارجی
”یزید بن ابی امیہ خارجی نے اجماع امت اسلامیہ کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ خدا تعالیٰ آئندہ ایک پیغمبر عجم میں مبعوث فرمائے گا۔ اس کو کتاب و شریعت جدیدہ عطاء ہو گی۔ جس سے آنحضرت ﷺ کی شریعت کلاً یا بعضاً منسوخ کر دی جائے گی۔ اس کے متبعین صابی ہوں گے۔ جن کا ذکر قرآن حکیم میں موجود ہے۔“ جناب بغدادی اس کی تردید میں لکھتے ہیں۔
”سرور عالم ﷺ کی نبوت پر ایمان لانے کی چند شرائط ہیں۔ جن کے بغیر ایمان منظور نہیں۔
- ......١ اس کے خاتم انبیاء ورسل ہونے کا اقرار۔
- ......٢ آپ کی شریعت کے دوام کا اعتقاد۔
- ٣....... شریعت اسلامیہ کے عدم نسخ کلًا یا بعضاً کا عقیدہ۔
- ٤....... اس بات کا اعتراف کہ حضرت مسیح بن مریم علیہ السلام آسمان سے
اتریں گے اور شریعت اسلامیہ کی نشرواشاعت کریں گے۔ قرآن مجید کے احکام کو جاری اور خلاف قرآن کو مردود قرار دیں گے۔ قرآن صاف اعلان کر رہا ہے کہ حضور خاتم النبیین ہیں پھر حضور سے بہ تواتر مروی ہے کہ میرے بعد کسی قسم نبی نہیں آسکتا۔ ان حالات میں جو شخص قرآن وحدیث متواتر کا انکار کرے وہ کٹر کافر ہے۔“
بابک خرمی
بابک مقام خرم کا باشندہ ہے۔ اس نابکار کو بھی نبوت کی سوجھی۔ اس نے اپنی دعوت علاقہ آذربیجان میں شروع کی اور خالص عجمی نبوت کا اعلان کیا۔ تمام محرمات طیب قرار دی گئیں اور جماعت کا نام خرمیہ قرار دیا گیا۔ چنانچہ اس کے متعلق جناب امام ابو منصور بغدادی فرماتے ہیں۔
(اصول الدین ص ١٥٨) ”خرمیہ کا عقیدہ ہے کہ نبوت ہمیشہ جاری رہے گی۔ ان کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ تحریک خرمیہ کا اصل بانی شروین نامی شخص ہے جو دور جاہلیت میں گذرا ہے۔ وہ اس کے متعلق یہاں تک عقیدہ رکھتے ہیں کہ:
شروین تمام انبیاء حتیٰ کہ ختم الرسل سے بھی افضل ہے۔“
اس فتنہ بابکی کے متعلق بغدادی صاحب لکھتے ہیں۔
(الفرق ص ٢٦٨) ”مورخین کا بیان ہے کہ تحریک باطنیہ ابتداء زمانہ مامون میں شروع ہوئی اور زمانہ معتصم میں پھولی پھلی بقول مورخین خلیفہ معتصم کا سپہ سالار افشین حاجب بھی تحریک باطنی کا معتقد تھا اور بابک کے ساتھ اس کے بعض خفیہ معاہدے تھے۔ خرمی نے علاقہ بدین میں بغاوت شروع کی اور بابک کے کوہ سیام کے باشندے خرمی مذہب اور مزدک کے متبع تھے۔ پس خرمی اور باطنی باہم متحد ہوکر مسلمانوں کے مقابلہ کو ڈٹ گئے۔ علاقہ بدین اور دیلم سے ملا کر بابک کی جمعیت تقریباً تین لاکھ تھی۔ خلیفہ معتصم نے ان کے مقابلے کے لئے افشین حاجب کو روانہ کیا۔ مگر وہ دل سے بابک کے ساتھ تھا۔ اس لئے اس نے مقابلہ میں سستی دکھائی۔ بلکہ مسلم فوج کے رازوں پر اس کو مطلع کردیا۔ جس سے بابکیوں نے بہت سے مسلمان قتل کر دیئے۔ بعد ازاں افشین کو کمک پہنچی اور محمد بن یوسف ثغری، ابودلف قاسم بن عیسیٰ عجلی جیسے نامور سپہ سالار میدان میں جا پہنچے۔ ادھر
عبداللہ بن طاہر مشہور سپہ سالار کے فوجی افسر بھی میدان میں آگئے۔ لیکن با ایں ہمہ بابکیہ اور قرامطہ کی جمعیت مسلمان کی عسکری طاقت پر غالب رہی۔ یہ جنگ سالہا سال تک جاری رہی۔ تا آنکہ خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو بابکیہ پر فتح و نصرت عطاء کی۔ بابک ٢٢٣ھ میں گرفتار ہو کر سر من رائی میں سولی پر لٹکا دیا گیا۔ بعد ازاں اس کے بھائی اسحاق کو مازیار کے ساتھ گرفتار کر کے بغداد میں دار پر چڑھا دیا گیا۔ بابک کے قتل کے بعد خلیفہ کو معلوم ہوا کہ افشین حاجب بابکی غدار ہے۔ اس کی خیانت اور غدر سے جنگ نے طول کھینچا۔ اس پر خلیفہ نے اس کو بھی پھانسی دے دی۔‘‘
اہل سنت نے بالاتفاق ہر ایک متنبّی کی تکفیر کی خواہ اسلام سے پیشتر گذرا ہو۔ جیسے زرتشت، یوزآسف، مانی، مزدک یا بعد از اسلام ہو۔ جیسے مسیلمہ کذاب، سجاح، اسود عنسی اور تمام وہ متنبّی جو آج تک ہوتے چلے آئیں۔
چنانچہ بغدادی صاحب فرماتے ہیں:۔ ”ایسا ہی فرقہ سبائیہ نے مختار کو دھوکہ دے کر کہا کہ تو اس زمانے کا مہدی ہے اور اس کو ادعائے نبوت کی ترغیب دی۔ جس پر وہ نبی بن بیٹھا اور کہنے لگا کہ مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے۔“
چنانچہ امام ابو منصور عبدالقاہر بغدادی فرماتے ہیں کہ ”سبائیہ کس طرح مسلمان کہلا سکتے ہیں۔ جب کہ ان کا عقیدہ ہے کہ علی مرتضیٰ خدا تھے یا نبی۔ اگر سبائیہ اسلامی فرقوں میں داخل ہیں۔ تو مسیلمہ کے اتباع بھی مسلمان شمار ہونے چاہئیں۔ عیاذ باللہ!“
(الفرق ص ٢٢٦)
چنانچہ امام ابو منصور عبدالقاہر بغدادی نے ان مسلم نما یہودیوں پر یعنی جو بظاہر مسلمان معلوم ہوتے ہیں۔ ایک سیر حاصل بحث کی ہے۔ مگر چونکہ ہمارا مضمون کچھ اور ہے۔ اس لئے نام ہی درج کرنے پر اکتفاء کی جاتی ہے۔ کتاب (الفرق بین الفرق ص ٢٢٠) پر لکھتے ہیں۔ یعنی ان فرقوں کا بیان جو بظاہر مسلمان ہونے کے مدعی ہیں۔ مگر در حقیقت کافر ہیں۔ پھر ان کی تعداد اکیس بتلائی جو ذیل میں درج ہے۔
”سبعائیہ، بیانیہ، حربیہ، مغیریہ، منصوریہ، جناحیہ، خطابیہ، غرابیہ، مفوضیہ، حلولیہ، اصحاب التناسخ، حائطیہ، حمادیہ، مقنعیہ، رذامیہ، یزیدیہ، میمونیہ، باطنیہ، حلاجیہ، غداقریہ، اصحاب اباحہ“
اس کے علاوہ امام موصوف کے بعد چند ایک سرپھرے اور ہوئے جن میں سے زمانہ حال میں احمدیہ ہیں۔
ذیل میں ایک خط اور اس کا جواب پیش کرتے ہوئے اس مضمون کو ختم کیا جاتا ہے۔ یہ وہ بدبخت رئیس الیمامہ تھا۔ جس کے ستر ہزار جان نثار صرف ایک میدان میں اس کی جھوٹی نبوت کے زعم میں جناب خالدؓ بن ولید کے ہاتھوں جہنم کی زینت ہوئے اور جناب وحشیؓ کے ہاتھوں یہ بدنصیب المقلب بہ مسیلمہ کذاب وفي نار جہنّم خالدین فیھا ہوا۔
شیخ الاسلام ابن قیم (زادالمعاد ج ١ ص ٢٦) میں لکھتے ہیں۔
”جب وفد بنی حنفیہ یمامہ واپس آیا تو دشمن خدا مسیلمہ مرتد ہو کر نبی بن بیٹھا اور کہنے لگا میں حضور کے ساتھ نبوت میں شریک ہوں۔ اس نے قرآن کے رنگ میں کچھ مسجع عبارتیں بھی کہیں اور اپنے متبعین سے نماز کی فرضیت ساقط قرار دی اور زنا اور شراب حلال کر دی۔ مگر باایں ہمہ حضور ﷺ کی نبوت کا معترف تھا۔“
چنانچہ طبری و کامل و بلاذری میں لکھا ہے کہ سرکار مدینہ کو ذیل کی دعوت لکھی۔
”مسیلمہ پیغمبر بسوئے محمد رسول اللہ واضح رہے کہ عرب کی نصف مملکت ہماری ہے اور نصف قریش کی۔ لیکن قریشی بڑے بے انصاف ہیں۔ آخر میں تحفہ سلام قبول کیجئے۔“
سرکار مدینہ ﷺ نے اس کے جواب میں حسب ذیل لکھا اور فقیر کے خیال میں یہی مرزائے قادیان کے لئے مفید ہے۔ بشرطیکہ امت غور کرے۔
”از محمد رسول اللہ بسوئے مسیلمہ کذاب۔
واضح ہو کہ مملکت درحقیقت خدا تعالیٰ کی ہے وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔ مگر آخری کامیابی صرف نیکوں کے لئے ہے۔ آخر میں تمام راہ راست پر چلنے والوں کو سلام۔“
لطیفہ!
مسیلمہ کذاب کا مؤذن عبداللہ بن نواحہ اذان یوں دیتا تھا۔ ”اشھد ان محمدا ومسیلمة رسول اللہ“
مگر مرزا قادیانی تو اس کی بھی قبر پر لات مارتا ہوا کہہ گیا۔
منم محمد واحمد کہ مجتبیٰ باشد
(تریاق القلوب ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ١٣٤)
بہاء اللہ ایرانی اور مرزا قادیانی ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے تھے
فرق اس قدر ہے کہ مرزا قادیانی بہائی زندقہ کے خوان کرم کے ریزہ چین ہیں۔
بھائی!
(کتاب الفرائد ص ٢٨٦) ”اگر کوئی خدا پر افتراء باندھے کسی اپنی کلام کو اس کی طرف منسوب کرے تو خدا تعالیٰ اس کو جلد پکڑتا ہے اور ہلاک کر دیتا ہے۔ چنانچہ سورۂ مبارکہ حاقہ میں فرماتا ہے۔ اگر یہ پیغمبر ہماری طرف جھوٹی باتیں منسوب کرتے تو ہم ان کا داہنا ہاتھ پکڑتے پھر اسکی رگ جان کاٹ ڈالتے۔“
(مقالہ سیاح ص ١٤٢) ”حضرت بہاء اللہ نے علمائے اسلام کے متعلق فرمایا ہے۔ ’’شرّ تحت ادیم السماء‘‘ یعنی علماء آسمان کے نیچے سب سے برے لوگ ہیں۔ انہیں سے فتنے اٹھے اور انہیں کی طرف عود کر گئے۔“
(مقدمہ نقطۃ الکاف) ”خدا کے مظہر برابر آتے رہیں گے۔ کیونکہ فیض الہی کبھی معطل نہیں رہا اور نہ رہے گا۔“
(کتاب الفرائد ص ٣١٤) ”یا بنی آدم اما یاتینکم رسل منکم یقصون علیکم آیاتی میں صراحتاً مستقبل کی خبر دی ہے۔ کیونکہ لفظ یاتینکم کو نون تاکید سے خاص کر لیا ہے اور فرمایا تمہارے پاس ضرور رسول آتے رہیں گے۔“
(بحر العرفان ص ١٤١) ”وبالاخرة هم یوقنون یعنی اس وحی پر بھی یقین رکھتے ہیں جو آخر زمانہ میں نازل ہوگی۔“
(عمدۃ التصحیح ص ٨٨) ”صحیح بخاری کی حدیث ہے ’’ویضع الحرب‘‘ یعنی مسیح آ کر جہاد کو برطرف کرے گا۔ چنانچہ بہاء اللہ کے مرید جہاد کے قائل نہیں اور نہ کسی غازی مہدی پر ایمان رکھتے ہیں۔“
(الحکم ٣؍ مئی ١٩٠٥ء)
بہاء اللہ نے قتل کو حرام لکھا ہے اور نیز لکھا ہے ”اے اہل توحید کمر ہمت مضبوط باندھ کر کوشش کرو کہ مذہبی لڑائی (جہاد) دنیا سے محو ہو جائے۔ حبل اللہ اور بندگان خدا پر رحم کر کے اس امر خطیر پر قیام کرو اور اس نار عالم سوز سے خلق خدا کو نجات دو۔“
(مقالہ سیاح ص ٩٤)
(کوکب ہند) ”لوکان الایمان معلقاً بالثریا والی حدیث صاف طور پر حضرت بہاء اللہ کے متعلق ہے۔ کیونکہ وہ ایران کے دارالسلطنت طہران کے قریب ایک موضع میں جس کا نام نور ہے پیدا ہوئے۔ موضع نور میں ایران کے کیانی بادشاہوں کی نسل میں
ایک خاندان آباد تھا۔ بہاء اللہ اسی خاندان کے چشم و چراغ ہیں۔“
مرزائی!
(اربعین نمبر ٤ ص ١١، خزائن ج ١٧ ص ٤٤٠) ”میرے دعوے الہام پر تئیس سال گزر گئے اور مفتری کو اس قدر مہلت نہیں دی جاتی۔ چنانچہ حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ اگر یہ پیغمبر ہماری طرف جھوٹی باتیں منسوب کرتا تو ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑتے پھر اس کی رگ جان کاٹ ڈالتے۔ پھر کہا یہی خدا تعالیٰ کی عادت ہے کہ ایسے کذاب بے باک مفتری کو جلد نہ پکڑے۔ یہاں تک کہ اس افتراء پر تئیس سال سے زیادہ عرصہ گزر جائے توریت اور قرآن دونوں گواہی دے رہے ہیں کہ خدا پر افتراء کرنے والا جلد تباہ ہو جاتا ہے۔“
(تبلیغ رسالت نمبر ٢ ص ٣١، ضمیمہ انجام آتھم) مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ ”حدیث میں ہے اس زمانہ کے مولوی اور محدث ان تمام لوگوں سے بدتر ہوں گے جو روئے زمین پر رہتے ہوں گے۔“
”اے بدذات فرقہ مولویوں“ (سیرۃ المہدی ص ٨٢ ج ٢) سورۃ اعراف میں فرمایا ہے۔ ”یا بنی ادم اما یاتینکم رسول منکم یقصون علیکم ایاتی“ ”اے بنی آدم تمہارے پاس ضرور رسول آتے رہیں گے۔ یہ آیت آنحضرت ﷺ پر نازل ہوئی۔ اس میں تمام انسانوں کو مخاطب کیا گیا ہے۔ یہاں یہ نہیں لکھا کہ ہم نے گذشتہ زمانے میں یہ کہا تھا۔ سب جگہ آنحضرت ﷺ اور آپ کے بعد کے زمانہ کے لوگ مخاطب ہیں۔ غرض یاتینکم کا لفظ استمرار پر دلالت کرتا ہے۔ ”وبالاخرۃ ھم یوقنون“ اس وحی پر بھی یقین رکھتے ہیں جو آخری زمانہ میں مسیح موعود (مرزا) پر نازل ہوگی۔“
دین کے لئے حرام ہے اب جنگ و جدال
اب آگیا مسیح جو دین کا امام ہے
دین کے تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
اب آسمان سے نور خدا کا نزول ہے
اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
کیوں چھوڑتے ہو لوگو نبی کی حدیث کو
جو چھوڑتا ہے چھوڑ دو تم اس خبیث کو
کیا یہ نہیں بخاری میں دیکھو تو کھول کر
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص٢٧، خزائن ج١٧ ص٧٨)
(تبلیغ رسالت ج٣ ص١١٩) ”میں کسی خونی مہدی اور مسیح کے آنے کا منتظر نہیں۔“
(کتاب البریہ ص١٤٤، خزائن ج١٣ ص١٦٢) ”میرا ایک الہام ہے۔ ”خذوا التوحيد التوحيد يا أبناء الفارس“ توحید کو پکڑو اے فارس کے بیٹو۔“
”دوسرا الہام ”لوكان الايمان معلقاً بالثريا لناله رجل من فارس“ اگر ایمان ثریا سے بھی معلق ہوتا تو یہ مرد جو فارسی الاصل ہے (مرزا قادیانی) اس کو وہیں جاکر لے آتا۔“
مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے ہم مشرب بھائی سید محمد جونپوری ایک ہی
تھیلی کے چٹے بٹے تھے، جونپوری استاد تھے اور قادیانی شاگرد
یا یوں سمجھئے کہ جونپوری خدا تھا اور قادیانی رسول۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے کتب مہدویہ سے بہت کچھ استفادہ حاصل کیا اور اسی خرمن الحاد سے بہت کچھ خوشہ چینی کی۔
مہدویہ یعنی جونپوری!
(ہدیہ مہدویہ ص٢٨) ”مہدوی کہتے ہیں خاتم النبیین سے یہ مراد ہے کہ کوئی پیغمبر صاحب شریعت جدیدہ آنحضرت ﷺ کے بعد پیدا نہ ہوگا اور نبی متبع شریعت محمدیہ تو منافی آیت ”ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول الله وخاتم النبیین“ کا نہیں ہے اور سید محمد جونپوری پیغمبر متبع ہیں۔“
(ہدیہ مہدویہ ص٣٤) ”پنج فضائل وغیرہ کتب مہدویہ میں مذکور ہے کہ سید محمد جونپوری کا نواسہ سید محمود ملقب بہ حسین ولایت شہید کربلا امام حسین کے برابر ہے یا بہتر ہے۔“
(ہدیہ مہدویہ ص٢٩) ”شواہد الولایت میں لکھا ہے کہ سید محمد جونپوری نے فرمایا کہ حق تعالیٰ نے بندہ کو جملہ موجودات کے احوال اس طرح معلوم کروا دیئے ہیں۔ جیسے کوئی رائی کا دانہ ہاتھ میں رکھتا ہو اور ہر طرف پھرا کر کما حقہ پہنچائے۔“
(ہدیہ مہدویہ ص١٦) ”مہدویہ کا اعتقاد ہے کہ سید محمد جونپوری وہی مہدی ہیں جن کے ظہور کی آنحضرت ﷺ نے بشارت دی۔“
(ہدیہ مہدویہ ص١٨) ’’ایک دن میاں خوند میر (امام و خلیفہ مہدی جونپوری) نے ایک سنگریزہ ہاتھ میں لے کر مہاجرین و خلفائے مہدی کے مجمع میں کہا دیکھو یہ کیا ہے۔ سب نے جواب دیا سنگریزہ ہے۔ کہا اس کو مہدی موعود علیہ السلام نے جوہر بے بہا کہا ہے تمام مہاجرین اور خلفاء نے کہا آمنا و صدقنا ہمارے دیکھنے کا کیا اعتبار ہے کہ جو کوئی فرمان مہدی میں شک کرے یا تاویل کرے وہ ان مہدی میں سے نہیں ہے۔‘‘
(ہدیہ مہدویہ ص١٢٤) ’’قرآن شریف سورۃ جمعہ میں ’وآخرین منھم لما یلحقوا بہم وھو العزیز الحکیم‘ میں اشارہ میرے زمانے کی نسبت ہے۔ یعنی ایک نوع انسانی اور ہے جو آخری زمانہ میں ہوگا۔ لوگ ظلمت و گمراہی میں پڑے ہوں گے۔ تب خدا ان کو صحابہ کے رنگ میں لائے گا اور یہ مسیح موعود کا زمانہ اور گروہ ہوگا۔‘‘
(ہدیہ مہدویہ ص٢٠٨) ’’مہدی جونپوری لوگوں کو حج بیت اللہ سے باوجود فرضیت اور استطاعت کے منع کیا کرتے تھے اور اپنے خلیفہ میاں دلاور کے حجرہ کو بمنزلہ کعبہ کے ٹھہرایا تھا کہ اس کے تین طواف کعبۃ اللہ کے سات طواف بلکہ تمام ارکان حج کے قائم مقام قرار دیتا تھا۔‘‘
(ہدیہ مہدویہ ص١٤٩) ’’سید محمد جونپوری اس بات کے مدعی تھے کہ وہ دار دنیا میں حق تعالیٰ کو عیانا سر کی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔‘‘
(ہدیہ مہدویہ ص٢٧٩) ’’سید محمد جونپوری کے اصحاب کا اس پر اتفاق ہے کہ محمد ﷺ اور حضرت مہدی موعود ایک ذات ہیں۔‘‘
(ہدیہ مہدویہ ص١٧) ’’جو احادیث رسول اگرچہ کیسی روایات صحیحہ سے مروی ہوں۔ لیکن مہدی جونپوری کے بیان واحوال سے مطابق کرکے دیکھیں۔ اگر مطابق ہوں تو صحیح ورنہ غلط جانیں۔‘‘
(ہدیہ مہدویہ ص٢٤) ’’مطلع الولایت میں لکھا ہے کہ اوّل بارہ برس تک امر الٰہی ہوتا رہا اور مہدی جونپوری وسوسۂ نفس و شیطان سمجھ کر حکم خدا ٹالتے رہے۔ آخر خطاب باعتاب ہوا کہ ہم روبرو سے فرماتے ہیں تو اس کو غیر اللہ سمجھتا ہے۔ اس کے بعد بھی شیخ موصوف اپنی عدم لیاقت وغیرہ کا عذر پیش کرکے آٹھ برس اور ٹالتے رہے۔ بیس برس کے بعد خطاب باعتاب ہوا کہ قضا الٰہی جاری ہو چکی۔ اگر قبول کرے ماجور ہوگا ورنہ مہجور ہوگا۔‘‘
(ہدیہ مہدویہ ص٢٤٩) ’’پنج فضائل میں ہے کہ سید محمود نے اپنے والد سید محمد جونپوری سے روایت کی کہ میراں جی نے فرمایا کہ نہ میں کسی سے جنا گیا اور نہ میں نے کسی کو جنا اور ایک روز ان
کے خلیفہ دلاور کے سامنے یوسف نام ایک شخص نے بوقت وعظ سورہ اخلاص پڑھی۔ جب وہ لم یلد ولم یولد پر پہنچا تو دلاور نے کہا نہیں یلد ویولد یوسف نے کہا نہیں لم یلد ولم یولد ۔ دلاور نے کہا یلد ویولد عبد المالک نے یوسف سے کہا بھائی خاموش رہو۔ میاں جی ولایت کا شرف بیان کرتے ہیں جو کہتے ہیں سو حق ہے۔“
احمدیہ یعنی قادیانی!
(ریویو آف ریلیجنز ج٢١) ”خاتم النبیین سے یہ مراد ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی صاحب شریعت نبی پیدا نہیں ہوگا اور کوئی غیر تشریعی نبی ظاہر ہو تو آیت خاتم النبیین کے منافی نہیں اور مرزا غلام احمد قادیانی غیر تشریعی نبی تھے۔“
مرزا قادیانی بڑا حریص واقع ہوا تھا۔ وہ یہ خطاب نواسۂ رسول اللہ ﷺ کو نہیں دینا چاہتا تھا۔ اس لئے اپنی ہی شکم پروری یا پیٹ پوجا کا سامان یوں کیا۔
صد حسین است در گریبانم
(نزول المسیح ص٩٩، خزائن ج١٨ ص٤٧٧)
(ضرورت الامام ص ١٣، خزائن ج ١٣ ص ٤٨٣) مرزا قادیانی کہتا ہے کہ ”مجھے علم غیب پر اس طرح قابو ہے جس طرح چابک سوار کو گھوڑے پر ہوتا ہے۔“
(ایام صلح ص٩١، خزائن ج ١٤ ص ٣٢٨) مسیح قادیان نے لکھا ”اگر خدا کا پاک نبی اپنی پیش گوئیوں کے ذریعہ سے میری گواہی دیتا ہے تو تم اپنے نفسوں پر ظلم مت کرو۔“
(سیرۃ المہدی ج١ ص٨١) ”مولوی نور دین خلیفہ اوّل فرمایا کرتے تھے کہ یہ تو صرف نبوت کی بات ہے۔ میرا تو ایمان ہے کہ اگر حضرت مسیح موعود صاحب شریعت نبی ہونے کا دعویٰ کریں اور قرآن شریف کو منسوخ قرار دیں تو بھی مجھے انکار نہ ہو۔ کیونکہ جب ہم نے آپ کو واقعی صادق اور من جانب اللہ پایا تو اب جو بھی آپ فرمائیں گے وہی حق ہوگا اور ہم سمجھ لیں گے کہ آیت خاتم النبیین کے کوئی اور معنی ہوں گے۔“
(ایام صلح ص٧٠، خزائن ج ١٤ ص٣٠٤) ”قرآن شریف میں یہ پیش گوئی بڑی وضاحت سے آنے والے مسیح کی خبر دیتی ہے۔ ”وآخرین منھم لما یلحقوا بھم وھو العزیز الحکیم“ یعنی ایک گروہ اور ہے جو آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا۔ وہ بھی غرق تاریکی اور گمراہی میں ہوں گے اور علم اور حکمت اور یقین سے دور ہوں گے۔ تب خدا ان کو بھی صحابہ کے رنگ میں لائے
گا۔ یعنی جو کچھ صحابہ نے دیکھا وہ ان کو بھی دکھایا جائے گا۔ یہاں تک کہ ان کا صدق اور یقین بھی صحابہ کے صدق کے اور یقین کی مانند ہو جائے گا اور یہ مسیح موعود کا گروہ ہے۔“
(تذکرۃ الشہادتین ص٤٧، خزائن ج٢٠ ص٤٩)
مرزا قادیانی نے لکھا ”ایک حج کا ارادہ کرنے والے کے لئے اگر یہ بات پیش آجائے کہ وہ مسیح موعود کو دیکھ لے۔ جس کا تیرہ سو برس سے انتظار ہے تو بموجب صریح قرآن اور احادیث کے وہ بغیر اس کی اجازت کے حج کو نہیں جاسکتا۔“
ہجوم خلق سے ارض حرم ہے
(درثمین)
”ہمارا جلسہ بھی حج کی طرح ہے۔ خدا نے قادیان کو اس کام کے لئے مقرر کیا ہے۔“
(برکات خلافت ص٥)
ایسا ہی مرزا قادیانی نے (ضرورت الامام ص١٣، خزائن ج١٣ ص٤٧٤) میں لکھا ہے کہ ”خدا تعالیٰ مجھ سے بہت قریب ہو جاتا ہے اور کسی قدر پردہ اپنے پاک اور روشن چہرے سے جو نور محض ہے اتار دیتا ہے۔“
(خطبہ الہامیہ ص٢٥٩، خزائن ج١٨ ص٢٥٩)
”جس شخص نے مجھ میں اور رسول اللہﷺ میں کچھ فرق سمجھا نہ تو اس نے مجھے پہچانا اور نہ مجھے دیکھا۔ میرا وجود عین رسول اللہ کا وجود ہو گیا۔“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص١٠، خزائن ج١٧ ص٥١)
”جو شخص حکم ہو کر آیا ہے اس کو اختیار ہے کہ حدیثوں کے ذخیرہ سے جس انبار کو چاہے خدا سے علم پا کر قبول کرے اور جس ڈھیر کو چاہے خدا سے علم پا کر رد کر دے۔“
(اعجاز احمدی ص٨، خزائن ج١٩ ص١١٥)
مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ ”قریباً بارہ برس جو ایک زمانہ دراز ہے بالکل اس سے بے خبر اور غافل رہا کہ خدا نے مجھے بڑے شدومد سے براہین میں مسیح موعود قرار دیا۔“
(سیرۃ المہدی ج اول ص٣١)
”وہ الہام جس میں مسیح موعود کو خدا تعالیٰ کی طرف سے اصلاح خلق کے لئے صریح طور پر مامور کیا گیا۔ مارچ ١٨٨٢ء میں ہوا۔ لیکن باوجود (امر الٰہی) کے سلسلہ بیعت شروع نہیں فرمایا۔ بلکہ حکم الٰہی کو ٹالتے رہے۔ چنانچہ جب فرمان الٰہی نازل ہوا تو آپ نے بیعت کے لئے ١٨٨٨ء میں یعنی پہلے حکم کے چھ سال بعد بیعت لینی شروع کی۔“
”انت منی وانا منک یعنی اے مرزا تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں ۔“ یعنی تو میرا لڑکا ہے میں تیرا لڑکا ہوں۔
(دافع البلاء ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧)
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤، خزائن ج ٥ ص ایضاً) ”میں نے خواب میں دیکھا کہ میں بعینہ خدا ہوں اور میں نے یقین کر لیا کہ میں اللہ ہوں۔ اس حال میں جب کہ میں خدا تھا میں نے کہا کہ ہم دنیا کا نظام قائم کریں۔ یعنی نیا آسمان اور نئی زمین بنائیں۔ پس میں نے زمین آسمان اجمالی شکل میں بنائے۔ جس میں کوئی ترتیب اور تفریق نہ تھی۔ پھر میں نے ان میں تفریق کر دی۔ جو ترتیب درست ہو سکتی تھی اس وقت میں اپنے تئیں ایسا پاتا تھا کہ گویا میں ایسا کرنے پر قادر ہوں۔ پھر میں نے آسمان دنیا کو پیدا کیا اور کہا ”انا زینا السماء الدنیا بمصابیح “ پھر میں نے کہا اب ہم انسان کو مٹی کے خلاصے سے بناتے ہیں۔“
زندیق اور مرتد ، کافر اور مشرک میں فرق
علامہ تفتازانی شرح مقاصد میں فرماتے ہیں۔
”کافر اگر بظاہر اسلام کا اقرار کرے تو وہ منافق ہے اور اگر کوئی شخص اسلام لانے کے بعد کافر ہو جائے تو مرتد ہے اور اگر تعدد معبود کا قائل ہو تو مشرک ہے اور اگر حضورﷺ کی نبوت کا اعتراف کرتے ہوئے شعائر اسلام کی پابندی بھی دکھلاوے۔ لیکن ضروریات دین کے خلاف عقائد رکھتا ہو تو یہ زندیق ہے۔“ جناب شیخ الہند حضرت مولانا شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی (شرح مؤطا ص ١٠٩) میں زندیق کی حقیقت حسب ذیل فرماتے ہیں۔
”دین حق کا مخالف اگر سرے سے اس کا معتقد اور مقر ہی نہیں۔ نہ ظاہراً نہ باطناً تو وہ کافر ہے اور اگر زبان سے اعتراف کرے۔ مگر دل میں کفر بھرا ہوا ہو تو وہ کافر ہے اور اگر زبان سے اعتراف کرے۔ مگر بعض ضروریات دین کی ایسی من مانی تاویل کرے۔ جو صحابہ تابعین اجماع امت کے سراسر خلاف ہو تو ایسا شخص شریعت میں زندیق ہے۔ جیسے کوئی کہے کہ قرآن حق، جنت و جہنم حق لیکن جنت کے معنی فقط اس قدر ہیں کہ انسان کو اچھے اخلاق سے اس عالم میں گونہ سرور حاصل ہوگا اور جہنم سے مراد یہ ہے کہ بداخلاق کو وہاں گونہ ندامت ہوگی۔ فی الواقعہ کوئی جنت جہنم نہیں ایسا شخص زندیق ہے۔ غرضیکہ زندیق سب کچھ مان کر سب پر پانی پھیر دیتا ہے۔ یہ ہے زندقہ اس میں دین کی صورت بہرحال رہتی ہے اور حقیقت مسخ ہو جاتی ہے۔ یہ مرتد سے کئی گنا بدتر ہے۔ واضح رہے کہ تاویل کی دو قسمیں ہیں۔
- اَوَّل ...... جو کسی نص قطعی اور حدیث صحیح اور اجماع امت کے مخالف نہ ہو۔
دوم...... جس کی نص سے ٹکرائے ثانی الذکر زندیق ہے۔ مثلاً ایک شخص کہتا ہے کہ بے شک آنحضرت ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ مگر اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ کے بعد نبی کہلانا منع ہے۔ رہا نبوت کا مفہوم یعنی ایسا انسان جو خدا تعالیٰ کی طرف سے خلقِ خدا کو ہدایت کرنے آئے۔ واجب الاطاعت ہو گناہوں سے معصوم غلطیوں سے مبرا ہو سو یہ آپ کے بعد آئمہ دین میں موجود ہے۔ پس ایسا شخص زندیق ہے۔ جمہور فقہاء حنفیہ اور شافعیہ کا اتفاق ہے کہ زندیق واجب القتل ہے۔“
زندیق کی توبہ
(امام ابوبکر جصاص رازی احکام القرآن میں اور حافظ امام بدر الدین عینی عمدۃ القاری ص ٢١٣) میں
ارشاد فرماتے ہیں کہ جناب امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا ہے کہ زندیق کو جس طرح بن پڑے قتل کر دو۔ اس لئے کہ اس کی توبہ کا پتہ لگانا دشوار ہے۔
جناب امام مالکؒ فرماتے ہیں۔ اگر کوئی مسلمان جادوگر بن جائے تو اس کو قتل کر دو توبہ پیش کرنا ضروری نہیں۔ کیونکہ باطنی مرتد کی توبہ اظہارِ اسلام سے معلوم نہیں ہو سکتی۔ نیز آپ نے فرمایا کہ زندیق کو بلا استتابت قتل کر دو۔
(خطیب ابو بکر تاریخ بغداد ج ١٤ ص ٢٥٣) میں بہ سند خود ذیل کا واقعہ نقل کرتے ہیں: ”
عثمان بن حکیم کہتے ہیں کہ مجھے وثوق ہے کہ خدا تعالیٰ امام ابو یوسفؒ کو مسئلہ ذیل میں اجرِ عظیم دے گا۔
واقعہ یہ ہے کہ ہارون رشید کے سامنے ایک زندیق پیش کیا گیا۔ خلیفہ نے امام ابو یوسفؒ کو اس سے مناظرہ کرنے کے لئے دربار میں طلب کیا اور حکم دیا کہ آپ اس سے مکالمہ و مناظرہ کریں۔ امام ابو یوسفؒ نے خلیفہ سے فرمایا کہ دیر نہ کیجئے۔ شمشیر اور ادھوڑی منگوا لیجئے اور اس کا سر قلم کیجئے۔ یہ زندیق ہے مرتد نہیں کہ اس کو مناظرہ سے سمجھایا جائے۔ یہ تو ملحد ہے اس کا گھڑی بھر زندہ رہنا خلاف مصلحتِ اسلامیہ ہے۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٣٠٢، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤) ”اب جاننا چاہئے کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے
کہ یہ حضرت مسیح کا معجزہ حضرت سلیمان کے معجزہ کی طرح صرف عقلی تھا۔ (یعنی کسبی تھا عطائی نہ تھا) تاریخ سے ثابت ہے کہ ان دنوں میں ایسے امور کی طرف لوگوں کے خیالات جھکے ہوئے تھے کہ جو شعبدہ بازی کی قسم میں سے تھے اور دراصل بے سود اور عوام کو فریفتہ کرنے والے تھے۔ وہ لوگ جو فرعون کے وقت میں مصر میں ایسے ایسے کام کرتے تھے۔ جو سانپ بنا کر دکھلا دیتے تھے
اور کئی قسم کے جانور تیار کر کے ان کو زندہ جانوروں کی طرح چلا دیتے تھے۔ وہ حضرت مسیح کے وقت میں عام طور پر یہودیوں کے ملکوں میں پھیل گئے تھے اور یہودیوں نے ان کے بہت سے ساحرانہ کام سیکھ لئے تھے۔ جیسا کہ قرآن کریم بھی اس بات کا شاہد ہے۔ سو کچھ تعجب کی جگہ نہیں کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح کو عقلی طور سے ایسے طریق پر اطلاع دے دی ہو۔ (یعنی شعبدہ بازی سکھلا دی ہو) جو ایک مٹی کا کھلونا کسی کل کے دبانے یا کسی پھونک کے مارنے کے طور پر ایسا پرواز کرتا ہو۔ جیسے پرندہ پرواز کرتا ہے یا اگر پرواز نہیں تو پیروں سے چلتا ہو۔ (اب دجال اکبر کی دلیل بھی سنئے اور بن باپ کے ہونے کا انکار بھی دیکھئے) کیونکہ حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے اور ظاہر ہے کہ بڑھئی کا کام در حقیقت ایسا کام ہے جس میں کلوں کے ایجاد کرنے اور طرح طرح کی صنعتوں کے بنانے میں عقل تیز ہو جاتی ہے اور جیسے انسان میں قوا موجود ہوں۔ ان کے موافق اعجاز کے طور پر مدد ملتی ہے۔ (معلوم ہوا کہ معجزات سیکھنے اور فہم و ادراک سے آتے ہیں) جیسے ہمارے سید و مولیٰ نبی ﷺ کے روحانی قوا جو دقائق و معارف تک پہنچنے میں نہایت تیز قوا تھے۔ سو انہیں کے موافق قرآن شریف کا معجزہ دیا گیا۔ جو جامع جمیع دقائق معارف الٰہیہ ہے۔ پس اس سے کچھ تعجب نہیں کرنا چاہئے کہ حضرت مسیح نے اپنے دادا سلیمان کی طرح اس وقت کے مخالفین کو یہ عقلی معجزہ دکھلایا ہو اور ایسا معجزہ دکھلانا عقل سے بعید بھی نہیں۔ کیونکہ حال کے زمانہ میں بھی دیکھا جاتا ہے۔ اکثر صناع ایسی ایسی چڑیاں بنا لیتے ہیں کہ وہ بولتی بھی ہیں اور ہلتی بھی ہیں اور دم بھی ہلاتی ہیں اور میں نے سنا ہے کہ بعض چڑیاں کل کے ذریعہ سے پرواز بھی کرتی ہیں۔ بمبئی اور کلکتہ میں ایسے کھلونے بہت بنتے ہیں اور یورپ اور امریکہ کے ملکوں میں بکثرت ہیں اور ہر سال نئے نئے نکلتے آتے ہیں اور چونکہ قرآن شریف اکثر استعارات سے بھرا ہوا ہے۔ اس لئے ان آیات کے روحانی طور پر یہ معنی بھی کر سکتے ہیں کہ مٹی کی چڑیوں سے مراد امی اور نادان لوگ ہیں۔ جن کو حضرت عیسیٰ نے اپنا رفیق بنایا۔ گویا اپنی صحبت میں لے کر پرندوں کی صورت کا خاکہ کھینچا۔ پھر ہدایت کی روح ان میں پھونک دی۔ جس سے وہ پرواز کرنے لگے۔ ماسوا اس کے یہ بھی قرین قیاس ہے کہ ایسے ایسے اعجاز طریق عمل الترب یعنی مسمریزی طریق سے بطور لہو و لعب نہ بطور حقیقت ظہور میں آسکیں۔ کیونکہ علم الترب میں جس کو زمانہ حال میں مسمریزم کہتے ہیں۔ ایسے ایسے عجائبات ہیں کہ اس میں پوری پوری مشق کرنے والے اپنی روح کی گرمی دوسری چیزوں پر ڈال کر ان چیزوں کو زندہ کے موافق کر دکھاتے ہیں۔ انسان کی روح میں کچھ ایسی خاصیت ہے کہ وہ اپنی زندگی کی گرمی ایک جماد پر بالکل
بے جان ہے ڈال سکتی ہے۔ تب جماد ہوا کرتی ہیں۔ راقم رسالہ ہٰذا نے اس لکڑی کی تپائی پر ہاتھ رکھ کر ایسا اپنی حیا کرنا شروع کر دیا اور کتنے آدمی محو تـ کی تیزی اور حرکت میں کچھ کمی نہیں ہـ فن میں کامل مشق رکھنے والا مٹی کا ایک (معلوم ہوا قادیانی کے زعم میں مسیح نعـ گیا کہ اس فن کی کمال کی کہاں تک انـ ذریعہ سے ایک جماد میں حرکت پیدا میں پرواز بھی ہو تو بعید کیا ہے۔ مگر یا اور عمل الترب سے اپنی روح کی گرمی بے جان اور جماد ہوتا ہے۔ صرف عا یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ان پرندوں کـ جنبش کرنا اور ہلنا بھی پایہ ثبوت نہیـ قرآن کریم میں جو یہ آیا ہے 'انی فيكون طيرا باذن الله “ یہ ایک اور نہ در حقیقت ان کا زنـ واحيى الموتى باذن الله في ذالك لآيت لكم ان كنتم اللہ اللہ اس آیت کریمـ جو لائق حمد و قابل تعریف ہے۔ ارشـ یعنی ان آیات اللہ میں یعنی معجزا ہیں۔ مگر ان پر ایمان لانا ان لوگوں میں ایک دوسرے مقام پر ایماندار بآيات ربهم يؤمنون، یعنی پر یوں ارشاد ہوا۔ "والذين كـ
بے جان میں ڈال سکتی ہے۔ تب جماد سے وہ بعض حرکات صادر ہوتی ہیں۔ جو زندوں سے صادر ہوا کرتی ہیں۔ راقم رسالہ ہذا نے اس علم کے بعض مشق کرنے والوں کو دیکھا کہ انہوں نے ایک لکڑی کی تپائی پر ہاتھ رکھ کر ایسا اپنی حیوانی روح سے گرم کیا کہ اس نے چارپایوں کی طرح حرکت کرنا شروع کر دیا اور کتنے آدمی گھوڑے کی طرح اس پر سوار ہو گئے۔ (اور قادیان جا پہنچے) اور اس کی تیزی اور حرکت میں کچھ کمی نہیں ہوئی۔ سو یقینی طور پر یہ خیال کیا جاسکتا ہے کہ اگر ایک شخص اس فن میں کامل مشق رکھنے والا مٹی کا ایک پرند بنا کر اس کو پرواز کرتا ہوا بھی دکھا دے تو کچھ بعید نہیں۔ (معلوم ہوا قادیانی کے زعم میں مسیح نعوذ باللہ ایک مشاق شعبدے باز تھا) کیونکہ کچھ اندازہ نہیں کیا گیا کہ اس فن کے کمال کی کہاں تک انتہاء ہے اور جب ہم بقلم خود بچشم خود دیکھتے ہیں کہ اس فن کے ذریعہ سے ایک جماد میں حرکت پیدا ہو جاتی ہے اور وہ جانداروں کی طرح چلنے لگتا ہے تو پھر اگر اس میں پرواز بھی ہو تو بعید کیا ہے۔ مگر یاد رکھنا چاہئے کہ ایسا جانور جو مٹی یا لکڑی وغیرہ سے بنایا جائے اور عمل الترب سے اپنی روح کی گرمی اس کو پہنچائی جائے وہ درحقیقت زندہ نہیں ہوتا۔ بلکہ بدستور بے جان اور جماد ہوتا ہے۔ صرف عامل کی روح کی گرمی یا رو کی طرح اس کو جنبش میں لاتی ہے اور یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ان پرندوں کا پرواز کرنا قرآن شریف سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔ بلکہ ان کا جنبش کرنا اور ہلنا بھی بپایہ ثبوت نہیں پہنچتا۔" (یعنی یہ کہ مسیح شعبدہ بازی میں بھی ناکام رہا اور قرآن کریم میں جو یہ آیا ہے ”انی اخلق لكم من الطين كهيئة الطير فانفخ فيه فيكون طيرا باذن الله“ یہ ایک محض دھوکہ اور فریب ہے )
اور نہ درحقیقت ان کا زندہ ہو جانا ثابت ہوتا ہے۔ ”وابری الاکمہ والابرص واحیی الموتی باذن الله وانبئكم بما تاكلون وما تدخرون في بيوتكم ان فی ذالك لآيت لكم ان كنتم مؤمنین“
اللہ اللہ اس آیت کریمہ کے اختتام پر اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی فیصلہ کن بات بیان فرمائی جو لائق حمد و قابل تعریف ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: ”ان في ذالك لآية لكم ان كنتم مؤمنین“ یعنی ان آیات اللہ میں یعنی معجزات مسیح میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کی نشانیاں ہیں۔ مگر ان پر ایمان لانا ان لوگوں کا کام ہے جو مومن ہیں۔ ورنہ کافر تو اس سے انکار ہی کرتے ہیں ایک دوسرے مقام پر ایمانداروں کی نشانیاں بیان کرتے ہوئے فرمایا۔ ”والذین هم بآیات ربهم یؤمنون“ یعنی مومن تو وہ ہیں جو خدا کے نشانات پر ایمان لائیں۔ ایک اور مقام پر یوں ارشاد ہوا۔ ”والذین کفروا وكذبوا بآيات ربهم اولئك اصحاب النار هم
فيها خالدون“ یعنی وہ لوگ جو ہمارے معجزات کا انکار و تکذیب کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جو آگ میں ہمیشہ رہیں گے۔ غرضیکہ قرآن عزیز میں بیسوں آیات ایسی ہی اور آتی ہیں جن کا مطلب سوائے اس کے کچھ نہیں کہ انبیاء کے معجزات پر ایمان لانا گویا کہ میری قدرت وطاقت کا اقرار کرنا ہے۔ حضرات! اب دیکھئے کہ رئیس قادیان ایک ایک معجزے کی گن گن کر کس طرح تکذیب کرتا ہوا بال کی کھال اتارتا ہے۔ لہٰذا از روئے قرآن وہ مومن نہیں بلکہ کافر ہے۔ (گویا وہ تمام معجزات باتیں ہی باتیں تھیں ورنہ کوئی کوڑھی اچھا نہ ہوا اور نہ کسی اندھے کو آنکھیں نصیب ہوئیں اور نہ ہی کوئی مردہ زندہ ہوا۔ یہ سب کہانیاں ہیں۔ کیونکہ عقل انسانی سے بالاتر ہیں۔ نعوذ باللہ!) ”اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ سلب امراض کرنا یا اپنی روح کی گرمی جماد میں ڈال دینا در حقیقت یہ سب عمل الترب یعنی شعبدہ بازی کی شاخیں ہیں۔ ہر ایک زمانہ میں ایسے لوگ (مسیح) ہوتے رہے ہیں اور اب بھی ہیں جو اس روحانی عمل کے ذریعے سے سلب امراض کرتے ہیں اور مفلوج ومبروص مدقوق وغیرہ ان کی توجہ سے اچھے ہوتے رہے ہیں۔“
(آپ نے اچھا کیا تھا تف ہے اس منحوس خیال پر) جیسے ملاوا مل کھتری آریہ قادیانی جو آپ کا ایجنٹ گواہ ہے کو دق سے۔
(اب سجادہ نشین وصوفیائے کرام کی باری آئی وہ بھی سنئے) ”جن لوگوں کے معلومات وسیع ہیں وہ میرے اس بیان کی شہادت دے سکتے ہیں کہ بعض فقراء نقشبندی وسہروردی وغیرہ نے بھی ان مشقوں کی طرف بہت توجہ کی تھی اور بعض ان میں یہاں تک مشاق گزرے ہیں کہ صدہا بیماریوں کو اپنے یمین و یسار میں بٹھا کر صرف نظر سے اچھا کر دیتے تھے اور محی الدین ابن عربی صاحب کو بھی اس میں خاص درجہ کی مشق تھی اور اہل سلوک کی تاریخ اور سوانح پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کاملین ایسے عملوں سے پرہیز کرتے رہے ہیں۔“ (گدھا کہیں کا گویا تمام اولیاء اللہ جو کرامات دکھاتے ہیں سب شعبدہ بازی کرتے ہیں اور کامل مرزا کی اصطلاح میں وہ ہے جو گدھے کی طرح گھاس کھائے اور بے عقلی و جہالت دکھاتے ہوئے صرف ڈھینچوں ڈھینچوں ہم چوں مادیگرے نیست کرے۔)
”مگر بعض لوگ اپنی ولایت کا ثبوت بتانے کی غرض سے یا کسی اور نیت سے ان شغلوں میں مبتلا ہو گئے تھے اور اب یہ بات قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم باذن وحکم الٰہی الیسع نبی کی طرح اس عمل الترب میں کمال رکھتے تھے۔ گو الیسع کے درجہ کاملہ سے کم رہے۔“
(یہ بھی خوب کہی بیچارا مسیح تو تمہارے پلے کا بھی نہ ہوا۔
اس سے بہتر غلام احمد ہے)
”کیونکہ الیسع کی لاش نے بھی وہ معجزہ دکھلایا کہ اس کی ہڈیوں کے لگنے سے ایک مردہ زندہ ہو گیا۔ (غریب مسیح کا زندہ بھی مردہ رہا۔ مگر الیسع کی لاش کا چھوا زندہ ہو گیا۔ سبحان اللہ !) مگر چوروں کی لاشیں مسیح کے جسم کے ساتھ لگنے سے ہرگز زندہ نہ ہو سکیں۔ یعنی وہ دو چور جو مسیح کے ساتھ مصلوب ہوئے تھے۔ بہر حال مسیح کی یہ عملی کارروائیاں زمانے کے مناسب حال بطور خاص مصلحت کے تھیں۔ مگر یاد رکھنا چاہئے کہ یہ عمل اس قدر کے لائق نہیں جیسا کہ عوام الناس اس کو خیال کرتے ہیں۔ اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا۔ (تف ہے تیری بودی عقل پر) تو خدا تعالیٰ کے فضل وتوفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان عجوبہ نمائیوں میں حضرت ابن مریم سے کم نہ رہتا۔ لیکن مجھے وہ روحانی طریق پسند ہے جس پر ہمارے نبیﷺ نے قدم مارا ہے۔ (گویا حضور اکرمﷺ سے کوئی معجزہ ظاہر نہیں ہوا) اور حضرت مسیح نے بھی اس عمل جسمانی کو یہودیوں کے جسمانی اور پست خیالات کی وجہ سے جو ان کی فطرت میں مرکوز تھے۔ باذن وحکم الہی اختیار کیا تھا ورنہ دراصل مسیح کو بھی یہ فعل پسند نہ تھا۔ (جھوٹا کہیں کا تمہارے کان میں شیطان نے کہہ دیا تھا کہ مسیح معجزات کو پسند نہیں کرتا۔ حالانکہ آیات اللہ ، نبوت کے لئے لازم ملزوم چیز ہے) واضح ہو کہ اس عمل جسمانی کا ایک نہایت برا خاصہ یہ ہے کہ جو شخص اپنے تئیں اس مشغولی میں ڈالے اور جسمانی مرضوں کے رفع کرنے کے لئے اپنی دلی اور دماغی طاقتوں کو خرچ کرتا رہے وہ اپنی ان روحانی تاثیروں میں جو روح پر اثر ڈال کر روحانی بیماریوں کو دور کرتی ہیں بہت ضعیف اور نکما ہو جاتا ہے اور امر تنویر باطن اور تزکیہ نفس کا جو اصل مقصد ہے اس کے ہاتھ سے بہت کم انجام پذیر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گو حضرت مسیح جسمانی بیماریوں کو اس عمل کے ذریعے سے اچھا کرتے رہے۔ مگر ہدایت وتوحید اور دینی استقامتوں کی کامل طور پر دلوں میں قائم کرنے کے بارے میں ان کی کارروائیوں کا نمبر ایسا کم درجہ کا رہا کہ قریب قریب ناکام رہے۔“
(ازالۃ اوہام ص ٣١٠، خزائن ج ٣ ص ٢٥٨)
الہام: ”هذا هو السر الذی لا یعلمون“ غرض یہ اعتقادات بالکل غلط اور
فاسد اور مشرکانہ خیال ہے کہ مسیح مٹی کے پرندے بنا کر اور ان میں پھونک مار کر انہیں سچ مچ کے جانور بنا دیتا تھا۔ نہیں بلکہ صرف عمل الترب تھا جو روح کی قوت سے ترقی پذیر ہو گیا تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مسیح ایسے کام کے لئے اس تالاب کی مٹی لاتا تھا۔ جس میں روح القدس کی تاثیر رکھی گئی تھی۔ بہر حال یہ معجزہ صرف ایک کھیل کی قسم میں تھا اور مٹی در حقیقت ایک مٹی ہی تھی۔ جیسے سامری کا گوسالہ فتنہ بر۔ فانہ نكتة جلية ما يلقها الا ذوحظ عظيم"
(ازالۃ اوہام ص ٣٢٢، خزائن ج ٣ ص ٢٦٣)
ناظرین کرام ! یہ بھی بتا دوں کہ مرزا قادیانی سے قبل ایک اور بھی ایسی ہستی گزر چکی ہے جسے دنیا سر سید احمد نیچری کے نام سے یاد کرتی ہے۔ مرزا قادیانی نے جو کچھ لیا وہ اسی ذات شریف کا پس خورد لیا۔ اس کے علاوہ سید محمد جونپوری کے خوان کرم سے ریزہ چینی کی اور ایسا ہی بہاؤ اللہ ایرانی کے دستر خوان کے پس خوردہ باسی ٹکڑے کھائے۔ چنانچہ ولی نعمت اللہ کیا خوب کہہ گئے۔
سازند ازرائے خود تفسیر در قرآنه
ایک تو مرزا قادیانی کی ذات شریف ہے اور دوسرے یہی سرسید احمد نیچری ہیں۔ بہر حال مرزا قادیانی انکا تو پٹھا ہی پٹھا تھا۔ دیکھئے مرزا قادیانی نے اپنے استاد کی کیسی شاندار پیروی کی۔ بلکہ جو کچھ وہ نہ کر سکتے تھے وہ آپ نے کر دکھلایا۔
(تفسیر احمدی ج ٢ ص ١٦٣،١٦٠) ” حضرت عیسیٰ علیہ السلام بیماروں پر دم ڈالتے اور برکت دیتے تھے۔ لوگ ان کے ہاتھوں کو برکت لینے کے لئے چومتے تھے۔ یہ خیال غلط ہے کہ اس طرح کرنے سے اندھے آنکھوں والے اور کوڑھی اچھے ہو جاتے تھے۔ خدا نے انسان میں ایک ایسی قوت رکھی ہے جو دوسرے انسان میں اور دوسرے انسان کے خیال میں اثر کرتی ہے۔ اس لئے ایسے امور ظاہر ہوتے ہیں۔ جو نہایت ہی عجیب وغریب معلوم ہوتے ہیں۔ اسی قوت پر اس زمانہ میں ان علوم کی بنیاد قائم ہوتی ہے جو مسمریزم اور اسپر یچوایزم کے نام سے مشہور ہے۔ مگر جب کہ وہ ایک قوت ہے قوائے انسانی میں ہے اور ہر ایک انسان میں بالقوہ موجود ہے تو اس کا انسان سے ظاہر ہونا معجزہ میں داخل نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ وہ تو فطرت انسان میں سے انسان کی ایک فطرت ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے تمام لوگوں کو کوڑھے ہوں یا اندھے خدا کی بادشاہت میں داخل
ہونے کی منادی کی تھی۔ یہی ان کوڑھیوں اور اندھوں کو اچھا کرنا تھا۔“
(تفسیر احمدی ص ١٥٢، ١٥٦) ”یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پھونکنے کے بعد درحقیقت وہ پرندوں کی مورتیں جو مٹی سے بناتے تھے جاندار ہو جاتی تھیں اور اڑنے بھی لگتی تھیں۔ یہ کوئی امر وقوعی نہ تھا۔ بلکہ صرف حضرت مسیح کا خیال زمانہ طفولیت میں بچوں کے ساتھ کھیلنے میں تھا۔ مورتیں بنا کر پوچھنے والے سے کہتے تھے کہ میری پھونک سے وہ پرند ہو جائیں گے۔ پس حضرت عیسیٰ کا یہ کہنا ایسا ہی تھا۔ جیسے کہ بچے اپنے کھیلنے میں بمقتضائے عمر اس قسم کی باتیں کیا کرتے ہیں۔“
ناظرین! یہ ہیں سلطان القلم متنبی قادیان کی چالاکیاں اور ایمانداریاں۔ ایسا شخص جو بھی کرے اور کہے آج کل کی تہذیب اسے اجازت دیتی ہے۔ کیونکہ یہاں آزادی کا زمانہ ہے اور فقیر کے خیال میں تو جب انسان حیا کو چھوڑ دے تو جو چاہے سو کرے۔ اس کو کون روک سکتا ہے۔ اب انصاف کیجئے معجزات اور کرامات کے پلے کیا خاک رہا۔ جب کہ ان کے حامل ہی شعبدہ باز قرار دیئے جائیں۔ اصل میں واقعہ یوں ہے کسی نے مرزا قادیانی سے سوال کیا اجی! حضرت یہ تو کہئے کہ مسیح کی مماثلت تامہ کے دعویدار تو آپ بن گئے اور الہام بھی آپ کو روز ستاتے ہیں اور صفات بھی تنگ کرتی ہیں۔ مگر مسیح تو مادر زاد کوڑھی اور اندھے کو اچھا کرتا اور مردے جلاتا اور طرح طرح کے آیات اللہ دکھاتا تھا۔ اگر آپ مثیل مسیح ہیں تو کوئی ثبوت تو آپ بھی پیش کریں۔ کیونکہ دعویٰ بلا دلیل ہمیشہ باطل ہے۔ یہ ناممکن ہے کہ چراغ جلے اور روشنی نہ دے۔ آفتاب طلوع کرے مگر دنیا اجالے سے بے نصیب رہے۔ اگر آپ مسیح ہیں تو مسیحائی کیجئے۔ دنیا خود بخود آپ کو مان لے گی۔ تو آپ نے یہ بیان دھر گھڑا اور لگے ہاتھ صوفیائے کرام کے فیوض کو بھی فعل مکروہ و قابل نفرین قرار دے دیا۔ وہ کیوں صرف اس لئے کہ ما بدولت رئیس قادیان ان عنایات ربی سے محض کورے تھے۔ مگر ساتھ ہی دوسرے مقام پر اپنے الہام گناتے گناتے آیات اللہ پر بھی اتر آئے اور کہہ دیا گیا کہ یہ بھونچال اور زلزلے یہ بیماریاں اور مصیبتیں یہ کالرہ اور پلیگ یہ قحط اور وبائیں محض میرے لئے نمودار ہوئیں اور یہی میری صداقت کے دلائل ہیں۔ میرے لئے تو میرے مولا نے وہ وہ کرم کئے جو آج تک کسی دوسرے کو نصیب ہی نہیں ہوتے۔ چوروں کی طرح چھپ چھپ کر وہ میرے پاس آیا۔ پلیگ کے کیڑے میری خاطر اس بے چارے نے پرورش کئے۔ تیز تلوار
لئے وہ میری چوکیداری میں کھڑا رہا۔ پچاس ہزار کے الہام منی آڈروں بیموں کے اس نے مجھے کئے۔ سائل نے عرض کیا بس بس جناب تسلی ہو گئی۔ ہاں یہ فرمائیے مسیح موعود کے نشانات میں صحیح مسلم میں ایک حدیث آئی ہے کہ مسیح موعود آسمان سے نازل ہوگا۔ وہ بیوی کرے گا اولاد ہوگی حج کرے گا اور آخر روضہ رسول اکرم ﷺ میں دفن ہوگا۔ سرکار مدینہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ قیامت کے روز میں اور مسیح علیہ السلام اکٹھے ایک ہی روضہ سے اٹھیں گے۔ ابوبکرؓ و عمرؓ کے درمیان رئیس قادیان جواب دیتے ہیں کہ نازل ہونے والا عیسیٰ میں ہی ہوں۔ اعتبار نہ آئے تو خدا کا کلام (براہین احمدیہ ص ٤٩٩، خزائن ج ١ ص ٥٩٣) میں دیکھ لو۔
الہام: ”انا انزلناہ قریباً من القادیان وبالحق انزلناہ وبالحق نزل وکان وعدا مفعولاً“
اگر تسلی نہ ہوئی ہو تو لیجئے ایک دوسرا الہام بھی حاضر ہے۔ الہام ”انا انزلناہ قریباً من القادیان بطرف شرقی منارة البيضاء“ (ازالہ اوہام ص ٧٥ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٣٩) اور بیوی کے متعلق تو دنیا جانتی ہے کہ خود اللہ میاں نے میرا نکاح آسمان پر کیا۔ اس کے متعلق آسمان کے ستاروں سے زیادہ پیش گوئیاں موجود ہیں۔ یہ تقدیر مبرم ہے جو کسی صورت نہیں ٹل سکتی۔ ہو کے رہے گی اور جو اس میں مخالفت کرے گا روسیاہ ہوگا اور ناک صفائی سے کٹ جائے گی۔ خدا اس کو ضرور میرے پاس لائے گا۔ باکرہ ہونے کی صورت میں یا رانڈ ہو کر۔ بہرحال محمدی کا میرے نکاح میں آنا تقدیر مبرم ہے۔ جو کسی طور سے نہیں ٹل سکتی اور اگر ٹل جائے تو خدا کا کلام باطل اور میری نبوت پر تین حرف اور اولاد بھی اسی میں سے ہوگی۔ خدا کی قدرت کہ مرزا قادیانی کا انتقال ہو گیا اور سائل بھی چل بسا۔ مگر ایسا ضدی تھا کہ عالم برزخ میں بھی پوچھنے سے نہ رہا تو
١؎ (حقیقت الوحی ص ٣٣٣، خزائن ج ٢٢ ص ٣٤٦) ”یادر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مجھ سے یہ عادت ہے کہ اکثر جو نقد روپیہ آنے والا ہو یا اور چیزیں تحائف کے طور پر ہوں۔ ان کی خبر قبل از وقت بذریعہ الہام یا خواب مجھ کو دے دیتا ہے اور اس قسم کے نشان پچاس ہزار سے کچھ زیادہ ہوں گے۔“ (حقیقت الوحی ص ٢١٢، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢١) ”اگر میرے اس بیان کا اعتبار نہ ہو تو پوسٹ آفس کے سرکاری رجسٹروں کو دیکھو تا کہ معلوم ہو کہ کس قدر آمدنی کا دروازہ اس مدت میں کھولا گیا ہے۔ حالانکہ یہ آمدنی اس طرح بھی ہوتی ہے کہ لوگ خود قادیان میں آکر دیتے ہیں اور نیز ایسی آمدنی جو لفافوں میں نوٹ بھیجے جاتے ہیں۔“
جواب دیا گیا کہ اگر میرے ساتھ نکاح نہیں ہوا۔ بعض دفعہ پیش گوئیوں میں استعارے ہوتے ہیں جو نبیوں کی سمجھ میں نہیں آتے ۔ کچھ مضائقہ نہیں ۔ اگر خاکسار نبی ناکام رہے تو میری اولاد در اولاد سے اس کی اولاد در اولاد میں کسی لڑکے کا نکاح ضرور اس کی لڑکی سے ہو جائے گا۔ خیر یہ تو تھے مرزا قادیانی اور ان کے سائل کے تعلقات۔ اب فقیر کی بھی سنئے ۔سچ ہے گیدڑ کی جو موت آتی ہے تو سیدھا شہر کا رخ کرتا ہے۔ یہی حال مرزا کی امت کا ہے۔ حال ہی میں خلیفہ قادیان کے خلاف وہی معمولی سی شکایت جو بارہا قبل ہوچکی ہے پیدا ہوئی ۔ تو شیخ عبدالرحمن مصری اور فخر الدین ملتانی بھی سیخ پا ہوئے اور خلیفہ کے خلاف کم از کم ١٣٠ اشتہارات نکالے۔ جن میں خلیفہ جی کی مخصوص کہاوت آٹا گوندھتی ہلتی کیوں ہے کے مصداق لکھے اور انہیں خلافت سے علیحدہ کر دیا۔ اب خیر سے قادیان میں دو خلافتیں بغیر فوج خزانہ اور تخت کے ہیں۔ جن میں وہ جنگ ہورہی ہے کہ لکھنؤ کی بھٹیاریاں اور دہلی کی ڈومنیاں سبق سیکھنے آتی ہیں اس سے پہلے عمر دین شولوی بھی ایسی ہی بیماری کے شکار ہوکر قادیانی سے لاہوری ہوئے تھے۔ اس کے بعد مستری مشین سوئیاں اور سرگودھا کے عقیدت کیش اور عبدالکریم مباہلے والوں کو بھی یہی شکایت محسوس ہوئی۔ خیر یہ تو ان کے گھر کی باتیں ہیں۔ وہ جو چاہیں سو کریں اور ان کے مرید جو چاہیں سو لکھیں۔ کچھ مضائقہ نہیں۔ آخر خاندان نبوت جو ٹھہرا وہ جو بھی کریں تھوڑا ہے وہ کریں بھی تو بیچارے کیا کریں۔ انہیں بھی الہام روز ستاتے ہیں اور رؤیا صادقہ تنگ کرتی ہیں۔ ہاں زکام نبوت ابھی تک نہیں ہوا۔ البتہ خلافت کا ہیضہ زوروں پر ہے۔ اللہ رحم کرے۔
مرزا قادیانی نے جس شادی کے متعلق سرکار دو عالم کی یہ حدیث پیش کی تھی یتزوج ویولدلہ وہ مشہور رسوائے عالم ”آسمانی نکاح“ محمدی بیگم کے متعلق تھی اور اولاد کیا تو کیا، ذکر کردہ شادی کے غم میں دیوانے ہوکر مرے۔ مگر اس کا دامن دیکھنا نصیب نہ ہوا۔ جب شادی ہی نہیں ہوئی تو اولاد موعودہ کیسی حیرانگی ہے؟ امت کے عقلمندوں پر جو خواہ مخواہ محمود کی تعریف میں غلط واقعہ پیش کرتے ہوئے نہیں شرماتے۔ بندہ خدا عقل کرو جب موعودہ بیوی ہی نہ ملی وہ بھی کوئی اور لیتا راہ ہوا تو اولاد موعودہ کیسی ذیل کا مضمون ملاحظہ فرماتے ہوئے قادیانیت کی شرمکاریاں ملاحظہ کریں۔
”حضرت خلیفۃ المسیح ثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی خلافت حقہ کا ایک اور عظیم الشان پہلو یہ ہے۔ جس کو نظر انداز کرنا اللہ تعالیٰ کی نعمت کا کفران ہے۔ حضور پر نور اسلامی طریق انتخاب کے لحاظ سے نہ صرف خلیفہ ہیں۔ بلکہ حضرت رسول کریمﷺ ائمہ واولیائے امت محمدیہ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے کشوف، الہامات اور مصفیٰ وحی ربانی کے اعتبار سے موعود
خلیفہ ہیں۔ حضرت رسول کریم ﷺ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق پیش گوئی کی تھی۔ ”یتزوج ویولدلہ“ یعنی مسیح محمدی شادی کرے گا اور اس کے اولاد ہوگی۔ اب ظاہر ہے کہ اگر اس شادی اور اولاد میں کسی غیر معمولی فضیلت کا اشارہ نہیں تھا۔ تو ایسی عام بات کے ذکر کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ کیا دنیا میں ہزاروں آدمی شادیاں نہیں کرتے اور کیا ہزاروں کے ہاں اولاد نہیں ہوتی۔ اگر کوئی شخص اپنے ہمنشین سے کہے کہ آج میں نے ایک آدمی دیکھا جس کی دو ٹانگیں دو آنکھیں اور دو کان تھے۔ تو سننے والے کو اس کی سنجیدگی اور دماغی توازن کے متعلق ضرور شبہ پیدا ہو جائے گا۔ لہٰذا افضل الرسل حضرت رسول کریم ﷺ کا مسیح موعود کے متعلق شادی کرنے اور صاحب اولاد ہونے کی پیش گوئی کرنا بالبداہت بتلاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زوجہ محترمہ اور حضور کی اولاد میں روحانی لحاظ سے ایک ایسی خصوصیت پائی جاتی ہے۔ جس کا ظہور اسلام کے لئے بطور نشان کے ہے۔ حضرت محمود ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کا قلعہ بننا حضرت رسول کریم ﷺ کی پیش گوئی کو چار چاند لگاتا ہے اور حضور کی صداقت کا ایک بہت بڑا ثبوت ہے اس طرح اقطاب اور اولیائے امت نے بھی بکثرت حضور کی خلافت کی خوشخبریاں دی ہیں۔ مثلاً حضرت نعمت اللہ ولی کا قصیدہ کسی صاحب علم سے مخفی نہیں۔ جس میں لکھا ہے پسرش یادگار مے بینم کہ حضرت مسیح موعود کا فرزند ارجمند حضور سرکار مدینہ علیہ السلام کے کمالات کی یادگار ہوگا۔ اس سے بڑھ کر واضح اشارہ خلافت کے متعلق اور کیا ہو سکتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر حضرت محمود ایدہ اللہ تعالیٰ کے متعلق اس کثرت سے الہامات رؤیائے صادقہ اور کشوف ظاہر ہوئے کہ ان کے بعد حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ کی خلافت سے انکار کرنا صداقت اور انصاف کا منہ چڑانا ہے۔“
(اخبار الفضل ١١ اگست ١٩٣٧ء بحوالہ مسلم بی۔ اے، رکن مجلس انصار سلطان القلم)
اس کے بعد سائل نے پوچھا حضرت یہ تو کہیئے آپ نے حج کیوں نہیں کیا۔ رئیس قادیان فرمانے لگے میرے لئے وہاں امن نہ تھا۔ سائل نے کہا حضور آپ کو الہام واللہ یعصمک من الناس ہوا تھا۔ جواب دیا ہاں ہوا تھا۔ مگر سب الہاموں پر عمل تھوڑا ہی ہوتا ہے۔ جان عزیز ہے تم جانتے ہو کہ یہ مولویت کے شتر مرغ کس طرح کمر باندھے میرے پیچھے لگے تھے۔ اگر وہ امیر عرب کو لکھ دیتے تو کیا حشر ہوتا۔ اس لئے مابدولت نے انسب یہی سمجھا کہ نہ جاؤں سائل نے عرض کی حضور آپ کا مزار کہاں ہوگا۔ فرمانے لگے تم نہیں جانتے کہ اردو الہام کیا کہتا ہے۔ الہام: ”ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں۔“
(تذکرہ ص ٥٩١)
اور نیز ایک خواب سنایا۔ ”اس عاجز (مرزا قادیانی) نے خواب میں دیکھا جو آنحضرت ﷺ کے روضہ مبارکہ پر میں کھڑا ہوں اور کوئی لوگ مر گئے ہیں یا مقتول ہیں۔ ان کو لوگ دفن کرنا چاہتے ہیں۔ اسی عرصہ میں روضہ کے اندر سے ایک آدمی نکلا اور اس کے ہاتھ میں ایک سرکنڈہ تھا اور وہ اس سرکنڈے کو زمین پر مارتا تھا اور ہر ایک کو کہتا تھا کہ تیری اس جگہ قبر ہوگی۔ تب وہ یہ کام کرتا کرتا میرے نزدیک آیا اور مجھ کو دکھلا کر اور میرے سامنے کھڑا ہو کر روضہ شریف کے پاس کی زمین پر اس نے اپنا سرکنڈہ مارا اور کہا کہ تیری اس جگہ قبر ہوگی۔“
(تذکرہ ص ١٨٢، ازالہ اوہام ص ٤٧١، خزائن ج ٣ ص ٣٥٢)
خیر یہ تو تھے مرزا قادیانی کے الہام اور رؤیا صادقہ کے نمونے۔ دنیا جانتی ہے کہ ان کا حشر کیا ہوا۔ اب دیکھئے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ’وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ‘ یعنی جب تک تمام و کمال اہل کتاب حضرت مسیح کو سچا رسول اور زندہ بجسدہ العنصری تسلیم نہ کر لیں گے۔ تب تک حضرت مسیح پر موت ہی نہیں آئے گی اور ان کے اس طریق پر ایمان لانے کی شہادت حضرت مسیح قیامت کو دیں گے کہ یہ سب اہل کتاب مجھ پر ایمان لائے تھے۔ اس آیت کریمہ پر مرزا قادیانی بہت سٹ پٹائے اور طرح طرح سے اس کے معانی کئے۔ اس لئے مرزا قادیانی کا وہ بیان بھی دلچسپی سے خالی نہیں۔ ملاحظہ فرمائیں:
(ازالہ اوہام ص ٣٦٧، خزائن ج ٣ ص ٢٨٨) ”پس واضح ہو کہ سائل کو یہ دھوکا لگا ہے کہ اس نے اپنے دل میں یہ خیال کر لیا ہے کہ آیت فرقانی کا یہ منشاء ہے کہ مسیح کی موت سے پہلے تمام اہل کتاب کے فرقوں کا اس پر ایمان لانا ضروری ہے۔ کیونکہ ہم اگر فرض کے طور پر یہ یقین کر لیں کہ آیت موصوفہ بالا کے یہی معنی ہیں۔ جیسا کہ سائل سمجھا ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ زمانہ صعود مسیح سے اس زمانہ تک کہ مسیح نازل ہو۔ جس قدر اہل کتاب دنیا میں گزرے ہیں یا اب موجود ہیں یا آئندہ ہوں گے وہ سب مسیح پر ایمان لانے والے ہوں۔ حالانکہ یہ خیال بہ بداہت باطل ہے۔ ہر ایک شخص خوب جانتا ہے کہ بے شمار اہل کتاب مسیح کی نبوت سے کافر رہ کر اب تک واصل جہنم ہو چکے ہیں اور خدا جانے آئندہ بھی کس قدر کفران کی وجہ سے اس آتشی تنور میں پڑیں گے۔ اگر خدا تعالیٰ کا یہ منشاء ہوتا کہ وہ تمام اہل کتاب فوت شدہ مسیح کے نازل ہونے کے وقت اس پر ایمان لاویں گے تو وہ ان سب کو اس وقت تک زندہ رکھتا۔ جب تک کہ مسیح آسمان سے نازل ہوتا۔ لیکن اب مرنے کے بعد ان کا ایمان لانا کیونکر ممکن ہے۔“
فقیر اس سے پہلے عرض کر چکا ہے کہ مرزا قادیانی نے جو کچھ لیا وہ دوسروں کا پس خوردہ لیا۔ اس لئے یہ الہام اسی نیچری کی طرف سے ہیں اور یہ سرسید ہی کی جدت و مہربانی ہے جس سے مرزا قادیانی کو نبوت کا زکام اور رسالت کا ہیضہ ہو رہا ہے۔ غور سے سنئے : ۔
(تفسیر احمدی ص ٤٩٤) ”وان من اھل الکتٰب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ویوم القیٰمۃ یکون علیہم شہیدا“ اور نہیں کوئی اہل کتاب میں سے مگر یہ یقین کرے ساتھ اس کے۔ (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صلیب پر مارے جانے کے) قبل اپنی موت کے وہ جان لے گا کہ صلیب پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان پر گواہ ہوں گے۔ یعنی اہل کتاب کو اپنی زندگی میں جو عقیدہ تھا اس کے برخلاف گواہی دیں گے۔“
دل صد چاک شانہ بن کے گیسوئے محمدؐ کا
سرکار مدینہ ﷺ کا فیض عام ہر زمانہ پر محیط ہے اور رہے گا۔ اسی لئے خلاق کائنات نے انہیں خاتم النبیین ﷺ کے القاب سے نوازا کافۃ للناس کے لئے بشیر ونذیر کے خطاب سے یاد کیا۔ حضور اکرم ﷺ کے دور رسالت میں کسی نبی یا رسول کی قطعاً ضرورت اس لئے نہیں کہ ان کا فیض عام عملی طور پر زمانہ بھر کے لئے جاری و ساری ہے اور رہے گا۔ مثال کے طور پر اصلاح امت کے لئے فیوض نبوی ملاحظہ فرمائیں۔ ارشاد ہوتا ہے ”لا تقوم الساعۃ حتی یخرج ثلاثون کذابون دجالون کلہم یزعم انہ نبی اللہ وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی“ اللہ اللہ ایک ایک لفظ حکمت سے بھر پور معارف میں ڈوبا ہوا۔ ہر زمانے کی راہبری کر رہا ہے۔ اب دیکھئے مرزا خواہ مخواہ خود بخود دجل بناتے ہوئے گڑھے مردے اکھاڑے جاتا ہے کہ اس سے وہ تمام اہل کتاب مقصود ہیں جو مر چکے ہیں یا مسیح کی آمد تک مریں گے یا ان کے زمانہ میں یا زمانہ مابعد میں مریں گے۔ اس دجل دہی سے یہ مدعا ہے کہ لوگ مغالطہ میں آجائیں گے۔ مگر کون نہیں جانتا کہ اس سے مراد وہ اہل کتاب ہیں جو مسیح کے وقت ہوں گے اور ایمان بھی وہی لا سکتے ہیں۔ جو جناب مسیح کا نزول من السماء مشاہدہ کریں گے اور گواہی بھی انہیں لوگوں پر ہوگی جو مسیح پر ایمان لائیں گے۔ مگر مرزا قادیانی کو کون سمجھائے وہ تو ٹھہرے کرشن اور رودر گوپال اور جے سنگھ بہادر قادیانی مثال کے طور پر اگر کہا جائے کہ بہشتی مقبرے کے تمام شیدائی یا موصی جلسہ سالانہ پر حاضر ہوں تو کیا اس کا یہ مطلب لیا جائے گا کہ وہ جو قبروں میں گل سڑ رہے ہیں یا جو ابھی منصہ شہود پر نہیں آئے۔ وہ بھی حاضر ہوں نہیں نہیں وہی آئیں گے جو اس
وقت جیتے ہوں۔ بعینہ یہ معاملہ یہاں ہے کہ جو بھی اہل کتاب زمانہ مسیح میں موجود ہوں وہ مسیح کی موت سے پہلے ایمان لائیں گے اور جب سب ہی مسلمان ہو گئے تو مستقبل میں باقی کون رہا۔
(ازالۃ الاوہام ص ٣٦٨، خزائن ج ٣ ص ٢٨٩) ”بعض لوگ نہایت تکلف اختیار کر کے یہ جواب دیتے ہیں کہ ممکن ہے کہ مسیح کے نزول کے وقت خدا تعالیٰ ان سب اہل کتاب کو پھر زندہ کرے۔ جو مسیح کے وقت بعثت سے مسیح کے دوبارہ نزول تک کفر کی حالت میں مر گئے ہیں۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یوں تو کوئی کام خدا تعالیٰ سے غیر ممکن نہیں۔ لیکن زیر بحث تو یہ امر ہے کہ کیا قرآن کریم اور احادیث صحیحہ میں ان خیالات کا کچھ نشان پایا جاتا ہے تو کیوں وہ پیش نہیں کیا جاتا۔“
ناظرین! ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ اس آیت کریمہ کے مصداق وہی اشخاص ہیں جو مسیح کے وقت ہوں گے اور قرآن کریم اور حدیث صحیحہ کے علاوہ آئمہ امت یہی کہتے چلے آئے ہیں کہ اہل کتاب سے مراد زمانہ حال کے اہل کتاب ہوں گے نہ اس کا ماضی سے تعلق نہ مستقبل سے کوئی واسطہ۔ مرزا قادیانی کی خواہش ہے کہ اندھوں کو روشنی دکھائی جائے۔ اس لئے ایک اصول مرزا قادیانی کا اپنا ذیل میں پیش کیا جاتا ہے۔ پس غور سے ملاحظہ فرمائیں:
(برکات الدعاء ص ١٨، خزائن ج ٦ ص ١٨) پر جناب رئیس قادیان و خاکسار نبی تحریر فرماتے ہیں۔ ”اس میں کچھ شک نہیں کہ صحابہؓ آنحضرت ﷺ کے نوروں کو حاصل کرنے والے اور علم نبوت کے پہلے وارث تھے اور خدا تعالیٰ کا ان پر بڑا فضل تھا اور نصرت الٰہی ان کی قوت مدرکہ کے ساتھ تھی۔ کیونکہ ان کا نہ صرف قال بلکہ حال تھا۔“
حدیث نبوی ﷺ
جناب ام المؤمنین عائشہ صدیقہؓ نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کی کہ میں ایسا معلوم کر رہی ہوں کہ آپ کے بعد زندہ رہوں گی۔ لہٰذا مجھے اجازت فرمائیے کہ میں آپ ﷺ کے پہلو میں دفن کی جاؤں۔ حضور ﷺ نے جواب میں ارشاد فرمایا میرا اس جگہ پر کوئی اختیار نہیں کیونکہ وہاں چار قبروں میری ابوبکرؓ، عمرؓ اور عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کے سوا اور کوئی جگہ ہی نہیں۔“
(کنز العمال برحاشیہ مسند احمد ج٦ ص ٥٧)
یہ حدیث مومنین کی ماں کی روایت سے بیان ہوئی اور مومنین کے باپ نے جواب دیا۔ جس سے صاف طور پر یہ معلوم کہ عیسیٰ ابن مریم ابھی زندہ ہیں۔ نہیں مرے اور روضۂ رسول میں ابھی تین قبریں موجود ہیں۔ چوتھی جگہ وہ جناب مسیح کے لئے ہے۔ جب وہ آسمان سے نزول
فرمائیں گے اور ٤٥ سال زمین پر رہ کر فوت ہوں گے۔ تو ان کی چوتھی قبر روضہ اطہر میں ہو گی۔ فقیر کے خیال میں یہ ایک ہی حوالہ مؤمنین کے لئے کافی ہے۔
اے کہ تجھ کو نہ رہا یاد مآلِ پرویز
(اربعین نمبر ٣ ص ٢٥ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤١٣) ”صحیح بخاری اور صحیح مسلم اور انجیل اور دانیال اور دوسرے نبیوں کی کتابوں میں جہاں بھی میرا ذکر خیر کیا گیا ہے وہاں میری نسبت نبی کا لفظ بولا گیا ہے اور بعض نبیوں کی کتابوں میں میری نسبت بطور استعارہ فرشتہ کا لفظ آ گیا ہے اور دانیال نبی نے اپنی کتاب میں میرا نام میکائیل رکھا ہے اور عربی زبان میں لفظی معنی میکائیل کے ہیں۔ یعنی خدا کی مانند“
”ھو الذی ارسل رسولہ بالھدیٰ جری اللّٰہ فی حلل الانبیاء اس الہام میں میرا نام رسول بھی رکھا گیا اور نبی بھی۔ پس جس شخص کے خود خدا نے یہ نام رکھے ہوں۔ یعنی نبی اور رسول اس کو عوام میں سمجھنا کمال درجہ کی شوخی ہے۔“
(اخبار الحکم قادیان ٢ نومبر ١٩٠١ء) ”ہمارے نزدیک تو کوئی دوسرا آیا ہی نہیں نہ نیا نبی نہ پرانا۔ بلکہ خود محمدﷺ کی چادر دوسرے کو پہنائی گئی ہے اور وہ خود ہی آئے ہیں۔“
(نزول المسیح ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٣٨١) ”اس نکتہ کو یاد رکھو کہ میں نیا رسول اور نبی نہیں ہوں۔ یعنی باعتبار ظلیت کاملہ کے میں وہ آئینہ ہوں جس میں محمدی شکل اور محمدی نبوت کا کامل انعکاس ہے اور میں کوئی علیحدہ شخص نبوت کا دعویٰ کرنے والا ہوتا تو خدا تعالیٰ میرا نام محمد اور احمد اور مصطفیٰ اور مجتبیٰ نہ رکھتا۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ١٢، خزائن ج ١٨ ص ٢١٦) ”مجھے بروزی صورت نے نبی اور رسول بنایا اور اس بنا پر خدا نے بار بار میرا نام نبی اللہ اور رسول اللہ رکھا۔ مگر بروزی صورت میں میرا نفس درمیان میں نہیں ہے۔ بلکہ محمد مصطفیٰ ﷺ ہے۔ اس لحاظ سے میرا نام محمد واحمد ہوا۔ پس نبوت اور رسالت کسی دوسرے کے پاس نہیں گئی۔ محمد کی چیز محمد کے پاس رہی۔ علیہ الصلوٰۃ والسلام“
(خطبہ الہامیہ ص ١٨٤، خزائن ج ١٦ ص ٢٧٥) ”اسلام ہلال کی طرح شروع ہوا اور مقدر تھا کہ انجام کار آخر زمانہ میں بدر ہو جائے۔ خدا تعالیٰ کے حکم سے پس خدا تعالیٰ کی حکمت نے چاہا کہ اسلام اس صدی میں بدر کی شکل اختیار کرے۔ (یعنی میرے زمانہ میں) جو شمار کی رو سے بدر کی طرح مشابہ ہو۔ (یعنی چودھویں صدی مرزا کے دور رسالت کا زمانہ) پس انہیں معنوں کی طرف
اشارہ ہے جو خدا تعالیٰ کے اس قول میں ہے کہ لقد نصرکم اللہ ببدر ۔‘‘
القمران المشرقان اتنکر
(قصیدہ اعجازیہ ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣، مرزا غلام احمد قادیانی)
”مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو احمد نبی اللہ تسلیم نہ کرنا اور آپ کو امتی قرار دینا یا امتی ہی گروہ میں سمجھنا گویا آنحضرت ﷺ کو جو سید المرسلین اور خاتم النبیین ہیں۔ امتی قرار دینا اور امتیوں میں داخل کرنا ایسا ہے جو کفر عظیم اور کفر بعد کفر ہے اور آنحضرت ﷺ کی بعثت اوّل میں آپ کے منکروں کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دینا۔ لیکن آپ کی بعثت ثانی میں آپ کے منکروں کو داخل اسلام سمجھنا یہ آنحضرت ﷺ کی ہتک اور آیات اللہ سے استہزاء ہے۔ حالانکہ خطبہ الہامیہ میں حضرت مسیح موعود نے آنحضرت ﷺ کی بعثت اوّل و ثانی کی باہمی نسبت کو ہلال اور بدر کی نسبت سے تعبیر فرمایا ہے۔ جس سے لازم آتا ہے کہ بعثت ثانی کے کافر کفر میں بعثت اوّل کے کافر سے بڑھ کر ہیں۔ مسیح موعود کی جماعت و آخرین منھم کی مصداق ہونے سے آنحضرت ﷺ کے اصحاب میں داخل ہے۔“ (الفضل کہہ دو کون روکتا ہے)
(اخبار الفضل ج ٢ نمبر ٤٣، ٢٥؍ اکتوبر ١٩١٥ء)
(ایک غلطی کا ازالہ) ”میں کہتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد جو درحقیقت خاتم النبیین تھے رسول اور نبی کے لفظ سے پکارا جانا کوئی اعتراض کی بات نہیں اور نہ اس سے مہر ختمیت ٹوٹتی ہے۔ کیونکہ بار ہا بتلا چکا ہوں کہ میں بموجب آیت و آخرین منھم لما یلحقوا بہم بروزی طور پر وہی خاتم الانبیاء ہوں اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرت ﷺ کا ہی وجود قرار دیا ہے۔ پس اس طور سے آنحضرت ﷺ کے خاتم الانبیاء ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا۔ کیونکہ ظل اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا اور کیونکہ میں ظلی طور پر محمد ہوں۔ پس اس طور سے خاتم النبیین کی مہر نہیں ٹوٹی۔ کیونکہ محمد ﷺ کی نبوت محمد تک ہی محدود رہی۔ یعنی بہرحال محمد ﷺ ہی نبی رہا نہ کوئی اور یعنی جب کہ میں بروزی طور پر آنحضرت ﷺ ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی معہ نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہے تو پھر کون سا الگ انسان ہوا۔ جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا ۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢١٢)
مرزا رئیس و خاکسار قادیان کا ایک خاص مرید مرزا کے حضور میں ایک قصیدہ مدحیہ سناتا ہے اور عاجز و خاکسار نبی سن کر سر دھنتا اور خوش ہوتا ہے۔
اور پہلے سے بھی بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں
(اخبار بدر ج ٢ نمبر ٤٣، ٢٥؍اکتوبر ١٩٠٦ء، قاضی یار محمد وکیل)
(ازالہ اوہام ص ٦٧٣، خزائن ج ٣ ص ٤٦٣) آیت ”ومبشراً برسول یاتی من بعد اسمہ احمد ہمارے رسول اللہ ﷺ صرف احمد نہیں بلکہ محمد بھی ہیں۔ یعنی جامع جمال اور جلال ہیں۔ لیکن آخری زمانہ میں برطبق پیش گوئی محمد و احمد جو اپنے اندر حقیقت عیسویت رکھتا ہے بھیجا گیا ہے۔ رسول اللہ تو محمد اور احمد دونوں تھے۔ لیکن برطبق پیش گوئی صرف احمد مبشر خود (مرزا قادیانی) ہے نہ رسول اللہ۔“
”یہ بھی کہہ دوں معراج (نبی کریم ﷺ) اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا۔ بلکہ اعلیٰ درجہ کا کشف تھا۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٧، خزائن ج ٣ ص ١٢٦)
الہامی گزٹ کی منادی
”خدا کا وعدہ ہے ”انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون“ قرآن شریف کی گم شدہ عظمت اور عزت کو پھر بحال کرنے کے لئے غلام احمد کی صورت میں یقیناً محمد رسول اللہ ﷺ آیا اور خدا نے آسمان سے قرآن کی حفاظت اور اس کی عظمت و جلال کے اظہار کا ذریعہ پیدا کیا اور ارادہ کیا کہ قرآن کریم کا نزول دوبارہ ہو اور پھر دنیا کو اس کی عظمت پر اطلاع دی جائے اور اس غرض کے لئے اس نے پھر محمد ﷺ کے بروزی رنگ میں غلام احمد قادیانی کی صورت میں نازل کیا۔“
(اخبار الحکم ١٠؍مئی ١٩٠٢ء کالم اوّل ص ٩)
(تذکرۃ الشہادتین ص ٣٨، خزائن ج ٢٠ ص ٤٠) ”کوئی نرا بے حیا نہ ہو تو اس کے لئے اس سے چارہ نہیں کہ میرے دعویٰ کو اسی طرح مان لے۔ جیسا اس نے آنحضرت ﷺ کی نبوت کو مانا ہے۔“
ہر گز کسی کو دعوائے پیغمبری نہ ہو
پھر قادیان میں کس لئے مجھ سا نبی نہ ہو
ظفر علی خان!
