عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی
امراء، نائب امراء، نظماء، اراکین مجلس شوریٰ اور مبلغین
چمنستان ختم نبوّت
کے
گلہائے رنگارنگ
جلد ١
مَولانا اَللّٰہ وَسَايَا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
حضوری باغ روڈ، ملتان 061-4783486
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نام کتاب : چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ مصنف : مولانا اللہ وسایا صاحب مدظلہ جز اوّل : ٥١٢ صفحات کل صفحات : ٥١٢ قیمت : ٣٠٠ روپے مطبع : ناصر زین پریس لاہور طبع اوّل : اپریل ٢٠١٦ء ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
Ph: 061-4783486
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فہرست
عرض مرتب ٩ مجلس تحفظ ختم نبوت کا قیام ١١ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی امراء حضرات ١٤ ١ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ ١٤ ٢ مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ ٣٠ ٣ مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ ٤٠ ٤ مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اخترؒ ٦٢ ٥ حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ ٨٩ ٦ خواجۂ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ ١٤٦ ٧ حکیم العصر شیخ الحدیث مولانا عبد المجید لدھیانویؒ ١٦١ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی نائب امراء حضرات ١٧٥ ٨ حضرت مولانا محمد عبد اللہ رائے پوریؒ ١٧٥ ٩ حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰنؒ ١٨٠ ١٠ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ ١٨٩ ١١ حضرت سید نفیس الحسینی شاہؒ ١٩٨ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی نظماء حضرات ٢١٥ ١٢ حضرت مولانا عبد الرحیم اشعرؒ ٢١٥ ١٣ حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ ٢٣٢
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگارنگ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی صدر مبلغین حضرات ٢٤٣
- ١٤ حضرت مولانا عبدالرحمن میانویؒ ٢٤٣
- ١٥ حضرت مولانا محمد شریف بہاولپوریؒ ٢٥١
- ١٦ فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیاتؒ ٢٥٩
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی شوریٰ کے اراکین حضرات ٢٦٨
- ١٧ ابراہیم بہاولپوریؒ، حکیم محمد ٢٦٨
- ١٨ اختر حسین ملتانیؒ، ماسٹر ٢٦٨
- ١٩ اشتیاق احمدؒ (جھنگ)، الحاج جناب ٢٦٨
- ٢٠ اشرف ہمدانیؒ (فیصل آباد)، مولانا محمد ٢٧١
- ٢١ امینؒ (راولپنڈی)، قاری محمد ٢٧٥
- ٢٢ انیس الرحمن لدھیانویؒ (فیصل آباد)، مولانا ٢٧٦
- ٢٣ بلند اختر نظامیؒ (لاہور)، الحاج ٢٧٦
- ٢٤ تاج محمودؒ (فیصل آباد)، مولانا ٢٧٨
- ٢٥ جمیل خان شہیدؒ (کراچی)، مولانا مفتی ٣٢٧
- ٢٦ حبیبؒ (ملتان)، حضرت خواجہ محمد ٣٣٣
- ٢٧ خلیل احمد بندھانیؒ (سکھر)، مولانا قاری ٣٣٣
- ٢٨ خیر محمد جالندھریؒ (ملتان)، حضرت مولانا ٣٣٧
- ٢٩ ذکر اللہؒ (بہاولپور)، حضرت حاجی ٣٣٩
- ٣٠ رمضان علویؒ (راولپنڈی)، مولانا محمد ٣٣٩
- ٣١ ریاض الحسن گنگوہیؒ (ڈیرہ اسماعیل خان)، جناب صوفی ٣٤٢
- ٣٢ سراج الدینؒ (ڈیرہ اسماعیل خان)، مولانا ٣٤٣
- ٣٣ سعید احمدؒ (مچھی والہ، علی پور)، مولانا ٣٤٣
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
- ٣٤ سعید احمد شہید جلالپوری ؒ (کراچی)، مولانا ٣٤٤
- ٣٥ سعید الرحمن ؒ (راولپنڈی) مولانا قاری ٣٤٨
- ٣٦ شریف انول ؒ (ملتان)، حافظ محمد ٣٥١
- ٣٧ شریف کشمیری ؒ (ملتان)، حضرت مولانا محمد ٣٥١
- ٣٨ طارق محمود ؒ (فیصل آباد)، جناب صاحبزادہ ٣٥١
- ٣٩ عابد ؒ (خانیوال)، صاحبزادہ حافظ محمد ٣٥٨
- ٤٠ عبدالحئی الحسینی ؒ (گھوٹکی)، مولانا ٣٧٧
- ٤١ عبدالحکیم ؒ (راولپنڈی)، حضرت مولانا ٣٨٠
- ٤٢ عبدالرحمن آزاد ؒ (گوجرانوالہ)، مولانا حکیم ٣٨٠
- ٤٣ عبدالرحمن اشرفی ؒ (لاہور) مولانا ٣٨٢
- ٤٤ عبداللطیف اختر شجاع آبادی ؒ، مولانا قاضی ٣٨٣
- ٤٥ عبداللہ شہید ؒ (اسلام آباد)، مولانا محمد ٣٨٦
- ٤٦ عبدالمالک ؒ (جھاوریاں ضلع سرگودھا)، مولانا قاضی ٣٨٧
- ٤٧ عبدالمجید ندیم شاہ ؒ (راولپنڈی)، مولانا سید ٣٨٧
- ٤٨ عبدالوحید ؒ (ڈھڈیاں)، مولانا ٣٩١
- ٤٩ عزیز الرحمن ؒ (رحیم یار خان)، مولانا قاضی ٣٩٣
- ٥٠ عزیز الرحمن ؒ (کراچی)، حافظ ٣٩٦
- ٥١ علاؤالدین ؒ (ڈیرہ اسماعیل خان)، مولانا ٣٩٦
- ٥٢ غلام احمد ؒ (احمد پور شرقیہ)، مولانا ٣٩٩
- ٥٣ فرزند علی ؒ (سکھر)، الحاج ٣٩٩
- ٥٤ فضل احمد عثمانی ؒ (تلہ گنگ)، مولانا ٣٩٩
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ ٥٥ فضل محمود خان خاگوانی ؒ، سردار ٤٠٠ ٥٦ فیض احمد ؒ (ملتان)، شیخ الحدیث مولانا ٤٠٠ ٥٧ فیض اللہ ؒ (میر پور خاص)، حضرت مولانا ٤٠٣ ٥٨ لال حسین ؒ (کراچی)، حضرت حاجی ٤٠٥ ٥٩ محمد بنوری ؒ (کراچی) مولانا سید ٤٠٥ ٦٠ منظور احمد چنیوٹی ؒ، حضرت مولانا ٤٠٦ ٦١ منیر الدین ؒ، مولانا ٤١٢ ٦٢ نذیر حسین ؒ (پنوعاقل)، مولانا ٤١٥ ٦٣ نظام الدین شامزئی شہید ؒ، حضرت مولانا مفتی ٤١٦ ٦٤ نور الحق نور ؒ، مولانا ٤٢١ ٦٥ یونس ؒ، حکیم قاری محمد ٤٢٤ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین حضرات ٤٢٦ ٦٦ اجمل شہید ؒ (اوچ شریف)، مولانا محمد ٤٢٦ ٦٧ احمد بخش ؒ (مبلغ)، جناب حافظ ٤٢٨ ٦٨ احمد شہید ؒ (بورے والا)، حضرت مولانا شیخ ٤٣١ ٦٩ اللہ وسایا ؒ (ڈیرہ غازیخان)، حضرت صوفی ٤٣٣ ٧٠ اللہ یار خان ؒ، حضرت مولانا قاضی محمد ٤٤٠ ٧١ امام الدین قریشی ؒ، حضرت مولانا ٤٤٢ ٧٢ انور ؒ (مبلغ کوئٹہ)، مولانا محمد ٤٤٥ ٧٣ بشیر احمد ؒ (منڈی شاہ جیونہ)، مولانا ٤٤٥ ٧٤ جمال اللہ الحسینی ؒ، حضرت مولانا ٤٤٥ ٧٥ جمال عبدالناصر ؒ (بھکر)، جناب ٤٤٧
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
- ٧٦ حنیف ندیم سہارنپوری ؒ، حضرت حافظ محمد ٤٤٨
- ٧٧ حیات اگوئی ؒ، حافظ محمد ٤٥١
- ٧٨ حیات پسروری ؒ، سائیں محمد ٤٥٢
- ٧٩ خدا بخش شجاع آبادی ؒ، حضرت مولانا ٤٥٢
- ٨٠ خلیل الرحمٰن ؒ (فاضل دیوبند)، مولانا ٤٥٩
- ٨١ خلیل الرحمٰن ؒ (مبلغ چنیوٹ)، مولانا ٤٥٩
- ٨٢ زرین احمد خان ؒ (کچا کھوہ)، مولانا ٤٥٩
- ٨٣ سلطان محمود ؒ (مظفر گڑھ)، مولانا ٤٦٣
- ٨٤ سیف الرحمٰن ؒ (سرگودھا)، مولانا ٤٦٣
- ٨٥ شریف احرار ؒ، مولانا محمد ٤٦٤
- ٨٦ عبدالرحیم صدیقی ؒ (شکر گڑھ)، مولانا ڈاکٹر ٤٦٤
- ٨٧ عبدالحفیظ ؒ (ماچھی وال)، مولانا ٤٦٤
- ٨٨ عبدالحق ؒ (پرمٹ)، مولانا ٤٦٤
- ٨٩ عبدالخالق رحمانی ؒ (راجن پور)، مولانا محمد ٤٦٥
- ٩٠ عبدالرؤف الازہری ؒ، مولانا ٤٦٧
- ٩١ عبدالعزیز ؒ (ساکن جتوئی)، حضرت مولانا ٤٦٩
- ٩٢ عبداللہ خان ؒ (جتوئی)، مولانا ڈاکٹر ٤٧١
- ٩٣ علی جانباز ؒ (سمندری)، حضرت مولانا محمد ٤٧١
- ٩٤ غلام حیدر ؒ (میاں چنوں)، حضرت مولانا ٤٧٣
- ٩٥ غلام محمد علی پوری ؒ، حضرت مولانا ٤٧٤
- ٩٦ غلام محمد ؒ (نعت خواں چکڑالہ)، جناب کپتان ٤٧٧
- ٩٧ غلام مصطفیٰ بہاولپوری ؒ، حضرت مولانا ٤٧٧
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگارنگ
٩٨ فخر الزمان شہید ؒ، مولانا مفتی ٤٧٨ ٩٩ فیض الحسن تنویر ؒ، مولانا سید ٤٧٩ ١٠٠ لطف اللہ شہید ؒ، قاری ٤٧٩ ١٠١ لقمان علی پوری ؒ، حضرت مولانا محمد ٤٨٠ ١٠٢ محمد خان ؒ (مبلغ گوجرانوالہ)، مولانا ٤٨٢ ١٠٣ محمد یار ؒ (چنیوٹ)، مولانا ٤٨٢ ١٠٤ محمود حسین جاوید ترمذی ؒ، مولانا سید ٤٨٣ ١٠٥ مقبول احمد ؒ (ساہیوال)، مولانا مفتی ٤٨٣ ١٠٦ ممتاز الحسن شاہ گیلانی ؒ، جناب سید ٤٨٣ ١٠٧ منظور احمد آسی ؒ، حضرت مولانا سید ٤٨٦ ١٠٨ منظور احمد الحسینی ؒ، حضرت مولانا ٤٨٧ ١٠٩ منظور احمد شاہ حجازی ؒ (کہروڑ پکا)، حضرت مولانا سید ٤٩١ ١١٠ منظور احمد عباسی ؒ (جتوئی)، مولانا ٤٩٢ ١١١ نذیر احمد تونسوی شہید ؒ، حضرت مولانا ٤٩٢ ١١٢ نور الحق ؒ، لاہور، حضرت مولانا ٤٩٧ ١١٣ نور محمد مجاہد آبادی ؒ، مولانا ٤٩٧ ١١٤ نیاز محمد ؒ، چوہدری ٤٩٨ ١١٥ کریم بخش علی پوری ؒ، مولانا ٤٩٨ ١١٦ کمال شاہ شہید ؒ، سید ٥١١ ١١٧ ہارون ؒ (ڈھاکہ)، مولانا محمد ٥١٢ ١١٨ یار محمد ؒ (چیچہ وطنی)، مولانا ٥١٢
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عرض مرتب
اللہ رب العزت کی عنایت کردہ توفیق کے ساتھ راقم اس دنیا سے رخصت ہونے والے حضرات کے تعارف پر کچھ نہ کچھ لکھتا رہا ہے۔ اس کے دو مجموعے شائع بھی ہو چکے ہیں:
- ١...... فراق یاراں۔ ٢...... یاد دلبراں۔
مزید یہ کہ:
- ٣...... ”تذکرہ مجاہدین ختم نبوت“ میں بہت سارے حضرات پر بہت کچھ جمع ہو گیا ہے۔
- ٤...... ”حضرت شیخ الہند کے دیس میں“ قریباً بیس تئیس حضرات کا مفصل تذکرہ آ گیا ہے۔
- ٥...... احتساب قادیانیت کی ساٹھ جلدوں میں ساڑھے تین صد حضرات سے زیادہ حضرات
کے رسائل و کتب جمع ہوئے تو ابتداء میں ”عرض مرتب“ کے عنوان پر ان مصنفین حضرات کا تھوڑا یا زیادہ تذکرہ شائع ہوا۔
پھر یہ کہ ان پانچوں محولہ بالا مقامات میں حتی الامکان نئی نئی باتیں آئیں۔ مثلاً حضرت مولانا محمد علی جالندھری ؒ یا حضرت مولانا مفتی محمود ؒ کا ان پانچوں مراجع میں ذکر ہے۔ لیکن ضرورت کے تحت نئی باتیں آئیں۔ یوں پانچوں جگہ عقیدۂ ختم نبوت سے متعلق ان کی خدمات کا تذکرہ شامل ہوا۔ لیکن مختلف جہات سے، بالکل علیحدہ علیحدہ!
خیال ہوا کہ ان پانچوں مراجع کو سامنے رکھ کر تکرار حذف کرنے کے بعد تمام وہ حضرات جن کا کسی بھی طرح عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے حوالے سے تذکرہ ضروری ہے۔ اس کو جمع کر دیا جائے تو ان پانچوں جگہ میں کہیں دو صفحے، کہیں چار، یا پانچ، اگر ایک جگہ تذکرہ ہو جائے تو یوں ان حضرات پر کئی کئی صفحات کے مقالہ جات بن جائیں گے۔
اس دوران میں ہمارے علمی بزرگ اور کثیر المطالعہ شخصیت، مخدوم گرامی، حضرت مولانا قاری محمد عبداللہ صاحب سابق سیکرٹری جمعیۃ علماء اسلام بنوں نے فرمایا کہ جس طرح ”ایک ہفتہ شیخ الہند کے دیس میں“ نامی کتاب میں بہت سارے اکابر کا تذکرہ آ گیا ہے۔ اسی طرح ایک جگہ اگر مجلس تحفظ ختم نبوت کے امراء، نظماء، صدر المبلغین، اراکین شوریٰ اور مبلغین کرام کا تذکرہ بھی شائع ہو جائے تو بہت مفید بات ہوگی۔ ان تمام تجاویز کو سامنے رکھ کر اللہ رب العزت کا نام لے کر اس منصوبہ پر کام شروع کر دیا گیا۔ بہت سارے حضرات کے حالات جمع ہو گئے۔ بعض کے تفصیلی
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
اور بعض کے اجمالی، تفصیلی تو بیس بائیس صفحات کے مقالات بھی بن گئے اور اجمالی تذکرے چند سطروں پر مشتمل ہیں۔ لیکن اس کا فائدہ یہ ہوا کہ سینکڑوں حضرات جنہوں نے برصغیر پاک و ہند میں عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے کام کیا۔ ان کے کچھ نہ کچھ حالات جمع ہوگئے۔ اللہ رب العزت کا کرم ہے کہ تین جلدوں کا مواد جمع ہوگیا ہے۔ لیکن وہ تمام حضرات جنہوں نے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے خدمات سرانجام دیں، ان سب کا احاطہ تو پھر بھی ممکن نہیں تھا۔ تاہم جتنا ہوگیا غنیمت ہے۔ اس میں شیعہ، سنی، دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث کی تقسیم و تفریق، سیاسی غیر سیاسی، کانگریسی، مسلم لیگی کا امتیاز، مسٹر اور ملّا کے فرق کے بغیر جس نے ختم نبوت کے لئے جو خدمت سرانجام دی ان کے تھوڑے یا زیادہ حالات جمع ہوگئے ہیں۔
یہ خیال رہے کہ جو حضرات اس دنیا سے رخصت ہوگئے ان کے حالات جمع کئے ہیں۔ جو حضرات زندہ سلامت باکرامت ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں دین و دنیا کی بہترین صحت و سلامتی کے ساتھ مزید زندہ رکھیں۔ ان کے حالات کو جمع کرنا آنے والی نسلوں کے ذمہ رکھ چھوڑا ہے۔ ماہنامہ لولاک ملتان اور دوسرے رسائل میں التماس کی گئی کہ: ”اس سلسلہ میں جس کے پاس جو ہے بھجوا دیا جائے یا مطلع کیا جائے۔ تا کہ ایک جامع چیز مرتب ہو جائے۔ ورنہ چھپنے کے بعد تو ہر ایک نے تبصرہ کرنا ہے کہ فلاں کے حالات رہ گئے۔ فلاں کا ذکر نہیں۔ تو براہ کرم ابھی سے جو معاونت و رہنمائی فرمائی جاسکتی ہو فقیر سراپا انتظار ہوگا۔ امید ہے کہ فوری توجہ فرمائی جائے گی۔ ختم نبوت کے تحفظ کے کام میں جس کا جتنا حصہ ہے اس کا ذکر آنا چاہئے۔ ویسے آپ نے پڑھا بھی ہوگا کہ ”صالحین کے ذکر خیر کے وقت اللہ تعالیٰ کی رحمت نازل ہوتی ہے“۔ اللہ تعالیٰ توفیق رفیق فرمائیں۔ آمین!“
اس اعلان پر بعض دوستوں نے کچھ بھجوایا جو شامل کردیا گیا۔ مولانا قاری محمد عبداللہ بنوں اس کتاب کے محرک بنے۔ مولانا سید محمد عبداللہ معتصم اور مولانا محمد وسیم اسلم نے بہت قلمی و عملی تعاون فرمایا اور مولانا حافظ محمد انس صاحب مشوروں سے ممنون فرماتے رہے۔ ان سب کا شکریہ، اس کتاب میں جو خوبی ہے وہ اللہ رب العزت کے کرم کا صدقہ ہے۔ جو کمی کوتاہی ہے وہ فقیر کی ہے۔ اس پر پیشگی معذرت۔
ہاں! البتہ ایک وضاحت ضروری ہے کہ ردقادیانیت پر تحریری خدمات کے سلسلہ میں بعض قادیانیوں یا مسیحیوں کا تذکرہ بھی آپ کو ملے گا جو بظاہر کتاب کے نام سے میل نہیں رکھتا۔ لیکن دیکھا جائے تو زیب چمنستان کے لئے جہاں گلہائے رنگا رنگ ضروری ہیں وہاں ان گلوں کی حفاظت کے لئے پتے و خار بھی ضروری ہوتے ہیں تو اسی طرح کا معاملہ یہاں سمجھ لیں۔
محتاج دعا: فقیر اللہ وسایا، ملتان مورخہ ٦/ رجب ١٤٣٧ھ، مطابق ١٤/ اپریل ٢٠١٦ء
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مجلس تحفظ ختم نبوت کا قیام
(قیام: جنوری ١٩٤٩ء)
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بانی رہنما مولانا تاج محمودؒ تحریر فرماتے ہیں:
’’مجلس تحفظ ختم نبوت کا قیام ملک کی تقسیم کے بعد اس وقت عمل میں لایا گیا جب مذہبی اور سیاسی دونوں لحاظ سے ضروری ہو گیا تھا کہ عوام کو مرزائیت کے فتنہ اور اس کی خلاف ملک اور اسلام سرگرمیوں سے مؤثر طور پر آگاہ کیا جائے ، مرزائیت کا محاسبہ اور تعاقب علمائے حق روز اوّل ہی سے کرتے چلے آ رہے تھے۔ لیکن مجلس احرار اسلام وہ پہلی جماعت تھی جس نے منظم اور جماعتی طور پر اس کا محاسبہ کیا۔ انگریزوں کی سرپرستی میں جس طرح اس جماعت کو پروان چڑھانے کی کوشش کی گئی تھی ، اگر مجلس احرار اسلام اس کے سامنے سد سکندری نہ بن گئی ہوتی تو انگریزوں کا یہ خود کاشتہ پودا پورے غلامستان ہندوستان پر اپنا منحوس سایہ پھیلا چکا ہوتا۔ قیام پاکستان تک تو مجلس احرار نے اس کا ناطقہ بند کئے رکھا۔ لیکن دوسری طرف بدقسمتی یہ ہوئی کہ مجلس احرار بوجوہ تحریک پاکستان کی حمایت مسلم لیگ کے نہج پر نہ کر سکی تھی۔ تحریک پاکستان سے پہلے اسے شہید گنج کے سلسلہ میں عوامی غیظ و غضب کا شکار ہونا پڑا تھا۔ رہی سہی کسر تحریک پاکستان کے زمانے میں نکل گئی۔
مرزائی پاکستان کے سیاسی طور پر ہی نہیں الہامی طور پر بھی مخالف تھے۔ جب پاکستان مرزائیوں کی ہر طرح کی مخالفت کے علی الرغم بننے لگا تو مرزا محمود نے اعلان کر دیا کہ اگر ملک تقسیم ہوا تو وہ تقسیم عارضی ہو گی اور ہم کوشش کریں گے کہ ہندو مسلم پھر آپس میں شیر و شکر ہو جائیں اور ہم کسی نہ کسی طرح پھر اکھنڈ بھارت بنائیں گے۔ مرزا محمود کے اس اعلان کے بعد ہمارے لئے ضروری ہو گیا کہ مسلمانوں کو مرزائیوں کے عقائد کے علاوہ اس کے سیاسی عزائم سے بھی آگاہ کریں۔ ہم نے کلمۂ حق کہنا شروع کیا تو اس کا اثر ہوا۔ لیکن بے شمار لوگ ایسے تھے جنہیں مجلس احرار کے نام سے خدا واسطے کا بیر ہو چکا تھا۔ ہم نے مناسب سمجھا کہ بات نام کی نہیں کام کی ہے۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
نام کوئی ہو، اصل کام ہونا چاہئے۔ پھر جب کہ خود مجلس احرار بھی اپنے سیاسی حالات ختم کر دینے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ حالات کے تقاضے اور اکثر ساتھیوں کی خواہش کے مطابق ایک غیر سیاسی تنظیم ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کے نام سے قائم کی گئی، اس کے بانی ممبران میں حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ، مولانا قاضی احسان احمد شجاعبادی ؒ، مولانا محمد علی جالندھری ؒ، مولانا لال حسین اختر ؒ، مولانا شیخ احمد ؒ (بوریوالہ)، مولانا محمد شریف بہاولپوری ؒ، مولانا محمد حیات ؒ فاتح قادیان، مولانا تاج محمود ؒ، مولانا عبدالرحمن میانوی ؒ، مولانا محمد شریف جالندھری ؒ، مولانا عبدالرحیم اشعر ؒ، مولانا محمد عبداللہ ؒ (ساہیوال)، مولانا غلام محمد بہاولپوری ؒ، مولانا نذیر حسین ؒ (پنوعاقل) اور چند دیگر ساتھی شامل تھے۔
اس پلیٹ فارم کا سب سے بڑا فائدہ ہوا کہ سرکاری ملازمین بھی جماعت میں شامل ہو سکتے تھے۔ یہ جماعت ملک کی کسی مسلمان سیاسی جماعت کی حریف بھی نہ تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جس کام کی راہ میں بے شمار مشکلات تھیں، وہی کام اللہ کے فضل و کرم سے دن دگنی رات چوگنی ترقی سے ہونے لگا۔ عوام کسی تعصب کے بغیر حق بات سننے لگے، بلکہ سمجھنے لگے۔ ملک کے خلاف مرزائیوں کی سازشیں بے نقاب ہونے لگیں تو عوام نے نہ صرف یہ کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا، بلکہ چوہدری ظفر اللہ خاں کو وزارت خارجہ سے علیحدہ کرنے اور تمام مرزائی افسروں کو کلیدی اسامیوں سے نکال دینے کا بھی مطالبہ شروع کر دیا اور چند سالوں میں ہی مرزائیوں کے خلاف ایک عظیم تحریک منظم ہو گئی۔
(ہفت روزہ لولاک سید بنوری نمبر ص ٦٥)
مولانا تاج محمود ؒ کا یہ فرمانا کہ: ”مجلس تحفظ ختم نبوت کا قیام تقسیم ملک کے بعد عمل میں ....... لایا گیا۔“
اس کی تفصیل حضرت مولانا سید ابوذر عطاء المنعم شاہ بخاری ؒ کی ادارت میں شائع ہونے والے پندرہ روزہ الاحرار میں یوں ہے:
- 1....... ”قیام پاکستان کے بعد حکومت وقت کی بعض ناجائز پابندیوں کے باعث احرار کی
جماعت خلاف قانون قرار دی گئی۔ جنوری ١٩٤٩ء میں رد مرزائیت کے کام کو سیاسی دست و برد سے محفوظ کرنے کے لئے شعبہ تبلیغ کو الگ جماعت کی صورت دے دی گئی۔“
(پندرہ روزہ الاحرار لاہور ج ١ ش ٨٧، مورخہ ٢٣ صفر تا ربیع الاول ١٣٩٠ھ مطابق ٣٠ اپریل تا ١٥ مئی ١٩٧٠ء ص ١٢)
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
- ٢...... ”حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ صدر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
کی جانب سے احباب اور اصحاب خیر کی خدمت میں ضروری اپیل“ کے عنوان پر ایک خط شائع ہوا۔ اس کے ص ٣ پر ہے۔ بنابریں ”مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان“ نے ١٩٤٩ء سے اس طرف توجہ دی اور پوری تنظیم سے ملک بھر میں تبلیغ کا کام شروع کیا۔ یہ مطبوعہ خط چار صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کا مکمل عکس کتاب تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء کے ایڈیشن اوّل میں ص ٨٩٩ سے ص ٩٠٢ پر شائع کر دیا گیا ہے۔
- ٣...... (کاروان احرار ج ٥ ص ١٣) پر احرار رہنما جانباز مرزاؒ نے یوں تحریر فرمایا کہ: ”جنوری
١٩٤٩ء میں مجلس احرار کا سیاسی نظام ختم کر دیا گیا اور اس کی جگہ ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کے نام پر تبلیغی کام کرنے کا فیصلہ ہوا۔ اس ادارے کے صدر امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ تھے۔“
ان تین حوالہ جات سے ثابت ہوا کہ مجلس تحفظ ختم نبوت کا قیام ١٩٤٩ء میں ہوا اور بس۔ ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کا بالکل علیحدہ نظم اور جدا مالی معاملات تھے۔ یہ کسی جماعت کا ذیلی ادارہ کبھی نہیں رہی۔ اس لئے کہ مجلس احرار اسلام کل ہند کے شعبہ کا نام ”شعبہ تبلیغ“ تھا۔ یہ تقسیم سے پہلے کی بات ہے۔ پاکستان کے بعد جب اس شعبہ کو مستقل الگ جماعت کا نام دیا گیا تو وہ مستقل جماعت ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ جو کسی بھی جماعت کا ذیلی ادارہ ایک لمحہ کے لئے بھی کبھی نہیں رہی۔ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ مجلس تحفظ ختم نبوت کے نگران اعلیٰ بھی تھے اور پنجاب مجلس احرار اسلام کے سربراہ بھی۔ چنانچہ ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت میں مجلس تحفظ ختم نبوت بھی مجلس عمل میں دیگر جماعتوں کی طرح شامل تھی۔ مجلس عمل میں شریک جماعتوں کے اسماء جسٹس منیر نے اپنی عدالتی رپورٹ میں دیئے ہیں۔ اس میں نمبر ١١ پر ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کا نام دیا ہے۔
(رپورٹ تحقیقاتی عدالت ص ١٨٠ اردو)
باقاعدہ انتخاب ١٩٥٣ء کی تحریک کے بعد ١٩٥٤ء میں عمل میں لایا گیا اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے پہلے امیر، امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ بنے۔ چنانچہ ”سیدی وابی“ نامی کتاب میں مخدومہ سیدہ ام کفیل نے ص ١٨١ اور ص ١٩١ پر لکھا ہے کہ مجلس تحفظ ختم نبوت امیر اوّل سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ تھے اور وہ تازیست مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر رہے۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی امراء حضرات
(١)
امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ
(وفات: ٢١ اگست ١٩٦١ء)
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بانی رہنماؤں میں مولانا تاج محمود ؒ بھی تھے۔ آپ نے تحریر فرمایا:
”مجلس تحفظ ختم نبوت کے پہلے امیر اور سربراہ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ منتخب ہوئے۔ حق یہ ہے کہ وہ اس جماعت کے بانی بھی تھے اور سربراہ بھی۔ شاہ جی ؒ کے آباؤ اجداد سرزمین بخارا سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے بڑے بزرگوں میں سے کوئی صاحب کشمیر آ کر آباد ہو گئے تھے۔
شاہ جی ؒ کے والد اور والدہ دونوں گھرانے حافظ اور عالم تھے۔ شاہ جی ؒ کے والد حافظ سید ضیاء الدین ناگڑیاں ضلع گجرات میں رہنے لگے تھے۔ آپ کی والدہ بزرگوار پٹنہ کے ایک سید خاندان سے تھیں۔ شاہ جی ؒ کا بچپن اپنے ننھیال پٹنہ میں گزرا تھا۔ حق تعالیٰ نے زبان بیان کے جوہر بچپن ہی میں عطاء کر دیئے تھے۔ تعلیم کے سلسلہ میں امرتسر میں رہے۔ پھر وہیں قیام اختیار کر لیا۔ ابتداء میں اصلاحی مضامین پر تقریریں کرتے تھے۔ حق تعالیٰ نے بے پناہ مقبولیت بخشی تو مولانا سید محمد داؤد غزنوی ؒ کی دعوت پر قومی تحریکوں اور جلسوں میں حصہ لینے لگے۔ پنجاب کے حریت فکر رکھنے والے مسلمان رہنماؤں نے کانگریس سے علیحدہ اپنی جماعت مجلس احرار اسلام بنائی تو اس کے بانی ممبر کی حیثیت سے اس میں شامل ہو گئے۔ جن ہندوستانی رہنماؤں نے برصغیر کی تحریک آزادی کے لئے کام کیا، قربانیاں دیں اور لوگوں میں بیداری پیدا کی، شاہ جی ؒ ان میں ہر لحاظ سے سرفہرست تھے۔ زندگی کا ایک چوتھائی، جیلوں میں بسر ہوا۔ خود ان کے بقول میری زندگی جیل ریل اور تمہارے اس کھیل میں گزر گئی۔ مسلمانوں میں سیاسی، سماجی اور اقتصادی بیداری پیدا کرنے کے سلسلہ میں شاہ جی ؒ نے بڑی خدمات سرانجام دی ہیں۔ شاہ جی ؒ واحد رہنما تھے جو مسلمانوں کو اخبار پڑھنے اور ملکی حالات میں دلچسپی لینے کی ترغیب دیتے تھے۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
دیہات اور قصبات میں مسلمانوں کو کہہ کر دوکانیں کھلواتے۔ جب کہ مسلمان اس وقت دوکانداری کرنا عیب سمجھتے تھے۔ مسلمانوں کی معاشرتی اور سماجی طور پر بڑی خدمت کی۔ آزادی وطن کے بعد کا جو نقشہ ان کے ذہن میں تھا، اس پر اب بحث عبث ہے۔ لیکن انہیں اس بات کا بہت دکھ تھا کہ انگریزوں نے ہندوستان مسلمانوں سے چھینا تھا۔ پھر انگریزوں کو نکالنے کے لئے سب سے زیادہ قربانیاں بھی مسلمانوں نے ہی دی تھیں۔ سراج الدولہ اور سلطان ٹیپو سے لے کر ١٤ اگست ١٩٤٧ء تک لاکھوں مسلمان آزادی کے لئے قربان ہوئے، جیلیں کاٹیں، گولیاں کھائیں، پھانسی کے پھندوں کو چومتے رہے۔ لیکن اب جب ملک آزاد ہوگا تو وہ مسلمانوں کا ملک کس کو ملے گا۔
درمیان میں ایک عظیم تر خطہ اور بہت بڑی سلطنت بکرماجیت کا تخت بچھا کر ہندو کے حوالے کی جائے گی۔ دائیں بائیں دو ٹکڑے ہوں گے اور ایک دوسرے سے ایک ہزار میل دور ٹکڑے مسلمانوں کے حوالے ہوں گے جو ایک دوسرے کے دکھ مصیبت میں شریک نہیں رہ سکیں گے۔ انہیں خواجہ اجمیریؒ، خواجہ نظام الدین اولیاءؒ، حضرت مجدد الف ثانیؒ، شاہ ولی اللہؒ اور ان کے نورانی گھرانے اور دوسرے ہزارہا صلحاء کے مزاروں کا کفرستان میں رہ جانا سمجھ میں نہ آتا تھا۔ وہ اس کے لئے بھی تڑپ جایا کرتے تھے کہ دہلی کی جامع مسلمانوں کی عظمت کا نشان لال قلعہ، آگرہ کا تاج محل اور ایسی ہزاروں عظمتیں ہندو کے سپرد ہوں گی۔ دیوبندیوں کا دیوبند، بریلیوں کا بریلی، علی گڑھیوں کا علی گڑھ، جامعیوں کا جامعہ، ندویوں کا ندوہ، فرنگی محلیوں، بدایونیوں کے علمی اور روحانی مراکز کفرستان میں چلے جائیں گے۔ لیکن جب پاکستان معرض وجود میں آ گیا تو ان کی عظمت دیکھئے۔ تمام معتقدین، متبعین ساتھیوں اور محبت رکھنے والوں کو کھل کر فرما دیا۔ جناب محمد علی جناح اور ہمارے درمیان سیاسی رائے کا اختلاف تھا۔ ایک ان کی رائے تھی ایک ہماری رائے۔ دونوں دیانت پر مبنی تھیں۔ ان کی بات کو قوم کی اکثریت نے قبول کرلیا۔ ہماری بات کو ماننے سے اکثریت نے انکار کر دیا۔ اب تحریک آزادی کی ابتداء سے لے کر آخر تک کی مسلمانوں کی تمام محنتوں، قربانیوں اور کاوشوں کا صلہ پاکستان ہے۔ اس ملک کا حکم ایک مسجد کا ہے، جو اب بن گئی ہے۔ اب اس کا آباد کرنا باعث اجر وثواب اور اس کا گرانا یا اسے نقصان پہنچانا حرام اور باعث عذاب ہے۔ شاہ جیؒ انتہائی خوددار، غیرت مند، بہادر اور جری انسان تھے۔ حق تعالیٰ نے انہیں پیغمبرانہ وجاہت عطاء فرمائی تھی۔ ان کا وجود اور سراپا قدرت کا شاہکار تھا۔ زبان سے بولتے نہیں، موتی رولتے تھے۔ آواز میں قدرت نے جادو بھر دیا تھا۔ حافظہ خدا کی عطاء
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
تھی۔ ان کے بیان کی اثر آفرینی مالک کی دین تھی۔ وہ تقریر کیا کرتے لوگوں کے ہوش و خرد کو شکار کرلیتے۔ ان کے حواس پر شاہ جی کا قبضہ ہوجاتا۔ چاہتے تو مجمع کو رلا دیتے اور چاہتے تو انہیں ہنسا دیتے۔ عموماً ان کی تقریر رات ١٠، ١١ بجے شروع ہوتی۔ وہ خود اور ان کے تمام سامعین رات بھر خدا جانے کہاں چلے جاتے۔ صبح کی اذان ہوتی تو فرماتے اور وہ صبح ہوگئی۔ مؤذن، تیری آواز مکے اور مدینے، اور پھر تقریر کے ختم کرنے کا اعلان کرتے تو ایک کہرام بپا ہو جایا کرتا۔ شاہ جی ؒ پہلے تھوڑی دیر اور بیان کردیں اور شاہ جی ؒ کہتے نہیں، زندہ رہا تو انشاء اللہ پھر کبھی آؤں گا اور تقریر سناؤں گا۔ شاہ جی ؒ کی دیانت، امانت مثالی تھی۔ وہ حضور ﷺ کے ارشاد ”الفقر فخری“ کی تصویر تھے۔ عظیم شخصیت ہوتے ہوئے بھی غریب کارکنوں، ساتھیوں اور رضا کاروں سے گھل مل کر رہتے۔ حضور اکرم ﷺ کا عشق ان کے روئیں روئیں میں رچا بسا ہوا تھا۔ حضور ﷺ کا نام اتنے ادب سے لیتے کہ سامع کے دل میں حضور ﷺ کے لئے مقام و احترام پیدا ہوتا۔ انگریز کے دشمن تھے اور انگریزوں کے دشمنوں کو سر آنکھوں پر بٹھانے والے، جھوٹ اور چوری ان کے ہاں ناقابل معافی گناہ تھا۔ جھوٹے اور چور کو قریب بھی پھٹکنے نہ دیتے تھے۔
”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کے حصے میں ان کے بڑھاپے، بیماری اور معذوری کا زمانہ آیا۔ لیکن انہوں نے حضور اکرم ﷺ کے عشق اور محبت کے جذبہ کے تحت جماعت کے لئے دن رات کام کیا۔ ملک کے کونے کونے میں جماعتیں قائم ہوئیں۔ دفاتر کھولے گئے، رضا کار بھرتی کئے گئے۔ ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت انہی کی قیادت میں لڑی گئی، اس میں شک نہیں کہ بظاہر وہ تحریک کامیاب نہ ہوسکی۔ لیکن ١٩٧٤ء کی کامیابی کی بنیاد اسی تحریک میں پیش کی جانے والی قربانیاں ہی ثابت ہوئیں۔
مجلس احرار اسلام کے چمن کی آبیاری بھی زندگی بھر انہوں نے ہی کی تھی اور آخری عمر میں ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کا گلستان سدا بہار بھی وہ ہی اپنے ہاتھوں سے آباد کر گئے۔ ویسے تو شاہ جی ؒ مجلس کے روح رواں تھے۔ ١٩٣١ء سے جو قافلہ حبیب ہال لاہور میں مرتب اور منظم ہوا تھا اس گلدستہ کے گل سرسبز ہمیشہ وہی رہے تھے۔ تاہم ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت کی قید و بند کی ابتلاء سے رہائی کے بعد جب ہم دوبارہ اکٹھے ہوئے اور بے پناہ قربانی کرنے کے باوجود جب ہم نے مل کر عہد کیا کہ جب تک مسئلہ ختم نبوت کو حل نہیں کیا جائے گا اس وقت تک ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔
١٣؍ دسمبر ١٩٥٤ء کو ملتان میں ایک اجلاس ہوا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کی باقاعدہ تشکیل
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
اور ترتیب درست کی گئی۔ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کو جماعت کا باقاعدہ امیر منتخب کیا گیا۔ ٢١؍ اگست ١٩٦١ء کو شاہ جیؒ کی وفات کا سانحہ پیش آیا۔ اس لحاظ سے شاہ جی ١٤؍ ربیع الثانی ١٣٧٤ھ، مطابق ١٣؍ دسمبر ١٩٥٤ء سے ٩؍ ربیع الاول ١٣٨١ھ، مطابق ٢١؍ اگست ١٩٦١ء تک مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے ٦ سال ٨ ماہ ٩ دن باقاعدہ امیر اور سربراہ رہے۔“
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد، سید بنوری نمبر ص ٦٧ ،مؤرخہ یکم جنوری ١٩٧٨ء)
متفرقات
ذیل میں حضرت امیر شریعتؒ سے متعلق تحریک ختم نبوت کے متفرق واقعات پیش خدمت ہیں:
- ٭...... ١٩٣٦ء میں چیف جسٹس کے سامنے مسٹر سلیم ایڈووکیٹ جنرل کے ایک سوال پر شاہ
صاحبؒ نے فرمایا: ”ہاں! میں نے مرزا غلام احمد کو ہزاروں مرتبہ کافر کہا ہے، کہتا ہوں، اور کہتا رہوں گا، یہ میرا مذہب ہے۔“
(سوانح حیات بخاری، از خان کابلی)
اسی عدالت میں فرمایا کہ: ”میرے مرنے کے بعد میری قبر پر بھی آکر کسی نے سوال کیا کہ مرزا قادیانی کون تھا؟ تو میری قبر کے ذرے ذرے سے آواز آئے گی کہ مرزا کافر تھا، اس کے ماننے والے سب کافر ہیں۔“
- ٭...... مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ نے فرمایا کہ:
مسٹر جسٹس منیر نے ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت میں ایک دن حضرت امیر شریعتؒ سے عدالت کے کٹہرے میں پوچھا کہ: ”سنا ہے آپ کہتے ہیں کہ اگر مرزا قادیانی میرے زمانے میں نبوت کا دعویٰ کرتا تو میں اسے قتل کر دیتا؟“ شاہ جیؒ نے برجستہ فرمایا کہ: ”اب کوئی کر کے دیکھ لے۔“ اس پر عدالت میں سامعین نے نعرہ تکبیر لگایا، ”اللہ اکبر“ کی صدا سے ہائی کورٹ کے درودیوار گونج اٹھے۔ جسٹس منیر سر پیٹتے ہوئے بولا کہ: ”توہین عدالت!“ شاہ جیؒ نے زناٹے دار آواز میں فرمایا کہ: ”توہین رسالت!“ اس پر پھر عدالت میں ”تاج وتخت ختم نبوت زندہ باد“ کی صدا بلند ہوئی، جج نے سر جھکا لیا، باطل ہار گیا، حق جیت گیا۔
- ٭...... حضرت امیر شریعتؒ نے ١٩٥٠ء میں ختم نبوت کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے
فرمایا: ”ختم نبوت کی حفاظت میرا ایمان ہے، جو شخص بھی اس ردا کو چوری کرے گا، جی
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
نہیں! چوری کا حوصلہ کرے گا، میں اس کے گریبان کی دھجیاں اڑا دوں گا۔ میں میاں (ﷺ) کے سوا کسی کا نہیں، نہ اپنا، نہ پرایا، میں انہی کا ہوں، وہی میرے ہیں۔ جس کے حسن و جمال کو خود رب کعبہ نے قسمیں کھا کھا کر آراستہ کیا ہو، میں ان کے حسن و جمال پر نہ مر مٹوں تو لعنت ہے مجھ پر اور لعنت ہے ان پر جو ان کا نام تو لیتے ہیں لیکن سارقوں کی خیرہ چشمی کا تماشا دیکھتے ہیں۔“
(چٹان)
حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ امرتسر میں حضرت مولانا نور احمد صاحب ؒ کے پاس درس نظامی کے طالب علم تھے۔ انہی دنوں اعلان ہوا کہ مرزا بشیر الدین محمود قادیانی، ہال بازار کے باہر ایک سینما ہال میں تقریر کریں گے۔ حضرت مولانا نور احمد صاحب ؒ نے امرتسر کے تمام علماء کو جمع کیا اور کہا کہ: ”اس سے پہلے مرزائیوں کو امرتسر میں جلسہ کرنے کی جرأت نہیں ہوئی اور اب اگر ایک دفعہ یہ جلسہ کر گئے تو ہمیں تنگ کریں گے۔“ علماء حضرات نے مختلف تجاویز پیش کیں، حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ نے فرمایا کہ: ”آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں، وہ جلسہ نہیں ہوگا۔“
شاہ جی ؒ کے ساتھ بخارا، سمرقند اور تاشقند سے بھی درس نظامیہ کے طالب علم امرتسر پڑھا کرتے تھے۔ آپ نے ان طلباء کو ساتھ لیا اور جلسہ گاہ میں پہنچ گئے۔ سینما ہال بھرا ہوا تھا۔ آپ سینما ہال کے درمیان میں بیٹھے ہوئے تھے۔ دوسرے طلباء آپ کی حفاظت کے لئے تھے۔ مرزا بشیر الدین قادیانی نے پہلے خطبہ پڑھا، پھر قرآن مجید کی چند آیات تلاوت کیں، شاہ جی ؒ کھڑے ہو گئے اور فرمایا: ”بشیر الدین! قرآن مجید صحیح پڑھو!“ مرزا بشیر الدین پہلے خاموش ہو گیا، پھر پڑھنا شروع کیا۔ آپ نے پھر فرمایا کہ: ”بشیر الدین! میں کہتا ہوں قرآن مجید صحیح پڑھو، ورنہ چپ ہو جاؤ“ مرزا نے اشارہ کیا، بیٹھ جاؤ، قبلہ شاہ جی ؒ اپنی بات دہرا رہے تھے، چاروں طرف سے شور اٹھا: ”بیٹھ جاؤ“ مگر آپ کھڑے للکارتے رہے۔ قبلہ شاہ جی ؒ کی اس مختصر پارٹی کے سوا باقی سارا ہال مرزائیوں سے بھرا ہوا تھا۔ وہ لوگ شاہ جی ؒ کی طرف بڑھے مگر آپ کی حفاظت کے لئے آئے ہوئے ساتھی ان کے لئے کافی تھے۔ جو بھی آگے بڑھتا یہ لوگ انہیں اٹھا کر دوسروں پر پھینک دیتے۔ اس طرح پورے ہال میں ہنگامہ برپا ہو گیا۔ شاہ جی ؒ نے اسی حصار کے اندر آہستہ آہستہ اسٹیج کی طرف بڑھنا شروع کیا۔ جب شاہ جی ؒ اسٹیج کے قریب پہنچ گئے تو مرزا بشیر الدین محمود نے
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
ملحقہ کمرے میں جا کر پناہ لی، شاہ جی ؒ اور ان کے ساتھیوں نے کرسیاں اٹھا اٹھا کر ان لوگوں پر مارنا شروع کر دیں، بھگدڑ مچ گئی۔ جلسہ ختم ہو گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد آپ قریبی دروازے سے باہر نکل آئے۔ باہر ایک عظیم مجمع جمع تھا۔ آپ ایک تانگے پر کھڑے ہو گئے اور تقریر شروع کر دی۔ پولیس آئی اور مرزائیوں اور مرزا بشیر الدین کو اپنی حفاظت میں ریلوے اسٹیشن پر پہنچا دیا۔
- حضرت امیر شریعت ؒ تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء کے بعد جب قید سے رہا ہو چکے
تھے، غالباً ١٩٥٥ء میں فیصل آباد دھوبی گھاٹ کے میدان میں ضعیفی اور علالت کے سبب بیٹھ کر تقریر فرما رہے تھے۔ دورانِ تقریر کسی نے ایک چٹ بھیج دی، لکھا ہوا تھا کہ: ”جو لوگ ختم نبوت کی تحریک میں شہید ہو گئے، ان کا ذمہ دار کون ہے؟“ شاہ جی ؒ نے پڑھا تو جوش میں آ کر کھڑے ہو گئے اور گرج کر فرمایا: ”سنو! ان شہداء کا میں ذمہ دار ہوں، نہیں، نہیں! آئندہ بھی جو حضور اکرم ﷺ کی عزت و ناموس کی خاطر شہید ہوں گے، ان کا بھی میں ذمہ دار ہوں، تم بھی گواہ رہو، (اور آسمان کی طرف منہ کر کے فرمایا) اے اللہ! تو بھی گواہ رہ، ان شہداء کا میں خود ذمہ دار ہوں اور جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا، اگر میں زندہ رہا اور موقع ملا تو پھر بھی ایسا ہی ہوگا، اگر کل مسلمان حضور ﷺ کی جوتی کے تسمے پر قربان ہو جائیں تو پھر بھی حق ادا نہ ہوگا۔“ ان جملوں سے سامعین تڑپ اٹھے، لوگ دھاڑیں مار مار کر رونے لگے اور ختم نبوت زندہ باد کے فلک شگاف نعروں سے فضا گونج اٹھی۔
- ٧؍ فروری ١٩٥٣ء کو موچی دروازہ لاہور میں حضرت امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ
شاہ بخاری ؒ نے فتنۂ مرزائیت کی تاریخ بیان کرتے ہوئے فرمایا: اس فتنے کی پرورش برطانیہ نے کی۔ اگر ہوتا افغانستان، تو اس فتنے کا کبھی کا فیصلہ ہو گیا ہوتا۔ امیر حبیب اللہ خان پر ہزار ہزار رحمت ہو، جس نے افغانستان کی حدود میں فتنہ مرزائیت کو داخل نہ ہونے دیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے امیر حبیب اللہ خان کو خط لکھا کہ: ”میں نبی بن گیا ہوں، تم مجھ پر ایمان لاؤ۔“ امیر حبیب اللہ نے مرزا غلام احمد قادیانی کو جواب دیا: ”ایں جا بیا!“ (یہاں آؤ) غلام احمد وہاں کیسے جاتا؟ اور اگر چلا جاتا تو کچھ نہ کچھ ہو جاتا اور مرزا قادیانی کا مزاج درست ہو جاتا۔
- حضرت امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیری ؒ نے تحریک ختم نبوت کو باقاعدہ منظم
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
کرنے کے لئے خطیب الامت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کو امیر شریعت مقرر کیا اور ”انجمن خدام الدین“ کے ایک عظیم الشان اجلاس منعقدہ مارچ ١٩٣٠ء میں ان کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر ہندوستان کے ممتاز ترین پانچ سو علماء کی بیعت ان کے ہاتھ پر کرائی۔ ظاہر بین نظریں یہ دیکھ رہی تھیں کہ دارالعلوم دیوبند کا صدر المدرسین حجۃ الاسلام علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ ”امیر شریعت“ کے ہاتھ پر بیعت کر رہا تھا۔ لیکن خود ”امیر شریعت“ کا تاثر یہ تھا کہ: ”آپ یہ نہ سمجھیں کہ حضرت (مولانا سید محمد انور شاہؒ) نے میرے ہاتھ پر بیعت کی ہے۔ بلکہ حضرت نے مجھے اپنی غلامی میں قبول فرمایا ہے۔ یہ کہہ کر شاہ جیؒ زار و قطار رونے لگے اور ان کا سارا جسم کانپنے لگا۔“
(حیات امیر شریعتؒ، مؤلفہ محترم مرزا جانباز ص ١٥٥)
بہر حال یہ بحث تو اپنی جگہ ہے کہ حضرت امام العصر کشمیریؒ، حضرت امیر شریعتؒ کے ہاتھ پر بیعت کر رہے تھے؟ ان سے فتنہ قادیانیت کے استیصال کا عہد لے رہے تھے؟ مگر اس میں کیا شک ہے کہ حضرت امیر شریعتؒ اور ان کی جماعت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے قادیانیت کے محاذ پر جو کام کیا وہ حضرت امام العصرؒ کی باطنی توجہ اور دعا ہائے سحری کا ثمر تھا۔
- ٭....... ایک دفعہ ”ختم نبوت“ پر تقریر کرتے ہوئے فرمایا: ”میں مرزا محمود اور قادیانیت کی جو
مخالفت کر رہا ہوں، رب العزت کی قسم! اس میں کوئی ذاتی غرض نہیں ہے، نہ کوئی ذاتی کد یا رنجش ہے۔ مرزائیوں سے میری دشمنی صرف حضور سید المرسلینﷺ کی محبت کی وجہ سے ہے۔ حضورﷺ کے بعد کسی کو نبی ماننا یہ گوارا نہیں ہو سکتا، نہ ہی میرے اللہ کو یہ گوارا ہے۔ دنیا میں کروڑوں لوگ ایسے ہیں جو خدا کا شریک بناتے اور مانتے ہیں۔ مگر اللہ ان کی اسی طرح پرورش کرتا ہے جس طرح وہ اپنے وحدہ لاشریک ماننے والوں کی پرورش کرتا ہے۔ اس کا غضب پوری طرح کبھی ان پر نازل نہیں ہوا۔ لیکن رسول اللہﷺ کی نبوت میں شریک بنانے والے کو خدا نے کبھی معاف نہیں کیا۔ جس نے رسول اللہﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا وہ کبھی نہیں پھولا پھلا۔ یہی انجام مرزائیوں کا ہوگا: باخدا دیوانہ باش و با محمد ہوشیار۔“
(مجلہ ایضاً)
- ٭....... مولانا عبید اللہ انور صاحبؒ نے تحریر فرمایا: حضرت لاہوریؒ نے ایک دفعہ
جمعہ کے خطبے میں فرمایا: ”حکومت کہتی ہے عطاء اللہ شاہ فساد پھیلاتا ہے، ان اللہ کے
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
بندوں کو معلوم نہیں کہ اگر عطاء اللہ شاہ فساد پر آمادہ ہو جائے تو مرزائیت کا قلعہ قائم نہیں رہ سکتا۔ میں کہتا ہوں اگر بخاری شام کو حکم دے دیں تو صبح ہونے سے پہلے ربوہ (چناب نگر) کی اینٹ سے اینٹ بج جائے۔“ پھر فرمایا: ”حکومت کی گولیوں اور بندوقوں میں وہ طاقت نہیں جو علماء کی زبان میں ہے۔ ہمارے ایک عطاء اللہ شاہ بخاری بحمد اللہ سب پر بھاری ہیں اور جب تک وہ زندہ ہیں، اسلام کو کوئی خطرہ نہیں۔“ ایک مرتبہ تو حضرت نے شاہ جیؒ کے متعلق یہاں تک ارشاد فرمایا: ”محشر کا دن ہوگا، رحمت دو عالمﷺ جلوہ افروز ہوں گے، صحابہؓ بھی ساتھ ہوں گے، بخاری آئے گا، حضور نبی کریمﷺ معانقہ فرمائیں گے اور کہیں گے: بخاری! تیری ساری زندگی عقیدۂ ختم نبوت کی حفاظت میں گزری اور کتاب وسنت کی اشاعت میں صرف ہوئی، آج میدان حشر میں تیرا شفیع میں ہوں۔ تیرے لئے کوئی باز پرس نہیں، جا اور اپنے ساتھیوں سمیت جنت میں داخل ہو جا، تیرے اور تیری جماعت کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھلے ہیں، جس طرف سے چاہو کھلے بندوں جنت میں داخل ہو سکتے ہو۔“
(ہمارے دور کے چند علمائے حق)
- تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء کے بعد ایک افسر نے طنزاً کہا: ”شاہ جی! آپ کی تحریک کا
کیا بنا؟“ شاہ جیؒ نے برجستہ فرمایا کہ: ”میں نے اس تحریک کے ذریعے مسلمانوں کے دلوں میں ایک ٹائم بم فٹ کر دیا ہے جو وقت آنے پر چل جائے گا۔ اس وقت مرزائیت کو اقتدار کی کوئی طاقت نہ بچا سکے گی۔“ چنانچہ یہ ٹائم بم خود قادیانیوں کے ہاتھوں ٢٩ مئی ١٩٧٤ء کو ربوہ (چناب نگر) ریلوے اسٹیشن پر پھٹا اور نتیجتاً قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا۔
- مسٹر جسٹس منیر کی عادت تھی کہ وہ عدالت میں علمائے کرام سے مختلف سوالات کر کے
پھر ان میں اختلاف ثابت کرنے کی کوشش کرتے۔ اس نے امیر شریعتؒ سے پوچھا کہ نبی کے لئے کیا شرائط ہیں؟ شاہ جیؒ نے فی البدیہہ فرمایا: ”یہ کہ کم از کم شریف انسان ہو۔“ اس پر مرزائیوں کے منہ لٹک گئے اور مسلمان سرخرو ہو گئے۔
- لاہور میں جلسہ تھا، شاہ جیؒ پورے جوبن میں تھے۔ بے انداز مجمع، گوش بر آواز،
عشق رسول کی بھٹی گرم، اکابر اور اساطین ملت جلوہ افروز، شہر میں مکمل ہڑتال اور سناٹا، تحریک ختم نبوت کے لئے مسلمان جانیں دینے کے لئے آمادہ، کسی نے کہا کہ: ”خواجہ
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
ناظم الدین لاہور پہنچ گئے۔ شاہ جیؒ نے فرمایا: ”ساری باتوں کو چھوڑ یئے، لاہور والو! کوئی ہے؟“ اور یہ کہتے ہوئے اپنے سر سے ٹوپی اتاری اور ٹوپی کو ہوا میں لہراتے ہوئے نہایت ہی جذبات انگیز الفاظ میں فرمایا: ”جاؤ! میری اس ٹوپی کو خواجہ ناظم الدین کے پاس لے جاؤ، میری یہ ٹوپی کبھی کسی کے سامنے نہیں جھکی، اس خواجہ صاحب کے قدموں میں ڈال دو، اس لئے کہ ہم تیرے سیاسی حریف اور رقیب نہیں ہیں۔ ہم الیکشن نہیں لڑیں گے۔ تجھ سے اقتدار نہیں چھینیں گے۔ ہاں ہاں! جاؤ اور میری ٹوپی اس کے قدموں میں ڈال کر یہ بھی کہو کہ پاکستان کے بیت المال میں سور ہیں تو عطاء اللہ شاہ بخاری تیرے سوروں کا وہ ریوڑ چرانے کے لئے بھی تیار ہے۔ مگر شرط صرف یہ ہے کہ تو حضور ﷺ، فداہ ابی وامی کی ختم رسالت کی حفاظت کا قانون بنادے۔ کوئی آقا کی توہین نہ کرے۔ آپ ﷺ کی دستار ختم نبوت پر کوئی ہاتھ نہ ڈال سکے۔“
(١٦/ فروری ١٩٥٢ء، خطاب بیرون دہلی دروازہ لاہور)
- شاہ جیؒ نے ایک دفعہ تقریر میں فرمایا: ”قادیان کانفرنس کے خطبے پر دفعہ ١٥٣ کے
تحت مجھ پر مقدمہ چلایا جارہا ہے۔ اس کی سزا زیادہ سے زیادہ صرف دو سال قید ہے۔ میرا جرم یہ ہے کہ میں محمد رسول اللہ ﷺ کا خادم ہوں۔ اس جرم میں یہ سزا بہت کم ہے۔ میں رسول اللہ ﷺ کی ناموس پر ہزار جان سے قربان ہونے کو تیار ہوں۔ مجھے شیروں اور چیتوں سے ٹکڑے ٹکڑے کرا دیا جائے اور پھر کہا جائے کہ تجھے بجرم عشق مصطفیٰ یہ تکلیفیں دی جارہی ہیں تو میں خندہ پیشانی سے اس سزا کو قبول کروں گا۔ میرا آٹھ سالہ بچہ عطاء المنعم اور اس جیسے خدا کی قسم! ہزار بچے رسول اللہ ﷺ کی کفش پر سے نچھاور کردوں۔“
(مختصر سوانح، از خان کابلی)
- لاہور سنٹرل جیل میں شاہ جیؒ کی آمد کی اطلاع جب مارشل لاء کے قیدیوں کو ملی تو
انہوں نے حکام جیل کی اجازت سے شاہ جیؒ سے ملاقات کا پروگرام بنایا۔ ایک دن صبح سویرے ہم اسیران قفس ناشتے کی تیاریوں میں مصروف تھے کہ دیوانی احاطے کے انچارج نے آکر شاہ جیؒ سے درخواست کی کہ مارشل لاء کے چند قیدی باہر کھڑے ہیں اور وہ آپ کی زیارت کے مشتاق ہیں۔ اگر اجازت ہو تو انہیں اندر بلا لوں۔ ابھی اس کی بات مکمل نہ ہو پائی تھی کہ شاہ جیؒ ننگے پاؤں ان قیدیوں کے استقبال کے لئے دیوانہ وار کمرے سے باہر نکل گئے۔ دیوانی احاطے کے دروازے پر
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
قیدی خراماں خراماں آ رہے تھے۔ ہتھکڑیوں اور بیڑیوں کی جھنکار اور شاہ جی ؒ کا استقبال، ایک عجیب پرکیف منظر آنکھوں کے سامنے تھا۔ شاہ جی ؒ نے سب کو گلے لگایا۔ ایک ایک کی بیڑی اور ہتھکڑی کو بوسہ دیا۔ پھر آپ ؒ نے اشک بار آنکھوں اور غم ناک لہجے میں فرمایا: ”تم لوگ میرا سرمایہ نجات ہو، میں نے دنیا میں لوگوں کو روٹی اور پیٹ یا کسی مادی مفاد کے لئے نہیں پکارا۔ لوگ اس کے لئے بڑی بڑی قربانیاں کرتے ہیں۔ میں نے تو اپنے نانا حضرت خاتم النبیین ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کی دعوت دی ہے اور تم لوگ صرف اور صرف اسی مقدس فریضے کے لئے قید و بند اور طوق و سلاسل کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہو۔ تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے کہ سیاسی شہرت یا ذاتی وجاہت جس کا مقصود ہو۔ تم یہاں جیل میں بھی غیر معروف ہو اور جب تم اس دیوار زنداں سے پرے جاؤ گے تو باہر تمہارا استقبال کرنے والے اور گلے میں پھولوں کے ہار ڈال کر نعرے لگانے والا بھی کوئی نہ ہوگا۔ نیت اور ارادے کے اعتبار سے جس کی آمد اس مقصد کے لئے ہوئی ہے۔ وہ یہی مقصد لے کر واپس چلا جائے گا۔ میرے لئے اس سے بڑا سرمایہ افتخار اور کیا ہو سکتا ہے؟“
شاہ جی ؒ یہ چند جملے فرما چکے تو کسی نے ایک قیدی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ تحریک میں اس کا بھائی گولی کا نشانہ بن چکا ہے۔ اس کے لئے دعا فرمائیں۔ شاہ جی ؒ نے تحریک کے دوران متشددانہ کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا: ”بھائی! ہم ہرگز یہ نہیں چاہتے تھے کہ حکومت یا عوام تشدد پر اتر آئیں اور کوئی نا خوش گوار صورت نمودار ہو جائے۔ میں نے کراچی جیل میں جب لاہور اور دوسرے مقامات پر گولی چلنے کے واقعات سنے اور معلوم ہوا کہ کئی بوڑھے باپوں کی لاٹھیاں ٹوٹ گئی ہیں۔ ماؤں کے چراغ گل ہو گئے ہیں اور کئی سہاگ اجڑ گئے ہیں، تو مجھے اس کا بڑا صدمہ پہنچا۔ میں نے وہاں کہا تھا کہ: کاش! مجھے کوئی باہر لے جائے، یا ارباب اقتدار تک میری یہ آواز پہنچا دی جائے کہ تحفظ ناموس رسول ﷺ کے سلسلے میں اگر کسی کو گولی مارنا ضروری ہو تو گولی میرے سینے میں مار کر ٹھنڈی کر دی جائے اور کاش! اس سلسلے میں اب تک جتنی گولیاں چلائی گئی ہیں وہ مجھے ٹکٹکی پر باندھ کر میرے سینے میں پیوست کر دی جاتیں۔“
(محمد یوسف مظفر گڑھی)
- غازی سلطان محمود صاحب (شیخوپورہ) اپنے علاقے کے مشہور کارکن تھے۔ انہوں
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
نے قریباً ہر ملکی اور مذہبی تحریک میں حصہ لیا اور عمر کا بیشتر حصہ جیلوں میں گزار دیا۔ اس وقت ان کی عمر اسّی سے تجاوز کر چکی تھی کہ انہوں نے خواب سنایا۔
فرماتے ہیں: ایک زمانہ ہوا، میں نے ایک رات طویل خواب دیکھا۔ جس میں آنحضور ﷺ کی زیارت ہوئی۔ اجمالاً وہ خواب یوں تھا جیسے ایک وسیع جگہ پر آنحضور ﷺ دائیں کروٹ پر لیٹے ہوئے ہیں۔ چہرۂ اقدس قبلے کی طرف ہے۔ آپ ﷺ کے سامنے اس زمانے کے کئی سو علماء کھڑے ہیں۔ پہلی صف کے درمیان سے حضرت مدنی ؒ نکل کر حضور ﷺ کے قریب جا کر دوزانو بیٹھ جاتے ہیں۔ باقی سب علماء اپنی اپنی جگہ باادب کھڑے ہیں اور حضرت مولانا حسین احمد مدنی ؒ ، حضور ﷺ سے کچھ باتیں کر رہے ہیں اور حضور ﷺ کے پائے مبارک کی طرف ایک صاحب فوجی وردی پہنے لیٹ کر حضور ﷺ کے تلوے زبان سے چاٹ رہے ہیں اور حضور ﷺ نے دوسرا پاؤں اس شخص کے سر پر رکھا ہوا ہے۔ وہ ایک کیف و مستی کے عالم میں حضور ﷺ کے قدم مبارک چاٹ رہا ہے اور حضور ﷺ مسکرا دیتے ہیں۔ میں غور سے دیکھتا ہوں تاکہ پہچانوں کہ یہ خوش قسمت کون ہے؟ تو چہرہ دیکھنے پر معلوم ہوا کہ وہ حضرت شاہ صاحب ؒ ہیں۔
مختصر یہ کہ غازی صاحب کہتے ہیں: صبح میں نے یہ خواب من وعن لکھ کر شاہ جی ؒ کو امرتسر بھیج دیا اور میں خواب کے اس کیف و سرور میں کچھ ایسا کھویا ہوا تھا کہ شاہ جی ؒ کا خواب میں جو منظر دیکھا تھا۔ اس کو یوں لکھا گیا کہ: ”آنحضور ﷺ کا ایک پاؤں آپ کے سر پر تھا اور دوسرا پاؤں آپ کتے کی طرح چاٹ رہے تھے۔“ کافی دن گزر گئے تو ایک جلسے میں تقریر کے بعد شاہ جی ؒ سے ملاقات ہوئی، کچھ اور لوگ بھی شاہ جی ؒ کے پاس بیٹھے تھے۔ جب مجھے دیکھا تو حسب دستور بڑی محبت سے ملے، پھر فرمایا: ”وہی خواب اب زبانی سناؤ!“ میں نے سنایا، تو جب آپ کے ذکر تک آیا تو میں نے کہا کہ: ”آپ حضور ﷺ کا پاؤں مبارک چاٹ رہے تھے۔“ میری طرف دیکھ کر پوچھا: ”کس طرح؟“ میں نے کہا: ”زبان سے!“ فرمایا: ”نہیں، جیسا خط میں لکھا تھا، ویسے بتاؤ۔“ تو سا مجھے یاد آ گیا کہ خط میں تو میں نے تشبیہاً کسی اور طرح لکھا لیکن اب منہ پر مجھے شرم آتی تھی، لیکن شاہ جی ؒ نے باصرار مجھ سے کہلوایا کہ:
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
”آپ، حضورﷺ کے پاؤں مبارک کتے کی طرح چاٹ رہے تھے۔“ یہ سن کر آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور خود ہی فقرہ بار بار دہراتے رہے۔
(حدیث خواب، از امین گیلانی)
- شنکیاری، ضلع ہزارہ میں تین روزہ جلسہ تھا۔ جلسے کے دوسرے دن کچھ علماء، کچھ طلباء
میرے پاس جمع ہو کر آ گئے اور کہا کہ: ”آپ ایک عمر حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے ساتھ رہے ہیں۔ ہمیں ان کی خاص باتیں سنائیں۔“ ایک صاحب بولے: ”ان کی عظمت کا ایک واقعہ آپ ہم سے سن لیں تاکہ آپ کو یہ پتا چلے کہ ہم ان کے متعلق آپ سے باتیں کیوں سننا چاہتے ہیں؟“
تھوڑے دنوں سے یہاں گاؤں میں ایک اجنبی بزرگ خاموش چلتے پھرتے دکھائی دیتے ہیں۔ مسجد یا کوئی میدان ان کا ٹھکانا ہوتا ہے۔ کچھ پوچھیں تو جواب دو لفظی دیتے ہیں۔ ہمارے یہاں کے ایک بزرگ عالم نے انہیں دیکھا تو بتایا کہ صاحب کشف و کرامت ہیں اور آزاد کشمیر سے پیدل یہاں پہنچے ہیں۔
ایک دن اسی بزرگ کو ہم نے ایک جگہ تنہا بیٹھے ہوئے دیکھا، تو ہم نے آزمانے کے لئے ایک طریقہ اختیار کیا۔ وہ یہ کہ چند پتھروں کے ٹکڑے لئے اور ہر پتھر پر کسی ایک بزرگ کا بغیر سیاہی کے انگلی کے ساتھ نام لکھ دیا، اور ایک پتھر پر مرزا غلام احمد قادیانی بھی لکھ دیا۔ پھر ہم وہ سب پتھر اس بزرگ کے پاس لے کر گئے اور خاموشی سے ان کے سامنے رکھ دیئے۔ وہ ہمیں دیکھ کر مسکرائے، پھر ایک پتھر اٹھا کر نام پڑھا اور اس بزرگ کا مقام بیان کیا۔ حالانکہ ہمیں نہیں معلوم تھا کہ ہم نے اس پتھر پر اسی بزرگ کا نام لکھا ہے۔ پھر دوسرا، پھر تیسرا نام پڑھتے گئے، مقام بتاتے گئے، پھر ایک پتھر اٹھا کر دور پھینک کر کہا: ”اس مردود کو ان میں کیوں رکھا ہے؟“ پھر ایک پتھر اٹھایا اور کہا: ”سبحان اللہ! عطاء اللہ شاہ بخاریؒ ان کی بوعلی قلندرؒ سے دوڑ ہوئی، آگے نکل گئے۔“
میں نے، مولانا اجمل خان لاہور والوں سے ذکر کیا، وہ بھی جلسے میں دوسرے روز تشریف لے آئے تھے۔ ہم نے مختلف ساتھیوں کی ڈیوٹی لگا دی کہ جہاں بھی وہ اس بزرگ کو دیکھیں ہمیں فوراً اطلاع دیں۔ عین جب ویگن تیار تھی ہم واپسی کے لئے تیار ہونے والے تھے تو ایک طالب علم ہانپتا کانپتا آیا اور کہا: ”گیلانی صاحب! وہ بزرگ اس وقت اسکول کے گراؤنڈ میں بیٹھے ہوئے ہیں۔“
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
مولانا محمد اجمل اور میں دونوں فوراً وہاں پہنچے، ہمیں دیکھ کر وہ اٹھ کھڑے ہوئے، میں نے عرض کیا: حضرت! صرف دعا کے لئے حاضر ہوئے ہیں، بس! انہوں نے ہاتھ دعا کے لئے بلند کر دیئے۔ دعا کے بعد میں نے عرض کیا: ”حضرت! اجازت دیں، کہیں ویگن والا ہمیں چھوڑ کر نہ چلا جائے۔“ فرمایا: ”نہیں جائے گا!“ پھر وہ بھی ہمارے ساتھ چل دیئے۔ پہنچے تو ویگن والا ہمارا منتظر تھا، ہمیں خود سوار کرایا۔ پھر دعا کے لئے ہاتھ اٹھا دیئے۔ ویگن چل پڑی اور میں انہیں تا حد امکان دیکھتا رہا۔ کیونکہ وہ ہماری طرف دیکھ رہے تھے۔
(سید محمد امین گیلانی)
- حضرت امیر شریعت ؒ ایک دفعہ کہیں جا رہے تھے۔ امرتسر ریلوے اسٹیشن پر پہنچے،
دیکھا کہ ڈبے کے باہر ایک ہجوم کھڑا ہے۔ شاہ جی ؒ نے حقیقت حال معلوم کی تو مسافروں نے بتایا کہ ڈبہ اندر سے بند ہے۔ اس میں چار انگریز فوجی بیٹھے ہوئے ہیں اور پورے ڈبے پر قبضہ جمائے ہوئے ہیں۔ کسی مسافر کو ڈبے میں داخل نہیں ہونے دیتے۔ حضرت امیر شریعت ؒ کے ہاتھ میں ان دنوں موٹا ڈنڈا ہوتا تھا۔ ڈنڈے کے زور سے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوئے۔ ڈنڈا زور زور سے گھمایا۔ یوں ظاہر کیا جیسے وہ ان گوروں پر چلانا چاہتے ہیں۔ وہ چاروں ایک طرف سہم کر بیٹھ گئے۔ امیر شریعت ؒ نے مسافروں کو اندر بلا کر بٹھا دیا۔ خود دوسرے ڈبے میں جا کر بیٹھ گے۔ راستے میں جس اسٹیشن پر گاڑی رکتی، امیر شریعت ؒ ڈبے کے سامنے آتے اور فضا میں ڈنڈا لہراتے اور وہ انگریز سہم جاتے۔ امیر شریعت ؒ نے انبالہ تک جانا تھا۔ فرماتے تھے کہ: ”انگلش میں نہ جانتا اور پنجابی اور اردو وہ نہ جانتے تھے۔ لیکن قربان جاؤں ڈنڈے پر کہ اس نے بگڑا کام سنوار دیا۔“
- مئی ١٩٢٣ء کو امیر شریعت ؒ شجاع آباد میں جلسے میں شرکت کے لئے تشریف لے
گئے۔ نماز ظہر کے بعد جلسے سے خطاب کے لئے اٹھے تو مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی ؒ سے فرمایا: ”قاضی جی! پان نہیں کھلاؤ گے؟“ حضرت قاضی صاحب ؒ نے حاجی نور محمد سے کہا: آپ جا کر پان لے آئیں۔ حاجی صاحب پان لینے کے لئے چلے ہی تھے کہ ایک آدمی نے کہا: ”میں شاہ صاحب کے لئے پان لے کر آیا ہوں۔“ اور پان حاجی صاحب کو دے دیا۔ جب امیر شریعت ؒ نے پان منہ میں رکھا تو ایک منٹ کے بعد ہی تھوک دیا اور کہا: ”قاضی جی! آپ نے تو مجھے مروا دیا۔“ قاضی
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
احسان احمد شجاع آبادی ؒ نے شاہ صاحب ؒ کے منہ کے سامنے ہاتھ رکھا جو پان امیر شریعت ؒ نے قاضی صاحب ؒ کے ہاتھ پر اگلا تھا۔ اس نے قاضی صاحب ؒ کے ہاتھ کو سیاہ کر دیا اور اتنا تیز زہر تھا کہ قاضی صاحب ؒ کا ہاتھ پھول گیا۔ جلسہ ختم کر دیا گیا۔ ڈاکٹر سے شاہ صاحب ؒ کا علاج شروع کروایا۔ زہر پیشاب و پاخانے میں خارج ہونا شروع ہوا اور تین بجے رات حضرت شاہ صاحب ؒ نے آنکھیں کھولیں۔ ڈاکٹر صاحب نے قاضی صاحب کو مبارک باد دی اور بتایا کہ اب شاہ جی کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
- مولانا قاری محمد حنیف صاحب ملتانی اپنی ایک تقریر میں فرماتے ہیں کہ: میں حج کے
لئے مکہ مکرمہ گیا۔ میری ملاقات ایک ولی اللہ مولانا خیر محمد صاحب سے ہوئی، جو بہاولپور میں رہتے تھے۔ سارا دن اپنے ہاتھوں سے کام کرتے اور شام کو طالب علموں کو حدیث پڑھایا کرتے تھے۔ مولانا خیر محمد صاحب نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ بیت اللہ کا طواف کر رہا ہوں، خلیل اللہ طواف کر رہے ہیں۔ کلیم اللہ طواف کر رہے ہیں، آدم، ذبیح اللہ، یعقوب، یوسف اور حضرت ایوب (علیہم الصلوٰۃ والسلام) موجود ہیں۔ انبیائے کرام کی جماعت طواف کر رہی ہے اور پیچھے پیچھے سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ چل رہے ہیں۔ مولانا خیر محمد صاحب فرماتے ہیں: میں نے پوچھا: ”شاہ جی! یہ مرتبہ کیسے ملا کہ انبیائے کرام کے ساتھ بیت اللہ کا طواف؟“ تو شاہ جی ؒ فرمانے لگے: ”بس اللہ تعالیٰ نے یوں کریمی فرمادی کہ عطاء اللہ شاہ! تم نے میرے محبوب (ﷺ) کی ختم نبوت کے لئے زندگی جیل میں کاٹ دی، مصیبتوں اور دکھوں میں گزار دی، آجا! نبیوں کے ساتھ طواف کرتا رہ۔“
- استاذی المکرم حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب درخواستی ؒ حج کے لئے حجاز مقدس
تشریف لے گئے۔ آپ کا ارادہ تھا کہ اب واپس پاکستان نہیں جاؤں گا۔ مدینہ طیبہ قیام کے دوران آقائے نامدار ﷺ کی خواب میں زیارت ہوئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ: ”یہاں دین کا کام خوب ہو رہا ہے۔ پاکستان میں آپ کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں جا کر میرے بیٹے عطاء اللہ شاہ بخاری کو میرا سلام کہنا اور کہنا کہ ختم نبوت کے محاذ پر تمہارے کام سے میں گنبد خضراء میں خوش ہوں۔ ڈٹے رہو، اس کام کو خوب کرو۔ میں تمہارے لئے دعا کرتا ہوں۔“
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
حضرت درخواستیؒ پہلے حج سے واپسی پر سیدھے ملتان آئے۔ شاہ جیؒ چارپائی پر تھے۔ خواب سنایا۔ شاہ جیؒ تڑپ کے نیچے گر گئے۔ کافی دیر بعد ہوش آیا۔ بار بار پوچھتے: ”درخواستی صاحب! میرے آقا ومولیٰ نے میرا نام بھی لیا تھا؟“ حضرت درخواستی کے اثبات میں جواب دینے پر وجد کی کیفیت طاری ہو جاتی۔
- حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھریؒ فرمایا کرتے تھے کہ: وفات کے بعد
خواب میں مجھے حضرت بخاری صاحبؒ کی زیارت ہوئی۔ میں نے پوچھا: ”شاہ صاحب! فرمائیے قبر کا معاملہ کیسا رہا؟“ شاہ صاحبؒ نے فرمایا کہ: ”بھائی! یہ منزل بہت ہی مشکل ہے، آقائے نامدارﷺ کی ختم نبوت کی برکت سے معافی مل گئی۔“
- حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے فرمایا کہ: حضرت مولانا رسول خانؒ جو
پاکستان کے بہت بڑے محدث اور استاذ الکل ہیں، نے فرمایا کہ: آنحضرتﷺ جماعت صحابہ کرامؓ میں تشریف فرما ہیں۔ حضور پاکﷺ کی خدمت میں (ایک طشت میں آسمانوں سے) ایک دستار مبارک لائی گئی۔ آنحضرتﷺ نے جناب صدیق اکبرؓ کو حکم دیا کہ: ”اٹھو! اور میرے بیٹے عطاء اللہ شاہ کے سر پر باندھ دو۔ میں اس سے خوش ہوں کہ اس نے میری ختم نبوت کے لئے بہت سارا کام کیا ہے۔“
(تقاریر مجاہد ملتؒ ص٧)
- مولانا محمد علی فرمایا کرتے تھے کہ: آپﷺ نے خود یا اور کسی صحابی کو کیوں حکم نہ دیا کہ
بخاری صاحب کے سر پر دستار باندھ دو۔ بلکہ ابو بکر صدیقؓ کو حکم دیا۔ اس طرف اشارہ کرنا مقصود تھا کہ سب سے پہلے ختم نبوت کا تحفظ مسیلمہ کذاب کے زمانے میں صدیق اکبرؓ نے کیا تھا۔ اب پاکستان میں مسیلمہ پنجاب کا مقابلہ و ختم نبوت کا تحفظ بخاری صاحب نے کیا۔ گویا ختم نبوت کا ایک محافظ، دوسرے ختم نبوت کے محافظ کو دستار بندی کرادے۔
- ایک بار آپ نے وجد میں فرمایا کہ: اگر میری قبر پر کان لگا کر سننے کی خدا
طاقت بخشے تو سن لینا کہ میری قبر کا ذرہ ذرہ پکار رہا ہوگا کہ ”مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والے کافر ہیں۔“
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگارنگ
- ادھر تحریک کی اندوہناک پسپائی سے لوگوں میں مایوسی کا پیدا ہونا ایک قدرتی امر تھا۔
کئی لوگ ان شہداء کے متعلق جو اس تحریک ناموس ختم نبوت پر قربان ہو چکے تھے، یہ سوال کرتے کہ: ”ان کے خون کا ذمہ دار کون ہے؟“ شاہ جی ؒ نے لاہور کے ایک جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے جواب دیا کہ: ”جو لوگ تحریک ختم نبوت میں جہاں تہاں شہید ہوئے، ان کے خون کا جواب دہ میں ہوں، وہ عشق رسالت میں مارے گئے، اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ ان میں جذبہ شہادت میں نے پھونکا تھا۔ جو لوگ ان کے خون سے دامن بچانا چاہتے اور ہمارے ساتھ رہ کر اب کنی کترا رہے ہیں، ان سے کہتا ہوں کہ میں حشر کے دن بھی ان کے خون کا ذمہ دار ہوں گا۔ وہ عشق نبوت میں اسلامی سلطنت کے ہلاکو خان کی بھینٹ چڑھ گئے۔ لیکن ختم نبوت سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔ حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے بھی سات سو حافظ قرآن اسی مسئلے کی خاطر شہید کرا دیئے ۔“
- شاہ جی ؒ تحریک کی پسپائی سے غایت درجہ ملول تھے۔ ان کا دل بجھ چکا تھا۔
فرماتے: ”غلام احمد کی جھوٹی نبوت کے لئے تحفظ ہے۔ لیکن محمد ﷺ کی ختم نبوت کے لئے تحفظ نہیں۔“ عموماً اشک بار ہو جاتے، اسی زمانے میں ایک دن تقریر کرنے کے لئے اٹھے تو عمر بھر کی روایت کے برعکس نہ خطبہ مسنونہ پڑھا، نہ زیر لب ورد کیا۔ فرمایا: ”مسٹر پریذیڈنٹ! لیڈیز اینڈ جنٹلمین!“ لوگوں نے قہقہہ لگایا اور ششدر رہ گئے۔ ”شاہ جی! یہ کیا؟“ فرمایا: ”ایک سیکولر اسٹیٹ کے شہریوں سے مخاطب ہوں ۔“
(تحریک ختم نبوت ص ١٤٢)
- ترکی میں ایک عالم دین نے خواب دیکھا کہ: آقائے نامدار ﷺ بمع صحابہ کرام ؓ
کے گھوڑوں پر سوار سفر پر تشریف لے جارہے ہیں۔ میں نے عرض کی کہ: ”آقا! کہاں کا ارادہ ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا کہ: ”میرا بیٹا عطاء اللہ شاہ بخاری پاکستان سے آ رہا ہے، اسے لینے جارہے ہیں۔“ ترکی کے یہ عالم دین، سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ کو نہ جانتے تھے۔ پاکستان میں وہ صرف مولانا محمد اکرم سلطان فونڈری لاہور کو جانتے تھے۔ ان کو خط لکھا کہ: ”فلاں رات خواب میں اس طرح دیکھا، آپ فرمائیں تو یہ عطاء اللہ بخاری کون ہیں؟ اور اس رات کیا واقعہ پیش آیا؟“ خط پڑھا تو معلوم ہوا کہ خواب کی وہی رات تھی جس رات سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ کا وصال ہوا۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
(٢)
مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی رحمہ اللہ
(وفات: ٢٣؍ نومبر ١٩٦٦ء)
مجلس کے دوسرے امیر مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی رحمہ اللہ تھے۔ شجاع آباد ضلع ملتان کا ایک قصبہ ہے۔ قاضی احسان احمد اسی قصبہ میں قاضی محمد امین کے ہاں پیدا ہوئے۔ تعلیم اپنے ہی بزرگوں سے حاصل کی۔ عربی، فارسی اور اردو زبان کے جید عالم تھے۔ قاضی صاحب اپنی خطابت، ایثار اور قربانی کی بدولت ملک گیر شہرت کے مالک بن گئے تو ان کی بدولت شجاع آباد کے بھی بھاگ جاگ گئے اور شجاع آباد کا گمنام قصبہ بھی ملک گیر شہرت کا حامل ہو گیا۔
شجاع آباد شاہوں کے وقتوں کے کسی نواب کے نام پر ہے۔ قلعہ نما شہر اور درمیان میں شاہی مسجد ہے۔ قاضی صاحب مرحوم کے کوئی جد امجد قاضی، جسٹس یا جج کے عہدہ پر فائز تھے۔ ان کی اولاد قاضی کہلائی۔ منصب، مکان، جائیداد جدی چلی آ رہی ہے۔ قاضی صاحب کو اللہ تعالیٰ نے بڑی خوبیوں سے نوازا ہوا تھا۔ ان کا وجیہہ چہرہ مہرہ خطیبانہ تھا۔ بلا کے ذہین انسان تھے۔ شعلہ نوا خطیب، لاکھوں کے مجمع پر چھا جانے والے مشکل سے مشکل مسائل کو اپنے آسان طرز بیان سے عوام کے ذہن نشین کرنے کا خاص ملکہ رکھتے تھے۔ ضرورت کی کتابوں، اخباروں، رسالوں اور دستاویزات کا حوالہ ان کے پاس موجود ہوتا۔ جسٹس منیر کے بقول ان کے ساتھ ایک بہت بڑا صندوق لازماً ہوا کرتا تھا جسے ایک مضبوط زنجیر اور تالا کے ذریعے محفوظ رکھا جاتا۔ وہ صندوق دراصل قاضی صاحب کا اسلحہ خانہ تھا جس میں وہ تمام دستاویزی ثبوت اور حوالہ جات محفوظ رکھتے تھے۔ قاضی صاحب نے اونچے حلقوں میں اور اسی طرح تعلیم یافتہ طبقہ میں جماعت کی سفارت اور ترجمانی کا حق ادا کیا۔ قاضی صاحب مرحوم بظاہر امیرانہ ٹھاٹھ باٹھ رکھتے تھے۔ لیکن درحقیقت وہ صحیح معنوں میں درویش منش انسان تھے۔
قاضی صاحب نے جب مرزائیت کے متعلق حوالہ جات پہلی دفعہ نارووال کے ریلوے اسٹیشن پر ٹھہرے ہوئے خاں لیاقت علی خاں وزیر اعظم پاکستان کو دکھائے تو خاں صاحب کی حیرت گم ہو گئی۔ قاضی صاحب نے خان لیاقت علی خان کو جب عربوں کا مرزا بشیر الدین محمود
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
ہیڈ آف دی جماعت ربوہ کے نام خط دکھلایا جس میں عربوں نے مرزا محمود قادیانی کا اس بات پر شکریہ ادا کیا تھا کہ آپ کی ہدایت پر چوہدری ظفر اللہ خان نے ہماری یو.این.او میں حمایت کی ہے تو خان لیاقت علی خان صاحب کی آنکھیں کھل گئیں۔ قاضی صاحب نے فرمایا: خان صاحب! سر ظفر اللہ وزیر خارجہ پاکستان کا ہو۔ تنخواہ پاکستان کے خزانہ سے لیتا ہو۔ آپ کی کابینہ کا ممبر ہو، نمائندہ آپ کا ہو اور عرب شکریہ مرزا محمود کا ادا کریں۔ حالانکہ عربوں کی یو.این.او میں حمایت مرزا محمود کی نہیں بلکہ پاکستان کی پالیسی ہے۔ عربوں کو شکریہ مرزا محمود کا نہیں بلکہ حکومت پاکستان اور آپ کا ادا کرنا چاہئے تھا۔
قاضی صاحب، ایک دفعہ مرزائیوں کی ان سرگرمیوں کا احتساب کرنے کے لئے کوئٹہ تشریف لے گئے جو مرزائیوں نے بلوچستان کو احمدی صوبہ بنانے کے لئے بپا کر رکھی تھیں اور جن کے پیچھے ایک گہری سازش کارفرما تھی۔ میاں امین الدین وہاں حکومت کے انچارج اعلیٰ تھے۔ ان کا مزاج افسرانہ اور متکبرانہ تھا۔ قاضی صاحب نے ملاقات کے لئے وقت مانگا تو اس نے معذرت کردی۔ قاضی صاحب نے دوبارہ کہلوایا کہ ملکی نوعیت کے مسائل پر گفتگو مقصود ہے۔ اس نے پندرہ منٹ عنایت فرما دیئے۔ قاضی صاحب اندر گئے، ملاقات شروع ہوئی۔ مرزائیت کے متعلق بات شروع کی تو اس نے بڑے غرور سے کہا کہ اس کے متعلق ہم نے سرکلر کر دیا ہے۔ چھوڑیئے اس بات کو کوئی اور بات ہے تو کیجئے۔ قاضی صاحب نے فرمایا: وہ سرکلر آپ نے نہیں کیا میں مرکزی حکومت سے جاری کروا کر آیا ہوں۔ میاں صاحب کی اکڑی ہوئی گردن کچھ ڈھیلی ہوئی۔ دریافت کیا آپ مرکز میں کس سے ملے تھے۔ قاضی صاحب نے مرکزی وزراء اور وزیر اعظم کا نام لیا اور سرکاری محکموں میں مرزائیوں کی ریشہ دوانیوں کے متعلق سرکلر کے جاری کئے جانے کی تفصیل بتائی۔ میاں صاحب کی گردن میں مزید خم پیدا ہو گیا۔ اب قاضی صاحب نے اپنا صندوق اندر منگوایا اور مرزائیوں کے متعلق وہ تمام حوالے نکال نکال کر دکھانے شروع کئے جن میں مرزائیوں کے سیاسی عزائم اور بلوچستان پر قبضہ کرنے کی باتیں درج تھیں۔ مرزائی لٹریچر سے جب میاں امین الدین صاحب نے وہ حوالے دیکھے تو قاضی صاحب نے فرمایا میاں صاحب بلوچستان کے متعلق یہ خطرات آپ کے علم میں ہیں؟ میاں صاحب نے جواب دیا مجھے تو ان باتوں کا علم نہیں۔ تو آپ نے مرکز کو بھی قادیانی سرگرمیوں کی کوئی اطلاع نہیں بھجوائی ہوگی۔ بڑے افسوس کی بات ہے کہ آپ کے زیر انتظام علاقہ میں ملکی سالمیت کے خلاف یہ سازشیں پروان چڑھ رہی ہیں اور
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
آپ فرماتے ہیں کہ مجھے کوئی علم نہیں۔ یہ سن کر میاں صاحب بالکل جھک کر بیٹھ گئے۔ اب وہ سب اکڑ فوں ختم ہو گئی۔ گفتگو اڑھائی گھنٹے تک جاری رہی۔ قاضی صاحب نے معلومات کا ذخیرہ جمع کر دیا۔ وہ حیران سے حیران تر اور پریشان سے پریشان ہوتا چلا گیا۔ اب قاضی صاحب نے اسے گریبان سے پکڑ لیا اور محبت سے کبھی اپنی طرف کھینچتے اور پھر کبھی ڈھیلا کر کے اسے پیچھے لے جاتے اور اپنی خاص ادا میں فرماتے: میاں صاحب! ابھی تو آپ کو اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی جاکر اپنے فرائض کے متعلق جواب دینا ہے کہ آپ نے اسلامی حکومت کے ایک بہت بڑے صوبہ کی ذمہ داریوں کو کیوں نہیں ادا کیا تھا۔
قاضی صاحب ایک دفعہ قلات گئے تو نواب احمد یار والی قلات نے انہیں اپنے ہاں مہمان ٹھہرایا۔ قاضی صاحب نے انہیں بھی ان تمام خطرات سے آگاہ کیا جو ملک اور اسلام کو مرزائیوں سے لاحق ہیں۔ نواب صاحب، قاضی صاحب سے اس قدر متاثر ہوئے کہ ایک موقعہ پر قاضی صاحب کے جوتے اٹھا کر ان کے سامنے سیدھے کر کے رکھ دیئے اور اس طرح اپنی نیاز مندی کا اظہار کیا۔ قاضی صاحب مرحوم یہ واقعہ سناتے وقت فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ جب کہ میں نے اپنی والدہ بزرگوار کی خدمت کرتے ہوئے ان کے سامنے عجز اور محبت سے جوتے سیدھے کر کے رکھے تھے تو میری والدہ نے دعا دیتے ہوئے فرمایا تھا۔ بیٹا ایک وقت آئے گا بادشاہ تیرے سامنے جوتا نیاز مندی سے سیدھا کر کے رکھے گا۔ غرضیکہ قاضی صاحب مرحوم ایک عظیم شخصیت کے مالک تھے۔ انہوں نے بھر پور زندگی بسر کی۔ جیلیں کاٹیں، قربانیاں دیں۔ ایک تحریک کے دوران پولیس کی لاٹھی چارج میں ان کے بازو کی ہڈیاں توڑ دی گئی تھیں۔ ملت اسلامیہ کے لئے بے مثال خدمات سرانجام دیں اور مطمئن ضمیر لے کر اللہ کے پاس چلے گئے۔ خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ١٢ شوال ١٣٨٢ھ مطابق ٩ مارچ ١٩٦٣ء سے ٩ شعبان ١٣٨٤ھ، مطابق ٢٣ نومبر ١٩٦٦ء تک ٣ سال ٨ ماہ ٢٧ دن باقاعدہ امیر اور سربراہ رہے۔
متفرقات
- ٭...... قاضی احسان احمد صاحب شجاع آبادیؒ، حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ
کی مجلس میں تشریف لائے۔ حضرت اقدسؒ نے ان سے مخاطب ہو کر فرمایا: ”یوں معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی ایک خبطی آدمی تھے۔“ اس پر قاضی صاحبؒ
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
نے کہا کہ : ”نہیں حضور! مخبطی نہیں تھا، بلکہ دجال تھا۔ جیسا کہ حضورﷺ نے فرمایا ہے کہ میرے بعد کئی چھوٹے چھوٹے دجال پیدا ہوں گے۔ اگر محض مخبطی ہوتے تو یہ اعلان نہ کرتے کہ : ”ہمارے مریدین میں سے جو شخص مرتے وقت ہمارے واسطے اپنی جائیداد کے دسویں حصے کے متعلق وصیت کر جائے گا اسے قادیان کے بہشتی مقبرے میں جگہ ملے گی اور اگر وہ کسی دوسری جگہ مر گیا تو وہ بھی بہشتی ہوگا۔“ حالانکہ حضورﷺ نے لوگوں کو اپنے پاس سے دیا، لیا کچھ نہیں۔ ایک جنگ میں بہت سی باندیاں گرفتار ہو کر آئیں اور مدینہ کے لوگوں میں تقسیم کی گئیں۔ لیکن سیدۃ النساء حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ایک باندی بھی نہیں دی گئی۔ یہ ہے نبی کا کریکٹر، مرزا قادیانی نے تو ہائیکورٹ میں لکھ کر دے دیا تھا کہ ”میں شریعت اسلامیہ کا پابند نہیں ہوں، بلکہ رواج کا پابند ہوں۔“
- ٭....... قاضی احسان احمد شجاع آبادی ؒ نے حضرت رائے پوری ؒ کی خدمت میں اپنا
ایک واقعہ سنایا کہ ایک دفعہ مجھے ایک مرزائی فوجی افسر نے مرزائیوں کے دو بڑے مولویوں سے بات کرنے کے لئے بلایا۔ ان میں سے ایک تو ربوہ (چناب نگر) کالج کا پرنسپل تھا اور دوسرا مولوی عبدالمالک ایم۔اے تھا۔ جب ہم اکٹھے ہوئے تو افسر مذکور نے مجھے مخاطب ہو کر کہا کہ : ”تم ان کے بارے میں کیا کہتے ہو؟“ میں نے کہا کہ: ”یہ لوگ تناسخ کے قائل ہیں۔“ اس پر ایک مرزائی مولوی نے کہا: ”لعنت اللہ علیٰ الکاذبین“ میں نے جواباً کہا: ”دیکھئے صاحب! یوں تو بات نہیں بنے گی۔“ اس پر افسر مذکور نے ان کو ڈانٹا اور پوچھا کہ تناسخ کے یہ لوگ کیسے قائل ہیں؟ میں نے مرزا قادیانی کی کتاب ”تریاق القلوب“ نکال کر بتلایا کہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دوبارہ حضرت عبداللہ کے گھر میں جنم لیا، اور مقصد اس کہنے سے یہ ہے کہ یہ کہہ سکیں کہ حضورﷺ نے بھی دوبارہ قادیان میں غلام احمد کی صورت میں جنم لیا۔ جیسا کہ خود مرزا قادیانی نے لکھا ہے۔ پھر میں نے مرزا قادیانی کے وہ اشعار افسر مذکور کو سنائے جن میں اس نے حضورﷺ پر اپنی فضیلت بتائی ہے۔ اشعار سن کر وہ کہنے لگا کہ: ”ان میں تو حضورﷺ کی سخت توہین ہے“ اور میری طرف بڑھ کر کہنے لگا کہ: ”مولوی صاحب! مجھے کلمہ پڑھا دو۔ میں مسلمان ہوتا ہوں اور مرزائیت سے توبہ کرتا
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
ہوں۔‘‘ اور توبہ نامہ مجھے لکھ کر دیا کہ اسے شائع کرادو۔ یہ سن کر حضرت اقدس ؒ نے خوشی کا اظہار کیا۔ اس کے بعد مولانا محمد انوری صاحب ؒ نے حضرت رائے پوری ؒ کی خدمت میں عرض کیا کہ: ’’حضرت مولانا محمد انور شاہ صاحب ؒ فرمایا کرتے تھے کہ: ’’اس زمانے میں دین اسلام کی سب سے بڑی خدمت مرزائیت کی تردید کرنا ہے۔‘‘ اسی وقت سے میں اس کام میں لگا ہوا ہوں۔‘‘
- اس کے بعد حضرت اقدس ؒ شاہ عبدالقادر رائے پوری ؒ نے قاضی
صاحب ؒ سے پوچھا کہ تحقیقاتی عدالت میں حضرت شاہ صاحب (سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری ؒ) نے مرزائیوں کے بارے میں کیا بیان دیا تھا؟ قاضی صاحب نے جواب عرض کیا کہ جب چیف جسٹس مسٹر محمد منیر نے شاہ صاحب ؒ سے پوچھا کہ: ’’کیا آپ مرزا غلام احمد کو کافر کہتے ہیں؟‘‘ تو شاہ صاحب ؒ نے فرمایا کہ جب مجھ پر لدھارام والا مقدمہ چلایا گیا تھا اور لدھارام کے بیان پر مجھے بری کر دیا گیا تھا، تو آخری پیشی پر سرکاری وکیل نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ یہ مرزا کو کافر کہہ کر منافرت پھیلاتے ہیں۔ اس پر انگریز چیف جسٹس مسٹر ینگ نے مجھ سے پوچھا تھا کہ: ’’کیا آپ مرزا غلام احمد کو کافر کہتے ہیں؟‘‘ تو میں نے کہا تھا کہ ہاں! میں نے ایک دفعہ نہیں، کروڑوں دفعہ اسے کافر کہا ہے۔ اب بھی کہتا ہوں اور مرتے دم تک کہتا رہوں گا۔ یہ تو میرا دین وایمان ہے۔ اس پر مسٹر ینگ نے سرکاری وکیل سے کہا تھا کہ: ’’لو ان سے اور سوال کرو۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے مجھے کہا تھا کہ: ’’آپ تشریف لے جائیں۔ یہ آپ کا مرزا کو کافر کہنا کوئی جرم نہیں ہے۔‘‘ یہ قصہ مسٹر محمد منیر کو سنا کر شاہ صاحب ؒ نے کہا کہ: ’’عیسائی جج نے تو اس طرح کہا تھا۔ اب معلوم نہیں مسلمان عدالت کیا کہتی ہے؟‘‘ یہ سن کر مسٹر محمد منیر نے بھی آپ کو یہی کہا کہ: ’’آپ تشریف لے جائیے۔‘‘
- اس کے بعد قاضی صاحب ؒ نے بتایا کہ میرے متعلق تحقیقاتی رپورٹ میں ججوں
نے یہ لکھ دیا ہے کہ: ’’اس شخص کی زندگی کا واحد مقصد مرزائیت کی تردید اور ان کی بیخ کنی کرنا ہے۔‘‘ چنانچہ میں نے اپنے متعلقین کو کہہ دیا ہے کہ جب میں مروں تو یہ الفاظ کاٹ کر میرے کفن میں رکھ دینا، کیا عجب کہ یہی بات میری بخشش کا سبب بن جائے
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
اور میرے متعلق خواجہ ناظم الدین نے بھی یہ بیان دیا تھا کہ: ”انہوں نے مجھے مرزائیوں کے اندرونی حالات سنا کر چونکا دیا تھا۔“ نیز قاضی صاحبؒ نے حضرت رائے پوریؒ کو بتایا کہ تحقیقاتی عدالت میں یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ مسلمان لوگ مرزائیوں کی تقریروں اور تحریروں سے اس لئے بھی مشتعل ہوتے ہیں کہ یہ لوگ مسلمانوں کی مخصوص اصطلاحات کو استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً یہ لوگ مرزا قادیانی کی بیوی کو ”سیدۃ النساء“ کہتے ہیں، اس پر مسٹر منیر نے مرزائی وکیل سے سوال کیا تو اس نے جواب دیا کہ ”سیدۃ النساء“ کا معنی ہے: ”عورتوں کی سردار‘ اس لئے ہم کہتے ہیں کہ ہمارے مرزا صاحب کی بیوی صاحبہ اپنے فرقے کی عورتوں کی سردار تھیں۔ اس پر مسٹر منیر نے میری طرف دیکھا تو میں نے کھڑے ہو کر کہا: جناب! اگر چماروں کی کوئی پنچایت ہو اور ان کا سرپنچ کسی معاملے کا فیصلہ کرے، اور پھر ان چماروں میں سے کوئی آدمی سرپنچ کی جگہ چیف جسٹس کا لفظ بولے اور یوں کہے کہ: ”ہمارے چیف جسٹس نے یوں فیصلہ دیا ہے۔“ تو اس طرح کہنا جائز ہوگا؟ مسٹر منیر نے کہا: ”Never“ یعنی ہرگز نہیں۔ قانوناً اس طرح کہنا جائز نہ ہوگا۔ کیونکہ یہ لفظ عدالت عالیہ کے ججوں کے لئے مخصوص ہے۔ اس پر میں نے کہا کہ: یہ لوگ ہم مسلمانوں کی اصطلاحیں استعمال کرتے ہیں اور مرزا قادیانی کی بیوی کو ”سیدۃ النساء“ کہتے ہیں۔ حالانکہ یہ لفظ کسی نبی کی بیوی کے لئے نہیں بولا گیا۔ خود حضور نبی اکرم ﷺ کی بیویوں کے لئے نہیں بولا گیا بلکہ حضور ﷺ کی تین بیٹیوں کے لئے بھی نہیں بولا گیا۔ یہ لفظ صرف حضور ﷺ کی چوتھی بیٹی حضرت فاطمۃ الزہراءؓ کے لئے مخصوص ہے۔ جس کو اب یہ لوگ بلا تکلف استعمال کرتے ہیں اور مسلمانوں کا دل دکھاتے ہیں۔ چنانچہ میں نے اخبار ”الفضل“ نکال کر دکھایا جس میں مرزا قادیانی کی بیوی کے انتقال کے موقع پر پہلے صفحے پر جلی حروف میں یہ سرخی دی گئی تھی: ”سیدۃ النساء کا انتقال‘ اس پر ججوں نے کہا تھا کہ: ”اس پر مسلمانوں کا مشتعل ہونا حق بجانب ہے۔“
۞ ...... قاضی صاحب نے مزید بتایا کہ ججوں نے مجھ سے یہ سوال بھی کیا تھا کہ: ”تم نے کسی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی ہے؟“ میں نے کہا تھا: میں جیل یونیورسٹی کا پڑھا ہوا
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
ہوں۔ اس کے بعد جیل کے زمانے کا واقعہ سنایا کہ مجھے اور مولانا محمد علی ؒ اور مولانا سید نور الحسن شاہ صاحب ؒ کو الگ الگ کوٹھڑیوں میں قید کیا گیا تھا۔ کچھ دنوں کے بعد میرے پاس سپرنٹنڈنٹ جیل کا لڑکا آیا کہ مجھے ادیب فاضل کے امتحان کی تیاری کرا دو۔ چونکہ میں قید تنہائی سے تنگ آچکا تھا۔ میں نے کہا: ٹھیک ہے! چنانچہ پندرہ روز اسے پڑھایا۔ دو ہفتے کے بعد سپرنٹنڈنٹ جیل کہنے لگا کہ: ”لڑکا کہتا ہے کہ قاضی صاحب نے دو ہفتے میں اتنا کچھ پڑھا دیا ہے جتنا پچھلے تین چار ماہ میں نہیں پڑھ سکا تھا۔“ اس پر میں نے سپرنٹنڈنٹ جیل کی توجہ اپنے کارڈ کی طرف منعطف کرائی جس میں میری تعلیم کے خانے میں ”Nil“ لکھا ہوا تھا۔ پھر میں سپرنٹنڈنٹ مذکور سے، جو کہ بی۔اے، ایل۔ایل۔بی تھا، پوچھا کہ ذرا مجھے یہ تو بتایئے کہ ”دیباچہ“ کا کیا معنی ہوتا ہے؟ اس نے کہا: ”یہی جو کتابوں کے پہلے لکھا ہوتا ہے۔“ میں نے کہا: جی نہیں! تعریف نہیں پوچھتا، معنی پوچھتا ہوں۔ سر کھجلا کر کہنے لگا: ”معنی تو میں نہیں جانتا“ میں نے کہا: دیباچہ کا معنی ہے چہرہ، کیونکہ انسان کا چہرہ انسان کے سب ظاہری و باطنی حالات کو ظاہر کرنے والا ہوتا ہے۔ اسی طرح کتاب کا دیباچہ یہ بتاتا ہے کہ اس کتاب میں کتنے ابواب ہیں؟ کتنی فصول ہیں؟ کتاب کا موضوع اور لکھنے کی غرض و غایت کیا ہے؟
٭...... تحریک ختم نبوت کے دوران قاضی صاحب ؒ، مولانا لال حسین اختر ؒ اور مولانا احتشام الحق تھانوی ؒ نے متعدد بار خواجہ ناظم الدین صاحب سے ملاقاتیں کیں۔ ان کے سامنے مرزائیوں کی تمام سرگرمیوں کا پس منظر و پیش منظر واضح کیا۔ پاکستان کے وجود کو تسلیم نہ کرنے، بلکہ اکھنڈ بھارت قائم کرنے کے قادیانی رؤیا دکھائے گئے۔ نیز انہیں یہ بھی بتایا گیا کہ وہ بشمول آپ، لیاقت علی خان، قائد اعظم محمد علی جناح، تمام مسلمانوں کو مسلمان نہیں سمجھتے اور مسلمانوں کے بزرگوں کو برے الفاظ سے یاد کرتے ہیں۔ مرزائیوں کی تمام چیدہ چیدہ کتابوں کے خوفناک حوالے دکھائے گئے۔ خواجہ صاحب کو جب ان تمام باتوں سے واقفیت ہوگئی تو وہ حیران رہ گئے اور ابتداءً انہوں نے ہمدردانہ غور کا وعدہ فرمایا۔ بلکہ ایک سرکلر جاری بھی کر دیا جس کی رو سے آئندہ مرزائی فرقے کو اپنے مذہب کی تبلیغ وغیرہ کی اجازت نہیں تھی۔ لیکن وہ ظفر اللہ خان
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
قادیانی کو اپنے مذہب کی تبلیغ اور جلسوں سے خطاب کرنے سے منع نہ کر سکے۔ بعد میں خواجہ صاحب نے تحریک کو بزور قوت ختم کرنے اور مسلمانوں پر گولیاں چلانے کا مظاہرہ کر کے عقیدۂ ختم نبوت کے ساتھ اپنی روایتی ”محبت وعقیدت“ کا ثبوت فراہم کر دیا۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون)
- حضرت قاضی جی ؒ کا ایک واقعہ جسے شیخ عبدالمجید صاحب سابق میونسپل کمشنر شجاع
آباد، جو قاضی صاحب کے ساتھ کافی عرصہ ایک بھائی اور دوست کی حیثیت سے رہے ہیں، بیان کرتے ہیں کہ بیماری کے ایام میں قاضی صاحب نشتر ہسپتال ملتان میں ڈاکٹر عبدالرؤف کے زیر علاج تھے۔ دوپہر کا وقت تھا، میں جاگ رہا تھا۔ قاضی صاحب کو نیند آ گئی۔ تھوڑی دیر بعد کیا سنتا ہوں کہ قاضی صاحب بڑی لجاجت سے کہہ رہے ہیں کہ: ”حضور! میں آپ کی ختم نبوت کی خاطر اتنی بار جیلوں میں گیا ہوں، میں نے ملک کے ذمہ دار حکمرانوں کو قادیانیت کے فتنے سے آگاہ کیا ہے، حضور! یہ سب کچھ میں نے آپ کی خاطر کیا ہے۔“ اس کے تھوڑی دیر کے بعد درود شریف پڑھنے لگے۔ میں یہ سمجھا شاید قاضی صاحب کا آخری وقت ہے، مگر تھوڑی دیر بعد وہ خود بخود بیدار ہو گئے۔ ہشاش بشاش تھے اور درود شریف پڑھ رہے تھے۔ مجھ سے انہوں نے کوئی بات نہیں کی اور نہ ہی خواب کا واقعہ بتایا۔ اللہ تعالیٰ حضرت قاضی صاحب ؒ کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس کی نعمتوں سے مالا مال فرمائے۔ آمین!
- ایک بار قاضی صاحب ؒ کو گرفتار کرنے رات کے دو بجے پولیس ان کے گھر پہنچی
تو قاضی صاحب ؒ نے پولیس افسر کو مخاطب کر کے کہا کہ: ”میں تو کئی روز سے تمہارا انتظار کر رہا تھا۔“
- ١٩٦١ء میں جب امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ نے رحلت فرمائی تو ان
کی جانشینی کے طور پر قاضی صاحب ؒ کو ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کا باضابطہ صدر منتخب کر لیا گیا۔
- تحریک ختم نبوت کی اسیری کے دنوں میں جیل میں آپ کو اپنے والد قاضی محمد
امین ؒ کی طبیعت کی ناسازی کی اطلاع ملی۔ روز بروز حالت بگڑتی رہی۔ بے
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
ہوشی کے دوروں میں بھی شدت پیدا ہوگئی۔ جب ہوش میں آتے تو دروازے کی طرف دیکھ کر پوچھتے کہ: ”میرا چاند احسان ابھی تک نہیں آیا؟“ پھر بالآخر اسی حالت میں اپنے لخت جگر کو آخری بار ایک نظر دیکھ لینے کی حسرت پوری کئے بغیر خالق کائنات سے جاملے۔
- ان کے غیر متزلزل عزم و ہمت کا ایک اور واقعہ ١٩٥٣ء میں پیش آیا۔ مولانا قاضی
احسان احمد ؒ تحریک ختم نبوت کے سلسلے میں ملتان جیل میں نظر بند تھے۔ اسی دوران ان کے والد ماجد انتقال کر گئے۔ جیل کے حکام نے مولانا سے کہا کہ: ”اگر آپ اعلیٰ حکام سے معافی مانگ لیں تو آپ کو رہا کیا جاسکتا ہے اور آپ اپنے والد ماجد بزرگوار کی نماز جنازہ میں شرکت کرسکتے ہیں۔“ مولانا نے خشمگیں انداز میں کہا کہ: ”میں نے یہ جیل رسول اکرم ﷺ کے نام کے تحفظ کی خاطر قبول کی ہے۔ آپ یہ چاہتے ہیں کہ میں رسول اکرم ﷺ کو بھول جاؤں اور والد کی محبت سے متاثر ہو کر آقائے نامدار ﷺ کو دھوکا دے جاؤں؟ میں عاشق رسول ہوں، مجھ پر اس جیسی ہزار مصیبتیں بھی اگر نازل ہو جائیں تو بھی میں اف نہ کروں گا۔“ جیل کے حکام مولانا کے اس دلیرانہ جواب کو سن کر اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔
- مولانا قاضی احسان احمد ؒ جب کبھی کسی جلسے یا تقریب میں جاتے تو طلباء کا ایک
ہجوم انہیں گھیر لیتا اور ان سے آٹوگراف کا تقاضا کرتا، مولانا نوجوانوں سے بڑی شفقت اور محبت سے پیش آتے تھے۔ وہ اکثر اپنے آٹوگراف میں یہ شعر لکھتے:
- قاضی صاحب ؒ کو یہ سعادت نصیب ہوئی کہ انہوں نے تحریک آزادیٔ وطن اور
تحریک ختم نبوت کے لئے باپ اور بیٹے دونوں کی قربانی دی۔ جب ان کا اکلوتا بیٹا فوت ہوا تو وہ کلکتہ میں تھے۔ بیٹے کا منہ بھی نہ دیکھ سکے۔ جب ان کے والد قاضی محمد امین ؒ کا انتقال ہوا تو وہ ختم نبوت کی تحریک میں نظر بند تھے اور ان کے جنازے کو کندھا تک نہ دے سکے۔ ایک انسان اس سے زیادہ اور کیا کرسکتا ہے۔ اس کی عزیز ترین متاع اس کی اولاد ہوتی ہے اور اہم ترین پونجی بزرگوں اور والدین کی شفقت،
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
قاضی صاحبؒ نے یہ دونوں اسلام اور قوم کے نام پر قربان کر دیں۔
- عشق رسول کی تاثیر تھی کہ کئی منکرین ختم نبوت ان کی تبلیغ سے قادیانیت سے نکل کر
دوبارہ حلقہ بگوش اسلام ہو گئے۔ ایک سی ایس پی افسر جو کوئٹہ ڈویژن کے کمشنر تھے۔ قاضی صاحبؒ کے دوست تھے۔ مگر قادیانیت سے متاثر تھے۔ نہ صرف ان کے دماغ کی تطہیر کی ۔ بلکہ ان کو اس کام پر لگا دیا کہ ان کا شمار بھی مرزائیت کے بدترین مخالفوں میں ہونے لگا۔ اسی کمشنر نے بہت سے قادیانی دوستوں کو، اور ان کو جو قادیانیت سے متاثر تھے۔ جمع کیا، اور پھر قاضی صاحبؒ کو شجاع آباد سے بلایا۔ قاضی صاحب مرزا غلام احمد قادیانی کی تصنیفات لے کر کوئٹہ پہنچے۔ اس مسئلے پر ان سے گفتگو رہی۔ یہاں تک کہ ساری رات کتابوں کے ورق الٹتے رہے۔ حوالوں پر حوالہ دیا جاتا رہا۔ قاضی صاحب مرحوم اپنی زندگی کی اس قیمتی رات کا اکثر تذکرہ کرتے اور خداوند کریم کا شکر بجالاتے۔
- حضرت شاہ صاحبؒ کے شاگرد خاص اور قادیانی مسئلے میں شمشیر برہنہ تھے۔
آپ نے زندگی بھر قادیانیت کا مقابلہ کیا اور اس طرح شکستیں دیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے جانشین ان کے نام سے کانپتے تھے۔ قاضی صاحبؒ قادیانیت کے سلسلے میں انسائیکلوپیڈیا تھے۔ اپنے ساتھ قادیانی لٹریچر کا بستہ رکھتے، وزیر اعظم، وزیروں، گورنر جنرل اور گورنروں کے ہاں پہنچ جاتے۔ انہیں مرزا غلام احمد قادیانی کی تصنیفات میں سے پوچ تحریریں اور بے نقط گالیاں دکھاتے اور کانوں پر ہاتھ رکھتے اور کہتے کہ: ”اس فاتر العقل نے اپنے نبی ہونے کا اعلان کیا تھا ۔“ قاضی صاحبؒ سحر طراز خطیب تھے۔ آپ کا ١٩٦٦ء میں انتقال ہو گیا۔
- مرض وفات میں اچانک آنکھ کھولی۔ دونوں ہاتھ پھیلا دیئے۔ قریب بیٹھے احباب
سے فرمایا: ”ہٹ جاؤ! وہ دیکھو! مجھے لینے کے لئے آگئے ہیں۔ وہ مجھے خوشبو آرہی ہے ۔“ یہ کہہ کر کلمہ پڑھا، کروٹ بدلی، آنکھ بند کی اور ہمیشہ کے لئے سوگئے۔ اللہ رب العزت ان کی قبر کو بقعۂ نور بنائے۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
(٣)
مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھری رحمۃ اللہ علیہ
(وفات: ٢١/ اپریل ١٩٧١ء)
حضرت مولانا محمد علی جالندھری ضلع جالندھر تحصیل نکودر کے گاؤں رائے پور ارائیاں میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم حضرت شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ کے تلمیذ ارشد حضرت مولانا مفتی فقیر اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل کی۔ جالندھر میں حضرت مولانا خیر محمد جالندھری رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں آپ نے مزید تعلیم حاصل کی۔ دارالعلوم دیوبند میں دورہ حدیث شریف حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ سے آپ نے پڑھا۔ تکمیل کے بعد اپنے استاذ گرامی قدر حضرت مولانا خیر محمد جالندھری رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ مدرسہ فیض محمدی جالندھر میں استاذ مقرر ہوئے۔ کئی سال تک تدریس کی۔ اس دوران میں آپ کی تقریروں کے چرچے ہونے لگے۔ مدرسہ فیض محمدی کے سالانہ جلسہ پر حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ ، حضرت مولانا حبیب الرحمان لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ اور دوسرے احرار رہنما تشریف لائے تو حضرت جالندھری رحمۃ اللہ علیہ کو مجلس احرار اسلام میں لے گئے۔
آپ نے محنت اور جذبہ دینی کے تحت مجلس احرار اسلام کے پلیٹ فارم سے انگریز کو دیس نکالا دینے کے لئے گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ حضرت امیر شریعت رحمۃ اللہ علیہ، مولانا حبیب الرحمان لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ، ماسٹر تاج الدین رحمۃ اللہ علیہ، شیخ حسام الدین رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر احرار رہنماؤں کی رفاقت نے آپ کی صلاحیتوں کو جلا بخشی۔ آپ آل انڈیا مجلس احرار اسلام کی مرکزی ورکنگ کمیٹی کے رکن منتخب ہوئے اور یوں مجلس احرار کے صف اوّل کے رہنماؤں میں آپ کا شمار ہونے لگا۔ مجلس احرار اسلام پنجاب کے آپ صدر منتخب ہوئے۔ قیام پاکستان سے قبل آپ نے ملتان کی مسجد سراجاں حسین آگاہی کی خطابت سنبھالی۔ یہاں مدرسہ محمدیہ قائم کیا۔ پاکستان بننے کے بعد مفتی فقیر اللہ رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت مولانا خیر محمد جالندھری رحمۃ اللہ علیہ کے خاندان کے پاکستان میں آپ میزبان قرار پائے۔ جامعہ خیر المدارس ملتان کا قیام آپ کی مخلصانہ محنت کا شاہد عدل ہے۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سب سے پہلے جنرل سیکرٹری آپ منتخب ہوئے۔ جبکہ صدر مرکزیہ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ تھے۔ حضرت امیر شریعتؒ کی قیادت باسعادت میں حضرت جالندھریؒ اور حضرت ہزارویؒ نے تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء کی نیو اٹھائی۔ پوری دینی قیادت اور تمام مکاتب فکر کے زعماء کو گویا آگ پانی کو قادیانیت کے خلاف ایک سٹیج پر جمع کر دیا۔ تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء میں حکومتی ظلم کی بھٹی میں پسی ہوئی قوم کو قادیانیت کے مقابلہ میں دوبارہ سہارا دیکر کھڑا کرنا حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاعبادیؒ اور حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کا وہ کارنامہ ہے جس پر وہ امت کی طرف سے شکریہ کے مستحق ہیں۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے تمام تر کام کو ایک منظم شکل میں پرونا حضرت جالندھریؒ کا سنہری کارنامہ ہے۔ حضرت تھانویؒ، حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ، حضرت امیر شریعتؒ، حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ، حضرت مفتی فقیر اللہؒ کی صحبتوں نے آپ کی شخصیت کو تابدار موتی کی طرح نکھار دیا تھا۔ آپ کی بیعت قطب الارشاد شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ سے تھی۔ آپ نے حضرت ہالیجویؒ اور حضرت مولانا محمد عبداللہ بہلویؒ اور خانقاہ دین پور سے بھی اصلاحی تعلق رکھا۔ جمعیۃ علمائے اسلام کے قیام میں آپ کی مخلصانہ کوششوں کا بہت بڑا دخل ہے۔ جمعیۃ علمائے اسلام کا پہلا اجلاس جو مدرسہ قاسم العلوم ملتان میں ہوا۔ اس میں حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ نے اپنے صدارتی خطبہ میں حضرت جالندھریؒ کا نام لے کر فرمایا کہ میرے خیال میں صدر اجلاس حضرت جالندھریؒ کو ہونا چاہئے تھا۔ حضرت لاہوریؒ کا یہ صدارتی مطبوعہ خطبہ آج بھی اکابر کا حضرت جالندھریؒ پر بھر پور اعتماد کا مظہر اتم ہے۔ حضرت جالندھریؒ حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ کے بعد مجلس تحفظ ختم نبوت کے سربراہ مقرر ہوئے۔ تب آپ کے عہد امارت میں مولانا لال حسین اخترؒ نے یورپ اور فجی آئی لینڈ میں جا کر ختم نبوت کی اذانیں دیں۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کو ملک گیر بلکہ عالمگیر بنانے میں حضرت جالندھریؒ کی قیادت باسعادت کا نتیجہ ہے۔ کراچی سے کلکتہ اور ڈھاکہ سے فجی ولندن تک آپ کی مخلصانہ جدوجہد نے قادیانیت کے ارتدادی سیلاب کے سامنے ناقابل تسخیر بند باندھ دیا۔ آپ کی ذات گرامی میں قدرت نے وہ صلاحیتیں ودیعت فرما دی تھیں جن کے نکھرنے سے قادیانیت دم بخود ہو گئی۔ آپ کو دل کے عارضہ کی پہلی تکلیف سلانوالی کے جلسہ میں ہوئی۔ ملتان تشریف لائے۔ زیر علاج رہے
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
اور یہاں ملتان میں خالق حقیقی سے جاملے۔ جامعہ خیرالمدارس میں اپنے مربی حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ کے پہلو میں استراحت فرما ہیں۔
متفرقات
مولانا جمال اللہ الحسینی (پنوعاقل) مبلغ سندھ راوی ہیں کہ: دفتر ختم نبوت ملتان جن دنوں بیرون لوہاری دروازے میں واقع تھا، حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ دفتر میں تشریف رکھتے تھے۔ پولیس انسپکٹر آیا، اس نے ایک کاغذ نکالا اور مولانا کے آگے رکھ کر کہا کہ: ”آپ کا فلاں ضلع میں داخلہ بند ہے۔ اس پر آپ دستخط کردیں۔“ مولانا نے فرمایا کہ: ”صرف دستخط یا کچھ لکھ بھی سکتا ہوں؟“ اس نے کہا کہ: ”نہیں! صرف دستخط۔“ فرمایا: ”میں نہیں کرتا۔“ اس نے کہا کہ: ”جناب ڈپٹی کمشنر کا حکم ہے۔“ فرمایا: ”کسی کا ہو، میں دستخط نہیں کرتا۔“ اس نے کہا: ”کیوں؟“ فرمایا: ”میری مرضی۔“ اس نے سخت لہجے میں کہا کہ: ”کرنے ہوں گے۔“ یہ کہنے کی دیر تھی کہ آپ نے فوراً پھرتی میں ہاتھ اس کے گلا کی طرف بڑھا کر اس کا پستول نکال کر اپنے قدموں کے نیچے رکھ کر اس پر بیٹھ گئے۔ مولانا کے جلدی میں یہ اقدام کرنے سے وہ اتنا مبہوت ہو گیا کہ اس کی پیشانی پسینے سے شرابور ہوگئی۔ اس کی حالت دیکھ کر حضرت مولاناؒ نے فرمایا کہ: ”یہ تھانہ نہیں، ختم نبوت کا دفتر ہے۔ آپ کو پستول کا نشہ تھا، میں نے کافور کر دیا۔ اب سنئے! میں صرف دستخط نہیں کروں گا بلکہ ضلع بندی کے آرڈر پر لکھوں گا کہ اگر اس ضلع میں مرزائی تبلیغ نہیں کرتے تو میں نہیں جاؤں گا، ضلع بندی کے احکام کی پابندی کروں گا۔ اگر مرزائی اس ضلع میں تبلیغ کرتے ہیں یا کریں گے تو پھر میں احکام ضلع بندی توڑ کر جاؤں گا اور اپنا فریضۂ تبلیغ ادا کروں گا۔“ اس نے کہا: ”جناب! آپ یہی لکھ دیں۔“ چنانچہ آپ نے یہ لکھ کر دستخط کر کے پستول اور کاغذ اس کو پکڑا دیا۔ اس نے جھک کر سلام کیا۔ آپ نے اس کی پشت پر ہاتھ پھیر کر جواب دیا اور معاملہ ختم ہوگیا۔
قادیانیوں کے گڑھ میں دھواں دار تقریر
مولانا جمال اللہ راوی ہیںؒ کہ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کنری ضلع تھرپارکر میں تبلیغ کے لئے تشریف لے گئے۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب سندھ میں مرزائیت کا طوطی بولتا تھا۔ ہندو مرزائی گٹھ جوڑ، بے پناہ زمین و سرمایہ، سات اسٹیشن تک گاڑی کا مرزائیوں کی زمین
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
سے گزرنا، اقتدار کے باعث ان کے خلاف کسی کو کچھ کہنے کی جرات نہ تھی۔ ادھر بیچارے غریب مسلمان، وہ بھی ان سے مرعوب، رات کو جلسہ شروع ہوا، قادیانیوں نے بندوقیں لے کر جلسے کا محاصرہ کر لیا۔ انسپکٹر آیا۔ اس نے کہا کہ: ”مولانا! آپ تقریر نہ کریں۔“ فرمایا: ”کیوں؟ پابندی ہے؟“ اس نے کہا کہ: ”پابندی تو نہیں۔“ فرمایا: ”پابندی نہیں تو جلسہ ہوگا۔“ اس نے کہا کہ: ”اچھا! آپ تقریر کریں۔ مگر مرزا قادیانی کا نام نہ لیں۔“ فرمایا: ”کیوں؟“ پولیس آفیسر نے کہا کہ: ”خطرہ ہے۔“ فرمایا کہ: ”تم پولیس والے کس مرض کی دوا ہو؟ انتظام کرو۔“ اس نے کہا کہ: ”میرے پاس نفری نہیں۔“ فرمایا: ”بہت اچھا۔“ اسٹیج سے اترے (جو مسجد کے صحن میں تھا)، مسجد کے ہال میں آئے۔ کاغذ نکالا۔ وصیت لکھی کہ آج شاید میری زندگی کی آخری تقریر ہے۔ جماعت کا نظام اس طرح چلایا جائے۔ میری زمین اس طرح تقسیم ہو۔ حساب کتاب کے متعلق پندرہ بیس منٹ میں لکھ کر فارغ ہو گئے۔ تن تنہا اسٹیج پر بیٹھ گئے۔ مائیک لیا اور تقریر شروع کر دی۔
فرمایا: ”مرزائیو! اگر تم مجھے مارنے کے لئے تیار ہو تو میں مرنے کے لئے تیار ہوں۔ ہے ہمت تو آؤ۔“ لوگ حیران کہ اب کیا ہوگا؟ مولانا نے فرمایا کہ: ”مجھے کہا جاتا ہے: تبلیغ نہ کرو، کیوں نہ کروں؟ قادیانی، جھوٹے نبی کی جھوٹی تبلیغ کریں اور میں سچے نبی کی سچی نبوت پر وعظ نہ کروں۔ قیامت کو آقائے نامدار ﷺ کو کیا منہ دکھاؤں گا؟“ لوگوں کی چیخیں نکل گئیں۔ فرمایا: ”کہتے ہیں: مرزا کا نام نہ لو۔ کیوں جناب! اگر اتنا برا ہے کہ اس کا نام لینا ٹھیک نہیں تو پھر نبی کیوں بنایا؟“ فرمایا: ”لوگو! شاید میری زندگی کی یہ آخری تقریر ہو۔ سن کر جاؤ۔“ اس جذبے سے چند منٹوں میں یہ بنیادی باتیں کہیں جو مسلمان ادھر ادھر تھے، مقابلے کے لئے جمع ہو گئے اور قادیانی بھاگ گئے اور حضرت نے تین گھنٹے ایسی دھواں دھار تقریر کی کہ سبحان اللہ!
- ...... دوسری دفعہ آپ پھر کنری تشریف لے گئے۔ بلدیہ کنری کی حدود میں دفعہ ١٤٤ کے
تحت جلسوں پر پابندی عائد کر دی گئی۔ آپ نے فرمایا کہ: ”کنری بلدیہ حدود سے باہر جلسہ رکھ دیا جائے۔“ چنانچہ شہر سے ایک میل باہر جلسہ رکھا گیا۔ لوگ بسوں، ویگنوں، ٹرالیوں، سائیکلوں پر وہاں پہنچ گئے اور آپ نے وہاں معرکۃ الآراء خطاب فرمایا۔
قانونی موشگافیاں
راقم الحروف کو یاد ہے کہ ایک دفعہ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کے زمانے میں
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
جب ختم نبوت کانفرنس جابہ کے جملہ انتظامات مکمل کر لئے گئے۔ مگر ضلع سرگودھا میں دفعہ ١٤٤ کے تحت جلسوں پر پابندی عائد کر دی گئی۔ چنانچہ حضرت مرحوم کے حکم پر جلسہ گاہ سے ایک میل دور جہاں سے ضلع اٹک کی حدود شروع ہوتی ہے وہاں پر پابندی نہ تھی۔ وہاں پر جلسہ رکھ کر احباب کی پریشانی دور کر دی۔ پابندی کے موقع پر قانون سے بچ کر اپنا کام کرنے میں حضرت مرحوم ایسی موشگافیاں نکالا کرتے تھے کہ بڑے بڑے ماہر قانون دنگ رہ جاتے تھے۔
حضرت جالندھریؒ کا قانونی نکتوں سے پولیس آفیسر کو زچ کرنا
کندھ کوٹ، ضلع جیکب آباد سندھ میں حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ مدرسے کے سالانہ جلسے پر تشریف لے گئے۔ پولیس آپ کے تعاقب میں تھی۔ مقامی احباب کو پریشانی لاحق ہوئی۔ انہوں نے تیسری منزل پر آپ کو ٹھہرایا۔ پولیس کو اطلاع ہوئی۔ پولیس آفیسر بھاری بھرکم ہانپتا کانپتا تیسری منزل پر مخبری پا کر آدھمکا۔ حضرت مرحوم کو ضلع جیکب آباد کی حدود میں داخلہ بندی کا آرڈر دے کر کہا کہ : ”آپ اس پر دستخط کردیں۔“ آپ نے آرڈر دیکھتے ہی فرمایا کہ: ”یہ انگلش میں ہے اور میں انگلش نہیں جانتا۔ نہ معلوم اس میں کیا لکھا ہے؟ ایس ایم سے اردو ترجمہ کرا کر لاؤ۔ پھر دستخط کروں گا۔“ وہ چلا گیا۔ آپ نے منتظمین جلسہ کو بلا کر کہا کہ : ”مشورہ کر لو۔ اگر تقریر کرنی ہے تو میں حاضر ہوں۔“ وہ مشورے میں لگ گئے۔ اتنے میں آفیسر ترجمہ کرا کر آ گیا۔ آپ نے دیکھ کر فرمایا کہ : ”اس پر مہر نہیں ہے۔ مجھے کیا معلوم کہ کس نے ترجمہ کیا ہے؟ مہر لگوا کر لاؤ۔“ وہ بے چارہ پھر مہر لگوانے چلا گیا۔ آپ نے پھر منتظمین کو کہا کہ : ”اب بھی وقت ہے۔ میری تقریر کرانی ہے تو جلدی کرو۔“ میر صبح صادق کھوسو، جو بعد میں قومی اتحاد کی عبوری مارشل لاء حکومت میں وفاقی وزیر بھی بنے۔ وہ اور دوسرے احباب جمعیت علمائے اسلام نے مشورہ کر کے کہا کہ : ”آپ کی تقریر کے بعد مقامی احباب کو پولیس تنگ کرے گی۔“ فرمایا : ”اس کا تو میرے پاس حل ہے۔ میں اسٹیج پر چلا جاتا ہوں۔ آپ اعلان کردیں کہ ہمارا جلسہ ختم ہے۔ میں اعلان کردوں گا کہ مدرسے کا جلسہ ختم ہے اور میرا جلسہ شروع ہے۔ جو میری تقریر سننا چاہے بیٹھ جائے۔ ظاہر ہے کہ لوگ بیٹھے رہیں گے۔ میں تقریر کرلوں گا اور آپ یہ کہہ سکیں گے کہ جناب! ہم نے تو جلسہ بند کر دیا تھا۔ مولوی صاحب ہمارے بزرگ تھے وہ تقریر کرنے بیٹھ گئے۔ اب اس میں ہمارا کیا قصور ہے؟“ مگر مقامی احباب منتظمین جلسہ اس تجویز پر بھی آمادہ نہ ہوئے۔ اتنے میں
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
پولیس آفیسر پھر مہر لگوا کر آ گیا۔ آپ نے فرمایا کہ: ”اس میں لکھا ہے کہ تمہارا داخلہ بند ہے۔ میں تو داخل ہو چکا ہوں۔ لہٰذا میں لکھوں گا کہ: ”دستخطوں کے بعد جو پہلی گاڑی ملے گی اس پر چلا جاؤں گا۔“ انسپکٹر نے کہا: ”ٹھیک ہے۔“ آپ نے دستخط کر دیئے۔ جلسے والوں کو بلا کر فرمایا کہ: ”جب تک ٹرین نہ آئے ۔ میں قانوناً یہاں رہ سکتا ہوں۔ زبان بندی ہے نہیں، اس لئے اب بھی تقریر کے لئے گنجائش موجود ہے۔“ اس پر بھی وہ آمادہ نہ ہو سکے۔
مجاہد ملت ؒ کی تین طبقوں کو قیمتی نصائح
ایک دفعہ ایک جلسے میں دوران تقریر فرمایا: دیکھو! میں اپنی عمر کے آخری پیٹے میں ہوں۔ بوڑھا ہو گیا ہوں۔ شاید جدائی کا وقت قریب ہو، میں تین طبقوں سے ایک ہی درخواست کرنا چاہتا ہوں۔ شاید آپ اس پر عمل کر کے میری قبر ٹھنڈی کریں۔
- ١....... سرکاری حکام اور ارباب حل و عقد کو میری وصیت ہے کہ وہ عقیدۂ ختم نبوت کے وفادار
بن کر رہیں اور کسی عہدے کے لالچ یا دنیا کی عارضی عزت کے بدلے جناب رسول اللہ ﷺ سے بے وفائی کرتے ہوئے منکرین ختم نبوت کی مدد یا حوصلہ افزائی نہ کریں۔ ورنہ ان کا حشر وہی ہو گا جو ان سے پہلے ان حکام کا ہو چکا ہے، جنہوں نے آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت کا عہد وفا توڑ دیا اور دشمنان عقیدۂ ختم نبوت کے ہاتھ مضبوط کئے۔ پھر چند ایسے بدنام زمانہ حکام اور افسران کے واقعات بھی سنائے۔
- ٢....... علمائے کرام کو خبردار کرتا ہوں کہ ان کی یہ درس گاہیں جو ان کے لئے آرام گاہیں بن
چکی ہیں، انہیں میسر نہیں رہیں گی۔ جب ایسی حالت آ جائے تو ثابت قدمی سے دین پر خود بھی قائم رہیں اور اشاعت دین بھی کرتے رہیں۔ ایسے حالات میں رستوں پر بیٹھ کر اور درختوں کے سائے میں ڈیرہ ڈال کر اللہ کریم کا دین پڑھاتے اور سکھاتے رہیں۔ آپ کے اسلاف نے ایسا کر کے دکھایا ہے۔ اس کے برعکس ایسے حالات بھی آئیں گے کہ ملازمت یا عہدے کا لالچ دے کر علماء کو خدمت دین سے باز رکھا جائے گا۔ خدارا! بھوکوں مرجانا، مگر اللہ کریم کے دین سے بے وفائی کر کے اس دنیا کی فنا ہونے والی عزت پر نقد دین نہ لٹانا۔ دین سکھاتے رہنا بے شک کچھ ہو جائے۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
- ......٣ عام لوگوں سے میری درخواست ہے کہ ایک وقت ایسا آسکتا ہے جب عقیدۂ ختم نبوت
کا نام لینا جرم بن جائے گا۔ اللہ کرے ایسا نہ ہو۔ لیکن اگر حالات تمہیں ایسے موڑ پر لاکھڑا کر دیں تو جان دے دینا مگر یاد رکھنا! نبی اکرم ﷺ سے دنیا کی عارضی تکلیف پر بے وفائی نہ کرنا اور اپنے عقیدے پر جمے رہنا۔ یہاں تک کہ موت تمہیں ان عارضی چیزوں سے بچا کر اللہ کریم کی دائمی نعمتوں والی جنت میں داخل کر دے۔
قومی امانت کی حفاظت کے چند واقعات
مولانا عبدالرؤف ازہری راوی ہیں کہ ١٩٧٠ء کے انتخابات میں مجاہد ملتؒ کو اپنے رفیق راہ وفا مولانا مفتی محمودؒ کے انتخابی حلقے ڈیرہ اسماعیل خان جانے کا اتفاق ہوا۔ میں ساتھ تھا۔ زاد راہ ان کی جذبہ فروشی اور ان کی گرمی نفس کے سوا صرف ایک بستر ایک لوٹا۔ ایک بکس جس میں چند کتب اور ادویات اور پیرانہ سالی کا سہارا عصا تھا۔ مجھے بستر اور لوٹا دیتے اور خود بکس اور عصا اٹھاتے۔ رات کو خود اپنی عبا (اوورکوٹ) میں سو جاتے اور مجھے سونے کے لئے بستر عنایت کر دیتے۔ واپسی پر ڈیرہ اسماعیل خان سے ہمیں چکوال آنا تھا۔ راستے میں میانوالی رکنا پڑا۔ جب بس سے اترے تو تانگے والے نے روپیہ مانگا۔ آپ نے آٹھ آنے دینا چاہے۔ وہ راضی نہ ہوا تو آپ پیدل چل پڑے اور مجھے کہتے جاتے تھے : ”دیکھو ہمارے پاس مجلس تحفظ ختم نبوت کا پیسہ امانت ہے۔ اگر آج اپنے آرام و راحت پر اڑا دوں تو کل اللہ تعالیٰ کو کیا جواب دوں گا؟“ اب میں نے کوشش کی کہ بستر اور بکس دونوں بھاری ہیں۔ دونوں خود اٹھالوں۔ اس پر ناراض ہو کر فرمانے لگے: ”یہ انصاف نہیں کہ تم سارا بوجھ اٹھا کر چلو اور میں خالی ہاتھ چلوں۔“
- ......❁ حضرت مولانا محمد عبداللہ ساہیوال نے فرمایا کہ ایک دفعہ میں اور مولانا خیر محمدؒ (جو
مولانا محمد علی جالندھریؒ کے استاذ اور مربی تھے) ایک تبلیغی سفر پر تھے۔ ہمیں لاہور میں ایک جلسے سے خطاب کرنا تھا۔ دوران سفر ہمیں دیو اشتہا (بھوک) نے ستایا۔ مولانا خیر محمدؒ نے مجھے فرمایا : ”کوئی سستی چیز پکوڑے وغیرہ لے کر آنا۔ زیادہ خرچ نہ کرنا۔ محمد علی کو چل کر حساب دینا ہے۔“ یہ وہ زمانہ تھا جن دنوں وہ برصغیر (متحدہ پاک و ہند) کے مدرسہ خیر المدارس میں خازن اور مدرس تھے۔
- ......❁ مولانا حامد علی رحمانیؒ کہتے ہیں ایک بار میں نے مجاہد ملتؒ کے ساتھ اپنے
شہر حسن ابدال سے بالاکوٹ تک سفر کیا۔ راستے میں بھوک لگی تو آپ نے مکئی کے دو
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
بھٹے لئے۔ ایک مجھے عنایت کر دیا۔ دوسرا خود کھانے لگ گئے۔ مجھے کچھ عجیب سا لگا۔ وہ میرے انداز سے بھانپ گئے۔ فرمایا: ”تیری ناگواری کا مجھے احساس ہے۔ مگر میری بھی مجبوری ہے۔ میرے پاس پیسہ قوم کا ہے۔ جو انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی ختم نبوت کی حفاظت کے لئے مجھے دیا ہے۔ آج کھا پی کر اڑا لوں تو کل قیامت کو جواب دینا پڑے گا۔“
وعدے کا پاس
- مولانا محمد صدیق صاحب شیخ الحدیث جامعہ خیر المدارس (ملتان) کہتے ہیں کہ مولانا
ایک بار ہمارے گھر تشریف لائے تو لنگڑاتے ہوئے چلے آ رہے تھے۔ اپنی بیٹی سے کہا: ”مجھے ہلدی، گھی اور روئی کا مرہم بنا دو۔“ پھر ہمیں پورا واقعہ سنایا کہ تقریر کے لئے کہیں وعدہ کر رکھا تھا۔ ریل گاڑی اس طرف ٢٤ گھنٹوں میں صرف ایک بار جاتی تھی۔ آپ تاخیر سے اسٹیشن پر پہنچے۔ گاڑی چل چکی تھی۔ بھاگے اور گر گئے۔ گھٹنے پر سخت چوٹ لگی مگر اس چوٹ کا زخم اس چوٹ کے زخم پر حاوی نہ ہو سکا جو مرزا قادیانی کے آنحضرت ﷺ کے تاج و تخت ختم نبوت پر شب خون مارنے سے ان کے دل پر لگ چکی تھی۔ سنبھلے اور بھاگنا شروع کیا۔ بستر وغیرہ وہیں پھینک دیا۔ مگر گاڑی پکڑنے میں کامیاب ہو گئے۔ کہتے تھے: ”اللہ کا شکر ہے وعدہ پورا ہو گیا۔“
- مولانا حامد علی رحمانی صاحب ؒ کہتے ہیں کہ آپ نے ہمارے ٹیکسلا کے مدرسے
کے جلسے سے خطاب کرنے کے لئے وقت دے رکھا تھا۔ آپ نے مری میں تقریر کر کے یہاں پہنچنا تھا۔ ہم نے بار بار اعلان کرایا کہ آپ تشریف لائیں گے۔ آپ جس موٹر میں سوار تھے وہ راستے میں خراب ہو گئی۔ آپ کی تاخیر ہمارے لئے باعث تشویش بن گئی۔ مگر مجھے یقین تھا کہ وہ وعدہ ضرور پورا کریں گے۔ رات ٹھیک گیارہ بجے آپ بذریعہ ٹیکسی اور کچھ پیدل سفر کر کے ٹیکسلا پہنچ گئے۔ ہمارے چہرے خوشی سے کھل گئے۔ معذرت خواہی کے انداز میں فرمایا: ”تمہیں میرے انتظار سے تکلیف ہوئی ہوگی۔ مگر گاڑی خراب ہوگئی۔ بس اللہ پاک نے اپنے کرم سے پہنچا دیا۔“ میں نے عرض کیا: ”کھانا کھالیں۔“ فرمایا: ”بس پانی کا گلاس پلا دو۔“ پھر تقریر شروع کی
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
اور متواتر دو گھنٹے تک بولتے رہے۔ ایسے لگتا تھا گویا الہامی تقریر ہے۔ سامعین پر گریہ طاری کر دیا:
مؤمنانہ فراست
- دین پور شریف عرف جٹاں والا (ضلع بہاولنگر) کے مدرسہ والوں نے اپنے سالانہ جلسے
میں آپ کو مدعو کیا۔ جلسے کے اشتہار میں آپ کے ساتھ دیگر علمائے کرام کے اسمائے گرامی بھی تھے۔ تاریخ جلسہ سے تقریباً دو تین دن قبل کسی بداندیش نے منتظمین جلسہ کی جانب سے جعلی خطوط تمام مدعوین کو ارسال کئے، جن کا مضمون تھا: ”جلسے کا پروگرام بعض ناگزیر وجوہ کی بناء پر ملتوی کر دیا گیا ہے۔“ آپ اپنی مؤمنانہ فراست سے بھانپ گئے کہ معاملہ کچھ اور ہی ہے۔ لہٰذا جلسے کے پہلے روز ہی دین پور تشریف لے گئے۔ پتہ چلا کہ کسی دشمن دین نے تمام مدعوین کو ایسے خطوط لکھ دیئے تھے۔ لہٰذا کوئی صاحب بھی تشریف نہ لائے۔ آپ اکیلے تین دن مختلف اوقات میں تقاریر کرتے رہے۔ منتظمین جلسہ خوش تھے کہ ان کا جلسہ کامیاب ہو گیا۔ سامعین کا اجتماع اپنے آپ کو سعادت مند سمجھ رہا تھا کہ اس نے ایسے خطیب کی باتیں سن لیں جن کا بدل ان کی آنکھیں اب نہیں دیکھ سکیں گی۔ مولانا محمد علیؒ اس لئے خوش تھے کہ نبی اکرم ﷺ کے دین کی اشاعت کے لئے ایک پروگرام طے پایا تھا۔ اللہ نے اسے کامیاب کر دیا۔ منتظمین جلسہ کو ندامت ہوئی ، نہ سامعین کو حسرت رہی۔
- مسٹر جسٹس منیر نے اپنی انکوائری رپورٹ میں مولانا محمد علیؒ کے متعلق لکھا: ”اور
محمد علی جالندھریؒ نے جو مجلس احرار کے ممتاز ممبر تھے، اپنے آپ کو اس تحریک (ختم نبوت) کا داعی مبلغ بنا دیا۔ گویا احمدیوں (مرزائیوں) کی مخالفت ہی ان کی زندگی کا واحد مقصد تھا۔“
واضح اور صاف ستھرا حساب کتاب
- مولانا حبیب اللہ فاضل رشیدی کہتے ہیں کہ ایک بار رات کو آپ جماعت کا حساب
چیک کر رہے تھے۔ آمدن اور خرچ میں ایک پیسے کا فرق تھا۔ حساب کو برابر کرنے کے
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
لئے رات بھر جاگتے رہے۔ جب صبح رفقاء نے اس شب بیداری کا سبب پوچھا تو راز کھلا کہ جماعت کا ایک پیسہ کہیں ضائع ہو رہا تھا۔ انہیں اس کی تلاش تھی۔ لہٰذا جب تک وہ مل نہ گیا ان کی آنکھ سو نہ سکی۔
- ...... مولانا عبدالرحیم اشعر ؒ کہتے ہیں کہ ایک بار سفر پر جاتے وقت مجھے بلا کر فرمایا:
”یہ خزانے کی چابی ہے۔ تم فرض کر لو، محمد علی مر گیا۔ اب تم جماعت کا حساب کتاب چیک کرو اور دیکھو کہیں میری کوئی ایسی کوتاہی تو نہیں رہ گئی جو کل آپ حضرات کے لئے پریشانی کا باعث بنے۔“ میں نے سیف کھولا تو اندر ایک کاغذ تھا جس پر مدات آمد اور خرچ کی درج تھیں۔ میں نے دیکھا تو تمام حساب برابر تھا اور اتنا واضح کہ مجھے سمجھنے میں کوئی دشواری پیش نہ آئی۔
جماعت کے فنڈات کی حفاظت انہیں نہایت عزیز تھی۔ فرمایا کرتے تھے: ”مجھے لوگ جماعت کے فنڈات کے استعمال میں بخیل ہونے کا طعنہ تو دے سکتے ہیں۔ مگر فضول خرچی کا الحمد للہ ! طعنہ نہیں دے سکیں گے۔“
جماعت کے فنڈ کو مستحکم کرنے کا نسخۂ کیمیا
- ....... آپ نے ایک دفعہ کسی کارکن کو فرمایا: ”آپ کو بتاؤں جماعت کے فنڈات کیونکر
بچائے اور بڑھائے جاتے ہیں؟ کارکنان جماعت اپنی ذات پر کم از کم یا بالکل ہی خرچ نہ کریں تو دینی جماعتیں امیر بن جائیں۔“ پھر وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: ”دیکھو! جب آپ دینی پروگرام سے واپسی پر ریلوے اسٹیشن یا بس اسٹاپ پر اتریں تو وہاں سے اپنی جائے منزل تک سستی سے سستی سواری لیا کریں۔ اگر ٹیکسی اور رکشہ ہوں تو رکشہ کریں۔ رکشہ اور تانگہ ہوں تو تانگے پر سوار ہوں اور اگر وہاں تانگے کے لئے عام سواریاں ہوں تو اکیلے تانگہ کرایہ پر نہ لیں۔ عام سواریوں کے ساتھ سوار ہو کر سفر کریں۔ اس سے نفس بھی پامال ہوگا اور عام لوگوں کے ساتھ سفر کرنے میں ان سے تعلق بھی پیدا ہوگا۔ جو بذات خود نیکی کا کام ہے اور اگر مسافت زیادہ نہ ہو تو پیدل چل کر آئیں۔ میرے اس فارمولے پر عمل کریں۔ آپ کی جماعت کے فنڈات بڑھتے جائیں گے۔ الحمد للہ ! میں تو ایسا ہی کرتا ہوں۔“
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
مشن ختم نبوت سے لگاؤ
- ایک دفعہ آغا شورش کاشمیری ؒ نے اپنی افتاد طبع کے باعث مولانا محمد علی
جالندھری ؒ کے خلاف اپنے ”چٹان“ میں ایک نوٹ لکھ مارا۔ کچھ عرصہ بعد مرزائیوں کے خلاف ”چٹان“ میں لکھنے کے باعث آغا شورش ؒ کے خلاف مقدمہ دائر ہو گیا۔ گرفتار ہو گئے۔ مولانا محمد علی جالندھری ؒ نے ان کے مقدمے کی پیروی شروع کر دی۔ مولانا احتشام الحق تھانوی ؒ کے پاس کراچی گئے اور ایوب خان کو شورش کاشمیری ؒ کی رہائی کے لئے کلمۂ خیر کہنے کو فرمایا۔ مولانا احتشام الحق تھانوی ؒ نے مولانا محمد علی صاحب ؒ کو آغا شورش کاشمیری ؒ کا تیز وتند نوٹ یاد دلایا جو وہ آپ کے خلاف لکھ چکے تھے۔ اس پر مولانا محمد علی ؒ نے مولانا احتشام الحق تھانوی ؒ سے فرمایا کہ: ”شورش نے جو کچھ لکھا ہے وہ میں نے پڑھا ہے۔ آئندہ بھی وہ لکھے گا۔ اس سے انکار نہیں۔ مگر اس وقت شورش کاشمیری چونکہ مسئلہ ختم نبوت بیان کرنے کی پاداش میں گرفتار ہوئے اور ختم نبوت کے مجاہد سپاہی ہیں۔ اس لئے ان کے مقدمے کی پیروی کرنا میرا اخلاقی و جماعتی فریضہ ہے۔ اس وقت میں شورش کی مدد کرنا عبادت سمجھتا ہوں۔“ مولانا احتشام الحق تھانوی ؒ نے یہ سنا تو جھک گئے۔ ہر آنے والے سے فرماتے کہ: ”مولانا محمد علی جالندھری کو اپنے مشن ختم نبوت سے جو لگاؤ ہے اس کی کوئی نظیر پیش نہیں کر سکتا۔“
قادیانیت کا تعاقب
- مولانا مرحوم فرمایا کرتے تھے کہ: ”اگر قادیانی چاند پر گئے تو وہاں پر بھی ان کا تعاقب
کیا جائے گا۔“ آج مولانا کے اخلاص کی برکت ہے کہ اس وقت دنیا کے تمام براعظموں میں ختم نبوت کا کام ایک مربوط نظام کے تحت ہو رہا ہے۔
ختم نبوت کے کاز سے گہری وابستگی
- مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھری صاحب ؒ خود یہ واقعہ سنایا کرتے تھے کہ:
کسی سفر میں وہ اسٹیشن پر ایسے وقت پر پہنچے کہ ریل کے آنے میں کچھ وقت تھا۔ غور کیا کہ اس مختصر سے فارغ وقت کو کیسے کام میں لایا جائے؟ چائے کے اسٹال پر گئے۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
چائے نوش کی، پیسے ادا کئے اور چائے والے سے کہا: ”میرا نام محمد علی جالندھری ہے۔ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کا نمائندہ ہوں۔ میرا پتہ یہ ہے۔ اگر خدا نہ کرے کہ کسی وقت کوئی مرزائی تمہارے علاقے میں شرارت کرے تو مجھے خط لکھ دینا۔“ مولانا مرحوم فرماتے تھے کہ سات برس بعد اس شخص کا خط آیا کہ ہمارے قصبے میں مرزائی مبلغین قادیانیت کی تبلیغ کر رہے ہیں اور انہوں نے ایک خاندان کو مرتد کر لیا ہے۔ یہ خط ملتے ہی مولانا محمد حیات فاتح قادیان وہاں پہنچے۔ قادیانیوں کو چیلنج کیا تو قادیانی بھاگ گئے اور نئے مرتد گھرانے کو قادیانیت کی حقیقت سمجھائی تو وہ دوبارہ مشرف باسلام ہوا۔ اس کے بعد قادیانیوں کو اس قصبے کا رخ کرنے کی جرات نہ ہوئی۔
- مولانا تاج محمود ؒ نے ١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت میں کامیابی کے بعد فیصل آباد
کے بڑے قبرستان شہدائے ختم نبوت ١٩٥٣ء کی قبروں کو تلاش کر کے ان پر پھول ڈالتے ہوئے لوگوں کو دیکھا تو آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ قبرستان کی دیوار پر چڑھ گئے۔ لوگ جمع تھے۔ فرمایا: ”لوگو! آج کے تمہارے اس عمل کو دیکھ کر مجھے مولانا محمد علی جالندھری ؒ کی بات یاد آ گئی۔ جب ١٩٥٣ء کی تحریک میں ہمارے ساتھیوں و کارکنوں کو گولیوں سے بھون دیا گیا تو اس کے بعد مولانا محمد علی جالندھری ؒ تقریروں میں فرمایا کرتے تھے کہ آج جن پر حکومت نے مظالم ڈھائے ہیں، ایک وقت آئے گا کہ لوگ ان کی قبروں کو تلاش کر کے ان پر پھولوں کی چادریں چڑھائیں گے۔“
- ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت سے رہائی کے بعد حضرت مولانا محمد علی جالندھری ؒ
اپنے گاؤں باڑہ، واقع صادق آباد تشریف لائے۔ باڑہ، صادق آباد سے چودہ میل کے فاصلے پر ہے۔ ایک دن لاہور سے مولانا عبدالرحیم اشعر ؒ کو گاؤں میں شام کے قریب تار آیا۔ نہر کے بنگلے پر آدمی بھیجا۔ مگر اسے پڑھنے والا کوئی نہ ملا۔ پورے گاؤں میں انگریزی جاننے والا کوئی نہ تھا۔ بالآخر ہندوستان کے بارڈر پر واقع پاکستان کی ہیڈ چوکی کے انچارج سے جا کر ساتھی تار پڑھوا لائے تو اس میں تھا کہ ٩؍ تاریخ (مہینہ یاد نہیں رہا) کو سر ظفر اللہ خان منیر انکوائری میں پیش ہوگا۔ اس کی گواہی کے وقت مولانا کا ہونا ضروری تھا۔ کیونکہ تنقیحات و جرح وکلاء کے لئے آپ کی نگرانی میں تیار ہونی تھی۔ چنانچہ اس وقت گھوڑی پر صادق آباد کے لئے اکیلے
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگارنگ
روانہ ہوئے۔ لیکن وقت اتنا ہو چکا تھا کہ ہزار تیز رفتاری کے باوجود گھوڑی پر پہنچنا مشکل تھا۔ گاڑی بھی وقت پر آئی۔ مولانا بھی سوار ہو گئے۔ یہ کیسے ہوا؟ آج تک سمجھ میں نہیں آیا۔
صادق آباد اسٹیشن کے قریب ایک دوست کے ڈیرے پر گھوڑی باندھ دی۔ خود ٹرین پر سوار ہو گئے۔ ہم لوگ صبح جا کر لے آئے۔
- باڑہ سے ماچھی گوٹھ اسٹیشن ٩ میل ہے۔ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے سفر کرنا
تھا۔ مولانا عزیز الرحمن راوی ہیں کہ: میں آپ کو سائیکل پر لے کر روانہ ہوا۔ دو میل بعد میرے لئے سائیکل سنبھالنا مشکل ہو گیا۔ مولانا نے وجہ پوچھی تو میں نے عرض کیا کہ میرے ایک پھنسی نکل آئی تھی۔ اب وہ پھٹ گئی ہے۔ اس لئے سائیکل پر بیٹھنا اور چلانا میرے لئے مشکل ہے۔ یہ سن کر مولانا سائیکل سے اترے، میرے سر پر ہاتھ پھیرا۔ فرمایا کہ: ”جاؤ! اللہ خیر کرے گا۔“ حضرت پیدل روانہ ہو گئے۔ میں نہر کے پل پر کھڑا دیکھتا رہا کہ دوسرے چک کی سڑک سے ہمارے چک کی سڑک جب ملی تو وہاں پر ایک ٹریکٹر والا آکر رکا اور مولانا چپ کر کے بیٹھ گئے۔ کچھ عرصہ بعد مولانا سے ملاقات ہوئی تو عرض کیا۔ حضرت! اس دن کیسے پہنچے؟ فرمایا کہ: ”ٹریکٹر والے نے ٹریکٹر کھڑا کیا، میں بیٹھ گیا۔ ماچھی گوٹھ اسٹیشن پر جا کر اس نے کھڑا کیا، میں اتر گیا۔ نہ اس نے مجھ سے کچھ پوچھا، نہ میں نے کچھ بتایا۔“
حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کا مثالی ایثار
- آغا شورش کاشمیریؒ لکھتے ہیں: ”مولانا محمد علیؒ ایک متدین عالم دین اور
ایک معتدل خطیب تھے۔ ہر بات تول ناپ کر کرتے، آپ نے دارالمبلغین قائم کر کے قادیانیت کے لئے ایک ایسا شکنجہ تیار کیا کہ تمام اضلاع میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر قائم ہو گئے۔ کوئی پچاس سے زائد کل وقتی مبلغ مقرر کئے جو مرکزی دفتر سے معمولی مشاہرہ لے کر اپنے فرائض انجام دیتے۔ اس نظام نے قادیانیت کی سرکوبی نہایت احسن طریق پر کی۔ دارالمبلغین نے سینکڑوں مبلغ و مناظر تیار کئے۔ انہوں نے پاکستان ہی میں قادیانیت کا گھیراؤ نہیں کیا، بلکہ ملک سے باہر افریقی ممالک اور عرب ریاستوں میں جاتے رہے۔ دارالمبلغین میں ہندوستان،
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
برما، ماریشس، فجی آئی لینڈ اور افریقی ممالک کے علماء نے آ کر رد مرزائیت کی تعلیم حاصل کی۔ پھر اپنے ممالک میں واپس جا کر قادیانیت کا تعاقب کیا۔ یہ سب مولانا محمد علی جالندھری ؒ کی شبانہ روز مساعی کا اعجاز تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ تائید ایزدی کے بل پر آپ نے مجلس تحفظ ختم نبوت کو ایک طاقتور تنظیم بنا دیا۔ اس کا مرکزی دفتر ملتان میں خریدا گیا۔ جوابی لٹریچر تیار کرتے رہے اور ان تمام مقدمات کے اخراجات مجلس کے ذمے ہوتے جو مبلغین کے خلاف قائم کئے جاتے یا جن علاقوں میں مرزائی، مسلمانوں سے انفرادی واجتماعی سطح پر قانون کے مختلف معرکے رچاتے۔ مثلاً جائیداد کا تنازعہ، شادی بیاہ کے معاملے اور طلاق وغیرہ کا مسئلہ۔ مولانا کا وجود مرزائیوں کے لئے درّۂ عمر ؓ تھا۔ آپ نے مجلس تحفظ ختم نبوت کے لئے لاکھوں روپے جمع کئے۔ خود بھی مشاہرہ لیتے تھے۔ لیکن جب ١٩٧١ء میں آپ کا انتقال ہوا تو آپ کی یادداشتوں میں سے ایک تحریر برآمد ہوئی کہ: ”میں نے آج تک مجلس تحفظ ختم نبوت سے بطور مشاہرہ جو رقم حاصل کی ہے۔ وہ فلاں جگہ فلاں صندوق میں بندھی پڑی ہے۔ وہاں سے لے لی جائے۔“ اس اجلی سیرت کے انسانوں ہی نے مجلس تحفظ ختم نبوت کا چراغ روشن رکھا۔“
(تحریک ختم نبوت ص ١٦٦، ١٦٧)
جلسے میں دیر نہ کیا کرے
- ٭...... ضلع سرگودھا کے پہاڑی علاقے میں غیر مسلموں کا ایک آشرم تھا، جو قادیانیوں نے
الاٹ کرا لیا تھا اور وہاں اپنی تبلیغی سرگرمیاں جاری کردیں۔ حضرت امیر شریعت ؒ کو جب علم ہوا تو اس علاقے میں موضع جابہ کے قریب سالانہ کانفرنس منعقد کرنے کا حکم دیا۔ یہ کانفرنس دو یوم کے لئے تقریباً پندرہ سولہ سال سے مرکزی جماعت تحفظ ختم نبوت کے خرچ پر ہر سال ماہ ستمبر میں ہوتی ہے۔ ١٩٨٢ء میں بعض مجبوریوں کی بناء پر ایک میل دور ضلع اٹک کی حدود میں نئی جگہ کانفرنس منعقد کی گئی۔ کانفرنس سے چند روز قبل تلہ گنگ کے حاجی محمد ابراہیم (ملک وال) نے خواب دیکھا کہ خود حاجی صاحب اور مولانا فضل احمد صاحب مع دیگر احباب کانفرنس میں شرکت کے لئے اس نئی جگہ میں آئے۔ جب نیچے پہنچے تو دیکھا کہ اس میدان میں آنحضرت ﷺ تشریف رکھتے
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
ہیں اور فرمارہے ہیں: ”دیر ہورہی ہے۔ جلسہ جلدی شروع کرو۔ محمد علی جالندھری کو کہو کہ جلسے میں دیر نہ کیا کرے۔“
(روئداد مجلس ١٣٨٢ھ ص ٨٣)
حیات عیسیٰ علیہ السلام بیان کرنے کا فیصلہ
مولانا مرحوم خود سنایا کرتے تھے کہ تقسیم سے قبل میں ایک گاؤں میں وعظ کے ارادے سے گیا۔ وہاں مرزائیوں کا رسوخ تھا۔ انہوں نے مسلمانوں کو منع کر دیا کہ مولوی صاحب وعظ نہ کریں۔ مسلمانوں نے مجھے روک دیا۔ میں عشاء کی نماز پڑھ کر سو گیا۔ میرے دل و دماغ پر صدمے کے اثرات تھے کہ مسلمانوں کی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ یہ قادیانیوں سے اتنے مرعوب ہیں۔ رات کو خواب میں مجھے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زیارت ہوئی۔ میں نے انہیں خواب میں دیکھتے ہی حدیثوں کے مطابق ان کی علامتوں ونشانیوں کو پوری کرنے لگ گیا۔ چہرہ مہرہ، شکل وشباہت، وضع قطع، سر کے بالوں سے پانی کا ٹپکنا کہ جس طرح حمام سے نہا کر تشریف لائے ہوں۔ جب میں نے احادیث میں پڑھی ہوئی علامتوں کو پورا کر کے یقین کرلیا کہ واقعتاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں تو میں نے عرض کیا کہ: ”حضرت! آپ کیسے اس دنیا میں آگئے؟ ابھی تو حضرت مہدی علیہ الرضوان کا ظہور نہیں ہوا۔ دجال کا خروج نہیں ہوا۔ آپ نے تو احادیث رسول اللہ ﷺ کی رو سے ان اہم دو امور (ظہور مہدی وخروج دجال) کے بعد تشریف لانا تھا۔“ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: ”محمد علی جالندھری! جب تم میری حیات (لوگوں کے روکنے کے باعث) بیان نہیں کرتے تو میں خود اپنی حیات کی دلیل بن کر نہ آؤں تو کیا کروں؟ اس پر مولانا فرماتے ہیں کہ میری جاگ ہو گئی۔ رات بھر ذکر وفکر میں گزار دی۔ دل میں فیصلہ کر لیا کہ جان جاتی ہے تو جائے مگر میں صبح حیات عیسیٰ علیہ السلام پر تقریر ضرور کروں گا۔ چنانچہ صبح نماز کے بعد مسجد میں اعلان کیا کہ: ”مسلمانو! تم نے میری تقریر مسجد میں نہیں ہونے دی۔ اب میں اپنی ذمہ داری پر خود اس گاؤں کے چوک میں تقریر کرنے لگا ہوں۔ جو سننا چاہیں آجائیں۔“ میں نے جا کر تقریر شروع کر دی۔ آہستہ آہستہ گاؤں کے لوگ آنے شروع ہو گئے۔ ابتدائے تقریر میں ایک شخص نے اجتماع میں آ کر عصا زمین پر گاڑ کر کہا کہ: ”مولانا! آپ تقریر کریں آپ کو کوئی نہیں روک سکتا۔ میں دیکھتا ہوں کہ کون آتا ہے؟“ تقریر کے بعد وہ آدمی چلا گیا۔ نہ معلوم کون تھا۔ کہاں سے آیا تھا؟ آج تک یہ راز ہے۔ میں نے حیات عیسیٰ علیہ السلام پر گھنٹوں جی بھر کر تقریر کی۔ کسی کو جرات نہ ہوئی کہ میری
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
تقریر کو روک سکے۔ تقریر کے بعد سائیکل لے کر اس گاؤں سے بخیر و خوبی روانہ ہو گیا۔
- تقریباً ١٣٧٠ھ میں مولانا سید تجمل حسین شاہ صاحب کشمیری ؒ فاضل دیوبند جو
ڈارخانہ اسٹیشن عبدالحکیم، ضلع ملتان سے حج کے لئے گئے۔ (ان کے بھائی سید عارف حسین شاہ صاحب چک ٣٣٢ گ ب، ضلع فیصل آباد میں مقیم ہیں) مولانا سید تجمل حسین کو منیٰ میں فراغت حج کے بعد ایک بزرگ صورت ہستی کی خواب میں زیارت نصیب ہوئی۔ آپ نے انہیں فرمایا: ”محمد علی جالندھری کو میرا پیغام پہنچا دینا کہ وہ تحفظ ختم نبوت کا کام کرتا رہے۔ اس کو نہ چھوڑے۔“
(روئیداد مجلس ٨٢ ص ١٠)
حضرت جالندھری ؒ کی ردّ قادیانیت پر تصانیف
تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء کی تحقیقاتی عدالت میں مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھری ؒ نے تحریری بیان داخل کرایا۔ جس میں مجلس احرار اسلام کے موقف کو بیان کیا۔ مرزائیت سے متعلق ایسے لطیف پیرایہ میں نکات اٹھائے گئے ہیں کہ پڑھ کر قلب و روح کو تسکین ملتی ہے۔ مرزائیت کا مذہبی و سیاسی تجزیہ کیا گیا۔ اس بیان کا ایک ایک حرف آب زر سے لکھنے کے لائق ہے۔ یہ قلمی بیان حضرت مولانا غلام محمد علی پوری ؒ سابق مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے کتب خانہ میں تھا، جو آپ کے عزیز اور جماعت کے سرگرم ساتھی حضرت مولانا منظور احمد الحسینی ؒ مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت (مدفون مدینہ طیبہ) کے توسط سے حاصل ہوا۔ بیان کی اہمیت کے پیش نظر تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء کے ص ٢٧٧ سے ٢٨٩ کا حصہ بنایا۔
ہمارے مخدوم حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید ؒ نے اسے پڑھا تو جھوم گئے۔ فرماتے تھے: اس کو پڑھ کر اندازہ ہوا کہ حضرت مولانا محمد علی جالندھری ؒ کتنے بڑے زیرک عالم دین تھے۔ کیوں نہ ہو آخر وہ حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری ؒ کے شاگرد اور حضرت امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ کے ساتھی تھے۔ ان حضرات کی صحبت نے آپ کو کندن بنا دیا تھا۔ ہمارے مخدوم حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید ؒ نے اس کو علیحدہ شائع کرنے کا حکم دیا اور اس کے لئے مقدمہ بھی لکھ دیا تھا۔ (اگلے صفحہ پر وہ مقدمہ ملاحظہ ہو) لیکن اللہ تعالیٰ کی مشیت کہ اسے ہم علیحدہ کتابی شکل میں شائع نہ کر سکے۔
- ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت کے بعد چیف جسٹس پنجاب ہائیکورٹ مسٹر جسٹس منیر اور
مسٹر جسٹس ایم آر کیانی کو اس سارے معاملہ کی تحقیقات پر متعین کیا گیا۔ اس مقدس
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
تحریک کا نام اس وقت کی مرزائی نواز حکومت نے فسادات پنجاب ١٩٥٣ء اور عدالت کا نام منیر انکوائری کمیشن رکھا۔ اس عدالت نے آٹھ نو ماہ تک انکوائری کو شیطان کی آنت کی طرح لمبا کیا اور جب ملک کے حالات پرسکون ہو گئے تو ایک لمبی چوڑی رپورٹ شائع کر دی۔ اس عدالت نے مرزائیوں سے سات سوالات دریافت کئے تھے۔ مرزائیوں نے اپنے روایتی دجل سے ان کا جواب بھی دجل آمیز عبارتوں میں دیا جس میں بجائے دوٹوک جواب کے، مغالطے دینے کی کوشش کی گئی تھی۔ مرزائیوں کی کتاب الحیل اور تاویل تو مشہور ہے۔ ان حیلوں اور تاویلوں اور دجل و فریب سے انہوں نے جوابات دے کر عدالت کے اس اخذ و مواخذہ سے بچنے کی کوشش کی جس پر اسلام کی رو سے ان مرتدوں کا مقام متعین ہو سکتا تھا۔
حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے ان سوالات کے جواب الجواب میں لاہور ہائیکورٹ کی عدالت کے قادیانیوں سے سات سوالات اور قادیانیوں کی جانب سے مغالطہ آمیز جواب کا جواب الجواب رسالہ تحریر فرمایا اور اس عدالت میں داخل کیا گیا۔ اس تحریر سے آپ کی ذہانت و فطانت اور قوت استدلال سے آگاہ ہو کر ان کی عظمت اور ان کی شخصیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ابھی حضرت جالندھری کی ایک کتاب کے ضمن میں تذکرہ آیا ہے کہ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے اس کا مقدمہ بھی لکھ کر عنایت فرمایا تھا وہ یہ ہے:
”مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھری نور اللہ مرقدہ، امام العصر حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کے تلمیذ رشید، قطب العالم شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کے مسترشد، امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے دست راست اور کاروان تحریک ختم نبوت کے سالار تھے۔ حق تعالیٰ نے ان کو بعض ایسے کمالات وصفات سے آراستہ فرمایا تھا جن میں اپنے اقران وامثال میں عدیم النظیر تھے۔ عقل و دانش اور فہم و فراست میں اس درجہ ممتاز تھے کہ تمام ہمعصر اکابر ان کی رائے کا احترام کرتے تھے۔ زبان و بیان کا ایسا سلیقہ تھا کہ مشکل سے مشکل مسائل ایک عامی سے عامی آدمی کے ذہن نشین کرانے کی مہارت رکھتے تھے۔ جس موضوع پر بھی گفتگو فرماتے اس کو ایسا مدلل کرتے کہ بڑے سے بڑا مخالف بھی استدلال کے آگے سرتسلیم خم کرنے پر مجبور ہو جاتا۔ ہمارے حضرت شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ ان کو وکیل العلماء کے خطاب سے یاد فرماتے تھے۔
تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء کے بعد حکومت نے رسوائے زمانہ جسٹس منیر کی سربراہی میں
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
ایک تحقیقاتی عدالت قائم کی۔ جس کا دائرہ کار اس تحریک کے اسباب و علل کا دریافت کرنا تھا۔ اس عدالت کی رپورٹ ”تحقیقاتی رپورٹ فسادات پنجاب ١٩٥٣ء“ کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔ اس عدالت کے سامنے متعلقہ فریقوں میں سے ہر ایک نے اپنا مؤقف تحریری طور پر پیش کیا تھا۔ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے دو بیان عدالت کے ریکارڈ میں داخل کرائے۔ ایک بیان میں مجلس احرار اسلام (جس کو حکومت تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء کا بلا شرکت غیرے ذمہ دار سمجھتی تھی) کے مؤقف کی وضاحت اور قادیانیت کے بارے میں اسلامی احکامات کی تشریح نہایت دل کش اور مدلل انداز میں کی گئی۔
دوسرے بیان میں قادیانیوں کے جواب کا جواب الجواب تھا۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ منیر تحقیقاتی عدالت نے قادیانیوں کے لیڈر مرزا محمود سے چند اہم نوعیت کے سوال کئے تھے۔ اگر ان سوالوں کے ٹھیک ٹھیک جوابات دیئے جاتے تو قادیانیت کا سارا طلسم ہوش ربا ٹوٹ جاتا اور قادیانی عقائد و عزائم کا سارا بھرم کھل جاتا۔ مگر چونکہ قادیانی نبوت اور قادیانی تحریک تمامتر دجل و فریب اور مکاری و عیاری پر قائم ہے۔ اس لئے مرزا محمود نے ان سات سوالوں کے جواب میں ایسی ابلہ فریبی سے کام لیا کہ اصل حقائق عدالت کے سامنے نہ آسکے۔ چنانچہ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے اپنے جواب الجواب میں قادیانی دجل و فریب سے پردہ اٹھایا اور عدالت کے سامنے واضح کیا کہ عدالت نے مرزا محمود سے جو کچھ پوچھا تھا۔ مرزا محمود نے اس کا جواب نہیں دیا۔ بلکہ تقیہ و توریہ سے کام لے کر اصل حقائق کو چھپانے کی کوشش کی ہے۔
مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کے یہ دونوں تاریخی بیان برادر محترم حضرت مولانا اللہ وسایا زید مجدہ کی کتاب ”تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء“ میں شائع ہوئے تو ان کی اہمیت کے پیش نظر مناسب معلوم ہوا کہ ان دونوں کو الگ بھی شائع کیا جائے۔ چنانچہ ارباب فکر و نظر کی خدمت میں یہ تحفہ پیش کرتے ہوئے ہم امید کرتے ہیں کہ اہل دانش حضرت مولانا مرحوم کے ان بیانات کی مقبولیت و متانت کا وزن محسوس کریں گے اور اسلام اور قادیانیت کے تصادم کو سمجھنے کے لئے اس عجالہ کا بغور مطالعہ فرمائیں گے۔
مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ ایک طرف تقریر و بیان کے بادشاہ تھے اور دوسری طرف ان کی ہیجان انگیز زندگی نے ان کو قلم تک پکڑنے کی مہلت نہ دی۔ ان کی خداداد صلاحیتوں کے پیش نظر مجھے یقین ہے کہ اگر وہ اس میدان کا رخ کرتے اور خامہ و قرطاس سے
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگارنگ
رشتہ جوڑتے تو ان کے دور میں ان کی فکر کا کوئی ادیب اور انشاء پرداز مشکل ہی سے ملتا۔ قلم وقرطاس سے ایک قسم کی لاتعلقی کے باوجود حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے دقیق علمی مضامین کو جس طرح نوک قلم سے دلوں میں اتارنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ وہ بجائے خود ان کی کرامت ہے۔ دعا ہے کہ حق تعالیٰ شانہ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کے درجات بلند فرمائیں اور ان کی فاتح جماعت مجلس تحفظ ختم نبوت کو اپنی مرضیات کے مطابق چلنے کی توفیق عطاء فرمائیں اور مجلس نے جو صدیقی مشن اپنایا ہے۔ حق تعالیٰ شانہ اس کا صحیح حق ادا کرنے کی توفیق عطاء فرمائیں۔
سبحان ربک رب العزت عما یصفون ،وسلام علی المرسلین والحمدللہ رب العالمین !
- ۞ ...... حضرت جالندھریؒ کے حالات پر حضرت مولانا تاج محمودؒ نے ایک مضمون
تحریر فرمایا وہ ملاحظہ فرمائیں:
مجلس تحفظ ختم نبوت کے تیسرے امیر اور سربراہ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ تھے۔ وہ حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ کے بعد امیر منتخب ہوئے اور اس سے قبل حضرت امیر شریعتؒ اور حضرت قاضی صاحبؒ کے ساتھ بطور ناظم اعلیٰ کام کرتے رہے۔ درحقیقت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ جماعت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے تھے۔ مولانا محمد علی جالندھریؒ ارائیں برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ اپنا اچھا خاصا زمیندارہ تھا۔ نکودر ضلع جالندھر کے ایک گاؤں بکو کے رہنے والے تھے۔ حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کے خاص شاگردوں میں شامل اور مدرسہ دارالعلوم دیوبند کے فارغ التحصیل عالم تھے۔ مولانا جید عالم، منطقی اور زبردست مناظر تھے۔ وہ شکل وصورت، رہن سہن اور وضع قطع میں ٹھیٹھ پنجابی اور دیہاتی معلوم ہوتے تھے۔ ان جتنی مدلل تقریر احرار کے سارے گروہ میں کوئی مقرر نہیں کر سکتا تھا۔ وہ تقریر کرنے کے لئے کھڑے ہوتے، چند جملے اردو زبان میں بولتے تو مجمع سے آوازیں آنا شروع ہو جاتیں کہ مولانا تقریر پنجابی زبان میں کریں اور مولانا جالندھریؒ ٹھیٹھ پنجابی زبان میں تقریر کرنا شروع کر دیتے۔ پنجابی کے محاورے بولتے۔ دیہات کی روزمرہ زبان استعمال کرتے۔ لوگ عش عش کر کے رہ جاتے۔ وہ کھیتوں کی روشوں، ہل چلانے والے کسانوں، ان کی بیل، پنجابی روٹی بھتہ لانے والی کسان کی بیوی، کھیتوں کے سبزے اور فصلوں کی لہلہاہٹ
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
سے اپنا مضمون پیدا کرتے۔ دیہاتی زندگی کے سادہ اور فطری مناظر سے اپنی روانی کا ساتھ بناتے سنوارتے چلے جاتے۔
احرار کے زمانے میں انہیں پرولتاری مقرر سمجھا جاتا تھا۔ کسانوں، مزدوروں، غریبوں اور پسماندہ طبقوں کی زندگی کے مسائل کے متعلق بولتے۔ سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ نظام پر سخت تنقید کرتے تو ان کی تقریر دور دور تک پہنچتی۔ اس زمانہ میں معلوم ہوا تھا کہ روسی سفارتخانے میں مولانا جالندھریؒ کی تقریروں کے متعلق خاص طور پر دلچسپی لی جاتی ہے۔ مولانا جالندھریؒ بعض باتیں عجیب و غریب کہا کرتے تھے۔ مثلاً وہ فرمایا کرتے کہ جس طرح جسم میں جوئیں باہر سے نہیں آتیں۔ بلکہ انسان کی اپنی میل کچیل سے پیدا ہوتی ہیں۔ اس طرح کمیونزم بھی باہر سے نہیں آیا کرتا۔ بلکہ ملکوں اور قوموں کے اندر ہی غربت، معاشی ناہمواری، ظلم اور جہالت کی بدولت پیدا ہو جاتا ہے۔ مولانا جالندھریؒ نے برصغیر کے چپہ چپہ پر بے شمار تقریریں کیں۔ آخری عمر میں ان کی تقریریں اصلاحی اور تبلیغی ہوا کرتی تھیں۔ انہوں نے اپنی زندگی میں بڑی بڑی معرکۃ الآراء تقریریں کی ہوں گی۔ لیکن ان کی ایک تقریر فروری ١٩٥٣ء میں نسبت روڈ لاہور پر ہوئی تھی جس ایک تقریر نے لاہور میں آگ لگادی تھی اور دوسرے دن لاہور سراپا تحریک ختم نبوت بن چکا تھا۔ ایک مثالی اور یادگار تقریر تھی۔
ایک دفعہ اسلامیان سرگودھا نے حضرت امیر شریعتؒ سے جلسے کے لئے وقت لیا۔ سرگودھا والوں نے جلسے کا اہتمام کرلیا۔ اشتہار چھپ گئے۔ تاریخ آگئی۔ سرگودھا اور شمال مغربی پنجاب کے دور دراز کے دیہات سے دنیا پہنچ گئی۔ لیکن حضرت شاہ جیؒ بیماری کے باعث جلسہ میں نہ پہنچ سکے۔ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کا بھی وعدہ تھا۔ وہ پہنچ گئے۔ لوگوں کو ابھی تک یہ معلوم نہ ہوسکا تھا کہ حضرت شاہ جیؒ نہیں آرہے۔ عشاء کی نماز کے بعد جلسہ شروع ہوا۔ لاکھوں کا اجتماع، تحریک ختم نبوت کی بحرانی کیفیت، حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کا بیان شروع ہوا۔ خدا کی قدرت مولانا جالندھریؒ کی تقریر میں ایسا جوش و خروش اور نظم و تسلسل پیدا ہوا کہ پوری کانفرنس سراپا گوش بن گئی۔ مولانا جالندھریؒ نے ختم نبوت کی اہمیت، اتحاد امت، شان رسالت، رد مرزائیت، ملک کے استحکام و بقاء کی ضرورت اور مرزائیوں کی سازشی سرگرمیوں پر اتنی معرکۃ الآراء تقریر کی کہ ایک سماں بندھ گیا۔ ساری رات تقریر جاری رہی۔ صبح کی اذان نے تقریر کا سلسلہ منقطع کیا۔ لوگ ششدر اور مولانا جالندھریؒ حیران کہ آج یہ کیسی رات اور یہ کس زور کی تقریر ہوگئی؟ اگلے روز مولانا
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
جالندھری ؒ پہنچے۔ حضرت شاہ جی ؒ کی خدمت میں حاضر ہو کر ماجرا سنایا۔ حضرت شاہ جی ؒ نے فرمایا کہ بھائی محمد علی! مجھے سرگودھا کے جلسہ کی بڑی فکر اور پریشانی تھی۔ میں بھی رات عشاء کی نماز پڑھ کر مصلیٰ پر بیٹھا ہوں تو صبح تک مصلیٰ پر ہی دعا کی حالت میں رہا کہ اے اللہ آج وہاں محمد علی ؒ اکیلا ہے تو ہماری سب کی لاج رکھنا۔
حضرت مولانا محمد علی جالندھری ؒ کی سب سے بڑی خوبی ان کی جماعت اور تحریکوں کے لئے فنڈز کا انتظام کرنا، دیانت، امانت سے ان کا حساب رکھنا۔ کفایت شعاری سے خرچ کرنا اور تحریک کو یا جماعت کے کام کو باقاعدہ اور ہمیشگی سے جاری رکھنے کا اہتمام کرنا تھا۔ مولانا جالندھری ؒ نے مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے قیام کے بعد اس کے مالیاتی نظام کی مضبوطی کی طرف خصوصی توجہ دی اور جماعت کے لئے مضبوط فنڈ کا اہتمام کیا۔ مجلس نے فیصلہ کیا کہ چونکہ جماعت نے حفاظت و اشاعت دین کا کام کرنا ہے۔ تردید مرزائیت جیسا کٹھن کام اس کے ذمہ ہے۔ مرزائی سازشوں کو بے نقاب کرنے کی اور قوم و ملک کو اس فتنہ سے بچانے کے لئے ایک منظم جماعت کی ضرورت ہے۔ اس لئے جماعت میں مستقل ہمہ وقتی کام کرنے والے کارکن با تنخواہ رکھے جائیں جو ہر طرف سے بے فکر اور آزاد ہو کر یکسوئی کے ساتھ جماعتی مقاصد کے لئے کام کریں۔
جب اس فیصلے کے مطابق جماعت کے علماء کرام سے با تنخواہ کام کرنے اور ہمہ وقتی ڈیوٹی دینے کے لئے کہا گیا تو وہ لوگ جو ساری عمر ملک کی آزادی اور اسلام کی سربلندی کے لئے لوجہ اللہ تعالیٰ ماریں کھاتے رہے تھے۔ ان کی خودداری نے تنخواہ لے کر جماعت کا کام کرنا مناسب نہ سمجھا اور سب اس بات سے ہچکچانے لگے۔ حضرت جالندھری ؒ نے یہ محسوس کر کے کہ یہ لوگ اس چیز کو اپنے لئے عار سمجھتے ہیں۔ اپنے آپ کو پیش کیا کہ میں خود بھی تنخواہ لوں گا اور ہمہ وقتی ملازم کی حیثیت سے جماعت کا کام کروں گا۔ اس کے بعد حضرت مولانا لال حسین اختر ؒ، حضرت مولانا محمد حیات ؒ، حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر ؒ، حضرت مولانا محمد شریف بہاولپوری ؒ، حضرت مولانا محمد شریف جالندھری ؒ، حضرت مولانا عبدالرحمٰن میانوی ؒ۔ غرضیکہ تمام مبلغین نے وظیفہ لینا اور ہمہ وقتی کام سرانجام دینا قبول کر لیا۔ حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی ؒ اور حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ اس سے مستثنیٰ رہے۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
تمام مبلغین جب جلسوں اور دوروں پر جاتے۔ لوگ ان کو خادم اسلام سمجھ کر جو خدمت کرتے تھے تو وہ اس کی بھی رسید کاٹ دیتے تھے۔ وہ ہدیہ، نذرانہ خدمت سب جماعت کے بیت المال میں جمع ہو جاتا تھا۔ مولانا جالندھریؒ کے اخلاص، ایثار، دیانت اور امانت کا اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جب مولانا جالندھریؒ کی وفات ہو گئی اور ہم لوگ ان کی تجہیز و تکفین سے فارغ ہوئے۔ اگلے روز جب جماعت کے بیت المال جو لوہے کی بہت بڑی سیف کی صورت میں ہے۔ اسے کھولا گیا تو تمام رقوم حساب کے مطابق موجود تھیں۔ البتہ ایک پوٹلی الگ رکھی ہوئی ملی جس میں بائیس ہزار روپیہ تھا اور ساتھ ایک چٹ مولانا نے لکھ کر رکھی ہوئی تھی کہ جب جماعت کے دوسرے مبلغین اور علمائے کرام تنخواہ لینا عار سمجھتے تھے تو میں نے ان کی دل جوئی اور جھجک دور کرنے کے لئے تین صد روپیہ مشاہرہ قبول کر لیا تھا۔ الحمد للہ! میں صاحب جائیداد اور گھر سے کھاتا پیتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو مال، اولاد، زمین، رزق سب کچھ دے رکھا ہے۔ وہ تین صد روپیہ میں الگ رکھتا رہا ہوں اور یہ بائیس ہزار روپیہ وہ ہے۔ میرے مرنے کے بعد اس رقم کو جماعت کے خزانے میں جمع کر دیا جائے۔
یہ مولانا جالندھریؒ کی محنت، دیانت اور امانت کا ثمرہ ہے کہ جماعت کا لاکھوں روپے مالیت کا اپنا مرکزی دفتر ملتان میں ہے۔ برطانیہ میں مجلس کا اپنا ملکیتی عظیم دفتر موجود ہے۔ اسلام آباد کا دفتر جماعت کا خریدا ہوا ملکیتی ہے۔ گوجرانوالہ کا دفتر جماعت کا خریدا ہوا ملکیتی ہے۔ اس کے علاوہ کراچی، لاہور، رحیم یار خان، کوئٹہ، بہاولپور، سیالکوٹ میں مجلس کے ملکیتی دفاتر ہیں اور بڑے شہروں میں جماعت کے کرایہ پر لئے ہوئے دفاتر موجود ہیں۔ اکثر دفاتر میں ٹیلی فون لگے ہوئے ہیں۔ ان میں مستقل ملازمین کام کرتے ہیں۔ پھر لاکھوں روپے کی زرعی اور سکنی وقف جائیداد جماعت کے نام موجود ہے اور اب الحمد للہ! جماعت دینی مقاصد تحفظ ختم رسالت، حفاظت و اشاعت اسلام پر تقریباً تیس لاکھ روپیہ سالانہ (اس زمانہ میں اس وقت چار کروڑ سے بھی زیادہ ہے) خرچ کر رہی ہے۔
مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ ٩ شعبان ١٣٨٦ھ بمطابق ٢٣ نومبر ١٩٦٦ء سے ٢٤ صفر ١٣٩١ھ بمطابق ٢١ اپریل ١٩٧١ء، چار سال چار ماہ انتیس دن تک جماعت کے باقاعدہ امیر اور سربراہ رہے۔
خادم تحریک ختم نبوت (مولانا) تاج محمودؒ ایڈیٹر ہفت روزہ لولاک (فیصل آباد)
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
(٤)
مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اخترؒ
(وفات: ١١؍ جون ١٩٧٣ء..... وفات لاہور، تدفین دین پور شریف)
مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اخترؒ کا وطن مالوف دھرم کوٹ رندھاوا ضلع گورداسپور تھا۔ گکھڑ زئی خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ ابتدائی تعلیم ہری پور ہزارہ میں حاصل کی۔ بعد میں اورینٹل کالج لاہور میں داخل ہو گئے۔ وہ ابھی کالج میں زیر تعلیم تھے کہ ہندوؤں نے ہندوستان کے مسلمانوں کو ہندو بنانے کی تحریک کا آغاز کیا۔ ہندوؤں کی اس تحریک کو شدھی کی تحریک کہا جاتا ہے۔ ان کی قومی اور ملی زندگی کا آغاز شدھی اور سنگٹھن کے خلاف تحریکوں میں حصہ لینے سے ہوا۔ مولانا کا دل اس اسلام دشمن تحریک سے تڑپ گیا۔ آپ نے تعلیم کو خیر باد کہا اور جو وفود دیہات میں تبلیغ اسلام کے لئے جاتے تھے ان کے ہمراہ ہولئے۔ اسی طرح مولانا لال حسین اخترؒ ، مولانا مظہر علی اظہرؒ کے ہمراہ بھی ایک عرصہ تک تبلیغی دوروں میں شامل رہے اور بالآخر حکومت نے مولانا مظہر علی اظہرؒ اور مولانا لال حسین اخترؒ دونوں کو قابل اعتراض تقریروں کے سلسلے میں گرفتار کر لیا اور مقدمہ کی سماعت کے بعد سزا سنا دی۔ یہ قید ان دونوں حضرات نے لاہور سنٹرل جیل میں گزاری۔ اسی قید کے دوران مولانا ظفر علی خاںؒ کے ساتھ جیل میں رہے۔ جبکہ دونوں صاحبان کے چکی پیستے پیستے ہاتھوں پر چھالے پڑ گئے تھے۔ مولانا ظفر علی خانؒ نے یہ اشعار مولانا لال حسین اخترؒ کی فرمائش پر کہے تھے ؎
جس نظم کے قافیے بتیسی اور سائنسی وغیرہ ہیں، رہائی کے بعد مولانا مستقل قومی تحریکوں اور سماجی کاموں میں حصہ لینے لگے۔ لیکن بدقسمتی یہ ہوئی کہ کہیں مرزائیوں کے ہتھے چڑھ گئے اور مرزائیوں کی لاہوری جماعت کے امیر مولوی محمد علی جنہوں نے قرآن مجید کا انگریزی میں ترجمہ کیا ہے اور جو بہر حال مرزائیوں میں ایک بڑے پڑھے لکھے اور قابل شخص تھے، علم اور قابلیت ایک الگ بات ہے اور ایمان کی توفیق ہونا نہ ہونا ایک دوسری بات ہے۔ مولانا لال حسین اخترؒ ان سے متاثر ہوئے اور مرزائیت قبول کر لی۔ ہر کام میں میرے اللہ کی حکمت ہوتی ہے۔ بعض دفعہ اللہ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کی پرورش میں دے کر فرعون کی حقیقت سے آشنا کر کے پھر موسیٰ
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگارنگ
علیہ السلام کے ہاتھوں اس کا بیڑہ بھی غرق کیا کرتے ہیں۔ مولانا لال حسین اخترؒ پڑھے لکھے، ذہین فطین نوجوان تھے مرزائیوں نے ان کی اعلیٰ تعلیم و تربیت کا انتظام کیا اور مولانا ہی کی روایت کے مطابق جس گروپ میں مجھے رکھا گیا اس گروپ کی تعلیم و تربیت پر مرزائی جماعت کا اس زمانہ میں پچاس ہزار روپے خرچ ہوا تھا۔
تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد مولانا مرزائی مبلغ بنا دیئے گئے۔ برصغیر میں مرزائیت کی تبلیغ کے علاوہ مولانا کو جماعت احمدیہ لاہوری طرف سے افریقی ممالک میں مرزائیت کی تبلیغ کے لئے بھیجا گیا تا کہ وہ اپنے مدلل طرز کلام اور بیان سے سینکڑوں مسلمانوں کے ایمان خراب کرنے کی سعی میں حصہ لیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے مولانا لال حسین اخترؒ کو مرزائیت کی حمایت کے لئے نہیں بلکہ اس شجرہ خبیثہ کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے پیدا فرمایا تھا۔ وہ کچھ عرصہ افریقی ممالک کے دورے کے بعد ہندوستان واپس آئے۔
ایک کامیاب مبلغ کی حیثیت سے آپ نے آریہ سماج کا تعاقب کیا۔ مناظرے ہوئے، تقریریں ہوئیں۔ نتیجتاً آپ کو بہت جلد مرزائیوں میں بلند مقام حاصل ہو گیا۔ چنانچہ شعبہ تبلیغ و مناظرہ کے علاوہ اخبار پیغام صلح کا آپ کو ایڈیٹر مقرر کیا گیا۔ اسی طرح احمدیہ ایسوسی ایشن کے سیکرٹری بھی منتخب ہوئے۔ مسلسل آپ نے آٹھ سال مرزائیت میں گزارے۔ قدرت کے کچھ اور پروگرام ہوا کرتے ہیں۔ فرعون کے گھر موسیٰ کی پرورش جس کی واضح دلیل ہے۔ چنانچہ حضرت مولانا کو چند خواب آئے۔ جن میں مرزا غلام احمد قادیانی کو گھناؤنی شکل میں ظاہر کر کے جہنم میں دھکیلا جانا آپ کو دکھایا گیا۔ آپ نے ان خوابوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت کا نشان قرار دیا اور مسلسل چھ ماہ تک ایک دیانتدار محقق کی حیثیت سے مرزائیت کا لٹریچر پڑھا۔ دن رات ایک کر کے مطالعہ کرنے سے مرزائیت میں خوب درک حاصل ہو گیا۔ آپ جوں جوں مرزائیت کا مطالعہ کرتے گئے توں توں مرزائیت کی حقیقت آپ پر واضح ہوتی چلی گئی۔ چنانچہ حضرت مولانا لال حسین اخترؒ پر حق تعالیٰ نے خصوصی کرم کا معاملہ فرمایا کہ آپ نے قادیانیت ترک کر کے اسلام قبول کر لیا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اخترؒ نے قادیانیت چھوڑنے کے اسباب بیان کرنے کی غرض سے ایک کتاب ”ترک مرزائیت“ مرتب فرمائی تھی۔ اس کو قدرت نے اس قدر قبولیت سے نوازا کہ شیخ الاسلام مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ نے اپنی آخری تصنیف ”خاتم النبیین“ میں اس کے حوالہ جات درج فرمائے۔ فلحمدللہ!
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
مولانا لال حسین اختر ؒ کے زمانہ حیات میں ”ترک مرزائیت“ کے چار ایڈیشن شائع ہوئے۔ آپ نے کتاب میں قادیانیوں کو چیلنج کیا تھا کہ وہ اس کا جواب شائع کر کے انعام حاصل کریں۔ قادیانیوں کو جواب دینے کی جرأت نہ ہو سکی۔ اس کے پانچویں ایڈیشن کے لئے حضرت مولانا لال حسین اختر ؒ نے مقدمہ تحریر فرمایا تھا۔ لیکن پانچواں ایڈیشن آپ کی زندگی میں شائع نہ ہو سکا۔ حضرت مرحوم کے تمام رسائل کا مجموعہ ”احتساب قادیانیت“ کے نام سے شائع کیا تو پانچویں ایڈیشن کا یہ مقدمہ ہمارے علم میں نہ تھا۔ بعد میں حضرت مرحوم کے غیرمطبوعہ مسودہ جات کو ترتیب دی تو یہ مسودہ مل گیا۔ اس کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں حضرت مرحوم نے قادیانیت کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی کے متعلق جو خواب دیکھے تھے۔ آپ کے قلم سے کسی کتاب یا رسالہ میں موجود نہیں، روایت بالمعنی کے طور پر آپ کے شاگرد و مناظر اسلام مولانا عبدالرحیم اشعر ؒ کی روایت سے ”تذکرہ مجاہدین ختم نبوت“ میں شائع کئے گئے۔ اس مسودہ میں وہ خواب حضرت مولانا لال حسین اختر ؒ کے قلم سے لکھے ہوئے مل گئے ہیں۔ یہ مسودہ آج تک کہیں شائع نہیں ہوا۔ ہم آپ کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ اس تناظر میں آپ اس کا مطالعہ فرمائیں۔ ترک مرزائیت کے اسباب۔ خواب اور حضرت کی سوانح اپنے ہاتھ سے لکھی ہوئی اس میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت مرحوم کے فیض کو قیامت تک جاری رکھیں۔ آمین!
میں نے مرزائیت کیوں چھوڑی
(مولانا لال حسین اختر ؒ)
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ”الحمد لله وحده والصلوة والسلام على من لا نبی بعدہ۔ اما بعد“ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے: ”هل انبئكم على من تنزل الشيطين تنزل على كل افاك اثيم (الشعراء:٢٢١،٢٢٢)“ ﴿کیا میں تم کو بتلاؤں کس پر شیاطین اترا کرتے ہیں۔ ایسے شخصوں پر اترا کرتے ہیں جو جھوٹ بولنے والے بدکردار ہوں۔﴾
خدائے واحد و قدوس کے فضل و کرم سے ”ترک مرزائیت“ کو وہ مقبولیت حاصل ہوئی
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
جو میرے وہم و گمان میں نہ تھی۔ عامتہ المسلمین نے عموماً اور حضرات علمائے کرام نے خصوصاً اسے نہایت پسندیدگی کی نظر سے دیکھا۔ حتیٰ کہ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید محمد انور شاہ ؒ سابق صدر مدرس دارالعلوم دیوبند نے اپنی مشہور و معروف اور لاجواب کتاب ’’خاتم النبیین‘‘ میں متعدد مقامات پر ’’ترک مرزائیت‘‘ سے حوالہ جات درج فرمائے ہیں۔ ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء!
طبع اوّل، دوم، سوم اور چہارم میں اعلان کیا گیا تھا کہ اگر کوئی لاہوری مرزائی ’’ترک مرزائیت‘‘ کا جواب لکھے گا تو اسے بعد فیصلہ منصف ایک ہزار روپیہ انعام دیا جائے گا۔ چالیس سال کا طویل عرصہ گزر گیا۔ کسی مرزائی کو ہمت نہیں ہوئی کہ ’’ترک مرزائیت‘‘ کا جواب لکھتا، مجھ سے جواب الجواب، منصف کے تقرر اور انعام کا مطالبہ کرتا۔ مرزائی مناظرین و مبلغین کی ہمتیں پست ہو گئیں۔ ان کے قلم ٹوٹ گئے اور ان کے مناظرانہ دلائل خرد برد ہو گئے۔ میرا چالیس سالہ تجربہ شاہد ہے کہ میری زندگی میں مرزائیوں کو جرات نہیں ہوگی کہ ’’ترک مرزائیت‘‘ کے جواب میں قلم اٹھا سکیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ! (ایسے ہی ہوا)
نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں
اب مزید اضافہ کے ساتھ پانچواں ایڈیشن شائع کیا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے مزید شرف قبولیت عطاء فرما کر گم کردہ راہ اشخاص کی ہدایت کا ذریعہ بنائے اور میرے لئے زاد آخرت۔ آمین!
بے شمار حمد و ثناء خالق حقیقی کے لئے جس نے تمام جہانوں کو نیست سے ہست کیا۔ لاکھ لاکھ ستائش ذات باری تعالیٰ کے لئے جس نے جنس خاکی کو اشرف المخلوقات بنایا۔ اسے احسن تقویم اور خلافت ارضی کے شرف سے نوازا گیا۔ ہزار بار درود و سلام اس مقدس وجود کے لئے جسے اللہ تعالیٰ نے سارے جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا اور ان کی ذات گرامی پر نبوت و رسالت ختم کر دی گئی۔ ان کی متبرک بعثت نے مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک کفر و شرک کے بھڑکتے ہوئے شعلوں کو توحید کی رم جھم سے ٹھنڈا کیا اور ساری دنیا میں نور کا عالم پیدا کر دیا۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
ان کی پاک ومقدس نظر نے جہالت ووحشت اور فسق وفجور کی ان تمام الائشوں کو جو عوارض کی صورت اختیار کئے ہوئے اشرف المخلوقات کو چمٹی ہوئی تھیں۔ نہ صرف دور کیا بلکہ ہمیشہ کے لئے ان کا قلع قمع کر دیا۔ یہ ہادی کامل، یہ رہبر حقیقی، یہ ناصح اکبر، شافع محشر، وہ ہستی ہے جن پر ”بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر“ کا قول اطلاق پذیر ہوتا ہے۔ ان کا اسم گرامی حضرت سیدنا مولانا محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ ہے۔ شتر بانوں اور گڈریوں کو جہانبانی کی راہ ورسم سکھانے والے، گمراہان عالم کو راہ راست دکھانے والے، گنہگار انسانوں کو پاک کر کے خدائے واحد وقدوس کی بارگاہ معلیٰ تک پہنچانے والے، قانون الٰہی اور نبوت ورسالت کو ختم کرنے والے حضور اقدس ﷺ ہی ہیں۔
اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم اور حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کے ارشادات عالیہ کے طفیل ایک راہ راست سے بھٹکا ہوا عاصی بندہ ایک گنہگار انسان جو آٹھ سال تک تاریکی کے گڑھے اور کفر وضلالت کے اندھیرے غار میں حیران وسرگرداں رہا اسلام کے پرنور عالم اور روشنی کی دنیا میں داخل ہوتا ہے۔
قُل اننی ھدانی ربی الٰی صراط مستقیم دینا قیما ملۃ ابراہیم حنیفا وما کان من المشرکین (الانعام:١٦١) ”کہو کہ مجھ کو میرے رب نے ایک سیدھا راستہ بتلا دیا ہے وہ دین ہے۔ مستحکم جو طریقہ ہے ابراہیم (علیہ السلام) کا جس میں ذرہ بھر کجی نہیں اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھے۔﴾
تبلیغی زندگی کا آغاز
میری تبلیغی زندگی کا آغاز تحریک خلافت کا مرہون منت ہے۔ ١٩١٤ء میں برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کی جرمنی سے پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی۔ اس جنگ میں ترکی نے جرمنی کا ساتھ دیا اور برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ عراق، عرب، فلسطین، شام اور مصر سلطنت ترکی کے زیر نگیں تھے۔ ان تمام ممالک میں اتحادیوں اور ترکوں میں خوفناک جنگ شروع ہوئی۔ اس جنگ کے ابتداء ہی میں برطانوی حکومت نے اپنی اور اپنے اتحادیوں کی طرف سے اعلان کیا تھا اور مسلمانان عالم کو یقین دلایا تھا کہ جنگ میں ہمیں فتح ہوئی تو ہم مسلمانوں کے مقامات مقدسہ پر قبضہ نہیں کریں گے۔ جنگ کے ابتداء میں جرمنوں اور ترکوں کا پلہ بھاری تھا۔ ہر محاذ پر انہیں عظیم فتوحات حاصل ہو رہی تھیں۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
برطانیہ اور اس کے ساتھیوں کو شکست فاش کا سامنا ہو رہا تھا۔ اپنی بگڑتی ہوئی حالت کے پیش نظر برطانیہ اور اس کے حلیفوں نے روس اور امریکہ سے مدد مانگی۔ ان دونوں ملکوں کی حکومتوں نے برطانوی عرضداشت کو منظور کر کے جرمنی اور ترکی کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ١٩١٨ء میں جرمنی اور ترکی کو شکست ہوگئی۔ انگریزوں نے عراق و فلسطین کے مقامات مقدسہ پر قبضہ کر لیا تھا۔ ترکی حکومت کی طرف سے عرب کے گورنر شریف حسین نے ترکی سلطنت سے غداری کر کے اپنی خود مختار بادشاہت کا اعلان کر دیا۔ یہاں تک کہ بیت اللہ شریف میں سینکڑوں ترکوں کو شہید کر دیا گیا۔
ملت اسلامیہ کی خلافت کا اعزاز سلطنت ترکی کو حاصل تھا۔ خلیفۃ المسلمین مسلمانوں کی عظمت و وقار کے علمبردار تھے۔ سلطنت ترکی کی شکست اور مقامات مقدسہ پر انگریزوں کے قبضہ سے مسلمانان عالم میں کہرام برپا ہو گیا۔
تحریک خلافت
ہندوستان میں شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن ؒ، حضرت مولانا ابوالکلام آزاد ؒ، حضرت مولانا حسین احمد مدنی ؒ، حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ ؒ، حضرت مولانا محمد علی جوہر ؒ، حضرت حکیم محمد اجمل خان ؒ، حضرت مولانا ظفر علی خان ؒ، حضرت مولانا احمد علی لاہوری ؒ، حضرت مولانا سید سلیمان ندوی ؒ، حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ، مولانا شوکت علی ؒ، مولانا مظہر علی اظہر ؒ، مولانا حسرت موہانی ؒ کی قیادت میں خلافت اسلامیہ کی بقاء کے لئے تحریک خلافت شروع ہوئی۔
مارچ ١٩٢٠ء میں حضرت مولانا محمد علی جوہر ؒ، حضرت مولانا سید سلیمان ندوی ؒ اور سید حسن امام صاحب ؒ بیرسٹر پر مشتمل ایک وفد لندن گیا اور وزیر اعظم برطانیہ مسٹر لائیڈ جارج سے ملا۔ مقامات مقدسہ کے بارے میں برطانوی حکومت کا وعدہ یاد دلایا اور خلافت کے متعلق مسلمانان ہندوستان کے دینی احساسات سے آگاہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اپنے وعدہ کا ایفاء کیجئے اور مقامات مقدسہ سے برطانوی قبضہ اٹھا لیجئے۔ برطانوی وزیر اعظم نے وفد کے مطالبے کو مسترد کر دیا۔ وفد ناکام واپس آگیا۔ مقامات مقدسہ کے سقوط اور انگریزوں کی وعدہ خلافی کے باعث مسلمانان ہندوستان بے حد پریشان و مضطرب تھے۔ آل انڈیا خلافت کمیٹی نے عدم تشدد اور انگریزوں سے ترک موالات کی مقدس تحریک شروع کی۔ تحریک کا مقصد ترکی سلطنت اور خلافت
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
کے وقار کا بحال کرنا اور مقامات مقدسہ اور ممالک اسلامیہ کا انگریزوں سے واگزار کرانا تھا۔ پروگرام یہ تجویز ہوا تھا۔
- ١...... انگریزی فوج اور پولیس کی نوکری چھوڑ دی جائے۔
- ٢...... انگریزی حکومت سے لئے ہوئے خطابات واپس کئے جائیں۔
- ٣...... انگریزی درسگاہوں سے طلباء اٹھا لئے جائیں۔
- ٤...... ولایتی مال کا بائیکاٹ کیا جائے۔
- ٥...... ہاتھ کا بنا ہوا کھدر پہنا جائے۔
- ٦...... انگریزی حکومت سے عدم تعاون کیا جائے۔ اس کے خلاف نفرت پیدا کی جائے اور
ہندوستان کی جیلیں بھر دی جائیں۔
تحریک خلافت میں شمولیت
میں اورینٹل کالج لاہور میں تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ تحریک خلافت شروع ہوئی۔ علماء کرام نے شریعت مطہرہ کے احکامات کے تحت حکومت کی درسگاہوں کے بائیکاٹ کا فتویٰ دیا۔ اس کی تعمیل کرتے ہوئے میں نے کالج چھوڑ دیا۔ اپنے وطن مالوف دھرم کوٹ رندھاوا اور بارہ منگا ضلع گورداسپور چلا گیا۔ لیکن ایک خواہش تھی جو دل میں چٹکیاں لے رہی تھی۔ ایک آرزو تھی جو نچلا نہ بیٹھنے دیتی تھی۔ ایک ارمان تھا کہ جس نے معمورۂ دل کو زیروزبر کر رکھا تھا۔ حسرت تھی تو یہی، تمنا تھی تو یہی کہ جس طرح ہوا اپنے دین، ہاں پیارے اسلام کی خدمت کروں۔
عقل نے لاکھ سمجھایا دوستوں اور رشتہ داروں نے قید و بند کا خوف دلایا تو میرے جذبہ ایمان نے کہا ؎
میں نے کسی کی ایک نہ مانی اور مشہور و معروف شعر ؎
کا ورد کرتے ہوئے خلافت کمیٹی میں شمولیت کی۔ آٹھ نو ماہ ضلع گورداسپور میں خلافت کمیٹی بٹالہ کے زیر ہدایت آنریری تبلیغ و تنظیم کا فریضہ ادا کرتا رہا۔ مولانا مظہر علی اظہرؒ ایڈووکیٹ کی معیت میں مختلف مقامات کا دورہ کیا اور پورے زور سے خلافت کے اغراض
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
ومقاصد کی تبلیغ کی۔ میری سرگرمی اور جمہور کی بیداری نے حکام کی طبع انتقام گیر کو مشتعل کر دیا۔ آخر کار مجھ پر گورداسپور، شکر گڑھ اور ڈیرہ بابا نانک کی تین تقریروں کی بناء پر حکومت کے خلاف منافرت اور بغاوت پھیلانے کا الزام عائد کر کے گورداسپور میں مقدمہ قائم کر دیا گیا۔ پولیس نے مجھے عید کے دن گرفتار کیا اور فرسٹ کلاس فرنگی مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کر دیا۔ مجسٹریٹ نے مجھے کہا کہ آپ پر بغاوت کا مقدمہ ہے جس کی سزا چودہ سال قید سخت ہو سکتی ہے۔ میں نے کہا ؎
مجسٹریٹ نے کہا اگر آپ اپنی تقریروں کے متعلق تحریری معذرت کر دیں تو مقدمہ واپس لے کر آپ کو رہا کر دیا جاتا ہے میں نے جواب دیا ؎
مجسٹریٹ نے پولیس کے چند ٹاؤٹ گواہوں کی سرسری شہادت کے بعد مجھے ایک سال قید سخت کا حکم سنایا۔ ایک سال کی طویل مدت گورداسپور جیل میں گزاری۔ رہائی سے کچھ عرصہ پہلے جیل میں ہی مجھے اخبارات سے معلوم ہوا کہ مشہور آریہ سماجی لیڈر سوامی شردھانند اور آریہ سماج نے صوبہ یو۔ پی میں ملکانوں اور علم دین سے بے بہرہ مسلمانوں کو مرتد کرنے کی تحریک زور شور سے جاری کی ہے۔ اس تحریک سے مسلمانان ہندوستان میں اضطراب کی لہر دوڑ گئی۔ چنانچہ ارتداد روکنے کے لئے جمعیۃ العلماء ہند، خلافت کمیٹی، دیوبندی، حنفی، اہل حدیث اور شیعہ جملہ مکاتب فکر کے مسلمان علماء وزعماء آریہ سماج کے مقابلہ میں میدان تبلیغ میں نکل آئے۔
مرزائیت میں داخلہ
جیل سے رہا ہوتے ہی گرد و پیش کے حالات کا جائزہ لینے کے بعد میں نے فیصلہ کر لیا کہ مجھے آریہ سماج اور شدھی وارتداد کے مقابلہ پر حفاظت واشاعت اسلام کا کام کرنا چاہئے۔ آریوں نے پنجاب کو مناظروں کا اکھاڑا بنا رکھا تھا۔ میں نے آریہ سماج کے متعلق لٹریچر مہیا کیا۔ اس کا مطالعہ کرنے کے بعد ضلع گورداسپور کے مختلف مقامات پر صداقت اسلام اور آریہ سماج کی تردید پر متعدد تقریریں کیں۔ فروری ١٩٢٤ء میں تحصیل شکر گڑھ کے ایک جلسہ میں لاہوری مرزائیوں کے چند مبلغین سے میری ملاقات ہوئی۔ آریہ سماج کی تردید کے بارے میں انہوں نے مجھے کہا کہ اگر آپ احمدیہ انجمن لاہور میں تشریف لائیں تو ہم آپ کو اسلام پر آریہ سماج کے تمام اعتراضات کے جوابات سکھا دیں گے۔ انہوں نے اپنی جماعت کے تبلیغی کارناموں کو
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
نہایت ہی مبالغہ سے بیان کیا اور مرزا قادیانی آنجہانی کی خدمات اسلامی کے بڑھ چڑھ کر افسانے سنائے، میں نے کہا کہ ہمارا اور آپ کا مذہب کا بنیادی اختلاف ہے۔ ہم حضور سرور کائنات ﷺ کو آخری نبی مانتے ہیں اور حضور ﷺ کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی نبوت کے مدعی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرزا قادیانی مدعی نبوت نہ تھے۔ قادیانیوں نے مرزا قادیانی کی طرف دعویٰ نبوت منسوب کر کے ان پر افتراء کیا ہے اور بہتان طرازی سے کام لیا ہے۔ اپنے اس بیان کو درست ثابت کرنے کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی کی ابتدائی کتابوں سے چند حوالہ جات پڑھ کر سنائے۔ جن میں اس نے حضور خاتم النبیین ﷺ کے بعد مدعی نبوت کو کافر دجال اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا ہے اور لکھا ہے کہ میں مدعی نبوت نہیں۔ بلکہ مدعی نبوت پر لعنت بھیجتا ہوں۔ میرا مجددیت اور محدثیت کا دعویٰ ہے۔ ہمارے وہی عقائد ہیں جو اہل سنت والجماعت کے عقائد ہیں۔ میرا مرزائی مذہب کے متعلق معمولی مطالعہ تھا اس لئے میں تبلیغ اسلام کے نام پر ان کے دام تزویر میں پھنس گیا اور مسٹر محمد علی امیر جماعت مرزائیہ لاہوریہ کے ہاتھ پر بیعت کر کے مرزا غلام احمد قادیانی کی مجددیت ومہدویت کا پھندا اپنے گلے میں ڈال لیا۔ ان کے تبلیغی کالج میں داخل ہوا۔ تین سال میں ایک اور مرزائی طالب علم اور میری تعلیم پر پچاس ہزار روپے سے زائد رقم خرچ ہوئی۔
قرآن مجید کی تفسیر ، حدیث، بائبل، عیسائیت، ہندی، سنسکرت، ویدوں، آریہ سماج اور علم مناظرہ کی تعلیم حاصل کی۔ مدت معینہ میں نصاب تعلیم ختم ہونے کے بعد مجھے مستقل مبلغ مقرر کر دیا گیا۔ میں نہ صرف مبلغ و مناظر اور محصل ہی کے فرائض ادا کرتا رہا۔ بلکہ سیکرٹری احمدیہ ایسوسی ایشن، ایڈیٹر اخبار پیغام صلح کے ذمہ دارانہ عہدوں پر بھی فائز رہا اور پوری جانفشانی و سرگرمی کے ساتھ مرزائی عقائد کی تبلیغ واشاعت اور آریوں اور دہریوں، عیسائیوں سے کامیاب مناظرے کرتا رہا۔
ترک مرزائیت
١٩٣١ء کے وسط میں میں نے یکے بعد دیگرے متعدد خواب دیکھے جن میں مرزا غلام احمد قادیانی کی نہایت گھناؤنی شکل دکھائی دی اور اسے بری حالت میں دیکھا۔ میں یہ خواب مرزائیوں سے بیان نہ کر سکتا تھا۔ کیونکہ اگر انہیں خواب سنائے جاتے تو وہ مجھے کہتے کہ یہ شیطانی خواب ہیں، نہ ہی کسی مسلمان کو یہ خواب بتا سکتا تھا۔ کیونکہ اگر انہیں یہ خواب سنائے
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
جاتے تو وہ کہتے کہ مرزا غلام احمد اپنے تمام دعاوی میں جھوٹا ہے۔ مرزائیت سے توبہ کر لیجئے میری حالت یہ تھی۔
اگرچہ پہلے بھی مرزا غلام احمد قادیانی کے بعض الہامات اور اس کی چند پیش گوئیاں میرے دل میں کانٹے کی طرح کھٹکتی تھیں۔ لیکن حسن عقیدت اور غلو محبت کی طاقتیں ان خیالات کو فوراً دبا دیتی تھیں اور دل کو تسلی دے دیتا تھا کہ مرزا نبی تو نہیں کہ جس کے تمام ارشادات صحیح ہوں۔ ان خوابوں کی کثرت سے متاثر ہو کر میں نے غور و فکر کیا۔ گو کہ ہمارے خوابوں پر دین کا مدار نہیں اور نہ ہی یہ حجت شرعی ہیں۔ لیکن ان سے صداقت کی طرف راہنمائی تو ہو سکتی ہے، آخر میں نے فیصلہ کیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی محبت اور عداوت دونوں کو بالائے طاق رکھ کر اور ان سے صرف نظر کرتے ہوئے مرزائیت کے صدق و کذب کو تحقیقات کی کسوٹی پر پرکھنا چاہئے۔ خدائے واحد وقدوس کو حاضر و ناظر سمجھتے ہوئے یہ اعلان کر دینا اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ میں نے مرزا غلام احمد قادیانی کی محبت اور عداوت کو چھوڑ کر اور خالی الذہن ہو کر مرزا قادیانی کی اپنی مشہور تصنیفات اور قادیانی و لاہوری ہر دو فریق کی چیدہ چیدہ کتابوں کو جو مرزا قادیانی کے دعاوی کی تائید میں لکھی گئی تھیں۔ چھ ماہ کے عرصہ میں نظر غائر سے بطور محقق کے پڑھا اور علماء اسلام کی تردید مرزائیت کے سلسلہ میں چند کتابیں مطالعہ کیں۔
حقیقت یہ ہے کہ جتنا زیادہ میں نے مطالعہ کیا اتنا ہی مرزائیت کا کذب مجھ پر واضح ہوتا گیا۔ یہاں تک کہ مجھے یقین کامل ہو گیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنے دعویٰ الہام، مجددیت، مسیحیت، نبوت وغیرہ میں مفتری تھا۔ میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ حضور رسالت مآب ﷺ آخری نبی ہیں۔ حضرت مسیح علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں۔ وہ قیامت سے پہلے اس دنیا میں واپس تشریف لائیں گے۔
اب میرے لئے ایک نہایت مشکل کا سامنا تھا۔ ایک طرف ملازمت تھی۔ جماعت مرزائی کے ارکان اور افراد جماعت سے آٹھ سال کے دیرینہ اور خوشگوار تعلقات تھے۔ بحیثیت ایک کامیاب مبلغ و مناظر جماعت میں رسوخ حاصل تھا۔ لیکن جب دوسری طرف مرزا غلام احمد قادیانی کے عقائد، قرآن مجید اور احادیث صحیحہ کے بالکل الٹ دیکھتا تھا۔ ان کے الہامات اور پیش
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
کاپیوں کی دھجیاں فضائے آسمانی میں اڑتی ہوئی نظر آتی تھیں اور قیامت کے دن ان عقائد باطلہ کی باز پرس کا نقشہ آنکھوں کے سامنے آجاتا تو میں لرزہ براندام ہوجاتا تھا کہ ایک طرف حق تھا اور دوسری طرف باطل، ایک طرف تاریکی تھی اور دوسری طرف مشعل نور۔ ایک طرف معقول تنخواہ کی ملازمت اور آٹھ سال کے دوستانہ تعلقات تھے اور دوسری طرف دولت ایمان۔ لیکن ساتھ دنیوی مشکلات اور مصائب کا سامنا۔ آخر میں نے قطعی فیصلہ کرلیا کہ چاہے ہزار ہا تکالیف اٹھانی پڑیں۔ انہیں بخوشی برداشت کروں گا۔ کیونکہ حق کے اختیار کرنے والوں کو ہمیشہ تکالیف ومصائب کا مقابلہ کرنا پڑا ہے۔
چنانچہ میں اشکبار آنکھوں اور کفر وارتداد سے پشیمان اور لرزتے ہوئے دل سے اپنے رحیم وکریم خداوند قدوس کے حضور، کفر مرزائیت سے تائب ہو گیا۔ توبہ کے بعد دل کی دنیا ہی بدل چکی تھی۔
میرے غفور ورحیم مالک ۔
ہم نے تو جہنم کی بہت کی تدبیر لیکن تری رحمت نے گوارا نہ کیا
”الحمد للہ الذی ھدانا لھذا وما کنا لنھتدی لولا ان ھدانا اللہ (الاعراف:٤٣)“
اللہ تعالیٰ کا لا انتہاء احسان وشکر ہے جس نے ہم کو یہاں تک پہنچایا اور اگر اللہ تعالیٰ ہمیں ہدایت نہ کرتا تو ہم ہرگز راہ راست پانے والے نہ تھے۔ ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء!
میں نے یکم جنوری ١٩٣٢ء کو احمدیہ انجمن لاہور کی ملازمت سے استعفیٰ دے دیا جو ٢٤ جنوری کو منظور کر لیا گیا۔
ترک مرزائیت کا اعلان
١٩٣٢ء کی ابتداء میں انگریز اور ڈوگرہ حکومت کے خلاف تحریک کشمیر انتہائی عروج تک
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
پہنچ چکی تھی۔ مجلس احرار اسلام کے ایک درجن سے زائد مجاہدین شہید ہو چکے تھے۔ مجلس کے تمام راہنما اور چالیس ہزار سرفروش رضا کار جیل خانوں میں محبوس تھے۔ برطانوی حکومت نے عام اجتماعات پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔ حالات کچھ سازگار ہوئے۔ پابندیاں ختم ہوئیں تو احباب کی طرف سے ایک جلسہ عام کا اہتمام کیا گیا۔ قد آدم اشتہار شائع کئے گئے کہ ٧؍ مئی ١٩٣٢ء بعد نماز عشاء باغ بیرون موچی دروازہ لاہور جلسہ عام منعقد ہوگا۔ جس میں مولانا لال حسین اختر جن کی تعلیم پر مرزائیوں نے پچاس ہزار سے زائد روپیہ خرچ کیا تھا اور وہ جماعت مرزائیہ لاہور کے مشہور مبلغ و مناظر تھے ترک مرزائیت کا اعلان کریں گے اور ترک مرزائیت کے وجوہ اور ناقابل تردید دلائل بیان کریں گے۔ ان کی تقریر کے بعد مرزائیوں کے نمائندہ کو سوال و جواب کے لئے وقت دیا جائے گا۔ اندرون شہر اور بیرون شہر منادی کی گئی بعد نماز عشاء کم از کم تیس ہزار کے مجمع میں میں نے ترک مرزائیت کے موضوع پر تین گھنٹے تقریر کی۔ سٹیج کے بالمقابل مرزائی مبلغین ومناظرین کے لئے میز اور کرسیاں رکھی گئی تھیں۔ میری تقریر کے بعد صاحب صدر نے اعلان کیا کہ حسب وعدہ مرزائی صاحبان کو مولانا لال حسین اختر صاحب کی تقریر پر سوال و جواب کے لئے وقت دیا جاتا ہے تا کہ حاضرین مرزائیت کے صدق و کذب کا اندازہ لگا سکیں۔ لاہوری اور قادیانی مرزائیوں کے مبلغ و مناظر موجود تھے۔ لیکن کسی کو ہمت و جرأت نہ ہوئی کہ وہ میرے مقابلہ میں آسکیں۔ صاحب صدر کی دعا کے بعد اجلاس برخاست ہوا۔
لالچ اور قاتلانہ حملے
اس عظیم الشان جلسے اور مرزائیت کی شکست کی روداد اخبارات میں شائع ہوئی تو ملک کے طول و عرض سے مجھے تقریر کے لئے دعوتوں کا لگا تار سلسلہ شروع ہو گیا۔ مختلف شہروں اور قصبات میں میری بیسیوں تقریریں اور مرزائیوں سے پانچ چھ نہایت کامیاب مناظرے ہوئے۔ ان ایام میں اونچی مسجد اندرون بھاٹی دروازہ لاہور کے بالمقابل میرا قیام تھا۔ میری تقریروں اور مناظروں کی کامیابی سے متاثر ہوکر مرزائیوں کے ایک وفد نے مجھ سے ملاقات کی اور مجھے کہا کہ آپ نے اپنی تحقیق کی بناء پر احمدیت ترک کردی ہے۔ آپ کے موجودہ عقائد کے متعلق ہم آپ سے کچھ نہیں کہتے۔ ہم یہ کہنے آئے ہیں کہ آپ کی تقریریں اور مناظرے ہمارے لئے ناقابل برداشت ہیں۔ ہمیں علم ہے کہ سوائے تقریروں اور مناظروں کے آپ کی مالی آمد کا اور کوئی ذریعہ نہیں۔ جماعت احمدیہ آپ کو پندرہ ہزار روپے کی پیشکش کرتی ہے۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
آپ ہم سے یہ رقم لے لیں اور اس سے جنرل مرچنٹ یا کپڑے کا کاروبار شروع کر لیں اور ہمیں اسٹام لکھ دیں کہ میں پندرہ سال تک احمدیت کے خلاف نہ کوئی تقریر کروں گا اور نہ مناظرہ اور نہ ہی کوئی تحریری بیان شائع کروں گا۔ اگر اس معاہدہ کی خلاف ورزی کروں تو جماعت احمدیہ کو تیس ہزار روپیہ ہرجانہ ادا کروں گا۔ یہ بھی کہا کہ احمدیت کی تردید کوئی ایسا فرض نہیں جس کے بغیر آپ مسلمان نہیں رہ سکتے۔ حنفیوں، اہل حدیثوں اور شیعوں میں ہزاروں علماء ایسے ہیں جو احمدیت کی تردید نہیں کرتے۔ اگر وہ تردید احمدیت کے بغیر مسلمان رہ سکتے ہیں تو آپ بھی مسلمان رہ سکتے ہیں۔ میں نے جواباً کہا: آپ صاحبان کو یہ ہمت کیسے ہوئی کہ مجھے لالچ کے فتنے میں پھانسنے کی جرات کریں۔ میں ان علماء کرام کے طریق کار کا ذمہ دار نہیں جو تردید مرزائیت سے اجتناب کرتے ہیں۔ میرے لئے تو استیصال مرزائیت کی جدوجہد فرض عین ہے۔ کیونکہ میں نے مدت مدید تک اس کی نشر و اشاعت کی ہے۔ مجھے تو اس کا کفارہ ادا کرنا ہے۔ دنیا کا کوئی بڑے سے بڑا لالچ مجھے تردید مرزائیت سے منحرف نہیں کر سکتا۔ قریباً ایک گھنٹے کی گفتگو کے بعد مجھ سے مایوس ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے اور جاتے ہوئے کہہ گئے کہ آپ نے ہمارے متعلق نہایت خطرناک طرز عمل اختیار کر رکھا ہے۔ آپ کے لئے اس کا نتیجہ تباہ کن ہوگا۔ میں نے انہیں کہا:
میں نے ان کے اس جارحانہ چیلنج کی پرواہ نہ کی۔ حسب سابق اپنے تبلیغی سفروں، تقریروں اور مناظروں میں منہمک رہا۔ مرزائیوں نے اپنی سوچی سمجھی سکیم کے مطابق یکے بعد دیگرے ڈیرہ بابا نانک ضلع گورداسپور کے مناظرہ اور بیلوں ڈلہوزی کے جلسہ کے ایام میں مجھ پر دو بار قاتلانہ حملے کئے۔ ڈیرہ بابا نانک کے حملہ میں مجھے زخم آیا۔ ایک مرزائی نے صاف الفاظ میں مجھے کہا کہ یاد رکھو ہم تمہیں قتل کرا دیں گے۔ خواہ ہمارا پچاس ہزار روپیہ خرچ ہو میں نے اسے جواب دیا کہ میرا عقیدہ ہے کہ شہادت سے بہتر کوئی موت نہیں۔ قبر کی رات کبھی گھر میں نہیں آسکتی۔ ایک دفعہ بعد نماز عشاء بیلوں ڈلہوزی کی مسجد میں تردید مرزائیت پر میری تقریر ہورہی تھی۔ ایک مرزائی جس نے کمبل اوڑھا ہوا تھا میرے نزدیک آیا۔ ایک مسلمان نے پکڑ لیا۔ مرزائی نے کمبل میں چھرا چھپا رکھا تھا۔ سب انسپکٹر پولیس جلسہ میں موجود تھا۔ اس نے اسی وقت مرزائی کو گرفتار کر کے چھرا اپنے قبضہ میں لے لیا اور اسے تھانے کے حوالات میں بند کر دیا۔ دوسرے دن علاقہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کر دیا۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
مجسٹریٹ نے ملزم سے چھ ماہ کے لئے نیک چلنی کی ضمانت لے لی۔ لاہور کے اخبارات میں مجھ پر ڈیرہ بابا نانک کے حملہ کی خبر شائع ہوئی تھی۔ حضرت مولانا ظفر علی خان ؒ نے زمیندار میں ایک شذرہ سپرد قلم فرمایا تھا۔ مجلس احرار اسلام کے زعماؤں کو مجھ پر مرزائیوں کے حملوں کا علم ہوا تو قائد احرار حضرت مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی ؒ نے ناظم دفتر سے فرمایا کہ مرزائیوں کی جارحیت کا جواب دینے کے لئے جلسہ کا انتظام کیجئے۔ چنانچہ کثیر التعداد پوسٹر چسپاں کئے گئے۔ اخبارات میں اعلان ہوا۔ شہر کے ہر حصے میں منادی ہوئی کہ باغ بیرون دہلی دروازہ لاہور بعد نماز عشاء زیر صدارت چوہدری افضل حق عظیم الشان جلسہ منعقد ہوگا جس میں حضرت مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی ؒ مرزائیوں کی جارحیت کے چیلنج کا جواب دیں گے۔
بعد نماز عشاء چالیس ہزار سے زائد کے مجمع میں حضرت مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی ؒ نے مجھے سٹیج پر کھڑا کر کے میرا تعارف کرایا۔ انہوں نے فرمایا کہ ہمارے اس نوجوان نے مسلم عالم میں مناظروں میں مرزائیوں کو ذلیل ترین شکستیں دی ہیں۔ مرزائی ان کے دلائل کا جواب نہ دے سکے تو ڈیرہ بابا نانک اور ڈلہوزی میں ان پر قاتلانہ حملے کئے گئے۔
میں مرزائیوں سے نہیں، ان کے خلیفہ مرزا محمود سے کہتا ہوں کہ اگر تم یہ کھیل کھیلنا چاہتے ہو تو میں تمہیں چیلنج دیتا ہوں کہ مرد میدان بنو۔ اب لال حسین اختر ؒ پر حملہ کراؤ۔ پھر احرار کے فدا کاروں کی یورش اور قربانیوں کا اندازہ لگانا ہر ایک جگہ ایک ہزار سے انتقام لیا جائے گا۔ ہم خون کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ ہماری تاریخ تمہارے سامنے ہے۔ ہم محلاتی سازشوں کے قائل نہیں۔ ہم میدان میں ڈٹ کر مقابلہ کرنے والے ہیں۔ ہمیں جو عمل کرنا ہوتا ہے اس کا واشگاف الفاظ میں اعلان کر دیتے ہیں۔ حضرت مولانا کی تقریر کیا تھی شجاعت و ایثار اور حقائق کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا۔ بار بار نعرہ ہائے تکبیر بلند ہوتے تھے۔ فرمایا ہم وہی احرار ہیں جن کے ٣١ رضا کار اسلام اور مسلمانوں کی عزت بچانے کے لئے سینوں پر ڈوگرہ حکومت کی گولیاں کھا کر شہید ہوئے ہیں اور چالیس ہزار نے قید و بند کی مصیبتیں بخوشی برداشت کیں۔ اس کے بعد مرزائیوں کو سانپ سونگھ گیا۔ مرزا بشیر کی عقل ٹھکانے آ گئی۔ میں حضرت امیر شریعت ؒ اور ان کے گرامی قدر رفقاء کی معیت میں ترویج و اشاعت اسلام اور احقاق حق و ابطال باطل کے لئے وقف ہو گیا۔ اوپر میں نے جن خوابوں کا ذکر کیا ہے ان کی تفصیل یہ ہے۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
خوابیں
ایک رات میں نے خواب دیکھا کہ ایک چٹیل میدان میں ہزاروں لوگ حیران و پریشان کھڑے ہیں۔ میں بھی ان میں موجود ہوں۔ ان کے چاروں طرف لوہے کے بلند و بالا ستون ہیں اور ان پر زمین سے لے کر قد آدم تک خاردار تار لپٹا ہوا ہے۔ تار کے اس حلقے سے باہر نکلنے کا کوئی دروازہ یا راستہ نہیں۔ ہزاروں اشخاص کو اس میں قید کر دیا گیا ہے۔ ان میں چند میری شناسا صورتیں بھی ہیں۔ میں نے ان سے دریافت کیا کہ ہمیں اس مصیبت میں گرفتار کیوں کیا گیا ہے۔ انہوں نے مجھے جواباً کہا کہ ہمیں احمدیت کی وجہ سے مخالفین نے یہاں بند کر دیا ہے۔ یہاں سے کچھ فاصلہ پر مسیح موعود پلنگ پر سوئے ہوئے ہیں۔ انہیں ہماری خبر نہیں کہ وہ ہماری رہائی کے لئے کوشش کر سکیں۔ ہم میں سے کسی کے پاس کوئی اوزار نہیں جس سے خاردار تار کو کاٹ کر باہر نکلنے کا راستہ بنایا جاسکے۔ میں نے خاردار تار کے چاروں طرف گھومنا شروع کیا۔ میں نے دیکھا کہ ایک جگہ سے زمین کی سطح کے قریب کا تار ڈھیلا ہے۔ میں زمین پر بیٹھا اور اس تار کو اپنے دائیں پاؤں سے نیچے دبایا تو وہ تار زمین کے ساتھ جالگا۔ سر کے قریب تار کو ہاتھ سے ذرا اوپر کیا تو دونوں تاروں میں اس قدر فاصلہ ہو گیا کہ میں تار سے باہر نکل آیا۔
مجھے کافی فاصلہ پر پلنگ نظر آیا جس پر مرزا غلام احمد قادیانی چادر اوڑھے لیٹا ہوا تھا۔ میں نہایت ادب و احترام سے پلنگ کے قریب پہنچ گیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ اس نے اپنے چہرے سے چادر سرکائی تو اس کا منہ قریباً دو فٹ لمبا تھا۔ شکل ناقابل بیان تھی۔ (خنزیر جیسی) ایک آنکھ بالکل بے نور اور بند تھی۔ دوسری آنکھ ماش کے دانے کے برابر تھی۔ اس نے کہا میری بہت بری حالت ہے اس کی آواز کے ساتھ شدید قسم کی بدبو پیدا ہوئی۔ اس کی شکل اور بدبو سے میں کانپ گیا۔ میری نیند اچاٹ ہو گئی۔ میری نیند جاتی رہی اور میری آنکھ کھل گئی۔
دوسرا خواب
ایک رات خواب دیکھا کہ ایک شخص مجھ سے قریباً دو سو گز آگے جا رہا ہے۔ میں اس کے پیچھے پیچھے چل رہا ہوں۔ تانت (جس سے روئی دھنی جاتی ہے) کا ایک سرا اس کی کمر میں بندھا ہوا ہے اور دوسرا سرا میری گردن میں۔ ہمارا سفر مغرب سے مشرق کی طرف ہے۔ دوران سفر راستہ پر دائیں طرف ایک نہایت وجیہہ شخص نظر آئے۔ سفید رنگ، درمیانہ قد، روشن آنکھیں، سفید پگڑی، سفید لمبا کرتہ، سفید شلوار۔ مسکراتے ہوئے مجھے فرمایا کہ کہاں جا رہے ہو؟ میں نے
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
جواب دیا کہ جہاں میرے آگے جانے والے مجھے لے جارہے ہیں۔ کہنے لگے جانتے ہو یہ کون ہے؟ اور تمہیں کہاں لے جارہا ہے؟ میں نے کہا مجھے معلوم نہیں کہ یہ کون ہیں؟ اور مجھے کہاں لے جارہے ہیں؟ فرمانے لگے یہ غلام احمد قادیانی ہے خود جہنم کو جارہا ہے اور تمہیں بھی وہیں لئے جارہا ہے۔ میں نے کہا کہ دنیا میں کوئی ایسا انسان نہیں جو جان بوجھ کر جہنم میں جائے اور دوسروں کو بھی جہنم میں لے جائے۔ انہوں نے کہا کہ مسیلمہ کذاب کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے۔ کیا اس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر کے عمداً جہنم کا راستہ اختیار نہ کیا تھا؟ میں اس کی دلیل کا جواب نہ دے سکا تو فرمانے لگے غور سے سامنے دیکھو۔ میں نے سامنے نگاہ کی تو مجھے بہت دور حد نگاہ پر زمین سے آسمان تک سرخی دکھائی دی۔ انہوں نے پوچھا جانتے ہو یہ سرخ رنگ کیا ہے؟ میں نے کہا میں نہیں جانتا۔ کہنے لگے یہی تو جہنم کے شعلے ہیں۔ میں حسب سابق چل رہا تھا وہ بھی میرے ساتھ ساتھ قدم اٹھاتے جا رہے تھے۔ وہ غائب ہو گئے میں بدستور اس شخص (غلام احمد قادیانی) کے پیچھے پیچھے جارہا تھا۔ ہم سرخی (جہنم کے شعلوں) کے قریب ہورہے تھے۔ اب تو مجھے حرارت بھی محسوس ہونے لگی۔ وہ وجیہہ شخصیت پھر نمودار ہوئی۔ انہوں نے تانت پر ضرب لگائی۔ تانت ٹوٹ گئی اور میں نیند سے بیدار ہو گیا اور میں نے جان لیا کہ حق تعالیٰ نے مجھے مرزائیت کے جھوٹ اور باطل ہونے پر آگاہ فرمادیا ہے۔ میرا تذبذب اور پریشانی ختم ہوچکی تھی۔ میں نے توبہ کی، استغفار کیا اور از سر نو کلمہ طیبہ اور کلمہ شہادت پڑھا۔ مرزائیت ترک کر دی۔ مولوی محمد علی (لاہوری گروپ کے امیر) کو استعفیٰ لکھ کر دیا اور اللہ سے عہد کیا کہ اس گناہِ عظیم کی تلافی کے لئے ساری عمر رسول اللہ ﷺ کی ختم رسالت کا خادم رہوں گا۔
اسلام قبول کرنے کے بعد
حضرت مولانا نے ایک جلسہ عام میں اپنی توبہ کا اعلان کر کے دھجیاں بکھیر دیں۔ مسلمانوں میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی۔ جب کہ مرزائیوں میں صف ماتم بچھ گئی۔ مسلمانوں نے آپ کو آنکھوں پر بٹھایا۔ ملک بھر میں آپ کی توبہ کو سراہا گیا۔ آپ نے مرزائیت کی تردید کے لئے ملک کے تبلیغی سفر کئے۔ ان دنوں مجلس احرار اسلام کا شعبہ تبلیغ مرزائیت کے خلاف صف آراء تھا۔ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ نے حضرت مولانا لال حسین اختر ؒ کو اپنی جماعت میں شامل ہونے کی باضابطہ دعوت دی۔ جسے آپ نے قبول کر لیا اور اس وعدہ کو زندگی کی آخری ساعت تک نبھایا۔ مجلس احرار اسلام کا پلیٹ فارم اور حضرت مولانا لال حسین اختر ؒ کی
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
مجاہدانہ تقاریر نے ملک بھر میں مرزائیت کے لئے مشکل پیدا کر دی۔
مرزائیوں نے مناظرے کا چیلنج دیا۔ آپ نے قبول کیا۔ مناظرے ہوئے۔ ہر جگہ ”مرزائی مناظرین کو جان چھڑانی مشکل ہو گئی۔ حضرت مولانا لال حسین اخترؒ کا تاریخی جملہ کہ مرزائی مناظرین کے لئے زہر کا پیالہ پی لینا آسان ہے مگر لال حسین اخترؒ کے سامنے مرزاغلام احمد قادیانی کو شریف انسان ثابت کرنا مشکل ہے۔“ چار دانگ عالم میں مشہور ہو گیا تھا۔ مرزائی مناظر مولانا لال حسین اخترؒ کا نام سنتے ہی مناظرے سے بھاگ جاتے۔ بالآخر تنگ آکر مرتا کیا نہ کرتا پر عمل کر کے اخبار الفضل میں اعلان کر دیا گیا کہ: ”مولانا لال حسین اخترؒ جہاں کہیں مناظر ہوں گے ہم ان سے مناظرہ نہیں کریں گے ۔“ مرزائیوں کی اس واضح شکست کے اعلان پر اخبار الفضل کا فائل گواہ ہے۔ والفضل ما شهدت به الاعداء!
مناظر اسلام مولانا لال حسین اخترؒ سے مناظرہ نہ کیا جائے
قادیانیوں کا سرکاری سطح پر اعلان
فقیر (راقم اللہ وسایا) جن دنوں چناب نگر ریلوے اسٹیشن پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مسجد محمدیہ میں خطبہ جمعہ دیتا تھا۔ ان دنوں کتابیں، حوالہ جات، اخبارات و رسائل ہاتھ میں لے کر قادیانیوں کو خطاب کرنے کا طریقہ اختیار کیا تھا۔ ان دنوں قادیانی اخبار الفضل کے دو پرچے مناظر اسلام مولانا عبدالرحیم اشعرؒ نے عنایت کئے۔ جن میں قادیانیوں کا اعتراف شکست تھا۔ قادیانی جماعت نے اپنے اخبار الفضل میں جماعتی طور پر باضابطہ اعلان کیا تھا کہ مناظر اسلام مولانا لال حسین اخترؒ سے کوئی قادیانی مناظرہ نہ کرے۔ بلکہ ان کی مجلس میں نہ جائے۔ ان کی گفتگو نہ سنے۔ یہ دونوں حوالہ جات چناب نگر (ربوہ) اسٹیشن جامع مسجد محمدیہ میں فقیر نے پڑھ کر سنائے۔ قادیانی سٹ پٹائے۔ اخبار پرانے تھے ان پر کور چڑھانے کے لئے ایک ”مخلص“ نے لے لئے اور وہ نہ ملنے تھے نہ ملے۔ فقیر کے لئے یہ اتنا بڑا سانحہ تھا کہ بس کچھ نہ پوچھئے۔ جب یاد آتا دل مسوس کر رہ جاتا۔ اخبار سے زیادہ صدمہ اس بات کا تھا کہ ان کی تاریخ کہیں درج نہ کی تھی۔ ورنہ اخبار تو کہیں سے بھی حاصل کیا جاسکتا تھا۔ ہمارے حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ کو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی بہتر جزا دیں۔ ان کی نوٹ بکوں میں کہیں وہ تاریخیں مل گئیں۔ فقیر نے وہ ڈائری کے ٹائٹل پر نقل کر لیں۔ مورخہ ٥/جولائی ١٩٩٩ء کو
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
فرصت نکال کر مجلس کے مرکزی دفتر کی لائبریری سے الفضل کی متعلقہ فائل نکالی تو بحمدہ تعالیٰ وہ پرچے مل گئے۔ فالحمد لله !
مناظر اسلام مولا نالال حسین اختر ؒ امت مسلمہ میں سے وہ فرد واحد ہیں جن کے متعلق قادیانی جماعت کے ناظر دعوت وتبلیغ (یعنی مناظروں کے انچارج اعلیٰ) زین العابدین ولی اللہ شاہ نے اخبار الفضل مورخہ یکم جولائی ١٩٥٠ء میں باضابطہ اعلان کیا۔ یہ اعلان الفضل (الہ جل) کے ڈیڑھ صفحہ پر محیط ہے۔ ”مبلغین سلسلہ و دیگر احباب محتاط رہیں“ عنوان قائم کر کے اس نے تحریر کیا۔
”مولوی لال حسین اختر اور اس قماش کے دوسرے مبلغین جگہ بہ جگہ ہمارے خلاف اکھاڑے قائم کئے ہوئے ہیں۔ جماعت احمدیہ اور اس کے مقدس امام (مرزا قادیانی) کو بازاری قسم کی گندی گالیاں دیتے اور ہمارے عقائد اور اقوال ...... کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اپنی طرف سے من گھڑت باتیں ہماری طرف منسوب کر کے لوگوں کو مغالطہ میں ڈالتے ہیں اور مبلغین سلسلہ (قادیانیت) کو چیلنج دیتے ہیں کہ ان کے ساتھ مناظرہ کر لیں۔ چنانچہ ساہیوال کے جلسہ میں لال حسین اختر نے مبلغین سلسلہ (قادیانیوں) کو خطاب کرتے ہوئے بار بار کہا آؤ مناظرہ کرو۔ تم مذہبی جماعت نہیں۔ بلکہ سیاسی جماعت ہو۔ عنوان ہو کہ قادیانی کافر تھا۔ انگریز کا جاسوس تھا۔ دجال تھا۔ کذاب تھا۔ گونگا شیطان تھا۔ اگر نہ آؤ تو لعنة الله على الكاذبين ! فرشتوں کی لعنت۔ آسمان کی لعنت۔ زمین کے بسنے والوں کی لعنت۔ میں اللہ پاک کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر مرزائی مقابلہ پر آئے تو دن کے تارے نہ دکھادے تو لال حسین اختر میرا نام نہیں۔ کوئی مرزائی میرے سامنے بول نہیں سکتا۔ کوئی میرے سامنے آیا تو ناطقہ بند ہو جائے گا۔ اس لئے میں (زین العابدین قادیانی ناظر دعوۃ و ارشاد) مبلغین سلسلہ (قادیانیوں) کو کھلے الفاظ میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ مناظروں کے لئے ان کے چیلنجوں پر قطعاً توجہ نہ کی جائے۔ بلکہ ان کے کسی ایسے جلسوں میں کسی احمدی کو شریک نہ ہونا چاہئے۔“
(الفضل ص٤، مورخہ یکم جولائی ١٩٥٠ء)
اس طرح ٥؍ جولائی ١٩٥٠ء کے اخبار میں لکھا کہ:
”ناظر دعوۃ وتبلیغ سلسلہ عالیہ احمدیہ (قادیانیہ) ربوہ نے ایک مضمون مورخہ یکم جولائی ١٩٥٠ء الفضل میں شائع فرما کر مبلغین سلسلہ عالیہ احمدیہ (قادیانیہ) اور احباب جماعت کو ہدایت فرمائی ہے کہ بد سے بدزبان مولوی لال حسین اختر سے کلام کرنے میں احتراز کریں۔“
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
اس لحاظ سے امت مسلمہ میں سے مولانا لال حسین اخترؒ پہلے وہ مرد حق ہیں جن کے نام سے دنیائے قادیانیت کانپتی و ہانپتی تھی۔ مولانا کی للکار احرار نے قادیانی مبلغین و مناظرین کی بولتی بند کر دی تھی۔ ان پر عرصہ حیات تنگ کر دیا تھا جو قادیانی بہادر بھی ان کے سامنے آتا منہ کی کھاتا۔ منہ کے بل گرتا اور سسکتا سسکتا رہ جاتا۔ مولانا کے سامنے کسی قادیانی کا چراغ نہ جلتا تھا۔ اس لئے خود قادیانی اپنی حسرت و یاس میں جل بھن کر اعلان کرنے پر مجبور ہوئے کہ ان سے مناظرہ نہ کیا جائے۔ کلام نہ کیا جائے۔ گفتگو نہ کی جائے۔ بلکہ ان کی گفتگو ہی نہ سنی جائے۔ کیوں جناب؟ یہ سب کچھ قادیانی جماعت اعلان کر رہی ہے یا قدرت حق مولانا لال حسین اخترؒ کے اس قول کو سچا ثابت کر رہی ہے جو وہ اکثر مناظروں میں فرمایا کرتے تھے کہ:
’’ماں نے وہ بچہ نہیں جنا جو لال حسین اختر سے آ کر مناظرہ کرے۔ قادیانی زہر کا پیالہ پی سکتے ہیں۔ لال حسین کے سامنے مرزا غلام احمد (اپنے چیف گرو و لاٹ پادری) کو شریف انسان ثابت نہیں کر سکتے۔‘‘
باقی رہا قادیانیوں کا یہ عذر کہ مولانا لال حسین اختر گالیاں دیتے ہیں۔ یہ صرف مولانا کی گرفت سے بچنے کی قادیانی چال تھی۔ یہ ان کا بدترین الزام تھا۔ دھوکہ تھا۔ مولانا لال حسین اخترؒ مناظرہ، جلسہ تو درکنار کسی مجلس میں بھی آپ نے کبھی کوئی گالی نہیں دی۔ یہ محض مولانا سے جان چھڑانے کے لئے اپنی جہالت و عجز پر پردہ ڈالنے کے لئے، قادیانی مناظر بہانہ بنایا کرتے تھے۔ ورنہ اگر مولانا گالیاں دیتے تھے تو اس لحاظ سے تو ہر روز قادیانیوں کو مولانا سے مناظرہ کرنا چاہئے تھا۔ قادیانی دلائل دیتے۔ مولانا گالیاں دیتے تو لوگ قادیانیوں کے ساتھ ہو جاتے۔ ان کو پتہ چل جاتا کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون ہے؟ معلوم ہوا کہ مناظروں کے فرار کے لئے قادیان کی جھوٹ ساز مل نے قادیانی کذابوں کے لئے دجل و فریب کا یہ نیا چولہ تیار کر کے دیا تھا کہ وہ یوں بہانہ بنا کر مولانا لال حسین اخترؒ کی مناظرانہ للکار سے کنارہ عافیت تلاش کر سکیں۔ قدرت حق مولانا لال حسین اخترؒ پر اپنی رحمتوں کی بارش نازل فرمائے۔
مولانا تاج محمود صاحبؒ نے یکم جنوری ١٩٧٨ء کے لولاک میں تحریر فرمایا:
’’قیام پاکستان سے پہلے مولانا (لال حسین) مجلس احرار اسلام کے علماء اور مجاہدین کے ساتھ رہے۔ کچھ عرصہ آگرہ میں قیام رہا۔ مجلس احرار اسلام سیاسی جماعت تھی تو اس کے ساتھ ایک غیر سیاسی شعبہ، شعبہ تبلیغ بھی بنایا گیا تھا۔ اس شعبہ کے سربراہ میاں قمر الدین اچھروی اور انچارج تبلیغ پہلے مولانا عنایت اللہ صاحب تھے جو غالباً کالا باغ کے رہنے والے تھے اور بعد میں
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
مولانا محمد حیات ؒ کو بھیجا گیا۔ جنہوں نے کئی سال وہاں رہ کر مرزائیوں کو ناکوں چنے چبوائے اور ان کی جعلی نبوت کا سارا پول ان کے ظل مسیح کے سامنے کھول کر رکھ دیا۔ جس پر انہیں فاتح قادیان کا خطاب برصغیر کے اہل حق کی طرف سے دیا گیا تھا۔
مولانا لال حسین اختر ؒ اگرچہ احرار کی ہر جدوجہد میں اور قید و بند کے ابتلاء میں شریک رہے۔ تاہم ان کی خدمات کا زیادہ تر تعلق مرزائیوں کے تعاقب اور احتساب سے تھا اور وہ بھی گویا ایک طرح کے شعبہ ختم نبوت سے متعلق رہے۔ البتہ قیام پاکستان کے بعد مجلس احرار اسلام واضح طور پر دو دھڑوں میں بٹ گئی۔ شاہ صاحب ؒ، مولانا محمد علی جالندھری ؒ اور قاضی احسان احمد شجاع آبادی ؒ اس سیاست سے بالکل بیزار ہو گئے۔ جس کا رواج پاکستان میں فروغ پانے لگ گیا تھا اور ماسٹر تاج الدین انصاری ؒ، شیخ حسام الدین ؒ ابھی سیاسیات میں مزید تجربے اور ملک وملت کی خدمت کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ لیکن مسلم لیگ اور عوامی لیگ دونوں میں شامل ہو کر انہوں نے دیکھ لیا کہ ان کا فیصلہ محل نظر تھا اور شاہ جی کی کہی ہوئی بات بالکل صحیح تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان بزرگوں نے سیاست سے علیحدگی اختیار کر لی اور مجلس تحفظ ختم نبوت کو باقاعدہ الگ حیثیت سے جماعت کی شکل دی اور یکسوئی سے اشاعت وحفاظت اسلام کا کام کیا اور اس طرح مرزائیت کے حصار میں زبردست شگاف ڈالنے میں کامیاب ہو گئے۔ یہاں تک کہ حق تعالیٰ نے مولانا لال حسین اختر ؒ کے بعد آنے والے امیر مولانا سید محمد یوسف بنوری ؒ کے دور میں اور ان ہی کی زیر قیادت ہماری آنکھوں کے سامنے انگریزوں کے بنائے ہوئے مرزائیت کے گھروندے کو برباد کر دیا۔ ہر چند کہ یہاں یہ ذکر بے ربط اور غیر ضروری ہے۔ لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ اس سارے سلسلہ میں احرار کے ان مخلص بہادر اور جری کارکنوں اور رضا کاروں کو بے حد پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ شمع حریت کے پروانے تھے۔ برصغیر کی پچھلے پچاس سال کی سیاسی اور دینی تاریخ میں انہوں نے بڑا اہم اور شاندار کردار ادا کیا تھا۔ ان کی محنت، وفا اور جذبہ خدمت ناقابل تقسیم تھا۔ لیکن ہر تقسیم کے صدمے کی طرح انہیں اس تقسیم کا صدمہ بھی سہنا پڑا۔
بہرحال الحمد للہ! ان کارکنوں نے بھی ہمت نہیں ہاری۔ ان کے ملک بھر میں دفاتر موجود ہیں۔ تنظیم موجود ہے۔ رضا کار موجود ہیں اور پاکستان میں کتاب اللہ وسنت رسول اللہ ﷺ کے نظام کے اجراء کا مشن ان کے سامنے موجود ہے۔ وہ اپنے اکابر کی اس روح کو سمجھتے ہیں کہ اسلام میں امراء کی نہیں غرباء کی زیادہ دلجوئی موجود ہے اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ دین نام ہے۔ بقول علامہ اقبال ؒ ۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
کہ اگر باو نہ رسیدی تمام بولہبی ست
انہوں نے سینہ سپر ہو کر فرنگی کو یہاں سے نکالا تھا اور بے پناہ قربانیاں دی تھیں۔ وہ انگریز کے خود کاشتہ پودے کی پوری تاریخ سے آگاہ ہیں۔ اس کے مقابلہ میں انہوں نے ہمیشہ قربانیاں دی ہیں۔ دے رہے ہیں اور جب تک یہ شجرۂ خبیثہ دنیا میں موجود ہے گروہ حضور ختمی مرتبت کی محبت اور وفا کا حق ادا کرتے رہیں گے اور مرزا محمود کی ان کے متعلق پیش گوئی انشاء اللہ کبھی پوری نہیں ہوگی۔ ان کی جمعیت کو کیوں نقصان پہنچا۔ وہ زیادہ سیاسی طاقت ہونے کے باوجود قوت فیصلہ کی کمزوری کے باعث ملکی سیاسیات میں کوئی ستارہ کیوں نہ بن سکے۔ میں اس تلخ نوائی میں پڑنا چاہتا ہوں نہ ہی غالباً یہ میرے قلم کی ذمہ داری ہے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کا قیام عمل لایا گیا تو مولانا لال حسین اخترؒ نے اپنے آپ کو اس جماعت کے لئے ہمہ تن اور ہمہ وقت وقف کر دیا اور بالآخر جماعت کی خدمت اور حضورﷺ کی ختم رسالت کی پاسبانی کی ڈیوٹی کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو گئے۔
مولانا لال حسین اخترؒ کا وجود مرزائیت کے لئے برق بے اماں تھا۔ کسی مرزائی مبلغ اور مناظر کو مولانا کے مقابلہ میں گفتگو کرنے کی جرأت نہ ہوا کرتی تھی۔ بعض دفعہ مرزائیوں نے مولانا کو مناظرے کے چیلنج دیئے۔ لیکن پھر مختلف حیلوں بہانوں سے راہ فرار اختیار کر جاتے تھے۔ اگر کہیں سامنے آگئے تو مولانا نے انہیں عبرت آموز شکست دی۔ مرزائی ان کے نام سے بدک جایا کرتے تھے۔“
تقسیم کے بعد
ملک تقسیم ہوا تو حضرت مولانا لال حسین اخترؒ ضلع سرگودھا کے قصبہ مڈھ رانجھا میں منتقل ہو گئے۔ آٹا پیسنے کی چکی لگا لی۔ تبلیغی کام سرد پڑ گیا۔ حضرت امیر شریعتؒ نے حالات سازگار ہوتے ہی حضرت مولانا کو بلایا۔ حضرت شاہ جیؒ کے حکم پر حضرت مولانا نے سب کچھ فروخت کر دیا اور پھر نئے ولولے سے کام شروع کر دیا۔ ١٩٥٣ء کی تحریک چلی۔ حضرت مولانا لال حسین اخترؒ نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ہراول دستہ کے طور پر کام کیا۔ حضرت امیر شریعتؒ نے مجلس تحفظ ختم نبوت کی بنیاد رکھی۔ حضرت شاہ جیؒ امیر مرکزیہ منتخب ہوئے۔ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ ناظم اعلیٰ اور حضرت مولانا لال حسین اخترؒ صدر المبلغین مقرر کئے گئے۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ کی وفات کے بعد حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ صدر اور حضرت مولانا لال حسین اختر مجلس کے جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے۔ اس دوران انگلستان کا کامیاب دورہ کیا۔ بیرونی دنیا میں کام ہوا۔ اللہ رب العزت نے بڑی کامیابی عنایت فرمائی۔ مرزائیت کی قلعی کھل گئی۔ ان دنوں قادیانی گرو مرزا ناصر احمد انگلستان کے دورے پر گئے۔ حضرت مولانا لال حسین اخترؒ نے موقعہ سے فائدہ اٹھایا۔ مناظرہ کا چیلنج دیا۔ مرزا ناصر احمد دورہ نامکمل چھوڑ کر واپس آ گئے۔ حضرت مولانا کا چیلنج قبول کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔ حضرت مولانا نے فجی آئی لینڈ، سعودی عرب، ایران اور عراق کا بھی تبلیغی دورہ کیا۔ انگلستان میں مجلس تحفظ ختم نبوت کا دفتر خریدا۔ اسی طرح فجی آئی لینڈ میں جماعت کا قائم کردہ مدرسہ تعلیم القرآن کام کر رہا ہے۔ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کی وفات کے بعد حضرت مولانا لال حسین اخترؒ جماعت کے امیر منتخب ہوئے۔ چنیوٹ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس تھی۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ مہمان خصوصی کے استقبال کے لئے سٹیج سے اترے۔ سڑک پر اندھیرا تھا۔ گرے سخت چوٹ لگی۔ یہ ٢٧؍ دسمبر ١٩٧٦ء کا واقعہ ہے۔ چنیوٹ سول ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔ پھر میو ہسپتال، جنرل ہسپتال لاہور رہے۔ ایک دن بیماری کی حالت میں حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ نے حوالہ پوچھا۔ فی الفور آپ نے کتاب، صفحہ، سطر، عبارت تک سنا دی۔ حضرت مولانا محمد شریفؒ نے کہا کہ حضرت مولانا! اگر مرزائیوں سے مناظرہ کرنا پڑے تو آپ اسی حالت میں کر سکیں گے؟ آپ نے فرمایا کہ میری چارپائی لے جا کر مناظرہ گاہ میں رکھ دی جائے۔ پہلے تو میرا نام سن کر مرزائی مقابلہ میں نہیں آئیں گے۔ اگر جرأت کی، تو منہ کی کھائیں گے۔
ایک دن حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ پشاور کے دورہ سے واپس آئے۔ ہائیکورٹ پشاور کے کیس کی تفصیلات بتائیں کہ عنقریب اس کی تاریخ نکلنے والی ہے۔ حضرت مولانا پر یہ سنتے ہی گریہ طاری ہو گیا۔ انہیں صدمہ تھا کہ میں نے بہاولپور، راولپنڈی اور کیمبل پور کی عدالتوں میں مرزائیوں کا کفر ثابت کیا۔ مگر آج بیماری کے ہاتھوں مجبور ہوں۔ پشاور نہیں جا سکتا۔ ورنہ وہاں بھی جا کر ہائیکورٹ میں حضور سرور کائنات ﷺ کی ختم نبوت کی نمائندگی کرتا اور مرزائیوں کے کفر کو ہائیکورٹ میں ثابت کر کے ہائیکورٹ سے ان کے کفر کا فیصلہ صادر کراتا۔ انہی دنوں کشمیر اسمبلی میں مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ حضرت مولانا لال حسین اخترؒ کو خبر ہوئی تو اتنے خوش ہوئے جس کا بیان کرنا زبان قلم کے لئے ناممکن نہیں تو
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
مشکل ضرور ہے۔ بار بار فرماتے: ”فزت ورب الکعبۃ“ رب کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہوں۔ اپنی زندگی مرزائیوں کی اقلیت کا فیصلہ سن کر جا رہا ہوں۔ جس کے لئے میرے اکابر نے اپنی زندگیاں خرچ کر دی تھیں۔ مگر وہ حضرات یہ حسرت اپنے سینوں میں لے کر اس دنیا سے روانہ ہو گئے۔ حضرت مولانا لال حسین اختر ؒ ٦ ماہ تک زیر علاج رہے۔ چنانچہ ١٠؍ جون ١٩٧٤ء کو لاہور مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر میں انتقال فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون! حضرت مولانا لال حسین اختر ؒ کی یہ آخری خواہش بھی پوری ہو گئی کہ اللہ تعالیٰ میرا انتقال مجلس کے دفتر میں کریں۔ لاہور میں آپ کے دو جنازے ہوئے جو حضرت مولانا مفتی زین العابدین ؒ اور حضرت مولانا عبیداللہ انور ؒ نے پڑھائے۔ خیبر میل کے ذریعے آپ کے جنازہ کو دین پور شریف لایا گیا۔ لاہور سے مجلس کے علماء اور حضرت مولانا کے عقیدت مند ہزاروں ساتھیوں نے اشکبار آنکھوں سے آپ کو الوداع کیا۔ خانپور میں حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی ؒ نے استقبال کیا۔ دین پور شریف میں حضرت درخواستی ؒ نے نماز جنازہ پڑھائی۔ حضرت قطب العالم مولانا عبد الہادی دین پوری ؒ کے علاوہ سینکڑوں علماء اور ہزاروں عقیدت مند شریک ہوئے۔ حضرت میاں عبد الہادی ؒ نے دین پور کے قبرستان کے قطعہ خاص حضرت میاں غلام محمد دین پوری ؒ کے قدموں میں مولانا لال حسین اختر ؒ کے لئے یہ کہہ کر تدفین کی جگہ عنایت کی کہ یہ جگہ میں نے اپنے لئے رکھی۔ مگر جوان (مولانا لال حسین ؒ) بہت دور سے اور بڑی محبت سے تشریف لائے ہیں۔ ان کو دے دی جائے۔ حضرت درخواستی ؒ ، حضرت مولانا محمد شریف جالندھری ؒ ، حضرت مولانا غلام محمد ؒ ، حاجی منظور الحق لائل پوری ؒ نے ہزاروں پرنم آنکھوں کی موجودگی میں آپ کو لحد میں اتارا۔ حضرت مولانا غلام محمد دین پوری ؒ کے قدموں اور حضرت مولانا عبیداللہ سندھی ؒ کے پہلو میں دفن ہوئے۔
حضرت مولانا مرحوم کو اللہ تعالیٰ نے بلا کا حافظہ دیا تھا۔ مرزائیت کا لٹریچر ازبر تھا۔ سنسکرت، اردو، ہندی، پنجابی، عربی، انگلش اور فارسی کئی زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ اللہ رب العزت نے بے پناہ خوبیوں اور صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ طبیعت ملنسار تھی۔ بہترین مبلغ، کامیاب مناظر اور نامور عالم دین کی حیثیت سے دین کی خدمت کرتے رہے۔ کئی کتابیں لکھیں۔ مسیح علیہ السلام مرزا قادیانی کی نظر میں، حضرت خواجہ غلام فرید، ختم نبوت اور بزرگان امت، ترک مرزائیت۔ ان کے علاوہ کئی مضامین، مقالے لکھے۔ حضرت مولانا مرحوم کی تمام کتب و رسائل مجموعہ احتساب قادیانیت جلد اوّل میں آگئے ہیں۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
ان رسائل کے تعارف پر مجموعہ احتساب جلد اوّل میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری صاحب مدظلہ نے تعارفی مضمون مقدمہ کے طور پر تحریر فرمایا جو یہ ہے:
نگاہ اولین
’’مناظر اسلام مولانا لال حسین اخترؒ کا وجود قادیانیت کے لئے تازیانہ خداوندی تھا۔ آپ نے نصف صدی خدمت اسلام اور تحفظ ناموس رسالت ﷺ کا مقدس فریضہ سرانجام دیا۔ اندرون وبیرون ملک آپ کی خدمات جلیلہ کا ایک زمانہ معترف ہے۔ ان گرانقدر خدمات میں حکیم الامت مولانا شاہ اشرف علی تھانویؒ ، شیخ الاسلام مولانا سید انور شاہ کشمیریؒ ، قطب الارشاد عبدالقادر رائے پوریؒ کی دعائیں، سرپرستی اور حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی رفاقت کا بہت بڑا دخل ہے۔ ان خدمات کو اس سے بڑھ کر اور کیا خراج پیش کیا جاسکتا ہے کہ ایک دفعہ شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوریؒ نے ایک مناظرہ میں مولانا لال حسین اخترؒ کو نہ صرف اپنا نمائندہ بنایا، بلکہ ان کی فتح وشکست کو اپنی فتح وشکست قرار دیا۔
مولانا لال حسین اخترؒ اور آپ کے گرامی قدر رفقاء مرحومین کا صدقہ جاریہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ہے۔ جب تک اس جماعت کے خدام ورضا کار دنیا کے کسی بھی حصہ میں منکرین ختم نبوت کی سرکوبی کرتے رہیں گے ان حضرات کی مقدس ارواح کو برابر ثواب وتسکین حاصل ہوتی رہے گی۔ مناظر اسلام مولانا لال حسین اخترؒ نے متعدد عنوانوں پر قلم اٹھایا۔ تقریر کی طرح تحریر میں بھی غضب کی گرفت اور مناظرانہ استدلال سے دشمن کو لاجواب کر دینے کی شان نمایاں ہے۔
ردّ قادیانیت پر آپ کے ’’چودہ‘‘ رسائل ومضامین ہیں۔ جن میں سے بعض کو تو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے لاکھوں کی تعداد میں اندرون وبیرون ملک تقسیم کیا اور بعض ایسے رسائل ہیں جو ایک آدھی دفعہ وقتی ضرورت کے تحت شائع ہوئے اور آج وہ نایاب ہیں۔ اس لئے ضرورت تھی کہ ان تمام رسائل کو یکجا کتابی شکل میں شائع کر دیں تاکہ ہمیشہ کے لئے لائبریریوں میں محفوظ ہو جائیں۔
- (١) ترک مرزائیت
اس کتاب میں مولانا مرحوم نے مرزائیت چھوڑنے کے اسباب بیان کئے ہیں۔ اس
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
کتاب کو قدرت نے اس قدر شرف قبولیت سے نوازا کہ مولانا سید انور شاہ کشمیریؒ نے اپنی تصنیف ”خاتم النبیین“ میں اس کے حوالے نقل کئے ہیں۔
(٢) ختم نبوت اور بزرگان امت
قادیانیوں نے امت محمدیہ کے جلیل القدر اکابرین پر اپنے دجل وتلبیس سے الزامات لگائے کہ وہ ”اجرائے نبوت“ کے قائل تھے۔ قادیانیوں کے اس دجل وفریب کا مولانا نے اس رسالہ میں جواب دیا ہے اور ایسا کافی وشافی کہ اس کے بعد قادیانیوں کے ہمیشہ کے لئے منہ بند ہو گئے۔
(٣) حضرت مسیح علیہ السلام مرزا قادیانی کی نظر میں
مرزا غلام احمد قادیانی کے گستاخ وبے باک قلم سے انبیاء کرام کی ذات تک محفوظ نہیں رہی۔ حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی توہین وتنقیص میں تو اس نے یہودیوں کے بھی کان کتر لئے اور ظلم یہ کہ قادیانی امت آج بھی ان غلیظ تحریروں کو پڑھ کر توبہ کرنے کی بجائے تاویل باطل کا انداز اپناتی ہے۔ مولانا مرحوم نے مرزا قادیانی کے اس ”کفر“ کو واضح کیا ہے اور مرزائیوں کی تاویلوں کا دندان شکن جواب دیا ہے۔ اللہ رب العزت کے فضل وکرم سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اس کا انگریزی ایڈیشن بھی شائع کرنے کی سعادت حاصل کی ہے۔
(٤) حضرت خواجہ غلام فریدؒ اور مرزا غلام احمد قادیانی
خواجہ غلام فرید مرحوم بہاولپور کے مشہور ومعروف بزرگ اور صوفی تھے۔ ریاست بہاولپور کے ”والیان“ کو ان سے بہت بڑی عقیدت تھی۔ مشہور زمانہ ”مقدمہ بہاولپور“ میں مرزائیوں نے مشہور کر دیا کہ خواجہ غلام فرید مرزا قادیانی کے ہمنوا تھے۔ ان کی یہ شرارت محض بہاولپور ریاست کے عوام کو دھوکہ دینے کی غرض سے تھی۔ مولانا لال حسین اخترؒ نے اس رسالہ میں ثابت کیا ہے کہ مرزائیوں کا پروپیگنڈہ مرزا قادیانی کی نبوت کی طرح جھوٹا ہے۔ حضرت خواجہؒ تمام مسلمانوں کی طرح مرزا قادیانی کو کافر سمجھتے تھے۔
(٥) مرکز اسلام مکہ مکرمہ میں قادیانیوں کی ریشہ دوانیاں
نام وعنوان سے مضمون واضح ہے۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
(٦) سیرت مرزا، (٧) عجائبات مرزا، (٨) عقل مرزا
ان تینوں مضامین میں مرزا قادیانی کے کریکٹر کو حوالہ جات سے ثابت کیا ہے کہ نبوت تو بہت دور کی چیز ہے۔ مرزا قادیانی میں شرافت نام کی بھی کوئی چیز نہ تھی۔
(٩) آخری فیصلہ
اس رسالہ میں مرزا قادیانی کی مولانا ثناء اللہ مرحوم کے ساتھ دعا و مباہلہ کی کہانی لکھی گئی ہے۔
(١٠) بکر و ثیب
بکر و ثیب مرزا قادیانی کی پیش گوئی تھی اس کا حشر بھی مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت جیسا ہوا۔ اس کی تفصیل لکھی گئی ہے۔
(١١) وفاقی وزیر قانون کی خدمت میں عرضداشت
جناب محمود علی قصوری مرحوم، ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے زمانہ اقتدار میں وفاقی وزیر قانون تھے۔ مولانا لال حسین اخترؒ ان دنوں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر تھے۔ آپ نے قصوری صاحب سے ملاقات کی اور قادیانیوں کے متعلق قانون سازی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے گفتگو کے تمام نکات کو تحریری طور پر پیش کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ آپ نے انہی نکات کو رسالہ کی شکل میں لکھ کر ان کو بھجوا دیا۔
(١٢) سقوط مشرقی پاکستان پر حمود الرحمٰن کمیشن میں تحریری بیان
سقوط مشرقی پاکستان پر تحقیقات کے لئے حمود الرحمٰن کی سربراہی میں ایک کمیشن قائم ہوا۔ مولانا لال حسین اخترؒ نے تحریری طور پر اس کمیشن میں بیان داخل کرایا کہ سقوط مشرقی پاکستان میں رسوائے زمانہ ایم ایم احمد قادیانی اور دوسرے مرزائیوں کا بھی ہاتھ ہے۔
(١٣) مسلمانوں کی نسبت قادیانیوں کا عقیدہ
نام سے مضمون واضح ہے۔ بلا تبصرہ قادیانیوں کے حوالہ جات ہیں۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
(١٤) انگلستان میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی کامیابی
مولانا لال حسین اختر مرحوم کی ان خدمات کی تھوڑی سی جھلک ہے، جو ووکنگ کی ”مسجد شاہجہاں“ کو قادیانیوں سے واگزار کرانے کے سلسلہ میں آپ نے سرانجام دی تھیں۔ یہ رپورٹ کسی اور بزرگ کی لکھی ہوئی ہے۔ تاہم موضوع کی مناسبت سے اسے ہم مجموعہ میں شامل کر رہے ہیں۔
اس طرح احتساب قادیانیت جلد چودہ مختلف رسائل ومضامین کا حسین گلدستہ ہے جو گلہائے رنگا رنگ سے مزین ہے۔“
(مقدمہ احتساب قادیانیت ج ١ ص ٨ تا ٨)
احتساب قادیانیت ج ١٩ میں مولانا میر ابراہیم سیالکوٹیؒ کا ایک رسالہ کشف الحقائق میں مولانا لال حسین اخترؒ کے ایک مناظرہ کی روئیداد ہے۔ اسی طرح احتساب ٤٤ میں بھی آپ کے مناظرہ ڈاور کی رپورٹ ہے:
١٠؍اپریل ١٩٦٥ء کو ڈاور نزد چناب نگر (ربوہ) میں مناظر اسلام مولانا لال حسین اخترؒ اور قادیانی مناظر قاضی نذیر سے ختم نبوت پر مناظرہ ہوا۔ دوسرے مناظرہ کے لئے ٢٠؍اپریل ١٩٦٥ء کی تاریخ طے تھی کہ حیات مسیح علیہ السلام اور کذب مرزا پر مناظرہ ہوگا۔ پہلے مناظرہ میں قادیانیوں کو مولانا لال حسین اخترؒ نے ایسی ذلت آمیز شکست سے دوچار کیا کہ ٢٠؍اپریل ١٩٦٥ء کو قادیانیوں کو میدان مناظرہ میں آنے کی جرأت نہ ہو پائی۔ اس مناظرہ کی چند صفحاتی رپورٹ مسلمانان ڈاور نے شائع کی۔ اس مناظرہ میں مولانا لال حسین اخترؒ، مولانا سید احمد شاہ چوکیرہؒ، علامہ ڈاکٹر خالد محمود، مولانا محمد نافع (جامع مسجد محمدی)، مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ، مولانا خدا بخش بھیرویؒ، مولانا عبد المالک خان حال شیخ الحدیث منصورہ لاہور شریک ہوئے۔ اس مناظرہ کی مختصر رپورٹ پر مشتمل یہ رسالہ:
”مرزائیوں کی شکست فاش کا دلچسپ نظارہ، ربوہ کے نزدیک ایک مناظرہ“ احتساب کی جلد ٤٤ میں شائع کرنے پر اللہ رب العزت کا شکر ادا کرتے ہیں۔ اس وقت دنیا بھر میں جہاں بھی رد قادیانیت پر کام ہورہا ہے وہ سب حضرات بالواسطہ یا بلا واسطہ حضرت مولانا لال حسین اخترؒ کا فیض ہے۔ آپ نے سینکڑوں علماء مناظر قادیانیت کے مقابلہ کے لئے تیار کئے۔ فقیر راقم کو بھی آپ کے شاگرد ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
(٥)
حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری ؒ
(پیدائش: ١٩٠٨ء ...... وفات: ١٧/اکتوبر ١٩٧٧ء)
الحمد للہ وکفٰی وسلام علٰی عبادہ الذین اصطفٰی ۔ اما بعد! حضرت بنوری ؒ نے اپنے حالات خود تحریر فرمائے جو یہ ہیں:
نام ونسب اور تعلیم
راقم الحروف محمد یوسف بن سید محمد زکریا بن میر مزمل شاہ بن میر احمد شاہ البنوری الحسینی کی ولادت بتاریخ ٦/ربیع الثانی ١٣٢٦ھ، مطابق ٧/مئی ١٩٠٨ء بروز جمعرات بوقت سحر پشاور کے مضافات کی ایک بستی میں ہوئی۔
سلسلۂ نسب نویں جد امجد عارف محقق حضرت سید آدم بن اسماعیل الحسینی الغزنوی البنوری المدنی کی وساطت سے حضرت سیدنا حسین ؓ سے جاملتا ہے۔
قرآن کریم اپنے والد ماجد اور ماموں سے پڑھا، امیر حبیب اللہ خاں کے دور میں افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ایک مکتب میں صرف ونحو کی ابتدائی کتابیں پڑھیں۔ اس دور کے مشہور استاذ شیخ حافظ عبداللہ بن خیر اللہ پشاوری شہید ١٣٣٠ھ ہیں۔ فقہ، اصول فقہ، منطق، معانی وغیرہ مختلف فنون کی متوسط کتابیں پشاور اور کابل کے اساتذہ سے پڑھیں۔ ان اکابر میں حضرت مولانا عبدالقدیر افغانی (جو جلال آباد افغانستان میں محکمہ شرعیہ کے قاضی مرافعہ تھے) اور شیخ محمد صالح قیلغوی افغانی وغیرہ ہیں۔ ١٣٤٧ھ تک دارالعلوم دیوبند میں پڑھیں۔ دورۂ حدیث جامعہ اسلامیہ ڈابھیل میں کیا۔ یہاں جن مشائخ سے استفادہ کیا ان میں سب سے بڑے شیخ محقق عصر مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ (جو پاکستان کے شیخ الاسلام اور فتح الملہم شرح صحیح مسلم کے مصنف ہیں) اور امام العصر، محدث کبیر، عالم شہیر، شیخ محمد انور شاہ کشمیری ثم الدیوبندی ؒ ہیں۔ خصوصاً امام العصر ؒ سے انتہائی استفادہ کیا۔ انہی سے تخرج حاصل کیا اور ایک سال سے زیادہ عرصہ تک شب و روز ان کا خادم خاص رہا۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
جامعہ اسلامیہ ڈابھیل سے فراغت کے بعد ١٩٣٠ء میں پنجاب یونیورسٹی سے ایک ماہ میں پرائیویٹ تیاری کر کے مولوی فاضل کا امتحان دیا اور سند حاصل کی۔
دینی وملی خدمات
چار سال پشاور میں جمعیۃ العلماء کے پلیٹ فارم پر دینی وسیاسی خدمات انجام دیتا رہا۔ آخر میں جمعیۃ العلماء پشاور کا صدر رہا۔ (چونکہ شیخ انور ؒ سے خصوصی استفادہ کیا اس لئے) اسی نسبت وتعلق کی بناء پر جامعہ اسلامیہ ڈابھیل میں تدریس کے لئے تقرر ہوا اور بالآخر وہاں کا شیخ الحدیث وصدر مدرس بنا۔ جامعہ اسلامیہ ڈابھیل کی مجلس علمی کا رکن بھی منتخب کیا گیا۔
١٩٣٧ء میں مجلس علمی نے اپنی کتابوں (فیض الباری اور نصب الرایہ) کی طباعت کے لئے مجھے مصر بھیجا اور مجلس ہی کی طرف سے مصر کے علاوہ یونان، ترکی، حجاز مقدس کا سفر بھی ہوا۔ مجلس کی مفوضہ علمی خدمت کو بحسن وخوبی انجام دیا اور اس سلسلہ میں چودہ مہینے ملک سے باہر رہا۔ جمعیۃ العلماء ہند گجرات وضلع بمبئی کا صدر بھی رہا اور بمبئی اوقاف کمیٹی کا ممبر بھی۔ ١٣٥٧ھ مطابق ١٩٣٨ء میں قاہرہ میں منعقد ہونے والی مؤتمر فلسطین میں مفتی کفایت اللہ دہلوی ؒ کا مساعد رہا۔ چونکہ مفتی صاحب ؒ صاحب فراش تھے۔ اس لئے دوران کانفرنس جتنے پروگرام ہوئے اور جو بیانات وغیرہ اخبارات میں شائع ہوئے سب میرے قلم سے نکلے۔
دارالعلوم دیوبند سے پیشکش
قیام ڈابھیل کے دوران دارالعلوم دیوبند کے طبقہ علیا کی مدرسی کی پیشکش بار بار کی گئی۔ نیز دارالعلوم دیوبند میں منصب افتاء کے لئے شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ، مولانا حسین احمد مدنی ؒ اور قاری محمد طیب صاحب تینوں حضرات نے اصرار فرمایا۔ مگر قبول کرنے سے معذرت کر دی۔ جامعہ احمدیہ بھوپال کے لئے علامہ سید سلیمان ندوی ؒ نے بھی دعوت دی۔ مگر اسے بھی قبول نہیں کیا۔
پاکستان آمد
بعض مشاہیر کے اصرار پر جنوری ١٩٥١ء میں ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان پہنچا اور دارالعلوم الاسلامیہ ٹنڈو الہ یار (حیدرآباد سندھ) میں شیخ التفسیر کے منصب پر تقرر ہوا۔ وہاں تین برس کام کیا۔ پھر وہاں سے مستعفی ہو کر کراچی چلا آیا اور یہاں اپنے بعض مخلص اکابر علماء
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
کی رفاقت میں فارغ التحصیل حضرات کی تربیت کے لئے ایک علمی ادارہ (جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن) قائم کیا۔
(بینات بنوری نمبر)
فقیر راقم (اللہ وسایا) نے آپ کی وفات پر یہ مضمون لکھا:
”عالم اسلام کے نامور عالم دین، دنیائے زہد و تقویٰ کے شہنشاہ، فقر و استغناء کے تاجدار، عصر حاضر کے عظیم رہنما، ہفت اقلیم علم و عمل کے نامور سپوت، آقائے نامدار ﷺ کی عزت و ناموس کے پاسبان، محدث عصر، محافظ ختم نبوت، مجاہد اسلام، غزالی زماں، رازی دوراں، یادگار انور شاہ کشمیری ؒ، دنیائے اسلام کے ممتاز عالم دین، سربراہ مدرسہ عربیہ اسلامیہ نیو ٹاؤن کراچی، امیر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان، صدر مجلس عمل اور اسلامی مشاورتی کونسل کے رکن رکین، شیخ الاسلام والمسلمین حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری ؒ ١٧ اکتوبر ١٩٧٧ء بروز پیر صبح نو بجے دل کا دورہ پڑنے سے ملٹری کمبائنڈ ہسپتال راولپنڈی میں انتقال فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
سیدنا فاروق اعظم ؓ کی وفات پر کہا گیا تھا کہ مرنے والے پر اس کے بچے یتیم ہوتے ہیں۔ مگر حضرت عمر ؓ کی وفات سے محمد عربی ﷺ کا دین یتیم ہو گیا ہے۔ بجا طور پر آج حضرت بنوری ؒ کی وفات پر کہا جا سکتا ہے کہ آپ کی وفات سے دنیائے علم و عمل یتیم ہو گئی ہے۔
حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری ؒ ٦ ربیع الثانی ١٣٢٦ھ، مطابق ٧ مئی ١٩٠٨ء پشاور میں پیدا ہوئے۔ آپ سید آدم بنوری ؒ کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ والد گرامی مولانا محمد زکریا بنوری ؒ اپنے وقت کے جید عالم تھے۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی۔ تکمیل علوم کے لئے برصغیر کی عظیم دینی درس گاہ دارالعلوم دیوبند میں چلے گئے۔ جہاں آپ نے برصغیر کے نامور عالم دین محدث عصر مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری ؒ سے اکتساب فیض کیا۔ بعدہ جامعہ اسلامیہ ڈابھیل ضلع سورت میں استاذ الحدیث مقرر ہوئے۔ ١٩٣٠ء میں پنجاب یونیورسٹی سے مولوی فاضل کا امتحان اعزاز سے پاس کیا۔ پھر پشاور آ گئے۔ ١٩٣٥ء میں ڈابھیل کے علماء کی طرف سے علمی و دینی خدمات کے لئے ڈھاکہ گئے۔ ١٩٣٧ء میں مصر تشریف لے گئے۔
حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری ؒ وہ مرد مجاہد تھے جنہوں نے سب سے پہلے دارالعلوم دیوبند کے علماء کا مصر میں تعارف کرایا۔ مصر میں آپ کے علم کا سکہ مانا جاتا تھا۔ مصر کے مشہور عالم دین علامہ طنطاوی ؒ نے تفسیر طنطاوی لکھی۔ آپ نے اس کی بعض جزئیات پر تعمیری علمی تنقید کی۔ علامہ طنطاوی ؒ نے ان تنقیدات و تنقیحات کا جائزہ لیا۔ اس کے بعد حضرت بنوری ؒ کو ہمیشہ استاذی المکرم فضیلۃ الشیخ بحر العلوم والفیوض سے یاد کیا کرتے
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
تھے۔ آپ نے قیام مصر کے دوران حنفیت کی عظیم خدمت کی۔ مصر کے علماء آپ کو وکیل حنفیت کے نام سے یاد کیا کرتے تھے۔ آپ کے علم وفضل کا مصر میں ایسا چرچا ہوا کہ بعد میں شاید ہی مصر کے علماء کی سرکاری، غیر سرکاری کانفرنس ہو جس میں آپ کو دعوت نہ دی گئی ہو۔ آپ جامعہ ازہر مصر کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لئے ہر سال تشریف لے جاتے۔ اجلاس میں پرمغز ایمان پرور جہاد آفرین حقائق افروز مقالہ پڑھتے۔ جسے وہاں کی حکومت بڑے اعزاز و اکرام کے ساتھ شائع کرتی۔ آپ نے ترمذی شریف کی عربی مبسوط شرح معارف السنن چھ جلدوں میں کتاب الحج تک لکھی۔ جسے مصر میں خوبصورت گلیز پیپر پر شائع کیا گیا۔ قیام مصر کے دوران ہی آپ نے فیض الباری، نصب الرایہ، سمت قبلہ اور دوسری عربی گراں قدر تصانیف اپنی نگرانی میں شائع کرائیں۔ ١٩٥١ء میں ٹنڈوالہ یار خاں کے مدرسہ میں آپ تشریف لائے۔ کچھ عرصہ بعد کراچی نیو ٹاؤن میں مدرسہ اسلامیہ کی بنیاد رکھی۔ جب آپ نے بنیاد رکھی تو یہ جگہ جوہڑ نما کھڈہ تھا۔ لیکن آج اصلها ثابت وفرعها فی السماء! کا مصداق ہے۔ برصغیر کے عظیم دینی اداروں میں یہ شمار ہوتا ہے۔ اس وقت تک ہزاروں علماء اس جامعہ سے فارغ ہوچکے ہیں۔ جس میں سینکڑوں حضرات ہوں گے۔ جن کا تعلق برما، انڈیا، انڈونیشیا، افریقہ، نائیجیریا، ایران، کینیا، سینی گال، افغانستان، مصر، تھائی لینڈ، سنگاپور، ملائشیاء اور دوسرے ممالک سے ہے۔
اس وقت آپ کے جامعہ میں ٢٥ ممالک کے طلباء تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ پچھلے ہفتہ فجی آئی لینڈ کے دس طلباء کرام فجی سے آئے ہیں۔ مارچ ١٩٧٤ء میں مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے امیر منتخب ہوئے۔ مجلس کی جنرل کونسل کا ملتان میں اجلاس تھا۔ حضرت مولانا نے امیر بننے سے معذوری ظاہر کی کہ اپنی مصروفیت اور کمزوری کا عذر کیا۔ حضرت مولانا محمد شریف بہاولپوری ؒ دست بستہ کھڑے ہوگئے۔ آبدیدہ اور گلو گیر لہجے میں عرض کی۔ حضرت! یہ ختم نبوت کا مقدس مشن اور فریضہ حضرت مولانا سید انور شاہ کشمیری ؒ نے حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ کے سپرد کیا تھا۔ حضرت شاہ جی ؒ نے حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی ؒ، حضرت مولانا محمد علی جالندھری ؒ، حضرت مولانا لال حسین اختر ؒ کو سونپا تھا۔ وہ ایک ایک کر کے ہم سے جدا ہو گئے ہیں۔ ان کا سایہ ہمارے سروں پر نہیں رہا۔ ہم یتیم ہو گئے۔ آپ ہماری سرپرستی فرمائیں۔ آپ حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری ؒ کے علوم کے وارث ہیں تو ان کی یہ امانت بھی آپ قبول فرمائیں۔ اگر آپ مجلس کی امارت قبول نہیں فرماتے تو یہ دفتر کی چابیاں ہیں۔ دفتر کو اپنے ہاتھ سے بند کر دیں۔ ہم تمام مبلغین گھروں کو واپس
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
جاتے ہیں۔ کام کے بند ہو جانے کے بعد کل قیامت کے دن آپ ذمہ دار ہوں گے۔ حضرت مولانا بہاولپوری ؒ نے جب حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری ؒ کا نام لیا تو حضرت بنوری ؒ پر گریہ طاری ہو گیا۔ زار و قطار رونے لگے۔ آپ نے کمزوری بڑھاپے اور مصروفیات کے باوجود مجلس کی امارت قبول فرمائی۔ حسن اتفاق کہیے یا خدا کی دین کہ آپ کے امیر منتخب ہونے کے دو ماہ بعد ٢٩ مئی ١٩٧٤ء کو سانحہ ربوہ (چناب نگر) پیش آیا۔ پورے ملک میں تحریک چلی۔ آپ نے امیر کی حیثیت سے دیوبندی، بریلوی، شیعہ اور اہل حدیث تمام مکاتب فکر کے جید علماء کرام اور تمام سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں کا مشترکہ اجلاس ٩ جون ١٩٧٤ء کو لاہور خدام الدین شیرانوالہ میں طلب کیا۔ نوابزادہ نصر اللہ خاں ؒ کی تجویز پر آپ مجلس عمل کے کنوینر مقرر ہوئے۔ مجلس عمل کے باضابطہ انتخاب کے لئے فیصل آباد میں ١٦ جون ١٩٧٤ء کو اجلاس طلب کیا گیا۔ اجلاس میں تمام رہنمایان ملک و ملت جمع تھے۔ اجلاس کے شروع ہونے سے قبل آپ کمرہ میں تشریف لے گئے۔ تھوڑی دیر بعد واپس تشریف لائے۔ کسی ساتھی کو کمرہ میں جانے کی وجہ کا علم نہ ہوا۔ آپ کی صدارت میں اجلاس شروع ہوا۔ جناب آغا شورش کاشمیری ؒ کی تجویز پر آپ مجلس عمل کے سربراہ منتخب ہوئے۔ تحریک کامیاب ہونے کے بعد ملتان کی ایک مجلس میں آپ نے ارشاد فرمایا کہ فیصل آباد میں اجلاس شروع ہونے سے قبل میں نے کمرے میں علیحدہ جا کر دو رکعت نماز نفل پڑھی اور اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی کہ مولائے کریم! میں مجلس عمل کی صدارت کے لائق نہیں۔ کسی اہل کو یہ امامت سونپ دے۔ لیکن خدا کی شان کہ میری دعا قبول نہ ہوئی۔ بلکہ میں منتخب ہو گیا تو اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ مولائے کریم! اس بار عظیم کو اٹھانے کی ہمت و قوت عنایت فرما۔
اللہ! اللہ! یہ آپ کی شان انکساری تھی کہ لوگ صدارتوں و وزارتوں کے لئے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں۔ مگر حضرت مولانا مرحوم کو اس سے دور کا واسطہ بھی نہیں تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت مولانا جیسا جلیل القدر دینی و مذہبی رہنما اور منکسر المزاج صدیوں تک پیدا نہیں ہوگا۔
آپ کی سربراہی میں ١٩٧٤ء میں تحریک مقدس ختم نبوت کامیاب و کامران ہوئی۔ آپ نے ١٩٧٤ء کی تحریک کے بعد افریقی ممالک کا دورہ کیا۔ رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کے سرکاری آرگن العالم الاسلامی کی رپورٹ کے مطابق تقریباً ایک لاکھ مرزائیوں نے اسلام قبول کیا۔ گویا یہ مقدس تحریک جس کی برصغیر میں باضابطہ طور پر بنیاد حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری ؒ نے رکھی تھی۔ اس کی تکمیل آپ کے شاگرد حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری ؒ
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
کے ہاتھوں ہوئی۔ واقعہ یہ ہے کہ حضرت مولانا بنوریؒ حضرت مولانا انور شاہ کشمیریؒ کے علوم کے امین اور وارث تھے۔ وہ خلوص، تقویٰ میں حضرت مولانا انور شاہ کشمیریؒ کی چلتی پھرتی تصویر تھے۔
آپ بیک وقت دارالعلوم دیوبند اور تھانہ بھون کے امین تھے۔ روحانی تعلق جہاں حضرت مدنیؒ سے تھا۔ آپ سے بیعت کی تھی۔ سند حدیث کی اجازت ملی تھی۔ وہاں خرقہ خلافت حضرت تھانویؒ نے آپ کو عنایت کیا تھا۔ آپ پچھلے دنوں اسلامی مشاورتی کونسل کے رکن منتخب ہوئے۔ اس کے اجلاس کی وجہ سے قاہرہ میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت سے معذوری کا اظہار کیا۔ صرف اکیلے حضرت مولانا مفتی محمودؒ روانہ ہوئے۔ قاہرہ روانگی سے قبل مفتی صاحبؒ حضرت بنوریؒ سے ہدایات لینے کے لئے حاضر ہوئے۔ آپ اسلامی مشاورتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لئے اسلام آباد آئے۔
١٥؍اکتوبر ہفتہ کے روز صبح ساڑھے آٹھ بجے آپ کو دل کا دورہ ہوا۔ ڈاکٹروں نے آپ کا معائنہ کیا۔ پانچ گھنٹے بعد دوسرا دورہ پڑا۔ جو کافی شدید اور تکلیف دہ تھا۔ آپ نڈھال ہوگئے۔ مگر قرآن مجید کی تلاوت کرتے رہے۔ اس کے بعد آپ کو ملٹری کمبائنڈ ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا۔ ١٧؍اکتوبر بروز پیر تیسرا دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا۔ راولپنڈی میں نماز جنازہ اکوڑہ خٹک کے شیخ الحدیث مولانا عبدالحقؒ نے پڑھائی اور اسی رات دس بجے مدرسہ اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی میں آپ کا دوسرا جنازہ مولانا ڈاکٹر عبدالحیؒ خلیفہ مجاز حضرت تھانویؒ نے پڑھایا۔ ہزاروں علماء، مشائخ، عوام اور عقیدت مند حضرات نے آپ کو آہوں، سسکیوں اور کلمہ طیبہ کی گونجتی ہوئی فضا میں رحمت خداوندی کے سپرد کیا۔‘‘
متفرقات
تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء کے دوران مردان کے ایک عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ”میں نے آخری فیصلہ کیا ہوا ہے۔ اپنے سامان میں اپنے ساتھ کفن رکھا ہوا ہے۔ یا تو قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت تسلیم کیا جائے گا یا ہم اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیں گے۔ اس کے علاوہ اور کوئی تیسرا راستہ نہیں ہے۔“
- ...... اسی تحریک میں جب اپنے قائم کردہ مدرسہ جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی
سے روانہ ہونے لگے تو مولانا مفتی ولی حسن کو بلا کر فرمایا کہ: ”میں اپنے ساتھ کفن
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
لئے جارہا ہوں۔‘‘ پھر سامان سے کفن نکال کر دکھایا اور فرمایا: ”زندہ رہا تو واپس آجاؤں گا، اگر شہید ہو گیا تو یہ مدرسہ تمہارے ہاتھ میں اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ اس کی حفاظت کرنا۔“
شاہ جی ؒ اور حضرت بنوری ؒ آمنے سامنے
- حضرت امیر شریعت ؒ کی علالت کے دنوں میں جب حضرت بنوری ؒ بغرض
عیادت ان کے در دولت پر گئے اور دستک دی اور امیر شریعت ؒ بنفس نفیس باہر تشریف لائے اور آپ کو سامنے کھڑا دیکھ لینے کے باوجود دریافت کیا: ”کون؟“ مولانا بنوری ؒ نے یہ سمجھا کہ شاید علالت کی وجہ سے پہچان نہ پائے ہوں، جواباً کہا: ”محمد یوسف بنوری“ امیر شریعت ؒ نے فرمایا: ”کون؟“ اس بار حضرت بنوری ؒ کو یہ اندیشہ ہوا کہ شاید مرض کی شدت کے سبب قوت سماعت میں بھی فرق آگیا ہے تو بآواز بلند دہرایا: ”محمد یوسف بنوری“ مگر امیر شریعت ؒ نے جواباً کہا: ”نہیں، نہیں! انور شاہؒ“ یہ کہہ کر شاہ جی ؒ نے حضرت بنوری ؒ کے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لے لیا۔ دونوں پر گریہ کی کیفیت طاری ہوگئی۔ بغلگیر ہوئے اور دیر تک ایک دوسرے سے لپٹے رہے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی امارت اور مجلس عمل ختم نبوت کی صدارت
١٩٧٤ء میں ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کی امارت کے لئے آپ کو منتخب کیا گیا۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ کتنی منتوں سماجتوں، کتنے استخاروں، دعاؤں اور مشوروں کے بعد آپ نے یہ منصب قبول فرمایا۔ ابھی ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کی امارت قبول کئے آپ کو چند مہینے نہیں گزرے تھے کہ ربوہ اسٹیشن کا سانحہ پیش آیا۔ جس کے نتیجے میں ملک گیر تحریک چلی اور اس نے غیر معمولی شکل اختیار کرلی۔ اس کی قیادت کے لئے تمام جماعتوں پر مشتمل ”مجلس عمل ختم نبوت“ تشکیل پائی تو باصرار اس کی صدارت کے لئے آپ کو منتخب کیا گیا۔ حضرت قدس سرہ نے اس تحریک کے دوران جس تدبر وفراست، جس اخلاص وللہیت، جس صبر واستقامت اور جس ایثار وقربانی سے ملی قیادت کے فرائض انجام دیئے وہ ہماری تاریخ کا ایک مستقل باب ہے۔ ان دنوں حضرت پر سوز وگداز کی جو کیفیت طاری رہتی تھی وہ الفاظ کے جامہ تنگ میں نہیں سماسکتی۔ حق تعالیٰ نے آپ کے اسی سوز دروں کی لاج رکھی اور قادیانی ناسور کو جسد ملت سے کاٹ کر جدا کردیا۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
- ١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت میں جب طلباء، جلسہ و جلوس میں حصہ لینے لگے تو حضرت
بنوری ؒ نے خطاب کرتے ہوئے کہا: ”ضرورت پڑی تو سب سے پہلے بنوری اپنی گردن کٹوائے گا، پھر آپ کی باری آئے گی۔“
شاہ فیصل مرحوم کو خط
مسٹر بھٹو کے زمانے میں جب قادیانیوں کا طوطی بولتا تھا، حضرت شیخ بنوری ؒ نے متعدد سربراہان ممالک اسلامیہ کو خطوط لکھے، افسوس کہ وہ سب محفوظ نہیں، ماہنامہ ”بینات“ سے دو خطوط درج ذیل ہیں، شاہ فیصل مرحوم کو تحریر کیا:
”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
سیدی ومولائی! ہر شخص اپنی طاقت و قدرت کے بقدر اللہ تعالیٰ کے ہاں جواب دہ ہے، آنجناب کو اللہ تعالیٰ نے وہ تمام وسائل عطا کر رکھے ہیں جن کے ذریعے آپ ساری روئے زمین پر اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کر سکتے ہیں۔
سیدی ومولائی! ہمیں علم ہے کہ جب ہمارے وطن عزیز پاکستان اور ظالم ہندوستان کے درمیان جنگ برپا ہوئی تو آنجناب نے پاکستان کی ہر ممکن مادی و اخلاقی مدد فرمائی، جو سربراہان اسلام اور مسلمانوں کے لئے ایک قابلِ نمونہ ہے۔ مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ آپ کے اس کارنامے پر دل کی گہرائیوں سے شکریہ بجا لائیں۔
سیدی ومولائی! آج پاکستان، قادیانیت کی جانب سے عظیم خطرے میں ہے، بحریہ کا سربراہ حفیظ قادیانی ہے، فضائیہ کا سربراہ چوہدری ظفر قادیانی ہے، اور بری افواج میں ٹکا خان کے بعد سترہ جرنیل لگا تار قادیانی ہیں۔ حکومت یا تو اس مہیب خطرے سے غافل اور جاہل ہے، یا پھر استعماری قوتوں، برطانیہ و امریکا کے ہاتھوں کھلونا بنی ہوئی ہے۔ وہ مسلمانوں کو فوجی مناصب سے برطرف کر رہی ہے اور قادیانیوں کو بھرتی کر رہی ہے، لاریب کہ قادیان اور ان کا امام متنبی کذاب... قَبَّحَهُ اللّٰه ... برطانیہ کا خودکاشتہ پودا اور برطانوی استعمار کا ساختہ و پرداختہ تھا۔ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ حکومت برطانیہ ”ظِلُّ اللّٰهِ فِی الْاَرْضِ“ ہے، جہاد منسوخ ہے، اور یہ کہ تمام مسلمانوں پر برطانیہ کی نصرت و حمایت فرض ہے، وغیر ذلک من الکفر والہذیان!
ان لوگوں کی کوشش ہے کہ کسی طرح برطانیہ کا عہد رفتہ واپس لوٹ آئے اور پاکستان ان قادیانیوں کے ہاتھ آکر اس کا آلہ کار بنے، اور برطانیہ کو از سر نو بحر احمر پر تسلط حاصل ہو جائے۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
اس بدترین سازش کے ہولناک نتائج آنجناب سے مخفی نہیں ہیں۔ آنجناب سے توقع رکھتا ہوں کہ پاکستان کو قادیانیوں کے چنگل سے چھڑانے میں اس کی مدد کریں، وزیراعظم بھٹو کو ان ہولناک نتائج سے متنبہ فرمائیں اور اسے راہ راست پر لانے کی کوشش کریں کہ وہ ان لوگوں کو کلیدی مناصب سے الگ کردیں، تاکہ یہ لوگ اسلام کے لئے اور اسلام سے پہلے خود بھٹو کے لئے خطرہ نہ بن جائیں۔ الغرض! آپ اس نہایت خطرناک مصیبت کبریٰ سے پاکستان کو بچانے اور بھٹو کی کج روی کی اصلاح کے لئے ہر ممکن جہد بلیغ فرمائیں اور محض اللہ کی رضا کے لئے اللہ تعالیٰ کی عطا فرمودہ طاقت وقوت اور وسائل کے ذریعے آپ وہ کردار ادا کریں جو واقعی ایک خلیفہ اور امام المسلمین کو فہم و بصیرت اور قوت کے ساتھ ادا کرنا چاہئے۔
ہم جناب والا کے حق میں ہر خیر و سعادت کے متمنی ہیں اور آرزو رکھتے ہیں کہ آپ کے مبارک ہاتھوں کے ذریعے اسلامی ممالک کو ان ریشہ دوانیوں اور ملعون سازشوں سے نجات ملے۔ اللہ تعالیٰ آنجناب کی ذات کو اسلام کے لئے ذخیرہ اور مسلمانوں کی پناہ گاہ کی حیثیت سے باقی رکھے اور ربانی سائے تلے، جس کے جھنڈے آپ کے ملک پر لہراتے ہیں، آپ کی سلطنت کو بقائے دوام بخشے۔ آخر میں میری طرف سے آنجناب کی ذات اور مملکت کے حق میں بہترین دعائیں اور گہری تمنائیں قبول فرمائیں۔ والسلام علیکم ورحمة الله وبرکاته!“
کرنل قذافی کو خط
اور لیبیا کے صدر کرنل قذافی کے نام تحریر فرمایا:
”بعد از سلام مسنون گزارش ہے کہ مجھے آنجناب کی زیارت کا شرف اس وقت حاصل ہوا جبکہ طرابلس کی پہلی ”دعوتِ اسلامی کانفرنس“ میں مندوب کی حیثیت سے شریک ہوا تھا۔ آنجناب کی شخصیت میں اخلاص، قوتِ ایمانی اور سلامتی فطرت کے آثار دیکھ کر اوّل وہلہ آپ کی محبت میرے دل میں جاگزین ہوئی۔ بعد ازاں آپ کی خیر و سعادت کی خبریں ہم تک پہنچیں، جن کی وجہ سے آپ بلاشبہ داد و تحسین کے مستحق اور اسلام اور مسلمانوں کے لئے مایہ فخر ہیں۔ حق تعالیٰ آپ کو اسلام کے لئے ذخیرہ اور مسلمانوں کی پناہ گاہ کی حیثیت سے سلامت رکھے، اور آپ کے وجود گرامی سے اسلام اور عرب کی عزت ومجد کے علم بلند ہوں، آمین!
برادر گرامی قدر! آپ نے پاکستان کے موقف کی تائید کرکے اور ہر ممکن مادی مدد مہیا فرما کر جو احسان فرمایا، اس کا ہمیں اجمالی علم ہوا، حق تعالیٰ آپ کو اس حسن سلوک کا بدلہ عطا فرمائیں اور دنیا و آخرت میں آپ پر انعامات فرمائیں، آمین!
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگارنگ
اور اب میں آنجناب کے علم میں یہ بات لانا چاہتا ہوں کہ پاکستان ایک عظیم خطرے میں گھرا ہوا ہے، اور وہ فتنہ قادیان، یا قادیانی تحریک۔ بحریہ کا قائد ایک بڑا قادیانی ہے، فضائیہ کا سربراہ قادیانی ہے، اور بری فوج میں ٹکا خان کے بعد سترہ جرنیل ہیں جو سب قادیانی ہیں۔ کچھ عرصہ بعد ٹکا خان بھی ریٹائر ہو جائیں گے، حکومت مسلمان افسروں کو فوجی مناصب سے معزول کر رہی ہے، صدر کا اقتصادی مشیر ایم ایم احمد قادیانی ہے، اور سر ظفر اللہ کے، جو بڑا خبیث سازشی قادیانی ہے، صدر سے خصوصی روابط ہیں، اور صدر اس کے مشوروں کی تعمیل کرتا ہے۔
غالباً آنجناب کو علم ہوگا کہ اس گروہ کا ضال ومضل مقتدا مرزا غلام احمد قادیانی مدعی نبوت تھا، اس نے پہلے مجدد، مسیح موعود اور مہدی ہونے کا دعویٰ کیا تھا، بعد ازاں نبوت کا دعویٰ کر دیا، اس کا عقیدہ تھا کہ برطانوی حکومت روئے زمین پر خدا کا سایہ ہے، جہاد منسوخ ہے، اور یہ کہ برطانوی نصرت و حمایت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے، وغیر ذلک من کفر وھذیان!
قادیان کے بعد (جو ہندوستان میں رہ گیا) انہوں نے مغربی پاکستان میں ”ربوہ“ آباد کیا، جس کی حیثیت ان کے دارالخلافہ کی ہے، وہاں اسلام اور مسلمان کے خلاف بڑی سرگرمی سے سازشیں تیار ہوتی ہیں اور یہ عجلت میں تحریر کردہ عریضہ ان تفصیلات کا متحمل نہیں، میں آنجناب سے اس وقت دو گزارشیں کرنا چاہتا ہوں۔
ایک یہ کہ وزیر اعظم بھٹو کو اس خطرہ عظیم سے آگاہ کیجئے، یعنی قادیانی بغاوت، ملک کا قادیانی حکومت کے تحت آ جانا، بحر احمر میں برطانیہ کی عزت رفتہ کا دوبارہ لوٹ آنا اور بیک وقت تمام عرب اسلامی ممالک کا ناک میں دم آجانا، پس آنجناب سے درخواست ہے کہ آج حکومت پاکستان کو قادیانیوں کے یا بلفظ صحیح برطانیہ کے چنگل سے چھڑا کر اس پر احسان کیجئے، جیسا کہ قبل ازیں آپ اس کی اخلاقی و مادی مدد کر کے اس پر احسان کر چکے ہیں، اور محض اللہ تعالیٰ کی، اس کے رسول ﷺ کی، اسلام اور مسلمانوں کی خیر خواہی کے لئے ہر قسم کی تدبیر و حکمت اور عزم و جزم کے ساتھ وزیر اعظم بھٹو کی کج روی کی اصلاح کیجئے۔ بلاشبہ اسلام کی یہ عظیم الشان خدمت، اور اللہ و رسول ﷺ کی رضامندی کا موجب ہوگی۔ اسی کے ذریعے اس رخنے کو بند کیا جاسکتا ہے اور اس شگاف کو پر کیا جاسکتا ہے، کیونکہ فتنے کا سیلاب خطرے کے نشان سے اوپر گزر رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی نصرت و مدد فرمائے: ”اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا!“
دوسری گزارش یہ ہے کہ جمہوریہ لیبیا میں جو قادیانی ڈاکٹر یا انجینئر کی حیثیت سے آئے
ہیں، انہیں نکالئے، سنا ہے کہ آپ کے ملک میں قادیانیوں کی ایک بڑی تعداد آئی ہے، ان میں ڈاکٹر خلیل الرحمٰن طرابلس میں ہے، جو شعاعوں کے ذریعے سرطان کے علاج کا خصوصی ماہر ہے۔ میں کوشش کرتا ہوں کہ ایسے لوگوں کا سراغ لگایا جائے اور محض اللہ کی، اس کے رسول ﷺ کی، اس کی کتاب کی اور مسلمانوں کے قائدین کی خیر خواہی کی غرض سے آپ کو ان کی اطلاع دی جائے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو خدمت اسلام اور مسلمانوں کی مدد میں ثابت قدم رکھے، آپ کو اپنی رضا اور اپنے دین کی خدمت کی مزید توفیق عطا فرمائے اور آپ کے ہاتھ سے خیر وسعادت کے وہ کام لے جن کے ذریعے مشرق ومغرب میں اسلام اور مسلمانوں کی عزت ومجد میں اضافہ ہو۔ والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
آپ کا مخلص محمد یوسف بنوری خادم الحدیث النبوی الکریم فی کراتشی مندوب مؤتمر الدعوۃ الاسلامیۃ الاوّل، من پاکستان‘
پشاور میں قادیانیوں کی ارتدادی سرگرمیاں
مولانا کے ساتھی مولانا لطف اللہ نے تحریر کیا کہ: جمعیتہ علمائے سرحد سے تعلق کے زمانے میں محسوس ہوا کہ پشاور میں قادیانی اپنے پاؤں پھیلا رہے ہیں اور دین سے ناواقف طبقے کو گمراہ کررہے ہیں، پشاور کا ایک قادیانی مسمیٰ غلام حسین، جو قرآن کریم کی قادیانی تفسیر (یا بلفظِ صحیح تحریف) بھی لکھ چکا تھا، وہ پشاور میں صبح کو درسِ قرآن دیتا تھا، نوجوان وکلاء اور کالجوں کے ناپختہ ذہن طالب علم اس میں شریک ہوا کرتے تھے، پشاور کا مشہور لیڈر، جو بعد میں مسلم لیگ اور پاکستان کا بڑا راہ نما بنا (سردار عبدالربّ نشتر) وہ بھی ان کے درس میں شریک ہوتا تھا۔ پشاور کے اسلامیہ کالج کا وائس پرنسپل تیمور، مرزا بشیر الدین قادیانی کا رشتہ دار تھا، صاحب زادہ عبدالقیوم بانیٔ اسلامیہ کالج کا چچازاد بھائی عبداللطیف قادیانی صوبہ سرحد کی جماعت کا امیر تھا۔ قادیانی سال میں ایک دفعہ ’یوم النبی‘ کے نام سے ایک بڑا جلسہ کرتے تھے، جس میں شرکت کے لئے تمام سرکاری افسروں کو دعوت نامے بھیجے جاتے، اس طرح کھلے بندوں قادیانیت کی تبلیغ کے لئے راستہ ہموار کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔
جب ہم جمعیتہ العلماء کے کام میں منہمک تھے تو میں نے دیکھا کہ قصہ خوانی بازار میں
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
قادیانیوں کے اس جلسے کے اشتہارات لگ رہے تھے، جس میں اسلامیہ کلب میں ”یوم النبیؐ“ کا اعلان تھا۔ میں نے مولانا بنوریؒ سے مشورہ کیا کہ قادیانیوں کی اس کھلی جارحیت کا سدّ باب ہونا چاہئے۔ میں ان دنوں اسلامیہ اسکول میں عربی کا معلم اور اُستاد تھا، میں نے اسکول کی نویں اور دسویں جماعت کے طلبہ کو قادیانیت کی حقیقت بتائی اور قادیانیوں کے ”یوم النبیؐ“ کے نام پر لوگوں کو بہکانے کی مکاری عیاں کی اور انہیں بھی اس معرکے میں حصہ لینے کے لئے تیار کیا، جس کا نقشہ میں اور مولانا بنوریؒ بنا چکے تھے۔
مقررہ تاریخ پر قادیانیوں نے اسلامیہ کلب میں قالین بچھائے، اسٹیج لگایا، اور جلسے کا انتظام کرنے لگے، ہم دونوں بھی وہاں پہنچ گئے اور جاکر اعلان کیا کہ یہاں اہل اسلام کا جلسہ ہوگا۔ ہماری اور قادیانیوں کی کش مکش ہوئی، جس میں قاضی یوسف نامی قادیانی نے مجھ پر لاٹھی سے حملہ کر دیا۔
ہمارے رُفقاء نے اس کو پکڑ کر نیچے گرا دیا، جو قادیانی کرسیوں پر براجمان تھے، انہیں بھی فرش پر گرا دیا، قادیانی ذلت و نامرادی کے ساتھ بھاگ کھڑے ہوئے۔ اب اسٹیج پر مسلمانوں کا قبضہ تھا، مولانا بنوریؒ نے بڑی فصیح و بلیغ اور طویل تقریر فرمائی، مسلمانوں اور قادیانیوں کی کش مکش سن کر پورا شہر اُمنڈ آیا اور خوب جلسہ ہوا۔ قادیانیوں کو ایسی ذلت و رُسوائی کا سامنا کرنا پڑا کہ جب سے اب تک انہیں پشاور میں ایسا ڈھونگ رچانے کی دوبارہ جرأت نہیں ہوئی۔
عالمی مجلس کی امارت
عالمی مجلس کی امارت شیخ بنوریؒ نے کس طرح قبول فرمائی؟ مولانا محمد یوسف لدھیانوی کی زبانی سنیں!
مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر حضرت مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھریؒ تھے، جن کو ہمارے حضرت ”وکیل العلماء“ کا خطاب دیتے تھے، ان کے انتقال کے بعد جماعت کی قیادت میں خلاء سا محسوس ہونے لگا اور کچھ ایسے مسائل سر اٹھانے لگے تھے جن سے مضبوط قیادت ہی نمٹ سکتی تھی۔ جماعت کے امیر کے انتخاب کے لئے شوریٰ کا اجلاس طلب کیا گیا، ہمارے حضرت بنوریؒ بھی جماعت کی شوریٰ کے رکن رکین تھے۔ حضرت اجلاس میں شرکت کے لئے ملتان تشریف لے جا رہے تھے، یہ ناکارہ حاضرِ خدمت ہوا، عرض کیا: ”حضرت! اجلاس میں شرکت کے لئے جا رہے ہیں، میری درخواست ہے کہ یا تو جماعت کا نظم و نسق اپنے ہاتھ میں لے لیجئے یا فاتحہ فراغ پڑھ کر جماعت کو ختم کرنے کا اعلان کرا دیجئے۔“ حضرت اس ناکارہ کی اس درخواست سے
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
بہت متاثر ہوئے اور برجستہ فرمایا: ”اگر میں جماعت کی امارت قبول کرلوں تو ساہیوال سے ملتان مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر میں منتقل ہو جاؤ گے؟“
عرض کیا: ”حضرت! مجھے کراچی آنے سے عذر ہے، کراچی کے علاوہ آپ جہاں حکم فرمائیں وہاں جا بیٹھنے کے لئے تیار ہوں!“ بہت خوش ہوئے۔ ملتان تشریف لے گئے تو حسن اتفاق سے وہاں کے احباب (بالخصوص مولانا محمد شریف بہاولپوری ؒ) نے بھی حضرت سے وہی درخواست کی، دفتر کی کنجیاں حضرت کے سامنے رکھ دیں اور عرض کیا کہ: ”آپ کے استاد محترم امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیری ؒ نے یہ کام امیر شریعت مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ کے ذمے لگایا تھا۔ شاہ جی ؒ اور ان کے رفیق مولانا محمد علی ؒ اس کام کو کر رہے تھے۔ ہم لوگ ان کے کارکن تھے۔ اب یہ آپ کے استاد محترم کی میراث ہے اور اس کی کنجیاں آپ کے سپرد ہیں۔ اگر اس کام کو جاری رکھنا ہو تو بسم اللہ، ہماری قیادت کیجئے، ورنہ یہ کنجیاں پڑی ہیں، دفتر کو تالا لگا دیجئے، ہم سب بھی اپنے اپنے گھروں کو جاتے ہیں۔“ اس طرح حضرت کو جماعت کی امارت قبول کرنا پڑی اور پھر چند مہینے بعد ہی حضرت کی قیادت میں ختم نبوت کی وہ تحریک چلی جس کے نتیجے میں ١٩٧٤ء کا تاریخی فیصلہ ہوا اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا، گویا جماعت کی امارت کے لئے حضرت بنوری ؒ کا انتخاب حق تعالیٰ شانہ کی جانب سے اس تحریک کی کامیابی کا تکوینی انتظام تھا۔ الغرض! حضرت بنوری ؒ جماعت ختم نبوت کے امیر منتخب ہوکر کراچی تشریف لائے تو یہ ناکارہ مبارک باد کے لئے حاضر ہوا، مبارک باد پیش کی تو فرمایا: ”تمہیں اپنا وعدہ بھی یاد ہے؟ اب تمہیں ختم نبوت کے دفتر میں ٹھہرنا ہوگا۔“ عرض کیا: ”حضرت! بالکل حاضر ہوں، مگر میری تین درخواستیں ہیں، ایک یہ کہ مجھے رہائش کے لئے مکان کی ضرورت ہوگی۔ دوسری یہ کہ ختم نبوت کے مرکزی دفتر ملتان میں مسجد کے بغیر جماعت ہوتی ہے، دفتر کے ساتھ مسجد ہونی چاہئے اور تیسری یہ ہے کہ بچوں کی پڑھائی کے لئے قرآن کریم کے مکتب کا انتظام کر دیا جائے۔“ فرمایا: ”تینوں شرطیں منظور ہیں!“ حضرت نے جامعہ رشیدیہ کے حضرات سے فرمایا کہ: اس کو مدرسے سے فارغ کر دیا جائے۔ اس طرح یہ ناکارہ شوال ١٣٩٤ھ میں ساہیوال سے دفتر ختم نبوت ملتان منتقل ہو گیا، اور دس دن کے لئے کراچی حاضری کا سلسلہ بدستور رہا۔
ایسی موت جس پر ہزار زندگیاں قربان
شاہ فیصل ؒ سے مولانا کی جو آخری ملاقات ہوئی، اس میں شاہ فیصل ؒ نے
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
مولانا سے فرمایا تھا کہ: ”میں نے بھٹو کو ملاقات کے وقت صاف صاف بتا دیا تھا کہ پاکستان کے تین دشمن ہیں: قادیانی، کمیونسٹ اور مغربی ممالک۔“ مولانا نے تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء میں ملاقات کی، اس میں آپ نے بھٹو سے فرمایا کہ: ”کیا تم کو شاہ فیصل نے نہیں بتایا کہ قادیانی، کمیونسٹ اور مغربی ممالک پاکستان کے تین دشمن ہیں؟ اور انہی لوگوں نے سازش کر کے لیاقت علی خان کو مروا دیا تھا؟“ مسٹر بھٹو نے مولانا سے کہا کہ: ”کیا تم مجھ کو بھی مروانا چاہتے ہو؟“ مولانا نے برجستہ فرمایا کہ: ”ایسی موت کسی کو نصیب ہو تو اس پر ہزاروں زندگیاں قربان! جو شخص شہادت کی موت مرتا ہے وہ مرتا نہیں بلکہ زندہ جاوید ہو جاتا ہے۔“
(نقوش زندگی، از مولانا لطف الله)
حرمین شریفین میں قادیانیوں کے داخلے پر پابندی
شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ، شاہ فیصل مرحوم سے ملنے کے لئے حجاز مقدس گئے اور ان سے حجاز مقدس میں مرزائیوں کے داخلے پر پابندی کا ذکر کیا کہ پابندی کے باوجود بعض مرزائی پھر بھی سعودیہ آ جاتے ہیں۔ حرمین شریفین میں غیر مسلموں کا داخلہ شرعاً ممنوع ہے، تو اس پر صحیح عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ اس پر شاہ فیصل مرحوم نے کہا کہ: ”مولانا! کسی کے ماتھے پر تو نہیں لکھا ہوتا کہ یہ شخص قادیانی ہے، آپ اپنی حکومت سے کہیں کہ وہ پاسپورٹ میں مذہب کے خانے کا اضافہ کرے، پھر کوئی مرزائی حدود حرم میں داخل ہو تو ہم مجرم ہوں گے۔“ اس پر شیخ بنوریؒ اٹھ کھڑے ہوئے، گلو گیر لہجے میں فرمایا کہ: ”شاہ فیصل! میں آپ کو حضور علیہ السلام کی عزت و ناموس کا نگہبان سمجھ کر آیا تھا کہ مرزائی، حضور علیہ السلام کے دشمن ہیں۔ آپ مجھے پاکستان کی حکومت کے دروازے پر جانے کا راستہ دکھاتے ہیں۔ اگر وہ میری بات مانتے تو میں آپ کے پاس کیوں آتا؟“ آپ کا یہ کہنا تھا کہ شاہ فیصل مرحوم کی آنکھوں سے آنسو کی جھڑی لگ گئی۔ فرمایا: ”شیخ بنوری! میں آپ کی مشکلات سے آگاہ نہیں تھا۔ اگر یہ بات ہے تو آئندہ آپ اپنے لیٹر پیڈ فارم پر جس شخص کے متعلق لکھ دیں کہ وہ قادیانی ہے تو وہ شخص ہمارے ہاں نہیں آ سکے گا۔ اگر وزیر اعظم پاکستان لکھے کہ فلاں شخص مسلم ہے اور آپ لکھیں کہ یہ قادیانی ہے تو میں آپ کی بات کو ترجیح دوں گا۔“
حج پر جانے والا قادیانی گرفتار
اس پر عمل کیسے ہوا؟ صرف ایک واقعہ عرض ہے کہ شبقدر ڈھیری پشاور ۔ کے ایک قادیانی نے حج کے لئے بحری جہاز سے درخواست دی۔ مسلمانوں کو پتا چل گیا۔ اس کا فارم مسترد ہو گیا
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
اس نے اپنا نام، ولدیت، پتا سب کچھ تبدیل کر کے انٹرنیشنل پاسپورٹ بنوایا، این او سی لگوائی اور روانہ ہو گیا۔ چنیوٹ میں ختم نبوت کی کانفرنس تھی۔ شیخ بنوریؒ کو اطلاع ملی۔ آپ نے سعودیہ کے کراچی کونسل خانے کو فون کیا۔ صورتحال بتائی، کونسلیٹ نے فون کیا تو پتا چلا کہ جہاز روانہ ہو گیا ہے۔ اس نے جدہ فون کیا۔ جب جہاز نے جدہ لینڈ کیا تو جہاز کو پولیس نے گھیرے میں لے لیا۔ اس مرزائی کو گرفتار کر کے دوسرے جہاز پر پاکستان بھیج دیا۔
اس طرح آپ کی جماعت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی کاوشوں سے اب تو پاکستانی پاسپورٹ پر مذہب کے خانے کا اضافہ ہو گیا ہے۔
تحریک ختم نبوت کی کامیابی پر انعام
حضرت فرماتے تھے کہ تحریک کے بعد رمضان مبارک میں، میں نے خواب دیکھا کہ چاندی کی ایک تختی مجھے عطاء کی گئی اور اس پر سنہری حروف سے یہ آیت لکھی ہے: ”انہ من سلیمان وانہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم “ میں نے محسوس کیا کہ یہ تحریک ختم نبوت کی کامیابی پر مجھے انعام دیا جا رہا ہے۔
”نفحۃ العنبر“ ص ٢٠٤ پر حضرت بنوریؒ خود لکھتے ہیں:
”میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک مصلے پر ایک طرف عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام اور دوسری طرف حضرت سید انور شاہ کشمیریؒ تشریف فرما ہیں۔ میں کبھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے روح پرور چہرہ اقدس کی طرف دیکھتا اور کبھی چہرہ انورؒ کی طرف دیکھتا، یہ کیفیت مجھ پر طاری تھی کہ ہر دو حضرات کے مبارک چہروں سے استفادہ وشرف زیارت سے مستفید ہو رہا تھا کہ بیدار ہو گیا۔ بیداری کے وقت خوشی وغم کی ملی جلی کیفیت تھی۔ خوشی ان حضرات کی زیارت کی اور غم کہ جلدی کیوں بیداری ہو گئی؟ اے کاش! زیادہ وقت نظارے کی سعادت نصیب ہو جاتی۔ اے مولیٰ کریم! قیامت کے دن ان حضرات کی معیت نصیب فرما۔ آمین!“
(تذکرہ مجاہدین ختم نبوت)
قائد تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء
”بینات“ کے ”بنوری نمبر“ سے حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کا ایک مقالہ جس میں حضرت شیخ بنوریؒ کی تحریک ١٩٧٤ء سلسلے کے حوالہ سے خدمات کی مکمل تفصیل موجود ہے۔ ملاحظہ ہو:
”متحدہ ہندوستان میں امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور ”مجلس احرار
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
اسلام“ کے سرفروشوں نے اپنی شعلہ باز خطابت کے ذریعہ انگریز کی ساختہ پرداختہ ”قادیانی نبوت“ کے خرمن امن کو پھونک ڈالا تھا۔ تا آنکہ ١٩٤٧ء میں انگریزی اقتدار رخت سفر باندھ کر رخصت ہوا۔ برصغیر کی تقسیم ہوئی اور پاکستان منصۂ وجود پر جلوہ گر ہوا۔ اس تقسیم کے نتیجے میں قادیانی نبوت کا منبع خشک ہو کر رہ گیا اور قادیان کی منحوس بستی نہ صرف خود دارالکفر ہندوستان کے حصہ میں آئی۔ بلکہ اپنے ساتھ مشرقی پنجاب کے مسلم اکثریت کے صوبے کو بھی لے ڈوبی۔
مرزا محمود قادیانی اپنے ”مکۃ المسیح ، ارضِ حرم“ سے برقعہ پہن کر فرار ہوا اور سیدھا لاہور آ کر دم لیا۔ پاکستان میں دجل وتلبیس کا نیا دارالکفر ”ربوہ“ کے نام سے آباد کیا۔ قبر فروشی کی آبائی سکیم کے لئے ”بہشتی مقبرہ“ کا یہاں ڈھونگ رچایا اور قادیانی خلافت کے شاہسوار کی ترکتازیاں دکھانے اور پورے ملک کو مرتد بنانے کے اعلان کرنے لگا۔
قادیانیوں کو غلط فہمی تھی کہ چونکہ پاکستان کے ارباب اقتدار پر ان کا تسلط ہے فوج میں ان کا گہرا اثر ورسوخ ہے۔ ملک کے کلیدی مناصب پر ان کا قبضہ ہے۔ پاکستان کا وزیر خارجہ ظفر اللہ خان قادیانی ہے۔ اس لئے پاکستان میں مرزا غلام احمد قادیانی کی جھوٹی نبوت کا جعلی سکہ رائج کرنے میں انہیں کوئی خاص مشکل پیش نہیں آئے گی۔ ان کی امید افزائی کا ایک خاص پہلو یہ بھی تھا کہ: ”احرار اسلام“ کا قافلہ تقسیم ملک کی بدولت لٹ چکا تھا۔ ان کے پاس تنظیم اور تنظیمی وسائل کا فقدان تھا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ”احرار اسلام“ ناخدایان پاکستان کے دربار میں معتوب تھے۔ قادیانیوں کو یہ غرہ تھا کہ اب حریمِ نبوت کی پاسبانی اور قادیان کی جعلی قبائے نبوت کے بخیے ادھیڑنے کی ہمت کسی کو نہیں ہوگی۔ جو شخص بھی اس کی جرأت کرے گا۔ اسے ”شرپسند اور باغی“ کہہ کر آسانی سے تختۂ دار پر لٹکوا دیا جائے گا یا کم از کم پس دیوارِ زنداں بھجوا دیا جائے گا۔ لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ حفاظتِ دین اور ”تحفظ ختم نبوت“ کا کام انسان نہیں کرتے۔ خدا خود کرتا ہے اور جب وہ کسی کام کو کرنا چاہتا ہے تو اس کے ارادے کو نہ حکومتیں روک سکتی ہیں نہ کوئی بڑی سے بڑی طاقت بدل سکتی ہے۔
امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ قادیانیوں کے عزائم سے بے خبر نہیں تھے۔ مگر حالات کا تیز وتند دھارا ان کے خلاف بہہ رہا تھا۔ تاہم وہ شدید ترین ناموافق حالات میں بھی قادیانیت سے نمٹنے کا فیصلہ کر چکے تھے۔ گویا:
چنانچہ جدید حالات میں قادیانیت کے خلاف کام کرنے کے لئے امیر شریعتؒ
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
نے ملکی سیاسیات سے دست کش ہونے کا اعلان کر دیا اور آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کرنے کے لئے ملتان کی ایک چھوٹی سی مسجد، ”مسجد سراجاں“ میں ١٤ ربیع الثانی ١٣٧٤ھ (مطابق ١٣ دسمبر ١٩٥٤ء) کو اپنے مخلص رفقاء کی ایک مجلس مشاورت طلب فرمائی۔ جس میں حضرت امیر شریعتؒ کے علاوہ مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھریؒ، خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ، مولانا محمد شریف بہاولپوریؒ، مولانا شیخ احمدؒ (بورے والا)، مولانا محمد عبداللہ رائے پوریؒ، مولانا عبدالرحمن میانویؒ، مولانا تاج محمود لائل پوریؒ (فیصل آبادی)، مولانا محمد شریف جالندھریؒ، مولانا عبدالرحیم اشعرؒ، مولانا غلام محمد بہاولپوریؒ وغیرہ شریک ہوئے۔ غور و فکر کے بعد ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کے نام سے ایک غیر سیاسی تبلیغی تنظیم کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ تھا مجلس ختم نبوت کی تاسیس کا مختصر سا تعارف اور پس منظر۔
حضرت امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کو اس قافلہ کا پہلا امیر و قائد منتخب کیا گیا۔ ٩ ربیع الاول ١٣٨١ھ، مطابق ٢١ اگست ١٩٦١ء کو حضرت امیر شریعتؒ کا وصال ہوا اور جماعت کو طفولت کے عالم میں یتیم کر گئے۔
شاہ جیؒ کے بعد حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ (المتوفی ٩ شعبان ١٣٨٦ھ، مطابق ٢٣ نومبر ١٩٦٦ء) امیر دوم، حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ (المتوفی ٢٤ صفر ١٣٩١ھ، مطابق ٢١ اپریل ١٩٧١ء) امیر سوم اور مناظر اسلام مولانا لال حسین اخترؒ (المتوفی ١١؍جون ١٩٧٧ء، مطابق ٢٤ جمادی الاوّل ١٣٩٧ھ، بروز پیر) امیر چہارم منتخب ہوئے۔ مولانا لال حسین اخترؒ کے بعد فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیاتؒ کو نئے انتخاب تک مسند امارت عارضی طور پر تفویض ہوئی۔ خیال تھا کہ آئندہ جماعت کی زمام قیادت مستقل طور پر انہیں کے سپرد کر دی جائے۔ مگر اپنے ضعف وعوارض کی بناء پر انہوں نے اس گرانباری سے معذرت کا اظہار فرما دیا اور جماعت خلا میں گھومنے لگی۔ یہ ایک ایسا بحران تھا کہ جس سے اس عظیم الشان پیش قدمی رک جانے کا خطرہ لاحق ہو گیا تھا۔ لیکن حق تعالیٰ شانہ کا وعدۂ حفاظت دین یکا یک ایک لطیفہ غیبی کی شکل میں رونما ہوا اور وہ اس منصب عالی کے لئے اسلاف کے علوم و روایات کی حامل ایک ایسی ہستی کو کھینچ لایا جو اس منصب کی پوری طرح اہل تھی۔ جس سے ملت اسلامیہ کا سر بلند ہوا۔ جس کے ذریعہ قدرت نے ختم نبوت کی پاسبانی کا وہ کام لیا جو اس دور کی تاریخ کا جلی عنوان بن گیا اور وہ تھے شیخ الاسلام حضرت العلامہ مولانا السید محمد یوسف البنوری الحسینی نور اللہ مرقدہ۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
١٥؍ربیع الاول ١٣٨٤ھ، مطابق ٩؍اپریل ١٩٧٤ء کو یہ عبقری شخصیت ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کی مسند امارت پر رونق افروز ہوئی۔ کسی جماعت کی صدارت قبول کرنا حضرت کے مزاج ومشاغل کے قطعاً منافی تھا۔ لیکن مخلصین کے اصرار پر آپ کو یہ منصب قبول کرنا پڑا۔ یہ تو ظاہری سبب تھا۔ لیکن اس کے باطنی اسباب ودواعی متعدد تھے جن میں سے تین اسباب اہمیت رکھتے ہیں۔
- اول...... حضرت امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیری ؒ اپنے دور میں رد قادیانیت کے امام
تھے۔ انہوں نے ہی مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ کو ”امیر شریعت“ مقرر کر کے ایک جماعت کو مستقل اسی مہم پر لگا دیا تھا اور علمائے امت سے ان سے تعاون کرنے کی بیعت لی تھی۔ ادھر حضرت بنوری ؒ اپنے شیخ کے علوم وانفاس کے وارث تھے۔ تحفظ ختم نبوت اور رد قادیانیت ان کے شیخ انور ؒ کی وراثت وامانت تھی۔ ظاہر ہے کہ اس کا اہل علوم انوری کے وارث اور ان کے روحانی جانشین سے بہتر کون ہو سکتا تھا۔ اس لئے جب ایک فعال جماعت کی قیادت ان کے سپرد ہوئی تو آپ نے اسے عطیہ خداوندی سمجھ کر قبول کرلیا۔
- دوم...... حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری ؒ نے انجمن خدام الدین کے جس اجلاس میں
مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ کو امیر شریعت مقرر کر کے خود ان کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور دیگر علماء سے بھی بیعت کرائی۔ اس میں حضرت سید بنوری ؒ بھی شریک تھے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ ان کے شیخ انور اور ان کے ”امیر شریعت“ کی جماعت بے کسی وبے بسی کے جنگل میں بھٹک رہی ہے اور اس بے سہارا جماعت کے سارے اکابر اسے یتیم چھوڑ کر جاچکے ہیں تو آپ نے اپنی تمامتر معذوریوں کے باوجود اس یتیم جماعت کو اپنی آغوشِ شفقت میں اٹھا لیا۔ گویا وہ بیعت جو آپ نے انجمن خدام الدین کے اجلاس میں ”امیر شریعت ؒ“ کے ہاتھ پر کی تھی وہی آپ کو امیر شریعت ؒ کی خلافت وجانشینی تک کھینچ لائی۔ ١٥؍ربیع الاول ١٣٩٤ھ سے پہلے آپ ”امیر شریعت“ کی ”پاسبان ختم نبوت فوج“ کے سپاہی تھے اور اس تاریخ سے آپ کو اس فوج کا قائد وسپہ سالار بنا دیا گیا۔
- سوم...... حضرت قدس سرہ پر حق تعالیٰ شانہ کے بے شمار انعامات تھے۔ آپ کے صحیفہٴ زندگی
میں قدرت ایک نئے باب، اور بالکل آخری باب، کا اضافہ کرنا چاہتی تھی اور وہ تھا آپ کے مقامِ صدّیقیت کا اظہار۔ مسیلمہ کذاب کی خبیث امت کا صفایا۔ سب سے
پہلے صدیق اکبر ؓ کی فوج نے کیا تھا اور مسیلمہ پنجاب کی امت کی سرکوبی ”یوسف صدیق“ کی فوج نے...... ”اول ہا آخر نسبتے دارد“ راقم الحروف کا خیال ہے کہ اسی صدیقی نسبت کی تکمیل کے لئے قدرت آپ کو آخری عمر میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی قیادت کے لئے کشاں کشاں کھینچ لائی۔
یہاں یہ عرض کر دینا ضروری ہے کہ حضرت مولانا قاضی احسان احمد ؒ کے وصال کے بعد حضرت مولانا محمد علی جالندھری ؒ نے حضرت کی خدمت میں جماعت کی قیادت کے لئے درخواست کی تھی۔ مگر حضرت نے فرمایا کہ آپ کی موجودگی میں صرف آپ ہی اس کے لئے موزوں ہیں۔ چنانچہ آپ نے اس وقت جماعت کی امارت تو قبول نہیں فرمائی، البتہ جماعت کی سرپرستی اور مجلس شوریٰ کی رکنیت قبول فرمالی۔ ربیع الثانی ١٣٨٧ھ سے مجلس شوریٰ کے اجلاس میں بڑے اہتمام سے شرکت فرماتے تھے اور مجلس کی کوئی کارروائی حضرت کے ایماء وارشاد کے بغیر نہیں ہوتی تھی۔ بظاہر حضرت جالندھری ؒ مجلس کے امیر خود تھے مگر اس کی حقیقی قیادت اس وقت بھی حضرت بنوری ؒ کے ہاتھ میں تھی۔
حضرت بنوری ؒ کا دور امارت اگرچہ بہت ہی مختصر رہا اور اس میں بھی حضرت اپنے بیشمار مشاغل اور ضعف و پیرانہ سالی کی بناء پر جماعت کے امور پر خاطر خواہ توجہ نہیں فرما سکتے تھے۔ اس کے باوجود حق تعالیٰ شانہ نے آپ کی پرخلوص قیادت کی برکت سے جماعت کے کام کو ”ثریٰ“ سے ”ثریا“ تک پہنچا دیا اور ”بنوری دور میں“ جماعت نے وہ خدمات انجام دیں جن کی اس سے پہلے صرف تمنا کی جاسکتی تھی۔ ان کا بہت ہی مختصر خاکہ درج ذیل ہے:
تاریخ ساز فیصلہ
آپ کو جماعت کی زمام قیادت سنبھالے ابھی دو مہینے نہیں گزرے تھے کہ ٢٩؍ مئی ١٩٧٤ء کو ربوہ اسٹیشن کا شہرہ آفاق سانحہ رونما ہوا۔ حضرت ان دنوں سوات کے دور دراز علاقے میں سفر پر تھے۔ وہیں آپ کو اس واقعہ کی کسی نے اطلاع دی۔ خبر سن کر چند لمحے توقف کے بعد فرمایا:
آپ سوات سے بعجلت واپس ہوئے اور تحریک ختم نبوت کی کامیابی کے لئے حضرت نے ایک طرف بارگاہ خداوندی میں تضرع اور ابتہال کا سلسلہ تیز کر دیا اور دوسری طرف امت مسلمہ کو متحد کرنے اور قوم کے منتشر ٹکڑوں کو جمع کرنے کے لئے رات دن ایک کر دیا۔ ٢٩؍ مئی سے ٧؍ ستمبر تک کے سو دن برصغیر کی مذہبی تاریخ میں سو سال کے برابر ہیں۔ ان سو دنوں کی مفصل تاریخ
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگارنگ
ایک مستقل تالیف کا موضوع ہے۔ مگر یہاں حضرت اقدس ؒ کی ذات سے متعلق چند اشارات پر اکتفاء کروں گا۔
٢٩؍ مئی کو ربوہ کا حادثہ پیش آیا۔ حالات نے نازک صورت اختیار کر لی اور مسلمانوں کے جذبات مشتعل ہو گئے۔ مگر حکومت نے بروقت صحیح قدم نہیں اٹھایا، بلکہ ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت کی طرح اس تحریک کو بھی کچلنا چاہا۔
٣؍ جون ١٩٧٤ء کو راولپنڈی میں علمائے کرام اور مختلف فرقوں کا ایک نمائندہ اجتماع ہوا۔ حکومت نے اسے ناکام بنانے کے لئے تین مندوبین، مولانا مفتی زین العابدین ؒ ، مولانا حکیم عبدالرحیم اشرف ؒ ، مولانا تاج محمود ؒ کو لالہ موسیٰ اسٹیشن پر ریل سے اتار لیا۔
٩؍ جون کو حضرت کی دعوت پر ایک نمائندہ اجتماع لاہور میں رکھا گیا۔ جس میں مسلمانوں کے تمام فرقوں اور جماعتوں کے مندوب شریک ہوئے۔ یہ بیس جماعتوں کا نمائندہ اجتماع تھا۔ سب سے پہلے حضرت نے مختصر سی افتتاحی تقریر میں اجتماع کے اغراض و مقاصد اور تحریک کے لائحہ عمل پر روشنی ڈالی۔ جس کا خلاصہ حضرت ہی کے الفاظ میں یہ تھا:
”ہمارا یہ اجتماع اس وقت صرف ایک دینی عقیدہ کی حفاظت کے لئے ہے۔ یہ اجتماع ”ختم نبوت“ کے مسئلہ پر ہے۔ اس کا دائرہ آخر تک محض دین رہے گا۔ سیاسی آمیزشوں سے اس کا دامن پاک رہنا چاہئے جو سیاسی حضرات اس میں شامل ہیں ان کا مطمح نظر دین ہی ہوگا اور حزب اقتدار و حزب اختلاف کی کشمکش سے بالا تر ہوگا۔ ختم نبوت کی تحریک کا طریق کار نہایت پرامن ہوگا اور اسے تشدد سے کوئی سروکار نہ ہوگا۔ اگر کوئی مزاحمت ہوئی یا تکلیف پیش آئی تو دین کے لئے اس کو برداشت کرنا ہوگا اور صبر کرنا ہوگا۔ مظلوم بن کر رہنا ہوگا، اور ہمارے مدمقابل صرف مرزائی امت ہوگی۔ ہم حکومت کو ہدف بنانا نہیں چاہتے۔ اگر حکومت نے ان کی حفاظت یا ان کی حمایت میں کوئی غلط قدم اٹھایا تو اس وقت مجلس عمل کوئی مناسب فیصلہ کرے گی۔ ابھی قبل از وقت کچھ کہنا درست نہیں۔“
(ماہنامہ بینات رمضان وشوال ١٣٩٤ھ)
اس کے بعد حضرت مفتی محمود، نوابزادہ نصر اللہ خان اور دیگر نمائندوں کی تقریریں ہوئیں۔ تحریک کو نظم و ضبط کے تحت رکھنے کے لئے ایک ”مجلس عمل“ کی تشکیل ہوئی اور حضرت مولانا عبدالحق شیخ الحدیث اکوڑہ خٹک نے اس کی صدارت کے لئے حضرت کا نام پیش کیا۔ حضرت اس کے لئے آمادہ نہ تھے۔ اس لئے حضرت کو مجبور کیا گیا کہ فی الحال آپ عارضی حیثیت سے مجلس عمل کی قیادت قبول فرمالیں۔ مستقل صدر کے انتخاب پر آئندہ اجلاس میں غور کر لیا جائے
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
گا۔ اسی اجلاس میں ”مجلس عمل“ کی جانب سے ١٤؍ جون ١٩٧٤ء کو ملک میں مکمل ہڑتال کے اعلان نیز مرزائی امت کے مکمل مقاطعہ (بائیکاٹ) کا فیصلہ کیا گیا۔
اس دوران وزیراعظم نے ”مجلس عمل“ کے ارکان سے فرداً فرداً ملاقات کی۔ حضرت نے نہایت صفائی اور سادگی سے صاف اور غیر مبہم الفاظ میں وزیراعظم کے سامنے مسلمانوں کے مؤقف کی وضاحت کی۔ آپ نے جو کچھ فرمایا اس کا خلاصہ آپ ہی کے الفاظ میں یہ تھا:
”قادیانی مسئلہ بلاشبہ پاکستان کے روز اول سے موجود ہے۔ پہلی غلطی اس وقت ہوئی جب ظفر اللہ قادیانی کو وزیرخارجہ مقرر کیا گیا۔ شہید ملت (خان لیاقت علی خان مرحوم) کو اس خطرناک غلطی کا احساس ہوا اور انہوں نے قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کا عزم کر لیا تھا۔ لیکن افسوس کہ وہ شہید کر دیئے گئے اور ہو سکتا ہے کہ ان کا یہ عزم ہی ان کی شہادت کا سبب ہوا ہو۔ اس وقت جو جرأت مرزائیوں کو ہوئی ہے اگر اس وقت اس کا تدارک نہ کیا گیا اور وہ غیر مسلم اقلیت قرار نہیں دیئے گئے تو مسلمانوں کے جذبات بھڑکیں گے اور ان کی (قادیانیوں کی) جان و مال کی حفاظت حکومت کے لئے مشکل ہو گی۔ اقلیت قرار دیئے جانے کے بعد اس ملک میں ان کی حیثیت ”ذمی“ کی ہو گی اور ان کی جان و مال کی حفاظت شرعی قانون کی رو سے مسلمانوں پر ضروری ہو گی۔ اس طرح ملک میں امن قائم ہو جائے گا۔
میں مانتا ہوں کہ آپ پر خارجی غیر اسلامی حکومتوں کا دباؤ ہو گا۔ لیکن اس کے بالمقابل ان اسلامی ممالک کا تقاضا بھی ہے کہ ان کو جلد غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ جن ممالک سے ہمارے اسلامی تعلقات بھی ہیں اور ہر قسم کے مفادات بھی وابستہ ہیں۔ خارجی دنیا میں غیر اسلامی حکومتوں کے بجائے اسلامی مملکتوں کو مطمئن اور خوش کرنا زیادہ ضروری ہے۔ نیز ایک معمولی سی اقلیت کو خوش کرنے کے لئے اتنی بڑی اکثریت کو غیر مطمئن کرنا دانشمندی نہیں۔ اگر آپ حق تعالیٰ پر توکل و اعتماد کر کے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے مسلمانوں کے حق میں فیصلہ فرمائیں تو دنیا کی کوئی طاقت آپ کا بال بیکا نہیں کر سکتی اور اس راستہ میں موت بھی سعادت ہے۔“ (حوالہ مذکور)
١٣؍ جون کو وزیراعظم نے ایک طویل تقریر ریڈیو پر نشر کی۔ جس میں حادثہ ربوہ پر ایک حرف بھی نہیں کہا۔ البتہ ختم نبوت پر اپنا ایمان جتاتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ نوے سال کا پرانا ہے۔ اتنی جلدی کیسے حل ہو سکتا ہے۔ ١٤؍ جون کو ملک میں درہ خیبر سے کراچی اور لاہور سے کوئٹہ تک ایسی مکمل ہڑتال ہوئی جو پاکستان میں اپنی نظیر آپ تھی۔ ١٦؍ جون کو ”مجلس عمل“ کا لائل پور میں اجلاس ہوا۔ جس میں وزیراعظم کی ١٣؍ جون کی تقریر پر غور کیا گیا۔ ”مجلس عمل“ کی مستقل صدارت کے
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
لئے حضرت کو مجبور کیا گیا۔ جسے آپ کو منظور کرنا پڑا۔ اسی اجلاس میں یہ بھی طے کیا گیا کہ تحریک کو پرامن رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔ قادیانیوں کا بائیکاٹ جاری رکھا جائے اور تحریک کو سول نافرمانی سے بہر قیمت بچایا جائے۔
تحریک کو زندہ مگر پرامن رکھنے کے لئے حضرت نے کراچی سے پشاور تک کے دورے کئے۔ چھوٹے چھوٹے قصبوں تک میں تشریف لے گئے۔ ہر جگہ مسلمانوں کو صبر وسکون سے تحریک چلانے کا حکم فرماتے۔ لیکن اس کے برعکس حکومت نے جارحانہ رویہ اختیار کیا۔ حضرت فرماتے ہیں:
”ادھر مجلس عمل کی پالیسی تو یہ تھی کہ حکومت سے تصادم سے بہر صورت گریز کیا جائے۔ ادھر حکومت نے ملک کے چپے چپے میں دفعہ ١٤٤ نافذ کر دی۔ پریس پر پابندی عائد کر دی۔ انتظامیہ نے اشتعال انگیز کارروائیوں سے کام لیا اور مسلمانوں کو گرفتار کرنا شروع کیا۔ چنانچہ سینکڑوں اہل علم اور طلباء کو گرفتار کیا گیا۔ بعد میں گرفتاریوں کا سلسلہ اور بڑھتا گیا۔ جیلوں میں ”گرفتاران ختم نبوت“ کو نہایت بے دردی سے اذیتیں دی گئیں اور پولیس اور جیل کے ہاتھوں انسانیت کی مٹی پلید کی گئی۔ قادیانیوں نے پہلے سے اسلحہ جمع کر رکھا تھا۔ انہوں نے ”حربی کافروں“ کی طرح جگہ جگہ مورچے لگائے اور بہت سے مسلمانوں کو شہید کیا گیا۔ حکومت اور پولیس بھی قادیانی امت کی حفاظت و حمایت کر رہی تھی۔ انہیں ناروا ایذائیں دی گئیں۔ کبیر والا، اوکاڑہ، سرگودھا، لائل پور، کھاریاں وغیرہ میں درد ناک واقعات رونما ہوئے۔ جن کو مظلومانہ صبر کے ساتھ برداشت کیا گیا۔ صرف ایک شہر اوکاڑہ میں ان مظالم کے خلاف احتجاج کے طور پر بارہ دن مکمل اور مسلسل ہڑتال ہوئی۔ اسی سے اندازہ کیجئے کہ ملک بھر مجموعی طور پر کتنا ظلم اور اس کے خلاف کتنا احتجاج ہوا؟ جگہ جگہ لاٹھی چارج کیا گیا۔ اشک ریز گیس کا استعمال بڑی فراخدلی سے کیا گیا۔ مجلس عمل کی تلقین تمام مسلمانوں کو یہی تھی کہ صبر کریں اور مظلوم بن کر حق تعالیٰ کی رحمت اور غیبی تائید الٰہی کے منتظر رہیں۔ قریباً پورے سو دن تک ان حالات کا مقابلہ کیا گیا اور تمام سختیوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتے رہے۔“
(بینات، رمضان و شوال ١٣٩٤ھ)
جون کے اواخر میں بنگلہ دیش کے دورے پر جاتے ہوئے وزیر اعظم (بھٹو صاحب) نے اعلان کیا کہ قادیانی مسئلہ کا فیصلہ کرنے کے لئے قومی اسمبلی کو ایک تحقیقاتی کمیٹی کی حیثیت دے دی جائے گی۔ بنگلہ دیش کے دورے سے واپس آئے تو یکم جولائی کو قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کیا گیا اور اس میں قومی اسمبلی کو ”خصوصی کمیٹی“ قرار دینے کا فیصلہ ہوا اور یہ بھی طے ہوا کہ کمیٹی کے لئے چالیس ارکان کا کورم ہوگا جن میں تیس ارکان حزب اقتدار کے اور دس حزب
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
اختلاف کے ہوں گے۔ اس خصوصی کمیٹی کے سامنے دو قراردادیں بحث و تمحیص کے لئے پیش کی گئیں۔ ایک حزب اقتدار کی جانب سے وزیر قانون (مسٹر حفیظ پیرزادہ) نے پیش کی اور دوسری حزب اختلاف کی جانب سے پیش کی گئی۔
٢٠ جولائی کو حضرت قدس سرہ کے خلاف ملک بھر کے اخبارات (نوائے وقت لاہور کے سوا) میں ایک فرضی انجمن کے نام سے ایک لچر پوچ اشتہار چھپنا شروع ہوا۔ ہمیں معلوم تھا کہ اس شرانگیزی کا منبع کہاں ہے اور اس کے لئے لاکھوں کا سرمایہ کہاں سے آتا ہے۔ لیکن حضرت قدس سرہ نے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔ نہ اس کے خلاف کوئی احتجاج کیا۔ تاہم ”چاند کا تھوکا منہ پر آتا ہے“ کے مصداق یہ اشتہار حضرت کے بجائے حکومت اور مرزائیوں کے لئے مضر ثابت ہوا۔ ہر طرف سے ان کے خلاف صدائے نفرین بلند ہونا شروع ہوئی اور مسلمانوں کے مشتعل جذبات آتش فشاں بن گئے۔ نتیجتاً چند دن بعد یہ اشتہار بند ہو گیا۔
٣١ جولائی کو وزیر اعظم نے مستونگ (بلوچستان) میں اعلان کیا کہ قادیانی مسئلہ کے فیصلہ کی تاریخ کا اعلان کل کر دیا جائے گا۔ چنانچہ فیصلہ کے لئے ٧ ستمبر کی تاریخ کا اعلان ہوا۔
قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے قادیانی مسئلہ پر غور وفکر کرنے کے لئے دو مہینے میں ٢٨ اجلاس کئے اور ٩٦ گھنٹے نشستیں کیں۔ مسلمانوں کی طرف سے ”ملت اسلامیہ کا مؤقف“ نامی کتاب اسمبلی میں پیش کی گئی۔ قادیانیوں کی ربوائی اور لاہوری پارٹیوں کے سربراہوں نے اپنے اپنے مؤقف کی وضاحت کے لئے کتابچے پیش کئے۔ ربوہ جماعت کے سربراہ مرزا ناصر احمد پر گیارہ دن تک ٤٢ گھنٹے اور لاہوری پارٹی کے امیر مسٹر صدر الدین پر سات گھنٹے جرح ہوئی۔
وزیر اعظم (بھٹو) قادیانیوں کے حلیف رہ چکے تھے۔ وہ انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دینے پر رضامند نہیں تھے۔ وہ قادیانیوں کو کسی نہ کسی طرح آئینی تلوار کی زد سے بچانا چاہتے تھے اور اس کے لئے اپنی طاقت اور ذہانت کا سارا سرمایہ صرف کر دینا چاہتے تھے۔ چنانچہ حزب اختلاف کے ارکان سے جو ”مجلس عمل“ کے نمائندے تھے وزیر اعظم کی بار بار ملاقاتیں ہوئیں۔ کئی بار صورتحال نازک ہو گئی۔ آخری دن تو گویا ہنگامہ محشر تھا۔ امید وبیم کی کیفیت آخری حدوں کو چھو رہی تھی۔ وزیر اعظم کی ”انا“ نے تصادم کا خطرہ پیدا کر دیا تھا۔ حکومت کی جانب سے پولیس اور انٹیلی جنس کو چوکنا کر دیا گیا تھا۔ بڑے شہروں میں فوج لگا دی گئی تھی جو لوگ گرفتار تھے وہ تو تھے ہی کے علاوہ ہزاروں علماء اور سر برآوردہ افراد کی گرفتاری کی فہرستیں تیار ہو چکی تھیں۔ ادھر ”مجلس عمل“ کے نمائندے بھی سر بکف کفن بدوش تھے۔ گویا
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
کا منتظر تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے اس مہیب خطرہ سے ملک کو بچا لیا۔
جب وزیر اعظم کی ”انا“ میں لچک پیدا ہوتی نظر نہ آئی تو حضرت مفتی محمودؒ نے (جو اپنے دیگر رفقاء کے ساتھ مجلس عمل کے نمائندہ کی حیثیت سے وزیر اعظم سے مذاکرات کر رہے تھے) ان سے فرمایا: ”ہمیں بتائیے کہ آخر ہم کیا کریں۔ آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ نہیں مانتے اور مجلس عمل والوں کے پاس جاتے ہیں تو وہ نہیں مانتے۔“
وزیر اعظم نے نشہ اقتدار کے جوش میں جواب دیا: ”میں نہیں جانتا۔ مجلس عمل کون ہوتی ہے۔ میں تو آپ لوگوں کو جانتا ہوں۔ آپ اسمبلی کے معزز رکن ہیں۔“
حضرت مفتی صاحب نے فرمایا: ”بھٹو صاحب! آپ کو قوم کے ایک حلقہ نے منتخب کر کے بھیجا ہے۔ اس لئے آپ اسمبلی کے معزز رکن ہیں۔ میں بھی ایک حلقہ انتخاب کا نمائندہ ہوں۔ اس لئے میں بھی اسمبلی کا رکن کہلاتا ہوں۔ مگر آنجناب کو بتانا چاہتا ہوں کہ ”مجلس عمل“ کسی ایک حلقہ انتخاب کی نمائندہ نہیں بلکہ وہ اس وقت پاکستان کے سات کروڑ مسلمانوں کی نمائندگی کر رہی ہے۔ کیسی عجیب منطق ہے کہ آپ ایک حلقہ کے نمائندے کو عزت و احترام کا مقام دینے کے لئے تیار ہیں مگر قوم کے سات کروڑ افراد کی نمائندہ ”مجلس“ کو آپ پائے حقارت سے ٹھکرا رہے ہیں۔ بہتر ہے میں ان سے جا کر کہہ دیتا ہوں کہ وزیر اعظم پاکستان کے سات کروڑ مسلمانوں کی بات سننے کو تیار نہیں۔“
یہ سن کر وزیر اعظم کی ”انا“ سرنگوں ہو گئی۔ چنانچہ ”مجلس عمل“ اور حکومت کے نمائندوں کے مشترکہ مجوزہ بل پر اتفاق ہو گیا اور اس طرح ٧؍ ستمبر کو ٤ بج کر ٣٥ منٹ پر قادیانیوں کی دونوں شاخوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر دائرہ اسلام سے خارج کر دیا گیا۔ پھر اس مسودہ کو آئینی شکل دینے کے لئے پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کیا گیا اور آئینی طور پر قادیانی ناسور کو ملت اسلامیہ کے جسد سے الگ کر دیا گیا۔ اس خبر کا نشر ہونا تھا کہ نہ صرف پورے ملک میں بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں میں فرحت و مسرت کی لہر دوڑ گئی۔ ایسی اجتماعی خوشی کسی نے نہ کبھی پہلے دیکھی، نہ شاید آئندہ دیکھنی نصیب ہو گی۔ یہ محض حق تعالیٰ شانہ کی رحمت و عنایت اور امت مسلمہ کے اتحاد اور صبر و عزیمت کا کرشمہ تھا۔ جسے چودھویں صدی میں اسلام کا معجزہ ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ حضرت اقدس ہی اس تحریک کے روحِ رواں ”مجلس عمل“ کے صدر اور ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کے
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
قائد و امیر تھے۔ اس لئے آپ کو جتنی خوشی ہوگی اس کا اندازہ کون کر سکتا ہے۔ آپ نے ”بصائر وعبر“ میں پوری قوم کو مبارک باد دی اور حق تعالیٰ شانہٗ کے شکر و سپاس کے ساتھ ساتھ اس تحریک میں حصہ لینے والے تمام افراد اور جماعتوں کا شکریہ ادا کیا۔
(بینات رمضان وشوال ١٣٩٤ھ)
اس تحریک کی کامیابی پر بہت سے اکابر امت نے آپ کو تہنیت اور مبارک باد کے گرامی نامے لکھے۔ یہاں تبرک کے طور پر صرف دو خطوط کا اقتباس پیش کرتا ہوں۔ برکۃ العصر حضرت الشیخ مولانا محمد زکریا کاندھلوی ثم مدنی تحریر فرماتے ہیں:
سب سے اوّل تو جناب کی انتہائی کامیابی پر انتہائی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ مژدہ سننے کے بعد سے آپ کے لئے دل سے دعائیں نکلیں کہ اس کا اصل سہرا تو آپ ہی کے سر ہے۔ اگرچہ:
لوگ جو چاہیں لکھیں، یا جو چاہیں کہیں۔ میرے نزدیک تو آپ ہی کی روحانی قوت اور بدنی جانفشانی کا ثمرہ ہے۔ اللہ تعالیٰ مبارک کرے۔ آپ نے جو دعائیہ کلمات اس نابکار کے حق میں لکھے ہیں اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور آپ کی دعا کی برکت سے اس نابکار کو بھی کارآمد بنادے۔
مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی تحریر فرماتے ہیں:
”سب سے پہلے تو آپ کو اس عظیم کامیابی پر آپ کے اسلاف کے ایک ادنیٰ نیاز مند کی حیثیت سے مخلصانہ مبارک باد پیش کرتا ہوں جس کے متعلق بدیع الزمان ہمدانی کے یہ الفاظ بالکل صادق ہیں۔ ”فتح فاق الفتوح وأثنت عليه الملائكة والروح“ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ کے اس کارنامہ سے آپ کے جد امجد حضرت سید آدم بنوری ؒ اور ان کے شیخ حضرت امام ربانی ؒ اور آپ کے استاد و مربی حضرت علامہ سید انور شاہ کشمیری ؒ کی روح ضرور مسرور مبتہج ہوئی اور اس کی بھی امید ہے کہ روح مبارک نبوی علیہا الف الف سلام کو بھی مسرت حاصل ہوئی ہوگی۔ ”فهنيئاً لكم وطوبیٰ“ اگر میری ملاقات ہوئی تو میں آپ کے دست مبارک کو بوسہ دے کر اپنے جذبات کا اظہار ضرور کروں گا۔“
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس فتنہ ضالہ کی بیخ کنی پر صرف زمین کے باشندوں ہی کو خوشی نہیں ہوئی بلکہ ملا اعلیٰ میں جشن مسرت منایا گیا اور عالم ارواح میں بھی حضرت اقدس ؒ کو اس فیصلہ کے بعد عجیب و غریب مبشرات سے نوازا گیا۔ ان میں دو مبشرات حضرت ہی کے قلم سے ملاحظہ فرمائیے:
قادیانی کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جانا بہت ہی عظیم برکات کا کارنامہ ہے۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت کے منکروں کا مسلمانوں سے خلا ملا نہ صرف مسلمانوں کے حق میں ایک ناسور تھا بلکہ اس سے آنحضرت ﷺ کی روح مبارک بھی بے تاب تھی۔ قادیانی مسئلہ کے حل پر جہاں تمام ممالک کی جانب سے تہنیت ومبارک باد کے پیغامات آئے ، وہاں منامات ومبشرات کے ذریعہ عالم ارواح میں اکابر امت اور خود آنحضرت ﷺ کی مسرت بھی محسوس ہوئی۔ آپ ﷺ کے مبشرات ذکر کرنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ تاہم اہل ایمان کی خوشخبری کے لئے اپنے دو بزرگوں سے متعلق بشارت منامیہ بعض مخلصین کے اصرار پر ذکر کرتا ہوں۔
جمعہ ٣/ رمضان المبارک ١٣٩٤ھ صبح کی نماز کے بعد خواب دیکھتا ہوں کہ حضرت امام العصر مولانا محمد انور شاہ صاحب کشمیری ؒ گویا سفر سے تشریف لائے ہیں اور خیر مقدم کے طور پر لوگوں کا بہت ہجوم ہے۔ لوگ مصافحے کر رہے ہیں۔ جب ہجوم ختم ہو گیا اور تنہا حضرت شیخ رہ گئے تو دیکھتا ہوں کہ بہت وسیع چبوترہ ہے جیسے اسٹیج بنا ہوا ہو۔ اس پر فرش ہے اور اوپر جیسے شامیانہ ہو۔ بالکل درمیان میں حضرت شیخ تنہا تشریف فرما ہیں۔ دو تین سیڑھیوں پر چڑھ کر ملاقات کے لئے پہنچا۔ حضرت شیخ اٹھے اور گلے لگا لیا۔ میں ان کی ریش مبارک اور چہرہ مبارک کو بوسے دے رہا ہوں۔ حضرت میری داڑھی اور چہرے کو بوسے دے رہے ہیں۔ دیر تک یہ ہوتا رہا۔ چہرہ وبدن کی تندرستی زندگی کے آخری ایام سے بہت زیادہ ہے۔ بے حد خوش اور مسرور ہیں۔ بعد ازاں میں دوزانو ہو کر فاصلہ سے باادب بیٹھ گیا اور آپ سے باتیں کر رہا ہوں۔ اسی سلسلہ میں یہ بھی عرض کیا کہ بھول گیا کہ ”معارف السنن“ حاضر کرتا فرمایا میں نے نہایت خوشی اور مسرت کے ساتھ اس کا مطالعہ کیا ہے۔ اب چھٹی جلد کا مطالعہ کر رہا ہوں۔ میں نے عرض کیا کہ میرے پاس تو علم نہیں جو کچھ آپ نے فرمایا تھا بس اس کی تشریح وتوضیح وخدمت کی ہے۔ بہت مسرت کے لہجے میں فرمایا: ”بہت عمدہ ہے۔“
شوال ١٣٩٤ھ میں لندن کے قیام کے دوران خواب دیکھا کہ ایک بہت بڑا وسیع مکان ہے۔ گویا ختم نبوت کا دفتر ہے۔ بہت سے لوگوں کا مجمع ہے۔ میں ایک طرف جاکر سفید چادر جس طرح کہ احرام کی چادر ہو، باندھ رہا ہوں۔ بدن کا اوپر کا حصہ برہنہ ہے۔ کوئی چادر یا کپڑا نہیں۔ اتنے میں حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاری اسی ہیئت میں کہ احرام والی سفید چادر کی لنگی باندھی ہوئی ہے اور اوپر کا بدن مبارک بغیر کپڑے کے ہے۔ میرے داہنے کندھے کی جانب تشریف لائے اور آتے ہی مجھ سے چمٹ گئے۔ پہلا جملہ یہ ارشاد فرمایا: ”واہ میرے پھول“ پھر دیر تک معانقہ فرمایا۔ میں خواب ہی کی حالت میں خیال کرتا ہوں کہ مبارک باد کے لئے تشریف لائے ہیں۔ انتہی!
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
منامات کی حیثیت مبشرات کی ہے۔ اس سے زیادہ ان کی کوئی شرعی حیثیت نہیں۔ بہرحال قادیانی ناسور کے علاج سے نہ صرف زندہ بزرگوں کو مسرت ہوئی بلکہ جو حضرات دنیا سے تشریف لے گئے ہیں معلوم ہوتا ہے کہ انہیں بھی اس سے بے حد و پایاں خوشی ہوئی۔ فالحمد للہ!
(بینات ذیقعدہ ١٣٩٤ھ، دسمبر ١٩٧٤ء)
انہی مبشرات کے ضمن میں جی چاہتا ہے کہ اس خط کا اقتباس بھی درج کر دیا جائے جو حضرت کے ایک گہرے دوست الشیخ محمود الحافظ مکی نے آپ کو ملک شام سے لکھا تھا۔ اصل خط عربی میں ہے۔ یہاں اس کا متعلقہ حصہ اردو میں نقل کرتا ہوں۔
”میں آپ کو مبارک باد دیتا ہوں کہ میں نے ٣ شعبان ١٣٩٤ھ رات کو آپ کے بارے میں بہت عمدہ اور مبارک خواب دیکھا ہے جس کی آپ کو مبارک باد دینا چاہتا ہوں اور اس کو یہاں اختصار کے ساتھ نقل کرتا ہوں۔
میں نے آپ کو ایسے شیوخ کی جماعت کے ساتھ دیکھا ہے جو سن رسیدہ تھے اور جن پر صلاح وتقویٰ کی علامات نمایاں تھیں۔ یہ سب حضرات اس قرآن کریم کے صفحات جمع کرنے میں مصروف تھے جو آنجناب نے اپنے قلم سے زعفرانی رنگ کی روشنائی سے بدست خود تحریر فرمایا ہے اور آنجناب کا قصد ہے کہ اسے لوگوں کے فائدہ عام کے لئے شائع کیا جائے۔ آپ نے اپنے اس ارادے کا اظہار نہایت مسرت وشادمانی کے ساتھ میری جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا۔
صبح جب نماز فجر کے لئے اٹھا تو قلب فرحت سے لبریز تھا اور میں یقین رکھتا ہوں کہ آپ کے اعمال کو اللہ تعالیٰ نے کامیابی و کامرانی کا تاج پہنایا ہے۔ والحمد للہ الذی بنعمته تتم الصالحات“
یہ مبارک خواب تحریک ختم نبوت کے زمانے کا ہے۔ سنہرے حروف سے قرآن کریم لکھنے کی تعبیر اہل فن ہی کر سکتے ہیں۔ راقم الحروف کا قیاس ہے کہ اس فیصلہ کے ذریعہ آیت ”خاتم النبیین“ کو صفحات عالم پر سنہرے حروف سے رقم کرنے کی طرف اشارہ ہوا۔ نیز قادیانی امت نے چونکہ قرآن کریم پر تحریف کی سیاہی ڈال دی ہے اور ان کے نزدیک مرزا قادیانی سے قبل قرآن کریم آسمان پر اٹھ گیا تھا۔ بقول ان کے مرزا قادیانی کی وحی قرآن کو دوبارہ لائی ہے اور یہ عقیدہ قرآن کریم کی عظمت کو مٹانے کے مترادف ہے۔ نیز قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ اب صرف محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت ونبوت اور قرآن کریم کی تعلیمات مدار نجات نہیں بلکہ مدار نجات نعوذ باللہ مرزا قادیانی کی تعلیمات اور اس کی مہمل اور شیطانی وحی ہے۔ یہ عقیدہ گویا انکار قرآن
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
کے مترادف ہے۔ اس لئے سنہرے حروف سے قرآن کریم لکھنے اور اسے چار دانگ عالم میں پھیلانے کی تعبیر یہ بھی ہو سکتی ہے کہ جو لوگ قرآن کریم کی ابدیت، اس کی عظمت اور اس کے مدار نجات ہونے کے منکر ہیں ان کا کافر و مرتد ہونا ساری دنیا پر واضح کر دیا جائے۔ تاکہ جو غبار انہوں نے قرآن کریم کی تعلیمات پر ڈالا ہے وہ صاف ہو جائے اور قرآن کریم کی روشن و تابندہ ہدایت واضح ہو جائے۔ الحمد للہ! اللہ تعالیٰ نے یہ کام حضرت کے ہاتھوں سے لیا اور بہت سے ذی صلاح و تقویٰ شعار بزرگوں نے اس مقدس کام میں آپ کا ہاتھ بٹایا۔ اس تحریک کی کامیابی کے لئے دعائیں کیں۔ ختمات کا اہتمام کیا۔
تحریک ختم نبوت کی کامیابی پر آپ کو ایک اور انعام ملا۔ حضرت فرماتے تھے کہ تحریک کے بعد غالباً رمضان المبارک میں میں نے خواب دیکھا کہ ایک چاندی کی تختی مجھے عطاء کی گئی ہے اور اس پر سنہرے حروف سے یہ آیت لکھی ہے: ”انه من سليمان وانه بسم الله الرحمن الرحيم“ میں نے محسوس کیا کہ یہ تحریک ختم نبوت پر مجھے انعام دیا جا رہا ہے اور اس کی یہ تعبیر کی کہ مجھے حق تعالیٰ بیٹا عطاء فرمائیں گے اور میں اس کا نام سلیمان رکھوں گا۔ چنانچہ اس خواب کے دو سال بعد حق تعالیٰ نے ستر برس کی عمر میں آپ کو صاحبزادہ عطاء فرمایا اور آپ نے اس کا نام سلیمان تجویز فرمایا۔
عالمی تحریک
٧ ستمبر ١٩٧٤ء کے فیصلہ کے بعد بھی حضرت چین سے نہیں بیٹھے۔ بلکہ اس فیصلہ کے تقاضوں کو پورا کرنے کی کوششیں شروع کردیں۔ اس سلسلہ میں آپ کے پیش نظر تین چیزیں تھیں۔
- ١...... اندرون ملک صرف قادیانیوں کے ”غیر مسلم“ ہونے پر اکتفاء نہ کیا جائے۔ بلکہ حکومتی
سطح پر ان کے ساتھ معاملہ بھی وہی کیا جائے جس کے غیر مسلم مستحق ہیں۔ مثلاً شناختی کارڈ اور پاسپورٹ میں ایک خانہ مذہب کا تجویز کیا جائے اور اس میں قادیانیوں کے ”غیر مسلم“ ہونے کی تصریح کی جائے۔ قادیانیوں کو اسلام کے شعار اپنانے کی اجازت نہ دی جائے اور ان امور کے لئے مناسب قانون سازی کی جائے۔ وغیرہ وغیرہ۔
- ٢...... بیرون ملک جہاں جہاں قادیانی اثرات ہیں وہاں تحریک ختم نبوت کو ایک عالمی تحریک
کی شکل دی جائے۔ پاکستان قومی اسمبلی کے فیصلہ کی دنیا بھر کی زبانوں میں اشاعت کی جائے اور قادیانیوں نے اسلام اور مسلمانوں سے جو غداریاں کی ہیں، ان سے
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
ساری دنیا کے مسلمانوں کو باخبر کیا جائے۔ آئندہ قادیانیوں کے جو منصوبے ہیں ان پر کڑی نظر رکھی جائے۔
- ٣....... سب سے اہم یہ کہ جو لوگ غفلت یا جہالت کی بناء پر قادیانی چنگل میں گرفتار ہوئے
ہیں اور انہوں نے قادیانیت کو واقعی اسلام سمجھ کر قبول کیا ہے جہاں تک ممکن ہو موعظت وحکمت کے ساتھ انہیں اسلام کی دعوت دی جائے اور اسلام اور قادیانیت کے درمیان جو مشرق ومغرب کا بعد ہے وہ ان پر واضح کیا جائے۔
حضرت اقدسؒ نے مولانا سمیع الحق مدیر ماہنامہ ”الحق“ اکوڑہ خٹک کے نام اپنے ایک گرامی نامہ میں ان نکات کی وضاحت فرمائی ہے جو درج ذیل ہے:
”برادر محترم مولانا سمیع الحق صاحب زادکم اللہ توفیقاً الی الخیر السلام علیکم ورحمۃ اللہ نہ معلوم نامۂ کرم کب آیا اور کہاں ہے۔ لیکن عزیزم محمد بنوری سلمہ سے یہ معلوم ہوا کہ جواب کا انتظار کر رہے ہیں اور اشاعت رکی ہوئی ہے۔ اس لئے چند حروف لکھ رہا ہوں۔ تفصیل کی نہ حاجت، نہ فرصت، نہ ہمت۔ اختصار بلکہ ایجاز سے عرض ہے کہ آئینی فیصلہ نہایت صحیح اور باصواب ہے۔ اگرچہ بعد از وقت ہے اور بعد از خرابی بسیار۔ وزیر اعظم صاحب نے جو اخبارات میں یہ اعتراف فرمایا ہے کہ ”قادیانی مسئلہ کے حل ہونے سے پاکستان کو سیاسی استحکام حاصل ہوگیا۔“ اور نیازی صاحب نے یہ اعلان فرمایا کہ ”پاکستان آج صحیح معنوں میں پاکستان بنا۔“ دونوں سیاست دانوں کے اعلان سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے اور یہ بھی کہ یہ کام کتنے عرصے پہلے ہونا چاہئے تھا۔
ہماری ذمہ داری ختم نہیں ہوئی، بلکہ آئینی نقوش کو جب تک عملی جامہ نہ پہنایا جائے اس وقت تک مقصد ناتمام ہے۔ ”اسلام در کتاب، مسلمانان در گور“ والا معاملہ ہوگا۔ اندرون ملک قادیانیوں کا جو کچھ ردّعمل ہے وہ تذبذب ہے۔ مایوسی ہے اور زیادہ سے زیادہ گیدڑ بھبکی ہے اور کچھ نہیں۔ باہر ممالک میں حتیٰ کہ انگلستان میں بھی اس کے اچھے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ لیکن افریقہ کے ممالک میں اس آئینی فیصلہ کی اشاعت اور عام کرنے کی بڑی ضرورت باقی ہے۔ حکومت کو اپنا بین الاقوامی دامن بچانے کے لئے عربی، انگریزی اور فرانسیسی زبان میں اس مقصد کی اشاعت اپنے سفیروں کے ذریعہ تمام ممالک میں کرانی چاہئے۔ اس وقت جو کچھ حکومت کی پالیسی ہے اس میں تغافل، تذبذب بلکہ ایک گونہ نفاق ہے۔ اس لئے (حکومت نے) عملی صورت میں کوئی اقدام نہیں کیا۔ نہ ان قیدیوں کو رہا کیا۔ (جو تحریک ختم نبوت کے دوران گرفتار کئے گئے)
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
نہ ربوہ کو باقاعدہ تحصیل کی شکل دی ہے۔ نہ فارغ علاقہ ان سے واپس لیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ مرکز سے زیادہ پنجاب گورنمنٹ کی دوغلی پالیسی یا طرف دارانہ پالیسی کا نتیجہ ہو۔ بہر حال حالات اگر مایوس کن نہیں تو زیادہ امید افزا بھی نہیں۔ بس اس وقت زیادہ لکھنے کی فرصت نہیں۔ تفصیلات بہت کچھ ہیں سو والسلام!“
یہ گرامی نامہ ١٩٧٥ء کے آغاز میں (١٤ جنوری کو) تحریر فرمایا۔ ان دنوں حضرت پر پوری دنیا میں اس تحریک کو عام کرنے کا جذبہ بڑی شدت سے غالب تھا۔ فرماتے تھے ”کاش میں جوان ہوتا، قوی میں طاقت و ہمت ہوتی تو دنیا بھر میں آگ لگا دیتا۔“ چنانچہ ضعف و ناتوانی اور پیرانہ سالی کے باوجود آپ نے فتنہ قادیان کے استیصال کے لئے بیرونی ممالک میں بھی کوششیں شروع کر دیں اور یورپ، افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں مسلمانوں کو قادیانیت کے مقابلہ میں منظم اور بیدار کرنے کے لئے خود دو مرتبہ طویل سفر فرمایا۔ پہلا سفر ١٩٧٤ء کے اواخر میں انگلستان کا کیا۔ جس کی ابتداء حرمین کی حاضری اور اعتکاف سے ہوئی۔ اس کا مختصر سا تذکرہ حضرت نے ذیقعدہ ١٣٩٤ھ (دسمبر ١٩٧٤ء) کے ”بصائر وعبر“ میں کیا ہے۔ جس کا ابتدائی حصہ درج ذیل ہے۔
”الحمد للہ ! ماہ رمضان المبارک میں کچھ لمحات حرمین شریفین میں نصیب ہوئے۔ انگلستان کی دینی دعوت آئی تھی۔ اگر چہ صحت اچھی نہیں تھی اور ڈاکٹروں کی حتمی رائے سفر نہ کرنے کی تھی اور خود مجھے بھی تردد ضرور تھا۔ لیکن استخارہ کر کے اللہ کا نام لے کر جدہ سے ٢٢ نومبر ١٩٧٤ء کو روانہ ہو گیا۔ ہڈرسفیلڈ میں جاتے ہی ایک شدید حادثے سے دوچار ہوا۔ ڈاکٹروں نے تین روز سکوت اور ایک ہفتہ آرام کا مشورہ دیا۔ لیکن بیانات کا نظم بن چکا تھا اور اس کا اعلان ہو گیا تھا۔ اس لئے بادل ناخواستہ ڈاکٹروں کے مشورے کے خلاف کرنا پڑا۔ الحمد للہ! کہ تقریباً تمام پروگرام حق تعالیٰ شانہ نے پورا کر دیا۔ متعدد مقامات پر جانا ہوا اور جن اہم دینی مسائل کی ضرورت سمجھی ان پر بیانات ہوئے۔ ہڈرسفیلڈ ، بولٹن، ڈیوز بری، بلیک برن، پرسٹن، بریڈ فورڈ، گلسٹر ، والسال، برمنگھم ، ولور ہملٹن، کونٹری، لیسٹر، نیئی ٹن اور خود لندن کے مختلف مقامات پر پروگرام بن چکے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے باوجود صحت کی خرابی وطبیعت کی ناسازی کے توفیق محض اپنے فضل وکرم سے نصیب فرمائی۔ متعدد دینی موضوعات پر بیان ہوا۔ مثلاً:
- ١...... دین اسلام بڑی نعمت ہے۔
- ٢...... اسلام اور بقیہ مذاہب کا موازنہ۔
- ٣...... دنیا و آخرت کی نعمتوں کا موازنہ۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
- ٤....... دنیا کی زندگی کی حقیقت۔
- ٥....... طمانیت قلب دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہے اور اس کا ذریعہ حقیقی اسلام ہے۔
- ٦....... ذکر اللہ جس طرح حیات قلوب کا ذریعہ ہے، ٹھیک اسی طرح بقاء عالم کا ذریعہ بھی ہے۔
- ٧....... لندن و انگلستان میں مسلمانوں کی زندگی کا نقشہ۔
- ٨....... دنیا کی زندگی میں انہماک اور آخرت سے دردناک غفلت۔
- ٩....... انگلستان میں مسلمانوں نے اگر دینی انقلاب اختیار نہ کیا تو ان کا مستقبل نہایت
تاریک ہے۔
- ١٠....... انگلستان کے ماحول میں اصلاح نفوس کی تدبیر۔
- ١١....... مخلوط تعلیم کے دردناک نتائج اور اس سے بچنے کا لائحہ عمل۔
- ١٢....... محبت رسول کی روشنی میں سنت و بدعت کا مقام۔
- ١٣....... حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی عصمت اور صحابہ کرام ؓ کا مقام۔
- ١٤....... انگلستان میں عالم دین کی زندگی کیسی ہو؟
- ١٥....... رؤیت ہلال وغیرہ بعض مسائل میں علماء کا اختلاف اور اتحاد کے لئے لائحہ عمل۔
- ١٦....... قادیانی مسئلہ اور اس کا متفقہ حل۔“
لوگ انگلستان جاتے ہیں تو بڑی ”سوغاتیں“ ساتھ لاتے ہیں۔ مگر حضرت کے اس سفر کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ حضرت نے اس میں کوئی ہدیہ قبول نہیں کیا۔ فرماتے تھے کہ: ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کے لئے ایک شخص نے باصرار پانچ پونڈ کا عطیہ دیا تھا۔ صرف وہی لایا ہوں۔ اس کے سوا کچھ نہیں لایا۔
حضرت نے اس سلسلہ میں دوسرا سفر قریباً ایک درجن افریقی ممالک کا کیا، جو حسب معمول حرمین شریفین سے شروع ہوا اور حرمین پہنچ کر ختم ہوا۔ اس سفر کی مفصل روئیداد حضرت کے رفیق سفر جناب مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق کے مقالہ میں ملاحظہ فرمائی جاسکتی ہے۔ البتہ حضرت نے اس سفر کے بارے میں ایک گرامی نامہ نیروبی سے تحریر فرمایا تھا اس کا اقتباس یہاں دیا جاتا ہے جس سے کام کے طریق کار پر روشنی پڑتی ہے۔
”جدہ سے روانگی کے وقت کچھ معلوم نہ تھا کہ کہاں کہاں جانا ہوگا اور کس طرح کام کرنا ہوگا۔ اس لئے روانگی ایسے وقت ہوئی کہ نہ پورے ویزے لے سکے، نہ باقاعدہ کسی کو مطلع کیا جاسکا۔ نیروبی پہنچ کر کچھ نقشہ کام کا سمجھ میں آگیا کہ مؤثر اور صحیح صورت یہ ہے کہ ہر مرکزی مقام پر
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
مقامی باشندوں کی جماعت ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کے نام سے تشکیل دی جائے جو بسلسلہ قادیانیت موثر کام کر سکے اور تقریروں میں اسلام اور ختم نبوت کی اہمیت و حقیقت واضح کی جائے۔ چنانچہ اس انداز سے کام شروع کیا اور نشان منزل نظر آنے لگا ......
زمبیا سے واپسی پر یوگنڈا کا ویزا نہ ہونے کی وجہ سے تین چار دن یہاں تاخیر ہو گئی۔ شاید کل روانگی ہو سکے گی ...... سفر کے اختصار کا سوچ رہا تھا۔ لیکن معلوم ہوا کہ نائیجیریا میں قادیانیوں کے سکول، ہسپتال اور ادارے ہیں اور حکومت میں بھی ان کے عہدے ہیں۔ وہاں جانے کی شدید ضرورت ہے۔ اس لئے مغربی افریقہ کا ارادہ کرنا پڑا اور پھر ساتھ ہی مغربی افریقہ کے بقیہ ممالک کا جوڑ بھی لگانا ہوگا۔ اس لئے سفر طویل ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ آسان فرمائیں۔ آمین!“
حضرت کا یہ سفر جدہ سے ٧؍شوال ١٣٩٥ھ، مطابق ١٢؍اکتوبر ١٩٧٥ء کو شروع ہوا اور ١٩؍ذیقعدہ ١٣٩٥ھ مطابق ٢٢؍نومبر ١٩٧٥ء کو جدہ واپسی ہوئی۔
١٩٧٥ء میں انڈونیشیا کے ایک بہت بڑے عالم الشیخ الحبشی الشافعی مشرق وسطیٰ کے دورہ سے واپسی پر حضرت کی خدمت میں کراچی تشریف لائے۔ کئی دن ان کا قیام رہا اور انہوں نے حضرت کے سامنے انڈونیشیا میں قادیانی سرگرمیوں اور نصرانی سازشوں کی تفصیلات پیش کیں۔ یہ بھی بتایا کہ: ”قادیانیوں سے ہمارا معرکہ رہتا ہے۔ جب ہم مرزا غلام احمد کا کوئی حوالہ پیش کرتے ہیں تو قادیانیوں کی طرف سے اصل کتاب پیش کرنے کا مطالبہ ہوتا ہے۔ میں نے مولانا ابوالحسن علی ندوی کو لکھا تھا کہ اس سلسلہ میں ہماری راہنمائی کریں۔ انہوں نے جواب دیا کہ اس فن کے امام مولانا شیخ محمد یوسف بنوری ہیں۔ کراچی میں ان سے رجوع کرو۔ اس لئے میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں۔“
حضرت نے ان کی بہت ہی قدر اور ہمت افزائی کی اور ان سے فرمایا کہ ہم نہ صرف قادیانیوں کا سارا لٹریچر آپ کے لئے مہیا کریں گے بلکہ ایک ایسا عالم بھی بھیجیں گے جو قادیانیت کا پورا ماہر ہو۔ کیونکہ قادیانیوں کی بیشتر کتابیں اردو میں ہیں۔ ہمارے آدمی آپ کے یہاں کے علماء کو قادیانی کتابوں کے حوالوں کا ترجمہ عربی میں نوٹ کرا دیں گے اور قادیانیت پر ایسی تیاری کرا دیں گے کہ اس کے بعد آپ حضرات کو کسی اور سے مراجعت کی حاجت نہیں ہوگی۔ وہ نقشہ آج بھی راقم الحروف کی آنکھوں کے سامنے ہے۔ جب شیخ حبشی رخصت ہوتے ہوئے حضرت کی پیشانی اور ریش مبارک کو بوسہ دے رہے تھے ان کی آنکھوں سے سیل اشک رواں تھا اور وہ بڑے رقت انگیز لہجے میں حضرت سے درخواست کر رہے تھے۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
”یاسیدی! زودنی بما زود سیدنا رسول اللہ ﷺ معاذ بن جبل حین بعثہ الی الیمن“ اور جواب میں حضرت نے اس رقت آمیز مگر بزرگانہ لہجہ میں فرمایا: ”زودک اللہ التقویٰ، واستودع اللہ دینکم وامانتکم وخواتیم اعمالکم“
بہر حال ان کی درخواست پر حضرت نے جناب مولانا عبدالرحیم اشعر ؒ اور رفیق محترم مولانا اللہ وسایا کو قادیانیوں کا ضروری لٹریچر دے کر انڈونیشیا بھیجا۔ ان حضرات نے وہاں قادیانیوں کو مناظرہ و مباحثہ کی دعوت دی۔ مگر کوئی مقابلے پر نہیں آیا۔ وہاں مختلف مقامات پر ان کے بیانات ہوئے جن کا ترجمہ ساتھ کے ساتھ انڈونیشین زبان میں ہوتا رہا۔ وہاں کے ریڈیو پر بھی ان کی تقریریں نشر ہوئیں اور سب سے اہم کام یہ کیا کہ قریباً دو صد حضرات علماء، وکلاء اور طلبہ کی ایک بڑی جماعت کو عربی میں قادیانیت سے متعلق مختلف موضوعات پر تیاری کرائی۔ قادیانیوں کی کتابوں کے اصل مآخذ کی نشاندہی پیش کر کے ان کو عربی میں ترجمہ کرایا۔ اس طرح ایک بڑی جماعت کی رد قادیانیت پر تیاری مکمل کرائی۔ فالحمد للہ علیٰ ذالک!
ان دونوں احباب کی میزبانی کے فرائض شیخ حسین اسحقی نے ادا کئے۔ مگر سفر کے جملہ مصارف حضرت نے جماعت کی طرف سے برداشت کئے اور قادیانی لٹریچر کا یہ ذخیرہ بھی انڈونیشیا چھوڑ دیا گیا۔ یہ دو رکنی وفد ٢٦؍ ذوالحجہ ١٣٩٥ھ، مطابق ٢٢؍ دسمبر ١٩٧٥ء کو کراچی سے روانہ ہوا اور ٢٨؍ محرم ١٣٩٦ھ، مطابق ٢٤؍ جنوری ١٩٧٦ء کو واپس ہوا۔ ان کی واپسی پر شیخ حسین نے حضرت کی خدمت میں شکریہ کا خط لکھا جس میں ان حضرات کی مساعی کی تفصیل کا ذکر کرتے ہوئے لکھا: ”ان حضرات کا قیام اگر چہ ایک مہینہ رہا، لیکن ہم نے ان سے ایک سال کا استفادہ کیا۔“
رمضان المبارک ١٣٩٥ھ میں ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کے فاضل مبلغ جناب مولانا سید منظور احمد شاہ حجازی ؒ کو متحدہ عرب امارات میں کام کرنے کے لئے بھیجا۔ وہاں روابط قائم کرنے کے لئے حضرت نے ابوظہبی میں شئونِ دینیہ کے سربراہ جناب ڈاکٹر عبدالمنعم النمر اور ابوظہبی کے قاضی القضاۃ شیخ احمد بن عبدالعزیز المبارک کے نام عربی میں الگ الگ گرامی نامے تحریر فرمائے۔ نیز ابوظہبی کے پاکستانی حضرات کے نام اردو میں حسب ذیل گرامی نامہ تحریر فرمایا:
”اس وقت اسلام جن فتنوں سے گھرا ہوا ہے محتاج بیان نہیں۔ مسلمان دنیا کے جس
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
خطے میں ہو اسلام کا داعی اور مبلغ ہے اور ہر شخص اپنی بساط کے مطابق اس کا مکلف ہے کہ دینی خدمات انجام دے اور آخرت کی سرخروئی اور قیامت کی جوابدہی حاصل کرے۔ مجلس مرکزی تحفظ ختم نبوت نے اپنی شاخ کے افتتاح کا ارادہ کیا ہے تاکہ اس کے ذریعہ ابوظہبی اور امارات خلیج میں دینی خدمت ہو سکے۔ اس خدمت کے لئے اپنے ایک داعی ومبلغ مولانا منظور احمد شاہ کا تقرر کیا ہے۔ آپ حضرات کے دینی مزاج اور مکارم اخلاق سے مجھے پوری توقع ہے کہ موصوف کی مقدور بھر امداد میں جس طرح بھی ہو سکے دریغ نہیں فرمائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو ان دینی خدمات کی توفیق عطاء فرمائے۔‘‘
چنانچہ موصوف نے وہاں کے احباب کے توسط سے اکابر علماء اور شیوخ سے رابطہ قائم کیا۔ انہیں قادیانیت کے مالہ وماعلیہ سے آگاہ کیا۔ قادیانی لٹریچر سے، جو ساتھ لے کر گئے تھے۔ قادیانیوں کے مرتدانہ نظریات وعقائد نکال کر دکھائے اور ان کی اسلام کش سرگرمیوں کی تفصیلات بتائیں جس کے نتیجہ میں وہاں کے رئیس القضاۃ شیخ احمد بن عبدالعزیز المبارک نے قادیانیت کے خلاف وہ فیصلہ لکھا جو جماعت کی طرف سے ’’قادیانیوں کا ایک اور عبرت ناک انجام‘‘ کے عنوان سے شائع ہو چکا ہے۔ مولانا منظور احمد شاہ صاحب نے ١٩٧٦ء میں متحدہ عرب امارات کے علاوہ کویت اور بحرین کا دورہ بھی کیا اور وہاں مجلس تحفظ ختم نبوت کی شاخیں قائم کیں۔
١٩٧٥ء میں مولانا مقبول احمدؒ کو ختم نبوت کے داعی کی حیثیت سے انگلینڈ بھیجا۔ موصوف نے وہاں کے نہ صرف پاکستانی حضرات سے رابطہ قائم کیا بلکہ ممالک عربیہ کے طلبہ میں بھی کام کیا۔
١٩٧٦ء کو ’’مدرسہ عربیہ اسلامیہ‘‘ کے متخصص جناب مولانا اسد اللہ طارق کو فجی آئی لینڈ کے لئے داعی ومبلغ بنا کر بھیجا۔ موصوف نے وہاں ایک سال سے زیادہ عرصہ کام کیا۔ اس کے بعد جرمنی تشریف لے گئے اور وہاں قادیانیت کا ناطقہ بند کیا۔
١٩٧٦ء میں مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ اور علامہ ڈاکٹر خالد محمود (مقیم برمنگھم) نے افریقی ممالک کا دورہ کیا۔ اس کی روئیداد اخبارات ورسائل کے علاوہ الگ بھی شائع ہو چکی ہے۔
مساجد و مراکز کی تعمیر
سید بنوریؒ کے سہ سالہ دور امارت میں ’’مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ کے تعمیراتی منصوبوں میں بھی حیرت افزا ترقی ہوئی، متعدد مسجدیں تعمیر ہوئیں۔ جماعتی مراکز کا افتتاح ہوا اور
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگارنگ
کئی مدارس کھلے ان کی مختصر سی فہرست حسب ذیل ہے:
- ١...... محلہ غریب آباد بیرون چوک شہیداں ملتان میں ”مسجد الفاروق“ تعمیر ہوئی۔
- ٢...... کنری ضلع تھرپارکر (سندھ) میں ایک مسجد تعمیر ہوئی۔
- ٣...... جماعت کے زیر اہتمام ربوہ اسٹیشن پر مسجد محمدیہ تعمیر کی گئی۔ وہاں خطابت کے فرائض
جماعت کے مبلغ جناب مولانا خدا بخش صاحب مرحوم نے سرانجام دیئے۔
- ٤...... جماعت کے موجودہ مرکزی دفتر (واقع تغلق روڈ ملتان) کو حضرت نے جماعت کے
وسیع کام اور مستقبل کے منصوبوں کے لئے ناکافی سمجھ کر دفتر کے لئے ایک نیا قطعہ اراضی خریدنے کا حکم فرمایا۔ جس میں مسجد، لائبریری، اشاعتی مکتبہ، پریس اور دیگر ضروریات کے علاوہ بیرونی ممالک کے مندوبین کے قیام کے انتظامات ہوں۔ چنانچہ ملتان میں حضوری باغ روڈ پر ایک قطعہ اراضی خرید کیا گیا۔ حضرت کے بعض مخلصین احباب کی وساطت سے حق تعالیٰ نے اس کی تعمیرات کا انتظام بھی فرما دیا۔ جو انشاء اللہ حضرت کے لئے صدقہ جاریہ رہے گا۔
- ٥...... ہڈرسفیلڈ (انگلینڈ) میں جماعت کے لئے ایک عمارت حضرت مولانا لال حسین ؒ
نے اپنے قیام یورپ کے زمانہ میں خرید کی تھی۔ جماعت کا دفتر بھی اسی عمارت میں تھا۔ مگر اس کی مکانیت دفتر کی ضرورت کے لئے موزوں نہیں تھی۔ جناب مولانا مقبول احمد صاحب وہاں تشریف لے گئے تو ان کی توجہ سے وہاں کے ایک صاحب خیر دوست نے مسجد، مدرسہ اور دفتر کی تعمیر کے لئے ایک قطعہ اراضی وقف کر دیا۔ بحمد اللہ! اس کی تعمیرات بھی شروع ہیں۔
- ٦...... ”جابہ“ کے احباب کی درخواست پر حضرت نے وہاں ختم نبوت کی طرف سے مسجد تعمیر
کرنے کا حکم فرمایا۔ مگر افسوس کہ اس کی تعمیر بھی باقاعدہ شروع نہیں ہوئی تھی کہ حضرت کا وصال ہو گیا۔ بعد میں وہ عالیشان مسجد تعمیر ہوئی۔
- ٧...... ”مسلم کالونی ربوہ“ میں جماعت کے لئے ایک وسیع قطعہ اراضی حاصل کیا گیا۔ وہاں
بھی ایک عظیم الشان مسجد، مدرسہ، لائبریری، دفتر، مہمان خانہ وغیرہ کی تعمیر پر منصوبہ ہے۔ کام کا آغاز ہوا۔ رئیس المبلغین حضرت مولانا محمد حیات ؒ فاتح قادیان وہاں فروکش رہے۔ زہے نصیب!
- ٨...... اسلام آباد میں جماعت کا دفتر کرائے کی عمارت میں تھا۔ حضرت کی خواہش تھی کہ
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگارنگ
وہاں کسی موزوں جگہ پر قطعہ اراضی لے کر مسجد اور دفتر تعمیر کیا جائے۔ تاہم سردست دفتر کے لئے ایک مناسب عمارت خرید لی گئی۔
- ......٩ حضرت کے دور امارت میں ربوہ، ملتان اور کڑی میں نئے مدارس کا افتتاح ہوا۔
- ......١٠ پاکستان کے بڑے شہروں میں جماعت کے دفاتر کرائے کی عمارات میں ہیں۔
کراچی، لاہور اور حیدرآباد وغیرہ مرکزی شہروں میں دفاتر کی تعمیر کے لئے بھی حضرت فکر مند تھے۔ مگر حضرت کی یہ خواہش تشنہ تکمیل رہی۔ آپ کے وصال کے بعد نہ صرف مذکورہ شہروں بلکہ دیگر کئی شہروں میں مجلس کے ملکیتی دفاتر قائم ہوئے۔
شعبہ نشر و اشاعت
حضرت کے دور میں جماعت کے شعبہ نشر و اشاعت کو بھی خاصی ترقی ہوئی۔ اگرچہ یہ دور ١٩٧٤ء اور ١٩٧٧ء کی تحریکات کے ہنگامہ رستاخیز کی بناء پر اشاعتی کاموں کے لئے بڑا حوصلہ شکن تھا۔ تاہم جماعت نے قریباً دو لاکھ روپیہ اشتہارات اور کتابچوں کے علاوہ نہایت وقیع اور علمی کتابوں کی اشاعت پر خرچ کیا۔ اس کا مختصر سا جائزہ پیش خدمت ہے۔
(١) ملت اسلامیہ کا مؤقف
دو سو صفحے کی یہ کتاب ”مجلس عمل“ کے نمائندگان اسمبلی کی جانب سے قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کے سامنے مسلمانوں کا مؤقف پیش کرنے کی غرض سے جدید انداز میں مرتب کی گئی جس میں قادیانیت کی مذہبی، سماجی اور سیاسی حیثیت کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا گیا کہ قادیانی کیوں دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ یہ پہلی کتاب تھی جو حضرت بنوری ؒ کے دور میں شائع ہوئی۔ اس کی تالیف و طباعت بھی حضرت کی کرامت تھی۔ دو صد صفحے کی کتاب مگر سننے والوں کو یقین نہیں آئے گا کہ مواد کی فراہمی سے لے کر اس کی تجلید تک تالیف، کتابت اور طباعت وغیرہ کے تمام مراحل چودہ دن میں طے ہوئے۔ راولپنڈی میں حضرت نے علماء کا ایک بورڈ مقرر کر دیا تھا۔ مولانا محمد حیات ؒ اور مولانا عبدالرحیم اشعر ؒ مواد فراہم کر رہے تھے۔ مولانا محمد تقی عثمانی اور مولانا سمیع الحق اس کی تالیف میں مصروف تھے اور حضرت المخدوم سید انور حسین نفیس رقم الحسینی ؒ اپنے رفقاء سمیت اس کی کتابت میں مصروف تھے۔ روزانہ جتنا حصہ لکھا جاتا وہ علماء کی مجلس میں سنایا جاتا اور کتابت ہو جاتا۔
کتاب کی تالیف و کتابت مکمل ہوئی تو طباعت کا مرحلہ درپیش تھا۔ مشکل یہ تھی کہ
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
پریس پر پابندی عائد تھی اور قادیانیوں کے خلاف کسی چیز کا چھپنا ممنوع تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اس مشکل کو بھی آسان فرمادیا۔ اس طرح یہ کتاب مواد کی فراہمی سے لے کر طباعت وتجلید تک چھ دن میں تیار ہوگئی۔ تمام اراکین اسمبلی میں تقسیم کی گئی اور حضرت مولانا مفتی محمودؒ نے اسمبلی میں حرفاً حرفاً پڑھ کر سنائی۔ حضرت نے اب اس کی دوبارہ طباعت کا حکم فرمایا تھا۔
(٢) ملت اسلامیہ کا موقف (عربی ایڈیشن)
بیرون ممالک کی ضروریات کا تقاضا تھا کہ اس کتاب کے عربی اور انگریزی ایڈیشن بھی شائع کئے جائیں۔ چنانچہ حضرت نے اپنے رفیق وخادم جناب مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر کو اس کے عربی ترجمہ کا حکم فرمایا۔ موصوف نے ”موقف الامة الاسلامية من القاديانية“ کے نام سے اس کا عربی ترجمہ کیا۔ حضرت نے خود اس پر ایک نفیس مقدمہ لکھا اور افریقی ممالک کے دورہ پر جانے سے پہلے اسے اعلیٰ کاغذ اور عمدہ ٹائپ سے طبع کرایا اور عالم اسلام خصوصاً افریقی ممالک میں اسے تقسیم فرمایا۔
(٣) ملت اسلامیہ کا موقف (انگریزی)
اس کتاب کے انگریزی ترجمہ کے لئے حضرت نے کتاب کے مصنف جناب مولانا محمد تقی عثمانی کو فرمایا۔ بحمد اللہ! موصوف نے اس کا انگریزی ترجمہ بھی کیا۔ جو دارالعلوم لانڈھی سے شائع ہوا۔
(٤) خاتم النبیین
یہ حضرت کے شیخ امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ کی آخری تالیف ہے جو مسئلہ ختم نبوت پر انوری علوم ومعارف کا گنجینہ ہے۔ اس کی زبان فارسی تھی اور ایک مدت سے اس کے اردو ترجمہ کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی تھی۔ اس لئے حضرت نے راقم الحروف (مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ) کو اس کے ترجمہ وتشریح کا حکم فرمایا۔ بحمد اللہ! حضرت کی عنایات وتوجہ سے بہت مختصر سے عرصہ میں اس کے ترجمہ وتشریح اور تبویب وتخریج کا کام ہوا۔ پہلے ماہنامہ ”بینات“ میں بالاقساط شائع ہوچکی تو اسے مستقل شائع کرنے کا حکم فرمایا اور اس پر ایک گرانقدر مقدمہ بھی تحریر فرمایا۔ افسوس ہے کہ یہ کتاب حضرت کے وصال کے تین دن بعد پریس سے آئی۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
حضرت کے حکم سے رد قادیانیت پر ایسی کئی قدیم اور نایاب کتابیں بھی شائع کی گئیں جن کے لوگ بہت ہی متلاشی تھے۔ مثلاً:
- ١...... ”رئیس قادیان“ مؤلفہ مولانا ابوالقاسم دلاوری، مرزا غلام احمد قادیانی کے پوست
کندہ حالات اور اس دور کی تاریخ پر اس سے بہتر کوئی کتاب نہیں۔
- ٢...... ”مغلظات مرزا“ مؤلفہ مولانا نور محمد خان سابق مبلغ مظاہر علوم سہارن پور۔ جس
میں مرزا قادیانی کی دشنام طرازی اور فحش گوئی کو باحوالہ ردیف وار جمع کیا گیا ہے۔ حضرت فرماتے تھے کہ ایک سنجیدہ آدمی کے لئے بس یہی ایک رسالہ کافی ہے۔
- ٣...... ”ھدیۃ المھدیین“ مؤلفہ مولانا محمد شفیع ؒ مفتی اعظم پاکستان۔ یہ
رسالہ جو حضرت مفتی صاحب ؒ نے اپنے شیخ انور ؒ کے ایماء واعانت سے مرتب فرمایا تھا حضرت مفتی صاحب ؒ کے ایصال ثواب کے لئے شائع کیا گیا اور حضرت نے ایک تحریک کی شکل میں اس کی اشاعت کا حکم فرمایا۔ (تفصیلات مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان سے معلوم کی جاسکتی ہیں)
- ٤...... ”قادیانیوں سے ستر (٧٠) سوالات“ مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوری۔
- ٥...... ”اشد العذاب علی مسیلمۃ البنجاب“ مولانا سید
مرتضیٰ حسن چاند پوری۔
- ٦...... ”مجموعہ رسائل“ مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوری۔
حضرت چاند پوری ؒ دور ثانی کے اکابر دیوبند میں سے تھے۔ میدان مناظرہ میں قادیانیوں نے ان کے ہاتھوں بارہا عبرتناک شکست کھائی۔ تحریر کے میدان میں قدم رکھا تو ایسے کفر شکن رسائل لکھے کہ قادیانی آج تک ان کے جواب نہیں دے سکے۔ جماعت نے ان کے تمام رسائل کو دوبارہ شائع کیا۔ ان کے علاوہ چند نئے رسائل بھی مرتب کر کے شائع کئے گئے۔ مثلاً: ”قادیانیوں کو دعوت اسلام...... ربوہ سے تل ابیب تک...... مراقی نبی...... مرزائی اور تعمیر مسجد؟...... مرزا کا اقرار...... قادیانیت علامہ اقبال کی نظر میں“ وغیرہ وغیرہ!
یہ حضرت بنوری ؒ کے دور امارت کا مختصر سا خاکہ ہے۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ حضرت بنوری ؒ کی برکت سے رد قادیانیت پر کتنا کام ہوا۔ واقعہ یہ ہے کہ حضرت بنوری ؒ کی قیادت میں جماعت کا ہر شعبہ قلت وسائل کے باوجود بہت ہی فعال ہو گیا تھا اور کام کی نئی نئی صورتیں سامنے آنے لگی تھیں۔ لیکن صد حیف کہ ؎
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
حضرت بنوریؒ کے بعد آپ کے نائب عارف باللہ حضرت مولانا خان محمدؒ سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ مجددیہ (کندیاں) کو ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کا قائد و امیر منتخب کیا گیا۔ حق تعالیٰ موصوف کے انفاسِ طیبات میں برکت فرمائے۔ والحمدلله اولا وآخرا!
مشرقی افریقہ کا سفر
ہمارے حضرت شیخ بنوریؒ نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے کے فوراً بعد افریقہ کا سفر کیا۔ اس وقت (٢٠١٥ء) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر محترم حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر آپ کے رفیق تھے۔ آپ نے سفر کی روئیداد لکھی جو یہ ہے:
”پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے بعد حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ کی یہ خواہش تھی کہ علمائے کرام کا ایک وفد ان افریقی ممالک کا دورہ کرے جہاں قادیانی مراکز قائم ہیں اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ وہاں کے مسلمانوں کو اس فتنے کی حقیقت سے آگاہ کیا جائے اور وہ ان کے فریب میں نہ آئیں۔ اس سلسلہ میں پہلا ٹھوس قدم آپ نے یہ اٹھایا کہ وہ دستاویزات جو قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لئے قومی اسمبلی میں پیش کی گئی تھیں وہ اردو زبان میں تھیں۔ اس کا عربی ترجمہ کرنے کے لئے اس خادم کو حکم فرمایا۔ الحمدللہ! کہ ترجمہ مکمل ہو گیا اور حضرت شیخ کی خواہش پر بہت جلد اس کی طباعت بھی مکمل ہو گئی۔ مقصد یہ تھا کہ اس سفر میں جہاں بھی جانا ہو گا وہاں کے اہل علم حضرات کو یہ کتاب ”موقف الامة الاسلامية من القاديانية“ پیش کی جائے تاکہ ان کے پاس اس کے بارے میں ایک مستند دستاویز رہے جس سے وہ صحیح معلومات حاصل کر سکیں۔
چنانچہ یہ طے پایا کہ یہ سفر شوال المکرم ١٣٩٥ھ مطابق اکتوبر ١٩٧٥ء میں حرمین شریفین سے شروع کیا جائے۔ حضرت شیخؒ رمضان المبارک میں حسب معمول عمرہ کے لئے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے اور عمرہ سے فارغ ہو کر مدینہ منورہ پہنچے اور مسجد نبوی میں اعتکاف فرمایا۔ اسی دوران آئندہ شروع ہونے والے سفر کے بارے استخارہ فرمایا۔ فرمانے لگے کہ اس سفر کے لئے چھ، سات استخارے کئے ہیں اور خواہش تھی کہ کوئی خیر کا مانع درپیش ہو جائے اور میں رہ جاؤں اور سفر نہ کروں۔ لیکن اگر قدرت کو میرا جانا ہی منظور ہے تو مجھے کوئی عذر نہیں۔ میں تو ایک دین کا سپاہی ہوں اور سپاہی کا کام حکم بجالانا ہے۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
مدینہ منورہ میں سہ رکنی وفد کی تشکیل عمل میں آئی۔ حضرت شیخؒ، مولانا تقی عثمانی اور خادم (راقم الحروف) مدینہ منورہ سے جدہ پہنچے۔ وہاں بعض ممالک کے ویزے حاصل کئے اور ٧؍ شوال المکرم ١٣٩٥ھ مطابق ١٢؍ اکتوبر ١٩٧٥ء یہ وفد حضرت شیخؒ کی قیادت میں جدہ سے بذریعہ پی آئی اے روانہ ہوا اور صبح ساڑھے چھ بجے کینیا کے دارالحکومت نیروبی پہنچ گئے۔ ایئر پورٹ پر مولانا مطیع الرسول صاحب (مبعوث دارالافتاء ریاض) اور شہر کے دوسرے سر برآوردہ حضرات نے استقبال کیا۔
نیروبی میں چار روز تک قیام رہا۔ اس دوران شہر کی مختلف مساجد میں عشاء کی نماز کے بعد حضرت بنوریؒ کا خطاب ہوتا رہا۔ جہاں اردو جاننے والے مسلمان تھے۔ وہاں اردو میں اور جہاں افریقی مسلمان تھے وہاں عربی میں اور ساتھ ساتھ مقامی سواحلی زبان میں اس کا ترجمہ ہوتا رہا۔ ان خطابات میں جن موضوعات پر بیان ہوا ان میں اہم موضوعات یہ ہیں۔ اللہ اور رسول کی محبت واطاعت، عجائب قدرت، صفات رسالت، اخلاص، محبت، اتحاد، عقیدۂ ختم نبوت اور اس کی حفاظت، قادیانیت اور اس کا پس منظر۔ وغیرہ!
نیروبی میں قادیانیوں کا ایک مرکز ہے۔ کینیا کے بعض دوسرے شہروں میں بھی ان کے مراکز ہیں۔ جہاں سے یہ لوگ افریقی عوام میں کام کرتے ہیں اور مقامی زبانوں میں اپنا لٹریچر تقسیم کرتے ہیں۔ بعض دوستوں نے سنایا کہ قادیانیوں کی طرف سے ایک کتابچہ شائع ہوا اس کے سرورق پر انہوں نے مرزا قادیانی کی تصویر بھی چھاپ دی۔ ایک قادیانی نے جب مرزا قادیانی کی تصویر دیکھی تو متنفر ہو کر کہنے لگا کہ یہ پیغمبر کی شکل نہیں ہو سکتی اور قادیانیت سے توبہ کر کے مسلمان ہو گیا۔
نیروبی میں مسلمان کی بھی مختلف انجمنیں قائم ہیں جو دینی کام کرتی ہیں۔ ان کی نگرانی میں کچھ دینی ابتدائی مدارس اور یتیم خانے قائم ہیں، جن میں افریقی طلبہ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ ان مدارس میں افریقی اساتذہ کے علاوہ پاکستانی مدرسین بھی کام کر رہے ہیں۔ جن کو دارالافتاء ریاض (سعودی عرب) نے بھیجا ہے اور یہ حضرات اچھا کام کر رہے ہیں۔
حضرت شیخؒ نے ان جمعیات کے ذمہ دار حضرات اور مقامی علماء اور دیندار مسلمانوں سے خصوصی ملاقاتیں کیں اور ان کے سامنے اپنے سفر کا مقصد بیان فرمایا اور ان کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ اپنے اہم تبلیغی مقاصد میں عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کو بھی شامل کر لیں اور اس کے لئے ہر ممکن تدبیر اختیار کریں جس پر سب نے لبیک کہا اور جو حضرات پہلے سے
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
اس کام میں دلچسپی رکھتے تھے ان کی ہمت افزائی ہوئی۔ علماء کو کتاب ”موقف الامة الاسلامية من القاديانية“ پیش کی گئی۔ نیز مقامی علمائے کرام کو اس بات پر آمادہ کیا گیا کہ ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کے نام سے تنظیم قائم کر کے باقاعدہ کام شروع کریں۔ چنانچہ وہ حضرات اس بات پر آمادہ ہو گئے۔ البتہ انہوں نے اتنی مہلت طلب کی کہ وہ سوچ سمجھ کر اس کے لئے مناسب افراد کا انتخاب کر لیں اور جب واپسی پر ہمارا نیروبی سے گزر ہو گا وہ اپنے آخری فیصلے سے ہم کو آگاہ کر دیں گے۔ نیروبی میں آئندہ سفر کا پروگرام یہ طے پایا کہ کینیا کے علاوہ تنزانیہ، زیمبیا اور یوگنڈا میں بھی ہمارے وفد کو جانا چاہئے۔ ان ممالک میں بھی کام کی سخت ضرورت ہے۔ نیز یہ سفر ہوائی جہاز سے ہو۔ کیونکہ مسافت کافی لمبی ہے اور حضرت مولاناؒ کی صحت اس قابل نہیں کہ خشکی کا سفر برداشت کر سکیں۔
١٦؍ اکتوبر کو کینیا کے دوسرے شہر ”ممباسا“ کے لئے روانگی ہوئی اور ١٥؍ اکتوبر کو ہمارے رفیق سفر مولانا تقی عثمانی صاحب کا کراچی سے فون آگیا کہ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب کو ہسپتال میں داخل کر دیا گیا ہے۔ اس لئے آپ جلد از جلد پہلی فلائٹ سے کراچی پہنچ جائیں۔ چنانچہ وہ ١٦؍ اکتوبر کو کراچی روانہ ہوئے اور حضرت شیخؒ اور خادم ”ممباسا“ روانہ ہو گئے۔ ممباسا ایئر پورٹ پر مولانا ابراہیم صاحب مبعوث دارالافتاء ریاض اور شہر کے دوسرے حضرات گاڑیاں لے کر استقبال کے لئے پہنچ چکے تھے۔
ممباسا میں بھی قادیانی مرکز قائم ہے اور مسلمانوں کی انجمنیں بھی قائم ہیں۔ مسجدیں بکثرت موجود ہیں۔ یہاں بھی حضرت مولاناؒ کا بیان مختلف مساجد میں ہوا اور اردو اور عربی دونوں زبانوں میں۔ یہاں بھی مختلف علماء کرام سے ملاقاتیں ہوئیں اور انہیں عقیدۂ ختم نبوت کی حفاظت کے لئے کام کرنے پر آمادہ کیا گیا اور مذکورہ کتاب کے نسخے پیش کئے گئے۔ یہاں کے قاضی القضاۃ شیخ عبداللہ صالح ممباسا کے قاضی شیخ الحسن العمری اور ممباسا کے مشہور خطیب شیخ سعید احمد سے خصوصی ملاقاتیں ہوئیں اور ان کے ذریعہ مجلس تحفظ ختم نبوت کی بنیاد ڈال دی گئی۔ الحمدللہ! کہ یہ سفر کافی کامیاب رہا۔
١٨؍ اکتوبر کو ممباسا سے تنزانیہ کے دارالحکومت دارالسلام پہنچے۔ ایئر پورٹ پر مولانا قاسم کاظم (مبعوث دارالافتاء ریاض، سعودی عرب) اور مقامی مسلمانوں کی ایک جماعت موجود تھی۔ دارالسلام اور تنزانیہ کے بعض دوسرے شہروں میں قادیانی مراکز قائم ہیں۔ یہاں مسلمانوں کی صرف ایک تنظیم قائم ہے جس کے عہدہ دار یہاں کی حکومت منتخب کرتی ہے۔ اس کے علاوہ کسی
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
اور انجمن وغیرہ بنانے کی کسی کو اجازت نہیں ہے۔ اس لئے اس تنظیم کے عہدہ داروں کے علاوہ مقامی علماء اور دیندار مسلمانوں سے ملاقاتیں ہوئیں اور ان کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ انفرادی طور پر اس فتنہ کے خلاف کام کریں اور مسلمانوں کے عقیدۂ ختم نبوت کی حفاظت کریں۔ یہاں کی مساجد میں بھی حضرت شیخ ؒ کا خطاب ہوا۔ جس کا ترجمہ خادم نے پیش کیا۔
دارالسلام میں مصری حکومت کی طرف سے ’’المرکز الاسلامی‘‘ کے نام سے ایک ادارہ قائم ہے، جو مسجد، مدرسہ اور دواخانہ پر مشتمل ہے۔ یہاں بھی حضرت شیخ ؒ تشریف لے گئے اور مرکز کے مدیر اور اساتذہ کرام سے ملاقات ہوئی اور عربی زبان میں ان سے تبادلۂ خیالات فرمایا اور ان کو بھی اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ اس فتنہ کے خلاف کام کریں اور مذکورہ کتاب کے نسخے بھی پیش کئے۔ ان حضرات نے اس تجویز کو بخوشی قبول کیا اور نہایت محبت و اخلاص سے رخصت کیا۔
٢٠؍ اکتوبر کو دارالسلام سے زیمبیا کے دارالحکومت ’’لوساکا‘‘ کے لئے روانہ ہوئے۔ دو گھنٹہ کی پرواز کے بعد لوساکا پہنچے۔ ایئر پورٹ پر مولانا عبداللہ منصور، بھائی یوسف اور دوسرے مقامی حضرات انتظار میں تھے۔ یہاں بھی شہر میں ایک قادیانی مرکز ہے۔ لیکن الحمد للہ ! کہ یہاں کے مسلمان اس فتنہ سے باخبر ہیں اور وقتاً فوقتاً مسلمانوں کو اس کے خلاف توجہ دلاتے رہتے ہیں۔
لوساکا میں ایک بڑی جامع مسجد ہے اور دو چھوٹی مسجدیں ہیں۔ مسجدیں نہایت صاف ستھری، قالین بچھے ہوئے، طہارت کا بہت اچھا انتظام ہے۔ ٹھنڈا، گرم پانی موجود رہتا ہے اور تولیے لٹکے ہوئے ہیں۔ ہر مسجد کے ساتھ مدرسہ قائم ہے جس میں مسلمان بچوں اور بچیوں کو قرآن کریم اور دینی ابتدائی تعلیم دی جاتی ہے۔ یہ بچے صبح سکول جاتے ہیں اور شام کو ان مدارس میں پڑھتے ہیں۔ ان مدارس میں تعلیم دلانے کے لئے مدرسین اور قاری حضرات ہندوستان سے بلائے گئے ہیں جو اچھا کام کر رہے ہیں۔ مسجدیں پانچوں وقت آباد رہتی ہیں اور مسلمان دور دور سے موٹروں میں نماز ادا کرنے وہاں آتے۔ یہاں کے مسلمانوں کا تعلق زیادہ تر ضلع گجرات اور سورت سے ہے جن کے آباء و اجداد کافی عرصہ پہلے یہاں آ کر آباد ہوگئے تھے اور ان حضرات کا زیادہ تر پیشہ تجارت ہے۔
حضرت شیخ ؒ مسجدوں کی آبادی اور دینی مدارس سے بہت خوش ہوئے اور آپ جہاں بھی دینی کام ہوتا دیکھتے آپ کو روحانی مسرت ہوتی تھی۔ نیز مسجد اور مدرسہ کا نظام ان مسلمانوں کے لئے ایک اچھا نمونہ ہے۔ جو غیر مسلم ممالک میں آباد ہیں اور اپنی نئی نسل کو جدید تعلیم
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
کے ساتھ ساتھ اسلام سے روشناس کرانے اور اسلام پر قائم رکھنے کے خواہشمند ہیں۔ لوساکا میں بھی الحمد للہ ! صبح وشام علمائے کرام اور عام مسلمانوں سے ملاقاتیں اور حضرت شیخ مدظلہ کا خطاب ہوتا رہا جس میں زیادہ تمسک بالدین اور دین کے لئے کام کرنے پر دیا گیا۔ نیز اللہ اور رسول ﷺ کی محبت، ان کی صفات، عجائب قدرت، ختم نبوت اور اسلام کے بنیادی اصولوں پر بیان ہوتا رہا۔ لوساکا میں مولانا عبداللہ منصور کی امارت میں ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کی بنیاد ڈال دی گئی جس کا مرکز لوساکا میں ہوگا اور وہ ملک کے دوسرے شہروں میں بھی اپنی شاخیں قائم کرے گی۔
لوساکا میں مسلمانوں کا سب سے بڑا اجتماع جمعہ کے روز وہاں کی بڑی جامع مسجد میں ہوتا ہے جس میں مقامی مسلمانوں کے علاوہ اسلامی ممالک کے سفارتی نمائندے بھی نماز جمعہ ادا کرتے ہیں۔ یہاں دو جمعے پڑھنے کا موقع ملا۔ حضرت شیخ مدظلہ نے خطبہ جمعہ سے پہلے اردو میں خطاب فرمایا۔ جس میں اسلام کی عظمت، عقیدۂ ختم نبوت، فتنہ قادیانیت اور اس کا پس منظر اور اس کی تاریخ بیان فرمائی اور یہاں کے مسلمانوں کے لئے لائحہ عمل پیش فرمایا۔ اسی مضمون کو خادم نے خطبہ جمعہ میں عربی میں پیش کیا جس میں عربی جاننے والے حضرات مستفید ہوئے اور حضرت نے دعائیں دیں۔
لوساکا کے علاوہ زمبیا کے چند دوسرے شہروں میں بھی جانا ہوا جن میں انڈولا، کفولے اور چپاتا قابل ذکر ہیں۔ چپاتا جو لوساکا سے ٣٨٠ میل دور ہے اور موزمبیق کی مغربی سرحد کے قریب واقع ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے وہ خالص مسلمانوں کا شہر ہو۔ تجارت عموماً مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے۔ شہر کے وسط میں خوبصورت جامع مسجد ہے جس میں پانچ اوقات بکثرت نمازی آتے ہیں۔ ان کے چہروں پر عبادت اور صلاح کے آثار نمایاں ہیں۔ بوڑھوں میں سو فیصد اور جوانوں میں ننانوے فیصد داڑھی والے ہیں۔ ان میں ایسے افراد بھی دیکھے جو کہ ”ورجل قلبہ معلق بالمساجد“ کے مصداق ہیں۔
مسجد کے متصل ایک دینی مدرسہ ہے جس میں مسلمان بچے اور بچیاں سکول کے اوقات کے علاوہ قرآن کریم اور دینیات کی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ حضرت شیخ مدظلہ ان حضرات کی یہ حالت دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور روحانی مسرت کا اظہار فرمایا۔ جامع مسجد میں خطاب عام کے علاوہ قرآن کریم کا درس بھی دیتے رہے جس میں وہی بنیادی موضوعات پر بیان ہوا۔ جن کا ذکر پہلے آچکا ہے۔ نیز وہاں کے مسلمانوں کو نصیحت فرمائی کہ وہ مقامی باشندوں سے ایسا سلوک اختیار
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
کریں جو ایک مسلمان کے شایان شان ہوتا ہے۔ یہاں کے حضرت نے دریافت کرنے پر بتلایا کہ یہ جو آپ دینی فضا دیکھ رہے ہیں یہ سب تبلیغی جماعت کی محنت و برکات کا اثر ہے۔
الحمد للہ! کہ زیمبیا کا سفر نہایت کامیاب رہا۔ لوساکا میں قیام کے دوران وہاں کے نوجوان حضرت شیخ ؒ پر فریفتہ ہو گئے اور آپ کی ہر مجلس اور ہر خطاب میں حاضر ہوتے۔ جہاں ہمارا قیام تھا بعض تو وہاں رات کو ہی آ جاتے اور حضرت شیخ ؒ کے ساتھ تہجد کی نماز میں شریک ہوتے اور جس روز آپ وہاں سے روانہ ہورہے تھے ان سب نے لوساکا ایئر پورٹ پر آپ کو حزن و بکاء کے ساتھ رخصت کیا۔ ان ہی نوجوانوں میں ایک صاحب ابراہیم لمبات حضرت شیخ ؒ کی وفات سے چند روز پہلے کراچی آئے اور ملاقات کی۔ آپ نے بہت شفقت فرمائی۔ جب وہ رخصت ہونے لگے تو میں انہیں رخصت کرنے بڑے دروازے تک گیا۔ راستہ میں مجھے نہایت الحاح کے ساتھ کہتے ہیں کہ برائے کرم حضرت کو اس بات پر آمادہ کریں کہ ہمارے ہاں دوبارہ تشریف لائیں اور ہم وعدہ کرتے ہیں کہ آپ کو وعظ کرنے کی بھی تکلیف نہیں دیں گے۔
٢٥؍ شوال المکرم ١٣٩٥ھ مطابق ٢؍ نومبر ١٩٧٥ء لوساکا سے نیروبی کے لئے روانہ ہوئے۔ تقریباً دو گھنٹے کی پرواز کے بعد نیروبی پہنچے۔ ایئر پورٹ پر آسانی سے ویزا مل گیا۔ کسٹم میں ایک مسلمان آفیسر نے ہمیں دیکھا اور فوراً ہمارے پاس آ گیا اور ہمیں فارغ کر دیا۔ اگر چہ ہمارے پاس سوائے استعمال کے کپڑوں اور کتابوں کے کچھ نہ تھا۔ لیکن کسٹم کا عملہ صندوق کھول کر وقت بہت ضائع کرتا ہے۔ ہماری انتظار میں ایک صاحب گاڑی لاکر باہر کھڑے انتظار کر رہے تھے۔ ان کے ساتھ سیدھے ان کے گھر پہنچے۔
نیروبی میں واپسی پر پھر چند روز ٹھہرنا پڑا۔ کیونکہ اب ہمارا پروگرام یوگنڈا جانے کا تھا اور نیروبی میں یوگنڈا کا ویزا لینے میں دیر لگتی ہے۔ کیونکہ یہاں یوگنڈا کا سفارت خانہ نہیں ہے۔ اس لئے ویزا حاصل کرنے والے نیروبی کے پاسپورٹ آفس کو درخواست دیتے ہیں۔ یہ آفس ان کاغذات کو کمپالا بھیجتا ہے۔ وہاں یوگنڈا حکومت کی طرف سے جواب آنے پر ویزا ملتا ہے اور اس کارروائی میں کافی وقت لگ جاتا ہے۔ اس لئے ہم نے نیروبی سے اپنے ایک دوست مولانا عبدالخالق طارق کو فون کیا جو یوگنڈا کے شہر جنجا میں رہتے ہیں اور سعودی حکومت کی طرف سے وہاں کے ”المعهد الاسلامی“ کے مدیر ہیں اور تعلیمی فرائض بھی انجام دیتے ہیں۔ ان کو کہا کہ وہ ہمارے لئے ویزا حاصل کر کے ہمیں اطلاع دیں اور ایئر پورٹ پر آجائیں۔ چنانچہ وہ جنجا سے کمپالا آئے اور یوگنڈا کے مفتی شیخ یوسف سلیمان کے ذریعہ ویزا لیا اور ہمیں فون سے
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
اطلاع دی کہ ویزا مل گیا ہے۔ آپ جب چاہیں آسکتے ہیں۔
نیروبی میں اس بار بھی قیام کے دوران علماء اور دوسرے حضرات سے ملاقاتیں ہوئیں۔ ایک روز صومالیوں کی جامع مسجد میں حضرت شیخ مدظلہ کا عربی میں بیان ہوا۔ جس میں آپ نے اسلام اور اخوت اسلامیہ پر بیان فرمایا اور ساتھ ہی صومالی زبان میں ترجمہ ہوتا رہا۔ صومالی حضرات کی عادت ہے کہ عموماً مغرب اور عشاء کے درمیان کا وقت مسجد میں گزارتے ہیں اور اس میں درس وغیرہ کا سلسلہ رہتا ہے۔ حضرت کے بیان کے بعد دوستوں نے مجھ سے تقاضا کیا کہ میں فتنہ قادیانیت پر کچھ روشنی ڈالوں۔ چنانچہ عشاء کی آذان تک بیان ہوا اور صومالی زبان میں ترجمہ ہوتا رہا۔
نیروبی میں قیام کے دوران حضرت شیخ مدظلہ نے ایک خط لکھا تھا جس کا متن حسب ذیل ہے:
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نیروبی (کینیا)
برادر محترم و رفیق مکرم مولانا بھانجی صاحب
وفقكم الله للخير تحية وسلاماً واشواقاً
حاجی آدم سادات کے ذریعہ مرسلہ مکتوب موصول ہوا۔ حالات معلوم ہوئے۔ برادرم مولانا عبدالرزاق صاحب نے ایک مفصل مکتوب زیمبیا، لوساکا سے لکھا تھا وہ ملا ہوگا۔ جدہ سے روانگی کے وقت کچھ معلوم نہ تھا کہ کہاں کہاں جانا ہوگا اور کس طرح کام کرنا ہوگا۔ اس لئے روانگی ایسے وقت ہوئی کہ نہ پورے ویزے لے سکے نہ باقاعدہ کسی کو مطلع کیا جاسکا۔ نیروبی پہنچ کر کچھ نقشہ کام کا سمجھ میں آگیا کہ مؤثر اور صحیح صورت یہ ہے کہ ہر مرکزی مقام پر مقامی باشندوں کی ایک جماعت ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کے نام سے تشکیل دی جائے جو بسلسلہ قادیانیت مؤثر کام کرسکے اور تقریروں میں اسلام اور ختم نبوت کی اہمیت و حقیقت واضح کی جائے۔ چنانچہ اس انداز سے کام شروع کیا اور نشان منزل نظر آنے لگا۔ چونکہ جدہ سے ویزے نہیں لے سکے تھے۔ اس لئے تعویقات پیش آئیں اور تاخیر ہوتی گئی۔
بحمد اللہ ! جس رفاقت کی ضرورت تھی وہ میسر آئی ..... حسن اتفاق سے افریقی ممالک میں ”جامعہ مدینہ“ کے مبعوثین بھی ملے، جن میں نام تو میرا بھی متعارف تھا۔ مگر مولانا
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
عبدالرزاق صاحب سے ان کا ذاتی تعارف و تعلق نکل آیا جس کی وجہ سے بہت آسانیاں ہوگئیں۔ زیمبیا سے واپسی پر یوگنڈا کا ویزا نہ ہونے کی وجہ سے تین، چار دن یہاں تاخیر ہوگئی۔ شاید کل روانگی ہوسکے گی۔ صحت تو میری اچھی ہے۔ بلکہ کراچی سے بہتر ہے۔ لیکن سفر کی ہمت نہیں تھی۔ اس لئے سفر کے اختصار کے متعلق سوچ رہا تھا۔ لیکن معلوم ہوا کہ نائیجیریا میں قادیانیوں کے بہت سے سکول، ہسپتال اور ادارے ہیں۔ نیز حکومت میں بھی ان کے لوگوں کو عہدے اور مناصب حاصل ہیں۔ وہاں جانے کی شدید ضرورت ہے۔ اس لئے مغربی افریقہ کا ارادہ کرنا پڑا اور پھر ساتھ ہی مغربی افریقہ کے بقیہ ممالک کا جوڑ بھی لگانا ہوگا۔ اس لئے سفر طویل ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ آسان فرمائیں۔ آمین! اگر حج کے ایام قریب آگئے تو ہوسکتا ہے کہ حج کے بعد واپسی ہو۔ والسلام!