ناظرین! آپ نے مرزا قادیانی کی اطاعت کیشیاں اور تابعداریاں ملاحظہ کیں۔ یہ تھے وہ انکساری اور خاکساری کے فوٹو اور یہی ہیں وہ وفاداریاں اور منت گزاریوں کی عملی تصویریں۔ حیران ہوں اس بے تکی رسالت پر، پریشان ہوں اس بے پیندے کی لوٹ پوٹ نبوت پر۔ یہی ہے وہ ظلی نبوت اور امتی رسالت۔
مثل مشہور ہے کیا پدی اور کیا پدی کا شوربا۔ باتونی مرزا کے پاس سوائے باتوں اور وہ بھی بے لذت کے اور رکھا ہی کیا ہے۔ دنیا خواہ مخواہ راجپال کو کوستی ہے اور شردھانند کو برا کہتی ہے۔ بخدا جس قدر توہین اس منہ پھٹ نے کی اور کوئی کیا کرے گا۔ مرزا آنجہانی اور مرزے آنجہانی سب اسلام کے لئے کاربنکل ہیں۔ یہ وہ ناسور ہیں جن کے گھاؤ اندر ہی اندر نشوونما پاتے ہیں۔ بظاہر بڑے پاک باز بڑے نیک اطوار ان کی لمبی لمبی نمازیں اور تقدس کی فرنچ داڑھیاں۔ سب شکار کی ٹٹیاں ہیں۔ جن کی آڑ میں امت خیرالانام کا شکار کھیلا جاتا ہے۔ آہ سبز روضہ میں آج بے چینی ہے۔ معصوم مکہ آج بخدا بے آرام ہیں۔ وہ شان محمدی کو کیا جانے جو دین حقہ کا شناور ہی نہیں۔ وہ نوسر باز الہامی ڈاکو کاش چشم بصیرت کے ساتھ ساتھ بصارت بھی رکھتا تو وہ ان مقامات کو ضرور دیکھتا۔ جہاں آداب محمدی سکھلائے گئے ہیں۔ مگر مرزا قادیانی جی ٹھہرے جے سنگھ بہادر و رئیس قادیان وہ کیا جانیں ادب کیا ہے اور کیسے بجالایا جاتا ہے۔ ان سے پوچھئے کستوری کیا بھاؤ آتی ہے اور افیون کن مرکبات سے کھائی جاتی ہے اور ٹانک وائن اور کچلے قوت باہ کے لئے کتنے مفید ہیں۔
قرآن کریم نبی کریم ﷺ کے ادب واحترام کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔ چنانچہ چند ایک ارشاد باری ملاحظہ ہوں:
- ١....... ”یا ایها الذین آمنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی
ولا تجهر واله بالقول کجهر بعضکم لبعض ان تحبط اعمالکم وانتم لا تشعرون“
اے لوگو! جو ایمان لائے ہو نہ اونچی کرو اپنی آوازوں کو نبی کی آواز سے اونچا اور نہ زور سے پکارو جیسا کہ آپس میں پکارا کرتے ہو ایک دوسرے کو۔ ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال تمہاری اس حرکت سے ضائع ہوجائیں اور تمہیں اس کا پتہ بھی نہ لگے۔
- ٢....... ”لا تجعلوا دعاء الرسول بینکم کدعاء بعضکم بعضاً قد
یعلم الله الذين يتسللون منكم لواذا فليحذرالذين يخالفون عن امره ان تصيبهم فتنة اويصيبهم عذاب اليم ﴿مت مقرر کرو پکارنا پیغمبر کا درمیان اپنے جیسا پکارنا۔ بعضے تمہارے کا بعضوں کو تحقیق جانتا ہے۔ اللہ ان لوگوں کو کہ چھپ کر نکل جاتے ہیں تم میں سے نظر بچا کر۔ پس چاہئے کہ ڈریں وہ لوگ جو مخالفت کرتے ہیں حکم اس کے سے اس سے کہ پہنچ جائے ان کو فتنہ یا پہنچ جائے ان کو عذاب درد دینے والا۔﴾
- ......٣...... ”لقد كان لكم فى رسول الله اسوة حسنة“ ﴿البتہ تحقیق
واسطے تمہارے بیچ رسول خدا کے پیروی اچھی واسطے اس شخص کے کہ امید رکھتا ہے۔ خدا کی اور دن پچھلے کی اور یاد کرتا ہے اللہ کو بہت۔﴾
- ......٤...... ”الذين يتبعون الرسول النبى الامى الذين يجدونه
مكتوباً“ ﴿وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں رسول کی جو نبی ہے ان پڑھا وہ جو پاتے ہیں۔ اس کو لکھا ہوا نزدیک اپنے بیچ تورات کے اور انجیل کے حکم کرتا ہے۔ ان کو ساتھ بھلائی کے اور منع کرتا ہے۔ ان کو نامعقول سے اور حلال کرتا ہے۔ واسطے ان کے پاکیزہ چیزیں اور حرام کرتا ہے۔ اوپر ان کے ناپاک چیزیں اور اتار رکھتا ہے۔ ان سے بوجھ ان کے﴾
مگر مرزا قادیانی بیچارے کریں بھی تو کیا کریں۔ جب کہ قادیانی خدا دم ہی نہ لینے دے اور ان تھک فرشتے الہام باری کر کے قصر ایمان کو بیخ و بن سے ملیا میٹ کر دیں۔ جب کہ مرزا قادیانی کو وہ یوں کہتا ہے۔
- ......١...... ”انت منی بمنزلة توحيدی وتفریدی اے مرزا تو مجھ سے ایسا
ہے جیسا کہ میری توحید۔“
(تذکرة الشہادتین ص ٥، خزائن ج ٢٠ ص ٧)
- ......٢...... ”انت منى بمنزلة اولادى اے مرزا تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میری
اولاد۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ١٩ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤٣١)
- ......٣...... ”انما امرك اذا اردت شيئاً ان تقول له كن فيكون “ یعنی
اے مرزا قادیانی آپ کی تو وہ شان ہے کہ تو جس بھی چیز کے لئے کن کا حکم دے دے۔ یعنی ہو جا پس وہ فوراً ہو جاتی ہے۔
(حقیقت الوحی ص ١٠٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨)
- ......٤...... ”اعطيت صفت الافناء والاحیاء من رب الفعال“ مجھے خدا
کی طرف سے مارنے اور زندہ کرنے کی صفت دی گئی یعنی میں اس بات پر قادر ہوں کہ ماروں اور زندہ کروں۔
(خطبہ الہامیہ ص ٥٥، ٥٦، خزائن ج ١٦ ص ایضا)
- .......٥...... ”میں نے
ہوں۔“
- .......٦...... ”یوم یـ
آئے گا۔ یعنی انسانی مظہر (دیکھیں قا
اور مرزا قادیانی کا ادب بھلا کیا جانیں کہ وہ کس بلا کا مرزا تھـ بروز میں آیا تھا اور اس کا نام خدا کاـ
”انت اسمي الاعلی ”انت منی بمنزلۃ ”انت منی وانا منـ ”انت من مائنا وهـ خشکی سے۔ ”ظهورک ظهوری اے میرے اہلبیت خد ”اینما تولو فثم و منہ کروں گا۔ ”انت منی بمنز بہت ہے جو دنیا نہیں جانتی۔ ”انت منی بمنزلۃ
......٥ ”میں نے خواب میں دیکھا کہ میں خدا ہوں میں نے یقین کر لیا کہ وہی ہوں۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤، خزائن ج ٥ ص ٥٦٤)
......٦ ”یوم یاتی ربک فی ظلل من الغمام اس دن بادلوں میں تیرا خدا آئے گا۔ یعنی انسانی مظہر (رئیس قادیان) کے ذریعہ اپنا جلال ظاہر کرے گا۔“
(حقیقت الوحی ص ٥٤)
اور مرزا قادیانی کا ادب و احترام کرنا کوئی مرزائی خدا سے سیکھے۔ یہ قادیانی اور لاہوری بھلا کیا جانیں کہ وہ کس بلا کا مرزا تھا۔ وہ انسان نہ تھا فرشتہ، نہیں نہیں خود خدا تھا۔ کیونکہ وہ خدا کے بروز میں آیا تھا اور اس کا نام خدا کا سب سے بڑا نام تھا۔ جیسے کہ وہ خود کہتا ہے۔
”انت اسمي الاعلی“ اے مرزا تو میرا سب سے بڑا نام ہے۔
(اربعین نمبر ٣ ص ٣٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٤)
”انت منی بمنزلۃ بروزی“ اے مرزا تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میں ہی ہوں۔
(تجلیات الہٰیہ ص ١٢، خزائن ج ٢٠ ص ٤٠٤)
”انت منی وانا منک“ اے مرزا تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔
(حقیقت الوحی ص ٧٤، خزائن ج ٢٢ ص ٧٧)
”انت من مائنا وہم من فشل“ اے مرزا تو ہمارے نطفہ سے ہے اور باقی لوگ خشکی سے۔
(انجام آتھم ص ٥٥، ٥٦، خزائن ج ١١ ص ٥٥، ٥٦)
”ظہورک ظہوری“ اے مرزا تیرا ظاہر ہونا گویا کہ میرا ظاہر ہونا ہے۔
(البشریٰ ج ٢ ص ١٢٦)
اے میرے اہلبیت خدا تمہیں شر سے محفوظ رکھے۔
(البشریٰ ج ٢ ص ١٤٥)
”اینما تولو فثم وجہ اللہ“ اے مرزا جس طرف تیرا منہ ہوگا اس طرف میں بھی منہ کروں گا۔
(براہین احمدیہ ص ٢٤١ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٢٦٧)
”انت منی بمنزۃ لا یعلمہا الخلق“ اے مرزا تیری منزلت میرے نزدیک بہت ہے جو دنیا نہیں جانتی۔
(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)
”انت منی بمنزلۃ عرشی“ اے مرزا تو مجھ سے ایسا ہے جیسا میرا عرش۔
(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)
”ياقمر يا شمس انت منى وانا منك“ اے مرزا میرے چانداے مرزا میرے سورج میں تجھ سے ہوں اور تو مجھ سے ہے۔
(تجلیات الہیہ ص ٥، خزائن ج ٢٠ ص ٣٩٧)
”انت منى بمنزلة سمعی“ اے مرزا قادیانی تو مجھ سے ایسا ہے جیسے میرے کان۔
(تذکرہ ص ٧٥٠)
”انت منى بمنزلة النجم الثاقب“ اے مرزا تو مجھ سے ایسا ہے جیسا ثاقب ستارہ ۔
(ضمیر چشمہ معرفت ص ٦٠، خزائن ج ٢٣ص ٣٢٧ حاشیہ)
الو کی دم فاختہ
”پہلا تعجب ! یہ کہ کیسے بڑے ادب سے خدا نے مجھ کو پکارا ہے کہ مرزا نہیں کہا۔ بلکہ مرزا صاحب کہا ہے۔ چاہئے کہ یہ لوگ خدا تعالیٰ سے ادب سیکھیں۔ دوسرا تعجب! یہ کہ باوجود اس کے میری طرف سے درخواست تھی کہ الہام میں میرا نام ظاہر کیا جائے۔ مگر پھر بھی خدا کو میرا نام لینے سے شرم دامنگیر ہوئی اور شرم کے غلبہ نے میرا نام زبان پر لانے سے روک دیا کیا میرا نام مرزا صاحب ہے۔ کیا دنیا میں اور مرزا صاحب کے نام سے پکارا نہیں جاتا۔“
(حقیقت الوحی ص ٣٥٦، خزائن ج ٢٢ ص ٣٦٩)
ناظرین ! اب جناب کی خدمت میں ایک ایسی مزیدار چیز پیش کی جاتی ہے۔ جو یقیناً خوش ذائقہ ہونے کے علاوہ بو، باس میں نرالی ہے۔ یقیناً یہ کذاب قادیان کے لئے ایک زبردست توپخانہ ثابت ہوگی اور اس کے ایک ہی حربے سے دجالیت کا گدھا ڈھینچوں ڈھینچوں کرتا بھاگتا نظر آئے گا۔ اس کے بعد قادیانی صدائے نبوت ” ان انـکـر الاصـوات لـصـوت الحمیر “ ثابت ہوگی۔
- .......١
(کتاب البریہ ص ٢٠٠ حاشیہ، خزائن ج ١٣ ص ٢١٨)
” آنحضرت ﷺ نے فرما دیا تھا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور حدیث لا نبی بعدی ایسی مشہور تھی کہ کسی کو اس کی صحت میں کلام نہ تھا اور قرآن شریف جس کا لفظ لفظ قطعی ہے۔ اپنی آیت ” ولـكـن رسـول الله وخـاتـم الـنـبـيـيـن “ سے بھی اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ فی الحقیقت ہمارے نبی ﷺ پر نبوت ختم ہوچکی ۔“
- .......٢
(ازالہ اوہام ص ٥٧٧، خزائن ج ٣ ص ٤١٢)
”ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ صادق الوعد ہے اور جو آیت خاتم النبیین میں وعدہ دیا گیا ہے اور حدیثوں میں بتصریح بیان کیا گیا ہے کہ اب جبرائیل علیہ السلام کو بعد وفات رسول اللہ ﷺ ہمیشہ کے لئے وحی نبوت لانے سے منع کیا گیا ہے۔ یہ تمام باتیں سچ ہیں نبی ﷺ کے بعد ہرگز نہیں آسکتا۔“
- .......٣
(ازالہ اوہام ص ٤٣١، خزائن
رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا۔ خواہ وہ نیا ہو یا پرا باب نزول بہ پرائیوی رسالت مسدود ہے او رسالت نہ ہو۔“
- .......٤
(ازالہ اوہام ص ٦١٤، خزائن
یہ امر داخل ہے کہ دینی علوم کو بذریعہ جبرائیل رسالت تاقیامت منقطع ہے۔“
- .......٥
(ازالہ اوہام ص ٥٣٤،
رسول اس کو کہتے ہیں جس نے احکام اور عقائ وحی نبوت پر تو تیرہ سو برس سے مہر لگ چکی ۔
- .......٦
(ایام صلح ص ١٤٦، خزائن
مریم کے دوبارہ آنے کا تو کہیں بھی ذکر نہیں۔ نئے کی تفریق کرنا یہ شرارت ہے نہ حدیث م نبی بعدی “ میں بھی نفی عام ہے۔ پس یہ کی کی پیروی کر کے منصوص صریحہ قرآن عمداً چھ مان لیا جائے۔ کیونکہ جس میں شانِ نبوت باقی
- .......٧
(آئینہ کمالات اسلام ص
النبیین کے بعد نبی بھیجے اور نہیں شایاں کہ سلسل اسے قطع کر چکا اور بعض احکام قرآن کریم کے
- .......٨
(ازالہ اوہام ص ٥٨٣
مستلزم محال ہے کہ خاتم النبیین کے بعد پھر ورفت شروع ہو جائے۔“
- .......٩
(حمامة البشریٰ ص ٩
” ولـكـن رسـول الله وخـاتـم الـنـبـيـيـن “
لانے سے منع کیا گیا ہے۔ یہ تمام باتیں سچ ہیں اور صحیح ہیں تو پھر کوئی شخص بحیثیت رسالت ہمارے نبی ﷺ کے بعد ہرگز نہیں آسکتا۔‘‘
- ٣...... (ازالۃ اوہام ص ٤٣١، خزائن ج ٣ ص ٥١١) ’’قرآن کریم بعد خاتم النبیین کسی
رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا۔ خواہ وہ نیا ہو یا پرانا۔ کیونکہ رسول کو علم دین بتوسط جبرائیل ملتا ہے اور باب نزول بہ پیرائیہ وحی رسالت مسدود ہے اور یہ بات خود ممتنع ہے کہ رسول تو آوے مگر سلسلہ وحی رسالت نہ ہو۔‘‘
- ٤...... (ازالۃ اوہام ص ٦١٤، خزائن ج ٣ ص ٤٣٢) ’’رسول کی حقیقت اور ماہیت میں
یہ امر داخل ہے کہ دینی علوم کو بذریعہ جبرائیل حاصل کرے اور ابھی ثابت ہو چکا ہے کہ اب وحی رسالت تاقیامت منقطع ہے۔‘‘
- ٥...... (ازالۃ اوہام ص ٥٣٤، خزائن ج ٣ ص ٣٨٧) ’’حسب تصریح قرآن کریم
رسول اس کو کہتے ہیں جس نے احکام اور عقائد دینی بذریعہ جبرائیل کے حاصل کئے ہوں۔ لیکن وحی نبوت پر تو تیرہ سو برس سے مہر لگ چکی۔‘‘
- ٦...... (ایام صلح ص ١٤٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٩٢، ٣٩٣) ’’قرآن شریف میں مسیح ابن
مریم کے دوبارہ آنے کا تو کہیں بھی ذکر نہیں۔ لیکن ختم نبوت کا بکمال تصریح ذکر ہے اور پرانے یا نئے کی تفریق کرنا یہ شرارت ہے۔ نہ حدیث میں نہ قرآن میں یہ تفریق موجود ہے اور حدیث ’’لا نبی بعدی‘‘ میں بھی نفی عام ہے۔ پس یہ کس قدر جرأت اور دلیری اور گستاخی ہے کہ خیال رکیکہ کی پیروی کر کے منصوص صریحہ قرآن عمداً چھوڑ دیا جائے اور خاتم الانبیاء کے بعد ایک نبی کا آنا مان لیا جائے۔ کیونکہ جس میں شان نبوت باقی ہے اس کی وحی بلاشبہ نبوت کی وحی ہوگی۔‘‘
- ٧...... (آئینہ کمالات اسلام ص ٣٧٧، خزائن ج ٥ ص ایضاً) ’’اللہ کو شایاں نہیں کہ خاتم
النبیین کے بعد نبی بھیجے اور نہیں شایاں کہ سلسلہ نبوت کو دوبارہ ازسرنو شروع کر دے بعد اس کے کہ اسے قطع کر چکا اور بعض احکام قرآن کریم کے منسوخ کر دے یا اور ان پر بڑھاوے۔‘‘
- ٨...... (ازالۃ اوہام ص ٥٨٣، خزائن ج ٣ ص ٤١٣) ’’اور ظاہر ہے کہ یہ بات
مستلزم محال ہے کہ خاتم النبیین کے بعد پھر جبرائیل علیہ السلام کی وحی رسالت زمین پر آمد ورفت شروع ہو جائے۔‘‘
- ٩...... (حمامۃ البشریٰ ص ٤٩، خزائن ج ٧ ص ٢٤٤) ’’اور اللہ تعالیٰ کے اس قول
’’ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین‘‘ میں بھی اشارہ ہے۔ پس اگر ہمارے نبی ﷺ اللہ
کی کتاب قرآن کریم کو تمام آنے والے زمانوں اور زمانوں کے لوگوں کے علاج اور دوا کی رو سے مناسبت نہ ہوتی تو اس عظیم الشان نبی کریم کو ان کے علاج کے واسطے قیامت تک ہمیشہ کے واسطے نہ بھیجتا اور ہمیں محمدﷺ کے بعد کسی نبی کی حاجت نہیں ، کیونکہ آپ کے برکات ہر زمانہ پر محیط اور آپ کے فیض اولیاء اور اقطاب اور محدثین کے قلوب پر بلکہ کل مخلوقات پر وارد ہیں۔ خواہ ان کو اس کا علم بھی نہ ہو کہ انہیں آنحضرت ﷺ کی ذات پاک سے فیض پہنچ رہا ہے۔ پس اس کا احسان تمام لوگوں پر ہے۔“
- ١٠...... (آئینہ کمالات اسلام ص ٢١، خزائن ج ٥ ص ٢١) ”میں ایمان لاتا ہوں اس پر کہ
ہمارے نبیﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور ہماری کتاب قرآن کریم ہدایت کا وسیلہ ہے اور میں ایمان لاتا ہوں اس بات پر کہ ہمارے رسول آدم کے فرزندوں کے سردار اور رسولوں کے سردار ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ نبیوں کا خاتمہ کر دیا ۔“
- ١١...... (تبلیغ رسالت ج ٢ ص ٢٠، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠، ٢٣١) ”میں ان تمام
امور کا قائل ہوں جو اسلامی عقائد میں داخل ہیں اور جیسا کہ سنت اہل جماعت کا عقیدہ ہے۔ ان سب باتوں کو مانتا ہوں جو قرآن اور حدیث کی رو سے مسلم الثبوت ہیں اور سیدنا و مولانا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت و رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہﷺ پر ختم ہوئی۔“
- ١٢...... (تبلیغ رسالت ج ٢ ص ٤٤، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٥٥) ”ان تمام امور میں
میرا وہی مذہب ہے جو دیگر اہل سنت والجماعت کا مذہب ہے...... اب میں مفصلہ ذیل امور کا مسلمانوں کے سامنے صاف صاف اقرار اس خانہ خدا یعنی جامع مسجد دہلی میں کرتا ہوں کہ میں جناب خاتم الانبیاءﷺ کی ختم نبوت کا قائل ہو اور جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو اس کو بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔“
- ١٣...... (انجام آتھم ص ٢٧، خزائن ج ١١ ص ٢٧ حاشیہ) ”کیا ایسا بد بخت ومفتری جو خود
رسالت اور نبوت کا دعویٰ کرتا ہے قرآن شریف پر ایمان رکھ سکتا ہے اور کیا ایسا وہ شخص جو قرآن کریم پر ایمان رکھتا ہے اور آیت ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین کو خدا کا کلام یقین کرتا ہے وہ کہہ سکتا ہے کہ میں آنحضرتﷺ کے بعد رسول اور نبی ہوں۔“
- ١٤...... (حمامة البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧) ”مجھے کب جائز ہے کہ میں نبوت
کا دعویٰ کر کے اسلام سے خارج ہو جاؤں اور کافروں سے جاملوں ۔“
- ١٥...... (حمامتہ البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧) ”مجھے کہاں حق پہنچتا ہے کہ میں
ادعاء نبوت کروں اور اسلام سے خارج ہو جاؤں اور قوم کافرین سے جاملوں۔ یہ کیونکر ممکن ہے کہ میں مسلمان ہو کر نبوت کا دعویٰ کروں۔“
- ١٦...... (فیصلہ آسمانی ص ٢٥، خزائن، ج ٤ ص ٣٣٥) ”اے لوگو! دشمن قرآن نہ بنو اور
خاتم النبیین کے بعد وحی نبوت کا نیا سلسلہ جاری نہ کرو اور اس خدا سے شرم کرو۔ جس کے سامنے حاضر کئے جاؤ گے۔“
- ١٧...... (تبلیغ رسالت ج ٦ ص ٢، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٩٧) ”ہم بھی مدعی نبوت پر
لعنت بھیجتے ہیں۔ ’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘ کے قائل ہیں اور آنحضرت ﷺ کے ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔“
- ١٨...... (انجام آتھم ص ٢٨، خزائن ج ١١ ص ٢٨) ”مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کا بھائی،
کافر، خبیث ہے۔“
ناظرین کرام! آپ کی خدمت میں مندرجہ بالا اٹھاراں ایسے حوالے رئیس قادیان کے پیش کئے گئے ہیں۔ جن میں صاف طور پر دعویٰ نبوت سے انکار کیا گیا ہے اور جبرائیل علیہ السلام کی آمد کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نبوت کے ساتھ ساتھ منقطع کرتے ہوئے انتہائی ذمہ داری کے الفاظ کہے گئے ہیں۔ اب اگر جناب جبرائیل علیہ السلام کی آمد کو مانا جائے تو خدا کا کلام باطل ہوتا ہے اور حضور اکرم ﷺ کی رسالت کاذب ٹھہرتی ہے۔ اس کے علاوہ مرزا قادیانی کے پلے کچھ نہیں رہتا۔
مقام شکر ہے کہ یہ تمام حوالے اسلامی تعلیم میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ گو یہ بھی کسی سنہری مصلحت اور مقصد کے لئے لکھے گئے تھے۔ مگر افسوس ”جاء الحق وزهق الباطل“ مرزا قادیانی کے سر چڑھ کر ہمیشہ بولتا ہے اور باوجودیکہ انتہائی کوشش و چھان بین سارا اینڈ کو کرتا رہا۔ مگر لغزشیں ہوتی ہی رہیں۔ گو ایک عرصہ دراز کے بعد اس کی بہت کچھ تصحیح کی گئی۔ مگر اصلاح خام ہی رہی۔ اب مرزا قادیانی کا کلام ایک عیار عطار کی بوتل بن گیا۔ جس میں سبھی قسم کے شربت دستیاب ہوتے ہیں۔ سائل مرزا قادیانی کے کلام میں ایک سلسلہ وار ترتیب دیکھتا ہے اور جس طرح ایک پودا نشوونما پاتا ہے بعینہ مرزا قادیانی نے ترقی کی سب سے پہلے وہ بے کس وغریب اس کے بعد خاکسار ہوئے۔ ازاں بعد مصنف ومؤلف ہوئے۔ پھر انہوں نے مناظر اسلام کا بھیس بدلا۔ اس کے بعد انہیں محدث ہونے کی سوجھی۔ اس کے بعد مفسر کا خیال آیا۔ ازاں بعد امام ہونے کا دعویٰ کیا بعدہ مجدد بنے۔ یہاں سے چھلانگ لگائی تو امتی رسول بعدہ امتی نبی اس کے
بعد ظلی نبی بعدہ بروزی نبی۔ جب دبے لفظوں میں نبی کہہ لیا اور امت کے چند سعید لوگوں کے علاوہ کوئی ٹس سے مس نہ ہوا تو مرزا قادیانی کو حقیقی نبوت کا بخار ہوا اور اس کے جراثیم کتاب تریاق القلوب مصنفہ مرزا جو ١٨٩٩ء میں زیر تالیف تھی سے ترقی کرنے شروع ہوئے اور آخر ١٩٠٢ء میں مرزا قادیانی کو نبوت کا ہیضہ ہی ہو گیا۔ جس کے حوالے آپ نے سابقہ اوراق میں ملاحظہ کئے ہیں۔ بس یہاں سے مرزا قادیانی نے نبوت کا گھاس کھانا شروع کیا اور برابر چھ سال کے بعد مرض ابتلاؤں میں مر گئے۔
- .......١ (مواہب الرحمن ص ٦٣، خزائن ج ١٩ ص ٢٨٦) ”آمد نزد من جبرائیل علیہ السلام
و مرا برگزید و گردش داد انگشت خود را او اشارہ کرد خدا ترا از دشمنان نگه خواهد داشت۔“
- .......٢ (حقیقت الوحی ص ١٠٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٦) ”جاء نی آئیل و اختارنی
و ادار اصبعہ اشارہ ان وعد اللہ آت فطوبی لمن وجد و رائی آیا میرے پاس آئیل اس جگہ آئیل خدا تعالیٰ نے جبرائیل کا نام رکھا ہے۔ اس لئے کہ بار بار رجوع کرتا ہے۔ پس مبارک وہ جو مجھ کو پاوے اور دیکھے۔“
نبی کی غصہ میں ڈوبی ہوئی نگاہ سے ڈر
دین قیم پر خدا کی رحمت ہو۔ لا ریب یہ اس کا پسندیدہ دین ہے اور اس کی حفاظت کا متکفل بھی وہ خود ہے۔ جس بیڑے کا ناخدا حی و قیوم ہو اور جس کو نیند آئے نہ اونگھ اسے حوادث اور تھپیڑوں کا کیا ڈر۔ وہ ہر زمانہ میں اپنے بیڑے کا خود رکھوالا ہے اور رہے گا۔ کوئی نہیں جو وہاں نقب زنی کرے اور پکڑا نہ جائے۔ کس کو طاقت ہے کہ وہاں ڈاکہ ڈالے اور سلامت روی سے عیش کرے۔ ہرگز نہیں ضرور گرفتار ہو کر روسیاہ کیا جائے گا۔ مثال کے طور پر رئیس قادیان کو ہی دیکھ لیجئے۔ آپ کو نبوت کا بخار کہوں یا ہیضہ ہو گیا۔ آپ شدت بخار میں توازن دماغ کھو بیٹھے اور واویلا شروع کر دیا۔ میں نبیوں کا پہلوان ہوں۔ میں جے سنگھ بہادر ہوں، میں کرشن رودر گوپال ہوں، میں مسیح ہوں، میں مریم ہوں، میں مثیل ہوں، میں آدم ہوں، نوح ہوں، ابراہیم ہوں، موسیٰ ہوں، محمد ہوں، احمد ہوں، میں خدا ہوں، خدا کا بیٹا ہوں، خدا کا باپ ہوں۔ ایسے ایسے خرافات واہیہ کی رٹ لگاتے رہے۔ بالآخر کسی خدا کے بندے نے ڈانٹ پلائی اور کہا اجی حضرت ہوش کی دوا لو۔ آپ نبی ہیں توبہ کرو نبوت تو اس پاکوں کے پاک اور خاصوں کے خاص پر ختم ہو چکی اور جو بھی آپ کے بعد اس پاک نام کی تذلیل کرے یاوہ گو اور لعنتی ہے۔ کیوں
غیرت سرمدی کو جوش میں لاتے ہو تو جواب ملا اگر اعتبار نہ ہو تو مجھے منہاج النبوۃ پر پرکھ لو۔ یقیناً میں معیار صداقت پر پورا اتروں گا۔
سائل! قرآن کریم میں آتا ہے۔ ”و ما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن اللہ“ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ہم نے کوئی رسول ایسا بھیجا ہی نہیں مگر مطاع اور امام یعنی تمام رسول ہمارے احکام کے فرمانبردار اور اطاعت گزار ہوتے ہیں اور آپ کہتے ہیں کہ میں امتی نبی ہوں جو کچھ میں نے حاصل کیا ہے وہ رسول عربی سے لیا ہے۔ حالانکہ رسول اکرم ﷺ اقرار فرماتے ہیں ۔ ”ان اتبع الا ما یوحی الی“ یعنی میں صرف اپنی وحی کی پیروی کرتا ہوں۔ حالانکہ آپ سابقہ الہام چوری کرنے پر ہی اکتفا کر لیتے ہیں۔
رئیس قادیان ! جواب دیتے ہیں کہ ہم کب کہتے ہیں کہ نبی دوسرے نبی کا متبع ہوتا ہے ہم بھی تو یہی کہتے ہیں۔ ”خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ کوئی رسول دنیا میں مطیع ومحکوم ہوکر نہیں آتا۔ بلکہ وہ صرف مطاع اور اپنی وحی کا متبع ہوتا ہے۔“ (ازالہ اوہام ص٥٧٦، خزائن ج٣ ص٤١١)
تو یہ ہماری سعادت اور نیک بختی کی دلیل ہے کہ ہم اس قرآن حکیم کے ہوتے ہوئے بھی امتی ظلی بروزی نبی بننے پر اکتفاء کرتے ہیں ورنہ ہمارے معجزات تو دس لاکھ تک پہنچتے ہیں اور جس رسول کی اطاعت کا ہم دعویٰ کر رہے ہیں۔ اس کے تو تین ہزار سے زیادہ نہیں۔
سائل! نے دوبارہ عرض کیا حضرت حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے۔ ”نحن معاشر الانبیاء لا نورث ولا نورث“ کہ ہم انبیاء کا گروہ نہ کسی کا وارث ہوتا ہے نہ ہمارا کوئی وارث ہوتا ہے۔ اس صحیح حدیث کی رو سے یہ معلوم ہوا کہ انبیاء نہ کسی جدی ترکہ کو لیتے ہیں اور نہ ان سے کوئی لیتا ہے۔ مگر اس کے خلاف اپنے جدی وراثت کو لیا اور اس کو ہزار گنا زیادہ فروغ دے کر اولاد کے لئے چھوڑا۔ اس لئے آپ اس اصول سے بھی گر گئے اور منہاج النبوۃ پر پورے نہ اترے۔
رئیس قادیان ! جواب دیتے ہیں کہ کلام مجید میں آتا ہے۔ ”فھب لی من لدنک ولیاً یرثنی ویرث من ال یعقوب“ اور ایسا ہی دوسری جگہ ”وورث سلیمان داود“ آیا ہے۔ اس لئے انبیاء ترکہ لیتے اور دیتے بھی آئے ہیں۔
سائل! نے عرض کیا حضور یہ آپ کی بھول ہے وہ ورثہ دنیوی نہیں دینی ہے۔ ظاہری نہیں باطنی ہے۔ مال و املاک نہیں علم و عرفان ہے۔
اس کے بعد سائل نے عرض کیا ہجرت کرنا سنت انبیاء میں قدیم سے چلا آیا ہے۔ مگر آپ کو یہ سنت نصیب نہیں ہوئی۔
رئیس قادیان ! جواب دیتے ہیں ہم کب اس سنت کو نہیں مانتے ایسا معلوم ہوتا ہے تم جاہل ہو۔ تمہاری نظر سے (ضمیمہ نصرت الحق ص ١٧، طبع دوئم) نہیں گزرا جس میں صاف لکھا ہے کہ: ”انبیاء علیہم السلام کی نسبت یہ بھی ایک سنت اللہ ہے کہ وہ اپنے ملک سے ہجرت کرتے ہیں۔ جیسا کہ صحیح بخاری میں بھی موجود ہے۔“
یہ علیحدہ بات ہے کہ ہم نے ابھی ہجرت نہیں کی۔ مگر ایک کشف میں ہم نے ایسا موقعہ دیکھا ہے سو کبھی وقت آنے پر ہو ہی جائے گی۔ اس کے بعد سائل نے کہا حضرت یہ تو کہئے کہ تمام انبیاء کو الہام ان کی مادری زبان میں ہوئے۔ مگر آپ کو ایسی زبانوں میں بھی الہام ہوئے۔ جن کو آپ مطلق نہ جانتے تھے اور یہ منہاج النبوۃ کے خلاف ہے۔ جیسا کہ فرقان حمید اسی پر روشنی ڈالتا ہے۔
- ١....... ”وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومه ليبين لهم“
- ٢....... ”ولو جعلنه قرآناً اعجمياً لقالو الو فصلت آيته ء اعجمي
وعربی“ یعنی اگر ہم اس قرآن کو عجمی زبان میں اتارتے تو کفار معترض ہوتے کہ اس کی آیات واضح کیوں نہ کی گئیں۔ یہ کیا ہے کہ غیر زبان میں الہام اور عربی مخاطب۔
رئیس قادیان ! جواب دیتے ہیں عذر تو معقول ہے۔ مگر جب ہم خود اس کو تسلیم کرتے ہیں اور سائل خواہ مخواہ جہالت کی وجہ سے ہماری کتب سے اندھا ہے تو ہم کیا کریں۔ یہ ہمارا تھوڑا قصور ہے۔ اسے چاہئے کہ پہلے ہماری تمام کتابوں کا مطالعہ کرے۔ اس میں صاف لکھا ہے کہ:
”یہ بالکل غیر معقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی زبان تو کوئی اور ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو۔ جس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا۔ کیونکہ اس میں تکلیف مالا يطاق ہے۔“
(چشمہ معرفت ص ٢١٩، خزائن ج ٢٣ ص ٢١٨)
اور ہم تو خود مانتے ہیں کہ ہمیں الہام ان زبانوں میں ہوتے ہیں جن کو ہم جانتے بھی نہیں اور یہ شاید اس لئے ہیں کہ ہم تمام جہان کی طرف مبعوث ہو کر آئے ہیں۔ دیکھو کلام مجید میں بھی تو آیا ہے۔”علمنا منطق الطیر“ یعنی حضرت سلیمان علیہ السلام کہتے ہیں ہمیں جانوروں کی بولی سکھائی گئی۔
(نزول المسیح ص ٥٧، خزائن ج ١٨ ص ٤٣٥) ”بعض الہام مجھے ان زبانوں میں ہوتے ہیں جن سے مجھے کچھ بھی واقفیت نہیں۔ جیسے انگریزی یا سنسکرت یا عبرانی وغیرہ۔“
سائل! نے عرض کیا صرف ایک اور جواب دے دیں اس کے بعد چلا جاؤں گا۔ سمع خراشی کی معافی چاہتا ہوں۔ دل چاہتا ہے کہ آپ کے قیمتی نکات کچھ اور سن لوں یہ تو فرمائیے کہ آپ کے ہزاروں الہام ایسے ہیں جن کا کچھ مطلب نہیں اور آپ خود اقرار کرتے ہیں کہ مجھے ان کی تفہیم نہیں ہوئی اور یہ بھی مانتے ہیں کہ کچھ حصہ یاد رہا ہے اور باقی بھول گیا ہے اور یہ بھی اقرار کیا ہے کہ بھول گیا ہوں۔ یعنی یہ یاد نہیں رہا کہ عمر ایلاطوس تھا۔ یا پراطوس تھا اور شاید پریشین تھا اور ایسا ہی کئی الہاموں میں یہ کہا کہ کچھ عربی کے لفظ تھے یاد نہیں رہے اور اگلا فقرہ یاد ہے۔ ”مکذبون“ کا نشان دکھایا جائے گا۔ حالانکہ کلام مجید یتیم مکہ ﷺ کو یوں خطاب فرماتا ہے۔
"لا تحرک بہ لسانک لتعجل بہ ان علینا جمعہ وقرانہ فاذا قرانہ فاتبع قرانہ ثم ان علینا بیانہ“ ﴿اے یتیم مکہ نہ حرکت دے اس وحی کے پڑھنے پر اپنی زبان کو کہ جلدی سیکھ لے لاریب اس وحی کو تیرے دل میں بٹھانا اور تجھ کو یاد کرانا ہمارے ذمہ ہے۔ پس جب یہ جبرائیل پڑھے تو اس کے ساتھ پڑھ لیا کر۔ پھر ہمارے ذمہ ہے اس کو کھول کر بیان کرنا۔﴾
یہ آیت کریمہ واضح طور پر بیان کرتی ہے کہ رحمانی الہام کی وضاحت تام رحمان ہی کے ذمہ ہے اور یہ غیر ممکن ہے کہ الہام ربانی ملہم کی یاد سے اتر پائیں۔ یا غیر زبان میں ہوں اور غلط فقرے ہوں اور ایسے سر بریدہ فقرات ہوں جو مفہوم کو مبہم الفاظ میں مطلب واضح کرنے سے عاجز ہوں۔ مثلاً ”ایک دانہ کس کس نے کھانا۔“ کہئے کہ تو یہ الہام ہے۔ مگر مطلب گنگے کی ماں سے پوچھیں۔ ”بستر عیش“ اب کیا مطلب تصور کریں۔
رئیس قادیان! جواب دیتے ہیں احمق کہیں کا ہم کب اس کے خلاف کہتے ہیں۔ کیا ہماری وحی انبیاء ماسلف سے نرالی ہے ہرگز نہیں۔ تم بیوقوف ہو جو نہیں سمجھتے۔ لو سنو:
بخدا پاک دانمش زخطا
ہمچوں قرآن منزہ اش دانم
از خطاء ہمیں است ایمانم
آں یقین کہ بود عیسیٰ را
بر کلامے کہ شد بر او القا
وآں یقین کلیم بر تورات
وآں یقین ہائے سید السادات
ہر کہ گوید دروغ ہست لعین
(نزول المسیح ص٩٩،خزائن ج١٨ ص٤٧٧)
(البشریٰ ج ٢ ص ١١٩) ”میں تو بس قرآن ہی کی طرح ہوں اور قریب ہے میرے ہاتھ پر ظاہر ہو گا جو کچھ فرقان سے ظاہر ہوا ۔“
”یہ مکالمہ الیہ جو مجھ سے ہوتا ہے اگر میں ایک دم کے لئے بھی اس میں شک کروں تو کافر ہو جاؤں اور میری آخرت تباہ ہو جائے ۔ وہ کلام جو میرے پر نازل ہوا ۔ یقینی اور قطعی ہے اور جیسا کہ آفتاب اور اس کی روشنی کو دیکھ کر کوئی شک نہیں کر سکتا ۔ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر نازل ہوتا ہے اور میں اس پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ خدا کی کتاب پر ۔“
(تجلیات الٰہیہ ص٣٠،خزائن ج٢٠ص٤١٢)
یہ علیحدہ بات ہے کہ کثرت و بہتات کے وقت تمیز نہیں رہتی اور ذرا انتظام میں خلل آ جاتا ہے۔ کیونکہ ہم عموماً بیمار رہتے ہیں ۔
دل اور دماغ سخت کمزور ، ذیابیطس ، درد سر ، مع دوران سر قدیم سے شامل حال ہیں ۔ تشنج قلب بھی ہے دن میں سو سو مرتبہ پیشاب دق (نزول المسیح ص٢٠٩، بحوالہ سیرۃ المہدی ) دوران سر (تریاق القلوب ص٧٥،خزائن ج١٥ ص٢٠٣) قولنج زہری ، جسم نجس (حقیقت الوحی ص٢٣٤) درد گردہ (حقیقت الوحی ص٣٤٥) امراض دماغ (فتح الاسلام ص٢٦) ذہول (اعجاز احمدی ص٧) حافظہ خراب (نسیم دعوت ص٧١) کمی خواب ، بد ہضمی ، اسہال (ریویو اگست ١٩٢٦ء ص٦) لیٹنے کی حالت میں نعوظ بکلی جاتا رہتا تھا۔ حالت مردی کالعدم تھی (تریاق القلوب ص٧٥،خزائن ج١٥ ص٢٠٣) اور ان کے علاوہ اور بہت سے عوارض ہیں۔ اگر کسی وجہ سے الہام یاد سے اتر جائیں تو میرا قصور تھوڑا ہے ۔ سائل یہ سن کر چپ ہو گیا اور مرزا قادیانی کی مجبوریوں کا دل ہی دل میں خیال کرتا ہوا چلا گیا ۔ فقیر کو بھی افسوس ہوا کہ باتوں باتوں میں ہم کہاں سے کہاں چلے آئے ۔ غرضیکہ آیت ”وان من اهل الكتاب الا لیؤمنن به قبل موته“ صاف اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جناب مسیح نے اب تک موت کا ذائقہ نہیں چکھا ۔ کیونکہ ابھی اہل کتاب توہمات باطلہ پر متیقن ہیں۔ مومن نہیں ہوئے اور جب وہ مبارک وقت آئے گا ۔ یعنی نزول مسیح ہوتا تمام یہودی و نصاریٰ لوائے محمدی میں آ جائیں گے۔ چنانچہ رئیس قادیان ہمارے اس خیال کی پوری پوری تائید کرتے ہیں۔
د
(ایام صلح ص ١٣٩، خزائن ج ١٤ ص٣٨١)
وقت اسلام دنیا میں پھیل جائے گا اور ملل باطلہ کرے گی۔“
(شہادۃ القرآن ص ١٦، خزائن ج ٦ ص
تمام قوموں کو دین اسلام پر جمع کیا جائے گا ۔“ مرزائیو! ایمان سے خدا لگتی کہو اگر تـ کے اپنے بیان کی رو سے تمام دنیا کے نفوس مسلمـ بھی ۔ کیا کرہٴ زمین پر تمہیں اور کوئی قوم سوائے نصاریٰ توحید پرست ہیں ۔ ہندو تمہیں نظر نہیں آ جائے مگر اسلام بجائے ترقی کے تنزل میں کتنی آبادی ہے۔ ان میں دو بڑی قومیں عیسـ قریب ہے۔ ایمان سے کہو تم انہیں مسلمان سـ سمجھتے ہو اور اس کی نماز جنازہ پڑھنا حرام قر نفوس مرزائی ہیں جو غلبہ تو کیا آٹے میں نمک روز جوت پیزار ہوتی ہے۔ کیا یہی صور پھونـ اب آپ کے سامنے ایک اور تریاق جدید پـ بھی توڑ دے اور شاید تمہیں سعید بنادے۔
”ولما ضرب ابن مريم مـ خيراً م هو ماضربوه لك الا جدلا عليه وجعلنه مثلاً لبني اسرائيل يخلفون . وانه لعلم للساعة فلا تمـ يصدنكم الشيطن انه لكم عدو مـ
کا مثال ناگہاں قوم تیری اس سے تالیاں کرتے اس کو واسطے تیرے یہ بات مگر جـ انعام کیا ہے ہم نے اوپر اس کے اور کیا ہـ البتہ کرتے ہم تم سے فرشتے کہ بیچ زمین
’’اس پر اتفاق ہو گیا ہے کہ مسیح کے نزول کے
(ایام صلح ص ١٤٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٨١)
وقت اسلام دنیا میں پھیل جائے گا اور ملل باطلہ ہلاک ہو جائیں گے اور راست بازی ترقی کرے گی۔‘‘
’’مسیح موعود کے زمانے میں صور پھونک کر
(شہادت القرآن ص ١٦، خزائن ج ٦ ص ٣١٢)
تمام قوموں کو دین اسلام پر جمع کیا جائے گا۔‘‘
مرزائیو! ایمان سے خدا لگتی کہو اگر مسیح موعود تمہارے رئیس قادیان کو مان لیا جائے تو ان کے اپنے بیان کی رو سے تمام دنیا کے نفوس مسلمان ہوگئے۔ تم میں اندھے بھی ہیں اور اکثر سوجھاکے بھی۔ کیا کرۂ زمین پر تمہیں اور کوئی قوم سوائے اسلام کے دکھائی نہیں دیتی۔ کیا یہود مسلمان ہیں۔ نصاریٰ توحید پرست ہیں۔ ہندو تمہیں نظر نہیں آتے۔ سکھ مرزائی ہیں۔ یہ کیا بکواس ہے کہ مسیح تو آجائے مگر اسلام بجائے ترقی کے تنزل میں چلا جائے۔ روئے زمین پر اس وقت خدا ہی جانے کتنی آبادی ہے۔ ان میں دو بڑی قومیں عیسائی اور مسلمان ہیں۔ جس کی تعداد ڈیڑھ ارب کے قریب ہے۔ ایمان سے کہو تم انہیں مسلمان سمجھتے ہو۔ نہیں ہرگز نہیں تم مسلمان کے بچے کو بھی کافر سمجھتے ہو اور اس کی نماز جنازہ پڑھنا حرام قرار دیتے ہو۔ رہ سہ کر مسیح ناکام کی آمد کے ثمرہ ٥٠ ہزار نفوس مرزائی ہیں جو غلبہ تو کیا آٹے میں نمک بھی نہیں اور ان میں بھی دو جماعتیں ہیں۔ جن میں روز جوت پیزار ہوتی ہے۔ کیا یہی صور پھونک کر قوموں کو اسلام پر جمع کیا گیا۔ شرم کرو اور سوچو۔ اب آپ کے سامنے ایک اور تریاق جدید پیش کیا جاتا ہے جو یقیناً تمہاری رہی سہی موہوم امید کو بھی توڑ دے اور شاید تمہیں سعید بنادے۔
’’ولما ضرب ابن مريم مثلاً اذا قومك منه يصدون ٠ وقالوا ءالهتنا خير ام هو ما ضربوه لك الا جدلا بل هم قوم خصمون ٠ ان هو الا عبد انعمنا عليه وجعلنه مثلا لبنى اسرآئيل ٠ ولو نشآء لجعلنا منكم ملئكة فى الارض يخلفون ٠ وانه لعلم للساعة فلا تمترن بها واتبعون هذا صراط مستقيم ٠ ولا يصدنكم الشيطن انه لكم عدو مبين (الزخرف:٥)‘‘ اور جب بیان کیا گیا بیٹا مریم کا مثال ناگہاں قوم تیری اس سے تالیاں بجاتے ہیں اور کہتے ہیں معبود ہمارے بہتر یا وہ نہیں بیان کرتے اس کو واسطے تیرے یہ بات مگر جھگڑنے کو بلکہ وہ قوم ہیں جھگڑالو نہیں وہ مگر ایک بندہ کہ انعام کیا ہے ہم نے اوپر اس کے اور کیا ہم نے اس کو نمونہ واسطے بنی اسرائیل کے اور اگر چاہتے ہم البتہ کرتے ہم تم سے فرشتے کہ بیچ زمین کے جائے نشین ہوتے اور تحقیق البتہ وہ علامت قیامت کی
ہے ۔ پس مت شک لاؤ ساتھ اس کے اور پیروی کرو میری ، یہ ہے راہ سیدھی اور نہ بند کرے تم کو شیطان تحقیق وہ واسطے تمہارے دشمن ہے ظاہر۔ ﴾
خیر القرون یعنی زمانہ خیر الانام ﷺ میں تین قومیں عرب میں آباد تھیں۔ عیسائی، موسائی اور بت پرست ، نصاریٰ نے تو مسیح علیہ السلام کو خدا یا خدا کا بیٹا قرار دیتے ہوئے اس کی پرستش شروع کر رکھی تھی اور یہودی عزیر کو خدا کا بیٹا قرار دے چکے تھے اور انبیاء کے پے در پے قتل و تکذیب کے باعث خدا کے زیر عتاب تھے اور باقی رہے بت پرست۔ سو ان کی بات ہی نہ پوچھئے ۔ ہر روز پتھر تراشتے اور ان کے سامنے جبین نیاز کو جھکاتے ۔ یہی ان کے خدا تھے اور یہی معبود۔
ایسا ہی تمام جہاں کفر کی تاریکیوں سے گھرا پڑا تھا۔ کہیں چاند اور سورج معبود تھے تو کہیں آتش مجوس تھی کوئی سانپوں کی پرستش کرتا تو کوئی درختوں کو پوجتا تھا۔ غرضیکہ خالص توحید کا نام لیوا ، ساری خدائی میں کوئی ڈھونڈے سے بھی نہ ملتا تھا۔ سچ ہے حالی کیا خوب کہہ گئے ۔
کہیں تھا کواکب پرستی کا چرچا
بہت سے تھے تثلیث پر دل سے شیدا
بتوں کا عمل سو بسو جا بجا تھا
کرشموں کا راہب کے تھا صید کوئی
طلسموں میں کاہن کے تھا قید کوئی
اللہ اللہ ! وہ خیر و برکت کا بہترین زمانہ جب خدائے رحمان اپنی عاجز مخلوق پر رحمانیت کے گوہر برسا رہا تھا اور اس کا فیض عام زمانہ بھر کے لئے جاری اور ساری تھا۔ آہ عرب کا وہ یتیم بچہ جو افق عالم پر چاند سے زیادہ منور ہو کر چمکا اور اپنی بے پناہ کرنوں سے کفر کی سیاہ تاریکیوں کو مار مار کر بھگا رہا تھا ۔ جہاں ہم بد نصیبوں کی قسمت چمک رہی تھی۔ وہاں انبیائے سابقین کی عصمت وعفت بھی جگمگا رہی تھی اور یوں سمجھئے کہ عرب کا چاند دولہا تھا اور مرسلین ستاروں کی طرح ساتھ ساتھ براتی تھے۔ جہاں اس کی تابانی منور و مسحور کر رہی تھی۔ وہاں ستاروں کی ضوفشانی بھی نگاہوں کو خیرہ و سرور بخشتی تھی۔ انبیائے سابقین پر جو جو اتہام والزام امتوں کی کم بختی و نامرادی کی وجہ سے عائد کئے گئے تھے۔ ان ایک ایک کی تردید قرآن صامت نے کی اور قرآن ناطق نے مثالیں دے دے کر کھول کھول کر بیان فرمائی۔ مثال کے طور پر یہود ونصاریٰ میں باہمی نزاع یہ
تھی۔ یہود کہتے تھے کہ ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو قتل بالصلیب کر دیا۔ اس لئے کہ وہ جھوٹا نبی تھا اور موسیٰ کلیم اللہ کے بعد کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ نبوت کا دعویٰ کرے۔ اس لئے ہم نے اس کو ذلت کی موت مار دیا اور نصاریٰ کا یہ ایمان تھا کہ بے شک یہود نے مسیح کو مصلوب کیا اور ہڈیاں توڑ کر بھوکا پیاسا مارا مگر وہ تین دن تک مرا رہنے کے بعد قبر میں سے پھر جی اٹھا اور آسمان پر چڑھ گیا اور یہ صرف اس لئے ہوا کہ وہ ہم گناہگاروں کے لئے کفارہ ہوا اور ہماری معصیت دھونے کے لئے پھانسی چڑھا اور وہ خدا کا اکلوتا بیٹا ہے۔ اس لئے ہم اس کی پرستش کرتے ہیں۔ چنانچہ پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس کی تردید فرمائی کہ مسیح کو نہ کسی نے قتل کیا نہ ہی صلیب دیا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو زندہ آسمان پر ایک وقت معین کے لئے اٹھا لیا۔ اس لئے کہ وہ اپنی بادشاہی میں بڑا ہی حکمت والا ہے۔ اور نیز وہ خدا کا بیٹا نہیں بلکہ اس کی مخلوق میں ایک چنا ہوا برگزیدہ بندہ ہے۔ اب اس آیت کریمہ میں مولا کریم مسیح کے نزول کی خوشخبری دے رہے ہیں کہ او یہودیو اور مرزائیو! کیوں تمہاری شامتیں آئی ہیں۔ جو زبان طعن دراز کرتے ہوئے طرح طرح سے جناب مسیح کی توہین و اہانت کرتے ہو۔ لاریب وہ تو ہمارا ایک نیک بندہ ہے جو ہماری نوازشات سے نوازا گیا ہے اور طرح طرح کے اس پر انعام و اکرام کئے گئے ہیں اور وہ تو قیامت کی علامات میں سے ایک نشانی ہے اور اس میں قطعاً شک لانے کی کوئی گنجائش ہی نہیں۔ یعنی یقیناً وہ قیامت کے آنے کا ایک نشان ہے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ میرا اس پر ایمان ہے اور تم بھی میری پیروی کرتے ہوئے مسیح کے نزول پر ایمان لاؤ۔ بے شک یہی سیدھا راستہ ہے اور خبردار شیطان تمہیں اس صحیح لائن سے نہ پھیر دے اور تمہارے دل میں کوئی وسوسہ یا خیال فاسد نہ ڈال دے۔ ہوشیار رہو کہ وہ تمہارا صریح دشمن ہے اور مفسرین نے شان نزول اس آیت کریمہ کا اکثر یہ بیان کیا ہے کہ زبان فیض ترجمان نے جب اس آیت کریمہ ”انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جہنم“ کا اعلان فرمایا یعنی تم اور تمہارے معبود باطل جن کے بودے سہارے پر اترا رہے ہو۔ جہنم کا ایندھن ہیں تو کفار عرب اسے بتوں کی توہین کے ساتھ ساتھ مسیح کی توہین بھی سمجھے۔ کیونکہ نصاریٰ مسیح کی پرستش یا جناب صدیقہ کی پرستش کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس مردود خیال کی تردید فرماتے ہوئے یہ آیت کریمہ جو زیر بحث ہے اتاری۔ اصل میں یہ آیت بطور فیصلہ کے ہے۔ یعنی اس سے قبل تمام بہتانات کی سلسلہ وار تردید ہو چکی اور اسی تردید کی وجہ سے کفار عرب بغلیں جھانکتے ہیں۔ مشرکین عرب اپنے ان تراشیدہ معبودوں سے اس قدر عقیدت رکھتے تھے کہ وہ کوئی کام ان کی بلا اجازت کرنا گویا کہ معبودوں کی غیرت کو غضب میں لانے کے مترادف سمجھتے
تھے۔ ان کا قاعدہ تھا کہ چوری و راہزنی کرنے سے پیشتر وہ بتوں کے سامنے جاتے اور سجدہ عجز گزارنے کے بعد اس ترکش کو جو بت کے پہلو میں رکھا ہوتا زمین پر اس کے سامنے ڈال دیتے تھے۔ جس میں سے دو تیر نکلتے اور تیروں پر لفظ افعل یا لا تفعل یعنی کر یا نہ کر جو پہلے سے کندہ تھا کو دیکھتے۔ یعنی اگر وہ تیر جس پر کرنے کا حکم ہوتا تو وہ یہ سمجھ لیتے کہ ہمارا خدا ہمارے اس فعل پہ خوش ہے اور وہ ہمیں جانے کی اجازت دیتا ہے اور اگر دوسرا تیر جس پر نہ کر لکھا ہوتا سیدھا پڑتا تو وہ یہ سمجھتے کہ بت ناراض ہے۔ اس لئے وہ فوراً واپس لوٹ جاتے۔ ان کے دلوں میں جس قدر بتوں کی عزت اور بڑائی موجود تھی اس سے زیادہ اور کسی کو وہ قابل قدر و منزلت نہ سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کو بتوں کی عظمت کا رہ رہ کر خیال آتا اور وہ بار بار ان کا جناب مسیح سے موازنہ کرتے ہوئے یہ قرآنی الفاظ کا اعادہ کرتے۔ ”وقالوا ء الهتنا خير ام هو ط ما ضربوه لك الا جدلا“ ﴿یعنی یہ کہ معبود ہمارے بہتر یا مسیح یہ نہیں بیان کرتے اس کو واسطے تیرے مگر جھگڑنے کو۔﴾
اس سوال کا جواب عقیدت یہ دیتی کہ یقیناً ہمارے بت بہتر ہیں۔ کیونکہ وہ اکثریت میں ہیں۔ کوئی مینہ برساتا ہے کوئی تجارت میں زیادہ منافع دیتا ہے کوئی ہمارے نخلستان کو خشک ہونے سے بچاتا ہے کوئی اولاد دیتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ! مگر مسیح جو اقلیت میں ہے بھلا وہ اکیلا ہمارے معبودوں کا کس طرح مقابلہ کر سکتا ہے۔ بس یہ خیال یقین کے مراتب تک پہنچتے ہی ان کے قلوب مطمئن کر دیتا تھا اور وہ جوش میں خوش ہو کر تالیاں بجاتے اور طرح طرح کے بے معنی فضول سوالات کرتے۔ مگر جویائے حق ہو کر نہیں صرف جھگڑا بڑھانے کو، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ اے محمدﷺ یہ حقیقت حق کے لئے نہیں محض فضول سردردی اور جہالت کرتے ہیں اور اصل میں یہ قوم مرزائی یا یہودی جھگڑالو ہی واقع ہوئی ہے۔ حالانکہ یہ کوئی ایسی بات ہی نہیں بلاشبہ وہ ہمارا نیک اور پیارا بندہ ہے۔ جس پر ہم نے انعام رکھے ہیں۔ یعنی معجزات عطاء کئے ہیں اور جبرائیل سے اس کو تائید دے رکھی ہے اور بلاشبہ وہ خود ہی ایک آیت اللہ ہے۔ یعنی معجزہ ہے اور یہ اس قوم کے لئے معجزہ ہے جو آئے دن قتل انبیاء میں مشاق و دلیر ہے اور فی الحقیقت جناب مسیح کا وجود ہی بنی اسرائیل کے لئے قدرت کردگار کا ایک نمونہ ہے۔ یعنی بدوں مس بشر نفخ جبرائیل سے آپ کی پیدائش کا وقوع پذیر ہونا یہ تو تھا۔ اولین کے لئے اور نزول من السماء یہ ہے۔ آخرین کے لئے بہرحال مسیح کی ذات یہود کے لئے ایک قدرت خداوندی کا ایک کامل نمونہ ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہود مرزائیوں کی طرح مسیح کے صعود من السماء پر یہ اعتراض کرتے تھے کہ انسان کا اس جسد عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا محال ہی نہیں غیر ممکن ہے اور اگر بفرض محال وہ آسمان پر چلے بھی
جائیں تو وہ وہاں کیا کھاتے اور کیا پیتے ہوں گے۔ کیونکہ وہ کوئی فرشتے تو تھوڑے ہی تھے۔ جیسا کہ کذاب قادیان کی تصریحات ہیں تو اس کے جواب میں ارشاد باری ہوتا ہے۔ او بدگوہرو اور نادانو کیوں تمہاری کم بختی آئی ہے۔ جو ہماری قدرت و طاقت کو محدود سمجھتے ہو۔ مسیح کا آسمان پر لے جانا اور کھلانا پلانا تو کیا اگر ہم چاہتے تو تم میں سے ہی فرشتے بنا دیتے۔ جو زمین پر رہتے ہوئے کھانے پینے سے بے نیاز ہوتے۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ فتنہ دجال کے وقت مؤمنین کی غذا درود وظائف ہوگی اور حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ یہی انہیں کفایت کرے گی۔ اس کے بعد ارشاد ہوا مسیح کا آسمان پر لے جانا اور قرب قیامت میں زمین پر بھیجنا قیامت کے نشانات میں سے ایک نشان ہے اور یہ اس لئے کہ بنی اسرائیل کا ایک بیشتر حصہ قیامت کے وجود سے منکر ہے۔ اس کے بعد زبان فیض ترجمان سے تاکید کرائی کہ اے غیب پر ایمان لانے والو بن دیکھے خدا کو ماننے والو نزول مسیح پر ایمان رکھو اور قطعاً شک نہ لاؤ۔ میرا بھی اس پر ایمان ہے۔ یعنی وہ ضرور نازل کئے جائیں گے سو تم بھی ایمان رکھو اور میری پیروی کئے جاؤ۔ کیونکہ یہ ہی سیدھی راہ ہے اور یہ ہی حق ہے۔ ہاں خبردار ہوشیار رہو اور شیطان کے فریب سے بچتے رہو اور خدا سے پناہ مانگتے رہو۔ کہیں وہ قادیانی وسوسہ تمہارے دل میں نہ ڈال دے۔ کیونکہ شیطان انسان کا صریح دشمن ہے۔
ناظرین کرام اب آپ کی خدمت میں اس آیت کریمہ ”وانہ لعلم للساعة “ کا صحیح مفہوم سرکار مدینہ کے ارشادات گرامی سے پیش کرتے ہیں۔ پس غور سے سنئے:
(مسند احمد، ابن ماجہ، ابن جریر، حاکم و بیہقی بحوالہ در منثور) حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے (سنن ابن ماجہ ص ٢٩٩، باب خروج المہدی) میں موقوفاً اور مسند امام احمد میں مرفوعاً مروی ہے کہ جس رات رسول کریم ﷺ کو معراج ہوئی۔ اس رات آپ کی حضرت ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام سے ملاقات ہوئی تو قیامت کے متعلق تذکرہ ہوا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے قیامت کے متعلق سوال کیا تو آپ نے لاعلمی فرمائی۔ اس کے بعد موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا گیا تو وہ بھی نہ جانتے تھے۔ اس کے بعد عیسیٰ علیہ السلام سے پوچھا گیا تو وہ کہنے لگے کہ قیامت کا صحیح علم تو سوائے ذات باری کے کسی کو نہیں۔ لیکن قرب قیامت کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے کر رکھا ہے۔ اس کے بعد دجال کا ذکر ہوا تو آپ نے کہا کہ میں زمین پر اتروں گا اور اس کو قتل کروں گا۔
(در منثور ج ٦ ص ٢٠) حضرت ابن عباسؓ ”وانہ لعلم للساعة “ کی تحت میں ارشاد فرماتے ہیں اس سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قیامت سے پہلے تشریف لانا ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے ”وانہ لعلم للساعة“ سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہے وہ زمین پر ٤٠ سال رہیں گے حج کریں گے اور عمرہ بھی کریں گے۔
حضرت مجاہدؒ ”وانہ لعلم للساعة“ کی تحت میں ارشاد کرتے ہیں۔ اس آیت سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قیامت سے پہلے کی آمد کا ہے۔
(درمنثور ج ٦ ص ٢٠)
حضرت امام حسنؒ فرماتے ہیں ”وانہ لعلم للساعة“ سے مراد نزول عیسیٰ ہے۔
(درمنثور ج ٦ ص ٢٠)
(تفسیر ابن کثیر ج ٧ ص ٢١٧) اللہ تعالیٰ کے قول ”وانہ لعلم للساعة“ کے متعلق ابن اسحاق کی تفسیر گذر چکی کہ مراد اس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات مثلاً مردوں کے زندہ کرنا۔ کوڑھوں اور برص والوں کو تندرست کرنا اور علاوہ اس کے دیگر امراض سے شفا دینا ہے۔ اس میں اعتراض ہے اور اس سے زیادہ نا قابل قبول وہ ہے جو قتادہؓ نے حسن بصریؒ ، سعید ابن جبیرؒ سے بیان کیا ہے کہ انہ کی ضمیر قرآن کی طرف راجع ہے۔ بلکہ صحیح یہ ہے کہ انہ کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہے۔ کیونکہ سیاق و سباق انہیں کے ذکر میں ہے۔ پس مراد اس سے ان کا قیامت سے پہلے نازل ہونا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته “ فرمایا ہے۔ یعنی عیسیٰ کی موت سے پہلے اہل کتاب کا ان پر ایمان لانا، اور ان معنوں کی دوسری قرأت تائید کرتی ہے جو یہ ہے۔ ”وانہ لعلم للساعة“ یعنی عیسیٰ نشانی ہے اور دلیل ہے قیامت کے واقع ہونے پر۔ مجاہدؒ کہتے ہیں کہ اس کے معنی ہیں قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا قیامت کی نشانی ہے۔ اسی طرح ابو ہریرہؓ ، ابن عباسؓ ، ابو عالیہؒ ، ابو مالکؒ ، عکرمہؒ ، حسنؒ ، قتادہؒ ، ضحاکؒ وغیرہم بزرگان دین سے روایت ہے۔ حدیثیں رسول کریم ﷺ سے حد تواتر تک پہنچ چکی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے امام، عادل، حاکم اور منصف کی حالت میں نازل ہونے کی خبر دی ہے۔
(تفسیر کبیر ج ٧ ص ٢٢٤) ”وانہ لعلم للساعة“ کے زیر تحت ارشاد ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام قیامت معلوم کرنے کی شرطوں میں سے ایک شرط ہے۔ ابن عباسؓ نے اس کو لعلم للساعة پڑھا ہے۔ جس کے معنی نشانی کے ہیں اور حدیث میں ہے کہ حضرت عیسیٰ ارض مقدس میں افیق کے مقام پر نازل ہوں گے۔ ان کے ہاتھ میں ایک حربہ ہوگا اور اس سے دجال کو قتل کریں گے۔ پس وہ بیت المقدس میں آئیں گے۔ دراں حالیکہ لوگ صبح کو نماز میں ہوں گے اور امام ان کو نماز پڑھا رہا ہوگا۔ پس وہ پیچھے ہٹیں گے۔ پس عیسیٰ ان کو آگے کردیں گے اور ان کے پیچھے نماز ادا کریں گے۔ اسلامی طریقہ سے۔
(لسان العرب ج ١٥ ص ٤١٤) قرآن شریف میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صفت میں آیا ہے۔ ”انه لعلم للساعة“ اور یہ اکثر قاریوں کی قرأت ہے اور ان میں سے بعض نے اس کو لَعَلَم للساعة بھی پڑھا ہے جس کے معنی ہیں عیسیٰ کا ظہور اور ان کا نازل ہونا۔ زمین کی طرف یہ ایسا نشان ہے جو قیامت کے نزدیک ہونے پر دلالت کرے گا۔
(روح المعانی جز ٢٥ ص ٨٨، زیر آیت وانه لعلم للساعة) ناظرین کرام! اب آپ کی خدمت میں ہم صاحب روح المعانی علامہ آلوسی خاتم المفسرین المتوفی ١٢٧٠ھ کا ناطق فیصلہ جو انہوں نے انہ کی ضمیر کے متعلق فرمایا پیش کرتے ہیں۔ گو یہ اختصاراً ہوگا۔ مگر پھر بھی اپنے موضوع میں جامع ہوگا۔ وہ فرماتے ہیں کہ ”انہ کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ اس مرجع کے ذکر کرنے کے بعد صاحب روح المعانی نے نہایت بسط وشرح سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کو ثابت کیا ہے جو اس کتاب میں افراداً مذکور ہے۔“
آخر میں صاحب موصوف نے جن لوگوں نے ہ کا مرجع قرآن یا نبی کریم ﷺ بیان کیا ہے ان کا بدیں الفاظ ذکر کیا ہے۔ ”وضعف بانه لم يجر للقرآن ذكر ههنا مع عدم مناسبته ذلك للسياق“ یعنی جن لوگوں نے ہ کا مرجع قرآن بیان کیا ہے دووجہ سے ضعیف ہے ایک تو پہلے قرآن کا ذکر نہیں دوسرے سیاق کی مناسبت نہیں۔
اسی طرح آگے لکھتے ہیں۔ ”وقال فرقة يعود على النبي ﷺ وفيه من البعد مافيه“ یعنی بعض فرقہ نے ہ کا مرجع نبی کریم ﷺ بیان کیا ہے۔ مگر اس میں بھی وہی اشکال ہے جو قرآن میں ہے۔
اور ایسا ہی دجال قادیان اور اس کی ذریت مغالطے دیتی ہے۔ مثلاً پادری محمد علی لاہوری جو مرزا آنجہانی کا روحانی بیٹا ہے۔ اپنی بیان القرآن میں لکھتا ہے کہ، ہ کی ضمیر قرآن کی طرف پھرتی ہے اور مثالاً یہ آیت پیش کرتا ہے۔ ”انا انزلناه“
فقیر کے خیال میں تو آسان جواب یہ ہے کہ یہاں انزلنا کا لفظ سیاق میں یہ ثابت کر رہا ہے کہ کوئی چیز آسمان سے نازل ہورہی ہے اور سباق فی لیلۃ القدر بتا رہا ہے کہ وہ چیز قدر کی رات کو آئی تو اس سے اندھا بھی سمجھ سکتا ہے کہ وہ یقیناً قرآن ہے۔ مگر آیت زیر بحث میں سیاق وسباق میں مسیح علیہ السلام کا ذکر ہے۔ اس لئے ”وانه لعلم للساعة“ کی ضمیر یقیناً اسی طرف پھرے گی۔ جس کی طرف سیاق وسباق کا مضمون پھرتا ہے اور یہ ناممکن ہے کہ سیاق کی ضمیریں مسیح کی طرف پھریں اور ما نحن فیہ کی ضمیر کسی اور طرف لوٹے اور سیاق پھر مسیح کی طرف راجع ہو یہ عجیب
بی تکی منطق ہے جو سراسر جہالت پر مبنی ہے۔ ”فافہم وتدبر ولا تکن من الغافلین“ ناظرین! اب آپ کی خدمت میں دجال اکبر کی تفسیر پیش کی جاتی ہے غور سے سنئے۔
(ازالۃ اوہام ص ٣٤٣، خزائن ج ٣ ص ٢٧١) پر لکھتے ہیں کہ:
”سوال! سورۃ زخرف میں یہ آیت موجود ہے ’وانہ لعلم للساعة فلا تمترن بہا‘ یعنی وہ قیامت کے وجود پر نشان ہے۔ سو تم باوجود موجود ہونے نشان کے قیامت کے بارے میں شک مت کرو۔ نشان سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں جو قیامت کے قریب نازل ہوں گے اور اس آیت سے ان کا نازل ہونا ثابت ہوتا ہے۔
اما الجواب! ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ اس آیت کو پیش کر کے قیامت کے منکرین کو ملزم کرنا چاہتا ہے کہ تم اس نشان کو دیکھ کر پھر مردوں کے جی اٹھنے میں کیوں شک میں پڑے ہو۔ سو آیت پر غور کر کے ہر ایک عقل مند سمجھ سکتا ہے کہ اس کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے کچھ بھی تعلق نہیں۔ آیت تو یہ بتلا رہی ہے کہ وہ نشان مردوں کے جی اٹھنے کا اب موجود ہے اور منکرین کو ملزم کر رہی ہے کہ اب بھی تم کیوں شک کرتے ہو۔ اب ہر ایک عقل مند سمجھ سکتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کا اس آیت میں یہ مطلب ہے کہ جب حضرت مسیح آسمان سے نازل ہوں گے تب ان کا آسمان سے نازل ہونا مردوں کے جی اٹھنے کے لئے بطور دلیل یا علامت کے ہوگا۔ تو پھر اس دلیل کے ظہور سے پہلے خدا تعالیٰ لوگوں کو کیوں ملزم کر سکتا ہے۔ کیا اس طرح اتمام حجت ہو سکتا ہے کہ دلیل تو ابھی ظاہر نہیں ہوئی اور کوئی نام و نشان اس کا پیدا نہیں ہوا اور پہلے ہی سے منکرین کو کہا جاتا ہے کہ اب بھی تم کیوں یقین نہیں کرتے۔ کیا ان کی طرف سے یہ عذر صحیح طور پر نہیں ہو سکتا کہ یا الٰہی ابھی دلیل یا نشان قیامت کا کہاں ظہور میں آیا۔ جس کی وجہ سے فلا تمترن بہا کی دھمکی ہمیں دی جاتی ہے۔ کیا یہ اتمام حجت کا طریق ہے کہ دلیل تو ابھی پردہ غیب میں ہو اور سمجھا جائے کہ الزام پورا ہو گیا ہے۔ ایسے معنی قرآن شریف کی طرف منسوب کرنا گویا اس کی بلاغت اور پر حکمت بیان پر دھبہ لگانا ہے۔ سچ ہے کہ بعض نے یہی معنی لئے ہیں۔ مگر انہوں نے سخت غلطی کھائی ہے۔ بلکہ حق بات یہ ہے کہ انہ کی ضمیر قرآن شریف کی طرف پھرتا ہے اور آیت کے یہ معنی ہیں کہ قرآن شریف مردوں کے جی اٹھنے کے لئے نشان ہے۔ کیونکہ اس سے مردہ دل زندہ ہو رہے ہیں۔ قبروں میں گلے سڑے ہوئے باہر نکلے آتے ہیں اور خشک ہڈیوں میں جان پڑتی جاتی ہے۔“
صاحبان! قبل اس کے کہ میں اس عبارت کا جواب دوں۔ میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ مرزا قادیانی کی نگاہ میں قرآن کریم کی کیا وقعت تھی اور وہ کس طرح شوخ چشمی اور دیدہ دلیری سے
چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد بن جایا کرتے تھے۔ مندرجہ ذیل مضمون کو غور سے پڑھیں اور خدارا سوچیں کہ آج سے چوداں سو برس پیشتر جب اس سورۃ کا نزول ہوا تھا تو سرکار مدینہﷺ نے اس کا کیا مطلب سمجھا اور آج دجال قادیان کیا کہہ رہا ہے۔
”اذا زلزلت الارض زلزالھا ٭ واخرجت الارض اثقالھا ٭ وقال الانسان مالھا ٭ یومئذٍ تحدث اخبارھا ٭ بان ربک اوحی لھا ٭ یومئذٍ یصدر الناس اشتاتا ٭ لیروا اعمالھم ٭ فمن یعمل مثقال ذرۃٍ خیرا یرہ ٭ ومن یعمل مثقال ذرۃٍ شرا یرہ“
حق تعالیٰ ساری زمین کو ایک نہایت سخت اور ہولناک زلزلے سے ہلا ڈالے گا۔ جس کے صدمے سے کوئی عمارت اور کوئی پہاڑ یا درخت زمین پر قائم نہ رہے گا۔ سب نشیب و فراز برابر ہو جائیں گے۔ تا کہ میدان محشر بالکل ہموار اور صاف ہو جائے اور یہ معاملہ قیامت میں نفخ ثانی کے وقت ہوگا۔ یعنی اس وقت زمین جو کچھ اس کے پیٹ میں ہے مثلاً مردے یا سونا چاندی وغیرہ سب باہر اگل ڈالے گی۔ لیکن مال کا کوئی لینے والا نہ ہوگا۔ سب دیکھ لیں گے کہ آج یہ چیز جس میں ہمیشہ لڑا کرتے تھے کس قدر بیکار ہیں۔ یعنی آدمی زندہ ہونے اور اس زلزلہ کے آثار دیکھنے کے بعد یا ان کی روحیں عین زلزلہ کے وقت حیرت زدہ ہو کر کہیں گی کہ اس زمین کو کیا ہو گیا۔ جو اس قدر زور سے ہلنے لگی اور اپنے اندر کی تمام چیزیں ایک دم باہر نکال پھینکیں۔ یعنی بنی آدم نے جو برے بھلے کام اس کے اوپر کئے تھے۔ سب ظاہر کر دے گی۔ مثلاً کہے گی فلاں شخص نے مجھ پر نماز پڑھی تھی۔ فلاں نے چوری کی تھی۔ فلاں نے خون ناحق کیا تھا وغیرہ گویا آج کل کی زبان میں یوں سمجھو کہ جس قدر اعمال زمین پر کئے جاتے ہیں زمین میں ان سب کے ریکارڈ موجود رہتے ہیں۔ قیامت کو وہ پروردگار کے حکم سے کھول دیئے جائیں گے۔ یعنی اس روز آدمی اپنی قبروں سے میدان حشر میں طرح طرح کی جماعتیں بن کر حاضر ہوں گے۔ ایک گروہ شرابیوں کا ہوگا۔ ایک زانیوں کا ایک ظالموں اور ایک چوروں کا وعلیٰ ہذا القیاس یا یہ مطلب ہے کہ لوگ حساب سے فارغ ہو کر جو لوٹیں گے تو کچھ جماعتیں جنتی اور کچھ دوزخی ہو کر جنت اور دوزخ کی طرف چلی جائیں گی۔ یعنی میدان حشر میں ان کے عمل دکھلائے جائیں گے۔ تا بدکاروں کو ایک طرح کی رسوائی اور نیکو کاروں کو ایک قسم کی سرخروئی حاصل ہو یا ممکن ہے اعمال کے دکھلانے سے ان کے ثمرات و نتائج کا دکھلانا مراد ہو۔ یعنی ہر ایک کا ذرہ ذرہ عمل بھلا ہو یا برا اس کے سامنے ہوگا اور حق تعالیٰ جو کچھ معاملہ ہر ایک عمل کے متعلق فرمائیں گے وہ بھی آنکھوں
سے نظر آئے گا۔ یعنی جو پتھر یا پتھریلی زمین پر ٹاپ مار کر آگ جھاڑتے ہیں۔ عرب میں اکثر عادت صبح کے وقت تاخت کرنے کی تھی تاکہ رات کے وقت جانے میں دشمن کو خبر نہ ہو۔ صبح کو دفعۃً جا پڑیں اور رات کو حملہ نہ کرنے میں اظہار شجاعت سمجھتے تھے۔
مندرجہ بالا تفسیر جناب مولانا شبیر احمد عثمانی، شیخ الحدیث ڈابھیل دیوبند کی بیان ہوئی جو جمہور امت کے مطابق ہے۔ اب دجال قادیان کی بھی سنئے:
(ازالہ اوہام ص ١١٢، خزائن ج ٣ ص ١٦١)
”آنے والے زمانہ کے لئے (یعنی میرے زمانے کے لئے) خدا تعالیٰ سورہ الزلزال میں بشارت دیتا ہے اور اذا زلزلت کے لفظ سے اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جب تم یہ نشانیاں دیکھو تو سمجھ لو کہ وہ لیلۃ القدر اپنے تمام تر زور کے ساتھ پھر ظاہر ہوئی ہے اور کوئی ربانی مصلح خدا تعالیٰ کی طرف سے مع ہدایت پھیلانے والے فرشتوں کے نازل ہو گیا ہے۔ جیسا کہ فرماتا ہے: ”اذا زلزلت الارض زلزالها . واخرجت الارض اثقالها . وقال الانسان مالها . يومئذ تحدث اخبارها . بان ربك اوحى لها . يومئذ يصدر الناس اشتاتا . ليروا اعمالهم . فمن يعمل مثقال ذرة خيرا يره . ومن يعمل مثقال ذرة شرا يره“ یعنی ان دنوں کا جب آخری زمانہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی عظیم الشان مصلح آئے گا اور فرشتے نازل ہوں گے۔ یہ نشان ہے کہ زمین جہاں تک اس کا ہلانا ممکن ہے ہلائی جائے گی۔ یعنی طبیعتوں، دلوں اور دماغوں کو غایت درجہ پر جنبش دی جائے گی اور خیالات عقلی اور فکری اور سبعی اور بہیمی پورے پورے جوش کے ساتھ حرکت میں آجائیں گے اور زمین اپنے تمام بوجھوں کو باہر نکال دے گی۔ یعنی انسانوں کے دل اپنی تمام استعدادات مخفیہ کو بمنصہ ظہور لائیں گے اور جو کچھ ان کے اندر علوم وفنون کا ذخیرہ ہے یا جو کچھ عمدہ عمدہ دلی اور دماغی طاقتیں اور لیاقتیں ان میں مخفی ہیں۔ سب کی سب ظاہر ہو جائیں گی اور انسانی قوتوں کا آخری نچوڑ نکل آئے گا اور جو ملکات انسانی کے اندر ہیں یا جو جو جذبات اس کی فطرت میں مودع ہیں وہ تمام قوت سے حیز فعل میں آجائیں گی اور انسانی حواس کی ہر ایک نوع کی تیزیاں اور بشری عقل کی ہر قسم کی باریک بینیاں نمودار ہو جائیں گی اور تمام دفائن اور خزائن علوم مخفیہ وفنون مستورہ کے جو چھپے ہوئے چلے آتے تھے ان پر انسان فتح یاب ہو جائے گا اور اپنی فکری اور عقلی تدبیروں کو ہر ایک باب میں انتہا تک پہنچا دے گا اور انسان کی تمام قوتیں جو نشاۃ انسانی میں مخمر ہیں۔ صد ہا طرح کی تحریکوں کی وجہ سے حرکت میں آجائیں گی اور فرشتے جو اس لیلۃ القدر میں مرد مصلح کے ساتھ آسمان سے اترے ہوں گے۔ ہر ایک شخص پر اس کی استعداد موافق خارق
عادت اثر ڈالیں گے۔ یعنی نیک لوگ اپنے نیک خیال میں ترقی کریں گے اور جن کی نگاہیں دنیا تک محدود ہیں۔ وہ ان فرشتوں کی تحریک سے دنیوی عقلوں اور معاشرت کی تدبیروں میں وہ ید بیضا دکھائیں گے کہ ایک مرد عارف متحیر ہو کر اپنے دل میں کہے گا کہ یہ عقلی اور فکری طاقتیں ان لوگوں کو کہاں سے ملیں۔ تب اس روز ہر ایک استعداد انسانی بزبان حال باتیں کرے گی کہ یہ اعلیٰ درجہ کی طاقتیں میری طرف سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ ایک وحی ہے جو ہر ایک استعداد پر بحسب اس کی حالت کے اتر رہی ہے۔ یعنی صاف نظر آئے گا کہ جو کچھ انسانوں کے دل اور دماغ کام کر رہے ہیں یہ ان کی طرف سے نہیں بلکہ ایک غیبی تحریک ہے کہ ان سے یہ کام کرا رہی ہے۔ سو اس دن ہر ایک قسم کی قوتیں جوش میں دکھائی دیں گی۔ دنیا پرستوں کی قوتیں فرشتوں کی تحریک سے جوش آ کر اگرچہ باعث نقصان استعداد کے سچائی کی طرف رخ نہیں کریں گی۔ لیکن ایک قسم کا ابال ان میں پیدا ہو کر اور انجماد اور افسردگی دور ہو کر اپنی معاشرت کے طریقوں میں عجیب قسم کی تدبیریں اور صنعتیں اور کلیں ایجاد کر لیں گے اور نیکوں کی قوتیں خارق عادت طور پر الہامات اور مکاشفات کا چشمہ صاف صاف طور پر بہتا نظر آئے گا اور یہ بات شاذ و نادر ہوگی کہ مومن کی فراست جھوٹی نکلے تب انسانی قوا کے ظہور و بروز کا دائرہ پورا ہو جائے گا اور جو کچھ انسان کی نوع میں پوشیدہ طور پر ودیعت رکھا گیا تھا وہ سب خارج میں جلوہ گر ہو جائے گا۔ تب خدا تعالیٰ کے فرشتے ان تمام راست بازوں کو جو زمین کے چاروں طرف میں پوشیدہ طور پر زندگی بسر کرتے تھے ایک گروہ کی طرح اکٹھا کر دیں گے اور دنیا پرستوں کا بھی کھلا کھلا ایک گروہ نظر آئے گا۔ تا ہر ایک گروہ اپنی کوششوں کے ثمرات کو دیکھ لیویں۔ تب آخر ہو جائے گی اور یہ آخری لیلتہ القدر کا نشان ہے۔ جس کی بناء ابھی سے ڈالی گئی ہے۔ جس کی تکمیل کے لئے سب سے پہلے خدا تعالیٰ نے اس عاجز کو بھیجا ہے اور مجھے مخاطب کر کے فرمایا ہے۔ ”انت اشد مناسبۃً بعیسٰی بن مریم واشبہ الناس بہ خَلقاً وخُلقاً وزماناً“ مگر یہ تاثیرات اس لیلۃ القدر کی اب بعد اس کے کم نہیں ہوں گی۔ بلکہ بالاتصال کام کرتی رہیں گی۔ جب تک وہ سب کچھ پورا نہ ہولے۔ جو خدا تعالیٰ آسمان پر مقرر کر چکا۔“
ناظرین! دل چاہتا ہے کہ لگے ہاتھ اس یہودی کی قرآنی معارف کی ڈینگ مارنے کی ایک اور مثال دیتا جاؤں جس سے ثابت ہو گا کہ قرآن کی عظمت و قدر منزلت اس کے دل میں کس قدر تھی اور وہ کن کن الفاظ سے کیا کیا مطلب لے لیا کرتا تھا۔ پس غور سے سنئے:
(ازالۃ اوہام ص ٧٥، خزائن ج ٣ ص ١٣٩) ”یہ فقرہ جو اللہ جل شانہ نے الہام کے طور پر اس
عاجز کے دل پر القاء کیا ہے کہ ”انا انزلناہ قریباً من القادیان“ اس کی تفسیر یہ ہے کہ ”انا انزلنا قریباً من دمشق بطرف شرقی عند المنارة البیضاء“ کیونکہ اس عاجز کی سکونتی جگہ قادیان کے شرقی کنارہ پر ہے۔ منارہ کے پاس پس یہ فقرہ الہام الٰہی کا کہ ”کان وعدہ اللہ مفعولاً“ اس تاویل سے پوری پوری تطبیق کھا کر یہ پیش گوئی واقعی طور پر پوری ہو جاتی ہے۔ اس عبارت تک یہ عاجز پہنچا تھا کہ یہ الہام ہوا۔ ”قل لوکان الامر من عند غیر اللہ لوجد تم فیہ اختلافاً کثیرا قل لواتبع اللہ اھواءکم لفسدت السموات والارض ومن فیھن ولبطلت حکمتہ وکان اللہ عزیزاً حکیماً ٭ قل لوکان البحر مدا دالکلمات ربی لنفد البحر قبل ان تنفد کلمات ربی ولو جئنا بمثلہ مددا قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ وکان اللہ غفوراً رحیماً“
ترجمہ: کہہ دے اے مرزا اگر یہ بات غیر اللہ سے ہوتی تو اس میں بہت اختلاف پائے جاتے۔ کہہ دے اگر اللہ تعالیٰ تمہاری خواہشوں کی تابعداری کرتا تو ضرور آسمان اور زمین اور ان کے رہنے والے فاسد ہو جاتے اور خدا کی حکمت باطل ہو جاتی اور اللہ غالب اور حکمت والا ہے کہ اے مرزا اگر تم ......
اردو الہام
پھر اس کے بعد یہ الہام کیا گیا کہ ان علما نے میرے گھر کو بدل ڈالا۔ میری عبادت گاہ میں ان کے چولہے ہیں۔ میری پرستش کی جگہ میں ان کے پیالے اور ٹھوٹھیاں رکھی ہوئی ہیں اور چوہوں کی طرح میرے نبی کی حدیثوں کو کتر رہے ہیں۔ ٹھوٹھیاں وہ چھوٹی پیالیاں ہیں جن کو ہندوستان میں سکوریاں کہتے ہیں۔ عبادت گاہ سے مراد اس الہام میں زمانہ حال کے اکثر مولویوں کے دل ہیں۔ جو دنیا سے بھرے ہوئے ہیں۔ (شکر ہے تمہاری طرح دین سے پھرے ہوئے تو نہیں) اس جگہ مجھے یاد آیا ہے کہ جس روز وہ الہام مذکورہ بالا ہوا تھا اسی روز کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب مرحوم مرزا غلام قادر میرے قریب بیٹھ کر بآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں۔ (افسوس اس وقت براہین احمدیہ نہ چھپی ہوگی) اور پڑھتے پڑھتے انہوں نے ان فقرات کو پڑھا۔ (اجی حضرت غضب کرتے ہو فقرے نہیں مرزائی قرآن ہے قرآن) ”انــــا انزلناہ قریباً من القادیان“ (اور بدبختی سے ضلع گورداسپور میں دو قادیان ہیں) تو میں نے سن کر بہت تعجب کیا کہ قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے کہ تب انہوں نے کہا یہ دیکھو لکھا ہوا ہے۔ تب میں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں
حصہ میں شاید نصف کے موقعہ پر لانسان عدوا مبینا) تب شریف میں درج ہے۔ (لیکن بطور اعزاز کے قرآن شریف میں مجھے دکھایا گیا تھا اور کشف میں پاچکے ہیں۔ قرآن شریف پڑھ اب مرنے کے بعد کیا پڑھیں پڑھتے سنا تو اس میں یہ بھید مخفی کشف کی تعبیر کو بہت کچھ تعلق ہ پیش کرکے یہ اشارہ کیا گیا ہے شریف میں قادیان پڑھ رہا ہے قدرت اس طرح پر ہمیشہ ظہور ف
(ازالہ اوہام ص ٧٦
کہ نبی بے عزت نہیں مگر اپنے میرے خیال میں ہے کہ یزید مکاریوں میں یہودا اسکریوطی کا ہے تو بے وجہ انہیں نہیں دی۔ ا کہ درست نہیں تب اس نے ن خدا تعالیٰ نے ایک برے کام عند المارة البیضاء من فی ھذا المقام“ صرف اتنا غرض ا پچاس سال پہلے چراغاں بی بی یہ ہیں مرزا قادیا اب آئیے مرزا قادیانی کی تفسی کی ضمیر مسیح علیہ السلام کی طرف
حصہ میں شاید نصف کے موقعہ پر یہ الہامی عبارت لکھی ہوئی ہے۔ (ان الشيطان كان للانسان عدوا مبينا) تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے۔ (ولیکن بطور استعارہ شیطان لکھا ہے) اور میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام بطور اعزاز کے قرآن شریف میں درج ہے۔ مکہ، مدینہ اور قادیان۔ یہ کشف تھا جو کئی سال ہوئے مجھے دکھایا گیا تھا اور کشف میں جو میں نے اپنے بھائی صاحب مرحوم کو جو کئی سال سے وفات پا چکے ہیں ۔ قرآن شریف پڑھتے دیکھا۔ (زندگی میں تو بیچارے کو ایک لفظ پڑھنا نصیب نہ ہوا اب مرنے کے بعد کیا پڑھیں گے ) اور اس الہامی آیت کو ان کی زبان سے قرآن شریف میں پڑھتے سنا تو اس میں یہ بھید مخفی ہے۔ جو کہ خدا تعالیٰ نے میرے پر کھول دیا کہ ان کے نام سے اس کشف کی تعبیر کو بہت کچھ تعلق ہے۔ یعنی ان کے نام میں جو قادر کا لفظ آتا ہے اس لفظ کو کشفی طور پر پیش کر کے یہ اشارہ کیا گیا ہے کہ یہ قادر مطلق کا کام ہے۔ (یعنی خدا غلام قادر کی شکل میں قرآن شریف میں قادیان پڑھ رہا ہے۔ معاذ اللہ !) اس لئے کچھ تعجب نہیں کرنا چاہئے اس کے عجائبات قدرت اس طرح پر ہمیشہ ظہور فرما ہوتے ہیں ۔‘‘
(ازالہ اوہام ص ٧٦ ، خزائن ج ٣ ص ١٤٠) ”میرے روحانی بھائی مسیح کا قول مجھے یاد آتا ہے کہ نبی بے عزت نہیں مگر اپنے وطن میں سچ کہتا ہوں کہ اگر چہ لوگ امام حسین کا وقت پاتے تو میرے خیال میں ہے کہ یزید اور شمر سے پہلے ان کا قدم ہوتا اور اگر مسیح کے زمانے کو دیکھتے تو اپنی مکاریوں میں یہود اسکریوطی کو پیچھے ڈال دیتے۔ خدا تعالیٰ نے جوان کو یزیدیوں سے مناسبت دی ہے تو بے وجہ انہیں نہیں دی۔ اس نے ان کے دلوں کو دیکھا کہ سیدھے نہیں ان کے چلن پر نظر ڈال کہ درست نہیں تب اس نے مجھے کہا کہ لوگ یزیدی الطبع ہیں اور یہ قصبہ دمشق سے مشابہ ہے۔ (سو خدا تعالیٰ نے ایک برے کام کے لئے اس دمشق میں رئیس قادیان کو اتارا ۔ ) ”بطرف شرقی عند المنارة البيضاء من المسجد الذی من دخله كان امنا فتبارك الذی انزلنی فی ہذا المقام“
صرف اتنا عرض کر دوں کہ منارہ ٥٠ سال بعد بنا اور علیٰ ہذا القیاس مسجد اور مرزا قادیانی پچاس سال پہلے چراغاں بی بی کے پیٹ سے نکلے۔ کہوں یا اترے۔
یہ ہیں مرزا قادیانی کی ایمانداریاں۔ جن پر قرآنی معارف کی ڈینگ ماری جاتی ہے۔
اب آئیے مرزا قادیانی کی تفسیر پر تنقید کریں۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ آیت وانہ لعلم للساعة میں ہ کی ضمیر مسیح علیہ السلام کی طرف نہیں بلکہ قرآن کریم کی طرف پھرتی ہے اور کلام مجید مردوں کے جی
اٹھنے یعنی قیامت کی نشانی ہے اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ آیت فلا تمترن بھا یعنی دلیل تو پردہ غیب میں ہے اور پہلے ہی سے کہا جاتا ہے کہ تم اس میں شک نہ کرو۔ یعنی مسیح علیہ السلام کا نزول تو ابھی ہوا ہی نہیں پھر نزول سے پہلے شک کرنا کیا معنی رکھتا ہے۔ اس لئے ان دو باتوں کا جواب ہم نے دینا ہے۔ ایک یہ کہ ہ کی ضمیر مسیح علیہ السلام کی طرف راجع ہے اور دوسرا قبل از نزول مسیح کیوں کہا گیا ہے کہ شک نہ کرو۔ فقیر کے خیال میں ان نیم یہودیوں کو باہر کی مثالیں یا ثبوت کارگر ثابت نہ ہوں گی اور یہ جھگڑالو قوم کبھی نہ مانے گی۔ اس لئے مرزا قادیانی کے بیاض خاص سے ان دونوں کا جواب دیا جاتا ہے۔ اس لئے کہ کسی طرح یہ اپنے آپ کو پہچان لیں اور ہدایت پاویں۔
١...... (اعجاز احمدی ص ٢١، خزائن ج ١٩ ص ١٣٠) ”قرآن شریف میں ہے ’انه لعلم للساعة“ یعنی اے یہودیو عیسیٰ کے ساتھ تمہیں قیامت کا پتہ لگ جائے گا۔“
کیوں صاحب یہ ہ کی ضمیر مسیح کی طرف پھرتی ہے یا قرآن کی طرف تسلی نہ ہو تو اور سن لو۔
(حمامۃ البشریٰ ص ٩٠، خزائن ج ٧ ص ٣١٦) ”یعنی ایک فرقہ یہود کا قیامت کے وجود سے منکر تھا۔ خدا نے بعض انبیاء کی زبانی ان کو خبر دی کہ تمہاری قوم میں ایک لڑکا بلا باپ پیدا ہوگا۔ یہ قیامت کے وجود پر ایک نشانی ہے۔“
مرزائیو! جھنجلا کر جلدی سے کہیں یہ نہ کہہ دینا کہ اس کے مصداق مرزا قادیانی ہیں۔ کیونکہ ان کا بھی کوئی باپ نہ تھا۔ (یعنی روحانی باپ) جیسا کہ انہوں نے اس کے متعلق بہت کچھ کہا ہے۔ بہر حال صاف طور پر یہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ ہ کی ضمیر مسیح موعود کی طرف ہے قرآن کی طرف نہیں اور یہ بھی کیسے ہو سکتا ہے کہ قرآن قیامت کی نشانی ہو اور نشانی ہزاروں برس پیشتر آوے اور وقوع کا نام ونشان نہ ہو۔ نشان تو اس کو کہا جاتا ہے جہاں سے وقوع نظر آنے لگے۔ مثلاً جناب مسیح کا آسمان سے اترنا یہود و نصاریٰ اور مسلمان تینوں قوموں کے لئے ایک ایسا نمونہ ہے جس کی نظیر ہی نہیں۔ کیونکہ سطحی طور پر ان تینوں قوموں کا اس سے گہرا تعلق ہے۔ یہود سمجھتے ہیں کہ مسیح قتل ومصلوب ہوا۔ نصاریٰ اور اسلام اس بات پر متفق ہیں کہ وہ قرب قیامت میں آسمان سے اتریں گے۔ اب کہئے کہ یہ تینوں قومیں جن میں سے دو تو قبل ہی یہ ایمان رکھتی ہیں کہ مسیح قیامت کی ایک نشانی ہے۔ ان پر ایمان لائیں گی یا نہیں۔ یقیناً نزول مسیح کے وقت جب ویکلم الناس فی المهد وكهلا یعنی ادھیڑ عمر میں جب جناب مسیح وعدہ ربانی کے مطابق جب کلام فرمائیں گے تو تمام قادیانی وسوسے اور زنگ دور ہو جائیں گے۔ اس وقت تمام قومیں یتیم مکہ کے دامن شفقت میں آ جائیں گی۔ بخدا جس کے سوا اور کہیں پناہ نہ ملے گی۔
اب دوسرے اعتراض کا جواب بھی سنئے۔ بیچارے مرزا قادیانی کی شامت جو آئی تو بڑھاپے میں عشق کا بھوت سر پر چڑھ بیٹھا۔ چھوٹے بیٹے فضل احمد کے سمدھیال میں ایک لڑکی محمدی بیگم نام اپنے عزیزوں میں تھی۔ مرزا قادیانی اس پر حواس کھو بیٹھے۔ اس کے والد اللہ غریق رحمت کرے مرزا احمد بیگ پکے مسلمان تھے۔ گو غریب تھے مگر ایماندار تھے۔ مرزا قادیانی نے طرح طرح کے ہتھکنڈوں سے انہیں رام کرنے کی انتہائی کوشش کی۔ ہزاروں کی زمین کا لالچ دیا۔ ان کے بیٹے محمد بیگ کو پولیس میں اعلیٰ عہدہ دلوانے کی ترغیب دیتے ہوئے پکا پکا وعدہ دیا۔ منتیں کیں۔ خوشامدیں ہوئیں۔ قاصد بھیجے، عرضیاں گذاریں۔ الہام سنائے، پیش گوئی کی، اللہ میاں نے رئیس قادیان کا نکاح خود اپنے ہاتھ سے آسمان پر باندھ دیا۔ اب کوئی اس کو کسی صورت نہ روک سکے گا۔ اس الہام پر سرکار مدینہ کی ایک حدیث یتزوج ویولدلہ سے دستخط کراتے ہوئے کہا کہ دیکھو سرکار دو عالم نے پہلے ہی میرے متعلق اس شادی کی پیش گوئی کر دی ہوئی ہے۔ چنانچہ آپ نے ایک بیان اس کے متعلق دیا جو نقل کیا جاتا ہے۔
(ازالہ اوہام ص ٣٩٨، خزائن ج ٣ ص ٣٠٥) ”اب اس جگہ مطلب یہ ہے کہ جب یہ پیش گوئی معلوم ہوئی اور ابھی پوری نہیں ہوئی تھی۔ جیسا کہ اب تک بھی جو ١٦؍اپریل ١٨٩١ء ہے۔ پوری نہیں ہوئی تو اس کے بعد اس عاجز کو ایک سخت بیماری آئی۔ یہاں تک کہ قریب موت کے نوبت پہنچ گئی۔ بلکہ موت کو سامنے دیکھ کر وصیت بھی کر دی گئی۔ اس وقت گویا یہ پیش گوئی آنکھوں کے سامنے آ گئی۔ (آئی کیوں نہ عشق نہ شد بلا شد) اور یہ معلوم ہو رہا تھا کہ اب آخری دم ہے اور کل جنازہ نکلنے والا ہے۔ تب میں نے اس پیش گوئی کی نسبت خیال کیا کہ شاید اس کے اور معنی ہوں گے جو میں سمجھ نہیں سکا۔ تب اسی حالت قریب الموت میں مجھے الہام ہوا۔ ”الحق من ربک فلا تکونن من الممترین“ یعنی یہ بات تیرے رب کی طرف سے سچ ہے تو کیوں شک کرتا ہے۔“
کیوں جناب یہ کیا بات ہے کہ نکاح تو ابھی ہوا ہی نہیں اور شک پہلے ہی کیا جاتا ہے اور اگر اب بھی تسلی نہ ہوئی ہو تو سنو۔
”ان الساعة آتية اكاد اخفيها لتجزى كل نفس بما تسعى ، فلا يصدنك عنها من لا يؤمن بها (سوره طه)“ ﴿یعنی اے موسیٰ قیامت بلاشک و شبہ آنے والی ہے۔ خبردار کوئی بے ایمان تجھے اس کے ماننے سے نہ روک دے۔﴾
مرزائیو! ایمان سے کہو کہ موسیٰ علیہ السلام کو قیامت پر ایمان نہ تھا؟ پھر کس لئے یہ آیت اتری۔ صرف اس لئے کہ ایک ہونے والی سچی چیز تاکید ہے۔ جس پر ایمان رکھنا فرض ہے۔
مرزا اینڈ کمپنی کی شہادتیں
(اخبار الحکم ٢٨ فروری ١٩٠٩ء) ”دوستو! یہ آیت ”وانه لعلم للساعة“ سورہ زخرف میں ہے اور بالاتفاق تمام مفسرین کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کے واسطے ہے۔“ سید محمد احسن امروہی قادیانی!
(اخبار البدر قادیان ٦؍اپریل ١٩١١ء) ”وانه لعلم للساعة کے ہمارے نزدیک تو آسان معنی یہ ہیں کہ وہ مثیل مسیح ساعت کا علم ہے۔“ سید سرور شاہ قادیانی!
گو مثیل کی دم گھاس خور ہوئی۔ مگر خنزیر مسیح کی طرف ہی پھری۔’ فھو المطلوب ٠
واذ قال الله یعیسیٰ ابن مریم ءانت قلت للناس اتخذونی وامی الہین من دون الله قال سبحنك مایکون لی ان اقول مالیس لی بحق ان کنت قلتہ فقد علمتہ تعلم ما فی نفسی ولا اعلم ما فی نفسك انك انت علام الغیوب ٠ ما قلت لہم الا ما امرتنی بہ ان اعبدوا الله ربی وربکم وکنت علیہم شہیداً ما دمت فیہم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم وانت علی کل شئی شہید ٠ ان تعذبہم فانہم عبادك وان تغفر لہم فانك انت العزیز الحکیم “
جب کہے گا اللہ تعالیٰ (دن قیامت) کے اے عیسیٰ کیا تو نے کہا تھا لوگوں کو کہ مجھے اور میری ماں کو معبود بنالو۔ جواب دیں گے پاک ہے تو اے معبود برحق کیسے لائق تھا۔ مجھ کو وہ بات کہوں جس کا مجھے کوئی حق نہیں۔ اگر میں نے کہا ہے تو تجھے علم ہوگا تو جانتا ہے میرے دلی بھید کو اور میں نہیں جانتا تیرے دل کی بات کو لا ریب تو ہی بھیدوں کا جاننے والا ہے نہیں کہا ہے میں نے ان کو مگر وہی جو تو نے مجھے ارشاد کیا تھا کہ عبادت کرو اس ذات پاک کی جو میرا تمہارا سب کا پالنے والا ہے اور میں ان پر نگہبان تھا جب تک توفی سے پہلے ان میں رہا۔ جب تو نے مجھے بمعہ روح وجسم اپنی طرف اٹھالیا پھر تو تو ہی ان کا نگہبان تھا۔ اگر تو ان کو عذاب کرے تو وہ تیرے غلام ہیں اور اگر انہیں بخش دے تو تو غالب وحکیم ہے۔
فوائد از شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد صاحب عثمانی مدظلہ العالی
”پچھلا رکوع حقیقت میں اس رکوع کی تمہید تھی۔ پچھلے رکوع کے ابتداء میں یوم یجمع الرسل فرما کر آگاہ کیا گیا تھا کہ قیامت کے دن تمام مرسلین سے ان کی امتوں کے مواجہہ میں علیٰ رؤس الاشہاد سوال وجواب ہوں گے۔ پھر ان میں سے خاص حضرت مسیح علیہ السلام کا ذکر فرمایا۔ جن کو کروڑوں آدمیوں نے خدائی کا درجہ دے رکھا ہے کہ ان سے بالخصوص اس عقیدہ باطلہ کی
نسبت دریافت کیا جائے گا۔ لیکن اوّل وہ عظیم الشان احسانات اور ممتاز انعامات یاد دلائیں گے۔ جو ان پر اور ان کی والدہ ماجدہ پر فائز ہوئے۔ بعدہ ارشاد ہو گا۔ ” اٰنت قلت للناس اتخذونی “ کیا تو نے لوگوں سے کہہ دیا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو بھی خدا کے سوا معبود مانو۔ حضرت مسیح علیہ السلام اس سوال پر کانپ اٹھیں گے اور وہ عرض کریں گے جو آگے آتا ہے۔ آخر میں ارشاد ہوگا۔ هذا يوم ينفع الصادقين صدقهم ھٰذا کا اشارہ اسی یوم کی طرف ہے جو يوم يجمع اللّٰه الرسل میں مذکور تھا۔ بہر حال یہ سب واقعہ روزِ قیامت کا ہے۔ جسے متیقن الوقوع ہونے کی وجہ سے قرآن وحدیث میں بصیغہ ماضی قال تعبیر فرمایا ہے۔ یعنی میں ایسی گندی بات کیسے کہہ سکتا تھا۔ آپ کی ذات اس سے پاک ہے کہ الوہیت وغیرہ میں کسی کو اس کا شریک کیا جائے اور جس کو آپ پیغمبر کا منصب جلیل عطاء فرمائیں اس کی یہ شان نہیں کہ کوئی ناحق بات منہ سے نکالے۔ پس آپ کی سبوحیت اور میری عصمت دونوں کا اقتضاء یہ ہے کہ میں ایسی ناپاک بات کبھی نہیں کہہ سکتا اور سب دلائل کو چھوڑ کر آخری بات یہ ہے کہ آپ کے علم محیط سے کوئی چیز باہر نہیں ہو سکتی۔ اگر فی الواقع میں ایسا کہتا تو آپ کے علم میں ضرور موجود ہوتا۔ آپ خود جانتے ہیں کہ میں نے خفیہ یا علانیہ کوئی ایسا حرف منہ سے نہیں نکالا۔ بلکہ میرے دل میں اس طرح کے گندے خیال کا خطور بھی نہیں ہوا۔ آپ سے میرے یا کسی کے دل کے چھپے ہوئے بھید اور حس وخواطر بھی پوشیدہ نہیں۔ میں نے آپ کے حکم سے سرمو تجاوز نہیں کیا۔ اپنی الوہیت کی تعلیم تو کیسے دے سکتا تھا۔ اس کے بالمقابل میں نے ان کو صرف تیری بندگی کی طرف بلایا اور کھول کھول کر بتلا دیا کہ میرا اور تمہارا سب کا پروردگار وہی ایک خدا ہے۔ جو تنہا عبادت کے لائق ہے۔ چنانچہ آج بھی بائبل میں صریح نصوص اسی مضمون کی بکثرت موجود ہیں۔ نہ صرف یہ کہ میں نے مخلوق کو تیری توحید اور عبودیت کی طرف دعوت دی۔ بلکہ جب تک ان کے اندر قیام پذیر رہا برابر ان کے احوال کی نگرانی اور خبر گیری کرتا رہا کہ کوئی عقیدہ یا بے موقعہ خیال قائم نہ کرلیں۔ البتہ ان میں قیام کرنے کی جو مدت آپ کے علم میں مقدر تھی جب وہ پوری کر کے آپ نے مجھ کو ان میں سے اٹھا لیا۔ ”كما يظهر من مادة التوفى ومقابلة مادمت فيهم “ تو پھر صرف آپ ہی ان کے احوال کے نگران اور خبردار ہو سکتے تھے۔ میں اس کے متعلق کچھ عرض نہیں کر سکتا۔ حضرت مسیح علیہ السلام کی موت یا رفع الیٰ السماء وغیرہ کی بحث آلِ عمران میں زیر فائدہ انی متوفیك ورافعك الیٰ ملاحظہ کیجئے۔ مترجم یعنی حضرت مولانا قبلہ محمود الحسن صاحب نور اللہ مرقدہ نے یہاں فلما توفیتنی کا جو ترجمہ تو نے مجھ کو اٹھا لیا سے کیا یہ باعتبار محاورات موت اور رفع الیٰ
استیفاء دونوں پر صادق آ سکتا ہے۔ گویا متنبہ کر دیا کہ نہ لفظ توفی کے لئے موت لازم ہے اور نہ خاص توفی بصورت موت کو مضمون زیر بحث میں کسی قسم کا دخل ہے۔ حدیث میں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بعض لوگوں کی نسبت میں قیامت کے دن اسی طرح کہوں گا جس طرح بندہ صالح ۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ: ”وكنت عليهم شهيداً مادمت فيهم فلما توفيتني كنت انت الرقيب عليهم“ اس قسم کی تشبیہات سے یہ نکالنا کہ حضور کی اور حضرت مسیح کی توفی بھی ہمہ وجوہ یکساں اور ہمرنگ ہونی چاہئے۔ عربیت سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔ مشرکین مکہ ایک درخت جس کا نام ذات انواط تھا پر ہتھیار لٹکایا کرتے تھے۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ہمارے لئے بھی ذات انواط مقرر کر دیجئے۔ جیسا کہ ان کے یہاں ہے۔ آپ نے فرمایا: ”هذا كما قال قوم موسى اجعل لنا الها كما لهم آلهة“ تو ایسا ہوا جیسے موسیٰ کی قوم نے درخواست کی تھی کہ ہمارے لئے بھی ایسا معبود تجویز کرو۔ جیسا ان بت پرستوں کا ہے۔ کیا کوئی مسلمان اس تشبیہ کو سن کر یہ گمان کر سکتا ہے کہ صحابہ نے معاذ اللہ بت پرستی کی درخواست کی تھی۔ اس طرح کی تشبیہات سے نصوص محکمہ اور اجماع امت کے مخالف عقائد پر تمسک کرنا صرف قادیانی جماعت کا حصہ ہو سکتا ہے۔ جن کی نسبت یہ ارشاد ہوا ۔”فاما الذين في قلوبهم زيغ فيتبعون ماتشابه منه ابتغاء الفتنة وابتغاء تاويله“ اس کے بعد مسیح علیہ السلام عرض کریں گے۔
مولا آپ اپنے بندوں پر ظلم اور بیجا سختی نہیں کر سکتے ۔ اس لئے کہ اگر ان کو سزا دیں گے تو عین عدل و حکمت پر مبنی ہو گی اور فرض کیجئے معاف کر دیں تو یہ معافی بھی از راہ عجز و سفہ نہ ہوگی ۔ چونکہ آپ عزیز زبردست اور غالب ہیں ۔ اس لئے کوئی مجرم آپ کے قبضہ قدرت سے نکل کر بھاگ نہیں سکتا کہ آپ اس پر قابو نہ پاسکیں اور چونکہ حکیم حکمت والے ہیں۔ اس لئے یہ بھی ممکن نہیں کہ کسی مجرم کو یونہی بے موقع چھوڑ دیں ۔ بہر حال جو فیصلہ آپ ان مجرمین کے حق میں کریں گے۔ وہ بالکل حکیمانہ اور قادرانہ ہوگا۔ حضرت مسیح علیہ السلام کا یہ کلام چونکہ محشر میں ہوگا ۔ جہاں کفار کے حق میں کوئی شفاعت اور استدعا رحم وغیرہ نہیں ہو سکتی ۔ اس لئے حضرت مسیح نے عزیز حکیم کی جگہ غفور رحیم وغیرہ صفات کو اختیار نہیں فرمایا۔ برخلاف اس کے ابراہیم خلیل علیہ السلام نے دنیا میں اپنے پروردگار سے عرض کیا تھا ۔”رب انهن اضللن كثيراً من الناس فمن تبعني فانه منى ومن عصانى فانك غفور رحيم“ اے پروردگار ان بتوں نے بہت سے آدمیوں کو گمراہ کر دیا تو جو ان میں سے میرا تابع ہو وہ میرا آدمی ہے۔ اور جس نے میری نافرمانی کی تو پھر تو غفور الرحیم ہے۔ یعنی ابھی موقعہ ہے کہ تو اپنی رحمت سے آئندہ ان کو توبہ اور رجوع الی الحق کی
توفیق دے کر پچھلے گناہوں کو معاف فرمادے۔ آمد بر سر مطلب جو لوگ اعتقاداً قولاً وعملاً سچے رہے ہیں۔ جیسے حضرت مسیح علیہ السلام ان کی سچائی کا پھل آج ملے گا۔ بڑی کامیابی حق تعالیٰ کی رضا ہے اور جنت بھی اس لئے مطلوب ہے کہ وہ محل رضا الٰہی ہے۔ یعنی ہر وفادار اور مجرم کے ساتھ وہی معاملہ ہو گا جو ایک شہنشاہ مطلق کی عظمت وجلال کے مناسب ہے۔
ناظرین! اس آیت کریمہ سے روز روشن کی طرح ثابت ہوتا ہے کہ جناب مسیح کی توفی کے بعد ان کی امت نے غلط عقائد اختیار کئے۔ انہیں خدائی کا جزو قرار دیا اور تثلیث میں خدا کو بانٹ لیا۔ باپ بیٹا اور روح القدس چنانچہ اللہ تعالیٰ جہاں تمام انبیاء سے مختلف سوال کریں گے وہاں جناب عیسیٰ علیہ السلام سے یہ پوچھا جائے گا کہ اے عیسیٰ ”اَنتَ قلت للناس“ کیا تونے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو معبود بنا لو۔ وہ عرض کریں گے مولا! میں ایسی بات کس طرح کہہ سکتا تھا۔ جس کا کہ مجھے حق ہی نہیں اور تو جانتا ہے کہ میں بناوٹ سے نہیں کہتا۔ کیونکہ تو علام الغیوب ہے اور میرے دل کی چھپی باتوں سے آگاہ ہے اور میں تو قاصر ہوں اس بات سے کہ آپ کے سوال کی نوعیت کو بھی سمجھوں۔ میں جب تک ان میں رہا وہی تعلیم دیتا رہا۔ جس کی کہ تو نے مجھے تعلیم فرمائی تھی۔ یعنی بندگی کرو اللہ کی جو میرا اور سب کا معبود ہے۔
”وَكُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيداً مَّا دُمْتُ فِيهِمْ“ یعنی میں ان پر گواہ و نگہبان تھا۔ جب تک ان میں رہا یہ مادمت فِيهم صاف الفاظ میں وہ زمانہ بیان کرتا ہے۔ یعنی جب تک ان میں رہا تب تک تو ان کے خیالات وہی تھے جو تیری تعلیم کے مطابق تھے اور جب تو نے مجھے اٹھا لیا اس کے بعد تو ہی ان کا محافظ اور نگہبان ہے۔ ہاں میں دیکھ آیا ہوں جب تو نے مجھے دوبارہ نازل کیا کہ ان کے خیالات ایسے ہی تھے۔ اگر تو انہیں عذاب کرے تو بھی وہ تیرے غلام ہیں تو ہر طرح سے مالک ومختار ہے اور اگر معاف کر دے تو بھی تو ہر طرح سے زبردست اور حکمت والا ہے۔
یہاں یہ سوال ہوتا ہے کہ اگر مسیح کا نزول نہ مانا جائے تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ مولا کریم ان سے امت کے بگڑنے کی گواہی لیں اور یہ تو مسلمہ بات ہے کہ توفی کے بعد امت بگڑی توفی سے پہلے ان کے خیالات وہی تھے جو مسیح کی تعلیم تھی۔ یہ سارا جھگڑا تو آسمان پر چلے جانے کے بعد پیدا ہوا اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ مسیح کو اس کا قطعاً علم نہیں۔ پھر وہ مسیح سے ایسا سوال کہ بتاؤ تم نے کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو معبود بنالو کس طرح کر سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ ضرور کوئی موقعہ گواہی کے لئے دے گا اور گواہی تب ہی قابل قبول ہے جو عینی شہادت ہو۔ اس آیت سے اور تواتر قومی سے یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ ضرور نزول فرمائیں گے۔ جیسا کہ ہم پچھلے باب میں
مفصل کہہ آئے ہیں اور جیسا کہ اس کے بعد احادیث صحیحہ سے انشاء اللہ ابھی پیش کیا جائے گا۔
قادیانی یہاں یہ اعتراض کرتے ہیں کہ مسیح کو امت کے بگڑنے کا علم آسمان پر دیا جائے گا اور اس دیئے ہوئے علم کی وہ گواہی دیں گے۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ غلط ہے۔ اگر انہیں علم دیا جاتا تو وہ یوں نہ کہتے۔ بلکہ جواب الجواب میں وہ عرض کرتے مولا تیرے عطائی علم کے مطابق جیسا کہ تو نے مجھ سے تذکرہ فرمایا تھا یہ درست ہے کہ انہوں نے معبود بنا لئے۔ مگر آیت زیر بحث میں انہوں نے یہ نہیں کہا بلکہ تعلم مافی نفسی ولا اعلم مافی نفسک کہا۔ اس لئے معلوم ہوا کہ اس واقعہ کا علم ان کو پہلے دیا جائے گا اور وہ نزول مسیح کا ہی زمانہ ہو سکتا ہے۔ مرزائی کہتے ہیں کہ یہ علم آسمان پر دیا گیا ہے۔ جیسا کہ مرزائی تعلیم ہے۔
(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٥٤، خزائن ج ٥ ص ٢٥٤) ”میرے پر یہ کشفاً ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ زہرناک ہوا جو عیسائی قوم میں پھیل گئی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس کی خبر دی گئی ہے۔“
”خدا تعالیٰ نے اس عیسائی فتنہ کے وقت میں یہ فتنہ حضرت مسیح کو دکھایا گیا۔ یعنی اس کو آسمان پر اس فتنہ کی اطلاع دی گئی۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٥٤)
مندرجہ بالا دونوں عبارتیں ہماری ممد و معاون ہیں۔ کیونکہ بہر حال اس شہادت روز حشر کا علم مسیح کو پیشتر دیا جانا چاہئے۔ اب مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ مسیح کو آسمان پر خبر دی گئی اور اس کی سند اپنا کشف بتاتے ہیں جو نا قابل قبول ہے۔ کیونکہ نہ ہم کو آپ کے کسی کشف پر اعتبار ہے اور نہ ہی کوئی کشف آپ کا سچا ہوا۔ اگر قادیانی امت ٥ روپے فی کشف انعام رکھے تو یہ فقیر مرزا قادیانی کا سو کشف انشاء اللہ جھوٹا ثابت کر سکتا ہے اور مرزا قادیانی کے کشف کی بھی خوب کہی ذیل کا کشف امت کی چندھیائی ہوئی آنکھوں میں سرمہ ثابت ہوگا۔ دیکھیں کون کون شفا پاتا ہے۔
(سرمہ چشم آریہ ص ١٣١ حاشیہ، خزائن ج ٢ ص ١٧٨) ”ایک مرتبہ مجھے یاد ہے کہ میں نے عالم کشف میں دیکھا کہ بعض احکام قضا و قدر میں نے اپنے ہاتھ سے لکھے کہ آئندہ زمانوں میں ایسا ایسا ہوگا اور پھر اس کو دستخط کرانے کے لئے خداوند قادر مطلق جل شانہ کے سامنے پیش کیا اور یاد رکھنا چاہئے کہ مکاشفات اور رویا صالح میں ایسا ہوتا ہے کہ بعض صفات جمالیہ یا جلالیہ الہیہ انسان کی شکل میں متمثل ہو کر صاحب کشف کو نظر آجاتے ہیں اور مجازی طور پر وہ یہی خیال کرتا ہے کہ وہی خداوند قادر مطلق ہے اور یہ امر ارباب کشف میں شائع و متعارف و معلوم الحقیقت ہے۔ جس سے کوئی صاحب کشف انکار نہیں کر سکتا۔ غرض وہی صفت جمالی جو بحالت کشف قوت متخیلہ کے آگے
ایسی دکھلائی دی تھی جو خداوند قادر مطلق ہے۔ اس ذات بیچوں و بے چگون کے آگے وہ کتاب قضاء وقدر پیش کی گئی اور اس نے جو ایک حاکم کی شکل میں متمثل تھا اپنے قلم کو سرخی کی دوات میں ڈبو کر اوّل اس سرخی کو رئیس قادیان ما بدولت کی طرف چھڑکا اور بقیہ سرخی کا قلم کے منہ پر رہ گیا۔ اس سے اس کتاب پر دستخط کر دیئے اور ساتھ ہی وہ حالت کشفیہ دور ہو گئی اور آنکھ کھول کر جب خارج میں دیکھا تو کئی قطرے سرخی کے تازہ بتازہ کپڑوں پر پڑے۔ چنانچہ ایک صاحب عبداللہ نام جو سنور ریاست پٹیالہ کے رہنے والے تھے اور اس وقت اس عاجز کے نزدیک ہو کر بیٹھے ہوئے تھے دو یا تین قطرے ان کی ٹوپی پر پڑے۔ پس وہ سرخی جو ایک امر کشفی تھا وجود خارجی پکڑ کر نظر آ گئی۔“
دروغ گو را حافظہ نباشد....... ایک ہی مضمون کے دو متضاد بیان
(حقیقت الوحی ص ٢٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٧) ”ایک دفعہ تمثیلی طور پر مجھے خدا تعالیٰ کی زیارت ہوئی اور میں نے اپنے ہاتھ سے کئی ایک پیش گوئیاں لکھیں۔ جن کا یہ مطلب تھا کہ ایسے واقعات ہونے چاہئے تب میں نے وہ کاغذ دستخط کرانے کے لئے خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کیا اور اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی تامل کے سرخی کی قلم سے اس پر دستخط کئے اور دستخط کرنے کے وقت قلم کو چھڑکا۔ جیسا کہ جب قلم پر زیادہ سیاہی آ جاتی ہے تو اس طرح پر جھاڑ دیتے ہیں اور پھر دستخط کر دیئے اور میرے پر اس وقت نہایت رقت کا عالم تھا۔ اسی خیال سے کہ کس قدر خدا تعالیٰ کا میرے پر فضل و کرم ہے کہ جو کچھ بھی میں نے چاہا۔ بلا توقف اللہ نے اس پر دستخط کر دیئے اور اس وقت میری آنکھ کھل گئی اور اس وقت میاں عبداللہ سنوری مسجد کے حجرے میں میرے پاؤں دبا رہا تھا کہ اس کے اوپر غیب سے سرخی کے قطرے میرے کرتے اور اس کی ٹوپی پر گرے اور عجیب بات یہ ہے کہ سرخی کے قطرے گرنے اور قلم جھاڑنے کا ایک وقت تھا ایک سیکنڈ کا بھی فرق نہ تھا۔ ایک غیر آدمی اس راز کو نہیں سمجھے گا اور شک کرے گا کہ کیونکر ہوا۔ اس کو صرف ایک خواب کا معاملہ معلوم ہو گا مگر جس کو روحانی امور کا علم ہو وہ اس میں شک نہیں کر سکتا۔ اس طرح خدا نیست سے ہست کر سکتا ہے۔ غرض میں نے یہ سارا قصہ میاں عبداللہ کو سنایا اور اس وقت میری آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ عبداللہ اس روایت کا گواہ ہے۔ اس پر بہت اثر ہوا اور اس نے میرا کرتہ بطور تبرک اپنے پاس رکھ لیا جو اب تک اس کے پاس موجود ہے۔“
یہ تو تھے آپ کے مکاشفات اور رؤیا صادقہ کے نمونہ حیرت آتی ہے۔ آپ کے اس کاروبار نبوت پر کہ آپ جو چاہیں لکھیں اور حکم دیں کہ اس نمونہ کے واقعات ہوں اور فلاں فلاں وقت تک پورے ہوں اور تعمیل کرے۔ اللہ میاں، تف ہے اس بودی عقل پر اور تین حرف ہیں۔
تمہاری پیش گوئیوں پر اور خدا کو تو دیکھو جو سرشتہ دار کے ہر حکم کی بلا چون و چرا تعمیل کرے اور یہ نہ پوچھے کہ تم مجھے حکم دینے والے کون اور نہ دیکھے کہ مرزا قادیانی کی نگاہ غضب کس کس بد نصیب کے خرمن حیات پر بجلی گرائے گی اور کم عقل ایسا کہ قلم کو دوات میں غرق کرے اور جہالت تو ملاحظہ ہو کہ پہلے قلم کو مرزا پر چھڑکے جو ایک میں کرتہ اور دوسرے میں کرتہ اور ٹوپی دونوں کا ستیاناس کرے اور لطف یہ کہ مرزا قادیانی حجرے میں لیٹے ہوں اور چھت بھی محفوظ ہو پھر کشتی سیاہی کے قطرے اور وہ بھی تازہ بتازہ گرتے نظر آئیں اور آنکھ کھلنے پر موجود ہوں اور رنگ سرخ ہو۔ پھر وہ تبرکاً رکھے جائیں اور امت اس کو معجزہ سمجھے بتاؤ ایسی کرامات شیخ چلی کے بیاض میں بھی ملے گی؟
عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر جانا کرۂ زمہریر و آتشین کے مخالف ہے۔ یہ قطرات کا ستیاناس کرنا تو جائز ہے۔ شرم کرو اور مرزا قادیانی کو سمجھاؤ کہ وہ اب بھی اس کی تردید کان اللہ نزل من السماء جن کو اب الہام بتاتے ہیں کی معرفت کردے۔
مرزا قادیانی مر گئے اور عبداللہ چل بسا۔ مگر وہ کرتہ اور ٹوپی تو موجود ہوگی۔ ہے کوئی مسیح کا جیتا جاگتا لال یا تمام سوگئے۔ جو ہمیں وہ اللہ میاں کی سرخ سیاہی دکھلا دے اور کیمیاوی ترکیب سے اس کے اجزاء آسمانی ثابت کرے تو اس کے عوض مبلغ ایک ہزار روپیہ نقد چہرے شاہی انعام میں پاوے۔ یہ تو تھے راستے کے کانٹے۔ انہیں چھوڑ دیجئے اور اصل مضمون کو ملاحظہ کیجئے۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ اس زہر ناک ہوا کی خبر جو نصاریٰ میں پھیل گئی ہے یعنی تثلیث پرستی وغیرہ کی خبر۔ مسیح کو آسمان پر دی گئی ہے فقیر کے خیال میں ان الفاظ میں بھی حیات مسیح مضمر ہے۔ کیوں اس لئے کہ اخبار زندوں کے لئے ہوتے ہیں اور مرزا قادیانی کے الفاظ مسیح کو مخاطب کرتے ہیں۔ روح مسیح کو نہیں بتلاتے اور مرزا قادیانی تو یہاں تک قائل ہیں کہ مسیح کو یہ فتنہ مشاہدہ کرایا گیا اور یہ تو ناممکن ہے کہ سات ہزار سال کی مسافت سے کوئی دیکھے لازم ہے کہ ایسی دور دراز جگہ سے ناظر خود آئے اور اگر یہ کہا جائے کہ کیا اللہ کو طاقت نہیں کہ وہ مسیح کو آسمان پر ہی فتنہ دکھا دے تو جواب یہ دینا چاہئے کیا اسے یہ طاقت نہیں کہ مسیح کو زمین پر بھیج کر قصۂ زمین بر سر زمین کرادے۔ بہرحال مرزا قادیانی کو یہ مسلم ہے کہ جس چیز کی گواہی مطلوب ہے اس کا علم شہادت سے پہلے دیا جانا لازمی ہے اور یہ علم وہی ہے جسے اسلامی دنیا نزول مسیح سے تعبیر کرتی ہے اور جس کے لئے صدہا احادیث کا تواتر قوی چلا آتا ہے اور مرزا قادیانی کا اس پر بھی ایمان ہے کہ واقعہ صلیب کے بعد عیسائیوں نے مسیح کی پرستش کو شروع کیا ہے۔ جیسا کہ وہ خود کہتے ہیں۔
(چشمہ معرفت ص٢٥٤، خزا
گزرے تھے کہ بجائے خدا کی پرستش اب اگر اس بیان کو سچا ق ١٢٠ برس عمر پانا، ایران، افغانستان، شہزادہ نبی یوسف آصف نام اختیار کر مرنا سب غلط و بکواس ہے۔ کیوں اس سے بھاگ کر ان ممالک کی سیاحت بگڑنے کا پورا پورا علم ہوتا اور وہ تو بقو ممکن ہے کہ جوئندہ یابندہ نہ ہو اور بھیڑوں کی تلاش کرے اور ایک مرزا قادیانی کا یہ سرکلر یعنی ابھی انجیل پرستش شروع کی گئی۔ صاف ظاہر کر جس کا پورا پورا علم مسیح کو مسیح کی زند ظاہر ہے یہ دونوں عقائد ہی باطل ا کشمیر میں دفن ہوئے نہ انہوں نے ان کو پوچھا اور نہ ہی انہیں اس کا کچھ گیا کہ وہ دیکھو تمہاری امت قادیا سے لاکھوں تک پہنچ گئی ہے اور وہ فرماتے ہیں مسیح یہی جواب دیں۔ الرقيب عليهم پھر تو تو ہی ان پر زور تقاضہ کرتا ہے کہ اس کا ایفاء ہی نہیں سکتے کہ جناب مسیح کو اس آسمان پر اٹھا لیا اور وہ قرب قیا کریں گے۔ ان کے ہاں اولاد اور قیامت کو وہ رسول اللہ ﷺ
(چشمہ معرفت ص ٢٥٤، خزائن ج ٢٣ ص ٢٦٦) ’’انجیل پر ابھی تیس برس پورے نہیں گزرے تھے کہ بجائے خدا کی پرستش کے ایک عاجز انسان کی پرستش نے جگہ لے لی۔“
اب اگر اس بیان کو سچا قرار دیا جائے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کہتا ہے کہ تو وہ مسیح کا ١٢٠ برس عمر پانا، ایران، افغانستان، نیپال، ہندوستان میں مارے مارے پھرنا۔ لداخ، بدھ، شہزادہ نبی یوز آسف نام اختیار کرنا کشمیر میں ٨٧ برس گمنامی میں بسر کرنا اور محلہ خان یار میں مرنا سب غلط و بکواس ہے۔ کیوں اس لئے کہ اگر وہ ساڑھے تینتیس سالہ زندگی واقعہ قتل وصلیب سے بھاگ کر ان ممالک کی سیاحت کرتے تو لازم ہے۔ اس دراز عرصہ میں انہیں امت کے بگڑنے کا پورا پورا علم ہوتا اور وہ تو بقول مرزا مسیح بھیڑوں کی تلاش میں ہی نکلے تھے۔ پھر یہ کیونکر ممکن ہے کہ جوئندہ یابندہ نہ ہو اور پھر ایک مستقل نبی اور صاحب کتاب رسول کامل ٨٧ برس بھیڑوں کی تلاش کرے اور ایک چھوٹی سے چھوٹی امت نہ پیدا کرے۔ یہ ناممکن ہے اور مرزا قادیانی کا یہ سرکلر یعنی ابھی انجیل پر تیس برس نہ گزرے تھے کہ بجائے اللہ کے ایک انسان کی پرستش شروع کی گئی۔ صاف ظاہر کرتا ہے کہ ان کی زندگی میں ہی تثلیث پرستی شروع ہو گئی تھی۔ جس کا پورا پورا علم مسیح کو مسیح کی زندگی میں تھا۔ پھر آسمان پر مسیح کو اطلاع دینا کیا معنی رکھتا ہے۔ ظاہر ہے یہ دونوں عقائد ہی باطل اور بودے ہیں۔ نہ مسیح ٨٧ برس مارے مارے پھرے اور نہ کشمیر میں دفن ہوئے نہ انہوں نے بھیڑیں اکٹھی کیں اور نہ ہی ان کی ارضی زندگی میں کسی نے ان کو پوجا اور نہ ہی انہیں اس کا کچھ علم ہے۔ نہ ہی مسیح کو آسمان پر یہ خبر دی گئی اور نہ کوئی تماشہ دکھایا گیا کہ وہ دیکھو تمہاری امت قادیانی منارہ کے پاس پاس روز افزوں ترقی کرتی کرتی سینکڑوں سے لاکھوں تک پہنچ گئی ہے اور وہ تمہیں خدا کا بیٹا کہہ کر تم کو پوجتی ہے۔ یہ خیال ہی لغو ہے اللہ فرماتے ہیں مسیح یہی جواب دیں گے۔ فلما توفیتنی۔ یعنی جب تو نے مجھے پورا پورا لیا کنت انت الرقیب علیہم پھر تو تو ہی ان کا نگہبان و محافظ تھا۔ لفظ توفی ورفع جو یقیناً ایک الٰہی وعدہ ہے۔ پر زور تقاضہ کرتا ہے کہ اس کا ایفاء جلد وبلا توقف ہو۔ اس لئے اس کے معنی سوائے اس کے اور ہو ہی نہیں سکتے کہ جناب مسیح کو اس جسم عنصری کے ساتھ اللہ بلند و برتر نے ایک معین وقت تک زندہ آسمان پر اٹھا لیا اور وہ قرب قیامت میں دوبارہ نزول فرمائیں گے۔ عادل حاکم ہو کر وہ بیوی کریں گے۔ ان کے ہاں اولاد ہوگی۔ وہ حج کریں گے اور روضہ نبوی میں دفن کئے جائیں گے اور قیامت کو وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اٹھیں گے۔ ابو بکرؓ و عمرؓ کے درمیان ۔کما قال
اکثر مرزائی کھسیانے ہو کر یہاں ایک اور اعتراض کرتے ہیں اور جہلاء کو جوش دلا دیا کرتے ہیں کہ دیکھو مولوی جی کی مسلمانی صحیح حدیث بخاری شریف میں رسول اکرم ﷺ فرماتے ہیں کہ بعض لوگوں کی نسبت میں قیامت کے دن اسی طرح کہوں گا جس طرح بندہ صالح حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا ’’وكنت عليهم شهيدا مادمت فيهم فلما توفيتني كنت انت الرقيب عليهم‘‘ اس چکمے میں عموماً عام لوگ جو عربی سے نابلد ہیں آ جایا کرتے ہیں کہ مرزائی مولوی آیت تو وہی پیش کرتا ہے جو مسیح کے متعلق ہے۔ اس لئے جھٹ یہ نتیجہ نکال لیا کرتے ہیں کہ یا تو مسیح آسمان پر نہیں گیا یا حضور ﷺ کا وصال بھی نہیں ہوا۔
ناظرین! الفاظ پر غور کرو اور سمجھنے کی کوشش کرو سرکار مدینہ ﷺ اپنا ایک قول بیان فرماتے ہیں کہ میں ایسا کہوں گا وہ بھی بعض لوگوں کی نسبت جن بدبختوں نے شرک کیا ہوگا۔ حضور ﷺ نے اپنا عقیدہ بیان نہیں کیا اور عقائد ہی ایمانیات میں داخل ہیں اور اگر لفظوں کی وجہ سے رگ الحاد پھڑکتی ہو تو اسی آیت کریمہ میں تعلم ما فی نفسی ولا اعلم ما فی نفسک اب کیا مسیح کا نفس اور خدا کا نفس ایک سا ہے۔ بعض محاورات ہوتے ہیں۔ جیسے زید اسد یعنی زید شیر ہے اب کیا کوئی بیوقوف زید کی چار ٹانگیں اور دم کا مطالبہ کرے گا نہیں یہ محاورات ہیں ویسے ہی رسول کریم ﷺ مشرکین کے لئے یہ کہہ دیں گے مولا جب تک میں ان میں رہا میں نے انہیں وہی قرآنی تعلیم دی اور شرک کی مذمت کی جہاں یہ حدیث دیکھی وہاں آپ ﷺ کی اور بھی صدہا احادیث ایسی لکھی ہیں جن میں حلف اٹھاتے ہوئے مسیح کے آنے کا وعدہ دیا ہے اور کھول کھول کر صفات بیان کی ہیں اور یہ تو وہ پیش گوئی ہے جس پر آسمان کے ستاروں سے زیادہ شہادتیں موجود ہیں ۔ اب حاصل کلام یہ ہے کہ وہاں نصوص قطعیہ وصریحہ کا بھی خلاف ہوتا ہے۔ اس لئے توفی کے معنی وہی صحیح ہیں۔ اخذ الشئ وافیاً!
یہاں ایک اور اعتراض بھی حل کرتا جاؤں وہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی کو حیات مسیح قبول کرنا صرف اس لئے ناگوار ومحال نظر آتا ہے کہ آسمان پر مسیح کے کھانے پینے بیٹھنے اٹھنے اور ان کے لوازمات کا سامان نہیں۔ جیسا کہ وہ خود بیان کرتے ہیں۔
(ازالہ اوہام ص ٤٧١، ٤٧٢، خزائن ج ٣ ص ٤٩٩، ٥٠٠) ”سوال یہ ہے کہ اگر حضرت مسیح مرے نہیں اور اسی دنیوی زندگی کے ساتھ کسی آسمان پر بیٹھے ہیں تو کیا تمام لوازم جسم خاکی کے ان میں خصوصیت کے ساتھ موجود ہیں۔ جو دوسروں میں نہیں پائے جاتے۔ کیا وہ کبھی سوتے اور کبھی جاگتے ہیں اور کبھی اٹھتے اور کبھی بیٹھتے ہیں اور کبھی دنیوی شراب اور طعام کو کھاتے پیتے ہیں اور کیا وہ
اوقات ضروریہ میں پاخانہ پھرتے اور پیشاب بھی کرتے ہیں اور کیا وہ ضرورتوں کے وقت ناخنوں کو کٹواتے اور بالوں کو منڈواتے یا قصر شعر کرواتے ہیں۔ کیا ان کے لیٹنے کے لئے چار پائی اور کوئی بستر بھی ہے۔ کیا وہ ہوا کے ساتھ دم لیتے اور ہوا کے ذریعے سے سونگھتے اور ہوا ہی کے ذریعے سے سنتے اور روشنی کے ذریعے سے دیکھتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ!‘‘
ناظرین! خدا گواہ ہے کہ مرزا قادیانی کے پکے پکے دہریہ خیال واقع ہوئے ہیں اور طرح طرح سے دجل بنانے اور مغالطہ دینے میں مشاق ہیں۔ ہم نے سابقہ اوراق میں مبلغ دو کشف آپ کے ناظرین کی ضیافت میں پیش کئے ہیں جن سے جناب مسیح کی زندگی کے یہ لوازمات جو مرزا قادیانی کو مطلوب ہیں صاف ہویدا ہیں۔ گو یہ میرا ایمان نہیں اور نہ ہی کسی مسلمان کو یہ خیال پیدا ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات گرامی ایسے معمولی سامان پیدا کرنے سے عاجز وقاصر ہے۔ مگر الزامی رنگ میں جواباً یہ پوچھنے کا حق ہم کو ہر طرح سے حاصل ہے۔ اس لئے ہم پوچھتے ہیں کہ کیا آسمان پر گلاس وئیر کے کارخانے لگے ہیں جن میں ریت پستی اور کانچ ڈھلتا ہے اور ایسے سانچے لگے ہیں جن میں دواتیں بنتی ہیں اور کیا رنگ کے کارخانے کھلے ہیں جن میں سرخ سیاہی بنتی ہے اور کیا نب سازی کے لئے کاریگر بیٹھے ہیں اور ان کے پاس آئرن اور ہتھوڑے موجود ہیں جن سے نبیں بنائی جاتی ہیں اور ہولڈر بنانے کے لئے ترکھان بیٹھے ہیں جو آسمان کے درختوں کو کاٹتے اور ہولڈر بناتے ہیں اور کیا آسمان پر کرسیاں اور میز پڑے ہیں جن پر خدا بیٹھتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر مسیح کے لوازمات نہیں ہیں تو یہ کہاں سے ٹپک پڑے اور مسیح کے لوازمات کا جواب وہی ہے جہاں یہ کاریگر اور مزدور سوتے ہیں جو نبیں رنگ اور دواتیں وغیرہ بناتے ہیں وہاں وہ اللہ کا مقرب بھی گزارہ کر لیتا ہے۔ امید ہے کہ یہ جواب فبهت الذي كفر والله لا يهدى القوم الظالمين!
خیر یہ تو تھا الزامی جواب جو اللہ معاف کرے طوعاً و کرہاً دیا گیا۔ آیت زیر بحث اأنت قلت للناس صاف بتا رہی ہے جیسا کہ اس کا سیاق و سباق پتہ دیتا ہے کہ یہ واقعات قیامت کو ہوں گے جبکہ خدائے جبار تخت عدالت پہ جلوہ فگن ہوں گے اور مجرمین عرق ندامت میں شرابور سامنے ہاتھ باندھے نیچی نگاہیں کئے کھڑے ہوں گے۔ اللہ اللہ ! اس دن پیغمبر بھی یارب نفسی یارب نفسی پکاریں گے۔ ماں بیٹے کو اور بیٹا باپ کو بھول جائے گا۔ گودی کے بچے کو دودھ دینا زچہ بھولے گی۔ آہ وہ ایسا سخت دن ہوگا۔ جبکہ نہ نفع دے گا مال اور نہ کام آئے گی اولاد۔ اور لوگوں کا یہ حال ہوگا کہ باولے ہو رہے ہیں زمین تانبہ کی طرح سرخ ہوگی اور آسمان آگ برسا رہا ہوگا۔ پانی کا کہیں نام
اور سایہ کے نشان نہ ملے گا۔ تمام مخلوق عالم میں صرف ایک ہستی ہوگی جس کے ہاتھ میں جھنڈا ہوگا اور اس کا سایہ حامل لوا کو سپر کا کام دے گا۔ جہاں دنیا نفسی نفسی پکارے گی وہاں وہ امتی امتی بولے گا اور اسے اپنی جان کا نہیں امت کا فکر دامن گیر ہوگا۔ تمام مرسلین من اللہ کو ایک خاص دعا کی قبولیت دنیا میں دی گئی تھی جو تمام نے اس دنیا میں متفرق طور پر مانگ لی۔ مگر یتیم مکہﷺ نے اللہ کی امانت میں دے دی۔ سرکار مدینہﷺ کا ارشاد ہے کہ میں وہی امانت دعا اس روز مانگوں گا اور سجدہ عجز سے سر نہ اٹھاؤں گا۔ جب تک امت کو نہ بخشوالوں گا۔ فرماتے ہیں یوم ندعوا کل اناس بامامہم یعنی اس دن اللہ بادشاہ تمام پیغمبروں کو مع ان کی امت کے طلب کرے گا اور ان سے طرح طرح سے سوال و جواب ہوں گے۔ جیسا کہ آیت زیر بحث کا سیاق کہتا ہے قال الله تعالى يوم يجمع الله الرسل فيقول ماذا اجبتم ! یعنی جس دن اکٹھا کرے گا اللہ پیغمبروں کو پس کہے گا کیا جواب دیئے گئے تھے تم ایسا ہی ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے کہ: ”يوم يحشرهم وما يعبدون من دون الله فيقول أأنتم اضللتم عبادى هؤلاء ام هم ضلوا السبيل (فرقان)“
یعنی روز محشر خدائے واحد ان مشرکین کو مع ان کے معبودوں کے جمع کرے گا اور ان سے پوچھے گا کیا تم نے میرے بندوں کو گمراہ کیا تھا یا وہ خود ہی تمہاری پرستش کرنے لگے تھے۔
غرضیکہ وہ بڑا سخت دن ہوگا۔ اس دن بڑے بڑے نبی اللہ تعالیٰ سے عرض کرنے کی جرأت نہ کریں گے۔ ہاں! ہاں! وہ صاحب کتاب واولوالعزم نبی جن کے خوف کھانے کی فرقان حمید شہادت دیتا ہے اور دعائیہ رنگ میں ان کے کلمات پیش کرتا ہے ’ولا تخزنى يوم يبعثون يوم لا ينفع مالاً ولا بنون الا من اتى لله بقلب سليم “ یعنی وہ جدامجد سرور عالم جناب ابراہیم خلیل اللہ عرض کرتے ہیں مولا مجھے اس دن رسوا نہ کیجیو ۔ وہ دن جب نہ فائدہ دے مال اور نہ اولاد۔ مگر سودمند ہو وہ دل جو نیکی سے لبریز ہو۔ وہاں مرزا قادیانی جیسے نقالی بروزی برازی ظلی چیلوں کا کیا کام اور کیا حوصلہ کیا پدی اور کیا پدی کا شوربا۔ بنی اسرائیل مجرمانہ حیثیت سے سامنے کھڑے ہوں گے۔ دوسری طرف عیسائی گردن جھکائے جلالت پروردگار سے کانپ رہے ہوں گے۔ ذرے ذرے اور دانے دانے کا حساب ہوگا۔ زجر وتوبیخ کے طور پر رب العالمین پوچھیں گے ”أأنت قلت للناس“ کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو خدا کے ساتھ شریک بنالو۔
غرضیکہ یہ واقعات قیامت کے دن پیش ہوں گے مگر یہ اوندھی کھوپڑی والے مرزائی یہ
کہتے ہیں کہ یہ سوال و جواب عالم برزخ میں ہو چکے ہیں۔ تو یہ صرف مغالطہ دہی کے لئے ہی پیدا ہوئے ہیں۔ انہیں کیا معلوم کہ برزخ کیا ہے اور محشر کسے کہتے ہیں۔ جو لوگ نبی کریم ﷺ کے ساتھ سلام و درود بھیجنے کے وقت کذاب قادیان کو برابر کا ساجھی گیر بنا سکتے ہیں اور حضور ﷺ کے تین ہزار معجزات اور قادیانی کے دس لاکھ معجزات شمار کر لیتے ہیں اور سرکار مدینہ ﷺ کے زمانہ کو پہلی رات کا ناکام چاند اور مرزا قادیانی کو چودھویں رات کا ماہ کامل بتاتے ہوئے نہیں شرماتے انہیں اس دن پتہ لگے گا جس دن اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑے ہو کر جواب دہی کے لئے بلائے جائیں گے۔ نہ وہاں مرزا قادیانی ہوگا اور نہ دس لاکھ معجزے نہ وہاں براہین ملے گی نہ ازالہ اوہام۔ ملائکہ اللہ گردن مارتے ہوئے وہاں لے جائیں گے جہاں ان کی مخصوص جگہ ہے اور یتیم مکہ ﷺ صاف کہہ دیں گے ”وقال الرسول يارب ان قومى اتخذوا هذا القرآن مهجورا“ آہ! اس دن یہ لوگ بلند آواز سے چلاتے ہوئے بصد حسرت وافسوس یہ کہتے جائیں گے ”ياويلتا ليتنى لم اتخذ فلان خليلا“ اے کاش! کہ ہم نے مرزا قادیانی کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ غضب ہے کہ دنیا میں مرزائی یہ درود پڑھیں:
اللهم صلى على محمد وعلى عبدك المسيح الموعود (الفضل اخبار قادیان ٣١؍جولائی ١٩٣٧ء ص ٥ کالم ٢) یعنی اے اللہ محمد ﷺ اور مرزے پر درود و سلام بھیج۔
اور پھر قیامت کے روز شافع محشر سے سفارش کی توقع رکھیں۔ ایں خیال است محال است و جنون!
چنانچہ آیت کریمہ مذکورہ ”أانت قلت للناس“ پر مرزا قادیانی اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ:
(ازالہ اوہام ص ٦٠٢، خزائن ج ٣ ص ٤٢٥) ”بعض لوگ یہ دوسری تاویل کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ آیت فلما توفیتنی میں جس توفی کا ذکر ہے وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد واقع ہوگی۔ لیکن تعجب کہ وہ اس قدر تاویلات رکیکہ کرنے سے ذرا نہیں شرمائے۔ وہ نہیں سوچتے کہ آیت فلما توفیتنی سے پہلے یہ آیت ہے۔ واذ قال اللہ اور ظاہر ہے کہ قال ماضی کا صیغہ ہے اور اس کے اول اذ موجود ہے جو خاص واسطے ماضی کے آتا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ قصہ وقت نزول آیت زمانہ ماضی کا ایک قصہ تھا نہ زمانہ استقبالی کا۔“
حضرت بعض اوقات اذ ماضی پر داخل ہو کر اس کو مستقبل کے معنوں میں بھی تبدیل کر دیا کرتا ہے۔ اگر اعتبار نہ ہو تو شرح جامی و کافیہ اور کتب نحو میں قانون ملاحظہ کر لو اور مرزا قاد
آپ کا حافظہ چونکہ خراب ہے۔ اس لئے آپ کو شاید یاد نہیں رہتا کہ آپ خود آیت متذکرہ بالا کا ترجمہ تواتر قومی کے مطابق کر چکے ہیں اور اس مایہ ناز کتاب میں جسے قطعی کہتے ہو اب کس چیز کا اعتبار کریں۔ آپ کی مثال تو شتر مرغ کی ہے کہ پرندوں میں جانور اور حیوانوں میں مرزا قادیانی! مندرجہ ذیل چشم بصیرت سے پڑھو اور شرماؤ۔ یہ وہ کشتی ہے جو بغیر چپوؤں کے خشکی پر چلتی
(کشتی نوح ص ٦٩ طبع ششم، خزائن ج ١٩ص٧٦)
ہے۔ کل کے ذریعہ سے نہیں دجال کے حکم سے۔ ”اور یاد رکھو اب عیسیٰ تو ہرگز نازل نہیں ہوگا۔ کیونکہ جو اقرار اس نے آیت فلما توفیتنی کی رو سے قیامت کے دن کرنا ہے۔“
مرزائیو! کیا قیامت سے مراد تمہارے ہاں عالم برزخ ہے۔ تسلی نہ ہوئی ہو تو اور سنو۔ رئیس قادیان بروزی رسول ظلی نبی جلی محدث
(حقیقت الوحی ص ٣١، خزائن ج ٢٢ص٣٣)
فرماتے ہیں ”فلما توفيتنى كنت انت الرقيب عليهم اس جگہ اگر توفی کے معنی معہ جسم آسمان پر اٹھانا تجویز کیا جائے تو یہ معنی تو بدیہی البطلان ہیں۔ کیونکہ قرآن شریف کی انہیں آیات سے ظاہر ہے کہ یہ سوال حضرت عیسیٰ سے قیامت کے دن ہوگا۔“
فرقہ غالیہ احمدیہ کے نو نہالو! اب تو تمہاری سمجھ میں آ گیا کہ کبھی کبھی اذ ماضی میں داخل ہو کر مستقبل کے معنوں میں آ جایا کرتا ہے۔ اگر اب بھی تسلی نہ ہو تو سنو۔ پر ارشاد ہوتا ہے:
(ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٤٣، خزائن ج ٢٢ ص ٦٦٥)
”پس تحقیق عیسیٰ یہ جواب دے گا قیامت کے دن یعنی کہے گا فلما توفیتنی کا جملہ دن قیامت کے جس طرح سے اے عقلمندو تم قرآن میں پڑھتے ہو ۔“
اب ایمان سے کہو یہ کتابیں اور اقوال سچے ہیں یا ازالہ اوہام والا بیان۔ یہ تو ظاہر ہے کہ دونوں سچے نہیں ہو سکتے۔ دونوں میں سے ایک سچا ہونا چاہئے اور یہ کیا بات ہے کہ مرزا قادیانی نیم دروں نیم بروں رہتے ہیں۔ کیا یہی مرزا قادیانی کی مسخ الدماغی کی دلیل ہے: ”يا ايها الناس قدجاء كم الرسول بالحق من ربكم فآمنوا خيرا لكم وان تكفروا فان لله مافى السموات والارض وكان الله عليما حكيما يا اهل الكتاب لاتغلوا فى دينكم ولا تقولوا على الله الا الحق انما المسيح عيسى ابن مريم رسول الله وكلمته القها الى مريم وروح منه فآمنوا بالله ورسله ولا تقولوا ثلاثة انتهوا خيرا لكم انما الله اله واحد سبحانه ان يكون له ولد له مافى السموات ومافى الارض وكفى بالله
وكيلا لن يستنكف المسيح ان يكون عبدالله ولا الملائكة المقربون ومن يستنكف عن عبادته ويستكبر فسيحشرهم اليه جميعا فاما الذين آمنوا وعملوا الصالحات فيوفيهم أجورهم ويزيدهم من فضله . واماالذين استنكفوا واستكبروا فيعذبهم عذابا اليما. ولا يجدون لهم من دون الله وليا ولا نصيرا يا ايها الناس قد جآء كم برهان من ربكم وانزلنآ اليكم نوراً مبينا . فاما الذين آمنوا بالله واعتصموا به فسيدخلهم فى رحمة منه وفضل ويهديهم اليه صراطاً مستقيما (النساء: ١٧٠تا١٧٥)“
’’اے لوگو تمہارے پاس آچکا رسول ٹھیک بات لے کر تمہارے رب کی سو مان لو تا کہ بھلا ہو تمہارا اور اگر نہ مانو گے تو اللہ کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور ہے اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا۔ اے کتاب والو مت مبالغہ کرو اپنے دین کی بات میں اور مت کہو اللہ کی شان میں مگر پکی بات بے شک مسیح جو ہے عیسیٰ مریم کا بیٹا وہ رسول ہے اللہ کا اور اس کلام ہے جس کو ڈالا مریم کی طرف اور روح ہے اس کے ہاں کی ، سو مانو اللہ کو اور اس کے رسولوں کو اور نہ کہو خدا تین ہیں۔ اس بات کو چھوڑ دو بہتر ہوگا تمہارے واسطے بے شک اللہ معبود ہے اکیلا اس کے لائق نہیں ہے کہ اس کے اولاد ہو۔ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے اور کافی ہے اللہ کارساز مسیح کو اس سے ہرگز عار نہیں کہ وہ بندہ ہو اللہ کا، اور نہ فرشتوں کو جو مقرب ہیں اور جس کو عار آوے اللہ کی بندگی سے اور تکبر کرے سو وہ جمع کرے گا ان سب کو اپنے پاس اکٹھا پھر جو لوگ ایمان لائے اور عمل کئے انہوں نے اچھے تو ان کو پورا دے گا ان کا ثواب اور زیادہ دے گا اپنے فضل سے اور جنہوں نے عار کی اور تکبر کیا سو ان کو عذاب دے گا۔ عذاب دردناک اور نہ پائیں گے اپنے واسطے اللہ کے سوا کوئی حمائتی اور نہ مددگار۔ اے لوگو تمہارے پاس پہنچ چکی تمہارے رب کی طرف سند اور اتاری ہم نے تم پر روشنی واضح۔ سو جو لوگ ایمان لائے اللہ پر اور اس کو مضبوط پکڑا تو ان کو داخل کرے گا اپنی رحمت میں اور فضل میں اور پہنچائے گا ان کو اپنی طرف سیدھے راستے پر۔‘‘
اللہ جل شانہ فرماتے ہیں وحی ہر پیغمبر کو بلاشبہ آتی رہی۔ یہ کوئی نئی بات نہیں سب کو معلوم ہے۔ لیکن اس قرآن میں اللہ تعالیٰ نے اپنا خاص علم اتارا اور اللہ اس حق کو ظاہر کرے گا۔ چنانچہ جاننے والے جانتے ہیں کہ جو علوم اور حقائق قرآن مجید سے حاصل ہوئے اور برابر حاصل ہوتے رہیں گے وہ کسی کتاب سے نہیں ہوئے اور جس قدر ہدایت لوگوں کو حضرت محمد ﷺ سے
ہوئی اور کسی سے نہیں ہوئی۔ قرآن مجید اور حضرت پیغمبر ﷺ کی تصدیق اور توثیق کے بعد فرماتے ہیں کہ اب جو لوگ آپ کے منکر ہوئے اور توریت میں جو آپ ﷺ کے اوصاف اور حالات موجود تھے ان کو چھپا لیا اور لوگوں پر کچھ کا کچھ ظاہر کر کے ان کو بھی دین حق سے باز رکھا۔ سو ایسوں کو نہ مغفرت نصیب ہو نہ ہدایت۔ جس سے خوب واضح ہو گیا کہ ہدایت آپ کی متابعت میں منحصر ہے اور گمراہی آپ کی مخالفت کا نام ہے۔ جس سے یہود کو پوری سرزنش ہوگی اور ان کے خیالات کی تغلیط واضح ہوگئی۔ آپ ﷺ کی اور آپ ﷺ کی کتاب کی تصدیق اور آپ کے مخالفین یعنی اہل کتاب کی تغلیط اور تفصیل بیان فرما کر اب عام سب لوگوں کو منادی کی جاتی ہے کہ اے لوگو! ہمارا رسول سچی کتاب اور سچا دین لے کر تمہارے پاس پہنچ چکا۔ اب تمہاری خیریت اسی میں ہے کہ اس کی بات مانو اور نہ مانو گے تو خوب سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ کا ہے جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے۔ وہ تمہارے تمام افعال واحوال سے خبردار ہے۔ تمہارے اعمال کا پورا حساب وکتاب ہو کر اس کا بدلہ ملے گا۔
اس ارشاد سے بھی صاف معلوم ہو گیا کہ وحی جو پیغمبر پر نازل ہو اس کا ماننا فرض اور اس کا انکار کفر ہے۔ اہل کتاب اپنے انبیاء کی تعریف میں غلو سے کام لیتے اور حد سے نکل جاتے۔ خدا اور خدا کا بیٹا کہنے لگتے۔ سو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ دین کی بات میں مبالغہ مت کرو اور جس سے اعتقاد ہو اس کی تعریف میں حد سے نہ بڑھنا چاہئے۔ جتنی بات محقق ہو اس سے زیادہ نہ کہو اور حق تعالیٰ کی شان مقدس میں بھی وہی بات کہو جو سچی اور محقق ہو۔ اپنی طرف سے کچھ مت کہو۔ تم نے یہ کیا غضب کیا کہ حضرت مسیح کو جو رسول اللہ ہیں اور اللہ کے حکم سے پیدا ہوئے تھے ان کو وحی کے خلاف خدا کا بیٹا کہنے لگے اور تین خدا کے معتقد ہو گئے۔ ایک خدا دوسرے حضرت عیسیٰ تیسرے حضرت مریم۔ ان باتوں سے باز آؤ۔ اللہ تعالیٰ واحد اور یکتا ہے۔ کوئی اس کا شریک نہیں اور نہ کوئی اس کا بیٹا ہو سکے۔ اس کی ذات پاک اور اس سے منزہ اور مقدس ہے۔ یہ تمام خرابی اس کی ہے کہ تم نے وحی کی اطاعت اور پابندی نہ کی۔ وحی کی متابعت کرتے تو خدا کے لئے بیٹا نہ مانتے اور تین خدا کے قائل ہو کر صریح مشرک نہ ہوتے اور محمد رسول اللہ سید الرسل اور قرآن مجید افضل الکتب کی تکذیب کر کے آج ذلیل کافر نہ بنتے۔ اہل کتاب کے ایک فریق نے تو حضرت عیسیٰ کو رسول بھی نہ مانا اور قتل کرنا پسند کیا۔ جن کا ذکر پہلے گزرا اور دوسرے فریق نے ان کو خدا کا بیٹا کہا۔ دونوں کافر ہو گئے۔ دونوں فریق کی گمراہی کا سبب یہ ہوا کہ وحی کا خلاف کیا۔ اس سے ظاہر ہو گیا کہ نجات وحی کی متابعت میں منحصر ہے اور نیز آسمانوں اور زمینوں میں نیچے سے اوپر تک جو کچھ ہے
سب اس کی مخلوق اور اس کی مملوک اور اس کے بندے ہیں۔ پھر کیسے اس کا شریک یا اس کا بیٹا کون اور کیونکر ہو سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ سب کا بنانے والا اور سب کی کارسازی کے لئے وہی کافی اور بس ہے۔ کسی دوسرے کی حاجت نہیں۔ پھر بتلائیے اس کو شریک یا بیٹے کی حاجت کیسے ہو سکتی ہے۔ خلاصہ یہ ہوا کہ نہ کسی مخلوق میں اس کے شریک بننے کی قابلیت اور لیاقت اور نہ اس کی ذات پاک میں گنجائش اور نہ اس کو اس کی حاجت۔ جس سے معلوم ہو گیا کہ مخلوق میں سے کسی کو خدا تعالیٰ کا شریک یا بیٹا کہنا اس کا کام ہے جو ایمان اور عقل دونوں سے محروم ہو۔ مضمون بالا سے یہ سمجھ میں آ گیا کہ جو کوئی حق تعالیٰ کے لئے بیٹا یا کسی کو اس کا شریک مانتا ہے وہ حقیقت میں جمیع موجودات کو مخلوق باری اور باری تعالیٰ کو خالق جملہ موجودات نہیں مانتا اور نیز اللہ تعالیٰ کو سب کی حاجت براری اور کارسازی کے لئے کافی نہیں جانتا۔ گویا خدا کو خدائی سے نکال کر مخلوقات اور ممکنات میں داخل کر دیا تو اب ارشاد سبحانہ ان یکون لہ ولد میں جس ناپاکی کی طرف اشارہ خفی تھا اس کا پتہ چل گیا اور فرزند حقیقی اور فرزند مجازی اور ظاہری دونوں میں وہ ناپاکی چونکہ برابر موجود ہے تو خوب سمجھ میں آ گیا کہ اس ذات مقدس جیسے اس سے پاک ہے کہ اس کے بیٹا پیدا ہو ایسا ہی اس سے بھی پاک اور برتر ہے کہ اپنی مخلوق میں کسی کو بیٹا بنادے۔ یعنی اللہ کا بندہ ہونا اور اس کی عبادت کرنا اور اس کے حکموں کو بجالانا تو اعلیٰ درجہ کی شرافت اور عزت ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام اور ملائکہ مقربین سے اس نعمت کی قدر اور ضرورت پوچھئے۔ ان کو اس سے کیسے ننگ اور عار آ سکتا ہے۔ البتہ ذلت تو اللہ کے سوا کسی دوسرے کی بندگی میں ہے۔ جیسے نصاریٰ نے حضرت مسیح کو ابن اللہ اور معبود مان لیا اور مشرکین فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں مان کر ان کی عبادت کرنے لگے اور بتوں کی عبادت کرنے لگے۔ سو ان کے لئے ہمیشہ کا عذاب اور ذلت ہے۔
اللہ جل شانہ نے اس آیت کریمہ میں موجود یہودیت کی صحیح تفسیر کو ایک ایسے انداز میں پیش فرمایا ہے جسے فقیر کے خیال میں قادیانیت کے تابوت میں آخری میخ سمجھنا چاہئے۔ اہل علم حضرات مجھے معاف فرمائیں۔ چھوٹا منہ اور بڑی بات کہہ رہا ہوں۔ مگر مجھے بھی حق حاصل ہے کہ فریق مخالف کی آنکھیں کھول دوں کہ جس طریق کار کو تمہارے مرزا قادیانی اختیار کر کے فرقان حمید کو اپنے مفید مطلب بنالیا کرتے تھے اس سے ہزار گنا زیادہ فقیر فرقان حمید سے استدلال کرتا ہوا انشاء اللہ بفضل ایزد مرزا قادیانی کا صریح کفر اور بطلان ثابت کر سکتا ہے اور یہ بھی کہہ دوں کہ میرا ضمیر مجھے ملامت کرتا ہے کہ کوئی ایسی بات کہوں جو تواتر قومی کے خلاف ہو یا ایسی جدت اختیار کروں جسے مفسرین نے نہیں چھوا۔ ورنہ اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان سے قوی امید رکھتا ہوں کہ
آیت آیت اور لفظ لفظ سے مرزا قادیانی کی کذابیت اور دجالیت آشکارا کر دوں۔ آیت زیر بحث میں ارشاد ہوتا ہے اے لوگو! کیوں خوامخواہ فضول لڑتے جھگڑتے ہو۔ بات بات میں کھینچ تان کرنا حماقت و جہالت ہے۔ اس لئے کہ تمہاری رشد و ہدایت کے لئے شمس الانبیاء آچکا۔ اب نیر اعظم کی موجودگی میں کفر کی سیاہ تاریکیاں بھلا کہاں ٹھہر سکتی ہیں اور جو کور باطن شب پرہ چشمی سے دیا جلا دے اور سورج کی موجودگی میں لوگوں کو اس کی طرف بلاوے اس کی کم بختی و جہالت کی بھی کوئی انتہاء ہے۔ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارا پیامبر خالی ہاتھ نہیں آیا۔ بلکہ وہ صحیح چیز لے کر آیا ہے۔ سو تمہاری اس میں ہی بھلائی ہے کہ تم اسے قبول کر لو۔ یعنی جس چیز سے منع کرے اسے چھوڑ دو اور بال کی کھال نہ کھینچو اور چھوڑ دینے کی وجوہات نہ پوچھو۔ مثلاً حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ میرے بعد تیس دجال وکذاب یعنی جھوٹے اور فریبی آئیں گے۔ جو اپنے زعم باطل میں یہ سمجھتے ہوں گے کہ ہم اللہ کے پیامبر ہیں۔ حالانکہ پیامبری مجھ پر ختم ہوگئی۔ میں آخری نبی ہوں اور میرے بعد تا قیام زمانہ کوئی نبی نہ ہوگا۔ اللہ فرماتے ہیں وہ جو کچھ بھی کہتے ہیں مان لو۔ کیونکہ وہ حق لے کر آئے ہیں اور ان کے ساتھ سچی روشنی ہے۔ اب یہ نہ کہو کہ نبوت باعث رحمت تھی۔ ہم اس سے کیوں محروم رہیں۔ نہیں۔ بلکہ جو کچھ بھی کہہ دیا گیا ہے وہی صحیح ہے اور اس میں تمہاری اپنی ہی بھلائی ہے اور جس چیز کا حکم دیں۔ مثلاً حضور ﷺ نے قسم اٹھا کر پیشگوئی کی کہ مسیح ابن مریم علیہ السلام آسمان سے قرب قیامت میں اتریں گے۔ اب تم یہ نہ پوچھو کہ وہ آسمان پر کیسے گئے۔ کیا کھاتے کیا پیتے کہاں سوتے اور کہاں اٹھتے ہیں۔ بس تمہارا کام یہ ہے کہ تم اس کے حکم کی بلا چوں و چراں تعمیل کرو اور یہی متقین کا ایمان ہے ”ذالك الكتاب لا ريب فيه هدى للمتقين يؤمنون بالغيب “ اور مومن تو وہی ہے جو بن دیکھے خدا پر ایمان لائے اور وہ مومن کس طرح ہو سکتا ہے جو نبی کے حکم پر چاہئے وہ اس کے کس قدر خلاف ہو شکن آلود پیشانی کرے یا جی میں ہی کڑھے۔ جیسے کہ اللہ فرماتا ہے ” فلاوربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم “ قسم ہے اے محمد ﷺ تیرے رب کی کہ نہیں ایماندار ہو سکتے وہ یہاں تک کہ تیرے ہر حکم کے سامنے سر نیاز کو جھکا نہ دے۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر تم لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہوئے میرے پیامبر کو ٹھکرا دو گے یا تعمیل ارشاد میں سرمو انحراف کرو گے تو یاد رکھو کہ تمہارے اس نہ ماننے سے ہماری خدائی میں تو کوئی خلل نہ آئے گا۔ جو کچھ بھی زمین اور آسمانوں میں ہے اس کے ہم ہی واحد مالک ہیں اور ایسے مالک ہیں جو زبردست اور سب چیزوں کے جاننے والے ہیں۔ ہم سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں۔
اور اے مرزائیو! دین حنیف میں غلو نہ کرو اور خدا کی شان میں گستاخی نہ کرو۔ مثلاً خدا جاگتا ہے۔ سوتا ہے۔ خطا کرتا ہے۔ بھلائی کرتا ہے۔ طاعون کے کیڑے پالتا ہے۔ وہ مرزا قادیانی سے ہے اور مرزا قادیانی اس سے ہے۔ وہ مرزا قادیانی کے لئے تیز تلوار لئے کھڑا رہتا ہے۔ وہ مرزا قادیانی کی عرش پر تعریف کرتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ! ایسی لغو اور بیہودہ باتیں مت کہو۔ بلکہ خدا کی شان میں وہی کہو جو قرآن تعلیم دیتا ہے۔ یعنی وہ بیوی بچوں سے پاک ہے۔ اسے نیند آتی ہے نہ اونگھ وغیرہ وغیرہ!
اور مرزائیو! یہ تم کیا اندھیر کرتے ہو کہ تم ایک دجال وکذاب کو خواہ مخواہ عیسیٰ بن مریم بنارہے ہو۔ حالانکہ وہ امتی ظلی بروزی مجدد محدث و نبی ہونے کا ناکام دعویٰ کرتا ہے اور حقیقت میں وہ کچھ بھی نہیں اور عیسیٰ بن مریم تو خدا کا صاحب کتاب رسول و پیامبر تھا اور وہ تو اللہ کا کلام تھا۔ یعنی اس کی پیدائش بن باپ کے کلمہ کن سے ہوئی تھی۔ کہاں وہ نفخ جبرائیل سے آیت اللہ وجیھا فی الدنیا والآخرہ نبی اور کہاں کذاب قادیان:
کجا عیسیٰ ابن مریم کجا دجال ناپاک
مسیح تو اللہ کا رسول، اللہ کا کلام اللہ کے ہاں کی روح ہے۔ جو جناب مریم علیہا السلام کو القاء کی گئی اور جس کی وجاہت مقربین میں ہوئی باوجود اس قدر مراتب کے پھر بھی وہ خدا کا بندہ ہے۔
اے مرزائیو! یہ حقیقت ہے۔ اس کو مانو اور اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور مت کہو کہ مرزا قادیانی خدا ہے یا خدا مرزا اور محمود تین خدا ہیں۔ جیسا کہ تمہارا مرزا کہتا ہے۔ رایتنی فی المنام عین اللہ وتیقنت اننی انا ھو ! یعنی میں نے دیکھا خواب میں کہ میں خدا ہوں اور میں نے یقین کر لیا کہ وہی ہوں یا انت اسمی الاعلی یعنی اے مرزا تو میرا سب سے بڑا نام ہے یا انت منی وانا منک یعنی تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔ وغیرہ وغیرہ! اور محمود کے متعلق کان اللہ نزل من السماء یعنی خدا محمود میں حلول کرتا ہوا اتر آیا۔ یہ بے حیائی کے کلمات ہیں۔ انہیں چھوڑ دو اور مت کہو کہ خدا تین ہیں۔ ان فاسد خیالات کو بھول جاؤ۔ یہی تمہارے حق میں بہتر ہے اور اس میں شک نہ کرو کہ اللہ اپنی بادشاہی میں بڑا ہی زبردست اور اکیلا ہے۔ اسے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں۔ وہ اولاد کو نہیں رکھتا۔ وہ بیوی کو نہیں چاہتا۔ پھر تم یہ کفریہ کلمات کیوں کہتے ہو کہ مرزا قادیانی نے ایک دفعہ اپنی حالت یہ بیان کی کہ گویا میں عورت ہوں اور اللہ نے رجولیت کی
قوت کا اظہار کیا اور کیوں یقین کرتے ہو کہ اللہ نے یہ کہا۔ یا قمر یا شمس انت منی وانا منک! یعنی مرزا چاند مرزا سورج۔ وہ مجھ سے ہے۔ میں اس سے ہوں۔ ہوش کرو اور عقل کے ناخن لو۔ یہ تمہیں کیا ہو گیا۔ تم نہیں جانتے کہ جو کچھ بھی آسمانوں اور زمین میں ہے اور جو کچھ بھی ان کے درمیان ہے وہ سب میرا ہے۔ کیونکہ میں نے اس کو عدم سے وجود بخشا ہے۔ وہ سب میری مخلوق ہے۔ وہ سورج ہو یا ستارے۔ چاند ہو یا فرشتے اور تخلیق عالم میں بھی وہ اکیلا کارساز ہے۔
اور مرزائیو! یہ تم کیوں گمان کرتے ہو کہ جو آسمان پر چلا گیا وہ خدا بن گیا۔ وہاں فرشتے بھی تو لاتعداد رہتے ہیں اور ان کی ربوبیت بھی ہوتی ہے۔ پھر وہ خدا کیسے بن گئے۔ انہیں تو یعنی فرشتوں اور مسیح کو گو وہ مقربین ہیں مگر پھر بھی انکار نہیں کہ وہ میرے ادنیٰ بندے ہیں اور بندہ ہونے میں انہیں قطعاً عار نہیں اور جو حماقت کرے اور بندہ ہونے سے عاری ہو اور تکبر کرے اور خدا کہلوائے تو کیا اس کو یاد نہیں کہ روز فیصل کو اسے چار و ناچار میرے حضور میں حاضر ہو کر جواب دہ ہونا ہے۔ جہاں ماننے والوں کو ہر طرح کے آرام واسائش ملیں گے اور نہ ماننے والوں کو درد دینے والے عذاب۔ افسوس اس دن نہ ماننے والے اپنے ہاتھوں کو کاٹیں گے اور افسوس کرتے ہوئے کہیں گے کہ کاش ہم مٹی ہوتے۔ کیونکہ انہیں وہاں کوئی حمایتی نہ ملے گا اور وہ کسی مددگار کو وہاں نہ پائیں گے۔
اور مرزائیو! کیا تمہارے پاس رحمت اللعالمین جو کافۃ للناس بشیر ونذیرا ہے نہیں پہنچا اور کیا تم تک اس کے صحیح اخبار نہیں پہنچے۔ جن میں کھول کھول کر لفظ لفظ کی تفسیر بیان نہیں ہوئی۔ پھر تم خواہ مخواہ کیوں ایسی باتیں کہتے ہو جو ان میں نہیں لکھیں اور تم کیوں ان باتوں پر اعتبار کرتے ہو جو اس کے افعال و کردار میں نہیں ملتیں۔ حالانکہ تمہارے پاس قرآن موجود ہے جو صحیح روشنی ہے اللہ کی طرف سے۔ کیوں تم بہکی بہکی باتیں کرتے اور بناتے ہو۔ ایمان لاؤ رسول عربی پر اور پیروی کرو قرآن وحدیث کی اور چھوڑ دو کچی باتیں اور جس نے پیروی کی گویا اس نے خدا کی اطاعت کر لی اور جو ایمان لایا محمد رسول اللہ ﷺ پر اور اس کے دین کو جو اللہ کی رسی ہے مضبوط پکڑ لیا تو ان کو داخل کرے گا اللہ تعالیٰ اپنی رحمت وفضل میں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔
حضرات! نصاریٰ کے پاس صرف دو ہی ایسے دلائل ہیں جن سے وہ مسیح کو ابن اللہ کہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ چنانچہ یہ دونوں باتیں یتیم مکہ ﷺ کے سامنے کئی مرتبہ پیش ہوئیں اور متعدد دفعہ ان دونوں مسئلوں پر روشنی ڈالی گئی۔ یعنی ولادت مسیح اور رفع الی اللہ پر۔
ولادت مسیح کو ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل آدم سے توڑا کہ اگر کسی کا بلا باپ
ہونا خدائی کی دلیل ہے تو آدم کے ماں اور باپ دونوں ہی نہ تھے۔ اس لئے یہ حق تو آدم کو بدرجہ اتم زیادہ پہنچتا ہے۔ پھر انہیں خدا کیوں نہیں کہتے۔
اور رفع الی اللہ سے جابجا تائید کرتے ہوئے یہ کہا کہ کسی کا آسمان پر رہنا اس کی خدائی کی قطعاً دلیل نہیں۔ وہاں بے شمار ملائکہ بھی تو رہتے ہیں۔ پھر انہیں خدا کیوں نہیں بنا لیتے اور جب کہ مسیح کو اور ملائکہ کو قطعاً عار نہیں اور وہ بندہ ہونے کو فخریہ پسند کرتے ہیں تو تم انہیں خواہ مخواہ خدا کہنے والے کون، ارشاد ہوتا ہے۔ "لَنْ يَّسْتَنْكِفَ الْمَسِيحُ أَنْ يَّكُونَ عَبْدًا لِّلَّهِ وَلَا الْمَلَائِكَةُ الْمُقَرَّبُونَ" یعنی فرشتے بھی تو مسیح کے ساتھ مقربین میں سے ہیں کہ تم انہیں بھی آسمان پر رہنے کی دلیل سے خدایا ابن اللہ کہنے کو تیار ہو۔
اللہ اللہ! کیسا شافی جواب ہے مرزا قادیانی کے اس سوال کا جو تحت میں درج کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات والا تبارک کو یہ پہلے ہی معلوم ہے کہ دجال و کذاب چکریں لگائیں گے اور بہانے تلاش کریں گے۔ چنانچہ مرزا قادیانی کو بھی یہ وہم ہوا۔
"عیسائیوں نے خدا کے بیٹے ہونے کی ایک دلیل پیش کی کہ وہ بے باپ پیدا ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے فوراً اس کی تردید کی۔ "إِنَّ مَثَلَ عِيسَىٰ عِندَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ" پس عیسیٰ زندہ آسمان پر موجود ہونے کو عیسائی دلیل ابن اللہ ہونے کی قرار دیتے ہیں۔ اس کی مثال کیوں نہ دی۔"
(البلاغ المبین مرزا قادیانی کا آخری لیکچر لاہور ص ٢٤، ملفوظات ج ١٠ ص ٤٥٧، ٤٥٨ ملخص)
آہ! مرزا قادیانی آپ کے سوال کا جواب چودہ صدی مدت ہوئی تمہاری پیدائش سے بہت پہلے دے چکے
چشم آفتاب راچہ گناه
"لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ ............................................ يُؤْفَكُونَ (المائدة)"
"بے شک کافر ہوئے جنہوں نے کہا اللہ وہی مسیح ہے مریم کا بیٹا اور مسیح علیہ السلام نے کہا ہے اے بنی اسرائیل بندگی کرو۔ اللہ کی جو رب ہے میرا اور تمہارا بے شک جس نے شریک ٹھہرایا اللہ کا سو حرام کی اللہ نے اس پر جنت اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور کوئی نہیں گنہگاروں کی مدد کرنے والا۔ بے شک کافر ہوئے جنہوں نے کہا اللہ ہے تین میں کا ایک۔ حالانکہ کوئی معبود نہیں بجز ایک معبود کے اور اگر نہ باز آویں گے اس بات سے کہ کہتے ہیں تو بے شک پہنچے گا ان میں سے کفر کر
قائم رہنے والوں کو عذاب دردناک کیوں نہیں۔ توبہ کرتے اللہ کے آگے اور گناہ بخشواتے اس سے اور اللہ ہے بخشنے والا مہربان۔ نہیں ہے مسیح مریم کا بیٹا مگر رسول، گذر چکے اس سے پہلے بہت رسول اور اس کی ماں ولی ہے۔ دونوں کھاتے تھے کھانا۔ دیکھ ہم کیسے بتلاتے ہیں ان کو پھر دیکھ کہاں وہ الٹے جارہے ہیں۔‘‘
آیت متذکرہ بالا میں مولا کریم نے زبان فیض ترجمان سے یہ تعلیم امت کو بطور تنبیہ بیان فرمائی کہ اے امت خیر الانام خوب یاد رکھو کہ عقیدت و محبت سرکار مدینہ ﷺ میں غلو سے کام نہ لینا۔ یعنی حد تجاوز سے متجاوز نہ ہوجانا۔ کہیں یہ نہ کر بیٹھنا جس طرح کہ نصاریٰ نے کیا۔ بے شک وہ کافر ہوئے۔ جنہوں نے کہا کہ اللہ تو وہی مسیح ہی ہے جو مریم کا بیٹا تھا۔ حالانکہ مسیح کی تعلیم اس کے برعکس تھی۔ وہ تو بنی اسرائیل میں یہی منادی کرتے رہے کہ اے بنی اسرائیل معبود تمہارا اور میرا وہی وحدہ لاشریک ہے جو اپنی خدائی میں بڑا زبردست اور اکیلا ہے۔ نہ اسے کسی کی مدد کی ضرورت ہے اور نہ وہ کسی کا محتاج ہے۔ سن لو اور یاد رکھو جس کسی نے اس کا شریک بنایا۔ جیسا کہ کذاب قادیان کہتا ہے۔ ”الارض والسماء معك كما هو معى“ (تذکرہ) یعنی زمین و آسمان تیرے ساتھ ہیں۔ جیسا کہ وہ میرے ساتھ ہیں۔
”کل لك ولا امرك“ (ایضاً) سب تیرے لئے ہیں اور تیرے حکم کے لئے۔
پس وہ کافر ہو گیا اور خوب یاد رکھو اور سن لو جس کسی نے بھی اس کا شریک بنایا تو اللہ نے جنت کو اس کے لئے حرام کر دیا۔ یعنی مشرک قطعاً جنت میں نہ جائے گا۔
”ان الله لا یغفر ان یشرك“ اللہ تمام گناہ معاف کردے گا اور نہ کرے گا تو شرک، پس جس نے شرک کیا۔ اس نے اپنا ٹھکانہ ہمیشہ کے لئے جہنم بنالیا اور یہ بھی اچھی طرح سے سمجھ لو کہ مشرکین کی کوئی شفاعت نہ کرسکے گا۔ افسوس انہیں وہاں کوئی ساتھی و مددگار نہ ملے گا۔ بے شک وہ بھی کافر ہوئے۔ جنہوں نے کہا اللہ تین میں کا ایک ہے۔ جیسے نصاریٰ کا عقیدہ ہے یا یہی یہودی کہتے ہیں۔ حالانکہ سوائے اس ذات باری کے کوئی دوسرا معبود نہیں۔ وہ واحد و یکتا ہے۔ وہ خالق و مالک ہے اور باقی تمام وہ رسول ہوں یا نبی، فرشتے ہوں یا ستارے سب مخلوق و مملوک ہیں۔ خبردار اس کی بادشاہی میں کسی دوسرے کو شریک مت کہو۔ سب اس کے عزت دیئے ہوئے بندے اور غلام ہیں۔ اے خدا کی بادشاہی میں شریک بنانے والو توبہ کرو توبہ کرو اور ایسے بدعقائد کو چھوڑ دو ابھی توبہ کا دروازہ کھلا ہے اور اللہ غفور الرحیم اور بخشنے والا مہربان ہے۔ ہاں جو بدبخت اپنی بدبختی کو نہ چھوڑے اور بضد رہے وہ سن لے کہ اس کے لئے دردناک عذاب تیار ہے۔ جس میں وہ
یقیناً گرفتار رہے گا۔ اس لئے توبہ کرو توبہ کرو اور ان بداعتقادات کو چھوڑ دو اور نہیں ہے مریم کا بیٹا خدا۔ مگر رسول ہے اللہ کا اور گزر چکے مسیح سے پہلے بہت رسول اور ماں اس کی بھی خدا نہ تھی۔ بلکہ ولی اللہ تھی اور غور کرو خدا تو کھانے پینے سونے جاگنے سے بے نیاز ہے اور وہ دونوں کھانا کھایا کرتے تھے۔ پھر کس طرح خدا بن گئے۔ خدا تو کھاتا پیتا نہیں۔ اے محمدﷺ غور کرو کہ ہم نے کسی واضح اور روشن دلیل سے انہیں سمجھایا۔ مگر وہ الٹے جا رہے ہیں۔
غرضیکہ اس آیت کریمہ میں مسیح اور جناب مریم کے خدا ہونے کی دلائل سے نفی بیان فرمائی کہ وہ دونوں کھانا کھایا کرتے تھے۔ اگر مسیح فوت ہوگئے ہوتے تو باری تعالیٰ کھانے کی دلیل بیان نہ فرماتے۔ بلکہ صاف کہہ دیا ہوتا کہ اللہ تو حی و لا یموت ہے اور اگر مسیح خدا ہوتا تو وہ کیوں مر جاتا۔ مسیح تو مر چکا پھر وہ کیسے خدا بن گیا۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے اس آیت پر یہ اعتراض کیا ہے۔
(ازالۃ الاوہام ص ٦٠٣ ،خزائن ج ٣ص٤٢٥) ”ما المسیح ابن مریم الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل وامہ صدیقۃ کانا یاکلان الطعام“ یعنی مسیح صرف ایک رسول ہے۔ اس سے پہلے نبی فوت ہوچکے اور ماں اس کی صدیقہ ہے۔ جب وہ دونوں زندہ تھے تو طعام کھایا کرتے تھے۔ یہ آیت بھی صریح النص حضرت مسیح کی موت پر ہے۔ کیونکہ اس آیت میں تصریحاً بیان کیا گیا ہے کہ اب حضرت عیسیٰ اور ان کی والدہ مریم طعام نہیں کھاتے۔ ہاں کسی زمانے میں کھایا کرتے تھے۔ جیسا کہ کان کا لفظ اس پر دلالت کرتا ہے۔ جو حال کو چھوڑ کر گذشتہ زمانے کی خبر دیتا ہے۔ اب ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ حضرت مریم اس وجہ سے طعام کھانے سے روکی گئی کہ وہ فوت ہوگئی اور چونکہ کان کے لفظ میں تثنیہ کا صیغہ ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی حضرت مریم کے ساتھ شامل ہیں اور دونوں ایک ہی حکم کے نیچے شامل ہیں۔ لہٰذا حضرت مریم کی موت کے ساتھ ان کی موت بھی ماننی پڑی۔ کیونکہ آیت موصوفہ بالا میں ہرگز یہ بیان نہیں کیا گیا کہ حضرت مریم تو بوجہ موت طعام کھانے سے روکے گئے۔ لیکن حضرت ابن مریم کسی اور وجہ سے اور جب ہم اس آیت مذکورہ بالا کو اس دوسری آیت کے ساتھ ملا کر پڑھیں کہ ”ما جعلناہم جسداً لا یا کلون الطعام“ جس کے یہ معنی ہیں کہ کوئی ہم نے ایسا جسم نہیں بنایا کہ زندہ تو ہو۔ مگر کھانا نہ کھاتا ہو تو اس یقینی اور قطعی نتیجہ تک ہم پہنچ جائیں گے کہ فی الواقعہ حضرت مسیح فوت ہوگئے۔ کیونکہ پہلی آیت سے ثابت ہو گیا کہ اب وہ کھانا نہیں کھاتے اور دوسری آیت بتلا رہی ہے کہ جب تک یہ جسم خاکی زندہ ہے طعام کھانا اس کے لئے ضروری ہے۔ اس سے قطعی طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اب وہ زندہ نہیں ہیں۔“ ”ایھا الناظرین غلام احمد القادیانی وزوجتہ نصرۃ بیگم
كانتا تاكلان الطعام ومشتا فى الارض “یعنی اے ناظرین غلام احمد قادیانی اور نصرت بیگم بیوی اس کی طعام کھایا کرتے تھے اور زمین پر چلا کرتے تھے۔
اب مرزا قادیانی ١٩٠٨ء میں مرگئے اور بیوی اب تک (١٩٣٥ء) زندہ ہے کیا وہ اب نہیں کھاتی یا زمین پر نہیں چلتی۔ مرزا قادیانی کے استدلال سے تو اس کو بھوکا مرنا چاہئے اور زمین پر نہیں چلنا چاہئے۔ کیونکہ غلام احمد نصرت بیگم کے ساتھ دونوں ایک ہی حکم کے نیچے شامل ہیں۔ لہٰذا غلام احمد کی موت کے ساتھ نصرت بیگم کی موت بھی ماننی پڑی۔ کیونکہ فقرہ موصوفہ بالا میں ہرگز یہ بیان نہیں کیا گیا کہ غلام احمد تو بوجہ موت طعام کھانے سے روکا گیا۔ لیکن اس کی بیوی نصرت بیگم کسی اور وجہ سے کھاتی ہے اور جب ہم اس فقرے کو اس آیت شریف کے ساتھ پڑھتے ہیں تو یہ صاف کھل جاتا ہے کہ یہ شیطانی وسوسے ہیں۔ جن سے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے جیسا کہ یہ آیت بتلاتی ہے۔
”فاتخذوه عدوا انما يدعوا حزبه ليكونوا من اصحاب السعير“ یعنی شیطان تمہارا صریح دشمن ہے۔ پس تم بھی اسے دشمن سمجھو وہ اپنے پیروکاروں کو بلاتا ہے کہ تمہیں دوزخی بناوے۔
حضرات! آیت کریمہ معہ سیاق وسباق کے آپ کے سامنے ہے۔ ہر دانا اور عقلمند اچھی طرح سمجھ سکتا ہے کہ اس میں سوائے ابن اللہ یا اللہ ہونے کی تردید کے اور کچھ نہیں۔ وہی نصاریٰ کے سوال ہیں۔ یعنی چونکہ مسیح بلا باپ کے پیدا ہوا۔ اس لئے خدا کا بیٹا ہے اور چونکہ وہ آسمان پر چلا گیا اس لئے وہ خدا ہے یا خدا کا بیٹا ہے۔ آیت موصوفہ میں اللہ تعالیٰ نے اس باطل خیال کی پرزور تردید کی اور ایک اور طریق سے ابن اللہ یا اللہ ہونے کا ابطال کیا۔ ارشاد ہوتا ہے مسیح تو اللہ کا رسول ہے۔ اس سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے اور وہ خدا نہیں مگر رسول ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کھانے پینے سے بے نیاز ہے اور مسیح اور ان کی ماں تو کھانا کھاتے تھے اور جو کھانے پینے کا محتاج ہو وہ کس طرح خدا ہوسکتا ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنے ترجمے میں خلت کے معنی موت کے کئے ہیں۔ یعنی ”قد خلت من قبله الرسل “یعنی مسیح سے پہلے کے تمام رسول فوت ہوگئے۔
اوّل تو خلت کا ترجمہ موت کرنا جہالت ونادانی ہے۔ دوئم مرزا قادیانی کی قلمی شہادت ہے کہ مسیح نزول قرآن کے وقت تک زندہ موجود تھے۔ کیونکہ آپ کا ترجمہ یہ صاف شہادت دیتا ہے کہ ان سے پہلے کے رسول فوت ہوگئے۔ مرزا قادیانی کا خلت کے معنی موت کرنا کسی حالت میں جائز نہیں۔ اس لئے کہ دوسری آیات اس کی پرزور تردید کرتی ہیں۔ مثلاً ”واذا خلوا الى
شيطينهم قالوا انا معکم انما نحن مستهزؤن ” اب مرزا قادیانی کی رو سے اس کا ترجمہ یہ ہوگا اور جب وہ ملتے ہیں شیاطین کی طرف تو کہتے ہیں۔ ہم تمہارے ساتھ ہیں ہم تو صرف ان سے مذاق کرتے تھے۔ اب کیا یہ ترجمہ صحیح ہے۔ ہرگز نہیں۔ ایسا ہی ”کـــــذالك ارسلناك فی امة قد خلت من قبلها امم“ یعنی اے محمدﷺ اسی طرح بھیجا ہم نے تجھ کو ایک امت میں ہو چکی اس سے پیشتر امتیں۔ اب کیا اس کے معنی یہ لئے جائیں کہ اے محمدﷺ آپ کے پہلے کی تمام امتیں مرگئیں۔ حالانکہ کلام مجید ”یا اهل الکتاب “ پکار رہا ہے۔ اس لئے معلوم ہوا کہ خلت کا ترجمہ موت نہیں بلکہ گذرنا یا خالی کرنا ہے۔ ایسا ہی سورۃ فتح میں ارشاد ہوتا ہے۔ ”سنة الله التي قد خلت من قبل “ یعنی عادت اللہ کی جو گذری ہے پہلے اس سے اب کیا کذاب العصر کے مطابق اس کا ترجمہ کریں کہ عادت اللہ کی جو مر گئی ہے پہلے اس سے ایسا ہی بیسوں آیات ہیں۔ جو مرزا قادیانی کے اس نظریے کی پرزور تردید کرتی ہوئی بانگ دہل اعلان کرتی ہیں کہ مرزا قادیانی کی دجالیت کو نہ دیکھئے۔ ترجمہ وہی صحیح ہے۔ جو تواتر قومی سے چلا آتا ہے۔ اب سوال یہ ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی نے خلت کا ترجمہ موت کیوں کیا۔ اس کے دو وجوہات ہیں۔ اوّل یہ کہ ساون کے اندھے کو ہریاول ہی سوجھتی ہے۔ وہ چونکہ جناب مسیح کو مارنے پر تلے ہوئے تھے۔ اس لئے انہیں موت ہی موت نظر آتی تھی اور دوئم یہ کہ ایک دوسری آیت میں خلت آیا۔ جس کا ناجائز فائدہ آپ اٹھانا چاہتے تھے سو غور سے سنئے۔
(ازالۃ اوہام ص ٦٠٥ بخزائن ج ٣ ص ٤٢٧)
”وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل افان مات اوقتل انقلبتم علی اعقابکم“ یعنی محمدﷺ صرف ایک نبی ہیں۔ ان سے پہلے سب نبی فوت ہو گئے ہیں۔ اب کیا اگر وہ بھی فوت ہو جائیں یا مارے جائیں تو ان کی نبوت میں کوئی نقص لازم آئے گا۔ جس کی وجہ سے تم دین سے پھر جاؤ۔ اس آیت کا ماحصل یہ ہے کہ اگر نبی کے لئے زندہ رہنا ضروری ہے تو کوئی ایسا نبی پہلے نبیوں میں سے پیش کرو جو آج تک زندہ موجود ہے اور ظاہر ہے کہ اگر مسیح ابن مریم زندہ ہے تو پھر یہ دلیل جو خدا تعالیٰ نے پیش کی صحیح نہیں ہوگی۔“
ناظرین! اب اس آیت کریمہ کا شان نزول آپ کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے۔ تاکہ دجال اکبر کی دجالیت اظہر من الشمس ہو جائے۔ پس غور سے سنئے۔
فوائد : واقعہ یہ ہے کہ احد میں نبی کریم ﷺ نے بنفس نفیس نقشہ جنگ قائم کیا۔ تمام صفوف درست کرنے کے بعد پہاڑ کا ایک درہ باقی رہ گیا۔ جہاں سے اندیشہ تھا کہ دشمن لشکر اسلام کے عقب پر حملہ آور ہو جائے۔ اس پر آپ نے پچاس تیر اندازوں کو جس کے سردار
حضرت عبداللہ بن جبیرؓ تھے مامور فرما کر تاکید کر دی کہ ہم خواہ کسی حالت میں ہوں تم یہاں سے مت ہلنا۔ مسلمان غالب ہوں یا مغلوب۔ حتیٰ کہ اگر تم دیکھو کہ پرندے ان کا گوشت نوچ کر کھا رہے ہیں تب بھی اپنی جگہ مت چھوڑنا۔ ”وانا لن نزال غالبین ما ثبتم مکانکم“ (بغوی) ہم برابر اس وقت تک غالب رہیں گے جب تک تم اپنی جگہ پر قائم رہو گے۔ الغرض فوج کو پوری ہدایت دینے کے بعد جنگ شروع کی گئی۔ میدان کارزار گرم تھا۔ غازیان اسلام بڑھ بڑھ کر جوہر شجاعت دکھا رہے تھے۔ ابودجانہؓ، علی مرتضیٰؓ اور دوسرے مجاہدین کی بسالت و بے جگری کے سامنے مشرکین کی کمریں ٹوٹ چکیں تھیں۔ ان کو راہ فرار کے سوا اب کوئی راستہ نظر نہ آتا تھا کہ حق تعالیٰ نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا۔ کفار کو شکست فاش ہوئی وہ بدحواس ہو کر بھاگے ان کی عورتیں جو غیرت دلانے کو آئی تھیں پائنچے چڑھا کر ادھر ادھر بھاگتی نظر آئیں۔ مجاہدین نے مال غنیمت پر قبضہ کرنا شروع کر دیا۔ یہ منظر تیر اندازوں نے دیکھا تو سمجھے کہ اب فتح کامل ہو چکی۔ دشمن بھاگ رہا ہے۔ یہاں بیکار ٹھہرنا کیا ضروری ہے۔ چل کر دشمن کا تعاقب کریں اور غنیمت میں حصہ لیں۔ عبداللہ بن جبیرؓ نے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ان کو یاد دلایا۔ وہ سمجھے کہ آپ ﷺ کے ارشاد کا اصلی منشاء ہم پورا کر چکے ہیں۔ یہاں ٹھہرنے کی حاجت نہیں۔ یہ خیال کر کے سب غنیمت پر جا پڑے۔ صرف عبداللہ بن جبیرؓ اور ان کے گیارہ ساتھی درہ کی حفاظت پر باقی رہ گئے۔ مشرکین کے سواروں کا رسالہ خالد بن ولید کے زیر کمان تھا جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ انہوں نے پلٹ کر درہ کی طرف سے حملہ کر دیا۔ دس بارہ تیر انداز ڈھائی سو سواروں کی یلغار کو کہاں روک سکتے تھے۔ تاہم عبداللہ بن جبیرؓ اور ان کے رفقاء نے مدافعت میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا اور اسی میں جان دے دی۔ مسلمان مجاہدین اپنے عقب سے مطمئن تھے کہ ناگہاں مشرکین کا رسالہ ان کے سروں پر جا پہنچا اور سامنے سے مشرکین کی فوج جو بھاگی جا رہی تھی پیچھے پلٹ پڑی۔ مسلمان دونوں طرف سے گھر گئے اور بہت زور کا رن پڑا۔ کتنے ہی مسلمان شہید اور زخمی ہوئے۔ اسی افراتفری میں ابن قمیئہ نے ایک بھاری پتھر حضور نبی کریم ﷺ پر پھینکا جس سے دندان مبارک شہید اور چہرہ انور زخمی ہوا۔ ابن قمیئہ نے چاہا کہ آپ ﷺ کو قتل کرے۔ مگر مصعب بن عمیرؓ نے جن کے ہاتھ میں اسلام کا جھنڈا تھا مدافعت کی۔ حضور نبی کریم ﷺ زخم کی شدت سے زمین پر گرے کسی شیطان نے آواز لگا دی کہ آپ ﷺ قتل کر دیئے گئے۔ یہ سنتے ہی مسلمانوں کے ہوش خطا ہو گئے اور پاؤں اکھڑ گئے۔ بعض مسلمان ہاتھ پاؤں چھوڑ کر بیٹھ رہے۔ بعض ضعفاء کو خیال ہوا کہ مشرکین کے سردار ابو سفیان سے
امن حاصل کریں۔ بعض منافقین کہنے لگے جب محمد قتل کر دیئے گئے تو اسلام چھوڑ کر اپنے قدیم مذہب میں واپس چلا جانا چاہئے۔ اس وقت انس بن مالک کے چچا انس بن النضرؓ نے کہا کہ اگر محمد مقتول ہو گئے تو رب محمد تو مقتول نہیں ہوا۔ حضور ﷺ کے بعد تمہارا زندہ رہنا کس کام کا ہے۔ جس چیز پر آپ ﷺ قتل ہوئے تم بھی اسی پر کٹ مرو اور جس پر آپ ﷺ نے جان دی ہے اسی پر تم بھی جان دے دو۔ یہ کہہ کر آگے بڑھے حملہ کیا۔ لڑے اور مارے گئے۔ رضی اللہ عنہ! اسی اثناء میں حضور ﷺ نے آواز دی ”الی عباد اللہ انا رسول اللہ “ اللہ کے بندو ادھر آؤ۔ میں خدا کا پیغمبر ہوں۔ کعب بن مالک آپ ﷺ کو پہچان کر چلائے یا معشر المسلمین مسلمانو بشارت حاصل کرو رسول اللہ یہاں موجود ہیں۔ آواز کا سننا تھا کہ مسلمان ادھر ہی سمٹنا شروع ہو گئے۔ تیس صحابہ کرام نے آپ ﷺ کے قریب ہو کر مدافعت کی اور مشرکین کی فوج کو منتشر کر دیا اسی موقعہ پر سعد بن ابی وقاص، طلحہ، ابوطلحہ، اور قتادہ بن النعمان وغیرہ نے بڑی جانبازیاں دکھلائیں۔ آخر مشرکین میدان چھوڑ کر چلے جانے پر مجبور ہوئے اور یہ آیت نازل ہوئے ”وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل“ یعنی محمد ﷺ بھی آخر خدا تو نہیں ایک رسول ہیں۔ اس سے پہلے کتنے رسول گزر چکے ہیں۔ جن کے بعد ان کے متبعین نے دین کو سنبھالا اور جان و مال فدا کر کے قائم رکھا۔ آپ ﷺ کا اس دنیا سے گزرنا بھی کچھ اچنبہ نہیں۔ اس وقت نہ سہی اگر کسی وقت آپ ﷺ کی وفات ہوگئی یا شہید کر دیئے گئے تو کیا تم دین کی خدمت و حفاظت کے راستہ سے الٹے پاؤں پھر جاؤ گے اور جہاد فی سبیل اللہ ترک کر دو گے۔ جیسے اس وقت محض خبر قتل سن کر بہت سے لوگ حوصلہ چھوڑ بیٹھنے لگے تھے یا منافقین کے مشورے کے موافق العیاذ باللہ میرے بعد دین کو خیر باد کہہ دو گے۔ تم سے ایسی امید ہر گز نہیں اور کسی نے ایسا کیا تو اپنا ہی نقصان کرے گا۔ خدا کا کیا بگاڑ سکتا ہے۔ وہ تمہاری مدد کا محتاج نہیں۔ بلکہ تم شکر کرو اگر اس نے اپنے دین کی خدمت میں لگا لیا:
منت شناس ازو کہ بخدمت گزاشتت
اور شکر یہی ہے کہ ہم بیش از بیش خدمت دین میں مضبوط اور ثابت قدم ہوں۔ اس میں اشارہ نکلتا ہے حضرت ﷺ کی وفات پر بعضے لوگ دین سے پھر جائیں گے اور جو قائم رہیں گے ان کو بڑا ثواب ہے۔ اسی طرح ہوا کہ بہت سے لوگ مرتد ہوئے۔ صدیق اکبرؓ نے ان کو پھر مسلمان کیا اور بعض مارے گئے۔
تنبیہ: قد خلت من قبله الرسل میں خلت خلو سے مشتق ہے۔ جس کے معنی ہوچکے، گزرنے اور چھوڑ کر چلے جانے کے ہیں۔ اس کے لئے موت لازم نہیں۔ جیسے فرمایا ”واذا لقوكم قالوا آمنا واذا عضوا عليكم الانامل“ یعنی جب تمہیں چھوڑ کر علیحدہ ہوتے ہیں۔ نیز الرسل میں لام استغراق نہیں۔ لام جنس ہے۔ کیونکہ اثبات مدعا میں استغراق کو کوئی دخل نہیں۔ بعینہ اسی قسم کا جملہ حضرت مسیح کی نسبت فرمایا ”المسیح بن مریم الا رسول قد من قبله الرسل“ کیا لام استغراق لے کر اس کے معنی یہ ہوں گے کہ تمام پیامبر مسیح سے پہلے گزر چکے۔ کوئی ان کے بعد آنے والا نہ رہا۔ لامحالہ لام جنس لینا ہوگا۔ وہی یہاں لیا جائے۔ اس کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ عبداللہ بن مسعودؓ کے مصحف اور ابن عباسؓ کی قرآت میں الرسل نہیں رسل نکرہ ہے۔ باقی خلو کی تفصیل صرف موت یا قتل کا ذکر اس لئے کیا کہ موت طبعی بہرحال آنے والی ہے اور قتل کی خبر اس وقت مشہور کی گئی تھی اور چونکہ صورت موت کا وقوع میں آنا مقدر تھا۔ اس لئے اس کو قتل پر مقدم کیا گیا۔ ابوبکر صدیقؓ نے حضورﷺ کی وفات کے بعد جب صحابہؓ کے مجمع میں یہ پوری آیت الشاکرین تک بلکہ آیت انك میت وانهم میتون بھی پڑھی تو لوگ قد خلت اور افائن مات اور انک میت سے خلو اور موت کے جواز وعدم استبعاد پر متنبہ ہو گئے جو صدیق اکبرؓ کی غرض تھی۔ موت کے واقعہ ہو چکنے پر نہ صدیق اکبرؓ نے اس سے استدلال کیا نہ کسی اور نے سمجھا۔ اگر یہ الفاظ موت واقع ہو چکنے کی خبر دیتے تو چاہئے تھا کہ نزول آیت کے وقت یعنی وفات سے سات برس پہلے ہی سمجھ لیا جاتا کہ آپﷺ کی وفات ہو چکی ہے۔ اس تقریر سے بعض محرفین کی سب تحریفات ھباء منثورا ہو جاتی ہیں۔ بخوف تطویل ہم زیادہ بسط نہیں کر سکتے۔ اہل علم کے لئے اشارے کر دیئے ہیں۔
ناظرین! مرزا قادیانی بڑے ہی ایماندار واقع ہوئے ہیں۔ خواہ مخواہ مغالطہ دہی گویا آپ کی گھٹی میں پڑی ہے۔ اونٹ رے اونٹ تیری کونسی کل سیدھی۔ اب دیکھئے آیت زیر بحث کا ماحصل یہ بتاتے ہیں کہ اگر نبی کے لئے زندہ رہنا ضروری ہے تو انبیاء سابقین سے کوئی ایسا نبی پیش کرو جو آج تک زندہ موجود ہو اور فیصلہ یہ دیا کہ اگر مسیح ابن مریم زندہ ہے تو خدا جھوٹ بولتا ہے۔ بھلے مانس سے کوئی پوچھے آخر تم ہو کون معارف قرآن ڈینگ مارنے سے نہیں آتے۔ معارف تو تم کیا بیان کرو گے تمہیں تو سیدھی بات بھی الٹی معلوم ہوتی ہے۔ سچ ہے ساون کے اندھے کو ہر یاول ہی سوجھتی ہے۔ گئے گزرے ایمان سے کہو یہ ماحصل جو تم نے نکالا ہے:
- ١...... نبی کے لئے ہمیشہ کی زندگی اور اس کی مثال۔
- ٢...... خدا نے کب ہمیشہ رہنے کی دلیل پیش کر کے غلط کہا۔
شرم کرو اور باز آؤ۔ نہ زمین میں نہ آسمان میں وہ مرزا قادیانی کی زبان میں۔ وما محمد الا رسول کا صحیح ترجمہ جو شارع علیہ السلام تابعین تبع تابعین نے سمجھا اور جس کے صحیح ہونے پر ریت کے ذروں سے زیادہ اقوال الرجال موجود ہیں وہ وہی ہے جو تفصیلاً بیان ہو چکا۔ مگر تمہیں تو سوائے موت کے کہیں اور کچھ نظر ہی نہیں آتا۔ سوتے موت، جاگتے موت، اٹھتے موت، بیٹھتے موت، کبھی توفی سے موت، کبھی رفع سے موت، کبھی خلت سے موت، کبھی حیات سے موت، یہ کیا اودھم مچا رکھا ہے۔ تمام زندگی دجل بنانے اور دھوکہ دینے میں بسر ہوئی:
لکھتے لکھتے ہاتھ تھک گئے اور قلم گھس گیا۔ اجلے ورق سیاہ ہوئے۔ مگر جناب مسیح کو مار دینا تو کیا دامن کی ہوا دیکھنا بھی نصیب نہ ہوا۔ اے بسا آرزو کہ خاک شد۔ مرزا قادیانی تو چل بسا اور مسیح زندہ آسمان پر موجود ہے اور انشاء اللہ وہ جب پروردگار کی مشیت میں ہوگا قرب قیامت میں نزول کرے گا اور مرزا قادیانی کو بھی اس پر یقین ہے۔ جیسا کہ وہ خود اقرار کرتا ہے کہ:
میں مسیح موعود نہیں ہوں
(ازالہ اوہام ص ١٩٠، خزائن ج ٣ ص ١٩٢) ”اے برادران دین و علمائے شرع متین آپ صاحبان میری معروضات کو متوجہ ہو کر سنیں۔ اس عاجز نے جو مثیل موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں یہ کوئی نیا دعویٰ نہیں جو آج ہی میرے منہ سے سنا گیا۔ بلکہ یہ وہی پرانا الہام ہے جو میں نے خدا تعالیٰ سے خبر پا کر براہین احمدیہ میں کئی مقام پر بتصریح درج کر دیا تھا۔ جس کو شائع کرنے پر سات سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہے۔ میں نے یہ ہرگز دعویٰ نہیں کیا کہ میں مسیح بن مریم ہوں۔ جو شخص یہ الزام مجھ پر لگاوے وہ سراسر مفتری اور کذاب ہے۔ بلکہ میری طرف سے عرصہ سات آٹھ سال سے برابر یہی شائع ہو رہا ہے کہ میں مثیل ہوں۔ یعنی حضرت عیسیٰ کے بعض روحانی خواص اور طبع اور عادات اور اخلاق وغیرہ خدا تعالیٰ نے میری فطرت میں بھی رکھے ہیں۔“
مسیح موعود نہیں ہوں صرف مسلمان ہوں
(توضیح المرام ص ١٧، ١٨، خزائن ج ٣ ص ٥٩، ٦٠) ”اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ مسیح کا مثیل
عیسیٰ نبی ہونا چاہئے۔ کیونکہ مسیح نبی تھا تو اس کا اوّل تو جواب یہی ہے کہ آنے والے مسیح کے لئے ہمارے سید ومولا نے نبوت شرط نہیں ٹھہرائی۔ بلکہ صاف طور پر یہی لکھا ہے کہ وہ ایک مسلمان ہوگا اور عام مسلمانوں کے موافق شریعت فرقانی کا پابند ہوگا اور اس سے زیادہ کچھ بھی ظاہر نہیں کرے گا۔ میں مسلمان ہوں اور مسلمانوں کا امام ہوں۔“
میں مسیح موعود نہیں ہوں بلکہ مجدد وقت ہوں
(تبلیغ رسالت ج ١ ص ١٥، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٤) ”اور مصنف کو اس بات کا بھی علم دیا گیا ہے کہ وہ مجدد وقت ہے اور روحانی طور پر اس کے کمالات مسیح ابن مریم کے کمالات سے مشابہ ہیں۔“
مسیح موعود کے آنے کا انکار
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٠٨) ”میں اس سے ہرگز انکار نہیں کرسکتا اور نہ کروں گا کہ شاید مسیح موعود کوئی اور بھی ہو اور شاید یہ پیش گوئیاں جو میرے حق میں روحانی طور پر ہیں ظاہری طور پر اس پر چسپتی ہوں اور شاید سچ مچ دمشق میں کوئی مسیح نازل ہو۔“
میں تو کرشن رو در گوپال ہوں
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢١) ”ہر ایک نبی کا نام مجھے دیا گیا ہے۔ چنانچہ جو ملک ہند میں کرشن نام ایک نبی گذرا ہے جس کو رو در گوپال بھی کہتے ہیں۔ یعنی فناہ کرنے والا اور پرورش کرنے والا۔ اس کا نام بھی مجھے دیا گیا ہے۔ آریہ قوم کے لوگ ان دنوں کرشن کا انتظار کرتے تھے وہ کرشن میں ہی ہوں اور یہ دعویٰ صرف میری طرف سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ نے بار بار مجھ پر ظاہر کیا جو کرشن آخری زمانہ میں ہونے والا تھا۔ وہ تو ہی ہے، آریوں کا بادشاہ۔“ (بہت تیرے کی)
(چشمہ معرفت ص ١٠، خزائن ج ٢٣ ص ٣٨٢) ”ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ سے دوسرے ملکوں کے انبیاء کی نسبت سوال کیا گیا تو آپ نے یہی فرمایا۔ ہر ایک ملک میں خدا تعالیٰ کے نبی گذرے ہیں اور فرمایا ”كان فی الهند نبی اسود اللون اسمه کاھنا“ یعنی ہندوستان میں ایک نبی گذرا ہے جو سیاہ رنگ تھا اور نام اس کا کاھن تھا۔ یعنی کنھیا جس کو کرشن کہتے ہیں۔“
مسیح ابن مریم آسمان سے نا ”یہ عاجز بار بار یہی کہت آیا۔ بلکہ میں بھی تم سے اور تمہاری شریف اور کوئی دوسری کتاب نہیں۔ اور بجز جناب ختم المرسلین احمد عربی ﷺ پیروی کریں۔ یا دوسروں سے کرا میں ایمان لانا جس کی الہام الہی پ والہام غلط ہے جو کچھ مجھے ہورہا اس میں کیا حرج ہے۔ کیا اس نے پیدا ہو سکتا ہے۔ اگر ہماری زندگی ما شاد اور چشم ما روشن ہے۔ ہمارا گر
مندرجہ بالا مضامین کو سیمابی حالت کا ایک بے قرار نقشہ چیتے کبھی گیدڑ ہیں تو کبھی کوا۔
سيهد
یعنی جب کوا کسی قوم کار کہاں نبی ، کہاں محد نہ دیکھا اور وہ مفت میں بدنام ہو تدابیر اختیار کرتے ہیں۔ تب کہ رنگ چوکھا آتا ہے۔ بس بیٹے بیٹ رؤیا مکاشفات ستیاناس کر جائیں ہے اور کچھ دماغ ہی عیاشی عطاء ہ نہیں رہتا کہ پیچھے کیا کہہ آئے او (جنگ مقدس ص ٧ ، خزائن ج ٦ ص ٢٩
مسیح ابن مریم آسمان سے نازل ہوں گے
”یہ عاجز بار بار یہی کہتا ہے کہ اے بھائیو! میں کوئی نیا دین یا کوئی نئی تعلیم لے کر نہیں آیا۔ بلکہ میں بھی تم سے اور تمہاری طرح ایک مسلمان ہوں اور ہم مسلمانوں کے لئے بجز قرآن شریف اور کوئی دوسری کتاب نہیں۔ جس پر عمل کریں یا عمل کرنے کے لئے دوسروں کو ہدایت دیں اور بجز جناب ختم المرسلین احمد عربی ﷺ کے اور کوئی ہمارے لئے ہادی اور مقتداء نہیں۔ جس کی ہم پیروی کریں۔ یا دوسروں سے کرانا چاہیں تو پھر ایک متدین مسلمان کے لئے میرے اس دعوے میں ایمان لانا جس کی الہام الٰہی پر بنیاد ہے کوئی اندیشہ کی جگہ نہیں۔ اگر بفرض محال میرا یہ کشف والہام غلط ہے جو کچھ مجھے ہورہا ہے اور اس کے سمجھنے میں میں نے دھوکہ کھایا ہے تو ماننے والے کا اس میں کیا حرج ہے۔ کیا اس نے کوئی ایسی بات مان لی جس کی وجہ سے اس کے دین میں کوئی رخنہ پیدا ہوسکتا ہے۔ اگر ہماری زندگی میں سچ مچ حضرت مسیح ابن مریم ہی آسمان سے اتر آئے تو دل ماشاد اور چشم ماروشن ہے۔ ہمارا گروہ سب سے پہلے اسے قبول کر لے گا۔“
(ازالۃ اوہام ص ١٨٢، خزائن ج ٣ ص ١٨٧، ١٨٨)
مندرجہ بالا مضامین کو چیستان مرزا کہنا زیادہ موزوں ہے۔ بہرحال مرزا قادیانی کی ہیجانی حالت کا ایک بے قرار نقشہ ہے۔ جسے کسی صورت میں قرار ہی نہیں کبھی وہ شیر ہیں تو کبھی چیتے، کبھی گیدڑ ہیں تو کبھی کوا۔
سيهديهم طريق الهالكين
یعنی جب کوا کسی قوم کا راہنما ہو گا تو یقیناً سوائے ہلاکت کے کسی نیک راستہ پر نہ چلا سکے گا۔
کہاں نبی، کہاں محدث، کہاں مجدد اور کہاں کرشن ۔ بخدا گرگٹ کو رنگ بدلتے یوں نہ دیکھا اور وہ مفت میں بدنام ہوئی۔ یہاں تو بہروپیوں کی بھی توبہ ہے۔ وہ بیچارے بھی بیسوں تدابیر اختیار کرتے ہیں۔ تب کہیں محنت ٹھکانے لگتی ہے اور یہاں تو ہینگ لگتی ہے نہ پھٹکری اور رنگ چوکھا آتا ہے۔ بس بیٹھے بٹھائے جو چاہیں بن جائیں اور جو چاہیں کہہ دیں اور تائید میں الہام رؤیا مکاشفات ستیاناسی کر جائیں بس چھٹی ہوئی۔ ایک بات ہو تو کچھ کہیں یہاں ہر چیز ہی نرالی ہے اور کچھ دماغ ہی عیاشی عطاء ہوا ہے اور حافظہ نہایت کمزور اور نسیان کا زور ہے۔ آپ کو یہ یاد نہیں رہتا کہ پیچھے کیا کہہ آئے اور اب کیا کہہ رہے ہیں۔ چنانچہ آیت موصوفہ کا ترجمہ آپ نے (جنگ مقدس ص ٧، خزائن ج ٦ ص ٨٩) میں یہ کیا۔
”قد خلت من قبله الرسل اس سے پہلے بھی رسول ہی آتے رہے“ اور الرسل سے تمام رسول مراد لینا یہ بھی بعد میں خیال آیا۔ ورنہ جب تک توازن دماغ صحیح تھا تب تو وہ وہی صحیح ترجمہ کرتے تھے۔ جو تواتر قومی سے چلا آتا ہے۔ مثلاً (شہادت القرآن ص ٢٤، خزائن ج ٦ ص ٣٤٠) پر آیت ”ولقد آتينا موسى الكتاب وقفينا من بعده بالرسل“ کئی رسول کیا ہے۔
ایسا ہی مولوی نور دین تمہارے خلیفہ اوّل نے فصل الخطاب جلد اوّل ص ٢٥ حاشیہ پر ”اذا جائتهم الرسل“ کا ترجمہ جب آئے ان کے پاس رسولوں سے کئی ایک ”کیا سب رسول آگئے تھے۔ پھر تو مرزا کو بھی لائن کلیر ہوا ہوگا اور وہ دجال کے گدھے پر (ریل) سیکنڈ کلاس کے ریزرو ڈبے میں آیا ہوگا۔ ایسا ہی تمہارے بڑے بھائیوں کی مخصوص عادت بیان ہوتی ہے۔ ”ويقتلون النبين بغير حق (بقره:٦١)“ کیا سب نبی قتل کر دیئے گئے تھے۔ لا محالہ ماننا پڑے گا کہ ”ال“ استغراق کا نہیں جنس کا ہے۔ ایسا ہی خلت کا ترجمہ موت کرنا جہالت و نادانی ہے۔ اس لئے کہ کلام مجید کی بلاغت پر دھبہ آتا ہے۔ مثلاً کفار عذاب کے اترنے کا جلد تقاضہ کرتے تھے۔ ارشاد ہوا ”وقد خلت من قبلهم المثلات (الرعد:٦)“ شک کیوں کرتے ہو اس سے پہلے عذاب کی بہت سی مثالیں گزر چکی ہیں۔ اب تمہارے منشاء کے مطابق اس کا ترجمہ کریں کہ اس سے پہلے عذاب کی بہت سی مثالیں مر چکی ہیں۔ کیا یہ صحیح ہے ہرگز نہیں۔
مرزائیو! ایمان سے کہو یہ کیا بات ہے کہ آیت ”ما المسيح بن مريم الا رسول قد خلت من قبله الرسل (مائده:٧٥)“ سے تم مسیح کی موت نکال لیتے ہو اور ”وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل (آل عمران:١٤٤)“ سے جناب نبی کریمﷺ کی حیات سمجھ لیتے ہو۔ حالانکہ دونوں آیتیں آپؐ پر اتریں اور دونوں میں صرف نام مسیحؑ اور محمدﷺ کا فرق ہے۔ جو یقیناً کہہ رہی ہیں کہ دونوں زندہ ہیں۔ اس لئے کہ دونوں حضورﷺ کی زندگی میں نازل ہوئیں۔ یہ کیا وجہ ہے کہ ایک کے معنی موت اور دوسری کے معنی حیات سمجھے جائیں۔ کوئی ایسی تدبیر کرو کہ فرقان حمید سے یہ آیت مٹ جائے اور اگر ایسا کرنا محال ہے تو خود مٹ جاؤ یا یہ ناپاک خیال چھوڑ دو۔ سنو! تمہارے مرزا قادیانی مجدد دین کے انکار کو کفر سے تعبیر کرتے ہیں اور مجدد بھی وہ جو تمہارے مسلمہ ہیں۔
امام فخر الدین رازیؒ زیر آیت ”ما المسيح ابن مريم الا رسول قد خلت من قبله الرسل“ فرماتے ہیں۔ ”نہیں عیسیٰ مگر ایک رسول ایسے ہی جیسے کہ ان سے پہلے گزر چکے
ہیں ۔ عیسیٰ اللہ کی طرف سے ایسے ہی معجزات لے کر آئے تھے کہ جن کی مثل وہ پہلے رسول بھی لائے تھے۔ پس اگر اللہ تعالیٰ نے مادر زاد اندھوں اور برص والوں کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر اچھا کیا اور مردوں کو ان کے ہاتھ پر زندہ کیا تو موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر عصا زندہ کر کے اژدھا بنا دیا اور سمندر کو پھاڑ دیا اور اگر وہ بغیر باپ پیدا کئے گئے تھے تو آدم علیہ السلام ماں باپ دونوں کے بغیر پیدا کئے گئے تھے ۔“
(تفسیر کبیر ج ١١ ص ٦١)
امام جلال الدین سیوطیؒ (تفسیر جلالین ص ١٠٣) زیر آیت ”ما المسيح ابن مريم الا رسول قد خلت من قبله الرسل“ فرماتے ہیں۔ ”نہیں ہے مسیح ابن مریم مگر ایک رسول اس سے پہلے بھی بہت سے رسول گذر چکے ہیں ۔ پس وہ بھی ان کی طرح گزر جائے گا ۔ وہ اللہ نہیں جیسا کہ نصاریٰ خیال کرتے ہیں ۔“
نیز یہ کیا ایمانداری ہے کہ ایک الفاظ ایک ہی مضمون ایک جیسی آیت سے دو جدا گانہ مطلب ایک سے موت اور دوسری سے حیات لینا۔ کہاں کا انصاف اور کہاں کی دیانت ہے اور اس پر بودے سہارے تلاش کرنا کہ وہ کھانا کھاتے تھے۔ اب صدیقہ مر چکی اس لئے کھانا بھی مر چکا ۔ جیسے مرزا مر چکا اور کیا مرزا کا کھانا بھی موقوف ہو گیا۔ کیا غضب کرتے ہو۔ کیوں عقل کے پیچھے لٹھ لئے پھرتے ہو۔ وہ رب العالمین جو تمام جہاں کی ربوبیت فرماتا ہے۔ اس کے پاس مسیح کے کھلانے کو کیا کمی ہے۔ شرم کرو اس کے خزانے بھر پور ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ کبھی آپ کی لمبی عمر پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ خدا بھی زندہ موجود اور مسیح بھی زندہ موجود۔ اصل میں یہ سب دجل اور مغالطے ہیں۔ کیا خدا لمبی عمر دینے پر قادر نہیں ۔ کیا اس زمین پر کئی سو برس عمر پانے والے انسان نہیں گزرے ۔ کیا فرشتے جن اور شیطان چھوٹی عمروں والے ہیں۔ لمبی عمر پانا خدا ہونے کی دلیل نہیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی کو بھی اس پر اتفاق ہے۔ ہاں! موت سب کو آئے گی اور اس کا وقت مقرر ہے۔ وہ جب اپنے وقت معینہ پر آئے گی تو نہ مسیح کو چھوڑے گی اور نہ فرشتوں کو۔ چنانچہ مسیح کی موت کا ذکر اور وقت دیا ہوا ہے: ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته (نساء:١٥٩)“ اور نبی کریم کا وعدہ بھی موجود ہے: ”ثم يموت ويدفن معى فى قبرى (مشكوة ص٤٨٠، نزول عيسى علیہ السلام) “مگر ابھی یہ وقت نہیں آیا۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔”ان الله عنده علم الساعة (لقمان:٣٤)“ کوئی نہیں جانتا کہ قیامت کب ہوگی اور مسیح علیہ السلام کو ”وانه لعلم للساعة (زخرف:٦١)“ قرار دیا جا چکا ہے۔ یعنی مسیح علامات قیامت کی ایک نشانی ہے۔ سو جب قیامت وقوع پذیر ہوگی ۔ اس سے پہلے نشانات بھی ضرور آئیں گے۔ مگر عذاب کے لئے جلدی کرنا
شیوہ کفار ہے۔ جلدی نہ کرو۔ انتظار کرو۔ وہ ضرور آئے گی۔ اس لئے باری تعالیٰ نے تاکید فرمائی۔ خبردار شیطان تمہیں سیدھی راہ سے روک نہ دے اور یتیم مکہ نے حلف اٹھا کر فرمایا کہ مسیح قیامت کے قریب آسمان سے نازل ہوں گے: ”یریدون لیطفئوا نور اللہ بافواہم واللہ متم نورہ ولو کرہ الکافرون ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون (صف:٨، ٩)“
مگر نور اپنی ساعت میں رہا ہو کر تمام اس کا
”کفار ناپکار ارادہ کرتے ہیں کہ چراغ اسلام کو اپنی ناکام پھونکوں سے گل کر دیں۔ حالانکہ اللہ پورا کرے گا اس نور کو اگرچہ منکر پسند نہ کریں۔ اللہ وہ ذات پاک ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت ودین حق کا حامل بنا کر بھیجا۔ تاکہ غالب کر دے دین الہی کو جمیع ادیان باطلہ پر اگرچہ مشرک برا منائیں۔“
اس آیت کریمہ میں غلبہ دین تام کا وعدہ دیا گیا ہے۔ اصل میں یہ ایک زبردست پیش گوئی ہے۔ جو انشاء اللہ اپنے وقت پر پوری ہوگی۔ دنیائے عالم اور ان میں بسنے والی قومیں وہ یہودی ہوں یا مرزائی ، عیسائی ہوں یا ہندو تمام متفقہ طور پر اسلام سے جلتی اور مٹادینے کی کوششیں کرتی ہیں۔ مگر وہ جبار محافظ اس کی خود حفاظت کرتا ہے اور کرتا رہے گا۔ نہ اس کو کوئی مٹا سکتا ہے نہ مٹا سکے گا۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے ؎
اتنا ہی یہ ابھرے گا جتنا کہ دبادیں گے
غرضیکہ اعدائے دین کی کوشش ناکام و نامراد ہی رہیں گی اور شجر اسلام اپنے ڈال پات پھل پھول سے سرسبز وشاد کام ہی رہے گا۔ گو منکرین کے دل میں ناسور ہی نہ کیوں پڑیں یہ شمع ہدایت نہ بجھائے سے بجھی ہے نہ بجھے گی۔ کیونکہ اس کی بناو ہی کچھ ایسی زبردست رکھی گئی ہے۔ اللہ پاک ذات زبردست حکمت وقدرت والے نے ایک خاص الخاص رسول کو تبلیغ حقہ کے لئے پسند فرماتے ہوئے علم وعرفان سے بھر پور کر کے ہدایت وراہنمائی کے لئے اپنے پسندیدہ دین کے ساتھ اصلاح خلق کے لئے بھیجا۔ تاکہ تمام ملل باطلہ اور ادیان فاسدہ پر غالب آوے اور نیز رسالت کی روشنی کے سامنے وہ گیس ہوں یا بجلی کے قمقمے ، ستارے ہوں یا چاند سب خجل و شرمندہ ہوں اور حق باطل پر غالب آوے۔ اگر چہ مشرکین کے دل اس سے کڑھتے ہی کیوں نہ رہیں۔
اس آیت کریمہ میں جو سراسر رحمت کردگار کی خزینہ ہے اپنے انعام وبخشش کی انتہاء فرمائی ہے۔ چنانچہ دنیا کو ازبر ہے کہ وہ مٹھی بھر جماعت جب عرب کے ریگستان سے علم توحید لے کر اٹھی۔ چچا حالی کیا خوب کہہ گئے۔
پڑی چار سو یک بیک دھوم جس کی
کڑک اور دمک دور دور اس کی پہنچی
جو ٹیکس پہ گرجی تو گنگا پہ برسی
رہے اس سے محروم آبی نہ خاکی
ہری ہو گئی ساری کھیتی خدا کی
ہوا غلغلہ نیکیوں کا بدوں میں
پڑی کھلبلی کفر کی سرحدوں میں
ہوئی آتش افسردہ آتش کدوں میں
لگی خاک سی اڑنے سب معبدوں میں
ہوا کعبہ آباد سب گھر اجڑ گئے
جمے ایک جا سارے دنگل بچھڑ کر
حدیث شریف میں آیا ہے کہ یہ غلبہ دین ایک دفعہ پھر عیسیٰ علیہ السلام کے نزول من السماء کے زمانے میں ہوگا اور وہی غلبہ تام ہوگا اور اسی کے لئے سرکار مدینہ نے حلف اٹھاتے ہوئے وعدہ فرمایا ہے۔
”وعن عائشة قالت سمعت رسول اللہ ﷺ یقول لا یذھب اللیل والنھار حتی یعبد اللات والعزیٰ فقلت یا رسول اللہ ﷺ ان کنت لا اظن حین انزل اللہ ھو الذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ان ذالك تاماً قال انہ سیکون من ذالك ما شاء اللہ ثم یبعث اللہ ریحاً طیبةً فتوفی کل من کان فی قلبہ مثقال حبةٍ من خردل من ایمان فیبقیٰ من لا خیر فیہ فیرجعون الیٰ دین ابائھم (مشکوٰۃ ص٤٨١، باب لا تقوم الساعۃ الا علیٰ اشرار الناس)“ ”جناب ام المومنین عائشہ صدیقہ ؓ بیان فرماتی ہیں کہ میں نے آنحضرت ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ قیامت قائم نہ ہوگی۔ حتیٰ کہ بت پرستی کا دوبارہ زور شور نہ ہو۔ میں نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ میں تو جب آیت
”ھو الذی ارسل رسولہ بالھدیٰ“ نازل ہوئی۔ اس وقت سمجھ چکی تھی کہ دین کا غلبہ پورا ہو چکا۔ فرمایا تحقیق بات یہ ہے کہ اس کا غلبہ عنقریب پھر ہوگا۔ جتنا عرصہ اللہ چاہے گا۔ (مسیح ابن مریم کے زمانہ میں نزول کے بعد) پھر خدا ایک پاک ہوا بھیجے گا۔ جس سے ہر وہ مومن جس کے دل میں رائی کے دانہ برابر ایمان ہوگا۔ مر جائے گا۔ باقی رہ جائیں گے ایسے شخص جن میں ذرہ بھی بھلائی نہ ہوگی۔ پس وہ جھک جائیں گے اپنے آبائی دین بت پرستی کی طرف۔ ھ (مسلم ومشکوٰۃ)
”وعن عبداللہ بن عمرؓ وقال قال رسول اللہ ﷺ يخرج الدجال فيمكث اربعين يوما اوشھر اوعاماً فيبعث اللہ عیسیٰ بن مريم کانہ عروۃ بن مسعود فيطلبہ فيھلكہ ثم يمكث فی الناس سبع سنين ليس بين اثنين عداوۃ ثم يرسل اللہ ريحا باردۃ من قبل الشام فلا يبقى علىٰ وجہ الارض احد فی قلبہ مثقال ذرۃ من خير او ايمان الا قبضتہ حتى لوان احدکم دخل فی کبد جبل لدخلتہ عليہ حتى تقبضہ قال فيبقیٰ شرار الناس فی خفۃ الطير واحلام السباع لا يعرفون معروفا ولا ينکرون منكرا فيتمثل لھم الشيطان فيقول الا تستحيون فيقولون فما تامرنا فيامرھم بعبادۃ الاوثان وھم فی ذالك دار رزقھم حسن عيشھم ثم ينفخ فی الصور فلا يسمعہ احدالا اصغی ليتا ورفع ليتا قال واوّل من يسمعہ رجل يلوط حوض ابلہ فيصعق ويصعق الناس ثم يرسل اللہ مطرا کانہ الطل فينبت منہ اجساد الناس ثم ينفخ فيہ اخریٰ فاذاھم قيام ينظرون ثم يقال يا يھا الناس ھلم الیٰ ربکم قفوھم انھم مسئولون فيقال اخرجوا بعث النار فيقال من کم فيقال من کل الف تسعمائۃ وتسعۃ وتسعين قال فذلك يوم يجعل الولدان شيبا وذلك يوم يكشف عن ساق (مسلم ص٤٠٣، باب ذکر الدجال، مشکوٰۃ ص٤٨١، باب لاتقوم الساعۃ الا علی اشرار الناس، فصل اوّل) “
”حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ فرمایا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جب دجال نکلے گا تو ٹھہرے گا۔ چالیس (آگے راوی کو شک ہے) کہ آیا دن ہیں یا مہینے یا سال اس کے بعد اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو بھیجیں گے گویا کہ ان کی شکل حضرت عروہ بن مسعودؓ کی ہے۔ (یہ صحابی ہیں جو خوبصورت تھے) پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام چھ سات سال لوگوں میں ٹھہریں گے۔ (وہ ایسا زمانہ برکت کا ہوگا) کہ دو آدمیوں کے درمیان خصومت نہ ہوگی۔ اس
کے بعد اللہ تعالیٰ شام کے طرف سے ٹھنڈی ہوا بھیجیں گے۔ جس کی وجہ کوئی آدمی جس کے قلب میں رائی برابر بھی ایمان ہو سب فوت ہو جائیں گے۔ اگر کوئی آدمی پہاڑ کے اندر بھی چلا گیا ہے تو وہاں بھی وہ ہوا اس کو مار ڈالے گی۔ اس کے بعد وہ ظالم لوگ رہیں گے جو بمنزلہ تیزی پرندوں اور مثل درندوں کے ہوں گے۔ (یعنی شہوت کی طرف جلدی جانے والے اور نہایت درندانہ ظلم کرنے والے) نہ نیکی کو نیکی سمجھیں گے نہ برے کو برا سمجھیں گے۔ پس ان کے سامنے شیطان متمثل ہو کر آئے گا آ کر کہے گا اور کیا تمہیں حیا نہیں آتی۔ پس لوگ کہیں گے کہ تیرا کیا فرمان ہے۔ پس شیطان ان کو کہے گا اور کیا ہے صرف بتوں کی عبادت کرو تو اس وقت وہ لوگ اپنا رزق وافر پانے والے ہوں گے۔ (جیسے بارش برستی ہے) بہتر ہو گی ان کی زندگانی۔ پھر صور پھونکی جائے گی۔ جب وہ صور سنیں گے تو سننے والا ایک طرف گرے گا تو دوسرے طرف سے اٹھے گا۔ یعنی گھبراہٹ ہوگی سب سے اوّل صور وہ شخص سنے گا جو اونٹنیوں کے لئے حوض صاف کرتا ہے۔ پس وہ شخص ہلاک ہوگا اس کے بعد سب لوگ ہلاک ہو جائیں گے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ بارش بھیجیں گے گویا کہ وہ شبنم ہے جس سے لوگوں کے بدن اگیں گے۔ پھر دوسری بار صور پھونکی جائے گی۔ پس سب کے سب انتظار میں کھڑے ہوں گے۔ پھر کہا جائے گا چلو اپنے رب کے ہاں۔ ٹھہرو ابھی تم سے سوال ہوتا ہے۔ پس کہا جائے گا نکالو جہنم کے لئے تو کہا جائے گا کتنے کتنے کہاں سے نکالیں تو کہا جائے گا ہزار سے نو سو ننانوے نکالو باقی رہنے دو۔ (گویا ہزار سے ایک جنتی باقی جہنمی) پس یہی وہ دن ہے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا اور یہ وہ دن ہے جو ظاہر ہوگا امر عظیم۔‘‘
غرضیکہ یہ آیت کریمہ اور احادیث صحیحہ ہر اس فرد کو مجبور کرتی ہیں جو کلمہ طیبہ لا اله الا الله محمد رسول الله! پر ایمان رکھتا ہو وہ ضرور اس بات پر حق الیقین رکھتا ہے کہ مسیح ابن مریم علیہ السلام نے ابھی جام موت کو نہیں چکھا۔ کیونکہ سرکار مدینہ ارشاد فرماتے ہیں کہ قیامت قائم ہی نہ ہوگی جب تک مسیح ابن مریم کا نزول نہ ہو اور پیش گوئی کے الفاظ تقاضہ کرتے ہیں کہ تمام اہل کتاب ”يد خلون فی دین الله افواجا“ ہو جائیں اور کرہ زمین پر کوئی ایسا متنفس باقی نہ رہے جس کے دل میں رائی کے دانے برابر ایمان ہو۔ وہ اس پاک ہوا سے جام موت نہ پیئے اور باقی جو رہیں وہ اشرار رہ جائیں اور وہ بت پرستی میں محو ہو جائیں۔ چنانچہ ہمارے اس نظریے کی مرزا قادیانی بھی تائید کرتا ہوا کہتا ہے اور اس کتاب میں لکھتا ہے۔ جسے براہین احمدیہ کہا جاتا ہے اور یہ وہ کتاب ہے جو قطب ستارے سے زیادہ محکم ہے۔ یعنی اس کے لفظ لفظ کی جنبش غیر ممکن ہے۔ کیونکہ اسے سرکار مدینہ سے رجسٹری کرایا گیا ہے اور یہ تربوز کی شکل میں واپس کی گئی تھی۔ جو
مرزا قادیانی کی کہنیوں اور داڑھی کی ستیاناسی کر گئی۔ یعنی تربوز کا میٹھا رس مرزا کی کہنیوں اور داڑھی کو تر کر گیا اور اسے قطبی بھی کہتے ہیں یہ وہ کتاب ہے جس کی پچاس جلدوں اور تین سو دلائل کے وعدوں پر غریب مسلمانوں کی گاڑھے کی کمائی دھوکہ دیتے ہوئے لوٹی گئی اور لاکھوں جمع کئے گئے۔ مگر جس کا حشر یہ ہوا کہ تین سو دلائل سے تین بھی دینے کی ہمت و توفیق نہ ہوئی اور جلدوں کے متعلق یا مظہر العجائب پچاس جلدوں میں پینتالیس غائب اور وہ بھی انٹ سنٹ الہام بے معنی و بے ربط تفسیر اور لمبے لمبے وعدے چند جھوٹے خواب اور بناوٹی مکاشفات اور تمہیدی باتیں اس میں یہ ہوگا وہ ہوگا۔ گویا مقدمہ میں ختم کرتے ہوئے الزام خدا پر رکھ دیا گیا کہ اب اس کا کام خدا نے اپنے ہاتھ سے لے لیا اور قادیانی خدا کی عادت تو سبھی جانتے ہیں کہ وہ وعدہ ایفائی کو جانتا ہی نہیں۔ سچ ہے غالب کیا خوب کہہ گئے ؎
تو مشق ناز کر خون دو عالم میری گردن پر
الغرض اس کتاب (براہین احمدیہ حاشیہ ص ٤٩٨، خزائن ج ١ص ٥٩٣) پر فرماتے ہیں کہ:
”هو الذى ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله“ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں یہ ایک پیش گوئی ہے اور جس میں غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے۔ وہ غلبہ مسیح کے ذریعے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لاویں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق واقطار میں پھیل جائے گا۔“
مندرجہ بالا حوالے سے واضح طور پر عیاں ہے کہ مسیح ابن مریم کی دوبارہ آمد کے وقت اللہ تعالیٰ اسلام کو جمیع اکناف عالم میں فروغ دے گا اور مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ یہ ایک پیش گوئی ہے جو مسیح ابن مریم کے ساتھ جسمانی تعلق رکھتی ہے۔ اس لئے اس کا آنا ضروری ہے۔ ہمیں تو مرزا قادیانی کے اس قول کے ساتھ پورا پورا اتفاق ہے۔ دیکھیں کون کون نیم یہودی اپنے پنجابی نبی کی عزت کرتا ہوا اس کے سامنے سرتسلیم خم کرتا ہے۔ کیونکہ نبی جھوٹ تھوڑا ہی بولتے ہیں اور اگر قرآنی استدلال کی وجہ سے کسی کی رگ الحاد پھڑکنے سے نہ رکے تو مرزا قادیانی کی الہامی زبان اور اس معتبر کتاب سے جسے آیت کہہ کر بیان کیا گیا ہے اور جو فرقان حمید میں تو ان الفاظ میں نہیں ہے۔ ایک اور چیز پیش کرتے ہیں دیکھیں کون کون خوش نصیب ایمان لاتا ہے۔
(براہین احمدیہ حاشیہ ص ٥٠٥، خزائن ج ١ص ٦٠١، ٦٠٢) پر ارشاد ہوتا ہے کہ:
”عسى ربكم ان يرحم عليكم وان عدتم عدنا وجعلنا جهنم للكافرين حصيرا“ خدا تعالیٰ کا ارادہ ہے جو تم پر رحم کرے اگر تم نے گناہ اور سرکشی کی طرف رجوع کیا تو ہم بھی سزا اور عقوبت کی طرف رجوع کریں گے اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لئے قید خانہ بنا رکھا ہے۔ یہ آیت اس مقام میں حضرت مسیح کے جلالی طور پر (نازل) ہونے کا اشارہ ہے۔ یعنی اگر طریق رفق اور نرمی اور لطف احسان کو قبول نہیں کریں گے...... تو وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ جب خدا تعالیٰ مجرمین کے لئے عصف قہر اور سختی کو استعمال میں لائے گا اور حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے اور تمام راہوں ...... کو صاف کر دیں گے۔ کج اور ناراست کا نام ونشان نہ رہے گا اور جلال الہی گمراہی کو نیست ونابود کر دے گا۔ یہ میرا زمانہ اس زمانہ کے لئے بطور ارہاص واقع ہوا...... اب بجائے اس کے رفق اور احسان سے اتمام حجت کر رہا ہے ’توبوا واصلحوا والى الله توجهوا “ توبہ کرو اور باز آؤ اور اللہ کی طرف توجہ کرو۔“
مرزا قادیانی کا یہ الہام مسیح ابن مریم کی آمد کی خبر ایک ایسے انداز میں پیش کرتا ہے جسے پیش گوئی سے تعبیر کیا جائے تو زیادہ انسب ہے۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ مرزا قادیانی کہتے ہیں اور مرزائیو! اگر تم نے رحمت اللعالمین سرکار بطحاء سے کنارہ کشی کی اور سرکشی پر اتر آئے یعنی وہ چیز جس کے لئے سرکار مدینہؐ نے حلف اٹھائے ہیں۔ نہ مانا تو اللہ تعالیٰ کے قہر وغضب کے لئے تیار ہو جاؤ۔ کیونکہ وہ ارشاد کرتا ہے ”فلا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم (نساء:٦٥)“ یعنی قسم ہے اے محمدؐ تیرے رب کی جب تک یہ لوگ تمہیں اپنا حکم نہ مان لیں گے اور تیرے ہر حکم پر سرتسلیم خم نہ کر دیں گے۔ تب تک یہ ایماندار ہی نہیں ہو سکتے۔ اب انصاف سے کہئے وہ ایماندار کس طرح ہوا جو فرمان رسالت کی تکذیب کرتا ہوا تاویلیں ڈھونڈتا اور کفر کی گہرائیوں میں غوطے لگاتا ہے۔ حالانکہ حضورؐ نے بار بار فرمایا ”والذي نفسي بيده ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم (مشكوة ص٤٧٩، باب نزول عيسى عليه السلام) “ یعنی قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ تحقیق ضرور نازل ہوگا تم میں مسیح ابن مریم اب انصاف کیجئے کہ اللہ تعالیٰ رب محمدؐ کی حلف اٹھائے کہ وہ لوگ مسلمان نہیں ہو سکتے جو تیرے حکم سے سرمو فرق کریں۔ یا اپنے دل کے اندر ہی کچھ خیال کریں اور یتیم مکہ خدا کی قسمیں کھائے اور مسیح ابن مریم کے آنے کی پیش گوئی کرے اور قرآن کریم کی آیات کو ضامن ٹھہرائے اور وقت موقعہ اور نشانات بیان ہوں۔ وہ بدبخت وسرکش نہیں جو انکار کرے تو اور کیا ہے؟ اور جہنم ایسے بے پیروں کے لئے نہیں تو اور اب کس کے لئے ہے؟۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں سرکش نہ بنو ورنہ جہنم میں جلائے جاؤ گے۔ ایمان لاؤ کہ مسیح ابن مریم
جلالت کے ساتھ آسمان سے اتریں گے اور میں تو غربت اور درویشی سے تنگ ہو کر مجبوراً پیٹ پوجا کے لئے آیا ہوں۔ مسیح ابن مریم کے زمانے میں سرور عالم کا ارشاد ہے۔
”ویفیض المال حتٰی لا یقبله أحد حتٰی تكون السجدة الواحدة خیر من الدنیا وما فیها (مشکوٰة ص٤٧٩، باب نزول عیسٰی علیه السلام)“ یعنی مال و دولت کی گویا ایک نہر چلے گی۔ لوگ درہم و دینار سے ایسے بے نیاز ہوں گے کہ ڈھونڈے سے کوئی لینے والا نہ ملے گا۔ لوگ اس قدر مستغنی ہو جائیں گے کہ جس کو کہا جائے گا کہ ہزاروں درہم لے تو وہ استغفار سے جواب دے گا یہ سنہری ٹکیاں میرے کس مصرف کی۔ اس سے بہتر ہے مالک الملک کا ایک سجدہ۔ مگر میرا زمانہ جو مسیح کے زمانے کے لئے بطور ارہاص ہے اور درویشی اور غربت کے رنگ میں ہے۔ ایک ایک آنہ کے لئے خدا کی جھوٹی قسمیں اور روٹی کے لئے جان کو تلف کرنے کا ہے۔ میرے زمانے میں فقیروں کی کثرت چوروں کی برکت راہزنوں کی ترقی اور لوٹ اور مار کی گرم بازاری ہے۔ دنیا مردار کے پیچھے کتوں کی طرح لگی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے جو میری تعلیم میں چندوں کی گرم بازاری ہے اور یہی میری فتوحات ہیں جو ایک سال میں کم از کم دو لاکھ روپے تک پہنچتی ہیں اور ایسی فتوحات کی خبریں کم از کم پچاس ہزار سے زیادہ ہیں۔ جو مجھے میرے خدا نے بھیجی جن کو میں الہام کہتا ہوں۔ نیز میرے زمانہ میں فسق و فجور قمار بازی و راہزنی و حرامکاری اور سیاہ باطنی کا دور دورہ ہے۔ مگر مسیح ابن مریم کے زمانہ میں پرہیز گاری اور تقویٰ، راست بازی اور سلامت روی، نیکو کاری اور ایمانداری کا خوش منظر ہوگا۔ اس کے بعد مرزا قادیانی فرماتے ہیں تو ”توبوا اصلحو الیٰ اللّٰہ توجہوا“ یعنی اے مرزائیو توبہ کرو اور اصلاح کرو یعنی یہ خیال فاسد چھوڑ دو کہ مسیح مر چکا اور وہ کشمیر محلہ خان یار میں دفن ہوا۔ توبہ کرو اور ابھی اصلاح کا موقعہ ہے توبہ کا دروازہ کھلا ہے اور اللہ غفور رحیم ہے۔ باز آؤ ان توہم باطلہ کو چھوڑ دو ایسے لغو قصے نہ مسیح ابن مریم ابھی مرا اور نہ کسی بدبخت و شقی نے اس کو پھانسی دیا۔ خدا کی طرف توجہ کرو۔ یعنی اللہ فرماتا ہے ”وانه لعلم للساعة (زخرف:٦١)“ یعنی مسیح ابن مریم تو قیامت کے علامات سے ایک نشان ہے۔ ”فلا تمترن بھا“ یعنی پھر تم کیوں شک کرتے ہو کیا قیامت آچکی جو تم مسیح کے آنے کا تقاضہ کرتے ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ”ان اللّٰہ عنده علم الساعة (لقمان:٣٤)“ یعنی کوئی نہیں جانتا کہ قیامت کب ہوگی۔ بہرحال اس کا ایک وقت معین ہے وہ جب ہوگی۔ مسیح ابن مریم اس کے قریب نازل ہوگا مرزا قادیانی یہ بھی کہتے ہیں اس وقت نرمی اور منت سے تمہیں یہ صحیح تعلیم دی جاتی ہے۔ تم خدا کی غیرت کو چیلنج مت کرو۔ کیونکہ ایسا کرنے سے وہ
بھی قہر اور سختی کو استعمال میں لائے گا۔ پھر نہ بہشتی مقبرہ ہوگا نہ مل منارہ۔ اس لئے توبہ کرو اور باز آؤ اور اللہ کی طرف توجہ کرو جو اپنی بادشاہتی میں بڑا ہی زبردست اور بڑا ہی حکمت والا ہے۔
خامہ انگشت بدندان ہے اسے کیا کہئے
اس آیت ممدوحہ اور احادیث صحیحہ اور اقوال مرزا پر خود مرزا قادیانی اور ان کی بے پیندے کی نبوت کے محافظ اعتراض کرتے ہیں کہ براہین احمدیہ میں مرزا قادیانی نے یہ عقیدہ رسمی طور پر مسلمان ہوتے ہوئے کہہ دیا اور نہ جب وہ مرزائی ہوئے یعنی جب ان کے خدا نے ان سے الہام بازی کی اور الہامات کا مینہ برسا تو مرزا قادیانی کا اسلامی عقیدہ بھی اس میں بہہ کر مرزائی ہوگیا۔ یعنی انہوں نے حیات مسیح کا انکار کر دیا اور اس کے بعد انہوں نے اس کی ازحد تردید کی اور اسے شرکیہ عقیدہ قرار دیا۔ جواب اس کا یہ ہے کہ نبی دنیا میں اس لئے آتے ہیں کہ کفر و شرک کو نیست و نابود کردیں۔ خیالات فاسدہ کو مٹادیں اور توحید و سنت کو رائج کریں۔ اس لئے نہیں آتے کہ باون سالہ زندگی تک مشرک بنے رہیں اور شرک کی تعلیم دیتے رہیں۔ حالانکہ وحی کے آنے کا اقرار اس صورت میں کریں۔ جیسا کہ انبیائے سلف نے کیا۔ حسب ذیل کلام مرزا غور سے پڑھیں۔
"حضرت مسیح موعود وحی نبوت اور غیر نبی کی وحی میں یہ فرق بتاتے ہیں۔ نبوت کے مکالمے میں کثرت ہوتی ہے اور عام مکالمہ الہیہ میں کثرت نہیں ہوتی ...... اور نبوت کی وحی اور مکالمہ اور دوسرے لوگوں کے مکالمہ میں فرق کثرت اور کیفیت اور کمیت کا ہوتا ہے۔ پس کثرت اور قلت صفائی اور مکدر کا فرق ثابت کر دینا کہ مکالمہ نبوت کا کیا ہے اور دوسرا کیا ۔"
(ملفوظات ج ٥ ص ٥٤، ٥٥ ملخصاً)
"پس اسی وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔ کیونکہ کثرت وحی اور کثرت امور غیبیہ اس میں شرط ہے۔ وہ شرط ان میں نہیں پائی جاتی۔"
(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٧)
"ان الوحى كما ينزل على الانبياء كذالك ينزل على الاولياء ولا فرق فى نزول الوحى بين ان يكون الى نبى او ولى ولكل حظ من مكالمات الله ومخاطباته على حسب المدارج نعم لوحى الانبياء شان اتم واكمل واقوى اقسام الوحى وحى رسولنا خاتم النبيين"
(تحفہ بغداد ص ٢٠، ٢١ حاشیہ، خزائن ج ٧ ص ٢٧، ٢٨)
”اس امت میں بھی وحی یقینی اور قطعی کا وجود ضروری ہے تا یہ امت بجائے افضل الامم ہونے کے احقر الامم نہ ٹھہرے۔ سو خدا نے آخری زمانہ میں اکمل اور اتم طور پر یہ نمونہ دکھایا۔“
(نزول المسیح ص ٨٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
”در حقیقت اکثر انبیاء کے معجزات کی نسبت یہ معجزات اور پیش گوئیاں ہر ایک پہلو سے بہت قوی اور بہت زیادہ ہیں۔“
(نزول المسیح ص ٨٤، ٨٣، خزائن ج ١٨ ص ٤٦٢)
”اس دعاء میں اس انعام کی امید دلائی گئی جو پہلے نبیوں اور رسولوں کو دیا گیا اور ظاہر ہے کہ ان تمام انعاموں میں سے بزرگ تر انعام وحی یقینی کا انعام ہے۔“
(نزول المسیح ص ١٠٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٨٧)
”میں نے محض خدا کے فضل سے نہ اپنے ہنر سے اس نعمت کا کامل حصہ پایا جو مجھ سے پہلے نبیوں اور رسولوں اور خدا کے برگزیدوں کو دی گئی تھی۔“ (حقیقت الوحی ص ٦٢، خزائن ج ٢٢ ص ٦٤)
”جیسا کہ تمام انبیاء علیہم السلام کی وحی حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آنحضرت ﷺ تک از قبیل اضغاث احلام وحدیث النفس نہیں ہے۔ ایسا ہی یہ وحی بھی ان شبہات سے پاک اور منزہ ہے۔“
(نزول المسیح ص ٨١، خزائن ج ١٨ ص ٤٦٠)
”سو اس امت میں وہ ایک شخص میں ہی ہوں جس کو اپنے نبی کریم کے نمونہ پر وحی اللہ پانے میں تیس برس تک مدت دی گئی۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ٢٢، خزائن ج ١٧ ص ٤٠٩)
”ہماری تمام بحث وحی نبوت میں ہے ..... یعنی ٢٣ سالہ مدت میں وحی کا ہونا ..... بے ایمانوں کی طرح قرآن شریف پر حملہ کرنا اور آیت ’لَوْ تَقَوَّلَ‘ کو ہنسی ٹھٹھا میں اڑانا ان شریر لوگوں کا کام ہے۔ جن کو خدا تعالیٰ پر ایمان نہیں۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ١٢، خزائن ج ١٧ ص ٤٤٧)
”میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں۔ جیسا کہ اس نے ابراہیم سے مکالمہ مخاطبہ کیا اور پھر اسحٰق سے اور اسماعیل سے اور یعقوب سے اور یوسف اور موسیٰ سے اور مسیح ابن مریم سے اور سب کے بعد ہمارے نبی اکرم ﷺ سے ..... ایسا ہی اس نے مجھے اپنے مکالمہ اور مخاطبہ کا شرف بخشا۔“
(تجلیات الٰہیہ ص ١٩، خزائن ج ٢٠ ص ٤١١)
اور یہ بھی بتا دوں کہ مرزا قادیانی نے وحی کے آنے کا اقرار چالیس سالہ عمر میں کیا ہے اور چالیس سالہ عمر سے لے کر باون سالہ عمر تک یعنی پورے بارہ برس تک شرک کیا اور شرک کی تعلیم دی۔ ایسا مشرک نبی اور ایسا بد اعتقاد رسول جس کی بارہ برس وحی منت گذاریاں کرتی رہی کہ تو رسول اللہ ہے تو مسیح سے افضل ہے۔ تیری وحی تمام انبیاء سے بالا ہے۔ مگر وہ میں نہ مانوں میں نہ
مانوں ہی کرتا رہا اور نہ مانا اور مانا بھی تو پورے بارہ برس بعد پنجابی ایک مثل مشہور ہے۔ بارین ورہیں رب روڑی دی بھی سنندا اے۔ سو مرزا قادیانی کی بھی سنی گئی اور وہ خیر سے مسیح ابن مریم ، عیسیٰ ابن مریم عیسیٰ بن گئے۔ اسی بارہ سالہ مدت میں وہ منارہ بھی تعمیر ہوا۔ جس کا تذکرہ احادیث نبویہ میں ہے اور جو دمشق میں ہے۔ مشرکی عقیدہ کا جواب یہ ہے کہ مرزا قادیانی براہین احمدیہ کے وقت رسول اللہ ہونے کا دعویٰ کر چکے تھے۔ جیسا کہ وہ خود اس کا اقرار کرتے ہیں۔
(ایک غلطی کا ازالہ ص٢، خزائن ج ١٨ص ٢٠٦، ایام صلح ص ٧٥، خزائن ج ١٤ص ٣٠٩)
اور مرزا قادیانی کا یہ قول بھی ملاحظہ کریں
”انبیاء کرام کے اقوال وافعال، اجتہادات و آراء سب کے سب بوحی خدا ہوتے ہیں ۔ انبیاء کی اپنی ہستی بالکل فنا ہو جاتی ہے۔ وہ خدا کے ہاتھ میں مردہ یا کٹھ پتلی کی طرح ہوتے ہیں۔ ان سے وہ طاقت ہی سلب کر لی جاتی ہے جس سے خلاف مرضی خدا کام کیا جاسکے۔“
(ریویو ج ١ ص ١٢٧ تا ١٢٨ مئی ١٩٠٢ء)
اور مرزائیو ! کیا مرزا قادیانی کا کلام اور وحی تمہارے لئے بطور حجت کے نہیں۔ کیا نبوت اسی چیز کا نام ہے۔ صبح آدمی اور رات عورت کبھی دن کو رات اور رات کو دن بارہ برس شرک کی تعلیم دی اور بارہ برس اسی تعلیم کو مٹانے میں کاٹی۔ یہ عجب قسم کی نبوت ہے۔ ایک بات یاد آئی کہہ دوں برا نہ ماننا کیا تمہارے نبی کی ہر بات صداقت سے کوسوں دور ہی ہوتی ہے۔ سنو اور سوچ کر جواب دو براہین احمدیہ کی جب رجسٹری تمہارے مرزا نے دربار رسالت سے کرائی۔ اس وقت یہ مشرکانہ عقیدہ اس میں نہ تھا۔ کیا یہ اس وقت نکال کر رجسٹری ہوئی تھی ہرگز نہیں۔ کیا حضور اکرم ﷺ نے اس شرکیہ عقیدہ کو نہ دیکھا تھا۔ ظاہر ہے کہ ضرور دیکھا ہوگا۔ کیا تربوز کڑوا تھا یا میٹھا جو مرزا قادیانی غٹ غٹ کر پی گئے۔ ہوش کی دوا لو اور عقل سے کام لو۔ ایک معمولی رجسٹرار قبالے کا ایک ایک لفظ دیکھ کر اور پوچھ پوچھ کر دستخط کرتا ہے اور کافۃ للناس رسول جس کا دور رسالت رہتی دنیا تک رہے گا۔ یونہی دستخط کر دے گا اور ایسے عقیدہ پر جو شرک فی التوحید ہو اور جس کی زد اربوں آدمیوں پر پڑتی ہو۔ ایمان سے کہو!
وہ ذات کردگار قیامت کے دن کس طرح غریب مخلوق سے سوال کر سکتی ہے۔ جس کے قائدین اور ریفارمر ہی مشرکانہ تعلیم دیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ یہ خیال ہی مردود ہے نہ حیات مسیح کا عقیدہ شرکیہ ہے اور نہ ہو سکتا ہے۔ اس لئے کہ قرآن کریم اس کی تعلیم کو جاری کرتا ہے اور قرآن
ناطق حلف اٹھاتے ہوئے اس پر ایمان رکھتا ہے اور ایمان لانے کی تاکید کرتا ہے۔ باقی رہا طبعی عمر پانے کا مسئلہ تو وہ مالک جو نہ شمار ہونے والی مخلوق ملائکہ کو لمبی زندگی عطاء کر سکتا ہے وہ ایک انسان کو بھی ایک وقت معین تک زندہ رکھنے پر قادر ہے تم ہو کون جو اس کی ذات پر پھبتیاں اڑاتے ہو اپنی پیدائش کو سوچو وہ گندہ منی کا ناپاک قطرہ جو ماں کے رحم میں گندے اور ناپاک خون سے پرورش پاتا ہوا اس کی قدرت و حکمت پر طعنہ زنی کرتا ہے۔ تف ہے تمہاری عقل پر اور تمہارے بودے خیال پر کہ مسیح کو کھانا کون دیتا ہے۔ وہی دیتا ہے جو تمہاری ماں کے پیٹ میں شکلیں بناتا ہے۔ ”ھو الذی یصورکم فی الارحام کیف یشاء (آل عمران:٦)“ کبھی تم نے ماں کے پیٹ میں شکل بنتے دیکھا ہے۔ وہی آسمان پر بھی رزق پہنچاتا ہے۔ جو پتھر میں کیڑے کو تازہ بتازہ سبز پتے دیتا ہے وہی مسیح کو کھلاتا ہے۔ جو صدف میں کیڑے سے موتی بناتا ہے۔ وہی کھانے کو دیتا ہے۔ جو آہو کو نافہ بخشتا ہے۔ اس کے خزانوں میں کس چیز کی کمی ہے۔ مگر افسوس جاہل اور نادان نہیں جانتے۔
فتدبروا ايها الحواريون للدجال
بخدا تمہارے بودے استدلال پر مجھے ہنسی آتی ہے۔ اس شرکیہ عقیدے کو یوں کہہ کر مرزا قادیانی کے سر سے ٹالا جاتا ہے کہ رسول اکرم ﷺ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے جب تک وحی الٰہی قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کی نہ آئی۔ مولانا ظفر علی خان قبلہ نے کیا خوب کہا۔
عدل اور مساوات کی بھی فلسفہ چھانٹے
اس سے تو کہیں اچھا ہے وہ لنڈن ہی کا اندھا
بھر بھر کر مٹن چاپ جو اپنوں ہی میں بانٹے
”اولئك الذين آتينهم الكتاب والحكم والنبوة فان يكفر بها هؤلاء فقد وكلنا بها قوماً ليسوا بها بكفرين ٭ اولئك الذين هدى الله فبهدهم اقتده قل لا اسئلكم عليه اجراً ان هو الا ذكرى للعلمين (انعام: ٨٩ ، ٩٠)“ ﴿یہی وہ لوگ تھے جن کو دی ہم نے کتاب اور شریعت اور نبوت پھر اگر ان باتوں کو نہ مانے مکہ والے تو ہم نے ان باتوں کے لئے مقرر کر دیئے ہیں۔ ایسے لوگ جو ان سے منکر نہیں۔ یہ وہ لوگ تھے جن کو ہدایت کی اللہ نے، سو تو چل ان کے طریقہ پر۔ تو کہہ دے کہ میں نہیں مانگتا تم سے اس پر کچھ مزدوری یہ تو محض نصیحت ہے جہان کے لوگوں کو۔﴾
تمام انبیاء علیہم السلام عقائد اصول دین اور مقاصد کلیہ میں متحد ہیں۔ سب کا دستور اساسی ایک ہے۔ ہر نبی کو اس پر چلنے کا حکم ہے۔ آپ بھی اسی طریق مستقیم پر چلتے رہنے کے لئے مامور ہیں۔ گویا اس آیت میں متنبہ کر دیا کہ اصولی طور پر آپ کا راستہ انبیائے سابقین کے راستے سے جدا نہیں رہا۔ فروع کا اختلاف وہ ہر زمانہ مناسبت واستعداد کے اعتبار سے پہلے بھی واقع ہوتا رہا ہے۔ یتیم مکہ کی بعثت سے پہلے بیت المقدس کو قبلہ قرار دیا چکا تھا۔ اس لئے انبیائے سلف کی سنت پر آپ بھی عامل رہے۔ مگر آپ کے جدامجد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعاء ”ربنا وابعث فيهم رسولا منهم يتلوا (بقرہ:١٢٩)“ کے مطابق ”ان اول بیت وضع للناس للذى ببكة مباركا وهدى للعالمين (آل عمران:٩٦)“ ارشاد باری ہوا تو آپ نے اسی پر عمل کیا اور اسی وقت کیا۔ یعنی آپ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا رہے تھے۔ ارشاد باری اسی حالت میں ہوا۔ حضورﷺ اسی حالت میں ایڑیوں پر گھومتے ہوئے قبلہ رو ہو گئے اور یہ بھی بتا دوں کہ موجودہ قبلہ کیا تھا۔ چچا حالی کیا خوب کہہ گئے:
خلیل ایک معمار تھا جس بنا کا
ازل نے مشیت سے تھا جس کو تاکا
کہ اس گھر سے ابلے گا چشمہ ہدیٰ کا
وہ تیرتھ تھا اک بت پرستوں کا گویا
جہاں نام حق کا نہ تھا کوئی جویا
مشیت ایزدی کو غیرت نے تقاضہ کیا۔ کعبۃ اللہ نے زبان حال سے استدعا کی۔ مولا میری بنا تیرے دوست نے تیرے حکم سے رکھی تھی۔ تیرے ہوتے ہوئے تیرا گھر بتوں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔ ارشاد باری ہوا: اے محمدﷺ ”واتخذوا من مقام ابراهيم مصلى (بقرہ:١٢٥)“ حضورﷺ نے آن واحد میں اس حکم کی تعمیل کی۔ یہ نہیں کیا کہ بارہ برس تک سراسر وحی منت گذاریاں کرتی رہی اور کذاب قادیان کے ماتھے پہ جوں بھی نہ رینگی۔ وہ وحی ہی کیا ہوئی کوڑ مغز ہوا جو بارہ برس مشیت الٰہی کے خلاف چلتا رہا۔ پھر بھی نبی اور رسول کے مبارک نام کی تذلیل کرے اور پھر چھوٹی سی لغزش نہیں شرک کرتا رہا۔ اللہ اللہ مشرک نبی کبھی نہ سنا تھا۔ مگر پنجاب میں دیکھ لیا۔ حیف ہے امت پر جو نبوت پہ عنکبوت کے تار بن رہی ہے۔ حضرت گدھے پر قالین
ڈالنے سے شیر تھوڑا ہی ہو جاتا ہے۔ 'ع' اور 'غ' میں فرق ایک نقطے کا ہوتا ہے۔ مگر آنکھوں والے جھٹ تاڑ لیتے ہیں اور گدھا تو اپنی آواز سے چھپا نہیں رہتا۔ ذرا گرمی محسوس ہوئی تو یہ نابکار ڈھینچو ڈھینچو کرتا ہوا دم کو مخصوص جگہ میں دباتا ہوا بھاگا۔
انبیائے کرام کی سنت پہ عمل کرنا سنت ہے شرک نہیں۔ انبیاء کرام سے کوئی ایسی مثال تو دیجئے جو بارہ سیکنڈ تک وحی کی تعمیل میں عذر کرتا رہا اور سوچا کیا کہ ایسا کہنے اور کرنے سے کہیں الو جو گانٹھ کے پورے اور عقل کے اندھے ہاتھ آئے ہیں۔ بدک نہ جائیں۔ خود مشرک بنا رہا اور انہیں دریائے شرک میں ڈبوتا رہا۔ ایسی حالت میں سینکڑوں اسی کفریہ عقیدہ پر جہنم واصل ہوئے۔ کیا ان سب کا بوجھ پنجابی نبی کی گردن پر نہیں۔ کیا وہ دن قیامت کے رب العالمین سے نہیں کہیں گے کہ مولا تو خواہ مخواہ ہم سے شرک کی باز پرس کرتا ہے۔ جب کہ تو نے نبی ہی ہم کو مشرک دیا ہمارا کیا قصور ہے۔ جو کچھ پوچھنا ہو اسی مرزے طفیلئے نبی اور بھڑوے رسول سے پوچھ۔
نیز قبلہ یا بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا عملیات میں سے ہے۔ جس میں تبدیلی ہو سکتی ہے اور نزول مسیح کا مسئلہ تو عقائد سے ہے اور عقائد ایمانیات میں داخل ہے۔ اس لئے اس میں تبدیلی ناممکن ہے اور جو کرے وہ مسلمان نہیں اور دوسری مثال یونس بن متی پہ فضیلت دینے کے متعلق صرف ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ہے۔ اوّل تو وہ حدیث ہی ضعیف ہے یا محض تواضع وانکساری کے رنگ میں کہا گیا ہے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کا اسی پر خود اقرار ہے۔
اور اگر حدیث مذکور کو صحیح بھی تسلیم کر لیا جائے تو پھر بھی وہ تمہارے مفید مطلب نہیں ہو سکتی۔ اس لئے کہ تعلیم ربانی ہی یہی ہے۔ ”لا نفرق بين أحد من رسله (بقرہ:٢٨٥)“ چنانچہ حضور اکرم ﷺ کا ارشاد اسی آیت کریمہ کی تفسیر ہے۔ آپ کا ارشاد شان نبوت کی تحقیر وتذلیل کرنے کے متعلق ہے کہ نبوت وہ پاک منصب ہے جس کی عزت وتوقیر فرض ہے۔ باقی رہی فضیلت وہ تو خود فرقان شاہد ہے ”ولقد فضلنا بعض النبين على بعض (بنی اسرائیل:٥٥)“ کہ ہم نے بعض انبیاء کو بعض پر فضیلت دی۔ کوئی ایک قوم کی طرف کوئی ایک ملک کی طرف کوئی ہم کلامی سے مشرف ہوا۔ کوئی ایک صاحب کتاب ہوئے اور حضور ﷺ کے متعلق فرمایا ”كافة للناس بشيراً ونذيرا (سبا:٢٨)“ ”وما ارسلناك الا رحمت للعالمین (انبیاء:١٠٧)“ مگر قربان جاؤں سرکار یثرب کے حضور ﷺ نے کبھی فخر نہ کیا۔
سر مبارک پہ تاج اطہر تو دوش پر اک گلیم بھی ہے
کسی میں یہ شان حلم بھی ہے اور کوئی ایسا حلیم بھی ہے
اور باقی رہا یہ کہنا کہ رسمی طور پر مرزا قادیانی نے ایسا کہا تو یہ قطعاً غلط ومردود ہے۔ اس لئے نہیں ہو سکتا کہ ایک تو مرزا قادیانی کا وہ الہامی فیصلہ ہے۔ جس پر نبوت قادیان کا انحصار ہے۔ دوم وہ الہامی کتاب ہے۔ اس لئے اس کے عقائد کو غلط کہنا اور الہام سے روگردانی کرنا قادیانیت پر تین حرف بھیجنے کے مترادف ہے۔ سوم کلام مجید کی آیت سے استدلال کیا گیا ہے۔ جس کا ایک حرف ایک شوشہ نہیں بدل سکتا۔ چہارم حدیث صحیح سے اس کی تصدیق کرائی جا چکی ہے۔ پنجم مرزا قادیانی الہاماً تائید کرتے ہیں۔ اس لئے کسی صورت میں اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور طوعاً وکرہاً یہ ماننا ہی پڑے گا کہ براہین والا یہ عقیدہ صحیح اور درست ہے اور انکار کی صورت میں اللہ تعالیٰ کے غضب کی تاب سہنے کے لئے تیار ہو جو عنقریب ملاقات کے وقت انشاء اللہ مل کر رہے گا۔
وما علينا الا البلاغ !
ناظرین صحیفہ تقدیر کا حجم بہت بڑھ گیا ہے۔ اس لئے طوالت کے ڈر سے اور بازو کے کمزور ہونے کی وجہ سے مجبور ہوں۔ کاش قوم تھوڑی سی توجہ کرتی تو قادیانیت کو چھٹی کا دودھ یاد دلا دیتا۔ اس لئے صرف قرآن کریم سے ایک اور آیت پیش کرنے کے بعد چند ایک اور باتیں کہہ کر مضمون کو ختم کرتا ہوں اور فقیر کے خیال میں سعید لوگوں کے لئے اس میں بہت سی مفید باتیں ہیں جو انشاء اللہ ان کے کام آئیں گی اور صراط مستقیم سے ہٹنے نہ دیں گی۔
وما توفیقی الا باللہ!
”ولقد ارسلنا رسلاً من قبلك وجعلنا لهم ازواجاً وذرية (الرعد:٣٨)“ ﴿اے محمدؐ تجھ سے پہلے رسولوں کو ہم نے اولاد وازواج والے بنایا تھا۔﴾
ناظرین! یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جناب مسیح کی بیوی اور بچے ہونے چاہئے۔ کیونکہ وہ یتیم مکہ سے پہلے رسول ہیں اور یہ بھی آپ سے مخفی نہیں کہ ان کی کوئی بیوی بچہ نہ تھا اور رشتہ ازدواجی میں منسلک ہونا انہیں پہلی زندگی میں نصیب نہیں ہوا۔ کیونکہ بد بخت یہود نے انہیں ساڑھے تینتیس سالہ مدت العمر میں قتل ومصلوب کے حیلہ سے ہجرت پر مجبور کر دیا۔ یعنی یہود نے ان کے قتل وصلیب کی خفیہ تجویز سوچی اور اللہ تعالیٰ نے ان کے بچانے کا ذمہ لیا۔ دنیا جانتی ہے اور اس پر اتفاق کرتی ہے کہ مسیح نے بیوی اور بچوں کا منہ نہیں دیکھا۔ مگر آیت کریمہ یہ کہتی ہے کہ ہم نے اس کو بیوی بچوں والے بنایا تھا۔ پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ ان کے بیوی بچہ نہ ہو۔
جب یہ مشکل پڑی تو ہمیں اس کا حل دربار رسالت سے تلاش کرنا پڑا۔ اللہ اللہ وہ کافۃ للناس نبی جس کی تعلیم ہر زمانے کے لئے مشکل کشا ہے اور ابتلاء مصیبت میں ہمیشہ سے ساتھی ہے۔ ہر دکھ کی وہ دوا ہر درد کا وہ درماں، ضعیفوں کا سہارا، یتیموں کا مولا، بیواؤں کا شفیق اور گرتوں کا سنبھالا ہے۔ جو اخلاق کے انتہائی مراتب کا مالک ہے اور جس کی زبان فیض ترجمان کے انمول گوہر زمانے کو مستفیض و سیراب کر رہے ہیں۔ ہمارے لئے یوں عقدہ کشا ہوئے۔ چنانچہ ارشاد ہوا:
”عن عبدالله بن عمرؓ قال قال رسول الله ﷺ ينزل عيسىٰ ابن مريم الى الارض فيتزوج ويولد له ويمكث خمساً واربعين سنة ثم يموت فيدفن معى فى قبرى فاقوم انا وعيسىٰ ابن مريم فى قبر واحد بين ابى بكر وعمر (مشکوۃ ص ٤٨٠، باب نزول المسیح الفصل الثالث)“ حضرت عبداللہ بن عمرؓ جو ایک جلیل القدر صحابی ہیں۔ بیان کرتے ہیں کہ فرمایا رسول کریم ﷺ نے کہ عیسیٰ ابن مریم زمین پر اتریں گے۔ پس وہ شادی کریں گے ان کے ہاں اولاد ہوگی۔ وہ زمین پر پینتالیس برس بسر فرمائیں گے پھر وہ فوت ہو کر میرے مقبرے میں میرے ساتھ دفن ہوں گے۔ پس میں اور عیسیٰ اٹھیں گے قیامت کو ابوبکرؓ اور عمرؓ کے درمیان۔ ﴾
ناظرین کرام! قرآن صامت نے یتیم مکہ کی بعثت کے قبل انبیاء علیہم السلام کی جس ازدواجی زندگی کو بیان فرمایا ہے قرآن ناطق نے اس کی تفسیر فرماتے ہوئے فرقان حمید کی اس آیت کے اعتراض کو نہ صرف دور کیا ہے کہ مسیح علیہ السلام کی بیوی بچے نہ تھے۔ بلکہ معترضین کے منہ پر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تالے لگاتے ہوئے پیش گوئی فرمادی کہ مسیح ابن مریم سن کہولت میں جب نزول اجلال فرمائیں گے۔ وہ بیوی کریں گے۔ ان کے ہاں بچے ہوں گے۔ وہ پینتالیس برس زمین پر قیام فرمائیں گے۔ اس کے بعد واصل الاجل ہو کر میرے مقبرے میں میرے ساتھ دفن کئے جائیں گے۔ پھر قیامت کے روز میں اور عیسیٰ علیہ السلام ابوبکرؓ اور عمرؓ کے درمیان اٹھیں گے۔
اس حدیث کو مرزا قادیانی نے صحیح تسلیم کرتے ہوئے اپنی متعدد کتب میں نکاح آسمانی کے ضمن میں اپنے پر لگانے کی ناکام کوشش کی ہے۔ یہ علیحدہ امر ہے کہ بندروں کو چھینٹ کے پاجامے بھلے معلوم نہیں ہوتے اور زاغ کی چونچ میں انگور زینت نہیں دیتا۔ دنیا جانتی ہے کہ یہ رسوائے عالم نکاح جس کی یاد مرزا قادیانی کو نزع کے عالم میں ستاتی رہی کا کیا حشر ہوا۔ چنانچہ خود مرزا قادیانی اس کے ضمن میں لکھتے ہیں وہی ملاحظہ فرمائیں۔
فیصلہ آسمانی
تجھ سے پوچھتے ہیں اے مرزا کہ کیا یہ بات سچ ہے کہ محمدی بیگم تمہاری آسمانی منکوحہ ہے۔ کہہ دے اے مرزا ہاں مجھے اپنے رب کی قسم یہ سچ ہے اور تم اس بات کو وقوع میں آنے سے نہیں روک سکتے۔ ہم نے خود اس سے تیرا نکاح باندھ دیا۔ میری باتوں کو کوئی بدل نہیں سکتا اور نشان دیکھ کر منہ پھیر لیں گے اور قبول نہیں کریں گے اور کہیں گے کہ یہ کوئی پکا فریب یا پکا جادو ہے۔ "یستنبونک احق ھو قل ای وربی انہ لحق وما انتم بمعجزین ۔ زوجنکھا لا مبدل لکلماتی وان یروا ایۃ یعرضوا ویقولوا سحر مستمر"
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٠٣)
منکوحہ آسمانی قادیانی
" اس (یعنی محمدی بیگم کے نکاح والی) پیش گوئی کی تصدیق کے لئے جناب رسول اللہ ﷺ نے بھی پہلے سے ایک پیش گوئی فرمائی ہے کہ یتزوج ویولدلہ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کریگا۔ نیز صاحب اولاد ہوگا۔ اب ظاہر ہے تزوج اور اولاد کا ذکر عام طور پر مقصود نہیں۔ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ اس میں کچھ خوبی نہیں۔ بلکہ تزوج سے مراد وہ خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہوگا اور اولاد سے مراد وہ خاص اولاد ہے جس کی نسبت اس عاجز کی پیش گوئی ہے۔ اس جگہ رسول اللہ ﷺ ان سیاہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرمارہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔"
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)
" جب یہ پیش گوئی معلوم ہوئی اور ابھی پوری نہیں ہوئی تھی۔ جیسا کہ اب تک بھی جو ١٦؍اپریل ١٨٩١ء ہے۔ پوری نہیں ہوئی تو اس کے بعد اس عاجز کو ایک سخت بیماری آئی۔ یہاں تک کہ قریب موت کے نوبت پہنچ گئی۔ بلکہ موت کو سامنے دیکھ کر وصیت بھی کر دی گئی۔ اس وقت گویا پیش گوئی آنکھوں کے سامنے آ گئی اور یہ معلوم ہو رہا تھا کہ اب آخری دم ہے اور کل جنازہ نکلنے والا ہے۔ تب میں نے اس پیش گوئی کی نسبت خیال کیا کہ شاید اس کے معنی اور ہوں گے جو میں سمجھ نہیں سکا۔ تب اس حالت قریب الموت کے مجھے الہام ہوا۔ " الحق من ربک فلا تکونن من الممترین " یعنی یہ بات تیرے رب کی طرف سے سچ ہے تو کیوں شک کرتا ہے۔"
(ازالہ اوہام ص ٣٩٩، خزائن ج ٣ ص ٣٠٦)
" نفس پیش گوئی یعنی اس عورت کا اس عاجز کے نکاح میں آنا یہ تقدیر مبرم ہے۔ جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی۔ کیونکہ اس کے لئے الہام الٰہی میں یہ فقرہ موجود ہے۔ "لا تبدیل لکلمات
اللہ ”یعنی میری یہ بات ہرگز نہیں ٹلے گی ۔ پس اگر ٹل جائے تو خدا کا کلام باطل ہوتا ہے ۔ “
(اشتہار مرزا، ٦ اکتوبر ١٨٩٤ء،مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٤٣)
اور مرزائیو ! ”یاد رکھو خدا کے فرمودہ میں تخلف نہیں اور انجام وہی ہے جو ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں ۔ (یعنی محمدی بیگم میرے نکاح میں ضرور آئے گی) خدا کا وعدہ ہرگز نہیں ٹل سکتا۔ “
(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٣،خزائن ج ١١ص ٢٩٧)
اس پیش گوئی کو پورا کرنے کے لئے مرزا قادیانی نے وہ دوڑ دھوپ کی کہ توبہ ہی بھلی ہے۔ ہزاروں کی زمین کے لالچ آسامی خسر کو دیئے ۔ آسامی سالے کو پولیس میں نوکری دلوانے کا ٹھیکہ لیا۔ اس کی بیماری میں حکیم نور دین کو خاص طور پر دوا اور دعاء کی تلقین کی۔ دعاء سے مطلب یہاں صرف منت وسماجت سے ہے۔ وہ برابر تیمارداری کے ساتھ ساتھ مرزا قادیانی کے لئے تلقین کرتے رہے۔ بیسیوں قاصد نامہ بر دوڑائے گئے۔ سارے کا سارا ہیڈ کوارٹر ہی رات سویا نہ صبح آرام سے بیٹھا۔ خود مرزا قادیانی نے بڑی بڑی کوشش سے الہام کئے اور محنت سے خواب بنائے۔ مکاشفات میں جانفشانی اور استخاروں میں عرق ریزی کی ۔ مگر نتیجہ مرغ کی ایک ٹانگ نظر آیا۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے۔
مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی
بڑھاپے میں عشق کا مہیب دیو ایسی حالت میں مرزا قادیانی کے سر پر سوار ہوا۔ جب کہ وہ بیماریوں کی جولانگاہ بنے ہوئے تھے۔ کہیں درد سر ڈیرے ڈالے پڑا تھا تو کہیں دوران سر اڈہ جما رہا تھا۔ کہیں ذیابیطس نے تنگ کر رکھا تھا تو کہیں سستی وکاہلی نے جان پر بنا رکھی تھی۔ درد دل کے ساتھ ساتھ ضعف جگر ، اعضاء شکنی ، بڑھاپا، کمزوری وغیرہ کے علاوہ نامراد مراق کے دورے پڑ رہے تھے۔ ایسی حالت میں مرزا قادیانی کے الہام میں اگر غلطی ہوئی تو کچھ ان کا اپنا قصور تھوڑا ہی ہے۔ آخر عشق نہ شد جنوں شد۔ آپ کا توازن دماغ ایسا کھویا اور غم نے صبر کو تاراج کرتے ہوئے وہ وہ کام آپ سے کرا دیئے جو پنجابی نبی کی صداقت پر ہمیشہ یادگار رہیں گے اور یہ وہ اسوہ مرزا ہے جس پہ عمل کرنا ہر مرزائی کا فرض اولین ہے۔ دیکھیں کون کون سنت مرزا پہ عمل کرتا ہوا خانہ بربادی پر اتر آتا ہے۔ آپ کو ناکامی نکاح سے وہ صدمہ ہوا اور وہ شاق گزرا کہ حقیقی دونوں بیٹوں فضل احمد سلطان احمد کو عاق، بیوی بہو کو طلاق مال واملاک اراضی سے جواب ،نئی دلہن نصرت جہاں بیگم کے ہاتھوں بک گئے ۔ تمام زر نقد باغ اراضی مکان رہن بالوفا میں کر کے صرف
پیغمبری اور رسالت ہی پر اکتفاء کر لیا۔ مگر محمدی کی محبت دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرتی گئی۔ گو وہ بیاہی جا چکی تھی۔ مگر مرزا کو برابر الہام پر الہام ہورہے تھے اور وہ دل ہی دل میں محبت کے بے پناہ سمندر بہائے ہوئے اللہ میاں کے وعدوں کو سچائی کے مراتب پر دیکھنے کا تقاضہ کر رہا تھا اور اسی امید میں آنکھیں بند کر کے وصل کے خواب دیکھ رہا تھا۔
”خدا تجھے بکثرت برکت دے گا۔ یہ اشارہ ہے ان پر آفتوں کے بعد زمانہ آنے والا ہے۔ جس میں وصل مقدر ہے۔ جس کا اشتہار میں وعدہ دیا گیا ہے۔ وہ وقت آنے والا ہے کہ اس دن خدا کے کلمات پورے ہوکر رہیں گے اور دشمنوں کے منہ سیاہ ہوں گے۔ خدا کی بات ظاہر ہوگی۔ اگر چہ وہ کراہت کریں۔ بلاشبہ خدا غالب ہے اور لاریب خدا فاسقوں کو رسوا کرے گا۔ اب صرف ایک شخص ہلاک ہونے والوں سے باقی ہے۔ پس خدا کے حکم کے منتظر رہو۔ تحقیق وہ اپنی پیش گوئی کو باطل نہیں کرے گا۔ بے شک خدا اپنے ملہموں کو رسوا نہیں کرے گا۔“
(ترجمہ انجام آتھم ص ٢١٧، ٢١٨، خزائن ج ١١ ص ایضاً)
”یاد رکھو اس پیش گوئی کی دوسری جزو پوری نہ ہوئی۔ یعنی (میرا رقیب مرزا سلطان ڈھائی سالہ مدت میں نہ مرا) تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ اے احمقو! یہ انسان کا افتراء نہیں یہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار نہیں یقیناً سمجھو یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں۔ وہی رب ذوالجلال جس کے ارادوں کو کوئی روک نہیں سکتا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٨)
”مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کے داماد کی موت کی نسبت پیش گوئی جو پٹی ضلع لاہور کا باشندہ ہے۔ جس کی میعاد آج کی تاریخ سے جو ٢١ ستمبر ١٨٩٣ء ہے۔ قریباً گیاراں مہینے باقی رہ گئے ہیں۔ یہ تمام امور جو انسانی طاقتوں سے بالکل بالاتر ہیں۔ ایک صادق یا کاذب کی شناخت کے لئے کافی ہیں۔“
(شہادۃ القرآن ص ٧٩، خزائن ج ٦ ص ٣٧٥)
مگر آہ! ان ہر دو پیش گوئیوں کا حشر کیا ہوا۔ کوئی مرزائیوں کے سینے چیر کر دیکھے۔ بخدا سچے مرزائی کا دل سیاہ اور جگر داغ داغ ہوگا اور یہ آواز سنائی دے گی۔
ظالم نے پھاڑ ڈالا ہے تار تار کر کے
نہ وصال جاناں نصیب ہوا، نہ قوم کے طعنوں سے راحت نصیب ہوئی۔ محمدی بیگم کی تقدیر مبرم بھی کچے دھاگے کی طرح ٹوٹ گئی اور سلطان محمد کی ڈھائی سالہ موت جو تقدیر مبرم تھی وہ بھی
تار عنکبوت نکلی۔ نہ وہ نکاح میں آئی تھی، نہ آئی۔ نہ سلطان محمد کی موت آئی اور نہ وہ مرا۔ مرزا قادیانی خواہ مخواہ مفت میں بدنام ہوئے اور اللہ میاں کو وعدہ ایفائی سے ڈر معلوم ہوا۔ کیونکہ مرزا سلطان محمد بڑا سخت جاں تھا۔ ہاں! بھائی فوجی آدمی فرانس تک میدان کارزار میں خون کی ہولی کھیلنے والے مرزائی فرشتوں کو کب خاطر میں لاتا تھا اور کسی کو کب جرات تھی کہ اس کے پاس پھٹکے۔ نیز چونکہ اس کا تعلق امت خیرالانام سے تھا۔ کیونکہ یہ پیش گوئی مسلمانوں کے لئے بطور حجت قرار دی جا چکی تھی۔ اس لئے غفور رحیم نے اس کو سلامت رکھا۔
ہوا دودھ کا دودھ پانی کا پانی
آہ! اس عمر میں رسوائی روسیاہی بدنامی وضلالت مرزا قادیانی کے مقدر میں تھی۔ وہ بارش کی طرح آئی اور آندھی کی طرح چھا گئی۔ افسوس امت اب تک اس سیاہی کو دھو رہی ہے۔ جو پیرس کے دھوبیوں نے دھونے سے انکار کرتے ہوئے افسوس کے ساتھ موسیو بشیر الدین محمود اور پادری محمد علی کو واپس کر دی ہے۔ دیکھیں اب امریکہ کے دھوبی کام آتے ہیں یا دجالی حواری اس خدمت کو پورا کرتے ہیں۔
غرضیکہ آیت موصوفہ بالبداہت بیان کرتی ہے کہ مسیح علیہ السلام کے بیوی بچے ہونے چاہئے اور حدیث نبویہ ان کے بیوی بچوں کو ان کے متعلق صاف و صریح پیش گوئی فرماتی ہے کہ مسیح علیہ السلام آمد ثانی میں نکاح کریں گے اور صاحب اولاد ہوں گے۔
ناظرین! اب ایک اصولی چیز ایسی پیش کی جاتی ہے جس کا انکار کفر ہے اور وہ مسلمان کہلانے کا مستحق ہی نہیں جو اس کا انکار ایک لمحہ کے لئے کرے۔ چہ جائیکہ مجدد وقت ہو اب اسی چیز پر کذاب قادیان کی اور اس کی بے پیندے کی نبوت کی ایمانداری معلوم ہو جائے گی۔ کیونکہ ابھی دبی زبان سے امت حلق سے اوپر اوپر سرکار مدینہ کا اقرار کرتی ہے کہ وہ ہی چشمہ فیض ہے۔ جس سے مرزا قادیانی نے ترقی کرتے کرتے نبوت کو جا مارا۔
ڈر اس کی دیر گیری سے کہ ہے سخت انتقام کا
”وما اتكم الرسول فخذوه ومانها كم عنه فانتهوا واتقوا الله ان الله شدید العقاب (حشر:٧)“ اور جو دے تم کو رسول ﷺ سو لے لو۔ جس سے منع کرے چھوڑ دو اور ڈرتے رہو اللہ سے بے شک اللہ سخت عذاب والا ہے۔
ایک دوسرے مقام پر ارشاد ہوتا ہے: ”ومن يطع الرسول فقد اطاع الله (نساء: ٨٠)“ یعنی جس کسی نے سرکار مدینہ کی فرمانبرداری کی پس اس نے خدا کی تابعداری کر لی۔ یہ کیوں کہا۔ اس لئے کہ: ”وما ينطق عن الهوى ان هو الا وحي يوحى (نجم: ٤،٣)“ یعنی یتیم مکہ کی زبان نطق ہی نہیں کرتی۔ جب تک ہم اس کو نطق نہ کرا دیں۔ مولانا روم کیا خوب کہہ گئے۔
زانکہ از حلقوم عبدالله شود
مندرجہ ذیل احادیث نبویہ چشم بصیرت سے مطالعہ فرمائیں۔ انشاء اللہ یہ جواہر پارے مؤمنین کے لئے زادۂ ایمان ہوں گے۔ ہاں نیم یہودی جلتے ہوئے کچھ بڑبڑائیں گے۔ مگر انشاء اللہ ان کی سابقہ دجالیت اور بڑبڑاہٹ کا ساتھ ساتھ جواب بھی دیتا جاؤں گا۔ یقین ہے کہ یہ مضمون بھی اپنی نوعیت میں نرالا اور دلچسپ ہوگا۔ قول مرزا۔
جو چھوڑتا ہے چھوڑ دو تم اس خبیث کو
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٧، خزائن ج ١٧ ص ٧٨)
فرمان رسالت نمبر: ١
”عن ابی ھریرة قال قال رسول الله ﷺ والذي نفسي بيده ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم حكما عدلاً فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويفيض المال حتى لا يقبله احد حتى تكون السجدة الواحدة خيراً من الدنيا وما فيها ثم يقول ابو ھریرة فاقرؤا ان شئتم وان من اھل الکتب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ “ ﴿ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ تحقیق اتریں گے تم میں ابن مریم حاکم عادل ہو کر۔ پس صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ اٹھا دیں گے ان کے زمانہ میں مال اس قدر ہوگا کہ کوئی قبول نہ کرے گا۔ یہاں تک کہ ایک سجدہ عبادت دنیا اور مافیہا سے بہتر ہوگا۔ یہ حدیث بیان فرما کر ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ اگر تم اس حدیث کی صداقت قرآن کریم سے چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھو ”وان من اھل الکتب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ“ یعنی خدا فرماتا ہے کہ آخری زمانہ میں کوئی اہل کتاب میں سے ایسا نہ ہوگا جو مسیح پر اس کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لائے گا۔ ﴾
(رواہ بخاری ومسلم: منقول از مشکوٰۃ ص ٤٦٢، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام)
قبل اس کے کہ میں حدیث بالا پر کچھ عرض کروں۔ کذاب قادیان کے چند مصدقہ قانون پیش کر دینا ضروری سمجھتا ہوں تاکہ کسی یہودی کو لب کشائی کا موقعہ نہ رہے اور رگ الحاد کٹ جائے۔
مرزا قادیانی کے زرین اصول
- ١...... "نبی کا کسی بات کو قسم کھا کر بیان کرنا اس بات پر گواہ ہے کہ اس میں کوئی
تاویل نہ کی جائے نہ استثناء۔ بلکہ اس کو ظاہر پر محمول کیا جائے ۔"
(حمامتہ البشریٰ ص ١٤ حاشیہ، خزائن ج ٧ ص ١٩٢)
اس کی تائید میں (شہادت القرآن ص ٣، خزائن ج ٦ ص ٢٩٩) پر لکھتے ہیں کہ:
"ہمیں اپنے دین کی تفصیلات احادیث نبویہ کے ذریعے سے ملی ہیں۔"
"جو حدیث قرآن شریف کے مخالف نہیں بلکہ اس کے بیان کو اور بھی بسط سے بیان کرتی ہے وہ بشرطیکہ جرح سے خالی ہو۔ قبول کرنے کے لائق ہے۔"
(ازالہ اوہام ص ٥٥٥، خزائن ج ٣ ص ٤٠٠)
"قسم دلالت کرتی ہے کہ حدیث کے وہی معنی مراد ہوں گے جو اس کے ظاہری الفاظ سے نکلتے ہوں۔ ایسی حدیث میں نہ کوئی تاویل جائز ہے اور نہ کوئی استثناء ورنہ قسم میں فائدہ کیا رہا۔"
(حمامتہ البشریٰ ص ١٤، خزائن ج ٧ ص ١٩٢)
"دوسرا معیار رسول اللہ ﷺ کی تفسیر ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ سب سے زیادہ قرآن کریم کے معنی سمجھنے والے ہمارے پیارے اور بزرگ نبی حضرت رسول کریم ﷺ ہی تھے۔ پس اگر آنحضرت ﷺ سے کوئی تفسیر ثابت ہو جائے تو مسلمان کا فرض ہے کہ بلا توقف اور بلا دغدغہ قبول کرے۔ نہیں تو اس میں الحاد اور فلسفیت کی رگ ہوگی۔"
(برکات الدعاء ص ١٨، خزائن ج ٦ ص ١٨)
"تیسرا معیار صحابہ کی تفسیر ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ صحابہ آنحضرت ﷺ کے نوروں کو حاصل کرنے والے اور علم نبوت کے پہلے وارث تھے اور خدا تعالیٰ کا ان پر بڑا فضل تھا اور نصرت الٰہی ان کی قوت مدرکہ کے ساتھ تھی۔ کیونکہ ان کا نہ صرف قال بلکہ حال تھا۔"
(برکات الدعاء ص ١٨، خزائن ج ٦ ص ١٨)
جناب رسالت مآب ﷺ اس حدیث شریف کو بطور پیش گوئی قسم کھا کر بیان فرمایا۔ اس لئے اس میں کسی قسم کا استثناء جائز نہیں اور اس میں تاویل کرنا شیوہ اسلام نہیں۔ بلکہ فرمان کو
”من وعن“ تسلیم کرنا اور اس کے حرف حرف پر ایمان لانا عین مسلمانی اور ایمان کی نشانی ہے۔ وہ مومن ہی نہیں جو فرمان رسالت پہ حرف لائے یا کچھ بھی حرف رکھے اور شک لائے۔ اب دیکھئے حضور پرنور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں اور حلف اٹھاتے ہیں کہ تم میں ضرور ابن مریم اتریں گے۔ یہ نہیں فرمایا کہ ابن چراغ بی بی پیدا ہوگا۔ دوسری چیز کسر صلیب بتائی کہ ابن مریم کے آنے سے کیا ہوگا۔ عیسائیت نیست و نابود ہو جائے گی۔ مگر مرزا قادیانی کے آنے سے کیا ہوا عیسائیت میں گویا طوفان آ گیا۔ مرزا قادیانی کا اپنا ضلع بٹالہ دھڑا دھڑ مرتد و بے ایمان ہونے لگا اور عیسائیت کا گھر گھر میں چرچا ہوا۔ ذیل کے نقشہ سے صرف دارالفساد قادیان کے ضلعے کی سرکاری مردم شماری کی دہ سالہ رپورٹوں کو ملاحظہ کیجئے۔
١٨٩١ء ٢٣٠٠ ١٩٠١ء ٤٤٧١ ١٩١١ء ٢٣٣٦٥ ١٩٢١ء ٣٢٨٣٢ ١٩٣١ء ٤٣٢٤٣
اچھی کسر صلیب ہوئی۔ ایک ایک کا دو دو سو ہو گیا اور خدا جانے یہ عیسائیت کا بے پناہ سیلاب کس حد کو پہنچے گا۔ کیا یہی کسر صلیب ہے۔ حالانکہ مرزا قادیانی ڈنکے کی چوٹ یہ کہتے مرے۔
- ١...... ”جب مسیح موعود دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ
سے اسلام جمیع آفاق واقطار میں پھیل جائے گا۔“
(براہین احمدیہ ص ٤٩٩، خزائن ج ١ ص ٥٩٣)
- ٢...... ”مسیح موعود کے زمانے میں صور پھونک کر تمام قوموں کو دین اسلام پر جمع
کیا جائے گا۔“
(شہادۃ القرآن ص ١٦، خزائن ج ٦ ص ٣١٢)
- ٣...... ”اس بات پر اتفاق ہو گیا ہے کہ مسیح کے نزول کے وقت اسلام دنیا میں
پھیل جائے گا اور ملل باطلہ ہلاک ہو جائیں گے اور راست بازی ترقی کرے گی۔“
(ایام الصلح ص ١٣٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٨١)
- ٤...... ”ہاں مسیح آ گیا...... اور وہ وقت آتا ہے۔ بلکہ قریب ہے کہ زمین پر نہ رام
چندر پوجا جائے گا نہ کرشن اور نہ عیسیٰ علیہ السلام۔“
(شہادت القرآن ص ٨٥، خزائن ج ٦ ص ٣٨١)
- ٥...... ”طالب حق کے لئے یہ بات پیش کرتا ہوں کہ میرا کام جس کے لئے میں
اس میدان میں کھڑا ہوا ہوں یہ ہے کہ عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑوں اور بجائے تثلیث کے توحید
پھیلاؤں..... پس مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آئے تو پھر میں جھوٹا ہوں اور اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا جو مسیح موعود مہدی معہود کو کرنا چاہئے تھا تو پھر میں سچا ہوں اور اگر کچھ نہ ہوا اور میں مر گیا تو تم سب گواہ رہو کہ میں جھوٹا ہوں۔“
(اخبار بدر ١٩؍ جولائی ١٩٠٦ء، مکتوبات احمدیہ ج ٥ ص ١٦٢)
فرمان رسالت میں تیسری چیز قتل خنزیر بیان ہوئی۔ مگر قتل خنزیر سے قبل کسر صلیب بیان ہوا۔ یعنی جب نصاریٰ نصاریٰ ہی نہ رہیں گے وہی مسلمان ہو جائیں گے تو پھر وہ خنزیر کا کھانا کس طرح پسند کریں گے اور دین حنیف میں تو وہ طیب جانور جس کا کھانا حلال و مسنون ہے۔ جب قتل ہو جائے وہ دانستہ ہو یا نادانستہ حرام ہے اور پھر خنزیر جو پہلے ہی اسلام میں حرام ہے اور لطف یہ کہ وہ قتل بھی ہو جائے کس طرح کھانا جائز ہے۔ حضورﷺ کے ارشاد کا یہی مطلب ہے کہ جب ابن مریم آئیں گے اور عیسائیت کے ستون کو توڑ دیں گے اور جب ستون ٹوٹ گیا اور وہ عمارت ہی نہ رہی تو اس کے سامان خود بخود ٹوٹ گئے۔ جب عیسائی ہی مسلمان ہو گے تو خنزیر کیا دجال کھائیں گے۔ مگر مرزا قادیانی کے وقت میں اس مردود جانور کی بھی وہ بہتات ہوئی کہ توبہ ہی بھلی ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی خود لکھتے ہیں:
”مسیح کا آسمان سے اترنے کے بعد پہلا کام یہی ہوگا کہ وہ صلیب کو توڑے گا اور خنزیر کو قتل کرے گا۔ اب جائے تعجب ہے کہ صلیب کو توڑنے سے اس کا کون سا فائدہ ہے۔ اگر اس نے مثلاً دس بیس لاکھ صلیب توڑ بھی دی تو کیا عیسائی لوگ جن کو صلیب پرستی کی دھن لگی ہوئی ہے اور صلیبیں بنوا نہیں سکتے اور دوسرا فقرہ جو کہا گیا ہے کہ خنزیروں کو قتل کرے گا۔ یہ بھی اگر حقیقت پر محمول ہے تو عجیب فقرہ ہے۔ کیا حضرت مسیح کا زمین پر اترنے کے بعد عمدہ کام یہی ہوگا کہ وہ خنزیروں کا شکار کھیلتے پھریں گے اور بہت سے کتے ساتھ ہوں گے۔ اگر یہی سچ ہے تو سکھوں اور چماروں اور سانسیوں اور کنجروں وغیرہ (مرزائیوں) کو جو خنزیر کے شکار کو دوست رکھتے ہیں۔ خوشخبری کی جگہ ہے کہ ان کی خوب بن آئے گی۔ مگر شاید عیسائیوں کو ان کی اس خنزیر کشی سے چنداں فائدہ نہ پہنچ سکے۔ کیونکہ عیسائی قوم نے خنزیر کے شکار کو پہلے ہی کمال تک پہنچا رکھا ہے۔ بالفعل خاص لنڈن میں خنزیر کا گوشت فروخت کرنے کے لئے ہزار دوکان موجود ہے اور بذریعہ معتبر خبروں کے ثابت ہوا ہے کہ صرف یہی ہزار دوکانیں نہیں بلکہ پچیس ہزار اور خنزیر ہر روز لنڈن میں سے محلات کے لوگوں کے لئے باہر بھیجا جاتا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٧٣، ٤٧٤، خزائن ج ٣ ص ٣٤٢، ٣٤٣)
اس بیہودہ و لچر فضول و بکواس تحریر سے مرزا قادیانی کا مافی الضمیر عیاں ہے کہ مرزا قادیانی کے قلب میں فرمان رسالت کا کیا مرتبہ تھا اور ان کی وہ کس حد تک عزت کرتے تھے۔ میرے خیال میں یہ پنجابی مسیح نے اپنا نقشہ کھینچا ہے۔ کیونکہ ظاہر ہے اور دنیا کا اس پر پورا پورا اتفاق ہے کہ شام میں نہ سانسی نہ گندھیل نہ سکھ نہ چمار ہوتے ہیں۔ یہ پنجاب کی قومیں پنجابی مسیح کی دست و بازو ہیں اور اسی لئے مرزا قادیانی کے بھائی امام دین نے ان قوموں میں پیغمبری کا ڈھونگ رچایا اور چوہڑوں کو لوٹ کھایا تھا۔ سو مرزا قادیانی بیاس کے کنارے کنارے اس عزیز شکار کی تلاش میں نکلیں گے۔ جیسا کہ ان کا عزیز بیٹا فضل عمر بیاس کی موجوں میں گل چھرے اڑاتا ہے۔ بہر حال مرزا قادیانی نے خنزیر کی بہتات کو مانا ہے۔ حالانکہ فرمان رسالت اس کے قتل و موت کی پیش خبری بیان کرتا ہے۔ چوتھی چیز فرمان رسالت نے یہ بیان فرمائی کہ جزیہ موقوف ہو جائے گا۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ جب اہل کتاب یعنی یہودی و نصرانی مسلمان ہو جائیں گے تو جزیہ کون دے گا۔ وہ تو غیر مسلم دیتے ہیں اور جب سبھی مسلمان ہو جائیں گے تو یہ بھی خود بخود موقوف ہو جائے گا۔ مگر مرزا قادیانی کے زمانہ میں ایک جزیہ تو کیا بیسوں ٹیکس ایسے رائج ہوئے جن کو کوئی جانتا بھی نہ تھا۔ غرضیکہ جزیہ موقوف تو کیا ایک ایک کے بیس بیس دینے پڑتے ہیں۔ پانچویں چیز افراط مال بیان ہوئی کہ مسیح علیہ السلام کے وقت میں مال کی اس قدر فراوانی ہوگی گویا کہ نہر بہہ رہی ہے اور لوگ اس قدر مستغنی اور عابد ہوں گے کہ کوئی قبول کرنے والا ڈھونڈے سے نہ ملے۔ جس کو روپیہ پیش کیا جائے گا کہ لے لو وہ جواب دے گا کہ اس سے بہتر ہے مالک الملک کا ایک سجدہ۔ غرضیکہ یہ ایسا بابرکت زمانہ ہو گا جس میں نہ چور ہوگا نہ رہزن۔ عدل کا وہ دور دورہ ہوگا کہ لوگ سونا اچھالتے پھریں گے اور کوئی کسی کو تکلیف نہ دے گا۔ یہ حدیث صحابہ میں ابو ہریرہؓ بیان فرما کر کہتے ہیں اے عاشقان ناموس یزدانی اس مبارک دور کی تصدیق چاہتے ہو تو قرآن کریم کی یہ آیت پڑھو۔ ”وان من اهل الکتب الا لیؤمنن به قبل موته“
مگر مرزا قادیانی کے زمانے میں کیا ہوا۔ ایک ایک پائی پہ فساد ہوئے ایک ایک روٹی پر بنی نوع آدم لڑے، کوڑی کوڑی کے لئے ہاتھا پائی ہوئی۔ خود مرزا قادیانی نے طرح طرح سے امت کو لوٹا، کہیں لنگر کے نام پر، کہیں تبلیغ کے کام پر، کبھی منارہ کی تعمیر، کبھی گھر کی وسعت، کبھی توسیع اشاعت، کہیں ماہواری چندہ، کبھی پیٹ کا دھندہ، کبھی ہوس کا پھندہ۔ غرضیکہ جیتے جی تو چندہ لے کر چھوڑ دیا جاتا تو بھی غنیمت تھا۔ یہاں مر کر بھی چندہ نہیں چھوٹا۔ ساری عمر کا بدکار و مشرک شرابی زانی صرف وصیت کر دینے اور قادیان میں دوزخی مقبرہ میں دفن ہو جانے سے بہشتی یا بہشتی
ہو جاتا ہے۔ ایک ایک قبر کا دس دس بیس بیس ہزار سلسلہ عالیہ احمدیہ کے خزانے میں آتا ہے۔ جس سے ”كأن اللہ نزل من السماء“ من مانی موجیں اڑاتا ہے اور مردہ عالم برزخ میں کف افسوس ملتا اور کیئے پہ نادم ہوتا ہے۔ اس حدیث کی صحت و عظمت پر جہاں آسمان کے ستاروں سے زیادہ شاہد موجود ہیں۔ وہاں مرزا قادیانی کو بھی پورا پورا اتفاق ہے۔ اسی لئے انہوں نے اپنی متعدد کتب میں اس کو درج فرمایا اور جناب ابو ہریرہؓ نے اس حدیث کو جب اپنے ہم جلیسوں میں بیان کیا تو کوئی ایک بھی معترض نہ ہوا۔ بلکہ سب کا یہی ایمان تھا کہ مسیح قرب قیامت میں ان صفات کے ساتھ نزول فرمائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اس حدیث کے خلاف ایک صحابی نے بھی اس کی تردید میں ایک لفظ نہیں کہا اور یہی وجہ ہے کہ تمام محدثین، آئمہ کرام و مفسرین عظام تا ایں زمان اس سے اتفاق کرتے چلے آئے ہیں اور انشاء اللہ تا نزول مسیح اتفاق کرتے چلے جائیں گے۔ ذیل میں بطور حجت ہم اس معتبر و بلند مرتبت مسلمہ مجدد کے پاکیزہ خیالات پیش کرتے ہیں۔ جس کا انکار مرزا قادیانی کے نزدیک کفر ہے۔ دیکھئے کون کون اس سعادت سے حصہ لیتا ہے۔ حضرت حافظ ابن حجر عسقلانیؒ امام و مجدد صدی ہشتم اس حدیث کے ضمن میں فرماتے ہیں:
”حضرت ابو ہریرہؓ کا مذہب یہ ہے کہ قول الٰہی قبل موتہ میں ضمیر ’ہ‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھرتی ہے۔ پس معنی اس آیت کے یہ ہوئے کہ اہل کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ایمان لے آئیں گے اور اسی بات پر حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے جزم کیا ہے۔ مطابق اس کے جو امام ابن جریر نے آپ سے بطریق سعید بن جبیر باسناد صحیح روایت کیا ہے اور نیز بطریق ابی رجا حضرت امام حسن بصری سے روایت کیا کہ انہوں نے کہا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ایمان لے آئیں گے۔ خدا کی قسم آپؑ یقیناً اس وقت زندہ ہیں۔ جب آپؑ نازل ہوں گے تو سب اہل کتاب آپؑ پر ایمان لے آئیں گے۔“
(فتح الباری ج ٦ ص ٣٥٧)
اس حدیث شریف اور آیت کریمہ سے یہ روز روشن کی طرح معلوم ہوا کہ مسیح علیہ السلام زندہ ہیں اور وہ قرب قیامت میں ضرور تشریف لاویں گے اور مرزا قادیانی کو مسیح موعود خیال کرنا حماقت و نادانی ہے۔ کیونکہ ان میں یہ کوئی بھی وصف پایا نہیں جاتا۔
فرمان رسالت نمبر:٢
”حضرت ابو ہریرہؓ جناب سرور دو عالمﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ فرمایا یتیم مکہ نے قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ یقیناً احرام باندھیں گے
ابن مریم مقام فج الروحاء سے ح... حج کریں گے)
کیوں جو چھو...