محمد یوسف بنوری چہارشنبہ، یکم ذیقعدہ ١٣٩٥ھ، ٥؍نومبر ١٩٧٥ء
٢؍ ذیقعدہ ١٣٩٥ھ مطابق ٦؍ نومبر ١٩٧٥ء صبح آٹھ بجے نیروبی سے روانہ ہوکر نو بجے یوگنڈا کے ایئرپورٹ ”انٹے بے“ پہنچے۔ ایئرپورٹ پر مولانا عبدالخالق طارق اپنے دوسرے دوستوں کے ساتھ انتظار میں تھے اور ویزا کی منظوری کا فارم ساتھ لائے تھے۔ الحمد للہ! کہ آسانی سے ویزا مل گیا اور کسٹم سے فارغ ہوگئے۔ ایئرپورٹ کمپالا سے ٢٥؍ میل دور ہے۔ یہاں سے روانہ ہوکر کمپالا پہنچے۔ کمپالا میں یوگنڈا کے مفتی شیخ یوسف سلیمان صاحب کے اصرار پر حضرت مولانا ؒ نے ان کی مہمانی قبول فرمالی اور انہوں نے کمپالا کے بڑے ہوٹل کمپالا انٹرنیشنل میں ہمارے قیام کا انتظام کیا۔ مفتی شیخ یوسف سلیمان صاحب یوگنڈا کے مفتی اور وہاں کی ”مسلم سپریم کونسل“ کے جنرل سیکرٹری بھی ہیں۔ کونسل کا مرکزی آفس کمپالا میں ہے۔ ان کے دفتر میں ان سے ملاقات ہوئی۔ حضرت مولانا نے ان کو اور ان کی حکومت کو اپنی اور پاکستان کے مسلمانوں کی طرف سے مبارک باد پیش کی کہ انہوں نے اپنے ملک میں قادیانی جماعت کو خلاف قانون قرار دے کر ان کی تبلیغ پر پابندی لگادی ہے۔ بعض دوستوں نے بیان کیا کہ اس موقع پر جب قادیانیوں کو یوگنڈا میں غیر مسلم قرار دیا گیا۔ ملک کے صدر جناب عیدی امین صاحب نے کہا کہ ہمارا دین وہ ہے جس کا مرکز مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ ہے۔ ہمیں وہ دین نہیں چاہئے جس کا مرکز اسرائیل اور لندن ہے۔
جمعہ کے روز مسلم سپریم کونسل کی جامع مسجد میں مسلمانوں کا بہت بڑا اجتماع تھا اور اس سال یوگنڈا سے جانے والے حجاج کرام سارے یہاں جمع تھے جو سفر کی تیاری کے سلسلہ میں
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
سارے ملک سے آئے ہوئے تھے۔ مفتی صاحب نے حضرت مولانا سے خطبہ جمعہ اور نماز جمعہ پڑھانے کی درخواست کی۔ حضرت مولانا چونکہ گھٹنوں کے درد کی وجہ سے منبر پر کھڑے ہونے سے معذور تھے۔ اس لئے طے پایا کہ آپ نماز جمعہ سے پہلے بیٹھ کر حجاج کرام کو نصیحت فرمائیں اور اس کے بعد خادم خطبہ جمعہ اور نماز پڑھائے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور یہ سارا پروگرام کمپالا ریڈیو سے نشر ہوتا رہا۔
کمپالا میں سعودیہ عربیہ کے سفیر جناب عبداللہ الحبابی سے بھی ملاقات ہوئی۔ وہ پاکستان میں رہ چکے ہیں اور مولانا کو اچھی طرح سے جانتے تھے۔ اپنے گھر پر، جو ایک پہاڑی پر واقع ہے اور وہاں سے کمپالا شہر کا منظر سامنے نظر آتا ہے۔ حضرت مولاناؒ کے اعزاز میں پر تکلف دعوت دی جس میں یوگنڈا کے مفتی صاحب کے علاوہ دوسری شخصیات کو بھی مدعو کیا۔ دینی موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ سفیر موصوف نہایت بااخلاق اور ظریف الطبع شخصیت کے مالک ہیں۔ سفیر صاحب نے حج کے ویزے کے علاوہ سعودی حکومت کے نام حضرت مولانا اور خادم کے لئے خصوصی مکتوب بھی دے دیا۔
کمپالا میں ایک یونیورسٹی ہے جو ”مکریرے یونیورسٹی“ کے نام سے مشہور ہے اور افریقہ کی قدیم ترین یونیورسٹی شمار ہوتی ہے۔ اس یونیورسٹی میں پاکستان کے بھی ڈاکٹر حضرات، پروفیسر اور لیکچرار ہیں جو مختلف شعبوں میں تعلیم دے رہے ہیں۔ بعض حضرات مولانا سے ملنے ہوٹل تشریف لائے۔ ان کے دینی مزاج کو دیکھ کر حضرت بہت خوش ہوئے اور دعائیں دیں۔ خصوصاً ڈاکٹر عبدالقدوس صاحب اور ڈاکٹر محمد افضل چوہدری۔ کمپالا سے یوگنڈا کے دوسرے شہر ”جنجا“ بھی جانا ہوا۔ یہ شہر کمپالا سے مشرق میں پچاس میل کے فاصلہ پر وکٹوریہ جھیل کے کنارے واقع ہے اور اسی مقام سے دریائے نیل کی ابتداء ہوتی ہے اور دریائے نیل پر یہاں ایک بند باندھا ہوا ہے جس سے بجلی پیدا ہوتی ہے اور پورے ملک کو سپلائی ہوتی ہے۔ کمپالا سے جنجا تک پچاس میل کا فاصلہ سر سبز درختوں، چائے اور گنے کے کھیتوں سے آراستہ ہے۔ بارش کی کثرت سے درختوں کے پتوں کی سبزی غایت طراوت کی بناء پر سیاہ معلوم ہوتی ہے۔ اس منظر کو دیکھتے ہی حضرت مولاناؒ نے فرمایا کہ: ”مدهامّتان“ کے یہی معنی ہیں۔ ”ای سودا وان من الري“
آپ کو قدرتی مناظر بہت پسند تھے۔ لیکن ذہن فوراً عجائب قدرت کی طرف منتقل ہو جاتا اور زبان پر حمد و ثناء کے الفاظ جاری ہو جاتے تھے۔ نیز سفر و حضر میں موقع و محل کے اعتبار سے
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
علمی نکتوں سے مستفید فرماتے رہتے تھے۔ جنجا میں مولانا عبد الخالق طارق کے علاوہ مولانا خالد نعمانی، مولانا عبد السلام بھی موجود تھے جو سعودی حکومت کی جانب سے ”المعہد الاسلامی“ میں تدریس وغیرہ کے فرائض انجام دیتے ہیں۔ ان کے علاوہ اور بھی چند پاکستانی حضرات جو مختلف شعبوں میں کام کرتے ہیں اور دینی مزاج کے حامل ہیں عصر کے بعد جمع ہو جاتے اور حضرت مولاناؒ ان کو وعظ و نصیحت فرماتے اور ان کے سامنے ایک نہایت عمدہ پروگرام پیش فرمایا تاکہ وہ اپنے کام کے ساتھ دین کا کام بھی مؤثر طریقے سے سرانجام دے سکیں۔
جنجا میں محترم آفاق احمد صاحب زیدی کے ہاں قیام تھا۔ آفاق احمد صاحب پاکستانی ہیں اور یوگنڈا حکومت کے ملازم ہیں اور اچھے مسلمان ہیں۔ گورنمنٹ نے ان کو خدمت کے لئے دو نوجوان خدم دیئے ہوئے ہیں۔ دونوں عیسائی تھے۔ لیکن دونوں موصوف کے اسلامی اخلاق اور حسن سلوک سے متاثر ہو کر مشرف باسلام ہو گئے۔ چنانچہ جب نماز کا وقت ہو جاتا ہے ان میں سے ایک آذان کہتا ہے اور پھر تینوں باجماعت نماز ادا کرتے ہیں۔ اس منظر کو دیکھ کر مولانا بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ ایک اچھے مسلمان کا وجود ہر جگہ باعث رحمت ہے۔ جنجا کے بعد مشرق کی جانب ٧٠ میل دور ایک شہر ”بوسیہ“ بھی جانا ہوا۔ وہاں اس علاقے کے مسلمانوں کا سیرت کے عنوان سے بہت بڑا اجتماع تھا۔ اس اجتماع میں یوگنڈا کے مفتی اور دوسرے علماء بھی شریک ہوئے۔ حضرت مولانا نے بھی اس اجتماع سے عربی میں خطاب فرمایا۔ جس کا ترجمہ مقامی زبان میں ساتھ ساتھ ہوتا رہا۔ اس خطاب میں آپ نے ان کو نصیحت فرمائی کہ وہ اپنی زندگی میں اسلامی طریقوں کو اپنائیں اور سنت کے مطابق عمل کریں اور غیر شرعی رسم و رواج اور بدعات سے بچیں اور اخوت اسلامی کے دائرے میں رہ کر زندگی گزاریں اور اختلافات اور قبائلی تعصبات سے دور رہیں۔ اس اجتماع کے بعد اسی روز شام کو واپس جنجا آگئے۔ یہاں جنجا میں نماز جمعہ کے بعد جامع مسجد میں آپ کا بیان ہوا جس کا موضوع ایمان و عمل صالح تھا اور ساتھ دو زبانوں میں اس کا ترجمہ ہوتا رہا۔ کیونکہ یہاں سواحلی زبان کے علاوہ مقامی زبان بھی بولی جاتی ہے۔
مقام عبرت
ایک روز جنجا والے دوست حضرت مولاناؒ کو جنجا شہر سے باہر چند میل کے فاصلہ پر ایک سیر گاہ میں لے گئے۔ یہاں پر چند اونچے اونچے ٹیلے ہیں جن پر شاہانہ ٹھاٹھ کے تین محل تعمیر ہیں اور تھوڑے تھوڑے فاصلہ پر واقع ہیں۔ ان محلات کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے مغلیہ دور
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
کے کسی بادشاہ نے اپنے ذوق وشوق کو پورا کیا ہو۔ خوبصورتی کے علاوہ ہر قسم کی راحت اور تفریح کا سامان بھی موجود ہے۔ محلات کے چاروں طرف میلوں تک پھل دار درخت، گنے اور چائے کے کھیت پھیلے ہوئے ہیں۔ سامنے ایک اونچی پہاڑی ہے جو پھل دار اور سائے دار درختوں سے سجائی گئی ہے اور جس کی چوٹی تک سڑک جاتی ہے اور اوپر سے ”جنجا شہر“ وکٹوریہ جھیل اور ہرے بھرے کھیت میلوں تک نظر آتے ہیں۔ گویا دیکھنے والا مری کے کشمیر پوائنٹ، یا راولپنڈی پوائنٹ پر کھڑا ہے۔ فرق صرف بلندی کا ہے۔
مقام عبرت یہ ہے کہ یہ سب نقشہ ایک ”ہندو“ کا بنایا ہوا ہے جو مدوانی کے نام سے مشہور ہے اور جس کو زیادہ دیر ان محلات میں رہنا نصیب نہیں ہوا کہ اس کی اجل آگئی اور اسی زمین کے ایک حصہ میں جلا کر خاکستر کر دیا گیا اور آخرت کی آگ سے پہلے دنیا کی آگ نے اس کو نیست ونابود کر دیا۔ ”خسر الدنيا والآخرة ذلك هو الخسران المبين“
اس کے بعد اس کے بیٹے آئے لیکن ان کو بھی ان محلات میں زیادہ دیر ٹھہرنے کا موقع نہ مل سکا اور صدر عیدی امین صاحب کی حکومت نے یورپین باشندوں کے ساتھ ان کو بھی ملک بدر کر دیا اور آج یہ سب محلات خالی اور بند پڑے ہیں جن میں پرندوں اور چند چوکیداروں کے سوا کوئی نظر نہیں آتا۔ حضرت مولانا رحمہ اللہ یہ سب منظر آنکھوں سے دیکھ رہے تھے اور یہ آیت پاک پڑھ رہے تھے۔ ”كم تركوا من جنات وعيون وزروع ومقام كريم ونعمت كانوا فيها فاكهين“ نہایت ہی عبرت آموز منظر ہے۔ لیکن کتنے لوگ ہیں کہ تماشائی بن کر گزر جاتے ہیں اور سبق حاصل نہیں کرتے۔ یوگنڈا کے بعد ہمارا پروگرام مغربی افریقہ کے چند ممالک میں جانے کا تھا جس کا ذکر حضرت مولانا رحمہ اللہ کے مکتوب نیروبی میں کیا گیا ہے اور اس کی ابتداء نائیجیریا سے ہونی تھی۔ لیکن نائیجیریا کا ویزا جلدی نہ ملنے کی بناء پر یہ سفر ملتوی کرنا پڑا۔ کیونکہ ویزے کے لئے چند ہفتے انتظار کرنا پڑتا اور پھر ان ممالک میں کافی وقت کی ضرورت تھی اور موجودہ مدت کافی نہ تھی۔ اس لئے طے پایا کہ یوگنڈا سے قاہرہ ہوتے ہوئے براستہ جدہ کراچی واپس ہوں۔
چنانچہ بروز اتوار ١٢؍ ذیقعدہ ١٣٩٥ھ مطابق ١٦؍ نومبر ١٩٧٥ء رات کے بارہ بجے ”لفت ھنسا“ سے قاہرہ کے لئے سفر طے ہوا۔ عصر کے قریب جنجا سے روانہ ہوئے۔ مولانا عبد الخالق صاحب، محترم زبدی صاحب اور دوسرے حضرات دو گاڑیوں میں الوداع کہنے کے لئے ساتھ روانہ ہوئے اور حضرت مولانا کے روکنے کے باوجود انہوں نے ساتھ چلنے پر اصرار کیا۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگارنگ
مغرب کے وقت کمپالا پہنچے۔ پاکستان کے ایک جج صاحب کے ہاں سامان رکھا اور مغرب کی نماز ادا کی۔ ان کے دینی مزاج سے مولانا کو بہت مسرت ہوئی۔ اس کے بعد سارا قافلہ سعودی سفارت خانہ کے سیکرٹری استاذ محمود کے ہاں پہنچا۔ یہ نہایت دیندار اور با اخلاق شخص ہیں۔ ان کے ہاں عشاء کا کھانا اور نماز عشاء ادا کی اور رات کے ساڑھے نو بجے پورا قافلہ ”انٹے بے“ ایئر پورٹ کی طرف روانہ ہوا۔ ایئر پورٹ پر کسٹم وغیرہ میں سفر کے سارے مراحل سے فارغ ہو کر ان حضرات کو حضرت مولانا نے شکریہ اور دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا۔
رات کے ایک بجے جہاز روانہ ہوا اور ساڑھے چار گھنٹے کی پرواز کے بعد قاہرہ ایئر پورٹ پر پہنچا۔ حضرت مولانا ؒ کے استقبال کے لئے ”المجلس الاعلیٰ للشئون الاسلامیۃ“ کا نمائندہ ایئر پورٹ پر موجود تھا جس نے آپ کا استقبال کیا اور جلدی کسٹم سے فارغ ہو کر شہر پہنچے اور ہوٹل میں قیام کیا جس کا ایک کمرہ پہلے سے مجلس اعلیٰ کی طرف سے ریزرو کرایا ہوا تھا۔
قاہرہ میں چھ روز قیام رہا۔ اس قیام کے دوران جن شخصیات سے ملاقاتیں ہوئیں اور جو کام ہوا اس کی تفصیل یہ ہے۔
شیخ الازہر ڈاکٹر عبدالحلیم محمود سے ان کے دفتر میں طویل ملاقات ہوئی۔ نہایت محبت و اکرام سے مولانا کا استقبال کیا اور اپنی جگہ چھوڑ کر مولانا کے پاس آ کر بیٹھ گئے اور کہنے لگے کہ آپ ہماری مہمانی قبول فرمائیے۔ ہماری طرف سے ایک مرافق اور گاڑی ہر وقت آپ کے ساتھ رہے گی۔ حضرت مولانا ؒ نے شکریہ ادا کیا اور معذرت فرماتے ہوئے فرمایا کہ ہم مجلس اعلیٰ کی دعوت قبول کر چکے ہیں۔ وہ بھی آپ ہی کا ادارہ ہے۔ شیخ الازہر کے سامنے اپنے سفر افریقہ کی مختصر روئداد بیان فرمائی اور ان کو ”موقف الامۃ الاسلامیۃ من القادیانیۃ“ کتاب کا نسخہ پیش کیا۔ شیخ الازہر بہت خوش ہوئے اور فرمانے لگے کہ اگر آپ اجازت دیں تو ہم اس کو چھاپ کر تقسیم کریں۔ مولانا نے فرمایا بڑی خوشی سے۔ اسی مجلس میں مولانا کے قائم کردہ ”مدرسہ عربیہ اسلامیہ“ کراچی کا ذکر بھی آیا تو مولانا نے اس کے اغراض و مقاصد بیان فرماتے ہوئے فرمایا۔
ہمارا مقصد اس علمی ادارے کے قائم کرنے سے ایسے علماء پیدا کرنا ہے جو ایک طرف متبحر عالم ہوں اور دین کے عصری تقاضوں کو سمجھتے ہوں اور دوسری طرف وہ دین کے مخلص داعی ہوں، جن کے سامنے مادی منافع اور دنیاوی مناصب قطعاً نہ ہوں۔ بلکہ ہر حال میں ان کا
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
نصب العین دین کی خدمت ہو۔ شیخ الازہر نے مولانا کے اعزاز میں ایک پر تکلف دعوت دی جس میں جامعہ الازہر کی علمی شخصیات کے علاوہ قاری شیخ محمود خلیل الحصری، مصر میں پاکستان کے سابق سفیر محترم احمد سعید کرمانی، پاکستان میں مصر کے سابق سفیر جناب علی خشبہ، وزارت اوقاف کے نائب وزیر وغیرہ کو بھی مدعو کیا۔ بعض دینی اور علمی موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی جسے سب حاضرین نے دلچسپی سے سنا۔
پاکستان کے سفیر محترم احمد سعید کرمانی سے بھی ملاقات ہوئی۔ نہایت عزت و احترام سے پیش آئے۔ قیام گاہ پر حضرت مولانا کو دعوت دی، خود ہوٹل سے لے گئے اور پھر واپس لائے اور قاہرہ سے روانگی کے وقت خود ائیر پورٹ پر رخصت کرنے تشریف لائے۔ ”المجلس الاعلیٰ للشئون الاسلامیۃ“ کے جنرل سیکرٹری سید محمد توفیق عویضہ صاحب سے بھی ملاقات ہوئی۔ بے حد خوشی کا اظہار کیا اور بار بار یہ جملہ کہہ رہے تھے۔ ”نحن سعداء بوجودکم“ ان کو بھی مولانا قدس سرہ نے کتاب ”موقف الامت الاسلامیۃ من القادیانیۃ“ پیش کی اور فرمایا کہ آپ اس کتاب کو انگریزی اور فرانسیسی زبانوں میں ترجمہ کر کے شائع کریں اور ان بلاد میں تقسیم کریں جہاں یہ زبانیں بولی جاتی ہیں۔ انہوں نے اس کا وعدہ کیا اور خوشی کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ بعض دوسرے موضوعات پر بھی گفتگو ہوئی۔
مولانا اسماعیل عبدالرزاق ساؤتھ افریقہ کے نوجوان عالم ہیں۔ جامعہ الازہر کے ”کلیۃ اللغۃ“ میں انگریزی کے استاذ اور افریقی زبانوں کے شعبہ کے صدر ہیں اور حضرت مولانا قدس سرہ کے شاگرد بھی ہیں۔ صبح و شام اپنی گاڑی لے کر آتے رہے۔ ایک روز تفریح کرانے قاہرہ شہر سے باہر لے گئے۔ مولانا کے اعزاز میں ایک پر تکلف دعوت دی جس میں مقامی شخصیات کے علاوہ قاری عبدالباسط صاحب، پاکستان کے سفیر محترم جناب احمد سعید کرمانی صاحب اور جاپان کے ایک مسلم پروفیسر صاحب کو بھی مدعو کیا۔ ان کے علاوہ اسلامی ممالک کے طلبہ بھی ملاقات کے لئے آتے رہے۔
چونکہ حج قریب تھا اور ہمارا ٹکٹ قاہرہ، جدہ، کراچی کا تھا۔ اس لئے یہ طے پایا کہ حج ادا کرتے ہوئے جائیں اور حج کے دوران اسلامی ممالک سے آنے والے علمائے کرام سے مل کر ان کو کتاب ”موقف الامۃ“ پیش کی جائے اور اس فتنہ کے سدباب کے لئے ان کے سامنے مناسب تدابیر رکھی جائیں۔ چنانچہ بروز اتوار ١٩ ذیقعدہ ١٣٩٥ھ مطابق ٢٢ نومبر ١٩٧٥ء قاہرہ
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
سے جدہ پہنچے۔ وہاں دو روز قیام کے بعد مدینہ منورہ ’علی صاحبہا الف الف صلاۃ وتسلیم“ پہنچے۔ حج سے چند روز پہلے مدینہ منورہ سے حج کا احرام باندھ کر مکہ مکرمہ پہنچے۔ حج کے سفر میں جدہ، مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ میں قدرت نے ایسی سہولتوں اور راحت و آسائش کے اسباب مہیا فرما دیئے گویا مولانا قدس اللہ سرہ العزیز شاہی مہمان ہیں اور ہر جگہ پہنچنے سے پہلے ہی سارے انتظامات مکمل ہو جاتے ہیں۔ یہ تو ایک مستقل موضوع ہے جس پر بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے۔ حج سے پہلے مکہ مکرمہ میں ”رابطہ عالم اسلامی“ کے جنرل سیکرٹری شیخ محمد صالح قزاز صاحب سے مولانا کی ملاقات ہوئی۔ آپ نے ان کو اپنے سفر کے تاثرات سنائے۔ جس پر انہوں نے خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا اور دعائیں دیں۔ حضرت مولانا ؒ نے ان سے بھی فرمایا کہ رابطہ کی جانب سے کتاب ’موقف الامة الاسلامية من القاديانية“ کی طباعت کا انتظام ہونا چاہئے اور رابطہ اسے طبع کراکر بلاد اسلامیہ میں تقسیم کرے جسے انہوں نے قبول کرتے ہوئے متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردیا۔
موسم حج میں ہر سال رابطہ کی طرف سے ”بین الاسلامی مجلس مذاکرہ“ منعقد ہوتی ہے۔ اس مجلس کا اجلاس جاری تھا۔ شیخ محمد صالح قزاز نے حضرت مولانا کو بھی شرکت کی دعوت پیش کی اور اصرار کیا کہ کم از کم آپ اس کے اختتامی اجلاس میں ضرور شرکت فرمائیں۔ جسے آپ نے قبول فرمالیا۔ اس بین الاسلامی مجلس مذاکرہ میں جن موضوعات پر مقالے پڑھے گئے وہ یہ تھے۔
- ١...... قادیانیت۔
- ٢...... غیر مسلم ممالک میں مسلم اقلیت۔
- ٣...... اسلام میں عورت کا مقام۔
مجلس کا آخری اجلاس ٥؍ ذوالحجہ ١٣٩٥ھ، مطابق ٧؍ دسمبر ١٩٧٥ء عشاء کے بعد رابطہ کے ہال میں شروع ہوا۔ حضرت مولانا مرحوم ومغفور نے بھی اس میں شرکت فرمائی۔ رابطہ کے اراکین نے آپ کا شاندار استقبال کیا۔ چنانچہ رابطہ کے جنرل سیکرٹری شیخ محمد صالح قزاز اپنی جگہ چھوڑ کر آئے اور آپ کو خاص مہمانوں کی جگہ بٹھایا۔ اس اجلاس میں مختلف ممالک کے سینکڑوں علمائے کرام نے شرکت کی تھی۔ اس اجلاس میں مندرجہ بالا موضوعات سے متعلق خصوصی کمیٹیوں نے اپنی اپنی سفارشات پڑھ کر سنائیں۔ قادیانیت کے متعلق کمیٹی نے جو سفارشات پیش کیں وہ یہ تھیں: ”بین الاسلامی مجلس مذاکرہ“ کی طرف سے قادیانیت سے متعلق مقررہ کمیٹی نے
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
بڑے غور و خوض سے قادیانی جماعت کے اغراض و مقاصد کا مطالعہ کیا اور اس نتیجہ پر پہنچی کہ یہ جماعت بظاہر اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اندر سے اسلام کی جڑیں کاٹ رہی ہے اور مسلمانوں میں اپنے خبیث نظریات پھیلا رہی ہے اور اسلام اور مسلمانوں کے عقائد کے خلاف مندرجہ ذیل جرائم کی مرتکب ہے۔
- الف...... اس جماعت کے لیڈر مرزا غلام احمد نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔
- ب...... اپنے گھٹیا اغراض کے لئے قرآن کریم کی آیات کی تحریف کی ہے۔
- ج...... اپنے آقا و مربی ارباب استعمار اور صیہونیوں کو خوش کرنے کے لئے جہاد کے منسوخ
ہونے کا اعلان کیا ہے۔
نیز اس کمیٹی نے ان عقائد اور سیاسی و اجتماعی خطرات کا بھی مطالعہ کیا جن کا اس جماعت کی وجہ سے عالم اسلام کو خطرہ لاحق ہے اور بعض فضلاء کی زبانی یہ سن کر افسوس ہوا کہ یہ جماعت افریقہ، ایشیاء، یورپ اور امریکہ کے بعض ممالک میں اپنا کام برابر کر رہی ہے۔ اس لئے یہ کمیٹی مندرجہ ذیل قرارداد پیش کرتی ہے۔
- ١...... بین الاسلامی مجلس مذاکرہ، ان اسلامی حکومتوں کو مبارک باد پیش کرتی ہے جنہوں نے
قادیانیت کے بارے میں اپنا واضح موقف اختیار کرتے ہوئے اسے غیر مسلم اقلیت قرار دیا ہے۔ نیز یہ مجلس باقی تمام اسلامی حکومتوں اور دینی تنظیمات سے پرزور مطالبہ کرتی ہے کہ وہ بھی یہ اعلان کریں کہ قادیانیت غیر مسلم اقلیت جماعت ہے اور اسلام کی ابدی تعلیم کے خلاف ہے۔
- ٢...... حسن اتفاق سے اس وقت نائیجیریا کے سربراہ مملکت دیار مقدسہ میں موجود ہیں اور
جیسا کہ معلوم ہے کہ نائیجیریا میں قادیانی سرگرمیاں بہت زور و شور سے جاری ہیں۔ بلکہ اب یہ قادیانی جماعت وہاں کی یوروبا زبان میں قرآن پاک کا ترجمہ شائع کرنا چاہتی ہے۔ اس لئے کمیٹی یہ سفارش کرتی ہے کہ علماء افاضل کا ایک وفد تشکیل دیا جائے جو نائیجیریا کے صدر محترم سے ملاقات کرے اور ان کے سامنے اس غیر مسلم اور باغی جماعت کے بارے میں امت اسلامیہ کے موقف کی وضاحت کرے اور ان سے اپیل کرے کہ وہ ان کے اس خطرناک منصوبے کو پورا نہ ہونے دیں۔
- ٣...... مسلمانوں کو مختلف وسائل کے ذریعہ قادیانی لٹریچر پڑھنے سے روکا جائے اور اس
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
لٹریچر کو مسلمانوں میں پھیلانے کا سدباب کیا جائے۔ خصوصاً قرآن کریم کے تحریف شدہ ترجمے۔
- ٤...... کمیٹی یہ بھی سفارش کرتی ہے کہ اس غیر مسلم گمراہ کن جماعت کی سرگرمیوں پر کڑی نگاہ
رکھی جائے اور رابطہ عالم اسلامی اس سلسلہ میں ایک خاص شعبہ قائم کرے جس کا کام یہ ہو کہ وہ اس قادیانی جماعت کی سرگرمیوں اور نقل و حرکت پر کڑی نگاہ رکھے اور اس کی مقاومت کے لئے مناسب اقدام کرے۔
- ٥...... جن بلاد میں یہ فتنہ پھیل چکا ہے وہاں کثرت سے ایسے مخلص مبلغین کو بھیجا جائے جو
قادیانی مذہب اس کے مقاصد اور طریق کار سے خوب واقف ہوں۔
- ٦...... جن ممالک میں قادیانی سرگرمیاں موجود ہیں۔ وہاں قادیانیوں کے مراکز کے
بالمقابل دینی مدارس، ہسپتال اور یتیم خانے قائم کئے جائیں تاکہ مسلمان بچے ان کے مدارس اور ہسپتالوں میں جانے پر مجبور نہ ہوں۔
- ٧...... یہ کمیٹی رابطہ عالم اسلامی سے یہ بھی مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اسلامی ممالک میں ایسی کتابیں
بکثرت شائع کرے جو اس فرقے کے خطرات سے آگاہ کرتی ہوں تاکہ مسلمان اس جماعت کے عقائد فاسدہ اور ناپاک اغراض سے مطلع ہوسکیں۔
- ٨...... یہ کمیٹی اسلامی حکومتوں سے یہ بھی اپیل کرتی ہے کہ وہ اپنے ہاں شائع ہونے والی کتابوں
کی نگرانی کے لئے ایسے حضرات کا تقرر کریں جو صحیح اسلامی فکر کے مالک ہوں۔
- ٩...... جو لوگ محض جہالت یا دھوکے میں قادیانیت کے جال میں پھنس چکے ہیں ان کو نہایت
نرمی اور حکمت عملی سے اسلام کی دعوت دی جائے اور اس سلسلہ میں مناسب تدابیر اور وسائل کو کام میں لایا جائے۔ ”وبالله التوفیق“
حرمین شریفین میں مقامی علمائے کرام اور دینی شخصیات کے علاوہ دوسرے ممالک سے آئی ہوئی علمی شخصیات سے بھی ملاقاتیں ہوئیں اور ان سے اس موضوع پر تبادلہ خیالات ہوا اور ان کو مذکورہ کتاب پیش کی گئی۔ ان حضرات کا تعلق جن ممالک سے تھا ان میں بعض کے نام یہ ہیں: جاپان، انڈونیشیا، ملایا، فلپائن، شام، ہندوستان، عراق، اردن، نائیجیریا، سیرالیون، اپرولٹا، ایوری کوسٹ، سینیگال، جنوبی افریقہ، ترکی۔
اس مبارک سفر کی ابتداء بھی حرمین شریفین سے ہوئی اور انتہاء بھی حرمین شریفین پر ہوئی
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
اور سفر کے اختتام پر حضرت مولانا مرحوم ومغفور کی جانب سے روئیداد کے آخر میں جو خلاصہ کلام شائع ہوا وہ یہ ہے:
خلاصہ کلام
مشرقی افریقہ کے ممالک میں دین کے لئے مندرجہ ذیل فتنے پائے جاتے ہیں:
- ١...... عیسائیت۔
- ٢...... مرزائیت۔
- ٣...... جہالت۔
- ٤...... علماء اور صالحین کی قلت ۔
- ٥...... مدارس دینیہ کا فقدان ۔
وفد نے مندرجہ ذیل امور سر انجام دیئے:
- ١...... مسلمانوں کو اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی محبت، عظمت، اطاعت اور آپس میں اتحاد
واتفاق کی دعوت دی۔
- ٢...... عقیدۂ ختم نبوت اور فتنہ قادیانیت کی وضاحت کی۔
- ٣...... اس موضوع پر لکھی ہوئی کتاب ”موقف الامة الاسلامية“ ایک
انگریزی پمفلٹ تقسیم کیا۔
- ٤...... جہاں فتنہ قادیانیت کے مراکز ہیں وہاں ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کے قیام کی تدابیر کی
گئیں۔
- ٥...... جہاں تنظیم بنانے کی اجازت نہیں وہاں مقامی علماء اور دینی شخصیات کو کام کرنے کے
لئے آمادہ کیا گیا۔
- ٦...... جہاں قادیانیوں کو خلاف قانون قرار دے دیا گیا ہے وہاں کے ذمہ دار حضرات کو
مبارک باد اور دین کے لئے کام کرنے کا لائحہ عمل پیش کیا گیا اور ان سے کہا گیا کہ وہ اس فتنہ پر کڑی نگاہ رکھیں۔
- ٧...... ایشین مسلمانوں کو افریقی مسلمانوں سے دینی روابط قائم رکھنے اور غیر مسلم باشندوں
میں کام کرنے کی ترغیب دی گئی۔
- ٨...... ان ممالک میں دارالافتاء ریاض کے حضرات مبعوثین کام کر رہے ہیں۔ ان کو کام
کرنے کے مفید مشورے دیئے گئے۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگارنگ
- ٩...... مقامی حضرات کو ترغیب دی گئی کہ وہ افریقی ذہین بچوں کو دینی تعلیم حاصل کرنے کے
لئے پاکستان بھیجیں اور ان کے ٹکٹ کا انتظام کریں۔
- ١٠...... کتاب ”موقف الامة الاسلامية من القاديانية“ کی دوبارہ
طباعت اور انگریزی و فرانسیسی ترجمہ اور اس کی طباعت کا انتظام کیا گیا۔
تجاویز
مندرجہ بالا حالات کی روشنی میں وفد نے یہ تجاویز پیش کیں:
- ١...... جن ممالک کا وفد نے دورہ کیا ہے وہاں قائم کردہ جمعیات تحفظ ختم نبوت، مقامی دینی
انجمنوں، علماء اور دینی شخصیات سے دائمی رابطہ قائم رکھا جائے اور خط و کتابت کے ذریعہ معلومات حاصل کرنے کا سلسلہ جاری رہے۔
- ٢...... ان حضرات کو دینی فتنوں کے خلاف اردو، عربی اور انگریزی میں لٹریچر بھیجا جائے۔
- ٣...... افریقی طلبہ کو دینی مدارس میں وظائف دیئے جائیں اور ان کی تعلیم و تربیت پر خصوصی
توجہ دی جائے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں جماعتیں ان ممالک کی طرف روانہ کریں۔ خصوصاً یوگنڈا میں۔
وصلی الله علی سیدنا محمد وآلہ وصحبہ وسلم
حضرت شیخ بنوریؒ کے سات مختلف معلوماتی مقالے اور ایک آپ کے سفرنامہ افریقہ کی رپورٹ کل سات عدد مقالے احتساب قادیانیت ج ١٥ میں شامل اشاعت ہیں۔ ان کی فہرست یہ ہے:
تعارف اکفار الملحدین شیخ الاسلام حضرت بنوریؒ مقدمہ عقیدۃ الاسلام // // // نزول مسیح کا عقیدہ اسلامی اصول کی روشنی میں // // // فتنہ قادیانیت اور امت مسلمہ کی ذمہ داریاں // // // ضروری تنبیہ // // // مرزا ناصر کا دورہ یورپ اور سعودی ٹیلی ویژن پر اس کی نمائش // // //
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
برطانوی عہد حکومت اور مسلمان // // // پاکستان اور مرزائی امت // // // تعارف مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان // // // عقیدہ ختم نبوت // // // کتاب خاتم النبیین فارسی کا مقدمہ // // // تعارف ہدیۃ المہدیین فی آیۃ خاتم النبیین // // // فیصلہ جیمس آباد کا تعارف // // // مجلس تحفظ ختم نبوت کے امراء کی وفیات پر تعزیتی شذرات // // // حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی ؒ // // // حضرت مولانا محمد علی جالندھری ؒ // // // حضرت مولانا لال حسین اختر ؒ // // // تحریک ختم نبوت اور اس کے بعد قادیانی فتنہ کی صورتحال // // // مسئلہ ختم نبوت اور پاکستان // // // قادیانیوں کا سوشل بائیکاٹ // // // قادیانیت کے خلاف اہل پاکستان کا شدید ردعمل // // // حادثہ ربوہ (چناب نگر) // // // تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء کا طریق کار // // // کامیابی پر سپاس و تشکر // // // دورۂ انگلستان // // // قادیانیوں کا غیر مسلم کہلوانے سے انکار // // // قادیانیوں کی پاکستان کے خلاف سازشیں // // // قادیانیت اور عالم اسلام // // // انٹرویو // // // حضرت مولانا محمد یوسف بنوری ؒ کا سفر مشرقی افریقہ کی روئیداد // // //
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگارنگ
(٦)
خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد ؒ
(ولادت: ١٤ فروری ١٩١٦ء.......وفات : ٥ مئی ٢٠١٠ء)
خانقاہ سراجیہ شریف، کندیاں ضلع میانوالی، ریلوے اسٹیشن کندیاں سے براستہ ملتان چھ سات فرلانگ کے فاصلے پر ایک خوبصورت اور سرسبز وشاداب علاقے میں واقع ہے۔ یہ ایک ایسی خانقاہ ہے جہاں کی فضاء ہر قسم کی دنیوی آلائش وبرائی سے پاک صاف ہے۔ رشد وہدایت کا یہ مقام تزکیہ نفس کے لئے بے مثال وبے نظیر مرکز ہے۔ خانقاہ سراجیہ کے بانی قطب الاقطاب حضرت مولانا ابوالسعد خواجہ احمد خان قدس سرہ تھے۔ ان کے بعد ان کے خلیفہ حضرت مولانا محمد عبداللہ لدھیانوی جانشین نامزد ہوئے۔ حضرت مولانا محمد عبداللہ لدھیانوی ؒ کے وصال کے بعد اس مقدس گدی پر مخدوم زمان، خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد ؒ رونق افروز ہوئے۔ آپ تقریباً پچاس سال تک اس مرکز رشد وہدایت سے روحانیت اور معارف پروری کا فیض پھیلاتے رہے۔ حزن وملال کے مارے ہوئے ٹوٹے دلوں کو امید ویقین اور اصلاح وتزکیہ سے جوڑتے رہے۔
ولادت با سعادت
خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد ؒ موضع ڈنگ ضلع میانوالی کے مطلع انور پر ١٩١٦ء (٩ ربیع الثانی ١٣٣٤ھ، بروز پیر) میں حضرت خواجہ محمد عمر کے گھر رونق افروز ہوئے۔ آپ کے والد بزرگوار خانقاہ سراجیہ کے بانی حضرت مولانا ابوالسعد احمد خان کے چچا زاد بھائی تھے۔ آپ ٹوکر قوم سے تعلق رکھتے تھے، جو راجپوت برادری کی ایک شاخ ہے۔ خواجہ محمد عمر ؒ کو اللہ تعالیٰ نے حضرت خواجہ خواجگان ؒ کے علاوہ تین بیٹے اور بھی ودیعت فرمائے تھے۔ ملک شیر محمد، ملک فتح محمد، ملک محمد افضل۔
رحمت حق بہانہ می جوید
ایک دن حضرت مولانا ابوالسعد احمد خان ؒ المعروف ”حضرت اعلیٰ“ نے حضرت خواجہ خواجگان کے والد گرامی خواجہ عمر ؒ سے فرمایا کہ آپ کے پاس ایسی تین چیزیں ہیں کہ میرے پاس اس قسم کی ایک بھی نہیں ہے۔ آپ ان میں سے ایک مجھے دے دیں۔ اتفاق کی بات
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
کہ ان دنوں خانقاہ سراجیہ کے لنگر خانے میں دودھ دینے والی کوئی بھینس نہ تھی۔ حضرت خواجہ عمر ؒ کے پاس تین بھینسیں دودھ دینے والی تھیں۔ اس لئے انہوں نے خیال کیا کہ حضرت اعلیٰ اپنے لنگر کے درویشوں کے لئے ایک بھینس طلب فرما رہے ہیں۔ لہٰذا فرمایا کہ میری تینوں بھینسیں لنگر کے لئے حاضر ہیں۔ حضرت اعلیٰ ؒ مسکرائے اور فرمایا: ہمیں آپ کی بھینسوں سے سروکار نہیں۔ آپ اپنے تینوں بیٹوں میں سے (ابھی ملک محمد افضل آپ کے سب چھوٹے بیٹے کا تولد نہ ہوا تھا) ایک ہمیں دے دیں۔ حضرت خواجہ عمر ؒ نے ایک لمحہ سوچے بغیر برجستہ فرمایا کہ جون سا بیٹا آپ فرمائیں۔ وہ آپ کی خدمت کے لئے حاضر ہے۔ حضرت اعلیٰ نے فرمایا: اپنا بیٹا ”خان محمد“ ہمیں دے دیں۔ سچ ہے کہ : ”قدر زر زرگر بداند قدر جوہر جوہری“ اس طرح حضرت اعلیٰ ؒ کی خدمت آپ کی علمی و روحانی وراثت، خانقاہ سراجیہ کی تعمیر وترقی اور سلسلہ نقشبندیہ کی ترویج اور عموم کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت خواجہ خواجگان کو منتخب فرمایا۔
تعلیم و تربیت
آپ نے چھٹی جماعت لوئر مڈل سکول کھولہ شریف ضلع میانوالی میں تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں حضرت اعلیٰ ؒ کی مراد بن کر خانقاہ سراجیہ نقشبندیہ مجددیہ پر آگئے۔ یہ جوہر شناس اور حقیقت آگاہ شیخ ؒ کی نگاہ التفات وشفقت کا انتخاب تھا۔ جس کی بدولت اس ہستی کامل کو آموزش اور تعلیم و تربیت کا آغاز ہی ایک اعلیٰ اور نورانی ماحول میں ہونا تھا۔
اس زمانے میں خانقاہ سراجیہ میں جامع مسجد، کتب خانہ، تسبیح خانہ اور مہمان خانہ کی تعمیر کا کام جاری تھا۔ حضرت اعلیٰ ؒ کے حکم سے آپ کے خلیفہ و جانشین حضرت مولانا محمد عبداللہ لدھیانوی المعروف ”حضرت ثانی ؒ“ اس کام کی نگرانی فرما رہے تھے۔ حضرت ثانی ؒ دارالعلوم دیوبند کے فارغ التحصیل تھے۔ حضرت اعلیٰ ؒ نے حضرت خواجہ خواجگان کو پڑھانے کے لئے حضرت ثانی ؒ اور حضرت مولانا سید عبداللطیف شاہ ؒ احمد پور سیال کو حکم دیا۔ آپ نے ان ہر دو حضرات کے سامنے زانوائے تلمذ تہہ کیا اور دینی تعلیم میں مشغول ہوئے۔ مولانا سید عبداللطیف شاہ سے آپ قرآن مجید اور ابتدائی کتب اور حضرت ثانی ؒ سے صرف ونحو کی تعلیم مکمل کی۔ قرآن مجید، فارسی گرامر، نظم ونثر اور صرف ونحو کی تکمیل کے بعد ١٩٣٧ء میں تکمیل تعلیم کے لئے بھیرہ تشریف لے گئے۔
اس دور میں دارالعلوم عزیزیہ بھیرہ کا چہار سو شہرہ تھا۔ بگوی خاندان کی دینی خدمات کی بدولت یہ دارالعلوم علاقے کی مرکزی دینی درسگاہ سمجھا جاتا تھا۔ نیز اس خاندان کے دو ممتاز علماء
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
حضرت مولانا نصیر الدین بگوی ؒ اور حضرت مولانا ظہور احمد بگوی ؒ حضرت اعلیٰ ؒ کے خاص ارادت مندوں میں شامل تھے۔ اس لئے ان حضرات نے اس نسبت سے حضرت خواجہ خواجگان ؒ کو محبتوں اور شفقتوں سے مالا مال کیا۔ آپ کی تعلیم و تربیت پر خصوصی نظر رکھی۔ آپ نے اپنی ذاتی شرافت، کم گوئی، بھر پور محنت اور خداداد صلاحیت سے بہت جلد اساتذہ کی نظروں میں مقبولیت حاصل کر لی۔ آپ کی تنظیمی صلاحیتوں سے متاثر ہو کر دوران تعلیم ہی آپ کے اساتذہ نے آپ کو مطبخ کا انچارج بنا دیا۔
دارالعلوم عزیزیہ میں تعلیم کے دوران وہاں پر مولانا رحمت اللہ ارشد مدرس تھے۔ آپ کے باضابطہ استاد تو نہیں تھے لیکن مدرس بہر طور تھے۔ جب حضرت خواجہ خواجگان خانقاہ سراجیہ کے گدی نشین اور پھر مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر بنے تو آپ جب بھی بہاولپور آتے تو مولانا رحمت اللہ ارشد بہاولپور اسٹیشن پر آپ کے استقبال اور الوداع کے لئے ضرور تشریف لاتے۔ آپ بھی بہت ہی عزت و تکریم کا معاملہ فرماتے۔ مولانا رحمت اللہ ارشد نے ایک دن ایک مجلس میں فرمایا: ”حضرت خواجہ خان محمد صاحب کی زبان پر تقدیر بولتی ہے۔“ حاضرین سن کر متعجب ہوئے تو انہوں نے اپنا ایک واقعہ سنایا کہ ایوب خان کے عہد اقتدار میں میرے بھائی ولی اللہ صاحب پر کیس چلا۔ سزا ہو گئی۔ میں بہت فکر مند تھا۔ اپنے تمام متعلقین و متوسلین کے ذریعے سے کوشش کی۔ سفارشیں کروائیں لیکن کامیابی نہ ہوئی۔ اس سلسلے کے ایک سفر میں بہاولپور اسٹیشن پر تھا تو علماء، صلحاء اور عوام کا ایک جم غفیر دیکھا۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد ؒ تشریف لا رہے ہیں۔ استقبال کی غرض سے یہ لوگ کھڑے ہیں۔ میں بھی استقبالیوں کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔ ٹرین آئی۔ حضرت خواجہ صاحب اترے۔ باری آنے پر مصافحہ کرتے ہوئے میں نے اپنی پریشانی سنادی۔ حضرت نے سن کر ایک لمحہ توقف کیا اور پھر فرمایا: ”آپ اسلام آباد چلے جائیں اللہ تعالیٰ بھلا فرمائیں گے۔“
میں چونکہ سخت قلق و اضطراب میں تھا۔ اس لئے یہ نہ پوچھ سکا کہ کس کے پاس جانا ہے؟ کیا کرنا ہے؟ میں نے اسی وقت اسٹیشن سے ٹکٹ لیا اور راولپنڈی چلا آیا۔ وی آئی پی لاونج میں ایوب خان کے بھائی بہادر خان مل گئے جو ایوب خان کے استقبال کے لئے آئے تھے۔ ان کے سامنے ساری صورتحال عرض کر دی۔ انہوں نے اطمینان دلایا۔ بہادر خان نے صدر ایوب خان سے سزا کالعدم قرار دلوانے کی میرے حوالے سے درخواست کی۔ ایوب خان نے فوراً آرڈر جاری کر دیا۔ میں اگلی ٹرین سے لاہور آیا۔ وہاں سے شاداں و فرحاں بہاولپور آیا۔ حضرت خواجہ ؒ کی اتنی سی بات سے میرا کام ہو گیا۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
بھیرہ سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد اعلیٰ دینی علوم کے حصول کے لئے جامعہ اسلامیہ ڈابھیل (ہندوستان) تشریف لے گئے۔ یہ آپ کی تعلیم کا ”موقوف علیہ“ سال تھا۔ یہاں آپ نے مشکوٰۃ المصابیح، ہدایہ، مقامات حریری، جلالین اور دوسری کتابیں پڑھیں۔ ڈابھیل میں آپ نے حضرت مولانا عبد الرحمن امروہی ؒ، مولانا بدر عالم میرٹھی ؒ، حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری ؒ، حضرت مولانا محمد ادریس سکرڈھوی ؒ، حضرت مولانا عبد العزیز ؒ کیمبل پوری ایسے نابغہ روزگار اساتذہ سے کسب فیض کیا۔ اگلے سال تفسیر و حدیث کی تکمیل کے لئے ازہر ہند ”دارالعلوم دیوبند“ میں داخلہ لیا۔ ان دنوں دارالعلوم دیوبند کی مسند حدیث پر شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ فائز تھے۔ لیکن خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ حضرت مدنی ؒ ان دنوں تحریک آزادی کے سلسلے میں نظر بند تھے۔ اس لئے آپ نے حضرت مدنی ؒ سے صرف بخاری شریف کا افتتاحی سبق پڑھا۔ باقی اسباق اور کتب حدیث کی تکمیل آپ نے شیخ الادب حضرت مولانا اعزاز علی ؒ، حضرت مولانا محمد ابراہیم بلیاوی ؒ اور دوسرے جلیل القدر اساتذہ سے کی۔ ١٩٤١ء میں آپ دارالعلوم دیوبند سے فارغ التحصیل ہوئے۔
تحصیل و تکمیل سلوک
دارالعلوم دیوبند سے علوم حدیث کی تحصیل و تکمیل کے بعد آپ خانقاہ سراجیہ نقشبندیہ مجددیہ واپس تشریف لائے اور باطنی علوم و فیوض کے کسب و حصول میں مشغول ہو گئے۔ جس سال دارالعلوم سے آپ کی فراغت ہوئی۔ اسی سال حضرت اعلیٰ مولانا خواجہ ابو السعد احمد خان انتقال فرما گئے تھے اور ان کے جانشین و خلیفہ حضرت مولانا محمد عبد اللہ المعروف حضرت ثانی ؒ مسند نشین تھے۔ آپ نے حضرت ثانی ؒ سے بیعت کی اور سلوک و احسان کی شاہراہ پر چل پڑے۔ آپ نے اپنے پیر و مرشد سے کنز الہدایات از مولانا محمد باقر لاہوری ؒ، مکاتیب مجدد الف ثانی ؒ، مکتوبات حضرت شاہ غلام علی ؒ، مکتوبات حضرت خواجہ محمد معصوم ؒ اور ہدایۃ الطالبین جیسی معرفت سے لبریز کتابیں سبقاً پڑھیں۔
اس دوران حضرت اعلیٰ مولانا ابو السعد احمد خان ؒ کے گھر کے تمام خانگی امور کی ذمہ داری آپ کے سر تھی۔ ان کی حیات میں آپ نے سالہا سال ان کی خدمت کی تھی اور اب بھی ان کے گھر کی تمام تر ذمہ داری آپ کے سر تھی۔ ساتھ ہی تدریس بھی کر رہے تھے۔ تصوف کے اسباق پڑھنا، مدرسہ کے طلبہ کو ایک ساتھ کئی درسی کتب پڑھانا، اپنے گھر بار کی ضروریات کا خیال رکھنا، ذکر و اذکار، تلاوت و مراقبہ کے یومیہ معمولات اور پھر اپنے شیخ و استاذ کی ہمہ قسم خدمت کے
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
لئے مستعد رہنا، خانقاہ کے واردین و مہمانان کی جملہ ضروریات کی رعایت رکھنا، اپنے مرشد کے ساتھ ہفتوں اسفار کرنا نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن امر معلوم ہوتا ہے۔ لیکن آپ اچھے طریقے اور ڈھنگ سے ان تمام امور کو انجام دیتے رہے۔
آپ نے قریباً ١٥ سال اپنے شیخ حضرت ثانیؒ کی شبانہ روز خدمت کی۔ حضرت ثانیؒ بھی آپ سے پوری طرح نہ صرف خوش بلکہ دل و جان سے راضی و مہربان تھے اور اپنی توجہات اور شفقتوں سے آپ کو نوازتے رہے۔ جب آپ نے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کی منازل طے کر لیں تو حضرت ثانی مولانا محمد عبداللہ لدھیانویؒ نے آپ کو سلاسل اربعہ (نقشبندیہ، قادریہ، چشتیہ اور سہروردیہ ) میں اجازت سے سرفراز فرمایا۔ علاوہ ازیں آپ کو سلسلہ قلندریہ، مداریہ، کبرویہ اور شطاریہ میں خلافت کا شرف بھی حاصل تھا۔ حضرت ثانیؒ نے اپنی زندگی ہی میں آپ کو اپنا جانشین اور خانقاہ سراجیہ کا مہتمم نامزد کیا تھا۔ ٢٧ شوال ١٣٧٥ھ مطابق ٧ جون ١٩٥٦ء کو آپ کے شیخ و مرشد حضرت ثانیؒ نے وصال فرمایا۔ ان کی تدفین کے بعد خانقاہ سراجیہ نقشبندیہ مجددیہ سے وابستہ بزرگ مشائخ و علماء نے آپ کے دست مبارک پر تجدید بیعت کر لی۔ اس طرح اپنے پیر و مرشد کے خلیفہ اور جانشین معظم کی حیثیت سے خانقاہ کی مسند ارشاد پر جلوہ افروز ہوگئے۔
خانقاہ سراجیہ نقشبندیہ مجددیہ کی ترقی کے لئے خدمات
جانشینی کے وقت سے لے کر تا دم واپسیں آپ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ اور اس کے متعلقین، مریدین کی سیرابی کرتے رہے۔ آپ کے فیوض و برکات کا شہرہ چار دانگ عالم میں ہر سو پھیل گیا۔ آپ کے مریدین کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ برطانیہ، امریکا، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بھارت، بنگلہ دیش کے علاوہ دنیا کے دیگر ممالک سے بھی لوگ آپ کی زیارت اور کسب فیض کے لئے حاضری دیا کرتے تھے۔ آپ کے وجود مسعود سے یہ خانقاہ شریف چشمہ آب حیات کا درجہ رکھتی تھی۔ جس کی طرف اہل ایمان کے قافلے پرندوں کے جھنڈ اور مور و ملخ کے غولوں کی مانند رواں دواں رہتے تھے۔
١٩٥٦ء میں حضرت مولانا محمد عبداللہ لدھیانویؒ کی وفات کے بعد جب آپ مسند نشین ہوئے تو اس وقت خانقاہ سراجیہ ایک بے آب و گیاہ علاقے میں قائم شدہ واحد نشان عظمت تھی۔ چاروں اطراف میں کئی میل تک آبادی کا نام و نشان تک نہیں تھا۔ حضرت خواجہ خواجگانؒ نے اس باغیچہ علم و حکمت کی خوب خوب آبیاری کی۔ حضرت مولانا احمد خاںؒ نے اپنی حیات ہی میں خانقاہ کے ساتھ ایک عظیم الشان لائبریری بھی قائم کی تھی۔ جس میں
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
ہزاروں دستیاب و نایاب کتابوں کا ایک بیش قیمت ذخیرہ مہیا کیا گیا تھا اور اس کے لئے بیرون ملک شائع ہونے والی کتب بھی بصد اہتمام لائبریری کی زینت بنائی گئی تھیں۔ جن سے اہل علم و تحقیق استفادہ کے لئے جوق در جوق تشریف لاتے۔ حضرت مولانا محمد عبداللہ لدھیانویؒ کے بعد حضرت خواجہ خان محمدؒ نے بھی خانقاہ سراجیہ، مدرسہ اور لائبریری کی وسعت میں مزید کئی گنا اضافہ کیا۔ یہ آپ کی توجہات اور شبانہ روز محنت و جدوجہد کا ثمرہ ہے کہ آج نہ صرف خانقاہ و مدرسہ وسعت پذیر ہے۔ بلکہ اطراف میں بھی جدید عمارات، ادارے، کالونیاں وجود میں آچکی ہیں۔ خانقاہ سراجیہ، مدرسہ اور لائبریری حضرت خواجہ خواجگان کے صاحبزادگان حضرت مولانا خواجہ خلیل احمد، حضرت مولانا خواجہ عزیز احمد کے زیر سرپرستی شاندار انداز میں خلق خدا کو مستفید کر رہے ہیں۔
خلفاء عظام
آپ کے خلفاء کرام کی تعداد تقریباً سولہ تھی۔ جن میں جید علماء کرام اور مشائخ عظام شامل ہیں۔
ازواج واولاد
حضرت خواجہ خواجگانؒ کی پہلی شادی اپنے مربی و شیخ حضرت مولانا ابو السعد احمد خان کی صاحبزادی سے ہوئی۔ جن کے بطن سے اللہ نے آپ کو تین صاحبزادے: حضرت صاحبزادہ مولانا عزیز احمد مدظلہ، حضرت صاحبزادہ مولانا خلیل احمد صاحب، حضرت صاحبزادہ رشید احمد مدظلہ اور ایک صاحبزادی دام مجدہا عطاء فرمائیں۔ ان اہلیہ محترمہ نے وصال فرمایا تو آپ نے نکاح نہ کرنے کا ارادہ فرمایا۔ لیکن مریدین و متعلقین کے اصرار پر نکاح ثانی فرمایا۔ آپ کی دوسری اہلیہ محترمہ حضرت مولانا ابو السعد احمد خانؒ کی پوتی تھیں۔ ان سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو دو صاحبزادے حضرت صاحبزادہ سعید احمد مدظلہ اور حضرت صاحبزادہ نجیب احمد مدظلہ عطاء فرمائے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرح آپ کے تمام صاحبزادگان کے دلوں میں بھی بردباری، حسن سیرت، حسن خلق، تواضع اور کمال درجے کی عاجزی ودیعت فرمائی ہے۔ اللہ کریم گلستان روحانیت کے ان تمام کلیوں اور پھولوں کو ہمیشہ سرسبز و شاداب رکھے اور ان کی مہک سے تا ابد خانقاہ سراجیہ معطر رہیں۔
امتیازی اوصاف
دنیا بھر میں آپ کے مریدین، متعلقین اور متوسلین کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ آپ نے پوری زندگی مخلوق کا رشتہ خالق سے جوڑا۔ آپ کے مریدین اور متعلقین کی غالب تعداد متشرع
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
اور باعمل ہے۔ صف اوّل کے علماء آپ کے بیعت ہیں اور مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر آپ کے مقبول و محبوب ہیں۔ بندہ پروری اور مرید نوازی آپ کا خاصہ تھی۔ آپ لینے کی بجائے دینے والے تھے۔ صاحب کشف و کرامات تھے۔ لیکن اخفاء اور کسر نفسی فرماتے تھے۔ مہمان نوازی میں خاصی شہرت رکھتے تھے۔ علماء و مشائخ آپ کے ہاں تشریف لاتے۔ خواص و عوام اور زائرین و واردین کا تانتا بندھا رہتا۔ ایک ایک وقت میں سینکڑوں لوگ آپ کی خانقاہ پر موجود ہوتے۔ ان کے خوردونوش اور آرام و استراحت کا خاص بندوبست فرماتے۔ دن رات اپنے مہمانوں کی خبر گیری کرتے۔ ان کی ضروریات کا خاص خیال فرماتے تھے۔
آپ طبعاً کم گو اور خاموشی پسند تھے۔ ہر وقت خاموش رہتے۔ صرف ناگزیر موقع پر بولتے۔ ایک بار کسی صاحب نے برطانیہ سفر کے دوران عرض کیا۔ حضرت! آپ کچھ ارشاد فرمائیں۔ آپ مسکرائے اور فرمایا: ”جو ہماری خاموشی سے فائدہ نہیں اٹھاتا وہ ہمارے کلام کرنے سے کیا فائدہ اٹھائے گا؟“
آپ صاحب الرائے اور کمال کے صائب الرائے تھے۔ کسی مسئلے پر گھنٹوں بحث ہوتی۔ جب محققین تھک جاتے تو آپ سے فیصلے کے لئے عرض کر دیا جاتا۔ آپ ایک جملے میں اپنی رائے کا اظہار فرما دیتے۔ وہ اتنی جامع اور بامعنی ہوتی کہ گویا قدرت کی طرف سے القاء ہے۔
کشف و کرامات
کشف و کرامات اگرچہ ولایت کی شرط نہیں۔ لیکن کم و بیش صوفیانہ ولایت کے لوازم و آثار سے ہے۔ طریق تصوف میں آنحضرت ﷺ کا شاید ہی کوئی ایسا پاک باطن برگزیدہ بندہ ہو جو کم و بیش اس سے خالی ہو۔ حضرت خواجہؒ کے لاکھوں مرید و متعلقین نے موقع بہ موقع آپ سے کشوف و کرامات کا صدور دیکھا ہے۔ مولانا رشید الحق خان عابدی نے آپ کے حوالے سے اپنی ایک تحریر میں آپ کے چند ایک واقعات گنوائے ہیں۔ لکھتے ہیں:
”خانقاہ شریف میں گرمیوں میں عصر کی مجلس میں میں (مولانا رشید الحق) بھی حاضر تھا۔ حضرت چارپائی پر تشریف فرما تھے اور چند معتقدین آپ کا جسم دبا رہے تھے۔ دبانے والے ساتھی نے حضرت کا ہاتھ اس انداز میں تھاما تھا کہ مجھے ہتھیلی نظر آ رہی تھی۔ چونکہ مجھے پامسٹری کا بھی کچھ نہ کچھ شوق ہے۔ اس لئے خیال ہوا کہ دیکھا جائے کہ حضرت کے ہاتھ میں کون سی ایسی لکیر ہے جو آپ کے امام وقت ہونے پر دال ہے۔ میں نے غیر محسوس طریقے سے قریب ہونے کی کوشش کی۔ حضرت نے مکشوف ہونے پر فوراً لطیف حیلے سے دست مبارک کا رخ اپنی طرف
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
فرما کر مٹھی بند کر لی اور دو تین بار میری طرف خاص نظروں سے دیکھ کر مسکرائے۔
صاحبزادہ نجیب احمد صاحب نے لکھا ہے کہ لاہور میں میاں اویس صاحب ہمارے متعلق ہیں۔ ان کی اہلیہ کو شوکت خانم ہسپتال کے ڈاکٹر نے کینسر کی بیماری بتائی۔ ان کی اہلیہ حضرت خواجہ ؒ کے پاس آئی۔ دعا اور دم کرایا۔ ایک ہفتہ بعد شوکت خانم ہسپتال گئی اور ٹیسٹ کرایا۔ ٹیسٹ میں کینسر کا نام و نشان نہ تھا۔ ڈاکٹرز نہایت دم بخود اور حیران تھے کہ یہ کیا ماجرا ہے۔
مولانا محمد متین امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت برطانیہ نے لکھا ہے کہ میں اور ڈاکٹر عبدالرحمٰن خالد نے ”ایضاح الطریقہ“ تصوف کی کتاب حضرت خواجہ قدس سرہ سے سبقاً پڑھنا شروع کی۔ ایک دن ہم دونوں نے مشورہ کیا کہ چپکے سے آج ٹیپ ریکارڈ لگا لیتے ہیں۔ سبق ٹیپ ہو جائے گا۔ ہم نے خفیہ ٹیپ ریکارڈ لگادی اور سبق پڑھنے بیٹھ گئے۔ جب ہم سبق سے فارغ ہوئے اور ریکارڈ چلایا تو ایک حرف بھی ٹیپ نہ ہوا تھا۔ تب سمجھ میں آیا کہ شیخ کی اجازت کے بغیر ہم نے کیا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ناکام کر دیا۔“
مدارس دینیہ کی سرپرستی
حضرت خواجہ خواجگان ؒ نے پوری زندگی قرآن وحدیث کی ترویج وترقی کے لئے بے پناہ مساعی فرمائیں۔ ہمیشہ عربی مدارس کی سرپرستی فرمائی۔ جن مدارس کے ارباب نظم و نسق شکستہ خاطر ہوتے، ان کی حوصلہ افزائی فرمایا کرتے تھے۔ جن کو تعاون کی ضرورت ہوتی خود بھی مدد فرماتے اور متوسلین کو بھی متوجہ کرتے۔ دارالعلوم کبیروالا، قاسم العلوم فقیر والی، دارالعلوم فرقانیہ راولپنڈی، دارالعلوم عثمانیہ راولپنڈی، مدرسہ سراجیہ فورٹ عباس، دارالعلوم مجددیہ مانکی شریف، مدرسہ عربیہ سعدیہ خانقاہ سراجیہ کے علاوہ ملک بھر کے بہت سے مدارس کی باقاعدہ آپ نگرانی فرماتے تھے۔ وہاں آنا جانا ہوتا تھا۔ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کی مجلس عاملہ کے باقاعدہ ممبر رہے۔
آپ جمعیتہ علماء اسلام (ف) کے سرپرست اعلیٰ رہے اور قائد جمعیتہ مفکر اسلام مفتی محمود ؒ سے گہری وابستگی تھی۔ حضرت مفتی صاحب ؒ نے ایک موقع پر آپ کے بارے میں فرمایا: ”آپ امام وقت ہیں اور مجددی دربار میں ہمیشہ ہی آگے رہتے ہیں۔“ ایک موقع پر فرمایا: ”حضرت خواجہ خان محمد صاحب بادشاہ وقت ہیں۔“
حج بیت اللہ شریف
آپ ہر سال حج کے لئے تشریف لے جایا کرتے تھے۔ کل ٤٥ حج کئے تھے۔ پہلا حج
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
١٩٤٧ء، دوسرا ١٩٥٦ء میں، تیسرا ١٩٦٢ء میں، ١٩٦٢ء سے ٢٠٠٥ء تک مسلسل ہر سال حج پر تشریف لے جاتے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے اپنے سلسلہ نقشبندیہ کے تمام اکابر کے حج بدل کئے ہیں۔ آپ جب مکہ مکرمہ میں ہوتے تو معمول یہ ہوتا کہ سحری کے وقت حرم میں جاتے۔ ١٢ رکعت تہجد کے پڑھتے۔ صبح کی نماز پڑھتے۔ نماز کے بعد طواف کرتے اشراق تک۔ اشراق کی نماز پڑھ کر اپنی اقامت گاہ میں آتے۔ ناشتہ کر کے آرام فرماتے۔ ظہر کی نماز بھی حرم میں پڑھتے۔ پھر عصر کی نماز کے لئے حرم میں تشریف لے جاتے۔ عصر سے عشاء تک حرم میں رہتے۔ حرم میں میزاب رحمت کے سامنے تشریف رکھتے۔ جب تک مکہ مکرمہ میں رہتے ایک لاکھ مرتبہ کلمہ شریف پڑھنے کا معمول تھا۔ مدینہ منورہ میں بھی مسجد نبوی میں بھی معمول تھا۔ مدینہ منورہ میں قیام کے دوران درود شریف زیادہ مقدار میں پڑھتے۔ آپ کے فرزند صاحبزادہ نجیب احمد نے آپ کے احوال میں لکھا ہے کہ میں نے اپنے والد محترم سے پوچھا کہ جب آپ سلام پڑھتے ہیں تو جواب ملتا ہے؟ تو انہوں نے مختصراً جواب دیا: ”جی ہاں! ملتا ہے۔“
اعتدال پسندی
حضرت خواجہ خواجگان مذہبباً حنفی المسلک اور مشرباً نقشبندی مجددی تھے۔ اعتدال پسند طبیعت کے حامل تھے۔ تشدد اور مسلکی فرقہ واریت کے بالکل حامی نہیں تھے۔ گروہی اختلافات سے ہمیشہ گریز فرماتے تھے۔ آپ فرماتے تھے: ”بعض فروعی مسائل پر خود عمل کرتا ہوں اور ساتھیوں سے نہیں کہتا۔ بعض فروعی مسائل پر ساتھی عمل کر لیتے ہیں خود نہیں کرتا۔ تمام مکاتب سے متعلق حضرات آپ کی جامع شخصیت کے قائل تھے اور دل و جان سے آپ کا احترام کرتے تھے۔“
بزرگوں کے مزارات پر حاضری
آپ اکابر اسلاف سے حد درجہ احترام و عقیدت رکھتے تھے۔ ہر سال مجدد الف ثانیؒ کے مزار پر تشریف لے جاتے تھے۔ دارالعلوم دیوبند کی صد سالہ تقریبات کے لئے تشریف لے گئے تو حضرت شاہ غلام علی دہلویؒ کی خانقاہ شریف میں قیام فرمایا اور حضرت شاہ غلام علی دہلویؒ، حضرت خواجہ باقی باللہؒ، حضرت شاہ محمد آفاقؒ، حضرت شیخ محمد عابد سنامیؒ، حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءؒ، حضرت امیر خسروؒ، حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ کے مزارات پر حاضری دی۔ صدر ایوب خان کے دور اقتدار میں ایک مرتبہ آپ بائی روڈ حج کے لئے تشریف لے گئے تو حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے مزار
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
مبارک کے لئے بالخصوص مستقل سفر کیا۔ اسی سفر میں صحابی رسول حضرت سیدنا سلمان فارسی ؓ کے مزار مبارک پر مراقبہ بھی فرمایا۔
ختم نبوت کے لئے بے پناہ خدمات
خانقاہ سراجیہ کے بانی مرشد العلماء حضرت مولانا ابوالسعد احمد خان قدس سرہ کی دینی خدمات کا دائرہ کار صرف خانقاہ کے اصلاحی نظام تربیت و تزکیہ تک محدود نہ تھا۔ بلکہ آپ ان تمام دینی تحریکات کے سرپرست مؤید و معاون تھے جو مختلف عنوانوں سے برپا ہو رہی تھیں۔ تحریک جدوجہد آزادی، تحریک خلافت ہو یا تحریک ختم نبوت، حضرت مولانا احمد خان ؒ ان تحریکات میں دامے درمے قدمے سخنے شریک رہے۔ بالخصوص تحریک تحفظ ختم نبوت میں آپ کا کردار انتہائی اہم اور سرپرستانہ رہا۔ مجلس احرار اسلام کے ساتھ تادم واپسیں اپنا مکمل عملی تعاون جاری رکھا۔
آپ کی وفات کے بعد آپ کے جانشین حضرت مولانا محمد عبداللہ لدھیانوی ؒ نے بھی اپنے مرشد گرامی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت میں بھر پور ادا کیا۔ خانقاہ سراجیہ کو اس عظیم تحریک میں مرکزی مقام حاصل تھا۔ ملک بھر میں پھیلے ہوئے ہزاروں عقیدت مندوں کو حکماً تحریک میں شامل کرنے کے لئے حکم کیا گیا۔ حتیٰ کہ اس میں آپ کے جانشین حضرت مولانا خواجہ خان محمد ؒ گرفتار بھی ہوئے۔ حضرت مولانا عبداللہ لدھیانوی ؒ ١٩٥٢ء میں حج کے لئے تشریف لے جا رہے تھے کہ چوہدری ظفر اللہ قادیانی کی ایک قابل اعتراض تقریر کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے اور جلسے شروع ہو گئے۔ حکومت نے بعض مقامات پر رہنماؤں اور کارکنوں کی پکڑ دھکڑ شروع کی۔ حضرت نے یہ حالات دیکھ کر حج کا ارادہ ملتوی فرمایا اور پورے ملک میں اپنے متوسلین کو ہدایت فرمائی کہ وہ تحریک میں سرگرمی سے کام کریں اور تحریک کو کامیاب بنانے کی کوشش کریں۔
خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد ؒ جب خانقاہ سراجیہ کی مسند ارشاد پر متمکن ہوئے تو اپنے مرشد حضرت ثانی ؒ اور حضرت اعلیٰ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ختم نبوت کے مشن پر قائم و دائم رہے اور اپنے متوسلین کو بھی اس کی ترغیب دیتے رہے۔ ١٩٧٤ء میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی امارت کے لئے شیخ الاسلام حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری ؒ کو آمادہ کیا گیا تو انہوں نے امارت اس شرط پر تسلیم کر لی کہ نائب حضرت خواجہ خان محمد ؒ ہوں گے۔ ٩ اپریل ١٩٧٤ء کو حضرت شیخ الاسلام علامہ سید محمد یوسف بنوری ؒ امیر مرکزیہ اور حضرت مولانا خواجہ خان محمد ؒ نائب امیر مقرر ہوئے۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
مجلس تحفظ ختم نبوت کی امارت کے عہدے پر
١٧ اکتوبر ١٩٧٧ء کو حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوریؒ کی وفات کے بعد حضرت خواجہ خواجگانؒ کو مجلس کا امیر مرکزیہ بنایا گیا۔ جب مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی شوریٰ نے امارت کے لئے آپ سے درخواست کی تو آپ نے انتہائی رقت آمیز عاجزانہ تحریر فرمایا جس میں کمال تواضع وانکساری سے اظہار فرمایا کہ میں خادم کی حیثیت سے کام کرتا رہوں گا۔ یہ عظیم ذمہ داری کسی اہل آدمی کے سپرد کر دیں میں اس کا اہل نہیں۔ لیکن مجلس کے با بصیرت حضرات نے باصرار آپ کو یہ عہدہ قبول کرنے پر مجبور کیا۔ اپنے عہد امارت میں آپ عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے سرگرم عمل رہے۔ پوری دنیا کے سفر کئے۔
آپ کے دور امارت کی فتوحات
- مرزائیوں کے شہر چناب نگر میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے رفقاء کا داخلہ اگر چہ ١٩٧٤ء کی
تحریک کے فوراً بعد ہو گیا تھا۔ ریلوے اسٹیشن ”جامع مسجد محمدیہ“ کے نام سے ایک مسجد بھی تعمیر ہو گئی۔ لیکن ١٩٧٦ء میں چناب نگر کے مشرق میں دریائے چناب کے قریب ”لو انکم سکیم“ کے تحت مسلم کالونی ہاؤسنگ سکیم قائم ہوئی۔ جس میں مجلس کو نو کنال زمین میسر آئی۔ مجلس کی قیادت نے فیصلہ کیا کہ اس پلاٹ میں مسجد، مدرسہ اور ایک لائبریری بنائی جائے۔ ٧ جولائی ١٩٧٦ء کو حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ نے آکر عصر کی نماز بھی پڑھائی۔ اب پروگرام یہ تھا کہ شیخ الاسلام علامہ سید محمد یوسف بنوریؒ آکر سنگ بنیاد رکھ لیں تاکہ باقاعدہ کام کا آغاز ہو۔ حضرت بنوریؒ کی آمد مؤخر ہوتی گئی۔ کبھی ان کی شبانہ روز مصروفیات آڑے آجاتیں، کبھی موسم کا بہانہ کھڑا ہو جاتا۔ کبھی حکومتی اجازت کی مشکل پیش آجاتی۔ تا آنکہ حضرت علامہ شیخ بنوریؒ اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ سنگ بنیاد پھر حضرت خواجہ خواجگانؒ نے رکھا۔
- چناب نگر ختم نبوت کانفرنس کا آغاز بھی آپ کے دور امارت میں ہوا۔ یہ نہایت تاریخی
اور اہمیت کی حامل کانفرنس ہوا کرتی تھی۔ جس میں تمام مکاتب فکر عوام و خواص شریک ہوتے۔ ٢٣۔٢٤ اکتوبر ١٩٨٢ء میں پہلی کانفرنس آپ کی زیر صدارت منعقد ہوئی۔
- مجلس تحفظ ختم نبوت اپنے یوم تأسیس سے ”ہفت روزہ ختم نبوت“ کے نام پر ایک
جریدے کا ڈیکلریشن حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کرتی رہی۔ آپ کے دور امارت
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
مئی ١٩٨٢ء میں ڈیکلریشن کے لئے تگ و دو کی گئی تو ڈیکلریشن مل گیا اور ٢٩؍ مئی ١٩٨٢ء کو اس کا پہلا پرچہ جاری ہوا۔ یہ آپ کی توجہات اور کوششوں کا ثمرہ تھا۔ ورنہ عرصہ دراز سے اس کے لئے کوششیں جاری تھیں۔
- امتناع قادیانیت آرڈیننس جو ٢٦؍ اپریل ١٩٨٤ء کو جاری ہوا اور جس میں قادیانیوں پر
اپنے مذہب کے پرچار پر، اسلامی اصطلاحات اور شعائر کے استعمال اور اپنے آپ کو مسلمان کہلانے پر پابندی لگ گئی اور اس کو قابل تعزیر جرم سمجھا گیا۔ یہ بھی آپ کے دور امارت میں اور آپ کی مساعی اور جدوجہد سے ممکن ہو گیا۔ اس آرڈیننس کو منظور کرانے کے لئے آپ ہی کی قیادت میں مجلس عمل کے وفد نے صدر ضیاء الحق سے ملاقات کی اور ان کو اس پر آمادہ کیا کہ قادیانیوں کے متعلق قانون سازی کریں۔ ملاقات کے نتیجے میں صدر جنرل ضیاء الحق نے امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کر دیا۔
- جامع مسجد عائشہ مسلم ٹاؤن لاہور آپ کے دور امارت میں جون ١٩٩٥ء میں واگزار کرائی
گئی اور بعد میں اس ملحقہ دفتر میں مکتبہ ختم نبوت قائم ہوا۔
- کوٹری سندھ میں گوہر شاہی ملعون کا مرکز تھا۔ اس کے توڑ کے لئے وہاں مسجد و مدرسہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے قائم کئے۔ وہ دونوں مراکز آج تک تبلیغ اسلام کا فریضہ انجام دے رہے ہیں جو حضرت خواجہ خواجگان ؒ کی عہد امارت کی خوبصورت یادیں ہیں۔
- کنری میں ختم نبوت کی مسجد و مراکز حضرت مولانا محمد علی جالندھری ؒ کے عہد
میں تعمیر ہوئے تھے۔ حضرت علامہ سید بنوری ؒ کے دور میں ان کی توسیع ہوئی اور حضرت خواجہ ؒ کے دور میں تکمیل ہوئی۔
- کراچی میں جامع مسجد باب الرحمت دفتر ختم نبوت، لائبریری، مہمان خانہ وغیرہ کی دو
منزلہ عمارت کی تعمیر کا فیصلہ اور تکمیل بھی آپ کی امارت کے ایام زریں میں ہوئی۔
- سکھر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مدرسہ، مسجد، دفتر ختم نبوت کی
خوبصورت عمارت آپ کے عہد امارت کی ایک حسین یادگار ہے۔
- رحیم یار خان میں دفتر آپ ہی کی امارت کے ایام میں قائم ہوا۔
- آپ کے دور میں مجلس نے عالمی حیثیت اختیار کی اور لندن ختم نبوت کانفرنس شروع
ہوئی۔ وفات سے دو تین سال قبل تک آپ صدارت فرماتے رہے۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
- ٭...... ١٩٨٢ء کو آپ نے سرگودھا میں ختم نبوت کے مبلغ کے طور پر مولانا محمد اکرم طوفانی کو
بھیجا۔ انہوں نے محنت ولگن سے جماعت کے نام زمین خرید لی۔ ١٩٨٥ء میں حضرت نے افتتاح فرما کر وہاں پر مجلس کا ملکیتی دفتر قائم کیا۔
- ٭...... ٹاہلی ایسی جگہ ہے جہاں بڑے بڑے جاگیردار مرزائی رہتے تھے۔ حضرت کی
توجہ، اخلاص وللہیت کی برکت سے وہاں بھی مجلس کے زیر اہتمام مسجد، مدرسہ اور دفتر قائم ہو گئے۔
شعبہ نشر واشاعت کا قیام
مجلس کا شعبہ نشر واشاعت یوں تو یوم تاسیس سے قائم تھا۔ لیکن اس شعبہ میں وسعت اور گہرائی آئی حضرت خواجہ خواجگان ؒ کے دور امارت میں:
- ١...... شہید اسلام مولانا محمد یوسف لدھیانوی ؒ کے تحریر کردہ رسائل کو تحفہ قادیانیت کے
نام سے چھ جلدوں میں شائع کیا گیا۔
- ٢...... قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ، رئیس قادیان، اسلام اور قادیانیت کا تقابلی جائزہ، التصریح
بما تواتر فی نزول المسیح سمیت کئی اہم کتابیں شائع ہوئیں۔
احتساب قادیانیت جو فتنہ قادیانیت کے حوالہ سے ایک انسائیکلوپیڈیا، کی جمع واشاعت بھی آپ کی دور امارت میں شروع ہوئی تھی۔ یہ مجموعہ مولانا اللہ وسایا کی جہد و مساعی سے ٦٠ جلدوں میں جو کہ تقریباً ٤٠ ہزار صفحات پر مشتمل ہے، منظر عام پر آیا ہے اور ہر عام و خاص سے خراج تحسین پا چکا ہے۔ یہ بھی حضرت خواجہ خواجگان ؒ کے دور امارت کی حسین یادگار ہے۔
شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا کی تصنیف لطیف ”آئینہ قادیانیت“ جس کا عربی انگریزی، ہندی، سندھی اور دیگر زبانوں میں ترجمہ بھی ہو چکا ہے۔ آپ کے دور امارت میں وفاق المدارس العربیہ کے نصاب میں شامل کی گئی۔
حضرت خواجہ خواجگان کے دور امارت میں قادیانیوں کے خلاف عدالتوں میں درجنوں فیصلے ہوئے۔ تاویل کا ہر دروازہ ان پر بند کیا گیا اور ہر خاص و عام پر قادیانیت کی حقیقت کھلی۔ اس کے علاوہ پورے ملک میں رد قادیانیت کورسز کا اہتمام کیا گیا۔ مبلغین کی ماہانہ اور سالانہ میٹنگز با قاعدہ طور پر شروع ہوئیں۔ بعض اجلاسوں کی صدارت بذات خود فرماتے۔ ان میٹنگز میں خود احتسابی، پچھلی کارکردگی کی صورتحال، آئندہ کے لئے لائحہ عمل ، ختم نبوت کانفرنسیں اور کورسز تشکیل دیئے جاتے۔ یہ سلسلہ تاہنوز جاری وساری ہے۔ یہ حضرت کی باقیات الصالحات ہیں۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
خدا تعالیٰ قادیانیت کے مکمل خاتمے تک اس کو یوں ہی رواں دواں رکھیں۔ تحفظ ختم نبوت کے لئے حضرت کے مساعی کی اتنی طویل فہرست ہے کہ اجمالی بھی ذکر کریں تو صفحات سینکڑوں سے تجاوز کر جائیں۔ اس لئے اسی پر اکتفاء کرتے ہیں۔
بیماری اور سفر آخرت
عمر کے آخری حصے میں آپ کی طبیعت ناساز رہنے لگی اور ضعف و نقاہت کا غلبہ رہنے لگا۔ علاج معالجے کی بھر پور کوشش کی گئی۔ آپ انتہائی صابر وشاکر تھے۔ خانقاہ پر ہر وقت مریدین اور زائرین کا کثیر مجمع رہتا تھا۔ لوگ آپ کی زیارت کے لئے ترستے تھے۔ آپ سب کو اپنی زیارت سے نوازتے۔ ہر ایک کی بات غور سے سنتے۔ پھر اس کے مطابق دعا فرماتے۔ سب کی تشفی و تسلی فرماتے۔ کبھی ناگواری اور زحمت کا احساس نہیں فرمایا۔ جیسے شروع سے کریم، شفیق اور مہربان تھے آخر دم تک ایسے رہے۔ ہوش وحواس میں رہے اور یومیہ معمولات وعبادات کو ادا کرتے رہے۔ وصال سے تقریباً بیس دن قبل عارضہ جگر لاحق ہوا۔ متعلقین اور احباب کے مشورے سے آپ کو ملتان ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا۔ پندرہ روز ملتان میں زیر علاج رہے۔ آپ کے عقیدت مندوں کی کثیر تعداد دور دراز سے آپ کی عیادت وزیارت کے لئے وہاں بھی حاضر ہوتی رہی۔ جب کوئی دعا کے لئے عرض کرتا تو آپ فرماتے میں آپ کے لئے دعا کرتا ہوں۔ آج آپ سب میرے لئے دعا کریں۔
بالآخر وقت موعود آ پہنچا۔ بروز بدھ ٢٠؍ جمادی الاولیٰ ١٤٣١ھ مطابق ٥؍ مئی ٢٠١٠ء بوقت شام سوا آٹھ بجے آپ راہی عدم ہو گئے۔ انا لله وانا اليه راجعون!
آپ کے وصال کی خبر آناً فاناً پوری دنیا میں پھیل گئی۔ اہل ایمان کے قافلے جوق در جوق آپ کے جنازے میں شرکت کے لئے ملک کے کونے کونے سے روانہ ہو گئے۔ دوسرے روز نماز ظہر کے بعد ٣ بجے آپ کی نماز جنازہ آپ کے جانشین صاحبزادہ حضرت مولانا خواجہ خلیل احمد کی اقتداء میں ادا کی گئی۔ لوگوں کا ایک سمندر آپ کے جنازے کے لئے خانقاہ سراجیہ کی طرف امڈ آیا۔ ہر طرف سر ہی سر نظر آ رہے تھے۔ جنازے میں ہر مکتبہ فکر کے لاکھوں لوگ شامل تھے۔ نماز جنازہ کے بعد آپ کو خانقاہ سراجیہ کی تاریخی مسجد کے عقب میں احاطۂ مزارات میں آسودہ خاک کیا گیا۔ جہاں آپ کے پیر و مرشد حضرت مولانا خواجہ محمد عبداللہ لدھیانوی ؒ ، آپ کے مربی و شیخ حضرت خواجہ ابو السعد احمد خان ؒ اور خاندان کے دوسرے حضرات محو استراحت ہیں۔
فرحمة الله عليهم اجمعين
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
قاری محمد عارف صاحب مظفرگڑھ کے ایک دینی مدرسے میں معلم ہیں اور وہ حضرت قبلہ مولانا خواجہ خان محمد مرحوم کے مخلص ارادت مند ہیں۔ ایک مرتبہ خانقاہ شریف میں حاضر ہوئے اور حضرت قبلہ ؒ سے عرض کیا کہ: ”میں آپ جیسی عظیم الشان ہستی کا مرید ہوں، مگر مجھے واردات و کیفیات وغیرہ کا کبھی ادراک نہیں ہوا۔ آپ یہ کرم فرمائیں کہ مجھے حضور رسالت مآب ﷺ کی زیارت ہو جائے۔“ آپ یہ سن کر مسکرا دیئے اور خاموش رہے۔
اسی رات قاری صاحب، حضور نبی کریم ﷺ کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ حضرت قبلہ مولانا خان محمد ؒ بھی آپ ﷺ کے ساتھ تشریف فرما تھے۔ حضرت قبلہ ؒ نے فرمایا کہ: ”قاری صاحب! اب خوب جی بھر کر حضور ﷺ کی زیارت کرلو۔“ اس کے بعد خواب ختم ہو گیا۔
صبح کو جب حضرت قبلہ مولانا خان محمد ؒ مجلس مبارک میں تشریف لائے تو قاری صاحب موصوف نے حاضر ہوکر پھر التماس کی کہ: ”میں حضور نبی کریم ﷺ کی زیارت کا ہنوز مشتاق ہوں، اس سعادت کے حصول کے لئے آپ ضرور توجہ فرمائیں۔“ حضرت قبلہ نے جواب دیا کہ: ”قاری صاحب! روز روز پروگرام نہیں بنا کرتے۔“
(تحفۂ سعدیہ ص ٣٣٥)
مولانا اسلام الدین صاحب ایڈیٹر ”ظہور اسلام“ سری نگر کشمیر، نے خواب میں حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کی زیارت کی۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ نے ارشاد فرمایا کہ: ”برصغیر کے مسلمانوں کے حالات قابل رحم ہیں۔ آپ مولانا خواجہ خان محمد صاحب پاکستانی کو کہیں کہ وہ برصغیر کے مسلمانوں کے لئے اللہ رب العزت سے دعا کیا کریں۔“ مولانا اسلام الدین نے سری نگر سے خط کے ذریعے کراچی دفتر ختم نبوت لکھا کہ شیخ المشائخ اعلیٰ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب ؒ تک حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کا پیغام پہنچا دیں۔ (حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ جلیل القدر صحابی رسول ہیں، عشرہ مبشرہ میں سے ہیں)
میر پور خاص، سندھ کے ڈاکٹر امداد اللہ احمدانی مدینہ طیبہ گئے۔ روضہ طیبہ پر درود سلام پڑھا اور دعا کی کہ: ”اے آقائے نامدار! (ﷺ) آپ کا جو بہت پیارا امتی ہے، اس بزرگ کی مجھے آج زیارت ہو جائے۔“ یہ دعا کر کے مواجہہ شریف سے پیچھے ہٹے تو ایک دوست نے کہا کہ: ”ڈاکٹر صاحب! پاکستان سے مولانا خواجہ خان محمد صاحب تشریف لائے ہوئے ہیں۔ آپ زیارت کے لئے چلیں گے؟“ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ: ”میرے دل میں آیا کہ آج تو میری دعا نقد قبول ہو گئی۔ میں گیا اور جا کر مولانا خواجہ خان محمد صاحب کی ملاقات و زیارت کی۔“
(از قلم: مولانا محمد عبداللہ معتصم)
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
(٧)
حکیم العصر شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی ؒ
(پیدائش: ٥؍ جون ١٩٣٢ء ...... وفات: ٢؍ فروری ٢٠١٥ء)
نسب
حکیم العصر شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانوی ؒ کی پیدائش موضع سلیم پور ضلع لدھیانہ میں حافظ محمد یوسف کے گھر ہوئی۔ آپ کا نسبی تعلق آرائیں خاندان سے تھا۔ حافظ محمد یوسف سلیم پور کی مسجد کے پیش امام تھے۔ اس وجہ سے پورے علاقے میں عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ حضرت شیخ ؒ نے سکول کی ابتدائی تعلیم کے لئے سلیم پور کے ہائی سکول میں داخلہ لیا۔ آپ کے والد صاحب چونکہ حافظ قرآن تھے اس لئے ناظرہ قرآن اور یومیہ دعائیں انہوں نے گھر ہی میں یاد کرادی تھیں۔ اس دور میں سلیم پور کے ہائی سکول میں ماسٹر منظور احمد خلیفہ مجاز حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوری ؒ اور حضرت مولانا عبداللہ ؒ سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ بطور اساتذہ مقرر تھے۔ ان کے علاوہ حضرت مولانا محمد ابراہیم خلیفہ مجاز حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوری ؒ بھی اسی سکول میں استاد تھے۔ ابتدائی زمانے میں حضرت شیخ ؒ کو ان بزرگوں کا فیض صحبت ملا جس کی وجہ سے آپ آفتاب ومہتاب بن کر چمکے۔
حضرت حکیم العصر ؒ ابھی آٹھویں جماعت میں پڑھ رہے تھے کہ تقسیم ملک اور مسلمانوں کی ہجرت کا خون ریز اور دلدوز واقعہ پیش آیا۔ آپ بھی نفاذ اسلام کے سپنے آنکھوں میں سجا کر آگ وخون کے دریا کو عبور کر کے پاکستان پہنچے۔ والدین نے گوجرہ کے پاس چک نمبر ١٦٣ ج۔ب میں جہاں سلیم پور سے آئے ہوئے بہت سے خاندان آباد ہو گئے تھے، سکونت اختیار کرلی۔ کچھ عرصہ یہاں رہ کر پھر شورکوٹ کینٹ کے نزدیک چک ٣٢٧ گ۔ب میں اپنے والدین کے ہمراہ مستقل سکونت اختیار کی۔ ١٩٤٨ء میں ہائی سکول شورکوٹ شہر میں داخل ہوئے اور مارچ ١٩٤٨ء میں مڈل کا امتحان نمایاں کامیابی کے ساتھ پاس کیا۔
دینی تعلیم کی طرف رغبت
حضرت حکیم العصر کے خود نوشتہ حالات میں لکھا ہے: ”سکول کی تعلیم کے دوران مجھے
چمنستان ختم نبوت کے گلہائے رنگارنگ
یوں محسوس ہو رہا تھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے کسی اور مقصد کے لئے پیدا کیا ہے اور جو میں تعلیم حاصل کر رہا ہوں وہ کچھ اور ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ تقسیم سے قبل ہمارے گاؤں سلیم پور میں آزادی ہند کے حوالے سے ایک جلسہ رکھا گیا جس میں خطاب کے لئے دیگر علماء کے ساتھ شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ بھی تشریف لائے تھے۔ میں (حضرت حکیم العصرؒ) اس وقت دس بارہ سال کا تھا۔ حضرت مدنیؒ نے جو خطاب فرمایا تو وہ میرے فہم اور سمجھ سے بالاتر تھا۔ لیکن حضرت مدنیؒ کی شخصیت اور نورانیت دل میں ایسے رچ بس گئی کہ اس کی ٹھنڈک آج بھی محسوس کرتا ہوں۔ اسی وقت میں نے دل میں فیصلہ کر لیا کہ میں سکول کی تعلیم کی بجائے دینی تعلیم حاصل کروں گا۔"
دینی تعلیم کا آغاز
چنانچہ مڈل پاس کرنے کے بعد آپ خاندان والوں کی ناراضگی اور مخالفت کے باوجود دینی علوم حاصل کرنے کے لئے ١٩٤٩ء میں جامعہ ربانیہ (پھلور ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ) میں داخلہ لیا۔ یہاں آپ کو مولانا محمد رفیق کشمیری صاحبؒ کی خدمت اور صحبت کا موقع ملا جو اس وقت وہاں کے شیخ الحدیث تھے۔ یہاں پر آپ دو سال زیر تعلیم رہے۔ فارسی، صرف ونحو، ابتدائی منطق اور ابتدائی عربی کی کتابیں یہاں سے پڑھیں۔ انہی دنوں مولانا کرم الٰہی صاحب نے فیصل آباد میں "اشرف الرشید" کے نام سے ایک مدرسہ شروع کیا تو آپ نے مولانا نذیر احمد (شیخ الحدیث و بانی جامعہ امدادیہ فیصل آباد) کے ہاں داخلہ لیا۔ یہاں آپ نے تین سال مختلف علوم وفنون پڑھے۔ اسی اثناء میں حکیم الاسلام قاری محمد طیبؒ فیصل آباد تشریف لائے۔ آپ نے محض قاری صاحب کی زیارت کے لئے ٨،٩ میل کا پیدل سفر کیا۔
٢١؍ جون ١٩٥٤ء میں آپ جامعہ قاسم العلوم ملتان میں داخل ہوئے۔ جامعہ قاسم العلوم ملتان میں اس وقت مولانا عبد الخالق سابق مدرس دار العلوم دیوبند، مولانا مفتی محمد شفیعؒ، مولانا مفتی محمودؒ، مولانا محمد ابراہیم تونسویؒ اور مولانا علی محمدؒ جیسے جبال العلم پڑھاتے تھے۔ آپ نے مولانا عبد الخالق صاحب سے صحیح بخاری اور جامع ترمذی اور فقیہ اعظم مفتی محمودؒ سے صحیح مسلم پڑھی۔ آپ اساتذہ میں حضرت مولانا مفتی محمودؒ اور حضرت مولانا عبد الخالقؒ سے زیادہ متاثر تھے۔ ٣٠؍ ستمبر ١٩٥٦ء میں آپ نے یہاں سے فراغت حاصل کی۔ دستار بندی بدست قطب الاقطاب شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ ہوئی۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
عملی زندگی کا آغاز
تحصیل علم سے فراغت کے بعد آپ نے تدریسی سفر کا آغاز کیا جو اکسٹھ سال کے طویل عرصہ پر مشتمل تھا۔ تدریس کا آغاز آپ نے جامعہ نعمانیہ کمالیہ سے کیا۔ ابھی یہاں پر تدریس کا ایک ہی سال گزرا تھا کہ جامعہ قاسم العلوم ملتان کے مردم شناس اساتذہ کی نظر انتخاب آپ پر پڑی اور انہوں نے آپ کو ”قاسم العلوم“ میں تدریس کے لئے بلایا۔ یہاں آپ نے سال بھر تدریس کے فرائض سرانجام دیئے۔ ان دنوں آپ جوان رعنا تھے۔ مفتی محمود ؒ نے نقشہ تقسیم اسباق میں آپ کے نام کے سامنے مختلف فنون کی ضخیم اور مطول کتابیں لکھ لیں تو طلبہ میں اضطراب اور بے چینی پیدا ہوگئی کہ اتنا کم عمر استاد فنون کی اتنی ضخیم اور مشکل کتابیں کیونکر پڑھائے گا۔ چنانچہ چند طلباء اکٹھے ہو کر مفتی محمود ؒ کی خدمت میں چلے گئے اور عریضہ پیش کیا کہ ہمارے کلاس کے فنون کی کتابیں کسی بڑے استاد کو دی جائیں۔ مولانا عبدالمجید نو عمر ہیں اور تدریسی تجربہ بھی نہیں۔ ان میں ان کتابوں کو پڑھانے کی تاب نہیں۔ مفتی محمود ؒ نے ان سے فرمایا کہ تم ایسا کرو کہ میرے اعتماد پر ایک آدھ سبق ان سے پڑھ لو۔ میرا دل کہتا ہے کہ ایک مرتبہ سبق پڑھ کر تمہارا مطالبہ یہ ہوگا کہ ہمارے سارے اسباق اس نو آموز مدرس کے ذمہ لگائے جائیں۔ بالفرض آپ لوگ پھر بھی مطمئن نہ ہوئے تو تمہارے اسباق کسی اور مدرس کے ذمہ لگا دیئے جائیں گے۔ چنانچہ ان طلباء نے جب آپ سے سبق پڑھا اور آپ کا منفرد انداز تدریس اور افہام کا ملکہ دیکھا تو وہ سب سے زیادہ حضرت شیخ لدھیانوی ؒ کی تدریس سے مطمئن اور خوش تھے۔
تدریس کا یہ سال بخیر و عافیت اختتام کو پہنچا۔ سالانہ تعطیلات میں آپ روشن والا گاؤں فیصل آباد میں ٹھہرے ہوئے تھے کہ آپ کے استاد محترم شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الخالق ؒ وہاں تشریف لائے اور آپ کو ”دارالعلوم کبیر والا“ لے جانے کا ارادہ ظاہر فرمایا۔ آپ نے پس وپیش اور معذرت کی کوشش کی۔ لیکن مولانا عبد الخالق ؒ نے کافی اصرار کرتے ہوئے فرمایا: ”جب تک کبیروالا میں تدریس قبول نہ کرو گے میں یہیں بیٹھا ہوں ۔“ چار و ناچار آپ نے حضرت مولانا عبد الخالق ؒ کا مطالبہ تسلیم کرکے دارالعلوم کبیر والا میں پڑھانے کا ارادہ ظاہر فرمایا۔ ١٩٥٧ء تا ١٩٧٢ء پندرہ سال آپ نے دارالعلوم میں تدریسی خدمات انجام دیں۔
دارالعلوم کبیر والا میں آپ کو آئے ابھی تھوڑا عرصہ ہوا تھا کہ ایک دن دارالعلوم کبیر والا کی مجلس شوریٰ نے اپنے ایک اجلاس میں آپ کو بلایا اور حضرت مولانا عبد الخالق ؒ کے ایماء پر مجلس شوریٰ نے آپ کو مدرسہ کا نظم سنبھالنے کی خواہش ظاہر کی۔ اہتمام اور مالی ذمہ داریاں سنبھالنا
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگارنگ
آپ کے مزاج کے خلاف تھا۔ اس لئے آپ نے یہ ذمہ داری لینے سے انکار کرتے ہوئے فرمایا کہ میرا اور میری بیوی کا روزانہ ہانڈی کے مسئلے پر جھگڑا ہوتا ہے کہ آج کیا پکایا جائے۔ جب میں اپنے چھوٹے سے گھر کو نہیں سنبھال سکتا تو مدرسہ کا انتظام بھلا کیسے سنبھال سکتا ہوں۔ دارالعلوم کبیر والا میں تدریس کے دوران آپ نے انتہائی اہم اور معتبر اسباق کی تدریس کی۔ بالخصوص آپ کے درس قرآن اور درس مشکوٰۃ نے بہت زیادہ شہرت پائی۔
کبیر والا میں تدریس کے دوران آپ نے جامع مسجد نور کبیر والا میں چودہ سال تک بلامعاوضہ خطابت کے فرائض سرانجام دیئے۔ آپ کا بیان سادہ لیکن نہایت دلچسپ اور پرمغز ہوتا۔ آپ کے بیانات اکثر و بیشتر علاقائی رسم و رواج، سماجی برائیوں اور دین کے نام پر پھیلی بے دینی کے رد میں ہوتے۔ شہر کا بڑا حلقہ آپ کی دلنشیں گفتگو اور لاجواب شخصیت کی وجہ سے آپ سے بہت عقیدت رکھتا تھا۔
جامعہ باب العلوم کہروڑ پکا میں ورود مسعود
دارالعلوم کبیر والا کے مہتمم حضرت مولانا عبدالخالق ؒ زندگی کے آخری لمحات میں کافی بیمار اور کمزور رہنے لگے۔ گھنٹوں غشی طاری ہوتی تھی۔ ایک مرتبہ غشی سے ہوش میں آئے تو آپ کو اپنے قدموں میں بیٹھا ہوا پایا۔ حضرت مولانا عبدالخالق ؒ نے آپ سے کوئی بات کرنی چاہی۔ لیکن زبان لڑکھڑا رہی تھی۔ اس لئے بات سمجھنے میں دقت ہورہی تھی۔ آپ ان کے قریب ہوئے تو مولانا عبدالخالق ؒ نے آپ کی گردن میں بازو ڈال کر شدت سے اپنی طرف کھینچا اور منہ آپ کے کان کے قریب کر کے فرمایا: ”دارالعلوم چھوڑ کر نہ جانا۔“ آپ نے عرض کیا: ”آپ مطمئن رہیں۔ میں از خود کبھی دارالعلوم چھوڑ کر نہیں جاؤں گا۔“ اپنے استاد سے کئے ہوئے وعدے کی آپ نے مقدور بھر پاسداری کی۔ نہایت مشکل حالات میں بھی آپ نے دارالعلوم سے علیحدگی اختیار نہ کی۔ بعد میں جب اللہ کو منظور تھا اور اللہ نے کبیر والا میں آپ کا دانہ پانی ختم کر دیا تو آپ دارالعلوم کبیر والا سے علیحدہ ہوگئے۔
کبیر والا سے علیحدگی کے وقت آپ کی عمر چالیس برس تھی۔ آپ کی تدریسی مہارت کا دور دور تک شہرہ تھا۔ اس لئے کئی مدارس نے تدریس کے لئے آپ کو پیشکشیں کیں۔ ان مدارس میں سے ایک مدرسہ جامعہ باب العلوم کہروڑ پکا بھی تھا۔ باب العلوم ایک غیر منظم اور ویران سا مدرسہ تھا اور کہروڑ پکا میں اس وقت نہ بجلی تھی نہ گیس اور نہ ہی دیگر آسائشیں۔ مدرسہ میں چاروں طرف خاک اڑ رہی تھی۔ چند ٹوٹے پھوٹے کمروں، برائے نام تعلیم اور خاردار جھاڑ جھنکار کے سوا وہاں کچھ نہ تھا۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
باب العلوم کہروڑ پکا کے مہتمم جناب خورشید عباس اور ان کے جواں سال صاحبزادے غلام محمد عباسی نے مدرسے کا سارا انتظام وانصرام آپ کے حوالے کر دیا اور آپ کے دور ١٩٧٣ء سے ٢٠١٥ء تک ان بیالیس سالوں میں انہوں نے جامعہ کے معاملات میں کسی قسم کی مداخلت نہ کی۔
حضرت شیخ لدھیانوی ؒ نے مدرسے کا انتظام خود سنبھالا اور اس کے لئے اپنے لائق شاگردوں کی خدمات حاصل کیں۔ شروع میں بجلی کا نظام نہ تھا۔ مگر دو سال بعد بجلی آ گئی۔ شعبان، رمضان اور شوال یہ تین مہینے صرف مدرسے کی صفائی پر لگ گئے۔ بالآخر آپ کی محنتیں رنگ لائیں اور مدرسہ باب العلوم ”جامعہ باب العلوم“ بن کر ملک بھر کے مدارس میں ایک نمایاں مدرسے کے طور پر ابھرا۔
باب العلوم کے پہلے سال مہتمم جناب خورشید احمد عباسی مرحوم نے آپ سے سال کے خرچ کا تخمینہ لاگت پوچھی۔ آپ نے قلم کاغذ لے کر اندازے سے تقریباً ڈیڑھ صد طلباء کا حساب لگا کر ٥٠ ہزار کا تخمینہ لگایا۔ حضرت کی بے مثال ذہانت، فراست اور بصیرت کا اندازہ لگائیں کہ اتنے ہی طلباء پہلے سال پڑھنے کے لئے آ گئے اور درجہ اولیٰ سے موقوف علیہ اسباق باضابطہ شروع ہو گئے۔ آپ کے علاوہ شیخ حضرت مولانا منیر احمد منور، حضرت مولانا حبیب احمد، حضرت مولانا سید جاوید حسین شاہ، مولانا مشتاق احمد، مولانا عبید اللہ ارشد اور قاری محمود حسن اس سال باب العلوم میں مدرس تھے۔ سال کے اختتام پر جب حساب کتاب باقاعدہ مکمل اور منضبط ہو کر سامنے آیا تو پورے سال کا میزانِیہ ٥٢ ہزار روپے تھا۔
باب العلوم میں تدریس کے تیسرے سال آپ نے درجہ موقوف علیہ کے چار طلباء کا انتخاب کر کے ان کو صرف صحیح بخاری پڑھائی۔ مقصد یہ تھا کہ دورۂ حدیث شروع کرنے سے قبل بخاری کی تدریس کا عمل مشق کر کے مشکلات اور مقتضیات کا اندازہ ہو۔ پھر ان ساری باتوں کو سامنے رکھ کر دورۂ حدیث شروع کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کیا جائے۔ اگلے سال (١٩٧٦ء) سے باقاعدہ دورۂ حدیث کا اجراء کر دیا گیا۔ پہلے سال دورۂ حدیث میں ١٧ طلباء داخل ہوئے۔ جن میں پچھلے سال والے چار طلباء بھی شامل تھے۔ سال کے اختتام پر صحیح بخاری کی آخری حدیث کا درس دینے کے لئے شیخ الاسلام علامہ سید محمد یوسف بنوری ؒ کو دعوت دی گئی۔ حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری ؒ اپنی ہمہ جہات مصروفیت کے باوجود کہروڑ پکا کے اس پسماندہ گاؤں میں تشریف لائے اور بخاری شریف کی آخری حدیث کا درس دیا۔ ہمہ قسم کی سہولیات سے عاری جامعہ باب العلوم کے ماحول کو خوب سراہا۔ خوشی کا اظہار فرمایا اور دعائیں دیتے ہوئے فرمایا: ”مجھے یہاں سے علم کی خوشبو آ رہی ہے۔“
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
آپ کی شبانہ روز محنت، اخلاص اور للہیت کی بدولت جامعہ باب العلوم تیزی سے ترقی کے شاہراہ پر گامزن ہو گیا۔ طلبہ کی تعداد روز بروز بڑھتی گئی۔ ہر ہر شعبہ میں حسن اور نکھار آنے لگا۔ دیگر شعبوں کے علاوہ بچیوں کے لئے شعبہ تعلیم النساء بھی قائم ہو گیا۔
انداز تدریس
حضرت شیخ لدھیانوی ؒ چونکہ شیخ الحدیث مولانا عبدالخالق ؒ اور مفکر اسلام مفتی محمود ؒ کے شاگرد تھے۔ اس لئے ان دو حضرات کی صفات و امتیازات آپ میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھیں۔ آپ کی تدریس میں وضاحت کا عنصر اور فقاہت کا جوہر مفتی محمود ؒ کی شاگردی کی وجہ سے تھا اور گہری علمیت اور افہام کا سلیقہ حضرت مولانا عبدالخالق ؒ کے ساتھ نسبت تلمذ کی وجہ سے تھا۔ آپ شروحات اور نوٹس دیکھ کر رٹی رٹائی تقریر نہیں سناتے تھے۔ بلکہ آپ کا اپنا طرز و طریقہ تھا۔ عبارت کا مفہوم پہلے خارج میں آسان لفظوں میں سمجھا دیتے۔ جب مفہوم آ جاتا پھر عبارت پڑھا دیتے۔ یوں مشکل سے مشکل عبارتیں طلبہ کو چٹکیوں میں سمجھ آجاتیں۔ تدریس میں ظرافت طبع کا بھی خوب خوب مظاہرہ کرتے۔ ایک مرتبہ ایک طالب علم نے از راہ تفنن پوچھا کہ استاد جی! مغربی سائنسدان آئن سٹائن کہتا ہے کہ انسان بندر کی ترقی یافتہ شکل ہے اور ہم سب بندر کی اولاد ہیں تو آپ نے برجستہ جواب دیا کہ بھائی ہر کوئی اپنے خاندانی حالات کو بہتر جانتا ہے۔ ہم تو بابا آدم کی اولاد ہیں۔ سائنسدان نے اپنے خاندان کے بارے میں بات کی ہے اور اس کی مرضی اپنے خاندان کو جہاں مرضی جوڑتا رہے۔
سلوک و تصوف
حضرت شیخ الحدیث ؒ نے ١٣٧٦ھ کے رمضان المبارک میں شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ رائے پوری ؒ کے واسطے سے قطب الاقطاب حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوری ؒ کے دست حق پرست پر بیعت کی۔ جب ١٣٨٢ھ کو حضرت رائے پوری ؒ کا انتقال ہوا تو آپ حضرت رائے پوری ؒ کے خلیفہ حضرت مولانا عبدالعزیز سرگودھوی ؒ کے حلقہ ارادت میں داخل ہوئے۔ ١٤١٤ھ کو حضرت مولانا عبدالعزیز سرگودھوی ؒ بھی انتقال کر گئے تو آپ نے حضرت رائے پوری ؒ کے خلیفہ مجاز حضرت اقدس مولانا سید نفیس الحسینی شاہ ؒ کے ساتھ روحانی تعلق قائم کیا۔ حضرت مولانا عاشق الہی صاحب ؒ سے دلائل الخیرات اور حزب الاعظم پڑھنے کی اجازت حاصل کی تھی۔ بڑے شوق سے روزانہ ان کا ورد کرتے۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
مولانا عبدالعزیز سرگودھویؒ آپ پر غایت درجہ شفقت، توجہ اور اعتماد فرماتے تھے۔ آپ حضرت شیخ سرگودھویؒ کی مجلس میں اکثر خود تشریف لے جایا کرتے۔ اگر کبھی جانے میں دیر ہو جاتی تو حضرت سرگودھویؒ پیغام بھیج کر آپ کو بلا لیتے۔ اپنے قریب بٹھاتے اور اپنے ساتھ کھانا بھی کھلاتے۔ محبت کا یہ عالم تھا کہ اپنے ہاتھ سے لقمے بنا بنا کر آپ کو کھلاتے۔ اعتماد کا یہ عالم تھا کہ خانقاہی امور کے علاوہ بعض دفعہ ذاتی امور میں بھی آپ سے مشورہ لیتے۔ حضرت شیخ سرگودھویؒ کو آپ کے علم وتقویٰ پر بہت زیادہ اعتماد تھا۔ شیخ ومرید کی باہمی مناسبت، الفت ومحبت پورے حلقہ میں مشہور تھی اور بعض نے جانشین کے لئے قیاس آرائیاں کیں۔ حضرت سرگودھویؒ کی آپ کی نسبت یہ خواہش تھی کہ آپ علمی مشاغل کم کر کے سلوک کے راستے کو اختیار کر لیں۔ لیکن آپ پر علمی نسبت اتنی غالب تھی کہ اپنے آپ کو تصوف وسلوک کے مشاغل کے لئے فارغ نہ کر سکے۔
اکابر کے ساتھ تعلق خاطر
اللہ تعالیٰ نے حضرت شیخ الحدیث لدھیانویؒ کو اپنے اکابر کے ساتھ حد درجہ محبت وعقیدت کا جذبہ عطاء فرمایا تھا۔ درس حدیث کی مجلس ہو یا وعظ ونصیحت کی۔ مخاطب عوام ہوں یا خواص، کسی بھی موضوع پر بات چل نکلی تو اپنے اکابرین دیوبند کی تصریحات، اقوال وکردار اور ان کے واقعات کو بطور دلیل پیش فرماتے۔ اکابرین دیوبند کے ساتھ آپ کی بڑی راسخ اور پختہ نسبت تھی۔ جب کسی مسئلہ پر گفتگو فرماتے تو یوں محسوس ہوتا جیسے حضرت گنگوہیؒ، حضرت نانوتویؒ، حضرت شیخ الہندؒ، امام العصر حضرت کشمیریؒ اور حضرت تھانویؒ کی ارواح آپ کی طرف متوجہ ہو گئی ہیں۔ ایک مرتبہ اپنے خطاب کے دوران فرمایا کہ جس طرح نسبی اعتبار سے ہمارے آباؤ اجداد سے ہمارا رشتہ جڑا ہوا ہے۔ اس طرح علم وعمل اور روحانیت کے اعتبار سے بھی ہمارا رشتہ اپنے علمی، عملی اور روحانی آباؤ اجداد کے واسطہ سے سرور کائنات کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ اس لئے الحمد للہ! جس طرح جسمانی رشتے کے لحاظ سے ہم صاحب نسب ہیں۔ اسی طرح علمی وروحانی رشتے کے لحاظ سے بھی ہم صاحب نسب ہیں اور جو لوگ اکابر اسلاف کے واسطہ کے بغیر براہ راست قرآن وحدیث سمجھنے کا دعویٰ کر کے اپنے علم وعمل کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ شریعت میں اور اہل علم کے معاشرہ میں ان کی وہی حقیقت ہے جو آباؤ اجداد کے واسطے کے بغیر آدم کے ساتھ جسمانی رشتہ جوڑنے والوں کی ہے۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
ایک اور موقع پر فرمایا کہ جس عمل کی نسبت اکابر سے ثابت نہیں وہ عمل ہمارے نزدیک قابل قبول نہیں اور جو علم بے نسبت ہے۔ ہم اس کو نہ قبول کرتے اور نہ قابل اعتماد سمجھتے ہیں۔ اکابر کے واسطہ کے بغیر حاصل ہونے والا علم وعمل بے کار ہے۔ وہ کاغذی پھولوں کی طرح ہے جیسے کاغذی پھول زیبائش ونمائش کے کام تو آسکتے ہیں۔ لیکن پھولوں کے حقیقی اور اصلی ثمرات ان سے حاصل نہیں کئے جاسکتے۔ اسی طرح اکابر کے واسطہ اور اکابر کی نسبت کے بغیر، براہ راست قرآن وحدیث سے حاصل ہونے والا علم اپنی علمی دکان چلانے چمکانے اور نمودونمائش دکھانے کے کام تو آسکتا ہے۔ لیکن اس پر عمل کے اصلی وحقیقی ثمرات مرتب نہیں ہوسکتے۔
اکابر کے ساتھ ظاہری وباطنی کا اثر تھا کہ آپ افکار وعقائد میں خصائل وعادات میں، اقوال واعمال میں اکابر دیوبند کا عکس نظر آتے تھے۔ عام اصول زندگی اور سیاسی افکار کے اعتبار سے آپ پر حضرت مدنی ؒ اور شیخ الہند ؒ کی نسبت غالب تھی۔ عقائد ومسائل، احقاق حق اور ابطال باطل کے لحاظ سے حضرت گنگوہی ؒ اور حجۃ الاسلام مولانا نانوتوی ؒ کی نسبت غالب تھی۔ ضبط اوقات اور کثرت مطالعہ کی جہت سے دیکھا تو آپ پر تھانوی ؒ نسبت کا غلبہ تھا۔ ذکر وفکر سلوک وتصوف کے پہلو سے آپ پر رائے پوری ؒ نسبت غالب تھی۔
شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خاں نے اکابر کی محبت وعقیدت اور ان کی اتباع کے حوالے سے آپ کے بارے میں لکھا ہے: ”شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی ؒ اسلام، اہل السنّت والجماعت، احناف اور مسلک دیوبند کی حفاظت کے لیے سیاسی ومفادی مصلحتوں کو قربان کرنے والے ایک بہادر جرنیل ہیں۔ جسے اپنے اسلاف واکابر کی عظمتوں، قربانیوں، شجاعتوں اور ولولوں کی داستان ازبر اور ہروقت مستحضر ہے۔ وہ اپنے اکابر کے عاشق زار، ان کے طریق کار پر اعتماد رکھنے والے وفادار سپاہی ہیں۔ علم وتحقیق میں گہرائی ورسوخ اور مطالعہ میں تعمق وتوسع کے باوجود اپنے اکابر واسلاف کے علم وفکر اور تحقیق ونظریات کے پختہ مقلد ہیں۔ حکیم الامت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی ؒ، شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی ؒ اور دیگر اکابر کا نام سننے کے بعد کسی جدید تحقیق ونظریہ کو خاطر میں نہیں لاتے۔ متاخرین شیخ الاسلام حضرت مدنی ؒ کے دو عظیم وقابل فخر شاگرد، امام اہل السنّت حضرت مولانا سرفراز خان صفدر اور وکیل صحابہ حضرت مولانا قاضی مظہر حسین ؒ کی دیانت واصابت فکر پر مکمل اعتماد فرماتے تھے۔ ایک مرتبہ فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ کے ہاں اجمالی ایمان مقبول ہے تو میرے وہی عقائد ونظریات ہیں جو امام اہل السنّت مولانا محمد سرفراز خان صفدر اور قائد اہل السنّت حضرت مولانا قاضی مظہر حسین ؒ کے ہیں۔“
(لولاک، حکیم العصر نمبر)
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
افراد سازی و ادارہ سازی
حضرت حکیم العصر کی آئینہ گری اور مدبرانہ تراش خراش نے آپ کے شاگردوں میں وہ ہیرے موتی تیار کئے ہیں جو آج تدریس وتعلیم ، منبر ومحراب، تزکیہ واصلاح کے علاوہ دیگر بہت سارے دینی ونظریاتی سرحدوں پر بلند قدر وقامت سے کھڑے نظر آتے ہیں۔ آپ چھوٹوں کو بڑا بنانے کا فن جانتے تھے۔ ملک بھر میں جامعات کی ایک معتد بہ تعداد ایسی موجود ہے جن کو آپ نے اپنے مشوروں، آمد ورفت اور انتظامی ہدایات سے ایک متعارف علمی مقام بخشا ہے۔ جیسے افراد کو آپ زندگی بھر بڑا بناتے رہے۔ ایسے ہی مدارس کو جامعات کی شکل دینے میں بھر پور کردار ادا کر دیا۔ کتنے ہی ایسے ادارے ہیں جن میں دورۂ حدیث آپ کی حوصلہ افزائی اور مشفقانہ اصرار کی برکت سے شروع ہوا ہے۔ ملتان کے جامعہ رحیمیہ، جامعہ قادریہ حنفیہ، جامعہ فاروقیہ اور دیگر بہت سے مدارس نے آپ ہی کی تحریک اور حوصلہ افزائی سے دورۂ حدیث شروع کر دیا۔ ملک بھر میں جہاں آپ تشریف لے جاتے اپنے شاگردوں کے اداروں اور ان کی مساعی کا تذکرہ و تحسین فرماتے ۔ بعض اوقات ایسے جملے ارشاد فرماتے کہ آپ کے عزیز سن کر حیران ہوتے۔ مثلاً میرے فلاں عزیز کے ہاں مدرسہ میں روحانیت کے آثار بہت نمایاں ہیں۔ فلاں نے ماشاء اللہ خوب علمی ترقی کی ہے۔ فلاں میں انتظامی صلاحیتیں خوب ہیں۔ فلاں ادارہ میرا اپنا ہے۔ میری توجہات اور دعائیں ان کے حق میں ہوتی ہیں۔ میرا دل ان کی طرف متوجہ ہے۔
ذہانت اور ظرافت طبع
ربّ تعالیٰ نے آپ کو نہایت مضبوط حافظہ اور نقلی وعقلی دلائل پیش کرنے کی قوت واستعداد عطاء فرمائی تھی۔ ٣، ٤ دہائیوں پر مشتمل پرانے حالات جب آپ سناتے تو متعلقہ تاریخ بھی بتاتے۔ آپ کے سامنے کسی مسئلہ پر اچانک بحث شروع ہوتی تو اس کے متعلق دلائل ومعلومات کا وہ ذخیرہ پیش فرماتے جس طرح ابھی تازہ مطالعہ کر کے آئے ہوں۔ کبھی کسی شاگرد نے مشکوٰۃ شریف ، صحاح ستہ کی کسی حدیث کا حوالہ پوچھا تو احادیث کا اتنا استحضار تھا کہ کتاب دیکھے بغیر ہی کتاب ، باب ، فصل کے حوالے کے ساتھ اس حدیث کی طرف راہنمائی فرما دیتے۔ آپ نے باضابطہ کبھی شعر وشاعری کی کتابوں میں دلچسپی نہیں لی تھی۔ لیکن دیگر کتابوں کے مطالعہ کے دوران کوئی شعر سامنے آتا تو وہ ازبر ہو جاتا اور گفتگو کے دوران مناسب موقع محل پر اسے پیش بھی فرماتے۔ شیخ سعدی ؒ کی مشہور زمانہ کتابیں گلستان،
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
بوستان آپ نے حفظ کر رکھے تھے اور مختلف مواقع اور مختلف حوالوں سے ان سے خود بھی استفادہ فرماتے اور احباب کو بھی مستفید فرماتے ۔
ذہانت و فطانت کے ساتھ آپ کی طبیعت میں ظرافت بھی بلا کی تھی۔ موقع و محل کے لحاظ سے عقلی دلائل اور ظریفانہ جوابات دینے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ ایک جھلک ملاحظہ فرمائیں: بھٹو صاحب نے جب سوشلزم کا نعرہ بلند کیا تو اس وقت آپ دارالعلوم کبیر والا میں تدریس کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ کبیر والا میں ایک ہومیو پیتھک ڈاکٹر محمد صدیق صاحب تھے۔ وہ آپ کی مجلس میں بیٹھے رہتے۔ سیاسی طور پر وہ پی، پی سے وابستہ ہونے کی وجہ سے سوشلزم کے گن گاتے تھے۔ ایک مجلس کے دوران آپ نے ان سے سوال کیا کہ تمہارے نزدیک انسان اور گدھے میں کیا فرق ہے؟ گدھا بھی سارا دن کام کرتا ہے اور شام کو پیٹ بھرنے کے لئے اسے چارہ مل جاتا ہے۔ اسی طرح تمہارے نظریے کے مطابق انسان بھی محنت کرتا ہے اور محنت کے عوض اس کو بھی اپنی ضرورتیں مل جاتی ہیں۔ ضرورت سے زائد نہ گدھا کسی چیز کا مالک نہ انسان۔ محنت کر کے دونوں پیٹ پال رہے ہیں۔
ملتان میں آپ کے رشتہ داروں میں ایک صاحب باطنی فرقہ سے تعلق رکھتے تھے جو سارے دین پر اپنے باطن سے عمل کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ظاہری نماز، روزہ کے قائل نہیں ہوتے۔ ایک دن ان کے ہاں حضرت نے کھانا کھایا۔ کھانے میں سوجی کا حلوہ بھی پکا ہوا تھا۔ اس نے حلوہ کھایا اور آپ کو دکھا دکھا کر پلیٹ صاف کی۔ آپ نے حلوہ کھایا۔ مگر خلاف معمول پلیٹ صاف نہ کی۔ اس نے فوراً اعتراض کیا کہ مولوی ویسے تو شریعت کے ٹھیکے دار بنے پھرتے ہیں۔ مگر سنت کی پرواہ نہیں کرتے۔ دیکھیں! آپ نے سنت کے مطابق پلیٹ صاف نہیں کی۔ آپ نے فرمایا: میں نے اپنے باطن سے پلیٹ صاف کی ہے۔ اس نے دوبارہ کہا۔ حضرت نے وہی جواب دہرایا۔ اگر تمہارا باطن نماز پڑھ سکتا ہے، نماز کی ساری حرکات کر سکتا ہے تو میرا باطن اتنا کمزور ہے کہ پلیٹ بھی صاف نہیں کر سکتا؟
ایوب خان اور فاطمہ جناح کا جب صدارتی الیکشن ہوا تو ایوب خان کا نشان پھول تھا اور مادر ملت کا لالٹین۔ کسی نے آپ سے پوچھا، حضرت! کن کو ووٹ دینے کا ارادہ ہے۔ آپ نے برجستہ جواب دیا: کیا کریں بھائی، ایوب خان کا پھول ٹہنی سے کٹا ہوا ہے۔ وہ جلد مرجھا جائے گا اور مادر ملت کے لالٹین میں تیل نہیں وہ بن تیل جلے گا نہیں۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
علم و حلم کا پیکر
شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب نے حضرت شیخ لدھیانویؒ کے بارے میں لکھا ہے کہ آپ میں دو امتیازات ایسے ہیں جو بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتے ہیں۔ پہلا کہ آپ صائب الرائے ہیں اور دوسرا کہ آپ صائب الرائے ہیں۔ صائب رائے ہونا اور اصابت رائے کا حامل ہونا علم وحلم کی وجہ سے تھا۔ علم ذخیرہ معلومات کا نام نہیں بلکہ علمی مشکلات اور پیچیدگیوں کو حل کرنے کی صلاحیت وقوت کا نام ہے اور حلم مقتضائے علم پر عمل کرنے، بے موقع جذبات کی رو میں بہنے سے رکنے اور صحیح وقت میں صحیح فیصلہ کرنے کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو علم اور حلم دونوں وافر مقدار میں عطاء فرمائے تھے۔ گزشتہ صفحات میں آپ نے پڑھا ہے کہ دارالعلوم کبیر والا میں قیام کے دوران مولانا عبدالخالقؒ نے آپ کو نظامت علیا کی پیشکش کی بلکہ یہ عہدہ قبول کرنے پر اصرار کیا۔ لیکن آپ نے اپنے علم وحلم کی برکت سے انتظامی امور سے اپنے آپ کو بچائے رکھا اور اپنی علمی صلاحیت بچائے رکھی۔
آپ کے شاگرد خاص، جامعہ باب العلوم کے موجودہ شیخ الحدیث اور آپ کے جانشین حضرت مولانا منیر احمد منور نے آپ کے حالات میں لکھا ہے کہ: حضرت الاستاذ (حضرت حکیم العصرؒ) نے علم دین اور فہم قرآن وحدیث کے حصول کے لئے جتنی مسنون دعائیں تھیں اکثر وبیشتر پڑھ ڈالی تھیں۔ چنانچہ ایک مرتبہ آپ (حضرت حکیم العصرؒ) نے فرمایا: اعمال قرآنی میں ایک وظیفہ لکھا تھا کہ جمعہ کے دن بعد از نماز عصر جو آدمی ٤٠ مرتبہ آیت الکرسی ایک جگہ بیٹھ کر پڑھے تو اس سے دل میں ایک رقت کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کیفیت کے ساتھ جو دعا مانگی جائے وہ ضرور قبول ہوتی ہے۔ عصر کے بعد میں مدرسہ سے باہر چلا گیا۔ ارد گرد ریتلے ٹیلے اور جھاڑیاں وغیرہ تھیں۔ ایک جھاڑی کے ساتھ بیٹھ کر یہ وظیفہ پڑھا اور مغرب تک پوری توجہ اور انہماک کے ساتھ اپنے اللہ سے یہ دعا مانگی۔ ”اللّٰہم ارنی الحق حقا وارزقنا اتباعہ وارنی الباطل باطلا وارزقنا اجتنابہ“ کہ اے اللہ! مجھے حق کی معرفت دے دے اور اس کی پیروی کرنے کی توفیق عطاء فرما اور باطل کی پہچان کرا، اور اس سے بچنے کی توفیق نصیب فرما۔ اس کے ساتھ میں نے اپنے اللہ سے عقل سلیم اور طبع مستقیم کی دعا بھی مانگی۔ کیونکہ عقل سلیم مل گئی تو حق و باطل میں فرق کرنا، دوست ودشمن کی تمیز کرنا، اچھے برے میں تفریق کرنا آسان ہو جاتا ہے اور طبع مستقیم مل گئی تو حق کی طرف طبیعت خود بخود راغب ہوگئی اور باطل سے نفرت کرے گی۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
ایک مرتبہ آپ مسجد نبوی میں افطار کے وقت تشریف فرما تھے کہ ایک عربی آگیا۔ عربی عالم کو ایک عالم نے حضرت حکیم العصر کا تعارف کروا کے کہا کہ شیخ الحدیث ہے۔ سینکڑوں شاگرد ہیں۔ وغیرہ وغیرہ! جب عربی نے تعارف سنا تو آپ سے فوراً پوچھا: کیا آپ امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھتے ہیں؟ آپ نے جواب دیا: جی نہیں ہم خاموش رہتے ہیں۔ عربی نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ہیں! کیوں! حدیث مبارک میں ہے جس نے فاتحہ نہ پڑھی اس کی نماز نہ ہوئی اور آپ کہتے ہیں کہ ہم فاتحہ نہیں پڑھتے۔ حضرت حکیم العصر نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ پڑھتے ہیں؟ اس نے کہا: ہاں! ہم تو پڑھتے ہیں۔ تو آپ نے برجستہ فرمایا: یہ آپ کیا کرتے ہیں۔ حضور ﷺ کے ارشاد مبارک میں تو ہے ”جو امام کے پیچھے نماز پڑھے تو امام کی قرأت مقتدی کے لئے کافی ہو جاتی ہے۔ عربی نے کہا: ہم امام کے سکتوں کے دوران پڑھتے ہیں۔ یعنی فاتحہ پڑھتے ہوئے جب امام دو آیتوں میں توقف کرتا ہے تو ہم اس میں پڑھ لیتے ہیں۔ حضرت حکیم العصر نے اس سے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ نے سکتوں کے درمیان پڑھنے کا حکم دیا ہے جو آپ کرتے ہیں؟ اس نے کہا: نہیں۔ تو آپ نے فرمایا جب آپ ﷺ نے حکم نہیں دیا۔ پھر آپ اور ہم دونوں برابر ہیں۔ ہم دونوں کے پاس حدیث ہے۔ لیکن آپ اپنے امام کے اجتہاد پر عمل کرتے ہیں اور ہم امام کے اجتہاد پر۔“
آپ کی بے پناہ بصیرت اور علمی رسوخ میں کئی چیزوں کا دخل تھا۔ تقویٰ، طہارت، وسعت مطالعہ، اعلیٰ حافظہ اور اکابر سے بے حد محبت وعقیدت۔ ایک مرتبہ ایک مجلس میں آپ نے فرمایا کہ میں جب مدینہ طیبہ جاتا تو مسجد نبوی میں حضور ﷺ کے منبر کے سامنے بیٹھ کر عرض کرتا۔ یا اللہ ! اس منبر سے جس علم کی اور دین کی اشاعت ہوئی ہے وہ دین صحیح صحیح مجھے عطا فرما۔ میں کثرت سے یہی دعا کرتا تھا۔ نیز فرمایا کہ میرے پاس شمائل کا ایک نسخہ موجود تھا۔ میں اس کی تلاوت کرتا رہتا۔ مزدلفہ میں صبح کی نماز کے بعد میری آنکھ لگ گئی تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ میری قمیص پاؤں تک لمبی ہے اور میں دوستوں کو کہہ رہا ہوں کہ مجھے لمبی قمیص پہننے کی پہلے سے عادت ہے۔ جب خواب سے بیدار ہوا تو مجھے بہت خوشی ہوئی کہ میری دعا کا جواب مجھے مل گیا اور وہ حدیث یاد آ گئی جس میں ہے کہ حضرت عمر ؓ نے خواب دیکھا کہ کچھ صحابہ ؓ کی قمیص گھٹنوں سے اوپر تک ہے اور عمر ؓ کی قمیص پاؤں تک لمبی ہے تو رسول اللہ ﷺ نے اس کی تعبیر بتائی کہ عمر ؓ کو سب سے زیادہ علم نصیب ہوگا۔ اس وقت میرا یقین بالکل پختہ ہو گیا کہ میرے اکابر سے جو علم مجھے ملا ہے وہ بالکل صحیح ہے۔ اب میں اس سے نہ ادھر ہوں گا نہ ادھر۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
استغناء وتوکل
حضرت حکیم العصر میں حد درجہ استغناء، قناعت اور توکل تھا۔ آپ کی پوری زندگی میں ایک بھی مثال ایسی نہیں ملتی کہ آپ نے کسی کے سامنے اپنی ذاتی احتیاج کا تذکرہ کیا ہو یا دنیاوی مفاد کی خاطر کسی دنیا دار، زر دار یا عہدیدار سے تعلق بنایا ہو۔ بلکہ اگر آپ کو ذرہ سا بھی شبہ ہو جاتا کہ فلاں شخص آپ کے تعلق اور تعلق خاطر کو دنیاوی مفاد کا پیش خیمہ سمجھتا ہے تو آپ فوراً اس سے دور ہو جاتے۔ بعض ناواقف لوگ غلط فہمی کی وجہ سے آپ کے حد درجہ استغناء اور توکل کی وجہ سے آپ کو متکبر مزاج خیال کرتے۔ لیکن جب وہ قریب آتے اور آپ کی خلوت و جلوت کو دیکھتے تو ان پر آشکارا ہو جاتا کہ آپ کتنے متواضع اور عاجز طبع انسان ہیں۔ ہاں! استغناء ضرور ہے جو اولیاء اللہ کا وطیرہ ہوتا ہے۔ ویسے بھی آپ ولایت مسلم تھی۔ کیونکہ شہید اسلام مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید ؒ نے ”بینات“ کے ”شیخ الاسلام حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری ؒ نمبر“ میں لکھا ہے کہ: ”عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا امیر اپنے وقت کا قطب ہوتا ہے۔“
شیخ الحدیث مولانا منیر احمد منور مدظلہ نے لکھا ہے: باب العلوم میں مطبخ کی نگرانی میرے سپرد تھی۔ ایک مرتبہ مطبخ میں ایندھن ختم ہو گیا۔ حضرت حکیم العصر ؒ بڑے گیٹ کے قریب چارپائی پر تشریف فرما تھے۔ میں نے عرض کیا حضرت! مطبخ میں ایندھن بالکل ختم ہو چکا ہے۔ دعا فرمائیں۔ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ضرور دیں گے۔ تھوڑی دیر گزری تھی کہ ایک صاحب لکڑیاں لے کر آگئے۔ حضرت نے ہنستے ہوئے فرمایا: ایسے ہی واقعات کو لوگ کرامات بنا لیتے ہیں۔ لیکن ہم اس کو متوکلانہ زندگی کا کرشمہ سمجھتے ہیں۔
حضرت حکیم العصر ؒ جب باب العلوم تشریف لائے تو یہ دعا فرمائی تھی۔ یا اللہ! اتنا پیسہ جمع نہ ہو جو فتنہ بن جائے۔ لیکن کوئی ضرورت اٹکے نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت کی یہ دعا ایسی قبول فرمائی کہ باب العلوم میں کبھی ضرورت سے زیادہ رقم جمع نہیں ہوئی اور کبھی کوئی ضرورت پیش نہ آئی جو پوری نہ ہو گئی ہو۔
حضرت حکیم العصر ؒ ایسے زہد وتقویٰ، پاکیزگی وطہارت، علمیت واستعداد، خصائص و امتیازات اور صلاحیتوں کے مالک تھے کہ ان کو سمیٹنے کے لئے سینکڑوں صفحات بھی کم پڑ جائیں گے۔ آپ کے علمی جواہر پارے، خلوت و جلوت کی داستانیں اتنی مفید اور سبق آموز ہیں کہ لکھتے ہوئے لکھاری نہیں تھکتا اور پڑھتے ہوئے قاری نہیں اکتاتا۔ لیکن طوالت کے خوف سے سفر آخرت کے مختصر احوال قلمبند کر کے مضمون کو سمیٹتے ہیں۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
سفر آخرت
یکم فروری ٢٠١٥ء کو وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے مرکزی دفتر ملتان میں ملتان ڈویژن کے مدارس کے مہتممین اور علماء کرام کا ایک باوقار اجتماع منعقد ہورہا تھا جس کا عنوان تھا: ”دینی مدارس کے اسلامی انوار وافکار اور علماء کی ذمہ داریاں“ اس میں مرکزی بیان آپ کا تھا۔ بیان کے دوران آپ نے فرمایا: اگر علماء کرام ساتھ نہ دیتے تو کبھی پاکستان نہ بنتا۔ ہم مدارس والے پاکستان بنانے والے لوگ ہیں۔ ہم پاکستان کے وفادار ہیں۔ حکمرانو! تم ہمیں اپنا وفادار دوست سمجھو۔ تم جن کو اپنا دوست سمجھتے ہو وہ دوست نہیں دشمن ہیں۔ مار آستین ہیں۔ جب ملک بناتے وقت وعدہ کیا گیا تھا کہ یہاں اسلام کا نفاذ ہوگا تو وعدے کا پاس کیوں نہیں کرتے؟
بیان کے بعد آپ کرسی صدارت پر بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر بعد اچانک ایک طرف کو جھک گئے۔ آپ کے شاگرد ومتوسلین عجلت سے آپ کی طرف متوجہ ہوگئے۔ آپ کو فوراً نشتر ہسپتال لے جایا گیا۔ لیکن راستے ہی میں آپ کے دل نے آپ کا ساتھ چھوڑ دیا اور سفر آخرت بلکہ سفر جنت پر روانہ ہوگئے۔
٢ فروری ٢٠١٥ء بروز پیر آپ کا جنازہ اس شان سے اٹھا کہ کہروڑ پکا بلکہ جنوبی پنجاب کا شاید یہ سب سے بڑا جنازہ تھا۔ نماز جنازہ کے لئے شہر سے باہر دس ایکڑ کے قریب جگہ صاف کی گئی تھی۔ مگر وہ بھی کم پڑگئی اور لاکھوں افراد نے نماز جنازہ میں شریک ہوکر ان کی عظیم خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان صاحب نے معذوری اور علالت کے باوجود محض جنازہ میں شرکت کے لئے کراچی سے سفر کیا اور جنازہ پڑھایا۔ جنازہ پر کھلی آنکھوں اس حدیث کا مشاہدہ ہوا کہ اے انسان! تو جب دنیا میں آیا تو تو رورہا تھا اور دوسرے مسکرا رہے تھے۔ دنیا میں ایسی زندگی گزار کر جا کہ جاتا ہوا تو مسکرارہا ہو اور لوگ رورہے ہوں۔ جنازوں میں شریک لاکھوں افراد کی موجودگی نے احمد بن حنبل ؒ کا وہ قول یاد دلایا کہ عزت اور فیصلے جنازے کیا کرتے ہیں۔ آپ کے جنازے سے ایسا لگ رہا تھا جیسا کہ کسی ملک کے بادشاہ کا جنازہ ہو۔ حق تعالیٰ مغفرت کرے۔
(از قلم: مولانا محمد عبداللہ معتصم)
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی نائب امراء حضرات
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے قیام سے حضرت مولانا محمد عبداللہ رائے پوریؒ مجلس کے نائب امیر تھے۔ حضرت امیر شریعتؒ، حضرت قاضی صاحبؒ، حضرت جالندھریؒ، حضرت مولانا لال حسین اخترؒ کے زمانہ تک برابر آپ نائب امیر رہے۔ حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کے عہد امارت میں مولانا خواجہ خان محمدؒ مجلس کے نائب امیر رہے۔ جب حضرت خواجہ صاحبؒ مجلس کے امیر بنے تو مولانا مفتی احمد الرحمٰنؒ نائب امیر بنے۔ حضرت مفتی صاحبؒ کے بعد مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ، ان کے بعد حضرت سید نفیس الحسینیؒ، ان کے بعد حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق صاحب سکندر دامت برکاتہم نائب امیر رہے۔ اب حضرت حافظ ناصر الدین خاکوانی مدظلہ اور مولانا صاحبزادہ عزیز احمد مدظلہ نائب امیر ہیں۔
(٨)
حضرت مولانا محمد عبداللہ رائے پوریؒ
(وفات: ١٥؍ جون ١٩٨٥ء)
٢٦؍ رمضان ١٤٠٥ھ غروب سورج کے ساتھ علم و عمل دیانت و تقویٰ اخلاص وللہیت کا آفتاب بھی غروب ہو گیا۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد عبداللہ رائے پوریؒ جامعہ رشیدیہ ساہیوال کا سانحہ ارتحال بھلانے سے بھی نہ بھلایا جاسکے گا۔ ان کی ذات گرامی اللہ رب العزت کی نشانیوں کا مجموعہ تھی۔ وہ آیۃ من آیات اللہ تھے۔ ان سے خانقاہی آبرو قائم تھی۔ ان کو دیکھ کر عظمت اسلاف سمجھ میں آجاتی تھی۔ ان کی وفات علم و عمل کی وفات ہے۔ زہد و تقویٰ کی وفات ہے۔ ان کے وجود سے جو خیر و برکت وابستہ تھی۔ اس سے پورا ملک محروم ہو گیا۔ وہ ایک جہان کو سونا کر گئے۔
وہ ٨؍ رمضان المبارک ١٣٣٣ھ کو پیدا ہوئے اور ٢٧؍ رمضان المبارک ١٤٠٥ھ کی شب کا آغاز ہوتے ہی انتقال کر گئے۔ عجیب اتفاق ہے کہ آپ کے والد گرامی حضرت مولانا مفتی فقیر اللہؒ جو حضرت شیخ الہندؒ کے تلمیذ اور مجاز تھے۔ ان کا بھی رمضان شریف کے آخری
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
عشرہ ٢١؍رمضان المبارک جو یوم شہادت حضرت علیؓ ہے کو انتقال ہوا تھا۔ آپ نے حفظ قرآن و ابتدائی کتب اپنے والد گرامی حضرت مولانا مفتی فقیر اللہؒ سے پڑھی تھیں۔ تکمیل و حدیث شریف میں آپ کے استاد حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ تھے۔ بعد میں حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ آپ کو، شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ اور شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ کی خدمت میں لے گئے۔ انہوں نے بھی آپ کو حدیث کی اجازت سے سرفراز فرمایا۔ اسی طرح شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریاؒ نے بھی آپ کو حدیث کی اجازت مرحمت فرمائی تھی۔
فراغت کے بعد آپ نے اپنے استاد محترم حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ کے حکم پر مدرسہ فیض محمدی جالندھر میں متواتر بیس سال کتب پڑھائیں۔ ایک سال رائے پور اور تقسیم کے وقت دو سال مدرسہ قاسم العلوم فقیر والی میں بھی آپ نے پڑھایا۔ ١٩٤٩ء میں جب جامعہ رشیدیہ ساہی وال میں تعلیم شروع ہوئی تو آپ بطور شیخ الجامعہ کے یہاں تشریف لائے اور پھر تادم زیست اس مسند کو عزت بخشی۔ اس دوران میں ایک سال کے لئے اپنے استاذ محترم حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ کے حکم پر آپ خیر المدارس ملتان تشریف لے گئے۔ مولانا خیر محمدؒ کی خواہش یہ تھی کہ آپ مشکوٰۃ شریف پڑھا دیں۔
- ١...... ایک تو آپ کی مشکوٰۃ شریف کی تعلیم ضرب المثل تھی۔
- ٢...... آپ کا حدیث پڑھانے میں ہمیشہ مزاج یہ رہا کہ اپنی تحقیق کی بجائے سلف صالحین کی
تحقیق پر انحصار فرماتے۔
- ٣...... طبیعت میں سادگی عاجزی، انکساری، تواضع، نیکی، اخلاص کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔
غرضیکہ ایک حدیث کے استاد میں جو صفات محمودہ ہونی چاہئیں۔ وہ آپ میں بدرجہ اتم موجود تھیں۔ اس لئے آپ کے حدیث پڑھانے کے اثرات طلباء کے قلب و جگر پر بھی وارد ہوتے۔ یہی وہ خصوصیات تھیں جن کے باعث آپ کے استاد محترم مولانا خیر محمد مرحوم آپ پر بہت زیادہ اعتماد کیا کرتے تھے۔ کیونکہ حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ کا استاد حدیث کے متعلق یہی ذوق تھا اور یہ سب کچھ عطیہ خداوندی اور شیخ وقت حضرت تھانویؒ کی تو جہات و تربیت کا نتیجہ تھا۔ حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ، شیخ وقت حضرت تھانویؒ کے اجل خلفاء میں سے تھے۔
مولانا خیر محمد جالندھریؒ کے ذوق حدیث کے متعلق ایک واقعہ مولانا عزیز الرحمٰن
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
جالندھری سیکرٹری جنرل مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان نے سنایا کہ استاذ الحدیث حضرت مولانا محمد شریف کشمیری ؒ اسباق میں ہمیشہ طلباء کو خوش رکھا کرتے تھے۔ آپ علمی لطائف و حکایات سے دوران اسباق طلباء کو چاق و چوبند رکھتے۔ کیا مجال ہے کہ آپ کے اسباق کے دوران کسی طالب علم کو کوئی نیند یا اونگھ آئے۔ ایک دفعہ حضرت مولانا کشمیری ؒ نے درس بخاری کے دوران کوئی علمی لطیفہ سنایا جس سے طالب علموں کی ہنسی نکل گئی۔ مولانا خیر محمد جالندھری ؒ دارالحدیث کے قریب سے گزرے۔ طلبہ کو ہنستا دیکھ کر ان کو ایک چوٹ سی لگی۔ حضرت مولانا کشمیری ؒ کو بعد میں بلا کر فرمایا کہ مولانا حدیث شریف کے سبق کے دوران ایک لطیفہ چاہے وہ علمی کیوں نہ ہو جس سے طلبہ سبق حدیث کے دوران قہقہے مارنے لگ جائیں یہ نہ مجھے پسند اور نہ برداشت۔ چنانچہ پھر کبھی ایسا نہ ہوا تو مولانا خیر محمد صاحب ؒ کا یہ ذوق مولانا محمد عبداللہ صاحب ؒ کو جامعہ رشیدیہ سے خیر المدارس لایا۔ آپ نے مشکوٰۃ شریف پڑھائی۔
اسی طرح ایک دفعہ حج پر جاتے ہوئے مولانا خیر محمد صاحب ؒ نے مولانا عبداللہ صاحب ؒ کو جامعہ رشیدیہ سے خیر المدارس بلوا کر اپنی تمام تر تدریسی و انتظامی ذمہ داریاں ان کے سپرد کر دیں۔ یوں شیخ و استاذ نے اپنی حیات میں اپنی مسند کا ان کو وارث قرار دے کر اس پر براجمان کر دیا اور سب کچھ ان کے سپرد کر کے اعتماد کا لازوال سرٹیفکیٹ دے دیا۔ تمام مدرسہ کے مدرسین و عملہ کو بلا کر فرمایا کہ میری عدم موجودگی میں مولانا محمد عبداللہ ؒ کو خیر محمد ہی سمجھا جائے۔
مولانا محمد عبداللہ صاحب ؒ کو ویسے بھی قدرت نے حدیث و فقہ میں خصوصی مہارت نصیب فرمائی تھی۔ اس اعتبار سے بھی وہ بڑے بخت ور تھے کہ بہت سے حدیث و فقہ پڑھانے والے آپ کے شاگرد ہیں۔ خیر المدارس ملتان کے استاذ حدیث مولانا محمد صدیق اور جامعہ امدادیہ فیصل آباد کے شیخ الحدیث مولانا نذیر احمد حدیث شریف کی کئی کتابوں کے مترجم مولانا محمد یوسف لدھیانوی ؒ، مولانا عبدالکریم کلاچی ؒ، مولانا قاضی عبداللطیف کلاچی ؒ، خیر المدارس کے مفتی مولانا عبدالستار ؒ، علوم شرعیہ کے استاذ حدیث مولانا عبدالمجید انور، تبلیغ و رشد میں مولانا سید عطاء المنعم ؒ، مولانا مفتی زین العابدین ؒ، مولانا محمد ضیاء القاسمی ؒ، مولانا محمد سلیمان طارق ؒ، مولانا عبداللطیف انور ؒ، مولانا حبیب اللہ ؒ، قاری لطف اللہ ؒ، مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے سیکرٹری جنرل مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا علامہ غلام رسول ؒ، مولانا میر زاہد ؒ جڑانوالہ۔ یہ تمام حضرات اور ان جیسے ہزاروں شاگرد رشید آپ کا صدقہ جاریہ ہیں۔ آپ نے پچپن سال درس و تدریس، قرآن و حدیث و فقہ کی تعلیم
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
میں صرف فرمائے۔ گویا نصف صدی سے بھی زیادہ عرصہ آپ تشنگانِ علم کو حدیث نبوی ﷺ کے چشمہ صافی سے سیراب فرماتے رہے۔
تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء میں نو ماہ کے لئے جیل چلے گئے۔ منیر انکوائری رپورٹ گواہ ہے کہ تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں آپ کی کیا گراں قدر خدمات ہیں؟ واپسی پر مدرسہ نے ٩ ماہ کی تنخواہ آپ کو دی۔ آپ نے استاد محترم مولانا خیر محمد صاحب ؒ کو خط لکھا کہ میں نے گرفتاری کے دوران نیت کر لی تھی کہ اب میں مدرسہ کا مدرس نہیں رہا۔ نہ معلوم کب رہائی ہوگی۔ کیا حالات ہوں گے۔ مدرسہ کی کیا پوزیشن ہوگی۔ رہائی کے بعد آئندہ کے لئے نیا فیصلہ کیا جائے گا۔ اب ٩ ماہ کے بعد رہا ہو کر آیا تو مدرسہ والے سابقہ تدریس کی جگہ پر مجھے انہوں نے نہ صرف بحال کر دیا ہے۔ بلکہ ٩ مہینے کی سابقہ تنخواہ بھی دے دی۔ اب مجھے کیا کرنا چاہئے۔ مولانا خیر محمد صاحب ؒ نے لکھا کہ آپ نے جو نیت کی تھی اس پر عمل کریں۔ چنانچہ تمام کی تمام تنخواہ واپس مدرسہ کے بیت المال میں جمع کرادی۔ آپ کے تقویٰ کا یہ عالم تھا کہ زندگی بھر مدرسہ کے قلم کی سیاہی سے ذاتی خط نہیں لکھا۔ جب کوئی تعلق والا مدرسہ کے اوقات تعلیم کے دوران آجاتا اور اس سے ملاقات ناگزیر ہوتی تو ملاقات کے ابتداء و اختتام کو نوٹ کر کے مہینہ کے آخر پر منٹوں، سیکنڈوں اور گھنٹوں تک کو شمار کر کے تنخواہ کٹوا دیتے۔ مدرسہ کا اگر کوئی معزز مہمان آجاتا جس کے ساتھ مدرسہ میں کھانا اکٹھا کھانا ضروری ہو جاتا تو اس کھانے کے آپ پیسے جمع کرا دیتے۔ کہیں تبلیغ کے لئے تشریف لے جاتے تو مدرسہ سے ان ایام کی تنخواہ نہیں لیتے تھے۔ تبلیغی اسفار میں بھی صرف کرایہ پر اکتفا کرتے۔
مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھری ؒ، مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اختر ؒ، حضرت مولانا محمد حیات ؒ فاتح قادیان، حضرت مولانا خان محمد ؒ کے (ابتدائی تین سال میں) آپ متواتر بیس سال مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے نائب امیر رہے ہیں۔ اس اخلاص و دیانت کے پہاڑ کی وفات پر آج جتنا غم کیا جائے کم ہے۔ تحریک ختم نبوت کے لئے نیم شبانہ دعائیں کرنے والا ایک درویش منش، فرشتہ سیرت انسان جو آیت من آیات اللہ تھا کے انتقال سے ہم لوگ محروم ہو گئے۔ آپ تحریک کے محاذ پر اس طرح توجہ فرمایا کرتے تھے کہ ربوہ میں بارہا عید و کانفرنس، جمعہ کے موقع پر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی جامع مسجد محمدیہ ریلوے اسٹیشن و جامع مسجد و مدرسہ ختم نبوت مسلم کالونی میں تشریف لاتے۔ جب کبھی ملنے کے لئے حاضری ہوئی مجلس کے کام کی جزئیات تک تفصیل سے پوچھتے۔ اپنی بزرگانہ محبتوں و شفقتوں سے سرفراز فرماتے تھے۔ ایک تعلیمی سفر کے دوران وفات سے کچھ دن قبل مکرم و محترم مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری کے
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
ہمراہ ان کے مدرسہ میں ملنا ہوا۔ صاحب فراش تھے مگر زبان پر ذکر خداوندی جاری تھا۔ اخبار کے مطالعہ سے بوجہ فوٹو کے کنی کتراتے تھے۔ بقول مولانا حبیب اللہ صاحب ساہیوال کے ہفت روزہ ”لولاک“ کے لئے پورا ہفتہ سراپا انتظار رہتے کہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی کارگزاری سن کر آپ کو بہت ہی اطمینان قلب حاصل ہوتا تھا۔ مولانا کے صاحبزادے مولانا مطیع اللہ صاحب نے فرمایا کہ آپ پر آخری تین دن استغراق کی کیفیت طاری رہی۔ آخری وقت میں آنکھ کھولی۔ آسمان کی طرف دیکھا زور زور سے زبان پر جاری تھا اللہ! اللہ! اللہ! یہ کہتے ہوئے گردن لڑھکی۔ بیت اللہ کی طرف رخ کیا اور ہمیشہ کے لئے آنکھیں بند کرلیں۔ ایسی ایمان وسلامتی کی موت جسے حدیث شریف میں خاتمہ بالخیر سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ پر کیوں نہ فخر کیا جائے۔ ٢٧ رمضان المبارک کی رات بوقت مغرب انتقال ٢٧ رمضان المبارک کی صبح ٨ بجے جنازہ جو مولانا ولی محمدؒ ہڑپہ والوں نے پڑھایا۔ علماء ومشائخ نے کثرت سے شرکت کی اور پھر اپنے والدین و بھائی قاری لطیف اللہ شہیدؒ کے سرہانے ساہیوال کے قبرستان میں ہمیشہ کے لئے رحمت خداوندی کے سپرد کر دیئے گئے۔
حضرت اقدس مولانا عبدالعزیز صاحب چک نمبر ١١ والوں کا انتقال ہوا۔ (اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو بقعہ نور بنائیں) ان کے جنازے سے فراغت کے بعد مجلس کی ایک میٹنگ کے سلسلہ میں ساہیوال جانا ہوا۔ آپ سے ملاقات کی۔ آپ بلک بلک کر رو رہے تھے۔ فرماتے تھے کہ حضرت جی! گیارہ والے میرے آخری استاد تھے جن کے سایۂ عاطفت سے بھی محروم ہو گیا۔ ان کو بچوں کی طرح آہ وزاری سے روتا دیکھ کر حیرت کی انتہا نہ رہی کہ ان کو اپنے اساتذہ سے کتنی محبت تھی۔ فقیر راقم مجلس کے پروگراموں میں شرکت کے لئے بلوچستان کے سفر پر تھا۔ واپسی پر حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے یہ جانکاہ خبر سنائی۔ زمین پاؤں سے نکل گئی۔ دوسرے روز مولانا کے ہمراہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی طرف سے تعزیت کے لئے ساہیوال حاضری ہوئی۔ جامعہ رشیدیہ کے درودیوار غم سے مرجھائے ہوئے۔ آپ کے صاحبزادے مولانا مطیع اللہ سلمہ غم سے خمیدہ کمر، آپ کے بھائی مولانا حبیب اللہ مدظلہ جو صدمات سہہ سہہ کر صدمات وغموں کا مجموعہ بن گئے تھے ان سے ملاقات وتعزیت کی۔ اللہ رب العزت ان کے جملہ صدقات جاریہ، اولاد صالح، شاگردان رشید، جامعہ رشیدیہ، خیر المدارس، مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کو ان کے نقش قدم پر چل کر دنیا وعقبیٰ کی نعمتوں کا مستحق بنائے پسماندگان کو صبر جمیل نصیب ہو اور پروردگار عالم ان کی تربت پر رحمتوں کی موسلا دھار بارش فرمائے۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
(٩)
حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰن رحمۃ اللہ علیہ
(وفات: ٣١/ جنوری ١٩٩١ء)
ضلع اٹک کے اسّی، نوے دیہات وقصبات پر مشتمل مجموعہ کو علاقہ چھچھ کہتے ہیں جو دریائے سندھ کے کنارے واقع ہے۔ چھچھ میں اس کثرت سے علماء ومشائخ پیدا ہوئے کہ ان کو اس علاقہ کا ”بخارا“ قرار دیا گیا۔ علاقہ چھچھ کا مرکزی شہر ”حضرو“ ہے جو آج کل ضلع اٹک کی تحصیل کا ہیڈکوارٹر ہے۔ حضرو کے ایک گاؤں کا نام ”بہبودی“ ہے۔ چھچھ کے راستہ سے فاتح ہند جناب محمود غزنویؒ معروف مسلمان حکمران گزرے۔ آپ کے ساتھ جو کارواں تھا۔ ان میں پختون قبائل کا ایک قبیلہ ”یوسف خیل“ بھی تھا۔ اس یوسف خیل قبیلہ کے جدِ اعلیٰ نے یہاں ”بہبودی“ میں رہائش رکھ لی اور پھر یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ اس قبیلہ میں آگے چل کر نامور عالم دین، بزرگ رہنما، صوفی کامل، مرشد ومخدوم، معقول ومنقول کے متبحر، فاضل زمانہ، یادگار اسلاف شخصیت پیدا ہوئی جن کا نام نامی اسم گرامی حضرت مولانا عبدالرحمٰن کیمل پوری تھا۔ اس زمانہ میں آج کے ”اٹک“ کا نام ”کیمل پور“ تھا۔ اس مناسبت سے حضرت مرحوم کو کیمل پوریؒ کہا جاتا تھا۔ یہ نام سن کر حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے فی البدیہہ فرمایا تھا کہ مولانا عبدالرحمٰن کیمل پوری نہیں یہ کامل پورے ہیں۔ چنانچہ اس دن سے آپ مولانا عبدالرحمٰن کامل پوریؒ کے نام سے موسوم ہوئے۔ حضرت مولانا کامل پوری، جامعہ مظاہر العلوم سہارن پور، خیر المدارس ملتان اور ٹنڈو الہ یار خان میں بھی حدیث شریف پڑھاتے رہے۔ حضرت تھانویؒ سے آپ کو خلافت بھی عنایت ہوئی۔
حضرت مولانا عبدالرحمٰن کامل پوریؒ کے چار صاحبزادے تھے۔ حضرت مولانا عبیدالرحمٰنؒ، حضرت قاری سعید الرحمٰنؒ، حضرت حاجی محمد الرحمٰنؒ، حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰنؒ۔ مولانا عبیدالرحمٰنؒ اور حاجی محمد الرحمٰنؒ برطانیہ کے شہر شیفیلڈ میں رہتے تھے۔ مولانا قاری سعید الرحمٰنؒ جامعہ اسلامیہ کشمیر روڈ راولپنڈی کے بانی ومہتمم تھے۔ حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰنؒ، حضرت مولانا عبدالرحمٰن کامل پوریؒ کے قیام سہارن پور کے دوران ١٩٣٩ء میں وہیں پیدا ہوئے۔ مولانا عبدالرحمٰن کامل پوریؒ، شیخ الحدیث مولانا محمد
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
زکریا ؒ، حضرت مولانا محمد اسعد اللہ کے دور اور نورانی ماحول میں مولانا مفتی احمد الرحمن ؒ نے آنکھ کھولی۔ بڑے ہوئے تو انہی حضرات کے زیر سایہ مظاہر العلوم میں ابتدائی تعلیم کا آغاز کیا۔ پاکستان میں اپنے والد گرامی کے ساتھ جامعہ خیر المدارس ملتان، دارالعلوم ٹنڈوالہ یار خان، جامعہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں تعلیم حاصل کی۔ پھر جامعۃ العلوم الاسلامیہ کراچی میں شیخ الاسلام حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری ؒ کے پاس ”تکمیل“ کے لئے تشریف لائے۔ تکمیل کی تعلیم کیا مکمل کی کہ ”کامل پوری“ کا صاحبزادہ ”مکمل طور“ پر اپنے تکمیل کے استاذ حضرت شیخ بنوری ؒ کا ”کامل جانشین“ بن گیا۔ زہے نصیب۔ دنیا لائے اس کی کوئی مثال؟
حضرت بنوری ؒ نے تکمیل کے بعد حضرت مولانا مفتی احمد الرحمن ؒ کو جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن میں معاون مدرس اور معاون مفتی مقرر فرمادیا۔ یہاں سے حضرت مفتی صاحب ؒ کے علمی وعملی سفر کا آغاز ہوا۔ کس تیزی کے ساتھ آپ نے یہ سفر کیا۔ کس طرح اپنی خدا داد صلاحیتوں کی بنیاد پر اپنے اکابر کی توقعات پر پورا اترے کہ ابھی تھوڑا وقت نہیں گزرا کہ حضرت بنوری ؒ نے حضرت مفتی احمد الرحمن ؒ کو اپنا ”نسبتی بیٹا“ بنالیا۔ پھر چشم فلک نے یہ بھی دیکھا کہ آپ نے حضرت مفتی صاحب ؒ کو جامعۃ العلوم الاسلامیہ کا نائب مہتمم بنادیا۔ دنیا نے اس نظارہ کو بھی ملاحظہ کیا کہ مولانا مفتی احمد الرحمن ؒ کو شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوری ؒ نے اپنے تجربہ، تمام اساتذہ کی مشاورت، دعاؤں اور استخاروں کے بعد ”حیاً میتاً“ اپنا جانشین قرار دیا۔
حق تعالیٰ شانہ نے حضرت بنوری ؒ کے انتخاب کو لاجواب بنادیا کہ مفتی احمد الرحمن ؒ نے حضرت بنوری ؒ کی امانت کا حق امانت ادا کیا۔ جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کو بام عروج تک پہنچایا۔ ملیر، سہراب گوٹھ اور دیگر اکثر و بیشتر شاخیں حضرت مفتی احمد الرحمن ؒ کے عہد اہتمام میں قائم ہوئیں۔ ان کی تمام ترقی حضرت مفتی احمد الرحمن ؒ کی شبانہ روز اخلاص بھری کاوش کی رہین منت ہے۔
حضرت بنوری ؒ نے عصر حاضر کے تمام فتنوں کے خلاف کلمہ حق بلند کیا۔ مساجد و مدارس کے تحفظ اور بقاء کے لئے صدائے حق بلند کی۔ ان تمام صفات میں بھی مولانا مفتی احمد الرحمن ؒ آپ کے حقیقی جانشین ثابت ہوئے کہ آپ نے اپنے دور میں دین اسلام کی سربلندی اور ترویج و اشاعت کے خلاف جہاں کسی سمت سے بھی کوئی آواز اٹھی آپ نے پوری توانائی سے اس کا ناطقہ بند کیا۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
حضرت بنوریؒ اپنے وقت میں نامور شیخ طریقت تھے۔ اس خوبی و کمال میں بھی مولانا مفتی احمد الرحمٰنؒ آپ کے جانشین ثابت ہوئے کہ آپ نے شیخ وقت مولانا عبدالعزیز سرگودھویؒ سے بیعت وسلوک کے مراحل طے کئے۔ پھر حضرت حکیم الامتؒ کے خلیفہ، شیخ زمانہ مولانا فقیر محمد پشاوریؒ سے آپ کو خلافت ملی۔ دنیا جانتی ہے کہ شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ نے حرمین شریفین کے بکثرت سفر کئے اور وہاں آپ کی عبادت کا انہماک ضرب المثل تھا۔ اس خوبی میں مولانا مفتی احمد الرحمٰنؒ آپ کے جانشین ثابت ہوئے کہ بکثرت حرمین کے نہ صرف سفر کئے بلکہ وہاں عبادت اور لمبی مخلصانہ دعاؤں سے وہ منظر پیش کئے کہ ہمسفر حضرات آج بھی وہ بیان کرتے وقت گلوگیر ہو جاتے ہیں۔ حضرت بنوریؒ جمعیۃ علماء اسلام کے معاون و مددگار تھے۔ مولانا مفتی احمد الرحمٰنؒ نے اس صیغہ میں بھی آپ کی جانشینی کا حق ادا کیا کہ جمعیۃ علماء اسلام کراچی کے عرصہ تک امیر اور برابر اس کی تعمیر و ترقی کے لئے کوشاں رہے۔
شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نہ صرف امیر مرکزیہ تھے۔ بلکہ تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء بھی آپ کی امارت و قیادت میں چلی اور کامیابی سے سرفراز ہوئی۔ حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰنؒ کو اللہ رب العزت نے یہ اعزاز بھی بخشا کہ عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ وترویج کے لئے بھی جانشین کے طور پر آپ نے قائدانہ کردار ادا کیا۔ دنیا جانتی ہے کہ حضرت بنوریؒ نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی امارت قبول کرنے کے لئے مولانا خواجہ خان محمدؒ کو عالمی مجلس کا نائب امیر مقرر کرنے کا فیصلہ فرمایا تھا۔ اب دیکھئے جب حضرت بنوریؒ کا وصال ہوا تو اس کے بعد سالانہ آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ کے موقع پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی جنرل کونسل کا اجلاس ٢٧؍ دسمبر ١٩٧٧ء کو چنیوٹ میں منعقد ہوا۔ اس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ اور نائب امیر شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد عبداللہ رائے پوریؒ کو منتخب کیا گیا۔ یہ انتخاب تین سال کے لئے تھا۔ اس اجلاس میں حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ اپنی علالت کے باعث تشریف نہ لاسکے تھے۔ تین سال کے بعد پھر انتخابی اجلاس عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی جنرل کونسل کا ١٨؍ مارچ ١٩٨١ء کو دفتر مرکزیہ ملتان میں منعقد ہوا۔ یہ اجلاس حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ چنانچہ جنرل کونسل کا پہلا اجلاس جو حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اس میں شرکاء اجلاس نے نائب امیر منتخب کرنے کا حضرت خواجہ
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
صاحب ؒ کو اختیار دے دیا۔ آپ نے اگلے لمحہ اعلان کر دیا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر مولانا مفتی احمد الرحمٰن ؒ ہوں گے۔ چنانچہ جنرل کونسل کے اجلاس کے چار ماہ بعد ٩؍ اگست ١٩٨١ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس شوریٰ کا ملتان دفتر میں اجلاس ہوا۔ اس میں حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰن ؒ پہلی بار بطور نائب امیر کے شریک ہوئے۔
اس اجلاس کے تین فیصلے ایسے ہیں جن کی نسبت سو فیصد یقین سے حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰن ؒ کی طرف کی جانی چاہئے:
- ١...... یہ کہ کراچی میں مجلس کا دفتر ایم.اے جناح روڈ بالمقابل ریڈیو اسٹیشن تھا۔ اس
عمارت کا نام سائرہ مینشن تھا۔ وہ عمارت خاصی پرانی ہو گئی تو دفتر وہاں سے موجودہ جگہ مسجد باب الرحمت پرانی نمائش میں منتقل ہو چکا تھا۔ یہ مسجد اور اس کے ساتھ عمارت بھی خاصی پرانی تھی۔ گزارہ تو مجبوری سے ہو رہا تھا۔ لیکن دفتر کی ضروریات کے لئے قطعاً ناموزوں تھی۔ آج کے اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ اس مسجد کی تعمیر جدید کی جائے۔ دفتر لائبریری کے لئے خوبصورت نقشہ منظور کرایا جائے۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ آج کی موجودہ مسجد باب الرحمت اور موجودہ دفتر کی کوہ قامت عمارت کی تعمیر میں شہید اسلام مولانا محمد یوسف لدھیانوی ؒ، حضرت مولانا منظور احمد الحسینی ؒ (جو ان دنوں کراچی مجلس کے ناظم تبلیغ تھے)، جناب عبد الرحمٰن یعقوب باوا (جو ان دنوں کراچی مجلس کے ناظم اعلیٰ تھے)، ان سب حضرات کا بہت بڑا کردار ہے۔ لیکن کبھی نہ اس حقیقت کو فراموش کیا جا سکے گا کہ ان تمام حضرات کی قیادت و سیادت حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰن ؒ فرما رہے تھے جو اس وقت مرکزی نائب امیر اور کراچی مجلس کے امیر تھے۔ آپ کی قیادت میں متذکرہ دو حضرات نے کام کا آغاز کیا اور شیخین کریمین، مولانا مفتی احمد الرحمٰن ؒ اور مولانا محمد یوسف لدھیانوی ؒ نے سرپرستی فرمائی تو یہ عالمی مجلس کراچی کا دفتر اور مسجد کا موجودہ منظر امت کو دعوت نظارہ دینے لگا۔
- ٢...... اس ٩؍ اگست ١٩٨١ء کے اجلاس میں ہی موجودہ امیر مرکزیہ حضرت مولانا ڈاکٹر
عبد الرزاق سکندر مدظلہ کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس شوریٰ کا رکن منتخب کیا گیا۔ اس کی نسبت بھی یقیناً حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰن ؒ کی طرف کرنا عین انصاف ہے۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
- ٣...... اس اجلاس میں مسلم کالونی چناب نگر مسجد و مدرسہ کی تعمیرات جو جاری تھیں ان کی
توسیع و ترقی کے فیصلے کئے گئے۔ ان میں ایک فیصلہ یہ بھی تھا کہ چناب نگر میں سالانہ آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس کی داغ بیل ڈالی جائے۔ ٩؍اگست ١٩٨١ء کو یہ فیصلہ ہوا کہ ٧؍ستمبر ١٩٨١ء کو ختم نبوت کانفرنس مسجد محمدیہ ریلوے اسٹیشن چناب نگر منعقد کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔ حکومت نے اس وقت کے رفقاء کرام مولانا خدا بخش شجاع آبادی ؒ اور دوسرے حضرات کو پیشکش کی کہ آپ بجائے مسجد محمدیہ ریلوے اسٹیشن پر یہ اجتماع منعقد کرنے کے مسلم کالونی اپنی مسجد و مدرسہ میں منعقد کر لیں۔ ان حضرات نے حضرت مولانا تاج محمود ؒ اور حضرت مولانا محمد شریف جالندھری ؒ سے مشورہ لیا۔ دونوں حضرات نے فرمایا کہ ایک لمحہ ضائع کئے بغیر اس حکومتی پیشکش کو قبول کر لیں۔ چنانچہ یہ ٧؍ستمبر ١٩٨١ء کو مسلم کالونی چناب نگر میں ایک روزہ ختم نبوت کانفرنس بغیر کسی تیاری کے منعقد کی گئی۔ قرب و جوار میں جو اعلان ہوا نزدیک کے بھی بہت سارے حضرات آگئے۔ خوب رش ہو گیا۔ حضرت مولانا خواجہ خان محمد ؒ، حضرت مولانا محمد شریف جالندھری ؒ، مولانا تاج محمود ؒ، مولانا محمد حیات ؒ، مولانا احسان الہی ظہیر ؒ، مولانا محمد ضیاء القاسمی ؒ، مولانا عبدالقادر آزاد ؒ اور دیگر حضرات کے بیانات ہوئے اور عصر تک دعائے خیر ہو گئی۔ یہ اجلاس ایک متبادل تجویز کے طور پر منعقد ہوا۔ لیکن اگلے سال ١٩٨٢ء کی پہلی ختم نبوت کانفرنس کے انعقاد کے لئے اس کانفرنس کو بنیاد کا درجہ حاصل ہو گیا۔ چنانچہ ٢٥ مئی ١٩٨٢ء کو عالمی مجلس کی مرکزی شوریٰ کا اجلاس منعقد ہوا۔ اس میں فیصلہ کیا گیا کہ سالانہ آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس ٦ ستمبر کو مسلم کالونی چناب نگر میں منعقد کی جائے۔
قارئین! دیکھئے کہ اس امر (فیصلہ نمبر ٣) کو میں نے حضرت مولانا مفتی احمد الرحمن ؒ کے حوالہ سے اس لئے بیان کیا ہے کہ اس اجلاس میں سالانہ پہلی ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کی تیاری کے لئے جو سب سے پہلی استقبالیہ تجویز ہوئی۔ اس کے صدر کے لئے مولانا محمد اشرف ہمدانی مرحوم اور سیکرٹری کے لئے فقیر راقم کا نام حضرت مولانا احمد الرحمن ؒ نے تجویز فرمایا تھا۔ جس کی پوری ہاؤس نے تائید فرمائی۔ فقیر راقم کو ان دنوں مجلس کے بزرگوں کی جوتیاں سیدھی کرنے کا ڈھنگ بھی نہ آتا تھا۔ حضرت مفتی احمد الرحمن ؒ کی ذرہ نوازی نے ایک لمحہ میں کہاں سے کہاں
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
پہنچا دیا۔ دیکھئے حضرت مرحوم پر سوانحی مضمون لکھتے لکھتے کس طرح اپنی مدح سرائی پر آکر تان توڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ معاف فرمائیں۔ لیکن اپنے محسن ومخدوم کو کوئی بھول سکتا ہے کہ فقیر کی صف اول میں جگہ بنانے کے لئے پہل حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰن ؒ نے فرمائی تھی۔ خیر کانفرنس ہوئی لیکن آب و تاب سے اس کانفرنس میں حضرت مفتی احمد الرحمٰن ؒ خود بھی تشریف لائے۔ دوسرے روز ظہر کے بعد کے اجلاس سے خطاب بھی فرمایا۔ مسجد و مدرسہ اور ان کی تعمیرات کو بھی دیکھا۔
آئیے! قارئین ذرا چلتے ہیں کہ واقعات کی کڑیاں مل جائیں۔ شیخ الاسلام حضرت بنوری ؒ کے عہد امارت میں چناب نگر کو کھلا شہر قرار دیا گیا۔ مساجد و مدارس قائم ہوئے۔ ان کے سنگ بنیاد کی تقریب کرنا تھی۔ حضرت بنوری ؒ کو اس میں تشریف لانا تھا۔ بار بار اعلانات ہوئے تاریخیں مقرر ہوئیں۔ لیکن قدرت کے اپنے فیصلے ہوتے ہیں کہ حضرت بنوری ؒ تشریف نہ لا سکے۔ اب ذرا تاریخ کے تسلسل پر نظر ڈالئے۔ ١٩٧٤ء میں فیصلہ ہوا۔ ١٩٧٥ء میں مجلس نے چناب نگر میں اپنے کام کا آغاز کیا۔ ١٩٧٦ء میں مسلم کالونی کی حکومت نے سکیم منظور کی۔ مسجد مدرسہ کے لئے عالمی مجلس کو پلاٹ حاصل ہوا۔ یہاں کام کا آغاز ہوا۔ خواہش، کوشش، اعلان و اہتمام کے باوجود حضرت بنوری ؒ تشریف نہ لا سکے۔ پلاٹ پر کام کا آغاز ہوا۔ حضرت خواجہ صاحب ؒ نے بسم اللہ کرادی۔ چھوٹے اجتماع کر کے کام آگے بڑھتا رہا۔ آج ساری محنتوں کو ملک بھر کے عوام نے شریک نظارہ ہو کر ملاحظہ کرنا تھا تو حضرت بنوری ؒ کے دو جانشین حضرات حضرت مولانا خواجہ خان محمد ؒ، حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰن ؒ کو اس مبارک موقع قدرت نے قیادت و سیادت سے سرفراز فرمایا۔ یاد ایسے پڑتا ہے کہ حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰن ؒ نے چناب نگر کی سالانہ پہلی ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کیا فرمائی کہ زندگی بھر پھر ناغہ نہیں فرمایا۔
حضرت مولانا خواجہ خان محمد ؒ کی امارت، مولانا مفتی احمد الرحمٰن ؒ کی نائب امارت کے دور میں ٢٧؍ اپریل ١٩٨٣ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی شوریٰ کا اجلاس ہوا۔ اس میں قادیانیوں کی غنڈہ گردی جہلم چپ بورڈ فیکٹری سے مسلمان مزدوروں پر فائرنگ، شیخوپورہ میں مولانا عبد الہادی مرحوم پر حملہ، سیالکوٹ سے جناب اسلم قریشی کے اغوا اور دیگر عوامل پر غور و خوض کیا گیا۔
اس اجلاس میں قادیانی غنڈہ گردی کے بیان پر مولانا تاج محمود ؒ سخت دل گرفتہ ہوئے تو یہ بات ریکارڈ کا حصہ ہے کہ اس موقع پر حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰن ؒ نے اجلاس کو
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ حوصلہ دیا۔ حوصلہ کیا دیا بلکہ حضرت بنوری ؒ کی جانشینی اور حضرت مولانا خواجہ خان محمد ؒ کی ترجمانی سے ایسی گفتگو فرمائی کہ اسے پورے اجلاس کا ثمرہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ اسی اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا احیاء کیا جائے۔ حضرت مولانا تاج محمود ؒ، مولانا محمد شریف جالندھری ؒ، حکیم عبدالرحمن آزاد ؒ، جناب ریاض الحسن گنگوہی ؒ نے مرکزی مجلس عمل کے احیاء کے لئے جہاں کوشش فرمائی۔ وہاں اندرون سندھ اور بالخصوص کراچی میں اس کا احیاء اور سرپرستی حضرت مولانا مفتی احمد الرحمن ؒ نے فرمائی۔ کراچی میں ١٩؍اپریل ١٩٨٤ء کو نشتر پارک میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس کا تمام تر انتظام حضرت مولانا مفتی احمد الرحمن ؒ نے فرمایا۔ مجلس کے تمام رفقاء کو آپ نے سراپا تیاری بنا دیا۔ کانفرنس بڑی آب و تاب سے منعقد ہوئی۔ اس کا خطبہ استقبالیہ بحیثیت استقبالیہ کے سربراہ کے حضرت مولانا مفتی احمد الرحمن ؒ نے پڑھا۔ اس کانفرنس سے مولانا خواجہ خان محمد ؒ، مولانا زاہد الراشدی، مولانا ضیاء القاسمی ؒ، مولانا اسفندیار، مولانا احسان الٰہی ظہیر ؒ، مولانا مفتی مختار احمد نعیمی ؒ، مولانا محمد لقمان علی پوری ؒ اور دیگر حضرات نے حضرت مولانا احمد الرحمن ؒ کی قیادت و سیادت میں خطاب فرمایا۔ اس سے قبل مجلس کے تحت فیصل آباد، سیالکوٹ، کوئٹہ، حیدرآباد میں کانفرنسیں ہوچکی تھیں۔ کراچی کی یہ کانفرنس آخری کانفرنس تھی۔ ٢٧؍اپریل ١٩٨٤ء کو راولپنڈی راجہ بازار میں آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس اور اس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرنے کے پروگرام کا اعلان کیا گیا۔ جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے مذاکرات کے لئے مجلس عمل کے وفد کو ٢٦؍اپریل ١٩٨٤ء کو ملاقات کے لئے دعوت دی۔ چنانچہ یہ وفد حضرت مولانا خواجہ خان محمد ؒ کی سربراہی میں جنرل محمد ضیاء الحق ؒ سے ملا۔ اس وفد میں میرے مخدوم و ممدوح مفتی احمد الرحمن ؒ، مولانا محمد شریف جالندھری ؒ، مولانا عبدالقادر روپڑی ؒ، مولانا قاضی اسرار الحق ؒ، جناب خاقان بابر ؒ، مولانا محمد عبداللہ شہید ؒ، مولانا مفتی زین العابدین ؒ، مولانا حکیم عبدالرحیم اشرف ؒ شامل تھے۔ اس وفد کے سامنے جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے امتناع قادیانیت آرڈیننس پر دستخط کئے۔ پروردگار عالم تیری قدرت کے اپنے فیصلے ہیں۔ اگر کل ٧؍ستمبر ١٩٧٤ء کو جناب ذوالفقار علی بھٹو نے قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دیا تو تب اس کام کی سربراہی کا اعزاز مولانا سید محمد یوسف بنوری ؒ کو حاصل تھا۔ آج ٢٦؍اپریل ١٩٨٤ء کے جس وفد نے جنرل محمد ضیاء الحق سے امتناع قادیانیت آرڈیننس پر دستخط کرانے کا اعزاز حاصل کیا ان کے ماتھے کا جھومر مولانا احمد الرحمن ؒ کی ذات گرامی ہے۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
قارئین! ان تفصیلات کو میں یہاں چھوڑتا ہوں۔ اس آرڈیننس کے بعد مرزا طاہر نے پاکستان سے لندن کے لئے مجرمانہ فرار اختیار کیا۔ اگلے سال یعنی اگست ١٩٨٥ء کو برطانیہ میں پہلی سالانہ ختم نبوت کانفرنس ہوئی۔ اس میں دیگر قائدین کے ساتھ ویمبلے ختم نبوت کانفرنس میں مولانا خواجہ خان محمد ؒ کے ایک جانب مولانا سید اسعد مدنی ؒ تھے تو دوسری جانب مولانا احمد الرحمن ؒ تھے۔ دیانتداری کی بات ہے کہ ختم نبوت کانفرنس کی تیاری وانعقاد میں مولانا محمد ضیاء القاسمی ؒ، مولانا عبدالحفیظ مکی، مولانا منظور احمد چنیوٹی ؒ، مولانا محمد یوسف لدھیانوی ؒ، جناب عبدالرحمن یعقوب باوا، مولانا منظور احمد الحسینی ؒ، حضرت مولانا یوسف متالا جہاں نمایاں نظر آتے ہیں۔ وہاں جمعیۃ علماء برطانیہ کی پوری قیادت بھی شریک عمل تھی۔ اس وقت جمعیۃ علماء برطانیہ کے صدر مولانا عبیدالرحمن تھے جو مولانا مفتی احمد الرحمن ؒ کے بڑے بھائی تھے اور جمعیۃ علماء برطانیہ کے روح رواں مولانا مفتی محمد اسلم صاحب تھے۔ جو مولانا مفتی احمد الرحمن ؒ کے شاگرد رشید تھے۔ غرض اس دن سے لے کر آج تک سالانہ ختم نبوت کانفرنس برطانیہ کی کامیابی میں جن حضرات کے وجود مسعود کی برکتوں کا ظہور نمایاں نظر آ رہا ہے۔ ان میں مولانا مفتی احمد الرحمن ؒ بھی تھے۔
٢٠؍ جنوری ١٩٨٤ء کو عالمی مجلس کے مرکزی رہنما مولانا تاج محمود ؒ کے وصال پر مولانا مفتی احمد الرحمن ؒ فیصل آباد تعزیت کے لئے تشریف لائے۔ ١٤؍ فروری ١٩٨٥ء میں مولانا محمد شریف جالندھری ؒ کا ملتان میں وصال ہوا۔ ان کے جنازہ میں حضرت مفتی احمد الرحمن ؒ تشریف لائے۔ ٧؍ جولائی ١٩٨٥ء کو دفتر مرکزیہ ملتان میں عالمی مجلس کی مرکزی جنرل کونسل کا اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں مولانا خواجہ خان محمد ؒ کو امیر مرکزیہ منتخب کیا گیا اور مرکزی نائب امیر کے لئے مولانا احمد الرحمن ؒ دوسری بار منتخب ہوئے۔ اس اجلاس کی کارروائی میں درج ہے کہ مولانا مفتی احمد الرحمن ؒ اپنی مصروفیت کی وجہ سے معذرت کے لئے کھڑے ہوئے لیکن سینکڑوں افراد پر مشتمل مرکزی جنرل کونسل نے متفقہ طور پر درخواست کی کہ حضرت آپ ہی نائب امارت قبول فرمائیں۔ ادھر حضرت مولانا خواجہ خان محمد ؒ اور مولانا محمد یوسف لدھیانوی ؒ اور مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ نے بھی فرمایا تو حضرت مفتی احمد الرحمن ؒ کی کریم النفسی کا ملاحظہ ہو کہ ایک لفظ کہے بغیر بیٹھ گئے اور فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ کو یہی منظور ہے تو میرے معذرت کرنے کی کیا مجال ہے۔
پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ پہلی ختم نبوت کانفرنس برطانیہ کے لئے حضرت مولانا مفتی احمد
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
الرحمن ؒ کا تشریف لے جانا اس کی کامیابی میں آپ کا اثر ورسوخ اور ذاتی وجاہت نے کافی اثر دکھایا۔ کانفرنس کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے لندن میں اپنا ملکیتی دفتر قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ حضرت مولانا مفتی احمد الرحمن ؒ کی قیادت میں حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی ؒ ، حضرت مولانا منظور احمد حسینی ؒ ، حاجی عبدالرحمن یعقوب باوا نے اس کے لئے عرب امارات کا دس روزہ دورہ کیا جو انتہائی کامیاب رہا اور لندن دفتر کی خریداری کے لئے خاصی امداد یہاں سے حاصل ہوئی۔ اللہ رب العزت بہت ہی جزا دے دیں۔ مولانا خلیل احمد ہزاروی، الحاج محمد رفیق صابری ؒ ، جناب اشتیاق حسین کہ انہوں نے بہت ہی مخلصانہ جدوجہد میں ان اکابر کی تشریف آوری سے بھرپور مدد فراہم کر دی۔ غرض کراچی دفتر سے لندن دفتر تک حضرت مفتی احمد الرحمن ؒ کا قائدانہ کردار ختم نبوت تحریک کا حصہ ہے۔
عالمی مجلس کی مرکزی مجلس شوریٰ کا ٦؍ مارچ ١٩٨٨ء کے اجلاس میں لندن دفتر کے لئے حضرت مولانا منظور احمد الحسینی ؒ کی تقرری کی تجویز حضرت مولانا مفتی احمد الرحمن ؒ نے دی تھی۔ یہ کتنی صائب تھی۔ اسے ہر باخبر آدمی جانتا ہے۔ ١٤؍ اکتوبر ١٩٨٨ء کو سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کے موقع پر عالمی مجلس کی جنرل کونسل کا اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس کی کارروائی میں جنرل کونسل کے ١٦٨ ممبران نے شرکت فرمائی۔ اس اجلاس کی حاضری میں تیسرے نمبر پر حضرت مولانا مفتی الرحمن ؒ کے دستخط ہیں اور ١٦٨ یعنی آخری نمبر پر حضرت مولانا محمد جمیل خان ؒ کے۔ اس اجلاس میں تیسری بار حضرت مولانا مفتی احمد الرحمن ؒ عالمی مجلس کے بالاتفاق نائب امیر منتخب ہوئے۔ اس کے بعد ٢٥؍ فروری ١٩٩٠ء کے مرکزی شوریٰ کے اجلاس میں شرکت سے حضرت مفتی صاحب نے سرفراز فرمایا۔ اس اجلاس کے ٹھیک گیارہ ماہ بعد ٣١؍ جنوری ١٩٩١ء کو کراچی میں واصل بحق ہوئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن!