اصول مرزا
”اگر میں بخاری او... پیش کرتا۔“
”صحیحین کو تمام کتب...
اس حدیث شریف... ابن مریم کی زندگی کی ایک اور... بلکہ ان کا چہرہ روسیاہ نظر آئے... احرام باندھ کر عازم حج ہوں... استثناء جائز نہیں۔ کیونکہ قسم کا... گا۔ مثلاً ماہ صیام کا چاند ابر کی... فلاں جگہ چاند اپنی آنکھوں... روزے کی نیت کر لی جائے گ... بلند مرتبت سرور دو عالم بعد از... اس پہ حرف لائیں اور پھر امتی... نے نہ دیکھا مگر دل کی گہرائی... کے وجود پر یقین کیا۔ قرآن... دی۔ حشر کو نہ دیکھا حشر پر یقی... پیش گوئی کی مشکلات پر نگاہ... کی تصریحات ہیں۔
”نیا اور پرانا ق... خاکی جسم کے ساتھ کرہ زمر...
ابن مریم مقام فج الروحاء سے حج کا یا عمرہ کا یا قران کریں گے۔ (یعنی عمرہ کر کے اسی احرام سے حج کریں گے)
(صحیح مسلم ج ١ ص ٤٠٨، باب جواز التمتع فی الحج والقرآن)
جو چھوڑتا ہے چھوڑ دو تم اس خبیث کو
(تحفہ گولڑویہ ص ٢٧، خزائن ج ١٧ ص ٨٧)
اصول مرزا
"اگر میں بخاری اور مسلم کی صحت کا قائل نہ ہوتا تو میں کیوں بار بار ان کو اپنی تائید میں پیش کرتا۔"
(ازالۃ اوہام ص ٨٨٤، خزائن ج ٣ ص ٥٨٢)
"صحیحین کو تمام کتب حدیث پر مقدم رکھا جائے۔"
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٥)
اس حدیث شریف میں سرکار دوعالم ﷺ نے اللہ بزرگ و برتر کی حلف اٹھاتے ہوئے ابن مریم کی زندگی کی ایک اور ایسی دلیل بیان فرمائی۔ جس کے سامنے دجالین کی ایک نہ چلے گی۔ بلکہ ان کا چہرہ روسیاہ نظر آئے گا۔ آقائے برحق نے فرمایا کہ ابن مریم فج الروحاء کی گھاٹی سے احرام باندھ کر عازم حج ہوں گے۔ چونکہ یہ حدیث قسم سے ادا ہوئی اس لئے اس میں کوئی تاویل یا استثناء جائز نہیں۔ کیونکہ قسم کا فائدہ ساقط ہو جائے گا اور اس کے علاوہ نظام دنیا میں فرق آ جائے گا۔ مثلاً ماہ صیام کا چاند ابر کی وجہ سے نہیں دیکھا گیا۔ ایک آدمی حلفیہ بیان کرتا ہے کہ میں نے فلاں جگہ چاند اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے تو کیا کیا جائے گا۔ اس کی قسم پہ اعتبار کرتے ہوئے روزے کی نیت کر لی جائے گی۔ یہ تو تھی ایک غلام خیرالانام کی قسم چہ جائیکہ اس ذیشان عالی مقام بلند مرتبت سرور دوعالم بعد از خدا بزرگ کی قسم اس کو جھوٹا سمجھیں اور پھر مسلمانی کا بھی دعویٰ کریں۔ اس پہ حرف لائیں اور پھر امتی کہلائیں۔ سرکار دوعالم نے ذات باری سے تعارف کرایا۔ آنکھوں نے نہ دیکھا مگر دل کی گہرائیوں نے بدرجہ اتم محسوس کیا۔ ملائکہ پہ بن دیکھے ایمان لائے۔ جنات کے وجود پر یقین کیا۔ قرآن منزل من اللہ ہوتے آنکھوں نے نہ دیکھا۔ مگر ایمان نے شہادت دی۔ حشر کو نہ دیکھا سنے پر یقین ہوا۔ غرضیکہ مومن کا ایمان ہی بالغیب ہے اور وہ مومن ہی نہیں جو پیش گوئی کی مشکلات پر نگاہ رکھے اور اوہام باطلہ سے ریت کے پہاڑ بنائے۔ جیسا کہ کذاب العصر کی تصریحات ہیں۔
"نیا اور پرانا فلسفہ بالاتفاق اس بات کو محال ثابت کرتا ہے کہ کوئی انسان اپنے اس خاکی جسم کے ساتھ کرہ زمہریر تک پہنچ سکے۔"
(ازالۃ اوہام ص ٤٧، خزائن ج ٣ ص ١٢٦)
”اگر فرض کے طور پر اب تک زندہ رہنا ان کا (مسیح) تسلیم کر لیں تو کچھ شک نہیں کہ اتنی مدت گذرنے پر پیر فرتوت ہو گئے ہوں گے۔“
(ازالہ اوہام ص ٥٠٠، خزائن ج ٣ ص ١٦٧)
یہ خیال ہی فاسد و مردود ہے۔ کہاں عقل انسانی اور کہاں تدبیر یزدانی اور اوندھی کھوپڑی اور محدود فکر کے پتلو کیا اپنی کم مائیگی اور بے بضاعتی کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی اپنی طرح مجبور و معذور سمجھتے ہو۔ کون ہے جو ہماری قدرت و طاقت کا احاطہ کرے۔ کس کو مجال ہے کہ ہماری حد بست کر سکے۔ عقل کے ناخن لو سوچو اور سمجھو جو کچھ بھی ہماری مشیت کو منظور ہوتا ہے وہ ہو جاتا ہے۔ کوئی نہیں جو ہمارے ارادوں میں آڑے آئے یا ہمارے راہ میں حائل ہو۔ یہ خیال ہی مضحکہ خیز اور بودا ہے کہ نیا اور پرانا فلسفہ اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ کوئی انسان کرہ زمہریر تک نہیں پہنچ سکتا۔ عقل کے اندھو سوچو تو زمہریر کس نے بنایا اور اس میں منجمد کرنے کی طاقت کس نے بخشی۔ یقیناً وہ تمہاری طرح ہماری ادنیٰ مخلوق ہے اور تمہاری طرح سرکش و نافرمان نہیں ہے۔ جو طاقت دے سکتا ہے وہ سلب بھی کر سکتا ہے۔ پانی کا کام ڈبونا ہے۔ مگر وہ اسرائیلیوں کو ہمارے حکم پر راستہ بھی دے سکتا ہے۔ آگ جلا دیتی ہے مگر ابراہیمؑ کے لئے ہمارے حکم سے گلزار بھی بن سکتی ہے۔ زہر فی نفسہ ہلاکت ہیں مگر وہ تریاق بھی بن سکتے ہیں۔ تم تو روزی دست و بازو کے زعم میں کما کر کھاتے ہو۔ مگر ہماری بے تعداد ایسی بھی مخلوق ہے۔ جو عقل فکر سے محض کوری ہے۔ ان کو کون روزانہ روزی دیتا ہے۔ تمہارے دست و بازو کا پتہ تو تمہیں جب لگے جو ہمارے نظام سے علیحدہ ہو کر حاصل کرو۔ اگر ہم سورج کی حدت کو معدوم کر دیں اور بارش کو روک لیں۔ پھر دیکھیں تمہاری محنت و کوشش، کبھی سوچا بھی پانی کی کیا قیمت دیتے ہو۔ جس پر زندگی کا انحصار ہے۔ ہوا کس مول لیتے ہو جس پر زیست کا دارومدار ہے۔ اولاد کن درموں خریدا کرتے ہو۔ جس پر بقا عالم ہے۔ اور لمبی عمر گذرنے پر پیر فرتوت کی بھی خوب کہی۔ نوحؑ کا زمانہ بھول گئے چوداں چوداں سو برس کے آدمی تمہارے پچاس سالہ بوڑھے سے توانا و تندرست تھے۔ ہزار برس تو وہ وعظ و نصیحت ہی کرتے رہے۔ اصحاب کہف کتنے برس سوئے کچھ یاد ہے۔ عزیرؑ کتنی مدت مرے رہے بھول گئے ہم میں یہ طاقت ہے کہ بڑھاپا روک دیں یا جوانی کو بڑھاپے میں بدلوا دیں۔ کیونکہ ہم ہر ایک چیز پر قادر ہیں۔
ہم تبرکاً اسی الہام پر شیخ الاسلام العلامۃ الانور الکشمیری ثم الدیوبندی کا کلام جو انہوں نے عقیدۃ الاسلام ص ٢ طبع دیوبند میں فرمایا نقل کرتے ہیں۔
”وذلك الشقى المتنبي يقول ان الفلسفة القديمة والجديدة تحيل عروج جسم الى السماء يدعى الشقى النبوة ثم يتفلسف وفوق ذلك انه لا يعرف شيئا من الفلسفة ولا شيئا وانما يدين بما سمعه من اتباعه المتفرنجين ثم يتشدق به كانه فيلسوف حاذق فاذا اعوزه الامر واعجزه الشان التجاء الى دعواه الالهام فهو كالنعامة اذا قيل له طراستنوق اوا ستحمرا واذا قيل له احمل استنسر، والله تعالى يقول لو شئنا لاسكنا الملائكة ارضكم ومعلوم ان هبوط ملك الى الارض تاركا مقامه المعلوم وصعود انسان الى السماء سيان لا فرق بينهما“
یہ بدبخت متنبی دعویٰ کرتا ہے کہ فلسفہ قدیم وجدید کی تحقیق ہے کہ اس جسم کا آسمان پر جانا محال ہے۔ (دیکھو) یہ بدبخت اوّل تو نبوت کا دعویٰ کرتا ہے۔ پھر فلسفی بنتا ہے۔ حالانکہ فلسفہ کیا جانتا بجائے خود کسی چیز کو نہیں جانتا۔ بلکہ جو یورپین سے سنتا ہے۔ اسی کی اطاعت کرتا ہے پھر ظاہر کرتا ہے کہ میں بڑا فلسفی ہوں۔ اگر کوئی فلسفہ بین عار کرتا ہے تو لاچار الہام کا دعویٰ کرتا ہے۔ اس کی مثال شتر مرغ کی ہے۔ اگر اس کو اڑنے کے لئے کہا جائے تو کہتا ہے میں اونٹ ہوں۔ اگر کہا جائے بوجھ اٹھا تو کہتا ہے میں پرندہ ہوں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں اگر ہم چاہیں تو زمین کو ملائکہ سے آباد کریں اور یہ بات ظاہر ہے کہ فرشتوں کو اپنا مقام معلوم چھوڑ کر زمین پر آنا اور انسان کا آسمان پر چڑھنا برابر ہیں اور کوئی فرق نہیں۔
ناظرین! خلّاق جہاں کا یہ ارشاد ”ولو نشاء لجعلنا منكم ملائكة فى الارض (زخرف:٦٠)“ یعنی اگر ہم چاہیں تو زمین کو ملائکہ سے آباد کریں۔ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ وہ آسمانی مخلوق کو زمین پر بسا دے اور وہی اشغال وافعال یعنی تسبیح و تقدیس میں منہمک رہنا لذات دنیوی سے نا آشنائی اور اکل شرب سے بے اعتنائی۔ جیسا کہ ان کا طریق کار ہے اس خطہ خاکی پر وہی کاروبار جو آسمان پر بجالاتے ہیں اختیار کریں اور جیسا کہ وہ ملائکہ کو زمین پر بسانے اور آباد کرنے پر قادر ہے اس سے کہیں زیادہ وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ زمین کے رہنے والے یعنی انسان آسمان پر لے جائے اور وہیں ان کے ضروریات زندگی مہیا ہوں اور یہ کوئی مشکل نہیں۔ کیونکہ وہ ہر ایک چیز پر قادر ہے۔
اگر کوئی مرزائی یا سودائی اس قول الٰہی پر معترض ہو اور نادانی وحماقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اعتراض کرے کہ ایسا ہو نہیں سکتا۔ یہ کیونکر ممکن ہے۔ انسان فرشتہ ہو جائے اور فرشتے زمین پر چلنے لگیں۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ خبیث، خدا کو ناکارہ سمجھتا اور وہ نابکار یہ خیال کرتا ہے کہ یہ فقرہ یونہی کہہ دیا گیا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کا کوئی مقولہ معیار صداقت کی ضمانت سے کم نہیں۔ وہ جو بھی کہہ دے وہ ہماری عقل میں آوے نہ آوے اس میں یہ خیال نہیں لانا چاہئے کہ چونکہ یہ ہماری عقل وفکر سے بعید ہے۔ اس لئے ایسا ہو نہیں سکتا۔ ہماری طاقت محدود ہمارا فہم مسدود ہمارے پلے ہی کیا ہے۔ ایک گندے مادے کا ناپاک قطرہ ترقی کرتے کرتے آخر کہاں تک پہنچ سکتا ہے۔ وہ ذات کردگار ہماری طرح مجبور ومعذور نہیں۔ نہ اس کی طاقت محدود نہ اس کی خدائی مقیود۔ کون ہے جو اس کی حد بست کرے اور کس کی مجال ہے جو اس کے نظام میں دخل دے۔ اس کے بھید ہی نرالے ہیں۔ اس کی ذات عجز سے مبرا اور عیب سے خالی۔ گویا سقم کو وہ جانتی ہی نہیں۔ پھر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ وہ کوئی وعدہ کرے اور پورا نہ ہو۔ کوئی مقولہ بیان ہو اور وہ معیار صداقت پر پورا نہ اترے۔ اگر یہ خیال کریں کہ یہ فقرہ ایسے ہی کہہ دیا گیا ہے ورنہ اس کا وجود میں آنا مشکل ہی نہیں محال ہے تو اس سے تو یہ لازم آئے گا کہ نعوذ باللہ خدا بھی ہماری طرح مشکلات ومحالات کے چنگل میں مقید ہے۔ جو صرف باتیں بیان کر دیتا ہے۔ مگر ایفاء کی طاقت نہیں رکھتا اور جناب مسیح کا آسمان پر لے جانا تو ایک امر مقدر تھا۔ جس کی سب سے بڑی وجہ ذیل میں بیان کی جاتی ہے۔
ہر ایک نبی کا ایک مبشر اور مصدق ہوتا رہا ہے اور یہ ایک متفقہ اور مانی ہوئی چیز ہے۔ چنانچہ جناب مسیح تک یہ سلسلہ بدستور صحیح چلتا آیا ہے۔ مگر رسول پاک ﷺ چونکہ خاتم النبیین ہیں۔ اس لئے آپؐ کے بعد کوئی نبی نہ ظلی ہو یا بروزی۔ تشریعی ہو یا غیر تشریعی قطعاً کسی صورت نہیں ہو سکتا۔ اس لئے اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپؐ کے مبشر جناب مسیح کو جنہوں نے آپ کی آمد کا مژدہ سنایا تھا۔ ”ومبشراً برسول یاتی من بعدی اسمه احمد (صف:٦)“ کو ہی مصدق بنانے کے لئے ایک لمبی عمر عطاء فرماتے ہوئے آسمان پر اٹھا لیا اور وہی وعدہ الٰہی ”وان من اہل الکتب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ (نساء:١٥٩)“ کی تحت میں قرب قیامت میں تشریف لائیں گے اور یہی وجہ ہے جو سرکار مدینہ نے اپنے مصدق کے لئے حلف اٹھاتے ہوئے وعدہ فرمایا۔
فرمان رسالت نمبر:٣
”عن عبداللہ بن عمر وبن العاصؓ قال قال رسول اللہ ﷺ ینزل
عيسى ابن مريم الى الارض فيتزوج ويولد له ويمكث خمساً واربعين سنة ثم يموت فيدفن معى فى قبرى فاقوم انا وعيسى ابن مريم في قبر واحد بين ابی بکر وعمر (رواہ ابن جوزی فی کتاب الوفاء ص٨٣٢، الباب الثانی فی حشر عیسی بن مریم مع نبینا، مشکوۃ ص٤٨٠، باب نزول عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام)“
﴿جناب عبداللہ بن عمر بن العاصؓ فاتح مصر صحابی نبی کریمﷺ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہﷺ نے کہ عیسیٰ بیٹے مریم کے زمین کی طرف اتریں گے۔ پس وہ نکاح کریں گے اور ان کے ہاں اولاد ہوگی۔ وہ پینتالیس برس زمین پر قیام کریں گے۔ اس کے بعد واصل الی الحق ہوں گے۔ وہ میرے پاس میرے مقبرے میں دفن ہوں گے۔ پس میں اور عیسیٰ مریم کا بیٹا ایک ہی مقبرہ سے اٹھیں گے ابو بکرؓ اور عمرؓ کے درمیان۔﴾
قول مرزا
جو چھوڑتا ہے چھوڑ دو تم اس خبیث کو
(تحفہ گولڑویہ ص١٠، خزائن ج١٧ ص٨٧)
اس حدیث شریف کی صحت کے متعلق جہاں ابن جوزیؒ نے کتاب الوفا میں تصدیق فرمائی، جو چھٹی صدی کے مسلمہ مجدد ہیں۔ وہاں مرزا قادیانی نے بھی اپنی متعدد کتب میں اس کا تذکرہ کرتے ہوئے اس کی صحت کو قبول کر کے اسی حدیث کو اپنے پر چسپاں کرنے کی لاحاصل سعی کی۔ یہ علیحدہ امر ہے کہ بندروں کو کمخواب کے پاجامے زیب نہ دیں۔ یا بقول شخصے کہ
زاغ کی چونچ میں انگور خدا کی قدرت
چنانچہ مرزا نے اس حدیث شریف کو نقل کیا ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ:
”لوگوں نے اس پہلے خارق عادت امر کا عیسیٰ بن مریم میں نتیجہ نہیں دیکھ لیا۔ جس نے کروڑہا انسانوں کو جہنم کی آگ کا ایندھن بنا دیا تو کیا اب بھی یہ شوق باقی ہے کہ انسانی عادت کے برخلاف عیسیٰ آسمان سے اترے۔ فرشتے بھی ساتھ ہوں اور اپنے منہ کی پھونک سے لوگوں کو ہلاک کرے اور موتیوں کی طرح قطرے اس کے بدن سے ٹپکتے ہوں۔“
(حقیقت الوحی ص٣٠٩، خزائن ج٢٢ ص٣٢٢)
”یاد رہے مسیح موعود کی خاص علامتوں میں سے یہ لکھا ہے کہ ١...... وہ دوزرد رنگ چادروں کے ساتھ اترے گا۔ ٢...... اور نیز یہ کہ دوفرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے اترے گا۔ ٣...... اور نیز یہ کہ کافر اس کے دم سے مریں گے۔ ٤....... اور نیز یہ کہ وہ ایسی حالت میں دکھائی دے گا کہ گویا غسل کر کے حمام سے نکلا ہے اور پانی کے قطرے اس کے سر پر سے موتیوں کے دانوں کی طرح ٹپکتے نظر آئیں گے۔ ٥....... اور نیز یہ کہ وہ دجال کے مقابل پر خانہ کعبہ کا طواف کر گا۔ ٦...... اور نیز یہ کہ وہ صلیب کو توڑے گا۔ ٧....... اور نیز یہ کہ وہ خنزیر کو قتل کرے گا۔ ٨...... اور نیز یہ کہ وہ بیوی کرے گا اور اس کے اولاد ہوگی۔ ٩...... اور نیز یہ کہ وہی ہے جو دجال کا قاتل ہوگا۔ ١٠...... اور نیز یہ کہ مسیح موعود قتل نہیں کیا جائے گا۔ بلکہ فوت ہوگا اور آنحضرت ﷺ کی قبر میں داخل کیا جائے گا۔“
(حقیقت الوحی ص ٣٠٨،٣٠٧، خزائن ج ٢٢ ص ٣٢٠،٣١٩)
اب ان دس صفات کی تصریحات بھی ملاحظہ کریں:
- ١...... دو زرد چادروں سے مراد: مرزا قادیانی کی دو محبوب بیماریاں یعنی
دوران سر و کثرت پیشاب۔
- ٢...... دو فرشتوں سے مراد: اتمام حجت نشانوں اور علم کے ساتھ (مولوی
نور دین مولوی عبد الکریم)
- ٣...... کافر اس کے دم سے مریں گے سے مراد: یعنی توجہ سے کافروں کا مرنا۔
- ٤...... قطروں کا موتیوں کی طرح سر سے گرنا سے مراد: بار بار توبہ اور تضرع دعاء کرنا۔
- ٥...... خانہ کعبہ کے طواف سے مراد: مرکز اسلام کا طواف کرنا۔
ہجوم خلق سے ارض حرم ہے
(درثمین اردو ص ٥٢)
- ٦...... صلیب کو توڑنے سے مراد: صلیبی عقیدہ کو توڑنا۔
- ٧...... خنزیر کو قتل کرنے سے مراد: بد زبان دشمن کو مغلوب کرنا۔
- ٨...... دجال کے قتل سے مراد: دجالی فتنہ رو بہ زوال ہونا۔
- ٩...... نکاح سے مراد: آسمانی منکوحہ محمدی بیگم اور اولاد کان اللہ نزل من السماء۔
- ١٠...... فیدفن معی فی قبری سے مراد: روح مسیح کا سرور دوعالم ﷺ سے وصال پذیر ہونا۔
یہ ہیں قادیانی تاویلات جو بیان ہوئیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر انہیں قبول کیا جاوے تو اسلام کے پلے باقی کیا رہ جاتا ہے۔ مثلاً نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، کلمہ اور قربانی کے مسائل جن پر بقاء اسلامی کا انحصار ہے۔ کل کو کوئی اور سر پھرا مشرقی جیسا جلد باز یہ تاویل نہ کرے گا کہ نماز کے معنی صلوٰۃ اور روزہ کے معنی پیٹ سے پرہیز کرنا اور حج کے معنی امیر کی فرمانبرداری اور زکوٰۃ کے معنی خدمت خلق اور قربانی کے معنی خاکی اور اخوت کا سرخ نشان اب کہئے کون احمق ہے جو دونوں کو قبول کرے اور انہیں خرافات نہ کہے۔ فقیر کے خیال میں نظام دنیا کا برقرار رہنا محال ہو جائے گا۔ مثلاً میں کہتا ہوں مجھے دودھ چاہئے۔ اس کے عوض میرے سامنے سفید چونے کا پانی پیش کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ چونکہ یہ دودھ سے ملتا جلتا ہے۔ اس لئے اسے ہی پی لو۔ میں محمد اسلم کو آواز دے کر بلاتا ہوں اور اس کے بجائے سندھی بیگ دوڑا آتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ میں تو محمد اسلم کو چاہتا ہوں اور وہ جواب دیتا ہے میں بھی آدمی ہوں گدھا تھوڑا ہی ہوں۔ مجھے ہی محمد اسلم سمجھ لو۔ آخر یہ کیا اندھیر ہے۔ پیش گوئی مسیح ابن مریم کو مسیح موعود قرار دیتی ہے۔ مگر اس کا مصداق غلام احمد بن چراغ بی بی بن رہا ہے۔ پیش گوئی مسیح موعود کا نزول بیان کرتے ہوئے صاف الفاظ میں کہہ رہی کہ وہ عیسیٰ جو زمین پر نہیں بلکہ اس کی ضد آسمان پر ہے۔ زمین پر اترے گا۔ مگر یہاں چراغ بی بی بچہ جن رہی ہے اور اب وہ باون سالہ زندگی میں مینارہ کی تجویزیں سوچتا ہوا اترنے کا دعویٰ کر رہا ہے۔ تعجب ہے اس بے تکے دعوے پر اور حیرانگی ہے۔ اس بے بنیاد ڈھکوسلے پر جناب حافظ علیہ الرحمۃ کیا خوب کہہ گئے ؎
نہ ہر کہ سر بتراشد قلندری داند
فرمان رسالت بزور تقاضہ کرتا ہے کہ آنے والے کا نام عیسیٰ ہے اور اسی پر بس نہیں۔ بلکہ صاف الفاظ میں ابن مریم بیان ہو رہا ہے۔ یہاں اپنا نام بدلنے کے ساتھ ماں کے نام کو بدلا نہیں جاتا اور نہ ہی وہ مرزا قادیانی کے بس کا روگ ہے۔ اس لئے خود مابدولت ہی مریم بنتے ہیں اور خود ہی عیسیٰ جنتے ہیں۔ عجیب معاملہ ہے کہ گھاس خور اسی چیز کو لئے پھرتے ہیں اور منادی کرتے ہوئے شرم نہیں آتی اور پھر یہ ایک اور طریق سے بھی غلط ہے۔ وہ یہ کہ صفات میں لکھا ہے کہ مسیح موعود شادی کریں گے اور ان کے ہاں اولاد ہوگی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پنجابی نبی نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کب کیا۔ یہ ظاہر ہے کہ ١٨٩٠ء سے قبل آپ مثیل مسیح ہی بنتے رہے اور یہاں تک لکھ دیا کہ بعض جاہل اور کم فہم لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ میں نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
حالانکہ میں نے تو صرف مثیل مسیح کا دعویٰ کیا ہے اور اگر بفرض محال آپ کو مسیح موعود ہی خیال کر لیا جائے تو دیکھنا پڑے گا کہ آپ نے اس شرط کو یعنی شادی کو کہاں تک پورا کیا ہے۔ یہ بھی عیاں ہے کہ دعویٰ مسیح موعود کے بعد آپ نے کوئی شادی نہیں کی۔ ہاں سر سے پاؤں کے ناخنوں تک زور ضرور لگایا ہے اور آسمان پر نکاح کے ہونے کی بھی سنائی ہے۔ مگر سوائے بدنامی اور جگ ہنسائی کے اور کچھ حاصل نہیں ہوا۔ بلکہ آپ کی منکوحہ آسمانی کو آپ کی آنکھوں کے سامنے دوسرا لیتا ہوا چلتا بنا۔ مگر آہ آپ کی ڈھارس نہ ٹوٹی۔ بیوہ ہونے کا انتظار اور رقیب کے مرنے کی آرزو میں مدتوں بیٹھے آہیں سرد بھرتے اور سسکیاں لیتے رہے۔ مگر قدرت نے اس کا بال بھی بیکا نہ کیا اور آپ کا لین کلیر ہو گیا اور موعودہ اولاد کی نسبت شیطان کی آنت سے زیادہ لمبا ایک بار الہام یہ کہتے ہوئے سنایا۔ مگر اے بسا آرزو کہ خاک شد ایک اور طریق سے بھی یقیناً آپ کاذب تھے۔ وہ یہ کہ مرزا قادیانی کو دعویٰ مسیح موعود کے بعد یعنی ١٨٩٠ء کے بعد پینتالیس برس زمین پر ضرور رہنا چاہئے تھا۔ مگر آپ نے بہت جلد بازی سے ١٩٠٨ء میں ہی سگنل ڈاؤن کر دیا۔ حالانکہ آپ کو پیش گوئی کے مطابق ١٩٣٥ء تک رہنا چاہئے۔ یہ بھی نہ ہوا اور سنیے پیش گوئی کے الفاظ یہ چاہتے ہیں کہ آپ کا انتقال مدینہ طیبہ میں ہو اور جیسا کہ آپ کا اپنا ایک الہام بھی ہے۔ یعنی ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں۔ مگر ہوا کیا آپ لاہور میں مرے اور دجالی گدھے کو زینت بخشتے ہوئے قادیان پہنچے۔
فقیر نے جب حدیث شریف میں یہ پڑھا کہ دجال مکہ اور مدینہ میں نہ جاسکے گا تو پوری طرح سے تفہیم نہ ہوئی۔ مرزا قادیانی کے انتقال نے اس پر روشنی ڈالی کہ کیوں دجال مکہ اور مدینہ میں نہ جا سکے گا اور آپ کی بطالت کے لئے تو یہی کافی ہے کہ حدیث پاک کے آخری الفاظ تو یہ چاہتے ہیں کہ قیامت کو سرکار نامدار کے ساتھ مسیح موعود اکھٹے ایک ہی مقبرہ سے اٹھیں اور ان کے یمین و شمال جناب ابوبکر صدیقؓ اور عمر فاروقؓ ہوں۔ مگر یہاں کیا ہے کہ مرزا قادیانی نام زنگی کافور مقبرے میں حکیم نور دین کے بازو میں بغل دکھا رہے ہیں اور دوسرے رفیق کی انتظار کر رہے ہیں۔ جو غالباً آپ کا بیٹا محمود ہوگا (وہ بھی نہ ہوا۔ محمود چناب نگر میں دفن ہوا۔ فقیر مرتب) اگر مرزا قادیانی ہی مسیح موعود ہیں تو حدیث کے الفاظ یوں ہونے چاہئے۔
فيخرج غلام احمد القادياني بين نور الدين والمحمود!
اب دیکھئے ایک چیز کے انکار سے بیسوں چیزوں کو بدلنا پڑا۔ اس لئے یہ معنی ہی غلط یہ انداز ہی غلط۔ فرمان رسالت کی رو سے تو یہ چاہئے کہ آنے والا مسیح زمین کی ضد آسمان سے نزول کرے۔ مگر قادیانی اصطلاح میں اس کے معنی ماں کے پیٹ سے نکلنے کے لئے جاتے ہیں اور پھر
بھی حدیث کے الفاظ صادق نہیں بیٹھتے۔ کیونکہ جب مرزا قادیانی نے جنم لیا تو وہ سندھی بیک تھے۔ بعد میں غلام احمد کہلائے۔ مگر حدیث یہ چاہتی ہے کہ وہ عیسیٰ ابن مریم ہوگا۔ اب یہاں نہ ماں کا نام ملے نہ اپنا، مگر پھر بھی مرزا قادیانی ہانکے جاتے ہیں کہ مسیح موعود میں ہی ہوں۔ بسوخت عقل ز حیرت کہ ایں چہ بوالعجبیست !
اب دیکھنا یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے مسیح موعود عیسیٰ ابن مریم ہونے کا دعویٰ کس سن میں کیا۔ سو وہ مرزائیت کے آشناؤں سے مخفی نہ ہوگا کہ آپ کا یہ دعویٰ ١٨٩٠ء کے بعد کا ہے۔ اب دعویٰ کے بعد ان کی شادی کا وقوع میں آنا حدیث کی رو سے لازمی ہے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے خود اس کا اقرار نکاح آسمانی کے موقعہ پر کیا۔ ملاحظہ فرمائیں:
”یہ امر کہ الہام میں یہ بھی تھا کہ اس عورت کا نکاح آسمان پر میرے ساتھ پڑھا گیا ہے درست ہے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٢، خزائن ج ٢٢ص ٥٧٠)
”اس پیش گوئی کی تصدیق کے لئے جناب رسول اللہ ﷺ نے بھی پہلے سے ایک پیش گوئی فرمائی ہے۔ یتزوج و یولدلہ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد ہوگا۔ تزوج اور اولاد کا ذکر عام طور پر مقصود نہیں۔ کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ اس میں کچھ خوبی نہیں۔ بلکہ تزوج سے مراد خاص تزوج ہے۔ (محمدی بیگم) جو بطور نشان ہوگا اور اولاد سے مراد خاص اولاد ہے۔ جس کی نسبت اس عاجز کی پیش گوئی موجود ہے۔ گویا اس میں رسول اللہ ﷺ ان سیاہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)
مگر ہوا کیا۔
اب آرزو یہ ہے کہ کوئی آرزو نہ ہو
چنانچہ مرزا قادیانی نے اس کے بعد کوئی شادی نہیں کی اور نکاح آسمانی جو خود اللہ میاں نے پڑھا تھا پورا نہیں ہوا اور جب کہ شادی ہی منصہ شہود سے غائب ہے تو اولاد کیا آسمان سے ٹپک پڑتی۔ ایک اور چیز بھی مرزا قادیانی کے بطلان کی شاہد ہے۔ وہ یہ کہ فرمان رسالت کی رو سے آپ کو ١٩٣٥ء تک زندہ رہنا چاہئے۔ مگر آپ کا لین کلیر بیلور ٹائم ١٩٠٨ء میں ہو رہا ہے۔ مگر امت ہے کہ پھر بھی یہی کہے جاتی ہے کہ آپ ہی مسیح موعود ہیں۔ کوئی ان گھاس خوروں سے پوچھے کہ بھلے مانسو اگر مرزا ہی مسیح موعود ہوتا تو ہماری کیا بدبختی آئی تھی۔ جو ہم ٩٠ کروڑ مسلمان اس کو نہ قبول
کرلیتے اور یہ ٹھیکیداری کا پٹہ تمہارے ہی حصے کیوں آتا۔ کابل سے شروع کر کے تمام ممالک کی سیر کرو۔ کوئی مرزا کو جانتا بھی نہیں۔ جب مسلمان ہی اس سے شناسا نہیں تو یہود و نصاریٰ کا کیا قصور۔ کیا وہ تمام لوگ یوم حشر رب العالمین کے سامنے یہ کہنے میں حق بجانب نہیں کہ مولا ہمیں تو مسیح کے آنے کا پتہ بھی نہیں اور جناب مسیح کس برتے پر شہادت میں بلائے جائیں گے۔ جب کہ ان کے علم میں ہی نہیں کہ یہود کہاں رہتے ہیں۔ کس قدر ہیں اور ان کے کیا کیا عقائد ہیں۔ چیز تو وہ صحیح اور قابل قبول ہے جو مشاہدہ میں آوے۔ مگر یہاں بلا دیکھے بھالے شہادت میں طلب کیا جارہا ہے اور سوال ہورہا ہے۔ ”أنت قلت للناس اتخذونی وامی الهین من دون الله (مائده:١١٦)“ کیا تم نے ہی کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو سوائے اللہ کے معبود بنالو۔ اس لئے یہ نظریہ ہی غلط و مردود ہے۔
اکثر مرزائی یہ اعتراض کرتے ہیں گنبد خضریٰ کے اندر چوتھی قبر کی گنجائش ہی نہیں۔ سو یہ بھی غلط ہے۔ اس لئے کہ ہمیں اس کے متعلق بھی بہت سی ایسی احادیث ملتی ہیں جو اس نظریئے کو مردود و لغو قرار دیتی ہیں۔ پس غور سے سنئے سب سے پہلی چیز اسی حدیث کے وہ الفاظ ہیں۔ یعنی فیدفن معی فی قبری یعنی مسیح میرے ساتھ میرے روضے میں دفن ہوں گے۔ سبز گنبد کے لاکھوں زائر موجود ہیں جو متفقہ طور پر یہ شہادت دیتے ہیں کہ گنبد خضریٰ کے اندر تین قبریں موجود ہیں۔ اس لئے معلوم ہوا کہ ابھی مسیح ابن مریم زندہ ہیں۔ فوت نہیں ہوئے اور اگر فوت شدہ تسلیم کرلیں تو چوتھی ان کی قبر کہاں ہے۔ نیز یہ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ کا وصیت کرنا کہ مجھ کو حضور اکرم ﷺ کے پاس دفن نہ کیجیو۔ بلکہ جنت البقیع میں مدفن بنائیو۔ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ قبر کی جگہ تو ہے مگر وہ مسیح ابن مریم کے لئے مخصوص ہے۔ جیسا کہ حافظ ابن حجر عسقلانیؒ کتاب فتح الباری پارہ ششم میں بیان فرماتے ہیں:
”قولها عند وفاتها لا تدفنى عندهم يشعر بانه بقى من البيت موضع المدفن“ ﴿جناب عائشہ صدیقہؓ کا وفات کے وقت یہ کہنا کہ مجھے ان کے پاس یعنی روضہ اطہر میں دفن نہ کرنا۔﴾ صاف بتا رہا ہے کہ روضہ اقدس میں ایک قبر کی جگہ ابھی باقی ہے اور ایسا ہی فتح الباری پارہ سوم میں فرماتے ہیں۔
”ان الحسن ابن علیّ اوصى اخاه ان يدفنه عندهم ....... فدفن بالبقيع“ ﴿جناب امام حسنؓ نے اپنے بھائی امام حسینؓ کو وصیت فرمائی کہ مجھے روضہ اطہر میں دفن کیجیو۔ مگر وہ دفن کئے گئے بقیع میں۔﴾
تو یہ صاف معلوم ہوا کہ قبر کی جگہ تو باقی تھی مگر احترام الفاظ نبوی کے لئے صحابہؓ نے اس کو مسیح ابن مریم کے لئے مخصوص رکھا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ تمام صحابی اس بات پر متفق تھے کہ مسیح ابن مریم زندہ ہیں اور وہ قرب قیامت میں نزول اجلال فرمائیں گے۔ یہ اجماع امت نہیں تو اور کیا ہے۔ اب اس حدیث پر مرزا قادیانی کا دجل بھی ملاحظہ فرمائیں اور بخدا یہ چکر بھی کچھ ایسے انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ سادہ لوح تڑپ اٹھتے ہیں اور عقیدت سرکار مدینہ میں یہاں تک کہہ جاتے ہیں کہ مسیح فوت ہو گیا۔ حالانکہ یہ کلمہ میرے خیال میں کفر سے کم نہیں۔ کیوں اس لئے کہ مسلمان ہو کر قرآن حدیث اور تواتر قومی سے انکار کیا۔ چنانچہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں:
”رسول کریم ﷺ کی قبر کو نعوذ باللہ کھود کر اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دفن کرنا کس قدر گستاخی اور بے ادبی ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٧٠، خزائن ج ٣ ص ٤٧٨)
تعجب نہیں حیرت ہے کہ وہ شخص جس نے رسول اکرم ﷺ کی مماثلت تامہ کا دعویٰ کیا اور اپنے منحوس زمانے کو خیر القرون سے بہتر کہا۔ رسالت محمدیہ کے عیب و سقم تلاش کئے اور آنحضور ﷺ کی بعثت کو پہلی رات کا چاند قرار دیتے ہوئے اپنے دور کو چودھویں رات کا چاند بتایا۔ حضور اکرم ﷺ کے معجزے تین ہزار بتاتے ہوئے اپنے معجزات دس لاکھ شمار کر گیا۔ حضور اکرم ﷺ کے تمام انعامات ازلیہ پر روز روشن میں ڈاکہ ڈالا اور براہین احمدیہ میں تو مان نہ مان اپنے آپ پر جڑ گیا۔ معراج جسمانی کا منکر ہوا۔ آپ کی پیش گوئیوں پر اعتراض کئے کہ دجال کی حقیقت اور دابۃ الارض کی کیفیت آنجناب پر نہ کھلی۔ کھجوروں والی زمین کو آپ نے یمامہ سمجھا۔ حالانکہ وہ مدینہ طیبہ نکلی۔ حضور اکرم ﷺ کے خواب پہ آوازے کسے اور کہا کہ خواب اس سال پورا نہ ہوا۔ یہاں تک کہ آپ کے پاک ناموں کو اپنے میں مدغم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہہ دیا۔
منم محمد واحمد کہ مجتبیٰ باشد
(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٣٢)
اور اس پر بس نہ کیا دعائے خلیل اور نوید مسیحا کو اپنے پر چسپاں کرتے ہوئے اعلان کر دیا کہ ”وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَّأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ اَحْمَد (صف: ٦)“ ﴿اور میں خوشخبری دیتا ہوں ایک رسول کی جو مجھ سے بعد آنے والا ہے جس کا نام نامی احمد ہوگا۔﴾
اور دھڑلے سے کہہ دیا گیا کہ یہ میری ہی بشارت ہے۔ رونا آتا ہے کہ وہ کون سا نیک سلوک ہے۔ جو ذات گرامی سے آپ نے کیا۔ ہر ایک چیز کا بہروپ بھرنے کی سعی لاحاصل کی۔
مثلاً جنگ بدر کے تین سو تیراں جانثاروں کی نقل کرتے ہوئے اپنے تین سو تیراں عقل کے اندھے بنائے۔ جن میں ٧١ مردے بھی شامل تھے۔ آنحضورﷺ کے آسمانی نکاح کی نقل اتارتے ہوئے محمدی کے عشق میں بیسوں الہام سنائے اور رسوائی اور روسیائی سے دوچار ہوئے۔ حضورﷺ کی بیویوں کے متعلق فرقان حمید نے احترام کے طور پر ان کو مسلمانوں کی مائیں قرار دیا تو پنجابی نبی نے بغیر سوچے سمجھے اپنی بیوی کو ام المومنین کہلوایا۔ حضور اکرمﷺ کی کاپی کرتے ہوئے اپنے ٹکڑ توڑ مریدوں کو صحابی کے نام سے یاد کیا۔ حضور اکرمﷺ کی وحی کی نقلیں اتارتے ہوئے وحی پیغامی پسند کیا۔ جس کے دنیا پر آنے کا انکار کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اے مسلمانوں کی ذریت کہلانے والا شرم کرو اور خدا سے ڈرو اور جبرائیل کا زمین پر حضور اکرمﷺ کے وصال کے بعد آنا جاری نہ کرو۔ کیونکہ وہ آدم صفی اللہ سے پیغامی بنا اور آنحضورﷺ پر ختم ہو چکا۔ مگر واہ رے مرزے بے دم کے شیر کہ جدت کرتے ہوئے الہام سنا دیا کہ جاء نی ایل اور ترجمہ فارسی میں جڑ دیا کہ آمد نزد من جبرائیل علیہ السلام۔ اس چھوٹے سے مضمون میں کیا کیا گنواؤں۔ غرضیکہ وہ تمام باتیں جن میں سراسر توہین محبوب خدا ہے۔ آپ نے روا رکھی اور آج تم کس منہ سے تسوے بسورتے ہو کہ ”فیدفن معی فی قبری “ میں توہین ہوتی ہے۔ کاش کہ تم کچھ پڑھے لکھے ہوتے تو یہ فضول اعتراض نہ کرتے۔ یہ ہے آپ کا مبلغ علم جس کے برتے پر تم پیغمبری کر رہے ہو۔ سنو اور ہوش کی دوا لو۔ اس میں قطعاً توہین نہیں۔ بلکہ آنحضورﷺ کی عزت ہے کہ حسب پیش گوئی وہ آپ کے مقبرے میں دفن ہو رہے ہیں اور وہی آپ کے لئے ازل سے مخصوص ہے اور اگر قبر کی وجہ سے رگ الحاد پھڑکتی ہو تو ملا علی قاریؒ کی کتاب (مرقاۃ شرح مشکوۃ ج١٠ص٢٣٣، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام) ہی دیکھ لو وہ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
”فیدفن معی فی قبری (ای فی قبری) وعبر عنها بالقبر لقرب قبره بقبره فکانما فی قبر واحد “ ﴿میری قبر میں دفن ہوگا۔ یعنی میرے روضے مبارکہ میں اور مقبرہ کی بجائے قبر کا لفظ دونوں قبروں کے ساتھ ساتھ ہونے کی وجہ سے استعمال فرما دیا۔﴾
امید ہے کہ اعتبار کے لئے یہی شہادت کافی ہے۔ مگر مرزائی آن باشد کہ چپ نہ شود یہ کب مانیں گے۔ لیجئے ہم مرزا قادیانی کے پتال جنتر یا الہامی گھڑی ہی سے اس کا ثبوت پیش کئے دیتے ہیں۔
”جناب ابوبکرؓ و عمرؓ ...... ان کو یہ مرتبہ ملا کہ آنحضورﷺ سے ایسے ملحق ہو کر دفن کئے گئے کہ گویا ایک ہی قبر ہے۔“
(نزول المسیح ص٤٧، خزائن ج١٨ ص٤٢٥)
مزید تسلی چاہو تو اور سنو : ’’واضح رہے کہ آنحضرت ﷺ کی قبر میں ان کا آخری زمانہ میں دفن ہونا ..... ممکن ہے کوئی مثیل ایسا بھی ہو جو آنحضرت ﷺ کے روضے کے پاس مدفون ہو ۔‘‘
(ازالہ اوہام ص ٤٧٠، خزائن ج ٣ ص ٣٥١، ٣٥٢)
بس اہل اسلام اسی کو مسیح موعود کہتے ہیں اور اسی کی انتظار میں بیٹھے ہیں ۔ آپ مہربانی کر کے خواہ مخواہ اس پھٹے میں ٹانگ نہ پھنسائیں ۔ تشریف لے جائیے No Vacancy نو وکینسی ۔
غلام زادے کو دعویٰ پیغمبری کا ہے
اور مرزا قادیانی کے پلے ہی کیا ہے توہمات باطلہ کے ڈھیر یا ظنیات اور چھلاووں کے ہیر پھیر ۔ سنو اور غور سے سنو ۔ آقائے نامدار سرکار مدینہ ﷺ کی زندگی میں جناب ام المومنین عائشہ صدیقہؓ عرض کرتی ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ میرا آپ ﷺ کے بعد انتقال ہو۔ اس لئے کرم کیجئے اور اجازت دیجئے کہ میں آپ ﷺ کے پہلو میں دفن کی جاؤں ۔ اب جواب بھی فرمانِ فیض ترجمان سے سن لیجئے ۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ : ’’انی لی بذالك الموضع ما فیہ الا موضع قبری وقبر ابی بکرٍ وعمر وعیسی ابن مریم (منتخب کنز العمال برحاشيه، مسند احمد ج ٦ ص ٥٧)‘‘
ارشاد فرماتے ہیں: ’’اے عائشہؓ! اس جگہ اب میرا اختیار نہیں ۔ کیونکہ بروئے امر مقدر وہاں سوائے میری قبر اور ابوبکرؓ اور عمرؓ اور عیسیٰ ابن مریم کی قبر کے اور کوئی جگہ ہی نہیں ۔‘‘
اسی پر بس نہیں (مشکوٰۃ ص ٥١٥، باب فضائل سید المرسلین فصل ثانی) میں حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا تورات میں آنحضرت ﷺ کی صفت میں یہ مرقوم ہے کہ:
’’عیسی ابن مریم یدفن معه قال ابو مودود وقد بقی فی البیت موضع قبر ‘‘ عیسیٰ علیہ السلام آنحضرت ﷺ کے ساتھ دفن ہوگا ابو مودود راوی حدیث فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے حجرہ میں ابھی ایک قبر کی جگہ باقی ہے۔ یوں ہی (تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٤١٥) میں زیر آیت ’ وان من اہل الکتٰب “ بروایت طبرانی ابن عساکر تاریخ بخاری حضرت عبداللہ بن سلام سے روایت کی ہے کہ حضرت مسیح آنحضرت ﷺ کے حجرے میں دفن ہوں گے اور ان کی قبر چوتھی ہوگی۔ فیکون قبرہ رابعاً!
اس حدیث پر اکثر مرزائی یہ بھی اعتراض کرتے ہیں کہ اگر گنبد خضریٰ میں چار قبروں کا وقوع میں آنا ہوتا تو جناب ام المومنین عائشہ صدیقہؓ کو چار چاند خواب میں دیکھنے چاہئے تھے۔ حالانکہ آپ نے تین دیکھے۔ اس سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ روضہ اطہر میں تین ہی قبریں رہیں گی۔ چوتھی نہ ہوگی۔ جواب یہ ہے کہ:
بھلے مانسوں سے کوئی پوچھے کہ جناب صدیقہؓ کی زندگی میں کتنی قبریں روضہ اطہر میں تھیں۔ ظاہر ہے کہ تین۔ پھر آپ کو چار چاند کیسے دکھائے جاتے۔ حضرت عیسیٰ نے تو ابھی جام موت پیا ہی نہیں۔ وہ کس طرح آپ کو دکھایا جاتا۔
ناظرین یہ مینڈکی کو زکام محض دجل سے زیادہ کیا وقعت رکھتا ہے۔
چوتھا فرمان رسالت:
”عن جابر ان رسول الله ﷺ قال عرض على الانبياء فاذا موسىٰ ضرب من الرجال كانه من رجال شنوئة رأيت عيسىٰ ابن مريم فاذا اقرب من رأيت به شبهاً عروة بن مسعود (مسلم ج ١ ص ٩٥ ، باب الاسراء، مسند احمد ج ٣ ص ٣٣٤) “ ﴿حضرت جابرؓ حضور نبی کریمﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرمﷺ نے فرمایا معراج کی رات انبیاء مجھ سے ملے۔ موسیٰ علیہ السلام تو دبلے پتلے تھے۔ گویا قبیلہ شنوئہ کے مردوں سے ملتے تھے اور عیسیٰ علیہ السلام مشابہ تھے عروہ بن مسعود کے ساتھ۔﴾
اس حدیث شریف سے یہ پتہ چلا کہ آنحضورﷺ نے جناب مسیح ابن مریم کو معراج کی رات آسمان پر دیکھا اور اس کی مشابہت عروہ بن مسعودؓ سے بتائی۔ جو ایک صحابی تھے۔ اس کے ساتھ ہی ذیل کی حدیث ملاحظہ فرمائیں:
”حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ نکلے گا دجال پس رہے گا چالیس (راوی حدیث کہتا ہے) نہیں جانتا ہوں میں کہ چالیس کے لفظ سے سال مراد ہیں یا مہینے یا دن فرمایا نبی کریم نے ”فيبعث الله عيسى ابن مريم كأنه عروة بن مسعود فيطلبه فيهلكه “ ﴿پس بھیجے گا اللہ تعالیٰ ابن مریم کو گویا کہ وہ عروہ بن مسعود ہے۔ پس وہ ڈھونڈیں گے دجال کو پس ہلاک کریں گے اس کو۔﴾ (مشکوٰۃ ص ٤٨١ ، باب لا تقوم الساعۃ)
ناظرین کرام! پہلی حدیث میں جس مسیح ابن مریم کو آسمان پر دیکھا دوسری میں اسی کا نزول بتایا۔ ثابت ہوا کہ وہی عیسیٰ ابن مریم نزول فرمائیں گے۔ جو انبیائے سابقین میں سے تھے اور جن پر انجیل نازل ہوئی تھی۔ ایسی صاف اور بیّن دلیل کے ہوتے ہوئے اس کا مصداق
مرزا قادیانی کو کہنا ڈھٹائی اور بے حیائی نہیں تو اور کیا ہے؟۔ غور کرو اور سوچو کہاں عیسیٰ ابن مریم اور کجا دجال ناپاک؟ مرزائیو! ایمان سے کہو کہ کوئی حدیث سیدھے صحیح الفاظ میں بھی مانو گے یا اوندھی کھوپڑی کا انداز ہی یہی ہے کہ رات کے معنی دن اور حیوان کے معنی انسان خدارا کچھ تو سوچو اور ٹھنڈے دل سے غور کرو اور نہیں تو مرزا قادیانی ہی کی مری مٹی پر احسان کردو وہ تو کہہ گیا تم مانو یا نہ مانو تمہارا اختیار ہے۔
جو چھوڑتا ہے چھوڑ دو تم اس خبیث کو
(تحفہ گولڑویہ ص ٢٧، خزائن ج ١٧ ص ٧٨)
دیکھیں کون کون اس پر عمل کرتا ہوا نعرہ لبیک بلند کرتا ہے اور پنجابی نبوت پر صرف تین لفظ کا سرٹیفکیٹ بھیجتا ہے۔
پانچواں فرمان رسالت:
”عن ابی ھریرة انه قال قال رسول الله ﷺ كيف انتم اذا نزل ابن مريم من السماء فيكم وامامكم منكم (بيهقى كتاب الاسماء والصفات ص ٣٠١) “
﴿جناب ابو ہریرہؓ آنحضرت ﷺ سے روایت فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا تمہارا کیا حال ہوگا اس وقت جب کہ تم میں عیسیٰ بن مریم آسمان سے نازل ہوں گے اور تمہارا ایک امام بھی تم میں اس وقت موجود ہوگا۔﴾
اس واقعہ کی تفصیل یوں ملاحظہ فرمائیں۔ دجال کی چیرہ دستیاں مکاریاں اور عیاریاں انتہائی منزل کو پہنچ چکی ہیں۔ بندگان خدا خائف و پریشان ہیں۔ خدا کی بھولی بھالی مخلوق صراط مستقیم سے بھٹک کر دجال پرست بن چکی ہے اور اس شیطانی گروہ میں دن دگنی رات چوگنی ترقی ہو رہی ہے۔ شیطان معہ اپنی ذریت کے دندناتا ہوا فلسفہ عالم کو درہم برہم کر رہا ہے اور فخر و غرور سے اس قول پر ناز کر رہا ہے جو روز ازل میں پیش آیا تھا۔ ”قال فبعزتك لا غوينهم اجمعين الا عبادك منهم المخلصين (ص:٨٢) “ ﴿یعنی قسم ہے تیرے جلال کی البتہ میں گمراہ کر دوں گا تیری مخلوق کو سوائے تیرے خاص بندوں کے۔﴾
وہ آج اپنی کامیابی پر مغرور و نازاں ہے۔ کیونکہ کرہ ارض پر اسے اپنی شہنشاہیت نظر آتی ہے۔ وہ خوش ہے کیونکہ اسے جہنم کے لاتعداد رفیق نظر آ رہے ہیں۔
ادھر غیرت کردگار جوشِ رحمت میں اس کا مداوا بھیج رہی ہے۔ یعنی مہدی معہود جن کا نام نامی واسم گرامی محمد بن عبداللہ ہے۔ وہ علم محمدی بلند کرتے ہیں۔ مشتاقان سرکار مدینہ اور نام لیوان توحید لوائے محمدی کے نیچے جوق در جوق جمع ہورہے ہیں۔ غرضیکہ رحمانی اور شیطانی طاقتیں سمٹ سمٹا کر اپنے اپنے مرکز پر جمع ہورہی ہیں۔ اعلان جنگ ہو چکا ہے اور گویا بگل بجنے ہی والا ہے۔ عین اسی حالت میں جناب عیسیٰ ابن مریم کا نزول ہوتا ہے۔ دنیا انہیں آسمان سے نازل ہوتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھتی ہے۔ حتیٰ کہ وہ مسجد اقصیٰ کے مینار پر دو فرشتوں کا سہارا لئے اترتے ہیں۔ بالآخر وہ امام مہدی کے لشکر میں آتے ہیں۔ مسلمانوں کو ان کی آمد ہزار عید سے زیادہ بھلی معلوم ہوتی ہے۔ لشکر اسلام پھولے نہیں سماتا۔ فقیر کو وہ الفاظ نہیں ملتے جو پیش کرے کہ جس سے آپ اندازہ کریں کہ وہ خوشی کیسی ہوگی۔ بس یوں سمجھو کہ عاشق کو معشوق اور اندھوں کو آنکھیں ملنے سے جو کیف حاصل ہوتا ہے۔ اس سے ہزار گنا زیادہ مسلمانوں کو خوشی ہوگی۔ اس لئے کہ سرکار مدینہ کی پیش گوئی کو پورا ہوتے آنکھوں سے دیکھیں گے اور جناب مسیح کی زیارت کریں گے۔ جو اللہ کے پاک رسول تھے۔ ٹھیک اسی وقت نماز کے لئے مؤذن منادی کرے گا اور خدا کی واحدانیت اور سرکار مدینہ کی رسالت کی گواہی دے گا۔ اس کے بعد صفوں کی ترتیب ہوگی تو جناب امام مہدی عیسیٰ علیہ السلام سے امامت کی اپیل کریں گے کہ آپ امام بن کر نماز پڑھائیں۔ وہ جواب دیں گے زبان فیض ترجمان کے الفاظ میں سنئے صحیح مسلم میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا:
”فینزل عیسیٰ ابن مریم فیقول امیرہم تعال صل لنا فیقول لا ان بعضکم علی بعض امراء تکرمۃ اللہ ہذہ الامۃ (مشکوۃ ص٤٨٠، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام) ”پس نازل ہوں گے عیسیٰ بن مریم ۔ امیر اسلام یعنی مہدی انہیں عرض کریں گے آئیے ہمیں نماز پڑھائیے وہ فرمائیں گے نہیں یہ شرف امت محمدی کو ہی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے امیر وامام ہوں ۔“
ناظرین! انصاف کیجئے اور خدارا سوچئے کہ جناب مسیح ایک صاحب کتاب نبی شرف محمدی کا احترام کرتے ہوئے عجز پیش کرتے ہیں کہ یہ شرف صرف امت محمدیہ ہی کو تفویض کیا گیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے امام بنیں۔ چنانچہ جناب مہدی امامت فرماتے ہیں اور جناب عیسیٰ ان کی اقتداء میں نماز گزارتے ہیں۔ یہ بھی عرض کردوں کہ جناب مہدی جو اس وقت امام الصلوٰۃ ہورہے ہیں کون ہیں۔ یہ بھی فرمان رسالت کی روشنی میں ملاحظہ فرمائیں۔
جناب امام مہدی کے متعلق فرمایا ”رجل من اهل بيتى يواطى اسمه اسمى واسم ابيه اسم ابی (ابوداؤد ج ٢ ص ١٣١، کتاب المهدى، ترمذی ج ٢ ص ٤٧ ، باب ماجاء فی المهدی، مشکوۃ ص ٤٧٠ ، باب اشراط الساعة) ﴿فرمایا وہ ہونے والا مہدی میرے اہل بیت میں سے ہوگا۔ اس کا نام میرا نام ہوگا اور اس کے باپ کا نام میرے باپ کا نام ہوگا۔﴾ چنانچہ مرزا قادیانی اس حدیث کو صحیح تسلیم کرتا ہوا لکھتا ہے: ”آنحضرت ﷺ پیش گوئی فرماتے ہیں ..... مہدی خلق اور خلق میں میری مانند ہوگا ..... میرے باپ کے نام کی طرح اس کے باپ کا نام ہوگا۔“
(ازالہ اوہام ص ٧٣، خزائن ج ٣ ص ١٧٥)
اللہ اللہ! ان باتوں کی قبولیت کے بعد دعویٰ کرنا کہ میں ہی وہ عیسیٰ ہوں اور میں ہی وہ مہدی ہوں جس کا تذکرہ قرآن و حدیث میں آیا ہے۔ کس قدر ڈھٹائی اور بے ایمانی ہے۔ خدارا سوچو اور سمجھنے کی کوشش کرو کہ اگر مرزا قادیانی ہی مہدی معہود تھے تو وہ امامت کیوں نہ کراتے تھے۔ ذیل کے واقعہ کو چشم بصیرت سے پڑھو۔
مرزا قادیانی کا کوئی چیلہ آپ سے سوال کرتا ہے کہ جے سنگھ سورما بہادر جی یا جے رودر گوپال جی تم نماز کیوں نہیں پڑھاتے اور امام کیوں نہیں بنتے تو یہ خانہ زاد نبوت کے دیسی نبی صاحب جواب دیتے ہیں کہ: ”حدیث میں آیا ہے کہ مسیح جو آنے والا ہے وہ دوسروں کے پیچھے نماز پڑھے گا۔“
(فتاویٰ احمدیہ ص ٨٢ ج ١)
اب غور فرمائیں کہ ”کیف انتم اذا نزل“ کا مصداق مرزا قادیانی اپنے کو گردانتے ہیں اور امامکم منکم کے معنی دجل کی بھٹی اور یہود کی گھٹی سے یہ کرتے ہیں کہ آنے والا مسیح تم میں سے ہی پیدا ہوگا۔ سو وہ میں ہوں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مرزا کی آمد سے مسلمانوں کو خوشی بھلا خاک ہو سکتی ہے۔ جب کہ آپ کی آمد طاعون و کالرہ سے شروع ہوئی اور زلزلوں میں گذری۔ کبھی ہیضہ کی خوشخبری آپ نے سنائی۔ کبھی گالیوں سے تواضع کی۔ کبھی ابتر ہونے کی بڑیں ہانکی۔ کبھی رذیلانہ پیش گوئیوں سے نبوت کی تذلیل کی۔ کبھی محمدی کے نکاح میں ٹھنڈے سانسوں سے جلوہ افروز ہوئے۔ ایسی ایسی خرافات ذات باری سے منسوب کیں جن کا تصور کرنا بھی کبیرہ گناہ ہے۔ انصاف سے کہئے کہ رسالتوں اور نبوتوں پہ ڈاکہ زنی کرنے والا ایسا سورما جو دن دھاڑے انعامات ازلیہ کو لوٹے اور اپنے پہ چسپاں کرنے کی ناکام کوشش کرے۔ مسلمانوں کے لئے کوئی مژدہ
جانفزاء لا سکتا ہے اور اہل اسلام کو کوئی خوشی حاصل ہو سکتی ہے؟۔ قطعا نہیں:
کوا ہزار بولے پر بلبل نہ ہوئے گا
اس حدیث پر مرزا قادیانی کی امت یہ اعتراض کرتی ہے کہ امام بیہقی نے اس حدیث کو روایت کر کے بخاری شریف کا حوالہ دیا ہے۔ حالانکہ بخاری میں من السماء کا لفظ نہیں۔
جواب یہ ہے کہ حدیث کی کتاب بیہقی مخرج نہیں بلکہ مسند ہے۔ یعنی ایسی کتاب نہیں ہے جو دوسروں سے نقل کر کے ذخیرہ اکٹھا کرے۔ جیسا کہ کنز العمال وغیرہ ہے۔ بلکہ امام بیہقی اپنی سند سے راویوں کے ذریعے روایت کرتے ہیں اور بخاری شریف کا حوالہ صرف اس لئے دیا گیا ہے کہ یہ حدیث بخاری میں بھی موجود ہے۔ گو من السماء کا لفظ نہیں۔ لیکن مراد نزول سے نزول من السماء ہی ہے۔ چنانچہ امام بیہقی خود لکھتے ہیں۔ ”انما اراد نزوله من السماء بعد الرفع“
(مرزائی پاکٹ ص ٣٤٨)
یعنی سوائے اس کے نہیں کہ اس کو روایت کرنے والے کا ارادہ نزول من السماء ہی ہے۔ کیونکہ وہ آسمان پر اٹھائے گئے ہیں۔
پس اس سے ثابت ہوا کہ بخاری شریف میں من السماء کے الفاظ نہ ہونا کوئی لازمی امور سے نہیں۔ کیونکہ ان کا مدعا نزول من السماء ہی سے ہے۔ اس لئے اس حدیث کو جو صحیح اسناد سے امام بیہقی نے روایت فرمائی ہے خلاف نہیں۔
دور کیوں جاتے ہو اپنے گھر ہی کی خبر لو کہ تمہارے مرزا قادیانی نے صحیح مسلم کی روایت پیش کرتے ہوئے من السماء کے لفظ کہے ہیں۔ حالانکہ مسلم شریف میں یہاں من السماء نہیں تو اس سے مطلب یہی لیا جائے گا کہ گو مسلم میں من السماء کے الفاظ نہیں۔ مگر جناب امام مسلم کا منشاء یہی ہے کہ آسمان سے اتریں گے۔
”صحیح مسلم کی حدیث میں جو یہ لفظ موجود ہے کہ حضرت مسیح جب آسمان سے اتریں گے تو ان کا لباس زرد رنگ کا ہو گا۔“
(ازالۃ اوہام ص ٨١، خزائن ج ٣ ص ١٤٢)
ایسا ہی بخاری شریف کے منشاء کو سمجھنے کی کوشش کریں اور یاد آیا تمہارے مرزا کی جانے بلا کہ امام بخاری تھے کون، اور انہوں نے احادیث کو کیسے فراہم کیا اور وہ کس پائے کے بزرگ تھے۔ باتیں مارخیاں دیکھو تو شیطان کی آنت سے زیادہ وہ لمبی مگر عمل کا نقش پا بھی نہیں ملتا۔ ارے عقل
کے اندھو اور قسمت کے ہیٹو یہ تو خیال کرو جو امام بخاری کے نام کو نہیں جانتا وہ پیغمبری بھلا خاک کرے گا۔ تمہارے مرزا کو تو یہ بھی نہ معلوم ہو سکتا کہ امام بخاری کا کیا نام تھا۔ ذیل میں جناب امام بخاری کا تبرکاً مختصر تعارف کراتا ہوں سنئے۔
آپ کا نام نامی واسم گرامی ابو عبداللہ محمد بن اسماعیل بن ابراہیم بن المغیرہ بن بردزبہ ہے۔ چونکہ یہاں ہماری غرض امام بخاری کی سوانح حیات نہیں۔ بلکہ چند ایک واقعات پیش کرتے ہیں۔ لہٰذا وہی گذارش ہوں گے۔ آپ کے خاص تلمیذ امام فربری فرماتے ہیں کہ امام بخاری سے اس صحیح بخاری کو نوے ہزار آدمیوں نے پڑھا۔ یہ بھی عرض کرنا مفید ہوگا کہ جناب امام نے ان احادیث کو بڑی جانفشانی اور محنت سے بڑی بڑی دور پیدل سفر کرتے ہوئے اکٹھا کیا۔ آپ اس امر سے اندازہ لگائیں کہ اس زمانہ میں جب کہ ریل ، موٹر، سڑکیں مفقود تھیں اور راستہ خطرے سے خالی نہ تھا۔ جناب امام کو فرمان رسالت کے جمع کرنے کا اس قدر شوق تھا۔ جسے میں تو عشق سے تعبیر کئے بغیر نہ رہوں گا۔ سفر کے مصائب اور راہ کے نوائب جھیلتے ہوئے ایک ہزار اسی محدثین، تابعین کی خدمت میں جانا پڑا اور یونہی احادیث کو نقل نہیں کر لیا گیا۔ بلکہ تقریباً ہر حدیث کو قلمبند کرنے سے پیشتر غسل کیا اور دو رکعت نفل ادا فرمائے اور مزید صحت کے لئے مدتوں گنبد خضریٰ کی مجاوری کی ہر وہ حدیث جس کی صحت مطلوب ہوتی خدا سے دعاء کرتے اور اس خاک کو چھاتی سے لگا کر مسنون طریقہ پر سو جاتے۔ خواب میں سرور دو جہاں سرکار یثرب سے ملاقات ہوتی اور اس طریق سے حدیث کی صحت ہوتی۔
اس ان تھک دوڑ دھوپ ومحنت شاقہ کے نتیجہ میں آپ نے قریباً چھ لاکھ احادیث کو جمع فرمایا۔ جن میں سے قریباً دس ہزار احادیث کو صحیح میں درج فرمایا۔
آپ کے علم وفضل کی شہرت دور دراز ملکوں میں پہنچی تو دور دور سے لوگ آپ کی خدمت میں اظہار عقیدت واستفادت کے لئے حاضر ہوئے۔ چنانچہ یہ آپ کی ہی برکت و فیوض وشفقت کا نتیجہ ہے کہ آپ کے تلامذہ میں سے بڑے بڑے امام وقابل قدر محدث مثلاً امام مسلم امام ابو عیسیٰ ترمذی، امام ابو عبدالرحمن نسائی جیسے عدیم المثال بزرگ پیدا ہوئے۔ چنانچہ امام مسلم کے متعلق اتنا اور عرض کر دینا ضروری ہے کہ وہ اپنے سابق استاد امام ذہلی کو جب کہ انہوں نے یہ حکم دیا کہ کوئی امام بخاری کے پاس نہ جائے اور نہ کچھ سنے تو امام مسلم کو یہ گوارہ نہ ہوا۔ بلکہ انہوں نے امام بخاری کے سامنے زانو ادب تہ کرتے ہوئے یہ الفاظ کہے کہ یا امیر المؤمنین فی الحدیث اپنے مبارک پاؤں میری طرف بڑھائیے تاکہ میں ان کو چوموں اور آنکھوں پر لگاؤں۔ اس لئے کہ آپ نے ہم
مسلمانوں پر وہ احسان کیا۔ یعنی اس قدر محنت سے ذخیرہ حدیث کو جمع فرمایا ہے جس کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں۔ آپ کا یہ احسان یقیناً امت مرحومہ عزت و تکریم کی نگاہ سے دیکھے گی اور قیامت تک اس کا بدلہ نہ اتار سکے گی۔ ایک واقعہ عرض کرنے پر اکتفا کرتا ہوا معذرت خواہ ہوں اور طوالت مضمون سے ڈرتا ہوا معافی کا خواستگار ہوں۔
ایک دفعہ جناب امام بخاری بغداد تشریف لے گئے۔ وہاں دس اجلہ محدثین نے آپ کے امتحان کی غرض سے آپ کی خدمت میں دس جدا جدا احادیث جن کی سند عمداً بدل دی گئی تھی۔ پیش کیں۔ جناب امام کے سامنے جب حدیث پیش کی جاتی تو آپ ہر حدیث پر لا اعرف یعنی میں نہیں جانتا کہہ دیتے۔ جب تمام بزرگوں نے تمام احادیث ختم کیں اور آپ نے وہی کلمہ لا اعرف دہرایا تو وہ سمجھے کہ کچھ بھی نہیں صرف شہرت ہی شہرت ہے۔
فی الحقیقت لا اعرف کہنا صحیح تھا۔ اس لئے کہ جناب امام نے ان سندات سے کوئی حدیث نہ سنی تھی۔ اب جب کہ احادیث ختم ہو چکیں اور وہ بزرگ خاموش ہوئے تو آپ نے وہ تمام احادیث صحیح سندات کے ساتھ ان کے سامنے بیان کیں تو وہ عش عش کر اٹھے اور یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ واللہ بخاری جیسا محدث نہ دیکھا نہ سنا۔ جب آپ کا انتقال ہوا اور قبر کھودی گئی۔ تو قبر سے جو مٹی نکلتی تھی۔ اس سے عنبر و کستوری کی خوشبو آتی تھی جو لوگوں نے تبرکاً مدتوں اپنے پاس رکھی۔
مرزا قادیانی کی جانے بلا کہ امام بخاری کون تھے۔ کوئی چندہ اور کستوری تھوڑے ہی بھیجتے تھے۔ چنانچہ ذیل کا مضمون پڑھئے اور یہ بھی کہہ دوں کہ فقیر کو اگر کوئی مرزائی ایک آنہ کا ٹکٹ یا جوابی پوسٹ کارڈ بھیج کر یہ دریافت کرے کہ کتنی مرتبہ مرزا قادیانی نے نام غلط لکھنے میں غلطی کی تو میں بتانے کو تیار ہوں۔ سردست اتنا کہہ دیتا ہوں کہ مبلغ تیس دفعہ تو اسی تیاری صحیفہ تقدیر میں میری نگاہ سے گزرا اور حیرت کا موجب بنا۔
”بخاری کی یہ حدیث کہ جو امامکم منکم ہے۔ اگر تاویلات کے شکنجے میں نہ چڑھائی جاوے اور جیسا کہ ظاہر الفاظ حدیث کے ہیں۔ انہیں کے موافق معنی لئے جائیں تو صاف نظر آ رہا ہے کہ اس حدیث کے ظاہر ظاہر یہی معنی ہیں کہ وہ تمہارا امام ہوگا اور تم میں سے ہی ہوگا۔ یعنی ایک مسلمان ہوگا نہ یہ کہ سچ مچ ابن مریم جس پر انجیل نازل ہوئی ہے۔ جس کو الگ ایک امت دی گئی۔ آسمان سے اترے گا۔ اس جگہ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ امام محمد اسماعیل صاحب جو اپنی صحیح بخاری میں آنے والے مسیح کی نسبت صرف اس قدر حدیث بیان کر کے چپ کر گئے کہ امامکم منکم اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ دراصل حضرت اسماعیل بخاری صاحب کا یہی مذہب تھا۔ وہ ہرگز اس
بات کے قائل نہ تھے کہ سچ مچ ابن مریم آسمان سے اترے گا۔ بلکہ انہوں نے اس فقرہ میں جو امامکم منکم ہے۔ صاف اور صریح طور پر اپنا مذہب ظاہر کر دیا۔“
(ازالۃ اوہام ص ٩٥ تا ٩٨، خزائن ج ٣ ص ١٥٢، ١٥٣)
فقیر کے خیال میں دجل تو آپ کی گھٹی میں پڑا ہے اور مغالطہ ہی آپ کی سرشت میں داخل ہے۔ ورنہ کون نہیں جانتا کہ امامکم منکم کس کے متعلق صادق المصدوق نے فرمایا ہے۔ اس لئے انسب یہی ہے کہ مرزا قادیانی کا یہ مغالطہ بھی لگے ہاتھ دور کرتا جاؤں۔ پس التجاء ہے کہ انصاف و دیانت سے سنئے اور سمجھنے کی کوشش کیجئے۔
”عن ابی ہریرہ لو لم یبق من الدنیا الا یوماً لطول الله ذلک الیوم حتی یلی (ترمذی ج ٢ ص ٤٧ ، باب ماجاء فی المہدی)“
ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ فرمایا نبی کریم ﷺ نے اگر دنیا کا ایک دن بھی باقی رہ جائے تو اللہ تعالیٰ اس کو لمبا کرے گا تا کہ وہ شخص بادشاہ ہو جائے۔
مندرجہ بالا حدیث بطور پیش گوئی صادق المصدوق نے یقین امت کے لئے ایک ایسے انداز سے بیان فرمائی۔ یعنی امت مرحومہ کو انتہائی یقین دلاتے ہوئے فرمایا کہ خبردار کوئی مردود تم کو بہکا نہ دے کہ زمانہ بہت لمبا گزر چکا اور قیامت آیا ہی چاہتی ہے اور اب کہاں مہدی معہود آئے گا۔ اس حدیث سے حضور اکرم ﷺ کا مطلب یہی تھا کہ امامکم منکم یعنی وہ آنے والا مہدی تم میں سے ہی پیدا ہوگا۔ لہٰذا انتظار فضول ہے نہیں بلکہ تاکیداً فرمایا کہ نہیں اگر قیامت کے آنے میں صرف ایک ہی دن باقی کیوں نہ ہو تب بھی اللہ تعالیٰ اس دن کو اتنا لمبا فرمائیں گے کہ جس میں میری یہ پیش گوئی پوری ہو کر رہے گی۔ یعنی جناب مہدی امیر المؤمنین اور بادشاہ ہو جائے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مدعی یعنی مرزا قادیانی کے حق میں یہ پیش گوئی صادق آسکتی ہے۔ سو اس کے جواب میں یہی کافی ہے کہ نہ ہی مرزا قادیانی کو توفیق ہوئی کہ وہ خلافت کا اعلان کریں اور امیر المؤمنین کہلائیں اور نہ ہی انہیں انچ بھر زمین کی بادشاہت ملی۔ اگر مرزائی کم فہمی و جہالت سے یہ جواب دیں کہ وہ امیر اور بادشاہ تھے تو یہ کہہ دینا ہی کافی ہے کہ مسلمانوں نے من حیث القوم انہیں بادشاہ تسلیم کرنا تو کیا مسلمانوں کی صف سے ہی باہر نکال دیا۔ اس لئے یہ حدیث آپ کے موافق نہیں ہو سکتی۔ اس کے علاوہ ذیل کی حدیث کو چشم بصیرت سے مطالعہ فرمائیں۔
”عن ام سلمہ قالت سمعت رسول الله ﷺ یقول المہدی من عترتی من ولد فاطمہ (رواہ ابوداؤد ج ٢ ص ١٣١ ، اوّل کتاب المہدی)“
ام المومنین ام سلمہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے آنحضرت ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ نے فرمایا مہدی میری اولاد یعنی فاطمہ کی اولاد سے ہوگا۔
یہ حدیث بھی مرزا قادیانی کے خلاف ہے۔ کیونکہ آپ نے چینی الاصل اور فارسی النسل مغل اور زمیندار اور خدا جانے کتنی قومیں ترک وغیرہ اپنے نسب کے اندر بیان کیں اور سید ہونے کی نفی کی۔ بلکہ جب ہم آپ کی نسل کے متعلق صحیح معیار معلوم کرنا چاہتے ہیں تو ہنسی کو مجبوراً ضبط کرتے ہیں۔ کیونکہ آپ خود اقرار کرتے ہیں۔
نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار
(براہین احمدیہ ج ٥ ص ١٠٣، خزائن ج ٢١ ص ١٣٢)
یہ بے شمار نسل والے کی یہاں ضرورت نہیں۔ امامکم منکم تو یہ چاہتا ہے کہ مہدی معہود جناب سیدۃ النساء فاطمۃ الزہرا کی اولاد سے ہو۔ یہ حدیث بھی مرزا قادیانی کو فٹ نہ آئی اور سنئے:
”عن ابي سعيد الخدريّ قال قال رسول الله ﷺ المهدي منى اجلى الجبهة اقنى الانف يملأ الارض قسطا وعدلا كما ملئت ظلما وجورا يملك سبع سنين (ابوداؤد ج ٢ ص ١٣١، اوّل کتاب المہدی)“
جناب ابو سعید خدریؓ روایت کرتے ہیں کہ فرمایا نبی کریم ﷺ نے کہ مہدی مجھ سے ہوگا۔ روشن پیشانی والا۔ خوبصورت ناک والا، زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔ جیسے کہ وہ ظلم وجور سے بھری ہوگی۔ اس کے بعد سات سال بادشاہی کرے گا۔
مندرجہ بالا حدیث بھی مرزا قادیانی کے حسب حال نہیں بلکہ سراسر خلاف ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کی تصویر سے آپ کی روشن پیشانی اور خوبصورت ناک کا پتہ چلتا ہے کہ یہاں یہ دونوں نشانیاں مفقود ہیں۔ کاش مرزا قادیانی تصویر نہ بنواتے اور کملی پوش آقا ﷺ کے نقش قدم پر چلتے آنحضور سرکار مدینہ ﷺ نے تصاویر کے خلاف جہاد کیا اور سختی سے منع فرمایا۔ مگر سرکاری نبی انگریز کی غلامی اور اس کے تمدن و معاشرت کی پیروی کرتا ہوا تصویر کھنچوا بیٹھا اور فقیر کے خیال میں یہ فعل بھی قدرت کو یونہی منظور تھا تا کہ حق و باطل میں امتیاز رہے۔ اس کے علاوہ حدیث شریف تو یہ چاہتی ہے کہ وہ عدل وانصاف سے زمین کو بھر دے مگر یہاں۔
لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں
چنانچہ امامکم منکم تو یہ چاہتا ہے کہ وہ مہدی ایسا نیک بخت عادل اور منصف ہوگا۔ جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔ مگر یہاں کیا ہے:
نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے
ایسا ہی ایک دوسری حدیث میں اس ظلم وجور کا نقشہ کھینچتے ہوئے بیان فرمایا:
”عن ابی سعید الخدری لم یسمع بلاء اشد منه حتی تفیض عنهم الارض الرحبة وحتی یملاء الارض جوراً وظلماً لا یجد المؤمن ملجاء یلتجی الیه من الظلم ، فیبعث الله عزوجل رجلاً من عترتی فیملاء الارض قسطاً وعدلاً کما ملئت ظلماً وجوراً یرضی عنه ساکن السماء وساکن الارض لا تدخر الارض من بذرها شیئاً الا اخرجته ولا السماء من قطرها شیئاً الا صبه الله علیهم مدراراً یعیش فیهم سبع سنین او ثمان او تسعاً فتمنی الاحیاء الاموات مما صنع الله عزوجل باهل الارض من خیره (مستدرک حاکم ج ٤ ص ٦٥٩، حدیث ٨٤٨٦، باب ینزل بامتی فی آخر الزمان بلاء شدید) ﴿جناب ابو سعید خدریؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ایک مصیبت کا ذکر جو امت کو آنے والی ہے فرمایا یہاں تک کہ کوئی آدمی ظلم سے اپنا ٹھکانہ پائے گا۔ پس اللہ تعالیٰ میری عترت اور اہل بیتؓ سے ایک جوان کو مبعوث کرے گا۔ پس وہ زمین کو عدل وانصاف سے بھر دے گا۔ جیسا کہ وہ ظلم وجور سے بھری ہوگی۔ آسمان وزمین کے رہنے والے اس سے راضی ہوں گے۔ یہاں تک کہ آسمان ہر چیز کو بہا دے گا اور زمین تمام نباتات کو نکال دے گی۔ یہاں تک کہ زندے مردوں کی زندگی کی خواہش کریں گے اور وہ اللہ کا محبوب سات سال یا آٹھ سال یا نو سال حکومت کرے گا۔﴾
یہ حدیث بھی مرزا قادیانی کے سراسر خلاف ہے اور قطعاً گنجائش نہیں رکھتی کہ کوئی احمق خواہ مخواہ و امامکم منکم کا مصداق بنے۔ ہاں وہی اس کا صحیح حق دار ہے جو فرمان رسالت کی رو سے آوے۔ یہاں مجھے ایک واقعہ یاد آیا جو لطف سے خالی نہیں کہ ہمارے پنجابی نبی کی بھی کوئی بات ایسی نہیں جو مضحکہ سے خالی ہو۔ چنانچہ آپ اپنی باون سالہ مشرکانہ زندگی بسر کرنے کے بعد جب جناب مسیح کی بے موت، موت کے درپے ہوئے اور آپ کو مارنے کا خیال سوجھا تو قرآن کریم کی اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے، یعنی واوینا هما ربوة ذات قرار
ومعین سے جناب مسیح کو پھانسی پر سے اتارتے ہوئے مرہم عیسیٰ کے چکر میں غلطان و پیچان رکھتے ہوئے ہجرت کرانے پر مجبور ہوئے۔ جب دجل کا نقشہ آنکھوں میں کھنچ گیا تو جھٹ کہہ دیا گیا کہ دیکھو قرآن کریم نے ان دونوں کے لئے یعنی جناب مسیح اور جناب مریم کے لئے اونچے پہاڑ و باغات چشموں والی زمین کو قرار دیا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ وہ سوائے کشمیر کے اور کوئی جگہ ہو ہی نہیں سکتی۔ لہٰذا ماننا پڑے گا کہ مسیح کشمیر میں آئے اور یہاں ہی زندگی کے بقیہ دن ختم کر کے محلہ خان یار میں ابدی نیند سوئے۔
سبحان اللہ ! یہ تھی آپ کی منطق اور پیامبری۔ مگر دور کیوں جائیں ابھی کل ہی کا واقعہ ہے کہ رائے صاحب کا انتقال ہو گیا۔ اس کی ارتھی کے ساتھ ساتھ جہاں اہل ہنود تھے وہاں ٹوڈی مسلمانوں کے علاوہ ایک ستم رسیدہ روزگار میراسی معہ میرزادہ بھی جا رہا تھا۔ ارتھی کے عقب میں عورتوں کا ایک انبوہ کثیر سینہ کوبی اور بین کرتا جا رہا تھا۔ جن میں غالباً رائے صاحب کی لڑکی بڑے درد و کرب سے لمبا بازو کئے ہوئے یہ کہہ رہی تھی۔
آہ ! تم وہاں چلے ہو جہاں دانہ، نہ پانی۔ افسوس ! تم وہاں جا رہے ہو جہاں دیا، نہ بتی۔ حیف ! تم وہاں جاتے ہو جہاں چار پائی، نہ بستر۔
میرزادہ جو باپ کے ہمراہ جا رہا تھا۔ لڑکی کے ان کلمات سے بیتابانہ متاثر ہو کر باوا کا بازو جھنجوڑ کر کہنے لگا۔
اہا، ابا دیکھو تو یہ لڑکی ہمارے ہی گھر کا پتہ دے رہی ہے۔
بعینہ یہی حال مرزا قادیانی کا ہے۔ قرآن کریم نے کسی واقعہ کی یاد دلاتے ہوئے چشموں اور باغات کا ذکر کیا۔ آپ نے جھٹ کشمیر کہہ دیا۔ کسی بھوکے سے کسی نے سوال کیا دو اور دو کتنے ہوتے ہیں۔ وہ بولا چار روٹیاں۔ مرزا قادیانی کی جانے بلا کہ دنیا میں کتنے جنت نظیر ہیں اور قرآن حکیم کا یہاں کیا منشاء ہے اور وہ کس کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ بہرحال جناب امام مہدی کی ایک علیحدہ شخصیت ہے۔ مگر مرزا قادیانی خواہ مخواہ اسے ہضم کئے جاتے ہیں اور ڈکار تک لینا گوارہ نہیں کرتے۔ ذیل کی حدیث گوش ہوش سے سنئے اور ایمان کی عینک سے دیکھئے۔
"عن ابن عباس قال قال رسول اللہ ﷺ لن تهلك امة انا اولها وعيسى ابن مريم آخرها والمهدى اوسطها (مشكوة ص ٥٨٣، باب ثواب هذا الامة الفصل الثالث) " جناب ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ فرمایا نبی کریم ﷺ نے وہ
امت کیسے ہلاک ہو سکتی ہے جس کے شروع میں میں ہوں اور جس کے آخر میں عیسیٰ ابن مریم ہیں اور جس کے درمیان مہدی ہے۔﴾
ناظرین کرام! اس حدیث صحیحہ سے یہ روزِ روشن کی طرح معلوم ہوا کہ جناب امام مہدی وعیسیٰ ابن مریم دو جدا جدا شخصیتیں ہیں۔ جن کا زمانہ بھی جدا گانہ ہے۔ مگر قادیانی خواہ مخواہ دجل دینے کو کہے جاتا ہے۔ ”لا مهدي الا عيسى“ یعنی امام مہدی ہی عیسیٰ ہیں اور عیسیٰ کا اطلاق خود ساختہ الہام کی رو سے خود بنتا ہے۔ بھلے مانس سے کوئی پوچھے کہ کوئی حدیث تو ایسی بھی رہنے دو جس کی تاویل یا استعارہ نہ کرتے ہوئے بلا ایچ پیچ صحیح سیدھے الفاظ میں قبول کر لو۔ مگر صاحب یہاں تو باوا آدم ہی نرالا ہے۔ سب سیدھی باتوں کو الٹا کیا جاتا ہے تو کہیں دجالیت کی شکم پری ہوتی ہے۔ فقیر کے خیال میں یہ احادیث ہی کافی ہیں۔ کیونکہ ناظرین کو انشاء اللہ ان دو جداگانہ شخصیتوں کا کما حقہ علم ہو چکا ہوگا۔ ہاں نئی روشنی والے شاید ابھی مطمئن نہ ہوئے ہوں تو ان کے لئے ایک دو فرمان اور نقل کئے دیتا ہوں۔ پس غور سے سنئے:
”عن عثمان بن ابي العاص وهو في المسجد مع جماعة قال سمعت رسول الله ﷺ يقول...... فيخرج الدجال...... ومع الدجال سبعون الفاً...... وينزل عيسىٰ ابن مريم عليه السلام عند الصلوٰة الفجر فيقول لهم اميرهم ياروح الله تقدم صل لنا فيقول هذه الامة امراء بعضهم على بعض فيتقدم اميرهم فيصل حتّى اذا قضى صلوٰته اخذ عيسىٰ حربة فيذهب نحو الدجال فيقتله (احمد والحاكم فى المستدرك ص ٦٧٤، ٦٧٥ ج٥ حديث نمبر ٨٥٢٠، باب نزول عیسیٰ عليه السلام من السماء)“ ﴿حضرت عثمان ابن ابی العاصؓ نے ایک جماعت کثیر کے سامنے خانہ خدا میں بیان کیا کہ سنا میں نے نبی کریم ﷺ سے...... دجال نکلے گا...... اور اس کے ساتھ ستر ہزار یہودی ہوں گے...... ایسی حالت میں نازل ہوگا عیسیٰ ابن مریم صبح کی نماز کے وقت۔ پس مسلمانوں کا امیر جناب عیسیٰ علیہ السلام سے عرض کرے گا کہ آگے تشریف لاکر نماز پڑھائیے وہ جواب دیں گے کہ یہ شرف امت محمدی کو حاصل ہے کہ ان میں سے بعض بعض کے امیر ہیں۔ پس آگے بڑھے گا امیر مسلمانوں کا اور نماز پڑھائے گا حتیٰ کہ نماز ختم ہوگی تو عیسیٰ ابن مریم اپنی خنجر پکڑ کر دجال کی طرف جائیں گے اور اسے قتل کریں گے۔﴾
مرزائیو! کہیں حدیث کی عظمت اور صحت پر سوال کر کے منہ پہ کالک نہ لگا بیٹھنا۔ کیوں اس لئے کہ اس حدیث کی روایت دو اماموں نے کی۔ یعنی امام احمد مجدد صدی دوئم وامام حاکم مجدد
صدی چہارم نے جو عند المرزا نہایت معتبر ہیں اور جن کا منکر کافر و بے دین ہے۔ ہاں بھائی اسی لئے پہلے کہہ دیا کہیں ایمان سے ہاتھ نہ دھو بیٹھنا۔ اب بیشک ایمانی کی روشنی میں کہئے کہ تمہارے مرزا قادیانی سچے یا صحابی و تابعی ، وہ کون بد بخت ہے جو حدیث کی عظمت سے انکار اور صحابہ کبار سے بیزار اور امامین سے انحراف کر کے اپنا ٹھکانہ جہنم بنائے۔
فرمان رسالت سے یہ روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ امام مہدی اور جناب عیسیٰ دو مختلف شخصیتیں ہیں اور یہ بھی واضح ہوا کہ آنے والے مسیح کا نام ابن مریم ہے۔ ابن چراغ بی بی نہیں اور وہ پیدا نہیں بلکہ نازل ہوگا اور مسلمانوں کے امیر کی اقتداء میں نماز پڑھے گا اور دجال کو قتل کرے گا۔ یہ مخفی نہیں کہ مرزا قادیانی میں یہ صفات قطعاً مفقود تھیں۔ ساری عمر میں وہ تلوار و جہاد کے نام سے ڈرتے رہے اور اس کے بند کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور مارا۔ واقعہ لیکھرام کے بعد وہ ایسے خائف ہوئے کہ جان کی حفاظت کے لئے گورنمنٹ سے التجاء کی کہ چند سپاہی بھیج دیں۔ کیونکہ والله يعصمك من الناس پر ایمان آج کل کے نبیوں کا نہیں رہا اور شاید الہام ربنا عاج کو شکریے سے Return with thanks کر دیا گیا۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حضرت عثمانؓ کا مسجد میں یہ حدیث بیان کرنا اور امت کا بلا رد و قدح قبول کرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ چیز تمام صحابہ کے ایمان میں داخل تھی کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی ایک صحابی نے اس کی تردید نہ کی۔ گویا یہ مسئلہ تو اجتماع امت کا ایک متفقہ مسئلہ ہے۔ مرزائیو گئے گذرے ایمان سے کہو تمہارے مرزا قادیانی کو یہ جرات یہ حوصلہ ہو سکتا ہے کہ وہ ستر ہزار یہود کے مقابل اکیلا جاوے اور ان کی موجودگی میں ان کے امیر کو قتل کرے۔ تمہارے مرزا تو بیچارے وہ تھے ایک پادری آتھم کے مقابل میں ایسے تنگ ہوئے کہ بھرے مجمع میں جواب دینے سے عاجز آتے ہوئے عورتوں کی طرح تیری ناک میں کیڑے پڑیں پے اتر آئے اور الہام سنانے لگے اور اوسان باختگی کا تو کچھ نہ پوچھو۔ بس اس سے اندازہ کرو کہ دین کا ٹھیکہ دار اور نبوت کے ظل کا دعویدار بھرے مجمع میں بدحواسی کا یوں مظاہرہ کرتا ہے کہ حرمت رمضان کی پرواہ نہ کرتا ہو۔ برسر عام چاء کی پیالیاں ٹھونسے جاتا ہے۔ واہ رے میرے شیر تیری پیغمبری۔
یہاں ایک لطیفہ بھی عرض کر دوں تا کہ حدیث کی صحت پر مرزا قادیانی کے دستخط بھی ہو جائیں اور قادیانی کے دجل کا بھانڈا بھی چوراہے میں پھوٹ جائے۔
مرزا قادیانی سے کسی شخص نے سوال کیا! جی حضرت یہ تو کہئے کہ آپ نماز خود کیوں نہیں پڑھاتے تو آپ نے جواب دیا۔
”حدیث میں آیا ہے کہ مسیح جو آنے والا ہے وہ دوسروں کے پیچھے نماز پڑھے گا۔“
(فتاویٰ احمدیہ ج ١ ص ٨٢)
من انداز قدت را می شناسم
”عن ابی امامة الباهلی قال خطبنا رسول الله ﷺ...... فقالت ام شريك بنت ابی العكر يا رسول الله فاين العرب يومئذ قال هم قليل...... وامامهم رجل صالح قد تقدم بهم الصبح اذا نزل عيسى ابن مريم (سنن ابن ماجه ص ٢٩٧، ٢٩٨، باب فتنة الدجال وخروج عيسى بن مريم عليه السلام)“
حضرت ابو امامۃ الباہلیؓ نے بیان کیا کہ رسول کریم ﷺ نے ہم صحابہ کو مخاطب کرتے ہوئے دجال اور قیامت کا حال بیان فرمایا تو ام شریک بنت ابی العُکر صحابیہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اس دن عرب کہاں ہوں گے تو حضور ﷺ نے جواب میں ارشاد کیا وہ بہت تھوڑے ہوں گے اور ان کا امام ایک صالح مرد ہوگا۔ وہ صبح کی نماز پڑھانے کے لئے کھڑا ہوگا کہ اچانک عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گے۔
ایک دوسری جگہ اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے ارشاد ہوا۔ ”عن ابی امامة الباهلی قال قال رسول الله ﷺ امامهم رجل صالح...... تقدم يصلى لهم الصبح اذ نزل عليهم عيسى ابن مريم عليه السلام الصبح فرجع ذالك الامام ينكص يمشى القهقرى ليتقدم عيسى عليه السلام يصلى فيضع يده عيسى بين كتفيه ثم يقول له تقدم فصل فانها لك اقيمت فيصلى بهم امامهم فاذا نصرف قال عيسى عليه السلام إفتحو الباب فيفتح وورأه الدجال معه سبعون الف يهودى...... فيدركه عند باب لد الشرقی فيقتله (سنن ابن ماجه ص ٢٩٨، باب فتنة الدجال وخروج عيسى بن مريم عليه السلام) “ ابوالامامۃ الباہلیؓ آنحضرت ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ دجال کے خروج کے زمانہ میں بیت المقدس کے لوگوں کا امام ایک نیک شخص ہوگا...... اور ان کا امام آگے بڑھ کر صبح کی نماز پڑھانے کا ارادہ کرے گا کہ اچانک عیسیٰ علیہ السلام صبح کے وقت آن اتریں گے۔ یہ امام ان کو دیکھ کر الٹے پاؤں پیچھے ہٹے گا
تاکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آگے ہو کر نماز پڑھائیں۔ لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنا داہنا ہاتھ اس کے دونوں کاندھوں کے درمیان رکھ دیں گے اور امام سے فرمائیں گے آپ ہی آگے بڑھیے کہ یہ نماز آپ ہی کے لئے قائم ہوئی تھی۔ پھر وہی امام نماز پڑھائے گا۔ جب نماز سے فراغت ہو گی تو عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے کہ دروازہ کھول دو۔ سو وہ کھول دیا جائے گا۔ وہاں پر ستر ہزار یہود کے ساتھ دجال ہو گا جو تمام مسلح ہوں گے۔ پس جناب عیسیٰ دجال کو باب الشرقی کے پاس قتل کریں گے۔﴾
اللہ اللہ ! اس قدر جامع اور مانع دلائل کے ہوتے ہوئے ایسی قوی تصریحات کو دیکھتے ہوئے کوڑ مغزی اور کور باطنی کا مظاہرہ کرنا پرلے درجے کی ڈھٹائی اور بے ایمانی نہیں تو اور کیا ہے۔ یہ سچ ہے کہ میں نہ مانوں میں نہ مانوں کی رٹ لگانا آسان ہے۔ مگر روز روشن کو شب دیجور کہنے والے آخر کب تک ٹھہر سکتے ہیں۔ حق و باطل میں ہمیشہ سے چولی دامن کا رشتہ چلا آیا ہے۔ مگر باطل آخر باطل ہی ہے۔ ملمع سازی گو بظاہر کندن سے زیادہ آبدار معلوم ہوتی ہے۔ مگر تانبے، آخر قلعی نکل ہی ہے۔ اب فرمانِ رسالت آپ کے سامنے ہیں ان میں کوئی ایک شق ایسی نہیں جو گدھے پہ شیر کا قالین ڈال سکے اور مفید مطلب ہو جائے۔ مرزائے قادیان کو ان احادیث سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ وہ خواہ مخواہ اس میں الجھ رہے ہیں۔ یہاں مجھے ایک واقعہ یاد آیا جو لطف سے خالی نہیں۔
ایسٹ انڈیا کمپنی نے جب ہندوستان پر تسلط قائم کیا۔ اس زمانہ میں محدود عدالتیں تھیں۔ ان میں اکثر مختیار اور چند ایک وکیل کام کرتے تھے۔ یہ مختاری ہی اس زمانہ کی اعلیٰ وکالت سمجھی جاتی تھی اور اکثر اردو خواندہ لوگ جنہیں آج کوئی پوچھتا بھی نہیں وکیل بنے پھرتے تھے۔ ضلع کی کچہری کے سامنے بڑ کے ایک بڑے پیڑ کے نیچے ملا دادل مختیار حقے کی نے منہ میں لئے دھواں دھار کش لگاتے ہوئے فرنٹیئر میل کا انجن بنا بیٹھا ہے۔ سامنے مولوی عظیم اللہ وکیل مقدمہ کی تیاری میں مصروف کتاب کے اوراق کو جلد جلد الٹ رہے ہیں۔ ایک بوڑھا دیہاتی بڑا سا لٹھ لئے مولوی صاحب کے سامنے بیٹھ کر سلام کہتا ہے۔
مولوی صاحب: کہو چوہدری! اچھے ہو کیسے آنا ہوا۔
جاٹ: جج رے میرے بھتیجوں نے میرا دم ناک میں کر رکھا ہے۔ جہاں میں مویشی باندھتا ہوں وہیں وہ کم بخت بھی باندھ دیتے ہیں۔ جس سے مجھے سخت تکلیف ہوتی ہے۔ اس لئے کوئی ایسا مقدمہ کر دو جس سے وہ سزا پا جائیں۔
مولوی صاحب: کیا ان کا اس جگہ میں کوئی حق نہیں۔
جاٹ : حق تو ہے مگر مجھے تو تکلیف ہوتی ہے۔ مولوی صاحب: تو ایسی حالت میں ان پر دعویٰ نہیں ہوسکتا۔ جاٹ : یوں حلم نہ کرو ان کو جس صورت میں ہو قید کرادو۔ مولوی صاحب جاٹ سے پلہ چھڑانے کے لئے بلاضرورت صاحب کے کمرے میں چلے گئے اور دیہاتی صاحب بڑ بڑاتے ہوئے اٹھے۔
ملا دادل مختیار جو قریب ہی بیٹھا حقہ نوشی میں کمال کر رہا تھا اور جس کے کان سائل اور وکیل کی طرف لگے ہوئے تھے۔ موقعہ کو غنیمت سمجھتے ہوئے سنہری چڑیا کو دام تزویر میں لانے کے لئے ان کی طرف متوجہ ہو کر بولا۔ چوہدری جی مجھے اپنی بپتا سنایئے بھلا یہ کل کے چھوکرے وکالت کیا جانیں۔ جاٹ نے ہاتھ جوڑتے ہوئے داستان کہہ ڈالی تو مختیار صاحب مونچھوں پہ تاؤ دیتے ہوئے لمبے لمبے کش لگاتے ہوئے بولے۔
ہاں صاحب! یہ بڑا سنگین مقدمہ ہے اور بڑے صاحب کے سوا اس کو کوئی سن بھی نہیں سکتا۔ کہو تو پھانسی دلا دوں۔ مگر ہمارے محنتانے کا پورا پورا خیال رکھیں اور دیکھو۔ چونکہ یہ مقدمہ بڑے صاحب کی کچہری میں داخل ہوگا۔ اس لئے اس پر کورٹ فیس بھی بڑی لگے گی۔
جاٹ ہمیانی پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا روپیہ عزت ہی کے لئے ہوتا ہے۔ اس کی کچھ پرواہ نہیں۔ مگر پھانسی نہیں کالے پانی بھجوا دو۔ مختیار نے بہت اچھا کہتے ہوئے بیس روپے کے کورٹ ٹکٹ کے لئے فہمائش کرتے ہوئے خزانچی کی طرف اشارہ کیا اور خود مضمون دعویٰ ایک بڑے لمبے سے سفید کاغذ پر لکھنا شروع کیا۔ جاٹ نے بیس روپے سامنے ڈھیری کر دیئے کہ صاحب آپ ہی ٹکٹ منگالیں۔ میں کہاں خراب ہوتا پھروں گا۔
مختیار : نہیں چوہدری تم خود ہی اپنے ہاتھ سے لاؤ۔ ہم پرائے مال کو چھونا گناہ سمجھتے ہیں۔ رام جانے ہمیں دوسرے کے مال سے ڈر لگتا ہے ڈر۔
غرضیکہ جاٹ ٢٠ روپے کے ٹکٹ لایا۔ اس زمانے میں ٹکٹوں پر نام اور تاریخ درج نہ ہوا کرتی تھی۔ مختیار صاحب نے آؤ دیکھا نہ تاؤ۔ بیس روپے کے ٹکٹ بڑی صفائی سے درخواست پر لگا دیئے اور ایک لمبے لفافے پر اپنا خوشخط پتہ لکھ کر مختیار جاٹ کی طرف متوجہ ہوا۔ ہمیانی میں دس ہی باقی تھے وہ اینٹھتے ہوئے لفافہ موکل کو دیا کہ جاؤ سامنے والے لیٹر بکس میں اپنے ہاتھ سے ڈال دو۔ جاٹ خوشی خوشی یہ کام کر کے مطمئن ہوا اور عرض کیا حضور میں کب آؤں۔ مختیار نے تسلی دیتے ہوئے ایک مہینہ کا وعدہ دیا۔
گاؤں میں پہنچ کر جاٹ نے اودھم مچاتے ہوئے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ دیکھو تو میرے گھر میں کس طرح مویشی باندھتے ہیں۔ بدمعاش کہیں کے کالے پانی نہ بھجواؤں تو کلو نام نہیں۔
چوہدری کے دیہاتی بھتیجے حقیقتاً کچھ عرصہ تو سہم گئے۔ مگر جب بیس پچیس دن گذر گئے تو وہ ٹھٹھا اڑانے لگے تو جاٹ کو بھی فکر ہوئی اتفاق سے اس دن پانچ صد روپیہ نیشکر کے فصل کا شوگر ملز سے وصول ہوا۔ روپیہ لیتے ہی سیدھا عدالت کا رخ کیا۔ بختیار نے دور سے دیکھا کہ سونے کی چڑیا دام میں آپ چل کر آ رہی ہے۔ تو وقار سے اکڑ کر یونہی مصروفیت کے بخار میں قلم کی جولانیاں دکھانے لگے۔
جاٹ: جے رام جی کی۔
بختیار: آؤ بھائی کلو جے رام جی کی۔ اچھا ہوا تم آگئے۔ پرسوں تمہارا مقدمہ پیش ہوا بڑی محنت سے بحث کی صاحب تو نہ مانتے تھے۔ مگر تمہاری تکلیف سے آبدیدہ ہو کر کچھ ہماری پرانی راہ و رسم سے مجبور ہو کر کہنے لگے کہ سائل کو کہہ دیا جائے کہ کالے پانی کے لئے جہاز کا کرایہ داخل کرے۔ کہو چوہدری صاحب اس سے زیادہ اور تمہاری کیا خوش قسمتی ہو سکتی ہے۔
مقدمے کی کامیابی اور منہ مانگی کالا پانی بھیجنے کی مراد اور اس پر تعریفی الفاظ سن کر جاٹ کی باچھیں کھل گئیں اور وہ کپڑوں میں پھولا نہ سمایا۔ بس یوں سمجھو کہ اس کو خوشی کا ہیضہ ہو گیا۔
بختیار نے جب پانسے کو کامیاب دیکھا تو کہنے لگا۔ چوہدری جی اب دیری نہ کیجئے روپیہ جلد داخل کیجئے تا کہ جہاز کے لئے لکھ دیا جائے۔
جاٹ نے پانچ صد کی ہمیانی سامنے رکھ دی اور کہا دیری کیسی ابھی داخل کر دیں۔
ہاں! کتنا کرایہ چاہئے بختیار نے کہا صاحب تو ہزار مانگتے تھے۔ بڑی کوشش اور محنت سے ساڑھے تین سو روپیہ پر فیصلہ ہوا۔ جاٹ نے فوراً یہ رقم گن کر سامنے رکھ دی تو بختیار نے اسے کہا کہ دیکھو ساڑھے چھ سو کا تو فائدہ ہی کرایا ہے۔ اب تم جانو جو خوشی میں آوے دے دو۔ دیہاتی خوشی کے ہیضے میں اتنا آپے سے باہر تھا۔ چکنی چپڑی باتوں پر سو گن دیا۔ بختیار نے دیکھا ابھی ہمیانی میں کچھ باقی ہے بولا چوہدری صاحب ہاں تو جو سپاہی حفاظت کے لئے ساتھ جائیں گے ان کا خرچ غرضیکہ بیچارے چوہدری کی نیشکر کی فصل پوری کی پوری لے کر چوہدری کو اطمینان دلاتے ہوئے ایک ماہ کے مزید وعدے پر گاؤں بھیج دیا۔ جاٹ نے خدا جانے کس اضطراب و بے چینی سے یہ دن ایک ایک کر کے شمار کئے اور حسب وعدہ کالے پانی بھیجنے کے شوق میں بختیار کے پاس پہنچا۔
مختیار نے دور سے دیکھا کہ اس کی شامت آ رہی ہے تو کچھ گھبرایا مگر عیاری نے راہنمائی کی تو اطمینان قلب سے سلام کے جواب میں بولا۔ بھاگو بھاگو وہ دیکھو پولیس تمہاری تلاش میں ادھر ہی آ رہی ہے۔ میں نے آج تک تمہارا پتہ راز میں رکھا بات یہ ہوئی کہ وہ جہاز جس کا کرایہ تم نے داخل کیا تھا آتے ہوئے راستہ میں ڈوب گیا۔ اب بڑا صاحب کہتا ہے کہ وہ جس نے کالے پانی کے لئے جہاز منگایا تھا اس سے اس کی قیمت وصول کرو۔ اس لئے بہتر ہے کہ چپکے سے بھاگ جاؤ اور خبردار کسی سے ذکر نہ کرنا ورنہ پکڑے جاؤ گے۔
جاٹ یہ سنتے ہی پاؤں سر پر رکھ کر بھاگا اور پلٹ کر پھر کبھی عدالت کا منہ نہ دیکھا۔
بعینہ یہی حال ہمارے مرزا قادیانی کا ہے کہ عیار مختیار کی طرح کوئی نہ کوئی فقرہ جڑ دیتے ہیں۔ کسی نہ کسی حدیث میں چسپاں بتاتے ہوئے مفید مطلب بنانے کی ناکام کوشش کر لیتے ہیں۔ بھلے مانس سے کوئی پوچھے کہ میاں نہ تمہارا نام ملے، نہ تمہارے باوا کا، نہ اماں کا، نہ ذات، نہ حلیہ، نہ ملک، نہ قوم، نہ صفات، نہ حیات، پھر تو کون، مان نہ مان، میں تیرا مہمان۔ ہاں! بھیا وہ دن گئے جب کالے پانی کے لئے جہاز یا پلیگ کی آڑ میں دو دو ہزار کی لاگت کے مکان یہ چکمہ دے کر بنوا لیا کرتے کہ یہ کشتی نوح ہے۔ جو اس میں پناہ پائے گا محفوظ رہے گا اور ایسی ہی اور ستم ظریفیاں توڑا کرتے تھے۔ اب وہ زمانہ نہیں۔ دنیا تم سے آشنا ہو چکی۔ سب کو الو نہ سمجھو۔ اب بڑے صاحب کے نام سے لوگ مانوس ہیں۔ کوئی شکایت کر دے گا تو بڑے گھر کے مہمان بنو گے۔
"عن ابن عباسؓ قال قال رسول الله ﷺ لن تهلك امة انا اولها وعيسى ابن مريم اخرها والمهدی اوسطها (مشکوٰۃ ص٥٨٣، باب ثواب هذه الامة)" ﴿حضرت ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں وہ امت کیسے ہلاک ہو سکتی ہے جس کا شروع تو مجھ سے ہے اور آخر عیسیٰ ابن مریم سے ہے اور درمیان زمانہ امام مہدی سے۔﴾
مرزائیو! اس حدیث مرفوع کو تمہارے مصدقہ و مسلمہ دو اماموں نے یعنی امام احمد بن حنبل مجدد صدی دوئم اور حافظ ابو نعیم صاحب مجدد صدی چہارم نے روایت کیا ہے۔ اس لئے اس کی صحت سے انکار کر کے کہیں خذلاں کا سودا نہ کر بیٹھنا۔ کیونکہ مجدد کے انکار سے بقول مرزا کفر لازم آتا ہے اور دو مجددوں کی تکذیب سے تو دین بھی گیا دنیا بھی گئی ہو جائے گا۔ اگر اعتبار نہ ہو تو اپنی ہی معتبر کتاب اور منظور نظر مرزا یعنی ”عسل مصفے“ مرتبہ مرزا خدا بخش قادیانی جس پر دستخطی اور
اندھی دونوں جماعتوں کے اماموں اور بقیہ لکڑاتوڑ مبلغوں نے تقریظی ریکارڈ کئے ہوئے ہیں۔ دیکھ لو اور اگر ساری خرافات کے ملاحظہ کے لئے وقت عزیز اجازت نہ دے تو صرف ١٦٢ تا ١٦٥ ہی دیکھ لیا جائے اس پر برابر تیرہ صدیوں کے مجدد گنوائے گئے ہیں اور کسی ایک کے انکار کو کفر کے مترادف سمجھا گیا ہے۔ یقین ہے کہ رگ الحاد پھڑکنے کی بجائے دب جائے گی اور حدیث کی عظمت پر حرف گیری کا یارا نہ ہوگا۔ اب انصاف کیجئے کہ حدیث تو یہ چاہتی ہے کہ سب سے اخیر میں آنے والے کا نام عیسیٰ ابن مریم ہو اور درمیانی زمانہ کے صاحب کا نام محمد بن عبداللہ ہو۔ جسے امام مہدی کے خطاب سے یاد کیا گیا ہے۔ مگر مرزا قادیانی خواہ مخواہ ان دو مبارک ہستیوں کو ایک میں مدغم کرتے ہوئے اپنا الو سیدھا کر رہے ہیں۔
یہ سچ ہے کہ تمام عقیدت کیش یا لنگر کے لٹکور یا ضمیر فروش ذکور آپ کی ہاں میں ہاں ملانا طوعاً وکرھاً منظور کرتے ہوئے گردن تسلیم کو خم کرنے میں مصلحت وقت سمجھیں گے۔ مگر یہ تو کہئے کہ وہ خوش نصیب ممالک جہاں آپ کی گھناؤنی تعلیم نہیں پہنچی تو وہ سعید لوگ جنہیں قدرت نے قلب سلیم عطاء کیا ہے اور وہ صوفیائے کرام جنہیں پاک باطنی نے پسند کیا اور وہ اہل علم حضرات جو رسول کریم کے صحیح جانشین ہیں۔ وہ آپ کی اس بودی تاویل اور الٹی منطق پر اگر لاحول نہ پڑھیں تو تم ہی انصاف سے کہو کیا کہیں۔ کیونکہ قرآن حکیم نے انہیں تعلیم ہی کچھ ایسی دی ہے۔ ’’واذا خاطبهم الجاهلون قالوا سلاما (فرقان:٦٣)‘‘ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کی نامور اور مقبول ہستیاں جن کے سامنے مرزا جیسے ہزاروں باتونی ایک لفظ نہ کہہ سکیں خاموش رہیں۔ اس لئے نہیں کہ وہ مرزا کا مقابلہ نہ کر سکتے تھے۔ نعوذ باللہ!
یہ نہیں بلکہ اس لئے کہ نا کنندہ ترش کند بکفش با مگس پرواز! کے مصداق ہی صحیح ہے اور بھلا ان کے اوقات عزیز کب اجازت دیتے تھے کہ وہ قال اللہ وقال الرسول جس میں دین و دنیا کی فلاح ہے کو چھوڑ کر خرافات واہیہ میں الجھ جائیں اور فقیر کے خیال میں یہ ان کا استغنا ہی ہمارے سر چڑھ رہا ہے۔ حضرت مولانا علامہ الشیخ انور کاشمیریؒ نے وصال سے چند سال قبل اس طرف تھوڑی سی توجہ فرمائی۔ ان کے وہ جواہر پارے ہمارے سامنے ہیں۔ مگر افسوس عوام تو کیا علماء سے وہ جن کا سینہ رحمت کردگار کا خزینہ ہے کے سوا کوئی کیا سمجھے گا۔ انہوں نے اصولی باتیں بیان فرمائی ہیں۔ مثلاً یہ کہ نبوت کا امکان بعد از سرور دو عالم ہو بھی سکتا ہے یا نہیں۔ اس پر دلائل سے نقد و تبصرہ فرماتے ہوئے یہ ثابت کیا ہے کہ ایں خیال است و محال است و جنون۔ اس کے بعد متنبی قادیانی کی نبوت پر اس انداز سے بحث فرمائی ہے کہ گویا لعل و گوہر کے دریا بہا دیئے ہیں۔ مگر
افسوس کہ ہم جیسے کم علم اس سے مستفیض نہیں ہو سکتے۔ ہاں اہل علم جھولیاں بھر بھر کر ذخیرہ کر رہے ہیں۔ کاش محترم مولانا شیخ الحدیث شبیر احمد صاحب عثمانی یا محترم و بزرگ شیخ الاسلام حسین احمد صاحب مدنی کسی اولین فرصت میں ان سے عام فہم تراجم کی طرف توجہ فرما کر ہم بے بصروں پر احسان فرمائیں۔ (الحمدللہ! کہ ان کتب کے تراجم شائع ہو چکے ہیں۔ مصنف کی خواہش اللہ تعالیٰ نے پوری فرمادی۔ فالحمدللہ۔ فقیر مرتب)
ناظرین! اب ہم آپ کی خدمت میں فرمان رسالت مندرجہ بالا پر مرزائی دستخط بھی کرائے دیتے ہیں۔ تاکہ قادیانی دیانت وامانت کا کچا چٹھہ پتہ چل جائے۔ چنانچہ ذیل کی حدیث اسی مرزائی معتبر کتاب ”عسل مصفےٰ“ سے نقل کرتے ہیں۔ جس کے راوی امیر المومنین حضرت علیؓ ہیں پس غور سے سنئے۔
”عن علیّ قال قال رسول اللہ ﷺ ابشروا ثم ابشروا ...... کیف يهلك امة انا اولها واثنا عشر خليفة من بعدى والمسيح عيسى ابن مريم اخرها“ ﴿حضرت علیؓ بیان فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے صحابہ کو مخاطب فرماتے ہوئے فرمایا خوش ہو خوش ہو ...... وہ امت کیسے ہلاک ہو سکتی ہے کہ جس کی ابتداء مجھ سے ہوئی اور درمیان میں میرے بارہ خلیفے ہوں گے اور سب سے آخر مسیح ابن مریم ہے۔﴾
(منقول از عسل مصفےٰ ج ٢ ص ٥١٢)
فرمان رسالت کی رو سے سب سے آخری خلیفے کا نام مسیح ابن مریم بیان ہوا جو صاحب کتاب نبی ہیں۔ مگر مرزا قادیانی سکھا شاہی کرتے ہوئے خواہ مخواہ اپنے پے چسپاں کر رہے ہیں۔ ذیل کا مضمون طول طویل ہے۔ مگر لطف سے خالی نہیں اس کا مطالعہ کرو اور خدارا سوچو کہ مرزا قادیانی خیالی تکے کا سہارا کس دیدہ دلیری سے لیتے ہوئے کیا کیا کہہ گئے۔ اس دیدہ دلیری و چالاکی وعیاری سے یہ پتہ چل جائے گا کہ قادیانی نبوت کس معیار پر کھڑی کی گئی اور اس کے پلے کیا تھا۔
(ازالہ اوہام ص ٦٧٣ تا ٦٧٩ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٤٦٤ تا ٤٦٨) ”اب یہ جاننا چاہئے کہ دمشق کا لفظ جو مسلم کی حدیث میں وارد ہوا ہے۔ یعنی صحیح مسلم میں یہ جو لکھا ہے کہ حضرت مسیح دمشق کے سفید منارہ شرقی کے پاس اتریں گے۔ یہ لفظ ابتداء سے محقق لوگوں کو حیران کرتا چلا آتا ہے۔ کیونکہ بظاہر کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ مسیح کو دمشق سے کیا مناسبت ہے اور دمشق کو مسیح سے کیا خصوصیت ...... اس جگہ بلاشبہ استعارہ کے طور پر کوئی مرادی معنی مخفی ہیں۔ جو ظاہر نہیں کئے گئے اور یہ عاجز ابھی اس بات کی تفتیش کی طرف متوجہ نہیں ہوا تھا کہ وہ معنی کیا ہیں کہ اسی اثناء میں میرے ایک دوست اور محبّ واثق مولوی حکیم نور دین صاحب قادیان آئے اور انہوں نے اس بات کے لئے درخواست
کی کہ جو مسلم کی حدیث میں لفظ دمشق و نیز اور ایسے چند مجمل الفاظ ہیں۔ ان کے انکشاف کے لئے جناب الٰہی میں توجہ کی جائے۔ لیکن چونکہ ان دنوں میں میری طبیعت علیل اور دماغ نا قابل جدوجہد تھا۔ اس لئے میں ان تمام مقاصد کی طرف توجہ کرنے سے مجبور رہا۔ (یہ تھی مرزا کے الہام کی حقیقت۔ یعنی جب کبھی نشی جی کا دماغ تازہ اور طبیعت حاضر ہوتی تھی۔ اس وقت کی کیفیت کا نام وحی کھاتہ رکھ لیا جاتا اور بہی کے کھتیان کے موقعہ پر دماغی جدوجہد کر کے کانٹ چھانٹ کر کے باقی ملا لی جاتی تھی۔ چہ خوب) صرف تھوڑی سی توجہ کرنے سے ایک لفظ کی تشریح یعنی دمشق کے لفظ کی حقیقت میرے پر کھولی گئی اور نیز ایک صاف اور صریح کشف میں مجھ پر ظاہر کیا گیا کہ ایک شخص حارث نام یعنی حراث آنے والا جو ابو داؤد کی کتاب میں لکھا ہے۔ یہ خبر صحیح ہے اور یہ پیش گوئی اور مسیح کے آنے کی پیش گوئی درحقیقت یہ دونوں اپنے مصداق کی رو سے ایک ہی ہیں۔ یعنی ان دونوں کا مصداق ایک ہی شخص ہے جو یہ عاجز ہے۔ (صاحبو حراث کہتے ہیں زمیندار کو مگر یہ صفت بھی مرزا میں نہ تھی۔ کیونکہ وہ خود یا ان کا باپ دادا کھیتی باڑی نہ کرتے تھے۔ مگر چونکہ تھوڑی بہت زمین رکھتے تھے اس لئے دجل دین کو ایک لفظ کا ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ہو رہا ہے۔ بہت اچھا آگے چلئے) سو اوّل دمشق کے لفظ کی تعبیر جو بذریعہ الہام مجھ پر کھولی گئی بیان کرتا ہوں...... پس واضح ہو کہ دمشق کے لفظ کی تعبیر میں میرے پر منجانب اللہ یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس جگہ ایسے قصبے کا نام دمشق رکھا گیا ہے جس میں ایسے لوگ رہتے ہیں جو یزید الطبع اور یزید پلید کی عادات اور خیالات کے پیرو ہیں۔ جن کے دلوں میں اللہ اور رسول کی کچھ محبت نہیں اور احکام الٰہی کی کچھ عظمت نہیں۔ (یہ قادیان دارالامان کی تعریف ہو رہی ہے۔ اسی لئے تو میں اس کو دارالفساد لکھتا ہوں۔ سبحان اللہ یہ سچی بات مرزا قادیانی کی قلم سے نکل گئی) غرض مجھ پر یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ دمشق کے لفظ سے دراصل وہ مقام مراد ہے جس میں یہ دمشق والی مشہور خاصیت پائی جاتی ہے اور خدا تعالیٰ نے مسیح کے اترنے کی جگہ جو دمشق کو بیان کیا تو یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مسیح سے مراد اصلی مسیح نہیں ہے جس پر انجیل نازل ہوئی تھی۔ (تو پھر کیا نقلی مسیح مراد ہے جس پر براہین احمدیہ ٹپکی تھی۔ چہ خوب) بلکہ مسلمانوں سے کوئی ایسا شخص مراد ہے جو اپنی روحانی حالت کی رو سے مسیح سے اور نیز امام حسین سے بھی مشابہت رکھتا تھا۔ کیونکہ دمشق پایہ تخت یزید ہو چکا ہے اور یزیدوں کا منصوبہ گاہ جس سے ہزارہا طرح کے ظالمانہ احکام نافذ ہوئے وہ دمشق ہی ہے اور یزیدیوں کو ان یہودیوں سے بہت مشابہت ہے۔ (مگر قادیان میں تو تھانہ، تحصیل اور منصفی بھی نہیں پھر یہاں سے خاک احکام جاری ہونے کی مماثلت ہوئی۔ دجل بھی دیا وہ بھی کچا۔ اس لئے
کہ قادیانی نہ تھا سچا) پس مسیح کا دمشق میں اترنا صاف دلالت کرتا ہے کہ کوئی مثیل جو حسین سے بھی بوجہ مشابہت ان دونوں بزرگوں کی مماثلت رکھتا ہے۔ (چار گھوڑے سوار دہلی سے آ رہے تھے پانچواں گدھا سوار لاہور سے ساتھ ہو لیا جو کوئی پوچھتا کہاں سے آ رہے ہو گدھا سوار جھٹ آگے ہو کر کہہ دیتا۔ پانچوں سوار دہلی سے آئے ہیں) یزیدیوں کی تنبیہ اور ملزم کرنے کے لئے جو مثیل یہود ہیں اترے گا اور ظاہر ہے کہ یزید الطبع لوگ یہودیوں سے مشابہت رکھتے ہیں یہ نہیں کہ دراصل یہودی ہیں اس لئے دمشق کا لفظ صاف طور پر بیان کر رہا ہے کہ مسیح جو اترنے والا ہے وہ بھی دراصل مسیح نہیں ہے۔ ( مماثلت تو تب ہوتی جب یہود کی طرح پھانسی پر چڑھا دیتے۔ جیسا کہ وہ اکثر انبیاء سے کرتے چلے آئے ہیں یا یزیدیوں کی مماثلت تو تب سمجھی جاتی ۔ جب وہ امام سید الشہداء کی طرح بیٹے بھائی بھانجے بھتیجے یار و انصار ظالم قتل کر دیتے۔ افسوس یہ تو ہے کہ یہاں کانٹا بھی نہیں چبھتا۔ مگر مماثلت کا بخار اور مہدویت کا ہیضہ ہو جاتا ہے ) بلکہ جیسا کہ یزیدی لوگ مثیل یہود ہیں۔ ایسا ہی مسیح جو اترنے والا ہے وہ بھی مثیل مسیح ہے حسینی الفطرت، یہ نکتہ ایک نہایت لطیف نکتہ ہے۔ جس پر غور کرنے سے صاف کھل جاتا ہے کہ دمشق کا لفظ محض استعارہ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔“
اچھا نکتہ ہے جس کا کوئی معیار ہی نہیں واہ صاحب واہ حسینی الفطرت کی بھی خوب کہی۔ انا الحق کہو اور سولی نہ پاؤ۔ حسینی بنو اور سجدے میں سر نہ کٹاؤ
لڑنے مرنے کو اور بہترے ہیں
عجیب ثم العجب ! (ازالۃ اوہام ص ٧١ تا ٧٣ حاشیہ خزائن ج ٣ ص ١٤٨ تا ١٤٩) ”یہ قصبہ قادیان بوجہ اس کے کہ اکثر یزیدی الطبع لوگ اس میں سکونت رکھتے ہیں۔ دمشق سے ایک مناسبت اور مشابہت رکھتا ہے ...... اور اس بارے میں قادیان کی نسبت مجھے یہ الہام ہوا۔ ” اخرج منہ الیزیدیون “ یعنی اس میں یزیدی لوگ پیدا کئے گئے ہیں۔ اب اگرچہ میرا یہ دعویٰ تو نہیں اور نہ ایسے کامل تصریح سے خدا تعالیٰ نے میرے پر کھول دیا ہے کہ دمشق میں کوئی مثیل مسیح پیدا نہیں ہوگا۔ بلکہ میرے نزدیک ممکن ہے کہ کسی آئندہ زمانہ میں خاص کر دمشق میں کوئی مثیل مسیح پیدا ہو جائے۔ مگر خدا تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ وہ اس بات کا شاہد حال ہے کہ اس نے قادیان کو دمشق سے مشابہت دی ...... اور یہ بھی مدت سے الہام ہو چکا ہے ۔ ” انا انزلناہ قریباً من القادیان وبالحق انزلناہ وبالحق نزل وكان وعد الله مفعولا“ یعنی ہم نے اس کو قادیان کے
قریب اتارا اور سچائی کے ساتھ اتارا اور ایک دن وعدہ اللہ کا پورا ہونا تھا۔ (مرزائیو خدا لگتی کہو کہ مرزا قادیانی اترے تھے تو کہاں سے، پہلے مرزا قادیانی کا چڑھنا بتاؤ اترنا خود بخود مان لیں گے۔ افسوس جس قوم میں اترنا سے مراد ماں کے پیٹ سے نکلنا ہو اس کی عقل کا ماتم نہ کریں تو اور کیا کریں) اس الہام پر بنظر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قادیان میں خدا تعالیٰ کی طرف سے اس عاجز کا ظاہر ہونا الہامی نوشتوں میں بطور پیش گوئی پہلے سے لکھا گیا تھا۔ اب چونکہ قادیان کو اپنی ایک خاصیت کی رو سے دمشق سے مشابہت دی گئی تو اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ قادیان کا نام پہلے نوشتوں میں استعارہ کے طور پر دمشق رکھ کر یہ پیش گوئی بیان کی گئی تھی۔“
(ازالۃ اوہام ص ٧٣، خزائن ج ٣ ص ١٤٩)
عاجز کے دل پر القا کیا ہے کہ ”انا انزلناہ قریباً من القادیان“ اس کی تفسیر یہ ہے ”انا انزلناہ قریباً من دمشق بطرف شرقی عند المنارۃ البیضا“ کیونکہ اس عاجز کی سکونتی جگہ قادیان کے شرقی کنارے پر ہے۔ منارہ کے پاس پس یہ فقرہ الہام الٰہی کا کہ کان وعدہ اللہ مفعولاً ۔ اس تاویل سے پوری پوری تطبیق کھا کر یہ پیش گوئی واقعی طور پر پوری ہو جاتی ہے۔“
(حیرانگی ہے مرزا قادیانی کی اس صفائی پر کہ جب مرزا قادیانی پیدا ہوئے۔ اس وقت نہ یہ مسجد ضرار تھی اور نہ ٹل منارہ ۔ اچھا بدھو خدا ہے جو یہ بھی نہیں جانتا کہ جس چیز سے تشبیہ دے رہا ہوں وہ تو منصہ شہود سے غائب ہے اور پیدا ہونے والا خود اس کو بھیک مانگ مانگ کر تعمیر کر رہا ہے اور اسی تیاری میں اس کی اپنی تیاری ہوگئی اور کہاں سے اتر رہا ہے یہ تو بتایا ہی نہیں گیا۔ کیا مرزا قادیانی پیدا نہ ہوئے تھے۔ منارہ سے ٹپک پڑے تھے۔ آخر یہ کیا گورکھ دھندہ ہے۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا)
(ازالۃ اوہام ص ٧٦ تا ٧٧، خزائن ج ٣ ص ١٤٠، ١٤١)
”جس روز الہام مذکورہ بالا جس میں قادیان میں نازل ہونے کا ذکر ہے ہوا تھا۔ اس روز کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب مرحوم مرزا غلام قادر میرے قریب بیٹھ کر بآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انہوں نے ان فقرات کو پڑھا کہ ”انا انزلناہ قریباً من القادیان“ تو میں نے سن کر تعجب کیا کہ قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے۔ تب انہوں نے کہا کہ یہ دیکھو لکھا ہوا ہے۔ تب میں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ میں شاید قریب نصف کے موقعہ پر یہی الہامی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے۔ تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ تین شہروں کا نام بطور اعزاز
کے قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے۔ مکہ اور مدینہ اور قادیان۔ یہ کشف تھا جو کئی سال ہوئے مجھے دکھلایا گیا تھا اور اس کشف میں جو میں نے اپنے بھائی صاحب مرحوم کو جو کئی سال سے وفات پاچکے ہیں قرآن شریف پڑھتے دیکھا اور اس الہامی فقرہ کو ان کی زبان سے قرآن شریف میں پڑھتے سنا تو اس میں بھید مخفی ہے۔ جس کو خدا تعالیٰ نے میرے پر کھول دیا کہ ان کے نام سے اس کشف کی تعبیر کو بہت کچھ تعلق ہے۔ یعنی ان کے نام میں جو قادر کا لفظ آتا ہے اس لفظ کو کشفی طور پر پیش کر کے یہ اشارہ کیا گیا ہے کہ یہ قادر مطلق کا کام ہے۔ اس سے کچھ تعجب نہیں کرنا چاہئے۔ اس کے عجائبات قدرت اس طرح پر ہمیشہ ظہور فرماتے ہیں۔‘‘
(یا مظہر العجائب غلام قادر معہ غلام احمد کے غائب۔ اب چونکہ یہ دونوں چل بسے اس لئے امت سے خطاب ہے کہ وہ از راہ مہربانی یہ بتانے کی زحمت گوارہ کرے کہ مرزائی خدا سچا ہے یا مرزائی رسول ۔ کیونکہ خدا تو کہتا ہے کہ ’’انا انزلناہ قریباً من القادیان‘‘ کہ ہم نے مرزا کو قادیان کے قریب اتارا اور قادیان کا قرب ان مضافات کو حاصل ہے۔ جو قادیان کے قریب ہیں۔ جیسے بٹالہ گورداسپور۔ مگر مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ میں قادیان میں اترا۔ دوسرا معمہ یہ ہے کہ جو شخص غلام قادر سے غلام حذف کرتے ہوئے قادر سمجھ لے یعنی بھائی کا قرآن پڑھنا خدا کا قرآن پڑھنا قرار دے لے۔ اس کی عقل کا ماتم کس طریق سے کریں اور وہ نصف کے قریب میں قادیان لکھا ہوا کہاں ہے اور اگر کشف کی سناؤ تو جواب یہ ہے کہ بات کرنے سے پہلے بات کو تول لینا دانائی میں داخل ہے۔ ہر وہ کشف جو دین میں رخنہ انداز ہو۔ جس کے باعث دین میں تفرقہ پڑتا ہو مردود ہے اور کشوف کے متعلق اتنا اور عرض کردوں کہ مرزا قادیانی کو کبھی کشف نہ ہوتا تھا۔ کیونکہ وہ زمین ہی بنجر اور پتھریلی تھی۔ جو ناقابل زراعت سمجھی جاتی ہے۔ ہاں مرزا قادیانی کشف بنالیا کرتے تھے اور کشف اور خواب کے متعلق اہل علم خوب جانتے ہیں کہ کشف کیا ہوتا ہے۔ مثلاً نہر زبیدہ کے متعلق جو مکہ اور مدینہ کے درمیان جاری ہے سب کو علم ہے کہ جناب زبیدہ زوجہ امیر المومنین کو کیا خواب آیا اور کیا تعبیر کی گئی۔ مگر صاحب توبہ ہی بھلی ہے۔ یہاں کا تو باوا آدم ہی نرالہ من گھڑت خواب اور خود تراشیدہ کشف)
ذیل میں مرزا قادیانی کے کشف بنانے کا نمونہ پیش کیا جاتا ہے ملاحظہ کریں: (ازالہ اوہام ص ٢١٣، ٢١٤ ، خزائن ج ٣ ص ٢٠٥، ٢٠٦) ”مجھے یاد ہے کہ میرے والد صاحب غفر اللہ جو ایک معزز رئیس اور اپنی نواح میں عزت کے ساتھ مشہور تھے انتقال کر گئے تو ان کے فوت ہونے کے بعد دوسرے یا تیسرے روز ایک عورت نہایت خوبصورت خواب میں میں نے دیکھی
جس کا حلیہ ابھی تک میری آنکھوں کے سامنے ہے اور اس نے بیان کیا کہ میرا نام رانی ہے اور مجھے اشارات سے کہا کہ میں اس گھر کی عزت اور وجاہت ہوں اور کہا کہ میں چلنے کو تھی مگر تیرے لئے رہ گئی۔ انہیں دنوں میں میں نے ایک نہایت خوبصورت مرد دیکھا اور میں نے اسے کہا کہ تم ایک عجیب خوبصورت ہو۔ تب اس نے اشارہ سے میرے پر ظاہر کیا کہ میں تیرا بخت بیدار ہوں اور میرے اس سوال کے جواب میں کہ تو عجیب خوبصورت آدمی ہے۔ اس نے یہ جواب دیا میں درنی آدمی ہوں اور ابھی تھوڑے دن گذرے ہیں کہ ایک مدقوق اور قریب الموت انسان مجھے دکھائی دیا اور اس نے ظاہر کیا کہ میرا نام دین محمد اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہ دین محمدی ہے۔ جو مجسم ہو کر نظر آیا اور میں نے اس کو تسلی دی کہ تو میرے ہاتھ سے شفا پائے گا۔“
ناظرین! جس حدیث کے توڑ موڑ میں مرزا قادیانی نے سابقہ اوراق میں دجل بیانی کی اور دمشق سے قادیان کو تعبیر کرانے کی ناکام کوشش کی وہ فرمان رسالت زادتہ ایمانا کے لئے ذیل میں پیش کیا جاتا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:
”وعن النواس بن سمعان قال ذكر رسول اللهﷺ الدجال فقال ان يخرج وانا فيكم فانا حجيجه دونكم وان يخرج ولست فيكم فامرء حجيج نفسه والله خليفتى على كل مسلم انه شاب قطط عينه طافية كانى اشبهه بعبد العزى بن قطن فمن ادركه منكم فليقراء عليه فواتح سورة الكهف وفى رواية فليقراء عليه بفواتح سورة الكهف فانها جواركم من فتنته انه خارج خلة بين الشام والعراق فعاث يمينا وعاث شمالا يا عبادالله فاثبتوا قلنا يا رسول الله وما لبثه فى الارض قال اربعون يوما يوم كسنة ويوم كشهر ويوم كجمعة وسائر ايامه كايامكم ...... قلنا يا رسول الله وما اسراعه فى الارض قال كالغيث استدبرته الريح فياتى على القوم فيدعوهم فيؤمنون به فيامر السماء فتمطر الارض فتنبت فتروح عليهم سارحتهم اطول ماكانت ذرى واسبغه ضروعا وامره خواصر ثم يأتى القوم فيدعوهم فيردون عليه قوله فينصرف عنهم فيصبحون ممحلين ليس بايديهم شى من اموالهم ويمر بالخربة فيقول لها اخرجي كنوزك فتتبعه كنوزها كيعاسيب النحل ثم يدعوا رجلا ممتلياً شباباً فيضربه بالسيف فيقطعه جزلتين رمية الغرض ثم يدعوه فيقبل ويتهلل وجهه يضحك فبينما هو كذلك اذ بعث الله
المسيح ابن مريم فينزل عند المنارة البيضاء شرقى دمشق بين مهزورتين واضعاً كفيه على اجنحة ملكين اذا طأطأ راسه قطر واذا رفعه تحدر منه مثل جمان كاللؤلؤ فلا يحل لكافر يجد من ريح نفسه الا مات ونفسه ينتهى حيث ينتهى طرفه فيطلبه حتى يدركه بباب لد فيقتله ...... الخ (مشکوٰۃ ص٤٧٣، باب علامات بين يدى الساعة فصل اوّل) “
اس حدیث شریف کو مرزا آنجہانی نے صحیح تسلیم کرتے ہوئے حسب ذیل خیالات پیش کئے ۔
(ازالہ اوہام ص٤١٨، ٤١٩،خزائن ج٣ص٤٠٩) ”دجال اسی قسم کی گمراہ کرنے کی کوششوں میں لگا ہوگا کہ ناگہاں ابن مریم ظاہر ہو جائے گا اور وہ ایک منارہ سفید کے پاس دمشق کے شرقی طرف اترے گا ......اور پھر فرمایا جس وقت وہ اترے گا اس وقت اس کی زرد پوشاک ہوگی ...... اور دونوں ہتھیلیاں اس کی دو فرشتوں کے بازوؤں پر ہونگی ......پھر فرمایا کہ جس وقت مسیح اپنا سر جھکائے گا تو اس کے پسینہ کے قطرات مترشح ہوں گے اور جب اوپر کو اٹھائے گا تو بالوں سے قطرے پسینے کے چاندی کے دانوں کی طرح گریں گے ۔ جیسے موتی ہوتے ہیں اور کسی کافر کے لئے ممکن نہیں ہوگا کہ ان کے دم کی ہوا پا کر جیتا رہے ۔ بلکہ فی الفور مر جائے گا اور دم ان کا ان کی حد نظر تک پہنچے گا ۔ پھر حضرت ابن مریم دجال کی تلاش میں لگیں گے اور لد کے دروازہ پر جو بیت المقدس کے دیہات میں سے ایک گاؤں ہے ۔ اس کو جا کر پکڑیں گے اور قتل کر ڈالیں گے ۔ “
مندرجہ بالا بیان کو ذہن نشین رکھیئے اور اس کے بعد حدیث مذکور کے ترجمے کو ملاحظہ فرمائیں اور ترجمہ بھی حضرت شاہ عبدالحق محدث دہلوی صاحب اشعة اللمعات کیا لکھتے ہیں بمعہ تلخیص ۔
” نبی کریمﷺ نے دجال کا ذکر کیا تو فرمایا اگر دجال نکلے اور فرض کرو کہ میں بھی تم میں ہوں ۔ پس اس کا مقابلہ تمہارے سامنے میں کروں گا ۔ اگر نکلے اور میں تمہارے ہاں نہ ہوں ۔ پھر ہر مرد اس کا مقابلہ کرے ۔ (شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ مقابلہ دلائل شرعیہ عقلیہ کرے) اس فرمان کو امت مرحومہ کے افراد نے حضورﷺ کے ارشاد کے موافق اس زمانہ کے دجال کا مقابلہ بھی دلائل عقلیہ و نقلیہ سے کیا ہے اور خدا تعالیٰ میرے بعد ہر مسلمان پر میرا وکیل ہے ۔ تحقیق دجال جوان زیادہ گھونگرالے بالوں اور اس کی آنکھ پھولی ہوئی ہوگی ۔ گویا کہ اس کی تشبیہ عبدالعزیٰ بن قطن کے ساتھ ہے ۔ اگر کوئی تم میں سے اس دجال کو دیکھے تو چاہئے کہ ابتداء سورۃ کہف کی آیات کو پڑھے ۔ کیونکہ یہ اوائل آیات سورۃ کہف تمہارے لئے اس فتنہ دجال سے امان دینے والی ہیں ۔ وہ دجال
شام اور عراق کے درمیان ریگستانی راستے میں پیدا ہوگا۔ وہ دائیں بائیں فساد کرے گا۔ اے بندگان خدا ثابت رہیو۔ صحابہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ زمین میں کتنی مدت ٹھہرے گا۔ تو حضورﷺ نے فرمایا چالیس دن ایک دن ایک سال کی مانند کا اور ایک دن ایک ماہ کے مثل اور ایک دن ہفتہ کے مثل باقی اس کے تمام دن تمہارے دنوں کی مانند ہوں گے۔ تو صحابہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ پس وہ دن جو ایک سال کا ہوگا۔ کیا ہمیں ایک دن کی نمازیں کافی ہوں گی تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا۔ نہ بلکہ باقی دنوں کا اندازہ کر کے نمازیں پڑھنا۔ صحابہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ کس طرح زمین میں جلدی چلے گا۔ تو آپﷺ نے فرمایا جیسے بارش کہ اس کے بعد ہوا آ جائے۔ پس وہ دجال ایک قوم کے پاس آئے گا اور ان کو بلائے گا۔ پس وہ قوم اس کے ساتھ ایمان لاوے گی۔ پس وہ آسمان کو حکم کرے گا تو بارش ہوگی اور زمین کو حکم کرے گا تو وہ جمادے گی۔ پس شام کو چراگاہوں سے ان کے جانور پہلی حالت سے موٹے تازے آئیں گے اور ان کے پستان بھرے ہوں گے اور ان کی کوکھیں بھی پر ہوں گی۔ پھر دجال ایک اور قوم کے پاس آئے گا۔ ان کو بلائے گا وہ قوم اس کے قول کو رد کرے گی۔ پس وہ وہاں واپس آئے گا۔ پس وہ قحط سالی میں مبتلا ہوں گے جو اس وقت ان کے ہاتھ کوئی چیز نہ ہوگی۔ وہ دجال ویرانی سے گزرے گا۔ وہ دجال اس کو کہے گا کہ اپنے خزانے نکال۔ پس وہ زمین اس کی پیروی کرے گی۔ جیسے شہد کے سردار شہد کی متابعت کرتے ہیں۔ پھر دجال ایک جوان موٹے کو بلائے گا تو اس کو تلوار سے مار کر دو ٹکڑے کر کے علیحدہ علیحدہ رکھے گا۔ جو ایک تیر کے مقدار پر ہوں گے۔ پھر اسی جوان کو بلائے گا اور اس کو زندہ کرے گا اور وہ شخص اس کے سامنے آئے گا۔ ہنستا ہوا۔ پس عین اسی حالت میں اللہ تعالیٰ عیسیٰ ابن مریم کو بھیجیں گے۔ پس حضرت مسیح منارۃ البیضاء پر نازل ہوں گے۔ جو دمشق سے شرقی جانب ہے۔ زرد رنگ شدہ کپڑوں میں اپنے ہاتھوں کو دو فرشتوں کے بازوؤں پر رکھے ہوئے جب اپنے سر کو نیچا کریں گے تو پسینہ گرے گا اور جب اٹھائے گا تو چاندی کی مانند دانے گریں گے۔ جس کافر کو حضرت عیسیٰ کی ہوا پہنچے گی وہ وہاں ہی مرے گا اور آپ کی ہوا اس جگہ تک پہنچے گی جہاں تک آپ کی نظر پہنچے گی۔ پھر حضرت مسیح دجال کو تلاش کریں گے۔ تا کہ لد کے دروازہ پر اس کو ملیں گے اور اس کو قتل کریں گے۔“
چنانچہ اس حدیث کی مزید تصدیق کرتے ہوئے نزول المسیح کے متعلق حسب ذیل سرکلر پیش کرتے ہیں اور یہ حدیث اس وقت پیش ہوتی ہے جبکہ منارہ دارالفساد قادیان میں تیار ہو رہا تھا اور چندہ کی دھن میں مرزا قادیانی الغرض مجنوں ہو رہے تھے۔
”ہمارے بعض مخلصوں کو معلوم ہو گا کہ یہ منارۃ المسیح کیا چیز ہے اور اس کی کیا ضرورت ہے۔ سو واضح ہو کہ ہمارے سید ومولا خیر الاصفیاء خاتم الانبیاء سیدنا محمد مصطفیٰ ﷺ کی یہ پیش گوئی ہے کہ مسیح موعود جو خدا کی طرف سے اسلام کے ضعف، اور عیسائیت کے غلبہ کے وقت میں نازل ہوگا۔ اس کا نزول ایک سفید منارۃ کے قریب ہوگا۔ جو دمشق سے شرقی طرف واقع ہے۔“
(تبلیغ رسالت ج ٩ ص ٥٤، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٣١٥)
قبل اس کے کہ میں اس حدیث پر جو ایک زبردست پیش گوئی ہے پر تبصرہ کروں اور اس کے اہم نکات کی طرف توجہ دلاؤں۔ یہ مناسب سمجھتا ہوں کہ ایک واقعہ تمثیلی طور پر جس کی طرف فرمان رسالت توجہ دلاتا ہے۔ پیش کردوں یہ اس لئے کہ فرمان رسالت میں دجال مردود کے ساتھ مقابلہ دلائل قطعیہ اور براہین ساطعہ کے ساتھ کرنے کا حکم ہے۔ جس سے یہ واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ دجال کی طاقت بڑی زبردست ہوگی اور اس کے لاؤلشکر کے سامنے اس وقت کے سعید انسان جسمانی حیثیت میں کمزور ہوں گے۔ ہاں دجال پر ایمانی طاقت سے غالب آئیں گے۔ جس طرح کہ ذیل کا واقعہ روشنی ڈالتا ہے اور جیسا کہ اسی کتاب کے ابتدائی مضمون سے مترشح ہوتا ہے۔ مختصراً یہ کہ یہ ایک مکالمہ ہے۔ جو فرقان حکیم کے الفاظ میں پیش کرتا ہوں۔ پڑھئے اور سر دھنئے:
”اللہ ولی الذین آمنوا یخرجہم من الظلمت الی النور والذین کفروا اولیاءھم الطاغوت یخرجونھم من النور الی الظلمت اولئک اصحب النار ھم فیھا خالدون٠ الم تر الی الذی حاج ابراھیم فی ربہ ان اٰتہ اللہ الملک اذ قال ابراھیم ربی الذی یحی ویمیت قال انا احیی وامیت قال ابراھیم فان اللہ یاتی بالشمس من المشرق فات بھا من المغرب فبھت الذی کفر واللہ لا یھدی القوم الظلمین (بقرہ: ٢٥٨،٢٥٧)“ ﴿اللہ دوست دار ہے ان لوگوں کا جو ایمان لائے، نکالتا ہے ان کو اندھیروں سے طرف روشنی کے اور جو لوگ کہ کافر ہوئے دوست ان کے شیطان ہیں۔ نکالتے ہیں ان کو روشنی سے طرف اندھیروں کے یہ لوگ ہیں رہنے والے آگ کے۔ وہ بیچ اس کے ہمیشہ رہیں گے۔ کیا نہ دیکھا تو نے طرف اس شخص کے، جھگڑا ابراہیم سے بیچ پروردگار اس کے اس واسطے کہ دی اللہ نے اس کو بادشاہی جس وقت کہا ابراہیم نے پروردگار میرا وہ ہے کہ جلاتا ہے اور مارتا ہے کہا اس نے میں جلاتا ہوں اور مارتا ہوں کہا ابراہیم نے پس تحقیق اللہ لاتا ہے سورج کو مشرق سے پس لے آ تو اس کو مغرب سے پس بھکا ہوا وہ جو کافر تھا اور اللہ نہیں راہ دکھاتا قوم ظالموں کو۔﴾
اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ جناب ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نمرود کے دربار میں جو بابل میں خدا بنا بیٹھا تھا تشریف لے گئے اور اس کے قاعدے کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سجدہ نہ کیا۔ نمرود نے خشم آلود لہجے میں سختی سے پوچھا کہ تم نے مجھ کو سجدہ کیوں نہ کیا۔ کیا میں تمہارا خدا نہیں ہوں۔ تو جناب ابراہیم علیہ السلام نے جواب میں ارشاد فرمایا میرا رب تو وہ ذات پاک ہے جو نیست کو ہست اور ہست کو نیست کرتا ہے تو نمرود نے جواب دیا میں زندے کو مردہ اور مردے کو زندہ کرتا ہوں۔ چنانچہ اسی وقت زندان سے دو قیدی ایسے منگوائے جن میں سے ایک کو پھانسی کی سزا تھی اور دوسرا بے گناہ تھا۔ چنانچہ اس نے بے گناہ کو قتل کر دیا اور پھانسی والے کو آزاد کر دیا اور کہا دیکھو میں زندے کو مردہ اور مردے کو زندہ کرتا ہوں۔ جناب ابراہیم خلیل الرحمٰن نے نمرود کو شکست دینے اور ذلیل و رسوا کرنے کے لئے ایک اور پہلو بدلا اور فرمایا میرا خدا تو وہ رب العالمین ہے جو سورج کو مشرق سے طلوع کرتا ہے۔ تو اگر خدا ہے تو مغرب سے طلوع کر دے۔ اس مسکت جواب سے نمرود مبہوت رہ گیا اور کوئی جواب نہ دے سکا۔
ایسا ہی یہ حدیث بیان کرتی ہے کہ جب دجال خروج کرے گا تو اس کے انفرادی حیثیت سے یہ کام ہوں گے۔ مثلاً بارش برسانا اور مردوں کو زندہ کرنا اور زمین سے خزائن اور سبزیاں نکالنا یہ صفات بیان کرنے سے مراد ہے کہ اس سے زیادہ وہ اور کسی بات پر قادر نہ ہوگا۔ اسی لئے آنحضورﷺ فرماتے ہیں کہ فرض کرو کہ اگر وہ میری زندگی میں آ جائے تو جس طرح میرے جد امجد خلیل الرحمٰن نے نمرود کا مقابلہ کرتے ہوئے اسے خدائی کے آٹے دال کا بھاؤ بتاتے ہوئے شرمندہ و مبہوت کیا تھا۔ اسی طرح میں بھی کروں گا اور جو میرے بعد آوے اور میں نہ ہوں تو اللہ ولی المومنین ہے۔ وہ خود اس کا مقابلہ اسی طریق سے کریں گے۔ یعنی دلائل عقلیہ سے اسے ملزم بنائیں گے۔ مرزا قادیانی یہاں کم علمی و جہالت سے دخل دینے کے لئے کہتے ہیں کہ یہ سب استعارات ہیں اور تطبیق یوں دیتے ہیں کہ انگریز دجال ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ بارش برسانے پر قادر ہو جائیں اور وہ اس وقت تک اس کے لئے صد ہا تجارب بھی کر چکے ہیں اور ایسا ہی وہ مردوں کے زندہ کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں اور دجال کی تیز رفتاری کو ریل سے تطبیق دیتے ہیں اور ایسا ہی مسیح ابن مریم جو قاتل دجال ہے کی نسبت بیان کرتے ہیں کہ وہ مسیح ناصری صاحب انجیل نہیں بلکہ خود ما بدولت ہیں۔ جو مسیح ابن مریم کے رنگ میں یعنی خو اور طبع درویشی کے لباس میں نمودار ہوئے۔ یہ ہیں مرزا قادیانی کی تصریحات۔ مگر فقیر کے خیال میں یہ سب باتیں لغو و فضول ہیں۔ اس لئے کہ اس کے قرائن ہی کچھ ایسے ہیں جو ان واقعات کی پر زور
تردید کرتے ہیں۔ وہ یہ کہ تمام انبیاء کا اپنی اپنی امتوں کو دجال اکبر کے فتنہ سے متنبہ کرتے ہوئے اس کی دجالیت اور کذابیت کا بھانڈا چوراہے میں پھوڑنا اور خصوصاً نبی کریم ﷺ کا اس کے بال بال نخ نخ کی تشریح کرنا، چنانچہ احادیث میں اس مردود کے کماحقہ حلیہ کے علاوہ اس کے اشغال وافعال کا ذرہ ذرہ شرح وبسط سے لکھا ہے اور ساتھ ہی اس کے صفات کے متعلق بھی پوری پوری روشنی ملتی ہے۔ سب سے پہلے یہ سمجھنا چاہئے کہ دجال کے معنی کیا ہیں۔ دجل فریب ودھوکے کا دوسرا نام ہے۔ اس لحاظ سے دجال کے معنی ہوئے دھوکہ اور فریب دے کر گمراہ کرنے والا۔ اب دیکھئے کہ زمانے کی رفتار کیا ہے۔ آیا وہ مصنوعات میں ترقی پذیر ہے۔ یا تنزل پسند یہ محتاج بیاں نہیں کہ زمانہ سابق سے سرعت کے ساتھ ترقی کے منازل بتدریج طے کر رہا ہے۔ پہلے قرنوں میں جنگ پہلوان کیا کرتے تھے۔ اس کے بعد یہ جگہ فوجوں نے سنبھالی۔ شمشیر وسنان کے جوہر دنیا نے دیکھے۔ اب بھی خوب سے یاد ہیں۔ ازاں بعد نیزہ وتلوار بیکار متصور ہوئے تو ان کی جگہ بندوق رائفل نے سنبھالی۔ یہ کھیل بھی ختم ہوا تو سو سو میل سے توپوں کے گولے خرمن حیات کا صفایا کرنے لگے۔ اس کے بعد زمانے نے ایک اور کروٹ بدلی وہ یہ کہ نہ اب فوج کی ضرورت نہ توپ کی حاجت نہ تلوار سے کام نہ سنان سے واسطہ اب کیا ہے ہوائی جہاز بم اور مہلک گیس۔ کیونکہ تہذیب جدید انہیں مشغلوں میں نشوونما پاتی ہے۔
اس بیان سے یہ مطلوب ہے کہ زمانہ بام ترقی پر پہنچنا ہی چاہتا ہے۔ اب چھوٹے چھوٹے دجالوں کا دجل کام نہیں دیتا۔ کیونکہ دنیا اب وہ دنیا نہیں۔ زمانے کی اس تیز رفتاری نے عقول انسانی کو بھی توہم سے بے نیاز کردیا۔ اس لئے چھوٹے چھوٹے دجال جو دنیا کو مسمریزم یعنی شعبدہ کے جوہر سے چھلاوا دے جایا کرتے تھے بیکار ہوئے۔ اب ان کا دجل چلے نہ کذب۔ اس لئے کہ زمانہ خرانٹ وعیار ہوگیا اور ہوتا جائے گا۔ اس لئے اب وہی دجال دجل دے سکے گا جو زمانے کی رفتار سے کوسوں آگے ہوگا اور چونکہ وہ زمانہ جس کا تذکرہ ہورہا ہے۔ قرب قیامت کا ہوگا۔ اس لئے وہ دجال اکبر اگر ایسی صفات سے وابستہ نہ ہوتو کون اسے قبول کرے گا اور اس لئے بھی کہ وہ زمانہ نزول مسیح کا زمانہ ہے۔ اس لئے اس دور میں کوئی ایسا ہی آنا چاہئے جو صفات مسیح کے مشابہ ہو اور قضا وقدر کو بھی یہی منظور ہے کہ امتحان کا پرچہ زمانے کی استعداد کے مطابق کٹھن ومشکل ہو۔ کیونکہ یہ شیطانی اور رحمانی آخری کشمکش ہے۔ اس لئے مسیح الدجال کو جیسا کہ اس کے نام سے مترشح ہے۔ مسیحی صفات کے ساتھ ہی آنا چاہئے۔ اب دیکھئے دجال کی صفات میں لکھا ہے کہ وہ ایک قوم کی طرف جائے گا اور اسے اپنی دجالیت کی دعوت دے گا۔ وہ اسے قبول نہ کرے گی
تو دجال اس متکلم کو تلوار سے دو ٹکڑے کر دے گا اور لکھا ہے کہ وہ دوبارہ زندہ ہو کر اس کے سامنے ہنستا ہوا آ جائے گا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ وہ مسیح الدجال ہے۔ اس لئے اس کا کرشمہ مسیح کے مشابہ نہ ہو تو مشابہت تام کیسے ہو سکے گی اور دنیا اس کے دجال میں کس طرح آئے گی اور چونکہ مسیح کے مردے زندہ کرنے سے خدا کی بادشاہی میں کوئی فرق نہ آیا تھا۔ اس لئے کہ وہ بطور معجزہ کے اذن الٰہی سے تھے اور یہاں بھی فرق نہ آئے گا۔ کیونکہ یہ امتحان بھی اذن الٰہی سے ہی مقصود ہے۔ دوئم یہ تو ایک دجل ہوگا۔ جو صرف ایک ہی متنفس پر کیا جائے گا۔ نہ یہ کہ یہ عمل متعدد دفعہ ہوگا اور ہو سکتا ہے کہ یہ نگاہ کا دھوکہ ہو۔ جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابل میں رسیوں کے سانپ دیکھنے والوں کے لئے بنائے گئے تھے اور فقیر کا اپنا مشاہدہ ہے کہ وزیر آباد میں ایک بڑی ٹی پارٹی کے موقعہ پر جس میں ہزار ہا مخلوق اعلیٰ طبقہ کی موجود تھی۔ پڑھے لکھے ہوشیار آدمیوں کے سامنے ایک پروفیسر نے جو غالباً گجرات سے آیا تھا۔ ایک بٹیرہ لے کر ایک تیز چاقو سے اس کا سر دھڑ سے بالکل جدا کر دیا۔ اس کا تازہ تازہ خون بہتے دنیا نے دیکھا اور سر ایک ہاتھ میں اور دھڑ دوسرے ہاتھ میں۔ مشاہدہ کیا۔ مگر جونہی کہ پروفیسر نے ہاتھوں کو گردش کرتے ہوئے ان دونوں جزو کو ملایا تو بٹیرہ پرواز کر گیا۔ ہو سکتا ہے کہ وہ دجال ایسا ہی نگاہوں کو دھوکہ دے کر دجل کو کامیاب بنائے اور ایسا ہی بارش کے برسانے کے متعلق عرض ہے کہ یہ بھی نگاہ کا دھوکہ نہ ہو اور انگوریاں پیدا کرنا تو کچھ دشوار نہیں۔ آج کل بیسیوں ایگریکلچر کالج کھلے ہیں۔ جن میں یہ تجربے روز ہوتے ہیں۔ ادھر بیج ڈالتے ہیں اور کلوں سے گرمی پہنچادی جاتی ہے۔ بس انگوریاں نکل آتی ہیں۔ ایسا ہی انڈوں سے بچے بذریعہ کل کے حاصل کر لئے جاتے ہیں اور بعض ایسی کلیں ایجاد ہو چکیں ہیں جن میں حرارت پیدا کرنے کے لئے آگ جلائی جاتی ہے اور آگ کی حدت سے آئس کریم تیار ہو جاتی ہے اور اگر ایسا ہی کوئی عمل دجال کر دکھلائے تو کون سا بعید ہے۔
فرمانِ رسالت میں ایک نکتہ قابل توجہ ہے۔ حضور اکرم ﷺ فرماتے ہیں کہ مؤمنین شر دجال سے بچنے کے لئے سورۃ کہف کے شروع کی چند آیات تلاوت کریں تو وہ انہیں کفایت کریں گی۔
”الحمد لله الذی انزل علی عبدہ الکتاب ولم یجعل لہ عوجا ٠ قیما لینذر باساً شدیدا من لدنہ ویبشر المؤمنین الذین یعملون الصلحت ان لہم اجراً حسنا ٠ مکثین فیہ ابدا وینذر الذین قالو اتخذ اللہ ولدا ٠ مالہم بہ من علم ولا لآبآئہم کبرت کلمۃ تخرج من افوھہم ان یقولون الا کذبا
(کہف: ١تا ٥) ”سب تعریف واسطے اللہ کے ہے جس نے اتاری اوپر بندے اپنے کے کتاب
اور نہ کی واسطے اس کے کجی در ان حالیکہ قائم رکھنے والی ہے دین کو تاکہ ڈراوے عذاب سخت سے پاس اس کے سے اور بشارت دے ایمان والوں کو جو عمل کرتے ہیں اچھے یہ کہ واسطے ان کے ہی ثواب اچھا رہنے والے بیچ اس کے ہمیشہ اور ڈراوے ان لوگوں کو کہ کہتے ہیں پکڑی ہے اللہ نے اولاد، نہیں ان کو ساتھ اس کے علم اور نہ باپوں ان کے کو بڑی بات ہے جو نکلتی ہے منہ ان کے سے نہیں کہتے مگر جھوٹ ۔﴾
ان آیات کریمہ میں صداقت قرآن اور صداقت رسالت نبی کریم ﷺ کے علاوہ صداقت دین حنیف ہے کہ یہی سیدھا راستہ ہے اور جب مؤمن اس چیز کو اچھی طرح ذہن نشین کر لے تو کوئی وجہ نہیں کہ اس کا ایمان ذرا بھی ڈگمگا سکے۔ تو حاصل مطلب یہ ہوا کہ حضور ﷺ کے ارشاد گرامی میں یہی نکتہ پنہاں ہے کہ مؤمن کو ایمان پر کامل بھروسہ ہو جائے اور جب مسلمان کو یہ بھولا ہوا سبق یاد آ جائے گا تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ دجال کے دجل اور جھانسے میں آ سکیں۔ یہاں ایک اور بھی لطیف اشارہ ہے کہ یہ سورۃ عموماً مسلمان جمعہ کی نماز سے قبل ہمیشہ تلاوت کیا کرتے ہیں اور جمعہ کو صبح کی نماز میں دو سورتیں پہلی رکعت میں سجدہ اور دوسری میں دہر پڑھنا سنت مسنونہ ہے۔ حضور ﷺ کا معمول تھا کہ وہ یہی دونوں سورتیں ہمیشہ تلاوت فرماتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ ان دونوں کے لئے امت کو تاکید فرمائی۔ اب جب کہ وہ سورہ کہف کی چند آیات تلاوت کریں گے تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ ان دو سورتوں کو بھول جائیں یا ان کے معارف کی طرف توجہ نہ کریں۔ پہلی سورہ میں یعنی سجدہ میں شروع آیات میں یہ تلقین موجود ہے۔
”ولو شئنا لاتينا كل نفس هداها ولكن حق القول منى لاملئن جهنم من الجنة والناس اجمعين (الم السجدہ: ١٣) ”اور اگر چاہتے ہم البتہ دیتے ہم ہر جی کو ہدایت اس کی ولیکن ثابت ہوئی بات میری طرف سے کہ البتہ بھروں گا میں دوزخ کو جنوں اور آدمیوں سے اکٹھے ۔﴾
آیات کریمہ سے روز روشن کی طرح عیاں ہوا کہ اگر مولا کریم چاہتے تو شیطان بھی ہدایت یافتہ ہو جاتا اور کوئی بد بخت مورد عتاب نہ بنتا اور نہ دوزخ میں ڈالا جاتا۔ مگر چونکہ مولا کریم نے یہ فیصل کر رکھا ہے اور یہی قانون الٰہی ہے کہ اعمال نیک و بد کی جزا سزا کے مطابق دوزخ و بہشت ملے۔ اس لئے ہر متنفس کا امتحان لازمی ہے۔ جیسا کہ وہ ارشاد کرتا ہے۔
”الم ٠ احسب الناس ان يتركوا ان يقولوا امنا وهم لا يفتنون ولقد فتنا الذين من قبلهم (عنكبوت: ١ تا ٢) ”ارشاد ہوتا ہے کہ لوگوں کے اتنا ہی کہہ دینے سے
کیا یہ عجیب نہیں کہ کہیں ہم ایمان دار ہیں۔ ہم قبول کرلیں کہ وہ ایمان دار ہیں اور ہم ان کی آزمائش نہ کریں۔ حالانکہ ہمارا قدیم سے یہ دستور چلا آیا ہے کہ ہم قول کی نہیں فعل کی جانچ پڑتال کرلیا کرتے کہ صادق کون ہے اور کاذب کون۔ ایسا ہی دوسری سورہ یعنی دہر میں انسان کو بالفعل خود مختار بناتے ہوئے اسے اختیار دیا گیا ہے کہ وہ خود اپنے ہاتھوں جہنم خریدے یا جنت کا سودا کرے۔ ارشاد ہوتا ہے: ”انا ھدیناہ السبیل اما شاکرا واما کفورا (دھر:٣)“ یعنی ہم نے انسان کو عقل و فکر دل و دماغ دے کر دونوں راستے بتا دیئے کہ اب یہ تیری مرضی پر منحصر ہے۔ چاہے شکر یا کفر دونوں میں سے جو چاہے کر یعنی انسان شکر و کفر کی جزا و سزا کو کما حقہ جانتا ہے۔
اب معاملہ نہایت سیدھا اور صاف ہے۔ دجال مردود کی نسبت فرمانِ رسالت نہایت شرح و بسط سے بیان کرتا ہے۔ حلیہ جس میں خط و خال تک مذکور ہے۔ اس کے علاوہ اکفر سے تشبیہ دے کر سمجھانے کی انتہائی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے بعد دجالی کاروبار اور اس کا سد باب درد اور اس کا علاج بتا دیا گیا ہے۔ اب کون ہے جو دجال کے دجل میں آجائے۔ ہاں وہ جو جاہل و لامذہب ہیں اور یہ کس طرح ممکن ہے کہ آنحضور سرکار دوعالم ﷺ ایک شخص سے تشبیہ دیں۔ ایک ہی حلیہ بتائیں اور ایک ہی کے کاروبار ولیکن اس سے دو قومیں مراد لی جائیں۔ یعنی انگریز و روس یہ استدلال گھاس خور ہی پسند کریں اور یہ مرزا قادیانی کی باریکیاں انہیں ہی مبارک ہوں۔ بہرحال دجال کے اس وطیرے سے خدائی میں کچھ خلل نہیں۔ اس لئے کہ قضا و قدر کو یہی مقصود ہے۔ ورنہ کون نہیں جانتا کہ شیطانی جواب کو جانتے ہوئے اسے عمداً ڈھیل اور مہلت دی گئی اور صاف کہہ دیا گیا کہ تو جو بھی کرنا چاہے کر لے۔ تیری اور تیرے چیلوں کی سزا جہنم ہے اور یہی مشیت الہی تھی۔ سمجھنے اور فکر کرنے کی یہ بات ہے کہ اگر اللہ میاں بلا امتحان و آزمائش کے دوزخ اور بہشت میں ڈال دیتا تو وہ لوگ جو دوزخ میں پڑتے وہ خدا کا گلہ کرتے کہ مولا کس قصور کے عوض ہم کو یہ سزا دی جا رہی ہے۔ زمانہ جانتا ہے اور کسی کو اس میں انکار نہیں کہ پروردگار عالم کو ارواح عالم کے خلق سے علم ہے کہ فلاں ابن فلاں جنتی اور فلاں ابن فلاں دوزخی ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ آنحضور ﷺ کے ہاتھ میں دو کتابیں دی گئیں۔ ایک دائیں اور دوسری بائیں اور بتایا گیا کہ داہنے ہاتھ والے جنتی اور بائیں ہاتھ والے دوزخی ہیں۔ اس لئے یہ ماننا پڑا کہ خلاقِ جہاں سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں اور دنیا محض امتحان کے لئے بنائی گئی ہے۔ مبارک ہیں وہ جو دنیا کے ساتھ ساتھ دین کو بھی یاد رکھتے ہیں اور مبارک ہیں وہ جو اس کٹھن منزل سے صحیح و سلامت پار اترتے ہیں۔ حضور سرکار مدینہ کا ارشاد ہے: ”الدنیا سجن المؤمنین“ یعنی دنیا ایمان داروں کے لئے بندی خانہ ہے۔
”عن ابی ھریرة قال قال رسول اللہﷺ لیھبطن ابن مریم حكماً عدلا واماماً مقسطاً ویسلکن بجادة حاجاً او معتمراً او لیأتین قبری حتی یسلم علی ولا ردن علیہ “ جناب ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ فرمایا نبی کریم ﷺ نے کہ البتہ ضرور اترے گا بیٹا مریم کا حاکم عادل ہوکر اور امام صاحب انصاف اور وہ ضرور گزرے گا ایک راہ سے حج یا عمرہ کرتا ہوا اور البتہ وہ ضرور میری قبر پر آئے گا اور مجھے سلام عرض کرے گا اور میں اسے سلام کا جواب دوں گا۔ ﴾
(حاکم فی المستدرک ج٢ ص٥٩٠، حدیث نمبر ٤٢١٨، باب ہبوط عیسیٰ علیہ السلام وقتل الدجال)
اس حدیث شریف سے یہ عیاں ہے کہ مسیح موعود ابن مریم ہوگا۔ نہ ابن چراغ بی بی اور وہ نازل ہوگا۔ یعنی ماں کے پیٹ سے پیدا نہ ہوگا اور وہ بادشاہ عادل ہوگا۔ نہ کہ غریب ومحتاج عاجز ودرویش اور وہ بہت انصاف پسند ہوگا۔ یہ نہیں کہ حقیقی اولاد کو بلاوجہ عاق ومحروم الارث کرے۔ بیوی اور بہو کو خواہش نفسانی کی بناء پر طلاق دے اور زبردستی دلوائے۔ ضد اور تعصب کی وجہ سے ایسا شتر کینہ ہو کہ لخت جگر کی انتہائی بیماری کی خبر سنے اور تیمارداری تو کیا، جھوٹے منہ تک نہ پوچھے اور جب وہ رحلت کرے کفن دفن تو کیا ایسا ممسک وبخیل ہو کہ نماز جنازہ تک نہ پڑھے۔ ہزاروں کے انعام کا اشتہار دے اور طرفہ یہ کہ خود دعوت دے کہ آؤ اور سو روپیہ فی پیش گوئی جھوٹا کرنے پر لے جاؤ۔ مگر حالت یہ ہو کہ جب مطلوبہ شخص آوے تو انعام تو کیا، گھر سے ہی نہ باہر نکلے اور روپے کے عوض حریم خانہ سے تحریری بازاری روایات کی مشین گن چلائے۔ فرمان رسالت تو یہ چاہتا ہے کہ ابن مریم وہ ہوگا کہ جو حج یا عمرہ یا ان دونوں میں سے کوئی ایک بجالاوے اور میرے روضہ پر سلامی کرے اور اس کے جواب میں دعا کرے یہ نہیں کہ حج یا عمرہ کے ارادے سے روکے اور خود اس پاک کام کے نام سے یوں بھاگے جیسے گدھے کے سر سے سینگ اور روضہ اطہر پر سلام تو کیا ذات گرامی پہ آوازے کسے۔ اس لئے یہ تمام صفات چونکہ مرزا قادیانی میں کافور ہیں۔ پھر کس طرح وہ مسیح موعود ہو سکتے ہیں۔
اس حدیث کی تصدیق مرزا قادیانی تو کیا کریں گے اور انہیں بھلا حدیث آتی ہی کہاں تھی۔ اس لئے کہ یہ حدیث ان کے تانے بانے کو توڑ موڑ کر ملیامیٹ کرنے کو ایک زبردست بم کا گولہ تھی۔ اس لئے انہوں نے اس کو مس بھی نہیں کیا۔ ہاں دو اور ایسی زبردست شخصیتوں نے جو عندالمرزا بھی نہایت معتبر ہیں اور جن کا منکر کافر اور اسلام سے خارج ہے۔ تصدیق فرمائی ہے۔ یعنی امام حاکم مجدد و امام صدی چہارم جو اس حدیث کے راوی ہیں اور دوسرے خوش نصیب اور بلند
مراتب امام و مجدد صدی نہم یعنی جناب جلال الدین سیوطیؒ جنہوں نے اسی حدیث کو اپنی بے مثل کتاب انتباہ الاذکیا فی حیات انبیاء و درمنثور جلد دوئم میں ذکر فرمایا ہے۔
جو چھوڑتا ہے چھوڑ دو تم اس خبیث کو
(تحفہ گولڑویہ ص ٢٧، خزائن ج ١٧ ص ٨٧)
چنانچہ مرزا قادیانی بحوالہ امام شعرانی صاحبؒ لکھتے ہیں کہ: ”میں نے ایک ورق جلال الدین سیوطیؒ کا بخط ان کے صحابی شیخ عبدالقادر شاذلی کے پاس پایا۔ جو کسی شخص کے نام خط تھا۔ جس نے ان سے بادشاہ وقت کے پاس سفارش کی درخواست کی تھی۔ سو امام صاحب نے اس کے جواب میں لکھا تھا کہ میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں صحیح احادیث کے لئے جن کو محدثین ضعیف کہتے ہیں حاضر ہوا کرتا ہوں۔ چنانچہ اس وقت تک پچھتر دفعہ حالت بیداری میں حاضر خدمت ہو چکا ہوں۔ اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ میں بادشاہ وقت کے پاس جانے کے سبب اس حضوری سے رک جاؤں گا تو قلعہ میں جاتا اور تمہاری سفارش کرتا۔“
(ازالۃ اوہام ص ١٥١، خزائن ج ٣ ص ١٧٧)
مرزائیو! ایمان سے کہو کہ یہ حدیث غلط ہوتی تو امام موصوف اسے نقل کرتے ہرگز نہیں۔ اس سے صاف معلوم ہوا کہ حدیث صحیح ہے اور وہی اس کا مصداق ہے۔ جس کے لئے بیان ہوئی اور جس پر اجماع امت ہے اور مرزا قادیانی خواہ مخواہ پانچوں سواروں میں اپنا نام لکھاتے ہیں۔ بھلے مانس سے کوئی پوچھے کہ فرمان رسالت سے تمہیں دور کا بھی واسطہ نہیں نہ نام ملے نہ مقام نہ صفات ملیں نہ کام۔ یہ زبردستی کی مشق حماقت کے مظاہرے نہیں تو اور کیا ہے۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ حیات مسیح پر اجماع امت نہیں ذیل کی حدیث چشم بصیرت سے مطالعہ فرمائیں اور خدا لگتی کہیں کہ اگر یہ اجماع امت نہیں تو اور کیا ہے۔
(فتوحات مکیہ ج١ ص ٢٢٣، ٢٢٤ باب ٣٦، مصنفہ شیخ محی الدین ابن عربیؒ) میں ایک لمبی حدیث لکھی ہے۔ جس کے ترجمہ پر طوالت کے خوف سے اکتفاء کرتا ہوں۔
”عبداللہ ابن عمرؓ بیان فرماتے ہیں کہ میرے والد امیر المومنین عمر ابن خطابؓ نے سعد بن وقاصؓ کی طرف یہ لکھا کہ ثعلبہ بن معاویہ انصاریؓ کو حلوان عراق کی جانب روانہ کرو تاکہ اس کے گردونواح میں اعلائے کلمۃ الحق کریں۔ پس اس حکم کی تعمیل میں سعدؓ نے فضلہ انصاری کو جماعت مجاہدین کے ساتھ بھیجا۔ ان لوگوں نے وہاں پہنچ کر بہت فتوحات کیں اور مال غنیمت کو
لے کر واپس ہوئے۔ اثنائے راہ میں غروب آفتاب کے وقت نضلہ بن معاویہ انصاری نے گروہ مجاہدین کو پہاڑ کے دامن میں ٹھہرایا اور خود موذن کے فرائض کو انجام دیا۔ جب اللہ اکبر اللہ اکبر کہا تو پہاڑ کے اندر سے ایک مجیب نے جواب دیا کہ نضلہ تو نے بہت خدائے واحد کی تعریف کی پھر نضلہ نے اشھد ان لا الہ الا اللہ کہا تو مجیب مذکور نے جواب میں کہا اے نضلہ یہ اخلاص کا کلمہ ہے۔ اس کے بعد نضلہ نے اشھد ان محمد رسول اللہ کہا تو مجیب مذکور نے جواب دیا یہ نام نامی اس ذات گرامی کا ہے جس کی بشارت عیسیٰ بن مریم نے ہم کو دی تھی اور یہ بھی فرمایا تھا کہ اسی نبی کی امت کے آخر میں قیامت ہوگی۔ پھر نضلہ نے حی علی الصلوٰۃ کہا تو مجیب نے فرمایا کہ خوشخبری ہو اس شخص کو جس نے نماز پہ دوام کیا۔ اس کے بعد نضلہ نے حی علی الفلاح کہا تو مجیب نے جواب دیا کہ فلاح اس کے لئے ہے جو محمد ﷺ کے نقش قدم پہ گامزن ہوا۔ بے شک اس شخص نے نجات پائی۔ پھر نضلہ نے اللہ اکبر اللہ اکبر کہا تو وہی پہلا جواب مجیب نے دہرایا۔ اس کے بعد نضلہ نے لا الہ الا اللہ پر اذان کو ختم کیا تو مجیب نے فرمایا تم نے اخلاص کو پورا کیا تمہارے بدن پر اللہ تعالیٰ نے آگ کو حرام کیا۔ جب اذان ختم ہوئی تو تمام صحابیوں نے کھڑے ہو کر حیرت و استعجاب سے اس مجیب کو جو درون پردہ تھا پوچھا کہ اے صاحب آپ کون ہیں۔ جن یا فرشتہ یا انسان۔ جس طرح سے آپ نے اذان کے جواب میں کلمات ارشاد کئے ہیں مہربانی کر کے اپنا چہرہ و پتہ ونشان یعنی اپنا تعارف بھی کرائیں کہ آپ کون بزرگ ہیں۔ اس لئے کہ ہم خدا اور اس کے رسول اور نائب رسول عمر بن الخطابؓ کی جماعت ہیں پس پہاڑ پھٹ گیا۔ معا ایک آدمی باہر نکل آیا۔ جن کا سر بہت بڑا اور بال سفید تھے اور دو پرانے صوف کے کپڑوں میں ملبوس تھا۔ اس نے ہمیں خطاب کرتے ہوئے السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہا۔ ہم نے جواب میں وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہتے ہوئے دریافت کیا کہ آپ کون ہیں تو انہوں نے فرمایا میرا نام زریب بن برتملا وصی عیسیٰ بن مریم ہوں۔ مجھ کو عیسیٰ علیہ السلام نے اس پہاڑ میں ٹھہرایا ہے اور اپنے نزول من السماء تک میری درازی عمر کے لئے دعاء فرمائی ہے۔ جب وہ اتریں گے تو صلیب کو توڑیں گے اور نصاریٰ کے اختراع سے بیزار ہونگے۔ اس کے بعد فرمایا کہ وہ نبی صادق بالفعل کس حال میں ہیں۔ ہم نے عرض کیا کہ آپ ﷺ کا وصال ہو گیا۔ اس پر وہ بہت روئے۔ یہاں تک کہ ان کی ریش آنسوں سے تر ہوگئی۔ پھر پوچھا کہ ان کے بعد تم میں کون نائب ہوا۔ ہم نے جواب میں ابوبکر صدیقؓ عرض کیا تو فرمایا وہ کس حال میں ہیں۔ عرض کیا گیا وہ بھی چل بسے۔ فرمایا ان کے بعد کون نائب ہوئے۔ ہم نے
جواباً جناب عمرؓ کا نام لیا تو فرمایا افسوس مجھے ناموس الٰہی کی زیارت نصیب نہ ہوئی۔ پس تم لوگ میرا سلام جناب عمرؓ کو پہنچائیو اور کہو کہ اے عمر عدل و انصاف کر اس لئے کہ قیامت قریب ہے اور یہ واقعات جو میں تم سے بیان کرتا ہوں جناب عمرؓ کے گوش گزار کرتے ہوئے میرا پیغام دینا کہ جب یہ علامات امت محمدیہ میں پیدا ہوں تو اس وقت کنارہ کشی کے سوا مفر نہیں اور وہ یہ ہیں کہ مرد مردوں سے بے پرواہ ہوں اور عورتیں عورتوں سے اور مقرر ہوں گے اپنے خلاف منصب کے اور ادنیٰ نسب والے اعلیٰ کی طرف منسوب کریں آپ کو، اور بڑے چھوٹوں پر رحم نہ کریں اور چھوٹے بڑوں کی عزت وتوقیر چھوڑ دیں اور امر بالمعروف اس طرح متروک ہو جائے کہ کوئی اس کے ساتھ مامور نہ کیا جائے اور نہی عن المنکر ایسے چھوڑ دیں کہ کسی کو اس سے نہ روکیں اور ان کے عالم دین کی تعلیم بغرض حصول دنیا کریں اور گرم بارش ہو۔ یعنی جو بارش فائدہ نہ بخشے یا بالکل ہی بند ہو جائے اور بڑے بڑے ممبر بنائیں اور قرآن مجید کو نقری اور طلائی کریں اور مسجدوں کی از حد زینت کریں اور رشوت ستانی کی گرم بازاری ہو اور پختہ پختہ مکانات بنائے جائیں اور خواہشات نفسانی کی غلامی کریں اور دین کو دنیا کے بدلے فروخت کریں اور خونریزیاں کریں اور صلہ رحمی منقطع ہو جائے اور احکام فروخت کئے جائیں اور سود کھایا جائے اور حکومت فخر بن جائے اور دولت مندی معیار عزت سمجھی جائے اور ادنیٰ کی تعظیم اعلیٰ کرے اور عورتیں بے حجابانہ زمین پر چلیں۔ یہ بیان کرنے کے بعد وہ ہم سے غائب ہوئے۔ اس واقعہ کو تفصیل کے ساتھ نضلہ انصاری نے سعدؓ کی خدمت میں لکھا اور سعدؓ نے جناب عمرؓ کو اطلاع دی تو امیر عمرؓ نے جناب سعدؓ کو جواباً تاکیداً لکھا کہ تم اپنے ہمراہیوں کو ساتھ لے کر اس پہاڑ کے پاس اترو اور جب شرف ملاقات ہو میرا سلام ان کی خدمت میں عرض کرو۔ اس لئے کہ رسول اکرمﷺ کا ارشاد ہے کہ بعض وصی جناب عیسیٰ ابن مریم کے عراق کے پہاڑوں میں ہیں۔ پس سعدؓ چار ہزار مہاجرین وانصار کے ہمراہ اس پہاڑ کے قریب اترے اور چالیس روز تک ہر نماز کے وقت کہتے رہے۔ مگر ملاقات نہ ہوئی۔‘‘
اس کے بعد جناب شیخ قدس سرہ نے فرمایا کہ اگر چہ ابن ازہر کی وجہ سے اسناد حدیث میں محدثین کو کلام ہے۔ مگر ہم صاحب کشف والوں کے نزدیک یہ حدیث صحیح ہے اور ایسا ہی شیخ (فتوحات مکیہ ج ٣ ص ٣٢٧، باب ٣٦٠) میں حدیث نواس بن سمعانؓ کی ذکر فرمائی ہے۔ جس میں ینزل عیسیٰ بن مریم بالمنارۃ البیضاء شرقی دمشق ہے اور جگہ جگہ شیخ قدس سرہ نے فتوحات مکیہ میں نزول عیسیٰ بن مریم کا ذکر فرمایا ہے اور یہ بھی فرماتے ہیں کہ ان مضامین کی تحریر اور بیان میں بالکل معریٰ اور خالی ہوں خود خداوند کریم ان کا بیان کرنے والا ہے اور یہ
بھی فرماتے ہیں کہ: ”هٰذا ماحد لى رسول اللہ ﷺ “
مرزائیو! حدیث بالا کو گئی گذری چشم بصیرت سے پڑھو اور سوچو کہ کیا اب بھی تمہیں اجماع امت میں شک ہے۔ اس حدیث میں جہاں ہزاروں مجاہد و غازیاں چشم دید گواہ ہیں۔ وہاں امیر المؤمنین حضرت عمرؓ بھی شاہد ہیں اور یہ بھی سمجھو کہ جب یہ عجوبہ خبر جناب سعد بن وقاصؓ فاتح مصر نے لکھی ہو گی مدینۃ الرسول میں صحابہ کرامؓ نے کس عقیدت کے ہاتھوں سے اس کا استقبال کیا ہوگا۔ ان کے دلوں میں کس قدر خوشی وانبساط کے سمندر موجزن ہوئے ہوں گے۔ جب کہ انہیں اپنی زندگی میں سرکار مدینہ کی اس عظیم الشان پیش گوئی کا وقوع پذیر ہونا جس کا تعلق قرب قیامت سے نظر آ رہا ہوگا۔ بخدا سرکار مدینہ ﷺ کی ذات والا تبار پر لاکھ لاکھ درود و سلام بھیجتے ہوئے یہ صدا ورد زبان کر رہے ہوں گے۔ صدقت یا رسول اللہ اس حدیث شریف میں اسی مسیح اسرائیلی کے لئے نزول کا وعدہ دیا گیا ہے جو صاحب کتاب نبی تھا اور اس کی آمد ثانی کے امتیازی کام بھی بتا دیئے گئے ہیں کہ وہ صلیب کو توڑے گا اور خنزیر کو قتل یعنی حرام قرار دے گا اور اس کے علاوہ نصاریٰ کی اختراع سے بیزاری کا اظہار فرمائیں گے۔
زریب بن برتملا وصی مسیح علیہ السلام نے چند ایسی باتیں جناب امیر المؤمنین کے لئے بطور پیغام بیان فرمائیں۔ جن کا تعلق اسلامی روشنی میں قرب قیامت سے ہے۔ مثلاً مرد مردوں سے بہرہ ور اور عورتیں عورتوں سے مقر ہوں۔ چھوٹے نسب کے لوگ بڑے نسب کو دھوکہ دہی کے لئے اختیار کریں۔ جیسے آج کل کے دیسی سید مراسی سے قریشی اور قریشی سے دوسال بعد خالص سید، بڑوں کا عفو رحم چھوٹوں سے مفقود اور امراء کا دولت پہ سانپ بن کر بیٹھنا دینیات سے کنارہ کشی اور خواہشات نفسانی کی حوس کی پیروی کرنا ایسا ہی چھوٹوں میں ادب کا لحاظ مفقود ہونا کی وجہ سے اشغال قبیحہ بن جانا وغیرہ وغیرہ۔
ناظرین! کی ضیافت طبع اور سلیم الفکری کے لئے ایک بے نظیر تحفہ رئیس الکاشفین زبدۃ العارفین جناب حسن بصریؒ کی جانب سے پیش کرتے ہیں جو یقیناً تالیف القلوب مؤمنین کے لئے ایک تریاق عظیم اور زادتہ ایماناً ہوگا۔ پس غور سے سنئے اور اس کی روشنی میں متنبی قادیان کی خرافات واہیہ کو چشم بصیرت سے مطالعہ کیجئے۔ انشاء اللہ تمام وسوسے اور شکوک کافور ہو جائیں گے۔ مبارک ہیں وہ لوگ جو فرمان رسالت کو سر اور آنکھوں پہ قبول کرتے ہوئے اس کے اثرات کو دل کی گہرائیوں میں جگہ دیں۔ قول مرزا:
جو چھوڑتا ہے چھوڑ دو تم اس خبیث کو
(تحفہ گولڑویہ ص ٢٧، خزائن ج ١٧ ص ٧٨)
”قال ابن ابی حاتم حدثنا بن عبدالرحمن حدثنا عبدالله بن ابی جعفر عن ابیه حدثنا الربیع بن انس عن الحسن انه قال قوله تعالى انی متوفیك یعنی وفاة المنام رفعه الله فی منامه قال الحسن قال رسول الله ﷺ للیهود ان عیسى لم یمت وانه راجع الیکم قبل یوم القیمة“
فرمایا ابن حاتم نے حدیث کی مجھ کو باپ میرے نے احمد سے انہوں نے عبداللہ بن جعفر سے جعفر نے باپ اپنے سے انہوں نے ربیع سے ربیع نے حسن سے فرمایا حسن نے بیچ قول اللہ کے انی متوفیك اٹھایا اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو نیند میں اور کہا حسن نے فرمایا رسول کریم ﷺ نے یہود کو بے شک عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں ہوئے وہ لوٹیں گے تمہاری طرف قبل قیامت کے۔
(تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٤٠، درمنثور ج ٢ ص ٣٦)
مندرجہ بالا حدیث میں مرزائی اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت بصریؒ نے زمانہ رسالت خیر الانام نہیں پایا۔ اس لئے یہ حدیث چونکہ وہ خود روایت کرتے ہیں۔ صحیح نہیں تو جواب اس کا یہ ہے کہ حضرت حسن بصریؒ ایک ایسے سفاک کے زمانے میں ہوئے ہیں جو دشمن اہل بیت تھا۔ اس لئے وہ خود اقرار کرتے ہیں کہ جس حدیث کو میں بیان کروں وہ جناب علیؓ سے مروی سمجھو۔ چنانچہ وہ خود لکھتے ہیں کہ ”انی احدث الحدیث عن علی وما تركت اسم علی فی الاسناد الا لملاحظة زمان الحجاج“ یعنی میں بواسطہ علی کرم اللہ وجہہ کے آنحضرت ﷺ سے روایت کرتا ہوں۔ مگر نام علی کرم اللہ وجہہ کا بلحاظ زمانہ حجاج کے ترک کر دیتا ہوں۔
چنانچہ مولانا علی القاری غفرہ اللہ الباری شرح نخبہ کی شرح میں اس کی تصدیق فرماتے ہیں۔ ”قال جمهور العلماء المرسل حجة مطلقاً بناء على الظاهر وحسن الظن به انه ما یروى حدیثه الا عن الصحابى وانما حذفه بسبب من الاسباب کما اذا كان يروى الحديث عن جماعة من الصحابة لما ذكر عن الحسن البصرى انه قال انما اطلقه اذا سمعه من السبعین من الصحابة وكان قد یحذف اسم علیّ ایضاً بالخصوص لخوف الفتنة “ ”جمہور علماء کے ہاں حدیث مرسل بغیر کسی قید کے حجت ہے۔ ظاہر حدیث کو دیکھتے ہوئے اور راوی کے ساتھ حسن ظن کرتے ہوئے کیونکہ وہ
حدیث کو صحابی سے روایت کرتا ہے اور صحابی کا نام کسی سبب سے چھوڑ دیتا ہے۔ جیسا بہت صحابہ سے سننے کی وجہ سے بھی واسطہ حذف کر دیا جاتا ہے۔ جیسا حسن بصریؒ فرماتے ہیں کہ اس وقت واسطہ حذف کرتا ہوں۔ جس وقت ستر کے قریب صحابہ سے سنتا ہوں اور کبھی حسن بصری واسطہ کو کسی فتنہ کے وجہ سے حذف کر دیتے تھے۔ خصوصاً حضرت علی کا نام۔ ﴾
فقیر کے خیال میں چونکہ نہ مرزا قادیانی نے حدیث پڑھی اور نہ ہی ان کے اینڈ کو میں کوئی محدث تھا۔ اس لئے بیچاری امت جو بھی اعتراض کرے وہ بجا ہے۔ اس لئے کہ وہ بھی تو صرف اردو خواں ہی ہیں اور جب کہ ان کی ساری جماعت میں کوئی فن حدیث کو جاننے والا ہی نہیں تو وہ بیچارے کریں بھی تو کیا کریں اور فن حدیث کی مرزائی مبلغین کو ضرورت بھی کیا ہے۔ کیونکہ وہ جویائے حق تو تھوڑے ہی ہیں۔ مردہ جہنم میں جائے یا بہشت میں انہیں تو حلوے مانڈے سے کام ہے۔ وہ تو سرکاری ملازموں کی طرح تنخواہ لینے کے عادی بن چکے ہیں۔ نام نہاد خلافت کے ہر اس حکم کی تعمیل ان کے لئے فرض ہے۔ جو انہیں دیا جائے۔ سوچنا اور سمجھنا ان کا کام نہیں۔ وہ تو لاؤڈسپیکر ہیں۔ جو براڈ کاسٹ کے فرائض کو ادا کر رہے ہیں۔ تحقیق حق میں جائے ان کی بلا۔
صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا
چنانچہ مرزا قادیانی نے ازالہ اوہام میں ایک دلیل وفات مسیح پر بڑے زور شور سے یہ دی ہے کہ امام بخاری جو فن حدیث میں بڑے ناقد البصیر ہیں۔ وہ تو اپنی صحیح میں ابن عباسؓ کی تفسیر جو متعلق ”بل رفعه الله الیه“ اور ”وان من اهل الکتاب“ اور ”وانه لعلم للساعة“ اور ”فلما توفیتنی“ کے ہے۔ بخاری میں تو مذکور نہیں اور اس میں فقط متوفیک کی تفسیر ممیتک کر کے چپ ہو گئے۔ گویا انہوں نے ان کو صحیح نہ جانا ورنہ وہ اپنی صحیح میں ضرور لاتے تو جواب اس کا یہ ہے کہ عدم ذکر بخاری دلیل عدم صحت کی نہیں ہو سکتی۔ اس لئے کہ جناب امام بخاری خود اقرار کرتے ہیں کہ ”ما ادخلت فی کتاب الجامع الا ما صح وترکت کثیرا من الصحاح الحال الطول“ یعنی بہتیری صحیحہ احادیث میں نے اپنی کتاب میں درج نہیں کیں۔
تعجب تو یہ ہے کہ اگر معیار صحیح کا یہ ہے جو حدیث بخاری میں نہیں وہ صحیح نہیں۔ اس لئے کہ وہ عدم ذکر ہے۔ تو پھر آپ استدلال ان احادیث سے جو بخاری میں نہیں۔ کیوں پکڑتے ہیں۔ یہ میٹھا میٹھا ہپ اور کڑوا تھو کے مصداق ان حدیثوں کو کیوں پیش کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ صحیح بخاری میں قطعاً نہیں۔ مثلاً:
- ١...... لا مهدی الا عیسیٰ
- ٢...... لوکان موسیٰ وعیسیٰ
- ٣...... ان لمهدینا آیتین
- ٤...... کان فی الہند نبی اسود اللون اسمہ کاہنا
یا بغیر بخاری کے اور کوئی کتاب قابل استشہاد نہیں تو ازالہ اوہام کے متعدد صفحات پر کشاف اور معالم اور تفسیر رازی اور ابن کثیر ، مدارک اور فتح الباری کے حوالہ جات کیوں دیتے ہو۔ جب کہ وہ بخاری میں مندرج نہیں ۔ آہ! اس کا جواب بیچارے مرزائی بھلا کہاں دیں گے۔ اندھیر تو یہ ہے کہ جب ان کتابوں سے قطع و برید کر کے مرزا قادیانی اپنا مافی الضمیر بیان کریں تو امت کپڑوں میں پھولی نہ سماوے اور جب نام لیوان سرکار مدینہ انہیں کتابوں سے استنباط کریں اور جھوٹے کو گھر تک چھوڑ کر آئیں تو دجل کے یہ بولتے چالتے پتلے معترض ہوں کہ یہ حدیث بخاری میں نہیں ۔ اس لئے قابل حجت نہیں بریں عقل و دانش بباید گریست!
فقیر کے خیال میں مرزائیوں کی مثال ایسی ہے ۔ جیسا کہ کسی جاہل بے نماز متمسک آیت ولا تقربوا الصلوٰة سے پکڑا دوسرے نے کہا میاں اس کے آگے بھی پڑھئے ۔ مضمون آیت کریمہ کا پورا نہیں ہوا۔ کیونکہ اس کے آگے وانتم سکاریٰ ہے۔ یعنی حالت نشہ میں نماز مت پڑھو تو متمسک اول نے کہا سارے قرآن پر تمہارا باپ عمل کرتا ہوگا۔ ہم سے اگر ایک آیت پر ہی عمل ہو جائے تو بیڑا پار ہے۔ ایسا ہی مرزا قادیانی نے نہ سوچا نہ سمجھا نہ جانا کہ ابن عباسؓ کا کیا مذہب ہے۔ بس ایک لفظ متوفیک کے معنی ممیتک پڑھ لئے جھٹ کہہ دیا۔ دیکھو! ابن عباسؓ بھی مسیح کی موت ہی بتلاتا ہے۔ حالانکہ انہیں لازم تھا کہ ان کی ساری آیات کا ترجمہ دیکھتے اور پھر کہتے ۔ چنانچہ ذیل کا قول جو ابن عباسؓ ہی کا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں تو مرزا قادیانی کی خانہ زاد نبوت کا بھرم آسانی سے کھل جائے گا۔
”اخرج ابو الشیخ عن ابن عباس ان تعذبہم فانہم عبادک یقول عبیدک قد استوجبوا العذاب بمقالتہم وان تغفرلہم ای من ترکت منہم مد فی عمرہم یعنی عیسیٰ علیہ السلام حتی احبط من السماء الی الارض یقتل الدجال فنزلوا عن مقالتہم ووحدوک واقروا انا عبید وان تغفرلہم حیث رجعوا عن مقالتہم فانک انت العزیز الحکیم (جلال الدین سیوطی، درمنثور ج٢
ص ٣٥٠، آخر سورۃ مائدہ)“
ایسا ہی تفسیر عباس میں توفیتنی کا معنی رفعتنی مذکور ہیں۔ اگر مرزا قادیانی کو ابن عباسؓ ہی کا مسلک پسند و مرغوب ہے تو آئیں اور اسے اختیار کریں۔ مگر آہ! انہیں یہ کب گوارہ ہے وہ تو ایک ہی لفظ پر عمل کرنے والے ہیں اور ان کی روٹی کا دھندہ انہیں مجبور کرتا ہے کہ وہ صحیح لائن پر نہ چلیں۔
حیات مسیح اجماع امت کا ایک مسلمہ عقیدہ ہے
قرآن وحدیث کے سامنے جب مرزا قادیانی سے کچھ بن نہ پڑا اور اس کے جواب میں عاجز آگئے تو کھسیانی بلی کھمبا نوچے پہ اتر آئے تو کہنے لگے کہ حیات مسیح اجماعی عقیدہ نہیں۔ کیونکہ صحابہ میں سے سوائے دو تین راویوں کے اور کسی نے اس پر کچھ روشنی نہیں ڈالی۔ اس لئے معلوم ہوا کہ تمام صحابہ کا یہی مذہب ہے کہ مسیح اپنی طبعی موت سے مر گیا۔ چنانچہ ذیل میں مرزا قادیانی کے دو اعتراض نقل کئے جاتے ہیں۔ پس غور سے سنئیے اور ملاحظہ کیجئے کہ کس انداز میں ان کو پیش کرتے ہوئے دجل دیا جاتا ہے۔
(ازالہ اوہام ص ١٤٠، خزائن ج ٣ ص ١٧١) ”اول: یہ جاننا چاہئے کہ مسیح کے نزول کا عقیدہ کوئی ایسا عقیدہ نہیں جو ہماری ایمانیات کی کوئی جزو ہو یا ہمارے دین کے رکنوں میں سے کوئی رکن ہو۔ بلکہ صدہا پیشگوئیوں میں سے ایک پیش گوئی ہے۔ جس کو حقیقت اسلام سے کچھ بھی تعلق نہیں۔ جس زمانہ تک یہ پیش گوئی بیان نہیں کی گئی تھی۔ اس زمانہ تک اسلام کچھ ناقص نہیں تھا اور جب بیان کی گئی تو اس سے اسلام کچھ کامل نہیں ہو گیا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ١٤٢، ١٤٣، خزائن ج ٣ ص ١٧٣) ”دوم: یہ دعویٰ کہ تمام صحابہ کرامؓ اور اہل بیت اسی طرح مانتے چلے آئے ہیں۔ جیسا کہ ہم یہ بالکل لغو اور بلا دلیل ہے۔ فرد فرد کی رائے کا خدا کو ہی علم ہوگا۔ کسی نے ان سب کے اظہارات لکھ کر کب قلمبند کئے ہیں۔ یا کب کسی نے اپنے منہ سے ان کے بیانات سن کر شائع کئے ہیں۔ باوجودیکہ صحابی دس ہزار سے بھی کچھ زیادہ تھے۔ مگر پیش گوئی کے روایت کرنے والے شاید دو یا تین تک نکلیں تو نکلیں اور ان کی روایت بھی عام طور پر ثابت نہیں ہوتی۔“
”اخرج الفریابی وسعید بن منصور ومسدد وعبد بن حمید وابن ابی حاتم والطبرانی من طرق عن ابن عباسؓ فی قولہ وانہ لعلم للساعة قال خروج عیسیٰ قبل یوم القیامة واخرج عبد بن حمید عن ابی ھریرةؓ وانہ لعلم للساعة قال خروج عیسیٰ یمکث فی الارض اربعین سنة
تكون تلك الاربعون اربع سنين يحج ويعتمر واخرج عبد بن حميد وابن جرير عن مجاهد وانه لعلم للساعة قال آياته للساعه خروج عيسى بن مريم قبل يوم القيامة واخرج عبد بن حميد وابن جرير عن الحسن وانه لعلم للساعة قال نزول عيسى واخرج ابن جرير من طرق عن ابن عباس وانه لعلم للساعة قال نزول عیسیٰ (تفسیر درمنثور ج ٦ ص ٢٠) ”فریابی سعید بن منصور، مسدد و عبد بن حمید، ابن ابی حاتم اور طبرانی نے ابن عباسؓ سے روایت کیا ہے کہ قول باری تعالیٰ وانه لعلم للساعة سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا قبل یوم القیامۃ مراد ہے اور عبد بن حمید نے حضرت ابو ہریرہؓ سے اسی قول میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا مراد لیا ہے اور حضرت ابو ہریرہؓ نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین کے اندر چالیس برس رہیں گے۔ حج اور عمرہ بھی کریں گے اور عبد بن حمید اور ابن جریر نے مجاہدؒ سے وانه لعلم للساعة سے بیان کیا ہے کہ قیامت کی علامت خروج عیسیٰ علیہ السلام قبل یوم قیامت ہے۔ عبد بن حمید اور ابن جریر نے حسنؓ سے بیان کیا ہے۔ وانه لعلم للساعة سے نزول عیسیٰ علیہ السلام مراد ہے اور ابن جریر نے بہت طریقوں سے ابن عباسؓ سے روایت کیا ہے۔ وانه لعلم للساعة سے مراد نزول عیسیٰ ہے۔ ﴾
”وقال الامام احمد حدثنا هاشم بن قاسم حدثنا شيبان عن عاصم بن ابی النجود عن ابی زرین عن ابی یحییٰ مولی بن عقیل انصاری قال قال ابن عباسؓ لقد علمت آيته من القرآن وانه لعلم للساعة قال هو خروج عيسى بن مريم عليه السلام قبل يوم القيامة وقوله سبحان وتعالى وانه لعلم للساعة تقدم تفسير ابن اسحاق ان المراد من ذالك ما يبعث به عيسى عليه السلام من احياء الموتى وابراء الاكمه والابرص وغير ذالك من الاسقام وفى هذا نظر وابعد منه ما حكاه قتاده عن الحسن البصرى وسعيد بن جبير ان الضمير فى وانه عائد على القرآن بل الصحيح انه عائد على عيسى عليه السلام فان السياق فى ذكره ثم المراد بذالك نزوله قبل يوم القيامة كما قال تبارك وتعالى وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته اى قبل موت عيسى عليه السلام ثم يوم القيامة يكون عليهم شهيدا ويؤيد هذا المعنى القرائن الاخرى وانه لعلم للساعة اى امارة ودليل على وقوع الساعة قال مجاهد وانه لعلم للساعة خروج عيسى ابن مريم عليه
السلام قبل يوم القيامه وهكذا روى عن ابى هريرة وابن عباس وابي العالية وابى مالك وعكرمة والحسن وقتادة والضحاك وغيرهم وقد تواترت قبل يوم القيمة اماماً عادلاً (تفسير ابن كثير ج ٧ ص ٢١٧) ”امام احمد نے فرمایا کہ ہمیں ہاشم بن قاسم نے شیبان سے حدیث بیان کی اور انہوں نے عاصم بن ابی النجود سے اور انہوں نے ابی رزین اور انہوں نے ابی یحییٰ سے جو مولا ابن عقیل انصاری کا ہے جو انہوں نے فرمایا کہ حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا کہ میں نے قرآن کی آیت آیت کو سمجھا اور وہ آیت وانه علم للساعة ہے تو حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قیامت سے پہلے آنا ہے اور قول اللہ تعالیٰ وانه لعلم للساعة اس کے اندر ابن اسحاق کی تفسیر پہلے گذر چکی ہے کہ اس آیت سے مراد اشیاء جن کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بھیجا تھا۔ مردوں کا زندہ کرنا برص اور کوڑھ والوں کو اچھا کرنا وغیرہ۔ جو بیماریاں تھیں مگر اس کے اندر اعتراض ہے اور اس تفسیر سے زیادہ بعید وہ ہے جس کو قتادہ نے حسن بصری اور جبیر سے ضمیر فی وانہ لعلم میں بیان کیا ہے کہ ضمیر وانہ کا قرآن کے طرف راجع ہوتا ہے۔ مگر صحیح یہ ہے کہ ضمیر وانہ کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ کیونکہ سیاق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ذکر میں ہے۔ باقی اس سے مراد نزول عیسیٰ علیہ السلام قبل قیامت ہے۔ جیسا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ ” وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته “ اے قبل موت عیسیٰ علیہ السلام وانہ کے ضمیر کا مرجع ہیں کو دوسری قراءۃ تائید کرتی ہے۔ وانــــه لــعــلــم للساعة اے امارۃ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کی نشانی ہیں اور دلیل ہیں۔ وقوع ساعت کی مجاہد نے کہا کہ وانہ لعلم للساعة سے مراد خروج عیسیٰ علیہ السلام کا قبل قیامت سے اور اسی طرح ابو ہریرہؓ ابن عباسؓ ابی العالیہ ابی مالک حسن قتادہ ضحاک وغیرہ سے منقول ہے اور تواتر کو پہنچا ہے۔ قبل يوم القيمة اماما عادلا یعنی قیامت سے پہلے امام عادل آئے گا۔ ﴾
تعجب نہیں حیرت ہے کہ جب مرزا قادیانی یہ خود اقرار کرتے ہیں کہ نزول مسیح کا عقیدہ کوئی دینیات کا مسئلہ نہیں تو وہ خود کیوں اس پر عمل نہیں کرتے۔ ان کی ساری زندگی اسی ایک مسئلہ پر گذری۔ باون سالہ زندگی تک وہ مسلمانوں کے ہمنوا رہتے ہوئے جابجا اعلان کرتے رہے اور قرآنی آیات سے تمسک کرتے ہوئے کہتے رہے۔ عیسیٰ ابن مریم آسمان سے ضرور نازل ہوگا اور اس کے بعد جب خانہ زاد نبوت کے وہم میں مبتلا ہوئے تو مسیح کی رسوائی اور حقارت کے منظر کھینچنے میں ان کتابوں کا سہارا لیتے ہوئے جو تحریف شدہ ہیں اور جن پر ان کا اپنا ایمان نہیں۔ تمسک کیا اور ساتھ ہی وحی خدا کے سر بریدہ، بے جوڑ، تک بند، مرقع شدہ الہام جن کی تفہیم مرتے دم تک نہ
ہویٰ کے بل بوتے پر دفتروں کے دفتر سیاہ کئے۔ قرآنی آیات کو تحریف کے شکنجوں میں کستے ہوئے ایسے بھونڈے اور بھدے انداز میں پیش کیا کہ سرکار دو عالم کے مفہوم اور بیان سے مغائر جا پڑے۔ گویا کہ قرآن حکیم کے مغز کو یتیم مکہ نے نہ سمجھا اور معارف کی ڈینگ مارتے ہوئے نیچریت کی دلدل میں ایسے پھنسے کہ جائے رفتن نہ پائے ماندن ہوئے۔ معارف قرآن بھلا قادیانی دیہاتی مراقی کیا جانے۔ اس کے جاننے والے عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن سلام، عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن مسعود اور جناب ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم تھے۔ جنہوں نے قرآن صامت کو قرآن ناطق سے سنا زبان فیض ترجمان سے زیادہ اسرار الٰہی اور معارف یزدانی کو بھلا اور کوئی کیا بیان کر سکتا ہے۔ فقیر کے خیال میں تو سرکار مدینہ سے کسی کا یوں نسبت کرنا ہی کفر اور سلب ایمان ہے۔ مگر یہ دیسی یہودی ایسی فضا میں اناء الحق کا اعادہ کرتے ہیں جہاں پھانسی بس کا روگ نہیں اور مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ دو تین راویوں سے زیادہ کسی صحابی کا یہ ایمان ہی نہیں۔ ایسا ہے جیسا کہ چٹے روز روشن میں سورج کا انکار کرنا۔ قارئین کرام ملاحظہ کر رہے ہیں کہ مرزا قادیانی کی چھاتی پر ہزاروں صحابی پتھر توڑ رہے ہیں۔ چنانچہ ذیل کا مضمون کثرت صحابہ پر مشتمل مرزا کے منہ کو لگام دیتا ہے۔ مگر جب بے حیا ہو اور جب معاملہ یہاں تک پہنچ جائے۔
تو اس کے لئے نا جائز بھی شیر مادر ہے۔
(تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٣٩٨، زیر آیت وقولهم انا قتلنا المسيح عيسى ابن مريم)
”بیان فرماتے ہیں ”قال ابن ابی حاتم حدثنا احمد بن سنان حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن المنهال ابن عمر وعن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال لما اراد الله ان يرفع عيسى الى السماء خرج على اصحابه وفى البيت اثنا عشر رجلاً من الحواريين يعنى فخرج عليهم من عين فى البيت ورأسه يقطر ماء فقال ان منكم من يكفر بى اثنا عشر مرة بعد ان أمن بى قال ثم قال ايكم يلقى عليه شبهى فيقتل مكانى ويكون معى فى درجتى فقام شاب من احدثهم سناً فقال له اجلس ثم اعاد عليهم فقام ذالك الشاب فقال اجلس ثم اعاد عليهم فقام ذالك الشاب فقال انا فقال هو انت ذاك فالقى عليه شبه عيسى ورفع عيسى من روزنة فى البيت الى السماء قال وجاء الطلب من اليهود فاخذوا الشبه فقتلوه ثم صلبوه فكفر به بعضهم
اثنی عشر مرة بعد ان امن به وافترقوا ثلاث فرق فقالت فرقة كان الله فينا ما شاء ثم صعد الى السماء وهؤلا اليعقوبية وقالت فرقة كان فينا ابن الله ماشاء ثم رفعه الله اليه وهؤلا النسطورية وقالت فرقة كان فينا عبدالله ورسوله ماشاء الله ثم رفعه الله اليه وهولاء المسلمون فتظاهرت الكافرتان على المسلمة فقتلوها فلم يزل الاسلام طامسا حتى بعث الله محمدﷺ وهذا اسناد صحيح الى ابن عباس ورواه النسائى عن ابى كريب عن معاوية نحوه وكذا ذكر غير واحد من السلف انه قال لهم ايكم يلقى عليهم شبهى فقتل مكانى وهو رفيقى فى الجنة“
”حضرت ابن عباسؓ بیان فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھانے کے ارادہ فرمایا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس مکان سے جس میں چشمہ تھا باہر نکلے اس وقت ان کے سر مبارک سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔ وہ اپنے بارہ حواریوں کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ بے شک تم میں سے ایک شخص مجھ پر ایمان لانے کے بعد بارہ مرتبہ انکار کرے گا۔ بعد ازاں فرمایا کہ تم میں سے ایسا کون ہے جس پر میری شباہت ڈالی جائے اور میری جگہ وہ مقتول ہو اور میرے مرتبہ میں میرے ساتھ رہے۔ پس ایک نوجوان شخص نے کھڑے ہو کر عرض کی کہ میں ہوں اے رسول اللہ۔ تو جناب عیسیٰ نے فرمایا کہ تو بیٹھ جا اور آپ نے دوبارہ انہیں الفاظ کا اعادہ کیا تو پھر بھی وہی شخص کھڑا ہوا۔ آپ نے پھر حکم دیا کہ تو بیٹھ جا اور آپ نے سہ بارہ انہیں الفاظ کو دہرایا۔ غرضیکہ چوتھی مرتبہ عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ تو ہی وہ شخص ہے (جو انکار کرے گا) پھر عیسیٰ علیہ السلام کی شباہت اس شخص پر ڈال دی گئی اور عیسیٰ علیہ السلام مکان کے روشندان سے آسمان کی طرف اٹھائے گئے۔ بعد ازاں یہود کے جاسوس آئے اور اسی شبیہ کو عیسیٰ سمجھ کر گرفتار کر لیا اور اسی کو قتل ومصلوب کر دیا۔ انہیں حواریوں سے بعض نے بارہ مرتبہ مسیح کا انکار کیا اور اس کے بعد لوگ تین فرقوں پر منقسم ہوگئے۔ ایک گروہ اس امر کا قائل ہوا کہ ہم میں خدا رہا جب تک اسے منظور ہوا۔ پھر آسمان کی طرف چڑھ گیا۔ اس کو یعقوبیہ کہتے ہیں۔ دوسرے گروہ نے یہ کہا کہ خدا کا بیٹا جب تک چاہا ہم میں رہا۔ اس کے بعد خدا نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ اس کو نسطوریہ کہتے ہیں۔ پھر دونوں فرقے کافروں کے غالب ہوئے اور اسے قتل کر دیا۔ پھر ہمیشہ اسلام معدوم رہا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمدﷺ کو مبعوث فرمایا اور یہ سب اسناد صحیح ہیں۔ ابن عباس کی طرف اور روایت کیا اس اثر کو نسائی نے ابی کریب
سے اس نے ابی معاویہ سے مثل طریق مذکور کے اور اسی طرح ذکر کیا۔ اکثر علمائے سلف نے اس امر کو اور فرمایا عیسیٰ علیہ السلام نے تم میں سے جس پر ڈالی جائے شباہت میری اور قتل کیا جائے میرے عوض وہ رفیق ہے میرا جنت میں۔‘‘
ناظرین! غور فرمائیں کہ صرف اسی حدیث کو بیان کرنے والے کتنے صحابی ہیں۔ ہاں! اگر مرزا قادیانی کا یہ خیال ہو کہ اس مسئلہ کو تمام صحابی علیحدہ علیحدہ بیان کریں تو یہ ان کی حماقت ہے۔ اس لئے کہ یہ غیر ممکن ہے۔ کیا کوئی جیتا جاگتا مرزائی یہ بتا سکتا ہے کہ کسی ایک مسئلے پر تمام افراد نے فرداً فرداً اپنی رائے کا اظہار کیا۔ قطعاً نہیں اور اس کی ضرورت بھی کیا ہے۔ بھائی ایمان چاہئے ایمان اور جب یہ ہو تو ایک ہی صحابی کا ایک ہی قول کافی ہے۔ جو اس نے نبی کریم ﷺ سے سن کر روایت کیا۔ یہ حدیث انجیل برنباس کے بیان سے مشابہت رکھتی ہے۔ جو قبل بیان ہو چکی اس میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح جناب مسیح کا رفع الی السماء ہوا اور کس پر آپ کی شبیہ ڈالی گئی اور نیز یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ کس طرح مختلف الخیال گروہ بن گئے اور ان کے کیا نام ہیں اور یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ دین حنیف یعنی اللہ کا پسندیدہ دین جناب ابراہیم خلیل اللہ سے بعثت سرور دو عالم سے قبل بھی موجود تھا۔ مگر اس کی رونق و شادابی سرکار مدینہ سے شروع ہوئی اور آپ ﷺ کی آمد سے وہ تمام اعتراض جو عصمت انبیاء کے متعلق ہیں بیان ہو کر پایہ تکمیل تک پہنچی۔
کذاب قادیان کا تعارف
(تذکرۃ الشہادتین ص ٢، خزائن ج ٢٠ ص ٤) ”جس مسیح موعود کی بشارت آج سے تیراں سو برس پہلے رسول کریم ﷺ نے دی تھی وہ میں ہی ہوں اور مکالمات الہیہ اور مخاطبات رحمانیہ اس صفائی اور تواتر سے اس بارے میں ہوئے کہ شک وشبہ کی جگہ باقی نہ رہی۔ ہر ایک وحی جو ہوتی ہے ایک فولادی میخ کی طرح دل میں دھنستی تھی اور تمام مکالمات الہیہ ایسی عظیم الشان پیش گوئیوں سے بھرے ہوئے تھے کہ روز روشن کی طرح وہ پوری ہوئی تھیں اور ان کے تواتر اور کثرت اور اعجازی طاقتوں کے کرشمہ نے مجھے اس بات کے لئے مجبور کیا کہ یہ اسی وحدہ لاشریک خدا کا کلام ہے۔ جس کا کلام قرآن شریف ہے اور میں اس جگہ تورات وانجیل کا نام نہیں لیتا۔ کیونکہ توریت وانجیل تحریف کرنے والوں کے ہاتھوں اس قدر محرف ومبدل ہو گئی ہیں کہ اب ان کتابوں کو خدا کا کلام نہیں کہہ سکتے۔ غرض وہ خدا کی وحی جو میرے پر نازل ہوئی ایسی یقینی اور قطعی ہے کہ جس کے ذریعہ سے میں نے اپنے خدا کو پایا اور وہ وحی نہ صرف آسمانی نشانوں کے ذریعہ مرتبہ حق الیقین تک پہنچی۔ بلکہ ہر ایک حصہ اس کا جب خدا تعالیٰ کے کلام قرآن شریف پر پیش کیا گیا تو اس کے مطابق ثابت
ہوا اور اس کی تصدیق کے لئے بارش کی طرح نشان آسمان سے برسے۔ انہیں دنوں میں رمضان میں سورج اور چاند کو گرہن ہوا۔ جیسا کہ لکھا تھا کہ اس مہدی کے وقت میں ماہ رمضان میں سورج اور چاند کا گرہن ہوگا اور انہیں ایام میں طاعون بھی کثرت سے پنجاب میں ہوئی۔ جیسا کہ قرآن شریف میں یہ خبر موجود ہے اور پہلے نبیوں نے بھی یہ خبر دی ہے کہ ان دنوں میں مری بہت پڑے گی اور ایسا ہوگا کہ کوئی گاؤں اور شہر اس مری سے باہر نہیں رہے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور ہو رہا ہے۔ فالحمد لله علی ذالك!“
جہنمی قادیان کے مخلص حواریو تمہارے مرزا کے لئے سرکار مدینہ نے کس کتاب میں مسیح موعود ہونے کی خوشخبری سنائی کہ قادیان میں مسیح موعود نسل مغلاں میں پیدا ہوگا اور اپنے والد سے گلستان، بوستاں ابتدائی تعلیم حاصل کر کے ایک شیعہ عالم گل شاہ ساکن بٹالہ سے شرح ملا وقایہ پڑھے گا۔ اس کے بعد دوسری معمولی درسگاہوں میں بھٹکتا ہوا معمولی علم حاصل کرے گا۔ ہوش سنبھالتے ہی اس کا باپ اسے دیوانی عدالتوں میں گھسیٹ دے گا اور اسی مشغلے میں وہ دونوں گھر کا تمام اثاث البیت تین تیراں کر کے فکر معاش میں وطن عزیز کو خیر باد کہتا ہوا پیٹ کے دھندا کا فکر کرے گا۔ سیالکوٹ جائے گا رمل و جفر سیکھے گا اور ساتھ ساتھ سرکاری عدالت میں ١٥ روپے ماہوار کا منشی گیری کرے گا۔ مگر ان اشغال میں طبیعت جولانیاں دکھائے گی اور ہوس مختیاری کے خواب دیکھے گا۔
غریب مسیح جس کی بشارات بزعم خود قرآن، احادیث، انجیل، تورات، زبور اور صحائف انبیاء میں لکھی ہے اور جس کے لئے تمام پیامبر خوشخبریاں دیتے آئے ہیں۔ مختیاری کے امتحان کی تیاریاں شب و روز ایک ہندو ہمجولی کے ساتھ کرے گا اور نتیجہ میں ہندو پاس اور بچارا مسیح موعود فیل ہوگا۔ اسی ہموم و غموم میں نوکری چھوڑ کر وطن واپس لوٹے گا اور براہین احمدیہ کی تیاری میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتا ہوا تیس مارخیاں اخبار واشتہار میں کرے گا اور بیس سال بعد جب مرغ دام تزویر میں مقید ہوں گے انہیں سر بریدہ رطب و یابس کو جنہیں براہین احمدیہ میں نہایت بے سرو سامانی سے مہیا کیا اور جن سر بریدہ فقرات کی ملہم کو تفہیم نہ ہوئی تھی۔ وہی مقطعات واقعات کے وقوع پذیر ہونے پر الہام کہتے ہوئے جڑے گا۔
آخر یہ کہاں لکھا ہے کہ ان حقائق کا حامل مسیح موعود ہوگا۔ مرزائیو! گئے گزرے ایمان سے کہو کہ تمہارا مسیح موعود یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میرا کلام قرآن کریم سے کم نہیں۔ وہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا قرآن تو تم کیوں اس کی روز تلاوت نہیں کرتے اور کیا وجہ ہے کہ تم جبکہ وہ خدا کا ہی کلام ہے تو
اسی کے احکام پر نہیں چلتے اور تمہارا کیا حق ہے کہ قرآن سے تمسک کرو اور جب کہ تمہارے لئے بیچارے مرزا کو بڑی تکلیف و محنت کے بعد قرآن جدید ملا، تمہیں لازم ہے کہ اسی پر عمل کرو اور وہی تمہارے گھروں کی زینت بنے اور اسی کے تمہارے حفاظ ہوں اور وہی نماز میں پڑھا جائے۔ مہربانی کر کے جہاں نبی مان لیا ہے بیچارے کے کلام کو بھی مانو۔
مرزا قادیانی کو یہ بھی اقرار ہے کہ موجودہ انجیل و تورات محرف و مبدل ہیں۔ پھر بھلے مانس سے کوئی پوچھے کہ تم کیوں اس کے اقتباسات سے تمسک کرتے ہو۔ جب کہ تم انہیں خدا کا کلام ہی نہیں سمجھتے۔ آخر یہ کیا بیہودگی ہے کہ اسی سے ناجائز فائدہ بھی ہر شکل میں اٹھا لیتے ہو اور پھر طعن کرتے ہوئے شرم بھی نہیں آتی اور جانتے ہو مرزا کی تواتر کی پیش گوئیاں اور معجزات کیا تھے۔ یہی نا، پلیگ، نمونیا، ہیضہ، گرہن، لعنت بازی، شاعری، لوٹ مار کی پیش خبریاں منی آڈروں بیٹوں اور مٹھی گرم کے الہام سنانا۔ موت کی خوشخبریاں دینا۔ زلزلوں کی قصیدہ خوانی بنانا یا لڑکوں کی خوشخبری کہنا۔
ایمان سے کہو یہ تمام باتیں ابتدائے آفرینش سے حیات انسان کے ساتھ وابستہ نہیں کیا مرزا قادیانی سے قبل ہیضہ نمونیا پلیگ گرہن زلزلے شاعری وغیرہ نہ ہوتی تھی۔ یا کیا مرزا قادیانی کی رحلت کے بعد زلزلے نہیں آتے۔ پلیگ نہیں پھوٹتی، ہیضہ نہیں ہوتا، نمونیا مفقود ہو گیا۔ چاند گرہن اور سورج گرہن نہیں ہوتا۔ شاعر مر گئے آخر یہ کیا قیامت ہے کہ واقعات زمانہ کو وہ معجزات سے تعبیر کر کے اپنا الو سیدھا کریں اور تم ان کو نبی ہانکے جاؤ۔ کچھ تو شرم کرو وہ کون سے نشان ہیں جو بارش کی طرح تمہارے مرزا کی صداقت میں آسمان سے برسے یہ کیا شورا شوری ہے اور جب سوال ہو گا کہ میاں وہ برساتی نشانوں میں ایک تو پیش کرو تو دھمکا دھمکی دکھاتے ہوئے کہہ دو گے کہ اللہ میاں کا قلم چھڑکا تھا جو عبد اللہ سنوری اور مرزا کے کپڑوں کا ستیا ناس کر گیا۔ موجود ہے شرم کرو اور باز آؤ شافع محشر کو کیا منہ دکھاؤ گے۔ ہاں! یہ تو کہو کہ قرآن شریف میں مسیح موعود کے وقت طاعون پڑنے کا ذکر کہاں لکھا ہے۔ اس قرآن میں تو نہیں جو سرکار مدینہ پر نازل ہوا۔ اگر کوئی اس سے دکھلا دے تو منہ مانگا انعام پاوے۔ ہاں مرزائی قرآن میں ہو تو کچھ عجب نہیں۔ اس کے آخر میں ایک چیز ایسی ہے جو یقینا تمہارے لئے زندہ درگور کے مترادف ہے۔ وہ یہ کہ کون کون سے انبیاء نے کن کن صحائف میں مسیح موعود کے وقت مری پڑنے کی پیش گوئی لکھی ہے۔ یقیناً تم تلاش کرتے کرتے مر ہی کیوں نہ جاؤ۔ مگر دعویٰ سے کہتا ہوں کہ ایک حوالہ نہ دے سکو گے اور نیم یہودیو کچھ تو سوچو کدھر جا رہے ہو اور کسے چھوڑ رہے ہو۔ ذیل میں مرزا قادیانی کا وہ کلام پیش کیا
جاتا ہے۔ جسے کلام پاک کے ہم پلہ کہا گیا اور جس کی میخیں مرزا قادیانی کے قلب میں دھنس گئیں۔ پڑھو اور شرم کے سمندر میں ڈوب جاؤ۔ مرزا قادیانی کی لنگڑی عربی کہوں یا الہام ہم طوالت مضمون کے خوف سے چھوڑتے ہوئے ان کے اپنے ترجمہ پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔
مرزا قادیانی کا قرآن
(تذکرۃ الشہادتین ص ٧٣، خزائن ج ٢٠ ص ٧١) ”خدا کا امر آ رہا ہے۔ پس تم جلدی مت کرو یہ خوشخبری ہے جو قدیم سے نبیوں کو ملتی رہی ہے۔ خدا ان کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں یعنی ادب و حیا اور خوف الٰہی کی پابندی سے ان ظنی راہوں کو بھی چھوڑتے ہیں۔ جن میں معصیت اور نافرمانی کا گمان ہو سکتا ہے اور دلیری سے کوئی قدم نہیں اٹھاتے۔ بلکہ ڈرتے ڈرتے کسی فعل یا قول کے بجالانے کا قصد کرتے ہیں اور خدا ان کے ساتھ ہے جو اس کے ساتھ اخلاص اور اس کے بندوں سے نیکی بجالاتے ہیں۔ وہ قوی اور غالب ہے۔ وہ ہر ایک امر پر غالب ہے۔ مگر اکثر لوگ نہیں جانتے جب وہ ایک بات کو چاہتا ہے تو کہتا ہے ہو جا۔ پس وہ بات ہو جاتی ہے کیا تم مجھ سے بھاگ سکتے ہو اور ہم مجرموں سے انتقام لیں گے۔ کہتے ہیں کہ یہ صرف انسان کا قول ہے اور ان باتوں میں دوسروں نے اس کی مدد کی ہے۔ یہ تو جاہل ہے یا مجنون ہے ان کو اے مرزا کہہ دے کہ اگر تم خدا کو دوست رکھتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تا خدا بھی تمہیں دوست رکھے اور جو لوگ ٹھٹھا کرتے ہیں۔ ہم ان کے لئے کافی ہیں۔ میں اس شخص کی اہانت کروں گا جو تیری اہانت کے درپے ہے۔ میں اس شخص کی مدد کروں گا جو تیری مدد کرنا چاہتا ہے۔ میں ہوں جو میرے پاس ہو کر میرے رسول ڈرا نہیں کرتے۔ جب خدا کی مدد اور فتح آئے گی اور تیرے رب کا کلمہ پورا ہو جائے گا تو کہا جائے گا کہ یہ وہی ہے جس کے لئے تم جلدی کرتے تھے اور جب ان کو کہا جاتا ہے کہ زمین پر فساد مت کرو تو کہتے ہیں ہم تو اصلاح کرتے ہیں۔ خبردار رہو کہ وہی مفسد ہیں اور تجھے انہوں نے ہنسی اور ٹھٹھے کی جگہ بنا رکھا ہے اور ٹھٹھا مار کر کہتے ہیں کہ کیا یہ وہی شخص ہے جو خدا نے مبعوث فرمایا۔ یہ تو ان کی باتیں ہیں اور اصل بات یہ ہے کہ ہم نے ان کے سامنے حق پیش کیا۔ پس وہ حق کے قبول کرنے سے کراہت کر رہے ہیں اور جن لوگوں نے ظلم کیا ہے وہ عنقریب جان لیں گے کہ وہ کس طرح پھیرے جائیں گے۔ خدا ان تہمتوں سے پاک اور برتر ہے جو اس پر لگا رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ تو خدا کی طرف سے بھیجا ہوا نہیں۔ ان کو کہہ دے کہ خدا کی میرے پاس گواہی موجود ہے۔ پس کیا تم ایمان لاتے ہو تو میری درگاہ میں وجیہہ ہے۔ میں نے اپنے لئے تجھے چن لیا۔ جب تو کسی پر ناراض ہو تو میں اس پر ناراض ہوتا ہوں اور ہر ایک چیز جس سے تو پیار
کرتا ہے میں بھی اس سے پیار کرتا ہوں۔ خدا اپنے عرش سے تیری تعریف کرتا ہے اور تیری طرف چلا آتا ہے۔ تو مجھ سے اس مرتبہ پر ہے جس کو دنیا نہیں جانتی۔ تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میری توحید و تفرید۔ تو ہمارے پانی سے ہے اور وہ لوگ فشل سے۔ اس خدا کو حمد ہے جس نے تجھے مسیح ابن مریم بنایا اور تجھے وہ باتیں سکھلائیں جن کی تجھے خبر نہ تھی۔ لوگوں نے کہا یہ مرتبہ تجھے کہاں سے اور کس طرح مل سکتا ہے۔ ان کو کہہ دے میرا خدا عجیب ہے۔ اس کے فضل کو کوئی رد نہیں کر سکتا۔ مگر لوگ اپنے کاموں سے پوچھے جاتے ہیں۔ تیرا رب جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اس نے اس آدم کو پیدا کر کے بزرگی دی اور لوگوں نے کہا کیا تو ایسا شخص اپنا خلیفہ بنانا چاہتا ہے۔ جو زمین پر فساد کرتا ہے۔ یعنی پھوٹ ڈالتا ہے۔ تو خدا نے انہیں کہا کہ جن باتوں کا مجھے علم ہے تمہیں وہ باتیں معلوم نہیں اور کہتے ہیں یہ ایک بناوٹ ہے۔ کہہ خدا ہے جس نے یہ سلسلہ قائم کیا۔ پھر یہ کہہ کر ان کو اپنے لہو ولعب میں چھوڑ دے اور ہم نے اے مرزا تجھے تمام دنیا کے لئے ایک عام رحمت کر کے بھیجا۔ میرے احمد تو میری مراد ہے اور میرے ساتھ ہے۔ تیرا بھید میرا بھید ہے۔ تیری شان عجیب ہے اور اجر قریب ہے۔ میں نے تجھے روشن کیا اور میں نے تجھے چنا۔ تیرے پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جیسا کہ موسیٰ پر زمانہ آیا تھا اور تو ان لوگوں کے بارہ میں میری جناب میں شفاعت مت کر جو ظالم ہیں۔ کیونکہ وہ غرق کئے جائیں گے اور یہ لوگ مکر کریں گے اور خدا بھی ان سے مکر کرے گا اور خدا بہتر مکر کرنے والا ہے۔ وہ کریم ہے جو تیرے آگے آگے چلتا ہے اور اس کو وہ اپنا دشمن قرار دیتا ہے جو تجھ سے دشمنی کرتا ہے اور وہ عنقریب تجھے وہ چیز دے گا جس سے تو راضی ہو جائے گا۔ ہم زمین کے وارث ہوں گے اور اس کو اس کی طرفوں سے گھٹاتے جاتے ہیں۔ تا کہ تو اس قوم کو ڈراوے جن کے باپ دادے ڈرائے نہیں گئے اور تا مجرموں کی راہ کھل جائے۔ کہہ میں مامور ہوں اور میں سب سے پہلے مؤمن ہوں (کہ وحی خدا مجھ پر نازل ہوتا ہے) تمہارا خدا ایک خدا ہے اور تمام خیر قرآن میں ہے۔ اس کے حقائق اور معارف تک وہی لوگ پہنچتے ہیں جو پاک کئے جاتے ہیں۔ پس تم اس کے بعد یعنی اس کو چھوڑ کر کس حدیث پر ایمان لاؤ گے۔ یہ لوگ ارادہ کرتے ہیں کہ کچھ ایسی کوشش کریں کہ تیرا امر نا تمام رہ جائے۔ لیکن خدا تو یہی چاہتا ہے کہ تیری بات کو کمال پر پہنچاوے اور خدا ایسا نہیں کہ قبل اس کے جو پاک اور پلید میں فرق کر کے دکھلاوے تجھے چھوڑ دے۔ خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول مرزا کو ہدایت اور دین حق دے کر اس غرض کے لئے بھیجا۔ تا کہ وہ اس دین کو تمام دینوں پر غالب کرے اور خدا کا وعدہ ایک دن پورا ہونا ہی تھا۔ خدا کا وعدہ آ گیا اور ایک پیر اس نے زمین پر مارا اور خلل کی اصلاح کی۔ خدا تجھے دشمنوں سے بچائے گا اور اس شخص پر حملہ
کرے گا کہ جو ظلم کی راہ سے تیرے پر حملہ کرے گا۔ اس کا غضب زمین پر اتر آیا۔ کیونکہ لوگوں نے معصیت پر کمر باندھی اور وہ حد سے گزر گئے۔ بیماریاں ملک میں پھیلائی جائیں گی اور طرح طرح کے اسباب سے جانیں تلف کی جائیں گی۔ یہ امر آسمان پر قرار پاچکا ہے یہ اس خدا کا امر ہے جو غالب اور بزرگ ہے جو کچھ قوم پر نازل ہوا خدا اس کو نہیں بدلے گا۔ جب تک کہ وہ لوگ اپنے دلوں کی حالتیں نہ بدلائیں۔ وہ اس گاؤں کو جو قادیان ہے کسی قدر ابتلاء کے بعد اپنی پناہ میں لے لے گا۔ آج خدا کے سوا کوئی بچانے والا نہیں۔ ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی سے کشتی بنا وہ قادر خدا تیرے ساتھ اور تیرے لوگوں کے ساتھ ہے۔ میں ہر ایک کو جو تیرے گھر کے اندر ہے بچاؤں گا۔ مگر وہ لوگ جو میرے مقابل پر تکبر سے اپنے تئیں نافرمان اور اونچا رکھتے ہیں۔ یعنی پورے طور پر اطاعت نہیں کرتے اور خاص کر میری حفاظت تیرے ساتھ رہے گی۔ خدا رحیم کی طرف سے سلامتی ہے۔ تم پر سلامتی ہے۔ تم پاک نفس ہو۔ اے مجرمو آج تم الگ ہو جاؤ۔ میں اس رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا اور افطار کروں گا اور روزہ بھی رکھوں گا اور اس کو ملامت کروں گا جو ملامت کرتے ہیں اور تجھے وہ نعمت دوں گا جو ہمیشہ رہے گی اور اپنی تجلی کے نور تجھ میں رکھ دوں گا جو ہمیشہ رہے گی اور میں اس زمین سے مقرر وقت تک جدا نہیں ہوں گا یعنی میری قبر کی تجلی میں فرق نہ آئے گا۔ میں صاعقہ ہوں اور میں رحمان ہوں۔ صاحب لطف اور بخشش۔“
دور جہالت میں بیاہ شادی کے موقعوں پر مراسی لوگ زمینداروں کے جھرمٹ میں صاحب خانہ کی مدح وستائش میں بے سروپا واقعات دھرایا کرتے تھے۔ ان کا یہ انداز زمیندار کو الو بنائے بغیر نہ رہتا تھا۔ یہ رجزیہ کلمات یہ تعریفوں کے انبار سن کر سادہ لوح دیہاتی چند منٹوں کے لئے اپنے آپ کو شاہ وقت سے کہیں زیادہ سمجھتا ہوا فیاضی کے تقاضہ میں دریا دلی دکھا کر بھوکا ہو جاتا۔ سچ ہے کہ چوٹ کا مزہ سرد ہونے پر ہی آتا ہے۔ جب بیاہ شادی گذر جاتی اور مہمان رخصت ہو جاتے تو بچارا میزبان ٹوٹے پھوٹے کھاٹ اور پراگندہ سامان کو ٹھکانے لگا کر حقہ نوشی کرتے ہوئے اپنی بیوقوفی کے تصور میں گھنٹوں سوچ بچار میں غرق پریشانی کے عالم میں ہلکی ہلکی سانسیں بھرتا ہوا خاموش ہو جاتا۔ یہی حال مرزا قادیانی کا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کسی ایسی ہی تقریب پر مرزا قادیانی کے ہاں کسی دعوت کے موقعہ پر کسی بھانڈ نے مرزا قادیانی کے حضور میں اقوال کسے تھے۔ مرزا قادیانی کو چونکہ مراق ہے وہی کلمات ان کے دماغ میں بس گئے اور انہیں ایسا معلوم ہوا کہ گویا سچی مچی وحی لے کر آرہا ہے۔ آپ نے جھٹ کھاتہ کھول کر کاتب وحی لالہ شام لال آریہ کو حکم دیا۔ بھیا لکھو لو حافظہ اچھا نہیں دماغ کمزور ہے۔ کہیں بھول نہ جاؤں اور دیکھو اپنے تصدیقی
دستخطوں کے علاوہ ہمارے پنڈت گواہوں لالہ شرمپت مل آریہ اور ملاوا مل کے دستخط بھی کرالینا یا انہیں یہ الہام سنا دینا۔