وفاق المدارس کی نائب صدارت، پھر ناظم عمومی، سواد اعظم کی تشکیل، سنی محاذ کی صدارت، جامعۃ العلوم الاسلامیہ، جمعیۃ علماء اسلام اور مجلس تحفظ ختم نبوت غرض کوئی ایسا شعبہ نہیں جس میں حضرت مفتی صاحب ؒ نے حصہ نہ لیا ہو اور پھر قدرت کا کرم یہ کہ جہاں تشریف لے گئے۔ قدرت نے انہیں نمایاں کیا۔ قیادت سے سرفراز فرمایا وہ بہت بڑی دینی شخصیت حضرت مولانا عبدالرحمن کامل پوری ؒ کے صاحبزادہ، عالم اسلام کی معروف شخصیت حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری ؒ کے جانشین تھے۔ قدرت نے حضرت مفتی صاحب ؒ کو بھی واقعی طور پر ان حضرات کے منصب کی وراثت کا اہل بنا دیا۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
(١٠)
حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ
(وفات: ١٨؍مئی ٢٠٠٠ء)
اللہ رب العزت نے نبوت کی ابتداء سیدنا آدم علیہ السلام سے کی اور اس کی انتہاء آنحضرت ﷺ کی ذات بابرکات پر ختم کی، اس عقیدہ کو ”ختم نبوت“ کا عقیدہ کہا جاتا ہے۔ خیر القرون سے لے کر اس دور تک ہر زمانہ میں مسلمان اس عقیدہ کی دل و جان سے حفاظت کرتے چلے آئے ہیں۔
ہندوستان میں انگریز کے اشارہ پر مرزا غلام احمد قادیانی نے اس عقیدہ پر شب خون مارا، چنانچہ تاریخ کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے اکابرین امت نے اس مسئلہ کے تحفظ اور قادیانیت کے ابطال کے لئے سرفروشانہ جدوجہد کی ایک سنہری تاریخ رقم کی۔ حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کی الف سے مولانا محمد یوسف بنوریؒ کی یا تک ”تحفظ ختم نبوت“ کی ایک ایمان پرور، جہاد آفرین، حقائق افروز، سنہری اور قابل قدر و فخر تاریخ ہے۔ اس دور میں ہمارے مخدوم و مرشد حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ اس تاریخ اور روایات کے امین اور اس قافلہ کے کامیاب فاتح جرنیل تھے۔
حضرت اقدس مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، ١٩٧٥ء میں مجلس تحفظ ختم نبوت سے وابستہ ہوئے اور فتنہ قادیانیت کے استیصال کے لئے اللہ تعالیٰ نے آپ سے وہ کام لیا جو ایک مستقل ادارے کے کرنے کا تھا۔
اس جماعت کی تشکیل کی تقریب یہ ہوئی کہ ١٩٢٩ء میں حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، مولانا محمد علی جالندھریؒ، مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ اور دوسرے حضرات نے مل کر ایک غیر سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی جو سیاست سے ہٹ کر صرف اور صرف دینی نقطہ نظر سے قادیانیت سے برسر پیکار ہو۔ اس جماعت کا نام ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ رکھا گیا۔
١٩٥٣ء میں قادیانی فتنہ کے خلاف عظیم الشان تحریک چلی۔ اس تحریک سے فراغت کے بعد مجلس تحفظ ختم نبوت کا ١٩٥٤ء میں باضابطہ انتخاب ہوا اور حضرت سید عطاء اللہ شاہ
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
بخاری ؒ اس کے پہلے امیر مقرر ہوئے۔ ان کے بعد حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی ؒ، مولانا محمد علی جالندھری ؒ، مولانا لال حسین اختر ؒ یکے بعد دیگرے مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر رہے۔ حضرت مولانا لال حسین اختر ؒ کے وصال کے بعد شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوری ؒ سے مجلس تحفظ ختم نبوت کی امارت قبول کرنے کے لئے مقتدر شخصیات نے گذارش کی۔ ان دنوں حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید ؒ جامعہ رشیدیہ ساہیوال میں مدرس تھے اور دس دن ”ماہنامہ بینات کراچی“ کے لئے دیا کرتے تھے۔ مولانا لدھیانوی شہید ؒ سے حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری ؒ فرماتے تھے کہ آپ مستقل کراچی آجائیں۔ حضرت لدھیانوی شہید ؒ اس کے لئے آمادہ نہ تھے۔ اب مجلس تحفظ ختم نبوت کی امارت قبول کرنے کے لئے حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید ؒ نے بھی حضرت بنوری ؒ سے استدعا کی تو حضرت بنوری ؒ نے فرمایا کہ اگر میں مجلس کی امارت قبول کرلوں تو آپ مجلس کے مرکزی دفتر ملتان آجائیں گے؟ حضرت لدھیانوی شہید ؒ نے عرض کیا ”بسر و چشم“
٩؍ اپریل ١٩٧٤ء کو حضرت بنوری ؒ نے مجلس کی امارت قبول کی۔ ٢٩؍ مئی ١٩٧٤ء کو چناب نگر (سابق ربوہ) ریلوے اسٹیشن پر سانحہ پیش آیا۔ قادیانیوں کے خلاف بھرپور تحریک چلی۔ جس کے نتیجہ میں ٧؍ ستمبر ١٩٧٤ء کو پاکستان کی پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا۔ جب مبارکباد کے لئے حضرت لدھیانوی شہید ؒ اپنے مرشد و مربی حضرت بنوری ؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت بنوری ؒ نے فرمایا۔ وعدہ یاد ہے؟ آپ نے عرض کیا کہ یاد ہے۔ چنانچہ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید ؒ ختم نبوت کے مرکزی دفتر ملتان تشریف لے آئے۔
آپ کا مجلس تحفظ ختم نبوت میں آنا گویا رحمت باری کا خصوصی فضل ہوا۔ آپ نے تحفظ ختم نبوت اور رد قادیانیت کے کام کو جدید خطوط پر استوار کیا۔ بلاشبہ یہ آپ کا تجدیدی کارنامہ تھا۔ اس پر جتنا آپ کو خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے۔ آپ کے اس تجدیدی کارنامہ کی مختصر روئیداد یہ ہے۔
قادیانیوں کو دعوت اسلام
١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت کی کامیابی کے بعد اب امت کا فرض بنتا تھا کہ قادیانیوں کو
چمنستان ختم نبوت کے گلہائے رنگا رنگ
دعوت اسلام دی جائے۔ ختم نبوت کی حقانیت اور مرزا غلام احمد قادیانی کے باطل نظریات کو ان پر آشکارا کیا جائے۔ آپ نے اس عنوان پر امت میں سب سے پہلے کام کیا۔ متعدد مضامین و رسائل لکھ کر امت کی طرف سے فرض کفایہ ادا کیا۔ الفضل اور دیگر قادیانی جرائد سے قادیانیوں کے پتہ جات تلاش کر کے ہزاروں قادیانیوں کو ان کے گھروں کے پتوں پر ڈاک سے لٹریچر ارسال کیا گیا اور اس موضوع پر نہایت خوبصورت رسالہ ”قادیانیوں کو دعوت اسلام“ کے عنوان سے لکھ کر قادیانیوں کے گھر گھر بھیجا گیا۔
مبلغین اور کارکنان ختم نبوت کے ذریعہ قادیانیوں کو دستی لٹریچر پہنچایا گیا۔ پورے ملک میں اللہ رب العزت کے فضل و احسان سے آپ کی یہ تحریک کامیابی سے ہمکنار ہوئی اور یوں آپ کی کوشش سے امت مسلمہ نے ایک فرض و قرض کی ادائیگی کا شرف حاصل کیا۔
شعبہ نشر و اشاعت
آپ نے مجلس کے شعبہ نشر و اشاعت کے تحت بیسیوں رسائل و کتب بلاشبہ لاکھوں کی تعداد میں شائع کر دیئے۔ حضرت مولانا محمد علی مونگیری ؒ کا ایک ملفوظ ہے کہ رد قادیانیت پر اتنا لکھا اور شائع کیا جائے کہ ایک مسلمان سو کر اٹھے تو اس کے سرہانے ختم نبوت کا لٹریچر موجود ہو۔ حق تعالیٰ شانہ کی قدرت کہ مولانا محمد علی مونگیری ؒ کی اس تڑپ نے مولانا محمد یوسف لدھیانوی ؒ کی شکل اختیار کی اور یوں آپ کے ذریعہ رد قادیانیت پر تحریری اتنا کام ہوا جتنا گزشتہ پچاس برس میں نہیں ہوا تھا ہفت روزہ ختم نبوت کا اجراء، لٹریچر کی کثرت، کتب و رسائل کی اشاعت، اشتہارات و ہینڈ بلوں کی تقسیم و ترسیل نے ایک مستقل اشاعتی ادارے کے کام کی شکل اختیار کی۔ یہ سب حضرت مرحوم کی کوششوں کا نتیجہ اور مساعی جمیلہ کا ثمر ہے جو اس دور میں آپ کے ہاتھوں امت کو اللہ رب العزت نے نصیب کیا۔
آپ نے فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیات ؒ کی رہنمائی میں قادیانیت کا ڈیڑھ دو سال میں بھر پور مطالعہ کیا۔ انہیں دنوں آپ نے مختلف رسائل ترتیب دیئے۔ جن میں (١) قادیانیوں کو دعوت اسلام، (٢) ربوہ سے تل ابیب تک، (٣) مراقی نبی، (٤) مرزائی اور تعمیر مسجد، (٥) مرزا کا اقرار اور (٦) قادیانیت علامہ اقبال ؒ کی نظر میں شامل ہیں۔ علاوہ ازیں ملتان دفتر میں قیام کے دوران شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری ؒ کی آخری تصنیف
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگارنگ
”خاتم النبیین“ کا فارسی سے اردو میں ترجمہ کیا جو ایک یادگار اور تاریخی کام ہے۔ جس کی افادیت اہل علم پر پوشیدہ نہیں۔
اسی زمانہ میں ”قادیانیوں سے ستر سوالات“ ”اشد العذاب علی مسيلمة الفنجاب“ مجموعہ رسائل مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوری، رئیس قادیان ، مصنفہ مولانا محمد رفیق دلاوری، اسلام اور قادیانیت کا تقابلی مطالعہ ، مصنفہ مولانا نور محمد اور التصريح بما تواتر فی نزول المسیح، مصنفہ مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ، مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی شعبہ نشر و اشاعت کی طرف سے آپ نے شائع کرائیں۔
غرض آپ کو جب سے حضرت بنوریؒ نے شعبہ نشر و اشاعت کا سربراہ مقرر کیا۔ آپ نے اپنی خداداد صلاحیتوں سے اسے چار چاند لگا دیئے۔ اس دوران ”تحفظ ختم نبوت اور دارالعلوم دیوبند“ کے عنوان پر آپ نے گراں قدر تحقیقی مقالہ تحریر کیا۔ جس کی ضخامت ڈیڑھ صد صفحات پر مشتمل ہے۔
مقدمات کی پیروی
١٩٧٤ء کی تحریک کے بعد جہاں کہیں قادیانیوں نے قانون کی خلاف ورزی کی اور ان کے خلاف کیس دائر ہوا، وکلاء کی تیاری اور رہنمائی کے لئے قدرت نے آپ سے کام لیا۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے ایسی جامعیت نصیب فرمائی تھی کہ بیک وقت ایک متبحر عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ قادیانیت کے لٹریچر پر پوری گرفت رکھتے تھے۔ آپ نے سرگودھا، بہاولپور وغیرہ عدالتوں میں اس طرح خدمات سر انجام دیں کہ قادیانیت بلبلا اٹھی۔ اس دوران اللہ رب العزت نے کرم کیا کہ ١٩٨٤ء کی تحریک ختم نبوت قادیانیوں کے خلاف منظم ہوئی۔ اس میں آپ نے بھر پور قائدانہ کردار ادا کیا۔
٢٦؍ اپریل ١٩٨٤ء کو جنرل محمد ضیاء الحق صاحب نے قادیانیوں کے خلاف امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کیا۔ قادیانیوں نے اس کے خلاف وفاقی شرعی عدالت میں کیس دائر کر دیا تو اس کی پیروی کے لئے حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ نے اپنے گرامی قدر رفقاء حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ، حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ کے ہمراہ
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
لاہور جا کر ڈیرہ لگایا۔ دفتر ختم نبوت دہلی دروازہ لاہور مقدمہ کی پیروی کے لئے وقف ہو گیا۔ رد قادیانیت اور قادیانیت کا تمام لٹریچر ملتان دفتر ختم نبوت سے لاہور منتقل کیا گیا۔ مگر مشکل یہ پیش آئی کہ تفاسیر و احادیث کی قدیم و جدید کتب کے بغیر اس مقدمہ کی پیروی ممکن نہ تھی۔ اللہ تعالیٰ بہت جزائے خیر دے جامعہ اشرفیہ لاہور کے ارباب بست و کشاد کو کہ انہوں نے اپنے جامعہ کی لائبریری کے دروازے کھول دیئے۔ حضرت مرحوم اپنے رفقاء سمیت وہاں منتقل ہو گئے۔ وکلاء کے حوالہ جات کی فراہمی کے لئے فوٹو اسٹیٹ مشین منگوائی گئی۔
دن بھر عدالت میں مقدمہ کی کارروائی میں حصہ لیتے۔ شام کو رات گئے تک حوالہ جات اور دلائل کی ترتیب و تخریج کا کام کرتے۔ آپ کی جامع شخصیت اور خداداد بصیرت کو دیکھ کر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے وکلاء کے علاوہ سرکاری وکلاء بھی آپ کے پاس آتے۔ آپ ان کے ہر اشکال کا اس طرح جواب دیتے کہ وہ عش عش کر اٹھتے۔ یہ کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا کہ تمام تر وکلاء کی تیاری اور پورے کیس کی پیروی آپ کی محنت کی مرہون منت ہے۔ اللہ رب العزت نے کرم کیا۔ قادیانیت شکست کھا گئی اور آپ کی اخلاص بھری کاوشوں کو قدرت نے قبولیت سے نوازا کہ متفقہ طور پر پانچ جسٹس صاحبان نے امت محمدیہ ﷺ کے حق میں اور قادیانیوں کے خلاف فیصلہ دیا۔
قادیانیوں نے اس کے خلاف سپریم کورٹ شریعت اپیل بینچ میں اپیل دائر کی۔ وہاں سے بھی قادیانیوں کو شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ اس دوران افریقہ کے قادیانیوں (لاہوری گروپ) نے جنوبی افریقہ جوہانسبرگ کی عدالت میں کیس دائر کر دیا کہ ہمیں مسلمان سمجھا جائے اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہونے کی اجازت دی جائے۔ رابطہ عالم اسلامی، پاکستان حکومت نے اپنے وکلاء، و علماء بھیجے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا وفد بھی حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید ؒ کی قیادت باسعادت میں وہاں پہنچا۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ جان جوکھوں میں ڈال کر دن رات ایک کر کے اپنے آرام کو تج کر کے تمام وکلاء کی تیاری کا کام جتنا اللہ رب العزت نے آپ سے لیا وہ تاریخ کا ایک حصہ ہے۔ بڑے بڑے بہادر بھی مہینوں کی جانگسل محنت سے اکتا کر ادھر ادھر ہو گئے۔ لیکن آپ مسلسل اس کام کو تندہی سے کرتے رہے۔ دوبارہ آپ کو جانا پڑا، مہینوں مسلسل سماعت ہوئی۔ لیکن ہائیکورٹ سے سپریم کورٹ تک آپ کی محنت کام آئی اور قادیانی جنوبی افریقہ کے سپریم کورٹ سے بھی اپنے کفر و زندقہ پر مہر لگوا کر واپس آگئے۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
اسی طرح پاکستان کے چاروں ہائیکورٹوں میں قادیانیوں نے کیس دائر کئے۔ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ مارے مارے ان کورٹوں میں پھرتے رہے۔ صبر آزما مراحل سے گزرے، مقدمات کی ایسے احسن انداز میں پیروی کی اور ایسے مستقل و جاندار بنیاد پر قادیانیت کے کفر کو آشکارا کیا کہ مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کے بہاولپور عدالت میں بیان کی یاد تازہ ہوگئی۔
قدرت نے آپ سے وہ کام لیا کہ اس پر قادیانیت کے چھکے چھوٹ گئے۔ ان تمام کیسوں کی اپیل سپریم کورٹ میں گئی۔ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ رفقاء کی ٹیم لے کر سپریم کورٹ پہنچ گئے۔ آپ کے جانے سے راولپنڈی سپریم کورٹ، علماء کرام کے اجتماع کا منظر پیش کرنے لگا۔ آپ نے وہاں بھی تمام وکلاء کو تیاری کرائی اور پھر راجہ حق نواز ایڈووکیٹ جو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی سپریم کورٹ میں نمائندگی کر رہے تھے۔ ان سے عدالت نے کہا کہ آپ اپنا بیان تحریری طور پر عدالت میں داخل کریں۔ شرعی نقطہ نظر سے وضاحت کریں کہ امتناع قادیانیت آرڈیننس میں قادیانیوں پر جو پابندیاں لگائی گئی ہیں وہ درست ہیں۔ راجہ صاحب نے اپنے مؤکل حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ کی طرف دیکھا۔ انہوں نے حامی بھری، کراچی تشریف لائے، مختصر مدت میں ”عدالت عظمیٰ کی خدمت میں“ کے نام سے مقالہ تحریر کیا۔ جو دلائل و براہین کا ایسا خزینہ ہے۔ اسے پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ نہیں بلکہ عالمی عدالت میں کوئی بین الاقوامی ماہر قانون خطاب کر رہا ہے اور اس کے دلائل کے سامنے فریق مخالف ندامت سے سر جھکائے کھڑا ہے اور عدالت ان کے دلائل کے وزن سے بچھی چلی جارہی ہے۔
ان فیصلہ کرنے والے پانچ سپریم کورٹ کے جج صاحبان میں سے ایک جج نے ریٹائرمنٹ کے بعد فرمایا کہ مولانا کے اس بیان نے ہماری اتنی رہنمائی کی کہ میں حیران رہ گیا کہ جو بات وکلاء اس زور سے نہ سمجھا سکے وہ ایک بوریہ نشین نے کس دلکش انداز میں باور کرادی؟ حق تعالیٰ کا کرم ہوا کہ مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کی گرفت سے قادیانیت یہاں بھی جان نہ چھڑا سکی۔ بلکہ سپریم کورٹ سے بھی ان کو اپنے کفر پر مہر لگوانی پڑی۔ قادیانیوں نے سپریم کورٹ سے نظر ثانی کی استدعا کی۔ مولانا اس کی پیروی کے لئے پہنچے۔ لیکن اللہ کی شان قدرت کے قربان
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
جائیں کہ کفر ہار کر دم توڑ گیا۔ مولانا کامیاب و کامران ہوئے۔ چنانچہ قادیانی سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی اپنی درخواست کی پیروی کا حوصلہ نہ کر پائے اور ان کی یہ درخواست بھی قادیانیوں کے اسلام سے خارج ہونے کی طرح سپریم کورٹ سے خارج ہو گئی۔ یوں مولانا محمد یوسف لدھیانوی ؒ سول عدالتوں سے لے کر سپریم کورٹ تک اور پاکستان سے جنوبی افریقہ تک کامیابی و کامرانی سے ہمکنار ہوئے۔
بیرون ملک قادیانیت کا تعاقب
حضرت مولانا محمد یوسف متالا صاحب نے حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا ؒ کی سوانح حیات لکھنے کے لئے آپ سے استدعا کی۔ آپ نے فرمایا کہ مولانا منظور احمد الحسینی، محترم عبدالرحمن یعقوب باوا بھی میرے ساتھ ہوں گے۔ آپ ان کے ویزے کا بھی انتظام فرمائیں۔ دارالعلوم ہولکومب بری انگلینڈ میں آپ مہینہ بھر حضرت شیخ الحدیث ؒ کی سوانح مرتب کرتے رہے اور آپ کے دونوں خدام برطانیہ بھر میں تبلیغ کرتے رہے۔ اس دوران آپ کو بھی بعض اجتماعات میں جانا پڑا۔ قادیانیوں سے یہاں ایک مناظرہ بھی ہوا۔ یوں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر ؒ اور شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوری ؒ کے بعد تیسری آواز آپ کی تھی جو برطانیہ میں ختم نبوت کی رعد بن کر گونجی اور قادیانیوں کے لئے بجلی کی کڑک کا کام کر گئی۔ ١٩٨٤ء کے امتناع قادیانیت آرڈیننس کے بعد مرزا طاہر قادیانی برطانیہ گیا۔ آپ اس کے تعاقب میں برطانیہ تشریف لے گئے۔ ختم نبوت کانفرنس کی داغ بیل پڑی اور آج تک تسلسل کے ساتھ برطانیہ میں منعقد ہو رہی ہے۔ آپ نے وہاں مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر کے لئے سوچ بچار کیا۔ حضرت الامیر مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم سے اجازت و دعاء لے کر آپ اٹھ کھڑے ہوئے۔ حضرت مولانا مفتی احمد الرحمن ؒ کے شانہ بشانہ آپ نے متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا اور اس مقصد کے لئے دبئی میں ایک ماہ کے لگ بھگ قیام کیا۔ پاکستان وافریقہ میں اہل خیر کو متوجہ کیا اور یوں ختم نبوت کا دفتر لندن میں قائم ہو گیا۔ جو آپ کا صدقہ جاریہ ہے۔
کراچی دفتر ختم نبوت
کراچی میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے کام کی سرپرستی، نگرانی و رہنمائی آپ نے کی۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
حضرت مولانا مفتی احمد الرحمن ؒ کے بعد آپ مجلس کے نائب امیر بنے۔ آپ نے کراچی دفتر ختم نبوت و جامع مسجد باب الرحمت کی تعمیر کا کام اللہ تعالیٰ کا نام لے کر شروع کرایا۔ آپ کے رفقاء آپ کے متعین کردہ خطوط پر محنت کرتے رہے۔ یوں آپ کی شخصیت کی جامعیت سے اسلامیان کراچی نے لاکھوں کے صرفہ سے یہ عظیم الشان مسجد و دفتر بنا دیا۔ کچھ عرصہ بعد آپ کراچی دفتر ختم نبوت میں بیٹھنے لگے تو اس سے دفتر کی رونق بڑھی اور پورے کراچی میں اسے مرکزیت نصیب ہوگئی۔ یہ سب کام آپ کی ذات گرامی سے قدرت نے لئے۔
رجال کار کی تیاری
آپ نے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور قادیانیت کے تعاقب کے لئے علماء کرام اور جدید تعلیم یافتہ طبقہ میں ایک نئی روح پھونکی، جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی، دارالمبلغین ختم نبوت ملتان اور رد قادیانیت کورس چناب نگر سے فارغ ہونے والے ہزاروں علماء وطلباء آپ کے شاگرد ہیں۔ بلاشبہ اس وقت پاکستان اور بیرونی دنیا میں ختم نبوت کے عنوان پر کام کرنے والی تمام نئی ٹیم بلاواسطہ یا بالواسطہ آپ کی شاگرد ہے۔ ان میں ایک ایک فرد ہزاروں قادیانیوں پر بھاری ہے۔ اکیلے مولانا منظور احمد الحسینی کو دیکھئے جن کی تمام تر تیاری آپ کی نظر کرم کی مرہون منت ہے۔ اس وقت پورے یورپ میں سرگرم عمل رہے۔ ان کے وجود سے قادیانیت خائف تھی۔ یہ سب مولانا مرحوم کی باقیات الصالحات تھیں۔ مولانا مرحوم رد قادیانیت کے عنوان پر اتنی بڑی جماعت تیار کر کے گئے ہیں جو انشاء اللہ آئندہ نصف صدی تک قادیانیت کے تعاقب کے لئے کافی ہیں۔ اس وقت انٹرنیٹ پر تمام تر انگریزی مواد آپ کے قلم کا شاہکار ہے۔ آپ نے قادیانی عقائد اور نظریات کے خدوخال واضح کرنے کے لئے ”تحفہ قادیانیت“ کے نام پر چھ ضخیم جلدوں میں کتاب تحریر فرمائی اس کی ساتویں جلد زیر ترتیب ہے۔ آپ کی گراں قدر کتاب تحفہ قادیانیت کے کئی ابواب کا انگلش، عربی، سندھی، پشتو اور دیگر کئی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے اور ان میں سے کئی ابواب انٹرنیٹ پر بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔
غرض آپ کی ذات گرامی سے قدرت حق نے عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے وہ کام لیا جس کی اس وقت پوری دنیا میں نظیر نہیں پیش کی جاسکتی۔ آپ تحریر و تقریر کے دھنی تھے اور اس وقت قادیانیت کے خلاف کام کرنے والی ٹیم میں آپ کی ذات گرامی کو اتھارٹی کا درجہ حاصل تھا۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگارنگ
متعلقین جانتے ہیں کہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ ایک مجاہد فی سبیل اللہ بزرگ اور ممتاز دینی رہنما ہیں۔ آپ کی قیادت و سیادت پر اس وقت اہل علم متفق و متحد ہیں۔ آپ بیان نہیں فرماتے، برطانیہ میں ایک موقع پر کسی نے عرض کیا۔ راقم الحروف بھی اس موقع پر موجود تھا کہ حضرت آپ تقریر نہیں فرماتے؟ آپ نے فی البدیہہ فرمایا کہ میری زبان مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ ہیں۔ جس نے مجھے سننا ہے وہ مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کی تحریر و تقریر سنے اور پڑھے، حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ ١٩٧٤ء کے اواخر سے لے کر تادم واپسیں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی قیادت و سیادت فرماتے رہے۔ اس دوران عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے جو ترقی کی وہ آپ کی گراں قدر خدمات کے اعتراف کا ایک روشن باب ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت شہیدؒ کو اعلیٰ مراتب سے نوازیں اور ہم سب کو ان کے نقش قدم پر چل کر زندگی گزارنے کی توفیق بخشیں۔ بلاشبہ اس محاذ پر آپ سے قدرت حق نے وہ کام لیا جس پر آپ کی ذات کو جتنا بھی خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے۔
(بنات، شہیدؒ نمبر)
قادیانیوں کے کلمہ کی حقیقت
١٩٨٤ء میں جب قادیانیوں کے خلاف جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے امتناع قادیانیت آرڈیننس منظور کیا تو قادیانیوں نے کلمہ طیبہ کے بیج لگا کر اس قانون کی خلاف ورزی کرنا چاہی۔ تب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ان کے احتساب کا دائرہ تنگ کر دیا۔ اس کے نتیجہ میں قادیانی تحریک اس طرح دم توڑ گئی جس طرح مرزا قادیانی کے اندر سے حیاء نے ڈیرہ اٹھا لیا تھا۔ اس زمانہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے شعبہ نشر و اشاعت کے سربراہ شہید اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ تھے۔ اس دور میں آپ کا قلم تازی گھوڑے سے بھی زیادہ میدان سر کر رہا تھا۔ آپ نے مختصر عرصہ میں قادیانی فرقہ سے متعلق اتنا تحریر کیا کہ جب اس کو جمع کیا گیا تو ”تحفہ قادیانیت“ کی چھ ضخیم جلدیں شائع ہوگئیں۔ بلاشبہ اس وقت تک کی فقیر کی نظر میں سب سے زیادہ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ نے رد قادیانیت پر تحریر فرمایا۔ باقی حضرات میں سے کسی نے دو جلدیں، کسی نے تین۔ آپ کی چھ جلدیں جسے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت علیحدہ شائع کرنے کی سعادت حاصل کر چکی ہے۔ یہ رسالہ بھی ہمارے حضرت کا مرتب کردہ ہے جو احتساب قادیانیت کی جلد ٥٥ میں بھی شائع ہوا۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
(١١)
حضرت سید نفیس الحسینی شاہ ؒ
(وفات: ٥ فروری ٢٠٠٨ء)
حضرت اقدس سیدی، سندی، مولائی، مربی و محسن سید نفیس الحسینی نور اللہ مرقدہ سے فقیر راقم کی پہلی ملاقات حضرت مولانا تاج محمود ؒ کے ہمراہ ہفت روزہ چٹان لاہور کی بالائی منزل میں ہوئی۔ پہلی ملاقات میں ہی عقیدت و محبت کے ساتھ ساتھ آپ سے قلبی انس بھی ہو گیا۔ دل آویز شخصیت، نورانی معصوم چہرہ، شامی عربوں جیسی قدوقامت کے علاوہ آپ کا مسئلہ ختم نبوت سے قلبی والہانہ لگاؤ، کتابت میں فنی مہارت، آپ کی پارسائی، غرض مسحور کن شخصیت سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہا گیا۔ غالباً ١٩٧٠ء میں دھوبی گھاٹ لائل پور (اب فیصل آباد) میں ختم نبوت کانفرنس رکھی تھی۔ اس میں مولانا محمد عبداللہ درخواستی ؒ، مولانا محمد علی جالندھری ؒ، مولانا لال حسین اختر ؒ، سید مظفر علی شمسی ؒ، مولانا خلیل احمد قادری ؒ، صاحبزادہ مولانا افتخار الحسن شاہ ؒ، مولانا احسان الہی ظہیر ؒ، سید امین گیلانی ؒ اور دیگر حضرات کے بیانات ہونے تھے۔
اس کانفرنس کے اشتہار کی کتابت کے لئے دوبارہ آپ کی خدمت میں لاہور حاضری ہوئی۔ اب زیادہ دیر آپ کی مجلس سے فیضیاب ہونے کا موقعہ ملا۔ اس کے بعد تو گویا ملاقاتوں کا دروازہ کھل گیا۔ اس دوسری حاضری کے بعد تو جب لاہور جانا ہوا آپ کی ملاقات کے لئے ضرور حاضری ہوتی۔ خدا لگتی عرض کرتا ہوں کہ ہر ملاقات میں محبت میں اضافہ ہی ہوتا گیا اور آپ کی شخصیت کے نقش دل پر منقش ہوتے گئے۔
راقم روسیاہ کی پہلی شعوری بیعت حضرت مولانا عبدالعزیز نور اللہ مرقدہ ساکن چک: ١١ چیچہ وطنی والوں سے ہے۔ آپ نے زندگی بھر کسی کو خلافت نہیں دی تھی۔ آپ کے وصال کے بعد آپ کے حلقہ کے حضرات سے معلوم ہوا کہ آپ فرماتے تھے کہ میرے بعد میرے متعلقین حضرت سید نفیس الحسینی ؒ سے تعلق قائم کریں۔ چنانچہ پختہ ارادہ کر لیا کہ حضرت شاہ صاحب سے بیعت کرنی ہے۔ اس دوران میں سفر برطانیہ کا نظم طے ہوا۔ تو پہلے ڈھڈیاں شریف جا کر حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوری ؒ کے مزار پر حاضری دی۔ حضرت مولانا صاحبزادہ عبدالجلیل ؒ کی
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
دعاؤں کو دامن میں سمیٹا اور لاہور جا کر صورت حال عرض کر کے بیعت کی درخواست کی تو آپ نے توبہ کے کلمات ارشاد فرمائے۔ پڑھنے کے لئے پاس انفاس کی تلقین فرمائی اور فرمایا ”درود شریف اور ختم نبوت کے تحفظ کے لئے بیان کرنا تمہارا وظیفہ ہے۔ میرے شیخ، شاہ عبدالقادر رائے پوری ؒ نے آپ (راقم) کے اساتذہ مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر ؒ اور مولانا محمد حیات ؒ فاتح قادیان کو بیعت کے وقت یہی وظیفہ ارشاد فرمایا تھا۔ ڈھیر ساری دعاؤں سے نوازا۔ ختم نبوت کانفرنس لندن سے واپسی پر پھر جا کر رپورٹ پیش کی تو بہت ہی خوشی و انبساط کا اظہار فرمایا۔ اس کے بعد تو الحمد للہ ! بہت ہی تسلسل کے ساتھ حاضری کی سعادت نصیب ہوتی رہی۔ ماہ رمضان المبارک میں کئی بار کئی دن آخری عشرہ میں آپ کے قدموں میں گزرنے لگے۔ بیماری کے دوران بھی بار ہا حاضری ہوئی۔ ہر ملاقات میں آپ کی شخصیت کا ایک ایک پہلو دلنشین ہوتا گیا۔ ہر دفعہ پہلے سے زیادہ محبت و عقیدت قائم ہوتی گئی۔ اب تو یہ حالت ہے کہ وہ کیا تشریف لے گئے، دل کا سکون ہی جاتا رہا۔ آپ کی شفقتوں، محبتوں کی موسلا دھار بارش اور اپنی محرومی کو دیکھتا ہوں تو دل بیٹھنے لگتا ہے۔ یہی کیفیت اس تحریر کے وقت ہے۔ ٥ فروری کو آپ کا وصال ہوا۔ آج ٢٦ فروری ہے بیس دن ہو گئے۔ جب بھی یاد آتی ہے۔ دل قابو میں رکھنا دشوار ہو جاتا ہے۔
قبل ازیں ہفت روزہ ختم نبوت کراچی کے مدیر مولانا عبداللطیف طاہر، کراچی مجلس کے فاضل مبلغ مولانا قاضی احسان احمد نے ہفت روزہ کے لئے مضمون کا بار بار تقاضہ کیا۔ مخدوم گرامی مولانا سعید احمد جلالپوری مدظلہ نے تاکیدی حکم فرمایا۔ لیکن ہمت نہ ہوئی۔ کئی روز مسلسل موبائل بند رکھا۔ اب بھی اکثر وقت بند رکھتا ہوں۔ زندگی میں عزیز و اقارب، بزرگان و رفقاء کی وفیات کے صدمہ سے بار ہا دوچار ہونا پڑا۔ لیکن حضرت شاہ صاحب ؒ کی وفات نے تو دل کو گویا ویران ہی کر دیا ہے۔ دل کیا دنیا ہی بجھی بجھی لگتی ہے۔
٥ فروری کو فقیر تونسہ سے بہت دور، کوہ سلیمان کے دامن میں تھا۔ قادیانی امیدوار صوبائی اسمبلی کے خلاف تبلیغی دورہ رکھا تھا۔ ساڑھے سات بجے ناشتہ کیا۔ مولانا محمد شریف حیدری، مولانا عبدالعزیز لاشاری ناشتہ سے فارغ ہوتے ہی کمرہ سے باہر نکل گئے۔ ان کے نکلنے کے انداز سے میں سمجھا کہ کوئی انہونی بات ہے۔ باہر گیا دونوں سرگوشی میں مصروف تھے۔ عرض کیا کہ کیا ہوا؟ فرمایا کہ حضرت سید نفیس الحسینی شاہ صاحب کا انتقال ہو گیا ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ! عرض کیا بھئی کب؟ انہوں نے فرمایا ناشتہ کے دوران فون پر معلوم ہوا۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
آپ کو اس لئے نہیں بتایا کہ ناشتہ ہو جائے۔ اسی لمحہ گاڑی تیار کی، چل پڑے۔ راستہ میں کئی احباب کے فون آتے رہے۔ تفصیلات معلوم ہوتی رہیں۔ تونسہ، کوٹ ادو، لیہ، چوک اعظم، جھنگ، چنیوٹ، موٹروے، پورا دن گاڑی دوڑتی رہی لیکن اپنی حرمان نصیبی کہ جب خانقاہ شریف حاضر ہوا تو مغرب کی اذان ہو رہی تھی۔ حضرت مرحوم کی قبر مبارک کی پائنتی کی جانب جماعت ہو رہی تھی۔ اس میں شرکت کے بعد قبر مبارک پر حاضری دی۔ خانقاہ شریف میں واردین وصادرین سے ملا۔ لیکن بالکل گم صم طبیعت کے ساتھ۔ اسی شام رات گئے مانسہرہ کے رفقاء جناب عبدالرؤف روفی، سید بلال، یاسر خان خٹک، عابد خان، محترم مولانا فقیر اللہ اختر دفتر لاہور میں آئے۔ ان حضرات سے چھیڑ خانی کی کہ ذرا ماحول بدلے۔ پھر بھی وہی کیفیت تو روفی بھائی سے عرض کیا کہ ادھر ادھر کی کچھ سناؤ ورنہ میرا دل پھٹتا ہے۔ اب بھی یاد آتی ہے تو وہی کیفیت ہو جاتی ہے۔ اس تحریر کے وقت بھی یہی کیفیت عود کر آئی ہے۔
متفرقات
قارئین! آج کی مجلس میں اپنے مخدوم حضرت نفیس الحسینی ؒ کی ختم نبوت سے متعلق متفرق یاداشتوں کو بغیر ترتیب کے عرض کرتا ہوں۔ جتنا ہو سکا غنیمت جانیں۔
- حضرت سید نفیس الحسینی ؒ نے باضابطہ سب سے پہلے جو کتاب کتابت کی وہ قاضی
سلیمان منصور پوری ؒ کی کتاب رحمۃ للعالمین ہے۔ بھائی رضوان نفیس اور سید محمد معاویہ بخاری بن مولانا سید عطاء المہیمن شاہ بخاری ؒ بن امیر شریعت ؒ کے فون پر باتیں کرنے سے معلوم ہوا کہ سب سے پہلا اشتہار لاہور ختم نبوت کی کانفرنس جس کے بنیادی خطیب حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ تھے۔ اس کا اشتہار کتابت کیا۔ یہ کانفرنس مارچ ١٩٥٣ء میں ہوئی تھی۔
- ہفت روزہ لولاک فیصل آباد اب ماہنامہ لولاک ملتان، ہفت روزہ ختم نبوت، قادیانی
مذہب، احتساب قادیانیت کے ٹائٹل آپ نے کتابت کئے۔ عمدہ طباعت کے لئے مشوروں سے سرفراز فرمایا۔ احتساب قادیانیت کی جب نئی جلد آتی، پیش کرتے تو دعاؤں سے ایسی ہمت افزائی فرماتے اور اتنے وقیع کلمات ارشاد فرماتے کہ سب تھکاوٹیں دور ہو جاتیں۔ ہر کتاب کے کئی نسخے اپنے پاس رکھتے اور اندرون و بیرون ملک بھجوانے کا اہتمام کرتے۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
- مجلس کے مرکزی شوریٰ کے اجلاسوں میں علامہ اقبال کا کتابچہ ”احمدیت اینڈ اسلام“
انگلش اور مولانا لال حسین اختر ؒ کا کتابچہ ”حضرت مسیح علیہ السلام مرزا قادیانی کی نظر میں“ کے کئی ہزار نسخے شائع کرانے کا ریزولیشن کیا۔ پھر ان کو دنیا میں اپنے اور مجلس کے ذریعہ فری تقسیم کرایا۔
- مولانا لال حسین اختر ؒ کا مذکورہ رسالہ اردو میں سب سے پہلے ایڈیشن کی خود
کتابت فرمائی۔ اب چند سال ہوئے پہلا ایڈیشن کا رسالہ مجلس کی مرکزی لائبریری سے منگوا کر اس کا عکس خود شائع کر کے فری تقسیم کرایا۔
- عالم اسلام کے ممتاز عالم دین مولانا ابو الحسن علی ندوی ؒ نے عربی میں
”القادیانیة“ اور اردو میں ”قادیانیت“ تالیف کی۔ اس کی تالیف سے طباعت تک کے تمام مراحل میں ”حضرت سید نفیس الحسینیؒ“ برابر کے شریک رہے۔ اس سلسلہ میں آپ نے جو واقعات بیان فرمائے وہ فقیر نے نوٹ کر کے آپ کی زندگی میں شائع کر دیئے تھے جو یہ ہیں۔
چنانچہ ٢٣؍ رمضان المبارک ١٤٢٣ھ بعد از تراویح کی مجلس میں آپ نے ارشاد فرمایا:
- ”حضرت رائے پوری ؒ آخری عمر میں قادیانیت کے فتنہ کے خلاف مکمل متوجہ
ہو گئے تھے۔ ختم نبوت کے عقیدہ کے تحفظ کے لئے ہمہ تن علماء اور متوسلین کو متوجہ فرماتے تھے۔ حتیٰ کہ کوئی کمی کرتا، توجہ نہ کرتا تو خفگی فرماتے۔ خفگی بھی صرف اس کام کے لئے فرماتے تھے۔ ورنہ تو سراپا شفقت تھے۔ ایک بار گورنمنٹ کی طرف سے دسمبر ١٩٥٧ء کے اواخر جنوری ١٩٥٨ء کے اوائل میں پنجاب یونیورسٹی میں مجلس مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا۔ عرب و عجم سے سکالر اکٹھے ہوئے۔ کئی دن پروگرام رہا۔ ان دنوں حضرت رائے پوری ؒ لاہور تشریف لائے ہوئے تھے۔ روز مرہ مجلس مذاکرہ کی رپورٹ سے باخبر رہتے۔ ایک دن اطلاع ملی کہ بعض عرب ممالک کے نمائندگان نے فتنہ قادیانیت کے متعلق آگاہی چاہی۔ آپ نے یہ سنا تو تڑپ گئے۔ مولانا ابو الحسن علی ندوی ؒ کو لکھنؤ پیغام بھجوایا کہ لاہور تشریف لائیں۔ وہ کھانسی میں مبتلا تھے۔ عذر کیا کہ تندرست ہونے پر حاضر ہوں گا۔ حضرت رائے پوری ؒ نے فرمایا کہ ان سے کہو اسی حالت میں آ جائیں۔ یہاں لاہور علاج کرائیں گے۔ وہ تشریف لائے تو مولانا لال حسین اختر ؒ ، مولانا محمد حیات ؒ ، مولانا قاضی احسان احمد
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
شجاع آبادیؒ نے حوالہ جات مہیا کئے۔ مولانا علی میاں نے عربی میں ”القادیانی والقادیانیہ“ لکھی۔ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے طباعت کے خرچہ کا مجلس کی طرف سے ذمہ لیا۔ پہلے بمبئی سے پھر دمشق سے شائع ہوئی۔ دنیائے عرب میں اسے تقسیم کرایا۔ عرب دنیا نے اس کتاب سے فتنہ قادیانیت کو سمجھا۔ مصر، شام میں اس کتاب کا اتنا چرچا ہوا کہ قادیانیت پر پابندی لگی۔ پھر دوبارہ حضرت رائے پوریؒ تشریف لائے۔ حضرت مولانا علی میاں نے سفر کیا۔ پھر خود ہی مولانا علی میاں نے اردو میں اسے مرتب کیا۔ روز جتنا حصہ تیار ہوتا حضرت کو سنا دیا جاتا۔ آخری خواندگی مولانا سید عطاء المنعم ابو ذر بخاریؒ کے ذمہ ٹھہری۔“
- ...... ٭ ”ایک بار حضرت امیر شریعتؒ رات کو تشریف لائے۔ حضرت رائے پوریؒ
آرام کے لئے خواب گاہ میں جاچکے تھے۔ شاہ صاحب نے فرمایا کہ آپ کو زحمت ہوگی۔ اطلاع نہ کریں۔ صبح ملیں گے۔ مگر تھوڑی دیر میں خود حضرت رائے پوریؒ نے شاہ صاحبؒ کو اپنے کمرہ میں طلب کیا۔ شاہ صاحبؒ خدام پر بگڑ گئے کہ میرے منع کرنے کے باوجود تم لوگوں نے اطلاع کیوں دی؟ خدام نے بتایا کہ ہم نے اطلاع نہیں دی۔ غصہ ٹھنڈا ہوا۔ حضرت رائے پوریؒ کے کمرہ میں گئے۔ اب پوری خانقاہ کے علماء جمع ہونا شروع ہوئے۔ کمرہ بھر گیا۔ مولانا علی میاںؒ کو بلالیا۔ کتاب کا ایک باب مولانا علی میاںؒ نے شاہ صاحبؒ کو مکمل سنایا۔ شاہ صاحبؒ سنتے رہے، سر دھنتے رہے۔ جب باب ختم ہوا تو شاہ صاحبؒ نے مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ (علی میاں) سے فرمایا کہ آپ نے اپنے نانا ﷺ کا حق ادا کردیا۔ پھر خود ہی فرمایا نہیں بلکہ اپنا حق ادا کیا۔ آپ ﷺ کے حق کو کون ادا کر سکتا ہے؟ اس کتاب کی کتابت کی بھی سعادت مجھے (حضرت سید نفیس الحسینیؒ) حاصل ہوئی۔ کتاب پر نوائے وقت نے بہت عمدہ تبصرہ کیا۔“
(لولاک ذیقعدہ ١٤٢٣ھ)
- ...... ٭ حضرت سید نفیس الحسینیؒ نے قریباً وفات سے چار سال قبل ”قادیانیت“ کا اردو
ایڈیشن اوّل جو آپ کا کتابت شدہ ہے۔ مجلس کی مرکزی لائبریری سے طلب فرمایا اور پھر اس کا عکس شائع کیا۔ اس نئے ایڈیشن پر پیش لفظ مولانا سید سلمان الحسینی الندوی مدظلہ سے لکھوایا جو یہ ہے: ”قادیانیت اسلام سے خارج اور اسلام کے خلاف خطرناک برطانوی سازش سے پیدا ہونے والا ایک عالمی فتنہ اور غیر مسلم فتنہ ہے۔ جس
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
نے اسلام کا چولا پہن کر اسلام کے قلعہ میں نقب لگانے کی زبردست کوشش کی۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کو آج واقف حال، اور پڑھا لکھا ہی نہیں عامی مسلمان بھی جانتا ہے۔ لیکن ٥٧۔١٩٥٨ء میں جب لاہور میں پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے بین الاقوامی سطح پر مجلس مذاکرات اسلامی کا انعقاد ہوا تھا۔ جس میں عالم اسلام اور مغربی ممالک سے ممتاز اور سر آوردہ علماء ومفکرین کی شرکت بڑے پیمانہ پر ہوئی تھی۔ اس وقت مصر، شام وعراق کے علماء قادیانیت کے بارے متجسس تھے۔ ان کے سامنے کوئی کتابچہ نہیں تھا۔ جس سے انہیں اس نامراد وشقی فرقہ سے واقفیت حاصل ہوسکتی۔ حضرت اقدس شاہ عبدالقادر رائے پوری ؒ کا برصغیر اور پھر عالم عرب پر بڑا احسان ہے کہ انہوں نے اپنے خلیفہ حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی مدظلہ کو بتاکید مامور فرمایا کہ وہ اس موضوع پر عربی میں کتاب تحریر فرمائیں۔ حضرت اقدس کی ایماء اور اہتمام کا نتیجہ تھا کہ عربی میں ”القادیانیۃ والقادیانیہ“ کے نام سے حضرت مولانا ندوی مدظلہ نے کتاب تیار فرمائی۔ پھر حضرت ہی کے حکم پر اسے اردو میں منتقل فرمایا اور مزید اتنے اضافے فرمائے کہ وہ ایک مستقل کتاب بن گئی۔ جس کی کتابت کا فریضہ حضرت شاہ نفیس الحسینی مدظلہ نے انجام دیا۔ اس کتاب کی طباعت اور نشر واشاعت ”مکتبہ دینیات“ ١٣٤۔ شاہ عالم مارکیٹ لاہور کی طرف سے ١٩٥٩ء میں ہوئی تھی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت قابل مبارک ولائق شکریہ و سپاس ہے کہ اس نے انکار ختم نبوت کے اس فتنہ کو دفن کرنے، اس کی قلعی کھولنے اور اس کی حقیقت سے آگاہ کرنے کا وہ کارنامہ انجام دیا۔ جو اصلاح معاشرہ اور تجدید دین کی کوششوں میں سب سے زیادہ بنیادی کوشش ہے۔ اس عظیم تحریک کے بانیان وعلمبرداران ایک عظیم فرض کفایہ انجام دے رہے ہیں اور امت کو اپنے نبی ﷺ کی نبوت ورسالت سے مربوط کرنے کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔ حضرت شاہ نفیس الحسینی مدظلہ دین کے مختلف شعبوں کی تجدید وسرپرستی فرمارہے ہیں۔ شیعیت اور ناصبیت کے درمیان نقطۂ حق واعتدال کو ابھارنے اور روشن فرمانے کے تجدیدی کام کا سہرا انہیں کے سر ہے۔ قادیانیت کی سرکوبی کے لئے ”قادیانیت“ نامی اس کتاب کی جدید ومعیاری اشاعت کا فیصلہ نہایت ہی مبارک ہے۔ خدا تعالیٰ انکار ختم نبوت کے فتنہ کے استیصال کے لئے اسے قبول فرمائے۔ آمین !“
(مقدمہ از: سید محمد سلمان الحسینی الندوی ١٤٢٢ھ)
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگارنگ
- ٢٢؍ رمضان ١٤٢٣ھ کی تراویح کے بعد آپ نے حاضرین سے ارشاد فرمایا کہ: ”اس
وقت دینی کاموں میں دفاع ختم نبوت سب سے بڑا دینی کام ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہر کام میں حکمت ہوتی ہے کہ ایک جھوٹے نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ چند ہزار یا چند لاکھ گمراہ اس کے گرد جمع ہو کر مرتد ہو گئے۔ اس کے مقابلہ کے لئے کروڑوں افراد نے جس درجہ میں بھی کام کیا۔ منکرین ختم نبوت کا استیصال کرنے والے اشخاص و جماعتوں کو اللہ تعالیٰ نے جنتی بنا دیا۔“
- ”فرمایا ١٩٥٣ء میں تحریک ختم نبوت چلی۔ سال بھر قائدین جیلوں میں رہے۔ رہائی
کے بعد مارچ ١٩٥٤ء میں لاہور میں ختم نبوت کے عنوان پر جلسہ ہوا۔ اس وقت میری عمر ٢١ برس تھی۔ اس کا اشتہار لکھنے کی مجھے سعادت نصیب ہوئی۔ حضرت امیر شریعت ؒ تشریف لائے تو رفقاء مجھے حضرت امیر شریعت ؒ کی خدمت میں لے گئے اور اشتہار کی تعریف کی کہ یہ انہوں نے (میری طرف اشارہ کر کے) لکھا ہے۔ شاہ صاحب ؒ میری طرف متوجہ ہوئے۔ فرمایا کہ اشتہار لکھ کر مجھ پر کوئی احسان کیا ہے؟ اپنے نانا کی عزت کا کام کیا ہے۔ اس خوبصورتی سے یہ جملے ادا فرمائے کہ بس جی خوش ہو گیا۔ رات کو جلسہ عام ہوا۔ حضرت جالندھری ؒ اور دوسرے حضرات کے بیانات ہوئے۔ پھر شاہ صاحب ؒ تشریف لائے۔ میز پر بیٹھ کر تقریر کی۔ شہدائے ختم نبوت کے لئے دعاء کرائی اور فرمایا کہ جن کے بچے اس تحریک میں شہید ہوئے ہیں ان کو بشارت دیتا ہوں کہ وہ بچے جنت میں آغوش محمد ﷺ میں پل رہے ہیں۔ ایک میں بدقسمت ہوں کہ جس کے سینہ میں گولی نہیں لگی اور افسوس کہ اس مسئلہ ختم نبوت کے دفاع کے جرم میں میری بیٹی کو چوٹی سے پکڑ کر گھسیٹا نہیں گیا۔ ایسے انداز میں شاہ صاحب ؒ نے یہ جملے فرمائے کہ پورا اجتماع آہوں و سسکیوں کا منظر پیش کرنے لگا۔ وہ ایسی زبردست تقریر تھی۔ مربوط تقریر کہ بس ایک خاص کیفیت شاہ صاحب ؒ پر طاری تھی۔ ایسا خطبہ پڑھا کہ اجتماع پر طمانیت کا خیمہ تن گیا۔ بس پھر اُسے کھولنا شروع کیا تو کھولتے کھولتے تقریر ہو گئی۔ اس تقریر میں آپ نے مولانا ابوالحسنات ؒ کے متعلق فرمایا کہ وہ جبل الاستقامت ہیں۔ شیعہ حضرات کو تحریک میں شرکت پر مبارک دی اور فرمایا کہ خلافت الٰہیہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہو کر آنحضرت ﷺ پر ختم ہو گئی۔ خلافت راشدہ علیٰ منہاج
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
نبوت یعنی خلافت نبویہ یہ سیدنا صدیق اکبر ؓ سے شروع ہو کر سیدنا علی المرتضیٰ ؓ پر ختم ہو گئی۔ رحمت دو عالم ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ سیدنا علی ؓ خلافت راشدہ کے خاتم الخلفاء ہیں۔“
- فرمایا کہ: ”ایک بار حضرت رائے پوری ؒ کو ملنے کے لئے حضرت شاہ
صاحب ؒ، امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ تشریف لائے۔ تو شیعہ رہنماء سید مظفر علی شمسی ؒ بھی آگئے۔ بس مجلس لگ گئی۔ خوب بھر پور گفتگو جاری رہی۔ میں بھی جا کر ایک کونہ میں بیٹھ گیا۔ ان حضرات کی گفتگو سنتا رہا۔ شمسی صاحب چلے گئے تو شاہ صاحب ؒ میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ اگر میرے ملنے سے، میرے ہاں آنے سے، حضرت رائے پوری ؒ کی زیارت سے یہ لوگ امہات المومنین کو گالیاں نہ دیں تو میرا کیا نقصان ہے؟ اس کا نام حکمت ہے۔ ادع الی سبیل ربک بالحکمة فرمایا میں نے دیکھا کہ شمسی صاحب تقریر کر رہے تھے۔ شاہ صاحب ؒ نے جا کر تھپکی دی۔ بس وہ شاہ صاحب ؒ کی تھپکی سے شیر ہو گیا۔ جو شاہ صاحب ؒ کہنا چاہتے تھے وہ شمسی صاحب نے کہہ دیا۔ حضرت شاہ صاحب ؒ نے ان کے منہ میں گویا اپنی زبان رکھ دی۔ جو کہلوانا چاہتے تھے ان مسالک کے رہنماؤں سے امیر شریعت ؒ کہلوا لیتے تھے۔ یہ بڑی خوبی تھی آپ کی۔“
(لولاک ذیقعدہ ١٤٢٣ھ)
- اس مجلس میں آپ نے قادیانی مرکز ”السنخلہ“ کی بربادی کا تذکرہ کرتے ہوئے
فرمایا کہ: ”ایک بار حضرت رائے پوری ؒ کو معلوم ہوا کہ خوشاب علاقہ سون سکیسر میں مرزائیوں نے موسم گرما کا ہیڈ کوارٹر السنخلہ کے نام سے قائم کیا ہے۔ اس علاقہ کے ایک عالم دین کو تنبیہ کی کہ قادیانی کام کر رہے ہیں۔ تم خاموش کیوں بیٹھے ہو۔“ (السنخلہ موضع جابہ ضلع خوشاب کے قریب قائم کیا گیا تھا۔ حضرت جالندھری ؒ، مولانا لال حسین اختر ؒ، مولانا عبدالرحمن میانوی ؒ، مولانا محمد شریف بہاولپوری ؒ، قاضی عبداللطیف ؒ، مولانا محمد لقمان علی پوری ؒ، مولانا عبدالرحیم اشعر ؒ کے دورے ہوئے۔ قادیانی عمارت چھوڑ کر بھاگ گئے۔ حضرت جالندھری ؒ نے مجلس تحفظ ختم نبوت کے مدرسہ و دفتر کے لئے وہاں جگہ خریدی۔ مسجد و مدرسہ آج بھی وہاں قائم ہے۔ ہر سال کانفرنس ہوتی ہے)
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
- آپ نے فرمایا کہ: ”مولانا محمد حیاتؒ تو حضرت رائے پوریؒ کی لاہور آمد
پر حاضر باش ہوتے تھے۔ مولانا لال حسین اخترؒ بھی تشریف لاتے۔ حضرت رائے پوریؒ جماعت ختم نبوت کے ساتھیوں کے متعلق فرماتے۔ یہ ہمارے کام کے آدمی ہیں۔ حضرت رائے پوریؒ کو شیخ الاحرار اور مرشد الاحرار بھی لکھا گیا۔ جو سو فیصد صحیح ہے۔ (بات حضرت کی یہاں پہنچی تھی تو حضرت مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان نے فرمایا کہ مولانا محمد حیاتؒ بہت بڑے مناظر تھے۔ ایک دفعہ گوجرانوالہ نصرۃ العلوم تشریف لائے تو دس دن میں نے بھی ان سے رد قادیانیت پڑھی۔ مولانا محمد حیاتؒ فرماتے تھے کہ تم مرزا قادیانی کے متعلق (ذلیل سے ذلیل) دعویٰ کرو۔ میں دلائل سے ثابت کروں گا کہ وہ اس سے بھی ذلیل تھا۔ چنانچہ کئی دن ایسے ہوتا رہا۔ بہت ٹھنڈے مزاج کے پختہ مشق مناظر تھے۔ قادیانیت کی کتب ان کو ازبر یاد تھیں اور مناظرانہ گرفت بہت مضبوط ہوتی تھی) حضرت سید نفیس الحسینیؒ نے پھر سے گفتگو کا آغاز کیا۔ فرمایا کہ ایک بار حضرت امیر شریعتؒ نے خواب دیکھا کہ مولانا انور شاہ کشمیریؒ تشریف لائے اور فرمایا کہ ایک بات آپ سے کہنی ہے۔ اتنے میں قاضی صاحبؒ نے حضرت امیر شریعتؒ کو جگا دیا۔ اب حضرت امیر شریعتؒ پریشان کہ حضرت کشمیریؒ نے کیا بات فرمانی تھی؟ حضرت رائے پوریؒ سے تعبیر پوچھی تو حضرت رائے پوریؒ نے فرمایا کہ ایک سید (کشمیریؒ) دوسرے سید (حضرت امیر شریعتؒ) سے اپنے ناناﷺ کی ختم نبوت کی ہی بات کہنی تھی اور کیا۔ اس پر امیر شریعتؒ جھوم اٹھے۔ فرمایا بالکل انشراح ہو گیا۔ یہی بات کہنا چاہتے ہوں گے۔“
- ٢٤ ویں تراویح ١٤٢٣ھ کے بعد فرمایا کہ: ”سیالکوٹ کے علامہ میر حسنؒ بڑے
عالم تھے۔ ان کے شاگرد مولوی ظفر اقبال بڑے کاتب تھے۔ حمایت اسلام کے لئے قرآن مجید لکھا۔ مولوی ظفر اقبال سے میری ملاقاتیں رہیں۔ وہ فرماتے تھے کہ علامہ میر حسنؒ جب طلباء کو پڑھاتے خاص بات کہنی ہوتی تو طلباء سے فرماتے کہ کتابیں بند کر دو۔ ایک دن علامہ میر حسنؒ نے طلباء سے فرمایا کہ مرزا غلام احمد قادیانی بہت ہی ذلیل قسم کا بے دین تھا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے زیر استعمال جو قرآن مجید کا نسخہ تھا اس کو میر صاحب فرماتے ہیں میں نے دیکھا ہے۔ ختم سورۃ الناس کے بعد خالی جگہ پر
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگارنگ
مرزا قادیانی نے قوت باہ کا نسخہ لکھا ہوا تھا۔ علامہ میر حسن ؒ صاحب کے خاندان کے کچھ افراد اہل سنت تھے۔ کچھ اہل حدیث، کچھ قادیانی سحر کا شکار ہوگئے۔ علامہ میر حسن ؒ نے وصیت کی کہ میرا جنازہ میر ابراہیم سیالکوٹی ؒ پڑھائیں۔ اس لئے کہ وہ مرزائیت کے خلاف بڑے مناظر تھے۔"
(لولاک ذی الحجہ ١٤٢٣ھ)
- ٭....... ”اہل حدیث رہنما مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی ؒ نے رد قادیانیت پر ”شہادت
القرآن فی اثبات حیات عیسیٰ علیہ السلام“ کے نام پر دو حصوں میں کتاب لکھی۔ جو مرزا قادیانی کی زندگی میں آپ نے شائع کی۔ مرزا قادیانی اس کا جواب نہ دے پایا۔ حالانکہ اسے جواب دینے کے لئے للکارا گیا تھا۔ یہ کتاب نایاب ہوگئی تو اسے پھر قطب الارشاد حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوری ؒ کے حکم پر مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھری ؒ نے مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی شعبہ نشر و اشاعت سے شائع کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر سلسلہ عالیہ قادریہ کے شیخ المشائخ حضرت سید نفیس الحسینی ؒ فرماتے ہیں کہ: ”میں اس مجلس میں موجود تھا۔ جس مجلس میں حضرت رائے پوری ؒ نے حضرت جالندھری ؒ سے اس کتاب کی اشاعت کے لئے فرمایا۔ مگر کتاب کا حصول اور طباعت کی اجازت کا مولانا حافظ محمد ابراہیم میر سیالکوٹی ؒ کے ورثاء سے مرحلہ درپیش تھا۔ چونکہ میرا (سید نفیس الحسینی ؒ ) آبائی تعلق سیالکوٹ سے ہے۔ اس لئے اپنے دل میں فیصلہ کرلیا کہ یہ مرحلے میں طے کروں گا۔ چنانچہ علی الصبح اللہ تعالیٰ کا نام لے کر سیالکوٹ چل نکلا۔ مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی ؒ کی نرینہ اولاد نہ تھی۔ آپ کے بھتیجے مولانا محمد عبدالقیوم میر ؒ (والد ماجد پروفیسر ساجد میر) آپ کے وارث تھے۔ ان کے دروازہ پر دستک دی۔ باہر تشریف لائے۔ میں (سید نفیس الحسینی ؒ ) نے ان سے حضرت رائے پوری ؒ کی خواہش کا اظہار کیا۔ کتاب اور اجازت اشاعت طلب کی۔ وہ الٹے پاؤں گھر گئے۔ لائبریری سے وہ کتاب اٹھا لائے اور یہ وہ نسخہ تھا جس پر مصنف مرحوم (مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی ؒ ) نے ضروری اضافے و ترامیم کی تھیں۔ لیکن اس نسخہ کے سرورق پر مصنف مرحوم کا نوٹ لگا تھا: ”بدلحاظ بن جاؤ لیکن کتاب کو لائبریری سے مت باہر جانے دو“ یہ نوٹ پڑھ کر کتاب کے حصول کی بابت مایوسی ہوئی۔ لیکن قدرت کا کرم کہ اگلے ہی لمحہ میں میر عبدالقیوم ؒ نے فرمایا کہ چھپوانا مطلوب ہے اور
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
حضرت رائے پوریؒ کا حکم ہے۔ لیجئے کتاب بھی حاضر اور چھاپنے کی بھی اجازت ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ کتاب لے کر خوشی خوشی دوپہر تک لاہور حضرت رائے پوریؒ کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔ حضرت نے اس کارروائی پر بہت خوشی کا اظہار فرمایا اور دعائیں دیں اور کتاب کی کتابت اپنی نگرانی میں کرانے کا حکم دیا۔ مناظر اسلام، مولانا لال حسین اخترؒ نے اپنے ذاتی نسخہ سے کتابت کی اجازت دی اور مصنف مرحوم کے نسخہ جس میں ترامیم و اضافے تھے۔ اسے سامنے رکھا گیا۔ جتنی کتابت ہوتی جاتی وہ میر عبدالقیوم صاحب کو بھجوادی جاتی۔ وہ پروف پڑھتے رہے۔ یوں مختصر عرصہ میں کتاب چھپنے کے لئے تیار ہو گئی۔ جسے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے شائع کیا اور اس نسخہ کے پھر کئی بار ایڈیشن مجلس نے شائع کئے۔“
(احتساب قادیانیت ج١٩ ص٢٤)
آپ نے جس مجلس میں اس واقعہ کا بیان فرمایا اسی مجلس میں زور دے کر تین بار فرمایا کہ: ”بھئی اس کتاب کو ہماری مجلس تحفظ ختم نبوت نے شائع کیا۔ ہماری جماعت نے شائع کیا۔ سب ساتھی یاد رکھیں کہ ہماری جماعت مجلس تحفظ ختم نبوت ہے“ یہ بار بار فرمایا۔ ایک بار ایسے بھی ہوا کہ کریم پارک راوی روڈ میں حضرت اقدسؒ کی خدمت میں زیارت کے لئے فقیر اور حضرت مولانا فقیر اللہ اختر، حضرت مولانا عزیز الرحمن ثانی حاضر ہوئے۔ بھائی رضوان نفیس سے فرمایا کہ پہلے ان کو شربت پلاؤ۔ پھر چائے پلاؤ۔ بھائی رضوان نفیس نے ساتھی کی ڈیوٹی لگادی۔ حضرت باتوں میں مشغول ہوگئے۔ تھوڑی دیر کے بعد فرمایا مشروب نہیں آیا۔ رضوان کیوں دیر کر رہے ہو۔ ”اصل میں تو یہی حضرات ہمارے مہمان ہیں ۔“ بعینہ جس طرح آپ کے مرشد حضرت رائے پوریؒ ، خدام ختم نبوت سے بھر پور محبت وشفقت کا معاملہ فرماتے اسی طرح حضرت اقدس سید نفیس الحسینیؒ بھی خدام ختم نبوت کے لئے عنایتوں و کرم فرمائیوں کی موسلا دھار بارش بن جاتے۔
- مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی شوریٰ کے اجلاس کے موقع پر ملتان تشریف لاتے۔
رات کی کانفرنس کو رونق بخشتے۔ برطانیہ کی کانفرنس پر کئی بار تشریف لے گئے۔ واپسی پر عمرہ کے لئے ایک بار راقم روسیاہ کو بھی ہمراہی کا شرف نصیب ہوا۔ مدینہ طیبہ میں حاضری کے وقت آپ کی کیفیت دید کے قابل ہوتی تھی۔ اسے الفاظ میں بیان کرنا
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ مجھ مسکین کے لئے ممکن نہیں۔ عصر کے بعد چھتریوں والے پہلے حصہ کے شمال مغرب کونہ میں عشاء تک تشریف رکھتے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں سے رحمت عالم ﷺ کا گنبد خضراء صاف صاف مکمل نظر آتا ہے۔ آپ اکثر مراقبہ میں گردن جھکا کر قبلہ رخ بیٹھ جاتے۔ کبھی سر اٹھاتے تو گنبد خضراء پر نظریں جما دیتے۔ پھر مراقبہ میں چلے جاتے۔ اس وقت آپ کے چہرہ انور کی جو کیفیات ہوتیں۔ سبحان اللہ! العظمة لله ولرسوله وللمؤمنين!! اسی طرح لاہور عائشہ مسجد کی ختم نبوت کانفرنس تو آپ کی زیر صدارت منعقد ہوتی۔ صحت کے زمانہ میں بہت سارا وقت سٹیج پر تشریف رکھتے۔ اخیر عمر میں بیماری کے باوجود تھوڑی دیر کے لئے تشریف لاتے۔ مگر تشریف آوری ضرور ہوتی۔
- ایک بار لاہور مسجد عائشہ میں ختم نبوت کانفرنس تھی۔ آپ کی صحت اس میں شرکت کی
متحمل نہ تھی۔ مولانا عزیز الرحمن ثانی نے بھائی عتیق انور سے عرض کیا کہ شرکت کی سبیل بنائیں۔ چاہے دس منٹ کے لئے ہی تشریف آوری ہو مگر تشریف ضرور لائیں۔ بھائی عتیق انور نے حضرت مولانا سعید احمد جلالپوری، حضرت مولانا مفتی خالد محمود کو ہمراہ لیا۔ پل سکیاں عصر کے بعد حاضر ہوئے۔ حضرت قبلہ سید نفیس الحسینیؒ کا معمول تھا کہ مغرب سے قبل کریم پارک واپس تشریف لاتے۔ ان حضرات نے عرض کیا حضرت آج روٹ بدل لیں۔ خانقاہ سید احمد شہیدؒ سے کریم پارک جاتے ہوئے عائشہ مسجد میں مغرب پڑھ لیں۔ اس پر مسکرائے اور فرمایا بہت اچھا۔ اب قافلہ سمیت کانفرنس میں تشریف لائے۔ مغرب پڑھی دعاء فرمائی اور روانہ ہو گئے۔
- ایک بار فیصل آباد ضلع میں کھرڑیانوالہ ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے لئے مولانا
سید ممتاز الحسن گیلانیؒ نے آمادہ کیا۔ تشریف لائے فقیر راقم نے مرزا غلام احمد قادیانی کی پیش گوئیوں کے غلط ہونے کے عنوان پر خطاب کیا۔ آپ کا چہرہ تمتما اٹھا۔ دعاء کے بعد مجلس میں راقم روسیاہ کو مخاطب کر کے فرمایا: ”کہ قطب الارشاد حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کی خواہش تھی کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے کذب کو آسان طور پر سمجھنے اور سمجھانے کے لئے اس کی پیش گوئیوں کی تغلیط پر کتاب مرتب ہونی چاہئے۔ چنانچہ مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اخترؒ اپنی آخری عمر میں فرماتے تھے کہ وقت وصحت نے ساتھ دیا تو حضرت رائے پوریؒ کے حکم کی تعمیل
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
کروں گا۔ مولانا لال حسین اختر ؒ تو اللہ تعالیٰ کے حضور چل دیئے۔ اب یہ کام آپ کریں۔ لاہور میں ایک دو بار پھر تذکرہ فرمایا۔ راقم روسیاہ ادھر ادھر کی مار کر وقت گزاری کرتا۔ کتاب تیار نہ ہوئی۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا مفتی حفیظ الرحمن صاحب سے راقم نے عرض کیا انہوں نے حامی بھری۔ مگر کام نہ ہوسکا۔ اللہ تعالیٰ کی ہر لمحہ نئی شان پر قربان کہ اس دوران ایک بار کراچی میں مانچسٹر اسلامک اکیڈمی کے سربراہ مولانا محمد اقبال رنگونی نے مرزا ملعون کی اٹھارہ پیش گوئیوں کی تکذیب پر ١٠٠ صفحہ کی کتاب مرتب شدہ مجلس کی طرف سے چھپوانے کے لئے پکڑا دی۔ ایک صفحہ پر راقم روسیاہ نے پیش لفظ لکھا۔ متذکرہ بالا واقعہ کا ذکر کیا۔ حضرت رائے پوری ؒ سے کتاب کا انتساب کیا۔ کتاب چھاپ کر ایک سو نسخہ حضرت سید نفیس الحسینی ؒ کی خدمت میں لے کر مولانا عزیز الرحمن ثانی حاضر ہوئے۔ بہت ہی خوشی کا اظہار فرمایا۔ اس لئے کہ آپ کے حضرت الشیخ مرشد شاہ عبدالقادر رائے پوری ؒ کے حکم کی تعمیل تھی۔ کچھ عرصہ بعد بھائی رضوان نفیس نے فرمایا کہ حضرت فون پر بات کرنا چاہتے ہیں۔ مجھ روسیاہ کے لئے آپ سے فون پر بات کرنا ہمالیہ کو سر کرنے سے زیادہ مشکل ہوتا۔ لیکن آپ کی شفقتوں نے بار بار فون پر بھی بات کرنے کی سعادت بخشی۔ فرمایا کہ پیش گوئیوں والی کتاب کہاں ہے۔ عرض کیا حضرت ملتان دفتر میں تو ختم ہے۔ آپ کی لائبریری میں سو نسخہ تھا۔ یقیناً کچھ موجود ہوں گے۔ فرمایا بہت اچھا اگلے دن پھر فون کیا کہ لائبریری سے پینتیس پچاس نسخے مل گئے ہیں۔ لیکن دوبارہ شائع کریں۔ اس کتاب کو باضابطہ حرفاً حرفاً اپنی مجلس میں پڑھوایا۔ دوبارہ دو ہزار کتاب شائع کردی۔ سنا تو طبیعت باغ باغ ہوگئی۔ بہت سی دعاؤں سے سرفراز فرمایا۔
- ایک بار فون پر راقم روسیاہ سے فرمایا کہ ایک آفیسر کو قادیانی فتنہ کی تازہ شرانگیزی
و سرگرمیوں پر مطلع کرنا ہے۔ آپ تمام تفصیلات لکھ کر لائیں۔ چنانچہ لکھ کر پیش کیا۔ پورا سنا خوشی کا اظہار کیا کہ تمام تفصیلات آگئی ہیں۔ اپنے پاس رکھ لیا۔ اتنا فرمایا کہ وہ آفیسر دو چار روز تک اسلام آباد سے لاہور آنے والے ہیں۔
- حضرت اقدس سید محمد نفیس الحسینی ؒ نے ٢٥ ویں تراویح ١٤٢٣ھ کے بعد کی مجلس
میں فرمایا کہ: ”علامہ میر حسن سیالکوٹی ؒ فرماتے تھے کہ میں نے خود سرسید احمد خان سے سنا جب مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا تو سرسید احمد خان نے کہا کہ:
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
”مرزا قادیانی کو معلوم نہیں کہ نبی کون ہوتا ہے اور نبوت کا منصب کیا ہے۔“ اس منصب سے عدم واقفیت و جہالت کے باعث مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ بیاض یعقوبی میں حضرت مولانا محمد یعقوب نانوتویؒ فرماتے ہیں کہ حضرت مہدی علیہ الرضوان کے لشکر کے گھوڑوں کے سائس بھی اہل اللہ ہوں گے۔“
(لولاک ذی الحجہ ١٣٢٤ھ)
- ...... ٢٦؍رمضان المبارک بعد از تراویح کی مجلس میں فرمایا کہ: ”حضرت شاہ عبدالقادر رائے
پوریؒ ابتداء میں طبابت کرتے تھے۔ (ڈیرہ دون میں) وہاں شاہ عبدالرحیم صاحب رائے پوریؒ کے ایک مرید سے ملاقات ہوئی۔ ان کو متبع سنت پایا تو دل میں خیال آیا کہ حضرت شاہ عبدالرحیم رائے پوریؒ سے ملنا چاہئے۔ جب سرگودھا کے لئے سفر کیا تو پہلے رائے پور حاضری دی۔ شاہ عبدالرحیم رائے پوریؒ سے پہلی ملاقات میں ہی دل دے بیٹھے۔ بیعت کے لئے درخواست کی۔ شاہ عبدالرحیم رائے پوریؒ نے فرمایا جلدی کیا ہے؟ آپ اپنے گھر سرگودھا سے پہلے ہو آئیں۔ پھر بیعت بھی کر لیں گے۔ ڈھڈیاں سرگودھا تشریف لائے۔ ایک عزیز بیمار تھے۔ عزیزوں کے اصرار پر ان کو حکیم نورالدین بھیروی کے پاس قادیان لے کر گئے۔ چند دن عزیز کے علاج کے لئے وہاں ٹھہرنا پڑا۔ نورالدین ساحر تھا۔ بعض باتوں میں قلب پر اثر کر لیتا تھا۔ چونکہ آپ رائے پور میں حضرت شاہ عبدالرحیم رائے پوریؒ سے مل کر آئے تھے۔ خیال کیا کہ جن سے مل کر آیا ہوں۔ ان کا چہرہ سچے آدمی کا چہرہ ہے۔ آپ (سید نفیس الحسینیؒ) نے فرمایا کہ ہر بے دین فتنہ کے ساتھ سحر ہوتا ہے۔ حضرت مولانا ابوالحسن علی میاںؒ سے میں نے خود سنا کہ فرماتے تھے کہ جب مجھے القادیانیہ لکھنے کے لئے مرزائی کتب پڑھنی پڑیں تو میرے قلب پر سیاہی کے اثرات ہو جاتے تھے۔ استغفار کرتا۔ ملت اسلامیہ کے متفقہ مسلمات سے مرزا قادیانی کے انکار کو جانچتا تب جا کر ایک ایک تار کاٹنے سے قلب کی سیاہی دور ہوتی۔ (فقیر راقم عرض کرتا ہے کہ میں نے بھی خود حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ سے سنا۔ فرماتے تھے کہ جب میں نے مرزا قادیانی ملعون کی کتاب ازالہ اوہام کا مطالعہ کیا تو دورانِ مطالعہ میرے دل پر سیاہی آنی شروع ہو جاتی۔ میں خود محسوس کرتا کہ اب دل کا اتنا حصہ سیاہ ہو گیا ہے۔ اب اتنا، تب کتاب بند کر کے استغفار کرتا۔ تب دل کی سیاہی دور ہوتی۔ پھر مطالعہ کرتا تو سیاہی
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
قلب پر عود کر آتی۔ پھر کتاب بند کر دیتا۔ اس طرح بدقت تمام اسے ختم کیا “
- آپ (حضرت قبلہ سید نفیس الحسینی ؒ) نے فرمایا کہ: ”شاہ عبدالرحیم
سہارنپوری ؒ (جو حضرت شاہ عبدالرحیم رائے پوری ؒ کے پہلے شیخ تھے) کے پاس حکیم نورالدین گیا۔ نورالدین ان دنوں مہاراجہ کشمیر کا معالج اور ملازم تھا۔ مہاراجہ کی اولاد نہ تھی۔ نورالدین دعاء کرانے کے لئے سہارن پور گیا تو آپ نے فرمایا کہ قادیان میں ایک متنبی (فتنہ پرداز) ہوگا۔ اس سے بچ کر رہنا۔ تم مجھے ان کے مصاحب لکھے ہوئے معلوم ہوتے ہو۔ تمہیں بحث و تمحیص کی عادت ہے۔ یہ عادت بد تمہیں وہاں لے جائے گی۔ چنانچہ ایسے ہوا۔ ”اتقوا فراسة المؤمن فانه ينظر بنور الله! قلندر ہر چہ گوید دیدہ گوید!
- فرمایا: ”مسائیاں گاؤں قادیان کے قریب واقع ہے۔ وہاں ایک بزرگ
بدرالدین ؒ کا مزار ہے۔ یہ مرزا قادیانی ملعون کے زمانہ سے قبل فوت ہوئے۔ ان کے مزار پر جو کتبہ ہے۔ اس پر ختم نبوت کی آیات و احادیث مرقوم ہیں۔ شاید ان پر قدرت کی طرف سے قبل از وقت منکشف ہو گیا کہ تمہارے جوار میں ختم نبوت جیسے بنیادی مسئلہ کا انکار ہوگا۔ تب آپ کی وصیت یا توجہ سے کتبہ پر آیات و احادیث ختم نبوت کی درج ہوئیں۔“
- فرمایا: ”اسی طرح بٹالہ کے ایک بزرگ کے پاس مرزا قادیانی کا باپ مرزا قادیانی کو
لے کر گیا۔ انہوں نے مرزا قادیانی کو نصیحت کی کہ اہل سنت کے عقائد پر چلتے رہنا۔ ان کے جانے کے بعد خدام کے پوچھنے پر فرمایا کہ یہ شخص گمراہی اور کفر کی طرف لپکے گا۔ یہ قبل از وقت ان بزرگ پر منکشف ہو گیا تھا۔“
- فرمایا کہ: ”ہر فتنہ کے ساتھ سحر ہوتا ہے۔ حضرت رائے پوری ؒ کے ایک عقیدت
و ارادت مند مولوی عبدالمنان پنجابی تھے۔ ایک دفعہ سر راہ جوگی کے پاس رک گئے۔ اس نے سحر کر دیا۔ واپس آئے تو طبیعت پر ہندو ہو جانے کے خیالات کا ہجوم ہو گیا۔ بھاگم بھاگ حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا ؒ کے پاس گئے۔ انہوں نے فرمایا کہ فوراً رائے پور چلے جاؤ۔ حاضر ہوئے۔ حضرت رائے پوری ؒ سے صورت حال عرض کی۔ آپ نے خدام سے فرمایا کہ اسے فوراً سلا دو۔ وہ تین دن سویا رہا۔ بیدار ہوا تو کہا کہ میں رائے پور سے جاتا ہوں۔ میرے قلب کی وہی کیفیت ہے۔ ہندو ہو
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
جانے، اسلام کو چھوڑنے اور مرتد ہو جانے پر دل مجبور کرتا ہے۔ اتنے میں صبح کی سیر سے حضرت رائے پوریؒ واپس تشریف لائے۔ مولوی عبدالمنان پنجابی نے عرض کی مجھے اجازت۔ میرے دل کی وہی کیفیت ہے۔ ہندو ہونا چاہتا ہوں۔ حضرت رائے پوریؒ نے شہادت کی انگلی سے اس کے دل کی طرف (چبھونے) کا اشارہ کیا اور فرمایا مولوی صاحب اللہ تعالیٰ کے بندے اب بھی ایسے موجود ہیں جو یوں اشارہ کریں تو دل کی دنیا بدل جائے۔ اشارہ کرتے ہی ان کے دل کی دنیا بدل گئی اور جوگی کے سحر کا اثر جاتا رہا۔“
- فرمایا: ”ایک بار خود حضرت رائے پوریؒ کی مجلس میں جوگی آ بیٹھا۔ اس نے توجہ
(سحر) کی تو آپ کے بدن پر چیونٹیوں کے چلنے کے اثرات ہونے لگے۔ آپ نے بھانپ کر سر اٹھایا۔ اس جوگی کی طرف دیکھ کر انگلی کے اشارہ سے منع کر دیا۔ وہ فوراً رفو چکر ہو گیا۔ تو سحر ہوتا ہے ہر فتنہ کے ساتھ جو براہ راست دل کا گمراہی کی طرف میلان کر دیتا ہے۔ مرزا قادیانی کی بدگوئی، گمراہی، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی صریح اہانت کے باوجود اس کا سحر کئی لوگوں کے دلوں کو ارتداد کی طرف لے گیا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو بچائے۔“
- ١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت میں ربوہ اور لاہوری پارٹی کے مرزائی سربراہوں نے اپنا
اپنا موقف قومی اسمبلی میں پیش کیا۔ امت محمدیہ کی طرف سے شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ کی زیر نگرانی مولانا محمد حیاتؒ، مولانا عبدالرحیم اشعرؒ، مولانا تاج محمودؒ، مولانا محمد شریف جالندھریؒ نے مرزائیت سے متعلق مذہبی و سیاسی مواد جمع کیا۔ جس سے مرزائیت کی مذہبی و سیاسی حیثیت کو سمجھا، پرکھا، ناپا، تولا جا سکتا ہے۔ مذہبی حصہ کی ترتیب و تدوین حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی اور سیاسی حصہ کی ترتیب و تدوین مولانا سمیع الحق ممبر سینٹ آف پاکستان نے کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے فوری طور پر اسی ہزار روپے کی لاگت سے اسے شائع کر دیا۔ جسے مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ نے قومی اسمبلی میں پڑھا۔ یہ کتاب رد قادیانیت پر لٹریچر کا نچوڑ ہے۔ اسے عربی، انگریزی میں بھی جماعت نے شائع کیا۔ جب قومی اسمبلی میں پڑھنے کے لئے اسے ترتیب دیا جا رہا تھا تو پریس پر سنسر عائد تھا۔ اس کی ترتیب کتابت، طباعت تمام جانگسل مراحل کے لئے شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ کی نگاہ حضرت سید نفیس الحسینیؒ پر پڑی۔ آپ کو فون کیا۔ آپ
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
نے کاتب شاگردوں کی جماعت ہمراہ لی اور راولپنڈی پہنچ گئے۔ حضرت بنوری ؒ کے لئے ہوٹل کا ایک حصہ مختص تھا۔ اس میں تمام متذکرہ حضرات قیام پذیر تھے۔ حضرت سید نفیس الحسینی ؒ تشریف لائے تو چمن میں بہار آ گئی۔ قارئین کرام! آپ اندازہ فرمائیں حضرت بنوری ؒ ، حضرت مفتی محمود ؒ ، حضرت سید نفیس الحسینی شاہ ؒ ، مولانا محمد حیات ؒ ، مولانا محمد شریف جالندھری ؒ ، مولانا تاج محمود ؒ ، مولانا تقی عثمانی، مولانا سمیع الحق یہ پوری جماعت جہاں ایک ساتھ تشریف رکھتی ہوگی۔ اس ماحول کی شیفتگی کا کیا عالم ہوگا۔ غرض جتنی کتاب مرتب ہوئی۔ اتنی کتاب پرنٹنگ وطباعت کے مرحلہ سے گزار دی جاتی۔ چند دنوں میں یہ محضر نامہ تیار ہوگیا۔ اسمبلی میں پڑھا گیا۔ قادیانی کافر قرار پائے۔ اس تحریک میں بنیادی کام کرنے والے حضرات میں ہمارے حضرت قبلہ سید نفیس الحسینی شاہ ؒ بھی صف اول میں شامل رہے۔ فالحمد للّٰہ!
- ٭....... ایک بار محترم عبدالرحمن یعقوب باوا اور فقیر روسیاہ نے برطانیہ کے سفر میں طے کیا کہ
ایک چارٹ خوبصورت جس میں ختم نبوت کی آیت مبارکہ، حدیث ’’لا نبی بعدی‘‘ بمع اردو انگلش ترجمہ تیار کریں اور اسے برطانیہ کی مساجد میں لگوائیں۔
فقیر روسیاہ نے عرض کیا کہ حضرت قبلہ سید نفیس الحسینی شاہ ؒ سے لکھوانا میرے ذمہ رہا۔ اگلے سال چھپا چھپایا آپ کو مل جائے گا۔ دو تین بار حضرت قبلہ سید نفیس الحسینی شاہ ؒ سے عرض کیا۔ آپ فرماتے بہت اچھا، پھر اگلی ملاقات۔ پھر اگلی ملاقات میں روسیاہ کی عرض پر یہی جواب ملتا۔ بہت اچھا، راقم روسیاہ عرض کرتا ’’ہو جائے‘‘ فرماتے بہت اچھا۔ نہ راقم روسیاہ دھونی رما کر بیٹھا کہ حضرت اسی کام کے لئے حاضر ہوا ہوں۔ سرسری تذکرہ کا سرسری جو جواب ملنا چاہئے تھا۔ مل جاتا۔ اب کانفرنس سر پر آ گئی۔ مفتی محمد جمیل خان شہید لاہور تھے۔ فون پر عرض کیا کہ چارٹ ختم نبوت کی آیت وحدیث کا تیار کرانا ہے۔ انہوں نے حامی بھر لی۔ جا کر حضرت سید نفیس الحسینی ؒ کے قدموں میں بیٹھ گئے۔ کام شروع ہو گیا۔ لیجئے شام تک فلمیں بن کر چھپائی شروع۔ اسے کئی اداروں نے شائع کیا۔ بلا مبالغہ ایک لاکھ سے زائد تو مجلس نے شائع کیا۔ یہ سب ہمارے حضرت سید نفیس الحسینی ؒ کی عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے صدقہ جاریہ اور نمایاں خدمات ہیں۔ پہلے تو لکھنے کے لئے طبیعت آمادہ نہ تھی۔ اب تو الحمد للّٰہ! بات چل نکلی ہے۔ تو بہت کچھ یاد آ رہا ہے۔ لیکن تھک گیا ہوں۔ اسی پر اکتفاء کرتا ہوں۔
(لولاک ربیع الاول ١٤٢٩ھ)
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی نظماء حضرات
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے پہلے ناظم اعلیٰ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ تھے۔ حضرت قاضی صاحبؒ کے انتقال کے بعد حضرت جالندھریؒ امیر بنے تو مولانا لال حسین اخترؒ ناظم اعلیٰ بنے۔ مولانا لال حسین اخترؒ جب امیر بنے تو ناظم اعلیٰ مولانا عبدالرحیم اشعرؒ بنے۔ حضرت شیخ بنوریؒ کے زمانہ میں مولانا محمد شریف جالندھریؒ ناظم اعلیٰ بنے۔ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ کے زمانہ امارت میں مجلس کے ناظم اعلیٰ بھی مولانا محمد شریف جالندھریؒ رہے۔ مولانا محمد شریف جالندھریؒ کی وفات کے بعد موجودہ ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں صحت والی لمبی زندگی نصیب فرمائیں۔ آمین!
گویا مجلس کے ناظم اعلیٰ (١) مولانا محمد علی جالندھریؒ، (٢) مولانا لال حسین اخترؒ، (٣) مولانا عبدالرحیم اشعرؒ، (٤) مولانا محمد شریف جالندھریؒ، اور اب (٥) مولانا عزیز الرحمن جالندھری ہیں۔ ابتدائی دو بزرگوں کا ذکر مبارک امراء میں آگیا ہے۔ مولانا عبدالرحیم اشعرؒ اور مولانا محمد شریف جالندھریؒ کا ذکر یہاں کیا جاتا ہے۔
(١٢)
حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ
(وفات: ٢٢ مئی ٢٠٠٣ء)
حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ ٢٥ مئی ١٩٢٤ء بستی عنایت پور نزد جلال پور پیروالا تحصیل شجاعباد ضلع ملتان میں پیدا ہوئے۔ راجپوت بھٹی خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ مولانا مرحوم کے والد کاشتکاری کیا کرتے تھے۔ مولانا عبدالرحیم اشعرؒ کے ماموں زاد بھائی منشی عبداللطیف صاحبؒ راوی ہیں کہ حضرت مولانا کے والد نے ان کی پیدائش کے کچھ عرصہ بعد خواب دیکھا کہ میرے گھر کے صحن میں جہاز اترا۔ اس سے ایک وجیہہ بزرگ اترے اور انہوں نے فرمایا کہ یہ بچہ ہمیں دے دیا جائے۔ بعد میں ملتان احرار کانفرنس کے موقعہ پر حضرت مولانا کے والد نے حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کو دیکھا تو خواب یاد آگیا اور ارادہ کرلیا
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
کہ بیٹے کو ان کے سپرد کر دوں گا۔ مولانا عبدالرحیم اشعر ؒ کے ماموں حاجی رحیم بخش ؒ کنڈا رحیم بخش سے جمعہ پڑھنے کے لئے شجاع آباد کی شاہی جامع مسجد میں خطیب پاکستان حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی ؒ کے ہاں حاضر ہوتے تھے۔ ایک دفعہ نوجوان (مولانا) عبدالرحیم اشعر ؒ بھی ساتھ تھے۔ حضرت قاضی ؒ نے حاجی رحیم بخش سے فرمایا کہ یہ نوجوان پڑھانے کے لئے ہمیں دے دیا جائے۔ اس وقت تک مولانا عبدالرحیم اشعر ؒ اپنے گھر پر ابتدائی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔
چنانچہ ١٩٣٣ء میں جامع مسجد حسین آگاہی ملتان میں مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھری ؒ کے قائم کردہ مدرسہ محمدیہ حنفیہ میں حضرت قاضی ؒ نے مولانا عبدالرحیم اشعر ؒ کو داخل کرا دیا۔ آپ نے ١٩٤٧ء کے وسط تک جامعہ محمدیہ حنفیہ میں موقوف علیہ تک کتابیں مکمل کر لیں۔ پاکستان بننے کے بعد حکیم الامت حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی ؒ کے خلیفہ اجل حضرت مولانا خیر محمد جالندھری ؒ نے ملتان میں خیرالمدارس کا آغاز کیا تو حضرت مولانا محمد علی جالندھری ؒ نے جامعہ محمدیہ کے اساتذہ بالخصوص امام القراء حضرت مولانا قاری رحیم بخش پانی پتی ؒ، جامعہ کے طلباء جن میں مولانا عبدالرحیم اشعر ؒ بھی شامل تھے۔ جامعہ محمدیہ کا کتب خانہ، چٹائیاں و دیگر سامان سمیت سب کچھ خیرالمدارس کے سپرد کر دیا۔ یوں مولانا عبدالرحیم اشعر ؒ کو جامعہ خیرالمدارس کے اولین طلباء میں شامل ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔
مولانا عبدالرحیم اشعر ؒ نے زمانہ طالب علمی میں خداداد صلاحیتوں و ذاتی شرافت و دیانت سے مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھری ؒ کا قرب حاصل کیا۔ مدرسہ کی ضروریات و دیگر امور کے لئے حضرت جالندھری ؒ مولانا عبدالرحیم اشعر ؒ پر اعتماد کرتے تھے۔ جامعہ خیرالمدارس کے موجودہ صدرالمدرسین اور شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد صدیق صاحب ؒ نے فرمایا کہ مولانا عبدالرحیم اشعر ؒ میں (مولانا محمد صدیق صاحب) حضرت مولانا سید عطاء المنعم بخاری ؒ ابن امیر شریعت، سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ خیرالمدارس ملتان میں ہم درس تھے۔ خیرالمدارس جالندھر سے منتقل ہو کر ملتان قائم ہوا۔ تو ہم لوگ ملتان کے کوچہ و بازار سے ناواقف تھے۔ مولانا عبدالرحیم جامعہ محمدیہ میں کئی سال زیر تعلیم رہنے کے باعث ملتان کے گلی و بازار سے واقف تھے۔ جامعہ محمدیہ سے جب وہ خیرالمدارس ملتان میں داخل ہوئے تو مدرسہ کے سامان بالخصوص کتب وغیرہ کے حصول کے لئے حضرت مولانا خیر محمد جالندھری ؒ اپنے شاگرد مولانا عبدالرحیم سے زیادہ خدمت لیتے تھے اور ان پر بے پناہ اعتماد کرتے تھے۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
طالب علمی کے زمانہ میں مولانا عبدالرحیم کو جامعہ خیر المدارس کے ابتدائی دور میں اس کی بے مثال خدمات انجام دینے کی سعادت نصیب ہوئی۔ جامعہ خیر المدارس سے مولانا عبدالرحیم نے ١٩٤٩ء میں دورہ حدیث شریف مکمل کرنے کی سعادت حاصل کی۔
فراغت کے بعد: مولانا عبدالرحیم اشعر ؒ صاحب نے عنایت پور اپنے گھر پر مدرسہ کی بنیاد رکھی۔ چند ماہ بعد حضرت مولانا خیر محمد صاحب جالندھری ؒ نے آپ کو ملتان کے ایک مدرسہ میں ابتدائی مدرس مقرر کیا۔ لیکن مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھری ؒ آپ کو تدریس سے تبلیغ کے لئے کھینچ لائے۔ جانشین حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ حضرت مولانا سید عطاء المنعم شاہ بخاری ؒ کی زیر ادارت لاہور سے شائع ہونے وا لے پندرہ روزہ الاحرار لاہور ج ١ ش ٧، ٨، مورخہ ٢٣ صفر تا ٨ ربیع الاول ١٣٩٠ھ، مطابق ٣٠ اپریل تا ١٥ مئی ١٩٧٠ء کے ص ١٢ پر تحریر ہے:
”قیام پاکستان کے بعد حکومت وقت کی بعض ناجائز پابندیوں کے باعث احرار کی جماعت خلاف قانون قرار دی گئی۔ جنوری ١٩٤٩ء میں رد مرزائیت کے کام کو سیاسی دست و برد سے محفوظ رکھنے کے لئے شعبہ تبلیغ کو الگ جماعت کی صورت دے دی گئی ۔“
مجلس احرار اسلام کل ہند کو یہ اعزاز حاصل تھا کہ جماعتی سطح پر سب سے پہلے قادیانیت کے خلاف محاذ قائم کیا۔ ١٩٣٤ء میں احرار کانفرنس قادیان میں منعقد کی۔ مجلس احرار اسلام کے زیر اہتمام شعبہ تبلیغ قائم کیا۔ (یاد رہے کہ اس شعبہ کا نام شعبہ تبلیغ مجلس احرار اسلام تھا) شعبہ تبلیغ مجلس احرار اسلام کل ہند کا دفتر قادیان میں قائم کیا۔ فاتح قادیان مولانا محمد حیات ؒ، مولانا لال حسین اختر ؒ، مولانا عبدالکریم مباہلہ، مولانا عنایت اللہ چشتی ؒ، حضرت ماسٹر تاج الدین انصاری ؒ، مولانا رحمت اللہ مہاجر ؒ اور دیگر زعماء احرار نے گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ مذکورہ بالا حوالہ کے مطابق جنوری ١٩٤٩ء میں شعبہ تبلیغ کو الگ جماعت کی صورت دے دی گئی۔ اس سے مراد مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کا باضابطہ قیام ہے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کا مستقل پہلا انتخاب ١٣/ دسمبر ١٩٥٤ء کو ہوا۔ یہاں پر چند ضروری گزارشات عرض کرنا ضروری خیال کرتا ہوں۔
- ١....... مجلس احرار اسلام کا قادیان میں جو دفتر قائم ہوا اس کا نام شعبہ تبلیغ مجلس احرار
اسلام ہند تھا۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
- ......٢ شعبہ تبلیغ کو جنوری ١٩٤٩ء میں ایک جماعت کی صورت قرار دے دی گئی۔ جس کا نام
مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان تجویز ہوا۔
- ......٣ جنوری ١٩٤٩ء سے ہی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان نے کام شروع کر دیا جیسا کہ ایک
مطبوعہ خط جو حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری صدر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی جانب سے ”احباب اور اصحاب خیر کی خدمت میں ضروری اپیل“ کے عنوان پر شائع ہوا۔ اس کے ص ٣ پر ہے: ”بنابریں مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان نے ١٩٤٩ء سے اس طرف توجہ دی اور پوری تنظیم سے ملک بھر میں تبلیغ کا کام شروع کیا۔“ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ کا یہ مطبوعہ خط چار صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کا مکمل عکس تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء کے ص ٨٩٩ سے ص ٩٠٢ پر شائع کر دیا گیا ہے۔
- ......٤ تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء سے قبل مجلس تحفظ ختم نبوت کا دفتر بندر روڈ کراچی پر قائم
ہو چکا تھا جیسا کہ حضرت امیر شریعت ؒ کے خط ٥؍اپریل ١٩٥٢ء سے ظاہر ہے۔ یہ خط بھی چار صفحات پر مشتمل ہے۔
- ......٥ چنانچہ ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت میں مجلس تحفظ ختم نبوت بھی مجلس عمل میں دیگر
جماعتوں کی طرح شامل تھی۔ مجلس عمل میں شریک جماعتوں کے اسماء جسٹس منیر نے اپنی عدالتی رپورٹ میں دیئے ہیں۔ اس میں نمبر ١١ پر مجلس تحفظ ختم نبوت کا نام دیا ہے۔
(رپورٹ تحقیقاتی عدالت ص ٨٠)
- ......٦ تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء میں تحریک کے رہنما ٢٦؍فروری ١٩٥٣ء کو کراچی دفتر مجلس
تحفظ ختم نبوت سے گرفتار ہوئے۔ چنانچہ زعیم احرار حضرت ماسٹر تاج الدین انصاری ؒ رقم طراز ہیں: ”ہم سب دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی میں آ کر دراز ہو گئے۔ دفتر سے گرفتار ہونے والے ہم آٹھ ارکان تھے۔ حضرت مولانا ابوالحسنات ؒ ، حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ ، حضرت صاحبزادہ سید فیض الحسن ؒ ، جناب عبدالرحیم جوہر ؒ ، جناب نیاز لدھیانوی ؒ ، مولانا لال حسین اختر ؒ ، اسد نواز ایڈیٹر حکومت اور ماسٹر تاج الدین انصاری ؒ ۔ (تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء ص ٢٨٨، ٢٨٩)
- ......٧ مجلس تحفظ ختم نبوت جنوری ١٩٤٩ء میں قائم ہوئی۔ اس نام سے تبلیغی کام شروع ہوا۔
دفاتر قائم ہونے لگے۔ البتہ انتخاب تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء کے بعد ١٦؍ربیع الثانی ١٣٧٤ھ، مطابق ١٣؍دسمبر ١٩٥٤ء کو ہوا۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
- ٨....... اس روز ہی ’’مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان‘‘ کا میثاق رکنیت تیار ہوا۔ جس میں ابتدائی
تاسیسی ارکان مجلس تحفظ ختم نبوت کے ١٧ حضرات کے دستخط ہوئے جس کی ترتیب یہ تھی: ’’مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، مولانا محمد علی جالندھریؒ، مولانا لال حسین اخترؒ، مولانا عبدالرحمن میانویؒ، مولانا شیخ احمدؒ (بورے والا)، مولانا سعید احمدؒ (بھکی والا جتوئی)، مولانا محمد شریف بہاولپوریؒ، مولانا تاج محمودؒ، مولانا محمد رمضانؒ (میانوالی)، مولانا محمد یوسف مظفر گڑھی، مولانا نذیر حسینؒ (پنوں عاقل)، مولانا علاؤ الدینؒ (ڈیرہ اسماعیل خان)، مولانا محمد شریف جالندھریؒ، ملک عبدالغفور انوریؒ (ملتان)، مولانا غلام قادرؒ (جھنگ)، حافظ محمد شریفؒ (ملتان)، ماسٹر اختر حسینؒ (ملتان)‘‘
معافی چاہتا ہوں حکایت لذیذ دراز ہوگئی۔ غرض ١٩٤٩ء میں فراغت کے بعد مختلف محاذوں سے چکر کاٹ کر حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ نے حضرت امیر شریعت کے حکم پر ختم نبوت کی پہلی تربیتی کلاس میں باضابطہ داخلہ لے کر تعلیم شروع کردی۔
حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ کا خدام الدین لاہور ٣٠ جولائی ١٩٨٢ء میں ایک انٹرویو شائع ہوا۔ اس کے ص ١٦ پر مولانا فرماتے ہیں: ’’چونکہ حضرت امیر شریعتؒ سے تعلق تھا ان کے کہنے پر ١٩٤٩ء میں ہم پانچ آدمیوں مولانا محمد لقمان علی پوریؒ، مولانا غلام محمدؒ، مولانا قاضی عبداللطیفؒ، مولانا قائم الدینؒ اور مجھ (عبدالرحیم اشعرؒ) کو (فاتح قادیان) مولانا محمد حیاتؒ کے سپرد کیا گیا۔‘‘
حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ فرماتے تھے کہ اس کورس میں باقی ساتھی تو پڑھائی کے لئے مکمل وقت دیتے تھے مجھے تعلیم کے علاوہ تیاری کھانا وغیرہ کے امور کے لئے بھی وقت دینا پڑتا تھا۔ ساتھیوں کو باقاعدہ سبق لکھوایا جاتا تھا۔ جب وہ نوٹس تیار کرتے تھے تو میں ان کو نقل کر لیا کرتا تھا۔ اللہ تعالیٰ کی شان بے نیازی کہ ان پانچوں حضرات سے کم وقت تعلیم کے لئے مولانا اشعرؒ کو ملتا تھا لیکن اکابر اساتذہ و رفقاء کی خدمت کے صدقے میں اللہ تعالیٰ نے سب سے زیادہ رد قادیانیت کا کام مولانا اشعر سے لیا۔ مولانا کو یہ اعزاز بھی حاصل تھا کہ بیک وقت وہ فاتح قادیان مولانا محمد حیاتؒ اور مناظر اسلام مولانا لال حسین اخترؒ کے شاگرد تھے۔ پھر وہ وقت بھی آیا کہ ان کی روایات کے امین و وارث قرار پائے۔ چنانچہ دفتر
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
مرکزیہ ملتان، ڈھاکہ، علامہ بنوری ٹاؤن کراچی، خدام الدین لاہور اور ملک بھر میں مجلس کے زیر اہتمام تحفظ ختم نبوت رد قادیانیت کورس مدارس میں مولانا عبدالرحیم اشعر ؒ پڑھاتے تھے۔ اس وقت مجلس میں کام کرنیوالے اکثر حضرات مبلغین کرام مولانا مرحوم کے شاگرد ہیں۔ ایک وقت تھا کہ مولانا کا طوطی بولتا تھا۔ کراچی سے خیبر تک مولانا کے قادیانیت کے خلاف دورے ہوتے تھے۔ ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء!
حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر ؒ ١٩٤٩ء کے اواخر یا ١٩٥٠ء کے اوائل میں فیصل آباد کے مبلغ بنے۔ تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء کے زمانہ میں آپ فیصل آباد تھے۔ تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء کی داعی جماعت مجلس احرار اسلام پاکستان تھی۔ قدرت نے مجلس احرار کے اکابر مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ، ماسٹر تاج الدین انصاری ؒ، مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی ؒ، شیخ حسام الدین ؒ، مولانا محمد علی جالندھری ؒ، صاحبزادہ فیض الحسن ؒ اور مولانا غلام غوث ہزاروی ؒ سے اس تحریک میں جو کام لیا وہ تاریخ احرار کا درخشندہ باب ہے۔ تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء پر کتاب لکھتے وقت مولانا عبدالرحیم اشعر ؒ سے ایک انٹرویو لیا تھا۔ حضرت مولانا نے تحریک میں اپنے کردار سے متعلق تفصیلات بیان فرمائی تھیں۔ جو اسی کتاب سے پیش خدمت ہیں وہ یہ ہیں؟
"مولانا عبدالرحیم اشعر ؒ فرماتے ہیں کہ تحریک ختم نبوت کے زمانہ میں میں جماعت کی طرف سے فیصل آباد کا مبلغ تھا، تحریک ختم نبوت چلی تو مولانا تاج محمود ؒ فیصل آباد کے امیر تھے۔ آپ نے ایک کار اور لاؤڈ سپیکر کا انتظام کر کے دیا۔ مولانا قاری عبدالحئی عابد ؒ ان دنوں مدرسہ اشاعت العلوم فیصل آباد میں زیر تعلیم تھے۔ ان کو قدرت نے بلا کا گلہ دیا تھا۔ یہ میرے ساتھ ہوتے۔ ہم علی الصبح کار پر نکل جاتے سپیکر لگا کر گاؤں گاؤں پھرتے۔ یہ نظمیں پڑھتے ، میں تقریریں کرتا۔ اٹھارہ بیس دن تک ہم نے ضلع فیصل آباد کا کونہ کونہ چھان مارا۔ پورا ضلع تحریک میں ہراول دستے کا کردار ادا کرنے کے لئے سراپا تحریک بن گیا۔ اٹھارہ بیس دن بعد ہمیں معلوم ہوا کہ تحریک کے تمام راہنما مولانا تاج محمود ؒ، مولانا حافظ عبدالمجید نابینا ؒ تمام حضرات گرفتار ہو گئے ہیں۔ پولیس ہمارے تعاقب میں ہے۔ کسی بھی وقت گاڑی اور سپیکر ضبط کر کے ہمیں گرفتار کر لیا جائے گا تو ہم نے گاڑی چھوڑ دی۔ فیصل آباد جامع مسجد کی بجلی اور پانی کے کنکشن منقطع کر دیئے گئے تھے۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر ؒ فرماتے ہیں کہ میں رات کو جامع مسجد کچہری بازار سے ملحقہ ایک مکان میں ایک تبلیغی جماعت کے ساتھی کے گھر جا کر رہا۔ صبح جمعہ تھا۔ معلوم ہوا کہ مولانا مفتی سیاح الدین کاکاخیل تشریف لا چکے ہیں۔ جمعہ پڑھائیں گے۔ وہ وقت پر پولیس وملٹری کی ناکہ بندی کے باعث جامع مسجد میں نہ آسکے۔ میں نے تقریر کی۔ قدرت کا کرم ایسے ہوا کہ تقریر نے شہر میں آگ لگا دی۔ پولیس وملٹری حرکت میں آ گئی۔ میں جمعہ سے فارغ ہو کر مسجد کے شمالی دروازہ کے قریب جنازہ گاہ میں بیٹھا تھا کہ ایک احراری دوست نے مجھے وہاں سے نکال لیا۔ میں آخری آدمی تھا جو مسجد سے نکلا۔ اس کے بعد مسجد کے دروازے بند کر کے ایک ایک آدمی کی پہچان کی گئی کہ تقریر کرنے والے مولوی صاحب کہاں ہیں؟ میں نے ایک میلی کچیلی کمبل اوڑھ رکھی تھی۔ لباس بھی بوسیدہ و میلا تھا۔ مجھے انہوں نے درخور اعتنا نہ سمجھا اور یوں نکل کر مسجد اہل حدیث امین پور بازار پہنچا۔ شیخ خیرمحمد چمڑہ منڈی والے تحریک کے خزانچی تھے۔ مجھے کرایہ دیا اور شہر چھوڑ دینے کا مشورہ دیا۔ مسجد کے عقبی دروازہ سے کوتوالی تھانہ کے سامنے سے امین پور بازار کو کراس کر کے منشی محلہ سے ہوتے ہوئے جھنگ بازار تانگہ لیا اور جوالانگر پل کی طرف نکل گیا۔ میرے ساتھ رحمت اللہ شاہ تھے جو سندیلیا نوالہ کے تھے۔ اشاعت العلوم میں طالب علم تھے۔ ہم ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ ملتان کی طرف چل پڑے۔ دو نوجوان ملے پوچھا کہ نواب پور جا ر ہے ہو۔ ہم نے اثبات میں جواب دیا۔
اتنے میں ملٹری کا ٹرک آ گیا۔ پوچھا کون ہو ہم نے کہا مزدور ہیں۔ کہاں جا رہے ہو۔ ہم نے کہا مزدوری کر کے اپنے گاؤں نواب پور جا رہے ہیں۔ وہ مطمئن ہو کر چلے گئے۔ ہم چلتے رہے۔ رسالے والا اسٹیشن پر ٹرین کا ٹائم تھا۔ شہر اور اسٹیشن پر پولیس وملٹری میری گرفتاری کے لئے بل کھا رہی تھی۔ فیصل آباد کے لئے ٹرین آئی تو رحمت اللہ شاہ واپس ہو گئے۔ ملتان کی ٹرین آئی۔ میں سوار ہو گیا۔ خانیوال آیا اسٹیشن پر دو چار لقمے زہر مار کرنے کے لئے کنٹین پر گیا تو دیکھا کہ عبداللہ ہوٹل چنیوٹ بازار فیصل آباد کا منیجر پھر رہا ہے۔ یہ پولیس کا مخبر تھا۔ میں نے اسے دیکھتے ہی اسٹیشن پر لیٹنے میں عافیت سمجھی۔ ٹرین چلی تو لپک کر گارڈ کے ڈبہ میں سوار ہو گیا۔ ملتان سٹی اتر کر ریلوے لائن میں ٹرین کے پیچھے کھڑا ہو گیا۔ عبداللہ ادھر ادھر دیکھتا رہا۔ ٹرین چھاؤنی کے لئے چلی تو میں بستر اٹھا کر پیدل سفر کر کے خیر المدارس پہنچ گیا۔ ان دنوں جماعت (ختم نبوت) کا دفتر قدیر آباد ہوتا تھا۔ پیغام بھجوایا۔ تیسرے روز بلاوا آ گیا۔ دفتر پہنچا تو مولانا محمد شریف
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
جالندھری ؒ نے بورے والا، وہاڑی، عارف والا وغیرہ کے پروگرام بنا کر رقعہ پکڑا دیا کہ شاہ جی ؒ کے حوالے سے لوگوں کو تحریک کے جاری رکھنے پر تیار کرو۔ اتنے میں پولیس نے دفتر کا محاصرہ کر لیا۔
مولانا محمد شریف جالندھری ؒ، مولانا محمد حیات ؒ فاتح قادیان، مولانا غلام محمد ؒ، سائیں محمد حیات ؒ دفتر میں موجود تھے۔ مولانا غلام محمد ؒ تو جل دے کر نکلنے میں کامیاب ہو گئے اور پروگرام پر روانہ ہو گئے۔ وہاں سے گرفتار ہو کر پھر جیل میں آ ملے۔ ہم چاروں گرفتار کر لئے گئے۔ پولیس نے مجلس کا سیف توڑا۔ واہی تباہی بکتے پولیس ہمیں تھانہ صدر لے گئی۔ مولانا محمد حیات ؒ فاتح قادیان جیل کاٹنے میں بڑے بہادر اور جری تھے۔ پولیس کو کہا کہ بازار سے اپنے خرچہ سے کھانا لاؤ یا جیل پہنچاؤ۔ ہم تھانہ کا کھانا نہ کھائیں گے۔ پولیس نے کھانا کھلایا اور عصر کے قریب سنٹرل جیل ملتان پہنچا دیئے گئے۔ جیل میں گئے تو مولانا محمد علی جالندھری ؒ، مولانا احمد علی لاہوری ؒ، مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی ؒ، سید نور الحسن شاہ بخاری ؒ، مولانا سعید احمد ؒ (جھنگی والا)، مولانا سلطان محمود ؒ، مولانا قائم الدین علی پوری ؒ اور دوسرے حضرات موجود تھے۔ ہمارے جاتے ہی جیل کے تمام بزرگوں نے شفقتوں سے نوازا۔ مولانا نذیر احمد، باقر علی اور دوسرے جماعت اسلامی کے رفقاء بھی آ گئے تو مولانا احمد علی لاہوری ؒ نے حضرت قاضی احسان احمد شجاع آبادی ؒ کو کہہ کر پچیس عدد مجلد قرآن مجید کے نسخے منگوائے اور درس قرآن جاری کر دیا۔ پچیس دن بعد قاضی احسان احمد ؒ، مولانا محمد علی جالندھری ؒ، حضرت لاہوری ؒ، مولانا سید نور الحسن شاہ بخاری ؒ کو ڈسٹرکٹ جیل منتقل کر دیا گیا۔ وہاں پر مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی ؒ اور حضرت لاہوری ؒ کو کھانے کی اشیاء میں زہر دیا گیا۔ دو چار لقمے کھاتے ہی قاضی ؒ کی طبیعت غیر ہو گئی۔ سخت قے آئی۔ حضرت لاہوری ؒ کا بھی یہی حال تھا۔ جیل کا ڈاکٹر آیا تو آتے ہی قے پر پانی ڈال کر اسے بہا دیا تا کہ زہر کا ثبوت باقی نہ رہے۔ جیل میں اس سانحہ کی خبر نے آگ لگا دی۔ جیل کے تمام قیدی دیواروں اور درختوں پر چڑھ کر سراپا احتجاج بن گئے۔ عملہ تشدد کرتا۔ درمیان میں مولانا محمد علی جالندھری ؒ کا تجربہ کام آیا اور ان کے کہنے پر احتجاج ختم ہوا اور سانحہ ہوتے ہوتے رہ گیا۔ کچھ عرصہ بعد مولانا محمد شریف جالندھری ؒ، مولانا محمد حیات ؒ، ملک عبدالغفور انوری ؒ، سائیں محمد حیات ؒ اور میں (عبدالرحیم اشعر ؒ)
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
لاہور بوسٹرل جیل منتقل کر دیئے گئے۔ وہاں پر مولانا خدا بخش ملتانی ؒ، سید امین شاہ مخدوم پوری ؒ، مولانا زرین احمد خاں ؒ موجود تھے۔ میانوالی سے حضرت مولانا خواجہ خان محمد ؒ (امیر مرکزیہ) صوفی ایاز خاں ؒ آئے ہوئے تھے۔ قاری رحیم بخش ؒ پانی پتی نے تراویح جیل میں پڑھانی شروع کی تو ہر روز اڑھائی صد تحریک کے راہنما مقتدی ہوتے۔ میرے متعلق پولیس نے متعلقہ آبائی تھانہ جلال پور پیر والا سے رپورٹ مانگی تو انہوں نے غیر اہم لکھ دیا یوں تین ماہ بعد ٢٧ رمضان شریف کو میری رہائی ہو گئی۔
(تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء ص ٤٩٠ تا ٤٩٢)
انکوائری کمیشن: تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء کی انکوائری کے لئے حکومت نے عدالتی کمیشن قائم کیا جو مسٹر جسٹس منیر، مسٹر جسٹس ایم آر کیانی پر مشتمل تھا۔ انکوائری کمیشن میں جن لوگوں نے شب و روز امت محمدیہ کی طرف سے وکالت کی ان میں مولانا عبدالرحیم اشعر ؒ بھی ہیں۔ آپ نے انکوائری کے چشم دید آٹھ واقعات سنائے۔ فقیر نے وہ واقعات مذکورہ کتاب میں شامل کر دیئے تھے جو پیش خدمت ہیں۔ مولانا فرماتے ہیں:
- ١....... ٨ جولائی کو مجھے میرے گھر واقع عنایت پور نزد جلال پور پیر والا میں خط ملا جو مولانا محمد
علی جالندھری ؒ نے لاہور جیل سے تحریر کیا تھا کہ تم ملتان سے دفتر کی کتابیں اور اگر وہ نہ ملیں تو فیصل آباد سے اپنی مرزائیت کی کتابوں کا سیٹ لیکر لاہور پہنچو۔ ملتان آیا تو کتابیں نہ مل سکیں۔ فیصل آباد گیا ھو کا عالم تھا۔ تمام رفقاء پس دیوار زنداں تھے۔ حافظ عبدالرحمن کیمبل پور والے ملے مجھے دیکھتے ہی کہا کہ تمہارے وارنٹ ہیں۔ مخبری ہو گئی تو دھر لئے جاؤ گے میں تمہاری کتابیں لیکر لاہور آ جاؤں گا۔ آپ فوراً یہاں سے روانہ ہو جائیں میں لاہور چلا گیا۔ سید رحمت اللہ شاہ اپنے گھر سندیلیاں والہ سے کتابیں لائے۔ حافظ عبدالرحمن صاحب وہ کتابیں لے کر لاہور پہنچ گئے۔ اب کتابیں ہمارے پاس، ہمیں کوئی ٹھہرانے کے لئے تیار نہ تھا۔ لاہور میں دولتانہ حکومت اور بعد میں فوج کے قیامت خیز مظالم کے سامنے کسی کی نہ جاتی تھی۔ ہم لوگ حیران و پریشان کہ مسافر غریب الدیار لوگوں کو سہارا دینے والا کوئی نہ تھا۔ تحریک کے صف اول کے تمام راہنما لاہور جیل میں تھے۔ دو دن مولانا مظہر علی ؒ کے گھر قیام کیا۔ ایک دن حکیم عبدالمجید سیفی مرحوم تشریف لائے۔ فرمایا میں تمہیں تلاش کرتے کرتے ہار گیا۔ تم میرے مہمان ہو چلو کتابیں اٹھاؤ گاڑی میں رکھو اور میرے ساتھ چلو۔ ہوا یہ کہ حضرت مولانا محمد عبداللہ ؒ سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ نے اپنے مرید حکیم عبدالمجید صاحب سیفی کو حکم
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
فرمایا کہ ختم نبوت کی طرف سے انکوائری میں کام کرنے والے آنحضرت ﷺ کے مہمان ہیں۔ یہ لوگ در بدر پھر رہے ہیں ان کو تلاش کرو اور اپنے گھر میں معزز مہمانوں کی طرح رکھو۔ کچھ عرصہ بعد خود حضرت قبلہ مولانا محمد عبداللہؒ لاہور تشریف لائے۔ حکیم صاحب کے مکان پر قیام فرمایا۔ آپ کے ایک اور مرید مولانا حافظ کریم بخش صاحب پروفیسر تھے۔ ان کا کتب خانہ ہمیں حوالہ جات کے لئے مل گیا۔
حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ بھی تشریف لائے۔ اس طرح ایک ٹیم بن گئی جو انکوائری میں حصہ لینے لگی۔ مولانا مظہر علی اظہرؒ اور مولانا مرتضیٰ احمد خاں میکشؒ یہ دونوں مجلس عمل کے وکیل تھے۔
- ٢...... ایک دفعہ مولانا مرتضیٰ احمد خاں میکشؒ سے عدالت نے سوال کیا کہ آپ ان کی
کیوں وکالت کر رہے ہیں؟۔ انہوں نے فرمایا کہ میں تو مجلس عمل کا وکیل ہوں۔ جس میں نو دینی جماعتیں شامل ہیں۔ نیز یہ کہ مجھے حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ سے سیاسی اختلاف ہے۔ مگر مرزائیت کے احتساب کے لئے میں ان کا پوری قوم پر احسان سمجھتا ہوں اگر شاہ صاحبؒ مرزائیت کا احتساب نہ کرتے تو آج پورا ملک مرزائیت کے دام تزویر میں ہوتا۔ یہ سن کر منیر کا منہ لٹک گیا۔
- ٣...... ایک دفعہ مجھے (مولانا اشعرؒ) مولانا مظہر علی اظہرؒ نے کاغذ لینے کے لئے
بھیجا میں باہر نکلا تو عدالت کے عقبی دروازہ پر کھڑی عمدہ شیورلیٹ کار میں ایک خوبرو نوجوان فیشن ایبل لڑکی آ کر بیٹھ گئی۔ اتنے میں ہٹو بچو کا غوغہ ہوا اور جسٹس منیر صاحب آئے۔ وہ بھی اس کار میں بیٹھ کر ہوا ہو گئے۔ مولانا عبدالرحیم صاحب کہتے ہیں کہ میں نے عدالت کے اردلی سے کہا کہ یہ لڑکی منیر صاحب کی بیٹی ہیں۔ وہ ہماری سادگی پر سر پیٹ کر رہ گیا۔ اس نے کہا کہ مولوی صاحب تمہارا فریق مخالف ہر روز نئی نویلی خوبصورت لڑکی کا انتظام کر کے منیر صاحب کے سینہ کی حرارت اور نفس کی شرارت کو برقرار رکھنے کا انتظام کرتا ہے۔ مولانا عبدالرحیم اشعرؒ فرماتے ہیں کہ میرے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی اور سر چکرانے لگا کہ الامان الحفیظ!
- ٤...... حضرت مولانا اشعرؒ فرماتے ہیں کہ انکوائری کے دوران صف اوّل کے راہنما
جیل میں تھے۔ ہم لوگ باہر وکیلوں کی تیاری پر مامور تھے۔ کتابوں کا ایک سیٹ تھا جیل بھجواتے تو ہم خالی ہاتھ اور اگر ہمارے پاس ہوں تو وہ خالی ہاتھ۔ اس لئے یہ
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
انتظام کیا کہ مولانا لال حسین اختر ؒ کی زوجہ محترمہ نے کراچی کا سفر کیا۔ کراچی دفتر کے ہمسائے سید ادریس شاہ صاحب ؒ کے گھر میں وہ کتابیں تھیں وہ لیکر لاہور تشریف لائیں۔ اب کتابوں کو جیل بھجوانے کا مرحلہ تھا وہ یوں حل ہوا کہ شیخ حسام الدین ؒ کی ٹانگ میں درد ہوا وہ کار میں بیٹھ کر ہسپتال معائنہ کے لئے تشریف لائے۔ ڈگی میں کتابیں رکھیں اور جیل تشریف لے گئے۔
- ٥...... خواجہ ناظم الدین، حمید نظامی اور ظفر اللہ قادیانی کا بیان بند کمرہ عدالت میں لیا گیا۔
نظامی صاحب نے عدالت میں کہا کہ پنجاب حکومت نے اخبارات کو اشتہارات کی مد میں لاکھوں کی رقم دی اور انہوں نے مرزائیوں کے خلاف تحریک کو پروان چڑھایا۔ حالانکہ مجلس عمل کی ترجمانی روزنامہ آزاد کر رہا تھا اور اسے اشتہارات کی مد میں حکومت نے کوئی رقم نہ دی تھی۔ یہ ان کا محض عذر لنگ تھا۔ مجلس عمل کے وکیل مولانا مرتضیٰ احمد خان میکش ؒ نے روزنامہ نوائے وقت کا ایک اداریہ پیش کر دیا جس میں درج تھا کہ گاہے بگاہے مرزائیت کے خلاف تحریک اس لئے اٹھتی ہے کہ مرزائیوں کے عقائد گمراہ کن اور اشتعال انگیز ہیں۔ انہیں کے باعث تحریک اٹھتی ہے۔ آپ کا عدالت کا بیان اور اداریہ کا بیان دونوں میں فرق ہے۔ کونسا صحیح ہے تو اس پر وہ......!
- ٦...... مولانا مظہر علی اظہر ؒ سے عدالت نے پوچھا کہ آپ نے قائد اعظم ؒ کو کافر
کہا تھا۔ انہوں نے اپنی تقریر شیخوپورہ کی پیش کی کہ میں نے لیگیوں سے کہا تھا کہ آپ ہمارے رہنماؤں پر الزام تراشی بند کریں۔ ورنہ میں مسٹر جناح ؒ کے سول میرج کی کہانی ساتھ لاؤں گا۔ وہ لیگ کے لیڈر تھے اور میں احرار کا۔ تو یہ الیکشنی بیانات ہیں۔ قائد اعظم ؒ نے کہا کہ میرے مطالبات میں خامی نکالیں۔ آپ میرے ذاتی معاملات میں نقص نہ نکالیں تو بات ختم ہو گئی۔ اس پر منیر نے کہا کہ اب ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری معلومات کے مطابق انہوں نے سول میرج کے وقت جو بیان دیا تھا وہ واپس نہیں لیا۔ اس لئے میرا موقف ابھی بھی وہی ہے۔ اس پر عدالت نے کہا کہ ایسے بیانات پر لوگ قتل ہو جاتے ہیں۔ مولانا مظہر علی اظہر ؒ نے کہا کہ ایسے ہوا تو میں سمجھوں گا کہ مسٹر منیر میرے قتل پر لوگوں کو اکسا رہے ہیں۔ اس پر عدالت میں سناٹا چھا گیا اور منیر کا منہ لٹک گیا۔ دوسرے دن فاطمہ جناح ؒ کا عدالت کے نام تار آیا کہ آپ اس قسم
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
کے مباحث اٹھا کر میرے بھائی بانی پاکستان کو رسوا کر رہے ہیں۔ یہ قدرت کی طرف سے منیر کے منہ پر زناٹے دار تھپڑ تھا۔
- ٧...... اب مرزائی لابی نے مولانا مظہر علی اظہرؒ کا تعاقب کرنا شروع کر دیا۔ فیصل
آباد سے میاں محمد عالم بٹالوی احراریؒ مولانا مظہر علیؒ کے باڈی گارڈ بنا دیئے گئے۔ وہ بلا کے ذہین اور بہادر انسان تھے۔ انہوں نے افواہ پھیلا دی کہ اگر مولانا مظہر علیؒ کو کچھ ہوا تو منیر، بشیر الدین اور ظفر اللہ کی خیر نہیں۔ اس کی خبر منیر کو پہنچی دوسرے دن عدالت میں منیر نے کہا مسٹر مظہر علیؒ میں کیا سن رہا ہوں۔ انہوں نے لاعلمی ظاہر کر دی۔ اب مولانا صاحب کے تعاقب سے مرزائی تھرا اٹھے اور معاملہ ختم ہو گیا۔
- ٨...... ١٩٥٣ء لاہور کے منی مارشل لاء کے زمانہ میں عیسائی گبون بلدیہ لاہور کا انچارج تھا۔
منیر نے اپنی رپورٹ کے ص ١٥٩ پر تسلیم کیا ہے کہ ”ایک پراسرار جیپ پر فوجی وردی میں ملبوس لوگوں نے اندھا دھند گولیوں کی بوچھاڑ کر دی تھی“ اس پر مرزائی سوار تھے مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا۔ اخبار بے باک سہارن پور کی رپورٹ کے مطابق شہداء کو بلدیہ کے ٹرکوں پر لاد کر کچھ کو راوی کے کنارے پٹرول ڈال کر نذر آتش کیا گیا اور کچھ کو پتوکی کی اونچی کناروں والی نہر کے اونچے کناروں میں دفن کر دیا گیا۔ فیا حسرتا۔
(تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء ص ٥٥٣،٥٥٦)
کراچی میں تقرری
تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء کی انکوائری ختم ہوئی تو تحریک کے رہنما رہا ہو گئے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کا باضابطہ انتخاب ہوا تو دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت بندر روڈ کراچی میں مولانا عبدالرحیم اشعرؒ کو مجلس تحفظ ختم نبوت کا مبلغ بنا کر بھیج دیا گیا۔ مولانا نے جا کر دفتر کھولا۔ رفقاء کو منظم کیا۔ ابتدا میں کام میں دشواری ہوئی تو مولانا عبدالرحیم اشعرؒ نے حضرت جالندھریؒ کو خط لکھا کہ حسب منشاء کام نہیں ہو رہا میں تقریباً فارغ رہتا ہوں تو حضرت جالندھریؒ نے جواب تحریر کیا کہ: ”آپ کا دفتر کھول کر رکھنا بھی کام ہے۔ تحریک ختم نبوت کے حالات کے بعد ختم نبوت کا دفتر کھولنا دشمن کے سینے پر مونگ دلنے کے مترادف ہے۔ اپنے آپ کو بے کار نہ سمجھیں۔ دفتر کھلا رہے۔ کام جاری رکھیں۔ اللہ تعالیٰ مدد کریں گے۔“ اس خط سے آپ کو حوصلہ ملا۔ اس
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگارنگ
زمانہ میں حضرت جالندھریؒ کے حکم پر آپ کبھی کبھار کراچی حضرت شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوریؒ کے درس حدیث میں شریک ہوتے۔ کام شروع ہوا رفقاء مل گئے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے مولانا اشعرؒ کی مخلصانہ محنت کو قبول فرمایا۔ حضرت حاجی لال حسینؒ چکوال کے باشندہ تھے۔ حکومت کے اہم سرکاری ملازم تھے۔ ملازمت کراچی میں کرتے تھے۔ ان سے ملاقات ہوئی۔
حضرت مولانا اشعرؒ فرماتے تھے کہ حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ کراچی تشریف لائے۔ حاجی لال حسین صاحبؒ کے ہاں ناشتہ تھا۔ حضرت مولانا ہزارویؒ نے حاجی صاحب کی اعلیٰ ملازمت کی ٹھاٹھ باٹھ، شاہانہ کوٹھی۔ حاجی صاحب کی دین سے وابستگی دیکھی تو مولانا عبدالرحیم اشعرؒ سے فرمایا کہ جب ایسے کسی شخص سے آپ کا تعارف ہو تو فوراً بڑے حضرات، حضرت امیر شریعتؒ، حضرت بنوریؒ، حضرت قاضیؒ، حضرت جالندھریؒ سے ان کا تعارف کرا دیں اور بزرگوں سے تعلق جوڑوا دیں۔ اس لئے کہ اگر آپ ان کے آئیڈیل ہوگئے تو آپ سے کوئی معمولی لغزش ہوئی تو یہ دین سے دور ہو جائیں گے۔ بڑے حضرات سے ان کا تعلق ہوگا تو آپ کی معمولی لغزش بھی دب جائیگی اور دین سے ان کا تعلق بھی باقی رہے گا۔ چنانچہ مولانا اشعرؒ نے ان اکابر سے حاجی لال حسین صاحب کا آنا جانا شروع کرایا۔ حاجی صاحب مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے امیر مقرر ہوئے۔ عمر بھر امیر رہے۔ مرکزی شوریٰ کے رکن رہے۔ حضرت قاضیؒ سے تو ان کا دوستانہ ہو گیا۔
حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ تقریباً ١٩٦٦ء تک کراچی میں بحیثیت مبلغ کے کام کرتے رہے۔ ملتان تغلق روڈ پر مجلس کا دفتر مرکزی ملکیتی مکمل ہوا۔ کچھ عرصہ بعد حضرت قاضیؒ کا انتقال ہوا۔ تو مولانا عبدالرحیم مرکزی مبلغ کے طور پر ملتان تشریف لائے۔ مرکزی مبلغ اور ناظم کتب خانہ کے طور پر کام کرتے رہے۔ آپ کا حلقہ تبلیغ اب پورا ملک ہو گیا۔ کئی جگہ قادیانیوں سے کامیاب مناظرے ہوئے۔ میانوالی میں مناظر اسلام مولانا لال حسین اخترؒ کے معین مناظر تھے۔ اس دوران میں آپ جامعہ فاروقیہ عارف والا میں مجلس کی طرف سے خطبہ جمعہ دیا کرتے تھے جو ان کی صحت کے آخری سالوں تک جاری رہا۔ کم و بیش تیس سال آپ نے جامعہ فاروقیہ عارف والا میں بطور خطیب کے مجلس کی طرف سے ذمہ داری سنبھالی۔
حضرت مولانا لال حسین اخترؒ کے بیرونی سفر کے موقعہ پر مجلس کے قائمقام ناظم
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
اعلیٰ بنے۔ مولانا لال حسین اختر ؒ کے زمانہ امارت میں مجلس کے ناظم اعلیٰ رہے۔ حضرت شیخ بنوری ؒ کے زمانہ میں مجلس کے ناظم تبلیغ رہے۔ غالباً حضرت مفتی احمد الرحمٰن ؒ کے وصال کے بعد عارضی طور پر کچھ وقت کے لئے نائب امیر رہے۔ غرض قدرت نے آپ کو بہت ہی قبولیت سے نوازا۔ اپنی صحت کے زمانہ میں مجلس کی مرکزی لائبریری کے امین تھے۔ دیانتداری کی بات ہے کہ مجلس کی لائبریری۔ ریکارڈ کے حصول، کتب کی جمع و ترتیب آپ کا وہ سنہری کارنامہ ہے جو آپ کا صدقہ جاریہ ہے۔ وفات سے کچھ عرصہ قبل اپنی تمام ذاتی کتب مجلس کی لائبریری کے لئے وقف کردیں۔ کتابوں کو نہ صرف جمع کرنے کا شوق تھا بلکہ کتابوں کے مطالعہ کے بھی دھنی تھے۔ کتاب پڑھتے پڑھتے سوجاتے اور جاگتے ہی کتاب کا مطالعہ شروع کردیتے۔ صحت کے زمانہ میں بلاشبہ سینکڑوں صفحات مطالعہ کا معمول تھا۔ قدرت نے بلا کا حافظہ دیا تھا۔ حوالہ تلاش کرنے میں دیر نہ لگاتے تھے۔ چنانچہ مناظروں، عدالتوں میں آپ کے یہ جوہر خوب دیکھنے میں آئے۔ استاذ المناظرین حضرت مولانا لال حسین اختر ؒ کا حافظہ بھی بلا کا تھا۔ منہ سے حوالہ مانگتے دیر لگتی تھی۔ فوراً مولانا لال حسین اختر ؒ حوالہ بتا دیتے تھے۔ مولانا عبدالرحیم اشعر ؒ کا مزاج جداگانہ تھا۔ جب کوئی حوالہ طلب کرتا۔ آپ کے دماغ کا کمپیوٹر کام شروع کردیتا۔ ایک کتاب کو ہاتھ لگاتے، چھوڑ دیتے۔ دوسری کی طرف دیکھتے تیسری پر نظر ڈالتے۔ چوتھی کو اٹھاتے ورق الٹتے اور حوالہ نکال کر دے دیتے اور یہ کام ایسے منٹوں میں پھرتی سے ہوتا گویا جیسے کمپیوٹر فائلیں بدل رہا ہو۔ مولانا کتب شناسی میں بھی ماہر تھے۔ جلد اور کتاب کا حلیہ دیکھ کر بتادیتے کہ یہ فلاں کتاب ہے۔ حافظہ کا یہ عالم تھا کہ لائبریری کی ہر کتاب کے متعلق معلوم ہوتا کہ فلاں فن، فلاں الماری کے فلاں تختہ پر موجود ہے۔ وہاں سے نکال لیں۔ چنانچہ ننانوے فیصد یہ صحیح ہوتا۔ کتاب سے آپ کو عشق تھا۔ عمدہ مضبوط جلد بنوانے کا ذوق تھا۔ ایک ورقہ اشتہار، چند صفحاتی پمفلٹ مل جاتا اسے بھی کور کرالیتے تھے۔ مولانا اشعر ؒ کے اس ذوق نے مجلس کی کئی مواقع پر کئی مشکلات کو حل کیا۔
آپ نے اپنے گاؤں عنایت پور میں مدرسہ مطالب العلوم قائم کیا۔ جامع مسجد بنوائی جو ان کے لئے صدقہ جاریہ ہے۔ مدرسہ میں اس وقت بھی مقیم و مسافر طلبہ قرآن مجید کے حفظ و ناظرہ کی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔
تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء میں آپ نے ملک کے طول و عرض کے سفر کئے۔ کانفرنسوں
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
سے خطاب کیا۔ لیکن زیادہ تر اسلام آباد میں شیخ الاسلام حضرت بنوریؒ اور مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی زیر سرپرستی۔ اپنے استاذ فاتح قادیان مولانا محمد حیاتؒ کی معیت میں قادیانیوں پر جرح کے لئے حوالہ جات مہیا کرنا ”موقف ملت اسلامیہ“ کے لئے مواد مہیا کرنے میں مولانا اشعرؒ کا کردار مثالی رہا۔
قادیانیوں کے خلاف جتنے مقدمات عدالتوں میں چلے۔ لوئر کورٹ سے ہائیکورٹ تک وفاقی شرعی عدالت۔ جنوبی افریقہ ان تمام میں مولانا نے مجلس کی طرف سے پوری امت کا فرض کفایہ ادا کیا۔ جنوبی افریقہ کے کیس سے واپسی پر آپ کا ایک انٹرویو اخبار جہاں کراچی میں شائع ہوا۔ اس سے آپ کو حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ کی خدمات کا صحیح اندازہ ہوتا ہے۔
بیرونی ممالک کے سفر
١٣٨٨ھ میں مولانا عبدالرحیم اشعرؒ نے ڈھاکہ کا ایک ماہ کا سفر کیا۔ ١٩٧٥ء میں ڈیڑھ ماہ کا سفر انڈونیشیا کا ہوا۔ جنوبی افریقہ دو بار تشریف لے گئے۔ حج کے بھی دو سفر ہوئے۔ یوں برصغیر اور افریقی براعظموں تک مولانا کی آواز حق سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندگان کو فائدہ کا سامان کر دیا۔ مولانا کی خوش بختی پر نظر کریں کہ پنجاب کے ایک غریب پسماندہ علاقہ کے متوسط غریب گھرانہ سے تعلق رکھنے والے شخص کو عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے قدرت نے کہاں کہاں تک پہنچایا۔ ذٰلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء!
حضرت مولانا مرحوم جس طرح پڑھنے کے دھنی تھے لکھنے کے لئے اتنا وقت نہ مل سکا۔ دراصل وہ ایک تحریکی دور تھا۔ اس وقت تصنیف وتالیف کی ان کو کہاں فرصت تھی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے شعبہ نشر واشاعت میں جان تو پڑی حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کی تشریف آوری پر۔ حضرت لدھیانویؒ اتنے بڑے مؤلف و مصنف تھے کہ ان کے سامنے کسی دوسرے کا چراغ نہ جلتا تھا۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ حوالہ جات میں مدد اور مختلف موضوعات پر لکھنے کے لئے مولانا عبدالرحیم اشعرؒ آپ کو توجہ دلاتے رہتے تھے۔ اس کے باوجود ”مرزا غلام احمد قادیانی کی آسان پہچان“ اور ”بیرونی ممالک میں قادیانی تبلیغ کی حقیقت“ اور ”قادیانیت علامہ اقبال کی نظر میں“ وغیرہ دو تین رسائل مولانا عبدالرحیم اشعرؒ نے بھی تصنیف کئے۔
حضرت مولانا مرحوم ہنس مکھ، دلنواز دوست اور ایک اچھے انسان تھے۔ تکبر نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ طبیعت سادہ اور بہت ہی سادہ تھی۔ کھانے پینے، لباس ووضع قطع میں کوئی تکلف نہ
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
برتتے تھے۔ آپ کو قدرت نے ایک وجیہہ چہرہ دیا۔ بسطۃ فی العلم والجسم! کا مصداق تھے۔ بڑے حضرات کے ساتھ کام کرنے کے قدرت نے مواقع دیئے تھے۔ چنانچہ ان اکابر کی روایات کے امین ہو گئے تھے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت ان کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ وہ مجلس پر دل و جان سے فدا تھے۔ جماعتی حلقہ احباب میں مولانا کا بے حد احترام تھا۔ شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری ؒ سے بیعت کا تعلق تھا۔ ان کی وفات کے بعد حضرت مولانا قاضی زاہد الحسینی ؒ سے تعلق قائم کیا تھا۔ مولانا اشعر ؒ کی خوبی تھی کہ پوری صحت کی زندگی میں یومیہ بلا ناغہ قرآن مجید کی تلاوت کیا کرتے تھے۔ حزب الاعظم کی منزل بھی یومیہ پڑھنے کا معمول تھا۔ ایک اچھے انسان کی تمام خوبیاں ان میں موجود تھیں۔ اکابرین سے محبت عشق کی حد تک کرتے تھے۔ حق تعالیٰ نے آپ کو خوبیوں ومحاسن سے ڈھیروں حصہ نصیب کیا تھا۔ مقدر والے انسان تھے۔
١٩٥٤ء کراچی جب تشریف لے گئے چھریرے بدن اور گٹھے ہوئے جسم کے جوان تھے۔ کراچی کی مرطوب ہوا نے ان کو موٹاپے کا روگ دیا۔ پنجاب آئے تو ملک بھر کے دوروں پر شب و روز رہے۔ اس سے موٹاپا رک تو گیا۔ لیکن کم نہ ہوا۔ آخری دس سالوں سے شوگر نے اپنے لوازمات سمیت آن گھیرا۔ سوائے آخری چند دنوں کے کسی کے محتاج نہ ہوئے۔
٢٢؍ مئی ٢٠٠٣ء، جمعرات واصل بحق ہوئے۔ شام ساڑھے چھ بجے جامعہ خیرالمدارس کے شیخ الحدیث اور مولانا عبدالرحیم کے ابتدائی دورہ حدیث کے ساتھی حضرت مولانا محمد صدیق صاحب کی اقتداء میں ہزاروں علماء اور عوام کی کثیر تعداد نے جنازہ میں شرکت کی سعادت حاصل کی۔ مغرب کے بعد گویا شب جمعہ کے آغاز میں ان کو رحمت حق کے سپرد کر دیا گیا۔ منوں مٹی کے نیچے پون صدی دین کی خدمت کرنے والے مجاہد، مناظر، عالم دین، حق گو، محبتیں تقسیم کرنے والی عظیم شخصیت کی سنہری تاریخ کا ایک باب ختم ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے کرم کیا۔ فقیر، مولانا عبدالرحیم اشعر ؒ کی وفات والے دن سندھ سے واپس بہاولپور آیا تھا۔ بہاول نگر جانا تھا کہ اطلاع ہو گئی۔ جنازہ اور دیدار اور آخری الوداعی ملاقات نصیب ہو گئی۔ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ، مولانا عبدالرحیم اشعر ؒ کے کراچی قیام کے دوران جامعہ بنوری ٹاؤن میں دورہ حدیث کر رہے تھے۔ مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ کے مولانا مرحوم سے اس زمانہ کے دوستانہ تعلقات تھے۔ بعد میں جماعتی تعلقات بھی ہو گئے۔ آخری عمر تک ایک دوسرے کو جگری بھائیوں کی طرح چاہا۔ حضرت مولانا بھی محترم عزیز الرحمن جالندھری کے ساتھ ملتان سے تشریف لائے۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگارنگ
حضرت مولانا محمد شریف بہاولپوریؒ کے جانشین حضرت مولانا عطاء الرحمنؒ شیخ الحدیث و رئیس الجامعۃ المدنیہ بہاولپور، مولانا محمد الحق ساقی، مولانا عبدالرحیم مرحوم کے جگری دیرینہ دوست پروفیسر عطاء اللہ اعوان بہاولپور سے، شجاع آباد سے مولانا زبیر احمد رئیس جامعہ فاروقیہ کی سربراہی میں علماء کی جماعت، جامعہ خیر المدارس کے اساتذہ کرام پر مشتمل وفد ایک بڑی وین کے ذریعہ۔ جلالپور پیر والا کے گردونواح کی دینی قیادت اور علماء کرام کی بہت بڑی جماعت جنازہ میں موجود تھی۔ حضرت مولانا عبدالرحیمؒ کے نام کے ساتھ اشعر کا لاحقہ آپ کے جگری دوست ابن امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء المنعم بخاریؒ نے جوڑا تھا۔ حضرت مولانا اشعرؒ اپنے اکابر کے پاس چلے گئے اور ہم تعزیتی نوٹ لکھنے اور محرومیوں کے آنسو بہانے کے لئے رہ گئے۔ وہ چلے گئے ۔ ہم تیار بیٹھے ہیں ۔ ان جانے والوں کے ذریعہ مرحوم اکابر کے پاس ہمارے کام کی رپورٹ پہنچ رہی ہے۔ حضرت مولانا اشعرؒ تو اپنے سنہری کارناموں کے باعث اکابر کی ارواح کے اجتماع میں یقیناً سرخرو ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی عالم ارواح میں اپنے اکابر کے پاس رسوا نہ فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دنیا و آخرت کی رسوائیوں سے بچا کر دارین کی سعادتوں سے نوازیں۔ قیامت کے دن آنحضرتﷺ کی شفاعت عظمیٰ نصیب ہو جائے ۔ آخری وقت تک اللہ تعالیٰ خدمت ختم نبوت سے محروم نہ فرمائیں۔ سوائے اپنے دروازہ کے کسی کا محتاج نہ بنائیں۔ آمین !
مولانا اشعر مرحوم کے رد قادیانیت پر رسائل
- ١...... جلسہ سیرۃ النبیﷺ اور قادیانی گروہ
- ٢...... مرزا غلام احمد قادیانی کی آسان پہچان
مرزا کی تین پیش گوئیوں پر خامہ فرسائی کی ہے:
- ٣...... مرزائیت علامہ اقبال کی نظر میں
- ٤...... بیرون ممالک میں قادیانی تبلیغ اسلام کی حقیقت
- ٥...... قادیانیوں کا بہت بڑا فریب
یہ پانچوں رسائل احتساب قادیانیت ج ١٥ میں چھپ گئے ہیں۔ مولانا کے تفصیل سے حالات پر مستقل کتاب مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کی مرتب کردہ ہے۔ ”کلیات اشعر“ جو لائق مراجعت ہے۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
(١٣)
حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ
(وفات: ١٤؍فروری ١٩٨٥ء)
حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ آرائیں برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ تحصیل نکودر ضلع جالندھر میں حافظ نور محمدؒ کے گھر پیدا ہوئے۔ تعلیم کی تکمیل برصغیر کی معروف اسلامی یونیورسٹی قاہرۃ الہند دیوبند میں کی۔ آپ شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ کے شاگرد تھے۔ ادب حضرت مولانا اعزاز علی مرحوم سے پڑھا۔ تفسیر میں ان کے استاد حضرت مولانا شمس الحق افغانیؒ تھے۔ تعلیم سے فراغت کے بعد آپ نے مقامی سیاسی و معاشرتی زندگی میں قدم رکھا۔ مجلس احرار الاسلام کے امیدوار اسمبلی حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کی الیکشن مہم میں حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے ساتھ کام کیا یہیں سے آپ کا تعلق مجلس احرار سے قائم ہوا۔
تقسیم کے بعد کبیر والا ضلع ملتان کے قریب آٹھ کسی گاؤں میں آباد ہوئے۔ ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت میں گرفتار ہوئے۔ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ جب حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، خطیب پاکستان حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ، مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ، مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اخترؒ، فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیاتؒ، خطیب اسلام حضرت مولانا عبدالرحمان میانویؒ، خطیب اہل سنت حضرت مولانا محمد شریف بہاولپوریؒ، مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا تاج محمودؒ ایسے قدوسی صفت مجاہدین نے مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی بنیاد رکھی تو آپ ان میں نہ صرف شریک تھے۔ بلکہ مجلس کی سب سے پہلی بنیادی و اساسی کارروائی آپ نے لکھی۔ ان کی خوش بختی کا اندازہ فرمائیے کہ سب سے پہلی تحریر مجلس کے قیام کے وقت آپ نے لکھی۔ ١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت کامیاب ہوئی تو خیر مقدمی قرارداد کے مرتب و محرر بھی آپ تھے۔
آپ نے مجلس کے قیام کے وقت جو اپنے بزرگوں سے عہد وفا قائم کیا تھا عمر بھر اسے نبھاتے رہے۔ حضرت امیر شریعتؒ، مولانا قاضی احسان احمدؒ، مولانا محمد علی جالندھریؒ، مولانا لال حسین اخترؒ کے عہد امارت میں آپ مجلس کے آفس سیکرٹری تھے۔
دفتر کی تمام تر ذمہ داری، امور عامہ، نگرانی، مقدمات، رابطہ، سب کچھ کے آپ ہی انچارج تھے۔ حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ کے عہد امارت میں آپ مجلس کے سیکرٹری جنرل بنے۔ ١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت کے روح رواں تھے۔
اس تحریک میں آل پارٹیز مجلس عمل کے صدر مولانا محمد یوسف بنوریؒ، جنرل سیکرٹری مولانا محمود رضویؒ بنے تو آغا شورش کاشمیریؒ کی تحریک پر آپ جوائنٹ سیکرٹری منتخب ہوئے۔ آپ نے جس بیدار مغزی اور بے جگری سے تحریک کو اعتدال کی راہ پر قائم رکھا وہ آپ ہی کا حصہ ہے۔ تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء میں مرکزی مجلس عمل کے تمام تر اخراجات مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے محفوظ بیت المال سے ادا کئے گئے۔ آپ نے جس طرح امانت و کمال کفایت شعاری کا ثبوت دیا اس کی ادنیٰ سی مثال یہ ہے کہ تحریک کے سلسلہ میں مجلس عمل کے صدر حضرت شیخ بنوریؒ نے اسلام آباد میں حضرت مفتی محمود مرحوم کے مشورے سے فوری ہنگامی میٹنگ طلب کی۔ مولانا محمد شریف جالندھریؒ کو لاہور دفتر میں فون پر میٹنگ میں شرکاء کے پہنچنے کا اہتمام کرنے کو کہا گیا۔ آپ نے تمام حضرات کے لئے عصر کے وقت ہوائی جہاز کی ٹکٹیں لیں۔ ان کو گھروں میں جاکر ٹکٹیں دیں۔ بقول سید مظفر علی شمسی مرحوم جب ہم دوسرے دن علی الصبح اسلام آباد ایئرپورٹ پر اترے تو مولانا محمد شریف جالندھریؒ سواری لئے ہمارے استقبال کے لئے موجود تھے۔ ہم حیران ہوئے کہ رات کو تو کوئی پرواز نہ تھی۔ شام کو مولانا لاہور میں ہم سے ملے۔ ہم سے پہلے کس طرح اسلام آباد پہنچ گئے؟ معلوم ہوا کہ حضرت مولانا مرحوم تمام حضرات کو ٹکٹیں دے کر خود ان سے پہلے رات ہی رات بس کے ذریعے سفر کرکے اسلام آباد پہنچ گئے۔
ان کی کفایت شعاری کا ایک اور واقعہ ملاحظہ ہو کہ ٢٨ نومبر ١٩٨٤ء کو بیمار ہوکر فیصل آباد کے ہسپتال میں داخل ہوئے۔ ٥ جنوری ١٩٨٥ء کو ڈاکٹر صاحبان نے صحت یاب ہونے پر ہسپتال سے اجازت دے دی۔ آپ نے ملتان کے لئے سفر کرنا تھا۔ صاحبزادہ طارق محمود کے حکم پر فقیر نے چناب ایکسپریس سے ان کی اے سی میں سیٹیں بک کرادیں۔ حضرت مولانا مرحوم کو جب ٹکٹ پیش کیا سخت آزردہ خاطر ہوئے۔ فرمایا کہ آج میری زندگی کا پہلا سفر ہے جو اے سی میں آپ لوگ کرا رہے ہیں۔ ورنہ عمر بھر اے سی میں سفر نہیں کیا۔
آپ ان دو واقعات سے اندازہ لگالیں کہ کتنی اعلیٰ سیرت کے یہ لوگ تھے۔ آپ کو اللہ رب العزت نے بے شمار خوبیوں سے نوازا تھا۔ ملنسار، ہنس مکھ، ہر ایک کے دکھ سکھ میں شریک، ورکروں پر جان فدا کردینے والے محسن، کسی ساتھی کارکن پر مشکل پڑے، اس کے خانگی امور کیوں
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
نہ ہوں، اس کے کام کو اپنا کام سمجھ کر اخلاص کے ساتھ سرانجام دیتے تھے۔ عمر بھر غریبوں کا خیال رکھنے والے عجیب و غریب سماجی رہنما تھے۔
حلم، بردباری، تحمل مزاجی میں اپنی مثال آپ تھے۔ ہمیشہ دوسروں کی تیز وتند باتیں سنتے۔ مگر کیا مجال کہ کبھی پیشانی پر بل آئے۔ جماعتی راہنما، کارکن اور مبلغین اپنے اپنے مزاج کے مطابق اختلاف رائے کرتے تھے۔ کیا مجال کہ کبھی غصے ہوئے ہوں۔ ہمیشہ خندہ پیشانی سے اختلاف رائے کو برداشت کرتے۔ فقیر نے بعض اوقات بدتمیزی کی حد تک ان سے اختلاف رائے کیا۔ مگر کروڑوں رحمتیں ہوں اس مرد قلندر پر ہمیشہ بچوں بچیوں کی طرح شفقت و محبت و تربیت فرمائی۔ لکھنے کے دھنی تھے۔ پختہ تحریر، پختہ فکر میں بے نظیر تھے۔ دریا کو کوزے میں بند کرنا آپ ہی کے قلم کے لئے شاید محاورہ وضع کرنے والے نے وضع کیا تھا۔ ہمیشہ مجلس کی سالانہ روئیداد کا مقدمہ لکھا کرتے تھے۔ سال بھر کے واقعات وحالات، آئندہ کے لئے لائحہ عمل، مسئلہ کی عظمت۔ غرضیکہ کوثر تسنیم سے دھلے ہوئے چند صفحات پر ایسا جامع مقدمہ لکھ دیتے کہ شاید دوسرا آدمی سینکڑوں صفحات لکھے تو بھی مولانا مرحوم کا مضمون اس پر بھاری ہو۔
حضرت مولانا محمد علی جالندھری ؒ کا وجود مرزائیت کے لئے درہ عمر ؓ تھا اور مجلس کے لئے ریڑھ کی ہڈی۔ آپ کی وفات حسرت آیات کے بعد مجلس کے نظم و نسق کو سنبھالنا، تحریک کے درجہ حرارت میں کمی نہ آنے دینا، یہ بنیادی تقاضا تھا جسے مولانا محمد شریف جالندھری ؒ نے پورا کیا۔ ان کے اکابر نے جو چراغ جلایا، مدھم نہ ہونے دیا۔ فوراً اشتہارات کا سلسلہ شروع کر دیا جامع مانع مختصر فقرے جاندار مضمون پر مشتمل ان کے مرتب کردہ اشتہارات جونہی ملک کے کونہ کونہ میں درو دیوار پر لگتے دشمنوں کے حوصلے پست ہوتے۔ تحریک کے کارکنوں کی حوصلہ افزائی ہوتی۔ ان کی گرمجوشی کو قائم رکھنے میں مولانا مرحوم نے جتنا کام کیا اس پر جتنا بھی ان کو خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے۔
تحریر کی طرح تقریر کے بھی بادشاہ تھے نام و نمود کو زندگی بھر قریب نہیں پھٹکنے دیا۔ کبھی سٹیج پر تقریر کے لئے آگے نہیں بڑھے۔ ہمیشہ دوسروں کو آگے کرتے خود پیچھے رہتے۔ بنیاد کی اینٹ کی طرح خود چھپ کر ساری عمارت کا بوجھ سر پر اٹھائے رکھا۔ مگر جب کبھی کسی نے مجبور کر دیا تقریر کے لئے کھڑے ہو گئے تو ایسی تقریر کرتے کہ مولانا محمد علی جالندھری ؒ کی یاد تازہ کر دیتے۔ اسی طرح محسوس ہوتا جس طرح مولانا محمد علی جالندھری ؒ کی روح بول رہی ہے۔
محنت و کمال محنت میں ان کا ثانی کوئی نہیں تھا۔ مولانا محمد علی جالندھری ؒ کے بعد اگر
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
کسی نے سب سے زیادہ مجلس کے مشن اور نظم و نسق کے لئے محنت کی ہے اور بھاگ دوڑ کر صبح و شام کا دور دراز سفر کیا ہے تو وہ آپ ہی کی ذات تھی۔
اخلاص وللہیت کا پیکر تھے۔ حضرت قطب الارشاد شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کے خلیفہ مجاز حضرت مولانا عبدالعزیز صاحبؒ المعروف حضرت جی گیارہ والے سے بیعت تھے۔ خود فرماتے تھے کہ جس دن بیعت کی اور شیخ نے جو وظیفہ بتایا زندگی بھر ناغہ نہیں ہوا۔ ذکر وفکر تہجد، نیم شبانہ بارگاہ ایزدی میں عجز و نیاز کی دعائیں عابد و زاہد شب بیدار تھے۔ مجلس کو ہر محاذ پر اللہ رب العزت نے جن بے شمار کامیابیوں سے نوازا اور دشمن پسپا ہوا۔ یہ جہاں آپ کی محنت تھی وہاں آپ کے اخلاص وللہیت کو بھی دخل تھا۔
آپ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے آفس سیکرٹری سے جنرل سیکرٹری رہے ہیں۔ تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء کے جوائنٹ سیکرٹری رہے۔ ١٩٨٣ء میں آل پارٹیز مجلس عمل کا آپ کو کنوینئر بنایا گیا۔ ١٩٨٤ء کی آل پارٹیز مجلس عمل کے رابطہ سیکرٹری مقرر ہوئے۔ اندرون و بیرون ملک کے اکابر بزرگوں نے آپ کے اخلاص پر اعتماد کیا۔ آپ نے بھی خداداد صلاحیتوں سے ان کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچنے دی۔
تحریک ختم نبوت ١٩٨٤ء میں ایک ایسا موقعہ آیا کہ اسلام آباد میں صدر مملکت جنرل محمد ضیاء الحقؒ سے آپ کی ملاقات ترمیمی آرڈیننس کے سلسلہ میں ضروری ہوگئی۔ کمال دیانت ملاحظہ ہو کہ فون کر کے ملاقات کے لئے حضرت الامیر مولانا خواجہ خان محمدؒ سے اجازت طلب کی اور ملاقات کے بعد راتوں رات خانقاہ سراجیہ جا کر اس کی رپورٹ پیش کی۔ کبھی بھی اپنے اکابر کو اعتماد میں لئے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ دوسرے میرے ایسے چھوٹے کارکن نے سینہ زوری کر کے کوئی کام کر دیا تو نہ صرف اس کی ذمہ داری قبول کرتے بلکہ چھوٹے کارکنوں کی طرف سے وکیل صفائی بن جاتے۔
چنیوٹ کانفرنس میں ایک دفعہ ایک صاحب کے باعث ہنگامہ آرائی میں فقیر نے عجلت میں چند فقرے کہہ دیئے جس سے فریق ثانی خاصا برہم ہوا۔ ان کا وفد حضرت الامیر سے ملنے کے لئے تشریف لایا۔ مولانا محمد شریف جالندھریؒ کوہ ہمالیہ کی طرح میری صفائی میں ڈٹ گئے۔ مجھے علم ہی نہیں ہوا اور انہوں نے میری صفائی میں تمام تر توانائیاں صرف کردیں۔ حضرت مولانا تاج محمودؒ ، حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ اکابر کی میراث کے وارث تھے۔ ان ہی کے وجود سے آبروئے اکابر کا بھرم قائم تھا۔ ان کی وفات نے دو عظیم محسنوں کو ہم سے چھین لیا جن
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
کا بدل اب پوری کائنات میں باوجود تلاش و بسیار کے ملنا محال و مشکل ہے۔ مولانا محمد شریف جالندھری ؒ کی وفات نے کمر توڑ دی۔ حضرت مولانا مرحوم کی اولاد ہی نہیں بلکہ پوری مجلس تعزیت کی مستحق ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائیں۔ ان کی قبر کو بقعہ نور بنا دیں اور ان کا صدقہ جاریہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ہمیشہ تا ابدالاباد قائم و دائم رہے۔ اللہ رب العزت ایسے دشمنوں کے شر حاسدین کے حسد اور ہر بری نگاہ سے محفوظ و مامون رکھے۔ جملہ احباب کارکنوں مبلغین اور ان کی اولاد کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین !
متفرقات
مولانا محمد شریف صاحب جالندھری ؒ ایک متبحر عالم، زیرک اور فہیم انسان تھے، قدرت نے ان کے وجود کو خوبیوں کا مجموعہ بنایا تھا، آپ نے دارالعلوم دیوبند سے شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی ؒ سے سند حدیث حاصل کی تھی۔
- ٭...... تعلیم سے فراغت کے بعد مجلس احرار اسلام کے پلیٹ فارم سے تحریک آزادی کے
لئے گراں قدر خدمات انجام دیں، تقسیم کے وقت کے نازک حالات میں اپنے علاقے کے مسلمانوں کی ایسی شاندار خدمات کا ریکارڈ قائم کیا، جس سے عام و خاص متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے، مشکل حالات میں مجبور و مظلوم مسلمانوں کے لئے آپ فرشتہ غیب ثابت ہوئے۔ تقسیم کے بعد کبیروالا کے علاقہ ٨ کسی میں آباد ہو گئے۔
خوش نصیبی
اس لحاظ سے آپ بڑے خوش نصیب تھے کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی جس وقت بنیاد رکھی گئی، اس کی کارروائی بھی آپ نے لکھی اور سالہا سال کی جانفشانی کے بعد جب مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا، اس وقت خیر مقدمی قرارداد بھی مرکزی مجلس عمل کی طرف سے آپ نے تحریر فرمائی، غرضیکہ جس کام کو اپنے ہاتھوں سے شروع کیا تھا، قدرت کے فضل و احسان سے اپنے ہاتھوں اسے مکمل کرنے کی سعادت حاصل کی۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے لئے مثالی خدمات
عمر بھر آپ نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی تنظیم کو منظم کرنے کے لئے گراں قدر خدمات انجام دیں، حضرت مولانا محمد علی جالندھری ؒ، حضرت مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ،
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی ؒ، چوہدری افضل حق ؒ، نوابزادہ نصر اللہ خان ؒ، مولانا مفتی محمود ؒ، مولانا غلام غوث ہزاروی ؒ، آغا شورش کاشمیری ؒ، مولانا ابوالحسنات ؒ، سید مظفر علی شمسی ؒ، مولانا تاج محمود ؒ، مولانا مظہر علی اظہر ؒ، خان عبدالغفار خان سرحدی ؒ سے آپ کے مثالی تعلقات تھے، مذہبی و سیاسی راہ نما آپ کا دل کی گہرائیوں سے احترام کرتے تھے، آپ کی شبانہ روز محنت واخلاص کے قدردان تھے۔ مولانا محمد علی جالندھری ؒ کا وجود عالمی مجلس کے لئے قدرت خداوندی کا عطیہ تھا، مولانا محمد شریف جالندھری ؒ آپ کے دست وبازو تھے، بڑا مشکل سے مشکل کام جو مولانا محمد شریف جالندھری کے ذمے لگایا جاتا، بڑی خوش اسلوبی سے اسے پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لئے اپنی جان کو کھپا دینے کی حد تک محنت کرتے اور کامیاب لوٹتے۔
ثبوت حاضر ہے
ایک دفعہ کسی کیس کے سلسلے میں ایڈیشنل آئی جی پنجاب نے مولانا سے کہا کہ: ”آپ نے ساہیوال کے جس مکان کے تہہ خانے کا ذکر کیا ہے، اُس کا تو سرے سے تہہ خانہ ہی نہیں ہے۔“ کوئی اور ہوتا تو معذرت کر لیتا، مولانا خاموش ہو گئے، اجازت چاہی، سیدھے ساہیوال گئے، متعلقہ مکان کے تہہ خانے کا کسی ذریعے سے فوٹو لیا، کمیٹی کے دفتر گئے، متعلقہ مکان کا منظور شدہ نقشہ نکلوایا، دوسرے دن صبح جا کر ایڈیشنل آئی جی کی میز پر نقشہ اور فوٹو رکھ دیا۔ ایڈیشنل آئی جی سٹ پٹایا، اس کے بعد زندگی بھر وہ نہ صرف مولانا کا احترام کرتا تھا بلکہ ہر خاص و عام مجلس میں کہا کرتا تھا کہ: ”اللہ کا فضل ہے کہ جدید تقاضوں کے مطابق کام کرنے کا علماء میں ہم سے بہتر سلیقہ موجود ہے۔“
تحریک کے الاؤ کو خون جگر سے روشن رکھا
١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت میں تمام راہنماؤں کے گرفتار ہونے کے بعد آپ نے تحریک کے الاؤ کو جان و دل و خون جگر سے روشن رکھا، پولیس نے آپ کو دفتر سے گرفتار کیا، سنٹرل جیل ملتان میں بڑی بہادری و جرأت کے ساتھ وقت گزارا۔ مولانا عبدالرحیم اشعر ؒ کی روایت کے مطابق مولانا محمد شریف جالندھری ؒ کے پہلو میں قدرت نے بڑے بہادر انسان کا دل رکھا تھا، واقعہ یہ ہے کہ آپ بہت بڑے عظیم انسان تھے۔ چھوٹے سے لے کر بڑے تک ہر ایک کی بات کو سنتے، دل کی گہرائیوں میں جگہ دیتے،
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگارنگ
اس پر جو مولانا ارشاد فرما دیتے تھے، وہ حرف آخر ہوتا تھا۔ قدرت نے آپ کے وجود کو ایک ایسی مٹی سے ترتیب دیا تھا جس کے ثمرات سے ساری زندگی اپنوں اور پرایوں نے فائدہ حاصل کیا۔
تحریر و تقریر کے بادشاہ
آپ بیک وقت اسٹیج ، گفتگو، تحریر و تقریر کے بادشاہ تھے، گفتگو میں بڑے سے بڑے آدمی کو آپ کے موقف کا اقرار کرنا پڑتا ، بھٹو دور میں جب خان عبدالقیوم خان وزیر داخلہ تھے، آپ ان سے ملے ، وہ بڑا گھاگھ قسم کا پینترا بدلنے والا انسان تھا، آپ نے مرزائیت کے عنوان پر بات کی ، اس نے کوئی سخت موقف اختیار کیا ، آپ نے فرمایا: ”بہت اچھا ! مجھے اجازت ہے کہ آپ کے اس موقف کو اخبارات میں چھپنے کے لئے بھجوا دوں؟“ اس کا پتہ پانی ہو گیا ، فوراً گرمی، نرمی میں بدل گئی اور آپ کے موقف کی حمایت کا وعدہ کیا۔ ایسے سینکڑوں واقعات ہوں گے کہ آپ جس بات پر اڑ جاتے تھے اُسے منوا کر دم لیتے تھے۔
گھنٹوں کی بات منٹوں میں
١٩٨٤ء کی تحریک ختم نبوت میں وفاقی وزیر اطلاعات جناب راجہ ظفر الحق صاحب تھے ، وہ بھی تحریک کے بہادر رہنما ہیں ، مولانا محمد شریف ؒ سے آپ کے مثالی تعلقات تھے۔ ٢٤؍ اپریل ١٩٨٤ء کو آپ کو راجہ صاحب نے جنرل ضیاء الحق صدر مملکت و چیف مارشل لاء سے ملنے کی دعوت دی ، آپ کے لئے بڑا مشکل مسئلہ تھا، انکار کرتے تو راجہ صاحب ایسا مخلص جنرل صاحب ؒ سے وعدہ کر چکا تھا کہ آپ کو تحریک کے بنیادی راہ نما سے ملواؤں گا، اور اگر ملتے تو تحریک کے دوسرے راہ نما بد دل ہوتے کہ ہمارے مشورے کے بغیر ایسے کیوں ہوا؟ اسی مشکل وقت میں آپ نے اپنے اور ہمارے مخدوم آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد ؒ سے فون کے ذریعے اجازت لی۔ جنرل صاحب سے ملاقات ہوئی، جنرل صاحب نے فرمایا: ”مولانا ! آپ مجھے مروا دیں گے، مرزائی منظم گروہ ہے، میرا مخالف ہو گیا تو کیا ہوگا؟“ مولانا نے فرمایا: ”جنرل صاحب! ایک آپ ہیں جن سے ہم محمد عربی ﷺ کے دشمنوں کے بارے میں صرف اور صرف قانون سازی کا مطالبہ کرتے ہیں، ایک آپ کے ہمسایہ ملک کے ایک مولوی خمینی صاحب ہیں ، آپ جرنیل ہیں ، وہ مولوی ہے، اُس نے دنیا کی خاطر اپنے دشمنوں کو ہزاروں کی تعداد میں مروا دیا ہے، اس کا اگر کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکا تو آپ کو محض قانون پر دستخط کرنے سے کچھ نہیں ہوگا !“ جنرل صاحب نے مولانا کی طرف دیکھا ، سر
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
جھکایا، لمبی سانس لی، آنکھیں ڈبڈبائیں، مولانا کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”مولانا! شاید دوسرے لوگوں کے گھنٹوں کے وعظ ودلائل مجھے اتنی تسلی نہ دیتے، جتنی آپ کے ایک جملے نے تسلی دی ہے، تشریف لے جائیں، اللہ خیر کرے گا!“ گھنٹوں کی بات منٹوں میں آپ طے کر کے تشریف لائے، راتوں رات سفر کر کے خانقاہ سراجیہ گئے، حضرت الامیر سے پوری صورتحال عرض کی کہ جنرل صاحب مطالبات ماننے پر تیار ہو گئے ہیں۔ دوسرے روز اسلام آباد میں ٢٦؍اپریل کو میٹنگ تھی، ٢٦؍اپریل کی شام کو آپ تمام علماء کو لے کر جنرل محمد ضیاء الحق ؒ سے ملے اور ”امتناع قادیانیت آرڈیننس“ منظور کروا کر تشریف لائے۔
اس کے خلاف قادیانیوں نے وفاقی شرعی عدالت میں کیس دائر کر دیا، آپ نے مرکزی دفتر کے تمام علماء ومناظرین کی کھیپ اور کتابوں کے اسٹاک کو لاہور میں جمع کرنے کا انتظام کیا، شب و روز کارروائی کی نگرانی کی اور یوں اس مرحلے میں بھی قدرت نے آپ کو کامیاب کیا۔
مولانا محمد شریف مرحوم بلاشبہ ایسے خاموش طبع مگر عقابی نظر رکھنے والے انسان تھے، ناواقف شخص سمجھ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایسا درویش منش شخص اتنا بڑا عبقریٔ عصر ہے، ہمیشہ چھوٹوں کو آگے بڑھانے کی کوشش کرتے۔
آپ بہت ہی محتاط انسان تھے، کسی کی غیبت کرنا یا سننا ان کے مزاج کے منافی تھا، جس کے متعلق کوئی بات سنی فوراً اصلاح کے لئے کوشش کرتے۔
ختم نبوت کانفرنس کے لئے اجازت
اتنے ہنس مکھ تھے کہ بڑے سے بڑے مشکل وقت میں اپنی ظرافت طبع سے مجلس کو کشت زعفران بنا دیتے تھے، ان کی بذلہ سنجی کی سینکڑوں مثالیں ہیں، مرزائیوں کے سالانہ جلسے پر پابندی لگی اور ساتھ ہی وزن پورا کرنے کے لئے حکومت نے ختم نبوت کانفرنس پر پابندی لگا دی، تمام کارکن مشتعل اور راہ نما پریشان تھے کہ کیا کیا جائے؟ میٹنگ ہوئی، گرم سرد دلائل دیئے گئے، مولانا نے سب کے آخر پر فرمایا کہ: ”ایک دفعہ ڈیرہ غازی خان کے دو زمیندار اتفاق سے ایک کشتی میں سوار ہو گئے، دونوں ایک دوسرے کے مخالف تھے، ایک زمین دار نے کشتی کے چلتے ہی اس میں سوراخ کرنا شروع کر دیا، اُس کے نوکر نے کہا: سائیں! ڈوب جائیں گے۔ تو اس نے بڑی سی گالی لڑھکا کر کہا کہ: میرے سامنے میرا دشمن ڈوب جائے اور ساتھ میری بھی موت آجائے تو
میرے لئے بہت سستا سودا ہے۔“ اس خوبصورت مثال میں لطافت، ظرافت کے تمام پہلو تھے۔ یکایک رخ بدلا اور فرمایا کہ: ”اگر ہمارے سامنے مرزائیوں کے جلسے پر پابندی لگتی ہے اور ساتھ ہمارے جلسے پر بھی تو کوئی حرج نہیں، ہم ہزار بار ذبح ہو جائیں اور دشمن بھی ہمارے سامنے ذلت کی موت سے دو چار ہو تو اس سے بڑھ کر اور کیا خوشی ہوگی؟“ تمام حضرات مطمئن ہو گئے، مگر فرمایا کہ: ”اس کے باوجود میں کوشش کروں گا کہ ایسا نہ ہو، اس لئے کہ مرزائیوں اور ختم نبوت کے رضا کاروں کو ایک ترازو سے تولنا حکومت کے لئے مناسب نہیں ہے۔“ یہ کہہ کر لاہور تشریف لے گئے، حکومت کے بہت بڑے افسر کو ملے اور فرمایا کہ: ”ہم تو آپ کو اپنے سے بہتر مسلمان سمجھتے تھے، مگر آپ کی پالیسی تو ”چوڑھے کی چھری“ ہے، جو حرام پر بھی چلتی ہے اور حلال پر بھی۔“ کھڑے کھڑے دو چار باتیں ایسی درد دل سے کہیں کہ دوسرے دن منظوری لے کر آ گئے۔ مرزائیوں کا جلسہ نہ ہوا، ہماری کانفرنس دو روزہ بڑی آب و تاب سے ہوئی۔ اس کے بعد مجلس نے فیصلہ کر لیا کہ بجائے دسمبر اور چنیوٹ کے اب اکتوبر اور ربوہ (چناب نگر) میں کانفرنس کریں گے۔ مولانا محمد شریف جالندھریؒ کے ذہن رسا نے ایسا فیصلہ کیا کہ آج تک مرزائیوں کے جلسے پر پابندی ہے اور ختم نبوت کی کانفرنس ربوہ (چناب نگر) میں بڑی آب و تاب سے منعقد ہوتی ہے۔
چناب نگر کا عظیم الشان منصوبہ، آپ کا صدقہ جاریہ
١٩٧٤ء میں جب مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تو اس سے بہت سے دوستوں کو خوشی ہوئی، مگر مولانا کی طبیعت پر اس وقت عجیب و غریب کیفیت طاری تھی، ہر وقت فرماتے تھے کہ: ”صاحب! اب ہی کام کا وقت آیا ہے“ ربوہ (چناب نگر) کے قرب و جوار کا سفر کیا، وہاں پر زمین حاصل کر کے دفتر قائم کرنے کی کوشش کی، بالآخر ربوہ (چناب نگر) کے پہلے آر، ایم، منیر لغاری صاحب سے ملے، بلدیہ کے تھڑے پر خاموشی سے اپنا مصلّٰی بچھا کر نماز جمعہ شروع کرا دی، کچھ عرصہ بعد ریلوے اسٹیشن پر جامع مسجد محمدیہ بنوا دی مگر پھر بھی چین سے نہ بیٹھے، مسلم کالونی ربوہ (چناب نگر) میں نو کنال زمین پر مشتمل عظیم الشان پلاٹ حاصل کر لیا۔ مولانا تاج محمودؒ، مولانا محمد شریفؒ دونوں ہم عمر، ہم مسلک اور ہم مزاج تھے، دونوں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے پالیسی ساز تھے، ان دونوں کا وجود مجلس کے لئے دل و دماغ کا درجہ رکھتا تھا، مولانا محمد شریف محنت و ایثار کے بادشاہ تھے، دن رات ایک کر کے گلی گلی کا چکر لگایا، بالآخر کامیاب و کامران ہوئے، پلاٹ حاصل کر لیا، انتقال بھی ہو گیا، رسید مل گئی، قبضہ حاصل کر لیا، دوسرے دن اس کے
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
افتتاح کا اعلان کر دیا۔ مولانا خواجہ خان محمد ؒ نماز پڑھانے کے لئے تشریف لائے، جہاں اب مسجد ہے اس کا قرب و جوار جھاڑیوں اور گندی بوٹیوں کا جنگل تھا، پلاٹ کے ایک کونے کو صاف کرایا، اس پر شامیانے لگوائے اور اس پر سینکڑوں رفقاء جمع کر کے مولانا خواجہ خان محمد ؒ سے نماز پڑھوا کر افتتاح کرا دیا، اس وقت سنگ بنیاد رکھا، دو چار روز بعد وہاں پر عارضی مسجد و حجرہ مکمل تھا، مدرس کا انتظام کر کے اسپیکر پر اذانیں شروع ہوگئیں، دیکھتے ہی دیکھتے آپ نے یہ سارا کام اتنی عجلت میں کیا کہ مرزائی دیکھتے رہ گئے، اور ربوہ (چناب نگر) میں عظیم الشان منصوبے کی مولانا نے بنیاد قائم کر دی جو رہتی دنیا تک مولانا محمد شریف ؒ کے لئے صدقہ جاریہ ہے، قدرت حق ان کی مغفرت کرے، بڑے عظیم انسان تھے۔
دفتر ختم نبوت سے سفر آخرت پر روانگی
چنیوٹ کی سالانہ ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے لئے تشریف لائے، سخت تکلیف میں تھے، سانس لینا مشکل ہو گیا، مگر صبر و جبر کے پہاڑ تھے، مجال ہے کہ کسی کو محسوس ہونے دیا ہو کہ وہ اتنی بڑی بیماری سے دو چار ہیں، کانفرنس ختم ہو گئی، مولانا دوسرے دن چناب ایکسپریس کے ذریعے ملتان جانے کے لئے کمر بستہ ہو گئے، ہم لوگ مولانا سے اجازت لے کر کار کے ذریعے فیصل آباد روانہ ہو گئے، ڈاکٹر صولت نواز، صاحبزادہ طارق محمود ؒ ، جناب محمد اقبال صاحب نے مولانا کی بیماری کی تفصیلات مجھ سے پوچھنا شروع کیں کہ مولانا کو ٹی بی تو نہیں؟ میں نے کہا کہ: نہیں! ڈاکٹر محمد صولت نواز صاحب نے پوچھا کہ: پھیپھڑوں کی کبھی تکلیف تو نہیں ہوئی؟ میں نے انکار کیا، انہوں نے کہا کہ: کبھی مولانا کو دل کی تکلیف ہوئی ہے؟ میں نے کہا: ہاں! فوراً ڈاکٹر محمد صولت نواز صاحب نے گاڑی کی بریک لگا دی اور سر پکڑ کر بیٹھ گئے اور کہا کہ: مولانا کا دل بڑھ گیا ہے، اس لئے پھیپھڑوں میں پانی جمع ہے، یہی وجہ ہے کہ سانس آسانی سے نہیں لے سکتے، یہ نزلہ و زکام نہیں، بڑا حساس نوعیت اور فوری توجہ کا کیس ہے۔ دسمبر کی راتیں ایک دو کے درمیان کا عمل ہے، طے ہوا کہ صبح چھ بجے مولانا کو ملتان کی بجائے فیصل آباد لا کر ہسپتال میں داخل کرائیں، صبح ڈاکٹر صولت نواز صاحب تشریف لے گئے، مولانا کو ہسپتال لایا گیا، میڈیکل کالج کے تمام ڈاکٹروں کی کھیپ اور ہسپتال کے عملے نے مولانا کا دل و جان سے علاج کیا۔
مولانا تاج محمود ؒ کی اولاد نے مولانا کی خدمت کر کے اپنے باپ کی دوستی کا حق ادا کیا، مولانا فقیر محمد صاحب آپ کی صحت کی تازہ ترین صورتحال اخبارات کے ذریعے ملک بھر
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
کے احباب کو پہنچاتے رہے، کمشنر و ڈی آئی جی، علماء و خطباء عیادت کے لئے آئے، جماعت کے مبلغین اور مولانا کے صاحبزادوں نے ایک دوسرے سے بڑھ کر خدمت کی۔ دو ہفتوں میں طبیعت سنبھل گئی، صاحبزادہ طارق محمود صاحب نے چناب ایکسپریس میں ایئر کنڈیشنڈ سیٹوں کا اہتمام کیا، مولانا کو سوار کرنے کے لئے اے سی بوگی کی طرف رفقاء لے گئے، تو بھانپ گئے کہ زیادہ خرچہ کیا ہے، آہ بھری اور فرمایا کہ: ”زندگی میں پہلا سفر ہے جو آپ مجھے اے سی میں بھجوا رہے ہیں، ورنہ تو زندگی بھر تھرڈ کلاس میں سفر کر کے مجلس کے فنڈ کی بچت کی ہے۔“
ملتان دفتر میں مہینہ بھر رہے، طبیعت سنبھلتی بگڑتی رہی، آخری دنوں ٹھیک ہو گئے، دفتر میں بیٹھ کر سارا دن کام کیا، رفقاء کو ہدایات دیں، ١٤؍ فروری ١٩٨٦ء کی رات آٹھ بجے دل کا دورہ پڑا، جو جان لیوا ثابت ہوا، مولانا محمد علی جالندھریؒ، مولانا لال حسین اخترؒ، مولانا محمد شریف بہاولپوریؒ کے بعد آپ جماعت کے ایسے چوتھے راہ نما ہیں جن کا جنازہ دفتر ختم نبوت سے اٹھا۔
١٥؍ فروری ١٩٨٦ء بروز جمعہ ملتان میں مولانا خواجہ خان محمدؒ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی، اسلام آباد سے کراچی تک کے علماء جنازے میں شریک ہوئے۔ آپ کو سکونتی گاؤں ٨کسی لے جایا گیا، جہاں آپ کی دوسری نماز جنازہ آپ کے ورثاء اور گاؤں کے لوگوں نے پڑھی، اس کی امامت حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کے خلیفہ مجاز حضرت مولانا سید محمد انور حسین نفیس شاہ صاحب دامت برکاتہم نے فرمائی اور جمعہ کو ظہر کے قریب آپ کے جسد خاکی کو رحمت خداوندی کے سپرد کر دیا گیا۔
مولانا محمد شریفؒ نے پوری زندگی ایسے طور پر گزاری جیسے بنیاد کی اینٹ ہوتی ہے، جو ساری عمارت کا بوجھ اٹھاتی ہے، مگر خود نظر نہیں آتی۔ مولانا نے پوری جماعت کے کام کو سنبھالا مگر نام و نمود، شہرت وغیرہ سے کوسوں دور رہے، آج بھی اسی طرح ملتان کے ضلع کے دُور دراز کے ایک دیہات کے قبرستان میں محو خواب ہیں، قدرت حق آپ پر رحمتوں کی بارش نازل کرے۔
رد قادیانیت پر آپ کے رسائل
- ١...... ”مرزائی اسرائیل فوج میں (مسلمانان پاکستان اور حکومت توجہ کرے)“
١٩٧٠ء کے الیکشن میں مولانا ظفر احمد انصاری قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔ قادیانی فتنہ سے متعلق انہوں نے اخبارات کو ایک انٹرویو دیا آپ نے اس پر چند سطری نوٹ لکھ کر پمفلٹ کی شکل میں شائع کرایا۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
- ٢...... ”جدا گانہ انتخابات اور قادیانی“
جنرل ضیاء الحق نے ملک میں جدا گانہ انتخابات کی طرح ڈالی۔ قادیانیوں کے لئے اس فیصلہ سے مشکل یہ پڑی کہ وہ خود کو غیر مسلم نہ لکھوانا چاہتے تھے۔ مسلمانوں میں نام لکھوانے کے لئے فارم پر کرنا پڑتا جس میں ختم نبوت کا اقرار اور ملعون قادیانی کا انکار کرنا پڑتا۔ چنانچہ قادیانی گرو مرزا ناصر نے چیف الیکشن کمشنر مشتاق حسین سے مل کر حلف نامہ کی عبارت تبدیل کرادی، جس پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے کوشش کی۔ مولانا مفتی محمودؒ، نوابزادہ نصر اللہ خانؒ اور دوسرے قومی رہنماؤں نے نعرہ رستا خیز بلند کیا۔ قادیانی سازش ناکام ہوئی۔ مرزا ناصر کی شوخی اتر گئی۔ مشتاق حسین دھڑام سے ایسے گرا کہ سر نیچے اور ٹانگیں اوپر کو اٹھ گئیں۔ مولانا محمد شریف جالندھریؒ نے اس موقع پر یہ پمفلٹ چھپوا کر تقسیم کرایا۔
- ٣...... ”تعارف مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان“
١٩٧٥ء میں یہ مرتب کیا۔ اس زمانہ تک کے حالات و کوائف ہیں۔
- ٤...... ”مرزائی تعلیمات میں محمد واحمد بمعنی غلام احمد قادیانی“
مرزا ناصر کے دورہ کی رپورٹ افریقہ ............ شائع ہوئی۔ ایک فوٹو پر لے دے ہوئی۔ مولانا مرحوم نے یہ رسالہ مرتب کر کے دیار کا گلہ قادیانیت کے حلق میں پھنسا کر اوپر سے پانی ڈال دیا۔
- ٥...... ”قادیانیوں کے متعلق امت مسلمہ کے تقاضے“
قادیانی آئینی طور پر غیر مسلم۔ وہ صہیونیت کے آلہ کار اور اکھنڈ بھارت کے حامی ہیں۔
- ٦...... ”اکھنڈ بھارت اور قادیانی“
- ٧...... ”اسلامی نظام کی علمبردار حکومت پاکستان مسئلہ ختم نبوت سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو
پورا کرے“
- ٨...... ”قادیانیوں کے اصل عقائد بجواب جماعت احمدیہ کے عقائد“
قادیانیوں نے احمدیہ عقائد نامی پمفلٹ شائع کیا۔ مرزائیوں کی طرف سے احمدیہ عقائد شائع ہوا تو اس کا یہ جواب شائع کیا گیا۔ مولانا مرحوم کے یہ تمام رشحات قلم احتساب قادیانیت کی جلد ٥ میں شائع ہو چکے ہیں۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی صدر المبلغین حضرات
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے پہلے صدر المبلغین مولانا لال حسین اخترؒ تھے۔ (٢) مولانا عبدالرحمن میانویؒ، (٣) مولانا محمد شریف بہاولپوریؒ، (٤) مولانا محمد حیاتؒ فاتح قادیان، (٥) مولانا عبدالرحیم اشعرؒ، (٦) مولانا محمد اکرم طوفانی، (٧) مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی۔
نمبر ١: کا تذکرہ امراء میں آ گیا ہے۔ نمبر ٥: کا تذکرہ خطباء میں آ گیا ہے۔ نمبر ٦، ٧: زندہ سلامت ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں صحت والی زندگی نصیب فرمائیں۔ نمبر ٢، ٣، ٤: کا تذکرہ یہاں کیا جاتا ہے:
(١٤)
حضرت مولانا عبدالرحمن میانوی رحمۃ اللہ علیہ
(پیدائش: یکم جنوری ١٩١٠ء، وفات: ٢١؍دسمبر ١٩٨٢ء کراچی) حضرت مولانا عبدالرحمن میانویؒ نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنی عملی زندگی کا آغاز مدرسہ حزب الانصار بھیرہ سے کیا۔ حضرت مولانا ظہور احمد بگویؒ کے حکم پر عرصہ تک آپ اس مدرسہ میں پڑھاتے رہے۔ اس زمانہ میں ہمارے مخدوم حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ نے بھی یہاں آپ سے کچھ اسباق پڑھے۔ مولانا ظہور احمد بگویؒ جہاں مدرسہ چلاتے تھے وہاں آپ نے حزب الانصار کے نام سے ایک تنظیم بھی قائم کر رکھی تھی جو اصلاح معاشرہ اور خدمت خلق کے لئے سرگرم عمل تھی۔ آپ اس تنظیم کے تحت تین چار اضلاع میں تبلیغ اسلام کا فریضہ بھی انجام دیا کرتے تھے۔ آگے چل کر اس تنظیم کے تحت شعبہ تبلیغ میں متعدد علمائے کرام کو بطور مبلغ کے رکھا گیا۔ ان نامور شعلہ نوا، نامور خطباء اور مبلغین میں مولانا عبدالرحمن میانویؒ بھی شامل تھے۔ آپ کی خوبصورت اور مترنم آواز میں جادو کا سا اثر تھا۔ یہی وجہ ہے کہ مدرسہ کے اسباق ترک کرا کر مولانا عبدالرحمن میانویؒ کو تبلیغ کے لئے وقف کر دیا گیا۔ فقیر راقم آج سے پینتیس چالیس سال قبل جھاوریاں جامع مسجد میں محرم کی دس تاریخ کو حاضر ہوا۔ تب حضرت مولانا قاضی عبدالمالک جھاوریؒ نے سنایا کہ آج سے بہت عرصہ
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
پہلے یہاں دس محرم کے موقع پر جلسہ میں شرکت کے لئے احرار کے رہنما تشریف لاتے تھے۔ مولانا عبدالرحمٰن میانوی ؒ کا تو تقریباً طے تھا کہ وہ دس محرم کو گیارہ بجے سے ظہر تک ”شہادت مظلوم کربلا سیدنا حسین ؓ “ پر بیان فرماتے تھے۔ اس دوران میں شیعہ حضرات امام بارگاہ سے دس محرم کا جلوس نکالتے، ماتم کرتے۔ جب جامع مسجد کے سامنے آتے تو پورا جلوس روڈ پر بیٹھ کر ”مولانا عبدالرحمٰن میانوی ؒ “ کے ”شہادت سیدنا حسین ؓ “ پر وعظ و خطاب بیان و تقریر کو سنتا۔ شیعہ حضرات بیان بھی سنتے اور گریہ کی حالت میں سر بھی دھنتے تھے۔ دو اڑھائی گھنٹے آپ کا بیان کیا ہوتا کہ پورے جھاوریاں کے در و دیوار آپ کے بیان پر جھوم جھوم جاتے۔
مولانا عبدالرحمٰن میانوی ؒ کو قدرت حق نے سلیقہ سے قرآن مجید پڑھنے کا ذوق بخشا تھا۔ آج بھی شمس الاسلام بھیرہ کی قدیم فائلوں کی ورق گردانی اور گرد جھاڑی جائے تو مولانا عبدالرحمٰن میانوی ؒ کی جوانی کی بہادری و جواں مردی پر مشتمل مجاہدانہ سرگرمیوں پر دل و جان عش عش کرتے تھے۔ بیان ہے کہ انہیں دنوں حزب الانصار کے کسی جلسہ میں مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ نے مولانا عبدالرحمٰن میانوی ؒ کا خطاب سنا تو مولانا ظہور احمد بگوی ؒ سے آپ کو مانگ لیا۔ یوں آپ حزب الانصار سے مجلس احرار میں آگئے۔ اب سرگودھا، جہلم، میانوالی نہیں بلکہ دہلی سے کراچی، کلکتہ سے بمبئی تک آپ کی تقریروں نے ایک دھوم پیدا کر دی۔ اس زمانہ میں ”خطابت احرار“ کا چرچا ہی نہیں غلغلہ تھا۔ آپ نے ملک عزیز کی آزادی کے لئے سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ، مولانا ابوالکلام آزاد ؒ، حضرت مدنی ؒ، حضرت مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی ؒ، سحبان الہند ایسے رہنماؤں کے ساتھ مل کر وہ سنہری خدمات سرانجام دیں جس پر ہندوستان کا ذرہ ذرہ گواہ ہے۔ پاکستان بننے کے بعد مجلس احرار کے جن رہنماؤں نے حضرت امیر شریعت ؒ کے ساتھ عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے مجلس تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم کو اپنی سرگرمیوں کا محور بنایا ان میں مولانا عبدالرحمٰن میانوی ؒ بھی شامل تھے۔
فقیر راقم اس حوالہ سے خوش نصیب ہے کہ حضرت میانوی ؒ کے آخری عمر کے کئی سال آپ کے ساتھ گزارے ہیں۔ ان دنوں آپ کا قیام مرکزی دفتر ملتان میں ہوا کرتا تھا۔ جلسوں پر تشریف لے جاتے۔ خطبہ جمعہ آپ کا مرکزی جامع مسجد چیچہ وطنی میں ہوتا تھا۔ باقی وقت دفتر مرکزیہ مجلس تحفظ ختم نبوت خندق روڈ ملتان میں گزرتا تھا۔ عموماً جہری نمازوں کی آپ امامت کراتے تھے۔ تلاوت کرتے تو وجد کی کیفیت پیدا ہو جاتی۔ بڑھاپے میں یہ عالم تھا تو جوانی میں کیا کیف و مستی ہوگی۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
مولانا عبدالرحمن میانوی ؒ سے فقیر نے خود سنا۔ فرمایا کہ: ایک بار تین دن کا جلسہ تھا۔ وہاں تمام رہنماؤں حضرت امیر شریعت ؒ، حضرت قاضی صاحب ؒ، حضرت جالندھری ؒ، حضرت مولانا لال حسین اختر ؒ، حضرت بہاولپوری ؒ، مولانا محمد لقمان ؒ اور پتہ نہیں کس کس نے جانا تھا۔ کسی بدخواہ نے خط لکھ دیئے کہ جلسہ ملتوی۔ کوئی رہنما نہ آئے۔ اکیلے مولانا عبدالرحمن پہنچ گئے۔ پہلے ٹائم گیارہ بجے سے ایک بجے تک، پھر ظہر کے بعد سے عصر تک پھر عشاء کے بعد رات گئے تک یومیہ تین تین تقریریں، تین دن میں نو تقریریں کر کے ان کا جلسہ بھگتا دیا۔ خود غور فرمائیے کہ نہ سامعین نے اکتاہٹ محسوس کی نہ منتظمین نے جلسہ منسوخ کیا۔ اس خوبصورتی سے پروگرام مکمل ہوا کہ کسی کے آنے نہ آنے کا احساس بھی نہ ہونے دیا۔ اس سے اندازہ لگائیے کہ مولانا عبدالرحمن میانوی ؒ کتنے بڑے خطیب تھے۔ فقیر نے سالہا سال آپ کے ساتھ وقت گزارا۔ وہ بہت ہی اجلی سیرت کے انسان تھے۔ ہر روز غسل کرنا، نئے دھلے کپڑے پہننا، پورا دن چاک و چوبند رہنا، اپنے معمولات کو پورا کرنا، بازار میں نکلنا تو مولانا آزاد والی اونچی دیوار کی ٹوپی، اچکن، قمیص، پاجامہ، پاؤں میں نفیس جوتی، ہاتھ میں خوبصورت لکڑی کی چھڑی، اس ادا سے چلتے تھے تو رام پور کے شہزادے لگتے تھے۔ ترنم میں شعر پڑھتے تو پھڑکا دیتے تھے۔ نستعلیق قسم کے انسان۔ ہلکا پھلکا جسم، درمیانہ قد، بہت ہی وضع دار قسم کے انسان تھے۔
آپ کے تعارف کے لئے اتنا کیا کم ہے کہ آپ حضرت امیر شریعت ؒ کے شاگرد، حضرت قاضی صاحب ؒ کے ساتھی، مولانا محمد علی جالندھری ؒ کے دست اور بازو اور شاہ عبدالقادر رائے پوری ؒ کے مرید باصفا تھے۔
عمر کے آخری چند سالوں میں علالت کے باعث آپ کو آپ کے برادر گرامی جناب محمد اشرف ملتان سے کراچی لے گئے۔ وہیں پر وفات پائی۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے صدر المبلغین مرکزی شوریٰ کے رکن جیسے عہدوں پر فائز رہے۔ آپ کے ایک عزیز جناب انور سدید صاحب نے آپ پر ایک تعارفی و تعزیتی مضمون لکھا تھا جو یہ ہے:
”مولانا عبدالرحمن میانوی ؒ کی وفات: قافلہ احرار اسلام ایک فعال رکن، حضور
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت کے ایک مبلغ کو صفحہ گیتی سے رخصت ہوئے آج کئی برس بیت گئے۔ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ کا معاون، مولانا محمد علی جالندھری ؒ کا دوست، قاضی احسان احمد شجاع آبادی ؒ کا رفیق، چوہدری افضل حق کا دست راست، شورش کاشمیری ؒ کا ہمسفر اب اس دنیا میں نہیں۔ دسمبر ١٩٨٢ء کی دوپہر کو جب وہ نماز کی تیاری کر رہے تھے تو فرشتہ اجل پیغام ربانی لے کر آیا۔ انہوں نے لبیک کہا اور اپنی جان، جان آفرین کے سپرد کر دی۔ آخری وقت ان کے لبوں پر کلمہ شہادت جاری تھا اور آنکھوں کے سامنے روضہ نبوی ﷺ کی تصویر آویزاں تھی۔
مولانا عبدالرحمن میانوی ؒ کا شمار قافلہ احرار کے ان رہنماؤں میں ہوتا ہے جن کی رگوں میں حب نبوی ﷺ خون بن کر دوڑ رہی تھی۔ سیاست آرائی ان کا مزاج نہیں تھا۔ انگریز دشمنی ان کی فطرت کا حصہ تھی۔ چنانچہ جب مجلس احرار نے آزادی وطن تحریک میں سرگرم حصہ لینا شروع کیا تو مولانا عبدالرحمن میانوی ؒ کا قدم اس جماعت کے ساتھ ہم آہنگ ہو گیا اور وہ مسلسل آگے بڑھتے چلے گئے۔
حضرت امیر شریعت ؒ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے عبدالرحمن میانوی ؒ کو اللہ تعالیٰ سے مانگ کر لیا ہے۔ حضرت میانوی ؒ کی مجلس احرار میں شمولیت سیاست کا تقاضا نہیں بلکہ امیر شریعت ؒ کی دعا کا نتیجہ تھا۔ چنانچہ انہوں نے اپنی جوانی اس جماعت کے مقاصد دینی کی نذر کر دی۔ کراچی سے پشاور اور پشاور سے پانڈی چری تک برصغیر کا کوئی گوشہ ایسا نہیں تھا جہاں حضرت میانوی ؒ نے کلمہ حق اور پیغام رسالت ﷺ نہ پہنچایا ہو۔ وہ ایک غریب گھرانہ کے فرد تھے۔
مولانا عبدالرحمن میانوی ؒ یکم جنوری ١٩١٠ء کو ضلع سرگودھا کے ایک معروف قصبہ میانی میں پیدا ہوئے۔ یہ قصبہ دریائے جہلم کی آبی گزرگاہ پر واقع ہے اور کسی زمانہ میں کھیوڑہ کے نمک کی ترسیل کی بہت بڑی منڈی تھا۔ حضرت میانوی ؒ نے ہوش سنبھالا تو اس شہر کی تجارتی اہمیت ختم ہو چکی تھی۔ ان کے والد مولوی فضل الدین مرحوم نے مسجد جہانگیر شاہ میں مدرسہ قائم کر رکھا تھا۔ وہ بظاہر طالبان حق کو دینی تعلیم دیتے تھے۔ لیکن درپردہ انگریزوں کے خلاف ہمیشہ مہم جوئی میں مصروف رہتے۔
کہا جاتا ہے کہ سید احمد شہید ؒ بریلوی کی تحریک کے باقیات الصالحات میں سے
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
لوگ ان کے پاس آتے اور مہینوں قیام کرتے۔ اس ماحول میں مولانا میانوی ؒ کو اپنے بچپن ہی میں تاریخ ہند کا مطالعہ مسلمانوں کے زوال کی روشنی میں کرنے کا موقع ملا۔ ذرا بڑے ہوئے تو دینی تعلیم کی تکمیل کے لئے دیوبند تشریف لے گئے اور حضرت مولانا حسین احمد مدنی ؒ کے زیرک اور سعادت مند شاگردوں میں شمار ہونے لگے۔ تکمیل تعلیم کے بعد واپس آئے تو مولانا ظہور احمد بگوی ؒ کی حزب الانصار میں شامل ہو گئے اور بھیرہ میں دینی تعلیم دینے لگے۔
مولانا عبدالرحمن میانوی ؒ بے حد خوش الحان تھے۔ کہتے ہیں کہ اذان فجر سے پہلے جب وہ اپنی مخصوص آواز میں قرآن مجید کی تلاوت کرتے تو ان کی آواز رات کے سکوت میں گونج اٹھتی اور اذان سے سے پہلے ہی مسجد نمازیوں سے بھر جاتی۔ مولانا کے جلسوں میں کئی غیر مسلم صرف ان کے لحن کو سننے کے لئے آتے تھے۔ ایک دفعہ سرگودھا کے ایک رفیق احرار بھیرہ آئے اور مولانا میانوی ؒ کی تقریر سنی تو اس قدر متاثر ہوئے کہ اپنی بیٹی کی شادی ان سے کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔
حضرت مولانا ظہور احمد بگوی ؒ کو رفیق احرار مولوی کرم دین صاحب کے ارادے کا علم ہوا تو اس تجویز کو پسند فرمایا اور یوں مؤخر الذکر کی بیٹی عائشہ خاتون مولانا عبدالرحمن میانوی ؒ کے عقد میں دے دی گئی۔ اس عفیفہ سے مولانا میانوی ؒ کی صرف ایک بیٹی پیدا ہوئی جو اب خود بھی عیالدار ہے۔ مولانا کی ازدواجی زندگی بے حد خوشگوار تھی۔ لیکن عائشہ خاتون کی عمر نے وفا نہ کی اور وہ عین عالم جوانی میں وفات پا گئیں۔ حضرت میانوی ؒ کو کئی لوگوں نے دوسری شادی کرنے پر مائل کیا۔ لیکن وہ اس پر آمادہ نہ ہوئے۔ ہمیشہ فرماتے: ”شادی میری تبلیغی سرگرمیوں میں مانع ہو گی، سنت نبوی ﷺ ایک دفعہ ادا کرنی تھی وہ ادا کر چکا۔ اب میرا نصب العین صرف اسلام کی تبلیغ ہے۔“ مولانا عبدالرحمن میانوی ؒ نے اپنے اس نصب العین کو آخری وقت تک نبھایا۔
مولانا عبدالرحمن میانوی ؒ بے حد شعلہ آشام مقرر تھے۔ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ نے ان کی تقریر سنی تو انہوں نے مولانا ظہور احمد بگوی ؒ سے انہیں مانگ لیا اور پھر ہمیشہ اپنے ساتھ رکھا۔ کہا جاتا ہے کہ برصغیر کی مختلف اطراف سے طالبان حق امیر شریعت ؒ کو دعوت اسلام کے لئے بلاتے تو وہ اپنی جگہ مولانا میانوی ؒ کو بھیج دیتے اور فرماتے! یہ میرا ہی مثل ہے۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
کسی علاقے سے حضرت میانوی ؒ دورہ کر کے آتے تو امیر شریعت ؒ وہاں جانے سے انکار کر دیتے اور فرماتے عبدالرحمن میانوی ؒ میرے آقائے نامدار ﷺ کا پیغام آپ تک پہنچا آئے ہیں۔ اس پر عمل کریں میں پھر کبھی آؤں گا۔
مولانا عبدالرحمن میانوی ؒ کو ایک عرصے تک انگریزی حکومت نے شعلہ بیانی کے باوجود گرفتار نہ کیا تو وہ بے حد مضطرب ہو گئے۔ دوسری جنگ عظیم اپنے شباب پر تھی اور انگریزوں کو ہر محاذ پر شکست ہو رہی تھی۔ ادھر برصغیر میں توپوں کے دہانے پر رکھنے کے لئے نوجوانوں کی بھرتی جاری تھی اور اس کے لئے طرح طرح کے حربے استعمال کئے جا رہے تھے۔ اس زمانے میں جنگی چندہ جمع کرنے کی مہم چلی اور اس مہم کو تیز کرنے کے لئے مظفر گڑھ میں ایک ہندو عورت اور ایک مسلمان مرد کے دنگل کا انتظام بھی کیا گیا۔
مولانا عبدالرحمن میانوی ؒ نے اس موقع کو غنیمت جانا اور مظفر گڑھ میں فوجی بھرتی اور دنگل کے خلاف ایک دھواں دھار تقریر شارع عام پر کر دی۔ مولانا کی آرزو بر آئی اور اگلے ہی روز ان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہو گئے اور یوں ان کو گرفتار کر کے مظفر گڑھ جیل بھیج دیا گیا۔
مولانا کی وکالت کے لئے مظفر گڑھ کے سرکردہ وکلاء نے اپنی کمیٹی ترتیب دی۔ لیکن مولانا نے ان کی مدد لینے سے انکار کر دیا۔ چنانچہ انہیں سات سال کی بامشقت سزا سنا دی گئی۔ ایک روز مولانا میانوی ؒ جیل میں قرآن حکیم خوش الحانی سے پڑھ رہے تھے کہ جیل کا انگریز سپرنٹنڈنٹ ان کی آواز سن کر آ گیا۔ پوچھا کیا پڑھتا ہے؟ مولانا میانوی ؒ نے فرمایا: ”قرآن حکیم“ انگریز نے پوچھا اس میں ہمارے خلاف تو نہیں لکھا؟ مولانا نے فرمایا: ”یہ سب آپ کے خلاف ہے۔“ انگریز بولا اس کا پڑھنا جرم ہے۔ تمہاری قید کا پیریڈ بڑھ جائے گا۔ مولانا میانوی ؒ نے سنا تو ان کے تیور بدل گئے اور انہوں نے مزید اونچی آواز میں قرآن پڑھنا شروع کر دیا۔ آواز سن کر اطراف و جوانب کے تمام قیدی ان کے کمرے کے گرد جمع ہو گئے۔
انگریز جیلر نے اسی میں عافیت سمجھی کہ وہاں سے کھسک جائے۔ چنانچہ مولانا میانوی ؒ کی قرآن خوانی کا معمول جاری رہا اور یوں جیل میں بھی ان کی تبلیغ کا فرض پورا ہوتا رہا۔ اسی زمانے کی بات ہے کہ ایک ہندو ملزم نے انہیں جیل سے فرار ہونے کا مشورہ دیا۔ یہ سن کر مولانا میانوی ؒ آگ بگولہ ہو گئے اور فرمایا: ”جیل تو میں نے خوشی سے قبول کی ہے۔ میں سامنے کے دروازے سے آیا ہوں اور معیاد پوری ہونے کے بعد اسی راستے سے نعرۂ تکبیر الاپتا ہوا جاؤں گا۔“
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
یہ بات کسی طرح انگریز سپرنٹنڈنٹ تک پہنچ گئی۔ وہ اس بات پر تو خوش ہوا کہ مولانا میانویؒ نے جیل سے فرار کی تدبیر میں معاونت نہیں کی۔ لیکن درحقیقت وہ اس بات پر ملول تھا کہ اس کی سازش ناکام ہو گئی تھی اور مولانا میانویؒ نے جیل کو ہی اپنا گھر بنالیا تھا۔ چنانچہ اس نے دریافت کیا۔ آپ جیل میں خوش ہیں؟ مولانا نے جواب دیا ”میرے اللہ کی یہی مرضی ہے تو میں خوش ہوں۔“
انگریز نے دریافت کیا ”آخر آپ چاہتے کیا ہیں؟“ مولانا نے جواب دیا: ”آپ میرا ملک چھوڑ دیں۔ میں آپ کی جیل چھوڑ دوں گا۔“ یہ سن کر سپرنٹنڈنٹ واپس چلا گیا۔ جن دنوں مولانا عبدالرحمن میانویؒ کے مقدمے کی سماعت ہورہی تھی مولانا پر عجیب کیفیت طاری تھی۔ عدالت میں جاتے تو نیا لباس پہنتے اور پگڑی کا کلف دار طرہ بلند کرتے۔ مجسٹریٹ نے ایک دن طیش میں آکر کہا: ”مولوی صاحب آپ طرہ باندھ کر کیوں آتے ہیں؟ عدالت میں جھک کر آیا کیجئے۔“ مولانا میانویؒ پر جلال کی کیفیت طاری ہو گئی۔ غصے میں فرمایا: ”مجسٹریٹ صاحب! آپ اپنا کام جاری رکھیں میرا سر صرف اللہ کے سامنے جھکتا ہے۔“
مولانا کو سزا سنائی گئی تو انہوں نے اپیل کرنے سے انکار کر دیا۔ لیکن ایک ہندو وکیل رام لال دھون مشرف بہ اسلام ہو گیا تو انہوں نے اس کی درخواست رد نہ کی اور صرف اپیل کاغذات پر دستخط کر کے وکیل کے حوالے کر دیئے۔ لیکن اپیل دائر ہونے سے پہلے ہی انگریزی حکومت نے مقدمہ واپس لے لیا اور مولانا میانویؒ جیل سے رہا ہو کر دوبارہ تبلیغ حق میں مصروف ہو گئے۔ تخلیق پاکستان کے بعد حضرت امیر شریعتؒ نے ملتان کو اپنا آستانہ بنایا تو مولانا عبدالرحمن میانویؒ بھی ان کے ساتھ ہی ملتان آگئے۔ وہ مجلس تحفظ ختم نبوت کی مجلس شوریٰ کے رکن تھے اور ملتان سے تبلیغی جیوش کا انتظام وانصرام ان کے ہاتھ میں تھا۔ چیچہ وطنی کے رفیقان احرار انہیں ہر جمعہ کے خطبہ کے لئے مدعو کرتے اور وہ کئی سالوں تک یہ خدمت سرانجام دیتے رہے۔ آخری عمر میں ان کا ارادہ تھا کہ اپنی سوانح لکھیں گے۔ لیکن طویل علالت نے اعضاء کو تھکا دیا تھا۔ اس لئے وہ اپنی اس خواہش کو عملی جامہ نہ پہنا سکے۔
مولانا عبدالرحمن میانویؒ کی زندگی بہت سادہ تھی۔ وہ عملی طور پر ایک گلیم پوش درویش تھے۔ میں نے دو جوڑوں سے زیادہ ان کے پاس کبھی کپڑے نہیں دیکھے تھے۔“
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
(١٥)
حضرت مولانا محمد شریف بہاولپوریؒ
(وفات: ٢١ اگست ١٩٧٥ء)
شہرہ آفاق فاتح جرنیل محمد بن قاسمؒ نے سندھ وملتان پر اسلامی پرچم لہرایا۔ اس وقت حجاز سے ١٢ ہزار فوج ان کے ساتھ یہاں آئی تھی۔ جن میں ٦ ہزار فوجی بنو تمیم سے تھے۔ سندھ وملتان کی فتح کے بعد فرمانروائے حجاز نے اسلامی فوج کے جرنیل محمد بن قاسمؒ کو تو واپس طلب کرلیا۔ لیکن پوری فوج ان علاقوں میں رہی۔ محمود غزنویؒ کے عہد میں یہ فوج سندھ، للہ، ضلع جہلم، دہلی، ملتان میں منقسم ہو کر قیام پذیر ہوگئی۔ بنو تمیم سے تعلق رکھنے والے اسلامی فوجیوں کی نسل آگے بنو تمیم سے ”تہیم“ کہلائی۔
تہیم برادری کے جناب جندوڈاؒ کے ہاں کوٹلہ چاکر ضلع لودھراں میں بیسویں صدی کے پہلے عشرہ میں محمد شریف پیدا ہوئے جو بعد میں خطیب اسلام حضرت مولانا محمد شریف بہاولپوریؒ کہلائے۔ مولانا محمد شریف بہاولپوریؒ کے والد گرامی کی توجہ ومحنت سے کوٹلہ چاکر میں جامع مسجد تعمیر ہوئی۔ کچھ عرصہ بعد اس میں مدرسہ جاری ہوا۔ حضرت مولانا کریم بخشؒ وہاں تعلیمی خدمات سرانجام دینے لگے۔ مولانا محمد شریفؒ کے والد گرامی جندوڈاؒ کے پانچ صاحبزادے تھے۔ غربت کا دور تھا۔ سفید پوشی قائم رکھنا مشکل تھا۔ چنانچہ علاقہ کے اس دور کے رواج کے مطابق مولانا محمد شریفؒ نے بچپن میں ایک زمیندار کے ہاں جانوروں کی دیکھ بھال شروع کردی۔ چودہ پندرہ سال عمر ہوگی۔ طبیعت صالح پائی تھی۔ پانچوں وقت باجماعت نماز پڑھنے کے لئے مسجد میں آتے۔ جناب میاں خدا بخشؒ محکمہ ڈاک میں ملازم تھے۔ ان کی ترغیب وحوصلہ افزائی پر ان کے ہاں فارغ وقت میں قرآن مجید ناظرہ اور ابتدائی فارسی پڑھی۔ مزید تعلیم حاصل کرنا یہاں ممکن نہ تھا اور نہ ہی گھریلو حالات کے باعث والد صاحب مزید تعلیم کے لئے باہر جانے پر رضامند تھے۔
حضرت مولانا محمد شریفؒ نے حصول تعلیم کی دل میں لگی تڑپ کو بجھانے کے لئے
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
توکلا علی اللہ بغیر کسی کو بتائے رخت سفر باندھا۔ شجاع آباد شاہی مسجد جا دھمکے۔ حضرت مولانا قاضی محمد امین مرحوم نے طلباء کی بہتات اور جگہ کی تنگی کا عذر کیا تو ”مجھو شاہ“ میں داخل مدرسہ ہو گئے۔ اس کے بعد مظفر گڑھ ضلع کے معروف دینی مدرسہ کاٹھہ میں پڑھتے رہے۔ گوگڑاں ضلع لودھراں میں مولانا سید پیر امام شاہ ؒ کے ہاں بھی تعلیم پائی۔ نحو کی معروف زمانہ کتاب ”کافیہ“ مکمل آپ کو یاد تھی۔ مدرسہ عبیدیہ قدیرا باد ملتان میں آپ پڑھتے رہے۔ اس مدرسہ میں آپ کے ہمدرس حضرت مولانا علی محمد ؒ تھے جو بعد میں دارالعلوم کبیر والا کے شیخ الحدیث اور مہتمم بنے۔
اسی طرح معروف عالم دین اور سیاسی رہنما علامہ رحمت اللہ ارشد بہاولپوری ؒ کی روایت کے مطابق جامعہ عباسیہ بہاول پور میں بھی آپ نے تعلیم کے لئے جادہ پیمائی کی۔ علامہ ارشد ؒ آپ کے ہمدرس تھے۔ جامعہ عباسیہ بہاولپور میں کسی مسئلہ پر طلباء نے ہڑتال کی تو انتظامیہ نے تمام طلباء کا خارجہ کر دیا۔ دوبارہ نیک چال چلنی کا حلفیہ سرٹیفکیٹ سفارش و ضمانتوں کے بعد داخلہ تجویز ہوا۔ علامہ ارشد ؒ راوی ہیں کہ ہماری کلاس میں سب سے نیک و صالح نوجوان حضرت مولانا محمد شریف بہاولپوری ؒ کا کوئی طالب علم ثانی نہ تھا۔ طالب علموں نے ضمانتیوں کی ضمانت اور سفارشوں سے جامعہ عباسیہ میں دوبارہ داخلہ لے لیا۔ مولانا محمد شریف ؒ کے پاس نہ ضمانتی تھا نہ سفارشی۔ آپ نے سمہ سٹہ سے دہلی ریل کا ٹکٹ لیا اور دہلی جا پہنچے۔ دیوبند گئے۔ وہاں داخلے مکمل ہو چکے تھے تو واپس دہلی جامعہ امینیہ میں آ کر مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ ؒ کے ہاں علوم کی تکمیل اور دورہ حدیث شریف کیا۔
بظاہر سفارش و ضمانت نہ ہونے کے باعث جامعہ عباسیہ بہاولپور میں آپ کو دوبارہ داخلہ نہ ملا۔ لیکن بباطن قدرت کا آپ پر کرم کا فیصلہ ہوا۔ ورنہ جامعہ عباسیہ سے تکمیل کے بعد آپ کسی سرکاری ادارے میں ملازم ہو جاتے۔ جبکہ قدرت کو آپ سے تبلیغ اسلام کا کام لینا تھا۔ جامعہ امینیہ دہلی سے دورہ حدیث کے بعد چار سالہ طبابت کا کورس آپ نے لقمان الہند جناب حکیم اجمل خان ؒ سے مکمل کیا۔ واپس آکر اپنے گاؤں کوٹلہ چاکر چھ ماہ تدریس، امامت و خطابت اور مطب کا کام کیا۔
مجلس احرار اسلام کہروڑ پکا کی ١٩٣٥ء کے کسی اجلاس کی کاروائی آپ کے صاحبزادہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عطاء الرحمن نے پڑھی ہے۔ جس میں مجلس احرار کہروڑ پکا نے ریزولیشن
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
پاس کیا کہ کہروڑ پکا میں احرار کانفرنس کی تیاری و دعوت کے لئے حضرت مولانا محمد شریف ؒ ساکن کوٹلہ چاکر کو ہفتہ بھر پروگراموں کے لئے دعوت دی جائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے ١٩٣٥ء سے قبل آپ دہلی سے عالم، اور طبیب کا کورس مکمل کر کے یہاں تشریف لا چکے تھے۔ مجلس احرار اسلام کل ہند کی باضابطہ تشکیل ٢٩ دسمبر ١٩٢٩ء کو ہوئی۔ گویا مجلس احرار اسلام کے قیام کے ٹھیک پانچ سال بعد حضرت مولانا محمد شریف بہاولپوری ؒ اس کے نہ صرف باضابطہ ممبر بلکہ مشہور خطیبوں میں شمار ہونے لگے۔
مجلس احرار کے پلیٹ فارم سے آزادی ملک کے لئے آپ سرگرم رہے۔ مولانا محمد شریف بہاولپوری ؒ کی مادری زبان سرائیکی تھی۔ دہلی کے قیام نے آپ کو اردو کا بھی قادر الکلام خطیب بنا دیا تھا۔ بہاولپور، بہاولنگر، رحیم یار خان، ڈیرہ غازی خان، بھکر، لیہ، میانوالی، راجن پور، مظفر گڑھ اور اندرون سندھ آپ کی خطابت سے گونجنے لگے۔ خطابت کے شہسواروں کا دوسرا نام مجلس احرار اسلام تھا۔ تاہم حضرت مولانا گل شیر ؒ اور حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ دو ایسے خطیب تھے جن کی خطابت میں لحن داؤدی، سوز رومی ؒ اور ساز رازی ؒ کا واضح پرتو تھا۔ ترنم سے تقریر کرتے تو مجمع پر جادو کر دیتے تھے۔ ان دو حضرات کے بعد (سرائیکی پٹی میں) اس دور میں اگر کسی نے خطابت کی دھاک بٹھائی ہے تو وہ حضرت مولانا محمد شریف بہاولپوری ؒ اور حضرت مولانا حافظ اللہ وسایا ؒ (ڈیرہ غازیخان) تھے۔ حافظ صاحب صرف واعظ تھے۔ جبکہ مولانا بہاولپوری ؒ خوش الحان مقرر اور نظریاتی خطیب تھے۔ بلامبالغہ حضرت مولانا محمد شریف بہاولپوری ؒ کو جن لوگوں نے دیکھا ہے یا سنا ہے وہ گواہی دیں گے کہ مولانا شریف ؒ صاحب طرز خطیب تھے۔ ان کی مترنم آواز و خطابت کا اپنا انداز تھا۔ جب قرآن مجید پڑھتے اور ترنم سے اس کے معانی و معارف بیان کرتے تو اجتماع پر جادو کی کیفیت طاری ہو جاتی تھی۔ واقعی جادو بیان خطیب تھے۔
درمیانہ قد، جسم کسرتی، کشادہ پیشانی، منور چہرہ، گندمی رنگ، سر پر زلف بنگال کی طرح بال، عقابی نگاہ، مست بیانی، الہڑ جوانی، خوبصورت ترنم، گرجدار آواز کے خمیر سے حضرت مولانا محمد شریف بہاولپوری ؒ کی خطابت نے اٹھان بھری۔ جہاں گئے لوگوں کے دل موہ لائے۔ درویش منش، تکلفات سے کوسوں دور، شریف النفس، کریم الطبع، غربت کے باوجود دریا دل سخی،
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
آنکھوں کے غنی، نام کی نسبت کے پاسدار، حیاء و شرافت کا پیکر تھے۔ آپ کو قدرت نے بہت ہی مقبولیت اور ہر دل عزیزی سے نوازا تھا۔ حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ قطب الارشاد سے بیعت تھے۔ حضرت مولانا حسین علیؒ (واں بھچراں)، حضرت مولانا حماد اللہ ہالیجویؒ سے اصلاح کا تعلق رہا۔ تہجد، اشراق، اوابین اور یومیہ تلاوت کلام اللہ نے آپ کو صوفی منش بزرگ بنا دیا تھا۔ لوگ آپ سے دیوانہ وار محبت کرتے تھے۔
قیام پاکستان کے بعد حضرت امیر شریعتؒ اور آپ کے گرامی قدر رفقاء نے مجلس تحفظ ختم نبوت کی بنیاد رکھی تو آپ اس کے بانی رہنماؤں میں شامل تھے۔ دم واپسیں تک آپ کا مجلس کے ممتاز رہنماؤں میں شمار رہا۔ حضرت خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ کے بعد مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ اور مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا لال حسین اخترؒ قرار پائے۔ تب مجلس کے مرکزی صدر المبلغین کا اعزاز حضرت مولانا محمد شریف بہاولپوریؒ کے حصہ میں آیا۔ آپ آخری سانس تک مجلس کے صدر المبلغین رہے۔
١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت میں آپ نے گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ بڑی بہادری سے جیل کاٹی۔ ایک دور میں سالانہ آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ میں آپ کا بڑے اہتمام سے گھنٹوں بیان ہوتا تھا۔
حضرت مولانا محمد شریف بہاولپوریؒ سادگی کا پیکر تھے۔ کرتا، ٹوپی، تہبند اکثر کھدر کا زیب تن کرتے تھے۔ آپ کے بود و باش، رہن سہن کو دیکھ کر اہل نظر جانتے تھے کہ انہوں نے اپنی ولایت کے لعل بے بہا کو گودڑی میں چھپا رکھا ہے۔ زندگی بھر کپڑے کا سادہ سا ”جھولا“ ہمراہ رکھا۔ ایک جوڑا زیب تن، دوسرا جوڑا کپڑے کے تھیلہ میں ساتھ ہوتا۔ مجلس کی رسید بک اور کاپی کا ایک کاغذ جس پر مہینہ بھر کے پروگرام لکھے ہوتے گویا یہی آپ کی ڈائری تھی۔ ساتھ ہوتی تھیں۔ جسم کے کپڑے میلے ہو گئے تو دوسرا جوڑا پہن لیا جو اتارا اسے دھویا، خشک کر کے تہہ کیا اور تھیلا میں ڈال لیا۔ آج کل کے نام و نمود کے بھوکے خطیب جب گھر سے ہفتہ بھر کے سفر پر نکلتے ہیں تو کئی جوڑے کپڑوں سے سوٹ کیس بھرا۔ ڈگی میں رکھا جاتا ہے۔ ہائے کتنا اصل و نقل میں فرق ہو گیا ہے۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
حضرت مولانا محمد شریف بہاولپوریؒ نماز کے اتنے سختی سے پابند تھے کہ ایک دفعہ رحیم یار خان سے بہاولپور کے لئے بس پر سوار ہوئے۔ احمد پور شرقیہ پہنچے تو عصر کا وقت ہو گیا۔ ڈرائیور سے نماز کے لئے کہا۔ وہ ضد کر گیا تو آپ نے ٹکٹ چھوڑ دیا اور بس سے اتر گئے۔ بس چل پڑی۔ آپ نے اطمینان سے نماز پڑھی۔ اس دور میں خال خال بسیں چلتی تھیں۔ دوسری بس ملے نہ ملے۔ اس ماحول میں دل کی لو اللہ تعالیٰ کی یاد سے لگا کر دھونی رمائے بیٹھ گئے۔ اللہ تعالیٰ کے کرم کا معاملہ ہوا۔ نور پور نورنگا یا خانپور مرچاں والا سے ڈرائیور نے بس واپس کی۔ احمد پور شرقیہ آ کر آپ کو مسجد سے اٹھایا۔ آپ چپ چاپ اٹھے اور بس میں سوار ہو گئے۔ ڈرائیور نے کہا کہ مولوی صاحب! آپ نے کیا دم کیا کہ بس آگے چلتی نہیں۔ لیکن میرے دل و دماغ میں آپ کے رہ جانے کا افسوس گھر کئے رہا۔ دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر آخر بس لے کر واپس آنا پڑا۔ آپ نے مسکرا کر معاملہ ختم کر دیا۔ اسی طرح ملتان سے مخدوم پور پہوڑاں کے لئے گاڑی پر سوار ہوئے۔ خانیوال پر نماز پڑھنے کے لئے اترے۔ نماز شروع کی ہی تھی کہ گاڑی چل دی۔ آپ نے اطمینان سے نماز مکمل کی۔ دعا سے فارغ ہو کر آئے تو دیکھا کہ پھاٹک پر پہنچ کر گاڑی رک گئی ہے۔ وہاں گئے تو معلوم ہوا کہ انجن بند ہو گیا ہے۔ آپ سوار ہوئے۔ انجن سٹارٹ ہو گیا۔ گاڑی آپ کو لے کر چل پڑی۔
حضرت مولانا محمد شریف بہاولپوریؒ نے زندگی بھر سخت سے سخت مشقت برداشت کر کے تبلیغ اسلام کا فریضہ انجام دیا۔ سائیکل، اونٹ، گھوڑا، خچر جو بھی ذریعہ اختیار کرنا پڑا کبھی عار محسوس نہیں کی۔ جہاں کہیں دیہات میں گئے گرمی کے دنوں میں آم کے پیڑ، کیکر، شیشم کے درختوں کے نیچے چار پائی بچھائی اور آرام کر لیا۔ فقیر راقم کے ہاں تشریف لائے۔ آموں کے باغ میں جلسہ تھا۔ سخت حبس کا موسم تھا۔ عوام جمع ہو گئے۔ لیکن پسینہ و گرمی سے جان جاتی تھی۔ اس زمانہ کے رواج کے مطابق چار پائی سے اسٹیج کا کام لیا۔ سر پر رومال رکھا۔ کرتہ اتار کر سینے پر کر لیا اور کرتے کے بازوں کو جھٹکا دے کر پشت پر کر لیا۔ پیٹ پر کرتا ڈالا ہوا ہے۔ ننگی پشت وعظ شروع کر دیا۔ ڈھائی تین گھنٹے اس ہیئت کذائی میں لوگوں کو قرآن سنایا۔ تبلیغ کا فریضہ نبھایا۔ اب تکلف کے دور میں اس سادگی کی داستانوں پر کون اعتبار کرے گا۔ لیکن کیا کیا جائے کہ ہم تو واقعہ کے چشم دید گواہ ہیں۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
حضرت مولانا لال حسین اختر ؒ کے انتقال کے بعد مجلس تحفظ ختم نبوت کے صدارتی چناؤ کا اجلاس تھا۔ ملک بھر کے جماعتی رفقاء و علماء موجود تھے۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوری ؒ صدر اجلاس تھے۔ تلاوت کے بعد حضرت مولانا محمد شریف بہاولپوری ؒ اٹھے اور ٹھیٹھ سرائیکی میں چار پانچ جملے کہے اور حضرت بنوری ؒ کو مجلس تحفظ ختم نبوت کی امارت کے لئے راضی کر لیا۔ حضرت بنوری ؒ سے مخاطب ہو کر آپ نے فرمایا کہ حضرت ! ختم نبوت کے تحفظ کا کام آپ کے استاذ حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری ؒ نے حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ کے ذمہ لگایا۔ حضرت امیر شریعت ؒ نے خطیب پاکستان حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی ؒ کو یہ امانت سونپی۔ حضرت قاضی ؒ یہ بار گراں مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھری ؒ کے سپرد کر گئے۔ حضرت جالندھری ؒ کے بعد حضرت مولانا لال حسین اختر ؒ نے اس امانت کو سینے سے لگایا۔ ان حضرات کی یکے بعد دیگرے وفات کے بعد اب ہم یتیم ہو گئے ہیں۔ اس وقت دنیا میں آپ حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری ؒ کے علوم کے وارث ہیں۔ ختم نبوت کے کام کو سنبھالیں۔ ہم آپ کی اس طرح اطاعت کریں گے جس طرح پہلے اکابر کی کی۔ اگر نہیں تو یہ لیجئے چابیاں اور دفتر کو تالا لگا دیں۔ ہم بھی گھروں کو جاتے ہیں۔ یہ کہہ کر ہاتھ میں پہلے سے موجود چابیوں کا گچھا حضرت بنوری ؒ کی طرف بڑھا دیا اور روتے ہوئے کہا کہ آپ نے مجلس کی امارت نہ سنبھالی تو کام کے بند ہو جانے کے آپ ذمہ دار ہوں گے۔ اس طرح کے چند جملوں میں ایسی مؤثر گفتگو کی کہ نہ صرف حاضرین بلکہ حضرت بنوری ؒ کی بھی ہچکی بندھ گئی۔ حضرت بنوری ؒ نے مجلس کی امارت قبول فرما لی۔
چند ماہ بعد ١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت میں قادیانی غیر مسلم اقلیت قرار پائے تو حضرت مولانا محمد شریف بہاولپوری ؒ کے دل بے قرار کو قرار آ گیا۔ اس دور کی آپ کی تقریروں کا کچھ سماں ہی اور ہوتا تھا۔ آپ خود بھی روتے تھے اور لوگوں کو بھی رلاتے تھے۔ دل سے بات کہتے تھے اور سامعین کے دلوں سے منواتے تھے۔ آخری وقت تک بہت بہادری، محنت اور وفاداری سے مجلس کا کام کرتے رہے۔
مقبول واعظ، بے بدل خطیب، نیک دل، پاکباز، بلند اخلاق اور علم و عمل کا پہاڑ تھے۔ تحریک آزادی اور تحفظ ختم نبوت کے لئے اکابر کے ہمراہ اگلی صفوں میں رہ کر مصروف جہاد رہے۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
کوٹلہ چاکر سے بہاولپور بستی مستیاں آ گئے تھے۔ تمام بچوں کو دینی تعلیم دی۔ بڑے بیٹے حضرت مولانا عطاء الرحمن جامعہ مدنیہ بہاولپور کے شیخ الحدیث اور مہتمم ہیں۔ حضرت مولانا مفتی ابوبکر سعید الرحمن جامعہ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی کے دارالافتاء میں مسند نشین ہیں۔
حضرت مولانا محمد شریف بہاولپوری ؒ نے پوری زندگی فقر و فاقہ سے گزاری۔ فوتگی کے وقت مجلس تحفظ ختم نبوت کے بیت المال کے ٣٦٥ روپے آپ کے نام تھے۔ ملا تو کھا لیا۔ نہ ملا تو شکر کر لیا۔ آپ کی نیکی و تقویٰ کے صدقہ میں آپ کی زندگی میں اولاد کے سر چھپانے و گزر بسر کا ایسے پردہ غیب سے انتظام ہو گیا کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ مستیاں بستی سے سبزی لینے کے لئے سائیکل پر شہر جاتے ہوئے بستی غنی گوٹھ میں حافظ عبدالرشید کے ہاں رکے۔ علیک سلیک کے بعد چلنے لگے تو حافظ صاحب نے کہا کہ مولانا! آج غنی گوٹھ کے کھنڈر کی بولی ہے۔ میں نے حصہ لینا ہے۔ مجھے حصہ دار درکار ہے۔ آپ شامل ہو جائیں۔ آپ نے فرمایا بہت اچھا۔ حافظ عبدالرشید، مولانا محمد شریف بہاولپوری ؒ، اور صفدر صاحب حصہ راس (یعنی برابر حصہ دار ) کی بنیاد پر بولی میں شامل ہوئے۔ بولی والی جگہ پر پہنچے تو پندرہ منٹ میں بولی شروع ہو گئی۔ ٢١؍ ایکڑ زمین ان کے نام اس پر بولی ختم ہوئی۔ اس طرح سات ایکڑ آپ کے حصہ میں آئے۔ کچھ پیسے قرض لے کر فوری جمع کرائے۔ باقی سب قسطیں بھی ادا ہو گئیں۔ اس زمین میں پہلے مسجد بنائی پھر مکان۔ یوں بچوں کے سر چھپانے کا قدرت نے انتظام کر دیا۔
ایک بار ڈیرہ غازیخان میں حضرت مولانا غلام محمد ؒ مہتمم مدرسہ قاسم العلوم و خطیب مسجد پیارے والی نے کہا کہ ڈیرہ غازی خان میں پہاڑوں کے دامن میں کوڑیوں کے بھاؤ رقبہ مل رہا ہے۔ حضرت مولانا محمد شریف بہاولپوری ؒ نے فرمایا کہ اچھے تم میرے بھائی ہو کہ میرا حصہ نہیں رکھا۔ چند دنوں بعد حضرت مولانا غلام محمد نے پیغام بھیجا کہ ایک مربع آپ کے لئے الاٹ کرا لیا ہے۔ پہلی قسط (چند صد) بھجوا دیں۔ آپ نے قرض لے کر بھجوا دیئے۔ بعد میں فرمایا کہ میں ساری زندگی یہ قرض کیسے اتاروں گا۔ قسطیں کون دے گا۔ چلو اس زمین کی جو آمد ہو وہ آپ رکھ لیں اور قسطیں ادا کرتے رہیں۔ چنانچہ ایسے ہوا۔ خود فوت ہوئے تو مقروض تھے۔ لیکن اولاد کے لئے ایک مربع زمین کا قدرت نے چھپر پھاڑ کر انتظام کر دیا۔
آخری سفر پر گھر سے روانہ ہونے لگے تو اپنے بڑے بیٹے شیخ الحدیث حضرت مولانا
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
عطاء الرحمن سے فرمایا کہ والدہ، بہن بھائیوں اور گھر کا خیال رکھنا۔ اب میرے بعد تم سب کچھ ہو۔ دفتر ملتان تشریف لائے۔ دو پروگراموں میں شرکت کی۔ واپس دفتر آئے تو طبیعت میں کچھ کمزوری اور گھبراہٹ محسوس کی۔ اپنے دونوں بیٹوں مولانا عطاء الرحمن اور حکیم عبید الرحمن کو فون کر کے ملتان دفتر پہنچنے کے لئے پیغام دیا۔ ان کے آنے سے قبل پیٹ میں درد محسوس ہوا تو دفتر کے ساتھیوں نے نشتر ہسپتال داخل کرا دیا۔ دونوں بیٹے بھی ہسپتال آگئے۔ شام کو حکیم عبید الرحمن چلے گئے اور مولانا عطاء الرحمن رہ گئے۔ ان سے فرمایا کہ صبح باپ بیٹا ایک ساتھ چلیں گے۔
١٤؍شعبان المعظم ١٣٩٥ھ کو دن کے وقت ہسپتال داخل ہوئے اور ١٥؍شعبان المعظم مطابق ٢١؍اگست ١٩٧٥ء کی شب اڑھائی بجے واصل بحق ہو گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون !
رات اڑھائی بجے دفتر ملتان، جامعہ مدنیہ بہاولپور اور گھر اطلاع ہوئی۔ صبح نماز سے قبل دفتر مرکزیہ ملتان آپ کے جسد خاکی کو لایا گیا۔ نماز کے بعد جنازہ گوٹھ بہاولپور لیجانے کا نظم ہوا۔ نو بجے بہاولپور پہنچے۔ غنی گوٹھ کے قریب شریف آباد جہاں آج کل بائی پاس بنا ہے گھر سے باہر مسجد کے ساتھ ملحقہ چھپر تھا۔
آپ نے فرمایا تھا کہ مجھے یہاں دفن کرنا۔ وفات سے چھ ماہ قبل ہمسائیوں نے وہ جگہ خالی کردی۔ جہاں کا فرمایا، وہیں پر آپ کی قبر بنی۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا علی محمد ؒ دارالعلوم کبیر والا آپ کے ساتھی اور عزیز دار نے جنازہ پڑھایا۔ ایک ایکڑ میں صفیں تھیں۔ تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ علماء اور صلحاء کی جنازہ میں کثرت تھی۔ عصر تک تدفین مکمل ہوئی۔ تدفین کے بعد کئی دن تک قبر سے خوشبو آتی رہی۔ اللہ اکبر کبیر!
داعی الی اللہ، مجاہد فی سبیل اللہ، شریف العلماء حضرت مولانا محمد شریف بہاولپوری ؒ اللہ تعالیٰ آپ کی قبر کو بقعۂ نور بنائیں۔ مجلس تحفظ ختم نبوت، دارالعلوم مدنیہ بہاولپور اور آپ کی صالح اولاد آپ کی یادگار ہیں۔ رہے نام اللہ کا!