او نیم یہودیو کچھ تو کہو یہ تمہارے مرزا قادیانی کیا کیا آناپ شناپ کو قرآن کا مرتبہ دے رہے ہیں۔ کیا قرآن کریم میں ایسی ہی باتیں سرکار دوعالم ﷺ کی شان میں لکھی ہوئی ہیں۔ جانتے ہو مخلوق اور خالق کے کیا تعلقات مراتب ہیں۔ بندہ تو بندہ ہی ہے خالق تھوڑا ہی ہے۔ یوں نہیں جیسے کذاب قادیان نے سمجھ رکھا ہے۔ مرزا قادیانی کے قرآن کو پڑھو اور فرقان حمید کی روشنی میں پرکھو۔ ہم تمہارے لئے نمونہ ایک مشعل جلاتے ہیں۔ تم میں جنہیں تھوڑی سی بھی چشم بصیرت سے حصہ دیا گیا ہے وہ اس کو پڑھیں اور دل کی گہرائیوں میں ٹٹولیں۔ انشاء اللہ! قوی امید ہے کہ مرزائیت کے بھوت سے نجات پائیں گے۔ ارشاد ہوتا ہے۔
”قل انما انا بشر مثلکم یوحی الی انما الهکم اله واحد (کہف:١١٠)“ اور ترجمہ مولانا خواجہ الطاف حسین صاحب حالی کی زبان سے سنئے تاکہ روحانیت نصیب ہو۔
اسی کے ہیں فرمان اطاعت کے لائق اسی کی ہے سرکار خدمت کے لائق
لگاؤ تو لو اپنی اس سے لگاؤ
جھکاؤ تو سر اس کے آگے جھکاؤ
اسی پر ہمیشہ بھروسہ کرو تم اسی کے سدا عشق کا دم بھرو تم
اسی کے غضب سے ڈرو گر ڈرو تم اسی کی طلب میں مرو جب مرو تم
مبرا ہے شرکت سے اس کی خدائی
نہیں اس کے آگے کسی کو بڑائی
خرد اور ادراک رنجور ہیں واں مہ و مہر ادنیٰ سے مزدور ہیں واں
جہاں دار مغلوب و مقہور ہیں واں نبی اور صدیق مجبور ہیں واں
نہ پرسش ہے رہبان و احبار کی واں
نہ پرواہ ہے ابرار و احرار کی واں
نصاریٰ کی مانند دھوکہ نہ کھانا کسی کو خدا کا نہ بیٹا بنانا
میری حد سے رتبہ نہ میرا بڑھانا بڑھا کر بہت تم نہ مجھ کو گھٹانا
اسی طرح ہوں میں بھی ایک اس کا بندہ
بنانا نہ تربت کو میری صنم تم نہ کرنا میری قبر پر سر کو خم تم
نہیں بندہ ہونے میں کچھ مجھ سے کم تم کہ بیچارگی میں برابر ہیں ہم تم
مجھے دی ہے حق نے بس اتنی بزرگی
کہ بندہ بھی ہوں اس کا اور ایلچی بھی
ان باتوں کو سمجھنے کے بعد مندرجہ ذیل تعارف کو سمجھنے کی کوشش کیجئے۔ یقین ہے کہ یہ موازنہ اسلامی روشنی میں شب دیجور سے زیادہ تاریک معلوم ہوگا اور یہ وہ آئینہ ہے جس میں تمہیں اپنی شکل اس صفائی سے نظر آئے گی۔ جو تمہیں یقینا حق الیقین پر پہنچا دے گی۔ خوش نصیب ہیں وہ جو اس موازنے سے عبرت حاصل کریں اور سرکاری نبی کو ولایتی بنگلے کی ہی زینت سمجھیں۔ اسے مسلمانوں سے کیا کام ہاں بھائی یہ انگریزی پودا کسی بڑے صاحب کے گملے ہی کے لئے خوب ہے۔
رئیس قادیان کا ذاتی تعارف
(تذکرۃ الشہادتین ص ٣٤ تا ٣٥ خزائن ج ٢٠ ص ٣٦)
”میں وہ شخص ہوں جس کے زمانہ میں تمام نبیوں کی خبر اور قرآن شریف کی خبر کے موافق اس ملک میں خارق عادت طور پر طاعون پھیل گئی۔ (سبحان اللہ! واہ رے طاعونی نبی اور پلیگی پیغمبر صاحب خوب آئے) میں وہ شخص ہوں جو حدیث صحیح کے مطابق اس زمانہ میں حج روکا گیا۔ (واہ رے میرے بے دم کے شیر پلیگ سے تیری آمد شروع ہوئی اور آتے ہی ایک ارکان اسلام کو ہڑپ کر لیا خوب) میں وہ شخص ہوں جس کے زمانہ میں وہ ستارا نکلا جو مسیح ابن مریم کے وقت میں نکلا تھا۔ (العیاذ باللہ یہ وہ ستارا ہے جسے عرف عام میں دمدار کہتے ہیں۔ جو ہزاروں دفعہ نکل چکا ہے اور ادبار و نحوست کی نشانی سمجھا گیا ہے یہ بھی خوب کہی) میں وہ شخص ہوں جس کے زمانہ میں اس ملک میں ریل جاری ہو کر اونٹ بیکار ہو گئے اور عنقریب وہ وقت آتا ہے۔ بلکہ بہت نزدیک ہے جب کہ مکہ اور مدینہ کے درمیان ریل جاری ہو کر وہ تمام اونٹ بیکار ہو جائیں گے۔ (مرزائیو ایمان سے کہو ہمارے ملک میں اونٹ بیکار ہو چکے۔ مرزا قادیانی کی جانے بلا وہ ٹھہرے پیغمبر کہ اونٹ ہندوستان میں کس کس مقام زیادہ چلتے ہیں اور جہاں سوائے اونٹوں کے کوئی چارہ ہی نہیں۔ ہاں مرزا قادیانی ایک دور کی کوڑی بھی لائے کہ مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ زاد اللہ شرفہما کے درمیان عنقریب بلکہ بہت ہی نزدیک ریل جاری
ہونے والی ہے۔ جس سے اونٹ بیکار ہو جائیں گے۔ مگر ہوا کیا ان یہودیوں کی جانے بلا یہ تو حج سے روکے گئے۔ اس وقت تک ان دونوں شہروں کے درمیان ریل جاری نہیں ہوئی اور مرزا کو دوکان بڑھائے عرصہ تیس سال ہو گیا۔ گویا پیش گوئی کو سانپ سونگھ گیا یا گدھا کھا گیا۔ تف ہے ایسی ویسی لاف و گزاف پر اور ریل کیوں نہ جاری ہوتی بھلا یہ کہاں ممکن تھا کہ دجال تو آوے اور گدھا پیچھے ہی ڈھیچو ڈھیچو کرے ) میں وہ شخص ہوں جس کے ہاتھ پر صد ہا نشان ظاہر ہوئے۔ کیا زمین پر کوئی ایسا انسان زندہ ہے جو نشان نمائی میں میرا مقابلہ کر کے مجھ پر غالب آسکے۔ مجھے اس خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اب تک دولاکھ سے زیادہ میرے ہاتھ پر نشان ظاہر ہو چکے ہیں اور شاید دس ہزار کے قریب یا اس سے زیادہ لوگوں نے پیغمبرﷺ کو خواب میں دیکھا اور آپ نے تصدیق کی ۔“
مرزا قادیانی کو مراق لے ڈوبا اور رہے سہے حواس محمدی کے عشق میں برباد ہوئے۔ اس چھوٹی سی تحریر پر تزویر میں کہاں سے کہاں چلے گئے۔ جھوٹ کی حد اور کذب کی انتہاء ہو چکی۔ صد ہا نشان کے ہزاروں نہیں لاکھوں ہو گئے اور دولاکھ تک حلف اٹھاتے ہوئے شمار کر گئے اور اس کے ایک سال بعد پانچ لاکھ پر نوبت آئی اور رفتہ رفتہ ١٠لاکھ پر کہیں خدا خدا کر کے ٹھہرے اور نیم یہودیت میں کوئی ایسا بھی ہے جو مرزا قادیانی کے مصدقہ دس لاکھ نشانات کے صرف عنوانات ہی گنوادے۔ مثلاً تار، ریل، اونٹ، گھوڑا، گاڑی، بیل، کتا، شیر، چیتا، یہ کیا عذاب ہے کہ دس لاکھ نشان تو ظاہر ہوں مگر مرزا کی امت تک پچاس ہزار سے تجاوز نہ کریں۔ جو مرزا کے دس لاکھ کے صرف عنوانات ہی گنوادے کہ یہ معجزات طاعونی نبی کے ہیں۔ اس کی خدمت میں مبلغ پانچ ہزار روپیہ نقد چہرے شاہی بلا عذر پیش کر دوں گا۔ ہاں یہ بھی کہہ دوں کہ تم تو کیا تمہاری نسل درنسل بھی کوشش و ہمت کرتی رہے تھک کیوں نہ جائے یہ انعام کبھی نہ حاصل کر سکو گے۔ لگے ہاتھ یہ بھی پوچھ لوں کہ وہ کون کون سے لال بجکڑ ہیں۔ جنہیں حضور آقائے بر و بحر کے دیدار نصیب ہوئے اور تلقین ہوئی کہ مرزا کی رسالت پر ایمان لاؤ اور مرزا قادیانی نے ان کی تعداد دس ہزار سے زیادہ بتائی ہے جو صاحب ان دس ہزار سے زیادہ کو تحریرات مرزا سے بتائیں۔ وہ پانچ ہزار مندرجہ بالا کے علاوہ دس ہزار اور انعام کے مستحق ہیں۔ مولانا عبد الغفور صاحب قبلہ خطیب ہزاروی فرماتے ہیں کہ بھائی تمہارا نام خالد ہے۔ کچھ تو پنجابی نبی کی امت کی پنجابی ہونے کی حیثیت سے رعایت کرو۔ اس لئے ان کے حکم پر سرتسلیم کو خم کرتے ہوئے خالد کے پاک نام کی زکوۃ نکالتے ہوئے نو ہزار کم کئے دیتا ہوں کہ صاحب تحریرات مرزا سے ایک ہزار ایسے شاہد پیدا کر دیں۔ وہ موجودہ انعام کے مستحق
ہیں ۔ مرزا بچو ! آج یہ بھی یاد رہے کہ تم ہوئی اور جس نے فتح یاب ہوا۔ اس کبھی کوئی مجھ پر غ
اس ۔ تازیانہ لگاتے ہو ہیں کہ کوئی انسان مان لے۔ جیسا شرافت سے کنار تب ہی تو کذاب لئے کم ہیں کہ میر کہ ایک طور سے چونکہ آیت پیش نہیں ک واقعات جن میں
”و عتل بعد ذا عیب کرنے والا گنہگار گردن کش ”او مرزا قادیانی کیا حدیث کے الفا گھر میں سوئی گم
ہیں ۔ مرزائیو! اچھلو کودو، سر پر پاؤں رکھ کر بھاگو۔ خالد نے تمہاری قسمت کا دروازہ کھول دیا ۔ مگر یہ بھی یادرہے کہ تمہارے مقابلہ میں کون چیلنج کر رہا ہے۔ وہ ہے جسے کسی میدان میں کبھی شکست نہ ہوئی اور جس نے کبھی کثرت کو قلت پر ترجیح نہ دی۔ جو اکیلا ساٹھ ساٹھ ہزار کے لشکر پر حملہ آور ہو کر فتح یاب ہوا۔ اس لئے ڈنکے کی چوٹ کہتا ہوں کہ اس کے نام کی برکت سے اس شیطانی جنگ میں کبھی کوئی مجھ پر فتح یاب نہ ہوگا کسی نے کیا خوب کہا ہے ؎
کہ اس نواح میں سودا برہنہ پا بھی ہے
اس کے آخر میں ( تذکرۃ الشہادتین ص ٣٨، خزائن ج ٢٠ ص ٤٠، ٤١) پر دجالیت کے مرکب کو تازیانہ لگاتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے ۔ ” اب رہا میرا دعویٰ سو میرے دعوے کے ساتھ اس قدر دلائل ہیں کہ کوئی انسان نرا بے حیا نہ ہو تو اس کے لئے اس سے چارہ نہیں ہے کہ میرے دعوٰی کو اسی طرح مان لے۔ جیسا کہ اس نے آنحضرت ﷺ کی نبوت کو مانا ہے۔ (اوچھے ہتھیاروں پر اتر آنا اور شرافت سے کنارہ کشی اختیار کرنا بے حیائی نہیں تو اور کیا ہے۔ مان لیا صاحب آپ ایسے ہی ہیں۔ تب ہی تو کذابیت کو نبوت کے ترازو کے پلڑے میں رکھ رہے ہیں ) کیا یہ دلائل میرے ثبوت کے لئے کم ہیں کہ میری نسبت قرآن کریم نے پورے پورے قرائن اور علامات کے ساتھ ذکر کیا ہے کہ ایک طور سے میرا نام بتلا دیا ۔“
چونکہ مرزا قادیانی نے قرآن عزیز سے استدلال بغیر دلیل کے کیا ہے اور سند میں کوئی آیت پیش نہیں کی اس لئے اس فرض کو بھی فقیر ہی انجام دیتا ہے۔ سنئے وہ پورے پورے قرائن اور واقعات جن میں مرزا قادیانی کا ذکر اور نام ہے یہ ہیں:
”ولا تطع كل حلاف مهين هماز مشاء بنميم مناع للخير معتد اثيم عتل بعد ذالك زنیم (قلم ١٠ تا ١٣)“ ﴿اور مت کہا مان ہر ایک قسم کھانے والے ذلیل کا عیب کرنے والا لوگوں میں چلنے والا ساتھ چغلی کے منع کرنے والا بھلائی سے حد سے نکل جانے والا گنہگار گردن کش پیچھے اس کے بے نصیب ۔﴾
”اور حدیثوں میں کدعہ کے لفظ سے میرے گاؤں کا نام موجود ہے۔“ (ایضاً)
مرزا قادیانی کیا غضب کر رہے ہو کہاں کدعہ جس کی تعریف میں یمن کی ایک بستی لکھا ہوا ہے۔ یعنی حدیث کے الفاظ تو یہ چاہتے ہیں کہ یمن کے علاقہ میں وہ جگہ ہو اور آپ اس عقل مند کی طرح جو گھر میں سوئی گنوا بیٹھا تھا اور تاریکی کی وجہ سے تلاش بازار کے گیس کے نیچے کر رہا تھا۔ یہ کہہ رہے
ہیں کہ کدعہ کے کاف میں قادیان کو ڈھونڈ لیں۔ نا صاحب یہ بے جوڑ کا عشق کبھی فٹ نہ بیٹھے گا۔ کیونکہ سُوزن تو قادیان میں گم ہوئی جو پنجاب میں واقعہ ہے اور تلاش کدعہ میں کر رہے ہو۔ جو یمن میں موجود ہے۔ حالانکہ تم خود اسی قادیان کی مٹی پلید کرتے ہوئے۔ ازالۃ اوہام میں قاضی ماجھی سے لفظ ض کو عربی رسم الخط میں د سے تعبیر کرتے ہوئے قادیان بنا چکے ہو۔ یعنی قاضی سے قادی اور قادی سے قادیان۔ یعنی یا مظہر العجائب قادیان میں قاضی ماجھی صاحب یہ تو ہیں آپ کے ادنیٰ کرشمے مگر ایک بھول بھی آپ سے سہواً ہوگئی۔ جو چھوٹے کاف سے بڑا قاف بنا لیا اور اس کے متعلق کچھ نہ کہا۔ لو ہم ہی اس سقم کو بھی دور کئے دیتے ہیں۔ وہ یہ کہ حدیث میں تیراں سو برس سے چھوٹا کاف آ رہا ہے جو یقیناً یہ حق رکھتا ہے کہ اتنی لمبی عمر پانے پر بڑا ہو جائے۔ اس لئے اب اس کو بڑے ق میں ہی آنا چاہئے۔ کیوں ٹھیک ہے نا سرکار۔
”اور حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ اس مسیح موعود کی تیرھویں صدی میں پیدائش ہوگی اور چودھویں صدی میں اس کا ظہور ہوگا۔“ (ایضاً) (یعنی وہ ایک سو سال ظہور کی تیار میں صرف کرے گا۔ یعنی پیدائش ہی میں گزارے گا۔ افسوس مرزا قادیانی نے حدیثوں کا نام لے کر یونہی ٹانکہ جڑ دیا ورنہ حدیثوں میں تو ہے نہیں اور جو دکھلاوے منہ مانگا انعام پاوے۔ ہاں یاد آیا کہ مرزا قادیانی کے منجھلے صاحبزادہ بشیر نے ابا کی حدیث لکھی ہے۔ جس کا عنوان سیرت المہدی رکھا ہے اور جو یوں شروع ہوتی ہے۔ بیان کیا مجھ سے ملا وامل نے اس نے فلاں سے اس نے فلاں سے کہ حضرت مسیح موعود یوں فرماتے تھے۔ اگر ایسی کسی حدیث میں لکھا ہو تو کچھ عجب نہیں) ”اور صحیح بخاری میں میرا تمام حلیہ لکھا ہے۔“ رے واہ مرزا اور اس کا حلیہ اور وہ بھی صحیح بخاری میں کریلہ اور نیم چڑھا کے مصداق ہے جو شخص صحیح بخاری کے مصنف کا نام تک نہیں جانتا ہو صحیح بخاری کو کیا سمجھے گا۔ ہے کوئی مرزا کا پیارا جو مرزا کی تحریر سے صاف صحیح کا نام ہی صحیح بتا دے۔ اس کے عوض ہم یہ مان لیں گے کہ واقعی مرزا قادیانی کا حلیہ صحیح میں موجود ہے ورنہ ایسا ہی ہے کہ جس شخص کو امام بخاری اور ان کے والد بزرگوار کے نام میں تمیز نہ ہوسکی۔ وہ بیچارا مسیح کے حلیہ میں کیا تمیز کرے گا۔
”اور صحیح بخاری میں یہ بھی لکھا ہے کہ مسیح موعود دمشق سے مشرق کی طرف ظاہر ہوگا۔ سو قادیان دمشق سے مشرق کی طرف ہے۔“ کاش مرزا قادیانی اپنے کاتب وحی پنڈت شام لعل جو پرائمری کا طالب علم تھا سے ہی پوچھ لیتے تو ندامت اٹھانی نہ پڑتی۔ حضرت ہوش کی دوا لو اور کبھی تو سچائی سے بھی پیار کرو۔
”پھر میرے دعوٰی کے مہینہ میں کسوف خسوف کا سواری کا پیدا ہونا۔ اونٹ بیکار صدہا نشانوں کا ظاہر ہونا آنحضرت ﷺ اور قرآن کا یہ تائیدات کا میرے شامل حال اور راست بازی اور پاک دلی پڑنا۔ یہاں تک کہ حیثیت کی مسلمانوں کا بہت فرقوں پر منقـ اور مے خوری اور حرامکاری او ہوجانا اور ہر ایک پہلو سے انقـ دنیا کا ایک مصلح کا محتاج ہونا ا لوگوں کا عاجز آ جانا اور میری قرآن ایک خدا ترس کے لئے
سبحان اللہ! مرزا شروع ہوا مرزا قادیانی کی ہوئے کہ نورانیت سیاہی میں اور استقبال کے لئے بیچاری لئے فرشتوں نے بویا اور فـ حالت میں سیاہ رنگ کے سے پیش کیا۔ یعنی طاعون چـ تو مرزا قادیانی مرزائی قرآن وحدیث کی سواری کو چلایا۔ یعنی جناب پیش کیا اور بیچارے اونٹـ
”پھر میرے دعویٰ کے وقت میں اور لوگوں کی تکذیب کے دنوں میں آسمان پر رمضان کے مہینہ میں کسوف خسوف کا ہونا زمین پر طاعون کا پھیلنا حدیث اور قرآن کے مطابق ریل کی سواری کا پیدا ہونا۔ اونٹ بیکار ہو جانے، حج روکا جانا، صلیب کے غلبہ کا وقت ہونا۔ میرے ہاتھ پر صدہا نشانوں کا ظاہر ہونا ہزارہا نیک لوگوں کا میری تصدیق کے لئے خوابیں دیکھا اور آنحضرتﷺ اور قرآن کا یہ فرمایا کہ وہ مسیح موعود میری امت میں سے پیدا ہوگا اور خدا تعالیٰ کی تائیدات کا میرے شامل حال ہونا اور ہزارہا لوگوں کا ٢ لاکھ کے قریب میرے ہاتھ پر بیعت کرنا اور راست بازی اور پاک دلی اختیار کرنا اور میرے وقت میں عیسائی مذہب میں ایک عام تزلزل پڑنا۔ یہاں تک کہ تثلیث کی طلسم کا برف کی طرح گداز ہونا شروع ہونا اور میرے وقت میں مسلمانوں کا بہت فرقوں پر منقسم ہو کر تنزل کی حالت میں ہونا اور طرح طرح کی بدعات اور شرک اور مے خوری اور حرامکاری اور خیانت اور دروغ گوئی دنیا میں شائع ہو کر ایک عام تغیر دنیا میں پیدا ہو جانا اور ہر ایک پہلو سے انقلاب عظیم اس عالم میں پیدا ہو جانا اور ہر ایک دانشمند کی شہادت سے دنیا کا ایک مصلح کا محتاج ہونا اور میرے مقابلے سے خواہ اعجازی کلام میں خواہ آسمانی نشانوں تمام لوگوں کا عاجز آ جانا اور میری تائید میں لاکھوں پیش گوئیاں پوری ہونا یہ تمام علامات اور نشانات اور قرائن ایک خدا ترس کے لئے میرے قبول کرنے کے لئے کافی ہیں۔“
(تذکرۃ الشہادتین ص ٣٨، خزائن ج٢٠ ص ٤٠، ٤١)
سبحان اللہ! مرزا قادیانی کی بعثت جو آسمانی بادشاہت تھی۔ اس کا استقبال آسمان سے شروع ہوا مرزا قادیانی کی نگاہ لطف وکرم نے جب نیرین کو بھانپا تو وہ بیچارے اتنے خائف ہوئے کہ نورانیت سیاہی میں بدل گئی۔ بہرحال مرزا قادیانی کا خیر مقدم آسمان کی تاریکیوں نے کیا اور استقبال کے لئے بیچاری زمین نے مدتوں کے اس پھل کو جسے خاص مرزا قادیانی کی بعثت کے لئے فرشتوں نے بویا اور خدا نے آب پاشی کی اور جسے مرزا قادیانی کی نگاہ لطف نے کشف کی حالت میں سیاہ رنگ کے پودوں میں دیکھا تھا۔ ایک گلدستے کی صورت میں اپنے جمالی ہاتھوں سے پیش کیا۔ یعنی طاعون پھوٹ نکلی۔
تو مرزا قادیانی نے اس کے انعام میں بیچاری زمین کو یہ صلہ دیا کہ اس کی چھاتی پر مرزائی قرآن وحدیث کی صداقت میں بھاری بھرکم بوجھ رکھتے ہوئے ایک تیز رفتار غیر مانوس سواری کو چلایا۔ یعنی جناب بی ریل جسے مرزا قادیانی نے بعد میں دجال کا گدھا ثابت کرتے ہوئے پیش کیا اور بیچارے اونٹوں کو تو کوئی پوچھتا ہی نہیں۔ چونکہ وہ تمام بیکار ہوگئے۔ اس لئے انکے
پوستین میں بھس بھر کر سٹیچو کھڑے کر دیئے گئے کہ مسیح موعود کی یادگار تازہ رہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب ہمیں کوئی اونٹ نظر نہیں آتا اور جہاں کہیں ہیں وہ سٹیچو ہی ہیں۔۔ جو مرزا قادیانی کی کرامات سے تھوڑا بہت چل لیتے ہیں اور یہی وجوہات جو حج روکا گیا۔ کیونکہ ریل ابھی مکہ و مدینہ کے درمیان جاری نہیں ہوئی اور اونٹ یوں روکے گئے تو بیچارے حاجی حج کیسے کریں تم دیکھ رہے ہو کہ اب حج مسیح موعود کے وقت سے نہیں ہوتا۔ اس لئے بیچارے مرزا قادیانی کو تمہاری سہولت اور شوق کی خاطر جان جوکھوں میں ڈال کر یہ شعر کہنا پڑا۔
ہجوم خلق سے ارض حرم ہے
(درثمین ص ٥٢)
اور ساتھ ہی تسکین امت کے لئے یہ ٹانکہ بھی جڑنا پڑا کہ مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے دودھ خشک ہو چکا۔ یہی وجہ ہے جو قادیان میں بہشتی مقبرہ کھل گیا۔ ہاں بھیا سوچو تو یہ کیا کم احسان ہے اور ذرا یہ بھی تو دیکھو کہ مرزا قادیانی کے وقت میں صلیب کا غلبہ بڑھ گیا اور یہ سیلاب مسیح موعود کے وقت سے ہی شروع ہوا کہ پنجاب میں خاص مرزا قادیانی کے ضلع میں ایک عیسائی کے سوسو ہو گئے۔ گویا یہی کسر صلیب ہے اور خدا جانے یہ مسیح موعود کی بعثت کے ثمرات کہاں تک پہنچ کر دم لیں گے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کے نزدیک یہ سیلاب عظیم کچھ وقعت نہیں رکھتا۔ وہ اسے تزلزل سے تعبیر کرتے ہوئے خوشخبری دیتے ہیں کہ یہ تثلیث کا تودہ برف کی طرح پگھل جائے گا۔ دوسرے لفظوں میں یوں سمجھو کہ روئے زمین پر پھیل جائے گا۔ یہاں ایک مثالی واقعہ یاد آ گیا جو لطف سے خالی نہیں۔ وہ یہ کہ سکھوں کی عملداری میں کوئی مراسی ایک ٹوٹی ہوئی قبر میں اپنے آپ کو زندہ درگور سمجھتا ہوا یہ دعاء کر رہا تھا یا اللہ سواری کے لئے گھوڑی دے۔ اتفاق سے اسی قبرستان کے نزدیک کسی گرو کے لال کی گھوڑی نے بچہ دیا جو چلنے کے قابل نہ تھا اور سکھ جی کو چلنے کی جلدی تھی۔ وہ حیران تھا کہ بیگار میں کس کو پکڑے آبادی دور ہے اسی پریشانی میں میراسی کے دعائیہ کلمات یا اللہ گھوڑی دے یا اللہ سواری کے لئے گھوڑی دے۔ سنے تو ڈانٹ کر آواز دی دی او گھوڑی کے بچے ادھر آؤ اور ساتھ ہی آواز کے ساتھ مراسی کے سر پر پہنچ کر ایک ہلکی سی لٹھ رسید کی مراسی نے نظر اٹھا کر دیکھا تو گھوڑا سکھ موت کے لباس میں سر پر کھڑا تھا۔ بیچارا مراسی چپکا سا جی مہاراج کہتا ہوا اٹھا تو سکھ نے بچہ اٹھانے کی فرمائش کی، یہ کہتے ہوئے غریب مراسی نے گھوڑی کا بچہ اٹھایا اور کہا اے مالک تیرے بھی بھید نرالے ہیں۔ مانگی تو نیچے کو تھی اور ملی اوپر کو ہے، اچھا شکر ہے۔
یہی حال مرزا قادیانی کا ہے۔ آئے تو کسر صلیب کو تھے۔ مگر ہوا کیا ایک ایک سوسو ہو گئے اور اسی تناسب سے رفتار ترقی کر رہی ہے۔ مگر مرزا قادیانی معجزہ شمار کر رہے ہیں اور کسر صلیب سمجھ رہے ہیں اور مرزا قادیانی اس پر بھی شاداں ہیں اور پھولے نہیں سماتے کہ ان کی آمد سے مسلمان بہت سے فرقوں پر منقسم ہو کر رو بہ تنزل ہو گئے۔ یعنی مرزا قادیانی کی آمد سے امت خیر الانام کو یہ تحفہ ملا کہ وہ نہ دھوبی کے رہے نہ گھاٹ کے۔ ان میں طرح طرح کی بدعات یعنی تاش، سینما، تھیٹر، گانا بجانا، چرس، افیون کے علاوہ شراب خوری، حرام کاری، سر بازار عصمت فروشی، خیانت و بے ایمانی، قمار بازی، ڈکیتی، رہزنی، دروغگوئی، بے ایمانی اور سب سے زیادہ مصیبت یہ کہ شرک کی وباء پھوٹ پڑی اور اس کے علاوہ ہر ایک چیز میں انقلاب آگیا۔ یعنی نیکی کی جگہ بدی نے لے لی۔ یہ ہیں مرزا قادیانی کے احسان وہ ان کو گنوا کر اپنی نبوت منوانا چاہتے ہیں۔ اب کون ہے بھلا جو انکار کرے اور مسیح قادیان کو سچا نہ جانیں۔ کیونکہ وہ دلائل ہی ایسے زبردست گنوا رہے ہیں۔ جس کا کچھ جواب ہی نہیں اور بجز سر تسلیم کے کچھ چارہ ہی نہیں۔ اللہ معاف کرے کہاں سے کہاں چلا آیا۔ اب حلیہ مسیح کے متعلق بھی سن لیجئے کہ فرمان رسالت کیا بیان کرتا ہے۔
مرزا قادیانی علمی اور ادبی لحاظ سے محض کورے ہی تھے۔ کم بخت مراق اور جلب زری نے ان کی زبان سے مسیح موعود کا دعویٰ تو کروا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی عمر کا بیشتر حصہ اسی فکر میں بسر ہوا۔ آپ نے بہتیرے ہاتھ پاؤں مارے۔ مگر قدرت نے انہیں اس منجدھار میں مقید رکھا۔ وہ جس چیز سے سہارا لیتے رہے وہ ہی ان کے خلاف ہوا۔ انہوں نے بروز کی چادر اوڑھ کر الو سیدھا کرنے کی کوشش کی۔ مگر عشاق سرکار مدینہ نے اسے تار تار کر کے رکھ دیا۔ سچ ہے ڈوبتے کو تنکے کا سہارا لینے کی حرص دم واپسین تک ہوتی ہے۔ مرزا قادیانی نے اس پر پورا پورا عمل کیا۔ حدیث نبوی میں مسیح ابن مریم کے بالوں اور رنگ کے متعلق مختلف الفاظ دیکھ کر آپ کی باسی کڑاہی میں ابال آگیا۔ پھر کیا تھا پانچوں گھی میں اور سر کڑاہی میں۔ جھٹ کہہ دیا کہ دیکھو میرا حلیہ بلکہ ایک ایک خط وخال حدیث میں لکھا ہے۔ اب دلائل بھی سن لیجئے۔
"عن عبداللہ ابن عمرؓ قال النبیﷺ رایت عیسٰی وموسیٰ وابراہیم فاما عیسٰی فاحمر جعد (صحیح بخاری ص٤٨٩ ج ١، باب قول اللہ عزوجل واذکر فی الکتاب مریم اذا تبذت) ﴿عبداللہ ابن عمرؓ روایت کرتے ہیں کہ فرمایا نبی کریمﷺ نے کہ دیکھا میں نے عیسٰی وموسیٰ اور ابراہیم کو، لیکن عیسٰی سرخ رنگ اور گھنگریالے بال والے ہیں۔﴾
پھر اسی (ص ٤٨٩ ج ١ باب ایضاً) میں ابن عمرؓ سے روایت ہے۔ جس میں یہ الفاظ موجود ہیں۔ ”تضرب لمته بين منكبيه رجل الشعر“ یعنی بال حضرت عیسیٰ کے درمیان دو کندھوں کے تھے اور سیدھے تھے۔ ان دو حدیثوں کے ملانے سے صاف مطلب یہی نکلتا ہے کہ مسیح کے نام کے دو شخص ہیں۔ ورنہ ایک آدمی کے بال گھنگروالے اور سیدھے ناممکن ہیں۔ نیز پہلی روایت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رنگ سرخ اور دوسری میں گندمی آیا ہے تو اس سے پھر یہ نتیجہ برآمد ہوا کہ مسیح دو شخصوں کا نام ہے۔ ورنہ ایک ہی شخص کا رنگ سرخ اور گندمی ہرگز نہیں ہوسکتا۔ پس معلوم ہوا کہ مسیح اسرائیلی سرخ رنگ اور گھنگروالے بالوں والا تھا۔ جو فوت ہوگیا اور مسیح محمدی جو گندمی رنگ میں سیدھے بالوں والا تھا وہ میں ہوں۔“
مندرجہ بالا مضمون کا جواب میرے محترم دوست مولانا حافظ حاجی ابوالسعید محمد شفیع صاحب فاضل دیوبند حال سرگودھا علمی رنگ میں نہایت محققانہ بیان فرماتے ہیں۔ غور سے سنئے:
بحث رجل
حدیث شریف میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بالوں کے متعلق تین الفاظ آئے ہیں۔ جعد، رجل، یہ دونوں گزر چکے۔ تیسرا سبط، چنانچہ بخاری کے اسی صفحہ پر ہے۔ ”فــــاذا رجل آدم سبط الشعر “ یعنی حضرت عیسیٰ گندم گوں کھلے بالوں والے جوکہ بحوالہ کتب لغت عرب ہر ایک کی تشریح کی جاتی ہے۔ (جعد) ”الجعد من الشعر خلاف السبط وقيل هو القصير منه“
(لسان العرب ج ٢ ص ٢٩٣)
ترجمہ: جعد وہ بال ہیں جو خلاف سبط ہوں اور کہا گیا ہے کہ چھوٹے بال (اقرب الموارد ج ١ ص ١٢٥) میں ہے۔ ”الجعد من الشعر ما فيه التواء وتقبض او القصير منه “ یہاں بھی دو معنی ہیں۔ یا گھنگروالے یا چھوٹے (منتہی الارب ج ١ ص ٢١١) میں ہے۔ ”شعر جعد “ موئے مرغول یا موئے کوتاہ۔
(سبط) ”سبط الشعر سهل واسترسل وهو ضد جعد “
(منجد ص٢٠٧)
ترجمہ: سبط وہ بال ہیں جو کھلے ہوئے اور لٹکے ہوئے ہوں۔ معلوم ہوا کہ اس میں دو وصف ہیں۔ سہولۃ تقبض کے مقابل اور استرسال قصیر کے مقابل تو سبط ہر دو وصف کے لحاظ سے ضد جعد ہوا۔ وھو ظاہر! (مختار الصحاح ص ٣٧٨) میں ہے۔ ”شعر سبط بفتح الباء وكسرها اى مسترسل غير جعد “ (فقہ اللغۃ ص ٦٦) میں ہے ”سبط اذا كان مسترسلاً“ (اقرب الموارد
ج ١ ص ٤٩٠) ”سبط الشعر سهل واسترسل“ اور (منتہی الارب ج ٢ ص ٢٢٢) میں ہے۔ سبط موئے فروہشتہ نقیض جعد (رجل) (اساس البلاغۃ ص ١٧١) میں ہے۔ ”شعر رجل بين البسوطة والجعودة“ یعنی رجل بال نہ محض سیدھے اور نہ زیادہ گھنگریالے۔ بلکہ درمیان میں ہوتے ہیں۔ اب اس لفظ رجل پر قادیانی مبلغ کی لیاقت کا پردہ کھل گیا۔ کیونکہ انہوں نے اپنی تقریر میں رجل کا معنی سیدھے بال کئے تھے۔ نیز (اقرب الموارد ج ١ ص ٣٩٢) میں ہے۔ ”شعر رجل بين السبوطة والجعودة“ (فقہ اللغۃ ص ٦٦) ”ورجل اذا كان غير جعد ولا سبط“ (قاموس ج ٣ ص ٣٩٣) ”شعر رجل وكجبل وككتف بين السبوطة والجعودة“ یعنی رجل جیم کا سکون اور فتح اور کسرہ سے وہ بال ہیں جو نہ سیدھے اور نہ بہت پیچیدہ اور (لسان العرب ج ٥ ص ١٥٩) میں ہے۔ ”شعر رجل ورجل بين السبوطة والجعودة وفي صفته ﷺ كان شعره رجلاً اي لم يكن شديد الجعودة ولا شديد السبوطة بل بينهما“ اس نے ایک زیادہ فائدہ بھی بتا دیا کہ رسول اللہ ﷺ کے بال مبارک بھی رجل تھے۔ یعنی درمیانے خمدار اور (منتہی الارب ص ٦٤٨) میں ہے۔ ”رجل شعره“ میان فروہشتہ و مرغول شد موئے او۔ (مختار الصحاح ص ٢١٦) میں ہے۔ ”وشعر رجل ورجل بفتح الجيم وكسرها ليس شديد الجعودة ولا سبطاً“ اور (منجد ص ١٦١) میں ہے۔ ”الرجل من الشعر ما بين الجعودة والاسترسال“ ان تمام حوالہ جات سے ناظرین پر روشن ہوگیا ہوگا کہ رجل کا معنی سیدھے بال ہرگز نہیں اور قطعاً نہیں۔
ایک غلطی کا ازالہ
مرزائی لفظ رجل کے واسطے چھان بین کر کے ترجمہ اردو بخاری مولوی وحید الزمان اور غیاث اور صراح سے ثابت کرتے ہیں کہ رجل کا معنی موئے فروہشتہ خلاف جعد لکھے ہیں۔ مجھے حیرت آتی ہے کہ خدایا دجل کا مادہ اس قوم میں کیسے کوٹ کوٹ کر بھر دیا گیا ہے اور ذرا شرم نہیں کرتے کہ ایسی فاحش غلطی قابل بیان کب ہو سکتی ہے۔
جناب من! رجل لفظ عربی ہے۔ جب اس کے معنی میں آٹھ کتابیں نہایت معتبر متفق ہو گئیں تو اب غیاث کی فریاد کون سنتا ہے اور اردو ترجمہ کیا حقیقت رکھتا ہے۔ حالانکہ ان سے بھی مرزائی جماعت کا مطلب نہیں نکلتا۔ کیونکہ موئے فروہشتہ خلاف جعد اس بات کو واضح کرتا ہے کہ جعد کا دوسرا معنی جو قصیر ہے وہ نہیں۔ بلکہ لٹکے ہوئے بال، رہا یہ کہ سیدھے یا کچھ خمدار تو یہ قید چھوڑ
گئے اور یقیناً مسامحت ہوئی۔ کیونکہ تمام عرب کی لغت رجل کا معنی جیسے ضد جعد لکھتے ہیں۔ ایسا ہی ضد سبط بھی لکھتے ہیں۔ چنانچہ پچھلے حوالوں سے پتہ چلتا ہے۔ جیسے منتہی الارب میں ہے۔ میان فروہشتہ و مرغول شدہ موئے او اور ایسی دقیق بحث فارسی والوں کا کام بھی نہیں اور مولوی وحید الزمان نے تو قوسین کے درمیان صاف لکھ بھی دیا ہے کہ سیدھے بال کنگھی پھیرنے کی وجہ سے اور حاشیہ میں بھی یہی صورت تطبیق کی بیان کی ہے تو یہ بھی آپ کو مفید نہ ہوئے۔ لیکن جہاں تک میرا خیال ہے میں ضرور کہوں گا کہ اس سے بڑھ کر کوئی نادانی اور سادگی نہیں کہ قاموس اور لسان العرب اور اقرب الموارد جیسی کتابوں کو چھوڑ کر مبلغ تحقیق غیاث اور ترجمہ رکھا جائے۔ افسوس ہے کہ دنیا سے انصاف اٹھ گیا اور محض تعصب رہ گیا۔ والی اللہ المشتکیٰ !
اللہ کے آگے تری فریاد کریں گے
رسول اللہ کے بال
احادیث میں جناب رسول خداﷺ کے بالوں کی وصف آئی ہے۔ جس سے رجل کے معنی کی اور زیادہ کشف ہو جاتی ہے۔ چنانچہ شمائل (ترمذی ص٢، باب ماجاء فی خلق رسول اللہﷺ) میں ہے۔ ”عن الحسن بن علیّ قال سئلت خالی ہند بن ابی ہالۃ وکان وصافا عن حلیۃ رسول اللہﷺ وانا اشتہی ان یصف لی منہا شیئا اتعلق بہ فقال کان رسول اللہﷺ فخماً مفخماً یتلالؤ وجہہ تلالو القمر لیلۃ البدر اطول من المربوع واقصر من المشذب عظیم الہامۃ رجل الشعر “ ٭ حضرت امام حسنؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے ماموں ہند بن ابی ہالہ سے حضور اکرمﷺ کا حلیہ مبارک دریافت کیا اور وہ حضورﷺ کا حلیہ مبارک اکثر بیان کرتے تھے اور مجھے شوق تھا کہ آنحضرتﷺ کے اوصاف جمیلہ سن کر ذہن نشین کر کے اپنے اندر مناسبت پیدا کروں۔ پس فرمایا کہ آنجناب خود اپنی ذات والصفات کی وجہ سے بھی ذیشان تھے اور لوگوں کی نظروں میں بھی بہت عالی پایہ تھے۔ آپ کا چہرہ منور ماہ بدر کی طرح چمکتا تھا۔ آپ کا قد مبارک متوسط قد والے سے ذرا اونچا تھا۔ لیکن بہت لمبے قد والے سے پست تھا۔ سر مبارک اعتدال کے ساتھ بڑا تھا۔ بال مبارک کسی قدر بل کھائے ہوئے تھے۔ ٭
”عن ابی ھریرۃؓ قال کان رسول اللہﷺ ابیض کانما صبغ من فضۃ رجل الشعر (شمائل ترمذی ص٢، باب ماجاء فی خلق رسول اللہﷺ)“
﴿ حضرت ابی ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ اس قدر صاف شفاف حسین تھے۔ گویا جناب کا بدن چاندی سے ڈھالا گیا ۔ آپؐ کے بال مبارک قدرے خمدار گھنگرالے تھے۔ ﴾
”عن انس قال كان رسول الله ﷺ ربعة وليس بالطويل ولا بالقصير حسن الجسم وكان شعره ليس بجعد ولا سبط (شمائل ترمذی ص ١، باب ماجاء فی خلق رسول اللہ ﷺ) “ ﴿ حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ درمیانہ قد والے تھے۔ خوبصورت جسم والے اور بال آپ کے نہ سخت گھنگریالے اور نہ بالکل سیدھے (بلکہ درمیانے خمدار تھے) ﴾
نیز امیر المؤمنین حضرت علیؓ سے روایت ہے۔ ”ولم يكن بالجعد القطط ولا بالسبط كان جعداً رجلا (شمائل ترمذی ص ١، باب ماجاء فی خلق الرسول اللہ ﷺ)“ ﴿ یعنی آپؐ کے بال مبارک نہ بہت پیچیدہ اور نہ بالکل سیدھے۔ بلکہ تھوڑی سی پیچیدگی لئے ہوئے تھے۔ ﴾
اور (بخاری ج ٢ ص ٨٧٦، باب الجعد) میں انسؓ سے روایت ہے کہ ”وكان شعر النبی ﷺ رجلا لا جعد ولا سبط“ یعنی حضور ﷺ کے بال رجل تھے۔ نہ جعد اور نہ سبط۔
(ابن ماجہ ص ٢٥٩، باب اتخاذ الجمۃ والذوائب) حضرت انسؓ سے روایت ہے۔ ”كان شعر رسول الله ﷺ شعراً رجلا“
(انجاح الحاجۃ شرح ابن ماجہ ص ٢٥٩ حاشیہ نمبر ٣ قولہ شعراً رجلا) میں ہے۔ ”ای بین الجعودة والسبوطة“
(مسلم شریف ج ٢ ص ٢٥٨، باب صفة شعرہ ﷺ {صفاته وحليته}) میں ہے۔ ”كان شعراً رجلا ليس بالجعد ولا السبط“
(شرح مسلم لامام نووی ج ٢ ص ٢٥٨) میں فرماتے ہیں۔ ”قوله كان شعراً رجلا بفتح الراء وكسر الجيم وهو الذي بين الجعودة والسبوطة قاله الاصمعی وغیرہ“ یعنی رجل بال درمیانے خمدار کو کہتے ہیں۔ یہی معنی اصمعی وغیرہ سے منقول ہے۔
(شمائل ترمذی ص ١، باب ماجاء فی خلق الرسول اللہ ﷺ) براء ابن عازبؓ سے روایت ہے۔ ”كان رسول الله ﷺ رجلا“ یعنی حضور اکرم ﷺ کے بال مبارک درمیانے خمدار تھے۔
نیز (بخاری ج٢ ص٨٧٦، باب الجعد) ”كان شعر رسول الله ﷺ رجلاً ليس بالسبط ولا الجعد “ محشی کرمانی اور عینی (بخاری ج٢ ص٨٧٦ حاشیہ نمبر٦) سے نقل کرتے ہیں کہ ”رجلا بفتح الراء وكسر الجيم هو الذي بين الجعودة والسبوطة فالمذكور بعده كالتفسير له “ یعنی حدیث میں رجلا کے بعد جو لیس بالسبط ولا بجعد آیا ہے۔ یہ صحابی کی تفسیر ہے کہ رجل وہ بال ہیں۔ جو نہ زیادہ گھنگردار اور نہ محض سیدھے۔ (امام ترمذی شمائل ص١، باب ما جاء فی خلق رسول اللہ ﷺ) میں اس کی تفسیر خود فرماتے ہیں ۔”والرجل الذي في شعره حجونة اى تثن قليلاً “ اور (قاضی عیاض ص٩١، فصل قد آتيناك أكرمك الله من ذكر الاخلاق) میں ”رجل الشعر “ والی حدیث کو حضرت علیؓ وحضرت انسؓ وحضرت ابی ہریرہؓ وحضرت براء ابن عازبؓ وحضرت عائشہؓ وحضرت ابن ابی ہالہؓ وحضرت ابو جحیفہؓ وحضرت جابرؓ وحضرت ام معبدؓ وحضرت ابن عباسؓ وحضرت معرض بن معقیبؓ وحضرت ابو الطفیلؓ وحضرت عداء ابن خالدؓ وحضرت خریم ابن فاتکؓ وحضرت حکیم بن حزامؓ وغیرہم سے روایت کرتے ہیں۔
مرزائیو! ایمان سے کہو اب لغات اور ترجمہ کہاں گئے۔ جس کو آپ لئے پھرتے ہیں۔ دیکھو رجل اور سبط ایک چیز ہرگز نہیں۔ اب اگر انصاف ہے تو ذرا شرم کرو اور آئندہ مسلمانوں کو اس صریح دھوکہ میں نہ ڈالو۔ اب ان حوالہ جات کے بعد حضرات ناظرین فیصلہ دیں یا تو تمام اہل لغت عرب اور صحابہ کرامؓ اور اہل بیت عظامؓ اور آئمہ محدثین بخاری و مسلم و ترمذی و ابن ماجہ وقاضی عیاض و امام نووی و عینی وغیرہ کو غلط قرار دیا جائے یا فی سبیل اللہ صرف ایک مرزا قادیانی کی رائے فاسد کی تردید کی جائے۔
تطبیق جعد وسبط و رجل
اصل میں بات یہ ہے کہ لغت کی نادانگی سے انسان کو ایسی دشواریاں پیش آتی ہیں۔ جن میں چکر کھاتا ہے۔ ورنہ حقیقت میں یہ کوئی اختلاف نہیں۔ کیونکہ جب جعد کے دومعنی لغات عرب میں پائے جاتے ہیں۔ پیچیدگی اور چھوٹا پن تو ممکن تھا کہ کوئی شخص جعد سے دوسرا معنی سمجھ لے اور یہ بالوں کے عیب سے ہے تو اس شبہ کو دور کرنے کے واسطے سبط بھی فرما دیا۔ تا کہ لمبائی اور استرسال پر بھی دلالت کرے۔ جس کے ملانے سے جعد السبط ہوئے۔ یعنی لٹکے ہوئے اور تھوڑے خمدار جو بالوں کی غایت درجہ کی وصف ہے۔ چنانچہ (لسان العرب ج٢ ص٢٩٣) میں ہے۔ ”واذا قالوا رجل جعد السبوطة فهو مدح “ یعنی جب کسی شخص کو عرب والے کہیں کہ یہ جعد السبوطۃ ہے۔ تو کلمہ مدح ہے اور تعریف کا ہے۔ جس کی تشریح دوسرے عنوان میں خود رسول
خدا ﷺ نے یوں فرمائی کہ رجل الشعر یعنی حضرت عیسیٰ کے بال قدرے گھنگر والے تھے۔ کیونکہ جعد میں پیچیدگی اور قصر تھا تو ان دو میں سے محض متوسط پیچیدگی لے لو اور سبط لٹکاؤ اور سیدھا پن تھا۔ ان دو میں سے بھی صرف لٹکاؤ والا معنی لے لو۔ تو نہایت آسانی سے رجل کا معنی حاصل ہے اور کوئی اختلاف نہیں۔
الزامی جواب
اگر جماعت مرزائیہ خواہ مخواہ ضد کریں کہ نہیں جب ان کے دو محمل نکل سکتے ہیں تو اتنی تکلیف کر کے تطبیق کی کوئی ضرورت نہیں تو اچھا پھر ایک اور عیسیٰ بھی آنے والا ہے۔ کیونکہ جعد والا مسیح بنی اسرائیلی ہو اور سبط والا مرزا قادیانی ہو اور رجل والا ابھی باقی ہے۔ میں ایک نیک مشورہ احمد نور کابلی کو دیتا ہوں کہ رجل الشعر والے مسیح خود بن جائے۔ کیونکہ صیغہ چل چکا ہے اور دنیا تو خدائی دعویٰ والے کے ماننے کو بھی تیار ہے اور آپ کا سر چونکہ منڈا ہوا ہوتا ہے تو اگر کوئی زیادہ تحقیق بھی کرے تو فرما دینا کہ میرے بال منڈانے سے پہلے رجل تھے۔ پس کام چل جائے گا۔ نیز اگر ان الفاظ کے اختلاف سے جب حضرت عیسیٰ تین ثابت ہوئے تو لیجئے اپنے خواص دوستوں پر احسان کر کے موسویت کا مدعی بنائے۔ کیونکہ صحیح بخاری میں یہی تین الفاظ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متعلق بھی وارد ہوئے ہیں۔ تو امت مرزائیہ میں سے دو موسیٰ بھی تیار کر لیجئے اور اگر یہاں تطبیق ضروری ہے تو وہاں بھی ہم ضروری سمجھتے ہیں۔
تطبیق حلیتین
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق بخاری میں دو رنگ آئے ہیں۔ ایک احمر اور ایک آدم۔ یعنی سرخ اور گندم گون اور ان دو کا جمع کرنا بغیر تاویل کے صاف ظاہر ہے۔ لیکن المعترض کالاعمیٰ خواہ مخواہ یہاں بھی اعتراض کر دیتے ہیں کہ چلو جی صاف حدیث میں دو عیسیٰ بن مریم ہیں۔ حالانکہ اس کی تطبیق خود بخاری کی عبارت سے نکلتی ہے۔ چنانچہ (بخاری ص ٣٨٩، باب قول الله عزوجل واذکر فی الکتاب مریم ) میں لکھا ہے۔ ”فاذا رجل آدم کا حسن ماتری من آدم الرجال“ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام گندم گوں رنگ والوں میں سے نہایت عمدہ رنگ والے تھے۔ تو اب ظاہر ہے کہ گندمی رنگ جب احسن طریق پر ہو تو ضرور سرخی دے گا۔ اب ذرا انصاف کو سامنے رکھ کر فرمائیے کہ اس میں بھی اب اختلاف باقی ہے۔ مزید برآں یہ بھی تو دیکھو کہ (بخاری ص ٣٨٩، باب قول الله عزوجل واذکر فی الکتاب مریم ) میں صرف احمر کی بڑی تاکید سے نفی موجود ہے۔
”عن سالم عن ابية قال لا والله ما قال النبى ﷺ لعيسى احمر ولكن قال بينما انا نائم اطوف بالكعبة فاذا رجل ادم“ حضرت سالم اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ خدا کی قسم رسول اللہ ﷺ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو احمر سرخ رنگ والا نہیں فرمایا۔ بلکہ فرمایا کہ میں نیند میں طواف کعبہ کر رہا تھا کہ اچانک ایک آدمی گندم گوں نظر آیا۔ آگے طویل مضمون ہے اور مسیح علیہ السلام کا ذکر ہے۔
اگر جناب مرزا قادیانی احمر اور آدم کو دیکھ کر خوش ہوئے کہ چلو کام بن گیا۔ دو مسیح ابن مریم بنا کر میری گنجائش نکل آئی تو لیجئے جناب یہاں رسول محمد عربی ﷺ کے بھی دو رنگ موجود ہیں۔ ایک ابیض مشرب جس کا معنی امام ترمذی نے شمائل میں خود کیا۔ ”و المشرب الذى فى بياضه حمرة“ یعنی مشرب وہ رنگ ہے جس کی سفیدی میں سرخی بھر دی گئی ہو اور دوسرا بھی (شمائل ترمذی ص ٢، باب ماجاء فی خلق رسول اللہ ﷺ) میں ہے۔ ”كانما صيغ من فضة“ یعنی حضور اکرم ﷺ کا جسم اطہر اس قدر سفید تھا کہ گویا چاندی سے ڈھالا گیا ہے۔ تو اب بتائیے تطبیق دو گے یا محمد بھی دو بناؤ گے۔ شاید مرزائی صاحبان تو جھٹ کہہ دیں گے کہ محمد ﷺ بھی مرزا قادیانی ہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی کا ایک شعر ہے۔
منم محمد واحمد کہ مجتبیٰ باشد
(تریاق القلوب ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ١٣٣)
نیز اس شعر کی رو سے حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی آپ ہیں۔ مگر یہ خوشی خدائے پاک ان کو نصیب نہیں کرتا۔ کیونکہ محدثین و شراح احادیث علیہم الرضوان نے سب کا جواب دے کر قلع قمع کر دیا اور تطبیق دیتے گئے ہیں۔
یہ تھی اختلاف حلیتین والی دلیل۔ جس کی حقیقت آپ کے سامنے کھول کھول کر رکھ دی گئی اور یہ تھا لفظ رجل کا جھگڑا۔ جو لغت عرب اور احادیث صحاح ستہ سے منکشف کیا گیا۔
قیس کیا جانے بھلا اگلے زمانے والا
اب حضرات ناظرین پر لازم ہے کہ نظر انصاف سے نتیجہ نکالیں کہ کیا یہاں بھی کوئی دلیل وفات عیسیٰ علیہ السلام کی بن سکتی ہے یا نہ۔ ”والله يهدى من يشاء الى صراط مستقيم . وما علينا الا البلاغ“
ہے یہ تطبیق اتم گردیدہ انصاف ہے
معنی شعر رجل ہرگز نہ سیدھے بال ہیں
سب لغت اور کل حدیثوں سے یہ مطلب صاف ہے
جب نہیں مقصد حدیثوں کا سمجھتے اے شفیع
مولوی فاضل کا بس دعویٰ سراسر لاف ہے
ناظرین کرام! مرزا قادیانی کے دجل کو آپ کما حقہ سمجھ چکے ہوں گے۔ اب آپ کے سامنے ایک اور ایسی چیز پیش کی جاتی ہے۔ جو یقیناً مرزا قادیانی کی عیاری کو روز روشن کی طرح ثابت کرے گی اور بتائے گی کہ مرزا قادیانی کو قرآن کریم سے دور کا بھی تعلق نہ تھا۔ چہ جائیکہ معانی و تفسیر کی لاف زنی کرنا اور ایسا ہی فرمان رسالت کو سمجھنا اور اسوہ حسنہ کی مطابعت کرنا ان سے اتنا ہی بعید تھا جتنا کہ مشرک کا توحید کے قریب ہونا۔ چنانچہ مرزا قادیانی ایک اور بے پر کی اڑاتے ہوئے (ازالہ اوہام حاشیہ ص ٢٧٥، ٢٧٦، خزائن ج ٣ ص ٤٩١، ٤٩٢ ملخصاً) میں لکھتے ہیں کہ:
”وانا علیٰ ذهاب به لقادرون کے اعداد بحساب جمل ١٢٧٤ ہوتے ہیں اور یہی زمانہ فی الحقیقت اسلام اور خروج دجال کا بھی ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب وہ زمانہ آئے گا تو قرآن زمین پر سے اٹھایا جائے گا۔ چنانچہ اس زمانہ سے قرآن اٹھایا گیا اب ان حدیثوں کے مطابق جن میں لکھا ہے کہ ایک مرد فارسی الاصل دوبارہ قرآن کو زمین پر لانے والا ہو گا سو میں لے آیا ہوں۔“
بھلے مانس سے کوئی پوچھے کہ جھوٹ کی ٹھیکیداری کا پٹہ کیا روز ازل سے ہی تمہارے نام ہو چکا ہے۔ بندۂ زر کبھی یہ بھی تو سوچا ہوتا کہ قرآن کریم کے معانی اور نکات و معارف تم سے کروڑ درجہ بہتر و افضل و اتم حضور سرکار مدینہ ﷺ نے نہ صرف سمجھے بلکہ لفظ لفظ کی وضاحت و تفسیر عملی رنگ میں ایسی فرمائی کہ مشتاقان شمع رسالت پروانوں کی طرح جیتی جاگتی تصویریں بن گئے۔ انہوں نے ایک ایک ارشاد کو نہ صرف دل کی گہرائیوں میں جگہ دی بلکہ خط خط اور خال خال کو مشعل راہ بنایا۔ آہ! یہ بھی کوئی رموز و نکات ہیں کہ فہم کے خلاف معنی ہوں، تابعین اس سے محض کورے رہیں۔ تبع تابعین اس سے نا آشنا ہوں۔ تمام مجدد و محدث ان سے مس بھی نہ کریں۔ آخر یہ کیا آفت ہے کہ سرکار مدینہ سے لے کر اس وقت تک وہ سوائے تمہارے کسی کی سمجھ میں نہ آئیں۔ آہ کس منہ سے کہوں توبہ ہزار بار توبہ ۔ یعنی وہ علم جو تمہیں ٹیچی ٹیچی سے ملا وہ سرکار مدینہ ﷺ کو بھی نہ
ملا۔ خلفائے راشدین اس سے محروم رہے۔ چاروں اماموں کو وہ نصیب نہ ہوا اور کوئی مجدد اس کو نہ پاسکا۔ یہ کیا اندھیر ہے۔ تف ہے اس نظریے پر، لعنت ہے ایسے خیال پر، یہ تو کہئے آیات کو تم بمعنی مراد باعداد جعفری ٹھہرائے ہو یا بوضع لغت عربیہ۔ حالانکہ قرآن عزیز تو یہ اعلان فرماتا ہے۔
”انا انزلناہ قرآناً عربياً لعلكم تعقلون (یوسف:٢)‘‘ یعنی اللہ فرماتے ہیں ہم نے قرآن پاک کو عربی زبان میں اس لئے اتارا تا کہ تم اس کو کما حقہ سمجھ سکو۔ یعنی اس کی آیات ظاہر پر حمل کرتی ہیں۔ یعنی دلالت صیغہ معتبر ہے۔ مراد شارع علیہ السلام سے، نہ کہ اعداد جعفری، ہاں بھائی یہ پیامبری ہے نہ کہ جوگی و رمال کی دوکان مثال کے طور پر یوں سمجھئے کہ قرآن میں آیا ہے۔
”ظهر الفساد فی البر والبحر (روم:٤١)‘‘ اب کہئے اس کے معنی بحساب عدد جمل سے لیں گے یا وضع سے۔ اگر عدد سے لیں تو ١٨٤٦ ہوئے۔ حالانکہ یہ واقعہ حضور اکرم ﷺ کی زندگی میں ہوا۔ آیا خیال شریف کے بیچ میں، تو معلوم ہوا وہی معنی صحیح ہیں جو در یتیم ﷺ نے بیان کئے اور وہی قرآنی رموز ومعارف کے مفسر اعلیٰ تھے۔ اب آئیے مرزا قادیانی جس آیت کی چوری کرتے ہوئے خواہ مخواہ دجل کی بھٹی میں ابال کھا رہے ہیں۔ اس کے سیاق سباق کو دیکھیں تا کہ مرزا قادیانی کی پارسائی منظر عام پر لائی جاسکے۔
”وانزلنا من السماء ماء بقدر فاسكناه فی الارض وانا على ذهاب به لقادرون فانشانا لكم به جنات من نخيل واعناب لكم فيها فواكه كثيرة ومنها تاكلون (مؤمنون:١٨، ١٩)‘‘ ﴿اللہ فرماتے ہیں ہم نے پانی آسمان سے موافق انداز کے اتارا اور ہم اس کے لے جانے پر بھی قادر ہیں۔ پھر ہم نے اسی پانی سے تمہارے لئے کھجوروں اور انگوروں کے باغ بنائے۔ ان باغوں میں بہت میوے ہیں جن کو تم کھاتے ہو۔ ﴾
ناظرین! خدارا انصاف کریں کہ اس آیت شریفہ میں قرآن کریم کے اٹھائے جانے کا جب کہ کوئی ذکر ہی نہیں، تو مرزا قادیانی خواہ مخواہ آسمان کے تارے کیوں توڑ رہے ہیں۔ ہاں مرزا قادیانی لائے تو ہیں۔ مگر وہ قرآن جس میں انگریزی، فارسی، اردو، عربی، سنسکرت، عبرانی، لاطینی کے بے جوڑ و بے ربط کلمات ہیں۔ جیسے شدت بخار میں مریض واویلے کرتا ہے۔ اور اسی آیت کے ساتھ جو حدیث کا ٹانکہ بھی جڑا ہے کہ میں ہی وہ مرد فارسی الاصل ہوں۔ جو آسمان سے دوبارہ جا کر اس کو لایا ہوں۔ تو اس کے دو جواب ہیں۔
اول یہ کہ جناب مسیح ابن مریم مشیت ایزدی کے مطابق جب کہ قدرت کردگار خود فاعل ہو۔ مرزا قادیانی کے مذہب میں آسمان پر اس لئے نہیں جاسکتے کہ راستے میں خطرناک کڑے ہیں۔ شکر ہے کہ مرزا تو آسمان پر چڑھ گیا اور قرآن بغل میں دبا کر سیالکوٹ سے نہ آسمان سے سیدھا قادیان میں اتر آیا۔ کیوں مرزائیو یہ جائز ہے۔ شرم کرو اور گریبان میں منہ ڈال کر سوچو۔
دوم! یہ کہ یہ حدیث ”لو کان الایمان معلقاً عند الثریا لناله رجل من فارس (مشكوة ص ٥٧٦، باب جامع المناقب)“ یہ حدیث آنحضور سرکار دوعالم ﷺ نے اس بوڑھے صحابی سلمان فارسیؓ سے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بیان فرمائی۔ جو تلاش حق میں آنحضور ﷺ کی پیدائش سے قبل آتش پرستی سے بیزار ہوکر بیسیوں خانقاہوں میں بھٹکتا ہوا آخر بحیرہ راہب کے یہاں بصرہ میں حاضر ہوا اور یہاں سے خاتم النبیین کی خوشخبری پاکر ایک قافلہ کے ہمراہ ہولیا۔ ان دنوں سرکار دوعالم ﷺ مدینہ منورہ میں کفار مکہ کی یورش کی تاب نہ لاتے ہوئے حکم ربی سے ہجرت کر آئے تھے۔ یہ غریب سالار قافلہ کی سنگدلی و بے ایمانی کی وجہ سے اس سفاک یہودن ہرزویہ کے باپ کے ہاتھوں جس کا نام ایوب تھا غلام ہوئے اور مدتوں غلامی کی کڑی سختیاں برداشت کرنے کے بعد سرکار مدینہ ﷺ کی کمال شفقت ومہربانی سے چالیس اوقیہ سونا اور سو کھجور کے درخت جو یہودی کے باغ میں لگا کر بار آور ہونے پر آزاد ہوئے۔ آہ! یہ یہودی کا باغ رحمت عالم نے اپنے ہاتھ سے لگا کر اپنے عاشق کو قدموں میں جگہ دی۔ اس کے متعلق صحابہ کی جماعت میں حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر ایمان ثریا پر ہوتا تو میرے اصحاب میں سے یہ شخص یعنی سلمان فارسیؓ ایسا موجود ہے کہ اس کی طلب وہاں تک کرتا۔
مرزا قادیانی کو اس حدیث سے دور کا بھی تعلق نہیں۔ یہ تو وہ مجنوں ہے جو روز چوری ہپ کر جائے اور خون کے وقت اصل مجنوں کا پتہ دے۔
”عن المغيرة بن شعبة قال ما سال احد رسول الله ﷺ عن الدجال اكثر مما سألته وانه قال لي مايضرك قلت انهم يقولون ان معه جبل خبز و نهر ماء قال هو اهون على الله من ذالك (بخاری ج٢ ص ١٠٥٥، باب ذکر الدجال، ومسلم ج٢ ص ٤٠٣، باب الذکر الدجال)“
مغیرہ بن شعبہؓ فرماتے ہیں کہ کسی نے دجال کے بارے میں مجھ سے بڑھ کر آنحضرت ﷺ سے سوال نہیں کیا۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا تجھ کو ضرر نہ پہنچے گا۔ میں نے عرض کیا لوگ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ روٹیوں کا پہاڑ اور پانی کی نہر ہوگی تو جناب نے فرمایا وہ خدا کے
ہاں حقیر تر ہے۔ یعنی وہ اس قدر ومنزلت کا مالک نہ ہوگا۔ یعنی اس کے پاس فی الواقعہ روٹیوں کا پہاڑ اور پانی کی نہر ہو۔ بلکہ یہ چیزیں محض خیالی طور پر ہوں گی۔ جو دیکھنے والوں کے امتحان کا موجب بنے گی۔ کافر اس سے لغزش کھائے گا اور مومن اپنے ایمان پر ثابت قدم رہے گا۔ اس کے یہ معنی نہیں کہ اس کے پاس یہ چیزیں نہ ہوں گی۔
یہ حدیث اس مضمون کی شاہد ہے کہ صحابہ کرام میں اکثر ذکر دجال کے تذکرے ہوتے تھے اور صحابی طمانیت ایمان کے لئے سرکار دو عالم ﷺ سے استفادہ کرتے تھے۔ چنانچہ سرکار دو عالم ﷺ نے دجال کے بعض خواص عمومی بیان فرمائے۔ یعنی سرکار مدینہ ﷺ نے مہاجرین وانصار کو مخاطب فرماتے ہوئے یہ ارشاد کیا قوم یہود میں دجال کے والدین کے ہاں تیس برس سے اولاد نہ ہوئی ہوگی۔ جو دجال پیدا ہوگا۔ یہ لڑکا کانا بڑی بڑی داڑھوں اور کچلیوں والا ہوگا۔ کم منفعت اس کی آنکھیں سویا کریں گی اور دل جاگتا ہوگا۔ اس کا باپ کا قد لمبا خشک گوشت ہوگا۔ چونچ جیسی اس کی ناک ہوگی۔ اس کی ماں موٹی چوڑی لمبی ہوگی۔
(رواہ شرح السنہ)
”عن عبدالله بن عمر ان عمر بن الخطاب انطلق مع رسول الله ﷺ
(مسلم ج ٢ ص ٣٩٨، باب ذکر ابن صیاد)“
عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ جماعت صحابہ کرام کے ساتھ جس میں میرے والد بھی تھے۔ ابن صیاد کی طرف تشریف لے گئے۔ وہ اس وقت بنی مغالہ کے محلوں کے پاس لڑکوں میں کھیل رہا تھا اور ایام بلوغت کے قریب سن میں تھا۔ حضور اکرم ﷺ نے اپنا مبارک ہاتھ اس کی پشت پر رکھا اور فرمایا کیا تو اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ میں خدا کا رسول ہوں۔ اس نے آپ کی طرف دیکھا اور کہا میں اس بات کی شہادت دیتا ہوں کہ آپؐ اللہ کے رسول ہیں۔ یعنی عرب کے پھر ابن صیاد نے کہا کیا تم شہادت میری رسالت پر دیتے ہو۔ حضور ﷺ نے اس سے قطع کلام کرتے ہوئے فرمایا۔ ”آمنت بالله وبرسوله“ پھر ابن صیاد سے پوچھا کیا معلوم ہوتا ہے۔ تجھ کو اس نے کہا مجھ کو خبر دینے والا کبھی سچ بولتا ہے اور کبھی جھوٹ۔ حضور ﷺ نے فرمایا تجھ پر سچ اور جھوٹ خلط کر گیا ہے۔ اس کے بعد فرمایا میں نے کوئی چیز تجھ سے پوشیدہ کر رکھی ہے۔ وہ آیت تھی۔ ”يوم تاتي السماء بدخان مبین (دخان:١٠)“ اس نے جواب دیا دخ ہے آپ نے ڈانٹ کر فرمایا دور ہو ہرگز نہ بڑھے گا تو اپنے قدر سے۔ عمرؓ عرض کرتے ہیں یا رسول اللہ ﷺ مجھ کو اجازت دیجئے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔ حضور ﷺ نے جواب دیا یہ لڑکا اگر وہ ہے تو تو اس پر مسلط نہیں ہوسکتا اور اگر وہ نہیں تو اس کے قتل میں کچھ فائدہ نہیں۔
ابن عمرؓ روایت کرتے ہیں کہ اس کے بعد نبی ﷺ ابی بن کعب انصاریؓ کے خرما کے باغ میں تشریف لے گئے۔ جس میں ابن صیاد بھی موجود تھا۔ حضور ﷺ درختوں کی آڑ میں چھپ کر چاہتے تھے کہ ابن صیاد سے کچھ سنیں۔ کیونکہ وہ اس وقت بستر پر لیٹا ہوا خفی آواز میں کچھ گنگنا رہا تھا۔ ابن صیاد کی ماں نے حضور ﷺ کے اس ارادے کو سمجھ کر آواز دی اے صاف (یہ اس کا نام تھا) یہ محمد ﷺ ہیں۔ چنانچہ وہ چپ ہو گیا۔ حضور اکرم ﷺ نے وہیں کھڑے ہو کر ایک عام خطاب کیا۔ آپ نے خدا کی حمد و ثناء کے بعد دجال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ تمام انبیاء اپنی اپنی امتوں کو دجال سے ڈراتے گئے ہیں۔ نوح علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو ڈرایا۔ ولیکن میں تمہیں اس بارہ میں ایسی امتیازی بات کہوں گا جو کسی نبی نے نہیں کہی۔ جان لو کہ وہ دجال کانا ہو گا اور اللہ تعالیٰ اس سے منزہ و برتر ہے۔
(مسلم ج ٢ ص ٣٩٨، ذکر ابن صیاد)
چنانچہ ابوبکرؓ صحابی بیان کرتے ہیں ہم نے سنا کہ مدینہ کے یہود میں ایسا ہی ایک لڑکا پیدا ہو چکا ہے۔ اس لئے میں اور زبیر بن العوامؓ ملکر دونوں اسے دیکھنے کو گئے۔ چنانچہ ہم نے سب علامات اس میں اور اس کی والدہ میں ویسی ہی پائیں۔ جیسی کہ حضور ﷺ نے بیان فرمائی تھیں۔ یہ حلیہ دجال جس کی آپ نے پہلے خبر دی تھی۔ جب صحابہ نے ابن صیاد پر بمعہ اس کے والدین کے منطبق پایا تو یقین کر لیا کہ ابن صیاد ہی دجال ہے۔ اسی لئے عمرؓ نے اسے قتل کرنے کی اجازت مانگی۔ مگر آنحضرت ﷺ نے اجازت نہ دیتے ہوئے فرمایا۔
”ان یکن ہو فلست صاحبہ وانما صاحبہ عیسیٰ ابن مریم والا یکن ہو فلیس لک ان تقتل رجلا من اہل العہد“
یعنی اگر یہ دجال ہے تب تو اس کا قاتل نہیں۔ کیونکہ بجز عیسیٰ ابن مریم کے اس کا کوئی قاتل نہیں اور اگر یہ ابن صیاد نہیں تو اہل ذمہ میں سے ایک شخص کا قتل کر دینا تم کو سزاوار نہیں۔
ناظرین ! یہ ہیں وہ واقعات جن سے کذاب قادیان نے ازالہ اوہام کو طرح طرح کے چکموں سے پر کرتے ہوئے دجل کی مشین چلا کر اردو خواندہ لوگوں کو دھوکہ دیا اور روس اور برطانیہ کو یاجوج ماجوج اور پلیگ کو دابۃ الارض اور پادریوں کو دجال کا خطاب دیا۔ حالانکہ فرمان رسالت کی رو سے دجال ایک ہی شخص ہو گا اور اسے سوائے مسیح ابن مریم کے کوئی دوسرا قتل نہ کر سکے گا اور وہ تلوار سے قتل کیا جائے گا نہ کے دلائل سے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی مسیح موعود نہیں کیونکہ مسیح کو دجال شخص کا قاتل ہونا چاہئے اور یہ بھی یاد رہے کہ حدیث کا مطلب ظاہر پر محمول ہو گا۔ یعنی کوئی تاویل قابل قبول متصور نہ کی جائے گی۔ اس لئے کہ جناب عمرؓ نے جب قتل
کی اجازت مانگی تو یتیم مکہ نے یہ نہیں فرمایا کہ اس کو دلائل سے قتل کرو، اور ایسا ہی مرزا قادیانی یہاں ایک اور چکمہ دیا کرتے ہیں۔ وہ یہ کہ عبداللہ بن عمرؓ نے ابن صیاد کے دجال ہونے پر ”مــــا اشک“ یعنی میں شک نہیں کرتا کہا یہ باپ بیٹوں یعنی جناب عمرؓ اور ابن عمرؓ کے ذاتی خیالات اس بناء پر تھے کہ وہ ابن صیاد کو ان بین علامات سے متصف سمجھتے تھے۔ جو اس پر پورے طور سے فرمان رسالت کے موجب ان کے اجتہاد میں منطبق ہوئی تھیں۔ اس کے بعد جب انہیں بقیہ نشانات بتلا گئے۔ یعنی وہ مکہ اور مدینہ میں نہ جاسکے گا۔ وہ خراسان سے خروج کرے گا اور اس کا قاتل مسیح ابن مریم ہوگا وغیرہ تو جناب عمرؓ کو اپنی غلطی کا پورا پورا یقین ہوا۔ چنانچہ ذیل کی حدیث ہمارے اس بیان کی موید ہے۔
”عن ابن عباس قال خطب عمر بن الخطاب وكان من خطبه وانه سيكون من بعد كم قوم يكذبون بالرجم وبالدجال وبالشفاعة وبعذاب القبر“ جناب عمرؓ کا خطبہ دیتے ہوئے یہ فرمانا کہ تمہارے بعد ایک ایسا گروہ پیدا ہوگا جو رجم اور دجال اور شفاعت اور عذاب قبر کا منکر ہوگا۔
بھائیو! یہ تمام باتیں مرزائیوں میں موجود ہیں۔ باوجودیکہ وہ بڑی خلافتوں کے دعویدار ہیں۔ مگر آج تک رجم کا نام بھی نہیں سنا اور شفاعت مرزا کے وہ قائل ہیں اور عذاب قبر کے وہ منکر ہیں اور طرح طرح سے اس پر اصرار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کوئی قبر کھود کر عذاب قبر تو بتا دو۔ نیز وہ دجال شخصی کے منکر ہیں۔ گویا جناب عمرؓ کا یہ خطاب آج تیرہ سو برس بعد پورا نظر آ رہا ہے اور کیوں نہ آئے۔ جب کہ ان کے متعلق ایسی ہی روایات ملتی ہیں۔ چنانچہ عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں۔ جس شے کی نسبت کہتے ہیں کہ میں اسے ایسا خیال کرتا ہوں وہ ویسی ہی نکلتی ہے۔ قیس بن خارقؓ کہتا ہے کہ ہم آپس میں تذکرہ کیا کرتے ہیں کہ عمرؓ کی زبان پر فرشتہ بول رہا ہے۔
ایک مزے کی چیز بھی یہاں کہہ دوں وہ یہ کہ مرزا قادیانی نے صرف اس لئے کہ چونکہ میں نے مسیح موعود کا دعویٰ کیا ہے۔ لہٰذا لوگ سوال کریں گے کہ دجال کہاں ہے۔ اس لئے دجال شخصی کی تکذیب کرتے ہوئے بیچارے پادریوں کو دجال کا خطاب جڑتے ہوئے ابن صیاد کی بریت کی ولیکن افسوس انہوں نے ابن صیاد کے دلائل کو نظر انداز کردیا۔ چنانچہ وہ دجال شخصی کا قائل ہوتے ہوئے مندرجہ ذیل طریق سے اپنی بریت بیان کرتا ہے اور فقیر کے خیال میں یہی مرزائیوں کے لئے اکسیری سرمہ ہے۔ کاش وہ اس کو استعمال کر کے مرزا قادیانی کی تصریحات کا مطالعہ کریں۔ پس سنئے ابن صیاد مکہ اور مدینہ کی راہ میں ابو سعیدؓ سے ملاقی ہوا اور تعجب کیا۔
میں بڑا تعجب کرتا ہوں ان لوگوں سے جو مجھے دجال سمجھتے ہیں۔ کیا تم نے نہیں سنا رسول خداﷺ سے کہ دجال لاولد ہوگا اور میں صاحب اولاد ہوں اور دجال کافر ہوگا اور میں مسلمان ہوں اور دجال مکہ اور مدینہ میں داخل نہ ہوسکے گا اور میں مدینہ سے آ رہا ہوں اور مکہ جاتا ہوں۔ اس کے بعد ابوسعید خدریؓ فرماتے ہیں کہ مجھ سے کہنے لگا کہ میں قسمیہ کہتا ہوں اور اس میں کچھ شک بھی نہیں کہ میں جانتا ہوں محل پیدائش اس کی کو اور مکان اس کے کو اور کہاں ہے۔ وہ ابوسعیدؓ فرماتے ہیں کہ مجھ کو اس نے اشتباہ میں ڈال دیا۔
(رواہ مسلم ج٢ ص٣٩٧، باب ابن صیاد)
اور ایسا ہی جابر بن عبداللہؓ کو جب محمد بن منکدرؒ نے کہا کہ تم حلفاً ابن صیاد کو دجال کیوں کہتے ہو تو جابر بن عبداللہؓ نے جواب دیا میں نے سنا ہے عمرؓ کو حلف اٹھاتے سرور دو عالمﷺ کے پاس اور حضورﷺ نے اس کو نہ روکا۔
(مسلم ج٢ ص٣٩٨، باب ابن صیاد)
اس سے ثابت ہوا کہ حضرت جابرؓ کا حلفی طور پر ابن صیاد کو دجال کہنا صرف اس بناء سے تھا کہ عمرؓ حلف اٹھاتے تھے۔ ولیکن حضرت عمرؓ کی حلف اپنے اجتہادی زعم پر تھی۔ کیونکہ علامات ابن صیاد پر منطبق ہوتے تھے اور ابھی پورے علامات سنے بھی نہ تھے اور جناب رسالت پناہی کا عمرؓ کو نہ روکنا اس لئے تھا کہ انہوں نے اپنے غالب ظن کی وجہ سے حلف اٹھائی تھی۔
غرضیکہ مرزا قادیانی نے اپنی شخصی و درپیش مصلحتوں سے مجبور ہوکر حدیث صحیحہ سے انکار کیا اور انہیں خواہ مخواہ شبہات واستعارات کے ہیر پھیر میں لے گئے۔ صاف وبین مطالب کو آنکھ مچولی کرتے ہوئے کچھ کا کچھ بنا دیا اور جہاں کہیں اپنے مفید مطلب ایک لفظ بھی مل گیا۔ جھٹ اپنے پر چسپاں کر لیا اور ڈنکے کی چوٹ اپنے اخبار البدر سے منادی کر دی کہ دیکھو فلاں کتاب میں فلاں بزرگ نے میری تائید میں پہلے ہی لکھ دیا ہے۔ سادہ فہم اور اردودان اصحاب کی جانے بلا کہ کتاب مذکور میں بزرگ مذکور نے کیا لکھا۔ وہ مرزا قادیانی کی مشاقی میں آگئے اور یقین کرلیا کہ بروزی نبی ہے۔ رودر گوپال جے سنگھ بہادر جھوٹ تھوڑا ہی بولتے ہیں۔ ادھر ہمارے علماء کرام کا کچھ نہ پوچھئے۔ اکثر تو نام کے مولوی اور علم سے محض کورے مادرزاد عالم تھے۔ بیٹا مسند نشین ہوا تو باپ کے علم وفضل کا ڈھنڈورا پیٹنے پر اکتفاء کر بیٹھا اور جب پوتے پہ نوبت آئی تو کتابیں بیچ کر شکم پروری کی اور جو فاقوں نے تنگ کیا تو مست قلندر بنے اور ارادت کیشوں پر دھرنا گاڑ بیٹھے۔ آہ! زمانے میں علم وفضل کے متلاشی نہ رہے اور صاحب علم خال خال رہ گئے اور پھر مرزا قادیانی کے زمانہ میں جب کہ قرآن کریم کے اردو تراجم پر کافر کا خطاب ملنے لگا۔
ذیل کا ایک واقعہ مرزا قادیانی کی اس بات پر دال ہے کہ یہ بھینگا نبی کس طرح اپنے مفید مطلب دلائل بنا کر لوگوں کو الو بنالیا کرتے تھے۔
(ایام صلح ص ١٤٨، خزائن ج ١٤ ص ٣٨٢، ٣٨٣) کتاب اقتباس الانوار مصنفہ شیخ محمد اکرم صابری کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے آپ کو بروزی طور پر مسیح ابن مریم ثابت کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
”تصرف کرنے سے روح کسی کامل کی صاحب ریاضت ومجاہدہ پر اور نزول مسیح عبارت اسی بروز سے مطابق ہے۔ ”لا مهدی الا عیسیٰ بن مریم“ کے یعنی روح عیسوی مہدی آخر الزمان میں ...... متصرف ہو گئی۔“
اب آئیے اصل کتاب کو ملاحظہ کریں۔
(کتاب اقتباس الانوار ص ٥٢،٥٣) جناب شیخ محمد اکرم صابری مندرجہ بالا قول کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں۔ ”وایں مقدمہ بغایت ضعیف است“
”وایں روایت برقول کسے است کہ میگوید مهدی همیں عیسیٰ علیه السلام است وتمسك میکند بایں حدیث لا مهدی الا عیسیٰ بن مریم وجواب ایں حدیث محمول است برحذف مضاف ای لا مھدی بعد المھدی المشهور الذی ھو من اولاد محمد ﷺ وعلی علیه السلام الا عیسیٰ علیہ السلام“
ناظرین انصاف کیجئے کہ شیخ مذکور نے کسی کا قول نقل کرتے ہوئے تردید کی۔ مگر مرزا قادیانی کو اس سے کیا کام۔ انہوں نے جھٹ وہ تردیدی قول اڑا لیا اور اپنی صداقت پر جڑ ڈالا۔ ایک اور لطف کی بات کہہ دوں۔
”میرے دعویٰ کا ٹوٹنا صرف اسی صورت میں متصور ہے کہ وہ اب آسمان سے اتر ہی آوے۔ تا میں ملزم ٹھہر سکوں۔ آپ لوگ اگر سچ پر ہیں تو سب مل کر دعاء کریں کہ مسیح ابن مریم جلد آسمان سے اترتے دکھائی دیں گے۔ اگر کوئی کہے کہ اہل حق کی دعائیں اہل باطل کے مقابل قبول ہونی ضروری نہیں ورنہ لازم آتا ہے کہ ہندوؤں کے مقابل مسلمانوں کی دعاء قیامت کے بارہ میں قبول ہو کر ابھی قیامت آجائے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ مقرر ہو چکا ہے کہ قیامت سات ہزار برس گزرنے سے پہلے واقع نہیں ہوسکتی اور ضرور ہے کہ خدا اسے روکے رکھے۔ جب تک وہ ساری علامتیں کامل طور پر ظاہر نہ ہو جائیں۔ جو حدیثوں میں لکھی گئی ہیں۔ لیکن مسیح کے ظہور کا وقت تو یہی ہے۔ ...... اور وہ تمام علامتیں بھی پیدا ہوگئیں۔ جن کا مسیح کے وقت پیدا ہونا ضروری تھا۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٦٣، خزائن ج ٣ ص ٣٤٧)
تو مشق ناز کر خون دو عالم میری گردن پر
آقائے نامدار محمد مصطفیٰ ﷺ کے سامنے مرزا قادیانی کی طرح اکثر کفار عرب بڑے طرار ایسے ہی بیہودہ سوال کرتے کہ اے محمد ﷺ اگر تو سچا ہے تو اپنے رب سے سوال کر کہ قیامت جس کا تو اکثر تذکرہ کرتے ہوئے ڈرایا کرتا ہے ابھی آجائے۔ جیسا کہ قرآن شاہد ہے۔ ”ویقولون متی هذا الوعد انکنتم صدقین (یسین:٤٨)“ اس کے جواب میں سرکار مدینہ ﷺ کی زبان فیض ترجمان ہمیشہ یہ جواب دیتی ”قل انما العلم عند الله وانما انا نذير مبين . فلما راوه زلفة سيئت وجوه الذين كفروا وقيل هذا الذى كنتم به تدعون (ملك:٢٦، ٢٧)“ ﴿اور کہتے ہیں کب ہوگا یہ وعدہ اگر تم سچے ہو۔ (تو فرمایا) کہہ دے تحقیق علم اللہ کو معلوم ہے اور تحقیق میں ایک ظاہر ڈرانے والا ہوں پس جب دیکھیں گے کہ وہ ساعت قریب آگئی تو ان کے چہرے سکڑ جائیں گے اور منہ سیاہ ہو جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ یہی ہے وہ جس کو تم پکارا کرتے تھے۔﴾
اور ایسا ہی حضور ﷺ کا بعثت ثانی کی خبر دینا اور کفار کا استہزاء کرتے ہوئے بغلیں جھانک کر جواب دینا۔ جس کا قرآن شاہد ہے۔ ”وقالوا اذا كنا عظاماً ورفاتا اءنا لمبعوثون خلق جديدا (بنی اسرائیل: ٤٩) “ ﴿کفار تعجب سے اظہار کرتے تھے کہ جب ہم مر جائیں گے اور ہماری ہڈیاں گل سڑ جائیں گی۔ پھر ہم کو کس طرح نئی پیدائش میں اٹھایا جائے گا۔﴾
اور مرزا قادیانی کا یہ چقمہ کہ نزول مسیح کو قیامت پر قیاس نہ کیا جائے۔ کیونکہ وہ آچکا کتنا بودا اور مضحکہ خیز ہے۔ اس لئے کہ آثار قیامت تو ابھی شروع ہی نہیں ہوئے۔ کیا قیامت خیز زلزلے جن کی خبر قرآن پاک نے دی آچکے۔ یاجوج ماجوج نے خروج کرلیا۔ دابۃ الارض نکل آیا۔ امام مہدی کا ظہور ہوچکا۔ دجال ناپاک کی چیرہ دستیاں شروع ہوگئیں؟ یہ کیا بیہودگی ہے کہ علامات تو ابھی منصہ شہود سے غائب ہوں اور مسیح ابن مریم کے لئے نزول من السماء کی دعاء پہلے ہی شروع کردی جائے اور یہ کیا حماقت ہے کہ میں ہی مسیح ابن مریم ہوں۔ مرزائیو اگر کوئی دھریہ تم سے بضد ہو کہ جب خدا حاضر ناظر اور ہر جگہ موجود ہے تو دکھلا کیوں نہیں دیتے کیا جواب دو گے اور اگر کوئی مسلمان تمہارے مرزائی فرشتوں کے دید کا تقاضہ تمہارے مرزا سے کرتا تو وہ کیا جواب دیتے۔ جنات جن کا ذکر قرآن شریف اور حدیث صحیحہ میں تواتر سے موجود ہے۔ کسی کے تقاضہ پر ان کے وجود کو دکھا سکتے ہو۔ دور کیوں جاؤں اپنے سچے مدعی کو مجسم طور پر پیش کر سکتے ہو۔ تقاضہ تو
وہ چاہئے جس کا موقعہ اور محل ہو۔ یہ کیا ہے کہ علامات قیامت کو اپنی صداقت منوانے کے لئے قبل از قیامت ہی طلب کیا جا رہا ہے۔ قرآن کریم کو دیکھو وہ نزول مسیح کا وقت ”وانه لعلم للساعة“ بتا رہا ہے۔ یعنی مسیح ابن مریم قیامت کے نشانات میں سے ایک نشانی ہے۔ کیا قیامت آچکی جو اس نشانی کا تقاضہ ہو رہا ہے۔ کچھ شرم کرو!
اور عمر زمانہ پر تحدی سے سات ہزار سال کہنا یہ بھی نادانی ہے۔ کیونکہ رحمت عالمﷺ نے یہ بھی تو فرمایا ”لا يجليها لوقتها الا هو (اعراف: ١٨٧)“ ﴿نہیں جانتا اس کے وقت معین کو مگر وہ خود۔﴾ یعنی اللہ اور ایسا ہی اکثر احادیث میں علم قیامت سے لاعلمی ظاہر فرمائی اور بخاری شریف کی اس حدیث کو دیکھو جو امیر عمرؓ نے بیان کی۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ سرکار مدینہﷺ نے ہم میں کھڑے ہو کر ابتدائے آفرینش سے لے کر انتہاء تک ذکر فرمایا۔ حتیٰ کہ اہل جنت کو جنت میں اور اہل نار کو جہنم میں داخل کر دیا۔ با ایں ہمہ مکاشفہ عالیہ کے قیامت کے بارہ میں یہ سوال جبرائیل علیہ السلام نے یوں فرمایا۔ ”ما المسئول عنها باعلم من السائل (بخاری ج ١ ص ١٢، باب سوال جبرائیل النبیﷺ)“ ﴿جس سے سوال کیا گیا ہے وہ سائل سے اعلم نہیں۔ یعنی جیسے سائل کو پتہ نہیں ایسے مسئول عنہا کو بھی پتہ نہیں۔﴾
اور کیا حدیث معراج بھول گئی اور بھولی کیوں نہ جب کہ معراج کے قائل ہی خیر سے نہیں۔ جس میں مسیح ابن مریم کے قیامت کے قرب میں نازل ہونے کا وعدہ الٰہی بیان فرمایا اور مسیح ابن مریم کے رفع السماء پر حرف گیری کرنا شیوہ اسلام نہیں۔ دہریت اور نیچریت ہے۔ کیونکہ قرآن وحدیث سے روز روشن کی طرح ثابت اور تواتر قومی سے چلا آتا ہے۔ ہاں ایمان بالغیب چاہئے۔ اومرزائیو! خرافات مرزا سے تھوڑی مدت کے لئے کنارہ کشی اختیار کرو اور کتب مصدقہ اسلام کا مطالعہ کرو۔ جس میں صعود السماء کی بیسیوں مثالیں موجود ہیں۔ چنانچہ ان میں سے چند ایک تمہاری کورچشمی کے لئے درج کرتے ہیں۔
(شرح الصدور ص ١٧٢) ترجمہ: علامہ جلال الدین سیوطیؒ لغایۃ المعتقدین سے بروایت یافعی شیخ عمر بن فارض مکی کا چشم دید واقعہ نقل کرتے ہیں کہ شیخ عمرؒ ایک ولی اللہ کے جنازہ پر جا پہنچے فرماتے ہیں کہ جب کہ ہم نماز جنازہ ادا کر چکے تو کیا دیکھتے ہیں کہ اس قدر سبز جانور آسمان سے اترے ہیں کہ ان سے آسمان چھپ گیا۔ پس ان میں سے ایک بڑا جانور الگ نیچے اترا اور اس نے اس ولی اللہ کو اس طرح نگل لیا۔ جیسے کہ جانور ایک دانے کو نگل لیتا ہے اور آسمان کی طرف اڑ گیا۔ شیخ عمرؒ فرماتے ہیں کہ میں اس واقعہ سے متعجب ہوا۔ لیکن اتنے میں ایک شخص میرے سامنے آگیا
جو وہ بھی آسمان سے اترا تھا اور نماز میں شریک ہوا تھا۔ اس نے کہا کہ اے عمر اس واقعہ سے تعجب نہ کر۔ کیونکہ وہ شہید جن کی روحیں جنت میں سبز جانوروں کی حواصل میں رہتی ہیں۔ وہ تلوار کے شہید ہیں۔ لیکن محبت کے شہیدوں کے روح کا حکم رکھتے ہیں۔
شیخ سیوطیؒ فرماتے ہیں کہ اسی کے مشابہ ہے وہ قصہ جس کو ابن ابی الدنیا نے ذکر موتیٰ میں زید بن اسلم سے روایت کیا ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص عابد وزاہد پہاڑ کے غار میں خدا کی عبادت کیا کرتا تھا اور دنیا کے لوگوں سے کنارہ کش اس کے زمانہ کے لوگ قحط کے دنوں میں اس سے دعاء منگوایا کرتے تھے اور اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ ان پر ابر رحمت برسایا کرتا تھا اتفاقاً وہ فوت ہوگیا۔ لوگ اس کے غسل کی تیاری کرنے لگے کہ ناگہاں ایک تخت آسمان کی بلندی سے اترتا ہوا نظر آیا۔ یہاں تک کہ ولی اللہ کے نزدیک آ پہنچا اور ایک شخص نے کھڑے ہوکر اس تخت کو پکڑ لیا اور اس ولی اللہ کو تخت پر رکھا اور وہ تخت آسمان کی طرف اٹھایا گیا اور لوگ دیکھتے رہے کہ وہ ہوا میں اڑا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ان سے پوشیدہ ہو گیا۔
علامہ سیوطیؒ لکھتے ہیں کہ اس کا موید وہ واقعہ ہے۔ جس کو بیہقی اور ابو نعیم نے دلائل النبوۃ میں بروایت عروہ بن مسعود نقل کیا ہے کہ عامر بن فہیرہ غلام ابی بکرؓ معونہ کے دن شہید ہوا اور عمر بن امیہ الضمریؓ نے بچشم خود دیکھا کہ وہ اس وقت آسمان کی طرف اٹھایا گیا۔ چنانچہ یہی عجیب وغریب واقعہ ضحاک بن سفیانؓ کے اسلام کا باعث ہوا اور عامر بن فہیرہؓ کے قتل کا اور رفع کا چشم دید واقعہ اور اس پر اپنا اسلام لانا آنحضرتﷺ کی طرف لکھا اس پر آنحضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ملائکہ نے عامر بن فہیرہ کے جسم کو چھپا لیا اور اس کو علیین پر جا اتارا اور یہی قصہ ابن سعد اور حاکم نے کبیر میں بطریق عروہ حضرت عائشہؓ سے بھی روایت کیا کہ عامر بن فہیرہ آسمان کی طرف اٹھایا گیا اور ملائکہ نے اس کے جسم کو چھپالیا اور عامر بن طفیل اپنا چشم دید واقع بیان کرتا ہے۔ اس نے عامر بن فہیرہ کا آسمان کی طرف اٹھایا جانا دیکھا۔
اور اسی طرح خبیب بن عدی کی نسبت احمد اور ابو نعیم اور بیہقی نے بروایت عمر بن امیہ بن الضمری روایت کی۔ شیخ سیوطی فرماتے ہیں کہ ابو نعیم کے نزدیک خبیب بن عدی کا آسمانوں کی طرف مرفوع ہونا قطعی ہے۔ چنانچہ ابو نعیم نے جواب وسوال کی صورت میں کہا ہے کہ اگر یہ کہا جائے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں کی طرف اٹھائے گئے ہیں تو ہم کہیں گے کہ ہمارے نبیﷺ کی امت میں سے ایک قوم آسمانوں کی طرف اٹھائی گئی اور یہ امر عیسیٰ علیہ السلام کے رفع سے بھی عجیب تر ہے اور اس کے بعد عامر بن فہیرہ اور خبیب بن عدی اور علا بن حضرمی کا قصہ بیان کیا۔
اس کے بعد شیخ سیوطیؒ ایک مشہور حدیث سے جس کو نسائی اور بیہقی اور طبرانی وغیرہ ہم نے بروایت جابر تخریج کیا ہے۔ ان واقعات رفع کے غیر محال اور ممکن الوقوع ہونے پر استدلال کر کے کہا کہ غزوہ احد میں جب کہ حضرت طلحہؓ انگلیوں کے زخم کے درد سے کلمہ حس جو عرب کے محاورہ میں شدت درد کے وقت زبان سے نکلتا ہے۔ تو اس وقت آنحضرت ﷺ نے حضرت طلحہؓ سے خطاب کر کے فرمایا کہ اے طلحہؓ اگر تو بجائے کلمہ حس کے بسم اللہ کہتا تو ملائکہ بالضرور تجھے اٹھا لے جاتے اور لوگ تیری طرف دیکھتے رہ جاتے یہاں تک کہ تو وسط آسمان میں جا پہنچا۔
مرزائے قادیانی بلا کے دور اندیش ہر چھوٹے بڑے سانچے میں ڈھل جانے والے۔ باتوں ہی باتوں میں زمین کے قلابے اور آسمان کے ستارے توڑ لانے والے اور لطف یہ کہ سیمابی فطرت کے مالک ہوئے ہیں اور یہ تمام باتیں جو آپ ان کی زبان سے سن رہے اور تمام وہ جدتیں جن کا وہ بار بار اعادہ کرتے ہیں۔ ان کی اپنی ایجاد نہیں۔ یہ تمام اوہام اور مغالطے ان سے قبل ان کے ہم مشرب بزرگ دے کر جوابدہی کے لئے معہ اپنے چیلوں چانٹوں کے بڑی سرکار میں پہنچ چکے ہیں۔ مرزا قادیانی ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اس بوسیدہ دستر خوان کی ریزہ چینی کر رہے ہیں۔ مگر ایک امتیازی چیز آپ کی بزرگی اور شوخ طبعی کی مرہون احسان ہے۔ وہ یہ کہ مرزا قادیانی کی قماش کے لوگوں نے جب ہوس زری و ملک گیری کی تو انہیں مہدی معہود بننے کی سوجھی۔ دنیا جانتی ہے اور تاریخ شاہد ہے کہ ان کے اس دعوے نے بڑی بڑی سلطنتوں کو برسوں تگنی کا ناچ نچایا۔ دور کیوں جائیں مرزا قادیانی کے عہد بروز میں ہی محمد احمد سوڈانی نے حکومت مصر اور برطانیہ دونوں کا دم ناک میں کر دیا۔ چھ سو میل کا وہ تمام علاقہ جو مصر کے زیر نگیں تھا۔ محمد احمد کے زیر تسلط ہو گیا۔ یہ تو سوڈان میں ہو رہا تھا۔ ادھر پنجاب میں مرزا قادیانی کے الہامی کارخانے پورے زور سے صبح و شام چل رہے تھے۔ جس میں اعلیٰ قسم کے باریک مکاشفات اور سبز گلابی خوابیں اور عمدہ قسم کی مضبوط پیش گوئیاں بنی جا رہی تھیں۔ غرضیکہ جو سوت اور رنگ اس کارخانہ میں خرچ ہوتا تھا۔ اس کا مقابلہ دوسرے طرہ نہ کر سکتے تھے۔ مرزا قادیانی کے کارخانے میں ایک امتیازی چیز ایسی تھی۔ جو دوسرے متنبئین سے جدا گانہ تھی اور اس کے لئے ہم مرزا قادیانی کے کمال مطالعہ فکر و سوچ و بچار کی داد دیتے ہیں۔ وہ یہ کہ ان کے علم و تدبر نے انہیں یقین دلایا کہ مہدی معہود کہلانے والے منزل مقصود کو نہ پاسکے۔ دنیا نے ان کا ساتھ نصف صدی سے زائد نہ دیا۔ آخر جاء الحق وزھق الباطل ہو گیا۔ اس لئے درمیانی منزل کو ہی اڑا دینا چاہئے۔ چنانچہ انہوں نے زمان مہدی سے نہ صرف انکار کیا۔ بلکہ مہدی اور مسیح دونوں کو ایک ہی شخصیت میں مدغم کرتے ہوئے دعویٰ کر دیا کہ
دیکھو حدیث دارقطنی میں آیا ہے۔ ”لا مہدی الا عیسیٰ“ یعنی مہدی کوئی نہیں سوائے عیسیٰ کے اس لئے وہ میں ہی ہوں۔ ذیل میں رحمت عالم کی وہ پیش گوئیاں جو نواب صدیق الحسن خاں والی بھوپال نے جمع فرمائیں بیان کرتے ہیں۔ جس سے مرزا قادیانی کی پارسائی، بروزیت، مہدویت، مسیحیت کا نشہ ہرن ہو جائے گا۔ کیونکہ رحمت عالم کو خدا کے بعد امت ہی محبوب ہے۔ یہی وجہ ہے جو سرکار دوعالم نے قیامت تک کے واقعات کو نہایت شرح وبسط سے بیان فرمایا تا کہ کوئی شقی انہیں گمراہ نہ کر سکے اور کسی باتونی کا چقمہ امت کی گمراہی کا موجب نہ بنیں۔ اس لئے قرآن کریم نے ”رحمت اللعالمین (انبیاء: ١٠٧) رؤف الرحیم (نور: ٢٠) کافۃ للناس، بشیراً ونذیراً (سباء: ٢٨)“ ”شاھداً ومبشر نذیر وداعیاً الی اللہ باذنہ وسراج منیراً (احزاب: ٤٥، ٤٦)“ کے خطابات سے یاد کرتے ہوئے اخلاق حمیدہ اور صفات ستودہ سے نوازا۔ چنانچہ ان ہزاروں صفات سے ہم صرف ایک کی جانب اس وقت توجہ دلاتے ہیں۔
”حریص علیکم بالمؤمنین رؤف الرحیم (توبہ: ١٢٨)“ مسلمانو! آقائے نامدار محمد مصطفے ﷺ کی ذات گرامی پر کم از کم دس مرتبہ درود بھیج کر ذیل کا مضمون پڑھو۔ کیونکہ یہ آپ کی کمال شفقت ومہربانی خیر خواہی وہر دل عزیزی کا صدقہ ہے۔ جو کہ صرف اس لئے کہا گیا ہے کہ امت مرحومہ کسی کے دھوکہ وفریب کا شکار نہ ہو جائے۔
تعارف مہدی موعود
- ......١ قریب ظہور مہدی کے دریائے فرات کھل جائے گا اور اس میں سے ایک
سونے کا پہاڑ ظاہر ہوگا۔
(مسلم ج ٢ ص ٣٩١، کتاب الفتن واشراط الساعۃ )
- ......٢ آسمان سے ندا آئے گی ۔”الا ان الحق فی ال محمد“ اے لوگو حق
آل محمد ﷺ میں ہے۔
(الاشاعۃ لاشراط الساعۃ ص ٢٠٠، البرزنجی )
- ......٣ مہدی کے پاس رسول اللہ ﷺ کا کرتہ شمشیر اور علم ہوگا اور یہ نشان بعد
آنحضرت ﷺ کے کبھی نہ نکلا ہوگا۔ اس جھنڈے پر لکھا ہوگا۔ ”البیعۃ للہ “ بیعت اللہ کے واسطے۔
(الاشاعۃ لاشراط الساعۃ ص ١٩٨، البرزنجی )
- ......٤ امام مہدی کے سر پر ایک بادل سایہ کرے گا۔ اس میں سے پکارنے والا
پکارے گا۔ ”ھذا المہدی خلیفۃ اللہ فاتبعوہ “ یہ مہدی خلیفہ خدا ہے اس کا اتباع کرو۔
(الحاوی للفتاوی المعروف العرف الوردی فی اخبار المہدی ص ٦١ )
- ٥...... ایک سوکھی شاخ خشک زمین میں لگائیں گے۔ وہ ہری ہو جائے گی۔ اس
میں برگ و بار آ جائے گا۔
(الاشاعۃ لاشراط الساعۃ ص ١٩٨، البرزنجی)
- ٦...... کعبہ کے خزانہ کو نکال کر تقسیم کر دیں گے۔
(الاشاعۃ لاشراط الساعۃ ص ١٩٩، البرزنجی)
- ٧...... دریا ان کے لئے یوں پھٹ جائے گا جیسا کہ بنی اسرائیل کے وقت پھٹا
تھا۔
(الاشاعۃ لاشراط الساعۃ ص ١٩٩، البرزنجی)
- ٨...... ان کے پاس تابوت سکینہ ہوگا۔ جسے دیکھ کر یہود ایمان لاویں گے مگر چند۔
(الاشاعۃ لاشراط الساعۃ ص ١٩٩، البرزنجی)
- ٩...... امام مہدی اہل بیت نبوی میں سے ہوں گے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں دنیا
ختم نہ ہوگی۔ یہاں تک کہ میرے اہل بیت سے ایک شخص جس کا نام میرے نام پر محمد ہوگا۔ دنیا کا مالک نہ ہو جائے اور ایسا ہی ایک دوسری حدیث (ابوداؤد ج ٢ ص ١٣١، باب کتاب المہدی) میں ہے۔ ”يواطی اسمہ اسمی واسم ابیہ اسم ابی“ اس کا نام میرے نام پر اس کے باپ کا نام میرے باپ کے نام پر ہوگا۔ یعنی ”محمد بن عبداللہ المہدی من عترتی من ولد فاطمہ (ابوداؤد ج ٢ ص ١٣١، کتاب المہدی) “اور ایسا ہی”حاکم ، ابن ماجہ (ص ٣٠٠، باب خروج المہدی) عن ام سلمہ “ مہدی میرے کنبہ میں سے فاطمہ کی اولاد سے ہوں گے۔
- ١٠...... مہدی کا مولد مدینہ طیبہ ہے۔
(رواہ ابونعیم عن علی کرم اللہ وجہہ الاشاعۃ لاشراط الساعۃ ص ١٩٤، البرزنجی)
- ١١...... مہدی کا مقام ہجرت بیت المقدس ہوگا۔
(الاشاعۃ لاشراط الساعۃ ص ١٩٤، البرزنجی)
- ١٢...... حلیہ صحیح حسب ذیل بیان فرمایا۔
گندم رنگ، کم گوشت، میانہ قد، کشادہ پیشانی، بلند بینی، کمان ابرو، دونوں ابروں میں فرق۔ بزرگ اور سیاہ چشم، سرمگین آنکھ، دانت روشن اور جدا جدا، داہنے رخسار پر تل، چہرہ نورانی ایسا روشن جیسا کہ کوکب دری، ریش گھنی، کشادہ ران، عربی رنگ، اسرائیلی بدن، زبان میں لکنت جب بات کرنے میں دیر ہوگی تو ران چپ پر ہاتھ ماریں گے۔ کف دست میں نبی کریم ﷺ کی نشانی ہوگی۔
(الاشاعۃ لاشراط الساعۃ ص ١٩٤، البرزنجی)
پیش گوئی سرکار دوعالم ﷺ
"عن حذيفة بن اسيد اشرف علينا رسول الله ﷺ ونحن نتذاكر الساعة قال لا تقوم الساعة حتى ترو عشر آيات طلوع الشمس من مغربها الدخان والدجال الدابة ياجوج ماجوج نزول عيسى ابن مريم....... الخ! (مسلم ج ٢ ص ٣٩٣ ، کتاب الفتن واشراط الساعة) ﴿جناب حذیفہ بن اسیدؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ ہمارے پاس تشریف لے آئے۔ دراں حالیکہ ہم صحابہ قیامت کا ذکر کر رہے تھے۔ آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ دس علامات سے پیشتر قیامت کا آنا ناممکن ہے۔ سورج کا مغرب سے طلوع کرنا۔ الدخان، دجال، دابتہ الارض یاجوج ماجوج نزول عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام۔﴾
او نیم یہودیو! گئے گذرے ایمان سے سینہ پر ہاتھ رکھ کر کہو کہ کیا یہ علامات سرکار مدینہ ﷺ نے یونہی بیان کردیں۔ کیا حضور ﷺ کی پیش گوئی یونہی رائیگاں جائے گی۔ کیا مہدی معہود رئیس قادیان ہی ہے اور وہ ان تمام اوصاف کا تو کیا کسی ایک کا بھی حامل ہے۔ کیا اس کے لئے یہ تمام واقعات ظہور پذیر ہوگئے۔ کیا اس کا چہرہ مہر متذکرہ حلیے سے ملتا جلتا ہے۔ آہ! تمہیں افسوس سے کہنا پڑے گا اور بجز اس اقرار کے اور کوئی دوسرا جواب ہی نہیں کہ مرزا قادیانی میں یہ چیزیں مفقود تھیں۔ ہاں یہ علیحدہ امر ہے کہ تم استعارہ مجاز ومحاورہ تشبیہ وظن میں ڈوب جاؤ اور عقیدت کو کوڑھ یا کھاج ہو جائے۔ مگر یاد رکھو اس الجھن سے کبھی نجات حاصل نہ کر سکو گے کہ مرزا قادیانی مہدی اور مسیح دونوں تو بن گئے۔ یعنی یا مظہر العجائب مسیحیت میں مہدویت غائب مگر یہ کیا تماشہ ہے کہ مسیح موعود اور مہدی معہود کے علامات نشانات ایک دوسرے سے بالکل جدا گانہ ہیں اور اسی پر بس نہیں مہدی کی جائے پیدائش ومقام ہجرت کے علاوہ حلیہ میں بہت سا فرق ہے۔ مہدی ماں اور باپ دونوں رکھتا ہے۔ مگر مسیح بلا باپ کے بطور نشان پیدا ہوئے اور اب آسمان سے نازل ہورہے ہیں۔ کاش تم لوگ کبھی ان باتوں کو ٹھنڈے دل سے سوچو کہ سرکار مدینہ ﷺ کو تم سے ہمدردی وخیرخواہی ہے یا حسد ودشمنی۔ انہیں کیا ضرورت تھی کہ ایک شخص کی آمد کو دو مختلف آدمیوں پر تقسیم کریں اور بار بار حلف اٹھائیں کہ خدا کی قسم یہ ضرور تشریف لائیں گے۔ لوگو! قیامت قائم ہی نہ ہوگی جب تک یہ پیش گوئیاں وقوع میں نہ آئیں۔ خبردار گمراہ نہ ہو جانا۔ جو کچھ کہہ دیا، وہ ضرور ہو کر رہے گا اور یہ بھی تو کہو کہ بھلا اگر مرزا ہی ایسا ویسا ہوتا تو انہیں کیا بخل تھا۔ وہ صاف بیان فرماتے ہیں کہ قادیان میں مرزا سندھی بیگ غلام احمد ولد غلام مرتضیٰ اور والدہ کا نام چراغ بی بی ہوگا۔ وہ ظلی اور بروزی نبی ہوگا۔ وہ علماء وقت کو نام بنام گن گن کر گندی گالیاں دے گا۔ تمام
امت کو ولد الحرام کتے اور سور بنائے گا۔ جہاد بند کرے گا۔ نصاریٰ کی غلامی کا دم بھرے گا۔ بہت سے چندے لگائے گا۔ ٹل منارہ تیار کرے گا اور بہشتی قبرستان بنائے گا اور بچوں کو اس میں دفن کرنے سے منع کرے گا۔ اپنی کلام کو قرآن کریم سے بلند تر یقین کرے گا اور لکھے غلط اشعار کہے گا اور انہیں اعجازی سمجھے گا۔ اس کے معجزات پلیگ ہیضہ اور زلزلے اور قحط ہوں گے۔ اس کے مکاشفات اس کے الہامات نیم دروں نیم بروں ہوں گے۔ اسے ان زبانوں میں الہام ہوں گے۔ جن کو وہ جانتا تک نہ ہوگا۔ اس کی وحی کا کاتب ہندو ہوگا۔ اس کے حاشیہ کے گواہ آریہ ہوں گے۔ اس کی خوارک کستوری زعفران، عنبر افیون، کچلے ولائتی بسکٹ اور ٹانک وائن وغیرہ ہوگی۔ کہاں تک لکھوں اور کیا کیا گنواؤں۔ خدارا سوچو سمجھو اور فہم وتدبر سے کام لو۔ کدھر جا رہے ہو کسے چھوڑتے ہو اور کسے قبول کرتے ہو۔ کیا یہی صراط مستقیم ہے کہ فخر دو عالم کے حلف اور پیش گوئیاں قابل اعتماد اور جزو ایمان نہ سمجھی جائیں اور قرآن وحدیث کو پس پشت ڈال کر کذاب قادیان کی خرافات واہیہ پر یقین کر لیا جائے۔ ذیل میں مسیح موعود کی بشارات وحلیہ ارشاد نبوی سے پیش کرتے ہیں۔ دیکھیں کون کون سعادت مند اسے قبول کرتا ہوا قرآن پاک سے پیار کرتا ہے۔
”واطيعو الله واطيعوا الرسول (مائدہ:٩٢)“ پر عمل کرو اور سچے دل سے غیر کی اطاعت کو چھوڑ دو۔ یقیناً تمہارا بھلا ہوگا اور شافع محشر تم سے پیار کریں گے اور اگر شومئی قسمت ہی رہے تو یاد رکھو وہ روز محشر اللہ میاں سے کہہ دیں گے۔
”وقال الرسول يا رب ان قومى اتخذوا هذا القرآن مهجورا“ ﴿یتیم مکہ ﷺ جناب باری میں کہہ دیں گے کہ یا اللہ یہ وہی قوم ہے جس نے قرآن کو ترک کر دیا تھا۔ ڈرو اس وقت سے جو ہے آنے والا ۔؎ جب حقیقی ماں بچے کو بھول جائے گی اور لوگ باؤلے ہو جائیں گے اور سوائے عرش اور لوائے محمد کے سایہ و ساتھی نہ ہوگا۔
بشارات مسیح ابن مریم علیہ السلام
- ١....... نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں۔ میرے اور عیسیٰ ابن مریم کے درمیان کوئی نبی
نہیں ہوا اور وہ تم میں ضرور نزول فرمائیں گے۔ جب ان کو دیکھو تو اس حلیہ سے پہچان لو۔ درمیانہ قد رنگ سرخ وسفید، لباس زردی مائل، گویا ان کے سر سے باوجود تر نہ کرنے کے پانی ٹپکتا ہوگا۔ وہ دین اسلام کے لئے لوگوں سے جنگ و قتال کریں گے۔ خدا تعالیٰ ان کے زمانہ میں تمام مذاہب کو محو کر دے گا۔ صرف اسلام باقی رہ جائے گا۔ وہ دجال کو ہلاک کریں گے اور زمین پر چالیس سال
تک قیام کریں گے۔ پھر وفات پائیں گے اور مسلمان ان کے جنازہ کی نماز پڑھیں گے۔
(ابوداؤد ج ٢ ص ١٣٥، باب خروج الدجال)
- ٢...... آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ ہمیشہ میری امت کی ایک جماعت حق پر
لڑتی رہے گی اور قیامت تک غالب رہے گی۔ پس عیسیٰ بن مریم اتریں گے۔ امیر جماعت کہے گا آئیے نماز پڑھائیے۔ فرمائیں گے نہیں تم ایک دوسرے کے امام ہو، خدا نے اس امت کو یہ بزرگی دی ہے۔ (مسلم ج ١ص ٨٧، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام) کی یہ حدیث جو بروایت جابرؓ ہے۔ واضح طور پر بیان مسلم کی دوسری حدیث کو جو بروایت ابوہریرہؓ مروی ہے۔ ”کیف اذا نزل فیکم ابن مریم وامامکم منکم“ یعنی وامامکم منکم سے دوسرا شخص عیسیٰ بن مریم کا مغائر مراد ہے نہ جیسا کہ مرزا قادیانی نے اپنے مطلب کے لئے دھوکا محکم ٹھونس کر اور ترجمہ میں امام بھی وہی جڑ دیا ہے۔
(مسلم ج ١ص ٨٧، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام)
- ٣...... جناب سرور دوعالم ﷺ فرماتے ہیں کہ میں شب معراج میں ابراہیم وموسیٰ
وعیسیٰ علیہم السلام سے ملا۔ قیامت کے بارہ میں گفتگو ہونے لگی۔ اس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اس تصفیہ کو رکھا گیا۔ انہوں نے کہا قیامت کے وقت کی خبر تو خدا تعالیٰ کے سوا کسی کو بھی نہیں۔ ہاں خدائے کریم نے میرے ساتھ یہ عہد کر رکھا ہے کہ قیامت سے قبل دجال نکلے گا اور میرے ہاتھ میں شمشیر برہنہ ہوگی۔ جب وہ مجھے دیکھے گا تو گویا پگھل جائے گا۔
(مسند احمد ج ١ ص ٣٧٥)
- ٤...... آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ مجھے اس وحدہ لاشریک کی قسم جس کے
قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ بے شک قریب ہے کہ ابن مریم تم میں حاکم عادل ہوکر اتریں گے۔ خنزیر کو قتل کریں گے۔ جزیہ کو اٹھادیں گے۔ مال کی اس قدر فراوانی ہوگی کہ اس کو کوئی قبول کرنے والا نہ ملے گا۔ یہاں تک کہ تمام دنیا اور اس کے مال واملاک سے خدا کے لئے ایک سجدہ کرنا بہتر معلوم ہوگا۔ اس حدیث کے راوی جناب ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ اگر تم ارشاد نبوی کے ساتھ ارشاد الٰہی بطور دلیل چاہتے ہو تو یہ آیت کریمہ پڑھو۔ ”وان من اھل الکتاب الالیؤمنن بہ قبل موتہ“ یعنی یہود ونصاریٰ میں سے باقی کوئی نہ رہے گا۔ جو جناب مسیح کی موت سے پہلے ایمان نہ قبول کرلے۔
(بخاری شریف ج ١ ص ٤٩٠، باب نزول عیسیٰ بن مریم علیہ السلام)
- ٥...... عیسیٰ علیہ السلام زمین پر چالیس سال قیام فرمائیں گے۔ اگر وہ پتھریلی
زمین کو کہہ دیں کہ شہد ہوکر بہہ جاؤ تو وہ بہہ چلے گی۔
(مسند احمد)
چنانچہ مندرجہ بالا احادیث کو جناب امام شوکانیؒ کتاب التوضیح میں درج فرماتے ہوئے انہیں متواتر کہتے ہیں۔
سیرت مسیح علیہ السلام
عیسیٰ علیہ السلام جامع مسجد دمشق میں مسلمانوں کے ساتھ نماز عصر پڑھیں گے۔ پھر اہل دمشق کو ساتھ لے کر طلب دجال میں نہایت اطمینان سے چلیں گے۔
- ١...... زمین ان کے لئے سمٹ جائے گی۔ ان کی نظر قلعوں کے اندر گاؤں کے
اندر تک اثر کرے گی۔
(مسلم ج٢ ص٤٠١، باب ذکر الدجال)
- ٢...... جس کافر کو ان کا سانس پہنچے گا وہ فوراً مر جائے گا۔
(ایضاً)
- ٣...... جناب مسیح بیت المقدس کو محصور پاویں گے۔ کیونکہ دجال نے اس کا محاصرہ
کیا ہو گا اور اس وقت صبح کی نماز کا وقت ہو گا۔
(مسلم ج٢ ص٤٠١، باب ذکر الدجال)
- ٤...... مسیح کے وقت میں یاجوج ماجوج خروج کریں گے اور تمام خشکی و تری پر
پھیل جائیں گے۔
(مسلم ج٢ ص٤٠١، باب ذکر الدجال)
- ٥...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام مسلمانوں کو کوہ طور پر لے جائیں گے۔
(مسلم ج٢ ص٤٠١، باب ذکر الدجال)
- ٦...... دجال ناپاک کو مقام لد پر قتل کریں گے اور اس کا خون اپنے نیزے پر
لوگوں کو دکھائیں گے۔
(مسلم ج٢ ص٤٠١، باب ذکر الدجال)
- ٧...... مقام فج الروحا سے احرام باندھ کر عازم حج ہوں گے۔
(مسند احمد ج٢ ص٢٤٠)
- ٨...... یتیم مکہ ﷺ کے روضہ پر جائیں گے اور سلام عرض کریں گے۔ حضور
اکرم ﷺ فرماتے ہیں میں ان کو وعلیکم السلام کہوں گا۔
(مسند احمد ج٢ ص٥٥ حاشیہ)
- ٩...... جناب مسیح، خنزیر کو قتل کریں گے۔
(مسند احمد ج٢ ص٢٤٠)
- ١٠...... جناب مسیح صلیب کو توڑیں گے۔
(مسند احمد ج٢ ص ایضاً)
- ١١...... مسیح کے وقت میں تمام مذاہب مٹ جائیں گے اور صرف ایک دین باقی
رہ جائے گا۔
(مسند احمد ج٢ ص٤٠٦)
- ١٢...... جناب مسیح کے زمانہ میں جزیہ یعنی ٹیکس نہ لیا جائے گا۔ وہ اس کو بالکل
منسوخ کر دیں گے۔
(مسند احمد ج٢ ص٢٤٠)
- ١٣....... مسیح کے وقت میں کوئی غریب وبے زر نہ ہوگا۔ تمام لوگ مستغنی
ہوں گے۔
(مسند احمد ج ٢ ص ایضاً)
- ١٤....... مسیح کے وقت بغض وعناد کی جگہ محبت واخوت ہوگی۔
(مسند احمد ج ٢ ص ایضاً)
- ١٥....... مسیح کے وقت میں بھیڑ بکری ایک چراگاہ میں امن وامان سے چرے گی۔
(مسند احمد ج ٢ ص ٤٠٦)
- ١٦....... مسیح کے وقت میں بچے سانپوں سے کھیلیں گے اور وہ ایذا نہ دے
سکیں گے۔
(مسند احمد ج ٢ ص ٤٠٦)
- ١٧....... مسیح کے زمانہ میں پیداوار کی اس قدر فراوانی ہوگی کہ ایک ایک انار اتنا بڑا
ہوگا کہ کنبہ بھر کے لئے کافی ہوگا۔
(مسلم ج ٢ ص ٤٠٢، باب ذکر الدجال)
- ١٨....... مسیح کے دور میں چوپائے اس کثرت سے دودھ دیں گے کہ ایک ایک
بکری کنبہ بھر کو کفایت کرے گی۔
(مسلم ج ٢ ص ٤٠٢، باب ذکر الدجال)
- ١٩....... مسیح موعود نکاح کریں گے اور ان کے ہاں اولاد ہوگی۔
(مشکوٰۃ ص ٤٨٠، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام)
- ٢٠....... مسیح موعود روضہ اطہر میں سرکار مدینہ کے پاس دفن ہوں گے اور قیامت کو
سرکار دوعالم ﷺ کے ساتھ اکٹھے اٹھیں گے۔ ابوبکرؓ اور عمرؓ کے درمیان۔ (ایضاً)
مرزائیو! ایمان سے کہو کہ یہ کیا اندھیر ہے کہ تمام خصوصیات کو شیر مادر کی طرح پئے جاتے ہو اور اس شخص کو مسیح موعود سمجھ بیٹھے ہو۔ جس میں ان صفات کا عشر عشیر تو کیا ایک بھی نہیں۔ سرکار مدینہ ﷺ کو کیا منہ دکھاؤ گے۔ ڈرو اس مشکل کٹھن وقت سے جو آکر رہے گا۔ جہاں ذرے ذرے اور دانے دانے پر باز پرس ہوگی۔ جہاں تمام معصومین یارب نفسی یارب نفسی پکاریں گے۔ وہاں بیچارا مرزا اور وہ بھی قادیان کا ظلی سرکاری نبی کس شمار میں ہوگا۔ ڈرو اس برے وقت سے جب اپنے ہاتھ پیر ہی اپنے خلاف شہادت دیں گے۔ وہاں مال کام آئے گا نہ اولاد۔ نہ وہاں کوئی ظلی نبی کو پوچھے گا نہ بروزی برازی کو جانے گا۔ ہر متنفس کی جان پر بنی ہوگی۔ سورج اپنی پوری تمازت سے آگ برسا رہا ہوگا۔ آہ! وہاں نہ پانی ملے گا نہ سایہ۔ ہاں اس مشکل وقت میں ایک اور صرف ایک ہی ہستی ایسی ہوگی جو مطمئن ومسرور اور وہی کام آئے گی۔ شافع محشر وہی ہوگا جس کے فرمانوں کو چھوڑتے ہو۔ ساقی کوثر وہی ہوگا جس کی پیش گوئیوں پر استہزاء کرتے ہو۔ سایہ اسی کے جھنڈے کے نیچے ہوگا جس کی بشارات کی تاویلیں گھڑتے ہو۔ رب
امتی رب امتی ہی پکارے گا جس کے الہام سے ٹھٹھے کرتے ہو۔ او غافلو! سوچو کیا ظلم کرتے ہو جواہرات کے عوض پتھر قبول کرتے ہو۔ کس کو چھوڑتے ہو اور کس کو لیتے ہو۔ اب بھی کچھ نہیں گیا۔ ابھی وقت ہے اور توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔ گڑگڑاؤ اس رب العالمین سے اور چھوڑ دو یہ بروزی و برازی جھمیلے ورنہ یاد رکھو روؤ گے اور پچھتاؤ گے۔ مگر افسوس اس وقت تمہارے کچھ بھی کام نہ آئے گا اور سیدھے جہنم کو بلا حساب بھیج دیئے جاؤ گے۔ بخدا سرکار مدینہ ﷺ کا گستاخ کبھی جنت کی ہوا بھی نہ پائے گا۔ چہ جائیکہ مرزائی جس کے ہاتھوں حضور ﷺ کی عزت اچھالی گئی۔ ان نمازوں پہ ناز نہ کرو۔ ان روزوں کے دھوکے میں نہ رہو۔ ایسے ہی روزے اور نمازیں منافق بھی پڑھتے تھے اور تم سے زیادہ دکھلاوے کے ایثار دکھلاتے ہوئے جنگوں میں بھی شریک ہوتے تھے۔ یہاں تک کہ عبداللہ بن ابی کو حضور ﷺ نے اپنے پیراہن پاک کا کفن دیا اور نماز جنازہ تک پڑھنے کی نیت کی تو آیت کریمہ (توبہ:٨٠) اتری کہ میرے حبیب اگر تو ستر بار بھی اس کو مغفرت طلب کرے تو بھی نہ دی جائے گی۔ مگر رحمت عالم کی وسعت قلبی اور رحمت اللعالمینی ملاحظہ ہو کہ حضور اکرم ﷺ فرماتے ہیں۔ کاش مجھے یہ علم ہوتا کہ ستر بار سے زائد مغفرت طلب کرنے سے اس کی نجات ہو جائے گی تو میں ضرور دعاء کرتا۔ اس لئے ادب سے کہتا ہوں کہ ابھی وقت ہے توبہ کرو تا کہ نجات مل جائے۔
جل گیا جب کھیت پھر برسا تو وہ کس کام کا
بھائیو! حیات مسیح کا مسئلہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں جو چھپا ہوا ہو یا جس کے متعلق کسی زمانے میں خیرالقرون سے لے کر تا بایں زماں کسی اہل اللہ نے اختلاف ہی کیا ہو۔ یہ مسئلہ تو تواتر قومی سے متفقہ اجماعی مسئلہ چلا آیا ہے۔ بلکہ فقیر کے خیال میں تو مرزا آنجہانی باوجود یکہ مراقی تھا اور حافظہ اچھا نہ تھا۔ ولیکن با ایں ہمہ حیات مسیح و نزول مسیح کا اسی طرح قائل تھا۔ جس طرح کے حسب ذیل بزرگان ملت قائل چلے آتے ہیں۔ ہاں جب جلب زری اور پیٹ پوجا کا بخار ہائی ٹمپریچر سے تجاوز کر گیا تو انکار کر بیٹھا بھائی ظفر کیا خوب کہہ گئے۔
جسے عیش میں یاد خدا نہ رہے جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا
اسمائے گرامی قائلین حیات و نزول مسیح ابن مریم علیہ السلام
صاحب خیر القرون قرنی یعنی جناب رسول اکرم ﷺ اور جناب کے بہترین زمانہ کے
سعید لوگ جو جناب کے ہم جلیس رہے۔ مثلاً جناب ابو بکر صدیقؓ، حضرت عمرؓ فاروق، حضرت علیؓ اسد اللہ، حضرت عکرمہؓ، حضرت ابن عباسؓ، حضرت انسؓ، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ، حضرت عثمانؓ بن ابی العاص، حضرت ثعلبہؓ انصاری، حضرت حذیفہ بن اسیدؓ، حضرت ابو ہریرہؓ، حضرت عبداللہ بن سلامؓ، حضرت ابوالامامۃ الباہلیؓ، حضرت ربیعؓ، حضرت عمرو بن العاصؓ، حضرت انسؓ، حضرت کعبؓ، حضرت ابی العالیہؓ، حضرت جابرؓ، حضرت امام حسنؓ، حضرت ثوبانؓ، حضرت ابی مالکؓ، حضرت سعد بن وقاصؓ، جناب ام المؤمنین عائشہ صدیقہؓ، جناب ام المؤمنین صفیہؓ، جناب ام شریک بنت ابی العُکر، حضرت عبداللہ بن سلامؓ، حضرت مغیرہ بن شعبہؓ اور تمیم داریؓ وغیرہ اس کے علاوہ بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، ابوداؤد، بیہقی، طبرانی، عبد بن حمید، ابن ابی شیبہ، حاکم، ابن جریر، ابن حبان، امام احمد، ابن ابی حاتم، عبدالرزاق، قتادہ، سعید بن منصور، ابن عساکر، اسحاق بن بشر، ابن ماجہ، ابن مردویہ، بزاز، شرح السنۃ، نعیم، شیخ سیوطی، علامہ ذہبی، ابن حجر عسقلانی، قسطلانی، امام ابو حنیفہ۔ تمام آئمہ شافعیہ اور مالکیہ اور حنابلہ، شیخ اکبر صاحب فتوحات، مجدد وقت حضرت امام ربانی وسائر صوفیہ کرام اور تابعین مثلاً ابن سیرین اور امام شوکانی اور ابن قیم اور ابن تیمیہ وغیرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اس پر اجماع ہے کہ عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام زندہ آسمانوں پر اٹھائے گئے اور قبل از قیامت آسمان سے نزول اجلال فرمائیں گے۔
ناظرین! اب ہم آپ کے سامنے مرزا قادیانی کے چند ایک اصول پیش کرتے ہیں۔
ملاحظہ فرمائیں:
رئیس قادیان کے مصدقہ اصول
- نمبر ١: (برکات الدعاء ص ١٨، خزائن ج ٦ ص ١٨، ملخصاً) ”قرآن شریف کے وہ معانی
و مطالب سب سے زیادہ قابل قبول ہوں گے۔ جن کی تائید قرآن شریف ہی میں دوسری آیات سے ہوتی ہو یعنی شواہد قرآنی۔“
- نمبر ٢: (برکات الدعاء ص ١٨، خزائن ج ٦ ص ١٨) ”دوسرا معیار تفسیر رسول کریم ﷺ ہے۔
اس میں کچھ شک نہیں کہ سب سے زیادہ قرآن کریم کے سمجھنے والے ہمارے پیارے اور بزرگ نبی حضرت رسول اللہ ﷺ تھے۔ پس اگر آنحضرت ﷺ سے کوئی تفسیر ثابت ہو جائے تو مسلمانوں کا فرض ہے کہ بلا توقف اور بلا دغدغہ قبول کرے۔ نہیں تو اس میں الحاد و فلسفیت کی رگ ہے۔“
- نمبر ٣: (برکات الدعاء ص ١٨، خزائن ج ٦ ص ١٨) ”تیسرا معیار صحابہ کی تفسیر ہے۔ اس میں
کچھ شک نہیں کہ صحابہ کرامؓ آنحضرت ﷺ کے نوروں کے حاصل کرنے والے اور علم نبوت کے
پہلے وارث تھے اور خدا تعالیٰ کا ان پر بڑا فضل تھا اور نصرت الٰہی ان کی قوت مدرکہ کے ساتھ تھی۔ کیونکہ ان کا نہ صرف قال بلکہ حال تھا۔‘‘
- نمبر:٤ (شہادۃ القرآن ص ٤٨، خزائن ج ٦ ص ٣٤٤) ”یہ یاد رہے کہ مجدد لوگ دین میں کوئی
کمی بیشی نہیں کرتے۔ گم شدہ دین کو پھر دلوں میں قائم کرتے ہیں اور یہ کہنا کہ مجددوں پر ایمان لانا کچھ فرض نہیں۔ خدا تعالیٰ کے حکم سے انحراف ہے۔ کیونکہ وہ فرماتا ہے من کفر بعد ذالك فاولئك هم الفاسقون“
- نمبر:٥ (ازالۃ اوہام ص ٤٠٩، ٥٤٠، خزائن ج ٣ ص ٣١٢، ٣٩٠) ”نصوص کو ظاہر پر حمل کرنے
پر اجماع ہے۔“
- نمبر:٦ (حمامۃ البشریٰ ص ١٥ حاشیہ، خزائن ج ٧ ص ١٩٢) ”و القسم يدل على ان الخبر
محمول على الظاهر لا تاويل فيه ولا استثناء الا ای فايدة في ذكر القسم“ ﴿کسی حدیث میں قسم کا ہونا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس حدیث کے ظاہری معنی ہی قابل قبول ہوں۔ اس میں تاویل کرنا یا استثناء جائز نہیں۔ ورنہ قسم میں فائدہ کیا رہا۔﴾
- نمبر:٧ (انجام آتھم ص ١٤٤، خزائن ج ١١ ص ١٤٤) ”جو شخص کسی اجماعی عقیدہ کا انکار کرے تو
اس پر خدا اور اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ یہی میرا اعتقاد ہے اور یہی میرا مقصود ہے اور یہی میرا مدعا ہے۔ مجھے اپنی قوم سے اصول اجماعی میں کوئی اختلاف نہیں۔“
- نمبر:٨ (ازالۃ اوہام ص ٣٢٨، خزائن ج ٣ ص ٢٦٧) ”مومن کا کام نہیں کہ تفسیر بالرائے
کرے۔“
- نمبر:٩ (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٢٠٤ حاشیہ، خزائن ج ٢١ ص ٣٧٦) ”صحابہ کا اجماع وہ چیز
ہے جس سے انکار نہیں ہو سکتا۔“
- نمبر:١٠ (براہین احمدیہ ص ٢٣٣ حصہ پنجم، خزائن ج ٢١ ص ٤١٠) ”شرعی حجت صرف صحابہ کا
اجماع ہے۔“
- نمبر:١١ (تریاق القلوب ص ١٤٧ حاشیہ، خزائن ج ١٥ ص ٤٧١) ”صحابہ کا اجماع حجت ہے۔ جو
کبھی ضلالت پر نہیں ہو سکتا۔“
- نمبر:١٢ (از حکیم نور دین اخبار بدر قادیان ١٧/ جنوری ١٩١٢ء) ”صحابہ کے روزانہ برتاؤ اور
زندگی ظاہر و باطن میں انوارِ نبوت ایسے رچ گئے تھے کہ گویا وہ سب آنحضرت ﷺ کی عکسی تصویریں تھیں۔ پس اس سے بڑھ کر کوئی معجزہ کیا ہوگا۔“
کذاب قادیان کا چیلنج
(ازالۃ اوہام ص ٣٠٣، خزائن ج ٣ ص ٢٥٥،٢٥٤) ”یہ بات کہ مسیح جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر چڑھ گیا اور اسی جسم کے ساتھ اترے گا، نہایت لغو اور بے اصل بات ہے۔ صحابہ کا ہرگز اس پر اجماع نہیں بھلا اگر ہے تو کم از کم تین سو چار سو صحابہ کا نام تو لیجئے۔ جو اس بارہ میں اپنی شہادت دے گئے ہوں ورنہ ایک یا دو آدمی کے بیان کا نام اجماع رکھنا سخت بددیانتی ہے۔“
ناظرین! مرزا قادیانی کے چیلنج کو بنظرِ غور ملاحظہ فرمائیں اور اس کے جواب میں احادیث صحیحہ کو ایمان کی روشنی میں دیکھیں۔ ایک ایک حدیث میں بیس بیس راوی یکے بعد دیگرے یوں روایت کرتے ہیں کہ ”عن فلاں ابن فلاں عن فلاں ابن فلاں “ یہ سلسلہ لگا تار چلتا سرکارِ مدینہ ﷺ تک پہنچتا ہے۔ تب حدیث کے الفاظ شروع ہوتے ہیں۔ ہم نے اسی چھوٹی سی کتاب میں نہایت اختصار سے پچاس کے قریب احادیث نقل کی ہیں۔ اب حساب لگائیے کہ مرزا قادیانی کے مطالبے سے زیادہ راوی بیان ہوئے یا بقول مرزا قادیانی ایک دو، اس کے علاوہ اس میں بعض ایسی بھی احادیث ہیں جس میں چار چار ہزار صحابی موجود ہیں یا بعض ایسے خطبات نبویہ ہیں جس میں تمام ناموسِ ملت شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اجماع امت کو ثابت کرنے کے لئے ہم نے یہ انتظام کیا ہے کہ مرزا قادیانی کے مسلمہ اور مصدقہ مجددینِ زمان یعنی قرونِ اولیٰ سے تا ایں زمان کے فرداً فرداً عقائد آپ کے سامنے پیش کئے جائیں۔ چنانچہ جنانِ محمدی کے وہ شیریں مقال طوطیان نغمہ سرا ہوتے ہیں ملاحظہ کیجئے۔
(امام الائمہ جناب نعمان بن ثابت ابو حنیفہؒ فقہ اکبر ص ٩،٨) میں ارشاد فرماتے ہیں۔
”وخروج الدجال وياجوج وماجوج وطلوع الشمس من مغربها ونزول عيسى عليه السلام من السماء وسائر علامات يوم القيمة على ماوردت به الاخبار صحيحة حق کائن“ ﴿دجال اور یاجوج ماجوج کا نکلنا سورج کا مغرب کی طرف سے طلوع کرنا اور عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا اور دیگر علامات قیامت جیسا کہ احادیث صحیحہ و آثار صحابہؓ میں آچکی ہیں۔ وہ سب کی سب حق ہیں اور واقع ہونے والی ہیں۔﴾
مرزا قادیانی در مدح امام می گوید
(ازالۃ اوہام ص ٥٣٠، ٥٣١، خزائن ج ٣ ص ٣٨٥) ”حقیقت یہ ہے کہ امام صاحب موصوف (ابو حنیفہؒ) اپنی قوتِ اجتہادی اور اپنے علم اور روایت اور فہم وفراست میں آئمہ ثلاثہ باقیہ ثلاثہ باقیہ
سے افضل واعلیٰ تھے اور ان کی خداداد قوت فیصلہ ایسی بڑھی ہوئی تھی کہ وہ ثبوت وعدم ثبوت میں بخوبی فرق کرنا جانتے تھے اور ان کی قوت مدرکہ کو قرآن شریف کے سمجھنے میں ایک خاص دست گاہ تھی اور ان کی فطرت کو کلام الٰہی سے ایک خاص مناسبت تھی اور عرفان کے اعلیٰ درجہ تک پہنچ چکے تھے۔ اسی وجہ سے اجتہاد اور استنباط میں ان کے لئے وہ درجہ علیا مسلم تھا۔ جس تک پہنچنے سے دوسرے سب لوگ قاصر تھے۔ سبحان اللہ! امام موصوف بہت زیرک اور ربانی امام تھے۔‘‘
فقیر کے خیال میں مرزا قادیانی کی اس قابل قدر ولائق حمد رائے کے بعد وہ بڑا ہی بدبخت انسان ہے جو ایسے پاک باز ربانی امام کے عقیدے پر شک لائے یا کوئی جرح وقدح کرے۔ مبارک ہے وہ جو جناب امام کے حکم کو چومے اور سر آنکھوں پر جگہ دے۔
امام مالکؒ
مرزا آنجہانی قادیانی ظلی وبروزی نبوت کے دعویدار کتاب ”مجمع البحار وشرح اکمال الاکمال“ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کرتے ہیں۔ ”قال مالك مات عیسیٰ“
چنانچہ (ایام الصلح ص ١٤٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٨١) پر لکھتے ہیں کہ: ”امام مالکؒ نے کھلے طور پر بیان کر دیا کہ حضرت عیسیٰ فوت ہوگئے۔“
اور ایسا ہی ایک دوسرے مقام (ایام الصلح ص ٣٩، خزائن ج ١٤ ص ٢٦٩) پر یوں کہا: ”امام ابن حزمؒ اور امام مالکؒ بھی موت عیسیٰ کے قائل ہیں اور ان کا قائل ہونا گویا امت کے تمام اکابر کا قائل ہونا ہے۔ کیونکہ اس زمانہ کے اکابر علماء سے مخالفت منقول نہیں اور اگر مخالفت کرتے تو البتہ کسی کتاب میں اس کا ذکر ہوتا۔“
دندان شکن جوابات
ناظرین! مرزا قادیانی کو یوں تو بہت سی جسمانی بیماریاں تنگ کئے ہوئے تھیں۔ مگر قطع نظر اس کے انہیں دو عوارض اور ایسے لگے ہوئے تھے جو جنون کے مراتب تک پہنچ چکے تھے۔ یعنی عشق محمدی بیگم منکوحہ آسمانی اور خبط مسیحیت۔ چنانچہ ہم اس وقت موخر الذکر پر کچھ عرض کرنا چاہتے ہیں۔
- نمبر:١...... مرزا قادیانی کی عادت تھی کہ وہ انجیل قرآن حدیث واقوال الرجال میں
سے کوئی ایک لفظ چاہے اس کا سیاق و سباق کس قدر مخالف ہو اڑا کر اپنے حسب حال بناتے ہوئے مفید مطلب سمجھ کر اپنے پر چسپاں کر لیا کرتے تھے اور ڈنکے کی چوٹ اعلان کر دیا کرتے تھے کہ دیکھو انجیل میری صداقت میں کہہ رہی ہے کہ مسیح موعود کے وقت سخت طاعون پڑے گی۔ اب کس کو
ضرورت ہے کہ انجیل کو دیکھیے۔ عوام اور بھولے آمنا وصدقنا کہتے ہوئے قبول کر لیتے ہیں۔ مگر جب محققین اس کی تلاش میں نکلتے ہیں تو انہیں یہ دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے کہ جو چیز مرزا قادیانی نے اپنی صداقت پر کہی تھی وہی کذابت پر دال ہے۔ یعنی وہاں یہ لکھا ہوا ہے کہ مری اور کال جھوٹے مسیحوں کے زمانہ میں ہوں گے۔
- نمبر:٢....... مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ سورۃ تحریم میں میری پیش گوئی درج ہے۔ مگر
جب قرآن عزیز کو دیکھتے ہیں تو وہ بلند آواز سے افتراء پردازی پر لعنت اللہ علی الکاذبین کہتا ہے۔
- نمبر:٣....... (مشکوٰۃ ص٤٨٠، باب نزول عیسیٰ، فصل ثالث) میں ایک حدیث ہے۔
”عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ فرمایا نبی کریم ﷺ نے عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام زمین کی طرف اتریں گے۔ شادی کریں گے ان کے ہاں اولاد پیدا ہوگی۔ اس کے بعد فوت ہو کر میرے مقبرے میں میرے ساتھ دفن ہوں گے۔“
چنانچہ جن دنوں مرزا قادیانی محمدی بیگم کے عشق میں باولے ہو رہے تھے اور ہر جائز و ناجائز میں تمیز اٹھ گئی تھی۔ آپ نے اس ساری خلاف مضمون حدیث کو نہایت غصے کی نظر سے دیکھتے ہوئے صرف دو الفاظ کو پسند فرمایا۔ یعنی یتزوج ویولد لہ اور اعلان کیا کہ دیکھو رسول پاک نے بھی پہلے ہی سے میرے اس آسمانی نکاح کی تصدیق کرتے ہوئے مندرجہ بالا الفاظ فرمائے۔ مگر افسوس ہوا کہ نہ ڈھولک بجی نہ بندر ناچا۔ یعنی خیر سے یہ اللہ میاں کا باندھا ہوا آسمانی نکاح کچا ہی نکل گیا۔
- نمبر:٤....... مفسرین نے جس امر کو نصاریٰ کا قول یا کسی ایک مسلم کی رائے قرار دیتے
ہوئے عام تذکرہ کرتے ہوئے تنقید کی مرزا قادیانی نے جھٹ وہ قول اڑا لیا اور کہہ دیا دیکھو یہ فلاں بزرگ کا مذہب ہے۔ چنانچہ وہ فلاں کتاب میں لکھتا ہے۔ مثلاً (بیضاوی ج ١ ص ١٤٠، زیر آیت یعیسیٰ انی متوفیک) میں لکھا ہوا دیکھا۔ ”قیل اماتہ اللہ سبع ساعات ثم رفعہ اللہ الی السماء والیہ ذھب النصاریٰ“ یعنی یہ قول کہ عیسیٰ علیہ السلام رفع سے قبل سات ساعت تک مرے رہے۔ یہ نصاریٰ کا قول ہے اور (معالم ج ١ ص ١٦٢، تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٣٩) میں ہے۔ ”قال وھب توفی اللہ عیسیٰ ثلث ساعات من النھار ثم احیاہ ثم رفعہ اللہ الیہ وقال محمد بن اسحق ان النصاریٰ یزعمون ان اللہ توفاہ سبع ساعات من النھار ثم احیاہ ورفعہ الیہ“
مضمون کی طوالت سے ڈرتے ہوئے انہیں امثلہ پر اکتفا کرتے ہیں اور اصل چیز پر روشنی ڈالتے ہیں۔ چنانچہ جس کتاب سے مرزا قادیانی نے یہ قول اڑایا ہے۔ اس عبارت کو نقل کرتے ہیں۔
(مجمع البحار ج ١ ص ٥٣٤) میں مصنفہ امام محمد طاہر گجراتیؒ نے اس قول کو نقل کیا ہے۔ مگر مرزا قادیانی نے سیاق و سباق کو چھپاتے ہوئے درمیانی چند سطروں پر اکتفا کر لیا ہے۔ ”قال مالك مات لعله اراد رفعه على السماء وحقيقته ويجيئى اخر الزمان لتواتر خبر النزول “ یعنی امام مالک کا قول ہے کہ حضرت عیسیٰ سوگئے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو آسمان پر اٹھانے کا ارادہ کر لیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانے میں نازل ہوں گے۔ کیونکہ ان کے نزول کی خبر احادیث متواترہ سے ثابت ہے۔
مرزائیو! ایمان سے کہو یہی قادیانی دیانت ہے کہ اگلا پچھلا ہضم اور پیغمبری ختم اور اگر مات کے معنی سونا کرنے سے رگ الحاد پھڑکے تو لغت عرب کو دیکھو۔ (قاموس)
قرآن عزیز میں ارشاد ہوتا ہے۔ ”وهو الذي يتوفاكم بالليل ويعلم ما جرحتم بالنهار (انعام: ٦٠) “ ﴿ اللہ وہ ذات پاک ہے جو رات کو تمہیں سلا دیتا ہے اور جانتا ہے جو تم دن میں کماتے ہو۔ بعض سلف کا یہ بھی مذہب ہے کہ جناب عیسیٰ آسمان پر اٹھائے جانے سے قبل سلا دیئے گئے تھے۔ تاکہ اتنی دور دراز مسافت آرام سے سوتے میں کٹ جائے اور طبعاً وحشت اثر انداز نہ ہو۔ ﴾
اور اگر اس آیت کریمہ پر بھی اعتبار نہ آئے تو اپنے گھر کی خبر لو اور مرزا قادیانی کے دستخط پہچاننے کی کوشش کرو۔
- نمبر:١...... ” اماتت کے حقیقی معنی صرف مارنا اور موت دینا نہیں بلکہ سلانا اور بیہوش
کرنا بھی اس میں داخل ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٩٤٤، خزائن ج ٣ ص ٦٢١)
- نمبر:٢...... ”لغت کی رو سے موت کے معنی نیند اور ہر قسم کی بیہوشی بھی ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٩٤٤، خزائن ج ٣ ص ٦٢٠)
- نمبر:٣...... ”لغت میں موت بمعنی نوم اور غشی بھی آتا ہے۔ دیکھو قاموس“
(ازالہ اوہام ص ٦٦٥، خزائن ج ٣ ص ٤٥٩)
”مات کے معنی لغت میں نوم کے بھی ہیں۔ دیکھو قاموس“
(ازالہ اوہام ص ٦٣٠، خزائن ج ٣ ص ٤٤٥)
باقی رہا امام مالک کا مذہب تو وہ وہی ہے جس پر تمام امت کا اجماع ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی کی بتائی ہوئی وہی محبوب کتاب یعنی (مسلم شرح اکمال الاکمال جلد اول ص ٤٤٩، باب نزول عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام) میں صراحتہ یہ قول امام مالک کا درج ہے۔ ”وفي العتبية قال مالك بينما الناس قيام يستصفون لا قامة الصلوة فتغشاهم غمامة فاذا نزل عیسیٰ“ یعنی کہا مالک نے لوگ نماز کے لئے تکبیر کہہ رہے ہوں گے کہ ایک بدلی چھا جائے گی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے۔
اور لطف تو یہ ہے کہ تمام علماء مالکیہ نے جناب امام مالکؒ کے قول کی پوری پوری وضاحت کرتے ہوئے ان کا مذہب صاف طور پر بیان کر دیا ہے۔
(شرح مواہب قسطلانی ج ٦ ص ٧١) میں جناب علامہ زرقانی مالکیؒ لکھتے ہیں کہ: ”جب عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے تو وہ رسول کریم ﷺ کی شریعت کے مطابق حکم دیں گے۔ الہام کی مدد سے یا روح محمدی کی وساطت سے یا اور جس طرح اللہ چاہے گا مثلاً کتاب اور سنت سے اجتہاد کر کے، پس اگر چہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام امت محمدی کے خلیفہ ہوں گے۔ مگر وہ اپنی نبوت و رسالت پر بھی قائم رہیں گے اور اس طرح نہیں ہوگا جیسا کہ بعض کہتے ہیں کہ وہ نبوت رسالت سے الگ ہو کر محض ایک امتی کی حیثیت سے ہوں گے۔ کیونکہ نبوت اور رسالت تو موت کے بعد بھی نبی اور رسول سے الگ نہیں ہوتی۔ پس اس شخص یعنی عیسیٰ بن مریم سے کیسے الگ ہو سکتی ہے۔ جو ابھی زندہ ہے ہاں وہ امتی ہوگا۔ مگر اس کی نبوت اور رسالت بھی اس کے ساتھ ہی رہے گی ۔“
ناظرین ! مرزا قادیانی کی بتائی ہوئی ایک چیز یعنی امام مالکؒ کا مذہب آپ کے سامنے ہے۔ جو زبانِ قال سے مرزا قادیانی کے دروغ پر شاہد ہے۔ اب دوسری شق یعنی امام ابن حزمؒ کا مذہب آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں کہ مرزا قادیانی بڑے ہی صادق ہیں۔ شاید قادیانی اصطلاح میں دروغ گوئی کو عین صداقت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
ابو محمد ابن حزم محدث
(کتاب الفصل والملل والنحل ج ١ ص ٧٧) میں زیرِ آیت ”وما قتلوه وما صلبوه “ میں حسب ذیل ارشاد فرماتے ہیں۔
”وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم . انما هو اخبار عن الذين يقولون بتقليد الاسلافهم من النصارى واليهود انه عليه السلام قتل وصلب فهؤلاء شبه لهم القول أى ادخلوا فى شبهة منه وكان المشبهون لهم
شیوخ السؤ فى ذالك الوقت وشرطهم المدعون انهم قتلوه وصلبوه وهم يعلمون انه لم يكن ذالك وانما اخذوا من امكنهم فقتلوه وصلبوه فى استتار و منع من حضور الناس ثم انزلوه ودفنوه تمويها على العامة التى شبه الخبر لها“ ﴿یعنی حافظ ابن حزمؒ بہت بحثوں میں فرماتے ہیں یہ لوگ اپنے اسلاف کی تقلید کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ یعنی یہود و نصاریٰ کی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قتل کئے گئے اور پھانسی دیئے گئے اور وہ شبہ میں پڑ گئے اور ان کو شبہ میں ڈالنے والے ان کے بڑے شیخ تھے جو اس وقت میں تھے اور ان مدعیوں نے یہ شرط کی تھی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قتل کئے گئے ہیں۔ نہ کہ پھانسی اور وہ جانتے تھے کہ اس طرح نہیں۔ بلکہ ان کو ان کے مکان سے پکڑ کر کے قتل کیا اور پھانسی دیا کسی پردے میں اور لوگوں کو حاضر ہونے سے منع کردیا۔ پھر وہاں سے اتار کر اس کو دفن کیا۔ درآنحالیکہ یہ ملمع سازی کرنے والے تھے ان عوام پر جن کو شبہ تھا۔﴾
- نمبر٢:....... (کتاب الملل مصری ج٣ ص١١٤، زیر آیت ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین) پر
فرماتے ہیں۔ ”ان عیسیٰ ابن مریم سینزل..... فی الآثار المسندہ الثابتۃ من نزول عیسیٰ بن مریم فی آخر الزمان“ ﴿تحقیق عیسیٰ ابن مریم نازل ہونے والا ہے اور آثار صحیحہ ثابتہ سے ثابت ہے کہ مسیح آخری زمانہ میں نازل ہوگا۔﴾
- نمبر٣:....... (کتاب الفصل فی الملل والنحل ج١ ص٩٥، الفرق بین المعجزہ والسحر) ”انه ای
نبی ﷺ اخبر انه لا نبی بعده الا ما جاءت الاخبار الصحاح عن نزول عیسیٰ علیه السلام الذی بعث الی بنی اسرائیل وادعی الیهود قتله وصلبه فوجب الاقرار بهذه الجملة“ ﴿آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ میرے بعد کوئی بھی نبی نہیں ہوگا۔ بجز اس ہستی کے جس کا نام صحیح احادیث سے ثابت ہے یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو بنی اسرائیل کی طرف منسوب ہوئے اور یہود نے ان کے قتل اور سولی پر چڑھانے کا دعویٰ کیا۔﴾
- نمبر٤:....... (کتاب الفصل فی الملل والنحل ج٤ ص٢٢٩، الکلام فیمن یکفر ولا یکفر) ”واما من
قال ان الله عزوجل هو فلاں انسان بعینه او ان الله تعالیٰ یحل فی جسم من اجسام خلقه او ان بعد محمدﷺ نبیا غیر عیسیٰ ابن مریم فانه لا یختلف اثنان فی تکفیره لصحة قیام الحجة “﴿اور ایسا ہی جس کسی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص ہے یا یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے جسم میں حلول کر جاتا ہے یا یہ کہا کہ نبی کریم ﷺ کے بعد عیسیٰ ابن مریم کے سوا اور نبی ہوگا تو اس کے کافر ہونے میں کسی کو بھی اختلاف نہیں۔﴾
زلیخا نے کیا خوب چاک دامن ماہ کنعاں کا
او نیم یہودیو! کچھ تو کہو کہ جناب ابن حزمؒ مرزا قادیانی کی تصدیق فرمارہے ہیں یا تکذیب وہ تو صاف الفاظ میں تمہیں کافر کہہ گئے کہ جو شخص یہ عقیدہ رکھے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے سوا بھی کوئی دوسرا نبی سرکار دوعالم ﷺ کے عہد رسالت میں آسکتا ہے۔ وہ پکا مشرک و بے ایمان ہے اور جناب مسیح کیوں آسکتے ہیں اس لئے کہ وہ قیامت کے نشانات میں سے ایک نشانی ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ ”وانه لعلم للساعة فلا تمترن بها فاتبعون هذا صراط مستقیم (زخرف:٦١)“ یعنی جناب مسیح علامات قیامت کی ایک خاص علامت ہیں۔ خبردار تمہیں کوئی یہودی بہکا نہ دے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں میرے ارشادات کی پیروی کرو وہ ضرور آئیں گے اور ان کی آمد پر صدق دل سے ایمان رکھو یہی سیدھا راستہ ہے۔ ﴿
مرزا آنجہانی در مدح امام ابن حزمؒ می گوید
(ازالۃ اوہام ص٤٢٢، خزائن ج٣ ص٣٣٢) ”غایۃ الوصلۃ ان يكون الشيخ عين ما ظهر ولا يعرف كما رايت رسول الله ﷺ وقد عانق ابن حزم المحدث فغاب احدهما فی آخر فلم نرالا واحد اوهو رسول الله ﷺ فهذه غاية الوصلة وهو المعبر عنه بالاتحاد“
(فتوحات مکیہ باب٢٣٣) مندرجہ بالا عبارت رئیس المکاشفین حضرت محی الدین ابن عربیؒ کی نقل کر کے مرزا قادیانی ترجمہ فرماتے ہیں۔ یہ عبارت صرف اس لئے بیان کرتے ہیں کہ مابدولت رئیس قادیان بھی اکثر بیداری کی حالت میں آنحضور ﷺ سے ملتے ہیں۔ (معاذ اللہ) جیسا کہ جناب ابن حزمؒ محدث معانقہ فرمایا کرتے تھے۔ بہر حال ہمیں اس وقت یہ جتلانا مقصود ہے کہ مرزا قادیانی کی نظر میں ابن حزمؒ کے لئے کس قدر عظمت و بزرگی ہے۔ اب عبارت بالا کا ترجمہ مرزا قادیانی کی قلم کا ملاحظہ فرمائیں اور خدارا انصاف کریں کہ کیا ایسا بزرگ بھی کسی غلط عقیدے پر رہ سکتا ہے۔
ترجمہ:”یعنی نہایت درجہ کا اتصال یہ ہے کہ ایک چیز بعینہ وہ چیز ہو جائے۔ جس میں وہ ظاہر ہو اور خود نظر نہ آوے۔ جیسا کہ میں نے خواب میں آنحضرت ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے ابو محمد بن حزم محدث سے معانقہ کیا۔ پس ایک دوسرے میں غائب ہو گیا۔ بجز ایک رسول اللہ ﷺ کے نظر نہ آیا۔ (ایضاً)“
جناب امام احمد بن حنبلؒ مجدد صدی دوئم
مسند امام احمد میں بہت سی احادیث جناب عیسیٰ بن مریم کے صعود ونزول کے متعلق لکھی ہوئی ہیں۔ جن میں نہایت شرح وبسط سے حیات مسیح کو ثابت کیا گیا ہے۔ چنانچہ سابقہ اوراق میں ہم نے کئی ایک ان میں سے ہدیۃً پیش کی ہیں۔ اس لئے ہم یہاں صرف ایک اور حدیث پر اکتفا کرتے ہیں۔
’’قال ابن عباسؓ لقد علمت آية من القرآن وانہ لعلم للساعة قال هو خروج عيسىٰ ابن مريم عليه السلام قبل يوم القيامة‘‘ ﴿حضرت ابن عباسؓ بیان فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ کے یہ معنی ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول قیامت کے قرب کا ایک نشان ہے۔﴾
(رواہ مسند احمد ج١ص٣١٨)
جناب امام محمد بن ادریس شافعیؒ مجدد صدی دوئم
جناب امام شافعیؒ اور امام مالکؒ جناب امام محمدؒ کے شاگردوں میں سے ہیں اور جناب امام محمدؒ امام ابو حنیفہؒ کے شاگرد ہیں۔
جناب امام شافعیؒ کا وہی مذہب ہے جو امام محمدؒ اور جناب ابو حنیفہؒ کا تھا۔ چونکہ اس مسلک میں ان کو کلی اتفاق تھا۔ اس لئے انہوں نے اس کے متعلق کچھ نہ لکھا اور خاموشی اختیار کی اور اگر انہیں اس میں کچھ اختلاف ہوتا تو وہ ضرور اظہار کرتے اور یہ مسئلہ بھی کچھ ایسا پیچیدہ نہیں۔ کیونکہ یہ اجماعی مسئلہ ہے اور تابعین تبع تابعین کا اس پر پورا پورا اتفاق ہے اور قرآن کریم اس کی شہادت کا پوری اہمیت سے ذمہ دار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جناب امام شافعیؒ خاموش رہے اور آپ کی خاموشی نے گویا یہ ثابت کیا کہ آپ کا اس مسئلہ پر سکوتی اجماع ہے اور اگر جناب امام کو اس میں کچھ بھی شک ہوتا تو وہ ضرور لکھتے اور تردید کرتے۔ ان کا خاموش رہنا اور تردید نہ کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ ان کا یہی مذہب تھا کہ مسیح ابن مریم قیامت کے علامات سے ایک نشانی ہیں اور وہ قرب قیامت میں ضرور نزول فرمائیں گے۔ جیسا کہ احادیث صحیحہ متواترہ سے روشن ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی ہمارے اس نظریے کی خود داد دیتے ہوئے (مباحثہ الحق ص١١٦، خزائن ج٢ص١١٨) پر اجماع سکوتی کو تسلیم کیا ہے۔
مرزا قادیانی آنجہانی نے مندرجہ بالا بیان میں جہاں سکوتی اجماع پر دستخط کر دیئے کہ جو کچھ خالد وزیر آبادی کہتے ہیں۔ درست وصحیح ہے اور میرا اس پر ایمان ہے۔ وہاں ایک جھوٹ بھی بول دیا۔ یعنی رسول کریم ﷺ پر بہتان بھی باندھ دیا کہ ’’انہوں نے جناب عمر کے حلفیہ بیان پر کچھ نہ فرمایا‘‘ (ازالہ اوہام ص٢٢٣، خزائن ج٣ ص٢١١) سو یہ غلط و قطعا بے بنیاد ہے۔
اب ذیل میں مرزا قادیانی کے کلام ہی سے اس کا دندان شکن جواب بھی سن لیجئے۔ جو مرزا قادیانی کے اس جھوٹ کی خود تردید کرتا ہے اور آپ کی پارسائی کا شاہد ہے۔
توبہ مرزائے قادیانی اور وہ سچ بولے
(ازالۃ الاوہام ص ٢٢٥، خزائن ج ٣ ص ٢١٢) ”آنحضرت ﷺ نے حضرت عمر کو ابن صیاد کے قتل سے منع فرمایا اور نیز فرمایا کہ ہمیں اس کے حال میں ابھی اشتباہ ہے۔ اگر یہی دجال معہود ہے تو اس کا صاحب عیسیٰ ابن مریم ہے جو اسے قتل کرے گا۔ ہم اس کو قتل نہیں کر سکتے۔“
مندرجہ بالا بیان سے مرزا قادیانی کے سابقہ دجل بھی آشکارا ہوئے کہ دجال قوموں کا نام نہیں بلکہ ایک واحد شخص ہے۔ دوئم یہ کہ اس کا قاتل غلام احمد بن چراغ بی بی نہیں۔ بلکہ عیسیٰ ابن مریم ہے۔ سوئم دلائل سے نہیں تلوار سے قتل کیا جائے گا۔ چنانچہ امام شافعیؒ کا وہی مذہب ہے جو تمام آئمہ فقہا اور آئمہ محدثین رحمہم اللہ تعالیٰ اجمعین کا ہے۔
امام الکاشفین رئیس المجددین امام حسن بصریؒ۔
(تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٤٠١) ”قال ابن جریر ...... عن الحسن وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موت عيسى والله انه لحى الان عند الله ولكن اذا نزل امنوا به اجمعون “ جناب امام ابن جریر فرماتے ہیں کہ امام حسن بصریؒ نے فرمایا کہ سب اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئیں گے۔ خدا کی قسم وہ اب تک آسمان پر زندہ موجود ہیں اور جب وہ نازل ہوں گے تو سب اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے۔
(درمنثور ج ٢ ص ٣٦) ”عن الحسن قال قال رسول الله ﷺ لليهود ان عيسى لم يمت وانه راجع اليكم قبل يوم القيامة “ جناب امام حسن بصریؒ روایت کرتے ہیں کہ آنحضور سرکار مدینہ ﷺ نے یہود کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ تحقیق عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں ہوئے اور یقیناً وہ قیامت سے پہلے تمہاری طرف واپس تشریف لائیں گے۔
ایضاً (درمنثور ج ٢ ص ٤٠) میں ایک روایت منقول ہے۔ ”اخرج ابن جریر عن الحسن وانه لعلم للساعة قال نزول عيسىٰ عليه السلام “ جناب امام ابن جریر امام حسن بصریؒ سے روایت فرماتے ہیں کہ ”وانه لعلم للساعة“ سے کیا مراد ہے وہ جواب میں فرماتے ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا۔
جناب امام حسن بصریؒ نے قسم کھا کر بیان کیا کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر موجود ہیں اور وہ قرب قیامت میں تشریف لائیں گے۔ جناب امام نے علاوہ فرمان رسالت کے دو آیات کریمہ سے استدلال کیا۔ اب کون مردود ہے جو شک کرے، اور یہ بھی عرض کردوں کہ مرزائی نکتہ نگاہ میں ان کی کیا وقعت ہے سو وہ بھی سنئے۔
عسل مصفےٰ مصنفہ خدا بخش قادیانی منظور نظر صحابی مرزا قادیانی (جلد اول ص٩١) پر درج امام موصوف عرض کرتے ہیں۔ ’’امام حسن بصریؒ دنیائے اسلام میں صوفیائے کرام کے سلسلہ کے سرتاج مسلم ہیں۔ بیسوں مجددین امت کو ان کی غلامی کا فخر حاصل ہے۔ امام حسن بصریؒ ابن عباس کے ارشد تلامذہ میں سے ہیں۔‘‘
او نیم یہودیو! کسی ایک بزرگ کے فرمان کو تو قبول کرو۔ میں نہ مانوں میں نہ مانوں کی رٹ کب تک لگاؤ گے۔
”جناب امام ابو عبدالرحمن نسائیؒ مجدد صدی سوئم“
ترجمہ: حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ یہودیوں کے ایک گروہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالیاں دیں۔ پس آپ نے ان پر بددعا فرمائی۔ پس وہ بندر اور سور ہو گئے۔ اس لئے یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کے لئے جمع ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خبر دی کہ میں تمہیں آسمان پر اٹھاؤں گا اور یہود کی صحبت سے بلکلی پاک کروں گا۔ (مظہری آل عمران:٥٤)
اور ایسا ہی ایک دوسرے مقام پر ایک اور حدیث بیان ہوئی۔
ترجمہ: حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ جب وہ شخص جو مسیح کو پکڑنے کے لئے اندر گیا تو اللہ تعالیٰ نے جبرائیل علیہ السلام کو بھیج کر مسیح علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا اور اس بدبخت یہودی کو مسیح کی شکل پر بنا دیا۔ پس یہود نے اسی کو قتل کیا اور صلیب پر چڑھایا۔
(نسائی الکبریٰ ج٦ ص٤٨٩، حدیث نمبر ١١٥٩١، باب قولہ تعالیٰ فامنت طائفۃ من بنی اسرائیل)
رئیس المحدثین جناب امام محمد بن اسماعیل بخاریؒ
یہ وہ امام عالی مقام ہیں جن کا نام بھی مرزا قادیانی کو نہ آتا تھا۔ جیسا کہ ہم اسی کتاب میں پہلے لکھ چکے ہیں۔ تاہم ان کی عزت و حرمت کے مرزا قادیانی قائل ہیں۔ پہلے وہی سنئے اس کے بعد عقیدہ بیان ہوگا۔
ازالہ اوہام کے مختلف مقامات پر مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ:
”عن انسؓ قال قال رسول اللہ ﷺ من ادرک منکم عیسیٰ ابن مریم فلیقراء منی السلام (حاکم ج ٤ ص٧٠٠، ذکر نفخ الصور وانبات الاسجاد)“
حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ فرمایا نبی کریم ﷺ نے جو شخص تم میں سے پاوے حضرت ابن مریم کو پس ضرور انہیں میرا سلام پہنچا دے۔
چنانچہ حضور ﷺ کے اس سلام کے متعلق مرزا قادیانی خود شاہد ہیں کہ حضور ﷺ نے میرے لئے سلام کا پیغام کہا ہے۔ مگر افسوس وہ کذاب قادیان کے لئے نہیں۔ بلکہ مسیح ابن مریم کے لئے اور جب وہ آئیں گے ضرور ان کی خدمت میں یہ امانت پہنچا دی جائے گی۔
چھچھوندر کے سر میں چنبیلی کا تیل
جناب مجدد زماں امام فخر الدینؒ صاحب رازی مجدد صدی ششم
(تفسیر کبیر ج ٢٧ ص ٢٢٤) ”عیسیٰ علیہ السلام قیامت معلوم کرنے کی شرطوں میں سے ایک شرط ہیں۔...... ابن عباسؓ نے علم للساعۃ پڑھا ہے۔ جس کے معنی نشانی کے ہیں۔...... اور حدیث میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ارضِ مقدس میں افیق کے مقام پر نازل ہوں گے۔ ان کے ہاتھ میں ایک حربہ ہوگا۔ اس سے دجال کو قتل کریں گے۔ پس وہ بیت المقدس میں آئیں گے۔ دراں حالیکہ لوگ صبح کی نماز میں ہوں گے اور امام ان کو نماز پڑھا رہا ہوگا۔ پس وہ پیچھے ہٹیں گے۔ پس عیسیٰ علیہ السلام ان کو آگے کر دیں گے اور اسلامی طریقہ سے ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔“
اور ایسا ہی وہ ایک دوسرے مقام پر لکھتے ہیں کہ: ترجمہ : ”اس پر اتفاق کیا گیا ہے کہ جناب عیسیٰ علیہ السلام کی عمر جب وہ آسمان پر اٹھائے گئے ساڑھے تینتیس برس تھی۔ اس صورت میں نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ دنیا میں کہولت تک نہیں پہنچے تھے۔ اس کا جواب دو طریقوں سے ہے۔“ دوسرا جواب امام حسین بن الفضل البجلی کا قول ہے کہ مراد کہلا سے یہ ہے کہ وہ کہل ہوگا۔ جب کہ وہ نازل ہوگا۔ آسمان سے آخری زمانہ میں اور باتیں کرے گا لوگوں سے اور قتل کرے گا دجال کو امام حسین بن الفضل کہتے ہیں کہ یہ آیت نص ہے۔ اس بات پر کہ عیسیٰ دوبارہ زمین پر نازل ہوں گے۔
ایک دوسرے مقام پر زیرِ آیت ”بل رفعہ اللہ الیہ“ فرماتے ہیں۔ ”رفع عیسیٰ الی السماء ثابت بھذہ الآیۃ “ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر اٹھایا جانا اس آیت سے ثابت شدہ ہے۔
(تفسیر کبیر ج ١٣ ص ١٠٣)
”امام بخاری کی کتاب بخاری شریف اصح الکتاب بعد کتاب اللہ ہے۔“
(ازالۃ اوہام ص ٤٦٢، خزائن ج ٣ ص ٥١١)
یعنی قرآن کریم کے بعد اس کا درجہ ہے۔ امام بخاری فن حدیث میں ناقد بصیر ہیں۔ امام بخاری رئیس المحدثین ہیں۔ ایسا ہی (تبلیغ رسالت ج ٢ ص ٢٥) پر لکھتے ہیں کہ: ”صحیحین، بخاری اور مسلم کو تمام کتب پر مقدم رکھا جائے اور اصح الکتاب بعد کتاب اللہ ہے۔ لہٰذا اس کو مسلم پر مقدم رکھا جائے۔“
ناظرین! مندرجہ بالا تاثرات کو پڑھ کر دل میں رکھئے اور جناب امام بخاری جن پر بہتان لگایا گیا ہے کہ وہ ممات مسیح کے قائل تھے کے پاکیزہ خیالات ملاحظہ فرمائیے۔
امام بخاریؒ پیدائش مسیح سے لے کر نزول مسیح تک مختلف ابواب باندھے ہیں اور ہر ایک باب پر قرآن شریف سے استدلال کیا ہے۔ دیکھو صحیح بخاری شریف ان سب کے آخر میں انہوں نے ایک حدیث بیان فرمائی ہے۔ مگر اس کے شروع میں کوئی آیت اس لئے نہیں لکھی کہ اس حدیث کے آخر میں ہی آیت موجود ہے اور وہ یہ ہے۔
ترجمہ: ”جناب ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ فرمایا نبی کریم ﷺ نے قسم ہے مجھے اس ذات پاک کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ البتہ تحقیق ضرور نازل ہوگا۔ تمہاری طرف بیٹا مریم کا (عیسیٰ علیہ السلام) حاکم عادل ہوکر وہ غلبہ صلیب کو توڑے گا۔ خنزیر کو قتل کرے گا۔ اس کے زمانہ عدل میں جزیہ یعنی کوئی ٹیکس نہ لیا جائے گا اور مال کی اس قدر فراوانی ہوگی کہ گویا ایک نہر بہ رہی ہے۔ اس کے بابرکت زمانے میں کوئی صدقہ قبول کرنے والا ڈھونڈے سے نہ ملے گا۔ لوگ اس قدر مستغنی و عابد ہوں گے کہ ایک ایک سجدہ کو تمام دنیا سے بہتر سمجھیں گے۔ جناب ابو ہریرہؓ اس حدیث کو بیان فرما کر صحابہ کرام سے کہتے ہیں کہ اگر تم اس حدیث کی قرآن کریم سے صحت و تصدیق چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھو۔ ”وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ“ یعنی یہود و نصاریٰ سے کوئی باقی ایسا بے ایمان نہ رہے گا۔ جو عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پیشتر ان پر ایمان نہ لائے۔
(بخاری ج ١ ص ٤٩٠، باب نزول عیسیٰ بن مریم)
گویا اس زبردست حدیث کے بیان کرنے کے بعد کسی اور حوالے کی ضرورت باقی
نہیں رہتی۔ مگر بھائی یہ مرزائی نہ مانیں کہ عادی ہیں ایک اور سہی۔ بخاری شریف جلد اوّل میں ایک حدیث ہے کہ: ”جناب ابو ہریرہؓ بیان فرماتے ہیں کہ فرمایا نبی کریم ﷺ نے کہ اے امت مرحومہ اس وقت مارے خوشی کے تمہارا کیا حال ہوگا۔ جب کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم تمہارے درمیان نازل ہوں گے اور حالت اس وقت یہ ہوگی کہ تمہارا امام صلوٰۃ تمہیں میں سے ہوگا۔“ اس کے علاوہ مزید تسلی کے لئے ایک اور چیز پیش کردوں سنئے۔
(درمنثور ج٢ ص٢٤٥، بحوالہ تاریخ امام بخاری) ”عن عبداللہ بن سلام قال يدفن
عیسیٰ ابن مریم مع رسول الله ﷺ وصاحبيه فيكون قبره رابعاً“ ”امام بخاریؒ عبداللہ بن سلام سے فرماتے ہیں کہ جناب عیسیٰ ابن مریم حضرت عمرؓ اور حضرت صدیق اکبرؓ کے پاس رسول کریم ﷺ کے ساتھ دفن کئے جائیں گے اور یہ حجرہ نبویہ میں چوتھی قبر ہوگی۔“
ناظرین! غور کا مقام ہے جو شخص نزول مسیح کے لئے اپنی صحیح میں احادیث نقل کر رہا ہے اور جس کی تاریخ جناب مسیح علیہ السلام کی قبر کی جگہ بتلاتی ہے وہ کس طرح حیات مسیح کا منکر ہو سکتا ہے۔ حیف ہے ان لوگوں پر جو دیکھتے ہوئے اندھے ہیں اور سنتے ہوئے بہرے ہیں۔ ان گاس خوروں کی جانے بلا کہ جناب امام بخاری کون تھے کیا کہہ گئے۔ بس انہوں نے مرزا قادیانی سے سن لیا اور تسلیم کر لیا اللہ اللہ اور خیر سلا۔
جناب سید المحدثین امام مسلمؒ
مرزائے قادیانی آنجہانی جناب امام مسلم کی شخصیت کے پورے پورے قائل ہیں اور صحیح مسلم پر کامل اعتبار رکھتے ہوئے بڑے وثوق سے حسب ذیل اظہارِ خیال کرتے ہیں۔
(ازالۃ اوہام ص ٨٨٢، خزائن ج ٣ ص ٥٨٢) ”میرے پر یہ بہتان ہے کہ گویا میں صحیحین کا
منکر ہوں...... سو اگر میں بخاری اور مسلم کی صحت کا قائل نہ ہوتا تو میں اپنی تائید دعویٰ میں کیوں بار بار اس کو پیش کرتا۔“
اس لئے فقیر کے خیال میں یہی انسب ہے کہ جناب امام مسلم کا مذہب مرزائی پٹارہ یا الہامی تھیلا ہی پیش کرنے پر ہی قناعت کی جائے۔
- نمبر : ١ (ازالہ اوہام ص ٨١، خزائن ج ٣ ص ١٤٢) ”صحیح مسلم کی حدیث میں جو یہ لفظ موجود
ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام جب آسمان سے اتریں گے تو ان کا لباس زرد رنگ کا ہوگا۔“
- نمبر ٢: (اخبار البدر قادیان ٧؍جون ١٩٠٦ء) ”آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا کہ مسیح جب
آسمان سے اترے گا تو زرد چادریں اس نے پہنی ہوں گی۔“
مرزائیو! ایمان سے کہو کوئی بات بھی تمہارے لئے قابلِ حجت ہے یا نہیں۔ قرآن کریم کو تم جھٹلاتے ہو۔ حدیث صحیح کی تم پھبتیاں اڑاتے ہو۔ یہ اقوال تو جے سنگھ بہادر قادیانی کے ہیں۔ جو تمہارے لئے قابل قدر اور لائق حجت ہیں۔ کیا ان کا بھی انکار کر دو گے۔ آہ کیا ازل ہی سے تمہیں الٹی عقل اور اوندھی کھوپڑی ایسی تفویض ہوئی۔ جس میں یہ صلاحیت ہی نہیں کہ سچ اور جھوٹ میں امتیاز کر سکو۔ مبارک ہیں وہ جو قادیانی کے فرمان پر سرتسلیم کو خم کریں اور حیات مسیح پر ایمان رکھیں۔
یوں تو مسلم شریف میں بہت سے ایسے فرمانِ رسالت موجود ہیں۔ جن سے حیات مسیح ونزول مسیح روزِ روشن کی طرح ہویدا ہے۔ مگر طوالت کے خوف ہم یہاں صرف ایک حدیث تبرکاً پیش کرتے۔ ملاحظہ فرمائیں:
”عن حذيفة بن اسيد اشرف علينا رسول الله ﷺ ونحن نتذاكر الساعة قال لا تقوم الساعة حتى ترو عشر آيات طلوع الشمس من مغربها والدخان والدابة وياجوج ماجوج ونزول عيسىٰ ابن مريم (مسلم ج ٢ ص ٣٩٣، باب كتاب الفتن واشراط الساعة)“
جناب شیخ المحدثین حافظ ابو نعیم مجدد صدی چہارم
”قال رسول الله ﷺ ينزل عيسىٰ ابن مريم فيقول اميرهم (المهدى) تعال صل لنا فيقول لا ان بعضكم علىٰ بعض امراء تكرمة هذالامة (مسلم ج ١ ص ٨٧، باب نزول عيسىٰ عليه السلام)“ ﴿جناب رسول کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں۔ جناب عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گے۔ امیر المؤمنین مہدی عرض کریں گے۔ تشریف لائیے اور امامت کیجئے۔ جناب عیسیٰ معذوری بیان کرتے ہوئے فرمائیں گے۔ یہ بزرگی امت خیر الانام کو ہی سزاوار ہے۔ جو بعض کے بعض امیر ہیں۔﴾
ایسا ہی کتاب الفتن میں ایک حدیث ابن عباسؓ سے مروی ہے۔
ترجمہ: حضرت ابن عباسؓ بیان فرماتے ہیں کہ جناب مسیح ابن مریم نازل ہو کر شادی کریں گے اور صاحب اولاد ہوں گے۔ آپ کی شادی قوم شعیب میں ہو گی۔ جو حضرت موسیٰ کے سسرال ہیں۔ ان کو بنی حزام کہتے ہیں۔
(ابو نعیم فی کتاب الفتن حوالہ کادیہ ص ٢٨١)
مرزائیو! ٹھنڈے دل سے سوچو اور جواب دو کہ نزول مسیح کا یہ شاندار اہتمام کیوں ہو رہا ہے۔ سبحان اللہ یہاں تو عیسیٰ علیہ السلام کے سسرال تک کا پتہ موجود ہے۔ اس سے زیادہ وضاحت اور کیا ہو سکتی ہے۔ یہاں ایک بات بھی کہتا جاؤں برا نہ ماننا تمہارے قادیانی کو جب محمدی کے عشق کا ہیضہ ہوا اور چاہت نے ذات الجنب کا سماں پیدا کیا۔ محبت نے ہوش و حواس کو خیر باد کہا تو مرزا قادیانی نے ایک بڑے الحاح وزاری کے ساتھ اپنے آسمانی خسر مرزا احمد بیگ کو چٹھی لکھی جو اخبار نور فشاں نے پنجابی نبوت کے آٹے دال کا بھاؤ بتاتے ہوئے شائع کی اور جو آج تک رسوائی اور روسیاہی کا باعث ہو رہی ہے اور جس کا حشر دنیا جانتی ہے۔ اگر مرزا قادیانی ہی مسیح موعود ہوتا تو یہ آسمانی نکاح اللہ میاں کا کیا ہوا سنجوگ کیوں ٹوٹتا اور مرزا احمد بیگ قوم شعیب سے تھے اور کیا مغل بروزی شعیبی ہیں یا ظلی۔ بنی حزام؟ عقل کے ناخن لو اور سوچو کہ ایں راہ کہ تو میروی بہ کفرستان است۔
رئیس التحریر مجدد زمان جناب امام بیہقیؒ مجدد صدی چہارم
"عن عبدالله بن مسعودؓ قال لما كان ليلة اسرى برسول الله ﷺ لقى ابراهيم وموسى وعيسىٰ فتذاكروا الساعة فبدؤا بابراهيم فسألوه عنها فلم يكن عنده منها علم ثم سالوا موسى فلم يكن عنده علم فردوا الحديث الىٰ عيسىٰ ابن مريم فقال قد عهد الىّ فيما دون وجبتها فلا يعلمها الا الله فذكر خروج الدجال قال فانزل فاقتله (البیهقی، درمنثور ج ٤ ص ٣٣٦، ابن ماجه ص ٢٩٩، باب فتنة الدجال وخروج عيسىٰ عليه السلام) ﴿حضرت عبداللہ بن مسعود صحابی نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ معراج کی رات میں رسول اللہ ﷺ نے جناب ابراہیم موسیٰ اور عیسیٰ ابن مریم علیہم السلام سے ملاقات فرمائی۔ پس قیامت کا ذکر چھڑ گیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام سے قیامت کے متعلق سوال کیا گیا۔ آپ نے اس کے وقت سے لاعلمی فرمائی۔ اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نے لاعلمی بیان کی۔ بالآخر جناب عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم نے جواب میں ارشاد فرمایا کہ میرے ساتھ قرب قیامت کا ایک وعدہ کیا گیا تھا۔ اس کا صحیح اور ٹھیک وقت سوائے ذات باری تعالیٰ کے کسی کو معلوم نہیں۔ پس انہوں نے دجال کا ذکر کیا اور فرمایا پھر میں اتروں گا۔﴾
یہ حدیث (مسند امام احمد ج ٤ ص ٢١٧) میں مرفوعاً مذکور ہے۔ اس میں یہ الفاظ زبان فیض ترجمان کے اپنے مذکور ہیں ۔ ’’ان الدجال خارج ومعى قضيبان فاذا ارانی ذاب کما
يذوب الرصاص قال فيهلكه الله اذا رانی“ یعنی عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ دجال نکلے گا اور میرے پاس تیز تلوار ہوگی۔ پس جب وہ مجھے دیکھے گا تو اس طرح پگھلے گا جس طرح سکہ پگھلتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ اسے میرے دیکھنے سے ہلاک کر دیں گے۔
اور ایسا ہی ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں۔ (شعب الایمان ج ١ ص ١٥٣) پر رفع مسیح کا واضح تذکرہ ہے۔ (مطبوعہ بیروت)
سبحان اللہ ! یہ ہے وجہ نزول مسیح کی۔ یعنی ہر ایک نبی کا ایک مبشر اور ایک مصدق ہمیشہ سے چلا آیا ہے۔ یہ سلسلہ ابوالبشر آدم صفی اللہ سے شروع ہوا اور آدم کی خوشخبری اللہ تعالیٰ نے خود دی۔ ارشاد ہوتا ہے۔ ”واذ قال ربك للملائكة اني جاعل في الارض خليفه (بقره:٣٠)“ یعنی اللہ تعالیٰ بطور مبشر ملائکہ کو فرماتے ہیں۔ تحقیق میں زمین پر اپنا نائب بنانے والا ہوں۔ یہ سلسلہ یہاں سے شروع ہوا اور اس کے بعد یکے بعد دیگرے پیامبر مبشر و مصدق ہوتے گئے۔ یہاں تک کہ جناب عیسیٰ ابن مریم کے مبشر ہونے کی باری آئی۔ چنانچہ فرقان حمید شاہد ہے۔
”ومبشرا برسول يأتي من بعدى اسمه احمد (صف:٦)“ یعنی میں خوشخبری دیتا ہوں کہ میرے بعد احمد مجتبیٰ ﷺ تشریف لائیں گے۔ اس کے بعد سرور دو جہاں آئے۔ آپ نے عیسیٰ علیہ السلام کی تصدیق فرمائی۔
سرور کائنات ﷺ پر پیامبری ختم ہوئی۔ آپ ﷺ کو عہد رسالت تاقیام زمانہ عطاء ہوا۔ یعنی آپ کے بعد کوئی نبی وہ ظلی ہو یا بروزی مبعوث نہ کیا جائے گا۔ یوں سمجھئے کہ وہ الٰہی دستاویز جو انبیاء کے لئے مخصوص تھی۔ اس پر نبی کریم ﷺ کی آخری مہر تمام سابقہ انبیاء کی تصدیق کراتے ہوئے لگوادی گئی۔ اب اس مہر کے نیچے جو بدبخت بھی اپنا نام لکھنا پسند کرے گا کذاب ٹھہرے گا۔ کیونکہ خط پر مہر کے بعد کی عبارت جعلی متصور سمجھی جاتی ہے۔ ایسی حالت میں مشیت ایزدی یتیم مکہ کی تصدیق کراتی تو کس سے اس لئے حکمت بالغہ نے یہی مناسب سمجھا کہ آپ کے مبشر جناب عیسیٰ علیہ السلام ہی کو ایک لمبی عمر عطا فرماتے ہوئے آسمان پر اٹھا لیا جائے۔ یہی وجہ کہ ان میں صفات ملکیہ رکھے گئے اور یہی وجہ ہے جو ان کی پیدائش نفخ جبرائیلیہ سے ہوئی۔ یہ تمام اہتمام صرف یتیم مکہ کے لئے ہاں اسی محبوب یزدانی کے لئے کئے گئے۔ جس کے لئے بزم عالم پیدا کی۔ چنانچہ حضور ﷺ فرماتے ہیں۔ ”اول ما خلق الله نوری“ یعنی سب سے پیشتر اللہ تعالیٰ نے میرے نور کو پیدا کیا اور ایک دوسری حدیث میں آتا ہے کہ آدم کا
پتلا ابھی پانی اور مٹی میں گوندھا پڑا تھا۔ جو اللہ تعالیٰ نے میرے نور کو پیدا کیا۔ چنانچہ اسی نور کو آدم علیہ السلام کی پیشانی میں رکھا گیا اور اسی کے سامنے ملائکہ سربسجود ہوئے۔ اس کے بعد یہ نور تمام نبیوں میں بطور امانت آتا رہا۔ یہاں تک کہ آل اسماعیل سے عبداللہ بن مطلب کے پاس پہنچا اور یہ خدا کی آخری امانت جناب سیدہ بی بی آمنہ کو ودیعت فرمائی گئی اور اس طریق سے یتیم مکہ افق عرب پر چودھویں کا چاند ہو کر چمکا۔ جس کے بے پناہ نورانیت سے بزم عالم کا چپہ چپہ جگمگا اٹھا۔
مرزائیو! ایمان سے کہو اگر حضور سرور دو عالم ﷺ کی تصدیق کے لئے جناب مسیح تشریف لے آویں۔ مسلمانوں کے امیر کے پیچھے نماز پڑھیں۔ یہود و نصاریٰ کے عقائد باطلہ کا رد کریں اور انہیں علم اسلام کے نیچے لے آئیں تو حضور ﷺ کی اس میں عزت ہے۔ یا ہتک یقیناً عزت ہے۔ کون جاہل ہے جو اس کو کسر شان سمجھے اور مرزا قادیانی کا یہ کہہ کر دجل دینا کہ ختم نبوت کی مہر ٹوٹتی ہے اور دین محمدی میں رخنہ اندازی ہوتی ہے۔ کاش اس اعتراض سے قبل وہ اپنے دعاوی کو دیکھتے کہ ہزار نبیوں کا بنڈل یعنی رئیس قادیان آجائے۔ جس کا الہامی سلسلہ شیطان کی آنت سے کچھ لمبا ہی ہو۔ مگر ختم نبوت میں کچھ فرق نہیں آتا۔ کیونکہ یہ تناسخی یعنی بروزی نبی ہیں۔ سوال تو یہ ہے کہ یہ کہاں لکھا ہے کہ بروزی و برازی ظلی و کلی نبی آئیں گے۔ تو ختم نبوت میں فرق نہ آئے گا اور ایک سابقہ نبی مشیت ایزدی اور وعدہ الٰہی کے مطابق آئے تو ختم نبوت ٹوٹ جائے گی۔ اب حضور ﷺ فخر رسل کی تصدیق کی ضرورت ہے۔ کیا کذاب قادیان سے کرائیں؟ جو نبوت کے باب میں نیم دروں نیم بروں ہو رہا ہے اور اتنے بڑے جلیل القدر پیامبر کی تصدیق جس کا تمام زمانہ یا دور رسالت یا قیام زمانہ ہے کی تصدیق وہ کرے جو سیمابی فطرت لے کر آیا ہے۔ جسے کسی ایک حالت میں قرار ہی نہیں۔ نہیں فخر رسل کی تصدیق کوئی صاحب کتاب نبی ہی کر سکتا ہے اور وہ سعادت روز ازل سے مسیح ابن مریم ہی کے حصہ میں آئی ہے اور انشاء اللہ وہی اس کو فرمان رسالت کی رو سے ہاں یتیم مکہ ﷺ کی بتائی ہوئی پیش گوئی کے مطابق گواہی دیں گے۔
مرزائیو! کہیں کم بختی سے مرزا قادیانی کو صاحب کتاب نہ کہہ دینا۔ جیسا کہ وہ خود اقرار کرتا ہے۔ او نیم یہودیو! ذیل کا مضمون چشم بصیرت سے پڑھو اور خدارا سوچو کدھر جا رہے ہو اور شافع محشر ﷺ کو کیا منہ دکھاؤ گے۔
- نمبر ١: (تبلیغ رسالت ج ١ ص ٤١) ”مؤلف یعنی مرزا قادیانی نے براہین احمدیہ کو خدا تعالیٰ
کی طرف سے ملہم اور مامور ہو کر بغرض اصلاح و تجدید دین تالیف کیا ہے۔“
نمبر:٢ (تتمہ حقیقت الوحی ص ٥١، خزائن ج٢٢ ص٤٨٥) ”اللہ تعالیٰ براہین احمدیہ میں فرماتا ہے۔“
اس کے آخر میں جناب امام بیہقی کی ایک فیصلہ کن حدیث اور کہتا جاؤں۔ سنئے:
”عن ابي هريرة انه قال قال رسول الله ﷺ كيف انتم اذا انزل ابن مريم من السماء فيكم وامامكم منكم (كتاب الاسماء والصفات ص٣٠١)“
﴿ابو ہریرہؓ روایت فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے (مارے خوشی کے) اس وقت تمہاری کیا حالت ہوگی۔ جب کہ ابن مریم آسمان سے تم میں نازل ہوگا۔ دراں حالیکہ تمہارا امام تمہیں میں سے ایک شخص ہوگا۔﴾
اس حدیث کی صحت پر مرزا قادیانی کے چہیتے صحابی مرزا خدا بخش قادیانی نے اپنی کتاب عسل مصفےٰ ص ١٥٦ جلد دوئم پر دستخط تو کر دیئے مگر لفظ من السماء ہضم کر گیا۔ یہودی کہیں پھٹ تیرے کی۔
جناب مجدد زماں ومحدث دوراں امام حاکم صاحب نیشاپوریؒ صدی چہارم
”عن ابي هريرة قال قال رسول الله ﷺ ان روح الله عيسى نازل فيكم فاذا رايتموه فاعرفوه فانه رجل مربوع الى الحمره والبياض ...... ثم يتوفى ويصلى عليه المسلمون (رواه حاكم ج٣ ص ٤٥٠ ، حديث نمبر ٤٢١٩)“
﴿حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ روح اللہ عیسیٰ علیہ السلام تم میں نازل ہوں گے۔ جب ان کو دیکھو تو پہچانو اس کو، کیونکہ وہ مرد ہے۔ میلان رکھتا ہے سرخی اور سفیدی کی طرف پھر فوت ہوگا اور مسلمان ان پر نماز جنازہ پڑھیں گے۔﴾
اس حدیث کی صحت پر خدا بخش قادیانی صحابی و منظور نظر مرزا قادیانی نے اپنی کتاب موسومہ عسل مصفےٰ ص ١٥١ ج٢ پر دستخط کئے۔ اس لئے مرزائیوں کے نزدیک قابل حجت ہے۔
”عن ابن عباس قال قال رسول الله ﷺ وان اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته قال خروج عيسى عليه السلام (حاكم في المستدرك ج٢ ص ٣٣)“ ﴿جناب ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ فرمایا نبی کریمﷺ نے نہیں ہوگا کوئی اہل کتاب سے مگر ضرور ایمان لائے گا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ان کی موت سے پہلے، فرمایا حضرت ابن عباسؓ نے کہ مراد اس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا ہے۔﴾
اور ایسا ہی ایک دوسرے مقام پر ارشاد کرتے ہیں۔
اور ایسا ہی (تفسیر کبیر ج ٦ ص ٤١٧) زیر آیت ”وایدناہ“ لکھتے ہیں کہ: اور جبرائیل علیہ السلام جاتا تھا جہاں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جاتے تھے اور جبرائیل ان کے ہمراہ تھا۔ جب کہ وہ آسمان پر چڑھ گئے۔
ناظرین! جناب امام فخر الدین رازی نے علاوہ احادیث صحیحہ کے جو اس کتاب میں پہلے بیان ہو چکیں اور قطع نظر دیگر آیات کے جو آپ نے دیگر مواقع پر بیان کیں۔ اس مختصر بات میں چار آیات قرآنی سے استدلال کرتے ہوئے صاف الفاظ میں وضاحت مسیح علیہ السلام کے صعود و نزول کی گواہی دی۔ اب کون بد بخت ہے جو انکار کرے اور مجدد کے افکار سے بقول مرزا قادیانی کفر لازم آتا ہے۔ اس لئے مرزائیو! کہیں انکار کر کے منہ پر کالک نہ لگا بیٹھنا۔
جناب شیخ الاسلام امام حافظ ابن کثیر مجدد صدی ششم
(تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٣٩، زیر واذکروا اللہ) کے تحت میں لکھتے ہیں کہ: جب یہود نے آپ کے مکان کو گھیر لیا اور گمان کیا کہ آپ پر غالب ہو گئے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان سے آپ کو نکال لیا اور اس مکان کی کھڑکی سے آسمان پر اٹھا لیا اور آپ کی شباہت اس پر ڈال دی جو اس مکان میں آپ کے پاس تھا۔ سو جب وہ اندر گئے تو اس کو رات کے اندھیرے میں عیسیٰ خیال کیا۔ پس اسے پکڑا اور سولی دیا اور سر پر کانٹے رکھے اور ان کے ساتھ خدا کا یہی مکر تھا کہ اپنے نبی کو بچا لیا اور اسے ان کے درمیان سے اوپر اٹھا لیا اور ان کو ان کی گمراہی میں حیران چھوڑ دیا۔
ایسا ہی ایک دوسرے مقام (تفسیر ابن کثیر ج ٧ ص ٤١٧) پر ارشاد کرتے ہیں کہ:
ترجمہ: ”اللہ تعالیٰ کے قول ”وانہ لعلم للساعۃ“ کے متعلق ابن اسحاق کی تفسیر گزر چکی ہے کہ مراد اس سے حضرت عیسیٰ کے معجزات مثل مردوں کا زندہ کرنا، کوڑھوں اور برص والوں کو تندرست کرنا اور علاوہ اس کے دیگر امراض سے شفا دینا۔ اس میں اعتراض ہے اور اس سے زیادہ نا قابل قبول وہ ہے جو قتادہ نے حسن بصری، سعید ابن جبیر سے بیان کیا ہے کہ انہ کی ضمیر قرآن کی طرف راجع ہے۔ بلکہ صحیح یہ ہے کہ انہ کی ضمیر حضرت عیسیٰ کی طرف راجع ہے۔ کیونکہ سیاق و سباق انہیں کے ذکر میں ہے۔ پس مراد اس سے ان کا قیامت سے پہلے نازل ہونا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ”وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ“ میں فرمایا ہے۔ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے تمام اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے اور ان معنوں سے دوسری قرأت تائید کرتی ہے جو یہ ہے۔ ”وان لعلم للساعۃ“ یعنی نشانی ہے اور دلیل ہے قیامت کے واقع ہونے پر، مجاہدؒ کہتے ہیں اس کے معنی ہیں قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا
قیامت کی نشانی ہے۔ اسی طرح ابوہریرہؓ، ابن عباسؓ، ابوعالیہؒ، ابومالکؒ، عکرمہؒ، حسنؒ، قتادہؒ، ضحاکؒ وغیرہم بزرگان دین سے روایت ہے۔ احادیث رسول کریم ﷺ سے حد تواتر اتم تک پہنچ چکی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے عادل حاکم اور منصف کی حالت میں نازل ہونے کی خبر دی ہے۔‘‘
ایسا ہی (تفسیر ابن کثیر ج ٣ ص ٢٠١) زیر آیت ”واذ کففت بنی اسرائیل عنك “ فرماتے ہیں:۔ ”یعنی اے مسیح اس نعمت کو یاد کرو جو ہم نے یہود کو تم سے دور ہٹانے میں کی تھی۔ جب تم ان کے پاس اپنی نبوت ورسالت کے ثبوت میں بیّن دلائل اور قطعی ثبوت لے کر آئے تھے تو انہوں نے تمہاری تکذیب کرتے ہوئے تم پر جادوگر ہونے کا بہتان لگایا تھا اور تمہارے قتل وصلوب دینے میں سعی لاحاصل کرنے لگے تو ہم نے تجھ کو ان میں سے نکال کر اپنی طرف اٹھالیا اور تجھے ان کی صحبت سے پاک رکھا اور ان کی شرارت سے محفوظ کیا۔‘‘
چنانچہ ایک دوسرے مقام (تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٤٠١) پر ایک فیصلہ کن قول پیش کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ: ”ابن جریر کہتا ہے کہ صحت کے لحاظ سے ان سب اقوال سے اول درجہ یہ قول ہے کہ اہل کتاب میں سے عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد کوئی ایسا نہیں ہوگا جو عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان نہ لے آئے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ابن جریر کا یہ قول بالکل صحیح ہے۔‘‘
”تحقیق یہود کے لئے عیسیٰ علیہ السلام کی شبیہ بنادی گئی اور انہوں نے اس شبیہ کو قتل کیا...... اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا اور بے شک وہ ابھی زندہ ہے اور قیامت سے پہلے نازل ہوگا۔ جیسا کہ احادیث متواترہ اس پر دلالت کرتی ہیں اور قیامت کے دن وہ شہادت دیں گے۔ ان کے ان اعمال کی جن کو عیسیٰ علیہ السلام نے آسمان پر چڑھنے سے پہلے اور زمین پر اترنے کے بعد دیکھا۔‘‘
(تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٤٠٢)
مرزا قادیانی در مدح امام می گوید
”جناب حافظ ابن کثیر ان اکابر محققین میں سے ہیں۔ جن کی آنکھوں کو خدا تعالیٰ نے نور معرفت عطاء کیا تھا۔ محدث ومفسر اعظم ابن جریرؒ۔ (آئینہ کمالات اسلام ص ١٦٨، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
او لئیم یہودیو! برائیوں کی پتلیو! تو سنو۔ مرزا قادیانی کیا کہہ رہے ہیں۔ کیا ان اوصاف کے مالک بھی کفریہ شرکیہ عقیدہ رکھتے یا جھوٹ بولتے ہیں اور طرفہ یہ کہ وہ چھٹی صدی کے مسلمہ مجدد بھی ہیں۔ کیا اب بھی نہ مانو گے کیوں شامتیں آئی ہیں ہوش کی دوا لو تاکہ نجات اخروی نصیب ہوجائے۔
جناب مجدد اسلام امام عبدالرحمن صاحب ابن جوزیؒ مجدد صدی ششم
”عن عبدالله بن عمر قال قال رسول الله ﷺ ینزل عیسیٰ ابن مریم الی الارض فیتزوج ویولد لہ یمکث خمساً واربعین سنة ثم یموت فیدفن معی فی قبری فاقوم انا وعیسیٰ ابن مریم فی قبر واحد بین ابوبکر وعمر“ (کتاب الوفا ص ٨٤٢ الباب فی حشر عیسیٰ ابن مریم مع نبینا) ٭ ”جناب عبداللہ بن عمرؓ صحابی نبی کریم ﷺ روایت کرتے ہیں کہ فرمایا سرکار دو عالم ﷺ نے عیسیٰ ابن مریم زمین پر اتریں گے پھر وہ شادی کریں گے اور ان کے ہاں اولاد ہوگی وہ پینتالیس برس زمین پر قیام فرمائیں گے۔ اس کے بعد وہ فوت ہوکر میرے مقبرے میں میرے ساتھ دفن کئے جائیں گے۔ پس میں اور عیسیٰ علیہ السلام قیامت کو اکٹھے اٹھیں گے ابوبکرؓ اور عمرؓ کے درمیان۔﴾
ناظرین! ایسے صریح فرمان رسالت کے بعد وہ کون سا بدبخت ہے جو چون و چرا کرے اور خواہ مخواہ دجل کے چکر میں پھنس جائے۔ مرزائیو! دیدہ وا سے پڑھو اور جواب دو۔ ہاں اگر کور مغزی ستیاناس کرے کہ حدیث صحیح نہیں تو ذیل میں مرزا جی کے مؤقف حدیث مذکور کے متعلق دیکھو اور شرم و ندامت کو دعوت دو مرزا قادیانی نے اس حدیث کو (نزول المسیح طبع اوّل ص ٣ حاشیہ، خزائن ج ١٨ ص ٣٨١، کشتی نوح ص ١٥، خزائن ج ١٩ ص ١٦، ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧، حقیقت الوحی ص ٣٠٧، خزائن ج ٢٢ ص ٣٢٠) میں اپنی فطری جبلت سے مجبور ہو کر یہودیوں کے باوا کے کان کاٹتے ہوئے اور تحریف کا ریکارڈ مات کرتے ہوئے لکھا ہے۔ ان کتب کے ان صفحات کو پڑھو۔
قطب الاقطاب حضرت سید شیخ عبدالقادر جیلانیؒ
پیران پیر صاحبؒ کسی تشریح کے محتاج نہیں۔ ان کا مرتبہ سبھی مذاہب کو مسلم ہے۔ وہ متفقہ اہل اسلام کے نزدیک بہت بڑے بزرگ گزرے ہیں۔ اس لئے ان کی شخصیت کسی تعارف کی قطعاً محتاج نہیں۔ مرزا قادیانی بھی ان کی بزرگی اور تقدس کے پوری طرح سے قائل ہیں وہ اپنی بے نظیر کتاب (غنیۃ الطالبین ج ٢ ص ٥٥) میں فرماتے ہیں۔
”والسابع رفعہ اللہ عزوجل عیسیٰ ابن مریم الی السماء“ ”اور ساتویں بات یہ کہ اٹھا لیا اللہ تعالٰی نے عیسیٰ ابن مریم کو آسمان کی طرف۔﴾
رئیس المفسرین امام ابن جریرؒ اخرج ابن جریر وابن ابی حاتم عن الربیع قال ان النصارٰی اتوا رسول الله ﷺ فخاصموہ فی عیسیٰ ابن مریم وقالوا لہ
من ابوه وقالوا على الله الكذب والبهتان فقال لهم النبی ﷺ وسلم الستم تعلمون ان ربنا حی لا یموت وان عیسی یأتی علیہ الفنا فقالوا بلى (درمنثور ج ٢ ص ٣، اول آل عمران) ”حضرت ربیعؒ کہتے ہیں کہ نجران کے عیسائی رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپؐ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں جھگڑنے لگے۔ (یعنی توحید و تثلیث میں بحث شروع کر دی اور کہنے لگے کہ اگر عیسیٰ علیہ السلام خدا کا بیٹا نہیں تو بتاؤ اس کا باپ کون ہے) کیسے اللہ پر جھوٹ جڑتے رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ بیٹا باپ سے مشابہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ اس کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے اور کبھی نہیں مرے گا۔ حالانکہ یقیناً عیسیٰ علیہ السلام پر موت طاری ہوگی تو انہوں نے جواب میں کہا ہاں کیوں نہیں۔“
مرزائیو! ایمان سے کہو کہ یہ فیصلہ کن حدیث ایک ہی کافی نہیں۔ زبان فیض ترجمان سے یہ روز روشن کی طرح ثابت ہوتا ہے کہ جناب مسیح نے ابھی موت کا ذائقہ نہیں چکھا اور وہ ضرور چکھیں گے۔ کیا اس فرمان پاک سے حیات مسیح ثابت نہ ہوئی۔ بتاؤ اور کیا چاہتے ہو کن الفاظ سے تم کو تسلی ہو سکتی ہے۔ مرزا قادیانی تو یہ کہہ کر بری ہوئے۔ قول مرزا:
جو چھوڑتا ہے چھوڑ دو اس بد نصیب کو
(تحفہ گولڑویہ ص ٢٧، خزائن ج ١٧ ص ٨٧)
اس کے علاوہ ”وان اهل الكتاب الا لیؤمنن به قبل موته“ کے تحت میں فرماتے ہیں کہ: ”اور جو کہتا ہے کہ لیؤمنن بہ قبل موتہ کے معنی ہیں اہل کتاب اپنی موت سے پہلے محمد ﷺ پر ایمان لے آتا ہے۔ یہ بالکل بلا دلیل ہے۔ کیونکہ کتابی کی موت سے پہلے معنے کرنے سے سخت فساد لازم آتا ہے۔ کیونکہ یہ معنی کلام اللہ اور حدیث نبوی کے خلاف ہیں۔ پس محض خیالی باتوں سے دلیل قائم نہیں ہوا کرتی۔ معنی لیؤمنن به قبل موته کے یہ ہیں کہ اہل کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ضرور ان کی رسالت کو قبول کر لیں گے۔“
(تفسیر ابن جریر ج ٢٢ ص ٢٣)
ایسا ہی (تفسیر ابن جریر ج ٣ ص ٢٩١) ”انى متوفیك ورافعك الى“ کے ضمن میں فرماتے ہیں کہ: ”اقوال مفسرین میں سے ہمارے نزدیک یہ سب سے اچھا ہے کہ اس متوفیک کے معنی یہ ہیں۔ اے عیسیٰ علیہ السلام میں تجھے اپنے قبضے میں لینے والا ہوں اور تجھے اپنی طرف اٹھانے
والا ہوں۔ کیونکہ اس بارہ میں رسول کریمﷺ کی احادیث تواتر تک پہنچی ہوئی ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہو کر دجال کو قتل کریں گے اور ٤٠ یا ٤٥ سال تک دنیا میں رہ کر فوت ہوں گے۔‘‘
”ایسا ہی اس کے ضمن میں ابن جریر کسی کا قول نقل کرتے ہیں۔ یعنی حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توفی سے مراد ان کا رفع جسمانی اور کفار سے علیحدگی ہے۔‘‘
(تفسیر ابن جریر ج ٣ ص ٢٩٠)
اور ایسا ہی ابن جریر ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں کہ: ”حضرت کعب فرماتے ہیں کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی امت کی قلت اور منکرین کی کثرت کو دیکھا تو اللہ تعالیٰ کے دربار میں شکایت کی اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف یہ وحی کی کہ اے عیسیٰ میں تجھے اپنے قبضہ میں لینے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور یقینا تجھے دجال کانے کے خلاف بھیجوں گا اور تو اسے قتل کرے گا۔‘‘ (ایضاً)
مرزائیو! کہیں ابن جریر کے متعلق کوئی برا عقیدہ یا الزام لگا کر منہ پر کالک نہ لگا بیٹھنا۔ اس کے لئے وہ عندالمرزا بڑے معتبر ہیں۔ اعتبار نہ ہو تو دیکھو۔
(چشمہ معرفت ص ٢٥١ حاشیہ، خزائن ج ٢٣ ص ٢٦١) ”ابن جریر نہایت معتبر اور آئمہ حدیث میں سے ہیں۔ (آئینہ کمالات اسلام ص ١٦٨، خزائن ج ٥ ص ایضاً) ابن جریر رئیس المفسرین ہیں۔
رئیس المفسرین جناب امام ابن تیمیہ مجدد صدی ہشتم
مرزا قادیانی کی مثال بعینہ شتر مرغ کی ہے۔ پرندوں میں حیوان اور حیوانوں میں جانور۔ چنانچہ وہ اپنی (کتاب البریہ ص ٢٠٣ حاشیہ، خزائن ج ١٣ ص ٢٢١) کے حاشیہ پر امام موصوف کے متعلق لکھتے ہیں کہ: ”امام ابن تیمیہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے قائل ہیں۔‘‘
مندرجہ بالا الفاظ اور ان کی صحت کی ذمہ دار وہ زبان ہے جس نے نصرانیت کی گود میں پرورش پاتے ہوئے انا الحق کہا۔ مگر افسوس سزا نہ پائی۔ آہ! رئیس قادیان کے دعوے کوئی چھپے ہوئے نہیں۔ بہر حال وہ موجودہ وقت کے بہت بڑے موٹے تازے سرکاری پیغمبر تھے۔ گو ان کا معاملہ خدا کے سپرد ہوچکا۔ مگر بھائی پیغمبر جھوٹ تھوڑا ہی بولتے اور پھر بروز محمد عربیﷺ کے خاتم بدہن دعوے دار جو یہاں تک کہہ گئے۔ ”وما ينطق عن الهوى ان هو الا وحى يوحى‘‘
(کتاب البریہ ص ٢٧٨، خزائن ج ١٣ ص ١٠٥)
یعنی رئیس قادیان کی زبان نطق ہی نہیں کرتی۔ جب تک اللہ میاں نطق نہ کراوے۔ یعنی وہ خود تھوڑا ہی بولتے ہیں۔ اللہ میاں مرزے میں بول رہا ہے۔ اس لئے جھوٹ کا یہاں گذر ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مرزا قادیانی جھوٹ کی مذمت میں بہت کچھ کہہ گئے۔
- ١...... ”جھوٹ بولنے سے بدتر گناہ دنیا میں اور کوئی نہیں ۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٢٧، خزائن ج ٢٢ ص ٤٥٩)
- ٢...... ”اے بے باک لوگو جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا ایک برابر ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٠٦، خزائن ج ٢٢ ص ٢١٥)
- ٣...... ”جھوٹ بولنے سے مرنا بہتر ہے۔“
(تبلیغ رسالت ص ٣٠ ج ٧، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٣٤)
- ٤...... ”جھوٹے پر خدا کی لعنت۔“ (ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم ص ١١١، خزائن ج ٢١ ص ٢٧٥)
- ٥...... ”دروغ گوئی کی زندگی جیسی کوئی لعنتی زندگی نہیں۔“
(نزول المسیح ص ٢، خزائن ج ١٨ ص ٣٨٠)
(اب اس قادیانی روشنی میں کسے یقین آئے گا کہ مرزا قادیانی جھوٹ کہیں گے۔)
اب سنئے جناب مجدد صدی ہشتم کے خیالات پاکیزہ کہ وہ حیات مسیح کے کس عمدگی سے قائل ہیں۔
(الجواب الصحیح لمن بدل دین المسیح جلد اول ص ١١٥) میں ہے۔
”روم اور یونان وغیرہ میں اشکال علویہ اور بتان ارضیہ کو پوجتے تھے۔ پس مسیح علیہ السلام نے اپنے نائب بھیجے جو ان کو دین الٰہی کی طرف دعوت دیتے تھے۔ پس بعض تو ان کے پاس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زمینی زندگی میں گئے اور بعض حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد گئے اور انہوں نے لوگوں کو خدا کے دین کی طرف دعوت دی۔“
(الجواب الصحیح لمن بدل دین المسیح جلد اول ص ٣٤١)
”مسلمان اور اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ دو مسیحوں کے وجود پر متفق ہیں۔ مسیح ہدایت داؤد کی اولاد میں سے ہے اور اہل کتاب کے نزدیک مسیح الضلالت یوسف کی اولاد میں سے ہے اور اس بات پر بھی متفق ہیں کہ مسیح ہدایت عنقریب آئے گا جب کہ آئے گا مسیح الدجال۔ لیکن مسلمان اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ مسیح ہدایت حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ہیں کہ خدا نے ان کو رسول بنایا اور پھر دوبارہ وہی آئیں گے۔ لیکن مسلمان یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ قیامت سے پہلے
اتریں گے اور مسیح الدجال کو قتل کریں گے اور صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور کوئی دین باقی نہ رہے گا مگر اسلام، یہود اور نصاریٰ ان کی رسالت پر ایمان لائیں گے۔ جیسا کہ اللہ فرماتا ہے۔ ”و ان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته “ یعنی تمام اہل کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئیں گے اور قول صحیح جس پر جمہور امت کا اتفاق ہے۔ وہ یہ ہے کہ موتہ کی ضمیر عیسیٰ کی طرف پھرتی ہے۔ اس کی تائید اس امت سے بھی ہوتی ہے۔ ”وانه لعلم للساعة“ یعنی عیسیٰ علیہ السلام قیامت کی نشانی ہے۔“
(الجواب الصحيح لمن بدل دين المسيح جلد اوّل ص ٣٤٩)
”جب مسیح ابن مریم آنحضرت ﷺ کی امت میں نازل ہوں گے تو شرع محمدی کے مطابق عمل کریں گے۔“
(الجواب الصحيح لمن بدل دين المسيح جلد اوّل ص ١٧٧)
”اور صحیح میں یہ بھی ثابت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے دمشق کی مسجد کے شرقی سفید منارہ پر اتریں گے۔“
(الجواب الصحيح لمن بدل دين المسيح جلد اوّل ص ١٨٤)
”اور اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ معجزات ظاہر کئے اور تحقیق وہ آسمان کی طرف چڑھ گئے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مقدس کتاب میں خبر دی۔“
(الجواب الصحيح لمن بدل دين المسيح جلد دوم ص ٢٨٤)
”و إن من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته “ اس کی تفسیر اکثر علماء نے یہ کی ہے کہ مراد قبل موتہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ہے اور یہودی کی موت سے پہلے بھی کسی نے معنیٰ کئے ہیں اور یہ ضعیف ہیں۔ جیسا کہ کسی نے محمد ﷺ کی موت سے پہلے بھی معنیٰ کئے ہیں اور یہ اس سے بھی زیادہ ضعیف ہیں۔ کیونکہ اگر ایمان موت سے پہلے لایا جائے تو نفع نہیں دے سکتا۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرتا ہے۔ جب تک بندہ غرغرہ تک نہ پہنچا ہو اور اگر یہ کہا جائے کہ ایمان سے مراد ایمان بعد غرغرہ ہے تو اس میں کوئی فائدہ نہیں۔ اس لئے کہ غرغرہ کے وقت وہ ہر ایک امر پر جس کا کہ وہ منکر ہے ایمان لاتا ہے۔ پس مسیح علیہ السلام کی کوئی خصوصیت نہ رہی اور ایمان سے مراد ایمان نافع اس لئے اللہ تعالیٰ نے قبل موتہ فرمایا ہے۔ اگر ایمان بعد غرغرہ مراد ہوتا تو بعد موتہ فرماتا۔ کیونکہ بعد موت کے ایمان بالمسیح یا بمحمد میں کوئی فرق نہیں ہے اور یہودی یہودیت پر مرتا ہے۔ اس لئے وہ کافر مرتا ہے۔ مسیح اور محمد سے منکر ہوتا ہے اور اس آیت
میں لیؤمن بہ مقسم علیہ ہے۔ یعنی قسمیہ خبر دی گئی ہے اور یہ مستقبل ہی میں ہو سکتا ہے۔ پس ثابت ہوا یہ ایمان اس خبر کے بعد ہوگا اور اگر موت کتابی کی مراد ہوتی تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتے ”وان من اہل الکتاب الا من یؤمن بہ“ اور ”لیؤمنن بہ“ نہ فرماتے اور نیز ”وان من اہل الکتاب“ یہ لفظ عام ہے۔ ہر ایک یہودی اور نصرانی اس میں شامل ہے۔ پس ثابت ہوا کہ تمام اہل کتاب یہود اور نصاریٰ مسیح علیہ السلام کی موت سے پہلے مسیح پر ایمان لائیں گے اور مسیح ابن مریم اللہ کا رسول کوئی ایسا نہیں۔ جیسے یہودی کہتے ہیں اور وہ خدا نہیں جیسے نصاریٰ کہتے ہیں۔“
(الجواب الصحیح لمن بدل دین المسیح جلد چہارم ص ١٦٩)
”میں یہ کہتا ہوں کہ آدمی کا جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چڑھ جانا یقیناً مسیح علیہ السلام کے بارہ میں پایہ ثبوت کو پہنچ چکا ہے۔ پس وہ آسمان پر چڑھ گئے اور عنقریب زمین پر اتریں گے اور نصاریٰ بھی اس بیان میں مسلمانوں سے موافق ہیں۔ وہ بھی مسلمانوں کی طرح یہی کہتے ہیں کہ مسیح علیہ السلام جسم کے ساتھ آسمان پر چڑھ گئے اور عنقریب زمین پر اتریں گے۔“ (زیارت القبور ص ٧٥) ”اور عیسیٰ علیہ السلام جب آسمان سے نازل ہوں گے تو وہ قرآن کریم اور سنت نبوی ﷺ کے مطابق حکم دیں گے۔“
مرزائیو! ایمان سے کہو ابن تیمیہ کیا مذہب رکھتے ہیں۔ کیا قادیانی سچا ہے یا جھوٹا۔ یقیناً جھوٹا ہے اور جو صاحب اسے اس بیان میں سچا کر دکھائیں موعودہ انعام کے علاوہ سو آنہ اور انعام میں پائیں۔ لیجئے ہم ان کی اپنی قیمت ان کی اپنی زبان سے بتاتے ہیں۔ (چشمہ معرفت ص ٢٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٢٣١) ”جو ایک میں جھوٹا ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔“
وہ تو بیچارا خود کہتا ہے اب میرا اعتبار نہ کرو۔ تم کئے جاؤ تو تمہاری مرضی۔ یہ بھی بتا دوں کہ امام موصوف مرزا قادیانی کے زاویہ نگاہ میں کس مرتبے کے تھے۔ لو وہ بھی سن لو چاہے عمل نہ بھی کرو مگر سن تو لو۔ (کتاب البریہ ص ٢٠٣ حاشیہ، خزائن ج ١٣ ص ٢٢١) ”فاضل و محدث و مفسر ابن تیمیہ جو اپنے وقت کے امام ہیں۔“
فاضل اجل علامہ بے بدل جناب حافظ ابن قیمؒ
مرزا قادیانی کی جانے بلا کہ امام موصوف کون تھے۔ انہوں نے کون کون سی کتابیں لکھیں اور کیا کیا خدمت دین فرمائی۔ فقیر کے خیال میں مرزا قادیانی کو اس گہرائی تک پہنچنے
اور ان کے حالات کا اندازہ کرنے کی ضرورت ہی نہ تھی۔ کیونکہ انکا وقت عزیز انہیں کب اجازت دیتا تھا کہ وہ دجل کے چکر سے جسے وہ بڑی مستعدی سے چلا رہے تھے۔ خود نکلیں اور دوسروں کو آزاد کریں۔ میں کہہ چکا ہوں کہ انہیں مراق کی وجہ سے مسیح موعود بننے کا ایک جنون ہو چکا تھا اور وہ اسی خبط میں ایسے مبتلا تھے۔ جیسے شہد میں مکھی یا دلدل میں گدھا۔ اس لئے ان کی حالت قابل رحم تھی۔ وہ جو کچھ بھی کر رہے تھے جنون کے تابع اور عشق کی غلامی کرا رہی تھی۔ جہاں آپ نے قرآن عزیز کی آیات کی من مانی فرضی و بے ربط تفسیر کی وہاں احادیث صحیحہ کی تحریف کو شیر مادر سمجھا اور اسی پر بس نہیں۔ قرون اولیٰ سے لے کر تمام وہ صحابی ہوں یا تابعی یا تبع تابعی وہ امام ہوں یا مجدد، محدث ہوں یا مفسر۔ غرضیکہ سبھی آئمہ مجتہدین کو ہم نوا بنانے کی سعی مذموم فرمائی۔
چنانچہ اسی زمرے میں جناب ابن قیم بھی آتے ہیں۔ مرزا قادیانی ان کی ایک عبارت جو فضائل سرکار مدینہ کے ضمن میں تھی۔ جس سے حاشا و کلا ان کا یہ مطلب نہ تھا جو مرزا قادیانی نے سمجھا دیکھتے ہی، جھٹ کہہ دیا کہ امام ابن قیم بھی ممات مسیح کے قائل تھے۔ چنانچہ مرزا قادیانی کی وہ سرقہ شدہ عبارت پیش کرتے ہیں۔ سنئے اور خدارا انصاف فرمائیے۔
مرزا قادیانی مدارج السالکین سے یہ عبارت حدیث بتلاتے ہوئے نقل فرمائی۔
”لوکان موسیٰ وعیسیٰ حیین....... الخ!“ یعنی اگر موسیٰ یا عیسیٰ زندہ ہوتے۔ پس ثابت ہوا کہ عیسیٰ مر گئے اور یہ ابن قیم کا مذہب ہے۔
ناظرین! مرزا قادیانی کی بتائی ہوئی کتاب میں سے اب ہم پوری عبارت آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ جس سے قادیانی صداقت ودیانت کا پتہ چل جائے گا کہ یہ ظلی نبی یہودیوں کا بھی باواجی ہے۔ کوئی تحریف کرنا آپ سے سیکھے۔
(مدارج السالکین ج٢ ص ٣١٣) پر ارشاد ہوتا ہے کہ: ”ومحمدﷺ مبعوث الی جميع الثقلين فرسالته عامة لجميع الجن والانس فى كل زمان ولوكان موسىٰ وعيسىٰ حيين لكانا من اتباعه واذا نزل عيسىٰ ابن مريم فانما يحكم بشريعة محمدﷺ“ فرماتے ہیں اور آنحضرتﷺ کی نبوت تمام جن وانس کے لئے اور تمام زمانوں کے لئے بالفرض اگر موسیٰ اور عیسیٰ بھی زندہ ہوں تو وہ ضرور آنحضورﷺ کی پیروی فرمائیں اور جب عیسیٰ ابن مریم نزول فرمائیں گے تو وہ بھی شریعت محمدیﷺ پر ہی عمل کریں گے۔ ﴾
اس کے آگے وضاحت فرماتے ہیں کہ: ”فمن ادعى انه مع محمد كالخضر مع موسى اوجوز ذالك لا حد من الامة فيلجدد اسلامه ويشهد انه مفارق لدين الاسلام بالكلية فضلاً ان يكون من خاصة اولياء الله وانما هو من اولياء الشيطان“ ﴿اور جو کوئی اس بات کا دعویٰ کرے کہ عیسیٰ ابن مریم جناب سرور الانبیاء کے ساتھ اسی طرح ہوں گے۔ جیسا کہ موسیٰ کے ساتھ خضر یا اگر کوئی شخص امت محمدیہ میں سے کسی شخص کے لئے ایسا تعلق جائز قرار دے تو ضرور ہے کہ ایسا شخص اپنے اسلام کی تجدید کرے اور اسے اپنے ہی خلاف اس امر کی شہادت دینی پڑے گی کہ وہ دین اسلام سے کلیتہً علیحدہ ہونے والا ہے۔ چہ جائیکہ وہ اولیاء الرحمٰن میں سے ہو سکے، نہیں بلکہ ایسا شخص شیطان کا دوست ہے۔﴾
جناب امام کی دور بین نگاہ اور ان کی خداداد ذہانت وقابلیت نے آج سے چھ سو سال قبل امت مرزائیہ کے لئے اعلان فرمایا کہ نیم یہودیو! مرزا قادیانی کو ظلی بروزی سمجھنے والو اپنے ایمان کی تجدید کرو۔
فقیر کے خیال میں یہی مضمون کافی ہے۔ مگر یہ اوندھی کھوپڑی والے شک کریں گے۔ اس لئے تبرکاً ایک دو اور حوالے ایسے دے دوں جو رگ الحاد پر تیز چاقو کا کام دیں۔
(کتاب التبیان مصنفہ ابن قیم ص ١٣٩) میں ارشاد کرتے ہیں ۔ ”وهذا المسيح ابن مريم حيي لم يمت وغذاه من جنس غذاء الملئكة“ ﴿جناب مسیح ابن مریم زندہ ہیں۔ فوت نہیں ہوئے اور ان کی غذا وہی ہے جو فرشتوں کی ہے۔﴾
ناظرین! انصاف فرمائیں کہ جناب امام موصوف حیات ثابت کر رہے ہیں یا ممات وہ تو مرزا قادیانی کے دجل کو بھی ساتھ ساتھ آشکارا کرتے ہوئے قلع قمع فرما رہے ہیں۔ کہ خبردار تمہیں کوئی یہودی بہکانے نہ دے کہ مسیح آسمان پر چڑھ گئے۔ اب وہاں کھیتی باڑی کرتے ہیں یا ہوٹل کھولے ہوئے ہیں۔ امام صاحب فرماتے ہیں وہ فرشتوں کی خوراک پر اکتفا فرماتے ہیں۔ ایک فیصلہ کن بات اور سنئے۔
ہدایۃ الحیاریٰ مصنفہ ابن قیم میں ارشاد ہوتا ہے کہ: ”وہ مسیح جس کی انتظار مسلمان کر رہے ہیں وہ عبداللہ ہے۔ اللہ کا رسول ہے۔ روح اللہ ہے اور کلمتہ اللہ ہے جو اس نے جناب مریم بتول کی طرف نازل فرمایا۔ یعنی جناب عیسیٰ ابن مریم اللہ کے بندے اور اس کے رسول جناب محمدﷺ بن عبداللہ کے بھائی ہیں۔ وہ اللہ کے دین اور اس کی توحید کو غالب کرے گا اور اپنے ان دشمنوں کو قتل کرے گا۔ جنہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اسے اور اس کی ماں کو معبود بنا لیا ہے اور انہیں قتل
کرے گا جو اس پر اور اس کی والدہ پر اتہام لگاتے ہیں۔ پس اسی مسیح کے انتظار مسلمان کر رہے ہیں اور وہ دمشق میں شرقی منارہ پر اس حالت میں نازل ہونے والے ہیں کہ اپنے دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے کاندھے پر رکھے ہوں گے۔ لوگ آپ کو اپنی آنکھوں سے آسمان پر سے آتے ہوئے دیکھیں گے۔ آپ اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کے مطابق حکم کریں گے۔‘‘
مرزائیو! کہیں جاتے جاتے جناب امام کے تقدس پر حرف نہ رکھ دینا۔ ہاں بھیا پکے کافر ہو جاؤ گے۔ کیونکہ وہ ساتویں صدی کے مسلمہ مجدد تھے اور اس کے علاوہ مرزا قادیانی ان کے بڑے ہی مداح تھے۔
(کتاب البریہ حاشیہ ص٢٠٣، خزائن ج١٣ ص٢٢١) ’’فاضل ومحدث ومفسر ابن قیم جو اپنے وقت کے امام تھے۔‘‘
جناب امام عبدالوہاب شعرانیؒ ۔ ان حضرت پر بھی مرزا قادیانی کا یہ گمان ہے کہ یہ بھی مرزا قادیانی کے ہمنوا تھے۔ یعنی وفات مسیح کے قائل تھے اور دلیل یہ پیش کرتے ہیں کہ آپ نے یہ حدیث نقل کی ہے۔ ’’لو کان موسیٰ وعیسیٰ حیین...... الخ!‘‘ ﴿یعنی اگر موسیٰ اور عیسیٰ زندہ ہوتے تو بجز میری متابعت کے انہیں کچھ چارہ ہی نہ تھا۔﴾
قارئین! اس حدیث کی صحت وعدم کے متعلق پچھلے اوراق میں مفصل بحث ہوچکی۔ اس لئے اور کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ باقی رہا سوال امام موصوف کے عقیدہ کا کہ وہ ممات مسیح کے قائل ہیں۔ سو اس کا جواب سنئے اور قادیانی دیانت کو شمع ہدایت دکھائیے۔
(الیواقیت والجواہر ج٢ ص١٤٦) سبحان اللہ! کتاب کا نام ہی قابل تعریف ہے۔ پھر بھلا یہ یاقوت و جواہر کا خزینہ قادیانی روڑے اور کنکروں کو کوڑی کے ہزار ہزار نہ بتا دے تو نام کی لاج نہیں۔ سنئے۔
جناب امام اپنی اس انمول کتاب میں خود ہی سائل بن کر پوچھتے ہیں کہ ’’مسیح کے نزول پر کیا کیا دلائل ہیں اور خود ہی جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں۔ دلیل نزول مسیح پر اللہ تعالیٰ کا قول ہے کہ نہیں ہوگا کوئی اہل کتاب مگر ایمان لائے گا۔ ساتھ عیسیٰ کے پیشتر اس کے مرنے کے، یعنی وہ اہل کتاب جو نزول کے وقت جمع ہوں گے، اور منکر ہیں معتزلی اور فلاسفہ اور یہود اور نصاریٰ مسیح کے آسمان پر اٹھائے جانے کے فرمایا اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ کے متعلق کہ وہ نشانی ہے قیامت کی اور ضمیر انہ کی مسیح کی طرف پھرتی ہے۔ سچ یہ ہے کہ وہ بمعہ جسم کے آسمان پر اٹھا لیا گیا ہے اور واجب ہے اس پر ایمان لانا کیونکہ خدا تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا کہ بلکہ اٹھا لیا اللہ نے اس کو اپنی طرف۔
- ١...... "وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته
(نساء:١٥٩)"
- ٢...... "وانه لعلم للساعته (نساء:٦١)"
- ٣...... "وما قتلوه یقیناً بل رفعه الله اليه (نساء:١٥٨،١٥٧)"
مندرجه بالا تراجم کی آیات مندرجہ بالا سے جناب امام صاحب نے استدلال فرمایا۔ اس کے علاوہ اور بیسوں ارشاد ہیں۔ مگر عاقل را اشارہ کافیست پر ہی اکتفا کرتا ہوں۔
بہر حال قادیانی صداقت کا انداز معلوم ہو گیا۔ اب مرزا قادیانی کی امام موصوف کے حق میں عقیدت بھی سن لیں۔
(ازالہ اوہام ص ١٤٩، خزائن ج ٣ ص ١٧٦) ”محدث اور صوفی ہونے کے علاوہ معروف کامل اور تفقہ تام کے رنگ سے رنگین تھے۔“
او نیم یہودیو! کچھ تو کہو کیا اب بھی نہ مانوں نہ مانوں کی بال ہٹ رہے گی۔ کیا ایسے لوگ بھی جھوٹ بولتے ہیں اور کچھ نہیں تو مرزا قادیانی کے الفاظ ہی سے شرماؤ۔
جناب حضرت شیخ محی الدین ابن عربیؒ
قادیان والو! خدا تمہیں ہدایت نصیب کرے اور راہ راست پر لائے۔ مگر یہ کیا حماقت ہے کہ بلا تحقیق کسی بزرگ کے عقیدے پر حملہ ہو رہا ہے اور اس جہالت کا کیا ٹھکانہ ہے کہ جناب شیخ کو اپنی حمایت میں لایا جا رہا ہے۔ حالانکہ جس قدر شرح وبسط سے حیات مسیح میں انہوں نے کہا وہ غلو تک پہنچا ہوا ہے۔ او نیم یہودیو! میدان میں آؤ اور اسی بزرگ کے عقائد پر فیصلہ کر لو۔
کس قدر دیدہ دلیری اور افسوس ہے جو اس بزرگ کو بھی اپنے شمار میں لانے کے لئے کہا جاتا ہے کہ وہ بھی حیات مسیح کے قائل نہ تھے اور دلیل میں تفسیر عرائس البیان کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ بات ہی مشکوک ہے کہ یہ تفسیر ان کی ہے یا نہیں۔ بھلے مانسو جب ان کی اور کتابیں ایسی موجود ہیں جس پر کسی قسم کا شک و شبہ نہیں تو کیوں نہیں انہیں اٹھاتے اور دیکھتے اور اگر اسی تفسیر پر ضد ہے تو یہ بھی تو تمہیں کوئی فائدہ نہیں دیتی۔ اس میں لکھا ہی کیا ہے جو تم ڈوبتے کو تنکے کا سہارا لے رہے ہو۔ سنو وہ تو یہ کہتی ہے کہ مسیح دوسرے بدن کے ساتھ اترے گا۔ اس میں وفات مسیح کا کون سا مفہوم ہے۔ ہاں اگر دوسرے بدن کے الفاظ تسلی دیتے ہو تو سنو اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت مسیح جب تک مشیت ایزدی سے زمین پر رہے۔ بوجہ طعام ارضی ان میں کثافت موجود تھی۔ مگر اب صد ہا برس گذرنے اور آسمان پر بود و باش رکھنے کے بعد جب نازل ہوں گے تو ظاہر
ہے وہ کثافت نہ ہوگی اور یہی دوسرا بدن ہے۔ اس میں تمہیں کیا فائدہ ہے؟ کچھ بھی نہیں۔ اب آیئے اور عینک ایمانی سے ان کی مشہور و معتبر کتاب ملاحظہ فرمائیے۔
(فتوحات مکیہ باب ٣٦٧، ج ٣ ص ٣٤١) میں فرماتے ہیں کہ: ”پس کھولا جبرائیل علیہ السلام نے دوسرا آسمان جس طرح کہ کھولا تھا پہلا جب داخل ہوئے رسول کریم ﷺ تو اچانک عیسیٰ ابن مریم کو پایا کہ اپنے جسم عنصری کے ساتھ موجود تھے۔ عیسیٰ علیہ السلام ابھی تک فوت نہیں ہوئے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو آسمان پر اٹھا لیا اور ان کو وہیں رکھا ہوا ہے۔“
ایسا ہی (فتوحات مکیہ باب ٣٧٣) میں فرماتے ہیں کہ: ”اس بارہ میں کسی کا اختلاف نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قرب قیامت میں نازل ہوں گے۔“
(فتوحات مکیہ باب ٣٠٩) ”اگر تو سوال کرے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے نزول پر کیا دلیل ہے تو جواب یہ ہے کہ وہ دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے۔ ”وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ“ معتزلہ اور فلسفی یہودی اور عیسائی جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمانی کا انکار کرتے ہیں وہ سب ان پر ایمان لائیں گے اور دوسری دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے۔ ”وانہ لعلم للساعۃ“ ظاہر ہے کہ انہ کی ضمیر حضرت عیسیٰ کی طرف پھرتی ہے۔ کیونکہ یہاں صرف وہی مذکور ہے اور حدیث صحیح میں ہے کہ مسلمان نماز پڑھ رہے ہوں گے کہ اچانک عیسیٰ علیہ السلام جامع دمشق کے شرقی سفید منارہ کے پاس اتریں گے اور ان پر دو چادریں ہوں گی اور ان کے دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے کندھوں پر ہوں گے۔ حق بات یہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسی جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر اٹھا لئے گئے اور اس کی صداقت پر ایمان لانا واجب ہے۔ کیونکہ خود اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ”بل رفعہ اللہ الیہ“ یعنی اٹھا لیا اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی طرف۔“
قادیانی در مدح امام می گوید
(آئینہ کمالات اسلام ص ١٥٨) ”شیخ ابن عربی صاحب فتوحات مکیہ بڑے محقق اور فاضل ہونے کے علاوہ اہل زبان بھی تھے۔“
(ازالۃ اوہام ص ١٥٢، خزائن ج ٣ ص ٤٧٧) ”جب اہل ولایت کو کسی واقعہ میں حدیث کی حاجت پڑتی ہے تو وہ آنحضرت ﷺ کی زیارت سے مشرف ہو جاتا ہے۔ پھر جبرائیل نازل ہوتے ہیں اور آنحضرت ﷺ سے وہ مسئلہ جس کی ولی کو حاجت ہوتی ہے پوچھ کر اس ولی کو بتا دیتے ہیں۔ یعنی ظلی طور پر وہ مسئلہ بنزول جبرائیل منکشف ہو جاتا ہے۔ پھر شیخ ابن عربی نے فرمایا ہے کہ ہم اس طریق سے آنحضرت ﷺ سے احادیث کی تصحیح کرا لیتے ہیں۔“
مرزائیو! انصاف و دیانت سے کام لو اور مندرجہ بالا واقعات کو سمجھنے کی کوشش کرو۔ بخدا ہم تمہارے بھلے کی کہتے ہیں۔ اللہ تمہیں صراط مستقیم پہ لائے۔ آمین!
جناب حافظ ابن حجر عسقلانیؒ
(فتح الباری ج٦ ص٤٩٤) ”اس سے ظاہر ہے کہ جناب ابوہریرہؓ کا مذہب یہ ہے کہ قول الٰہی قبل موتہ میں ضمیر (ہ) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھرتی ہے۔ پس معنی اس آیت کے یہ ہوئے کہ اہل کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ایمان لے آئیں گے اور اسی بات پر عبداللہ بن عباسؓ نے جزم کیا ہے۔ مطابق اس کے جو امام جریر نے آپ سے بطریق سعید بن جبیر باسناد صحیح روایت کیا ہے اور نیز بطریق ابی رجاء حضرت امام حسن بصریؒ سے روایت کیا۔ کہا انہوں نے کہ اہل کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ایمان لائیں گے اور خدا کی قسم آپ یقیناً اس وقت تک زندہ ہیں جب آپ نازل ہوں گے تو سب آپ پر ایمان لے آئیں گے۔“
ایسا ہی (فتح الباری میں ایک حدیث ابوداؤد ج٢ ص١٣٥، باب خروج الدجال) سے نقل فرماتے ہیں۔ ”عن ابی هریرة عن النبیﷺ قال الانبیاء اخوة لعلات امهاتهم شتی ودینهم واحد ولانی اولی الناس بعیسی ابن مریم لا نه لم یکن بینی وبینه نبی وانه نازل فاذا ارأیتموه فاعرفوه رجل مربوع الی الحمرة والبیاض علیه ثوبان ممصران رأسه یقطر وان لم یصبه بلل فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیة ویدعوالناس الی الاسلام فتهلک فی زمانها الملل کلها الا الاسلام وترتع الاسود مع الابل والنمارمع البقر والذیاب مع الغنم وتلعب الصبیان بالحیات فلا تضرهم فیمکث اربعین سنه ثم یتوفی ویصلی علیه المسلمون“ ﴿جناب ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ فرمایا نبی کریم ﷺ نے انبیاء علاقی بھائیوں کی طرح ہوتے ہیں۔ ان کی مائیں تو مختلف ہوتی ہیں اور دین ایک ہوتا ہے اور میں عیسیٰ ابن مریم سے سب سے زیادہ تعلق رکھنے والا ہوں۔ کیونکہ اس کے اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں ہوا اور وہ نازل ہونے والا ہے۔ پس جب اسے دیکھو تو اسے ان صفات سے پہچان لو۔ درمیانہ قامت، سرخی سفیدی ملا ہوا رنگ، زرد کپڑے پہنے ہوئے۔ سر کے بالوں سے قدرتی طور پر پانی ٹپکتا ہوا۔ وہ صلیب کو توڑے گا اور خنزیر کو قتل کرے گا اور جزیہ کو موقوف کر دے گا۔ کفار سے جہاد کرے گا اور دجال کو قتل کر دے گا۔ لوگوں کو اسلام کی دعوت دے گا۔ اس کے زمانہ میں سب مذاہب ہلاک ہو جائیں گے اور صرف اسلام ہی باقی رہ جائے گا۔﴾
مندرجہ بالا حدیث کی صحت پر مرزا قادیانی کے دستخط کرادوں۔ سو وہ بھی سنو مرزا قادیانی اس حدیث کو اپنی صداقت پر بالتمام چسپاں کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
(ازالہ اوہام ص ٨٩٣، خزائن ج ٣ ص ٥٨٧، ٥٨٨) ”امام بخاری نے...... ظاہر کیا ہے کہ اس واقعہ کی وجہ سے آنحضرت ﷺ کو مسیح ابن مریم سے ایک مشابہت ہے۔ چنانچہ ص ٤٨٩ میں حدیث بھی بروایت ابو ہریرہؓ لکھ دی ہے۔ انا اولى الناس بابن مريم والانبياء...... الخ“
اور چھوٹے مرزا قادیانی یعنی مصلح موعود خلیفہ دوئم نے بھی اس حدیث کی صحت پر بڑے زبردست دستخط کرتے ہوئے باپ پر بازی لے جانے کی قسمیں کھا رکھی ہیں۔ چنانچہ وہ اپنی کتاب (حقیقت النبوۃ ص١٩٢) پر چند الفاظ کی تحریف کرنے کے بعد بہت کچھ فرماتے ہیں۔ بہر حال حدیث کو نہایت صحیح مانتے ہیں۔
(تلخیص الحبیر ج ٣ ص ٤٦٢، طبع بیروت) میں حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں کہ: ”عیسیٰ کے اٹھائے جانے کے بارہ میں محدثین اور مفسرین امت کا اجماع ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ جسم عنصری کے ساتھ اٹھائے گئے تھے۔ اگر کسی نے اختلاف کیا ہے تو اس بارہ میں کہ آیا وہ رفع جسمانی سے پہلے فوت ہوئے تھے یا سو گئے تھے ۔“
اور ایسا ہی (فتح الباری ج ٦ ص ٤٩١، باب نزول عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام) میں فرماتے ہیں۔
”ينزل عيسى ابن مريم مصدقاً بمحمد ﷺ على ملته “ ﴿عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گے۔ دراں حالیکہ وہ تصدیق کرنے والے ہوں گے۔ رسول اکرم ﷺ کی اور آنحضرت کی ملت پر ہوں گے۔﴾
جناب امام جلال الدین سیوطیؒ مجدد صدی نہم
ناظرین ! سابقہ اوراق میں جناب امام موصوف کی قرآنی تفسیر ہر آیت کے تحت میں ملاحظہ فرما چکے ہیں۔ اس لئے طوالت مضمون سے ڈرنے کی وجہ سے دہرانے کی ضرورت نہیں۔ یہاں صرف تبرکاً ایک دو حوالے دینا مقصود ہیں۔ پس وہ سنئے :
(تفسیر در منثور ج ٢ ص ٢٤١ زیر آیت وان من اہل الکتاب) میں حضرت امام محمد بن علی بن ابی طالب کا ایک قول نقل کرتے ہیں۔
”ان عيسى لم يمت وانه رفع الى السماء وهو نازل قبل ان تقوم الساعة “ ﴿تحقیق عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں ہوئے اور تحقیق وہ اٹھائے گئے طرف آسمان کے اور نازل ہوں گے۔ قیامت سے پہلے ۔﴾
ایسا ہی کتاب الاعلام میں فرماتے ہیں کہ: ”عیسیٰ ہمارے نبی ﷺ کی شرح کے مطابق حکم کریں گے نہ کہ اپنی شرح سے جیسا کہ نص کیا اس پر علماء امت نے اور اس کی تاکید میں احادیث وارد ہوئی اور اس پر امت محمدی کا اجماع بھی قائم ہو چکا ہے۔“
مرزا قادیانی در مدح امام می گوید
(ازالۃ اوہام ص ١٥١، خزائن ج ٣ ص ١٧٧) میں مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ: ”پھر امام شعرانی صاحب نے ان لوگوں کے نام لئے ہیں۔ جن میں سے ایک امام محدث جلال الدین سیوطی بھی ہیں۔ (اور امام جلال الدین سیوطی فرماتے ہیں)..... کہ میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں صحیح احادیث کے لئے جن کو محدثین ضعیف کہتے ہیں حاضر ہوا کرتا ہوں۔ چنانچہ اس وقت تک پچھتر دفعہ حالت بیداری میں حاضر خدمت ہو چکا ہوں۔“
مرزائیو! ایمان سے کہو ایسی بزرگ ہستی جسے پچھتر دفعہ بیداری میں سرکار دو عالم ﷺ ملیں۔ کسی کفریہ عقیدے پر قائم رہ سکتی ہے اور قرآن عزیز کے استدلال کو غلط استعمال کر سکتی ہے ہر گز نہیں۔ اب سوچو یہ کیا اندھیر ہے کہ تمام کے تمام ایک لائن پہ سیدھے جا رہے ہیں اور اس مسئلہ کو اجماع امت قرار دے رہے ہیں۔ کیا یہ سب مشرک ہیں۔ نعوذ بالله من ذالك! اس لئے سوچو اور سمجھو کہ قادیانی غلط راستے پر بلاتا ہے اور یقیناً کذاب ہے۔
جناب ملا علی قاری مجدد صدی دہم
(شرح فقہ اکبر ص ١٤٦) ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب آسمان سے نازل ہوں گے تو اس وقت دجال اس طرح پگھلے گا جس طرح پانی میں نمک۔“
(شرح شفا ج ٢ ص ٥١٩) ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام آنحضرت ﷺ سے پہلے کے نبی ہیں اور آپ ﷺ کے بعد نازل ہوں گے اور شریعت محمدی پر عمل کریں گے۔“
(مرقاة شرح مشکوٰة ج ١٠ ص ٣٣٤) پس نازل ہوں گے حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے۔
(جمع الوسائل مصری ص ٥٦٣) بالتحقیق جناب عیسیٰ علیہ السلام آنحضرت ﷺ کے پہلو میں دفن ہوں گے۔ ابوبکرؓ و عمرؓ کے درمیان۔
جناب شیخ محمد طاہر گجراتی مجدد صدی دہم
(مجمع البحار ج ١ ص ٥٣٤) ”وقال مالك مات وهو ابن ثلاث وثلاثين سنة ولعله اراد رفعه الى السماء او حقيقة ويجيئ آخر الزمان لتواتر خبر النزول“
”اور امام مالک نے فرمایا کہ سوگئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس واسطے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو آسمان پر اٹھانے کا ارادہ کر لیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانہ میں آئیں گے۔ کیونکہ احادیث ان کے نزول کے بارہ میں متواتر ہیں۔“
جناب امام ربانی مجدد الف ثانی جناب شیخ احمد سرہندیؒ
(مکتوبات امام ربانی دفتر ٢ ص ١٨٩،١٩٠، مکتوب ص ٦٧) ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول فرما کر آنحضرت ﷺ کی شریعت پر عمل پیرا ہوں گے اور آپ کے امتی ہو کر رہیں گے۔ قیامت کی علامتیں جن کی نسبت مخبر صادق نے خبر دی ہے۔ سب حق ہیں۔ ان میں کسی قسم کا خلاف نہیں۔ یعنی سورج کا عادت کے خلاف مغرب سے طلوع کرنا حضرت مہدی علیہ الرضوان کا ظاہر ہونا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول فرمانا۔“
”حدیث میں آیا ہے کہ اصحاب کہف حضرت امام مہدی کے مددگار ہوں گے اور حضرت عیسیٰ ان کے زمانے میں نزول فرمائیں گے اور دجال کو قتل کرنے میں ان کے ساتھ موافقت کریں گے۔ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کا کلمہ متفق ہے کہ ان کے دین کے اصول واحد ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب آسمان سے نزول فرمائیں گے تو حضرت خاتم الرسل ﷺ کی شریعت کی متابعت کریں گے۔“
قادیانی در مدح می گوید
(کتاب البریہ ص ٧٤، خزائن ج ١٣ ص ٩٢) ”مجدد الف ثانی کامل ولی اور صاحب خوارق و کرامات بزرگ تھے۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٦٠٧، خزائن ج ٥ ص ایضاً) ”حضرت مجدد الف ثانی اولیاء کبار میں سے ہیں۔“
مرزائیو سوچو اور ٹھنڈے دل سے جواب دو کیا ایسے بزرگ بھی نعوذ باللہ جھوٹ بولتے ہیں۔ یا مشرکانہ عقائد کی تلقین کرتے ہیں۔ یقیناً انہوں نے وہی کہا جو اجماع امت ہے اور اسی پر ان کا خاتمہ ہوا۔
رئیس المحدثین جناب حضرت احمد شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلویؒ
فوز الکبیر میں فرماتے ہیں کہ: ”و نیز از ضلالت ایشان یکے آنست کہ جزم می کنند کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مقتول شدہ است و فی الواقع در حق عیسیٰ اشتباہے واقع شدہ بود رفع بر آسمان را قتل گمان کرد۔“
ایسا ہی ( تاویل الاحادیث ص ٦٠ ) میں فرماتے ہیں کہ: ”اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو گویا ایک فرشتہ تھے کہ زمین پر چلتے تھے پھر یہودیوں نے ان پر زندیق ہونے کی تہمت لگائی اور قتل پر جمع ہو گئے۔ پس انہوں نے تدبیر کی اور خدا نے بھی تدبیر فرمائی اور اللہ بہترین تدبیر کنندہ ہے۔ سو اللہ نے ان کے واسطے ایک صورت مثالیہ بنا دی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا اور ان کے گروہ میں سے یا ان کے دشمن کے ایک آدمی کو ان کی صورت کا بنا دیا۔ پس وہ قتل کیا گیا اور یہودی اسی کو عیسیٰ سمجھتے تھے۔“
اور ایسا ہی فتح الرحمن میں فرماتے ہیں کہ ”وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ویوم القیامۃ یکون علیہم شہیدا و نباشد ہیچ کس از اہل کتاب البتہ ایمان آورد بہ عیسیٰ علیہ السلام پیش از مردن عیسیٰ و روز قیامت باشد عیسیٰ گواہ بر ایشان۔“
اور ایسا ہی زیر آیت ”انی متوفیک ورافعک الی“ فرماتے ہیں کہ: ”اے عیسیٰ میں تجھے اپنے قبضے میں لینے والا ہوں اور تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور تجھے ان کافروں کی صحبت سے پاک کرنے والا ہوں۔“
اور زیر آیت ”وما قتلوہ وما صلبوہ“ فرماتے ہیں کہ: ”و یقین نکشتہ اند او را بلکہ برداشت خدا تعالیٰ او را بسوئے خود۔“
اور زیر آیت ”وانہ لعلم للساعتہ“ فرماتے ہیں کہ: و ہرآئینہ عیسیٰ نشان ہست قیامت را۔
اور اسی کتاب کے حاشیہ پر ارشاد کرتے ہیں کہ: مترجم گوید یہودی کہ حاضر شوند نزول عیسیٰ البتہ ایمان آرند۔“
قادیانی در مدح شاہ صاحب می گوید
(کتاب البریہ ص ٧٤، خزائن ج ١٣ ص ٩٢) ”شاہ ولی اللہ کامل ولی صاحب خوارق و کرامات بزرگ تھے۔“
(ازالۃ اوہام ص ١٥٥، خزائن ج ٣ ص ١٧٩) ”شاہ ولی اللہ رئیس المحدثین تھے۔“
مرزائی فرشتے کی بھی سنئے
(ازالۃ اوہام ص ٤٩٨، خزائن ج ٣ ص ٦٢٧، اشتہار نور الابصار صداقت آثار عیسائی صاحبوں کی ہدایت) ”میرے پیارے ولی اللہ محدث دہلویٰ۔“ حکیم نور الدین!