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
(١٦)
فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیاتؒ
(وفات: ١١ اگست ١٩٨٠ء)
حضرت مولانا محمد حیاتؒ کوٹلی بھیرے خان شکر گڑھ ضلع سیالکوٹ سے تعلق رکھتے تھے۔ ابتدائی تعلیم سکول میں حاصل کی پھر کالج میں داخلہ لیا اور ایف۔ اے تک تعلیم حاصل کی۔ قدرت نے غضب کا حافظہ دیا تھا۔ بلاء کے حاضر جواب تھے۔ علاقہ کے اہل نظر نے آپ کو مشورہ دیا اور آپ نے شیخ الاسلام حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کے شاگرد رشید حضرت مولانا محمد چراغؒ کے پاس گوجرانوالہ میں دینی تعلیم شروع کر دی۔ سکول و کالج کی تعلیم کے باعث عمر کافی ہوگئی تھی۔ حضرت مولانا محمد چراغؒ نے مختصر نصاب تجویز کر کے چند سالوں میں تمام دینی تعلیم مکمل کرادی اور ساتھ ہی رد قادیانیت پر بھر پور تیاری کرادی۔ حضرت مولانا نے تعلیم سے فراغت پاتے ہی رد قادیانیت کا کام شروع کر دیا تھا جو زندگی کے آخری لمحہ تک جاری رہا۔ قادیان میں محاذ ختم نبوت کے انچارج رہے۔ تا آنکہ ملک تقسیم ہوا۔ مرزا محمود کے قادیان سے فرار کے بعد قادیان کو چھوڑ کر پاکستان تشریف لائے۔ پاکستان میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بانی رکن اور سب سے پہلے مبلغ تھے۔ قادیان میں قیام کے دوران مرزائیوں کو ناکوں چنے چبوائے۔ اس طرح اکابرین امت کی طرف سے ”فاتح قادیان“ کا لقب حاصل کیا۔
(ربوہ) چناب نگر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے لئے مسلم کالونی میں پلاٹ حاصل ہوا تو آپ خبر سنتے ہی ملتان سے ربوہ منتقل ہونے کے لئے آمادہ ہو گئے۔ کھانا چھوڑ دیا۔ چنے چبانے شروع کر دیئے۔ حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ کے پوچھنے پر جواب دیا کہ میں ریہرسل کر رہا تھا کہ اگر ربوہ میں روٹی نہ ملے تو آیا چنے چبانے کے لائق دانت ہیں یا نہیں؟ اس جذبہ و ایثار سے آپ مسلم کالونی ربوہ تشریف لائے۔ گرم سرد، دکھ سکھ، عسر و یسر میں ربوہ کے اس محاذ کو آخری وقت تک سنبھالے رکھا۔ امت محمدیہ کی طرف سے واحد شخص ہیں جنہوں نے قادیان سے لے کر ربوہ تک مرزائیت کا تعاقب ان کے گھر تک پہنچ کر کیا۔
آپ انتہائی سادہ اور منکسر المزاج تھے۔ قادیان اور ربوہ میں قیام کے دوران آپ
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
سے گفتگو کے لئے جو بھی قادیانی آتا منہ کی کھاتا۔ کچھ عرصہ بعد خلافت ربوہ کو اعلان کرنا پڑا کہ اس ”بابا“ کے پاس نہ جایا کرو۔ گفتگو میں دشمن کو گھیرے میں لے کر بند کرنا آپ کا وہ امتیاز تھا جس کی اس زمانہ میں مثال ملنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ ایک دفعہ ایک مرزائی مناظر نے کہا کہ مولانا آپ نے قادیان چھوڑ دیا۔ آپ نے فرمایا کہ مرزا بشیر الدین کے فرار کے بعد۔ مرزائی نے کہا کہ نہیں اس وقت بھی قادیان میں ہمارے (٣١٣) افراد موجود ہیں۔ مولانا نے فرمایا میں نے تو سنا ہے کہ ان کی تعداد (٤٢٠) ہے۔ یہ سنتے ہی مرزائی نے غصہ سے لال پیلا ہو کر کہا۔ ہم آپ کے دیو بند پر پیشاب بھی نہیں کرتے۔ مولانا نے بڑے دھیمے انداز میں جواب دیا کہ میں تو جتنا عرصہ قادیان میں رہا کبھی بھی پیشاب کو نہیں روکا۔ اس پر مرزائی اول فول بکتا ہوا یہ جا وہ جا۔ ایک دفعہ مرزائیوں نے مناظرہ میں شرط رکھ دی کہ مناظر مولوی فاضل ہوگا۔ مولانا مناظرہ کے لئے تشریف لے گئے تو مرزائی مناظر نے مولوی فاضل کی سند مانگی۔ مولانا نے فرمایا۔ افسوس کہ آج ہم سے وہ لوگ سند مانگتے ہیں جن کا نبی مختاری کے امتحان میں فیل ہو گیا تھا۔ مولانا نے کچھ اس انداز سے اسے بیان کیا کہ مرزائی مناظر مناظرہ کئے بغیر بھاگ گیا۔
١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت میں آپ نے جو کارہائے نمایاں و گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ اس کا اندازہ منیر انکوائری رپورٹ سے ملتا ہے۔ کہ جہاں کہیں مسٹر جسٹس منیر آپ کی کسی تقریر کا حوالہ دیتا ہے جل بھن کر رہ جاتا ہے۔ گویا مولانا کے طرز عمل نے مرزائیت و مرزائی نواز طبقہ کے خواب و خور حرام کر دیئے تھے۔ ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت میں ملتان دفتر سے حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ، حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ اور جناب سائیں محمد حیاتؒ کے ساتھ گرفتار ہو کر سینٹرل جیل گئے۔ وہاں پر اکابر و اصاغر کے ساتھ بڑی بہادری سے جیل کاٹی۔ جیل میں بی کلاس کی سہولت حاصل ہو گئی تو مزاحاً حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ سے فرماتے تھے کہ حضرت دیکھ لیں جو یہاں مل رہا ہے۔ دفتر جا کر وہی دینا ہو گا۔ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ فرماتے کہ مولانا محمد حیاتؒ جو کھانا ہے یہیں کھا لو۔ دفتر میں تو وہی دال روٹی ملے گی۔ جیل کی سزا کاٹنے کے اتنے بہادر تھے کہ وہاں جا کر گویا باہر کی دنیا کو بالکل بھول جایا کرتے تھے۔ اتنا بہادر انسان کہ اس پر جتنا فخر کیا جائے کم ہے۔
ملتان جیل میں ایک دفعہ درویش منش ایک قیدی نے چنے منگوائے اور عصر کے بعد نمازیوں کے سامنے چادر پر بچھا کر پڑھوانے شروع کر دیئے۔ مولانا محمد حیاتؒ نے پوچھا تو
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
جواب ملا اس لئے تا کہ مصیبت کم ہو۔ آپ نے فرمایا۔ آپ پڑھیں میں تو نہیں پڑھتا۔ جو لکھا ہے وہی ہوگا۔ جتنے دن جیل میں رہنا ہے بہرحال رہیں گے۔ رہے اور بڑے بہادری سے رہے۔ ملتان سے لاہور بورسٹل و سنٹرل جیل میں منتقل ہوئے۔ دس ماہ بعد رہا ہوئے۔ رہا ہوتے ہی پھر مرزائیت کی تردید میں جٹ گئے۔ غرضیکہ دھن کے پکے تھے۔
مطالعہ کتب کا اتنا شوق تھا کہ فرائض وسنن کے علاوہ باقی تمام تر وقت مطالعہ میں گزرتا۔ وظائف ونوافل کے زیادہ خوگر نہ تھے۔ وہ تسبیح و دانہ کے آدمی نہ تھے۔ کتابوں کے رسیا تھے۔ آخری عمر میں کمزوری و ناتوانی وضعف بصر کے باوصف بھی یومیہ کئی سو صفحات تک مطالعہ کر جاتے تھے۔ ان کے سرہانے کتاب ضرور ہوتی تھی۔ خواب سے بیدار ہوئے مطالعہ میں لگ گئے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو حوالہ جات ازبر تھے۔ آپ کو قدرت نے بلا کا حافظہ دیا تھا۔ حافظہ و مطالعہ تقویٰ و اخلاص، جذبہ ایثار، جادو بیانی جیسی صفات و خوبیاں حضرت مولانا میں ایسی تھیں جن کا دشمن بھی اعتراف کرتے تھے۔
حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ دیگر اکابر کی طرح آپ کے بڑے قدردان تھے۔ حضرت مولانا محمد حیاتؒ کی طبیعت میں سخت گیری تھی۔ اپنے مزاج و دھن اور رائے کے پکے تھے۔ بنیادی طور پر مناظر تھے اور مناظر اپنی رائے جلدی سے تبدیل نہیں کرتا۔ اس لئے حضرت مولانا محمد حیاتؒ کبھی کبھار گفتگو و اختلاف رائے میں حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ سے شدت اختلاف بھی اختیار کر جاتے تھے۔ ١٩٧٠ء کے الیکشن میں ”مجلس کو کیا کرنا چاہئے“ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کی رائے تھی کہ ہم لوگ غیر سیاسی ہیں۔ اپنی پالیسی پر کار بند رہیں جس جماعت کو اسلام کا زیادہ خادم سمجھیں ان کو ووٹ دیں جبکہ حضرت مولانا محمد حیاتؒ کی رائے تھی کہ اگر ہماری معاونت سے کچھ علماء اسمبلی میں چلے گئے تو ہمارے مسئلہ کو حل کرانے میں معاون ثابت ہوں گے۔ پالیسی کے لحاظ سے حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کی رائے وزنی تھی۔ جبکہ مسئلہ کو حل کرانے کے نقطہ نظر سے حضرت مولانا محمد حیاتؒ کو اپنی رائے پر اصرار تھا۔ دونوں حضرات نے ایک میٹنگ میں اس پر گھنٹوں دلائل دیئے۔ ظہر کے وقت اجلاس کا وقفہ ہوا تو وہی محبت واخلاص۔ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے چائے پیالی میں ڈال کر پیش کی۔ حضرت مولانا محمد حیاتؒ مسکرا اٹھے۔ اللہ رب العزت ان تمام حضرات پر اپنا کرم فرمائیں کہ اخلاص کے پیکر تھے۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
حضرت مولانا محمد علی جالندھری ؒ نے اسی میٹنگ میں فرمایا کہ مارشل لاء حکومت نے ایک دفعہ کے تحت الیکشن میں مذہبی بنیادوں پر کسی کی مخالفت کو جرم قرار دیا ہے۔ اگر مرزائی کھڑے ہوئے ہم تو ان کا نام لے کر ان کے مرزائی ہونے کے باعث ان کی مخالفت کریں گے تو اس دفعہ کی خلاف ورزی لازم آئے گی۔ گرفتاریاں ہوں گی تو جو حضرات گرفتاریوں کے لئے اپنے آپ کو پیش کرنا چاہیں اپنے نام لکھوا دیں۔ اب تمام مبلغین احترام میں خاموش کہ پہلے بزرگ نام لکھوائیں تو پھر ہم سب حاضر ہیں۔ چھوٹے پہلے بولیں تو کہیں سوئے ادبی نہ ہو۔ ورنہ ظاہر ہے کہ مشن کے لئے سب ہی گرفتار ہونے کو تیار تھے۔ اتنے میں مولانا محمد حیات ؒ بولے کہ مولانا محمد علی ؒ بھائی جان دیکھیں جب شاہ جی ؒ ہمیں گرفتاری کے لئے فرماتے تھے تو پہلے اپنا نام لکھواتے تھے۔ آپ پہلے اپنا نام لکھوائیں۔ پھر ہم سب کا لکھ لیں۔ ہم سب تیار ہیں۔ مولانا محمد علی جالندھری ؒ بہت اچھا فرما کر مسکرائے اور مولانا محمد شریف جالندھری ؒ کو حکم دیا کہ میرے نام سمیت سب حاضرین کے درجہ بدرجہ نام لکھ لو۔ چنانچہ ایسے ہی ہوا۔
حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر ؒ راوی ہیں کہ تقسیم کے وقت مرزا محمود نے ایک دن قادیان میں اعلان کرایا کہ آج میں بلدیو سنگھ وزیر دفاع انڈیا سے مل آیا ہوں۔ وہ ہیلی کاپٹر پر قادیان کا معائنہ کریں گے۔ قادیان کے لوگ دروازے بند کر کے گھروں میں بیٹھے رہیں۔ تاکہ وہ اوپر سے دیکھ سکیں کہ واقعی لوگ تنگ ہیں۔ دشمن کے حملوں کا سخت خطرہ ہے۔ اس لئے گھروں میں نظر بند ہیں۔ تمام قادیانی گھروں میں نظر بند ہو گئے۔ مرزا محمود برقع پہن کر خفیہ طور پر قادیان سے لاہور آ گیا جب مرزائیوں کو پتہ چلا تو سخت سٹپٹائے اپنی قیادت پر کہ وہ بڑی بزدل و کمینی نکلی۔ مگر کیا کرتے مجبور تھے۔ دوسرے قادیانی افسروں نے کچھ دنوں بعد قادیان میں فوجی ٹرک بھجوائے کہ لوگوں کو وہاں سے نکالا جائے۔ ٹرک لوڈ ہو رہے تھے۔ مولانا محمد حیات ؒ وہاں قادیان میں موجود تھے۔ مرزائیوں نے کہا کہ ٹرک میں جگہ ہے آپ آ جائیں۔ آپ نے فرمایا آپ چلیں میرا انتظام ہے۔ جب تمام قادیان کے مرزائی قادیان چھوڑ کر لاہور آ گئے تو تب کہیں جا کر قریب کے کسی گاؤں کے کارکن غلام فرید کو آپ نے پیغام بھجوایا۔ وہ ایک بیل گاڑی لایا۔ اس پر کتابیں لادیں اور سفر کر کے کئی دنوں بعد لاہور دفتر میں آگئے۔ آپ کے عزیز واقارب خیر پور میرس سندھ میں مقیم ہو گئے تھے۔ ان کی اطلاع پا کر آپ وہاں چلے گئے اور وہاں جا کر زراعت کا کام شروع کر دیا۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
ایک دن حضرت امیر شریعت ؒ کو کسی کا خط ملا کہ آپ لوگ تقسیم سے قبل رد قادیانیت کا کام کرتے تھے۔ قادیانیت آپ کے احتساب سے سہمی ہوئی تھی۔ آپ لوگوں نے توجہ کم کردی۔ مرزائی دن رات اپنی تبلیغ میں لگے ہوئے ہیں۔ سرکاری عہدوں سے ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ یہی حال رہا تو پاکستان پر یہ لوگ چھا جائیں گے۔ حضرت شاہ جی ؒ نے یہ خط پڑھا تو تڑپ گئے۔ مولانا محمد علی جالندھری ؒ کو بلا کر فرمایا کہ سندھ سے مولانا محمد حیات ؒ کو ملتان بلوائیں۔ مولانا محمد حیات ؒ کے بھائی آمادہ نہ ہوتے تھے۔ مولانا محمد علی جالندھری ؒ نے ان کو ایک ملازم رکھ دیا جو ان کے ساتھ کھیتی باڑی کے کام میں مولانا محمد حیات ؒ کی نیابت کرتا تھا اور یوں مولانا محمد حیات ؒ ملتان آگئے۔ حضرت امیر شریعت ؒ سے ملے دوسرے دن ہی کچہری روڈ ملتان ایک دکان کا چوبارہ کرایہ پر لیا اور کام شروع کر دیا۔ پہلی کلاس میں یہ علماء شامل تھے۔
مولانا عبدالرحیم اشعر ؒ، مولانا قائم الدین علی پوری ؒ، مولانا محمد لقمان علی پوری ؒ، مولانا غلام محمد علی پوری ؒ، قاضی عبداللطیف اختر شجاع آبادی ؒ، مولانا محمد عبداللہ سندھی ؒ، مولانا محمد یار ؒ (چیچہ وطنی) ان حضرات نے رد مرزائیت کا کورس مکمل کیا۔ کورس کے مکمل کرتے ہی ان حضرات کو اس ترتیب سے جماعت کا مبلغ مقرر کیا گیا۔
مولانا عبدالرحیم اشعر ؒ (فیصل آباد)، مولانا محمد لقمان علی پوری ؒ (ننکانہ صاحب)، مولانا یار محمد ؒ (چنیوٹ)، قاضی عبداللطیف ؒ (چیچہ وطنی)، مولانا غلام محمد ؒ (ملتان)، مولانا محمد عبداللہ ؒ (سندھ)۔ ان حضرات نے کام شروع کیا اور تقسیم کے بعد جماعت کے یہ حضرات پہلے مبلغین قرار پائے۔ یوں عشق رسالت مآب ﷺ سے سرشار یہ کارواں ختم نبوت اپنی منزل کی طرف پھر رواں دواں ہو گیا۔
حضرت مولانا کے شاگردوں کی اندرون و بیرون ملک تعداد ہزاروں سے متجاوز ہے۔ متذکرہ بالا حضرات کے علاوہ چند معروف مبلغین کے نام یہ ہیں۔ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی ؒ، حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی ؒ، حضرت مولانا منظور احمد الحسینی ؒ (لندن)، حضرت مولانا عبدالمجید (فجی آئی لینڈ)، حضرت مولانا غلام محمد علی پوری ؒ، حضرت مولانا غلام مصطفیٰ بہاولپوری ؒ، مولانا ڈاکٹر عبدالرحیم ؒ (شکرگڑھ)، حضرت مولانا مفتی رشید احمد ؒ (پسرور)، حضرت مولانا محمد حنیف ؒ (گوجرانوالہ)، حضرت مولانا
عبدالوہاب ؒ، حضرت مولانا مفتی عطاء الرحمٰن بہاولپوری، حضرت مولانا عبداللہ لدھیانوی ؒ (ٹوبہ ٹیک سنگھ)، حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، حضرت مولانا عبدالرؤف جتوئی ؒ، حضرت مولانا خدا بخش شجاع آبادی ؒ، حضرت مولانا نذیر احمد بلوچ ؒ، حضرت مولانا بشیر احمد خاکی ؒ (شورکوٹ)۔ علاوہ ازیں عالم اسلام کے ممتاز سکالر حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی ؒ نے قطب الارشاد حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوری ؒ کے حکم سے قادیانیت نامی شہرہ آفاق کتاب ترتیب دی تو تمام حوالہ جات مولانا محمد حیات ؒ نے مہیا کئے۔ انہوں نے کتاب کے عربی ایڈیشن میں آپ کو چلتا پھرتا کتب خانہ قرار دیا۔
حضرت مولانا محمد حیات ؒ ارادے کے پکے اور اعصاب کے مضبوط انسان تھے۔ بڑے سے بڑے سانحہ کو وہ بڑی بہادری و جرات سے برداشت کر جاتے تھے۔ لیکن جب مولانا محمد علی جالندھری ؒ کا انتقال ہوا تو اس وقت ملتان میں نہ تھے۔ تبلیغ کے لئے سرگودھا کے سفر پر تھے۔ فون پر اطلاع دی گئی۔ پوری رات سفر کر کے علی الصبح دفتر پہنچے۔ دفتر کے صحن میں مولانا محمد علی جالندھری ؒ کا جنازہ رکھا تھا۔ دیکھتے ہی دھاڑیں مار مار کر رونے لگے۔ اتنے روئے کہ کہ انتہا کردی۔ صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ اپنے دل کے ہاتھوں مجبور تھے۔ ایسے محسوس ہوتا تھا کہ وہ مولانا محمد علی جالندھری ؒ کی وفات پر اپنی جان گنوا بیٹھیں گے۔ زار و قطار رو رہے تھے اور بار بار کہتے کہ میں بہت نکما ہوں (یہ ان کی کسر نفسی تھی۔ ورنہ وہ تو بہت ہی کام کے آدمی تھے) ہم لوگ دفتر میں بیٹھے رہتے۔ یہ شخص (مولانا جالندھری ؒ) جفاکش و بہادر انسان تھا۔ دن رات ایک کر کے جان جوکھوں میں ڈال کر دفتر بنایا۔ فنڈ قائم کیا۔ اپنے کلیجہ کو دھیمی آگ پر اپنے ہاتھوں بھون بھون کر ہمیں کھلایا۔ اب ان جیسا بہادر و محنتی دوست و رہنما ہمیں کہاں سے میسر آئے گا۔ ہماری تیز و ترش باتیں سن کر خوش دلی سے نہ صرف ہماری بلکہ پوری جماعت کی خدمت کی۔ ہائے اب مجھے محمد علی جالندھری ؒ کہاں سے ملے گا جو میری سن کر برداشت کرے گا۔ زار و زار رو رو کر دکھے دل سے ایسا خراج تحسین پیش کیا کہ اس وقت دفتر میں موجود تمام ساتھیوں کے دل ہاتھ سے چھوٹ گئے۔ دفتر میں کہرام مچ گیا۔ اس وقت دونوں بزرگ دنیا میں موجود نہیں۔ مگر ان کی باہمی وفاؤں کی یادوں سے ہمارے دل معمور ہیں۔ اللہ رب العزت ان سب کی قبروں پر اپنی رحمت فرمائے۔
حضرت مولانا شعبان کے آخری دنوں میں معمولی بیمار ہوئے۔ ربوہ چنیوٹ سے
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
لاہور گئے۔ وہاں سے اپنے گاؤں کوٹلی پیرے خان تحصیل شکر گڑھ تشریف لے گئے۔ کچھ عرصہ معمولی بیمار رہ کر ٢٨؍ رمضان شریف ١٤٠٠ھ، مطابق ١١؍ اگست ١٩٨٠ء میں اللہ رب العزت کو پیارے ہوگئے۔ عاش غریباً ومات غریباً ! کا صحیح مصداق تھے۔ اس دنیا میں فقر ابو ذر غفاری ؓ کے وارث وعلمبردار تھے۔ ان کی وفات کے بعد ان کے گاؤں تعزیت کے لئے جانا ہوا۔ قبرستان میں گئے۔ ان کی قبر کو خودرو بوٹیوں و جھاڑیوں نے ڈھانپ رکھا تھا۔ ایسے محسوس ہوا جیسے منوں مٹی کے نیچے ان کی میت کو رحمت پروردگار نے ڈھانپ رکھا ہو۔ اللہ رب العزت ان کی قبر پر اپنی رحمتوں کی بارش نازل فرمائے۔ آمین!
(لولاک ربیع الاول ١٤٠٨ھ)
حضرت مولانا محمد حیات ؒ کی وفات پر ہمارے حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی ؒ نے ذیل کا تعزیتی مضمون ماہنامہ ”بینات“ کراچی میں تحریر فرمایا:
”٢٨؍ رمضان المبارک ١٤٠٠ھ، ١١؍ اگست ١٩٨٠ء کو مناظر اسلام حضرت الاستاذ مولانا محمد حیات ؒ (فاتح قادیان) واصل بحق ہوئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
مولانا مرحوم امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ کے اس قافلہ حریت کے رکن رکین تھے۔ جس نے انگریزی طاغوت سے ٹکر لی اور اپنی تمام طاقتیں وصلاحیتیں انگریز اور اس کے گماشتوں سے اسلام کی مدافعت میں صرف کر ڈالیں۔ ”مجلس احرار اسلام“ کے ماتحت جب سارقین نبوت کے تعاقب وسرکوبی کے لئے شعبہ تبلیغ کا اجرا ہوا تو مولانا مرحوم کو اس کا نگران تجویز کیا گیا اور قادیان کا مشن ان کے سپرد ہوا۔ قیام پاکستان کے بعد جب ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کی تاسیس ہوئی تو مولانا مرحوم کی خدمات اس کے لئے وقف ہوگئیں اور تادم آخر وقف رہیں۔ اس طرح ان کی پوری زندگی جہاد فی سبیل اللہ، اعلاء کلمۃ اللہ، اسلام کی دعوت وتبلیغ اور ختم نبوت کی پاسبانی میں گزری۔
حضرت مرحوم کو حق تعالیٰ شانہ نے بہت سی خوبیوں سے نوازا تھا۔ ان کی ایک بڑی خوبی زہد وقناعت کی وہ درویشانہ صفت تھی جو خاصان حق ہی کو نصیب ہوتی ہے۔ عیش وتنعم سے گویا انہیں طبعی نفرت تھی۔ دنیا کی نمود ونمائش، ساز وسامان اور جاہ ومال سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ لباس وخوراک جو انسان کی ناگزیر ضرورت ہے اس میں بھی مولانا مرحوم کا معیار ایسا تھا کہ اچھے اچھے زاہد وعابد بھی اس کو مشکل سے قائم رکھ سکتے ہیں۔ اہل نظر کی نگاہ میں ان کی یہ خوبی ان کے دیگر کمالات واوصاف میں سب سے زیادہ لائق رشک اور پرکشش تھی۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
مولانا مرحوم آغاز جوانی سے جس محنت و ریاضت اور مشقت و مجاہدہ کے خوگر ہو گئے تھے آخر عمر تک اس میں فرق نہیں آیا۔ پیرانہ سالی میں بھی کسل اور راحت طلبی ان کو چھو کر نہیں گزری تھی۔ ان کے قویٰ اور اعضاء و جوارح ان کی اولوالعزمی کا ساتھ دینے سے قاصر تھے۔ لیکن ان کے عزم و ہمت کا شباب آخر وقت تک قائم رہا۔ مولانا مرحوم کو حق تعالیٰ شانہ نے فرق باطلہ کی تردید اور ان سے بحث و مناظرہ کا خاص ذوق اور بہت ہی اچھا سلیقہ عطاء فرمایا تھا۔ وہ بہت صبر و تحمل، حلم و وقار اور ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ گفتگو فرماتے تھے۔ فریق مخالف کے شبہات کا ایسا تسلی بخش اور مسکت جواب دیتے کہ منصف کو تسلیم واقرار کے بغیر چارہ نہ ہوتا اور مکابر ومعاند خجلت و ندامت کے ساتھ راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتا۔ ان کی پوری زندگی میں بحمد اللہ! ایک بار بھی ایسا نہیں ہوا کہ انہیں مناظرے میں شکست ہوئی ہو۔ بلکہ وہ ہر میدان میں بفضل خداوندی مظفر و منصور رہے۔ مناظروں میں عموماً شیخی و تعلی ، اور حریف کی دل آزاری کے الفاظ نکل جاتے ہیں اور حریف کی کج روی پر غصہ اور برافروختگی تو ایک معمولی بات ہے۔ لیکن مولانا کی گفتگو شیخی و تعلی ، خود نمائی و خود نگری ، سب و شتم ، دل آزاری و دریدہ دہنی اور غصہ و برافروختگی کے عیوب سے قطعاً پاک ہوتی تھی۔ اسی طرح مولانا کے مناظروں میں طنز و تشنیع اور فقرہ بازی کا بھی گزر نہیں تھا۔ وہ جو بات کہتے تھے خوب ناپ تول کر پوری متانت و سنجیدگی سے کہتے تھے۔
یوں تو انہوں نے مختلف فرقوں سے مناظرے کئے۔ لیکن قادیانیت ان کا خاص موضوع تھا اور وہ اس میں متخصص تھے۔ حق تعالیٰ شانہ نے ان کے ہاتھ پر ان میں سے بہت لوگوں کو ہدایت عطاء فرمائی اور بہت سے پھسلتے ہوؤں کو اسلام پر قرار و ثبات نصیب ہوا۔ مرحوم قادیانی لٹریچر کے گویا حافظ تھے اور صفحوں کے صفحے انہیں از بر تھے۔ مزاحاً فرمایا کرتے تھے کہ قادیانیوں نے صرف ایک مسئلہ سیکھا ہے اور وہ ہے وفات مسیح ، اور مجھے بھی بس یہی ایک مسئلہ آتا ہے اس موضوع پر ان کی گفتگو اس فرقہ باطلہ کے بڑوں بڑوں سے ہوئی اور بحمد اللہ! مولانا مرحوم ہر موقع پر غالب رہے۔
دو باتیں مولانا مرحوم کا مزاج بن گئی تھیں۔ ایک کثرت مطالعہ انہیں جب دیکھو کتاب ہاتھ میں ہوگی اور وہ (اگر تنہا ہوں تو) اس کے مطالعہ میں مصروف ہوں گے۔ بعض اوقات رات کے دو بجے مولانا مرحوم کو مطالعہ میں منہمک دیکھا گیا۔ ضعف بصر کا عارضہ بھی ان کے اس شوق
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگارنگ
کے راستے میں حائل نہ ہو سکا اور جب تک ان کی صحت کتاب اٹھانے کی متحمل رہی ان کا مطالعہ نہیں چھوٹا۔ ان کے پاس اپنی ذاتی کتابیں تھیں جو ان ہی کی طرح سال خوردہ تھیں۔ وہی مولانا کی کل کائنات تھی اور وہ انہیں جان سے زیادہ عزیز جانتے تھے۔
دوسری بات جس کا ان پر حال کے درجہ میں غلبہ تھا، وہ افادہ کی شان تھی جو شخص بھی ان کے پاس آ کر بیٹھے قادیانیت کے موضوع پر اس کے سامنے گفتگو شروع کر دیتے تھے۔ گویا وہ ہر شخص کو اس دجل و تلبیس سے آگاہ کرنا چاہتے تھے اور یہ ان کا حال بن چکا تھا۔
مولانا ایک عرصہ سے اس بات کے متمنی تھے اور ہر وارد و صادر سے اس کے لئے دعائیں کراتے تھے کہ کسی طرح قادیانیوں کے مرکز ربوہ میں جا کر بیٹھنے اور وہاں کے لوگوں کو براہ راست اسلام کی دعوت دینے کی سعادت انہیں نصیب ہو جائے۔ چنانچہ جب مسلم کالونی ربوہ میں ”ختم نبوت“ کے دفتر اور مسجد کی تعمیر شروع ہوئی تو مولانا مرحوم نے وہاں اقامت اختیار کر لی۔ ہر چند ان کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ ابھی تک یہاں رہائش و خوراک کی سہولتیں میسر نہیں ہیں اور اس پیرانہ سالی میں یہاں آپ کی رہائش آپ کے لئے تکلیف دہ ہوگی۔ لیکن انہوں نے قبول نہیں فرمایا اور تمام مشکلات کو خوش آمدید کہتے ہوئے وہاں اقامت گزیں رہے اور جب تک چلنے پھرنے کی سکت رہی وہاں جمے رہے۔ مقصد سے عشق اور لگن کی یہ مثال اس زمانہ میں نادر الوجود ہے۔
مولانا مرحوم بہت کم بیمار پڑتے تھے اور کبھی بیمار ہوتے بھی تو دوا دارو کا تکلف کم ہی فرماتے تھے۔ ان کی صحت و مرض کی گاڑی بھی بس توکل ہی کے سہارے چلتی تھی۔ عام صحت اچھی تھی مگر سن مبارک سو کے قریب پہنچ چکا تھا۔ اس لئے چند سال سے بدن پر ضعف و انحطاط کے آثار بڑھ رہے تھے۔ پیرانہ سالی کا یہی ضعف گویا ان کا مرض الوفات تھا۔ وفات سے کچھ عرصہ پہلے ربوہ سے لاہور منتقل ہو گئے اور پھر وہاں سے اپنے آبائی گاؤں کوٹلی ہیرے خان تحصیل شکر گڑھ (ضلع سیالکوٹ) تشریف لے گئے۔ وہیں وصال ہوا۔ نماز جنازہ مدرسہ رحیمیہ تعلیم القرآن کے مہتمم مولانا ڈاکٹر عبدالرحیم صاحب نے پڑھائی۔ اس طرح یہ سو سال کا تھکا ماندہ مسافر آسودہ خاک ہوا۔ اللہم اغفر لہ وارحمہ وعافہ، واعف عنہ، واکرم نزلہ، ووسع مدخلہ، وابدلہ داراً خیراً من دارہ، واہلاً خیراً من اہلہ، اللہم لا تحرمنا اجرہ ولا تفتنا بعدہ!“
(بینات شوال المکرم ١٤٠٠ھ، مطابق ستمبر ١٩٨٠ء)
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی شوریٰ کے اراکین حضرات
اب یہاں سے عالمی مجلس ختم نبوت کی مرکزی شوریٰ کے اراکین کے حالات درج ہوں گے۔ ترتیب تہجی ابجد کو سامنے رکھا ہے۔
(١٧)
ابراہیم بہاولپوری رحمہ اللہ، حکیم محمد
(وفات: ٢٩/ جولائی ١٩٦٥ء)
حضرت حکیم محمد ابراہیم بہاولپوری رحمہ اللہ مجلس تحفظ ختم نبوت کے قدیم رہنماؤں میں سے تھے۔ مشرقی پنجاب سے بہاولپور تشریف لائے اور مدت العمر مجلس بہاولپور کے امیر رہے۔ آپ عالمی مجلس کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن رکین بھی تھے۔
(١٨)
اختر حسین ملتانی رحمہ اللہ، ماسٹر
ملتان میں ٹوپیوں کا کاروبار کرتے تھے۔ جناح کیپ اور بہاولپوری نواب صاحبان کی ٹوپیوں جیسی چمڑے کی ٹوپیاں تیار کرانے کے ماہر کاریگر آپ کے پاس ملازم تھے۔ بہت ہی دیندار تھے اور بزرگوں سے قریبی تعلقات رکھتے تھے۔ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ کے وفا شعار، ایثار پیشہ اور مخلص رضا کار تھے۔ ماسٹر اختر حسین رحمہ اللہ کو حضرت امیر شریعت رحمہ اللہ نے مجلس تحفظ ختم نبوت کی پہلی مجلس شوریٰ کا رکن نامزد فرمایا تھا۔ حق تعالیٰ انہیں رحمتوں سے سرفراز فرمائیں۔ آمین!
(١٩)
اشتیاق احمد رحمہ اللہ (جھنگ)، الحاج جناب
(وفات: ١٧/ نومبر ٢٠١٥ء)
بھارت کے مشرقی پنجاب کی معروف ریاست پٹیالہ کے ضلع کرنال میں الحاج
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
اشتیاق احمد صاحب پیدا ہوئے۔ یہ ١٩٤٢ء کی بات ہے۔ پاکستان بننے پر آپ کے والدین جھنگ میں آگئے۔ آپ نے ابتدائی لکھت پڑھت، نورانی قاعدہ، نماز اور ناظرہ قرآن مجید کی تعلیم مسجد شیخ لاہوری جھنگ صدر میں حاصل کی۔ اس محلہ کے ہی ہائی سکول میں میٹرک پاس کی۔ یہی آپ کی تعلیم کی کل کائنات تھی۔ پڑھائی سے فراغت کے بعد لاہور کارپوریشن میں ملازمت اختیار کی، لیکن دل نہ لگا۔ آپ نے اس دوران میں بہت محنت ومشقت برداشت کی۔ رزق حلال کے لئے چاول چھولوں کی ریڑھی بھی لگائی۔ پان، سگریٹ کا کھوکھا بھی چلایا۔ شیخ غلام علی اینڈ سنز لاہور کا معروف قدیمی اشاعتی ادارہ ہے۔ ان کا رسالہ جگنو شائع ہوتا تھا۔ اس میں پروف ریڈر کے طور پر صحافتی دنیا میں قدم رکھا۔ اس ادارہ کے لئے ”پیکٹ کا راز“ نام کا پہلا ناول لکھا۔ بس لکھنا پڑھنا کیا شروع کیا کہ دیکھتے ہی دیکھتے ایک سو سے زائد کتب اور آٹھ صد سے زائد ناول لکھ ڈالے۔ آپ نے اپنی خداداد صلاحیتوں سے ملک عزیز پاکستان میں لاکھوں افراد سے زائد ایک حلقہ قائم کیا۔
مختلف ڈائجسٹوں میں آپ کی کہانیاں چھپتی تھیں۔ ضرب مؤمن اور روزنامہ اسلام میں مستقل کالم بھی لکھتے رہے۔ عرصہ بارہ سال سے روزنامہ اسلام کے ہفتہ واری ایڈیشن ”بچوں کا اسلام“ کے ایڈیٹر کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ اشتیاق پبلی کیشنز کے نام پر اشاعتی ادارہ بھی قائم کیا۔ بچوں کے لئے ادب تخلیق کرنے میں آپ نے وہ خدمات سرانجام دیں جو ان کی زندگی کا خوبصورت باب قرار دیا جاسکتا ہے۔ مرحوم بہت ملنسار طبیعت کے مالک تھے۔ فقیر کا جھنگ جانا ہوا۔ ان کے محلہ کی ایک مسجد میں بیان تھا۔ یہ ١٩٨٤ء کے لگ بھگ کی بات ہے۔ فقیر کے لئے یہ اعزاز کی بات ہے کہ اس بیان میں الحاج اشتیاق احمد بھی موجود تھے۔ فقیر کا بیان قادیانیوں کے مظالم اور ان کی متشددانہ کارروائیوں پر تھا۔ آپ نے اس پر ایک ناول لکھ دیا۔ (یہ خود مرحوم نے فقیر سے ذکر فرمایا) ناول کیا لکھا کہ قادیانیوں کے پاؤں تلے سے زمین کھسکنا شروع ہوگئی۔ لالچ، دھونس، دھمکی کے حربوں پر اتر آئے۔ حاجی اشتیاق احمد بھی ایسی پختگی اور دلجمعی کے ساتھ اس محاذ پر چلے کہ بڑھتے ہی چلے گئے۔ وادی مرجان، جاپانی فتنہ، سازش کا اژدھا، باطل قیامت۔ کئی ناول لکھے۔ جاپانی فتنہ میں ”مرزا خاسر“ کردار نے اتنی شہرت پائی کہ قادیانی منہ لٹکائے اپنی بھٹ میں چلے گئے۔ نصف درجن کے قریب آپ کے رد قادیانیت پر ناول ہوں گے۔ مرحوم نے بچوں کے اسلام میں بھی عقیدہ ختم نبوت کے حوالوں سے لکھا اور خوب لکھا۔ پہلی بار اظہار کرتا ہوں کہ بچوں کے اسلام میں ختم نبوت کے حوالہ سے فقیر کے نام سے جو مواد نشر ہوا وہ
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
مرحوم کا تیار کردہ یا فراہم کردہ تھا۔ وہ خود لکھتے اور چھپنے کے بعد پتہ چلتا کہ فقیر کے نام سے شائع ہوا ہے۔ ان کی ان محبتوں سے سمجھا جا سکتا ہے کہ وہ راقم سے کتنی محبت فرماتے تھے۔
قادیانیوں نے جب مرزا قادیانی کی کتابوں کا سیٹ روحانی خزائن کے نام پر شائع کیا تو فقیر نے اس سیٹ پر حوالہ جات کی تلاش میں گرفت مضبوط کرنے کے ارادہ سے حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی ؒ کے رسالہ ”شرائط نبوت“ سے مرزا قادیانی کی الف سے یاء تک تمام گالیوں کے مجموعہ پر مشتمل حصہ کو اٹھایا اور اس پر خزائن کے حوالہ جات تخریج کر کے ٹھونک دیئے۔ اس حصہ میں حضرت کاندھلوی ؒ نے الف سے یاء تک ردیف وار مرزا کی وہ گالیاں جن کے ابتداء میں الف آتا ہے۔ پھر وہ گالیاں جن کے اوّل میں باء آتا ہے اسی طرح تک یاء جمع کر دی ہیں۔ مرزا ملعون کی سینکڑوں سے متجاوز ان گالیوں کے لئے مرزا قادیانی کی مختلف کتب کے حوالہ جات خزائن سے جمع کرنے پر کئی دن لگے۔ خیال ہوا کہ ان کو چھپنا چاہئے تو اس کا نام اور ابتدائیہ لکھنے کے لئے حضرت حاجی اشتیاق احمد کا انتخاب کیا اور ساتھ ہی لکھا کہ مؤلف کے طور پر آپ کا نام آجائے تو پڑھے لکھے طبقہ میں پڑھی جائے گی۔ موصوف نے اس کا نام ”حسن کلام“ تجویز کیا۔ نہ صرف ابتدائیہ لکھا بلکہ اپنے ادارہ کی جانب سے شائع بھی کیا۔ یہ ان کی فقیر سے محبت اور بے پایاں شفقت کی ایک مثال ہے۔
آپ ہومیو پیتھک کے ڈاکٹر بھی تھے۔ فون پر بیماری بتائی جاتی۔ اگلے دن دوائی ہاتھ میں ہوتی تھی۔ جو وہ ڈاک سے بھجوا دیا کرتے تھے۔ ختم نبوت کورس چناب نگر میں ایک بیان سالہا سال سے معمول تھا۔ تشریف لاتے تو مدرسہ ختم نبوت کے در و دیوار خوشی سے جھوم جاتے۔ شرکاء کورس کے چہروں پر خوشیوں کے آثار نمایاں ہوتے۔ آخر کیوں نہ ہو کہ وہ خوشیاں بانٹنے والے انسان تھے۔ آپ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی شوریٰ کے رکن حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب مرحوم کے دور سے چلے آرہے تھے۔ غرض وہ بہت ہی محبوب رہنما تھے اور ختم نبوت کے محاذ پر ان کی مثبت اور مسلسل پر امن جدوجہد ہم سب کے لئے مشعل راہ ہے۔ مثبت کام کو پذیرائی ملتی ہے اور اس کی دلیل حضرت الحاج اشتیاق احمد مرحوم تھے۔ بچوں کی دنیا کو عقیدہ ختم نبوت سے روشناس کرانے کے لئے ان کا کام آگے بڑھانا کس کے حصہ میں آتا ہے؟ یہ فیصلہ تاریخ کرے گی۔ لیکن ان کے جنازہ نے تو یہ فیصلہ کر دیا کہ ان کی تمام مساعی کو اللہ رب العزت نے شرف قبولیت سے نوازا ہے۔ فالحمد للہ !
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
(٢٠)
اشرف ہمدانیؒ (فیصل آباد)، مولانا محمد
(وفات: ١٥؍ جنوری ٢٠١٣ء)
حضرت مولانا محمد اشرف صاحب ہمدانی اصلاً ضلع اٹک کے رہائشی تھے۔ آپ کے والد گرامی کا شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان صاحب سے گہرا تعلق تھا اور آپ حضرت شیخ کا جامعہ تعلیم القرآن راجہ بازار راولپنڈی کے سلسلہ میں ہاتھ بھی بٹاتے تھے۔ چنانچہ والد صاحب نے مولانا محمد اشرف ہمدانی کو جامعہ تعلیم القرآن میں داخل کرا دیا۔ جہاں آپ نے علوم اسلامیہ کی تعلیم حاصل کی۔
مولانا محمد اشرف ہمدانی اشاعۃ التوحید کے حضرات سے محبانہ تعلق رکھتے تھے۔ آپ کا بیعت کا تعلق جانشین شیخ التفسیر حضرت مولانا عبید اللہ انور صاحب سے تھا۔ حضرت مولانا محمد اشرف ہمدانی عرصہ تک کمالیہ ضلع فیصل آباد میں خطیب رہے۔ ان دنوں ابھی ٹوبہ ضلع نہیں بنا تھا۔ مولانا بہت ہی قادر الکلام خطیب تھے۔ گفتگو جدید انداز میں کرتے تھے۔ مثلاً صحابی کی تعریف کے لئے وہ یہ پیرایہ اختیار کرتے ”جو نماز پڑھے اسے نمازی کہتے ہیں۔ جو حج کرے اسے حاجی کہتے ہیں جو جہاد میں کامیاب رہے اسے غازی کہتے ہیں۔ جس نے ایمان کی حالت میں آپ ﷺ کو دیکھا اور پھر زندگی بھر اس سعادت کو سنبھالے رہا۔ اسے صحابی کہتے ہیں۔“ یہ مولانا کی گفتگو اور عوامی انداز خطاب تھا یا مثلاً نسبت پر بولنا ہے۔ تو فرماتے تھے ”آج میں نے قرآن مجید اٹھایا۔ اس کا غلاف نیچے گر گیا۔ میرے نمازی دوڑ کر آئے۔ غلاف اٹھایا اور کہا ہمدانی صاحب آپ نے غضب کیا۔ غلاف نیچے گرا دیا۔ میں نے کہا کہ کیا ہوا۔ دو روپے کا کپڑا ہے۔ اس نے کہا کپڑے کو نہ دیکھو اس کی نسبت کو دیکھو۔ اوہو! میرا ماتھا ٹھنکا کہ یہاں بات قیمت کی نہیں نسبت کی ہے۔ اس کپڑے کی نسبت قرآن سے ہو گئی۔ اس کی قیمت اتنی بڑھ گئی کہ اب دنیا کے کپڑے اس پر قربان کر دیئے جائیں تو بھی اس کا حق نسبت ادا نہیں ہو سکتا۔ آج میں نے جلدی سے بھول کر جوتے سمیت مسجد میں قدم رکھ دیا۔ میرے نمازی نے کہا کہ مسجد میں جوتے سمیت قدم رکھا، کیا غضب ڈھا رہے ہو۔ میں نے کہا کہ صحن مسجد کی ہے تو اینٹ نا۔ دو آنے کی، یہ سڑک پر تھی، میرے گھر میں تھی، صدر مملکت کے محل میں تھی کسی نے جوتی نہیں اتاری۔ یہاں کیوں اتاریں؟ اینٹ نے میرا
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
منہ تکا اور زبان حال سے بولی ہمدانی صاحب میں قیمت میں دو آنے کی ہوں۔ میں بے قیمت مگر آپ کے گھر پر تھی۔ بازار و مکان پر تھی۔ صدر مملکت کے دفتر وزیر اعظم کے گھر پر تھی۔ اب میرا تعلق اللہ کے گھر سے ہو گیا ہے۔ اب ہمدانی کون ہے۔ یہاں عبدالقادر جیلانی آئے گا تو جوتی اتار کر۔ سید حسین احمد آئے تو جوتی اتار کر۔ یہاں ابوحنیفہ قدم رکھے تو خالی پاؤں آنا ہوگا۔ امام ابو حنیفہ نہیں، یہاں ابوبکر صدیق ؓ آئیں گے تو جوتے اتار کر آئیں گے۔ اوہو میری عقل نے مجھے جھنجھوڑ کر کہا ہمدانی اس اینٹ کا تعلق اب اللہ کے گھر سے ہے۔ اس کی قیمت کو نہ دیکھو اس کی نسبت کو دیکھو۔“
غرض اس طرح وہ بالکل محسوسات سے مثالیں لا کر ایسے خوبصورت سمجھانے کے انداز میں بات کرتے کہ چند منٹوں بعد اجتماع ان کی مٹھی میں ہوتا۔ مولانا محمد اشرف ہمدانی خوب مطالعہ کا ذوق رکھتے تھے۔ تیاری سے گفتگو کرنے کے خوگر تھے۔ یاد ہے کہ آپ نے حضرت مولانا سید محمد امین مخدوم پوری ؒ کے ہاں بیان کیا صدارت حضرت مولانا سید خورشید احمد صاحب ؒ عبدالحکیم والوں کی تھی۔ وہ بھی آپ کے خطاب پر خوشی سے جھوم اٹھے۔ کمالیہ سے فیصل آباد تشریف لائے۔ اب ان کی خطابت نے علاقہ بھر کے نامور خطیبوں میں ان کا شمار کرا دیا۔ پھر آپ کو جناح کالونی کی مرکزی جامع مسجد میں خطیب بنایا گیا۔ یہاں آپ نے فجر کے بعد درس قرآن مجید کا آغاز کیا۔ پورے قرآن مجید کے درس و ترجمہ کے کئی ختم کئے۔ ہر روز ان کے سامعین کی تعداد بڑھتی گئی۔ وہ اتنی بھر پور تیاری کر کے تشریف لاتے کہ جو ایک دفعہ ان کے درس میں شریک ہوا وہ اسیر ہو گیا۔ لوگ جوق در جوق شہر بھر سے جامع مسجد فجر کی نماز میں شریک ہوتے۔ نماز کے بعد تپائیاں لگائی جاتیں۔ قرآن مجید رکھے جاتے۔ باقاعدہ شاگردوں کی طرح نمازی سراپا مؤدب ہو کر قرآن مجید کھولتے۔ مولانا درس شروع کرتے تھے۔ کیا آپ کی وجاہت، کیا قد و کاٹھ، کیا آواز میں گرج، دلائل میں وزن، الفاظ میں ادب کی چاشنی، تعبیر کا نرالا انداز، گویا بولتے کیا تھے واقعتاً موتی پروتے تھے۔ آپ کے درس کی برکت سے ہزارہا گھرانوں میں قرآن مجید کی فہم نے ڈیرے ڈال دیئے۔ اکثر ترجمہ کے ختم پر جلسہ کا اہتمام کرتے۔ حضرت مولانا عبیداللہ انور ختم ترجمہ قرآن مجید کی تقریب میں مہمان خصوصی ہوتے۔ ایک بار اپنی مسجد میں عقائد علمائے دیوبند کانفرنس کرائی۔ کراچی سے خیبر تک دیوبندی مسلک کی تمام جماعتوں کے ذمہ دار رہنماؤں کو بلایا۔ دو دن رات جلسہ اس شان سے ہوا کہ پورے علاقہ میں ایک نئی روح پھونک دی گئی۔
١٩٧٠ء کے لگ بھگ غالبا باغ والی مسجد وہاڑی میں آپ کا بیان ہوا۔ آپ نے قادیانیت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ اس زمانہ میں قادیانی مست ہاتھی کی طرح بدحال ہو رہے تھے۔ نتیجہ میں مولانا محمد اشرف ہمدانی پر کیس ہوا۔ وہاڑی کے کیس اس زمانہ میں عدالتی کارروائی کے لئے ملتان آتے تھے۔ مولانا محمد اشرف ہمدانی صاحب ملتان تشریف لائے۔ ختم نبوت دفتر تشریف لائے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت نے کیس لڑا۔ مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھریؒ، مناظر اسلام مولانا لال حسین اخترؒ، فاتح قادیان مولانا محمد حیاتؒ، مولانا محمد شریف بہاولپوریؒ، مولانا عبدالرحیم اشعرؒ، مولانا محمد شریف جالندھریؒ، مولانا قاضی اللہ یار خانؒ، مولانا سید منظور احمد شاہ حجازیؒ سے ملنا ہوا تو اب اس ٹیم میں شامل ہو گئے۔ کراچی میں مجلس کے باضابطہ مبلغ رہے تو سندھ، بلوچستان تک آپ کی خطابت کے جوہر دنیا کے سامنے آئے۔
خوب یاد ہے کہ جس دن حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کا وصال ہوا۔ ظہر کے قریب وصال ہوا۔ حضرت ہمدانی صاحب ٩، ١٠ بجے ڈیرہ غازیخان سے بیان کر کے تشریف لائے تھے۔ حضرت جالندھریؒ لیٹے تھے۔ ہمدانی صاحب نے پاؤں دبانے شروع کئے۔ جلدی سے حضرت جالندھریؒ نے پاؤں سمیٹ لئے۔ مولانا ہمدانی صاحب کے بیساختہ آنسو ابل پڑے۔ حضرت جالندھریؒ نے بازو سے پکڑا پہلو میں بیٹھا کر فرمایا۔ ہمدانی صاحب! زندگی بھر جس نے میری خدمت کی۔ پہلے قومیت پوچھ کر پھر خدمت کی اجازت دیتا تھا۔ مبادا کہ کسی سید آل رسول سے پاؤں دبوانے کی خدمت نہ لے لوں۔ کہیں قیامت کو آپﷺ کے سامنے شرمندگی نہ ہو کہ میری اولاد سے خدمت لی تھی؟ تو آپ اس سے دلبرداشتہ کیوں ہوئے۔ حضرت جالندھریؒ کی اس شفقت سے ہمدانی صاحب کی طبیعت سنبھل گئی۔ ١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت کے مناظر فقیر راقم کی نظروں کے سامنے ہیں۔ ضلع فیصل آباد کے لئے تبلیغ کمیٹی بنی۔ دیوبندی حضرات سے مولانا ہمدانی، فقیر راقم، بریلوی حضرات سے مولانا عطاء محمد بندیالوی، مولانا شیر محمد سیالوی، اہل حدیث حضرات سے مولانا محمد اسحق چیمہ، مولانا محمد شریف اشرف فاضل مدینہ یونیورسٹی، شیعہ حضرات سے مولانا محمد اسماعیل گوجروی کے شاگرد اب کمالیہ جڑانوالہ، تاندلیانوالہ، سمندری، رجانہ، پیرمحل، بھلور، ماموں کانجن، ٹوبہ، گوجرہ، کھرڑیانوالہ، چک جھمرہ، پورے ضلع میں ختم نبوت کانفرنسوں کا جال بچھا دیا گیا۔ پورا ضلع تحریک ختم نبوت میں پورے ملک کی قیادت کرنے لگا۔ حضرت ہمدانی اور فقیر، قصور، بہاولنگر، جھنگ، ساہیوال تک کے
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
اضلاع میں تحریک کے جوبن کو جلا بخشنے کے لئے مارے مارے پھرتے تھے۔ کیا کیفیت جنون تھی جو بیٹھنے نہ دیتی تھی۔
حضرت ہمدانی صاحب سراپا باغ و بہار شخصیت تھے۔ جس مجلس میں ہوتے سراپا کشت زعفران بنا دیتے۔ اللہ رب العزت ان کو برزخ و آخرت میں بھی مسکراتا رکھیں گے۔ انشاء اللہ العزیز! مولانا ہمدانی صاحب عالمی مجلس کی مرکزی شوریٰ کے برسوں رکن رہے۔ آپ نے چناب نگر مدرسہ ختم نبوت، و جامع مسجد ختم نبوت کی تعمیرات کے لئے گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ اس کام کے لئے اتنی عرق ریزی کی کہ آج بھی اس کا نقشہ آنکھوں کے سامنے گھومتا ہے۔ تو دل ہمدانی صاحب کی محنت و لگن کے سامنے جھومنے لگ جاتا ہے۔ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کی استقبالیہ کے کئی بار صدر منتخب ہوئے۔ کانفرنس کے لئے سوئی سے لے کر سٹیج تک ہر معاملہ کو نبھاتے اور بھر پور نبھاتے۔ بلکہ حق یہ ہے کہ حق ادا کر دیتے۔ حضرت مولانا تاج محمودؒ، حضرت مولانا مفتی زین العابدینؒ، حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ، حضرت مولانا حافظ عبدالمجید نابیناؒ کا آپ کو اعتماد حاصل ہوتا تھا۔ یہ ان کی تمناؤں پر پورا اترتے تھے۔
مولانا تاج محمودؒ صاحب کی رحلت کے بعد انتظامیہ میں مسلک کے دوستوں کے تمام کام حضرت ہمدانی صاحب کے ذریعے ہوتے تھے۔ خوب طبیعت پائی تھی۔ ان کا دل مؤمن کا دل تھا۔ جس پر خوش ہوتے اسے آنکھوں پہ بٹھاتے۔ جس کے متعلق طبیعت میں کبیدگی ہوتی اسے ایسا سائیڈ پر لگاتے کہ اس کا دماغ شائیں شائیں کرنے لگ جاتا۔ چھ بیٹے ہیں۔ سب برسرروزگار ہیں۔ سب کو تعلیم سے بہرہ ور کیا۔ محمد حامد ہمدانی صاحب اب آپ کے جانشین بنے جو مدینہ یونیورسٹی کے بھی تعلیم یافتہ ہیں اور پنجاب یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ قصور میں خطیب ہیں۔
حضرت ہمدانی صاحب جناح کالونی سے ملت ٹاؤن آگئے۔ مسجد و مدرسہ قائم کیا۔ گھر بنایا اور پھر رفتہ رفتہ اسی ماحول کے ہو کر رہ گئے۔ تاہم دوستوں اور مسلکی دوستوں سے برابر رابطہ رہا۔ پہلے اہلیہ کا وصال ہوا۔ تو آپ کے حساس دل نے اس صدمہ کا بہت اثر لیا۔ خود بیمار ہوئے اور بلاوا آ گیا۔ شہر و ضلع نہیں، لاہور و قصور، پنڈی تک کی دینی قیادت جنازہ میں موجود تھی۔ عاشق رسول کا جنازہ اس دھج سے اٹھا کہ فلک بھی اس نظارہ سے جھوم اٹھا۔ اللہ تعالیٰ حضرت مرحوم کی بال بال مغفرت فرمائیں۔ آمین!
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
(٢١)
امین ؒ (راولپنڈی)، قاری محمد
(وفات : ١٧؍ جولائی ٢٠٠٥ء)
حضرت مولانا قاری محمد امین ؒ چھچھ ضلع اٹک کے مردم خیز علاقہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے علاقہ کے جید علماء کرام سے حاصل کی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بے پناہ خوبیوں سے نوازا تھا۔ ذہانت و فطانت، فہم و فراست، ذوق سلیم کے ساتھ بہت جری اور حق گو تھے۔ جب موقوف علیہ تک عربی تعلیم مکمل کر لی تو علم حدیث کی اعلیٰ تعلیم کے لئے دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے۔ یہ ١٩٤٠ء کا زمانہ تھا۔ قیام دارالعلوم دیوبند میں آپ نے حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ ، حضرت مولانا اعزاز علی ؒ اور پھر جامعہ امینیہ دہلی میں حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ ؒ جیسے نابغہ روزگار اور اتقیائے زمانہ سے کسب فیض کرتے ہوئے علم حدیث کی سند فراغ حاصل کی۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے لحنِ داؤدی عطا کیا تھا۔ حجازی سوز و وجد میں قرآن کریم کی تلاوت کیا کرتے تھے۔ زہے نصیب اور کمال سعادت مندی کہ اساتذہ کرام نے جامع مسجد دارالعلوم دیوبند میں جہری نمازوں کا امام مقرر فرمایا۔
١٩٤٨ء میں آپ نے راولپنڈی میں جامعہ عثمانیہ کی بنیاد رکھی۔ پاکستان میں سب سے بڑا فتنہ قادیانیت کا تھا۔ جس کے خلاف جدوجہد میں ١٩٥٣ء، ١٩٧٤ء، ١٩٨٤ء تین تحریکات میں مسلمانان پاکستان کے خاص و عام نے نہایت جانفشانی کا مظاہرہ کیا۔ قید و بند کی سخت تکالیف برداشت کیں۔ قاری صاحب ؒ پہلی تحریک ١٩٥٣ء میں نو ماہ قید میں رہے۔ بعد والی دونوں تحریکوں میں بھی بڑی جواں مردی سے حصہ لیا۔ تحریک نظام مصطفیٰ ﷺ جیسی تحریکوں میں حصہ لیتے رہے۔
قاری صاحب ؒ کا بیعت کا تعلق تازیست خانقاہ سراجیہ سے رہا۔ پہلے حضرت مولانا محمد عبداللہ لدھیانوی ؒ سے بیعت ہوئے۔ پھر حضرت مولانا خواجہ خان محمد ؒ سے تجدید بیعت کی۔ خانقاہ سراجیہ کے اس روحانی تعلق پر بدل و جان فریفتہ رہے۔ سیاسی تعلق جمعیۃ علماء اسلام سے تھا۔ اللہ تعالیٰ قاری صاحب ؒ کو اپنی عنایات کریمانہ سے نوازیں، لغزشوں کو معاف فرمائیں اور اپنے محبوب بندوں میں شامل فرمائیں۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
(٢٢)
انیس الرحمٰن لدھیانویؒ (فیصل آباد)، مولانا
(پیدائش: ١٩٢٠ء ...... وفات: ١٢؍اکتوبر ١٩٧٤ء) رئیس الاحرار حضرت مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانویؒ کے صاحبزادہ حضرت مولانا انیس الرحمٰن لدھیانویؒ تھے جو جامعہ مظاہر العلوم سہارنپور کے فاضل اور حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ کے شاگرد رشید تھے۔ حضرت مولانا انیس الرحمٰن صاحب کو حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ سے خلافت بھی حاصل تھی۔
تقسیم کے بعد خالصہ کالج فیصل آباد میں مسجد و مدرسہ قائم کیا جو آج جامعہ علمیہ کے نام پر کام کر رہا ہے۔ حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کا فیصل آباد میں قیام ان کے مدرسہ و مسجد میں ہوتا تھا۔ آپ حضرت رائے پوریؒ کے بہت ہی محبوب خلیفہ تھے۔ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے اپنی زندگی کی جو آخری مجلس شوریٰ تشکیل دی جس کا پہلا اجلاس آپ کی وفات کے بعد ہوا، اس شوریٰ کے آپ ممبر تھے۔ حضرت جالندھریؒ کی وفات کے بعد آپ نے شوریٰ کے اجلاس میں شرکت فرمائی۔ جس میں مولانا لال حسین اخترؒ کو مجلس کا امیر مقرر کیا گیا۔ مولانا انیس الرحمٰن لدھیانویؒ نے اس شوریٰ میں ریزولیشن منظور کرایا تھا کہ مجلس کے مبلغین حضرت مولانا عبدالعزیز رائے پوری چک ١١ والوں سے اصلاحی تعلق قائم کریں۔
(٢٣)
بلند اختر نظامیؒ (لاہور)، الحاج
(وفات: ١٣؍ستمبر ٢٠٠٨ء) بلند اختر نظامی جناب چوہدری محمد یوسف کے گھر ٩؍دسمبر ١٩٣٨ء کو لاہور میں پیدا ہوئے اور فلیمنگ روڈ مسجد ٹھنڈی میں آپ نے قرآن مجید کی تعلیم حاصل کی۔ مشنری سکول اور وطن اسلامیہ ہائی سکول برانڈرتھ روڈ سے تعلیم حاصل کی۔ نظامی صاحب نے لاہور شاہ عالمی میں ویسٹ پاک ٹریڈرز کے نام پر ١٩٥٥ء سے تیل کا کاروبار شروع کیا۔ مولانا سید جاوید حسین
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
ترندیؒ ساکن کلویا ضلع ٹوبہ، ان دنوں لاہور مجلس کے مبلغ تھے۔ آپ کی مساعی سے جناب نظامی صاحب ١٩٦٥ء سے مجلس تحفظ ختم نبوت کے شریک کاروان ہوئے۔ نصف صدی سے زائد عرصہ آپ مجلس سے وابستہ رہے۔ آپ نے مولانا حبیب اللہ امرتسری کے عزیز جناب حکیم ذوالقرنین صاحب کے ساتھ لاہور مجلس میں بطور ناظم اعلیٰ کے کام کیا۔ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ، حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ کے منظور نظر رہے۔ آپ نے ١٩٧٤ء اور ١٩٨٤ء کی تحریک ہائے ختم نبوت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ مجلس کے تمام کاموں میں دل و جان سے بڑھ چڑھ کر ایثار کرنے والے تھے۔ لاہور مجلس کی امارت کے ساتھ آپ مرکزی مجلس شوریٰ کے حضرت مولانا لال حسین اخترؒ کے عہد امارت سے رکن چلے آرہے تھے۔ آپ مجلس کی مرکزی مالیاتی کمیٹی کے رکن رکین بھی تھے۔
چنیوٹ اور پھر چناب نگر کی آل پاکستان ختم نبوت کانفرنسوں میں ہر سال باقاعدگی سے شریک ہوتے تھے۔ ایک اجلاس کی صدارت بھی کرتے تھے۔ قدرت نے آپ کو بہت ہی خوبیوں سے نوازا تھا۔ معاملہ فہم اور زیرک انسان تھے۔ مجلس کے ساتھ دل و جان سے آپ کی وابستگی قابل رشک تھی۔ آپ چناب نگر مجلس کی تعمیراتی کمیٹی کے رکن بھی رہے۔
گذشتہ کچھ عرصہ سے شوگر کے مرض نے آپ کو گھیر لیا۔ آخر وقت تک اللہ تعالیٰ نے کسی کا محتاج نہیں کیا۔ تین حج اور دو عمرے کرنے کی اللہ تعالیٰ نے توفیق دی۔ مسجد رحمانیہ اور مدرسہ رحمانیہ کی تعلیم میں کلیدی کردار ادا کیا۔ کلویا ضلع ٹوبہ میں والدہ کے ایصال ثواب کے لئے بچیوں کا مدرسہ قائم کیا۔ مدرسہ حسینیہ عزیز الاسلام بنگلہ دیش کے معاون خصوصی تھے۔ مساجد و مدارس کی مقدور بھر مدد کرتے تھے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے چھ صاحبزادے دیئے۔ فضل الرحمٰن، عتیق الرحمٰن، محمد عامر، محمد حامد، محمد احمد، محمد عمر فاروق۔ سب صاحبزادے تعلیم یافتہ اور اپنے اپنے کاروبار میں مصروف ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے والد کا جانشین بنائے۔ ١٣؍ ستمبر کے دن ظہر کے قریب آپ کا انتقال ہوا اور اسی روز بعد از عشاء آپ کا جنازہ ہوا۔ آپ کی وصیت تھی کہ میرا جنازہ مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماء پڑھائیں۔ حسب وصیت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔ رمضان المبارک کی مبارک ساعتوں میں دنیا سے دامن جھاڑ کر رحمت خداوندی کے دامن سے جا وابستہ ہوئے۔ حق تعالیٰ بال بال مغفرت فرمائیں۔ خوب مرد مومن تھے۔ مدتوں ان کی یادیں رہیں گی۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگارنگ
(٢٤)
تاج محمودؒ (فیصل آباد) ، مولانا
(پیدائش: ١٩١٧ء ...... وفات: ٢٠؍ جنوری ١٩٨٤ء)
حضرت مولانا تاج محمودؒ کے والد گرامی ہری پور ہزارہ کے گاؤں میلم کے رہائشی تھے۔ چنیوٹ کے قریب چک نولاں میں آ کر رہائش اختیار کی۔ یہ پاکستان بننے سے بہت پہلے کی بات ہے۔ اس زمانہ میں چنیوٹ شاہی مسجد کے خطیب کے نام پر اپنے صاحبزادہ مولانا تاج محمودؒ کا نام تجویز کیا۔ آپ نے سکول اور ابتدائی تعلیم اس علاقہ میں حاصل کی۔ اس دوران ہری پور والد گرامی کے ہمراہ جانا ہوتا تو والد گرامی ہزارہ کے اکابر علماء کے پاس تعلیم کے لئے آپ کو متوجہ کرتے۔ لیکن آپ اس پر آمادہ نہ ہوئے۔ اس دوران میں ایک بار آپ کو پٹواری کا کورس کرنے کا بھی شوق اٹھا۔ لیکن اسے ادھورا چھوڑ دیا۔ اس زمانہ میں جامع مسجد کچہری بازار فیصل آباد کے خطیب اور مدرسہ دارالعلوم قصبہ عبداللہ پور میں حضرت مولانا مفتی محمد یونس مراد آبادیؒ کا چرچا تھا۔ مولانا مفتی محمد یونسؒ حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کے ممتاز تلامذہ میں سے تھے۔ ان کے ہاں آپ نے دینی تعلیم حاصل کی۔ تعلیم کے دوران میں ریلوے کالونی فیصل آباد کے غریب ملازمین آپ کو ریلوے کالونی کی مسجد میں امامت کے لئے لائے۔ مسجد ایک تھڑا نما جگہ تھی۔ آپ نے چالیس سال تک اسی مسجد کی امامت و خطابت، مؤذن و خادم کے فرائض انجام دیئے۔ جمعہ کے روز آپ خود صفائی کرتے اور نہا دھو کر خود جمعہ پڑھاتے ۔ آپ کی اس ریاضت نے آپ کو رنگ لگا دیئے۔
اس زمانہ میں آزادی وطن کے لئے مجلس احرار الاسلام کا طوطی بولتا تھا۔ حضرت امیر شریعتؒ کی ایک تقریر سنی اور مجلس احرار الاسلام میں شامل ہو گئے۔ ایک وقت آیا کہ حضرت امیر شریعتؒ کے گنے چنے رفقاء اور قابل اعتماد ساتھیوں میں آپ کا شمار ہونے لگا۔ ریلوے کی اس مسجد کے عقب میں دو کمروں اور ایک بیٹھک پر مشتمل آپ کا مکان تھا۔ حضرت امیر شریعتؒ جب فیصل آباد تشریف لاتے تو یہاں قیام فرماتے۔ پاکستان بننے کے بعد جب متروکہ جائیداد لوگوں میں تقسیم ہوئی۔ تو آپ ایسے خدا مست متوکل علی اللہ تھے کہ اس میں ذرہ برابر توجہ نہ فرمائی۔ پاکستان بننے کے بعد مجلس تحفظ ختم نبوت کی حضرت امیر شریعتؒ اور آپ کے
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
گرامی قدر رفقاء نے بنیاد رکھی۔ اس قافلہ کے بھی آپ رکن رکین تھے۔ تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء میں آپ نے فیصل آباد میں قائدانہ کردار ادا کیا۔ لاہور شاہی قلعہ اور اٹک میں آپ نے کئی ماہ تک قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ فیصل آباد میں آپ نے نصرت الاسلام سکول قائم کیا۔ جو آج بھی قائم ہے۔
٢٠؍ مارچ ١٩٦٤ء کو آپ نے فیصل آباد سے ہفت روزہ لولاک جاری کیا جس نے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے گرانقدر سنہری خدمات انجام دیں۔ تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء آپ کی بیدار مغزی اور قائدانہ شان سے چلی۔ تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء میں آپ صف اوّل کے رہنما تھے۔ اس کے نتیجہ میں ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا گیا اور مسلم کالونی قائم ہوئی۔ تب حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ اور آپ نے جامع مسجد و مدرسہ کے لئے نو کنال پر مشتمل پلاٹ مجلس کے لئے حاصل کیا۔ ١٩٧٥ء کے اوائل میں پہلے ربوہ کمیٹی کے تھڑا پر نمازوں کا آپ نے اہتمام کیا اور پھر ریلوے اسٹیشن چناب نگر پر جامع مسجد محمدیہ تعمیر کرائی۔ پہلی اینٹ سے افتتاح کی تختی تک برابر آپ کی کوششوں کا اس میں قائدانہ حصہ ہے۔ حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ اور جناب آغا شورش کاشمیریؒ آپ کے جگری دوست تھے۔ ان حضرات کے بعد قادیانیت کا سیاسی احتساب آپ کے حصہ میں آیا۔ پورے ملک میں احتساب قادیانیت اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے آپ کی ذات گرامی بطور نشان منزل کے سمجھی جاتی تھی۔ آپ نے سرکاری افسران میں قادیانیت کے مکروہ عزائم اور کفریہ عقائد کو طشت از بام کرنے میں مثالی کردار ادا کیا۔ عمر بھر آپ اتحاد بین المسلمین کے داعی اور علمبردار رہے۔ حق تعالیٰ نے آپ کو خوبیوں کا مجموعہ بنایا تھا۔
قیام پاکستان کے بعد سالانہ آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ میں آپ کا وجود بنیادی کردار کا حامل رہا۔ تحریک ختم نبوت ١٩٨٤ء کی داغ بیل آپ نے ڈالی۔ وفات سے ایک روز قبل آخری میٹنگ آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت میں آپ شریک تھے۔ میٹنگ کے اگلے روز ٢٠؍ جنوری جمعہ کو آپ کو دل کی تکلیف ہوئی۔ سول ہسپتال لے گئے۔ لیکن وقت موعود آن پہنچا۔ دوسرے دن دھوبی گھاٹ کے گراؤنڈ میں آپ کی نماز جنازہ پڑھی گئی۔ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ کی قیادت میں لاکھوں افراد نے نماز جنازہ ادا کرنے کی سعادت حاصل کی۔ اپنی قائم کردہ جامع مسجد ریلوے کالونی کے کونہ میں محو استراحت ہیں۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء کی کہانی مولانا تاج محمودؒ کی زبانی
پاکستان میں خواجہ ناظم الدین کا دور اقتدار تھا، دستور پاکستان کی تدوین زیر بحث تھی، حکمران اپنی شخصی حکومتوں کی عمریں لمبی کرنے کے لئے ملک کو دستور دینے میں ٹال مٹول سے کام لے رہے تھے، بالآخر خواجہ ناظم الدین کے زمانے میں دستور کے بنیادی اصولوں کی کمیٹی کی رپورٹ (بی۔پی۔سی رپورٹ) شائع ہوئی، اس رپورٹ میں ملک کے لئے جداگانہ طریقہ انتخاب تجویز کیا گیا تھا، اقلیتوں کی نشستیں الگ مخصوص کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، اقلیتوں کی تعداد اور ان کے ناموں کا نقشہ بھی اس رپورٹ میں شائع کیا گیا، دکھ کی بات یہ تھی کہ قادیانیوں کو مسلمانوں میں شمار کیا گیا تھا، حالانکہ پہلے سے ہی مسلمانوں کا مطالبہ تھا کہ مرزائیوں کو مسلمانوں میں شامل نہ کیا جائے بلکہ ان کو علیحدہ غیر مسلم اقلیتوں میں شمار کیا جائے۔
اس رپورٹ کے آنے کے کچھ دنوں بعد دسمبر ١٩٥٢ء میں چنیوٹ میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس تھی، انہی دنوں مرزائی جماعت کا بھی ربوہ میں سالانہ جلسہ جسے وہ ظلی حج سمجھتے ہیں، انعقاد پذیر تھا، ان دنوں مرزائی جماعت کا سربراہ مرزا بشیر الدین محمود تھا، جس نے پہلے سے اعلان کر رکھا تھا کہ: ”١٩٥٢ء کے ختم ہونے سے پہلے پہلے ایسے حالات پیدا کر دیئے جائیں کہ احمدیت کے تمام دشمن ہمارے قدموں میں آ گریں۔“
٢٦، ٢٧، ٢٨ دسمبر کو چنیوٹ کی ختم نبوت کانفرنس ہے، ١٩٥٢ء کے گزرنے میں تین دن باقی ہیں، مرزا بشیر الدین کا ”اعلان“ ناکام ہو گیا ہے، مرزائیت کے احتساب کا شکنجہ مزید کس دیا گیا ہے، مرزا بشیر الدین کے اعلان کا جواب دیتے ہوئے حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے پرجوش الہامی تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ: ”اے مرزا محمود ! ١٩٥٢ء تیرا تھا، اور اب ١٩٥٣ء میرا ہوگا۔“ اس سے قبل مرزائیوں کی جارحانہ ارتدادی سرگرمیوں کے باعث پورے ملک کے مسلمانوں میں شدید اشتعال تھا، پوری پاکستانی مسلمان قوم مرزائیت کی جارحیت پر فکرمند تھی، اسی ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ کے موقع پر ایک بند کمرے میں جماعت کے رہنماؤں کا ایک خصوصی غیر رسمی اجلاس منعقد ہوا، جس میں مجھے (مولانا تاج محمود) بھی شامل ہونے کی سعادت حاصل ہوئی۔ اجلاس میں طے پایا کہ مرزائیوں کی جارحیت دماغ کی خرابی کی حد تک پہنچ گئی ہے، جس کا سد باب کرنا ضروری ہے۔ بی۔پی۔سی رپورٹ کی رو سے خدا اور رسول کے نام پر حاصل کردہ ملک کے دستور میں مرزائیوں کو مسلمان شمار کیا جا رہا ہے، اس لئے حکومت کے ساتھ
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
مذاکرات کئے جائیں، اسے راہ راست پر لانے کی کوشش کی جائے، لیکن حکومت کے رویے سے اندازہ یہی ہوتا ہے کہ وہ راہ راست پر نہیں آئے گی، لہٰذا تمام مکاتب فکر کے علماء کو اس مہم میں شریک کیا جائے، موسم سرما ختم ہوتے ہی ان کا اجلاس بلایا جائے اور آئندہ کے لائحہ عمل پر سوچ و بچار کر کے فیصلے کئے جائیں۔
میں (مولانا تاج محمود) ان دنوں میں ایم سی ہائی سکول لائل پور میں صدر مدرس تھا، چنیوٹ کی اس میٹنگ میں مجھے شیخ حسام الدینؒ اور مولانا محمد علی جالندھریؒ نے حکم دیا کہ تم یا تو سکول کی ملازمت سے استعفیٰ دے دو یا پھر یہ کہ لمبے عرصے کی چھٹی لے لو تاکہ قادیانیت کے اس فتنے سے امت کو بچانے کے لئے نئے مرحلے میں آزادی کے ساتھ کام کر سکو، چنانچہ میں نے چھٹی لے لی۔
پورے ملک میں تمام رفقاء نے تمام مکاتب فکر کے علماء و مشائخ سے رابطہ قائم کر کے ان کو قادیانیت کے مسئلے کی سنگینی کی طرف توجہ اور ذمہ داری کا احساس دلایا۔ جنوری ١٩٥٣ء کے آخر میں آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا ایک اجلاس کراچی میں منعقد ہوا، جس میں فیصلہ ہوا کہ خواجہ ناظم الدین پر اتمام حجت کے لئے ایک ماہ کا نوٹس دیا جائے، اگلے روز ایک وفد پیر سرسینہ شریف (مشرقی پاکستان) کی قیادت میں خواجہ ناظم الدین سے ملا۔
- .......١ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔
- .......٢ سر ظفر اللہ خان مرتد اعظم کو وزارت خارجہ سے ہٹایا جائے۔
- .......٣ ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔
- .......٤ مرزائیوں کو کلیدی عہدوں سے برطرف کیا جائے۔
یہ مطالبات پیش کئے، خواجہ صاحب نے وفد سے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ ظفر اللہ خان کو ہٹانے اور مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے سے امریکا، پاکستان سے ناراض ہو جائے گا اور ہر قسم کی امداد بند کر دی جائے گی۔
وفد نے ایک تحریری نوٹس ان کو پیش کیا، جس میں درج تھا کہ اگر حکومت نے ایک ماہ کے اندر ہمارے یہ خالصتاً دینی مطالبات تسلیم نہ کئے تو اسلامیان پاکستان مرزائی جارحیت کے خلاف راست اقدام کرنے پر مجبور ہوں گے، اور مجلس عمل کی قیادت میں تحریک چلائی جائے گی۔
اواخر فروری ١٩٥٣ء میں دوبارہ آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا کراچی میں اجلاس منعقد ہوا، چونکہ حکومت نے مطالبات تسلیم نہیں کئے تھے، اس لئے تحریک راست
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
پروگرام چلانے کے فیصلے پر عمل درآمد کا اعلان کیا گیا۔
تفصیل یہ طے کی گئی کہ پانچ پانچ رضا کاروں کے دو دستے یومیہ مظاہرہ کرنے کے لئے سڑکوں پر نکلیں، پانچ رضا کاروں کا ایک دستہ خواجہ ناظم الدین کی کوٹھی پر جا کر مظاہرہ کرے، اور دوسرے پانچ رضا کاروں کا دستہ ملک غلام محمد گورنر جنرل کی کوٹھی پر جا کر مظاہرہ کرے۔ دو دستوں کے جانے کا فیصلہ اس لئے کیا گیا کہ صرف خواجہ ناظم الدین کی کوٹھی پر جا کر مظاہرہ کرنے سے تحریک کے دشمن یہ تاثر نہ دے سکیں کہ یہ تحریک مغربی پاکستان کے لوگ بنگالی وزیر اعظم کے خلاف چلا رہے ہیں۔ یہ بھی طے کیا گیا کہ جلوس پر رونق اور پر ہجوم راستوں اور سڑکوں سے نہ جائیں تاکہ ٹریفک میں رکاوٹ کا مسئلہ پیدا نہ ہو، اور حکومت کو شر انگیزی کرنے کا موقع میسر نہ آئے۔
٢٧ فروری ١٩٥٣ء کی رات کو مجلس عمل کے تمام رہنما جن میں مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، مولانا ابوالحسنات محمد احمد قادریؒ، عبدالحامد بدایونیؒ، مولانا لال حسین اخترؒ، سید مظفر علی شمسیؒ اور دوسرے بیسیوں رہنما شامل تھے، کراچی میں گرفتار کر لئے گئے۔
٢٨ فروری کو پنجاب اور ملک کے دوسرے حصوں میں سینکڑوں رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاری عمل میں آئی۔
٢٨ فروری کو لائل پور میں دوسرے شہروں کی طرح مجلس عمل کی اپیل پر ان رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف تاریخ ساز ہڑتال کی گئی، دھوبی گھاٹ میں لاکھوں انسانوں کا اجتماع منعقد ہوا۔ حضرت مولانا مفتی محمد یونس مراد آبادیؒ، مولانا حکیم حافظ عبدالمجیدؒ، صاحبزادہ ظہور الحقؒ، سید صاحبزادہ افتخار الحسنؒ، مولانا عبید اللہ احرارؒ اور بندہ تاج محمودؒ و دیگر حضرات کے بیانات ہوئے۔ لوگوں نے ہر قسم کی قربانیاں دینے کا عہد کیا۔ اگلے روز تحریک شروع ہو گئی، لائل پور مجلس عمل کا صدر بندہ تاج محمودؒ کو بنایا گیا، قادیانیت کے خلاف مسلمانوں کا جوش و جذبہ قابل دید تھا، چہار طرف سے تحریک کے الاؤ کو روشن کرنے کے لئے مسلمان اپنی جانوں کا نذرانہ تک دینے کو تیار تھے، حکومت نے دھوبی گھاٹ پر قبضہ کر لیا، ہم نے تحریک کا مرکز لائل پور کی مرکزی جامع مسجد کچہری بازار کو بنا لیا، شہر اور ضلع بھر کے دیہات سے ہزاروں رضا کار جمع ہونا شروع ہو گئے، مسجد اور اس کی بالائی منزل رضا کاروں سے بھرنے لگی، صبح نو بجے اور تین بجے مسجد میں جلسے ہوتے، سو رضا کاروں کا دستہ صبح اور سو رضا کاروں کا دستہ سہ پہر
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگارنگ
اپنے آپ کو گرفتاری کے لئے پیش کرتا ، جلوس اس شان سے نکلتا کہ اس پر فرشتے بھی رشک کرتے ہوں گے، محمد عربی ﷺ کی ذات اقدس کے حوالے سے چلنے والی تحریک میں رضا کاروں، کارکنوں، رہنماؤں غرضیکہ ہر عام و خاص کا جذبہ عشق ختم نبوت قابل دید تھا، ہر آدمی بازی لے جانے اور شفاعت محمدی کا پروانہ حاصل کرنے کے لئے بے تاب تھا۔
کچھ دنوں تک تو حکومت رضا کاروں کو گرفتار کرتی رہی لیکن بعد میں چند رضا کاروں کو گرفتار کر لیا جاتا اور اکثر رضا کاروں کو بسوں میں بٹھا کر تیس چالیس میل دور لے جا کر جنگلوں میں چھوڑ دیا جاتا۔
اہم واقعہ
میرا دفتر جامع مسجد کی اوپر کی منزل پر قائم تھا، ہر روز رات کو دس گیارہ بجے کے قریب کرفیو کے اوقات میں نکلتا، ساتھ میرے عزیز دوست فیروز اقبال کا گھر ہے، وہاں جاتا، بچیاں کھانا لا کر دیتیں، دو چار لقمے زہر مار کرتا یہاں تک تو میرے معتمد خاص کو علم ہوتا تھا کہ مولانا اس وقت کہاں ہیں؟ یہاں سے رات کے اندھیرے اور کرفیو کی حالت میں اکیلے چھپتے چھپاتے اپنی بہن کے گھر واقع کچی آبادی مال گودام کے دوسری طرف پہنچتا، یہ سفر میرے لئے انتہائی کٹھن ہوتا، ذرا سی آہٹ کا جواب گولی ہو سکتا تھا۔ ایک اور دوست کے ہاں جانا ہوتا، یا پھر اپنی مسجد ریلوے کالونی میں آکر تھوڑی دیر آرام کرتا، صبح فجر کی اذان سے پہلے کچہری بازار کی مسجد میں واپس آجاتا، رضا کاروں کے ساتھ نماز پڑھتا، ہر روز میرا یہی معمول تھا۔
میرے دو شاگرد ایک ڈپٹی کمشنر کا اسٹینو گرافر تھا، اور دوسرا پولیس کے دفتر میں ملازم تھا، ان دونوں کا ذہن ، قلب و جگر تحریک مقدس ختم نبوت کے ساتھ تھا، وہ ہر روز عشاء کی نماز کے بعد آتے اور خفیہ حکومتی ارادوں، پروگراموں کی رپورٹ سے مجھے مطلع کرتے، ان میں سے ایک آج کل فیصل آباد کے معروف ایڈووکیٹ ہیں، دوسرے اللہ رب العزت کو پیارے ہو گئے ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت کرے کہ وہ تحریک کے لئے بہت مخلص تھے، انہوں نے مجھے بتایا کہ آج آپ کے جلوس کے ساتھ ایک کی بجائے دو مجسٹریٹوں کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔ میں حیران ہوا کہ ہمارا تو روز کا معمول ہے اور حکومت کا بھی کہ ایک مجسٹریٹ ہوتا ہے، آخر یہ دو مجسٹریٹوں کی کیوں ڈیوٹی لگائی گئی ہے؟ دوسرا یہ کہ ہمارا جلوس تو دن کو ہوتا ہے رات کے وقت تمام رضا کار سوئے ہوتے ہیں ، رات کو جلوس اور مجسٹریٹوں کی ڈیوٹی یہ کیا ماجرا ہے؟ میں سوچ میں پڑ گیا کہ یہ
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
جلوس کون نکالے گا؟ کہاں سے آئے گا؟ میں نے اپنے معتمد خاص سے کہا کہ: ”آج رات مسجد کے تمام دروازے اچھی طرح بند کر کے تالے لگا دیں، اور نصیحت کر دیں کہ رات کو کوئی رضا کار ہرگز باہر نہ جائے ۔“ میں یہ ہدایت دے کر باہر آ گیا ، حسب معمول اقبال فیروز کے گھر گیا ، کھانا سامنے رکھا گیا کہ جلوس کے نعروں کی آواز سنائی دی، میں متوجہ ہوا، ہجوم ”مرزائیت مردہ باد“ اور ”ختم نبوت زندہ باد“ کے نعرے لگاتا ہوا مسجد کی طرف بڑھ رہا تھا۔ مسجد کے قریب آ کر جلوس نے مسجد کے دروازوں کو بند پایا، اردگرد کا چکر لگایا، جب چکر لگا کر چترال ہاؤس کے قریب آیا تو یک دم فائر کی آواز سنائی دی، میں حیران تھا کہ یہ لوگ کون ہیں؟ کہاں سے آئے ہیں؟ گولی کس نے چلائی؟ گولی کس کو لگی ہے؟ کون زخمی ہوا؟ کون مرا؟ کہیں اس میں میرے رضا کار تو شریک نہیں؟ میں واپس مسجد آیا رضا کاروں کے بارے میں دریافت کیا، معلوم ہوا کہ ہمارا کوئی رضا کار اس میں شریک نہ تھا، مگر باہر گولی لگنے سے چار، پانچ آدمی جاں بحق اور بہت سارے زخمی ہوئے، ہم لوگ جو پوچھتے کچھ پتا نہ چلتا، کافی عرصہ گزر گیا، میں گرفتار ہوا، قید ہوئی، قید کاٹ کر، رہا ہو کر بھی آ گیا، مگر یہ راز نہ کھلا۔
یہ انکشاف اس وقت ہوا کہ وہ کون تھے؟ جنھوں نے اس رات جلوس نکالا تھا، اور پولیس نے ان کو گولیوں سے بھون کر رکھ دیا تھا۔
ہوا یوں کہ شہر کے ایک شخص کو قتل کے مقدمے میں سیشن کورٹ سے سزائے موت ہوئی، ہائی کورٹ و سپریم کورٹ سے بھی مقدمہ خارج ہوا، صدر نے رحم کی اپیل مسترد کر دی، سزائے موت پر عمل درآمد کا وقت قریب آیا تو سپرنٹنڈنٹ جیل نے آخری خواہش پوچھی ، تو اس نے جواب دیا کہ: میں ایک راز سے پردہ اٹھانا چاہتا ہوں، کہ میں اس مقدمۂ قتل میں بے قصور ہوں، مگر یہ سزائے موت جو مجھے دی جا رہی ہے، یہ فلاں رات تحریک ختم نبوت کے سلسلے میں جلوس نکال کر چار، پانچ نوجوانوں کو موت کی آغوش میں دھکیلنے کی پاداش میں پا رہا ہوں۔ اس نے انکشاف کیا کہ پولیس کی سازش سے یہ جلوس نکالا گیا، پولیس کی پلاننگ یہ تھی کہ میں (سزائے موت پانے والا) محلے کے چند بچوں اور نوجوانوں کو اکٹھا کر کے جلوس نکالوں، نعرے لگاتے ہوئے مسجد میں آئیں، وہاں طے شدہ پروگرام کے مطابق جلوس مسجد کے گرد چکر لگائے، نعرے بازی کرے، اسی اثنا میں مجلس عمل کے رضا کار جلوس میں شامل ہو جائیں گے، پولیس ان میں سے چند کو گولیوں کی بوچھاڑ سے ٹھنڈا کر دے گی، باقی رضا کار خوف زدہ ہو کر دب جائیں گے اور یوں تحریک کو ٹھنڈا کر دیا جائے گا۔ میں ان بچوں کو ڈگلس پورہ اور اس کے اردگرد سے مٹھائی کا لالچ
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
دے کر لایا تھا، اور جلوس کی شکل میں وہاں لاکر پولیس کے لئے تر نوالہ مہیا کیا، ان کا یہ قتل میرے ذمے ہے، میں اس قتل کی سزا پارہا ہوں۔
یہ تھی دوسری بار گولی چلنے کی داستان، اس سے قبل بھی لائل پور میں گولی چلی تھی، مجلس عمل کے ایک سو کے قریب رضا کار لائل پور سے کراچی جارہے تھے، جیسے ہی ٹرین روانہ ہوئی فوراً ہی اسٹیشن کی حدود سے نکلنے سے پہلے ہی روک لی گئی، اور رضا کاروں کو منتشر ہونے کا حکم دیا گیا، رضا کار ڈٹ گئے، ان کے پاس ڈنڈے تھے اور پولیس کے پاس گولی تھی، پولیس نے اندھا دھند فائرنگ کی، بیسیوں رضا کار شہید ہوگئے، کئی لاشیں پولیس نے موقع سے اٹھا کر غائب کردیں، ہمارے ہاتھ پانچ لاشیں آئیں، جب اس اندوہ ناک واقعے کی اطلاع ملی، میری کمر ٹوٹ گئی، میرے سامنے کربلا کی فلم چلنے لگی، غم سے نڈھال ہوگیا، وحشت عود آئی، دل آنسو بہا رہا تھا، دماغ پھٹنے کو ہوگیا، ضمیر بے رحم حکمرانوں کو کوس رہا تھا، آنکھیں پتھرا گئیں، اقبال کا یہ مصرعہ ڈھارس بندھا رہا تھا:
لاشیں اسٹیشن سے مسجد میں لائی گئیں، چار کی شناخت ہوگئی، ان کے لواحقین کو اطلاع کردی گئی، وہ آگئے، ایک نوجوان لڑکے کی لاش ہم سے شناخت نہ ہوسکی اور نہ ہی اس کے لواحقین کا پتا چلا۔ شام چھ بجے کے قریب میرے پاس ایک آدمی آیا، اس نے بتایا کہ یہ لاش سمندری روڈ کی ہے، آپ ہمیں لاش لے جانے کی اجازت دے دیں، میں نے اس سے پوچھا کہ: ”بھائی تمہارا کیا رشتہ ہے؟ اس کے والدین کیوں نہیں آئے؟“ اس نے کہا کہ: ”جی انہوں نے مجھے بھیجا ہے!“ میں نے کہا کہ: ”یہ ہمارے پاس قوم کی امانتیں ہیں، میں ان کو کسی اور کے حوالے نہیں کرسکتا!“ اس نے کوئی جواب نہ دیا اور چلا گیا۔
اس سے پہلے مجھے کسی شخص نے بتایا کہ یہ لاش پراسرار ہے، اب میرے خدشات بڑھنے لگے کہ آخر ان کے والدین خود کیوں نہیں آئے؟ ضرور کوئی بات ہے۔ ہم نے سب لاشوں کو غسل دیا، کفن کا انتظام کرکے شہر میں اعلان کرادیا کہ صبح ساڑھے نو بجے دھوبی گھاٹ اقبال پارک میں نماز جنازہ پڑھائی جائے گی، جنازے کی چارپائیوں کے ساتھ بڑے بڑے بانس باندھ کر زیادہ سے زیادہ لوگوں کو آخری کندھا دینے کی سعادت حاصل کرنے کا انتظام کیا گیا، جنازے اٹھا کر جلوس کی شکل میں دھوبی گھاٹ لائے گئے، جنازے بالکل تیار تھے، صفیں درست کی جارہی تھیں کہ وہی آدمی پھر آیا اور کہنے لگا کہ: ”اس کے والدین آئے ہیں، ذرا منہ دکھاؤ“ دو
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
عورتیں اور ایک مرد تھا، آخری زیارت کے لئے میں نے اس کے منہ سے کفن ہٹا دیا، مرد اس کا باپ تھا، وہ لاش کے قدموں کی طرف کھڑا تھا، ایک عورت جو ماں تھی اس نے لڑکے کا منہ چوما اور روتی روتی بے ہوش ہو گئی، دوسری عورت اس کی بیوی تھی، چند ماہ پہلے شادی ہوئی تھی، وہ اس کے قدموں کی طرف گئی، جھک کر اس کے پاؤں چومے اور پھر بے ہوش ہو گئی، ہوش آنے پر دو تین منٹ کے بعد ان کو ہٹا دیا گیا، وہ چلے گئے، جنازہ پڑھا گیا، جنازہ پڑھنے کے لئے سارا شہر امڈ آیا تھا، ارد گرد کے دیہاتوں کے لوگ بھی بہت بڑی تعداد میں جنازے میں شریک ہوئے، اتنا بڑا ہجوم لائل پور کی تاریخ میں کبھی دیکھنے میں نہیں آیا، یہاں بڑے بڑے لیڈر آئے ، ان کے جلوس میں نے چشم خود دیکھے، مگر اتنا رش اس سے پہلے اور اس کے بعد آج تک نہیں دیکھا۔ گراؤنڈ پوری بھر چکی تھی، باہر کی تمام سڑکیں بھر چکی تھیں، گورنمنٹ کالج کی طرف جھنگ روڈ تک صفیں تھیں، ادھر بھوانہ بازار سامنے نالے کی چھت پر اور اس کے پیچھے گلیوں تک اجتماع تھا، بھلا اندازہ کیجئے کہ جن شہیدوں کو رخصت کرنے والے اتنے لوگ ہوں گے، ان کی آگے خدا تعالیٰ کے ہاں کیسی پذیرائی ہوئی ہوگی ......!
جب میں جیل کاٹ کر سوا سال بعد رہا ہو کر آیا تو اکثر شام کو بٹ گڈز والے قاضی جلال الدین کے ہاں بیٹھتا تھا، ان کے ہاں ایک دن شام کو ایک شخص نے مجھ سے پوچھا کہ: ” آپ کی تحریک میں جاں بحق ہونے والا ایک لڑکا قادیانی تھا“ میں نے کہا کہ: ”میں یقین سے نہیں کہہ سکتا ۔“ اس نے بتایا کہ: ایک دفعہ میں ملتان کسی فیکٹری میں مالکوں کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ آپ کی تحریک کی باتیں شروع ہو گئیں، شہیدوں کا ذکر آیا تو ایک بوڑھا جو پاس کھڑا تھا وہ دھڑام سے گرا اور بے ہوش ہو گیا، تھوڑی دیر بعد ہوش آیا تو مالکوں کے اصرار پر اس نے بتایا کہ اس تحریک میں اس کا بیٹا بھی مارا گیا تھا، بس وہ لڑکوں کے ساتھ چلا گیا تھا، بعد میں اس کے والدین کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ قادیانی ہیں، اندر کے حالات اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں کہ وہ لڑکا قادیانی تھا یا نہیں؟ بہرحال میں نے آج تک اس کو قادیانی نہ لکھا، نہ کہا، (ممکن ہے کہ قادیانی ہو اور تحریک کو تشدد کے راستے پر ڈال کر سبوتاژ کرنا اس کا مشن ہو، اور یا کہ قادیانی خاندان کے باوجود وہ خود مسلمان ہو اور جذبۂ عشق رسالت مآب ﷺ کے پیش نظر جلوس میں شریک ہوا ہو، تاہم اس کی حقیقت اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں) عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ یہ لڑکا گاڑی کے انجن پر کھڑا تھا، اس نے گریبان کھول کر اور سینہ تان کر پولیس سے گرج دار آواز میں مخاطب ہو کر کہا تھا کہ: ”یہاں گولی مارو!“ پولیس والے ظالم نے وہیں گولی داغ دی، بس وہ ایک ہی جست میں نیچے گرا
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
اور روح پرواز کر گئی۔ میں کچھ نہیں کہہ سکتا، ممکن ہے کہ قادیانی نہ ہو، اس نے جذبہ ایمانی سے سرشار ہو کر اسلام کی سربلندی کے لئے گولی کھائی ہو، یہ سربستہ راز جاننے والی قوت اللہ تعالیٰ رکھتے ہیں، اس کا عقدہ روز محشر کھلے گا۔
میری گرفتاری
میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت لائل پور کا صدر تھا، حضرت مولانا مفتی محمد یونس ؒ، مولانا حکیم حافظ عبدالمجید نابینا ؒ، صاحبزادہ ظہور الحق ؒ، مولانا محمد صدیق ؒ، صاحبزادہ سید افتخار الحسن ؒ، مولانا محمد یعقوب نورانی ؒ، مولانا عبدالرحیم اشرف ؒ اور دیگر حضرات مجلس عمل کی عاملہ کے رکن تھے، مجلس عاملہ کے پہلے ہی اجلاس میں فیصلہ کر لیا گیا تھا کہ باقی سب حضرات رضا کاروں کے دستوں کی قیادت کرتے ہوئے خود کو گرفتاری کے لئے پیش کریں گے، لیکن میں (مولانا تاج محمود) تحریک کو جاری اور منظم رکھنے کے لئے گرفتاری نہ دوں، مجلس عمل کا دفتر جامع مسجد کی بالائی منزل پر تھا، کم و بیش پانچ ہزار رضا کار گرفتاری دینے کے لئے اپنی باری کے انتظار میں مسجد میں جمع رہتے تھے، صبح و شام دو سو رضا کار یومیہ گرفتاری دے رہے تھے، جامع مسجد میں جلسہ ہوتا تھا، ہر طرف ختم نبوت کی بہاریں ہی بہاریں تھیں، یہ سلسلہ پندرہ دن جاری رہا، پندرھویں یا سولہویں دن یہاں کے ڈپٹی کمشنر سبط حسن کے حکم سے مسجد کی بجلی و پانی منقطع کر دیا گیا۔
دوسرے روز جامع مسجد میں جلسہ ہوا، میں نے پانی و بجلی کے منقطع کرنے پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ: ”سبط حسن تم سید ہو، اور اس فرقے سے تعلق رکھتے ہو جو ١٣٥٠ سال سے کربلا میں پانی کی بندش اور حضرت حسین ؓ کی شہادت کا ”ہائے حسین ؓ! ہائے حسین ؓ“ کہتے ہوئے ماتم کرتا ہے، کم از کم تیرے لئے یہ مناسب نہ تھا، اگر تیری ماں کو مسجد کے پانی و بجلی کے منقطع کرنے کے تیرے اس کارنامے کا علم ہوتا تو وہ تیرا نام ”سبط حسن“ کی بجائے ”ابن یزید“ رکھتی۔“
اس تقریر کی رپورٹ پہنچنے پر میجر سبط حسن ڈی سی لائل پور میرا ذاتی و جانی دشمن ہو گیا، اور اس نے حکم دے دیا کہ مجھے بہرطور گرفتار کر لیا جائے، پہلے نرمی اور حکمت عملی سے پھانسنا چاہا، رانا صاحب ایس پی جو تحریک سے پہلے کے میرے جاننے والے تھے، انہوں نے مجھے اپنے دفتر بلوایا کہ آپ سے ایک ضروری امر پر مشورہ کرنا ہے، میں صورتحال کو بھانپ گیا اور میں نے
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
تعلقات کے باوجود ان کے دفتر میں جانے کو پسند نہ کیا، پھر میاں مظفر اے ڈی ایم جو میرے اور مولانا عبید اللہ احرار ؒ کے مشترکہ دوست تھے، وہ تشریف لائے اور مجھے کچہری بازار کے ایک ہوٹل میں بلوایا کہ مجھے آپ سے ضروری باتیں کرنی ہیں، میں ان کے دھوکے میں بھی نہ آیا اور ملنے سے انکار کر دیا، اسی وقت اطلاع ملی کہ اے ایس پی نے ہمارے گرفتار شدہ رضا کاروں کو جیل کے دروازے پر ڈنڈوں اور بیدوں سے پٹوایا ہے، ہم نے اگلے روز پھر جلسہ کیا اور ڈی سی، ایس پی سے مطالبہ کیا کہ اے ایس پی کو یہاں سے چلتا کیا جائے، ڈیوٹی سے ہٹایا جائے، اور اگر ایسا نہ کیا گیا اور یہ قتل ہو گیا تو ہماری ذمہ داری نہ ہوگی۔ اسی رات کو ہی پولیس نے چنیوٹ بازار میں گولی چلا کر کئی مسلمانوں کو خاک وخون میں تڑپا دیا تھا۔
جب میں ان کے چکر میں نہ آیا تو انہوں نے مجھے گرفتار کرنے کے لئے مسجد میں بوٹوں سمیت پولیس کو داخل ہونے کا حکم دینے کا فیصلہ کیا۔ ١٧، ١٨، ١٩؍ مارچ ١٩٥٣ء پورے تین روز بغیر کسی وقفے کے شہر میں کرفیو نافذ رہا، پورے شہر کی ناکہ بندی کر دی گئی، کرفیو کے دوران مجھے ہر قیمت پر گرفتار کرنے کا فیصلہ ہوا، چنانچہ میں ٢٠؍ مارچ کو رات ایک بجے چک نمبر ٦٧ نزد گلبرگ سے گرفتار ہوا، راجہ نادر خان میری گرفتاری کے وقت پولیس کے ہمراہ شامل تھے۔
مقدمے کی روئیداد
٢٠؍ مارچ ١٩٥٣ء کو گرفتاری عمل میں آئی، جون ١٩٥٤ء میں تقریبا سوا سال بعد رہا ہوا، گرفتار کرنے کے بعد پہلی رات مجھے لائل پور کی حوالات میں رکھا گیا، دوسری رات تین بجے صبح لائل پور سے لاہور شاہی قلعے میں منتقل کیا گیا، یہاں پر تفتیش شروع کی گئی۔ تفتیش کا مقصد یہ تھا کہ حکومت جاننا چاہتی تھی کہ اس تحریک کے مقاصد کیا ہیں؟ اس تحریک میں کسی بیرونی ملک یا طاقت کا ہاتھ ہے؟ یہ تحریک ملک کے خلاف قومی سازش ہے؟ یا وہ یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ قادیانیوں کی وہ کونسی چیزیں ہیں جن کا اتنا شدید رد عمل ہوا۔ ایک لاکھ سے زائد لوگوں نے اپنے آپ کو گرفتاری کے لئے پیش کیا، تمام جیل خانے بھر گئے، بڑی بڑی جیلوں میں کیمپ لگانے پڑے، مختلف لوگوں کو مختلف المیعاد سزائیں دی گئیں، سیفٹی ایکٹ کے تحت نظر بند رکھا گیا، ہزاروں مسلمان شہید ہوئے، آخر ایسا کیوں ہوا؟
مجھے پہلی دفعہ قلعہ جانے کا اتفاق ہوا، میں ان کی تفتیش کی تکنیک سے ناواقف تھا، میرا خیال تھا کہ وہ ہمیں تاریک تہہ خانوں میں رکھیں گے، ظلم وتشدد کے پہاڑ توڑیں گے، جب بھی قلعے
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
کا ذکر آتا ہے اس وقت ظلم و تشدد کی داستانیں ذہن میں ابھرتی ہیں، اس کے برعکس صاف ستھری بارکوں میں رکھا گیا، سلاخ دار دروازے تھے، پانی بجلی موسم کے مطابق، کمبل وغیرہ ہر چیز مہیا تھی، ایک ماہ میں میری معلومات کے مطابق تحریک کے کارکنوں پر تشدد تو درکنار، انگلی تک نہ اٹھائی گئی، بلکہ ذہنی کرب اور فکری کوفت و پریشانی میں ان کو اس طرح مبتلا کیا گیا کہ اس ذہنی تکلیف کے سامنے بیسیوں قسم کے تشدد کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔
مثلاً مجھے پہلے دن بارک نمبر ١٠ میں فردوس شاہ ڈی ایس پی کے قاتل اشرف کاکا کے ساتھ رکھا گیا، اشرف کاکا کے متعلق مشہور تھا کہ اس نے فردوس شاہ ڈی ایس پی کو قتل کیا ہے، پولیس نے اس کو گرفتار کیا، اس پر فردوس شاہ کے ریوالور کی برآمدگی ڈالی گئی، چونکہ یہ نوجوان کئی دنوں سے قلعے کی اس کوٹھڑی میں تنہا بند تھا، دماغی لحاظ سے ماؤف سا دکھائی دیتا تھا، مجھے یہ بتایا گیا کہ یہ قتل کا مجرم ہے اور لائل پور میں جو لوگ پولیس کی گولی سے جاں بحق ہوئے ان کے قتل کے جرم کی پاداش میں آپ پر بھی ٣٠٢ کا مقدمہ چلایا جائے گا۔ ظاہر ہے کہ جو شخص نوگرفتار بے کس ہو، اسے ذہنی طور پر اذیت پہنچانے کے لئے یہ بات کافی تھی۔
- ١...... اب میری تفتیش شروع ہوئی، مجھ پر الزام لگایا کہ کسی بیرونی ملک کا روپیہ تحریک کے
لئے آتا رہا ہے اور وہ آپ کو بھی ملتا رہا ہے۔
- ٢...... آپ کی تحریک کے لیڈر دولتانہ صاحب سے ملے ہوئے ہیں، دولتانہ صاحب کا کوئی
آدمی آپ کو لائل پور ہدایت دیتا رہا۔
- ٣...... افغانستان کے کوئی مشکوک لوگ آکر آپ سے ملے تھے، ان سے آپ کی کیا گفتگو
ہوئی؟ انہوں نے آپ کو کیا دیا تھا؟
- ٤...... آپ مسجد کی بالائی منزل پر جن کمروں میں رہتے ہیں، وہاں کافی اسلحہ بھی پہنچا ہوا تھا،
یہ اسلحہ آپ کو کس نے پہنچایا تھا؟
- ٥...... گوجرانوالہ کے پہلوان رضا کاروں کا ایک جتھہ آپ سے اس مسجد میں ملا تھا، یہ جتھہ
ربوہ میں مرزائیوں کے سربراہ کو قتل کرنا چاہتا تھا، آپ نے ان کو کیا ہدایات دیں؟
- ٦...... جو لوگ پولیس کی گولیوں سے مارے گئے، وہ آپ کی ہدایت پر پولیس کے
مقابلے میں نکلے تھے۔
- ٧...... آپ نے ٹرینیں رکوائی تھیں، لائن اکھڑوائی تھی، اور بعض جان داروں کو نذر
آتش کرایا تھا۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
- ٨...... اس کی کیا وجہ تھی کہ مرکزی مجلس عمل نے رضا کاروں کے دستے لاہور بھیجنے کی آپ کو
ہدایت کی تھی، لیکن آپ نے لائل پور کے سربراہ کی حیثیت سے ان کا رخ کراچی کی طرف کیوں موڑ دیا تھا؟
غرضیکہ اس طرح کے بے سروپا، جھوٹ وافترا پر مبنی الزامات کی ایک طویل فہرست مجھے پڑھ کر سنادی گئی، جن کو سن کر میرا ابتدائی تاثر یہ تھا کہ ہم جناب رسول مقبول ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لئے جانوں پر کھیل رہے ہیں، اور یہ ہم پر کس طرح کے جھوٹے الزامات عائد کر رہے ہیں؟ صبح کے وقت یہ کارروائی ہوئی، انسپکٹر پولیس جو میری تفتیش پر مامور تھا، جس کا نام دماغ سے نکل گیا ہے، اس نے یہ الزامات عائد کر کے مجھے کہا کہ آپ ان سوالات کے جواب تیار رکھیں، شام پانچ بجے ملاقات ہوگی۔
یہ کہہ کر وہ چلا گیا، پورے آٹھ روز تک نہ آیا، میں مسلسل ان الزامات کو جھوٹا اور بے بنیاد ثابت کرنے اور اصل صورتحال بتانے کی تیاری کرتا، لیکن رات کو نیند تک نہ آتی، غنودگی کبھی طاری ہو جاتی، یاد الٰہی کی جو کیفیت اور تجلیات و برکات قلعے کے ایام اسیری میں محسوس کی، پھر وہ عمر بھر نصیب نہ ہوسکی۔ جب آٹھویں دن صبح کو اٹھا تو میرا دل و دماغ نئی سلیٹ کی طرح صاف تھا، میں نے فیصلہ کیا کہ میں کچھ نہ سوچوں گا، موقع پر جو سوالات کریں گے صحیح صحیح جوابات دے دوں گا۔
ابھی یہ فیصلہ ہی کیا تھا کہ انسپکٹر صاحب آدھمکے اور معذرت کرنے لگے کہ میں کسی ضروری کام سے باہر چلا گیا تھا، میں نے دل میں سوچا کہ میں تمہارے ہتھکنڈوں سے ناواقف تھا، اس لئے ذہنی کوفت میں رہا، تشریف لائیے، پوچھئے میں بتائے دیتا ہوں۔ مجھے حوالات سے نکال کر بارک میں لے گئے، ہتھکڑی بھی نہیں لگائی، پھل کے خالی کریٹ کو اوندھا کر کے مجھے اس پر بٹھا دیا گیا، ”ان سوالوں کا جواب صحیح صحیح دینا ہے، کوئی غلط جواب نہ دیں اور یہ یاد رکھیں کہ یہ شاہی قلعہ ہے، یہاں سے آپ کی چیخ و پکار بھی باہر نہیں جاسکتی، اور نہ ہی آپ کی مدد کو کوئی بلند و بالا دیواریں پھلانگ کر اندر آسکتا ہے۔“ یہ اس کے تمہیدی کلمات تھے۔
اب سوالات شروع ہوئے، میں مختصر جواب دیتا رہا، جب مالیات کے متعلق سوال کیا کہ کس کس شخص نے کیا کیا مدد کی؟ کل کتنا روپیہ تھا؟ کتنا کہاں صرف ہوا؟ باقی کہاں ہے؟ مجھے لائل پور میں معلوم ہو گیا تھا کہ جن مخیر حضرات کی تحریک میں مالی معاونت کا حکومت کو علم ہو جاتا ہے، اس کی شامت آجاتی ہے، اس لئے میں نے جان خطرے میں ڈال کر کہا کہ: ”یہ شعبہ میرے
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگارنگ
پاس نہیں ہے، میری رہائش شہر سے میل ڈیڑھ میل باہر ہے، میں شہر کے لوگوں کو زیادہ جانتا بھی نہیں ۔“ اس نقطے پر مجھے بڑی کوفت ہوئی، بڑی اذیت کا سامنا کرنا پڑا، مگر میں نے ثابت قدمی کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھا، غرضیکہ پوری ہسٹری شیٹ تیار کی، صبح کے چھ بجے سے رات کے گیارہ بجے تک مختلف وقفوں سے یہ عمل جاری رہا، گیارہ بجے رات تھکن سے چور ہو کر حوالات میں آ کر نماز پڑھی، نیند نے آ دبوچا، صبح فجر کی نماز سے فارغ ہوا ہی تھا کہ انسپکٹر صاحب آ دھمکے اور بڑی معصومیت اور مصنوعی طور پر مایوسی کا اظہار کرتے اور چہرہ بناتے ہوئے کہا کہ: ”میری اور آپ کی کل کی ساری محنت ضائع ہوگئی، وہ دستاویزات میرے سائیکل کے کیریئر پر سے گھر جاتے ہوئے راستے میں گر گئیں، آئیے اور کل والا بیان پھر لکھوائیے تاکہ میں اوپر افسران کو بھیج سکوں۔ میں پھر کل والی پارک میں پہنچایا گیا، وہیں دوبارہ پھر سارا بیان لکھوایا، بعض مقامات ایسے تھے جہاں میں نے معلومات بہم پہنچاتے ہوئے احتیاط سے کام لیا تھا، آج بعض اور مقامات پر احتیاط کی گئی، کل والی احتیاط کا خیال دماغ میں نہ رہا، رات گیارہ بجے پھر فراغت ہوئی اور مجھے میری حوالات میں پہنچا دیا گیا، ضروریات و فرائض سے فارغ ہوا، گہری نیند کل کی طرح سو گیا۔ تیسرے روز ابھی نماز صبح سے فارغ ہوا ہی تھا کہ پھر انسپکٹر صاحب آ دھمکے اور کہا کہ: ”ستم ہو گیا! وہ آپ کا پرسوں کا بیان میری میز کی دراز میں رہ گیا تھا، وہ آج مل گیا، لیکن اب جو میں نے آپ کے دونوں بیانات کو پڑھا ہے تو ان میں تضاد و اختلافات ہیں، چنانچہ ان تضادات کو رفع کریں، مثلاً میں نے پہلے بیان میں کہا ہے کہ میں نے شاہ جی ؒ سے متاثر ہو کر ١٩٣٢ء میں احرار میں شمولیت اختیار کی، دوسرے بیان میں، میں نے ٤٧ء، ١٩٤٨ء بتایا، اب اس نے کہا کہ ان میں سے کونسی بات صحیح ہے؟ میں نے کہا کہ رسمی طور پر ١٩٣٢ء سے شامل تھا، باضابطہ طور پر ٤٧ء، ١٩٤٨ء میں شامل ہوا، غرضیکہ مسلسل اس قسم کی پورا دن کھینچا تانی جاری رہی۔
چوتھے روز اصغر خان ڈی آئی جی قلعہ نے وہ زبان استعمال کی، دلخراش خرافات کا ریکارڈ توڑ دیا، مسلسل ہتھکڑی لگا کر صبح چھ بجے سے رات گیارہ بجے تک کھڑا کیا گیا، کمر کا درد ہمیشہ کا ساتھی بن گیا۔ قلعے کے دن بڑے سخت تھے۔ اشرف کا کا ؒ کو وعدہ معاف گواہ بنا کر مولانا عبدالستار خان نیازی ؒ کو فردوس شاہ کے قتل میں ملوث کرنے کی کوشش کی گئی، مگر وہ انکاری رہا، اشرف کا کا بڑا بہادر انسان تھا، تین سال جیل کاٹ کر ملتان سے رہا ہو کر میرے پاس آیا، بعد میں پھر ملاقات نہ ہوسکی، نہ معلوم کہ اب وہ زندہ ہے یا انتقال کر گیا؟ جس حالت میں ہے اللہ تعالیٰ اسے سلامت رکھے!
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
شاہی قلعے کے بعد دس دن ٹبی کی حوالات میں گزارے، یہ دن میرے لئے پہلے سے زیادہ اذیت ناک اور تکلیف دہ تھے، کیونکہ حوالات سماج دشمن عناصر سے بھری پڑی تھی، پھر چند دن کے لئے لاہور سینٹرل جیل میں بھیج دیا گیا، یہاں سے بالآخر کیمبل پور (اٹک) جیل بھیج دیا گیا، بقیہ ایام اسیری یہاں گزارے۔ قلعہ اور اٹک جیل میں مزید سیاسی رہنماؤں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، مولانا عبدالستار خان نیازیؒ، مولانا عبدالواحدؒ (گوجرانوالہ)، چوہدری ثناء اللہ بھٹہؒ، حکیم حافظ عبدالمجید نابیناؒ، آغا شورش کاشمیریؒ کا ساتھ رہا۔
میرے پیچھے میرے گھرانے پر جو صعوبتیں آئیں وہ بڑی دلخراش کہانی ہے، بقول
غالب:
گھر کا سامان حکومت ضبط کر کے لے گئی، چند چیزیں مال خانے میں جمع کرا کر باقی سامان پولیس نے مال غنیمت سمجھ کر آپس میں تقسیم کر لیا، ریلوے والوں نے تنخواہ بند کر دی، شہر والے سمجھتے رہے کہ مولانا ریلوے کے بادشاہ ہیں، اور ریلوے والے سمجھتے رہے کہ مولانا شہر کے بادشاہ ہیں، بچوں کو خاصی پریشانی رہی، بہرحال جیسے تیسے وقت گزر گیا:
رہائی کے بعد ریلوے والے گزشتہ ایام کی پوری تنخواہ لائے، میں نے یہ کہہ کر واپس کر دی کہ میری عدم موجودگی میں میرے بچوں کو رقم کی زیادہ ضرورت تھی، اس وقت تو آپ نے دی نہ، اب تو میں آ گیا ہوں، میری عدم موجودگی میں جس ذات باری تعالیٰ نے انتظام کیا، وہ اب میری موجودگی میں بھی اس کا اہتمام کرے گی۔ وہ دن جائے آج کا دن آئے، پھر کبھی ریلوے والوں سے مسجد کی خطابت کی تنخواہ نہ لی۔
تحریک ختم نبوت کے بارے میں حکومت کا رویہ
حکومت انفرادی ملاقاتوں میں تسلیم کرتی تھی کہ ہمارا موقف درست ہے، لیکن پبلک کے سامنے انکار کرتی تھی، اصل میں بدقسمتی یہ تھی کہ مرکز میں خواجہ ناظم الدین برسر اقتدار تھے، قادیانیت کا مرکز پنجاب میں تھا، جہاں دولتانہ برسر اقتدار تھا، ملک کا دستور زیر ترتیب تھا، دستور میں یہ مسئلہ زیر بحث تھا کہ صوبہ سرحد، پنجاب، سندھ، بلوچستان اور مشرقی بنگال اس لحاظ سے بنگال کا حصہ پانچویں بھائی کا بنتا تھا، اور مغربی پاکستان سے مشرقی پاکستان کی آبادی کچھ زیادہ تھی،
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
اس لئے دوسرا موقف یہ تھا کہ ملک کے سیاسی و معاشی آدھے حقوق مغربی پاکستان کے ہیں اور آدھے مشرقی پاکستان کے، یہ تمام بحثیں بنگالی و پنجابی رہنماؤں کے درمیان تلخیاں پیدا کر رہی تھیں، خواجہ ناظم الدین کو بنگال کا نمائندہ سمجھا جا رہا تھا، اور دولتانہ کو پنجابیوں کا لیڈر گردانا جارہا تھا، یہ بحثیں ابھی جاری تھیں کہ تحریک ختم نبوت ملک میں زور پکڑ گئی، مرزا بشیر الدین ان دنوں سخت اشتعال انگیز بیان دے رہا تھا، اس کا یہ اعلان بھی شامل تھا کہ : ”١٩٥٢ء گزرنے سے پہلے ایسے حالات پیدا کر دیئے جائیں کہ دشمن ہمارے پاؤں پر گرنے پر مجبور ہو جائے ۔“ اور پھر یہ بیان کہ: ”وہ وقت آنے والا ہے جب اقتدار ہمارے پاس ہوگا اور ہم دشمنوں کے ساتھ چوڑھے چماروں کا سا سلوک کریں گے۔“
مرزا محمود کے ان بیانات نے جلتی پر تیل کا کام کیا، اور ملک میں تحریک بھڑک اٹھی، جب گرفتاریاں شروع ہوئیں تو مرکزی حکومت کے رہنماؤں خصوصاً بنگالی قائدین نے اس تحریک کو دولتانہ کی تحریک کا نام دیا کہ وہ خواجہ ناظم الدین اور مرکزی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لئے علماء کو اکسا کر کراچی بھیج رہے ہیں، اور پورے ملک کے امن کو تہہ و بالا کیا ہوا ہے، حالانکہ خود دولتانہ تحریک ختم نبوت کے رہنماؤں کے مقابلے میں تحریک کی مخالفت کے لئے جگہ جگہ دورے کر رہے تھے، کئی جگہ ان کے جلسے بدامنی کا شکار ہو گئے، کئی جلسوں میں ان پر سوالات کی ایسی بوچھاڑ ہوئی کہ ان کے لئے جان چھڑانا مشکل ہو گیا، وہ خود مشکل میں پھنسے ہوئے تھے، پنجاب مسلم لیگ تحریک کی دشمن تھی، اس لئے کہ وہ دیکھ رہے تھے کہ تحریک کے معمولی رہنماؤں کے جلسے میں لاکھوں افراد پہنچ جاتے تھے اور اس کے برعکس لیگ یا دولتانہ کا جلسہ ہوتا تو چند گنے چنے مسلم لیگی، ڈیوٹی والے پولیس کے ٹاؤٹ اور سادہ کپڑوں میں پولیس کے لوگ ہوتے ، اس کیفیت سے مسلم لیگ خائف تھی کہ اگر تحریک کو کچلا نہ گیا تو آنے والے الیکشن میں مسلم لیگ، مجلس احرار کے ہاتھوں بری طرح شکست کھا جائے گی، لیکن دوسری طرف ناظم الدین اور اس کے ساتھی پنجاب کی ساری صورتحال کی ذمہ داری مسلم لیگ پر ڈالتے رہے اور جو کچھ وہ تحریک کے خلاف کر رہے تھے اس کو دولتانہ کی مکاری و عیاری سمجھتے رہے، یہ بات کہ ختم نبوت کی تحریک کے لیڈروں نے دولتانہ صاحب کے اشارے پر ناظم الدین کو گرانے کے لئے یہ تحریک شروع کی تھی، تاریخ کا سب سے بڑا جھوٹ ہے، اور اس پر مزید یہ کہ ناظم الدین اور اس کی مرکزی حکومت کے علاوہ منیر انکوائری رپورٹ نے بھی مرکزی حکومت کے موقف کو تسلیم کیا، تحریک اور تحریک کے رہنماؤں کو بدنام کرنے اور ان کی کردار کشی کرنے اور انہیں ذلیل کرانے کی پوری کوشش کی گئی، جس کا فائدہ مرزائیوں یعنی
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
فریقین کے دشمنوں کو پہنچا، منیر نے اپنی رپورٹ میں علماء کی کردار کشی کرتے ہوئے یہاں تک لکھ دیا کہ: ”دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست پاکستان کے علماء اسلام کی متفقہ تعریف نہیں کر سکتے“ یہ لکھ کر دنیائے عیسائیت کے ہاتھ میں اسلام کے خلاف ایک بڑا دستاویزی ثبوت مہیا کر دیا، حالانکہ یہ تحریک علماء اور مسلمانوں کے اپنے نیک جذبات اور اخلاص پر مبنی تھی، اور اس کا باعث مرزا بشیر الدین کے اشتعال انگیز بیانات اور مرزائیوں کی جارحانہ ارتدادی سرگرمیاں تھیں۔
مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان کی سیاست کا اس میں دخل نہ تھا، نہ بنگالی، پنجابی کی حمایت یا مخالفت میں کچھ کیا جارہا تھا، دولتانہ کو جو وفود ملتے رہے، اس میں ان کے ان الفاظ کو اس جھوٹ کے پلندے کی بنیاد بنایا گیا، دولتانہ کا یہ کہنا تھا کہ آپ کے چار مطالبات ہیں:
- ......١ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔
- ......٢ ظفر اللہ خان مرتد قادیانی کو وزارت خارجہ سے ہٹایا جائے۔
- ......٣ مرزائیوں کو کلیدی عہدوں سے برطرف کیا جائے۔
- ......٤ ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔
جہاں تک پہلے تینوں مطالبات کا تعلق ہے، وہ مرکزی اسمبلی سے متعلق ہیں، جس کے ہم بھی ممبر ہیں، ان مطالبات کو آپ وہاں پیش کرائیں، ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ہم آپ کے مطالبات کی تائید میں ووٹ دیں گے۔
البتہ آپ کا یہ مطالبہ کہ ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے، یہ پنجاب حکومت سے متعلق ہے، اس پر میری حکومت غور کرنے اور تسلیم کرنے کے لئے تیار ہے۔ مجلس عمل کے وفود اور دولتانہ کی گفتگو کو سازش کا نام دیا گیا اور اس جھوٹ کی بنیاد پر تمام جھوٹ کی عمارت کھڑی کی گئی۔
چنانچہ اس کے بعد مجلس عمل کا اجلاس کراچی میں ہوا، خواجہ ناظم الدین سے وفود کی ملاقات ہوئی، اور ان سے صاف کہا گیا کہ ہمارے تین مطالبات کا تعلق آپ کی وزارت کابینہ اور قومی اسمبلی سے ہے، آپ ہمارے مطالبات تسلیم کریں، اور قومی اسمبلی میں مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد پیش کریں۔
لطف کی بات یہ ہے کہ مجلس عمل کے وفود کئی بار خواجہ ناظم الدین سے ملتے رہے، اور ملاقاتوں میں خواجہ ناظم الدین نے مطالبات تسلیم نہ کرنے کے دوسرے دلائل دیئے، حالانکہ اس کے دل میں شبہ یہ تھا کہ یہ وفود دولتانہ منظم کر کے بھیج رہا ہے، آخری مرتبہ جب مجلس عمل کا وفد مشرقی
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
پاکستان کے پیر سرسینہ شریف کی قیادت میں خواجہ ناظم الدین سے ملا، بحث مباحثے کے بعد وفد نے ایک ماہ کا تحریری الٹی میٹم دیا، اس پر ناظم الدین نے پیر سرسینہ شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ: ”پیر صاحب! یہ مطالبات ماننا میرے بس میں نہیں ہے، اگر میں ظفر اللہ خاں مرتد قادیانی کو وزارت سے نکال دوں تو امریکا پاکستان کو ایک دانہ گندم کا بھی نہیں دے گا۔“ پھر اسی گفتگو کو ناظم الدین نے منیر انکوائری کمیشن میں بھی دہرایا۔ یہ جملہ منیر انکوائری رپورٹ میں موجود ہے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ خواجہ ناظم الدین، دولتانہ اور مسلم لیگی لیڈروں کے انجام کو دیکھنے کے بعد بھی کچھ پڑھے لکھے لوگوں کا خیال یہ ہے کہ یہ تحریک خواجہ ناظم الدین کو پریشان کرنے کے لئے دولتانہ کے ایما پر چلائی گئی تھی، ہم اس کی تردید میں اس کے سوا اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ: ”لعنة الله علی الكاذبین“
نیک سیرت
تحریک کے زمانے میں کوہ مری میں حکومت کا اجلاس تھا، بعض بد بخت مسلم لیگی رہنما وزراء تحریک کے رہنماؤں کو قتل کرنے کے فیصلے کر رہے تھے، اور رب العزت کی شان بے نیازی کہ وہاں ایک نیک سیرت کمشنر صاحب ایوب خاں بھی تھے، جنھوں نے اس تجویز کی نہ صرف مخالفت کی، بلکہ اس کے نقصانات گنوا کر مسلم لیگی وزیروں کو قائل کیا کہ اس اقدام کے بعد آپ بھی نہ بچ سکیں گے۔ اس روایت کے راوی مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ تھے، اللہ تعالیٰ ان تمام حضرات کو جنھوں نے تحریک کی کسی بھی درجے میں حمایت کی، جزائے خیر دیں، جو مخالف تھے ان کا کیا انجام ہوا؟ یہ بڑی عجیب و غریب داستان ہے......!
تحریک کے مخالفوں کا انجام
اگر چہ تحریک قہراً کچل دی گئی، اور حکمران بظاہر ظفر یاب ہوئے، لیکن لاکھوں مسلمانوں کا جیلوں میں جانا، ہزاروں مسلمانوں کا خاک و خون میں تڑپ کر شہید ہونا، چھوٹے چھوٹے بچوں کا سینوں پر گولیاں کھانا، اللہ تعالیٰ کے ہاں ہرگز ضائع نہیں ہو سکتا تھا، اور نہ ہی قدرت نے ان لوگوں کو معاف کیا جنھوں نے معصوم و مظلوم مسلمانوں پر ستم ڈھائے تھے، سردار عبدالرب نشتر مرحوم نے ایک تقریب میں آغا شورش کاشمیری مرحوم سے فرمایا: ”شورش! جو لوگ خوش ہیں کہ تحریک ختم نبوت کچل دی گئی، وہ احمق ہیں، ہم میں سے جس شخص نے اس مقدس تحریک کی جتنی مخالفت کی تھی اتنی سزا اسے قدرت نے اس دنیا میں دے دی ہے، اور ابھی عاقبت باقی ہے، تحریک
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
کے سبب مخالفین روح کے سرطان میں مبتلا ہیں۔“ یہ ایک حقیقت ہے کہ تحریک ختم نبوت کی مخالفت کرنے والے اس کو کچلنے والے، ظلم کرنے اور بے گناہوں کا خون بہانے والوں کو قدرت نے دنیا ہی میں اس کی عبرت ناک سزا دی۔
ملک غلام محمد
ملک کے اس وقت گورنر جنرل تھے، اس وقت ارباب اقتدار کے اس گروہ کے سرغنہ تھے، جو تحریک کا دشمن اور مخالف تھا، پھر انہوں نے تحریک کے بعد اپنے رشتہ دار جسٹس منیر کو انکوائری کمیشن کا چیئرمین بنا کر وہاں علماء اور اہل حق کی تذلیل کا سامان کیا۔ اس غلام محمد کو فالج ہوا، مفلوج حالت میں نہایت ذلت کی زندگی کا آخری حصہ گزارا، اس کی آخری زندگی ایک ذلیل جانور سے بھی بدتر ہوگئی، مرنے کے بعد لوگوں نے اسے چوڑھوں کے قبرستان میں دفن کر دیا، آج کوئی مسلمان اس کی قبر پر نہ سلام کہتا ہے اور نہ دعائے مغفرت۔
سکندر مرزا
دوسرے نمبر پر تحریک کا دشمن سکندر مرزا تھا، یہ تحریک کے دنوں میں سیکریٹری دفاع تھا، مرزائی سیکرٹریوں سے مل کر تحریک کو تباہ کرنے کے درپے ہوا، حتیٰ کہ جب پنجاب حکومت لوگوں کے احتجاج اور قربانیوں سے زچ ہوگئی تو حکومت پنجاب نے ریڈیو پر اعلان کر دیا کہ لوگوں کو صبر و تحمل سے کام لینا چاہئے، حکومت پنجاب کے دو نمائندے مرکزی حکومت کے پاس مطالبات منوانے کے لئے جارہے ہیں، سکندر مرزا نے اس وقت خواجہ ناظم الدین کو مجبور کر کے اور ان سے زبانی اجازت لے کر لاہور فوج کے حوالے کر دیا اور کرفیو لگا دیا، جنرل اعظم نے ظلم کی انتہا کر دی اور اس سے بھی بڑھ کر میجر ضیاء الدین قادیانی نے تو یہاں تک کیا کہ مرزائی نوجوانوں کو فوجی جیپوں میں سوار اور مسلح کر کے فوجی وردی کے ساتھ شہر میں گشت کے لئے بھیج دیا اور حکم دیا کہ جہاں کہیں مسلمانوں کا اجتماع دیکھیں اس پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دیں۔ جیسا کہ منیر انکوائری رپورٹ میں پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کی شہادت سے معلوم ہوتا ہے کہ سکندر مرزا پر بھی خدا کی گرفت آئی، اس کا جوان بیٹا جو ایئر فورس کا آفیسر تھا، جہاز تباہ ہونے سے بھسم ہو گیا، کچھ عرصہ بعد ایوب خان کمانڈر انچیف نے سکندر مرزا سے اقتدار چھین لیا اور اسے مال بردار جہاز میں سوار کر کے انتہائی
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
ذلت کے ساتھ کوئٹہ اور وہاں سے لندن بھیج کر جلاوطن کر دیا۔ سکندر مرزا کی یا تو یہ شامت کہ ڈیفنس سیکریٹری کے بعد گورنر جنرل بنے، یا پھر یہ ذلت و بے بسی کہ لندن میں ایک معمولی ہوٹل کے معمولی ملازم کے طور پر بقیہ زندگی برتن دھو کر گزاری، اسی بے کسی میں لندن میں مر گیا۔ اس کی بیوی نے امانتاً لندن میں دفن کیا، پھر شہنشاہ ایران سے رابطہ کر کے اسے ایران لا کر دفن کیا، کیونکہ سکندر مرزا کی بیوی ناہید ایرانی تھی، اس لئے ایران میں دفن کی اجازت مل گئی، لیکن شہدائے ختم نبوت کے خون کا رنگ دیکھئے اور قدرت کا انتقام ملاحظہ کیجئے! تھوڑے دنوں بعد شہنشاہ ایران کو اپنا ملک چھوڑنا پڑا، وہاں پر خمینی کی حکومت آگئی، اس کے رضا کاروں نے سکندر مرزا کی قبر اکھاڑ کر میت کا تابوت باہر پھینک دیا، جسے کتے اور جنگلی جانور کھا گئے، ہڈیاں وغیرہ سمندر میں ڈال دی گئیں۔ فاعتبروا یا اولی الأبصار!
مسٹر دولتانہ
پنجاب کا وزیر اعلیٰ تھا اس نے بھی تحریک کو کچلنے اور بدنام کرنے میں بہت زیادہ حصہ لیا، قدرت کا انتقام دیکھئے! پہلے وزارت گئی، پھر مسلم لیگ سے چھٹی، گوشۂ گمنامی میں چلا گیا، حالانکہ پاکستان کی بانی ٹیم کا رکن تھا، اس کی ذلت کی انتہا یہ ہے کہ وہ ایک دفعہ ٹرین سے کراچی جا رہا تھا، اس ٹرین میں ذوالفقار علی بھٹو بھی سفر کر رہا تھا، جب بھٹو صاحب کو علم ہوا کہ اس ٹرین کے کسی ڈبے میں ممتاز احمد خان دولتانہ بھی سوار ہیں، تو کسی اسٹیشن پر بھٹو صاحب نے اخباری نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ: ”اس ٹرین کے کسی اگلے ڈبے میں ایک ”چوہا“ بھی سفر کر رہا ہے۔“ اور پھر اس سے بڑھ کر دولتانہ کی ذلت دیکھئے کہ دولتانہ نے اپنے اسی حریف ذوالفقار علی بھٹو کا ملازم بن کر انگلستان کی سفارت قبول کر لی اور بھٹو صاحب کا کورنش بجا لانے لگا۔ پھر وزارت کی طرح سفارت بھی گئی، اس وقت وہ زمانے کے ہاتھوں اپنے کئے کی سزا بھگت رہا ہے۔
خان عبدالقیوم خان
یہ سرحد کا مرد آہن تھا، اس نے بھی تحریک ختم نبوت کے مجاہدین پر ظلم وستم کئے، اس کی وزارت بھی قدرت نے چھین لی، مسلم لیگی ہو کر مسٹر بھٹو کے ساتھ شریک اقتدار ہوا، ایک میٹنگ میں بھٹو صاحب نے ایسا ذلیل کیا کہ دم بخود ہو گیا، دربدر کے چکر صبح وشام موقف میں تبدیلی نے اس کی عزت بھی خاک میں ملا دی۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
خواجہ ناظم الدین
طبعاً نیک اور شریف انسان تھے، ایک اعلیٰ خاندان سے تعلق رکھتے تھے، لیکن مرزائیت سے اتنے خائف تھے کہ ظفر اللہ خان مرتد قادیانی کو پورے ملک کے احتجاج کے باوجود وزارت سے نکالنے پر آمادہ نہ ہوئے، حالانکہ جہانگیر پارک کراچی کے مرزائیوں کے جلسے میں جب ظفر اللہ خان مرتد قادیانی شرکت کے لئے جانے لگا تو خواجہ صاحب نے ان کو منع کیا، ظفر اللہ خان مرتد قادیانی نے کہا کہ: ”میں وزارت چھوڑ سکتا ہوں، اپنی جماعت (قادیانیوں) کا جلسہ نہیں چھوڑ سکتا۔“ اس جلسے میں بہت بڑا فساد ہوا، مرزائیوں کے کئی ہوٹل اور دوسرے تجارتی ادارے مشتعل جلوس نے پھونک دیئے، ظفر اللہ خان کی اس قادیانی جلسہ میں شرکت اور حکم نہ ماننا، وزارت سے علیحدگی کا باعث قرار دیا جاسکتا تھا، مگر خواجہ صاحب کی شرافت یا بزدلی مانع ہوئی، چنانچہ خواجہ صاحب بھی ہمیشہ کے لئے اقتدار سے محروم ہوگئے اور ابھی تک قیامت کی جواب دہی اور ذمہ داری ان کے سر ہے۔
میاں انور علی
ڈی آئی جی، سی آئی ڈی پنجاب تھے، تحریک کے دنوں میں مرکزی حکومت نے ان کو کراچی طلب کیا اور تھپکی دی کہ تمہیں آئی جی بنادیا جاتا ہے، تم اس تحریک کو کچلنے میں کیا کردار ادا کر سکتے ہو؟ میاں انور علی نے سکندر مرزا ایسے سازشیوں کے ذریعے خواجہ ناظم الدین کو جواب دیا کہ: ”میں صرف ایک ہفتے میں تحریک کو کچل سکتا ہوں۔“ یہ آئی جی بنا دیئے گئے، اس نے اسلامیان لاہور اور پنجاب کے دوسرے اضلاع کے مسلمانوں پر ظلم و ستم کی ایک نئی داستان رقم کی۔ وقت گزر گیا، خدا کی لاٹھی بے آواز ہے، اس کے ساتھ اپنی گھریلو زندگی میں ایک ایسا بدترین سانحہ پیش آیا جس سے اس کی ساری زندگی کی عزت خاک میں مل گئی۔ (اس کی ایک بیٹی جناب ایوب خان کے صاحبزادے کے ساتھ بھاگ کھڑی ہوئی) اس سانحے سے اس کی غیرت رسوائی کے گہرے گڑھے میں دفن ہوگئی، وہ سانحہ چونکہ ایوب خان کے صاحبزادوں سے متعلق تھا، اس لئے اس نے اس سانحے کی اطلاع ایوب خان کو دی اور کسی خاص غرض سے دی (کہ اب ان دونوں کو شرعی طریقے پر منسلک کر دیا جائے)، ایوب خان برہم ہوگئے اور اپنے سامنے سے ”گیٹ آؤٹ“ کہہ کر نکال دیا، اور ایسے ہتک آمیز الفاظ استعمال کئے جو زیب قلم نہیں۔ (ان گدھیوں کو باندھ کر رکھو کہ گدھوں کے پاس نہ جایا کریں) اور ساتھ ہی اس کی موقوفی کے آرڈر بھی بھیج دیئے،
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
ایک ہفتے میں تحریک کچلنے والا ایک لحظہ میں دنیا و آخرت کی رسوائیاں لے کر واپس آ گیا، اس طرح خونخوار بھیڑیے کا حشر ہوا۔
جنرل اعظم
لاہور میں مارشل لاء کا انچارج بنایا گیا، اس نے میجر ضیاء الدین قادیانی کو مارشل لاء کا نظم و نسق سپرد کر دیا، پیچھے سے سکندر مرزا تار ہلا رہے تھے اور یہ پوچھتے تھے کہ: ”آج کتنی لاشیں اٹھائی گئی ہیں؟“ قادیانی میجر نے قادیانی فرقان فورس کے قادیانیوں کو مسلح کر کے لاہور میں مجاہدین ختم نبوت کا قتل عام کرایا، آج یہ جنرل اعظم ”پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں ۔“ کی تصویر بنا بیٹھا ہے، جس مرزائیت کے تحفظ کے لئے اس نے مسلمانوں کا قتل عام کرایا، وہ مرزائیت اس کے سامنے اور یہ اس کے سامنے اپنی موت کے دن گن رہے ہیں۔ ایک دو مرتبہ سیاست کو منہ مارنے کی کوشش کی ہے، لیکن لاہور کے مارشل لاء کی ابدی لعنت سے اس کا سیاہ چہرہ لوگوں کو کبھی پسند نہیں آیا۔
ڈپٹی کمشنر غلام سرور
یہ سیالکوٹ میں تعینات تھا، اس نے تحریک کے رضا کاروں پر بے تحاشا ظلم وستم کیا، قدرت کا انتقام دیکھئے کہ یہ پاگل ہو گیا، ڈپٹی کمشنر ہاؤس سے لا کر پاگل خانے میں بند کر دیا گیا۔
راجہ نادر خان
میری (مولانا تاج محمود) گرفتاری کے وقت پولیس کے ساتھ یہ صاحب بھی تھے، فقیر نے ان کے لئے کبھی بددعا نہیں کی، لیکن قدرت کا انتقام دیکھئے! کہ کار کے ایک حادثے میں ٹانگ ٹوٹ گئی، پاکستان سے لندن تک ڈاکٹروں نے جواب دے دیا، قابل رحم حالت میں انتقال ہوا۔ ہو سکتا ہے کہ ان کی یہ تکلیف کسی اور آزمائش اور سلسلے کی کڑی ہو، مگر اس مظلوم (مولانا تاج محمود) کا دل گرفتاری کے وقت ان کی طرف سے آزردہ ضرور ہوا تھا۔
قدرت کی قہاریت کا عجیب واقعہ
مجھے جب لائل پور سے لاہور لے جا کر قلعے میں بند کیا گیا تو میرے پاس چوہدری بہاول بخش ڈی ایس پی تشریف لائے اور مجھے بتایا کہ: ”میرا لڑکا ایم سی ہائی سکول میں آپ کا شاگرد رہا ہے، میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں؟“ میں نے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ: ”اس سے
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
بڑھ کر اور کیا خدمت ہو سکتی ہے کہ دہشت گردی میں آپ نے میری خیریت دریافت کی ہے۔‘‘ اگلے روز پھر وہ تشریف لائے اور کہا: ’’مولانا! انہوں نے کچھ فارم چھپوائے ہیں، آپ ان پر دستخط کردیں اور گھر جائیں۔‘‘ میں سمجھ گیا کہ چوہدری صاحب کا اشارہ معافی نامے کے فارموں کی طرف ہے، میں نے کہا: ’’چوہدری صاحب! کہ جو لوگ میرے ہمراہ سینوں پر گولیاں کھا کر حضور ﷺ کے نام و ناموس پر شہید ہوگئے، لائل پور کی سڑکوں پر ابھی تک ان کا خون خشک نہیں ہوا، یہ کیسے ممکن ہے کہ میں ماؤں کے بچے مروا کر خود معافی نامے پر دستخط کر کے گھر چلا جاؤں......؟‘‘ چوہدری صاحب شرمندہ ہوئے، معذرت کی اور کہا کہ: ’’اگر آپ یہ حوصلہ رکھتے ہیں تو پھر آپ کا ڈٹ جانا ہی اصولی طور پر درست ہے۔‘‘ شیخ محمد شفیع انارکلی لائل پور والے چوہدری صاحب کے بہت گہرے دوست تھے، وہ ان سے ملنے کے لئے شاہی قلعے میں آئے، ان دونوں کے درمیان میرا بھی ذکر آیا اور خدا جانے آپس میں کیا باتیں ہوئیں، شیخ محمد شفیع نے لائل پور واپس جا کر یہ مشہور کر دیا کہ مولانا تاج محمود کو شاہی قلعے میں پولیس نے اتنا مارا ہے کہ ان کی دونوں ٹانگیں اور دونوں بازو توڑ دیئے ہیں۔ یہ بات اڑتے اڑتے چک نمبر ١٣٨ جھنگ برانچ نزد چنیوٹ جہاں میرے والد صاحب مرحوم مقیم تھے، ان تک پہنچ گئی، ان کو یہ سن کر انتہائی صدمہ ہوا، میری والدہ بتاتی تھیں کہ تمہارے اباجی نے یہ دردناک خبر سن کر تین ماہ تک رات کو تکیہ پر سجدے کی حالت میں راتیں گزاریں، انہیں یہ صدمہ سیدھے سونے نہیں دیتا تھا، برداشت نہ تھا، تین ماہ بعد میرے بڑے بھائی موضع ہری پور ہزارہ سے مجھے ملنے کے لئے حکومت کی اجازت پر آئے، کیمبل پور جیل میں ملاقات ہوئی، اس ملاقات میں سی آئی ڈی کا انسپکٹر رپورٹنگ کے لئے حکومت کی طرف سے موجود تھا، میرے بڑے بھائی گفتگو کرتے ہوئے میرے دونوں بازوؤں، ٹانگوں کو بڑے غور سے دیکھتے تھے، بار بار ان کے ایسا کرنے پر مجھے کچھ شبہ ہوا، تو میں نے پوچھا کہ: ’’بھائی جان! آپ بار بار غور سے میری بازوؤں اور ٹانگوں کو کیوں دیکھتے ہیں؟‘‘ انہوں نے کہا کہ: ’’میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ شاہی قلعے میں آپ کی ٹانگ کہاں سے توڑی گئی اور بازو کہاں سے؟‘‘ میں نے کہا: ’’اللہ کا شکر ہے، میری دونوں ٹانگیں و بازو صحیح سالم ہیں‘‘ انہوں نے ایک لمبی آہ بھری اور کہا کہ: ’’یہ جھوٹی خبر تھی کہ آپ کو قلعے میں ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے؟‘‘ میں نے کہا کہ: ’’بالکل جھوٹ ہے، مگر آپ تک یہ خبر کیسے پہنچی؟‘‘ انہوں نے ساری حقیقت حال کہہ سنائی، جس کا مجھے بہت دکھ ہوا کہ میرے ضعیف باپ کو کس قدر شدید اذیت اور ذہنی کوفت پہنچائی گئی، خدا کی قدرت دیکھئے کہ میں نظر بندی کے دن پورے کر کے گھر رہا ہو کر آ گیا، اور اس واقعے کا شیخ صاحب مرحوم سے
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
تذکرہ تک نہ کیا، کچھ عرصہ بعد وہ شیخ صاحب جیپ کے ایک حادثے کا، سرگودھا روڈ پر شکار ہوئے اور ان کے دونوں بازو اور ٹانگیں ٹوٹ گئیں، جس کی میرے دل میں ہرگز خواہش و تمنا نہ تھی، لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت کے عجیب و غریب نظارے سامنے آتے ہیں۔
تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء کی کہانی مولانا تاج محمود ؒ کی زبانی
٢٩ مئی ١٩٧٤ء کو ربوہ (چناب نگر) ریلوے اسٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلباء پر آہنی سلاخوں، لوہے کی تاروں کے بنائے ہوئے کوڑوں، آہنی پنجوں سے حملہ کیا گیا، ان کو خوب مارا پیٹا، زخمی کیا گیا، ایک ہفتہ پہلے یہ لڑکے تفریحی سفر پر پشاور کے لئے جاتے ہوئے چناب ایکسپریس سے ربوہ اسٹیشن پر اتر کر اپنے کلاس فیلو قادیانی طلباء سے ہنسی مذاق کر رہے تھے، قادیانیوں کا اس زمانے میں معمول تھا کہ وہ ربوہ سے تمام گزرنے والی ٹرینوں پر مسافروں میں اپنا تبلیغی لٹریچر تقسیم کیا کرتے تھے، اس روز ان طلباء میں بھی انہوں نے لٹریچر تقسیم کیا، اس سے قبل طلباء کا نشتر میڈیکل کالج ملتان میں انتخاب ہوا تھا، ایک قادیانی اس میں امیدوار تھا، مسلمان طلباء نے قادیانیت کی بنیاد پر اس کی مخالفت کی تھی، قادیانیت کے خلاف مسلمان طلباء کی ذہن سازی تھی، اس لئے اس قادیانی لٹریچر کے تقسیم ہوتے ہی مسلمان طلباء بپھر گئے، قادیانیوں نے بھی ان کی جرات رندانہ کا شدید نوٹس لیا، قریب کی گراؤنڈ میں قادیانی نوجوان کھیل رہے تھے، ان کو اطلاع ملی وہ ہاکیوں سمیت اسٹیشن پر آ دھمکے، مسلمان طلباء بھی برہم، تو تکرار تک معاملہ پہنچا، خدا کا شکر ہے ٹرین روانہ ہوگئی اور کوئی حادثہ نہ ہوا، تصادم ہوتے ہوتے رہ گیا، قادیانیوں نے لڑکوں پر سی آئی ڈی لگادی، ان کے پروگرام کا معلوم کیا، اور ان کی واپسی کا انتظار کرنے لگے، ہفتے کے بعد جب وہ اسی ٹرین سے واپس ہوئے تو سرگودھا سے ہی ان کے ڈبے میں قادیانی نوجوان خدام الاحمدیہ نیم فوجی تنظیم کے رضا کار سوار ہو گئے، جب یہ گاڑی نشتر آباد پہنچی وہاں کے قادیانی اسٹیشن ماسٹر نے بذریعہ ریلوے فون ربوہ کے قادیانی اسٹیشن ماسٹر کو مطلع کیا کہ طلباء کا ڈبہ آخری سے تیسرا - ہے۔ اس سے قبل ربوہ کا اسٹیشن ماسٹر سرگودھا تک کے اسٹیشن سے ٹرین کی آمد کے بارے میں پوچھتا رہا، گویا قادیانی قیادت بڑی تیاری سے دیوانگی کے ساتھ ٹرین کا بیتابی سے انتظار کر رہی تھی، نشتر آباد لالیاں سے بھی قادیانی نوجوان اس ڈبے میں سوار ہوئے، حالانکہ یہ ڈبہ ریزرو تھا، جب گاڑی ربوہ اسٹیشن پر پہنچی تو پہلے سے موجود قادیانی غنڈوں نے طلبہ کے ڈبے کا دونوں اطراف سے گھیراؤ کر لیا۔ قادیانی غنڈوں نے موجودہ قادیانی سربراہ مرزا طاہر کی قیادت میں بڑی بے
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ دردی سے مسلمان طلباء کو مارا پیٹا، زخمی کیا، طلباء لہولہان ہو گئے، ان کے کپڑے پھٹ گئے، جسم زخموں سے چور چور ہو گئے، غنڈوں نے ان کا سامان لوٹ لیا، جب تک قادیانی غنڈوں کا ایکشن مکمل نہیں ہوا، اس وقت تک قادیانی اسٹیشن ماسٹر نے ٹرین کو ربوہ اسٹیشن پر روکے رکھا، فیصل آباد ریلوے کنٹرول نے پوچھا کہ ٹرین اتنی دیر ہو گئی چلی کیوں نہیں؟ تو ریلوے کے عملے نے بتایا کہ فساد ہو گیا ہے، ریلوے کنٹرول کے ذریعے یہ خبر مقامی انتظامیہ و صوبائی انتظامیہ تک پہنچی، ہم لوگ بے خبر تھے، ٹرین چنیوٹ، برج سے ہوتی ہوئی چک جھمرہ پہنچ گئی، وہاں سے فیصل آباد کا سفر پندرہ بیس منٹ سے بھی کم کا ہے، اتنے میں دوپہر کے وقت ہانپتا کانپتا ایک آدمی میرے مکان کے عقبی دروازے پر آیا، دستک دی، بچوں نے مجھے اطلاع کی، میں نے کہا کہ: ”اسے کہو کہ مسجد کے اوپر سے ہو کر مین گیٹ کی طرف سے آئے ۔“ مگر اس نے کہا کہ: ”ضروری کام ہے، مولانا! ایک منٹ کے لئے جلدی سے تشریف لائیں“ میں گیا تو وہ ریلوے کنٹرول کا ایک ذمہ دار آفیسر تھا، اس کی زبان و ہونٹ خشک، چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں، میں نے پوچھا کہ: ”خیریت تو ہے!“ اس نے ڈبڈبائی آنکھوں سے نفی میں سر ہلایا، میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ خدایا خیر ہو، اتنا ذمہ دار آدمی اور یہ کیفیت، اس نے اپنی طبیعت کو سنبھالا تو مجھے ربوہ حادثے کی اطلاع دی، اب ٹرین کو پہنچنے میں صرف دس پندرہ منٹ باقی تھے، میں نے شہر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رفقاء، علماء، شہریان، فیصل آباد کے ڈی سی، ایس پی کو فوراً اسٹیشن پر پہنچنے کا کہا، پریس رپورٹران، پنجاب میڈیکل کالج، گورنمنٹ کالج کے اسٹوڈنٹس اور چیدہ چیدہ حضرات کو جہاں جہاں اطلاع ممکن تھی کر دی، ریلوے لوکو شیڈ میں کام کرنے والے تمام لوگ میرے جمعہ کے مقتدی ہیں، ان کو پیغام بھجوایا کہ کام چھوڑ کر فوراً اسٹیشن پر پہنچ جائیں، میں ان امور سے فارغ ہو کر جب اسٹیشن پر پہنچا تو ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع تھے، نعرہ بازی، احتجاج ہو رہا ہے، پولیس کی گارد، مجسٹریٹ، ڈاکٹر صاحبان موجود ہیں، جو مسلمان اس ٹرین پر سفر کر رہے تھے، جنھوں نے قادیانی غنڈہ گردی کا ربوہ میں نظارہ دیکھا تھا، وہ بھی ہمارے اس احتجاج میں شریک ہو گئے، اسٹیشن پر اشتعال انگیز نعروں کا یہ عالم کہ کان پڑی آواز نہ سنائی دیتی تھی، مجھے دیکھتے ہی احتجاجی نعروں کا فلک شگاف شور اٹھا، اس عالم میں مسلمان زخمی طلباء کو ٹرین سے اتارا، ڈاکٹر صاحبان کے مشورے پر ان طلبہ کو گرم دودھ سے گولیاں دی گئیں، زخموں پر مرہم پٹی کی گئی، ڈاکٹروں کی اس ٹیم میں ایک قادیانی ڈاکٹر تھا، میں نے دیکھا تو سخت پریشان ہوا کہ اگر کسی کو اس کے قادیانی ہونے کا علم ہو گیا تو اس کا یہیں پر کام تمام ہو جائے گا، میں نے اپنے معتمد کے ذریعے اس کو وہاں سے چلتا کر دیا کہ اگر بد بخت تو رکا
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
رہا تو اپنی جان کا خود ذمہ دار ہوگا، ابھی اس قضیہ سے میں فارغ ہوا تھا کہ اطلاع ملی کہ فلاں اگلے ڈبے میں ایک قادیانی کو چھرا مار دیا گیا ہے، میں وہاں گیا تو مشتعل ہجوم نے ادھیڑ عمر کے فربہ بدن قادیانی کو زخمی کیا ہوا ہے، اس کی پٹائی جاری ہے، لوگوں نے اسے نکال کر اسٹیشن ماسٹر کے کمرے میں لا کر بند کر دیا، اس قادیانی نے مجھے کہا کہ: ”مولانا! مجھے بتایا جائے کہ مجھے کس جرم میں مارا گیا ہے؟“ میں نے کہا: ”جس جرم میں ربوہ کے قادیانیوں نے ہمارے معصوم مسلمان بچوں کو مارا ہے!“ ان دنوں فیصل آباد کے ڈپٹی کمشنر فرید الدین احمد تھے، ان کو فون کر کے بلایا گیا، ان کے ہمراہ ایس پی بھی تھے، ان کو کہا کہ وہ آ کر دیکھیں کہ ہمارے بے گناہ بچوں کو قادیانیوں نے کس بے دردی سے زدوکوب کیا ہے، ان افسران نے طلباء سے ملاقات کی، اس ڈبے کو دیکھا جس کے اوپر کے لوہے کے کنڈے مڑے ہوئے تھے۔ جب مرہم پٹی کے عمل سے فارغ ہوئے تو افسران نے کہا کہ: ”اب گاڑی کو آگے جانے دیں، ان زخمی طلباء کو یہاں اتار لیا جائے اور ان کا علاج معالجہ کیا جائے ۔“ ان زخمی طلباء سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ: ”ہم اسی حالت میں ملتان جائیں گے، ہم وہاں نشتر ہسپتال میں علاج کرائیں گے۔“ ڈپٹی کمشنر نے دوبارہ کہا کہ: ”اب آپ گاڑی آگے جانے دیں!“ میں نے ان سے کہا کہ: ”جب تک صوبائی حکومت ہمارے یہ مطالبات نہیں مان لیتی، اس وقت تک گاڑی آگے نہیں جاسکتی:
- ١....... اس سانحہ کی ہائی کورٹ کے جج سے تحقیقات کرائی جائے۔
- ٢....... اس سانحہ میں شریک تمام ملزمان بشمول اسٹیشن ماسٹر قادیانی ربوہ و نشتر آباد کو گرفتار کیا جائے۔
- ٣....... اس سانحے کے ملزمان کو کڑی سزا دی جائے۔“
ڈپٹی کمشنر نے اسٹیشن ماسٹر کے کمرے سے چیف سیکریٹری کو فون کیا اور تمام مطالبات ان کو پیش کئے، چیف سیکریٹری منٹ منٹ کی کارروائی سے باخبر تھے، انہوں نے تمام مطالبات تسلیم کر لئے، ڈپٹی کمشنر نے مجھے یقین دلایا کہ آپ کے تینوں مطالبات تسلیم کر لئے گئے ہیں۔ میں نے ریلوے اسٹیشن کی دیوار پر کھڑے ہو کر تقریر کی، طلباء کو مخاطب ہو کر کہا: ”بچو! تم ہماری اولاد ہو، جگر کے ٹکڑے ہو، میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جب تک قادیانیوں سے آپ کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب نہیں لے لیا جاتا، اس وقت تک ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔“ پریس رپورٹران نے فوٹو لئے، زخمی طلباء کو ایئر کنڈیشن کوچ میں شفٹ کیا گیا اور ٹرین روانہ ہوگئی۔ پلیٹ فارم پر ہی شام کے پانچ بجے، الخیام ہوٹل میں پریس کانفرنس اور آئندہ کے پروگرام کا اعلان کرنے کے لئے میں نے پریس والوں کو ٹائم دے دیا، گھر آکر گوجرہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ،
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
شورکوٹ، عبدالحکیم، مخدوم پور، خانیوال اور ملتان جہاں جہاں ٹرین رکتی تھی، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں کو مظاہرہ کرنے کا سگنل دے دیا، چنانچہ جہاں جہاں سے ٹرین گزرتی گئی، احتجاجی مظاہرہ ہوتا گیا۔
ملتان دفتر میں فون کر کے مولانا محمد شریف جالندھریؒ، لاہور آغا شورش کاشمیریؒ اور راولپنڈی مولانا غلام اللہ خان مرحوم کو سانحے کی اطلاع دی، مولانا محمد شریف جالندھریؒ نے حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کو جو اس وقت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ تھے اور خانقاہ سراجیہ مولانا خواجہ خان محمدؒ کو جو اس وقت نائب امیر تھے، اطلاع دی۔ سارا دن فون کے ذریعے مولانا محمد شریف جالندھریؒ ملک بھر میں اطلاع کرتے رہے اور تحریک کے لئے احباب کو اپنے مشورے سے نوازتے رہے، حالات قادیانیت کے متعلق پہلے سے ہی تحریک کے متقاضی تھے، یہ خبر بجلی کا کام دے گئی۔
شام کو الخیام میں پریس کانفرنس ہوئی، جس میں مولانا مفتی زین العابدینؒ، مولانا فقیر محمدؒ، مولانا عبدالرحیم اشرفؒ، صاحبزادہ سید افتخار الحسنؒ، مولانا فضل رسول حیدرؒ، مولانا محمد صدیقؒ، مولانا اللہ وسایا اور دوسرے رہنما موجود تھے۔ اخباری نمائندوں کے سامنے پوری تفصیلات بیان کیں اور دوسرے روز فیصل آباد شہر میں ہڑتال کا اعلان کر دیا۔ پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ لاہور، کراچی، بہاولپور، کوئٹہ، حیدرآباد، سکھر، پشاور، راولپنڈی کے علماء سے مشوروں کا سلسلہ جاری ہے، ان سے رابطہ کر کے تحریک کا آغاز کیا جائے گا، شہر کی تمام مساجد کے اسپیکروں اور رکشے پر اسپیکر باندھ کر شہر میں اگلے روز کی ہڑتال اور جلسہ عام کا اعلان کرایا گیا، رات عشاء کے قریب ان امور سے فارغ ہو کر گھر آیا تو آغا شورش کاشمیری مرحوم نے ٹیلیفون کیا کہ آپ لوگ کل کیا کر رہے ہیں؟ میں نے ساری تفصیلات بتائیں۔
آغا مرحوم نے فرمایا کہ: ”کل کے جلسہ عام میں ’قادیانیوں کے سوشل بائیکاٹ کا اعلان کریں‘ تاکہ عوام کا غصہ حکومت کی بجائے قادیانیت کی طرف ہو، اس لئے کہ پچھلی تحریک میں قادیانیوں نے ہمارا تصادم حکومت سے کرا دیا تھا، اب رخ بجائے حکومت کے قادیانیوں سے رہے تاکہ پر امن تحریک جاری رکھ سکیں۔“ دوسرے روز شہر میں مثالی ہڑتال اور تاریخ ساز جلسہ عام ہوا، کچہری بازار کی جامع مسجد میں علمائے کرام کی تقریریں ہوئیں، ان کے علاوہ اس جلسہ عام میں ملک احمد سعید اعوان نے بھی شرکت کی جو پیپلز پارٹی فیصل آباد کے صدر تھے، (ان سطور کی ترتیب کے وقت وہ وفاقی منسٹر ہیں ٢٥/ستمبر ١٩٨٩ء۔ مرتب) انہوں نے بھی دھواں دار تقریر کی، پیپلز
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
پارٹی کی حکومت، ذوالفقار علی بھٹو مرحوم وزیر اعظم اور ان کی جماعت کے صدر کی یہ تقریر، ہمیں اس سے خوشی ہوئی، یہ ملک صاحب کا ذاتی مبارک اقدام تھا، پیپلز پارٹی کی پالیسی نہ تھی، ان کے ضمیر کی آواز تھی۔
لوگوں نے مطالبہ کیا کہ جلوس نکالا جائے، جلسہ ختم کیا جائے، احمد سعید اعوان نے عوام کا مطالبہ سنا تو ڈپٹی کمشنر کے پاس گئے اور پرامن جلوس کی اجازت لے کر آ گئے، انہوں نے آ کر جلوس کا اعلان کر دیا، مگر ستم یہ ہوا کہ ڈپٹی کمشنر نے جلوس کی اجازت تو دے دی مگر بازار میں متعین ڈیوٹی افسران کو اجازت کی اطلاع نہ دی، وہ پہلی اطلاع کے مطابق جلوس کو روکنے کے پابند تھے، جلوس کا اعلان ہوا، انہوں نے پوزیشن سنبھال لی، جلوس نعرے لگاتا ہوا کچہری بازار میں جونہی داخل ہوا، انہوں نے شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا، ایک شیل میرے بازو پر لگا، میں زخمی ہو گیا، دوسرے رہنماؤں کا بھی یہی حال ہوا، افراتفری کا عالم، چار سو دھواں ہی دھواں، اس دھکم پیل میں جلوس نے دھرنا مار لیا، اس افسوس ناک سانحے کی ڈپٹی کمشنر کو اطلاع ملی تو انہوں نے تازہ احکامات بھجوائے اور جلوس کو آگے بڑھنے کی اجازت دے دی۔
جلوس مختلف بازاروں کا چکر لگاتا ہوا جامع مسجد میں میرے خطاب پر اختتام پذیر ہوا، مولانا مفتی زین العابدین ؒ نے دعا کرائی اور جلوس کو پرامن منتشر ہونے کی ہدایت کی۔
قادیانی سازش
پہلے دن ہی قادیانیوں کے چوراسی مکانات اور دکانیں شہر میں جلا دی گئیں، اس حساب سے کہ اگر پراپرٹی بھی مرزائی کی ہوتی تو اس کے سامان کو پراپرٹی سمیت جلا دیا گیا، اور اگر پراپرٹی مسلمان کی ہوتی تو صرف سامان کو بازار میں نکال کر آگ لگائی جاتی، آج تک میں اور میرے رفقاء اس سے بے خبر ہیں کہ یہ کون لوگ تھے؟ ایسی ترتیب و حکمت اور منظم کوشش کیونکر اپنائی گئی؟ بعد میں خبر ہوئی کہ قادیانیوں نے ٢٩ مئی ١٩٧٤ء سے دو چار دن قبل اپنے کارخانوں اور بڑی بڑی دکانوں کی انشورنس (فسادات کی نذر ہونے کی صورت میں) کرالیں۔
کیا اسیری ہے، کیا رہائی ہے!
جس روز ہم فیصل آباد میں جلسہ جلوس میں مصروف تھے، اسی دن آغا شورش کاشمیری ؒ، مولانا عبید اللہ انور ؒ، نوابزادہ نصر اللہ خان ؒ نے لاہور میں تمام مکاتب فکر کی میٹنگ کی، اور اسی طرح کے فیصلے کئے جو ہم فیصل آباد میں کر چکے تھے، ملتان اور راولپنڈی میں
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
تیسرے روز مولانا محمد شریف جالندھریؒ اور مولانا غلام اللہ خانؒ کو فون کے ذریعے اطلاع دی گئی کہ فوری طور پر آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا اجلاس بلایا جائے، چنانچہ مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کی طرف سے مولانا محمد شریف جالندھریؒ نے لاہور، ملتان، ساہیوال، فیصل آباد، کوئٹہ، پشاور، کراچی، سرگودھا، گوجرانوالہ اور دیگر شہروں کے علمائے کرام کو ٣؍جون ١٩٧٤ء کو میٹنگ کے لئے راولپنڈی پہنچنے کی دعوت دی۔
فیصل آباد سے میں، مولانا مفتی زین العابدینؒ، حکیم عبدالرحیم اشرف، مولانا محمد اسحاق چیمہؒ، مولانا محمد صدیق صاحبؒ راولپنڈی کے لئے تیار ہوئے، مولانا محمد صدیق صاحب کار کے ذریعے اور ہم لوگ ٢؍جون کی شام کو چناب ایکسپریس کے ذریعے روانہ ہوئے، ٹیلیفون کے ذریعے تمام تر پروگرام کی اطلاع تھی، ہمارے فون ٹیپ ہو رہے تھے، گورنمنٹ منٹ منٹ کی کارروائی سے باخبر تھی، رات بارہ بجے کے قریب ٹرین لالہ موسیٰ پہنچی تو پولیس کا ایک دستہ اور مجسٹریٹ آدھمکے، ہمارے ڈبے کے دروازے اور کھڑکیوں کو کھٹکھٹایا، ہم لوگ بیدار ہوئے، دروازہ کھولا، تعارف ہوا، ہمیں اپنا سامان باندھ کر نیچے اترنے کا حکم ملا، اسٹیشن سے پیادہ پا تھانہ لالہ موسیٰ لائے، سامان پولیس والوں نے اٹھایا، مولانا محمد اسحاق صاحبؒ زمیندار ٹائپ انسان ہیں، ہر چند کوشش کی کہ یہ بچ جائیں، مگر ان کا مولوی ہونا رکاوٹ بن گیا، وہ بھی ہمارے ساتھ دھر لئے گئے، تھانے سے ہمیں ایک بس میں بٹھا کر رات کوئی ایک بجے کے قریب جہلم کی طرف روانہ ہو گئے، آگے بڑی سڑک چھوڑ کر ایک چھوٹی سڑک پر رواں دواں صبح سحری کے وقت ہم ایک دیہاتی تھانے میں پہنچا دیئے گئے، بھٹو مرحوم کا دور تھا، گرفتار ہونے والوں کے ساتھ عجیب وغریب سانحات پیش آ رہے تھے، ہزاروں وساوس کا شکار بے خبری کے عالم میں وہاں پہنچے، حیران تھے کہ شہر کے تھانے سے دیہات کے بے آباد تھانے میں ہمیں کیوں لایا گیا؟ چارپائیاں دی گئیں، تھوڑی دیر لیٹے، نماز کا وقت ہو گیا، ہم نماز کے عمل میں مشغول ہوئے، پولیس والوں کی ایک بارک میں انہوں نے ہماری چارپائیاں ڈال دیں، ایس ایچ او نے اپنی جیب سے دس روپے دیئے، ہمیں چائے پلائی گئی، ہم نے اپنے طور پر پیسے دینے کی کوشش کی، مگر ایس ایچ او صاحب راضی نہ ہوئے، ادھر اُدھر کی گفتگو ہوئی، ہمارا تعارف ہوا، تو وہ کچھ مانوس ہوا، ہم نے پوچھا کہ: ’’ہم اس وقت کہاں ہیں؟‘‘ تو انہوں نے بتایا کہ تھانہ ڈنگہ ہے، گجرات کا ضلع ہے۔ ہم نے پوچھا کہ: ’’ہمیں یہاں کیوں لایا گیا؟‘‘ انہوں نے خود لاعلمی ظاہر کی، ہم لوگ لیٹ گئے، دوپہر کا وقت ہوا تو ایس ایچ او نے بڑے اہتمام سے کھانا کھلایا، کھانا کھا کر پھر لیٹ گئے، نماز کے لئے اٹھے،
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
ابھی نماز پڑھ کر فارغ نہ ہوئے تھے تو اطلاع ملی کہ جناب ذوالقرنین ڈپٹی کمشنر، محمد شریف چیمہ ایس پی صاحب آپ کی ملاقات کے لئے تشریف لائے ہیں۔ نماز پڑھ کر ہم نے عمداً تھوڑی تاخیر کی کہ آخر یہ کیا ہو رہا ہے؟ تھانے میں لوٹے، آپس میں گپ شپ ہوئی، اتنے میں دیکھا کہ صحن میں میز کرسیاں لگائی جارہی ہیں، تازہ پھل، مٹھائیاں، چائے کا اہتمام ہورہا ہے، ہم سمجھے کہ پولیس والے ایس پی و ڈی سی صاحب کی خاطر تواضع کے لئے اپنے عمل میں مصروف ہیں، ان کی آؤ بھگت کا اہتمام ہو رہا ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد ہمیں بلایا گیا کہ ڈپٹی کمشنر صاحب اور ایس پی صاحب آپ حضرات کو بلاتے ہیں، اب معلوم ہوا کہ یہ تو ہمارے استقبالیہ کا اہتمام کیا گیا ہے، دونوں بڑے تپاک سے ملے، ذوالقرنین مجھے ذاتی طور سے جانتے تھے، وہ فیصل آباد میں اے ڈی سی جی رہ چکے تھے، گفتگو شروع ہوئی، دونوں کا روئے سخن میری طرف تھا، قبلہ مفتی صاحب و حکیم صاحب بڑی محتاط گفتگو کے دلدادہ ہیں، میں ایک دبنگ انسان ہوں، اب لگے وہ معافی مانگنے کہ: ”خدا کے لئے آپ ہمیں معاف کردیں غلطی ہوگئی۔“ ہم نے کہا کہ: ”آپ ہم سے کیوں مذاق کرتے ہیں؟ آپ لوگوں نے ہمیں گرفتار کیا ہے!“ انہوں نے کہا کہ: ”نہیں جناب بس تھوڑی سی غلطی ہوگئی، چیف سیکریٹری صاحب نے ہمیں حکم دیا ہے کہ آپ جاکر ان سے معافی مانگیں، اور سرکاری گاڑی پر راولپنڈی پہنچائیں۔“ ہم نے ان سے کہا کہ: ”نہیں! جہلم میں ہمارے دوست ہیں، آپ ہمیں وہاں پہنچادیں، ہم کوئی مزید آپ سے مراعات نہیں چاہتے۔“ ہم نے جہلم پہنچ کر فیصلہ کیا کہ اب راولپنڈی جانا فضول ہے، میٹنگ کا وقت گزر گیا ہے، جو فیصلے ہوں گے اطلاع ہوجائے گی۔ اب ہمیں فیصل آباد جانا چاہئے، حضرت مفتی صاحب کے ایک تعلق والے کے ہاں ہم جہلم میں ٹھہرے تھے کہ جہلم کی ضلعی انتظامیہ کا اعلیٰ آفیسر آیا اور کہا کہ: ”چیف سیکریٹری صاحب آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں“، انہوں نے فون کیا تو چیف سیکریٹری صاحب لگے معذرت کرنے اور کہا کہ: ہم نے آپ چاروں حضرات کے گھروں میں پیغام دے دیا ہے کہ آپ خیریت سے ہیں۔
ریلوے وزیر کی ”کرم فرمائی“
اس سارے ڈرامے کا بعد میں پس منظر معلوم ہوا کہ ریلوے کے وفاقی منسٹر خورشید حسن میر پر تنقید کرتے ہوئے میں نے اسے مرزائی نوازی تک کا طعنہ دے دیا، یا مرزائی لکھ دیا، اس پر وہ بہت جزبز ہوئے، اس نے مجھے ایک خط لکھا کہ: ”میرے حلقوں میں بعض لوگ مجھے مرزائی کہہ
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
رہے ہیں، اب آپ بھی ان کے ساتھ ہو گئے، یہ میرے خلاف ایک سازش ہے، جس کا آپ شکار ہو گئے، آپ اس کی تردید شائع کریں۔‘‘ میں نے جواب میں تحریر کیا کہ: ”آپ مرزا غلام احمد قادیانی کو حضور ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کرنے کے باعث کافر و دجال و کذاب لکھ دیں، میں آپ کی یہ تردید شائع کردوں گا، اور جو کچھ پہلے ”لولاک“ میں لکھا ہے، اس کی بھی معذرت چھاپ دوں گا۔“ لیکن ان کا جواب آج تک نہ آیا، نہ میں نے تردید کی، انہوں نے دل میں ناراضگی رکھ لی، کچھ عرصہ بعد ریلوے نے راولپنڈی اور فیصل آباد کے درمیان نئی ٹرین ”فیصل آباد ایکسپریس“ چلائی، ریلوے کے مقامی حکام نے مشہور سماجی رہنما مولانا فقیر محمد ؒ کی معرفت اس کے افتتاح کرنے کی استدعا کی، میں نے افتتاح کیا، فیتہ کاٹا، اخبارات میں خبر اور فوٹو شائع ہوئے، خورشید حسن میر خبریں اور فوٹو دیکھ کر آگ بگولا ہو گیا، تو مقامی حکام کی شامت آگئی کہ میں ریلوے منسٹر ہوں، میری پیشگی اجازت کے بغیر مولانا تاج محمود ؒ سے افتتاح آپ نے کیوں کرایا؟
جب ہم راولپنڈی جانے کے لئے تیار ہوئے تو ایک دن پہلے میری سرکٹ ہاؤس فیصل آباد میں کمشنر سرگودھا ڈویژن کاظمی صاحب اور ڈی آئی جی میاں عبدالقیوم سے مرزائیت کے عنوان پر ملاقات ہوئی، مرزائیت کے کفر و ارتداد، ملک دشمنی کے حوالے ان کو سنائے، تو وہ بہت حیران اور متاثر ہوئے، انہوں نے کہا کہ: ”اے کاش! آپ وزیر اعظم بھٹو صاحب سے ایک ملاقات کریں، اور یہ تمام چیزیں ان کے علم میں لائیں، اس لئے کہ اعلیٰ طبقہ مرزائیوں کے ان عقائد و عزائم سے بے خبر ہے۔“ میں نے ان سے کہا کہ: ”کل میں راولپنڈی جارہا ہوں، میری پوری کوشش ہوگی کہ میں وزیر اعظم سے ملوں۔“ ایک تو اس طرح، دوسرا یہ کہ ہمارے فون ٹیپ ہو رہے تھے، تیسرے یہ کہ ہماری روانگی کی اطلاع مقامی سی آئی ڈی نے اعلیٰ حکام تک پہنچادی، کسی طرح خورشید حسن میر کو بھی ہماری راولپنڈی آمد کی اطلاع ہو گئی، ان دنوں پنڈی کے کمشنر مسعود مفتی تھے، جو پہلے فیصل آباد میں ڈپٹی کمشنر رہ چکے تھے، میرے ان سے دوستانہ مراسم تھے، لیکن خورشید حسن میر کے دباؤ میں آکر انہوں نے ہدایت کی کہ جونہی ہم راولپنڈی ڈویژن کی حدود میں داخل ہوں، لالہ موسیٰ سے ہمیں گرفتار کر لیا جائے۔ چنانچہ ہمیں گرفتار کر لیا گیا، ٹرین راولپنڈی پہنچی تو مولانا غلام اللہ خان ؒ کے آدمی ہمیں لینے کے لئے آئے ہوئے تھے، وہ خالی واپس لوٹے تو مولانا نے میرے گھر فون کیا، اطلاع ملی کہ وہ تو راولپنڈی کے لئے چناب ایکسپریس سے روانہ ہو گئے، انہوں نے کہا کہ وہ پہنچے نہیں، اب فیصل آباد اور راولپنڈی دونوں جگہ تشویش ہوئی کہ ہوا
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
کیا؟ مولانا غلام اللہ خانؒ معاملہ سمجھ گئے، انہوں نے کہا کہ وہ گرفتار ہو گئے۔ یہ خبر فیصل آباد کے شہر میں آگ کی طرح پھیل گئی، فیصل آباد کی مقامی مجلس عمل کے رفقاء نے شہر میں ہڑتال اور جلسہ عام اگلے دن کرنے کا پروگرام بنا لیا۔ ڈی سی صاحب سے میرے رفقاء نے پوچھا، انہوں نے لاعلمی ظاہر کی، ڈی سی صاحب نے کمشنر و ڈی آئی جی سے پوچھا جو ابھی فیصل آباد سرکٹ ہاؤس میں مقیم تھے، سرگودھا نہ گئے تھے، انہوں نے لاعلمی ظاہر کی، انہوں نے چیف سیکریٹری سے پوچھا، انہوں نے لاعلمی ظاہر کی، کمشنر صاحب اور ڈی آئی جی نے کہا کہ مولانا تاج محمود صاحبؒ تو وزیر اعظم سے ملنے جا رہے تھے، چیف سیکریٹری پریشان ہوا کہ اتنے بڑے ذمہ دار آدمیوں کو پنجاب گورنمنٹ کی اطلاع و منظوری کے بغیر کیسے گرفتار کیا گیا، راولپنڈی ڈویژن کے کمشنر صاحب سے چیف سیکریٹری نے پوچھا تو معلوم ہوا کہ ڈی سی اور ایس پی گجرات نے انہیں گرفتار کیا ہے، چیف سیکریٹری نے ہماری رہائی کے آرڈر کئے۔
اٹھارہ سیاسی و دینی جماعتوں کے اجلاس میں اہم فیصلے
ہم لوگوں نے فون کر کے گھر اطلاع دی کہ ہم چناب ایکسپریس کے ذریعے کل واپس آ رہے ہیں، ہماری آمد کی اطلاع سن کر دوسرے روز پورا شہر اسٹیشن پر امڈ آیا، پورے ملک میں تحریک کا زور تھا، ہر جگہ ہڑتالیں، جلسے جلوسوں کا سلسلہ شروع تھا۔ راولپنڈی ہم نہ جاسکے، چونکہ وقت تھوڑا باقی تھا، باقی حضرات بھی بہت کم تعداد میں پہنچے، اس لئے راولپنڈی کی میٹنگ میں مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ نے فیصلہ کیا کہ ٩؍ جون ١٩٧٤ء کو لاہور میں اجلاس رکھا جائے، اب اس کی تیاری میں صرف چھ دن باقی تھے، اطلاعات کا سلسلہ شروع ہوا، ٩؍ جون ١٩٧٤ء کو لاہور میں میٹنگ ہوئی۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی دعوت پر اٹھارہ سیاسی و دینی جماعتوں کا اجلاس منعقد ہوا، جامع مسجد شیرانوالہ باغ میں عوام و خواص میٹنگ کے فیصلوں کو سننے کے لئے جمع تھے، ملک بھر کے اکابر علماء نے اس میں شرکت کی۔
مولانا مفتی محمودؒ، مولانا محمد یوسف بنوریؒ، مولانا خواجہ خان محمدؒ، مولانا عبد الستار خان نیازیؒ، مولانا غلام اللہ خانؒ، نوابزادہ نصر اللہ خانؒ، مولانا غلام علی اوکاڑویؒ، مولانا شاہ احمد نورانیؒ، مولانا محمد شریف جالندھریؒ، چوہدری غلام جیلانیؒ، مولانا عبید اللہ انورؒ، سید مظفر علی شمسیؒ اور دیگر حضرات اس میں شریک تھے،
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
اللہ رب العزت نے فضل فرمایا، پورے ملک کی اپوزیشن متحد تھی، تحریک چلی تو تمام اسمبلی کے ممبران اور اپوزیشن بھی مجلس عمل میں شریک ہو گئے، یوں سوائے پیپلز پارٹی کے باقی تمام دینی و سیاسی جماعتوں نے مل کر رحمت دو عالم ﷺ کی وصف خاص عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے تحریک چلانے کا اعلان کیا۔ ساری صورتحال کا جائزہ لیا گیا، آخر طویل بحث کے بعد شورش کاشمیری کی تحریک و تجویز پر:
- ١...... مولانا محمد یوسف بنوریؒ کو آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کا
کنوینر بنایا گیا۔
- ٢...... قادیانیوں کے اقتصادی و عمرانی بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا۔
- ٣...... ١٤؍جون کو ملک بھر میں ہڑتال کی اسلامیانِ پاکستان سے اپیل کی گئی۔
- ٤...... اور ١٦؍جون کو فیصل آباد میں مجلس عمل کا مستقل انتخاب طے ہوا۔
١١؍جون کو آغا شورش کاشمیریؒ، مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ اور دیگر حضرات نے وزیر اعظم بھٹو سے قادیانیت کے مسئلے پر ملاقات کر کے تبادلہ خیال کیا، مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ نے بھٹو صاحب سے کہا کہ: ”وزیر اعظم لیاقت علی خانؒ قادیانیت کا مسئلہ حل کرنا چاہتے تھے، مگر وہ شہید ہو گئے۔“ اس پر بھٹو نے کہا کہ: ” اب آپ مجھے بھی شہید کرانا چاہتے ہیں!“ شیخ بنوریؒ نے زور سے وزیر اعظم کی میز پر مکا مار کر فرمایا کہ: ”آپ کے مقدر اتنے کہاں!“ اس پر بھٹو صاحب ششدر رہ گئے۔
١٤؍جون کو تمام ملک میں قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کی حمایت میں ہڑتال ہوئی، اتنی بڑی ہڑتال اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی، اس ہڑتال کو ریفرنڈم سے تشبیہ دی گئی۔ مسجد وزیر خان لاہور میں جلسہ ہوا، مولانا عبدالستار خان نیازیؒ، نوابزادہ نصر اللہ خانؒ، آغا شورش کاشمیریؒ، مولانا عبید اللہ انورؒ، سید مظفر علی شمسیؒ، احسان الٰہی ظہیرؒ اور سید محمود احمد رضویؒ نے تقریریں کیں۔ سانحہ ربوہ کی تحقیقات کے لئے مسٹر جسٹس صمدانی کو مقرر کیا گیا، انہوں نے ٣؍مئی سے تحقیقات کا آغاز کیا، وزیر اعظم بھٹو نے ١٤؍جون کو تقریر کر کے قوم کو عوامی امنگوں کے متعلق مسئلہ حل کرنے کا مژدہ سنایا، انہوں نے قومی اسمبلی میں مسئلہ لے جانے کا وعدہ کیا، پورے ملک میں قادیانیوں کے بائیکاٹ کی موثر تحریک شروع ہو گئی۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء کا آغاز
١٦ جون فیصل آباد کی تاریخ میں ایک عظیم تاریخی دن تھا، پورے ملک کی دینی و سیاسی قیادت یہاں پر جمع ہوئی، ماڈل ٹاؤن سی میں مجلس عمل کی میٹنگ مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کی صدارت میں منعقد ہوئی، جس میں مولانا محمد یوسف بنوریؒ ، مولانا خواجہ خان محمدؒ ، سردار میر عالم خان لغاری، مولانا تاج محمودؒ ، مولانا محمد شریف جالندھریؒ ، مولانا مفتی محمودؒ ، مولانا عبدالحقؒ ، مولانا عبیداللہ انورؒ ، مولانا شاہ احمد نورانیؒ ، مولانا عبدالستار خان نیازیؒ ، مولانا صاحبزادہ فضل رسول، مولانا سید محمود احمد رضویؒ ، میاں فضل حقؒ ، مولانا عبدالقادر روپڑیؒ ، مولانا محمد اسحاق چیمہؒ ، شیخ محمد اشرفؒ ، مولانا محمد شریفؒ ، مولانا محمد صدیقؒ ، علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ ، مولانا مفتی زین العابدینؒ ، مولانا غضنفر کراروی، مولانا محمد اسماعیلؒ ، سید مظفر علی شمسیؒ ، میجر اعجازؒ ، رانا ظفر اللہ خانؒ ، نوابزادہ نصر اللہ خانؒ ، مولانا عبیداللہ احرارؒ اور مولانا سید عطاء المنعم بخاریؒ ، چوہدری ثناء اللہ بھٹہؒ ، چوہدری صفدر علی رضویؒ ، ملک عبدالغفور انوریؒ ، مولانا غلام اللہ خانؒ ، سید عنایت اللہ شاہ بخاریؒ ، مولانا غلام علی اوکاڑویؒ ، سید محمود شاہ گجراتیؒ ، مفتی سیاح الدینؒ ، مولانا محمد چراغؒ ، سید نور الحسن بخاریؒ ، مولانا عبدالستار تونسویؒ ، مولانا خلیل احمد قادریؒ ، آغا شورش کاشمیریؒ ، ارباب سکندر خانؒ امیر زادہ، پروفیسر غفور احمدؒ ، چوہدری غلام جیلانیؒ ، مولانا ظفر احمد انصاریؒ ، مولانا حکیم عبدالرحیم اشرفؒ اور دوسرے حضرات شریک ہوئے۔ مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ صدر قرار پائے، ناظم اعلیٰ سید محمود احمد رضویؒ ، ناظم مولانا محمد شریف جالندھریؒ ، نائب صدر مولانا عبدالستار خان نیازیؒ ، سید مظفر علی شمسیؒ ، مولانا عبدالحقؒ ، مولانا عبدالواحدؒ ، نوابزادہ نصر اللہ خانؒ ، خازن میاں فضل حقؒ کو بنایا گیا۔
١٦ جون کی شام کو فیصل آباد کی تاریخ کا عظیم الشان اجتماع منعقد ہوا، ملک بھر سے آئے ہوئے مقررین رہنماؤں نے دھواں دار تقریریں کیں، بھٹو صاحب کی ریڈیو، ٹی وی کی تقریر کو ناقابل قبول قرار دیا گیا، مجلس عمل کے اجلاس کی تمام قراردادوں کو مولانا محمد شریف جالندھریؒ اور پروفیسر غفور احمدؒ نے مرتب کیا، پورے ملک میں قادیانیوں کے بائیکاٹ
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
کی تحریک زوروں پر تھی، کراچی سے خیبر تک مسلمان عوام قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے کے لئے اپنی تمام صلاحیتوں کو وقف کئے ہوئے تھے۔
٢٠؍جون کو سرحد اسمبلی نے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی متفقہ سفارشی قرارداد پاس کی، ٢٢؍جون کو قادیانی مسئلے کے متعلق حکومت نے مری میں اجلاس منعقد کیا، اس میں کئی اہم فیصلے کئے گئے، جس میں ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے کا فیصلہ بھی شامل تھا۔ ٢٣؍جون کو صالح نور نے صمدانی کمیشن کے سامنے بیان دے کر مرزائیوں پر بوکھلاہٹ طاری کردی۔
یکم جولائی سے قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا، حزب اقتدار و حزب اختلاف نے متفقہ طور پر قومی اسمبلی کو ایک کمیٹی قرار دے کر اجلاس شروع کر دیا، ربوہ کے مرزائیوں کے پوپ مرزا ناصر اور لاہوریوں کے مولوی صدر الدین کو قومی اسمبلی میں بلایا گیا، انہوں نے اپنا موقف بیان کیا، تمام ممبران سوال لکھ کر یحییٰ بختیار اٹارنی جنرل کی معرفت ان پر سوالات کرتے تھے، مولانا مفتی محمود ؒ نے یحییٰ بختیار کی دینی و شرعی امور میں معاونت کی۔
١٩؍جولائی کو مرزا ناصر صمدانی کمیشن کے سامنے پیش ہوا، ہائی کورٹ میں مرزا ناصر کی پیشی سے قبل اجلاس کو کھلے عام کی بجائے بند قرار دے دیا گیا، تمام جماعتوں نے اپنے وکلاء کے ذریعے اس تحقیقاتی کمیشن میں اپنا فرض ادا کیا۔
٢٠؍جولائی ١٩٧٤ء کو مرزائی نواز عناصر اور بعض حکومتی ارکان و علماء سوء نے اپنی ایک لے پالک ایجنسی کو ہزاروں روپے دے کر مولانا سید محمد یوسف بنوری ؒ کے خلاف اخبارات میں اشتہارات لگوائے، شیخ بنوری کو مشکوک قرار دینے کی بجائے عوام نے حکومت اور مرزائیوں کو مجرم قرار دیا، غرضیکہ مرزائی و مرزائی نواز تحریک کو سبوتاژ کرنے کے لئے جتنے حربے اختیار کرتے گئے اتنا ہی ان کے خلاف عوام میں اشتعال پھیلتا گیا۔
مرزائیوں نے اپنے عقائد کو توڑ مروڑ کر ایک اخبار میں اشتہار دیا، اتنا شدید ردّعمل ہوا کہ دوسرے روز اس اخبار نے اپنی طرف سے مرزائیوں کے کفریہ عقائد و ملک دشمن سرگرمیوں پر مشتمل اشتہار شائع کیا، مجلس عمل فیصل آباد کی طرف سے بھی مرزائیوں کے عقائد پر مشتمل ایک اشتہار مرزائیوں کے اشتہار کے جواب میں اخبارات میں شائع کر دیا گیا، غرضیکہ ہر طرح دشمن کے تمام ہتھکنڈوں کو غیر مؤثر کر کے رکھ دیا گیا، اب اس پر جرح ہونا تھی۔
٢٣؍جولائی کو مرزا ناصر کا اسمبلی میں بیان مکمل ہوا۔
اس پر باقی ارکان تو درکنار پیپلز پارٹی کے غیر جانب دار ارکان اس درجہ برافروختہ تھے
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
کہ انہوں نے مرزا ناصر پر درشت لہجے میں جرح کی، اس کے بعض گستاخانہ کلمات پر حاضر ارکان نے سخت الفاظ میں اس کو ٹوکا، تمام ارکان اسمبلی قادیانیت کے خارج از اسلام ہونے پر متفق ہوگئے، مرزائیوں کے قومی اسمبلی میں بیانات کے جواب کے لئے مولانا سید محمد یوسف بنوری ؒ کی سربراہی میں مولانا محمد تقی عثمانی، مولانا سمیع الحق نے ”ملت اسلامیہ کا موقف“ نامی کتاب مرتب کی، مذہبی حصے کے لئے مولانا تقی عثمانی کی معاونت مولانا محمد حیات ؒ فاتح قادیان، مولانا عبدالرحیم اشعر ؒ نے کی، سیاسی حصے کے لئے مولانا سمیع الحق ؒ کی معاونت مولانا محمد شریف جالندھری ؒ اور بندہ تاج محمود نے کی۔ کتاب کا جتنا حصہ مکمل ہوتا رات کو مولانا مفتی محمود ؒ، مولانا شاہ احمد نورانی ؒ، پروفیسر غفور احمد ؒ، چوہدری ظہور الہی ؒ سن لیتے، اس میں ترمیم و اضافہ کر کے مسودہ کتابت کے لئے ملک عزیز کے نامور کاتب جناب سید انور حسین نفیس رقم کے سپرد کر دیا جاتا، کاتبوں کی ایک ٹیم کے ہمراہ وہ اس کی کتابت کرتے جاتے، مختصر وقت میں جامع کتاب تیار کر کے چھپنے کے لئے دی گئی، اس کتاب کے اور تحریک کے تمام تر مصارف مجلس تحفظ ختم نبوت نے برداشت کئے۔
تحریک کے اخراجات کے لئے فنڈ کا مسئلہ
اس سلسلے میں ایک روز عجیب مسئلہ درپیش آیا، مجلس عمل کا ایک خصوصی اجلاس جاری تھا، تحریک کے اخراجات کے لئے فنڈ کا مسئلہ زیر بحث آیا، چوہدری ظہور الہی ؒ نے تجویز پیش کی کہ تمام ارکان اور مجلس عمل میں شامل جماعتیں پانچ پانچ ہزار روپیہ میاں فضل حق ؒ خازن کے پاس اخراجات کے لئے جمع کرا دیں، مزید اخراجات کے لئے بعد میں غور کر لیا جائے گا، مولانا محمد یوسف بنوری ؒ نے مجھے اور مولانا محمد شریف جالندھری ؒ کو علیحدہ لے جا کر فرمایا کہ: ”تمام جماعتوں نے اپنی ضروریات و اخراجات کے لئے فنڈ کیا ہے، ان میں سے کسی نے ختم نبوت کے لئے فنڈ نہیں کیا، تو ان کی رقوم کو ختم نبوت پر کیسے خرچ کریں؟ البتہ مجلس تحفظ ختم نبوت نے اسی مد کے لئے فنڈ کیا ہے، اس لئے مجلس ہی تمام اخراجات اپنے محفوظ فنڈ سے ادا کرے۔“ میں نے اور مولانا محمد شریف نے درخواست کی کہ: ”حضرت! ہمارے پاس تو مبلغین و ملازمین، لٹریچر و مجلس کے اتنے اخراجات ہیں کہ اگر یہ فنڈ اس پر لگا دیا گیا تو ہمارا پورا کام ٹھپ ہو جائے گا“ اس وقت شیخ بنوری ؒ پر عجیب کیفیت طاری تھی، مخاطب ہو کر ہمیں فرمایا کہ: ”مولانا صاحبان! جو مجلس کے پاس ہے وہ بلا دریغ خرچ کریں، آئندہ کے اخراجات کے لئے فکر نہ کریں۔ یوسف بنوری ؒ کا
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
ہاتھ خدا تعالیٰ کے خزانوں میں ہے، جتنی ضرورت ہوگی، خدا تعالیٰ کے خزانے سے نکال لوں گا۔“ اس پر ہم آمادہ ہوگئے، چنانچہ تحریک کے تمام اخراجات مجلس تحفظ ختم نبوت نے برداشت کئے۔
مجلس عمل کی قادیانیوں کے خلاف بائیکاٹ کی تحریک نے مرزائیت کی کمر توڑ دی، ان پر بوکھلاہٹ طاری ہوگئی، کئی مرزائی مسلمان ہوئے، اخبارات میں مرزائیت سے لاتعلقی کا اعلان کیا، بعض جگہ کچھ مسلمان، مرزائیوں کی فائرنگ سے شہید ہوئے، مرزائیوں کی اشتعال انگیز حرکتوں کا ردّعمل مرزائیوں کے اعصاب کے لئے مزید سخت ہوتا گیا، تحریک جاری رہی، ملک بھر کے تمام مکاتب فکر نے اپنی ہمت وتوفیق کے مطابق تحریک کو کامیاب بنانے کے لئے گراں قدر خدمات سرانجام دیں، سعودی عرب کی بعض اہم شخصیات نے حکومت کو مرزائیوں کے غیرمسلم اقلیت قرار دینے کا مشورہ دیا، جامعہ ازہر مصر کے شیوخ نے مرزائیوں کے بائیکاٹ کو واجب قرار دے دیا، اس سے رائے عامہ مزید پختہ ہوگئی، تحریک کو بے حد فائدہ پہنچا۔ بھٹو حکومت کا بھی تحریک کے بارے میں مناسب رویہ تھا، اکا دکا واقعات کے علاوہ کہیں تحریک نے خطرناک شکل اختیار نہ کی، پرامن جدوجہد کو مرزائی تشدد کی راہ پر ڈالنے میں ناکام رہے، البتہ حکومت نے فوری مطالبہ ماننے کی بجائے طویل المیعاد اسکیم تیار کی، اس سے وہ عوام کے حوصلے کا امتحان اور اپنی گلوخلاصی کی شکل نکالنا چاہتے تھے۔ بعض جگہ گرفتاریاں، بعض جگہ لاٹھی چارج اور اشک آور گیس استعمال ہوئی، لیکن مجموعی طور پر حالات کنٹرول میں رہے، حکومت نے اندازہ لگالیا کہ مسلمان، حضور ﷺ کی عزت وناموس کے تحفظ کے لئے بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لئے تیار ہیں، اب مسئلے کو حل کئے بغیر کوئی چارہ کار نہیں ہے۔ قومی اسمبلی میں مسئلہ لے جاکر بھٹو صاحب نے ایک آئینی راہ اختیار کرکے ثابت کرنا چاہتے تھے کہ وہ آئین کی بالادستی کے قائل ہیں، وہ تنہا اس کی پوری ذمہ داری اپنے سرلینے کے لئے آمادہ نہ تھے، مولانا مفتی محمودؒ نے قومی اسمبلی میں ”ملت اسلامیہ کا موقف“ نامی کتاب پڑھی، تمام ارکان اسمبلی میں اسے تقسیم کیا گیا، مولانا غلام غوث ہزارویؒ نے اپنی طرف سے قادیانیوں اور لاہوریوں کے جواب میں مواد جمع کرکے شائع کردیا اور اسمبلی میں اسے پڑھا، اللہ ربّ العزت کا فضل ہے کہ ان ساری کوششوں کے بڑے خوشگوار اثرات مرتب ہوئے۔
ممبران اسمبلی پر پہلے رواداری کا بھوت سوار تھا، مرزا ناصر نے جب جرح کے دوران تسلیم کیا کہ: ”وہ لوگ جو مرزا کو نہیں مانتے، ہم ان کو کافر سمجھتے ہیں“ تو اس سے ممبران اسمبلی کی
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
آنکھیں کھلیں کہ یہ تو ہم کو بھی کافر سمجھتے ہیں، امت کا موقف جب پیش کیا گیا تو ان ممبران کے سامنے مرزائیت کا کفر الم نشرح ہو گیا۔
تحریک کو کچلنے کی تیاریاں
حکومت اور مجلس عمل نے کسی نتیجے پر پہنچنے کے لئے ایک سب کمیٹی تشکیل دی، مجلس عمل کی طرف سے مولانا مفتی محمود ؒ، مولانا شاہ احمد نورانی ؒ، پروفیسر غفور احمد ؒ اور چوہدری ظہور الٰہی ؒ، حکومت کی طرف سے عبدالحفیظ پیرزادہ ؒ، مولانا کوثر نیازی ؒ اور لاء سیکریٹری افضل چیمہ ؒ اس کے ممبران مقرر ہوئے، اس کمیٹی کے کئی اجلاس ہوئے، مگر کوئی فیصلہ نہ ہوسکا۔
کمیٹی کے سرکاری ارکان ”لمبا کرو اور لٹکاؤ“ کی پالیسی پر گامزن تھے، ان کی ٹال مٹول کی کیفیت نے بحرانی شکل اختیار کر لی، قومی اسمبلی کے فیصلے کے لئے ٧؍ ستمبر کی تاریخ کا بھی اعلان کر دیا گیا تھا۔
٢٥؍اگست کو مرزا ناصر پر گیارہ روزہ جرح مکمل ہوئی، سات گھنٹے لاہوری مرزائیوں کے سربراہ صدر الدین پر جرح ہوئی، قومی اسمبلی کی کارروائی سے ہمارے ارکان مطمئن تھے، مگر حکومت گومگو کی کیفیت سے دوچار تھی۔
٧؍ ستمبر ١٩٧٤ء کو شاہی مسجد لاہور میں عظیم الشان تاریخی جلسہ عام منعقد ہوا، ملک بھر کے دینی و سماجی اور سیاسی رہنماؤں نے اس جلسے سے خطاب کیا، پورے ملک بالخصوص پنجاب سے عوام کے پرجوش قافلے شریک ہوئے، شاہی جامع مسجد لاہور اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود ناکافی ثابت ہوئی، چاروں طرف سر ہی سر نظر آتے تھے، تاحد نگاہ انسانوں کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا، اس سے قبل بھٹو صاحب بلوچستان گئے، تو فورٹ سنڈیمن اور کوئٹہ کے اجتماعات میں عوام نے مرزائیت کے خلاف اتنا اظہار نفرت کیا کہ بھٹو جیسے مضبوط اعصاب کے انسان کا بھی دم گھٹنے لگا، گجرات کے ایس. پی شریف احمد چیمہ کی بعض حماقتوں کے باعث کھاریاں کے گاؤں ڈنگہ میں دو مسلمان نوجوان غلام نبی ؒ اور محمد یوسف ؒ پولیس فائرنگ سے شہید ہو گئے۔ مولانا محمد یوسف بنوری ؒ کی قیادت میں ملک بھر میں کہیں بھی تحریک کو مدہم نہ ہونے دیا گیا، جوں جوں وقت بڑھتا گیا، حکومت اور مرزائیوں کے لئے مشکلات میں اضافہ ہوتا گیا۔ ظفر اللہ قادیانی نے بیرونی دباؤ ڈالنے اور بین الاقوامی پریس کے ذریعے بیان بازی سے حکومت کو جھکانا چاہا، لیکن
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
عوام کے بے پناہ جذبے نے حکومت کو ایسا نہ کرنے دیا۔ غرضیکہ کفر و اسلام دونوں نے اپنے تمام تر وسائل کو میدان کارزار میں جھونک دیا تھا۔
مجلس عمل نے ٦؍ ستمبر کو راولپنڈی تعلیم القرآن، راجہ بازار میں اپنا اجلاس طلب کیا ہوا تھا، ٦، ٧؍ ستمبر کی درمیانی رات کو اسی دارالعلوم کی وسیع و عریض جامع مسجد میں آخری جلسہ عام منعقد ہونے والا تھا، اس کے بعد تحریک نے ٧؍ ستمبر سے نیا رخ اختیار کرنا تھا۔ ٥؍ ستمبر رات کے آخری حصے میں راولپنڈی کے لئے میں (مولانا تاج محمود) روانہ ہوا، پلیٹ فارم کے قریب سے گزرا کوئی تین بجے کا عمل ہوگا، اس وقت فوجی مال گاڑیوں کے ڈبوں سے ٹینک، توپ بردار گاڑیاں اور اسلحہ اتار رہے تھے، فوج کی مسلح آمد اور اس تیاری کے تیور دیکھ کر میں بھانپ گیا کہ یہ سب کچھ ٧؍ ستمبر کے بعد تحریک کو کچلنے کے لئے ہے۔
دوسری بات جو میرے نوٹس میں آئی وہ یہ تھی کہ ٤، ٥؍ ستمبر کو مرزائیوں نے ملک بھر کی ٹیلی فون ڈائریکٹریوں سے پتہ جات لے کر مرزا قادیانی کی صداقت کے دلائل اور اسے قبول کرنے کی دعوت پر مشتمل خطوط ارسال کئے، ٦؍ ستمبر کو چھٹی تھی، مرزائیوں کا خیال تھا کہ ٧؍ ستمبر کو جب یہ ڈاک مسلمانوں کو ملے گی، اس وقت تحریک کے رہنماؤں کی لاشیں سڑکوں پر ہوں گی، تحریک کچلی جا چکی ہوگی، قوم کے حوصلے پست ہوں گے، مرزا کی صداقت کا یہ خط ایک عظیم پیش گوئی کا کام دے جائے گا۔
”ٹاپ سیکریٹ“ لفافے کا معما
تیسرا یہ کہ ٣، ٤؍ ستمبر کو ڈی سی فیصل آباد آفس میں ایک خاص واقعہ پیش آیا، جس کی اطلاع اسی دن شام کو مجھے مل گئی تھی، وہ یہ کہ مرکزی حکومت کی طرف سے ایک سر بمہر لفافہ جس پر ”ٹاپ سیکریٹ“ لکھا تھا، موصول ہوا، اتفاق سے جس کلرک نے اس دن ڈاک کھولی وہ مرزائی تھا، اس نے یہ لفافہ دیکھتے ہی بھانپ لیا کہ یہ چٹھی ڈی سی صاحب کے نام مرکزی حکومت کی طرف سے تحریک ختم نبوت کے متعلق تازہ ہدایات پر مشتمل ہوگی، چوری چوری اس لفافے کو اس نے کھول لیا اور اس کی باہر سے فوٹو اسٹیٹ کاپی کرائی اور امیر جماعت مرزائیہ فیصل آباد کو مہیا کر دی۔ واقعی وہ چٹھی تحریک ختم نبوت کے متعلق تھی، جس میں صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایات بھیجی گئی تھیں کہ ٧؍ ستمبر کے بعد جو تحریک ختم نبوت میں مزید شدت آنے والی ہے، اسے سختی سے کچل دیا جائے۔ ایک اے ایس آئی کو بھی گولی چلانے اور بغیر نوٹس دیئے کسی مکان میں داخل
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
ہوئے، تلاشی لینے، جس کو مناسب سمجھے گرفتار کرنے کے اختیار ہوں گے، اس چٹھی کا فوٹواسٹیٹ مرزائی جماعت کے امیر کو اور اصل چٹھی کو ڈی سی آفس کے اسٹاف روم میں میز کے نیچے ڈال دیا، اسی روز اس مرزائی کے علاوہ ایک مسلمان کلرک نے بھی کچھ ڈاک کھولی تھی، کچھ دیر بعد تیسرے کلرک کی میز کے نیچے سے اس چٹھی پر کسی کی نظر پڑگئی، اسے اٹھایا گیا تو اس کی سیل ٹوٹی ہوئی تھی، اس صورتحال سے تمام کلرک پریشان ہو گئے کہ یہ چٹھی کیوں کھولی گئی؟ کس نے کھولی؟ اس لئے کہ اسے تو ضابطے کے مطابق ڈی سی صاحب کے سامنے کھولنا تھا، معاملہ سنگین تھا، ڈی سی صاحب کے نوٹس میں لایا گیا، انہوں نے مسلمان کلرک اللہ رکھا کو معطل کر دیا، سپرنٹنڈنٹ ڈی سی آفس مسلمان اور سمجھ دار شخص تھا، اس نے کہا کہ یہ دیکھا جائے کہ کھولنے سے قبل لفافے کے کونے پر کس کے دستخط ہیں، اس لئے کہ ڈی سی آفس کی ڈاک کھولنے سے پہلے ہر لفافے پر کھولنے والا اپنے دستخط کرتا ہے، جب وہ دستخط دیکھے گئے تو وہ مرزائی کلرک کے تھے، اللہ رکھا مسلمان کلرک بحال ہو گیا، اور مرزائی کلرک کو معافی مانگنے پر معاف کر دیا گیا۔ اس چٹھی اور پورے ملک میں حکومت پولیس و فوج کے عمل سے مرزائیوں نے اندازہ لگا لیا کہ تحریک کچلی جائے گی، اس لئے انہوں نے خطوط لکھے۔
چوہدری ظہور الٰہی ؒ اور بھٹو ؒ کے مابین مکالمہ
٦ ستمبر کی صبح گورنمنٹ ایم این اے ہاسٹل میں مولانا مفتی محمود ؒ کے کمرے میں مجلس عمل کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا، جس میں مولانا سید محمد یوسف بنوری ؒ، مولانا مفتی محمود ؒ، مولانا شاہ احمد نورانی ؒ، پروفیسر غفور احمد ؒ، چوہدری ظہور الٰہی ؒ، امیرزادہ ؒ، خان عبدالولی خان ؒ، نوابزادہ نصراللہ خان ؒ، مفتی زین العابدین ؒ، مولانا محمد شریف جالندھری ؒ، مولانا عبدالرحیم اشرف ؒ، میاں فضل حق ؒ اور بندہ تاج محمود ؒ شریک ہوئے۔ میں نے یہ تینوں واقعات گوش گزار کئے، نوابزادہ نصراللہ خان ؒ نے میری معلومات کی تصدیق کرتے ہوئے لاہور میں فوج کی پوزیشن سنبھالنے کے چشم دید واقعات بیان کئے، مجلس پر سناٹا طاری رہا، چوہدری ظہور الٰہی ؒ نے خاموشی توڑتے ہوئے کہا کہ: ”مجھے امید ہے کہ حکومت ہمارے مطالبات مان لے گی اور آج ان کا فیصلہ ہو جائے گا۔“ ہماری معلومات کے خلاف ان کی یہ بات ہمارے لئے اچنبھا معلوم ہوئی۔ دوستوں نے پوچھا کہ: ”آپ کے پاس کیا شواہد ہیں؟“ اس پر چوہدری صاحب نے کہا کہ: کل مسز بندرا نائیکے وزیر اعظم
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
سری لنکا، پاکستان کے دورے پر آئی تھیں، ان کے اعزاز میں بھٹو صاحب مرحوم نے ضیافت دی، تمام اپوزیشن رہنماؤں کو بلایا گیا۔ کھانے کی میز پر تمام کے ناموں کی چٹیں لگی ہوئی تھیں۔ کوئی اپوزیشن رہنما اس میں شریک نہ ہوا۔ اتفاق سے میں چلا گیا، کھانا کھانے سے فارغ ہوئے تو مسز بندر نائکے اور وزیر اعظم بھٹو مرحوم دونوں بیرونی گیٹ کے پاس آکر کھڑے ہوگئے۔ ہر جانے والے کو الوداع کہہ رہے تھے۔ میں اس روش پر چلتا ہوا بھٹو صاحب مرحوم کے قریب پہنچا تو میرا دل ان سے ملاقات کے لئے آمادہ نہ ہوا۔ راستہ چھوڑ کر پلاٹ سے گزر کر گیٹ کے ایک سائیڈ سے گزرنا چاہا، بھٹو صاحب مرحوم نے مجھے فوراً آواز دی: ”ظہور الٰہی مرحوم! مل کر جاؤ، چھپ کر کیوں جارہے ہو؟“ میں واپس لوٹ کر بھٹو صاحب مرحوم سے ملا تو انہوں نے مجھے کہا کہ:
”چوہدری ظہور الٰہی مرحوم! تمہیں کیا ہوگیا ہے؟ تو میرا جانی دوست تھا، میں نے تیرا کیا بگاڑا ہے کہ تو میرا سخت مخالف ہو گیا ہے؟“ اتنے میں لاء سیکرٹری افضل چیمہ مرحوم آگئے۔ بھٹو صاحب مرحوم نے ان کو کہا کہ : ”چیمہ صاحب مرحوم! آپ ظہور الٰہی مرحوم کو سمجھائیں اس کو کیا ہو گیا ہے؟ یہ آپ کا میرا دونوں کا دوست تھا۔ خدا جانے میں نے اس کا کیا قصور کیا ہے کہ اب یہ مجھے جلسوں اور جلسوں میں گالیاں دیتا ہے، میری سی آئی ڈی کی رپورٹ یہ ہے کہ یہ اگر گھر پر ہو اور کوئی مخاطب نہ ہو تو بھی مجھے گالیاں دیتا رہتا ہے۔“ چوہدری ظہور صاحب مرحوم نے کہا کہ : ”جناب! ایسے نہیں ہے۔ آپ کے ہمارے اصولی اختلافات ہیں۔ ہم اخلاص اور نیک نیتی سے آپ پر تنقید کرتے ہیں۔ اب ختم نبوت کا مسئلہ آپ کے سامنے ہے، اسے حل کیجئے اور قوم کے ہیرو بن جائیے۔“ بھٹو صاحب مرحوم نے کہا کہ: ”اگر میں ١٤ جون کو (ملک گیر ہڑتال کے دن) لاہور کی تقریر کے دن اس مسئلے کو مان لیتا تو ہیرو بن سکتا تھا، لیکن بعد از خرابیٔ بسیار مسئلہ ماننے سے ہیرو کیسے بن سکتا ہوں؟“ افضل چیمہ مرحوم نے کہا کہ: ”بھٹو صاحب مرحوم! باقی علماء کو تو مرزائیوں کو غیر مسلم قرار دینے پر اتنا اصرار نہیں ہے۔ البتہ چوہدری ظہور الٰہی صاحب مرحوم بڑا اصرار کر رہے ہیں۔ اڑا ہوا ہے اور ضد کر رہا ہے۔“ میں نے کہا کہ : ”بھٹو صاحب مرحوم! یہ چیمہ صاحب مرحوم آپ کے سامنے اپنے نمبر بنا رہے ہیں۔ میں ضد نہیں کر رہا۔ علمائے کرام کا اپنا موقف ہے۔ وہ میرے تابع نہیں ہیں۔ ایک دینی موقف اور شرعی امر پر علمائے کرام کو یوں مطعون کرنا چیمہ صاحب مرحوم کے لئے مناسب نہیں ہے اور صرف علمائے کرام نہیں بلکہ اس وقت تمام اسلامیان پاکستان اس مسئلے کو حل کرانے کے لئے سراپا تحریک بنے ہوئے ہیں۔ دنیائے اسلام کی نگاہیں اس مسئلے کے لئے آپ کی طرف لگی ہوئی ہیں۔ دنیائے عالم کے مسلمان اس مسئلے کا مثبت حل چاہتے ہیں۔ اسے
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
صرف مولویوں کا مسئلہ کہہ کر چیمہ صاحب آپ کو گمراہ کر رہے ہیں۔ علمائے کرام قطعاً اس مسئلے میں کسی بھی قسم کی معمولی سی لچک پیدا کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ آپ اس بارے میں علمائے کرام سے خود دریافت کرلیں، بلکہ میں ایسے عالم دین کا نام بتاتا ہوں جو آپ کے لئے دل میں نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ آپ ان سے پوچھ لیں کہ مسئلہ ختم نبوت فروعی امر ہے یا دین کا بنیادی مسئلہ ہے؟ اس کا تحفظ کرنا مسلمان حکومت کے لئے ضروری ہے یا نہیں؟“ بھٹو صاحب نے کہا کہ: ”کون سے عالم دین؟“ میں نے کہا کہ: ”مولانا ظفر احمد انصاری، آپ ان سے پوچھ لیں۔ اگر وہ ختم نبوت کے مسئلے کو فروعی مسئلہ سمجھتے ہوں تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ ہم تحریک سے لاتعلق ہو جائیں گے۔“ بھٹو صاحب نے چیمہ صاحب کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ مجھے (ظہور الٰہی) ساتھ لے کر مولانا ظفر احمد انصاری سے ملیں اور ان کا موقف معلوم کریں۔ چنانچہ اب وقت ہو گیا ہے چیمہ صاحب میرا انتظار کر رہے ہوں گے، ہم دونوں نے مولانا ظفر احمد انصاری سے ملنا ہے۔“ مولانا مفتی زین العابدین اور مولانا حکیم عبدالرحیم اشرف کے چیمہ صاحب اور مولانا ظفر احمد انصاری سے اچھے تعلقات تھے۔ چیمہ صاحب تو ویسے بھی فیصل آباد کے علاقے سے تعلق رکھتے تھے۔ چنانچہ طے یہ ہوا کہ یہ دونوں حضرات بھی آپ کے ساتھ جائیں۔ چوہدری ظہور الٰہی، افضل چیمہ، حکیم عبدالرحیم اشرف، مولانا مفتی زین العابدین اور مولانا ظفر احمد انصاری کی طویل گفتگو ہوئی۔ مولانا ظفر احمد انصاری نے صراحۃً فرمایا کہ: ”ختم نبوت کا مسئلہ دین کا بنیادی مسئلہ ہے، اس کو فروعی مسئلہ قرار دینا غلط ہے۔“ حقیقت میں خود افضل چیمہ اس مسئلے میں ضد کر رہے تھے۔ تمام حضرات کی گرفت سے چیمہ صاحب زچ ہو گئے تو ہاتھ جھٹک کر کہا کہ: ”اگر آپ لوگ ملک کی جڑیں اس طرح کھوکھلی کرنا چاہتے ہیں تو بڑے شوق سے جو چاہے کر جائیے۔“ بہرحال مولانا ظفر احمد انصاری کی ملاقات کی رپورٹ بھٹو صاحب کو دی گئی۔
بالآخر ختم نبوت کا بول بالا
اس کے بعد قومی اسمبلی کے دفاتر میں سب کمیٹی کا اجلاس تھا۔ ظہور الٰہی، مولانا مفتی محمود، پروفیسر غفور احمد، مولانا شاہ احمد نورانی، حفیظ پیرزادہ، مولانا کوثر نیازی، افضل چیمہ شریک ہوئے۔ اجلاس میں جاتے وقت مولانا مفتی محمود نے ہمیں حکم فرمایا کہ: ”آپ لوگ چل کر راجہ بازار میں مجلس عمل کی میٹنگ کریں۔“ میں نے مفتی
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
محمودؒ سے استدعا کی کہ سب کمیٹی کی مثبت یا منفی جو بھی کارروائی ہو ہمیں حکومت کے رویے سے ضرور باخبر رکھیں تاکہ اس کی روشنی میں ہم مجلس عمل میں اپنی پالیسی طے کر سکیں۔ دارالعلوم میں میٹنگ شروع ہوئی۔ آغا شورش کاشمیریؒ کی صحت ناساز تھی وہ میٹنگ میں لیٹ کر شریک ہوئے۔ حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ نے اجلاس کی صدارت فرمائی، سید مظفر علی شمسیؒ، سید محمود احمد رضویؒ، مولانا خواجہ خان محمدؒ، مولانا محمد شریف جالندھریؒ، سردار میر عالم خان لغاری، بندہ تاج محمودؒ، مفتی زین العابدینؒ، حکیم عبدالرحیم اشرفؒ، علی غضنفر کراروی، مولانا غلام اللہ خانؒ، مولانا غلام علی اوکاڑویؒ، مولانا احسان الٰہی ظہیرؒ، مولانا عبیداللہ انورؒ، نوابزادہ نصراللہ خانؒ، خان محمد زمان خان اچکزئیؒ، مولانا محمد علی رضویؒ، مولانا عبدالرحمٰنؒ (جامعہ اشرفیہ)، مولانا صاحبزادہ فضل رسول حیدر اور دوسرے کئی حضرات شریک اجلاس ہوئے۔ پوری مجلس عمل اس پر غور کر رہی تھی کہ اگر حکومت مطالبات تسلیم نہ کرے تو پھر ہمیں تحریک کو کن خطوط پر چلانا ہوگا؟ اور اب مرزائیوں سے زیادہ حکومت سے مقابلہ ہوگا۔ سبھی حضرات تحفظ ناموس ختم نبوت کے لئے جان کی بازی لگانے پر تیار تھے۔ اتنے میں مولانا مفتی محمودؒ کا فون آیا کہ حالات پرامید ہیں، توقع ہے کہ سب کمیٹی کسی متفقہ مسودے پر کامیاب ہو جائے گی۔ حفیظ پیرزادہ نے بھٹو صاحب کو فون کر کے سب کمیٹی کی کارروائی سے باخبر کیا۔ بھٹو صاحب نے تمام اراکین کمیٹی کو اپنے ہاں طلب کیا۔ تھوڑی دیر گفتگو ہوئی۔ بھٹو صاحب نے تمام کا موقف سنا اور کہا کہ: ”اب مزید وقت ضائع نہ کریں۔ رات بارہ بجے دوبارہ اجلاس ہوگا۔ آپ تمام حضرات تشریف لائیں۔ اس وقت دو ٹوک فیصلہ کریں گے۔“ ہم لوگ اپنی میٹنگ سے فارغ ہوئے امید و یاس کی کیفیت طاری تھی۔ میں سخت پریشان تھا۔ بھٹو صاحب جیسے چالاک آدمی سے پالا پڑا تھا۔ کسی وقت بھی وہ جھٹکا دے کر تحریک کو کچلنے کا فیصلہ کر سکتے تھے۔ تمام حالات ہمارے سامنے تھے۔ میں انتہائی پریشانی کے عالم میں مولانا محمد رمضان علویؒ کے گھر گیا۔ مجھے اندیشہ تھا کہ اگر فیصلہ صحیح نہ ہوا تو میری جان نکل جائے گی۔ ان کے ہاں کروٹیں بدلتے وقت گزارا۔ رات کو راجہ بازار کی جامع مسجد میں جلسہ عام منعقد ہوا۔ مقررین نے بڑی گرم تقریریں کیں۔ ہجوم آتش فشاں پہاڑ کی شکل اختیار کئے ہوئے تھا۔ اعلان کیا گیا کہ کل اگر ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو راجہ بازار میں شہیدان ختم نبوت کی لاشوں کا انبار ہوگا۔ جوں جوں وقت گزرتا جا رہا تھا جلسے کی تقریروں میں شدت پیدا ہوتی جارہی تھی۔ بھٹو صاحب جلسے کی ایک ایک منٹ کی کارروائی سے باخبر تھے۔ تمام حالات ان
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
کے سامنے تھے۔ رات بارہ بجے حسب پروگرام بھٹو صاحب ؒ کی صدارت میں کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ پنڈی میں جلسہ ہو رہا تھا۔ اسلام آباد میں میٹنگ ہو رہی تھی۔ ڈیڑھ بجے کے قریب مولانا مفتی محمود ؒ، مولانا شاہ احمد نورانی ؒ، پروفیسر غفور احمد ؒ اور چوہدری ظہور الہی ؒ ڈیڑھ گھنٹے کے مذاکرات کے بعد جلسے میں تشریف لائے۔ مولانا مفتی محمود ؒ نے اسٹیج پر چڑھنے سے قبل مجھے اشارے سے بلوایا اور فرمایا: ”مبارک ہو! کل آپ کی انشاء اللہ العزیز! جیت ہو جائے گی۔ لیکن اس کا ابھی افشا نہ کریں کہ حکومت کا اعتبار نہیں ہے۔“ میں اسٹیج پر آیا۔ شیخ بنوری ؒ کے کان میں کہا کہ: ”افشا نہ کریں، لیکن آپ کو مبارک ہو۔“ شیخ بنوری ؒ کے منہ سے بے ساختہ زور سے نکلا: ”الحمد للہ !“ جس سے اکثر لوگ میری سرگوشی اور مولانا کے الحمد للہ ! کا مطلب سمجھ گئے۔ بھٹو صاحب ؒ بڑے ذہین آدمی تھے۔ وہ پہلے سے فیصلہ دل میں کئے ہوئے تھے کہ مسئلے کو عوام کی خواہشات کے مطابق حل کر کے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیں گے۔ لیکن وہ اس مسئلے کی مشکلات اور رکاوٹوں سے باخبر تھے۔ وہ یہ جانتے تھے کہ اس طرح جلدی فیصلہ کرنے سے امریکا، برطانیہ، فرانس، مغربی جرمنی کی حکومتیں مجھ پر زبردست دباؤ ڈالیں گی۔ اس نے پیرزادہ ؒ کو کہا کہ: ”آپ لوگ گھر جا کر آرام کریں۔ کل ایک دن میں قومی اسمبلی ایوان بالا دونوں سے متفقہ قرار داد منظور کرالوں گا کہ مرزائی غیر مسلم ہیں اور ان کا نام غیر مسلم اقلیتوں میں شامل کر دیا جائے گا۔“ صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی انتظامیہ کو تحریک کے کچلنے کی ہدایات، فوج کا اسلحہ سمیت شہروں میں متعین ہونا، یہ محض مرزائی و مرزائی نواز طاقتوں کی توجہ کو دوسری طرف پھیرنے کے لئے تھا۔
اللہ رب العزت نے فضل فرمایا اور ٧؍ ستمبر شام کو قومی اسمبلی و سینٹ نے متفقہ طور پر مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا۔ یوں یہ جدوجہد کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ کفر ہار گیا، اسلام جیت گیا۔ ختم نبوت کا بول بالا ہوا۔ اس کے منکرین کا منہ کالا ہوا۔ ” اَلْحَقُّ يَعْلُوْا وَلَا يُعْلٰى “ حق سر بلند ہوتا ہے نہ کہ پست، شام کو ریڈیو، ٹی وی، دوسرے دن اخبارات کے ذریعے قوم کو جب اس خبر کی اطلاع ہوئی تو وہ خوشی سے دیوانہ ہو گئے۔ کسی کا اگر فوت شدہ باپ زندہ ہو جائے تو اسے اتنی خوشی نہ ہوگی جتنی اس مسئلہ ختم نبوت کے حل پر ہوئی۔
سچ ہے اس لئے کہ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ: ”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل ایمان دار نہیں ہو سکتا جب کہ وہ اپنے ماں باپ، اپنی اولاد اور اپنی جان سے زیادہ مجھے عزیز نہ سمجھے“ اس حدیث پر عمل کر کے تحریک ختم نبوت میں مسلمان قوم نے ثابت کر دیا کہ فخر عالم ﷺ کی
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
ذات اقدس سے محبت ہی کامل ایمان کی نشانی ہے، تاج وتخت ختم نبوت زندہ باد! مرزائیت مردہ باد! ١٨؍جنوری ١٩٨٤ء کی شام کو یہاں تک مولانا نے حالات بیان کئے کہ ٢٠؍جنوری کی صبح آپ کا انتقال ہو گیا، میرے اللہ ! مولانا تاج محمودؒ کی تربت پر کروڑوں رحمتیں فرما کہ وہ ختم نبوت کی داستان بیان کرتے کرتے دنیا سے آپ کے پاس حاضر ہوئے، شفاعت محمدی ان کو نصیب ہو اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی سعادت میسر آئے۔ فقیر اللہ وسایا
متفرقات
- ...... ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت جو مارشل لاء کی بھینٹ ہو کر شہید ہو گئی۔ فیصل آباد میں
مولانا تاج محمودؒ کے دم قدم سے چلی۔ حکومت نے بڑی تگ و دو کے بعد آپ کو گرفتار کیا۔ لاہور کے شاہی قلعے میں لایا گیا۔ اس بوچڑ خانے میں پولیس کے بعض افسروں نے آپ پر ستم توڑنے کی انتہا کردی۔ لیکن اس مردِ خدا نے ہر صعوبت، ہر تشدد اور ہر اذیت کو خندہ پیشانی سے جھیلا، اف تک نہ کی۔ اپنی استقامت سے قرونِ اولٰی کی یاد تازہ کردی کہ رسول اللہ ﷺ کے عشاق، کفارِ مکہ کے ظلم سہتے اور حضور ﷺ کے عشق میں قربان ہوتے تھے۔ سیّد اعجاز حسین شاہ اس زمانے میں سی آئی ڈی کے ڈی ایس پی اور قلعے کے انچارج تھے۔ انہوں نے خود راقم الحروف سے ذکر کیا کہ: ”تاج محمودؒ قرونِ اولٰی کے فدایان رسول عربی (ﷺ) کی بے نظیر تصویر تھے۔ وہ پولیس کے (ذہنی) ہر وار پر درود پڑھتا اور عشق رسالت میں ڈوب جاتا ہے۔“
(ہفت روزہ ”چٹان“ شورش کاشمیری)
ناموس رسالت پر سب کچھ قربان کرنے کا عزم
کہا جاتا ہے کہ دل سے جو بات نکلتی ہے، اثر رکھتی ہے۔ مولانا (تاج محمودؒ) کی زندگی ایسے واقعات سے پر نظر آتی ہے۔ اسی طرح کا ایک واقعہ ١٩٥٣ء کی تحریک کا بھی ہے۔ جب مولانا جامع مسجد کچہری بازار (فیصل آباد) لائل پور میں شمعِ رسالت کے پروانوں کے ایک عظیم مجمع سے خطاب کر رہے تھے۔ وہ قادیانی گروہ اور اس سے تحفظ کے لئے حکومتِ وقت کے کئے گئے اقدامات کے خلاف بھرے ہوئے اس مجمع سے خطاب کرتے ہوئے لوگوں کو سول نافرمانی کی ترغیب دے رہے تھے۔ مولانا تاج محمودؒ کے دل کی گہرائیوں سے نکلنے والی یہ
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
آواز مسجد کی گیلری میں کھڑی ایک خاتون بھی ہمہ تن گوش ہو کر سن رہی تھی کہ مولانا کے شدت جذبات سے مغلوب ہو کر اپنی گود کے بچے کو منبر کی طرف اوپر سے (جہاں مولانا کھڑے ہو کر تقریر کر رہے تھے) مولانا کی طرف اچھال دیا، اور پنجابی میں کہا کہ: ”مولوی صاحب! میرے پاس ایک یہی سرمایہ ہے، اسے سب سے پہلے حضور ﷺ کی آبرو پر قربان کر دو!“ یہ کہہ کر وہ عورت الٹے پاؤں باہر کی طرف چل پڑی۔
اس وقت سارا مجمع دھاڑیں مار کر رو رہا تھا۔ خود مولانا کی آواز گلو گیر اور رندھی ہوئی تھی۔ انہوں نے لوگوں سے کہا کہ: ”لوگو! اس بی بی کو جانے نہ دینا، اسے بلاؤ، بلاؤ۔“ چنانچہ اس خاتون کو بلایا گیا اور مولانا نے اپنے قدموں میں بیٹھے اپنے معصوم اکلوتے بیٹے طارق محمود کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ: ”بی بی! سب سے پہلی گولی تاج محمود کے سینے سے گزرے گی، پھر میرے اس بچے کے سینے سے، پھر اس مجمع کے تمام افراد گولیاں کھائیں گے اور جب یہ سب قربان ہو جائیں تو اپنے بچے کو لے کر آنا اور اللہ کے پیارے نبی ﷺ کی عزت پر قربان کر دینا۔“ یہ کہا اور وہ بچہ اس عورت کے حوالے کر دیا۔
ختم نبوت کی خدمت کا قیمتی سرمایہ
مولانا تاج محمود ؒ مسئلہ ختم نبوت کے اس قدر شیدائی اور فدائی تھے کہ آپ کے لب ولہجے، خلوت وجلوت، تقریر وتحریر سے اسی مسئلہ ختم نبوت کی خوشبو مہکتی تھی۔ اگر کسی وقت موج میں ہوتے تو فرمایا کرتے تھے کہ: ”میں تو اللہ تعالیٰ سے عرض کروں گا کہ میرا دامن تو خالی ہے، بس میرے دامن میں تو تیرے محبوب محمد ﷺ کی ختم نبوت کی خدمت کا قیمتی سرمایہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سرمایہ کی برکت سے رحمتوں کے دروازے کھول دیں گے۔
مرتے دم تک......