حضرت امام حافظ شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلویؒ کے متعلق میرا خیال تو یہ ہے کہ اگر روزِ جزا اللہ تبارک و تعالیٰ زمینِ ہند کو قوۃِ نطق دے کر پوچھے کہ بتلا کہ تیرا نیک عمل کیا ہے تو سرزمینِ ہند بڑے سرور و اطمینان سے یہی جواب دے گی۔ بلکہ مجسم علم و عمل میں حضرت شاہ صاحب موصوف کو پیش کرے گی۔ خوفِ طوالت مانع ہے ورنہ شاہ ولی اللہؒ کے متعلق لکھتے۔ البتہ اتنا کہہ دیتے ہیں کہ آپ کے خلوص کا یہ نتیجہ ہے۔ ہندوستان چھوڑ کر عرب و عجم میں آپ کے تلامذہ ہیں اور آپ کی تصانیف کا درجہ اور مقبولیت جو امت کے ہاں ہے۔ وہ فریقِ ثانی کو بلا چون و چرا بلکہ بلا اضطرار تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ آپ کی تصانیف میں سے صرف حجۃ اللہ البالغہ کو دیکھنے سے معلوم ہوجائے گا کہ ہمارا لکھنا شاہ صاحب کے متعلق بالکل تھوڑا ہے۔ ”رحمه الله تعالى وادخله فی جنّات النعیم آمین“
اور اگر ایسا ہی بدبختی کے متعلق پوچھا گیا تو وہ ندامت سے مرزائے قادیانی کا دکھڑا روئے گی اور عرض کرے گی کہ یا اللہ کاش میرے دامن پر قادیان کی نحوست کا بدنما دھبہ نہ ہوتا۔ فقیر کے خیال میں گلزارِ ہند کو اتنا مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ کیونکہ پھولوں کے ساتھ کانٹوں کا چولی دامن کا رشتہ ہمیشہ سے چلا آیا ہے۔ حتیٰ کہ خطہ عرب نے جہاں فخرِ دو عالم ﷺ کے پاؤں چومے وہاں اسود عنسی و مسیلمہ کذاب کی چیرہ دستیاں بھی دیکھیں۔ ایسا ہی جہاں رحمانی طاقتوں کی خیر و برکت نے عشرہ مبشرہ پیدا کئے۔ وہاں طاغوتی قوتیں بھی خاموش نہ رہیں۔ انہوں نے بھی عبداللہ بن ابی جیسے منافق اور عبدالرحمٰن بن ملجم جیسے بد نصیب اور یزید بن معاویہ جیسے شقی پیدا کرنے میں کمی نہیں کی۔
خصوصاً آج کل کے انبیاء سے
جناب امام شوکانیؒ مجدد صدی دوازدہم
”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ جسمِ عنصری کے ساتھ نازل ہونے کے بارہ میں حدیثیں متواتر تک پہنچ چکی ہیں۔“
(بحوالہ تفسیر فتح البیان ج ١)
”یعنی وہ احادیث نبی کریم ﷺ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بارے میں آئی ہیں۔ تواتر کو پہنچ چکی ہیں۔“
(کتاب الاذاعہ للشوکانی)
جناب حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلویؒ مجدد صدی سیزدہم
تفسیر عزیزی پارہ ٣٠ میں ایک روایت بیان فرماتے ہیں۔
”جناب ام المومنین حضرت صفیہؓ بیت المقدس کو تشریف لے گئیں اور مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھ کر فارغ ہوئیں تو طور زیتا پر تشریف لے گئیں اور وہاں بھی نماز ادا کی اور کنارہ پہاڑ پر کھڑے ہوکر فرمایا کہ یہ وہی پہاڑ ہے کہ جہاں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر تشریف لے گئے تھے۔“
جناب حضرت شاہ رفیع الدین صاحب محدث دہلویؒ مجدد صدی سیزدہم
اپنے نہایت ہی معتبر (ترجمہ قرآن ص ٧٨) میں لکھتے ہیں کہ: ”يــــا عـيـســـــى إنـــــي متوفيك ورافعك الی“ ﴿اے عیسیٰ تحقیق میں لینے والا ہوں تجھ کو اٹھانے والا ہوں۔ تجھ کو اپنی طرف۔﴾
”وانه لعلم للساعة“ کے تحت (ترجمہ قرآن ص ٦٦٧) میں فرماتے ہیں کہ : ”اور تحقیق وہ البتہ علامت قیامت کی ہے۔“
جناب حضرت شاہ عبدالقادر محدث دہلویؒ
موضح القرآن میں فرماتے ہیں کہ: ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته“ اور نہیں کوئی اہل کتاب میں سے مگر ایمان لائے گا پہلے موت اس کے۔
”حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابھی زندہ ہیں ۔ جب یہود میں دجال پیدا ہوگا تب اس جہاں میں آکر اس کو ماریں گے اور یہود ونصاریٰ ان پر ایمان لائیں گے کہ یہ نہ مرے تھے۔“ ”وانه لعلم للساعة“
اور وہ نشان ہے اس گھڑی کا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا نشان قیامت ہے۔
”انی متوفيك ورافعك الى ومطهرك من الذين كفروا“ ﴿اے عیسیٰ میں تجھ کو بھرلوں گا اور اٹھالوں گا اپنی طرف اور پاک کروں گا تجھ کو کافروں سے۔﴾
”وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم“ ﴿اور نہ اس کو (یہود نے) مارا ہے اور نہ سولی پر چڑھایا ہے۔ ولیکن وہی صورت بن گئی ان کے آگے اور اس کو مارا نہیں ۔ بے شک بلکہ اس کو اٹھالیا اللہ نے اپنی طرف۔﴾
فوائد میں لکھتے ہیں کہ: ”یہود کہتے ہیں ہم نے مارا عیسیٰ علیہ السلام کو مسیح اور رسول خدا نہیں کہتے۔ یہ اللہ نے ان کی خطا ذکر فرمائی اور فرمایا کہ اس کو ہرگز نہیں مارا حق تعالیٰ نے ایک صورت ان کو بتا دی اس کو یہود نے سولی چڑھایا۔“
جناب حافظ محمد لکھویؒ
(تفسیر محمدی ص ٢٩١ ج ١) زیر آیت ”ومکروا ومکر الله والله خیر الماکرین“ فرماتے ہیں کہ:
منظوم پنجابی
اس چھت اندر اک موری اوتھوں ول آسمان سدھارے
سردار تہاندے طیطانوس کیتا حکم زبانوں
جو چڑھیں چوبارے قتل کریں عیسیٰ نوں ماری جانوں
جاں چڑھ ڈٹھس وچ چوبارے عیسیٰ نظر نہ آیا
شکل شباہت عیسیٰ دی رب طیطانوس بنایا
انہاں ظن عیسیٰ اسنوں کٹھا سولی فیر چڑھایا
ہک کہن جو مرد حواریاں تھیں ہک سولی مار دوایا
ایسا ہی زیر آیت ”انی متوفیک و رافعک الی“ فرماتے ہیں کہ:
تے اپنی طرف اٹھاواں کنوں کفاراں پاک کر لیساں
توفی معنی قبض کرن دے صحیح سلامت پوری
تے عیسیٰ نوں رب صحیح سلامت لے گیا آپ حضوری
بخاری زمان، ابو حنیفہ دوران، جناب علامہ الشیخ محمد انور کاشمیریؒ
مجدد صدی چہار دہم
کہاں سے لاؤں وہ زبان جو بزرگان امت مرحومہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کا شمار کرے اور کس کے قلم کو یہ جرأت و طاقت ہے کہ وہ ان کے اوصاف کو رقم کرے۔ محمدی کان کے یہ بے مثال موتی یہ لازوال ہیرے صفحہ دہر پر کندن کی طرح چمکے اور معیار صداقت پر سونے کی طرح دمکے۔ شمع رسالت کے یہ انمول پروانے گو حیات مستعار کو شمع پر نثار کر گئے۔ مگر ان کی یہ بے مثال قربانی رہتی دنیا تک مشعل ہدایت کا کام دے گی۔ گلزار محمدی کے یہ شیریں مقال بلبل کچھ اس شان بے نیازی سے باغ عالم میں چہچہائے کہ شاخ شاخ و ڈال ڈال عالم وجد میں جھومیں اور پتوں اور کونپلوں نے مرحبا کہی۔ قطرات شبنم نے ان کے منہ کو چوما اور نسیم سحر نے انہیں گودی میں کھلا کر
مرحبا کہی۔ میں نے ان بزرگان ملت میں سے چند ایک حضرات کے دستخط حقیر کتاب پر اس لئے کرائے ہیں کہ مرزا قادیانی انہیں نعوذ باللہ اپنا ہمنوا بتلاتا ہوا کہتا ہے کہ یہ ممات مسیح کے قائل تھے۔ فقیر کو اگر یہ نقطہ پیش نہ ہوتا تو وہ ان تمام معصومین کے حتی الامکان پاکیزہ خیالات تبرکاً پیش کرتا۔ ذیل میں وہ جلیل القدر وعظیم الشان عبادالرحمن کا مختصراً ذکر کا ذکر پیش کرتے ہوئے اس مضمون کو ختم کرتا ہوں۔ اس کے بعد اکیلے مرزا آنجہانی باقی رہ جائیں گے۔ سو ان کے دستخط بھی علیحدہ ہی کی ضرورت ہے وہ کرا دیئے جائیں گے اور اس طریق سے صحیفہ تقدیر اختتام پذیر ہو جائے گی۔ وما توفيقي الا بالله!
زمانہ حال کے مجدد و محدث ، فقیہ و فیلسوف قبلہ علامہ محمد انور کاشمیری ثم الدیوبندی کی ذات گرامی کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ بطل حریت و مجاہد دین کی شخصیت و قابلیت کا بچہ بچہ معترف ہے۔ ان کے علم و فضل کی دھاک اور زہد واتقا کی ساکھ کا لوہا تمام ممالک اسلامی میں مانا اور جانا ہوا ہے۔ مرحوم میں اتنی خوبیاں تھیں کہ بیان کرنے سے زبان قاصر ہے۔ جناب شیخ الہند حضرت مولانا قبلہ سید محمود حسن صاحب اسیر مالٹا نور اللہ مرقدہ نے ایک عالمی مجلس میں برسبیل تذکرہ فرمایا۔ میری دلی خواہش تھی کہ اسلامیات کے لئے ایک ایسی جامع کتاب بطور یادگار لکھوں جو رہتی دنیا تک کے کام آئے۔ مگر افسوس مشاغل درس و تدریس اور ہجوم کار نے فرصت نہ دی۔ تاہم مجھے افسوس نہیں میں اپنی یادگار میں ایک بولتی ہوئی کتاب چھوڑے جاتا ہوں۔ جو اس کتاب صامت سے بدرجہا بہتر ہے۔
حکیم الامتہ جناب مولانا اشرف علی صاحب تھانوی سے کسی نے اسلام کی صداقت پر دلیل پوچھی تو فرمایا اگر صداقت اسلام میں کوئی شک کا شائبہ ہوتا تو انور شاہ کشمیری اسے کبھی قبول نہ فرماتے۔ زمانہ حال میں سید انور شاہ کشمیری کا وجود اسلام کا درخشندہ معجزہ ہے۔
فقیر کے خیال میں اگر باب نبوت مسدود نہ ہوتا اور لا نبی بعدی کا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تالا نہ ہوتا تو وہ اس صدی کے پیغمبر ہوتے۔ مگر چونکہ دین کامل ہو چکا۔ اس لئے گنجائش کا کوئی موقعہ ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے جو مرزائے قادیانی ظلی اور بروزی دلدل میں غوطے کھا رہا ہے۔
علامتہ العصر شیخ الاسلام مولانا قبلہ شبیر احمد صاحب عثمانی کو شاہ صاحب مرحوم سے ایک خاص انس تھا۔ ایک سچا پیار تھا۔ شاہ جی کی مفارقت کی نسبت کوئی ان سے پوچھے اس صدمے کا مزا وہی ٹھیک جانتے ہیں جنہیں اب تک اس درد کی لذت ٹیسیں لگاتی ہے۔ آہ! شاہ صاحب کی یاد کو وہ دم واپسین تک نہ بھولیں گے اور یہ یاد محو بھی کیسے ہو سکتی ہے۔ جب کہ وہ ان کے قائم مقام اسی مسند کو زینت دے رہے ہیں۔ بھائی! لعل کی قیمت جوہری ہی خوب جانتا ہے۔ علم کی قدر کسی صاحب
دماغ کو پوچھو۔ عاشق سے پوچھو کہ معشوق کی جدائی میں کیا مزا ہے۔ چکور سے پوچھو کہ چاند پہ کیوں نثار ہے۔ شمع پہ قربانی کی قدر پروانہ ہی جانتا ہے۔ قیس سے پوچھو کہ لیلیٰ سیاہ فام میں کیا جاذبیت تھی۔ سچ ہے ولی را ولی می شناسد؛ انور کی قدر شبیر ہی جانتے ہیں۔ آہ! ان کی یاد اب بھی مشکل مقامات درس کے موقعوں پر اکثر خراج تحسین لیتی ہی رہتی ہے۔ چنانچہ مولانا شبیر احمد عثمانی اکثر فخر وناز سے فرماتے ہیں کہ ہمارے علمی خاندان میں الحمد للہ تین مبارک ہستیاں ایسی گزری ہیں جنہوں نے کسی علمی وادبی ضخیم سے ضخیم کتاب کو پڑھے بغیر نہیں چھوڑا۔ یعنی حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلویؒ، حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب صدر مدرس دارالعلوم دیوبند اور قبلہ شاہ صاحب مرحوم آپ کی معلومات کا دائرہ اتنا وسیع و بے پایاں تھا کہ کوئی مسئلہ کسی علم کا جب بھی پوچھا گیا سائل کے سوال کے ختم ہونے سے پہلے بغیر کسی گہری سوچ کے فرمایا بھائی فلاں کتاب کے فلاں مقام پر دیکھو۔ آپ کی وسعت علم کا پتہ آپ کے ان مختصر رسالوں سے چلتا ہے کہ کس طرح سمندر کو کوزے میں بھرتے ہوئے اہل علم کے لئے اشارے کر دیئے ہیں گویا صحیح نصب العین اس خوش اسلوبی سے پیش فرما دیا ہے۔ جو رہتی دنیا تک کے لئے مشعل ہدایت کا کام دے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ شاہ صاحب کی ذات گرامی کو حدیث میں ہی ید طولیٰ حاصل تھا اور اس کے رموز و معارف ہی شرح الصدر تھے۔ منطق و فلسفہ میں ایسی دسترس نہ تھی۔ سو ان کا یہ خیال حقیقت پر مبنی نہیں۔ بلکہ خیال خام ہے۔ جن علم دوستوں نے ان کے وہ دونوں رسالے جو حدوث عالم پر لکھے ہوئے ہیں۔ ملاحظہ فرمائے ہوں گے وہ جانتے ہیں کہ ان سے بڑھ کر کوئی کیا لکھے گا۔ اس کا پڑھنا اور سمجھنا ہی کارے دارد۔
غرضیکہ شاہ صاحب کی ذات گرامی ایسی بے نظیر و بے مثال ہستی تھی جس کا بدل تلاش کرنا ناممکنات میں سے ہے۔ ”والنعم ما قال علامة العصر شبیر احمد عثمانی فی مدحہ لم تر العیون مثلہ ولم یرہو مثل“ ایسے بزرگ زمانہ ماضی میں خال خال گزرے ہیں اور زمانہ ان کے ہمعصر پیدا کرنے سے عاجز وقاصر رہے گا۔ با ایں ہمہ اس وسعت قلبی اور علمی سمندر کے ہوتے ہوئے وہ امام ابو حنیفہؒ کے مقلد اور سلف صالحین کے تابع تھے۔
آپ کے آخری دور عمر میں جو ٥ سال سے زیادہ نہیں نام کو تو بخاری شریف کا درس ہی ہوتا تھا۔ مگر تلامذہ خوب جانتے ہیں کہ وہ کیا کیا پڑھ جاتے تھے اور کن کن علوم کی سیر ہو جاتی تھی۔ مثلاً اگر نحو کا مسئلہ آیا تو وہاں متاخرین کی کتابوں کے نام بیان نہیں ہوتے تھے۔ بلکہ سیبویہ، جرجانی وزمخشری۔ غرضیکہ آپ کی درسگاہ میں ہر علم کے امام سے براہ راست آپ کی گفتگو ہوتی تھی اور یہ
طرز کلام سامعین کو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا بالمشافہ فن کے اماموں سے استفادہ حاصل ہو رہا ہے۔ طلباء ہی خوب جانتے ہیں کہ وہ کیا کیا فیض لے کر اٹھ رہے ہیں اور ان کے قلوب پر نہ بھولنے والے کیسے نقوش ہویدا ہیں۔ کیا کیا بیان کروں اور کیا کیا گنواؤں۔
فرقہ ضالہ مرزائیہ سے بھی آپ کی دلچسپی قابل تعریف ہے۔ آپ نے رد مرزائیت پر گو ایک دو کتابیں لکھیں۔ مگر حق یہ ہے کہ قلم ہی توڑ گئے۔ اب کوئی اور کیا لکھے گا۔ آہ! ضعیفی کے عالم میں مشہور مقدمہ تنسیخ نکاح میں بنفس نفیس بہاولپور تشریف لے جاتے اور عدالت میں وہ وہ نکات بیان فرماتے کہ معترضین ساکت وصامت، تصویر حیرت، انگشت بدندان محو تماشہ ہوتے اور اعتراض کرنے کی جرات نہ ہوتی۔ مقدمہ ختم ہوا اور فیصلہ ابھی محفوظ تھا کہ آپ اپنے دارالعلوم کو تشریف فرما ہوئے۔ مگر وصیت فرمائی کہ اگر میری عمر بیوفائی کرے تو میرے مرقد پر کھڑے ہو کر فیصلہ سنا دیجو۔ الحمد للہ! کہ فیصلہ اسلام کے حق میں ہوا اور یہ آخری خواہش اس طریق سے پہنچادی گئی۔
اسلام کا یہ درخشندہ ستارا افق عالم پر ستاون سال ضوافشاں رہا۔ محمدی کان کا یہ بے مثال موتی اسلامی دنیا میں مدتوں چمکتا اور دمکتا رہا۔ گلزار احمد کا یہ انمول بلبل باغ وحدت میں بے مثال کیف آور ترنم ریزیاں اور شیریں ترانے گاتا ہوا کل من علیہا فان کو لبیک کہتا ہوا امت مرحومہ کو داغ مفارقت دے گیا اور سرزمین دیو بند میں راحت کی ابدی گہری نیند سویا۔
نور سے معمور یہ خاکی شبستاں ہو ترا
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
مگر آہ! آپ کی مفارقت سے امت مرحومہ کے دلوں پر ایک نہ فراموش ہونے والا اور ناقابل تلافی صدمہ جس نے دل میں ناسور، جگر کو چھلنی، دماغ کو پریشان اور اوسان کو مختل کیا، موجود ہے اور رہے گا۔
مگر مرضی مولا ہمہ اولیٰ کے مصداق بیچاری امت سرد آہیں اور سسکیاں لیتے ہوئے ”انا للہ وانا الیہ راجعون“ کہنے پر مجبور ہوئی۔
رہی دل کی دل ہی میں حسرتیں کہ نشان قضا نے مٹا دیا
مرزا قادیانی
ستم ظریف زماں، دجال اکبر دوراں، مرکبات ظل و بروز جہاں، جناب سیماب الفطرت، مرزا غلام احمد ابن چراغ بی بی قادیانی ثم الپنجابی نبی ثم الخود کاشتہ پودائے سرکار انگلیشیہ، المعروف بہ جے سنگھ بہادر، آمین الملک، و ہے رودر گوپال، تناسخی نبی، و برہمن، اوتار و آریوں کا بادشاہ وغیر تشریعی رسول والقب محض مجدد صدی چہار دہم ثم القب مہدی و امام آخر زمان بلقب مسیح موعود بلا دلیل الا پلیک و ہیضہ و نمونیا و زلزلات و حوادث دنیا ثم العجب عیسیٰ ابن مریم بہ سینہ زوری و ناکام عاشق حدیث السن عذرا، مجموعہ امراض و خوفناک مثلاً دوران سر، نفخ قلب، نسیان و حافظہ خراب، نامردی و مراق وغیرہ، و شاعر بے لذت، و گلدستہ اغلاط نثر و نظم، تک تک دیدم و دم نہ کشیدن کے ارشادات گرامی در بارہ اثبات حیات مسیح ابن مریم علیہ السلام و صلوٰۃ۔
- ١...... (ازالہ ص ٥٥٧ تا ٥٥٩، خزائن ج ٣ ص ٤٠٠، ٤٠١) ”یہ بات پوشیدہ نہیں کہ مسیح
ابن مریم کے آنے کی پیش گوئی ایک اوّل درجہ کی پیش گوئی ہے۔ جس کو سب نے باتفاق قبول کرلیا ہے اور جس قدر صحاح میں پیش گوئیاں لکھی گئی ہیں۔ کوئی پیش گوئی اس کے ہم پہلو اور ہموزن ثابت نہیں ہوتی۔ تواتر کا اوّل درجہ اس کو حاصل ہے۔ انجیل بھی اس کی مصدق ہے۔ اب اس قدر ثبوت پر پانی پھیرنا اور یہ کہنا کہ یہ تمام حدیثیں موضوع ہیں۔ درحقیقت ان لوگوں کا کام ہے جن کو خدا تعالیٰ نے بصیرت دینی اور حق شناسی سے کچھ بھی بہرہ اور حصہ نہیں دیا اور بباعث اس کے کہ ان کے دلوں میں ’’قال اللہ وقال الرسول‘‘ کی عظمت باقی نہیں رہی۔ اس لئے جو بات ان کی اپنی سمجھ سے بالاتر ہو۔ اس کو محالات اور ممتنعات میں داخل کرلیتے ہیں۔ قانون قدرت بے شک حق اور باطل کے آزمانے کے لئے ایک آلہ ہے۔ مگر ہر قسم کی آزمائش کا اسی پر مدار نہیں ...... بلکہ سچ پوچھو تو قانون قدرت مصطلحہ حکماء کے ذریعہ جو جو صداقتیں معلوم ہوئی ہیں۔ وہ ادنیٰ درجے کی صداقتیں ہیں۔ لیکن اس فلسفی قانون قدرت سے ذرا اوپر چڑھ کر ایک اور قانون قدرت بھی ہے۔ جو نہایت دقیق اور غامض اور بباعث دقت و غموض موٹی نظروں سے چھپا ہوا ہے۔ جو عارفوں پر ہی کھلتا ہے اور فانیوں پر ہی ظاہر ہوتا ہے۔ اس دنیا کی عقل اور اس دنیا کے قوانین شناس اس کو شناخت نہیں کرسکتے اور اس سے منکر رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جو امور اس کے ذریعہ سے ثابت ہوچکے ہیں اور جو سچائیاں اس کی طفیل سے بپایہ ثبوت پہنچ چکی ہیں۔ وہ ان سفلی فلاسفروں کی نظر میں اباطیل میں داخل ہیں۔‘‘ مسلمانوں کی بدقسمتی سے یہ فرقہ (مرزائی) بھی اسلام میں پیدا ہوگیا ہے۔ جس کا قدم الحاد کے میدانوں میں آگے ہی آگے چل رہا ہے۔
- ٢...... (انجام آتھم ص ١٦٨، خزائن ج ١١ ص ایضاً) ”تعلمون ان النزول فرع
للصعود تم جانتے ہو کہ نازل ہونا عیسیٰ کا ان کے آسمان پر چڑھنے کی فرع ہے۔“
- ٣...... (انجام آتھم ص ١٥٨، خزائن ج ١١ ص ایضاً) ”والنزول ايضاً حق
نظراً على تواتر الآثار وقد ثبت من طرق فی الاخبار “اور نازل ہونا عیسیٰ ابن مریم کا بسبب متواتر احادیث صحیحہ کے بالکل حق ہے اور یہ امر حدیث میں مختلف طریقوں سے ثابت ہو چکا۔
- ٤...... (آئینہ کمالات اسلام حاشیہ ص ٢٨٣، خزائن ج ٥ ص ایضاً) ”انجیل کے بعض
اشارات سے پایا جاتا ہے کہ حضرت مسیح بھی جورو کی تلاش میں تھے۔ مگر تھوڑی سی عمر میں اٹھائے گئے ورنہ یقین تھا کہ اپنے باپ داؤد کے نقش قدم پر چلتے ۔ معلوم ہوا ١٥٣ سالہ عمر والا معاملہ محض ڈھکوسلہ جھوٹ وافتراء ہے۔“
- ٥...... (ازالہ اوہام ص ٤٢٨، خزائن ج ٣ ص ٣٢٥) ”تمام فرقے نصاریٰ کے اس قول
پر متفق نظر آتے ہیں کہ تین دن تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام مرے رہے اور پھر قبر میں سے آسمان کی طرف اٹھائے گئے اور چاروں انجیلوں سے یہی ثابت ہوتا ہے اور خود حضرت عیسیٰ انجیلوں میں اپنی تین دن کی موت کا اقرار بھی کرتے ہیں۔“
معلوم ہوا کہ روح عیسیٰ کا دخل محض فریب ہے۔ کیونکہ تین دن تک روح کا زمین پر رہنا کیا معنی رکھتا ہے وہ تو دم واپسین پر ہی پرواز کراتی ہے اور نیز مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ عیسیٰ علیہ السلام تین دن کی موت کا خود اقرار کرتے ہیں سے معلوم ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام اسی جسد عنصری سے زندہ ہوئے تھے۔ تبھی تو وہ آپ اپنی شہادت دیتے ہیں۔
- ٦...... (اربعین نمبر ٣ ص ١٠، خزائن ج ١٧ ص ٣٩٤) ”یہودیوں نے حضرت مسیح کے لئے
قتل وصلیب کا حیلہ سوچا تھا۔ خدا نے مسیح کو وعدہ دیا کہ میں تجھے بچاؤں گا اور تیرا رفع کروں گا۔“
معلوم ہوا صلیب دینے اور ہاتھ پاؤں میں کیل ٹھونکنے والا معاملہ محض دجل و بکواس ہے اور بچانے کا وعدہ عیسیٰ علیہ السلام سے ہو رہا ہے جو مرکب روح مع الجسد تھے اور رفع کا وعدہ بھی روح مع الجسد سے ہی ہو رہا ہے۔
- ٧...... (آئینہ کمالات اسلام ص ٤٢، خزائن ج ٥ ص ایضاً) ”ماسوا اس کے یہ بھی تو
سوچنے کے لائق ہے کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ کہ میں ایسا کرنے کو ہوں خود یہ الفاظ دلالت کرتے ہیں کہ وہ وعدہ جلد پورا ہونے والا ہے اور اس میں کچھ توقف نہیں۔“
(بقیہ علیہ السلام کو بچال مرز اس سے صاف م
- ٨......
موعود (عیسی ابن معلو
- ٩......
رسوله بالهد معلو
- ١٠......
کے نزول کے وق راست بازی تری معلو آیا۔ کیونکہ ابھی ا میں اور اضافہ کر
- ١١......
موجود ہے کہ حضر ”آم نے پہنی ہوں گی معلو
- ١٢......
( عیسی علیہ السلام چند روایتوں کی بن مسلمانوں کے رگ تھے۔ اسی قدر اس
(چشمہ معرفت ص ١٦٦، خزائن ج ٢٣ ص ١٧٤) ”خدا نے ان کے منصوبوں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بچالیا۔“ مرزا قادیانی ”یا عیسیٰ انی متوفیک ورافعک الیٰ“ کا ترجمہ کر رہے ہیں۔ سو اس سے صاف معلوم ہوا کہ ٨٧ برس کی عمر کشمیر میں گزارنے کا واقعہ محض دجل ولغو ہے۔
- ......٨ (ازالہ اوہام ص ١٨٥، خزائن ج ٣ ص ١٨٩) ”تیرھویں صدی کے اختتام پر مسیح
موعود (عیسیٰ ابن مریم) کا آنا ایک اجماعی عقیدہ معلوم ہوتا ہے۔“ معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کا اجماع امت کو کورانہ کہنا بھی محض جھوٹ وفریب تھا۔
- ......٩ (ازالہ اوہام ص ٢٧٥، خزائن ج ٣ ص ٤٦٤) ”یہ آیت کہ ’ھو الذی ارسل
رسولہ بالھدیٰ ودین الحق‘ درحقیقت اسی مسیح ابن مریم کے زمانہ سے تعلق ہے۔“ معلوم ہوا مسیح ابن مریم ہی مسیح موعود ہے۔ مرزا قادیانی بس یونہی ہیں یونہی۔
- ......١٠ (ایام صلح طبع دوم ص ١٣٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٨١) ”اس پر اتفاق ہو گیا ہے کہ مسیح
کے نزول کے وقت اسلام دنیا میں کثرت سے پھیل جائے گا اور ملل باطلہ ہلاک ہو جائیں گے اور راست بازی ترقی کرے گی۔“ معلوم ہوا کہ وہ وقت سعید جس کا وعدہ دیا گیا ہے اور جس پر اتفاق ہو گیا ہے ابھی نہیں آیا۔ کیونکہ ابھی ملل باطلہ ویسے ہی بدستور چلے آتے ہیں۔ بلکہ ملحد پنجابی علامہ مشرقی نے اس کڑی میں اور اضافہ کر دیا ہے اور راست بازی ابھی مفقود ہے۔
- ......١١ (ازالہ اوہام ص ٨١، خزائن ج ٣ ص ١٤٢) ”صحیح مسلم کی حدیث میں جو یہ لفظ
موجود ہے کہ حضرت مسیح جب آسمان سے اتریں گے تو ان کا لباس زرد رنگ کا ہوگا۔“ ”آنحضرتﷺ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان سے جب اترے گا تو زرد چادریں اس نے پہنی ہوں گی۔“
(اخبار بدر جون ١٩٠٦ء، مرزا غلام احمد قادیانی رئیس قادیان)
معلوم ہوا کہ مسیح موعود آسمان سے اترے گا نہ کہ چراغ بی بی جڑواں جنیں گی۔
- ......١٢ (شہادۃ القرآن طبع پنجم ص ٨، خزائن ج ٦ ص ٣٠٤) ”مسیح موعود کے بارہ میں
(عیسیٰ علیہ السلام) جو احادیث میں پیش گوئی ہے وہ ایسی نہیں ہے کہ جس کو صرف آئمہ حدیث نے چند روایتوں کی بناء پر لکھا ہو وبس۔ بلکہ یہ ثابت ہو گیا ہے کہ یہ پیش گوئی عقیدہ کے طور پر ابتداء سے مسلمانوں کے رگ وریشہ میں داخل چلی آتی ہے۔ گویا جس قدر اس وقت روئے زمین پر مسلمان تھے۔ اسی قدر اس پیش گوئی کی صحت پر شہادتیں موجود تھیں۔ کیونکہ عقیدہ کے طور پر وہ اس کو ابتداء
سے یاد کرتے چلے آتے تھے۔“ اگر نعوذ باللہ یہ افتراء ہے تو اس افتراء کی مسلمانوں کو کیا ضرورت تھی اور کیوں انہوں نے اس پر اتفاق کر لیا اور کس مجبوری نے ان کو اس افتراء پر آمادہ کیا تھا۔
کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا
مرزائیو! جواب دو کیا اب بھی اجماع امت کو نہ مانو گے اور کچھ نہیں تو مرزا قادیانی کے الفاظ ہی سے شرماؤ۔
١٣...... (شہادۃ القرآن ص٢، خزائن ج٦ ص٢٩٨) ”واضح ہو کہ اس امر سے دنیا میں کسی کو بھی انکار نہیں کہ احادیث میں مسیح موعود کی کھلی کھلی پیش گوئی موجود ہے۔ بلکہ قریباً تمام مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ احادیث کی رو سے ضرور ایک شخص آنے والا ہے جس کا نام عیسیٰ ابن مریم ہوگا اور یہ پیش گوئی بخاری، مسلم اور ترمذی وغیرہ کتب میں اس کثرت سے پائی جاتی ہے جو ایک منصف مزاج کی تسلی کے لئے کافی ہے۔“
مرزائیو! اب بھی تسلی میں کچھ شک باقی ہے تو آؤ آپ کو اس کتاب سے حیات مسیح دکھلائیں جو تمہارے لئے بمنزلہ قرآن کے ہے۔ وہ کتاب جس میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”اللہ تعالیٰ براہین احمدیہ میں یوں فرماتا ہے۔“ وہ کتاب جو سرکار مدینہ سے بقول مرزا رجسٹری ہو چکی ہے۔ وہ کتاب جسے مرزا قادیانی نے ملہم و مامور من اللہ ہو کر لکھا۔ وہ کتاب جسے مرزا قادیانی قطبی کے نام سے قطب ستارا کی طرح اٹل غیر متزلزل قرار دیتے ہیں۔ ہاں بھائی وہ کتاب جس کی پچاس جلدوں کے وعدے پر غریب امت کو لوٹا گیا اور نام کو پانچ دیں۔ مگر میرے خیال میں ایک بھی نہ تھی۔ کیونکہ اس میں سوائے تمہید اشتہار اور مقدمہ و دیباچہ اور چند جھوٹے خواب و کشف اور بے جوڑ سر بریدہ الہاموں کے اور کیا ہے۔ وہ کتاب جس کے متعلق مرزا قادیانی نے لکھا کہ اب براہین احمدیہ کی تالیف کا کام خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ وہ کتاب جسے نعوذ باللہ حضرت علیؓ شیر خدا نے لکھا اور نعوذ باللہ جنت خاتون جگر پارہ رسول نے مرزا کے پیش کیا۔ ذیل کا دجل پڑھو اور شرماؤ اس کے بعد اس محکم کتاب کو تمہارے سامنے اتمام حجت میں پیش کریں گے۔
کشف قادیانی اور مر جائے اس کی نانی
(براہین احمدیہ ص٥٠٣، خزائن ج١ ص٥٩٨، ٥٩٩) ”ایک نہایت روشن کشف یاد آیا اور وہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ نماز مغرب کے بعد عین بیداری میں ایک تھوڑی سی غیبت حس سے جو خفیف سے نشہ سے مشابہ تھی۔ ایک عجیب عالم ظاہر ہوا کہ پہلے ایک دفعہ چند آدمیوں کے جلد جلد
آنے کی آواز آئی۔ جیسی بسرعت چلنے کی حالت میں پاؤں کی جوتی اور موزہ کی آواز آتی ہے۔ پھر اس وقت پانچ آدمی نہایت وجیہ اور مقبول اور خوبصورت سامنے آگئے۔ یعنی جناب پیغمبر خدا ﷺ و حضرت علی و حسین و فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہم اجمعین اور ایک نے ان میں سے اور ایسا یاد پڑتا ہے کہ حضرت فاطمہؓ نے نہایت محبت اور شفقت سے مادر مہربان کی طرح اس عاجز کا سر اپنی ران پر رکھ لیا۔ پھر بعد اس کے ایک کتاب مجھ کو دی گئی۔ جس کی نسبت یہ بتلایا گیا کہ یہ تفسیر قرآن ہے۔ جس کو علی نے تالیف کیا ہے اور اب علی وہ تفسیر تجھ کو دیتا ہے۔ فالحمد للہ علی ذالك! پھر اس بعد یہ الہام ہوا ۔ ”انك علی صراط مستقیم فاصدع بما تؤ مر واعرض عن الجاہلین “ اے مرزا تو سیدھی راہ پر ہے۔ پس جو حکم کیا جاتا ہے اس کو کھول کر سنا اور جاہلوں سے کنارہ کر۔
فوائد براہین احمدیہ
(براہین احمدیہ ص ١٣٦، خزائن ج ١ ص ١٢٩) ”اس کتاب میں یہ فائدہ ہے کہ یہ کتاب مہمات دینیہ کے تحریر کرنے میں ناقص البیان نہیں۔ بلکہ وہ تمام صداقتیں جن پر اصول علم دین کے مشتمل ہیں اور وہ تمام حقائق عالیہ کہ جن کی ہیئت اجماعی کا نام اسلام ہے۔ وہ اس میں مکتوب و مرقوم ہیں اور یہ ایسا فائدہ ہے کہ جس کے پڑھنے والوں کو ضروریات دین میں احاطہ ہو جائے گا اور کسی مغوی اور بہکانے والے کے پیچ میں نہیں آئیں گے۔ بلکہ دوسروں کو وعظ اور نصیحت اور ہدایت کرنے کے لئے ایک کامل استاد اور ایک طیار رہبر بن جائیں گے۔“
(براہین احمدیہ ص ١٣٦، ١٣٧، خزائن ج ١ ص ١٢٩، ١٣٠) ”تیسرا یہ فائدہ ہے کہ جتنے ہمارے مخالف ہیں۔ یہودی، عیسائی، مجوسی، آریہ، برہمو، بت پرست، دہریہ، طبعیہ، اباحتی، لامذہب سب کے شبہات اور وساوس کا اس میں جواب ہے اور جواب بھی ایسا جواب کہ دروغگو کو اس کے گھر تک پہنچایا گیا ہے اور پھر صرف رفع اعتراض پر کفایت نہیں کی گئی۔ بلکہ یہ ثابت کر کے دکھایا گیا ہے کہ جس امر کو مخالف ناقص الفہم نے جائے اعتراض سمجھا ہے۔ وہ حقیقت میں ایک ایسا امر ہے کہ جس سے تعلیم قرآنی کی دوسری کتابوں پر فضیلت اور ترجیح ثابت ہوتی ہے نہ کہ جائے اعتراض اور پھر وہ فضیلت بھی ایسی دلائل واضح سے ثابت کی گئی ہے کہ جس سے معترض خود معترض الیہ ٹھہر گیا ہے۔ چوتھا یہ فائدہ ہے جو اس میں بمقابلہ اصول اسلام کے مخالفین کے اصول پر بھی کمال تحقیق اور تدقیق سے عقلی طور پر بحث کی گئی ہے اور تمام وہ اصول اور عقائد ان کے جو صداقت سے خارج ہیں۔ بمقابلہ اصول حقہ قرآنی کے ان کی حقیقت باطلہ کو دکھلایا گیا ہے۔ کیونکہ قدر ہر ایک جوہر
بیش قیمت کے مقابلہ سے ہی معلوم ہوتی ہے۔ پانچواں اس کتاب میں یہ فائدہ ہے کہ اس کے پڑھنے سے حقائق اور معارف کلام ربانی کے معلوم ہو جائیں گے...... تمام وہ دلائل اور براہین جو اس میں لکھی گئی ہیں۔ وہ تمام کامل صداقتیں جو اس میں دکھائی گئی ہیں وہ سب آیات بینات قرآن شریف ہی سے لی گئی ہیں...... یہ کتاب قرآن شریف کے دقائق اور حقائق اور اس کے اسرار عالیہ اور اس کے علوم حکمیہ اور اس کے اعلیٰ فلسفہ ظاہر کرنے کے لئے ایک عالی بیان تفسیر ہے۔“
(تبلیغ رسالت ج ١ ص ١٤)
”مؤلف نے براہین احمدیہ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملہم اور مامور ہو کر بغرض اصلاح و تجدید دین تالیف کیا ہے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٥١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٨٥، ٤٨٦)
”اللہ تعالیٰ دوسری جگہ براہین احمدیہ میں فرماتا ہے کہ: الرحمٰن علم القرآن...... یعنی وہ خدا ہے جس نے تجھے قرآن سکھلایا اور صحیح معنوں پر مطلع کیا۔“
اب آئیے اور ایسی پر ہیبت و عظمت کتاب سے حیات مسیح کو ملاحظہ کیجئے۔
جادو وہ جو سر پر چڑھ کر بولے
(براہین احمدیہ ص ٤٩٨ تا ٥٠٠ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٥٩٢، ٥٩٣) ”هو الذي ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله“ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔ لیکن اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسار اپنی غربت انکسار اور توکل اور ایثار اور آیات اور انوار کی رو سے مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے اور اس عاجز کی فطرت اور مسیح کی فطرت باہم نہایت ہی مشابہ واقع ہوئی ہے۔ چونکہ اس عاجز کو حضرت مسیح علیہ السلام سے مشابہت تامہ ہے۔ اس لئے خداوند کریم نے مسیح کی پیش گوئی میں ابتداء سے اس عاجز کو بھی شریک کر رکھا ہے۔ یعنی حضرت مسیح علیہ السلام پیش گوئی متذکرہ بالا کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہے اور یہ عاجز روحانی اور معقول طور پر اس کا محل اور مورد ہے۔“
الہام ربانی بر قلب مرزا آنجہانی
(براہین احمدیہ ص ٥٠٥، خزائن ج ١ ص ٦٠١، ٦٠٢) ”عسى ربكم ان يرحم عليكم وان عدتم عدنا وجعلنا جهنم للكافرين حصيرا“ خدا تعالیٰ کا ارادہ اس بات کی طرف متوجہ
ہے جو تم پر رحم کرے اور اگر تم نے گناہ اور سرکشی کی طرف رجوع کیا تو ہم بھی سزا اور عقوبت کی طرف رجوع کریں گے اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لئے قید خانہ بنا رکھا ہے۔ یہ آیت اس مقام میں حضرت مسیح کے جلالی طور پر اترنے کا ظاہر اشارہ ہے۔ یعنی اگر طریق رفق اور نرمی اور لطف احسان کو قبول نہیں کریں گے اور حق محض جو دلائل واضحہ اور آیات بینہ سے کھل گیا ہے۔ اس سے سرکش رہیں گے تو وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ جب خدا تعالیٰ مجرمین کے لئے شدت اور عنف اور قہر اور سختی کو استعمال میں لائے گا اور حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے اور تمام راہوں اور سڑکوں کو خس و خاشاک سے صاف کر دیں گے اور کج اور ناراست کا نام و نشان نہ رہے گا اور جلال الٰہی گمراہی کے تخم کو اپنی تجلی قہری سے نیست و نابود کر دے گا اور یہ زمانہ اس زمانہ کے لئے بطور ارہاص کے واقع ہوا ہے۔ یعنی اس وقت جلالی طور پر خدا تعالیٰ اتمام حجت کرے گا۔ اب بجائے اس کے جمالی طور پر یعنی رفق اور احسان سے اتمام حجت کر رہا ہے۔ ”توبو واصلحو والى الله توجهوا وعلى الله توكلوا واستعينو بالصبر والصلوة“ (مرزائیو!) توبہ کرو اور فسق اور فجور اور کفر اور معصیت سے باز آؤ اور اپنے حال کی اصلاح کرو اور خدا کی طرف متوجہ ہو۔
(براہین احمدیہ ص ٣١١ حاشیہ در حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٤٣١) ”حضرت مسیح تو انجیل کو ناقص کی ناقص ہی چھوڑ آسمانوں پر جا بیٹھے۔“
او نیم یہودیو! گئے گذرے ایمان سے ٹھنڈے پیٹ سینے پر ہاتھ رکھ کر کہو کہ اب بھی تمہیں کوئی چون و چرا کرنے کا موقعہ باقی ہے۔ ہاں آدمی جب حیا کو چھوڑ دے تو جو چاہے وہ کہے۔ اس کو کون روک سکتا ہے۔ مرزا قادیانی تو ہر طریق و ہر لحاظ سے متعدد و متشدد سرکلر دیتے ہوئے بری الذمہ ہو گئے اور مرزائی مذبذبین ہو گئے۔ ان کی حالت قابلِ رحم ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کا دجل انہیں کچھ نہیں کرنے دیتا۔ اگر وہ حیات مسیح کے عقیدہ کو مانتے ہیں تو بقول مرزا کافر و مشرک ہوتے ہیں نہ مانیں تو ایمان سے بے بہرہ اور آیات اللہ کے منکر ٹھہرتے ہیں۔ وہ بیچارے کریں بھی تو کیا کریں اور جائیں تو کہاں؟ خدا کی زمین ان پر تنگ ہو چکی۔ اندرون اسلام ان کے لئے گنجائش کا کوئی موقعہ ہی نہیں اور بیرون اسلام اطمینان قلب نصیب ہی نہیں۔ اب یہ نیم درون نیم برون کے مصداق کبھی براہین احمدیہ کو دیکھتے ہوئے مایوس ہوتے ہیں تو کبھی ازالہ اوہام کی اوہامی دلائل میں پھنس کر مجبور ہو جاتے ہیں۔ مگر وہ یاد رکھیں اور کان کھول کر سن لیں کہ وہ اسی تذبذب میں حیات مستعار کو ختم کر دیں گے اور ایمان کی دولت اور اطمینان کی زندگی سے بے
نصیب جواب دہی کے لئے طلب کئے جائیں گے۔ آہ! ہاں کوئی دجل کام آئے گا نہ عذر اور مرزا قادیانی تو اپنی حیرانی میں سرگرداں اپنی جان کے فکر میں محو ہوں گے اور سرکار دو عالم ﷺ ان کے منہ دیکھنے کے روادار نہ ہوں گے۔ بلکہ صاف کہہ دیں گے۔ ”وقال الرسول یارب ان قومی اتخذ واھذا القرآن مهجورا“ یعنی نبی کریم ﷺ جناب باری میں صاف عرض کریں گے کہ مولا یہی وہ بدبخت قوم ہے جس نے تیرے کلام کو جھٹلایا تھا۔ اس لئے ڈرو اور توبہ کرو اور اس بدعقیدگی سے باز آؤ۔ کیوں شامتیں آئی ہیں کیا سوچ رہے ہو۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے۔
نبی کی غصہ میں ڈوبی ہوئی نگاہ سے ڈر
وجہ تالیف براہین احمدیہ
(تبلیغ رسالت ج ١ ص ١٤) ”کتاب براہین احمدیہ جس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے مؤلف نے ملہم و مامور ہو کر بغرض اصلاح و تجدید دین تالیف کیا ہے۔“
(تبلیغ رسالت ج ١ ص ٣٩) ”ہم نے صدہا طرح کا فتور اور فساد دیکھ کر کتاب براہین احمدیہ کو تالیف کیا تھا اور کتاب موصوف میں تین سو مضبوط اور محکم عقلی دلیل سے صداقت اسلام کو فی الحقیقت آفتاب سے بھی زیادہ تر روشن دکھلایا گیا۔“
(تبلیغ رسالت ج ١ ص ٤٨) ”اب اس کتاب کا متولی اور مہتمم ظاہراً و باطناً حضرت رب العالمین ہے اور کچھ معلوم نہیں کہ کس اندازہ تک اس کو پہنچانے کا ارادہ ہے اور سچ تو یہ ہے کہ جس قدر جلد چہارم تک انوار حقیقت اسلام کے ظاہر کئے ہیں۔ یہ بھی اتمام حجت کے لئے کافی ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ١٩٥، خزائن ج ٣ ص ١٩٧) ”جو خدا تعالیٰ سے الہام پاتے ہیں وہ بغیر بلائے نہیں بولتے اور بغیر سمجھائے نہیں سمجھتے اور بغیر فرمائے کوئی دعویٰ نہیں کرتے اور اپنی طرف سے کسی قسم کی دلیری نہیں کرتے۔“
ناظرین! غور فرمائیں ایسی شاندار کتاب جس کو اللہ میاں لکھوائے اور ملہم و مامور تجدید دین کے لئے فتور و فساد کو دیکھ کر لکھے اور آفتاب سے زیادہ روشن دلائل سے بیان کرے اور جس کتاب کا متولی ظاہر و باطن میں رب العالمین ہو۔ ایسی کتاب سے روگردانی کرنے والا کون ہوگا۔ سو یہ مجھ سے نہ پوچھئے:
خامہ انگشت بدندان ہے اسے کیا کہئے
اب یہ مرحلہ بھی مرزا قادیانی ہی کا مرہون منت رہے گا اور وہی اسے سلجھانے کی کوشش کریں گے۔ سابقہ اقتباسات میں آپ نے شورہ شوریٰ ملاحظہ کی۔ اب تڑکا بھڑکی بھی دیکھئے۔
عذرات مرزا
(اعجاز احمدی ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ١١٣) ”پھر میں قریباً بارہ برس تک جو ایک زمانہ دراز ہے۔ بالکل اس بات سے بے خبر اور غافل رہا کہ خدا نے مجھے بڑی شدومد سے براہین احمدیہ میں مسیح موعود قرار دیا ہے اور میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کے رسمی عقیدہ پر جما رہا۔“
(کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠) ”میں نے مسلمانوں کا رسمی عقیدہ براہین احمدیہ میں لکھ دیا۔ تا میری سادگی اور عدم بناوٹ پر وہ گواہ ہو۔ وہ میرا لکھنا جو الہامی نہ تھا۔ محض رسمی تھا۔ مخالفوں کے لئے قابل استناد نہیں۔ کیونکہ مجھے خود بخود غیب کا دعویٰ نہیں۔ جب تک کہ خدا تعالیٰ مجھے نہ سمجھا دے۔“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٣١، خزائن ج ١٧ ص ٨٣) ”وانی انا المسيح النازل من السماء“ اور آسمان سے نازل ہونے والا مسیح ابن مریم میں ہی ہوں۔“
بانی مہدویت کے ہم مشرب بھائی مرزا قادیانی بھی عجیب دل و دماغ کے مالک تھے۔ کامل بارہ برس اللہ میاں منت گزار رہا۔ بیچارا ہیچ پیچ الہام لاتا لاتا تھک کر چور ہو گیا۔ الہامات کی بارش سے قادیان کے چھپر ٹوٹ پڑے۔ بہشتی مقبرے کا مشرقی چھپڑ لبالب بھر گیا اور عفونت اور مچھروں کی بہتات سے اہل قادیان کا دم ناک میں آگیا۔
قادیان کے مسلمان ہندو سکھ اور عیسائی حیران تھے کہ الہامات کی بارش اس ارزانی اور فراوانی سے کیوں ہو رہی ہے۔ ان کی سمجھ میں کچھ نہ آتا تھا کہ آخر اس کا باعث کیا ہے۔ مگر وہ اس بہتات سے اس قدر گھبرا چکے تھے کہ شہر کو خیر باد کہہ کر کوئی پناہ کی جگہ تلاش کریں۔
مقام شکر ہے کہ اس نزاکت کو مرزا قادیانی نے تاڑ لیا اور ان کی تکلیفات کا صحیح اندازہ کرتے ہوئے اللہ میاں کی بارہ سالہ التجائیں قادیانی رسول کی سمجھ میں آنے لگیں۔ یعنی مرزا قادیانی کے احساسات کو محسوس ہونے لگا کہ مسیح موعود عیسیٰ ابن مریم جس کے متعلق قرآن وحدیث میں متواتر پیش گوئیاں اور خوشخبریاں دی گئی ہیں وہ میں ہی ہوں۔
افسوس! مرزا قادیانی کس سادگی اور بھولے پن سے گردن نیچی کئے سر جھکائے انداز معصومیت سے کہتے ہیں کہ میں نے حیات عیسیٰ کی آمد ثانی کا رسمی عقیدہ جس پر باون سالہ زندگی تک گامزن رہا براہین احمدیہ میں یونہی بلا سوچے سمجھے لکھ دیا تھا۔
سوال تو یہ ہے کہ اگر مرزا قادیانی کی اس بودی نکمی ناکارہ اور واہیات دلیل کو مان لیا جائے تو قرآن کریم کی ان آیات کو جن سے مرزا قادیانی استدلال کرتے ہیں کہاں چھپائیں اور مرزا قادیانی کے الہامات کو کہاں اور کیسے ڈبوئیں۔
مرزا قادیانی وہ آپ کی ملہمیت کدھر گئی اور ماموریت کیا ہوئی اور تکلمیت کو کیا عارضہ ہوا۔ آپ تو بن بلائے نہیں بولتے اور بن سمجھائے نہیں سمجھتے کا دعویٰ کرتے ہوئے یہاں تک کہہ گزرے ہیں کہ ”وما ینطق عن الهویٰ ان هو الا وحی یوحٰی“ اب ان دلائل کو کیا سانپ سونگھ گیا ہے۔ جو یوں گھاس خوری کا مظاہرہ ہو رہا ہے۔
از رشحات قلم منشی محمد عبداللہ صاحب معمار قاطع مرزائیت امرتسری
بحث نزول
عموماً مرزائی پارٹی یہ اعتراض کیا کرتی ہے کہ قرآن مجید میں نزول کا لفظ اور اس کے مشتقات متعدد جگہ استعمال ہوئے ہیں اور وہاں آسمان سے اترنے کے کسی جگہ بھی ہمارے مخالف لوگ معنی نہیں لیتے۔ دل میں آیا کہ اتمام حجت کے لئے ان کا یہ کانٹا بھی نکال دیا جائے تا کہ ان کو کسی قسم کا شکوہ و شکایت کا دنیا میں اور عذر کا آخرت میں موقع نہ ملے۔ ”لیھلک من ھلک عن بینۃ ویحییٰ من حی عن بینۃ (انفال:٤٢)“
سب سے پہلے اس مشکل کو ہم لغۃً حل کرنا چاہتے ہیں۔ صراح میں ہے کہ نزول ”فرود آمدن“ اور انزال فرود آوردن (منتہی الارب ص ٢٠٩، ٢١٠) میں بھی اس طرح ہے۔ یعنی نزول کے معنی نیچے آنا اور انزال کے معنی نیچے لانا ہیں۔ مصباح منیر میں ہے نزل من علوہ الیٰ سفل یعنی نزول کے معنی اوپر سے نیچے آنا کے ہیں۔
مشہور لغوی علامہ راغب اصفہانی (مفردات ص ٥٠٧) میں تحریر فرماتے ہیں۔ ”النزول فی الاصل ھو انحطاط من علوہ...... وانزال الله تعالیٰ اما بانزال الشیئ نفسہ واما بانزال اسبابہ والھدایۃ الیہ کانزال الحدید واللباس ونحو ذالك“ یعنی نزول کے اصل معنی اوپر سے نیچے کو اترنا ہیں...... اللہ تعالیٰ کا اتارنا یا تو شے بنفسہ کا اتارنا ہوتا ہے۔ جیسے قرآن کا اتارنا یا اس شے کے اسباب و ذرائع اور اس کی طرف (توفیق) ہدایت کا اتارنا جیسے انزال حدید، انزال لباس اور اس کے مثل (انزال رزق، انزال انعام، انزال میزان، انزال رجز و عذاب وغیرہ)
اب اس تصریح کے بعد کسی قسم کی کوئی ضرورت نہ تھی کہ اس سے زیادہ ہم کچھ وضاحت کریں۔ لیکن پاسِ خاطر ناظرین اس کو ذرا تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ انشاء اللہ ناظرین دیکھ لیں گے کہ یہ لوگ جو جو اعتراض پیش کیا کرتے ہیں۔ ان میں سراسر مغالطہ دہی، دجل وفریب، مکر و خدع اور تحریف و تاویل ہی ہوتی ہے۔
مغالطہ نمبر:١....... قرآن مجید میں ہے کہ ”قد انزل الله اليكم ذكراً رسولا يتلوا عليكم آيات الله (طلاق: ١٠، ١١) “ اس آیت میں حضرت محمد ﷺ کے لئے انزل کا لفظ استعمال ہوا ہے۔
جواب ....... اگر مشہور اور درسی کتاب جلالین کے اسی مقام کو دیکھ لیا جاتا تو اعتراض کی کوئی گنجائش ہی نہ نکلتی۔ لیکن یہ لوگ چونکہ علم عربی سے ناواقف اور بے بہرہ ہیں۔ اس لئے ان کو مجبور و معذور قرار دیتے ہوئے ہم خود ہی اسی مقام کو یہاں نقل کر کے اسی پر اکتفا کرتے ہیں۔ ملاحظہ ہو۔
”قد انزل الله اليكم ذكراً هو القرآن رسولا ای محمدﷺ منصوب بفعل مقدر ای ارسل (جلالین ص ٤٦٤) “ یعنی ذکراً سے مراد قرآن کریم ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ نے (آسمان سے) نازل کیا۔ (ذکر قرآن مجید کا دوسرا نام ہے۔ اس کا نزول بہت سی آیات میں آیا ہے۔ چودھویں پارے کے تین مقام ملاحظہ ہوں۔)
- ١....... ”انا نحن نزلنا الذکر (حجر:٩)“
- ٢....... ”يايهاالذي نزل عليه الذکر (حجر:٦)“
- ٣....... ”وانزلنا اليك الذکر (نحل:٤٤)“
- ٤....... ”هذا ذکر مبارك انزلناه (انبیاء:٥٠)“
- ٥....... ”اونزل عليه الذکر (ص:٨)“
- ٦....... ”ان الذين کفروا بالذکر لما جائهم وانه لکتاب عزيز (حم
سجده: ٤١)“
- ٧....... ”ان هو الا ذکر وقرآن مبین (یسین:٦٩)“
- ٨....... ”ان هوالا ذكرى للعلمين (انعام:٩٠)“
- ٩....... ”ان هوالا ذكر للعلمين (يوسف:١٠٤)“
- ١٠....... ”وما هوالا ذکر للعلمين (قلم:٥٢)“ تلك عشرة كامله!
اور رسولا کے پہلے ارسل محذوف ہے۔ یعنی محمد ﷺ کو رسول بنایا۔ اسی لئے قرآن مجید میں ذکرا کے بعد آیت کا گول نشان بنا ہوا ہے، اور رسولا الگ دوسری آیت میں ہے۔ (خازن ج٤ ص٩٥)، (مدارک ص٢٠٢)، (سراج منیر ج٤ ص٣٨٣) اور (کشاف ج٣ ص٥٦٠) میں بھی اسی طرح ہے۔ بصورت دیگر اگر رسولا کو منصوب بہ فعل مقدر نہ مانا جائے۔ بلکہ ذکرا سے بدل یا عطف بیان مان لیں تو اس صورت میں رسولا سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہوں گے۔ (کشاف ج٤ ص٥٦٠، بیضاوی ص٣٨٣) جو بواسطہ محمد ﷺ کے بندوں پر اللہ کی آیتیں تلاوت کرتے ہیں اور جبرائیل علیہ السلام کا نزول من السماء متفق علیہ ہے۔
مغالطہ نمبر:٢...... خدا تعالیٰ نے قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا ہے کہ ”انزلنا الحدید (حدید:٢٥)“ یعنی ہم نے لوہا اتارا۔ اب غور کیجئے کہ کیا لوہا آسمان سے نازل ہوتا ہے یا کانوں سے نکلتا ہے؟
جواب ...... آیت مذکور میں انزال سے مراد انزال امر ہے۔ جیسا کہ اوپر (مفردات راغب ص٧٠٥) سے عبارت ”والهداية اليه كانزال الحدید“ نقل کی جا چکی ہے۔ یعنی لوہے کے استعمال کی ہدایت اور حکم اللہ نے نازل فرمایا۔ تفسیر سراج منیر اور (کشاف ج٣ ص٤٨٠) میں ہے۔ ”ان اوامره تنزل من السماء قضاياه واحكامه“ (بیضاوی ص٣٦٢) میں ہے ”الا مربا عدادہ“ یعنی استعمال جدید کا امر وحکم آسمان سے اترا ہے۔ جو قرآن مجید فرقان حمید میں دوسرے مقامات میں موجود ہے۔ ”واعدوالهم ما استطعتم من قوة (انفال:٦٠)“ ”وليا خذوا حذرهم واسلحتهم (نساء:١٠٢)“ ان آیات میں لوہے کے ہتھیار اور ڈھال وغیرہ کے استعمال کا حکم اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے۔ اسی کی طرح ”وانزلنا الحدید (حدید:٢٥)“ میں اشارہ فرمایا ہے۔ پس چونکہ آہنی اسلحہ کے استعمال اور تیار کرنے کے سبب امر منزل من اللہ ہے۔ لہٰذا ”انزلنا الحدید من قبيل اطلاق المسبب والمراد به السبب“ جس کی تفصیل انشاء اللہ آئندہ جواب میں بھی ہوگی۔
مغالطہ نمبر:٣...... قرآن شریف میں آتا ہے کہ یا ”یا بنی آدم قد انزلنا علیکم لباساً (اعراف:٢٦)“ یعنی اے بنی آدم ! ہم نے تم پر لباس اتارا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کپڑے جو ہم لوگ پہنتے ہیں کیا وہ آسمان سے اترتے ہیں؟
جواب ...... میں کہتا ہوں کہ محاورات عرب جاننے والوں سے مخفی نہیں کہ کلام میں کبھی سبب بولتے ہیں اور مراد مسبب لیتے ہیں۔ مثلاً ”عينا الغيث اى النبات الذی سببه الغيث
(مطول) ”یعنی ہم نے بارش چرائی یعنی گھاس جس کے اگنے کا سبب بارش ہے اور کبھی مسبب بولتے ہیں اور مراد سبب لیتے ہیں۔ جیسے ”وما انزل الله من السماء من رزق (جاثیه:٥)“ یعنی اللہ نے آسمان سے رزق نازل فرمایا۔ یعنی بارش برسائی جو سبب ہے رزق کے پیدا کرنے کا۔ پس رزق مسبب ہوا ۔ اسی طرح ”انزلنا عليكم لباساً (اعراف:٢٦)“ فرمایا۔ لباس مسبب ہے اور سبب اس کا بارش ہے۔ (تفسیر کبیر ج ١٤ ص ٥١) میں ہے۔ ”انزل المطر وبالمطر تتكون الاشیاء التي منها يحصل اللباس“ تفسیر معالم التنزیل میں ہے۔ ”اللباس يكون من نبات الارض والنبات يكون بما ينزل من السماء فمعنى قوله انزلنا ای انزلنا اسبابه “ (تفسیر خازن ج ٢ ص ٨٥ و فتح البیان) میں ہے۔ ”انزل المطر من السماء وهو سبب نبات اللباس “ (تفسیر مدارک ج ٣ ص ٤٨) میں ہے۔ ”لان اصله من الماء وهو منها“ اسی طرح (سراج منیر ج ٢ ص ١٨٧، ابوالسعود ج ٣ ص ٢٢٢، بیضاوی ص ٢٨٩) میں بھی اسباب نازلہ مرقوم ہیں۔ حاصل کلام یہ کہ وجود لباس کا سبب بارش ہے۔ آسمان سے پانی برستا ہے۔ اس سے روئی کا درخت پیدا ہوتا ہے۔ روئی سے سوت اور سوت سے لباس تیار ہوتا ہے۔ اونی لباس بنتے ہیں۔ بھیڑ اور دنبے سے، بھیڑ اور دنبہ پلتا ہے گھاس پر، گھاس پیدا ہوتی ہے بارش کے سبب سے ۔ بارش ہوتی ہے، شہتوت اور بیر کے درختوں کی پتیاں ہری بھری ہوتی ہیں۔ ان کو ریشم کے کیڑے کھاتے ہیں اور ریشم نکالتے ہیں۔ جس سے ریشمی لباس وجود میں آتے ہیں۔ غرضیکہ لباس و رزق کا وجود و حصول اسباب سماویہ و مواد ارضیہ سے مل کر ہوتا ہے۔ جیسا کہ سورۃ یونس میں ارشاد باری ہوتا ہے۔ ”قل من يرزقكم من السماء والارض (یونس:٣١) “ اس کے آگے ہے۔ ”وما انزل الله لكم من رزق (یونس:٥٩)“ سورہ جاثیہ کی آیت بیان ہو چکی ہے۔ سورہ ذاریات میں آتا ہے۔ ”وفى السماء رزقكم وما توعدون (ذاریات:٢٢) “ سورہ عبس میں فرمایا ”انا صببنا الماء صباً ثم شققنا الارض شقاً فانبتنا فيها حباً (عبس:٢٥)“ ان آیات سے آسمانی بارش اور نبات ارضی سے انسانی معیشت کا حصول ثابت ہے۔ اسی قبیل سے یہ آیت بھی ہے۔ ”انزلنا عليكم لباسا (اعراف:٢٦) “ اس کو کہتے ہیں ۔ ” تسمية الشئى باسم المسبب “ پر انزال کے معنی آسمان سے اتارنا۔ اس آیت میں بھی اسی طرح ثابت ہوئے جس طرح اوپر کی دونوں آیتوں میں۔
چراغ مصطفویٰ سے شرارِ بو لہبی
ذیل میں اس بزرگ و واجب الاحترام ہستی کے گرامی خیالات پیش کئے جاتے ہیں۔ جس نے اپنی متاع عزیز کا بیشتر حصہ کذاب قادیان کے دجل کے بخیے ادھیڑنے میں صرف کیا اور فقیر کے خیال میں تو حضرت شاہ صاحب قبلہ کی ذات گرامی لکل دجال موسیٰ کی مصداق ثابت ہوئی۔ آپ نے جس خوبی وعمدگی سے قلعہ شکن ردّے مقابلہ کیا۔ اس کی مثال ہی نہیں۔ سجادہ نشین حضرات میں شاہ صاحب کی ذات گرامی کو ایک خصوصی امتیاز حاصل تھا کہ آپ ہادیٔ حقیقت وراہیٔ طریقت کے ساتھ بڑے زبردست عالم دین بھی تھے اور قال کے ساتھ ساتھ حال بھی تھا۔ میرا روئے سخن اس بطل جلیل بزرگ ومحترم عالم بے بدل جناب پیر سید مہر علی شاہ صاحب سجادہ نشین آستانہ عالیہ گولڑہ شریف سے ہے۔ جن کا وصال زمانہ حال میں ہوا ہے۔ آپ کی مساعی جمیلہ کے برکات و فیوض ہر اس طالب حق و سلیم الفطرت انسان کے لئے مشعل ہدایت ہیں۔ جس نے آپ کی تصنیفات سے استفادہ حاصل کیا اور قابلیت و علم کا اعتراف کوئی مرزائیوں کے سینے چیر کر دیکھے کہ جگر داغ داغ پنبہ کجا کجا نہم ہو رہے ہیں۔ آپ کی وہ دقائق و معارف میں ڈوبی ہوئی کتاب موسومہ سیف چشتیائی جس نے ایوان مرزائیت میں زلزلہ و ہیجان پیدا کرتے ہوئے مرزا کو بے موت مارنے کا سامان پیدا کر دیا۔ مرزا قادیانی جب تک جیئے دانت پیستے اور لوہے کے چنے چباتے اور جواب میں مغلظات کہتے گذاری۔ مگر حق یہ ہے کہ شاہ جی نے ان بیہودہ و خرافات کے جواب میں اپنے نانا پاک کے اسوہ حسنہ کے مطابق دعائیہ کلمات ہی پر اکتفاء فرمایا۔
آہ! شاہ جی نے وہ سینکڑوں بکواس سنتے ہوئے کچھ نہ کہا۔ بلکہ ہدایت کے لئے دعاء فرمائی۔ افسوس مرزا قادیانی نے اس متبرک ہستی کو بلاوجہ پانی پی پی کر کوسا۔ جس کا مواخذہ درگاہ رب العزت میں انشاء اللہ ضرور لیا جا رہا ہوگا۔ یہ غیر مہذبانہ طریق مرزا قادیانی کی کامل شکست اور اخلاق فاضلہ کا جیتا جاگتا فوٹو ہے۔
ہم تبرکاً ان کے زرین اقوال سے قارئین کی ضیافت کرتے ہیں اور اسی مقدس مضمون پر کتاب صحیفہ تقدیر کا اختتام ہوتا ہے۔
مرزائے قادیانی کی ایمانداریاں
بھائی مسلمانو! تفسیروں میں مفسرین نے جس امر کو نصاریٰ کا قول یا کسی ایک مفسر کا یعنی وفات مسیح ٹھہرایا ہے۔ اس کو قادیانی بمعہ چیلوں چانٹوں اپنے لئے، مجمع علیہ اہل اسلام کا بتاتا ہے۔ دیکھو (بیضاوی ص ١٤٠) ”قیل اماته الله سبع ساعات ثم رفعه الله إلی السماء والیه ذهب النصارى“ یعنی یہ قول کہ عیسیٰ علیہ السلام رفع کے قبل سات ساعت تک مرے رہے۔ یہ
نصاریٰ کا قول ہے اور معالم عيسى ثلث ساعا اسحاق ان النصارى ورفعه اليه “ اور شیخ الا کیا ہے۔ ابتداء کتاب ہذا م ہے کہ عیسیٰ ایک سو برس ن آنحضرت ﷺ نے فرمایا آ نصاریٰ کی طرف منسوب ک ٹھہرایا اور کہا کہ صحیح یہی ہے ثابت کر دیا کہ عیسیٰ علیہ الس نظر ڈالی جاوے تو ہرگز یہ ق مضمون کا من جملہ علامات قادیانی نے ا ثبوت ا...... لفظ من السما عن ابن عباس قال من السماء “ الحدیث ٢٠، السلام من السماء ث ہیں ” فانه لم يمت الی حاتم عن ربيع ق تعلمون ربنا حى رب زندہ ہے۔ جس کا قر
نصاریٰ کا قول ہے اور معالم تفسیر ابن کثیر ج٢ ص٤٠ میں ہے کہ ”قال وهب توفى الله عيسىٰ ثلث ساعات من النهار ثم احياه ثم رفعه الله اليه وقال محمد بن اسحاق ان النصاریٰ يزعمون ان الله توفاه سبع ساعات من النهار ثم احياه ورفعه اليه“ اور شیخ الاسلام حرانی کی عبارت جس میں قول بالوفات کو نصاریٰ کی طرف منسوب کیا ہے۔ ابتداء کتاب ہذا میں نقل کی گئی ہے اور جیسے کہ حاکم نے مستدرک میں عائشہؓ سے روایت کیا ہے کہ عیسیٰ ایک سو برس تک زندہ رہے اور ہر نبی اپنے ماقبل نبی کے نصف عمر پاتا ہے اور آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں ساٹھ برس کے سرے پر جانے والا ہوں۔ پہلے قول کو سب نے نصاریٰ کی طرف منسوب کیا اور حدیث عائشہؓ کو ذکر کر کے حافظ ابن حجر عسقلانی نے خود غیر معتبر ٹھہرایا اور کہا کہ صحیح یہی ہے کہ عیسیٰ زندہ اٹھایا گیا اور ابن عساکر کی حدیث اس کے بعد نقل کر کے ثابت کر دیا کہ عیسیٰ علیہ السلام مدینہ منورہ میں فوت ہوں گے۔ اگر کتب سیر و تواریخ پر بالاستقراء نظر ڈالی جاوے تو ہرگز یہ قضیہ ثابت نہیں ہوتا کہ ہر نبی اپنے ماقبل نبی کے نصف عمر پاتا ہے اور فساد مضمون کا من جملہ علامات وضع حدیث کے ہوتا ہے۔
قادیانی نے اپنے مکتوب میں جن امور کی نسبت ساری امت کو مفتری ٹھہرایا ہے ان کو ثبوت ١…… لفظ من السماء کا ثبوت صراحتہ ”با دلالة روى اسحق بن بشر وابن عساكر عن ابن عباس قال قال رسول الله ﷺ فعندذلك ينزل اخي عيسى بن مريم من السماء “ الحديث ٢…… فقہ اکبر میں ”امام الائمه ابو حنيفة ونزول عيسى عليه السلام من السماء “ فرماتے ہیں۔ چنانچہ پہلے نقل کیا گیا۔٣…… شیخ اکبر فتوحات میں فرماتے ہیں ”فانه لم يمت الى الان بل رفعه الله الى هذا السماء روى ابن جرير وابن حاتم عن ربيع قال ان النصاریٰ اتوا النبی ﷺ الى ان قال الستم تعلمون ربنا حى لا يموت وان عيسى يأتى عليه الفناء“ کیا تم نہیں جانتے کہ ہمارا رب زندہ ہے۔ جس پر موت نہیں آئے گی اور عیسیٰ علیہ السلام پر موت آئے گی۔ درۃ الدرانی بخاری کا مذہب ”اخرج البخاري في تاريخه والطبراني (درمنثور ج٢ ص٢٤٥) عن عبدالله بن سلام قال يدفن عيسى بن مريم مع رسول الله وصاحبيه فيكون قبره رابعا “ ٢…… (رجوع کا لفظ) ”قال الحسن قال رسول الله ﷺ لليهود ان عيسى لم يمت وانه راجع اليكم قبل يوم القيمة (درمنثور ج٢ ص١٣٦)“ امروہی صاحب اس (لم یمت) کی تاویل فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ سولی پر نہیں
مرے۔ دیکھو ( شمس بازغہ ص ٤٠، ٢٠) مگر آگے جا کر ”وانه راجع اليكم قبل يوم القيمة“ میں سکتہ عارض ہو جاتا ہے۔ شاید اس لئے کہ کیا کروں اگر انہ راجع میں انہ کی ضمیر عیسیٰ علیہ السلام کی طرف عائد کرتا ہوں تو خود عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ دنیا میں آنا ثابت ہو جاتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ جو روپیہ چندہ کا میرے پاس بصیغہ امانت پہنچایا گیا تھا۔ وہی بعینہ دوبارہ لوٹ کر جس جگہ سے آیا تھا۔ وہاں پر ہی نازل ہوگا اور اگر انہ کا مرجع قادیانی ٹھہراتا ہوں تو آیۃ میں اس کا ذکر ہی نہیں۔ اب ذرا دم کھا جانا مصلحت وقت معلوم ہوتا ہے۔ نزول ورجوع بروزی کی تاویل اور اس کی تردید ابتداء کتاب میں مفصل گذر چکی ہے۔ ملاحظہ ہو اور حاکم نے اس حدیث معاذؓ کے اخیر میں جس کو امام احمد نے اخراج کیا ہے۔ اپنی مستدرک میں کہا ہے۔ ”فذكر من خروج الدجال فاهبط فاقتله لا اترككم يتامى انى اتى اليكم بعد قليل واما انتم فتروننى انى انا حى“
(انجیل مطبوعہ بیروت ١٨٧٢ء کے یوحنا)
خیر الدین افندی جواب فصیح میں لکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ قول آنحضرت ﷺ کا قول کہ ابن مریم تم میں حکم و عادل ہو کر نزول کرے گا اور حی اور بل رفعه الله الیہ کو ملا حظہ فرماویں۔
ہبوط کا لفظ ”ليهبطن عيسى بن مريم حكما وعدلا“ ابوہریرہؓ، ابن عساکر اسی حدیث کے اخیر میں ”حاجاً او معتمرا وليقفن على قبرى وليسلمن على ولا ردن عليه“ موجود ہے اور ہم پیشین گوئی کرتے ہیں کہ مدینہ منورہ زادہا اللہ شرفا میں حاضر ہو کر سلام عرض کرنا اور جواب سلام سے مشرف ہونا۔ یہ نعمت قادیانی کو کبھی نصیب نہ ہوگی۔ شمس الہدایت میں ”زریت بن برثملہ وصی عیسیٰ“ والی حدیث مذکور ہے۔ جس کو ابن عباسؓ نے روایت کیا ہے۔ ”کما فی ازالة الخفا“ اس حدیث میں (الی حین نزولہ من السماء) کا لفظ بھی موجود ہے۔ اس حدیث سے برخلاف مشن قادیانی کے کئی امور پائے جاتے ہیں۔
- ١...... زریت بن برثملہ کا اس قدر زمانہ دراز تک بغیر اکل وشرب کے زندہ رہنا۔
- ٢...... عیسیٰ علیہ السلام کے نزول بنفسہ کی بشارت دینا۔
- ٣...... حضرت عمرؓ کا بمعہ ان تین سو سوار کی روایت وصی عیسیٰ علیہ السلام کو تسلیم کر
کے اپنا سلام وصی عیسیٰ علیہ السلام کی طرف بھیجنا۔
- ٤...... حضرت عمرؓ کا بمعہ چار ہزار صحابہ مہاجرین وانصار کے عیسیٰ علیہ السلام نبی اللہ
کے نزول من السماء کو صحیح سمجھنا۔ نہ یہ کہ کوئی اس کا مثیل آوے گا۔
- ٥...... یہ کہ آنحضرت ﷺ کے وفات شریف کے دن ”کما رفع عیسیٰ“ کا
فقرہ صدیق اکبرؓ اور حضرت عمرؓ بلکہ سائر صحابہ جو اس وقت حاضر تھے سب کا تسلیم شدہ تھا۔ ورنہ حضرت عمرؓ اگر ”کما رفع عیسیٰ“ کو بھی مثل رفع محمدی کے بحکمہ صدیقی غلط و مردود سمجھے ہوتے۔ تو ثعلبہ کی روایت وصی عیسیٰ علیہ السلام کو تسلیم کر کے سلام نہ بھیجتے اور معلوم ہو کہ وفات شریف کے دن محل کلام صرف یہی تھا کہ حضرت عمرؓ سے بسبب اضطراب و قلق کے وفات شریف کے بارے میں اور کچھ نہیں بن پڑتی تھی۔ بغیر اس کے کہ ”رفع کما رفع عیسیٰ بن مریم“ کہتے تھے۔ یعنی آنحضرت ﷺ زندہ ہیں اور اٹھائے گئے ہیں۔ چنانچہ ابن مریم اٹھایا گیا۔ ازالۃ الخفاء کے مقصد دوئم میں شاہ ولی اللہ صاحبؒ فرماتے ہیں کہ ”چون آنحضرت ﷺ از عالم دنیا برفیق اعلیٰ انتقال فرمود تشویشہا بیشمار بخاطر مردم راہ یافت، ظن بعضے آنکہ ایں موت نیست حالتیست کہ عند الوحی پیش می آید و گمان بعضے آنکہ موت منافی مرتبہ نبوت است“ حضرت عمرؓ کے اس خیال کی تردید کے لئے صدیق اکبرؓ نے ”ایھا الرجل اربع علی نفسک“ فرما کر کہا ”فان رسول ﷺ قدمات الم تسمع اللہ یقول ٠ انک میت وانھم میتون وما جعلنا لبشر من قبلک الخلدا فان مت فھم الخالدون“ پھر منبر پر چڑھ کر بعد حمد و ثناء فرمایا۔ ”ایھا الناس ان کان محمد الھکم الذی تعبدون فان الھکم قدمات وان کان الھکم الذی فی السماء فان الھکم لم یمت“ پھر یہ آیت پڑھی ”وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل افان مات او قتل انقلبتم علی اعقابکم“ اس سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت عمرؓ کا خیال تشویش کے باعث اسی طرف تھا کہ آنحضرت ﷺ نے وفات نہیں پائی۔ بلکہ عیسیٰ بن مریم کی طرح زندہ ہیں۔ اس کی تردید حضرت صدیقؓ نے ”فان رسول اللہ ﷺ قدمات“ سے فرمائی اور پھر اس وہم کو (کہ موت منافی نبوت کے ہے) اس آیت ”انک میت وانھم میتون ونظائرھا“ سے دور فرمایا۔ یعنی موت منافی نبوت کے نہیں اور یہی ہے ”ما سبقت لاجلہ الآیات“ یعنی آیات کا سوق صرف اتنے ہی مضمون کے لئے ہے کہ یہ خیال تمہارا کہ انبیاء بھلا کب مرتے ہیں۔ غلط ہے پیغمبری اور موت باہم متنافی نہیں۔ رہا یہ امر کہ سب انبیاء مر چکے نہ تو مفاد آیات کا ہے اور نہ اس پر مزعوم مخاطبین کی تردید موقوف ہے۔ انک میت ظاہر ہے کہ تحقق موت کا افادہ نہیں دیتا اور نہ لازم آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ بر وقت نزول اس آیت کے وفات پا چکے ہوں اور ایسا ہی ”وما جعلنا لبشر من قبلک الخلد“ کیونکہ مفاد اس کا خلود کی نفی ہے اور مسیح بھی چونکہ
اپنی ہستی کے لئے ابتداء اور انتہاء رکھتا ہے۔ لہٰذا خلود سے بے بہرہ ہے اور ”قد خلت من قبله الرسل“ دال ہونا کل انبیاء کی موت پر موقوف ہے۔ خلت کے معنی ماتت اور لام (الرسل) میں استغراقی ہونے پر مبنی ہے۔ دونوں ممنوع ہیں۔ بلکہ خلت کا معنی مضت ہونا اور لام کا جنسی ہونا متعین ہے۔ پہلا لغت اور شہادت نظائر سے ثابت ہے۔ ”مثل قد خلت من قبلكم سنن الايام الخالية“ وغیرہا اور لام کے استغراقی نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ”قد خلت من قبله الرسل“ عیسیٰ بن مریم کے بارہ میں بھی نازل ہوا ہے۔ ”قال تعالى ما المسيح ابن مريم الا رسول قد خلت من قبله الرسل“ پس بر تقدیر استغراق معنی یہ ہوا کہ مسیح سے پہلے سارے رسول مر چکے ہیں۔ حالانکہ آنحضرت ﷺ اس آیت کے نزول کے وقت موجود تھے۔ لہٰذا ”وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل“ میں بھی لام استغراقی نہ ہوا تا کہ مسیح کی وفات پر دلالت کرے۔ الغرض اس آیت کا مسیح کی وفات پر دال ہونا دو امر پر موقوف ہے۔ جو دونوں ہی ثابت نہیں۔ ”كما عرفت بناء عليه“ صدیقی خطبہ میں محل استشہاد صرف ”افان مات“ اور ”انك ميت“ ہے۔ نہ ”قد خلت من قبله الرسل“ تو معلوم ہوا کہ نزول آیات مذکورہ کے وقت مسیح بن مریم کا زندہ رہنا مفاد آیات مذکورہ کے لئے منافی نہیں۔ ہاں دائمی حیات بے شک منافی ہے آیات مذکورہ کو، سو مسیح بن مریم کو بلکہ کسی کو مخلوق میں سے ہم بھی حی قیوم نہیں جانتے۔ ہم بھی قائل ہیں کہ بعد النزول مریں گے اور یہی مطلب ہے امام ہمام محمد بن عبدالکریم شہرستانی صاحب کتاب الملل والنحل کا اس عبارت سے ”وقال عمر بن الخطاب من قال ان محمدا قد مات قتلته بسيفى هذا وانه رفع كما رفع عيسى بن مريم وقال ابوبكر بن قحافة من كان يعبد محمد افان محمدا قد مات“ نہایت افسوس اور تعجب کا مقام ہے کہ مرزا قادیانی اسی خطبہ صدیقی کو اپنی ایام الصلح وغیرہ اور امروہی صاحب قسطاس میں دلیل ٹھہراتے ہیں۔ اجماع کے اس امر پر کہ مسیح بن مر گیا۔ دیکھو قسطاس کے ص ٧ سطر ٢ کہ بھلا تم اس اپنے خیال عقیدہ کو حضرت ابوبکر صدیق یا حضرت عمر یا حضرت عثمان یا حضرت علی سے ہی ثابت کر دو۔ جو دعویٰ اجماع صحابہ وغیرہم کا کئے جاتے ہو کہ حضرت عیسیٰ اس جسد خاکی کے ساتھ باجماع آسمانوں پر چڑھائے گئے اور وہاں پر اسی جسد خاکی کے ساتھ آسمانوں پر سے نزول فرماویں گے۔ اگر صادق ہو۔ تو کوئی ایک روایت ہی ان خلفاء اربعہ سے پیش کرو۔ (اس بیچارہ لا یعقل کو اتنی بھی خبر نہیں کہ اگر کسی صحابی کا یہ خیال ثابت بھی ہو تو وہ فہم صحابہ بمقابل نصوص بینہ قرآنیہ کے کب حجت ہو سکتا
ہے) علاوہ یہ کہ بروز و کیا ہے۔ چنانچہ امام ہما ”وقال عمر بن الخ جہالتاً مضمون سمجھ کر قرآنیہ کے برخلاف ج کے ایک مضمون مخالف صدیقی کا مطلب وہی استغراقی خیال کرتے ہو سکتا۔ معہذا جمع پر لام يا مريم ان الله ا اصطفاك الاية “ علیہ ٹھہرایا۔ جس کی ع تنبیہ بعد ظہور اس امر اہل اسلام کا جس پر آ ہیں اور مراد نزول س اور چونکہ آنحضرت ص قادیانی صاحب اپنا وہی مسیح جو نبی ہے نز کریں یا یہ ثابت کر قادیانی صاحب ہمہ رہتے ہیں۔ شق القم غلام احمد قادیانی بر بکواس کی نسبت گذ نے امت مرحومہ ک اس پیشین گوئی اور ا فتنہ دجال سے محفوظ
ہے) علاوہ یہ کہ بروز وفات رسول مقبول ﷺ کے اس خیال سے سب حاضرین صحابہ نے رجوع کیا ہے۔ چنانچہ امام ہمام محمد بن عبدالکریم شہرستانی اپنی کتاب (ملل ونحل ج ١ ص ٢١) میں لکھتے ہیں۔ ”وقال عمر بن الخطاب“ اچھے سبحان اللہ قرآن حدیث میں مہارت ہو تو ایسی ہو کہ بوجہ جہالت الٹا مضمون سمجھ کر امر اجماعی کو غیر اجماعی و بالعکس قرار دیا۔ بھلا یہ کب ہو سکتا ہے کہ آیات قرآنیہ کے برخلاف حیات مسیح الیٰ الان پر اجماع ہو اور آنحضرت ﷺ برخلاف آیات قرآنیہ کے ایک مضمون مخالف کو نہایت اہتمام سے کرات مرات ارشاد فرماویں۔ ہرگز نہیں بلکہ خطبہ صدیقی کا مطلب وہی ہے جو بیان کیا گیا قادیانی مع اتباعہ بوجہ جمع ہونے الرسل کے لام کو استغراقی خیال کرتے ہیں۔ ناظرین معلوم کر چکے ہیں کہ لام استغراقی بوجہ مذکورہ بالا ہرگز نہیں ہو سکتا۔ معہذا جمع پر لام کا استغراقی ہونا بشہادت نظائر ضروری بھی نہیں۔ ”واذ قالت الملائكة يا مريم ان الله يبشرك الاية وايضاً واذ قالت الملائكة يا مريم ان الله اصطفاك الاية “ الغرض قادیانی نے اسی تفسیر دانی پر نازاں ہو کر وفات مسیح کو منصوصی اور مجمع علیہ ٹھہرایا۔ جس کی علت غائی یہ تھی کہ احادیث نزول مسیح میں میری ( قادیانی ) بشارت ہے۔ تنبیہ بعد ظہور اس امر کے کہ رفع جسمی مسیح بحالت حیات اور ایسا ہی نزول ایک اجماعی عقیدہ ہے۔ اہلِ اسلام کا جس پر آج تک بل رفعہ اللہ الیہ کو سب اہل اسلام نص قطعی خیال کرتے چلے آتے ہیں اور مراد نزول سے احادیث متواترہ میں نزول جسمی اسی مسیح کا ہے۔ جو نبی اور مریم کا بیٹا ہے اور چونکہ آنحضرت ﷺ کے فہم مبارک اور سب امت مرحومہ کے اذہان میں یہی مرکوز ہے۔ لہٰذا قادیانی صاحب اپنا مدعی بغیر اس کے حاصل نہیں کر سکتے کہ آنحضرت ﷺ کے اس خیال کو کہ وہی مسیح جو نبی ہے نزول کرے گا۔ یا تو العیاذ باللہ غلط ٹھہرا کر آپ کو آیات قرآنی سے بے خبر تصور کریں یا یہ ثابت کریں کہ آنحضرت ﷺ کا خیال بھی ہمارے مطابق تھا۔ ان دو شقوں میں سے قادیانی صاحب بمعہ اپنے چیلوں کے ہر ایک کو ہاتھ ڈالتے ہیں۔ مگر الحمدللہ! کہ ناکامیاب ہی رہتے ہیں۔ شق اوّل کی نسبت لکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی تعبیر کشف میں غلطی ہو گئی ہے۔ یعنی غلام احمد قادیانی برنگ عیسیٰ ابن مریم مکشوف ہوا۔ آپ ﷺ نے عیسیٰ بن مریم بعینہ سمجھ لیا۔ سو اس بکواس کی نسبت گذارش ہے کہ یہ خیال بالکل لغو اور منافی حکمت تبلیغ ہے۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ نے امت مرحومہ کی خیر خواہی کے لئے بڑی تفصیل وبسط وعلامات وخصوصیات وتاکیدات سے اس پیشین گوئی اور ایسا ہی سائر علامات قیامت کو بیان فرمایا ہے تا کہ میری امت جھوٹے مسیح اور فتنہ دجال سے محفوظ رہیں اور بر تقدیر خطاء فی التعبیر کے اس خیر خواہی کا ثمرہ یہ نکلا کہ خدائے جل
وعلماء سے لے کر موجودہ اہل اسلام تک خطاہی خطا ہو گیا۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو بھی یہ نہ سوجھی کہ واضح طور پر وحی بھیجوں یا بحکم فینسخ الله ما يلقے الشيطان کے خطا کی ترمیم و تصویب کردوں اور اسی نا سمجھی پر آنحضرت ﷺ و صحابہ کرام و تابعین و تبع تابعین وہلم جرا آج تک رہے اور بخیال مرزا قادیانی کے اس مسیح کے دوبارہ آنے کے قائلین باجمعہم مشرک ٹھہرے۔ کیونکہ ایک بشر انہوں نے حی قیوم مان لیا۔ دیکھو ایام الصلح و شمس بازغہ وغیرہ وغیرہ اور نیز دور و دراز خطوۂ خطاء کا کشف یا تعبیر میں گو کہ منافی نہیں شانِ نبوت کو ، مگر بقاء علی الخطاء بالکل نازیبا اور ناجائز ہے۔ بحکم فینسخ الله ما يلقے الشيطان اور نیز اس وجہ سے کہ بقاء علی الخطاء متصادم ہے عصمت کو ، جس پر رسالت و اتباع کے کارخانہ کا دارو مدار ہے۔ اس اجماع کے بارہ میں مرزا قادیانی کبھی تو اجماع کو رانہ لکھتے ہیں۔ دیکھو ازالہ جلد اوّل جس سے رفع جسمی کے اجماع ہونے پر ان کا اقرار پایا جاتا ہے اور جب اجماع امت کے کورا نہ کو ٹھہرانے پر چاروں طرف سے لعن نظر آتے ہیں تو جھٹ کروٹ بدل کر اس طرف منہ کر لیتے ہیں کہ رفع ونزول جسمی اس مسیح پر امت کا اجماع ہی نہیں۔ بلکہ اس کی موت پر اجماع ہے۔ دیکھو مکتوب عربی وغیرہ وغیرہ ۔ رہا یہ دعویٰ کہ کل اکابر معتزلہ کا عیسیٰ کے مرنے پر یعنی وہ مر گیا اتفاق ہے ، ناظرین علامہ زمحشری معتزلی کا قول (کشاف ج١ ص ٣٦٦) میں ملاحظہ کریں۔ ”انی متوفيك اى مستوفى اجلك ومعناه انی عاصمك من ان يقتلك الكفار و مؤخرك الى اجل كتبة لك ومميتك حتف انفك لا قتلا بايديهم ورافعك الى سمائی ومقـر ملائكتي “ متوفیک کے معنی میں اتنا طول (کہ میں تیری اجل پوری کروں گا ۔ یعنی میں تجھے کفار کے ہاتھوں سے بچالوں گا اور تجھ کو اس اجل اور زمانہ تک مہلت اور وقفہ دوں گا۔ جو تیرے لئے میں نے لکھ دیا ہے ) اور اس کا معنی ممیتک نہ لینا۔ جیسا کہ بعد اس کے قیل ممیتک بصیغہ تمریض لکھا ہے ۔ اسی لئے تو ہے کہ احادیث متواترہ وعقیدہ اجماعی ونص قطعی بل رفعہ اللہ الیہ کا مفاد متوفیک کے مطابق بلا تکلف تقدیم و تاخیر کے ہو ۔ امام بخاری کی طرف یہ نسبت کہ اس کا مذہب عقیدہ اجماعیہ کے برخلاف تھا۔ بالکل لغو اور جہالت ہے۔ کیونکہ امام بخاری نے کتاب الانبیاء میں ایک باب بعنوان باب نزول عیسیٰ بن مریم مرتب کیا ۔ ( بخاری ج ١ص ٤٩٠) جس میں ایک حدیث ابی ہریرہؓ کی روایت سے نقل کی ہے ۔ ” والذي نفسي بیده “ جس کے اخیر میں ابوہریرہؓ آیت ”وان من اهل الکتاب “ استشهاد کے طور پر ذکر فرماتے ہیں اور دوسری حدیث ”کیف انتم اذا نزل ابن مريم فيكم وامامكم منكم “
اس باب کا عنوان اور معنوں صاف بتلا رہے ہیں کہ امام بخاری کا مذہب یہی ہے۔ جس پر اجماع امت کا ہے۔ ہاں اس میں شک نہیں کہ امام بخاری نے کتاب التفسیر میں سورہ آل عمران کے لفظ متوفیک کی تفسیر فقط ممیتک سے کر دی ہے۔ ”وقال ابن عباس متوفيك مميتك“ اور اس سے یہ ثابت نہیں ہو سکتا کہ امام بخاری کا مذہب یہی ہے کہ اس آیت میں توفی کے معنی موت ہیں اور مسیح بن مریم مر چکا اور کیونکر ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ اوپر باب کے عنوان ومعنوں سے صاف ظاہر ہے۔ اصحاب روایت کے مدنظر فقط روایت کے اس سلسلہ کو بیان کرنا ہے جو ان کو ملا۔ اس روایت کرنے سے یہ نہیں ثابت ہوتا کہ ان کا مذہب بھی یہی ہے۔ کیونکہ جب ابن عباسؓ کی نسبت بوجہ اس تفسیر کے کہ متوفیک ممیتک یہ ثابت نہیں ہو سکتا کہ ان کا مذہب بھی وفات مسیح ہے تو امام بخاری کا مذہب بوجہ روایت کیونکر ہو سکتا ہے اور نیز چونکہ متوفیک میں وعدہ وفات کا ہے۔ نہ تحقق وفات لہٰذا ”قال ابن عباس متوفيك مميتك“ وفات مسیح کا افادہ نہیں دیتا۔ جب تک فلما توفیتنی کے متعلق کسی صحابی یا مفسر سے معنی موت کا نقل نہ کیا جاوے۔ بلکہ ابن عباسؓ سے فلما توفیتنی کے متعلق رُفعتنی کا معنی مروی ہے۔ ”كما فى الدر المنثور ونقل فى شمس الهدايت“ اور فلما توفیتنی میں بھی اگر معنی موت کا ہی لیا جاوے تو بھی یہ آیت چونکہ حکایت ہے مابعد النزول سے، لہٰذا وفات قبل النزول پر دلالت نہیں کرتی۔ ”كما سيجيئ مفصلاً “ ابن عباسؓ کا مذہب یہی ہے کہ عیسیٰ نبی اللہ فوت نہیں ہوئے اور دوبارہ آسمان سے نزول کریں گے۔ اسی لئے بر تقدیر ارادہ معنی موت کے متوفیک سے ابن عباسؓ آیت میں تقدیم و تاخیر فرماتے ہیں اور دوسری کتب صحاح میں جیسے صحیح نسائی اور ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ اپنے تراجم میں حضرت ابن عباسؓ سے حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا زندہ آسمان پر اٹھایا جانا ثابت ہے۔ ”عن ابن عباس ان رهطا من اليهود سبوه وامّه فدعا عليهم فمسخهم قردة وخنازير فاجتمعت اليهود على قتله فاخبره الله بانه يرفعه الى السماء ويطهره من صحبة اليهود صحيح نسائى وابن ابی حاتم وابن مردويه قال ابن عباس سيدرك اناس من اهل الكتاب عيسى حين يبعث فيؤمنون به فتح البيان“ علاوہ تفسیر ابن عباسؓ کے ایک اور وجہ بھی ہے جو قادیانی صاحب نے بزعم خود دستاویز بنا رکھی ہے۔ ”فاقول كما قال العبد الصالح“ کی حدیث جو بخاری میں بروایت ابن عباسؓ ذکر کی ہے۔ جس میں آنحضرتﷺ نے اپنے اور مسیح بن مریم کے قصہ کو ایک ہی رنگ کا قصہ قرار دے کر وہی لفظ فلما توفیتنی اپنے حق میں استعمال فرمایا۔ جو عیسیٰ بن مریم نے اپنے حق میں کہا اور
ظاہر ہے کہ مدینہ منورہ زاد ہا اللہ شرفا میں آنحضرت ﷺ کا مزار شرف موجود ہے۔ اس لئے بکلی منکشف ہو گیا کہ دونوں برابر طور پر آیت ”فلما توفیتنی“ کے اثر سے متاثر ہیں۔ اس تقریر کو قادیانی صاحب نے بوجہ خود غرضی سیاق سے آنکھ بند کر کے دستاویز بنا لیا ہے۔ فی الواقع یہ ہے کہ فلما توفیتنی کا تعلق قیامت کے دن سے ہے۔ جیسا کہ (درمنثور ج٢ص٣٣٩) میں مذکور ہے کہ قتادہ سے کسی نے کہا کہ اس آیت کا قصہ کب ہوگا۔ کہا قیامت کے دن اس پر دلیل یہ فرمائی کہ کیا تو نہیں دیکھتا خدا خود فرماتا ہے کہ یہ تمام باتیں اسی دن ہوں گی۔ جس میں سچوں کو سچائی نفع دے گی۔ ”ہذا یوم ینفع الصادقین صدقھم“ حاصل یہ ہوا کہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مجھ سے فرمائے گا کہ تم کو معلوم نہیں کہ تیرے اصحاب نے تیرے بعد کیا کچھ بنایا۔ تو بجواب اس کے میں کہوں گا جیسا کہ کہے گا بندہ صالح (یعنی مسیح) کو ”وکنت علیھم شھیدا مادمت فیھم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیھم“ اور میں ان کا نگران تھا۔ جب تک کہ ان کے بیچ تھا میں۔ پھر جب کہ مار دیا تو نے تو ہی ان پر نگہبان رہا۔ اس حدیث میں ”کما قال العبد الصالح“ میں قال بمعنی یقول ہے۔ فلما توفیتنی بمعنی موت ہوا مگر وہ موت ہے۔ جو بعد النزول من السماء مسیح پر وارد ہوگی۔ جس کے سارے اہل اسلام صحابہ سے لے کر آج کے علماء تک قائل ہیں۔ ہاں اگر قال بمعنی ماضی ہی ہوتا تو فلما توفیتنی مسیح کے موت پر بروقت تحقق رفعہ اللہ علیہ کے دلالت کرتا۔ کیونکہ اس تقدیر پر مطلب یہ ٹھہرا کہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ میں کہوں گا قیامت کے دن جیسا کہ کہا تھا مسیح بن مریم نے بعد اٹھائے جانے کے دنیا سے جب کہ اس سے عیسائیوں کی نسبت سوال کیا گیا تھا کہ ”انت قلت للناس“ دلیل اس کی کہ امام بخاری نے بھی اس آیت کو متعلق قیامت ہی کے سمجھ رکھا تھا۔ یہ ہے کہ امام بخاری نے اس حدیث کے قبل اپنا مذہب بیان کر دیا کہ اس حدیث میں جو مسیح ابن مریم کے حق میں اتری ہے۔ لفظ ”واذ قال اللہ“ بمعنی یقول ہے اور اذ صلہ یعنی زائد ہے۔ یعنی امام بخاری نے اپنے اجتہاد سے اپنا مذہب متعلق اس آیت اور اس حدیث کے بیان کر دیا کہ یہ سارا قضیہ اور کل سوال جواب قیامت کے دن ہوگا اور کلمہ اذ نے یہاں معنی ماضی میں کوئی اثر مخالف نہیں دکھایا۔ جیسا کہ مرزا قادیانی اپنے متعدد تالیفات میں اذ قال کی ماضیویت کے منصوبی کرنے کے لئے لکھتے ہیں۔ بلکہ کلیہ کے طور پر لکھ دیا کہ ہر جگہ ماضی اذ کے تحت واقع ہوتا ہے بالضرور اس سے معنی ماضی کا لیا جاتا ہے اور جس نے کہ یہاں ماضی کے بمعنی مضارع کہا۔ اس کو ظالمین اور کاذبین میں سے شمار کیا۔ دیکھو (مکتوب عربی ص٣٥) امام بخاری کو اس مخالف کا یہ انعام ملا۔ جیسا کہ ابن عباس ؓ کو بروقت ظاہر
کرنے مذہب اپنے کے۔ یعنی قول بالتقدیم والتاخیر فی الآیۃ کو تحریف ٹھہرایا۔ وہی امام بخاری تھے کہ بڑے زور سے ان کا نام اپنے موافقین سے لیا جاتا تھا اور وہی امام بخاری ہیں کہ بباعث اظہار مذہب اپنے یعنی حیات مسیح کے جو قال کو بمعنی یقول کے لکھا ہے۔ ان کو وہ انعام دیا جاتا ہے جو مکتوب عربی میں موجود ہے اور ابن عباسؓ کو افقہ الناس اور حبر ھذہ الامۃ کا لقب دے کر بمقابلہ ان لوگوں کے جو متوفیک سے معنی غیر موت کا لیتے تھے۔ چلا کر کہا جاتا تھا کہ ایسے بڑے صحابی عظیم الشان جلیل القدر کے تفسیر کو تم نہیں مانتے اور جب ان کا مذہب ان کے مرویات فی التفسیر والحدیث سے روز روشن کی طرح ظاہر ہوا تو وہ محرفین میں اور غلط کاروں میں شمار کیئے جارہے ہیں۔ دیکھو شمس بازغہ متعلق آیت ”وانہ علم للساعة“ جو عنقریب آوے گا۔ ازالہ اوہام وغیرہ مرزا قادیانی کا اپنے مریدوں کے ساتھ بھی یہی وتیرہ ہے۔ جب تک وہ مرزا قادیانی کے گیت گاتے ہیں۔ مرزا قادیانی بھی ان کی ثناء خوانی تحریرات میں شائع کر دیتے ہیں۔ خدا تعالیٰ کے ساتھ ہمکلام ہونے سے نیچے نہیں چھوڑتے اور جب الگ ہو گئے تو سارے جہاں میں کوئی ان کے برابر ملعون اور مردود نہیں ہوتا۔ دقت اور بھی ہے کہ مرزا قادیانی قال سے ماضی کا معنی لیتے ہیں اور جناب مولوی نور الدین صاحب بمعنی مضارع لیتے ہیں۔ دیکھو (مقدمہ اہل کتاب ص ١٧٨) ہاں ہمارے پر یعنی جو لوگ اس قصہ کو قیامت سے متعلق سمجھتے ہیں۔ مرزا قادیانی کا ایک اعتراض ہے کہ سوال خداوندی تو یہ تھا کہ تو نے اپنے اور اپنی والدہ کی الوہیت کی طرف ان کو بلایا تھا۔ جس کا جواب مسیح نے یہ دیا۔ ”سبحانك مايكون لي ان اقول“ جس میں یہ بھی کہا کہ جب تک میں ان میں تھا۔ ان کا نگران حال تھا اور جب تو نے مجھے فوت کر لیا تو تو ہی ان کا نگہبان تھا۔ اس سے پایا جاتا ہے کہ مسیح کو عیسائیوں کے شرک کی کوئی خبر نہیں اور یہ جب ہی صحیح ہو سکتا ہے کہ اب مسیح زندہ نہ ہوں۔ کیونکہ اگر زندہ ہیں اور دنیا میں آویں گے۔ جیسا کہ مسلمانوں کا عام طور پر یہی عقیدہ ہے۔ تو عیسائیوں کے کفر و شرک سے ان کا بے خبر رہنا کوئی وجہ نہیں رکھتا پھر انکار کیسے ہو سکتا ہے۔ بجواب اس کے گذارش ہے کہ مسیح کے ذمہ پر جواب صرف اتنا ہی ہے کہ یا اللہ تو شرک سے پاک ہے جو بات مجھے لائق نہیں وہ میں نے کیوں کہنی تھی۔ بعد اس کے مسیح کو اس سے بیزاری کا اظہار بھی مقصود ہے۔ چنانچہ ”ما قلت لهم الا ما امرتنی بہ“ شہیداً تک اس پر دال ہے اور ان کے لئے سفارش بھی کرنی منظور ہے۔ جیسا کہ ضمناً ”ان تعذبهم فانهم عبادك وان تغفرلهم فانك انت العزیز الحکیم“ سے مفہوم ہوتی ہے اور ظاہر ہے کہ سفارش کے مقام میں مشفوع لہ کے جرائم کی تصریح مقتضائے مقام کے برخلاف ہے۔ معہذا ان کے شرک کرنے نہ کرنے سے سوال ہی
نہ تھا۔ بلکہ سوال صرف اتنا ہی تھا کہ تو نے ان کو کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو خدا بنا لو۔ پس جب کہ سوال ہی اس سے نہیں اور مسیح کا بالصریح ذکر کرنا مقتضائے مقام شفاعت کے برخلاف بھی ہے تو مسیح کو کیا ضرورت ہے کہ اس کا ذکر کرے۔ الغرض قادیانی وامروہی صاحبان کا سب آیات و احادیث کے متعلق خام و سفلی خیال ہے۔ علمی لیاقت سے بالکل بے بہرہ ہیں اور اسی بناء فاسد سے انہوں نے امام بخاری کی حدیث ابن عباسؓ میں قال کے ماضی ہونے سے یہ اعتقاد کر لیا کہ آنحضرت ﷺ اور عیسیٰ بن مریم دونوں توفی کے اثر سے متاثر ہو گئے ہیں۔ چنانچہ خطبہ صدیقی مذکورہ بالا سے ساری امت سے الگ بوجہ جہالت الٹا مضمون سمجھ لیا اور اس اعتقاد پر جہالت کا غشاء توفی کا اطلاق مشترک طور پر بھی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ یہ خیال میں نہیں آیا کہ جیسا کہ سورہ زمر کی آیت ”الله يتوفى الانفس حين موتها والتى لم تمت فى منامها فيمسك التى قضى عليها الموت ويرسل الاخرى الى اجل مسمى“ انفس کے اوپر ایک ہی طور پر اطلاق توفی کا ہوا ہے۔ لیکن نفوس مائتہ یعنی مرنے والوں کی توفی اور ہے اور نفوس نائمہ کی توفی اور ہے۔ اسی طرح اس حدیث میں متنوع ہے۔ کیونکہ حالات خاصہ ہر ایک کے تنوع کو تقاضا کرتے ہیں۔ اب ناظرین کو اس طرف توجہ دلائی جاتی ہے کہ مکتوب عربی وغیرہ تصانیف میں قادیانی صاحب فرماتے ہیں کہ تم اگر حسرت سے مر بھی جاؤ تب توفی کا معنی بغیر موت کے نہ بتا سکو گے۔ لیجئے صاحب توفی کے معانی کتب لغت سے۔
- ......١ ایک چیز کو بالتمام پکڑنا (لسان العرب ج١٥ص ٣٥٩) میں ہے۔ ”توفيت
المال منه واستوفيته اذا اخذته كله“
- ......٢ پوری گنتی کرنا (لسان العرب ج١٥ص٣٥٩) میں ہے۔ ”توفيت عدد القوم
اذا عددتهم كلهم ومن ذلك قوله عز وجل الله يتوفى الانفس حين موتها اى يستوفى عدد اجالهم فى الدنيا وقيل يستوفى تمام عددهم الى يوم القيمة واما توفى النائم فهو استيفاء وقت عقله وتميزه الى ان نام“ اور صاحب (تاج العروس ج٢٠ ص٣٠٣) نے اس کی شہادت میں لکھا ہے۔ ”وانشد ابو عبيدة للمنظور الدبيرى او الغنوى“
ولا توفاهم قريش فى العدد
”اى لا تجعلهم قريش تمام عددهم ولا تستوفى بهم عددهم“
- ......٣ سوال کرنا (لسان العرب ج١٥ص٣٦٠) میں ہے۔ ”قال الزجاج فى
قوله تعالى حتى اذاجاء تهم رسلنا يتوفنهم اى سألوهم ملائكة الموت عند المعاينة فيعترفون عند موتهم انهم كانوا كافرين“
- ٤...... ”عذاب دنیا قال الزجاج ويجوز ان يكون حتى اذا جاء تهم
ملائكة العذاب يتوفون هم عذابا وهذا كما تقول قد قتلت فلانا بالعذاب وان لم يمت ودليل هذا القول قوله تعالى وياتيه الموت من كل مكان وما هو بميت“
- ٥...... جیسے کہ ابونواس نے کہا ہے۔
ودبت العينان في الجفن
اور اسی معنی میں ہے ”هو الذى يتوفكم بالليل“ (مجمع البحار ج ٥ ص ٩٩) میں ہے۔ اے متکلم اس آیت کریمہ میں بعینہ مرزا قادیانی کے سوال کا جواب موجود ہے۔ کیونکہ فاعل اللہ ہے اور مفعول ذی الروح انسان ۔ حالانکہ موت کا معنی مراد نہیں ۔ اسی طرح ”الله يتوفى الا نفس حين موتها والتي لم تمت في منا مها اه“ میں بلکہ بمعنی قبض کے ہے۔ اس آیت نے قطعاً فیصلہ کر دیا ہے کہ توفی اور چیز ہے اور موت اور چیز اور نیند اور چیز ۔
- ٦...... مجازاً میت پر بعد تحقق موت بولا جاتا ہے۔
(تاج العروس ج ٢٠
ص ٣٠١) ومن المجاز ادركته الوفاة اى الموت والمينة وتوفى فلان اذا مات وتوفاه الله عزوجل اذا قبض نفسه وفي الصحاح روحه
(مجمع البحار ج ٥
ص٩٩)“ میں ہے۔ ”وقد يكون الوفاة قبضا ليس بموت “ اگر کل تصریفات ت وف ی پر یعنی تقضی و استغنی و توفی نظر ڈالی جاوے تو صاف واضح ہو جاتا ہے کہ موت توفی کے لئے معنی حقیقی نہیں۔ اس تحقیق سے ناظرین پر واضح ہو گیا ہے کہ قال کو بمعنی یقول کے لینا امام بخاری کا مسلک ہے۔ جس سے ان کو اجماعی عقیدہ اور احادیث نزول سے تطبیق دینی منظور ہے۔ ورنہ بظاہر تحقیق مذکور متعلق بمعنی توفی قال اگر اپنے معنی حقیقی میں ہی لیا جاوے اور متوفیک وقت اس حدیث میں بھی مثل آية الله يتوفى الانفس کی ملحوظ ہو تو بھی حدیث ”اقول كما قال العبد الصالح“ اور اسی طرح آیت ”فلما توفیتنی“ ہرگز اجماعی عقیدہ کے برخلاف افادہ نہیں دیتی۔ کیونکہ ”فلما توفیتنی“ کا معنی فلما قبضتنی ہوگا۔
پنجابی نبی کی یاد میں
ہمارے پنجابی نبی جناب مرزا غلام احمد قادیانی معارف قرآنی اور رموز یزدانی کی
ڈینگیں تو بہت مار گئے ۔ مگر عملی ثبوت میں چوری خور بھنوں ہی ثابت ہوئے۔ براہین احمدیہ کی اشاعت کا اشتہار اس شد و مد اور عزم و ثبات سے دیا کہ دنیا پھڑک اٹھی ۔ اس کا پروپیگنڈا اور تشہیر اس خوبی اور عمدگی سے کی کہ دنیا کھنچی آئی اور ہر طرف سے واہ واہ تحسین و آفرین کی صدا بلند ہوئی اور ظاہر میں اس کی وجوہات ہی کچھ ایسی تھیں۔ جس میں کمال جاذبیت اور کشش کے جوہر مرکوز تھے۔ مثلاً کتاب براہین احمدیہ کا مسودہ تیار ہے۔ اس کی پچاس ضخیم جلدیں ہوں گی اور اس کے پچاس حصے صرف اس لئے کئے گئے ہیں کہ آسانی سے چھپ سکیں۔ کیونکہ اس کی طباعت پر نو ہزار روپیہ خرچ آتا ہے۔ اس میں تین سو ایسے قوی ساطع اور قاطع دلائل ہیں۔ جو اسلام کی خوبی پر اس خوبی سے دیئے گئے ہیں۔ جن کا جواب ہی نہیں اور یہ وہ دلائل ہیں جو مؤلف نے بطور ملہم لکھے ہیں اور یہی وجہ ہے جو اس اچھوتے طرز اور دلائل سے لکھی ہوئی کتاب کا ہر گھر میں ہونا ضروری ہے۔ اس لئے صاحب ثروت احباب سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس پیشگی قیمت جو صرف پچیس روپیہ ہے بھیج دیں اور جوق در جوق خریداری میں شامل ہوں ۔ تاکہ یہ کام چل نکلے۔ جیسے جیسے کتاب کے حصص شائع ہوتے رہیں گے احباب کو برابر پہنچتے رہیں گے۔ قوم نے مرزا قادیانی کی درد بھری آواز کو سنا اور لبیک کہتے ہوئے ہزاروں بھیجے ۔ مگر آہ اس کا کیا حشر ہوا۔ بس کچھ نہ پوچھئے ۔
ظالم نے پھاڑ ڈالا ہے تار تار کر کے
پہلا حصہ شائع ہوا۔ جس میں جلی قلم سے صرف اس کی خوبیوں کے اشتہار پر ہی اکتفا تھا۔ یعنی اس کتاب میں یہ ہو گا وہ ہوگا۔ یہ کتاب ایسی ہے ویسی ہے۔ اس کتاب کا دس ہزار روپیہ انعام ہے۔ مگر یہ انعام وہ لے سکے گا جو اس کے تمام و کمال یا نصف یا ربع یا خمس دلائل کو توڑے۔ مگر شرط یہ ہے کہ وہ میری پوری تحریر کو پہلے نوٹ کرے۔ بعد میں اس کے سامنے اس کا جواب دے۔ انصاف کیجئے کہ جس کتاب پر مرزا قادیانی کا نو ہزار گھر سے نہیں قوم سے مانگ کر خرچ آئے۔ اس کے جواب میں وہ کون سا لال بھجکڑ ہے جو مفت میں سردردی بھی لے اور نو ہزار مرزا کی کتاب پر اور نو ہزار اپنے دلائل پر یعنی اٹھارہ ہزار خرچ کرے تو کہیں جا کر یہ شرط پوری ہو۔ اس کے بعد مرزا قادیانی دس ہزار نقد کسی بنک میں انعام تھوڑا ہی رکھتے ہیں۔ جو اتنی محنت کے بعد کوئی لے لے۔ نہیں کتاب لکھنے کے بعد مرزا قادیانی سے پھر الجھے اور مرزا قادیانی کی میں نہ مانوں کی جواب لکھے اور اس سلسلہ نا متناہی میں اگر عمر وفا کرے۔ تو مرزا قادیانی کی وہ بنجر زمین جس میں کرنے کے لئے عدالت کا رخ کرے۔ مقدمات دیوانی میں دیوانہ ہو جائے تو کہیں۔ ۔ ۔ ۔ اس
زمین کا وارث بنے اور پھر یہ زمین بے سرآئین ہے۔ یہ تھی مرزا قادیانی کے انعام کی حقیقت۔ جس پر امت کپڑے پھاڑے پھولی نہیں سماتی۔
اس کے بعد دوسرا حصہ شائع ہوا جو تمہید میں ختم ہوا۔
تیسرے اور چوتھے حصے میں مقدمہ کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کی غلط آیات معہ غلط ترجمے کے شائع ہوئیں اور اس کے ساتھ ساتھ حاشیہ در حاشیہ قائم کئے گئے۔ گویا داڑھی سے مونچھیں بڑھ گئیں اور براہین کا مضمون صرف ایک سطر سرورق پر رہ گیا اور ان حاشیوں میں بے ربط تفسیر جس کا سر ہے نہ پیر، الٹی تعبیر چند جھوٹے من گھڑت غیر مسلم اعتراضات اور ان کے بودے جوابات جو نا قابل تسلی ہیں کے ساتھ ساتھ اپنے بناوٹی کشوف اور مضحکہ خیز خوابات اور رذالانہ پیش گوئیاں بے تکے سر بریدہ الہام جو آیات قرآنی سے سرقہ شدہ ہیں اور جن کے ساتھ پنجابی عربی کا بے جوڑ پیوند گانٹھ دیا ہے اور انگریزی وہ بھی غلط اور اس میں الہام اور سنسکرت کی آہوتیاں جو مضحکہ خیز ہیں اور عبرانی کے فقرے جو انجیل سے اڑائے گئے ہیں اور ایسی باتیں اور لطف تو یہ ہے جن کی تفہیم سے ملہم عاجز ہے اور بیس بیس سال بعد ان سر بریدہ مقطعات کے مطالب مرزا قادیانی کی سمجھ میں آتے ہیں۔ مگر سوال تو یہ ہے یہ کیا اندھیر ہے کہ پیغام ربانی تو بیس سال پہلے آئے اور تعمیل بیس سال بعد ہو۔ عجیب پیغمبری ہے۔ کیا یہی دیانت وامانت ورسالت کی تکمیل ہے۔ جو مرزا قادیانی نے کی اور کیا نبیوں کو ایسے ہی الہام ہوتے ہیں اور پھر یہ کس قدر اندھیر ہے کہ مرزا قادیانی پچاس حصص کے وعدے پر قوم سے سودا کر کے روپیہ بٹورتے ہیں اور پانچ سے زیادہ دینے کی توفیق وہمت نہیں ہوتی۔ بقیہ پینتالیس جلدیں ہی غائب ہیں اور دلائل تین سو سے تین بھی تو نہیں ملتے۔ اب کوئی جواب کیا دے اور کس کو دے۔ جب کہ مرزا قادیانی نے یہ کہہ کر اپنا دامن چھڑانے کی ناکام کوشش کی کہ اب براہین احمدیہ کا کام خدا نے اپنے ذمے لے لیا۔ گویا خدا اب براہین احمدیہ لکھا کرے گا۔ مرزا قادیانی تو چل بسے اور عرصہ تیس سال سے غائب ہیں۔ کیا امت مرزائیہ یہ بتانے کی زحمت گوارہ کرے گی کہ ان کے خدا نے براہین احمدیہ کا کوئی حصہ شائع کیا۔ یا وہ بھی دلائل کے ایفا کی مشکلات کو سوچ رہا ہے اور وہ مسودہ جس کا تذکرہ مرزا قادیانی نے کیا تھا۔ کیا ہوا کیا زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا اور اگر اس وقت نہیں تو اب کیوں نہیں شائع ہوتا اور وہ دلائل کیا ہوئے۔ آہ! اس کا جواب قیامت تک کوئی مرزائی نہ دے سکے گا۔
معارف قرآنی کو مرزا بھلا کیا جانے تفسیر اتقان وروح المعانی وتفسیر کبیر وتفسیر ابن کثیر و تفسیر بیضاوی و تفسیر خازن وتفسیر مدارک اور فتح القدیر اور تفسیر کشاف کے مطالعہ کرنے
والے جانتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی حیثیت کیا پدی اور کیا پدی کا شوربا سے زیادہ نہ تھی۔ امت مرزائیہ کے لئے چند ایک مثالیں ذیل میں درج کرتے ہیں۔ شاید کسی کی بصیرت راہنمائی کرے اور مقدر اوہام کی دلدل سے نجات بخشے۔
ہر جگہ قرآن کریم میں بعل کے معنی زوج بیان ہوئے۔ مگر اتدعون بعل میں بت مراد لیا گیا اور ایسا ہی ہر جگہ قرآن کریم میں آسف کے معنی حزن بیان ہوئے۔ مگر فلما اسفونا کے معنی فلما اغضبونا لئے جاتے ہیں اور ایسا ہی ہر جگہ مصباح مراد کوکب ہی ہر جگہ لیا گیا۔ مگر سورہ نور میں اس کے معنی چراغ کے لئے گئے اور ایسا ہی صلوٰۃ کے معنی تقریبا ہر جگہ عبادت یا رحمت لئے گئے۔ مگر بیع وصلوت ومساجد میں صلوٰۃ کے معنی مقامات کئے جاتے ہیں۔ ایسا ہی کنز کے معنی مال ہر جگہ لئے گئے۔ سورہ کہف میں اس کنز سے مراد مخفی علم لیا گیا۔ ایسا ہی ہر جگہ قرآن میں قنوت سے مراد اطاعت ہے۔ مگر كل له قانتون میں معنی اقرار کرنے والے کئے جاتے ہیں۔ مگر فی بروج مشيدة میں اس سے مراد محل پختہ ہیں۔ ایسا ہی اکثر جگہ قرآن کریم میں توفی کے معنی بہ قرینہ موت یا نیند لئے گئے ہیں۔ مگر فلما توفيتنى میں قبضتنى يا رفعتنى يا اخذتنى وافیا مراد ہے۔
آہ! مرزا قادیانی ناسمجھی اور کم فہمی سے حیات مسیح پر ایک یہ اعتراض کرتے ہیں کہ آیت ”وما جعلناهم جسدا الا ياكلون الطعام“ اور ایسا ہی ”کانا یاکلان الطعام“ نص صریح ہیں۔ ممات مسیح پر کہ وہ بلا خوردونوش آسمان پر کیسے زندہ رہ سکتے ہیں۔ مگر آہ! انہیں آقائے نامدار سرکار مدینہﷺ یا دوسرے لفظوں میں ناطق قرآن کے ارشاد گرامی یاد نہیں اور حضورﷺ کی رسالت پر ایمان نہیں۔
دنیا خوب جانتی ہے اور انشاء اللہ تا قیام زمانہ نہ بھولے گی۔ کیونکہ حضور اکرمﷺ صحابہ کرامؓ کو متصل روزے رکھنے سے منع فرماتے ہوئے فرمایا۔
”ایکم مثلی انی ابيت يطعمنى ربى ويسقينى“ یہ متفق علیہ حدیث ہے۔ سرکار دو عالمﷺ فرماتے ہیں کہ میں تمہاری مانند نہیں ہوں کہ ماکولات معتادہ ہی میری حیات کا ذریعہ ہو۔ رات گزارتا ہوں اور میرا رب مجھ کو کھلاتا ہے اور پلاتا ہے۔ ایسا ہی ایک دوسری حدیث جس کو ابو داؤد اور امام احمد حنبل اور طیالسی نے روایت کیا ہے۔ ”فكيف بالمؤمنين يومئذ فقال يجزيهم اهل السماء من التسبيح والتقديس“ راوی حدیث سرکار دو عالمﷺ سے سوال کرتا ہے۔ یا رسول اللہ کیا حال ہوگا جس دن دجال کے ہاتھ میں طعام ہوگا تو آپﷺ نے فرمایا جس طرح آسمان پر رہنے والوں کا مایہ حیات ذکر الہی اور تسبیح
وتقدیس ہے۔ اسی طرح مومنین بھی سبحان الملک القدوس کا ذکر کریں گے اور یہی ذکر ان کا طعام اور مایہ حیات ہوگا۔ اس کے علاوہ اصحاب کہف کا واقعہ ٣٠٩ سال غار میں بلا کھائے پیئے زندہ رہنا اور جناب عزیر کا واقعہ اور ایسے ہی بیسیوں واقعات قرآن مجید میں مرقوم و مرکوز ہیں۔ مگر قوت ایمانی اور سلیم الفطری کی ضرورت ہے۔
آہ! مرزا قادیانی تمہاری کس کس بات کا ماتم کریں۔ کسی نے پوچھا اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی۔ وہی معاملہ یہاں ہے۔ آپ نے ازالہ اوہام اور ایام الصلح میں ایک عجیب نظریہ پیش کیا ہے۔ حیرت آتی ہے کیا جواب دیں اور کیا کہیں۔ آپ کہتے ہیں کہ ملائکۃ اللہ اجرام فلکیہ ہیں اور وہ کبھی اپنے مرکز سے جدا نہیں ہوتے اور کبھی ان کا زمین پر آنا ثابت نہیں ہوتا۔ اللہ اللہ اس برتے پر رموز معارف کی لاف زنی ہوتی ہے۔ کہئے ان آیات کو کہاں لے جائیں۔
- .......١ ”فارسلنا اليها روحنا فتمثل لها بشراً سوياً“
- .......٢ ”اذ تقول للمؤمنين الن يكفيكم ان يمدكم ربكم ثلثة الاف
من الملئكة منزلين“
- .......٣ ”ولقد جآءت رسلنا ابراهيم بالبشریٰ قالوا سلماً“
- .......٤ ”اذ دخلوا عليه فقالوا سلما قال سلم قوم منكرون“
کیوں مرزا جیو! ان آیات کریمہ سے ملائکۃ اللہ کا زمین پر چلنا پھرنا ثابت ہوتا ہے یا نہیں۔ کیا یہ آیات کریمہ منسوخ ہو چکیں اور اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو پھر مرزا قادیانی کا خیال مذموم کیا ٹھہرا تم ہی کہو اگر یہ ارواح کواکب ہیں۔ تو روح کے جدا ہونے کے بعد وہ ستارے زمین پر کیوں نہیں ٹوٹ پڑتے اور سیاہ کیوں نہیں ہوجاتے۔ اس لئے لامحالہ ماننا پڑے گا کہ مرزا قادیانی کا خیال باطل بس یونہی گھاس خوری کا عادی ہو چکا ہے۔ کیونکہ فرقان حمید نص صریح سے یہ اعلان کر رہا ہے کہ جناب مریم کا پیامی جو مرد صالح کی صورت میں خوشخبری لایا فرشتہ تھا اور جنگ بدر اور احد میں تین ہزار اور پانچ ہزار مسوم گھوڑوں پر سوار فرشتے تھے۔ جو سرکار مدینہ ﷺ کی مدد کو رب العالمین نے بھیجے تھے اور ایسا ہی جناب ابراہیم خلیل اللہ کو خوشخبری ملائکہ نے سنائی اور یہی فرشتے جناب لوط علیہ السلام کی خدمت میں نو خیز جوان بچوں کی صورت میں بطور مہمان آئے۔ جنہیں قوم نے نگاہ بد سے دیکھنے کی کوشش کی۔ ایسے ہی بہت سے مقامات سے فرشتوں کا انسانی شکل میں آنا قرآن عزیز سے ثابت ہے۔
فقیر کا دعویٰ ہے کہ مرزا قادیانی کو حدیث پر قطعاً عبور نہ تھا اور نہ ہی سرکار دو عالم ﷺ سے دور کا واسطہ یا محبت تھی۔ کاش انہیں قال کے ساتھ حال بھی ہوتا تو حدیث شریف میں بہت
سے ایسے فرمان رسالت موجود تھے۔ جن سے یہ بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں اکثر ملائکہ حاضر ہوا کرتے تھے۔ چنانچہ چند ایک امثلے چند خیرہ ہوئی آنکھوں کے سرمہ کے لئے پیش کئے جاتے ہیں۔ شاید کوئی سعادت حاصل کرنے کی کوشش کرے۔
نبی کریم ﷺ طائف میں تبلیغ حقہ کی خاطر زخمی ہوئے تو فرشتے نے حاضر ہو کر عرض کی حضور حکم دو تو ان دونوں پہاڑوں کو ٹکرا کر اس کے درمیان میں اعداء اللہ کو پیس دوں۔
”عن ابن عباس قال قال رسول الله ﷺ یوم بدر ھذا جبرائیل اخذ برأس فرسه علیہ ادات الحرب“ یعنی آپ نے بدر کے روز فرمایا۔ یہ جبرائیل ہیں ۔ مسلح کھڑے ہوئے گھوڑے کی لگام کو تھامے ہوئے۔
نبی کریم ﷺ کی مجلس میں ایک اجنبی ایسے حاضر ہوئے جو نہایت خوش منظر اور کمال خوبصورت تھے۔ ان کے سیاہ چمکیلے بال اور سفید لباس تھا۔ جس پر سفر کا کچھ بھی اثر نہ تھا اور حضار مجلس نبوی ﷺ اس سے محض ناواقف تھے۔ اس نے حضور ﷺ کے سامنے زانو ادب کو تہ کرتے ہوئے عرض کیا۔ ”ما الاسلام ما الایمان ما الاحسان“ جوابات گرامیہ سننے کے بعد چلا گیا تو حضور ﷺ نے صحابہ سے دریافت کیا جانتے ہو یہ کون تھا۔ تو صحابی بولے اللہ اور اس کا رسول خوب جانتا ہے۔ فرمایا ”فانه جبرائيل عليه السلام اتاکم یعلمکم دینکم“ فرمایا یہ جبرائیل تھے۔ اس لئے آئے تھے کہ تمہیں تمہارا دین سکھلا دیں۔
ہاں وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ دور قرآن کرنے والا کون تھا۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں وہ جبرائیل تھے اور ایسا ہی دحیہ کلبی کی صورت میں کون آیا۔ جس نے ابوبکر صدیق کو سلام کہی۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ وہ جبرائیل تھے۔
آہ! کس کا منہ ہے اور کس کو طاقت ہے کہ وہ مسلمان کہلاتے ہوئے ان ناپاک و فاسد کلمات کا اعادہ کرے کہ یہ حدیثیں جھوٹی ہیں اور آیات وضعی ہیں اور پھر اس برتے پر اتراتے ہوئے پیغمبری کا دم بھرے۔ میں پوچھتا ہوں کہ وہ مرزا قادیانی کی جھولی روپیوں سے بھرنے والا جس کو مرزا قادیانی نے اضطراب کی حالت میں پوچھا تمہارا نام کیا ہے۔ اس نے جواب میں کہا کچھ نہیں۔ مکرر اصرار کیا تو ٹیچی کہا کون تھا۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں فرشتہ تھا۔ ایسا ہی جاءنی آئل جس کا ترجمہ مرزا قادیانی نے فارسی میں یہ کیا۔ آمد نزد من جبرائیل علیہ السلام، کون تھا۔ مرزا قادیانی آئل کی تشریح کرتے ہوئے کہتے ہیں بار بار آنے والا یہ کون تھا۔ جو مرزا قادیانی کو بار بار ستاتا اور تنگ کرتا رہا اور خیراتی اور شیر علی مرزائی فرشتے اگر فرشتے نہ تھے تو کیا گدھے تھے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مطبوعات
تاریخی قومی دستاویز 1974 قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر کارروائی
تیس دجال
تحفہ قادیانیت مکمل سیٹ 5 جلدیں حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ
اہم پیشگوئیاں اور ان کا ظہور
تحریف بائبل
رد قادیانیت احتساب قادیانیت
قادیانی شبہات و جوابات حیات عیسیٰؑ
آئینہ قادیانیت
خاتم النبیین
فتاویٰ ختم نبوت
مقدمہ قادیانی مذہب (اول، دوم) پروفیسر الیاس برنی
قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ پروفیسر الیاس برنی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضوری باغ روڈ، ملتان - فون: 514122