ایک دفعہ آپ سے عرض کیا گیا کہ: آپ دل کے مریض ہیں۔ آپ تقریر میں اس قدر جذباتی نہ ہوا کریں۔ اس طرح آپ کے دل کی بیماری کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔ آپ مسکرا کر فرما دیتے: ”چھوڑو جی......! ایک دل ہی تو ہے ہم فقیروں کے پاس، یہ بھی اگر اپنے آقا مولانا حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت پر نثار نہ کیا تو کیا کمایا؟ ہونے دو جو ہوتا ہے، ہم محمد ﷺ کے دشمنوں کے ساتھ مرتے دم تک جہاد جاری رکھیں گے۔“ اور یہ صرف زبان تک محدود نہیں، بلکہ کر کے دکھا دیا۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
سچا عشق رسول
مولانا محمد رمضان علوی ؒ (راولپنڈی) بیان کرتے ہیں کہ: ١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت میں سب اکابر کے ساتھ مولانا تاج محمود ؒ بھی راولپنڈی تشریف لائے ہوئے تھے، میرے درد گردہ کی شدید تکلیف شروع ہوگئی، ظہر کے وقت تشریف لائے، تھوڑی دیر ٹھہرے، فرمایا: ”عصر کے وقت پھر آؤں گا“ حسب وعدہ تشریف لائے، میرے لڑکے سے کہا کہ: ”بالا خانے کا کمرہ کھولو اور ابا جی سے کہو جیسے ممکن ہو اوپر آ جاؤ“ بندہ لڑکھڑاتا ہوا حاضر ہوا، چائے پیش کی، فرمایا: ”کسی چیز کو طبیعت نہیں چاہ رہی“ چہرے پر نظر ڈالی، زبردست پریشانی کے آثار ہیں، میں نے وجہ پوچھی، بغیر کسی دوسری بات کے فرمایا: ”میرے پیارے! بڑے شاطر لوگوں سے واسطہ پڑ چکا ہے، مجھے معلوم ہے کہ تجھے شدید تکلیف ہے، سن میں ایک وصیت کرنے آیا ہوں۔“ یہ لفظ سن کر میں نے کہا: ”مولانا! خیریت تو ہے؟ آپ کیوں اس قدر پریشان ہورہے ہیں؟ اللہ تعالیٰ کرم فرمائے گا، آپ کی قربانیاں رنگ لائیں گی۔“ فرمایا: ”چھوڑو ان باتوں کو! میری وصیت سن لو، آج اگر فیصلہ ہمارے خلاف ہوا تو میری روح یقیناً قفس عنصری سے پرواز کر جائے گی، اکابر مدرسہ تعلیم القرآن میں جمع ہیں، وہ بھی سوچیں گے، ان کو اطلاع بالکل نہ ہونے پائے، میرے جنازے کو فیصل آباد (لائل پور) پہنچانے کی راتوں رات کوشش کرنا، عزیزم طارق محمود کو پہلے فون کر دینا کہ تمہارے والد کو لا رہا ہوں، اور اس کو ہر قسم کی تسلی دینا۔“ بولے جا رہے ہیں، گھر بچیوں کے متعلق کہے جارہے ہیں، بصد مشکل چپ کرایا، حوصلہ کریں، اللہ تعالیٰ مدد فرمائیں گے، ابھی آپ کی بہت ضرورت ہے۔ پھر فرمایا: ”جہاں میرے آقا کی ناموس کا تحفظ نہ ہو، وہاں زندہ رہ کر کیا کرنا ہے؟“ کبھی جوش میں آکر بعض الفاظ استعمال کر جاتے ہیں کہ ایسا ہی ہے، نماز مغرب بمشکل نیچے اتر کر مرحوم نے ادا کی، میں نے فکر کی وجہ سے کچھ مقوی اشیاء منگوائیں، نماز کے بعد پیش خدمت کیں، فرمایا: ”اب یہ سب چیزیں بیکار ہیں!“ ٦؍ ستمبر رات کو راولپنڈی کے جلسے میں شریک ہوئے، اچھی خبریں سن کر آئے، پورا دن مصروف رہے، ٧؍ ستمبر کی شام کو میرے گھر آئے، ریڈیو منگوایا، خبروں کا وقت قریب تھا، سوئچ آن کر دیا، سکوت طاری تھا، جیسے ہی مرتدوں مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے الفاظ کان میں پڑے، شیر کی طرح اٹھ کر بیٹھ گئے، ورنہ ڈیڑھ گھنٹہ لیٹے ہی پریشانی میں گزر گیا، اب فرمایا: ”گھر میں کچھ تیار ہو منگواؤ کہ مجھے جلد اکابر کے پاس جانا ہے۔“ چند نوالے جلدی جلدی سے تناول فرمائے، پھر تعلیم القرآن جا کر اللہ تعالیٰ کی
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
حمد و ثنا کرتے ہوئے شیروں کی طرح گرجے، رات واپس آئے ، ساری روئیداد سنائی، فرمایا: "اب انشاء اللہ ! نبوت کاذبہ کے پرخچے اڑ کے رہیں گے۔" یہ کیفیات سوائے سچے عشق رسول کے حاصل نہیں ہوتی۔
اخلاص کی دلیل
تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء میں جامع مسجد فیصل آباد میں جلسہ عام تھا، تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام جمع تھے، بریلوی مکتب فکر کے ممتاز رہنما مولانا صاحبزادہ فضل رسول حیدر کو صدارت کے لئے مسجد کے منبر پر بٹھایا گیا، اسٹیج پر رش تھا، مولانا تاج محمود مرحوم سمٹ سمٹا کر ان کے قدموں میں بیٹھ گئے ، علم وعمل بزرگی کے اعتبار سے مولانا تاج محمودؒ کا عظیم مقام اور مسئلہ ختم نبوت کی خاطر کسی کے قدموں میں بیٹھنا، آپ کے اخلاص کی دلیل تھی ، اس منظر کو دیکھ کر ایک صاحب نے کہا کہ: اللہ ربّ العزت مولانا تاج محمود کے اس ایثار و قربانی کو یونہی ضائع نہ کریں گے، تحریک کامیاب ہوگی!" چنانچہ ایسے ہی ہوا۔
رد قادیانیت پر آپ کے رسائل
١٩٧٠ء کے الیکشن میں پاکستان پیپلز پارٹی نے اکثریت حاصل کی۔ جنرل یحییٰ خان کی بداعمالیوں اور غیر مآل اندیشانہ فوجی پالیسیوں کے باعث ملک دولخت ہوا۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم پاکستان کے بلاشرکت غیرے حکمران بنے۔ قادیانی شاطر قیادت نے ملک میں کھیل کھیلنا چاہا۔ ان کے تیور دیکھ کر مجلس تحفظ ختم نبوت کے اکابر نے اپنی جماعتی ذمہ داری کو پورا کیا۔
مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اخترؒ، مناظر ختم نبوت حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ، مجاہد ملت حضرت مولانا تاج محمودؒ، مفکر ختم نبوت حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ سر جوڑ کر بیٹھے اور ممبران اسمبلی میں تقسیم کے لئے:
- ١...... "قادیانی مذہب و سیاست" کے نام سے کتابچہ مرتب کیا۔ ہزاروں کی تعداد میں شائع
کر کے تقسیم کیا گیا۔ ١٩٧٤ء میں تحریک کے زمانہ میں پھر شائع کیا گیا۔
بعدہ ہمارے مخدوم مجاہد ملت حضرت مولانا تاج محمودؒ کے وقیع دیباچہ سے سہ بارہ "قادیانی عقائد وعزائم" کے نام سے اسے شائع کیا گیا۔ چوتھی بار تنظیم طلبہ تحفظ ختم نبوت میڈیکل کالج فیصل آباد نے اسے شائع کیا۔ پھر اسے احتساب قادیانیت کی جلد ١٥ میں شائع کیا گیا۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
- ٢...... ”آزاد کشمیر اسمبلی کی قرارداد پر مرزائیوں کے گمراہ کن پروپیگنڈہ کا مسکت جواب“
٢٨؍اپریل ١٩٧٣ء کو آزاد کشمیر اسمبلی نے قادیانی گروہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد منظور کی۔ اس وقت قادیانی جماعت کے چیف مرزا ناصر آنجہانی قادیانی تھے۔ اس نے قرارداد پر تحریر و تقریر کے ذریعہ شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما مولانا تاج محمودؒ نے یہ جواب تحریر فرمایا۔
- ٣...... ”متن پریس کانفرنس ٢٧؍مئی ١٩٧٣ء‘ اپریل ١٩٧٣ء میں آزاد کشمیر اسمبلی نے
قادیانی غیر مسلم کی قرارداد منظور کیا کی؟ کہ قادیانی لابی تپتے توے پر رقص کرنے لگی۔ ہمارے مخدوم مولانا تاج محمودؒ نے اس تناظر میں ٢٧؍مئی ١٩٧٣ء کو پریس کانفرنس سے خطاب بھی کیا اور پھر اس پریس کانفرنس کے متن کو پمفلٹ کی شکل میں شائع بھی کیا۔
قادیانی سازشوں کا نوٹس لیجئے
١٩٧٥ء میں قادیانی جماعت کا لاٹ پادری مرزا ناصر امریکہ و یورپ کے دورہ پر گیا۔ اس پر قادیانی گروہ نے پروپیگنڈہ کرنے میں شیطان کو بھی مات دے دی۔ اس دورہ سے واپسی پر مرزا ناصر نے لن ترانیوں کے طومار قائم کر کے قادیانی جماعت کو دھوکہ دینے کی حد کر دی۔ تب ہمارے مخدوم مولانا تاج محمودؒ نے یہ مقالہ ”لولاک“ میں سپرد قلم کیا جسے بعد میں مجلس نے لاکھوں کی تعداد میں شائع بھی کیا۔
یہ پانچوں پمفلٹ احتساب قادیانیت کی جلد ٥ میں شائع ہو گئے ہیں۔
حرف آخر
آغا شورش کاشمیریؒ نے اپنی تصنیف ”تحریک ختم نبوت“ کے ص ١٦٩، ١٧٠ پر آپ کے متعلق لکھا: جس شخص نے علم و عمل کے میدانوں میں والہانہ جرأتوں کے ساتھ قادیانی عزائم کو بے نقاب کیا، وہ مولانا تاج محمود، مدیر ”لولاک“ لائل پور ہیں۔ مولانا تاج محمود تحریک ختم نبوت کے سرگرم راہ نما ہیں، تمام زندگی ان کا یہی نصب العین رہا اور کبھی اس سے غافل نہ ہوئے۔ انہیں شاہ جیؒ سے غایت درجہ ارادت رہی، وہ ذہنی طور پر انہی کے شاگرد ہیں۔ شاہ جیؒ ان سے بے حد محبت کرتے اور تحریک کے سلسلے میں ان پر ہمیشہ اعتماد فرماتے تھے، حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے علامہ انور شاہؒ، مولانا ظفر علی خانؒ، سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور دوسرے
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
اکابر امت کی مساعی مشکورہ کے اس پرچم کو جھکنے نہ دیا، جو قادیانیت کے خلاف ملک کے ہر ہر گوشے میں گڑ چکا تھا۔ مولانا نے ”لولاک“ کو مجلس تحفظ ختم نبوت کا ترجمان بنادیا، وہ جماعت علماء میں پہلی شخصیت ہیں جنھوں نے قادیانیت کا سیاسی تجزیہ شروع کیا اور ”لولاک“ کے ہر شمارے کو حقائق سربستہ کی چہرہ کشائی کے لئے وقف کر دیا۔
مولانا ایک صاحب فکر صحافی ہی نہیں، ایک خوش بیاں خطیب بھی ہیں، ہر جمعہ کو ریلوے اسٹیشن لائل پور کی جامع مسجد میں خطبہ دیتے اور آپ کے ہر خطبے کا مقطع قادیانیت کا احتساب ہوتا ہے۔ آپ نے ١٩٥٣ء کی تحریک راست اقدام میں نہایت جگر داری کا ثبوت دیا اور جاں نثاری و جاں سپاری کے اعتبار سے لائل پور کو تحریک کا دوسرا مرکز بنادیا۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور مولانا محمد علی جالندھریؒ کے بعد ان کی روایتوں اور حکایتوں کے وارث ہوگئے۔ وہ قادیانیت کے سلسلے میں کسی عنوان سے کوئی سا مفاہمانہ تصور نہیں رکھتے۔ اس کا اعتراف نہ کرنا ظلم ہوگا کہ آپ نے ختم نبوت کی تحریک کو پروان چڑھانے میں اپنی تمام زندگی صرف کی ہے، اس سلسلے میں آپ کا وجود نقطہ اتحاد ہے۔“
- ۞...... مولانا مرحوم کی وفات کے بعد میرے استاذ محترم مولانا قاری محمد یسین رحیمی جامع مسجد
باغ والی، ماڈل ٹاؤن فیصل آباد، نے خواب میں آپ کو دیکھا اور پوچھا کہ : ”حضرت! انتقال کے بعد اس دنیا میں کیسی گزری؟“ مولانا تاج محمودؒ نے خواب میں جواب دیا کہ : ”قاری صاحب! ایک قادیانی نے میرے وعظ سے قادیانیت کو ترک کیا، مرزا قادیانی کے کفریہ عقائد سے توبہ کرکے اسلام قبول کیا، میرے اس عمل کے صدقے اللہ تعالیٰ نے بخشش فرمادی.......!“
(٢٥)
جمیل خان شہیدؒ (کراچی)، مولانا مفتی
(شہادت: ١٩ اکتوبر ٢٠٠٤ء)
ہمارے مرشد و مخدوم حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ نے کسی ولی اللہ کا قول نقل فرمایا ہے کہ : ”کسی سالک نے اللہ والے سے درخواست کی کہ کوئی ایسا عمل بتادیں جس سے اللہ تعالیٰ کا وصال نصیب ہوجائے۔“ تو انہوں نے سالک سے فرمایا کہ : ”کسی اللہ والے کے
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگارنگ
دل میں بیٹھ جاؤ۔ اللہ تعالیٰ سے وصال نصیب ہو جائے گا۔‘‘ اسی طرح سنا ہے کہ ایک چیونٹی بیت اللہ جانا چاہتی تھی۔ کبوتر کے پروں میں چھپ گئی۔ کبوتر نے حرم شریف کے لئے اڑان بھری تو یہ بھی بیت اللہ شریف میں پہنچ گئی۔
ہمارے حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ ایسے ہی خوش نصیب تھے کہ انہوں نے پیدائش سے شہادت تک ہمیشہ اہل اللہ کے قلوب کو اپنا گھر بنائے رکھا۔ آپ کی پیدائش کراچی میں ہوئی۔ والد محترم الحاج حضرت حاجی عبدالسمیعؒ، حضرت مولانا مفتی محمد حسن امرتسریؒ، خلیفہ مجاز حضرت حکیم الامت مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ سے بیعت تھے۔ کراچی میں قیام پذیر ہونے کے باعث شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ، مفتی اعظم پاکستان مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندیؒ، حضرت ڈاکٹر عبدالحئی عارفیؒ سے ان کے دینی تعلقات تھے۔ ان کی عادت تھی کہ وہ اپنے ہونہار بیٹے محمد جمیل خان کو ہمیشہ ان اکابر کی مجلسوں میں لے جاتے۔ اپنے آبائی علاقہ پشاور جانا ہوتا تو بیٹا جمیل خان ان کے ساتھ ہوتا۔ شاکوٹ پشاور حضرت مولانا عزیر گلؒ، پشاور میں مولانا فقیر محمد پشاوریؒ کے ہاں ان کا جانا ہوتا تو بیٹا جمیل خان اپنے والد کی انگلی تھامے ساتھ ہوتا تھا۔ ذرا غور فرمائیے کہ مولانا مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ کو بچپن سے کیسا نورانی ماحول، پاکیزہ مجلسیں اور کیسے کبار مشائخ عظام، علمائے کرام اور اولیائے حق کی صحبتیں نصیب ہوئیں؟ کسی دوست نے ایک مرتبہ مولانا جمیل خان شہیدؒ سے پوچھا کہ آپ کی اس عزت و مقام، شہرت و رفعت کا باعث کیا ہے؟ حضرت مفتی صاحب شہیدؒ نے فی البدیہہ فرمایا کہ میں کیا اور میرا مقام کیا؟ اگر کچھ ہے تو کسی اللہ والے کی دعاؤں کا صدقہ ہے۔ میرے والد صاحبؒ بچپن میں مجھے بزرگوں کے پاس لے جاتے تھے اور میرے لئے دعاؤں کی ان سے بھیک مانگتے تھے۔ تھوڑا بڑا ہوا تو ساتھ لے جاتے۔ تو ان اکابر کی جوتیاں سیدھی کرنے اور ان کے پاؤں دبانے کی خدمت پر لگا دیتے تھے۔ کسی بزرگ کی دعا کام کر گئی۔ جس کے باعث اللہ نے محمد جمیل کو مولانا مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ بنا دیا اور دین کی خدمت پر ایسے لگے کہ شہادت نے آکر ان سے یہ عمل چھڑا دیا۔ حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ نے تین بار رمضان المبارک کی تراویح میں حضرت مولانا عزیر گلؒ کو قرآن مجید سنایا۔
ذرا مفتی صاحب شہیدؒ کی محبوبیت اور عند اللہ مقبولیت کو ملاحظہ کریں کہ ایک بار حرم کعبہ میں شہید اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ نے ستر ہزار بار کلمہ طیبہ کا نصاب کسی بات پر خوش ہو کر مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ کو ہدیہ کیا۔ محدث کبیر حضرت مولانا سرفراز خان
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگارنگ
صفدرؒ کا حضرت مفتی محمد جمیل خانؒ کے نام ایک مکتوب فقیر راقم کے پاس ہے جس میں حضرت شیخ الحدیث نے آپ کو لکھا کہ: ”آپ مجھے اپنی حقیقی اولاد سے زیادہ عزیز ہیں۔“ ظاہر ہے کہ یہ مبالغہ پر محمول نہیں۔ بلکہ حضرت شیخ الحدیث کے دل کی آواز تھی۔ جس کا آپ نے اپنے گرامی نامہ میں اظہار فرمایا۔
شیخ الاسلام حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ، مفتی وقت حضرت مولانا مفتی ولی حسن ٹونکیؒ، ولی کامل حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰنؒ، شہید اسلام مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، شیخ الحدیث مولانا سرفراز خان صفدرؒ، یادگار اسلاف حضرت مولانا محمد نافعؒ، حضرت مولانا مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ، شیخ المشائخ حضرت خواجہ خان محمدؒ، مخدوم الصلحاء حضرت سید نفیس شاہ الحسینیؒ، مخدوم العلماء حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر دامت برکاتہم جیسے اکابر کی خدمات کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ حقیقی اولاد سے بڑھ کر حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خانؒ نے ان کی خدمت کی۔ حضرت مولانا مفتی ولی حسن ٹونکیؒ کو آپ نے کندھوں پر اٹھا کر بیت اللہ کے طواف کرائے۔ حضرت شیخ الحدیث مولانا سرفراز خان صفدرؒ کو آپ نے وہیل چیئر پر طواف و سعی کرائی۔ حضرت مفتی محمد جمیل خانؒ کی زندگی کا خدمت اکابر کا یہ وہ پہلو ہے کہ جس نے آپ کو ”محبوب المشائخ“ بنا دیا تھا۔ مولانا مفتی محمد جمیل خانؒ کی مصروفیات دینی کاموں میں مشغولیت، ترویج و اشاعت قرآن، خدمت نفاذ اسلام، عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے آپ کی مساعی جمیلہ کا یہ عالم تھا کہ دن رات انہوں نے ان کاموں کے لئے ایک کئے ہوئے تھے۔ صبح سفر، شام سفر کا وہ مظہر تھے۔ شاید بڑے سے بڑے واعظ و خطیب اور بڑے سے بڑے وزیر و امیر نے اتنے سفر نہ کئے ہوں جتنے آپ کے اسفار ہوتے تھے۔ اتنا انتھک انسان کم از کم اپنی ساٹھ سالہ زندگی میں بندہ نے نہیں دیکھا۔ ان مصروفیات کا سن کر دماغ کھول اٹھتا ہے۔ یا اللہ! یہ کسی انسان کا کام نہ تھا۔ محض توفیق ایزدی سے انہوں نے دن رات صبح و شام دن کے چوبیس گھنٹے۔ ہفتہ کے سات دن۔ مہینہ کے تیس دن اور سال کے تین سو ساٹھ دن مصروفیات میں گزارے۔
حضرت مفتی صاحبؒ ان کی زندگی جہد مسلسل سے عبارت تھی۔ وہ ایک ناقابل تسخیر انسان تھے۔ صحیح معنوں میں وہ مرد آہن تھے۔ قدرت نے تھوڑے وقت میں ان سے بہت زیادہ کام لینا تھا۔ اس لئے ان کی زندگی میں آرام نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ لیکن ان تمام مصروفیات کے باوجود حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ بیمار ہوئے تو یکسر دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو کر
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
تمام مصروفیات کو معطل کر کے مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ نے حضرت لدھیانوی شہیدؒ کے قدموں میں بستر لگا دیا۔ گھر ، ہسپتال ، مسجد میں وہ سایہ کی طرح ان کے ساتھ ہو گئے۔ تا آنکہ حضرت لدھیانوی صحت یاب نہیں ہوئے۔ انہوں نے کسی دوسرے کام کی طرف نظر نہیں کی۔ کل کی بات ہے کہ حضرت مولانا مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ کی شہادت کے بعد حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر دامت برکاتہم علیل ہو گئے تو مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ نے ان کے ہمراہ ہسپتال میں بستر لگا لیا۔ حضرت مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ کے زخمی صاحبزادہ اور ان کے زخمی ڈرائیور کی عیادت حضرت ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں دن رات ان کے ساتھ رہے۔ تا آنکہ یہ تینوں حضرات صحت یاب ہو کر گھر نہیں آگئے اور اپنے معمول کے کام شروع نہیں کئے۔ حضرت مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ نے اپنے دیگر کاموں کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھا۔ ان کی ان عظیم خدمات اور مؤثر مساعی محمودہ و اوصاف کے باعث اللہ تعالیٰ نے آپ کو دنیا میں محبوب المشائخ بنا دیا تھا۔
افغانستان کی اسلامی حکومت ، خدمت خلق ، ترویج و اشاعت اسلام ، قرآنی تعلیم کی ملک گیر تحریک اقرا و روضۃ الاطفال ۔ عقیدۂ ختم نبوت کے لئے خدمات ۔ صحافتی میدان عمل ۔ علمائے کرام کے باہمی ربط ۔ مساجد و مدارس کی خدمت ۔ غریبوں کی خدمت ۔ مریضوں کی دیکھ بھال اور دیگر بے شمار ان کی زندگی کے شعبہ ہائے عمل ان میں سے ہر ایک مستقل مقالہ کا متقاضی ہے۔
خدمات ختم نبوت
سردست میں صرف عقیدۂ ختم نبوت کے لئے ان کی خدمات کو سرسری لیتا ہوں۔ آپ نے زمانہ طالب علمی میں ١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت میں جمعیۃ طلبائے اسلام کے پلیٹ فارم سے گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ حضرت شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوری شہیدؒ کے وصال کے بعد مجلس تحفظ ختم نبوت کے لئے حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰن شہیدؒ ، حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ کی خدمات مجلس کی تاریخ کا وہ سنہری باب ہے جس کا ہر لفظ آب زر سے لکھنے کے قابل ہے۔ لیکن ان تمام خدمات میں برابر حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ نظر آتے ہیں۔ مجلس تحفظ ختم نبوت سے ان کی لازوال محبت و وابستگی کا یہ عالم تھا کہ جمعیۃ علمائے اسلام کل پاکستان کے آپ ناظم اطلاعات کے عہدہ پر فائز تھے۔ پوری جمعیۃ کی قیادت کا آپ کو اعتماد
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگارنگ
حاصل تھا۔ ان کی آرزوؤں کا آپ مرکز تھے۔ جمعیۃ علمائے اسلام کی تنظیم میں آپ کو ماتھے کے جھومر کی حیثیت حاصل تھی۔ ایک بار آپ کو جماعتی دستور کی رو سے کہا گیا کہ جمعیۃ کے دستور کی رو سے جمعیۃ کا عہدیدار کسی دوسری تنظیم کا عہدیدار نہیں ہوسکتا۔ آپ مجلس تحفظ ختم نبوت کی شوریٰ کے رکن ہیں۔ جمعیۃ علمائے اسلام کی نظامت اطلاعات یا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی شوریٰ کی رکنیت کسی ایک کا انتخاب کریں؟ ایک لمحہ سوچے بغیر انہوں نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی شوریٰ کی رکنیت کا انتخاب کیا۔ چنانچہ جمعیۃ علمائے اسلام نے مولانا حافظ ریاض احمد خان درانی کو ناظم اطلاعات بنادیا۔ یہ ایک اور بات ہے کہ یہ صرف جماعتی دستور کا تقاضا آپ نے پورا کیا۔ اس کے باوجود صبح و شام خون جگر سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ساتھ ہی ساتھ جمعیۃ علمائے اسلام کے لئے جو کام کیا اسے کوئی دیانتدار قلم نظر انداز نہیں کرسکتا۔
اقراء روضۃ الاطفال کے نائب مدیر مولانا مفتی محمد خالد محمود فرماتے ہیں کہ ایک بار ہم نے مفتی محمد جمیل خان ؒ سے عرض کیا کہ آپ کے دن رات کے اسفار اور دیگر مصروفیات کے باعث اقراء کا کام متاثر ہورہا ہے؟ تو مفتی محمد جمیل خان ؒ نے فرمایا کہ سفر حج اور رمضان المبارک میں حرمین شریفین کے سفر تو میں ترک نہیں کرسکتا۔ باقی جس طرح آپ فرمائیں گے میں حاضر ہوں۔ لیکن ایک بار انگلینڈ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی فوری ضرورت کے باعث آپ نے رمضان المبارک کا سفر حرمین مختصر کردیا۔
حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید ؒ کو سفر انگلینڈ کے لئے آمادہ کرنے والے آپ تھے۔ مفتی محمد جمیل خان ؒ کی مساعی جمیلہ سے حضرت اقدس سید نفیس شاہ الحسینی ؒ نے اپنی علالت و بڑھاپے کے باوجود برطانیہ کے سفر کئے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے لئے آپ کی مساعی کی روشن تاریخ کسی داستان آرائی کی محتاج نہیں۔ برمنگھم و چناب نگر کی سالانہ ختم نبوت کانفرنسوں کی کامیابیوں میں آپ کا معتد بہ حصہ تھا۔ کوئی شوریٰ کا اجلاس ایسا نہیں جس میں آپ نے شرکت نہ کی ہو۔ جب عاملہ یا دیگر اجلاس کے لئے کوئی تاریخ مقرر کرتے تو حضرت مفتی محمد جمیل خان ؒ ملک کے جس کونہ میں ہوتے اجلاس کے لئے پہنچ جاتے۔ کل کی بات ہے چناب نگر میں ختم نبوت کانفرنس کے ایک ہفتہ بعد سالانہ رد قادیانیت و عیسائیت کورس کا آغاز ہونا تھا۔ پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان سے خانقاہ سراجیہ پہنچے۔ فون پر استدعا کی کہ کل صبح کورس کا آغاز ہے۔ آپ بسم اللہ کرادیں۔ انہوں نے اسی وقت سفر کیا۔ رات سرگودھا حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی کے ہاں قیام کیا۔ صبح آٹھ بجے سے قبل چناب نگر مدرسہ ختم نبوت میں آدھمکے۔ حضرت مولانا
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
سعید احمد جلالپوریؒ، حضرت مولانا شبیر احمد، حضرت مولانا مفتی خالد محمود، حضرت طوفانی صاحب بھی ہمراہ تھے۔ سب سے پہلا بیان کیا۔ پھر دعا کرائی۔ حضرت مولانا سعید احمد جلالپوریؒ کا بھی بیان ہوا۔
شہادت سے تین دن قبل منگل کو فون کیا کہ حضرت! کہاں ہیں؟ فرمایا کہ گلگت، مانسہرہ، راولپنڈی، پشاور کے سفر مکمل کر کے ڈیرہ اسماعیل خان جا رہا ہوں۔ شام خانقاہ سراجیہ حاضر ہونا ہے۔ عرض کیا کہ حضرت! کورس کے شرکاء کو شہید اسلام حضرت لدھیانویؒ کی نیابت میں ایک پیریڈ پڑھا دیں۔ فرمایا کہ کل صبح حاضر ہوں گا۔ رات دس بجے فون کیا تو معلوم ہوا کہ ہنگامی ضرورت سے پنڈی چلے گئے ہیں۔ مایوسی ہوگئی کہ اب صبح شاید نہ آسکیں۔ ڈرتے ڈرتے فون کیا کہ حضرت! آپ پنڈی جارہے ہیں۔ صبح چناب نگر کورس کے شرکاء میں آپ کے لیکچر کا اعلان کر دیا ہے۔ کیا ہوگا؟ فرمایا کہ حاضر ہوں گا۔ عرض کیا کہ حضرت! آپ تو راولپنڈی میں ہیں۔ فرمایا کہ آپ کو اس سے کیا غرض؟ کہیں بھی ہوں۔ کل آپ سے وعدہ کے مطابق حاضری ہوگی۔ چنانچہ دس بجے تشریف لائے۔ ناشتہ کیا۔ پڑھانے بیٹھ گئے۔ ڈیڑھ گھنٹہ لیکچر دیا۔
اللہ تعالیٰ کی شان اور بے پایاں احسان کرشمہ ایسا ہوا کہ بدھ کے روز شہادت سے دو دن قبل آپ کی زندگی کا آخری خطاب چناب نگر میں ختم نبوت کے عنوان پر ہوا۔ بارہ بجے فارغ ہوئے تو گاڑی پر بیٹھے اور جامعہ محمدی حضرت مولانا محمد نافعؒ کی خدمت میں جا دھمکے۔ حضرت مولانا سید حماد اللہ شاہ، جناب رانا محمد طفیل جاوید اور فقیر ہمراہ تھے۔ ان سے دعائیں لیں، ہمیں چنیوٹ اتارا، خود شاہ صاحب کے ہمراہ گکھڑ کے لئے عازم سفر ہوگئے۔ اسی سفر میں فرمایا کہ ایجنسیوں نے مجھے شہید ثالث کا خطاب دیا ہے۔ کسی وقت کچھ ہو سکتا ہے۔ مگر مجال ہے کہ حالات کی تمام تر نزاکتوں کو جاننے کے باوجود آپ کی طبیعت پر کوئی ملال یا بوجھ ہو۔ ایک بہادر جرنیل کی طرح جو کچھ ہونا ہے اس کا سامنا کرنے کے لئے سینہ سپر تھے۔
اگلے دن جمعرات شام کو ایئر پورٹ لاہور پر حضرت مولانا سید ارشد مدنی دہلی سے اور حضرت مولانا فضل الرحمٰن اسلام آباد سے تشریف لانے والے تھے۔ ان کے استقبال کے لئے اکٹھے ہوگئے۔ یہ آپ سے زندگی کی آخری ملاقات تھی۔ جمعہ کو آپ نے فون پر پوچھا کہاں ہو؟ میں نے عرض کیا قصور ختم نبوت کانفرنس ہے۔ فرمایا کہ اونچی کھرولیاں کے ناظم کی بحالی کے لئے درخواست مولانا عزیز الرحمٰن ثانی کو فرمائیں کہ تیار کر کے فلاں صاحب کو دے دیں میں نے بات
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگارنگ
کرلی ہے۔ یہ آخری فون تھا۔ ہفتہ شام کو عشاء سے قبل اطلاع ملی کہ ہمارے محبوب قائدین حضرت مفتی محمد جمیل خان اور حضرت مولانا نذیر احمد تونسوی شہید کر دیئے گئے ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ! اللہ اکبر کبیرا ، عاشوا سعیداً و ماتوا سعیدا ! اللہ تعالیٰ دونوں کی قبروں پر اپنی بے پایاں رحمتیں نازل فرمائے۔ وہ کیا گئے ہم مسکینوں کی دنیا سونی کر گئے ، زندگی بے مزہ ہو گئی : ” فـعـل الحکیم لا یخلوا عن الحکمۃ “ کے تحت سوائے صبر کے چارہ نہیں۔ بے رونق و ڈھیٹ بن کر بقیہ زندگی ان کے بغیر بسر ہوگی ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو شہادت کے منصب سے سرفراز کیا۔ ہماری بقیہ زندگی کو بھی اللہ تعالیٰ با رونق فرمادیں تو اس کی شان سے کیا بعید ہے ۔ اللہ تعالیٰ بقیہ زندگی عقیدۂ ختم نبوت کی خدمت کے لئے گزارنے کی توفیق دیں۔ خاتمہ بالایمان ہو جائے ۔ کل قبر و قیامت میں اپنے اکابر و مجاہدین ختم نبوت کا ساتھ نصیب ہو جائے ۔
اے قادر کریم! تو ایسے ہی فرما۔ مجھے بھی اسی طرح سرخرو فرمانا جس طرح ان کو سرخرو فرمایا ہے۔ تیرے خزانہ میں کیا کمی ہے؟ اے پروردگار ! تیری تقدیر پر راضی ہیں جو ہوا تیری مرضی سے ہوا اور جو ہوگا تیری مرضی سے ہوگا۔ ہم سب کو اپنی رضا نصیب فرما ۔ آمـیـن ! ثم آمین !
(٢٦)
حبیب رحمہ اللہ (ملتان ) ، حضرت خواجہ محمد
ملتان کے تاجر برادری سے تعلق رکھنے والے جناب خواجہ محمد حبیب صاحب تھے جو غفوری مسجد ملتان کے بانی اور خانقاہ مسکین پور کے نگران تھے۔ شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ جب مجلس کے امیر مرکزیہ مقرر ہوئے تو آپ کے سیکرٹری محترم سردار میر عالم خان لغاری نے درخواست کر کے خواجہ محمد حبیب صاحب کو مجلس کی مرکزی مجلس شوریٰ میں لیا ۔ خواجہ صاحب اور سردار میر عالم صاحب لغاری کا آپس میں برادرانہ تعلق تھا۔ خواجہ صاحب بھی واقعی اس منصب کے اہل ثابت ہوئے کہ وہ تحریک ختم نبوت کی آبیاری کے لئے ملتان کے ہر اول دستہ میں نظر آتے ۔ جمعیۃ علماء اسلام سے بھی ان کا گہرا ربط تھا۔ حق تعالیٰ مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائیں۔ آمین !
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگارنگ
(٢٧)
خلیل احمد بندھانی ؒ (سکھر)
(وفات: ٢٤؍ فروری ٢٠١٥ء)
مولانا خلیل احمد ؒ جناب قاری رحیم بخش صاحب کے ہاں ٢٠؍ جنوری ١٩٢٧ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ قاری خلیل احمد ؒ کے دادا حاجی وزیر خان جودھپور راجستھان کے علاقہ سے دہلی آکر آباد ہوئے تھے۔ یہ راجپوت برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ راجپوت برادری کے وہ کڑیل بہادر نوجوان جو سیلاب کے موقعہ پر بڑی مہارت اور چابکدستی سے بند باندھتے تھے۔ وہ آگے چل کر بندھانی کہلائے۔ ورنہ اصل میں یہ راجپوت برادری ہی ہے۔
پاکستان بننے کے بعد ان کا خاندان دہلی سے سکھر آکر آباد ہوا۔ قاری خلیل احمد نے اپنے والد گرامی قاری رحیم بخش سے ناظرہ قرآن مجید پڑھا۔ ١٩٥٧ء میں جامعہ اشرفیہ سکھر میں داخلہ لیا۔ فارسی کی کتابیں مولانا محمد احمد تھانوی ؒ بانی جامعہ سے پڑھیں۔ صرف ونحو کی تعلیم یہیں اشرفیہ میں ہی مولانا عبدالحلیم صاحب ؒ سے حاصل کی۔ شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان صاحب ؒ سے آپ کے خاندان کے دیگر حضرات کی طرح آپ کے والد قاری رحیم بخش صاحب کے بھی بہت اچھے تعلقات تھے۔ اسی تعلق پر ١٩٦١ء میں جاکر تعلیم القرآن راولپنڈی میں داخلہ لیا۔ جہاں آپ نے مولانا عبد الہادی ؒ ، مولانا عبدالرشید ہزاروی ؒ ، مولانا غلام مصطفیٰ مرجانی ؒ ایسے حضرات سے تین سال اکتساب علم کیا۔ تلہ گنگ کے معروف قاری محمد افضل صاحب ؒ سے یہیں راولپنڈی میں قرأت کی تعلیم حاصل کی۔ ٦٥/١٩٦٤ء میں ضلع اٹک گاؤں مرجان میں عربی ادب کی کتابیں پڑھیں۔ ١٩٦٦ء میں جامعہ عربیہ چنیوٹ میں معروف عالم ومناظر حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی ؒ کے ہاں فاضل عربی کی تیاری کے لئے کچھ عرصہ پڑھتے رہے۔
١٩٦٧ء میں جامعہ قاسم العلوم فقیروالی میں ضلع اٹک کے نامور بزرگ عالم دین اور معروف استاذ الاساتذہ مولانا عبدالقدیر صاحب ؒ کے ہاں درجہ مشکوٰۃ کی تعلیم حاصل کی اور پھر ١٩٦٨ء میں دورۂ حدیث شریف جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی سے کیا۔ مولانا سید محمد یوسف بنوری ؒ ، مولانا مفتی ولی حسن ؒ ، مولانا محمد ادریس میرٹھی ؒ ، مولانا فضل محمد
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
سواتی، مولانا سید مصباح اللہ شاہ ؒ، مولانا بدیع الزمان ؒ ایسے یگانہ روزگار حضرات سے شرف تلمذ حاصل ہوا۔ اسی سال حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر دامت برکاتہم مصر سے فراغت حاصل کر کے آئے تو تدریب الراوی اور السراجی ودیگر کتابیں آپ سے پڑھیں۔ شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان ؒ کے صاحبزادہ مولانا قاضی احسان الحق ؒ بھی آپ کے ہم سبق تھے اور یہ ایسی جوڑی تھی جو ہدایت النحو سے دورہ حدیث شریف تک ساتھ رہی۔ جہاں گئے ایک ساتھ گئے۔ ایک ساتھ پڑھے اور ایک ساتھ فراغت حاصل کی۔ دورہ حدیث شریف سے فراغت کے بعد دورہ تفسیر حضرت شیخ القرآن کے پاس کیا۔ اگلے تعلیمی سال کے آغاز میں مولانا قاضی احسان الحق ؒ اور مولانا قاری خلیل احمد ؒ ایک ساتھ دارالعلوم تعلیم القرآن میں مدرس مقرر ہو گئے۔ دنیا جانتی ہے کہ حضرت شیخ القرآن کا آبائی ضلع، اٹک تھا۔ وہاں مرکزی جامع مسجد کی خطابت کی جگہ فارغ ہوئی۔ ١٩٧٣ء میں حضرت قاری خلیل احمد ؒ کو اٹک کی مرکزی جامع مسجد کا حضرت شیخ القرآن ؒ نے خطیب بنا دیا۔ مولانا قاری خلیل احمد ؒ یہاں پر خطیب تھے۔ تو تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء چلی جس میں آپ نے قائدانہ کردار ادا کیا۔ اس زمانہ میں اٹک میں جناب محمد عابد حسین صدیقی صاحب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت میں فعال تھے۔ جب کہ قاری خلیل احمد ؒ نے آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت اٹک کی قیادت کے فرائض سرانجام دیئے۔ حضرت قاضی محمد زاہد الحسینی ؒ کی سرپرستی سے اتحاد بین المسلمین کی ایسی فضاء قائم ہوئی کہ چاروں مسالک اس تحریک میں بنیان مرصوص کی طرح یکجا نظر آنے لگے۔ ١٩٧٥ء میں مولانا قاری خلیل احمد ؒ کے والد گرامی کا وصال ہو گیا تو پھر گھریلو ذمہ داریوں کے باعث حضرت شیخ القرآن کے حکم پر اٹک سے سکھر منتقل ہو گئے۔
حضرت قاری صاحب کے والد صاحب مرحوم کی تعزیت کے لئے مولانا قاری خلیل احمد ؒ کے گھر حضرت مولانا محمد احمد تھانوی ؒ بانی جامعہ اشرفیہ تشریف لائے تو اپنے شاگرد قاری خلیل احمد ؒ سے فرمایا کہ میاں تم نے سکھر سے باہر بہت دین کی خدمت کر لی ہے۔ سکھر کا بھی آپ پر حق ہے۔ آپ یہاں خطابت اور جامعہ اشرفیہ میں ہی تدریس کریں۔ چنانچہ حضرت شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان ؒ کی اجازت، مولانا محمد احمد تھانوی ؒ کے انتخاب لاجواب سے ایسی مقبولیت کے آثار ظاہر ہوئے کہ چالیس سال بعد یہیں سے آپ کا جنازہ اٹھا۔
مولانا محمد احمد تھانوی ؒ کے وصال کے بعد آپ کے صاحبزادہ مولانا محمد اسعد تھانوی کو جامعہ اشرفیہ کا ناظم اعلیٰ مقرر کر دیا۔ مولانا قاری خلیل احمد صاحب ؒ نے جامعہ اشرفیہ
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
کی نظامت، جامع مسجد بندر روڈ کی امامت و خطابت، شعبان و رمضان شریف میں دورہ تفسیر کی کلاس ایسے اہم شعبوں کو ایسے کامیاب طور پر چلایا کہ پورا شہر عش عش کر اٹھا۔ آپ بیک وقت خطیب، مدرس، شیخ الحدیث اور شیخ التفسیر اور خادم دین تھے۔ مولانا قاری خلیل احمد ؒ اٹک میں ہی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی قیادت فرماتے رہے۔ سکھر تشریف لائے تو اس تعلق کو نہ صرف بحال رکھا بلکہ اور مستحکم کیا۔ سکھر عالمی مجلس کے ناظم اعلیٰ رہے اور پھر الحاج فرزند علی ؒ کی وفات کے بعد مرکز کی مجلس شوریٰ کے ممبر بنے۔ تحریک نظام مصطفیٰ ٧٧ء / تحریک ختم نبوت ١٩٨٤ء میں آپ نے مثالی کردار ادا کیا۔ جرأت و بہادری اور ہر دلعزیزی کی وہ روایات قائم کیں جو آپ کی شخصیت کی پہچان کا روپ دھار گئیں۔ مولانا قاری خلیل احمد ؒ کی دعوت پر جامعہ اشرفیہ سکھر، مولانا محمد عبداللہ درخواستی ؒ، مولانا مفتی محمود ؒ، مولانا شمس الحق افغانی ؒ، مولانا غلام غوث ہزاروی ؒ، مولانا مفتی محمد شفیع ؒ، مولانا تقی عثمانی، مولانا احتشام الحق تھانوی ؒ، مولانا محمد علی جالندھری ؒ، مولانا غلام اللہ خان ؒ، مولانا عبدالشکور دین پوری ؒ، مولانا ضیاء القاسمی ؒ، ایسے اکابر علماء یہاں تشریف لاتے رہے۔
مولانا قاری خلیل احمد ؒ سے سکھر کے ہر خورد و کلاں نے محبت و احترام کا رشتہ جوڑا ہوا تھا۔ مولانا قاری خلیل احمد ؒ ہر سال ختم نبوت کانفرنس چناب نگر پر تشریف لایا کرتے تھے۔ ظہر کے بعد پہلے دن آپ کا آخری سے پہلا بیان ہوتا تھا۔ آپ جمعرات کو صبح تشریف لاتے۔ اسی دن شام واپسی کر کے جمعہ سکھر جا پڑھاتے۔ تمام تر سفر کی زحمت کے باوجود بڑی استقامت کے ساتھ اس روایت کو قائم رکھا۔ خوب یاد ہے کہ ایک سال برطانیہ کی سالانہ ختم نبوت کانفرنس میں آپ نے ایسا مثالی خطاب کیا کہ تمام خطباء کی خطابت ماند پڑ گئی۔ حق تعالیٰ نے آپ کو خوبیوں کا مرقع بنایا تھا۔ حضرت مولانا خواجہ خان محمد ؒ کے دست و بازو تھے۔ ہر سال بلا ناغہ سالانہ مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں تشریف لاتے تھے۔ اپنی مسکراہٹوں اور دلاویز شخصیت سے پورے ماحول کو خوشگوار بنائے رکھتے تھے۔
اس سال حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانوی ؒ کا وصال ہوا تو بہت دل گرفتہ تھے۔ حضرت لدھیانوی ؒ نے وصال سے قبل عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی شوریٰ کا اجلاس طلب کر رکھا تھا کہ آپ کا وصال ہو گیا۔ آپ کے وصال کے بعد آپ کی مقرر کردہ تاریخ پر حسب پروگرام مجلس شوریٰ کا اجلاس منعقد ہوا۔
مرکزی مجلس شوریٰ نے بالاتفاق حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر دامت برکاتہم
٭
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا مرکزی امیر منتخب کیا تو قاری خلیل احمد ؒ بار بار عشق و مستی میں جھوم جھوم کر فرماتے تھے کہ میرے استاذ حضرت ڈاکٹر صاحب عالمی مجلس کے امیر بن گئے۔ یہ حضرت قاری صاحب مرحوم کی اساتذہ کرام کے ساتھ بھر پور محبت کی وہ انمٹ ادا تھی جو بھلائی نہیں جاسکتی۔
مولانا قاری خلیل احمد ؒ حضرت شیخ القرآن کے نامور شاگرد تھے اور پھر رشتہ داری بھی ہو گئی کہ مولانا حضرت شیخ القرآن ؒ کی پوتی اور مولانا قاضی احسان الحق ؒ کی صاحبزادی قاری خلیل احمد کی بہو بنیں۔ اس تعلق کے باعث وہ اشاعۃ التوحید والسنۃ کے حلقہ اور حضرت شیخ القرآن کے متوسلین میں یکساں مقبول تھے۔ مگر فقیر راقم گواہ ہے کہ میں نے قاری خلیل احمد کو آپ ﷺ کے روضہ اقدس پر جالیوں کے سامنے بلکتے سسکتے بچوں کی طرح گریہ کرتے دیکھا ہے اور فقیر راقم سے خود حرم مدینہ مسجد نبویؐ میں قاری خلیل احمد ؒ نے فرمایا کہ میرے حضرت شیخ القرآن ؒ بھی اس طرح روضہ اقدس پر والہانہ اور وارفتگی کے عالم میں صلوٰۃ و سلام پڑھتے تھے۔ اس پر انہوں نے مدینہ طیبہ کے بہت دوستوں کے نام بھی بتائے جو اس واقعہ کے عینی گواہ تھے۔
غرض قاری خلیل احمد ؒ ہوں یا حضرت شیخ القرآن ؒ دونوں حضرات جہاں عقیدہ توحید کے علمبردار تھے وہاں وہ عشق رسالت مآب ﷺ میں غرقابی کے مقام پر فائز تھے۔ قاری خلیل احمد ؒ سکھر سے تھر کے فاقہ زدوں کی امداد لے کر گئے۔ امداد تقسیم کی۔ واپس ہوئے تو راستہ میں حادثہ کا شکار ہو گئے۔ معمولی زخم آیا تھا۔ ہسپتال جا رہے تھے۔ دل کے مریض تھے۔ دل کا عارضہ ہوا۔ اور راستہ میں جان اللہ رب العزت کے سپرد کر دی۔
خدمت خلق میں مال لٹانے کے ساتھ ساتھ جان بھی وار کر فارغ ہو گئے۔ رہے نام اللہ تعالیٰ کا۔ حق تعالیٰ حضرت مرحوم کی بال بال مغفرت فرمائیں۔ عجب آزاد مرد تھا۔
(٢٨)
خیر محمد جالندھری ؒ (ملتان)، حضرت مولانا
(ولادت: ١٨٨٥ء .... وفات: ٢٢/اکتوبر ١٩٧٠ء)
مولانا خیر محمد جالندھری ؒ عُمر وال بَلّہ تحصیل نکودر ضلع جالندھر میں جناب الٰہی بخش بن خدا بخش کے ہاں پیدا ہوئے۔ شروع سے ہی اپنے ماموں جناب میاں شاہ محمد ؒ (جو کہ
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
حضرت گنگوہی ؒ سے بیعت تھے) کی نگرانی میں رہے۔ قرآن مجید کی پڑھائی اور ابتدائی تعلیم بھی اپنے اسی ماموں سے حاصل کی۔ ١٩٠٥ء میں مدرسہ رشیدیہ نکودر ضلع جالندھر میں داخلہ لیا اور دو سال تک وہاں تعلیم حاصل کی۔ پھر مدرسہ رشیدیہ رائے پور گجراں ضلع جالندھر میں کئی جید حضرات علماء کرام سے مختلف علوم وفنون حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لئے مدرسہ اشاعت العلوم بریلی میں تشریف لائے اور یہیں سے سند حدیث مولانا یاسین سرہندی ؒ سے حاصل کی۔ سند فضیلت حاصل کرنے کے بعد اسی مدرسہ اشاعت العلوم میں استاذ محترم کے حکم پر تدریس کے عہدے پر مامور ہوئے اور ایک سال قیام رہا۔ بعد ازاں مدرسہ عربیہ منڈی صادق گنج ضلع بہاولنگر میں صدر مدرس کے فرائض سرانجام دیئے۔ یہاں آپ کو مکمل نصاب تعلیم کے درس کی سعادت حاصل ہوئی۔ اس کے بعد اساتذہ رائے پور گجراں کے حکم سے مدرسہ عربی فیض محمدی جالندھر میں حدیث رسول ﷺ کے چراغ جلاتے رہے۔ جب یہ مدرسہ بند ہو گیا تو حضرت تھانوی ؒ کی زیر نگرانی مسجد عالمگیر اٹاری بازار جالندھر میں ١٩؍ شوال ١٣٤٩ھ کو ایک مدرسہ خیرالمدارس کا آغاز کیا۔ مدرسہ حضرت تھانوی ؒ کی سرپرستی کی بدولت قبولیت کی منازل طے کرتا گیا۔
ادھر ١٩٤٧ء میں قیام پاکستان کا عمل معرض وجود میں آیا۔ اس کے بعد ملتان میں اس مدرسہ کی نشاۃ ثانیہ ہوئی اور بحمدللہ تعالیٰ! یہ مدرسہ آج بھی اپنے عروج پر قائم ہے اور دنیا اس کو ”جامعہ خیرالمدارس“ کے نام سے جانتی ہے۔ اس جامعہ سے ہزاروں طالبان علم چشمہ سے سیراب و شاداب ہو کر ملک و بیرون ملک اپنی علمی اور تبلیغی خدمات سرانجام دینے میں مصروف ہیں۔ یہ جامعہ (خیرالمدارس) بقول قاری محمد طیب ؒ ”حضرت خیر محمد جالندھری ؒ کے حسن انتظام، عمق، علم اور حسن نیت و اخلاص کی اساس ہے اور آپ کی قبولیت کا ثمرہ ہے۔“ مولانا خیر محمد جالندھری ؒ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ مختلف ذوق اور نظریات کے حضرات آپ کے حسن تدبر، اخلاص اور معاملہ فہمی پر مکمل اعتماد کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ کے انتقال کے بعد جمعیت کے بزرگوں میں اختلاف پیدا ہوا تو آپ نے اتحاد و اتفاق کرانے کے لئے بڑی محنت کی۔
آپ کی زندگی تعلیم و تربیت، اصلاح و ارشاد اور دعوت تبلیغ میں بسر ہوئی۔ آپ کے شاگردان گرامی مولانا محمد علی جالندھری ؒ اور شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ رائے پوری ؒ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی امیر و نائب امیر رہے۔ آپ خود بھی تادم واپسیں مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن رہے۔ فالحمد للہ!
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
(٢٩)
حضرت حاجی ذکر اللہ رحمہ اللہ (بہاولپور)
(وفات: ١٧ /نومبر ١٩٩٢ء)
بہاولپور کے معروف دین دار تاجر، امانت و دیانت کی مثال تھے۔ شہزادی چوک میں پان کی دکان تھی۔ انتہائی مخلص اور باوفا انسان تھے۔ آخری عمر میں آپ کو شوگر نے گھیر لیا۔ نقاہت طبعی اور بڑی عمر ہونے کے باوجود کبھی روزہ قضا نہیں ہونے دیا۔ سخت گرمیوں کے رمضان میں سولہ سترہ گھنٹہ کا بھی روزہ رکھتے۔ زبان، پیاس اور شوگر کے باعث خشک ہو جاتی تو تھوڑے تھوڑے وقفہ سے کلی کر کے کچھ طبیعت کو سہار لیتے۔ لیکن روزہ قضا نہ کرتے۔ اتنا مجاہدہ تو شاید بڑے بڑے مشائخ کرتے ہوں گے جو آپ نے شریعت کی پاسداری میں استقامت پر عمل کرتے ہوئے کیا۔
مجلس تحفظ ختم نبوت کے قیام کے کچھ عرصہ بعد بہاولپور سے پہلے شوریٰ کے رکن حضرت حکیم محمد ابراہیم صاحب رہے۔ ان کے وصال کے بعد حضرت حاجی ذکر اللہ مرحوم مجلس تحفظ ختم نبوت بہاولپور کے امیر اور مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن بنے اور تازیست رکن رہے۔ ان کے بعد اب حاجی سیف الرحمن صاحب مدظلہ رکن ہیں۔ اللہ تعالیٰ حضرت حاجی ذکر اللہ صاحب کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائیں اور حضرت حاجی سیف الرحمن صاحب کو صحت و عافیت والی لمبی زندگی نصیب فرمائیں۔ ان ایسے حضرات کسی بھی جماعت کے بنیاد و اساس ہوتے ہیں۔ انہیں حضرات کے طفیل جماعتوں کو استحکام و دوام ملتا ہے۔
(٣٠)
مولانا محمد رمضان علوی رحمہ اللہ (راولپنڈی)
(وفات: ١٨ /جنوری ١٩٩٠ء)
مولانا محمد رمضان علوی رحمہ اللہ ایک زیرک، معاملہ فہم، سیاسی بصیرت رکھنے والے مذہبی رہنما تھے۔ نام و نمود سے کوسوں دور تھے۔ عاجزی و انکساری ان کی طبیعت ثانیہ بن گئی تھی۔ اللہ رب العزت نے انہیں بڑی خوبیوں سے نوازا تھا۔ پہلو میں درد رکھنے والا دل رکھتے تھے۔ خدمت
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
خلق ان کا شیوہ تھا۔ تقسیم سے قبل مجلس احرار سے وابستہ تھے۔ سرگودھا کا قدیمی قصبہ بھیرہ ان کا وطن تھا۔ احرار رہنماؤں سے برادرانہ تعلقات تھے۔ ان سے گہری دوستی تھی۔ ایک خاموش مگر پر جوش مستعد رہنما تھے۔ چھوٹوں کو بڑا بنانے کے لئے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے۔ ان کی اصلاح حکیمانہ انداز سے کرتے۔ مگر کیا مجال ہے کہ کبھی آگے بڑھنے یا نام و نمود کا ان کے دل میں خیال آیا ہو۔ گفتگو کے دھنی تھے۔ دس منٹ کا وقت لے کر ملنے کے لئے جائیں تو رس بھری مربوط گفتگو گھنٹوں جاری رہتی۔ انہیں وقت گزرنے کا پتہ نہ چلتا۔ بزرگوں کی روایات کے امین تھے۔ تاریخی اور جماعتی معاملات کا خزانہ تھے۔ راولپنڈی کے قدیم محلہ اکال گڑھ (گلشن آباد) کی جامع مسجد میں خطیب کے فرائض آخری عمر تک سرانجام دیتے رہے۔ خود متبحر عالم دین اور حافظ قرآن تھے۔ اولاد کو حافظ قرآن بنایا۔ بھیرہ کے محلہ گلاب شاہ میں آبائی گھر تھا۔ اس کی مسجد کے خاندانی طور پر متولی چلے آ رہے تھے۔ والد گرامی، بھائی جان، اور خود جب تک ممکن تھا اس مسجد کو اپنی نیم شبانہ دعاؤں، سجدوں اور قرآن مجید کی تلاوت سے آباد رکھا۔ سینکڑوں قرآن مجید کے حافظ بچے خود اور ان کے خاندان کے دوسرے بزرگوں سے فیض یافتہ ہیں۔ اولاد میں مولانا حافظ عزیز الرحمن خورشید، مولانا حافظ سعید الرحمن علوی ؒ قرآن مجید کے حافظ اور عالم ہیں۔ مجلس احرار اسلام کے بزرگ رہنما مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ نے اپنے گرامی قدر رفقاء کے ساتھ مجلس تحفظ ختم نبوت کی بنیاد رکھی تو مولانا محمد رمضان علوی ؒ بھی اپنے بزرگوں کے ساتھ اس کی آبیاری میں جٹ گئے۔ دن رات ایک کر کے اسے مثالی عالمی جماعت بنا دیا۔ مولانا سید عطاء اللہ بخاری ؒ ، مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی ؒ ، مولانا محمد علی جالندھری ؒ ، مولانا لال حسین اختر ؒ ، مولانا محمد حیات ؒ ، مولانا سید محمد یوسف بنوری ؒ یکے بعد دیگرے مجلس کے امیر رہے۔ مولانا محمد رمضان علوی ؒ نے یہ تمام دور اپنے بزرگوں کے ساتھ گزارا۔
خانقاہ سراجیہ کندیاں کے اکابر حضرت مولانا احمد خان ؒ ، حضرت مولانا محمد عبد اللہ ؒ سے بیعت کا شرف حاصل تھا۔ خانقاہ سراجیہ کے سجادہ نشین حضرت مولانا خواجہ خان محمد ؒ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر منتخب ہوئے تو ہمیشہ کی طرح مولانا محمد رمضان علوی ؒ بھی عالمی مجلس کی ورکنگ کمیٹی کے رکن بنے۔ جماعت سے عشق کی حد تک ان کو لگاؤ تھا۔ بہت کم دوستوں کو علم ہوگا کہ وہ راولپنڈی میں بیٹھ کر مجلس کے مرکزی دفتر ملتان کے معاملات کو کنٹرول کرتے تھے۔ کوئی معاملہ ہوتا فوراً پند و نصائح پر مشتمل گرامی نامہ ارسال کر کے عالمی مجلس کے
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
رہنماؤں کی رہنمائی کرتے تھے۔ شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوری ؒ کی قیادت میں ١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت چلی تو ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت کی طرح اس کے ہراول دستے میں شامل تھے۔ ١٩٧٤ء میں مرزائیت کا مسئلہ قومی اسمبلی میں پیش ہوا تو راولپنڈی تحریک ختم نبوت کے رہنماؤں کا مرکز بن گیا۔ مولانا محمد رمضان علوی ؒ ہر مشاورت میں شریک رہتے۔ جو کام مشکل ہوتا اپنے ذمہ لیتے اور اسے پھر اس طرح پورا کرتے کہ عقل دنگ رہ جاتی۔
طبیعت میں سادگی تھی۔ ہر کام وقت پر کرنے کے عادی تھے۔ پان اور چائے کے رسیا تھے۔ ان کا دستر خوان عام و خاص کے لئے ہر وقت لگا رہتا۔ مہمانوں کی خدمت اس طرح کرتے جس طرح وہ رحمت خداوندی کو اپنی جھولی میں اکٹھا کر رہے ہوں۔ مولانا موصوف چونکہ سیاسی بصیرت رکھنے والے انسان تھے۔ اس لئے جمعیۃ علماء اسلام کی آبیاری میں بھی کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہ کیا۔ جمعیۃ کی شیرازہ بندی میں آپ کی خاموش محنتوں کا بڑا دخل تھا۔ جمعیۃ میں گروپ بندی سے سخت ملول تھے۔ مگر اس کے باوجود تمام کارکنوں اور رہنماؤں سے ان کے مثالی تعلقات تھے۔ ایک دفعہ سیشن جج محمد اکبر ؒ راولپنڈی کی عدالت میں تنسیخ نکاح کا مرزائی مسلم کیس تھا۔ عالمی مجلس کی طرف سے مولانا لال حسین اختر ؒ نے اس کی پیروی کی تو مولانا محمد رمضان صاحب ؒ آپ کے معاون تھے۔ اسی طرح یحییٰ خان کے دور میں اسلم قریشی نے ایم ایم احمد قادیانی پر قاتلانہ حملہ کیا۔ مولانا لال حسین اختر ؒ اور مولانا محمد شریف جالندھری ؒ کیس کی پیروی کے لئے ہمہ تن مصروف ہو گئے۔ راجہ ظفر الحق نے وکالت کے فرائض سر انجام دیئے۔ مارشل لاء کی عدالت میں کیس چلا۔ پورے کیس کے دوران تمام معاملات کے مولانا محمد رمضان صاحب ؒ جماعت کی طرف سے انچارج تھے۔ قادیانی سابق جرنیل ملک عبدالعلی کے خلاف ایک عبادت گاہ کے سلسلہ میں عالمی مجلس نے کیس دائر کیا تو بھی مولانا محمد رمضان صاحب علوی ؒ اس کے انچارج رہے۔
وفاقی شرعی عدالت کی سپریم کورٹ اپیل بنچ میں قادیانیوں نے ایک کیس کیا۔ عالمی مجلس اس میں فریق بنی۔ اس کے بھی تمام معاملات کے انچارج مولانا محمد رمضان علوی ؒ تھے۔ مقدمات کی پیروی کے لئے بڑی صبر آزما محنت و کاوش درکار ہوتی تھی۔ مولانا محمد رمضان ؒ محنت کے خوگر تھے۔ اس لئے تمام مقدمات میں وہ جماعت کی طرف سے انچارج ہوتے تھے۔ ان کی زندگی محنت سے عبارت تھی۔ زندگی بھر عمدگی کے ساتھ جفاکشی سے محنت کے
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
عمل کو جاری رکھا۔ کیا مجال ہے کہ وہ کسی وقت بھی فارغ بیٹھتے ہوں۔ کتابوں کے شوقین تھے۔ مذہبی و سیاسی اور تاریخی کتابوں کا قابل قدر ذخیرہ ان کے پاس جمع تھا۔ طبیعت کے سخی تھے۔ مگر کتابوں کے مسئلہ میں بڑے ہی محتاط واقع ہوئے تھے۔ کتابوں کو وہ اپنی جان سے زیادہ عزیز سمجھتے تھے۔ زندگی قال اللہ قال الرسول! میں گزار دی۔
صبح دو بجے انتقال ہوا۔ پانچ بجے صبح راولپنڈی میں نماز جنازہ پڑھے بغیر جنازہ کو بھیرہ لایا گیا۔ عصر کی نماز کے بعد جنازہ اٹھایا گیا تو بھیرہ کے عوام کا سمندر امڈ آیا۔ تمام مکاتب و مسالک کے لوگوں نے جنازہ میں شرکت کی سعادت حاصل کی۔ آپ کے جنازہ میں عوام کا اژدھام دیکھ کر آپ کی عنداللہ مقبولیت کا اندازہ کرنا مشکل نہ رہا۔ ہر آدمی اشک بار تھا۔ ان کے سانحہ ارتحال کے غم کو اپنا غم سمجھ رہا تھا۔ بھیرہ کی تاریخ میں آپ کے جنازہ کا اجتماع عظیم ترین اور مثالی اجتماع تھا۔ بھیرہ کے تاریخی اور خاندانی عام قبرستان میں ہمیشہ کے لئے سوگئے۔
(٣١)
ریاض الحسن گنگوہی ؒ (ڈیرہ اسماعیل خان)، جناب صوفی
(وفات: ٦؍ دسمبر ٢٠١٥ء)
جناب صوفی ریاض الحسن صاحب قصبہ گنگوہ انڈیا سے تعلق رکھتے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان شہر میں آکر آباد ہوئے۔ صوفی ریاض الحسن گنگوہی ؒ کا بیعت کا تعلق خانقاہ سراجیہ کندیاں کے حضرت ثانی مولانا محمد عبداللہ ؒ سے تھا۔ حضرت کی وفات کے بعد آپ نے حضرت مولانا خواجہ خان محمد ؒ سے اس تعلق کو قائم کیا۔ صوفی صاحب مرحوم خوب متحرک آدمی تھے۔ آپ نے کمشنری بازار ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک متروکہ جگہ قادیانیوں سے واگزار کرا کر محکمہ اوقاف سے قانونی تقاضوں کو پورا کر کے حاصل کیا اور پھر اسے ختم نبوت مسجد و مدرسہ کے لئے مختص کر دیا۔ اس کے لئے انہوں نے انتھک محنت کی۔
١٩٨٤ء کی تحریک ختم نبوت میں ان کی مساعی کو بنیادی درجہ حاصل تھا۔ حضرت مولانا خواجہ خان محمد ؒ کی ہدایات پر مفکر ختم نبوت مولانا محمد شریف جالندھری ؒ مرکزی ناظم اعلیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے، صوفی ریاض الحسن صاحب ؒ دست و بازو تھے۔ اللہ رب العزت
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
(٣٤)
سعید احمد شہید جلالپوری ؒ (کراچی)، مولانا
(وفات: ١١؍ مارچ ٢٠١٠ء)
حضرت مولانا سعید احمد جلالپوری ؒ کے والد گرامی کا نام شوق محمد تھا۔ یہ جام برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ جلالپور پیروالا تحصیل شجاع آباد ضلع ملتان میں ایک موضع کا نام نوراجا بھٹہ ہے۔ جام شوق محمد ؒ اس موضع کے نمبردار تھے۔ آپ حضرت مولانا محمد عبداللہ بہلوی ؒ سے بیعت تھے اور اپنے دور کے تمام معروف صوفیائے کرام و بزرگانِ عظام کے خوشہ چیں تھے۔ جام شوق محمد ؒ کے گھر میں ١٩٥٦ء میں ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام سعید احمد رکھا گیا، جو بعد میں مولانا سعید احمد جلالپوری ؒ کے نام سے جانے پہچانے گئے۔
مولانا سعید احمد جلالپوری ؒ نے ابتدائی تعلیم گھر کے قریب مولانا عطاء الرحمٰن و مولانا غلام فرید سے حاصل کی۔ ١٩٧١ء میں مدرسہ انواریہ حبیب آباد میں داخل ہوئے۔ مدرسہ انواریہ حضرت مولانا حبیب اللہ گمانوی ؒ کا قائم کردہ ہے۔ مولانا گمانوی ؒ حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری ؒ کے شاگرد تھے اور بہت بڑے عالم تھے۔ اتنے بڑے عالم کہ حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری ؒ نے ایک بار ان سے ملاقات کے لئے گمانی بستی طاہر والی نزدوچٹی گوٹھ کا سفر کیا۔ مولانا حبیب اللہ نے اپنے شیخ سید محمد انور شاہ کشمیری ؒ کے نام پر مدرسہ انواریہ قائم کیا تھا۔ ١٩٧١ء میں مولانا سعید احمد جلالپوری ؒ یہاں پڑھتے رہے۔ حضرت مولانا منظور احمد نعمانی ؒ اور ان کے شاگرد مولانا قاری اللہ بخش ؒ بھی یہاں مدرس تھے۔ مولانا جلالپوری ؒ نے ابتدائی کتب کی ایک سال یہاں تعلیم حاصل کی۔ ١٩٧٢ء سے ١٩٧٤ء تک تین سال گویا ثانیہ سے رابعہ تک کی تعلیم مولانا سعید احمد جلالپوری ؒ نے مدرسہ احیاء العلوم ظاہر پیر میں استاذ العلماء حضرت مولانا منظور احمد نعمانی سے حاصل کی۔
(طاہر والی اور ظاہر پیر کے دونوں اساتذہ کا نام ”منظور احمد نعمانی“ تھا، طاہر والی والے مولانا منظور احمد ؒ کا انتقال ہو گیا ہے۔ بہت بڑے عالم دین تھے۔ معقول و منقول کے نامور استاذ تھے۔ مولانا منظور احمد نعمانی ظاہر پیر والے بھی بہت ہی فاضل، یگانہ عالم دین ہیں۔ زندہ سلامت ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں سلامت باکرامت رکھیں)
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
١٩٧٥ء میں مولانا سعید احمد جلالپوری ؒ دارالعلوم کبیر والا میں تعلیم حاصل کرتے رہے۔ ١٩٧٦ء اور ١٩٧٧ء میں جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن میں پڑھتے رہے اور یہیں سے دورۂ حدیث شریف مکمل کیا۔ کراچی بورڈ سے میٹرک، ایف اے اور فاضل عربی کے امتحان پاس کئے۔
جامعۃ العلوم الاسلامیہ سے فراغت کے بعد جامعہ ہی کی شاخ معارف العلوم پاپوش نگر کے نگران اور مدرس رہے۔ جامعۃ العلوم الاسلامیہ میں ابتدائی مدرس بھی رہے۔ اس زمانے میں جامعۃ العلوم الاسلامیہ کے ترجمان ماہنامہ ’’بینات‘‘ کے مدیر حکیم العصر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی ؒ تھے۔ جامعہ ہی کی طرف سے مولانا سعید احمد جلالپوری ؒ کو ’’بینات‘‘ کے کام کے لئے مولانا محمد یوسف لدھیانوی ؒ کا معاون مقرر کیا گیا۔ تب حضرت لدھیانوی ؒ کا جامعہ کے دارالافتاء کے ساتھ والے کمرے میں دفتر قائم تھا۔ مولانا منظور احمد الحسینی ؒ، مولانا سعید احمد جلالپوری ؒ دونوں حضرات کی جوڑی بھی یہاں بنی۔ تب ’’بینات‘‘ کا کام مولانا سعید احمد جلالپوری ؒ اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا کام مولانا منظور احمد الحسینی ؒ، حضرت لدھیانوی ؒ کی سرپرستی میں انجام دیتے تھے۔
حضرت مولانا حبیب اللہ مختار ؒ کے دور اہتمام میں جب جامعہ میں ایک ایک کلاس کے کئی کئی سیکشن بنے تو حضرت مولانا خواجہ خان محمد ؒ کے حکم پر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی ؒ نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر میں اپنا دفتر قائم کیا۔ تصنیف و تالیف، دارالافتاء ختم نبوت، بینات، تمام شعبوں کا کام یہاں ہونے لگا۔ مولانا سعید احمد جلالپوری ؒ کو بھی حضرت لدھیانوی ؒ کی بغل میں نشست مل گئی۔ اب مولانا سعید احمد جلالپوری ؒ کے شب و روز حضرت لدھیانوی ؒ کی زیر تربیت گزرنے لگے۔ اللہ رب العزت گواہ ہے کہ مولانا جلالپوری ؒ نے اپنے شیخ کی اطاعت میں بھی وہ کمال دکھایا کہ اگر اس مجاہدہ پر کوئی ڈگری جاری کی جاتی ہوتی تو مولانا ’’پی ایچ۔ ڈی‘‘ کے اعزاز کے مستحق تھے۔ اپنے شیخ کے چشم و ابرو کے اشارے پر سراپا تعمیل ہوتے کہ رشک آتا تھا اور حضرت لدھیانوی ؒ نے بھی جس اعتماد و شفقت کا معاملہ کیا، اسے دیکھ کر بھی اب منکشف ہوتا ہے کہ دونوں طرف سے یعنی طلب و رسد دونوں میں کوئی کمی نہ تھی۔
یہی وجہ ہے کہ جب حضرت لدھیانوی ؒ نے جام شہادت نوش کیا تو بلا شرکت غیرے اور بغیر کسی اختلاف کے سب نے حضرت شہید ؒ کی مسند پر مولانا سعید احمد
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
جلالپوریؒ کو مسند نشین بنا دیا۔ خوب یاد ہے کہ فقیر اس مجلس میں موجود تھا جس میں حضرت قبلہ سید نفیس الحسینیؒ نے مولانا جلالپوریؒ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ حضرت شیخ الہندؒ کی نسبت خدمت واطاعت کے باعث اللہ تعالیٰ نے حضرت مدنیؒ میں منتقل فرمادی تھی۔ مولانا جلالپوریؒ نے وارفتگی کے عالم میں عرض کیا کہ حضرت میرے لئے بھی دعا فرمادیں کہ ایسے ہو جائے۔ شاہ صاحبؒ نے فرمایا: مولوی صاحب! ایسے ہو چکا، یہی تو کہہ رہا ہوں۔ زہے نصیب جلالپوریؒ! پھر دنیا نے دیکھا کہ فتنوں کے تعاقب، قادیانیت کے استیصال، درس وتدریس، وعظ وتبلیغ، ذکر وفکر، خانقاہ ومدرسہ، جامعہ ودارالافتاء، ماہنامہ ”بینات“، ہفت روزہ ”ختم نبوت“، مجلس تحفظ ختم نبوت مرکز ملتان وکراچی ولندن، حج وعمرہ، اعتکاف وخطابت، قبولیت وہردلعزیزی میں محبوبیت کے ہرزینے پر اپنے شیخ حضرت لدھیانویؒ کی سی جامعیت وپرتو کا مظہر اتم مولانا سعید احمد جلالپوریؒ بن گئے۔
علامہ شبیر احمد عثمانیؒ نے مسلم کی شرح ”فتح الملہم“ لکھنی شروع کی نامکمل رہ گئی۔ مولانا تقی عثمانی نے تکمیل فرمادی۔ شیخ الاسلام حضرت بنوریؒ نے ترمذی کی شرح لکھنی شروع کی۔ نامکمل رہ گئی تو اہل علم حضرات نے کہا کہ مولانا عثمانی صاحب کو مولانا تقی مل گئے۔ حضرت بنوریؒ کی شرح کے لئے کوئی تقی مل نہ سکا۔ بعینہ یہی کہ مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ، مولانا مفتی نظام الدین شامزئیؒ، مولانا مفتی محمد جمیل خانؒ کے خلاء کو پر کرنے کے لئے تو مولانا سعید احمد جلالپوریؒ مل گئے۔ اب مولانا جلالپوریؒ کے خلاء کو کون پر کرے گا؟ تاریخ ہی اس کا فیصلہ کرے گی۔ ابھی تو تصفیہ طلب ہی ہے۔
مولانا سعید احمد جلالپوریؒ جب حضرت لدھیانویؒ کی زیر نگرانی جامعۃ العلوم الاسلامیہ میں واقع حضرت لدھیانویؒ کے دفتر میں کام کر رہے تھے۔ تب ١٤٠٠ھ میں فقیر نے بحری جہاز سے حج کا سفر کیا۔ اس زمانے میں مولانا سعید احمد جلالپوریؒ سعودی عرب میں تقسیم کے لئے ڈاکٹر سلام قادیانی کے خلاف ایک ہینڈ بل عربی میں لکھا ہوا دینے کے لئے سی پورٹ پر تشریف لائے۔ پھر تو پاکستان، برطانیہ، حجاز مقدس، سری لنکا، کئی اسفار میں ساتھ رہا۔ عمر کے علاوہ باقی ہر بات میں بڑے وہ تھے۔ اتنے بڑے کہ ان کی گرد راہ کو فقیر نہیں پا سکتا۔ ٢٠؍ فروری سے ٢٧؍ فروری ٢٠١٠ء تک فقیر کے کراچی میں پروگرام تھے۔ ان پروگراموں میں ساتھ رہا۔ منظور کالونی مسجد مریم میں حضرت مولانا عبدالقیوم نعمانی صاحب کے ہاں ختم نبوت کا جلسہ تھا۔ مولانا سعید احمد جلالپوریؒ نے فقیر سے قبل بیان کیا۔ آخر میں فقیر کا بیان تھا۔ وہ قدرے طویل تھا۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
مولانا جلالپوری ؒ اسٹیج سے اترے تو فقیر بھی ساتھ اتر آیا۔ مولانا عبدالقیوم نعمانی، مولانا جلالپوری ؒ، فقیر مسجد مریم کے ہال میں جمع ہو گئے۔ فقیر نے عرض کیا کہ: مولانا جلالپوری صاحب! آپ نے جس خوبصورتی سے میرا تعارف کرایا، اسے سن کر تو مرنے کو جی چاہتا ہے تا کہ آپ خوبصورت تعزیتی مضمون لکھ دیں۔ جس کا ابھی متن بیان کیا۔ تینوں ہنسی خوشی ایک دوسرے سے جدا ہوئے۔ فقیر کی یہ آخری ملاقات تھی۔ اگلے روز شام کو فون پر بتایا کہ گڈو پہنچ گیا ہوں۔ فقیر نے عرض کیا کہ آپ تو ٹنڈوالہ یار خان گئے تھے۔ فرمایا: وہاں حاضری تھی، پھر خانقاہ سراجیہ حضرت قبلہ سے ملاقات، زیارت و دعا کے لئے جارہا ہوں۔ گڈو پہنچا ہوں۔ اس سے اگلے روز فرمایا کہ: فلاں ساتھی کا فون نمبر چاہئے۔ فقیر نے مولانا ساقی (بہاولپور) کے ذمہ لگایا۔ انہوں نے آپ کو نمبر بتایا۔ پھر تھوڑی دیر بعد فون آیا کہ نمبر مل گیا۔ فون پر بات ہوگئی اور کام بھی ہوگیا۔ شہادت والے دن قبل از ظہر فون کیا، یہ آخری بات تھی۔ عشاء کے بعد دفتر ختم نبوت گمبٹ میں اپنی تقریر کی باری کے انتظار میں بیٹھا تھا کہ برادر انوار الحسن کا فون آیا اور پھر اندھیرا چھا گیا۔ اگلے دن جنازہ ہوا، ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر صاحب مدظلہ نے جنازہ پڑھایا۔ لیجئے! مولانا سعید احمد جلالپوری ؒ پورے قافلے کے ساتھ اپنے شیخ کے قدموں میں ابدی نیند سوگئے۔ ”و لا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ اموات، بل احیاء ولکن لا تشعرون“
جمعرات کو شہادت، جمعہ کو جنازہ و تدفین، ہفتہ کو جامعۃ العلوم الاسلامیہ میں تعزیتی کانفرنس کے لئے جامعہ وعالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں بالخصوص وفاق المدارس کے صدر، جامعہ فاروقیہ کے شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان وحضرت ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر کا خطاب۔ شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی ؒ، مولانا منظور احمد نعمانی شیخ التفسیر، مفتی محمد ظفر اقبال، شیخ الحدیث مولانا محمد رفیع عثمانی، شیخ الحدیث مولانا محمد تقی عثمانی، مولانا قاری محمد حنیف مہتمم جامعہ خیر المدارس، قاری محمد عثمان، قاری شیر افضل، مولانا عبدالقیوم نعمانی، مولانا زبیر احمد صدیقی (شجاع آباد)، مولانا تنویر الحق تھانوی اور دیگر سینکڑوں علماء ومشائخ کا دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تشریف لاکر مولانا شہید ؒ کے عزیزان، برادران، عالمی مجلس کے رہنماؤں سے اظہار تعزیت۔ مولانا زاہد الراشدی، مولانا سید عبدالمجید ندیم ؒ، مولانا عبدالحفیظ مکی، مولانا محمد احمد لدھیانوی، مولانا قاری محمد ادریس ہوشیار پوری، ڈاکٹر خادم حسین ڈھلوں، سید کفیل بخاری، جناب عبداللطیف چیمہ ایسے سینکڑوں حضرات کا فون سے اظہار تعزیت۔ بس ”مجنوں جو مر گیا تو جنگل اداس ہے“ کا منظر ہے۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا رب نواز ؒ، مولانا محمد اعجاز، مولانا قاضی احسان احمد، محمد انور رانا اپنے رفقاء سمیت تعزیت کے مستحق ہیں۔
بھاری جسم، بھرپور گھنی اور کنڈل بالوں والی داڑھی، کھلا کتابی چہرہ، پکا رنگ، ہنس مکھ چہرہ، متوسط قد، اجلا لباس، چلنے میں، بولنے میں علم وفضل کی چھاپ، پہلے ایک حادثے میں پاؤں پر چوٹ لگی تو لاٹھی رکھنی شروع کی، اب وہ بھی چھوڑ دی تھی، چاق و چوبند، معمولات پر کاربند، بیسیوں حج وعمرہ کی سعادتیں دامن میں سمیٹے ہوئے، کامیاب و با مقصد زندگی گزار کر خود سرخ رو ہوگئے اور پسماندگان کو غمزدہ کر گئے۔ یہ تھے مولانا سعید احمد جلالپوری ؒ۔
حضرت مولانا سعید احمد جلالپوری شہید ؒ نے رد قادیانیت پر چھ رسائل تحریر کئے ان کے رسائل کے نام درج ذیل ہیں:
- ١...... ”قادیانی گستاخیاں“
- ٢...... ”قادیانی فریب“
- ٣...... ”قادیانیت کا تعاقب (دورہ سری لنکا)“
- ٤...... ”قادیانیت کا تعاقب (وقت کی ایک اہم ضرورت)“
- ٥...... ”جشن خلافت (قادیانی عقائد ونظریات کے آئینہ میں)“
- ٦...... ”آئین پاکستان اور اعلیٰ عدالتوں کے خلاف ایک خطرناک سازش“
یہ تمام رسائل احتساب قادیانیت کی جلد نمبر ٤٣ میں چھپ گئے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ نے رد قادیانیت پر مشتمل مروجہ مطبوعہ فتاویٰ جات سے ”فتاویٰ ختم نبوت“ کے نام پر تین جلدوں میں کتاب مرتب کی جو پہلے عالمی مجلس ملتان نے اور اب تخریج کے ساتھ کراچی مجلس نے شائع کی ہے۔
(٣٥)
سعید الرحمن ؒ (راولپنڈی)
(وفات: ٦؍جولائی ٢٠٠٩ء)
مولانا قاری سعید الرحمن ؒ ١٥؍اپریل ١٩٣٥ء کو سہارنپور میں پیدا ہوئے۔ حکیم الامت حضرت تھانوی ؒ کے خلیفہ مجاز اور مظاہر العلوم سہارنپور کے استاذ الحدیث حضرت مولانا
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
عبدالرحمن کامل پوری ؒ کے آپ صاحبزادے تھے۔ قرآن مجید آپ نے ہردوئی انڈیا میں حفظ کیا۔ جہاں مولانا شاہ ابرار الحق ؒ نے مدرسہ قائم کر رکھا تھا۔ ابتدائی دینی تعلیم بھی آپ نے انڈیا مظاہر العلوم اور دیگر اداروں میں حاصل فرمائی۔ پاکستان بننے کے بعد حضرت مولانا عبدالرحمن کامل پوری ؒ جامعہ خیر المدارس ملتان میں تشریف لائے۔ تب مولانا قاری سعید الرحمن نے یہاں پر مولانا خیر محمد جالندھری ؒ، مولانا عبدالقدیر مومن پوری ؒ جیسے اساتذہ سے اکتساب علم کیا۔ دارالعلوم ٹنڈوالہ یار خان میں مولانا بدر عالم میرٹھی ؒ، مولانا محمد ادریس کاندھلوی ؒ، حضرت بنوری ؒ اور اپنے والد گرامی سے دورہ حدیث پڑھا۔
مولانا قاری سعید الرحمن ؒ کا آبائی گاؤں بہبودی علاقہ چھچھ ضلع اٹک تھا۔ آپ نے ١٩٧٠ء میں جامعہ اسلامیہ کشمیر روڈ راولپنڈی صدر میں قائم کیا۔ اپنے خاندانی پس منظر اور ذاتی طور پر اپنے دور کے اہل علم کی آنکھوں کا آپ تارا تھے۔ چنانچہ شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوری ؒ، شیخ الحدیث مولانا عبدالحق ؒ اکوڑہ خٹک، مفکر اسلام مولانا مفتی محمود ؒ ایسے اکابر کا راولپنڈی میں قیام آپ کے جامعہ میں ہوتا تھا۔
مولانا قاری سعید الرحمن ؒ سیاسی طور پر جمعیتہ علماء اسلام سے وابستہ تھے۔ مولانا مفتی محمود ؒ کے انتقال کے بعد مولانا سمیع الحق صاحب کے ساتھ جمعیتہ سے وابستہ رہے۔ آپ نے متعدد بار اپنے علاقہ چھچھ سے الیکشن میں حصہ لیا۔ محکمہ اوقاف کے صوبائی وزیر بھی رہے اور ضیاء الحق کی شوریٰ کے رکن بھی۔ اپنے علاقہ میں خوانین کی رعونت اقتدار کے سامنے آپ سد سکندری بنے رہے۔ پورے علاقہ کی دینی قیادت کو متحد کر کے سیاسی مذہبی قوت بنا کر جاگیرداروں، خوانین کے خواب و خور کو پریشان کر دیا۔ یہ آپ کا بہت بڑا کارنامہ تھا۔ آپ نے دم واپسیں تک علاقہ کے علمائے کرام کو متحد رکھا۔
حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری ؒ کے دور امارت میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن بھی رہے۔ ١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت میں مولانا سید محمد یوسف بنوری ؒ کے قیام کے لئے پارک ہوٹل راولپنڈی کا انتخاب بھی آپ کا مرہون منت ہے جو آپ کے جامعہ اسلامیہ کے بالکل قریب تھا۔ اس حوالہ سے اس وقت کی تمام مرکزی قیادت کے شانہ بشانہ تحریک ختم نبوت میں بھر پور حصہ لیا۔ ١٩٨٤ء کی تحریک ختم نبوت میں جنرل محمد ضیاء الحق سے امتناع قادیانیت قانون پاس کرانے میں آپ کا بھی حصہ ہے۔ مشرف کے غیر شریفانہ دور میں آپ نے پاسپورٹ میں خانہ مذہب کی بحالی کے لئے اسلام آباد، راولپنڈی میں تحریک کو پروان
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگارنگ
چڑھایا۔ اپنے علاقہ چھچھ میں طوفانی دورے کئے۔ مجاہد ختم نبوت مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا عبدالسلام حضروی، مولانا قاضی ارشد الحسینی کے ساتھ پورے علاقہ کو سراپا تحریک بنا دیا۔ آپ کے بڑے بھائی مولانا عبیدالرحمٰن مرحوم کا مستقل قیام برطانیہ تھا۔ آپ کے اکثر و بیشتر وہاں کے سفر ہوتے تو ختم نبوت کانفرنس برمنگھم میں ضرور شرکت فرماتے۔
٣٠؍ مارچ ٢٠٠٩ء کو آپ کی زیرصدارت آپ کے جامعہ میں ختم نبوت کنونشن منعقد ہوا۔ آپ کی دعوت پر راولپنڈی، اسلام آباد کے سینکڑوں علماء کرام جمع ہوئے۔ اسی اجلاس میں آپ کی تحریک پر ٣؍ اپریل کے جمعہ پر راولپنڈی، اسلام آباد کی جامع مساجد میں یوم ختم نبوت منایا گیا۔ ٢٧؍ اپریل کو راولپنڈی لیاقت باغ میں ختم نبوت کانفرنس کرنے کا آپ کی زیرصدارت فیصلہ ہوا۔ (یہ کانفرنس آخری مرحلہ پر منظوری نہ ملنے کے باعث ملتوی کرنا پڑی) فقیر راقم کی ٣؍ مارچ کے اجلاس میں آپ سے آخری ملاقات ہوئی۔ کچھ عرصہ بعد آپ کو دل کی تکلیف ہوئی۔ سی۔ ایم۔ ایچ میں بائی پاس ہوا۔ کافی عرصہ زیر علاج رہے۔ یہیں پر ہی ٦؍ جولائی کو پیام اجل کو لبیک کہا۔
قاری صاحب مائل بہ درازی قد، خوب ڈیل ڈول والا جسم۔ سرخ و سپید رنگ، عقابی نظریں، کشادہ پیشانی، کھلا گول چہرہ، سنت نبوی ﷺ کی اس پر بہار، چلنے میں وقار، گفتگو میں علمی متانت، عالی ظرف، وسیع دماغ، دوستوں کے دوست، محبت کرنے والی ہر دلعزیز شخصیت، آپ کی وسیع العلم شخصیت راولپنڈی، اسلام آباد کے دینی حلقہ کے لئے قابل احترام مرکزیت کا درجہ رکھتی تھی۔ ان کی ذات سے اکابر علماء حق کا نقشہ آنکھوں کے سامنے گھومنے لگ جاتا تھا۔ بہت عالی اقدار کے حامل تھے۔ اپنے والد مرحوم کے علمی مقام کے صحیح اور بجا طور پر وارث تھے۔ عرصہ سے اپنے جامعہ میں شیخ الحدیث کے عہدہ پر رونق افروز تھے۔
مولانا غلام غوث ہزارویؒ، مولانا عبدالمنان ہزارویؒ، مولانا غلام اللہ خانؒ، مولانا قاری محمد امینؒ، مولانا عبدالحکیمؒ، مولانا محمد رمضان علویؒ، مولانا محمد عبداللہؒ صاحب کے بعد اس علاقہ میں، بالخصوص راولپنڈی، اسلام آباد میں سب سے بڑی دینی شخصیت تھے۔ علم وفضل و قیادت و سیادت کا مظہر تھے۔ وہ کیا گئے سب بہاروں پر خزاں چھا گئی۔ بہبودی میں انتقال کے روز رات ساڑھے دس بجے آپ کے صاحبزادہ مولانا قاری عتیق الرحمٰن نے جنازہ پڑھایا۔ اپنے والد گرامی مولانا عبدالرحمٰنؒ اور برادر کبیر مولانا عبیدالرحمٰن کے پہلو میں ابدی نیند سوگئے۔ انا لله وانا اليه راجعون!
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
(٣٦)
شریف آنول (ملتان)، حافظ محمد
ڈیرہ اسماعیل خان کے دیندار گھرانہ سے تعلق رکھنے والے حافظ محمد شریف صاحب ڈیرہ سے ملتان آباد ہوئے۔ آپ کا حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ کے معتمد علیہ رضا کاروں میں شمار ہوتا تھا۔ ملتان میں کھل، بنولہ کی آڑھت کی دکان بنائی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کی پہلی شوریٰ میں حضرت امیر شریعت ؒ نے آپ کو رکھا۔ حق تعالیٰ مغفرت فرمائیں۔
(٣٧)
شریف کشمیری ؒ (ملتان)، حضرت مولانا محمد
(وفات: ٧؍مئی ١٩٩٠ء)
جامعہ خیر المدارس ملتان کے صدر المدرسین، شیخ الحدیث، استاذ العلماء، فن تدریس کے امام، منقولی و معقولی فاضل اجل، علامہ شمس الحق افغانی ؒ کے مایہ ناز شاگرد، انتہائی سادہ مزاج اور درویش منش، عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے علماء کرام کو مہمیز لگانے والے، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس شوریٰ کے حضرت مولانا خیر محمد جالندھری ؒ کے بعد عرصہ تک رکن رہے۔
(٣٨)
طارق محمود ؒ (فیصل آباد)، جناب صاحبزادہ
(وفات: ١٢؍ستمبر ٢٠٠٦ء)
جامع مسجد محمود ریلوے کالونی فیصل آباد کے خطیب، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن، ماہنامہ ”لولاک“ ملتان کے ایڈیٹر، بنات الاسلام ہائی سکول فیصل آباد کے منیجنگ ڈائریکٹر، صاحبزادہ طارق محمود ؒ ١٢؍ستمبر ٢٠٠٦ء بروز منگل سہ پہر دل کا عارضہ پیش آنے سے انتقال فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
صاحبزادہ طارق محمودؒ ١٩٤٨ء میں مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا تاج محمودؒ کے گھر پیدا ہوئے، چار بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد کے قائم کردہ طارق مسلم اسکول ١٣ جناح کالونی فیصل آباد میں حاصل کی۔ امین پور بازار سے باہر ایم بی ہائی اسکول سے میٹرک اور گورنمنٹ کالج فیصل آباد سے بی اے کیا، کالج کے زمانہ میں طلباء کی یونین کے گروپ لیڈر رہے اور کالج میں تقریری مقابلہ میں حصہ لیتے رہے۔
تعلیم سے فراغت کے بعد کپڑا سازی کی صنعت ”لومیں“ لگائیں، ہمارے ملک بھر میں بھیڑ چال ہے ”لوموں“ کی صنعت کامیاب دیکھ کر اداکاروں سے لے کر خطباء تک سب نے ”لومیں“ لگائیں، بھٹو صاحبؒ کے عہد اقتدار میں اس صنعت پر بحران آیا تو اسے چھوڑ کر جامعہ کلاتھ مارکیٹ میں ہول سیل کپڑے کی دکان کھول لی اور اپنے والد گرامی کی وفات ١٩٨٢ء تک اس سے وابستہ رہے۔
تعلیم کے بعد رشتہ ازدواج سے منسلک ہوئے، موضع مسلم ہری پور ہزارہ سے اپنے عزیزوں کے ہاں شادی ہوئی، بہت دھوم دھام سے شادی کی، آغا شورش کاشمیریؒ نے آپ کی شادی پر سہرا لکھا، شادی میں ہر طبقہ کے سینکڑوں مہمانوں کو مولانا تاج محمودؒ نے بلایا، اس موقع پر کمشنر فیصل آباد نے فیصل آباد کریسنٹ ملز کے مالک سے کہا کہ مولانا تاج محمودؒ نے شادی کا اتنا عمدہ واعلیٰ اہتمام کر کے ثابت کر دیا ہے کہ علماء کو صرف کھانا نہیں بلکہ کھلانا بھی آتا ہے۔
صاحبزادہ طارق محمودؒ کو اللہ تعالیٰ نے تین بیٹوں اور تین بیٹیوں کا باپ بنایا، صاحبزادہ صاحبؒ نے جب اس دنیا میں آنکھ کھولی تو فیصل آباد میں مولانا حافظ عبدالمجیدؒ نابینا بی اے فاضل دیوبند، مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کے شاگرد رشید مولانا محمد یونس مراد آبادیؒ، مولانا حکیم عبدالرحیم اشرفؒ، مولانا محمد صدیقؒ شیخ الحدیث جامعہ سلفیہ فیصل آباد، مولانا محمد انوریؒ، مولانا عبدالرحمنؒ فاضل دیوبند، مولانا مفتی زین العابدینؒ فاضل ڈابھیل، مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ، مولانا صاحبزادہ فضل رسول، مولانا صاحبزادہ افتخار الحسنؒ، مولانا محمد اسماعیل گوجرویؒ، مولانا عبید اللہؒ احرار ایسے بیسیوں علماء، فضلاء، خطباء سے فیصل آباد کے در و دیوار روشن تھے۔ اس وقت ملک میں حضرت امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ، مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھریؒ، مناظر اسلام مولانا لال حسین اخترؒ،
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگارنگ
مولانا عبدالرحمٰن میانویؒ، مولانا سید عطاء المنعم بخاریؒ، مولانا محمد شریف جالندھریؒ، مولانا محمد شریف بہاولپوریؒ، مولانا صاحبزادہ فیض الحسنؒ، آغا شورش کاشمیریؒ، مولانا عبیداللہ انورؒ، مولانا سید مظفر علی شمسیؒ، علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ، مولانا عبدالقادر روپڑیؒ، شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خانؒ، مولانا شمس الحق افغانیؒ، مولانا عبدالستار خان نیازیؒ، مولانا گل بادشاہؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، مولانا حکیم عبدالسلام ہزارویؒ، مولانا سید نورالحسن بخاریؒ، مولانا مفتی محمودؒ، مولانا دوست محمد قریشیؒ، نوابزادہ نصر اللہ خانؒ، فاتح قادیان مولانا محمد حیاتؒ ایسے سینکڑوں علماء کرام کے علم وفضل کے چرچوں سے پاکستان گونج رہا تھا، ان سب حضرات سے مولانا تاج محمودؒ کے نہ صرف برادرانہ تعلقات تھے بلکہ یہ سب حضرات جب چنیوٹ کی سالانہ ختم نبوت کانفرنس پر تشریف لاتے تو آتے جاتے مولانا تاج محمودؒ کے ہاں ننھا طارق محمود ان کی زیارت سے مستفیض ہوتا اور ان کی میزبانی کی خدمات میں شریک ہوتا اور ان کی شفقتوں سے اپنے آپ کو مالا مال کرتا، حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ ایک بار فیصل آباد مولانا تاج محمودؒ کے ہاں تشریف لائے تو طارق محمود چند اوزار لے کر کسی چیز کے بنانے میں معصومانہ اداؤں کے ساتھ منہمک تھا، شاہ جیؒ نے دیکھا تو فرمایا کہ تاج محمودؒ میرا یہ بیٹا انجینئر ہے، پھر جب بھی حضرت شاہ جی مولانا کو خط لکھتے تو ”میرے بیٹے انجینئر کو پیار“ کے الفاظ ضرور لکھتے، اس ماحول میں صاحبزادہ طارق محمودؒ نے بچپن گزارا۔
١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت میں صاحبزادہ صاحب ابھی بچپن کی زندگی گزار رہے تھے، مولانا تاج محمودؒ کی گرفتاری کے لئے پولیس نے چھاپا مارا تو یہ معصوم صاحبزادہ اپنی والدہ اور بہنوں کا واحد نگہبان تھا۔ حضرت مولانا تاج محمودؒ نے اردو، فارسی کالج کی بنیاد رکھی اور بنات الاسلام سکول انجمن نصرت الاسلام کے تحت قائم کیا تو ان تمام سرگرمیوں میں اپنی عمر کے اعتبار سے صاحبزادہ صاحبؒ سب کے نشیب وفراز سے واقف تھے۔ البتہ تمام اکابر علماء سے شناسائی اور ان سے برخوردارانہ تعلقات کے باوجود تبلیغی و جماعتی سرگرمیوں میں عملاً شریک نہ تھے، سوائے اس کے کہ چنیوٹ کی سالانہ ختم نبوت کانفرنس اور شہر کے جلسوں میں رفقاء اور دوستوں کے گروپ کے ساتھ سامع کی حیثیت سے شرکت کرتے اور بس۔
١٩٨٤ء میں اپنے والد گرامی کی وفات کے تعزیتی جلسہ میں آپ نے پہلا عوامی خطاب کیا اور بڑی گھن گرج اور اعتماد کے ساتھ ایسا پر اثر بیان کیا کہ مولانا مرحوم کی وفات کے
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
صدمہ سے نڈھال دوستوں کے بھی حوصلے بلند کر دیئے، خطاب کے بعد حضرت مولانا خواجہ خان محمد ؒ امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے آپ کے کندھوں کو تھپکایا اور دونوں ہاتھوں سے صاحبزادہ صاحب ؒ کے چہرہ کو گرفت میں لے کر شفقت کا ہاتھ پھیرا، اس دن سے صاحبزادہ صاحب ؒ نے داڑھی رکھ لی اور اپنی تمام تر توانائیاں، مسجد، محراب و منبر، ہفت روزہ لولاک اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے لئے وقف کر دیں۔ پیپلز کالونی کی ایک مسجد میں جمعہ کے خطبہ کے لئے کمر باندھی اور تین چار ماہ میں دینی موضوعات پر خطاب کے لئے اتنی بھر پور تیاری کر لی کہ دوست و دشمن کو حیران کر دیا، اپنے کاروبار کو سمیٹا، والد مرحوم کے قائم کردہ بنات الاسلام کی باقاعدہ نگرانی اور اہتمام کو سنبھالا، ان دنوں ١٩٨٤ء کی تحریک ختم نبوت زوروں پر تھی، ملک کے بعض اہم جلسوں سے خطاب کیا، فیصل آباد میں تحریک ختم نبوت کے لئے دن رات ایک کر دیئے۔ ٢٥ اپریل ١٩٨٤ء کی شام کو بھاری بھر کم وفد لے کر راولپنڈی راجہ بازار مدرسہ تعلیم القرآن میں ٢٦ اپریل کی آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے لئے حکومتی تمام تر رکاوٹوں اور پابندیوں کے باوجود کانفرنس میں پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ ٢٦ اپریل کو امتناع قادیانیت قانون منظور ہوا اور یوں فاتح بن کر راولپنڈی سے فیصل آباد تشریف لائے، برطانیہ کی سالانہ ختم نبوت کانفرنس میں کئی بار شریک ہوئے واپسی پر حرمین کی زیارت و عمروں کا شرف حاصل کیا۔
حضرت مولانا تاج محمود ؒ کی بیماری کے زمانہ میں فقیر کو حضرت مرحوم کی موجودگی میں جمعہ پڑھانے کا اعزاز حاصل رہا۔ وفات کے بعد صاحبزادہ صاحب ؒ کی خواہش پر حضرت امیر مرکزیہ ؒ نے راقم کو جمعہ کے لئے حکم فرمایا، چار پانچ ماہ یہ سلسلہ چلا، محترم صاحبزادہ صاحب ؒ پیپلز کالونی سے جمعہ پڑھ کر جلدی گھر آجاتے، جمعہ کے بعد آستانہ محمود ؒ پر حضرت مرحوم کے رفقاء کی مجلس لگتی، یوں صاحبزادہ صاحب ؒ نے والد گرامی مرحوم کے تمام جماعتی و ذاتی حلقہ کے تمام دوستوں کے دلوں میں گھر کر لیا، کچھ عرصہ بعد سالانہ ختم نبوت کانفرنس برطانیہ کے لئے فقیر کو سفر کرنا تھا، جامع مسجد محمود میں خطبہ جمعہ کے لئے اب کسی بھی ساتھی کو ادھر ادھر دیکھنے کی ضرورت نہ تھی، محترم صاحبزادہ طارق محمود ؒ اپنی بھر پور محنت اور اخلاص بھری کوشش سے اس اسٹیج پر آگئے تھے کہ وہ والد مرحوم کے محراب و منبر کو سنبھال لیں اور جانشینی کا حق ادا کریں، چنانچہ آپ نے اللہ تعالیٰ کا نام لے کر جامع مسجد محمود میں خطبہ جمعہ کا آغاز کر دیا، فقیر برطانیہ کے سفر سے واپس کراچی حاضر ہوا، فون کر کے خیر خیریت دریافت کی، صاحبزادہ
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
صاحب ؒ کی وضع داری اور شرافت دیکھیں کہ وہ فقیر سے کئی گنا اچھے خطابت کے فرائض سر انجام دے رہے تھے، لیکن بایں ہمہ فقیر کو حکم فرمایا اور بہت اصرار کیا کہ حسب سابق آپ خطبہ جمعہ کو جاری رکھیں، فقیر نے عرض کی کہ میں آپ کے والد گرامی کا ادنیٰ خادم و رضا کار تھا، میری سعادت تھی کہ حضرت مرحوم کی جگہ مجھے کھڑا کیا گیا، اب آپ نے ماشاء اللہ مجھ سے اچھا اس کام کو سنبھال لیا ہے، میرے لئے اس سے زیادہ اور کیا خوشی ہو سکتی ہے کہ آپ کو آپ کے والد مرحوم کے منبر پر اس آب و تاب اور جاہ و جلال کے ساتھ خطاب کرتا دیکھوں، کسی جمعہ آپ کا بیان سننے کے لئے آنا ہوا تو زہے نصیب، ورنہ آپ اسے سنبھالیں، فقیر کی منت و خوشامد پر انہوں نے اصرار چھوڑ دیا، یوں آپ نے اس کام کا بیڑا اٹھایا آپ کے جنازہ پر پاکستان کے سابق صدر ریٹائرڈ جسٹس چوہدری محمد رفیق تارڑ صاحب نے بہت ہی خوبصورت جملہ کہا کہ: ”طارق نے اپنے والد کی جانشینی کا حق ادا کر دیا“ اور واقعہ بھی یہی ہے بنات الاسلام ہائی اسکول کے تعلیمی و انتظامی امور کو عروج پر لے کر گئے، اپنے والد مرحوم کی خطابت پر مشتمل کیسٹوں، دینی کتب کے مطالعہ سے ”صدائے محراب“ خطابت پر کتاب لکھی، جسے آج بھی نو آموز خطیب کی بنیادی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے بنیادی حیثیت حاصل ہے، آپ کئی ضخیم کتابوں کے مصنف تھے۔
محترم صاحبزادہ صاحب ؒ نے ہفتہ وار لولاک کو سنبھالا، نپی تلی تحریر جو ادبی ذوق کا مظہر اتم ہوتی تھی، ان کے جاندار اداریوں سے ہفتہ وار لولاک کی ساکھ کو برقرار رکھا، اپنے والد گرامی کی جگہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی شوریٰ کے رکن نامزد ہوئے، کئی بار مجلس کے شعبہ نشر و اشاعت کے مرکزی ناظم مقرر ہوئے، غرض آپ نے اپنی بھر پور صلاحیتوں اور انتھک محنت سے خوب نام و مقام پیدا کیا۔ سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کے تمام تر انتظامات آپ کی توجہ سے ہوتے۔ اس سال وفات سے چند روز بعد ہونے والی ٢٥ ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس کی استقبالیہ کے آپ صدر تھے اور آپ کے نام سے دعوت نامہ شائع ہوا۔
آپ نے اپنے والد گرامی کی قائم کردہ مسجد کو نئے سرے سے تعمیر کرنے اور وسیع کرنے کا منصوبہ بنایا، فیصل آباد کے ایک صاحب خیر (اللہ تعالیٰ ان کے مال و اولاد عمر اور نیک اعمال میں برکت نصیب فرمائیں) انہوں نے تعمیر کے لئے حامی بھری، پرانی مسجد کے ساتھ ملحقہ آبائی مکان گرا کر مسجد میں شامل کیا، نقشہ بنا، تعمیر شروع ہوئی، فلک بوس خوبصورت دیدہ زیب مسجد تو تعمیر ہو گئی، لیکن صاحبزادہ مرحوم تھک گئے، ریلوے کالونی سے اپنا گھر پیپلز کالونی
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
منتقل کر دیا، سکول جناح کالونی میں، مسجد کی تعمیر ریلوے کالونی میں، جماعتی گھریلو ذمہ داریاں، تبلیغی دورے پورے ملک میں، ان مصروفیتوں نے صاحبزادہ صاحب ؒ کو ایسا پھنسایا کہ شوگر کے مریض ہو گئے، پھر بھی ہمت نہ ہاری، کچھ عرصہ بعد دل کی تکلیف نے ڈیرے ڈال دیئے، ڈاکٹروں نے آرام کا مشورہ دیا، آپ نے اپنی ذمہ داریوں کو تقسیم کرنا شروع کیا، ان مصروفیتوں کے باعث ہفتہ وار لولاک کی اشاعت سخت متاثر ہوئی، تو اسے بجائے ہفت روزہ کے ماہنامہ کر دیا اور بجائے فیصل آباد کے ملتان سے شائع کرنے کے لئے کلیۃً مجلس کے سپرد کر دیا، صرف اداریہ لکھنے کی ذمہ داری کو قبول کیا اور اللہ تعالیٰ کی شان بے نیازی کہ آخری روز فون کر کے جو فقیر کے لئے مرحوم کا آخری فون تھا اطلاع دی کہ اداریہ لکھ لیا ہے، مسجد کے ساتھ مکان کی ضروری تعمیر سے بھی فارغ ہو گیا ہوں، کل پرسوں تک چناب نگر کورس کے شرکاء کو لیکچر دینے کے لئے بھی حاضر ہوں گا، کانفرنس کے لئے اسپیکر و لائٹ کا ایک پارٹی کے ذمہ کام لگا دیا ہے، اب کانفرنس اور جماعتی کاموں کے لئے جہاں فرمائیں گے بالکل فارغ ہوں، تقریباً دس بجے دن فون پر بہت ہی پراعتماد گفتگو فرمائی، عصر سے قبل اطلاع ملی کہ وہ آخرت کو سدھار گئے، جس دن کورس کے لئے چناب نگر آنا تھا، اسی دن فیصل آباد جنازہ ہوا، ہزاروں کا اجتماع تھا، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ رہنما مخدومی حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری نے امامت فرمائی، ظہر سے قبل اپنے والدین کے پہلو میں آسودہ خاک ہوئے، عاش محموداً ومات محموداً...... رفتید ولے نہ از دل ما....... رہے نام اللہ تعالیٰ کا ”کل من علیہا فان ویبقیٰ وجہ ربک ذوالجلال والاکرام“
قارئین کرام! فقیر کو اپنی زندگی میں پہلی بار حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خان مرحوم کی شہادت پر کئی دن قلم پکڑنے کی ہمت نہ ہوسکی، اب دوسری بار صاحبزادہ مخدومی و مخدوم زادہ طارق محمود ؒ کی وفات کے بعد تقریباً پندرہ روز گزرنے کے بعد آج قلم اٹھایا، لیکن ان کی وفات کے تذکرہ پر پہنچ کر دماغ پر ایسی کیفیت طاری ہوئی ہے کہ ان کے جنازہ اور بعد کے حالات قلمبند کرنے کی ہمت تو درکنار تصور سے بھی طبیعت میں گھبراہٹ طاری ہو گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے جواں سال صاحبزادہ مبشر محمود (جو حافظ و قاری ہیں) کو انہیں اپنے والد کا جانشین بنائے، بڑے صاحبزادہ شاہد محمود، حافظ فہد محمود اور ان کی بہنوں کو صبر جمیل نصیب فرمائے، اس پر اکتفا کرتا ہوں کہ اس کے بغیر چارہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین !
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
محترم صاحبزادہ طارق محمود ؒ نے قادیانیت کے خلاف ایک ضخیم کتاب لکھی جس کا نام ”قادیانیت کا سیاسی تجزیہ“ ہے۔ وہ چونکہ عام طور پر مل جاتی ہے، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی شائع کردہ ہے۔ اس کے علاوہ محترم صاحبزادہ طارق محمود صاحب کے رد قادیانیت پر چھ رسائل ملے، جو احتساب قادیانیت کی جلد نمبر ٣٣ میں شائع کئے گئے۔ ان کا نام و تعارف یہ ہے:
- ١...... ”خانہ ساز نبوت کے پجاریوں اور مرزا طاہر کی دعوت مباہلہ کا کھلا کھلا جواب“ قادیانی
جماعت کے چوتھے لاٹ پادری مرزا طاہر نے تمام علماء کو مباہلہ کا چیلنج دیا۔ محترم صاحبزادہ صاحب نے اس کا یہ جواب تحریر فرمایا۔ جس کا ایک ایک حرف جان قادیانیت کے لئے نشتر کا درجہ رکھتا ہے۔
- ٢...... ”آنکھیں کھولیں“ قادیانیوں کو تبلیغ کے نقطۂ نظر سے محترم صاحبزادہ طارق محمود ؒ
نے یہ رسالہ ترتیب دیا۔ اے کاش! قادیانی اس سے فائدہ حاصل کرتے۔
- ٣...... ”نوجوانان فیصل آباد کے نام کھلا خط“ فیصل آباد میں نوجوانوں کو فتنہ قادیانیت کی سنگینی
سے باخبر کرنے کے لئے آپ نے یہ رسالہ تحریر کیا۔
- ٤...... ”ژوب میں تحریک ختم نبوت ایک نظر میں“ ژوب میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے
بانی بزرگ رہنما حضرت حاجی محمد علی ؒ ، الحاج محمد عمر ؒ کے حکم پر آپ نے یہ رسالہ تالیف کیا۔
- ٥...... ”فیصلہ آپ کیجئے“ سادہ الفاظ میں عوام و خواص کو قادیانیت سمجھانے کے لئے محترم
صاحبزادہ طارق محمود ؒ نے یہ رسالہ تالیف فرمایا۔
- ٦...... ”شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ (شرعی و قانونی حیثیت)“ ١٩٩٢ء میں جناب نواز
شریف وزیر اعظم، مولانا عبدالستار خان نیازی ؒ وفاقی وزیر مذہبی امور، جناب چوہدری شجاعت حسین وفاقی وزیر داخلہ تھے۔ شناختی کارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے کا مرحلہ آیا تو مطالبہ کیا کہ اس میں مذہب کا خانہ شامل کیا جائے۔ نواز حکومت یہ مطالبہ مان کر مکر گئی۔ نواز شریف کو آج تک جو جو ابتلاء پیش آئے وہ سب اس کہہ مکرنی اور رحمت عالم ﷺ کی ذات اقدس سے بے وفائی کا نتیجہ تو نہیں؟ اے کاش! کوئی سمجھے! اس زمانہ میں محترم صاحبزادہ صاحب نے یہ رسالہ تحریر فرمایا تھا۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
(٣٩)
عابدؒ (خانیوال) ، صاحبزادہ حافظ محمد
(وفات: ٢؍ فروری ١٩٩٩ء)
حضرت صاحبزادہ حافظ محمد عابدؒ قطب دوران حضرت مولانا محمد عبداللہؒ (المعروف حضرت ثانیؒ) سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کے لخت جگر اور نور نظر تھے۔ ١٩٢٥ء میں سلیم پور ضلع لدھیانہ میں پیدا ہوئے۔ تقسیم سے کچھ عرصہ پہلے، والدہ مرحومہ کے ساتھ حضرت والدؒ کی خدمت میں خانقاہ سراجیہ آگئے۔ یہاں کے نورانی ماحول میں آپ نے بچپن کا معصوم دور گزارا۔ سمجھ بوجھ پیدا ہوئی تو آپ کو حضرت ثانیؒ نے خانقاہ سراجیہ کے مدرس حافظ عبدالرشید کے ہاں تعلیم کے لئے بٹھا دیا۔ یوں ان سے آپ کے قاعدہ کی بسم اللہ ہوئی۔ مخدوم پور پہوڑاں کے مولانا عبدالغفورؒ اور باگڑ سرگانہ کے مولانا امان اللہؒ بھی خانقاہ سراجیہ میں قرآن مجید کے مدرس تھے۔ ان اساتذہ سے آپ نے قرآن مجید حفظ کیا۔ (بھوئی گاڑ میں کچھ عرصہ کے لئے پڑھتے رہے) قرآن مجید حفظ کر رہے تھے کہ حضرت ثانیؒ کا ١٩٥٦ء میں وصال ہو گیا۔ تو خانقاہ سراجیہ کے تیسرے سجادہ نشین، شیخ المشائخ حضرت قبلہ مولانا خواجہ خان محمدؒ کے زیر سایہ قرآن مجید حفظ کی تکمیل کی۔
اس زمانہ کا ایک واقعہ حضرت حاجی محمد شریف صاحبؒ کوٹلہ مغلاں بعدہ برمنگھم نے سنایا کہ حضرت حافظ محمد عابدؒ قرآن مجید حفظ کر رہے تھے تو ایک دن والد صاحبؒ نے بلا کر بھری مجلس میں کہا کہ عابد بیٹا رکوع سناؤ۔ تو صاحبزادہ صاحبؒ نے اتفاق سے رکوع وہ تلاوت کر دیا جس میں سجدہ تلاوت تھا۔ تلاوت کے بعد حضرت ثانیؒ نے فرمایا کہ عابد بیٹا نے رکوع تو سنایا مگر سب کو سجدہ میں ڈال دیا۔ اسی زمانہ کا ایک واقعہ حضرت صاحبزادہ کے فرزند نسبتی اور بھانجے محمد آصف نے بتایا کہ ایک دن میں نے پوچھا ماموں آپ نے حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی بھی زیارت کی۔ تو فرمایا کہ ہاں! ایک دفعہ حضرت شاہ صاحبؒ قبلہ والد صاحبؒ سے ملنے کے لئے خانقاہ سراجیہ تشریف لائے تھے۔ میں بالکل چھوٹا تھا۔ حضرت شاہ صاحبؒ نے مجھے بلا کر گود میں لیا اور تھپکی دے کر فرمایا کہ صاحبزادہ صاحب میں نے سنا ہے کہ آپ بہت اچھی تلاوت کرتے ہیں۔ تلاوت تو سناؤ۔ تو میں
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
(صاحبزادہ محمد عابد ؒ) نے بچپن میں سادگی سے کہا کہ حضرت میں نے سنا ہے کہ آپ بہت اچھی تقریر کرتے ہیں۔ آپ تقریر سنائیں۔ میں تلاوت سنا دیتا ہوں۔ اس پر حضرت شاہ صاحب ؒ بہت ہنسے۔ بس حضرت امیر شریعت ؒ سے اتنی ملاقات یاد ہے۔
حضرت ثانی ؒ کی بستی و برادری کے حضرات تقسیم کے بعد خانیوال کے قریب آکر آباد ہوگئے۔ زمین الاٹ ہوئیں۔ مکانات بن گئے۔ بستی آباد ہوگئی تو حضرت ثانی ؒ کے وصال کے بعد حضرت قبلہ خواجہ خان محمد ؒ نے بستی سراجیہ خانیوال میں حضرت صاحبزادہ محمد عابد ؒ کے لئے مکان بنوا دیا۔ اپنی ہمشیرہ اور والدہ کے ہمراہ مکان مکمل ہونے کے بعد یہاں منتقل ہو گئے۔ ایک دوست نے بتایا کہ حضرت ثانی ؒ نے فرمایا کہ میں نے سیم وزر محمد عابد ؒ کے لئے کوئی نہیں چھوڑا۔ اس میں اگر صلاحیت ہوئی تو دین ودنیا، دولت وعزت کی اسے کمی نہیں ہوگی۔ سلم پور لدھیانہ کی زمین کے بدلے بستی سراجیہ میں جو چند ایکڑ الاٹ ہوئے انہی پر گزر بسر تھا۔
دارالعلوم کبیر والا کے بانی ومہتمم حضرت مولانا عبدالخالق ؒ خانقاہ سراجیہ کے بانی، اعلیٰ حضرت ابوالسعد احمد خان ؒ سے بیعت اور حضرت مولانا عبداللہ ؒ کے خلیفہ مجاز تھے۔ اسی تعلق کی بنیاد پر حضرت قبلہ خواجہ خان محمد ؒ نے اپنے مرشد زادہ صاحبزادہ محمد عابد ؒ کو دارالعلوم کبیر والا میں داخل کرا دیا۔ آپ نے اکابر اساتذہ کی زیر نگرانی وسرپرستی میں ابتدائی چند سال کی تعلیم مکمل فرمائی۔ اس کے بعد صحت وحالات نے بقیہ تعلیم کا موقعہ نہ دیا۔
حضرت صاحبزادہ محمد عابد ؒ نے اپنے والد مرحوم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے خانقاہ سراجیہ سے اپنا دیرینہ تعلق نہ صرف بحال رکھا بلکہ اسے مزید مستحکم کیا۔ حضرت قبلہ خواجہ خان محمد ؒ نے شفقتوں اور محبتوں سے نوازا اور اپنے شیخ حضرت ثانی ؒ کے صاحبزادہ ہونے کے ناتے مکمل تربیت سے ان میں نکھار پیدا کیا۔ اپنے حقیقی بیٹوں کی طرح مقام بخشا۔ یہی وجہ ہے کہ صاحبزادہ محمد عابد ؒ کے صاحبزادہ مولانا عزیز احمد، صاحبزادہ مولانا خلیل احمد، جناب صاحبزادہ رشید احمد، جناب صاحبزادہ سعید احمد اور جناب صاحبزادہ نجیب احمد سے نہ صرف مثالی بھائیوں جیسے تعلقات تھے۔ بلکہ جماعتی، ذاتی، گھریلو، برادری وخانقاہی تمام معاملات میں سب صاحبزادگان جناب صاحبزادہ محمد عابد ؒ کی رائے کو ترجیح دیتے تھے۔ ان کے مشورہ کے بغیر قدم نہ اٹھاتے تھے۔ بلکہ اپنے والد گرامی قبلہ حضرت خواجہ خان محمد ؒ سے بھی بعض ہدایات و رہنمائی واجازت کے لئے صاحبزادہ محمد عابد ؒ کو وسیلہ بناتے تھے اور صاحبزادہ محمد عابد ؒ کا بھی یہ کمال تھا کہ
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
وہ حضرت قبلہ خواجہ خان محمدؒ کے چشم وابرو کے اشارہ پر جان چھڑکتے تھے۔ عشق کی حد تک اپنے شیخ سے تعلق تھا۔ دنیا و آخرت کی فلاح وہ اپنے شیخ کی خدمت واطاعت میں سمجھتے ہیں۔ قبلہ حضرت صاحبؒ کی نگاہ کرم اور صاحبزادہ محمد عابدؒ کی نیاز مندی وفرمانبرداری نے آپ کو کندن بنا دیا تھا۔
حضرت مولانا عبد الخالقؒ کے وصال کے بعد آگے چل کر شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد المجید لدھیانویؒ اور حضرت مولانا منظور الحقؒ میں دارالعلوم کبیر والا کے بعض انتظامی مسائل پر اختلاف رائے ہو گیا۔ حضرت مولانا عبد المجیدؒ اور حضرت ثانیؒ کا ہندوستان میں سلیم پور لدھیانہ گاؤں ایک تھا۔ برادری ایک تھی۔ حضرت مولانا عبد المجیدؒ، حضرت صاحبزادہ محمد عابدؒ کے استاد تھے۔ لیکن صاحبزادہ صاحبؒ کا جھکاؤ حضرت مولانا منظور الحقؒ کی رائے مبارک کی طرف تھا۔ ایک دن حضرت قبلہ خواجہ خان محمدؒ کے ہمراہ صاحبزادہ محمد عابدؒ دارالعلوم آئے۔ حضرت مولانا عبد المجیدؒ سے ملے تو حضرت مولانا نے خوش طبعی میں صاحبزادہ صاحبؒ کو فرمایا کہ آئیے میرے بیت المقدس۔ حضرت حافظ عبد الرشید صاحبؒ چیچہ وطنی والوں نے کہا کہ نہیں حضرت! بیت المقدس نہیں بلکہ قبلہ وکعبہ۔ تو حضرت مولانا عبد المجیدؒ نے مسکرا کر فرمایا کہ بیت المقدس اس لئے کہا کہ کبھی کبھی اس پر دوسروں کا قبضہ ہو جاتا ہے۔ یہ تو جملہ معترضہ ہوا۔ مجھے عرض یہ کرنا ہے کہ حضرت قبلہ خواجہ خان محمدؒ نے اس اختلاف کے زمانہ میں فرمایا کہ مجھے حضرت مولانا عبد المجیدؒ سے اس لئے محبت ہے کہ یہ میرے شیخ کے گاؤں اور برادری کے ہیں۔
اگر حضرت قبلہؒ اپنے شیخ سے نسبت والوں کا اتنا لحاظ فرماتے ہیں تو اپنے شیخ کے صاحبزادہ کا کتنا خیال فرماتے ہوں گے۔ راقم عرض گزار ہے کہ ١٩٧٣ء سے میرا قبلہ حضرت اقدسؒ سے جماعتی طور پر غلامی ونیاز مندی کا تعلق ہے۔ اس طویل عرصہ میں کبھی ایسے نہیں ہوا کہ حضرت قبلہؒ نے صاحبزادہ محمد عابدؒ کو عابد صاحب یا حافظ صاحب کہہ کر مخاطب فرمایا ہو۔ بلکہ جب مخاطب کرنے کی ضرورت پڑتی صاحبزادہ محمد عابدؒ کہہ کر مخاطب فرماتے اور جناب صاحبزادہ صاحبؒ نے بھی خدمت واحترام کی ایک مثال قائم کر دی تھی۔ جنون کی حد تک اپنے شیخ سے عشق تھا اور حضرت بھی اس طرح اعتماد فرماتے تھے کہ جب کہیں اندرون وبیرون ملک کے سفر پر جانا ہوتا۔ کوئی ساتھی وقت طلب کرتا یا پروگرام
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
پوچھتا تو بار ہا حضرت اقدس سے سنا۔ فرماتے کہ میرے امیر صاحبزادہ حافظ محمد عابد ؒ ہیں۔ ان کو پتہ ہوگا جو وہ کہیں گے اسی پر عمل ہوگا۔
حضرت مولانا گل حبیب لورالائی نے بتایا کہ حضرت صاحبزادہ ؒ نے فرمایا کہ مجھے حرمین شریفین جانے کا بے حد شوق تھا۔ مگر سبیل نہ بنتی تھی۔ اس پریشانی کے عالم میں ، شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوری ؒ سے اپنی مشکل عرض کی۔ حضرت بنوری ؒ نے فرمایا کہ سورۃ حج کی روزانہ تلاوت کیا کریں۔ وليطوفوا بالبيت ! پر وقفہ کر کے دعا کیا کریں اور پھر سورۃ کو مکمل کیا کریں۔ ایک خوبصورت لفافہ دم کر کے دیا کہ اس میں حج کے لئے جو رقم میسر آئے ڈالتے جائیں۔ جب موسم حج قریب آیا تو دعا کی کہ یا اللہ جو میں کر سکتا تھا کر دیا۔ آگے کا کام میرے بس میں نہیں۔ صاحبزادہ فرماتے تھے کہ ایسا راستہ کھلا کہ ١٩٧٤ء سے ١٩٩٨ء تک ناغہ نہیں ہوا۔ بلکہ ١٩٨٥ء سے تو یہ کیفیت ہو گئی کہ سال میں حج کے علاوہ دو بار مزید عمرہ کے لئے حاضری کی سعادت نصیب ہو جاتی۔
محترم صاحبزادہ صاحب ؒ نے خانقاہ سراجیہ کے متعلقین کے نوجوانوں میں حرمین شریفین کی حاضری کا جذبہ ایک تحریکی انداز میں بھر دیا تھا۔ بلاشبہ سینکڑوں نوجوانوں کو حج وعمرہ کے لئے بھجوایا۔ کئی نوجوانوں کو اپنے قافلہ میں ساتھ لے کر گئے۔ حضرت اقدس خواجہ خان محمد ؒ کی سرپرستی اور صاحبزادہ ؒ کی رفاقت نے ان نوجوانوں کو کندن بنا دیا۔ چیچہ وطنی کے جناب حاجی محمد ایوب نے بتایا کہ ایک بار قبلہ حضرت صاحب ؒ کے ساتھ حج پر گیا۔ اگلے سال صاحبزادہ صاحب ؒ تشریف لائے اور فرمایا کہ اس سال بھی تیاری کرو۔ میں نے عرض کیا کہ رقم نہیں ۔ فرمایا شناختی کارڈ تو ہے۔ میں نے عرض کی ہاں! وہ تو ہے۔ فرمایا لاؤ۔ میرے فوٹو اور شناختی کارڈ کی نقل لی اور میری رقم کا خود ہی اہتمام کر کے داخلہ بھجوا دیا۔ جس دن میرے پاس رقم ہوگئی۔ میرے کہنے پر بتا دیا کہ جاکر فلاں دوست کے پاس جمع کرادو۔ یوں قدرت نے صاحبزادہ صاحب ؒ کو سبب بنا کر دوبارہ حج پر جانے کی سبیل پیدا فرمادی۔
مولانا گل حبیب نے بتایا کہ پچھلے سال ١٩٩٨ء میں مجھے فرمایا کہ حج کی تیاری کرو۔ میں نے عرض کیا کہ میرے جو وسائل ہیں ان کو سامنے رکھ کر تو میں حج کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالی پردۂ غیب سے اہتمام فرمادیں تو ان کے سامنے بعید نہیں۔ مولانا گل حبیب کہتے ہیں کہ حج کی درخواستوں کی تاریخ گزر جانے کے بعد ٢٤ شعبان کو صاحبزادہ صاحب ؒ نے جناب احمد خان بزدار کو فون کیا کہ گل حبیب کو کہیں کہ اسلام آباد جا کر فلاں آدمی کو وزارت حج میں
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
ملیں۔ سپیشل کوٹہ سے درخواست فارم لے کر جمع کرائیں۔ بزدار صاحب نے کہا کہ مولانا کے پاس تو رقم نہیں۔ تو فوراً فرمایا کہ پچاس ہزار تو اپنی طرف سے مولانا کی مدد کرو۔ مزید پچیس ہزار مولانا قرض لے کر جائیں اور درخواست جمع کرائیں۔ یوں مولانا کا حج کروایا۔ بعد میں قرض بھی آہستہ آہستہ کر کے اتر گیا۔
صاحبزادہ صاحب ؒ کی عادت تھی کہ سفر حج وغیرہ کے لئے کسی کو خازن مقرر کر دیتے تھے۔ حاجی ایوب فرماتے ہیں کہ مجھے سفر حج میں خازن مقرر کیا۔ فرمایا کہ جب رقم کی ضرورت ہو مجھ سے لے لیا کریں۔ جیب کی رقم گننا نہیں۔ ضرورت کے تحت نکالتے جائیں اور خرچ کرتے جائیں۔ حساب رکھنے کی بھی ضرورت نہیں۔ جتنے حج کے ساتھی ہیں سب کی پسند کی تمام اشیاء فریج میں سٹاک ہوں۔ جس کو جب جو چاہئے بغیر اجازت کے فریج کھول کر استعمال کر سکتا ہے۔ کسی کی پسند کی چیز فریج میں کسی وقت نہ ہوئی تو تمہاری جواب طلبی ہو جائے گی۔ حاجی صاحب فرماتے ہیں کہ اتنا فیاض و دریا دل آدمی میں نے نہیں دیکھا۔
چیچہ وطنی کے جناب عبداللطیف خالد چیمہ فرماتے ہیں کہ انڈیا کے سفر میں مجھے خازن بنایا۔ چیمہ صاحب کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں حج پر گیا۔ میری جیب کٹ گئی۔ پاسپورٹ کے علاوہ سب کاغذات و نقدی غائب ہو گئی۔ بہت پریشان تھا۔ اتنے میں صاحبزادہ صاحب ؒ مل گئے۔ علیک سلیک کے بعد پریشانی کی وجہ پوچھی۔ میرے بتانے پر فرمایا۔ طواف سے فارغ ہو کر سامنے فلاں جگہ پر آجائیں۔ میں گیا تو اتنی رقم میری جیب میں ڈال دی کہ میری تمام پریشانی کا فور ہو گئی۔
محترم صاحبزادہ صاحب ؒ کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی شوریٰ کا رکن نامزد کیا گیا۔ نہ معلوم کیا خیال آیا کہ ایک دن فرمایا کہ ہمہ وقتی کام کرنے والے علماء کرام مبلغین حضرات میں سے کچھ حضرات ایسے ہیں جو حج کی استطاعت نہیں رکھتے۔ یہ حضرات عمر بھر ختم نبوت کے مقدس مشن کے لئے کام بھی کریں اور صاحب ختم نبوت کی خدمت میں حاضری نہ ہو۔ سمجھ نہیں آتا۔ فکر مند ہوں کچھ کرنا چاہیے۔ کچھ عرصہ کے بعد فرمایا کہ حضرت قبلہ مولانا محمد یوسف لدھیانوی ؒ سے منوا لیا ہے کہ ہر سال دو ساتھیوں کے حج پر جانے کا وہ اہتمام فرمائیں گے۔ شرط یہ ہے کہ تمام ساتھی باری باری قرعہ اندازی سے جائیں گے۔ جس نے پہلے حج کیا ہوا ہے اور جس کی مدت ملازمت پانچ سال سے کم ہے وہ قرعہ اندازی میں شامل نہیں ہوں گے۔ پہلے سال حضرت مولانا غلام مصطفیٰ صاحب اور مرکزی دفتر سے جناب رانا محمد طفیل جاوید کو ساتھ لے کر
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
گئے ۔ دوسرے سال بجائے دو کے تین حضرات کی منظوری کرائی ۔ حضرت مولانا نذیر احمد تونسوی ؒ، حضرت مولانا جمال اللہ ؒ، حضرت مولانا فقیر اللہ اختر ، گذشتہ حج پر گئے ۔ اس سال حضرت حافظ محمد ثاقب ؒ، حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور مولانا راشد مدنی کا قرعہ فال نکلا ہے ۔
حضرت حافظ صاحب ؒ نے قبلہ حضرت اقدس کے ساتھ اپنی درخواست جمع کرائی تھی جو منظور ہوگئی تھی ۔ رمضان شریف کے عمرہ کے لئے ویزا بھی لگ گیا تھا ۔ عمرہ بیماری کے باعث اور حج ، سفر آخرت کے باعث اس سال کا نہ ہو سکا ۔ ارادہ و تیاری تھی ۔ جب تک حج ہوتا رہے گا ان کو ثواب ملتا رہے گا ۔ جو ساتھی آپ کی مساعی سے گئے یا جائیں گے ثواب میں قبلہ حضرت صاحبزادہ ؒ بھی برابر کے شریک رہیں گے ۔ وفات سے ایک دو رات قبل ڈاکٹر عنایت اللہ کو فرمایا کہ ڈاکٹر صاحب علاج اس قدر کر دو کہ میں حج پر جاسکوں ۔ حج پر ضرور جانا ہے ۔
راقم صاحبزادہ ؒ سے مذاقاً عرض کرتا تھا کہ جب عالم ارواح میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے لوگوں کو حج کے لئے پکارا تو آپ کی روح نے وقفہ وسکتہ کے بغیر لبیک لبیک کہنا شروع کر دیا ہوگا ۔ تبھی تو آپ اتنی بار حج وعمرہ کی سعادت سے بہرہ ور ہوئے ۔ آبدیدہ ہو جاتے اور فرماتے اس ذات باری تعالیٰ کریم ورحیم کا فضل ہے ”ورنہ میں تو اس قابل نہ تھا“ یہ حضرت قبلہ سید نفیس الحسینی ؒ کی ایک نظم کا مصرعہ ہے ۔ پھر وہ اس کے کئی اشعار سنا دیتے ۔
محترم صاحبزادہ صاحب ؒ کو رحمت دو عالم ﷺ کی ذات اقدس سے اتنا عشق تھا کہ آپ کا ذکر مبارک آتے ہی فریفتہ ہو جاتے ۔ ذکر مبارک آتے ہی وہ اس میں محو ہو جاتے ۔ گم ہو جاتے ۔ پھر وہی مبارک تذکرہ ہی موضوع سخن بن جاتا ۔ اچھے شعراء کی نعتوں کو سننا ان کا معمول تھا ۔ کسی اچھی آواز والے ساتھی کا پتہ چلتا تو اس سے فرمائش کر کے نعتیں سنتے اور سر دھنتے ۔ مولانا فقیر اللہ اختر ، حافظ محمد شریف کی آواز پر وجد کی کیفیت طاری ہوجاتی ۔ نعتوں کی کیسٹ بھی ساتھ رکھتے تھے ۔
ختم نبوت کے کاز سے محبت بھی عشق نبوی ﷺ کی دلیل ہے ۔ مجلس تحفظ نبوت کے لئے دل وجان سے فدا تھے ۔ مجلس کے کاموں کے لئے فکر مند رہتے تھے ۔ قدرت نے ان کو فکر رسا ذہن نصیب فرمایا تھا ۔ سکیمیں تیار کرتے رہتے تھے ۔ ایک دفعہ مرکزی دفتر میں عصر کی نماز مسجد کے برآمدہ میں پڑھی ۔ گرمی کا موسم تھا ۔ فراغت کے بعد کمرہ میں آئے تو فرمایا کہ مسجد کے صحن میں نماز کا اہتمام کریں ۔ گرمی میں عصر ، مغرب ، عشاء ، فجر چار نمازیں صحن میں پڑھی جاسکتی ہیں ۔ صحن میں
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
پنکھوں کا اہتمام میں کرتا ہوں۔ دو چار دوستوں کو متوجہ کر دیا۔ حاجی معراج دین صاحب ؒ کو حکم فرمایا۔ الیکٹریشن بلوایا۔ پائپ لگوائے، فٹنگ کرائی اور نمازیں صحن میں شروع کروا دیں۔ اس طرح جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر کے صحن میں پنکھوں کا اہتمام کرنے کا فکر ہوا۔ میاں بابر عنایت فیصل آباد والوں کو پنکھوں کا حکم فرمایا۔ لاہور سے پائپ منگوائے ، مستری اور الیکٹریشن کا کام فقیر کے ذمہ لگایا۔ ہفتہ عشرہ میں پنکھے چالو ہو گئے۔ نماز کے علاوہ گرمی میں رات حفظ قرآن کلاسیں بھی وہاں لگتی ہیں اور رات کو مدرسہ کے بچوں کے آرام کا بھی سامان ہو گیا۔
ایک دفعہ سردی میں عشا کی نماز پڑھی تو خیال ہوا کہ مسجد میں صفوں پر دریوں کا اہتمام ہونا چاہیے۔ دفتر مرکزیہ، چناب نگر مسلم کالونی اور مسجد محمدیہ کے لئے عام نمازوں میں جتنی صفیں ہوتی ہیں اتنی صفوں کے لئے دریوں کا ملتان کے خاکوانی اور دیگر دوستوں کو متوجہ کر کے اہتمام کر دیا۔
اس دفعہ چناب نگر میں کورس ہو رہا تھا۔ شرکاء کورس کے لئے دعوت کا اہتمام کیا۔ بیماری کے باعث ویگن میں لیٹ کر تشریف لائے۔ شرکاء کورس کو کھانا کھلایا۔ بہت خوش ہوئے۔ واپس لاہور گئے تو دوستوں کو بار بار کہتے کہ مہمانان رسول ﷺ مقبول کی زیارت و خدمت کر کے بہت سکون پایا ہے۔ رحمت دو عالم ﷺ کے دشمنوں کے شہر میں مہمانان رسول ﷺ اور وہ بھی آپ ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کی تیاری و فکر کے لیے جمع ہیں۔ ان کی خدمت و زیارت تو ایمان کا حصہ ہے۔ ایسی سحر انگیز گفتگو فرمائی کہ سننے والے آبدیدہ ہو گئے۔ کچھ دنوں بعد پھر دعوت کا اہتمام کیا۔ راقم ان دنوں وہاں تھا۔ فرمایا کہ مرغ پلاؤ اور زردہ سے شرکاء کی دعوت کریں۔ تم (مجھے فرمایا) بخیل ہو۔ اس رقم کو دو دن کے کھانے کے لئے بچت کرو گے۔ ایسے نہیں ہوگا۔ آپ زردہ پلاؤ تیار کر کے نمونہ ٹفن میں ڈال کر بھائی محمد طفیل کو بھیجیں۔ مجھے لاہور میں آکر چیک کروا جائے۔ اور رقم بھی لے جائے۔ فقیر نے ایسے کیا جب زردہ دیکھا کہ سادہ پکایا ہے بادام، کشمش، گری نہیں ڈالی تو بہت ہنسے اور فرمایا کہ مولوی صاحب نے پھر ہاتھ دکھا دیا ہے۔ رقم بچالی ہے یہ کل کے کھانے پر خرچ کریں گے۔
جب چناب نگر تشریف لائے تو فیصل آباد کے ایک دوست کو حکم فرمایا کہ زنانہ کپڑا لاکر مدرسہ میں پڑھنے والی بچیوں میں تقسیم کر دو۔ راقم نے عرض کیا کہ مسافر بچیاں تو ہمارے ہاں نہیں ہیں۔ مقامی بچیاں پڑھتی ہیں اور وہ سب متمول ہیں۔ ہاں! البتہ ہمارے ہاں مسافر طلباء پڑھتے ہیں۔ چھ صد میٹر ان کے لئے کپڑا چاہیے۔ مولانا غلام مصطفیٰ خطیب جامع مسجد و انچارج مدرسہ کو
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
بلا کر فرمایا کہ یہ چند زنانہ سوٹ رکھ لو۔ غریبوں میں تقسیم کر دینا۔ مجھے فرمایا کہ طلباء کے لئے کپڑا خریدنا نہیں۔ اس کا اہتمام بھی میں کروں گا۔ ایک دن لاہور سے فون آیا کہ اہتمام ہو گیا ہے۔ کپڑا بھجوا رہا ہوں۔ خود پہنچوایا اور تقسیم کی تفصیل سن کر بہت خوش ہوئے۔ جیسے کوئی اپنی اولاد کو عید کے کپڑے دے کر خوش ہوتا ہے۔ بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ۔
اس سال طبیعت ٹھیک نہ تھی۔ سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کی تاریخ آگئی۔ آپ کے فرزند نسبتی آصف کا بیان ہے کہ ہم نے عرض کیا کہ آپ سفر کی پوزیشن میں نہیں۔ فرمایا کہ ہمارے بزرگ مولانا غلام غوث ہزاروی ؒ نے اپنے جواں سال اکلوتے صاحبزادے زین العابدین ؒ کا جنازہ چھوڑ دیا تھا۔ مگر ختم نبوت کے پروگرام کو نہیں چھوڑا تھا۔ میں ہر حال میں جاؤں گا۔ چاہے صحت کا کچھ بھی ہو جائے۔ یہ آپ کا عزم جواں مرداں تھا۔ نہ صرف تشریف لائے بلکہ اپنی صاحبزادی کے نکاح کی تقریب بھی کانفرنس کے موقعہ پر ادا کر ڈالی کہ اس مبارک اجتماع کے صدقے اللہ میاں اس کام میں بھی برکت ڈالیں گے۔ اس کانفرنس کے لئے باگڑ سرگانہ اور خانیوال بستی سراجیہ کے دوستوں کو کہہ کر ان کی بسیں تیار کرواتے۔ نوجوانوں کی میٹنگ کر کے ان کی ڈیوٹی لگاتے کہ آپ نام لکھیں کرایہ جمع کریں۔ آپ بس کی بکنگ کرائیں۔ آپ راشن خریدیں۔ آپ پہلے جا کر ٹینٹ مخصوص کرائیں۔ غرضیکہ سب کی علیحدہ علیحدہ ڈیوٹی لگاتے۔ پھر جو ساتھی حاضر نہ ہو سکتا اس پر غصہ ہوتے اور فرماتے کہ میاں ہماری دوستی تو ختم نبوت کی وجہ سے ہے۔ اگر اس میں کوتاہی کریں گے تو ہمارا آپ سے کوئی تعلق نہیں۔ جب تک وہ آئندہ کے لئے وعدہ نہ کر لیتا اسے معافی نہ ملتی۔
لاہور کے محترم ملک فیاض صاحب کو آمادہ کیا کہ وہ ختم نبوت کے کیلنڈر شائع کیا کریں۔ خود بھی دوستوں کو متوجہ کرتے اور ملک صاحب کی پشتیبانی بھی کرتے۔ خود ہر سال خوبصورت عمدہ دیدہ زیب کیلنڈر شائع کر کے ملک بھر کے جماعتی حلقہ کو بھجواتے۔ مجلس کا نام ہوتا اور ایک پیسہ بھی مجلس کے فنڈ سے اس پر خرچ نہ ہونے دیتے۔ اس سال جیبی سائز کے خوبصورت کیلنڈر شائع کرائے۔ دعاؤں کے خوبصورت چارٹ پر سال کا کیلنڈر لگوا کر تقسیم کرانے کا اہتمام فرمایا۔
غرض ہمہ وقت وہ مجلس کے کام و کاز کو وسعت دینے کے لئے فکر مند رہتے۔ مجلس کے ایک ایک کام کی نگرانی و خدمت سر انجام دیتے۔ مگر کیا مجال ہے کہ کبھی چودھراہٹ کا یا کریڈٹ کا خیال آیا ہو۔ مخدوم ہو کر خدمت کرنا ان پر ختم تھا۔ اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو بقعہ نور بنائے۔ اتنے
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
واقعات ذہن کی سکرین پر جمع ہو رہے ہیں کہ اگر ان کو لکھنا شروع کیا تو مضمون زیادہ طویل ہو جائے گا۔
آپ کے بہنوئی چوہدری محمد یوسف صاحب ؒ اور چچا زاد بھائی جناب چوہدری محمد امین ؒ نے بتایا کہ لاہور میں جب آپ زیر علاج تھے تو ایک دفعہ بیماری کے حملہ سے آپ پر غشی طاری ہو گئی۔ کافی دیر بعد جب ہوش آیا تو سب سے پہلے فرمایا کہ میرے سرہانے ختم نبوت کا کیلنڈر رکھ دو تاکہ دوست آئیں تو تقسیم کر سکوں۔ ہفتہ وار ختم نبوت کراچی کے لئے دوستوں کو ترغیب دینا، ماہنامہ لولاک کے خریدار بنانا۔ باگڑ میں مجلس کا ہر ماہ جمعہ مقرر کرنا۔ غرض کون کون سی کس کس بات کو لکھا جائے۔
گراں گزرتا تھا جن سے جدا ہونا دو چار لمحے ہائے افسوس کہ بغیر ان کے اب عمریں بسر ہوں گی
جناب محمد اسحاق خان خاکوانی ؒ کے حوالے سے ایک دوست نے بتایا کہ ایک دفعہ حضرت قبلہ خواجہ خان محمد ؒ نے ٹرین کے ذریعہ ملتان تشریف لانا تھا۔ پیشوائی کے لئے صاحبزادہ محمد عابد ؒ رات کو ملتان آگئے۔ رات کو میرے ہاں قیام فرمایا۔ صبح فرمایا کہ ٹرین کا وقت ہو گیا ہے گاڑی نکالو۔ میں نے عرض کیا کہ عمرہ سے مہمان آرہے ہیں۔ قبلہ حضرت اقدس ؒ کو لینے والے بیسوں اسٹیشن پر ہوں گے۔ مگر ان مہمانوں کا نظم صرف مجھے کرنا ہے۔ مجھے اجازت ہو تو میں گاڑی لے کر ائیر پورٹ چلا جاؤں۔ آپ حضرت قبلہ ؒ کو لے آئیں۔ پھر مکان پر جمع ہو جائیں گے۔ فرمایا بہت اچھا میرے ساتھ بیٹھ گئے۔ عزیز ہوٹل کے قریب فرمایا کہ مجھے رکشہ پر بٹھا دو۔ میں نے گاڑی روکی۔ رکشہ میں سوار ہوتے ہوئے فرمانے لگے کہ ائیر پورٹ ضرور جاؤ مگر تمہارے مہمان اتریں گے نہیں۔ میں اسے مذاق سمجھا۔ ائیر پورٹ پر چلا گیا۔ اعلان ہو گیا۔ سواریاں جانے والی اندر چلی گئیں ان کو بورڈنگ کارڈ مل گئے۔ جہاز آ گیا رن وے پر گاڑیاں دوڑنے لگیں جہاز فضا میں چکر کاٹتا نظر آنے لگا۔ اترنے کے لئے اس کی سطح کم ہوتی گئی مگر یکدم اس نے اوپر کی طرف پرواز کی اور کراچی کے لئے واپس ہو گیا۔ ادھر اعلان ہو گیا کہ فنی خرابی سے جہاز واپس جا رہا ہے۔ میں نے گاڑی دوڑائی اسٹیشن پر گیا۔ ریل گاڑی آنے میں دیر تھی۔ صاحبزادہ نے مجھے دیکھتے ہی مسکرا کر فرمایا کہ مہمان لے آئے؟ میرے جواب سے پہلے موضوع تبدیل کر دیا۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
فرماتے ہیں کہ ایک بار حضرت امیر مرکزیہؒ ، محترم صاحبزادہؒ کے پاسپورٹوں کی ضرورت پڑی۔ صاحبزادہؒ نے کہا کہ دفتر میں ہیں۔ دفتر کا کونہ کونہ چھان مارا مگر نہ ملے۔ صاحبزادہؒ کا اصرار تھا کہ ریکارڈ روم، سیف، فائلیں تلاش کریں۔ دفتر میں میں نے رکھوائے تھے۔ تلاش بسیار کے بعد مایوسی ہوگئی۔ تو صاحبزادہؒ نے شام کو فون کر کے مجھے فرمایا کہ حضرت آپ خود تلاش کریں۔ رفقاء جلد بازی میں مکمل تفتیش نہیں کرتے۔ آپ خود چیک کریں۔ مولانا فرماتے ہیں کہ میں نے حامی بھر لی۔ دوسرے روز نماز کے بعد خلاف معمول جلدی دفتر آ گیا۔ چابیاں منگوائیں۔ اتنے میں صاحبزادہ صاحبؒ کا فون آ گیا کہ آپ نے پاسپورٹ تلاش کئے۔ میں نے کہا کہ چابیاں میرے ہاتھ میں ہیں ابھی بسم اللہ کرتا ہوں۔ صاحبزادہ صاحبؒ نے فرمایا کہ سیف کھولیں اس کے رجسٹروں میں پاسپورٹ پڑے ہیں۔ سیف کھولا رجسٹر اٹھائے تو نیچے کے رجسٹر کے اندر گتہ کے درمیان پڑے ہوئے پاسپورٹ مل گئے۔ پانچ منٹ بعد صاحبزادہ صاحبؒ کا فون آیا کہ مل گئے ہیں۔ میں نے کہا مل گئے ہیں۔ لیکن آپ بتائیں کہ آپ کو خانیوال بیٹھے بیٹھے کیسے پتہ چل گیا کہ سیف کے رجسٹروں کے درمیان میں پڑے ہیں۔ تو فرمایا کہ ایک آدمی ہمارے ہاں استخارہ کرتا ہے اور اس کا کامیاب استخارہ ہوتا ہے۔ اس سے استخارہ کرایا تھا۔ مولانا فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ یہ استخارہ خود حضرت صاحبزادہ صاحبؒ کا اپنا تھا۔
مولانا گل حبیب فرماتے ہیں کہ میں ١٩٩٨ء میں صاحبزادہ صاحبؒ کے ساتھ سفر حج میں شریک تھا۔ گھر پر ہمارے عزیزوں میں چپقلش تھی۔ جس سے میں پریشان تھا۔ حج کے بعد ائیر پورٹ پر جب پھر گھر کا ماحول یاد آیا تو پھر پریشانی ہوئی۔ صاحبزادہ صاحبؒ اٹھے میرے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر فرمایا مولانا ! پریشان کیوں ہوتے ہیں۔ آپ کے ان عزیزوں کی صلح ہو گئی ہے۔ واپس گھر آ کر معلوم ہوا کہ واقعی صلح ہو گئی تھی۔
چوہدری محمد امینؒ نے بتایا کہ سفر عمرہ پر پیٹی خالی کر کے مجھے دی۔ میں نے بیگ میں رکھ لی۔ مدینہ طیبہ سے احرام کے لئے جب پیٹی کو کھولا تو پندرہ صد ریال نکلے۔ امین صاحب کہتے ہیں میں نے کہا کہ پیٹی تو خالی تھی۔ یہ رقم کہاں سے آ گئی؟ مسکرا کر فرمایا کہ ہمارے تھوڑے ہیں؟ غریبوں کے ہیں۔ مکان سے باہر آتے ہی آٹھ صد ایک آدمی کو سات صد دوسرے کو دے کر فارغ ہو گئے۔ صاحبزادہ صاحبؒ کی دیگر خوبیوں کے علاوہ ان پر رب کریم کا ایک یہ خاص کرم تھا کہ وہ مستجاب الدعوات تھے۔ موج میں آ کر جو کہہ دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
سے ویسے ہی ہو جاتا تھا۔ اس پر سینکڑوں واقعات ہوں گے۔ صاحبزادہ صاحب ؒ بار بار فرمایا کرتے تھے کہ عبادت سے جنت ملتی ہے۔ خدمت سے خدا تعالیٰ ملتے ہیں۔ اپنے شیخ کی تو وہ مثالی خدمت کرتے تھے۔ حضرت اقدس ؒ کے جوتوں کو سینے سے لگایا ہوا راقم نے بارہا دیکھا۔ حرمین شریفین میں حاضری کے لئے حضرت ؒ کی معیت کو ترجیح دیتے تھے۔ بلکہ حضرت ؒ کے بغیر ان کے ہاں حاضری کا تصور نہیں تھا۔ ایک بار برطانیہ سے واپسی پر صبح کی نماز سے کچھ قبل مدینہ طیبہ حاضری ہوئی۔ رہائش گاہ پر پہنچ کر حضرت قبلہ ؒ کی طبیعت سفر کے باعث نڈھال تھی۔ آپ نے فرمایا کہ میں رہائش گاہ پر نماز پڑھوں گا۔ پھر آرام کر کے اشراق و ناشتہ کے بعد مواجہہ شریف پر حاضری ہوگی۔ محترم صاحبزادہ صاحب ؒ نے سنتے ہی فوراً فرمایا مولانا (راقم) آپ حرم نبوی ﷺ چلیں۔ میں حضرت قبلہ ؒ کے ساتھ یہاں نماز پڑھوں گا۔ چنانچہ ایسے ہوا۔ پھر حضرت ؒ کے ساتھ مواجہہ شریف پر تشریف لے گئے۔
غریب، مسکین، بیوہ، یتیم و لاوارث لوگوں کی برابر خفیہ مدد کرتے رہتے تھے۔ گاؤں کے لوگوں کا بیان ہے کہ اس طرح غریبوں کی خفیہ امداد سے وہ کئی گھرانوں کی کفالت کرتے تھے۔ محترم مولانا مفتی ظفر اقبال صاحب نے بتایا کہ ہمارے مدرس قاری صاحب کو عمرہ کا شوق تھا۔ تنگدستی تھی تو چھ ماہ کی مدرسہ سے پیشگی تنخواہ لی۔ قرضہ وغیرہ لیا عمرہ کے لئے روانہ ہوئے۔ پہلا سفر اور بالکل سیدھے سادھے درویش منش۔ خیال تھا کہ کیسے ان کا سفر ہوگا۔ ان کو رخصت کرنے کے لئے ائیر پورٹ گئے تو اتفاق سے اسی فلائٹ سے صاحبزادہ صاحب ؒ عمرہ کے لئے جا رہے تھے۔ قاری صاحب کو ان کے ساتھ کر دیا۔ ہر طرح کا خیال رکھا۔ عمرہ کرایا۔ قاری صاحب کے جاننے والے جب مل گئے ان کے سپرد کر کے مطمئن ہوئے۔ اس طرح ان کی خدمت خلق کی بے شمار مثالیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات کو بلند فرمائیں۔
محترم صاحبزادہ صاحب ؒ کو تبرکات جمع کرنے کا بہت شوق تھا۔ غلاف کعبہ کا ٹکڑا ملا تو اس کے متعلق وصیت کی کہ میرے کفن کے ساتھ دل کے حصہ پر رکھ دیا جائے۔ چنانچہ ایسے ہوا۔ مختلف قطعات خوبصورت فریم کروا کر دفتر اور گھر میں لگوائے ہوئے تھے۔ رحمت دو عالم ﷺ کی طرف منسوب موئے مبارک ان کے پاس تھا۔ جسے بہت ہی احترام دیا کرتے تھے۔ آخری دنوں میں مجھے فرمایا کہ مولانا مبارک ہو۔ مجھے ایک اور جگہ سے اس دفعہ پچیس تیس سال کی محنت سے ایک اور موئے مبارک مل گیا ہے۔ فقیر کو پہلے موئے مبارک کا بھی علم تھا۔ اب دو ہو گئے تو فقیر
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
نے عرض کیا کہ اب تو آپ صاحب نصاب ہو گئے ۔ میرے دل میں خیال تھا کہ ایک دفتر کی لائبریری میں تبرک کے طور پر مانگ لوں ۔ مگر آپ نے فوراً کہا کہ کیا مطلب صاحب نصاب کا؟ ان کی بیماری اور طبیعت کا اضمحلال اور موئے مبارک سے ان کی محبت کے باعث فقیر کا حوصلہ نہ پڑا ۔ فوراً عرض کیا صاحب نصاب کا معنی آپ کی بہت خوش نصیبی ہے ۔ پہلے ایک موئے مبارک تھا ۔ اب دو ہو گئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ مبارک فرمائیں ۔ میری نیت تو سمجھ گئے تھے مسکرا کر ٹال دیا ۔ ایک بار قبلہ حضرت اقدس ؒ نے اپنا اوور کوٹ مجھے عنایت فرمایا ۔ صاحبزادہ صاحب ؒ نے عرصہ کے بعد فرمایا کہ اس اوور کوٹ کا کیا بنا؟ میں نے کہا کہ تبرک کے طور پر محفوظ ہے ۔ وفات پر اس کے حصے کفن کے ساتھ شامل کرنے کی وصیت کروں گا ۔ فرمایا کہ حضرت اقدس کے احرام کی دو چادریں کفن کے لئے مجھ سے لے لو اور وہ مجھے دے دو ۔ تو ایسے ہی ہوا ۔
ایک دفعہ فقیر نے عرض کیا کہ گنبد خضریٰ کے اندرونی حصہ پر جدید پلستر کیا گیا ہے ۔ صدیوں مزار شریف پر موجود قدیم پلستر کو اکھیڑا گیا تو اس کا تولہ نصف تولہ، مولانا خدا بخش ؒ اور مجھے ١٤٠٠ھ کے پہلے سفر حجاز میں ایک کرم فرما نے عنایت فرمایا تھا ۔ وہ مولانا خدا بخش کے پاس ہے ۔ ابھی میں نے بھی ان سے اپنا حصہ نہیں لیا ۔ یہ غالباً سفر برطانیہ میں برسبیل تذکرہ ذکر ہوا ۔ واپس آکر ایک دن دفتر تشریف لائے، گاڑی منگوائی مجھے ساتھ لیا اور شجاع آباد روانہ ہو گئے ۔ بارش کا موسم تھا ۔ راستہ خراب ۔ گاڑی کو گارے سے ایک جگہ نکالنے کے لئے زحمت بھی اٹھائی ۔ آگے مولانا کے گھر تک راستہ خراب تھا ۔ گاڑی نہ جا سکتی تھی ۔ پیدل گئے ۔ مولانا سے وہ شیشی لی ۔ ملتان تشریف لا کر تین شیشیوں میں اسے برابر اپنے ہاتھ سے تقسیم کیا ۔ ایک مجھے عنایت فرمائی ایک مولانا خدا بخش کو دی اور ایک خود رکھ لی ۔ ہاتھ سے تقسیم کرتے ہوئے جو گرد ہاتھ کو لگی اسے چہرے پر مل لیا ۔
غالباً ١٩٩٧ء میں برطانیہ سے واپسی پر بیت اللہ شریف کی تعمیر ہو رہی تھی ۔ ایک دوست مل گئے ۔ انہوں نے کہا کہ بیت اللہ کے اندر آپ کو نفل پڑھوا دیتا ہوں ۔ فوراً دوڑے حرم شریف میں حضرت اقدس ؒ کو تلاش کیا ۔ حضرت اقدس ؒ رہائش گاہ پر تشریف لا چکے تھے ۔ فقیر حضرت ؒ کے ہمراہ تھا ۔ اب رہائش گاہ پر جاکر حضرت اقدس ؒ کو لانے کے لئے وقت نہیں تھا ۔ اتفاق سے حضرت حافظ محمد شریف ؒ ہتھم والے مل گئے ۔ ان کو ساتھ لیا ۔ اس ساتھی کے ساتھ بیت اللہ شریف کے اندر جا کر نوافل ادا کئے ۔ اندر سے بیت اللہ شریف کی دیواروں کو ہاتھوں سے مس کر باہر تشریف لائے دونوں ہاتھوں کی مٹھیوں کو بند کئے ہوئے رہائش گاہ پر تشریف
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
لائے اور بڑے بھر پور جذبات سے خوشی خوشی دونوں ہاتھ فقیر کے منہ پر پھیرنے شروع کر دیئے۔ بہت حیرت ہوئی کہ کیا کر رہے ہیں۔ پوچھا تو چشم پرنم سے واقعہ بتایا۔ اب راقم نے منہ بنالیا کہ ہمیں اس سعادت سے کیوں محروم رکھا۔ بلایا کیوں نہیں؟ اتنا بخل تو جائز نہیں۔ فرمایا کہ بھائی وقت نہ تھا۔ اگر میں رہائش گاہ پر آتا تو بیت اللہ شریف کے معمار مستری اندر چلے جاتے کام شروع ہو جاتا پھر تو کسی چڑیا کو بھی پر مارنے کی جرأت نہ ہوتی۔ کل دوبارہ کوشش کریں گے۔ حضرت اقدس ؒ کو بتایا تو آپ مسکرا دیئے۔ دوسرے دن بہت کوشش کی مگر راقم کا مقدر قبلہ صاحبزادہ صاحب ؒ کے مقدر کا کہاں مقابلہ کر سکتا ہے۔ اہتمام نہ ہو سکا۔ بادشاہوں کو بیت اللہ شریف کے اندر سرکاری سطح پر اجازت ملتی ہے۔ ایک درویش کو قدرت نے کس طرح اس سعادت سے نواز دیا۔ محترم جناب محمد اسحق خاکوانی ؒ نے اپنی گفتگو میں قبلہ صاحبزادہ کے متعلق یہ خوبصورت جملہ کتنا سچا فرمایا کہ:
محترم صاحبزادہ صاحب ؒ کو رب کریم نے محض اپنے کرم سے جن خوبیوں سے نوازا تھا۔ ان میں معاملہ فہمی، قوت فیصلہ اور انتظامی امور کو احسن طریقہ پر چلانے کی خوبیاں مثالی اور قابل رشک تھیں۔ آپ اندازہ لگائیں کہ خانقاہ شریف کے تمام متعلقین، عالمی مجلس کا تمام حلقہ، دوست احباب۔ غرض تمام جاننے والے اپنے دل کے دکھڑے عرض کر کے مشورہ، دعائیں اور ہدایات کے لئے محترم صاحبزادہ صاحب ؒ سے رجوع کرتے تھے۔ خانقاہ شریف کے حلقہ میں تو مشہور تھا کہ پہلے چھوٹے پیر صاحب کو آمادہ کر لیں۔ چنانچہ اسی فیصد امور وہ نمٹا دیتے تھے۔ محترم محمد اسحق خان خاکوانی کے بقول گھر کے دس افراد ہیں۔ بچے، بچیاں، میاں، بیوی سب اپنے جھگڑے و مشکلات صاحبزادہ صاحب ؒ سے عرض کیا کرتے تھے۔ باپ بیٹے کے متعلق، میاں اپنی اہلیہ کے متعلق اور اہلیہ اپنے میاں کے متعلق۔ قابل تصفیہ امور کے لئے صاحبزادہ صاحب ؒ سے رجوع کرتے تھے اور صاحبزادہ کا کمال یہ تھا ایسے مزاج شناس تھے کہ فیصلہ کرتے وقت سب کے مزاجوں کا خیال کر کے آپ ایسا فیصلہ فرماتے جس سے سب خوش ہو جاتے۔ جس کی غلطی ہوتی حکمت عملی، نرمی، گرمی سے اس کی اصلاح فرما دیتے تھے۔ شادی، غمی سبھی امور کے لئے رفقاء ان سے رجوع کرتے تھے۔ بر وقت صحیح فیصلہ کرنے میں آپ دیر نہیں لگاتے تھے۔
ایک بار جدہ سے مدینہ طیبہ جانے کے لئے لوکل فلائٹ کے بورڈنگ کارڈ لے کر لاؤنج
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
میں چلے گئے۔ معلوم ہوا کہ حضرت قبلہ کے سامان کا دستی بیگ جدہ ایک دوست کے گھر رہ گیا۔ محترم صاحبزادہ سعید احمد صاحب سے فرمایا کہ آپ حضرتؒ کے ساتھ چلیں میں بیگ لے کر دوسری فلائٹ سے آجاؤں گا۔ سعودیہ مقامی فلائٹ کے لئے بورڈنگ کارڈ لے کر بھی آدمی رہ جائے تو وہ انتظار نہیں کرتے۔ ائیر پورٹ سے نکلے۔ ٹیکسی لی سامان جا کر وصول کیا۔ اسی ٹیکسی سے واپس آئے تو جہاز جا چکا تھا۔ دوسری فلائٹ جو چار پانچ گھنٹہ کے بعد جارہی تھی اس کے لئے ٹکٹ مانگا تو اس میں سیٹ نہ تھی۔ بہت کوشش کی مگر کوئی صورت نظر نہ آئی۔ بہت پریشان ہوئے۔ خیال یہ کہ حضرت قبلہؒ کو مدینہ طیبہ میں پریشانی نہ ہو۔ دوسرا یہ کہ مواجہہ شریف پر میری حاضری حضرت قبلہؒ کے ہمراہ نہ ہوسکی۔ اس پریشانی میں دعا کی۔ اتنے میں سامنے کے کاؤنٹر پر ایک عرب افسر نے بلا کر پوچھا۔ صاحبزادہ نے سب پریشانی بتائی۔ اس نے فوراً اسی پہلے ٹکٹ پر اوور چارجنگ لے کر فرسٹ کلاس کی سیٹ دے دی۔ مدینہ طیبہ پہنچے مسجد نبویؐ گئے تو قبلہ حضرتؒ باہر نکل رہے تھے۔ تو بے ساختہ گلے ملتے ہی عرض کیا کہ حضرت آج معلوم ہوا کہ:
اس پر حضرت قبلہؒ نے سینہ سے لگایا۔ فرماتے تھے کہ میری ساری تھکاوٹ دور ہوگئی۔ دیکھئے کتنا بر وقت صحیح فیصلہ تھا کہ جہاز چھوڑ دیا۔ مگر حضرتؒ کی راحت کی خاطر سفری سامان لئے بغیر سفر نہیں کیا۔ اسی طرح ایک دفعہ بورڈنگ کارڈ لے کر لاونج میں جا کر بیٹھ گئے۔ محترم صاحبزادہ مولانا خلیل احمد صاحب کے پاس دستی بیگ تھا۔ جس میں تمام پاسپورٹ ٹکٹیں اور نقدی تھی۔ جب جہاز کے اندر جانے کا اعلان ہوا تو لائن میں لگ گئے۔ جہاز کے اندر سیٹوں پر جا کر معلوم ہوا کہ دستی بیگ تو لاؤنج میں رہ گیا ہے۔ فوراً سیٹ سے اٹھے۔ لوگ آ رہے ہیں۔ ان کو ادھر ادھر کرتے اس تیزی سے نکلے کہ جہاز کا عملہ پریشان ہو گیا وہ پکارتے رہے مگر آپ نے ایک نہ سنی۔ ان کا ایک آدمی پیچھے دوڑا۔ اتنے میں آپ سیڑھیوں سے اتر کر لاونج میں اپنی کرسی سے بیگ اٹھا چکے تھے۔ تب وہ سمجھے کہ کیا پرابلم تھا۔ عملہ نے واپس احترام سے لاکر آپ کو جہاز میں بٹھا دیا۔ اب اگر سوچتے رہ جاتے تو کتنا نقصان ہوتا؟ اس طرح بروقت صحیح فیصلہ کرنے میں اپنی مثال آپ تھے۔
فرماتے تھے کہ ایک بار حضرت قبلہؒ مسجد نبویؐ سے پیدل رہائش گاہ کی طرف ڈاکٹر حمید اللہ خاکوانی بہاولپوری کے ساتھ تھے۔ راستہ میں گاڑی نے سائیڈ ماری۔ حضرتؒ
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگارنگ
سڑک پر گر گئے۔ سر پر چوٹ آئی اور خون بہہ نکلا۔ ڈاکٹر صاحب پریشان اتنے میں صاحبزادہ صاحبؒ آ گئے۔ گاڑی کی۔ ہسپتال گئے۔ معائنہ ہوا۔ ایکسرے لیا۔ پٹی کرائی۔ کیس سیریس تھا۔ فوراً ہسپتال میں داخل کروایا۔ اب ڈرائیور جس نے سائیڈ ماری اسے پولیس نے پکڑ لیا۔ پولیس آفیسر نے کہا کہ آپ حضرتؒ کو لے آئیں۔ حضرت قبلہؒ کو لے جانے لگے تو پھر خون جاری ہو گیا۔ چنانچہ صاحبزادہ صاحبؒ اور ڈاکٹر صاحب تھانہ آئے۔ پولیس آفیسر بد مزاج تھا۔ اس نے کہا ان دو میں سے ایک کو بٹھا لو۔ جب تک مضروب نہ آ کر بیان دے یہ تھانہ میں رہیں۔ فوراً صاحبزادہ صاحبؒ نے فیصلہ کیا۔ ڈاکٹر صاحب کو کہا کہ آپ حضرت قبلہؒ کی خدمت کے لئے چلیں۔ میں یہاں رہتا ہوں۔ پولیس لاک اپ میں بند ہو گئے۔ اب صبح سے یہ معاملہ چل رہا تھا۔ ظہر کی اذان کا وقت ہو رہا تھا۔ بھوک نے بہت ستایا۔ فرماتے ہیں کہ میں نے دعا کی کہ یا اللہ ہم تو یہاں مشکلات حل کرانے کے لئے آتے ہیں۔ یہ تو نئی مصیبت گلے پڑ گئی۔ بھوک، گرفتاری، شیخ سے جدائی، مسجد شریف کی نماز سے محرومی، پتا نہیں کیا کیا۔ ایک ساتھ مشکلات عرض کر کے دعا کی۔ ابھی دعا ختم کی ہوگی کہ ایک صاحب دوسرے لاک اپ میں بند شخص کے لئے گرم گرم مرغ پلاؤ کا بھرا ہوا تھال لائے اور دوسرے شخص کو کہا کہ ان مولانا صاحب کو بھی ساتھ شریک کریں۔ وہ باہر کھڑا۔ یہ اندر والا مجھے بلائے۔ میں ذرا تکلف کروں تو اس نے زور سے میرا ہاتھ پکڑ کر شریک کر لیا۔ میں نے اس یقین کے ساتھ کھانا کھایا کہ اب دعا کی منظوری نقد ظاہر ہو رہی ہے۔ اللہ میاں کی شان کے خلاف ہے کہ دعا آدھی منظور ہو اور آدھی منظور نہ ہو۔ پوری منظور ہو گئی ہے۔ کھانا کھا کر فارغ ہوئے تو نہ معلوم پولیس آفیسر کے دل میں کیا آیا۔ تمام لاک اپ کے قیدیوں کو بلا کر جیل بھجوانے کی فہرست بنوانے لگا۔ میرا نام آیا تو کہا کہ مضروب بھی ان کا آدمی ہے۔ یہ معاف کر کے احسان بھی کریں اور ہم آدمی بھی ان کا اندر کر دیں۔ یہ تو زیادتی ہے۔ ان کو لے جاؤ ہسپتال میں ہی مضروب کا بیان لے کر ان کو فارغ کر دیں۔ ہسپتال گئے تو آگے حضرت قبلہؒ تھانہ جا کر بیان دینے کے لئے تیار بیٹھے تھے۔ صاحبزادہ صاحبؒ کو دیکھا تو فرمایا اچھا ہوا آپ آ گئے۔ میں تو آپ کے لئے پریشان تھا۔ صاحبزادہ صاحبؒ نے عرض کیا حضرت میں آپ کے لئے پریشان تھا۔ بیان ہوا۔ پولیس کو فارغ کیا اور پھر حرم شریف میں ایک ساتھ جا کر نماز ادا کی۔ اللہ تعالیٰ نے چند دنوں بعد حضرتؒ کو صحت سے سرفراز فرما دیا۔
حضرت قبلہؒ جہاں تشریف لے جاتے تمام تر انتظامات اور مصروفیات کی ترتیب
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگارنگ
صاحبزادہ صاحب ؒ کے سپرد ہوتی۔ آپ اس خوش اسلوبی سے اس کو مرتب کرتے کہ حضرت قبلہ ؒ کو بھی آرام رہتا۔ رفقاء اور متعلقین کو بھی بھر پور استفادہ کا موقعہ مل جاتا۔
جنرل ضیاء الحق ؒ کے زمانہ میں دوسری بار حج کرنے والے کے لئے مشکلات تھیں۔ جبکہ قبلہ حضرت صاحب ؒ اور صاحبزادہ صاحب ؒ حج پر جانے کا معمول ترک نہیں کرنا چاہتے تھے۔ تو اس کی سبیل یہ نکالی کہ پاکستان سے وزٹ ویزا پر کویت تشریف لے جاتے۔ وہاں سے حج کا ویزا لگوالیا جاتا۔ ایک بار ویزا سیکشن آفیسر نے صاحبزادہ صاحب ؒ کے ویزا کے لئے پس و پیش کیا تو حضرت قبلہ ؒ نے فرمایا کہ ان کے بغیر تو میں بھی نہیں جاسکتا۔ ویزا آفیسر نے کہا کہ کیا جنت میں ان کو ساتھ لے کر جاؤ گے؟ حضرت قبلہ ؒ نے صاحبزادہ صاحب ؒ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا ہاں! یہ جنت میں بھی میرے ساتھ ہوں گے۔ اس پر اعتماد گفتگو کا ویزا آفیسر پر اثر ہوا اور ماشاء اللہ! ماشاء اللہ! کہہ کر فوراً صاحبزادہ صاحب ؒ کا ویزا لگادیا۔
ایک دفعہ برطانیہ جانے کے لئے اسلام آباد ویزا لگوانے گئے تو آفیسر نے حضرت قبلہ ؒ سے پوچھا کہ اگر ہم ان (صاحبزادہ صاحب ؒ) کو ویزا نہ دیں تو پھر؟ حضرت قبلہ ؒ نے فرمایا پھر مجھے بھی نہیں چاہیے۔ مسکرا کر اس نے دونوں ویزے لگا دیئے۔
ایک دوست کے حوالہ سے مولانا محمد علی صدیقی نے بتایا کہ ایک بار سرہند شریف کے سفر میں بھی صاحبزادہ صاحب ؒ کے ساتھ تھا۔ خانقاہ مجددیہ کے متعلقین سے ایک بزرگ جو مالیرکوٹلہ کے تھے۔ قبلہ حضرت اقدس خواجہ خان محمد ؒ سے ملنے کے لئے سرہند شریف تشریف لائے۔ جاتے وقت سب سے مصافحہ کر چکے تو صاحبزادہ صاحب ؒ سے ہاتھ تھوڑا ملاتے ہی واپس کھینچ لیا اور حضرت قبلہ ؒ سے عرض کی کہ یہ حضرت خلیفہ صاحب ؒ (حضرت ثانی) کے صاحبزادے ہیں۔ حضرت نے فرمایا ہاں! تو انہوں نے کہا کہ حضرت خلیفہ صاحب ؒ (ہندوستان کے ساتھی حضرت ثانی کو خلیفہ صاحب ہی کہتے تھے) والی کشش ان کے ہاتھوں میں ہے۔ اس سے سمجھا کہ یہ ان کے صاحبزادے ہیں۔ پھر مصافحہ کیا دعائیں دیں اور چل دیئے۔
یہاں پر ایک اور بات یاد آئی کہ ایک دن راقم نے صاحبزادہ ؒ کی بیماری کا حال دیکھ کر عرض کیا کہ ایک دفعہ جامعہ رشیدیہ ساہیوال کے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد عبداللہ ؒ کی بیمار پرسی کے لئے مولانا محمد ادریس انصاری ؒ صادق آباد والے تشریف لائے تو انہوں نے حضرت شیخ الحدیث ؒ سے عرض کیا کہ اللہ رب العزت اپنے کسی محبوب بندہ کو اعلیٰ مراتب پر
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
پہنچانا چاہتے ہیں۔ وہ ذکر و اعمال سے اگر نہیں پہنچ پاتا تو اللہ میاں بیماری سے اس کے رفع درجات فرما دیتے ہیں۔ فوراً صاحبزادہ صاحبؒ نے فرمایا مولوی صاحب! اللہ تعالیٰ بغیر تکلیف کے بھی وہ درجہ دے سکتے ہیں۔ اس کے بغیر ہی دے دیں۔ یہ تو جملہ معترضہ ہوا۔ مجھے عرض یہ کرنا ہے کہ آخری دنوں میں صاحبزادہ صاحبؒ درجات کی بلندی کے لئے ہوا سے زیادہ تیزی سے سفر کرتے نظر آتے ہیں۔
جناب ملک فیاض صاحب کی یہ روایت ہے کہ میں نے ایک دن عرض کیا کہ مکان بدلنا ہے کرایہ پر دوسرا مکان مل نہیں رہا۔ فرمایا مل جائے گا۔ اسی شام مجھے مکان مل گیا۔ دو دن بعد تشریف لائے تو فرمایا سناؤ بھائی کیسے رہا۔ میں نے عرض کی کہ آپ کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے مسئلہ حل کر دیا۔ فرمایا نہیں ملک صاحب میں نے حضرت قبلہؒ سے آپ کے لئے دعا کی درخواست کی تھی۔ میں کیا ہوں۔ یہ سب شیخ کی جوتیوں کا صدقہ ہے۔
کچھ عرصہ سے آپ کو شوگر کی شکایت تھی۔ آپ نے خوراک کم کردی۔ پہلے بھی خوراک بہت کم تھی۔ اب مزید کم کی تو کمزوری نے آگھیرا۔ میٹھے سے پرہیز کیا۔ جگر کو میٹھا چاہیے۔ اب جگر سکڑنا شروع ہو گیا۔ اس میں سفر نہیں کرنا چاہیے۔ آپ کو قدرت نے پیدا ہی سفر کے لئے کیا تھا۔ بس طبیعت نڈھال ہو گئی۔ ڈاکٹروں نے بہت جتن کئے۔ مگر ستمبر ١٩٩٨ء سے صحت اس قدر بگڑنا شروع ہوگئی کہ آپ صاحب فراش ہوگئے۔ کچھ عرصہ گھر پر زیر علاج رہے۔ شعبان میں ملتان تشریف لائے۔ حضرت حکیم حنیف اللہ مرحوم نے آپ کو دیکھا۔ جناب ڈاکٹر پروفیسر عنایت اللہ کا علاج شروع ہوا۔ وہ صبح شام اپنی خوش بختی سمجھ کر فکرمند ہوگئے۔ ڈاکٹر خالد خاکوانی مرحوم اور ان کے صاحبزادہ ڈاکٹر محمد عابد خان نے خدمت کے لئے دن رات ایک کر دیا۔ خواہش تھی کہ قیام دفتر میں ہو۔ ایک کمرہ کے ساتھ اٹیچ باتھ بنوانا شروع کیا۔ مگر مکمل ہونے سے پہلے آپ اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ جناب میاں خان محمد صاحب سرگانہ اور آپ کے پورے خاندان نے مکان آپ کے لئے وقف کردیا۔
دفتر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، خاکوانی حضرات، سرگانہ حضرات اور دیگر متعلقین نے دیدہ دل فرش راہ کردیئے۔ حضرت قبلہ خواجہ خان محمدؒ عشرہ بھر آ کر صاحبزادہ صاحبؒ کی عیادت کے لئے ملتان قیام پذیر رہے۔ صاحبزادہ مولانا عزیز احمد، صاحبزادہ مولانا خلیل احمد، صاحبزادہ نجیب احمد بمعہ اپنے اہل وعیال کے تشریف لاتے رہے۔ صبح و شام ملک بھر سے ٹیلی فون کے ذریعہ رابطہ کر کے رفقاء دعاؤں سے نوازتے رہے۔ طبیعت بگڑتی اور سنبھلتی
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگارنگ
رہی۔ لاہور جانے کا پروگرام بن گیا۔ صاحبزادہ نجیب احمد کے ہمراہ تشریف لے گئے۔ الحاج حافظ قاسم حسن کے ہاں رہائش اختیار کی۔ زید ہسپتال میں بھی زیر علاج رہے۔ ڈاکٹر صاحبان نے بہت کوشش کی۔ اس دوران چناب نگر کورس کے شرکاء سے ملنے کے لئے تشریف لے گئے۔ رمضان شریف کے اوائل میں پھر ملتان آ گئے۔ حسب سابق سرگانہ ہاؤس میں قیام رہا۔ ڈاکٹر صاحبان اور حکماء نے سعادت سمجھ کر خدمت کی۔ مگر طبیعت سنبھل نہ سکی۔
١٥ شوال ١٤١٩ھ، بمطابق ٢ فروری ١٩٩٩ء بروز منگل صبح دس بج کر چالیس منٹ پر سرگانہ ہاؤس کچہری روڈ ملتان میں آپ نے جان، جان آفریں کے سپرد کی۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائیں۔ انتقال کے وقت حافظ محمد رفیق، ڈاکٹر عابد خان خاکوانی، طاہر صاحب موجود تھے۔ رات سے طبیعت خراب تھی۔ صبح کو کچھ ٹھیک ہوئی۔ تاریخ پوچھی، ڈائری منگوائی نمبر تلاش کر کے فون کیا۔ اس کے بعد لیٹ گئے۔ ساتھی آپ کو دباتے رہے اور آپ زیر لب پڑھتے رہے۔ ہاتھ سینہ اور دل پر پھیرتے رہے۔ اس حالت میں آپ کا وصال ہوا۔ آپ کے وصال کی خبر ملک بھر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ ملتان کے رفقاء فوراً سرگانہ ہاؤس جمع ہو گئے۔ خانیوال سے آپ کی خبر سنتے ہی آپ کے چچا زاد بھائی محمد امین صاحب مرحوم اور محمد انور ملتان روانہ ہو گئے۔ ادھر ملتان میں غسل اور کفن کی تیاری شروع ہو گئی۔ فقیر راقم نے آپ کو غسل دینے کی سعادت حاصل کی۔ مولانا محمد اسماعیل صاحب، مولانا عبدالعزیز جتوئی صاحب مرحوم، اعزاز سرگانہ اور انور صاحب نے معاونت فرمائی۔ راقم عرض گزار ہے کہ آپ کا جسم اتنا تروتازہ تھا کہ مو ت کا گمان بھی نہ ہوتا۔ سر مبارک کو پکڑ کر سیدھا کر کے صابن لگاتے جب چھوڑتے رخ از خود بیت اللہ شریف کی طرف ہو جاتا۔ ایک بار بازو کو صابن لگا رہے تھے تو پورا بازو میرے گلے میں حمائل ہو گیا۔ اس حالت کو دیکھ کر راقم خود گھبرا گیا کہ کہیں سکتہ کی کیفیت تو نہیں جسے ہم موت سمجھ رہے ہوں۔ کفن کا اکمل سرگانہ، حکیم خلیل احمد، الحاج محمد طفیل جاوید نے اہتمام کیا۔ ایمبولینس کے لئے ڈاکٹر محمد عابد خان اور ڈاکٹر خالد خاکوانی مرحوم نے اہتمام کیا۔ یوں حضرت حافظ مرحوم کی ڈیڑھ بجے تیاری مکمل ہو گئی اور قافلہ خانیوال کے لئے روانہ ہوا۔ خانیوال گرد و نواح، لاہور، فیصل آباد، ساہیوال، چیچہ وطنی، بہاولپور، ملتان تک کے ساتھی بستی سراجیہ خانیوال پہنچ گئے۔
مغرب کے بعد نماز جنازہ ہوا۔ علماء صلحاء نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی۔ جامعہ باب العلوم کہروڑ پکا کے شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید مرحوم نے امامت کرائی۔ صاحبزادہ محمد عابد صاحب مرحوم کے اکلوتے صاحبزادہ محمد رضوان عابد، اکلوتی ہمشیرہ اور بہنوئی جناب محمد یوسف
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
صاحب نے لاہور سے تشریف لانا تھا۔ ان کی آمد پر رات ٩ بجے کاروں ویگنوں کے جلوس میں ایمبولینس کے ذریعہ محترم جناب صاحبزادہ صاحبؒ کے آخری سفر کا دوسرا مرحلہ شروع ہوا۔ خانیوال، کبیروالا، جھنگ، ساہیوال، شاہ پور، خوشاب، کنڈیاں کے راستہ صبح چار بجے خانقاہ سراجیہ پہنچے۔ خانقاہ شریف میں بھی پشاور، راولپنڈی، لاہور، ملتان، بہاولپور، صادق آباد، رحیم یار خان، سرگودھا، گوجرہ، ٹوبہ، بھکر، دریا خان، گوجرانوالہ، اسلام آباد غرضیکہ ملک کے کونہ کونہ سے علماء، صلحاء کے قافلے پہنچے ہوئے تھے۔ صاحبزادہ مولانا عزیز احمد، صاحبزادہ مولانا خلیل احمد نے خانقاہ سراجیہ کے دفتر میں آپ کے جنازہ کو رکھوایا۔ سفید چادر میں ملبوس سفید داڑھی والا نورانی چہرہ محو خواب نظر آتا تھا۔ آخری دیدار کا مرحلہ شروع ہو گیا۔ صبر کے بندھن ٹوٹے۔ آنسوؤں کی برسات میں لوگوں نے جوق در جوق، قافلہ در قافلہ زیارت کی۔ صبح کی نماز شیخ المشائخ حضرت مولانا خواجہ خان محمد مدظلہ کی امامت میں رفقاء و حاضرین نے پڑھی۔ حضرت قبلہ مدظلہ چشم پرنم سے سراپا صبر و استقامت بنے ہوئے تھے۔ ٨ بجے جنازہ کا اعلان ہوا تھا۔ لوگوں کے مزید قافلے آنے شروع ہوگئے۔ پونے آٹھ بجے گھر کی مستورات کو زیارت کرانے کے لئے جنازہ کو اندرون خانہ لے جایا گیا۔ ٨ بجے حضرت مدظلہ نے جنازہ پڑھایا۔ ساتھیوں نے کندھوں پر اٹھایا، خانقاہ سراجیہ کے قبرستان میں تیار شدہ قبر کے پاس لے گئے۔ رش اتنا تھا کہ معلوم نہ ہوسکا کہ کس نے قبر میں اتارا۔ تاہم حضرت قبلہ خواجہ خان محمد مدظلہ تدفین کے پورے عمل کے دوران میں موجود رہے۔ آخری دعا آپ نے کرائی۔ یوں قبلہ محمد عابد صاحبؒ اپنے والد گرامی حضرت ثانی مولانا محمد عبداللہ صاحبؒ کے قدموں میں رحمت حق کے حصار میں چلے گئے تھے اور ساتھی واپس اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوگئے۔
ساتھی حضرت حافظ مرحوم سے کتنا پیار کرتے تھے نوجوانوں کو دھاڑیں مار مار کر ایک دوسرے کے گلے لگ لگ کر روتے دیکھا۔ اس کی نقشہ کشی الفاظ میں ممکن نہیں۔ خاکوانی حضرات سے دو نوجوان عثمان خان، عدنان خان جیسے جگر گردہ کے لوگوں کا پتہ پانی دیکھا۔ مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا محمد عبداللہ (بھکر)، مولانا نور الحق نور، مولانا قاری فیاض احمد، حاجی مقبول و حاجی یعقوب، عزیز الرحمن، یوسف، امین، رضوان و آصف غرض جسے دیکھا دگرگوں حالت میں دیکھا۔ کس کو کس حالت میں دیکھا اس کی تعبیر ممکن نہیں۔ اس لئے اپنی تو اس وقت بھی ان الفاظ پر پہنچ کر حالت دگرگوں ہورہی ہے۔ اس پر بس کرتا ہوں۔ صاحبزادہ صاحبؒ کے بھانجے نے یہ شعر لکھ کر دیئے۔ آپ بھی پڑھ لیں۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
ہمارے بعد کہاں یہ وفا کے ہنگامے کوئی کہاں سے ہمارا جواب لائے گا
کانٹوں سے گھرا ہوا ہے چاروں طرف سے پھول پھر بھی کھلا پڑتا ہے کیا خوش مزاج ہے
مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم تو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کئے
وہ لوگ تو نے ایک ہی شوخی میں کھو دیئے ڈھونڈا تھا آسمان نے جنہیں خاک چھان کر
(٤٠)
عبدالحئی الحسینی ؒ (گھوٹکی) ، مولانا
(پیدائش: ١٩٣٢ء ...... وفات: ١٩٩٣ء)
مولانا عبدالحئی مرحوم گھوٹکی صوبہ سندھ کے رہنے والے تھے۔ آپ کے والد حافظ محمد یونس ؒ ، حضرت امروٹی ؒ کے دست بیعت تھے۔ انہوں نے اپنے بیٹے کا نام حضرت مولانا عبدالحئی لکھنوی ؒ کے نام پر رکھا۔ تاکہ ان کا بیٹا علم و عمل ، فضل و کمالات میں مولانا لکھنوی ؒ جیسا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے حافظ محمد یونس ؒ کی آرزو قبول فرمائی۔ ان کے بیٹے حضرت مولانا عبدالحئی الحسینی ؒ کو حضرت ہالیجی ، مولانا حماد اللہ ؒ نے اسلامی تعلیم کا آغاز کرایا اور بسم اللہ پڑھائی اور دعائیہ کلمات سے نوازا۔
حضرت مولانا عبدالحئی ؒ نے درس نظامی اور قرآن و حدیث کی کتب حضرت مولانا عبدالرزاق ؒ بھچری شریف سے پڑھیں۔ مولانا عبدالحئی مرحوم کے شریک درس مشہور خطیب مولانا عبدالشکور دین پوری ؒ تھے۔ یہ ١٩٥٣ء کا سال تھا۔ انہی دنوں تحریک ختم نبوت چل رہی تھی۔ حضرت مولانا عبدالحئی صاحب ؒ فرمایا کرتے تھے کہ ایک شب میں نے رسول اللہ ﷺ کو خواب میں دیکھا کہ آپ ﷺ مدرسہ قاسم العلوم گھوٹکی تشریف فرما ہیں۔ آپ ﷺ اساتذہ اور طلباء سے فرما رہے ہیں کہ مرزائی میری نبوت پر حملہ آور ہیں اور تم مدرسہ میں پڑھنے پڑھانے میں مصروف ہو۔ مولانا فرمایا کرتے تھے کہ صبح ہوئی ہم اساتذہ اور طلباء سکھر پہنچے۔ تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء کے جلوسوں میں شرکت کی۔ جلوسوں میں شریک علماء دھڑا دھڑ گرفتار کئے جا رہے تھے۔ مجھے بھی گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا۔
خاتم الانبیاء ﷺ کی غزوہ احد والی سنت کی اتباع میں تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء میں حق
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
نے آپ کو بھر پور کام کرنے کا جذبہ ودیعت فرمایا تھا۔ جس کام کے لئے ڈیوٹی لگ جاتی اسے پایہ تکمیل تک پہنچائے بغیر دم نہ لیتے تھے۔ عرصہ تک عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن رہے۔ گزشتہ کچھ عرصہ سے بیمار تھے۔ لیکن دل و دماغ بالکل جوان تھا۔ آپ کی تمام تر اولاد بر سر روزگار ہے۔ جناب قاری خالد گنگوہی صاحب نے مسجد و مدرسہ اور مجلس کے کام کو سنبھالا ہوا ہے۔ آپ کی نماز جنازہ مولانا صاحبزادہ خلیل احمد نے پڑھائی۔ عالمی مجلس کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے اگلے روز جناب شعیب گنگوہی کی دستار بندی کرائی۔ حق تعالیٰ مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائیں۔ آمین!
(٣٢)
سراج الدینؒ (ڈیرہ اسماعیل خان)، مولانا
(ولادت: ١٩٠٣ء ...... وفات: ٢٣؍ جولائی ١٩٩٩ء)
مولانا سراج الدین صاحب دارالعلوم نعمانیہ ڈیرہ اسماعیل خان کے بانی اور شیخ الحدیث تھے۔ دارالعلوم دیوبند کے فاضل اور حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی کے شاگرد تھے۔ آپ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی شوریٰ کے مدت العمر ممبر رہے۔ سراپا خوبیوں کا مرقع تھے۔ مولانا ڈاکٹر احمد علی سراج اور قاری خلیل احمد صاحب کے والد گرامی تھے۔ آپ نے کم و بیش ساٹھ سال حدیث شریف پڑھائی۔
(٣٣)
سعید احمدؒ (جھگی والا، علی پور)، مولانا
(وفات: ٣١؍ مارچ ١٩٨٥ء)
تحصیل علی پور کے قصبہ جھگی والا میں مولانا سعید احمد صاحب تھے۔ دارالعلوم دیوبند کے فاضل، مدرس، خطیب اور مجاہد فی سبیل اللہ تھے۔ مجلس احرار اسلام میں نمایاں خدمات سرانجام دیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن بھی رہے۔ حق تعالیٰ مغفرت فرمائیں۔ بڑے بہادر، زیرک اور اللہ والے تھے۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
گوئی پر اپنے دانت شہید اور زخمی کرائے تھے۔ موصوف اس تذکرے پر بہت آبدیدہ ہو جاتے تھے اور فرماتے تھے کہ مجھے پورا یقین ہے کہ تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ میں اس تشدد کے برداشت کرنے اور دانت زخمی اور شہید کرانے کی وجہ سے بخش دیا جاؤں گا۔
ہندوستان کے تقسیم ہو جانے کے باوجود ١٩٥٤ء میں دارالعلوم دیوبند دیکھنے اور حضرت مولانا حسین احمد مدنی ؒ کی زیارت کے شوق اور آپ سے دورہ حدیث شریف پڑھنے کے جذبہ کو لئے دارالعلوم دیوبند پہنچے۔ امتحان داخلہ میں اوّل پوزیشن حاصل کی۔ ایک سال دارالعلوم دیوبند میں رہ کر حضرت مدنی ؒ سے دورۂ حدیث شریف خاص طور پر بخاری شریف پڑھی۔ حضرت مدنی ؒ طلباء سے ہدیہ قبول نہ فرماتے تھے۔ نیز طلباء کرام کو سر پر پگڑی باندھنے کی اجازت نہ تھی۔ طلباء سر پر ٹوپی رکھا کرتے تھے۔ حضرت مولانا عبدالحئی کا تعلق ہاجی شریف دین پور شریف سے تھا۔ اس بناء پر حضرت مدنی ؒ نے ان سے ہدیہ قبول فرمالیا۔ جو چائے کے دو ڈبوں کی صورت میں تھا اور انہیں حسب عادت سر پر پگڑی باندھتے رہنے کی اجازت مرحمت فرمادی گئی۔
حضرت مولانا عبدالحئی صاحب ؒ نے کتب احادیث تقسیم سے قبل حضرت مولانا عبدالرزاق چہڑ شریف ؒ سے پڑھی تھیں۔ درس نظامی کی تکمیل کے بعد پانچ چھ سال تدریس کے فرائض سرانجام دیتے رہے تھے۔ ١٩٥٥ء میں جب دارالعلوم دیوبند سے واپسی ہوئی تو اپنے آبائی شہر قاسم العلوم گھوٹکی میں آپ نے دوبارہ درس و تدریس کا آغاز کیا۔ ١٩٧٠ء کے دورانیہ میں مدرسہ دارالہدیٰ ٹھیڑی بحیثیت شیخ الحدیث تشریف لے گئے اور اس کے بعد علم دین کا یہ چشمہ دارالارشاد پیر جھنڈو منتقل ہوگیا۔ پیر جھنڈو میں کئی سال حضرت موصوف مدرسہ دارالارشاد میں رہے اور پھر آخر عمر میں دارالعلوم اشرفیہ سکھر تشریف لے آئے اور زندگی کے آخری لمحات تک یہاں علوم اسلامیہ اور کتب حدیث پڑھاتے رہے۔ آپ کا بخاری شریف کا درس بہت مشہور تھا۔ دور دراز کے طلباء اور کراچی سے بہت سے غیر ملکی طلباء برما، بنگلہ دیش، ایران وغیرہ سے آپ کے حلقہ درس میں شامل ہوتے تھے۔
١٩٥٤ء میں دارالعلوم دیوبند سے واپسی کے بعد آپ نے تدریس کے ساتھ ساتھ وعظ و تبلیغ کا سلسلہ بھی شروع کیا۔ آپ کا واعظانہ انداز بہت دلکش ہوتا تھا۔ آپ عبرت آموز واقعات سنا کر لوگوں میں فکر آخرت پیدا کرتے۔ موصوف اپنے وعظ میں اکثر و بیشتر خود بھی آنسو بہاتے اور لوگوں کو بھی خوب رلاتے تھے۔
انگریز دشمنی آپ کے دل و دماغ میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ اسی طرح انگریز کے
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
خودکاشتہ پودا مرزا غلام احمد قادیانی کذاب لعین دجال مرتد کے شر سے لوگوں کو عجیب انداز سے آگاہ کرتے۔ لوگوں کو نفرت دلانے کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی کی بعض تحریریں بھی سناتے اور دکھاتے۔ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، حضرت لاہوریؒ اور حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ چونکہ یہ حضرات قادیانی فتنہ کے خلاف شب و روز جدوجہد میں مصروف رہتے تھے۔ آپ کو ان اکابر سے گہری محبت و عقیدت و قلبی نسبت قائم ہو گئی تھی۔ ١٩٥٢ء اور ١٩٥٣ء تک قادیانیوں نے پاکستان میں قادیانیت پھیلانے کا عزم کر رکھا تھا۔ صوبہ سندھ میں اس زمانہ کے مولانا عبدالحی الحسینیؒ واحد واعظ، مقرر اور مبلغ تھے جو پورے صوبہ سندھ میں مرزائیت کا بہت جذباتی انداز سے تعاقب کرنے والے تھے۔ اس کے بعد آپ کے شاگرد اور دیگر علماء ان کی کوشش اور کاوش میں میدان ختم نبوت میں عملاً شریک ہوئے۔ حضرت امیر شریعتؒ اور حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کی خواہش پر موصوف نے مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی شوریٰ کی رکنیت قبول فرمائی اور طویل عرصہ تک اپنی بہترین صلاحیتوں سے مجلس کی راہنمائی کرتے رہے۔
آخر عمر میں آپ پر تنہائی، یکسوئی، گوشہ نشینی کا بہت غلبہ ہو گیا تھا۔ موصوف کو اماکن مبارکہ، مکہ مکرمہ، حرم مکہ، بیت اللہ شریف، حرم مدینہ، مدینہ منورہ اور حضورﷺ کے روضہ اقدس سے حضوری کی کیفیت حاصل ہو گئی تھی اور ان مقامات پر حاضری کا ذوق و شوق لئے دن رات گزارتے تھے۔ موصوف کو زندگی میں ایک بار حج بیت اللہ کی سعادت نصیب ہوئی۔ دوبارہ عمرہ کے لئے تشریف لے گئے اور ایک بار مسجد نبوی میں اعتکاف کیا۔ موصوف اپنی روحانی کیفیات ظاہر نہ ہونے دیتے تھے۔ تاہم بعض اہل دل حضرات سے اور خود مولانا موصوف کی نشست و برخاست، احوال و کیفیات سے بہت سی چیزیں عیاں ہوتی تھیں۔ حضورﷺ کی ذات اقدس سے آپ کو بہت قلبی گرویدگی اور وارفتگی کی کیفیت پیدا ہو گئی تھی۔ اکثر یہ فرمایا کرتے تھے کہ:
”اللہ رب العزت مجھے مسنون عمر عطاء فرمائیں۔ ہمارے بہت سے بزرگ یہ دعا کیا کرتے تھے۔ خلیفہ اوّل صدیق اکبرؓ بھی یہی دعا کیا کرتے تھے کہ مسنون عمر، مسنون دن، مسنون وقت میں موت نصیب ہو۔ یعنی جس عمر میں، جس مہینہ میں، جس دن اور جس وقت حضورﷺ نے اس دنیا کو خیر باد کہا اس عمر میں انہیں بھی موت آئے۔“
بہ عمر ٦٣ سال وفات پا کر اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوئے۔ اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائیں۔ انہیں اپنا قرب عطاء فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو صلحاء امت کی معیت نصیب فرمائیں۔ آمین!
(از: مولانا خالد الحسینی)
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
(٤١)
عبدالحکیمؒ (راولپنڈی)، حضرت مولانا
(وفات: ١١؍ فروری ١٩٩١ء)
نامور عالم دین، جمعیۃ علماء اسلام کے ممتاز رہنما، قومی اسمبلی کے ممبر، جمعیۃ علماء اسلام سے قبل عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن بھی رہے، تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء میں قومی اسمبلی کے ممبر تھے۔ حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ نے جو محضر نامہ اسمبلی میں جمع کرایا تھا اسے مولانا عبدالحکیم مرحوم نے اسمبلی میں پڑھا تھا۔ خانقاہ سراجیہ سے بیعت کا تعلق تھا۔ جمعیۃ علماء اسلام میں جب ہزاروی گروپ قائم ہوا تو یہ اس کے ساتھ تھے۔ سیاستدان، مبلغ، جامعہ فرقانیہ راولپنڈی کے بانی تھے۔
(٤٢)
عبدالرحمن آزادؒ (گوجرانوالہ)، مولانا حکیم
(وفات: ١٨؍ مارچ ٢٠٠٤ء)
حضرت مولانا حکیم عبدالرحمن آزادؒ کا راجپوت گھرانہ سے تعلق تھا۔ میاں عبدالعزیزؒ آپ کے والد تھے۔ ١٩١٢ء میں پٹی ضلع لاہور میں پیدا ہوئے۔ (آج کل یہ موضع پٹی امرتسر مشرقی پنجاب بھارت میں شامل ہے۔ پٹی وہی گاؤں ہے جس کا باسی مرزا سلطان بیگ مرزا غلام احمد قادیانی کی آسمانی منکوحہ محمدی بیگم کو بیاہ کر اس گاؤں میں لایا تھا) حضرت مولانا حکیم عبدالرحمن آزادؒ نے اسی گاؤں میں مڈل تک تعلیم حاصل کی۔ درس نظامی کے ساتھ ساتھ طبیہ کالج دہلی سے ١٩٣٨ء میں حکمت کی سند حاصل کی۔ حضرت مولانا کے حدیث کے اساتذہ میں حضرت مولانا عبدالرحمن صاحبؒ، حضرت مولانا نیک محمد صاحبؒ خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔ حضرت مولانا حکیم عبدالرحمن آزادؒ دو سال تک کانگریس کے اپنے علاقہ میں سیکرٹری جنرل رہے۔ اس کے بعد مجلس احرار میں شمولیت اختیار کی۔ ١٩٤٦ء میں مجلس احرار کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لیا۔ تقسیم کے وقت امن کمیٹی کے سیکرٹری جنرل رہے۔ تقسیم کے بعد
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
گوجرانوالہ میں قیام کیا اور مجلس احرار کے پلیٹ فارم سے خدمات سرانجام دیں۔ ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت میں آپ نے مثالی خدمات سرانجام دیں۔ ٢٧ فروری سے ١٢؍مارچ ١٩٥٣ء تک گوجرانوالہ میں تحریک کی قیادت کی۔ ١٢؍مارچ ١٩٥٣ء کو رات آٹھ بجے گرفتار کر لئے گئے۔ دو ماہ تک شاہی قلعہ لاہور میں نظر بند اور زیر تفتیش رہے۔ اس کے بعد سنٹرل جیل لاہور میں امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، جناب ماسٹر تاج الدین انصاریؒ، حضرت مولانا لال حسین اخترؒ، حضرت مولانا عبدالستار خان نیازیؒ، حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ، حضرت مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے ساتھ جیل کاٹی۔
حضرت مولانا حکیم عبدالرحمن آزادؒ اہل حدیث مکتب فکر سے تعلق رکھتے تھے۔ لیکن اتحاد بین المسلمین کے لئے عمر بھر کوشاں رہے۔ ١٩٧٤ء سے امن کمیٹی گوجرانوالہ کے صدر تھے۔ ١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت اور ١٩٧٧ء کی تحریک نظام مصطفیٰؐ میں گوجرانوالہ میں آپ نے مثالی خدمات سرانجام دیں۔ مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ کے تازیست امیر رہے۔ تیس سال تک عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس شوریٰ کے ممبر رہے۔ مرکزی جمعیۃ اہل حدیث کے ناظم سیاسیات بھی رہے ہفت روزہ اہل حدیث اور ہفت روزہ الاسلام لاہور کے اعزازی ایڈیٹر بھی رہے۔ طبی حلقوں میں آپ کی خدمات بہت اہم تھیں۔ جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم، جناب رفیق تارڑ سے ان کے مراسم تھے۔ حکماء کمیٹی ضلع گوجرانوالہ کے صدر بھی رہے۔ خوب مرنجان مرنج انسان تھے۔ ان کی زندگی جہد مسلسل سے عبارت تھی۔ عمر بھر اسلام کی سربلندی، استحکام پاکستان، عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے کوشاں رہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بانی رہنماؤں سے آپ کے گہرے برادرانہ تعلقات تھے۔ پون صدی پر مشتمل آپ کی شاندار ملی خدمات تاریخ کا درخشندہ باب ہیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مساعی کو کامیابی سے ہمکنار کرانے میں آپ کا بہت بڑا حصہ ہے۔
حضرت مولانا حکیم عبدالرحمن آزادؒ ہر دلعزیز رہنما تھے۔ تمام مکاتب فکر میں آپ کا دل و جان سے احترام کیا جاتا تھا۔ مجلس احرار اسلام کی ایک تحریک میں آپ کو ڈکٹیٹر مقرر کیا گیا۔ آپ نے اس اعزاز کو اپنے نام کا جزو بنا لیا اور وہ دینی حلقوں میں ”مولانا حکیم عبدالرحمن آزاد ڈکٹیٹرؒ“ کے نام سے جانے پہچانے جاتے تھے۔ حق تعالیٰ نے انہیں خوبیوں کا مرقع بنایا تھا۔ جس بات کو حق سمجھا پوری عمر اس کی تبلیغ میں گزار دی۔ رد قادیانیت پر آپ کو عبور حاصل تھا۔ اچھے سلجھے اور منجھے ہوئے مقرر تھے۔ آپ کے خطاب کو دینی حلقوں میں بڑی توجہ اور وقعت سے سنا
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
جاتا تھا۔ گوجرانوالہ کی سطح پر تمام مکاتب فکر کے رہنماؤں سے ان کے محبت بھرے تعلقات تھے۔ شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری ؒ سے آپ کا بیعت و ارادت کا تعلق رہا۔
مسلکی اختلاف کو وہ اعتدال کے ترازو سے ادھر ادھر نہ ہونے دیتے تھے۔ ان کا مشہور زمانہ ایک دلچسپ واقعہ ہے کہ ایک حنفی نے اپنی اہلیہ کو تین طلاقیں دے دیں۔ یار لوگوں نے راستہ دکھایا کہ اہل حدیث ہو جاؤ تو ایک طلاق شمار ہوگی۔ وہ حضرت مولانا حکیم عبدالرحمن آزاد ؒ کے پاس گئے اور اپنے اہل حدیث ہونے کا مژدہ سنایا اور کہا کہ میں نے بیوی کو تین طلاقیں دی ہیں۔ اس کے ایک ہونے کا فتویٰ دے دیجئے۔ آپ نے فرمایا کہ تم نے حنفی ہونے کے زمانہ میں تین طلاقیں دی ہیں۔ وہ تو تین ہی شمار ہوں گی اور بیوی تم پر حرام ہے۔ اب اہل حدیث بننے کے بعد جو اہل حدیث بیوی کرو گے خدا نہ کرے اگر اسے بھی تین طلاقیں دے دو تو پھر میرے پاس آنا اسے ایک شمار کر لیں گے۔ یوں اس کے حنفی سے اہل حدیث ہونے کے خیالات کا گھروندہ سیکنڈوں میں آپ نے مسمار کر دیا۔
شیعہ سنی معاملات کو مقامی سطح پر حد اعتدال رکھنے میں زندگی بھر ساعی رہے۔ انہیں انگریز اور انگریز کے خودکاشتہ پودا قادیانیت سے شدید نفرت تھی۔ ہر دو سے انہوں نے کبھی مفاہمت نہیں کی۔ ان کی یادوں کو مدتوں یاد رکھا جائے گا۔ اس افتراق و تشتت کے زمانہ میں ان کا وجود انعام الٰہی تھا۔ آپ کا جنازہ مثالی جنازہ تھا۔ تمام مکاتب فکر کی بھرپور نمائندگی تھی۔ ان کے انتقال سے تاریخ کا سنہری باب ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا۔ مرحوم کے دو صاحبزادے ہیں جناب ثاقب محمود اور طارق محمود۔ اللہ تعالیٰ ان کو صحیح معنوں میں اپنے والد کا جانشین بنائے ۔ آمین!
(٤٣)
عبدالرحمن اشرفی ؒ (لاہور)، مولانا
(پیدائش: ١٩٣٣ء ...... وفات: ٢٢؍جنوری ٢٠١١ء)
مولانا عبدالرحمن اشرفی ؒ، حضرت مولانا محمد حسن امرتسری ؒ کے صاحبزادہ تھے۔ پاکستان بننے کے بعد امرتسر سے حضرت مفتی صاحب ؒ لاہور تشریف لائے۔ پہلے نیلا گنبد پھر فیروز پور روڈ لاہور میں جامعہ اشرفیہ قائم کیا۔ جامعہ اشرفیہ کے ارکان اربعہ مولانا مفتی محمد حسن ؒ، مولانا محمد ادریس کاندھلوی ؒ، مولانا رسول خان ؒ اور مولانا مفتی جمیل احمد تھانوی ؒ مانے جاتے ہیں۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
مولانا عبدالرحمن ؒ نے ان حضرات سے وافر حصہ پایا۔ آپ کی تعلیم و تربیت تدریس وخطابت سب انہی حضرات کے شفقتوں کے زیر سایہ پروان چڑھی۔ ایک وقت میں مولانا عبدالرحمن اشرفی ؒ جامعہ اشرفیہ کے افق کا درخشندہ ستارہ شمار ہوتے تھے۔ آپ کے والد گرامی حضرت مفتی محمد حسن ؒ ، حضرت تھانوی ؒ کے خلیفہ مجاز تھے۔ مولانا عبدالرحمن ؒ اپنے والد گرامی سے مجاز تھے۔ مولانا عبدالرحمن اشرفی ؒ بہت ہی کھلے دل و دماغ کی سدا بہار شخصیت تھے۔ ہر بات کا عمدہ حل تلاش کرنے میں یدطولیٰ تھا۔ مولانا مفتی جمیل احمد تھانوی ؒ آپ کو شیخ التاویلات فرمایا کرتے تھے۔
مولانا عبدالرحمن صاحب ؒ بیک وقت مدرس اور خطیب تھے۔ بات دل سے نکالنا اور دل میں اتارنا اس کے ماہر مانے جاتے تھے۔ آپ نے صحت کے زمانہ میں ہمیشہ ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ و چناب نگر کی حاضری کو یقینی بنایا۔ مولانا محمد مالک کاندھلوی ؒ ، مولانا عبدالقادر آزاد ؒ ، مولانا عبدالرحمن اشرفی ؒ اکثر اکٹھے تشریف لاتے۔ جس اجلاس میں تشریف لاتے وہ بام عروج پر چلا جاتا۔ مولانا عبدالرحمن اشرفی ؒ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن بھی رہے۔
(٤٤)
عبداللطیف اختر شجاع آبادی ؒ ، مولانا قاضی
(وفات: ٢٥/جنوری ٢٠٠٤ء)
حضرت مولانا قاضی عبداللطیف صاحب ؒ شاہی مسجد شجاع آباد کے خطیب حضرت مولانا قاضی غلام یاسین صاحب ؒ کے صاحبزادے تھے۔ آپ نے دینی تعلیم حضرت مولانا واحد بخش ؒ کوٹ مٹھن سے حاصل کی۔ جبکہ دورہ حدیث شریف مخزن العلوم عیدگاہ خانپور سے کیا۔ وہ شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی ؒ کے ممتاز تلامذہ میں سے تھے۔
قاضی عبداللطیف صاحب ؒ نے عملی زندگی کا آغاز عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم سے کیا۔ آپ نے رد قادیانیت پر مناظرانہ تربیت استاذ المناظرین، فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیات ؒ سے حاصل کی۔ اس دور میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ اور مرکزی ناظم اعلیٰ مجاہد ملت حضرت
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
مولانا محمد علی جالندھریؒ اور مجلس کے روح رواں اور دل وجان، خطیب پاکستان حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ تھے۔ قاضی اختر صاحبؒ کو یہ شرف حاصل ہے کہ انہوں نے مجلس تحفظ ختم نبوت کے تین امراء کے دور امارت میں کام کیا۔ امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ، حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ، حضرت مولانا محمد حیاتؒ، حضرت مولانا لال حسین اخترؒ، حضرت مولانا عبدالرحمن میانویؒ، حضرت مولانا تاج محمودؒ، حضرت مولانا محمد شریف بہاولپوریؒ، حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ کی تربیت اور حضرت مولانا محمد لقمان علی پوریؒ، حضرت مولانا غلام مصطفیٰ بہاولپوریؒ، حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ کی رفاقت نے قاضی عبداللطیف صاحبؒ کو سلجھا ہوا اچھا خطیب اور ہر دلعزیز مقرر بنا دیا تھا۔
قاضی عبداللطیف صاحبؒ کے مجلس احرار اسلام کے رہنما حضرت مولانا سید عطاء المنعم شاہ بخاریؒ سے نیاز مندانہ اور برادرانہ تعلقات تھے۔ حضرت مولانا قاضی عبداللطیف صاحبؒ نے دفتر ختم نبوت ملتان میں تربیت حاصل کرنے کے بعد گوجرانوالہ اور چیچہ وطنی میں بطور مبلغ خدمات سرانجام دیں۔ قاضی صاحبؒ مرکزی مبلغ کے طور پر بھی مجلس میں کام کرتے رہے۔ ١٩٥٣ء کی مشہور زمانہ تحریک ختم نبوت میں آپ گوجرانوالہ میں مجلس کے مبلغ تھے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر ملتان سے ”تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء“ کتاب شائع ہوئی۔ اس موقع پر قاضی عبداللطیف صاحبؒ سے ایک انٹرویو لے کر کتاب کا حصہ بنایا تھا۔ وہ ملاحظہ ہو۔
حضرت مولانا قاضی عبداللطیف شجاع آبادیؒ فرماتے ہیں کہ: ”تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء کے زمانہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ کے طور پر میں گوجرانوالہ میں تعینات تھا۔ تحریک کے شباب کو قائم رکھنے کے لئے ضلع بھر کا تبلیغی دورہ کیا۔ پورے ضلع میں تحریک مثالی طور پر کامیاب طریقے سے چل نکلی۔ اب ہمارے ذمہ پروگرام لگا کہ آپ نے شیخوپورہ، فیصل آباد اور جھنگ کا دورہ کرنا ہے۔ چنانچہ ایک ٹرک پر کارکنوں کی کھیپ لے کر میں ان اضلاع کے سفر پر چل نکلا۔ شیخوپورہ اور فیصل آباد کا کامیاب دورہ کیا۔ سپیکر ٹرک پر نصب تھا۔ جگہ جگہ خطاب ہوئے۔ حکومت کو مخبری ہوگئی۔ ہم فیصل آباد سے جھنگ کے لئے روانہ ہوئے۔ جھنگ سے پہلے فیصل آباد روڈ پر ریلوے پھاٹک ہے۔ ہمارے ٹرک کے قافلہ کے پہنچنے سے قبل ریلوے پھاٹک بند کر دیا گیا۔ پولیس کی بھاری نفری موجود تھی۔ جونہی ٹرک پھاٹک پر پہنچا ہمیں ٹرک وسپیکر سمیت گرفتار
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
کرلیا گیا۔ مختلف دفعات عائد کی گئیں جس میں ناجائز اسلحہ، ربوہ (موجودہ چناب نگر) پر حملہ کرنے اور مرزائیوں پر حملہ آور ہونے کا ارادہ وغیرہ کی غلط سلط جو دفعات ممکن تھیں لگادی گئیں۔ جھنگ جیل میں مولانا محمد ذاکر ؒ جامعہ محمدی (جو بعد میں ایم این اے بنے) مولانا محمد حسین چنیوٹی، مولانا منظور احمد چنیوٹی ؒ وغیرہ علماء کی ٹیم موجود تھی۔ سرسری سماعت کے بعد چھ چھ ماہ قید بامشقت کی سزادی گئی۔ جو پوری کر کے رہا ہوئے۔ جسٹس منیر نے اپنی رپورٹ میں اس ٹرک کا گھناؤنے انداز میں ذکر کیا ہے۔ حالانکہ وہ ایک تبلیغی سفر تھا۔
(تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء ص ٨٧٤)
حضرت مولانا قاضی عبداللطیف ؒ نے شجاع آباد سے بلدیاتی الیکشن بھی لڑا۔ وہ حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی ؒ کے چچازاد بھائی اور داماد تھے۔ حضرت قاضی احسان احمد ؒ نے عمر بھر ان کی تربیت کی۔ ملک بھر میں ختم نبوت کے پلیٹ فارم سے ان کا تعارف کرایا۔ حتیٰ کہ قاضی عبداللطیف اختر ؒ ، حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی ؒ کی وفات کے بعد ان کے جانشین قرار پائے۔ شاہی مسجد، مدرسہ حدیقۃ الاحسان، عید گاہ شاہی مسجد کے متولی مقرر ہوئے۔ شاہی مسجد کی خطابت کو قاضی عبداللطیف صاحب ؒ نے نبھایا اور عمر بھر خوب نبھایا۔
حضرت مولانا قاضی عبداللطیف اختر ؒ خوش خوراک اور خوش لباس انسان تھے۔ خوش گفتاری بھی ان کا حصہ تھی۔ ناقدانہ طبیعت تھی۔ کسی پر چوٹ کرتے تو اسے آدھ موا کر دیتے تھے۔ حق تعالیٰ نے ان کو خوبیوں سے نوازا تھا۔ ملنسار اچھے کردار کے دوست تھے۔ مسجد و مدرسہ کی خطابت و اہتمام کے باعث مجلس تحفظ ختم نبوت سے ملازمت کو ترک کرنا پڑا۔ لیکن تعلق کو کبھی ترک نہ کیا۔ مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھری ؒ اور حضرت مولانا لال حسین اختر ؒ کے زمانہ امارت میں مجلس کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن رہے۔ چناب نگر کی سالانہ ختم نبوت کانفرنس میں شمولیت کرتے۔ ملک بھر کے رفقاء سے مل کر شگفتہ طبیعت ہو جاتے۔ ان کا کم و بیش چار دن چناب نگر میں قیام رہتا۔ خوب ہنس مکھ انسان تھے۔ خاص انداز سے سر پر سفید رومال اوڑھنے میں وہ بڑے حضرت قاضی صاحب ؒ کی طرز ادا کو نبھاتے اور خوب بھلے لگتے تھے۔ چند سال قبل ان کی جامع مسجد شجاع آباد میں ختم نبوت کی کانفرنس تھی۔ اگلے دن فقیر راقم کا بودلہ کالونی میں درس تھا۔ علالت کے باوجود قاضی صاحب ؒ درس میں تشریف لائے۔ شریک محفل ہوئے۔ دعاؤں سے نوازا۔ گفتگو پر خوشی کا اظہار کیا۔ حضرت مولانا عبدالغفور حقانی کے ہاں ناشتہ تھا۔ اس میں شریک ہوئے۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
حضرت مولانا قاضی عبداللطیف صاحبؒ کچھ عرصہ سے چوٹ لگنے کے باعث صاحب فراش تھے۔ ایک بار ملنے کے لئے حاضری ہوئی۔ باہر ڈیرہ پر چارپائی لگائے۔ میز کرسی سجائے، عصا سرہانے رکھا ہوا۔ اجلا خوبصورت لباس زیب تن کئے ہوئے براجمان تھے۔ دیر تک ملاقات جاری رہی۔ ادھر ادھر کی باتیں شروع ہوئیں تو یادوں کے گلستان میں بہار آگئی کا مصداق ہو گئے۔ جب کبھی ملتان آنا ہوتا تو دفتر ضرور تشریف لاتے۔ وہ ہمارے مخدوم اور قابل احترام رہنما تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو بقعۂ نور بنائے۔ ہمارے حضرت قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ کے گلشن کی مرحوم نے عمر بھر آبیاری کی۔ اس اعتبار سے وہ ہمارے محسن تھے۔
وفات کے روز صبح بیدار ہوئے۔ وضو کیا۔ گھر والوں کو چائے بنانے کا فرمایا۔ خود نماز پڑھنے میں مصروف ہو گئے۔ کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے۔ سجدہ کرنے کے لئے جھکے تو عالم آخرت کو سدھار گئے۔ باوضو نماز کی حالت سجدہ میں وصال۔ اللہ اکبر! اللہ تعالیٰ جسے نصیب فرمائیں۔
(٤٥)
عبداللہ شہیدؒ (اسلام آباد) ، مولانا محمد
(شہادت: ١٨؍ اکتوبر ١٩٩٨ء)
شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کے شاگرد رشید، متدین عالم دین، بزرگ رہنما، درویش صفت، فرشتہ سیرت، ہر دلعزیز، غریبوں کے غمخوار، علماء کے قدردان، بہادری و جرأت کا نشان، قبائلی ہونے کے باوجود قبائلی خو بو سے کوسوں دور، دوستوں کے دوست، لال مسجد اسلام آباد اور جامعہ فریدیہ اسلام آباد کے بانی، ایوب خان نے شہر اسلام آباد بنایا۔ مولانا عبداللہ نے اس پر اسلام کی روایات کا پرتو ڈال دیا۔ بڑھے اور بڑھتے ہی گئے۔ حق تعالیٰ نے آپ سے خوب کام لیا۔ تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء میں تحریک کے بانکے پن کو عروج بخشنے میں مولانا محمد عبداللہ کا وہ گرانقدر حصہ ہے جسے کوئی دیانتدار نظر انداز نہیں کر سکتا۔ شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خانؒ سے نیاز مندانہ تعلق نے اس خطہ میں کلمہ حق کی سربلندی کی خوب جوڑی بنادی تھی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس شوریٰ کے تازیست ممبر رہے۔ دل و جان سے مجلس تحفظ ختم نبوت پر فدا تھے۔ اسلام آباد کے امیر بھی تھے۔ دشمن نے وار کیا۔ انہوں نے اس دنیا سے چھلانگ لگائی اور جنت میں جا بسے۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگارنگ
(٤٦)
عبدالمالکؒ (جھاوریاں ضلع سرگودھا)، مولانا قاضی
(وفات: ١٥؍ مارچ ١٩٩٩ء)
تبلیغی جماعت کے عالمی رہنما اور حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کے خلیفہ مجاز مولانا قاضی عبدالقادرؒ کے چھوٹے بھائی مولانا قاضی عبدالمالک صاحبؒ خطیب جامع مسجد قاضیاں جھاوریاں ضلع سرگودھا، ختم نبوت کے تحفظ کے لئے ذاتی دلچسپی رکھتے تھے۔ مدرسہ عربیہ و مسجد ختم نبوت جابہ ضلع خوشاب کے سارے کام کی نگرانی و سرپرستی فرماتے رہے۔ مدت العمر مجلس تحفظ ختم نبوت جھاوریاں کے امیر رہے۔ مجلس کی مرکزی شوریٰ کے بھی ممبر رہے۔ پہلی ختم نبوت کانفرنس چناب نگر میں ١٩٨٢ء میں منعقد ہوئی تو اس میں جھاوریاں سے قافلہ لے کر تشریف لائے اور کانفرنس کے انتظامات میں بھر پور حصہ لیا۔
خوب خوبصورت اور وجیہہ انسان تھے۔ حق تعالیٰ نے انہیں خوبیوں سے بھر پور نوازا تھا اور ان کی یہ تمام خوبیاں عقیدۂ ختم نبوت کے لئے وقف تھیں۔ ١٥؍ مارچ بروز سوموار نماز ظہر میں مالک حقیقی سے ملنے کے اشتیاق میں اقامت بھی خود کہی اور نماز بھی خود پڑھائی اور بعد نماز ظہر سفر آخرت کے لئے روانہ ہو گئے۔ آپ کی نماز جنازہ آپ کے صاحبزادہ قاضی عبدالرزاق نے پڑھائی۔
(٤٧)
عبدالمجید ندیم شاہؒ (راولپنڈی)، مولانا سید
(پیدائش: ١٩٤١ء ...... وفات: ٣؍ دسمبر ٢٠١٥ء)
درگ ضلع لورالائی (کوہ سلیمان) میں حضرت سید حبیب سلطان مرحوم کا مزار مبارک ہے۔ ان کے صاحبزادے سید غلام حیدرؒ شاہ تھے۔ ان کے صاحبزادے سید غلام سرورؒ تھے۔ جو اڈہ ”کھڈ بزدار“ اور ”ترمن“ کے قریب ڈیرہ اسماعیل خان اور تونسہ کی شاہراہ انڈس پر مشرقی جانب واقع بستی ”لاشاری“ میں آکر رہائش پذیر ہوئے۔ سید غلام سرور شاہؒ کے ہاں
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
١٩٣١ء میں صاحبزادہ عبدالمجید پیدا ہوئے۔ جو آگے چل کر خطیب العصر مولانا سید عبدالمجید ندیم ؒ کے نام سے چہار دانگ عالم میں مشہور ہوئے۔ مولانا سید عبدالمجید ندیم ؒ نے سات سال کی عمر میں اپنے والد گرامی کے سایہ عاطفت میں قرآن مجید حفظ کرلیا۔
قارئین کے لئے یہ امر تعجب کا باعث ہوگا کہ دنیائے خطابت کے بے تاج بادشاہ مولانا عبدالمجید ندیم شاہ صاحب ؒ نے سکول کی تعلیم ایک دن بھی حاصل نہ کی۔ اپنے رفیق طلباء سے عربی تعلیم کے ساتھ ساتھ اردو لکھنا پڑھنا سیکھ لیا۔ اس کے بعد نستعلیق اردو لکھنے پڑھنے اور بولنے کی مہارت یا قدرے انگریزی سمجھنا اور بولنا یہ آپ کے ذاتی مطالعہ کا حاصل تھا۔ خط بہت ہی عمدہ اور نفیس تھا۔
مولانا سید غلام سرور صاحب ؒ کے قریبی دوست مولانا عبدالحق صاحب ؒ تھے جو دیوبند کے فاضل اور مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری ؒ، مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ اور مولانا بدر عالم میرٹھی ؒ کے شاگرد تھے۔ ان سے مولانا سید عبدالمجید ندیم صاحب ؒ نے فارسی اور ابتدائی صرف و نحو کی تعلیم حاصل کی۔ بستی لاشاری سے مولانا عبدالحق صاحب ؒ کا گاؤں ”وہوا“ جہاں سید ندیم صاحب ؒ پڑھنے کے لئے جاتے تھے دس بارہ میل کی مسافت پر ہوگا۔ جمعرات شام کو سائیکل پر گھر آ جاتے۔ پھر جمعہ شام واپس پڑھنے کے لئے وہوا پہنچ جاتے۔ ایک دفعہ مدرسہ سے چلے تو بارش ہوگئی۔ سائیکل چلانا مشکل تھا۔ سائیکل سمیت پیدل چلتے رہے۔ اندھیرا ہوگیا تو دو درندے غراتے ہوئے دائیں بائیں سائیکل کے ساتھ ہوگئے۔ مولانا عبدالمجید ندیم شاہ صاحب ؒ فرماتے تھے کہ میں پہلے تو سمجھا کہ کتے ہیں۔ قریب ہوئے تو وہ ہیبت ناک بھیڑیے تھے۔ میرے پاس سائیکل میں ہوا بھرنے کے لئے پمپ تھا وہی سائیکل پر مارتا اور پیدل چلتا رہا۔ وہ بھی ساتھ رہے۔ میں نے سفر کے ساتھ ساتھ سورۃ یٰسین کی تلاوت بھی شروع کر دی۔ یہ سفر اسی حالت میں طے ہوا۔ بھیڑیئے حملہ کے لئے جھپٹتے تو پمپ سائیکل پر مارتا وہ محتاط ہو جاتے۔ یوں چار پانچ میل سفر ہوا۔ آبادی آئی اور میری جان میں جان آئی۔ وہ بھاگ گئے اور میں تلاوت کرتا ہوا گھر پہنچا تو عشاء کے بعد کا خاصہ وقت ہو چکا تھا۔ والدہ نے میری بپتا سنی تو ان کی حالت دیدنی ہوگئی۔
مولانا سید عبدالمجید صاحب ؒ نے صرف و نحو اور منطق کی دیگر تعلیم حضرت مولانا ظہور الحق ؒ، حضرت مولانا منظور الحق صاحب ؒ کے پاس دارالعلوم کبیروالا سے حاصل کی۔ ڈیرہ اسماعیل خان، جامعہ نعمانیہ صالحیہ کراچی اور لاہور کے بھی مختلف مدارس میں پڑھتے رہے۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
پھر گوجرانوالہ میں حضرت مولانا قاضی شمس الدین صاحب ؒ سے دورۂ حدیث شریف پڑھا۔ تکمیل کے لئے جامعہ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن میں بھی داخل رہے۔ گوجرانوالہ اور کراچی تعلیم کے دوران بھی مساجد میں خطابت کے فرائض انجام دیئے۔ کراچی آپ کے قیام کا زمانہ ١٩٦١ء اور ١٩٦٢ء کا ہے۔ اب مولانا سید عبدالمجید ندیم صاحب ؒ نے خطابت میں پرواز شروع کی۔ اس زمانہ میں آج کی نسبت بڑے بڑے خطیبوں کا دور دورہ تھا۔ اس دور میں خطابت میں مقام پیدا کرنا خاصہ جگر گردہ کا کام تھا۔ مگر مولانا سید عبدالمجید ندیم صاحب ؒ نے یہ بھی کر دکھایا۔ اپنی طرز خطابت کے خود موجد تھے۔ آپ کی خطابت کا انداز بیسیوں نوجوان خطباء نے اپنایا۔ مگر آپ نے کسی کا طرز خطابت اپنانے کی بجائے اپنی طرز خطابت کا لوہا منوایا۔ آپ نے کراچی کے بعد ملتان کو اپنا گھر بنایا۔ تنظیم اہل سنت والجماعت سے وابستہ ہوئے تو ابتداء میں پنجاب، پھر پاکستان، پھر دنیا بھر میں آپ کی خطابت کے غلغلے بلند ہوئے۔
نصاب کے مسئلہ پر تنظیم اہل سنت سے مولانا سید عبدالمجید ندیم ؒ ، مولانا عبدالشکور دین پوری ؒ نے علیحدہ جماعت مجلس تحفظ حقوق اہل سنت پاکستان کی بنیاد رکھی۔ بہت سارے اس دور کے نوجوان خطباء ان کے کارواں میں شریک ہوئے۔ ١٩٧٠ء کے الیکشن میں جمعیۃ علماء اسلام کے لئے بھرپور خدمات سرانجام دیں۔ مفکر اسلام مولانا مفتی محمود ؒ صاحب ان پر بھرپور محبت بھرا اعتماد فرماتے تھے۔ مولانا سید عبدالمجید ندیم ؒ نے ١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت میں بے جگری سے حصہ لیا۔ یہی وہ آپ کی بھرپور محنت تھی کہ جمعیۃ علماء اسلام اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت دونوں جماعتوں کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن بنے اور تاحیات اس منصب پر فائز رہے۔
آپ نے برطانیہ کا ١٩٧٩ء میں پہلا سفر کیا۔ مجموعی طور پر آپ کے برطانیہ کے ١٣٣ اسفار ہوئے۔ ١٩٨٣ء میں انڈیا کا تبلیغی سفر ہوا۔ غرض افریقہ، یورپ، ایشیاء کے تمام ملکوں کا آپ نے بارہا تبلیغی سفر کیا۔ جہاں گئے اپنی خطابت کی دھاک بٹھا کر آئے۔ آپ نے آدھی سے بھی زائد دنیا میں تبلیغ اسلام کا فریضہ سرانجام دیا۔ مولانا سید عبدالمجید ندیم ؒ نظریاتی طور پر جمعیۃ علماء اسلام سے وابستہ رہے اور اس پر کبھی بھی کوئی مصلحت حاشیہ خیال میں بھی نہیں آنے دی۔ قائد جمعیۃ حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب کے موقف کے ہمیشہ علمبردار رہے۔ مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ صاحب ؒ ، حضرت خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد ؒ سے بیعت تھے اور آپ سے بہت ہی محبت و احترام کا ہمیشہ رشتہ رکھتے تھے۔
سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کے اکابر کے اسماء مبارکہ کے ساتھ عموماً ”خواجہ“ کے لفظ کا
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
اضافہ ہوتا ہے۔ جیسے خواجہ محمد معصوم ؒ ، خواجہ دوست محمد قندھاروی ؒ ، خواجہ محمد عثمان ؒ ، موسیٰ زئی، حضرت مولانا خواجہ خان محمد ؒ صاحب سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ بھی اپنے زمانہ میں نقشبندی، مجددی سلسلہ کے امام تھے۔ لیکن آپ نے کبھی نام کے ساتھ خواجہ نہیں لکھا۔ بہت کم دوستوں کو معلوم ہوگا کہ آپ کے نام کے ساتھ ”خواجہ“ کے لفظ کے اضافے کا آغاز اپنے خطاب اور کلام میں سب سے پہلے مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ صاحب ؒ نے شروع کیا اور پھر یہ ایسے متعارف ہوا کہ اصل نام کا گویا جزو ہی بن گیا۔ یہ صرف اور صرف مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ صاحب ؒ کی مریدانہ محبت کا پرتو ہے۔ مولانا سید عبدالمجید ندیم ؒ خوب نفیس اور نستعلیق قسم کے انسان تھے۔ زندگی بھر جن دوستوں کو خطاب کے لئے وقت دیتے اپنی شرائط کے ساتھ، وقت عنایت کرتے تھے اور داعی کے لئے ان شرائط کی پابندی لازمی تھی۔ اشتہار، سٹیج، سپیکر، سواری، رہائش، احتیاطی کھانا تمام تفصیلات ارشاد فرما دیتے۔ اس سے انہوں نے زندگی بھر بے تاج بادشاہی کی۔ وہ خطیب ایسے تھے کہ دوست بلاتے اور خوب بلاتے ایک زمانہ میں کوئی بڑا جلسہ ان کے بغیر نہ ہوتا تھا اور خطاب بھی ایسا لاجواب کہ دنیا عش عش کر اٹھتی۔ آپ کے خطابات کے کئی مجموعے شائع ہوئے۔ اب ان کی اولاد کے ذمہ بنتا ہے کہ وہ ان تمام کو شائع کر کے سستے داموں جن کا خریدنا لوگوں کی دسترس میں ہو مہیا کریں تاکہ آپ کا فیض جاری و ساری رہے۔ ان کی زندگی پر کتاب بھی آنی چاہئے کہ وہ تاریخ ساز شخصیت تھے۔
مولانا سید عبدالمجید ؒ نے عقیدہ توحید کی ترویج و اشاعت، عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور مدح صحابہ کرام ؓ کے لئے گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ بجا طور پر وہ ایک نظریاتی خطیب تھے۔ رد روافض میں ان کی بعض مجالس کی گفتگو اپنے مطالعہ کے حوالہ سے محل نظر ہوگی۔ امام اہل سنت مولانا قاضی مظہر حسین صاحب ؒ نے اس پر بھر پور نقد بھی قائم فرمایا۔ لیکن سب دوستوں کے لئے یہ انکشاف خوشی کا باعث ہوگا کہ فقیر راقم جب تعزیت کے لئے آپ کے مکان پر گیا تو سید عبدالباسط ندیم، سید مفتی فیصل ندیم اپنے بھائیوں کی موجودگی میں سید فاروق شاہ ندیم نے فرمایا کہ ایک بار انٹرنیٹ پر ایک صفحہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب ؒ کا لکھا ہوا دیباچہ کسی کتاب کا ملا۔ وہ میں نے اپنے والد گرامی سید عبدالمجید ندیم ؒ کو پڑھایا۔ جس میں خواجہ خان محمد صاحب ؒ نے تحریر فرمایا تھا کہ: ”جو لوگ یزید بد نصیب کی حمایت کرتے ہیں ان کے سوئے خاتمہ کا اندیشہ ہے۔“ یہ پڑھتے ہی سید عبدالمجید ندیم ؒ جھوم جھوم اٹھے اور بار بار بڑی بشاشت سے تکرار کے ساتھ فرمانے لگے کہ یہ بڑی پتے کی اہم اور قیمتی بات ہے۔ یہ بات میرے شیخ
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
حضرت خواجہ صاحب ؒ جیسا کامل شخص ہی فرما سکتا ہے۔
سید فاروق شاہ صاحب کے اس انکشاف پر مجھے جو حیرت انگیز خوشی ہوئی۔ اچھا ہوا کہ قارئین بھی اس میں شریک ہو جائیں۔ شاید کسی کے دل میں اتر جائے تو بھلا ہو جائے گا۔ تمام صحابہ کرام ؓ کے ہم غلام ہیں۔ مگر یزید کے فسق و فجور کی وکالت اور خانوادہ اہل بیت ؓ پر اس کے مظالم کی جو اس پر پھٹکار ہے اس کی بے جا تاویلات سے اللہ رب العزت ہر مسلمان کو بچائے کہیں یہ بات قیامت کے دن خود شفیع المذنبین ﷺ کے سامنے ندامت کا باعث نہ بن جائے۔ اعاذنا اللہ تعالیٰ! حق تعالیٰ ہم سب کو آقائے نامدار ﷺ کے اہل بیت اطہار ؓ اور صحابہ کرام ؓ کا صحیح معنوں میں احترام نصیب فرمائے کہ اس کے بغیر ایمان کی حلاوت نصیب ہی نہیں ہوتی۔
مولانا سید عبدالمجید ندیم ؒ کی نماز جنازہ ان کے صاحبزادہ مفتی سید فیصل ندیم نے پڑھائی۔ ان کے بھرپور جلسوں کی طرح ان کے جنازہ میں بھی بڑی بھرپور حاضری تھی۔ مولانا سید عبدالمجید ندیم ؒ امسال اکتوبر ٢٠١٥ء میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر میں تشریف لائے۔ اس موقعہ پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس تھا۔ اس میں بھی شرکت فرمائی۔ کانفرنس میں خطاب کے دوران فرمایا کہ: ”اس کانفرنس میں میری زندگی کی آخری بار شرکت ہے۔“ اس پر مجمع تو افسردہ ہونا تھا خود ان کی آواز بھی بھرّا گئی۔ اللہ رب العزت کی شان بے نیازی کہ ان کا یہ کہنا ایسا صحیح ثابت ہوا کہ ان کا یہ بیان صرف اس کانفرنس کا آخری بیان نہیں ثابت ہوا۔ بلکہ ان کی زندگی کا آخری عوامی بیان ثابت ہوا۔ اس کے بعد اپنی قائم کردہ مسجد میں جمعہ کے خطبات تو ارشاد فرمائے لیکن عوامی آخری خطاب ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کا ہی تھا۔ اللہ تعالیٰ ان کو جنت میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائیں اور پسماندگان کو صبر جمیل نصیب ہو۔ آمین!
(٤٨)
عبدالوحید ؒ (ڈھڈیاں) ، مولانا
(وفات: مئی ١٩٩٧ء)
قطب الارشاد حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوری ؒ کے بھانجے و خلیفہ مجاز اور خانقاہ عالیہ ڈھڈیاں شریف ضلع سرگودھا کے سجادہ نشین حضرت مولانا عبدالوحید صاحب ؒ خانقاہ
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
رائے پور کی باقیات صالحات میں سے تھے۔ انتہائی منکسر المزاج بزرگ عالم دین تھے۔ دنیا کی قیل و قال سے کوسوں دور تھے۔ ہر وقت یاد الٰہی سے دل کی دنیا کو آباد رکھنے والے تھے۔ حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کے رشتہ میں بھانجے اور تعلق میں خلیفہ مجاز تھے۔ حضرت رائے پوریؒ کی صحبت و نظر شفقت نے آپ کو کندن بنا دیا تھا۔
مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ اور مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اخترؒ کے دور امارت میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی شوریٰ کے ممبر رہے۔ سرگودھا سے فیصل آباد آتے جاتے جامع مسجد صدر دفتر ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں ضرور قدم رنجہ فرماتے۔ ڈھیروں دعاؤں سے خدام کو نوازتے۔ بڑی مسکین طبیعت اور غنی دل کے مالک تھے۔ اکابر سے محبت۔ چھوٹوں سے شفقت کا معاملہ کرتے۔ ان کا وجود قدرت حق کا عطیہ تھا۔ ان کا وصال امت مسلمہ اور اسلامیان پاکستان بالعموم اور خانقاہ رائے پور کے متعلقین و متوسلین کے لئے بالخصوص بہت بڑا سانحہ ہے۔
موت برحق ہے۔ اس سے کون انکار کر سکتا ہے؟ مگر بعض حضرات کی وفات سے خیر و برکت کا جو ایک باب بند ہو جاتا ہے۔ وہ بہت بڑا قومی نقصان ہے۔ ان کے جنازہ میں علاقہ کے عوام اور پنجاب بھر کے علماء و مشائخ نے شرکت کی۔ حضرت رائے پوریؒ کے خلیفہ مجاز حضرت مولانا سید نفیس الحسینی شاہؒ ، تبلیغی جماعت کے بزرگ، بھائی عبدالوہاب اور کئی دیگر حضرات نے شرکت کی۔ جنازہ جامعہ امدادیہ فیصل آباد کے شیخ الحدیث مولانا نذیر احمدؒ نے پڑھایا اور حضرت مرحوم کو خانقاہ ڈھڈیاں میں رحمت حق کے سپرد کر دیا گیا۔ موصوف بہت ہی وجیہہ اور خوبصورت تھے۔ چہرہ پر صلحاء کا نور جھلکتا نظر آتا تھا۔ بہت ہی سادہ مزاج، عاجزی و انکساری کا پیکر تھے۔ ڈھڈیاں ضلع سرگودھا میں خانقاہ شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کے مدرسہ کے آپ مہتمم تھے۔
حضرت مولانا محمد علی جالندھری سے محبت ہی نہیں عشق کے درجہ میں تعلق تھا۔ ہمیشہ مجلس کی مرکزی شوریٰ کے اجلاس پر ملتان تشریف لاتے تو حضرت بہاء الدین زکریا ملتانیؒ اور شاہ رکن عالم ملتانیؒ کے مزارات پر ضرور حاضری دیتے اور پھر دفتر میں موجود ساتھیوں کو ترغیب بھی دیتے کہ شیخ الاسلام حضرت بہاء الدین زکریا ملتانیؒ اور حضرت شاہ رکن عالمؒ کے مزارات پر حاضری دیا کرو۔ ان کے لئے ایصال ثواب کیا کرو کہ یہ ہمارے برصغیر کے مسلمانوں کے محسن تھے۔ حضرت مولانا عبدالوحید صاحبؒ آج بھی ڈھڈیاں مرشد احرار
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کے ساتھ احاطہ خانقاہ قادریہ کے قبرستان میں محو راحت ہیں۔ ختم نبوت کے کام سے دلی تعلق تھا۔ اس کی ہمیشہ تحسین فرماتے۔ حق تعالیٰ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائیں۔
(٤٩)
عزیز الرحمٰنؒ (رحیم یار خان)، مولانا قاضی
(وفات: ١٢؍ اکتوبر ٢٠١٢ء)
وادی سون سکیسر ضلع خوشاب میں ایک قدیمی معروف قصبہ ہے جسے انگہ کہا جاتا ہے۔ اس انگہ کا قاضی خاندان کئی صدیوں سے علمی خاندان کی حیثیت سے شہرہ رکھتا ہے۔ یہاں کے ایک بزرگ عالم دین حضرت مولانا قاضی عبدالجلیلؒ تھے۔ جو خانقاہ موسیٰ زئی شریف کے متوسلین میں سے تھے۔ مولانا قاضی عبدالجلیلؒ انگہ سے رحیم یار خان تشریف لائے۔ اپریل ١٩٤٨ء میں آپ نے شہر کے وسط اور کمرشل ایریا میں جامعہ قادریہ اور جامع مسجد کی بنیاد رکھی۔ اس زمانہ میں قاضی عبدالجلیلؒ کے ساتھ آپ کے ایک ہونہار نو عمر صاحبزادے تھے جن کا نام قاضی عزیز الرحمٰنؒ تھا۔ ان کی پیدائش آبائی قصبہ انگہ میں ١٩٣٦ء میں ہوئی۔ جب آپ کے والد رحیم یار خان تشریف لائے تو آپ کی عمر بارہ سال کے لگ بھگ تھی۔
اپنے والد گرامی کی خدمت میں رہ کر مولانا قاضی عزیز الرحمٰنؒ نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ فیروز پور انڈیا میں بھی آپ پڑھتے رہے۔ بالآخر آپ کا مادر علمی جامعہ خیر المدارس ملتان قرار پایا۔ یہاں آپ نے شیخین کریمین حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ اور مولانا محمد شریف کشمیریؒ سے کسب علم کیا۔ مولانا قاضی عزیز الرحمٰنؒ کا بیعت کا تعلق موسیٰ زئی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے حضرت خواجہ محمد ابراہیمؒ سے تھا۔ ان کے وصال کے بعد بیعت ثانی حضرت خواجہ محمد اسماعیلؒ سے کی اور پھر بیعت ثالث خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ سے کی۔
مولانا قاضی عزیز الرحمٰنؒ کے والد گرامی حضرت مولانا قاضی عبدالجلیلؒ کے دور میں جامعہ قادریہ میں دورہ حدیث تک تعلیم ہوتی تھی۔ جامعہ قادریہ ختم نبوت کا میزبان ادارہ شمار ہوتا تھا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بانی رہنما اور امیر اول حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
بخاریؒ سے لے کر خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ تک تمام سربراہان مجلس و رہنمایان یہاں تشریف لاتے رہے۔ اکثر و بیشتر ختم نبوت کی کانفرنسیں جامعہ قادریہ میں ہوتی تھیں۔
مولانا قاضی عزیز الرحمنؒ کو والد گرامی قاضی عبدالجلیلؒ نے ١٩٦٠ء میں جامعہ قادریہ کے تمام نظم و نسق کا ذمہ دار بنایا اور جامعہ کی چابیاں آپ کے سپرد کیں۔ جامعہ قادریہ میں کبھی درس نظامی کی تعلیم کا تعطل نہیں ہوا۔ البتہ کچھ عرصہ دورہ حدیث شریف موقوف رہا۔ اب قاضی عزیز الرحمنؒ نے اپنی زندگی کے آخری حصہ میں پھر دورہ حدیث شریف کا آغاز کیا جو اب تک جاری ہے۔ مولانا قاضی عزیز الرحمنؒ کا تعارف و جان پہچان شہر رحیم یار خان میں ”قاضی شہر“ کی تھی۔ کسی زمانہ میں قاضی شہر کو عدالت کے جج کے اختیارات حاصل ہوتے تھے۔ قاضی عزیز الرحمنؒ اس حیثیت میں تو قاضی شہر نہ تھے۔ البتہ اپنی نیکی و پارسائی، دیانت و تقویٰ، عدل و انصاف پسند طبیعت کے باعث شہر بھر کے فیصلے آپ کے ہاں پنچائتی طور پر لائے جاتے۔ آپ جو فرما دیتے فریقین اسے سر آنکھوں پر حکم کے درجہ میں رکھتے۔
مولانا قاضی عزیز الرحمنؒ دراز قد، سر پر طرہ دار پگڑی، شملہ پشت کی جانب، رنگ سرخ، ناک ستواں، ہونٹ باریک، آنکھیں موٹی موٹی دیدہ زیب، کالا چشمہ لگاتے، جوانی کے زمانہ میں جدھر سے گزر جاتے لوگ آپ کے حسن و جمال کی داد دیئے بغیر نہ رہ سکتے۔ عمر بھر اجلا لباس زیب تن کیا۔ قرآن مجید کی خدمت آپ کی زندگی کا حاصل قرار دیا جاسکتا ہے۔ شہر اور ضلع بھر میں آپ کے شاگردوں، جامعہ قادریہ کے فیض یافتگان کی بڑی تعداد ہے۔ شاید کوئی مدرسہ ان سے خالی نہ ہو۔ رحیم یار خان میں جامعہ قادریہ کی تین شاخیں ہیں۔ اسی طرح قاضی عزیز الرحمن نے اِگہ میں اپنے آبائی مدرسہ عثمانیہ تعلیم القرآن کو خوب ترقی دی۔ مدرسہ عثمانیہ کا نام خانقاہ موسیٰ زئی شریف کے حضرت خواجہ محمد عثمان دامانیؒ کی نسبت سے رکھا۔ اسی طرح جامعہ امہات المومنین للبنات اِگہ میں قائم کیا۔ غرض بنین و بنات کے لئے قرآن مجید کی تعلیم کے دروازے کھول دیئے۔ مولانا قاضی عزیز الرحمنؒ کے تعویذات کا بڑا حلقہ تھا۔ تمام شہر کے ضرورت مند آتے اور آپ ان کی خدمت کرتے۔
قاضی صاحبؒ نے آغاز جوانی سے اپنے گھر و مدرسہ کو ختم نبوت کے رہنماؤں کا میزبان پایا تھا۔ پوری زندگی آپ کی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سے وابستہ رہی۔ ١٩٧٦ء سے وفات تک عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت رحیم یار خان کے امیر چلے آ رہے تھے۔ آپ کے عہد امارت
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سرکلر روڈ رحیم یارخان کا ملکیتی دفتر تعمیر ہوا جو آپ کے لئے صدقہ جاریہ ہے۔ قاری محمد اکملؒ، قاری حماد اللہ شفیقؒ، مولانا حافظ احمد بخشؒ، مولانا قاضی عزیز الرحمٰنؒ رہنمايان اربعہ کی شبانہ روز توجہات سے یہ دفتر تعمیر ہوا۔ دفتر کی تعمیر میں کوئی رکاوٹ ہوتی۔ حافظ احمد بخشؒ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت رحیم یارخان کے مبلغ کو قاضی صاحب مرحوم ”درویش ختم نبوت“ فرمایا کرتے تھے۔ وہ فون کرتے۔ قاضی صاحب رکشہ پر بیٹھتے۔ وہاں سائٹ پر تشریف فرما ہوتے۔ دفتر کی شب و روز چھوٹی بڑی ایک ایک ضرورت کا آپ نے خیال رکھا۔ واقعہ میں آپ کے قلب وجگر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی محبت آبائی ورثہ کے طور پر منتقل ہوئی تھی۔ جو برابر پروان چڑھتی رہی۔ حضرت خواجہ خواجگان مولانا خواجہ خان محمدؒ نے گزشتہ دو دہائیوں سے آپ کو مرکزی مجلس شوریٰ کا رکن نامزد فرمایا تھا۔ آپ نے اس کام کو امانت سمجھ کر ایک اجلاس سے ناغہ نہیں کیا۔ پھر اطاعت شیخ کا یہ عالم تھا کہ پورے اجلاس میں بہت ہی احترام ووقار سے حضرت قبلہؒ کے سامنے دوزانو بیٹھتے تھے۔ قاضی صاحب خوبیوں کا مجموعہ تھے۔
گزشتہ کچھ عرصہ سے طبیعت علیل تھی۔ علاج بھی جاری رہا۔ آخر وقت تک کسی کے محتاج نہ ہوئے۔ ١٢؍اکتوبر جمعہ کو صبح دس بجے غسل کیا۔ کپڑے بدلے۔ خوشبو لگائی۔ سر پر طرہ دار پگڑی باندھی۔ کالا چشمہ لگایا۔ رنگت سرخ تھی۔ داڑھی پر حنا کا استعمال کرتے تھے۔ غرض چمکتے دمکتے دولہے کی طرح تیار ہوئے۔ یہ بھی شاید فرمایا کہ آج طبیعت ٹھیک ہے۔ خود بیان کروں گا۔ مسجد میں پہنچے تو پوتے سامنے آگئے۔ فرمایا چلو جوان تم بیان کرو۔ میں تمہارا بیان سنتا ہوں۔ بیان سے آخری نوافل کے سلام تک پورے اطمینان سے جمعہ کے معمولات پورے کئے۔ دوستوں نے خوب جی بھر کر زیارت اور مصافحے کئے۔ عصر، مغرب اپنے کمرہ میں ادا کی۔ مغرب کے بعد چار پائی پر تشریف فرما تھے۔ خدام دبانے لگے۔ ذکر کرتے کرتے بڑے زور سے اللہ اکبر فرمایا اور سر سجدے میں رکھ دیا۔ خادم کو تعجب ہوا۔ اٹھایا تو آپ نے پھر دوبارہ بلند آواز سے اللہ اکبر فرمایا اور دوبارہ سر سجدہ میں رکھ دیا۔ اتنے میں مولانا قاضی شفیق الرحمٰن آپ کے بیٹے آئے۔ دیکھا تو آخرت کو سدھار چکے تھے۔ واقعی اللہ ہی بہت بڑا ہے۔
تجہیز وتکفین کے بعد جس نے آپ کے چہرے کو دیکھا۔ چمکتے سونے کی سی رنگت اتنی دلاویز لگتی تھی کہ موت کے واقع ہونے کا خیال ہی نہ پھٹکنے پاتا تھا۔ غالباً ”آب حیات“ کی اصطلاح میں ”انقطاع دم“ کی بجائے ”حبس دم“ کی کیفیت کا شائبہ گزرتا تھا۔ مورخہ ١٣؍اکتوبر کو تین بجے عیدگاہ میں جنازہ ہوا۔ جو آپ کے بیٹے قاضی شفیق الرحمٰن صاحب نے پڑھایا۔ بھر پور
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
علماء، طلباء، خطباء، آئمہ اور اسلامیان شہر نے شرکت کی۔ رہے نام اللہ کا! اس لئے وہ ”اللہ اکبر“ ہی ہے۔ قاضی صاحب نے زندگی اصلاح معاشرہ میں کھپادی۔ وحدت امت کے قائل تھے۔ فرقہ واریت کی لعنت سے کوسوں دور تھے۔ وہ کیا گئے رونق شہر گئی۔ اس لئے تو کہا گیا کہ ان کی وفات قاضی شہر کی وفات ہے۔ رحمة الله تعالیٰ رحمة واسعة، آمین!
(٥٠)
عزیز الرحمٰنؒ (کراچی) ، حافظ
کراچی میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے بہت ہی مخلص بزرگ اور کرم فرما حافظ عزیز الرحمٰن کے آغا شورش کاشمیریؒ اور مولانا تاج محمودؒ سے گہرے برادرانہ تعلقات تھے۔ غالباً اصلاً تلہ گنگ کے علاقہ کے تھے۔ پھر کراچی کاروبار کے سلسلہ میں چلے گئے۔ کاروبار چمکا اور خوب چمکا۔ ایوب خان کے زمانہ میں جب آغا شورش کاشمیریؒ نے کراچی جیل میں بھوک ہڑتال کی تھی۔ تب آغا صاحب کے گھرانے کا میزبان گھرانہ حضرت حافظ عزیز الرحمٰن صاحبؒ کا آشیانہ تھا۔ حافظ صاحب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی شوریٰ کے رکن بھی رہے۔ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے کسی بھی مصلحت کے روادار نہ تھے۔ نہ انہیں یہ برداشت تھا۔ سچے عاشق رسول تھے۔
(٥١)
علاؤ الدینؒ (ڈیرہ اسماعیل خان) ، مولانا
(وفات: ١٦؍ دسمبر ٢٠١٣ء)
حضرت مولانا علاؤ الدینؒ کے والد گرامی کا نام مولانا احمد دینؒ تھا اور دادا کا نام مولانا صالح محمدؒ تھا۔ مولانا علاؤ الدینؒ ٢١؍ مارچ ١٩١٣ء کو ڈیرہ اسماعیل خان شہر میں پیدا ہوئے۔ اس اعتبار سے آپ کی عمر شمسی لحاظ سے ایک سو ایک سال اور قمری اعتبار سے ایک سو چار سال بنتی ہے۔ مولانا علاؤ الدینؒ نے ابتدائی تعلیم گھر پر اپنے والد گرامی سے حاصل کی۔ پھر ملتان کے قدیمی ادارہ مدرسہ نعمانیہ میں اپنے برادر بزرگ حضرت مولانا سراج الدین صاحبؒ کے ہمراہ داخل ہوئے۔ آخری چار سال دارالعلوم دیوبند میں پڑھتے رہے۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
١٩٣٨ء میں شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی ؒ سے دورہ حدیث شریف پڑھا۔ اس زمانہ میں حضرت مولانا شمس الحق افغانی ؒ بھی دارالعلوم دیوبند میں پڑھاتے تھے۔ مولانا علاؤ الدین ؒ ہم وطن ہونے کے ناطہ سے حضرت افغانی ؒ کے خادم خاص تھے۔
دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان میں اپنے والد کے زیر سایہ تدریس کا آغاز کیا۔ گزر اوقات کے لئے صابن بنانے کا بھی شغل اختیار کیا۔ لیکن طلباء کی کثرت، اسباق اور دیگر مصروفیتوں کے باعث قدرت نے تمام دنیاوی دیگر مصروفیات سے آپ کا رخ تعلیم کے لئے موڑ دیا۔ آپ صرف اور صرف تدریس کے ہو کر رہ گئے۔ برادر بزرگ مولانا سراج الدین کے ہمراہ مدرسہ نعمانیہ صالحیہ کا آغاز کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس نے جامعہ کی شکل اختیار کر لی۔ دونوں بھائیوں نے اس ادارہ کے لئے دن رات ایک کر دیئے۔ طلباء، پروانوں کی طرح فوج در فوج آنے لگے۔ کریما سے لے کر بخاری شریف تک کوئی ایسی کتاب نہ ہوگی جو مولانا علاؤ الدین صاحب ؒ نے درجنوں بار نہ پڑھائی ہو۔ واقعی طور پر آپ جامع المعقول والمنقول تھے۔ قدرت نے آپ کو نکتہ رس دماغ دیا تھا۔ آپ کے پاس پڑھنے والے آپ کے فدائی شمار ہوتے تھے۔ اخلاص وللہیت کا آپ پیکر تھے۔
حضرت مدنی ؒ سے شاگردی کی نسبت نے انگریز دشمنی کو آپ کی طبیعت ثانیہ دیا۔ انگریز سے آزادی کے لئے آپ نے اپنی مسجد کو سرگرمیوں کا مرکز بنا دیا تھا۔ جس سے خواص کے علاوہ عوام میں بھی آپ کی جرأتوں کی داستانوں نے گہرا نقش قائم کیا۔ آپ بلاخوف لومۃ لائم حق بیان کرنے کے مشتاق اور مشاق شمار کئے جاتے تھے۔ آپ کی بہادری نے ڈیرہ اسماعیل خان کے در و دیوار کو بھی انگریز دشمنی سے سرشار کر دیا۔ مولانا علاؤ الدین ؒ اور ان کے سینکڑوں شاگرد مصلحت کیش کے بجائے اعلاء کلمۃ الحق کے داعی تھے۔ آپ نے تمام شاگردوں میں علم دوستی کو ایسا راسخ کیا کہ وہ سراپا علم وتقویٰ بن گئے۔
قیام پاکستان کے بعد تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء جو ایک ملک گیر تحریک تھی جس نے عالمگیر شہرت حاصل کی۔ آپ نے اس میں بہادرانہ حصہ لیا اور قید وبند کی صعوبتوں کو خندہ پیشانی سے قبول کیا۔
جمیعۃ علماء اسلام کے تاسیسی اجلاس سے اپنے دم واپسیں تک کسی نہ کسی حیثیت میں اس سے منسلک رہے۔ مفکر اسلام مولانا مفتی محمود ؒ کے آپ مشیر شمار ہوتے تھے اور حضرت مفتی صاحب بھی دل و جان سے آپ کو احترام دیتے تھے۔ آپ زندگی بھر تنظیم اہل سنت کی مرکزی مجلس
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگارنگ
شوریٰ کے رکن رہے۔ تنظیم اہل سنت کے بانی رہنما مولانا سید نور الحسن شاہ بخاری مرحوم سے لے کر مولانا عبدالستار تونسویؒ تک تمام تنظیمی رہنماؤں سے آپ کا مہر و وفا کا رشتہ تھا۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ سے لے کر خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ تک عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں سے آپ کا دل و جان کا تعلق تھا۔ عالمی مجلس کے زندگی بھر آپ کے برادر اکبر حضرت مولانا سراج الدینؒ شوریٰ کے ممبر رہے۔ ان کی وفات کے بعد کچھ عرصہ تک آپ بھی شوریٰ کے رکن رکین رہے۔ مولانا علاؤ الدین صاحب مرحوم بہت صائب الرائے تھے۔ معتدل طبیعت اور نپی تلی رائے کے مالک تھے۔
مولانا علاؤ الدینؒ تدریس میں تو ماہر تعلیم تھے ہی۔ لیکن آپ کی خطابت بھی علم و حکمت کے موتیوں سے بھر پور ہوتی تھی۔ زندگی بھر بہت ہی سادگی کے ساتھ وقت گزارا۔ خود دار طبیعت انسان تھے۔ ایک بڑے عالم دین میں جو خوبیاں ہونی چاہئیں۔ وہ سب آپ میں بدرجہ اتم موجود تھیں۔ آپ نے متعدد بار حرمین شریفین کے اسفار کئے۔ آپ نے ایک لمبی عمر پائی۔ ایک صدی کی تاریخ کے آپ صرف گواہ نہیں۔ بلکہ تاریخ گر تھے۔ جس مجلس میں تشریف لے جاتے۔ اپنی نیکی و علم کے باعث میر محفل شمار کئے جاتے تھے۔ آپ نے ہر مذہبی تحریک میں نمایاں کردار ادا کیا۔ آپ کی رائے سے اختلاف ممکن ہو سکتا ہے۔ لیکن آپ کا اخلاص ہر شبہ سے بالاتر تھا۔
پاکستان بننے سے قبل دو بار، قیام پاکستان کے بعد پانچ دفعہ سنت یوسفی کو ادا کیا۔ آپ نے جس بہادری سے جیل کاٹی وہ آپ کا ہی حصہ تھا۔ دو مرتبہ ضلع بدر بھی ہوئے۔ جیل کی تنگ و تاریک کوٹھڑیاں ضلع بدری کے مصائب آپ کے عزم فولادی کو جنبش نہ دے پائے۔ وہ اس دور میں علماء سلف کی روایات کے علمبردار تھے۔ آپ کی انہیں جرأتوں کے باعث شیر ڈیرہ، فخر ڈیرہ کا تاریخ نے آپ کو مقام دیا۔
آپ آخر تک قابل رشک صحت کے حامل رہے۔ خوب جفاکشی سے وقت گزارا۔ اب کبرسنی کے باعث قوٰی کمزور ہوئے اور پھر ہوتے ہی گئے۔ ہر کمالے را زوالے بھی آخر صحیح مقولہ ہے۔ آخری دنوں میں بیمار ہوئے۔ ہسپتال داخل ہوئے۔ وقت موعود آن پہنچا۔ ادھر اجل کے فرشتے نے شکل دکھائی ادھر آپ نے جان آفرین کے سپرد کر دی۔ وہ کیا گئے کہ بہت ہی حسین یادوں میں اپنے ہزاروں خدام کو تنہا چھوڑ کر چل دیئے۔
فقیر راقم آپ کی وفات کے وقت دہلی تھا۔ مولانا عبدالقیوم نعمانی نے وہاں وفات کی خبر دی۔ ملتان دفتر فون کیا تو معلوم ہوا کہ مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری جنازہ پر تشریف لے گئے
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
ہیں ۔ عزیزی حافظ محمد انس کو بھی ساتھ شریک سفر بنا لیا ہے۔ انہوں نے بھی جنازہ میں شرکت کی سعادت حاصل کرلی۔ زہے نصیب واقعی آپ کا جنازہ انہیں جنازوں میں سے تھا۔ جس سے کہ جنازہ پڑھنے والے بخشے جاتے ہیں۔ بہت لوگوں کو یاد ہوگا کہ حضرت امیر شریعتؒ جب مجلس تحفظ ختم نبوت کی امارت پر فائز ہوئے اور مجلس تحفظ ختم نبوت کی پہلی شوریٰ قائم فرمائی تو اس میں مولانا علاؤ الدین بھی شامل تھے۔ وہ ہمارے محسن تھے جن کے وجود سے ہم محروم ہو گئے۔
(٥٢)
غلام احمد ؒ (احمد پور شرقیہ) ، مولانا
احمد پور شرقیہ جامع مسجد عباسیہ محلہ عباسیہ کے خطیب حضرت مولانا غلام احمد صاحبؒ جامعہ خیر المدارس ملتان کے اولین فضلاء میں سے تھے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت احمد پور شرقیہ کے امیر اور مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن رہے۔ الہامی گرگٹ اور دوسرے کئی رسائل ملعون قادیان کے خلاف تحریر کئے۔
(٥٣)
فرزند علی ؒ (سکھر) ، الحاج
(وفات: ٥/ جنوری ١٩٩٥ء)
سکھر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے روح رواں اور مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن، زندگی بھر عقیدہ ختم نبوت کے پھریرا کو بلند سے بلند تر کرنے میں اخلاص کے ساتھ کوشاں رہے، ہاتھ کے سخی اور دل کے غنی تھے۔ خوب دوست پرور انسان تھے اور بڑوں کی سی عادات کے مالک تھے۔
(٥٤)
فضل احمد عثمانی ؒ (تلہ گنگ) ، مولانا
(وفات: ٢٤/ جون ١٩٧٩ء)
جامعہ عثمانیہ تلہ گنگ کے بانی، شیخ الاسلام حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ کے شاگرد
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
رشید، حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کے عاشق صادق حضرت مولانا فضل احمد صاحبؒ کے بہت ہی نفیس مزاج بزرگ عالم دین تھے۔ ہلکا، پتلا، دھان پان وجود تھا۔ اس پر علم کی چھاپ اتنی گہری تھی کہ وہ چلتے تو سراپا علم متحرک نظر آتا تھا۔ آپ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن رکین رہے۔ جامعہ مدرسہ و مسجد ختم نبوت کے تعمیر و ترقی کے لئے ساعی رہے۔ علماء حق کے نمائندہ تھے۔ ان سے اکابر کی بہت سی یادیں وابستہ تھیں۔
(٥٥)
فضل محمود خان خاکوانیؒ، سردار
(وفات: ١٨/جنوری ١٩٩٥ء)
ریٹائرڈ ایس۔ پی خاکوانی خاندان کے چشم و چراغ سردار فضل محمود خان لغاریؒ کا حضرت مولانا محمد عبداللہ لدھیانویؒ کے عہد مسند نشینی سے خانقاہ سراجیہ کے ساتھ تعلق تھا۔ سردار فضل خانؒ کے حضرت ثانیؒ اور حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ سے عقیدت و ارادت کا مثالی تعلق تھا۔ اسے نبھایا اور خوب نبھایا۔ محترم خواجہ محمد حبیب صاحبؒ کے بعد ملتان کی نمائندگی کے لئے سردار فضل محمودؒ کو عالمی مجلس کی مرکزی شوریٰ میں لیا۔ آپ نے اس منصب کو نبھایا بلکہ نبھانے کا حق ادا کر دیا۔ آج بھی ان کا پورا گھرانہ مجلس سے دل و جان سے وابستہ ہے۔
(٥٦)
فیض احمدؒ (ملتان)، شیخ الحدیث مولانا
(وفات: ٢٧/ستمبر ٢٠٠٨ء)
استاذ العلماء، شیخ الحدیث حضرت مولانا فیض احمد صاحبؒ لمبا کھلا چہرہ، رنگ گندمی، متوسط قد مائل بہ درازی، مشت بھر خوبصورت چھدرے بالوں والی داڑھی، جسم ہلکا اور مضبوط، چلنے میں وقار، طبیعت سادہ، منکسر المزاج، نیک سرشت، زندگی بھر غیر مناسب جملہ زبان پر لانے سے مجتنب۔ تمکنت کے کوہ ہمالیہ، آواز مدہم لیکن حق کی کڑک اپنے اندر سموئے ہوئے، بولیں تو
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
موتی رولیں، علم وفضل کے پہاڑ، زہد وتقویٰ کے اعلیٰ درجہ پر فائز، ہمیشہ چھوٹوں پر شفقت، بڑوں کا احترام، بات میں اعتدال، بات کریں تو تول کر، اسباق پڑھاتے ہوئے دریا کو کوزہ میں بند کرنے کا اعلیٰ نمونہ، فقہ حنفی کے وجوہ ترجیح کے بیان میں اعتدال اور معقولیت کا انداز ایسا اپناتے کہ باقی تینوں ائمہ (امام شافعیؒ، امام مالکؒ، امام احمد بن حنبلؒ) بھی سنیں تو محبت سے گلے لگا لیں۔ کتاب کا مشکل سے مشکل مسئلہ ایسی خوبصورت ادا سے نبھاتے کہ بات دل سے نکلتی دل پر اثر کرتی۔ زندگی بھر شاید کبھی ایک پیسہ فضول خرچی نہ کی ہو۔ لیکن دل کے ایسے دریا کہ مساجد، مدارس واداروں کی ہمیشہ مدد فرماتے۔ زندگی ایسی سادگی سے گزاری کہ جس پر بادشاہی بھی رشک کرے۔
فقیر نے آپ کی پہلی زیارت ١٩٦٦ء کے اواخر میں جامعہ قاسم العلوم ملتان میں کی۔ تب آپ سے مشکوٰۃ شریف پڑھنے کا شرف حاصل ہوا۔ آپ مشکوٰۃ اور دورہ کے اسباق پڑھانے کے لئے تشریف لاتے۔ سر پر ٹوپی اس پر سادہ سا پگڑی کی طرح بندھا سفید رومال، سفید قمیص، سفید چادر، سادگی پر دیکھنے والے کیا، فرشتے بھی جھوم جاتے ہوں گے۔ مدرسہ میں سائیکل پر تشریف لاتے۔ وقت کے اتنے پابند کہ ان کی آمد پر گھڑیوں کا ٹائم ملایا جاسکتا تھا۔ مسند تدریس پر بیٹھتے تو علم کا وقار، تقویٰ کی بہار کا گمان ہوتا تھا۔ بہت ہی منکسر المزاج بات کرتے تو ہلکے سے متبسم انداز میں، دلربائی ان کی نیکی کے اثرات کے باعث محبوبیت کا پرتو لئے ہوئے۔ ایک بار جو درس میں شریک ہوا افہام وتفہیم کی شیریں دلنواز گفتگو سے وہ زندگی بھر آپ کا گرویدہ ہوگیا۔ اللہ اللہ اس دھرتی پر صحیح معنی میں چلتے پھرتے عالم ربانی، مستغنی مزاج ایسے کہ دنیاداران کے گھر کا پانی بھریں۔
قارئین کرام! جنہوں نے ان کو نہیں دیکھا وہ اس تحریر کو مبالغہ پر محمول کریں گے۔ جنہوں نے ان کو دیکھا ہے اور ان کی شخصیت کی ہمہ گیری پر نظر رکھتے ہیں۔ اس عکس بندی کو عشر عشیر بھی قرار نہ دیں۔ دونوں حق بجانب، اس لئے کہ اب نہ تو ان کی مثال دی جاسکتی ہے اور نہ انہیں واپس لایا جاسکتا ہے۔ واقعی جنہوں نے نہیں دیکھا وہ اس تحریر کو مبالغہ پر محمول نہ کریں تو کیا کریں۔ جنہوں نے دیکھا وہ اس تحریر کو ان کی شخصیت کے مقابل میں ہیچ نہ سمجھیں تو کیا کریں۔
آپ میلسی کے علاقہ گڑھی خورد میں ١٩٢٧ء کو پیدا ہوئے۔ آپ نے میلسی و جہانیاں میں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ درس نظامی کے آخری چار سال جامعہ خیر المدارس ملتان میں پڑھا۔ اسی جامعہ سے دورہ حدیث شریف، مولانا خیر محمد جالندھریؒ، مولانا مفتی محمد عبداللہؒ، مولانا عبدالرحمن کامل پوریؒ، مولانا کمال الدینؒ سے پڑھا۔ آپ نے ٢٧ سال سے
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
زائد عرصہ جامعہ قاسم العلوم ملتان میں حدیث شریف کی تعلیم دی۔ خیر المدارس میں اعلیٰ درجہ کی کتب پڑھاتے رہے۔ مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری مدظلہ، قاری محمد طاہر مدنیؒ، مولانا سید عطاء الحسنؒ ایسے ہزاروں نابغہ روزگار شخصیات آپ کی شاگرد ہیں۔
مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے بعد آپ جامعہ قاسم العلوم ملتان کے مہتمم بھی رہے۔ میری معلومات کے مطابق زندگی بھر کبھی تدریس و اہتمام کی تنخواہ نہیں لی۔ رزق حلال اپنے قائم کردہ مکتبہ امدادیہ سے کماتے۔ جامعہ قاسم العلوم ملتان ان کے اہتمام کا زمانہ قاسم العلوم کی تاریخ کا بہترین دور قرار دیا جاسکتا ہے۔ بعض شوری کے دنیا دار اراکین ناقدروں کے رویہ سے دلبرداشتہ ہوئے تو خیر المدارس اپنی مادر علمی کی خدمت کو معمول بنالیا۔ اللہ رب العزت کے ایک محبوب بندے کی ناقدری پر قاسم العلوم کے در و دیوار پر آج بھی اداسی چھائی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی رونقیں بحال فرمائیں۔
مفتی محمد شفیع ملتانیؒ، مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ، مولانا فیض احمدؒ جیسا اہتمام تو ہزار کوشش کے باوجود ملنے کی توقع بھی عبث ہے۔ پردۂ غیب سے اللہ رب العزت حضرت مولانا محمد اکبر شیخ الحدیث کو اس گرداب سے جامعہ کو نکالنے کی توفیق دے دیں تو۔ وما ذالک علی اللہ بعزیز!
حضرت مولانا فیض احمد صاحبؒ نے ١٩٧٠ء کا الیکشن اپنے حلقہ میلسی سے لڑا تو ستر ہزار ووٹ لے کر دوسری پوزیشن حاصل کی۔ پہلی اور آخری بار اس وادی میں قدم رکھا۔ پھر اس سے کنارہ کشی کی تو مڑ کر دوبارہ اس کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔ وہ اس ملک میں اسلامی نظام کے لئے جمعیت علماء اسلام کے بھر پور حامی تھے۔ آپ وفاق المدارس کی شوری کے رکن بھی رہے اور ایک عرصہ تک مرکزی خازن کی ذمہ داری بھی نبھائی۔
مولانا فیض احمد صاحبؒ کو علوم وہبی عطا ہوئے تھے۔ حدیث و فقہ پر بھر پور دسترس حاصل تھی۔ ویسے تو جو بھی آپ نے کتاب پڑھائی تو ایسے محسوس ہوتا تھا کہ کتاب کے مصنف کی روح ان میں بول رہی ہے۔ یہ سب کچھ ان کی نیکی کے اثرات تھے۔ وہ چلتے پھرتے علم و عمل کا وقار و بھرم تھے۔ ان کو دیکھ کر اسلاف کی عظمتوں کا نقشہ آنکھوں کے سامنے گھومنے لگ جاتا۔ ان کے وضو کے پانی سے فرشتے غسل کریں۔ اگر مثال صحیح ہے تو وہ اس کے مصداق تھے۔ وہ جامع المعقول والمنقول تھے۔ کریما سے بخاری و مسلم تک کی آپ نے تعلیم دی۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اکابر کی عظمتوں کے معترف تھے۔ مجلس سے انہیں دلی محبت
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
تھی۔ وہ مجلس کی مرکزی شوریٰ کے ممبر بھی آخری سانس تک رہے۔ بیماری کے باوجود کبھی کسی اجلاس سے غیر حاضر نہیں ہوئے۔ حتیٰ کہ کمر کی ہڈی کے عارضہ کے باعث کرسی پر یا پھر ان کے لئے جگہ بنا دی جاتی، لیٹ کر بھی اجلاس میں شریک رہتے۔ یہ مجلس سے ان کی کمال محبت کی دلیل تھی۔ علماء کے حلقہ سے ملتان سے موجودہ شوریٰ کے وہ واحد ممبر تھے۔ مشکل سے مشکل امر کے لئے قریب پا کر مرکزی ناظم اعلیٰ ان سے رہنمائی کے لئے گاہے بگاہے حاضر ہوتے تو جھولی بھر کر واپس تشریف لاتے۔ اب تو ان کی شفقتوں، محبتوں اور بالغ نظری کے تذکرے ہی رہ گئے ہیں۔ اللہ رب العزت انہیں ان کی حسنات کا بہتر سے بہتر بدلہ نصیب فرمائیں۔ آمین!
حضرت مولانا فیض احمد ؒ نے پہلے مکتبہ امدادیہ پھر مکتبہ حقانیہ سے درجنوں نایاب کتب کو اعلیٰ درجہ پر شائع کر کے انہیں زندہ جاوید کیا۔ جو آپ کے لئے یقیناً ذخیرہ آخرت ہے۔ یوں تو ان کی زندگی کا ہر لمحہ آخرت کا ذخیرہ ہے۔ خود بھی درجنوں کتابوں کے مصنف تھے۔
آخری عمر میں بیماری نے گھیر لیا۔ تو ان کا وجود سراپا نور بن گیا۔ ان کی غذاء صرف یاد الٰہی ہی رہ گئی۔ حدیث شریف میں ہے کہ آخری زمانہ کے لوگ دجال کے فتنہ کے دور میں صرف ذکر الٰہی پر زندگی بسر کریں گے۔ ان کی زندگی بغیر مادی خوراک کے بسر ہوگی؟ اس کا نمونہ مولانا کی ذات میں دیکھنے والوں نے دیکھا۔ یومیہ ایک آدھ چمچ آب زم زم، چند گھونٹ سیال خوراک پر کئی ماہ تک انہوں نے اپنی زندگی گزار کر دکھائی۔ اس حالت میں قلب و جگر کی دنیا یاد الٰہی سے آباد، چہرہ ایسا روشن اور اجلا کہ ہزاروں حسن اس پر قربان، اس حالت میں صاحب دل حضرات کا کہنا تھا کہ وہ تیز رفتار لفٹ پر سوار قرب الٰہی کی منزلوں کو بڑی سرعت سے طے کر رہے ہیں۔ رمضان المبارک اللہ رب العزت کا مہمان ماہ مبارک، اس میں ان کی وفات، علماء، طلباء کی جنازہ میں شرکت، جنازہ ایسا جو جنازہ پڑھنے والوں کے لئے بھی باعث مغفرت۔ زہے نصیب! حق تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائیں۔ آمین!
(٥٧)
فیض اللہ ؒ (میر پور خاص)، حضرت مولانا
(وفات: ٢٠؍ مئی ٢٠٠٣ء)
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن اور میر پور خاص کے امیر، مدینہ مسجد کے خطیب، مدینۃ العلوم کے مہتمم حضرت مولانا فیض اللہ صاحب نے حضرت شیخ الاسلام
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
حضرت مولانا سید حسین مدنی ؒ کے شاگرد حضرت مولانا عبدالحق ربانی ؒ اور حضرت مولانا عزیز الرحمن قریشی باندی ؒ سے تعلیم حاصل کی۔ کچھ عرصہ آپ مادر علمی دارالقاسمیہ میر پور میں پڑھاتے رہے۔ ٢٠ سال شاہ ولی اللہ سکول میں ٹیچر رہے۔ ٤٥ سال جامع مسجد مدینہ شاہی بازار میر پور میں خطابت کی۔ ٢٥ سال مدرسہ مدینۃ العلوم میں اہتمام و تدریس کے فرائض سرانجام دیئے۔ اس وقت بھی مدینۃ العلوم میں مقامی و مسافر ٣ سو طلباء زیر تعلیم ہیں۔ موقوف علیہ تک کتب کی تعلیم اور حفظ و ناظرہ کا عمدہ اہتمام ہے۔
زندگی بھر جمعیۃ علماء اسلام اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم سے سیاسی و دینی خدمات سرانجام دیں۔ حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی ؒ ، حضرت مولانا مفتی محمود ؒ ، حضرت مولانا محمد علی جالندھری ؒ ، حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی ؒ ، حضرت مولانا خواجہ خان محمد ؒ ، حضرت مولانا فضل الرحمن مدظلہ سے خصوصی تعلق تھا۔ بارہا میر پور خاص ان اکابر کی میزبانی کا آپ نے شرف حاصل کیا۔
حضرت مولانا فیض اللہ ؒ نے دو شادیاں کیں۔ ٨ بیٹے اور ٨ بیٹیاں قدرت کا عطیہ ہیں۔ تمام اولاد اور دونوں اہلیہ محترمہ زندہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو سلامت با کرامت رکھیں۔ دو بیٹے قاری حمید اللہ اور قاری نجیب اللہ اس وقت شعبہ حفظ میں مدینۃ العلوم کے مدرس ہیں۔ ایک بیٹا جناب سعید اللہ کالج میں پڑھاتے ہیں۔ ایک بیٹا مولانا حفیظ الرحمن اس وقت دورہ حدیث کے طالب علم ہیں۔
آپ نے ان کو جانشین بنا دیا تھا جو جامع مسجد مدینہ میں خطابت اور مدرسہ مدینۃ العلوم میں اہتمام کے فرائض کے ساتھ ساتھ تکمیل تعلیم کے لئے کوشاں ہیں۔ یہ مہتمم بھی ماشاء اللہ ہے۔ مولانا مرحوم کی پیدائش سے قبل والد مرحوم کا انتقال ہو گیا۔ چچا حضرت مولانا قاری اسد اللہ صاحب نے آپ کی پرورش ، تربیت اور تعلیم کا اہتمام کیا اور باپ جیسی محبت چچا نے دی۔ خدمت خلق ، دینی اقدار کے احیاء ، عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ ، قادیانیت کے استیصال اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے آپ کی گرانقدر خدمات تاریخ کا سنہری باب ہیں۔
آپ کی بیماری میں آپ کے بھانجے حبیب نے آپ کی خدمت کا حق ادا کیا۔ وہ آپ کے سفر و حضر کا رفیق تھا۔ آخری دنوں میں وہ بھی بیمار ہو گیا۔ حضرت مرحوم کی بیماری کے باعث کھانا چھوٹ گیا تو حبیب نے بھی کھانا چھوڑ دیا۔ جس دن مولانا کا وصال ہوا اس دن اس عزیز حبیب کا انتقال ہوا۔ دونوں کی ایک ساتھ قبریں بنیں۔ خدمت و تعلق ، یکجہتی کی عجیب مثال
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
قائم ہوئی۔ اگلے دن جمعرات کو بعد از ظہر پولیس گراؤنڈ میں جنازہ ہوا۔ آپ کے جانشین عزیز از جان صاحبزادہ مولانا حفیظ الرحمٰن نے جنازہ پڑھایا۔ علماء، انتظامیہ، معززین شہر، عوام کی بھاری تعداد نے جنازہ میں شرکت کی۔ میر پور کی ہر آنکھ اشکبار تھی۔ مثالی و تاریخی جنازہ ہوا۔ عامتہ المسلمین کے ساتھ عام قبرستان میں تدفین ہوئی۔
(٥٨)
لال حسین ؒ (کراچی)، حضرت حاجی
چکوال کے ایک اعلیٰ آفیسر جو پھر کراچی منتقل ہوگئے اور شپنگ کے شعبہ میں بندرگاہ پر خدمات سرانجام دیں۔ پھر انکم ٹیکس کے اعلیٰ آفیسر مقرر ہوئے۔ امام اہل سنت مولانا قاضی مظہر حسین ؒ سے بیعت کا تعلق تھا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء کے بعد کراچی میں مبلغ مولانا عبدالرحیم اشعر ؒ مقرر ہوئے۔ ایک بیان میں حضرت حاجی لال حسین موجود تھے۔ وہیں سے تعلق قائم ہوا۔ پھر مولانا اشعر ؒ نے حضرت جالندھری ؒ، حضرت قاضی احسان احمد ؒ، حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی ؒ سے ان کا تعارف کرایا تو پھر وہ سراپا مجلس تحفظ ختم نبوت ہوگئے۔ کراچی مجلس کے امیر رہے۔ مرکزی مجلس شوریٰ کے ممبر بھی رہے۔ خوب پڑھے لکھے صاحب صائب الرائے شخص تھے۔ حافظ عزیز الرحمٰن، حاجی لال حسین ایسے حضرات کراچی مجلس کے لئے قدرت کا عطیہ تھے۔
(٥٩)
محمد بنوری ؒ (کراچی) مولانا سید
(وفات: ٢٦؍ مئی ١٩٩٨ء)
شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوری ؒ کے بڑے صاحبزادے جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کے نائب مہتمم، مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی شوریٰ کے رکن، بزرگوں کی اولاد شہزادوں کی زندگی کے خوگر، جمعیۃ علماء اسلام سے گہرا تعلق، خوب انسان تھے۔ حق تعالیٰ بال بال مغفرت فرمائیں۔ آمین!
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
(٦٠)
منظور احمد چنیوٹیؒ، حضرت مولانا
(وفات: ٢٧؍ جون ٢٠٠٤ء)
حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ چنیوٹ کی راجپوت برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کا خاندان چنیوٹ کی مشہور زمانہ صنعت ’’چوب سازی‘‘ سے وابستہ تھا۔ آپ ٣١؍ دسمبر ١٩٣١ء کو پیدا ہوئے۔ اسلامیہ ہائی سکول چنیوٹ سے چھٹی جماعت تک تعلیم حاصل کی۔ قاری گلزار احمدؒ اور حضرت مولانا دوست محمد ساقیؒ سے دینی تعلیم حاصل کی۔ اس زمانہ میں دن کو لکڑ سازی کے کام میں مشغول رہتے۔ شام کو دینی کتب کی تعلیم حاصل کرتے۔ قیام پاکستان کے کچھ سال بعد حالات سازگار ہونے پر جامعہ خیر المدارس ملتان میں داخلہ لیا۔ جامع المعقول والمنقول حضرت مولانا عبدالرحمٰن کامل پوریؒ کے دارالعلوم ٹنڈوالہ یار چلے جانے کے باعث پوری جماعت کے ساتھیوں سمیت ٹنڈوالہ یار چلے گئے۔ قیام پاکستان کے بعد ٹنڈوالہ یار کو دارالعلوم دیوبند ثانی کہا جاتا تھا۔ وہاں حضرت مولانا بدر عالم میرٹھیؒ، حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ ایسے نابغہ روزگار حضرات سے آپ نے دورہ حدیث شریف کی تعلیم حاصل کی۔ جامعہ خیر المدارس کے مفتی پیر طریقت حضرت مولانا مفتی عبدالستار صاحبؒ آپ کے ساتھیوں میں تھے۔ یہ ١٩٥١ء کی بات ہے۔ اسی سال دورہ حدیث شریف سے فارغ ہوتے ہی ملتان میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دارالمبلغین میں استاذ محترم فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیاتؒ سے آپ نے رد قادیانیت کا کورس کیا۔ قیام ملتان کے دوران آپ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ، حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کی صحبتوں سے فیضیاب ہوتے رہے۔ چنانچہ حضرت مولانا سید بدر عالم میرٹھیؒ، حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ اور فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیاتؒ ان تینوں اساتذہ پر آپ زندگی بھر دل و جان سے فدا رہے۔ ویسے تو تمام اساتذہ سے آپ کا ادب واحترام کا رشتہ تھا۔ لیکن ان تین متذکرہ حضرات کے آپ شیدائی تھے۔ چنانچہ حضرت مولانا محمد حیاتؒ فاتح قادیان بھی اپنے دیگر نامور شاگرد حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ، حضرت مولانا محمد لقمان علی پوریؒ، حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ کی
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
طرح حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی ؒ کے بہت قدردان تھے۔ ١٩٥٢ء میں آپ نے مدرسہ دارالہدیٰ چوکیرہ میں تدریس شروع کی۔ فراغت کو دو سال اور تدریس کو ایک سال بھی مکمل نہ گزرا تھا کہ مشہور زمانہ تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء چلی۔ اکتوبر ١٩٩١ء میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے شعبہ نشر واشاعت نے ”تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء“ کے نام سے سوا نو سو صفحے کی کتاب شائع کی۔ اس کتاب کی ترتیب کے وقت حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی ؒ سے ایک انٹرویو لیا تھا جو پیشِ خدمت ہے:
حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی ؒ فرماتے ہیں کہ: ”میں تازہ دورہ حدیث سے فارغ ہوا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دارالمبلغین میں فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیات ؒ سے ردقادیانیت کا کورس کیا اور سرگودھا کے علاقہ چوکیرہ کے مدرسہ میں ابتدائی مدرس لگ گیا۔ تحریک چل نکلی تو رفقاء کو لے کر سرگودھا آیا۔ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع سرگودھوی ؒ اور دوسرے حضرات گرفتار ہو چکے تھے۔ سرگودھا کے دیہات میں لوگوں کو تیار کرنے کا پروگرام میرے ذمہ لگا۔ دورہ کر کے واپس چنیوٹ آیا۔ جامعہ محمدی سے مولانا محمد ذاکر ؒ کے شاگردوں کی جماعت کے ساتھ چنیوٹ ریلوے اسٹیشن سے جلوس کے ہمراہ گرفتار ہوا۔ ان دنوں چنیوٹ میں سوائے معدودے چند کے مجھے کوئی نہ جانتا تھا۔ مجھے بھی جامعہ محمدی کا ایک مولوی سمجھا گیا۔ جیل میں چند ماہ گرفتار رہ کر رفقاء سمیت رہائی ہوئی۔“
(تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء ص ٨٧٥)
تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء سے رہائی کے بعد چوکیرہ میں حسبِ سابق کچھ عرصہ پڑھایا۔ ١٩٥٤ء میں چنیوٹ جامعہ عربیہ میں تشریف لائے۔ ردقادیانیت کے خلاف کام کرنے کی فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیات ؒ نے جو جوت جگائی تھی اس نے کام دکھایا۔ اس زمانہ میں چنیوٹ دریائے چناب کے اس پار چناب نگر (سابقہ ربوہ) میں مرزا محمود کا کفر عروج پر تھا۔ جامعہ عربیہ چنیوٹ کے طلباء چناب نگر جامعہ احمدیہ کے طلباء سے گفتگو کے لئے جاتے۔ واپسی پر مولانا چنیوٹی ؒ کو رپورٹ سناتے۔ آپ انہیں قادیانیوں کو چاروں شانے چت کرنے کے مزید گر سکھلا کر اگلے دن بھیج دیتے۔ اس زمانہ میں اس چھیڑ خانی سے ردقادیانیت میں آپ کو مناظرانہ رسوخ حاصل ہوا۔ اس دور میں قرب و جوار کے علاقہ میں جمعرات و جمعہ کو آپ کے بیانات کا سلسلہ چل نکلا۔ ابتداء میں قادیانیوں کے خلاف آپ نے رسائل لکھے۔ جو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت چنیوٹ نے شائع کئے۔ جن میں ”انگریزی نبی“ نامی پمفلٹ خصوصیت سے قابل
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کرم کا معاملہ فرمایا۔ حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ کا اخلاص و محنت رنگ لائے۔ آپ کے ملک بھر میں تبلیغی دورے ہونے لگے۔ جوش جوانی میں آپ بے تکان گھنٹوں قادیانیت کے لتے لیتے۔
اس زمانہ میں قادیانی خلیفہ مرزا محمود کو مباہلہ کا چیلنج دیا۔ مرزا محمود کے حواریوں نے مناظرانہ نکتہ پیدا کیا کہ خلیفہ قادیان کے مقابلہ میں آپ کی کوئی حیثیت نہیں۔ آپ نے مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ، جمعیۃ علمائے اسلام پاکستان کے ناظم اعلیٰ حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ، تنظیم اہل سنت پاکستان کے سربراہ حضرت مولانا دوست محمد قریشیؒ، اشاعت التوحید کے سربراہ شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خانؒ چار جماعتوں سے اسناد نمائندگی لے کر مرزا محمود کے حواریوں کے اس نکتہ کو ہبا منثورا کر دیا۔ مرزا محمود کو اس کے ابا کے فرشتہ ٹچی ٹچی نے چپ کا روزہ رکھنے کا پابند کر دیا۔ مولانا چنیوٹیؒ نے اشتہار شائع کر کے تاریخ مقرر کر دی۔ مرزا محمود نے پولیس کے دروازہ پر ناک رکھ دی۔ پولیس کی طرف سے اشارہ پا کر کہ: ”مولانا کو میدان میں نہیں آنے دیں گے۔“ مرزا محمود مطمئن ہو گیا۔ پنجاب پولیس (جو پاؤں کی مٹی کی بو سونگھ کر مراد کو پا لیتی ہے) کو مولانا چنیوٹیؒ جل دینے میں کامیاب ہو گئے اور مقررہ تاریخ کو میدان مباہلہ میں جا دھمکے۔ مرزائیت کے اوسان خطا ہو گئے۔ مولانا چنیوٹیؒ فاتح ربوہ ہو گئے۔ مرزا ناصر، مرزا طاہر اور مرزا مسرور کو ہمیشہ باری باری قادیانی خلیفہ بننے پر مولانا چنیوٹیؒ مباہلہ کے لئے چیلنج دیتے رہے۔ لیکن کسی قادیانی کو مرد میدان بننے کی جرات نہ ہوئی۔ تاہم اتنا ہوا کہ قادیانی جماعت کے دل و دماغ پر مولانا چنیوٹیؒ کی عبقری شخصیت کا بھوت سوار ہو گیا۔ ہر قادیانی باون گزا ہوتا ہے۔ لیکن مولانا کے سامنے وہ بونے نظر آنے لگے۔
حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ کو میدان سیاست میں اترنے کا شوق چرایا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے کارکنوں و عہدیداران کے لئے سیاسی سرگرمیوں کی دستوری پابندی ہے۔ اس لئے مجلس تحفظ ختم نبوت میں نہ کھپ سکے۔ جمعیۃ علمائے اسلام میں چلے گئے۔ اس کے پلیٹ فارم سے دن رات ایک کر کے قادیانیت کو چرکے لگائے۔ تنظیم اہل سنت، مجاہدین احرار، جمعیۃ علمائے اسلام کے س گروپ پھر متحدہ مجلس عمل میں بادہ پیمائی کی۔ اشاعت التوحید کے سٹیج سے صدائے حق بلند کی۔ مقدر کے دھنی تھے۔ جہاں گئے کامیاب رہے۔ چنیوٹ سے الیکشن میں حصہ لیا۔ تین بار صوبائی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔ چنیوٹ کی چیئرمینی پر براجمان ہوئے۔ اس میدان
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
کو کامیاب سیاست دان کی طرح فتح کیا۔
حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی ؒ نے کئی مختلف کتب ورسائل قادیانیت کے خلاف لکھے۔ فقیر راقم الحروف نے ایک ملاقات میں مولانا لال حسین اختر ؒ کے رسائل ’’احتساب قادیانیت‘‘ کے نام سے اور حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی ؒ شہید اسلام کے رد قادیانیت پر رسائل ’’تحفہ قادیانیت‘‘ کے نام سے جمع کرنے کے کام کا تذکرہ کر کے درخواست کی کہ آپ اپنے رسائل کو بھی یکجا کر دیں۔ کرم کیا۔ فقیر کی تجویز سے نہ صرف اتفاق کیا بلکہ عمل کیا کہ ’’چودہ میزائل‘‘ کے نام سے چودہ رسائل کتابی شکل میں جمع ہو گئے۔
حضرت چنیوٹی ؒ نے ابتداء میں معین مناظر کے طور پر مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اختر ؒ کے ساتھ قادیانیوں کے خلاف مناظرہ لڑا اور علامہ خالد محمود دامت برکاتہم کے ساتھ معین مناظر کے طور پر افریقہ میں خدمات سرانجام دیں۔ خود بھی کامیاب مناظر تھے۔ اندرون وبیرون ملک کئی مناظروں میں قادیانیوں کو ناکوں چنے چبوائے۔ اس طرح اندرون وبیرون ملک ہزاروں علماء کو رد قادیانیت کے موضوع پر تیاری کرائی۔ پوری دنیا میں رد قادیانیت پر آپ کی خدمات کا ایک زمانہ معترف ہے۔ ان کی للکار حق سے قادیانیت کے بت پر لرزہ طاری ہوجاتا تھا۔
فقیر راقم الحروف سے ان کا محبت وشفقت کا معاملہ تھا۔ بارہا جماعتی امور پر چشمک ہوئی، تلخیاں پیدا ہوئیں اور خوب ہوئیں۔ لیکن اس کے بعد پہلی ملاقات میں دونوں طرف سے صورت حال کی وضاحت کے بعد دل صاف ہو جاتے۔ الحمد للہ ! کبھی تنفر ومعاندانہ معاملہ نہیں ہوا۔ مجھے خوب یاد ہے کہ آج سے لگ بھگ پندرہ سال قبل مریدکے کے قریب ایک ایکسیڈنٹ میں آپ زخمی ہو گئے۔ اس دن عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے حضرت امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد ؒ کی زیرصدارت ختم نبوت کانفرنس روڈہ ضلع خوشاب میں جمعہ کے بعد فقیر کا عصر تک بیان ہوا۔ دعا کے بعد ہی نماز عصر کا نیا وضو بنانے کے لئے فقیر کھڑا تھا۔ ایک دوست نے آکر بتایا کہ مولانا چنیوٹی ؒ حادثہ کا شکار ہو گئے۔ یہ سنتے ہی فقیر زمین پر بیٹھ گیا۔ حالت دگرگوں ہوگئی۔ اس نے تسلی دی کہ جان بچ گئی۔ وہ لاہور کے ہسپتال میں داخل ہیں۔ اس دن احساس ہوا کہ میرے دل میں حضرت مولانا مرحوم کی کتنی محبت ڈیرہ ڈالے ہوئے ہے۔ چند دن بعد ملاقات کے لئے لاہور ہسپتال گیا۔ میو ہسپتال کے جس کمرہ میں مولانا چنیوٹی علاج کے لئے داخل تھے باہر ’’پیر طریقت مولانا چنیوٹی‘‘ کا بورڈ لگا ہوا دیکھا۔ معلوم ہوا کہ ابھی شیخ الاسلام حضرت مولانا
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
محمد عبداللہ درخواستیؒ سے ملاقات کے لئے تشریف لائے تھے اور خلافت سے سرفراز فرما گئے۔ مریدوں نے اپنا بورڈ باہر دروازہ پر خوشخط پیر طریقت لکھوا دیا۔ حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ سے ملاقات ہوئی۔ بستر پر دراز تھے۔ دونوں باہوں سے گرفت میں لے کر سینہ سے لگایا اور بے ساختہ فرمایا کہ اتنے دنوں سے ملک بھر کے دوست آئے۔ میں آپ کی راہیں دیکھ رہا تھا۔ آپ میرے مشن کے ساتھی ہیں اور پھر بہت دیر تک سینے سے لگائے محبت و شفقت، تعریف و توصیف سے حوصلہ افزائی فرماتے رہے۔ جسے نقل کرنے سے بھی مجھے شرم آتی ہے۔ ان کی یہ محبت دیکھ کر فقیر نے بتایا کہ آپ کے حادثہ کی خبر سن کر میں بھی دل گرفتہ ہو کر زمین سے لگ گیا تھا۔ اس پر مسکرائے اور فرمایا کہ:
حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ خوبیوں کا مجموعہ تھے۔ لیکن ذاتی طور پر میرے ساتھ جو بیتی ہے وہ یہ کہ:
- الف....... مولانا صاف دل آدمی تھے۔ کینہ پرور نہ تھے۔
- ب....... مسئلہ ختم نبوت کی خدمت پر دل و جان سے شیدائی تھے۔ قادیانیت کے استیصال کے
کام کو عبادت سمجھتے تھے۔ ١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت کے پورے دور میں آپ بیرون ملک عرب ممالک میں کام کرتے رہے۔ تحریک چلی۔ کامیاب ہوئی۔ اس کے بعد لوٹے اور اپنے مشن میں کامیاب لوٹے۔ ١٩٨٤ء کی تحریک ختم نبوت میں آپ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے رکن رکین تھے۔ حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ کے احترام میں کسی سے کم نہ تھے۔ ابھی ”رد قادیانیت کے زریں اصول“ نامی ضخیم کتاب شائع کی تو اس کی دیگر اکابر کے علاوہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ، حضرت شہید اسلام مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ سے تقریظ لکھوائی۔ مناظر اسلام حضرت مولانا علامہ خالد محمود اور حضرت مولانا زاہد الراشدی سے آپ کی محبت یارانہ سے بڑھ کر برادرانہ ہوگئی تھی۔ حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ کا وجود اس دور میں غنیمت تھا۔ فقیر نے ”آئینہ قادیانیت“ نامی کتاب پر تقریظ کے لئے عرض کیا۔ دو صفحات کی شاندار تقریظ لکھی۔ اپنی تعریف دیکھ کر مارے شرم کے فقیر شائع کرنے کی جرأت نہ کر پایا۔ وہ محفوظ ہے۔ تاریخ کا حصہ ہے۔ فقیر نے احتساب قادیانیت کی چوتھی جلد میں حضرت مولانا بدر عالم میرٹھیؒ کے رسائل
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
کو جمع کیا۔ حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی ؒ چونکہ حضرت مولانا بدر عالم میرٹھی ؒ کے شاگرد رشید تھے۔ ان رسائل کو دیکھا تو باغ باغ ہو گئے۔ ملاقات پر فرمایا کہ مکہ مکرمہ، مدینہ طیبہ، حجاز مقدس میں علماء کے سامنے آپ کی اس خدمت کے میں نے قصیدے پڑھے ہیں۔ بہت ہی قدرومنزلت سے اس کام کو دیکھا۔ پھر ”شان ختم نبوت“ کے نام سے حضرت مولانا بدر عالم میرٹھی ؒ نے اس کتاب سے ایک رسالہ کو خود شائع کرایا تو اس کے مقدمہ میں فقیر کے لئے اتنے خیر کے کلمات کہے۔ پڑھنے سے میرا سر جھک گیا۔ یہاں نقل کرنے کی جسارت نہیں کرسکتا۔
- ج...... حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی ؒ کے ساتھ ایک بار ایک جہاز میں لندن کے سفر
کرنے کا اتفاق ہوا۔ فقیر کراچی سے اور مولانا چنیوٹی اسلام آباد سے آئے۔ جدہ ایئر پورٹ پر اکٹھے ہو گئے۔ فقیر کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ آپ اس وقت بھی کتاب ہاتھ میں لئے مطالعہ میں مصروف رہے۔ ضروری گفتگو کے بعد مصروف مطالعہ ہو جاتے۔ کوئی جدید نکتہ آ جاتا تو پھڑک اٹھتے۔ اس دن ان کے کتاب سے رشتہ کے اہتمام کا اندازہ کر کے خوشی ہوئی کہ ابھی ایسے لوگ موجود ہیں جو اس عمر میں بھی مطالعہ کے خوگر ہیں۔ حضرت چنیوٹی ؒ اس سفر میں قادیانی گروہ کے بعض اعتراضات کے جواب پوچھتے رہے۔ ان کا مقصود میرا امتحان نہ تھا۔ بلکہ کوئی جدید بات سنتے تو سر دھنتے اور اگر جواب میں کوئی جھول دیکھتے تو تصحیح فرما کر مجھے حوصلہ دیتے۔
- د...... عمر بھر کام، کام اور صرف کام کرتے رہے۔ محنت و کوشش یعنی جہد مسلسل سے ان کی
زندگی عبارت تھی۔ جس کام کو شروع کرتے اسے نتیجہ پر پہنچا کر دم لیتے تھے۔
- ھ...... گفتگو بڑی مربوط کرتے تھے۔ کوئی چیز بیان کرتے۔ اس کی تمام تر جزئیات گفتگو میں
سمیٹ دیتے تھے۔
آج سے کچھ عرصہ پہلے اخبار میں پڑھا کہ بیمار ہیں۔ ملاقات کے لئے پر تولے۔ اتنے میں ان کے ادارہ کے استاذ مولانا مشتاق احمد چنیوٹی ملتان آئے۔ تفصیلات معلوم ہوئیں تو تسلی ہوئی۔ لاہور جانا ہوا۔ حضرت مولانا محب النبی صاحب کے جامعہ میں ختم نبوت کانفرنس میں بیان ختم کر کے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے۔ کسی دوست نے رقعہ تھما دیا کہ حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی ؒ شریف کمپلیکس رائے ونڈ میں زیر علاج ہیں۔ دعا کر دیں۔ دعا ہوئی۔ اگلے دن صبح کی نماز کے بعد اپنے شیخ و مرشد حضرت اقدس مولانا سید نفیس الحسینی ؒ کی زیارت و شرف حصول
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
دعا کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے جواں سال فاضل مبلغ و عالم دین مولانا عزیز الرحمن ثانی کے ہمراہ رائے ونڈ مولانا چنیوٹی کی ملاقات کے لئے حاضر ہوا۔ ہمیشہ کی طرح آپ کے چھوٹے صاحبزادہ مولانا بدر عالم چنیوٹی خدمت پر مامور تھے۔ کمرہ میں حاضری ہوئی۔ مولانا چنیوٹی نیم خوابیدہ تھے۔ بدر عالم نے میرے روکنے کے باوجود نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ مولانا چنیوٹی کو جگادیا۔ نام سن کر مولانا اٹھ بیٹھے۔ گلے سے لگایا۔ بیماری کی تفصیلات بلکہ جزئیات تک کو ترتیب سے سنایا۔ فرمایا کہ مولانا محمد الیاس چنیوٹی (مولانا چنیوٹی کے بڑے صاحبزادے) حجاز مقدس گئے۔ رابطہ کے حضرات سے ملے۔ ان کی بیماری کی تفصیلات بتائیں۔ انہوں نے کاغذات تیار کر کے سعودیہ کے وزیر صحت کو بھجوائیں۔ لیکن مولانا محمد الیاس چنیوٹی ان تک پہنچ نہ پائے۔ وہ میاں محمد شریف ومیاں محمد نواز شریف صاحب سے جدہ میں ملے۔ حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی ؒ کی بیماری کی بابت بتایا۔ انہوں نے رائے ونڈ اپنے ہسپتال میں علاج کے لئے ہدایات جاری کیں۔ حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی ؒ یہاں علاج کے لئے تشریف لائے۔ پھر علاج کی تفصیلات بیان کیں۔ حسب عادت فقیر ان سے دل کی باتیں کرتا رہا۔ مسکراتے رہے۔ مولانا بدر عالم نے بتایا کہ اتنے دنوں کے بعد مولانا آج صرف آپ کی باتیں سن کر مسکرائے ہیں۔ پھر قادیانی اوقاف، شناختی کارڈ پر مشاورت جاری رہی۔ اس دوران احتساب قادیانیت کی تیرہویں جلد کے شائع ہونے کی خوشخبری فقیر نے سنائی۔ سنتے ہی آناً فاناً دونوں ہاتھوں سے میرے چہرے کو گرفت میں لیا اور پیشانی پر زناٹے دار بوسہ دیا۔ آنسو بھر لائے اور فرمایا کہ آپ نے اکابر امت کے کام کو زندہ جاوید کر دیا ہے۔ ان کی شفقتوں سے مالا مال ہوا۔ اجازت مانگی۔ اسی دن اسلام آباد کانفرنس میں شریک ہونا تھا۔ دوسری ملاقات کا طے ہوا کہ واپسی پر رپورٹ پیش کروں گا۔ اجازت ملی۔ طبیعت مطمئن تھی کہ الحمد للہ! علاج سے افاقہ ہے۔ وزن بڑھ رہا ہے۔ بھوک لگ رہی ہے۔ شوگر کنٹرول میں ہے۔ اللہ کا شکر کر کے باہر آئے۔ چند دن بعد چناب نگر مدرسہ ختم نبوت کی تعمیر کے لئے حاضر ہوا۔
٢٧؍ جون ٢٠٠٤ء، مطابق ٨؍ جمادی الاول ١٤٢٥ھ پونے بارہ بجے کے قریب فون کی گھنٹی بجی۔ ریسیور اٹھایا۔ اطلاع ملی کہ حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی ؒ اللہ کو پیارے ہو گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون! دل کو یقین نہ آیا۔ خبر صحیح ماننے کے لئے طبیعت آمادہ نہ تھی۔ ادھر ادھر فون کئے۔ بالآخر مولانا عبد الوارث چنیوٹی مدظلہ اور مولانا مرحوم کے گھر سے تصدیق ہوگئی۔ سوائے صبر کے اب چارہ نہ تھا۔ معلوم ہوا کہ گیارہ بج کر دس منٹ پر ان کا وصال
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
ہوا۔ پہلا جنازہ لاہور اور دوسرا چنیوٹ ہوگا۔ اور یہ کہ مولانا نے وصیت کی تھی کہ لاہور کا جنازہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر مرکزیہ حضرت سید نفیس الحسینی شاہ ؒ پڑھائیں اور چنیوٹ کا جنازہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر شیخ المشائخ خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد ؒ پڑھائیں۔ دفتر مرکزیہ فون کر کے حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ کو خبر دی۔ آپ نے لاہور، سرگودھا، اسلام آباد میں فون کرنے کی ڈیوٹی لگائی۔ لاہور میں حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، حضرت مولانا عزیز الرحمن ثانی اور قاری حفیظ اللہ اور دوسرے دوست بھاگم بھاگ جامعہ اشرفیہ پہنچے۔ تجہیز و تکفین میں شرکت کی سعادت حاصل کی۔ خانقاہ سراجیہ میں حضرت قبلہ ؒ کی تکلیف کے باعث ڈاکٹروں نے سفر کی اجازت نہ دی۔ البتہ آپ نے اپنے صاحبزادگان اور خانقاہ کے دوسرے احباب کا بھر پور وفد جنازہ میں شرکت کے لئے روانہ فرمایا۔ ٢٧؍جون کو ہی شام پانچ بجے جامعہ اشرفیہ کے جم غفیر نے حضرت سید نفیس الحسینی ؒ کی امامت میں نماز جنازہ پڑھنے کی سعادت حاصل کی۔ ٢٨؍جون کو تقریباً نو بجے صبح اسلامیہ کالج کے پارک میں چنیوٹ کی تاریخ کا مثالی جنازہ ہوا۔ ملک کے طول و عرض سے اسلامیان پاکستان سے جن میں اکثریت علماء اور طلباء کی تھی جنازہ میں شرکت کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ کی قیادت میں حضرت صاحبزادہ طارق محمود ؒ ، مولانا غلام مصطفیٰ اور مدرسہ ختم نبوت چناب نگر کے اساتذہ اور طالبعلموں اور نمازیوں نے مجلس کی نمائندگی کی۔ ملک بھر کے علماء سے مل کر آنسو بہاتے اور تعزیتیں وصول کرتے رہے۔ رہے نام اللہ کا۔ عاش سعیداً ومات سعیداً !
حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی ؒ سے یادوں کی مختصر رام کہانی برجستہ لکھ دی ہے۔ حضرت چنیوٹی ؒ آپ چلے گئے۔ ہم آج نہیں تو کل آ رہے ہیں۔ آپ کے ساتھ جو وقت بیتا۔ وہ لوگوں کو سنا دیا۔ آپ کے بعد جو بیتے گی وہ آ کر عالم ارواح میں آپ کو سنائیں گے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ابدی راحتیں نصیب کرے۔ آپ کی محنتوں کو اپنی رحمتوں کے صدقہ میں قبول فرمائے۔ آپ کے درجات بلند فرمائے۔ اللہ تعالیٰ بقیہ زندگی میں ہمیں بھی اپنی مرضیات پر عمل کی توفیق عطا فرمائیں۔ ٹوٹی پھوٹی جو بھی بس میں ہے ختم نبوت کی خدمت اس سے محروم نہ فرمائے اور خاتمہ ایمان پر فرمائے۔ مولانا چنیوٹی کی رد قادیانیت پر گرانقدر خدمات سے زمانہ واقف ہے۔ رد قادیانیت کے ”زریں اصول“ اور ”چودہ میزائل“ آپ کے افادات ہیں جو مسلسل ان کا ادارہ شائع کر رہا ہے۔ آپ نے ایک فتویٰ ”حیات عیسیٰ علیہ السلام“ مرتب کر کے ملکوں ملکوں پھر کر اس
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگارنگ
پر دستخط کرائے جو ”فتاویٰ ختم نبوت“ کی تیسری جلد میں شامل ہے۔ آپ حضرت شیخ بنوریؒ کے عہد امارت میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی شوریٰ کے رکن رہے۔
(٦١)
منیر الدینؒ، مولانا
(وفات: ١٨؍ اپریل ٢٠٠١ء)
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان کے امیر جامع مسجد سنہری کوئٹہ کے خطیب بزرگ عالم دین حضرت مولانا منیر الدین مرحوم بہت ہی زیرک، معاملہ فہم، نیک عالم دین تھے۔ مظاہر العلوم سہارنپور سے آپ نے دورہ حدیث شریف کیا۔ پچاس سال سے زائد عرصہ تک جامع مسجد سنہری کوئٹہ کے خطیب رہے۔ جمعیۃ علماء اسلام اور دیگر دینی جماعتوں کی ہمیشہ سرپرستی فرمائی۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان کے امیر اور مرکزی مجلس شوریٰ کے ممبر تھے۔ اللہ رب العزت نے آپ کی ذات سے دین کی مثالی خدمات لیں۔ اکابر علماء کرام کی صحبت نے آپ کو نکھار دیا۔ اکابر کی روایات کے امین تھے۔ علماء حق کی نشانی تھے۔ ہمیشہ کلمہ حق کہا۔ اس کے لئے بڑے بڑے فرعونوں کو خاطر میں نہ لاتے۔ یہ بہادری و جرأت آپ نے اپنے اکابر سے ورثہ میں پائی تھی۔ آپ کی وفات کا سانحہ مجلس تحفظ ختم نبوت کے لئے ناقابل تلافی نقصان ہے۔ مرکزی مجلس شوریٰ میں چشم پرنم سے قرارداد تعزیت منظور ہوئی۔ حضرت امیر مرکزیہؒ نے دعائے مغفرت کرائی۔
اگلے روز مرکزی ناظم اعلیٰ پوری مجلس کی طرف سے تعزیت کے لئے کوئٹہ تشریف لے گئے۔ حضرت مولانا مرحوم کے صاحبزادے قاری محمد عبداللہ صاحب ہم سب کی طرف سے تعزیت کے مستحق ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ رب العزت حضرت مولانا منیر الدینؒ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائیں۔ آمین بحرمۃ النبی الکریم!
حضرت مولانا مرحوم کے صاحبزادہ حضرت مولانا قاری محمد عبداللہ صاحب ایک متبحر عالم دین، صوفی منش بزرگ رہنما ہیں۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے محبوبیت کا مقام نصیب فرمایا ہے۔ بلوچستان کے دینی حلقہ میں آپ کی رائے کو بڑے احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اللہ رب العزت مزید برکتوں سے سرفراز فرمائیں۔ آمین!
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
(٦٢)
نذیر حسینؒ (پنوعاقل) ، مولانا
(پیدائش: ١٩٢٠ء ...... وفات: ١٦؍جنوری ١٩٨٧ء)
حضرت مولانا نذیر حسین بن مولانا نور محمدؒ تحصیل پنوعاقل ضلع سکھر (سندھ) کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ آپ نے اپنے والد سے تعلیم حاصل کی۔ آپ کے والد مرحوم بھی دارالعلوم دیوبند کے فاضل اور حضرت انور شاہ صاحب کشمیریؒ کے شاگرد تھے۔ مولانا نذیر حسین مرحوم سادگی پسند، نیک سیرت، اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے۔ آپ ذریعہ معاش کے لئے ہائی سکول پنوعاقل میں بطور عربی ٹیچر کے مقرر ہوئے۔ ابتداء میں آپ نے تبلیغی جماعت کے ساتھ کام شروع کیا لیکن جلد ہی اپنے استاد محترم شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کی جماعت جمعیۃ علماء ہند میں کام کرنا شروع کیا۔ لیکن حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی جادو نظر نے ایسا اثر پیدا کیا کہ آپ نے جماعت احرار میں شمولیت اختیار کی۔ جب مجلس احرار کے قائدین نے مجلس تحفظ ختم نبوت قائم کی تو آپ نے پوری زندگی مجلس تحفظ ختم نبوت کے لئے وقف کر دی۔ آپ نے تحفظ ختم نبوت کے محاذ کے لئے دن رات، سردی گرمی، طوفان بارش، بھوک پیاس میں اپنے محاذ پر کام کرتے رہے۔ کئی بار مرزائیوں سے مناظرے، مباحثے کئے۔ جن میں اللہ پاک نے مولانا مرحوم کو کامیاب و سرفراز فرمایا۔ آپ اپنے سکول میں ہونہار طلبہ کو اسی کام کے لئے تیار کرتے رہے۔ جب ١٩٥٣ء میں تحریک ختم نبوت چلی تو آپ نے سکھر سنٹرل جیل میں چھ ماہ قید رہے۔ اسی وجہ سے آپ کو ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑا۔
حضرت مولانا کو ملازمت سے معطل کیا گیا۔ لیکن مخلص احباب کی جدوجہد اور اصرار پر آپ دوبارہ ملازمت پر بحال ہوئے۔ پنوعاقل میں جو مجلس تحفظ ختم نبوت کا کام ہے وہ مولانا مرحوم کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ آپ مدت دراز تک مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی شوریٰ کے رکن رہے۔ آپ ١٩٨٠ء میں عربی ٹیچر کے عہدے سے ریٹائرڈ ہو گئے۔ پوری زندگی جو پونجی ریٹائرمنٹ کے بعد ملی، اس سے آپ نے مدرسہ نور القرآن کے نام سے ایک دینی مدرسہ قائم کیا جو آپ کے پوتے مولانا اظہر الحسینی احسن طریقہ سے چلا رہے ہیں۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
(٦٣)
حضرت مولانا مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ
(شہادت: ٣٠؍مئی ٢٠٠٤ء)
مخدوم العلماء والصلحاء، بزرگ عالم دین، فاضل اجل، مجاہد فی سبیل اللہ، جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کے شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی نظام الدین شامزئی ١٢؍جولائی ١٩٥٢ء کو گاؤں فاضل بیگ کھڑی، سخرہ، تحصیل مٹہ، علاقہ شامزئی، سوات میں جناب حبیب الرحمٰن شامزئی کے گھر پیدا ہوئے۔ مینگورہ سوات کے مدرسہ مظہر العلوم میں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ دورۂ حدیث کی تکمیل جامعہ فاروقیہ کراچی میں شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان کے پاس کی۔ اپنی مادر علمی جامعہ فاروقیہ میں بیس سال تک تدریسی خدمات سرانجام دیں۔ جامعہ فاروقیہ میں ہی دارالافتاء کی مسند کے صدر نشین رہے۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ کے جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے معمار ثانی، یادگار اسلاف حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰنؒ کی مردم شناسی نے کام کیا۔ مفتی نظام الدین شامزئی جامعہ فاروقیہ کراچی سے ١٩٨٨ء کو جامعۃ العلوم الاسلامیہ میں استاذ حدیث کے طور پر تشریف لائے۔ قدرت حق نے کرم کیا۔ آپ کی علمی مخلصانہ خدمات کو شرف قبولیت سے نوازا۔ آپ کے تبحر علمی کے جوہر کھلے۔ ١٩٩٨ء میں انور شاہ زمانہ، شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوریؒ کی مسند حدیث کے وارث قرار پائے۔ اس وقت سے شہادت تک آپ جامعۃ العلوم الاسلامیہ کے شیخ الحدیث رہے۔ جبکہ شعبہ تخصص فی الفقہ کے بھی آپ سربراہ تھے۔
قدرت حق نے آپ کو خوبیوں کا مرقع بنایا تھا۔ بے حد محنتی عالم دین تھے۔ جذبہ صادق کے ساتھ دین کی خدمت و صیانت کے لئے آپ زندگی بھر کوشاں رہے۔ برطانیہ، جرمنی، جنوبی افریقہ، زیمبیا، زمبابوے میں تبلیغ اسلام کے لئے آپ کے متعدد اسفار ہوئے۔ اندرون ملک کی اکثر جامعات میں ختم بخاری کے اجتماعات میں آپ شرکت کرتے۔ وطن عزیز کے علمائے کرام کی نامور نمائندہ جماعت جمعیۃ علمائے اسلام کی شوریٰ کے آپ رکن رہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم سے آپ نے عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
لئے گرانقدر اور مثالی خدمات سرانجام دیں۔ اس جماعت کی مرکزی مجلس شوریٰ کے آپ رکن رکین تھے۔ حضرت مولانا خواجہ خان محمد ؒ کی آنکھوں کے آپ تارا تھے۔ پیر طریقت حضرت مولانا سید نفیس الحسینی ؒ کا آپ کو اعتماد حاصل تھا۔ جب سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی شوریٰ کے رکن مقرر ہوئے۔ کسی ایک اجلاس میں شرکت سے ناغہ نہیں ہوا۔ اسلام آباد، چناب نگر، ایبٹ آباد، ملتان، ٹنڈوآدم، میرپور خاص کی ختم نبوت کانفرنسوں میں آپ کا بڑے اہتمام کے ساتھ بیان ہوتا تھا۔ یکم صفر ١٤٢٥ھ کو ملتان میں مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں شرکت فرمائی۔ اس روز بعد نماز عشاء ملتان کی ختم نبوت کانفرنس میں رات کے اجلاس میں حضرت امیر مرکزیہ کی آمد تک آپ نے حضرت کی نیابت میں کانفرنس کی صدارت فرمائی۔ اگلے روز جمعہ سے قبل آپ کا ایمان افروز، معلومات سے بھرپور، مجاہدانہ علمی بیان ہوا۔ مسجد کے محراب سے لے کر دفتر کے صحن کے آخری کونہ تک ہزاروں بندگان خدا کے اجتماع عظیم میں آپ کا بیان سن کر ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے علم وفضل کا سمندر موجزن ہو۔
اسی اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ حضرت امیر مرکزیہ (مولانا خواجہ خان محمد ؒ) اور حضرت نائب امیر (مولانا سید نفیس الحسینی ؒ) اپنے بڑھاپے کے باعث ملک کے طول وعرض میں ہونے والی ختم نبوت کانفرنسوں میں شریک نہیں ہو سکتے۔ ان اکابر کی نمائندگی اور جانشینی کے لئے پورے اجلاس کی نظر آپ کی ذات گرامی پر پڑی اور آپ نے بڑی خندہ پیشانی سے ختم نبوت کانفرنسوں میں اپنے اکابر کی نمائندگی کا وعدہ کیا۔ بلامبالغہ حضرت مولانا مفتی نظام الدین شامزئی ؒ اس وقت قافلہ حق کے سالار کارواں تھے۔ قدرت نے آپ کو ہر دلعزیزی کی نعمت سے وافر حصہ دیا تھا۔ آپ نے سندھ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کیا۔ دینی ودنیوی علوم کے آپ شناور تھے۔ عالمی حالات پر آپ کی نظر تھی۔ بہت صائب الرائے تھے۔ امت مسلمہ کو درپیش چیلنجوں اور نت نئے مسائل کا آپ گہرائی سے مطالعہ کرتے اور پھر پریس کے ذریعہ پورے عالم کے مسلمانوں کی آپ رہنمائی کا فریضہ سرانجام دیتے۔ آپ کی رائے اور رہنمائی کو حرف آخر کا درجہ حاصل ہوتا تھا۔
افغانستان، وانا، عراق اور دیگر قومی، ملکی اور انٹرنیشنل مسائل پر دینی رہنمائی کے لئے عالم اسلام کے مسلمانوں کی نظریں آپ پر ہوتی تھیں۔ اندرون و بیرون ملک قومی کانفرنسوں، میڈیا کی ورکشاپوں میں آپ کی شرکت سے مسلمانوں کو ایک حوصلہ ملتا تھا۔ آپ کی نپی تلی، نرم الفاظ اور دلائل سے بھرپور رائے کو بڑی وقعت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ جدید میڈیا کی جس
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
نشست میں آپ تشریف لے گئے وہاں دوست و دشمن نے آپ کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا۔ آپ بہت معتدل مزاج عالم دین تھے۔ طبعاً شریف آدمی تھے۔ دوست پرور تھے۔ ہنس مکھ تھے۔ یبوست وتصنع سے کوسوں دور تھے۔ آپ کا ظاہر و باطن ایک تھا۔ علم وعمل، اخلاق ومروت کی چلتی پھرتی تصویر تھے۔ آپ کے دم قدم سے علم کی آن بان قائم تھی۔ آپ نے ہمیشہ اعلائے کلمۂ حق کے لئے پہل کی۔ استقامت کی بلندیوں پر آپ فائز تھے۔ علم کے میدان میں پیچ و تاب رازیؒ و سوز و ساز رومیؒ کے علمبردار تھے۔ گفتگو مربوط ہوتی تھی۔ بولتے کیا تھے گویا موتی رولتے تھے۔ کسی حدیث کی تشریح ، یا فقہی مسئلہ کی گتھی سلجھاتے تو محدثین زمانہ اور فقہائے وقت کو محو حیرت کر دیتے تھے۔ ان کا ایک ایک لفظ احتیاط کے ترازو میں تلا ہوا ہوتا تھا۔ زبان و بیان میں کوثر وتسنیم کی آمیزش کا سماں معلوم ہوتا تھا۔ ان کی زبان حق ترجمان سے جو لفظ نکلتا تھا دل و دماغ میں پیوست ہو جاتا تھا۔ علمی گرفت ایسی آہنی ہوتی تھی کہ فریق مخالف تڑپ اٹھتا تھا۔ آپ کا وجود آبروئے علماء تھا۔ ان کے دم قدم سے فضلائے قدیم کی یادیں تازہ ہو جایا کرتی تھیں۔ جس مجلس میں آپ تشریف لے گئے ۔ وہاں اپنا لوہا منوایا ۔ اس دھرتی پر آپ کا وجود آیت من آیات اللہ تھا۔ صحیح بخاری وسنن ترمذی پر آپ کے درسی افادات پر ابن حجرؒ کی روح کا پرتو نظر آتا ہے۔
آپ نے ظہور مہدی کے نام سے ایک کتاب لکھی تو رافضیت و خارجیت کو چت لٹا دیا۔ اس عنوان پر یہ کتاب حرف آخر کا درجہ رکھتی ہے۔ حکیم العصر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ کی شہادت کے بعد روزنامہ جنگ کراچی کے کالم ”آپ کے مسائل اور ان کا حل“ کے آپ نگراں مقرر ہوئے تو پوری دنیا میں حضرت لدھیانوی شہیدؒ کے چشمہ فیض کو جاری وساری رکھا۔ کروڑوں بندگان خدا کی دینی رہنمائی آپ نے کی۔ آپ کے شاگردوں کی عرب وعجم، افریقہ وامریکا میں ایک کھیپ موجود ہے جو آپ کے لئے صدقہ جاریہ ہے۔ فرقہ پرست افراد اور اداروں کو راہ اعتدال پر لانے کے لئے آپ نے مقدور بھر کوشش کی۔
جہادی گروپس کی باہمی رنجش اور جنگ ہوس زرگری میں اصلاح احوال کے لئے مخلصانہ سعی کی۔ مگر بے مہار لوگوں کی روش میں فرق نہ آیا تو پتھر بھاری سمجھ کر چوم کر رکھ دیا۔ اتحاد بین المسلمین کے آپ داعی تھے۔ جمعیۃ علمائے اسلام اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی اعتدال کی پالیسی پر نہ صرف کاربند بلکہ اس کے مبلغ و مناد تھے۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
حضرت مولانا مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ جہاں علم کے پہاڑ تھے۔ وہاں آپ روحانیت کی بھی بلندیوں پر فائز تھے۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریاؒ، خانوادہ تھانہ بھون کے چشم و چراغ حضرت مولانا فقیر محمد پشاوریؒ، شہید اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ اور خانوادہ رائے پور کے حدی خواں حضرت مولانا سید نفیس شاہ الحسینیؒ سے بالترتیب بیعت کا آپ کو شرف حاصل تھا۔ آخرالذکر دونوں حضرات کے آپ خلیفہ مجاز تھے۔ غرض ظاہری و باطنی علوم کے آپ وارث و امین تھے۔ آپ کے ارادت مندوں کی اندرون و بیرون ملک کثیر تعداد پائی جاتی ہے۔ آپ کی ذات ستودہ صفات تھی۔ اللہ تعالیٰ نے بہت کم وقت میں آپ سے بہت زیادہ خیر و برکت کا کام لیا۔ ”دیر سے آئے، دور تک گئے“ کا مصداق تھے۔ آپ کے معاصر آپ کی راہوں کو دیکھتے رہ گئے۔ آپ کے دوستوں کا بہت بڑا حلقہ تھا۔ جس میں دینی و دنیاوی وجاہت والوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے سخاوت کی نعمت سے نوازا تھا۔ دینی مدارس اور بالخصوص دور دراز کے پسماندہ علاقوں کے کئی مدارس کی خاموشی سے آپ امداد کرتے تھے۔ آپ کے دروازہ پر جو آیا آپ نے اسے خالی ہاتھ نہیں لوٹایا۔
چلنے میں علم کا وقار، چہرہ پر صلحاء کا نور تھا۔ بہت وجیہ انسان تھے۔ انتہائی سادہ طبیعت تھے۔ ہمیشہ اجلی سیرت کے ساتھ اجلا لباس زیب تن کیا۔ آپ کی ذات گرامی سے ہزاروں یادیں وابستہ تھیں۔ آپ کا خلاء مدتوں پُر نہ ہوگا۔ ایسے وقت میں ہم سے جدا ہوئے کہ دور دور تک ان کی ٹکر کا کوئی آدمی نظر نہیں آتا۔ دشمن نے امت کے سینہ پر وہ تیر مارا جس سے پوری امت کا جگر پاش پاش ہو گیا۔
٣٠ مئی ٢٠٠٤ء بروز اتوار صبح پونے آٹھ بجے نہا دھو کر باوضو نیا لباس پہن کر قال الله و قال رسول اللہ ! کا درس دینے کے لئے اپنے مکان سے اترے۔ گاڑی میں بیٹھے۔ چند قدم کے فاصلہ پر ابلیسی دشمن گھات لگائے بیٹھا تھا۔ وار ایسا کیا کہ اس سے جانبر نہ ہو سکے۔
حضرت شامزئی شہیدؒ کے واقعہ شہادت کی خبر پورے پاکستان میں بجلی کی کوند کی طرح پھیل گئی۔ ہسپتال سے ضروری قانونی کارروائی کے بعد آپ کی نعش کو جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن لایا گیا۔ جامعہ کے در و دیوار سوگوار تھے۔ آپ کے وصال کے سانحہ نے حضرت شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوریؒ، حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰنؒ، حضرت مولانا محمد ادریس میرٹھیؒ، حضرت مولانا مفتی ولی حسنؒ، حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، حضرت مولانا حبیب اللہ مختار شہیدؒ کے وصال کے صدمات کو تازہ کر دیا۔ جامعہ
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
علوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن اجڑ گیا۔ ملک بھر میں آپ کے رفقاء آپ کے سایہ محبت سے محروم ہوگئے۔ آپ کے شاگردان آپ کے سایہ عاطفت سے محروم ہوگئے۔ آپ کی اولاد یتیم ہوگئی۔ جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کی مسند حدیث خالی ہوگئی۔ آپ کیا گئے ایک عالم سونا ہو گیا۔ سچ کہا کہنے والے نے کہ:
اپنے شیخ اور ہمارے مخدوم، شہید اسلام حضرت لدھیانوی ؒ کے مشن کی زندگی بھر آبیاری کے بعد ان کے قائم کردہ گلشن ”جامع مسجد خاتم النبیین“ میں اپنے شیخ کے پہلو میں محو استراحت ہوگئے۔ عاش سعیدا و مات سعیدا!
خوب گزرے گی جو ایک ساتھ رہیں گے شہیدان تین۔ اللہ تعالیٰ ان کی قبر مبارک کو بقعۂ نور بنائے۔ پسماندگان کو صبر جمیل نصیب ہو۔ جامعہ علوم الاسلامیہ کی اللہ رب العزت حفاظت فرمائے اور مفتی صاحب کا نعم البدل نصیب فرمائے۔ آمین بحرمۃ النبی الکریم!
(لولاک، جمادی الاوّل ١٤٢٥ھ)
عقیدہ ظہور مہدی احادیث کی روشنی میں: جنوری ١٩٨١ء کے اردو ڈائجسٹ لاہور میں مولانا اختر کاشمیری نے ایک مضمون میں سیدنا مہدی علیہ الرضوان کے ظہور کا انکار کیا۔ اس دور میں ہمارے مخدوم حضرت علامہ ڈاکٹر مفتی نظام الدین شامزئی شہید ؒ جامعہ فاروقیہ کراچی میں مدرس تھے۔ متعدد فتاویٰ جات اس عنوان پر آئے۔ آپ نے ان کا جہاں اجمالی جواب تحریر کیا وہاں سیدنا مہدی علیہ الرضوان کے ظہور کے عقیدہ پر احادیث کو جمع کرنا شروع کیا تو یہ کتاب مرتب ہوگئی۔ اس کے چار ابواب ہیں۔ (باب اوّل): عقیدہ ظہور مہدی احادیث کی روشنی میں ۔ (باب دوم): عقیدہ ظہور مہدی محدثین کی نظر میں ۔ (باب سوم): عقیدہ ظہور مہدی متکلمین کی نظر میں ۔ (باب چہارم): منکرین ظہور مہدی کے دلائل پر تبصرہ۔
ابواب کی فہرست کا سرسری جائزہ لیں تو بات بہت آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے کہ ہمارے مخدوم حضرت مولانا ڈاکٹر شیخ الحدیث مفتی نظام الدین شامزئی ؒ نے اس عنوان کا حق ادا کردیا ہے۔ ابن خلدون کے اعتراضات کو مولانا اختر کاشمیری نے ”پرانی شراب نئی بوتل“ کے بمصداق پیش کیا۔ حضرت مؤلف ؒ نے اس جام زور و خُدع کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ اس علمی خزانہ کو احتساب قادیانیت کی جلد نمبر ٤٩ میں شائع کیا گیا ہے۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگارنگ (٦٤)
نور الحق نورؒ ،مولانا
(وفات: ٦؍جون ٢٠١٣ء)
مولانا نور الحق صاحبؒ کے والد گرامی حضرت مولانا نور محمد صاحبؒ سوات سے ترک وطن کر کے پشاور میں تشریف لائے۔ جامع مسجد ہشت نگری کے خطیب مقرر ہوئے اور بہت نمایاں خدمات سر انجام دیں۔ مولانا فضل حقؒ ، مولانا نور الحق نورؒ اور مولانا عبدالجلیلؒ تینوں حضرات مولانا نور محمد صاحب کے صاحبزادے تھے۔ مولانا نور الحقؒ ان تینوں بھائیوں میں منجھلے بھائی تھے، جو مولانا نور محمد صاحبؒ کے گھر ١٩٢٧ء کو پیدا ہوئے۔ مولانا نور الحق نورؒ پانچ سال کے تھے کہ والد مولانا نور محمد صاحبؒ کا وصال ہو گیا۔
ان کے وصال کے بعد جامع مسجد ہشت نگری کے خطیب مولانا فضل حقؒ مقرر ہوئے۔ آپ نے بڑا نام پایا، آپ کی پشاور ریڈیو سے تقاریر نشر ہوتی تھیں اور صوبہ کی سطح پر آپ کی رائے اور فتاویٰ کا بڑا احترام کیا جاتا تھا۔ علماء کرام میں نستعلیق قسم کی سلجھی ہوئی گفتگو کرنا اور پرمغز سلیس اور رواں تقریر کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ مولانا فضل حق صاحبؒ نے ہی والد گرامی کے بعد اپنے چھوٹے بھائیوں کی تعلیم وتربیت کا فریضہ سرانجام دیا۔ مولانا نور الحق صاحبؒ نے تمام تعلیم گھر پر اپنے بڑے بھائی مولانا فضل حق صاحبؒ سے حاصل کی۔
مولانا نور الحق صاحبؒ کا گھرانہ نامور علمی گھرانہ تھا، ایک دفعہ خود راقم سے ارشاد فرمایا کہ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر بنے تو مجھے آپ سے پشاوری ہونے کے ناتے بہت قرب نصیب ہوا۔ ایک بار میں نے حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ جو اس وقت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ تھے سے درخواست کی کہ حضرت شیخ بنوریؒ کا اسلام آباد اور پشاور کا پروگرام ہو تو اس دوران مجھے تھوڑا سا وقت مل جائے تو میری صاحبزادی کا نکاح حضرت شیخ بنوریؒ پڑھا دیں جو میرے پورے خاندان کے لئے سعادت کا باعث ہوگا۔ مولانا محمد شریف جالندھریؒ یکدم اٹھے میرا ہاتھ تھاما اور حضرت بنوریؒ کی خدمت میں حاضر کر دیا کہ حضرت یہ مولوی صاحب (مولانا نور الحق
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
نور) آپ سے کچھ درخواست کرنا چاہتے ہیں، جونہی عرض کیا فوراً حضرت بنوریؒ نے بشاشت قلبی اور فرحت سے وقت کا تعین کر دیا۔ وقت مقررہ پر آپ کراچی سے تشریف لائے، میرے گھر ہشت نگری میں مختصر قیام فرمایا اور میری بیٹی کا نکاح کا خطبہ بھی ارشاد فرمایا۔ اس دوران کا ایک اور حیرت انگیز واقعہ بیان کرتے ہوئے حضرت مولانا نورالحق نورؒ نے بتایا کہ جونہی بیٹھنے کے لئے حضرت بنوریؒ نے جوتیاں اتاریں، میں نے بڑی عقیدت سے نہ صرف اٹھالیں بلکہ انہیں سینے سے لگالیا، حضرت بنوریؒ نے دیکھا تو بڑے جلال سے فرمایا کہ : ظلم نہ کرو، ظالم نہ بنو، تم نے مجھ پر بہت ظلم کیا، ایسا بالکل نہ کرنا چاہئے تھا۔ لگاتار تین چار جملے پشتو میں شدید اضطراب کے ارشاد فرمائے، میں نے احترام میں جوتے رکھ دیئے اور مجلس میں مؤدب ہو کر بیٹھ گیا۔ تقریب کے اختتام پر اپنے بھائی مولانا فضل حقؒ سے ذکر کیا کہ میں نے اس طرح حضرت بنوریؒ کے نعلین اٹھائے تو آپ نے شدید الفاظ میں اضطراب کا اظہار کیا۔ مولانا فضل حقؒ نے فرمایا کہ حضرت بنوریؒ نے حضرت مولانا نور محمد سواتیؒ ہمارے والد گرامی سے شرح ملا جامی پڑھی ہے، اس حوالہ سے آپ ان کے استاد زادے ہیں، اس احترام کے باعث جوتے اٹھانے پر آپ نے شدید اضطراب کا اظہار فرمایا۔
حضرت مولانا نورالحق صاحبؒ کا گھرانہ علمی گھرانہ تھا، آپ نے جتنی دینی تعلیم حاصل کی گھر پر کی اور پھر شعور پاتے ہی مجلس احرار اسلام سے وابستہ ہو گئے۔ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کی محبتوں کے بہت گہرے نقوش ان کے قلب وجدان پر تھے۔ پاکستان بنتے ہی جونہی ان حضرات نے مجلس تحفظ ختم نبوت کے قیام کا فیصلہ کیا۔ اٹھتی جوانی میں آپ مجلس تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم سے ایسے سرگرم عمل ہو گئے کہ زندگی کے آخری سانس تک کسی دوسری جماعت کی طرف رخ کر کے دیکھا بھی نہیں، اس کو کہتے ہیں : ”یک در گیر و محکم گیر“ یکسوئی و تندہی سے ایک سمت متعینہ پر محنت کئے جانے کی اس سے زیادہ عمدہ مثال پیش کرنا مشکل ہے، جو مولانا نورالحق نور پیش کر گئے۔ حق تعالیٰ ان کی بال بال مغفرت فرمائیں خوب قول کے پکے اور عزم کے پختہ انسان تھے۔
فقیر ١٩٦٧ء، ١٩٦٨ء میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے قافلہ میں شامل ہوا، اس وقت مولانا نورالحق صاحبؒ کی جوانی جوبن پر تھی، مولانا سید منظور احمد حجازیؒ، مولانا قاضی محمد اللہ یار خانؒ، مولانا خدا بخشؒ ایسے فاضل نظریاتی خطیب مجلس کے پلیٹ فارم پر خدمات
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
سرانجام دے رہے تھے۔ ان کا ہر دوسرے ماہ مولانا نور الحق صاحب نورؒ کی دعوت پر پشاور جانا ہوتا تھا۔ ان ساتھیوں میں سے کسی ایک کو بلواتے چار پانچ روز جامع مسجد ہشت نگری یا جامع مسجد قاسم علی خان میں ان کا قیام رکھتے ، صبح و شام دن، رات پانچ چھ پروگرام کراتے ، چار پانچ روز میں پچیس تیس پروگرام ہو جاتے ، یوں انہوں نے سالہا سال تک اس خطہ میں عقیدۂ ختم نبوت کی جوت جگائے رکھی۔
فقیر راقم کی تقرری فیصل آباد ہوئی، مولانا نور الحق نورؒ نے کسی متذکرہ دوست کا مرکز سے وقت مانگا ہو گا، وہ فارغ نہ ہوں گے ۔ حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ نے فقیر کو بھیج دیا، بس اس کے بعد پشاور کے حضرت مولانا نور الحق صاحبؒ سے ایسی یاد اللہ کی رسم پروان چڑھی کہ باہمی اعتماد و جماعتی تعلق، ذاتی محبت میں ہی تبدیل ہو گیا۔
٢٩ مئی ١٩٧٤ء کو چناب نگر ریلوے اسٹیشن پر قادیانی اوباشوں نے مسلمان طلبا پر حملہ کیا، اس سے ایک ہفتہ پہلے فقیر پشاور کے سفر پر تھا۔ ٢٩ مئی کو چناب ایکسپریس سے ہی فیصل آباد واپس آنا تھا، یاد نہیں کہ سیٹ نہ ملی یا کوئی اور وجہ ہوئی کہ لاہور کا راستہ اختیار کر لیا جب ٢٩ مئی کی شام لاہور سے ہو کر فیصل آباد، حاضر ہوا تو شہر میں اگلے روز کی ہڑتال کا اعلان ہو رہا تھا اور مولانا تاج محمودؒ ، مولانا مفتی زین العابدینؒ اور دیگر رہنماؤں کی الخیام ہوٹل میں پریس کانفرنس ہونا تھی، فقیر نے سامان رکھا، پریس کانفرنس میں حاضر ہوا اور پھر چل سو چل ۔
تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء اور تحریک ١٩٨٤ء میں مولانا نور الحق نورؒ پیش پیش رہے ۔ پشتو زبان کے اچھے خطیب تھے، جب بھی بات کرتے ، پتے کی کرتے ۔ مولانا نور الحق نور مرحوم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن بنے ، پہلے دن سے اپنی زندگی کے آخری اجلاس تک ایک بھی اجلاس ایسا نہیں جس میں آپ کا آنا نہ ہوا ہو، ایک دن پہلے تشریف لاتے تھے، پورا دن دفتر میں ملک بھر سے آنے والے مہمانوں سے ملتے رہتے۔ اگلے روز اجلاس میں شریک ہوتے ۔ اجلاس کے ختم ہوتے ہی واپسی کا سفر شروع ہو جاتا، اس معمول میں کبھی تخلف نہیں ہوا۔ ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ، پھر ختم نبوت کانفرنس چناب نگر میں پابندیٔ وقت سے ہمیشہ تشریف لاتے ، ایک بھی آپ کا ناغہ نہیں ہوا۔
کانفرنس جمعرات، جمعہ کو منعقد ہوتی ، آپ بدھ، جمعرات کی درمیانی رات تشریف لاتے جمعرات فجر کی نماز باجماعت کانفرنس کے پنڈال میں ادا کرتے ، جمعرات صبح کے درس
چمنستان ختم نبوت کے گلہائے رنگا رنگ
قرآن سے لے کر جمعہ کے روز عصر تک برابر ہر اجلاس میں اسٹیج پر بیٹھ کر پوری کارروائی میں حصہ لیتے، جب موقع ملتا بیان بھی کرتے، ادھر اجلاس ختم ہوا، اختتامی دعا ہوئی، ادھر ان کا سفر شروع ہو جاتا۔ اسلام آباد، راولپنڈی، مانسہرہ تک مجلس کے پروگرام بڑے اہتمام سے منعقد کراتے یا اس میں شریک ہوتے، خوب ہی محنتی انسان تھے۔
مولانا نور الحق نورؒ کا بیعت کا تعلق حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ سے تھا۔ حضرت خواجہ خواجگانؒ کا کمال احترام کرتے تھے بلکہ اپنے شیخ کا احترام کرنا ان کا عمل مثالی تھا۔ حضرت خواجہ صاحبؒ بھی ان سے بہت محبت فرمایا کرتے تھے۔
حضرت مولانا نور الحقؒ، حضرت مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی دامت برکاتہم کے مجلس میں تشریف لاتے ہی بہت خوش ہوئے۔ حضرت مفتی پہلے پشاور کے امیر منتخب ہوئے، پھر مرکزی شوریٰ کے لئے آپ کی تقرری ہوئی، پھر پورے صوبہ کے نظم کے انچارج مقرر ہوئے، مفتی صاحب کے تشریف لانے سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے کام نے صوبہ خیبر پختونخواہ میں وسعت اختیار کی۔ مولانا نور الحق صاحبؒ بھی اس پورے دور میں آپ کے دست و بازو رہے۔ مولانا نور الحق صاحبؒ نے چوراسی سال زندگی پائی۔ آپ کے داڑھی کے بال ایک دفعہ سفید ہو کر پھر کالے ہونے شروع ہوئے۔ قابل رشک صحت سے زندگی گزاری، آخری عمر میں بڑھاپے کے اثرات ضرور تھے، لیکن آخر وقت تک کسی کے محتاج نہیں ہوئے۔
(٦٥)
یونسؒ، حکیم قاری محمد
(وفات: ٣؍ فروری ٢٠٠٩ء)
قاری محمد یونسؒ دواخانہ ختم نبوت سرکلر روڈ بنی چوک راولپنڈی کے بانی اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن تھے۔ سرخ اور سپید رنگ، گول کشادہ چہرہ، عقابی آنکھیں، میانہ مائل بہ درازی قد، جسم سڈول۔ چلنے میں وقار، بات کرنے میں سکون، داڑھی کے بال سفید چھوٹے ملائم اور خوبصورت۔ سر پر عموماً نقشبندی ٹوپی۔ ایک ہاتھ میں تسبیح دوسرے ہاتھ میں چھڑی۔ کندھے پر رومال، یہ تھے جناب حکیم قاری محمد یونس صاحب مرحوم ومغفور۔ حکیم محمد
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
یونس ؒ بہت اچھے قاری تھے۔ سنن، نوافل، فرائض کے پابند ہی نہیں بلکہ ان کی پابندی ان کی طبیعت ثانیہ بن گئی تھی۔ ہر کام وقت پر کرنے کے عادی تھے۔ طبیعت کے غنی اور دل کے غنی تھے۔ ہر ماہ ہزاروں کماتے اور اس سے زیادہ خرچ کر دیتے۔ مساجد و مدارس بنانے کے عادی تھے۔ اس وقت بھی مستقل کئی ادارے چلا رہے تھے۔ پہلو میں مؤمن کا دل رکھتے تھے۔ جس نے جو کہا اسے سچ سمجھ لیا۔ جب کہیں سے اس کے خلاف کوئی مصدقہ اطلاع مل گئی تو پہلا مؤقف بدلنے اور معذرت کرنے میں دیر نہ لگاتے تھے۔ صاف دل تھے۔ دوست ان کو بہت جلد گھیر لیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ہاتھ میں شفاء رکھی تھی۔ بعض ان کے نسخے خوب تھے۔ طب میں جدت بھی روا رکھتے تھے۔ طبیہ بورڈ کے امتحانی رکن بھی تھے۔ طب اسلامی کو فروغ دینے میں ہمیشہ کوشاں رہے۔ بات کرنے کے دھنی تھے۔ باتوں باتوں میں مریض کا ایسا نفسیاتی علاج کرتے کہ وہ اسی وقت اپنے آپ کو آدھا تندرست محسوس کرنے لگتا۔ فصد خون چاند کی مقررہ تاریخوں پر کرنے کا ان پر دھن سوار تھا۔ طبیعت میں جذب کی کیفیت تھی۔ بیٹھے بیٹھے خیال آیا تو پاکستان کو چھوڑا، برطانیہ جا کر مطب جاری کر دیا۔ وہاں سے طبیعت بھر گئی تو پھر راولپنڈی آگئے۔ وہاں سے طبیعت اکتا گئی تو کراچی جا کر مطب کھول لیا۔ کچھ عرصہ بعد وہاں مطب چل نکلا طبیعت بھر گئی تو پھر پنڈی آگئے ۔ یکے بعد دیگرے کئی عقد کئے۔ لیکن اللہ رب العزت کی شان بے نیازی کہ لا ولد رہے۔ آخری عمر میں تجرد اختیار کر لیا۔
خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد ؒ سے بیعت کا تعلق تھا۔ عقیدہ ختم نبوت کے دل وجان سے فدائی تھے۔ تبلیغ کے ساتھ ہمیشہ گہرا تعلق رکھا۔ ان کی طب پر بھی تبلیغ کی گہری چھاپ تھی۔ ہر مریض کو نماز، روزہ، ورزش کی شرعی اہمیت وافادیت کا قائل ہی نہیں بلکہ عامل بنا دیتے تھے۔ خوش خوراک، خوش لباس اور خوش گفتار تھے۔ اللہ رب العزت نے انہیں بہت کچھ دیا۔ لیکن اس تمام کو انہوں نے فی سبیل اللہ خرچ کر کے آخرت کے خزانہ میں جمع کرا دیا۔ عمر ستر ، اسی سال کے پیٹے میں ہوگی۔ آخری عمر میں شوگر کے باعث کمزور ہو گئے۔ لیکن معمولات میں فرق نہ آنے دیا۔ جمعہ کے روز صبح صادق کے قریب انتقال ہوا۔ اسی روز عصر کے بعد جنازہ ہوا اور رحمت حق کے سپرد ہو گئے۔ راولپنڈی، اسلام آباد کی پوری دینی قیادت سے ان کے دوستانہ مراسم تھے۔ وہ سب جنازہ میں شریک تھے۔ مرکز کی نمائندگی کے لئے اسی شام مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے اور تین روز بعد جا کر مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ نے تعزیت کی ۔ حق تعالیٰ ان کی بال بال مغفرت فرمائیں ۔ آمین ثم آمین !
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین حضرات
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے وہ مبلغین حضرات جو اس دنیا سے تشریف لے گئے، ذیل میں حروف تہجی کے اعتبار سے ان کا تذکرہ درج کیا گیا ہے:
(٦٦)
اجمل شہیدؒ (اوچ شریف)، مولانا محمد
(شہادت: ١٨؍جنوری ٢٠١٣ء)
مولانا محمد اجمل شہید بستی علی والا موضع کوٹلہ شیخاں نزد اوچ شریف کے رہائشی تھے۔ والد گرامی کا نام رحیم بخش قوم سندیلہ ہے۔ زمیندارہ پیشہ سے تعلق ہے۔ جنس کا بیوپار بھی کرتے ہیں۔ جناب رحیم بخش کو اللہ رب العزت نے پانچ بیٹے دیئے۔ ان میں دو کو آپ نے علم دین پڑھایا۔ حافظ محمد اکبر صاحب کراچی میں دینی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ دوسرا بیٹا ان کا نام محمد اجمل تھا۔ اس نے دارالعلوم کبیر والا سے تعلیم مکمل کی اور مولانا محمد اجمل کہلائے۔
مولانا محمد اجمل انتہائی ملنسار، کم گو، محنتی، اطاعت شعار، ہنس مکھ، مطالعہ کا دلدادہ، خط انتہائی عمدہ، رنگ گندمی، قد درمیانہ، انتہائی متناسب الاعضاء، گھنی خوبصورت سیاہ داڑھی، ابرو ملے ہوئے، پیشانی کشادہ، چلنے میں وقار، سوچ میں گہرائی، تمام اساتذہ کی شفقتوں کے امین، گذشتہ سال دورہ حدیث شریف کیا۔ اساتذہ کے مشورہ سے شوال المکرم سے ذی الحجہ ١٤٣٣ھ سہ ماہی رد قادیانیت کورس دفتر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان میں کیا۔ پوری کلاس میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کئے۔ کلاس کے اساتذہ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد راشد مدنی نے متفقہ طور پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے شعبہ تبلیغ سے وابستہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ماہ محرم دفتر مرکزیہ میں بحیثیت مبلغ کے تربیت حاصل کی۔
قادیانی کتب سے حوالہ جات کی تخریج کے کام پر لگایا گیا۔ دن رات ایک کر دیا۔ جو کام ذمہ لگایا جاتا، شبانہ روز کی محنت سے اسے سرانجام دیتے۔ اس دوران میں پاکپتن، چناب نگر کے دینی اجتماعات میں شرکت کی۔ اتحاد اہل سنت کے مرکز میں علماء کرام کی تربیتی کلاس چل رہی تھی۔ فقیر کی ہفتہ بھر کی وہاں حاضری طے تھی۔ مولانا محمد اجمل اس میں فقیر کے دست راست کے
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
طور پر شریک کلاس رہے۔ یہاں سے لاہور جانا ہوا۔ ملتان تشریف لائے۔ اتنے میں مولانا قاضی احسان احمد صاحب کا پیغام آچکا تھا کہ مولانا محمد اجمل کو کراچی بھیج دیا جائے۔ مولانا محمد اجمل خود بھی کراچی جانے کے خواہشمند تھے کہ وہاں پہلے سے ان کے بھائی رہ رہے ہیں۔
کراچی سے مجلس کا ترجمان ہفت روزہ ختم نبوت نکلتا ہے۔ وسیع لائبریری ہے۔ ترقی کے بہت مواقع ہیں۔ خود خواہش کی کہ مجھے وہاں متعین کر دیا جائے۔ چنانچہ مجلس کی ضرورت اور اس سے کہیں زیادہ مولانا محمد اجمل کی اپنی خواہش، وہ کراچی روانہ ہوئے۔ روانگی کے وقت مرزا قادیانی کا ایک الہام ”خدا کی طرف سے عزا پڑی“ پر ایک مضمون لکھا اور فقیر کو دیکھنے کے لئے دیا۔ فقیر نے مضمون پر نظر ڈالی۔ ایک دو باتیں عرض کیں اور مضمون رکھ لیا کہ اسے لولاک میں شائع کریں گے۔ تا کہ آپ کو لکھنے کا شوق ہو۔ اس پر وہ زیر لب مسکرائے۔ اجازت لی اور چل دیئے۔
شہادت سے ایک، دو روز قبل مجھے فون کیا۔ خیریت معلوم کی۔ کام کی رپورٹ دی۔ دل لگ جانے کا مژدہ سنایا۔ بہت ہی خوشی ہوئی۔ فقیر سے فون پر ان کی یہ پہلی اور آخری گفتگو تھی۔ عمر کوئی پچیس سال ہوگی۔ اگلے دو ماہ تک شادی طے تھی۔ شہادت والے دن جمعہ کو مفوضہ امور سر انجام دیئے۔ جمعہ پڑھایا۔ عصر کے قریب دفتر تشریف لائے۔ اسی دن شہادت سے ایک گھنٹہ قبل گھر فون کیا۔ والدہ، والد، ماموں بہت سارے حضرات سے کافی دیر فون پر گفتگو کرتے رہے۔
عشاء کے بعد دفتر میں ساتھیوں نے دستر خوان لگایا۔ ان کو کھانے کے لئے کہا۔ مولانا محمد اجمل اور سید کمال شاہ دونوں نے کہا کہ ہم دس منٹ میں آتے ہیں۔ پھر آئے تو سہی، لیکن سرخرو ہو کر۔ حق تعالیٰ ان کی قربانی کو شرف قبولیت سے نوازیں۔ خالصتاً وہ دہشت گردی کا نشانہ بنے۔ اس روز اسی وقت ایک گھنٹہ میں مختلف مقامات پر ٩ آدمی دہشت گردی کا شکار ہوئے۔
کراچی دفتر سے ایمبولینس کے ذریعہ ان کے جسد مبارک کو آبائی گاؤں بھجوایا گیا۔
اگلے روز ١٩؍ جنوری کو حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری کی امامت میں جنازہ ہوا۔ نندالال قبرستان میں وہ رحمت حق کے سپرد ہوئے۔ دور دراز دیہات میں ہونے کے باوجود علماء کی اکثریت تھی۔ مذہبی سیاسی قائدین موجود تھے۔ ہجوم مجمع سے جنازہ ہوا۔ ان کے مادر علمی دارالعلوم کبیر والا سے اساتذہ اور مرحوم کے ساتھیوں، حضرات علماء کرام کی دو ویگنوں پر آمد ہوئی۔ دارالعلوم مدینہ بہاول پور سے حضرت مولانا مفتی عطاء الرحمٰن، دارالعلوم کبیر والا سے مولانا مفتی ارشاد احمد، مولانا محمد اسحق ساقی، حافظ محمد انس، مولانا رشید عباسی، قاضی عمر فاروق، مولانا محمد جاوید اختر، سید مخدوم سمیع الحسن گیلانی و دیگر حضرات نے شرکت فرمائی۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
رات عشاء کے قریب تدفین کے عمل سے فارغ ہوئے۔ عالم دین، صالح طبیعت اس نوعمری میں ان کی شہادت، بجاطور پر لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا ہی جنت کے لئے کیا تھا۔ دنیا میں تو بس وہ رونمائی کے لئے آئے تھے۔ اتنی جلدی اور اس قدر اس شان سے گئے کہ میرے جیسے کئی ضعیف العمر ان کا منہ ہی تکتے رہ گئے۔ حق تعالیٰ درجات بلند فرمائیں۔ حق تعالیٰ شانہ انہیں بدر، حنین، یمامہ اور کربلا کے شہیدوں کی معیت نصیب فرمائیں۔
(٦٧)
احمد بخش ؒ (مبلغ)، جناب حافظ
(وفات: ٢٢ اگست ٢٠٠٥ء)
حضرت مولانا حافظ احمد بخش ؒ ٹکوڈھ قوم کے چشم و چراغ تھے۔ والد صاحب کا نام ملک اللہ بخش تھا۔ بستی داد والا موضع سومن تحصیل شجاع آباد ضلع ملتان کے رہائشی تھے۔ حضرت مولانا احمد بخش ؒ قد متوسط مائل بہ درازی، رنگ گندمی، جسم ہلکا، چہرہ پر چیچک کے ہلکے ہلکے داغ تھے جو بجائے خود خوبصورت لگتے تھے۔ داڑھی ورلی اور مشت بھر سے کبھی زائد نہ ہوئی۔ داڑھی کے بال ملائم اور سفید تھے۔ نیک طبیعت تھے۔ گفتگو میں کبھی فحش گوئی کو داخل نہ ہونے دیتے تھے۔ لیکن مناسب حد تک خوش مزاج تھے۔ ترش رو بالکل نہ تھے۔ دوستوں کے دوست تھے۔ خاندانی انسان تھے۔ جس سے دوستی ہو گئی اسے بھی نہ بھلا پاتے تھے۔ قناعت پیشہ تھے۔ البتہ مہمانوں کے لئے دیدہ و دل فرش راہ تھے۔
حضرت مولانا حافظ احمد بخش ؒ نے عید گاہ شجاع آباد میں جناب قاری غلام حسین ؒ سے قرآن مجید حفظ کیا۔ ابتدائی تعلیم شجاع آباد سے متصل گاؤں میں حضرت مولانا محمد واصل مرحوم سے حاصل کی، جو بہت بڑے متبحر عالم دین تھے۔ اسی طرح بستی ملوک کے حضرت مولانا سید در محمد شاہ ؒ فاضل دیوبند سے کسب فیض کیا۔ آپ کے والد ملک اللہ بخش ؒ خطیب پاکستان حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی ؒ کے متوسلین اور جمعہ کے مستقل نمازی تھے۔ اس تعلق خاطر کی بنیاد پر اعلیٰ تعلیم کے لئے آپ کو دارالعلوم عید گاہ کبیر والا میں داخل کرا دیا گیا۔ آپ کے اس زمانہ کے ساتھیوں میں حضرت مولانا خدا بخش شجاع آبادی ؒ بھی تھے۔ دورہ حدیث شریف آپ نے جامعہ خیر المدارس ملتان سے کیا۔ فراغت کے بعد اپنے گاؤں
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
میں عرصہ تک فی سبیل اللہ حفظ قرآن کی تعلیم دیتے رہے۔ بیسیوں حضرات نے آپ سے قرآن مجید مکمل حفظ کیا۔
حضرت حافظ صاحب ؒ شریف الطبع نیک سیرت انسان تھے۔ آپ کی محنتوں نے علاقہ بھر میں صورت حال کو یکسر بدل دیا۔ علاقہ کے بہت سارے حضرات نے آپ سے حفظ مکمل کیا۔ دینی تعلیم حاصل کی۔ اس وقت وہ ملک کے طول وعرض میں خدمت اسلام کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ جو آپ کے لئے ذخیرہ آخرت ہے۔ موصوف سرائیکی کے رسیلے اچھے مقرر تھے۔ ان کی اردو بھی سرائیکی نما ہوتی تھی۔ آج سے تیس پینتیس سال قبل مولانا صوفی اللہ وسایا ؒ ڈیرہ غازیخان میں عاشورہ محرم پر دسیوں بستیوں میں جلسوں کا اہتمام کرتے تھے۔ مولانا حافظ احمد بخش ؒ کو بھی وہاں بھیجا جاتا۔ یوں مجلس سے ان کا تعلق قائم تھا۔ حضرت قاضی ؒ سے آپ کا تعلق اور حضرت جالندھری ؒ سے آپ کی عقیدت بھی قابل قدر و قابل رشک تھی۔ خود بڑے مزے لے لے کر سناتے تھے کہ ٹبی درکھاناں نزد شجاع آباد کا چالیس پینتالیس سال سے جاری سالانہ جلسہ میں حضرت جالندھری ؒ تشریف لے جاتے تو حافظ صاحب ؒ آپ کو شجاع آباد سے لاتے۔
ایک دفعہ حضرت جالندھری ؒ کی مسئلہ خلافت پر یادگار تقریر ہوئی۔ آپ نے حضرات خلفائے ثلاثہ ؓ اور سیدنا علی المرتضیٰ ؓ خلیفہ چہارم کے باہمی تعلق کو بیان کیا تو پورا مجمع پر گریہ کی کیفیت طاری تھی۔ آپ کی تقریر کے بعد سیانی عمر کے لوگوں کا کہنا تھا کہ آج حضرت جالندھری ؒ کی تقریر نے رفض کے اثرات کو کان سے پکڑ علاقہ سے نکال دیا ہے۔ تب شیعہ، سنی ایک دوسرے کے جلسہ میں بڑے اہتمام سے شرکت کرتے تھے۔ شیعہ حضرات بھی حضرت جالندھری ؒ کی مدلل و معتدل گفتگو پر داد تحسین دیئے بغیر نہ رہ سکے۔ اس قسم کے بیسیوں واقعات کے حافظ صاحب مرحوم چشم دید گواہ اور راوی یا صاحب واقعہ تھے۔ حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی ؒ سے آپ کی عقیدت، عشق کی شکل اختیار کئے ہوئے تھی۔
انہیں جماعتی تعلقات کی بنیاد پر حضرت مولانا حافظ احمد بخش ؒ ١٩٧٩ء کے اواخر اور ١٩٨٠ء کے اوائل میں باضابطہ طور پر مجلس کے شعبہ تبلیغ سے وابستہ ہوگئے۔ رحیم یارخان میں آپ کا تقرر ہوا اور دم آخریں تک آپ وہاں تبلیغی خدمات انجام دیتے رہے۔ میٹھی طبیعت کے انسان تھے۔ ہر خورد و کلاں کے دل میں گھر کر گئے۔ حضرت مولانا قاری حماد اللہ شفیق مرحوم کی صحبت، حضرت مولانا غلام ربانی مرحوم کی تربیت نے آپ کو نکھار دیا۔ ضلع رحیم یارخان میں آپ
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
نے تبلیغی کام کی دھاک بٹھادی۔ سرکلر روڈ پر آپ نے مجلس کا ملکیتی ضلعی دفتر تعمیر کرایا۔ ہر سال ضلعی ختم نبوت کانفرنس کراتے جس میں شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستیؒ بڑے اہتمام سے شرکت فرماتے۔ اکثر و بیشتر صدارت خانقاہ دین پور کے سجادہ نشین حضرت مولانا میاں سراج احمد دین پوریؒ فرماتے۔ سال بھر میں کم از کم ایک بار ضلع بھر کا تبلیغی دورہ رکھا جاتا۔ علماء و مبلغین کی مستقل جماعت گاڑیوں پر کاروان کی شکل میں چلتی اور ضلع کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کانفرنسوں اور جلسوں کا جال بچھا دیا جاتا۔ آپ جہاں کہیں اپنے ضلع میں قادیانی فتنہ کی شرانگیزی کی خبر سنتے، جا دھمکتے اور قادیانیت کو لگام ڈال دیتے۔ ضلع کے علمائے کرام سے آپ کام لینے کا گر جانتے تھے۔ جہاں جاتے کامیاب واپس لوٹتے۔ بہت ہی دیانت دار اور اجلی سیرت کے انسان تھے۔ معاملات میں ایک پائی کے ادھر ادھر ہو جانے کے روادار نہ تھے۔ خالص جماعتی ذہن تھا۔ مجلس کا کہیں شکوہ سنتے تو شیر غراں بن جاتے تھے۔ بہت اچھا وقت گزارا۔ اللہ تعالیٰ ان کی حسنات کو قبول فرمائے اور ان کی سیئات سے درگزر فرمائے۔
حضرت حافظ صاحبؒ کے تین بیٹے ہیں۔ آپ نے تینوں بیٹوں کو خود حفظ کرایا۔ البتہ گردان ان کی قاری عبدالکریم کلاچوی سے کرائی جو شاہی مسجد شجاع آباد میں مدرس تھے۔ آپ کی تین بیٹیاں ہیں۔ آپ کے پوتے نواسے بھی دینی و دنیوی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ بہت ہی خوش نصیب انسان تھے۔ خود، اہلیہ اور بڑے بیٹے نے، حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی ہے۔ طبیعت ٹھیک تھی۔ ایک آدھ بار سینے میں معمولی درد ہوا۔ علاج کیا تو ٹھیک ہو گئے اور زندگی کی گاڑی چلتی رہی۔
وفات سے دس بارہ روز قبل گھر پر رات کو تکلیف ہوئی۔ شجاع آباد پھر ملتان نشتر ہسپتال دس روز تک زیر علاج رہے۔ ڈاکٹروں نے انجوگرافی تجویز کی۔ لاہور کارڈیالوجی سنٹر داخل ہو گئے۔ ایک دن زیر علاج رہے۔ ابھی انجوگرافی کے لئے ڈاکٹر صاحبان رپورٹوں کی تیاری کے مراحل طے کر رہے تھے کہ ٢٢ اگست بروز پیر چار بجے سہ پہر آپ کو دوبارہ تکلیف ہوئی۔ کلمہ طیبہ خود پڑھا۔ سب حاضرین کو سنایا پھر باری باری سب سے کلمہ طیبہ سنا اور پھر ان کو سنایا۔ گویا کلمہ طیبہ کا صحیح معنوں میں ورد کرتے ہوئے دیکھتے دیکھتے جان مالک حقیقی کو لوٹا دی۔ ایمبولینس کے ذریعہ آپ کی میت کو آبائی گاؤں لایا گیا۔ اگلے روز حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ نے جنازہ کی امامت فرمائی۔ آبائی قبرستان حاجی شہید میں سپرد خاک ہوئے۔ حق تعالیٰ ان کی قبر پر اپنی رحمتوں کی بارش نازل فرمائیں۔ آمین! ثم آمین!
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
(٦٨)
احمد شہید ؒ (بورے والا)، حضرت مولانا شیخ
(شہادت: ١٦؍اکتوبر ١٩٥٧ء)
مولانا شیخ احمد شہید مدرسہ عربیہ بورے والا کے بانی تھے۔ آپ نے جہاں دیگر اساتذہ کرام کے ہاں تعلیم حاصل کی وہاں مجلس تحفظ ختم نبوت کے بانی رہنما حضرت مولانا محمد علی جالندھری ؒ سے بھی کسب فیض کیا۔ یہی نسبت ایسی گہری ہوئی کہ عمر بھر عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے ساعی رہے۔ زندگی کا آخری سفر بھی ختم نبوت کے سلسلہ میں ایک تقریر کے باعث قائم مقدمہ کی پیشی بھگتنے کے لئے کیا۔ جہاں موٹر کے ایک حادثہ میں مرتبہ شہادت پر فائز ہوئے۔ ہمارے مخدوم حضرت مولانا عبدالرحیم نعمانی بورے والا نے آپ کی یاد میں ایک مضمون لکھا جو اکتوبر، نومبر ١٩٨٤ء کے ’’الرشید‘‘ میں شائع ہوا جو یہ ہے:
’’مولانا شیخ احمد شہید ولد میاں کرم دین مرحوم سکنہ بادلی شریف ضلع گجرات، عمر بوقت شہادت تقریباً ساٹھ سال۔ ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی۔ پہلے فوج میں بھرتی ہوئے۔ لیکن علم دین حاصل کرنے کا شوق اتنا غالب ہوا کہ ملازمت اور مستقبل کے فوائد کو نظر انداز کر کے ملازمت چھوڑ دی اور جالندھر مدرسہ خیر المدارس میں داخل ہو گئے۔ پھر وہاں سے درس نظامی کی تکمیل کی۔ اساتذہ میں حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ جو اس وقت خیر المدارس میں بڑی کتابیں پڑھاتے تھے اور ملک کے مشہور نامور محدث و فقیہ حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ تھے اور حضرت خیر محمدؒ نے ہی اپنے بعض دوستوں کے ہاں مولانا شہیدؒ کی شادی کر دی اور کچھ عرصہ تک خیر المدارس جالندھر مقیم رہے۔
بعدازاں مجلس احرار میں شامل ہو گئے اور جالندھر سے میاں چنوں میں آپ کو تعلیم و تبلیغ کے لئے استاذ الخیر نے بھیج دیا۔ احرار اسلام میں آپ نے رضا کارانہ خدمات سرانجام دیں۔ کئی مرتبہ قادیان میں بھی ختم نبوت کے مرکز میں آپ کی ڈیوٹی لگائی گئی۔ ملک کی آزادی کی تحریک میں کئی مرتبہ جیل گئے۔ آغا شورش کاشمیریؒ، حضرت امیر شریعتؒ اور مولانا محمد علی جالندھریؒ وغیرہ حضرات کی معیت میں جیل کی صعوبتیں کاٹیں۔
حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ ١٩٣٠ء سے پیشتر چک ٣٣١
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
ای۔ بی بورے والا میں متعدد مرتبہ تشریف لائے۔ آپ نے اس نو آباد علاقہ میں دور دور تک کوئی درسگاہ نہ دیکھ کر اپنے خدام کو بار بار بورے والا میں ایک دینی مدرسہ قائم کرنے کی دعوت دی۔ چنانچہ بورے والا کی مجلس احرار نے اور حضرت رائے پوری ؒ کے خدام نے مولانا محمد علی جالندھری ؒ سے مدرسہ چلانے کے لئے ایک عالم طلب کیا۔ انہوں نے مولانا شیخ احمد مرحوم کو میاں چنوں سے بورے والا بھیج دیا۔ دارالعلوم عربیہ اسلامیہ بورے والا کے پہلے مہتمم اور منتظم ہونے کی حیثیت سے مولانا موصوف نے یہاں مستقل قیام اختیار کر لیا۔ مولانا مرحوم کے اخلاص اور خدمت اسلام کے جذبہ سے سرشار بہت سے لوگ مدرسہ کے معاون ہوگئے اور ایک قطعۂ اراضی خرید کر مدرسہ کے لئے وقف کر دیا۔
١٩٤٨ء میں جب حضرت رائے پوری ؒ پاکستان تشریف لائے تو مولانا شیخ احمد ؒ نے راقم السطور کو ان کی خدمت میں بھیجا کہ مدرسہ کی بنیاد حضرت کے ہاتھ سے رکھی جائے۔ راقم کے عرض کرنے پر حضرت اقدس ؒ نے فوراً منظور فرما لیا اور اپنے تمام رفقاء سمیت تشریف لائے۔ خصوصاً حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ اور مولانا محمد ابراہیم ؒ، حضرت مولانا عبدالعزیز رائے پوری ؒ، حضرت پیر جی عبداللطیف ؒ وغیرہم اہل دل اہل اللہ کا یہ مجمع منجانب اللہ اکٹھا ہو گیا۔
امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ اور ان کے رفقاء کار نے مرزائیوں کی ملک کے خلاف ریشہ دوانیوں، اسلام اور پاکستان دشمنی کے واقعات اور حالات سے پورے ملک کو آگاہ کیا۔ ملک بیدار ہو گیا۔ ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت نے پورے صوبہ پنجاب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ہر طرف سے گرفتاری کے لئے جتھے لاہور پہنچنے لگے۔ مولانا شیخ احمد مرحوم گرفتاری کے لئے بورے والا سے پہلے جتھے میں پہنچے۔ جب لاہور میں مارشل لاء لگ گیا اس وقت مسجد وزیر خان میں پنجاب بھر کے ختم نبوت کے رضا کار جمع تھے۔ ختم نبوت کے رہنماؤں نے آواز لگائی کہ کون لوگ ہیں جو مارشل لاء توڑنے کے لئے اپنی جان کی بازی لگائیں گے۔ (کیونکہ قانون کی خلاف ورزی پر گولی کی سزا تھی) تو بھرے مجمع میں سے مولانا شیخ احمد شہید ؒ ایک دم کھڑے ہو گئے۔ لوگوں کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور چاروں طرف سے نعرہ ہائے تکبیر اور مولانا مرحوم کے لئے ہدیۂ تبریک کا شور برپا ہو گیا۔ مارشل لاء توڑا مگر خدا نے اس عاشق رسول (ﷺ) کو ان کے طفیل ہی بچا لیا۔
١٩٥٦ء کے اوائل میں دارالعلوم عربیہ اسلامیہ بورے والا کے سالانہ جلسہ میں شہید فی
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
شہیدؒ۔ قاری لطف اللہ مرحوم نے مرزائیوں کے خلاف تقریر کی جو ہر طرح سے قانون کے اندر تھی۔ مگر مرزائی نوازوں نے ان پر مقدمہ بنادیا۔ اس مقدمہ کی بہت سی پیشیاں بھگتیں۔ آخری پیشی کے لئے قاری صاحب بورے والا تشریف لائے۔ راقم السطور کے اصرار پر قاری صاحب مرحوم نے بغیر کسی پروگرام کے بعد از عشاء تقریر فرمائی جس میں ان کی الہامی زبان سے یہ الفاظ نکلے کہ ہم کل بڑی عدالت میں پیشی بھگتنے جارہے ہیں۔ اس عدالت کا فکر نہیں بڑی عدالت میں اللہ کامیاب فرمائے۔
١٦؍اکتوبر بعد نماز فجر فوراً ہی وہاڑی کے لئے دونوں حضرات روانہ ہوگئے۔ دوستوں نے اصرار کیا کہ چائے پی کر جائیے گا، ابھی عدالت میں کئی گھنٹے باقی ہیں۔ مگر دونوں عجلت میں تھے اور دونوں نے جواب دیا کہ چائے آگے جاکر ہی پیئیں گے۔ بورے والا سے یہ روانگی گویا جنت میں پہنچنے کی عجلت میں ہوئی کہ چند میل دور وہاڑی کے قریب جا کر اس بس کو حادثہ پیش آگیا۔ جس میں ختم نبوت کے لئے سفر پر جانے والے یہ دونوں مسافر جام شہادت نوش کر گئے۔
دن بھر ہم لوگ ان کے انتظامات اور قانونی رکاوٹیں دور کرنے میں رہے۔ عشاء کے وقت ایک جنتی کو ساہیوال اور دوسرے کو بورے والا قبرستان میں سپرد خاک کر کے خالی ہاتھ مدرسہ واپس آگئے۔ مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو خاص فضل اور رحمت سے نوازا ہے۔ مدرسہ عربیہ اسلامیہ بورے والا مولانا شیخ احمد ؒ کا صدقہ جاریہ اور مدرسہ نعمانیہ کمالیہ، فاروقیہ عارف والا اور جامعہ رشیدیہ ساہیوال حضرت قاری لطف اللہ صاحب شہید ؒ کے صدقات جاریہ ہیں۔‘‘
(٦٩)
اللہ وسایا ؒ (ڈیرہ غازیخان)، حضرت صوفی
(وفات: ٢١؍فروری ٢٠٠٥ء)
سرائیکی علاقہ میں اللہ وسایا نام رکھنے کا عام رواج ہے۔ ڈیرہ غازی خان میں حافظ اللہ وسایا ؒ معروف خطیب گزرے ہیں۔ موصوف شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ کے شاگرد اور دارالعلوم دیوبند کے فاضل تھے۔ نامور خطیب تھے۔ قدرت نے آپ کو بلا کا گلہ دیا تھا۔ جہیر الصوت تھے۔ معروف نعت خواں جناب صوفی محمد بخش مرحوم اور حافظ اللہ
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگارنگ
وسایاؒ ان دو حضرات کے متعلق عام مشاہدہ ہے کہ جب یہ حضرات زور سے آواز بلند کرتے تو ان کی آواز سپیکر پر غالب آجاتی تھی اور سپیکر پر بالکل چھا جاتے تھے۔ حافظ اللہ وسایاؒ بلند پایہ خطیب تھے۔ خوبصورت آواز اللہ تعالیٰ نے آپ کو ودیعت کی تھی۔ حافظہ اتنا اچھا تھا کہ جو سنتے تھے یاد ہو جاتا تھا۔ ان کے مترنم بیان کو سن کر چلتی دنیا رک جاتی تھی۔ میٹھے رسیلے خطیب تھے۔ حافظ اللہ وسایاؒ نابینا تھے۔ ظریف الطبع تھے۔ ان کے بعد ان کے ایک اور ہم نام نے ڈیرہ غازیخان میں بہت نام پایا اور وہ ہمارے بزرگ بھائی حضرت مولانا صوفی اللہ وسایاؒ تھے۔
مولانا صوفی اللہ وسایاؒ ڈیرہ غازیخان کے معروف قصبہ ”شمینہ“ کے رہائشی تھے۔ گھلو برادری سے تعلق تھا۔ ان کے والد متوسط طبقہ کے زمیندار تھے۔ آپ نے جامعہ خیرالمدارس ملتان سے دورہ حدیث شریف کیا۔ سرائیکی کے ایک اور نامور خطیب حضرت مولانا محمد شریف بہاولپوریؒ جو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بانی ارکان میں سے تھے۔ ڈیرہ غازیخان میں تقریر کے لئے گئے تو نوجوان عالم دین مولانا صوفی اللہ وسایاؒ کو مجلس تحفظ ختم نبوت میں گھیر لائے۔ مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کی سرپرستی اور مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اخترؒ، فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیاتؒ کی شاگردی نے مولانا صوفی اللہ وسایاؒ کو خالص سونا بنا دیا۔
ڈیرہ غازی خان مولانا صوفی اللہ وسایاؒ کا حلقہ تبلیغ مقرر ہوا۔ آپ نے اس زمانہ میں ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کا چپہ چپہ چھان مارا۔ کوئی علاقہ اور بستی ایسی نہ تھی جہاں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی شاخ قائم نہ کی ہو۔ کام کی وسعت کے پیش نظر ایک زمانہ میں ڈیرہ غازی خان اور کوئٹہ کی مجلس کی علیحدہ رپورٹ شائع ہوتی تھی۔ جو مرکزی روئیداد کے علاوہ ہوتی تھی۔ داجل اور پہاڑی علاقوں میں اونٹوں پر سفر کرنا اور پیدل چلنا، ان سب متذکرہ حضرات کے ساتھ سال بھر میں ایک دو بار پورے ضلع کے تبلیغی اسفار کا ہونا، ایک معمول تھا۔ مولانا صوفی اللہ وسایاؒ کی شبانہ روز محنت کو اللہ تعالیٰ نے شرف قبولیت سے نوازا۔ ایک وقت میں وہ ڈیرہ غازی خان کی دینی پہچان بن گئے۔ کوئی دینی ادارہ یا جماعت ان کے مشورہ کے بغیر نہ چلتی تھی۔ علماء میں ان کی مثال ستاروں میں چاند کی سی تھی۔ رنگ سانولا، قد متوسط، جسم بھاری۔ گفتگو میں ربط کے قائل نہ تھے۔ ہمیشہ عشق و مستی کی زبان بولتے۔ جو بات کرتے جذبہ سے کرتے۔ دل سے نکلتی تھی اور دلوں پر پڑتی تھی۔ خدمت خلق کا جذبہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دیا۔ غریب، مسکین، پسے ہوئے پسماندہ لوگ آتے اور آپ ان کے تھانوں اور کچہریوں کے کام کرواتے تھے۔ مقدر کے دھنی
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
تھے۔ جہاں جاتے کام کرا کر واپس لوٹتے تھے۔ سیدھی لٹھ چلانے کے عادی تھے۔ چھل، فریب اور لگی لپٹی کے قائل نہ تھے۔ ان کے جذبہ عشق و مستی نے ان پر فتوحات کے دروازے کھول دیئے۔ ضلعی و ڈویژنل انتظامیہ کا ان کے موقف کو مانے بغیر چارہ نہ ہوتا تھا۔ دوست پرور تھے۔ جس سے دوستی ہو گئی اسے عمر بھر نبھاتے تھے۔ جس افسر سے ایک بار ملنا ہو جاتا وہ زندگی بھر آپ کا گرویدہ ہو جاتا۔ آپ ان تعلقات سے غریب لوگوں کے کام نکلواتے۔ خدمت خلق اور جذبہ صادق نے آپ کو علاقہ کا ہر دل عزیز بلکہ بے تاج بادشاہ بنا دیا تھا۔ متوکل علی اللہ تھے اور یہی ان کا سرمایہ تھا۔ دوست ان پر جان چھڑکتے تھے۔ گھر سے پیدل نکلے۔ سواری کرائی۔ راستہ میں دوست مل گیا۔ تیل ڈلوایا، چل پڑے۔ ہفتہ بھر میں ضلع بھر کا دورہ مکمل کر کے آگئے۔ جو ملا کرایہ ادا کر دیا۔ خالی جیب گھر سے جاتے اور اسی طرح واپس آجاتے تھے۔ جس پولیس افسر سے دوستی ہوئی تو پولیس کی گاڑی، پولیس کی نگرانی، پولیس ڈرائیور۔ یوں علاقہ میں تبلیغی دورے کرتے تھے۔ آپ کی ایسی دھاک بیٹھ گئی تھی کہ بڑے سے بڑے سردار آپ کے نام سے خم کھاتے تھے۔ ڈیرہ غازی خان کے در و دیوار پر آپ کی جرأتوں و بہادری کے نشان ثبت ہیں۔
ایک بار کمپنی باغ ڈیرہ غازیخان کے جلسہ عام میں ایک وزیر سرمایہ دار تقریر میں دین دار طبقہ کو رگید رہے تھے۔ مولانا صوفی اللہ وسایاؒ کو اطلاع ہوئی۔ اکیلے جا دھمکے۔ اتفاق سے نماز کا وقت تھا۔ قریبی مسجد پیارے والی میں اذان دی۔ لوگ آپ کی آواز سے مانوس تھے۔ ان کے کان کھڑے ہوئے۔ اذان کے اختتام پر اعلان کیا کہ آؤ لوگو! نماز کی طرف۔ حاضرین یکدم اٹھے۔ مسجد بھر گئی۔ جلسہ اجڑ گیا۔ وزیر صاحب کی تقریر ختم ہو گئی۔ رعونت اقتدار رخصت ہو گئی۔ صوفی صاحبؒ نے سپیکر پر نماز پڑھائی۔ دعا میں پوری تقریر کا جواب ہو گیا۔ یوں اکیلے آپ کی جرأت نے اقتدار کو چاروں شانے چت کر دیا۔ اس طرح کے واقعات شب و روز ان کی زندگی کا عام معمول تھا۔ آپ کی ندائے فقیر، صدائے بے نوا پر لوگ شہد کی مکھیوں کی طرح جمع ہو جاتے تھے۔ علاقہ بھر میں آپ کے نام کی گونج تھی۔ آپ کی دھاک بیٹھ گئی تھی۔ بڑے بڑے سورماؤں کے آپ کے نام سے پتے پانی ہو جاتے تھے۔
ایک بار کوٹ قیصرانی کے قریب بستی شیر خان میں میر محمد قادیانی زمیندار کو مسجد کے کونہ میں دفن کر دیا گیا۔ آپ کو پتہ چلا تو سینہ سپر ہو گئے۔ علاقہ کے تمام مکاتب فکر کو جمع کیا۔ آگ پانی کو جمع کر کے قادیانیوں کے مقابل لا کھڑا کیا۔ خانقاہ عالیہ تونسہ شریف کے خاندان کے چشم و چراغ خواجہ عبد مناف کو ساتھ ملایا۔ مذہب و سیاست کے سربرآوردہ حضرات کو یکجا کر کے تحریک
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
کی نیو اٹھائی۔ جلسے ہوئے۔ ٹبی قیصرانی کے جلسہ میں قادیانیوں نے آدمی بھیج کر پتھراؤ کیا۔ آپ شیر غراں کی طرح ڈٹ گئے۔ جلسہ کامیاب ہوا۔ ٹبی سے تحریک تونسہ شریف تک پھیل گئی۔ دن رات کے جلسوں نے تحریک کو پروان چڑھایا۔ تب ربوہ کے قادیانی علی الاعلان دعوے کرتے نہ تھکتے تھے کہ اب مولویوں کا مقابلہ سرمایہ دار، زمیندار، وڈیرے، جاگیردار، تمن دار سے ہے۔ قادیانیوں کے لمبے ہاتھ۔ چونکہ مرنے والا علاقے کے رواج کے مطابق اپنے قبیلہ کا سردار تھا۔ ضلعی انتظامیہ ان کے زیر اثر تھی۔ تب ١٩٨٤ء کی تحریک ختم نبوت کے ایک مرحلہ پر وفاقی وزارت مذہبی امور کے زیر اہتمام قادیانی مسئلہ پر ایک کمیٹی قائم ہوئی۔ مذہبی امور کے وزیر ملک خدا بخش ٹوانہ تھے۔ جونیجو صاحب نے ان کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ ڈیرہ غازی خان جا کر مسئلہ کو حل کریں۔ یہ دفع الوقتی تھی یا بعد میں قادیانی دباؤ کہ انہوں نے تاریخ مقرر کر کے ملتوی کر دی۔ مولانا صوفی اللہ وسایا ؒ نے ڈیرہ غازی خان میں جلسہ عام کا اعلان کر دیا۔
اجتماع جمعہ ایک گراؤنڈ میں ہوا۔ جمعہ کے بعد جلوس نے ایس پی و ڈی سی آفس جانا تھا۔ ہزاروں خلق خدا کے جلو میں تمام دینی جماعتوں کے ضلعی سربراہوں کے ہمراہ آپ روانہ ہوئے۔ شہر کے در و دیوار جھوم اٹھے۔ آگے مناظر اسلام حضرت مولانا عبد الستار تونسوی ؒ بھی جلوس میں آ شامل ہوئے۔ فقیر راقم ابتدائی جلسوں سے آج کے جلوس تک صوفی اللہ وسایا ؒ کے زیر قیادت شریک رہا تھا۔ اس جلسہ میں لاہور سے شیعہ مکتب فکر کے رہنما جناب علی غضنفر کراروی بھی شریک ہوئے۔ جلوس کے شروع ہوتے ہی مخدوش حالات کو سامنے رکھ کر فقیر نے ان کو دفتر بھیجوا دیا کہ آپ آرام کریں۔ جلوس کے بعد اکٹھے ملتان چلیں گے۔ پورے ضلع سے کارکنوں کی نمائندگی موجود تھی۔ بلاشبہ ہزاروں کا جلوس تھا۔ ڈی سی، ایس پی نے باہر نکل کر بات چیت کرنا چاہی۔ فقیر نے جا کر صوفی اللہ وسایا ؒ کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کان میں کہا کہ مولانا! اب وقت ہے جلوس کی طاقت آپ کی پشت پر ہے۔ انتظامیہ سے قادیانی مردہ کے اخراج کے لئے کل کی تاریخ طے کرالو۔ جلوس پرامن منتشر کر دو۔ کل پولیس افسران کے ہمراہ آپ جائیں اور قادیانی مردہ نکلوا کر آئیں۔ صوفی صاحب ؒ مصر تھے کہ یہ ابھی چلیں۔ جلوس کے ہمراہ جائیں گے۔ لیکن یہ کسی طرح ممکن نہ تھا۔ میری بات سن کر صوفی اللہ وسایا ؒ رو پڑے کہ حکومت جھوٹے وعدے کرتی ہے۔ مہینہ ہو گیا ہے۔ مجھے سمجھیں کہ میں کربلا میں اکیلا کھڑا ہوں۔ میرے لئے صوفی صاحب ؒ کو اس ماحول میں قائل کرنا مشکل ہو گیا۔ میں پیچھے ہٹ آیا۔ پولیس نے لاٹھی چارج شروع کر دیا۔ صوفی صاحب ؒ بھاری جسم کے تھے۔ حضرت تونسوی صاحب ؒ
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
بوڑھے تھے۔ پولیس کی زد میں آگئے۔ خوب لاٹھی چارج ہوا۔ کئی رہنما زخمی ہوگئے۔ ان دنوں فقیر ہلکے جسم کا تھا۔ جان بچی، لاکھوں پائے۔ تب بریلوی مکتب فکر کے رہنما جناب محمد خان لغاری بھی زخمی ہوئے۔ سب حضرات کو بیسیوں رفقاء سمیت زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔ فقیر افرا تفری میں دفتر آیا۔ مولانا کراروی کو ساتھ لیا اور ملتان کے لئے عازم سفر ہوا۔ تھوڑی دیر بعد دفتر پر چھاپہ پڑا اور موجود سب حضرات بھی حوالہ زندان ہو گئے۔
پولیس افسران کے وحشیانہ آپریشن سے ایک بار سراسیمگی پھیل گئی۔ ریڈیو اور اخبارات میں خبر آئی۔ قومی اسمبلی میں تحریک التواء پیش ہوئی۔ ہم نے جلسوں اور مظاہروں کا اعلان کر دیا۔ حکومت کی وعدہ خلافی کو کوسا گیا۔ اس دور کے حکمرانوں میں کچھ احساس تھا۔ ٹی وی پر پوری قوم کے سامنے وعدہ خلافی کے الزام کے سامنے ٹھہر نہ سکے۔ پولیس گئی۔ قادیانی ثمن دار کی لاش مسجد سے نکال کر ان کی اپنی حویلی میں دبا دی گئی۔
صوفی اللہ وسایا ؒ فاتح شیر گڑھ بن گئے۔ قادیانیوں پر اوس پڑ گئی۔ قادیانی غیر مسلم ہیں۔ مسلمانوں کے قبرستان علیحدہ۔ غیر مسلموں کے مرگھٹ علیحدہ۔ یہ مال کے کاغذات میں تقسیم و فرق موجود ہے۔ پوری مغربی دنیا میں مسلم، غیر مسلم قبرستانوں میں یہ تمیز موجود ہے۔ لیکن جان کر قادیانی خود کو مسلمان ثابت کرنے کے لئے اپنے مردے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر کے آئین سے انحراف کے مرتکب ہوتے ہیں۔ قادیانی قیادت جان کر قادیانیوں کے مردے خراب کرا کر قوم کو الو بناتی ہے اور خود کو مظلوم ثابت کرتی ہے۔ اس تحریک کا فائدہ یہ ہوا کہ شادن لنڈ میں چالیس قادیانی مسلمان ہو گئے کہ جناب! دنیا میں مسلمانوں سے ہم علیحدہ۔ مرنے کے بعد بھی مسلمانوں میں دفن نہ ہوسکیں تو لعنت ہے اس قادیانیت پر۔ خود اس قادیانی ثمن دار کا ایک قریبی عزیز، بیٹا یا پوتا ایک مرحلہ پر صوفی اللہ وسایا ؒ کے پاس آیا۔ قادیانیت ترک کرنے کا ارادہ کیا۔ صوفی اللہ وسایا ؒ نے فقیر کو فون کیا کہ کیا کرنا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ کوئی سیاسی چال نہ ہو۔ فون بند کیا۔ اس سے اعلام لکھوایا۔ مرزا قادیانی کے کفر پر دستخط لے کر فارغ کر دیا۔ مجھے فون کیا کہ توبہ کرادی۔ میں نے کہا آپ نے جلدی کی۔ معاملہ کو تھوڑا سوچ لیا ہوتا۔ کہنے لگے کہ مرزا قادیانی کو اس نے کافر کہا۔ قادیانیوں کی ذلت ہوئی۔ ان سے اس کی لڑائی ہوئی۔ دشمن کمزور ہوا۔ یہ نہ سہی اس کی اگلی نسل سے قادیانیت کے جراثیم بھی ختم ہو جائیں گے۔ اگر پھر مرتد ہوا۔ ہم زندہ ، تو پھر دمادم مست قلندر کرنے میں کیا دیر لگتی ہے۔ میدان بھی ہے۔ سواری بھی ہے۔ شاہسوار بھی ہے۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
غرض خوب آدمی تھے۔ پھر قادیانی مردوں کے اخراج از قبرستان ہائے مسلم کی تحریک کو پروان چڑھایا۔ پورے ضلع کو صاف کر دیا۔ رہے نام اللہ کا۔ اس قسم کے ان کے مجاہدانہ کارناموں سے تاریخ بھری ہے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے ممتاز رہنماؤں میں سے تھے۔ جرأتمند، باہمت، بہادر انسان تھے۔ ان کا دل آئینہ کی طرح صاف تھا اور زبان نفاق سے پاک تھی۔ جو کہتے تھے کر کے دکھاتے تھے۔ آخر وقت تک مرد غازی اور مجاہد کی طرح ستیزہ کار رہے۔ آخری عمر میں شوگر نے کمزور کر دیا۔ دل و دماغ آخر تک متحرک رہے۔ یہی مومن کی شان ہے۔
٢١؍ فروری ٢٠٠٥ء کو انتقال ہوا۔ ٢٢؍ فروری کو مثالی جنازہ ہوا۔ ضلع بھر کے لوگ قافلہ در قافلہ آئے۔ عدیم النظیر حاضری تھی۔ آپ کے استاذ حضرت مولانا محمد قاسم نے جنازہ پڑھایا۔ آبائی قبرستان میں خلد نشین ہوئے۔
فتنہ مکرر
کوٹ قیصرانی، تحصیل تونسہ، ضلع ڈیرہ غازیخان میں امیر مندنا نامی ایک قادیانی کو اس کی اولاد نے مسلمانوں کی مسجد کے صحن میں دفن کر دیا۔ یہ لوگ علاقے کے چوہدری تھے۔ مسلمان قوم غریب تھی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو پتا چلا تو اشتہارات شائع کئے، لٹریچر تقسیم کیا۔ کانفرنسیں منعقد کیں۔ ملک بھر کے علماء گئے۔ پورے تونسہ کی تحصیل کو سراپا احتجاج بنا دیا۔ مولانا صوفی اللہ وسایا ؒ اور خانقاہ تونسہ کے چشم و چراغ خواجہ مناف صاحب اس تحریک کے روح رواں تھے۔ عالمی مجلس کے امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد ؒ کی شفقت و محبت، سرپرستی و تعاون ان کو حاصل تھا۔ تحریک پھیلتی گئی۔ مرزائی قیادت اور اس کی اولاد کی چوہدراہٹ و سرداری نے اسے برادری کی عزت کا مسئلہ بنا دیا۔ مرنے مارنے پر تل گئے۔ حکومتی ارکان نے کہا کہ: جناب! اگر اس کی قبر کشائی کی گئی تو بلوچستان کے پہاڑوں سے آزاد قبائل کی قیصرانی برادری لڑنے کے لئے نیچے آ جائے گی۔ علاقہ میدان جنگ بن جائے گا۔ گویا ایک مردود کے مردے کو نکالنا کشمیر کو فتح کرنے کا میدان قرار دے دیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے محمد خان جونیجو وزیر اعظم کو کہا، انہوں نے پنجاب کے مذہبی امور کے وزیر جناب خدا بخش ٹوانہ کی ڈیوٹی لگائی۔ وعدے کے باوجود وہ موقع پر نہ آئے۔ حکومتی ارکان محض حیلہ بہانہ سے اس تحریک کو لمبا کر کے ٹھنڈا کرنا چاہتے تھے۔ ایک ماہ کا عرصہ گزر گیا۔ جوں جوں وقت گزرتا جا رہا تھا توں توں مرزائی نواز کہتے جا رہے تھے کہ جی اب اتنا وقت ہو گیا ہے، دفع کرو، اب کیا فائدہ؟
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
تحریک کے رہنما، تحریک کا الاؤ روشن رکھنے میں مصروف تھے۔ امید و یاس کی کیفیت طاری تھی۔ علاقہ بھر میں اشتعال تھا، کوٹ قیصرانی میں مرزائیوں نے مسلح آدمی بلوائے ، ان کو ایک مکان پر رکھا۔ صبح و شام بکرے ذبح ہو رہے ہیں۔ دیگیں پک رہی ہیں۔ گپ شپ جاری ہے۔ شام کو مسلح جلوس نکال کر اپنی طاقت کا مظاہرہ کر کے مسلمانوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ یہ بات عالمی مجلس کے راہنماؤں کے لئے پریشان کن تھی۔ راہنماؤں نے فیصلہ کیا کہ اب تونسہ میں نہیں بلکہ ضلعی ہیڈ کوارٹر پر احتجاج کیا جائے۔ پورے ضلع کے مسلمان جمع ہوئے۔ قافلے آئے ، پولیس نے ناکہ بندی کی جو توڑ دی گئی۔ سارا ضلع جمع ہوا۔ احتجاجی جلسے کے بعد جلوس نکالا۔ پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔ بیسیوں زخمی ہوئے۔ سینکڑوں گرفتار کر لئے گئے۔ تین دن تک ہر داڑھی والے کو پولیس پکڑ کر تھانے میں لے جاتی تھی۔ اس ظلم و ستم کے خلاف قومی اسمبلی میں آواز اٹھائی گئی۔ دشمن رسوا ہوا مرزائی ہار گئے۔ مرزائی نوازوں کے منہ کالے ہو گئے۔ حق کا بول بالا ہوا۔ تحریک کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ حکومت مجبور ہو گئی۔ بالآخر جا کر کوٹ قیصرانی کا پولیس نے گھیراؤ کیا۔ مرزائیوں کو گرفتار کیا۔ چوہڑوں کو بلوا کر قبر کشائی کرائی۔ مردود مرزائی کی لاش نکال کر مرزائیوں کے گھر کے صحن میں دبا دی گئی۔ اس تحریک میں جو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو اپنے مشن میں کامیابیاں ہوئیں اور جس طرح مرزائیت کو بیک گیر لگا، اس کی صورتحال یہ ہے:
- مرزائیوں نے اپنے مردے کو عام علیحدہ اپنے مرگھٹ میں دفن کرنے کے بجائے اپنے
گھر میں دفن کیا۔ مرزائیوں کے ہاتھوں قدرت نے یہ ایسا کام کرایا کہ اگر علیحدہ مقام پر دفن ہوتا تو مرزائی چند دن کے بعد اس سانحہ کو بھول جاتے۔ اب صبح و شام اپنے گھر آتے جاتے اس کی قبر کو دیکھ کر اوپر والے بھی جل رہے ہیں اور نیچے والا بھی جل رہا ہے۔ یہ حسد کی آگ میں اور وہ جہنم کی آگ میں۔
- اس تحریک سے علاقہ بھر میں مرزائیت کے خلاف نفرت کا ایک نیا دور شروع ہوا۔
مرزائیوں کی چوہدراہٹ و سرداری کا بھوت ہوا ہوا۔
- مرزائیت پر اتنی اوس پڑی کہ اس مردے کے خاندان پوتے وغیرہ میں بعض حضرات کو
اللہ رب العزت نے مرزائیت سے توبہ کی توفیق بخشی۔ فالحمدللّٰہ!
- شادن لنڈ، ڈیرہ غازیخان میں تقریباً چالیس قادیانی افراد مسلمان ہوئے۔ ان میں
ایک ماسٹر غلام حیدر بھی تھا جو اسی سال سے زیادہ عمر کا تھا۔ اس نے ختم نبوت کانفرنس شادن لنڈ میں مولانا خواجہ خان محمدؒ کی صدارت میں اپنے ایمان لانے کا سبب
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
بیان کرتے ہوئے کہا کہ: ”میں نے اپنی قادیانیت کے زمانے میں مولانا لال حسین اخترؒ سے مناظرے کئے، میں مرزائیت کا سرگرم مبلغ تھا۔ مگر میر مند مرزائی کے مردے کا حشر دیکھ کر میرے دل نے گواہی دی کہ مرزائیت کو قبول کر کے ہم لوگ دنیا میں رسوا ہوئے۔ اگر مر کر بھی مرزائیت کی وجہ سے ہماری لاش خراب ہو تو اس مذہب کا کیا فائدہ جو دنیا و آخرت میں ذلت و رسوائی کا سامان کرے؟“
- اس تحریک کے بعد تقریباً بیس مرزائی مردے صرف ڈیرہ غازیخان کے علاقے میں
مسلمانوں کے قبرستانوں سے علیحدہ کئے گئے۔ یوں کفر و اسلام کے درمیان حد قائم ہوئی کہ مرزائی مردے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ ہو سکے۔
- اس واقعے کے بعد پورے ملک میں تحریک شروع ہوئی۔ کئی مرزائی مردے عالمی مجلس
تحفظ ختم نبوت نے مسلمانوں کے قبرستانوں سے نکلوائے۔ بالآخر حکومت نے گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعے اعلان کیا کہ کوئی مرزائی مردہ مسلمانوں کے قبرستان میں آئندہ قانوناً دفن نہ ہوگا۔
- ١٩٨٨ء کے الیکشن میں مرزائی مردہ میر مند کا داماد الیکشن میں پاکستان پیپلز پارٹی کے
ٹکٹ پر کھڑا ہوا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے مدافعت کی۔ چنانچہ یہ الیکشن ہار گیا۔
- اس تحریک میں جب ڈیرہ غازیخان میں جلوس پر لاٹھی چارج ہوا تو زخمی ہونے والوں
میں مولانا عبدالستار تونسویؒ بھی تھے۔ دن کو زخمی ہوئے رات کو خواب میں آنحضرت ﷺ کی زیارت سے مشرف ہوئے۔
(٧٠)
اللہ یار خانؒ، حضرت مولانا قاضی محمد
(وفات: ١٠/ جنوری ٢٠٠٢ء)
حضرت مولانا قاضی اللہ یار خان مرحوم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے قدیم مبلغین میں سے تھے۔ زندگی بھر اشاعت اسلام و ترویج عقیدہ ختم نبوت کے لئے آپ نے گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ بہت ہی مرنجاں مرنج اور باغ و بہار شخصیت تھے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے علاقہ میں حاصل کی۔ پاکستان بننے سے قبل دورہ حدیث شریف کے لئے ہندوستان کی معروف
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
دینی درسگاہ جامعہ اسلامیہ ڈابھیل تشریف لے گئے۔ شیخ الاسلام پاکستان حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ، شیخ الحدیث حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی ؒ، محدث کبیر حضرت مولانا بدر عالم میرٹھی ؒ جیسے اکابر علماء و محدثین سے دورہ حدیث کی تعلیم حاصل کی۔ پاکستان بننے کے بعد آپ نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت میں شمولیت اختیار کی۔
فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیات ؒ اور مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اختر ؒ سے آپ نے قادیانی فتنہ کے خلاف مناظرہ کی تربیت لی اور پاکستان بھر میں قادیانی فتنہ کی علمی خیانتوں اور بدعقیدگی سے امت مسلمہ کو باخبر کرنے کے لئے آپ نے لازوال خدمات سرانجام دیں۔ گوجرانوالہ اور کئی مقامات پر آپ نے ضلعی دفاتر میں بھی خدمات انجام دیں لیکن آپ کا زیادہ تر وقت مرکزی دفتر میں گزرا اور آپ نے مرکزی مبلغ کے طور پر پورے ملک میں قریہ قریہ، گلی گلی، ختم نبوت کی پاسبانی کا اعزاز حاصل کیا۔
آپ ذی استعداد عالم دین اور حاضر جواب مناظر تھے۔ چھوٹے قادیانی مناظرین سے لے کر قادیانی جماعت کے چوتھے چیف گرو مرزا طاہر تک سے آپ کی گفتگوئیں اور باضابطہ مناظرے ہوئے اور ہر جگہ آپ نے کفر کو شکست دے کر عظمت اسلام کے علم کو بلند کیا۔ آپ انتہائی ذہین اور حاضر جواب تھے۔ قادر الکلام، شیریں بیاں مقرر تھے۔ شہروں و دیہاتوں میں برابر مقبول تھے۔ قرآن مجید کی تلاوت بلا ناغہ ان کی زندگی کا معمول تھا۔
انتہائی صاف ستھرا، سادہ مگر اجلا لباس پہنتے تھے۔ حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی ؒ، مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھری ؒ، مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اختر ؒ، شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوری ؒ اور حضرت مولانا خواجہ خان محمد ؒ کے زمانہ امارت میں بکمال اطاعت اور کمال ذمہ داری کے ساتھ خدمات سرانجام دیں۔ نہیں یاد کہ کسی مشکل سے مشکل تبلیغی سفر سے انہوں نے کبھی عذر کیا ہو۔ دفتر مرکزیہ جو پروگرام ترتیب دے دیتا تھا اسے نبھانا وہ اپنے اوپر فرض قرار دے لیتے تھے۔ انتہائی اچھے دوست تھے۔ بڑے حضرات کے ساتھ وقت گزارا تھا اور انہیں حضرات کی روایات کے امین تھے۔ نہ صرف رد قادیانیت بلکہ رفض و بدعت اور دوسرے کئی موضوعات پر آپ کی تیاری تھی۔ آپ کی تقریر بھی متنوع ہوتی تھی۔ اپنے بیان کو دل آویز بنانے کے لئے اپنے حافظہ کے ساتھ مطالعہ سے بھی کام لیا کرتے تھے۔ قرآن وسنت کے ضروری حوالہ جات انہیں مستحضر تھے۔ کئی اشعار ان کی نوک زبان پر ہوتے تھے اور موقعہ و محل کی مناسبت سے ان سے کام لینے کا فن بھی جانتے تھے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
کے شعبہ تبلیغ سے ان کی نصف صدی کی حسین یادیں وابستہ ہیں۔ ان کی سنہری خدمات اور مخلصانہ مساعی ان کے لئے ذخیرہ آخرت ہیں۔
گزشتہ چند سالوں سے اپنی پیرانہ سالی کے باعث گھر پر تھے۔ آنکھوں میں موتیا اتر آیا تھا۔ آپریشن کرایا جو کامیاب رہا۔ تمام بچوں بچیوں کی شادیاں کر کے ہلکی فراغت حاصل کرلی تھی۔ تمام اولاد برسر روزگار ہے۔ آخر وقت تک مرحوم کے معمولات جاری رہے۔ حق تعالیٰ ان کی قبر کو بقعہ نور بنائیں۔
محترم قاضی صاحب آپ چلے ....... ہم آئے۔ اس لئے کہ اس دنیا میں سبھی جانے کو آتے ہیں۔ کل من علیہا فان O ویبقی وجہ ربک ذو الجلال والاکرام!
(٧١)
امام الدین قریشیؒ، حضرت مولانا
(وفات: نومبر ٢٠٠٣ء)
حضرت مولانا امام الدین قریشی مرحوم لودھراں کے نواحی علاقہ شاہنال کے رہائشی تھے۔ ابتدائی تعلیم قصبہ مڑل، گوگڑاں، ضلع لودھراں اور شجاع آباد میں حاصل کی۔ آپ کے اساتذہ میں حضرت مولانا محمد عبداللہ بہلویؒ، حضرت مولانا عبد الہادی عباسیؒ، حضرت مولانا غلام محمد جہانیاںؒ، حضرت مولانا سید بشیر احمد شاہ بخاریؒ خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔ ملتان کے قدیم مدرسہ جامعہ عبیدیہ قدیر آباد میں بھی تعلیم حاصل کی۔ دنیا پور کے قریب ایک گاؤں میں امامت وخطابت کے فرائض ایک عرصہ تک سر انجام دیئے۔ بعد ازاں اسلامی مشن بہاولپور میں بھی خدمات سر انجام دیں۔
اسی زمانہ میں خطیب اسلام حضرت مولانا عبدالشکور دین پوری مرحوم سے مراسم قائم ہوئے تو کچھ عرصہ مجلس حقوق اہل سنت سے وابستہ رہے۔ تقریباً گزشتہ بیس سال سے مجلس تحفظ ختم نبوت کے شعبہ تبلیغ سے وابستہ تھے۔ ڈیرہ غازیخان، مظفر گڑھ اور لیہ میں مجلس کے مبلغ رہے۔ اس پورے دور میں آپ کا ہیڈ کوارٹر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا مدرسہ دارالہدیٰ چوک پرمٹ ضلع مظفر گڑھ رہا۔ آپ انتھک، محنتی، جفاکش اور باہمت عالم دین تھے۔ دور دراز دیہاتوں میں سائیکل
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
پر سفر کر کے تبلیغ اسلام کا فریضہ انجام دینا آپ کا معمول تھا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے جو کام آپ کے ذمہ لگتا اسے آپ بخیر وخوبی انجام دینے کے لئے جان جوکھوں میں ڈال کر قابل رشک مثال قائم کرتے۔
قدرت نے آپ کو بہت سادہ طبیعت عطا فرمائی تھی۔ وہ دوستوں کے دوست تھے۔ ہنس مکھ اور خوش مزاج تھے۔ جس مجلس میں آپ ہوتے اس میں دوستوں کی دل لگی کا باعث ہوتے۔ خود بھی باغ و بہار طبیعت کے مالک تھے اور حاضرین کو بھی سدا بہار بنا دیتے تھے۔ قدرت نے آپ کو بلا کا گلا عطا فرمایا تھا۔ جہیر الصوت واحسن الصوت تھے۔ قرآن مجید کی تلاوت اور تقریر ترنم سے کرتے تو دیہاتی عوام کے دل موہ لیتے۔ اردو اور سرائیکی کے اچھے واعظ تھے۔ جہاں جلسہ یا کانفرنس ہوتی وہاں تلاوت، نظم ونعت اور تقریر سے تھوڑی دیر میں جم غفیر جمع کر لیتے تھے۔ دور دراز کے علاقوں میں جہاں دشوار گزار سفر ہوتا وہاں آپ کے نام کا قرعہ پڑتا تو دل و جان سے تیار ہو جاتے۔ سندھ اور سرگودھا کے علاقوں میں آپ کی بارہا تشکیل ہوئی۔ جہاں گئے کامیاب لوٹے۔ چناب نگر ختم نبوت کانفرنس کے دعوتی پروگراموں پر نکلتے تو گردونواح کے دیہاتوں میں دھوم مچا دیتے۔ ہمیشہ چناب نگر ختم نبوت کانفرنس میں آپ کا ابتدائی بیان ہوتا تھا۔ بہت ہی خوش الحان مقرر تھے۔ عام فہم اور سادہ گفتگو کرتے۔ اشعار سے تقریروں میں ایک سماں باندھ دیتے تھے۔ دو دن لگا تار جلسہ جاری رہتا تب بھی رات گئے تک اسٹیج پر براجمان رہتے۔ مقرر کو داد دینے اور جہیر الصوت ہونے کے باعث نعرے لگوانے میں بہت سخی طبیعت واقع ہوئے تھے۔ قرآن مجید کی روزانہ تلاوت آپ کا معمول تھا۔ اپنی تمام اولاد کو دینی تعلیم دلانے کے حریص تھے۔ اپنی دو صاحبزادیوں کو حافظہ وعالمہ کا کورس کرایا۔
حضرت مولانا امام الدین قریشی مرحوم بہت ہی خوبیوں کے مالک تھے۔ عرصہ سے حج کی خواہش تھی۔ اس سال حج کے لئے درخواست جمع کرائی۔ قرعہ اندازی میں آپ کا نام نکل آیا جس پر بہت خوش تھے۔ گویا برسوں کی خواہش پوری ہوتی دیکھ کر سراپا تیاری بن گئے تھے۔ لیکن قدرت الٰہی کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ بجائے بیت اللہ شریف حاضر ہونے کے، رب البیت کے حضور حاضر ہو گئے اور ”دل کی بے قراری کو قرار آ گیا“ کے مصداق ہو گئے۔
حضرت مولانا امام الدین قریشی مرحوم شوگر کے عارضہ میں مبتلا تھے۔ لیکن انہوں نے بیماری کو اپنے اوپر مسلط نہیں کیا تھا۔ معمولی ادویات کے استعمال پر اکتفا کرتے۔ زیادہ پرہیز کے
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
بھی خوگر نہ تھے۔ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر سے واپسی پر ملتان دفتر تشریف لائے۔ ایک دو روز قیام کیا۔ پھر گھر اور وہاں سے مدرسہ دارالہدیٰ چوک پرمٹ چلے گئے۔ طبیعت ناساز ہوئی تو ملتان دفتر آگئے۔ علاج ہوتا رہا۔ مجلس لگتی رہی۔ صبح و شام کے معمولات جاری رہے۔ ایک آدھ دن کے لئے ملتان میں ہی اپنے صاحبزادے کے ہاں چلے گئے۔ گھر سے اہلیہ کو بلالیا۔ پھر واپس دفتر آگئے۔ علاج جاری رہا۔ رمضان المبارک میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام گزشتہ پچاس سالوں سے جامع مسجد الصادق بہاولپور میں پہلے پندرہ دن مختلف مجلس کے اکابر ومبلغین حضرات کے فجر کی نماز کے بعد درس ہوتے ہیں۔ امسال ابتدائی درس آپ کے تھے۔ وہاں جانے کے لئے تیار ہوگئے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جماعت کے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری مدظلہ نے انہیں روکا کہ آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ آپ نہ جائیں۔ ہم متبادل انتظام کرتے ہیں۔ لیکن بڑے اصرار سے یہ کہہ کر ان سے اجازت حاصل کی کہ میری طبیعت ٹھیک ہے۔ بہاولپور میں تعارف ہے۔ حضرت مولانا محمد اسحق ساقی سے دوستانہ اور گھریلو مراسم ہیں۔ ان سے طبیعت بہت مانوس ہے۔ وہاں بھی دفتر مرکز یہ جیسی سہولت ملے گی۔ گھر بھی قریب ہے۔ صبح کا ایک گھنٹہ بیان ہوتا ہے وہ کوئی مسئلہ نہیں۔ مجھے جانے کی اجازت مرحمت فرمائیں۔ حضرت ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری مدظلہ نے ان کے پیہم اصرار کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔ حضرت مولانا امام الدین قریشی مرحوم ومغفور روانہ ہو گئے۔ یہ سفر سفر آخرت ثابت ہوا۔ گھر کے کیا قریب ہوئے کہ آپ ابدی گھر آخرت ہی کو سدھار گئے۔
انتقال کا واقعہ یوں ہوا کہ حضرت مولانا امام الدین قریشی مرحوم جب بہاولپور دفتر پہنچے تو طبیعت سفر کے باعث مضمحل تھی۔ حضرت مولانا محمد اسحق ساقی نے ماہر ڈاکٹروں کو دکھایا۔ انہوں نے ہسپتال میں داخل کر لیا۔ لیکن معمولی صاحب فراش رہ کر آپ نے علاج معالجہ کی سہولتوں سے منہ موڑ کر اپنا رخ بیت اللہ کی طرف کر لیا اور کلمہ شہادت کا ورد کرتے ہوئے سفر آخرت پر روانہ ہوگئے۔
حضرت مولانا محمد اسحق ساقی نے آپ کی تجہیز وتکفین کا اہتمام کیا۔ ان کی میت کو ایمبولینس کے ذریعہ ان کے آبائی گاؤں لے جایا گیا۔ اگلے دن ٣ رمضان المبارک کو حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری مدظلہ نے آپ کا جنازہ پڑھایا۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگارنگ
(٧٢)
انور رحمہ اللہ (مبلغ کوئٹہ)، مولانا محمد
جلالپور پیر والا کے مولانا محمد انور صاحب تھے جو عرصہ تک کوئٹہ میں مجلس کے مبلغ رہے۔ خوب انتھک محنتی انسان تھے۔
(٧٣)
بشیر احمد رحمہ اللہ (منڈی شاہ جیونہ)، مولانا
شاہ جیونہ ضلع سرگودھا کے مولانا بشیر احمد مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ رہے۔ آپ نے بہاولنگر میں مجلس کی طرف سے مبلغ کے طور پر خدمات سرانجام دیں۔ بعد میں اپنے علاقہ کے کسی سرکاری سکول میں ملازمت حاصل کر لی تو آپ کی جگہ بہاولنگر میں مولانا خدا بخش شجاع آبادی مجلس کے مبلغ مقرر ہوئے۔
(٧٤)
جمال اللہ الحسینی رحمہ اللہ، حضرت مولانا
(وفات: ٢١؍ جنوری ٢٠٠٠ء)
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ مبلغ، دیرینہ رفیق، سندھ کی ہر دلعزیز دینی شخصیت، مدبر، معاملہ فہم، زیرک، بزرگوں کی روایات کے امین، شعلہ نوا خطیب، مجاہد فی سبیل اللہ، حضرت مولانا جمال اللہ الحسینی رحمہ اللہ سندھ کی معروف خانقاہ عالیہ درگاہ ہالجی شریف کے خانوادہ کے چشم و چراغ تھے۔ مولانا جمال اللہ رحمہ اللہ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد گرامی حضرت مولانا نذیر حسین مرحوم سے حاصل کی۔ حضرت مولانا نذیر حسین رحمہ اللہ کا برصغیر کی تقسیم سے قبل مجلس احرار اسلام کے رہنماؤں سے جماعتی تعلق تھا۔ احرار رہنما مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھری رحمہ اللہ کے حکم پر مولانا نذیر حسین رحمہ اللہ نے اپنے بیٹے مولانا جمال اللہ رحمہ اللہ کو جامعہ خیر المدارس ملتان میں داخل کرایا۔ آپ نے حضرت مولانا خیر محمد جالندھری رحمہ اللہ و حضرت مولانا محمد شریف کشمیری رحمہ اللہ سے
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
حدیث شریف پڑھی۔ جامعہ خیر المدارس سے فارغ ہوتے ہی آپ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نظام تبلیغ سے وابستہ ہو گئے۔ شکار پور، جیکب آباد آپ کا حلقہ تبلیغ مقرر ہوا۔ آپ پندرہ دن اپنے حلقہ میں اور پندرہ دن مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کے ساتھ تبلیغی پروگراموں میں شریک ہوتے۔ حضرت جالندھریؒ کی صحبت نے آپ کو ہیرا بنا دیا۔ خالص جماعتی ذہن تھا۔ ملک بھر کی تمام دینی جماعتوں، اداروں کے کام کو اپنا کام سمجھتے تھے۔ سندھ میں کہیں پر کوئی بھی بے دین سر اٹھاتا اس کے تعاقب کے لئے کمر بستہ ہو جاتے۔ قدرت نے آپ کے پہلو میں حساس دل رکھا تھا۔ وہ دین کے کسی بھی مسئلہ میں رواداری کی بجائے دینی غیرت پر عمل پیرا ہوتے۔ بڑے بڑے معرکے سر کئے مگر خود کبھی کسی طاغوتی طاقت کے سامنے سرنگوں نہ ہوئے۔ غرض ایک مجاہد و داعی میں دینی حمیت کی جو خوبیاں ہونی چاہئیں تھیں وہ آپ میں بدرجہ اتم موجود تھیں۔ آپ نے نصف صدی میں بڑے بڑے اکابر کی نہ صرف زیارت کی بلکہ ان سے کسب فیض بھی کیا اور پھر ان کے فیض کو عام کرنے میں در بدر، قریہ قریہ، شہر شہر، گلی گلی، دیوانہ وار پھرے۔ کراچی سے اسلام آباد تک اور پشاور سے بہاولپور تک کے در و دیوار گواہ ہیں کہ آپ نے انتہائی سادہ مگر دلوں میں اترنے والی آواز حق سے لوگوں کے دلوں کو منور کیا۔ مسلمانوں کے لئے ابریشم سے بھی زیادہ نرم تھے۔ مگر دین کے دشمنوں کے لئے ننگی تلوار تھے۔ جہاں آپ اڑ گئے بڑے بڑے جفادریوں کے پتے پانی ہو جاتے تھے۔ کفر آپ کے نام سے کانپتا تھا۔ قادیانیت کو سندھ میں آپ نے گالی بنا دیا تھا۔ اوباڑہ سے کٹری تک کہیں قادیانیوں کو آپ نے چین نہ لینے دیا۔ آخر کیوں نہ ہوتا خاندانی تعلق ہالیجی سے تھا۔ استاذ مولانا خیر محمد جالندھریؒ تھے۔ مربی حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ تھے۔ دست شفقت حضرت مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ کا تھا اور دعائیں حضرت مولانا عبدالکریمؒ بیر شریف والوں کی تھیں۔ اعتماد آپ پر حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ فرماتے تھے۔ ان نسبتوں نے آپ کو جلاء بخشی اور قدرت حق کے کرم و احسان سے ہر میدان آپ کے ہاتھ رہا۔
پچپن سال عمر پائی ہوگی۔ گزشتہ سے پیوستہ سال قدرت نے آپ کو مکہ مکرمہ و مدینہ طیبہ کی حاضری کا موقع فراہم کر دیا۔ کچھ عرصہ سے شوگر کا حملہ ہوا۔ جگر گردہ کے نظام میں خلل پڑا۔ لیکن آخر وقت تک قدرت نے کسی کا محتاج نہ کیا۔ بیماری و علاج ساتھ ساتھ چلتے رہے۔ آخر مسافر منزل کو پا گیا۔ پنوں عاقل کے قریب گاؤں میں آپ کا جنازہ ہوا۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
(٧٥)
جمال عبدالناصر رحمہ اللہ (بھکر)، جناب
(وفات: ٢٩؍دسمبر ٢٠١٣ء)
جمال عبدالناصر مرحوم جناب ڈاکٹر دین محمد فریدی رہنما عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بھکر کے ہاں ١٩٧١ء کو پیدا ہوئے۔ ہوش سنبھالتے ہی قرآن مجید مسجد فاروقیہ میں مولانا قاری عبیداللہ صاحب کے ہاں ناظرہ پڑھا۔ سکول میں میٹرک تک کی تعلیم حاصل کی۔ کوئی ڈپلومہ بھی کیا۔ جناب ڈاکٹر دین محمد صاحب نے انہیں ١٩٩٤ء میں دفتر مرکزیہ ملتان بھیج دیا۔ حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری نے انہیں مرکزی دفتر کے حساب کتاب، ڈاک وغیرہ کے شعبہ میں سیٹ کر دیا۔ بائیس تئیس سال کی عمر ہوگی جب دفتر ملتان آئے تھے۔ کل کی طرح مجھے یاد ہے کہ فقیر لائبریری میں اخبارات ورسائل کے حصہ کے برآمدہ میں کام کر رہا تھا۔ بڑی محبت سے ایک نوخیز نوجوان بڑے ہی احترام ومحبت سے گرم جوشی کے ساتھ اچانک بغل گیر ہوئے اور کہا کہ آپ کا بھتیجا جمال عبدالناصر بھکر سے۔ فقیر نے تعجب سے دیکھا۔ غالباً یہ پہلی ملاقات تھی۔
سر پر ہاتھ پھیرا، شاباش دی اور یہ کام پر جا کر بیٹھ گئے اور پھر بیس سال ان کے شب و روز فقیر کی نظروں کے سامنے گزرے۔ شادی ہوئی، اولاد ہوئی، جب آئے تھے داڑھی اتری ہی تھی۔ جب گئے تو داڑھی سفید ہو چکی تھی۔ کل چوالیس سال عمر پائی۔
بہت اچھی صحت تھی۔ خوب متحرک تھے۔ کراری چیزیں خوب مرچ مصالحہ والی کھانے کے خوگر تھے۔ اسی چٹخارہ پن میں عوارض نے گھیر لیا۔ بہت ہی سادہ مزاج اور بھولے پن کا مرقع قدرت نے اسے بنایا تھا۔ اطاعت شعار تھا۔ میرے ایسے بدمزاج شخص کی کڑوی کسیلی سنتا تھا۔ اس کی یہ نیاز مندی بھلائی نہ جا سکے گی۔ پہلے ملتان دفتر میں کام کرتا رہا۔ پھر کراچی دفتر ضرورت تھی۔ وہاں تبادلہ ہو گیا۔ یہاں بھی خوش۔ وہاں بھی بہت ہی خوش۔ غرض خوب وقت گزارا۔ جس کام کو شروع کرتا پورا دن سر جھکائے لگا رہتا۔ کام کرنے میں اجتہاد بھی کرتا اور اجتہاد میں خطاء وصواب دونوں کا احتمال ہوتا ہے۔ لیکن اس کی جفاکشی صحت کے زمانہ میں قابل داد تھی۔ جس کام کا کہتے خوش دلی سے شروع ہو جاتا۔ کراچی قیام کے دوران شادی ہوئی تو کچھ عرصہ بعد اہلیہ کو کراچی بلا لیا۔ پھر کراچی سے ملتان دفتر کی ضرورت کے لئے آ گئے۔ بچوں کو ساتھ رکھا۔ تین چار ماہ بعد
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
بچوں سمیت گھر جاتا۔ اپنے ماں، باپ، سسرال والوں سب سے ملاقات ہو جاتی۔ عید کے موقع پر باقی ساتھی گھروں کو جاتے یہ دفتر میں رہ جاتا۔ غرض بہت ہی ایثار پیشہ انسان تھا۔ کراچی سے ملتان آیا تو اس دوران میں اس کی صحت گرنا شروع ہو چکی تھی۔ اپنی بیماری کو سنجیدہ نہ لیا۔ ایک آدھ بار زیادہ طبیعت بگڑی تو پہلے ملتان پھر حضرت مولانا سعید احمد جلالپوری ؒ کے کہنے پر کراچی سے مہینہ بھر علاج کرایا۔ طبیعت سنبھل گئی۔ پھر وہی کراری چیزوں کے استعمال نے صحت پر اثر کیا۔ اب طبیعت بگڑتی سنبھلتی رہی۔ لیکن ان کے اٹھک بیٹھک، چال ڈھال اور سرگرمیوں نے چغلی کھانی شروع کر دی کہ بیماری سنجیدہ توجہ کی مستحق ہے۔ طبیعت میں رقت پیدا ہو گئی تھی۔ کبھی پاؤں زخمی، کبھی کمر میں درد۔ درخواست کی کہ چیک اپ کرائیں۔ چیک اپ کرایا تو جگر اور تلی کے بڑھنے کی رپورٹ آئی۔
فقیر کی گزشتہ کچھ عرصہ سے عادت ہے کہ سفر پر جاتے ہوئے ساتھیوں سے بھول چوک معاف کرا کر چلتا ہوں۔ بھارت کا سفر کرنا تھا۔ صبح سفر تھا۔ ناصر صاحب ابھی دفتر نہ آئے تھے۔ ملاقات نہ ہو سکی۔ واپس آیا۔ معلوم کیا تو پتہ چلا کہ ان کے خسر فوت ہو گئے تھے۔ بھکر بچوں سمیت گئے ہوئے ہیں۔ ٢٦؍ دسمبر شام کو مولانا محمد علی صدیقی کا فون آیا کہ ناصر بھائی کو اٹیک ہوا ہے۔ ہسپتال میں ہیں۔ طبیعت پر چوٹ لگی کہ اس کی صحت اٹیک کی متحمل نہیں۔ ٢٨؍ صبح فون کیا تو معلوم ہوا کہ ایک آدھ بار آنکھ کھولی ہے۔ مسکرائے ہیں۔ پہچان ہے۔ بظاہر فالج لگتا ہے۔ لیکن ہاتھ پاؤں نے حرکت شروع کر دی ہے۔ آج دماغی معائنہ ہوگا۔ وہ ہوا، تو معلوم ہوا کہ برین ہیمرج ہے۔ شریان پھٹ گئی ہے۔ اب تو بس محض فضل ایزدی کے علاوہ کوئی راستہ سجھائی نہ دیتا تھا۔ اس کے بعد وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا۔ ناصر صاحب ؒ کی جا کر زیارت کی۔ اتنا اطمینان اور سکون، گہری نیند سو رہے ہیں: ”یا ایتھا النفس المطمئنہ ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیۃ“ کی حقانیت آنکھوں کے سامنے گھوم گئی۔
(٧٦)
حنیف ندیم سہارنپوری ؒ، حضرت حافظ محمد
(وفات: ٢٠؍ اکتوبر ١٩٩٤ء)
حضرت حافظ محمد حنیف ندیم سہارنپوری مرحوم راجپوت برادری سے تعلق رکھتے تھے۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
رنگ پور علاقہ تھل ضلع میانوالی کے علاقہ میں آپ کا خاندان تقسیم کے بعد آباد ہوا۔ آپ نے تعلیم سرگودھا میں حاصل کی۔ قرآن مجید کے حافظ و قاری اور عالم دین تھے۔ تعلیم سے فراغت کے بعد روڈہ ضلع سرگودھا میں تدریس کی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ تدریس کے زمانہ میں اپنے علاقہ میں مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ، حضرت مولانا لال حسین اخترؒ، حضرت مولانا محمد حیاتؒ، حضرت مولانا محمد شریف بہاولپوریؒ، حضرت مولانا عبدالرحمن میانویؒ، مولانا قاضی عبدالطیف شجاع آبادیؒ کے جلسے رکھتے رہے۔
آپ نے وعظ و تبلیغ و مناظرہ سے قادیانیت کو زچ کیا۔ مجاہد ملت حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ نے جمیعۃ علماء اسلام کے ترجمان ”ترجمان اسلام“ کو لاہور سے جاری کیا تو اس میں بطور مدیر معاون کے کام کرنا شروع کیا۔ جناب ڈاکٹر احمد حسین کمالؒ کے ساتھ عرصہ تک اس پرچہ میں کام کرتے رہے۔ جمیعۃ علماء اسلام کا علیحدہ گروپ بنا تو آپ حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ کے پرچہ ہفت روزہ ”الجمعیۃ“ راولپنڈی سے منسلک ہو گئے۔ سالہا سال اس میں خدمات انجام دیں۔ بعد میں کراچی سے رانا بشیر صاحب نے روزنامہ صداقت جاری کیا تو اپنی خدمات اس کے لئے وقف کر دیں۔
وہاں سے حضرت اقدس مولانا تاج محمودؒ کی خواہش پر ہفت روزہ لولاک فیصل آباد سے منسلک ہو گئے۔ حضرت مرحوم کی وفات کے بعد لولاک کو مکمل طور پر آپ نے سنبھالا۔ کراچی سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا دوسرا ترجمان ہفتہ وار ختم نبوت جاری ہوا تو آپ کا حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ نے اس میں تقرر کر دیا (تھوڑے بہت معمولی وقفہ کے علاوہ) تا دم زیست اس پرچہ سے وابستہ رہے۔ حافظ حنیف صاحب مرحوم بہت ملنسار اور خوش اخلاق تھے۔ رد قادیانیت پر اچھی خاصی دسترس رکھتے تھے۔ جو قادیانی گفتگو کرتا اسے لاجواب کر دیتے۔ ٹھنڈی طبیعت کے مالک تھے۔ فریق مخالف کو دلائل و براہین سے بند کرنے کا قدرت نے آپ کو کامل سلیقہ بخشا تھا۔ زندگی میں کئی کامیاب مناظرے کئے۔ قلم کے دھنی تھے۔ صاف ستھری تحریر ہوتی تھی۔ سادہ عام فہم گفتگو کرتے تھے۔ شاعری کا بھی ذوق تھا۔ مگر اسے اہمیت نہ دیتے تھے۔ انتہائی منکسر المزاج تھے۔ ساتھیوں کو آگے بڑھانے اور اہمیت دینے میں خوشی محسوس کرتے تھے۔ ان کی خواہش ہوتی تھی کہ متبادل رفقاء تیار ہوں۔ فقیر راقم الحروف کے ساتھ ان کا ہمیشہ مخلصانہ و مربیانہ برتاؤ رہا۔ ہمیشہ فقیر کی تحریر و بیان کی اصلاح فرماتے تھے۔ ”شاہین ختم نبوت“ کا فقیر راقم کے لئے جوڑ سب سے پہلے انہوں نے جوڑا۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
سات سال کی عمر کے تھے کہ والد صاحب کا انتقال ہوا۔ پچھلے سال والدہ صاحبہ فوت ہوگئیں۔ کوئی حقیقی بہن بھائی نہ تھا اور خود بھی زندگی بھر مجرد رہے۔ ان کی کل کائنات ایک بیگ تھا جس میں چند جوڑے کپڑے اور چند کتابیں ہوتی تھیں۔ اچھے خاصے کاتب تھے۔ پینٹری کا کام بھی جانتے تھے۔ صدیق آباد کانفرنس کے اور ختم نبوت کانفرنس لندن کے بینرز وہ خود لکھتے تھے۔ جامع مسجد باب الرحمت پرانی نمائش کراچی و دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کی نئی عمارت پر تمام تر لکھائی انہوں نے خود فرمائی تھی۔ اچھے خاصے ڈیزائنر تھے۔ ہفتہ وار ختم نبوت کی اکثر و بیشتر ڈیزائننگ میں خود رہنمائی فرماتے تھے۔
عمر پچاس سال سے متجاوز ہوگی۔ صدیق آباد کانفرنس پر تشریف لائے۔ واپسی پر اپنے پھوپھی زاد بھائی حافظ خلیل احمد قیصر اور دیگر اعزاء سے ملنے کے لئے کروڑ لعل عیسن گئے۔ حافظ خلیل صاحب کے ہاں ان کا رہنا سہنا تھا۔ چھٹی گزارنے کے لئے بھی ان کے ہاں تشریف لے جاتے تھے۔ واپسی پر پیر کو ملتان تشریف لائے۔ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے ایک دن کے لئے روک لیا۔ منگل دفتر مرکزیہ رہے۔ بدھ کو فقیر گھر سے واپس آیا تو دفتر میں ملاقات ہوئی۔ دن بھر ساتھ رہے۔ شام کو انہوں نے زکریا ایکسپریس سے کراچی کے لئے سفر کیا۔ جمعرات کو وہاں پہنچے۔ آرام کیا۔ ظہر کے بعد معمول کے مطابق کام کیا۔ سوا تین بجے ایک بچے کو بوتل لانے کے لئے حکم کیا۔ بچہ واپس آیا تو آپ کی طبیعت دگرگوں تھی۔ رفقاء کے آنے سے پہلے آپ اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔
کراچی میں آپ کو غسل دیا گیا۔ جنازہ پڑھا گیا۔ جمعہ ٢١؍ اکتوبر کو ہوائی جہاز سے ان کا تابوت ملتان لایا گیا۔ کراچی سے مولانا محمد علی صدیقی ہمراہ آئے۔ ملتان ائیر پورٹ پر عالمی مجلس کے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری دامت برکاتہم کی قیادت میں ملتان دفتر کا عملہ اور دیگر رفقاء نے آپ کے تابوت کو وصول کیا۔ ایمبولینس کے ذریعے مولانا عزیز الرحمن جالندھری، جناب جمعہ خان اور مولانا محمد علی صدیقی ان کے تابوت کو لے کر کروڑ لعل عیسن تشریف لے گئے۔ وہاں پہنچ کر آپ کے جسد خاکی کو تابوت سے نکالا گیا۔ چوبیس گھنٹے سے زیادہ وقت گزرنے کے باوجود نعش صحیح سلامت اور چہرہ تر و تازہ تھا۔ چہرہ کی رونق مزید نکھر گئی تھی۔ موت کے آثار تک نہ تھے۔ ایسے محسوس ہوتا تھا کہ میٹھی گہری نیند سو رہے ہیں۔ حاضرین نے چہرے کا دیدار کیا۔ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری کی اقتداء میں پانچ بجے شام نماز جنازہ پڑھی گئی اور کروڑ لعل عیسن کے قبرستان میں انہیں رحمت حق کے سپرد کر
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
دیا گیا۔ زندگی بھر رحمت عالم ﷺ کی عزت و ناموس کے پاسبان رہے۔ قیامت میں بھی آپ ﷺ کا مرحوم کو سایہ شفاعت نصیب ہو۔ آمین!
(٧٧)
حیات انگوی ؒ ، حافظ محمد
(وفات: ٢٣؍جنوری ٢٠٠٨ء)
محترم حافظ محمد حیات ؒ کے والد گرامی کپتان غلام محمد ؒ ساکن انگہ ضلع خوشاب تھے۔ کسی دور میں احرار سرخ پوش رضا کاروں کے جیوش کے کپتان ہوتے تھے۔ اس زمانہ میں انگہ کے محترم غلام محمد ؒ انگہ کے کپتان تھے۔ آپ بہت ہی بہادر، جری اور حق گو تھے۔ حضرت مولانا گل شیر ؒ کی رفاقت اور حضرت امیر شریعت ؒ کی صحبت نے آپ کو حق گوئی کا اعلیٰ مقام نصیب فرمایا تھا۔
مجلس تحفظ ختم نبوت کے قائم ہوتے ہی اس میں شریک ہو گئے۔ فقیر راقم نے مبلغ بننے کے بعد پہلا سفر کوٹ ادو، بھکر، میانوالی کا کیا تو چکڑالہ میں کپتان غلام محمد مرحوم اور انگہ میں بھی کپتان غلام محمد مرحوم (دونوں ہم نام) نے راہبری و پیشوائی فرمائی۔ اس زمانہ میں کپتان غلام محمد مرحوم کے صاحبزادہ حافظ محمد حیات مرحوم سبزہ آغاز نوجوان تھے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت نے جابہ میں قادیانیوں کے سرمائی ہیڈکوارٹر کے منصوبہ کو ناکام کرنے کے بعد اپنا مرکز قائم کیا۔ تو باپ، بیٹا دونوں یہاں تشریف لائے اور مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے اس مرکز میں کام شروع کیا۔ عرصہ ہوا محترم کپتان صاحب اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے۔ تو اس کے بعد حافظ محمد حیات ؒ نے اس مرکز میں پنجگانہ نماز، جمعہ، عیدین، بچوں کی تعلیم کے منصب کو نبھایا۔
مرحوم بہت ہی سادہ، کم گو، درویش، فاقہ مست بہت ہی صالح طبیعت کے انسان تھے۔ بارہا ملتان میٹنگوں پر، ہر سال سالانہ ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ اور پھر چناب نگر میں ان کی زیارت ہوتی تھی۔ ابھی چند روز ہوئے ذی الحجہ کا بل سفر خرچ اور مدرسہ کی بجلی وغیرہ کا ملتان بھیجا اور مشاہرہ کی رقم ان کو مرکز سے ارسال کی گئی تھی۔ کیا معلوم تھا کہ چند دن بعد ان کی وفات کی خبر آجائے گی۔
حق تعالیٰ ان کی تربت پر اپنی رحمتوں کی بارش نازل فرمائے۔ اگلے دن جمعہ کو آبائی
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
گاؤں انگہ میں جنازہ ہوا۔ اپنے والد گرامی کی یادگار تھے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے لئے ان کی مخلصانہ مساعی قابلِ احترام ولائق تبریک ہیں۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی اولاد کے حامی و ناصر ہوں۔ آمین!
(٧٨)
حیات پسروری ؒ، سائیں محمد
(ولادت: ١٧/مارچ ١٩١٣ء ...... وفات: ٢٨/جون ١٩٨٧ء)
ہمارے بہت ہی قابل احترام پنجابی زبان کے قومی شاعر جناب سائیں حیات سیالکوٹ کے شہر پسرور کے رہنے والے تھے۔ پسرور میں آپ کی مٹی کے برتنوں کی دکان تھی۔ بہت ہی نامور اور معروف شاعر تھے۔ مشاعروں، ادبی محافل، دینی مدارس اور مذہبی جماعتوں کے اجلاسوں میں جہاں جاتے چھا جاتے۔ حضرت امیر شریعت ؒ، مولانا محمد علی جالندھری ؒ، مولانا محمد حیات ؒ ایسے حضرات جہاں بیان کرتے اگلے اجلاس میں ان کی تقاریر کا پنجابی نظم میں خلاصہ بیان کر دیتے۔ ایک زمانہ میں جناب جانباز مرزا ؒ، سید امین گیلانی ؒ اور سائیں محمد حیات ؒ سے ہی جلسوں کی رونقیں ہوا کرتی تھیں۔ ختم نبوت کی کانفرنسوں کی یہ جان ہوا کرتے تھے۔ سائیں محمد حیات ؒ کے پنجابی کلام کے بعض مجموعہ کلام بھی شائع ہوئے۔ مقامی طور پر اپنے شہر میں بھی یہ حضرت مولانا مفتی بشیر احمد پسروری ؒ کے دست و بازو تھے۔ آپ نے بلدیاتی الیکشنوں میں حصہ لیا اور کامیابیوں نے ان کے پاؤں چومے۔ قادیانی کذاب کو وہ چرکے لگائے کہ اس کا شیطان بھی چلّا اٹھا۔
(٧٩)
خدا بخش شجاع آبادی ؒ، حضرت مولانا
(وفات: ٢٩/ستمبر ٢٠٠٥ء)
آج سے تقریباً ایک صدی قبل حضرت امیر شریعت ؒ اور ان کے گرامی قدر رفقاء نے قادیان میں ختم نبوت کے کام کی بنیاد رکھی تھی۔ قادیان سے ملتان، چنیوٹ سے چناب نگر تک وہ سلسلہ بحمدہ تعالیٰ جاری وساری ہے۔ ١٩٧٤ء کے اواخر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے چناب
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
نگر میں اپنے کام کا آغاز کیا۔ اب تو یہاں الحمدلله ! مساجد و مدارس کی بہار کی فضا قائم ہو گئی ہے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ہر سال ماہ شعبان کی تعطیلات میں پورے ملک کی دینی جامعات کے علماء و طلباء کی بہت بڑی تعداد سالانہ رد قادیانیت کورس میں تربیت حاصل کرتی ہے۔ امسال کورس کے اختتام پر ہی چوبیسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے موقع پر ہمیشہ رفقاء کی مختلف ڈیوٹیاں لگتی ہیں۔ فقیر کے ذمہ ملک بھر سے تشریف لانے والے مہمانان کے عمومی کھانے کے کام کی نگرانی کرنا ہوتی ہے۔ کانفرنس کی جب سے داغ بیل ڈالی گئی تب سے مہمانوں کو کھانا کھلانے کا نظم حضرت قاری محمد ابراہیم صاحب مہتمم جامعہ طیبہ گرین ٹاؤن فیصل آباد کے ذمہ ہوتا ہے۔ قاری محمد اشفاق صاحب بخاری مسجد جناح کالونی، قاری محمد ابوبکر دونوں حضرات کی سرپرستی میں سینکڑوں طلباء کھانے کے پنڈال میں ڈیوٹی دیتے ہیں۔ ٢٩ ستمبر ٢٠٠٥ء بروز جمعرات مغرب کے بعد فقیر راقم کھانے کے پنڈال میں مہمانوں کی خدمت میں مصروف تھا۔ اسی اثنا میں موبائل پر کال آئی۔ فون کرنے والے نے جب کہا کہ: ”ارشد شجاع آباد سے بول رہا ہوں“ تو میرا ماتھا ٹھنکا۔ وہی ہوا جس کا خدشہ تھا۔ ارشد صاحب مولانا خدا بخش صاحب کے خواہر زادہ ہیں۔ جنہیں مولانا کے کہنے پر مولانا عبدالرؤف جتوئی مرحوم نے ٹیلی فون کے محکمہ میں بھرتی کرایا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ حضرت مولانا خدا بخش صاحب انتقال فرما گئے۔ انا لله وانا اليه راجعون ! کل ٣٠ ستمبر جمعہ کو جنازہ ہوگا۔ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری دامت برکاتہم یا آپ، کوئی ایک ضرور شرکت کرے۔ ہزاروں مہمان ملک بھر سے آئے ہوئے تھے۔ کانفرنس جاری تھی۔ درمیان سے وقت نکالنا ناممکن تھا۔ ان سے عرض کیا کہ ہم مشورہ کرتے ہیں۔ ضرور سبیل نکالنے کی کوشش کریں گے۔ لیکن آپ ہمارا انتظار نہ کریں۔ اپنی سہولت کے مطابق جنازہ کا نظم بنائیں۔ ہمارا مقدر ہوا تو شریک ہو جائیں گے۔ لیکن ہمارے انتظار کی وجہ سے جنازہ میں تاخیر بالکل نہ ہونے پائے۔
جامعہ باب العلوم کہروڑ پکا کے شیخ الحدیث، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی پالیسی ساز شخصیت حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانوی ؒ کانفرنس کے پہلے دن ظہر کے قریب کانفرنس میں شرکت کے لئے تشریف لائے۔ اگلے روز جمعہ سے قبل آپ کے بیان کا نظم طے تھا۔ پہلی رات کی نشست کی صدارت بھی آپ نے کرنا تھی۔ جمعہ سے قبل کورس کے تین سو فضلاء اور حفظ کے پندرہ
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
طالب علموں کو اسناد و انعامی کتب بھی آپ کے ہاتھوں دینے کا نظم طے تھا۔ آپ نے ان امور میں بیک وقت اپنی طرف سے اصالتاً اور حضرت امیر مرکزیہؒ اور حضرت اقدس سید نفیس الحسینیؒ نائب امیر کی طرف سے نیابتاً نمائندگی فرمانا تھی۔ وہ ظہر سے قبل تشریف لائے تھے۔ اطلاع کے باوجود فقیر ان کی زیارت کے لئے وقت نہ نکال پایا تھا۔ اب آپ کی طرف سے یکے بعد دیگرے دو تین آدمی آئے کہ: ”حضرت شیخ“ یاد فرما رہے ہیں۔ اس وقت شام کا کھانا کھلانے کا کام عروج پر تھا۔ ہزاروں ساتھی کھانے کے پنڈال میں کھانا کھا رہے تھے۔ اس سے کہیں زیادہ انتظار میں تھے۔ لیکن آنکھیں بند کر کے ”حضرت شیخ“ سے ملاقات کے لئے چل پڑا۔ ابھی تک کسی کو حضرت مولانا خدا بخش مرحوم کے انتقال کی خبر فقیر نے نہیں سنائی تھی۔ ”حضرت شیخ“ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے شفقت سے گلے لگایا۔ تھپکی دی۔ تمام تھکاوٹیں دور ہوگئیں۔ فرمایا کہ تین کاموں کے لئے آپ کو بلایا ہے۔ ایک تو مولانا خدا بخشؒ کی تعزیت کرنی ہے۔ دوسرا جنازہ میں شرکت کے لئے مشورہ کرنا ہے۔ تیسرا آپ کو کھانا کھلانا ہے۔ اس لئے کہ میری اطلاع کے مطابق کام کی زیادتی کے باعث آپ ان دنوں کھانا نہیں کھا پاتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت مولانا خدا بخشؒ کے عزیزوں کا آپ کو فون آچکا تھا۔ وہ آپ سے جنازہ پڑھانے کے لئے اصرار کر رہے تھے۔ فقیر نے عرض کیا کہ حضرت! مولانا خدا بخشؒ تو ہمارا رأس المال تھے۔ پوری رات آپ کے لئے سفر کرنا۔ پھر یہاں کانفرنس میں تقسیم اسناد، صدارت، بیان، ان کا کوئی متبادل حل سامنے نظر نہیں آتا۔ دستر خوان پر دیر تک حضرت مولانا خدا بخشؒ کا ذکر خیر جاری رہا۔ رات کے اجلاس میں کانفرنس کے منتظم اعلیٰ حضرت مولانا صاحبزادہ عزیز احمد نے مولانا مرحوم کے لئے قرارداد تعزیت پیش کی۔
حضرت مولانا خدا بخشؒ کے والد گرامی کا نام حاجی سلطان محمودؒ تھا۔ سیوڑا قوم سے تعلق رکھتے تھے۔ خاندانی طور پر زمیندارہ پیشہ تھا۔ چاہ سدھو والا موضع رکن ہٹی تحصیل شجاع آباد کے رہائشی تھے۔ حاجی سلطان محمود صاحب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر ثانی، خطیب پاکستان حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ کے جمعہ کے نمازی تھے۔ قاضی صاحبؒ انہیں شفقت سے اپنا بھائی کہتے تھے۔ حاجی سلطان محمودؒ نے اپنے گھر سے قریبی بستی میں حضرت مولانا محمد واصلؒ کے ہاں اپنے فرزند خدا بخش کو ناظرہ قرآن مجید کے لئے بٹھایا۔ جب اس سے فراغت ہوئی تو ان کو دینی تعلیم کے لئے دارالعلوم کبیر والا میں
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
داخل کرا دیا۔ مولانا خدا بخشؒ اس لحاظ سے خوش نصیب تھے کہ بیک وقت حضرت مولانا عبد الخالقؒ، حضرت مولانا عبد المجیدؒ، حضرت مولانا علی محمدؒ، حضرت مولانا علامہ منظور الحقؒ، حضرت علامہ ظہور الحقؒ ایسے شہرۂ آفاق ”اکابر خمسہ“ سے آپ نے کسبِ فیض کیا۔ کریما سے بخاری شریف تک کی تعلیم ”یک در گیر و محکم گیر“ کے مصداق دارالعلوم کبیر والا میں حاصل کی۔
١٩٦٥/٦٦ء میں آپ نے دورۂ حدیث شریف کیا، فراغت کے بعد سال چھ ماہ مدرسہ تعلیم الابصار ملتان میں تدریس کی۔ اس کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے شعبہ تبلیغ سے وابستہ ہو گئے۔ مولانا خدا بخشؒ نے اپنی بھر پور جوانی سے بڑھاپے تک تقریباً ٣٨ سال عقیدۂ ختم نبوت کی پاسبانی کا فریضہ انجام دیا۔ حضرت مولانا جوانی میں میانہ قد، گندم گوں سرخی مائل رنگ، کتابی چہرہ، بھرواں جسم، اجلے لباس، میں ہر جگہ نمایاں نظر آتے تھے۔ چومکھی لڑائی میں قادیانیت کے خلاف شب و روز منہمک رہے۔ دوستوں کے دوست تھے۔ ہر وقت رفقاء کے جھرمٹ میں گھرے رہتے تھے۔ ان کے ہاں کوئی راز نہ تھا۔ کوئی ان سے راز کی بات کہتا اس کے اٹھنے سے پہلے اسے وہ گویا انٹرنیٹ پر فیڈ کر کے نشر کر دیتے۔ اس حکمت عملی کا فائدہ یہ ہوا کہ کوئی کسی کی غیبت کرنے سے قبل ہزار بار سوچتا کہ یہ بات ظاہر ہو جائے گی۔ ویسے وہ بات اگلوا کر معاملہ کی تہہ تک پہنچنے کے ماہر تھے۔ مولانا خدا بخشؒ نے تدریس نہ کی۔ ورنہ وہ ذی استعداد بہت اچھے مدرس بن سکتے تھے۔ افہام و تفہیم پر ان کو مکمل دسترس تھی۔ مشکل سے مشکل بات آسان پیرایہ میں اور سخت سے سخت مطالبہ خوبصورت نرم الفاظ میں بیان کرنے کے خوگر تھے۔ یہی وجہ ہے کہ زندگی بھر کبھی جیل، مقدمہ، گرفتاری کی آزمائش میں مبتلا نہیں ہوئے۔
ڈیرہ غازیخان، بہاولپور، بہاولنگر میں مجلس کے مبلغ رہے۔ ١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت کے دوران میں آپ بہاولنگر کے مبلغ تھے۔ تحریک کو اپنے حلقہ میں پروان چڑھانے کے لئے ہمہ تن مصروف عمل رہے۔ تحریک کے نتیجہ میں چناب نگر کو کھلا شہر قرار دیا گیا تو ١٩٧٤ء کے اواخر میں جن حضرات نے سب سے اول اہل اسلام کی طرف سے فرض کفایہ ادا کیا ان میں حضرت مولانا مرحوم بھی شامل تھے۔ پہلے بلدیہ کے تھڑا پر نمازوں کا اہتمام، پھر مسجد محمدیہ ریلوے اسٹیشن کی تعمیر، بعدہ مسلم کالونی میں مسجد و مدرسہ کا قیام۔ ان تمام کاموں میں وہ برابر کے حصہ دار تھے۔ حق تعالیٰ نے آپ کو رد قادیانیت پر کامل دسترس بخشی تھی۔ اس وقت نئی ٹیم کے اکثر و بیشتر مبلغین حضرات کے
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
آپ استاذ تھے۔ آپ نے مناظر اسلام فاتح قادیان مولانا محمد حیات ؒ سے رد قادیانیت کی تربیت حاصل کی تھی اور مولانا محمد حیات ؒ کے منظور نظر شاگردوں میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔ یہی حال باقی اساتذہ کا تھا۔ حضرت مولانا مرحوم مردم شناس تھے۔ اساتذہ کے مزاج کو سمجھتے اور پھر اس کے مطابق طرز عمل اختیار کر کے ان کے دلوں میں گھر کر جاتے اور دعائیں لیتے۔
حضرت مولانا دھڑے کے پکے کی بجائے ”رانجھا سب دا سانجھا“ پر عمل پیرا ہوتے۔ البتہ جن سے دلی تعلق ہوتا ان کے متعلق کبھی کوئی پہلو دار گفتگو نہ سن سکتے تھے۔ عزت دار شخص تھے۔ اپنے مفاد یا ذات کے متعلق کوئی خفت کا پہلو آتا تو ان کی طبیعت کڑھائی میں چنے کی طرح رقص کناں ہو جاتی تھی۔ حضرت مولانا نے بیک وقت مختلف الخیال حضرات سے دوستی کی اور اس کو خوب نبھایا۔ مثلاً مناظر اسلام امام اہل سنت مولانا عبدالستار تونسوی ؒ اور خطیب اسلام حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمی ؒ کے مزاج میں آخری دور میں جماعتی ہم آہنگی نہ رہی۔ لیکن مولانا خدا بخش ؒ نے دونوں حضرات سے تعلق نبھایا اور خوب نبھایا۔ حضرت مولانا اپنے کام سے کام رکھتے۔ جس مجلس یا ماحول میں جاتے ان کی ہاں میں ہاں ملا کر گوشہ عافیت تلاش کرتے ان پر اپنی رائے مسلط کرنا یا ان سے اختلاف کرنا ان کے مزاج کے خلاف تھا۔
پنجابی کا محاورہ ہے ”جتنا ٹرساں ستھرا ٹرساں“ جو کام کیا صاف کیا۔ سارے جہاں کا کام اپنے ذمہ بالکل نہ لیتے تھے۔ عزیمت کی بجائے رخصت پر زندگی بھر عمل کیا۔ ”خلق الانسان ضعیفاً“ کی عملی تفسیر تھے۔ زندگی خوب مزے سے گزاری۔ نہانا، کپڑے بدلنا، حجامت بنانا، وقت پر کھانا، وقت پر نیند۔ غرض عبادت و ریاضت، تلاوت و ذکر جو معمولات تھے۔ وقت پر کرنے کے قائل تھے۔ زندگی بھر کبھی جھمیلوں میں نہیں پڑے۔ ان کی مجلس میں دو مختلف المزاج یا مختلف النظریہ دوست جمع ہو جاتے۔ ان کے درمیان خود متنازعہ موضوع کو چھیڑ دیتے۔ اب ان دونوں کی طرف سے گرم و سرد دلائل شروع ہو جاتے۔ آپ ابتدا میں ایک کی، پھر دوسرے کی حمایت کرتے۔ جب مجلس خوب جم جاتی بات تکرار تک پہنچ جاتی تو صلح کرا دیتے اور وعظ و نصیحت سے کام لیتے کہ میاں اپنے اپنے موقف پر خوب دلائل دو۔ تلخی ٹھیک نہیں۔ دوستوں کی گرم مزاجی ناقابل اصلاح ہو جاتی تو دامن جھاڑا۔ چادر کندھے پر رکھی اور اس پورے قضیہ سے لاتعلق ہو کر بیٹھ گئے۔ دوستوں کو ایسے پٹخنی دیتے کہ ان کا دھڑن تختہ ہو جاتا۔ کوئی شکوہ کرتا تو فرما دیتے کہ تمہیں کس بے وقوف نے کہا تھا کہ معاملہ کو یہاں تک لے جاؤ۔ فقیر کو دو بار حضرت مولانا کے ساتھ حج کی سعادت نصیب ہوئی۔ ان کی پوری تبلیغی زندگی میں اکثر و بیشتر ساتھ رہا۔ ابتدا میں حضرت مولانا سید منظور
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
احمد شاہ حجازیؒ، مولانا خدا بخشؒ اور فقیر، ہم تینوں کی مجلس میں ”تکون“ قابل رشک ہوتی۔ جس مجلس میں اکٹھے ہوئے منہ، کان، کندھا ملا کر اکٹھے معرکہ اٹھاتے اور سماں باندھ دیتے۔ اچھے دوست تھے اور بہت اچھے دوست تھے۔ فقیر سے چند ماہ مجلس میں پہلے آئے تھے۔ لیکن علم و فضل، قابلیت وصلاحیت معاملہ فہمی ہر اعتبار سے فقیر سے کروڑ گنا سینئر تھے۔ بایں ہمہ اتنا عرصہ اتنے قرب کے باوجود ان کی زندگی کے بعض پہلو ایسے تھے جس میں اپنی مثال آپ تھے۔ آج سے دس گیارہ سال قبل کی بات ہو گی کہ ”قادیانیت کے خلاف قلمی جہاد کی سرگزشت“ کتاب مرتب ہو رہی تھی۔ پروفیسر یوسف سلیم چشتی مرحوم کا مضمون ماہنامہ ”حقیقت اسلام“ لاہور میں قسط وار شائع ہوا تھا۔ جسے نصف صدی بیت چکی تھی۔ عنوان تھا ”شناخت مجدد“ پروفیسر صاحب مرحوم نے مجدد کے دس معیار قائم کر کے اس پر مرزا قادیانی کو ناپا گیا تو قادیانی کذاب کو کوتاہ قامت اور کند ذہن ثابت کیا۔ لاہوری مرزائیوں کے رد میں بہت عمدہ مقالہ تھا، لیکن اس کی کچھ اقساط مرکزی دفتر کی لائبریری سے شارت تھیں۔ مولانا خدا بخشؒ سے تذکرہ ہوا۔ مضمون کی خوب تعریف فرمائی۔ اس کی اشاعت پر بھر پور لیکچر دیا اور فرمایا کہ میں نے اسے مکمل کتابی شکل میں پڑھا ہے۔ بہت عمدہ دستاویز ہے۔ اسے ضرور شائع ہونا چاہئے۔ مولانا کی مہمیز لگانے سے میری تلاش کی رفتار تیز ہو گئی۔ بہاولپور، ملتان، لاہور، اسلام آباد، کراچی کی سرکاری وغیر سرکاری لائبریریوں کو چھان مارا اقساط مکمل نہ ہو سکیں۔ اس کی تلاش کا جنون سوار تھا (بعد میں مولانا محمد اقبال نعمانیؒ خطیب علی پور چٹھہ کی زبانی معلوم ہوا کہ پروفیسر یوسف سلیم چشتیؒ ہمارے استاذ مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اخترؒ کے کالج کے زمانہ کے استاذ تھے یہ نسبت نہ بیٹھنے دیتی تھی) دس گیارہ سال تلاش کی دھن سوار رہی اور اس صورتحال کے لمحہ لمحہ کی مولانا خدا بخشؒ کو اطلاع تھی۔ بلکہ ان کے سامنے سب کچھ ہو رہا تھا۔ دس گیارہ سال بعد وہ مقالہ کتابی شکل میں جھنڈیر لائبریری میلسی سے مل گیا۔ فوٹو لیا۔ ماہنامہ ”لولاک“ میں قسط وار شائع کیا۔ ماہنامہ ”لولاک“ میں اس مقالہ کے ”انٹرو“ میں مولانا خدا بخشؒ کے حکم پر شائع کرنے کا اعتراف کیا۔ بعدہ اسے احتساب قادیانیت کی کسی جلد میں شائع کر کے سکون پایا تو ایک دوست کو مولانا خدا بخشؒ نے فرمایا کہ یہ مقالہ کتابی شکل میں میرے پاس بیس سال سے موجود ہے۔ مولانا اور فقیر کے رہائشی کمرے شمالاً جنوباً ہیں۔ پانچ فٹ پر کتاب مولانا کے پاس رکھی ہے اور میں تلاش میں دیوانہ ہو رہا ہوں۔ لیکن مولانا نے کتاب کی ہوا تک نہ لگنے دی۔ یہ سنا تو آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ عرض کیا کہ حضرت! واقعی کتاب آپ کے پاس تھی؟ بلاتکلف فرمایا! ہاں تھی اور اب بھی ہے۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
حضرت! آپ نے ذکر تک نہیں کیا؟ فرمایا کہ میری کتاب تھی۔ مجھے حق حاصل تھا کہ میں آپ کو دوں یا نہ دوں؟ واقعی دلیل وزنی تھی۔ میں لاجواب ہو گیا۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ مولانا کی قوت ارادی کتنی مضبوط تھی۔ لیکن مولانا مرحوم کے اس طرز عمل سے نہ صرف مجھے بلکہ مجلس کو یہ فائدہ ہوا کہ اس مقالہ کے تلاش کرتے کرتے پانچ صد سے زائد نایاب کتب رد قادیانیت کا مجلس کے کتب خانہ میں (اصل یا فوٹو) اضافہ ہو گیا۔
حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر ؒ جب مجلس کی لائبریری کے انچارج تھے تو رد قادیانیت پر کتب کی تعداد آٹھ صد کے قریب ہوگی۔ اب یہ تعداد اٹھارہ صد کے قریب ہے۔ اس زمانہ میں یقیناً نئی کتب شامل ہوئیں۔ لیکن پانچ صد یا اس سے بھی زائد وہ ہیں جو اس مقالہ کی تلاش میں حاصل ہوئیں اور مجلس کے کتب خانہ میں اضافہ ہوا۔ جس کا باعث مولانا خدا بخش ؒ بنے اور یقیناً اس کا ثواب بھی ان کو ہوگا۔
مولانا مرحوم نے قلم وقرطاس سے کبھی تعلقات استوار نہیں کئے چار سطری خط بھی لکھنا ان پر کوہ ہمالیہ کی چوٹی سر کرنے کے برابر تھا۔ کبھی ترنگ میں آکر کچھ لکھا تو خوب تر لکھا۔ آپ کا ایک رسالہ رد قادیانیت پر ہے جس کا نام ہے: ”مرزا قادیانی کے سولہ جھوٹ“ جو احتساب قادیانیت کی جلد ترپن (٥٣) میں شائع کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ فالحمد لله ! البتہ کتب بینی ومطالعہ کے رسیا تھے۔ آخری عمر تک کوئی کتاب پڑھے بغیر نہ چھوڑتے تھے۔ اکثر مجالس ان کی علمی ہوا کرتی تھیں۔ طالب علمی اور عملی زندگی میں مولانا کی طبیعت ہمیشہ سہل پسند واقع ہوئی تھی۔ اللہ تعالیٰ ان کی آخرت کو بھی سہل فرمائیں۔ وما ذالک علی اللہ بعزیز!
ہزاروں ان کے شاگرد پورے ملک کی سرزمین کے چپہ چپہ پر ان کی تبلیغ کے اثرات۔ چناب نگر کے مساجد و مدارس ان کے لئے ذخیرہ آخرت ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائیں۔ چناب نگر میں کورس کے دوران شوگر کی بیماری کے باعث طبیعت مضمحل ہوئی۔ سال بھر علاج جاری رہا۔ مولانا نے ہمت نہ ہاری۔ کسی کے محتاج نہ ہوئے۔ لیکن مکمل رو بصحت بھی نہ ہو سکے۔ جان پہچان، حافظہ، مکمل آخر تک کام کرتا رہا۔ وقت موعود آن پہنچا تریسٹھ سال کی عمر میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر رب کے حضور حاضر ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ اپنے رحم و کرم کا اپنی شایان شان معاملہ فرمائیں۔ آمین ! بحرمۃ النبی الامی الکریم خاتم النبیین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ واتباعہ اجمعین ٠ برحمتک یا ارحم الرحمین !
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
(٨٠)
خلیل الرحمن ؒ (فاضل دیوبند) ، مولانا
پانی پت کے جناب مولانا خلیل الرحمن دیوبند کے فاضل تھے۔ جو تقسیم کے بعد جھنگ میں آکر آباد ہوئے۔ آپ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ کے عہد امارت میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ بھی رہے ہیں۔ آپ کے دو رسالے رد قادیانیت پر ہمیں میسر آئے: ١...... ”مرزا غلام احمد قادیانی اور مسئلہ جہاد“ ٢...... ”اسلامی تعلیمات اور مرزا قادیانی“ یہ دونوں رسائل احتساب قادیانیت جلد ٤٠ میں شامل ہیں۔
(٨١)
خلیل الرحمن ؒ (مبلغ چنیوٹ) ، مولانا
کوٹلہ چاکر ضلع لودھراں کے مولانا خلیل الرحمن اختر مخزن العلوم خان پور کے فارغ التحصیل تھے۔ آپ نے مجلس تحفظ ختم نبوت کے دارالمبلغین میں کورس کیا اور پھر عرصہ تک چنیوٹ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ رہے۔ خوب سریلے مقرر تھے۔ ختم نبوت کانفرنس ہائے چنیوٹ کے لئے گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ پھر محکمہ اوقاف کی طرف سے گڑھا محلہ کی مسجد صدیق اکبر اور شاہی جامع مسجد میں امامت اور خطابت کے فرائض سرانجام دیئے۔ یہ آج سے پچاس سال پہلے کی باتیں ہیں۔ ٢٠١٣ء تک تو ملاقات رہی۔ اب جس حالت میں ہیں اللہ تعالیٰ سلامت رکھے۔
(٨٢)
زرین احمد خان ؒ (کچا کھوہ) ، مولانا
(وفات: ٧/مئی ١٩٩٣ء)
حضرت مولانا زرین احمد خان ؒ چھب ضلع اٹک کے رہنے والے تھے آپ نے ابتدائی تعلیم حضرت مولانا حسین علی ؒ واں بھچراں سے حاصل کی۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ سے بیعت کا تعلق تھا۔ تعلیم سے فراغت کے بعد اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
تو حضرت چوہدری افضل حق ؒ، مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی ؒ، شیخ حسام الدین ؒ، ماسٹر تاج الدین ؒ، مولانا عبدالقیوم سرحدی ؒ، مولانا غلام غوث ہزاروی ؒ، مولانا محمد علی جالندھری ؒ، مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی ؒ، نوابزادہ نصر اللہ خان ؒ سے آپ کے نیاز مندانہ مثالی تعلقات تھے۔ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ کے آپ خادم خاص تھے۔ میاں غلام محمد ؒ، کپتان چکڑالوی اور مولانا زرین احمد خان ؒ کو یہ شرف حاصل تھا کہ انہوں نے بیماری کے دوران میں حضرت امیر شریعت ؒ کی خدمت کی سعادت حاصل کی۔ حضرت امیر شریعت ؒ سے آپ نے ایک عصا تبرک کے طور پر حاصل کیا۔ جسے وہ خاص مہمات میں اپنے ساتھ بطور تبرک رکھا کرتے تھے۔ قادیانیوں سے مناظرہ ہوتا تو وہ آپ کے ساتھ ہوتا تھا۔ ایک موقع پر ایک قادیانی سے گفتگو کے دوران میں قادیانی شاطر کی عیاریاں دیکھ کر جلال میں آگئے۔ عصا کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ آپ اس عصا کو معمولی نہ سمجھیں۔ یہ امیر شریعت ؒ کا عصا ہے اور پٹھان کے ہاتھ میں ہے۔ حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی سنت پر عمل ہوا تو یہ سانپ بن کر تمہاری بستیوں کو کھا جائے گا۔ آپ کی اس پٹھانی للکار کا قادیانی پر ایسا رعب طاری ہوا کہ وہ دم دبا کر بھاگ گیا۔
حضرت امیر شریعت ؒ نے مجلس تحفظ ختم نبوت کی بنیاد رکھی۔ ان دنوں پرانے بزرگوں کی طرز پر مولانا زرین احمد خان ؒ مفت تبلیغ اسلام کا فریضہ سرانجام دے رہے تھے۔ گزر بسر کے لئے سائیکل پر منیاری کا سامان رکھتے اور دیہاتوں میں تبلیغ کے لئے نکل جاتے۔ ظہر و عصر کے بعد جہاں نماز پڑھی وہاں بیان کر دیا اور پھر پھیری لگائی۔ سامان بیچا۔ رزق حلال کمایا۔ گھر تشریف لائے۔ عرصے سے آپ کا یہ معمول جاری تھا اور سامان خریدنے کے لئے ملتان تشریف لاتے تو حضرت امیر شریعت ؒ سے ملنے کے لئے ان کے در دولت پر ضرور حاضری دیتے۔ ایک دفعہ حضرت امیر شریعت ؒ نے فرمایا: خان! سامان یہاں رکھ دو۔ جو گٹھڑ ہے لے آؤ۔ فروخت کا انتظام کرتے ہیں تمہاری تبلیغی میدان میں ضرورت ہے۔ آپ کے کہنے پر مولانا زرین احمد خان ؒ نے منیاری کا بکس رکھا اور قادیانیت، رد قادیانیت کی کتب کا بکس اٹھایا اور تبلیغ و تحفظ ختم نبوت کے لئے وقف ہو گئے اور مجلس کے پلیٹ فارم سے خدمات سرانجام دینا شروع کیں۔
مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر ؒ، مولانا محمد شریف بہاولپوری ؒ، مولانا محمد شریف جالندھری ؒ، مولانا عبدالرحمن میانوی ؒ کی طرح آپ جماعت کے مبلغین
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
حضرات کی پہلی صف میں شریک تھے۔ مولانا ابوالکلام آزاد ؒ، مولانا احمد سعید دہلوی ؒ، مفتی کفایت اللہ ؒ اور دیگر اکابرین آزادی پر دل و جان سے فدا تھے۔ ان کی زیارت ومجالس میں حاضری اور بیانات کو سننے کے لئے میلوں پیدل یا سائیکل پر دشوار گزار سفر کر کے جانا اپنے لئے قابل فخر گردانتے تھے۔ ذکر وفکر کی مجلسوں کی آبرو تھے۔ عابد، زاہد، متقی بزرگ تھے۔ مطالعہ کا از حد شوق تھا۔ قیمتی کتب جمع کرنے کا محبوب مشغلہ آخری وقت تک جاری رہا۔
مجلس تحفظ ختم نبوت کے اوائل سے لے کر اپنے دم واپسیں تک ٤٥ سال مجلس سے وابستہ رہے۔ گرمی، سردی، دکھ سکھ کی پروا کئے بغیر جماعت کے تبلیغی نظام کو مخلصانہ مساعی سے جاری وساری رکھا۔ امانت و دیانت کا پیکر تھے۔ خلوص و ایثار سے قدرت نے آپ کو قابل رشک حصہ عطا فرمایا تھا۔ چک ٢٦/١٠ آر کچا کھوہ میں منتقل ہوئے تو صبح بچوں کو پڑھاتے اور دن چڑھے تبلیغ کے لئے نکل جاتے۔ یوں تعلیم وتبلیغ کا ساری زندگی سلسلہ جاری رکھا۔ علاقہ میں آپ کے شاگردوں کی خاصی تعداد آباد ہے۔ پٹھان برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ جوانی کے زمانہ سے آپ کی صحت و جوانی رنگ روپ دیکھ کر ہیبت طاری ہو جاتی تھی۔ عالم دین، ذاکر، عابد، پٹھان، گورا چٹا، محنتی جسم، سبحان اللہ! قدرت نے کیا کیا خوبیاں ان میں جمع کر دی تھیں اور مولانا مرحوم کا کمال دیکھو کہ ان تمام خوبیوں کو دین اسلام کی ترویج اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے لٹا دیا۔
١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت میں خانیوال، وہاڑی، میاں چنوں اور چیچہ وطنی کے دیہاتوں وشہروں میں کام کیا۔ گرفتار ہوئے۔ جیل کی تنگ و تاریک کوٹھڑیوں کو آباد کیا۔ ٩ ماہ تک جیل میں رہے۔ آپ پر جو مقدمہ دائر کیا گیا اس کی ایف، آئی، آر میں درج تھا کہ آپ نے ایک تقریر کی۔ اس میں ایک خواب سنا کر مرزا غلام قادیانی کی اہانت کی۔ تحریک ختم ہو گئی۔ رفقاء رہا ہو گئے۔ آپ پر مقدمہ باقی تھا۔ ضمانت پر رہائی آپ کی عظمت کے خلاف تھا۔ مقدمہ کی سماعت شروع ہوئی۔ جج نے خواب پوچھا۔ آپ نے فرمایا کہ حضرت مولانا پیر خورشید احمد گیلانی خلیفہ مجاز شیخ الاسلام حضرت مدنی ؒ کی مجلس میں خواب سنایا تھا اور اس کی تعبیر پوچھی تھی۔ جج نے خواب پوچھا۔ آپ نے کہا کہ میں نے ایک رات خواب میں دیکھا کہ مرزا قادیانی کے حصہ اسفل، پیچھے کی جانب جائے مخرج سے گندگی جاری ہے۔ اونٹ جس طرح اپنے پیشاب اور مینگنیوں پر دم مار کر اس کو ارد گرد بد تمیزی سے بکھیرتا ہے اسی طرح مرزا قادیانی جائے مخرج پر پیٹھ کی جانب الٹا اپنا ہاتھ مار کر چاروں طرف لوگوں پر اپنا تعفن وغلاظت بکھیر رہا ہے۔ حضرت پیر خورشید احمد مرحوم نے اس کی تعبیر یہ بتائی کہ مرزا قادیانی سراپا غلاظت تھا۔ وہ اپنی زبان وبیان ، قلم و ہاتھ سے بے دینی کی
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگارنگ
غلاظت زندگی بھر پھیلاتا رہا۔ خواب اور تعبیر سن کر جج کھکھلا اٹھا اور لکھا کہ خواب اپنی طاقت سے نہیں آتا اور اس کی تعبیر پوچھنا کوئی جرم نہیں۔ لہٰذا آپ بری۔ چنانچہ آپ رہا ہوگئے اور پھر تبلیغی میدان کا سفر شروع کر دیا۔
١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت میں مثالی خدمات سرانجام دیں۔ مولانا زرین احمد خان ؒ اس لحاظ سے بڑے نصیب والے تھے کہ آپ نے عالمی مجلس کے پلیٹ فارم سے کام شروع کیا اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوا کر دم لیا۔ جو پودا لگایا تھا اسے اپنے خون جگر سے سینچا اور اس کے ثمرات سے امت کو بہرہ ور ہوتے دیکھا۔ جوانی میں آپ کے خطاب میں زیادہ تر فرق باطلہ کی تردید ہوتی تھی۔ آخری عمر میں وعظ کہتے تھے۔ وعظ کے دوران میں آپ پر رقت طاری ہو جاتی خود روتے اور سامعین کو رلاتے تھے۔ یہی انداز حضرت مولانا گل شیر مرحوم کا تھا۔ آخر کیوں نہ ہوتا کہ مولانا زرین احمد خان ؒ بھی مولانا گل شیر مرحوم پر دل و جان سے فدا تھے۔ عالمی مجلس کے سالانہ اجتماع ربوہ میں تشریف لے جاتے تو نام ونمود سے کوسوں دور ایک کونے میں پڑے کاروائی دیکھتے رہتے۔ جب ساری دنیا سو جاتی یہ اٹھ کر اللہ رب العزت کے حضور جھولی پھیلا دیتے۔ سال میں ایک بار اپنے علاقہ پٹھمپ تشریف لے جاتے تو اٹک، بھکر، میانوالی وغیرہ کے علاقوں کا بھی دورہ فرماتے۔ بالکل پرانی طرز کے بزرگ تھے۔ ایک دفعہ جو اپنے لئے کام کی لائن متعین کر لی پھر ساری زندگی اس پر گامزن رہے۔ اس دور میں تمام مبلغین ختم نبوت کے مربی ومحسن اور مشفق کا ان کو درجہ حاصل تھا۔ ملکی حالات کی شکست وریخت کا منظر دیکھتے تو دل مسوس کر رہ جاتے۔ عراق نے امریکہ کو للکارا تو پھولے نہ سماتے تھے فرماتے تھے کم از کم کوئی مسلم ملک تو ہے جو امریکہ کو چبھتا ہے۔ امریکہ کے ازلی ابدی دشمن تھے۔ کیوں نا ہوتے کہ اپنے بزرگوں سے یہی سبق پڑھا تھا۔
تقریباً ہر ماہ دفتر مرکزیہ ملتان تشریف لاتے۔ ان کے آنے سے دفتر میں بہار آجاتی۔ رفقاء کو ملتے۔ کام کی رپورٹ سنتے اور باغ باغ ہو جاتے۔ وفات سے ایک یوم پہلے دفتر میں رہ کر گئے تھے۔ معمولی درجہ کی تھکاوٹ و درجہ حرارت محسوس کرتے تھے۔ مگر وہ عمر کا تقاضا تھا۔ گھر گئے۔ دن گزارا۔ عشاء کی نماز باجماعت مسجد میں ادا کی۔ نماز پڑھ کر واپس تشریف لائے۔ ہاتھ میں تسبیح، زبان پر ذکر اور دل میں یاد الٰہی۔ اس حالت میں معمولی درد ہوا اور دل ہار گئے۔ اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائیں۔ حافظ عبدالرشید کچاکھوہ کا کہنا تھا کہ زندگی بھر پچاس سالہ دور خطابت میں مولانا کے چہرہ پر جتنی رونق علم وعمل کی بہار اور پشیمانی جلال دیکھا تھا اس سے کہیں زیادہ وفات کے بعد
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
چہرہ پر رونق تھی۔ رخسار اور پیشانی پر خوبصورتی اور سرخی جھلک رہی تھی۔ لبوں پر مسکراہٹ وتبسم تھی۔ ایسے محسوس ہوتا تھا کہ راہی ملک عدم بڑے سکون و وقار آرام واطمینان و یکسوئی کے ساتھ اپنی آخری منزل کی جانب بڑھنے کے لئے تیار ہے۔ جنازہ میں علاقہ کے ہزار ہا لوگوں نے شرکت کی۔ ٧ مئی ١٩٩٣ء جمعہ کے روز قبل از جمعہ رحمت حق کے سپرد کر دیئے گئے۔ حق تعالیٰ شانہ ان کے نقش قدم پر چلنے کی اور ان جیسی محنت و ایثار کی ہمیں بھی توفیق بخشیں۔ آمین!
(٨٣)
سلطان محمود ؒ (مظفر گڑھ)، مولانا
روہیلانوالی، شہر سلطان کے علاقہ کے ایک مولانا سلطان محمود صاحب تھے جنہیں اس علاقہ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کا ابتدائی مبلغ مقرر کیا گیا تھا۔ کچھ عرصہ آپ نے کام کیا۔ حق تعالیٰ بال بال مغفرت فرمائیں۔ (تفصیلی حالات نہ مل سکے)
(٨٤)
سیف الرحمن ؒ (سرگودھا)، مولانا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سرگودھا کے کسی زمانہ میں مولانا سیف الرحمن صاحب مبلغ رہے جو شاہ پور صدر کے علاقہ کے تھے۔ بہت ہی نائس اور نفیس مرنجان انسان تھے۔ جتنا عرصہ مجلس میں کام کیا خوب کیا۔ ان کے صاحبزادہ جناب ضیاء الرحمن سیفی ایڈووکیٹ تھے جو ١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت میں راؤ عبدالمنان سرگودھوی کے دست و بازو گردانے جاتے تھے۔
(٨٥)
شریف احرار ؒ، مولانا محمد
موصوف گجرات سے تعلق رکھتے تھے۔ پہلے احرار میں رہے۔ کچھ عرصہ کراچی پھر چنیوٹ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ کے طور پر خدمات سرانجام دیں۔ بعد میں دنیا پور خطیب رہے۔ اس کے بعد گجرات چلے گئے۔ بہت ہی اچھے خطیب تھے۔ حق تعالیٰ مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائیں۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
(٨٦)
عبدالرحیم صدیقیؒ (شکر گڑھ)، مولانا ڈاکٹر
(ولادت: ١٩٣٥ء پٹھان کوٹ ...... وفات: ٣٠ مئی ١٩٩٥ء شکر گڑھ) شکر گڑھ کے نامور عالم دین اور مبلغ اسلام مولانا ڈاکٹر عبدالرحیم شکر گڑھی عرصہ تک گوجرانوالہ، لاہور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ رہے۔ بہت ہی مخلص اور مرنجاں مرنج طبیعت کے انسان تھے۔ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے آپ کی خدمات آپ کے لئے ذخیرہ آخرت ہیں۔
(٨٧)
عبدالحفیظؒ (ماچھی وال)، مولانا
ماچھی وال ضلع وہاڑی کے قریبی گاؤں کے حضرت مولانا حافظ عبدالحفیظ تھے۔ دارالعلوم ربانیہ سے فارغ التحصیل ہوئے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سے وابستہ ہوئے۔ خوب محبتوں بھری طبیعت پائی تھی۔ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کو آخری عمر میں اللہ رب العزت نے ہمہ وقتی خادم دے دیا۔ مولانا عبدالحفیظ صاحبؒ نے آپ کی خوب خدمت کی اور خوب برکات کو سمیٹا۔ ملک بھر کے تبلیغی دوروں میں حضرتؒ کے ساتھ ہوتے تھے۔ خوب تعارف ہوا۔ ١٩٧١ء کی جنگ میں میانوالی، کلورکوٹ کے سفر پر تھے۔ جنگ سے ایسے طبیعت میں وحشت پیدا ہوئی کہ گھر جا کر مسجد میں بچوں کو پڑھانا شروع کر دیا۔ حق تعالیٰ نے خوبیوں کا مرقع بنایا تھا۔ بہت درویش منش انسان تھے۔ جوانی میں بلاوا آ گیا اور اگلے جہان چل دیئے۔ رحمة الله تعالى رحمة واسعة!
(٨٨)
عبدالحقؒ (پرمٹ)، مولانا
مدرسہ دارالہدیٰ پرمٹ ضلع مظفر گڑھ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا قائم کردہ ادارہ ہے۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ اس کے ابتدائی مدرس حضرت مولانا عبدالحق صاحب ساکن پرمٹ تھے۔ عرصہ تک یہاں پڑھایا۔ پھر مدینہ طیبہ چلے گئے۔ حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے مرید مولانا محمد علی جالندھریؒ کے کارکن اور مولانا محمد شریف بہاولپوریؒ کے یار غار تھے۔ حق تعالیٰ بال بال مغفرت فرمائیں۔
(٨٩)
عبدالخالق رحمانیؒ (راجن پور)، مولانا محمد
(وفات: ١٤؍جنوری ٢٠١١ء)
مولانا عبدالخالقؒ تہیم برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے والد گرامی کا نام حافظ واحد بخشؒ تھا۔ جن کے ہاں آپ ١٩٣٩ء میں راجن پور میں پیدا ہوئے۔ مولانا عبدالخالقؒ کے والد گرامی قرآن مجید کے بہت اچھے مدرس تھے۔ آپ کی تدریسی خدمات کے صدقہ میں بہت سے اہل علاقہ کے لوگوں نے قرآن مجید کی تعلیم حاصل کی۔
مولانا عبدالخالقؒ نے ١٩٤٨ء میں کوٹ مٹھن سے پرائمری پاس کیا۔ ١٩٥٢ء میں اپنے والد گرامی سے حفظ مکمل کیا۔ مولانا عبدالخالقؒ کے بڑے بھائی حکیم غلام مرتضیٰ دارالعلوم دیوبند کے فاضل تھے۔ مولانا عبدالخالقؒ نے فارسی، صرف ونحو کی تعلیم علی پور مظفر گڑھ کی نواحی بستی ”یاکی والا“ میں حضرت مولانا حبیب اللہؒ سے حاصل کی۔ مولانا حبیب اللہؒ دارالعلوم دیوبند کے فاضل تھے۔ آج کل ”یاکی والا“ میں بہت بڑا دینی جامعہ مولانا حبیب اللہؒ کے جانشین مولانا پروفیسر محمد مکی صاحب کے زیر اہتمام میں قبولیت عامہ کا ریکارڈ حاصل کئے ہوئے ہے۔
حضرت مولانا عبدالخالقؒ نے یاکی والا کے بعد مزید تعلیم کے لئے مخزن العلوم عید گاہ خانپور جمعیۃ علمائے اسلام کے امیر مرکزیہ حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب درخواستیؒ کے ہاں داخلہ لے لیا۔ جہاں روزگار زمانہ شخصیات مولانا واحد بخشؒ فاضل دارالعلوم دیوبند کوٹ مٹھن والے، مولانا مفتی غلام حیدرؒ، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے موجودہ مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری اور دیگر حضرات سے معانی، فقہ، اصول فقہ اور دوسرے علوم کی تکمیل کی۔ اس دوران میں کئی بار حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستیؒ سے آپ
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
نے دورہ تفسیر کی بھی تعلیم حاصل کی۔ اسی کلاس میں مفکر اسلام مولانا لال حسین اختر ؒ سے رد قادیانیت پر بھی عبور حاصل کیا۔
جلالین شریف، مشکوٰۃ شریف کے سال آپ نے جامعہ قاسم العلوم ملتان میں گزارے۔ تب مشکوٰۃ شریف حضرت مولانا فیض احمد ؒ اور جلالین شریف حضرت مولانا مفتی محمد شفیع ؒ بانی جامعہ قاسم العلوم سے پڑھی۔ اس زمانہ میں مناظر اسلام مولانا مفتی محمود ؒ جامعہ قاسم العلوم کے شیخ الحدیث تھے۔
مولانا عبدالخالق ؒ نے دورہ حدیث خان پور جامعہ مخزن العلوم سے کیا۔ جامعہ عبداللہ بن مسعود خان پور کے سابق شیخ الحدیث مولانا شفیق الرحمن درخواستی ؒ آپ کے ہم سبق تھے۔ مولانا مفتی حبیب الرحمن درخواستی ؒ بھی بعض اسباق میں آپ کے ہم سبق رہے ہیں۔
حضرت درخواستی ؒ کے حکم پر مولانا علی محمد صدیقی ؒ کے ہمراہ مرکز العلوم مسافر خانہ راجن پور میں عرصہ تک آپ پڑھاتے رہے۔ اس دوران آپ جامع مسجد چاقیاں میں عرصہ تک خطابت کے فرائض بھی سرانجام دیتے رہے۔ آپ نے تنظیم اہل سنت، مجلس تحفظ حقوق اہل سنت کے پلیٹ فارم سے اپنی تبلیغی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ حضرت مولانا عبدالشکور دین پوری ؒ سے آپ کے مثالی مجاہدانہ تعلقات تھے۔ انہیں تعلقات کے باعث اسلامی مشن بہاولپور میں عرصہ تک آپ پڑھاتے رہے۔ ١٩٧٧ء کی تحریک نظام مصطفیٰ میں آپ بہاولپور میں تین ماہ تک قید میں رہ کر سنت یوسفی کو زندہ کیا۔ ١٩٧٨ء سے ١٩٩٣ء تک ریخ باغ والا مسافر خانہ ضلع راجن پور میں مختلف مقامات پر آپ پڑھاتے رہے۔ ١٩٩٤ء میں آپ نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت میں شمولیت حاصل کی اور تقریباً آٹھ نو سال ضلع ساہیوال میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ کے طور پر خدمات سرانجام دیں۔
مولانا عبدالخالق ؒ دراز قد، سانولا رنگ، گھنی پرکشش داڑھی، پھرتیلا چاک و چوبند جسم، سر پر عموماً رومال باندھتے تھے۔ اجلے کپڑے زیب تن کرتے تھے۔ عرصہ تک خضاب کا بھی استعمال کیا جو آخری عمر میں ترک کر دیا تھا۔ مولانا بہت بااصول اور خوددار قسم کے انسان تھے۔ تحمل مزاجی اور خوش گفتاری میں اپنی مثال آپ تھے۔ آپ نے جس کام کو ہاتھ ڈالا اسے بھرپور محنت سے سرانجام دیا۔ آپ کے دوستوں کا وسیع حلقہ تھا۔ آپ اصول پسند طبیعت کے باعث جہاں جاتے اپنا وسیع حلقہ یاراں قائم کر آتے تھے۔
مولانا عبدالخالق ؒ کا اپنے علاقہ کے جید علماء میں شمار ہوتا تھا۔ کامیاب مدرس اور
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
بہترین خطیب تھے۔ نہایت درجہ خوش خوراک اور خوش لباس تھے۔ بطور مہمان نواز مشہور تھے۔ خودداری میں اپنی مثال آپ تھے۔ طبیعت میں حد درجہ استغناء تھا۔ دولت، جائیداد بنانے اور روپے پیسے جمع کرنے کے شدید خلاف تھے۔ صاف گو طبیعت کے مالک تھے۔ مصلحت پسندی، منافقت اور جھوٹ سے نفرت تھی۔ حق اور سچ بات بڑے سے بڑے آدمی کے سامنے کر دیتے تھے۔ اپنے علاقے میں عقیدہ توحید کی شمع کو روشن کیا۔ اس سلسلے میں کئی مرتبہ ابتلاء و آزمائش سے گزرے۔ بدعات و رسومات سے سخت نفرت تھی۔ ساری زندگی علمائے حق، دینی جماعتوں اور مذہبی تحریکوں سے وابستہ رہے۔ مولانا کے دو بیٹے حافظ قاری اور عالم ہیں۔ ایک بیٹی، ایک پوتا اور تین پوتیاں بھی حافظہ قاریہ اور عالمہ ہیں۔ ٹھیدی کالونی کے قبرستان میں تدفین ہوئی۔ حق تعالیٰ ان کی تربت پہ اپنے رحم کی موسلا دھار بارش کریں۔ آمین!
(٩٠)
عبدالرؤف الازہریؒ، مولانا
(وفات: ١٦؍مارچ ١٩٩٤ء)
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے فاضل نوجوان مبلغ، حضرت مولانا عبدالرؤف الازہری ضلع مظفر گڑھ، تحصیل علی پور، قصبہ جتوئی کی ملحقہ بستی، ٹھار خان میں پیدا ہوئے۔ مڈل تک تعلیم جتوئی میں حاصل کی پھر دینی تعلیم کی طرف قدرت نے رخ موڑ دیا۔ دارالعلوم کبیر والا اور مخزن العلوم خان پور میں دینی تعلیم حاصل کی۔ دورہ حدیث شریف حضرت مولانا مفتی محمودؒ سے مدرسہ قاسم العلوم ملتان میں پڑھا۔ آپ کا پورا خاندان حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ سے بیعت تھا۔ آپ خاندانی طور پر احراری تھے۔ اس لئے تعلیم سے فراغت حاصل کرتے ہی حضرت امیر شریعت کی جماعت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سے وابستہ ہوگئے۔ ملتان، کراچی، لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ میں جماعت کی طرف سے تبلیغی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ ١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت میں آپ لاہور میں مبلغ تھے۔ آپ نے تحریک میں والہانہ و مجاہدانہ خدمات انجام دیں۔ حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ کی زیر ہدایت آپ نے تحریک کے لئے شب و روز ایک کر دیئے۔ بعد میں آپ نے اسلام آباد اور سرحد میں مثالی خدمات سرانجام دیں۔ قدرت نے آپ کو بڑی خوبیوں سے نوازا تھا۔ عالمی مجلس کے تبلیغی اسفار
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
میں انتھک محنت کرتے تھے۔ ١٩٧٧ء کی تحریک نظام مصطفیٰ میں آپ سندھ کے سفر سے واپسی پر ایک حادثہ کا شکار ہوئے۔ چند ماہ صاحب فراش رہے۔ قدرت نے صحت سے سرفراز فرمایا تو پھر اپنے کام پر جٹ گئے۔
فیصل آباد میں قیام کے دوران آپ نے حضرت مولانا تاج محمود ؒ کی صحبت سے بھرپور فائدہ حاصل کیا۔ لولاک کی مجلس ادارت کے رکن رہے۔ قادیانی جماعت کا چوتھا گرو مرزا طاہر ملک میں محفل سوال و جواب منعقد کیا کرتا تھا۔ فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں آپ نے مرزا طاہر کو دو بدو زچ کیا مدلل اور ٹھوس سوالات سے مرزا طاہر کی بولتی بند کر دی۔ اسلام آباد میں قیام کے دوران میں آپ نے ایک سفر مصر کا کیا۔ وہاں ایک تربیتی کورس میں شرکت کی۔ جو جامعہ الازہر کی طرف سے منعقد کیا گیا تھا۔ مصر سے حجاز مقدس بغرض حج تشریف لے گئے۔ بعد میں ایک بار پھر رمضان المبارک میں عمرہ کی سعادت سے بہرہ ور ہوئے۔ حضرت مولانا عبدالرؤف مرحوم نے حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری ؒ، حضرت مولانا محمد علی جالندھری ؒ، حضرت مولانا عبداللہ درخواستی ؒ، حضرت مولانا مفتی محمود ؒ، حضرت مولانا تاج محمود ؒ، حضرت مولانا محمد شریف جالندھری ؒ، حضرت مولانا لال حسین اختر ؒ، حضرت مولانا محمد حیات ؒ، ایسے نابغہ روزگار حضرات سے کسب فیض کیا۔ بیعت وارادت کا تعلق حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد ؒ سے تھا۔ موصوف بڑے حاضر جواب اور غضب کا حافظہ رکھنے والے تھے۔ ایک بات پڑھ لی یا سن لی تو ہمیشہ کے لئے وہ دماغ کے کمپیوٹر میں محفوظ ہو گئی۔ بڑے مرنجاں مرنج دوست نواز تھے۔ لطائف سے مجلس کشت زعفران بنانا آپ پر بس تھا۔ حضرت امیر شریعت ؒ اور دیگر اکابر کے دل و جان سے شیدائی تھے۔ موصوف ایک نظریاتی رہنما تھے۔ عالمی مجلس کے کاز کے لئے آپ کی خدمات مثالی اور قابل ستائش تھیں۔ کئی بار جیل بھی جانا پڑا۔ مقدمات و زبان بندیاں تو اس زمانہ میں معمول کی بات تھیں۔
گزشتہ چند سالوں سے آپ کو شوگر کی تکلیف ہو گئی تھی۔ علاج و معالجہ جاری رکھا۔ پرہیز کے قریب تک نہ پھٹکتے تھے۔ مولانا مرحوم جیسا میٹھا آدمی میٹھا ترک کر دے یہ کیسے ہو سکتا تھا؟ اس سال رمضان المبارک میں اسلام آباد قیام کے دوران آپ پر شوگر کا شدید اٹیک ہوا۔ طبیعت بگڑتی سنبھلتی رہی۔ مگر آپ کے جماعتی معاملات میں فرق نہیں آیا۔ آخری عشرہ میں زیادہ کمزور ہو گئے تو ملتان تشریف لائے۔ حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری نے ملتان میں رہ کر علاج کرنے کا فرمایا۔ مگر وہ گھر جانے پر مصر تھے۔ گھر تشریف لے گئے ایک دو روز بعد
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
طبیعت سنبھل گئی۔ علاج بھی جاری رہا۔ بدھ کے روز نماز عشاء پڑھی اور حسب معمول لیٹ گئے۔ ساڑھے نو بجے کے قریب دل کی تکلیف ہوئی اور چل بسے۔ دوسرے دن جمعرات کو گیارہ بجے جنازہ ہوا۔ مولانا موصوف کے عنداللہ مقبولیت کا اندازہ ان کے جنازہ کے اجتماع سے لگایا جاسکتا ہے۔ اتنا بڑا اجتماع اس علاقہ میں اپنی مثال آپ تھا۔ حضرت مولانا خواجہ خان محمد ؒ تعزیت کے لئے تشریف لے گئے۔ تمام جماعتی ساتھی دوست عزیز واقارب سب افسردہ ہیں۔ مگر وہ بڑے سکون واطمینان سے دنیا ومافیہا سے بے خبر آرام فرما رہے ہیں۔ قدرت ان کی قبر کو بقعہ نور بنائے۔
(٩١)
عبدالعزیز ؒ (ساکن جتوئی)، حضرت مولانا
(وفات: ١٧؍ ستمبر ٢٠٠٢ء)
حضرت مولانا عبدالعزیز ؒ جام برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ خاندان عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بانی و امیر اول امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ سے شرف بیعت رکھتا ہے۔ پاکستان بننے سے قبل یہ تمام حضرات مجلس احرار اسلام سے وابستہ تھے۔ جتوئی سے جھگی والا روڈ پر بستی ٹمار خان کے رہائشی تھے۔
حضرت مولانا عبدالعزیز ؒ نے جامعہ قاسم العلوم ملتان سے دورہ حدیث شریف کیا۔ مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود ؒ کے شاگرد رشید تھے۔ فراغت کے بعد ملتان کے گجر کھڈہ کی مسجد تقویٰ میں امامت و خطابت اور ایک پرائیویٹ سکول میں عربی کے معلم رہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد کے مبلغ حضرت مولانا عبدالرؤف ؒ کے چچازاد بھائی تھے۔ حضرت مولانا عبدالرؤف ؒ کی وفات کے بعد خاندان کے بزرگوں کی خواہش پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے شعبہ تبلیغ سے وابستہ ہو گئے۔ ملتان دفتر مرکزیہ میں سہ ماہی تربیتی کورس میں شرکت کی۔ اس زمانہ میں حضرت مولانا زرین احمد خان مرحوم کے وصال کے باعث خانیوال، کچا کھوہ، وہاڑی میں مبلغ کی سیٹ خالی تھی۔ عرصہ تک وہاں خدمات سرانجام دیں۔ بعد میں کئی سال بہاولنگر میں مجلس کے مبلغ رہے۔ حضرت مولانا نذیر احمد تونسوی شہید ؒ کے کوئٹہ سے کراچی تبادلہ کے باعث آپ کو بلوچستان کا مبلغ بنایا گیا۔ تادم واپسیں آپ نے وہاں خدمات
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
سرانجام دیں۔ حضرت مولانا عبدالعزیزؒ معاملہ فہم، زیرک اور ذکی انسان تھے۔ ہر دلعزیز تھے۔ مشکل سے مشکل مرحلہ پر بڑی خوش اسلوبی سے معاملات کو سلجھا دیا کرتے تھے۔ خوش لباس، خوش خوراک اور خوش مزاج انسان تھے۔ بڑے ہی دوست پرور تھے۔ آپ نے پورے بلوچستان میں تبلیغ اسلام کے لئے بڑی جانفشانی سے خدمات تحفظ ختم نبوت انجام دیں۔
چناب نگر، ملتان، کوئٹہ، ختم نبوت کانفرنسوں، میٹنگوں میں شعبہ مہمانداری کے انچارج ہوتے تھے۔ ہزارہا مہمان کیوں نہ ہوں آپ بڑی تندہی سے ہر ایک مہمان کی مہمانداری کو احسن انداز میں انجام دیتے تھے۔ کیا مجال ہے کہ کسی مہمان کی مہمان داری میں ذرہ فرق ہونے دیں۔ ٩، ١٠ ستمبر ٢٠٠٤ء کو چناب نگر میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس کی دعوت و تیاری کے لئے ہفتہ بھر پہلے تشریف لائے۔ کانفرنس پر خصوصی مہمانوں کی ہمیشہ کی طرح مثالی خدمات میں مصروف رہے۔ کانفرنس کے اگلے دو روز میٹنگ میں شریک رہے۔ ملتان تشریف لائے۔ ١٣، ١٤ ستمبر دفتر مرکزیہ میں آپ کا قیام رہا۔ ١٥ ستمبر کو کوئٹہ تشریف لے گئے۔ تمام جماعتی رفقاء سے ملاقاتیں کی۔ ان کو ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کی مثالی کامیابی کی تفصیلی رپورٹ بتائی۔ ١٧ ستمبر جمعہ کو حضرت مولانا قاری انوار الحق حقانی خطیب مرکزی جامع مسجد کے حکم پر ان کی عدم موجودگی میں جامع مسجد میں خطاب کیا۔ خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔ نماز جمعہ پڑھائی۔ جمعہ کے بعد دو عیسائیوں کو قبول اسلام کرایا۔ کلمہ شریف پڑھتے پڑھاتے ، محراب میں بیٹھے ہوئے دل کا اٹیک ہوا۔ دوستوں نے سنبھالا۔ ان کے ہاتھوں میں ہی وصال فرماگئے۔ دوستوں نے بھاگم بھاگ گاڑی میں رکھا۔ ہسپتال لے گئے۔ جہاں ڈاکٹروں نے ان کے وصال کی تصدیق کردی۔ آپ کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کوئٹہ کے دفتر لے گئے۔ آپ کے وصال کی خبر آناً فاناً پورے شہر میں پھیل گئی۔ آپ کی تجہیز و تکفین کا رفقاء نے دفتر میں اہتمام کیا۔ جامع مسجد سنہری کوئٹہ میں بعد نماز عصر عالمی مجلس تحفظ بلوچستان کے امیر حضرت مولانا عبدالواحد کی امامت میں پورے شہر نے آپ کا جنازہ پڑھا۔ مغرب کے بعد ان کے جنازہ کو لے کر حضرت مولانا عبدالواحد، جناب حاجی خلیل، جناب حاجی کالے خان، جناب فیروز احمد تاج نے سفر کا آغاز کیا۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری کی سربراہی میں جماعتی رفقاء نے علی پور سے اس تعزیتی جلوس میں معیت حاصل کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے قائم کردہ مدرسہ دارالہدیٰ چوک پرمٹ میں تھوڑی دیر رکنے کے بعد آپ کو آبائی گاؤں لایا گیا۔ علاقہ بھر کی دینی قیادت پہلے سے موجود تھی۔ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
کی امامت میں جنازہ ہوا اور ہزاروں بندگان خدا کی موجودگی میں آپ کو رحمت حق کے سپرد کر دیا گیا۔ آپ نے تقریباً ساٹھ سال عمر پائی۔ حق تعالیٰ حضرت مولانا عبدالعزیزؒ کی بال بال مغفرت فرمائیں۔ آمین!
(٩٢)
عبداللہ خانؒ (جتوئی)، مولانا ڈاکٹر
جناب ڈاکٹر محمد عبداللہ خانؒ جتوئی ضلع مظفرگڑھ کے رہائشی تھے۔ تعلیم کے زمانہ میں ایک قادیانی ٹیچر نے ان کو جتوئی ضلع مظفر گڑھ سے قادیان بھیج دیا۔ قادیان کی تعلیم کے دوران قادیانی ہو گئے۔ پھر قادیان میں ہی شادی ہوئی۔ کئی ممالک میں قادیانیت کے مبلغ کے طور پر کام کیا۔ اللہ تعالیٰ نے دستگیری فرمائی تو مسلمان ہو گئے۔ کچھ عرصہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ بھی رہے۔ انہوں نے یہ رسائل تحریر کئے:
- ١...... ’’مرزا غلام احمد کے شیطانی الہامات اور شیطانی تحریریں‘‘
- ٢...... ’’حیات عیسیٰ علیہ السلام اور مرزا قادیانی کا اقرار وانکار‘‘
- ٣...... ’’مرزا قادیانی اور غیر محرم عورتیں‘‘
- ٤...... ’’حیات ونزول مسیح علیہ السلام اور مرزا قادیانی‘‘
- ٥...... ’’مرزا قادیانی کی خطرناک بیماریاں اور عبرتناک موت‘‘
- ٦...... ’’مرزائیت سے توبہ‘‘
یہ تمام رسائل جناب ڈاکٹر عبداللہ خان اختر جتوئی مرحوم کے مرتب کردہ ہیں اور احتساب قادیانیت کی جلد ٣٤ میں شامل اشاعت ہیں۔
(٩٣)
علی جانبازؒ (سمندری)، حضرت مولانا محمد
(وفات: ٦؍اگست ١٩٨٣ء)
حضرت مولانا محمد علی جانبازؒ خطیب جامع مسجد سمندری ضلع فیصل آباد، آرائیں برادری کے چشم و چراغ تھے۔ ہندوستانی مشرقی پنجاب کے معروف قصبہ تلونڈی میں پیدا ہوئے۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
سکول اور دین کی واجبی تعلیم حاصل کی اور تحریک خلافت میں سرگرم ہوگئے۔ مجلس احرار اسلام کے پلیٹ فارم سے گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا محمد شریف جالندھری ؒ کی روایت کے مطابق: حضرت مولانا محمد شریف جالندھری ؒ، حضرت مولانا عبدالرحمن میانوی ؒ، حضرت مولانا محمد علی جانباز ؒ تینوں پنجاب کے دیہات کا تبلیغی دورہ ایک ساتھ کرتے رہے اور لوگوں کو تحریک خلافت میں شمولیت کے لئے آمادہ کرتے۔ آج اس گاؤں، کل اس قریہ۔ ظہر کہیں۔ عشاء کہیں۔ دن رات سفر جاری رہتا۔ دوپہر کو کہیں آرام کے لئے موقعہ مل جاتا تو تمام ساتھی آرام کرنے کے لئے نیند کا لباس پہن لیتے۔ کپڑے اتار کر لٹکا دیتے۔ جب سب گہری نیند سو جاتے تو حضرت مولانا محمد علی جانباز ؒ چپکے سے اٹھتے۔ سب کی جیبوں سے کاغذات و نقدی وغیرہ نکال کر علیحدہ علیحدہ کسی کپڑے میں باندھ کر نشانی لگا دیتے۔ کپڑے لے کر ٹونٹیوں پر بیٹھ جاتے۔ سب کے کپڑے دھو کر ان کو دھوپ میں خشک کرتے اور ساتھیوں کے بیدار ہونے سے پہلے اسی طرح لٹکا کر ان کی امانتیں واپس ان کی جیبوں میں ڈال کر فارغ ہو جاتے۔ ساتھی بیدار ہوتے تو ان کو دھلے کپڑے تیار مل جاتے۔ اس ایک واقعہ سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ حضرت مولانا مرحوم کتنے ایثار پیشہ تھے۔
تقسیم کے بعد سمندری جامع مسجد میں تشریف لائے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ان کو سمندری، تاندلیانوالہ، گوجرہ اور گردونواح کے حلقہ کے لئے مبلغ مقرر کر دیا۔ صبح بچوں کو پڑھاتے اور پھر تبلیغ پر نکل کھڑے ہوتے۔ شام رات گئے گھر واپس آ جاتے۔ سمندری میں ہر سال کمیٹی پارک میں ختم نبوت کانفرنس کرانے کا معمول زندگی بھر ترک نہیں کیا۔ جس میں ملک کی نامور دینی قیادت کو دعوت دیتے۔ ترجمان اسلام، لولاک، خدام الدین اور دیگر دینی جرائد منگوا کر علاقہ بھر میں تقسیم کرتے۔
ختم نبوت، نظام اسلامی اور دیگر ہر دینی کام کے لئے دن رات ایک کئے رکھا۔ سالانہ ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ میں وفد لے کر تشریف لانے کو اپنے اوپر فرض کئے رکھا۔ دو شادیاں کیں۔ پہلی اہلیہ سے مولانا عطاء الرحمن شہباز ؒ پیدا ہوئے۔ پہلی اہلیہ کے انتقال کے بعد دوسری شادی کی۔ اس سے بڑے بیٹے مولانا ضیاء الرحمن فاروقی ؒ تھے۔ جنہیں قدرت نے ملک گیر شہرت ارزاں فرمائی۔ حضرت مولانا محمد علی جانباز ؒ نے بہت ہی عسر و یسر سے زندگی گزاری۔ بہت ہی قناعت پیشہ شخص تھے۔ اکابر کے قدردان تھے۔ حضرت مولانا عبدالقادر
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
رائے پوریؒ سے بیعت کا تعلق تھا۔ آپ کی برادری کے اکثر رشتہ دار خانیوال و بستی سراجیہ میں قیام پذیر ہیں۔
حضرت مولانا محمد علی جانبازؒ پوری زندگی کے آخری سانس تک عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ رہے۔ حق تعالیٰ شانہ ان کی قبر کو بقعہ نور بنائے۔ فقیر راقم جب فیصل آباد میں مجلس کا مبلغ مقرر ہوا تو حضرت مولانا سید ممتاز الحسن گیلانیؒ نے جڑانوالہ اور حضرت مولانا محمد علی جانبازؒ نے سمندری، گوجرہ، ٹوبہ میں فقیر کا تعارف کرایا۔ ان حضرات کی مخلصانہ تربیت کے بے پناہ احسانات سے آج بھی فقیر کی گردن جھکی ہوئی ہے۔ حق تعالیٰ آخرت میں اس کا ان کو بہتر بدلہ نصیب فرمائیں۔ آمین!
(٩٤)
غلام حیدرؒ (میاں چنوں)، حضرت مولانا
(وفات: ٢١؍ جولائی ١٩٨٣ء)
حضرت مولانا غلام حیدرؒ آرائیں فیملی سے تعلق رکھتے تھے۔ دنیاوی علوم جالندھر میں حاصل کئے۔ خاندانی طور پر دینی گھرانہ کے چشم و چراغ تھے۔ پاکستان بننے کے بعد میاں چنوں میں سکول ماسٹر مقرر ہو گئے۔ بیعت کا تعلق حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کے خلیفہ مجاز حضرت مولانا محمد ابراہیمؒ سے تھا۔ حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ سے بھی اصلاح کا تعلق قائم کیا۔ حکیم الامت حضرت تھانویؒ کے ملفوظات حرفاً حرفاً مطالعہ کئے۔ بہت ہی صالح طبیعت تھی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کے حکم پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سے وابستہ ہو گئے۔ دفتر مرکزیہ کے حساب و ڈاک کا انتظام بڑی حد تک ان کے ذمہ تھا۔ کسی سرکاری محکمہ سے مجلس کا کوئی کام ہوتا تو وہ بڑی خوش اسلوبی سے سرانجام دیتے۔ اسلام آباد میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مقرر ہوئے۔ تب مجلس کا دفتر جامع مسجد دارالاسلام میں قائم تھا۔ جہاں آج کل حضرت مولانا محمد شریف ہزاروی خطیب ہیں۔ ان سے پہلے حضرت مولانا نور محمدؒ اس مسجد کے خطیب تھے۔ دارالاسلام مسجد کو حضرت مولانا نور محمدؒ نے مرکز بنادیا۔ آپ کے دست راست حضرت مولانا غلام حیدرؒ ہوتے تھے۔ ١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت کے لگ بھگ مجلس کا ملکیتی دفتر جی سکس ون تھری میں قائم ہوا تو حضرت مولانا غلام حیدرؒ اس میں
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
منتقل ہو گئے۔ صحت کی آخری سٹیج تک برابر مجلس کے کام کو اسلام آباد کے سرکاری و غیر سرکاری حلقہ میں وسعت دی۔ حضرت مولانا غلام حیدرؒ بہت ہی محنتی انسان تھے۔ بہت ہی دھیمی طبیعت کے شخص تھے۔ دل گداز گفتگو کرنے کے ماسٹر تھے۔ جس کے پاس جاتے اپنا موقف منوا کر تشریف لاتے۔ آپ مجلس کے ہر اعتماد پر پورے اترتے۔ حق تعالیٰ نے گوناگوں خوبیوں سے ان کو نوازا تھا۔ بہت گہری سوچ والے شخص تھے۔ ہر بات سوچ کر کرتے اور جو قدم اٹھاتے پھونک کر اٹھاتے۔ واقعہ یہ ہے کہ ١٩٧٤ء سے قبل قادیانیت کے شتر بے مہار کو اسلام آباد میں آپ نے قابو کیا اور خود اس کی پیٹھ پر کامیاب حکمت عملی سے سوار ہو گئے۔ معمولی بیمار ہوئے۔ گھر آگئے۔ میاں چنوں میں وصال ہوا۔
(٩٥)
غلام محمد علی پوریؒ، حضرت مولانا
(وفات: ٢٢؍ فروری ٢٠٠٥ء)
حضرت مولانا غلام محمدؒ بلوچ برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے آباؤ اجداد ڈیرہ غازیخان سے سکونت ترک کر کے فتح پور کمال نزد ظاہر پیر ضلع رحیم یار خان میں آکر آباد ہوئے۔ حضرت مولانا غلام محمدؒ ١٩٢٣ء میں پیدا ہوئے۔ ذرا ہوش سنبھالا تو کچھ سکول کی تعلیم حاصل کی اس کے بعد خانپور میں حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستیؒ کے مدرسہ مخزن العلوم میں داخلہ لیا۔ جہاں حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کے شاگرد حضرت مولانا واحد بخشؒ (کوٹ مٹھن والے) اور شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے شاگرد حضرت مولانا محمد ابراہیم تونسویؒ اور حضرت درخواستیؒ سے آپ نے دورہ حدیث کیا۔ آپ کے ساتھ فارغ ہونے والوں میں حضرت مولانا محمد لقمان علی پوریؒ بھی تھے۔
فراغت کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے صدرالمبلغین حضرت مولانا محمد حیاتؒ فاتح قادیان سے رد قادیانیت پر تیاری کی۔ ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت میں بھی کام کی توفیق نصیب ہوئی۔ ستمبر ١٩٥٤ء میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں اور مبلغین کا ٹوبہ ٹیک سنگھ میں اجلاس ہوا۔ اس میں بھی آپ شریک تھے۔ ملتان، خانیوال اور پھر بہاولپور میں آپ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ رہے۔ حضرت مولانا غلام محمدؒ گورے، چٹے، کھلے چہرہ، دراز قد،
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
متوسط جسم کے حامل تھے۔ مزاج میں پھرتیلا پن، طبیعت میں مشن سے والہانہ لگاؤ اور محنت کا بھر پور جذبہ تھا۔ جوانی میں کسی رو رعایت کے روادار نہ تھے۔ جس بات کو حق جانا اس پر ڈٹ گئے۔ جس بدی کو دیکھا اسے چاروں شانوں چت کرنے کے لئے جٹ گئے۔ جب تک آپ بہاول پور میں مجلس کے مبلغ رہے قادیانیوں کے پوری ریاست بہاولپور میں قدم نہ ٹکنے دیئے۔ ان کے قیام بہاولپور کے دوران میں عظیم الشان اور مثالی تین روزہ سالانہ ختم نبوت کانفرنسیں ہوتی رہیں۔ اس زمانہ میں ایک روزہ کانفرنسوں کا رواج نہ تھا۔ ملک بھر کی دینی قیادت ان میں شریک ہوتی تھی۔ آج کل لوگ میلوں، ٹھیلوں میں جس ذوق سے جاتے ہیں اس سے کہیں زیادہ شوق سے لوگ ان کانفرنسوں میں شرکت کی سعادت حاصل کرتے تھے۔ ہر خطیب کا اپنا انداز ہوتا تھا۔ آج کل کی طرح نقالی و تصنع کا تصور تک نہ تھا۔ ہر خطیب اپنے انداز میں آتا اور اپنے مخصوص لہجہ میں خطاب کرتا۔ بات دل سے نکلتی اور دلوں پر اترتی ، دماغوں پر اثر کرتی۔ چہار سو دینی ماحول اور ترویج دین واشاعت اسلام کا سماں ہوتا تھا۔ ہر خطیب تبلیغ اسلام کے نقطہ نظر سے اپنا فرض ادا کرتا۔ لوگوں کی ذہن سازی ہوتی تھی۔ دینی فضا بنتی تھی۔ سامعین جھولیاں بھر کر دل روشن و دماغ معطر کر کے جاتے تھے۔ ترنم وخوش الحانی بعض جلیل القدر خطباء کی خطابت کا طرہ امتیاز ہوتا تھا۔ اکثر و بیشتر خطباء کھڑے ہو کر گفتگو کرتے تھے۔ سادہ مگر صاف لباس ہوتا تھا۔ ان کے قدم قدم پر علم و فضل کے وقار کی چھاپ ہوتی تھی۔ آج کل کی طرح تصنع ، نقالی ، قصہ خوانی ، مک مکاؤ ، گویّا پن ، میک اپ کا تصور نہ ہوتا تھا۔ جہاں ایک جلسہ ہو جاتا تھا وہاں سنت رسول ﷺ اور احیائے دین کی فضا قائم ہو جاتی تھی۔ بہاولپور کی دینی فضا والیان ریاست کی دین داری، حضرت مولانا غلام محمد گھوٹوی ؒ ، حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری ؒ ، حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی ؒ ، حضرت علامہ شمس الحق افغانی ؒ ، حضرت علامہ احمد سعید کاظمی ؒ ، حضرت مولانا محمد صادق بہاولپوری ؒ ، حضرت علامہ محمد ناظم ندوی ؒ کے قیام بہاولپور کی برکات اور جامعہ عباسیہ میں ان حضرات کی تدریس کا نتیجہ تھیں۔ اس فضا کو بہاولپور میں برقرار رکھنے میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم سے حضرت مولانا غلام محمد مرحوم کا بھی بہت بڑا حصہ ہے۔
حضرت مولانا غلام محمد ؒ نے ١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت میں بھر پور حصہ لیا۔ مولانا مرحوم کی بہت بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ اپنے اکابر کا دل سے احترام کرتے تھے۔ چھوٹوں کو آگے بڑھانے اور تعارف کرانے میں فیاض طبیعت تھے۔ نامعلوم ان کی حوصلہ افزائی سے کتنے رفقاء آگے بڑھے اور مقام حاصل کیا۔ خود اچھے مقرر تھے۔ نپی تلی جاندار گفتگو کرتے تھے۔ نام و نمود سے
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
کوسوں دور بھاگتے تھے۔ اچھے منتظم تھے۔ خطابت، منتظم ہونے پر اخلاص کی گہری چھاپ نے انہیں نکھرا ہوا موتی بنا دیا تھا۔
١٩٧٤ء کی تحریک اور اس کے بعد حضوری باغ روڈ ملتان پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر کی تعمیر میں آپ کی ڈیوٹی مرکزی دفتر میں تھی۔ ان کاموں میں مرحوم کا نہ صرف حصہ بلکہ بہت بڑا حصہ ہے۔ ہمارے مخدوم گرامی مخدوم العلماء مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کے بہت ہی معتمد تھے۔ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ کی رفاقت و طبیعت کا واضح پرتو ان میں نظر آتا تھا۔ حضرت مولانا محمد شریف بہاولپوریؒ، حضرت مولانا لال حسین اخترؒ، حضرت مولانا محمد حیاتؒ اور حضرت مولانا عبد الرحمن میانویؒ پر دل و جان سے عاشق تھے۔ بہاولپور میں قیام کے دوران علی پور میں اخبارات کی ایجنسی حاصل کی۔ اپنے چھوٹے بھائی کو اس کا نگران بنایا۔ جس زمانہ میں بہاولپور ہوتے تھے جماعتی حلقہ میں حضرت مولانا غلام محمد بہاولپوری کے نام سے تعارف تھا۔ ملتان مرکزی دفتر کے بعد بہاولپور میں کچھ عرصہ مجلس کا کام کیا۔ علی پور میں اپنے ذاتی کام کی وسعت اور بڑھاپا کے باعث حالات کچھ ایسے بنے کہ مستقل علی پور منتقل ہو گئے۔ ان کے جانے سے اخبارات کے کام میں ترقی ہوئی۔ انہوں نے اڈہ کے قریب مسجد و مدرسہ کی نیو اٹھائی۔ مولانا مرحوم مدرسہ میں منتقل ہو گئے۔ بڑھاپا مستقل سیاپا، نے ان کو گھیرا۔ لیکن شیر دل تھے۔ آخر وقت تک معمولات کو ترک نہیں کیا۔ ہر دینی کام میں برابر شریک رہے۔ حضرت مولانا منظور الحسینیؒ نے بھانجوں کے سر پر دست شفقت رکھا۔ اب مین روڈ پر جامعہ حسینیہ کی کوہ قامت عمارت اور شاندار تعلیمی ماحول کا گلشن صدا بہار ہوا، تو دونوں حضرات حضرت مولانا غلام محمد جو اب علی پوری کے نام سے جانے پہچانے جاتے تھے اور حضرت مولانا منظور احمد الحسینیؒ کے بعد دیگرے چند دنوں کے فاصلہ سے راہی آخرت ہو گئے۔
حضرت مولانا غلام محمدؒ کی آخری دنوں بخار و نزلہ سے طبیعت بگڑی۔ ضیق النفس کو بھی گزشتہ چند سالوں سے ساتھ لئے پھرتے تھے۔ لیکن ہمت نہ ہاری۔ البتہ کمزور ہو گئے تھے۔ آخری شب سوتے جاگتے رہے۔ ذکر و فکر جاری رہا۔ رات ساڑھے تین بجے سو گئے۔ صبح نماز کے وقت جگایا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ آخرت کو سدھار چکے ہیں۔ اللہ ! اللہ ! سکون و اطمینان کی یہ گھڑی دنیا میں سوئے اور عالم برزخ میں آنکھ کھولی۔ یا یوں تعبیر کریں کہ سوتے سوتے جنت چلے گئے۔ جامعہ حسینیہ میں سپرد خاک ہوئے۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
(٩٦)
غلام محمد ؒ (نعت خواں چکڑالہ)، جناب کپتان
چکڑالہ ضلع میانوالی کے جناب غلام محمد صاحب تھے جو مجلس احرار اسلام کے رضاکاروں کے کپتان بھی رہے۔ بہت اچھے نعت خواں تھے۔ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ جب بیمار ہوئے تو ہسپتال میں آپ کی تیمارداری کے لئے مجلس تحفظ ختم نبوت کے دو رفقاء حضرت مولانا زرین احمد خاں اور جناب کپتان غلام محمد کی مولانا محمد علی جالندھری ؒ نے ڈیوٹی لگائی۔ حضرت پیر سید عطاء الحسن اور دیگر حضرات کے ہمراہ ہسپتال میں ان حضرات نے حضرت امیر شریعت ؒ کی خدمت کی سعادت حاصل کی۔ جناب غلام محمد خوب نعت پڑھتے تھے۔ بڑی مجاہدانہ رسیلی آواز تھی۔ پکے رنگ کے تھے اور رنگ سے کہیں زیادہ پکے نظریات کے حامل انسان تھے۔ کھوتی رکھی تھی مٹی لاتے، مٹی کے برتن بناتے، بھٹی میں پکاتے اور اپنا گزر بسر کرتے۔ کیا رزق حلال کے لئے متلاشی مرد مجاہد تھے۔ فقیر راقم ١٩٦٧ء ١٩٦٨ء میں جب مجلس کا مبلغ مقرر ہوا تو پہلا دورہ کوٹ ادو سے چکڑالہ تک کا ہوا۔ چکڑالہ اور گردونواح میں فقیر کا ہاتھ پکڑ کر گویا تبلیغی میدان میں محترم غلام محمد مرحوم نے چلانا سکھلایا۔ حق تعالیٰ مرحوم کی بال بال مغفرت فرمائیں۔ ختم نبوت کے جلسوں میں خوب نعتیں پڑھتے تھے۔
(٩٧)
غلام مصطفیٰ بہاولپوری ؒ، حضرت مولانا
(وفات: ١٣؍ مارچ ١٩٩٧ء)
مولانا غلام مصطفیٰ کوٹلہ چاکر ضلع لودھراں کے رہائشی تھے۔ حضرت مولانا محمد شریف بہاولپوری ؒ کے بھتیجے تھے۔ آپ نے دارالعلوم ٹنڈوالہ یار سے دورہ حدیث شریف کیا۔ جامعہ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے مہتمم اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰن ؒ کے ٹنڈوالہ یار میں آپ ہم درس تھے۔ مولانا غلام مصطفیٰ صاحب نے مولانا عبدالرحمٰن کامل پوری ؒ، حضرت شیخ بنوری ؒ ایسے اساتذہ سے دورہ حدیث شریف کیا۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
فراغت کے بعد مولانا لال حسین اختر ؒ، مولانا محمد حیات ؒ سے ردعیسائیت وقادیانیت کا کورس کیا۔ سکھر، لاہور اور دیگر اضلاع میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ کی حیثیت سے گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ ١٩٥٣ء میں لاہور میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ تھے۔ بہاولپور میں جامعہ عباسیہ کے بعد کوئی پرائیویٹ ادارہ ایسا نہ تھا کہ جس میں درس نظامی کی تعلیم ہوتی ہو۔ چنانچہ حضرت مولانا عبداللہ درخواستی ؒ کے حکم پر دارالعلوم مدنیہ ماڈل ٹاؤن بی کا سنگ بنیاد رکھا اور پھر اسی کے ہو کر رہ گئے۔ آج اس کا شمار ملک کے بڑے جامعات میں ہوتا ہے جو مولانا غلام مصطفیٰ مرحوم کے لئے صدقہ جاریہ ہے۔ آپ نے اوقاف میں بھی کچھ عرصہ ملازمت کی۔ تحریک بحالی صوبہ بہاولپور میں بھی حصہ لیا۔ مجلس احرار اسلام کے شعبہ تبلیغ سے بھی وابستہ ہوئے۔ لیکن آپ کی تمام سرگرمیوں کی جولان گاہ دارالعلوم جامعہ مدنیہ ہی رہا۔ ردعیسائیت پر آپ کے چند پمفلٹ بھی ہیں۔ زندگی بھر قادیانیت کے خلاف سینہ سپر رہے۔
(٩٨)
فخر الزمان شہید ؒ، مولانا مفتی
(شہادت: ١١/مارچ ٢٠١٠ء)
مولانا مفتی فخر الزمان ؒ، نوجوان عالم دین، جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کے فارغ التحصیل متعدد دینی اداروں میں تدریس کا فریضہ سرانجام دینے والے، نوجوان مجاہد، بھرپور پھرتیلا، متحرک، ذہین وفطین نوجوان، زیرک ومعاملہ فہم، مخلص کارکن، انکساری کا پیکر، محنت کے خوگر، بڑوں کا احترام، چھوٹوں پر رحم کرنے کا عادی، قد درمیانہ، جسم ہلکا، آنکھوں پر عینک، سادہ لدھیانوی ٹوپی سر پر، فاقہ مست، درویش صفت۔
یہ تھے مولانا فخر الزمان ؒ جو تحصیل تونسہ کے معروف قصبہ وہواہ کے رہنے والے تھے۔ دو سال ہوئے بڑے سج دھج سے شادی ہوئی۔ کئی بار گھر امید ہوئی۔ لیکن اسقاط ہوگیا۔ علاج جاری، دعاؤں کا سلسلہ ساری، لیکن شہادت پر راز کھلا کہ وہ اولاد کے لئے نہیں جنت کے لئے تخلیق کئے گئے تھے۔ حضرت مولانا سعید احمد جلالپوری ؒ کا وہ بے پناہ احترام کرتے تھے۔ مولانا جلالپوری ؒ بھی انہیں اپنی اولاد کی طرح عزیز گردانتے تھے۔ گھر کے اکثر امور ان سے وابستہ
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
کر رکھے تھے۔ صبح وشام کا ساتھ رہا اور ایسا کہ اب قیامت کو بھی ساتھ اٹھیں گے۔ زہے نصیب۔ فخر الزمان واقعی تو اسم بامسمیٰ ہی نکلا۔ یہ بھی مولانا جلالپوریؒ کے ساتھ ١١/ مارچ کو شہادت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہو گئے۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون!
مولانا فخر الزمان صاحب حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ، مولانا مفتی محمد جمیل خانؒ، مولانا نذیر احمد تونسویؒ، مولانا سعید احمد جلالپوریؒ کے دست و بازو اور فدائے ختم نبوت تھے۔ فتاویٰ ختم نبوت سہ جلد مرتبہ مولانا سعید احمد جلالپوریؒ کی ترتیب وتخریج کے لئے مولانا فخر الزمان کی خدمات قابل فخر ہیں۔
(٩٩)
فیض الحسن تنویرؒ، مولانا سید
(وفات: ٣/ ستمبر ١٩٨٥ء)
مولانا سید فیض الحسن تنویر معروف عالم دین، مصنف، شاعر اور خطیب تھے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے باضابطہ ابتدائی دور میں مبلغ بھی رہے۔ بریلوی مکتب فکر سے تعلق رکھتے تھے۔ پیری مریدی و خطابت، خانقاہ و مدرسہ فقیر والی ضلع بہاولنگر میں قائم کیا۔ صحت کے زمانہ میں ہمیشہ ختم نبوت کانفرنسوں میں شرکت فرماتے تھے۔ آخری عمر میں گلہ میں غدود کے باعث بولنے میں دقت ہوتی تھی۔ لیکن جب بھی بولتے تو جادو کر دیتے۔
(١٠٠)
لطف اللہ شہیدؒ، قاری
(شہادت: ١٦/ اکتوبر ١٩٥٧ء)
مولانا مفتی فقیر اللہ صاحب بانی جامعہ رشیدیہ ساہیوال کے صاحبزادہ، عالم دین، صاحب طرز، نامور خطیب تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء میں گرانقدر مجاہدانہ کردار کے حامل رہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے شعبہ تبلیغ سے بھی وابستہ رہے۔ کمالیہ میں ”جامعہ نعمانیہ“ آپ نے قائم کیا۔ بس کے ایک حادثہ میں شہادت سے ہمکنار ہوئے۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
(١٠١)
لقمان علی پوری ؒ، حضرت مولانا محمد
(وفات: ١٦/ نومبر ٢٠٠٠ء)
حضرت مولانا محمد لقمان علی پوری ضلع مظفر گڑھ کی بستی رنوجہ کے رہائشی تھے۔ ابتدائی تعلیم حضرت مولانا نظام الدین ؒ فاضل دیوبند سے بستی تھیم والا میں حاصل کی دورہ حدیث شریف شیخ الاسلام مولانا محمد عبداللہ درخواستی ؒ کے ہاں کیا۔
پاکستان کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دارالمبلغین میں سب سے پہلی جماعت جس نے رد قادیانیت پر فاتح قادیان مولانا محمد حیات ؒ سے تربیت حاصل کی۔ اس میں مولانا محمد لقمان علی پوری ؒ بھی شامل تھے۔ مناظرہ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد حضرت امیر شریعت ؒ کی ہدایت پر آپ کو ننکانہ صاحب ضلع شیخوپورہ میں مبلغ لگا دیا گیا۔ آپ نے دن رات ایک کر کے پورے علاقہ میں قادیانیت کے خلاف کلمہ حق بلند کیا۔ آپ کی شعلہ نوائی سے قادیانیت بوکھلا گئی۔ اور زخمی سانپ کی طرح بل کھانے لگی۔ آپ پر مقدمات قائم ہوئے۔ جیلوں میں گئے۔ لیکن ہر میدان کے فاتح رہے۔ آپ کی للکار سے کفر کے ایوانوں پر زلزلہ برپا ہو جاتا تھا۔
گوجرانوالہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ رہے۔ ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت میں آپ نے اپنے ضلع مظفر گڑھ سے گرفتاری دی۔ آپ کی آواز میں قدرت نے ترنم کا رس گھول دیا تھا۔ قرآن مجید کی تلاوت کرتے تو فضاؤں میں سکوت طاری ہو جاتا۔ آپ حق کی آواز تھے۔ مجلس احرار اسلام اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم سے آپ نے وہ گراں قدر خدمات سر انجام دیں جو تاریخ کا حصہ ہیں۔ حضرت مولانا محمد علی جالندھری ؒ کے آپ شاگرد تھے۔ ان پر دل و جان سے فدا تھے۔ حضرت جالندھری ؒ بھی بیٹوں کی طرح آپ سے محبت فرماتے تھے۔ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ، خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی ؒ کی رفاقت نے قومی دینی راہنما کی صلاحیتوں کا آپ کو امین بنا دیا
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
تھا ۔ مولانا محمد شریف بہاولپوریؒ، مولانا تاج محمودؒ، مولانا محمد شریف جالندھریؒ، مولانا عبدالرحمان میانویؒ، مولانا عبدالرحیم اشعرؒ سے آپ کے دوستانہ مراسم تھے۔ آپ پر اللہ تعالیٰ کا دنیوی طور پر بھی فضل تھا۔ آپ کا شمار علاقہ کے متوسط زمینداروں میں ہوتا تھا۔ سیاست میں دلچسپی کے باعث مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں سے اجازت لے کر آپ نے جمعیت علماء اسلام میں شمولیت اختیار کی۔ شیخ الاسلام مولانا محمد عبداللہ درخواستیؒ، مجاہد ملت مولانا غلام غوث ہزارویؒ، مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ، مولانا عبیداللہ انورؒ، مولانا عبدالحکیمؒ، مولانا گل بادشاہؒ، مولانا عبدالکریمؒ بیر شریف والوں کی آنکھوں کا تارا ہو گئے۔
کئی دفعہ قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا۔ اس سے ضلع وتحصیل میں آپ کی شخصیت نے جادو کے اثر کی مثال قائم کی۔ حکمران وسیاست دان آپ کے نام سے خم کھانے لگے۔ سرائیکی اور اردو کے آپ صاحب طرز خطیب تھے۔ سندھ اور پنجاب میں مدتوں آپ کی خطابت کی گرج دار گونج کی داستانیں دہرائی جائیں گی۔ آپ نے جمعیت علماء اسلام اور ختم نبوت کے پلیٹ فارم سے وہ کارہائے نمایاں سرانجام دیئے جس سے اکابر کی یاد تازہ ہوگئی۔ مولانا مرحوم کے دل میں سوائے اللہ رب العزت کے اور کسی کا خوف نہ تھا۔ بڑے بہادر اور جی دار مجاہد عالم تھے۔ آپ اپنے علاقہ کے غریبوں کے لئے رحمت پروردگار کا پرتو تھے۔ ہر غریب کی مشکل میں اس کا سہارا بننا آپ کا معمول تھا۔ غریبوں کا کام کر کے خوش ہوتے تھے۔ خانقاہ دین پور شریف سے آپ کا جند جان کا رشتہ تھا۔ حضرت مولانا میاں عبدالہادیؒ اور مولانا میاں سراج احمدؒ سے آپ کو عشق سا لگاؤ تھا۔ اس کے اشاروں پر فدا تھے۔ یہ حضرات بھی اپنی بھر پور شفقتوں سے ان کو نوازتے۔
مولانا مرحوم دوست پرور عالم دین تھے۔ آپ کے دوستوں کا کراچی سے خیبر تک حلقہ پھیلا ہوا ہے۔ جمعیت علماء اسلام اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے خلاف ایک لفظ سننا گوارہ نہ تھا۔ قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب کے دست راست شمار ہوتے تھے۔ مولانا بھی مرحوم کی خدمات کے معترف تھے۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن صاحب کو مولانا مرحوم اکابر کی روایات کا امین سمجھتے تھے اور وہ ان کے موقف کے ملک میں بہترین مناد تھے۔
مولانا محمد لقمان علی پوریؒ کی وفات نے بزرگوں کی وفات کے صدموں کو تازہ کر
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
دیا ہے۔ کراچی سے خیبر تک جس کی للکار تھی۔ جس نے قریہ قریہ، گلی گلی تبلیغ اسلام کا فریضہ سرانجام دیا۔ وہ جلالپور کے ایک دینی جلسہ میں شرکت کے لئے تشریف لے گئے۔ دل کا دورہ پڑا۔ ملتان لایا گیا۔ رات گئے دوبارہ تکلیف ہوئی اور اللہ رب العزت کے حضور حاضر ہو گئے۔ بستی رنوجہ، علی پور شہر میں آپ کے جنازہ نے اہل حق کے جنازوں کا منظر پیش کیا۔ آپ کی وصیت کے مطابق دین پور شریف میں آپ کو دفن کیا گیا۔ رحمت پروردگار کی ان پر موسلادھار بارش ہوئی۔ ان کی وفات، خطابت کے شہسوار، غریبوں کے غمگسار، مجاہد فی سبیل اللہ، داعی الی اللہ، عالم ربانی، مجاہد حقانی کی وفات ہے۔ وہ قومی راہنما تھے اور قومی راہنما پوری قوم کی میراث ہوتے ہیں۔ ان کی وفات سے قومیں متاثر ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ اپنے رحم و کرم کا معاملہ فرمائیں۔
(١٠٢)
محمد خانؒ (مبلغ گوجرانوالہ) ، مولانا
حضرت مولانا محمد خان غالباً نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے فارغ التحصیل تھے۔ بیعت کا تعلق حضرت مولانا قاضی مظہر حسینؒ سے تھا۔ حضرت مولانا عبداللطیف جہلمی کے بھی تربیت یافتہ تھے۔ خوب دبنگ اور بہادر قسم کے انسان تھے۔ گوجرانوالہ، سیالکوٹ میں مجلس کے مبلغ رہے۔ پھر وزیر آباد کے کسی محلہ کی مسجد میں خطیب مقرر ہو گئے۔ دو سال قبل جامعہ تعلیم الاسلام جہلم کے جلسہ پر ملاقات ہوئی۔ حق تعالیٰ اپنی راحتوں سے بھر پور سرفراز فرمائیں۔
(١٠٣)
محمد یارؒ (چنیوٹ) ، مولانا
چنیوٹ کے قریب کسی دیہات کے مولانا محمد یار صاحب تھے جو فیصل آباد میں مولانا عبدالرحیم اشعرؒ کے بعد مجلس کے مبلغ رہے۔ مولانا محمد یار صاحب مستعفی ہوئے تو ان کی جگہ پر فقیر راقم کا فیصل آباد میں بطور مبلغ کے تقرر ہوا۔ اب وہ کس حال میں ہیں، رابطہ نہ رہا۔ حق تعالیٰ ان سے ہمہ جہت خیر کا معاملہ فرمائیں۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
(١٠٤)
محمود حسین جاوید ترمذیؒ، مولانا سید
(پیدائش:١٩٤٢ء ...... وفات: ٣؍مئی ١٩٩٨ء) مدرسہ تعلیم القرآن کلویا ضلع ٹوبہ کے بانی، نامور عالم دین، ذہین وفطین مولانا سید محمود حسین جاوید ترمذی بہت ہی مرنجاں مرنج انسان تھے۔ آپ عرصہ تک عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے مبلغ رہے۔ الحاج بلند اختر لاہور والوں کو مجلس سے روشناس کر کے مجلس میں لانے والے مولانا سید محمود حسین جاوید ترمذی تھے۔ آپ کا بیعت کا تعلق ولی ابن ولی مولانا عبید اللہ انورؒ سے تھا۔ حق تعالیٰ مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کریں۔ بہت ہی نظریاتی ساتھی تھے۔ جامعہ خیر المدارس ملتان سے فارغ التحصیل تھے۔
(١٠٥)
مقبول احمدؒ (ساہیوال) ، مولانا مفتی
(وفات: ٢٤؍مارچ ٢٠٠٣ء) جامعہ رشیدیہ ساہیوال کے مدرس مولانا مفتی مقبول احمد کو شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوریؒ نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ کے طور پر برطانیہ بھجوایا۔ آپ نے جامع مسجد مرکزی گلاسگو کو اپنی سرگرمیوں کے لئے منتخب کیا۔ پھر اسی کے ہو کر رہ گئے۔ جامعہ رشیدیہ کے بالمقابل نہر کے اس پار جامعہ علوم شرعیہ آپ کا قائم کردہ ادارہ ہے۔ جسے اس وقت آپ کے صاحبزادہ مولانا محمد طارق مسعود چلا رہے ہیں۔
(١٠٦)
ممتاز الحسن شاہ گیلانیؒ ، جناب سید
(وفات: ٢١؍اکتوبر ١٩٩٩ء) جناب سید ممتاز الحسن شاہ گیلانیؒ حفظ و ناظرہ اور سکول کی معمولی تعلیم مکمل
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
کرنے کے بعد فیصل آباد آنا جانا ہوا تو مجاہد ملت حضرت مولانا تاج محمود ؒ سے نیاز مندی کا شرف حاصل ہوا۔ یہاں سے حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ اور ان کے گرامی قدر رفقاء سے عقیدت و محبت کا رشتہ قائم ہوا۔ پہلے احرار اسلام پھر مجلس تحفظ ختم نبوت سے وابستگی ہوئی۔
حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوری ؒ سے بیعت کا تعلق تھا۔ حضرت رائے پوری ؒ کے خلیفہ مجاز حضرت مولانا انیس الرحمن لدھیانوی ؒ سے مثالی تعلقات تھے۔ اشرف المدارس فیصل آباد کے صدر مدرس حضرت مولانا غلام محمد ؒ سے کچھ عرصہ ابتدائی صرف و نحو کی تعلیم حاصل کی۔ عجیب طبیعت پائی تھی۔ اکابر سے عشق کی حد تک لگاؤ تھا۔ حضرت مولانا محمد علی جالندھری ؒ کے فدائی تھے۔ حضرت مولانا کی مجلس میں جب حاضر ہوتے۔ تقریر سنتے اور قلم بند کرتے جاتے۔ تقاریر و ملفوظات پر مشتمل نوٹ بک بنائی ہوئی تھی۔ جسے سفر و حضر میں عزیز از جان سمجھ کر ساتھ رکھتے تھے۔ ایک دفعہ سندھ کے سفر میں وہ گم ہوگئی تو مدت العمر اس گراں مایہ ذخیرہ پر تاسف کا اظہار کرتے تھے۔
حضرت مولانا محمد علی جالندھری ؒ کا زندگی بھر کا معمول تھا کہ آپ کسی سید کو خدمت کا موقع نہیں دیتے تھے۔ لیکن سید ممتاز الحسن شاہ گیلانی ؒ کو یہ اعزاز حاصل تھا کہ سید ہونے کے باوجود ان سے مولانا محمد علی جالندھری ؒ خدمت لے لیتے تھے اور فرماتے تھے کہ آپ سے تو باپ بیٹے جیسا تعلق ہے۔ آپ کو حضرت جالندھری ؒ نے فیصل آباد کے قادیانیت زدہ دیہات کے لئے مبلغ مقرر کر دیا تھا۔ حضرت شاہ صاحب ؒ نے جان جوکھوں میں ڈال کر آخری عمر تک اس فریضہ کو نبھایا اور خوب نبھایا۔
فقیر راقم الحروف کا بطور مبلغ سب سے پہلا تقرر فیصل آباد میں ہوا تو جڑانوالہ، کھرڑیانوالہ کے دیہات میں تعارف کرایا اور عمر بھر اپنی شفقتوں سے نوازا۔ اس عرصہ میں ہمارا جند جان کا رشتہ قائم ہوا۔ بہت ہی شریف النفس، درویش صفت اور فرشتہ سیرت انسان تھے۔ ١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت میں دن رات ایک کر دیا۔ چناب نگر کو کھلا شہر قرار دیا گیا تو سردار منیر احمد خان لغاری پہلے آر ایم مقرر ہوئے۔ ان کی عدالت بلدیہ کی عمارت ٹھہری۔ وہاں آپ کو ابتدائی نمازیں پڑھانے کی سعادت حاصل ہوئی۔ ہر دل عزیز شخصیت تھے۔ جن سے ایک بار تعارف ہوا۔ آخر عمر تک باوفا ساتھیوں کی طرح اسے نبھایا۔ جامع مسجد و مدرسہ تعلیم القرآن ختم
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
نبوت مسلم کالونی چناب نگر، جامع مسجد محمدیہ ریلوے اسٹیشن چناب نگر پر ساتھیوں کی رخصتوں کے موقع پر ہفتہ ہفتہ بارہا ڈیوٹی دی۔
چنیوٹ و چناب نگر آل پاکستان ختم نبوت کانفرنسوں میں حاضری ان کی زندگی بھر کا معمول رہا۔ مجلس کے مبلغین کی میٹنگوں میں جماعتی پالیسی و معاملات پر رواداری کے قائل نہ تھے۔ ہمیشہ مجلس کے ضوابط پر کار بند رہتے اور رفقاء کو اس پر کار بند رہنے کا سبق دیتے تھے۔ جماعتی مسئلہ میں ساتھیوں کے مختلف مشوروں کو اکابرین کا کوئی ملفوظ سنا کر مسئلہ کا حل نکال لینے میں یدطولیٰ حاصل تھا۔ شیعہ سنی کشیدگی پر بہت افسردہ رہتے اور اس کو قادیانیوں کی سازش قرار دیتے۔ مزاج پیروں والا تھا۔ بود و باش فقیروں والی تھی۔
اس دفعہ اٹھارویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کے موقع پر چار روز ان سے مجلس رہی۔ مبلغین حضرات کی تعلیم و تربیت اور مزید تیاری کے لئے ٩؍ اکتوبر کی عشاء کے بعد تحریری امتحان قرار پایا۔ سب سے سینئر ہونے کے باوجود محض نئے دوستوں کی دلجوئی کے لئے امتحان میں شریک ہوئے۔ پرچہ دیا۔ آنکھوں کا عارضہ تھا۔ مگر اسے جماعتی امر کی تعمیل میں رکاوٹ نہ بننے دیا۔ دوسرے دن دوپہر تک کے اجلاس میں شریک رہے۔ ہم لوگوں کو ملتان کا ایک بجے دن سفر کرنا تھا۔ آپ مدرسہ میں ہی قیام پذیر تھے۔ ان سے رخصت لے کر روانہ ہوئے اور یہ زندگی کی آخری ملاقات ٹھہری۔
قبلہ سید ممتاز الحسن شاہ گیلانی ؒ سے فقیر کی تیس بتیس سالہ جماعتی رفاقت رہی۔ اس طویل عرصہ میں آپ کی اجلی سیرت کی گواہی دینا فقیر اپنا فرض سمجھتا ہے۔ فقیر پچھلے ہفتہ پشاور کے سفر پر تھا۔ واپسی پر راولپنڈی دفتر میں آپ کی وفات حسرت آیات کی خبر سنی۔ دل بجھ گیا۔ دفتر مرکزیہ آ کر معلوم ہوا کہ ٢١؍ اکتوبر بروز جمعرات کو ایک بارات کے ساتھ پیپلز کالونی تشریف لے گئے۔ شادی کے پنڈال میں تقریب نکاح کی تاخیر سے فائدہ اٹھا کر بیان شروع کر دیا۔ پہلے معراج کا واقعہ بیان کیا پھر آنحضرت ﷺ کی صاحبزادیوں کا تذکرہ شروع کیا۔ حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کا نام زبان پر آیا اور کرسی پر بیٹھے ہی گردن لڑھک گئی۔ ساتھیوں نے سنبھالا تو وہ دوسرے جہاں تشریف لے جا چکے تھے۔ اتنی اجلی سیرت کا سید، سادات کا تذکرہ کرتے ہی اللہ تعالیٰ کے حضور چل دیا۔
ایک بجے دن کا وقت تھا۔ آخری سٹاپ ڈھڈی والا فیصل آباد میں ذاتی رہائشی مکان
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
اور اپنے ہاتھوں قائم کردہ مدرسہ ومسجد میں لائے گئے۔ دوسرے دن دس بجے چک نمبر ٢٠٥ وزیروالا میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ جانشین مجاہد ملت حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری ؒ نے جنازہ کی امامت فرمائی۔ صاحبزادہ طارق محمود ؒ نے جنازہ پر آپ کو خراج تحسین پیش کیا۔ مولانا خدا بخش شجاع آبادی ؒ نے اپنے مبلغین ورفقاء کی نمائندگی کی۔
یوں مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھری ؒ، مجاہد اسلام حضرت مولانا تاج محمود ؒ کے جانشینوں نے ان کے ایک دیرینہ مجاہد ساتھی کو ہزاروں سوگواروں اور خاندان کے ورثاء اور جماعتی ساتھیوں کے ہمراہ آخری آرام گاہ میں رحمت حق کے سپرد کیا۔ عـــــــاش سعیداً ومات سعیداً ! کا مصداق یہ مرد قلندر دنیا میں نہ صرف خوب وقت گزار کر گیا بلکہ ہزاروں متعلقین کو سلیقہ کی زندگی گزارنے کا درس دے گیا۔ شوگر وغیرہ ایسی بیماریوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ حرمین کی زیارت کا بھی شرف حاصل تھا۔ ہزاروں سعادتوں کا مجموعہ اب رب کریم کے حضور حاضر ہوا۔ اللہ رب العزت اپنے عفو و کرم کا ان سے معاملہ فرمائیں۔ پسماندگان کو صبر جمیل اور مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت نصیب ہو۔ آمین!
(١٠٧)
منظور احمد آسی ؒ، حضرت مولانا سید
(وفات: یکم نومبر ٢٠٠١ء)
حضرت مولانا سید منظور احمد آسی ؒ نے جامعہ نصرت العلوم گوجرانوالہ سے دورہ حدیث شریف کی تعلیم حاصل کی۔ کچھ عرصہ مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد کے مبلغ بھی رہے۔ بعد میں آپ نے سرکاری ملازمت کے تحت گورنمنٹ سکول مانسہرہ میں پڑھانا شروع کیا اور اپنے گاؤں کی مسجد میں امامت وخطابت کے فرائض بھی انجام دیتے رہے۔ آخر وقت تک مجلس تحفظ ختم نبوت و جمعیۃ علماء اسلام سے اپنا تعلق برقرار رکھا۔
اسلام آباد و مانسہرہ کے علاوہ آزاد کشمیر تک بھی آپ نے قادیانیوں کو نکیل ڈالنے میں گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ آپ نے مجاہد اسلام حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی ؒ کی سوانح بھی تحریر کی۔ مختلف اخبارات ورسائل کے لئے مضامین بھی لکھتے رہے۔ علم وقلم سے رشتہ آخری وقت تک آپ نے برقرار رکھا۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
گزشتہ کچھ عرصہ سے آپ کو سانس کی تکلیف ہو گئی تھی لیکن بایں ہمہ آپ نے اپنے معمولات کو جاری رکھا۔ آپ کے ایک بیٹے ماشاء اللہ عالم دین ہیں۔ توقع ہے کہ وہ اپنے عظیم باپ کے جانشین ثابت ہوں گے۔ اللہ رب العزت مرحوم کی قبر مبارک پر اپنے انوارات کی بارش نازل فرمائیں۔
(١٠٨)
منظور احمد الحسینیؒ، حضرت مولانا
(وفات: ١٣؍ جنوری ٢٠٠٥ء)
حضرت مولانا منظور احمد الحسینی ؒ فتح پور کمال ظاہر پیر ضلع رحیم یار خان کے رہائشی تھے۔ بلوچ برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ کم عمری میں والدین کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ حضرت مولانا غلام محمد صاحب علی پوری ؒ آپ کے بہنوئی نے آپ کی پرورش کی۔ جامع المعقول والمنقول حضرت مولانا منظور احمد نعمانی ؒ سے ابتدائی کتب مدرسہ احیاء العلوم ظاہر پیر میں پڑھیں۔ انتہائی کتب اور دورہ حدیث شریف جامعہ خیر المدارس ملتان سے کیا۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد شریف کشمیری ؒ اور حضرت مولانا مفتی عبدالستار ؒ ، حضرت مولانا محمد صدیق جالندھری ؒ آپ کے اساتذہ میں شامل ہیں۔ دورہ حدیث کے بعد فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیات ؒ سے رد قادیانیت پر کورس کیا۔ مدرسہ احیاء العلوم چنیوٹ میں تدریس کی۔
١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت کے لئے چنیوٹ اور گردونواح میں شب و روز ایک کر دیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین کی ایک جماعت حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر ؒ اور حضرت مولانا عبدالرحمٰن میانوی ؒ کی سرپرستی میں چالیس روزہ تربیتی کلاس میں شرکت کے لئے جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن گئی۔ اس میں حضرت مولانا منظور احمد الحسینی ؒ بھی شریک تھے۔ تب عائشہ باوانی کالج کراچی کی جامع مسجد میں خطیب مقرر ہو گئے۔ امامت، خطبہ جمعہ اور درس کے علاوہ باقی وقت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے شعبہ تبلیغ کو دینے لگے۔ حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰن ؒ اور حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی ؒ کی سرپرستی نے آپ کو ہیرو بنا دیا۔ کراچی دفتر، ہفت روزہ ختم نبوت اور مسجد باب الرحمت کی تعمیر وتوسیع کے لئے
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
آپ نے جان جوکھوں میں ڈال کر شب و روز کام کیا۔ بیرون ممالک میں تبلیغ اسلام، تحفظ ختم نبوت کی ترویج واشاعت اور فتنہ قادیانیت کے استیصال کے لئے حضرت مولانا منظور احمد الحسینی ؒ کے متعدد اسفار ہوئے۔ افریقہ، امریکہ، عرب امارات اور یورپ میں حضرت مولانا منظور احمد الحسینی ؒ نے جس جانفشانی سے کام کیا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی تاریخ کا وہ سنہری باب ہے۔
١٩٨٤ء میں قادیانی جماعت کے چیف گرو مرزا طاہر نے لندن کو اپنا مستقر بنایا تو آپ نے بھی گویا وہاں ڈیرے ڈال دیئے۔ سٹاک ویل گرین لندن میں دفتر کی خریداری کے لئے ان کی گرانقدر محنت و کاوش آب زر سے لکھنے کے لائق ہے۔ حضرت مولانا منظور احمد الحسینی ؒ کو عربی، اردو، فارسی، سرائیکی اور پنجابی پر بھر پور عبور حاصل تھا۔ بے تکلف ان زبانوں میں تقریر کے آپ ماہر تھے۔ قادیانیت کی جملہ کتب پر آپ کو مکمل دسترس تھی۔ انگریزی میں بھی گزارہ کرلیتے تھے۔ عرصہ تک یورپ کے کلیساؤں میں ختم نبوت کے ترانے بلند کئے۔ قادیانیوں سے مناظرہ کرنا اور قادیانی مسلمات سے ان کو چاروں شانے چت کرنا حضرت مولانا منظور احمد الحسینی ؒ کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ بیسیوں قادیانیوں سے مناظرے کئے۔ جہاں گئے فتح نے آپ کے قدم چومے۔ سینکڑوں قادیانیوں نے حضرت مولانا منظور احمد الحسینی ؒ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ بڑے منکسر المزاج عالم دین تھے۔ اکابر واصاغر کی خدمت، مہمان نوازی اور ان کی آسائش کا خیال رکھنا حضرت مولانا منظور احمد الحسینی ؒ کے معمولات زندگی قرار دیئے جاسکتے ہیں۔
سالانہ ختم نبوت کانفرنس برمنگھم کے ہمیشہ منتظم رہے۔ اس کے لئے ہمیشہ انہوں نے مثالی خدمات سرانجام دیں۔ سٹیج کو سنبھالنا، مہمانوں کا استقبال، پارکنگ، قرار دادوں کی ترتیب، بیان، سوال و جواب کی محفل، امامت، لٹریچر کی تقسیم غرض جس کام میں ضرورت دیکھتے یا ڈیوٹی لگ جاتی اس کو خوب نبھاتے۔ انکساری وتواضع حضرت مولانا میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ بڑے ہی محنتی عالم دین تھے۔ آپ کی زندگی میں آرام نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ چلتے چلتے جو آرام ہو گیا سو ہو گیا۔ کام کرتے کرتے سوتے تھے اور اٹھتے ہی کام پر لگ جاتے تھے۔ حضرت مولانا منظور احمد الحسینی ؒ کی زندگی کمپیوٹرائز زندگی تھی۔ چوبیس گھنٹوں میں وہ اپنے آپ کو مصروف رکھتے تھے۔ مسجد کی خدمت سے خطابت تک، بچوں کو پڑھانے سے بیعت کرنے تک تمام کاموں میں فٹ تھے۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
حضرت مولانا منظور احمد الحسینیؒ لندن میں قیام کے دوران پہلے مجلس کے دفتر کے انچارج رہے۔ پھر مسجد میں گئے تو ہر روز دفتر آنا معمول رہا۔ اب بھی مجلس لندن کے تمام کاموں میں برابر شامل تھے۔ وہ اپنی مثال آپ تھے۔ آپ جیسے محنتی، مخلص اور بے نفس عالم دین کم ہی دیکھنے میں ملیں گے۔ ختم نبوت کے کاز کے لئے پورے یورپ میں کوئی شخص حضرت مولانا منظور احمد الحسینیؒ کو بلاتا تو آپ کو حاضر پاتا۔ آپ کے وجود سے قادیانیت کانپتی تھی۔ حضرت مولانا منظور احمد الحسینیؒ کی مخلصانہ مساعی نے آپ کو ہر دلعزیز عالم دین بنا دیا تھا۔ لڑائی نام کی کوئی چیز آپ کے ہاں نہ تھی۔ سب حلقوں میں آپ کو احترام و توقیر کا مقام حاصل تھا۔ بڑے فیاض طبع تھے۔ جو کمایا وہ مقدور بھر دین کی ترویج واشاعت میں لگا دیا۔
اللہ تعالیٰ کی شان بے نیازی کہ حضرت مولانا منظور احمد الحسینیؒ نے یکے بعد دیگرے دو شادیاں کیں۔ لیکن اولاد نہ ہوئی۔ تاہم آپ کی طبیعت پر اس کا کوئی اثر نہ تھا۔ آپ اپنی سرگرمیوں میں مگن اور راضی بہ تقدیر تھے۔ کئی مضامین آپ کے قلم سے نکلے۔ ان کے خطبات پر مشتمل کئی پمفلٹ شائع ہوئے۔ تصنیفی خدمات علاوہ ازیں ہیں۔ ان کی بے نفسی کا یہ عالم تھا کہ کسی بھی مقرر کی تقریر ہوتی شاگرد کی طرح ان کے پہلو میں بیٹھ کر اس کے نکات قلمبند کرتے۔ مستقل نوٹ بک جیب میں رکھتے۔ جہاں سے کوئی کام کی بات ملتی نوٹ کر لیتے۔
بڑی صالح طبیعت پائی تھی۔ ملنساری میں اپنی مثال آپ تھے۔ جس سے ایک بار ملنا ہوتا وہ زندگی بھر آپ کی تعریف میں رطب اللسان رہتا۔ عابد وزاہد انسان تھے۔ سنن ونوافل، تلاوت و عبادت، ذکر وفکر ان کی طبیعت ثانیہ بن گئی تھی۔ حضرت مولانا منظور احمد الحسینیؒ جس مسجد میں امام تھے وہاں عربوں کی اکثریت ہے۔ چنانچہ آپ خطبہ جمعہ، عربی، انگلش اور اردو تینوں زبانوں میں دیتے تھے۔ یوں عربوں وعجمیوں کے لئے آپ پل بن گئے تھے۔ تصوف میں قدم رکھا تو حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ اور حضرت مولانا محمد فاروق سکھرویؒ سے خلافت کے مستحق پائے۔ ہزاروں آپ کے مرید ہوں گے۔ لیکن ان تمام مریدوں کے حلقہ کو حضرت مولانا منظور احمد الحسینیؒ نے دین اور عقیدہ ختم نبوت کی ترویج کے لئے جوڑا۔ محنت اور کام کرنے کے شوق کا یہ عالم تھا کہ ڈرائیوری سیکھی۔ گاڑی خود ڈرائیو کرتے اور یوں ہفتہ کے آخری دنوں میں تبلیغ کے لئے برطانیہ کے مختلف شہروں میں نکل جاتے۔ پانچوں نمازوں میں پانچ شہروں میں بیانات کر لیتے تھے۔ دو دنوں میں دس شہروں سے رابطہ ہو جاتا۔ کیا بتائیں کہ زندگی بھر انہوں
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
نے کس طرح اپنے آپ کو خدمت دین کے لئے وقف کئے رکھا۔ سال میں دو بار عمرہ اور ہر سال حج کرنا آپ کے معمولات بن گئے تھے۔ بسا اوقات آپ اپنے نمازیوں میں سے پانچ دس ساتھیوں کو ساتھ لے جاتے۔ وہ آپ کی رفاقت سے حج وعمرہ کے صحیح معمولات سے نفع حاصل کرتے۔ غرض یورپ وعرب جہاں گئے خدمت خلق وترویج اسلام کو انہوں نے معمول بنائے رکھا۔ گزشتہ سال سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر میں تشریف لائے۔ جمعہ کے بعد بڑی اہمیت سے آپ کا بیان ہوا۔ آپ کے علم وفضل کے چرچوں اور آپ کی مناظرانہ سج دھج سے یورپ گونجتا رہا۔ ان کی للکار حق نے قادیانیت کو ناکوں چنے چبوائے۔ حضرت مولانا مفتی نظام الدین شامزئی شہید، حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خان شہید اور حضرت مولانا نذیر احمد تونسوی شہید کی شہادت کے بعد اب حضرت مولانا منظور احمد حسینی شہید کا سانحہ وصال عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے لئے ایک بڑا خلاء ہے۔ اللہ تعالیٰ قادر کریم ان حضرات کے خلاء کو پر کرنے کا غیب سے بندوبست فرمائیں۔ وما ذالک علی اللہ بعزیز!
اس سال حضرت مولانا منظور احمد حسینی شہید اپنی اہلیہ کے ساتھ حسب معمول حج کے لئے گئے۔ مدینہ طیبہ میں اچانک وصال فرمایا۔ جمعرات شام وصال ہوا۔ اگلے روز بعد از جمعہ مسجد نبوی میں لاکھوں انسانوں نے حضرت مولانا منظور احمد حسینی شہید کے جنازہ میں شرکت کی۔ جنت البقیع میں آسودہ خاک ہوئے۔ یہ مصرعہ بارہا سنا: ”تعریف وتوصیف“ دونوں مقامات پر اس کے استعمال کو بھی دنیا جانتی ہے۔ لیکن ذرا توجہ فرمائیے کہ حضرت مولانا منظور احمد حسینی شہید زندگی بھر جو عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے سرگرم عمل رہے صاحب ختم نبوت ﷺ کے شہر مدینہ منورہ کی فضاؤں میں اعمال حج کی بجا آوری کے لئے پہنچے۔ تقدیر کے فرشتہ نے سلام کیا۔ اس پاک ماحول میں آپ نے جان مالک حق کو لوٹادی۔ زہے نصیب جنت البقیع میں تدفین۔ کیا حضرت مولانا منظور احمد حسینی شہید سے بڑھ کر اس شعر کا اور صحیح مصداق ہو سکتا ہے؟
حضرت مولانا منظور احمد حسینی شہید دنیا میں چلتے پھرتے جنتی انسان تھے۔ مقدر کے دھنی تھے۔ عجم سے اٹھے یورپ پر چھائے اور عرب میں آسودہ خاک ہو گئے۔ مدتوں حضرت مولانا منظور احمد حسینی شہید کا تذکرہ رہے گا۔ زندگی ہو تو آپ جیسی اور موت ہو تو آپ کی موت جیسی۔ عمر بمشکل پینتالیس پچاس سال ہوگی۔ لیکن کام صدیوں کا کر گئے اور صدیوں ہی آپ آنے
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
والی نسل کے یاد کرنے کے قابل انسان تھے۔ حق تعالیٰ حضرت مولانا منظور احمد الحسینی ؒ کے حامی و ناصر ہوں۔ مقدر دیکھو کل قیامت کے دن وہ صاحب ختم نبوت ﷺ کے ساتھ مدینہ طیبہ سے اٹھنے والے گروہ سعید میں شامل ہوں گے۔ زندہ باد حضرت الحسینی ؒ !
مولانا منظور احمد الحسینی ؒ کے رد قادیانیت پر چار رسائل ہمیں ملے جو احتساب قادیانیت کی جلد ٣٦ میں شائع کرنے کی سعادت حاصل کی۔
- ١...... ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مہدی علیہ الرضوان کی چند علامات“
- ٢...... ”مرزا قادیانی کے وجوہ کفر“
- ٣...... ”شرمناک فرار“
- ٤...... ”عقیدہ ختم نبوت اور مسلمانوں کی ذمہ داریاں“
پہلے دو اور آخری رسائل کے ناموں سے موضوع واضح ہے۔ البتہ تیسرا رسالہ ”شرمناک فرار“ اس میں مولانا موصوف نے ایک مناظرہ کی روئیداد قلمبند کی ہے جس میں قادیانیوں نے شرمناک فرار سے قادیانیت کی رسوائی کا سامان مہیا کیا۔ یہ مورخہ ١١؍نومبر ١٩٨١ء کی روئیداد ہے جو پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ موصوف نامور عالم دین تھے۔ زندگی بھر عقیدہ ختم نبوت کی ترویج کی۔ مدینہ طیبہ کی دھرتی نے اپنے اندر انہیں سمو لیا۔ زہے نصیب!
(١٠٩)
منظور احمد شاہ حجازی ؒ (کہروڑ پکا)، حضرت مولانا سید
(وفات: ١٠؍جون ٢٠٠١ء)
پاکستان کے معروف مقرر اور مجلس علماء اہل سنت کے رہنما حضرت مولانا سید منظور احمد شاہ حجازی نے جامعہ قاسم العلوم ملتان سے دورہ حدیث شریف مکمل کیا۔ مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود ؒ کے آپ مایہ ناز شاگرد تھے۔ فرق باطلہ کے خلاف تربیت حضرت مولانا علامہ دوست محمد قریشی ؒ اور حضرت مولانا عبدالستار تونسوی ؒ سے حاصل کی اور اپنی علمی زندگی کا آغاز تنظیم اہل سنت پاکستان سے کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سٹیج سے سنہری خدمات سرانجام دیں۔ آج کل مجلس علماء اہل سنت پاکستان سے وابستہ تھے۔ حضرت مولانا معروف خطیب، دلنواز مقرر تھے۔ جہاں رہے اپنے تمام ساتھیوں سے ممتاز رہے۔ معاملہ فہم اور زیرک عالم دین تھے۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
مشکل سے مشکل مسئلہ کی گتھی سلجھانا آپ پر ختم تھا۔ تجاویز کے بادشاہ تھے۔ صلح کل پالیسی پر گامزن رہتے تھے۔ جن سے اختلاف ہوا اعتدال کو پھر بھی ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ دوست پرور تھے۔ ساتھیوں کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے تھے۔ ١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت میں آپ نے بھر پور خدمات سرانجام دیں۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے عرب امارات کے دورہ پر گئے اور عرب امارات کی سپریم کورٹ سے قادیانی کفر پر فیصلہ لے کر لوٹے۔ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور حضرت مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھریؒ کی تقاریر کو شائع کیا۔
دینی مدارس کے لئے فنڈ جمع کرنے کے ماہر مانے جاتے تھے۔ آخری عمر میں کہروڑ پکا میں جامعہ حجازیہ کے نام سے دینی مدرسہ قائم کیا۔ آپ نے بھر پور زندگی گزاری۔ آخر عمر میں آپ کو عوارضات نے آن گھیرا۔ پھر بھی خدمت خلق سے پہلو تہی نہ کی۔ اپنی خاندانی خانقاہ جند پیر میں مدرسہ قائم کیا۔ متوسلین و متعلقین کو راہ حق دکھلاتے رہے۔ تعویذات و دم کرانے کے لئے ہزاروں بندگان خدا نے آپ سے فیض حاصل کیا۔ مولانا کا وجود بسا غنیمت تھا۔ بڑے حضرات سے وابستہ رہے اور ان کی خوبیوں کے خوگر رہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی قبر پر اپنی رحمتوں کی موسلا دھار بارش نازل فرمائیں اور پسماندگان کو صبر جمیل نصیب ہو۔ آمین!
(١١٠)
منظور احمد عباسیؒ (جتوئی)، مولانا
جتوئی علی پور کے مولانا منظور احمد عباسی تھے جو مولانا قائم الدین عباسی تنظیم اہل سنت کے معروف رہنما کے رشتہ دار تھے۔ یہ مولانا منظور احمد عباسی کراچی میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ بھی رہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو قبول فرمائیں۔
(١١١)
نذیر احمد تونسوی شہیدؒ، حضرت مولانا
(شہادت: ٩؍ اکتوبر ٢٠٠٤ء)
حضرت مولانا نذیر احمد تونسوی شہیدؒ بلوچوں کے قیصرانی قبیلہ کے چشم و چراغ تھے۔ تونسہ شریف معروف جہاں شہر ہے۔ اس کے مضافات میں ڈیرہ اسماعیل روڈ پر معروف
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
قدیمی قصبہ ٹبی قیصرانی ہے۔ ٹبی سے مغربی جانب پہاڑوں کے دامن اور ریت کے ٹیلوں کے وسط میں بستی ملھ ہے۔ مولانا تونسوی ؒ اس بستی کے رہائشی تھے۔ ١٩٥٧ء میں آپ نے اس بستی کے ایک بزرگ جناب اللہ بخش تونسوی ؒ کے گھر آنکھیں کھولیں۔ ذرا سیانے ہوئے تو ٹبی کے مدرسہ معراج العلوم اور ریتڑہ کی جامع مسجد اور پھر مدال تحصیل کبیر والا میں قرآن مجید حفظ کیا۔ ان دنوں آپ کے بڑے بھائی قاری منظور احمد صاحب دارالعلوم پیپلز کالونی فیصل آباد میں مدرس تھے۔ ان کے ساتھ فیصل آباد آئے۔ دینی کتب کی تعلیم ابتداء سے دورۂ حدیث شریف تک یہاں حاصل کی۔
١٩٧٤ء سے ١٩٧٦ء تک کا ہنگامہ خیز وقت آپ کا فیصل آباد میں گزرا۔ آپ ان دنوں کتب کے آخری درجہ میں پڑھ رہے تھے۔ تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء یا اس کے بعد جمعہ پڑھنے کے لئے ریلوے کالونی جامع مسجد میں حضرت مولانا تاج محمود ؒ کے ہاں تشریف لاتے۔ آہستہ آہستہ معمول بن گیا۔ ان دنوں مولانا تونسوی ؒ سبزہ آغاز تھے۔ معصوم چہرہ۔ سر پر رومال۔ اداؤں میں خطیب اہل سنت حضرت مولانا عبدالشکور دین پوری ؒ کی جھلک۔ بول چال میں مترادف الفاظ کا بے دریغ استعمال۔ ہم وزن جملوں سے گفتگو کو مرصع حسن بنانا۔ یہ مولانا تونسوی ؒ کی طالب علمی کی زندگی کی نشانیاں قرار دی جاسکتی ہیں۔ حضرت مولانا عبدالشکور دین پوری صاحب طرز خطیب تھے جو حضرت مولانا نذیر احمد تونسوی ؒ کا آئیڈیل تھے۔ خدا کی قدرت کہ کسی حد تک مولانا تونسوی ؒ کا چہرہ مہرہ بھی حضرت مولانا دین پوری ؒ سے میل کھاتا تھا۔ مولانا تونسوی ؒ کا حضرت مولانا تاج محمود ؒ کے ہاں جمعہ کے لئے آنا۔ جمعہ کے بعد حضرت مرحوم کے ہاں چائے کی مجلس میں شرکت۔ اس عمل نے مولانا نذیر احمد تونسوی ؒ کو مجلس تحفظ ختم نبوت کے قریب کر دیا۔ مولانا نذیر احمد تونسوی ؒ کی پڑھائی کے آخری سالوں میں مولانا تاج محمود مرحوم نے آپ کی ذہن سازی کی کہ آپ مجلس تحفظ ختم نبوت میں شامل ہو جائیں۔ ادھر آپ نے حضرت مولانا محمد شریف جالندھری ؒ سے فرمایا کہ نذیر تونسوی ؒ کام کا نوجوان ثابت ہوگا۔ اسے مجلس کے شعبہ تبلیغ میں جذب کرلو۔
فراغت کے بعد مولانا نذیر احمد تونسوی ؒ نے دفتر مرکزیہ ملتان میں فاتح قادیان مولانا محمد حیات ؒ کے پاس رد قادیانیت پر سہ ماہی کورس کیا۔ اس کلاس میں مولانا عبدالعزیز لاشاری اور حافظ احمد بخش شجاع آبادی ؒ بھی آپ کے ہم درس تھے۔ حافظ صاحب ؒ رحیم
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
یار خان، لاشاری صاحب کراچی اور مولانا نذیر احمد کی کوئٹہ تقرری ہوگئی۔ آپ نے چھ ماہ کوئٹہ گزارے۔ یہ ١٩٧٧ء کی بات ہے۔ چھ ماہ کوئٹہ میں گزار کر سردیوں میں کراچی آگئے تو کراچی سے مولانا عبدالطیف آرائیں علی پوری کو کوئٹہ بھیج دیا گیا اور آپ کراچی میں مجلس کے دفتر واقع بندر روڈ پر تبلیغی خدمات انجام دینے لگے۔ مولانا لاشاری دفتری امور کے انچارج اور مولانا تونسویؒ تبلیغی خدمات کے مسئول تھے۔ ساگرہ مینشن میں دفتر ہوتا تھا۔ حافظ محمد حنیف ندیم سہارنپوری ان دنوں صداقت اخبار میں ہوتے تھے۔ ان تینوں حضرات نے مل کر قادیانیت کے خلاف تبلیغی معرکہ گرم کیا۔
حضرت مولانا نذیر احمد تونسویؒ نے تقریباً تین سال کراچی میں کام کیا۔ ادھر کوئٹہ میں ان دنوں لیاقت بازار میں کرایہ کی بلڈنگ میں مجلس کا دفتر قائم تھا۔ مجلس کے مبلغ مولانا عبداللطیف تھے۔ مجلس کے کام کے مسئول منظور احمد مغل اور پرانے حضرات میں مولانا محمد انور صاحب نمایاں تھے۔ مولانا انور اور جناب منظور احمد مغل برسوں سے مجلس کے ساتھ وابستہ تھے۔ مجلس کے کام پر ان کی چھاپ تھی۔ مولانا عبداللطیف صاحب نے خوب کام کیا۔ پورے صوبہ میں دن رات ایک کر دیا۔ مجلس کے کام کو مہمیز لگی۔ لیکن کوئٹہ شہر کے جماعتی نظم کی شکل ان دو حضرات کی شناخت بن کر رہ گئی تھی۔ چنانچہ مولانا عبداللطیف کو بہاولپور اور مولانا نذیر احمد کا کراچی سے کوئٹہ تبادلہ کر دیا گیا۔ یہ ١٩٨٠ء کے لگ بھگ کا دور ہے۔
حضرت مولانا نذیر احمد تونسویؒ نے ١٩٨٠ء سے ١٩٩٥ء تک کا دور کوئٹہ میں گزارا۔ آپ نے تحریکی کام کو آگے بڑھایا۔ آپ کی جماعتی تبلیغی سرگرمیاں بلوچستان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پھیل گئیں۔ اسی اثناء میں آپ نے ١٩٨٤ء کی تحریک ختم نبوت کو بلوچستان میں پروان چڑھایا۔ عوام وخواص میں آپ نے کام کیا۔ آپ کی مخلصانہ تبلیغی مساعی کو اللہ رب العزت نے شرف قبولیت سے نوازا۔ کوئٹہ شہر میں اکابر علماء، تجار اور دیندار مخلص رفقاء کی بھرپور ٹیم مل گئی۔ مولانا کے سرپرست و امیر حضرت مولانا منیر الدینؒ خطیب جامع مسجد سنہری قرار پائے۔ آپ یادگار اسلاف تھے۔ مخلص، صاحب علم، ولی، عالم دین تھے۔ آپ کا شہر کے دین دار حلقہ میں نمایاں اور امتیازی مقام تھا۔ آپ کی شخصیت کی سحر آفرینی نے حضرت مولانا تونسویؒ پر کام کرنے کے لئے راستے کھول دیئے۔ آپ نے ان راستوں کو شاہراہوں میں بدل دیا۔ مکران میں ذکری طبقہ کی خلاف
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
اسلام سرگرمیوں پر آپ نے شب خون مارا تو ان کے خواب و خور حرام کر دیئے۔
حضرت مولانا نذیر احمد تونسوی شہیدؒ بلوچ تھے۔ بلوچی آپ کی مادری زبان تھی۔ پشتو پوری سمجھ لیتے تھے۔ بلکہ بولنے میں بھی طبع آزمائی کر لیتے تھے۔ سرائیکی اور اردو پر تو مکمل دسترس حاصل تھی۔ ان خوبیوں نے آپ کو ہر دلعزیز بنا دیا۔ ملنسار طبیعت تھی۔ سادہ مزاج تھے۔ لیکن اپنے موقف کے پکے تھے۔ فرماتے تھے کہ پٹھان یا بلوچ علماء میں کام کرنے میں مجھے دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ان کے مزاج و طبیعت سے واقف ہو گئے۔ خوب گھل مل گئے۔ تبلیغی کام نے وسعت اختیار کی۔
اسی دوران وفاقی حکومت نے اسلم قریشی کو کوئٹہ لا کر لیاقت بازار کے دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت سے برآمد کرنے کا ڈرامہ کرنا چاہا تو کوئٹہ کے آئی جی نے صاف کہہ دیا کہ ہمارا صوبہ حساس صوبہ ہے۔ مذہبی صوبہ ہے۔ ایسی حرکت کرنی ہے تو (ایک صوبے کا نام لے کر کہا) لے جاؤ۔ حضرت مولانا نذیر احمد تونسوی ؒ ان دنوں کوئٹہ دفتر میں ہوتے تھے۔ اخبار میں خبر چھپی کہ ایران کے بارڈر سے اسلم قریشی برآمد ہوئے۔ حضرت مولانا نذیر احمد تونسوی ؒ نے علماء کا وفد بنایا۔ آئی جی کے پاس جا دھمکے۔ انہوں نے تردید کر دی کہ یہاں سے برآمد نہیں ہوئے۔ اگلے دن ان کے حوالہ سے خبر شائع ہوئی تو ایجنسیوں کے کارندوں کا منہ کالا ہوا۔ ان کی سازش پر اوس پڑ گئی۔
غرض حضرت مولانا تونسوی ؒ خوب زرخیز دماغ انسان تھے۔ حضرت مولانا منیر الدین ؒ کی سرپرستی اور رفقاء کی محنت سے مجلس کا کوئٹہ میں اپنا ذاتی دفتر قائم ہو گیا۔ زیرک و معاملہ فہم تھے۔ مولانا تونسوی ؒ کے کوئٹہ قیام کے دوران میں کراچی دفتر ساڑہ مینشن سے پرانی نمائش باب الرحمت کے عقب میں منتقل ہو گیا۔
مرزا طاہر کے فرار کے بعد انگلستان میں کام کی راہیں کھل گئیں۔ کراچی سے ہفت روزہ ختم نبوت کا اجراء ہو گیا۔ حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰن ؒ، حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید ؒ کی سرپرستی و شفقتوں نے حضرت مولانا منظور احمد الحسینی ؒ کی چلتی پھرتی جوانی کو سراپا تحریک بنا دیا۔ دن رات کا فرق رکھے بغیر ان اکابر کی سرپرستی اور رفقاء کی رفاقت میں کام کو اتنی وسعت دی کہ اس پر اللہ تعالیٰ کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ ان دنوں حضرت حاجی لال حسین ؒ، حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰن ؒ ایسے اکابر کراچی مجلس کے کام کی سرپرستی کرتے تھے۔ اب حضرت مولانا منظور احمد الحسینی ؒ اور دیگر رفقاء بیرون ملک زیادہ وقت دینے لگے۔
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
اسی دوران میں کراچی مسجد دفتر کی تعمیر جدید کا مرحلہ بھی اللہ تعالیٰ نے حضرت لدھیانوی ؒ کی نظر شفقت اور ان حضرات کی مخلصانہ محنت سے سر کرا دیا۔ حافظ محمد حنیف ندیم سہارنپوری ؒ روزنامہ صداقت کراچی سے ہفتہ وار لولاک فیصل آباد سے ہو کر ہفت روزہ ختم نبوت کراچی میں آ گئے تھے۔
حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰن ؒ کے وصال کے بعد جامعۃ العلوم الاسلامیہ کراچی کے مہتمم حضرت مولانا حبیب اللہ مختار شہید ؒ مقرر ہوئے۔ آپ کے زمانہ میں جامعہ میں کام کی وسعت کے پیش نظر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی ؒ نے اپنا دفتر بنوری ٹاؤن سے جامع مسجد باب الرحمت میں منتقل کر لیا۔ آپ کے تشریف لانے سے دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے در و دیوار کے مقدر جاگ گئے۔ دارالافتاء قائم ہو گیا۔ خانقاہی نظام چل نکلا۔ دن بھر عوام کا رش رہنے لگا۔ کتب چھپ رہی ہیں۔ رسائل کی کمپوزنگ ہو رہی ہے۔ ڈاک کی ترسیل و وصولی کا عمل ہو رہا ہے۔ شہر کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک تبلیغی پروگراموں کی ترتیب بن رہی ہیں۔ اس ہنگامہ خیز کام کو سنبھالنے کے لئے ١٩٩٦ء میں حضرت مولانا نذیر احمد تونسوی ؒ کوئٹہ سے کراچی تشریف لائے۔ آپ پہلے تین سال یہاں کام کر چکے تھے۔ شہر کے کوچہ و بازار سے واقف تھے۔ آپ نئے جذبہ سے آئے۔ نئی حکمت عملی اپنائی۔ نئے رفقاء کی ٹیم ملی۔ اکابر کی شفقتوں و محبتوں کے زیر سایہ کام کی نیو اٹھائی۔ اب تو وہ کراچی کے محبوب خطیب اور رہنما بن گئے تھے۔ دن میں کئی کئی پروگرام عام معمول بن گئے تھے۔ معاملہ فہم تھے۔ دفتر میں ہر آنے جانے والے سے ڈیل کرنا آپ کا خاص فن تھا۔ ہر دلعزیزی کے مقام پر قدرت نے آپ کو فائز کیا تھا۔ حضرت لدھیانوی ؒ کی شہادت کے سانحہ کے بعد حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خان شہید ؒ، حضرت مولانا مفتی سعید احمد جلالپوری ؒ کی رفاقت اور حضرت مولانا مفتی نظام الدین شامزئی شہید ؒ کی راہ نمائی سے مولانا تونسوی ؒ نے مجلس کے کام کو ایسے طور پر سنبھالا دیا کہ اس پر انہیں جتنا خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے۔
کراچی کے ماحول نے آپ کو ایک سلجھا ہوا سفارت کار بنا دیا۔ آپ مجلس تحفظ ختم نبوت کے کیس کو جہاں لے کر گئے۔ کامیاب رہے۔ حکومت سے ملاقات۔ سرکاری حلقہ سے گفتگو۔ پولیس کے معاملہ میں۔ سرکاری دفاتر میں۔ رفقاء کے کام۔ تبلیغی خدمات۔ بیان عام و خاص، ملاقات و گفتگو پر آپ کو ایسی دسترس حاصل ہو گئی تھی جو آپ کا خاصہ تھی۔ بولتے نہ تھے بلکہ موتی رولتے تھے۔ عام فہم سادہ مگر دل نشین گفتگو کے بادشاہ تھے۔ کوئی بھی قادیانی آتا تو آپ
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگارنگ
کی محبانہ و مخلصانہ تبلیغ سے مسلمان ہو جاتا۔ قادیانیوں کی کثیر تعداد کو آپ نے قبول اسلام کی نعمت سے سرفراز کیا۔ یہ آپ کی نجات کے لئے کافی ہے۔ من موہ لینے والی آپ کی شیریں گفتاری کے تذکرے مدتوں رہیں گے۔
آپ کراچی تشریف لائے تو مولانا مفتی محمد جمیل خان ؒ پٹھان، مولانا نذیر احمد تونسوی ؒ بلوچ۔ دونوں بہادر، دونوں عالم دین، دونوں حق گو، دونوں خاندانی مجاہد، دونوں دل کے بادشاہ اور آنکھ کے غنی اور دونوں اسلام کی سربلندی کے لئے سر بکف۔ البتہ حضرت تونسوی ؒ بہت دھیمے مزاج اور پختگی سے کام کو آگے بڑھانے کے خواہش مند و کار بند تھے۔ وہ تمام جھمیلوں سے بچ کر صرف اور صرف عقیدہ ختم نبوت کی خدمت کو اپنی سعادت سمجھتے تھے۔ جبکہ مولانا مفتی محمد جمیل خان ؒ نے تو دین اسلام کی خدمت کا کوئی ایسا شعبہ نہیں چھوڑا جس میں آپ نے اپنا مخلصانہ حصہ نہ ڈالا ہو۔ اب مولانا مفتی محمد جمیل خان ؒ برطانیہ گئے تو تونسوی صاحب ؒ بھی جا رہے ہیں۔ حج پر دونوں اکٹھے۔ خوب جوڑی بنی۔ خوب انہوں نے ایک دوسرے کا ساتھ دیا۔ چناب نگر کانفرنس یا اندرون سندھ کے پروگرام۔ غرض شرق وغرب، عرب و عجم، کراچی و قلات۔ ہر جگہ دونوں حضرات کی محبتوں اور دینی رشتہ نے ایک دوسرے کا ساتھ نبھایا۔ دنیا سے منہ موڑا اور ہم جیسے پسماندگان سے جدائی اختیار کی تو بھی ایک ساتھ۔ رہے نام اللہ کا۔
(١١٢)
نور الحق ؒ لاہور، حضرت مولانا
١٩٦٠ء سے ١٩٧٠ء کے درمیان عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے مبلغ ہوتے تھے مولانا نورالحق صاحب۔ انہوں نے پمفلٹ لکھا۔ جسے احتساب قادیانیت کی جلد ٤٧ میں شامل اشاعت کیا ہے۔ ”مرزا قادیانی کی پیش گوئیاں اور ان کے متعلق خدائی فیصلے“
(١١٣)
نور محمد مجاہد آبادی ؒ ، مولانا
(وفات: ١١؍ اگست ٢٠١٠ء)
مجاہد آباد ضلع لودھراں کے رہائشی تھے۔ ابتداً تنظیم اہل سنت کے مبلغ تھے۔ حضرت
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
مولانا سید نور الحسن شاہ بخاری ؒ نے ان کو حضرت مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری ؒ سے کہہ کر مجلس تحفظ ختم نبوت میں شامل کرایا۔ تقریر و بیان تو واجبی تھا۔ لیکن بلاء کے محنتی اور خوب ورکر آدمی تھے۔ جس کام کے پیچھے پڑتے، کر کے چھوڑتے۔ پہلے مرکز پھر مظفرگڑھ میں مجلس کے مبلغ رہے۔ ٹبہ والہ نزد پرمٹ ضلع مظفرگڑھ میں مدرسہ قائم کیا۔ وہیں وصال ہوا، وہیں مدفون ہیں۔ حق تعالیٰ جنت میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائیں۔
(١١٤)
نیاز محمد ؒ، چوہدری
پاکستان بننے کے بعد جنوری ١٩٤٩ء میں مجلس تحفظ ختم نبوت کا قیام عمل میں لایا گیا تو کراچی میں بندر روڈ پر سائریا مینشن میں ریڈیو پاکستان کے دفتر کے سامنے ختم نبوت کا دفتر قائم ہوا۔ تب مولانا لال حسین اختر ؒ، چوہدری نیاز محمد، جناب عبدالرحیم جوہر جہلمی ۔ یہاں پر مجلس کے مبلغ اور ناظم دفتر ہوتے تھے۔ اس زمانہ کی تحریک ١٩٥٣ء میں حضرت امیر شریعت، ماسٹر صاحب، مولانا ابوالحسنات، سید مظفر علی شمسی، مولانا لال حسین اختر ؒ اسی دفتر سے گرفتار ہوئے۔ چوہدری نیاز اور جوہر جہلمی بھی ساتھ ہی گرفتار ہوئے تھے۔
(١١٥)
کریم بخش علی پوری ؒ، مولانا
(وفات: ١٩؍ ستمبر ٢٠٠٧ء)
مولانا کریم بخش ؒ ارائیں فیملی سے تعلق رکھتے تھے۔ آبائی پیشہ زمیندارہ تھا۔ ان کے والد ملک اللہ وسایا ارائیں ؒ متوسط طبقہ کے زمیندار تھے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے گھر باقر شاہ شمالی نزد خیر پور سادات علی پور میں مولانا محمد عمر صاحب سے حاصل کی۔ پھر مدرسہ محمدیہ قصبہ مڑل، دارالعلوم کبیر والا، قاسم العلوم ملتان، مخزن العلوم خانپور میں پڑھتے رہے۔ دورہ حدیث شریف جامعہ خیرالمدارس ملتان سے ١٩٧١ء میں کیا۔ جبکہ فقیر نے دورہ حدیث ١٩٦٦ء میں کیا۔ فقیر اور مولانا کریم بخش ؒ کا عمر کا تفاوت بھی تقریباً اتنا ہی ہے۔ مولانا کریم بخش ؒ دورہ سے فراغت کے بعد جامعہ مسجد معاویہ عثمان آباد ملتان میں امام و خطیب رہے۔ پھر عالمی مجلس تحفظ
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگارنگ
ختم نبوت کے دارالمبلغین میں استاذ المناظرین حضرت مولانا محمد حیات ؒ سے مناظرہ کی تربیت حاصل کی۔ اس زمانہ میں مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے یونٹ مغل پورہ کے امیر سید شبیر شاہ صاحب تھے۔ انہوں نے دفتر مرکزیہ سے مبلغ طلب کیا۔ تب مرکز نے مولانا مرحوم کی وہاں پر تقرری کردی۔
١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت کے اختتام تک آپ وہاں رہے۔ پھر مولانا عبدالرؤف جتوئی ؒ کو مولانا غلام حیدر ؒ کی اعانت کے لئے اسلام آباد بھیجا گیا۔ تب دفتر لاہور مجلس تحفظ ختم نبوت بالمقابل شاہ محمد غوث مزار بیرون دہلی دروازہ سرکلر روڈ میں مولانا کریم بخش ؒ کا تقرر کیا گیا۔ مولانا کریم بخش ؒ ایک اچھے رسیلے مقرر تھے۔ مطالعہ، قادیانیوں سے گفتگو، درس، بیان، ان چیزوں میں گزارہ کرتے تھے۔ طبیعت کا لگاؤ اس طرف بالکل نہ تھا۔ تحریک، ذہن سازی، کوئی ڈیوٹی سخت سے سخت کیوں نہ ہو، اسے چیلنج سمجھ کر قبول کرنا اور پھر منطقی نتیجہ تک پہنچانا۔ قادیانی، مسلم عدالتی تنازعہ ہو تو مقدمہ کی پیروی کرنا، اس سے باخبر رہنا اور دفتر کو باخبر رکھنا اور مقدمہ کی کامیابی کے لئے تمام وسائل و ذرائع کو استعمال میں لانا، مجلس کے کاز کے لئے افسران سے رابطہ اور انہیں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور قادیانیت کی اسلام دشمنی سے باخبر رکھنا، مجلس کے لٹریچر کی اشاعت و تقسیم، مشترکہ اجتماعات میں مجلس کی نمائندگی، ان کاموں کے لئے مولانا کریم بخش ؒ نہ صرف فٹ تھے بلکہ دیانتداری کی بات ہے کہ بعض کاموں کے لئے ان کی مساعی کو دیکھ کر رشک پیدا ہوتا تھا۔
مولانا کریم بخش ؒ خوب مردم شناس تھے۔ جو شخص ان کے خیال میں کاز کے لئے مفید ہو سکتا تھا اس سے دوستی اور تعلقات نہ صرف بڑھاتے۔ بلکہ کبھی نہ ٹوٹنے دیتے۔ ان کے دکھ سکھ میں افراد خانہ کی طرح دلچسپی لیتے۔ جس شخص کے متعلق محسوس کیا کہ اس میں انفرادیت کی مرض ہے۔ قطار میں چلنے کی بجائے علیحدہ راستہ اختیار کرتا ہے یا خود ستائی و خود فریبی میں مبتلا ہے۔ اسے ہمیشہ باتوں باتوں میں رسمی طور پر علیک سلیک کے بعد فارغ کر دیتے۔ کبھی نہ ان سے ملنے جاتے اور اگر وہ ملنے آ گیا تو نہ اس کے لئے کوئی اہتمام کرتے۔ غرض بہانے لگاتے اور جو جوہر قابل دیکھا تو اس کے لئے دیدہ و دل فرش راہ کرتے۔
مولانا مرحوم بنیادی طور پر زمیندار تھے اور طبیعت میں غریب پروری تھی۔ باوفا انسان تھے۔ مشرقی پاکستان سے ایک ساتھی چوہدری محمد ہاشم پاکستان آئے ہوئے تھے کہ ڈھاکہ فال
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
ہو گیا وہ یہیں رہ گئے۔ ان کا یہاں کوئی عزیز، نہ ٹھکانہ تھا۔ نہ ہی پڑھنے پڑھانے کے آدمی تھے۔ سیلانی طبیعت تھی۔ جرنیلی ڈنڈا ہاتھ میں ہوتا۔ آج یہاں، کل وہاں۔ جمعیۃ علمائے اسلام کے بنیادی نظریاتی کارکن تھے۔ جب لاہور آتے تو مولانا کریم بخش ؒ کے ہاں ان کا ڈیرہ ہوتا اور مہینوں وہ مولانا کے ہاں رہتے۔ مولانا جو روکھی سوکھی کھاتے اسے بھی شریک رکھتے۔ نام کریم بخش تھا تو مزاجاً بھی کریم النفس تھے۔
اسی طرح ایک ساتھی عبدالغفور حقانی جو اوچ شریف کی اعوان فیملی سے تعلق رکھتے تھے۔ بلا کے ورکر، انتھک اور محنتی، نظریاتی کارکن۔ وہ مولانا مرحوم کے ہاں رہنے لگے اور سالوں مولانا مرحوم کے ساتھ رہے۔ مولانا کی کریم النفسی کہ ایک دن بھی معاملہ تو تکار تک نہیں گیا۔ یہ حقانی صاحب بعد میں علامہ ممتاز اعوان ہوئے۔ ختم نبوت یوتھ فورس، شبان ختم نبوت اور آج کل پاسبان ختم نبوت کے مرکزی رہنماء ہیں۔ حق تعالیٰ بہت ہی برکتوں سے نوازیں۔
اسی طرح ایک ساتھی اچھے ورکر جناب حافظ محمد اکبر جتوئی کوٹ ادو کے تھے۔ وہ اخبار جنگ لاہور میں ملازم ہوئے۔ پھر ملتان، انہوں نے بھی محبان یا عاشقان مصطفیٰ کے نام سے ایک انجمن قائم کی اور یوں نعت خوانی کے ذریعہ وہ خدمت خلق کرتے رہتے تھے۔ یہ بھی عرصہ تک حضرت مولانا کریم بخش ؒ کے ساتھ دفتر میں مقیم رہے۔ اوپر جن حضرات کا تذکرہ ہوا یہ سب مولانا کریم بخش ؒ کے اخلاص و تقویٰ و دیانت و شرافت کے قائل اور بھر پور مداح ہیں۔ اس حیثیت سے ان کی گواہی بہت وزنی حیثیت رکھتی ہے کہ یہ سب مولانا مرحوم کے شب و روز کے ساتھی تھے۔
علاقائی حیثیت سے جناب نوابزادہ نصر اللہ خان ؒ ، جناب سردار منظور احمد خان گوپانگ ؒ اور دوسرے رہنماؤں سے ان کے بہت اچھے تعلقات تھے اور ان تعلقات سے وہ اپنے غریب ساتھیوں کے کام آتے تھے۔ مولانا کریم بخش ؒ اور فقیر چند سالوں کے فرق سے مجلس میں شامل ہوئے۔ فقیر سے ان کا جماعتی تعلق، ذاتی تعلق میں بدل گیا۔ فقیر لائل پور رہا یا چناب نگر۔ زیادہ کام لاہور سے متعلق ہوتے تو مولانا مرحوم سے ہفتہ، عشرہ، پندرہ دن حد مہینہ میں ایک آدھ ملاقات لازمی ہوتی تھی۔
١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت کی کامیابی کے نتیجہ میں چناب نگر (ربوہ) کو کھلا شہر قرار دیا گیا۔ مجلس کے مدارس و مساجد قائم ہونے شروع ہوئے تو ان کا لائل پور اور چناب نگر آنا یا فقیر کا
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگارنگ
لاہور جانا رہتا تو یہ جماعتی دوستی، ذاتی محبت میں بدل گئی۔ ١٩٨٤ء کی تحریک ختم نبوت میں مجلس کا دفتر لاہور، آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا مرکزی دفتر بنا۔ اس تمام تحریکی زمانہ میں مولانا کریم بخش ؒ نے جان جوکھوں میں ڈال کر بھر پور محنت کی۔ چند واقعات جو اس وقت بھی ذہن کی ڈسک میں محفوظ ہیں۔ وہ عرض کرتا ہوں:
- 1....... تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء کے بعد قادیانی مرکز ربوہ کے نام کی تبدیلی کے مطالبہ نے
زور پکڑا۔ مجلس نے آل پاکستان سالانہ ختم نبوت کانفرنس جو پاکستان بننے کے بعد چنیوٹ میں منعقد ہوتی تھی۔ اسے چناب نگر میں منتقل کیا۔ ربوہ کے نام کو صدیق آباد سے تبدیل کرنے کی ایک بار قرارداد منظور ہوئی۔ اس کانفرنس میں کاہنہ نو ضلع لاہور کے جناب فیروز الدین تشریف لاتے تھے۔ یہ حضرت امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ ، حضرت مولانا محمد علی جالندھری ؒ ، حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی ؒ کے عاشق صادق تھے۔ ان کا بیعت کا تعلق غالباً حضرت شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوری ؒ سے تھا۔ انہوں نے کاہنہ نو سے مدرسہ ختم نبوت مسلم کالونی صدیق آباد براستہ چنیوٹ ضلع جھنگ منی آرڈر کرایا۔ تا کہ سرکاری کاغذات میں نام کی تبدیلی مانوس ہو۔ ایسے مخلص ورکر اور ذہین تھے۔ یہ سب کچھ اکابر کی صحبتوں کی برکت کا اثر تھا۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ میری لائبریری کی تمام کتب و رسائل کو چناب نگر مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی کی بخاری لائبریری کے لئے مجھ سے لے لیا جائے۔ مولانا کریم بخش ؒ نے مجھے اطلاع کی۔ مولانا نذیر احمد بلوچ ؒ کے پاس گاڑی تھی۔ ان کے ہمراہ مولانا کریم بخش ؒ ، فقیر راقم ہم تینوں گئے۔ ان کی لائبریری سے کتب اور رسائل اٹھا لائے۔ اس میں ہفتہ وار چٹان، ہفتہ وار خدام الدین، ہفتہ وار ترجمان اسلام کے رسائل کی معتد بہ تعداد تھی۔ ہر رسالہ فیروز الدین صاحب کا پڑھا ہوا۔ اہم بات انڈر لائن کی ہوئی اور حاشیہ پر اپنی طرف سے ریمارکس درج تھے۔ گاڑی کی ڈگی، پچھلی سیٹ چھت تک بھر گئیں۔ کچھ چھت پر رکھیں۔ گاڑی فل کر کے نکلے۔ چونگی سے گزرے چونگی والوں نے بھری گاڑی دیکھ کر سمجھا کہ شاید دوائیوں کے ڈبے ہیں، محصول نہیں دیا۔ انہوں نے گاڑی تعاقب میں لگا دی۔ مولانا بلوچ کی رگ ظرافت پھڑکی، انہوں نے گاڑی تیز کردی۔ عملہ چونگی کا شک یقین میں بدل گیا۔ اب دونوں گاڑیوں کا مقابلہ شروع ہو گیا۔ مولانا نذیر بلوچ کو بہت سمجھایا کہ
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
آپ ان کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ ان کا مؤقف کہ شغل کر رہا ہوں۔ خیر ہماری منت پر مان گئے رفتار کم کر دی۔ چونگی والوں کی گاڑی آگے آکر راستہ روک کر کھڑی ہو گئی۔ شکار پھنس گیا کے نشہ میں عملہ کے افراد گاڑی سے اترے۔ ہماری گاڑی کو آ کر دیکھا۔ پرانے رسائل و کتب دیکھ کر ان کی پیشانی عرق آلود ہو گئی کہ اس میں تو محصول کی کوئی چیز نہیں۔ مولانا بلوچ نے قہقہہ لگایا وہ کھسیانے ہو گئے۔ انہوں نے گاڑی چلا دی اور یوں معاملہ ختم ہو گیا۔ یہ تمام کتب و رسائل بوریوں کارٹنوں میں بند کر کے مولانا کریم بخش ؒ نے چناب نگر بھجوا دیئے۔
- ٢....... اسی طرح حافظ عبدالرحمن صاحب تلہ گنگ کے ساتھی تھے۔ انہوں نے بھی اپنی تمام
کتب بخاری لائبریری چناب نگر کے لئے بھجوا دیں۔ حیدر آباد سندھ میں مجلس کا پہلے کرایہ کا دفتر تھا۔ (اب تو بہت اچھا ملکیتی دفتر ہے) کرایہ کا دفتر تبدیل ہوا تو وہاں کی ایک شاندار بڑی آہنی لائبریری مولانا بلوچ ظاہر پیر میں لائے۔ حضرت مولانا محمد شریف جالندھری ؒ نے مولانا قاضی اللہ یار خان ؒ کو بھیج کر وہ الماری ملتان منگوائی۔ ملتان سے چناب نگر تعمیراتی سامان کا ٹرک جانا تھا۔ الماری بھی رکھ دی جو چناب نگر پہنچ گئی۔ اس الماری سے لائبریری میں کتابوں کو رکھنے سے لائبریری کا افتتاح ہوا۔ پھر ملتان سے ایک اور آہنی الماری آ گئی۔ مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر کے کمرہ نمبر ٧ کو ابتدا لائبریری کے لئے مختص کیا گیا۔ قیام پاکستان کے بعد مجلس نے چنیوٹ میں دارالمبلغین قائم کیا۔ مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر ؒ وہاں مناظرہ کی کلاس لگاتے تھے۔ یہ دارالمبلغین شاہی مسجد کے کمروں میں قائم تھا۔ اس میں لکڑی کی بغیر رنگ کے ایک خستہ سی الماری تھی۔ آج کل وہ مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر کے مطبخ میں برتنوں کے لئے استعمال ہو رہی ہے۔ پہلے کی دو متذکرہ الماریاں اب لائبریری جو کمرہ نمبر ٢ کے حال میں منتقل ہوئی وہاں موجود ہیں۔
صاحبزادہ حافظ محمد عابد مرحوم نے حضرت میاں جان محمد ؒ باگڑ سرگانہ والے جو حضرت ثانی ؒ کے خلیفہ تھے۔ ان کی لائبریری بمع دو عدد لکڑی کی بڑی سائز کی عمدہ الماریاں دیار کی لکڑی کی عمدہ نقش سے بنی ہوئیں میاں صاحب مرحوم کے صاحبزادہ میاں خان محمد صاحب کو کہہ کر ملتان بھجوائیں۔ تفسیر، حدیث، سیرت، تاریخ کی کتابیں
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
ملتان مجلس کی لائبریری میں درج ہوئیں۔ درسی کتب حضرت مولانا فیض احمد شیخ الحدیثؒ کے مدرسہ امدادیہ کو دے دی گئیں۔ دونوں الماریوں کا سپرٹ پالش کرایا۔ پہلے ماہنامہ لولاک کے لئے زیر استعمال رہیں۔ پھر ان کو ملتان سے چناب نگر بھجوایا گیا۔ آج کل وہ کورس و کانفرنس کے موقعہ پر قابل فروخت کتب مکتبہ کے لئے زیر استعمال ہیں۔ چناب نگر بخاری لائبریری جو کمرہ نمبر ٢ میں ہے۔ اس کی تمام بقیہ الماریاں سرگودھا سے حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی کے ذریعہ بنوا کر بھجوائیں۔ فقیر جس وقت چناب نگر گیا۔ اس وقت لائبریری میں ایک کتاب نہ تھی۔ یوں اکٹھا کراکے کتابیں آنا شروع ہوئیں۔ اس وقت پانچ ہزار کے لگ بھگ کتب ہیں۔ صرف ایک بار پانچ سات ہزار کی کتابیں خریدیں۔ باقی سب ادھر ادھر سے جمع ہوئیں۔ اب تو (٢٠١٦ء) دس ہزار سے زیادہ کتب پر مشتمل لائبریری ہے۔
- ٣....... فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیاتؒ جہاں جاتے ان کی کتب کے بکس ان کے
ہمراہ ہوتے۔ وہ آخری سفر میں چناب نگر سے لاہور گئے تو وہ کتب ان کے ہمراہ تھیں۔ آپ کے وصال کے بعد آپ کے ورثاء سے معاملہ طے کر کے ان کتب کو لاہور دفتر میں حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ لائے۔ مولانا کریم بخشؒ نے ان کو چناب نگر بھجوایا۔ اس کے دو زنگ آلود بکسے خستہ حالت میں قاری شبیر احمد کے زیر استعمال تھے۔ اگر انہوں نے ضائع نہیں کئے واپس کردیں تو رنگ کرا کر لائبریری میں رکھ دیں۔ ہماری ان سے یادیں وابستہ ہیں۔ اب کمرہ نمبر ٢ میں لائبریری کی تمام الماریاں فل ہیں۔ کتب کے ڈھیر لگے ہیں۔ مزید الماریاں اس لالچ میں نہیں بنوا رہے کہ یہ کمرہ بھی لائبریری کے لئے ناکافی ہے۔ مدرسہ کے سامنے پلاٹ جو خریدے ہیں اس میں لائبریری ہال بننا چاہئے تو کتب کو وہاں منتقل کیا جائے۔ یہ ہماری زندگی میں نہ ہو تو جب بھی ہو۔ لیکن جو رفقاء ہوں وہ لائبریری سیٹ کرتے وقت ”گلستان میں جب بہار آئے تو ہمیں یاد رکھنا“
- ٤....... ایک قادیانی کتاب ”تذکرۃ المہدی“ اس میں ایک غلیظ حوالہ ہے۔ یہ ایک کتاب
صرف حضرت خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمدؒ کے پاس تھی۔ وہ سٹیج پر خود حوالہ نہ پڑھتے، یہ حوالہ کسی نوجوان سے پڑھاتے تو مجمع میں قادیانی اخلاق باختگی
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
بن کر سراسیمگی پھیل جاتی۔ قاضی صاحب اندرون سندھ سے ٹرین پر سفر کر رہے تھے۔ کتب کا بکس آہنی زنجیر سے سیٹ کے ساتھ بندھا ہوا تھا۔ کسی بد بخت نے وہ زنجیر کاٹ کر چرا لیا۔ اس میں یہ کتاب بھی تھی۔ فقیر نے واقعہ سن رکھا تھا۔ کتاب کا نام معلوم نہ تھا۔ حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر رحمہ اللہ سے اس کا نام پوچھا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ حوالہ ہے۔ وہ ملنے کا..... نہیں۔ چناب نگر قیام کے دوران میں ایک مسلمان پروفیسر کے قادیانی شاگرد کے ذریعہ سے قادیانیوں کی خلافت لائبریری سے وہ کتاب ایشو کرائی۔ پروفیسر صاحب نے وہ کتاب لا کر دی۔ تین دن کا وقت تھا کتاب واپسی کے لئے۔ وہ کتاب لی اور فقیر لاہور جا دھمکا۔ کتاب کھول کر تین سیٹ فوٹو تیار کرائے۔ چناب نگر، ملتان، محترم باوا صاحب کو کراچی وہ فوٹو بھجوائے۔ کتاب دوبارہ اسی طرح جلد کرائی کہ باہر کی چٹ اور اندر کا کاغذ سب کچھ وہی۔ پروفیسر صاحب کو بھی اس وقت نہ بتایا کہ میں نے اس کتاب سے یہ واردات کی ہے۔ جب ان کے قادیانی شاگرد کے ذریعہ قادیانی لائبریری میں اصل کتاب واپس جمع ہوگئی تب پروفیسر صاحب کو بتایا۔ اس وقت تو وہ حیران ہو گئے۔ لیکن نقصان یہ ہوا کہ پھر کسی بھی کتاب کے منگوانے کے لئے کنی کترانے لگے۔ یہ پروفیسر حافظ محمد یوسف تھے۔ جو آج بھی زندہ سلامت ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں سلامت رکھے۔ پھر بعد میں کہیں سے مولانا منظور الحسینی رحمہ اللہ بھی اصل کتاب ڈھونڈ لائے۔ پھر ایک نسخہ اصل کہیں اور جگہ سے مل گیا۔ اب قادیانیوں نے اس کتاب کو کمپیوٹر پر شائع کیا ہے۔ وہ لفظ کھا گئے۔ وہاں ..... نقطے قادیانیوں نے ڈال دیئے ہیں۔ اس کتاب کا فوٹو اور جلد لاہور میں سب مراحل مولانا کریم بخش صاحب کے ذریعہ طے ہوئے تھے۔
- ٥...... مولانا نظام الدین بی، اے رحمہ اللہ کوہاٹی جن کا فراق یاراں میں تفصیل سے تذکرہ
ہے۔ احتساب جلد ١٤ میں ان کے تمام رسائل کو یکجا کیا گیا ہے۔ مولانا مرحوم کے ایک صاحبزادہ جناب عنایت اللہ برق ریٹائرڈ چیئرمین واپڈا نے مولانا کریم بخش رحمہ اللہ کو فون کیا کہ میرے والد صاحب کی رد قادیانیت پر کتب ورسائل کو مجلس کی مرکزی لائبریری ملتان کے لئے مجھ سے وصول کرلیں۔ فقیر ایک دن لاہور گیا۔ باتوں باتوں میں مولانا کریم بخش رحمہ اللہ نے فون کا تذکرہ کیا۔ ہفتہ دس دن سے فون آیا ہے۔ کتابیں لینے جانا ہے۔ فقیر نے سنا تو زمین پاؤں تلے سے نکل گئی کہ اتنا اہم کام اور
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ
مولانا کریم بخش نے پرواہ نہیں کی۔ اصل میں وہ کتابوں کے مسئلہ کو بہت توجہ سے نہیں لیتے تھے۔ علی الصبح موٹر سائیکل پر بیرون دہلی دروازہ سے نکلے۔ شیر باؤلی گذر کر بائیں ہاتھ آفیسر کالونی ہے۔ واپڈا کے سابق چیئرمین عنایت اللہ برق صاحب کے ہاں جا دھمکے۔ انہوں نے الماریاں دکھادیں۔ ہم نے کتابیں جمع کیں۔ موٹر سائیکل پنکچر ہو گیا۔ وہیں چھوڑا۔ برق صاحب کی گاڑی پر کتابوں کے گٹھڑ دفتر لائے۔ بعد میں مولانا کریم بخش ؒ نے وہ کتابیں ملتان بھجوادیں۔
- ٦...... جب مولانا کریم بخش ؒ لاہور مغلپورہ کے مبلغ تھے۔ یہ ١٣٩٢ھ غالباً ١٩٧٢ء کا دور
بنتا ہے۔ تب مغلپورہ میں ایک قادیانی سے فقیر کا باضابطہ مناظرہ ہوا۔ اس میں حضرت مولانا محمد حیات ؒ، مولانا محمد شریف جالندھری ؒ بھی موجود تھے۔ بعد میں ١٣٩٢ھ کی مجلس کی روئیداد کے مقدمہ ص ١٨، ١٩ پر اس مناظرہ کی حضرت مولانا محمد شریف جالندھری ؒ نے مختصر رپورٹ لکھی۔ جو یہ ہے:
”عرصہ دراز سے مرزائی میدان مناظرہ سے راہ فرار اختیار کر چکے تھے۔ اس سال (١٣٩٢ھ، بمطابق ١٩٧٢ء) شالامار باغ لاہور کے نواح میں میدان خالی پا کر مرزائیوں نے مناظرہ کا چیلنج کر دیا۔ مقامی علمائے کرام نے مرزائیوں کی تمام شرائط قبول کر لیں۔ مناظرہ مرزائیوں کے گھر ہوگا۔ فریقین کے مخصوص آدمی بیٹھ سکیں گے۔ حیاۃ مسیح اور صدق و کذب مرزا غلام احمد دو موضوع ہوں گے اور باوجود غلام احمد کے زیر بحث آنے کے غلام احمد کی کتابیں پیش نہ کی جاسکیں گی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت مغل پورہ گنج لاہور کے اراکین محترم جناب سید شبیر حسین شاہ صاحب امیر مجلس مغل پورہ کی قیادت میں باطل کی تردید کے لئے مخالف لہروں کے باوجود سیدھا تیرنے میں ہی لطف محسوس کرتے ہیں۔ انہیں جب علم ہوا تو باوجود یکہ شرائط مناظرہ مرزائی مناظر نے مرتب کی تھیں۔ سب مان لیں اور دفتر اطلاع دی۔ حضرت امیر مرکزی مولانا لال حسین ؒ نے طے فرمایا کہ مناظرہ جماعت کے نئے مناظر مولانا اللہ وسایا صاحب مبلغ لائل پور کریں گے اور مجلس مناظرہ کے سامعین میں مولانا محمد حیات ؒ شرکت فرما ہوں گے۔ مناظرہ آٹھ بجے صبح شروع ہوا۔ پہلی مجلس میں حیات مسیح علیہ السلام پر گفتگو ہوئی۔ فاضل نوجوان مولانا اللہ وسایا صاحب نے مرزائی مبلغ کا ایسا تعاقب کیا کہ وہ اپنے ہی دلائل میں الجھ کر رہ گیا۔ پہلی مجلس کے اختتام پر مسلمان شرکاء مجلس نے مولانا محمد حیات ؒ کو مبارک باد دی کہ آپ حضرات کی محنت سے آپ کے بعد صداقت اسلام کے لئے مناظرہ کا میدان خالی نہیں۔ مرزائی شرکاء مجلس
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
نے اعتراف کیا کہ مجلس میں گفتگو متانت شرافت کے ساتھ علمی دائرہ میں محدود رہی۔ نماز ظہر اور کھانے کے وقفہ کے بعد جب دوبارہ مرزائیوں کے مکان پر گئے تو مرزائی لیت ولعل سے کام لے رہے تھے۔ اتنے میں پولیس سب انسپکٹر مع گارڈ تشریف لائے اور کہا کہ آپ لوگ کیوں جمع ہیں۔ مولانا اللہ وسایا نے ارشاد فرمایا کہ ہم لوگ اپنے گھر میں مسئلہ کی افہام وتفہیم کے لئے جمع ہیں۔ کسی قسم کا نقص امن کا خطرہ نہیں۔ مرزائی مالک مکان مع مرزائی مناظر کے بول اٹھا کہ جناب مکان ہمارا ہے اور نقص امن کا شدید خطرہ ہے۔ پولیس نے مجلس برخاست کرنے کو کہا۔ مولانا اللہ وسایا کے سوال پر سب انسپکٹر پولیس نے ہنس کر کہا کہ مولانا مجھے یہی لوگ تو بلا کر لائے ہیں۔ اب آپ ان کی جان بخشی کریں۔"
(مقدمہ روئیداد ١٣٩٢ھ مجلس ص ١٨، ١٩)
- ٧...... مارچ ١٩٨٩ء میں قادیانی جماعت صد سالہ جشن منانے کی تیاری کرنے لگی۔ مجلس تحفظ
ختم نبوت نے امت مسلمہ کے تعاون سے آواز بلند کی۔ قادیانیوں کے جشن پر پابندی لگ گئی۔ قادیانیوں نے ہائیکورٹ لاہور میں رٹ دائر کر دی۔ جسٹس خلیل الرحمن کے ہاں سماعت کے لئے منظور ہوگئی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت نے اپنے وکیل سید ریاض الحسن گیلانی، جناب محمد اسماعیل قریشی کی خدمات حاصل کیں۔ اس زمانہ میں پنجاب کے ڈپٹی اٹارنی جناب نذیر احمد غازی تھے۔ انہوں نے مجلس سے فرمایا کہ میری تیاری کرا دیں تو میں سرکاری وکیل ہوں۔ اس سے بات میں وزن ہوگا۔ مولانا کریم بخش ؒ اور فقیر نے ان کے دفتر جا کر خدمت کی۔ ایک دن انہوں نے جسٹس محبوب احمد صاحب کی تقریر کا پمفلٹ دیا۔ جس میں ختم نبوت کا تذکرہ تھا۔ وہ حوالہ کورٹ میں فائدہ مند ہو سکتا تھا۔ نیز یہ کہ میاں محبوب احمد اس وقت چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ بھی تھے۔ غازی نذیر صاحب نے فرمایا کہ یہ پمفلٹ شائع ہونا چاہیے اور کل اس کا حوالہ پیش ہو تو پورے عدالتی کمرہ میں یہ تقسیم بھی ہو جائے۔ اب صرف ایک رات درمیان میں تھی۔ مولانا کریم بخش ؒ نے وہ رسالہ لیا۔ اس زمانہ میں نسبت روڈ چوک سے سرکلر روڈ پر جائیں تو ایک گلی کے کمرہ میں ایک کاتب صاحب ہوتے تھے۔ بہت ہنس مکھ، سگریٹ اور چائے کے رسیا، ہلکا بدن، خشخشی داڑھی، موڈی آدمی تھے۔ لیکن جب وعدہ کر لیتے تو نبھاتے تھے۔ ویسے مولانا کریم بخش ؒ نے ان سے دوستی گانٹھ رکھی تھی۔ ان کو شام کے قریب پمفلٹ دیا کہ رات گئے کتابت ملنی چاہئے۔ میں نے آج رات شائع کرنا ہے۔ انہوں نے حامی بھر لی۔ رات کے بارہ بجے تک فقیر
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
نے غازی صاحب کے کمرہ میں حوالہ جات کا کام مکمل کیا۔ صبح نماز کے بعد عدالت جانے سے قبل ان کی ترتیب قائم کرنے کا طے ہوا۔ مولانا نے رات بارہ بجے غازی صاحب کے دفتر سے مجھے لیا۔ اپنے دفتر چھوڑا، کتابت لائے، پروف دیکھا۔ میں تو سو گیا وہ پروف لے کر گئے۔ غلطیاں لگوائیں۔ پریس دیا۔ صبح نماز سے قبل واپس آگئے۔ پمفلٹ اٹھایا۔ فولڈر کے سپرد کیا۔ نماز صبح کے بعد مجھے لیا۔ غازی صاحب کے دفتر چھوڑا، حوالہ جات کی ترتیب قائم ہوئی۔ کتب کے بکس تیار ہوئے۔ چائے کے لئے وہاں سے نکلے۔ کسی تھڑے پر مولانا کریم بخش نے ناشتہ کرایا۔ کتابیں اٹھائیں عدالت میں لائیں۔ مجھے وہاں بٹھایا خود نکل کھڑے ہوئے۔ غازی صاحب تیار ہو کر عدالت تشریف لائے۔ ماحول کو دیکھا۔ دوستوں سے ملے میرے پاس آئے اور پوچھا کہ پمفلٹ کا کیا بنا؟ میں سہم گیا کہ وہ تو ابھی نہ پہنچا تھا۔ نظر اٹھائی تو مولانا کریم بخش بنڈل تھامے سامنے سے ہال میں داخل ہوئے۔ پمفلٹ غازی صاحب نے کھولا تو نہال ہو گئے۔ غرض یہ مولانا کریم بخش صاحب کی ایک رات کی محنت کی رپورٹ ہے۔
- ٨...... ١٩٨٤ء کی تحریک ختم نبوت میں آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کے
مرکزی دفتر لاہور کے انچارج مولانا کریم بخش تھے۔ آپ نے میٹنگ پر میٹنگ بلانے، لاہور میں مرکزی قیادت، مولانا عبدالستار خان نیازی ؒ، مولانا عبدالقادر روپڑی ؒ، مولانا علی غضنفر کراروی، حضرت مولانا قاری محمد اجمل خان ؒ، مولانا علامہ احسان الٰہی ظہیر ؒ، جناب چوہدری غلام جیلانی ؒ وغیرہم کے ساتھ جس طرح رابطہ رکھا اور تحریک کے بانکپن کو مدھم نہ ہونے دیا۔ امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد ؒ، مولانا مفتی مختار احمد نعیمی ؒ، مولانا محمد ضیاء القاسمی ؒ کی ہر مرکزی میٹنگ پر لاہور تشریف آوری سے فائدہ اٹھا کر لاہور میں کانفرنس پر کانفرنس رکھنا یہ اکیلے مولانا کریم بخش کا وہ کارنامہ ہے۔ اس پر ان کو جتنا خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے۔
- ٩...... دفتر ختم نبوت لاہور بالمقابل شاہ محمد غوث مزار کے بالائی حصہ میں مناظر اسلام مولانا
لال حسین اختر ؒ رہائش پذیر تھے۔ آپ کے وصال کے بعد آپ کی صاحبزادی اس مکان میں رہائش پذیر رہیں۔ انہوں نے اپنا مکان بنایا اس میں منتقل ہوئیں تو یہ
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
مکان خالی ہو گیا۔ مولانا کریم بخش نے بالائی منزل کی سیڑھیوں کو تالا لگا دیا۔ کچھ عرصہ بعد اوپر متصل رہائش پذیر ہمسایہ نے اندر سے دروازہ کھول کر اس کے ایک حصہ پر قبضہ کر لیا۔ اب ہمسایوں سے لڑائی لڑنا اور فتنہ مول لینا دشوار امر تھا۔ مولانا کریم بخشؒ اس پر بہت دل گرفتہ ہوئے۔ لیکن ان کی عقل رسا نے اس گتھی کو سلجھانے کے لئے بجائے لڑائی کے، اس قابض ہمسایہ سے یاری گانٹھ لی۔ اسے باور کرا دیا کہ اس قبضہ پر گویا دفتر والوں کو کوئی پرخاش نہیں۔ اس پر خاصہ وقت گزار دیا۔ جب انہوں نے اعتبار کر لیا۔ تو مولانا کریم بخش نے اوپر کے صحن جس پر دفتر کا قبضہ تھا اور ایک کمرہ اس کے فرش پر لوہے کا جال بچھوا کر لینٹر ڈلوایا۔ اسے چمکتا دمکتا کر دیا۔ قابض ہمسایہ کو کہا کہ (اس کمرہ جس پر اس نے غاصبانہ قبضہ کر لیا تھا) اگر کہیں تو اس کا فرش بھی درست کر دیں۔ وہ جھانسے میں آگیا۔ سامان اٹھا لیا۔ مولانا نے پورے کمرہ کا فرش کھلوا کر اسے نیا کرنے پر مستری لگا دیئے۔ دیواروں کا بیکار خستہ پلستر بھی اتروا دیا۔ غرض کمرہ کو ایک بار تو رہائش کے قابل نہ چھوڑا بظاہر اس کی درستگی پر ہفتہ دس دنوں کا کام نکل آیا۔ اس دوران تیاری کر کے حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ، فقیر راقم اور مولانا احسان اللہ فاروقیؒ کو دفتر بلایا۔ صورتحال کا معائنہ کرایا اور اب پہلی بار بتایا کہ آج میں نے ان کا دروازہ بند کر کے قبضہ واپس لینا ہے۔ یہ کارروائی میرے ذمہ، آگے آپ سنبھالیں گے۔ ہمسایہ سیالکوٹ گیا ہوا تھا۔ مولانا کریم بخشؒ نے دروازہ بند کر کے اس پر چنائی لگائی اور پوری دیوار کو پلستر کرا دیا۔ ہمسایہ کی مستورات نے شور کیا کہ یہ کمرہ ہم نے کرایہ پر لیا ہوا ہے۔ ہمارے پاس کاغذ ہیں۔ مائی، بہن، خالہ کہہ کر ان کو چپ کرا دیا کہ آپ اپنے مرد کو بلائیں وہ بات کریں۔ مالک مکان کو مولانا محمد شریف جالندھریؒ نے شیشہ میں اتار لیا کہ اس غاصبانہ قبضہ پر آپ نے ہماری اعانت نہیں کی۔ یہ آپ کی زیادتی تھی۔ اب قبضہ واپس ہم نے لے لیا ہے۔ آپ نے صحیح بیان نہ دیا تو اس غاصب کی بجائے ہماری لڑائی آپ سے ہوگی وہ مان گیا۔ شام کو ہمسایہ آیا شور کیا۔ پنچایت ہمسائے جمع ہوئے شور اٹھا پولیس آگئی۔ اسے صحیح صورت حال کا علم ہوا۔ سب نے ہمسایہ کو سمجھایا وہ بھی ٹھنڈا ہو گیا اور حق بحقدار رسید قبضہ واپس مل گیا۔ یوں مولانا نے اس گتھی کو سلجھایا کہ سب حیران رہ گئے۔ مسلم ٹاؤن عائشہ مسجد کی آبادی میں سب سے زیادہ آپ کی بیدار مغزی کام آئی اور
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ
یوں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے تا قیام قیامت اس کا ثواب آپ کی روح پر فتوح کو ہوگا۔
- ١١...... مولانا کریم بخش صرف جماعتی معاملات نہیں بلکہ ذاتی معاملات کو بھی خوش اسلوبی
سے طے کرنے کے ماہر تھے۔ خالص ذاتی نوعیت کا گھریلو معاملہ ہے۔ لیکن ہزارہا لوگوں کے سامنے ہوا، بیان کر دینے میں حرج نہیں۔ ہوا یہ کہ آپ کا نکاح ماموں کی صاحبزادی سے اور ماموں کے بیٹا کا عقد مولانا کی بھتیجی سے قرار پایا۔ یہ بچی چھوٹی، تھی۔ ماموں نے شرط لگا دی کہ آپ کی بھتیجی چھوٹی ہے کل کو کوئی مکر جائے تو پہلے میں منگنی کروں گا۔ جس دن مولانا کی برأت جانی تھی اس سے ایک دن قبل وہ منگنی کے لئے آئے۔ لیکن ڈھول باجے ساتھ لائے، مولانا کی جوانی، عالم دین، دینی گھرانہ، انہیں غصہ آیا، ڈنڈا لیا، پورے لاؤ لشکر کو ڈنڈے کی نوک پر رکھا، سب کو بھگا دیا۔ اب صرف ایک رات اور اگلا آدھ دن مولانا کی برأت میں وقت باقی تھا۔ اس کارروائی پر دیکھا کہ معاملہ بگڑ گیا۔ ایک آدھ ہمسایہ اور والد کو ماموں کے ہاں روانہ کیا کہ آپ نے زیادتی کی۔ غیر شرعی رسوم اور حرام امور کا ارتکاب کیا۔ ہم سے بھی غلطی ہوئی۔ ایسے نہیں کرنا چاہئے تھا۔ لیکن ہو گیا اب آپ کی اور ہماری عزت اسی میں ہے کہ آپ مولانا کی شادی انجام پذیر ہونے دیں۔ ماموں بہت گرم اور سٹ پٹائے۔ لیکن مولانا کے والد صاحب کی منت سماجت پر راضی ہوگئے۔ البتہ شرط یہ لگا دی کہ برأت آئے میرے گھر سے دو ایکڑ دور کھیتوں میں کھڑی رہے۔ مولانا کے والد کو کہا کہ اکیلے آپ آئیں میں اپنی بچی آپ کے ہاتھ روانہ کر دوں گا۔ اس پر وہ راضی ہوگئے۔ اب گردونواح کے ہمسائے، آبادی کے لوگ، جو پہلے دن کی کارروائی اور برادری کی ٹھکائی کے گواہ تھے۔ وہ سب جمع ، مولانا کی برأت آئی، دو ایکڑ دور تازہ ہل لگی زمین پر بیٹھ گئے۔ مولانا کے والد صاحب گئے۔ بچی کو ان کے والد صاحب اور چند مستورات کے ساتھ لے کر آئے۔ برأت دلہا سمیت اس شان سے بخیر و خوبی مطلب نکال کر واپس ہوئی۔ اب مولانا کریم بخش نے اپنی اہلیہ کو سمجھایا کہ آپ کے والد، میرے ماموں ہیں۔ باپ کی جگہ ہیں۔ دونوں طرف سے غلطی ہوئی۔ آپ میرا ساتھ دیں کہ ہمیشہ کے لئے رنجش ختم ہو۔ وہ نیک خاتون، فرشتہ سرشت، مان گئیں۔ علاقائی رسم کے
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
مطابق اگلے دن دلہن نے واپس والدین کے ہاں ستواڑہ پر جانا تھا۔ والد صاحب، والدہ صاحبہ آئے تو خاتون نے ان کو سمجھایا کہ اپنے میاں کے بغیر میرا جانا مناسب نہیں آپ غصہ تھے، رخصتی نہ کرتے۔ رخصتی کر دی تو وہ آپ کے داماد ہیں۔ ان کے بغیر اکیلے میں نہیں جاؤں گی۔ ساس صاحبہ، سسر صاحب نے مولانا کو ہمراہ لیا اور کل شام برات جس گھر میں نہ جاسکی تھی اگلی شام اس گھر میں صدر نشین کی حیثیت سے داخل ہوئے۔ سب راضی، اللہ تعالیٰ نے تین بیٹے چار بیٹیاں دیں۔ وہ دن جائے آج کا دن آئے دونوں خاندانوں میں کوئی تنازعہ نہیں ہوا۔ بگڑے کھیل کو یوں چٹکی میں حل کر لیا۔ رحمۃ اللہ تعالیٰ رحمۃ واسعۃ!
- ١٢...... مولانا کریم بخش صاحب کی اہلیہ پہلے بچے ہوئے، ٹھیک رہیں کچھ عرصہ بعد بیمار ہوگئیں
دورے پڑنے شروع ہو گئے۔ عامل کہیں جادو ہے۔ تعویزوں والے کہیں کہ جنات ہیں۔ ڈاکٹر کہیں بیماری، سمجھ نہیں آتی۔ مولانا کے لئے بہت الجھن ہو گئی۔ سالہا سال تک اس صورت حال کا بڑی بہادری سے مقابلہ کیا۔ لیکن مرض بڑھتا گیا۔ جوں جوں دوا کی، آخر تھک گئے۔ گھریلو حالات نے بہت ہی الجھا دیا۔ والد صاحب کا انتقال ہو گیا۔ بھائی علیحدہ ہو گئے۔ آپ کی زمینداری متاثر ہوئی۔ زمین کی عدم دیکھ بھال سے مالی نقصان بھی ہونا شروع ہو گیا۔ تو مجلس سے رفتہ رفتہ اجازت لے لی۔ آپ کی جگہ مجلس نے مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کو وہاں بھیج دیا۔ مولانا گھر آگئے۔ لیکن تعلق کبھی منقطع نہ کیا۔ علی پور ختم نبوت کانفرنس قرب و جوار کے علاقائی پروگراموں میں بھر پور محنت و کامیابی کے لئے ساعی رہتے۔
- ١٣...... گھر کا نظم تو کچھ ٹھیک ہو گیا اپنا اچھا مکان بھی بنا لیا۔ بیٹی، بیٹے کی شادی سے بھی
فارغ ہو گئے۔ لیکن صحت بگڑ گئی۔ ایک بھائی نے ”جن پتوں پر آشیانہ تھا انہوں نے ہوا دی“ کے بمصداق رشتوں کے مسئلہ پر طوطا چشمی کی تو مولانا بہت دل برداشتہ ہوئے۔ دیوار سے لگ گئے۔ مجھے ایک سفر میں ملے۔ گھر آنے کا وعدہ لیا۔ وعدہ کے باوجود ایفا، ارادہ کے باوجود تکمیل نہ کر پایا۔ ملتان جب آتے تو ملے بغیر نہ جاتے۔ اب ملتان آئے تو فون کیا کہ فلاں ہسپتال داخل ہوں۔ میں نے شام کو آنے کا دم بھرا۔ ضروری کام میں ایسا الجھا کہ بالکل بھول گیا۔ اگلے دن سفر پر
چمنستان ختم نبوت کے گل ھائے رنگا رنگ
لئے نکلا تو یاد آیا۔ حضرت مخدوم مولانا عزیز الرحمن جالندھری سے صورت حال عرض کی۔ آپ نے فرمایا کہ میں ہو آؤں گا۔ مولانا کریم بخش آپ کے شاگرد تھے۔ مخزن العلوم میں آپ کے پاس پڑھتے رہے۔ آپ ان کو ملے کچھ روز گھر سے کھانا بھی ہسپتال بھجواتے رہے۔ میرا اندرون و بیرون ملک کا سفر رہا۔ بالکل یاد نہ رہا کہ مولانا کریم بخش کا کیا حال ہے۔ اب کراچی دفتر تھا فون آیا کہ ان کا انتقال ہو گیا ہے۔ کل جنازہ ہے۔ کراچی سے حاضری مشکل تھی۔ دفتر فون کیا تو معلوم ہوا کہ مرحوم کی وصیت تھی کہ میرا جنازہ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری پڑھائیں۔ آپ تشریف لے گئے۔ جنازہ پڑھایا۔ ہزاروں کا اجتماع تھا۔ گھریلو عام قبرستان میں تدفین عمل میں لائی گئی۔ حق تعالیٰ ان کی قبر کو بقعہ نور بنائیں۔ ان کی سیئات سے درگذر فرمائیں۔ ان کی حسنات پر اجر جزیل نصیب ہو۔
(١١٦)
کمال شاہ شہید ؒ، سید
(شہادت: ١٨؍ جنوری ٢٠١٣ء)
نام بھی کمال تھا اور خود بھی کمال کے آدمی تھے۔ سید، آل رسولؐ میں سے تھے۔ کشادہ گول چہرہ، خندہ رو، کمال کے دیانتدار، کم گو، اپنے کام سے کام، امانت تو ان کے در کا پانی بھرتی تھی۔ اتنے بھر پور محبتوں والے انسان کہ سبحان اللہ !، خودداری کا مجسمہ، غنی دل، شرافت کا پتلا، غرض ایک سید آل رسولؐ میں جو خوبیاں ہونی چاہئیں، وہ ان میں بھر پور موجود تھیں۔ ١٨ سال کراچی مجلس میں کام کیا۔ کام میں نام بھی کمایا۔ ہر دوست کے دل کی گہرائیوں میں محبت کا اس نے آشیانہ بنایا۔ وہ بہت ہی خوبیوں کے مالک تھے۔ والد کا نام سید مہر علی شاہ تھا۔ توحید آباد نزد رحیم آباد تحصیل صادق آباد کے رہائشی تھے۔ کمسن تین بیٹیاں یادگار ہیں۔
سفید پوش انسان تھے۔ جمعۃ المبارک کے دن شہر میں جماعتی رفقاء کے ساتھ مجلس کے مفوضہ امور سر انجام دیئے۔ مولانا محمد اجمل صاحب کو عشاء کے بعد سکوٹر پر بٹھایا۔ دس منٹ بعد آنے کا کہا۔ دونوں ساتھ گئے۔ ساتھی تکتے رہ گئے۔ دونوں واپس آئے تو ساتھی سکتے میں رہ
چمنستان ختم نبوت کے گلہائے رنگارنگ
گئے۔ کراچی سے ساتھ ہی دو ایمبولینسوں میں روانہ ہوئے۔ سید کمال شاہ کی ایمبولینس صادق آباد میں رکی اور مولانا محمد اجمل صاحب کی اوچ شریف۔ عصر کے بعد سید کمال شاہ کا صادق آباد میں اور مولانا محمد اجمل کا اوچ شریف میں ایک ہی وقت میں جنازہ ہوا۔ علیحدہ علیحدہ مقامات پر تقریباً ایک ہی وقت تدفین ہوئی۔ ایک ہی وقت میں رب کے حضور پیش ہوئے۔ دونوں موتی، دونوں ہیرے، دونوں انمول، دونوں باکمال، ایک سید اسم بامسمی کمال سراپا کمال، دوسرا سراپا جمیل نہیں بلکہ اجمل۔ اکٹھے دونوں چل دیئے۔ دونوں سرخرو ہو گئے۔ وہ ہم سب کو روتا چھوڑ کر خود جنت کے قندیلوں پر محو مسکراہٹ و چہچہاہٹ۔ زندگی ہو تو ایسی، جانا ہو تو ایسا۔ پھر برزخ و آخرت کا سفر سرخروئی کے ساتھ۔ حق تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائیں۔ آمین!
(١١٧)
ہارون ؒ (ڈھاکہ)، مولانا محمد
ڈھاکہ میں حضرت مولانا محمد علی جالندھری ؒ کے عہد امارت میں مولانا محمد ہارون، مولانا محمد عثمان عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مشرقی پاکستان کے مبلغ ہوتے تھے۔ خوب محنتی اور محبتوں والے دوست تھے۔ اللہ تعالیٰ انہیں ہر حال میں اپنی رحمتوں سے وافر حصہ ارزاں فرمائیں۔
(١١٨)
یار محمد ؒ (چیچہ وطنی)، مولانا
(وفات: ١١؍دسمبر ١٩٩٥ء)
چیچہ وطنی کے ممتاز عالم دین مولانا یار محمد مرحوم عرصہ تک مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ رہے۔ پھر چیچہ وطنی میں مدرسہ قائم کیا۔ اب ان کے صاحبزادے اس کو سنبھالے ہوئے ہیں۔
(نوٹ) یہاں تک عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین حضرات کا تذکرہ خیر تھا۔ ترتیب حروف تہجی پر رکھی گئی۔ اب آگے دیگر ختم نبوت کے مجاہدین و محافظین کا حروف تہجی کی ترتیب سے تذکرہ پیش خدمت ہے: