غازی عامر عبدالرحمٰن چیمہ شہید · محمد متین خالد
Gazi Aamir Chima · Tahir Abdul Razzaq
PDF 1

شہید ناموس رسالت ﷺ

عامر عبدالرحمن چیمہ رح

تہلکہ خیز انکشافات، ہوش رُبا تفصیلات، ایمان پرور واقعات

ترتیب و تحقیق

محمد متین خالد

PDF 2

بسم اللہ الرحمن الرحیم

شہید ناموس رسالت

عامر عبدالرحمن چیمہ

PDF 3

بسم الله الرحمن الرحيم

شہید ناموس رسالت

عامر عبدالرحمن چیمہ

PDF 4

M K 08-02-2007 یقین جانئے یہ تحریر پڑھ کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔

”خیر و شر کی آویزش اور چراغ مصطفوی ﷺ سے شرار بولہبی کی ستیزہ کاری کا سلسلہ ازل سے جاری ہے۔ مغرب کی یہی کوشش ہے کہ مسلمانوں کے دل اس یاد سے محروم ہو کر ویران ہو جائیں اور کسی طور روح محمد ﷺ اس امت کے بدن سے نکل جائے مگر فطرت اس مقصد میں اسے ناکام بنائے جا رہی ہے کہ اسے اس روح محمد ﷺ ہی کو تابندہ تر اور پائندہ تر بنا کر ملت بیضا کو ایک بار پھر اوج کمال بخشنا ہے۔ گو آج ہم بہر اعتبار، زار و نزار ہیں۔ مگر یہ امر غنیمت ہے کہ حضرت محمد ﷺ کا نام آتے ہی گنہگار سے گنہگار مسلمان کے دل کی دھڑکن یکا یک تیز ضرور ہو جاتی ہے۔ چونکہ نبیؐ کریم ﷺ کی محبت ہی ہمارا ایمان ہے، اس لیے ہم یہ کسی طور برداشت نہیں کر سکتے کہ کسی بھی انداز سے ان کی آبرو پر آنچ آئے، اس ایک آبرو کو بچانے کے لیے، پوری امت مسلمہ کی جان، مال اور اولاد ایک ادنیٰ نذرانے کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہی نذرانہ ہمارا ناز بھی ہے اور نیاز بھی اور بفضلہٖ ہماری تاریخ نیاز و ناز کے ایسے مظاہروں سے رخشندہ بھی ہے اور تابندہ بھی...... گوجرانوالہ کے 28 سالہ غازی عامر عبدالرحمٰن چیمہ کی موت کے بانکپن نے اسی رخشندگی اور تابندگی کو پائندگی عطا کی ہے اور آج اقبالؒ زندہ ہوتا تو ایک بار پھر پکار اٹھتا کہ ؎

ایسی چنگاری بھی یارب! اپنی خاکستر میں تھی“

شہید ناموس عامر عبد

PDF 5

ور چراغ مصطفوی ﷺ سے شرار بولہبی کی ستیزہ کاری ری ہے۔ مغرب کی یہی کوشش ہے کہ مسلمانوں کے ہو کر ویران ہو جائیں اور کسی طور روح محمد ﷺ اس ل جائے مگر فطرت اس مقصد میں اسے ناکام بنائے ا روح محمد ﷺ ہی کو تابندہ تر اور پائندہ تر بنا کر ملت ج کمال بخشا ہے۔ گو آج ہم بہر اعتبار، زار و نزار ہے کہ حضرت محمد ﷺ کا نام آتے ہی گنہگار سے کی دھڑکن یکا یک تیز ضرور ہو جاتی ہے۔ چونکہ نبیؐ ی ہمارا ایمان ہے، اس لیے ہم یہ کسی طور برداشت انداز سے ان کی آبرو پر آنچ آئے، اس ایک آبرو کو امت مسلمہ کی جان، مال اور اولاد ایک ادنیٰ نذرانے ہی نذرانہ ہمارا ناز بھی ہے اور نیاز بھی اور بفضلہٖ ہماری ے مظاہروں سے رخشندہ بھی ہے اور تابندہ بھی...... ہ غازی عامر عبدالرحمن چیمہ کی موت کے بانکپن نے و پائندگی عطا کی ہے اور آج اقبالؒ زندہ ہوتا تو ایک

ی بھی یارب! اپنی خاکستر میں تھی‘‘

شہید ناموس رسالتﷺ

عامر عبدالرحمن چیمہ

تہلکہ خیز انکشافات، ہوش رُبا تفصیلات، ایمان پرور واقعات

ترتیب و تحقیق

محمد متین خالد

علم و عرفان پبلشرز

34۔ اردو بازار، لاہور، فون: 7232336-7352332

PDF 6

جملہ حقوق محفوظ ہیں

شہید ناموس رسالت ﷺ عامر عبدالرحمن چیمہؒ محمد متین خالد گل فراز احمد علم و عرفان پبلشرز، اُردو بازار لاہور رفاقت علی / فراز کمپوزنگ سنٹر، لاہور 2007ء جوہر رحمانیہ پرنٹرز، لاہور -/200 روپے

علم و عرفان پبلشرز

34- اُردو بازار لاہور 042-7352332-7232336

فہرست

PDF 7

M K 08-02-2007- مکتبہ سید احمد شہیدؒ پشاور (پاکستان)

PDF 8

اوریا مقبول جان 123 کی دیت، اہل کلیسا سے نہ مانگ اوریا مقبول جان 126 ہتھیار کیوں اُٹھایا؟ حامد میر 129 کو سلام! طیبہ ضیاء 132 فخر! طیبہ ضیاء 136 ید کی قتل روداد محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ 140 ہارون الرشید 144 رائیگاں نہیں گیا یاسر محمد خان 147 مفتی ابولبابہ شاہ منصور 150 ہیں جو مرتے ہیں اُس کے نام پر مولانا قاری منصور احمد 156 ہے مولانا محمد اسلم شیخوپوری 158 یادت مولانا زاہد الراشدی 161 ستانی کی شہادت محسن فارانی 165 حق میں اک اور شمع جل گئی سید محمد معاویہ بخاری 170 ب پھوٹ گیا خوشنود علی خان 177 دی لے گیا سیف اللہ خالد 180 رسالت ﷺ ڈاکٹر زاہد اشرف 183 ب محمد اسماعیل ریحان 188 ں مرتے عبدالقدوس محمدی 191 ہے! محمد ظفر الحق چشتی 194 انور غازی 198 چاہتا ہوں“ سید عمران شفقت 204 ہے؟ فخر اعجاز لونا 208 ؤ، تو نے فیروز الدین احمد فریدی 211 دانہ...... عامر چیمہ شہید حافظ سجاد ستی 215

قتل کرایا گیا (عامر شہید کے والد سے خصوصی انٹرویو)

(عامر عبد الرحمٰن چیمہ کے والد محترم کا انکشافاتی انٹرویو)

PDF 9

اداریے

عاشقانِ پاک طینت را

حکومت پاکستان کا شرمناک کردار

”ضربِ مومن“

منظومات

M K 08-02-2007 - یہ پرچہ بغیر کسی قیمت کے پیش کیا جا رہا ہے

PDF 10

اداریے

دا رحمت کند ایں اداریہ روزنامہ ”پاکستان“ 319 نت را ت ﷺ کا فقید المثال جنازہ اداریہ روزنامہ ”انصاف“ 323 ت ﷺ کی تدفین اداریہ روزنامہ ”اسلام“ 326 ہ اور تدفین میں حکومتی رکاوٹیں اداریہ روزنامہ ”نوائے وقت“ 329 لیم اور اداریہ ہفت روزہ ”غزوہ“ 333 اثر مناک کردار لسل اداریہ ہفت روزہ 336 ”ضرب مومن“

منظومات

ی جڑ گئی گواہ ہو حکیم سروسہارنپوری 341 ول ﷺ پروفیسر رشید احمد انگوی 343 ا۔۔ صائمہ اسماء 346 عبداللہ 347 شہید محمد الیاس 349 عالم مرغزار پر خیمہ شیخ حبیب الرحمن بٹالوی 351 نے امر بنا دیا ام حماد 353 عبدالرحمن صدیق 354 حاصل تمنائی 358

انتساب !

پیکر اخلاص و محبت جناب میاں محمد خالد شاد کے نام جو دین اسلام کی سربلندی اور خلاف اسلام فتنوں کی سرکوبی کے سلسلہ میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرتے۔

تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو
دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں
صفحہ ١١

سوچیے!

تحفظ ناموس رسالت ﷺ ہر مسلمان کا بنیادی فریضہ ہے۔ اس اہم فریضہ کی ادائیگی میں ذرا سی بھی کوتاہی ایک مسلمان کو احسن تقویم کی بلندیوں سے اسفل سافلین کی اتھاہ گہرائیوں میں گرا دیتی ہے۔ اگر کسی مسلمان کو یہ پتہ چلے کہ روئے زمین کے کسی خطہ پر حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی شان اقدس میں توہین کی گئی ہے اور وہ مسلمان اپنی ہمت اور حیثیت کے مطابق اس پر اپنا کوئی ردعمل ظاہر نہیں کرتا، تو امام مالکؒ کے نزدیک وہ شخص امت محمدیہ ﷺ سے خارج ہو جاتا ہے۔ اس ضمن میں حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے مسلمانوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا: ”یاد رکھو! اگر ایمان کی سلامتی چاہتے ہو تو پھر شان رسالت ﷺ میں توہین کرنے والی زبان نہ رہے یا اسے سننے والے کان نہ رہیں۔“

30 ستمبر 2005ء کو ڈنمارک کے اخبار جیلنڈز پوسٹن نے حضور نبی کریم ﷺ کے بارے میں 12 نہایت توہین آمیز اور نازیبا کارٹون شائع کیے۔ پھر مسلمانوں کو مشتعل کرنے کے لیے ایک منظم سازش کے تحت جنوری 2006ء میں 22 ممالک کے 75 اخبارات و رسائل نے ان کارٹونوں کو دوبارہ شائع کیا۔ ان کارٹونوں کی اشاعت سے مشتعل ہو کر جرمنی میں مقیم ایک پاکستانی طالب علم عامر عبدالرحمٰن چیمہ نے متعلقہ اخبار کے چیف ایڈیٹر ہینرک بروڈر پر قاتلانہ حملہ کیا جس کے نتیجہ میں وہ نہایت عبرتناک حالت میں جہنم واصل ہو گیا۔ عامر عبدالرحمٰن چیمہ گرفتار ہوئے۔ جرمن پولیس اور مختلف حکومتی ایجنسیوں نے برلن جیل میں 44 دن تک عامر چیمہ کو بے پناہ ذہنی و جسمانی اذیتیں دے کر شہید کر دیا۔

ایک موقع پر تفتیشی افسر نے عامر چیمہ کو مشروط طور پر رہا کرنے کی پیش کش کرتے ہوئے کہا کہ وہ جرمن ٹیلی ویژن پر آ کر اعلان کرے کہ وہ ذہنی مریض ہے، دماغی طور پر تندرست نہیں ہے اور اس نے یہ قدم محض جذبات میں آ کر اٹھایا ہے۔ مزید براں یہ کہ اس

صفحہ ١٢

فعل کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں اور وہ اپنے کیے پر بے حد شرمندہ اور نادم ہے۔ شہید عامر چیمہ نے نہایت تحمل سے تفتیشی آفیسر کی تمام باتیں سنیں اور پھر اچانک شیر کی طرح دھاڑا اور اس آفیسر کے منہ پر تھوک دیا اور روتے ہوئے کہا ”میں نے جو کچھ کیا ہے، وہ نہایت سوچ سمجھ کر اور اپنے ضمیر کے فیصلے کے مطابق کیا ہے۔ مجھے اپنے فعل پر بے حد فخر ہے۔ یہ میری ساری زندگی کی کمائی ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے ایک تو کیا، ہزاروں

صفحہ ١٣

شکریہ!!!

محمد نذیر چیمہ اور آسمانِ علم و ادب کے ماہتاب جناب پروفیسر محمد اقبال جاوید کا جنھوں نے گرانقدر اور ایمان افروز تقاریظ لکھ کر کتاب کو چار چاند اور پانچ سورج لگا دیے

کئی مفید تجاویز دیں۔

کی تیاری کے سلسلہ میں میری توقع سے بڑھ کر تعاون کیا۔

کتاب کی خوبصورتی میں اضافہ کیا۔

محمد متین خالد

صفحہ ١٣

شکریہ !!!

محمد نذیر چیمہ اور آسمان علم و ادب کے ماہتاب جناب پروفیسر محمد اقبال جاوید کا جنھوں نے گراں قدر اور ایمان افروز تقاریظ لکھ کر کتاب کو چار چاند اور پانچ سورج لگا دیے

کئی مفید تجاویز دیں۔

کی تیاری کے سلسلہ میں میری توقع سے بڑھ کر تعاون کیا۔

کتاب کی خوبصورتی میں اضافہ کیا۔

محمد متین خالد

صفحہ ١٥

نمازِ نیاز

ایک عام انسان اپنے، اپنے والدین اور اعزہ کے خلاف استہزائی لب ولہجہ بھی برداشت نہیں کرتا، دشنام طرازی تو بہت دور کی بات ہے۔ بنابریں ایک مسلمان اس ذاتِ عظیم وجلیل (ﷺ) کی توہین کیسے برداشت کر سکتا ہے جو وجہ وجود کائنات ہے، جس کے حضور میں اونچی آواز بھی خالق کائنات کو پسند نہیں اور جس کو ایذا دینے والوں کے لیے ”عذاب الیم“ کا اعلان ہے، رسوا کن عذاب بھی ان کے لیے ہے اور دنیا و آخرت کی پھٹکار بھی۔ اسی لیے ایسے ”موذی“ کا سر کچل دینے کا حکم ہے خواہ وہ غلاف کعبہ ہی سے لپٹا ہوا کیوں نہ ہو۔ یہاں تک کہ مومن مردوں اور عورتوں کو کوئی تکلیف دیتا ہے تو وہ بھی صریح گناہ کا ارتکاب کرتا ہے۔

نبی کریم ﷺ کی رفتار، گفتار اور کردار کے بارے میں کسی نوع کی غیر محتاط گفتگو بھی ایذا رسانی ہے۔ صحابہ کرامؓ کی تنقیص و اہانت بھی ایذا رسانی کے زمرے میں آتی ہے کیونکہ یہی وہ عظیم وجود ہیں جنھوں نے انسانیت کو وقار و اعتبار کی ثروت دی، ظلمت کو روشنی کا مزاج بخشا اور تخریب کو تہذیب کے اسلوب عطا کیے۔ اللہ تعالیٰ کو تو ان آثار کی توہین بھی گوارا نہیں جن کا تعلق کسی نہ کسی نوع سے، ان کے حبیب پاک ﷺ سے رہا ہے۔ وہ تو خود ان مقامات کی قسم کھاتا اور واقعات کے تسلسل کو سمجھانے کے لیے انھیں بطور شہادت پیش کرتا ہے کہ مکان اس لیے عزیز ہوتا ہے کہ وہ محبوب کا مکان رہ چکا ہوتا ہے ۔

میں نے ہر ذرے میں دیکھی ہے ستاروں کی چمک
جن سے وہ گزرے ہیں یہ اُس رہگزر کی بات ہے

ناموس رسالت مآب ﷺ پر حملہ آور ہونے والوں کو کیفر کردار تک پہنچانا یا ان کے ہاتھوں، جاں سے گزر جانا، محبت ہی کے جنوں آفرین مظاہرے ہیں۔ گستاخانِ رسول کے مقابلے میں، جاں نثارانِ رسول کی فہرست کہیں طویل ہے اور یہ سلسلہ خیرالقرون سے تادمِ تحریر جاری و ساری ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جب بھی کوئی دریدہ دہن ابھرا، فطرت

صفحہ ١٦

نے کسی نہ کسی دل میں موجود محبت کی اس چنگاری کو شعلہ بنا کر، اس کے مقابل لا کھڑا کیا کہ...... ہر انسان موت سے خوفزدہ رہتا ہے لیکن مسلمان شہادت کی آرزو رکھتا ہے، ہر انسان نفع اور نقصان کے حوالے سے سوچتا ہے لیکن مسلمان ہر چیز کو عقیدہ و ایمان کی ترازو میں تولتا ہے، عام انسان اپنے ناموس کی فکر میں رہتا ہے لیکن مسلمان اپنی جان کو حرمت رسول ﷺ پر لٹا دینے کو اپنے لیے سعادت سمجھتا ہے...... کیونکہ ہماری عزت، ہماری عظمت، ہماری شوکت، ہماری سطوت، ہمارا جاہ و جلال، ہماری کامرانیاں، سب اسی نام کے ساتھ وابستہ ہیں۔ جب تک یہ نام زندہ ہے، تب تک ہم زندہ ہیں اور چونکہ یہ نام انمٹ ہے اس لیے لیل و نہار کی گردشیں، صفحہ دہر سے ہمارا نام بھی نہیں مٹاسکتیں ۔

ہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہو
چمنِ دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہو
خیمہ افلاک کا ایستادہ اسی نام سے ہے
نبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے

حرمت رسول ﷺ پر جان لٹانے اور سر کٹانے والے ہی زندہ جاوید بھی ہیں اور کامران بھی کہ اصل کامیابی، اخروی کامیابی ہے۔ دنیا اور دنیا کی ساری کامرانیاں محض متاعِ غرور ہیں۔ قرآن کا فیصلہ ہے کہ ”جو شخص آگ سے ہٹا دیا جائے اور جنت میں داخل کر دیا جائے، بے شک وہ کامیاب ہو گیا، دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کی جنس ہے۔“ (آل عمران: 185) شہید زندہ بھی ہے اور کامران بھی۔ اس کے لیے تو ”برزخی وقفہ“ ہے ہی نہیں۔ وہ اِدھر جام شہادت نوش کرتا ہے اُدھر جنت کے بھی دروازے اس کے لیے کھل جاتے ہیں ۔

سر بیچ کر متاعِ دل و جاں خریدنا
سودا ہے وہ کہ جس میں خسارہ کوئی نہیں

ہماری زندگی، دل کی دھڑکن سے وابستہ ہے جبکہ دل کی زندگی کسی کی یاد میں دھڑکنے سے عبارت ہے۔ یاد کا حسن ہی دل کو شادابی عطا کرتا ہے۔ یاد نہ رہے تو زندگی ایک کربناک تنہائی ہے۔ ہم خوش نصیب ہیں کہ ہمارے دلوں کو اس ذاتِ گرامی قدر ﷺ کی یاد نصیب ہے جو کائنات حسن بھی ہے اور حسن کائنات بھی۔ یہ یاد، رونق خلوت گہ خاطر بھی ہے اور یہ ذکر، شمع شبستانِ تمنا بھی اور حق یہ ہے کہ ۔

صفحہ ١٧
جو تری یاد میں نہ بسر ہو، وہ ہر نفس
اک واہمہ ہے زندگی مستعار کا

اور

زندگانی کا خلاصہ ہے وہ اک لمحۂ شوق
جو تری یاد میں اے جان جہاں گزرا ہے

خیر و شر کی آویزش اور چراغ مصطفوی ﷺ سے شرارِ بولہبی کی ستیزہ کاری کا سلسلہ ازل سے جاری ہے۔ مغرب کی یہی کوشش ہے کہ مسلمانوں کے دل اس یاد سے محروم ہو کر ویران ہو جائیں اور کسی طور روحِ محمد ﷺ اس امت کے بدن سے نکل جائے مگر فطرت اس مقصد میں اسے ناکام بنائے جا رہی ہے کہ اسے اس روحِ محمد ﷺ ہی کو تابندہ تر اور پائندہ تر بنا کر ملتِ بیضا کو ایک بار پھر اوجِ کمال بخشنا ہے۔ گو آج ہم بہر اعتبار، زار و نزار ہیں۔ مگر یہ امرِ غنیمت ہے کہ حضرت محمد ﷺ کا نام آتے ہی گنہگار سے گنہگار مسلمان کے دل کی دھڑکن یکا یک تیز ضرور ہو جاتی ہے۔ چونکہ نبی کریم ﷺ کی محبت ہی ہمارا ایمان ہے اس لیے ہم یہ کسی طور برداشت نہیں کر سکتے کہ کسی بھی انداز سے ان کی آبرو پر آنچ آئے ، اس ایک آبرو کو بچانے کے لیے، پوری امت مسلمہ کی جان، مال اور اولاد ایک ادنیٰ نذرانے کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہی نذرانہ ہمارا ناز بھی ہے اور نیاز بھی اور بفضلہ ہماری تاریخ نیاز و ناز کے ایسے مظاہروں سے رخشندہ بھی ہے اور تابندہ بھی ...... گوجرانوالہ کے 28 سالہ غازی عامر عبدالرحمن چیمہ کی موت کے بانکپن نے اسی رخشندگی اور تابندگی کو پائندگی عطا کی ہے اور آج اقبالؔ زندہ ہوتا تو ایک بار پھر پکار اٹھتا کہ ؎

ایسی چنگاری بھی یارب ! اپنی خاکستر میں تھی

حق یہ ہے کہ یہ چنگاری، بہت سی چنگاریوں کو شعلہ بننے کا سلیقہ سکھا گئی ہے، اب ایک الاؤ روشن ہونے کو ہے کہ رات جتنی سنگین ہوتی ہے، صبح اتنی ہی رنگین ہوا کرتی ہے، ہند کے ساحلوں سے میرِ امم ﷺ کو خوشبو آ رہی ہے۔ ”غزوۂ ہند“ کے اسباب مرتب ہو رہے ہیں، عامر شہید کا لہو، اسی خوشبو کو پھیلانے کی ایک گلرنگ کاوش ہے، یہ لہو ولولۂ تازہ کا نقیب ہے۔ یہ لہو، قدر و قیمت میں حرم سے کہیں بڑھ کر ہے، جنت کی بہاریں بھی اس پر نازاں ہیں اور فطرت کی جمال آفرینیاں بھی ۔

صفحہ ١٨
چمکتا ہے شہیدوں کا لہو فطرت کے پردے میں
شفق کا حسن کیا ہے، پھول کی رنگیں قبا کیا ہے

غازی عامر شہید کے والد محترم جناب نذیر احمد چیمہ عمر بھر محکمہ تعلیم سے وابستہ رہے۔ ان کے گھر کا ماحول کلیتاً دینی تھا۔ انھوں نے رزقِ حلال سے بیٹے کو پروان چڑھایا، یاد رہے کہ رزقِ حلال، رگوں میں نور بن کر گردش کیا کرتا ہے اسی سے حمیت کی غیرت کو بال و پر ملتے ہیں، اسی سے حیا سنورتی اور وفا نکھرتی ہے اور اسی سے دعاؤں کو شرفِ قبول نصیب ہوتا ہے۔ عامر شہید کا خوبصورت انجام ان کے اقربا کے لیے بالخصوص اور امت مسلمہ کے لیے بالعموم وجہِ فخر و ناز ہے۔ جاں فروشی اور جاں سپاری کی توفیق، جنوں والوں ہی کو ملا کرتی ہے۔ تسلیم جاں کو زندگی سمجھنے والے سود و زیاں کے گوشوارے مرتب نہیں کیا کرتے، وہ وہاں سے آغاز سفر کرتے ہیں جہاں خرد دم توڑ دیتی ہے اور وہ قدم قدم، خرد کو آواز دیتے چلے جاتے ہیں کہ ؎

تم کو بھی شاید کسی منزل کا مل جائے سراغ
دو قدم چل کر کبھی دیکھو تو دیوانے کے ساتھ

منزل حسیں ہو تو راستے کے کانٹے بھی پھول بن جایا کرتے ہیں۔ مقصد دل آویز ہو تو وفا، صحرا کو بھی گھر کی طرح سجا دیا کرتی ہے، محبوب کا حسن، نظر افروز ہو تو جنوں زیر دار بھی رقصاں رہتا ہے۔ جان دینے والے تو جان دیا ہی کرتے ہیں مگر دیکھنے والے یہ بھی دیکھتے ہیں کہ یہ جان، کس بارگاہِ ناز کا نذرانہ بنی ہے، جنوں بہر کیف اور بہر حال سیانا ہوتا ہے کہ اُس کا دل اس کی آنکھ میں ہوتا ہے اور آنکھ دل میں ہوتی ہے، اور اس کی محفل میں زمانے کی گردشیں رک جایا کرتی ہے۔ عامر شہید کا کارنامہ فی الواقع جنوں آفریں بھی ہے اور جنوں پرور بھی ؎

اتنے ناداں تو نہ تھے، جاں سے گزرنے والے
ناصحو! پند گرو! راہ گزر تو دیکھو

محترم محمد متین خالد نے عامر شہید کی ”داستانِ عزیمت“ کو ایک سلیقے کے ساتھ سمیٹنے اور سنبھالنے کی کوشش کی ہے تا کہ سرفروشی کا یہ رنگ و آہنگ ہمارے حال کی ویرانیوں کو رعنائیاں عطا کرتا رہے۔ میں اسے جوں جوں پڑھتا چلا گیا۔ میرا سر عجز سے جھکتا اور دل فخر سے سرشار ہوتا چلا گیا۔ میں سوچتا رہا کہ یہ سرور سرمدی اور یہ اُخروی سرخروئی خاصانِ بارگاہ ہی کو عطا ہوتی ہے، یہ فیصلے بڑے ہی کرم کے ہیں اور یہ بات بڑے ہی نصیب کی ہے۔

صفحہ ١٩
کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزل
کوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہا

میں اس خوبصورت تالیف کے مطالعہ کے دوران میں، خود کو انوار کے ایک ہالے میں محسوس کرتا رہا۔ آپ بھی دیکھیے ...... کچھ بصائر، کچھ حقائق، کچھ معارف، کچھ نکات......

راستے کا انتخاب کرتے ہیں۔

موت سے بڑی سعادت اور فنا سے بڑی کوئی زندگی نہیں ہوتی۔

سمجھوتا نہیں کرتا۔

رسول ﷺ) سے دست بردار ہونے کے لیے تیار نہیں۔

مغرب کی سمجھ میں آنے والا نہیں ...... یہ دلوں کے سودے ہیں جو بیوپاری کی سمجھ میں نہیں آسکتے۔

مبارک روحوں میں منتقل کر دیا جاتا ہے اور اس لازوال جذبے کی تمام کیفیات کے سوتے اسی نورانی مرکز سے پھوٹتے ہیں جہاں سے ستاروں کو روشنی، دریاؤں کو روانی، سمندروں کو تلاطم، ہواؤں کو خرامِ ناز، فضاؤں کو خوشبو اور آبشاروں کو ترنم عطا ہوتا ہے۔

صفحہ ٢٠

رفعتیں، کچھ بلندیاں کسی کے نصیب میں لکھ دی جاتی ہیں، اس کا سبب کیا ہوتا ہے؟ کوئی نہیں جانتا۔

لگتے ہیں۔

”جرم“ کو اپنی آخرت کا سرمایہ تصور کرتے ہیں۔

اپنی آخری ہچکی کے ساتھ ہی کبھی نہ غروب ہونے والا آفتاب جہانتاب بن جاتے اور کروڑوں انسانوں کے دلوں میں خوشبو کی طرح رچ بس جاتے ہیں...... یہ اسم محمد ﷺ کا اعجاز ہے۔

حافظ شیراز کا ایک شعر ہے ؎

خوشا نماز نیاز کے کہ از سر صدق
بہ آب دیدہ و خون جگر طہارت کرد

گویا ”نماز نیاز“ ادا ہی نہیں ہوتی جب تک صدق دل کے ساتھ آب دیدہ اور خون جگر سے وضو نہ کیا جائے۔ خوش نصیب ہے عامر عبدالرحمن چیمہ کہ اس نے اس گئے گزرے دور میں، یہی ”نماز نیاز“ ایک ایسے بانکپن کے ساتھ ادا کی کہ کائنات کی رشک آفرین محبتیں اس کے لیے وقف ہوگئیں اور قابل تحسین ہیں محترم محمد متین خالد کہ انھوں نے اس ”نماز نیاز“ کے بارے میں بکھرے قلمی شاہکاروں کو یکجا کیا۔ خدا کرے کہ یہ حسین کاوش بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں قبول ہو کر یہی وہ آبگینہ بنے جس میں ان کی امت کی آبرو جھلکتی ہے اور ؎

جو چیز اس میں ہے جنت میں بھی نہیں ملتی

محمد اقبال جاوید 14 رمضان المبارک 1427ھ (18 اکتوبر 2006ء)

صفحہ ٢١

عشق تمام مصطفیٰ ﷺ عقل تمام بولہب

حضور نبی کریم ﷺ کی عزت و ناموس کا تحفظ ہر مسلمان کا اولین فرض ہے۔ اس کے بغیر اس کا ایمان ناقص اور نامکمل ہے۔ شافع محشر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے والد، والدہ حتیٰ کہ تمام انسانوں سے زیادہ عزیز تر نہ ہو جاؤں۔“ (بخاری ومسلم) مولانا ظفر علی خاں نے اس حدیث مبارکہ کی خوبصورت تشریح کرتے ہوئے کہا تھا:

نماز اچھی، حج اچھا، روزہ اچھا، زکوٰۃ اچھی
مگر میں باوجود اس کے مسلماں ہو نہیں سکتا
نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ بطحاؐ کی حرمت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا

میرا بیٹا عامر عبدالرحمٰن چیمہ مغربی اخبارات میں حضور نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں کی گئی توہین کو برداشت نہ کر سکا اور ایک سچے عاشق رسول ﷺ کی طرح روشن خیال معاشرے کی رنگینیوں کو ٹھوکر مارتے ہوئے اپنے انجام کی پروا کیے بغیر بے خطر آتش نمرود میں کود گیا۔ اس طرح وہ مغرب کو ایک پیغام دے گیا کہ مسلمان ہر چیز برداشت کر سکتا ہے لیکن اپنے پیارے آقا و مولا ﷺ کی شان اقدس میں کی گئی معمولی سی بھی توہین برداشت نہیں کر سکتا۔ اس سلسلہ میں امت مسلمہ میں ایک عرصہ دراز سے جمود طاری تھا جسے عامر چیمہ کی لازوال قربانی نے توڑا اور عشق اور عزیمت کی ایک نئی تاریخ مرتب کی۔ یہی وہ مقام ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے جذبہ عشق کی بدولت ریاضت و محنت کے بغیر ولائت کا اعلیٰ ترین مرتبہ ”شہید ناموس رسالت ﷺ“ عطا کیا۔

انسانی حقوق کے نام نہاد علمبرداروں نے دوران حراست میرے بیٹے پر بے پناہ تشدد کر کے اسے ماورائے عدالت قتل کیا اور بعد ازاں اسے خود کشی کا رنگ دے دیا۔ ہماری

صفحہ ٢٢

حکومت اور جرمن میں ہمارے سفارت خانے نے بھی بغیر تحقیق کے ان کی ہاں میں ہاں ملائی۔ یوں انہوں نے 15 کروڑ پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ پوری ملت اسلامیہ کی بھی توہین کی۔ ہم گذشتہ 25 سال سے راولپنڈی میں رہائش پذیر ہیں۔ ہماری خواہش تھی کہ جنازہ راولپنڈی میں ہوتا...... جنازے کا وقت مقرر ہوتا...... ہر مسلمان کو اس میں شرکت کی اجازت ہوتی...... بلاشبہ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ ہوتا...... یقیناً اس سے یورپ کو امت مسلمہ کے زندہ ہونے کا ایک زبردست پیغام جاتا...... مگر شاید حکمران اس سے ڈر گئے کہ کہیں شرکاء اسلام آباد پر ہی نہ چڑھ دوڑیں۔ بہر حال ہمارا مقدمہ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں ہے۔ عامر چیمہ کی شہادت سے لے کر اس کے جنازہ و تدفین تک حکومتی اہلکاروں کی بے جا مداخلت، ظلم اور زیادتیوں کے خلاف ہم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی بارگاہ میں اپنی شکایات کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

زیر نظر کتاب ”شہید ناموس رسالت غازی عامر عبدالرحمن چیمہ“ ایک لہو رنگ حقیقی داستان ہے جسے معروف قلمکار اور مجاہد ختم نبوت جناب محمد متین خالد کے بھیگے قلم نے دلی سوز و گداز اور آنسوؤں سے مرتب کیا ہے۔ موصوف کا اپنا مقالہ اس قدر ایمان افروز اور مبنی بر حقیقت ہے کہ اسے پڑھتے ہوئے خون رگوں میں جوش مارتا اور قاری خیالات میں گستاخان رسول کے خلاف غازی علم الدین شہید کا خنجر بن کر خود میدان عمل میں پہنچ جاتا ہے۔ جناب متین خالد کا طرۂ امتیاز یہ ہے کہ وہ اپنی کتابوں میں تحقیق کا رنگ بھرتے ہوئے اسے اس قدر دلچسپ بنا دیتے ہیں کہ پڑھتے ہوئے کتاب ہاتھ سے چھوڑنے کو دل نہیں چاہتا...... آزمائش شرط ہے۔

مشک آں است کہ خود ببوید نہ کہ عطار بگوید

میں جناب متین خالد کو عشق مصطفیٰ ﷺ کی دولت تقسیم کرتی ہوئی یہ گرانقدر کتاب مرتب کرنے پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ (آمین)

پروفیسر محمد نذیر ڈھوک کشمیریاں، راولپنڈی

صفحہ ٢٣

سفارت خانے نے بھی بغیر تحقیق کے ان کی ہاں میں ہاں پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ پوری ملت اسلامیہ کی بھی توہین راولپنڈی میں رہائش پذیر ہیں۔ ہماری خواہش تھی کہ جنازہ وقت مقرر ہوتا ...... ہر مسلمان کو اس میں شرکت کی اجازت مجمع کا سب سے بڑا جنازہ ہوتا ...... یقیناً اس سے یورپ کو زبردست پیغام جاتا ...... مگر شاید حکمران اس سے ڈر گئے کہ پھوٹ نہ پڑیں۔ بہرحال ہمارا مقدمہ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں لے کر اس کے جنازہ و تدفین تک حکومتی اہلکاروں کی بے خلاف ہم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی بارگاہ میں اپنی

ناموس رسالت غازی عامر عبدالرحمن چیمہ" ایک لہو رنگ حقیقی مجاہد ختم نبوت جناب محمد متین خالد کے بھیگے قلم نے دلی سوز و ہے۔ موصوف کا اپنا مقالہ اس قدر ایمان افروز اور مبنی بر کہ خون رگوں میں جوش مارتا اور قاری خیالات میں گستاخان شہید کا خنجر بن کر خود میدان عمل میں پہنچ جاتا ہے۔ جناب اپنی کتابوں میں تحقیق کا رنگ بھرتے ہوئے اسے اس قدر ہے کہ کتاب ہاتھ سے چھوڑنے کو دل نہیں چاہتا ...... آزمائش

است کہ خود ببوید نہ کہ عطار بگوید عشق مصطفیٰ ﷺ کی دولت تقسیم کرتی ہوئی یہ گرانقدر کتاب ں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو ت بخشے۔ (آمین)

پروفیسر محمد نذیر ڈھوک کشمیراں، راولپنڈی

عکس تحریر عامر شہیدؒ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

تمام مسلمانوں اور میرے والدین سے گزارش ہے کہ مجھے جیل میں مرنے کی صورت میں جلد از جلد بغیر پوسٹ مارٹم کے جنت البقیع میں یا کسی بہت بڑے قبرستان میں دفنایا

جائے تاکہ آخرت میں میرے لیے آسانی ہو ۔ میرے والدین سے گزارش ہے کہ اگر مجھے سعودی حکومت جنت البقیع میں دفن کرنے کا انتظام ہو جائے تو اس کی اجازت دے دیں ۔ دوسری صورت میں کسی بھی اچھے بڑے قبرستان میں دفنائیں جہاں بہت سے نیک لوگوں کی قبریں ہوں ۔ اور میرا جنازہ بڑا کرنے کی کوشش کریں تاکہ میرے لیے آسانی ہو ۔

باقی تمام مسلمانوں سے گزارش ہے کہ میرے لیے دعا اور غائبانہ نماز جنازہ (اگر ہو سکے تو) ادا کریں تاکہ میرے لیے آسانی ہو ۔ میں تمام لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ انشا اللہ میری موت خود کشی ہرگز نہ ہوگی ۔ عامر عبدالرحمن

ایک قسم کا گناہ ہے جس کی شاید واجب الادا ادا کر دیں

صفحہ ٢٤

میرے والدین ، بہنوں اور دیگر عزیز و اقارب و دوستوں اور تمام مسلمانوں سے گزارش ہے کہ میرے گناہ معاف کر دیں اور میرے ذمہ کوئی قرض ہو تو معاف کردیں اور میرے لیے دعا کریں تاکہ آخرت کے حساب کتاب میں میرے لیے آسانی ہو ۔ میرے لیے بخشش کی دعا کریں ۔ اللہ آپ کی دعاؤں کو قبول فرمائے ۔

اگر ہو سکے تو خانہ کعبہ اور مسجد نبوی میں کوئی میرے لیے دعا کرے ۔

سعودی حکومت سے درخواست ہے کہ خانہ کعبہ میں اور مسجد نبوی میں میرا نام لے کر دعا کروائی جائے تاکہ میرے لیے آسانی ہو اور مجھے جنت البقیع میں دفن کرنے کی اجازت دی جائے

صفحہ ٢٤

توں اور دیگر عزیز و اقارب و دوستوں اور سے گزارش ہے کہ میرے گناہ معاف کر مہ کوئی قرض ہو تو معاف کر دیں ا کریں تاکہ آخرت کے حساب کتاب آسانی ہو ۔ میرے لیے بخشش کی دعا ں کی دعاؤں کو قبول فرمائے ۔ کے تو خانہ کعبہ اور مسجد نبوی میں کوئی کریں

حکومت سے درخواست ہے کہ خانہ کعبہ ء میں میرا نام لے کر دعا کروائی جائے آسانی ہو اور مجھے جنت البقیع میں جازت دی جائے

شہید ناموس رسالت

عامر عبدالرحمن چیمہ

صفحہ ٢٧

ڈاکٹر عطاء الرحمن صدیقی

ناموس رسالت ﷺ پر اللہ کی حمایت

تاریخ کے آئینہ میں

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: إِنَّا كَفَيْنكَ الْمُسْتَهْزِءِيْنَ ۝ (الحجر:95) (ترجمہ) ”آپ کا مذاق اڑانے والوں کے خلاف ہم آپ کی حمایت کے لیے کافی ہیں۔“

آیئے! تاریخی واقعات کی روشنی میں آیت کریمہ إِنَّا كَفَيْنكَ الْمُسْتَهْزِءِيْنَ ۝ کی صداقت وحقانیت کا مطالعہ کریں کہ کیسے اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی ناموس کی حفاظت کے لیے کافی ہوا اور بداندیشوں کی ہلاکت و بربادی کا کیسا عبرتناک منظر سامنے آیا؟ حضرت ابن عباسؓ اس آیت کا شان نزول بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ولید بن مغیرہ، اسود بن عبد یغوث، اسود بن مطلب، حارث بن غیطل اور عاص بن وائل نے حضور ﷺ کا مذاق اڑایا، جس سے آپ ﷺ رنجیدہ خاطر ہوئے، فوراً حضرت جبریل تشریف لائے اور ولید بن مغیرہ کی آنکھ کی طرف اشارہ کیا تو آپ ﷺ نے دیکھا کہ اس کی آنکھ نکل کر اس کے ہاتھ میں آ گئی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا اور نہ کچھ کہا جس پر حضرت جبریل نے فرمایا کہ میں نے آپ کی طرف سے انتقام لیا، پھر حارث کی طرف متوجہ ہوئے تو آپ ﷺ نے دیکھا کہ وہ اپنا پیٹ پکڑ کر لوٹ پوٹ ہو رہا ہے۔ حضور ﷺ نے پھر ارشاد فرمایا کہ میں نے تو کچھ نہیں کیا، حضرت جبریل نے کہا کہ میں نے آپ کا دفاع کیا ہے، پھر حضرت جبریل نے عاص بن وائل کے پیروں کی طرف اشارہ کیا تو آپ ﷺ نے دیکھا کہ وہ اپنے پیر پکڑے کراہ رہا ہے، آپ نے پھر وہی بات فرمائی کہ میں نے تو کچھ نہیں کیا تو حضرت

صفحہ ٢٨

جبریل نے فرمایا کہ میں نے آپ کی طرف سے انتقام لے لیا، اسود بن مطلب ایک درخت کے نیچے لیٹا ہوا تھا کہ ایک کانٹا اس کی آنکھ پر گرا اور وہ اندھا ہو گیا، اسود بن یغوث کے سر میں شدید زخم نمودار ہوا جس کے سبب وہ ہلاک ہو گیا اور حارث ابن غیطل کے پیٹ میں صفراء اتنا شدید ہو گیا کہ غلاظت اس کے منہ سے خارج ہونے لگی اور اسی حال میں اس کی موت واقع ہو گئی، یہ پانچوں اپنی قوم کے سردار اور بڑے تھے، جنھوں نے حضور ﷺ کا مذاق اڑایا تھا تو اللہ نے اپنی قدرت کاملہ کے ساتھ ان کی گرفت فرمائی اور انھیں کیفر کردار تک پہنچایا۔

(اصبہانی نے دلائل النبوۃ ج 1 ص 63 پر یہ تفصیل بیان کی ہے اور درمنثور ج 5

ص 101 میں بھی یہ تفصیل موجود ہے۔)

بزار اور طبرانی نے الاوسط میں حضرت انس کی ایک روایت نقل کی ہے کہ ایک بار حضور ﷺ مکہ میں کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے تو انھوں نے آپس میں اشارہ بازی شروع کر دی کہ دیکھو دیکھو! یہی وہ شخص ہے جو نبوت کا دعوے دار ہے اور کہتا ہے کہ جبریل امین اس کے پاس آتے ہیں۔ ان کی یہ گفتگو ابھی جاری ہی تھی کہ خود جبریل امین تشریف لے آئے اور ان کی طرف انگلی سے اشارہ کیا جس سے ان کے جسموں میں زخم نمودار ہو گئے اور سخت بدبو پھیل گئی جس کی وجہ سے کوئی ان کے قریب نہ جاتا تھا حتی کہ وہ اسی حال میں مرے۔

(درمنثور ج 5 ص 100)

صحیحین (بخاری ومسلم) میں بھی ایک عجیب وغریب واقعہ ملتا ہے کہ قبیلہ بنی نجار کا ایک نصرانی اسلام لے آیا جو کتابت جانتا تھا، چنانچہ کتابت وحی کی خدمت پر مامور ہو گیا مگر کچھ عرصے بعد وہ مرتد ہو گیا اور دوبارہ نصرانی ہو گیا اور یہ کہہ کہہ کر محمد ﷺ کا مذاق اڑانے لگا کہ وحی کی کتابت کے دوران کچھ باتیں میں نے اپنی طرف سے ملا کر لکھ دی تھیں اور محمد کو پتہ ہی نہیں چلا کہ وہ وحی نہیں ہے، کچھ ہی عرصے بعد اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ ہلاک ہو گیا، جب لوگوں نے اسے دفن کر دیا تو زمین نے اسے قبول نہیں کیا اور دوسری صبح اس کی لاش باہر پڑی ہوئی دیکھی، چنانچہ اس کے ہم نواؤں نے یہ پروپیگنڈا کیا کہ محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں کی یہ حرکت ہے لہٰذا اسے اور زیادہ گہری قبر کھود کر دوبارہ دفن کر دیا، لیکن تیسری صبح اس کی لاش پھر باہر نظر آئی چنانچہ انھوں نے تیسری بار خوب گہری قبر کھود کر اسے اچھی طرح دفن کر دیا، لیکن صبح کو اس کی لاش پھر باہر نکل پڑ یہ اس کی شرارت کی سزا ہے، چ بلاشبہ نبی کے ساتھ م ایسے لوگوں سے انتقام کے لیے ک ہم تمہارا مذاق اڑانے والوں کے تاریخ میں یہ شہادت دعوتی خطوط ارسال فرمائے تھے ا احترام کے ساتھ اسے سونے کے بعض جاننے والوں نے بیان کیا خاندان کے آخری بادشاہ سے ۔ آنسو جاری ہو گئے اور انھوں نے کر دیا۔ ابن حجر سیف الدین قلج قبضہ کے بعد ایک انگریز حاکم کے ایک ریشمی کپڑے میں لپٹا ہوا تھا کا نامہ مبارک ہے، جو انھوں نے میں اس وصیت کے ساتھ نسلاً بع محفوظ ہے، ہماری بادشاہت باقی سے چھپاتے ہیں تا کہ ہماری مملک تک ہرقل کی حکومت باقی رہی او تھا اس لیے چند ہی سالوں میں ہستی سے مٹ گئی۔

یہ عجیب وغریب قص ملک شام کے لیے رخت سفر باند اور ان کے رب کے سلسلے میں ا

صفحہ ٢٩

پ کی طرف سے انتقام لے لیا، اسود بن مطلب ایک درخت اس کی آنکھ پر گرا اور وہ اندھا ہو گیا، اسود بن یغوث کے سر سبب وہ ہلاک ہو گیا اور حارث ابن غیطل کے پیٹ میں صفراء کے منہ سے خارج ہونے لگی اور اسی حال میں اس کی موت کے سردار اور بڑے تھے، جنھوں نے حضور ﷺ کا مذاق اڑایا تھا ساتھ ان کی گرفت فرمائی اور انھیں کیفر کردار تک پہنچایا۔ النبوت ج 1 ص 63 پر یہ تفصیل بیان کی ہے اور درمنثور ج 5 د ہے۔)

لاوسط میں حضرت انس کی ایک روایت نقل کی ہے کہ ایک بار کے پاس سے گزرے تو انھوں نے آپس میں اشارہ بازی شروع سا ہے جو نبوت کا دعوے دار ہے اور کہتا ہے کہ جبریل امین اس فتگو ابھی جاری ہی تھی کہ خود جبریل امین تشریف لے آئے اور ا جس سے ان کے جسموں میں زخم نمودار ہو گئے اور سخت بدبو ئی قریب نہ جاتا تھا حتی کہ وہ اسی حال میں مرے۔

(درمنثور ج 5 ص 100)

سلم) میں بھی ایک عجیب و غریب واقعہ ملتا ہے کہ قبیلہ بنی نجار کا کتابت جانتا تھا، چنانچہ کتابت وحی کی خدمت پر مامور ہو گیا مگر کر دوبارہ نصرانی ہو گیا اور یہ کہہ کہہ کر محمد ﷺ کا مذاق اڑانے لگا کچھ باتیں میں نے اپنی طرف سے ملا کر لکھ دی تھیں اور محمد کو پتہ ہے، کچھ ہی عرصے بعد اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ ہلاک ہو گیا، یا، تو زمین نے اسے قبول نہیں کیا اور دوسری صبح اس کی لاش باہر ، ہم نواؤں نے یہ پروپیگنڈا کیا کہ محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں ادہ گہری قبر کھود کر دوبارہ دفن کر دیا، لیکن تیسری صبح اس کی لاش تیسری بار خوب گہری قبر کھود کر اسے اچھی طرح دفن کر دیا، لیکن

صبح کو اس کی لاش پھر باہر نکل پڑی تب جا کر لوگوں کو یقین آیا کہ یہ انسانی حرکت نہیں ہو سکتی، یہ اس کی شرارت کی سزا ہے، چنانچہ لاش یوں ہی پڑی سڑتی رہی اور کسی نے ہاتھ نہیں لگایا۔

(بخاری، حدیث 3617 مسلم، حدیث 378)

بلاشبہ نبی کے ساتھ مذاق کرنے والوں کا انجام بڑا بھیانک ہوتا ہے۔ یقیناً اللہ ایسے لوگوں سے انتقام کے لیے کافی ہے، یہ اس کا وعدہ ہے۔ إِنَّا كَفَيْنٰكَ الْمُسْتَهْزِءِيْنَ o ہم تمہارا مذاق اڑانے والوں کے لیے کافی ہیں۔

تاریخ میں یہ شہادت بھی محفوظ ہے کہ جب نبی کریم ﷺ نے قیصر و کسریٰ کے نام دعوتی خطوط ارسال فرمائے تھے تو قیصر نے آپ کے نامہ مبارک کی عزت و تکریم کی خاطر احترام کے ساتھ اسے سونے کے صندوق میں رکھوا دیا تھا، سہیل روایت کرتے ہیں کہ ہمارے بعض جاننے والوں نے بیان کیا ہے کہ مسلمانوں کے ایک قائد عبدالملک بن سعد، ہرقل کے خاندان کے آخری بادشاہ سے ملے تو اس نے وہ نامہ مبارک انھیں دکھایا، جسے دیکھ کر ان کے آنسو جاری ہو گئے اور انھوں نے فرطِ محبت سے اسے چومنے کی اجازت چاہی مگر اس نے منع کر دیا۔ ابن حجر سیف الدین قلج المنصوری سے نقل کرتے ہیں کہ وہ سونے کا صندوقچہ طلیطلہ پر قبضہ کے بعد ایک انگریز حاکم کے پاس تھا، اس نے اس کے اندر سے وہ نامہ مبارک نکالا جو ایک ریشمی کپڑے میں لپٹا ہوا تھا اور اس کے اکثر حروف اڑ چکے تھے، کہنے لگا کہ یہ تمھارے نبی کا نامہ مبارک ہے، جو انھوں نے ہمارے دادا قیصر کے نام ارسال فرمایا تھا، یہ ہمارے خاندان میں اس وصیت کے ساتھ نسلاً بعد نسل منتقل ہوتا رہا ہے کہ جب تک یہ ہمارے خاندان میں محفوظ ہے، ہماری بادشاہت باقی رہے گی، چنانچہ ہم اس کی بڑی حفاظت کرتے ہیں اور نصاریٰ سے چھپاتے ہیں تا کہ ہماری مملکت باقی رہے۔ یہ اسی نامہ مبارک کی برکت تھی کہ صدیوں تک ہرقل کی حکومت باقی رہی اور کسریٰ نے نامہ مبارک کی توہین کی تھی اور اسے چاک کر دیا تھا اس لیے چند ہی سالوں میں اس کی حکومت کے پرخچے اڑ گئے اور نیست و نابود ہو کر صفحۂ ہستی سے مٹ گئی۔

یہ عجیب و غریب قصہ بھی تاریخ میں محفوظ ہے کہ ابولہب اور اس کے بیٹے عتبہ نے ملک شام کے لیے رخت سفر باندھا تو اس کے بیٹے عتبہ نے کہا کہ ذرا محمد ﷺ کو چھیڑ آئیں اور ان کے رب کے سلسلے میں انھیں تھوڑا سا ستالیں، تب شام کا سفر شروع کریں، چنانچہ وہ

صفحہ ٣٠

حضور ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا اے محمد ! میں تمھارے اس رب کا انکار کرتا ہوں تم جس کے اتنے قریب ہو آئے ہو کہ تمھارے اور اس کے درمیان صرف دو قوس کا فاصلہ رہ گیا تھا، یہ معراج کے واقعہ پر تعریض بھی تھی اور انکار بھی، حضور ﷺ کو اس سے تکلیف پہنچی اور آپ ﷺ نے دعا فرمائی کہ اے اللہ ! اپنے کتوں میں سے کسی ایک کو اس پر مسلط فرما دے، عتبہ جب ابولہب کے پاس واپس پہنچا تو اس نے پوچھا کہ تم نے کیا کہا؟ تو عتبہ نے بتایا کہ میں نے یہ کہا تو ابولہب نے پوچھا کہ پھر (محمد ﷺ) نے کیا کہا؟ عتبہ نے بتایا کہ انھوں نے کہا کہ اے اللہ ! تو اس پر اپنا کوئی کتا مسلط فرما دے، یہ سن کر ابولہب نے کہا کہ تم محمد کی دعا سے بچ نہیں سکتے۔ اس کے بعد سفر شروع ہو گیا راستہ میں شراۃ کے مقام پر قافلہ نے قیام کیا، جہاں کے بارے میں مشہور تھا کہ یہاں شیر بھی پائے جاتے ہیں، ابولہب نے قافلہ والوں سے کہا کہ دیکھو! میں بزرگ ہوں اور میرا تم پر حق بھی ہے، محمد ﷺ نے میرے بیٹے کے حق میں بددعا کر دی ہے اور مجھے خدشہ ہے کہ وہ ضرور پوری ہوگی، لہٰذا ایسا کرو کہ تم سارا سامان گرجا کے اندر جمع کر دو اور اس کے درمیان میں میرے بیٹے عتبہ کو چھپا کر سلا دو اور آس پاس تم سب اپنے اپنے بستر لگا لو۔ اہل قافلہ کا بیان ہے کہ ہم نے ایسا ہی کیا لیکن رات کو اچانک شیر آ گیا اور اس نے ایک ایک کو سونگھنا شروع کیا اور کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا پھر اچانک اس نے سامان کے ڈھیر پر چھلانگ لگائی اور عتبہ کو کھینچ کر پٹخ دیا جس سے اس کا سر پھٹ گیا اور وہ ہلاک ہو گیا، ابولہب یہ دیکھ کر پکار اٹھا کہ مجھے یقین تھا کہ محمد کی دعا ضرور رنگ لائے گی اور یہ بچ نہیں پائے گا۔

(تفسیر ابن کثیر)

کتانی نے مولد العلما کے ذیل میں لکھا ہے کہ حاکم کے عہد میں ایک شخص نمودار ہوا جس کا نام حادی المسجیبین تھا وہ اس کے ماننے والے حاکم کی عبادت کے قائل تھے، اس شخص نے خود حضور ﷺ کے بارے میں گستاخ کلامی کی تھی اور قرآن کریم پر تھوکا تھا، جب یہ شخص مکہ پہنچا تو لوگوں نے امیر مکہ سے اس کی شکایت کی، لیکن امیر مکہ نے اس کی توبہ کو بہانہ بنا کر نظر انداز کر دیا مگر لوگ مطمئن نہیں ہوئے اور مطالبہ کیا کہ ایسے شخص کی توبہ معتبر نہیں ہے، اس کے باوجود امیر مکہ نے معاملہ کو ٹال دیا تو پھر لوگ بیت اللہ میں جمع ہوئے اور اللہ کے حضور فریاد کی اور دیکھتے ہی دیکھتے انتہائی سخت سیاہ آندھی اٹھی، اتنی سیاہ کہ با قاعدہ رات طاری ہو گئی اور جب یہ تاریکی چھٹی تو لوگوں نے دیکھا کہ بیت اللہ کے پردوں پر سورج کی روشنی کے

صفحہ ٣١

، لگا اے محمد ! میں تمھارے اس رب کا انکار کرتا ہوں تم جس بارے اور اس کے درمیان صرف دو قوس کا فاصلہ رہ گیا تھا، یہ ں اور انکار بھی، حضور ﷺ کو اس سے تکلیف پہنچی اور آپ ﷺ ند کتوں میں سے کسی ایک کو اس پر مسلط فرما دے، عتبہ جب س نے پوچھا کہ تم نے کیا کہا؟ تو عتبہ نے بتایا کہ میں نے یہ کہا ﷺ نے کیا کہا؟ عتبہ نے بتایا کہ انھوں نے کہا کہ اے اللہ! ے، یہ سن کر ابولہب نے کہا کہ تم محمد کی دعا سے بچ نہیں سکتے۔ ستہ میں شراۃ کے مقام پر قافلہ نے قیام کیا، جہاں کے بارے نے جاتے ہیں، ابولہب نے قافلہ والوں سے کہا کہ دیکھو! میں ہے، محمد ﷺ نے میرے بیٹے کے حق میں بددعا کر دی ہے اور ہوگی، لہٰذا ایسا کرو کہ تم سارا سامان گرجا کے اندر جمع کر دو اور بیٹے عتبہ کو چھپا کر سلا دو اور آس پاس تم سب اپنے اپنے بستر لگا نے ایسا ہی کیا لیکن رات کو اچانک شیر آ گیا اور اس نے ایک کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا پھر اچانک اس نے سامان کے ڈھیر پر پنجہ مارا جس سے اس کا سر پھٹ گیا اور وہ ہلاک ہو گیا، ابولہب یہ کہ محمد کی دعا ضرور رنگ لائے گی اور یہ بچ نہیں پائے گا۔

(تفسیر ابن کثیر)

علماء نے ذیل میں لکھا ہے کہ حاکم کے عہد میں ایک شخص نمودار ہوا تھا وہ اس کے ماننے والے حاکم کی عبادت کے قائل تھے، اس بارے میں گستاخ کلامی کی تھی اور قرآن کریم پر تھوکا تھا، جب یہ ر مکہ سے اس کی شکایت کی ، لیکن امیر مکہ نے اس کی توبہ کو بہانہ مطمئن نہیں ہوئے اور مطالبہ کیا کہ ایسے شخص کی توبہ معتبر نہیں ہے، لمہ کو ٹال دیا تو پھر لوگ بیت اللہ میں جمع ہوئے اور اللہ کے حضور انتہائی سخت سیاہ آندھی اٹھی، اتنی سیاہ کہ باقاعدہ رات طاری ہو اور لوگوں نے دیکھ کر بیت اللہ کے پردوں پر سورج کی روشنی کے

مانند ایک چمک دار تہہ چڑھی ہوئی ہے اور پورے چوبیس گھنٹہ یہ کیفیت قائم رہی، جب امیر مکہ نے یہ ماجرا دیکھا تو ھادی المستجیبین کے قتل کا حکم صادر کر دیا اور گردن اتار کر لاش سولی پر لٹکا دی۔

قاضی عیاضؒ نے بھی اپنی مشہور کتاب الشفاء (ج 2 ص 218) میں حضور ﷺ کا مذاق اڑانے والے ایک شخص کا عجیب واقعہ بیان کیا ہے، وہ لکھتے ہیں کہ ابراہیم الفزاری نام کا ایک بڑا ماہر فن شاعر تھا، جسے دیگر علوم میں بھی کافی دسترس حاصل تھی، وہ اپنے کلام میں اللہ کے انبیا اور حضور اقدس ﷺ کا مذاق اڑایا کرتا تھا، لہٰذا قیروان اور سحنون کے علماء نے اس کے قتل کا فتویٰ جاری کر دیا اور قاضی وقت یحییٰ بن عمر کے حکم سے اسے قتل کر کے سولی پر لٹکا دیا گیا، بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ جب اس کے ہاتھ سولی سے آزاد کیے گئے تو لٹک پڑے اور لاش جو قبلہ رخ تھی گھوم کر الٹی ہو گئی اور ایک کتا کہیں سے آ نکلا اور خون چاٹنے لگا، جسے دیکھ کر لوگوں نے بے اختیار نعرۂ تکبیر بلند کیا اور بڑی عبرت حاصل کی۔

نبی کا استہزا اور مذاق اڑانے اور نبی کی عزت وعظمت سے کھیلنے والوں کے خلاف اپنے نبی کی حمایت و کفایت کا جو وعدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، تاریخ کے نشیب وفراز میں اس کے مختلف ومتنوع مظاہر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے ظاہر فرمائے ہیں اور یہ مظاہر مذاق اڑانے والوں کی کراماتی و کرشماتی ہلاکت و تباہی تک ہی محدود نہیں ہیں، بلکہ اس حمایت و کفایت کے واقعات خود حضور ﷺ کے عہد میں بھی پیش آچکے ہیں۔

نبی کریم ﷺ کے عہد میں ہی کعب بن اشرف یہودی کو جس نے نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کی تھی، ایک غیور صحابی نے اسے قتل کر دیا تھا، ایک یہودیہ جو اکثر حضور ﷺ کو برا بھلا کہتی رہتی تھی ایک غیور مسلمان نے اسے گلا گھونٹ کر ہلاک کر دیا تھا، ایک نابینا صحابی نے اپنی باندی کو جس سے ان کی اولاد بھی تھی، خود قتل کر دیا تھا، کیونکہ اس نے حضور ﷺ کو گالی دی تھی، حدیث کی مشہور کتاب ابوداؤد میں ان واقعات کی تفصیلی روایات موجود ہیں، دو نوجوان حضرت معاذ اور معوذ کا واقعہ مشہور ہے، جنھوں نے قریش کے سردار ابو جہل کی گردن اتار لی تھی کیونکہ وہ بھی اکثر حضور کو سب وشتم کیا کرتا تھا، خطمی قبیلہ کی ایک عورت نے حضور ﷺ کی ہجو کی تھی، جسے ایک مسلمان نے قتل کر دیا تھا، ابو عفک یہودی شاعر کو بھی سالم بن عمیر نے نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخانہ کلام پیش کرنے پر ہلاک کر دیا تھا، انس ابن زنیم کو جس نے

صفحہ ٣٢

حضور ﷺ کی ہجو لکھی تھی قبیلہ خزاعہ کے ایک غلام نے قتل کر دیا تھا، یہ تمام روایات علامہ ابن تیمیہ نے اپنی مشہور کتاب ”الصارم المسلول علی شاتم الرسول“ میں جمع کر دی ہیں۔

تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ ایک بار ابو جہل نے اپنی قوم کے سامنے لات وعزّیٰ کی قسم کھا کر کہا کہ اگر محمد (ﷺ) کو صحن کعبہ میں نماز پڑھتے دیکھ لیا تو ان کی گردن پر سوار ہو کر ان کے چہرے پر خاک مل دوں گا، اچانک رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے اور صحن کعبہ میں نماز ادا فرمانے لگے اور لوگوں نے دیکھا کہ خود ابو جہل اپنے ہاتھوں کی آڑ بنا کر الٹے قدموں پیچھے کی طرف ہٹ رہا ہے، لوگوں نے عار دلائی کہ ابو جہل کیا ہوا؟...... کہنے لگا کہ میرے اور ان کے درمیان ہولناک آگ کی ایک خندق حائل ہے جس کی لپیٹیں مجھ تک آ رہی ہیں، جب رسول اللہ ﷺ کو معلوم ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر وہ میرے قریب آنے کی کوشش کرتا تو ملائکہ اس کا عضو عضو الگ کر دیتے۔ ابن عباسؓ کی روایت ہے کہ قریش کے کچھ کافروں نے ایک بار لات وعزّیٰ، مناۃ اور نائلہ جیسے بڑے بڑے بتوں کے سامنے قسم کھا کر عہد کیا کہ اگر محمد (ﷺ) ہمارے سامنے آ گئے تو ایک ساتھ ہم ان پر حملہ کر دیں گے اور انھیں قتل کیے بغیر جدا نہیں ہوں گے، حضرت فاطمہؓ نے یہ بات سنی تو وہ روتی ہوئی آپ کے پاس آئیں اور بیان کیا کہ قریش کے کچھ لوگوں نے یہ عہد کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا بیٹی! ذرا وضو کے لیے پانی لاؤ پھر آپ ﷺ نے وضو فرمایا اور ان کفار قریش کی موجودگی میں ہی آپ ﷺ حرم میں داخل ہوئے، جب ان کی نظر پڑی تو کہنے لگے تیار ہو جاؤ، دیکھو! وہ آ رہے ہیں محمد (ﷺ) مگر اس کے بعد ان کی نگاہیں جھک گئیں، گردنیں ڈھل گئیں، ان کی آنکھ اٹھی نہ ان کے قدم اپنی جگہ سے ہلے، حتیٰ کہ حضور ﷺ ان کے سروں پر پہنچ گئے اور ایک مٹھی خاک لے کر ان کے سروں پر ڈالی اور فرمایا کہ سب کے سب ذلیل ہو گئے، ان میں سے جس جس کے سر پر یہ خاک پڑی، وہ میدان بدر میں مارا گیا۔

(دلائل النبوۃ، ج 1 ص 65)

یقیناً اللہ کے رسول کے لیے اللہ کی حمایت کافی ہے، اللہ تعالیٰ اس کا اظہار مختلف صورتوں میں فرماتے ہیں، کبھی کبھی نبی کریم ﷺ کا مذاق اڑانے والے پر اس کا وبال اس شکل میں سامنے آتا ہے کہ اچانک کسی حلقہ کی طرف سے اس کی شدید مخالفت شروع ہو جاتی ہے اور خود اسی پر لعنت و ملامت ہونے لگتی ہے، بخاری کی روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم نے دیکھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے قریش کے سب وشتم اور لعن طعن سے کیسے محفوظ رکھا؟ وہ

صفحہ ٣٣

کے ایک غلام نے قتل کر دیا تھا، یہ تمام روایات علامہ ابن المسلول علی شاتم الرسول“ میں جمع کر دی ہیں۔

کہ ایک بار ابو جہل نے اپنی قوم کے سامنے لات وعزیٰ کی حن کعبہ میں نماز پڑھتے دیکھ لیا تو ان کی گردن پر سوار ہو کر اچانک رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے اور صحن کعبہ میں دیکھا کہ خود ابو جہل اپنے ہاتھوں کی آڑ بنا کر الٹے قدموں نے عار دلائی کہ ابو جہل کیا ہوا؟..... کہنے لگا کہ میرے اور ایک خندق حائل ہے جس کی لپیٹیں مجھ تک آ رہی ہیں، جب ﷺ نے فرمایا کہ اگر وہ میرے قریب آنے کی کوشش کرتا تو ۔ ابن عباسؓ کی روایت ہے کہ قریش کے کچھ کافروں نے جیسے بڑے بڑے بتوں کے سامنے قسم کھا کر عہد کیا کہ اگر تو ایک ساتھ ہم ان پر حملہ کر دیں گے اور انھیں قتل کیے بغیر نے یہ بات سنی تو وہ روتی ہوئی آپ کے پاس آئیں اور نے یہ عہد کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا بیٹی! ذرا وضو کے لیے یا اور ان کفار قریش کی موجودگی میں ہی آپ ﷺ حرم میں تو کہنے لگے تیار ہو جاؤ، دیکھو! وہ آ رہے ہیں محمد (ﷺ) گئیں، گردنیں ڈھلک گئیں، ان کی آنکھ اٹھی نہ ان کے قدم ، ان کے سروں پر پہنچ گئے اور ایک مٹھی خاک لے کر ان کے کے سب ذلیل ہو گئے، ان میں سے جس جس کے سر پر یہ گیا۔ (دلائل النبوۃ، ج 1 ص 65)

کے لیے اللہ کی حمایت کافی ہے، اللہ تعالیٰ اس کا اظہار مختلف نبی کریم ﷺ کا مذاق اڑانے والے پر اس کا وبال اس شکل مطلقہ کی طرف سے اس کی شدید مخالفت شروع ہو جاتی ہے اور ہتا ہے، بخاری کی روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم تھے قریش کے سب وشتم اور لعن طعن سے کیسے محفوظ رکھا؟ وہ

مذمم کو لعن طعن کرتے ہیں، میرا نام تو محمد ہے، دراصل قریش شدت غضب وحقد کی وجہ سے حضور کا نام نامی لینے کے بجائے مذمم کہتے تھے کیونکہ محمد کے معنی ہیں لائقِ تعریف، تعریف کیا ہوا اور قریش ضد اور چڑ کی وجہ سے مذمم یعنی قابلِ مذمت کہا کرتے تھے، یہ بھی اپنے نبی کے لیے اللہ کی حمایت کا ایک لطیف مظہر ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کا مذاق اڑانے والوں کے شر سے کیسے کیسے حضور کی حمایت وحفاظت کا سامان فراہم فرمایا ہے، حتیٰ کہ آپ کی خاطر کائنات کے فطری وطبعی اصولوں تک کو بدل دیا؟ مثال کے لیے زہر آلودہ بکری کا واقعہ سامنے ہے، زینب بنت حارث نامی ایک یہودیہ نے حضور ﷺ کی خدمت میں بکری کا بھنا ہوا گوشت بھیجا، جو زہر آلود تھا، آپ ﷺ بکری کا گوشت پسند فرماتے تھے، لیکن جیسے ہی آپ ﷺ نے لقمہ زبانِ مبارک پر رکھا فوراً آپ کو پتہ چل گیا اور آپ نے لقمہ واپس رکھ دیا اور فرمایا کہ مجھے اس بکری نے بتا دیا کہ وہ زہر آلود ہے، چنانچہ اس یہودیہ کو بلوا کر دریافت فرمایا تو اس نے اعتراف کر لیا لیکن قابلِ غور بات یہ ہے کہ رسول اللہ کی حفاظت کی خاطر فطرت کے طبعی اصول واثرات تبدیل ہو گئے، زبانِ مبارک نے زہر کا اثر قبول نہیں کیا اور دوسری حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے خود اس ہڈی کو قوت گویائی عطا فرما دی اور اس نے آپ ﷺ کو باخبر کر دیا کہ مبادا آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے۔

رسول کا استہزا کرنے والوں اور آپ ﷺ کو تکلیف پہنچانے والوں کے خلاف کیسے کیسے اس آیتِ کریمہ کے معانی کا ظہور ہوتا رہتا ہے کہ ہم آپ کی حمایت کے لیے کافی ہیں، بسا اوقات تو خود تکلیف پہنچانے والے اور استہزا کرنے والے کے دل و دماغ کو اللہ تعالیٰ اس طرح بدل دیتے ہیں کہ اس کے نزدیک حضور دنیا و مافیہا سے زیادہ عزیز ومحبوب بن جاتے ہیں اور وہ خود آپ ﷺ کی حمایت وحفاظت کے لیے اٹھ کھڑا ہوتا ہے، جیسے سفیان بن الحارث کا واقعہ ہے، جو بچپن میں آپ کے دوست اور دودھ شریک بھائی بھی تھے لیکن جب آپ ﷺ نے فریضۂ نبوت ادا کرنے کا اعلان کیا تو شدید ترین مخالفت ابوسفیان ہی نے کی اور دشمنی پر آمادہ ہو گئے، صحابہ کرام کو برا بھلا کہا، آپ ﷺ کی ہجو کرنے لگے لیکن مشیتِ ایزدی نے ابوسفیان کی دشمنی اور ہجو گوئی سے رسول اللہ کی حفاظت کا ایسا سامان فرمایا کہ انھیں ہدایت سے سرفراز فرما دیا، ان کے دل و دماغ کو بدل دیا، خود ابوسفیان کی زبانی سنئے، کہتے ہیں کہ میرے دل میں اللہ نے اسلام کا نور روشن کر دیا تو میں اپنی اہلیہ اور بیٹے کو لے کر ابوا کے

صفحہ ٣٤

مقام پر حضور کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے اعراض فرمایا اور رخ مبارک دوسری جانب کر لیا تو میں گھوم کر دوبارہ حضور کے سامنے پہنچا تو آپ نے پھر رخ پھیر لیا، اس طرح میں بار بار حضور کے سامنے حاضر ہوتا رہا اور آپ اعراض فرماتے رہے حتیٰ کہ میں نے کہا کہ اگر حضور ہمیں اذن باریابی نہیں بخشیں گے تو بخدا ہم کھانا پینا چھوڑ دیں اور بھوک و پیاس سے مر جائیں گے، جب حضور تک یہ بات پہنچی تو آپ ﷺ نے شرف ملاقات سے نوازا اور ہم نے اسلام قبول کر لیا۔ (سیرت ابن ہشام میں تفصیل کے ساتھ یہ واقعہ مذکور ہے۔)

بے شک ساری حمد و ثناء اللہ جل جلالہ کے لیے زیبا ہے جس نے شدید ترین بغض و عداوت کو آپ ﷺ کے ساتھ بے انتہا انس و محبت میں تبدیل کر دیا اور ابوسفیان جیسا جانی دشمن آپ ﷺ کے چشم و آبرو کے اشارہ پر جاں نثار کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے کہ اِنَّا كَفَيْنٰكَ الْمُسْتَهْزِءِيْنَ ۝ آپ کا مذاق اڑانے والوں کے خلاف ہم آپ کی حمایت کے لیے کافی ہیں۔

صفحہ ٣٥

حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے اعراض فرمایا اور رخ مبارک دوسری پارہ حضور کے سامنے پہنچا تو آپ نے پھر رخ پھیر لیا، اس طرح حاضر ہوتا رہا اور آپ اعراض فرماتے رہے حتیٰ کہ میں نے کہا کہ ں بخشیں گے تو بخدا ہم کھانا پینا چھوڑ دیں اور بھوک و پیاس سے ۔ یہ بات پہنچی تو آپ ﷺ نے شرف ملاقات سے نوازا اور ہم ت ابن ہشام میں تفصیل کے ساتھ یہ واقعہ مذکور ہے۔) رو ثناء اللہ جل جلالہ کے لیے زیبا ہے جس نے شدید ترین بغض و تھ بے انتہا انس و محبت میں تبدیل کر دیا اور ابوسفیان جیسا جانی و کے اشارہ پر جاں نثار کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ بے شک اللہ كَ الْمُسْتَهْزِءِيْنَہ آپ کا مذاق اڑانے والوں کے خلاف ہم ہیں۔

ابوشراحیل

شہیدانِ ناموس رسالت ﷺ

آئندہ سطور میں پیش کی جانے والی داستانِ عشق و وفا قرنِ اوّل کے ان نفوسِ قدسی صفات کی بیشک نہیں ہے جنھوں نے رحمتِ دو عالم ﷺ کی پاکیزہ نورانی صحبتوں میں اپنے دین و ایمان کی بنیادیں استوار کی تھیں بلکہ یہ اُن جاں نثاروں کا ذکرِ خیر ہے جن کے بارے میں خود زبانِ رسالت مآب ﷺ سے یہ خوشخبری سن کر قرنِ اوّل کے بے مثال مسلمانوں کو بھی حسرت ہوئی تھی کہ کاش! ان کا شمار بھی بعد میں آنے والے ان خوش نصیبوں میں ہوتا۔ حضور ﷺ کے ارشادِ گرامی کا مفہوم کم و بیش یہ ہے کہ ”میری امت کے وہ لوگ بہت درجے والے ہوں گے جنھوں نے نہ مجھے دیکھا ہو گا نہ مجھے دیکھنے والوں کی زیارت سے مستفید ہوئے ہوں گے مگر وہ اپنے ایمان میں اس قدر کامل ہوں گے کہ دین و ایمان کی حفاظت کرتے ہوئے راہِ وفا میں قربان ہو جائیں گے۔“

جن بے مثال مجاہدوں کا تذکرہ کرنے کا شرف حاصل کیا جا رہا ہے یہ کسی خانقاہ کے گدی نشین تھے نہ کسی موروثی ولایت کے تخت نشین۔ ان کا حسب نسب کسی مخدوم و مکرم خاندان کی اسناد بے ثبات سے بھی مزین نہیں تھا۔ یہ لوگ طاقتور تھے نہ سرمایہ دار۔ ان کی اکثریت ایسے معدوم قبیلوں میں پروان چڑھی تھی جن کی ناموری کی کوئی داستان کسی مؤرخ نے قلمبند نہیں کی تھی۔ بس یوں سمجھ لیجئے کہ ہر قسم کی مصلحت پسندی اور حیل و حجت سے بے نیاز بندگانِ بے ریا و صدق و صفا، غریب الدیاروں کا یہ قافلہ مشیت الٰہی کے اسرار کے تحت ہی ترتیب پا گیا اور ان سے ایسے کارنامے سرزد ہوئے کہ پھر جہان بھر کے وارثانِ تخت و تاج اور حاملانِ نسب و حسب ان کی قدموں سے اٹھتی دھول میں گم ہو گئے۔

توہین رسالت ﷺ ایک ایسا جرم عظیم ہے جس کی سزا بہ سند حدیث مبارک سوائے

صفحہ ٣٦

قتل کے اور کچھ نہیں۔ ہر گستاخ رسول کو سزا دینے کی اولین ذمہ داری تو بنیادی طور پر مسلم مملکتوں کے حکمرانوں کے ذمہ ہے مگر یہ حکم کیونکہ عمومی بھی ہے اس لیے ہر مسلمان کو بھی اس عقیدہ کا پابند بنایا گیا ہے کہ:

نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ یثرب کی عزت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا ایمان ہو نہیں سکتا

تاریخ عالم گواہ ہے کہ ہر دور ابتلا میں امت مسلمہ کے اندر ایسے عشاقان رسول ﷺ پیدا ہوتے رہے ہیں جنھوں نے توہین رسالت کرنے والے بدبختوں کو عبرت ناک انجام سے دوچار کیا اور اپنے اس کارنامہ کی پاداش میں ہنستے مسکراتے لیلائے شہادت سے ہم آغوش ہو گئے۔

ایک عجیب بات یہ ہے کہ شہیدان ناموس رسالت ﷺ کی ادائیں کم و بیش ایک جیسی تھیں ان کی اکثریت غیر معروف عام افراد پر مشتمل تھی۔ چند خوش نصیبوں کے استثناء کے ساتھ باقی سب کم عمر نوجوان تھے۔ مزید یہ کہ توہین رسالت کے ارتکاب کرنے والوں کو نشان عبرت بناتے ہوئے انھوں نے جو ہتھیار استعمال کیے، جو الفاظ ادا کیے اور جس عزم و استقامت کا مظاہرہ کیا اس میں انتہائی قدر مشترک اور مماثلت پائی جاتی ہے۔ ان فدا کاران رسول ﷺ کی فہرست میں حالیہ دنوں ایک اور خوش قسمت کا اضافہ ہو گیا ہے۔ حافظ آباد کے محلہ گڑھی اعوان میں پیدا ہونے والے 28 سالہ عامر عبدالرحمن شہید نے توہین آمیز کارٹون شائع کرنے والے جرمن اخبار کے ایڈیٹر ”ہنرک بروڈر“ کو 20 مارچ 2006ء میں حملہ کر کے زخمی کر دیا تھا۔ قاتلانہ حملہ کرنے کی پاداش میں برلن پولیس نے عامر چیمہ کو گرفتار کر لیا۔ دوران حراست ان پر بے پناہ تشدد کیا گیا حتیٰ کہ ان کی شہ رگ کاٹ دی گئی۔ (بحوالہ نوائے وقت 26 مئی 2006ء) لیکن جرمن حکومت اپنے جرم کو چھپانے کے لیے اس واقعہ کو خودکشی قرار دے رہی ہے۔ عامر عبدالرحمن چیمہ شہادت سے سرفراز ہو کر فداکاران ناموس رسالت ﷺ کی انمول فہرست میں شامل ہو چکے ہیں۔ ہمیشہ کی طرح روا رکھے جانے والی حکومتی رکاوٹوں کے باوجود 13 مئی کو شدید گرمی میں لاکھوں عقیدت مندوں نے ان کے جنازے میں شرکت کی تھی۔ عامر چیمہ کے حوالہ سے جو جذبات، عقیدت و محبت دل میں پیدا ہوئے انہی جذبات کے تحت ہی جی چاہا کیوں نہ عامر عبدالرحمن چیمہ کے ساتھ ساتھ ماضی میں شہادت کے درجہ پر

صفحہ ٣٧

فائز ہونے والے فدا کاران ناموس رسالت ﷺ کا بھی مختصر تعارف اور ان کے کارناموں کی تفصیل پیش کر دی جائے۔ اس حقیر کوشش کا مقصد تمام شہدائے ناموس رسالت کو خراج عقیدت پیش کرنا ہے۔ عشاقان رسول ﷺ کے احوال معروف محقق و مصنف برادر محترم جناب محمد متین خالد کی کتاب ”شہیدان ناموس رسالت ﷺ“ سے منتخب کیے گئے ہیں۔ جنھیں تلخیص کے بعد شائع کیا جا رہا ہے۔

تاریخی طور پر یہ بات ثابت شدہ ہے کہ ہندوستان میں فرنگی راج کے دوران اس کے فطری حلیف صرف ہندو ہی بن سکتے تھے۔ مسلمانوں کے خلاف جتنا بغض فرنگی کے دل میں تھا اس سے کہیں زیادہ نفرت و تعصب ہندوؤں کے ایک مخصوص گروہ آریا سماج نے پھیلایا۔ سوامی شردھانند ایسے متعصب ہندوؤں نے پُر امن فضا کو خراب کرنے اور نفرت پھیلانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی تھی۔ دین اسلام کے خلاف توہین آمیز تحریری مہم شروع کی گئی۔ ہادیٔ برحق سرورِ دو عالم ﷺ کی شان میں توہین و گستاخی کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ 1899ء میں ”شریمتی آریہ پرتی ندھی سبھا“ نے رسوائے زمانہ کتاب ”ستیارتھ پرکاش“ چھاپی تھی۔ یکم نومبر 1927ء کو لاہور کے ہندو پبلشر ”راجپال“ نے اس کتاب کا آخری ایڈیشن شائع کیا۔ جس کے چودہویں باب ”تحقیق مذہب اسلام“ میں صفحہ 707 سے صفحہ 781 تک قرآنی سورتوں کے بارے میں جی بھر کے ہرزہ سرائی کی گئی تھی۔ اس خرافات کو شائع کرنے والا ”راجپال“ باوجود مسلسل مالی نقصان اٹھانے کے پوری تندہی سے کتاب کی اشاعت میں لگا رہا۔ راجپال نے 800 صفحات کی کتاب کے دیباچہ میں لکھا تھا۔

”اردو ستیارتھ پرکاش کی قیمت پہلے دو روپے تھی پھر میں نے ڈیڑھ روپیہ کر دی۔ پچھلے ساتویں ایڈیشن کی قیمت پرچار (تشہیر) کے خیال میں 14 آنے رکھی گئی۔ اب ستیارتھ پرکاش کے خلاف (مسلمانوں کا) جو ایجی ٹیشن ہو رہا ہے اس نے اس کی مانگ کو بہت بڑھا دیا ہے اس لیے اس نئے ایڈیشن کی محنت اور لاگت سے بھی کم صرف 10 (دس آنہ) قیمت رکھی جاتی ہے۔ امید ہے کہ آریہ ہرش ہزاروں کی تعداد میں اس کی اشاعت کریں گے۔“ (راجپال پبلشر۔ یکم نومبر 1927ء)

راجپال نے ”ستیارتھ پرکاش“ کی اشاعت سے نفرت کا جو زہر پھیلایا تھا اس نے اس کا حوصلہ بڑھایا چنانچہ اس نے ہادیٔ کائنات سرورِ دو عالم ﷺ کی ذات والاصفات کو براہِ

36 خ رسول کو سزا دینے کی اولین ذمہ داری تو بنیادی طور پر مسلم ے مگر یہ حکم چونکہ عمومی بھی ہے اس لیے ہر مسلمان کو بھی اس

کٹ مروں میں خواجۂ یثرب کی عزت پر
ہے کامل میرا ایمان ہو نہیں سکتا

ہے کہ ہر دورِ ابتلا میں امتِ مسلمہ کے اندر ایسے عشاقانِ یں جنھوں نے توہین رسالت کرنے والے بدبختوں کو عبرت اپنے اس کارنامہ کی پاداش میں ہنستے مسکراتے لیلائے شہادت

ہے کہ شہیدان ناموس رسالت ﷺ کی ادائیں کم و بیش ایک معروف عام افراد پر مشتمل تھی۔ چند خوش نصیبوں کے استثناء کے تھے۔ مزید یہ کہ توہین رسالت کے ارتکاب کرنے والوں کو نشانِ نے جو ہتھیار استعمال کیے، جو الفاظ ادا کیے اور جس عزم و انتہائی قدر مشترک اور مماثلت پائی جاتی ہے۔ ان فدا کارانِ دونوں ایک اور خوش قسمت کا اضافہ ہو گیا ہے۔ حافظ آباد کے نے والے 28 سالہ عامر عبدالرحمٰن شہید نے توہین آمیز کارٹون کے ایڈیٹر ”ہنرک بروڈر“ کو 20 مارچ 2006ء میں حملہ کر کے کی پاداش میں برلن پولیس نے عامر چیمہ کو گرفتار کر لیا۔ دورانِ کیا حتیٰ کہ ان کی شہ رگ کاٹ دی گئی۔ (بحوالہ نوائے وقت 26 ت اپنے جرم کو چھپانے کے لیے اس واقعہ کو خودکشی قرار دے شہادت سے سرفراز ہو کر فدا کارانِ ناموس رسالت ﷺ کی ہیں۔ ہمیشہ کی طرح روا رکھے جانے والی حکومتی رکاوٹوں کے لاکھوں عقیدت مندوں نے ان کے جنازے میں شرکت کی جو جذبات، عقیدت و محبت دل میں پیدا ہوئے انہی جذبات عامر عبدالرحمٰن چیمہ کے ساتھ ساتھ ماضی میں شہادت کے درجہ پر

صفحہ ٣٨

راست ہدف تنقید بنانے کی ناپاک جسارت بھی کر ڈالی۔ اور ایک شرانگیز و توہین آمیز کتاب بعنوان ”رنگیلا رسول“ شائع کر دی۔

مسلمانوں میں راجپال کے خلاف شدید ردعمل پیدا ہوا۔ احتجاجی جلوس، جلسے اور کانفرنسیں ہوئیں۔ مسلمانوں کے جذبات مشتعل تھے۔ چنانچہ کئی دیوانوں فرزانوں نے ملعون راجپال کو اس کے انجام تک پہنچانے کے عہد باندھے، جن میں سے ایک ”غازی خدا بخش اکوجہا“ بھی تھے۔

غازی خدا بخش اکوجہا

غازی خدا بخش اکوجہا کا تعلق کشمیری خاندان سے تھا۔ آپ کی پیدائش لاہور کے علاقہ اندرون یکی دروازہ میں ہوئی تھی۔ آپ کے والد گرامی کا نام محمد اکرم تھا۔ غازی خدا بخش انتہائی خوبصورت اور صحت مند نوجوان تھے۔ پیشے کے اعتبار سے دودھ بیچنے کا کام کرتے تھے اور ساتھ ہی جلد سازی کا مشغلہ بھی اپنا رکھا تھا۔ راجپال کی کتاب ”رنگیلا رسول“ کی اشاعت کے خلاف مسلمانوں کا احتجاج جاری تھا۔ اسی دوران تحفظ ناموس رسالت کے حوالے سے منعقدہ ایک جلسے میں علماء کی تقاریر سنیں تو راجپال کی گستاخانہ جسارت کا احوال جان کر تڑپ اٹھے۔ وہیں دل میں ٹھان لی کہ راجپال کو نہیں چھوڑوں گا۔ 24 ستمبر 1927ء کی صبح راجپال اپنی دکان پر بیٹھا کاروبار میں مصروف تھا کہ غازی خدا بخش اکوجہا نے تیز دھار چاقو سے اس پر حملہ کر دیا۔ راجپال شدید زخمی ہوا مگر جان بچانے کے لیے اس حالت میں بھی بھاگ کھڑا ہوا اور قتل ہونے سے بچ گیا۔ پولیس نے غازی خدا بخش کو زیر دفعہ 307 (الف) تعزیرات ہند گرفتار کر لیا۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ لاہور سی۔ ایم۔ بی اوگلوی کی عدالت میں مقدمہ کی سماعت شروع ہوئی۔ غازی خدا بخش اکوجہا نے اپنی جانب سے وکیل صفائی مقرر کرنے سے انکار کر دیا۔

راجپال مستغیث نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا:

”مجھ پر یہ حملہ کتاب کی اشاعت اور مسلمانوں کے ایجی ٹیشن کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ مجھے خطرہ ہے کہ ملزم خدا بخش مجھے جان سے مار دے گا۔“

”اور کچھ کہنا چاہتے ہو؟“ جج نے پوچھا۔

راجپال بولا: ”حملہ کے وقت ملزم نے چلا کر کہا تھا کافر کے بچے! آج تو میرے ہاتھ آیا ہے میں تجھے زندہ نہیں چھوڑوں گا۔“

صفحہ ٣٩

جسارت بھی کر ڈالی۔ اور ایک شر انگیز و توہین آمیز کتاب کے خلاف شدید رد عمل پیدا ہوا۔ احتجاجی جلوس، جلسے اور جذبات مشتعل تھے۔ چنانچہ کئی دیوانوں فرزانوں نے ملعون نے کے عہد باندھے، جن میں سے ایک ” غازی خدا بخش کا تعلق کشمیری خاندان سے تھا۔ آپ کی پیدائش لاہور کے تھی۔ آپ کے والد گرامی کا نام محمد اکرم تھا۔ غازی خدا بخش ان تھے۔ پیشے کے اعتبار سے دودھ بیچنے کا کام کرتے تھے ، اپنا رکھا تھا۔ راجپال کی کتاب ”رنگیلا رسول“ کی اشاعت رہی تھی۔ اسی دوران تحفظ ناموس رسالت کے حوالے سے سنیں تو راجپال کی گستاخانہ جسارت کا احوال جان کر تڑپ جپال کو نہیں چھوڑوں گا۔ 24 ستمبر 1927ء کی صبح راجپال تھا کہ غازی خدا بخش اکو جہا نے تیز دھار چاقو سے اس پر کر جان بچانے کے لیے اس حالت میں بھی بھاگ کھڑا ہوا نے غازی خدا بخش کو زیر دفعہ 307 (الف) تعزیرات ہند اہور سنی۔ ایم ۔ بی اوگلوی کی عدالت میں مقدمہ کی سماعت نے اپنی جانب سے وکیل صفائی مقرر کرنے سے انکار کر دیا۔

دالت میں بیان دیتے ہوئے کہا:

ا اشاعت اور مسلمانوں کے ایجی ٹیشن کی وجہ سے کیا گیا مجھے جان سے مار دے گا۔“

جج نے پوچھا۔

وقت ملزم نے چلا کر کہا تھا کافر کے بچے! آج تو میرے ؤں گا۔“

اس پر جج نے غازی خدا بخش اکو جہا سے استفسار کیا تو آپ نے گرجدار آواز میں کہا۔

”میں مسلمان ہوں، ناموسِ رسالت ﷺ کا تحفظ میرا فرض ہے۔ میں اپنے آقا و مولا ﷺ کی توہین ہرگز برداشت نہیں کر سکتا۔“

پھر لعین راجپال کی طرف اشارہ کر کے کہا۔

”اس نے میرے رسول مکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کی ہے، اس لیے میں نے اس پر قاتلانہ حملہ کیا لیکن یہ کم بخت اس وقت میرے ہاتھ سے بچ نکلا۔“

اقرارِ جرم کے بعد غازی خدا بخش اکو جہا کو سات سال قید سخت جس میں تین ماہ قید تنہائی بھی شامل تھی، کی سزا سنائی گئی اور میعاد قید کے اختتام پر پانچ پانچ ہزار روپے کی تین ضمانتیں حفظِ امن کے لیے داخل کرنے کا حکم دیا۔

غازی عبدالعزیز خانؒ

راجپال کو جہنم واصل کرنے کے لیے غازی خدا بخش نے جو کوشش کی تھی وہ بہ تقدیرِ الہی کامیاب نہ ہو سکی تھی۔ کیونکہ مالکِ تقدیر نے یہ اعزاز کسی اور کے نام منسوب کر رکھا تھا۔ دوسری طرف مسلمانوں کا اشتعال تھا جو کہیں تھمنے کا نام نہ لے رہا تھا۔ چنانچہ گستاخ رسول راجپال کو ختم کرنے کی دوسری کوشش کوہاٹ کے ایک نوجوان غازی عبدالعزیز خان کی طرف سے ہوئی۔ 19 اکتوبر 1927ء کو غازی عبدالعزیز خان کوہاٹ سے لاہور پہنچا اور لوگوں سے راجپال کا پتہ معلوم کرتے ہوئے اس کی دکان پر پہنچ گیا۔ اتفاق سے اس وقت راجپال دکان میں موجود نہیں تھا۔ اور اس کی جگہ اس کے دوست ”جتندر داس“ اور ”سوامی ستیانند“ بیٹھے تھے۔ غازی عبدالعزیز نے سوامی ستیانند کو راجپال سمجھا اور میان سے تلوار نکال کر ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کر دیا۔ فرنگی حکومت کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ایم ۔ بی ۔ اوگلوی نے قانونی تقاضوں اور کچھ مصلحتوں کی بناء پر عبدالعزیز خان غزنوی کو شہادت کا اعزاز بخشنے کے بجائے صرف 14 سال قید کی سزا دی۔

غازی علم الدین شہیدؒ

غازی علم الدین 8 ذیقعد 1326ھ مطابق 4 دسمبر 1908ء بروز جمعرات محلہ

صفحہ ٤٠

”چابک سواراں“ محلہ ”سرفروشاں“ لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔ غازی علم الدین کے والد ”میاں طالع مند“ فرنیچر کا کاروبار کرتے تھے۔ کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ ایک عام سا نظر آنے والا نوجوان مستقبل میں کیسا کارنامہ سرانجام دینے والا ہے۔ یہ انہی دنوں کی بات ہے جب گستاخ رسول راجپال کے خلاف احتجاجی تحریک شروع تھی۔ بہار کا موسم تھا۔ 16 اپریل 1929ء بروز ہفتہ غازی علم الدین اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ قریب ہی ایک اجتماع سے کسی مقرر کے خطاب کرنے کی آواز آ رہی تھی۔ جس میں راجپال کی گستاخی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا جا رہا تھا ”ہے کوئی جانباز جو رحمۃ للعالمین ﷺ کی ناموس کی حفاظت کرے۔ غازی علم الدین یہ سن کر بے چین ہو گئے۔ تمام رات سو نہیں سکے۔ اگلی صبح گھر سے نکلے۔ ڈبی بازار کی طرف گئے اور ”آتما رام“ نامی کباڑیے کی دکان پر پہنچے جہاں چھریوں چاقوؤں کا ڈھیر لگا تھا۔ وہاں سے اپنے مطلب کی چھری حاصل کی اور چل دیے۔ انارکلی میں ہسپتال روڈ پر عشرت پبلشنگ ہاؤس کے سامنے ہی راجپال کا دفتر تھا۔ غازی علم الدین کو وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ راجپال ابھی نہیں آیا۔ اور آتا ہے تو پولیس اس کی حفاظت کے لیے آ جاتی ہے۔ یہ اس وجہ سے تھا کہ پے در پے حملوں کی وجہ سے راجپال نے خود کو خطرے میں محسوس کرنا شروع کر دیا تھا۔ اس کا کاروبار بھی متاثر ہونے لگا تھا، چنانچہ اس نے حکومت سے استدعا کی کہ اس کی جان کی حفاظت کا بندوبست کیا جائے۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے پولیس کے دو ہندو سپاہی اور ایک سکھ حوالدار اس کی نگہداشت پر مامور کر دیے تھے۔ راجپال نے پہرے کی زندگی کو حراست کی زندگی سمجھا۔ وہ کچھ عرصہ کے لیے لاہور سے باہر بھی چلا گیا اور تقریباً چار ماہ بعد واپس آیا۔ اس کا خیال تھا کہ اب معاملہ رفع دفع ہو چکا ہوگا اور مسلمانوں کے جذبات سرد پڑ چکے ہوں گے۔ واپس آ کر اس نے کتب فروشی کا کاروبار پھر شروع کر دیا۔ لیکن اسے اندازہ نہیں تھا کہ اب ایک اور شہباز اسے اپنا شکار بنانے کے لیے بالکل تیار تھا۔ غازی علم الدین شہید راجپال کی دکان سے کچھ فاصلے پر ایک کھوکھے کے قریب اس کا انتظار کرنے لگے۔ اتنے میں راجپال کار پر آیا۔ کھوکھے والے نے غازی علم الدین کو بتایا کہ یہ کار سے نکلنے والا شخص ہی راجپال ہے اور اسی نے توہین آمیز کتاب چھاپی ہے۔ راجپال جیسے ہی دفتر میں جا کر اپنی کرسی پر بیٹھا اور پولیس کو اپنی آمد کی خبر دینے کے لیے ٹیلی فون کرنے کی سوچ ہی رہا تھا کہ علم الدین دفتر کے اندر داخل ہوئے۔ راجپال نے درمیانے

صفحہ ٤١

شاں‘ لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔ غازی علم الدین کے والد وبار کرتے تھے۔ کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ ایک عام سا نظر آنے رنامہ سرانجام دینے والا ہے۔ یہ انہی دنوں کی بات ہے جب ف احتجاجی تحریک شروع تھی۔ بہار کا موسم تھا۔ 16 اپریل دین اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ قریب خطاب کرنے کی آواز آ رہی تھی۔ جس میں راجپال کی گستاخی رہا تھا ” ہے کوئی جانباز جو رحمتہ للعالمین ﷺ کی ناموس کی ین یہ سن کر بے چین ہو گئے۔ تمام رات سو نہیں سکے۔ اگلی صبح ف گئے اور ”آتما رام“ نامی کباڑیے کی دکان پر پہنچے جہاں ۔ وہاں سے اپنے مطلب کی چھری حاصل کی اور چل دیے۔ پبلشنگ ہاؤس کے سامنے ہی راجپال کا دفتر تھا۔ غازی علم کہ راجپال ابھی نہیں آیا۔ اور آتا ہے تو پولیس اس کی حفاظت جہ سے تھا کہ پے در پے حملوں کی وجہ سے راجپال نے خود کو ر دیا تھا۔ اس کا کاروبار بھی متاثر ہونے لگا تھا، چنانچہ اس نے ی جان کی حفاظت کا بندوبست کیا جائے۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور ایک سکھ حوالدار اس کی نگہداشت پر مامور کر دیے تھے۔ راست کی زندگی سمجھا۔ وہ کچھ عرصہ کے لیے لاہور سے باہر بھی ں آیا۔ اس کا خیال تھا کہ اب معاملہ رفع دفع ہو چکا ہوگا اور چکے ہوں گے۔ واپس آ کر اس نے کتب فروشی کا کاروبار پھر نہیں تھا کہ اب ایک اور شہباز اسے اپنا شکار بنانے کے لیے ہیڈ راجپال کی دکان سے کچھ فاصلے پر ایک کھوکھے کے قریب میں، اجپال کار پر آیا۔ کھوکھے والے نے غازی علم الدین کو ہی راجپال ہے اور اسی نے توہین آمیز کتاب چھاپی ہے۔ نی کرسی پر بیٹھا اور پولیس کو اپنی آمد کی خبر دینے کے لیے ٹیلی علم الدین دفتر کے اندر داخل ہوئے۔ راجپال نے درمیانے

قد کے گندمی رنگت والے نوجوان کو اندر داخل ہوتے دیکھ لیا تھا لیکن وہ سوچ بھی نہ سکا کہ موت اس کے اتنے قریب آ چکی ہے۔ علم الدین نے پلک جھپکتے میں چھری نکالی۔ ہاتھ فضا میں بلند ہوا اور چھری کا پھل راجپال کے سینے میں اتر گیا۔ ایک ہی وار اتنا کارگر ثابت ہوا کہ راجپال کے منہ سے صرف ہائے کی آواز نکلی اور وہ اوندھے منہ زمین پر جا پڑا۔ غازی علم الدین گرفتار کر لیے گئے۔ مقدمہ چلا۔ سیشن جج نے پھانسی کی سزا دی۔ ہائیکورٹ میں اپیل ہوئی مگر نتیجہ مختلف نہیں نکلا۔ انگریز جج ”براڈوے“ نے دلائل سننے کے بعد علم الدین کی سزائے موت بحال رکھی۔ غازی علم الدین کو 31 اکتوبر 1929ء کو تختہ دار پر چڑھایا جانا تھا۔ 30 اور 31 کی درمیانی شب جمعرات 26 جمادی الثانی 1348ھ مطابق 31 اکتوبر 1929ء کو مجسٹریٹ نے غازی صاحب سے آخری خواہش دریافت کی۔ انھوں نے کہا صرف دو رکعت نماز شکر ادا کرنے کی اجازت دی جائے۔ دو رکعت نفل پڑھنے کے بعد کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے غازی علم الدین اپنے آقا ومولا حضرت محمد ﷺ کی ناموس کی حفاظت کرنے کی پاداش میں میانوالی جیل میں تختہ دار پر چڑھ گئے۔ اور ان کی بے مثال شہادت ہمیشہ کے لیے ضرب المثل بن گئی۔

غازی عبدالقیوم شہیدؒ

غازی عبدالقیوم خان ضلع ہزارہ میں 1911ء یا 1912ء میں پیدا ہوئے۔ بچپن سے ہی انھیں مذہبی تعلیم کا شوق تھا۔ جب ان کی عمر 21، 22 سال کی ہوئی تو 1934ء میں کراچی چلے گئے۔ ”روزگار فقیر“ کے مؤلف فقیر سید وحیدالدین صاحب اس واقعہ کی پوری تفصیل ان الفاظ میں لکھتے ہیں:

یہ 1933ء کے اوائل کا ذکر ہے، جب سندھ صوبہ بمبئی میں شامل تھا، ان دنوں آریہ سماج حیدرآباد (سندھ) کے سیکرٹری نتھورام نے ”ہسٹری آف اسلام“ کے نام کی ایک کتاب شائع کی، جس میں آقائے دو جہاں، سرکار دو عالم ﷺ کی شانِ اقدس میں سخت دریدہ دہنی کا مظاہرہ کیا گیا۔ مسلمانوں میں اس کتاب کی اشاعت کے سبب بڑا اضطراب پیدا ہوا، جس سے متاثر ہو کر انگریزی حکومت نے کتاب کو ضبط کیا اور نتھورام پر عدالت میں مقدمہ چلایا گیا، جہاں اس پر معمولی سا جرمانہ ہوا اور ایک سال کی سزا سنائی گئی۔ عدل و انصاف کی اس

صفحہ ٤٢

نرمی نے نتھورام کا حوصلہ بڑھا دیا اور اس نے ”وی ایم فیرس جوڈیشل کمشنر“ کے یہاں ماتحت عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی۔ کمشنر کی عدالت نے اس گندہ دہن، شاتم رسول کی ضمانت منظور کر لی۔ اس سے مسلمانوں کو بہت صدمہ ہوا۔ وہ بہت مضطرب اور فکرمند تھے کہ توہینِ رسول ﷺ کے اس فتنے کا سدباب آخر کس طرح کیا جائے۔ ہزارے کا رہنے والا عبدالقیوم نام کا ایک نوجوان تھا جو کراچی میں وکٹوریہ گاڑی چلاتا تھا۔ جو نا مارکیٹ کی کسی مسجد میں اس نے اس واقعہ کی تفصیل سنی اور یہ معلوم کر کے کہ ایک ہندو نے حضور سرورِ کائنات ﷺ کی توہین کی ہے، اس کے غم و اضطراب اور اندوہ و ملال کی کوئی حد نہ رہی۔ ستمبر 1934ء کا واقعہ ہے کہ مقدمہ اہانت رسول ﷺ کے ملزم ”نتھورام“ کی اپیل کراچی کی عدالت میں سنی جا رہی تھی، عدالت دو انگریز ججوں کے بینچ پر مشتمل تھی۔ عدالت کا کمرہ وکیلوں اور شہریوں سے بھرا ہوا تھا۔ غازی عبدالقیوم نہایت اطمینان کے ساتھ دوسرے تماشائیوں کے ساتھ وکلاء کی قطار کے پیچھے نتھورام کی برابر والی کرسی پر بیٹھا ہوا تھا کہ عین مقدمے کی سماعت کے دوران وہ اپنا تیز دھار چاقو لے کر نتھورام پر ٹوٹ پڑا اور اس کی گردن پر دو بھر پور وار کیے۔ نتھورام چاقو کے زخم کھا کر زور سے چیخا اور زمین پر لڑکھڑا کر گر پڑا۔ غازی عبدالقیوم نے پولیس کی گرفت سے بچنے اور فرار ہونے کی ذرہ برابر کوشش نہیں کی۔ اس نے نہایت ہنسی خوشی کے ساتھ اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کر دیا۔ انگریز جج نے ڈائس سے اتر کر اس سے پوچھا:

تم نے اس شخص کو کیوں قتل کیا؟

غازی عبدالقیوم نے عدالت میں آویزاں جارج پنجم کی تصویر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تصویر تمھارے بادشاہ کی ہے۔ کیا تم اپنے بادشاہ کی توہین کرنے والے کو موت کے گھاٹ نہیں اتارو گے؟ اس ہندو نے میرے آقا اور شہنشاہ کی شان میں گستاخی کی ہے جسے میری غیرت برداشت نہیں کر سکی۔

غازی عبدالقیوم پر مقدمہ چلا۔ اس نے اقبال جرم کیا۔ آخر کار سیشن جج نے اسے سزائے موت کا حکم سنایا۔ غازی عبدالقیوم نے فیصلہ سن کر کہا:

”جج صاحب! میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ مجھے موت کی سزا دی۔ یہ ایک جان کس گنتی میں ہے، اگر میرے پاس ایک لاکھ جانیں بھی ہوتیں، تو ناموس رسول ﷺ پر نچھاور کر دیتا۔ بالآخر فروری 1936ء کو غازی عبدالقیوم کو پھانسی دے دی گئی۔ لاکھوں کی تعداد

صفحہ ٤٣

میں مسلمانوں نے ان کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔ ناموس رسالت ﷺ پر اپنی جان نچھاور کرنے والے اس شہید کو بڑی عزت و تکریم کے ساتھ کراچی میوہ شاہ کے قبرستان میں ایک خاص چار دیواری کے اندر سپرد خاک کیا گیا۔

غازی مرید حسین شہیدؒ

غازی مرید حسین شہید 1915ء میں تحصیل چکوال میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام عبداللہ خان اور والدہ ماجدہ کا نام غلام عائشہ تھا۔ خاندانی شرافت، دینی تعلیم اور نیک سیرت والدہ کی تربیت نے آپ کو اسلام کا سچا شیدائی بنا دیا تھا۔ والد صاحب کے ہاں مولانا ظفر علی خان مرحوم کے اخبار ”زمیندار“ کا مطالعہ معمول تھا۔ جس میں آریہ سماج اور دوسری ہندو تحریکوں، پارٹیوں اور انجمنوں کی اسلام دشمنی پر مبنی خبریں اکثر پڑھتے اور دل ہی دل میں کڑھتے رہتے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کی غیرت مند طبیعت متعصب اور دریدہ دہن ہندوؤں سے سخت متنفر ہو گئی۔ 1936ء کی بات ہے کہ ایک روز چکوال میں آپ نے روزنامہ ”زمیندار“ میں ”پلول کا گدھا“ کے عنوان سے ایک المناک خبر پڑھی۔ خبر میں بتایا گیا تھا کہ شفاخانہ حیوانات ”پلول ضلع گڑگانواں“ کے انچارج ”ڈاکٹر رام گوپال“ نے نبی ﷺ کے بارے میں شرمناک دریدہ دہنی اور گستاخی کرتے ہوئے اپنے شفاخانہ کے ایک گدھے کا نام سرور کونین ﷺ کے نام نامی اسم گرامی پر رکھنے کی جسارت کر رکھی ہے۔ ہندوستان بھر میں جس جس کلمہ گو نے یہ خبر پڑھی یا سنی اس کا خون کھول اٹھا۔ مسلمانوں کے وہ زخم جو سوامی شردھانند، راجپال لاہوری اور ناتھورام سندھی نے پیغمبر اسلام ﷺ کی شان اقدس میں گستاخیاں کر کے 1926ء، 1929ء اور 1933ء میں لگائے تھے ہرے ہو گئے۔ اخبارات میں احتجاجی بیانات کا سلسلہ شروع ہوا لیکن سرکارِ برطانیہ پر ان بیانات کا صرف اتنا اثر ہوا کہ ایک گستاخ رسول (ﷺ) ڈاکٹر کو پلول گڑگانواں سے ہندوؤں کے قصبہ ”نارنوند“ ضلع حصار میں تبادلہ کر دیا۔ دوسری طرف غازی مرید حسین کی یہ حالت تھی وہ ماہی بے آب کی طرح بے چین تھے اور دل میں ٹھان لی تھی کہ وہ ڈاکٹر رام گوپال کو اس کی گستاخی کی سزا ضرور دیں گے۔ چنانچہ اپنے مرشد سے ملنے اور پھرتے پھراتے غریب الوطنی اور بے سروسامانی کے عالم میں سفر کی مشکلات کا مقابلہ کرتے منزل پر پہنچ گئے۔ ڈاکٹر رام گوپال ہٹا کٹا اور قد آور شخص تھا، جبکہ اس کے

صفحہ ٤٤

مقابلے میں غازی مرید حسین خاصے دبلے پتلے اور نحیف و نزار جسم کے مالک تھے۔ لیکن عشق رسالت اور جذبہ ایمانی نے ان کے اندر وہ جرأت بھر دی تھی جس کا مقابلہ ڈاکٹر رام گوپال نہ کر سکا۔ انھوں نے رام گوپال کو للکارا اس نے سنبھلنے کی کوشش کی۔ ہسپتال کا عملہ اور اس کے بیوی بچے بھی اسے بچانے کے لیے لپکے۔ لیکن غازی نے نعرۂ تکبیر بلند کیا اور کہا ”او موذی اٹھ اج محمد دا پروانہ آ گیا ای“ یہ کہتے ہوئے خنجر کے ایک ہی وار سے محبوب خدا ﷺ کے دشمن کو واصل جہنم کر دیا۔ یہ واقعہ 8 اگست 1936ء کا ہے۔ غازی مرید حسین نے اپنے آپ کو خود ہی گرفتاری کے لیے پیش کیا۔ مقدمہ چلا تو انھوں نے ہر موقع پر رام گوپال کے قتل کا واشگاف الفاظ میں اعتراف کیا۔ نتیجتاً آپ کو موت کا حکم سنایا گیا۔ لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی گئی مگر آپ کے اعتراف قتل کی وجہ سے سیشن کورٹ کا فیصلہ بحال رہا۔ شہادت کا دن مقرر ہونے پر آپ کو آبائی ضلع جہلم کی جیل میں لایا گیا۔ 18 رجب المرجب مطابق 24 ستمبر 1937ء بروز جمعۃ المبارک 9 بجے صبح عبداللہ کا نور نظر اور غلام عائشہ کا لخت جگر ”غازی مرید حسین“ ہنستا مسکراتا تختہ دار پر نمودار ہوا اور ناموس رسالت ﷺ پر قربان ہو گیا۔

غازی میاں محمد شہیدؒ

غازی میاں محمد 1915ء میں قصبہ تلہ گنگ میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام صوبیدار غلام محمد تھا جو اعوان برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ پہلی جنگِ عظیم چھڑی تو صوبیدار غلام محمد کو اپنی پلٹن کے ساتھ ملک سے باہر جانا پڑا۔ اسی دوران میاں محمد پیدا ہوئے۔ میاں محمد 5 سال کے تھے کہ ان کے والد گھر لوٹے اور پہلی بار اپنے جگر گوشے کو دیکھا۔ ابتدائی تعلیم انھوں نے اپنے علاقے میں ہی حاصل کی۔ ساتویں جماعت تک پڑھنے کے بعد ان کا دل تعلیم سے اچاٹ ہو گیا۔ 15 سال کے ہوئے تو ڈرائیوری سیکھنے کا شوق پیدا ہوا۔ ایک ٹرانسپورٹ کمپنی میں ملازم ہو گئے اور تلہ گنگ سے میانوالی جانے والی ایک بس چلانے لگے۔ لیکن بہت جلد اس کام سے بھی جی بھر گیا۔ 1931ء میں کوئٹہ چلے گئے اور ایک ٹھیکیدار کے ساتھ بطور منشی کام کرنے لگے۔ 1932ء میں گاؤں واپس آ گئے۔ 1933ء میں انڈین نیوی میں بھرتی ہو گئے۔ انڈین نیوی میں نوکری کرتے ابھی بمشکل ڈیڑھ برس ہی گزرا تھا کہ کھیل کے دوران ایک ساتھی کی بدکلامی کی وجہ سے بگڑ گئے اور ہاکی سے اسے پیٹ ڈالا۔ آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ

صفحہ ٤٤

مقابلے میں غازی مرید حسین خاصے دبلے پتلے اور نحیف و نزار جسم کے مالک تھے۔ لیکن عشق رسالت اور جذبہ ایمانی نے ان کے اندر وہ جرأت بھر دی تھی جس کا مقابلہ ڈاکٹر رام گوپال نہ کر سکا۔ انھوں نے رام گوپال کو للکارا اس نے سنبھلنے کی کوشش کی۔ ہسپتال کا عملہ اور اس کے بیوی بچے بھی اسے بچانے کے لیے لپکے۔ لیکن غازی نے نعرۂ تکبیر بلند کیا اور کہا ”او موذی اٹھ اج محمد دا پروانہ آ گیا ای“ یہ کہتے ہوئے خنجر کے ایک ہی وار سے محبوب خدا ﷺ کے دشمن کو واصل جہنم کر دیا۔ یہ واقعہ 8 اگست 1936ء کا ہے۔ غازی مرید حسین نے اپنے آپ کو خود ہی گرفتاری کے لیے پیش کیا۔ مقدمہ چلا تو انھوں نے ہر موقع پر رام گوپال کے قتل کا واشگاف الفاظ میں اعتراف کیا۔ نتیجتاً آپ کو موت کا حکم سنایا گیا۔ لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی گئی مگر آپ کے اعتراف قتل کی وجہ سے سیشن کورٹ کا فیصلہ بحال رہا۔ شہادت کا دن مقرر ہونے پر آپ کو آبائی ضلع جہلم کی جیل میں لایا گیا۔ 18 رجب المرجب مطابق 24 ستمبر 1937ء بروز جمعۃ المبارک 9 بجے صبح عبداللہ کا نور نظر اور غلام عائشہ کا لخت جگر ”غازی مرید حسین“ ہنستا مسکراتا تختہ دار پر نمودار ہوا اور ناموس رسالت ﷺ پر قربان ہو گیا۔

غازی میاں محمد شہیدؒ

غازی میاں محمد 1915ء میں قصبہ تلہ گنگ میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام صوبیدار غلام محمد تھا جو اعوان برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ پہلی جنگ عظیم چھڑی تو صوبیدار غلام محمد کو اپنی پلٹن کے ساتھ ملک سے باہر جانا پڑا۔ اسی دوران میاں محمد پیدا ہوئے۔ میاں محمد 5 سال کے تھے کہ ان کے والد گھر لوٹے اور پہلی بار اپنے جگر گوشے کو دیکھا۔ ابتدائی تعلیم انھوں نے اپنے علاقے میں ہی حاصل کی۔ ساتویں جماعت تک پڑھنے کے بعد ان کا دل تعلیم سے اچاٹ ہو گیا۔ 15 سال کے ہوئے تو ڈرائیوری سیکھنے کا شوق پیدا ہوا۔ ایک ٹرانسپورٹ کمپنی میں ملازم ہو گئے اور تلہ گنگ سے میانوالی جانے والی ایک بس چلانے لگے۔ لیکن بہت جلد اس کام سے بھی جی بھر گیا۔ 1931ء میں کوئٹہ چلے گئے اور ایک ٹھیکیدار کے ساتھ بطور منشی کام کرنے لگے۔ 1932ء میں گاؤں واپس آ گئے۔ 1933ء میں انڈین نیوی میں بھرتی ہو گئے۔ انڈین نیوی میں نوکری کرتے ابھی بمشکل ڈیڑھ برس ہی گزرا تھا کہ کھیل کے دوران ایک ساتھی کی بدکلامی کی وجہ سے بگڑ گئے اور ہاکی سے اسے پیٹ ڈالا۔ آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ

صفحہ ٤٥

چلا اور ملازمت سے برطرف کر دیے گئے۔ 2 جنوری 1935ء کو بلوچ رجمنٹ میں بطور سپاہی بھرتی ہوئے۔ ابتدائی ٹریننگ کراچی میں مکمل کرنے کے بعد اسی سال اکتوبر میں مدراس بھیج دیے گئے۔ یہ 16 مئی 1937ء کی شب کا واقعہ ہے کہ مدراس چھاؤنی میں ڈیوٹی سے فارغ فوجی سپاہی مختلف گروپوں میں خوش گپیوں میں مشغول تھے۔ ایک طرف چند مسلمان نعت رسول کریم ﷺ سننے میں محو تھے۔ اتفاق سے جو شخص نعت شریف سنا رہا تھا وہ ایک ہندو تھا، جو بڑی خوش الحانی اور عقیدت مندی کے ساتھ نعت سنا رہا تھا۔ قریب ہی ایک ہندو ڈوگرے سپاہی نے ایک ہندو کو اس طرح عقیدت مندی کے ساتھ نعت پڑھتے سنا تو مارے تعصب کے جل کر کباب ہو گیا۔ اس نے با آواز بلند آنحضور ﷺ کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے کہا ”محمد کو چھوڑو...... اور کسی اور کا ذکر کرو“ تو تو ہندو دھرم کا مجرم ہے تیرا پاپ معاف نہیں کیا جا سکتا۔ مسلمان سپاہیوں نے ڈوگرہ سپاہی کی بدزبانی سنی تو صبر کا گھونٹ پی کر رہ گئے۔ لیکن میاں محمد اپنے آقا کی شان میں یہ گستاخی سن کر تڑپ اٹھے اور جواباً کہا۔ تیرے ہم مذہب کو یہ سعادت نصیب ہوئی ہے کہ وہ حضور ﷺ کے نام مبارک سے اطمینان قلبی حاصل کرے اس لیے وہ نعت پڑھ رہا ہے۔ تجھے اپنے خبیث باطن کی وجہ سے یہ بات پسند نہیں تو یہاں سے چلا جا مگر آئندہ ایسی بکواس نہ کرنا۔ یہ سن کر ڈوگرہ سپاہی بولا میں تو بار بار ایسا ہی کہوں گا تم سے جو ہوتا ہے کر لو۔ یہ بے ہودہ جواب سن کر غازی میاں محمد کا خون کھول اٹھا۔ انھوں نے بڑی مشکل سے اپنے آپ پر قابو پاتے ہوئے کہا کہ آئندہ اپنی ناپاک زبان سے ہمارے نبی اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کا جملہ کہنے کی جرأت نہ کرنا۔ ورنہ یہ بدتمیزی تجھے بہت جلد ذلت ناک موت سے دوچار کر دے گی۔ ڈوگرے سپاہی نے پھر ویسا ہی تکلیف دہ جواب دیا۔ اور کہا مجھے ایسی گستاخی سے روکنے کا تمھیں کوئی حق نہیں ہے۔ غازی میاں محمد سیدھے اپنے حوالدار کے پاس گئے، یہ بھی ہندو تھا۔ آپ نے اس سے تمام واقعہ بیان کیا اور کہا اگر ”چرن داس“ (ہندو ڈوگرہ) نے برسرعام معافی نہ مانگی تو اپنی زندگی سے کھیلنا مجھ پر فرض ہو جاتا ہے۔ ہندو حوالدار نے اس نازک مسئلے پر کوئی خاص توجہ نہ دی۔ میاں محمد حوالدار کی یہ سرد مہری دیکھ کر سیدھے اپنی بیرک میں پہنچے۔ نماز عشاء ادا کی۔ نماز سے فارغ ہو کر گارڈ روم گئے، اپنی رائفل نکالی، میگزین لوڈ کیا اور باہر نکلتے ہی چرن داس کو للکار کر کہا اب بتا نبی اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے پر میں باز پرس کرنے کا حق رکھتا ہوں یا نہیں؟ یہ سن کر شاتم رسول ”چرن داس“ نے بھی جو

صفحہ ٤٦

بندوق اٹھائے ڈیوٹی دے رہا تھا رائفل کا رخ میاں محمد کی طرف موڑا۔ لیکن اگلے ہی لمحے ناموسِ رسالت کے شیدائی کی گولی چرن داس کو ڈھیر کر چکی تھی۔ رائفل کی 10 گولیاں جسم سے پار کرنے کے بعد غازی میاں محمد نے سنگین کی نوک سے اس کے منہ پر پے در پے وار کیے۔ سنگین سے وار کرتے ہوئے وہ کہتے جاتے تھے ”اس ناپاک منہ سے تو نے میرے پیارے رسول ﷺ کی شان میں گستاخی کی تھی۔“ غازی میاں محمد نے رائفل پھینک کر خود کو گرفتاری کے لیے پیش کیا۔ اگلے روز 17 مئی 1937ء کو مقدمے کی تفتیش کے لیے غازی میاں محمد کو پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ ابھی 10 دن پولیس کی حراست میں رہے تھے کہ کمانڈر انچیف (جی ایچ کیو دہلی) کا حکم آیا کہ میاں محمد پر فوجی قانون کے تحت مقدمہ چلایا جائے۔ 16 اگست 1937ء کو غازی میاں محمد کا جنرل کورٹ مارشل شروع ہوا۔ 5 دن کارروائی ہوتی رہی۔ کل 18 گواہوں کے بیانات قلمبند ہوئے۔ 3 ڈاکٹروں کی شہادت بھی ریکارڈ پر آئی۔ 23 ستمبر 1937ء کو پلٹن میں غازی میاں محمد کو موت کا حکم سنایا گیا۔ تمام اپیلیں مسترد ہونے کے بعد 12 اپریل 1938ء کو انھیں سزائے موت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ 11 اپریل کو انھیں مدراس سول جیل لے جایا گیا۔ رات بھر آپ عبادت میں مشغول رہے۔ تہجد کے بعد غسل فرمایا۔ سفید لباس زیب تن کیا۔ نمازِ فجر ادا کی۔ پھر آپ کو تختہ دار کی طرف لے جایا گیا۔ تختہ دار پر کھڑا ہوتے ہی آپ نے نعرہ تکبیر بلند کیا، پھر مدینہ منورہ کی طرف رخ کر کے فرمایا۔ سرکار ﷺ میں حاضر ہوں۔ پھانسی کا پھندا آپ کے گلے میں ڈال دیا گیا، تختہ دار کھینچ لیا گیا۔ اگلے ہی لمحے عاشقِ رسول کی بے قرار روح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی۔ یہ واقعہ 10 صفر المظفر 1357ھ بمطابق 12 اپریل 1938ء بروز منگل صبح 5 بج کر 45 منٹ پر رونما ہوا۔ شہادت کے وقت غازی میاں محمد کی عمر صرف 23 سال تھی۔

قاضی عبدالرشید شہیدؒ

قاضی عبدالرشید شہید پیشہ کے لحاظ سے خوش نویس تھے۔ لمبا قد، چھریرا جسم، گندمی رنگ، لمبا چہرہ، کرتا پاجامہ، ترکی ٹوپی، یہ ان کی عام پوشاک تھی، اور دہلی سے شائع ہونے والے اخبار ”ریاست“ میں کتابت کے فرائض انجام دیتے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب ہندوستان میں بڑے بڑے ہندو لیڈروں کے عملی اشتراک، اشیرباد اور بھاری سرمائے سے مسلمانوں کے خلاف شدھی اور سنگٹھن کی تحریکیں شروع تھیں۔ شدھی کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو جو

صفحہ ٤٧

ہندوؤں کے بیان کے مطابق پہلے ہندو نسل سے تعلق رکھتے تھے، اسلام سے منحرف کر کے دوبارہ ہندو بنا لیا جائے اور سنگٹھن کا مقصد یہ تھا کہ ہندوستان سے مسلمانوں کا وجود ختم کرنے کے لیے نہ صرف مختلف مکاتب فکر کے ہندوؤں بلکہ سکھوں اور بدھوں کو عظیم تر ہندو قومیت کے نام پر متحد کیا جائے اور مسلمانوں کے خلاف جارحانہ حملوں کے لیے فوجی نوعیت کے مسلح دستے مرتب کیے جائیں۔ اس تحریک کے پس منظر میں ایک شخص ”شردھانند“ پوری سرگرمی سے لگا رہا۔ اسنے ہندو اخبارات میں مسلمانوں کے خلاف اور قرآن مجید کے بارے میں توہین آمیز تحریریں شائع کروانی شروع کیں۔ اسی شردھانند کی سازش سے ایک اخبار ”گرو گھنٹال“ جاری کیا گیا، جس کا مقصد مسلمانوں اور ان کے مقدس رہنماؤں کو انتہائی شرمناک الفاظ میں گالیاں دینا تھا۔ شردھانند کے ایک چیلے نے ”جڑپٹ“ کے نام سے ایک کتاب لکھی جس میں حضور سرکار دو عالم ﷺ اور دیگر انبیائے کرام خاص کر حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت لوط علیہ السلام، حضرت ایوب علیہ السلام اور حضرت اسحاق علیہ السلام کی شان میں اس قدر سخت گستاخیاں بالکل عریاں الفاظ میں کی گئی تھیں کہ اس کا تصور ہی دہلا دیتا ہے۔ مسلمانوں کے سینوں میں بھی دل تھا اور وہ ہندو رہنماؤں کی ناپاک حرکتوں سے سخت پریشان اور نالاں تھے۔ قاضی عبدالرشید اپنے دفتر میں آریہ سماجیوں کے جو اخبارات و رسائل اور دیگر پمفلٹ وغیرہ تبادلہ کی غرض سے آتے تھے انھیں بڑے غور و سنجیدگی سے پڑھتے۔ آریہ سماجیوں کی نجس و ناپاک حرکتوں سے قاضی عبدالرشید کے جذبات بے انتہا مجروح ہو چکے تھے۔ ”شردھانند“ کے قتل سے تین چار دن پہلے قاضی عبدالرشید گم سم رہنے لگے۔ کام میں دل نہ لگتا۔ جب تک جی چاہتا کتابت کرتے، اور جب چاہتے برآمدے میں بچھے ہوئے پلنگ پر لیٹ جاتے۔ جمعرات 23 دسمبر 1925ء کو اخبار کی آخری کاپی پریس بھیجنے کے لیے جوڑی جا رہی تھی۔ دفتر کا وقت 9 بجے مقرر تھا، مگر دن کے ساڑھے گیارہ بج رہے تھے اور منشی قاضی عبدالرشید کا دور دور تک کوئی پتہ نہ تھا۔ چند اشتہاروں کے چربے اور مسودے انہی کے پاس تھے۔ قاضی صاحب دفتر میں دیر سے پہنچے تو ہیڈ کاتب منشی نذیر حسین میرٹھی نے اعتراض کیا، جس پر وہ برہم ہو گئے اور بولے مجھے نوکری کی پرواہ نہیں۔ لکھ دو اپنے سردار کو میں کام نہیں کرتا۔ یہ کہہ کر اٹھے، قلمدان بغل میں دبایا اور چل دیے۔ 4، 5 بجے سہ پہر کے درمیان ”دریبہ“ کے ہندو علاقے میں سنسنی اور بے چینی پھیل گئی۔ ساڑھے 5 بجے شام کے درمیان روزنامہ ”تیج“ کا ضمیمہ شائع ہوا جس

صفحہ ٤٨

میں شردھانند کے قتل کی تفصیلات کے ساتھ قاضی عبدالرشید کی تصویر بھی شائع ہوئی تھی۔ ہتھکڑیاں پہنے چادر لپیٹے وہ پولیس کی حراست میں کھڑے تھے۔ تفصیلات سے معلوم ہوا کہ قاضی صاحب اپنے دفتر سے سیدھے شردھانند کے دفتر گئے تھے اور اسے گولی کا نشانہ بنا دیا۔ قاضی صاحب نے عدالت میں اقبال جرم کیا۔ 15 مارچ 1926ء کو سیشن کورٹ سے پھانسی کی سزا کا حکم سنایا گیا۔ لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی گئی مگر مسترد ہو گئی اور جولائی 1927ء کے آخری ہفتے یا اگست کے اوائل میں قاضی عبدالرشید نے دہلی سنٹرل جیل میں پھانسی کے تختے پر جام شہادت نوش کیا۔ ان کی تدفین معروف روحانی شخصیت حضرت خواجہ باقی باللہ کے مزار سے ملحق قبرستان میں ہوئی۔

غازی عبداللہ شہیدؒ

غازی صوفی عبداللہ کا تعلق جولاہا قوم سے تھا اور وہ موضع پٹی تحصیل وضلع قصور کا رہنے والا تھا۔ ”اس کا چہرہ خوبصورت، رنگ گورا اور بھری بھری سیاہ داڑھی تھی۔ جو نہایت ہی بھلی لگتی تھی۔ جس وقت اسے باعث صد افتخار مہم کے لیے پروانہ ماموریت ملا تو عمر تیس بتیس سے متجاوز نہ تھی۔ گویا ایک لحاظ سے عین عالم شباب تھا جب غازی عبداللہ کو اس امر ناگزیر پر مامور فرمایا گیا۔ چک 24 تھانہ خانقاہ ڈوگراں تحصیل وضلع شیخوپورہ میں اس کا پیر خانہ تھا۔ اور مذکورہ چک کی ملحقہ آبادی چک نمبر ”24 چھوٹی“ میں حرماں نصیب و بد بخت و بدطینت و بد باطن مسلمان جٹ ”نور محمد کاہلوں“ رہتا تھا جو قریب کے ایک گاؤں موضع ہرتالہ کی ایک عورت کے دام فریب میں پھنس کر دائرہ اسلام سے خارج ہو گیا تھا اور پھر حضرت امام الانبیاء رحمۃ للعالمین ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی و اہانت کرتا اور مغلظات بکتا رہتا تھا۔

1938ء میں رونما ہونے والے اس واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ ضلع شیخوپورہ کے ایک گاؤں میں جو چک نمبر ”24 چھوٹی“ کے نام سے موسوم ہے، وہاں کے ساکن ایک شخص مسمی نور محمد جٹ کاہلوں کے ایک شادی شدہ مسلمان عورت سے ناجائز تعلقات استوار ہو گئے جو قریب کے ایک موضع ہرتالہ کی رہنے والی تھی۔ دونوں ایک دوسرے کو چاہنے لگے اور کوشاں رہنے لگے کہ کسی طرح ان کی آپس میں شادی ہو جائے۔ لیکن عورت چونکہ پہلے ہی شادی شدہ تھی، اس لیے انھوں نے مشورہ کیا کہ اگر اسلام سے منہ موڑ لیں اور عیسائیت اختیار کر لیں تو یہ

صفحہ ٤٩

مرحلہ طے ہوسکتا ہے چنانچہ انھوں نے ”سانگلہ ہل“ جا کر ایک عیسائی پادری کے ہاتھوں عیسائیت اختیار کر لی۔ مگر پھر بھی ان کی خواہش کے مطابق مسئلہ حل نہ ہوا تو بالآخر دونوں بھاگ کر امرتسر چلے گئے اور سکھ مذہب میں داخل ہو گئے۔ بدقماش نورجٹ نے اپنا نام چنچل سنگھ اور بدکار عورت نے دلجیت کور رکھ لیا اور کچھ عرصہ امرتسر میں قیام کر کے سکھ مذہب کے قواعد وضوابط کی تھوڑی بہت واقفیت حاصل کر لی۔ بعد ازاں چک نمبر ”24 چھوٹی“ میں آ کر آباد ہو گئے، جہاں بیشتر آبادی سکھوں کی تھی۔ سکھ ان کو ہمیشہ مشکوک نظروں سے دیکھتے اور باوجود ان کی یقین دہانی کے کہ وہ واقعی دل سے سکھ مذہب اختیار کر چکے ہیں، سکھوں نے انھیں تسلیم نہ کیا اور چند شرائط پیش کیں، جن میں سے ایک یہ تھی کہ وہ سرعام جھٹکے کا گوشت کھائیں۔ اس بدبخت و بدقسمت جوڑے نے جھٹکے کا گوشت کھا کر یہ شرط پوری کر دی۔ اس کے بعد سکھوں نے دوسری شرط یہ پیش کی کہ اب سور کا گوشت کھاؤ۔ ان دونوں نے اعلانیہ سور کا گوشت بھی کھا لیا۔ لیکن سکھوں کو اتنی سخت شرائط منوا لینے کے باوجود بھی ان کی طرف سے دلجمعی نہ ہوئی۔ لہٰذا یہ طے پایا کہ ایک بڑا اجتماع جسے سکھ لوگ ”اکھنڈ پاٹھ“ کے نام سے موسوم کرتے ہیں، منعقد کیا جائے اور یہ دونوں اس اجتماع میں سرِ عام پیغمبر اسلام ﷺ کی بے حرمتی کریں (نعوذ باللہ من ذالک) چنانچہ وہ دونوں یہ بھی کر گزرے۔ مگر اس حرکت سے آس پاس کے دیہات کے مسلمانوں کی سخت دلآزاری ہوئی۔ ان کی غیرتِ اسلامی جاگ اٹھی اور سارے علاقے میں ہیجان پھیل گیا، جس پر سکھوں نے مسلمانوں کے مجمع عام سے اس بیہودہ و ناپسندیدہ حرکت کی معافی مانگی، مگر مسلمانوں کی تسلی وتشفی نہ ہوئی۔

اس موقع پر غازی صوفی عبداللہ انصاری کی رگِ حمیت پھڑکی۔ وہ پکا مسلمان اور سچا عاشقِ رسول ﷺ تھا۔ اس نے مسلمانوں سے کہا کہ ان مرتدین نے جو گناہِ عظیم کیا ہے، اس کی معافی تو اللہ پاک یا نبی کریم ﷺ کے سوا کوئی دوسرا شخص دینے کا مجاز وحق دار نہیں۔ لیکن انھوں نے جو گستاخی حضور شہنشاہ کونین ﷺ کی بابت کی ہے، اس کی سزا انھیں اسی دنیا میں ملنی چاہیے۔ اور یہ سزا انھیں میں دوں گا۔ میں بحیثیت ایک ادنیٰ غلامِ سرکارِ مدنیہ کے ان کو واصلِ جہنم کروں گا۔ بالآخر اس نے کہیں سے ایک معمولی چھری حاصل کر لی، اسے تیز کیا اور اس راز کو سینے میں چھپائے چک نمبر ”24 چھوٹی“ کی طرف چل دیا۔ اتفاقاً اسے راستے میں چنچل سنگھ کا حقیقی بھائی نتھو مل گیا۔ عبداللہ نہ چنچل سنگھ کو جانتا تھا اور نہ نتھو کو۔ بہرحال عبداللہ کے

صفحہ ٥٠

دریافت کرنے پر نتھو نے اشارے سے بتایا کہ وہ دیکھو سامنے چنچل سنگھ اپنے کھیت میں کام کر رہا ہے۔ غریب الوطن مرد مجاہد اس کی جانب سیدھا ہو گیا اور اسے دُور ہی سے للکار کر کہا کہ تیار ہو جاؤ عاشق رسول آن پہنچا ہے۔ قوی ہیکل اور ہٹا کٹا چنچل سنگھ جو ہر وقت کرپان سے مسلح رہتا تھا، کرپان سونت کر عبداللہ کی طرف حملے کے لیے بڑھا اور کرپان کا وار بھی کیا مگر وار خالی گیا۔ ادھر اللہ کے شیر نے نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے قوت ایمانی کے جوش اور عشق نبی ﷺ کے زور سے چھری کے ساتھ حملہ کیا اور پہلے ہی وار میں گستاخ رسول ﷺ چنچل سنگھ کا پیٹ چاک کر ڈالا۔ وہ زمین پر گر کر تڑپنے لگا۔ قریب ہی کھیتوں میں اس کی چہیتی بیوی وجیت کور کام کر رہی تھی۔ عبداللہ نے اسے للکارا تو وہ بھاگ نکلی مگر عبداللہ نے اسے بھی کچھ ہی فاصلے پر جالیا اور سر کے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے چنچل سنگھ کے قریب لا کر ذبح کر دیا۔ غازی عبداللہ کو گرفتار کر لیا گیا۔ چالان مکمل ہونے کے بعد مقدمہ سیشن کورٹ کے سپرد ہوا تو وہاں بھی مرد مجاہد نے بصد خوشی اقبال جرم ہی کیا۔ عدالت نے اقبال جرم کے پیش نظر صوفی عبداللہ انصاری کو سزائے موت سنائی۔ پھر اس جرم کی پاداش میں غازی صوفی عبداللہ انصاری کو لاہور جیل میں پھانسی دے دی گئی۔ اور اس شہید ملت کی میت کو گمنامی کی حالت میں موضع پٹی حال تحصیل امرتسر (بھارت) میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

غازی محمد صدیق شہیدؒ

”غازی محمد صدیق شہیدؒ کا تعلق شیخ برادری سے تھا۔ شمع نبوت کے اس شیدائی کی ولادت با سعادت 1914ء کے درمیانی مہینوں میں ہوئی۔ پانچ سال کا ہو جانے پر انھیں مسجد میں بٹھایا گیا۔ 1925ء تک دینی تعلیم کے علاوہ آپ پانچویں جماعت بھی پاس کر چکے تھے۔ چونکہ آپ کے والد ماجد شیخ کرم الٰہی فیروز پور چھاؤنی میں جو قصور سے قریباً پندرہ میل کے فاصلے پر ہے، کچے چمڑے کا آبائی پیشہ اختیار کیے ہوئے تھے۔ وہ اپنے اہل و عیال کو بھی ساتھ لے گئے۔ غازی صاحب کو چھاؤنی کے قریب ہی ایک تعلیمی ادارے میں داخل کرایا گیا، جہاں آپ تین سال تک زیر تعلیم رہے اور آٹھویں کا امتحان پاس کیا۔ اسی دوران آپ کے والد گرامی چند روز کی ناسازی طبیعت کے بعد جہانِ فانی سے کوچ فرما گئے۔ غازی محمد صدیق شہیدؒ کی والدہ محترمہ کا نام عائشہ بی بی تھا۔ آپ بڑی نیک سیرت اور حوصلہ مند خاتون تھیں۔ حوصلہ مند خاتون تھیں۔ مند

صفحہ ٥١

ان کی تربیت کا اثر موصوف کے تاریخی عمل سے 1935ء میں سامنے آیا جب شمع رسالت کے یہ پروانے تختہ دار کو رونق بخش گئے۔

روزنامہ ”انقلاب“ لاہور کی 7 ستمبر 1938ء کی اشاعت کے مطابق مسمی ”پالامل“ نے حضور نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخیوں اور بے ادبیوں کا کھلم کھلا سلسلہ شروع کر رکھا تھا۔ 16 مارچ کو جب لوگ نماز پڑھ رہے تھے تو ”پالامل“ نے نہ صرف نماز کا مضحکہ اڑایا بلکہ سرکار مدینہ ﷺ کی ذات اقدس کے متعلق نازیبا کلمات کہے۔ شان رسالت مآب ﷺ میں صریحاً گستاخی کی اس قبیح حرکت پر پورے شہر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ معززین کے مشورے پر محمد کلیم پیر صاحب نے عدالت میں استغاثہ دائر کر دیا۔ ”مسٹر ٹیل“ مجسٹریٹ درجہ اول لاہور نے بڑی تندہی سے اس مقدمے کی موشگافیوں کو پیش نظر رکھا۔ بالآخر فریقین کے دلائل سننے کے بعد مجسٹریٹ مذکور نے اپنے فیصلے میں لکھا ”میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ملزم نے واقعی توہین رسالت مآب ﷺ کی ہے، جس سے مسلمانوں کے جذبات مشتعل ہوئے اور سخت فساد کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ اس لیے پالامل کو چھ ماہ قید اور دو سو روپے جرمانہ کی سزا دی جا رہی ہے۔

10 ستمبر 1934ء کی بات ہے غازی محمد صدیق نے اپنی والدہ ماجدہ سے عرض کی کہ ”مجھے خواب میں ایک دریدہ دہن کافر دکھلا کر بتایا گیا ہے کہ ناہنجار توہین نبوی ﷺ کا مرتکب ہو رہا ہے۔ اسے گستاخی کا مزہ چکھاؤ تاکہ آئندہ کوئی شاتم اس امر کی جرات نہ کر سکے۔ میں قصور اپنے ماموں کے پاس جا رہا ہوں۔ گستاخ موذی وہیں کا رہنے والا ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ اس ذلیل کتے کی ذلت ناک موت میرے ہی ہاتھوں واقع ہوگی۔ نیز مجھے تختہ دار پر جام شہادت پلایا جائے گا۔

17 ستمبر 1934ء کی شام کا واقعہ ہے کہ غازی محمد صدیق مزار حضرت بابا بلھے شاہ کے نزدیک نیم کے درخت سے ٹیک لگائے کھڑے تھے۔ عقابی نگاہیں آنے جانے والوں کا بغور جائزہ لے رہی تھیں۔ اتنے میں ایک ایسا شخص دکھائی دیا، جس نے چہرے پر کسی حد تک نقاب اوڑھ رکھا تھا۔ آپ نے جھٹ اس کی راہ روکی اور پوچھا ”تو کون ہے اور کہاں سے آیا ہے؟ یہاں کیا کرتا ہے؟“ اسے اپنا نام بتانے میں تامل تھا۔ نوبت ہاتھا پائی تک پہنچی۔ آپ کو تنہا دیکھ کر اسے بھی حوصلہ ہوا۔ وہ کہنے لگا ”مسلمانوں نے میرا کیا بگاڑ لیا ہے اور اب کون سی قیامت آجائے گی۔“ الغرض غازی موصوف نے اسے پہچان لیا کہ یہی وہ گستاخ رسول ﷺ

صفحہ ٥٢

ہے جسے ٹھکانے لگانے پر اسے مامور کیا گیا ہے۔ غازی نے کہا ”میں تاجدار مدینہ ﷺ کا غلام ہوں۔ کئی دنوں سے تیری تلاش میں تھا۔ اے دہن دریدہ پلید! آج تو کسی طرح بھی ذلت ناک موت سے نہیں بچ سکتا۔“ یہ کہہ کر آپ نے تہہ بند سے رمبی (چمڑا کاٹنے کا اوزار) نکالی اور للکارتے ہوئے اس پر حملہ آور ہو گئے۔ غازی محمد صدیق متواتر وار کیے جا رہے تھے۔ واقعات کے مطابق پورے ساڑھے سات بجے بارگاہِ رسالت ﷺ میں گستاخی کرنے والا یہ خناس شخص، جسے لوگ ”لالہ پالامل شاہ“ کے نام سے جانتے تھے، اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا۔“

مقتول مردود کے واویلا اور آپ کے نعرہ ہائے تکبیر سے کثیر تعداد میں لوگ اس جانب متوجہ ہو چکے تھے۔ عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ ”غازی اس وقت تک ملعون ساہوکار کی چھاتی سے نہیں اترے، جب تک موت کا پختہ یقین نہیں ہو گیا۔ قتل کے الزام میں غازی محمد صدیق کو گرفتار کر لیا گیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں تو انھوں نے کہا: ”بلاشبہ پالامل کو میں نے قتل کیا ہے کیونکہ اس ملعون نے رسول کریم ﷺ کی توہین کی تھی۔ ہمارے مذہب کے مطابق وہ ہرگز مسلمان نہیں بلکہ کوئی منافق ہے، جو نبی پاک ﷺ کی توہین سن کر خاموش رہے اور عصمتِ رسول ﷺ پر جان قربان نہ کرے۔ کسی اور شخص کی ذات کا مسئلہ ہو تو برداشت ہو سکتا ہے، دنیوی امور میں کسی بھی فرد کی شان میں بکواس پر چپ رہا جا سکتا ہے لیکن سرکارِ مدینہ ﷺ کے مقام و مرتبہ پر ہرزہ سرائی کرنے والوں کے خلاف غیظ و غضب، جوش و ولولہ اور غصہ کسی حال میں بھی کم نہیں ہو سکتا۔ عدالت جو بھی سزا دے مجھے قطعاً حزن و ملال نہ ہوگا۔

سیشن کورٹ میں غازی محمد صدیق کے لیے سزائے موت کا حکم سنایا گیا۔ زندہ دلانِ قصور نے اس فیصلہ کے خلاف ہائی کورٹ لاہور میں اپیل گزار دی۔

عدالتِ عالیہ میں 31 جنوری 1935ء کو سماعت ہوئی۔ فیصلہ صادر کرنے کے لیے ایک ڈویژنل بینچ تشکیل دیا گیا۔ اس میں چیف جسٹس اور جسٹس عبدالرشید شامل تھے۔ فیصلہ کے طور پر سیشن کورٹ کا حکم بحال ہوا۔

جیل حکام سے روایت ہے کہ تختہ دار پر آپ کی زبان پر آخری الفاظ یہ جاری تھے: ”میرے اللہ تیرا ہزار شکر ہے کہ تو نے اپنے حبیب پاک ﷺ کی عظمت کے تحفظ کے لیے مجھ ناچیز کو کروڑوں مسلمانوں میں سے منتخب فرمایا۔“

صفحہ ٥٣

قربان گاہ میں خونِ دل کی حدت سے مشعل وفا کو فروزاں رکھنے والے اس خوبرو مجاہد کی عمر اس وقت صرف اکیس سال تھی۔

غازی بابو معراج دین شہیدؒ

غازی بابو معراج دین شہیدؒ 1921ء میں اندرون لوہاری گیٹ لاہور کے محلہ چڑی ماراں میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام چوہدری اللہ دتہ تھا، کمبوہ قوم سے تعلق رکھتے تھے۔ بہت محنت کش لوگ تھے۔ غازی معراج دین نے اپنی ابتدائی تعلیم مدرسہ اسلامیہ لوہاری گیٹ سے حاصل کی۔ آپ کو ابتدا ہی سے اسلام سے گہرا لگاؤ تھا اور بہت حساس طبیعت کے مالک تھے۔

1951-52ء میں ختم نبوت کی تحریک زوروں پر تھی اور آپ کے دل میں عشق رسول ﷺ موجزن۔ چنانچہ اسی جذبے کے تحت تحریک میں بھر پور طریقے سے حصہ لینا شروع کر دیا۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کا شمار اس تحریک کے بانیوں میں سے ہوتا تھا۔ آپ ایک شعلہ بیان مقرر تھے۔ بابو معراج دین کو شروع ہی سے شاہ جیؒ سے بڑی عقیدت تھی، ان کے جلسے اور جلوسوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے لگے۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ بھی ان کے اخلاص و محبت کے سبب بابو معراج دین سے دلی پیار کرتے تھے۔

6 مارچ 1952ء بروز جمعۃ المبارک کو یہ واقعہ رونما ہوا کہ معراج دین نے جمعہ کی نماز کے بعد مسجد تکیہ لہری شاہ کے باہر لوگوں کو اکٹھا کیا۔ علاقہ کی ایک بزرگ شخصیت بابا فتح محمدؒ نے اس اجتماع میں ایک ولولہ انگیز تقریر کی۔ بابا جی کی قیادت میں یہ اجتماع جلوس کی شکل اختیار کرتے ہوئے مسجد وزیر خان کی طرف روانہ ہوا۔ بابا جی نے چند قدم اس جلوس کی قیادت کی، چونکہ آپ بہت کمزور تھے آپ نے جلوس کی قیادت معراج دین کے سپرد کر دی اور معراج دین کو دعا دیتے ہوئے الوداع کیا۔ جلوس میں اچھرہ، مزنگ اور گرد و نواح کے رہنے والوں نے شرکت کی۔ کوئی ایسا گھر نہ تھا جس نے اس جلوس میں حصہ نہ لیا ہو۔ حکومت اس تحریک ختم نبوت کو سختی سے کچل دینا چاہتی تھی چنانچہ مال روڈ پر جہاں آج سٹیٹ بنک کی نئی عمارت قائم ہے فوج نے اس جلوس کا راستہ روک لیا۔ ان کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس استعمال کی گئی۔ اسی دوران فوج نے گولی چلا دی۔ بابو معراج دین کو دائیں بازو

صفحہ ٥٤

پر پہلی گولی لگی۔ آپ نے اپنے ساتھیوں کو لیٹ جانے کا حکم دیا۔ اسی دوران دوسری گولی آپ کی چھاتی میں لگی۔ اس وقت آپ کے چھوٹے بھائی ”چوہدری محمد زکریا“ بھی آپ کے ساتھ ہی تھے۔ آپ نے چھوٹے بھائی کی گود میں اپنا سر رکھ کر جام شہادت نوش فرمایا۔ شہادت کے وقت آپ کی زبان پر کلمہ طیبہ کا ورد تھا۔ آپ کے جنازے میں لوگوں نے جوق در جوق شرکت کی۔ اچھرہ کی تاریخ میں یہ سب سے بڑا جنازہ تھا۔ آپ کو فیروز پور روڈ اچھرہ اڈا کے قبرستان میں پٹرول پمپ کے عقب میں سپرد خاک کیا گیا۔

غازی امیر احمد شہید، غازی عبداللہ شہید

پشاور میں پیدا ہونے والے غازی امیر احمد شہید کی عمر صرف 21 برس تھی جب اس نے زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ کیا تھا۔ غازی امیر احمد کے سامنے وہ کتاب آگئی تھی جس کے ٹائٹل پر نبی رحمت ﷺ کی فرضی تصویر بنانے کی جسارت کی گئی تھی۔ جبکہ کتاب کے اندر تحریر میں بھی ایسا زہر یلا مواد موجود تھا جو امیر احمد جیسے غیرت مند سپوت کے لیے ناقابل برداشت تھا، اسے معلوم ہوا کہ کتاب کلکتہ سے شائع ہوئی ہے چنانچہ اس نے پشاور سے کلکتہ جانے کا فیصلہ کرلیا وہ اپنے ہم عمر اور بچپن کے دوست غازی عبداللہ کے ساتھ سٹیشن کی جانب چل پڑا۔ راستے میں اس نے عبداللہ کو اپنے سفر کے مقصد سے بھی آگاہ کر دیا اور اپنی ضعیف والدہ کا خیال کرنے کی وصیت کی۔ عبداللہ نے امیر احمد سے کہا ہم دوست ہیں تو پھر تم مجھے دوستی نبھانے سے روک نہیں سکتے لہذا میں تمھیں سٹیشن پر چھوڑ کر واپس نہیں جاؤں گا اور کلکتہ ہم دونوں ہی اکٹھے جائیں گے۔ امیر احمد کو دوست کے سامنے ہار ماننا پڑی، دونوں کلکتہ جا پہنچے۔ سٹیشن سے سیدھے موسیٰ سیٹھ کے مسافر خانہ گئے وہاں قیام پذیر ہوئے۔ سامان رکھنے کے بعد ایک لمحہ ضائع کیے بغیر وہ توہین آمیز کتاب شائع کرنے والے ناشر کی تلاش میں نکل گئے۔ اس کتاب کا ناشر ہی اس کا مصنف بھی تھا اور اسی کے زیر اہتمام اس کی طباعت بھی عمل میں آئی تھی انھوں نے کتاب کے ناشر سے ملاقات کی اور کہا:

”اپنی کتاب سے فلاں حصہ نکال دو، اس سے ہم مسلمانوں کو تکلیف پہنچتی ہے اور ایک معذرت نامہ بھی شائع کرو تاکہ جن لوگوں کی تم نے دل آزاری کی ہے ان کی کچھ تسکین ہو جائے۔“

صفحہ ٥٥

کتاب کے ناشر نے کہا: ”کتاب میں ایک تصویر شائع ہو گئی تو کون سی قیامت آ گئی۔ تمھارے رسول کے خلاف ایک آدھ جملہ لکھ دیا تو کیا ہو گیا۔ تم کہتے ہو کہ میں نے غلطی کی ہے، لیکن میں غلطی ماننے کے لیے تیار ہی نہیں۔ میں نے جو کچھ لکھا ہے، ٹھیک ہی لکھا ہے۔ اگر میری تحریر سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو ہوا کرے۔ میں ایسا کبھی نہیں کر سکتا کہ معافی نامہ شائع کروں۔ اگر میری غلطی تسلیم بھی کی گئی تو اس کی سزا اتنی سنگین نہیں۔ میں اپنی غلطی کا ڈھنڈورہ نہیں پیٹ سکتا۔ تم جا سکتے ہو۔ تم میری دکان سے نکل جاؤ، میرا دماغ مت چاٹو۔“ ناشر کتاب کا یہ رویہ جذبہ ایمانی سے سرشار ایک سچے مسلمان پٹھان بیٹے کے لیے ناقابل برداشت تھا۔

امیر احمد خاں کی آنکھیں شعلے اگلنے لگیں، اس کا چہرہ گلنار ہو گیا، اس کی رگیں تن گئیں، اور وہ بے قابو ہو گیا۔ غلطی اور اس پر اصرار؟ گستاخی اور وہ بھی آقا ﷺ کی شان میں۔ اس نے ایک جست کی۔ عبداللہ بھی اپنی جگہ سے اچھلا۔ دونوں اس نامراد پر ٹوٹ پڑے۔ پھر ایک بجلی تھی جو چمک گئی، ایک خنجر تھا جو کلیجہ میں اتر گیا اور اب یہ دونوں سڑک پر کھڑی ٹریفک پولیس سے کہہ رہے تھے میں نے خون کیا ہے۔ میں قاتل ہوں مجھے گرفتار کر لو۔ پولیس مارے خوف و دہشت کے بھاگ کھڑی ہوئی۔ اب انھوں نے قریب کے تھانے کو فون سے اطلاع دی۔ میں فلاں مقام پر ٹھہرا ہوا ہوں، میں نے خون کیا ہے تم یہاں آ جاؤ تاکہ میں خود کو قانون کے حوالے کر سکوں۔ پھر دونوں گرفتار ہو گئے۔

عدالت میں مقدمہ چلا، ماہر قانون دان وکیلوں نے انھیں قانون کی زد سے بچانے کے لیے اپنی خدمات مفت پیش کیں، بیانات تبدیل کرنے کی ہزاروں تدبیریں سمجھائیں مگر غازی امیر احمد اور غازی عبداللہ کسی بھی طرح شہادت کا اعزاز پا لینے کا یہ سنہری موقع کھونا نہیں چاہتے تھے چنانچہ عدالت میں برملا اعتراف کرتے رہے، میں نے خون کیا ہے، میں ہی قاتل ہوں، میں نے ہی اس گستاخ کو اس کی گستاخی کی سزا دی ہے۔ اس کھلے اعتراف کے بعد کوئی گنجائش ہی کہاں باقی تھی لہٰذا قانون کی نگاہ میں دونوں مجرم ثابت ہوئے اور دونوں کے لیے ہی پھانسی کی سزا تجویز کی گئی۔ جس روز پھانسی کی سزا پر عمل درآمد ہونا تھا ان کے دیدار کے لیے ان دونوں کی مائیں بھی پشاور سے کلکتہ آ گئی تھیں۔

پھانسی کا پھندہ آہستہ آہستہ ان کی طرف بڑھ رہا تھا اور وہ ہنستے ہوئے جان دے۔

صفحہ ٥٦

رہے تھے۔ بالآخر انھوں نے جان دے ڈالی، وہ دونوں شہید ہو گئے۔ ان شہیدانِ محبت کی آخری آرام گاہیں کلکتہ کے گورا قبرستان میں ساتھ ساتھ ہیں۔

غازی عبدالمنانؒ

گستاخان رسول ﷺ شردھانند اور راجپال کو فدا کاران رسول ﷺ کے ہاتھوں عبرت ناک انجام کو پہنچے ہوئے ابھی چند برس ہی گزرے تھے کہ بدباطنوں نے ایک بار پھر زبان درازیوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔ یہ واقعہ جولائی 1937ء کے پہلے ہفتہ میں ضلع کیمبل پور کے علاقہ تھانہ حضرو سے تین میل دُور ایک گاؤں ”برہ زئی“ میں رونما ہوا تھا۔ جہاں ایک ادھیڑ عمر سبزی فروش ہندو ”بھیشو“ نے جس کا اصل نام بھوشن تھا، کسی خاتون گاہک کو سبزی فروخت کرتے ہوئے شانِ رسالت مآب ﷺ میں بلاوجہ بدزبانی کا ارتکاب کیا تھا۔ اس واقعہ کا پورے گاؤں میں چرچا ہوا۔ واقعہ کے تیسرے چوتھے روز گاؤں کا ایک اٹھارہ سالہ نوجوان عبدالمنان دوپہر کی چلچلاتی دھوپ میں ”غورغشتی“ کے مدرسہ سے صرف ونحو کا درس لے کر گھر پہنچا تو اس کے بڑے بھائی حافظ غلام محمود نے کہا کہ جب ذرا دھوپ ڈھل جائے تو مجھے سائیکل پر ”حضرو“ چھوڑ آنا، وہاں سے مجھے راولپنڈی کے لیے بس پکڑنی ہے۔ عبدالمنان نے کہا ٹھیک ہے آپ آرام کر لیں میں بھی مسجد میں جا کر سوتا ہوں۔ عبدالمنان گھر سے باہر نکلا تو کسی نے اسے سبزی فروش ہندو بھیشو کی شان رسالت مآب ﷺ میں گستاخی کا احوال بتایا اور کہا کہ بھیشو آج بھی گاؤں کی گلیوں میں ہانک لگاتا پھرتا ہے۔ عبدالمنان مسجد جاتا جاتا رک گیا۔ وہ ایک لمحہ کے لیے رکا اور پھر تیزی کے ساتھ اپنے قریبی دوست کے ہاں پہنچا اور اس سے وہ کمانی دار چاقو مانگا جو حال ہی میں اس نے خرید کیا تھا۔ عبدالمنان چاقو لے کر اپنے شکار کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ بھوشن عرف بھیشو اس دوران گاؤں سے باہر کھلے کھیتوں سے ہوتا ہوا خاصا دور جا چکا تھا۔ عبدالمنان نے تعاقب کیا اور کھیتوں سے پرے گھنے درختوں کے جھنڈ سے متصل ایک کنویں پر بھیشو کو جا پکڑا۔ بھیشو شاید کچھ دیر سستانے کے لیے وہاں رکا تھا، عبدالمنان اس کے پاس جا بیٹھا۔ ادھر اُدھر کی باتیں ہونے لگیں، بھیشو نے اس کے ہاتھ میں کھلا ہوا چاقو دیکھ لیا تھا۔ خوف سے کانپتے ہوئے پوچھنے لگا تم نے یہ چاقو کیوں کھول لیا ہے، عبدالمنان نے جواب دیا ابھی معلوم ہو جاتا ہے۔ عبدالمنان نے پوچھا بھیشو تو نے شانِ

صفحہ ٥٧

رسالت ﷺ میں گستاخی کی جرات کیوں کی؟ بھیشو کوئی معقول جواب نہ دے سکا۔ عبدالمنان نے اچانک ہاتھ اوپر کیا اور چاقو بھیشو کے سینے میں اتار دیا۔ بھیشو نے اٹھ کر بھاگنے کی کوشش کی مگر اجل کہاں جانے دیتی ہے۔ عبدالمنان نے اسے گھٹنوں تلے دبوچ کر دو تین وار اور کر دیے۔ بھیشو اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ کچھ دیر میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ لوگ موقع پر جمع ہونا شروع ہو گئے۔ اس عرصہ میں کسی نے حضرو تھانے میں اطلاع کر دی اور پولیس آگئی، تھانہ کے مسلمان انچارج نے عبدالمنان سے کہا کہ تم اپنا بیان میری ہدایت کے مطابق لکھواؤ۔ عبدالمنان نے کہا یہ پٹی تم کسی اور کو پڑھانا، میں نے اللہ کے حبیب ﷺ کی محبت میں اپنا فرض ادا کیا ہے اور اب جھوٹ بول کر اپنے عمل کو ضائع نہیں کر سکتا۔ چنانچہ عبدالمنان کا اقبالی بیان درج ہو گیا۔ عدالت میں مقدمہ چلا فریقین کے گواہ پیش ہوئے مقتول بھیشو کی بیوی بھی گواہی کے لیے پیش ہوئی اور اس نے جرح کے دوران اعتراف کر لیا کہ بھیشو اکثر مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی کیا کرتا تھا۔ عدالت کے جج ”مسٹر جی ڈی کھوسلہ“ نے قتل کو فوری اشتعال کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے عبدالمنان کو سات سال قید سخت کی سزا سنائی۔

غازی منظور حسین شہیدؒ

غازی منظور حسین شہید 1904ء میں ضلع چکوال کی ایک بستی ”بھین“ میں پیدا ہوئے، ان کا گھرانہ علاقے کا معروف علمی گھرانہ تھا۔ ان کے والد مولانا ابوالفضل محمد کرم الدین صاحب کی پنجاب میں بہت شہرت تھی۔ غازی منظور حسین نے بی اے تک باقاعدہ انگریزی تعلیم حاصل کی، کالج کی زندگی میں انھیں جسمانی قوت بڑھانے کا بہت شوق تھا اور اس فن میں انھوں نے بہت مہارت حاصل کر رکھی تھی۔ گارڈن کالج راولپنڈی سے فارغ ہونے کے بعد بھی انھوں نے اپنا شوق پہلوانی جاری رکھا لیکن بعد میں جب دینی رجحانات غالب ہوئے اور قرآنی تعلیم کے سلسلے میں منسلک ہوئے اور اسلامی تاریخ کا مطالعہ شروع کیا تو ان کی زندگی میں زبردست انقلابی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ انگریزوں کی تہذیب سے سخت نفرت ہو گئی۔ فرنگی اقتدار کے مخالف ہو گئے، سکول کالج میں عربی پڑھ چکے تھے۔ فقہ وحدیث کی کتابیں اپنے والد گرامی سے پڑھ لیں اور تبلیغ دین کے کام میں لگ گئے جبکہ غازی منظور حسین کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اسی علاقے کے ایک اور شہید ناموس رسالت غازی

صفحہ ٥٨

مرید حسین سے ان کے دوستانہ مراسم تھے۔ جس نے گستاخ رسول ”ڈاکٹر رام گوپال“ کو ٹھکانے لگایا تھا۔ غازی منظور حسین کو معلوم ہوا تھا کہ ایک متعصب ”ہندو کھیم چند چودھری“ نے نبی ﷺ کے بارے میں نازیبا الفاظ کہے ہیں۔ غازی منظور حسین اس کے تعاقب میں تھے چنانچہ موقع ملتے ہی کھیم چند کو جہنم واصل کر دیا اور خود وہاں سے نکل کر آزاد (قبائلی) علاقہ میں چلے گئے۔ دوسری طرف پولیس نے قتل کا الزام آپ کے والد اور بعض دیگر اقربا پر عائد کر کے انھیں گرفتار کر لیا۔ غازی منظور حسین نے گستاخ نبی کو قتل کرنے کے بعد اپنے پیش روؤں کی طرح خود کو گرفتاری کے لیے کیوں پیش نہیں کیا اس کے اسباب معلوم نہیں ہوسکے تاہم یہ ضرور پتہ چلتا ہے کہ ان کے عزائم بہت بلند تھے اور وہ بہت کچھ کرنے کے خواہشمند تھے۔ ایک سال (آزاد قبائلی) علاقہ میں قیام کے بعد بعض عزائم لے کر اپنے چار رفقاء کے ہمراہ وطن واپس لوٹے۔ سرفروش غازیوں کی یہ قلیل جماعت رائفلوں سے مسلح تھی، وزیرستانی قبائل سے ہوتے ہوئے آپ نے بنوں کی سرحد کو عبور کیا اور موضع عباسیہ تحصیل لکی مروت کے قریب ایک جگہ آرام کے لیے ٹھہرے۔ ماسٹر عزیز نامی ایک شخص اور ایک دوسرے رفیق کو قریب کی بستی سے کھانا لانے بھیجا، پولیس کو ان کی آمد کی خبر ہو گئی، چنانچہ ان دونوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ دو سب انسپکٹر پولیس کی مسلح گارڈ اور پبلک کی جمعیت کو ساتھ لے کر غازی منظور حسین کے مقابلہ کے لیے نکلے جو اس وقت طویل سفر کی تھکان کے باعث ایک درخت کی چھاؤں میں اپنے رفقا سمیت گہری نیند سو رہے تھے۔ پولیس نے ان کو بیدار ہونے کا موقع ہی نہیں دیا اور بے خبری میں گولیوں کی بوچھاڑ کر دی، غازی منظور حسین اپنے ساتھیوں سمیت جام شہادت نوش کر گئے۔ یہ واقعہ جولائی 1944ء کا ہے۔

غازی محمد اسحاق شہیدؒ

یہ ان دنوں کی بات ہے جب مسجد شہید گنج کا قضیہ اپنے عروج پر تھا۔ پورے متحدہ ہندوستان میں اور بالخصوص لاہور میں سکھوں اور مسلمانوں کے درمیان سخت کشیدگی تھی۔ انگریز اپنی مخصوص سیاست اور مسلمان دشمنی کے پیش نظر اقلیت کا طرفدار تھا۔ مسلمان پوری کوشش کر رہے تھے کہ کسی طرح موقع پا کر مسجد میں داخل ہو کر اسے سکھوں کے قبضہ سے آزاد کرالیں۔

صفحہ ٥٩

ستانہ مراسم تھے۔ جس نے گستاخ رسول ”ڈاکٹر رام گوپال“ کو حسین کو معلوم ہوا تھا کہ ایک متعصب ”ہندو بھیم چند چودھری“ نازیبا الفاظ کہے ہیں۔ اس کے تعاقب میں تھے چنانچہ موقع ملتے ہی بھیم چند کو جہنم نکل کر آزاد (قبائلی) علاقہ میں چلے گئے۔ دوسری طرف پولیس اور بعض دیگر اقربا پر عائد کر کے انھیں گرفتار کر لیا۔ غازی منظور نے کے بعد اپنے پیش روؤں کی طرح خود کو گرفتاری کے لیے باب معلوم نہیں ہو سکے تاہم یہ ضرور پتہ چلتا ہے کہ ان کے عزائم کرنے کے خواہشمند تھے۔ ایک سال (آزاد قبائلی) علاقہ میں ر اپنے چار رفقاء کے ہمراہ وطن واپس لوٹے۔ سرفروش غازیوں مسلح تھی، وزیرستانی قبائل سے ہوتے ہوئے آپ نے بنوں کی تحصیل لکی مروت کے قریب ایک جگہ آرام کے لیے ٹھہرے۔ ب دوسرے رفیق کو قریب کی بستی سے کھانا لانے بھیجا، پولیس کو ن دونوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ وہ سب انسپکٹر پولیس کی مسلح گارڈ اور غازی منظور حسین کے مقابلہ کے لیے نکلے جو اس وقت طویل درخت کی چھاؤں میں اپنے رفقا سمیت گہری نیند سو رہے ونے کا موقع ہی نہیں دیا اور بے خبری میں گولیوں کی بوچھاڑ کر ساتھیوں سمیت جام شہادت نوش کر گئے۔ یہ واقعہ جولائی

ہے جب مسجد شہید گنج کا قضیہ اپنے عروج پر تھا۔ پورے متحدہ ور میں سکھوں اور مسلمانوں کے درمیان سخت کشیدگی تھی۔ انگریز دشمنی کے پیش نظر اقلیت کا طرفدار تھا۔ مسلمان پوری کوشش کر کر مسجد میں داخل ہو کر اسے سکھوں کے قبضہ سے آزاد کرالیں۔

لیکن حکومت اور بالخصوص ایک سکھ پولیس افسر اس میں رکاوٹ تھا۔ یہ کشیدگی کئی روز سے جاری تھی۔ مسلمان جتھے بنا بنا کر آتے، لیکن گولہ بارود اور آنسو گیس وغیرہ کے سامنے ان کی کوئی پیش نہ جاتی۔ ادھر غازی محمد اسحاق دل میں عجیب لگن اور جوش و مستی لیے ایک جداگانہ راہ پر گامزن تھے۔ ایک شاندار خنجر جس پر کلمہ شریف لکھا ہوا تھا، ہر وقت اپنے پاس رکھتے تھے۔ وہ صبح سے شام اور شام سے صبح تک ذکر عبادت میں مصروف رہتے۔ ایک روز عین مسجد کے مقابل سکھ پولیس افسر کے سامنے یہ جیالا غازی نمودار ہوا اور پلک جھپکتے ہی خنجر اس کے سینہ میں پیوست کر دیا۔ غازی اپنا کام پورا کر کے دہلی دروازے کے قرب میں واقع مزار حضرت ”شاہ محمد غوث“ کے حوض پر وضو کر رہے تھے تا کہ دشمن اسلام کو جہنم رسید کرنے کی خوشی میں دربار خداوندی میں سجدہ شکر ادا کریں کہ پولیس نے انھیں آ گھیرا۔ غازی صاحب نے جو عشق رسول کے نشہ میں سرشار تھے، گرجدار آواز میں فرمایا کہ خبردار کوئی کافر میرے قریب نہ آئے حتیٰ کہ وہ پاک ہو جائے۔ مجھے پکڑنا ہے تو کوئی مسلمان افسر مجھے ہاتھ لگائے۔ چنانچہ ایک مسلمان پولیس افسر کے سامنے خود کو نہایت اطمینان کے ساتھ پیش کر دیا، اور حیات ابدی کے شوق میں تنگ و تاریک کوٹھڑی کو آزادی پر ترجیح دی۔ نزعی بیان میں مقتول سکھ پولیس افسر نے قاتل کا جو حلیہ بیان کیا تھا وہ انتہائی حسین و جمیل نورانی صورت اور نوجوان غازی کے حلیہ کے خلاف تھا۔ قائد اعظم محمد علی جناح اور دیگر نامور وکلاء غازی صاحب کی پیروی کر رہے تھے۔ صرف قتل سے انکار کرنا کافی تھا اور جان بچ سکتی تھی۔ لیکن وہ نہ مانے۔ 9 مہینے جیل میں رہنے کے بعد محرم کی یکم تاریخ مطابق 25 مارچ 1936ء کو ان کی دلی تمنا کے مطابق تختہ دار پر لٹکایا گیا اور انھیں شہادت نصیب ہوئی۔

غازی حاجی محمد مانکؒ

”موضع اکری سے تین چار میل کے فاصلہ پر واقع ایک بستی کا نام کڑو نڈی (تحصیل فیض گنج، سندھ) ہے۔ یہاں قادیانیت کا ایک کمینہ فطرت و شعبدہ باز مبلغ عبدالحق قیام پذیر

صفحہ ٦٠

تھا، جو امرتسر سے یہاں اٹھ آیا۔ علاقہ بھر میں یہ شخص نہایت عیار اور بدطینت خیال کیا جاتا۔ اس کے سیاسی اثر ورسوخ اور معاشی حیلہ سازیوں سے کئی سادہ لوح کلمہ گو، دولت ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اسے اپنی قوت مناظرہ پر بہت بھروسہ تھا۔ وہ کہتا تھا کہ میری یہ صلاحیت مرزا قادیانی کی نبوت کی ایک دلیل ہے۔ اس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ میں مرزا قادیانی کا جانشین نبی ہوں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کی انگوٹھی پر "عبدالحق نبی اللہ" نقش تھا۔ وہ علماء سے مناظرے کیا کرتا۔ یہ 1967ء کے ابتدائی مہینوں کا ذکر ہے کہ معروف مبلغ اسلام مولانا لال حسین اختر جو ابتداء مرزائیوں کے قریب رہے تھے اور ان کے تمام ظاہری و باطنی افکار و اعمال سے پوری طرح باخبر تھے اور بعدازاں جنھوں نے تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں وہ اس مرزائی مبلغ عبدالحق سے مناظرہ کے لیے تشریف لے گئے۔ مولانا لال حسین اختر کے اس اعلان پر کہ میں مرزا قادیانی کے کذب پر مناظرہ کرنا چاہتا ہوں قادیانی مبلغ نے اپنے خبث باطن کا اظہار ان غلیظ اور ناقابل برداشت الفاظ میں کیا۔

اگر تم مرزا صاحب کے کاذب وملعون اور مردود وگمراہ ہونے کا اظہار خیال کرنا چاہتے ہو تو میں (نقل کفر کفر نہ باشد معاذ اللہ ) میں آپ کے رسول....... پر بحث کروں گا۔

مردود قادیانی کی خرافات سن کر اہل ایمان آتش غضب میں بھڑک اٹھے۔ حاجی محمد مانک ان دنوں بلوچستان میں تبلیغی دورہ پر تھے۔ لوٹ کر آئے تو مذکورہ بالا حالات کا علم ہوا۔ آپ کی سن رسیدہ والدہ محترمہ نے روتے ہوئے کہا آپ کے ہوتے ہوئے ایسے لوگ موجود ہیں جو ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کی جناب میں گستاخی کے مرتکب ہورہے ہیں۔ حاجی مانک جو حج کی تیاریوں میں مصروف تھے والدہ کی درد بھری بات سن کر اپنا پروگرام منسوخ کر دیا۔

حاجی مانک واقعہ کی مزید تحقیق کے لیے کئی لوگوں سے ملے اور واقعہ کی تفصیل جان کر دل میں اس گستاخ رسول کو ختم کرنے کا عزم کرلیا۔ ان کے پاس ایک ریوالور اور چھوٹا سا چاقو بھی تھا۔ غازی مانک عبدالحق قادیانی کا تعاقب کرتے ہوئے اس کے باغ میں جاپہنچے جو اس وقت کام کرنے والے مزدوروں کو آئندہ کام کے بارے میں ہدایات دینے چلا گیا تھا۔ کچھ دیر انتظار کرنے کے بعد انھیں عبدالحق قادیانی واپس لوٹتا دکھائی دیا جیسے ہی وہ ان کی زد میں آیا غازی مانک نے ریوالور سے اس پر کئی فائر کر ڈالے مگر وہ گستاخ ابھی تک زندہ تھا،

صفحہ ٦١

گولیاں اس کے ارد گرد سے گزر گئی تھیں اور وہ بچ گیا تھا۔ غازی مانک نے اپنا وار خالی پڑتا دیکھا تو بجلی کی سی تیزی سے اس پر چھلانگ لگا دی۔ مردود قادیانی اس کے لیے تیار نہیں تھا۔ چنانچہ مارے خوف کے زمین پر گر پڑا غازی مانک کے لیے یہ لمحہ بہت قیمتی تھا جیسے ہی عبدالحق زمین پر گرا غازی مانک نے اپنی جیب سے چاقو نکالا اور پوری طاقت سے اس کی گردن پر چلا دیا۔ حتیٰ کہ گستاخ رسول ﷺ کی گردن اس کے جسم سے الگ ہو گئی۔ غازی مانک نے اس کارنامہ کے بعد موقع سے فرار ہونے کی کوشش نہیں کی تھی بلکہ اقرار کیا کہ اس بدبخت گستاخ کو میں نے جہنم واصل کیا ہے، غازی مانک گرفتار کر لیے گئے مقدمہ چلا تو عدالت نے گواہوں کے بیانات سننے کے بعد یہ فیصلہ سنایا کہ (عبدالحق قادیانی) نے پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے۔ اس لیے ملزم اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا اور اس نے ایمانی تقاضوں کے تحت ایسا کہا۔ لہٰذا یہ اشتعال انگیزی ظاہر ہوتی ہے اور ایکسیپشن 8 تعزیرات پاکستان کا فائدہ ملزم کو پہنچتا ہے۔ اس لیے ملزم حاجی محمد مانک کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 304 کے تحت تین سال قید سناتا ہوں۔

آپ کی سزا کی یہ مدت خیر پور کی ضلعی جیل میں گزری۔ رہائی کے بعد ایک عرصہ حیات رہے۔ 2 اکتوبر 1983ء کو ہفتہ کے روز چار بجے دن عالم فنا سے عالم بقا کو سدھار گئے۔

فاروق احمدؒ

سرور دو عالم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو عبرت ناک انجام سے دوچار کرنے والے دیوانے تاریخ میں اپنا نام رقم کراتے چلے آرہے ہیں اور جب تک گستاخوں کا سلسلہ باقی رہے گا عشاقان رسول اللہ ﷺ بھی تاریخ عالم میں دینی غیرت و حمیت کے ابواب رقم کرتے رہیں گے۔ 1994ء میں ایک ایسا ہی واقعہ رونما ہوا تھا۔

فیصل آباد کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کے دفتر میں عارضی طور پر تعینات ایک سینئر عیسائی ٹیچر (معروف ترقی پسند شاعر) ”نعمت احمر“ کو مبینہ طور پر سرکار دو عالم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے اور شعائر اسلام کا مذاق اڑانے کی بنا پر ایک مسلمان نوجوان ”غازی فاروق احمد“ نے چھری کے پے در پے وار کر کے ہلاک کر دیا۔ میانی اور چک 242 ر۔ب وسوبہ کے

صفحہ ٦٢

گاؤں کے سکولوں میں تعیناتی کے دوران ”نعمت احمر“ کے بارے میں شکایت پائی جاتی تھی کہ وہ گستاخ رسول ہے اور طلباء کے سامنے عقائد اسلام اور اکابرین اسلام کے بارے میں نامناسب ریمارکس دیتا تھا۔ ”چک 242۔ ر۔ ب دسوھہ“ کے متعدد لوگوں اور بالخصوص اساتذہ نے محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام کو نعمت احمر عیسائی ٹیچر کے خلاف درخواستیں بھی دی تھیں۔ مقتول کے خلاف تھانہ ڈجکوٹ میں اس کے نامناسب ریمارکس کے خلاف پرچہ بھی درج ہوا تھا۔ افسوس کہ نہ تو پولیس نے کوئی کارروائی کی اور نہ ہی محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام نے کوئی توجہ دی۔ البتہ حفظ ماتقدم کے طور پر اسے عارضی طور پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (مردانہ) میں تعینات کر دیا گیا۔ اس طرح علاقے کے لوگوں میں غم و غصہ کی لہر مزید تیز ہو گئی کہ شان رسالت میں گستاخی کرنے والے اور اسلام کے خلاف نازیبا ریمارکس دینے والے عیسائی ٹیچر کے خلاف انضباطی کارروائی کرنے کی بجائے اسے مزید تحفظ دیا گیا۔ علاقہ بھر میں مقتول کے خلاف سخت اشتعال پایا جاتا تھا۔ چنانچہ ”غازی فاروق“ قصائی جو چک نمبر 242 ر۔ ب دسوھہ کا رہائشی تھا، عیسائی نعمت کے دفتر میں آیا اور اسے اپنی برانچ سے بلوا کر دفتر کے احاطہ میں کھلی جگہ پر لے آیا جہاں غازی نے چھری کے تقریباً پانچ وار کیے جس سے وہ شدید زخمی ہو کر تڑپنے لگا اور کسی قسم کی طبی امداد پہنچنے سے قبل ہی دم توڑ گیا۔ غازی فاروق خون آلود چھری کے ساتھ وہیں کھڑا، خوفزدہ ہو کر بھاگنے والے افراد کو پکارنے لگا کہ ”مجھ سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں نے شان رسول ﷺ میں گستاخی کرنے والے کو قتل کر کے جہاد کیا ہے اور میں نے اپنے لیے جنت خرید لی ہے۔“ یہ کہتے ہوئے اس نے چھری نیچے پھینک دی اور لوگوں سے کہا کہ پولیس کو بلوا کر مجھے اس کے حوالے کر دیا جائے۔ چنانچہ اطلاع ملنے پر پیپلز کالونی پولیس نے موقع پر پہنچ کر اس کو گرفتار کر لیا۔

محکمہ تعلیم اور پولیس کی روایتی تساہل پسندی اور غفلت کی وجہ سے یہ واقعہ رونما ہوا۔ غازی فاروق کا اقدام اس کے مذہبی جذبات کے مجروح ہونے کا نتیجہ تھا اگر محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام نے بروقت کارروائی کی ہوتی تو نوبت یہاں تک نہ پہنچتی۔

4 جون 1994ء کو فیض احمد بھٹہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے گستاخ رسول نعمت احمر کے قاتل غازی فاروق احمد کو 14 سال قید بامشقت کی سزا کا حکم سنایا۔

صفحہ ٦٣

غازی احمد دین شہیدؒ

ایک سکھ ویدا سنگھ نے جو قصبہ ”راجہ جنگ“ کا رہنے والا تھا علاقے کی مسجد میں اذان دینے کی ممانعت کر رکھی تھی اس کے خلاف مسلمانوں کی طرف سے تھانہ مصطفیٰ (للیانی) میں تقریباً ڈھائی سو رپورٹیں درج تھیں۔ غازی احمد دین ویدا سنگھ کی ہٹ دھرمی اور بدتمیزیوں کے واقعات سنتا رہتا اور دل میں سوچتا کیوں نہ اس ویدا سنگھ کو جہنم واصل کر کے مسلمانوں کی پریشانی کا ازالہ کر دوں۔ غازی احمد دین ان دنوں کاشتکاری کے پیشے سے منسلک اور رائے ونڈ کے قریبی موضع برہان پور حکیماں والا میں قیام پذیر تھا۔ مسجد میں لیٹے ہوئے خواب میں دیکھا کہ رائے ونڈ سے تین سکھ راجہ جنگ جا رہے ہیں اور پھر خواب میں بھی کسی نے اشارہ کیا کہ ویدا سنگھ ان کے درمیان موجود ہے۔ غازی احمد دین کی آنکھ کھلی تو وہ اس خواب کو غیبی مدد سمجھ کر حصول مقصد کے لیے تیار ہو گئے۔ اپنے گاؤں حکیماں والا سے ہی ایک تیز دھار چھری حاصل کی اور راجہ جنگ جا پہنچے۔ وہاں امام دین نامی شخص سے ملاقات کی اور راجہ جنگ میں اپنی آمد کا مقصد بیان کر دیا۔ امام دین غازی احمد دین کو اپنے گھر لے گیا اور ویدا سنگھ تک رسائی ممکن بنانے کے لیے سوچ بچار کرنے لگا۔ امام دین ویدا سنگھ کی نگرانی اور اس کی لمحہ لمحہ کی مصروفیات نوٹ کر کے غازی احمد دین کو آگاہ کرتا رہا۔ ایک روز امام دین کی محنت سے غازی احمد دین کو ویدا سنگھ تک رسائی مل گئی۔ وہ صبح سویرے ہی گھر سے نکلے اور راستے میں ایک پل پر بیٹھ گئے۔ کچھ دیر بعد تین سکھ راجہ جنگ سے رائے ونڈ کی طرف جاتے دکھائی دیے۔ غازی احمد دین نے خواب میں دیکھے ہوئے حلیے کے مطابق ویدا سنگھ کو فوراً پہچان لیا۔ ویدا سنگھ اس غازی کے قریب سے گزرا اور آگے بڑھ گیا تو چند قدم کا فاصلہ رکھتے ہوئے غازی نے اس کے پیچھے چلنا شروع کر دیا۔ راستے میں واقع پولیس سٹیشن سے کچھ دور کپاس بیلنے کا کارخانہ تھا ویدا سنگھ کے دونوں محافظ اس کارخانے میں چلے گئے۔ غازی اس موقع کی تاک میں تھے فوراً ہی ویدا سنگھ کے قریب پہنچے اور پوچھا۔ سردار جی ویدا سنگھ تمہارا نام ہے؟ اس نے بڑی رعونت سے جواب دیا کہ ہاں میرا نام ہے۔ غازی نے پھر پوچھا مسجد میں اذان تم ہی نہیں ہونے دیتے؟ اس نے کہا ہاں میں ہی نہیں ہونے دیتا۔ غازی نے کہا تو پھر اللہ کے دشمن آج تیرا

صفحہ ٦٤

آخری دن ہے۔ یہ کہتے ہوئے پلک جھپکنے میں چھری کا پھل ویداسنگھ کے پیٹ میں تھا۔ غازی کا پہلا وار ہی انتہائی شدید اور ٹھکانے پر لگا تھا کہ ویدا سنگھ اوندھے منہ زمین پر جا گرا، اس کی انتڑیاں پیٹ سے باہر آ گئیں۔ غازی احمد دین یہ کارنامہ سرانجام دے کر تھانے کی طرف دوڑ پڑا اور اسد اللہ خاں تھانیدار کو بتایا کہ میں نے ویدا سنگھ کو قتل کر دیا ہے۔ پولیس موقع پر پہنچی اور لاش قبضے میں لے لی۔ غازی احمد دین گرفتار کر لیے گئے۔ تھانیدار نے غازی کو بھاگنے، جان بچانے اور مقدمہ ختم ہونے کی پیشکش کی مگر انھوں نے کوئی بھی پیشکش قبول نہیں کی، چنانچہ مقدمہ چلا اور غازی احمد دین کو اپریل 1940ء میں کالے پانی لے جانے کا حکم صادر کیا گیا۔ 1945ء میں ان کی واپسی ہوئی اور کافی عرصہ حیات رہ کر انھوں نے وفات پائی۔

غازی زاہد حسینؒ

1961ء میں ایک عیسائی مبلغ پادری سیموئیل نے مغلپورہ ورکشاپ میں دوران تبلیغ آنحضور ﷺ کی شان میں کچھ نازیبا الفاظ استعمال کیے۔ زاہد حسین اور اس کے ساتھیوں نے سیموئیل کو سختی سے منع کیا کہ وہ اپنی ہرزہ سرائی بند کرے، لیکن وہ شیطان اپنی شرارت سے باز نہ آیا، جس پر زاہد حسین نے مشتعل ہو کر اس گستاخ کا سر پھاڑ دیا، جس کے نتیجہ میں وہ بدبخت ہلاک ہو گیا۔ زاہد حسین نے عدالت کے روبرو اعتراف قتل کر لیا، جس پر اس کو اشتعال انگیزی کی بنا پر صرف جرمانہ کی سزا دی گئی۔ اس کے خلاف ہائی کورٹ میں رٹ دائر کی گئی جو خارج ہوئی۔ اس مقدمہ کی پیروی ڈاکٹر جاوید اقبال ریٹائرڈ جج سپریم کورٹ نے کی جو اس وقت پیشہ قانون سے وابستہ تھے اور ان کی معاونت میاں شیر عالم نے کی تھی۔

سال 1964ء میں اس غازی زاہد حسین کو جب یہ معلوم ہوا کہ لاہور کی ایک عیسائی مشنری کی مشہور دکان ”پاکستان بائبل سوسائٹی انارکلی“ میں ایک رسوائے زمانہ کتاب ”اثمار شیریں“ فروخت ہو رہی ہے، جس میں رسول اکرم ﷺ کے بارے میں توہین آمیز مواد موجود ہے۔ اس پر یہ مرد غازی ایک بار پھر تڑپ اٹھا اور اپنے معتمد ساتھی الطاف حسین شاہ کے ساتھ مل کر اس نے بائبل سوسائٹی کی اس دکان میں، جہاں یہ کتاب فروخت ہو رہی تھی، آگ لگا دی اور اس کے مینجر ”ہیکٹر گوہر مسیح“ پر الطاف حسین شاہ نے پستول سے قاتلانہ حملہ کر دیا لیکن وہ بال بال بچ گیا۔ عدالت کے سامنے جب یہ مقدمہ پیش ہوا تو ان دونوں نے بلا پس و پیش

صفحہ ٦٥

اقبال جرم کیا، جس پر علاقہ مجسٹریٹ نے دونوں کو تین تین سال سزائے قید سنائی اور ایڈیشنل جج لاہور نے اس سزا کو بحال رکھا۔ اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں رٹ دائر ہوئی۔ زاہد حسین کے عزیزوں کو جو اس مقدمے کی پیروی کر رہے تھے، خواب میں بشارت ہوئی کہ میاں شیر عالم ایڈووکیٹ کو ملزمان کی جانب سے وکیل مقرر کریں۔ چنانچہ ان کی جانب سے میاں شیر عالم اور استغاثے کی جانب سے مسٹر جرمی ریٹائرڈ پبلک پراسیکیوٹر پیش ہوئے۔ مقدمہ جب جسٹس شیخ شوکت علی کے سامنے پیش ہوا، تو فاضل جج نے مسٹر جرمی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ”اگر چہ کہ وہ خود ایک گنہگار مسلمان اور مذہبی رواداری کی حمایت میں ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں، لیکن اس کتاب میں پیغمبر اسلام ﷺ کے بارے میں جو قابلِ اعتراض باتیں منسوب کی گئی ہیں، وہ ان کے لیے بھی ناقابلِ برداشت ہیں، جنھیں پڑھ کر ان کا خون بھی کھول رہا ہے۔“ اس لیے انھوں نے ملزم کو مزید قید میں رکھنے سے انکار کر دیا، غازی زاہد حسین اور ان کے ساتھی الطاف حسین شاہ کی رہائی کے حکم کے ساتھ ساتھ فاضل جج نے حکومت کو ہدایت کی کہ وہ اس کتاب کو فوری طور پر ضبط کرلے۔

صفحہ ٦٦

محمد متین خالد

عامر تیرا شکریہ!

آج نہیں تو کل، اس راز سے ضرور پردہ اٹھے گا کہ 11 ستمبر 2001ء کو نیو یارک امریکہ میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی تباہی کے واقعہ میں صہیونی اور صلیبی طاقتیں ملوث تھیں جبکہ مسلمانوں کو ایک منظم سازش کے تحت اس کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تا کہ پوری دنیا میں سیلاب کی طرح تیزی سے پھیلتے ہوئے دین اسلام کے آگے بند باندھا جا سکے۔ اس سے پہلے 1994ء میں ہارورڈ یونیورسٹی کے مشہور یہودی پروفیسر سموئیل ہن ٹنگٹن نے اپنی شہرہ آفاق کتاب "The Clash of Civilization and Remaking of New World Order" میں مغرب کو اس بات پر بے حد مشتعل کیا کہ اگر اسلام ختم نہ کیا گیا تو آئندہ مستقبل میں یہ پورے یورپ میں چھا جائے گا۔ اس نے اپنی کتاب میں اسلام اور مسلمانوں کو ایک مستقل خطرہ اور ہوّا بنا کر پیش کیا۔ اس کے بعد اس موضوع پر بے شمار کتب، مضامین اور تھنک ٹینکس کی رپورٹس منظر عام پر آئیں جنھوں نے مغرب کے ہر شخص کو اسلام سے تصادم کے لیے ذہنی طور پر تیار کیا۔ الیکٹرانک میڈیا نے ڈراموں، فلموں، مباحثوں اور نام نہاد خبروں کے ذریعے ایک خاص ماحول پیدا کیا۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ 9/11 کا واقعہ کوئی اتفاقی نہیں بلکہ یہ مسلمانوں کے خلاف ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے۔

30 ستمبر 2005ء کو ڈنمارک کے اخبار (JYLLANS POSTEN) جیلنز پوسٹن نے حضور نبی کریم ﷺ کے بارے میں 12 نہایت توہین آمیز اور نازیبا کارٹون شائع کیے۔ اس پر مسلم دنیا کا ردعمل نہایت نرم رہا۔ پھر مسلمانوں کو مشتعل کرنے کے لیے ایک منظم سازش کے تحت جنوری 2006ء میں 22 ممالک کے 75 اخبارات و رسائل نے ان کارٹونوں کو دوبارہ شائع کیا۔ 200 ریڈیو اور ٹی وی چینلوں نے انھیں بار بار نشر کیا۔ ہالینڈ کے

صفحہ ٦٧

اخبارات نے لکھا کہ ہم یہ کارٹون ہر ہفتے شائع کیا کریں گے تاکہ مسلمان اس کے عادی ہو جائیں۔ اٹلی کے ایک وزیر نے ان خاکوں کی ٹی شرٹ استعمال کی اور اسے بطور فیشن فروغ دینے کا اعلان کیا۔ یہ سب کچھ آزادی اظہار، آزادی صحافت اور سیکولر جمہوریت کے نام پر کیا گیا۔

اخبار جیلنز پوسٹن کی پیشانی پر یہودیوں کا عالمی نشان ”سٹار آف ڈیوڈ“ بنا ہوا ہے، جو اس کے متعصب یہودی ہونے کا برملا اظہار ہے۔ یاد رہے کہ توہین آمیز خاکے ویسٹر گارڈ نامی مشہور ملعون یہودی کارٹونسٹ نے بنائے۔ اس اخبار نے 2 سال قبل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں خاکے شائع کرنے سے محض اس لیے انکار کر دیا، کہ اس سے عیسائیوں کے جذبات متاثر ہونے کا خدشہ تھا۔

توہین آمیز خاکوں کی اشاعت پر جب پوری دنیا میں احتجاج شروع ہوا تو اس سلسلے میں میڈیا پر ہر جگہ آزادی اظہار کے حق کا تذکرہ ہونے لگا۔ آزادی اظہار کا مطلب یہ نہیں کہ دوسروں کی حدود میں دخل اندازی کی جائے۔ ایک شخص جب دوسروں کی مذہبی تعلیمات، ان کی مقدس شخصیات، نظریات و تصورات پر بے جا تنقید، تضحیک، استہزا اور تذلیل کرے گا تو یہ آزادی نہیں بلکہ جارحیت اور دہشت گردی کا ارتکاب ہے۔

یورپ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کی سزا، سزائے موت رہی ہے، جو اب بھی عمر قید کی صورت میں موجود ہے۔ جبکہ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان یا دیگر اسلامی ملکوں میں حضور نبی کریم ﷺ کی توہین کی سزا سرے سے ہی ختم ہو جائے کیونکہ اس سے عیسائیوں اور قادیانیوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ آزادی اظہار کے حوالے سے مغرب کا رویہ منافقانہ ہے۔ یورپی ممالک میں جرمنی میں یہودیوں کے قتل عام اور مظلومیت کو پورا تحفظ دیا جاتا ہے۔ اس قتل عام کو ”ہولوکاسٹ“ (Holocaust) کا نام دیا گیا ہے۔ یہودیوں کا کہنا ہے کہ جرمنی میں 50 لاکھ یہودیوں کو قتل کیا گیا اور دیگر بے شمار ظلم و ستم کا شکار ہوئے۔ حالانکہ یہ سارا افسانہ ہے۔ معتبر اعداد و شمار کے مطابق جرمنی میں تو اس وقت صرف 6 لاکھ یہودی آباد تھے، جن میں سے 4 لاکھ بھاگ کر دیگر ممالک بالخصوص ڈنمارک میں مقیم ہو گئے تھے۔ اب اگر کوئی شخص اپنی کسی کتاب، مضمون یا تقریر میں اس تعداد کو کم کرکے بیان کرے یا ان واقعات میں سے کسی ایک خبر کا بھی انکار کرے تو وہ 20 سال قید کی سخت سزا کا مستوجب ہے اور اسرائیل خود سزا دینے کے لیے اس شخص کو متعلقہ حکومت سے مانگ سکتا ہے۔ کیا عجیب منطق

صفحہ ٦٨

ہے کہ ہولوکاسٹ کے بارے میں سچ بولنے سے مغرب کی توہین ہوتی ہے جبکہ مسلمانوں کی مقدس اور محبوب ترین ہستی حضور نبی کریم ﷺ کے بارے میں نازیبا کلمات کہنے اور خاکے شائع کرنے سے مسلمانوں کی کوئی توہین نہیں ہوتی؟ یہ تضاد مغرب کے لبرل ازم کا پورا پول کھولتا ہے۔

ڈنمارک کے وزیر اعظم نے نہایت تکبر، خود پسندی اور مسلمانوں سے استہزا کا رویہ اختیار کیا۔ انھوں نے 11 مسلم ممالک کے سفیروں سے ملنے سے انکار کر دیا۔ 27 مسلمان تنظیموں کے 17 ہزار مسلمانوں کے دستخطوں سے بھرپور احتجاج پر مشتمل یادداشت کو وصول کرنے سے انکار کر دیا۔ جبکہ دوسری طرف امریکی صدر جارج بش اور برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے مسلمانوں سے اپنے خبث باطن کا اظہار کرتے ہوئے ڈنمارک کے وزیر اعظم کو ٹیلی فون کر کے اپنے تعاون کا یقین دلایا جس پر اس نے ایک اخباری بیان میں کہا:

"Islamic world must realise that we are not isolated."

”اسلامی دنیا کو محسوس کرنا چاہیے کہ ہم تنہا نہیں ہیں۔“ (انٹرویو ڈیلی ٹائمز 14 فروری 2006ء)

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک اخبار کی شرارت نہیں بلکہ یہ مسلمانوں کے خلاف ایک عالمی مہم کا حصہ ہے اور سب کا ہدف اسلام اور مسلمانوں کو نشانہ بنانا اور اسلام کی سب سے بڑی مقدس شخصیت حضور نبی کریم ﷺ کی برملا توہین کرنا ہے تاکہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوں۔ پوری امت مسلمہ نے ان خاکوں کے خلاف اپنی تمام تر سیاسی کمزوری کے باوجود غیرت ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھرپور احتجاج کیے اور یورپی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کیا۔ ہر مسلمان غیظ وغضب اور رنج والم کی تصویر بنا بیٹھا تھا۔ اس موقع پر مسلمانوں کا مشتعل اور جذباتی ہونا ایک فطری امر تھا۔

حضور خاتم النبیین ﷺ کا ارشاد گرامی ہے (جس کا مفہوم ہے) کہ تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتا، جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے والد، والدہ، اولاد، کاروبار، تمام انسانوں حتیٰ کہ اس کی جان سے بھی زیادہ عزیز نہ ہو جاؤں۔ اسی طرح حضرت امام مالکؒ کا فرمان ہے کہ جب تک روئے زمین پر ایک بھی مسلمان موجود ہے، کسی گستاخ رسول کو زندگی کا حق نہیں دیا جا سکتا۔ اس ایمانی تعلیم کی روشنی میں 20 مارچ 2006ء کو ایک پاکستانی طالب علم عامر عبدالرحمن چیمہ نے جرمنی کے شہر برلن میں Axel Springer

صفحہ ٦٩

Publishing کی عمارت میں واقع توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے جرمنی کے اخبار DIE WELT ڈی ویلٹ کے چیف ایڈیٹر HENRYK BRODER ہینرک بروڈر پر قاتلانہ حملہ کیا جس پر وہ شدید زخمی ہو گیا اور کئی دن بعد ڈاکٹروں کی سرتوڑ کوششوں کے باوجود وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہ کر نہایت عبرتناک حالت میں جہنم واصل ہو گیا۔ جرمنی اور یورپ کے اخبارات (جن میں جے لینڈ پوسٹن، ڈر سپیگل اور زیتونگ برگر نمایاں ہیں) نے اس حملے کی خبر کو خوب مرچ مصالحہ لگا کر اچھالا اور نمایاں کر کے شائع کیا۔

باوقار شخصیت اور پاکیزہ فطرت کے مالک عامر عبدالرحمن چیمہ شہید 4 دسمبر 1977ء کو گوجرانوالہ ڈویژن کے ضلع حافظ آباد کے محلہ گڑھی اعوان میں پیدا ہوئے۔ عامر کے والد پروفیسر نذیر احمد چیمہ نے ان کا نام عبدالرحمن رکھا جبکہ والدہ ثریا بیگم نے ان کا نام عامر رکھا۔ یوں ان کا نام عامر عبدالرحمن بن گیا۔ عامر چیمہ کے والد محترم پروفیسر نذیر احمد چیمہ گورنمنٹ حشمت علی اسلامیہ کالج راولپنڈی میں پروفیسر تھے جہاں سے 30 سالہ ملازمت پوری کرنے کے بعد وہ حال ہی میں ریٹائرڈ ہوئے۔ پروفیسر صاحب 30 سال پہلے اپنی ملازمت کے سلسلہ میں راولپنڈی شفٹ ہو گئے تھے۔ آج کل وہ مکان نمبر DK-319-Z-45 گلی نمبر 18 (ٹیوب والی گلی) ڈھوک کشمیراں میں رہائش پذیر ہیں۔ شہید عامر والدین کے اکلوتے بیٹے تھے جبکہ ان کی تین بہنیں صائمہ، کشور اور سائرہ ہیں۔ صائمہ اور کشور شادی شدہ جبکہ سائرہ ابھی غیر شادی شدہ ہے۔ عامر عبدالرحمن شہید نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ پرائمری سکول راولپنڈی سے شروع کی جبکہ میٹرک 1993ء میں گورنمنٹ کمپری ہینسو ہائی سکول راولپنڈی سے کیا۔ ایف ایس سی سرسید کالج راولپنڈی سے، اور 1996ء میں راولپنڈی چھوڑ کر فیصل آباد چلے گئے۔ یہاں شہید نے نیشنل کالج آف ٹیکسٹائل انجینئرنگ میں داخلہ لے کر 2000ء میں انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ شہید نے سب سے پہلے رائیونڈ کی ماسٹر ٹیکسٹائل مل میں ملازمت اختیار کی۔ وہاں کچھ عرصہ ملازمت کر کے دوبارہ الکرم ٹیکسٹائل مل کراچی میں ملازمت اختیار کی۔ کچھ عرصہ بعد پھر یہاں سے ملازمت چھوڑ دی اور لاہور چلے گئے۔ یہاں یونیورسٹی آف مینجمنٹ ٹیکنالوجی میں پڑھانا شروع کیا۔ مگر اسی دوران شہید کو جرمنی کی یونیورسٹی میں داخلہ مل گیا اور وہ 26 نومبر 2004ء کو اپنے خرچ پر ماسٹر آف ٹیکسٹائل مینجمنٹ میں اعلیٰ تعلیم کے لیے جرمنی چلے گئے، جہاں وہ جرمنی کے شہر مونشن گلاڈباغ

صفحہ ٧٠

(Monchengladbach) میں نیدر ہائن یونیورسٹی آف اپلائیڈ سائنسز میں زیر تعلیم تھے۔ دوران تعلیم وہ ایک بار صرف والدین کو ملنے پاکستان آئے اور آخری بار 22 اکتوبر 2005ء کو پاکستان سے واپس جرمنی چلے گئے۔ شہید نے اپنی پڑھائی کے تین سمسٹر مکمل کر لیے تھے۔ اس دوران ڈنمارک اور جرمنی سمیت یورپ کے دیگر اخبارات نے حضور نبی کریم ﷺ کے نازیبا خاکے شائع کر دیے۔ عامر نے دل میں اس امر کا اظہار کیا کہ وہ گستاخ رسول کو کسی بھی صورت میں زندہ نہیں چھوڑے گا۔ عامر چیمہ کا ابھی آخری سمسٹر باقی تھا کہ وہ اخبارات میں توہین آمیز خاکے شائع ہونے کے بعد مارچ کے آغاز میں برلن اپنے عزیزوں کے پاس آ گیا اور جرمنی کے اخبار ڈی ویلٹ (دی ورلڈ) کے آفس کی 15 روز تک ریکی کرتا رہا۔ اسی دوران عامر چیمہ نے برلن کی ایک دوکان سے خنجر خریدا جس سے اس نے توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے اخبار کے برلن میں موجود چیف ایڈیٹر پر 20 مارچ 2006ء کو قاتلانہ حملہ کیا۔ عامر نے اس پر خنجر کے کئی وار کیے جس سے وہ زخمی ہو گیا۔ تاہم موقع پر موجود سیکورٹی گارڈز نے اسے پکڑ لیا اور پولیس کے حوالے کر دیا۔ اگلے روز 21 مارچ 2006ء کو متعلقہ جج کے روبرو عامر چیمہ کو برلن کی ضلعی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں ایک پاکستانی مترجم انوار الحق شاد نے عامر چیمہ پر لگائے گئے الزامات پڑھ کر سنائے۔ عامر چیمہ نے بھری عدالت میں قاتلانہ حملے کا جرم قبول کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ رہائی کے بعد بھی نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والوں پر دوبارہ حملہ کرے گا۔ جرمن حکام کی جانب سے اسے کسی وکیل کی خدمات حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

23 مارچ کو برلن کی ڈسٹرکٹ کورٹ میں عامر چیمہ کے خلاف جرمن پینل کوڈ کی دفعہ 113 اور 240 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق:

کوشش کی۔

جرمن حکام کا اس سے بڑا جھوٹ اور کیا ہو سکتا ہے کہ انھوں نے عامر چیمہ پر بھونڈا الزام لگاتے ہوئے نہ صرف اس پر بم ڈال دیا بلکہ اپنے سرکاری ریکارڈ میں اس کی برآمدگی

صفحہ ٧١

بھی ظاہر کر دی۔ افسوس! یہ اس ملک کا حصہ ہے جو دنیا بھر میں حقوق انسانی، انصاف اور جمہوریت کا سب سے بڑا علمبردار ہے۔

جرمن پولیس اور مختلف حکومتی ایجنسیاں برلن جیل میں 44 دن تک عامر چیمہ کو دوران حراست ذہنی و جسمانی اذیتیں دے کر پر تشدد تفتیش کرتی رہیں، دراصل صلیبی اہلکار وحشیانہ تشدد کے ذریعے عامر چیمہ سے یہ کہلوانا چاہتے تھے کہ اس کا تعلق القاعدہ جیسی تنظیم سے ہے۔ مگر عامر چیمہ نے کہا کہ اس کا کسی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں بلکہ بحیثیت ایک مسلمان کے اس نے جذبہ عشق رسالت ﷺ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا فرض ادا کیا ہے۔ جرمنی اور پاکستان میں ان کے عزیزوں سمیت ان کے تعلق دار لوگوں سے بھی تحقیقات کی گئیں لیکن ان کا کسی بھی دہشت گرد تنظیم سے تعلق ثابت نہ ہو سکا۔ اس کے باوجود عامر چیمہ کو برلن کی جیل میں مسلسل 44 دن ذہنی اور جسمانی اذیتیں دی جاتی رہیں جس کے نتیجہ میں 3 مئی 2006ء کو وہ شہید ہو گیا۔ حالانکہ 27 اپریل کو برلن کی ڈسٹرکٹ کورٹ میں عامر کا کیس سماعت کے لیے منظور ہو چکا تھا، جہاں اس نے قانون کا سامنا کرنا تھا۔ لیکن ہٹلر کے ظالم اور درندہ صفت بیٹوں نے اسے ماورائے عدالت قتل کر دیا۔

یہ بازی عشق کی بازی ہے
تم کتنی بازی ہارو گے
ہر گھر سے عامر نکلے گا
تم کتنے عامر مارو گے

جرمنی میں مقیم عامر چیمہ کے قریبی عزیزوں کو ان کی موت کی اطلاع 4 مئی 2006ء کو ملی۔ انھوں نے کہا کہ وہ چند روز قبل عامر چیمہ سے ملاقات کرنے گئے تھے مگر انھیں ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ انھیں یقین ہے کہ عامر چیمہ کو تشدد کر کے شہید کیا گیا ہے۔ تاہم جیل انتظامیہ نے مختلف مؤقف اختیار کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ عامر چیمہ نے خودکشی کی ہے۔ کیونکہ صبح جب وہ عامر چیمہ کو سیل سے نکالنے لگے تو وہ مردہ حالت میں پائے گئے۔

عامر چیمہ کے والدین کو جب اپنے بیٹے کی شہادت کے واقعہ کی اطلاع ملی تو وہ بے حد خوش ہوئے۔ شہید کے والد پروفیسر نذیر احمد چیمہ نے کہا کہ ان کے بیٹے نے حب رسول ﷺ میں ایسا کیا ہے، اس کی کوئی دشمنی نہ تھی۔ انھوں نے کہا ہمارے بیٹے نے غازی علم

صفحہ ٧٢

دین شہید کی یاد تازہ کر دی ہے، اتفاق سے دونوں کی تاریخ پیدائش بھی ایک ہے۔ انہوں نے کہا عامر چیمہ نے آخری بار 5 مارچ کو فون کیا اور اپنے دوست اور کزن کی شادی پر اسے مبارکباد دینے کے لیے کہا۔ اس نے کبھی بھی کارٹونوں کی اشاعت کے بارے میں یا اس قسم کے اقدام کے بارے میں کوئی بات نہیں کی۔ جرمنی میں مقیم ہمارے عزیز محمد کاشف شہزاد نے 8 اپریل 2006ء کو فون کیا لیکن فون کٹ گیا، پھر انھوں نے ہمارے ایک اور عزیز کو فون کر کے قاتلانہ حملے کے واقعہ کے بارے میں بتایا جس نے ہمیں ساری صورتحال سے مطلع کیا۔ بعد ازاں 4 مئی کو ہمارے ایک عزیز نے عامر چیمہ کی شہادت کے بارے میں ہمیں اطلاع دی۔ انھوں نے کہا کہ مجھے اپنے بیٹے کی شہادت پر افسوس نہیں بلکہ خوشی اور فخر ہے کیونکہ اس نے تحفظ ناموس رسالت ﷺ کی خاطر جان دی ہے۔ میرے بیٹے کی شہادت کے عظیم رتبے کو خودکشی کا رنگ دے کر جرمن حکومت واقعہ کی نوعیت تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ اس ضمن میں ہماری حکومت اور وزارت خارجہ کا کردار انتہائی بے حسی اور بے حمیتی پر مبنی ہے۔ ہم پہلے بھی اپنے سفارت خانے اور وزارت خارجہ پر بھروسہ کر کے بیٹھے رہے جبکہ ہمیں خاموش رہنے کی تلقین کی گئی۔ انھوں نے کہا کہ عامر چیمہ کے جسد خاکی کی واپسی میں تاخیری حربوں کے ذریعے جرمن حکومت اور یہودی لابی اپنے جرم کے ثبوت مٹانا چاہتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ عامر چیمہ کو 20 مارچ 2006ء کو گرفتار کیا گیا جبکہ ہمیں 22 مارچ کو گرفتاری اور 4 مئی کو اس کی شہادت کی اطلاع ملی۔ اس سے قبل دوران حراست جرمن میں پاکستانی سفارت خانے کے نائب سفیر خالد عثمان قیصر نے ہمیں فون کر کے کہا کہ ”آپ کے بیٹے نے ایسا کر کے پاکستانیوں کے لیے مسائل پیدا کر دیئے ہیں۔“ انھوں نے کہا کہ ان کے بیٹے کو 20 مارچ سے شہادت تک قید تنہائی میں رکھا گیا اور ہر قسم کی ملاقاتوں پر بھی پابندی رکھی گئی۔ جبکہ انھوں نے معاملے کو اس بنیاد پر کھولنے کی کوشش نہیں کی کہ اسلام دشمن قوتیں کہیں اس واقعہ کو القاعدہ یا طالبان سمیت کسی دہشت گردی کے نیٹ ورک سے جوڑنے کی کوشش نہ کریں۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ میرے بیٹے نے اس واقعہ کو اتنا راز میں رکھا کہ مجھے بھی کانوں کان خبر نہ ہونے دی، کسی تیسرے شخص سے مشاورت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ میرے بیٹے کا تنہا فیصلہ تھا اور اس نے زندگی میں پہلی مرتبہ ہتھیار اٹھایا جس کے لیے اس نے صرف اپنے دل و دماغ سے مشاورت کی اور جذبہ ایمانی کے تحت ہم سب کو چھوڑ کر عظیم رتبے پر فائز ہو گیا۔ انھوں نے کہا

صفحہ ٧٣

دی ہے، اتفاق سے دونوں کی تاریخ پیدائش بھی ایک ہے۔ انہوں نے کی بار 5 مارچ کو فون کیا اور اپنے دوست اور کزن کی شادی پر اسے کہا۔ اس نے کبھی بھی کارٹونوں کی اشاعت کے بارے میں یا اس قسم س کی کوئی بات نہیں کی۔ جرمنی میں مقیم ہمارے عزیز محمد کاشف شہزاد نے کیا لیکن فون کٹ گیا، پھر انھوں نے ہمارے ایک اور عزیز کو فون کر نہ کے بارے میں بتایا جس نے ہمیں ساری صورتحال سے مطلع کیا۔ ے ایک عزیز نے عامر چیمہ کی شہادت کے بارے میں ہمیں اطلاع مجھے اپنے بیٹے کی شہادت پر افسوس نہیں بلکہ خوشی اور فخر ہے کیونکہ اس ﷺ کی خاطر جان دی ہے۔ میرے بیٹے کی شہادت کے عظیم رتبے کو رن حکومت واقعہ کی نوعیت تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ اس ضمن میں ہماری کا کردار انتہائی بے حسی اور بے حمیتی پر مبنی ہے۔ ہم پہلے بھی اپنے ہ خارجہ پر بھروسہ کر کے بیٹھے رہے جبکہ ہمیں خاموش رہنے کی تلقین کی ر چیمہ کے جسد خاکی کی واپسی میں تاخیری حربوں کے ذریعے جرمن اپنے جرم کے ثبوت مٹانا چاہتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ عامر چیمہ کو 20 گیا جبکہ ہمیں 22 مارچ کو گرفتاری اور 4 مئی کو اس کی شہادت کی ران حراست جرمن میں پاکستانی سفارت خانے کے نائب سفیر خالد ر کے کہا کہ ”آپ کے بیٹے نے ایسا کر کے پاکستانیوں کے لیے ‘ انھوں نے کہا کہ ان کے بیٹے کو 20 مارچ سے شہادت تک قید کی ملاقاتوں پر بھی پابندی رکھی گئی۔ جبکہ انھوں نے معاملے کو اس کی کہ اسلام دشمن قوتیں کہیں اس واقعہ کو القاعدہ یا طالبان سمیت ورک سے جوڑنے کی کوشش نہ کریں۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ و اتنا راز میں رکھا کہ مجھے بھی کانوں کان خبر نہ ہونے دی، کسی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ میرے بیٹے کا تنہا فیصلہ تھا اور اس یڑا اٹھایا جس کے لیے اس نے صرف اپنے دل و دماغ سے کے تحت ہم سب کو چھوڑ کر عظیم رتبے پر فائز ہو گیا۔ انھوں نے کہا

کہ عامر پہلے صرف میرا بیٹا تھا، اب وہ پوری امت مسلمہ کا قابل فخر سپوت بن چکا ہے۔ اس نے اپنی زندگی کا مقصد حاصل کر لیا۔ انھوں نے کہا کہ عامر بچپن سے ہی مذہبی سوچ کا حامل تھا۔ اسلامی شعائر کے خلاف کوئی بات نہ سنتا تھا۔ اس کی عادات عام نوجوانوں سے مختلف تھیں۔ حضور نبی کریم ﷺ کی توہین پر بے چین ہونا ہر مسلمان کی طرح اس کا بھی فطری عمل تھا مگر اس نے تمام مسلمانوں سے بڑھ کر عملی قدم اٹھایا اور تاریخ میں سنہرے حروف سے اپنا نام درج کروالیا۔

میرے بچوں کو وراثت میں ملے حبّ رسول ﷺ
یہ اثاثہ بعد میرے بھی تو گھر میں چاہیے

عامر چیمہ کی والدہ ثریا بیگم نے کہا میں خوش قسمت ہوں کہ اللہ نے مجھے ایسا بیٹا دیا جس نے سرکار دو عالم ﷺ کے نام پر اپنی زندگی کی پروا نہ کرتے ہوئے انتہائی اقدام سے بھی گریز نہیں کیا۔ جب عامر کی پیدائش ہونے والی تھی تو میری والدہ (عامر چیمہ کی نانی) حج پر گئی ہوئی تھیں۔ انہوں نے خانہ کعبہ میں خواب دیکھا کہ مجھے پریوں نے گھیرا ہوا ہے اور مٹھائیاں تقسیم کر رہی ہیں۔ میری والدہ نے وہاں سے فون کر کے مجھے یہ خواب سنایا تھا۔ کچھ دنوں بعد عامر پیدا ہوا۔ مجھے اس خواب کی تعبیر اس کی شہادت سے آج مل گئی ہے۔ عامر چیمہ میرا اکلوتا بیٹا تھا، اگر میرے اور بیٹے بھی ہوتے تو میں انھیں اسی راستے پر بھیجتی، مجھے اپنے بیٹے کی شہادت کا کوئی دکھ نہیں، مجھے فخر ہے کہ میرے بیٹے نے نبی کریم ﷺ کی محبت میں ایسا کیا ہے۔ ہم نے اپنے بیٹے کو اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک بھیجا تھا کہ وہ دنیاوی طور پر کامیاب انسان بنے لیکن اس نے اپنی منزل پالی ہے۔ انھوں نے کہا کہ میرے بیٹے نے یورپ پر پہلا پتھر مارا ہے۔ باقی لوگوں کو بھی شہید عامر کی تقلید کرنی چاہیے۔ حرمت رسول ﷺ پر ہم سب کی جانیں قربان ہو جائیں تو بھی آخرت میں کامیابی کے لیے یہ قربانی بہت کم ہے۔ شہید کی دادی نے کہا کہ میرا بیٹا سچا عاشق رسول تھا جس کو ظالموں نے بڑی بے دردی سے شہید کر دیا۔ عامر چیمہ کے کزن عمران حیدر اور بلال حیدر نے کہا کہ عامر ایک شریف نفس انسان تھا۔ وہ نبی کریم ﷺ کا سچا عاشق تھا۔ ایک مرتبہ وہ فیصل آباد میں ایک ٹیکسٹائل مل میں 30 ہزار ماہانہ کی ملازمت کرتا تھا۔ وہ نوکری اس نے صرف اس لیے چھوڑ دی کہ اس مل کی دیوار پر ایک ٹائل ایسی لگی تھی جس پر اسم محمد ﷺ سے ملتی جلتی شبیہ تھی۔ عامر نے اس مل مالک کو کہا کہ اس ٹائل کو

صفحہ ٧٤

یہاں سے ہٹا دیں۔ عمل درآمد نہ ہونے پر اس نے وہ نوکری ہی چھوڑ دی۔ عامر پانچ وقت کا نمازی تھا، وہ اسلام کی خاطر جان قربان کرنے کے عزم کا ہمیشہ اظہار کرتا تھا۔ جرمنی میں عامر چیمہ کے یونیورسٹی کے دوستوں نے کہا کہ عامر نے کسی قسم کے ارادے کا اظہار نہیں کیا تھا۔ البتہ اسے ڈنمارک اور جرمنی کے اخبارات میں توہین آمیز خاکے شائع ہونے کا بہت دکھ تھا۔ عامر چیمہ شہید کی رہائش گاہ کے سامنے راولپنڈی کے شہریوں نے عظیم عاشق رسول کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ہزاروں گلدستوں اور بے شمار کارڈز کا ڈھیر لگا دیا۔

زندہ ہو جاتے ہیں جو مرتے ہیں ان کے نام پر

عامر عبدالرحمٰن چیمہ کے استاد محترم جناب محمد یحییٰ علوی صاحب جو کہ گورنمنٹ جامعہ سکول فار بوائز راولپنڈی میں استاد ہیں اور اسلامیات، عربی کی تدریس کر چکے ہیں، فرماتے ہیں: ”الحمدللہ میرا معمول ہے کہ ہر شب جمعہ کو کم از کم 500 مرتبہ درود شریف پڑھ کر سوتا ہوں۔ 4 مئی کو نماز عشاء ادا کرنے کے بعد جب میں مسجد سے نکلا تو ایک دوست نے بتایا کہ پروفیسر نذیر چیمہ صاحب کا بیٹا عامر جو گستاخ رسول پر حملے کے جرم میں جرمنی میں گرفتار تھا، شہید کر دیا گیا۔ یہ خبر سن کر مجھے بہت صدمہ ہوا اور عامر کی یادیں دل میں بسائے سو گیا۔ صبح سے کچھ دیر قبل میں نے خواب دیکھا کہ ایک بہت بڑے میدان میں بہت زیادہ قمقمے جگمگا رہے ہیں۔ اور ہر طرف روشنی ہی روشنی ہے۔ اس دوران میں نے دیکھا کہ اس روشن میدان میں ایک بلند سٹیج سجا ہوا ہے اور اس پر حضور ﷺ جلوہ افروز ہیں۔ آپ کے رخِ زیبا سے نور ہی نور پھوٹ رہا ہے۔ آپ ﷺ کے ساتھ خلفائے راشدین بھی موجود ہیں۔ اسی اثناء میں میدان کی دوسری طرف سے سفید لباس میں ملبوس عامر شہید آتے ہیں اور تیز قدموں کے ساتھ حضور ﷺ کی طرف بڑھتے ہیں۔ آقا ﷺ عامر کو اپنی طرف آتا دیکھ کر خوشی اور مسرت سے کھڑے ہو جاتے ہیں اور آغوش مبارک وا کر کے عامر کو پکارتے ہوئے فرماتے ہیں۔ ”مرحباً! اے میرے بیٹے۔ پھر سرکار دوعالم ﷺ فرماتے ہیں۔ حسن و حسین (رضی اللہ عنہما) یہ دیکھو کون آیا ہے۔ میں عامر کو تمہارے سپرد کر رہا ہوں، تم اس کا خیال رکھنا۔“ بس اسی لمحے قریبی مسجد سے اذانِ فجر بلند ہوئی اور میری آنکھ کھل گئی۔“

عشق کی ایک جست نے طے کر دیا قصہ تمام

9 مئی 2006ء کو وفاقی وزارت داخلہ میں اعلیٰ سطحی اجلاس سیکرٹری داخلہ سید کمال

صفحہ ٧٥

شاہ کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں شہید عامر چیمہ کا جسد خاکی پاکستان لانے، نماز جنازہ اور تدفین کے موقع پر حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس راولپنڈی کو ہدایت کی گئی کہ وہ روٹس اور سیکورٹی پلان تیار کریں۔ مزید برآں کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لیے راولپنڈی اور ساروکی ضلع گوجرانوالہ میں دفعہ 144 کا نفاذ کر دیا گیا تاکہ کم سے کم لوگ جنازے میں شریک ہوں۔ پروگرام کے مطابق عامر چیمہ کی میت 10 مئی کو صبح ساڑھے چار بجے اسلام آباد ائیر پورٹ پہنچے گی جہاں سے اس کو ڈھوک کشمیریاں لایا جائے گا اور 10 بجے حشمت علی کالج کے گراؤنڈ میں نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔ بعدازاں وزیرآباد کے نواحی گاؤں ساروکی میں سپرد خاک کیا جائے گا جبکہ وزیرآباد کے شہری دریائے چناب کے پل پر ایمبولینس کا استقبال کریں گے۔ اس موقع پر شہر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہوگا جبکہ شہید کے جسد خاکی کو بڑے جلوس کی شکل میں آبائی گاؤں پہنچایا جائے گا۔ اس موقع پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے مطالبہ کیا کہ شہید ناموس رسالت عامر چیمہ کی میت کو سرکاری اعزاز کے ساتھ دفن کیا جائے۔

عامر چیمہ کی شہادت 3 مئی 2006ء کو ہوئی۔ مگر جرمن حکومت نے پوسٹ مارٹم کروا لینے کے باوجود تاخیری حربے استعمال کرتے ہوئے شہید کا جسد خاکی 9 دن کے بعد 12 مئی 2006ء کو پاکستانی سفارت خانے کے اہلکاروں کے سپرد کیا۔ شہید کا جسد خاکی واپس لانے میں تاخیر کی سازشوں میں جرمنی کی طرح حکومت پاکستان بھی ملوث ہے۔ میت کی حوالگی میں تاخیر کے حوالے سے کیے گئے سوال کے جواب میں جرمن میں پاکستان کے نائب سفیر خالد عثمان قیصر نے کہا کہ جرمن حکام رولز پر سختی سے عمل کرتے ہیں۔ یہ لوگ ہفتہ اور اتوار کے دن کام نہیں کرتے۔ جرمنی کے ایک سابق صدر کو انتقال کے دس روز بعد دفنایا گیا۔ جرمنوں کے نزدیک انتقال کے فوری بعد یا تاخیر سے دفنانا کوئی معنی نہیں رکھتا، تاہم پہلے ضروری پراسس کو پورا کیا جاتا ہے۔ میت کی جلد تدفین ہمارے نزدیک ضروری نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ میت کی حوالگی کے بعد واپسی کی کارروائی پوری کرنے میں 2 دن لگ سکتے ہیں۔

شہید کی میت 13 مئی 2006ء کو صبح 9 بج کر 20 منٹ پر ایمسٹرڈیم سے پی آئی اے کی پرواز PK-764 کے ذریعے لاہور کے علامہ اقبال ائیر پورٹ لائی گئی جہاں درجنوں افراد نے اشکبار آنکھوں کے ساتھ عاشق رسول کے جسد خاکی کا استقبال کیا۔ جہاز کے

صفحہ ٧٦

مسافروں کو شہید کے جسد خاکی سے بے خبر رکھا گیا۔ اس موقع پر لاہور ائیر پورٹ پر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ پولیس نے ہوائی اڈے کے داخلی اور خارجی راستے بند کر رکھے تھے جس سے بے شمار عاشقان رسول شہید کی میت کے استقبال سے محروم رہے۔ شہید کی میت کو وزیر اعلیٰ معائنہ ٹیم کے صوبائی وزیر کرنل (ر) شجاع خانزادہ نے وصول کیا۔ اس موقع پر عامر چیمہ کے چچا عصمت اللہ چیمہ اور ان کے ماموں حاجی محمد اسلم بھی موجود تھے۔ بعد میں میت کو فوری طور پر وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کے ہیلی کاپٹر پر راہوالی ائیر بیس گوجرانوالہ کینٹ لے جایا گیا۔ راہوالی ائیربیس پر ڈی سی او گوجرانوالہ راؤ منظر حیات نے میت وصول کی۔ یہاں حکومتی ایجنسیوں اور پولیس کی بھاری نفری کی نگرانی میں ایمبولینس کے ذریعے میت عامر چیمہ کے آبائی گاؤں ساروکی پہنچائی گئی۔ جنازے کے قافلے کی قیادت پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ ڈی پی او گوجرانوالہ ڈاکٹر عارف مشتاق کر رہے تھے۔ یوں معلوم ہو رہا تھا جیسے انتظامیہ نے شہید کی میت کو ہائی جیک کر لیا ہے۔ لاکھوں لوگوں نے مین روڈ پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کرتے ہوئے میت کا استقبال کیا۔ ہزاروں افراد گاڑی کے ساتھ بھاگتے ہوئے گاؤں تک گئے۔ تاحد نگاہ انسانوں کا جم غفیر نظر آ رہا تھا۔ راہوالی سے لے کر ساروکی چیمہ تک راستے میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ 10 تھانوں کی پولیس، ایلیٹ فورس، ریزرو پولیس، دو ایس پی، پانچ ڈی ایس پی اور ٹریفک پولیس کا عملہ ڈیوٹی دے رہا تھا۔ لوگوں نے میت والی ایمبولینس پر جگہ جگہ گل پوشی کی۔ تمام راستے نعرہ تکبیر اللہ اکبر کے نعرے گونجتے رہے۔ ساروکی چیمہ کو اہل دیہہ نے خوبصورت رنگ برنگی جھنڈیوں، خیر مقدمی بینروں، شہید عامر چیمہ کی تصاویر اور پوسٹروں سے رات گئے سجا دیا تھا کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ

غازی کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

13 مئی کو علی الصبح گوجرانوالہ شہر اور اس کے گردونواح کے دیہاتوں میں مساجد سے اعلانات کیے جاتے رہے کہ آج شہید کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے سب کام چھوڑ کر اس کی نماز جنازہ میں شرکت کی جائے۔ ایک دن پہلے ہی یہ خبر عوام میں پھیل گئی تھی کہ شہید عامر چیمہ کا جسد خاکی وزیر آباد لایا جا رہا ہے جبکہ مقامی سول انتظامیہ اور پولیس نے انتہائی رازداری سے موضع ساروکی میں اپنے طور پر تدفین کے ضروری انتظام کر لیے تھے۔ 13 مئی 2006ء کو عامر چیمہ کے جنازہ کے سلسلہ میں تحصیل وزیر آباد کے تمام چھوٹے بڑے

صفحہ ٧٧

انے بے خبر رکھا گیا۔ اس موقع پر لاہور ائیر پورٹ پر سخت ۔ پولیس نے ہوائی اڈے کے داخلی اور خارجی راستے بند کر عاشقان رسول شہید کی میت کے استقبال سے محروم رہے۔ شہید کی صوبائی وزیر کرنل (ر) شجاع خانزادہ نے وصول کیا۔ اس موقع پر چیمہ اور ان کے ماموں حاجی محمد اسلم بھی موجود تھے۔ بعد میں اب پرویز الہی کے ہیلی کاپٹر پر راہوالی ائیر بیس گوجرانوالہ کینٹ پر ڈی سی او گوجرانوالہ راؤ منظر حیات نے میت وصول کی۔ ں کی بھاری نفری کی نگرانی میں ایمبولینس کے ذریعے میت عامر پہنچائی گئی۔ جنازے کے قافلے کی قیادت پولیس کی بھاری نفری ڈاکٹر عارف مشتاق کر رہے تھے۔ یوں معلوم ہو رہا تھا جیسے کی بک کر لیا ہے۔ لاکھوں لوگوں نے مین روڈ پر پھولوں کی کا استقبال کیا۔ ہزاروں افراد گاڑی کے ساتھ بھاگتے ہوئے ں کا جم غفیر نظر آ رہا تھا۔ راہوالی سے لے کر ساروکی چیمہ تک ظامات کیے گئے تھے۔ 10 تھانوں کی پولیس، ایلیٹ فورس، ڈی ایس پی اور ٹریفک پولیس کا عملہ ڈیوٹی دے رہا تھا۔ لوگوں بلہ گل پاشی کی۔ تمام راستے نعرہ تکبیر اللہ اکبر کے نعرے گونجتے نے خوبصورت رنگ برنگی جھنڈیوں، خیر مقدمی بینروں، شہید سے رات گئے سجا دیا تھا کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ

رکی کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

جرا نوالہ شہر اور اس کے گردونواح کے دیہاتوں میں مسا آج شہید کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے سب کام چھو ٹی کی جائے۔ ایک دن پہلے ہی یہ خبر عوام میں پھیل گئی تھی کہ آباد لایا جا رہا ہے جبکہ مقامی سول انتظامیہ اور پولیس نے لی میں اپنے طور پر تدفین کے ضروری انتظام کر لیے تھے۔ جنازہ کے سلسلہ میں تحصیل وزیر آباد کے تمام چھوٹے بڑے

دیہات جن میں وزیر آباد، علی پور چٹھہ، رسولنگر، ساروکی، احمد نگر، گکھڑ منڈی اور دوسرے علاقوں میں مکمل ہڑتال تھی۔ بار ایسوسی ایشن وزیر آباد نے بھی متفقہ طور پر ہڑتال کر رکھی تھی۔ صبح سویرے سے ہی لوگ قافلوں کی صورت میں بسوں، ویگنوں اور ٹرالیوں کے ذریعے جناز گاہ پہنچ رہے تھے۔ مزید برآں مقامی ٹرانسپورٹروں نے وزیر آباد سے ساروکی نماز جنازہ کی ادائیگی کے لیے جانے والوں کو فری سہولت فراہم کی۔ شدید گرمی اور حبس کے باوجود لاکھوں لوگ دھوپ میں بڑے جوش اور جذبے کے ساتھ گھنٹوں کھڑے رہے اور شہید کے آخری دیدار میں بیتابی کا اظہار کیا اور کہا کہ شہید کے جنازے میں شرکت ایک اعزاز ہے اور ہم اس نوجوان کا چہرہ دیکھنے کے لیے آئے ہیں جس نے ایمانی غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے حرمت رسول ﷺ کے لیے جان قربان کر کے تمام مسلمانوں کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد شہید کے والد سے بھی ہاتھ ملانے کے لیے انتہائی جوش و جذبے کا مظاہرہ کرتی رہی۔

شہید کی میت جب ساروکی گاؤں پہنچی تو لاکھوں افراد نے پُر جوش جذبات میں عامر چیمہ شہید زندہ باد، عامر چیمہ شہید تیرے خون کا حساب لیں گے، غلام ہیں غلام ہیں، رسول ﷺ کے غلام ہیں، غلامی رسول میں، موت بھی حیات ہے، شہید کی جو موت ہے، وہ قوم کی حیات ہے، جو ہو نہ عشق مصطفیٰ، تو زندگی فضول ہے کے فلک شگاف نعرے لگائے اور عامر شہید کے خون کا حساب لینے کی قسمیں کھاتے رہے۔ بے شمار لوگ کلمہ طیبہ اور درود شریف کا ورد کرتے رہے۔ نوجوانوں کی مختلف ٹولیاں نعت خوانی میں مصروف تھیں۔ عامر چیمہ کی میت کو سب سے پہلے ان کے آبائی گھر لایا گیا جہاں ان کے والد، والدہ، دادی، بہنوں اور دیگر عزیز واقارب نے میت کا چہرہ دیکھا۔ ان کی والدہ نے درود شریف پڑھ کر میت پر پھونک ماری۔ اس کے بعد آخری دیدار کے لیے میت کو گھر کے باہر رکھا گیا جہاں لاکھوں افراد نے شہید کا آخری دیدار کیا۔ شہید کے تابوت سے خوشبو آ رہی تھی۔ گاؤں والوں نے میزبانی کے خوب فرائض سرانجام دیے۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ ان کو فخر ہے کہ ان کے گاؤں کا نوجوان دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں پر بازی لے گیا ہے۔ گاؤں والے جگہ جگہ ٹھنڈے مشروبات کی سبیلیں لگا کر لوگوں کو پانی پلانے میں مصروف رہے۔ پورے گاؤں کے لوگوں نے اپنے گھر شرکائے جنازہ کے وضو، پانی، غسل، آرام اور کھانے کے لیے کھول دیے۔ زمینداروں نے پورے علاقے میں ٹیوب ویل چلا دیے، جبکہ حکومت کی طرف سے کسی قسم کے کوئی انتظامات نہ

صفحہ ٧٨

کیے گئے۔ جب شہید کا جنازہ تدفین کے لیے اٹھایا گیا تو فضا کلمہ طیبہ کے ورد سے گونج اٹھی۔ میت کے اوپر مسلسل ہزاروں من پھولوں کی پتیاں نچھاور ہوتی رہیں۔ آہوں اور سسکیوں کا ایک تسلسل تھا جو تھمنے کا نام نہ لیتا تھا۔ یہ ایک ایسا ایمان پرور منظر تھا جسے صدیوں نہ بھلایا جاسکے گا۔ عامر چیمہ کی میت کو کندھا دینے کے لیے ہر شخص اپنے لیے باعث سعادت سمجھتا تھا۔ اس لیے ہر کسی کی خواہش تھی کہ وہ عامر چیمہ شہید کے تابوت کو کندھا دے۔ کئی عاشق رسول ﷺ تابوت کو ہاتھ لگا کر اپنے پورے جسم پر پھیرتے اور اس کو اپنے لیے باعث برکت کہتے۔

نماز جنازہ پیر کرنل (ر) ڈاکٹر محمد سرفراز محمدی سیفی نے پڑھائی۔ نماز جنازہ میں ایک اندازے کے مطابق 5 لاکھ سے زائد لوگ موجود تھے۔ جس جگہ نماز جنازہ پڑھائی گئی، وہ 16 ایکڑ سے زائد رقبہ تھا جسے لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت راتوں رات ہی ہموار کر کے نماز جنازہ کے لیے تیار کر لیا تھا۔ اگر نماز جنازہ وقت سے تین گھنٹے پہلے نہ پڑھائی جاتی تو یہ تعداد 2 تا 3 گنا مزید بڑھ سکتی تھی۔ نماز جنازہ میں گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، جہلم، گوجر خان، راولپنڈی، لاہور، قصور، منڈی بہاؤالدین کے علاوہ دیگر اضلاع کے تمام چھوٹے بڑے شہروں کے 5 لاکھ کے قریب لوگوں نے شرکت کی۔ شہید کے جسد خاکی کو جب لحد میں اتارا گیا تو فضا نعرہ تکبیر سے گونج اٹھی۔ اس موقع پر نہایت جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔ لوگ دھاڑیں مار مار کر رو اور الوداع الوداع عامر شہید الوداع کے نعرے لگا رہے تھے۔

عامر شہید کی نماز جنازہ کے متعلق عوام کو کنفیوژن میں رکھا گیا۔ اخبارات اور مختلف ٹی وی چینلوں پر نماز جنازہ کا وقت سہ پہر 4 بجے بتایا گیا تھا مگر حکومتی مداخلت سے جنازہ پہلے ہی پڑھا دیا گیا۔ ہزاروں افراد مقررہ وقت 4 بجے سہ پہر ساروکی چیمہ پہنچے تو تدفین ہو چکی تھی۔ بعد ازاں غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی، جو عامر شہید کے والد کی خواہش پر جماعت الدعوۃ کے مولانا امیر حمزہ نے پڑھائی۔ غائبانہ نماز جنازہ میں لاکھوں افراد نے شرکت کی اور حکومت کے خلاف زبردست نعرے بازی کی۔ یاد رہے کہ نماز جنازہ اور تدفین کے موقع پر وفاقی یا صوبائی حکومت کی کسی قابل ذکر شخصیت نے شرکت نہیں کی۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ جب غازی علم الدین شہید کے روحانی بیٹے عامر چیمہ کی میت کو نماز جنازہ کے لیے ساروکی لایا گیا تو جیسے ہی شہید کے جسد خاکی کو ایمبولینس سے باہر نکالا گیا تو ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں سے موسم خوشگوار ہو گیا اور ٹھنڈی ہوا اس وقت تک جاری

رہی جب تک شہید کی نماز جنازہ ادا برکت سے ایسا ہوا ہے۔ لاکھوں ۔ رکھنے میں مصروف تھا۔ مختلف سیاسی مظاہرہ کر رہے تھے۔ ہر آنکھ اشکبار تھ کو مبارکباد پیش کر رہا تھا۔ گوجرانوال قدر بڑا جنازہ کا اجتماع دیکھنے میں نہیں پر فاتحہ خوانی کرتے رہے۔

عامر شہید کے والد پروفی ساروکی کے قبرستان میں دفن کیا ۔ طارق عظیم نے وعدہ کیا تھا کہ جہاں خواہش تھی کہ تدفین راولپنڈی میں : ادا کرنے کی اجازت دینے سے انکا اکلوتا بیٹا شہید ہوا ہے، میں حکومت انھوں نے کہا کہ ڈی آئی جی راولپنڈ راولپنڈی میرے گھر ملاقات کے دو جنازہ ساروکی میں پڑھایا جائے۔ ہما کہ ہماری بات مان لو ورنہ بیٹے کا آ اس طرح انھوں نے ہمیں مجبور کر جائیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے ا ہے ۔ اگر راولپنڈی میں جنازے اور تاریخ کے ایک عظیم اجتماع کے ذری خوش ہوں کہ میرے بیٹے نے عشق محبت پر قربان ہو گیا۔ غازی عامر ن وہ گستاخان رسولؐ کا بھر پور مقابلہ ک

صفحہ ٧٩

تدفین کے لیے اٹھایا گیا تو فضا کلمہ طیبہ کے ورد سے گونج اٹھی۔ ان پھولوں کی پتیاں نچھاور ہوتی رہیں۔ آہوں اور سسکیوں کا ایک سما۔ یہ ایک ایسا ایمان پرور منظر تھا جسے صدیوں نہ بھلایا جا سکے گا۔ کے لیے ہر شخص اپنے لیے باعث سعادت سمجھتا تھا۔ اس لیے ہر چیمہ شہید کے تابوت کو کندھا دے۔ کئی عاشق رسول ﷺ تابوت پر پھیرتے اور اس کو اپنے لیے باعث برکت کہتے۔

ر) ڈاکٹر محمد سرفراز محمدی سیفی نے پڑھائی۔ نماز جنازہ میں لکھ سے زائد لوگ موجود تھے۔ جس جگہ نماز جنازہ پڑھائی گئی، وہ لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت راتوں رات ہی ہموار کر کے تھا۔ اگر نماز جنازہ وقت سے تین گھنٹے پہلے نہ پڑھائی جاتی تو یہ گئی تھی۔ نماز جنازہ میں گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، جہلم، گوجر منڈی بہاؤالدین کے علاوہ دیگر اضلاع کے تمام چھوٹے بڑے لوگوں نے شرکت کی۔ شہید کے جسد خاکی کو جب لحد میں اتارا تھی۔ اس موقع پر نہایت جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔ لوگ الوداع عامر شہید الوداع کے نعرے لگا رہے تھے۔

جنازہ کے متعلق عوام کو کنفیوژن میں رکھا گیا۔ اخبارات اور مختلف وقت سہ پہر 4 بجے بتایا گیا تھا مگر حکومتی مداخلت سے جنازہ پہلے مقررہ وقت 4 بجے سہ پہر ساروکی چیمہ پہنچے تو تدفین ہو چکی زہ ادا کی گئی، جو عامر شہید کے والد کی خواہش پر جماعت الدعوۃ ۔ غائبانہ نماز جنازہ میں لاکھوں افراد نے شرکت کی اور حکومت ازی کی۔ یاد رہے کہ نماز جنازہ اور تدفین کے موقع پر وفاقی یا شخصیت نے شرکت نہیں کی۔

کر ہے کہ جب غازی علم الدین شہید کے روحانی بیٹے عامر چیمہ ساروکی لایا گیا تو جیسے ہی شہید کے جسد خاکی کو ایمبولینس سے لوگوں سے موسم خوشگوار ہو گیا اور ٹھنڈی ہوا اس وقت تک جاری

رہی جب تک شہید کی نماز جنازہ ادا کی جاتی رہی۔ اس موقع پر لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ شہید کی برکت سے ایسا ہوا ہے۔ لاکھوں کے اس اجتماع میں ہر شخص امن و امان اور نظم و ضبط برقرار رکھنے میں مصروف تھا۔ مختلف سیاسی اور مذہبی نظریات رکھنے کے باوجود سب لوگ رواداری کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ ہر آنکھ اشکبار تھی اور ہر شخص عامر چیمہ کے عظیم کارنامہ پر اس کے والدین کو مبارکباد پیش کر رہا تھا۔ گوجرانوالہ ڈویژن کی تاریخ میں گزشتہ ایک صدی کے دوران اس قدر بڑا جنازہ کا اجتماع دیکھنے میں نہیں آیا۔ لوگ رات گئے تک ساروکی چیمہ آتے رہے اور قبر پر فاتحہ خوانی کرتے رہے۔

؎ یہ رتبہ بلند ملا، جس کو مل گیا

عامر شہید کے والد پروفیسر نذیر چیمہ نے کہا کہ انتظامیہ نے زبردستی میرے بیٹے کو ساروکی کے قبرستان میں دفن کیا ہے، حکومت نے ہمارے ساتھ دھوکا کیا ہے۔ وزیر مملکت طارق عظیم نے وعدہ کیا تھا کہ جہاں آپ طے کریں گے، شہید کی تدفین ہوگی۔ ہماری سب کی خواہش تھی کہ تدفین راولپنڈی میں ہو۔ مگر حکومت نے عامر چیمہ کی نماز جنازہ راولپنڈی میں ادا کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ میں ایک عام آدمی ہوں جس کا اکلوتا بیٹا شہید ہوا ہے، میں حکومت کا مقابلہ کیسے کر سکتا ہوں؟ ہمارے اوپر بہت دباؤ ہے۔ انھوں نے کہا کہ ڈی آئی جی راولپنڈی، ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن آفیسر حامد علی خاں اور ڈی سی او راولپنڈی میرے گھر ملاقات کے دوران اس بات پر زور دے رہے تھے کہ عامر چیمہ شہید کا جنازہ ساروکی میں پڑھایا جائے۔ ہمارے انکار پر ڈی پی او راولپنڈی سعود عزیز نے دھمکی دی کہ ہماری بات مان لو ورنہ بیٹے کا آخری دیدار بھی نہ کر سکو گے اور تدفین بھی ہم کریں گے۔ اس طرح انھوں نے ہمیں مجبور کر دیا کہ ہم شہید کی میت کو تدفین کے لیے ساروکی لے جائیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے اپنے بیٹے کی زبردستی تدفین کا معاملہ اپنے رب پر چھوڑ دیا ہے۔ اگر راولپنڈی میں جنازے اور تدفین کے حوالے سے حکومت رکاوٹ پیدا نہ کرتی تو ملکی تاریخ کے ایک عظیم اجتماع کے ذریعے دنیا کو اہم پیغام ملتا۔ عامر شہید کی والدہ نے کہا کہ میں خوش ہوں کہ میرے بیٹے نے عشق رسول ﷺ میں قربانی دی۔ میرا شیر جوان بیٹا نبی ﷺ کی محبت پر قربان ہو گیا۔ غازی عامر نے اب واپس نہیں آنا لیکن میں مسلمانوں سے کہتی ہوں کہ وہ گستاخان رسول کا بھرپور مقابلہ کریں۔ انھوں نے کہا کہ میرے لیے یہ بات بہت تکلیف

صفحہ ٨٠

وہ ثابت ہوئی ہے کہ بیٹے کی وصیت پوری نہیں کی گئی اور حکومت نے زبردستی شہید بیٹے کی تدفین آبائی گاؤں ساروکی میں کروائی ہے۔ میری قوم سے اپیل ہے کہ وہ شہید کی ماں کو انصاف دلائے اور حکومت کے غلط فیصلے پر احتجاج کرے۔ اللہ نے میرے بیٹے کو شہادت کا اعلیٰ رتبہ دیا لیکن حکمرانوں نے شہید کے جنازہ میں شرکت کرنے والے قافلوں کو روک کر اللہ کی ناراضگی مول لی ہے، ہمیں راولپنڈی سے ایک ڈی ایس پی کی زیر قیادت پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ زیر حراست افراد کی طرح زبردستی لایا گیا ہے۔ ہم حکومت کے اس رویے کی مذمت کرتے ہیں۔ شہید کی ہمشیرہ کشور نذیر چیمہ نے کہا کہ شہید کے لواحقین کو پولیس کی نگرانی میں دو فلائنگ کوچوں میں بھر کر قیدیوں کی طرح پنڈی سے ان کے آبائی گاؤں ساروکی لایا گیا ہے۔ ڈی پی او راولپنڈی سعود عزیز پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ گزشتہ روز ہمارے گھر آئے، جہاں انھوں نے میرے والد کو دھمکی دی کہ یہاں حالات خراب ہونے کا خدشہ ہے، اگر آپ آبائی گاؤں میں تدفین پر راضی نہ ہوئے تو ہم از خود سرکاری انتظامات میں عامر چیمہ شہید کو ساروکی چیمہ میں نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد دفن کردیں گے اور آپ لوگ عامر چیمہ کا آخری دیدار بھی نہیں کر سکیں گے۔ انھوں نے بتایا کہ حکومت کی طرف سے ملنے والی دھمکی کے بعد ہم گھر والوں نے باہمی مشورہ سے فیصلہ کیا کہ اس طرح بھائی شہید کا آخری دیدار کرنے سے بھی محروم رہ جائیں گے۔ لہذا حکومت کی بات مان لی جائے اور راولپنڈی کے بجائے ساروکی میں ہی تدفین کا حکومتی فیصلہ تسلیم کر لیا جائے۔ شہید کی ہمشیرہ کشور نے کہا کہ ہم سیاسی جلسہ کر رہے ہیں نہ جلوس نکال رہے ہیں نہ ہم نے لوگوں کو جنازہ میں شرکت کی دعوت دی ہے، لوگ اگر آنا چاہتے ہیں تو ہم انھیں کیسے روک سکتے ہیں۔ حکومت نے شہید کی وصیت کا بھی احترام نہیں کیا اور ہمیں دھمکی دے کر آبائی گاؤں میں تدفین پر مجبور کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت دباؤ ڈال رہی ہے کہ شہید عامر چیمہ کی میت کو زیادہ دیر تک گاؤں میں نہ رکھا جائے اور گاؤں لاتے ہی نماز جنازہ پڑھا کر ساڑھے گیارہ بجے تک دفن کر دیا جائے۔ افسوس ہے کہ حکومت نے اپنے وعدہ کے خلاف عامر بھائی شہید کی تدفین گاؤں میں کروائی ہے جبکہ ہم گزشتہ 30 سال سے پنڈی میں رہائش پذیر ہیں اور اپنے عزیزوں کی یہیں تدفین کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہماری خواہش تھی کہ عامر کی تدفین بھی پنڈی میں کی جاتی۔ مگر حکومت نے جبراً عامر کا جسد خاکی ان کے آبائی گاؤں لاکر طے شدہ پروگرام سے پہلے تدفین کروادی۔

صفحہ ٨١

سرکاری اہلکار مسلسل میرے والد کے ساتھ ہیں اور انھیں شدید ذہنی اذیت دی جا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر حکومت ایک پاکستانی شہری کی جان نہیں بچا سکتی تو اس کی وصیت کو پورا کر کے شہید کے خاندان کو دلاسا دیا جا سکتا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ہمارا پیارا، بہادر اور اکلوتا بھائی اسلام پر قربان ہو گیا۔ عامر شروع ہی سے بہت زیادہ مذہبی ذہن رکھتا تھا۔ غازی علم دین شہید ان کی پسندیدہ شخصیت تھی، وہ اکثر ان کا ذکر کیا کرتے تھے کہ کاش میں بھی کچھ ایسا کروں۔ عامر شہید کی بہنوں نے کہا کہ عامر کو فوج میں جانے کا شوق رہا جس کی بڑی وجہ ان کے دل میں مچلنے والا جذبہ شہادت تھا۔ وہ آرمی انجینئرنگ کور میں سلیکٹ بھی ہو چکے تھے مگر پھر کسی وجہ سے نہیں جا سکے۔

قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر اور متحدہ مجلس عمل کے سیکرٹری جنرل مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ حکومت نے عوامی ردعمل سے خوفزدہ ہو کر راولپنڈی میں نماز جنازہ کی ادائیگی کی اجازت نہیں دی۔ حکومت کو اپنے اقدام سے عوام میں مقبولیت کا اندازہ کر لینا چاہیے۔ جو حکومت ایک شہید کے جنازے کی متحمل نہ ہو سکے، اسے حکمرانی کا حق حاصل نہیں ہو سکتا۔ انھوں نے کہا کہ متعلقہ اداروں نے توہین قرآن اور توہین رسالت ﷺ کے واقعات کے حوالے سے بھی خود کو بیانات تک محدود رکھا۔ انھوں نے کہا کہ عامر چیمہ کی شہادت ضرور رنگ لائے گی۔ امت مسلمہ کا ہر نوجوان تحفظ رسالت ﷺ کے لیے ہر قسم کی قربانی کا جذبہ رکھتا ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے عامر چیمہ کا آخری خط 9 مئی 2006ء کو راولپنڈی میں ان کے اہلخانہ کے سپرد کیا جو فرط جذبات سے خط سے لپٹ کر رونے لگے۔ شہید کے والد محترم کو چار صفحات کے اس خط میں صرف دو صفحات حوالے کیے گئے۔ اس بات پر بھی شائد ہمیشہ کے لیے پردہ پڑا رہے گا کہ شہید عامر چیمہ نے خط کے باقی دو صفحات پر کیا تحریر کیا تھا۔ عامر چیمہ نے اپنے خط میں واضح طور پر لکھا کہ ان شاء اللہ میری موت خود کشی پر ہرگز نہ ہو گی۔ عامر چیمہ کی وصیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس نے خود کشی نہیں کی بلکہ اسے پہلے ہی جرمن حکام کے رویہ سے معلوم ہو چکا تھا کہ اسے شہید کر دیا جائے گا۔ چونکہ عامر شہید شہادت کی موت کا متلاشی تھا، اس لیے اس سے خود کشی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

عامر عبدالرحمن چیمہ نے اپنے آخری خط میں لکھا: بسم اللہ الرحمن الرحیم ”تمام مسلمانوں اور میرے والدین سے گزارش ہے کہ مجھے جیل میں مرنے کی

صفحہ ٨٢

صورت میں جلد از جلد بغیر پوسٹ مارٹم کے جنت البقیع میں یا کسی بہت بڑے قبرستان میں دفنایا جائے تاکہ آخرت میں میرے لیے آسانی ہو۔ میرے والدین سے گزارش ہے کہ اگر مجھے سعودی عرب جنت البقیع میں دفن کرنے کا انتظام ہو جائے تو اس کی اجازت دے دیں۔ دوسری صورت میں کسی ایسے بڑے قبرستان میں دفنائیں جہاں بہت سے نیک لوگوں کی قبریں ہوں اور میرا جنازہ بڑا کرنے کی کوشش کریں تاکہ میرے لیے آسانی ہو۔

باقی تمام مسلمانوں سے گزارش ہے کہ میرے لیے دعا کریں اور غائبانہ نماز جنازہ (اگر ہو سکے تو) ادا کریں تاکہ میرے لیے آسانی ہو۔ میں تمام لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ انشاء اللہ میری موت خودکشی پر ہرگز نہیں ہوگی۔ میرے والدین، بہنوں اور دیگر عزیز و اقارب و دوستوں اور تمام مسلمانوں سے گزارش ہے کہ میرے گناہ معاف کر دیں اور میرے ذمہ کوئی قرض ہو تو معاف کر دیں اور میرے لیے دعا کریں تاکہ آخرت کے حساب کتاب میں میرے لیے آسانی ہو۔ میرے لیے بخشش کی دعا کریں۔ اللہ آپ کی دعاؤں کو قبول فرمائے۔

اگر ہو سکے تو خانہ کعبہ اور مسجد نبوی میں کوئی میرے لیے دعا کرے۔ سعودی حکومت سے درخواست ہے کہ خانہ کعبہ اور مسجد نبوی ﷺ میں میرا نام لے کر دعا کروائی جائے، تاکہ میرے لیے آسانی ہو اور مجھے جنت البقیع میں دفن کرنے کی اجازت دی جائے۔"

(عامر عبدالرحمن)

پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں نے جرمن پولیس کے ہاتھوں ایک عاشق رسول ﷺ عامر چیمہ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے جرمن حکومت کی شدید مذمت کی۔ دریں اثنا پاکستان کی مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے قائدین نے عامر چیمہ کی شہادت پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی یورپی یا امریکی باشندے کے ساتھ ایسا سلوک ہوتا تو عالم مغرب سراپا احتجاج بن جاتا۔ لیکن حکومت پاکستان نے جرمن حکومت سے کوئی باضابطہ احتجاج نہیں کیا۔ پاکستانی سفارت خانے اور حکومت نے اپنے شہری کو بچانے کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ حکومت جرمنی سے اپنا سفیر واپس بلاتی اور کسی غیر جانبدار ملک سے پوسٹ مارٹم کروا کر اس کی موت کی تحقیقات کرواتی اور پھر انصاف کے حصول کے لیے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرتی لیکن حکمرانوں نے مغرب کی ناراضگی کے خوف سے نازیبا خاکوں کی اشاعت پر بھی کوئی اہم قدم نہیں اٹھایا تھا اور پھر

صفحہ ٨٣

ایک عاشق رسول ﷺ کی جرمن پولیس کے ہاتھوں شہادت پر بھی حکومت نے بزدلانہ اور مجرمانہ غفلت کا ارتکاب کیا۔ عامر چیمہ کی شہادت میں حکومت برابر کی شریک ہے کیونکہ وہ اپنے شہری کو بازیاب کرانے اور تحفظ دینے میں ناکام رہی۔ عامر چیمہ کی شہادت مسلم حکمرانوں کی بے حسی پر طمانچہ ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کیا بے غیرتی ہوگی کہ حکومت کا کوئی بھی قابل ذکر نمائندہ ان کے ہاں تعزیت کے لیے نہیں گیا۔ جرمنی میں پاکستانی سفارت خانے نے نہ تو جرمن حکومت سے کوئی باضابطہ احتجاج کیا، نہ ہی کوئی تحقیقی رپورٹ پاکستان بھجوائی۔ پاکستانی سفارت خانے نے انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے عامر چیمہ کے خاندان کو پیش کش کی کہ عامر کے جسد خاکی کو جرمنی میں ہی دفن کر دیا جائے لیکن عامر کے والدین نے اس پیشکش کو فوری طور پر مسترد کر دیا اور کہا کہ خدارا آپ ہمارے زخموں پر مزید نمک نہ چھڑکیں اور تاخیری حربے اختیار نہ کریں بلکہ فوری طور پر ہمارے بیٹے کی میت پاکستان بھجوائی جائے۔ پاکستان ایمبیسی کے سیکرٹری خالد حسین نے کہا تھا کہ اس مسئلے کو اعلیٰ سطح پر اٹھایا جائے گا لیکن ابھی تک اس بات پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ اس حوالے سے وزارت خارجہ اور جرمنی میں پاکستان کے سفیر کا کردار قابل مذمت ہے۔ پاکستان میں رہنے والا کوئی عیسائی اگر توہین رسالت کا ارتکاب کرے تو یورپی ممالک صرف اپنے عقیدے اور مذہب کی بنیاد پر مقدمہ درج ہونے کے باوجود اسے یہاں سے اٹھا کر لے جاتے ہیں اور جرمنی جیسے ملک انھیں اپنے ملکوں میں پناہ دے کر پروٹوکول فراہم کرتے ہیں مگر ہماری حکومت اپنے ہی شہریوں کے بلا جواز قتل پر خاموش تماشائی بنی رہی۔ اس موقع پر نام نہاد انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں کی مجرمانہ خاموشی افسوسناک ہے۔ ان کے منافقانہ کردار سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ ان کی تاریں باہر سے ہلتی ہیں۔

جرمن محکمہ انصاف کی ترجمان جولیان بیر ہینی Juliane Baer Henney نے اپنے ایک اخباری بیان میں کہا کہ عامر چیمہ نے اپنے لباس سے پھندا بنا کر اپنے سیل کی کھڑکی سے لٹک کر موت کو گلے لگا لیا۔ بعد میں پاکستان میں جرمنی کے سفیر ڈاکٹر گنٹر مولیک بھی اپنے اخباری بیانات میں یہی راگنی الاپتے رہے۔

عجیب لوگ ہیں کیا خوب منصفی کی ہے
ہمارے قتل کو کہتے ہیں خودکشی کی ہے
اس لہو میں تمہارا سفینہ ڈوبے گا
یہ قتل عام نہیں تم نے خودکشی کی ہے
صفحہ ٨٤

در حقیقت عامر چیمہ پر یہ الزام بالکل غلط اور بے بنیاد ہے۔ عامر چیمہ جرمن پولیس کی تحویل میں تھا۔ وہ خودکشی نہیں کر سکتا تھا۔ عامر چیمہ نے دوران تفتیش اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ اس نے ڈنمارک کے اخبار میں حضور نبی کریم ﷺ کے خلاف نازیبا خاکوں کی اشاعت پر جذبہ ایمانی سے سرشار ہو کر ملعون ایڈیٹر کے دفتر میں داخل ہو کر اسے قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔ لہٰذا عامر چیمہ کی طرف سے خودکشی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ اس کی شہادت حقوق انسانی کے جھوٹے دعویداروں کے منہ پر طمانچہ ہے جنھوں نے اسے نازی ازم کے تحت اذیتیں دے دے کر قتل کیا، اس طرح وہ ایک بھیانک جرم کے مرتکب ہوئے ہیں۔

چاہیے تو یہ تھا کہ عامر چیمہ کے اقبال جرم کے بعد پولیس حکام اسے جیل کی بجائے قانون کے مطابق کورٹ میں لے کر آتے۔ ٹرائل کرتے اور جرم ثابت ہونے پر اسے سزا سناتے۔ مگر جرمن پولیس نے مقدمہ چلایا ہی نہیں بلکہ ماورائے عدالت عامر چیمہ کو 44 دن تک برلن میں واقع موابٹ (Moabit Prison) جیل کے ٹارچر سیل میں رکھا جہاں جرمن پولیس، خفیہ ایجنسیوں اور جیل حکام نے عامر چیمہ کے ساتھ ساتھ دہشت گردوں والا سلوک کرتے ہوئے اپنے روایتی تشدد کی انتہا کر دی۔ 130 سالہ پرانی یہ جیل قیدیوں پر ٹارچر اور تشدد کے حوالے سے بے حد بدنام ہے۔ ایک موقع پر تفتیشی افسر نے عامر چیمہ کو مشروط طور پر رہا کرنے کی پیش کش کرتے ہوئے کہا کہ وہ جرمن ٹیلی ویژن پر آ کر اعلان کرے کہ وہ ذہنی مریض ہے، دماغی طور پر تندرست نہیں ہے اور اس نے یہ قدم محض جذبات میں آ کر اٹھایا ہے۔ مزید براں یہ کہ اس فعل کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں اور میں اپنے کیے پر بے حد شرمندہ اور نادم ہوں۔ شہید عامر چیمہ نے نہایت تحمل سے تفتیشی آفیسر کی تمام باتیں سنیں اور پھر اچانک شیر کی طرح دھاڑا اور اس آفیسر کے منہ پر تھوک دیا اور روتے ہوئے کہا ”میں نے جو کچھ کیا ہے وہ نہایت سوچ سمجھ کر اور اپنے ضمیر کے فیصلے کے مطابق کیا ہے۔ مجھے اپنے فعل پر بے حد فخر ہے۔ یہ میری ساری زندگی کی کمائی ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے ایک تو کیا، ہزاروں

صفحہ ٨٥

عامر چیمہ پر یہ الزام بالکل غلط اور بے بنیاد ہے۔ عامر چیمہ جرمن پولیس کشی نہیں کر سکتا تھا۔ عامر چیمہ نے دوران تفتیش اس بات کا اعتراف مارک کے اخبار میں حضور نبی کریم ﷺ کے خلاف نازیبا خاکوں کی سے سرشار ہو کر ملعون ایڈیٹر کے دفتر میں داخل ہو کر اسے قتل کرنے کی چیمہ کی طرف سے خودکشی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ اس کی شہادت دعویداروں کے منہ پر طمانچہ ہے جنھوں نے اسے نازی ازم کے تحت یا، اس طرح وہ ایک بھیانک جرم کے مرتکب ہوئے ہیں۔

کہ عامر چیمہ کے اقبال جرم کے بعد پولیس حکام اسے جیل کی بجائے میں لے کر آتے۔ ٹرائل کرتے اور جرم ثابت ہونے پر اسے سزا ئے مقدمہ چلایا ہی نہیں بلکہ ماورائے عدالت عامر چیمہ کو 44 دن تک (Moabit Prison) جیل میں رکھ کر ٹارچر سیل میں رکھا جہاں جرمن جیل حکام نے عامر چیمہ کے ساتھ ساتھ دہشت گردوں والا سلوک تشدد کی انتہا کر دی۔ 130 سالہ پرانی یہ جیل قیدیوں پر ٹارچر اور حد بدنام ہے۔ ایک موقع پر تفتیشی افسر نے عامر چیمہ کو مشروط طور پر کرتے ہوئے کہا کہ وہ جرمن ٹیلی ویژن پر آ کر اعلان کرے کہ وہ ذہنی ت درست نہیں ہے اور اس نے یہ قدم محض جذبات میں آ کر اٹھایا اس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں اور میں اپنے کیے پر بے حد شرمندہ چیمہ نے نہایت تحمل سے تفتیشی آفیسر کی تمام باتیں سنیں اور پھر کر اس آفیسر کے منہ پر تھوک دیا اور روتے ہوئے کہا ”میں نے جو چھ کیا اور اپنے ضمیر کے فیصلے کے مطابق کیا ہے۔ مجھے اپنے فعل پر ی زندگی کی کمائی ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ کی عزت و ناموس کے ہزاروں جانیں بھی قربان۔ میں اعلان کرتا ہوں کہ آئندہ بھی اگر رسول کریم ﷺ کی شان اقدس میں کوئی توہین کی تو میں اسے بھی بحیثیت مسلمان یہ میرا فرض ہے اور میں اس فریضہ کی ادائیگی کرتا بے باک اور بے خوف جسارت کے بعد جیل حکام آپے سے باہر

ہو گئے اور انھوں نے عامر چیمہ پر بہیمانہ تشدد کی انتہا کر دی۔ اس کے پیچھے سے ہاتھ باندھے گئے۔ پلاس کے ساتھ اس کے ناخن کھینچے گئے۔ پاؤں کے تلوؤں پر بید مارے گئے، گرم استری سے اس کا جسم داغا گیا۔ جسم کے نازک حصوں پر بے تحاشا ٹھڈے مارے گئے، ڈرل مشین کے ذریعے اس کے گھٹنوں میں سوراخ کیے گئے۔ عامر چیمہ نہایت اذیت کی حالت میں اللہ اکبر کے نعرے لگاتا رہا۔ اسی دوران اس کی سانسیں اکھڑ گئیں اور وہ بے ہوش ہو گیا۔ پھر ان بدبختوں نے اس کی شہ رگ کاٹ دی۔ بعد ازاں جرمن پولیس اور جیل حکام نے ملی بھگت سے شہید کی قمیض پھاڑ کر اس کا پھندہ بنا کر اس کے گلے میں ڈال دیا تا کہ بتایا جا سکے کہ عامر چیمہ نے خودکشی کی ہے۔ اگر عامر چیمہ نے پھندے سے خودکشی کی ہوتی تو آنکھیں اور زبان باہر آجاتی۔ جبکہ ایسا نہ تھا۔ جرمن قانون کے مطابق جیل میں ہونے والی ہلاکت کا پوسٹ مارٹم ضرور ہوتا ہے۔ لہٰذا شہید کی نعش کو ہسپتال لے جایا گیا جہاں چار ڈاکٹروں نے اپنے سینئر ڈاکٹر روچر (Dr.Roscher) کی سربراہی میں جرمن حکام کے کہنے پر مختلف کیمیکلز اور سرجری کے ذریعے شہید کے جسم پر تشدد کے نشانات کو مٹانے کی بھر پور کوشش کی اور مردہ جسم کی جعلی تصاویر کے ساتھ مختصر پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری کر دی کہ عامر چیمہ نے خودکشی کی ہے۔ حکومت پاکستان نے بھی بغیر کسی تحقیق اور تفتیش کے اس رپورٹ کو من وعن تسلیم کر لیا اور اس طرح ایک پاکستانی مسلمان کے ناحق قتل میں مجرمانہ کردار ادا کیا۔ برنی ٹرسٹ کے چیئرمین انصار برنی نے بھی جرمن حکام کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے اس واقعہ کو خودکشی قرار دیا۔ انصار برنی بھی مجبور تھے۔ اگر وہ جرمن حکام کی اس راگنی میں شامل نہ ہوتے تو جرمن حکومت کی طرف سے ملنے والی لاکھوں ڈالر سالانہ امداد سے محروم ہو جاتے۔ جرمن فلاسفر گوئبلز نے کیا خوب کہا تھا کہ اتنا جھوٹ بولو، اتنا جھوٹ بولو، اتنا جھوٹ بولو کہ اس پر سچ کا گمان ہونے لگے۔ بالکل یہی فلسفہ عامر چیمہ شہید کی ہلاکت پر جرمن حکام اور پاکستانی بزرجمہروں نے اپنایا۔

یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہے کہ گستاخ رسول کو جہنم واصل کرنے کی دانستہ کوشش کرنے والا باشعور نوجوان خودکشی نہیں کر سکتا۔ عامر چیمہ پر خودکشی کا الزام لگانا اس کی توہین ہے۔ اس نے جس مقدس مشن کے لیے قربانی دی، وہ اس کے تقاضے جانتا تھا۔ وہ بزدل نہیں بلکہ بہادر تھا۔ بزدل لوگ خودکشی کیا کرتے ہیں۔ اس کی بے باک جرأت و بہادری ہی اس امر کی گواہی ہے کہ اس نے کافروں کے ملک میں رہ کر گستاخ رسول پر حملہ کیا۔ عامر

صفحہ ٨٦

چیمہ پر خودکشی کا الزام محض اس لیے لگایا گیا تاکہ واقعہ کا رخ موڑا جا سکے۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ جرمن حکومت نے ایک ماہ تک عامر چیمہ کی اس کے والدین سے بات کروائی اور نہ ہی جرمنی میں مقیم اس کے رشتہ داروں کو جسد خاکی دکھایا جس سے پتہ چل سکے کہ اس نے خودکشی کی ہے یا دورانِ حراست شہید کیا گیا۔ حکومتی اداروں نے صیہونی زبان کی ترجمانی کر کے مسلمانوں کے جذبات سے کھیلا۔ عامر عبدالرحمٰن نے پہلی پیشی کے موقع پر جج کے سامنے برملا اظہار کیا تھا کہ ”میرا تعلق کسی تنظیم سے نہیں۔ میں القاعدہ کے کسی کارکن کو نہیں جانتا اور نہ ہی میرا طالبان سے کوئی تعلق ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ کے خلاف توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کرنے والوں کو قتل کرنے کے لیے مجھے قدرت کی طرف سے ہدایات ملی ہیں۔ میں نے شاتم رسول پر دانستہ حملہ کیا ہے اور مجھے اس اقدام پر فخر ہے۔ آئندہ بھی اگر کسی نے شانِ رسالت ﷺ میں توہین کا ارتکاب کیا تو میں یہی راستہ اختیار کروں گا۔“

دارورسن کو چوم کے آگے نکل گئی
یہ حوصلہ اگر ہے تو دیوانگی میں ہے

جرأت و استقامت سے اقبال جرم کرنے والے عاشق رسول کی شہادت کو خودکشی قرار دینا صیہونی سازش اور غلامانِ مصطفیٰ ﷺ کے جذبات کو منفی رنگ دینے کی ناکام کوشش ہے۔

جرمنی میں پاکستانی سفارت خانے کے نائب سفیر خالد عثمان قیصر نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ جرمن پولیس نے پاکستانی سفارت خانے کو عامر چیمہ کی گرفتاری سے آگاہ نہیں کیا بلکہ انھیں اس وقت اطلاع ملی جب یہ مسئلہ پاکستان کی پارلیمنٹ میں اٹھایا گیا۔ پھر ہم نے جرمن حکام کو ایک درخواست دی جس پر انھوں نے ہمیں بتایا کہ عامر چیمہ کا کیس عدالت میں ہے اور پراسیکیوٹر اس کے خلاف تیار کی گئی چارج شیٹ کی دستاویزات تیار کر رہا ہے جبکہ سماعت کی تاریخ کا تعین کیا جانا باقی ہے۔ پاکستانی مشن کے حکام نے 21 اپریل کو عامر چیمہ سے فون پر بات کی، عامر نے کہا کہ وہ بالکل ٹھیک ہے اور میرے والدین کو بھی یہی بتایا جائے۔ چند دنوں بعد خبر آ گئی کہ عامر چیمہ کو شہید کر دیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جرمن حکومت نے سفارت خانے کو مطلع کیا کہ عامر چیمہ نے 3 مئی کو اپنے گلے میں پھندا لگا کر اپنے سیل میں خودکشی کر لی جبکہ لاش کا پوسٹ مارٹم کیا جا رہا ہے اور رپورٹ سفارت خانے کو چند روز

صفحہ ٨٧

تک ملے گی جس کے بعد نعش راولپنڈی بھیج دی جائے گی۔ شہید عامر چیمہ کے والد نذیر احمد کا کہنا ہے کہ عامر چیمہ کی گرفتاری سے شہادت تک کے تمام عرصے میں کسی حکومتی شخصیت نے خود ان سے رابطہ کیا نہ ہمدردی کی اور نہ ہی کسی تعاون کا یقین دلایا۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ ہماری حکومت جرمنی سے یہ پوچھے کہ دوران حراست اگر ایک شخص نے خودکشی بھی کی ہے تو جیل انتظامیہ کدھر تھی اور اس وقت ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں کے خلاف کیا کارروائی کی گئی ہے؟ انھوں نے عامر چیمہ کی خودکشی کے تاثر کی مکمل نفی کرتے ہوئے کہا کہ عامر نے اپنے اوپر عائد تمام الزامات کو تحریری طور پر قبول کر لیا تھا، اس کے باوجود اسے غیر قانونی حراست میں رکھا گیا اور اس کے خلاف ٹرائل نہیں کیا گیا۔ ایف آئی آر میں اس پر جو دفعات لگائی گئی تھیں، اس کے مطابق اسے ڈی پورٹ یا دو چار ماہ کی سزا ہوسکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کسی گورے کے کتے کو کانٹا بھی چبھ جاتا تو کمیشن بیٹھ جاتے اور معافیاں شروع ہو جاتیں جس طرح کہ سی آئی اے کے مخبر ڈینیئل پرل کی کراچی میں موت پر ہوا۔ مجھے رنج یہ ہے کہ ہمارا فارن آفس بھی خود کشی کی تھیوری میں شریک ہو گیا۔ ان لوگوں سے میں کیا توقع رکھ سکتا ہوں۔ شہید کی ہمشیرہ نے کہا کہ حکومت ہمیں وہ تفصیلات فراہم کرے جو جرمنی میں 20 مارچ سے 3 مئی 2006ء تک ہمارے بھائی پر پولیس حراست میں پیش آئیں کہ وہ کن حالات میں رہا۔

سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین اور عوام کے پرزور احتجاج پر وزارت خارجہ نے ایف آئی اے کی دو رکنی خصوصی ٹیم عامر چیمہ کی شہادت کی تحقیقات کے لیے جرمنی روانہ کی۔ تحقیقاتی ٹیم میں ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے طارق کھوسہ اور پنجاب پولیس کے ڈی آئی جی انوسٹی گیشن چوہدری تنویر احمد شامل تھے۔ جرمن حکومت نے انہیں صرف 5 دن کے لیے قلیل مدت کا ویزہ جاری کیا۔ یہ تحقیقاتی ٹیم 10 مئی 2006ء سہ پہر پی آئی اے کی پرواز 623-PK کے ذریعہ لاہور سے جرمنی روانہ ہوئی جہاں اس نے جرمن پولیس کے ہاتھوں عامر عبدالرحمٰن چیمہ کی جیل میں مبینہ تشدد سے شہادت کے سلسلے میں تحقیقات کیں۔

وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات سینیٹر طارق عظیم نے کہا ”تحقیقاتی رپورٹ کے بعد جرمنی کے خلاف ایکشن لیں گے اور جرمنی کی یکطرفہ رپورٹ پر انحصار نہیں کریں گے۔ عامر عبدالرحمٰن چیمہ بے گناہ تھا۔ اس کی ہلاکت میں جرمن پولیس اور جیل حکام برابر کے شریک ہیں۔‘‘

صفحہ ٨٩

دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے 15 مئی 2006ء کو ہفتہ وار پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ”پاکستان کی تحقیقاتی ٹیم جرمن حکام کے ساتھ اس مسئلہ پر تحقیقات کر رہی ہے اور انھیں وہاں ہر ممکن تعاون فراہم کیا جا رہا ہے۔ وطن واپسی پر وہ حکومت کو رپورٹ پیش کریں گے۔ انھوں نے کہا پاکستان اور جرمنی کے درمیان کثیر الجہتی تعلقات ہیں اور اس سانحہ سے ان تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔“ جبکہ ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ جرمنی کی حکومت نے عامر چیمہ کی گرفتاری سے لے کر جیل میں موت تک تمام معلومات فراہم نہیں کیں بلکہ صرف چیدہ چیدہ باتوں سے ہی آگاہ کیا۔ ایف آئی اے نے ایک فارم بھی دفتر خارجہ کے توسط سے جرمنی کی حکومت کو بھجوایا جس میں عامر چیمہ کیس سے متعلق مزید 20 سوالات اٹھائے گئے مگر جرمن حکومت نے ان کے کسی ایک سوال کا بھی جواب نہیں دیا بلکہ ایک ناقص سی رپورٹ حکومت پاکستان کو فراہم کی جس میں پوسٹ مارٹم کی مکمل رپورٹ کا ذکر کیے بغیر کہا گیا کہ عامر چیمہ نے خودکشی کی ہے۔

15 جون 2006ء کو سینیٹ کی کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس سینیٹر ایس ایم ظفر کی زیر صدارت ہوا۔ کمیٹی نے عامر چیمہ کی ہلاکت پر بروقت عدالتی کارروائی شروع نہ کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم ڈپلومیٹک چینل پر انحصار نہیں کر سکتے اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ حقائق سامنے لانے کے لیے فوری طور پر جوڈیشل انکوائری شروع کی جائے۔ جرمن حکام کو انکوائری کے لیے جو 30 سوال بھیجے گئے ہیں، وہ کمیٹی کے سامنے پیش کیے جائیں۔ اٹارنی جنرل کو کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں طلب کیا جائے تاکہ لائن آف ایکشن طے کی جا سکے۔ اجلاس کے دوران سینیٹرز لطیف کھوسہ اور ڈاکٹر خالد رانجھا پر مشتمل دو رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی جو دفتر خارجہ اور اٹارنی جنرل سے مل کر عامر چیمہ کے کیس میں قانونی طریقہ کار کے بارے اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ کمیٹی نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ جرمنی سے حتمی رپورٹ جلد حاصل کی جائے اور پاکستان اور جرمنی کے درمیان 1982ء کے معاہدہ کی کاپی بھی کمیٹی کے سامنے پیش کی جائے۔

عامر چیمہ کی شہادت کی تحقیقات کے لیے جرمنی جانے والی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے طارق کھوسہ نے کمیٹی کے روبرو انکشاف کیا کہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ عامر چیمہ کی موت خودکشی سے نہیں ہوئی بلکہ اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ میں نے پوسٹ مارٹم کے وقت لی گئی ت کٹی ہوئی تھی اور اس کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے نشانات موجود تھے جس سے کہا جا سکتا ہے کہ ان کا گلہ گ ہوئی نہیں تھی جو اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ عامر چی تھا۔ ہماری درخواست پر ہمیں عامر کا جیل سیل بھی دکھ نہیں تھا۔ تاہم جرمنوں کے مطابق عامر نے دیوار س پھانسی دی تھی۔ ہم نے جرمن حکام سے سفید رنگ کی متعدد سوالات کیے مگر جرمن حکام نے ان کا کوئی جواب سوال کیا کہ کیا عامر کی گردن کی ہڈی اوپر کی طرف سے نہیں عامر کی ہڈی نہیں ٹوٹی تھی۔ اس پر لطیف کھوسہ ن کہ عامر کی موت کسی اور وجہ سے ہوئی۔ انہوں نے کہا ک سیل میں عامر چیمہ کے ساتھی قیدی سے پوچھ گچھ، واقعہ متعلقہ افسران سے بھی سوال جواب کرنے کی اجازت ہے کہ وزارت خارجہ کی طرف سے جرمن حکام کو تحقیقات ہیں مگر جرمن حکام نے آج تک کسی ایک سوال کا بھی سلسلہ میں کئی بار جرمن حکام کو یاد دہانی کروا چکی ہے۔

بعد ازاں پاکستانی تحقیقاتی ٹیم نے عامر چیم دیتے ہوئے اپنی رپورٹ وزارت داخلہ کے ذریعے وز ٹیم نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ توہین رسالت ﷺ پر مب ایڈیٹر پر قاتلانہ حملہ کرنے کے الزام میں گرفتار پاکستا میں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کی حالت غیر ہو گئ پھندے سے لٹکا کر شہید کر کے خودکشی کا رنگ دے د مطابق وہاں کی جیلوں میں ہر قیدی خواہ وہ ملزم ہو یا تعینات ہوتا ہے، وہاں جدید ترین کیمرے بھی نصب ہ ہوتی ہے۔ اگر عامر چیمہ نے خودکشی کی تھی تو جیل حکام

صفحہ ٨٩

انھوں نے کہا کہ میں نے پوسٹ مارٹم کے وقت لی گئی تمام تصاویر کو دیکھا، عامر چیمہ کی شہ رگ کٹی ہوئی تھی اور اس کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے تھے۔ اس کی گردن کے گرد رسی کے نشانات موجود تھے جس سے کہا جاسکتا ہے کہ ان کا گلا گھونٹا گیا ہے۔ اس کی گردن کی ہڈی ٹوٹی ہوئی نہیں تھی جو اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ عامر چیمہ نے پھانسی نہیں لی اور یہ سب جھوٹ تھا۔ ہماری درخواست پر ہمیں عامر کا جیل سیل بھی دکھایا گیا تھا جس کی چھت پر پنکھا موجود نہیں تھا۔ تاہم جرمنوں کے مطابق عامر نے دیوار کے اوپر لگی کھڑکی کی سلاخوں سے خود کو پھانسی دی تھی۔ ہم نے جرمن حکام سے سفید رنگ کی رسی کی سیل میں دستیابی کی وجہ سمیت متعدد سوالات کیے مگر جرمن حکام نے ان کا کوئی جواب نہیں دیا۔ سینیٹر لطیف کھوسہ نے ان سے سوال کیا کہ کیا عامر کی گردن کی ہڈی اوپر کی طرف سے ٹوٹی تھی؟ اس پر طارق کھوسہ نے کہا کہ نہیں عامر کی ہڈی نہیں ٹوٹی تھی۔ اس پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ اس طرح تو یہ بات واضح ہے کہ عامر کی موت کسی اور وجہ سے ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ جرمن حکام نے ہمیں جرمن جیل کے سیل میں عامر چیمہ کے ساتھی قیدی سے پوچھ گچھ، واقعہ کی تحقیقات سے متعلق دستاویزات اور متعلقہ افسران سے بھی سوال جواب کرنے کی اجازت نہیں دی۔ یہ امر بھی نہایت قابل ذکر ہے کہ وزارت خارجہ کی طرف سے جرمن حکام کو تحقیقات سے متعلق 140 اہم سوالات بھیجے گئے ہیں مگر جرمن حکام نے آج تک کسی ایک سوال کا بھی جواب نہیں دیا جبکہ وزارت خارجہ اس سلسلہ میں کئی بار جرمن حکام کو یاد دہانی کروا چکی ہے۔

بعدازاں پاکستانی تحقیقاتی ٹیم نے عامر چیمہ کی موت کو ماورائے عدالت قتل قرار دیتے ہوئے اپنی رپورٹ وزارت داخلہ کے ذریعے وزیر اعظم شوکت عزیز کو بھجوا دی۔ 2 رکنی ٹیم نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ توہین رسالت ﷺ پر مبنی خاکوں کی اشاعت پر متعلقہ اخبار کے ایڈیٹر پر قاتلانہ حملہ کرنے کے الزام میں گرفتار پاکستانی طالب علم عامر عبدالرحمن چیمہ کو جیل میں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کی حالت غیر ہو گئی اور وہ تقریباً مرنے والا ہو گیا کہ اسے پھندے سے لٹکا کر شہید کر کے خودکشی کا رنگ دے دیا گیا۔ حالانکہ جرمنی کے قوانین کے مطابق وہاں کی جیلوں میں ہر قیدی خواہ وہ ملزم ہو یا مجرم اس کی کڑی نگرانی کے لیے عملہ تعینات ہوتا ہے، وہاں جدید ترین کیمرے بھی نصب ہوتے ہیں جن سے با قاعدہ ویڈیو تیار ہوتی ہے۔ اگر عامر چیمہ نے خودکشی کی تھی تو جیل حکام کو فوری طور پر اسے روکنا چاہیے تھا اور

صفحہ ٩٠

اگر وہ اس میں ناکام رہے ہیں تو انہیں ویڈیو دکھا کر مسلمانوں کو مطمئن کرنا چاہیے کہ عامر چیمہ نے خودکشی کی ہے۔ چونکہ عامر چیمہ کو وحشیانہ تشدد کے ذریعے قتل کیا گیا، لہٰذا جرمن حکام اپنے جرم پر پردہ ڈالنے کے لیے ایک سے بڑھ کر ایک جھوٹ بولتے رہے۔

معروف پاکستانی سرجن ڈاکٹر جاوید نے عامر چیمہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ عامر چیمہ کی موت خودکشی کا نتیجہ نہیں ہے کیونکہ اس کی Pathology اور Autopsy کی رپورٹیں بالکل ٹھیک اور Clear ہیں۔ مزید اس کی موت کے بعد کے تمام ٹیسٹ بھی ایک صحت مند آدمی کی طرح بالکل نارمل ہیں۔ جبکہ خودکشی کے مرتکب شخص کا بلڈ پریشر اور شوگر لیول نارمل نہیں رہتا بلکہ بہت زیادہ تبدیل ہو جاتا ہے۔ جناب ڈاکٹر جاوید کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اس کے علاوہ بھی بہت سی ایسی متضاد چیزیں ہیں جس سے عامر چیمہ پر خودکشی کا الزام غلط ثابت ہو جاتا ہے۔

دنیا بھر کے مسلمان حضور نبی کریم ﷺ کے خاکے شائع کرنے اور آپ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والے اخبارات اور حکومتوں کے خلاف احتجاج کرتے رہے مگر دینی غیرت و حمیت اور عشق رسول ﷺ کی دولت سے سرشار عامر عبدالرحمن چیمہ نے عملاً اخبار کے ایڈیٹر پر حملہ کر کے یہ ثابت کر دیا کہ مسلمان اپنی جان تو قربان کر سکتا ہے مگر اپنے آقا و مولا حضور نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں معمولی سی گستاخی بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ اس لحاظ سے عامر چیمہ تمام مسلمانوں پر بازی لے گیا۔ لہٰذا حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ عامر چیمہ کی اعلیٰ ترین خدمت اور قربانی کے صلے میں اسے ملک کا سب سے بڑا سول اور فوجی اعزاز ’حیدر‘ دے اور 3 مئی کو اس کے یوم شہادت پر ہر سال ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کرے۔ یہاں افسوس کے ساتھ اس بات کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ حکومت ہر سال 14 اگست کو تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیات کو مختلف ایوارڈز سے نوازتی ہے جن کی اکثریت اس کی اہل نہیں ہوتی۔ بعض شخصیات نہ صرف اسلام اور پاکستان سے الرجک بلکہ ان کی نظریاتی اساس کی بھی مخالف ہوتی ہیں۔ اس کے باوجود حکومت محض ان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے لالچ کے طور پر انہیں یہ ایوارڈ دیتی ہے جبکہ یہ سب لوگ مل کر عامر چیمہ کی گرد راہ کو بھی نہیں پہنچ سکتے۔

25 جون 2006ء کو جامعہ نعیمیہ میں تحفظ ناموس رسالت کانفرنس سے خطاب

صفحہ ٩١

کرتے ہوئے عامر چیمہ کے والد گرامی پروفیسر نذیر احمد چیمہ نے اپنے خطاب میں کہا ”برصغیر میں نبی آخرالزمان حضرت محمد ﷺ کی شان اقدس میں گستاخانہ طرزِ عمل اختیار کرنے کا سلسلہ 1925ء میں شروع ہوا اور 1938ء تک جاری رہا اور ان واقعات کو روکنے اور شانِ رسالت مآب ﷺ میں گستاخی کرنے والوں کو تہ تیغ کر کے یا تہ تیغ کرنے کی کاوش کے سلسلے میں جامِ شہادت نوش کرنے والے سات خوش نصیب رتبۂ شہادت پا لینے میں کامیاب ہوئے چنانچہ وہ سلسلہ رک گیا مگر اب وہی سلسلہ یورپ میں شروع ہو گیا ہے جس کا بنیادی مقصد مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا کرنا اور انہیں ذہنی ٹارچر کرنا ہے۔ غازی عامر شہید کا واقعہ یورپ میں پہلا واقعہ ہے اور یہ ایسا ہے جیسا کہ غازی علم الدین شہید نے لاہور میں کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ عامر شہید نے ملتِ اسلامیہ پر طاری جمود کو توڑا ہے، اب یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔“

یہ ایک زندہ جاوید حقیقت ہے کہ عامر چیمہ کی شہادت پورے عالم اسلام کے ماتھے کا جھومر ہے۔...... فرشتے بھی اس کی قسمت پر رشک کر رہے ہیں۔...... وہ غازی علم الدین شہید کے نقش قدم پر چل کر امر ہو گیا۔...... وہ اسلامی دنیا کا ہیرو ہے۔...... پوری امت مسلمہ کو اس شہید پر فخر ہے۔...... ہر مسلمان اس کی شہادت کو اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہے۔...... اس کی شجاعت و بہادری، جوش و جرأت اور عزم ایقان و عرفان سے عالمی کفر لرزہ براندام ہے۔...... اس کی للکار پورے عالم میں مجاہد کی اذان ثابت ہوئی۔...... وہ عزیمت اور عظمت کا امین ہے۔...... وہ گلشنِ اسلام میں گلاب بن کر مہکا ہے۔...... مستقبل کا مورخ اس کے جرأت مندانہ کردار کو اپنے قلم سے سلامِ عقیدت پیش کرے گا۔...... اس نے عزیمت و شہادت کے ذریعے تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ کا حق ادا کر دیا۔...... اس کا مقدس خون عالمی کفر پر قرض ہے۔...... اس کی موت پوری ملتِ اسلامیہ کی حیات ہے۔...... اس کے عظیم الشان کارنامے کو عشق محمد ﷺ کا عرفان حاصل ہے۔...... اس نے پورے عالم اسلام کی لاج رکھ لی...... اس نے اپنی قیمتی جاں قربان کر کے گلشنِ اسلام کی حفاظت کی ہے۔...... وہ ایک ایسا آفتاب ہے جس کی روشنی سے بے شمار تاریک دل منور ہوئے۔...... اس نے فطرت کے عجائب خانے میں اسلام کی روحِ غیرت کی تصویر سجا دی۔...... اس کے لہو کی دھار سے گلستانِ اسلام ہمیشہ کے لیے شاداب ہو گیا۔...... اس کا جوش و جذبہ معاذ و معوذ کا ترجمان ہے۔...... وہ مستقبلِ حیات کا تاریخ ساز عنوان ہے۔...... وہ ہر گستاخِ رسول ﷺ کے لیے ضربِ خنجر براں ہے۔...... اس کے تصور سے جنت سامنے آ کر

صفحہ ٩٢

مسکراتی ہے...... اس نے ہونٹوں کو مردان حق کا تبسم عطا کیا...... اس کا جنوں حکمت و ادراک کا امام ہے...... وہ راہ وفا میں سر کٹا کر غیرت و حمیت کا خوبصورت استعارہ بن گیا...... وہ عشق کی وادیوں میں پیکر تقدس و ایمان ہے...... اس کا کردار صدق و وفا کا شاہکار ہے...... اس نے شفق زار حقائق میں اپنے قیمتی لہو سے رنگ بھرا ہے...... اس نے آرزوئے شہادت میں دورانِ حراست مصائب کے آہن و آتش کے طوفان میں بڑی استقامت اور استقلال کا مظاہرہ کیا...... اس نے اسلامی غیرت و حمیت کے جذبوں کو از سر نو زندہ کیا...... اس نے اپنی لازوال جرات و بہادری اور جذبہ جانثاری سے دین قیم کی آبرو رکھ لی...... اس نے حق کی محبت میں سرشار ہو کر بت خانہ افرنگ میں اذان حق کہی...... اس نے الحادی فضاؤں اور مصنوعی خداؤں کی موجودگی میں اسلام کی اقدار کا چراغ روشن کیا...... وہ وفا کا پیکر، دار و رسن کا خوگر اور شہید محبت ہے...... عامر چیمہ کا احسان ہے کہ آج ہر مسلمان سر اٹھا کر چلنے کے قابل ہوا...... یہ اس کے پاکیزہ لہو کا اعجاز ہے کہ جس نے پوری ملت اسلامیہ کو بیدار کیا...... عامر تیرا شکریہ!!!

ترا جوہر ہے نوری، پاک ہے تو
فروغ دیدۂ افلاک ہے تو
ترے صید زبوں افرشتہ و حور
کہ شاہین شہ لولاکؐ ہے تُو!
صفحہ ٩٣

جاوید چودھری

عشق کا مقام

عامر چیمہ کون تھا، وہ جرمنی میں کیا کر رہا تھا، وہ دن میں مذہب کا کتنا مطالعہ کرتا تھا، اس کی دماغی حالت کیا تھی، برلن کی پولیس نے اسے کیوں گرفتار کیا، اسے جرمنی کے بدنام ترین قید خانے موآبٹ جیل میں کیوں رکھا گیا، اس نے تین مئی 2006ء کو خودکشی کی یا وہ حقیقتاً جیل حکام کے ہاتھوں شہید ہوا، وہ غازی ہے، شہید ہے یا پھر مقتول، آئیے ہم یہ سارے سوال آنے والے وقت پر چھوڑ دیں، ہم ان کے جواب وقت کی تحقیق، وقت کے وکیل اور وقت کی عدالت کے حوالے کر دیں، ہم اس کا فیصلہ مغرب کے ایماندار سکالرز اور محققین پر چھوڑ دیں اور انتظار کریں، آنے والا وقت عامر چیمہ کو کیا قرار دیتا ہے، وہ عامر چیمہ کے مقدمے کا کیا فیصلہ سناتا ہے لیکن ہم اس ریفرنڈم کو وقت کے حوالے نہیں کر سکتے جو مئی کے مہینے میں ہوا اور اس نے پوری دنیا کے ذہنوں کا دھارا بدل دیا، ہم اس ریفرنڈم کا فیصلہ ابھی اور اسی وقت سنائیں گے، یہ ریفرنڈم عامر چیمہ کے انتقال سے برپا ہوا اور اس نے پوری دنیا کے سیکولر ذہنوں کو جڑوں سے ہلا دیا، اس نے دنیا پر عوام کے اصل جذبات آشکار کر دیے اور اس نے تہذیبوں کے تمام تصادم کھول کر رکھ دیے۔

اس ریفرنڈم کا آغاز راولپنڈی کی ایک متوسط بستی ڈھوک کشمیریاں کی گلی نمبر 18 سے ہوتا ہے، یہ ریفرنڈم اس کے بعد وزیر آباد کے قصبے ساروکی میں جاتا ہے اور اس کے بعد اس ریفرنڈم کا سلسلہ پورے عالم اسلام میں پھیل جاتا ہے اور اس کے بعد کرۂ ارض پر بکھرے 62 اسلامی ممالک کے ایک ارب 47 کروڑ 62 لاکھ 33 ہزار 4 سو 70 مسلمانوں تک نہ صرف عامر چیمہ کا نام پہنچتا ہے بلکہ وہ مسلمان اسے اپنے خیالات اور خواہشات کا ترجمان سمجھنے لگتے ہیں، میں اپنے خیالات اور رویوں میں ایک لبرل شخص ہوں، میری سوچ صدر بش

صفحہ ٩٤

اور جناب پرویز مشرف سے ملتی جلتی ہے، میں بھی یہ سمجھتا ہوں مسلمانوں کو اعتدال پسند اور نرم ہونا چاہیے، میں بھی یہ یقین رکھتا ہوں انسانوں کے دل تلوار سے فتح نہیں کیے جا سکتے۔ لوگوں کو بدلنے کے لیے فوج اور جرنیلوں کی نہیں بلکہ اولیاء اور صوفیاء کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں بھی یہ خیال کرتا ہوں آپ جسم سے بم باندھ کر لوگوں کے جذبات اور خیالات کے دھارے نہیں بدل سکتے۔ میرا بھی یہی خیال ہے آج کے دور میں ایک دو سو لوگوں کے لشکر سے مغرب کی ٹیکنالوجی کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ میں بھی یہ سمجھتا ہوں سر درد اور بخار کی ایک معمولی دوا ایجاد کرنے والا شخص نعرے لگانے اور جلوس نکالنے والے دس لاکھ لوگوں سے بہتر ہے لیکن جب عامر چیمہ کے ریفرنڈم کی باری آتی ہے تو میرے تمام لبرل خیالات جواب دے جاتے ہیں، میرے سارے فلسفوں کی بنیادیں ہل جاتی ہیں اور میں بھی دنیا کو حیرت سے دیکھنے لگتا ہوں۔

یہ ریفرنڈم کیا تھا اور اس کا آغاز کیسے ہوا؟ عامر چیمہ نے تین مئی کو موآبٹ جیل میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کر لیں۔ چار مئی کے پاکستانی اخبارات میں عامر چیمہ کے انتقال کی چھوٹی سی خبر شائع ہوئی، اس کے بعد جوں جوں دن گزرتے گئے عامر چیمہ کا نام اور خبر بڑی ہوتی چلی گئی یہاں تک کہ 13 مئی کو جب وزیرآباد کے قصبے ساروکی میں عامر چیمہ کا جنازہ ہوا تو عامر چیمہ نہ صرف پاکستان کے سارے میڈیا کی ہیڈ لائن تھا بلکہ دنیا بھر کے اخبارات، ریڈیوز اور ٹیلی ویژن اس کے جنازے کی جھلکیاں دکھا رہے تھے، عامر چیمہ کا جنازہ پنجاب کے پانچ بڑے جنازوں میں سے ایک تھا، گوجرانوالہ ڈویژن کی تاریخ میں پہلی بار کسی جگہ دو لاکھ لوگ اکٹھے ہوئے تھے، یہ ایک ایسے شخص کا جنازہ تھا جو تین مئی 2006ء تک ایک عام اور گمنام شخص تھا۔ اس گمنام اور عام شخص کو کس بات، کس ادا نے خاص بنا دیا، یہ ادا، یہ بات بنیادی طور پر اسلامی معاشرے اور مسلمانوں کی اساس ہے۔ یہ وہ خون ہے جو ہر مسلمان کی رگوں میں دوڑتا ہے، یہ محبت کا وہ دریا ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا جب تک یہ لوگ آپ ﷺ سے اپنی آل اولاد اور زمین جائیداد سے بڑھ کر محبت نہیں کرتے، یہ مسلمان نہیں ہو سکتے۔ یہ وہ خیال، یہ وہ احساس ہے جو ہر مسلمان کے اندر روح کی گہرائی تک پیوست ہے۔ یہ وہ جذبہ ہے جو ایک مسلمان کو دوسرے شخص سے جدا کرتا ہے۔ یہ احساس، یہ جذبہ رسول ﷺ کی محبت ہے اور یہ محبت جس دل پر دستک دے دیتی ہے، وہ شخص گمنامی سے نکل کر عامر چیمہ بن جاتا ہے، وہ غازی علم دین شہید ہو جاتا ہے، علامہ اقبال

صفحہ ٩٥

نے کہا تھا میں نے غازی علم دین شہید کے رشک میں جتنے آنسو بہائے ہیں وہ میری بخشش کے لیے کافی ہیں ۔ عامر چیمہ کا جنازہ اس محبت کا ایک چھوٹا سا ریفرنڈم تھا ۔

ساروکی کے اس ریفرنڈم سے پہلے ایک ریفرنڈم گلی نمبر 18 میں ہوا، اس ریفرنڈم نے اس غیر معروف اور پسماندہ گلی کا مقدر بدل دیا، رسول اللہ ﷺ کی محبت میں ڈوبے ہزاروں عقیدت مندوں نے اس گلی کو اپنا مرکز بنا لیا۔ لوگ اس گلی میں قدم رکھنے سے پہلے وضو کرتے تھے، سفید کپڑے پہنتے تھے اور خوشبو لگاتے تھے ، لوگ باادب ہو کر عامر چیمہ کے والد کے ہاتھ چومتے تھے۔ 3 مئی سے 15 مئی تک 12 دنوں میں ایک لاکھ لوگوں نے اس بوڑھے پروفیسر کے ہاتھ چومے۔ یہ سعادت اس ملک کے شاید ہی کسی شخص کو حاصل ہوئی ہو، لوگوں نے گلی نمبر 18 میں پھولوں اور گلدستوں کا انبار لگا دیا، عامر چیمہ کے گھر کے سامنے لوگوں نے اتنے پھول رکھے کہ جو بھی شخص اس گلی میں داخل ہوتا تھا اس کا پورا جسم مہکنے لگتا تھا، لوگوں کی اس آمد و رفت سے متاثر ہو کر پولیس کو گلی نمبر 18 میں باقاعدہ چوکی بنانا پڑگئی، لوگ آتے تھے، عامر چیمہ کے گیٹ کے سامنے سر جھکا کر کھڑے ہو جاتے تھے اور گیٹ کو سلام کر کے واپس چلے جاتے تھے ۔ عقیدت کی اس کشش میں اتنی شدت تھی کہ لبرل اور اعتدال پسند حکومت کے ارکان بھی خود کو گلی نمبر 18 سے دُور نہ رکھ سکے۔ ان بارہ دنوں میں پنجاب اور وفاق کے 23 وزراء عامر چیمہ کے گھر گئے اور انھوں نے شہید کے والد کے ہاتھ چومے۔ ضلع راولپنڈی کی ساری انتظامیہ بار بار اس کے گھر گئی، اخبارات میں عامر چیمہ کی تصویریں، اس کے لواحقین اور اس کے چاہنے والوں کے بیانات منوں کے حساب سے شائع ہوئے، عامر چیمہ نے مئی کے مہینے میں ریکارڈ کوریج حاصل کی، آج پاکستان کا بچہ بچہ نہ صرف اس کے نام سے واقف ہے بلکہ وہ اس پر فخر کرتا ہے۔ یہ کیا ہے؟ یہ مغرب اور مغربی سوچ کے خلاف ریفرنڈم ہے۔ یہ ریفرنڈم ثابت کرتا ہے مسلمان اور مغربی انسان کی سوچ میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ جسے مغرب آزادی اظہار کہتا ہے اسے مسلمان نہ صرف توہین سمجھتے ہیں بلکہ وہ توہین کا یہ داغ دھونے کے لیے جان تک دے دیتے ہیں۔ مجھے ایک بار ایک مغربی سکالر نے کہا ” ہمیں سمجھ نہیں آتی ایک مسلمان مغرب میں پیدا ہوتا ہے، اس کا سارا لائف سٹائل مغربی ہوتا ہے، اس میں سارے شرعی عیب بھی موجود ہوتے ہیں لیکن جب اسلام اور رسول اللہ ﷺ کا ذکر آتا ہے تو اس مغربی مسلمان اور کٹر مولوی کے ردعمل میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ کیوں؟“ میں نے عرض

صفحہ ٩٦

کیا ”یہ وہ بنیادی بات ہے جسے مغرب کبھی نہیں سمجھ سکتا، یہ دلوں کے سودے ہوتے ہیں اور دلوں کے سودے کبھی بیوپاری کی سمجھ میں نہیں آسکتے، نبی اکرم ﷺ کی ذات ایمان کی وہ حساس رگ ہوتی ہے جو برف سے بنے مسلمان کو بھی آگ کا گولہ بنا دیتی ہے۔ مسلمان دنیا کے ہر مسئلے پر سمجھوتہ کر لیتا ہے لیکن وہ رسول اللہ ﷺ کی ذات پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتا، عشق رسول ﷺ وہ مقام ہے جہاں سے مومن کی زندگی کا آغاز ہوتا ہے، جہاں موت سے بڑی سعادت اور فنا سے بڑی کوئی زندگی نہیں ہوتی، جہاں پہنچ کر انسان مرنے کے بعد زندہ ہوتا ہے“ میں نے اس سے کہا ”دنیا میں لوگ مرنے کے بعد گمنام ہو جاتے ہیں لیکن عشق رسول ﷺ میں آنے والی موت انسان کو ابد تک زندہ کر دیتی ہے، یہ ایک ایسی آگ ہے جو انسان کو جلاتی نہیں، اسے بناتی ہے، اسے دوبارہ زندہ کرتی ہے اور تم اور تمھارے لوگ اس کیفیت، اس سرور کو کبھی نہیں سمجھ سکتے، تم لوگوں نے زندگی میں محبت رسول ﷺ کا ذائقہ چکھا ہی نہیں، تمھیں کیا پتہ رسول اللہ ﷺ سے محبت کرنے والے شخص کے دل سے کون سی روشنی نکلتی ہے اور یہ روشنی کس طرح موت کے خوف کو مالٹے کے چھلکے کی طرح اتار کر دور پھینک دیتی ہے۔ یہ اسے سارے دکھوں سے آزاد کر دیتی ہے ۔“

ہم سب لوگ عامر چیمہ جیسے لوگوں کا مقام نہیں سمجھ سکتے۔

❁ ❁ ❁

قوم اپنے

ہمیں کسی تحقیقی رپورٹ کی ضـ ہم اسے اعزاز کے ساتھ وطن کی مٹی کے مرتبت ﷺ کو کیا جواب دیں گے؟ حکومت پاکستان کو اب خبر ہو کی ایک جیل میں جان سے گزر گیا ہے۔ برلن پہنچ گئی ہے۔ جب یہ ٹیم مقامی پو شہادت کو ایک عشرہ گزر چکا ہوگا۔ جرمن ادنیٰ سا ثبوت بھی باقی رہے۔ یوں بھی قومی آزادی و خود مختاری جسے چاٹ گئی ۔ آزادانہ تحقیقات کے بعد ہر آلائش سے یقینی دکھائی دے رہی ہے کہ ہماری دور مزید کرتے ہوئے اس نتیجے پر پہنچے گی کـ بنیادی سوال یہ ہے کہ 20 معاملے سے آگاہی، اس کے مقدمے سلوک اور اس کی رہائی کے حوالے سے پیش کرنا چاہیے۔ بتانا چاہیے کہ برلن بـ حکومت جرمنی کے کن کن افسران بالا ، خطوط ارسال کیے گئے۔ اسلام آباد ۔

صفحہ ٩٧

عرفان صدیقی

قوم اپنے بیٹے کی منتظر ہے!

ہمیں کسی تحقیقی رپورٹ کی ضرورت نہیں۔ ہمیں اپنے بیٹے کا جسد خاکی چاہیے کہ ہم اسے اعزاز کے ساتھ وطن کی مٹی کے سپرد کر سکیں۔ ہم یہ بھی نہ کر پائے تو روزِ محشر حضور ختمی مرتبت ﷺ کو کیا جواب دیں گے؟

حکومتِ پاکستان کو اب خبر ہوئی ہے کہ عامر عبدالرحمان چیمہ نامی ایک نوجوان برلن کی ایک جیل میں جان سے گزر گیا ہے۔ ایک دو رکنی ٹیم اس کی موت کے اسباب کا جائزہ لینے برلن پہنچ گئی ہے۔ جب یہ ٹیم مقامی پولیس سے مل کر تحقیقات کا آغاز کرے گی، عامر کی شہادت کو ایک عشرہ گزر چکا ہوگا۔ جرمن پولیس کبھی نہیں چاہے گی کہ اس کے بہیمانہ تشدد کا کوئی ادنیٰ سا ثبوت بھی باقی رہے۔ یوں بھی پاکستان ان دنوں پت جھڑ کی جس رُت کا شکار ہے اور قومی آزادی و خود مختاری جس جاں کنی سے دوچار ہے، کسی پاکستانی کو یہ توقع نہیں کہ ہماری ٹیم آزادانہ تحقیقات کے بعد ہر آلائش سے پاک بے لاگ رپورٹ مرتب کر سکے گی۔ یہ بات یقینی دکھائی دے رہی ہے کہ ہماری دو رکنی ٹیم، جرمن پولیس کی مرتب کردہ رپورٹ کی تصدیق مزید کرتے ہوئے اس نتیجے پر پہنچے گی کہ عامر چیمہ شہید نے واقعی خودکشی کی ہے۔

بنیادی سوال یہ ہے کہ 20 مارچ سے 2 مئی تک حکومت پاکستان نے عامر کے معاملے سے آگاہی، اس کے مقدمے کی پیروی، جیل میں اس سے روا رکھے جانے والے سلوک اور اس کی رہائی کے حوالے سے کیا کیا؟ اسے ڈیڑھ ماہ کا ”روزنامچہ“ قوم کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔ بتانا چاہیے کہ برلن میں پاکستانی سفارتخانے کے کون کون سے اہلکاروں نے حکومتِ جرمنی کے کن کن افسرانِ بالا سے رابطے کیے؟ کس کس سے کتنی ملاقاتیں ہوئیں؟ کتنے خطوط ارسال کیے گئے۔ اسلام آباد نے کتنی سرگرمی دکھائی؟ وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے

صفحہ ٩٨

اپنے جرمن ہم منصب یا دوسرے ذمہ داروں سے کتنی بار رابطہ کیا؟ دفتر خارجہ نے کس گرم جوشی کا مظاہرہ کیا؟ اگر 20 مارچ سے 2 مئی تک حکومت پاکستان ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہی اور اس نے معاملے کی سنگینی کا احساس نہ کیا یا اس خیال سے خاموش ہوگئی کہ کسی ”دہشت گرد“ کے بارے میں زیادہ حساس ہونے کی ضرورت نہیں تو اسے نرم سے نرم الفاظ میں مجرمانہ غفلت ہی کہا جاسکتا ہے۔ ممکن ہے شاہانِ والا تبار کے نزدیک عامر نے کسی ”گھناؤنے جرم“ کا ارتکاب کیا ہو لیکن اس کے باوجود وہ پاکستان کا شہری تھا۔ اپنے وطن کی مٹی پر اس کے کچھ حقوق ہیں۔ حکومت پاکستان کی آئینی، قانونی اور اخلاقی ذمہ داری تھی کہ وہ اس کا تحفظ کرتی۔ اس کے معاملے میں دلچسپی لیتی، اسے واپس لانے کی کوشش کرتی اور اس امر کو یقینی بناتی کہ اس پر تشدد نہ ہو۔ ایسی مثالیں کثرت سے ملتی ہیں کہ سفارتخانوں نے اپنے کسی شہری پر الزام عائد ہونے کی صورت میں اسے اپنی تحویل میں لے لیا اور مقامی حکام سے کہا کہ وہ سفارتخانے آ کر تحقیقات کریں۔ حکومت کے اس طرز تغافل، اس انداز بے نیازی اور بے حسی کی حدوں کو چھوتی ہوئی اس بے اعتنائی کو کیا نام دیا جائے؟

بے چارگی کی اس روش نے ملک کے وقار اور حاکمیتِ اعلیٰ کو کڑی دھوپ میں پڑی برف کی سل بنا کے رکھ دیا ہے۔ سمندر پار پاکستانیوں کا اعتماد بری طرح مجروح ہوا ہے۔ امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کو یہ زبردست گلہ ہے کہ صدر مشرف اور جارج بش کی ذاتی دوستی ان کے کسی کام نہیں آئی۔ انھیں ناگفتہ بہ حالات کا سامنا ہے۔ ذرا ذرا سی فنی غلطی پر پاکستانی ڈی پورٹ ہورہے ہیں۔ انھیں ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈال کر طیاروں میں لادا جاتا ہے۔ امریکہ جانے والے پاکستانیوں کو سب سے زیادہ توہین آمیز سلوک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ بے چارگی اب ایسی پستیوں کو چھونے لگی ہے جنھیں کوئی نام بھی نہیں دیا جاسکتا۔

عالم یہ ہے کہ ہر ستم گر کی وکالت بھی ہم نے اپنے ذمے لے لی ہے۔ باجوڑ پر امریکہ نے حملہ کیا تو ہمیں احتجاج کا حوصلہ نہ ہوا۔ الٹا ہم نے خود یہ کہنا شروع کر دیا کہ ”باجوڑ میں غیر ملکی موجود تھے“ گویا امریکہ حملہ کرنے میں حق بجانب تھا۔ لندن میں بم دھماکے ہوئے تو الزامات کے پایہ تصدیق تک پہنچنے سے پہلے ہی ہم اقراری مجرم بن گئے اور دینی مدارس پر تازیانے برسانے لگے۔ ابھی کل کی بات ہے۔ تمام اخبارات، تمام خبر رساں ایجنسیوں تمام عینی شاہدوں حتیٰ کہ مقامی انتظامیہ نے بھی تصدیق کی کہ پہاڑوں سے کرومائیٹ چنتے فاقہ

صفحہ ٩٩

دوسرے ذمہ داروں سے کتنی بار رابطہ کیا؟ دفتر خارجہ نے کس گرم جوشی ج سے 2 مئی تک حکومت پاکستان ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھی رہی اور احساس نہ کیا یا اس خیال سے خاموش ہو گئی کہ کسی ”دہشت گرد“ کے دینے کی ضرورت نہیں تو اسے نرم سے نرم الفاظ میں مجرمانہ غفلت ہی شاہان والا تبار کے نزدیک عامر نے کسی ”گھناؤنے جرم“ کا ارتکاب وہ پاکستان کا شہری تھا۔ اپنے وطن کی مٹی پر اس کے کچھ حقوق ہیں۔ ، قانونی اور اخلاقی ذمہ داری تھی کہ وہ اس کا تحفظ کرتی۔ اس کے سے واپس لانے کی کوشش کرتی اور اس امر کو یقینی بناتی کہ اس پر تشدد سے ملتی ہیں کہ سفارتخانوں نے اپنے کسی شہری پر الزام عائد ہونے تحویل میں لے لیا اور مقامی حکام سے کہا کہ وہ سفارتخانے آ کر کے اس طرز تغافل، اس انداز بے نیازی اور بے حسی کی حدوں کو کو کیا نام دیا جائے؟

ا روش نے ملک کے وقار اور حاکمیت اعلیٰ کو کڑی دھوپ میں پڑی ا ہے۔ سمندر پار پاکستانیوں کا اعتماد بری طرح مجروح ہوا ہے۔ یہ زبردست گلہ ہے کہ صدر مشرف اور جارج بش کی ذاتی دوستی ان نا گفتہ بہ حالات کا سامنا ہے۔ ذرا ذرا سی فنی غلطی پر پاکستانی ڈی ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈال کر طیاروں میں لادا جاتا ہے۔ امریکہ ب سے زیادہ توہین آمیز سلوک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ بے چارگی ا ہے جنھیں کوئی نام بھی نہیں دیا جا سکتا۔

تم گر کی وکالت بھی ہم نے اپنے ذمے لے لی ہے۔ باجوڑ پر تجاج کا حوصلہ نہ ہوا۔ الٹا ہم نے خود یہ کہنا شروع کر دیا کہ ”باجوڑ مریکہ حملہ کرنے میں حق بجانب تھا۔ لندن میں بم دھماکے ہوئے تک پہنچنے سے پہلے ہی ہم اقراری مجرم بن گئے اور دینی مدارس پر کل کی بات ہے۔ تمام اخبارات، تمام خبر رساں ایجنسیوں تمام ظامیہ نے بھی تصدیق کی کہ پہاڑوں سے کرومائٹ چنتے فاقہ

مستوں پر امریکی گن شپ ہیلی کاپٹرز نے بمباری کی جس سے تین افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔ لیکن آئی ایس پی آر کے ترجمان نے اس امریکی بیان کی تصدیق کر دی کہ ساری کارروائی افغان علاقے میں ہوئی۔ بھارت نے افغانستان میں دہشت گردوں کی درجنوں تربیت گاہیں قائم کر لی ہیں جو وزیرستان سے بلوچستان اور گلگت سے کراچی تک آگ کے شعلوں کو ہوا دے رہی ہیں اور ہم قتل و غارت گری کی ہر واردات ”اسلامی انتہا پسندوں“ کے سر تھوپ دیتے ہیں۔ کسی کو کچھ پرواہ نہیں کہ کتنے پاکستانی دنیا کے کون کون سے عقوبت خانے میں گل سڑ رہے ہیں۔ گوانتانامو کے پنجروں میں پڑے تین درجن کے لگ بھگ بے گناہ پاکستانیوں کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ حامد کرزئی کو صدر بنانے کے لیے ووٹوں سے صندوق بھر بھر کر بھیجتے وقت بھی ہم نے یہ گزارش نہ کی کہ ہمارے قیدی چھوڑ دو۔ 1993ء میں اریٹیریا جانے والی تبلیغی جماعت کے 16 ارکان تیرہ برس سے لاپتہ ہیں اور کسی کو ان کی تلاش سے کوئی دلچسپی نہیں۔

عامر چیمہ شہید کی پاکباز روح جانے کن مہکتی محفلوں کی رونق بن چکی ہے، اس کے ایک استاد بزرگ نے دو دن قبل عامر کے والد کو جو خواب سنایا میں پھر کسی وقت سناؤں گا۔ اس کے گھر کو جانے والی گلیاں گلاب کی خوشبو سے مہک رہی ہیں اور اس کے گھر کے سامنے گلدستوں کے ڈھیر لگے ہیں۔ اب وہ صرف پروفیسر نذیر چیمہ کا نہیں، پورے پاکستان کا فرزند ہے۔ وہ ہم سب کا بیٹا ہے اور ہمیں اس کی میت چاہیے۔ ہمیں کسی تحقیق، کسی تفتیش، کسی رپورٹ، کسی اشک شوئی اور کسی دم دلاسے کی ضرورت نہیں۔ اگر حکومت پاکستان میں ذرا سا بھی دم خم باقی ہے تو وہ ”تحقیقات“ کے خرخشوں کے بجائے جرمن حکومت سے کہے کہ بلا تاخیر شہید کی میت ہمارے حوالے کی جائے۔

پاکستان کے لوگ اپنے شہید بیٹے کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ ان کا صبر کا امتحان نہ لیا جائے۔ شہید نے اپنے خط میں اس آخری خواہش کا اظہار بھی کیا ہے کہ ”میرا جنازہ بڑا ہو“ جنت کے جھروکوں سے جھانکتی اس کی روح دیکھ رہی ہے کہ اہل وطن اس کی خواہش کیوں کر پوری کرتے ہیں؟

۞......۞......۞

صفحہ ١٠٠

عرفان صدیقی

یہ بے اعتنائی کیوں؟

علامہ اقبال کی معروف کتاب ”بانگِ درا“ میرے سامنے ہے اور میں کئی بار یہ نظم پڑھ چکا ہوں جس کا عنوان ہے ”بلالؓ “ ۔

لکھا ہے ایک مغربی حق شناس نے
اہلِ قلم میں جس کا بہت احترام تھا
جولاں گہِ سکندرِ رومی تھا ایشیا
گردوں سے بھی بلند تر اس کا مقام تھا
تاریخ کہہ رہی ہے کہ رومی کے سامنے
دعویٰ کیا جو پورس و دارا نے خام تھا
دنیا کے اس شہنشہِ انجم سپاہ کو
حیرت سے دیکھتا فلکِ نیل فام تھا
آج ایشیا میں اس کو کوئی جانتا نہیں
تاریخ دان بھی اسے پہچانتا نہیں
لیکن بلال، وہ حبشی زادۂ حقیر
فطرت تھی جس کی نورِ نبوت سے مستنیر
جس کا امیں ازل سے ہوا سینۂ بلال
محکوم اس صدا کے ہیں شاہنشہ و فقیر
ہوتا ہے جس سے اسود و احمر میں اختلاط
کرتی ہے جو غریب کو ہم پہلوئے امیر
صفحہ ١٠١
ہے تازہ آج تک وہ نوائے جگر گداز
صدیوں سے سن رہا ہے جسے گوش چرخ پیر
اقبال کس کے عشق کا یہ فیض عام ہے
رومی فنا ہوا، حبشی کو دوام ہے

میں یہ نظم کئی بار پڑھ چکا ہوں اور ہر بار یہ سوال ذہن و فکر میں ایک ہلچل سی بپا کر دیتی ہے کہ وہ کونسی شے تھی جس نے رُوم کے صاحب جاہ و جلال تاجدار کو حرف غلط کی طرح لوح تاریخ سے مٹا ڈالا اور حبشہ کے ایک سیاہ فام غلام کو رفعت و عظمت کے اس منصب بلند پر فائز کر دیا جو وسیع و عریض سلطنتوں کے شہنشاہان عالی مقام کے تصور سے بھی ماوریٰ ہوتا ہے؟

علامہ نے ایک اور مقام پر کہا ہے ۔

حسن ز بصرہ، بلال از حبش، صہیب از روم
ز خاک مکہ ابو جہل، ایں چہ بوالعجمی ست

بصرہ نے حسن بصری جیسے مرد جلیل کو جنم دیا، حبشہ نے بلال (رضی اللہ عنہ) جیسی ہستی کی پرورش کی، رُوم کی خاک سے صہیب رومی (رضی اللہ عنہ) کی نمو ہوئی۔ لیکن کس قدر تعجب کا مقام ہے کہ خاک مکہ سے رشتہ ہونے کے باوجود ابو جہل، ابو جہل ہی رہا اور وہ روشنی جو بصرہ، حبش اور رُوم تک جا پہنچی، ابو جہل عین آفتابِ جہاں تاب کے پہلو میں ہوتے ہوئے بھی اس سے محروم رہا۔

یہ کہانی اللہ کی رحمت بے پایاں اور نبی آخر الزماں ﷺ سے لازوال محبت کی کہانی ہے۔ جس کی قسمت میں محرومیاں لکھ دی گئیں، وہ زمانے بھر کا بادشاہ ہونے کے باوجود کم نصیب ہی ٹھہرے گا اور جسے دامن رحمت کی چھاؤں میسر آ گئی، وہ ابدی رفعتوں سے ہمکنار ہو گیا۔

میں پچھلے کئی دنوں سے سوچ رہا ہوں۔ مراکش سے انڈونیشیا تک کتنی ہی اسلامی سلطنتیں ہیں اور ایک لڑی میں پروئی ہیں۔ ان سلطنتوں اور غیر مسلم ممالک میں آباد مسلمانوں کی مجموعی تعداد ایک ارب پچیس کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ ان میں جوانانِ ملت کی تعداد تیس کروڑ سے زائد ہے۔ یہ سب نبی ﷺ کا کلمہ پڑھتے، اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوتے اور محمد عربی ﷺ کا امتی ہونے پر فخر کرتے ہیں۔ عبادات پر سختی سے کاربند نہ رہنے والے مسلمان بھی

صفحہ ١٠٢

ناموس رسالت پر ضرب لگنے سے مضطرب ہو جاتے ہیں۔ ان کی نیندیں حرام ہو جاتی ہیں۔ ان کی بے کلی انھیں آتش زیر پا کر دیتی ہے۔

ڈنمارک کے ایک اخبار کی ناپاک جسارت کو یورپ بھر نے ”نمونہ تقلید“ جان کر اپنا لیا۔ مسلمانوں کو مشتعل کرنے کی شعوری کوشش کی گئی۔ اسے ”آزادی اظہار“ کی قبائے خوش رنگ پہنا دی گئی۔ کوئی مہذب معاشرہ کسی عام انسان کی عزت نفس پر حملے یا اس کی شخصی تذلیل کی اجازت نہیں دیتا۔ گالی اور دشنام طرازی کسی بھی معاشرے میں ”آزادی اظہار“ کے زمرے میں نہیں آتی لیکن اسلام بیزار اور مسلم آزار مغرب نے سوا ارب مسلمانوں کی محبت و عقیدت کے محور و مرکز، نبی رحمت ﷺ کی خاکہ تراشی کے وقت اتنی سی بات بھی نہ سوچی۔ اس پر غم و غصہ اور اشتعال ایک فطری امر تھا۔ یہ اندازہ و قیاس مشکل ہے کہ کتنے نوجوانان اسلام کے قلب و ذہن میں انتقام کا آتش فشاں دہک اٹھا اور کتنے لوگ گستاخان رسول کو قرار واقعی سبق سکھانے کے لیے بے چین ہو گئے۔

لیکن یہ اعزاز پاکستان کے ایک خوبرو، خوش جمال اور خوش خصال نوجوان کے حصے میں آیا۔ 2 مئی 2006ء سے پہلے اسے کم کم لوگ ہی جانتے تھے۔ وہ ایک عام اور گمنام سا نوجوان تھا جو جرمنی کی ایک یونیورسٹی میں ایم ایس سی کر رہا تھا لیکن 2 مئی کو اس کا رشتۂ جاں منقطع ہو گیا اور 2 مئی کو ہی وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے زندہ و پائندہ ہو گیا۔ اسے اللہ تعالیٰ نے ایک اعزاز بلند کے لیے چن لیا اور رہتی دنیا تک کے لیے تاریخ کے سنہری اوراق کی زینت بنا دیا۔

لیکن عامر کی کہانی کے وہ پہلو بڑے ہی افسوسناک ہیں جس کا تعلق سرکار دربار سے ہے۔ عامر 20 مارچ کو گرفتار ہوا اور تقریباً ڈیڑھ ماہ جرمنوں کی حراست میں رہا۔ حکومت پاکستان کو اس بات کا علم تھا کیونکہ برلن میں پاکستانی سفارت خانے کا ایک سینئر اہلکار عامر کے اہل خانہ سے رابطے میں تھا۔ اس کے باوجود دفتر خارجہ یہ بتانے سے قاصر ہے کہ اس نے حکومتی سطح پر عامر کی گرفتاری اور شہادت کے درمیانی عرصے میں کیا کردار ادا کیا؟ غفلت، لاتعلقی اور بے نیازی کا دوسرا مظاہرہ عامر کی شہادت کی خبر آنے کے بعد ہوا۔ حکومت نے عوامی مطالبے سے زچ ہو کر ایک ہفتہ بعد دو اہلکار برلن بھیجے کہ وہ تحقیقات کریں گے۔ ابھی تک یہ نہیں بتایا گیا کہ انھوں نے کیا کارنامہ سرانجام دیا؟ نعش کا پوسٹ مارٹم ہوا یا نہیں؟ نازیوں نے تشدد و اذیت پر پردہ ڈالنے کے لیے اسے خودکشی قرار دے ڈالا اور ہماری حکومت

صفحہ ١٠٣

نے بھی اس بے سروپا تھیوری کو تسلیم کر لیا۔ کسی سطح پر نہ آواز اٹھائی گئی، نہ احتجاج کیا گیا، نہ انسانی حقوق کے اداروں کو متوجہ کیا گیا۔

حکومت کی طرف سے تیسری ناروا اور انتہائی قابل مذمت حرکت یہ ہوئی کہ عامر شہید کی تجہیز و تکفین کے حوالے سے والدین پر شدید دباؤ ڈالا گیا اور ریاستی جبر کے بل بوتے پر میت کو راولپنڈی لے جانے کی بجائے ساروکی پہنچا دیا گیا، جہاں عجلت کے ساتھ تدفین کر دی گئی۔ ابتداء میں شہید کے والد نے خیال ظاہر کیا تھا کہ عامر کی میت راولپنڈی لائی جائے گی جہاں اس کی نماز جنازہ ادا ہو گی اور بعد ازاں اسے ساروکی میں سپرد خاک کر دیا جائے گا۔ عامر کے خط کے دو صفحات ملنے کے بعد اس کی وصیت پر عمل کرنے کا فیصلہ ہوا۔ عامر نے کہا تھا کہ اسے کسی بڑے قبرستان میں دفن کیا جائے اور اس کی نماز جنازہ میں زیادہ لوگ شریک ہوں۔ چنانچہ طے پایا کہ میت راولپنڈی آئے گی اور یہیں تدفین ہو گی۔ انتظامیہ کو اس فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا۔

جمعتہ المبارک کے روز مقامی انتظامیہ اور پولیس کے کارندوں نے یلغار سی کر دی۔ معلوم ہوا کہ حکومت میت کو راولپنڈی لانے اور یہاں تجہیز و تکفین پر آمادہ نہیں۔ اسے امن و امان کے درہم برہم ہونے کا خطرہ ہے۔ نڈھال اور شکستہ دل والدین پر دباؤ ڈالا جانے لگا، ہراساں کیا جانے لگا، خواتین کو پریشان کیا جانے لگا۔ حکومت بضد تھی کہ میت یہاں نہیں آئے گی۔ آپ لوگ ساروکی چلیں۔ ہفتے کی صبح میت لاہور پہنچے گی جہاں سے بذریعہ ہیلی کاپٹر ساروکی پہنچا دی جائے گی۔ دباؤ کے اس نازک مرحلے میں دینی و سیاسی جماعتوں کے عمائدین نے کوئی سرگرمی نہ دکھائی۔ نحیف و نزار غمزدہ خاندان بالآخر سپر انداز ہو گیا۔ مجھے شہید کی بہنوں نے بتایا کہ پورے خاندان کو تقریباً حراست کی کیفیت میں ساروکی لا بٹھایا گیا۔

والدین نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ نماز جنازہ شام ساڑھے چار بجے ادا کی جائے تا کہ دور دراز کے لوگ اس میں شرکت کر سکیں لیکن حکومت اس پر بھی آمادہ نہ ہوئی۔ سرکاری اہلکاروں نے فرمان جاری کیا کہ نماز جنازہ فی الفور ادا کر دی جائے۔ والدین دہائی دیتے رہ گئے، لوگ منتیں کرتے رہے لیکن کسی کی نہ سنی گئی۔ بزور جنازہ ایک بجے کے لگ بھگ پڑھوا دیا گیا۔ ہزاروں لوگوں کے قافلے شام تک آتے رہے۔ چار بجے پھر غائبانہ نماز جنازہ ادا کرنا پڑی۔

صفحہ ١٠٤

پروفیسر نذیر چیمہ اور شہید کی والدہ کا کہنا ہے کہ میت کو امانتاً دفن کیا گیا ہے۔ یہ امر بذات خود حکومت وقت کے لیے لمحہ فکریہ بھی ہونا چاہیے اور باعث ندامت بھی۔ ”امانت“ کا مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں مطلوبہ مقام پر تدفین ممکن نہ ہو یا ایسی حکومت برسر اقتدار ہو جو معاملے کی نزاکت اور حساسیت سے واقف نہ ہو۔ غازی علم الدین شہید کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا تھا۔ ان کی میت کو میانوالی جیل کے ایک احاطے میں سپرد خاک کر دیا گیا تھا۔ اس پر احتجاج کی لہر اٹھی۔ علامہ اقبال کی قیادت میں عمائدین کے ایک وفد نے گورنر سے ملاقات کی۔ تیرہ دن بعد میت کو میانوالی جیل کے احاطے سے نکال کر لاہور لایا گیا جہاں میانی صاحب کے قبرستان میں شہید کی تدفین ہوئی، لیکن یہ تو انگریز کی حکومت نہ تھی۔ ان لوگوں کو تو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ شہید کی وصیت اور والدین کی خواہش کو پامال کرنے کے نتائج کیا ہو سکتے ہیں؟

بزرگان دین، عمائدین سیاست، صاحبان جبہ و دستار، وارثان منبر و محراب اور ارباب علم و دانش سے یہ کوتاہی ہوئی کہ وہ شہید کی میت کے استقبال، تجہیز و تکفین اور دیگر معاملات کے لیے کوئی قومی کمیٹی نہ بنا سکے۔ اگر ایسا ہو جاتا تو شہید کا خاندان براہ راست سرکاری یلغار کی زد میں نہ آتا۔ یہ کمیٹی معاملات کو سنبھال سکتی تھی اور شہید کے ورثا بھی کہہ سکتے کہ عامر پوری قوم کا بیٹا ہے اور قومی کمیٹی ہی حتمی فیصلہ کر سکتی ہے۔

جو ہوا سو ہوا لیکن شہید کی میت سارو کی خاک میں امانت کے طور پر پڑی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ والدین اب بھی اسے راولپنڈی لانے کے آرزومند ہیں۔ اس مقصد کے لیے قومی زعما کو آگے آنا چاہیے۔ ایک کمیٹی تشکیل دے کر حکومتی زعما سے ملنا چاہیے۔ ان کے خدشات دور کیے جانے چاہئیں اور بلاتاخیر شہید کی میت کو راولپنڈی لانے کے اقدامات کیے جانے چاہئیں۔

جس نوجوان کو اللہ تعالیٰ نے چن لیا اور جس نے حرمت نبی کے لیے اپنی جان دے دی، اس کے بارے میں قوم کے بڑوں کی بے اعتنائی پورے ملک کو کسی نادیدہ آزمائش سے دوچار کر سکتی ہے۔

صفحہ ١٠٥

نذیر چیمہ اور شہید کی والدہ کا کہنا ہے کہ میت کو امانتاً دفن کیا گیا ہے۔ یہ امر وقت کے لیے لمحہ فکریہ بھی ہونا چاہیے اور باعث ندامت بھی۔ ”امانت“ کا ہے جہاں مطلوبہ مقام پر تدفین ممکن نہ ہو یا ایسی حکومت برسر اقتدار ہو جو ور حساسیت سے واقف نہ ہو۔ غازی علم الدین شہید کے ساتھ بھی یہی کچھ تھا۔ ان کو میانوالی جیل کے ایک احاطے میں سپرد خاک کر دیا گیا تھا۔ اس پر علامہ اقبال کی قیادت میں عمائدین کے ایک وفد نے گورنر سے ملاقات میت کو میانوالی جیل کے احاطے سے نکال کر لاہور لایا گیا جہاں میانی میں شہید کی تدفین ہوئی، لیکن یہ تو انگریز کی حکومت نہ تھی۔ ان لوگوں کو تو کہ شہید کی وصیت اور والدین کی خواہش کو پامال کرنے کے نتائج کیا ہو

دین، عمائدین سیاست، صاحبان جبہ و دستار، وارثان منبر و محراب اور سے یہ کوتاہی ہوئی کہ وہ شہید کی میت کے استقبال، تجہیز و تکفین اور دیگر کی قومی کمیٹی نہ بنا سکے۔ اگر ایسا ہو جاتا تو شہید کا خاندان براہ راست میں نہ آتا۔ یہ کمیٹی معاملات کو سنبھال سکتی تھی اور شہید کے ورثا بھی کہہ سکتے بیٹا ہے اور قومی کمیٹی ہی حتمی فیصلہ کر سکتی ہے۔ ہوا لیکن شہید کی میت ساروکی کی خاک میں امانت کے طور پر پڑی ہے۔ ے والدین اب بھی اسے راولپنڈی لانے کے آرزو مند ہیں۔ اس مقصد آگے آنا چاہیے۔ ایک کمیٹی تشکیل دے کر حکومتی زعما سے ملنا چاہیے۔ ان جانے چاہئیں اور بلا تاخیر شہید کی میت کو راولپنڈی لانے کے اقدامات

ان کو اللہ تعالیٰ نے چن لیا اور جس نے حرمتِ نبی کے لیے اپنی جان رے میں قوم کے بڑوں کی بے اعتنائی پورے ملک کو کسی نادیدہ آزمائش

❁ ❁ ❁

عرفان صدیقی

وہ جسے چن لیا گیا!

یہ رتبہ بلند ہر کسی کے نصیب میں نہیں۔ اس طرح کے ”لالے“ کی حنا بندی فطرت اپنے ہاتھوں کیا کرتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ پروفیسر نذیر چیمہ، اس کی عظیم والدہ، اس کی محبت کرنے والی بہنوں نے کبھی نہیں سوچا ہو گا کہ عامر ایک ایسی روشن راہ کا مسافر نکلے گا۔ انھوں نے کبھی اس جوان رعنا کی پیشانی میں اس آفتاب جہانتاب کی جھلک نہیں دیکھی ہوگی جو طلوع ہونے کے لیے تڑپ رہا تھا۔ خود عامر نے بھی شاید کبھی اس طرح کا کوئی خوشرنگ خواب نہ دیکھا ہو۔ لیکن کچھ فیصلے لوح محفوظ پر رقم ہو چکے ہوتے ہیں۔ کچھ سعادتیں، کچھ فضیلتیں، کچھ رفعتیں، کچھ بلندیاں کسی کے نصیب میں لکھ دی جاتی ہیں۔ اس کا سبب کیا ہوتا ہے؟ اس کے محرکات کیا ہوتے ہیں؟ کوئی نہیں جانتا۔ کسی کو خبر نہیں ہوتی۔ کوئی اس کی توضیح نہیں کر سکتا کہ حافظ آباد میں پروفیسر نذیر چیمہ کے گھر پیدا ہونے والے عامر ہی کو کیوں چنا گیا؟ وہ تو کسی ایسے مدرسے کا طالب علم نہ تھا جہاں ”انتہا پسندی“، ”بنیاد پرستی“ اور ”دہشت گردی“ کی تعلیم دی جاتی ہے؟ وہ تو کسی ایسی تنظیم سے وابستہ نہ تھا جسے ”جہادیوں“ کی تنظیم کہا جاتا ہو؟ اس نے تو کبھی کسی تربیتی کیمپ سے تربیت نہیں لی تھی؟ اس نے تو جدید طرز کے ایک سکول سے تعلیم حاصل کی؟ وہ تو راولپنڈی چھاؤنی کی حدود میں واقع ایک کالج میں پڑھتا رہا جس کا نظم و نسق پاک فوج کے پاس ہے۔ اس نے تو ماڈرن عہد کی ماڈرن تعلیم حاصل کی۔ اس کے چہرے پر داڑھی تھی نہ سر پر پگڑی، وہ عبا اور قبا سے بے نیاز تھا۔ اسے دیکھ کر کسی پہلو سے بھی نہیں لگتا تھا کہ اس نوجوان کے سینے میں عشق رسول ﷺ کی آتش خاموش دہک رہی ہے۔ لیکن حالی نے کہا تھا ۔

صفحہ ١٠٦
قیس ہو، کوہکن ہو یا حالی
عاشقی کچھ کسی کی ذات نہیں

یہ رتبہ بلند انہی کو ملتا ہے جنھیں رب کائنات چن لیتا ہے۔ بڑے بڑے مفسر، مفتی، فقیہ، محدث، علماء اور معلم عمر بھر کی ایک ایک ساعت، عبادت، اوراد، وظائف اور ذکر اذکار میں گزار دیتے ہیں لیکن ان کے سر پر سعادت کا ہما نہیں بیٹھتا۔ ترکھانوں کا بیٹا علم الدین بھی چنا ہوا تھا اور علامہ اقبالؒ جیسا مرد حق ہاتھ ملتا رہ گیا کہ ”اسی گلاں کردے رہے تے ترکھاناں دا مُنڈا بازی لے گیا“ (ہم باتیں کرتے رہ گئے اور ترکھانوں کا بیٹا بازی لے گیا) علم الدین غازی کی طرح عامر عبدالرحمٰن بھی چن لیا گیا تھا۔ اللہ نے اس خاندان کو تاریخ میں کوئی جگہ دینا تھی۔ عامر نامی جوان رعنا کو کسی مسند بلند پر بٹھانا تھا۔۔۔۔ سو آسمانوں کی رحمتیں اس کے قدموں میں بچھ بچھ گئیں۔

سفید ریش مرد بزرگ کے چہرے پر گرد ملال کے بجائے دائم رہنے والا سکون تھا۔ اس کی آنکھوں میں سلگتی راکھ کے اندر سے روشنی کے دھارے پھوٹ رہے تھے۔ ان کے ہونٹ خاموش تھے لیکن دل کے دور اندر تک اتر جانے والی ملگجی سرگوشیاں کر رہے تھے۔ وہ کسی زاویے سے بھی اندوہ کی گرفت میں نہیں لگتے تھے۔ انھیں دیکھ کر گمان نہ گزرتا تھا کہ اس کا واحد بیٹا تین بہنوں کا اکلوتا بھائی، بھری جوانی میں ہمیشہ کے لیے اس سے بچھڑ گیا ہے اور اس کی میت سات سمندر پار برلن کے کسی سرد خانے میں پڑی وطن آنے کا انتظار کر رہی ہے۔ جواں مرگ بیٹوں کے کڑیل درختوں جیسے جری باپ بھی، دیمک زدہ شہتیر کی طرح ٹوٹ گرتے ہیں لیکن کیسا باپ تھا کہ شجر بہار کی طرح لدا رہا تھا۔

28 سالہ نوجوان، عامر عبدالرحمٰن چیمہ کے بارے میں جرمنی سے خبر آئی ہے کہ اس نے برلن جیل کی کوٹھڑی میں خودکشی کر لی۔ کوئی جرمن بھی یہ بات ماننے پر تیار نہیں وہ بھی جو اس خوبصورت اور خوب سیرت نوجوان کو جانتے ہیں اور وہ بھی جنھوں نے اس کی کہانی سن رکھی ہے۔ وہ دینی مزاج کے گھرانے کا فرزند تھا۔ نماز، روزہ، تلاوت، تسبیح، اوراد، وظائف، دعاؤں اور مناجات سے معمور ماحول میں پرورش پانے والے اس نوجوان کے رگ و پے میں دینی حمیت بھی تھی، عشق کی آتش خاموش بھی، عزم اور پکار کی چنگاریاں بھی لیکن وہ ہارنے والا نہ تھا۔ خودکشی کا راستہ صرف ہار جانے والوں کا راستہ ہوتا ہے۔

صفحہ ١٠٧

اس نے 4 دسمبر 1977ء کو حافظ آباد میں آنکھ کھولی۔ شریف النفس اور نیک نام باپ، پروفیسر محمد نذیر چیمہ نے دو بیٹیوں کے بعد پیدا ہونے والے بیٹے کا نام عامر عبدالرحمن رکھا۔ عامر نے گورنمنٹ جامع ہائی سکول راولپنڈی سے میٹرک کیا۔ 1994ء میں اس نے فیڈرل گورنمنٹ سرسید کالج راولپنڈی سے پری انجینئرنگ میں ایف ایس سی کا امتحان 80 فیصد کے لگ بھگ نمبر حاصل کر کے پاس کیا۔ نیشنل کالج آف ٹیکسٹائل انجینئرنگ فیصل آباد سے بی ایس سی کرنے کے بعد عامر نومبر 2004ء میں اعلیٰ تعلیم کے لیے جرمنی چلا گیا جہاں اس نے ”منچن گلڈباخ“ کی یونیورسٹی آف اپلائیڈ سائنسز کے شعبہ ٹیکسٹائل اینڈ کلودنگ مینجمنٹ میں داخلہ لے لیا۔ چوتھا سمسٹر شروع ہونے سے قبل، فروری کے وسط میں یونیورسٹی میں کوئی ایک ماہ کی چھٹیاں ہو گئیں۔ وہ چھٹیاں گزارنے برلن چلا گیا جہاں اس کی ماموں زاد بہن اپنے میاں اور بچوں کے ساتھ قیام پذیر تھی۔ 11 مارچ کو یونیورسٹی کھل گئی لیکن عامر واپس نہ پہنچا۔ مارچ کے آخری ہفتے میں پروفیسر نذیر نے برلن اپنے عزیزوں سے بات کی لیکن عامر کا نام آتے ہی فون بند ہو گیا۔ 8 مارچ کو عامر نے آخری بار فون کر کے اپنے خالہ زاد بھائی کو شادی کی مبارک باد پیش کی تھی۔ ٹھیک ایک ماہ بعد 8 اپریل کو برلن کے عزیزوں نے خبر دی کہ عامر 20 مارچ کو گرفتار ہو گیا تھا اور وہ برلن پولیس کے زیر تفتیش ہے۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے رسول کریم ﷺ کے توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے ایک اخبار کے ایڈیٹر پر قاتلانہ حملہ کیا ہے۔ پولیس نے عامر کی ماموں زاد بہن کے گھر اور اس کی یونیورسٹی اقامت گاہ پر چھاپہ مارنے کے لیے 23 مارچ کو عدالت سے اجازت چاہنے کے لیے جو ”ضمنی“ پیش کی، اس میں کہا گیا کہ ”عامر نذیر نے ایک روزنامے "Die Welt" کے دفتر میں داخل ہونے کی کوشش کی سکیورٹی گارڈ نے روکا تو اس نے شکاری چاقو نکال لیا اور بم چلانے کی دھمکی دی تاکہ وہ بیورو چیف کے دفتر میں داخل ہو سکے۔“ بعد کی خبروں میں بتایا گیا کہ عامر نے توہین رسالت ﷺ کے مرتکب اخبار کے ایڈیٹر پر حملہ کیا جس سے ایڈیٹر کو گہرے زخم آئے، اسی دوران گارڈ نے عامر پر قابو پا لیا۔

پروفیسر نذیر نے اپنے طور پر حکام اور سیاستدانوں سے رابطے شروع کر دیے۔ قومی اسمبلی کے رکن ڈاکٹر فرید پراچہ نے برلن میں پاکستانی سفارت خانے کے فرسٹ سیکرٹری خالد عثمان قیصر سے فون پر بات کی تو تصدیق ہو گئی کہ عامر برلن پولیس کی گرفت میں ہے اور اس پر

صفحہ ١٠٨

توہین رسالت ﷺ کے مرتکب اخبار کے ایڈیٹر پر حملہ کرنے کا الزام ہے۔ اس کے بعد پروفیسر نذیر چیمہ اور خالد عثمان قیصر رابطے میں رہے۔ گمان یہی تھا کہ عامر کو ڈی پورٹ کر دیا جائے گا لیکن کسی طرح کی پیش رفت نہ ہوئی۔ چالیس دن سے زائد کا وقت گزر جانے کے بعد بھی پولیس چالان عدالت میں پیش نہ کر سکی اور نہ مقدمے کی کارروائی شروع ہو سکی۔

2 مئی کو وکیل کے ذریعے عزیزوں نے عامر کو کپڑے، ٹوتھ پیسٹ اور کچھ دیگر اشیاء بھجوائیں۔ 4 مئی کو انھیں پولیس کی طرف سے اطلاع ملی کہ عامر نے خود کشی کر لی ہے۔ ماموں زاد بہن نے برلن سے حافظ آباد میں عامر کی بہن صائمہ کو خبر دی پھر یہ خبر راولپنڈی کی اس غریب و سادہ سی بستی میں پہنچی جہاں عامر کے والدین اور سب سے چھوٹی بہن مقیم ہے۔ بوڑھی ماں اور تین بہنوں کو ابھی تک یقین نہیں آ رہا کہ دنیا بدل چکی ہے اور روٹھ جانے والے روز و شب اب کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے۔ ایک بھرا پرا خاندان کھنڈر سا ہو کے رہ گیا ہے۔

جمعہ کی شام میں نوید ہاشمی کے ہمراہ پروفیسر نذیر چیمہ کے گھر پہنچا تو مغرب کی اذان ہو رہی تھی۔ گھر کی ساری نزدیکی گلیوں میں یہ گھر شہید کے گھر کے طور پر مشہور ہو گیا ہے۔ برآمدہ اور کمرے لوگوں سے بھرے تھے جن میں زیادہ تعداد نوجوانوں کی تھی۔ پروفیسر نذیر چیمہ میرے پہلو میں بیٹھ گئے لیکن مجھے کلام کا یارا نہ تھا۔ کہتا بھی تو کیا کہتا؟

میں اس سوچ میں گم تھا کہ آخر ہمیں کیا ہو گیا ہے؟ سولہ کروڑ انسانوں کے ایک ایٹمی ملک پر کس نے منتر پھونک دیا ہے کہ اس کے حکمرانوں نے قومی حمیت کو جنس بازار بنا دیا ہے؟ اس کا ایک شہری 20 مارچ کو گرفتار ہوا اور 4 مئی کو پولیس تشدد کے سبب شہید ہو گیا؟ حکومت پاکستان کامل ڈیڑھ ماہ تک کیا کرتی رہی؟ اس پہ لازم آتا ہے کہ وہ 44 دنوں کی پوری روداد قوم کے سامنے رکھے اور بتائے کہ اس نے ایک پاکستانی کو جرمنوں کے تشدد سے بچانے کے لیے کیا کیا؟ پاکستانی سفارت خانہ باخبر ہو چکا تھا تو حکومت پوری طرح کیوں متحرک نہ ہوئی؟ ایک ڈینیل پرل کسی کے ہاتھوں مارا گیا تو ہم نے کیسے کیسے نوحے نہ پڑھے؟ کیسے کیسے بَین نہ کیے؟ امریکہ میں پاکستانی نسلی تشدد کا شکار ہو گئے ہم چپ رہے، یونان میں پاکستانیوں کو قطار میں کھڑا کر کے چھلنی کر دیا گیا اور ہم خاموش رہے، قندھار میں 18 پاکستانیوں کو بھون دیا گیا اور ہمارے لب سلے رہے، امریکہ پاکستان میں آ کر 19 پاکستانیوں کے پرخچے اڑا گیا اور ہماری قوتِ گویائی مفلوج رہی۔ برازیل کا ایک شہری برطانوی پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہوا

تو وہاں کی حکومت نے تاج برطانیہ کو ہلا دیا اور پوری قوم سے معافی مانگنا پڑی۔ ہما ارزاں کیوں ہو گیا ہے؟

پروفیسر نذیر نے دبے لفظوں جاتا تو کمیشن بیٹھ جاتے اور معافیاں شرو خودکشی کی تھیوری میں شریک ہو گیا ہے۔

اگر عامر نے کچھ نہیں کیا اور اور شہید ہے اور اگر اس نے وہ کچھ کیا جو

یہ وہ مقام ہے جہاں جنید و اس جوان رعنا کے درجات بلند کی رفعتوں تابوت راولپنڈی کے ائیر پورٹ پر اتر لیکن مجھے یقین ہے کہ جب اس کی زم متبرک منطقوں میں پہنچے گی تو جانے جن اسے خوش آمدید کہیں گی اور جانے کن ک رہی ہوں گی۔

عامر کے والدین کو مبارک ڈگری لینے نکلا تھا اور سندِ فضیلت پا ک چاہنے والوں کو ملتی ہے۔ موت تو اٹل ہیں۔ اچانک کوئی موذی بیماری آ لیتی موت جس پر کروڑوں زندگیاں رشک جاوید ہو گیا ...... وہ تو امر ہو گیا۔

صفحہ ١٠٩

تو وہاں کی حکومت نے تاج برطانیہ کو ہلا کے رکھ دیا۔ وزیر خارجہ کو ڈالروں کی بوری بھر کے جانا پڑا اور پوری قوم سے معافی مانگنا پڑی۔ پاکستانی ماؤں کی کوکھ سے جنم لینے والے بیٹوں کا لہو اتنا ارزاں کیوں ہو گیا ہے؟

پروفیسر نذیر نے دبے لفظوں میں کہا ”یہاں کسی گورے کے کتے کو کانٹا بھی چبھ جاتا تو کمیشن بیٹھ جاتے اور معافیاں شروع ہو جاتیں۔ مجھے رنج یہ ہے کہ ہمارا فارن آفس بھی خود کشی کی تھیوری میں شریک ہو گیا ہے۔ ان لوگوں سے میں کیا توقع رکھ سکتا ہوں۔“

اگر عامر نے کچھ نہیں کیا اور وہ برلن پولیس کے تشدد کا لقمہ بن گیا تو بھی وہ معصوم اور شہید ہے اور اگر اس نے وہ کچھ کیا جو برلن پولیس بتا رہی ہے تو ......!

یہ وہ مقام ہے جہاں جنید و بایزید بھی اپنی سانسوں پر قابو نہیں رکھ سکتے۔ سو میرا قلم اس جوان رعنا کے درجات بلند کی رفعتوں کے تذکرے سے قاصر ہے۔ 9 مئی کو جب اس کا تابوت راولپنڈی کے ائیر پورٹ پر اترے گا تو مجھے معلوم نہیں کہ کون اس کا استقبال کرے گا لیکن مجھے یقین ہے کہ جب اس کی نرم و لطیف روح آسمانوں کے زینے طے کرتی سب سے متبرک منطقوں میں پہنچے گی تو جانے جنت کے کون کون سے جھروکوں سے کون کون سی ہستیاں اسے خوش آمدید کہیں گی اور جانے کن کن دریچوں سے سدا بہار گلابوں کی شبنمی پتیاں نچھاور ہو رہی ہوں گی۔

عامر کے والدین کو مبارک ہو کہ ان کا فرزند ”ٹیکسٹائل اینڈ کلوتھنگ انجینئرنگ“ کی ڈگری لینے نکلا تھا اور سند فضیلت پا گیا جو اللہ کے خاص بندوں اور رسول عربی کے سر بلند چاہنے والوں کو ملتی ہے۔ موت تو اٹل ہے۔ ہنستے کھیلتے جوان بچے حادثے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اچانک کوئی موذی بیماری آ لیتی ہے۔ بیٹھے بٹھائے نبضیں ڈوب جاتی ہیں ...... لیکن وہ موت جس پر کروڑوں زندگیاں رشک کریں، کسی کسی کو نصیب ہوتی ہے ...... اور وہ تو زندہ جاوید ہو گیا ...... وہ تو امر ہو گیا۔

صفحہ ١١٠

عرفان صدیقی

وہ جو حیات جاوداں پا گیا!

وہ جو امر ہو گیا......! اس لیے کہ اس نے نقد جاں نبی رحمت کی دہلیز پر رکھ دی...... وہ یہ برداشت نہ کر پایا کہ توہین رسالت کے مرتکب اور وہ خود ایک ساتھ زندہ رہیں...... یہ حب رسول ﷺ کے ارفع و عظیم جذبے کے منافی تھا...... یہ کسی ایسے شخص کے لیے قابل قبول نہیں ہو سکتا جو مسلمان ہونے کا دعویدار ہو...... جو لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا پاکیزہ کلمہ پڑھتا ہو...... گنتی کی چند سانسیں...... چند ساعتیں...... وہ ماہ و سال میں ڈھل جائیں...... یا صدیوں میں بدل جائیں...... موت تو بہر حال آتی ہے...... لیکن وہ موت جس میں اللہ کی بندگی کا رنگ جھلک رہا ہو...... حب جس میں رسول کی خوشبو مہک رہی ہو وہ موت تو ساری کائنات کی زندگیوں پہ حاوی ہو جاتی ہے...... زندگی سے محبت کرنے والے...... اکثر جیتے جی مر جاتے ہیں...... عمر کی آخری سانس تک اپنی میت اپنے کندھوں پہ اٹھائے پھرتے ہیں...... اور وہ جو اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی راہ میں جانوں سے گزر جاتے ہیں......

صفحہ ١١١

وہ شہادت کا منصب بلند پاتے اور دائمی زندگی سے ہم کنار ہو جاتے ہیں...... بلاشبہ پروفیسر نذیر چیمہ کا سعادت مند بیٹا اسی مقامِ رفعت پر فائز ہوا...... اور حیاتِ جاوداں پا گیا......!

اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کہ اس کا تابوت کس ہوائی اڈے پر اترا؟ اس کی میت کو کس نے کندھا دیا؟ اس کی قبر کہاں کھدی؟ اس کی نمازِ جنازہ کہاں پڑھی گئی؟ اس میں کتنے لوگ شریک ہوئے؟ اس کی تجہیز و تکفین میں کن عالی مرتبت ہستیوں نے شرکت کی؟ یہ سب کچھ ہم دنیا داروں کے لیے ہے۔ وہ جو پیچھے رہ گئے۔ وہ جنھیں دل بہلاووں کی حاجت رہتی ہے۔ عامر تو نورانی پروں والے فرشتوں کے جلو میں ہفت افلاک سے بہت آگے نکل گیا۔ اسے ان باتوں سے کیا غرض؟

لیکن جو کچھ ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا، شہید کے والدین اور اس کی بہنوں کو اتنا حق ضرور ملنا چاہیے تھا کہ وہ اپنے بیٹے کی میت اپنی مرضی کے شہر میں وصول کر سکیں۔ اپنی خواہش کے مطابق اس کی نمازِ جنازہ ادا کر سکیں۔ اپنی آرزو کے مطابق اس کی تدفین کر سکیں۔ انھیں پکڑ جکڑ کر مجبور نہیں کر دینا چاہیے تھا کہ وہ حکومتی مصلحتوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیں۔ دو دن قبل اطلاعات و نشریات کے وزیر مملکت جناب طارق عظیم، عامر شہید کے گھر تشریف لے گئے۔ انھوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دوٹوک اعلان کیا کہ عامر کی تجہیز و تکفین اس کے والدین کی مرضی و منشا کے مطابق ہوگی۔ ان کا یہ اعلان جلی سرخیوں کے ساتھ پاکستان بھر کے اخبارات کی زینت بنا لیکن جمعہ کی شام مقامی انتظامیہ اور پولیس نے پروفیسر نذیر چیمہ کے گھر کے آس پاس ڈیرے ڈال دیے۔ دل گرفتہ اور نڈھال باپ کے اعصاب پر ضربیں لگائی جانے لگیں۔ خوفناک مناظر کی تصویر کشی ہونے لگی ”یہاں تو ڈبھوڑ ہو گیا تو کون ذمہ دار ہوگا؟ بم دھماکہ ہو گیا تو بے گناہوں کا لہو کس کی گردن پر ہوگا ۔“ پروفیسر چیمہ کے پاس کسی سوال کا کوئی جواب نہ تھا۔ اس میں کسی سے جرح کرنے، بحث میں الجھنے کا یارا نہ تھا۔ گھر کی خواتین کو خبر ہوئی تو ایک کہرام مچ گیا۔ عامر کی زندگی کے کتنے ہی شب و روز راولپنڈی میں گزرے۔ وہ یہیں پلا بڑھا۔ یہیں جوان ہوا، یہیں تعلیم حاصل کی۔ یہاں کی ہواؤں میں سانس لیتا، یہاں کی گلیوں میں چلتا اور یہاں کی محفلوں میں لو دیتا رہا۔ وہ آخری بار اسی بستی سے زندگی کے آخری سفر کو نکلا اور امر ہو گیا۔ اس حرمان نصیب بستی کی گلیوں، گھروں،

صفحہ ١١٢

دیواروں اور چھتوں کو عامر کے تابوت کے آخری دیدار سے محروم کر دینا دل کو چھلنی کر دینے والی حرکت تھی۔ اس حرکت کا کوئی جواز نہ تھا۔ گذشتہ ایک ہفتے سے عامر کا گھر اور گردو پیش کی گلیاں دور و نزدیک سے آئے لوگوں سے بھری رہتی تھیں۔ امن و امان کا کوئی مسئلہ پیدا نہ ہوا۔ حکومت کے خلاف کوئی نعرہ نہ لگا۔ شیخ رشید احمد ، طارق عظیم، مولانا فضل الرحمن اور قاضی حسین کو یکساں فراخ قلبی سے خوش آمدید کہا گیا۔ گہرے اضطراب اور شدید غم کے باوجود عامر کے اہل خانہ نے حکومت کی کوتاہیوں کو ہدف تنقید نہ بنایا۔ میت راولپنڈی آ جاتی اور لاکھوں لوگ بھی اس کی نماز جنازہ میں شریک ہو جاتے تو بھی کوئی افتاد نہ ٹوٹتی۔ راولپنڈی کے در و دیوار، یہاں کی خاک اور یہاں کے لوگوں سے ان کا حق چھین لیا گیا۔ یہ ہر اعتبار سے ایک ناروا، ایک دلآزار، ایک ناپسندیدہ اقدام تھا۔ وہ جو شہید کی میت اور اس کے چاہنے والوں کی خواہشات کے درمیان دیوار بنے ، جب ان کی وردیاں اتر جائیں گی جب ان کے کروفر کا سورج غروب ہو جائے گا اور جب انھیں اپنی قبریں قریب آتی دکھائی دینے لگیں گے تو 13 مئی 2006ء کے دن کا دہکتا سورج ہر آن ان کے سروں پر آگ برساتا رہے گا۔

عامر عبدالرحمن شہید، اسلامی جمہوریہ پاکستان نامی ریاست کے اس سلوک کا مستحق نہ تھا۔ اگر وابستگان دربار میں اس کے تابوت کو کندھا دینے کا حوصلہ نہ تھا، اگر ان کی روشن خیالی انھیں اس کے جنازے میں شرکت کی اجازت دینے سے گریزاں تھی، اگر وہ اس کی قبر پر پھول چڑھانے کو ”اعتدال پسندی“ کے تقاضوں کے منافی خیال کرتے تھے، اگر شہنشاہ عالم پناہ کے خوف سے شہید کے لیے تعزیتی پیغام جاری کرنا ان کے لیے ممکن نہ تھا، تو بھی وہ اس کی میت کی آمد اور تجہیز و تکفین کے معاملات کلی طور پر شہید کے والدین اور راولپنڈی کے عوام پر چھوڑ سکتے تھے۔ انھیں مطلوبہ ضمانتیں بھی فراہم کی جاسکتی تھیں۔ شہید کی میت کے تقدس کا پاس ہر ایک کو تھا اور کوئی نہ تھا جو اس موقع کو حکومت کے خلاف غم و غصہ کے لیے استعمال کرتا۔ البتہ اب پاکستان کے طول و عرض سے کسی کے ہاتھ ارباب اختیار کو دعاؤں کے لیے نہیں اٹھیں گے اور بہت سی پھیلی جھولیاں ان نوکر پیشہ لوگوں کے لیے نہ جانے کیا کیا کچھ مانگ رہی ہوں گی۔

جمعہ کی صبح میں لاہور جانے کے لیے اسلام آباد ائیر پورٹ کے لاؤنج میں بیٹھا تھا کہ میرا فون بجا۔ اُس کی آواز رندھی ہوئی تھی اور اس کے منہ سے نکلنے والا ہر لفظ کرب میں ڈوبا ہوا تھا۔ وہ بولی ...... ”میں عامر چیمہ کی بہن بول رہی ہوں۔ دیکھئے ہمارے گھر پولیس آ

صفحہ ١١٣

بیٹھی ہے۔ ہمارے والد صاحب کو پریشان کیا جا رہا ہے۔ ہمیں ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ ہمارے بھائی کی میت یہاں نہ آنے پائے۔ دیکھیں ہم پچھلے دس دنوں سے اس کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ ہم اسے پنڈی کے قبرستان میں دفنانا چاہتے ہیں۔ ان لوگوں کو خدا کا ڈر نہیں.....“ میں جو کچھ کر سکتا تھا کیا۔ لاہور پہنچ کر بھی رابطے میں رہا لیکن کوئی بڑا لیڈر عامر کے والدین کی مدد کو نہ پہنچا۔ نہ کوئی رکن قومی اسمبلی نہ وارثان منبر و محراب، نہ صاحبان جبہ و دستار اور پھر شام گہری ہوتے ہی حرمان نصیب خاندان نے ریاستی رعونت کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔

ماں چیختی رہ گئی، بہنیں بلکتی رہ گئیں، باپ منت سماجت کرتا رہ گیا لیکن ریاست کو خطرہ تھا۔ سو اس کی میت لاہور پہنچا دی گئی۔ ائیر پورٹ جانے والے راستوں کی کڑی نگرانی کی گئی۔ میت کو ہیلی کاپٹر میں ڈال کر شہید کے آبائی گاؤں ساروکی پہنچا دیا گیا۔ نماز جنازہ کے وقت کے بارے میں زبردست کنفیوژن پھیلا دیا گیا۔ اخبارات، ٹی وی چینلز، اشتہارات ذاتی رابطے سب الگ الگ کہانی سنا رہے تھے۔ والدین نے آخری خواہش کے طور پر چاہا کہ نماز جنازہ چار بجے شام ادا کی جائے لیکن اپنی سرکار کو یہ بھی قبول نہ تھا۔ بھری دوپہر کے وقت اس کی نماز جنازہ پڑھا دی گئی لیکن اس وقت اور اس حال میں بھی انسانوں کے ایک سمندر نے اسے الوداع کہا۔ سمندر کی لہریں ساروکی جانے والے راستوں پر رات گئے تک متلاطم دریاؤں کا منظر پیش کرتی رہیں۔

غازی علم الدین شہید کو جب 31 اکتوبر 1929ء کو پھانسی دی گئی تو انگریز سامراج کے کارندوں نے بھی یہی طرز عمل اختیار کیا تھا، انھیں بھی ڈر تھا کہ شہید کے ورثا اور عوام کی مرضی کے مطابق تجہیز و تکفین ہوئی تو قیامت آ جائے گی۔ عوام تڑپتے رہ گئے اور شہید کو میانوالی جیل کے احاطے میں قبر کھود کر دفن کر دیا گیا۔ اس پر عوام سراپا احتجاج ہو گئے اور ملک بھر میں مظاہرے پھوٹ پڑے۔ تب علامہ اقبال کی سربراہی میں اکابرین کا ایک وفد گورنر سے ملا۔ تیرہویں دن میت کو میانوالی جیل کے احاطے سے نکال کر لاہور لایا گیا جہاں ان کی تدفین ہوئی لیکن آج تو کوئی علامہ اقبال بھی نہیں۔ ہوتا بھی تو وہ آج کے سامراج کو کیسے سمجھاتا؟

عامر شہید کے نیک دل اور پاکباز استاد کا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا اور وہ تھم تھم کر رک رک کر پروفیسر نذیر چیمہ کو اپنا خواب سنا رہے تھے:

صفحہ ١١٤

”میں نے خواب میں ایک بڑا ہی مقدس اور پاکیزہ اجتماع دیکھا۔ ہر سُو نور کے فوارے پھوٹ رہے تھے۔ پتہ چلا کہ صحابہ کرامؓ تشریف فرما ہیں۔ کسی نے کہا کہ حضور ﷺ بھی قریب ہی ہیں لیکن آپ کا رخ انور دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ پھر حضور ﷺ کی مشکبو آواز سنائی دی ’’عامر آ رہا ہے‘‘ صحابہ کبار کھڑے ہو گئے اور ایک خاص سمت دیکھنے لگے۔ پھر رحمت دو عالم ﷺ نے بلند آواز میں پکارا ’’حسنؓ، حسینؓ دیکھو تو کون آ رہا ہے‘‘ میں اسے تمھارے پاس بھیج رہا ہوں اس کا خیال رکھنا۔“

تم اس کا تابوت ساروکی لے جاؤ، اس سے بھی دور کی کسی بستی میں پہنچا دو، اس کے جسد خاکی کو کسی شاداب زمین کے حوالے کرو یا چولستان کے ریگزاروں کی سلگتی ریت کے سپرد کر دو، اسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اسے تو سرکار دو جہاں ﷺ نے جوانان جنت کے سرداروں کے حوالے کر دیا ہے لیکن تمہارا نام ان میں لکھ دیا گیا ہے جو خسارے میں رہتے ہیں اور میرا دل تو خسارے کا تصور کرتے ہوئے بھی لرز جاتا ہے۔

عامر شہید کی دعائے قل میں شرکت کے لیے ساروکی جاتے ہوئے میں عجیب و غریب سی سوچوں میں کھویا رہا۔ زندگی کتنی کشش رکھتی ہے۔ انسان اس کے لیے کیا کیا پاپڑ بیلتا، کیسے کیسے جتن کرتا، کن کن امتحانوں سے دو چار ہوتا، کیسی کیسی فصیلوں پر کمندیں ڈالنے کی کوشش کرتا اور کن کن سنگلاخ چٹانوں سے جوئے شیر بہا لانے کی سبیلیں تراشتا ہے۔ ہر آن اس کے سر پر ایک دھن سی سوار رہتی ہے۔ کوئی مجھ سے آگے نہ نکل جائے، کوئی مجھ پہ بازی نہ لے جائے، کسی کا قد مجھ سے بالا نہ ہو جائے، کوئی مجھ سے زیادہ نامور نہ ہونے پائے، اونچی مسند اور بلند منصب پانے کے لیے ہم کیسی کیسی معرکہ آرائیاں کرتے، کیسے کیسے ارفع نظریات کی بولی لگاتے، کیسے کیسے اصولوں کو منڈی کا مال بناتے، کیسی کیسی اخلاقی اقدار کو کوڑیوں کے مول لٹاتے اور کیسے کیسے سنگ آستاں کو اپنی سجدہ گاہ بناتے ہیں۔ اختیار اور اقتدار پر قابض رہنے کے لیے ذہن و فکر کی کیسی کیسی توانائیوں کو مہمیز کرتے، کیسے کیسے جادوگروں کو جاگیریں عطا کرتے اور کیسے کیسے بازیگروں کے کرتبوں کا سہارا لیتے ہیں۔ کوئی اچھی سی نوکری، کوئی بڑا سا گھر، ایک نئی نویلی گاڑی، آسائشیں، آرائشیں، اسباب، اثاثے، جائیدادیں، پلاٹ، پلازے، کارخانے، فیکٹریاں، کاروبار، نگر نگر کے تفریحی دورے، دولت، شہرت، نام، مقام، کیسے کیسے سراب ہیں کہ ہم مسلسل ان کے تعاقب میں رہتے ہیں۔ نیلے آسمانوں کے اوپر عرش

صفحہ ١١٥

معلیٰ پہ بیٹھی ہستی ہماری اس سیماب پائی اور اضطراب پر مسکراتی رہتی ہے۔ پھر اچانک ایک نامطلوب گھڑی سر پہ آ کھڑی ہوتی ہے۔ کہیں دور رخصتی کا ناقوس بجتا ہے۔ جاہ و جلال، کروفر، تخت و تاج، خدام ادب، نیزہ بردار، چوبدار، شاہی طبیب سب ہار جاتے ہیں۔ رگوں میں رواں لہو سرد پڑنے لگتا ہے۔ زمانے بھر کو اپنی مٹھی میں لینے والی انگلیاں بے جان سی ہونے لگتی ہیں۔ نبضیں ڈوبنے لگتی ہیں اور پھر سارا تماشا ختم ہو جاتا ہے۔ کوئی تاجدارِ زمانہ ہو، شہنشاہِ عالم ہو، فاتحِ جہاں ہو، فقیرِ راہ نشیں ہو، مفسر ہو، فقیہ، محدث اور قطبِ زماں ہو، سب کو ایک نہ ایک دن رختِ سفر باندھنا ہوتا ہے اور جب بنجارہ لاد چلتا ہے تو سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاتا ہے۔

موت ایک اٹل حقیقت ہے لیکن عامر شہید چیمہ جیسی موت کتنوں کو نصیب ہوتی ہے۔...... ساروکی سے ذرا پہلے میں جسٹس (ر) افتخار چیمہ کے گھر رُکا جہاں سابق صدر رفیق تارڑ بھی تشریف فرما تھے۔ شہید کے جنازے کا منظر موضوعِ گفتگو تھا۔ اتنا بڑا اجتماع ساروکی کی فضاؤں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ لوگ ننگے پاؤں تپتی زمین پر دوڑے چلے آ رہے تھے۔ آسمان سے آگ برس رہی تھی لیکن عشق کی سرمستیوں نے انھیں اپنے آپ سے بے نیاز کر دیا تھا۔ وہ گر رہے تھے، بے ہوش ہو رہے تھے، پسینے میں شرابور تھے، پیاس سے ان کے ہونٹ چٹخنے لگے تھے۔ مغربی ذرائع ابلاغ کے نمائندے جنوں کی کرشمہ سامانیاں دیکھ رہے تھے اور حیران ہو رہے تھے کہ یہ لوگ کس سیارے کی مخلوق ہیں۔ بی بی سی کا نمائندہ بار بار منرل واٹر کی بوتل سے منہ لگا رہا تھا۔ بار بار پسینے سے تر چہرہ پونچھ رہا تھا۔ اس نے مائیک جسٹس (ر) افتخار چیمہ کے سامنے کیا تو وہ بولے ”تم لوگ اس کا اندازہ نہیں لگا سکتے، تمھارے پاس یہ تصور ہی نہیں کہ مسلمان رسولِ اکرم ﷺ سے کیسی محبت کرتے ہیں۔ ہمارے لیے اپنی جانیں، اپنے مال، اپنی اولادیں، ناموسِ رسالت کے سامنے ہیچ ہیں۔ تمھیں اندازہ نہیں کہ عامر چیمہ سے لوگوں کی اس بے پایاں محبت کی وجہ کیا ہے۔“ بے شک انھیں اندازہ نہیں لیکن کیا انھیں اندازہ ہے کہ جنھوں نے شہید کی میت کی بے حرمتی کی، اس کے والدین کی خواہشات کی نفی کی اور اس کی بہنوں کی آرزوؤں کا خون کیا، پورے خاندان کو یرغمالیوں کے سے انداز میں ساروکی پہنچایا گیا اور جبراً نمازِ جنازہ پڑھانے پر مجبور کر دیا گیا۔

دعائے قل سے فراغت اور پروفیسر نذیر چیمہ سے مل کر میں نے رخصت چاہی لیکن شہید کے قریبی اعزہ مجھے گھر لے گئے۔ شہید کی ماں، شہید کی بہنیں، برلن سے شہید کی میزبان

صفحہ ١١٦

ماموں زاد بہن، گھر کی دوسری خواتین اور قریبی اعزہ میرے پاس آ بیٹھے۔ عامر کی مشکبو باتیں ہونے لگیں۔ ماں نے کہا: ”وہ بہت ہی نیک بچہ تھا۔ جب کبھی بھی توہین رسالت کے بارے میں کوئی خبر چھپتی، وہ بہت بے کل ہو جایا کرتا تھا۔ اب میں سوچتی ہوں کہ وہ اکثر غازی علم دین شہید کا ذکر کیا کرتا تھا، جیسے وہ اس کی پسندیدہ شخصیت ہو۔ پچھلے رمضان میں وہ آیا تو سترھویں اٹھارھویں روزے والے دن ہی واپس جرمنی جانے کا پروگرام بنالیا۔ میں نے کہا بیٹا! عید تو کر کے جاؤ۔ وہ کہنے لگا کہ ”میری حاضریاں کم ہو جائیں گی اور امی آپ کی اصل عید تو اس دن ہو گی نا جس دن میں اپنی تعلیم مکمل کر کے اور ڈگری لے کر واپس آؤں گا ۔“ مجھے کیا خبر تھی کہ وہ اتنی بڑی عید بن کر آئے گا ۔“

برلن میں اُس کی میزبان ماموں زاد بہن نے بتایا ”ہمیں بالکل بھی اندازہ نہیں ہوا کہ وہ اس طرح کا کوئی پروگرام بنا رہا ہے۔ ہاں اس میں ہم نے بعض تبدیلیاں نوٹ کی تھیں، نماز وہ پہلے بھی پڑھتا تھا لیکن اتنے اہتمام سے نہیں۔ بعض اوقات چھوٹ بھی جاتی تھی لیکن اس مرتبہ وہ نماز کی سخت پابندی کر رہا تھا۔ حتیٰ کہ کھانا لگا ہوتا تو وہ کہتا ”باجی نماز کا وقت ہو گیا ہے پہلے نماز پڑھ لوں۔“ جمعہ کے روز علاقے کے مسلمانوں نے گستاخی کرنے والے اخبار کے دفتر کے سامنے مظاہرہ کیا لیکن عامر اس میں شریک نہیں ہوا۔ وہ مسجد میں نماز جمعہ پڑھنے چلا گیا اور کافی وقت لائبریری میں گزارا۔ شام کو وہ میرے شوہر سے بڑے تجسس کے ساتھ پوچھتا رہا ”مظاہرہ کیسا تھا، کتنے لوگ تھے اس کا کوئی اثر ہوگا؟“ میں میاں سے کہتی تھی کہ عامر کچھ بدلا بدلا سا لگتا ہے لیکن ہمیں کوئی وہم و گماں تک نہ تھا کہ اس کے دل میں کیا ہے؟“

عامر کی بہنیں شدید اضطراب اور غصے میں تھیں۔ انھیں حکومت سے اس رویے کی توقع نہ تھی۔ ”ہمیں قیدیوں کی طرح یہاں لا پھینکا گیا۔ کچھ بھی ہماری مرضی کے مطابق نہیں ہونے دیا گیا۔ ہم سے بھی اور پورے پاکستان کے لوگوں سے بھی دھوکہ کیا گیا۔“ والدہ نے بتایا ”عامر کا خط ملنے کے بعد ہم نے فیصلہ کر لیا تا کہ اس کی وصیت کے مطابق ہم اسے راولپنڈی کے بڑے قبرستان میں دفنا دیں گے لیکن حکومت نے ایسا نہ ہونے دیا۔ ہم نے عامر کو امانتاً یہاں دفن کیا۔ قوم کو چاہیے کہ وہ میت کو راولپنڈی لے جانے میں ہماری مدد کرے۔“

مرد شریف پروفیسر نذیر چیمہ نے بھی کہا کہ ”میت کو امانتاً یہاں دفن کیا گیا ہے۔“

غازی علم الدین شہید کی کہانی اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔ تب علامہ اقبالؒ نے قومی عمائدین

صفحہ ١١٧

کے ساتھ مل کر ایک کردار ادا کیا تھا۔ آج سیاست کی دکان چمکانے اور قبر کی مجاوری کرنے والے بڑھ چڑھ کر کرتب دکھا رہے ہیں لیکن شہید کی وصیت اور اس کے والدین کی خواہش کو عملی جامہ پہنانے کی کوئی ٹھوس اور سنجیدہ کوشش نہیں ہو رہی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ شہید کے والدین سے مشاورت کے ساتھ بلا تاخیر ایک قومی کمیٹی تشکیل دی جائے۔ جو حکومت پنجاب کے عمائدین اور ضروری ہو تو صدر مشرف سے مل کر میت کو راولپنڈی لانے کی کوشش کرے۔ اگر ایسی کمیٹی دس دن پہلے بن جاتی تو عامر کے لواحقین یکہ و تنہا نہ ہوتے اور نہ حکومت من مانی کر سکتی۔

میں نے پروفیسر نذیر، عامر کی والدہ، عامر کی بہنوں اور عامر کے قریبی عزیزوں کو دل گرفتہ پایا کہ بعض مذہبی گروہ عامر کی میت کو یرغمال بنانے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈوں سے کام لے رہے ہیں، انھیں دکھ تھا کہ سوا ارب مسلمانوں کے ہیرو اور پوری پاکستانی قوم کے دلوں میں دھڑکنے والے شہید کو گروہی اور مسلکی رنگ میں رنگ کر محدود اور متنازعہ بنایا جا رہا ہے۔ مجوزہ کمیٹی اس معاملے کو بھی اپنی تحویل میں لے کر غمزدہ خاندان کو گھیراؤ کی کیفیت سے نکال سکتی ہے۔

ساروکی سے واپس آتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ کیسے کیسے نامور دنیا سے جاتے ہیں تو ایک آنکھ بھی نم نہیں ہوتی اور کیسے کیسے گم نام، اپنی آخری ہچکی کے ساتھ ہی کبھی نہ غروب ہونے والا آفتاب جہاں تاب بن جاتے اور کروڑوں انسانوں کے دلوں میں خوشبو کی طرح رچ بس جاتے ہیں۔ کیا یہ اسم محمد ﷺ کا اعجاز ہے؟

صفحہ ١١٨

عرفان صدیقی

وہ جو زندہ جاوید ہو گیا

غازی عامر عبدالرحمن چیمہ وہاں چلا گیا جہاں ہم سب کو جانا ہے۔

لیکن کیا ہمیں وہ عزت، وہ عظمت، وہ منزلت ملے گی جو اسے ملی؟

کیا ہمارے لیے اتنے آنسو بہیں گے؟

کیا ہمارے لیے دعاؤں کو اتنے ہاتھ اٹھیں گے؟

کیا ہمارے گھر کو جانے والی گلیاں پھولوں سے بھر جائیں گی؟

کیا ہمارے گھر دور دور کی بستیوں سے آنے والے لوگوں کا تانتا بندھ جائے گا؟

کیا ان کی محبت، ان کی عقیدت میں اتنا والہانہ پن ہوگا؟

کیا ہماری نماز جنازہ میں اتنا بڑا ہجوم ہوگا؟

کیا ہم پر مضمون، اداریے اور کالم لکھے جائیں گے؟

موت برحق ہے!

جو پیدا ہوا ہے، اسے ایک نہ ایک دن اپنے مالک حقیقی کے پاس جانا ہے، جلدی یا دیر سے!

کوئی راہ چلتے کسی آوارہ گولی کا نشانہ بن جاتا ہے۔

کسی کی گردن پتنگ کی دھاتی ڈور کاٹ کر لے جاتی ہے۔

کوئی ٹریفک کے حادثے کا نشانہ بن جاتا ہے۔

کسی کو بیٹھے بٹھائے اجل کا پیغام آ جاتا ہے۔

موت کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں۔

بچہ، بوڑھا، جوان، مرد، عورت، سب اس کی زد میں ہیں...... لیکن موت، موت میں

صفحہ ١١٩

فرق ہوتا ہے۔

راولپنڈی کے پروفیسر نذیر محمد چیمہ کا فرزند اس دنیا میں نہیں رہا۔

بھری جوانی میں وہ اپنے باپ، اپنی ماں، اپنی تین بہنوں کو چھوڑ کر وہاں چلا گیا جہاں ہم سب کو جانا ہے۔

لیکن 28 سالہ غازی عامر عبدالرحمن چیمہ کی موت، روزمرہ کی لاکھوں اموات سے ممتاز کیوں ہے؟ پورا پاکستان اس کے لیے بلک کیوں رہا ہے؟

اس کی موت پر رشک کیوں کر رہا ہے؟

اس لیے کہ وہ لازوال محبت وعقیدت کی گلپوش وادیوں میں کھو گیا۔

اس نے رسول عربی ﷺ کے ناموس پر حملہ کرنے والے سے انتقام لینا چاہا.....!

وہ انتقام نہ لے سکا۔

لیکن ہدیہ جاں سرکار مدنی ﷺ کی دہلیز پر دھر دیا۔

”حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا۔“

وہ تو کسی پہلو سے ”انتہا پسند“ نہ تھا۔

وہ جاہل اور ناخواندہ بھی نہ تھا۔

”وہ بنیاد پرست“ بھی نہ تھا۔

اس نے کسی دینی مدرسے سے تعلیم حاصل نہ کی۔

اس کے سر پر عمامہ بھی نہ تھا۔

اس نے فوجی انتظام میں چلنے والے ایک کالج سے ایف ایس سی کا امتحان پاس کیا۔

وہ جرمنی کی ایک بڑی یونیورسٹی سے ٹیکسٹائل انجینئرنگ میں ایم ایس سی کر رہا تھا۔

اس کے مزاج میں جنوں کے بھی آثار نہ تھے۔

لیکن یہ معاملہ ہی عجیب تھا۔

یہ معاملہ صدیوں سے عجیب رہا ہے۔

محمد عربی ﷺ کے ناموس پر حملہ کسی بھی مسلمان کے لیے قابل برداشت نہیں۔

انسان تو اپنی ماں، اپنے باپ کو دی جانے والی گالی برداشت نہیں کر سکتا۔ وہ زندگی اور موت سے بے نیاز ہو کر انتقام پر تل جاتا ہے۔

صفحہ ١٢٠

اور یہ تو اس ہستی کا معاملہ تھا جس سے محبت، دین حق کی شرط اول ہے۔ جس کے ناموس پر حملہ برداشت کرنے والے کا ایمان ہی خام ہو جاتا ہے۔ سو اس کے دل میں ایک چنگاری سلگ اٹھی۔ پھر یہ چنگاری شعلے میں بدل گئی۔ شعلہ الاؤ میں ڈھل گیا۔ الاؤ آتش فشاں بن گیا۔

وہ برلن اپنی ماموں زاد بہن کے گھر پہنچا۔ پھر وہ اس اخبار کے دفتر تک پہنچ گیا جس نے حضور ﷺ کے توہین آمیز خاکے شائع کیے تھے۔

غازی علم الدین کی طرح اس کے پاس بھی ایک خنجر تھا۔ یہ معرکہ ہتھیاروں اور اسلحہ کے حوالے سے نہیں دیکھا جاتا۔ اس معرکے کے نتائج بھی غیر متعلقہ ہوتے ہیں۔

توہین رسالت کا مرتکب تو اسی لمحے جہنم کی آگ کا ایندھن ہو جاتا ہے۔ اس کی زندگی ہر سانس کے ساتھ لعنتوں اور ملامتوں میں جکڑ دی جاتی ہے۔

وہ مر جائے تو ایک بھیانک دائمی عذاب پہلی ساعت مرگ سے ہی شروع ہو جاتا ہے سو توہین رسالت کا مرتکب، سوختہ بخت!

زندہ رہے یا مر جائے کچھ فرق نہیں پڑتا!

لیکن وہ ہر حال میں سرخرو ٹھہرتا ہے جو کارزار عشق کا رُخ کرے۔ جو نقد جاں کی پونجی لیے سر بازار آ جائے۔

غازی عامر عبدالرحمن انہی خوش نصیبوں میں سے تھا۔ اسے قلق ہوا کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکا۔ لیکن یہ کامیابی تو اسی لمحے اس کا مقدر ہو گئی تھی جس لمحے وہ اپنے مشن کی راہ پر نکلا تھا۔

اب وہ وہاں ہے جہاں ہم سب کو جانا ہے۔ لیکن اس کے درجات بلند،

صفحہ ١٢١
اس کی رفعت مقام،
اس کی عظمت دوام،
ہم جیسوں کے نصیب میں کہاں؟
اس کی روح لطیف تو انتہائی بلند منطقوں میں ہوگی......!
ہم عامیوں کی وہاں تک رسائی کہاں؟
قدرت نے اسے مقام بلند پر فائز کرنے کے لیے اٹھائیس سال تک پالا!
وہ ایم ایس سی کے بعد شاید کسی بڑے منصب پر فائز ہو جاتا۔
شاید وہ بہت بھاری تنخواہ لیتا!
شاید اس کے گھر میں بڑی آسودگی آ جاتی!
شاید وہ راولپنڈی کی ڈھوک کشمیراں کے چھوٹے سے گھر سے نکل کر اسلام آباد
کے کسی عالی مرتبت بنگلے میں آ جاتا!
لیکن پھر بھی، عمر کے کسی نہ کسی حصے میں،
ایک نہ ایک دن،
اسے اس دنیا سے جانا ہی تھا۔
تو کیا!
اسے اتنی عظمت، اتنی رفعت، اتنی قدر و منزلت ملتی؟
کیا وہ یوں تاریخ کے صفحات میں زندہ جاوید ہو جاتا؟
کیا اس کی میت پر اتنے پھول برستے؟
اس کے تابوت کو کندھا دینے کے لیے لوگ یوں ٹوٹے پڑتے؟
اس کے لیے اتنی آنکھیں اشکبار ہوتیں؟
اس کے لیے دعاؤں کے اتنے ہاتھ اٹھتے؟
اس کی نماز جنازہ میں اتنا بڑا ہجوم جمع ہوتا؟
سوائے اہل دنیا!

غازی عامر عبدالرحمن نے ایک بار پھر ازل و ابد پر محیط اس تلقین کو زندہ کر دیا ہے کہ دائمی عزت،

صفحہ ١٢٢

ہمیشہ رہنے والی قدر منزلت، کبھی ماند نہ پڑنے والی عظمت، لازوال شہرت، اور دل کی گہرائیوں میں رچ بس جانے والی عقیدت انہی کا حصہ بنتی ہے جو کسی بڑے مقصد کے کٹھن راستے کا انتخاب کرتے ہیں اور جو ...... ہنستے کھیلتے اپنی جان جان آفریں کے سپرد کر دیتے ہیں غازی عامر اس دنیا سے چلا گیا لیکن وہ ہر گھر، ہر دل کے اندر برسوں زندہ رہے گا کہ موت شہیدوں پہ حرام ہوتی ہے!

صفحہ ١٢٣

اوریا مقبول جان

بدنصیب شہر

کتنے بدنصیب ہوتے ہیں وہ لوگ جن کے دروازے پر کسی محبوب کی آہٹ سنائی دے لیکن ان کے دروازے یوں مقفل رہیں جیسے تالوں کو صدیوں سے زنگ لگ چکا ہے۔ بس وہ آمد خوشبو کے ایک جھونکے کی طرح گزر جائے، ایسا کچھ ایسے شہر کے ساتھ اتنی خاموشی سے ہو گیا کہ خواب کی لذت میں ڈوبے شہریوں کو اس کا احساس تک نہ ہو سکا۔ یہ تو وہ شہر تھا جو ایسے عاشقوں کا دیوانہ تھا۔

1929ء کا لاہور موچی دروازے میں گونجتی ہوئی عطاء اللہ شاہ بخاری کی گرجدار آواز غازی علم الدین کا شمع رسالت پر پروانہ وار قربان ہونے کا مقصد اسی شہر کی گلیوں، کوچوں اور بازاروں نے ایک عقیدت افروز منظر دیکھا تھا۔ یوں لگتا تھا کہ پورا لاہور اس شخص کے جنازے کو کندھا دینا فرض عین سمجھتا ہے۔ اس میں شرکت سے اپنے پاؤں کو گرد آلود کرنا اپنے گناہوں کی بخشش کا ذریعہ گردانتا ہے۔ کون تھا جو اس جنازے میں شریک نہ تھا، کون سا کوچہ ایسا تھا جس کے مکانوں کی چھتوں اور بالکونیوں سے اس جنازے کی ایک جھلک دیکھنے کو بے تاب اس امت کی بیٹیاں موجود نہ تھیں۔ عشق رسول ﷺ میں ڈوبی ہوئی نظروں کے خالق علامہ اقبالؒ اپنی چشم نم کے ساتھ بار بار اس جنازے کو کندھا دیتے جاتے ”اسی گلاں کر دے رہ گئے تے ترکھاناں دا منڈا بازی لے گیا ۔“ خود اپنے ہاتھوں سے اس شہید کو لحد میں اتارا اور اسی کیفیت پر یہ شعر کہا:

ان شہیدوں کی دیت اہل کلیسا سے نہ مانگ
قدر و قیمت میں ہے خوں جن کا حرم سے بڑھ کر
صفحہ ١٢٤

یہی وہ شہر تھا جس میں ایک انگریز عورت کو رسالت مآب ﷺ کی شان میں گستاخی پر خانساماں نے قتل کر دیا تو سر میاں محمد شفیع وکالت کو پیش ہوئے۔ بحث کرتے جاتے اور آنکھوں سے آنسو جاری رہتے۔ ہائی کورٹ کے جج نے حیرت سے یہ سوال کیا: سر شفیع کیا آپ جیسے ٹھنڈے دل و دماغ کا وکیل اتنا جذباتی ہو سکتا ہے۔

آنکھوں سے آنسو جاری رہے اور حسرت و یاس سے جواب دیا۔ جناب آپ کو نہیں معلوم کہ مسلمان کو اپنے پیغمبر کی ذات سے کس قدر محبت ہے۔ سر شفیع بھی اگر وہاں ہوتا تو وہی کرتا جو اس ملزم نے کیا۔ لیکن ٹھیک 77 سال بعد ایک اور عاشق رسول ﷺ کا جسد خاکی اپنی رحمتوں کی بارش کے ساتھ اس شہر کی سر زمین پر اترا اور پھر چند لمحوں بعد فضا میں بلند ہو گیا کہ مصلحت کوشوں کا تقاضا ہی کچھ اور تھا۔ اسے یوں اس کے آبائی گاؤں پہنچایا جانا تھا کہ کہیں کسی جگہ ان عشاق کا ہجوم اکٹھا نہ ہو جائے جو خواہ کتنے ہی گناہوں سے لتھڑے ہوئے کیوں نہ ہوں، ناموس رسالت ﷺ پر جان قربان کر دینے کے لیے شفاعت کی سند کے طلب گار ضرور ہوتے ہیں۔

عامر عبدالرحمن چیمہ شہید کا وجود چند لمحوں کے لیے لاہور کے ائیر پورٹ پر اتارا گیا۔ وہ لاہور جس نے غازی علم الدین شہید کو میانوالی میں دفن کے بعد بھی عقیدت اور وارفتگی کے عالم میں یہاں لا کر دفن کیا تھا۔ میرا ماتم تو اس بد نصیب شہر کا ماتم ہے کہ جہاں سے ایک شہید کا جنازہ نہ گزر سکا لیکن اس کا ٹریفک کا نظام درہم برہم ہونے سے بچ گیا۔ اس کی صاف ستھری چمکدار عمارتوں کی آب و تاب بحال رہی۔ اس کی امن و امان کی کیفیت پر کوئی حرف نہ آسکا۔

یہ بدنصیبی شاید مدتوں میرے جیسے محروم آدمی کے لیے افسوس کا باعث بنی رہے لیکن کبھی کبھی میں سوچتا ہوں تو کانپ اٹھتا ہوں کہ وہ امت جس کا سرمایہ ہی صدیوں سے عشق رسول رہا ہے، جن کی محبتوں کا عالم یہ تھا کہ ابن تیمیہ نے اپنی کتاب الصارم المسلول علی شاتم رسول میں ثقہ راویوں کی وہ روایتیں جمع کی ہیں کہ شام کے ساحلوں پر جب قلعوں کا محاصرہ کیے ہوئے مہینوں گزر جاتے اور قلعہ فتح ہونے کا نام نہ لیتا یہاں تک کہ وہ لوگ سرکار دو عالم ﷺ کی شان میں کوئی گستاخی کر بیٹھتے تو یوں لگتا جیسے غیرت خداوندی جوش میں آ گئی ہو

صفحہ ١٢٥

یہی وہ شہر تھا جس میں ایک انگریز عورت کو رسالت مآب ﷺ کی شان میں گستاخی پر خانساماں نے قتل کر دیا تو سر میاں محمد شفیع وکالت کو پیش ہوئے۔ بحث کرتے جاتے اور آنکھوں سے آنسو جاری رہتے۔ ہائی کورٹ کے جج نے حیرت سے یہ سوال کیا: سر شفیع کیا آپ جیسے ٹھنڈے دل و دماغ کا وکیل اتنا جذباتی ہو سکتا ہے۔

آنکھوں سے آنسو جاری رہے اور حسرت و یاس سے جواب دیا۔ جناب آپ کو نہیں معلوم کہ مسلمان کو اپنے پیغمبر کی ذات سے کس قدر محبت ہے۔ سر شفیع بھی اگر وہاں ہوتا تو وہی کرتا جو اس ملزم نے کیا۔ لیکن ٹھیک 77 سال بعد ایک اور عاشق رسول ﷺ کا جسد خاکی اپنی رحمتوں کی بارش کے ساتھ اس شہر کی سرزمین پر اترا اور پھر چند لمحوں بعد فضا میں بلند ہو گیا کہ مصلحت کوشوں کا تقاضا ہی کچھ اور تھا۔ اسے یوں اس کے آبائی گاؤں پہنچایا جانا تھا کہ کہیں کسی جگہ ان عشاق کا ہجوم اکٹھا نہ ہو جائے جو خواہ کتنے ہی گناہوں سے لتھڑے ہوئے کیوں نہ ہوں، ناموس رسالت ﷺ پر جان قربان کر دینے کے لیے شفاعت کی سند کے طلب گار ضرور ہوتے ہیں۔

عامر عبدالرحمٰن چیمہ شہید کا وجود چند لمحوں کے لیے لاہور کے ائیر پورٹ پر اتارا گیا۔ وہ لاہور جس نے غازی علم الدین شہید کو میانوالی میں دفن کے بعد بھی عقیدت اور وارفتگی کے عالم میں یہاں لا کر دفن کیا تھا۔ میرا ماتم تو اس بدنصیب شہر کا ماتم ہے کہ جہاں سے ایک شہید کا جنازہ نہ گزر سکا لیکن اس کا ٹریفک کا نظام درہم برہم ہونے سے بچ گیا۔ اس کی صاف ستھری چمکدار عمارتوں کی آب و تاب بحال رہی۔ اس کی امن و امان کی کیفیت پر کوئی حرف نہ آسکا۔

یہ بدنصیبی شاید مدتوں میرے جیسے محروم آدمی کے لیے افسوس کا باعث بنی رہے لیکن کبھی کبھی میں سوچتا ہوں تو کانپ اٹھتا ہوں کہ وہ امت جس کا سرمایہ ہی صدیوں سے عشق رسول رہا ہے، جن کی محبتوں کا عالم یہ تھا کہ ابن تیمیہ نے اپنی کتاب الصارم المسلول علی شاتم رسول میں ثقہ راویوں کی وہ روایتیں جمع کی ہیں کہ شام کے ساحلوں پر جب قلعوں کا محاصرہ کیے ہوئے مہینوں گزر جاتے اور قلعہ فتح ہونے کا نام نہ لیتا یہاں تک کہ وہ لوگ سرکار دو عالم ﷺ کی شان میں کوئی گستاخی کر بیٹھتے تو یوں لگتا جیسے غیرت خداوندی جوش میں آگئی ہو

اور قلعہ گھنٹوں میں فتح ہو جاتا۔ جو اپنے ماں باپ اور اولاد سے زیادہ اپنے رسول ﷺ سے یوں محبت کرتے ہیں کہ بقول اقبالؒ مجھے تو یہ بھی پسند نہیں کہ کوئی میرے سامنے یہ کہے کہ آپ ﷺ نے میلے کپڑے پہنے تھے۔

ایسی امت اور غازی علم الدین کی روایت کے امین شہر کے بدنصیب لوگ اپنی محرومی پر اتنا تو سوچتے ہوں گے کہ جو حکمران اپنے ایک معزز کو سرکاری اعزاز کے ساتھ دفن کرنے کے لیے پورے اسلام آباد کو سیکورٹی کا قلعہ بنا سکتے ہوں وہ ایک عاشق رسول ﷺ کے متوالوں کے ہجوم سے اتنے خوفزدہ ڈرے ڈرے کیوں تھے؟

ماں باپ اور اولاد سے زیادہ آپ ﷺ کی ذات سے محبت ایمان کی شرط ہے۔ ہم تو سڑکوں، عمارتوں، ٹریفک سگنلوں اور سائن بورڈوں کی چھوٹی سی متاع بھی قربان نہیں کرنا چاہتے اور روز محشر شفاعت کے طلب گار بھی ہیں۔

❖......❖......❖

صفحہ ١٢٦

اوریا مقبول جان

اِن شہیدوں کی دیت اہلِ کلیسا سے نہ مانگ

شہر لاہور نے اُس سے بڑا جنازہ نہیں دیکھا تھا۔ آنکھیں عشقِ رسالت ﷺ کے جذبے سے اشکبار تھیں اور بازو اس جنازے کو کندھا دینے کی سعادت حاصل کرنے کے لیے بے تاب۔ پچپن سالہ علامہ اقبال بھی اس سعادت کو حاصل کیے ہوئے تھے اور کہتے جاتے: ”اسی گلاں کر دے رہے تے ترکھاناں دا مُنڈا بازی لے گیا۔“ (ہم باتیں کرتے رہے اور ترکھانوں کا بیٹا بازی لے گیا ۔ ) وہ مقدمہ جسے لڑنے کا اعزاز محمد علی جناح ، تصدق حسین خالد ، خواجہ فیروز الدین اور خواجہ نیاز احمد جیسے لوگوں کو حاصل رہا۔ بڑھئی کا بیٹا غازی علم الدین شہید جسے علامہ اقبال نے لحد میں اتارا اور اس فضا میں یہ شعر پڑھا

ان شہیدوں کی دیت اہلِ کلیسا سے نہ مانگ
قدر و قیمت میں ہے خوں جن کا حرم سے بڑھ کر

عاشقانِ رسول ﷺ کی یہ فہرست بہت طویل ہے۔ اتنی ہی طویل ہے جتنی گستاخانِ رسول کی۔ میں اس تاریخ میں نہیں جانا چاہتا کہ بعثتِ نبوی کی پہلی صدی میں ہی مسیحی یورپ نے اسلام نہیں بلکہ پیغمبرِ اسلام ﷺ کی شخصیت کو اپنا ہدف بنایا۔ سینٹ جان نے 753ء میں سرکارِ دو عالم ﷺ کی شان میں گستاخی کی۔ میں وہ الفاظ یہاں درج کر کے اپنے قلم کو آلودہ نہیں کرنا چاہتا لیکن اس آغاز سے لے کر آج تک کتابوں، رسالوں، اخباروں اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے مسلمانوں کے اس عشق کا امتحان لیا جاتا رہا جو سید الانبیاء ﷺ کی ذات سے کرتے ہیں۔ تاریخ اس بات پر مُہرِ تصدیق ثبت کرتی ہے کہ اس عشق اور وارفتگی کا تعلق علم، دین، شرع پر عمل، ظاہری وضع قطع یا علمی پس منظر تک محدود نہیں بلکہ گناہگار سے گناہگار شخص بھی رسالت مآب ﷺ کی ذات سے عشق کو اپنا سرمایہ سمجھتا ہے اور آخرت میں شفاعت کا

صفحہ ١٢٧

ذریعہ۔ مجھے اس خانساماں کے مقدمے کا ذکر کرتے ہوئے رسالت مآب ﷺ سے عشق کے دو کردار یاد آ رہے ہیں۔ خانساماں جو رزق کی خاطر انگریز فوج میں ملازم تھا اور ایک انگریز فوجی میجر کے گھر میں خانساماں کی ڈیوٹی پر مامور تھا۔ اسی فوج کا حصہ جس نے انگریزوں کے حکم پر خانہ کعبہ میں گولیاں برسائیں اور اپنے مسلمان بھائیوں کے خون سے انور کمال پاشا کی فوج سے مقابلے کے دوران ہاتھ رنگے۔ 1932ء میں اس میجر کی بیوی نے سرکار دو عالم ﷺ کی شان میں گستاخی کی تو وہ خانساماں جسے مدتوں آرڈر از آرڈر (حکم ،حکم ہوتا ہے ) کا درس ملا تھا اپنے جذبات قابو میں نہ رکھ سکا، اس کا کام تمام کر دیا۔ یہاں مقدمہ کے دوران ایک دوسرا کردار سامنے آتا ہے۔ سر میاں محمد شفیع، انگریز سے سر کا خطاب حاصل کیا۔ وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کے رکن کے درجے تک پہنچے۔ مغربی تعلیم سے آراستہ۔ خانساماں کا دفاع کرنے وکیل کی حیثیت سے عدالت پہنچے تو بحث کے دوران مسلسل آنکھوں سے آنسو جاری رہے۔ بھری عدالت میں ہائی کورٹ کے انگریز جج نے حیرت سے سوال کر دیا۔ سر شفیع! کیا آپ جیسا ٹھنڈے دل و دماغ کا حامل روشن خیال اور بلند پایہ وکیل بھی اس طرح جذباتی ہو سکتا ہے؟ سر شفیع نے بہتے آنسوؤں کے بیچ ہچکیاں لیتے ہوئے کہا: ”مائی لارڈ! آپ کو معلوم نہیں کہ ایک مسلمان کو نبی اکرم ﷺ کی ذات سے کتنی عقیدت اور محبت ہے۔ اگر اس خانساماں کی جگہ سر شفیع بھی ہوتا تو خدا کی قسم وہی کرتا جو اس نے کیا ہے۔“

حیدر آباد سندھ کی سڑکوں پر تانگہ چلانے والا عبد القیوم دن رات اپنے گھوڑے کی دیکھ بھال کرتا اور سواریاں اٹھا کر رزق کا سامان مہیا کرتا ، سادہ سا مسلمان ۔ آریہ سماج لیڈر نتھو رام نے اپنی کتاب ہسٹری آف اسلام میں سید الانبیاء ﷺ کی شان میں گستاخی کی۔ مقدمہ عدالت میں چلا ، مسلمانوں کے دل زخمی تھے۔ اسے معمولی سا جرم قرار دے کر چند ماہ کی سزا سنائی گئی۔ اس نے اس سزا پر اپیل کی تو اپنا تانگہ گھوڑا کسی کے سپرد کر کے عدالت جا پہنچا اور بھری عدالت میں نتھورام کو جہنم واصل کر دیا۔ مقدمہ چلا، عدالت نے پھانسی کی سزا سنائی تو تشکر کے آنسو آنکھوں میں لیے کہنے لگا: ” جج صاحب! میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے مجھے موت کی سزا سنا دی۔ یہ ایک جان کس گنتی میں ہے؟ اگر میرے پاس لاکھ جانیں بھی ہوتیں تو ناموس رسالت پر نچھاور کر دیتا ۔“

اس شمع کے پروانوں کے رنگ ڈھنگ ہی نرالے ہوتے ہیں۔ یہ اپنے جرم کو اپنی

PDF 128

آخرت کا سرمایہ تصور کرتے ہیں۔ یہ جرم سے انکار نہیں کرتے، خودکشی ان کے دستورِ وفا میں حرام ہے۔ یہ اس لمحے کا انتظار کرتے ہیں جب ساقی کوثر کے دربار میں سرخرو ہو کر جانے والے ہوتے ہیں۔ یہ سب لوگ آج اس لیے یاد آ رہے ہیں کہ اس فہرست میں آج پھر ایک ایسے شخص کا اضافہ ہوا ہے جو مغربی تعلیم سے آراستہ اور اُس دیس میں تحصیل علم کے لیے گیا تھا۔ عامر چیمہ...... لیکن رسالت مآب ﷺ سے عشق کی چنگاری تو نصیب کی بات ہوتی ہے۔ یہ تو وہ منصب ہے کہ جس پر رشک کرتے ہوئے علامہ اقبال نے کہا تھا: ہم تو باتیں کرتے رہ گئے اور ترکھانوں کا لڑکا بازی لے گیا۔ اس بازی جیتنے کی سند میرے آقا نے خود عطا کی ہے۔ آپ نے فرمایا: تم اُس وقت تک مومن ہو ہی نہیں سکتے جب تک میں تمھیں اپنے ماں باپ اور اولاد سے زیادہ محبوب اور عزیز نہ ہو جاؤں۔ مشرق کے پروردہ ہوں یا مغرب کے، ماں باپ سے تمسخر کوئی برداشت نہیں کر سکتا اور یہاں تو ان سے زیادہ محبت کا سوال ہے۔ محبت جس کی کوئی انتہا نہیں ہوتی، جس کے جذبوں کی مہک اور قربانی سے پھول کھلتے ہیں، دریدہ دہنوں کی زبانوں پر قفل لگتے ہیں۔

عامر چیمہ

یہ تو سب جانتے ہیں پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کی شا قتل کر دیا تھا۔ غازی علم دین شہید درج نہیں اس لیے بہت کم لوگ اس مقدمے میں غازی علم دین کیونکہ غازی علم دین پھانسی کی سز بار بار اعترافِ جرم کیا۔ یہ حقیق میانوالی جیل میں پھانسی کے بعد میں دفن کر دیا گیا۔ برطانوی سرکا لہر دوڑ گئی اور مسلمانوں نے علا لانے کے لیے تحریک شروع کر علامہ اقبالؒ کو ایک ملاقات میں سے نکال دیں۔

5 نومبر 1929ء کو ن گیا۔ اسی شام گورنر پنجاب جیف حسین، خلیفہ شجاع الدین اور د غازی علم دین شہید کا جسدِ خاکی خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ علامہ ا

صفحہ ١٢٩

حامد میر

عامر چیمہ نے ہتھیار کیوں اُٹھایا؟

یہ تو سب جانتے ہیں کہ غازی علم دین شہید کون تھے؟ انھوں نے 1929ء میں پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے ایک پبلشر راج پال کو لاہور میں قتل کر دیا تھا۔ غازی علم دین شہید کے حالات زندگی ہماری نصابی کتب میں زیادہ تفصیل سے درج نہیں اس لیے بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح قتل کے اس مقدمے میں غازی علم دین کے وکیل بنے لیکن وہ مؤکل کو پھانسی کی سزا سے نہ بچا سکے کیونکہ غازی علم دین پھانسی کی سزا کو اپنے لیے سعادت سمجھتے تھے اور انھوں نے عدالت میں بار بار اعترافِ جرم کیا۔ یہ حقیقت بھی بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ 31 اکتوبر 1929ء کو میانوالی جیل میں پھانسی کے بعد غازی علم دین شہید کے جسد خاکی کو میانوالی کے ایک قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔ برطانوی سرکار کے اس فیصلے سے ہندوستان کے مسلمانوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور مسلمانوں نے علامہ اقبالؒ کی قیادت میں غازی علم دین کے جسد خاکی کو لاہور لانے کے لیے تحریک شروع کر دی۔ اُس وقت کے چیف سیکرٹری پنجاب مسٹر ایمرسن نے علامہ اقبالؒ کو ایک ملاقات میں کہا کہ وہ غازی علم دین کا جسد خاکی لاہور لانے کا خیال دل سے نکال دیں۔

5 نومبر 1929ء کو برطانوی حکومت کے خلاف لاہور میں ایک بہت بڑا جلوس نکالا گیا۔ اسی شام گورنر پنجاب جیفری ڈی مونٹ نے علامہ اقبالؒ، مولانا ظفر علی خان، سر فضل حسین، خلیفہ شجاع الدین اور دیگر مسلم زعماء کو ملنے پر آمادگی ظاہر کر دی۔ گورنر کا خیال تھا کہ غازی علم دین شہید کا جسد خاکی لاہور آ گیا تو لاکھوں لوگ اکٹھے ہو جائیں گے اور ہنگامے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ علامہ اقبالؒ نے ضمانت دی کہ اگر ہنگامہ ہوا تو میری گردن اُڑا دیجئے

صفحہ ١٣٠

گا۔ اگلے روز گورنر پنجاب نے غازی علم دین شہید کا جسد خاکی لاہور لانے کی اجازت دے دی۔ 13 نومبر 1929ء کو میانوالی میں قبر کشائی ہوئی۔ ڈپٹی کمشنر راجہ مہدی زمان خان سمیت درجنوں افراد نے دیکھا کہ پھانسی کے 13 روز بعد بھی غازی علم دین شہید کے جسم میں تعفن پیدا نہ ہوا تھا۔ موقع پر موجود میانوالی کے اسپتال کا ایک سکھ سول سرجن اس واقعے سے متاثر ہو کر مسلمان ہو گیا۔ شہید کا جسد خاکی اگلے روز لاہور پہنچا تو جنازے میں شرکت کے لیے لاکھوں افراد اکٹھے ہو چکے تھے۔ ڈاکٹر ایم ڈی تاثیر نے میت کے لیے چارپائی از راہ عقیدت پیش کی۔ پھر شہید کے والد میاں طالع مند سے پوچھا گیا کہ نماز جنازہ کون پڑھائے گا۔ انھوں نے یہ حق علامہ اقبالؒ کو دیا۔ شاعر مشرق نے علماء سے مشورے کے بعد مولانا سید محمد دیدار علی الوریٰ کا انتخاب کیا اور انھوں نے نماز جنازہ پڑھائی جس میں لاکھوں افراد شریک تھے۔ علامہ اقبالؒ نے بار بار میت کو قبرستان میانی صاحب تک کندھا دیا اور پھر اپنے ہاتھوں سے میت کو قبر میں بھی اتارا۔ اس موقع پر انھوں نے غازی علم دین شہید پر رشک کرتے ہوئے کہا کہ ”ترکھانوں کا لڑکا بازی لے گیا اور ہم منہ دیکھتے رہ گئے۔“

اس پس منظر کو بیان کرنے کا مقصد یہ عرض کرنا ہے کہ نہ تو غازی علم دین شہید کوئی انتہا پسند مسلمان تھے اور نہ ہی ایک گستاخ رسول ﷺ کے خلاف ان کے اقدام کی تائید کرنے والے قائد اعظمؒ اور علامہ اقبالؒ انتہا پسند تھے۔ گستاخ رسول ﷺ پبلشر راج پال کی کتاب 1927ء میں شائع ہوئی تھی۔ مسلمانوں کے احتجاج پر راج پال کے خلاف مقدمہ قائم ہوا۔ لاہور کے ایک سٹی مجسٹریٹ نے راج پال کو چھ ماہ قید کی سزا سنائی لیکن ہائی کورٹ کے جج کنور دلیپ سنگھ نے ملزم کو رہا کر دیا۔ کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کے باوجود راج پال سزا کا مستحق نہ ٹھہرا تو پھر غازی علم دین شہید نے اسے خود سزا دینے کا فیصلہ کیا۔ اس واقعے سے مسلمانوں اور ہندوؤں میں بہت فاصلے پیدا ہوئے اور 1947ء میں ان فاصلوں نے مستقل جغرافیائی حیثیت اختیار کر لی۔ اگر 1929ء میں برطانوی سرکار کا قانون ظالم کی بجائے مظلوموں کی مدد کرتا تو شاید 1930ء میں علامہ اقبالؒ الٰہ آباد میں خطاب کرتے ہوئے مسلمانوں کے لیے علیحدہ مملکت کا تصور پیش نہ کرتے لہٰذا یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ راج پال کی طرف سے شانِ رسالت ﷺ میں گستاخی کے واقعے نے برصغیر کی سیاست پر بہت گہرے اثرات مرتب کیے۔ قیام پاکستان کے بعد توہین رسالت ﷺ کی سزا موت قرار پائی۔ بہت

صفحہ ١٣١

سے دیگر قوانین کی طرح اس قانون کے غلط استعمال کے واقعات بھی رونما ہوتے رہے اور انہی واقعات کی بنیاد پر کئی مغربی حکومتیں توہین رسالت ﷺ کے قانون کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتی رہیں۔ 1994ء میں اس قانون میں ترمیم کا فیصلہ ہو گیا تھا جس کے تحت توہین رسالت ﷺ کی سزا پھانسی سے کم کر کے دس سال قید کرنے کی تجویز تھی لیکن شدید عوامی ردعمل کے بعد یہ فیصلہ مؤخر ہو گیا۔ کچھ عرصہ قبل ڈنمارک کے ایک اخبار میں پیغمبر اسلام ﷺ کے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے بعد توہین رسالت ﷺ کے قانون کی افادیت خود بخود سامنے آ گئی۔ ان توہین آمیز خاکوں نے مسلمانوں کی نئی نسل اور مغربی تہذیب کے مابین جن غلط فہمیوں کو جنم دیا ہے انہیں دور کرنے کے لیے کئی سال درکار ہیں۔ پیغمبر اسلام ﷺ کے توہین آمیز خاکوں کی حوصلہ شکنی کرنے کے بجائے ناروے، فرانس، جرمنی اور ہالینڈ سمیت کئی مغربی ممالک کے اخبارات و جرائد نے ان خاکوں کو بڑے فخر سے دوبارہ شائع کیا۔ مغربی ذرائع ابلاغ کے اس احساس تفاخر نے نفرت اور انتقام کے کئی الاؤ روشن کیے اور اسی الاؤ کی شدت سے جرمنی میں ایک پاکستانی طالب علم عامر چیمہ ایک اخبار کے ایڈیٹر پر حملہ آور ہوا، اگر ڈنمارک سے جرمنی تک انبیائے کرام کی ناموس کے تحفظ کا کوئی قانون ہوتا تو شاید عامر چیمہ یہ قدم نہ اٹھاتا، گرفتار بھی نہ ہوتا اور دوران تفتیش پُراسرار موت کا شکار بھی نہ ہوتا۔ عامر چیمہ کی شہادت نے مسلمانوں کو غازی علم دین شہید کی یاد دلا دی ہے۔

مغربی حکومتیں اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر قوانین بنانے کی بجائے پاکستان جیسے ممالک میں پہلے سے موجود قوانین ختم کرنے کے درپے ہیں۔ جب پاکستان جیسے ملک میں کوئی حکومت توہین رسالت ﷺ کے قانون میں تبدیلی سے قاصر نظر آتی ہے تو پھر ایسے علماء تلاش کیے جاتے ہیں جو توہین رسالت ﷺ کے قانون کو ظالمانہ قرار دے سکیں۔

صفحہ ١٣٢

طیبہ ضیاء

عامر چیمہ شہید کو سلام!

ذہین، قابل والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک، وطن عزیز کا دلیر پتر، خوبرو نوجوان، عامر چیمہ تیری شہادت کو سلام۔ تیرے والدین کی عظمت کو سلام ۔ تُو اساتذہ کا انعام ہے، دوستوں کا فخر، اللہ کا مقبول، آقا ﷺ کا غلام ہے۔ تیری قسمت پر فرشتے بھی ناز کرتے ہیں۔ فرعونیت کے ظلم پر کراہنا اور سامنے حبیب ﷺ کو جلوہ افروز پانا۔ محمد مصطفیٰ ﷺ کے رخ انور پر نگاہ پڑتے ہی تمام تکالیف درد اور رنج و الم کو بھول جانا۔ عامر چیمہ تو معراج عشق پا چکا اور ہم لکھتے ہی رہے۔ دو جہاں سے جھولی بھر چکا اور ہم بولتے ہی رہے۔ تُو کر گزرا اور ہم سوچتے ہی رہے۔

خرد کر لے چراغاں جتنا چاہے
جنوں کی ایک چنگاری بہت ہے

پاکستانی قوم اس برس کا ’’مدر ڈے‘‘ عامر چیمہ شہید کی ماں کے نام کرتی ہے۔ آزادی کشمیر ہو یا وطن عزیز میں فرعونیت سے نجات کی جدوجہد، زلزلہ کی قیامت ہو یا سانحہ نشتر پارک، باجوڑ ایجنسی کی سفاکی ہو یا کہ وزیرستان کے مظالم، چار سُو شہیدوں کی صدائیں اور ان کی ماؤں کی آہیں سنائی دیتی ہیں۔

ماں کا دن ’’مدر ڈے‘‘ منانے والے مغرب زدہ اہل وطن اس سال کا مدر ڈے ان شہیدوں کی ماؤں کے نام کر دیں تاکہ مغربی تہوار میں کچھ تو انسانیت کا رنگ نظر آئے۔ شہید کی ماں کا رتبہ ہر عورت کا نصیب نہیں۔

مختاراں مائی پاکستانی عورت کی نمائندگی کرتی پھر رہی ہے۔ دنیا کو بتانا چاہتی ہے کہ پاکستان میں ہر دوسری عورت مختاراں مائی کی طرح مظلوم ہے۔ دوغلی پالیسی کا حامل اور

صفحہ ١٣٣

انسانیت کے حقوق کا علمبردار امریکہ کہتا ہے کہ مختاراں مائی کی جرات دنیا میں انقلاب لائے گی جبکہ اپنے دین اور ملک کی خاطر جان دینے والے شہیدوں کی مائیں دنیا میں دہشت گردوں کو جنم دے رہی ہیں۔ خود کش دھماکوں، پولیس مقابلوں، دہشت گردی اور جیلوں میں تشدد سے ہلاک ہونے والوں پر کوئی مقدمہ چلایا جاتا ہے اور نہ ہی ان کے لواحقین کا کوئی پرسان حال ہے۔ انھیں شہید کہنا سیاسی پالیسی کے خلاف ہے۔ گورا مسلمان کو شہید نہیں مانتا۔ گورا نبی کریم ﷺ کے توہین آمیز کارٹون بنانے کو لبرل ازم کہتا ہے۔ ایسی نجس حرکت کے خلاف جہاد کرنے والے عامر چیمہ کو ہیرو نہیں بننے دینا چاہتا۔ ابوغریب جیل اور گوانتانامو بے میں تشدد کے چند واقعات منظر عام آنے کے بعد بھی گورے کو رحم دل یا انصاف پسند سمجھنا دین کے ساتھ غداری ہے۔ بھیڑیوں نے عامر چیمہ کے ساتھ کس قدر ظالمانہ سلوک روا رکھا، اس کا گواہ سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں اور اللہ تعالیٰ کی گواہی سے قوی کوئی گواہی نہیں۔

نبی ﷺ کے دین کی توہین کو برداشت نہ کرنے اور زندگی کی پرواہ نہ کرنے والا عامر چیمہ مرد مجاہد تھا۔ جہاد کی منزل زندگی سے فرار نہیں شہادت ہوا کرتی ہے۔

یورپی اقوام کا مسلمانوں کے ساتھ کینہ ایک تاریخی حقیقت ہے۔ ان کی جیلوں میں نہ جانے کتنے بے گناہ تشدد اور موت کا نشانہ بن رہے ہیں۔ کتنے موت کا نوالہ بن چکے ہیں۔ غیر مسلمین شہادت کے فلسفہ کے بارے میں مسلمانوں کے جذبات سے بخوبی واقف ہیں، لہٰذا ان کے ظلم و ستم کا کوئی ایک آدھ کیس منظر عام پر آجائے تو اسے دبانے کے لیے خود کشی یا دہشت گردی جیسے الزامات لگا کر مسلمانوں کے جذبات سرد کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جہاد اور خدمت خلق کی خدمات انجام دینے والی جماعت الدعویٰ جیسی دیگر متحرک تنظیموں پر دہشت گردی کا لیبل چسپاں کر کے انھیں بین کر دیا جاتا ہے۔ امریکہ کی بین شدہ تنظیموں کے شہید جاں بحق اور ہلاک کہلائے جاتے ہیں۔

پاکستانی حکومت امریکہ کے آرڈرز کے سامنے بے بس ہے لیکن لاعلم نہیں کہ زلزلہ کی قیامت کا سامنا کرنے کے لیے فوج، حکومت یا کوئی سیاسی جماعت نہیں بلکہ امریکہ کے یہ لیبل شدہ دہشت گرد سب سے پہلے وہاں پہنچے تھے۔ ایک قیامت آئی۔ ہولناک تباہی ہوئی۔

میڈیا کی وساطت سے عوام کو اندازہ ہو گیا کہ ایسی سنگین صورتحال میں کون کہاں کھڑا تھا۔ زخم تازہ ہو تو اس سے رستا ہو خون سب کو دکھائی دے جاتا ہے لیکن زخم بھرنے میں

صفحہ ١٣٤

جس تکلیف سے گزرا جاتا ہے، اس کا اندازہ صرف زخمی کو ہوتا ہے۔ زلزلہ زدگان کے ساتھ کیا بیت رہی ہے، تعمیر نو پر کتنا خرچ اٹھ رہا ہے۔ تباہ شدہ علاقوں میں کیا اور کون کام کر رہا ہے۔ عوام کو بے خبر رکھا جا رہا ہے۔

”مدر ڈے“ ان ماؤں کے نام جن کے ننھے پھول پتھروں تلے اپنی ماؤں کو مدد کے لیے پکارتے شہادت کی آغوش میں ہمیشہ کے لیے جا سوئے۔ معصوم شہیدوں کی مائیں آج بھی مدد اور علاج کی آس لگائے بیٹھی ہیں۔ حکومت آئندہ انتخابات میں مصروف ہے۔ فلاحی تنظیموں کو ابھی بہت کام کرنا ہے۔ ادارہ خدمت خلق، جماعت اسلامی اور دیگر کئی مخلص تنظیموں کے جیالوں کے کاندھوں پر ابھی بھاری ذمہ داریاں ہیں۔ خدمت گزاروں کے قلوب شہیدوں کی ماؤں کی دعاؤں سے ہمیشہ منور رہتے ہیں۔

عامر چیمہ شہید نوجوان نسل کا رول ماڈل ہے۔ ”جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں انھیں مُردہ نہ کہو۔ ایسے لوگ تو حقیقت میں زندہ ہیں مگر تمھیں ان کی زندگی کا شعور نہیں ہوتا۔“ اس آیت مبارکہ کی روشنی میں شہید کو مُردہ کہنے کی ممانعت کی وجہ موت کا تصور ہے۔ موت کا لفظ انسان کے ذہن پر ایک ہمت شکن اثر ڈالتا ہے، اس لیے ہدایت کی گئی ہے کہ دین کی راہ میں جان فدا کرنے والا حیات جاوداں پاتا ہے۔ اس تصور سے روح میں تازگی اور قلبی سکون رہتا ہے۔ نبی کریم ﷺ پاکستانیوں کے ہی نہیں مسلم امت کے رسول ﷺ ہیں۔ عامر چیمہ کی شہادت امت محمد ﷺ کے لیے ایک چیلنج ہے۔ نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی پر جوان خون جوش میں آ جاتا ہے۔ عامر ایک جذباتی، سچا اور سچا عاشق رسول ﷺ تھا۔ یورپ اور بالخصوص جرمنی میں بسنے والے پاکستانیوں کو اپنے روزگار اور گوروں کے ساتھ معاملات بگڑنے کی فکر ہے۔ یہ طبقہ خوفزدہ ہے کہ عامر کے اس فعل سے کہیں ان کے روزگار نہ چھن جائیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ”یہ وہی لوگ ہیں جو خود تو بیٹھے رہے اور ان کے جو مسلمان بھائی لڑنے گئے اور مارے گئے، ان کے متعلق انھوں نے کہہ دیا کہ اگر وہ ہماری بات مان لیتے تو نہ مارے جاتے۔ ان سے کہو اگر تم اپنے قول میں سچے ہو تو خود تمہاری موت جب آئے اسے ٹال کر دکھا دینا۔“

سب سے حسین موت شہید کی موت ہے۔ ”اگر تم اللہ کی راہ میں مارے جاؤ یا مر

صفحہ ١٣٥

ا جاتا ہے، اس کا اندازہ صرف زخمی کو ہوتا ہے۔ زلزلہ زدگان کے ساتھ کیا پر کتنا خرچ اٹھ رہا ہے۔ تباہ شدہ علاقوں میں کیا اور کون کام کر رہا ہے۔ رہا ہے۔ ئے‘ ان ماؤں کے نام جن کے ننھے پھول پتھروں تلے اپنی ماؤں کو مدد کے ، کی آغوش میں ہمیشہ کے لیے جا سوئے۔ معصوم شہیدوں کی مائیں آج آس لگائے بیٹھی ہیں۔ حکومت آئندہ انتخابات میں مصروف ہے۔ فلاحی کام کرنا ہے۔ ادارہ خدمت خلق، جماعت اسلامی اور دیگر کئی مخلص تنظیموں وں پر ابھی بھاری ذمہ داریاں ہیں۔ خدمت گزاروں کے قلوب شہیدوں سے ہمیشہ منور رہتے ہیں۔

شہید نوجوان نسل کا رول ماڈل ہے۔ ”جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں ے لوگ تو حقیقت میں زندہ ہیں مگر تمھیں ان کی زندگی کا شعور نہیں ہوتا۔“ ۔ مبارکہ کی روشنی میں شہید کو مُردہ کہنے کی ممانعت کی وجہ موت کا تصور ان کے ذہن پر ایک ہمت شکن اثر ڈالتا ہے، اس لیے ہدایت کی گئی ہے ن فدا کرنے والا حیاتِ جاوداں پاتا ہے۔ اس تصور سے روح میں تازگی ۔ نبی کریم ﷺ پاکستانیوں کے ہی نہیں مسلم امت کے رسول ﷺ ہیں۔ کی شہادت امت محمد ﷺ کے لیے ایک چیلنج ہے۔ نبی کریم ﷺ کی شان ن جوش میں آ جاتا ہے۔ عامر ایک جذباتی، سچا اور پکا عاشقِ رسول ﷺ ں جرمنی میں بسنے والے پاکستانیوں کو اپنے روزگار اور گوروں کے ساتھ ہے۔ یہ طبقہ خوفزدہ ہے کہ عامر کے اس فعل سے کہیں ان کے روزگار نہ

رماتے ہیں ”یہ وہی لوگ ہیں جو خود تو بیٹھے رہے اور ان کے جو مسلمان ارے گئے، ان کے متعلق انھوں نے کہہ دیا کہ اگر وہ ہماری بات مان ۔ ان سے کہو اگر تم اپنے قول میں سچے ہو تو خود تمہاری موت جب آئے ، حسین موت شہید کی موت ہے۔ ”اگر تم اللہ کی راہ میں مارے جاؤ یا مر

جاؤ تو اللہ کی جو رحمت اور بخشش تمھارے حصہ میں آئے گی، وہ ان ساری چیزوں سے زیادہ بہتر ہے جنھیں یہ لوگ جمع کرتے ہیں۔“

شہید کی ماں کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے ”شہید تو حقیقت میں زندہ ہیں۔ جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے انھیں دیا ہے، اس پر خوش وخرم اور مطمئن ہیں۔“

دنیا کی ہر نعمت بغیر خواہش کے مل سکتی ہے لیکن شہادت کے رتبہ کے لیے طلب شرط ہے۔ نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی جاہلوں کا مشغلہ رہا ہے لیکن ان کا مقابلہ کرنے والا عامر چیمہ ہر گھر میں جنم نہیں لیتا۔ حکومتِ پاکستان کی فلاح اور عزت اسی میں ہے کہ عامر چیمہ کی وصیت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اس کی میت کو جنت البقیع میں تدفین کیا جائے۔

حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عامر چیمہ شہید کے عظیم مرتبت والدین، بہنوں اور قریبی رشتہ داروں کا مدینہ منورہ جانے کا خصوصی انتظام کرے۔ اس کے کیس کی مکمل تفتیش کی جائے۔ جرمن حکومت کی اس غیر انسانی اور غیر اخلاقی فعل کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے۔

نبی کریم ﷺ کے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت ایک بین الاقوامی ایشو تھا۔ حکومت نے زبانی کلامی مذمت کے چند روایتی جملوں سے عوام کو ” ٹرخانے“ کی کوشش کی۔ اس کے ردِعمل میں عامر چیمہ جیسے سچے عاشقِ رسول ﷺ نے غلاموں کی غلام حکومت پاکستان کو ثابت کر دکھایا کہ وہ صرف اور صرف محمد عربی ﷺ کا غلام ہے۔

۞ ۞ ۞

صفحہ ١٣٦

طیبہ ضیاء

جناں دا غیور پتر!

صدر مشرف پر قاتلانہ حملے میں ملوث ملزمان پر جرم ثابت ہونے سے پہلے ہی انہیں پھانسی پر لٹکا دیا جاتا ہے۔ شوکت عزیز پر حملہ آور ہونے والوں کو سزائے موت کا پروانہ تھما دیا جاتا ہے۔ بھارت نے اپنے جاسوس منجیت سنگھ کی رہائی کے لیے شدید احتجاج کیا۔ افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں ایک ہندو کی ہلاکت پر بھارت میں غم و غصہ کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ امریکی صحافی ڈینیل پرل کے قتل پر پاکستان کو دنیا بھر میں بدنام کر دیا گیا۔ گوری چمڑی والوں کی کالی بلی بھی مر جائے تو پاکستانیوں کو دھر لیا جاتا ہے اور پاکستان کے بے حس حکمران نبی محمد ﷺ کی شان میں گستاخی کو بھی برداشت کر جاتے ہیں۔ ان کا احتجاج خفیہ ”بات چیت“ تک محدود ہوتا ہے۔

دیار غیر میں عامر چیمہ جیسے نہ جانے کتنے بے گناہ بے دردی کے ساتھ قتل کر دیئے جاتے ہیں۔ عامر چیمہ کی شہادت پر غم و غصہ تو درکنار جرمنی کی حکومت کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ بھی شروع نہیں ہوا۔ اس کیس کو بھی ”مٹی پاؤ جی“ کہہ کر فائلوں میں دفن کر دیا گیا ہے۔ جرمن حکومت نے اپنی سفاکی کا برملا اعتراف کیا ہے اور نہ ہی جھوٹ پر مبنی ”حتمی رپورٹ“ منظر عام پر آئے گی۔

گوروں کی جیلوں میں دو طرح کے افراد قید ہیں۔ ایک وہ جو تمام مظالم کو برداشت کیے جا رہے ہیں اور دوسرے وہ قیدی جو ذہنی و جسمانی تشدد کو برداشت نہ کرتے ہوئے روز روز کی اس موت سے ایک ہی بار مر جانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ خودکشی کا فعل نفسیاتی دباؤ اور ڈیپریشن کا ردعمل ہے۔ اس میں انسان اپنی عقل اور حواس کھو بیٹھتا ہے۔ عراق میں امریکی فوجیوں کی خودکشی کے واقعات بھی ان کی نفسیاتی حالت کے سبب رونما ہو رہے ہیں۔ بے گناہ

صفحہ ١٣٧

مسلمان قیدیوں پر ہونے والا تشدد ان کی جان لے لیتا ہے اور کچھ نفسیاتی دباؤ کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ جب عقل اور صبر ہی ساتھ چھوڑ دے تو ایسے انسان کو صحت مند سمجھنا اور اس پر حرام موت کا فتویٰ عائد کرنا شہیدوں کے لواحقین کو مزید تکلیف پہنچانا ہے۔ قیدی اپنے ایمان کے سہارے تشدد سہتے رہتے ہیں مگر ان کی زندگی بھی اجیرن ہو جاتی ہے۔ اکثریت کے اعصاب کمزور ہو جاتے ہیں۔ صحت مند افراد کی طرح کھانے پینے ہنسنے بولنے، سوچنے سمجھنے، لکھنے پڑھنے، کام کرنے، رشتوں کے حقوق نبھانے جیسے نارمل کاموں سے معذور ہو جاتے ہیں۔ اہل خانہ پر بوجھ بن جاتے ہیں۔ مالی اعتبار سے بھی علاج کی سکت نہیں رکھتے۔ رہائی کے بعد بھی جیل میں گزرا ہوا وقت اور حالات بتانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ تشدد کی دہشت انہیں دل کا غبار نکالنے سے بھی محروم کر دیتی ہے۔

امریکہ کی ریاست فلوریڈا سے 400 میل کے فاصلے پر واقع گوانتانامو بے پانچ کیمپوں پر مشتمل ہے۔ ان کیمپوں کا مجموعی نام کیمپ ڈیلٹا ہے۔ ان میں قریباً 500 قیدی موجود ہیں۔ ان قیدیوں کو سفید اور اورنج لباس پہنایا جاتا ہے۔ اورنج لباس خطرناک قیدی کی علامت ہے۔ قیدیوں کو اجتماعی عبادت اور نماز کی اجازت نہیں۔ ان قیدیوں میں عمر رسیدہ قیدی کی عمر 75 برس ہے۔ نابالغ بچے بھی قید ہیں۔

ایک امریکی جریدہ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ چار سالوں کے دوران امریکی حکومت نے دنیا بھر میں 400 تحقیقات کی ہیں جبکہ گوانتانامو بے کے حوالے سے صرف پانچ تحقیقات کی گئی ہیں۔ اب تک کیمپ ڈیلٹا میں 35 سے زائد قیدیوں نے خودکشی کی کوشش کی ہے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم نے اپنی سالانہ رپورٹ میں امریکہ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی جنگ کے نتیجہ میں ساری دنیا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے واقعات میں کئی گناہ اضافہ ہو چکا ہے۔

گوانتانامو بے کے قیدیوں کے ساتھ اذیت ناک سلوک امریکہ کے انصاف اور آزادی کو داغدار کر رہا ہے۔ ظلم کی اس ہولناک داستان کے پس پردہ صرف ایک انسان ہے۔ بش نے اس قدر جھوٹ بولے ہیں کہ اس کی عوام اس پر یقین کرنے کو تیار نہیں۔ عراق جنگ کے دوران پیش آنے والے واقعات اور بالخصوص ابو غریب جیل میں کیے جانے والے تشدد کو اپنی سب سے بڑی غلطی قرار دینے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

صفحہ ١٣٨

ایک امریکی باشندہ جان واکر امریکہ کے ایک جیل خانے میں بیس سال قید کی سزا پوری کر رہا ہے جو اسے طالبان کی حمایت کرنے کے جرم میں سنائی گئی تھی۔ امریکہ کے اخبار ”سنڈے ٹیلی گراف“ کے مطابق جان واکر جس کا اسلامی نام حمزہ ہے اور جو ”امریکی طالبان“ کے نام سے پہچانا جاتا ہے، اس پر جیل میں دوسرے قیدیوں کے ساتھ افغانستان کے حالات کے بارے میں بات کرنے، عربی بولنے، نماز پڑھنے، اسلام کی تعلیمات دینے پر بھی پابندی ہے۔ وہ دن اور رات قرآن پاک اور دیگر اسلامی کتب کا مطالعہ کرتا رہتا ہے۔ رہا ہونے والے ایک قیدی نے کہا کہ حمزہ کے رویہ سے لگتا ہے کہ وہ قید سے آزاد ہو کر ہزاروں انسانوں کی ہدایت کا باعث بنے گا۔

عامر چیمہ، جان واکر اور ہزاروں نوجوان، ذہین، قابل، اسلام کی شان، والدین کے بڑھاپے کے سہارے، امت مسلمہ کا مان دشمنان اسلام کے مظالم کا شکار ہیں۔ جان واکر اپنی سزا کا فیصلہ سن کر عدالت میں رو پڑا تھا۔ اس نے جج سے کہا کہ وہ افغانستان اسلام سے متاثر ہو کر گیا تھا۔ اس کا ارادہ امریکہ کے خلاف لڑائی کا نہ تھا اور نہ ہی اس نے کبھی کسی بغاوت میں حصہ لیا ہے لیکن امریکی عدالت نے اس کے بہتے آنسوؤں کو نظر انداز کرتے ہوئے اسے بیس برس کی سزا سنا دی۔ جان واکر کو مزید تیرہ برس تک قید کی صعوبتیں برداشت کرنا ہیں۔ جان واکر ”حمزہ“ کے والدین اپنے بیٹے سے ملاقات کو جاتے ہیں لیکن میڈیا کو انٹرویو دینے سے گریز کرتے ہیں، مبادا کوئی ایسی بات نہ کر دیں جو ان کے بیٹے کے لیے مزید مشکلات کا باعث بن جائے۔ عدالت میں حمزہ کے والد نے کہا کہ اس کا بیٹا روحانیت کی تلاش میں تھا۔ افغانستان گیا تو طالبان اور افغان اتحاد کے درمیان کسی جھگڑے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ امریکی فوج نے جرم ثابت ہوئے بغیر اس کے ساتھ جارحانہ سلوک کیا۔ ان کا بیٹا دہشت گرد نہیں اور نہ ہی اس نے کبھی کسی امریکی کو مارا ہے۔ وہ ایک اچھا مسلمان اور محب وطن شہری ہے۔ حمزہ کی ماں گڑگڑا کر صدر بش سے انصاف کی اپیل کرتی ہے۔ عامر چیمہ شہید کی ماں صدر مشرف سے ایک ہی سوال کرنا چاہتی ہے کہ اگر عامر ان کا بیٹا ہوتا تو کیا تب بھی وہ خاموش رہتے؟ لیکن عامر ان کا بیٹا ہرگز نہیں ہو سکتا تھا۔ حکمرانوں کی اولاد جذباتی نہیں بلکہ سیاسی اور کاروباری ہوا کرتی ہے۔

عامر چیمہ کا بوڑھا باپ شہید بیٹے کی تصویر کو سینے سے لگائے صدر مشرف کو یقین

صفحہ ١٣٩

رہائی کرانا چاہتا ہے کہ ان کا بیٹا دہشت گرد نہ تھا۔ صدر بش ایک بدچلن انسان تھا۔ اس کے باپ نے اسے امریکہ کا صدر بنانے کے خواب کو سچ کرنے کی خاطر اپنی عوام سے اپنے آوارہ بیٹے کے نیک ہو جانے کا جھوٹ بولا جبکہ آج اس کا بیٹا کسی کی سچائی پر بھی رحم کرنے کو تیار نہیں۔ عامر چیمہ کی شہادت کے بعد میرے خاندان کو اپنے چیمہ ہونے پر فخر ہونے لگا ہے۔ ایمان کی دولت نایاب ہے، دشوار ہے خطرناک ہے، پل صراط ہے۔ اپنے والدین کے سامنے اُف تک نہ کرنے والا ”جٹاں دا ایہ غیور پتر“ اللہ کے حبیب ﷺ کی شان میں گستاخی کیسے برداشت کر سکتا تھا۔ جس وقت مشرکین برلن اس کی شہ رگ پر چھری چلا رہے تھے، اس لمحہ اس کے کانوں میں ایک سرگوشی سنائی دی ”میں جو تیری شہ رگ سے بھی قریب ہوں، عامر چیمہ آج میں تجھے حکم دیتا ہوں کہ کٹ جانا مگر عشق رسالت ﷺ، قرب الہی، تسلیم و رضا، فنا اور اطاعت کا سودا ہرگز مت کرنا۔“

شمعیں جو بجھیں بجھنے دو، دل بجھنے نہ پائے
یہ شمع ہوئی گل تو اجالے نہ رہیں گے
صفحہ ١٤٠

محمد اسماعیل قریشی (ایڈووکیٹ)

غازی عامر شہیدؒ کی رودادِ قتل

یورپ نے ہمیشہ تاریخ اور حقائق کو مسخ کر کے اپنے داغدار دامن کو چھپانے کی کوشش کی ہے لیکن حالات اور واقعات کی روشنی میں حقیقت بے نقاب ہو کر اس کے طرہ پر پیچ و خم کھول دیتی ہے۔ یہی کچھ معاملہ ملت اسلام کے نوجوان مرد غازی عبدالرحمٰن چیمہ کا جرمن پولیس کے ہاتھوں مظلومانہ شہادت کا ہے جس کو جرمنی کی مسلم آزار حکومت خودکشی ظاہر کر رہی ہے تاکہ حقیقت حال منظر عام پر نہ آ سکے جو حکومت کی بدنامی کا باعث ہوگا اور اس کے خطرناک نتائج کا خوف بھی موجود ہے لیکن قرائن قاطعہ صاف صاف شہادت دے رہے ہیں کہ یہ کسی صورت خودکشی کا وقوعہ نہیں ہو سکتا بلکہ یہ ظالمانہ قتل کی واردات ہے جس کے ثبوت میں یہ واقعات عالمی ریکارڈ پر موجود ہیں جن سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

ڈنمارک کے اسلام دشمن اخبار یولینڈے پوسٹن کے یہودی ایڈیٹر کی شرارت سے ماہ اکتوبر کے کثیر الاشاعتی ایشو میں پیغمبر اسلام ﷺ کے بارے میں انتہائی توہین آمیز کارٹون شائع ہوئے۔ دس مسلمان ملکوں کے سفیروں نے اس غیر اخلاقی اور غیر قانونی رویہ کی شکایت کی لیکن وہاں کی حکومت نے اسے آزادی اظہار کی احمقانہ دلیل دے کر مسترد کر دیا۔ اس کے خلاف مسلمان ملکوں کے حکمرانوں اور وہاں کے شہریوں نے اپنے شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے سخت احتجاج کرنا شروع کر دیا۔ دنیا بھر میں یہ احتجاج شدت اختیار کرتا جا رہا تھا کہ جرمنی، فرانس، اٹلی اور سپین کے اخبارات نے ماہ فروری 2006ء میں ڈنمارک کے بدنام زمانہ اخبار کے کارٹونوں کو اپنی اپنی اشاعت میں نمایاں طور پر شائع کر دیا جو دراصل اسلام کے خلاف یورپ کی دیرینہ دشمنی کے پس منظر میں بین الاقوامی سازش تھی۔ اس نے مسلمانوں کے جذبات کو نہایت برانگیختہ اور مشتعل کر دیا۔

کوفی عنان سیکرٹری جنرل یو این اے۔ کے الفاظ میں اس نے جلتی آگ پر تیل کا کام

صفحہ ١٤١

کیا۔ ان ہی دنوں مملکت خداداد پاکستان کا ایک شریف النفس نوجوان عامر عبدالرحمن چیمہ برلن میں مقیم تھا۔ یہ کوئی ناخواندہ گھرانے کا فرد نہیں تھا۔ نہ ہی اس نے کسی دینی مکتب یا مدرسہ میں تعلیم پائی تھی بلکہ جدید تعلیم یافتہ گھرانے سے ان کا تعلق تھا۔ وہ اپنے لائق احترام باپ پروفیسر نذیر احمد چیمہ کا اکلوتا فرزند تھا جس نے نیشنل کالج آف انجینئرنگ سے ڈگری حاصل کرنے کے بعد جرمنی کی یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم کے لیے سال 2004ء میں داخلہ لیا ہوا تھا تاکہ دو سال بعد سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم مکمل کر کے اپنی خداداد صلاحیتوں سے ملک و قوم کا نام روشن کرے۔ یہ تھے وہ مقاصد جن کی تکمیل کے لیے وہ جرمنی گیا ہوا تھا جہاں اس کی تعلیمی مشاغل کے سوا کسی جارحانہ تنظیم سے کوئی تعلق نہ تھا۔ لیکن جرمنی کے کثیرالاشاعت اخبار ”دی ویلٹ“ میں توہین رسالت کے شرمناک کارٹونوں اور خاکوں کی اشاعت اس کے لیے ناقابل برداشت ہو گئی جس نے اس کے تن بدن میں آگ لگا دی۔ عشق رسول ﷺ کی چنگاری ہی کچھ ایسی ہے جو آدمی کے خاکستر کو جلا دیتی ہے اور اسے اپنی منزل آسمانوں میں نظر آنے لگتی ہے۔

اسی طرح جناب عامر عبدالرحمن چیمہ کو علم و ہنر سب ہیچ معلوم ہونے لگے۔ وہ اپنے ماں باپ عزیز بہنوں سب کو بھول گیا اور شوق شہادت لیے ہوئے اس اخبار کے کمینہ صفت چیف ایڈیٹر کو اس کی شان رسالت مآب ﷺ میں اس ناپاک گستاخی کی سزا دینے کے لیے پہنچا اور اس پر حملہ کر دیا۔ اس کے آفس سٹاف نے اس مرد مجاہد نوجوان کو قابو کر لیا اور 20 مارچ 2006ء کو جرمن پولیس نے اسے گرفتار کر کے جیل میں بند کر دیا۔ 2 مئی 2006ء کو جیل کے اندر اس کو موت سے ہمکنار کر دیا گیا۔ لیکن اسے جرمنی کی حکومت نے خودکشی کی من گھڑت کہانی بنا دیا۔

یہاں یہ امر قابل غور ہے کہ عامر عبدالرحمن چیمہ کسی معمولی جرم میں گرفتار نہیں ہوا تھا بلکہ یورپ کے ترقی یافتہ ملک جرمنی میں اس ملک کے چوتھے ستون صحافت کے چیف ایڈیٹر پر قاتلانہ حملہ کے سنگین الزام میں گرفتار ہو کر جیل کے اندر بند تھا۔ اس کا پہلا جرم یہ کہ وہ ایک مسلمان ملک کا مسلمان نوجوان طالب علم تھا۔ جس پر یورپ، امریکہ اور دنیا کے کروڑوں مسلمانوں کی نظریں لگی ہوئی تھیں۔ جیل سے اغوا کیے جانے کے خدشات بھی موجود تھے۔ اس لیے در و دیوار زنداں کے تمام گوشوں پر کیمرے اور حساس آلات نصب تھے جو اس قیدی کی ہر حرکت کو وہاں کی انٹیلی جنس بیورو کو اطلاع دے رہے تھے۔ سیکورٹی کے انتظامات بھی انتہائی سخت تھے۔ ملک کی عدالت میں ملزم پر اقدام قتل کے اہم سنگین مقدمہ کی کاروائی بھی شروع

صفحہ ١٤٢

ہونا تھی۔ ایسے میں کسی قسم کی کوئی رسی کس طرح قیدی کے کمرے میں پہنچ گئی اور اس نے کس طرح اسے استعمال کیا جبکہ چھت پر کوئی پنکھا بھی نہیں لٹکا ہوا تھا۔ پھر پوسٹ مارٹم سے قبل مردہ حالت میں ملزم کے ہاتھ پاؤں بھی کیوں بندھے ہوئے تھے۔ پوسٹ مارٹم کے وقت پاکستان یا یورپ کا کوئی مسلمان ماہر سرجن بھی موجود نہ تھا۔ پوسٹ مارٹم سے معلوم ہوا کہ نوجوان عامر چیمہ کی گردن کی شہ رگ کٹی ہوئی پائی گئی۔ ساتھ ہی پاکستان کی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ طارق کھوسہ نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ معصوم عامر کی گردن کی ہڈی بھی ٹوٹی ہوئی نہ تھی۔ پھر یہ خودکشی کی کیسی واردات ہے جسے نہ عقل سلیم تسلیم کرتی ہے اور نہ ہی میڈیکل جورس پروڈنس کو ایسی خودکشی کا کوئی علم ہے۔

ایسے ہی موقع کے لیے شاعر نے کہا ............

خنجر پر کوئی داغ نہ دامن پر کوئی چھینٹ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

سربراہ ٹیم کو عامر کے ساتھی جو جیل میں تھے نہ ملنے دیا گیا اور نہ ہی ہمارے ملک کی وزارت خارجہ اور تحقیقاتی ٹیم کے سوالات کا کوئی جواب دیا گیا اور نہ ہی پولیس یا جیل کے متعلقہ افسروں سے استفسار کی اجازت دی گئی۔ مظلوم عامر کے اپنے والد کے نام چار صفحات والے خط سے صرف دو صفحے اس کے والد کو دیے گئے اور باقی دو صفحے کہاں غائب ہو گئے۔ موصول ہونے والے مکتوب سے بھی اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ جرمن پولیس عامر چیمہ کو قتل کرنے کے درپے تھی اور اسے خودکشی قرار دے کر وہاں کی حکومت ساری دنیا کو دھوکہ دینا چاہتی ہے اور اپنی ظالم پولیس کی گردن بچانا چاہتی ہے۔ اب کوئی تفصیلی رپورٹ بھی موصول ہو تو سب اسی منصوبہ بندی کی مظہر ہوگی جو پاکستان کی حکومت کو اپنے تحفظ کے لیے تو قابل قبول ہوگی لیکن پاکستان کے مسلمان عوام ایسی رپورٹس کو اس کے مرتبین اور اسے پیش کرنے والوں کے منہ پر دے مارے گی۔ ان حالات اور واقعات کی شہادت کے بعد شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ عامر عبدالرحمٰن کی موت فی الحقیقت ایک جواں سال عاشق رسول ﷺ کی شہادت کی موت ہے۔ خود اس کا مسکراتا ہوا چہرہ اس کی گواہی دے رہا تھا کہ یہ خودکشی کی موت نہیں۔ نہ ہی اس کا عقیدہ، نہ ہی اس کا مذہب اس کی اجازت دیتے ہیں۔ سائنٹیفک طریقے سے اسے قتل کیا گیا۔ اگر ہمارے حکمران طبقہ میں غیرت و حمیت کی رمق بھی باقی ہوتی تو اس عزیز ملت کی جرمن حکومت کی تحویل میں موت کو بین الاقوامی عدالت انصاف

صفحہ ١٤٣

میں دادرسی کے لیے لے جاتی اسے حقوق انسانی کے اعلیٰ ترین فورم پر اٹھایا جاتا لیکن اس قتل میں تو خود ہماری حکومت، ہماری وزارت خارجہ اور سفارت کاری کی مجرمانہ غفلت بھی شامل ہے۔

میں نامراد ان دنوں اپنی جواں سال بھتیجی کی ناگہانی موت اور اس کے دو چھوٹے معصوم بچوں کی نگہداشت کے سلسلہ میں کراچی جاکر خود بھی شدید بیمار ہو گیا تھا۔ ورنہ اس سے قبل ایک ایسا واقعہ جاپان میں رشدی کی کتاب ”شیطانی آیات“ کے سلسلہ میں پیش آیا تھا۔ جہاں ایک جاپانی مترجم گیانی پالما پر سال 1990ء میں ٹوکیو کے پریس کلب کے اندر لاہور کے ایک شاہین عدنان رشید نے قاتلانہ حملہ کر دیا تھا جس پر سیکورٹی فورس کے اہلکاروں نے اسے قابو کر کے بہیمانہ تشدد کے بعد اس کو قید کر دیا تھا، اس پر لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے مجھے جاپانی سفارت خانے سے مذاکراتی ٹیم کا سربراہ مقرر کیا تھا۔ اس کی گرفتاری کے خلاف لاہور، اسلام آباد میں جلسے، جلوس اور ہمارے مذاکرات کے نتیجے میں جاپانی سفارتخانے کی سفارش پر عدنان رشید کو جاپان سے ڈی پورٹ کر دیا گیا تھا مگر موجودہ بزدل، نااہل اور یورپ سے خوفزدہ حکومت نے لاہور اور اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ کر کے ہر قسم کے جلسے اور جلوس پر پابندی عائد کر دی ہے۔

غازی عامر عبدالرحمٰن چیمہ شہید کی میت کو، اس کی وصیت کو نظر انداز کر کے اور اس کے وارثان کی دردمندانہ درخواست کو مسترد کرتے ہوئے ایک گمنام گاؤں ساروکی میں زبردستی دفن کر دیا ہے جو شرعی قانونی اور اخلاقی ہر لحاظ سے غلط اور ناروا ہے۔ اس مجہول حکومت کو یہ معلوم نہیں کہ حکومت اس کے اہلکاروں اور کاسہ لیسوں کے سوا پاکستان کے پندرہ کروڑ مسلمانوں کے کشادہ سینے غازی عامر شہید کا مدفن ہیں اور اس کی مضطرب روحوں کے ساتھ شہیدان رسالت علم الدین اور عبدالقیوم کی پاکباز روحوں کے ساتھ حضور ختمی مرتبت ﷺ کے سایہ رحمت میں پہنچ گئی ہے اور علامہ اقبال کی یہ حسرت بھی پوری ہو گئی کہ ایک پروفیسر کا منڈا پاکستان بن جانے کے بعد پڑھے لکھے گھرانوں کی قسمت کو بھی تابناک کر گیا اور فریضہ ملت ادا کرتے ہوئے اس نے جریدۂ عالم پر نقش دوام ثبت کر دیا ہے۔ علامہ اس کی مرقد پاک پر لالے کے خونیں کفن پھول نچھاور کرتے ہوئے یہ پیغام دے رہے ہیں......

سر خاک شہیدے برگ ہائے لالہ می پاشم
کہ خونش با نہال ملت ما سازگار آمد
صفحہ ١٤٤

ہارون الرشید

عامر شہیدؒ

کراچی کے تاثرات لکھنے کی کوشش کرتا، ہر چند یہ آسان نہیں کہ اس کے لیے چیتے کا جگر اور جادوگر کا قلم چاہیے۔ تاہم کوشش تو کرتا لیکن اب ایک شہید کی میت درمیان پڑی ہے اور کیسا شہید؟ وہ جو ایک لوک کہانی بن جائے گا اور ابدالآباد تک ہماری یادوں کو منور کرتا رہے گا۔

مغرب ہم مسلمانوں کو سمجھ نہیں سکتا۔ شاید وہ ہمیں سمجھنا چاہتا ہی نہیں، صرف برتنا اور پامال کرنا چاہتا ہے۔ ہمیں ہمارے ایمان اس ایمان سے پھوٹنے والی امنگوں اور ایقان سے محروم کرنا چاہتا ہے۔ اس ایمان ایقان اور امنگوں کے بغیر ہم کیا ہوں گے۔ کیا اس زندگی سے موت اچھی نہیں جو ہمیں قرآن اور صاحب قرآن ﷺ کی محبت سے محروم کردے۔ اگر ہم میں زندگی کی کوئی رمق باقی ہے تو اس میں غازی علم دین شہید اور عامر چیمہ شہید ایسے لوگوں کا بہت بڑا حصہ ہے۔ ہر اس شخص کی گردن پر جو اللہ کے آخری پیغمبر پر، یوم آخرت پر اور خود خدا پر ایمان رکھتا ہے، عامر چیمہ کا کبھی نہ ختم ہونے والا احسان ہے، وہ احسان جو کبھی تمام نہ ہوگا اور دائم ہماری گردنوں پر رہے گا۔ ہم اس کے شکر گزار اور احسان مند ہیں کہ اس نے ہماری طرف سے فرض کفایہ ادا کر دیا۔ اس شہید نے ہمیں ثروت مند کر دیا اور ہمیں ادراک ہوا کہ اس راکھ میں ابھی چنگاریاں باقی ہیں۔ تاہم کیا عجیب ہے کہ کبھی ان چنگاریوں سے الاؤ روشن ہو۔ پھر ایک کے بعد دوسری قندیل حتیٰ کہ چراغاں ہو جائے۔ ہم سے مغرب کا مطالبہ یہ ہے کہ قرآن کریم کی فلاں اور فلاں آیات سے دستبردار ہو جائیں اور اپنے بچوں کو ان کی تعلیم نہ دیں۔ مسلم لیگ کی مجلس عاملہ کے ایک اجلاس میں میاں محمد نواز شریف نے ایک بار کہا تھا: اگر ایک دن وہ ہم سے یہ کہیں کہ تم کلمہ پڑھنا چھوڑ دو تو کیا ہم چھوڑ دیں گے؟ لیکن نواز شریف

صفحہ ١٤٥

اور بینظیر بھٹو سمیت تقریباً ہماری تمام تر اشرافیہ مغرب سے خوف زدہ ہے اور اسے راستہ سجھائی نہیں دیتا۔ ابھی حال ہی میں توہینِ رسالت کے مسئلہ پر انسانوں کے ہزاروں ہجوم گھروں سے امنڈ کر شاہراہوں پہ نکلے اور نون لیگ کی قیادت پوری یکسوئی سے ان میں شامل ہوئی تو نواز شریف نے پیغام بھیجا کہ لیگی لیڈر اعتدال اور احتیاط سے کام لیں۔ کسی اور نے نہیں، ان کے ایک قریبی ساتھی نے راز کی یہ بات بتائی اور وہ خوش نہ تھا۔ قرآن کریم کا مطالبہ اور ہے ”ادخلوا فی السلم کافۃ“ اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ۔ اس سے مراد عمل کی کوتاہی نہیں۔ خامی اور خرابی، خامی اور خرابی ہی ہوتی ہے لیکن توبہ کا دروازہ کھلا ہے اور اللہ غفور الرحیم ہے۔ اصحابؓ کے ایک گروپ نے عالی مرتبت ﷺ سے ایک بار یہ کہا ”ہم نے ارادہ کر لیا ہے کہ کسی گناہ کا ارتکاب نہ کریں گے ۔ آنجناب ﷺ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور اس مفہوم کا جملہ ارشاد کیا: اگر تم ایسا کرو گے تو اللہ تمہیں برباد کر دے گا اور تمہاری جگہ نئے لوگ بروئے کار لائے گا۔ اس لیے کہ وہ معاف کرنا محبوب رکھتا ہے۔ آدمی کو خطا و نسیان سے بنایا گیا ہے اور پچھلے ایک ہزار برس کے سب سے بڑے عارف حضرت علی بن عثمان ہجویریؒ نے کشف المحجوب میں یہ لکھا ہے: ایک ولی اللہ بھی ستر مرتبہ گناہِ کبیرہ کا مرتکب ہو سکتا ہے۔ اگر اللہ کے بے پایاں کرم اور توبہ کے دائم کھلے دروازے کو جواز بنا کر گناہ کو روش کر لیا جائے تو یہ جہل کی بدترین صورت ہے جو لازماً تباہی پہ منتج ہوگی، ورنہ بخاری شریف کے مطابق سرکار ﷺ نے یہ کہا تھا ”ابوذرؓ، جس نے کہا اللہ ایک ہے اور محمد ﷺ اس کے رسول ہیں وہ جنت میں جائے گا“۔ ان ابوذرؓ نے، جن سے زیادہ سچے آدمی پر آسمان نے کبھی سایہ نہ کیا، اس پر سوال کیا: یا رسول اللہ خواہ اس نے چوری کی ہو اور وہ بدکاری کا مرتکب ہوا ہو؟ فرمایا: ہاں خواہ اس نے چوری اور بدکاری کا ارتکاب کیا ہو۔ صاحبِ صدق و صفا کو اپنے کانوں پر یقین نہ آیا اور پھر سے سوال دہرایا: ارشاد کیا: ہاں، خواہ ابوذرؓ کو کتنا ہی ناگوار ہو۔ ظاہر ہے کہ توبہ درکار ہے اور سچی توبہ لیکن جہاں تک ایمان اور عقیدے کا تعلق ہے، اس میں رتی برابر انحراف کی گنجائش نہیں۔ دین کوئی درخت نہیں کہ جس کی زائد شاخیں آپ تراشیں یا جس کی ٹہنیوں پر آپ جنیٹک انجینئرنگ کے تجربات کریں۔ عمل کی کوتاہی ایک دوسری چیز ہے۔ اس کا تعلق افتادِ طبع سے ہوتا ہے، تربیت کی کمزوری، ماحول کی خرابی، ادراک اور عرفان کی کمتری سے لیکن وحی پر استوار عقیدے کو پوری طرح قبول کرنا ہوتا ہے اور زبان سے نہیں دل سے۔

صفحہ ١٤٦

پروفیسر احمد رفیق اختر نے ایک دن یہ کہا: بندہ ہزار غلطی کر کے بندہ ہی رہے گا مگر اللہ ایک بھی غلطی کرے اللہ نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا اس کی کتاب اس جملے سے آغاز ہوتی ہے: یہ ہے وہ کتاب جس میں ہرگز کوئی شک نہیں۔ اب اس کتاب کو پڑھو اور اختیار کر لو یا اس کتاب کو پڑھو اور اگر کوئی دلیل رکھتے ہو تو مسترد کر دو، مگر پھر وہ اپنے بندوں سے پوچھتا ہے: کیا تم ان بے شمار آیات جیسی ایک آیت بھی تخلیق کر سکتے ہو؟ اور یہ ارشاد کرتا ہے: اگر تم دلیل اور قوت رکھتے ہو تو زمینوں اور آسمانوں کی ان قطاروں میں سے نکل جاؤ۔

نہیں، ہم کوئی دلیل اور کوئی طاقت نہیں رکھتے۔ ہم سر جھکاتے ہیں اور ہمیشہ کے لیے جھکاتے ہیں۔ قرآن اس دین کی جڑ اور اللہ کے آخری رسول ﷺ اس کا تنا ہیں۔ جڑ کاٹی جا سکتی ہے اور نہ تنے پر کلہاڑا چلانے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ جو اس شجر پہ کلہاڑا چلانے کی کوشش کرتے ہیں، وہ ہماری گردنوں پہ چلاتے ہیں اور کون ہے جو اپنی گردن کلہاڑے کے لیے پیش کرے۔ سرکار ﷺ کا فرمان یہ ہے ”ھو المعطی و انا القاسم“ وہ عطا کرنے والا ہے اور میں تقسیم کرنے والا۔ اقبال نے کہا تھا: دنیا میں جہاں کہیں روشنی ہے وہ مصطفیٰ ﷺ کے طفیل ہے یا مصطفیٰ ﷺ کی تلاش میں۔

ہم برصغیر کے مسلمانوں پر دوہری ذمہ داری ہے اور اس کا سبب عالی مرتبت ﷺ کا ایک ارشاد ہے: ہند کے ساحلوں سے مجھے خوشبو آتی ہے۔ اسلامی تہذیب کے بس دو ہی ستون ہیں۔ اللہ اور اس کے آخری رسول ﷺ۔ اگر ہم ان ستونوں کو منہدم کرنے کی اجازت دیں گے تو اپنی آخرت برباد کر لیں گے اور دنیا بھی۔ اس کرۂ خاک پہ ہمارے وجود کا جواز ہی باقی نہ رہے گا۔

عامر شہید کے مرقد پہ تا ابد نور برستا رہے، اس کے جنازے میں شریک ہونے والے لاکھوں افراد مذہبی جنونی نہ تھے۔ ان میں اکثر مذہبی جماعتوں کے ووٹر نہیں بلکہ نواز شریف اور بینظیر کے حامی ہیں۔ یہ الگ بات کہ امتحان کے ہنگام یہ لوگ اللہ نہیں، امریکہ کی طرف دیکھتے ہیں اور اسی لیے خوار و زبوں ہیں۔

صفحہ ١٤٧

یاسر محمد خان

عامر چیمہ کا لہو رائیگاں نہیں گیا

برلن میں واقع موبٹ جیل (Moabit Prison) جرمنی کی بدترین جیل ہے۔ اس جیل میں 44 دن تک غازی عامر پر تشدد کے تمام حربے استعمال کیے گئے، بالآخر 4 مئی کو شہید کر دیا گیا۔ 5 مئی کو پاکستانی اخبارات میں غازی عامر کی شہادت کی خبر شائع ہوئی جس کے بعد پاکستان کے تمام ذرائع ابلاغ میں عامر چیمہ کے نام اور کارنامے نے شہ سرخیوں کی جگہ لے لی۔ آنے والے دنوں میں عامر چیمہ پاکستانی نوجوانوں کے ہیرو بن گئے۔ ان کا آبائی قصبہ ساروکی تھا۔ یہ وزیر آباد کے قریب ایک چھوٹا سا قصبہ ہے۔ ان کے والدین تیس برس پہلے ساروکی سے راولپنڈی منتقل ہو گئے تھے۔ وہ راولپنڈی کی ایک متوسط بستی ڈھوک کشمیریاں کی گلی نمبر 18 میں رہتے تھے۔ جب عامر چیمہ کی شہادت کی خبر پاکستان پہنچی تو ڈھوک کشمیریاں کی یہ گلی راولپنڈی، اسلام آباد اور ملک بھر سے عامر چیمہ کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے آنے والوں کا مرکز بن گئی۔ یہ لوگ عامر چیمہ کے والد کے ہاتھ چومتے تو وہ اپنے شہید بیٹے کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے آنے والوں کو خود حوصلہ دیتے۔ پروفیسر نذیر چیمہ سے ملنے والے ہر شخص کی زبان پر یہ الفاظ ہوتے: ”یہ ہیں شان رسالت ﷺ پر قربان ہونے والے پروانے کے خوش نصیب والد محترم، آپ ہمارے لیے بھی دعا کریں، آپ کے درجات عظیم ہیں۔“ گلی نمبر 18 کو ڈویژنل پبلک سکول، ڈھوک کالا خان، سکستھ روڈ، سروس روڈ، ڈھوک پراچہ، ٹرانسفارمر چوک سے آنے والے تمام راستے ملاتے ہیں اور اس گلی تک پہنچنے کے لیے دن بھر عقیدت مندوں کا جم غفیر رواں دواں رہتا تھا۔ اس گلی میں

صفحہ ١٤٨

آنے والے افراد شہید عامر چیمہ کے گھر پہنچنے سے قبل وضو کرتے اور باادب شہید کے والد اور رشتہ داروں کے عقیدت سے ہاتھ چومتے تھے۔ گلی گلدستوں، ہاروں اور پھولوں سے لد گئی تھی اور پھولوں کی خوشبو عجب منظر پیش کرتی تھی۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے اس گلی میں نور کی بارش ہو رہی ہو۔ سیاسی کارکن، سیاسی قائدین، نوجوان اور معمر افراد جن میں خواتین بھی شامل تھیں، جوق در جوق اس گلی کی طرف آتے جاتے نظر آتے تھے۔ عامر شہید کے والد، والدہ اور بہنیں صرف یہ کہتے نظر آتیں کہ ہمارے بیٹے، ہمارے بھائی کا جسد خاکی لایا جائے۔ ان دنوں گلی نمبر 18 کے حفاظتی انتظامات بھی سخت کر دیئے گئے تھے۔ جابجا پولیس نے خفیہ چوکیاں قائم کر رکھی تھیں جن میں سادہ کپڑوں میں اہلکار تعینات تھے۔ پولیس کی ایک گاڑی گلی میں مسلسل گشت کرتی رہتی تھی جبکہ مسلح دستہ بھی گلی کے آس پاس سیکورٹی کی نگرانی کرتا رہتا تھا۔ یہ سلسلہ 13 مئی تک جاری رہا۔۔ 13 مئی کو عامر چیمہ کا جسد خاکی پاکستان پہنچا۔ یہ جسد خاکی ساروکی لے جایا گیا، وہاں ان کے جنازے میں شریک ہونے کے لیے پاکستان بھر سے 2 لاکھ سے زائد لوگ ساروکی آئے ہوئے تھے۔ یہ ایک حیران کن جنازہ تھا۔

اس جنازے کی کوریج پوری دنیا کے میڈیا نے کی۔ اس کوریج کے بعد یورپ اور امریکہ میں ایک نئی بحث چھڑ گئی، وہاں کے سیاستدانوں اور دانشوروں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ اگر اسلامی دنیا میں عامر چیمہ جیسے دس بیس مزید لوگ پیدا ہو گئے تو ہمارا کیا بنے گا۔ اس جنازے کے بعد امریکہ میں ایک نیا تھنک ٹینک ابھرا اور اس تھنک ٹینک نے سنجیدگی سے توہین رسالت کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا ہے۔

ان لوگوں کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کو ایک ایسا قانون پاس کرنا چاہیے جس کے تحت دنیا کے تمام ممالک اور ان ممالک میں کام کرنے والے ادارے اس بات کے پابند ہوں کہ وہ اور ان کا کوئی کارکن کسی مذہب کی مقدس ہستی کے بارے میں کوئی توہین آمیز کلمہ نہیں بولے گا۔

اس تھنک ٹینک کا خیال ہے کہ اگر اقوام متحدہ نے کوئی ایسا قانون نہ بنایا تو عامر

صفحہ ١٤٩

چیمہ کے جنازے سے بے شمار عامر چیمہ پیدا ہو جائیں گے جو پورے یورپ، امریکہ اور مشرق بعید پر عرصہ حیات تنگ کر دیں گے، جو ہماری زندگی عذاب کر دیں گے۔

مجھے کل ایک دوست نے پوچھا تھا: ”عامر چیمہ نے جان دے کر کیا پایا؟“ میں نے امریکی تھنک ٹینک کی رپورٹ اس کے سامنے رکھی اور اس کے بعد عرض کیا:

”عامر چیمہ نے دنیا کے ان تمام گستاخوں کے دل میں خوف پیدا کر دیا جو ہمارے مذہب، ہمارے عقائد اور ہماری مقدس ہستیوں کا مذاق اُڑاتے تھے، جو ایسی ناپاک جسارتوں کے منصوبے تراشتے تھے۔ میں نے کہا: ایک غازی علم دین شہید نے جان دی تھی تو اس کے بعد کسی ہندو کو ہمارے رسول ﷺ کے بارے میں بات کرنے کی جرأت نہ ہوئی۔ آج ایک عامر چیمہ نے جان دی ہے تو مجھے یقین ہے آج کے بعد یورپ کا کوئی راج پال یہ جرأت نہیں کرے گا۔ عامر چیمہ کا لہو رائیگاں نہیں گیا۔

صفحہ ١٥٠

مفتی ابولبابہ شاہ منصور

بہتے لہو کی گواہی

آج میں آپ کو جو واقعات سنانے لگا ہوں، یہ میری زندگی کے اُن مشاہدات میں سے ہیں جو مجھے ہمیشہ یاد رہیں گے اور وقتاً فوقتاً یاد آتے رہتے ہیں۔ بندہ جب کتابوں کے مطالعے سے تھک جاتا تھا تو انسانوں کا مطالعہ کیا کرتا تھا، یہ اُس دور کی یادگار ہیں۔ یہ عادت آج بھی ہے۔ انسانوں کا مطالعہ بندہ کا پسندیدہ ترین مشغلہ رہا ہے۔ اس لیے وہ شخصی واقعات اور انسانی خاکے جو قارئین ان کالموں میں پڑھتے ہیں مثلاً: شیر خان، صوفی صاحب اور لالو استاد...... انھیں اس تناظر میں پڑھا اور سمجھا جائے۔ طوری ماما کے متعلق البتہ جو کالم افغان امریکا جنگ کے ابتدائی دنوں میں چھپا تھا، ذاتی مشاہدہ نہ تھا، خبر رساں ساتھیوں کی فراہم کردہ اطلاعات پر مبنی تھا۔ اس طرح فلسطین کے محمود عباس اور یحییٰ عیاش وغیرہ کے متعلق کالم ظاہر ہیں کہ اس دوسری قسم سے تعلق رکھتے ہیں۔

ان دونوں واقعات کا تعلق ایک جیسے حالات سے ہے لیکن دونوں میں کرداروں کے مزاج اور طبیعت کا کچھ فرق ہے، جو معنی خیز بھی ہے، سبق آموز بھی اور غازی عامر عبدالرحمٰن چیمہ کی بابرکت شہادت اور یادگار کارنامے سے متعلق بھی...... مغرب کے دانشور اور مفکر نجانے کس گھاٹ کا پانی پیتے ہیں کہ انھیں مسلمانوں کی نفسیات سمجھ نہیں آ رہیں۔ ان واقعات کے تناظر میں مسلمانوں کے ضمیر میں گندھے ہوئے حُبِ رسول ﷺ کے لافانی اور اٹل جذبات کو سمجھنے اور مغرب کو سمجھانے میں بھی مدد لی جاسکتی ہے۔

پہلا واقعہ آج سے تقریباً دس سال قبل اُس وقت پیش آیا جب کراچی میں ایسی بیڈ شیٹس چھپ کر سامنے آئیں جن پر اللہ رسول کا مبارک نام لکھا ہوا تھا۔ کچھ لوگ اس کے نمونے لے کر اس جامعہ میں آئے جہاں بندہ خدمتِ افتا پر مامور تھا۔ وہ اس واقعے کے متعلق

صفحہ ١٥١

فتویٰ چاہتے تھے۔ اب یہ ایسی بدیہی اور واضح چیز ہے جس کے لیے شرعی فتویٰ کی ضرورت نہیں، کون مسلمان ہے جو اس کا حکم نہیں جانتا لیکن جو لوگ اس طرح کی باتوں میں مفتیانِ کرام کی طرف رجوع کرتے ہیں، دراصل وہ اپنا دکھڑا سنانے، غم و غصہ کا اظہار کرنے اور مفتیانِ کرام کو اس المناک واقعے سے آگاہ کر کے اس کے تدارک کے لیے لائحہ عمل جاننا چاہتے ہیں بلکہ ان کے ذہن میں یہ خواہش چھپی ہوتی ہے کہ ہم نے ان لوگوں تک بات پہنچا دی جو ان چیزوں کے تدارک کے اصل حق دار، ذمہ دار اور دینی معاملات میں ہمارا آخری سہارا ہیں۔ اب آگے کی کارروائی ان کو چلانی چاہیے، ہم تو ان کے پیچھے پیچھے مقتدی اور معاون ہیں۔

اس صورت حال میں محض فتویٰ دینے سے کیا ہو سکتا ہے؟ کراچی کا ایک اخبار (بندہ کا ان دنوں کسی اخبار یا اخباری دنیا سے کوئی تعلق نہ تھا) روز اس حوالے سے ایک فتویٰ شائع کرتا اور بہت شہرت کماتا۔ بندہ کا نکتہ نظر اس وفد کے سامنے یہ تھا کہ آپ لوگ فتویٰ لینے کی بجائے قانونی کارروائی کریں اور علاقے کے عمائدین مل کر تھانے کچہری کے ذریعے ایسے افراد کے خلاف ٹھوس قانونی اقدام کی فکر کریں اور ترتیب بنائیں۔ قانون کے رکھوالوں کو فتویٰ کی ضرورت نہیں۔ پاکستان کے آئین اور قانون کی رو سے یہ سنگین جرم ہے اور قانون کے ذمہ دار اس پر فوری کارروائی کے پابند ہیں۔

حاضرین میں سے کچھ کا اصرار تھا کہ فتویٰ دیں۔ بندہ کا کہنا تھا کہ فتویٰ تو ضرور آپ کو مل جائے گا لیکن اس کو لے کر کس کو دکھائیں گے؟ توہین رسالت کے متعلق فتویٰ کی مسلمانوں کو کیا ضرورت ہے؟ البتہ کوششوں کا رخ دارالافتا کی طرف پھیرے رکھنے میں جتنی دیر لگے گی تب تک مجرم اپنے گرد حصار کھینچ کر قانون کی گرفت سے محفوظ یا آپ کی پہنچ سے دور جا چکا ہوگا۔ ابھی یہی بات چل رہی تھی کہ ایک چاچا جی کھڑے ہو گئے۔ انھوں نے کہا: ”مولانا حبیب نو عمر ہے لیکن بات صحیح کہتا ہے۔ ہم سب اس کو غلط سمجھتے ہیں جبھی تو یہاں آئے ہیں۔ جب غلط سمجھتے ہیں تو فتویٰ میں کیا پوچھنا چاہتے ہیں؟ علمائے کرام کے پاس چکر لگا کر ان کو پریشان کرنے سے کیا ہوگا۔ اب یہاں سے اٹھو! سب مل کر تھانے چلتے ہیں اور قصہ نمٹاتے ہیں۔ فتویٰ ہی چاہیے تو وہ زبانی بھی مل چکا ہے۔“

چاچا جی اَن پڑھ تھے، انھوں نے فتویٰ کا تلفظ فا کی زبر کے ساتھ ”فَتویٰ“ کیا تھا۔ شکل وصورت سے غریب معلوم ہوتے تھے مگر ان کے ایمانی جذبات دیکھنے والے تھے۔ یہاں

صفحہ ١٥٢

پر وضاحت کرتا چلوں کہ ان کو (دیگر حاضرین کو بھی) اسم الہی کی بے ادبی سے زیادہ محمد پاک ﷺ کے مبارک نام کی بے حرمتی پر غصہ تھا اور ان کا بس نہ چلتا تھا کہ ایسے مردود کو کچا چبا جائیں یا زندہ اُدھیڑ ڈالیں۔ چاچا جی نے الوداعی سلام کیا اور توہین رسالت کے مرتکب کو اس کے انجام تک پہنچانے کا عزم مصمم ظاہر کرتے رخصت ہو گئے۔ ان کا فتویٰ ہمارے پاس دھرا رہا۔ نجانے کیا گزری لیکن بڑھاپے میں ان کا جوانوں والا انداز اور حضور ﷺ کے اسم گرامی کو چادر پر لکھا دیکھ کر بار بار کڑھنا اور بل کھانا آج تک یاد ہے۔

شروع شروع میں ایسی حرکات کے مرتکب کے خلاف جب کوئی کارروائی نہ ہوئی تو لائن لگ گئی۔ کم بخت اور دریدہ دہن عناصر نے کپڑوں، رومالوں، چادروں اور چپل جوتے کے تلے تک پر مبارک ناموں سے ملتے جلتے ڈیزائن مارکیٹ میں پھیلا دیے۔ بندہ جب ضربِ مومن میں آیا تو ایک زمانہ ایسا بھی گزرا جب کوئی ہفتہ ایسا نہ گزرتا تھا کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ نہ پیش آتا ہو۔ ایسی چیزیں لے کر آنے والوں کا اصرار ہوتا تھا کہ ان چیزوں کی تصویر اخبار میں لگائی جائے۔ بندہ کا موقف یہ ہوتا تھا کہ اس سے مایوسی اور بے نتیجہ غم و غصہ پھیلے گا۔ اس کی بجائے کرنے کا کام یہ ہے کہ یہ سراغ لگایا جائے کہ یہ کس نے بنایا اور کس نے پھیلایا ہے؟ دکانداروں سے پوچھا جائے انھیں کس نے سپلائی کیا اور سپلائر سے کھوجا جائے کہ تم نے کس فیکٹری سے مال اٹھایا؟ تب خبر لگانے کا کوئی فائدہ بھی ہوگا۔ ایسی مبہم خبریں اور تصویریں جن میں ذمہ دار عناصر کا کسی کو پتہ ہی نہ ہو، چھاپنے سے سوائے لوگوں کو اپنا آپ عاجز باور کرانے کا اور کیا فائدہ ہے؟ تعجب اس پر ہے کہ ایسی منصوبہ بند حرکات کے ذمہ داروں کا سراغ نہ لگا کہ کون ایسی چیزیں بناتا ہے؟ ایک ایسا ہی وفد ایک مرتبہ ایک چپل لے کر آیا، پوچھا گیا: بنانے والی فیکٹری کون سی ہے؟ کسی کو خبر نہ تھی۔ بس سب پر یہ خیال سوار ہوا کہ اس کی تصویر لی جائے اور چھاپ دی جائے جبکہ بندہ کا وہی موقف تھا جو اوپر عرض کیا۔ ان میں سے ایک خاموش خاموش نوجوان کا چہرہ تنا ہوا تھا۔ معلوم ہوتا تھا اندر سے سخت طیش میں ہے۔ اس کا معاملہ بھی یہی تھا کہ اسے اللہ تعالیٰ کے مقدس نام کی بے حرمتی پر بھی رنج تھا لیکن حضور پاک ﷺ کے اسم گرامی کو ایسی چیزوں پر لکھا دیکھ کر اپنے آپ پر قابو پانا مشکل ہو رہا تھا۔ ظاہری وضع قطع عام دنیا دار مسلمانوں کی سی تھی لیکن اندرونی حدت کی شدت سے چہرہ تمتما رہا تھا اور دانت سے دانت بھنچا ہوا تھا۔ مسئلہ یہاں بھی وہی تھا کہ اگرچہ یہ نوجوان بھی دنیا داری

صفحہ ١٥٣

کے دھندلے میں پھنسے عام نوجوانوں کی طرح تھا لیکن حُب رسول ﷺ چیز ہی کچھ ایسی ہے کہ اس میں دین دار اور دنیا دار کا فرق نہیں۔ یہ تو تکوینی طور پر اہل اسلام کے دل و دماغ کے نہاں خانوں میں ودیعت کر دی گئی ہے بلکہ عموماً یہ ہوتا ہے کہ دین دار لوگ اپنی نیکیوں کے بھرم میں سوچتے رہ جاتے ہیں اور دنیا دار اسے ذریعہ نجات و شفاعت سمجھ کر میدان مار جاتے ہیں۔ غازیان ناموس رسالت کی فہرست پر ایک نظر ڈالیے آپ کو ”ورفعنا لک ذکرک“ (اور ہم نے بلند کر دیا ذکر تیرا) کا تکوینی اعلان پوری آب و تاب سے جگمگاتا دکھائی دے گا اور اس کے جلو میں سرخی شہادت سے رنگے جو پھول بہار دے رہے ہوں گے، یہ آقا ﷺ کے وہ امتی ہوں گے جن کو دنیا والے بلاوجہ ہی ادھورا مسلمان سمجھنے کی غلطی کرتے ہیں۔

غازی عامر چیمہ کو دیکھ لیجیے! طالب تھا نہ ملا، مجاہد نہ مبلغ، شدت پسند نہ بنیاد پرست...... سکول میں پڑھا، کالج میں رہا، یورپ کی یونیورسٹیوں میں پہنچ گیا مگر ایمان کی چنگاری ماحول کی چکا چوند سے بھی کبھی بجھی ہے؟ یورپ کے منصوبہ ساز جب بھی ہمارے ہاں فحاشی پھیلانے اور بکاؤ قسم کی جنس کا مول لگانے کے بعد یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ہم نے مسلمانوں کو روند ڈالا ہے، کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ ہو جاتا ہے کہ ان کے سارے اندازے ان کا منہ چڑاتے اور سارے منصوبے دھرے رہ جاتے ہیں۔ اب چیمہ خاندان کے اس خوش نصیب کو دیکھ لیجیے جس نے مسلمانوں کو پھر سے سر اٹھا کر جینے کی اُمنگ اور حوصلہ دیا ہے اور اس انداز سے دیا ہے کہ ہمیں اپنے مسلمان اور پاکستانی ہونے پر رشک آ رہا ہے۔ اب یورپ کے احمق، بدتہذیب اور اخلاق سے عاری کم ظرف ایڈیٹر جو چاہیں چھاپیں، اکیلے اس شیر جوان نے انھیں ان کی حیثیت جتادی ہے۔ اس نے انھیں باور کرا دیا ہے کہ گوری چمڑی منڈھے ہوئے ان گندے اور بدتمیز بندروں کا وجود غلاظت بند پوٹلی سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ چیمہ شہید کے واقعے سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں جب تک مسلمان مائیں کلمہ پڑھ کر اپنے بچوں کو دودھ پلاتی رہیں گی ان میں ایسے شیر صفت پیدا ہوتے رہیں گے جن کے خنجر کی دھار شیطان کے چیلوں کو خوفزدہ رکھے گی۔

بندہ سے کسی نے پوچھا: ”غازی کے کیا معنی ہیں کہ عاشقان رسول ﷺ کے ناموں کا جز بن جاتا ہے؟“ عرض کیا: کہتے تو یہ اس سعادت مند کو تھے جو جہاد میں شریک ہو لیکن آج کے دور کے ترسے ہوئے اور کفریہ دنیا کے ستائے ہوئے مسلمانوں نے یہ معزز لقب اُن

صفحہ ١٥٤

جوانمردوں کے لیے مخصوص کر دیا ہے جو گستاخ رسول پر حملہ کرے۔ پھر چاہے اس کو جہنم تک پہنچائے یا خود آقا ﷺ پر قربان ہو جائے۔ دونوں صورتوں میں بیڑا پار، وارے نیارے اور موج ہی موج ہیں۔ یہ ایسا کھرا سودا ہے جس میں خسارے کا احتمال ہی نہیں۔

ذرا ایک نکتے پر سوچئے! یورپ کے ماحول میں رہنے والے دنیاوی تعلیم یافتہ نوجوان کی وہ کون سی نفسیات ہیں کہ وہ اپنا مستقبل، جوانی، خواب سب کچھ تج کر ایک شکاری چاقو خریدتا ہے (اے ارمان! کسی طرح یہ یادگار چاقو پاکستانیوں کو نہیں مل سکتا) اخبار کے دفتر کا پتہ معلوم کرتا ہے، سیکیورٹی کا حصار توڑ کر ایڈیٹر کے کمرے میں جا گھستا ہے، خنجر کی نوک سے بدبو کے اس بورے کو چیرتا پھاڑتا ہے، عدالت میں سینہ تان کر ایسی حالت میں فخر سے ”اقرارِ جرم“ کرتا ہے جبکہ اس کو چاروں طرف خونخوار بھیڑیے نظر آ رہے ہیں جن سے کسی لحاظ، مروت کی امید نہیں، جن کا سفاکانہ رویہ وہ دورانِ تفتیش بخوبی دیکھ چکا اور جن کے خطرناک ارادے وہ اچھی طرح بھانپ چکا ہے۔ یہ فدائیانہ جذبات، یہ غیرت و شجاعت، یہ بے خوفی و جرأت ہی مسلمانوں کی وہ لافانی اور لازوال روایت ہے جو حُب رسول ﷺ کی اعجاز آفریں برکت ہے، جو ہماری آبرو کی ضامن، ہماری پہچان اور مایۂ افتخار ہے اور جو اہلِ مغرب کی ہزار کوششوں کے باوجود اہلِ اسلام کے دلوں سے کھرچی نہیں جا سکتی۔

معاملے کے ایک اور پہلو کو دیکھیے! جرمن ایڈیٹر نے بالیقین ایسی حرکت کی تھی جو بین الاقوامی قوانین اور مسلمہ انسانی اخلاقیات کی رُو سے بلاشبہ جرم ہے۔ چلیے مان لیا کہ جرمن قانون کی رُو سے عامر شہیدؒ نے بالفرض بلاجواز اقدام کیا لیکن اُن کو ان کے اقدام کے بقدر پوچھ گچھ کی بجائے ماورائے عدالت تکلیفیں دے دے کر شہید کرنے میں جرمن پولیس، جرمن انتظامیہ، جرمن عدلیہ، جرمن پریس اور پھر جرمن حکومت سب نے اپنا اپنا حصہ ڈال کر مسلمانوں سے دلی بغض و عناد کا جو اظہار کیا ہے، اس سے یورپ کی تہذیب پر فریفتہ دانش وروں اور روشن خیال چڑی ماروں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔ اس اتفاق و اتحاد سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ یورپ اوپر سے نیچے تک انتہائی گئی گزری مخلوق ہیں۔ انھوں نے دل کی بھڑاس نکال کر سمجھا تھا کہ وہ مسلم دنیا کو اپنے شقاوت آمیز اور ظالمانہ رویے سے مرعوب کن پیغام دیں گے مگر یہاں پھر معجزۂ نبوی ظاہر ہو کر رہا۔ اہلِ ایمان تو گویا طویل نیند سے جاگ اٹھے ہیں۔ کھلاڑیوں، گلوکاروں، سرکس کے کرتب بازوں اور ہندوؤں کی نقل مار ادا کاروں کو ہیرو سمجھنے

صفحہ ١٥٥

والی قوم چیمہ شہید کی دہلیز پر تہنیتی پیغامات اور گلی میں پھولوں کے ڈھیر لگا کر جس طرح کا جوابی پیغام دیا ہے وہ ایمان افروز بھی ہے اور روح پرور بھی۔ راولپنڈی کا ایک عام سا نوجوان راتوں رات مسلمانوں کی آنکھ کا تارا بن گیا ہے۔ کتنی ہی جوانیاں اس کے نقش قدم پر چلنے کا عزم سینے میں دہکا چکی ہوں گی۔ نوجوانوں نے اپنے آئیڈیل بدل لیے ہیں۔ جو کام لاکھوں مبلغین نہ کر سکتے تھے، ایک فدائی نے تنہا کر دکھایا۔ خنجر کی نوک وہ کچھ کہہ گئی جس سے قلم اور زبانیں عاجز ہو چکی تھیں۔ غازی عامر عبدالرحمٰن چیمہ! تم نے مایوس اہلِ اسلام کو جینے کی آس دلا دی ہے۔ قوم تمہارا یہ احسان بھلا نہ سکے گی۔

سلام اُس نبی پر جس کے امتی اس کے دیوانہ وار شیدائی ہوتے ہیں۔
سلام اُن امتیوں پر جو اپنے نبی کے ایسے سرفروش فدائی ہوتے ہیں۔
سلام اُن خوش نصیبوں پر جن کے گھر ایسے خوش بخت پیدا ہوتے ہیں۔
سلام ان ماؤں پر جو ایسے شیر دل سپوت جنتی ہیں۔
سلام ان بہنوں پر جو ایسے عظیم بھائیوں کی پرورش کرتی ہیں۔
سلام ان جوانمردوں پر جو ایسی اٹوٹ روایات قائم کر جاتے ہیں۔

پہلے مسلم دنیا شاید صرف اس شیر بچے پر فخر کرتی جو گستاخ رسول پر قاتلانہ حملے میں کامیاب ہو جاتا، اب وہ جوانمرد بھی ان کا ہیرو اور آنکھوں کا تارا ہو گا جو ان کی طرف سے اس فرض کفایہ کی ادائیگی کی محض کوشش کر لے گا۔ جرمن حکام کو علم ہوتا کہ ان کا ظلم یہ رخ اختیار کر جائے گا تو وہ ہرگز ایسا اوچھا اقدام نہ کرتے مگر خدا نے مسلمانوں کو نئی زندگی دینی تھی، سو وہ مل چکی ہے۔

چیمہ جی! جب سرکار ﷺ کی خدمت میں حاضری ہو تو ہم حسرت زدہ گنہگار امتیوں کا سلام بھی پہنچا دینا۔ ترسے ہوئے ارمانوں اور ٹوٹے ہوئے دلوں کا پیغام گوش گزار کر دینا۔ عرض کر دینا کہ آپ ﷺ کے امتی کتنے ہی گنہگار سہی، مگر ناموس رسالت پر پہلے کبھی سمجھوتہ کیا نہ آئندہ کرنے کو تیار ہیں۔ ہمارے سلگتے جذبات، تڑپتے ارمان، نا آسودہ حسرتیں اور بہتا لہو اس پر گواہ ہے اور ہم قیامت تک اس گواہی کو زندہ تابندہ رکھیں گے۔

صفحہ ١٥٦

مولانا قاری منصور احمد

زندہ ہو جاتے ہیں جو مرتے ہیں اس کے نام پر

مغربی معاشرے، آزادانہ ماحول اور مخلوط کھلی سوسائٹی میں رہنے کے باوجود وہ تنگ نظر، متعصب اور انتہا پسند ہی رہا۔ اس نے سکول و کالج میں انگریزی تعلیم حاصل کی اور سائنس کے مضامین پڑھے۔ پھر بھی اس میں روشن خیالی آئی نہ اعتدال پسندی۔ یورپ میں موجود ہونے کے باوجود وہ آزادی اظہار رائے اور مذہبی رواداری کا مفہوم نہیں سمجھ پایا۔ سمجھتا بھی کیسے؟ معاملہ ہی ایسا ہے۔ اس میں بے سمجھی ہی سمجھ داری ہے۔ بڑے بڑے دانشور اس معاملے میں ایسے پاگلوں پر رشک کرتے دیکھے گئے۔

دیہاتی، ان پڑھ علم دین ہو یا اس پر فدا ہوتا ہوا دانش افرنگ کا شناور اقبال، سرکار انگلشیہ کا منظور نظر اور غیر منقسم ہندوستان کے عظیم پنجاب کا وزیر اعلیٰ سر شفیع ہو یا شرابی کبابی اختر شیرانی، ان میں سے کوئی بھی ”اس معاملے“ میں رواداری کا قائل نہیں۔ ان میں سے عملاً کوئی کچھ کر سکا یا نہ کر سکا مگر اس ہتک انسانیت کے سینے میں خنجر اتارنے کی حسرت سب کے دلوں میں مچلتی تھی جو ”محسن انسانیت“ کو داغ دار کرنے کی جسارت کرے۔

دہشت گردی کے زمرے میں آنے والے علم دین کے اقدام کی ستائش شاعر مشرق علامہ اقبال نے جس انداز میں کی تھی وہ جملہ اب ضرب المثل ہے: ”اسی گلاں کر دے رہے تے ترکھاناں دا منڈا بازی لے گیا۔“

سر شفیع ایسے ہی ایک سر پھرے کا مقدمہ بغیر فیس لڑنے کو ہی ذریعہ نجات سمجھتے تھے۔ مذہب سے بیگانے اور ہر وقت ٹن رہنے والے اختر شیرانی کی کیفیت الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ میں نے جب بھی یہ واقعہ پڑھا ہے، آنسو ضبط نہیں کر سکا۔ ناؤ نوش کی محفل میں کسی نے ہلکے انداز میں حضور ﷺ کا نام لے دیا۔ نشے میں دھت اختر نے شیشے کا گلاس

صفحہ ١٥٧

کہنے والے کے منہ پہ دے مارا۔ جسم غصے سے کانپنے لگا۔ جو منہ میں آیا کہہ دیا۔ پھر ایک دم رونا شروع کر دیا۔ ہچکیاں بندھ گئیں۔ ضبط نہ ہوا تو محفل سے اٹھ کر چل دیے۔ ساری رات روتے رہے۔ کہتے تھے: ”لوگ اتنے بے باک ہو گئے کہ آخری سہارا بھی ہم سے چھین لینا چاہتے ہیں۔“

ہر مسلمان اپنی کمزوریوں، کوتاہیوں اور غفلتوں کے باوجود اس آخری سہارے سے دست بردار ہونے کے لیے تیار نہیں۔ سائنس کے فارمولوں اور ریاضی کے اصولوں سے بھرے دماغوں میں جو بات فٹ نہیں آ سکتی، عامر شہید جیسے سر پھرے اپنی جان سے گزر کر انھیں اس زمینی حقیقت سے باخبر کرنا چاہتے ہیں کہ جذبہ و جنوں سائنس و ٹیکنالوجی سے الگ کوئی چیز ہے۔

عامر نے اپنے خون سے حرمتِ رسول کے تحفظ کے لیے درست راہ کی نشان دہی کر دی ہے۔ اس نے بتایا ہے کہ جلسے، جلوس، احتجاج اور ہڑتالیں ان کمینہ خصلت لوگوں کا علاج نہیں ہے۔ اس نے دبی چنگاری کو پھر شعلہ بنا دیا ہے۔ ولولوں کو تازہ اور جذبوں کو جوان کر دیا ہے۔ اس کو تشدد کر کے ہلاک کرنے والوں نے کتنی بڑی غلطی کی ہے انھیں اس کا اندازہ نہیں ہے۔ وہ اگر پہلے ہی چپ چپاتے اس کی لاش لا کر ورثا کے حوالے کر دیتے اور یہاں کی حکومت اپنے روایتی انداز میں پولیس کے نرغے میں اس کو دفن کر دیتی تو شاید معاملہ دب جاتا...... مگر بعض وقت مت بھی تو ماری جاتی ہے۔ دشمنوں کی پیش بندیوں سے وہ مسلمانوں کا ہیرو بن گیا ہے۔ وہ اب سب کے دلوں کی دھڑکن ہے۔ اس کا باپ اب قوم کا معزز ترین فرد ہے۔ اس کے گھر کے راستے میں پھول بچھے ہیں۔ یقیناً عامر کے راستے میں بھی بچھے ہوں گے۔ پہلے ہر پانچویں بچے کا نام اسامہ رکھا جاتا تھا اب عامر بھی محبوب ناموں میں شمار ہوگا۔ نبی ﷺ کے عاشقوں کے ناموں کو اللہ خود محبوبیت عطا فرماتے ہیں۔ بلال اور خبیب ہی کیا کم تھے، اب عامر بھی ان میں شامل ہے۔ عامر کی جرأت نے قلم اور زبان کی وہ بندشیں بھی کھول دی ہیں جو حالات کی نزاکت کا حوالہ دے کر ہم نے اپنے اوپر لاگو کر لی تھیں۔ اب پھر مرنے مارنے کی باتیں کھلم کھلا ہونے لگی ہیں۔ حکومت اس تشدد، انتہا پسندی اور دہشت گردی کو روکنا چاہتی ہے تو اپنے آقاؤں کی خدمت میں سنجیدگی سے عرض کرے کہ وہ اس کمینگی سے باز آ جائیں۔ ورنہ یہ آگ بہت تیزی سے پھیلتی نظر آتی ہے۔

صفحہ ١٥٨

مولانا محمد اسلم شیخوپوری

قوم سلام کرتی ہے

مغربی اخبارات میں پے در پے سید البشر ﷺ کے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت ”روشن خیال اور اعتدال پسند“ صحافیوں کے بغض و عناد کا کھلم کھلا اظہار، دل و دماغ میں بھری ہوئی گندگی کا اُبال۔ مسلمانان عالم کی بے بسی، تلملاہٹ اور بے چینی، کوئی دھاڑیں مار کر رویا، کسی نے چھپ چھپ کر آنسو بہائے۔ کسی نے جلوس منظم کیا، کسی نے گستاخ ممالک کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا۔ کسی کا سینہ مسلمان سپاہیوں کی گولیوں سے چھلنی ہو گیا، کوئی حوالۂ زنداں ہوا اور ہزاروں تھے جنھوں نے مناسب موقع کی تلاش میں چپ سادھ لی۔ اٹھائیس سالہ عامر چیمہ بھی ان ہزاروں میں سے ایک تھا۔ وہ ایم ایس سی کرنے کے لیے جرمنی گیا تھا۔ روشن مستقبل اس کے سامنے تھا۔ دنیا کا بھی اور آخرت کا بھی! مگر اس نے اُس جہاں کے مستقبل کو اس جہاں کے مستقبل پر ترجیح دی۔ اس نے جب حبیب کبریا ﷺ کے خاکے دیکھے ہوں گے، ضرور تڑپا ہوگا، پھوٹ پھوٹ کر رویا ہوگا، بے قراری میں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھے ہوں گے۔ کئی راتیں آنکھوں ہی آنکھوں میں کٹ گئی ہوں گی، کھانا حلق سے بمشکل اُترتا ہوگا۔ تین سراپا انتظار بہنوں کی جوانی اور والدین کا بڑھاپا سوالیہ نشان بن کر سامنے آیا ہوگا، جو ان کے ادھورے خوابوں اور جرمنی کے کوچۂ و بازار کی مادی چکا چوند نے بھی اقدام سے باز رکھنا چاہا ہوگا، پھر کشتگانِ عشقِ رسالت کی ایمان افروز داستانیں یاد آئی ہوں گی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ خواب میں چہرۂ انور کی زیارت ہو گئی ہو اور محسن اعظم ﷺ نے سوال کیا ہو عامر! کیا میری توہین کے باوجود پوری امت چین کی نیند سوتی رہے گی؟ کوئی نہیں جو میری ناموس پر جان کی بازی لگا دے اور پوری امت کی طرف سے فرض کفایہ ادا کر دے؟

قوم ہاشمی اپنی ترکیب میں دوسری اقوام سے بالکل الگ ہے۔ دوسری قومیں انبیا کی

صفحہ ١٥٩

توہین، استہزا اور ایذا کو گوارا کر لیتی ہیں لیکن یہ قوم گوارا نہیں کرتی۔ جہاں تک سرور دو عالم ﷺ کا تعلق ہے، امت اسلامیہ آپ کی ذات ہی سے نہیں، آپ کے شہر و مسکن، اس کے گلی کوچوں، آپ کی سواری، آپ کے اصحاب، آپ کی ازواج اور آپ کے نام و نسب سے بھی بے پناہ محبت رکھتی ہے۔ صرف اسم محمد ﷺ ہی سے مسلمانوں کی محبت کو دیکھنا ہو تو یہ پہلو پیش نظر رکھیے کہ وہ اپنی اولاد کے لیے سب سے زیادہ اس نام کا انتخاب کرتے ہیں۔ ایسوں کی بھی کمی نہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے ایک سے زیادہ بیٹے عطا کیے اور انھوں نے سب کا نام محمد رکھ دیا۔ ہمارے قریب کے زمانے میں عالم اسلام کی معروف شخصیت حضرت مولانا علی میاں صاحب نور اللہ مرقدہ کے برادر بزرگ ڈاکٹر عبدالعلی رحمۃ اللہ کی چار اولادیں تھیں سب کے نام آقا ﷺ کے مبارک نام پر تھے۔

ہمارے ایک معاصر اور فاضل دوست کے کئی بیٹے ہیں ان سب کے نام ”محمد“ سے مشتق ہیں یعنی محمد، احمد، حماد، محمود، حمید....... یہ ناچیز کبھی کبھی مذاق میں انھیں ”مشتقاتِ محمد“ کہہ دیا کرتا ہے۔ ہارون رشید کے نو بیٹوں کا نام ”محمد“ تھا۔ ایسے خوش نصیب تو بے شمار ہیں جن کی چار پانچ پشتوں تک مسلسل اسم محمد ہے۔ ایک ایسے راوی کا ذکر بھی کتابوں میں ملتا ہے جس کے سلسلہ نسب میں مسلسل سات پشتوں تک کے آباء و اجداد کا نام محمد ہے اور اس سے بھی زیادہ عجیب شیخ امین الدین ایمن بن محمد کا سلسلہ نسب ہے کہ چودہ پشتوں تک ان کے آباء و اجداد کا نام محمد بیان کیا جاتا ہے۔ ان صاحب نے اپنا نام ”عاشق النبی“ رکھ لیا تھا چنانچہ انھیں اسی نام سے پکارا جاتا تھا۔

عامر نذیر چیمہ کا نام تو ”عاشق النبی“ نہ تھا لیکن اس کا دل عشق رسالت سے یقیناً معمور تھا۔ یہ عشق ہی تھا جس نے عامر کے لیے اپنی جوانی، دنیاوی مستقبل اور مادی رشتے داؤ پر لگانا آسان کر دیا۔ اس کے بس میں ہوتا تو وہ گستاخی کے مرتکب ایڈیٹر کا بھیجا آتشیں اسلحہ سے اڑا دیتا لیکن اسے صرف ایک خنجر میسر آسکا۔ وہ یہ خنجر لے کر ہی جرمن اخبار ”ڈائیولٹ“ کے ایڈیٹر پر حملہ آور ہو گیا۔ ایڈیٹر زخمی ہو گیا اور عامر کو گرفتار کر لیا گیا۔ شہادت سے قبل وہ 44 دن تک جیل میں رہا۔ کوئی نہیں جانتا کہ ان 44 دنوں میں اس پر کیا گزری۔ اب اس کی شہادت کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ ناممکن ہے کہ جس نوجوان نے حصولِ مغفرت و شفاعت کے لیے اپنی جان کو خطرے میں ڈالا ہو وہ خودکشی جیسے حرام عمل کا

صفحہ ١٦٠

ارتکاب کرے۔ غیروں سے شکوہ کیا کرنا اپنوں کا حال یہ ہے کہ وہ شہید ناز کی تدفین کا انتظام اس انداز میں کر رہے ہیں کہ غلامان مصطفیٰ ﷺ اس میں کم سے کم شریک ہوسکیں۔ یقین ہے کہ اگر کسی جیالے نے ارباب اقتدار میں سے کسی کی خاطر جان قربان کی ہوتی تو اس کا جنازہ عامر کے جنازے سے زیادہ دھوم دھام سے اٹھایا جاتا مگر وہ شخصیت جو مدینہ منورہ میں محو استراحت ہونے کے باوجود پوری دنیا کے مسلمانوں کے دلوں پر حکومت کر رہی ہے، اس کے عاشق کا جنازہ اخفا کے ساتھ ادا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حکمرانوں کی حرکتیں اور کوششیں اپنی جگہ پر لیکن جہاں تک قوم کا تعلق ہے تو اس کے دل غازی عامر کے والدین کے ساتھ دھڑک رہے ہیں۔ پوری قوم سلام کرتی ہے ان والدین کو جن کی تربیت نے اپنے نونہال کے رگ و ریشہ میں عشق رسالت کا نور بھر دیا۔ ان بہنوں کو جن کا اکلوتا بھائی ناموس رسالت پر قربان ہو گیا مگر وہ اس کی شہادت پر فخر اور خوشی محسوس کرتی ہیں۔ ان ہاتھوں کو جو ایک گستاخ کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے حرکت میں آئے، اس جسد خاکی کو جسے شہادت کی خلعت فاخرہ پہننا نصیب ہوئی، اس خاندان کو جس کے ایک فرد نے سرفروشی کے فسانوں میں ایک خوبصورت اضافہ کر دیا اور سلام اس صاحب خلق عظیم ﷺ پر جن کی محبت کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے اور جن کی عظمت پر کٹ مرنے کو آج بھی ہر مسلمان بہت بڑی سعادت سمجھتا ہے۔ بقول حضرت ماہر القادری مرحوم ؎

سلام اُس پر کہ جس کے نام لیوا ہر زمانے میں
بڑھا دیتے ہیں ٹکڑا سرفروشی کے فسانے میں
سلام اس پر کہ جس کے نام کی عظمت پہ کٹ مرنا
مسلماں کا یہی ایماں، یہی مقصد، یہی شیوا
صفحہ ١٦١

مولانا زاہد الراشدی

عامر چیمہ کی شہادت

عامر چیمہ کی شہادت نے وہ زخم ایک بار پھر تازہ کر دیے ہیں جو یورپ کے بعض اخبارات میں جناب نبی اکرم ﷺ کے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر مسلمانان عالم کے دلوں پر لگ گئے تھے اور مسلمانوں نے احتجاج اور جذبات کے پُر جوش اظہار کے ساتھ ان زخموں پر کسی حد تک مرہم رکھ لی تھی مگر عامر چیمہ کی جرمن پولیس کی حراست میں المناک موت نے ان زخموں کو پھر سے ہرا کر دیا اور ان زخموں سے ٹیسیں ایک بار پھر اٹھنے لگی ہیں۔ عامر چیمہ کا تعلق ضلع گوجرانوالہ کے ایک گاؤں ساروکی چیمہ سے ہے اور اس کے والد پروفیسر نذیر چیمہ محکمہ تعلیم میں استاذ رہے ہیں، عامر چیمہ تعلیم کے لیے جرمنی گیا ہوا تھا، توہین رسالت پر مشتمل کارٹونوں کی اشاعت پر دوسرے مسلمانوں کی طرح اس کے جذبات بھی مجروح ہوئے اور موقع ملنے پر اس نے ان جذبات کا عملی اظہار بھی کر دیا جو اس کی غیرت ایمانی کا تقاضا تھا۔ اس نے گستاخانہ خاکے شائع کرنے والے ایک اخبار کے مدیر پر حملہ کر دیا جس سے وہ زخمی ہوا۔ اس کی پاداش میں عامر چیمہ کو گرفتار کر لیا گیا اور اب بتایا گیا ہے کہ پولیس کی حراست میں اس کی موت واقع ہو گئی ہے جس کے بارے میں جرمنی کی پولیس کا कहना ہے کہ اس نے خود کشی کر لی ہے۔ عامر چیمہ کے والد پروفیسر نذیر چیمہ نے خودکشی کی بات کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے اور اخباری بیانات کے مطابق انھوں نے کہا ہے کہ انھیں اپنے بیٹے پر فخر ہے کہ اس نے جناب نبی اکرم ﷺ کے ساتھ اپنی محبت کا عملی اظہار کیا اور بالآخر اپنی جان بھی نچھاور کر دی۔ لیکن وہ یہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ ان کے بیٹے نے خود کشی کی کیونکہ وہ ایسا کر ہی نہیں سکتا تھا۔ اخبارات میں سامنے آنے والی قیاس آرائیوں کے مطابق عمومی طور پر یہی سمجھا جا رہا ہے کہ عامر چیمہ کی ہلاکت جرمن پولیس کے تشدد سے ہوئی ہے اور اس پر پردہ ڈالنے

صفحہ ١٦٢

کے لیے اسے خودکشی کا رنگ دیا جا رہا ہے۔ جہاں تک حرمت رسول پر کٹ مرنے اور جناب نبی اکرم ﷺ کے ناموس پر جان قربان کر دینے کا تعلق ہے یہ کسی بھی مسلمان کے لیے معراج سے کم نہیں ہے اور موقع آنے پر کوئی بھی مسلمان اس سے گریز کرنے کے لیے تیار نہیں ہوگا، لیکن یہ قربانی خودکشی کی صورت میں نہیں ہو سکتی اور عامر چیمہ کی شہادت کو خودکشی قرار دینے والے اس سلسلے میں مسلمانوں کی نفسیات اور جذبات سے ناواقفیت کا ثبوت دے رہے ہیں۔ جناب نبی اکرم ﷺ کی ذات گرامی کے ساتھ مسلمانوں کا جذباتی تعلق مغرب کی سمجھ میں آنے والا نہیں ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مغرب نے اپنے سر سے خدا، رسول اور مذہب و کتاب کا بوجھ (وہ اسے بوجھ ہی سمجھتے ہیں) کب سے اتار رکھا ہے۔ اس لیے یہ تعلق بھی مغرب والوں کی سمجھ سے بالاتر ہے لیکن مسلمان تو اسے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز سمجھتے ہیں اور ایک لمحہ کے لیے بھی اس سے دست بردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

ایک مسلمان جب نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتا ہے تو اس کے ذہن میں یہ تصور نہیں ہوتا کہ وہ مجبوراً ایسا کر رہا ہے یا اسے ایسا نہ کرنا پڑے تو زیادہ بہتر ہو۔ مسلمان تو اس سعادت کو اپنی خوش نصیبی تصور کرتا ہے۔ اس کی ایک جھلک دور نبی کے ایک واقعہ میں دیکھی جا سکتی ہے کہ ایک نوجوان انصاری صحابی حضرت حبیب بن زید مسیلمہ کذاب کی قید میں تھے، مسیلمہ کے بھرے دربار میں انھیں ایک مجرم کے طور پر پیش کیا گیا۔ مسیلمہ نے ان سے سوال کیا کہ تم حضرت محمد ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا رسول مانتے ہو؟ حضرت حبیب بن زید نے جواب دیا کہ ہاں میں ایمان رکھتا ہوں کہ حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ مسیلمہ نے پھر سوال کیا کہ کیا تم مجھے بھی اللہ تعالیٰ کا رسول تسلیم کرتے ہو؟ اس کا سادہ سا جواب یہ بھی ہو سکتا تھا کہ میں تمھیں اللہ کا رسول نہیں مانتا لیکن اتنے سے جواب سے اس نوجوان صحابی کے جذبات کی تسکین نہیں ہو رہی تھی۔ اس لیے حضرت حبیب بن زید نے جواب میں کہا کہ ”ان فی اذنی صمما عن سماع ما تقول۔“

میں نے کئی بار اس جملے کے ترجمے کی کوشش کی ہے لیکن اس کا ایسا ترجمہ کرنے میں آج تک کامیاب نہیں ہو سکا جس سے اس جملے کے قائل کے جذبات کی صحیح ترجمانی ہو سکتی ہو۔ اس لیے عام طور پر اس محاورے کا ترجمہ کر دیا کرتا ہوں کہ ”میرے کان تمہاری یہ بات

سننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔“ مؤرخین نے لکھا ہے کہ اس جوا کا دایاں بازو کاٹ دیا جائے۔ بازو کے ک حضرت حبیب بن زید کا جواب وہی تھا ج رحمہ اللہ نے ”الاستیعاب“ میں لکھا ہے ک دونوں ٹانگیں ایک ایک کر کے کاٹ دی گ حبیب بن زید کا سر کاٹنے کا حکم دیا گیا تو کان جناب نبی اکرم ﷺ کے بغیر کسی اور ہیں۔ مسلمان جب نبی اکرم ﷺ کی حرم معذرت خواہانہ نہیں بلکہ والہانہ ہوتا ہے ا رسالت مآب ﷺ کی بارگاہ میں اپنی جا ہے، اس قسم کے سینکڑوں واقعات اسلا کسی مسلمان کو یہ علم ہوا کہ اس کی جان ج جا رہی ہے تو اس کے جذبات میں ہلچل یکدم زمین سے جنت کی فضاؤں کی طرف

ماضی قریب میں غازی علم دی مصنف راج پال کو جناب نبی اکرم ﷺ کے مقدمہ چلایا گیا تو اسے ملک کے ج ”جرم“ سے انکار کر دے تو اس کے خلا پھانسی دی جاسکے۔ اس لیے اس کی جا اندازہ نہیں تھا کہ انکار ”جرم“ سے کیا جا کیا تھا بلکہ وہ اسے اپنا فریضہ تصور کرتا تھ کیا کرتا۔ اس لیے عامر چیمہ کے بار اس نے خودکشی کی ہے اور اگر اس ۔ کارروائی ہی نہ کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ نہ

صفحہ ١٦٣

سننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔“ مؤرخین نے لکھا ہے کہ اس جواب پر مسیلمہ کذاب نے جلاد کو حکم دیا کہ اس نوجوان کا دایاں بازو کاٹ دیا جائے۔ بازو کے کٹ جانے کے بعد پھر مسیلمہ کذاب نے سوال کیا تو حضرت حبیب بن زید کا جواب وہی تھا جس پر بایاں بازو بھی کاٹ دیا گیا۔ حافظ ابن عبدالبر رحمۃ اللہ نے ”الاستیعاب“ میں لکھا ہے کہ ”اس باغیرت انصاری صحابی کے دونوں بازو اور دونوں ٹانگیں ایک ایک کر کے کاٹ دی گئیں مگر اس کا جواب وہی رہا حتیٰ کہ جب آخر میں حبیب بن زید کا سر کاٹنے کا حکم دیا گیا تو اس وقت بھی ان کی زبان پر یہی جملہ تھا کہ میرے کان جناب نبی اکرم ﷺ کے بغیر کسی اور شخص کے لیے نبوت کا لفظ سننے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں۔ مسلمان جب نبی اکرم ﷺ کی حرمت اور ناموس پر جان قربان کرتا ہے تو اس کا انداز معذرت خواہانہ نہیں بلکہ والہانہ ہوتا ہے اور وہ اسے اپنی موت نہیں بلکہ حیات جاودانی سمجھ کر رسالت مآب ﷺ کی بارگاہ میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا کرتا ہے۔ یہ صرف ایک جھلک ہے، اس قسم کے سینکڑوں واقعات اسلامی تاریخ کے صفحات میں بکھرے ہوئے ہیں کہ جب کسی مسلمان کو یہ علم ہوا کہ اس کی جان جناب نبی اکرم ﷺ کے ناموس اور عزت کی خاطر لی جا رہی ہے تو اس کے جذبات میں ہلچل مچ جاتی ہے۔ چہرے پر بشاشت آ جاتی ہے اور وہ یکدم زمین سے جنت کی فضاؤں کی طرف پرواز کرنے لگتا ہے۔

ماضی قریب میں غازی علم دین شہید کا واقعہ کس کے علم میں نہیں ہے جس نے ہندو مصنف راج پال کو جناب نبی اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی پر جہنم رسید کیا۔ اسے گرفتار کر کے مقدمہ چلایا گیا تو اسے ملک کے چوٹی کے قانون دانوں نے مشورہ دیا کہ اگر وہ اپنے ”جرم“ سے انکار کر دے تو اس کے خلاف ایسی کوئی گواہی موجود نہیں ہے جس کی بنیاد پر اسے پھانسی دی جا سکے۔ اس لیے اس کی جان بچ سکتی ہے لیکن مشورہ دینے والوں کو اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ انکار ”جرم“ سے کیا جاتا ہے اور غازی علم دین نے یہ کام ”جرم“ سمجھ کر نہیں کیا تھا بلکہ وہ اسے اپنا فریضہ تصور کرتا تھا۔ اور کوئی فرض شناس اپنے ”فرض“ سے کبھی انکار نہیں کیا کرتا۔ اس لیے عامر چیمہ کے بارے میں یہ کہنا کسی طرح بھی درست نہیں سمجھا جا سکتا کہ اس نے خودکشی کی ہے اور اگر اس نے خودکشی کرنا ہوتی تو وہ گستاخ رسول ایڈیٹر پر حملہ کی کارروائی ہی نہ کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف عامر چیمہ کے والد پروفیسر نذیر چیمہ بلکہ ملک کی

صفحہ ١٦٤

دینی قیادت بھی اسے خودکشی کا کیس ماننے کے لیے تیار نہیں۔ چنانچہ اس سلسلے میں متحدہ مجلس عمل کے رہنماؤں قاضی حسین احمد اور مولانا فضل الرحمن اور دیگر دینی جماعتوں کے قائدین نے بالکل صحیح موقف اختیار کیا ہے اور خودکشی کے موقف کو مسترد کر کے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنا کردار صحیح طریقہ سے ادا کرے اور جرمن حکومت کو اس بات پر آمادہ کرے کہ وہ صحیح صورت حال اور حقائق تک رسائی کے مواقع فراہم کر کے دنیا کو اصل واقعات سے آگاہ کرے۔

عامر چیمہ کی شہادت نے توہین رسالت کے کیس کو پھر سے زندہ کر دیا ہے اور دینی حلقے اس سلسلے میں رفتہ رفتہ منظم ہو رہے ہیں۔ البتہ حکومت پاکستان کا موقف اور ضروری عمل سمجھ میں نہیں آ رہا، اس لیے کہ توہین رسالت کے معاملات سے قطع نظر بھی ایک پاکستانی نوجوان کی جرمن پولیس کی تحویل میں ہلاکت ایسا مسئلہ نہیں ہے جسے آسانی سے ہضم کیا جا سکے۔ یہ واقعہ کسی مسلمان ملک میں کسی مغربی ملک کے باشندے کے ساتھ پیش آیا ہوتا تو اب تک نہ جانے کیا کچھ ہو چکا ہوتا مگر نہ حکومت پاکستان ٹس سے مس ہو رہی ہے اور نہ ہی مغربی حکومتیں بالخصوص جرمنی کی حکومت اس سلسلہ میں اپنی اخلاقی اور قانونی ذمہ داریوں کا احساس کر رہی ہے۔ اس لیے ملک کی دینی و سیاسی جماعتوں کو ایک بار پھر تحفظ ناموس رسالت کے لیے عوامی جذبات کو منظم کرنا ہو گا اور عوامی دباؤ کے ذریعے حکومت کو مجبور کرنا ہو گا کہ وہ اپنی اخلاقی اور قانونی ذمہ داریوں کا احساس کرے اور عامر چیمہ کی شہادت کے پس پردہ حقائق کو بے نقاب کرتے ہوئے اس کی تلافی کے لیے عوامی جذبات کی پاسداری کا اہتمام کرے۔

۞ ۞ ۞

صفحہ ١٦٥

محسن فارانی

ایک مظلوم پاکستانی کی شہادت

نبی کریم ﷺ کے گستاخانہ خاکے شائع کرنے والے جرمن اخبار ”ڈائی ویلٹ“ کے ایڈیٹر پر حملے کے الزام میں گرفتار پاکستانی طالب علم عامر عبدالرحمن چیمہ کو، جسے جرمن پولیس کی حراست میں شہید کر دیا گیا تھا، وسط مئی میں ساروکی ضلع گوجرانوالہ میں کم و بیش پانچ لاکھ افراد نے آنسوؤں اور آہوں کے ساتھ سپرد خاک کر دیا اور ایک بار پھر مغرب کے صلیبیوں پر یہ بات آشکار کر دی کہ مسلمان اپنی جانیں تو قربان کر سکتے ہیں، مگر اپنے نبی مکرم ﷺ کی توہین کسی طرح برداشت نہیں کر سکتے۔

حقیقت یہ ہے کہ امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا اور یورپ اسلام کے حوالے سے نہایت متعصب اور جنونی (Fanatic) ہو چکے ہیں۔ مغرب کی رواداری، مذہبی آزادی اور سیکولرازم کے دعووں کا مصنوعی لبادہ اتر چکا ہے۔ اس کا ایک اور ثبوت آسٹریا، جرمنی اور ہالینڈ کی نئی امیگریشن پالیسیوں سے بھی ملتا ہے۔ آسٹریا اور جرمنی نے ان ملکوں کی شہریت حاصل کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے جرمن زبان کے ٹیسٹ کے ساتھ ساتھ ایک اور تحریری ٹیسٹ پاس کرنا بھی لازم قرار دیا ہے، جس میں وہاں کی ثقافت، تاریخ اور مروجہ سیاسی نظام کے بارے میں سوالات ہوں گے۔ اصولاً ایسے ٹیسٹ پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے، مگر بات محض اتنی نہیں۔ ہالینڈ نے زبان کے علاوہ ایک اضافی ٹیسٹ کے ساتھ ساتھ ایک ویڈیو دیکھنے کی شرط بھی عائد کر دی ہے۔ یہ فلم مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے اور مسلم خواتین کی توہین کرنے کے مترادف ہے۔ اسے دیکھنے کی شرط لگانے کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ”ہر امیدوار کو یہ معلوم ہو جائے کہ جس ملک کی شہریت وہ حاصل کرنا چاہتا ہے، وہ ایک آزاد اور خود مختار لبرل

صفحہ ١٦٦

ملک ہے اور اسے خود کو اس ملک کے ماحول کے مطابق زندگی گزارنی ہوگی‘‘...... اس ویڈیو فلم میں ہم جنس پرستی اور برہنہ خواتین کے مناظر بھی دکھائے گئے ہیں۔ یہ صریحاً مسلمانوں کو اشتعال دلانے والی حرکت ہے۔

جرمن حکومت نے شہریت کے حصول کے خواہشمندوں کے لیے جو دو سو سوال مرتب کیے ہیں، ان میں سے ایک سوال یہ بھی ہے: ”اسرائیل کے وجود کے حق میں نظریے کے بارے میں کچھ بتائیں۔“ ظاہر ہے اس سوال کا مقصد مسلمانوں کی سوچ کا اندازہ لگانا ہے کہ وہ اسرائیل کو (اس کی تمام تر ظالمانہ اور خونریز پالیسیوں کے ساتھ) برداشت اور تسلیم کرنے پر تیار ہیں یا اسے سر زمین فلسطین پر مغرب کی مدد سے قائم ہونے والی غاصب ریاست سمجھتے ہیں، جس نے لاکھوں فلسطینیوں کو شہید کیا ہے، انھیں بے گھر کیا ہے، حتیٰ کہ جون 1967ء میں چھینے گئے عرب علاقوں میں بھی یہودی بستیاں بسالی ہیں، اور مزید فلسطینی علاقے غصب کرنے کے لیے اسرائیل کی نئی سرحدیں قائم کرنے کے اعلانات کیے جارہے ہیں۔ یہ اس جرمنی کا حال ہے جو دوسری جنگ عظیم کے بعد کئی عشروں تک اسرائیل کو اربوں ڈالر تاوان دے کر اسرائیل کے استحکام میں حصہ لیتا رہا ہے۔

ادھر توہین آمیز خاکے چھاپنے والے ڈینش اخبار ڈیلینڈز پوسٹن نے مسلم تنظیموں کے ایک گروپ کی نمائندگی کرنے والے وکیل مائیکل کرسٹیانی ہیومین کے خلاف ازالہ حیثیت عرفی کا مقدمہ دائر کیا ہے، جبکہ کرسٹیانی ہیومین نے مسلمانوں کی طرف سے مذکورہ اخبار کے خلاف مقدمہ دائر کر رکھا ہے، جس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اخبار کے ٹاپ ایڈیٹرز نے ایک کارٹونسٹ کو حکم دیا کہ ”سوچ سمجھ کر حضرت محمد ﷺ کا ایک توہین آمیز خاکہ بناؤ، کیونکہ فری لانس آرٹسٹوں کے بنائے ہوئے خاکے زیادہ توہین آمیز نہیں۔“ ڈیلینڈز پوسٹن کے ایڈیٹر ان چیف کارسٹن جسٹے کا کہنا ہے کہ ”ہیومین کے الزامات اتنے شرمناک اور توہین آمیز ہیں کہ وہ اس حد کو پار کر گئے ہیں جو ہمارے لیے قابلِ قبول ہے۔“

اسلام اور پیغمبرِ اسلام کے حوالے سے اندھے تعصب میں مبتلا کارسٹن جسٹے کو اپنی ”حیثیت عرفی“ کی تو اتنی فکر لاحق ہوگئی ہے، مگر اس بدبخت عیسائی (یا یہودی) کو ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے مقتدا و پیشوا کے روشن کردار کی توہین کرتے وقت ذرا سی شرم بھی محسوس نہ ہوئی

صفحہ ١٦٧

صول کے مطابق زندگی گزارنی ہوگی“...... اس ویڈیو فلم مناظر بھی دکھائے گئے ہیں۔ یہ صریحاً مسلمانوں کو

کے حصول کے خواہشندوں کے لیے جو دو سو سال مایہ بھی ہے: ”اسرائیل کے وجود کے حق میں نظریے س سوال کا مقصد مسلمانوں کی سوچ کا اندازہ لگانا ہے نہ اور خونریز پالیسیوں کے ساتھ) برداشت اور تسلیم طین پر مغرب کی مدد سے قائم ہونے والی غاصب ستیوں کو شہید کیا ہے، انھیں بے گھر کیا ہے، حتیٰ کہ میں بھی یہودی بستیاں بسائی ہیں، اور مزید فلسطینی اقی سرحدیں قائم کرنے کے اعلانات کیے جا رہے جنگ عظیم کے بعد کئی عشروں تک اسرائیل کو اربوں حصہ لیتا رہا ہے۔

والے ڈینش اخبار جیلینڈز پوسٹن نے مسلم تنظیموں وکیل مائیکل کرسٹیانی ہیومین کے خلاف ازالہء حیثیت مین نے مسلمانوں کی طرف سے مذکورہ اخبار کے بھی کہا گیا ہے کہ اخبار کے ٹاپ ایڈیٹرز نے ایک محمد ﷺ کا ایک توہین آمیز خاکہ بناؤ، کیونکہ فری توہین آمیز نہیں ۔“ جیلینڈز پوسٹن کے ایڈیٹر ان الزامات اتنے شرمناک اور توہین آمیز ہیں کہ وہ قبول ہے۔“

سے اندھے تعصب میں مبتلا کارٹونسٹ جسٹے کو اپنی مگر اس بدبخت عیسائی (یا یہودی) کو ڈیڑھ ارب توہین کرتے وقت ذرا سی شرم بھی محسوس نہ ہوئی

اور وہ تمام حدیں پار کر گیا، جو دوسرے مذاہب اور ان کی مقدس ہستیوں کا احترام کرنے کے حوالے سے دنیا بھر میں مسلم ہیں۔ یہی نہیں کارٹونسٹ جسٹے نے ایک بار پھر ”عذر گناہ بدتر از گناہ“ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ازالہ حیثیت عرفی کی درخواست میں لکھا ہے: ”کارٹونسٹوں سے واضح طور پر کہا گیا تھا کہ وہ محمد (ﷺ) کو جیسے دیکھتے ہیں، اسی طرح پیش کریں۔ اس سلسلے میں انھیں اخبار کی طرف سے کوئی ہدایات نہیں دی گئی تھیں، اور کارٹونوں کا مقصد آرٹسٹوں کے از خود لاگو کیے ہوئے سنسر شپ کو چیلنج کرنا تھا، جو اسلام کو مشتعل کرنے سے ڈرتے ہیں ۔“ اخبار نے مسلم تنظیموں کے وکیل کے بیان کو غلط قرار دینے اور ان سے 16800 ڈالر ہرجانہ دلوانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ڈینش ایڈیٹر کی یہ دریدہ دہنی اور بدباطنی دراصل دنیائے مغرب میں اٹھنے والی اس لہر کا شاخسانہ ہے، جو نائن الیون کے سانحہ اور پہلے افغانستان اور پھر عراق پر امریکی حملے کے زیر اثر اٹھی ہے۔ مغرب کے یہود و نصاریٰ عالم اسلام پر صلیبی وصیہونی جذبوں کے ساتھ حملہ آور ہو چکے ہیں اور مسلمانوں کو طرح طرح سے اشتعال دلانے، ان کی مقدس ہستیوں کی توہین کرنے اور ان کے عزت و وقار کو ٹھیس پہنچانے کے درپے ہیں۔ جرمنی جو بڑی رواداری اور مذہبی وفکری آزادیوں کا ملک شمار ہوتا رہا ہے، وہاں ایک پاکستانی طالب علم کی پرتشدد ہلاکت بہت تشویشناک ہے۔ 5 مئی کو پاکستان کی قومی اسمبلی کے چار ارکان بختیار معانی، عنایت بیگم اور سمیعہ راحیل قاضی (ایم ایم اے) اور یاسمین رحمٰن (پی پی پی پارلیمنٹرین) نے ایوان میں تحریک التوا پیش کی کہ عامر چیمہ کو جرمنی کی پولیس نے توہین رسالت کے خلاف مظاہرے میں گرفتار کیا تھا اور اسے تشدد کا نشانہ بنا کر جیل میں قتل کر دیا گیا ہے۔ ادھر عامر چیمہ کے والد پروفیسر نذیر چیمہ نے کہا کہ میرا بیٹا سچا عاشق رسول ﷺ تھا، میں نہیں سمجھتا کہ وہ خودکشی کر سکتا تھا۔ ایک خبر کے مطابق زیر حراست عامر چیمہ کے سامنے جب ایک جرمن پولیس افسر نے نبی کریم ﷺ کی شان میں انتہائی نازیبا الفاظ کہے تو ہتھکڑی لگے عامر نے نفرت سے اس کے منہ پر تھوک دیا۔ ظاہر ہے اس کے بعد وحشی جرمنوں نے نبی اکرم ﷺ کے اس فدائی پر اس قدر تشدد کیا کہ اس کی پاک روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔

یہ سمجھنا درست نہیں کہ ڈینش اخبار میں نبی کریم ﷺ کے توہین آمیز خاکوں کی

صفحہ ١٦٨

اشاعت محض چند لوگوں کی شرارت تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ ان اشتعال انگیز خاکوں کی پہلے ڈنمارک میں اور پھر یکے بعد دیگرے دوسرے یورپی ممالک اور کینیڈا وغیرہ میں اشاعت ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے۔ ایک امریکی دانشور گریفن ٹارپلے کے مطابق ان خاکوں کی اشاعت کا فیصلہ نیو آئی کون اور بائیلڈر برجر گروپ کے 5 تا 6 مئی 2005ء کے خفیہ اجلاس میں کیا گیا تھا، جسے ڈنمارک کے اخبار ڈیلینڈز پوسٹن نے عملی جامہ پہنا دیا، جس کے آرٹ ایڈیٹر فلیمنگ روز انتہائی متعصب اور اسلام دشمن صلیبی ہیں۔ وہ گوروں کی حاکمیت پر یقین رکھنے والی ایک ایسی تنظیم سے تعلق رکھتے ہیں جو امریکی برتری کی علامت میکارتھی ازم کے خطوط پر کام کرتی ہے۔ ڈیلینڈز پوسٹن کی منتظم اعلیٰ ایک خاتون میریٹی ایلڈرپ ہیں، جن کے شوہر اینڈریس ایلڈرپ ڈنمارک کی آئل اینڈ گیس کمپنی کے چیئرمین اور برجر گروپ کے پچھلے پانچ برسوں سے سرگرم رکن ہیں۔

نیو آئی کون اور برجر گروپ کا مذکورہ مشترکہ اجلاس ریاست بویریا (جرمنی) میں جھیل ٹیگرینسی کے کنارے واقع ڈورنٹ سوفی ٹیل سی ہوٹل میں ہوا تھا۔ اس اجلاس کے شرکاء میں اینڈریس ایلڈرپ کے علاوہ نیو آئی کون فاشسٹ مائیکل لیڈین، صدر بش کے فکری گورو رچرڈ پرل اور ولیم لوٹی جو عراق پر حملے کے زبردست حامی تھے، نیدرلینڈ (ہالینڈ)، بلجیم اور سپین کے تاجدار، نیٹو کے سیکرٹری جنرل جاپ ہوپ ڈی شیفر، امریکی سیٹھ روکی فیلر، یہودی ادارے روتھ شیلڈ انٹرنیشنل کے بنکار اور سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر (یہودی) بھی شامل تھے۔ بائیلڈر برجر گروپ دوسری عالمی جنگ (1939ء تا 1945ء) کے بعد برطانوی شہزادہ فلپس (ملکہ الزبتھ کے شوہر نامدار) اور ڈچ شہزادہ برنہارڈ نے قائم کیا تھا۔ یہ ایک خفیہ گروپ ہے، جس کے اجلاسوں میں مغرب کے مالدار اور مقتدر لوگ امریکہ و برطانیہ کی قیادت میں ملتے ہیں۔

یہ خیال کرنا بھی درست نہیں کہ ڈنمارک کوئی آزادی اظہار رائے کا علمبردار ملک ہے۔ درحقیقت ڈنمارک پچھلی دو صدیوں سے برطانیہ کا پٹھو چلا آ رہا ہے، جس کی انٹیلی جنس ”پیٹ“ (PET) پر سخت کنٹرول رکھتی ہے اور وہ بادشاہی نظام اور مغرب کی جھوٹی اور تنگ انسانی اقدار کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب فلیمنگ روز نے اپنی شیطانی حرکت کو جواز فراہم کرنے اور اپنی غیر جانبداری کے جھوٹے اظہار کے لیے مفسدانہ یہودی نظریے

صفحہ ١٦٩

’ہولو کاسٹ‘ کے بارے میں کارٹون شائع کرنے کا اعلان کیا تو خفیہ ہاتھوں نے اسے چھٹیوں پر بھیج دیا۔ یاد رہے ہولو (Holo) کا مطلب ہے Whole (تمام) اور کاسٹ (Caust) کے معنی ہیں ’جلے ہوئے‘ (جیسے کاسٹک سوڈا انسانی جلد کو جلا دیتا ہے) یہودیوں نے پروپیگنڈے کے بل پر دنیا بھر میں یہ جھوٹ پھیلایا کہ ہٹلر کے نازی جرمنی میں 60 لاکھ یہودیوں کو نظر بندی کیمپوں کی بھٹیوں میں جلا دیا گیا تھا تاکہ وسائل کی کمی کے پیش نظر ان کی چربی اور فاسفورس کے حصول کے لیے ہڈیاں کام آسکیں۔ اب تمام مغرب یہودیوں کی ہمدردی میں ان کے اس جھوٹے نظریے پر اس طرح ایمان رکھتا ہے، جیسے یہ کوئی بائبل کا بیان ہو، حتیٰ کہ بعض یورپی ممالک نے تو یہودیوں کی فرمانبرداری میں ہولو کاسٹ کو جھٹلانا یا 60 لاکھ کی تعداد کو کم بتانا جرم قرار دے رکھا ہے۔ ایک برطانوی مؤرخ نے 60 لاکھ کو مبالغہ آمیز کہا تو آسٹریا کے یہود نواز قانون نے اسے گرفتار کر کے تین سال کے لیے جیل بھیج دیا ہے۔ یہ مغرب میں آزادی فکر واظہار کی موت کے مترادف ہے!

صفحہ ١٧٠

سید محمد معاویہ بخاری

قصر ابد کے طاق میں اک اور شمع جل گئی

کئی دنوں سے طبعی اضمحلال نے اس طرح جکڑ رکھا تھا کہ معمولات صرف ضروریات تک محدود ہو کر رہ گئے تھے۔ دو ہفتوں کی تھکا دینے والی کیفیت کے دوران محبت کرنے والوں کے خطوط اور بذریعہ ٹیلی فون احوال پرسی کا سلسلہ بھی جاری رہا، جن میں کالموں کی بے ترتیبی اور غیر حاضری کو بہت محسوس کیا جا رہا تھا۔ اس دوران کئی اہم واقعات منظر پر طلوع ہوئے اور میڈیا کوریج کا مرکزی عنوان بن گئے، بالخصوص شہید ناموس رسالت ﷺ عامر چیمہ کی جرمنی میں شہادت کے بعد سرزمین حزن و ملال پر آمد و تدفین یقیناً ملکی تاریخ کا بے مثال واقعہ تھا۔ محبت کرنے والوں کو شدید گلہ تھا کہ بنام عامر شہید کوئی حرف سپاس کیوں رقم نہیں ہوا؟ مگر اپنا حال یہ تھا کہ باوجود کوشش کے کچھ نہیں لکھ سکا۔ تاہم اخبارات کے ذریعے یہ ضرور معلوم ہوتا رہا کہ عامر شہید کے ساتھ جرمنی میں کیا بیتی۔ گرفتاری سے شہادت تک کے مرحلے اس نے کس اعزاز سے طے کیے تھے۔ عامر چیمہ کون تھا، اس کا ماضی کہاں اور کیسے گزرا؟

ذرائع ابلاغ کی بیان کردہ معلومات کے مطابق 4 دسمبر 1977ء کو حافظ آباد میں پیدا ہونے والا عامر چیمہ تین بہنوں کا لاڈلا اور اکلوتا بھائی تھا۔ ماں باپ کی مشترکہ خواہش پر اس کا نام عامر عبدالرحمن تجویز ہوا تھا۔ امیدوں، آرزوؤں اور تمناؤں کے کتنے چراغ تھے جو پالنے سے لے کر پاؤں پاؤں چلنے تک صرف اسی کے نام سے منسوب و روشن رہے۔ عامر شہید کے والد گرامی پروفیسر محمد نذیر چیمہ تعلیم و تعلم کے شعبہ سے وابستہ تھے۔ چنانچہ علم و عمل کی راہ چلتے ہوئے جو کچھ انھیں نصیب ہوا، انھوں نے عامر کو منتقل کر دیا۔ وہ عام بچوں کی طرح گلیوں، محلوں میں ترتیب پانے والی کرکٹ، فٹ بال اور ہاکی ٹیموں کا رکن کبھی نہیں رہا تھا۔

صفحہ ١٧١

گٹار اور ہارمونیم کی بدمست آوازیں اس کی سماعتوں کو کبھی تسخیر نہیں کر سکی تھیں۔ وہ بہت سیدھا اور سادہ انسان تھا، جس کے روز و شب بہت خاموشی اور گمنامی میں گزر گئے۔ کتاب کی رغبت نے تحصیل علم کے باب میں اسے ہزاروں آسانیاں فراہم کیں اور وہ ایک کے بعد ایک تعلیمی درجہ امتیازی نمبروں سے پاس کرتا چلا گیا۔ میں نے وہ علاقہ نہیں دیکھا جہاں عامر کا بچپن گزرا اور جہاں کے مکین اس کی پاک دامنی، طبعی شرافت کی قسمیں کھاتے ہیں۔ میرے پاس اس کے دوستوں کی کوئی فہرست بھی نہیں مگر اتنا ضرور معلوم ہے کہ بچپن کے چند ہم جولی اس کی سنجیدگی، متانت اور بردباری کی گواہی دیتے ہیں۔

پروفیسر نذیر احمد چیمہ بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ماحول کی مروجہ آلائشوں سے عامر کی جوانی کبھی داغ دار نہیں ہوئی تھی۔ روشن خیال فلسفہ کی شر انگیزیوں سے اس کی پاکیزہ سوچیں بھی پراگندہ نہیں ہوئی تھیں۔ ایک معلم باپ نے اس کے اطراف میں دینی تعلیمات کی روشنی میں تربیت کا وہ حصار تعمیر کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا تھا جس کی ضرورت وہ اہمیت سے عہد حاضر کے سر پرست تقریباً لا تعلق ہو چکے ہیں۔ شاید یہی وجہ تھی کہ جیسے ماں باپ نے چاہا عامر اسی سانچے میں ڈھلتا چلا گیا۔ یہ والد کی مشفقانہ تلقین کا ہی اثر تھا کہ مطالعہ کی عادت اس نے بچپن ہی سے اپنا لی تھی۔ سکول سے لے کر کالج تک عامر کے معمولات کے بارے میں مستند گواہی یہی ہے کہ وہ گھر لوٹ کر کھانا کھاتا، کچھ دیر آرام کرتا اور پھر نصابی کتب کے مطالعہ میں مشغول ہو جاتا۔ ابتدائی دینی و دنیاوی تعلیم کا سلسلہ بھی عامر کے طبعی رجحان اور والدین کی اعلیٰ تربیت کے تحت جاری رہا۔ سکول و کالج کی تعلیمی مصروفیات کے ساتھ ساتھ عربی قاعدہ اور ناظرہ قرآن مجید پڑھنے کا ذوق و شوق عامر کے صالح فطرت ہونے کا ثبوت ہے۔ 1993ء میں جامعہ ہائی سکول سے اس نے 689 نمبر لے کر میٹرک اور پھر 1995ء میں سرسید کالج راولپنڈی سے 816 نمبر لے کر پری انجینئرنگ کے شعبہ میں ایف ایس سی کی۔ تحصیل علم کے اگلے مرحلے طے کرنے کے لیے عامر فیصل آباد چلا آیا اور نیشنل کالج آف ٹیکسٹائل انجینئرنگ فیصل آباد سے 1999ء میں چار سالہ انجینئرنگ کورس فرسٹ ڈویژن میں مکمل کیا۔ اس نے دوستوں کی قطاریں تیار کرنے کی بجائے بلند مقاصد کو اپنا دوست بنا لیا تھا۔ مکتب و مسجد سے جڑے روز و شب ہی عامر کی زندگی کا طرۂ امتیاز تھے جو اسے اپنے ہم عصروں سے بہت آگے لے گئے۔

صفحہ ١٧٢

عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ عامر چیمہ شہید کی مطالعہ کی عادت مزید پختہ ہوتی چلی گئی۔ سیرت، تاریخ اور دینی معلومات پر مبنی کتابیں اسے بے حد پسند تھیں۔ وہ گہرائی اور یکسوئی سے مطالعہ کرتا اور ذہن میں پیدا ہونے والے اشکالات کے ازالہ کے لیے اپنے والد سے رجوع کرتا۔ پروفیسر نذیر احمد چیمہ کے بقول وہ اپنے بیٹے کے سوالات سن کر حیران بھی ہوتے اور خوش بھی، اس کے ہر سوال میں معقولیت اور گہرائی ہوتی تھی اور وہ ہر بات کو اس کی جزئیات سمیت سمجھنے کی کوشش کرتا۔ عامر شہید کسی رئیس کا بیٹا نہیں تھا بلکہ اس کی رگوں میں ایک ایسے دیانت دار، محنتی اور شریف النفس باپ کا خون گردش کر رہا تھا، جس کی تربیت کا پہلا سبق تھا کہ

خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر

عامر عبدالرحمن نے اپنے لیے پرعزم جدوجہد کا راستہ چنا اور منتخب شعبہ سے متعلق اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے ساڑھے چھ برس قبل جرمنی چلا گیا۔ وہاں یونیورسٹی میں ”ماسٹر آف ٹیکسٹائل اینڈ کلوتھنگ مینجمنٹ“ میں اسے داخلہ مل گیا۔ چار مرحلوں پر مشتمل اس کے چھ سالہ کورس کی تکمیل جولائی 2006ء میں ہونا تھی، مگر عجیب بات یہ ہے کہ اس نے کچھ عرصہ پہلے والدہ کے نام اپنے آخری خط میں لکھ دیا تھا کہ شاید اب میں کبھی نہ لوٹ سکوں۔ جرمنی میں مقیم عامر کی عزیزہ کا بیان ہے کہ یورپی اخبارات میں توہین آمیز خاکے شائع ہونے کے بعد عامر چیمہ کے رویہ میں بڑی تبدیلی آگئی تھی۔ وہ خاموش طبع اور کم گو تو ضرور تھا مگر جرمنی کے اخبار Die Welte میں جب سے خاکے شائع ہوئے تھے، وہ حد درجہ سنجیدہ ہو گیا تھا۔ اس کے چہرے پر عجیب کیفیت طاری رہتی۔ 20 جنوری 2006ء کا دن اس اعتبار سے تاریخی نوعیت کا تھا کہ اس روز عامر چیمہ اخبار کے مرکزی دفتر جا پہنچا۔ اخبار ”ڈی ویلٹ“ کا ایڈیٹر ”ہینرک بروڈر“ (Henryk Broder) حسب معمول اپنے کمرے میں براجمان تھا۔ عامر تیز قدموں سے چلتا ہوا اس کے کمرے کی طرف بڑھا۔ اخباری ذرائع کے مطابق وہاں موجود سیکورٹی اہلکاروں نے عامر کے تیور دیکھتے ہوئے اسے ایڈیٹر کے کمرے میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کی تھی مگر عامر نے خود کو بارود سے اڑا دینے کی دھمکی دے کر سیکورٹی گارڈز کے قدم منجمد کر دیے تھے۔ وہ شیر کی طرح دھاڑتا ہوا ایڈیٹر کے کمرے میں پہنچا اور پلک جھپکتے ہی شکاری چاقو سے اس پر کئی وار کر ڈالے۔

صفحہ ١٧٣

بعد ازاں اسے گرفتار کر لیا گیا، 22 جنوری کو عامر کی گرفتاری کے حوالے سے چند اخبارات میں ایک چھوٹی سی خبر شائع ہوئی تھی۔ اس وقت کوئی نہیں جانتا تھا کہ تین سطروں کی خبروں میں سمانے والا عامر عبدالرحمن صرف تین ماہ بعد دنیا بھر کے میڈیا کی براہ راست کوریج کا حصہ بنے گا۔ عالمی سطح پر اس کا نام عزت و احترام سے لیا جائے گا۔ پاکستان کی قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ میں اس کی حمایت میں قراردادیں منظور کی جائیں گی۔ اس کی یاد میں عظیم الشان جلوس نکلیں گے، سیمیناروں میں اس کی بہادری و شجاعت اور دینی غیرت و حمیت کو خراج تحسین پیش کیا جائے گا۔ 22 جنوری کے بعد پاکستانی اخبارات میں عامر چیمہ کے بارے میں مزید کوئی معلومات شائع نہیں ہوئی تھیں۔ اس عرصہ کے دوران حکومت پاکستان کی جانب سے بھی عامر چیمہ کی گرفتاری کے بارے میں جرمن حکام سے کوئی باز پرس نہیں کی گئی تھی۔ عامر چیمہ کے والد پروفیسر نذیر احمد چیمہ اپنے طور پر کوشش کر کے جو معلومات حاصل کر سکتے تھے کرتے رہے مگر حکومتی سطح پر معاونت نہ ہونے کے باعث حقائق تک رسائی کی راہ میں ہزاروں پیچیدگیاں حائل تھیں۔ اس دوران عامر چیمہ جرمن پولیس کے تشدد کی آخری ڈگریاں تک جھیل گیا مگر اس کے ابتدائی اعترافی بیان میں کوئی تغیر واقع نہیں ہوا تھا۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق جرمن پولیس عامر چیمہ کو القاعدہ گروپ کا رکن سمجھ کر تفتیش کرتی رہی حالانکہ عامر نے برملا اعتراف کیا تھا کہ جرمن اخبار ”ڈی ویلٹ“ کے ایڈیٹر ”ہینرک بروڈر“ پر میں نے حملہ اس لیے کیا تھا کہ اس نے میرے آقا نبی ﷺ کی توہین کی تھی۔ مجھے اپنے اس اقدام پر کوئی شرمندگی نہیں اور نہ ہی اس پر کسی معافی یا رحم کا خواستگار ہوں۔ اگر مجھے آئندہ بھی موقع ملا تو میں ایسے ہر شخص کو قتل کر دوں گا جو رحمت پناہ ﷺ کی توہین کا مرتکب ہوگا۔ قانونی ماہرین کے مطابق عامر چیمہ کا یہ بیان کھلا اقبال جرم ہے جس کے بعد کسی تحقیق، تفتیش اور تشدد کی گنجائش باقی نہیں رہتی مگر حقوق انسانی کے علمبرداروں نے اس کے بیان کی اہمیت نہیں سمجھی اور ڈھائی ماہ تک اسے لرزہ خیز تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ حتیٰ کہ وہ تفتیشی سیل میں ہی جام شہادت نوش کر گیا۔

5 مئی کے اخبارات میں شائع ہونے والی دو کالمی خبر میں صرف اتنا ہی بتایا گیا تھا کہ نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخانہ خاکے شائع کرنے والے ایک جرمن اخبار کے ایڈیٹر پر حملے کے الزام میں برلن سے گرفتار کیے گئے ”پی ایچ ڈی“ کے پاکستانی طالب علم ”عامر

صفحہ ١٧٤

عبدالرحمٰن‘‘ کی جرمن پولیس کی حراست میں موت واقع ہو گئی ہے اور پاکستانی دفتر خارجہ نے بھی عامر چیمہ کی موت کی تصدیق کر دی جبکہ وزارت خارجہ کی ترجمان ”تسنیم اسلم“ نے ایک پرائیویٹ چینل کو بتایا کہ جرمن حکومت نے ہم سے رابطہ کر کے اطلاع دی ہے کہ برلن پولیس کی زیر حراست عامر عبدالرحمٰن نے خودکشی کر لی۔ تسنیم اسلم کا کہنا تھا کہ حکومت نے جرمن حکام سے پولیس حراست میں جاں بحق ہونے کی وجوہات دریافت کی ہیں اور ہم نے وضاحت طلب کی ہے کہ پولیس حراست میں عامر کو ایسی چیز کس نے مہیا کی جس سے اس نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا؟ دوسری طرف عامر چیمہ کے والد پروفیسر نذیر احمد چیمہ کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے نے خودکشی نہیں کی بلکہ اسے تشدد سے قتل کیا گیا ہے۔

(بحوالہ ”نوائے وقت“ 5 مئی 2006ء)

پاکستانی حکام نے جرمن حکومت سے کیا پوچھا اور وہاں سے کیا جواب موصول ہوا، اس کی تفصیل میں جائے بغیر یہ سمجھ لینا کافی ہے کہ جرمن حکام عامر چیمہ پر ہونے والے مبینہ پولیس تشدد سے انکار کر رہے ہیں۔ ان کا اس بات پر اصرار ہے کہ عامر چیمہ نے پھندہ لگا کر خودکشی کی تھی مگر عامر چیمہ کے والد کو یقین ہے کہ ان کی تعلیم و تربیت میں ایسا کوئی سقم نہیں تھا جو عامر کے ایمان کو کمزور کر سکتا۔ اطلاعات یہ ہیں کہ حکومت پاکستان کی جانب سے بھی ایک تحقیقاتی ٹیم جرمنی بھیجی گئی ہے مگر اس کی رپورٹ ابھی تک سامنے نہیں آسکی۔ دوسری طرف پاکستان میں تعینات جرمن سفیر پوری ڈھٹائی سے اپنے موقف پر قائم ہے کہ عامر چیمہ خاکم بدہن خودکشی جیسے حرام فعل کا مرتکب ہوا ہے۔ اس کیس کا نفسیاتی پہلو یہ ہے کہ جرمن حکام اپنے عوام کو تسلی دینا چاہتے ہیں کہ ایسے انتہا پسندانہ اقدامات کرنے والے لوگ بنیادی طور پر ذہنی مریض اور بزدل ہوتے ہیں اور ان اقدامات کے بعد ان کے نتائج جھیلنے کی استطاعت ان میں نہیں ہوتی۔ جرمن حکام اس راز کو ابھی تک نہیں پا سکے کہ جسے وہ ذہنی و نفسیاتی مریض قرار دے رہے ہیں، اس کے جنازہ میں لاکھوں افراد دیوانہ وار کیوں شریک ہوئے؟ وہ یہ سمجھنے سے بھی قاصر ہیں کہ 13 مئی ہفتہ کی صبح جب عامر چیمہ کی میت لاہور ائیر پورٹ پر پہنچی تو اس کا استقبال کسی مقبول ہیرو کی طرح کیا گیا؟ اس سوال کا جواب ان روشن خیالوں کی عقل سے بھی ماورا ہے جو ٹی وی مذاکروں میں انتہا پسندی کی تشریحات اور مذمت کرتے نظر آتے ہیں۔ کاش وہ یہ بھی بتا سکتے کہ انتہا پسندانہ اقدام اٹھانے والے ہی آخر عوام کے محبوب نظر

صفحہ ١٧٥

کیوں ٹھہرتے ہیں؟

لوگ عامر چیمہ کے تابوت کو چھونے اور منور چہرے کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے میلوں لمبی قطاروں میں کیوں کھڑے ہو جاتے ہیں؟ عامر چیمہ نے بنیاد پرستوں کے کسی مدرسہ سے انتہا پسندانہ نظریات کی تعلیم و تربیت حاصل نہیں کی تھی۔ وہ دور جدید کی انہی درس گاہوں سے گزرتا ہوا شہادت کے درجہ ارفع پر فائز ہوا ہے جس میں پڑھائے جانے والے مجروح نصاب کو مزید تراش خراش کے لیے گزشتہ چھ برسوں سے جدید فکر و دانش کی خراد مشینوں سے چھیلا جا رہا ہے۔ عامر چیمہ کی شہادت نے ثابت کر دیا ہے کہ نبی محتشم ﷺ سے محبت کا جذبہ فطری ہے جو آسمانوں سے اترنے والی تمام سعید و مبارک روحوں میں منتقل کر دیا جاتا ہے اور اس لازوال جذبے کی تمام کیفیات کے سوتے اسی نورانی مرکز ہی سے پھوٹتے ہیں جہاں سے ستاروں کو روشنی، دریاؤں کو روانی، سمندروں کو تلاطم، ہواؤں کو خرام ناز کا سلیقہ، فضاؤں کو خوشبو اور آبشاروں کو ترنم عطا ہوتا ہے۔ لہٰذا دنیا کا کوئی بے رحم و بے حمیت معاشرہ اور کوئی بے روح نصاب بھی اس جذبہ سعید کو اس وقت تک ختم نہیں کر سکتا، جب تک وہ مائیں باقی ہیں جنھوں نے چادر اور چار دیواری کا تقدس بھی اپنے گوہر عفت و عصمت کی طرح سنبھال رکھا ہے، جو اپنی اولاد کو کلمہ طیبہ پڑھ کر دودھ پلاتی ہیں اور جب تک وہ باپ باقی ہیں جو کسمپرسی اور بے چارگی کے کسی لمحہ میں بھی اپنے ایمان و یقین سے متزلزل نہیں ہوتے اور لقمہ حلال سے اپنی اولاد کی پرورش کرتے رہتے ہیں، تب تک صالح خون پروان چڑھتا رہے گا اور جذبہ غیرت و حمیت ایمانی سے معمور عامر چیمہ جیسے بے مثال نوجوان پیدا ہوتے رہیں گے، فدا کاران محمد ﷺ کا قافلہ اسی شوق سے ترتیب پاتا رہے گا۔ عامر چیمہ نے اپنی جان کسی بڑے جنازے، کسی تشہیری بینر، کسی اخباری شہ سرخی، کسی ٹیلی میڈیا کوریج یا اپوزیشن کی حکومت مخالف مہم کو تقویت پہنچانے کے لیے نہیں دی تھی۔ وہ ان سب سے بے نیاز اپنی منزل کا راہی تھا، اس کا استقبال بے شک لاکھوں افراد نے کیا اور یہ لوگ حکومتی اذن سے نہیں بلکہ حکومتی رکاوٹوں کے باوجود ساروکی جیسے دور افتادہ علاقہ تک پہنچے تھے اور 150 ایکڑ وسیع اراضی کا دامن بھی عامر چیمہ کے عقیدت مندوں کے لیے تنگ پڑ گیا تھا۔

میں سوچ رہا ہوں، یہ لاکھوں لوگ تو وہ تھے جو اپنی محبتیں نچھاور کرنے وہاں خود پہنچے تھے، مگر اس بے مثال دولہا کی بارات میں پلکوں کی پالکیوں میں سجے وہ اربوں کھربوں

صفحہ ١٧٦

آنسو بھی شامل تھے جو قافلہ شوق کے ساتھ رواں دواں تھے اور جن کا ذکر کسی خبر میں نہیں ہوا۔ راولپنڈی، لاہور اور ساروکی تک سرکاری جبر سے وقت اور مقام جنازہ و تدفین تبدیل کرنے والے بے بصر لوگ سوچ بھی نہیں سکتے کہ عامر چیمہ اہلیان پاکستان کے لیے کتنے اعزاز لے کر واپس لوٹا تھا۔ وہ تاریخ کے ان سنہری اوراق کی زینت بن چکا ہے جن پر صرف فدا کاران محمد ﷺ کے نام ہی رقم ہو سکتے ہیں۔ میرا ایمان ہے کہ سرور دوعالم ﷺ نے خستہ حال امت کا کفارہ بن جانے والے عامر عبدالرحمٰن کا ماتھا ضرور چوما ہوگا۔ اس شہید غیرت کی بلائیں لی ہوں گی۔ داور محشر کے حضور اسے اپنی معیت نصیب ہونے کی خوشخبری سنائی ہوگی۔ مجھے یقین ہے کہ وہ آج ملاء الاعلیٰ میں ان ابدی راحتوں اور آسودگیوں سے سرشار ہے جن کی طلب و آرزو کرتے بندگان خدا کی زندگیاں ختم ہو جاتی ہیں۔

مجھے عامر عبدالرحمٰن پر رشک آ رہا ہے جس کی روح قفس عنصری سے پرواز کرتے ہی قصر معلیٰ جا پہنچی ہے، جس کے زرنگار طاقوں میں صرف عشاقان رسول ﷺ کے مبارک ناموں سے موسوم نور کی شمعیں جگمگاتی ہیں اور عامر چیمہ کی شہادت سے اسی قصر ابد کے طاق میں ایک اور شمع جل گئی ہے۔

صفحہ ١٧٧

خوشنود علی خان

شہر جس کا نصیب پھوٹ گیا

مدینہ طیبہ میں سرکارﷺ کے قدموں میں حاضر ہونا ہے۔ لیکن کس منہ سے؟ کہ میں اس شہر کا باسی ہوں، جس شہر نے، جس شہر کے حکمرانوں نے، جس شہر کے کرتے دھرتوں نے عاشق رسولﷺ عامر چیمہ شہید کا جسد خاکی اس شہر میں دفن کرنے کی اجازت نہیں دی...... سوچتا ہوں میرے مقابلے میں میرے شہر کے رہنے والے گوشت پوست کے انسانوں کے مقابلے میں اس شہر کی زمین زیادہ حساس اور با علم ہے، جس نے شاید کئی ماہ پہلے یہ اندازہ کر لیا تھا کہ وہ بدنصیب ہے اور اسی غصے میں اس نے پورے شہر کو لرزا کے اور جھنجھوڑ کے رکھ دیا تھا اور یہ فیصلہ دے دیا تھا کہ تم اسلام آبادیان بے حس ہو۔ تم تو اس قابل ہو کہ تمھیں روند دیا جائے۔ اس لیے کہ اس زمین کو معلوم تھا کہ اس میں عامر چیمہ شہید کے والد کی خواہش کے باوجود عامر دفن نہیں ہو سکے گا۔ ہم نے مارگلہ ٹاور کی تباہی کا منظر خود اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ لیکن چند ماہ میں ہی ہم وہ سب کچھ بھول گئے...... حالانکہ 8 اکتوبر کی صبح جب چند سیکنڈ کا جھٹکا آیا تھا تو آدھی قمیضیں پہننے والی آدھی آدھی ننگی عورتوں نے بھی اپنا لباس بدل لیا تھا...... چہرے اور بدن پوری طرح ڈھانپ لیے تھے۔ وہ دن رات خدا کو یاد کرنے لگی تھیں۔ بے سہاروں کو سہارا اور بھوکوں کو کھانا دینے لگی تھیں۔ ذرا ذرا سی بات پر ان کی آنکھیں نمناک ہو جاتی تھیں۔ اسلام آباد والوں نے اس قہر خداوندی کے بعد اللہ اور اللہ کے رسولﷺ کے نام پر اربوں بہا دیے تھے...... لیکن اب یہی شہر ہے کہ جس نے عاشق رسولﷺ عامر چیمہ کی تدفین کے لیے چند فٹ جگہ نہیں دی...... اگر ایسا ہو جاتا تو شاید ہماری روشن خیالی پر حرف آتا...... اگر ایسا ہوتا بش اور بلیئر ناراض ہو جاتے۔ میں تو ایک بے بس کمزور، نہتا قلم کار ہوں۔ میری تو ساری لڑائی لفظوں اور قلم کی لڑائی ہے۔ سوچتا ہوں اس شہر سے تو ان سب

صفحہ ١٧٨

لوگوں کو اب کوچ کر جانا چاہیے ...... جنھیں اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ سے پیار ہے، جنھیں اللہ کے دینِ اسلام سے پیار ہے کہ اس شہر کی تو نسبت ہی اللہ کے دینِ اسلام سے رکھی گئی تھی۔ اسے تو نام ہی اسلام آباد کا دیا گیا تھا ...... خدا لگتی کہیے گا ، جس شہر میں ناموسِ رسالت ﷺ کے لیے جان نثار کرنے والا دفن نہ ہو سکے اور وہ اسلام آباد کہلا سکتا ہے۔ یقین مانیں اس سعادت سے محرومی کے بعد میں تو اس شہر کو اسلام آباد نہیں مانتا ...... لاہور اس حوالے سے تو اسلام آباد کے مقابلے میں بہت خوش قسمت ہے کہ چند لمحے اس شہر کے حصے میں عامر چیمہ شہید کے جسدِ خاکی کی خوشبو تو آئی جس کے پاس غازی علم دین شہید بھی ہے اور چند لمحے تو اس شہر نے عامر شہید کے جسدِ خاکی کا لمس محسوس کیا، وہ زمین یہ گواہی تو دے سکتی ہے کہ میں تو عامر چیمہ شہید کے لیے بانہیں کھولے کھڑی تھی۔ عامر شہید کو قبول کرتی تو میری قسمت کھل جاتی ...... مگر بعض لوگوں نے مجھے یہ سعادت نصیب نہیں ہونے دی کہ میرے اندر جنت کے دروازے کھل سکیں ۔ مجھے نہیں معلوم اسلام آباد کی سرزمین اپنی اس بد نصیبی پر کیسے روئے گی اور کتنا عرصہ روئے گی ...... جب روئے گی تو سب کو یاد آئے گا کہ اس زمین کو بد نصیب کیسے بنایا گیا ۔

قارئین! عاشقانِ رسول ﷺ اور شہداء کا کیا رتبہ ہے ، اس کی گواہ تو تاریخِ اسلام ہے ۔ مدینہ منورہ کے قریب اُحد کی جنگ ہوتی ہے ...... اور وہ جو وجہ تخلیقِ کائنات ہیں، وہ جن کے دم قدم سے یہ دنیا آباد ہے ...... سید الشہداء حضرت امیر حمزہ سمیت سب شہداء کے جسدِ خاکی مدینہ شہر لے جانے کا حکم دیتے ہیں ...... تو اُحد کے پہاڑ سے اونٹ کی سی آواز آنے لگتی ہے ۔ جب شہداء کے جسدِ خاکی اٹھائے جاتے ہیں تو لگتا ہے اُحد کا پہاڑ بھی جانبِ مدینہ چل پڑا ہے ۔ عین اس لمحے جبریلِ امین حاضر ہوتے ہیں اور حضورِ اکرم ﷺ سے فرماتے ہیں حضور ﷺ شہداء کی تدفین یہاں فرما دیجئے ...... اُحد آج اپنے آپ میں نہیں ہے ...... وہ شہداء کے ساتھ چل کر شہر میں داخل ہو جائے گا۔ رسول اللہ ﷺ جبریلِ امین کی طرف سے یہ وحی ملنے کے بعد شہداء کی وہیں تدفین کا فیصلہ فرماتے ہیں ، تو اُحد کا پہاڑ ٹھہر جاتا ہے ...... اور رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اُحد نے شہداء سے محبت کی ہے۔ میں ہمیشہ اس سے محبت کروں گا اور احد جنتی پہاڑ ہے ...... جنت میں اُحد میرے گھر کے سامنے ہوگا۔

قارئین! اس واقعے سے اندازہ کریں کہ شہداء اور عاشقانِ رسول ﷺ کا کیا مقام ہے کہ انھیں اپنے اندر سمو کر جنت مقام بنا کر یا انھیں اپنی قربت میں رکھنے سے تو پہاڑ بھی خوش قسمتی محسوس کرتے ہیں ۔ اگر کسی کے پاس دلیل یہ ہے کہ زمین تو زمین ہی ہوتی ہے تو میں

اس دلیل کو ماننے کو تیار نہ بنانے پر تیار نہ ہوتے۔ درخت لگا لیجئے ، جتنی چا رسول اللہ ﷺ سے محبت رویا کہ ایک عاشق رسول قارئین! ہم کے سربراہ تو یہ کہتے کہتے قارئین! امر زندوں سے ڈر رہے ہیں کے والد انھیں اپنی خواہر کے حصے میں آ جاتی ...... شہید کی نماز جنازہ پڑھ ہے اور پھر غائبانہ نماز ج یہ منظر دیکھتا ...... اور صد کے کندھوں کو چومتے ۔ جنازے کے نام پر لاک عامر چیمہ کو تو اب بھی اسلام آباد کو اسلام آبا دیکھا تھا لیکن بالآخر فو اب ہمارا رویہ بھی اسلا ہونا چاہیے۔ ہم نے میں عامر اور ہر گھر میں والے کو یا اپنے کسی عز کہہ دیا جائے تو کافر کہ وہ کون سا قانون اعلیٰ ترین عدالت فیص

صفحہ ١٧٩

اس دلیل کو ماننے کو تیار نہیں...... اگر ایسا ہوتا تو ہم خاک مدینہ و نجف کو اپنی آنکھوں کا سرمہ بنانے پر تیار نہ ہوتے۔ اب آپ اسلام آباد میں جتنے چاہے پھول لگا لیجئے، جتنے چاہے درخت لگا لیجئے، جتنی چاہے خوبصورت بلڈنگیں بنا لیجئے...... یہ اسلام آباد تو نہیں ہوسکتا کہ یہاں رسول اللہ ﷺ سے محبت کرنے والے آباد نہیں ہوسکتے۔ مارگلہ کا پہاڑ تو ابھی اپنی بدنصیبی پر نہیں رویا کہ ایک عاشق رسول ﷺ جس کا پڑوسی بنتے بنتے رہ گیا۔

قارئین! ہم بھی کیا لوگ ہیں...... ہم بھی امریکیوں کے پیچھے چل پڑے ہیں۔ ان کے سربراہ تو یہ کہتے کہتے نہیں تھکتے کہ کس قوم سے پالا پڑ گیا جو مرنے کی شوقین ہے۔

قارئین! امریکی مجاہدین سے خوف زدہ ہیں اور ہم شہداء سے خوفزدہ ہیں۔ وہ زندوں سے ڈر رہے ہیں، ہم شہیدوں سے خوفزدہ ہورہے ہیں۔ کیا ہو جاتا...... اگر عامر چیمہ کے والد انھیں اپنی خواہش کے مطابق اسلام آباد میں دفن کر لیتے...... اور یہ سعادت اس مٹی کے حصے میں آ جاتی...... پورا فیصل ایونیو اس جنت کے ٹکڑے کا حصہ بنتا...... جس پر لوگ عامر شہید کی نماز جنازہ پڑھتے...... اندازہ کریں اگر ساروکی میں 18 ایکڑ زمین پر تین بار جنازہ ہوتا ہے اور پھر غائبانہ نماز جنازہ تو کئی بار پڑھی جاتی ہے۔ کیا ہوتا اگر ساروکی کی بجائے اسلام آباد یہ منظر دیکھتا...... اور صدر، وزیراعظم سمیت سبھی اس جنازے کو کندھا دیتے...... تو شاید لوگ ان کے کندھوں کو چومتے۔ لیکن لگتا یہ ہے کہ کسی نے یہ تھیوری دے دی کہ اس طرح عامر چیمہ کے جنازے کے نام پر لاکھوں لوگ اسلام آباد میں گھس آئیں گے تو سارا کچھ ہی بدل گیا۔ لیکن عامر چیمہ کو تو اب بھی ان کے والدین نے ساروکی میں امانتاً دفن کیا ہے۔ ہم نے انشاء اللہ اسلام آباد کو اسلام آباد بنانا ہے کہ اس شہر کو دارالحکومت بنانے کا خواب تو خود قائد اعظم نے دیکھا تھا لیکن بالآخر فوج نے اسے اسلام آباد کا نام دیا۔ فوج کا یہ فیصلہ پوری قوم کا فیصلہ تھا۔ اب ہمارا رویہ بھی اسلام آباد والوں کا ہی ہونا چاہیے۔ ہمیں شہداء کی قبروں سے خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے۔ ہم نے جو رویہ عامر شہید کی تدفین کے حوالے سے اختیار کیا...... یہ رویہ تو ہر گھر میں عامر اور ہر گھر میں عامر کی طرح شہداء پیدا کرے گا۔ ہمارے ماں باپ کو گالی دینے والے کو یا اپنے کسی عزیز کے قاتلوں کو تو معاف کر دیا جاتا ہے لیکن اگر کوئی بھولے سے بھی کافر کہہ دیا جائے تو کافر کہنے والے کو معاف نہیں کیا جاتا۔ کل انکل نسیم انور بیگ پوچھ رہے تھے کہ وہ کون سا قانون ہے جو عامر چیمہ کی اسلام آباد میں تدفین کو روکتا ہے؟ کیا اس ملک کی اعلیٰ ترین عدالت فیصلہ دے گی؟

✿ ...... ✿ ...... ✿

صفحہ ١٨٠

سیف اللہ خالد

جاٹوں کا بیٹا بازی لے گیا

اور بھی ہوں گے جن کے سینوں میں آتش عشق دہک رہی ہوگی، جن کے دماغ کھول رہے ہوں گے، بے شمار ہوں گے جن کی راتیں بے خواب اور دن بے چین ہو چکے ہوں گے، اور وہ ہر لمحہ کچھ کر گزرنے بلکہ جاں سے گزر جانے کی منصوبہ بندی میں مصروف ہوں گے۔ مگر سوا ارب مسلمانوں میں سے پروفیسر نذیر چیمہ کا نصیب جاگ اٹھا کہ ان کے لخت جگر عامر عبدالرحمن چیمہ نے اہانت انگیز خاکے شائع کرنے والے جرمن اخبار کے چیف ایڈیٹر کو چھریاں مار دیں اور گرفتار ہو گیا۔ اس اطلاع سے باطل کے خرمن پر بجلیاں گریں اور عشاق رسول ﷺ کے دل کھل اٹھے۔ وہ بے تابانہ پکار اٹھے کہ وزیر آباد کے جاٹوں کا بیٹا بازی لے گیا۔ یہ مقدر کی بات ہے، رب کا فیصلہ اور انتخاب۔ یہاں زر اور زور کا کوئی گزر نہیں۔ بس نصیب کی بات ہے!

چند لوگوں کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ عامر کے صبح و شام کیسے گزرتے تھے۔ اس کا بھی علم نہیں کہ وہ خلوت و جلوت میں کیسا تھا۔ مذہب کی تفہیم کس قدر تھی۔ مگر یہ بات پوری دنیا کو معلوم ہو گئی کہ وہ عشق کی معراج پر تھا۔ اس نے وہی کیا جو عشاق رسول ﷺ کا طرۂ امتیاز رہا ہے۔ پھر کیسے ممکن تھا کہ اسے انعام نہ ملتا۔ اسے نوازا نہ جاتا۔ پاکستان کے اس سعادت مند سپوت کا کارنامہ ہی اتنا بڑا تھا کہ اس کا بدلہ شہادت کے تاج آبدار کے سوا کچھ ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ سو وہ اسی مقام اعلیٰ پر فائز ہو گیا۔

اہل پاکستان کو مبارک! کہ یہ اعزاز ان کے ایک ہم وطن کے حصہ میں آیا۔ پنجاب کے جاٹوں کا بیٹا، نہ صرف اس کائنات میں بلکہ دونوں جہانوں میں ان کا شملہ اونچا کر گیا۔ سوا ارب مسلمانوں میں سے کون ہے جو آج وزیر آباد کے اس سپوت کی عظمت کا ہمسر ہونے کا

صفحہ ١٨١

دعویدار ہو۔ پاکستان کے 14 کروڑ عوام میں سے کون ہے جو پروفیسر نذیر چیمہ کی خوش بختی پر شک کر سکے۔ ان کے دل کا ٹکڑا، ماں کی آنکھوں کی ٹھنڈک، اپنے کارنامہ اور اس پر ذات باری تعالیٰ سے عطا ہونے والے انعام شہادت کے سبب، آج پوری کائنات سے ممتاز ہو چکا۔ یقیناً ان کے گھر پر آج رب کی رحمت برس رہی ہوگی، رسول اللہ ﷺ مسرور ہوں گے۔ اس میں شک نہیں کہ عامر عبدالرحمن چیمہ شہید نے حقیقی معنوں میں غیرت مند باپ کا غیرت مند بیٹا ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے اصحاب پیغمبر ﷺ کی سنت زندہ کر دی۔

اہلِ مغرب کو جان لینا چاہیے کہ مسلمان سب کچھ برداشت کر سکتا ہے لیکن اپنے نبی ﷺ کی توہین قطعی طور پر برداشت نہیں کر سکتا۔ اس کے لیے جہادی ہونا یا نہ ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ عامر عبدالرحمن کے مکمل کوائف سامنے نہیں، لیکن جس انداز سے اس اللہ کے شیر نے کارروائی کی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ عشق کی واردات ہے۔ وہ کوئی تربیت یافتہ مجاہد نہیں تھا۔ ورنہ حملہ کا نتیجہ کچھ اور ہوتا ...... دوسرا یہ کہ غیرتِ دینی کا تعلق مدارس سے خاص نہیں، یہ مولوی کی میراث بھی نہیں، یہ مسلمان کا اثاثہ حیات ہے۔

کوئی چاہے کتنا ہی گنہگار ہو وہ عشقِ رسول ﷺ کی چنگاری سے محروم نہیں ہو سکتا اور یہ چنگاری کسی بھی سینے میں الاؤ دہکا سکتی ہے۔ وہ لوہار کا ان پڑھ بے روزگار بیٹا غازی علم الدین ہو یا جدید تعلیم سے آراستہ عامر چیمہ، عامر کسی مدرسہ، کسی معسکر کا تربیت یافتہ نہیں بلکہ امریکیوں کے محبوب تعلیمی اداروں سے ایم ایس سی کرنے کے بعد جدید اور اعلیٰ ترین تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ پی ایچ ڈی کا طالب علم تھا۔ کوئی نکما نہیں، بلکہ سکالر شپ کا حامل ایک ذہین و فطین طالب علم تھا۔ مگر جدید تعلیم کے پھندے اور تہذیب مغرب کی تمام تر رنگینی بھی اسے اپنے رنگ میں رنگنے سے ناکام رہی۔ آج وہ سوا ارب مسلمانوں کا فخر بن چکا ہے۔

اہلِ مغرب نہ بھولیں کہ وہ بہت کم ہیں جن کے دلوں سے غیرت و حمیت رخصت ہو چکی، جن کے ایمان مخدوش ہیں اور توہینِ رسالت ﷺ بھی جن کو روشن خیالی کے نشے سے باہر نہیں لا سکی۔ یہ جتنے بھی ہیں، ان کی تعداد انگلیوں پر گنے جانے سے کچھ ہی زیادہ ہوگی، اور یہ امت کا حصہ ہیں نہ امت کے اجتماعی ضمیر کے ترجمان، بلکہ امت انھیں اہل مغرب کا نمائندہ خیال کرتی ہے۔ ان کے سوا ایک ایک مسلمان ناموس رسالت ﷺ کی خاطر کٹ مرنے کو تیار

صفحہ ١٨٢

ہے۔ عامر چیمہ ان تمام مسلمانوں کی آنکھوں کا تارا اور دل کا سرور بن گیا ہے۔ اب وہ قیامت کی صبح تک زندہ رہے گا۔

کاش امت میں سے کسی ایک ملک پر بھی مغرب کے نمائندوں کے بجائے اسلام کے پیروکاروں کی حکومت ہوتی تو وہ ہٹلر کے جانشین جرمنی کے درندہ صفت حکمرانوں سے یہ سوال ضرور کرتی کہ ایک انسان کو بلا کسی قانونی کارروائی کے قتل کرنے کا انھیں حق کس نے دیا؟ مگر افسوس کہ جن کے دل توہین رسالت سے نہیں لرزے، ایک عاشق رسول ﷺ کی میت ان کے دلوں میں درد انسانیت کیسے جگا سکتی ہے؟ البتہ امت کی بات اور ہے۔ عامر چیمہ کی شہادت سے ناموس رسالت ﷺ کی مہم کو مہمیز ملے گی۔ ایک ولولہ تازہ عطا ہوگا۔ انشاء اللہ عامر کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔

صفحہ ١٨٣

ڈاکٹر زاہد اشرف

پاسبان ناموس رسالت ﷺ

ایک ارب سے زائد مسلمانوں میں عامر چیمہ تو بس ایک ہی تھا، صرف ایک۔ اس نے اسلام کے صدر اول سے لے کر غازی علم دین شہید اور غازی عبدالقیوم شہید تک کی تابندہ درخشاں روایت کو گہنانے نہیں دیا۔ بحر ظلمات میں ڈبکیاں کھاتے ہوئے اسلام کے لاتعداد نام لیواؤں میں سے صرف اسی نے پاسبان ناموس رسالت کا اعزاز پا لیا۔ اور یہ وہ اعزاز ہے جس پر ہزاروں نشان حیدر، کروڑوں ہلال جرأت، اربوں ستارۂ بسالت، لاتعداد ہلال امتیاز، ان گنت تمغہ ہائے حسن کارکردگی قربان کیے جاسکتے ہیں۔ عامر نے اس ہستی کی ناموس کے تحفظ کی خاطر اپنی جان قربان کر دی جنہیں کائنات کا گل سرسبد کہا جاتا ہے جن سے اللہ تعالیٰ کے بعد کائنات کی ہر ہستی، ہر شخصیت اور ہر ذات سے زیادہ محبت کے بغیر ایمان کی تکمیل تو دور کی بات، خود ایمان ہی وجود پذیر نہیں ہو پاتا۔

نبی کریم ﷺ کے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف یورپ کی بدترین سازشوں کا نقطہ عروج تھا۔ ان خاکوں کی لگاتار اشاعت سے امت مسلمہ انگاروں پر لوٹ گئی۔ اس کے تن بدن میں آگ سی لگ گئی۔ اس کے جذبات مشتعل ہو گئے اور اس کے دل و دماغ پر تازیانے سے برسنے لگے۔ کروڑوں انسان سراپا احتجاج بن گئے۔ اس احتجاج کے دوران شمع رسالت کے بیسیوں پروانوں نے موت کو گلے لگا لیا، اپنے ہی دین کے ماننے والوں کے ہاتھوں، اپنے ہی محافظوں کی چلائی ہوئی گولیوں کی زد میں آ کر، اور اپنے ہی حکمرانوں کی بے حسی و بے حمیتی کا نشانہ بن کر۔ یہ لوگ بھی بلاشبہ مرتبہ شہادت پر فائز ہو گئے۔ وہ بھی یقیناً اس اعزاز کے سزاوار قرار پائے، جس کے سامنے ہر دنیوی اعزاز ہیچ بن جاتا ہے اور ہر مرتبہ و عہدہ ان کے مقام سے فروتر۔ لیکن جو اعزاز عامر عبدالرحمن چیمہ کے حصے

صفحہ ١٨٤

میں آیا، اس کی شان و شوکت اس کی عظمت و سربلندی اور اس کی آن بان تو منفرد ہے، بالکل منفرد۔ کوئی بھی اعزاز اس کی ہمسری کر ہی نہیں سکتا۔

عامر عبدالرحمن چیمہ کو شہادت کا مرتبہ بلند تو ملا ہی، لیکن ناموس رسالت کی پاسبانی کا حق ادا کرتے ہوئے اپنی جان کی قربانی سے اس نے عظمت کے ہر مینار سے کہیں اونچے مقام کو اپنا مسکن و ماویٰ بنا لیا۔ اس کی یہ قربانی ایک ارب سے زائد مسلمانوں کی جھکی ہوئی گردنوں کو ذرا اونچا کرنے کا حوصلہ دے گئی۔ اپنوں اور اغیار کے دباؤ سے خمیدہ ان کی کمریں کچھ سیدھی ہونے کے قابل ہو گئیں۔ نبی محتشم حضرت محمد ﷺ کی محبت کا جو فرض اور قرض امت کے ایک ایک فرد پر عائد ہوتا تھا، عامر کی اکلوتی قربانی نے کسی حد تک اس کا کفارہ ادا کر دیا۔ عامر شہید چیمہ نے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت سے لے کر اپنی شہادت تک جس جرأت، پامردی، استقلال اور پختگی کردار کا مظاہرہ کیا، اس نے ایک طرف اگر عظمتوں کو اس پر نچھاور کیا تو دوسری طرف اس سے یورپ کی ملمع سازی کا پردہ چاک ہو گیا۔ آزادی اظہار رائے کے اس کے نظریے کی ہنڈیا بیچ چوراہے کے پھوٹ گئی۔ اس کی تہذیب کا جنازہ بڑی دھوم سے اٹھ گیا، انسانیت سے اس کی محبت کے ہر دعوے کی قلعی کھل گئی، اور نام نہاد عدل و انصاف کے اصولوں پر قائم اس کا عالی شان محل دھڑام سے کچھ یوں زمین بوس ہو گیا کہ 9/11 کو جڑواں ٹاورز کا انہدام، اس محل کی اڑتی ہوئی دھول میں دفن ہو کر رہ گیا۔ جرمنی کی جیل میں عامر چیمہ شہید سے تفتیش کا جو انداز اپنایا گیا اور وحشیانہ تشدد کی جو روش اختیار کی گئی، اس سے یوں لگا کہ نازی ازم کو حیات نو مل گئی ہو اور نازیوں کی ایک نئی نسل نے وہاں جنم لے لیا ہو۔ جرمن حکومت اور مغرب کے ثناخواں کالے انگریز، لاکھ اسے خودکشی قرار دیتے رہیں، شہادت کی بجائے ہلاکت سے اس کی تعبیر کرتے رہیں، ان کی تحقیقاتی اور پوسٹمارٹم رپورٹس میں اسے کوئی سا بھی نام دیا جاتا رہے، یہ حقیقت اب اپنے آپ کو منوا چکی کہ مغرب میں انسانیت اور انسانی اقدار ملیا میٹ ہو چکیں، شرافت و نجابت اور رواداری و روشن خیالی کا ہر تصور اس سرزمین کو خیر باد کہہ چکا۔ اخلاق باختگی، بے حیائی اور عریانی و فحاشی، اس کی تہذیب کا طرہ امتیاز تو تھا ہی، اب بنیادی انسانی اقدار سے بھی اس سرزمین کا کوئی ناطہ باقی نہیں رہا۔ ہم تو اپنی پولیس اور اس کے تفتیشی انداز پر نوحہ کناں رہتے تھے۔ ہم اپنے پولیس کلچر میں شرفاء کے لیے موجود دہشت کو ختم کر کے اسے جرائم پیشہ افراد کے لیے دہشت میں تبدیل کرنے کے لیے کوشاں تھے۔ اور

صفحہ ١٨٥

اس ضمن میں ہم مغرب کی انسان دوستی اور شرف و مجد کے احترام کی مثالیں دے دے کر ہلکان ہوئے جاتے تھے۔ مغرب کی ہر ہر ادا پر قربان ہونے والے ہمارے روشن خیال اس حوالے سے ہمیں مرعوب بھی کیا کرتے تھے اور اس سے سبق سیکھنے کی تلقین مسلسل بھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حکمت و دانائی کی کوئی سی بھی بات، کوئی سا بھی عمل کہیں سے میسر آ جائے، مومن کو اسے اپنی گم گشتہ میراث سمجھتے ہوئے اسے اپنا لینا چاہئے، لیکن یہ کیا ہوا کہ مغرب کے تاریک چہرے پر تنا ہوا روشنی کا دبیز پردہ لمحہ بھر میں تار تار ہو گیا۔ اس پر تھوپے ہوئے غازے کی دبیز تہوں کے پیچھے سے کیسا بھیانک روپ روز روشن کی طرح عیاں ہو گیا۔

یوں لگتا ہے کہ مغرب، اسلام اور مسلم دشمنی میں باؤلا سا ہو گیا ہے، عقل و شعور سے بیگانگی اس کا روز مرہ بنتا جا رہا ہے اور وحشیانہ پن اس کے طور و اطوار کا بنیادی عنصر ترکیبی۔ اسلام اور اس کے نام لیواؤں کو صفحہ ہستی سے ناپید کرنا اس کا مقصد اولین قرار پا چکا ہے۔ افغانستان پر حملے سے لے کر عامر عبدالرحمٰن چیمہ کی شہادت تک کے سبھی دل دوز واقعات اسی مقصد کی تکمیل کی کڑیاں ہیں۔ بش نے اپنے ہی بپا کردہ 9/11 کے بعد جس کروسیڈ (صلیبی جنگوں) کا آغاز کیا تھا، عامر چیمہ کی شہادت اسی کا ایک حصہ ہے۔ یورپ نے بھی اپنے اسلام دشمن اقدامات کے ذریعے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اسلام دشمن اور مسلم کشی میں وہ امریکہ سے کسی طور پر پیچھے نہیں ہے۔ برطانیہ تو قدم بقدم، امریکہ کا ہم سفر رہا اور یورپی یونین کے باقی ماندہ ممالک نے بھی یہ ٹھان لی ہے کہ وہ اپنی ابتدائی سست روی کی کسر نکال کر رہیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈنمارک نے اسلام کے خلاف سب سے اوچھا وار کیا۔ اس سرزمین لعین سے ہی نبی اکرم ﷺ فداہ ارواحنا و انفسنا کے توہین آمیز خاکے چھاپنے کے ہولناک ترین جرم کا ارتکاب ہوا۔ پھر یہیں سے مسلم امہ کے سینے پر مونگ دلے جاتے رہے۔ ایک تسلسل کے ساتھ ان خاکوں کی اشاعت اسلام کے خلاف جاری امریکی صلیبی جنگوں میں یورپ کی فعال مساوی شراکت کا ناقابل تردید ثبوت تھا۔ پوری یورپی یونین نے بیک آواز جس طرح ڈنمارک کی تائید و پشت پناہی کی، اس سے یہ حقیقت بھی کھل کر سامنے آ گئی کہ "الکفر ملۃ واحدة"۔

پورے یورپ اور مغرب نے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت پر نہ کسی ندامت، شرمندگی اور خجالت کا اظہار کیا، نہ ہی اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں کی سرزنش کی، بلکہ اسے اظہار رائے کی آزادی کا حق قرار دیتے ہوئے مسلمانوں کے زخموں پر مزید نمک پاشی

صفحہ ١٨٦

کی اور اب جرمنی کی جیل میں دوران تفتیش وحشیانہ تشدد کے نتیجے میں عامر عبدالرحمٰن چیمہ کی شہادت اس امر کی غماز ہے کہ یورپ میں مسلمانوں کے خلاف نازی ازم بڑا مضبوط اور توانا ہو چکا ہے۔

امریکہ اور یورپ کو تو مسلمانوں کے خلاف اس نازی ازم کا احیاء کرنا ہی تھا، سوویت یونین کی شکست و ریخت کے بعد انہوں نے اپنے تئیں اسلام اور مسلمانوں کو اپنا دشمن قرار دے لیا تھا، اس لیے اس دشمنی کا بھرپور مظاہرہ کیے بغیر انہیں سکون کیسے میسر آسکتا ہے؟ چنانچہ انہوں نے مسلمانوں کے خلاف ہر محاذ پر جنگ کا آغاز کیا، صرف عسکری پہلو ہی نہیں، تہذیب و تمدن، تعلیم و تدریس، قانون، معاشرت اور معیشت، الغرض کون سا زاویۂ حیات ہے، جس پر انہوں نے بھر پور یلغار نہ کی ہو۔ انہوں نے اسلام کو دہشت گردی پروان چڑھانے والا دین قرار دیا اور مسلمانوں کو من حیث المجموع دہشت گرد۔ ان کے میڈیا نے اس حوالے سے اسلام اور مسلمانوں پر پے در پے حملے کیے۔

مغرب کی اس بدترین مہم کی حقیقت جاننے کے لیے کسی دانش بقراط کی ضرورت نہ تھی، کیونکہ اس کا ہر ہر عمل اس کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ امت کے ایک بڑے طبقے نے بخوبی جان لیا تھا کہ کروسیڈ کا لفظ، نشے کی حالت میں بش کی زبان سے پھسل نہیں گیا تھا، بلکہ یہ امریکہ اور یورپ کی اسلام کے خلاف جنگ کے سوچے سمجھے منصوبے کا نقطۂ آغاز تھا۔ اگر کوئی اس حقیقت کو نہ جان سکا تو وہ حکمران طبقہ جو اس وقت اسلامی ممالک پر مسلط ہے۔ اس طبقے میں بالعموم نہ اسلام پر ایمان کی کوئی رمق دکھلائی دیتی ہے اور نہ ہی نبی اکرم ﷺ سے محبت کا کوئی داعیہ اس کے دلوں میں موجزن ہے۔ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک مسلمان جو اپنے آپ کو مقتدر سمجھتا ہو، اس کے سامنے توہین رسالت پر مبنی خاکے شائع کیے جاتے رہیں اور وہ ٹس سے مس نہ ہو۔ اسے اگر ہوش بھی آئے تو اس وقت جب شمع رسالت کے پروانوں کے گرم گرم لہو سے زمین سرخ ہونے لگے۔ تب ایک آدھ احتجاجی بیان، ایک دو فورمز پر اس کا تذکرہ اور چند ایک حکمرانوں سے ملاقاتوں کے دوران اسے تہذیبی جنگ کو تیز کرنے کا سبب قرار دینا....... اس سے آگے کیا ہوا؟ کیا کیا گیا؟ جونہی عوامی جدوجہد کمزور پڑی، حکمرانوں کے ایوانوں کا درجہ حرارت بھی نقطہ انجماد سے نیچے گر گیا۔ ان کے تو جذبات ہی نہ تھے اور اگر ان میں کہیں ارتعاش پیدا بھی ہوا، تو جلد ہی اس پر موت کے سائے پھر سے دراز ہو گئے۔

صفحہ ١٨٧

یہی کیفیت عامر چیمہ کی شہادت کے حوالے سے بھی برقرار رہی۔ یہ کتنا بڑا ستم ہے کہ آپ جرمنی کی حکومت سے اپنے ایک تعلیم یافتہ، معزز شہری کے بہیمانہ قتل پر احتجاج کا تو یارا نہ ہو لیکن آپ اپنی پوری قوت اس شہید کے اہل خانہ کو دباؤ میں لانے کے لیے استعمال کر گزریں۔ آپ انہیں اس حق سے بھی محروم کر دیں کہ وہ اپنے اکلوتے لختِ جگر کو اپنے ہی شہر میں دفن کر سکیں۔ جن لوگوں نے بھی عامر چیمہ شہید کے والدین کو ان کے اس بنیادی حق سے محروم کیا ہے، انہیں نرم سے نرم الفاظ میں بھی سنگ دل ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ ایسی سنگ دلی جس کے ہوتے ہوئے اسلام کی کوئی کرن کہیں جھلملاتی ہے اور نہ ہی محبت نبوی ﷺ کسی سینے میں جلوہ گر ہوتی دکھلائی دیتی ہے۔

اس سنگ دلی کے باوجود تپتی دوپہر میں، آگ برساتے ہوئے سورج کی چھاؤں تلے ساروکی کے ویرانے میں لاکھوں افراد کا جم غفیر جہاں حکمرانوں کے لیے تازیانہ تھا وہیں اس نوید جانفزا کا پیامبر بھی کہ عامر چیمہ کی شہادت اور اس کے پاسبان ناموس رسالت ﷺ کا اعزاز انقلاب نو کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔ انشاء اللہ۔ ایسا انقلاب، جو جب برپا ہوتا ہے تو ظالموں، شدادوں، ہامانوں اور فرعونوں کو کرہ ارض میں کہیں بھی جائے پناہ نہیں ملتی۔ وہ نشانہ عبرت بنتے ہیں اور بنے ہی رہتے ہیں۔

صفحہ ١٨٨

محمد اسماعیل ریحان

ولولۂ تازہ کا نقیب

ڈنمارک اور کئی دیگر مغربی ممالک کی جانب سے توہین رسالت کی ناپاک حرکات کا بار بار اعادہ ہو رہا ہے۔ کفریہ طاقتیں مسلمانوں کے مذہبی جذبات کے نازک ترین نکتے سے کھیل رہی ہیں اور انھیں کوئی روکنے والا نہیں۔ ہمارے احتجاج، شور شرابے اور ہڑتالوں کا ان پر کوئی اثر نہیں ہو رہا ہے۔ ایسے میں ہر مسلمان یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ ان گستاخوں کے منہ کیسے بند کیے جائیں، ان کے ہاتھ کیسے قلم کیے جائیں۔ حالات بتا رہے ہیں کہ انھیں نشانہ عبرت بنانے کے لیے محمد بن مسلمہ، عبداللہ بن عتیک اور عاصم بن عدی رضی اللہ عنہم کے نقش قدم پر چلے بغیر چارہ نہیں ہے۔ کفریہ طاقتیں اپنی ان مذموم حرکات سے مسلمانوں کو مجبور کر رہی ہیں کہ وہ ”جیو اور جینے دو“ کی بجائے ”مرنے مارنے“ پر آمادہ ہو جائیں۔ آج ایک بار پھر ہر مسلمان کو غازی علم دین اور غازی عبدالقیوم جیسے جواں مرد اپنا آئیڈیل محسوس ہو رہے ہیں جو ناموس رسالت پر قربان ہو گئے۔

کچھ دنوں پہلے میں سوچ رہا تھا کہ کیا اس بار کوئی غازی علم دین کھڑا نہ ہوگا؟ کیا اس بار گستاخی کا ارتکاب کرنے والے بدقماشوں کو مزہ چکھانے کے لیے کوئی جان کی بازی نہیں لگائے گا؟ سچ تو یہ ہے کہ تین چار ماہ سے احتجاجی جلوسوں، کانفرنسوں اور ریلیوں کی خبریں پڑھ پڑھ کر محسوس ہو رہا تھا کہ ہم نے اس کو سب کچھ سمجھ لیا ہے اور اس سے آگے قدم بڑھانے کے لیے مجھ سمیت کوئی بھی تیار نہیں۔ ایک احساس جرم نے مجھے اپنی گرفت میں لے لیا تھا۔ ستمبر 2005ء سے توہین رسالت پر مبنی خاکوں کی اشاعت کا سلسلہ شروع ہوا اور امت مسلمہ سوتی رہی۔ فروری 2006ء میں اسے ہوش آیا اور ائمہ حرمین کی تقاریر سے عالم اسلام میں ایک ہلچل مچی، دو ماہ تک ہر طرف ایک جوش کی آگ بھڑکتی رہی۔ ہم نے دشمنان اسلام کو

صفحہ ١٨٩

نیست و نابود کر دینے کے نعرے لگائے، آقا ﷺ پر کٹ جانے کے وعدے کیے، شہروں دیہاتوں اور قصبات کی ہر دیوار پر ولولہ انگیز نعرے لکھ دیے گئے، مگر پھر ہم نے سوچ لیا کہ ہم تو صرف تقریر کرنے والے ہیں، کالم لکھنے والے ہیں، اخباری بیان جاری کرنے والے ہیں، آگے کام کرنا دوسروں کا فرض ہے۔ دوسروں نے اسے کسی اور کی ذمہ داری سمجھا۔ ہر ایک از خود سبک دوش ہو کر پھر سے سابقہ معمولات زندگی میں مشغول ہو گیا۔ معاشی بائیکاٹ عرب ممالک میں کافی حد تک ہوا مگر پاکستان سمیت دیگر اسلامی ممالک میں اس پر کوئی قابل ذکر عملدرآمد نہ ہوا۔

مغربی ممالک صرف چند دن کی خاموشی کے بعد اپریل میں دوبارہ گستاخانہ خاکوں اور مواد کی اشاعت کرنے لگے۔ اس بار سارا احتجاج بہت نحیف سا تھا، چند دنوں بعد یہ نحیف سا احتجاج بھی معدوم ہو گیا۔ سب کی طرح میں بھی اپنے کام میں مگن ہوں۔ غازی علم دین کا مرتبہ کون حاصل کرے گا؟ دوسروں کی طرح میں بھی خود کو اس فرض کی ادائیگی سے عاجز تصور کرتا ہوں، مگر اس دوران کبھی گستاخ عناصر کی کسی نئی ناپاک حرکت کی خبر پڑھتا ہوں تو ایک لمحے کے لیے سوچ میں ڈوب جاتا ہوں، آخر یہ کب تک ہوگا؟ مغربی ممالک تو اپنی سازش میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ انھوں نے توہین رسالت کو ایک معمول کی بات بنا کر ہمیں بے حس کر دیا ہے۔ ہم انھیں کوئی ایسی زک پہنچا ہی نہیں سکے کہ وہ ایسی حرکتیں کرنے سے قبل ہزار بار سوچتے۔ وہ تو بلا تامل دھڑلے سے وہی سب کچھ کیے جا رہے ہیں، ہمارا منہ چڑا رہے ہیں، ہم پر ہنس رہے ہیں، کیا ہم میں اب کوئی غازی علم دین نہیں رہا؟ کوئی عبدالقیوم شہید جیسا جرأت مند باقی نہیں بچا؟ کیا ہمارا خون سرد ہو چکا ہے؟ کیا ہم اتنے بے حس ہو چکے ہیں کہ اب اپنے نبی پاک ﷺ کی عزت پر سرعام حملے دیکھ کر بھی کچھ نہیں کر رہے؟

تقریباً ایک ماہ سے میں بالکل یہی محسوس کر رہا تھا۔ ایک سنگین ترین اجتماعی جرم میں شرکت کے احساس نے مجھے خود سے شرمندہ کر رکھا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ میں کیسے دور میں پیدا ہوا ہوں! مسلمان ایسے بزدل تو کبھی نہ تھے۔ وہ اپنی جانوں کو اتنا عزیز تو نہیں سمجھتے تھے۔ اپنے پیغمبر ﷺ کی ناموس کے لیے جانیں لٹانے والے کہاں چلے گئے؟ ہم سب جھوٹے عاشق ہیں، نام و نمود کے پجاری ہیں۔ سچے عشاق کہاں رہ گئے؟ کاش ان کے گمشدہ قافلوں کا کوئی بھولا بھٹکا فرد اس دور میں نکل آتا۔ امت مسلمہ کی کچھ تو عزت رہ جاتی۔ مسلمانوں کو بے

صفحہ ١٩٠

غیرتوں کا طعنہ تو نہ دیا جا سکتا۔

مگر ...... آج میں محسوس کر رہا ہوں کہ میرا احساس کمتری غلط تھا۔ عامر چیمہ نے ناموس رسالت کی خاطر جرمنی میں اپنی جان قربان کر کے ہمارے جھکے ہوئے سروں کو اونچا کر دیا ہے۔ یقین نہیں آ رہا کہ یہ سعادت پاکستان والوں کے حصے میں آئی ہے۔ راولپنڈی کے اس نوجوان نے جرمن اخبار کے گستاخ چیف ایڈیٹر پر قاتلانہ حملہ کر کے یہ ثابت کر دیا کہ امت مسلمہ ابھی بانجھ نہیں ہوئی۔

مغرب نے اپنی روایتی سفاکی، تعصب اور اسلام دشمنی کا ثبوت دیتے ہوئے اس جیالے نہتے نوجوان کو جیل میں بدترین تشدد کا نشانہ بنا کر شہید کر ڈالا۔ شاید وہ سمجھتے ہوں گے کہ اس طرح وہ غازی علم دین بننے کا ولولہ رکھنے والوں کو خوفزدہ کر دیں گے مگر یہ ان کی بھول ہے۔ عامر چیمہ کی شہادت سے ناموس رسالت کی سرد پڑتی ہوئی تحریک ایک نئی زندگی حاصل کرے گی۔ اللہ نے چاہا تو اس ایک نوجوان کی جگہ کئی نوجوان اس مشن کی تکمیل کے لیے سر پر کفن باندھ لیں گے۔

محمد عامر چیمہ نے عشاق رسالت کے لیے ایک نئی راہ متعین کر دی ہے۔ وہ ناموس رسالت کے لیے مرنے والوں کو ایک نئی مثال دے گیا۔

ہاں ...... جو اس مشن میں کامیاب ہو گیا وہ غازی علم دین کا وارث کہلائے گا اور جو ہدف کی تکمیل سے قبل اس مشن کی راہ میں قربان ہو گیا۔

دنیا اُسے عامر چیمہ کا ہم سفر کہے گی ......

امت مسلمہ کو ایک نیا ولولہ دے کر جانے والے ...... تجھے یہ عظیم ترین شہادت مبارک ہو !

۞ ۞ ۞

صفحہ ١٩١

عبدالقدوس محمدی

وہ مر کے بھی نہیں مرتے

گزشتہ دنوں یورپین اخبارات میں چھپنے والے دلآزار، شرانگیز اور توہین آمیز خاکوں کے حوالے سے امتِ مسلمہ کے ہر ہر فرد نے اپنی اپنی بساط و استطاعت کے مطابق احتجاج کیا...... کسی نے جلوس نکالا....... کسی نے مظاہرہ کیا....... کسی نے کانفرنسوں اور سیمینارز کا انعقاد کیا...... کسی نے بینرز آویزاں کیے....... کسی نے تقریروں کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کیا...... کسی نے قلم کا سہارا لے کر اپنے قلبی احساسات کا اظہار کیا....... مگر سب سے زیادہ انوکھا، نرالا اور موثر احتجاج ایک پاکستانی طالب علم عامر چیمہ نے کیا...... اس نے اپنی غیرتِ ایمانی کا ثبوت پیش کرنے کے لیے....... اپنے آقا ﷺ سے اپنی عقیدت و محبت کا اظہار کرنے کے لیے خنجر کا سہارا لیا اور توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے اخبار کے برلن (جرمنی) میں موجود بیورو چیف پر قاتلانہ حملہ کر دیا جس سے وہ بدبخت شدید زخمی ہوگیا....... جبکہ عامر چیمہ کو موقع پر موجود گارڈز نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا....... 20 مارچ کو عامر کو گرفتار کیا گیا اور اس وقت سے لے کر اب تک اس بیچارے پر نجانے کس قسم کا تشدد ہوتا رہا....... ظلم و ستم کے کیسے کیسے پہاڑ توڑے گئے....... اُسے کیسی کیسی تکلیفوں اور اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا اور بالآخر وہ اس ظلم و ستم کی تاب نہ لا کر جامِ شہادت نوش کر گیا۔

اس عرصہ میں عامر چیمہ کے اہل خانہ اُس کی رہائی کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے رہے....... انھوں نے قانونی چارہ جوئی کا انتظام کرنا چاہا....... پاکستانی سفارت خانے کی وساطت سے اپنے بیٹے سے بات کرنے کی خواہش کا بار بار اظہار کیا لیکن نہ تو عامر کو اپنی صفائی پیش کرنے کا موقع دیا گیا....... نہ ہی اس کے اہل خانہ کو کسی کو اپنا وکیل بنانے کی اجازت دی گئی....... اور نہ ہی ان کی عامر سے بات کروائی گئی....... کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ مغربی

صفحہ ١٩٢

ممالک جو حقوق انسانی کے علمبردار بنے پھرتے ہیں...... ہر وقت انصاف کا ڈھنڈورہ پیٹتے رہتے ہیں...... عدل کی بالا دستی کی بات کرتے ہیں...... تحمل و رواداری کی تلقین کرتے ہیں...... اُن کی جیل میں ایک پاکستانی نوجوان کو اس بے دردی سے شہید کر دیا جائے گا۔ عامر کی شہادت نے اُن ظالموں کی انصاف پسندی، انسانیت سے ہمدردی اور عدل و انصاف کی بالادستی کے نعروں کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔

اور رہ گئی ہماری حکومت جس کے ذمے اپنے ایک ایک شہری کے تحفظ کا فرض عائد ہوتا ہے اس حکومت کے کارندوں نے عامر کے اہل خانہ کو اندھیرے میں رکھا...... انھیں طفل تسلیاں دیتے رہے...... انھیں راز داری کی تلقین کرتے رہے...... اور بالآخر یہ حادثہ ہو گزرا...... اسے المیہ ہی کہا جائے گا کہ برازیل جیسے ملک کا کوئی عام سا شہری لندن میں گولیوں کا نشانہ بنتا ہے تو برازیل آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے اور برطانیہ کو گھٹنے ٹیکنے اور ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ لیکن سمجھ نہیں آتی کہ عالم اسلام کے سرخیل اور ایٹمی طاقت پاکستان کے باشندوں کا لہو اتنا ارزاں اور اتنا بے حیثیت کیوں ہے؟...... پاکستانی اتنے غیر محفوظ کیوں ہیں کہ جس کا جی چاہتا ہے وہی پاکستانی باشندوں کے لہو سے ہاتھ رنگ لیتا ہے اور پھر ہمیں احتجاج کے دو بول بولنے کی توفیق بھی نہیں ہوتی...... ستمگروں کے ستم کا نشانہ بننے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کرنے اور ان کی تسلی کے لیے چند کلمات کہنے کا حوصلہ بھی نہیں ہوتا...... آخر کیوں؟

اور جہاں تک تعلق ہے عامر چیمہ کا وہ تو حدود سود و زیاں سے گزر گیا ہے...... اس جواں سال عاشق رسول ﷺ نے ناموس رسالت کے تحفظ کے لیے اپنی جان نچھاور کر کے اپنے ایمان کے کامل ہونے کا ثبوت دے دیا ہے...... لوگ مر جاتے ہیں لیکن عامر شہید ہو کر امر ہو گیا...... وہ زندہ و جاوید رہے گا...... اب وہ مسلمانانِ عالم کے دلوں اور تاریخ کے صفحات سے کبھی نہیں مٹ سکتا...... وہ ان لوگوں کی صف میں جا شامل ہوا ہے جن کے بارے میں کسی پنجابی شاعر نے کہا تھا۔

اوہ مر کے وی نئیں مردے

عامر چیمہ عہد حاضر کا وہ غازی علم الدین شہیدؒ ہے جو جرأت و جسارت اور ہمت و غیرت کا استعارہ بن گیا...... وہ ایک ایسا مینارۂ نور ٹھہرا ہے جس سے صدیوں عاشقانِ

صفحہ ١٩٣

مصطفی ﷺ رہنمائی لیتے رہیں گے...... اپنی اپنی راہیں متعین کرتے رہیں گے۔ غازی علم الدین شہیدؒ جیل کی جس کوٹھری میں قید تھے اس کے دربان اور چوکیدار بتاتے ہیں کہ اس کوٹھڑی سے کسی شب انوکھی انوکھی سی روشنیاں پھوٹا کرتی تھیں...... کبھی اجنبی سی خوشبوئیں مہکا کرتی تھیں...... کبھی غازی دیر تک غائب ہو جاتے تھے...... کبھی کسی اَن دیکھی ہستی سے محو گفتگو ہوتے تھے...... میں سوچتا ہوں کاش! عامر جس جیل میں تھا اس کا کوئی دربان مسلمان ہوتا تو وہ دنیا والوں کو بتاتا کہ عامر نے زنداں میں ڈیڑھ ماہ کا یہ عرصہ کیسے گزارا؟...... اس ڈیڑھ ماہ کے دوران نجانے وہ قرب کے کتنے زینے چڑھا؟...... اس نے سلوک و احسان کی کون کون سی منازل طے کی ہوں گی؟...... کیا معلوم اس کے لیے علم و حکمت کے کون کون سے در وا ہوئے ہوں گے؟...... کیا خبر اس پر اللہ کے احسانات و نوازشات کی کیسی کیسی بارشیں برسی ہوں گی؟

مجھے رہ رہ کر اس بانکے سجیلے نوجوان کی سعادت مندی اور خوش بختی پر رشک آ رہا ہے...... جو گھر سے جرمنی کی ایک یونیورسٹی کی ڈگری لینے نکلا تھا...... اور اب وہ سر پر سفید کفن لپیٹے...... چہرے پر شہادت کے لہو کا غازہ مل کر...... ہاتھوں میں جنت کا پروانہ لیے لوٹ رہا ہے...... جواں سال عامر نے جولائی میں تعلیم مکمل کر کے واپس لوٹنا تھا...... اس کی امی کسی چاند سی بہو کی تلاش میں تھیں...... اس کی بہنوں کی آنکھوں میں اپنے اکلوتے بھائی کی خوشیوں کے خواب تاروں کی مانند جھلملا رہے تھے اور وہ ان سب کی پرواہ کیے بغیر جنتی حوروں کا دولہا بن کر افق کے اس پار چلا گیا...... عامر تو چلا گیا...... اس نے ایک ہی جست لگائی اور اپنے پیارے آقا ﷺ کے قدموں اور فردوس کے بالا خانوں میں پہنچ گیا...... مگر جاتے جاتے ہمارے لیے بہت سے پیغام، بہت سے سوالات چھوڑ گیا...... ہمیں آزمائشوں سے دو چار کر گیا...... امتحانات میں ڈال گیا۔ دیکھیے ہم ان آزمائشوں میں کامیابی حاصل کرتے ہیں یا ناکام ہو جاتے ہیں؟

صفحہ ١٩٤

محمد ظفر الحق چشتی

غیرتِ مسلم زندہ ہے!

بات کہاں سے شروع کروں، بات شہیدِ ناموسِ رسالت مآب ﷺ کی ہے۔ قلم بے بس ہے، زبان گنگ ہے، الفاظ بے مایہ ہیں، خواجہ یثرب ﷺ کی عزت پر مر مٹنے والے شہید کا قصیدہ لکھا جا سکتا ہے، اس کی عظمتوں کی بات ہو سکتی ہے لیکن یہ تب ممکن ہے جب خدا نفسِ جبرائیل علیہ السلام عطا کر دے۔ عامر شہید نے جو کارِ عشق کر دکھایا ہے، یہ اسی کا حصّہ ہے۔ وہ غازی علم دین شہید کا جانشین ہے۔ اس کی جرأتوں پر اہل دانش دنگ ہیں، عقل حیرت سے تک رہی ہے۔ عقل تو اس وقت بھی محو تماشاے لب بام تھی، جب عشق بے خوف و خطر آتش نمرود میں کود رہا تھا۔ عامر شہید ان پڑھ نہیں تھا، جاہل نہیں تھا، کسی مذہبی مدرسے کا فارغ التحصیل نہیں تھا اور نہ ہی وہ ابلہ مسجد تھا۔ وہ ایک اعلیٰ اور جدید تعلیم یافتہ نوجوان تھا۔ اسے جرمن یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری ملنے والی تھی۔ اس نے سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماحول میں پرورش پائی تھی۔ لیکن وہ مسلمان تھا، ایک غیرت مند مسلمان، اس کی حمیّت زندہ تھی۔ وہ تہذیب کا فرزند نہیں تھا۔ اس کے خون میں عشقِ رسالت ﷺ مآب کی تپش تھی۔ وہ اقبال کا شاہین تھا، مردِ مومن تھا۔ اس کے بدن میں روحِ محمد رواں دواں تھی اور یہ روحِ محمد اہلِ یورپ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود بھی فاقہ کش مسلمان کے بدن سے نکال نہیں سکے۔

عامر شہید جرمنی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ نہ وطن اپنا، نہ لوگ اپنے، نہ زبان اپنی، نہ معاشرت اپنی، نہ مذہب اپنا، نہ حکومت اپنی، وہ یہود و نصاریٰ کے حصار میں تھا اور وہ جو کچھ کرنے جا رہا تھا اس کا انجام اور مآل اس پر روزِ روشن کی طرح عیاں تھا۔ لیکن وہ اس انجام سے بے پروا تھا۔ اس کے سامنے وہ مثال تھا جو حضرت عمیر بن عدی، حضرت سالم بن عمیر، حضرت محمد بن مسلمہ، حضرت محیصہ بن مسعود، حضرت خالد بن ولید، حضرت زبیر، حضرت

عبداللہ بن عتیک، حضرت ابو برزہ ا حضرت غازی علم دین شہید کو حاصل نے توہین رسالت ﷺ مآب کا ار کیا تھا۔ لیکن یہ سب علم دین شہید چیمہ کو شہادت بھی نصیب ہوئی۔ شر لیکن چراغ مصطفوی ﷺ کے پروا رہیں گے۔ عامر شہید بھی شمع رسال نے توہین رسالت ﷺ مآب کا ا فیصلہ کر لیا تھا اور پھر اس نے ایک نکلنا مشیت الٰہی ہے، یہ ایک الگ کیا، انجام اس کے سامنے تھا۔ وہ اُن مردوں میں سے تھا جو موت کی جرمن پولیس نے عامر ش نے دوران تفتیش جیل میں تشدد کر کر ان کارندوں نے یہ اعلان کر دیا ک پاکستانی عقل کے اندھے دانشوروں کی خوشنودی حاصل کرنے کی خا ”روشن خیال“ معاشرے میں ایسے اسلام دشمنی اور پاکستان دشمنی کے ڈھونگ رچاتے ہیں، لہو پیتے ہیں ا 13 فروری کو عامر شہید کئی دنوں سے متضاد اطلاعات فرا کس طاقت کی خوشنودی کی خاطر لاہور لایا جائے گا اور لاہور میں راولپنڈی اسلام آباد میں نماز جنا

صفحہ ١٩٥

عبداللہ بن عتیک، حضرت ابو برزہ اسلمی، حضرت سعد بن حریث، حضرت علی بن ابو طالب اور حضرت غازی علم دین شہید کو حاصل ہو چکا تھا۔ یہ سب وہ عاشقان رسول ﷺ ہیں، جنھوں نے توہین رسالت ﷺ مآب کا ارتکاب کرنے والے یہود و نصاریٰ اور مشرکین کو جہنم واصل کیا تھا۔ لیکن یہ سب علم دین شہید کے علاوہ اپنے معرکوں میں غازی رہے۔ علم دین اور عامر چیمہ کو شہادت بھی نصیب ہوئی۔ شرار بولہبی، چراغ مصطفویٰ ﷺ سے ہمیشہ ستیزہ کار رہا ہے، لیکن چراغ مصطفویٰ ﷺ کے پروانے اپنی جانیں قربان کر کے اس چراغ کی حفاظت کرتے رہیں گے۔ عامر شہید بھی شمع رسالت ﷺ مآب کا پروانہ تھا۔ وہ بالکل خوفزدہ نہیں تھا۔ اس نے توہین رسالت ﷺ مآب کا ارتکاب کرنے والے صحافیوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا فیصلہ کر لیا تھا اور پھر اس نے ایک ایسے ہی بداصل جرمن صحافی پر وار کر دیا۔ اس بدبخت کا بچ نکلنا مشیت الٰہی ہے، یہ ایک الگ معاملہ ہے۔ بہر حال عامر شہید نے جو کچھ کیا باہوش و حواس کیا، انجام اس کے سامنے تھا۔ وہ موت سے ڈرنے والا نہیں تھا۔ اس کا ایمان کامل تھا۔ وہ تو اُن مردوں میں سے تھا جو موت کی آمد پر مسکراتے ہیں۔

جرمن پولیس نے عامر شہید کو گرفتار کر لیا اور پھر مہذب ملک وقوم کی مہذب پولیس نے دورانِ تفتیش جیل میں تشدد کر کے اس عاشق رسول ﷺ کو شہید کر دیا۔ اور پھر ابلیس کے ان کارندوں نے یہ اعلان کر دیا کہ عامر شہید نے جیل میں خودکشی کر لی ہے۔ تف ہے ان پاکستانی عقل کے اندھے دانشوروں پر، ضمیر فروشوں پر اور بے غیرتوں پر جو اپنے یورپی آقاؤں کی خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر عامر شہید کی شہادت کو خودکشی قرار دیتے ہیں۔ ہمارے ”روشن خیال“ معاشرے میں ایسے بہت سے افراد موجود ہیں جو اپنے یورپی آقاؤں سے اسلام دشمنی اور پاکستان دشمنی کے عوض وظیفے پاتے ہیں اور آدمیت اور خدمت آدمیت کا ڈھونگ رچاتے ہیں، لہو پیتے ہیں اور تعلیم مساوات دیتے ہیں۔

13 فروری کو عامر شہید کی نماز جنازہ تھی۔ اس سلسلے میں ہمارا ٹیلیویژن اور اخبارات کئی دنوں سے متضاد اطلاعات فراہم کر رہے تھے۔ خبر نہیں، اس میں کیا راز تھا اور یہ سب کچھ کس طاقت کی خوشنودی کی خاطر ہو رہا تھا۔ آخری خبر یہ تھی کہ 14 فروری کو شہید کا جسدِ اطہر لاہور لایا جائے گا اور لاہور میں نماز جنازہ ہوگی۔ ایک خبر یہ بھی تھی کہ شہید کے لواحقین راولپنڈی اسلام آباد میں نماز جنازہ کی خواہش رکھتے تھے۔ یہ بھی ایک راز ہے کہ شہید کے

صفحہ ١٩٦

والد گرامی پروفیسر نذیر کی خواہش کا کیا احترام کیا گیا۔ اس کے باوجود شہید کا جنازہ بڑی دھوم دھام سے ہوا۔ مجھ بے مایہ کو بھی شہید کے جنازے میں شرکت کا شرف حاصل ہوا۔ میں 11 بجے صبح ”ساروکی“ پہنچ گیا۔ میں اس سلسلے میں پروفیسر طارق چودھری کا ممنون احسان ہوں جو مجھے اپنی گاڑی میں بٹھا کر ”ساروکی“ لے گئے۔ ”ساروکی“ وزیر آباد تحصیل کا ایک قصبہ ہے۔ ”ساروکی“ کو کون جانتا تھا۔ لیکن یہ عامر شہید کا معجزہ ہے کہ آج چار دانگ عالم میں ”ساروکی“ کا چرچا ہے۔ ”ساروکی“ چوک سے عامر شہید کے گھر کا راستہ تقریباً 3 کلومیٹر ہوگا۔ سارا راستہ جھنڈیوں سے سجا ہوا تھا۔ دور دور تک مخلوق خدا دکھائی دے رہی تھی۔ شدید ترین گرمی کے باوجود لاکھوں افراد ”ساروکی“ پہنچ چکے تھے۔ ”ساروکی“ کے مقامی باشندوں کی محبت قابل تحسین تھی۔ ہر گھر کے دروازے شہید کے سوگواروں کے لیے کھلے تھے اور ہر گھر کے آگے ٹھنڈے پانی کی سبیل لگی ہوئی تھی اخوت و محبت اور عقیدت و احترام کا یہ منظر دیدنی تھا۔

ساڑھے گیارہ بجے کے قریب عامر شہید کا جسد اطہر ”ساروکی“ لایا گیا۔ مخلوق خدا نے پھول نچھاور کیے۔ دیکھنے والی آنکھوں نے دیکھا کہ فرشتے اور حوریں بھی عامر شہید پر باغ جنت کے پھول نچھاور کر رہے تھے۔ بار بار غالب میرے کان میں کہہ رہے تھے:

اک خونچکاں کفن میں کروڑوں بناؤ ہیں
پڑتی ہے آنکھ تیرے شہیدوں پہ حور کی

میں سوچتا ہوں کہ عامر شہید کا جنازہ بادشاہی مسجد اور اقبال پارک لاہور میں ہونا چاہیے تھا لیکن مشیت ایزدی نے یہ اعزاز ”ساروکی“ کی سرزمین کے مقدر میں لکھ دیا تھا۔ عامر شہید کے جنازے میں شرکت کرنے والوں کی تعداد کے بارے میں ٹیلی ویژن نے چالیس پچاس ہزار تعداد بتائی، حالانکہ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی تعداد بھی اس سے زیادہ تھی۔ بلکہ محتاط اندازے کے مطابق شہید کے جنازے میں چار پانچ لاکھ افراد شامل تھے۔

عامر شہید کے جنازے کے موقع پر محمد مصطفیٰ ﷺ کے نام لیواؤں کے جذبات دیدنی تھے۔ چہروں پر خوشی بھی تھی، حسرت بھی تھی، دلوں میں کرب بھی تھا اور زبانوں پر داد و تحسین بھی تھی۔ تابوت کو بوسے دیے جا رہے تھے، اس خوش قسمت ایمبولینس کو بھی چوما جا رہا تھا۔ جس میں شہید کا تابوت رکھا تھا۔ بعض لوگ عامر شہید کی لحد کی مٹی چہروں اور سروں پر مل رہے تھے۔ کسی کی آنکھوں میں آنسو تھے، کسی کے لب پر درود و سلام کے نغمے تھے، کوئی کلمہ

صفحہ ١٩٧

طیبہ کا ورد کر رہا تھا، کوئی سبحان اللہ پکار رہا تھا، کہیں نعرہ ہائے تکبیر و رسالت کی صدائیں تھیں اور ”ساروکی“ کے ذرے ذرے سے یہ آواز آ رہی تھی:

بتلا دو گستاخ نبی ﷺ کو غیرت مسلم زندہ ہے
ان پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے

ابلیس کے یورپی کارندے اور یورپی آقاؤں کے دیسی غلام یہ جان لیں کہ شمع ناموس رسالت مآب ﷺ کے پروانے اس گئے گزرے دور میں بھی جاں نثاری کا جذبہ دلوں میں رکھتے ہیں اور عامر شہید کا جذبہ ایمانی، شوق شہادت اور عشق رسالت مآب ﷺ لحد میں بھی زندہ ہے۔

عظیم ہے وہ ماں جس نے عامر شہید کو جنم دیا۔ مقدس ہے وہ سر زمین جہاں پر عامر شہید نے پرورش پائی۔ ”ساروکی“ زندہ باد ”ساروکی“ تیری مٹی کا ذرہ ذرہ مسجود مہر و ماہ ہے۔ تیری آغوش میں شہید ناموس رسالت مآب ﷺ کی لحد ہے، تو رشک جنت ہے۔ تیرا اترانا، تیرا ناز کرنا، تیرا فخر کرنا تجھے زیب دیتا ہے کیونکہ شہید کی لحد پر سرکار ﷺ دو عالم کی سواری تو ضرور اتری ہوگی۔

روندی ہوئی ہے کونین شہسوار کی
اترائے کیوں نہ خاک سر رہگزار کی

❁ ❁ ❁

صفحہ ١٩٨

انور غازی

پھر یاد تازہ ہو گئی

پہاڑی کی چوٹی پر کھڑے ہو کر جب آپ ﷺ نے نیچے نگاہ دوڑائی تو کافی تعداد میں لوگ کھڑے تھے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تمھارے درمیان اپنی عمر کے چالیس سال گزارے ہیں، تم نے مجھے کیسا پایا؟“

”ہم نے ہر موقع پر آزمایا، آپ کو صادق و امین ہی پایا۔“

نیچے کھڑے ہر شخص نے یہ گواہی دی...... لیکن جب پہاڑ کی چوٹی پر اعلان کرنے والے نے اس مجمع کو چند باتیں بتائیں اور ان کی تائید چاہی تو اسی مجمع میں سے سخت جملوں سے جواب دیا گیا۔ مجمع میں سے ایک بھی نہیں جو آپ پر جھوٹ کا الزام دھر سکے، جو آپ پر بدیانتی کا بہتان لگا سکے، جو آپ کی بداخلاقی کا گواہ ہو، جو آپ کی طہارتِ قلب اور تزکیۂ نفس کا قائل نہ ہو۔

اس کے باوجود یہ مجمع دو گروہوں میں بٹ جاتا ہے: اقرار کرنے والے اور انکار کرنے والے، تائید کرنے والے اور تردید کرنے والے، حمایت کا اعلان کرنے والے اور مخالفت کے لیے کمر بستہ ہو جانے والے، ایمان لانے والے اور انکار و مخالفت کرنے والے۔ پھر مخالفت کرنے والوں میں بھی دو قسم کے لوگ تھے۔ ایک وہ تھے جو صرف مخالفت کرتے تھے اور دوسرے وہ تھے جو آپ ﷺ کی مخالفت کے ساتھ ساتھ آپ کی شانِ اقدس میں گستاخیاں بھی کرتے رہتے تھے۔ پہلے گروہ کے بارے میں تو آپ نے ہمیشہ تحمل فرمایا لیکن اس دوسرے فریق کو جہنم رسید کرنے کا حکم آپ ﷺ نے خود فرمایا۔

کعب بن اشرف اور ابو رافع کی زبان درازی پر آپ ﷺ نے ان کے قتل کا حکم

صفحہ ١٩٩

صادر فرمایا۔ چنانچہ کعب بن اشرف کو محمد بن مسلمہ نے جہنم رسید کر دیا۔ ابن اخطل کا تو غلاف کعبہ پکڑنا بھی کام نہ آیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جب آ کر بتایا کہ وہ تو کعبے کا غلاف پکڑے کھڑا ہے۔ اتنی محترم جگہ میں اُسے کیسے قتل کریں تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اسے وہیں قتل کر دو۔“ چنانچہ اسے وہیں قتل کیا گیا۔ معلوم ہوا کہ گستاخ رسول کو کہیں امان نہیں مل سکتی۔

حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ ایک نابینا صحابی تھے۔ ایک یہودی عورت انھیں راستہ بتانے کے لیے ان کے ساتھ ساتھ رہتی تھی۔ ایک دفعہ اس نے آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کی تو نابینا صحابی نے اسے اتنا مارا، اتنا مارا کہ وہ مرگئی۔ لوگ خون کا بدلہ لینے کے لیے آپ ﷺ کی خدمت میں آئے۔ نابینا صحابی نے بتایا: ”اس نے آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کی تھی، مجھ سے برداشت نہ ہوسکا، بس میں نے اسے مار ڈالا۔“ یہ سن کر آنحضرت ﷺ نے فرمایا: ”اس کم بخت پر اللہ کی مار ہو، اس کے خون کا بدلہ نہیں دیا جائے گا۔“

یہ سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ ماضی قریب میں جب راجپال نے توہین رسالت کا ارتکاب کیا تو اسے غازی علم دین شہید کے ہاتھوں جہنم رسید ہونا پڑا۔ رام گوپال نے آقائے مدنی ﷺ کی شان میں گستاخی کی تو غازی مرید حسین شہید اس پر حملہ آور ہوئے اور اسے پیوند خاک بنا دیا۔ نتھو رام نے جب رسول مکرم ﷺ کے خلاف غلاظت بکی تو غازی عبدالقیوم شہید نے اسے جہنم میں پہنچا دیا۔

سوامی شردھانند نے محسن انسانیت ﷺ کے خلاف دریدہ دہنی کی تو غازی عبدالرشید شہید نے اس کے متعفن جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے۔ چنچل سنگھ نے جب امام الانبیاء ﷺ کے خلاف زبان درازی کی تو غازی عبداللہ شہید نے اس کے ناپاک وجود سے زمین کو پاک کر دیا۔ کھیم چند، پالال، ویداسنگھ، ملعون بھیشو، ہر دیال سنگھ اور عبدالحق قادیانی جیسے شیطان صفت گستاخوں کو بھی غازی منظور حسین، غازی احمد دین، غازی عبدالمنان، غازی معراج دین اور حاجی مالک شہید جیسے اسلام کے سچے متوالوں اور آقائے مدنی ﷺ کے سچے محبّان کے ہاتھوں جہنم کا ایندھن بننا پڑا۔ جس سے ثابت ہوگیا کہ جو بھی یہ جسارت کرے گا اس کا انجام بھی ایسا ہی ہوگا۔

صفحہ ٢٠٠

اسی سلسلے کو غازی عامر شہید نے آگے بڑھایا۔ خیر القرون سے لے کر مارچ 2006ء تک ایسے ان گنت لوگ موجود ہیں جن کے دل ان گستاخوں کے لیے ایسے ہی جذبات سے بھر پور ہیں۔ اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔ چونکہ تحفظ ناموس رسالت مسلمانوں کے ایمان کا حصہ ہے، اس لیے اس کی خاطر مسلمان جان دینا سعادت سمجھتا ہے۔

کچھ عرصہ سے یورپی اخبارات مسلسل گستاخیاں کر رہے ہیں جس پر پورا عالم اسلام سراپا احتجاج بنا رہا لیکن گستاخی کے مرتکب بدتہذیب ٹس سے مس نہیں ہو رہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق رومن کیتھولک رسالے (Cattolici Studi) نے اپنے سرورق پر متنازعہ خاکے شائع کیے ہیں۔

اب ان حالات میں ایک پاکستانی طالب علم غازی عامر چیمہ نے غیرت ایمانی کا ثبوت پیش کرنے کے لیے اور آپ ﷺ کے ساتھ سچی محبت وعقیدت کے اظہار کے لیے خنجر بدست ہو کر توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے اخبار کے بیورو چیف پر قاتلانہ حملہ کر دیا جس سے وہ بدبخت زخمی ہو گیا..... عامر چیمہ نے ناموس رسالت کے تحفظ کی خاطر اپنے کامل ایمان ہونے کا ثبوت دے کر شہدائے ناموس رسالت کی فہرست میں اپنا نام لکھوا لیا جن کے بارے میں قرآن کہتا ہے: ”انھیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں۔“ عامر چیمہ کون تھا؟ آیئے اس کی زندگی پر ایک نظر ڈالتے ہیں:

اس نے 4 دسمبر 1977ء کو پنجاب کے علاقے حافظ آباد میں آنکھ کھولی۔ شریف النفس اور نیک نام باپ پروفیسر محمد نذیر چیمہ نے بیٹے کا نام عامر عبدالرحمن رکھا۔ عامر نے گورنمنٹ ہائی سکول راولپنڈی سے میٹرک کیا۔ 1994ء میں اس نے فیڈرل گورنمنٹ سرسید کالج راولپنڈی سے پری انجینئرنگ میں ایف ایس سی کا امتحان پاس کیا۔ نیشنل کالج آف ٹیکسٹائل انجینئرنگ فیصل آباد سے بی ایس سی کرنے کے بعد عامر نومبر 2004ء میں اعلیٰ تعلیم کے لیے جرمنی چلا گیا جہاں اس نے ”مشن گلیڈ باخ“ کی یونیورسٹی آف اپلائیڈ سائنسز کے شعبہ ٹیکسٹائل اینڈ کلوتھنگ مینجمنٹ میں داخلہ لے لیا۔ چوتھا سمسٹر شروع ہونے سے قبل، فروری کے وسط میں یونیورسٹی میں کوئی ایک ماہ کی چھٹیاں ہو گئیں۔ وہ چھٹیاں گزارنے برلن چلا گیا۔ 11 مارچ کو یونیورسٹی کھل گئی لیکن عامر واپس نہ پہنچا۔ مارچ کے آخری ہفتے میں 60 سالہ

صفحہ ٢٠١

پروفیسر نذیر احمد چیمہ نے برلن میں اپنے عزیزوں سے بات کی لیکن عامر کا نام آتے ہی فون بند ہو گیا۔ 8 مارچ کو عامر نے آخری بار فون کر کے اپنے خالہ زاد بھائی کو شادی کی مبارکباد پیش کی تھی۔ ٹھیک ایک ماہ بعد 8 اپریل کو برلن کے عزیزوں نے خبر دی کہ عامر 20 مارچ کو گرفتار ہو گیا تھا اور وہ برلن پولیس کے زیر تفتیش ہے۔

غازی عامر محمود چیمہ کو چھڑانے کے لیے موجودہ حالات کی روشنی میں بھر پور سفارتی کوششیں ہونی چاہئیں تھیں جبکہ غازی عامر شہید کا کسی عسکری تنظیم سے کوئی تعلق بھی نہ تھا تو پھر عامر کی جان بچانے کے لیے بھر پور کوششیں کیوں نہ کی گئیں؟ کیا اس کے لیے بین الاقوامی عدالتی طریقہ کار نہیں تھا؟ 44 دن تک کیوں کسی بھی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا؟ ٹارچر سیلوں میں رکھ کر اذیت ناک طریقے سے شہید کرنا ”انسانی حقوق کے عالمی اداروں“ کے منہ پر طمانچہ کے مترادف نہیں ہے؟ اب یہ ”کمیشن“ کیوں نہیں چیختے؟ مغربی میڈیا کیوں خاموش ہے؟ کیا یہاں اسلام اور آپ ﷺ کی ناموس کا مسئلہ تھا اس لیے سب کو سانپ سونگھ گیا ہے؟ 60 سالہ پروفیسر نذیر احمد نے سچ کہا کہ پاکستان میں اگر کسی گورے اور گوری کے کتے اور کتی کو کانٹا بھی چبھ جاتا ہے تو کمیشن بیٹھ جاتا ہے اور معافیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ پوری دنیا میں اپنے شہریوں بلکہ محض اپنے مفادات کی خاطر بھی سفارتی اور ابلاغی ذرائع کا بھر پور استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کی چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں:

ایک امریکی شہری ڈینیل پرل کو جس پر صحافت کی آڑ میں جاسوسی کا الزام تھا، چھڑانے کے لیے امریکا نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ اسی طرح بھارت نے سربجیت سنگھ جس پر کئی قتل اور بم دھماکوں کے مقدمے قائم تھے جس کی وجہ سے اس کو موت کی سزا ہو گئی تھی، کی رہائی کے لیے ہر سطح پر کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ اسی طرح جب برازیل کا ایک شہری برطانوی پولیس کے ہاتھوں تشدد سے ہلاک ہوا تو برازیل نے برطانوی حکومت کو ہلا کے رکھ دیا۔ حال ہی میں افغانستان میں عبدالرحمن نامی ایک شخص نے مرتد ہو کر عیسائی مذہب اختیار کر لیا۔ افغانستان میں اس پر شدید ردعمل ہوا، لیکن ان کے احتجاج کو بھی دہشت گردی سے تعبیر کیا گیا۔ اس کی رہائی کے لیے امریکی صدر نے اس قدر گہری دلچسپی لی کہ اسے صحیح سالم اٹلی بھجوا کے دم۔ بھجوا کے دم لیا۔ کے دم لیا۔

صفحہ ٢٠٢

لیکن دوسری طرف پاکستانی عوام کا حال یہ ہے کہ اگر بیرون ملک پاکستانیوں کو لائنوں میں کھڑا کر کے چھلنی کر دیا جائے یا ہمسائے ملکوں میں کلاشنکوفوں سے بھون ڈالا جائے یا سات سمندر پار دو درجن کے قریب پاکستانیوں کو خاک و خون میں نہلا دیا جائے تو بھی حکمرانوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ پاک وطن کے جوانوں کا لہو اتنا سستا کیوں ہو گیا ہے؟ حالانکہ ہم ایٹمی طاقت ہیں اور ہمارے جانبازوں نے ہر محاذ پر اپنا لوہا منوایا ہے اور اپنے دشمنوں کو لوہے کے چنے چبوائے ہوئے ہیں۔ کیا زندہ قوموں کا یہی معیار و شعار ہوتا ہے؟ کیا آزاد قومیں اسی طرح جیتی اور مرتی ہیں؟ کیا بیرون ملک پاکستانیوں کے ساتھ اسی طرح کا سلوک ہمیشہ روا رکھا جاتا رہے گا؟

آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ”الا كلكم راع وكلكم مسئول عن رعيته.“ تم اپنے عوام کے نگہبان ہو اور قیامت کے دن تم سے ان کے بارے میں پوچھ ہوگی۔ کیا ہمارے حکمرانوں سے سات سمندر پار جا کر تعلیم حاصل کرنے والے پاکستانی طالب علم کے بارے میں پوچھ نہیں ہوگی جس نے آپ ﷺ کی محبت میں ایک گستاخ کو جہنم رسید کرنے کی کوشش کی تھی جس کی پاداش میں اس کو زندان خانے میں ڈال دیا گیا اور 44 دن تک اس میں قید رہے؟

اس دوران اس پر وہ ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے ...... پھر اچانک رات کے سناٹے میں ابھرنے والی ایک چیخ ایسی تھی کہ وہ سن کر ارد گرد کے قیدی بھی چونک اٹھے۔ صبح پتہ چلا کہ ایک ایسے شخص پر قیامت قائم ہوئی ہے جس نے آپ ﷺ کی ناموس کی خاطر اپنے ہاتھ میں خنجر اٹھا کر کسی ملعون کا قلع قمع کرنا چاہا تھا۔

ناموس رسالت کی تحریک جو کمزور پڑ گئی تھی اس کو غازی عامر شہید نے خون کی نمی دے کر زندہ کر دیا ہے۔ اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قیامت تک ناموس رسالت کی خاطر کٹ مرنے والے آتے ہی رہیں گے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کون ناموس رسالت کی اس تحریک کا حصہ بنتا ہے؟

آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ”لايؤمن احدكم حتى أكون أحب اليه من والده ۔۔۔” تم میں سے کوئی کامل ایمان والا نہیں ہو سکتا جب تک اسے

صفحہ ٢٠٣

میرے ساتھ ماں باپ، اولاد اور باقی سب چیزوں سے بڑھ کر محبت نہ ہو جائے۔“ اس حدیث کا تقاضا ہے کہ آپ ﷺ کی ناموس پر ادنیٰ سا حملہ بھی کسی مسلمان کے لیے ہرگز قابلِ برداشت نہیں ہونا چاہیے۔ جب انسان اپنے والدین کی توہین اپنی زندگی میں برداشت نہیں کر سکتا تو پھر ایک ایسی عظیم ہستی جس سے محبت کرنے کا والدین اور دیگر تمام چیزوں سے زیادہ کا حکم دیا گیا ہے، اس کی شانِ اقدس میں نازیبا باتیں اور الفاظ کوئی بھی مسلمان کیونکر برداشت کر سکتا ہے۔

اسی تقاضے کو مدنظر رکھتے ہوئے غازی عامر چیمہ نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر آپ ﷺ کے قدموں اور اعلیٰ علیین میں جگہ پالی۔ وہ اس امتحان میں سرخرو ہو گیا جس میں کامیابی پانا ادنیٰ سے ادنیٰ درجے کے مسلمان کی آخری خواہش ہوا کرتی ہے۔ مغرب کو یقین کر لینا چاہیے کہ اگر اس نے یہ چھیڑ چھاڑ بند نہ کی تو اسے ایسے ہزاروں نہیں لاکھوں عامر چیمہ نظر آئیں گے جن میں سے ہر ایک کی خواہش ہو گی کہ میں کسی گستاخِ رسول سے اس دھرتی کو پاک کروں۔

صفحہ ٢٠٤

سید عمران شفقت

”ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں“

وہ بہت ماڈ سکواڈ ہے، زمانے کے ساتھ چلنے سے آگاہ ہے، بھر پور زندگی گزارنے اور اس سے لطف اندوز ہونا اسے آتا ہے۔ اس کے نام اور اس کے غصیلے مزاج کے باعث میں نے اور میرے ایک دوست نے اس کا کوڈ ورڈ جنرل فیض رکھا ہوا ہے۔ ایک عرصے سے ہمارے درمیان ایک بے نام سا بندھن قائم ہے، اک بے نام رشتہ اور بڑا ہی گہرا رشتہ۔ جب کبھی میں فون کال ختم کر کے منہ لٹکا کر بیٹھا ہوا ہوں تو میرا ایک ہمراز دوست مجھے چھیڑنے کے انداز میں کہتا ہے کہ جنرل فیض صاحب سے کوئی جھگڑا تو نہیں ہو گیا؟ ”نہیں“ میرا جواب ہوتا ہے۔ ہنستے ہوئے لہک لہک کے ترنم میں کہتا ہے کہ یہ اڑی اڑی سی رنگت یہ اترا اترا چہرہ پتہ دے رہے ہیں جنرل صاحب کی جھاڑوں کا۔ میں کبھی تو ہنس پڑتا ہوں اور کبھی اسے مارنے دوڑتا ہوں۔ جنرل فیض عجب مزاج کی لڑکی ہے۔ اسے سمجھنا میرے لیے ہمیشہ مشکل رہا ہے۔ کل رات اس کی شخصیت کا ایک اور پہلو میرے سامنے آیا۔ فون پر معمول کی طرح اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے کرتے میں نے اسے اچانک بتایا کہ کل صبح عامر چیمہ شہید کے والد ہمارے دفتر آ رہے ہیں۔ وہ یہ سنتے ہی ایک دم سے کھل اٹھی۔ اس نے مجھ سے کہا کہ میں نے آپ کو آج تک کبھی کوئی کام تو نہیں کہا۔ میں نے چند لمحے سوچا اور غور کیا، واقعی اس نے مجھے آج تک کبھی کوئی کام نہیں کہا تھا، ورنہ اخبار نویسوں کے دوستوں کے کام کبھی ختم ہی نہیں ہوتے۔ میں نے قدرے حیرانی کی کیفیت میں اسے جواب دیا ہاں آپ نے مجھے کبھی کوئی کام نہیں بولا۔ کیوں خیریت ہے، آپ نے آج یہ انکشاف کیوں کیا ہے؟ اس نے بڑے جذباتی اور عقیدت بھرے لہجے میں مجھ سے التجا کے انداز میں کہا کہ آپ کے اخبار نے عامر چیمہ کی شہادت پر جو ایڈیشن شائع کیے تھے، مجھے ان ایڈیشنوں پر عامر چیمہ کے والد پروفیسر نذیر چیمہ

صفحہ ٢٠٥

کے آٹو گراف چاہئیں۔ میں اس کے لب ولہجہ، اس کے التجائی انداز اور اس کے جذبات کو سمجھ نہ پایا۔ میں نے کہا ہاں مل جائے گا لیکن کیوں آپ نے کیا کرنا ہے؟ اس نے صرف اتنا جواب دیا بس مجھے ضرورت ہے۔ میں نے مذاق میں کہا کہ آپ اپنی سہیلیوں میں ”شو مارنا“ چاہتی ہیں۔ بس پھر کیا تھا یہ بات سنتے ہی وہ حقیقی معنوں میں جنرل فیض بن گئی۔ اس نے مجھے بڑی سنائیں بلکہ بڑی ٹھیک ٹھاک سنائیں۔ اس نے کہا کہ آپ کچھ نہیں سمجھ سکتے۔ میں نے اپنے ”گناہ“ کی معافی مانگی، مذاق کرنے پر شرمندہ ہوا۔ لیکن میں نے اس سے دوبارہ پوچھا کہ آٹو گراف والے ایڈیشن کیا کرنے ہیں؟ وہ اصل بات بتانے سے گریز کر رہی تھی لیکن میری تکرار پر اس نے قدرے ٹھہر ٹھہر کر بتایا کہ وہ جب تک زندہ ہے وہ آٹو گراف والے یہ ایڈیشن سب سے چھپا کر اپنے پاس رکھے گی اور جب مرے گی تو وصیت کر کے مرے گی کہ اسے ان ایڈیشنز کے ساتھ قبر میں اتارا جائے۔ میرے لیے اس کا یہ جواب اس کی یہ سوچ بڑی اچھنبے والی چیز تھی۔ میرے لیے اس کا یہ روپ نیا تھا۔ جینز جوگرز پہننا اس کا معمول تھا۔ اتنی ماڈرن لڑکی اور اندر سے اتنی بڑی ”مولوی“۔ میرے لیے یہ ایک دھچکا ہی تو تھا۔ پہلے تو کبھی اس نے ایسی کوئی بات نہیں کی تھی وہ ماڈرن بھی تھی اور شائستہ بھی بہت ہی کلچرڈ، رکھ رکھاؤ رکھنے کی قائل تھی وہ لیکن اس کی شخصیت کا یہ پہلو بھی ہے اس نے اس کی کبھی بھنک بھی نہیں پڑنے دی تھی۔ وہ بول رہی تھی اور میں سوچ رہا تھا وہ کہہ رہی تھی مجھے یقین ہے کہ یہ آٹو گراف میری بخشش کے لیے کافی ہوگا۔ کاش میں لڑکا ہوتی اور مجھ سے بھی یہی کام لیا جاتا۔ وہ کہہ رہی تھی عامر چیمہ قابل رشک انسان ہیں۔ میں نے اسے کہا آپ اگر عامر چیمہ کے والد سے ملنا چاہتی ہیں تو کل ہمارے دفتر آ جائیں حالانکہ ہم نے پروفیسر نذیر چیمہ کی دفتر آمد کا معاملہ خفیہ رکھا ہوا تھا۔ اس نے جواب دیا نہیں عمران میں نہیں آ سکوں گی۔ میں پروفیسر صاحب کو دیکھنے کی ہمت نہیں رکھتی۔ وہ بہت جذباتی ہو رہی تھی۔ کہہ رہی تھی اگر میں آ گئی تو میں رو رو کر مر جاؤں گی اور میں آپ کو یہ نہیں سمجھا سکتی کہ مجھے رونا کیوں آئے گا۔ یہ عشق کے معاملے ہیں، یہ آپ کو سمجھ نہیں آئیں گے۔ آپ جانتے ہیں میں جب عمرہ ادا کرنے گئی تھی تو میں نے حرم پاک میں ایک جگہ کھڑے ہو کر سب کو گھوم کر دیکھا تھا، لاکھوں لوگ تھے وہاں، ہر کوئی اپنی اپنی زبان میں صرف خدا کو پکار رہا تھا۔ سب کے بازو بلند تھے اور زار و قطار رو رو کر لوگ کسی نور کے ہالے کو چھونا چاہ رہے تھے۔ لوگ رو رو کر اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہے تھے۔ کوئی

صفحہ ٢٠٦

دین مانگ رہا تھا کوئی دنیا۔ کوئی آخرت مانگ رہا تھا میں نے سب کو گھوم کر دیکھا تھا اور پھر میں بھیڑ کو چیرتی ہوئی کعبہ شریف تک پہنچ گئی اور پتہ ہے میں نے کیا مانگا تھا۔ میں بے سدھ سا اس کی باتیں سن رہا تھا۔ حیرانی کے عالم میں وہ بہت زیادہ جذباتی ہو چکی تھی۔ اس نے کہا کہ میں نے غلاف کعبہ پکڑا اور نہ دنیا مانگی اور نہ دین نہ دولت نہ آخرت پتہ نہیں اس وقت کیوں سلطان العارفین کے شعر کا مصرعہ میری زبان پر رواں ہو گیا ۔ ”عشق سلامت باہو“ اور میں نے کعبہ کا غلاف پکڑ کر اپنا عشق اس سے مانگ لیا۔ میں نے اسے کہا میرے رب میرا عشق سلامت رکھنا۔ ایمان اس صورت میں کامل ہوتا ہے جب وہ عشق کی بھٹی میں ڈال دیا جائے۔ میرا عشق سلامت ہے اور یہ سلامت رہے گا۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ میرا دل کمزور ہے۔ یہ عشق کی آگ کا الاؤ سہہ نہیں پاتا۔ مجھے لگتا ہے کہ جب میں پروفیسر نذیر صاحب کے سامنے آؤں گی تو مجھے میرا یہ عشق اور کمزور دل مار ڈالے گا۔ اب میں نے پھر جانا ہے حرم پاک اور اب کے بار ایک مضبوط دل وہاں سے لے کر آنا ہے۔ عمران مجھے عشق عطا کر دیا گیا ہے۔ وہ بولتی گئی میں سنتا گیا۔ وہ رونے لگ گئی، میں بھی جذباتی ہو گیا۔ خدا حافظ کہے بغیر روتے ہوئے اس نے فون بند کر دیا۔ جب وہ بول رہی تھی تو میں اس کے جملے تیزی سے لکھ رہا تھا کیونکہ مجھے خدشہ تھا کہ یہ رنگ اور ترنگ شاید پھر کبھی نہ آئے۔

فون بند ہو گیا اور میں یہ لکھنے بیٹھ گیا۔ میں سوچ رہا ہوں کہ ایک ماڈرن لڑکی اندر سے کتنی بڑی مسلمان ہے۔ اور یہ تنہا ایک لڑکی نہیں۔ اس جیسی لاکھوں لڑکیاں کروڑوں لڑکے، کروڑوں کلین شیو بابو نہ جانے کتنے ممی ڈیڈی نسل کے جوان اور کتنے اربوں جدید مسلمان اندر سے کتنے بڑے بنیاد پرست ہیں۔ آج عامر شہید کا چالیسواں ہے۔ آج اسے یاد کیا جا رہا ہے۔ اس جیسی تڑپ میں ہر مسلمان تڑپ رہا ہے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ آقا ﷺ کی نظروں نے صرف اسے ہی چنا تھا۔ مجھے اس کی باتیں سن کر اطمینان بھی ہوا کہ جدت پسندی ہمارے ایمانوں کو اس قدر کھوکھلا نہیں کر پائی جتنا اس کا واویلا کیا جاتا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ہم میں قباحتیں نہیں ہیں۔ لیکن ایسی ناامیدی والی بات بھی نہیں ہے۔ میری عامر چیمہ شہید کے والد سے بات ہو رہی تھی۔ انھوں نے کہا کہ عامر میرا اکلوتا بیٹا تھا۔ وچھوڑے کا درد اپنی جگہ لیکن اللہ کی رضا کے آگے میرا سر تسلیم خم ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ میں ایک شہید بیٹے کا باپ ہوں۔ لیکن میری حکومت والوں سے درخواست ہے کہ ماڈریشن کے شوق میں ایک عاشق رسول ﷺ کی

صفحہ ٢٠٧

شہادت کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش نہ کی جائے۔ عامر چیمہ ایک ماڈرن اور پڑھا لکھا شخص تھا۔ خدا نے اُس سے یہ کام لے کر ماڈریشن کے نظریہ کے داعیوں اور یورپ والوں کو ایک پیغام دیا ہے کہ ایک وقت آئے گا کہ یہی ماڈرن لوگ انقلاب لے کر آئیں گے۔ یہی ماڈرن اور تعلیم یافتہ لوگ یورپ کو اس کے ہر سوال، اس کی ہر سازش کا جواب دیں گے۔ پروفیسر صاحب کی باتیں سن کر میرے اندر بھی یہ احساس بیدار ہو گیا کہ ہم جسے مذہب سے دور خیال کرتے ہیں وہ ماڈرن نسل مذہب سے اتنی بھی دور نہیں۔ یہ نوجوان نسل آقا ﷺ سے محبت کرتی ہے، ان کے گستاخوں سے حساب لیتی ہے۔ یہ ماڈرن اور نوجوان نسل ترقی یافتہ گستاخوں کو اپنی ہیبت سے ڈرائے گی۔ ان کے ہر سوال کا جواب دے گی۔ ان کے چہرے بے نقاب کرے گی۔ یہی نوجوان ماڈرن نسل ایک دن انقلاب لائے گی۔ یقین کریں یہ ماڈرن نسل آداب محبت جانتی ہے۔ مجھ سے اس نے اپنی خواہش کا اظہار کیا تھا کہ اگر میں لڑکا ہوتی تو میں وہی کرتی جو عامر چیمہ نے کیا ہے۔ میں نے یہ بات کئی لوگوں سے کی ہے، ان کے نظریات جاننے کی کوشش کی ہے لیکن ہر طرف سے ایک ہی جواب ملا ہے، مجھ سے ہر ایک نے ایک ہی خواہش کا اظہار کیا ہے کہ کاش وہ عامر چیمہ ہوتا۔ نوجوان اور ماڈرن نسل سے خائف لوگ یقین کریں کہ مایوسی کی کوئی بات نہیں۔ یہ نسل بدتمیز نہیں، سٹریٹ فارورڈ ہے۔ اس میں لاکھ خامیاں سہی مگر یہ دین سے واقف ہے۔ یہ آقا ﷺ کے نام پر مرنا بھی اور مارنا بھی جانتی ہے۔ اس نسل کے سینے میں ایک تڑپتا دل ہے۔ یہ نسل بولڈ سہی، فیشن ایبل سہی مگر یہ نسل عشق پالنا جانتی ہے۔ یہ نسل رسم شبیری ادا کرنا جانتی ہے۔ یہ نسل غلاف کعبہ پکڑ کر ”عشق سلامت“ مانگتی ہے۔

صفحہ ٢٠٨

فخر اعجاز لونا

کون مر گیا ہے یا رب؟

ہیرو آسمان سے نہیں اترا کرتے۔ وہ اسی زمین پر پیدا ہوتے ہیں۔ وہ عام سے انسان ہوتے ہیں۔ ان میں انسانی کمزوریاں بھی ہوتی ہیں۔ کبھی کبھی وہ دنیاوی امتحانوں میں فیل بھی ہو جاتے ہیں اور بعض مقابلوں میں پیچھے بھی رہتے ہیں۔ لیکن ان کی نگاہ بلند، سخن دلنواز اور جاں پرسوز ہوتی ہے۔ وہ اپنے عزم و حوصلے سے اور سوز یقیں کی قوت سے آگے بڑھتے ہیں۔ ان کی امیدیں قلیل اور مقاصد جلیل ہوتے ہیں۔ اگرچہ اس کی شہادت اب یاد ماضی ہو رہی ہے۔ میڈیا کی کوریج کے اہداف اب نئے نئے موضوعات ہیں۔ بہت کچھ لکھا، پڑھا، بولا، سنا گیا مگر اس کے باوجود اک بے کلی میرے وجود کو آکاس بیل کی طرح لپٹے ہے۔ ایک بے چینی میری روح کو ڈنک مارتی رہتی ہے۔ اچھا خاصا بیٹھے بیٹھے، چلتے پھرتے کہیں سے کان میں سرگوشی ہوتی ہے۔ وہ تو ہم ہی میں سے ایک تھا۔ نیشنل کالج آف ٹیکسٹائل انجینئرنگ فیصل آباد میں وہ ہم سے ایک سال سینئر تھا۔ فرسٹ ائیر فولنگ کرنے والے چودھری گروپ کا سرگرم کارکن، کھلنڈرا، شرارتی، اس کا یہ پہلا تاثر اس کے آخری تاثر سے یکسر مختلف تھا۔ جمعیت کے سٹڈی ایڈ پراجیکٹ کے پروگراموں میں شرکت نے اس کی سوچوں کے دھاروں کو اس کے رنگ حیات کو بدلا۔ کالج میں اس کے آخری دو سال اس کے پہلے دو سالوں کے بالکل برعکس تھے۔ ہم نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ عامر یوں امر ہو جائے گا۔ ایسی سعادت والی موت کی تمنا کون نہیں کرتا؟ نذیر چیمہ صاحب بیٹا آپ کا شہید ہوا ہے اور سر ہمارا فخر سے بلند ہو گیا ہے۔ سینہ ہمارا احساس عظمت سے چوڑا ہو گیا ہے۔ عامر نے جان دے کر یہ واضح کر دیا کہ جو کام بڑی بڑی تحریکیں نہ کر سکیں، افراد کے گروہ اور لاکھوں کے مظاہرے نہ کر سکے، وہ اس نے تن تنہا کر دیا۔ جاتے جاتے وہ یہ پیغام بھی دے گیا کہ ابھی ہماری رگوں میں غیرت مند لہو، جوش

صفحہ ٢٠٩

کے لیے محنت اور اپنے رب کے حضور بہانے کے لیے آنسوؤں کے چند قطرے موجود ہیں۔ اس کی شہادت نے ہمیں عزم تازہ دیا کہ راکھ میں ابھی چنگاریاں دبی ہیں۔ ابھی ہم زوال پذیر نہیں ہوئے۔ ارباب اختیار اور باطل قوتوں کے تمام تر حربوں اور میڈیا کے تمام ہتھکنڈوں کے باوجود ہمارے سینوں سے عشق محمد ﷺ کو کھرچا نہ جا سکا۔ لہذا ابھی ہم بنیادوں سے اکھڑے نہیں، ایمان اور عقیدے کی مضبوطی پر قائم ہیں۔ روشن خیالی کا راگ الاپنے والے تھنک ٹینک حیران ہیں کہ ایک لبرل اور ماڈریٹ اعلیٰ دنیاوی تعلیم یافتہ نوجوان انتہا پرست کیسے بن گیا مگر وہ تو سچا عاشق رسول اور خدا پرست بن گیا تھا۔ وفا کا جو پیمان اس نے باندھا، عشق کی جو تاریخ اس نے اپنے لہو سے رقم کی اور قربانی کی جو داستان اس کے خون سے سینچی گئی، کیا وہ بھلا دینے کے لیے ہے؟ دہر میں اسم محمد ﷺ سے اجالا کرنے کے لیے ہمیشہ عامر جیسے سرفروشوں کی ضرورت پڑتی رہے گی۔ نذیر چیمہ صاحب ہم سب آپ کے بیٹے ہیں۔ عامر کسی ایک بیٹے یا بھائی کا نام نہ تھا بلکہ وہ اک مقصد، تحریک، نظریے اور محبتوں کے نصاب کا نام ہے۔ وہ مر کر راہ حق میں زندہ و جاوید رہا ہے اور اسی کی فنا میں ہم سب کی بقا ہے۔ تخت سے لے کر تختہ تک کوئی موت سے بھاگ کر کہاں جا سکتا ہے اور وہ تو خود موت کے تعاقب میں تھا۔ حقیقی اور لازوال زندگی پانے کی جدوجہد میں۔ اس کی موت پہ لاکھوں زندگیاں بھی وار دی جائیں تو وہ کم ہیں۔ وہ اپنے رب کی عطا کردہ رفعتوں پہ کتنا مسرور ہوگا۔ جب حرمت رسول ﷺ پہ قربان ہونے والے پہلے شہید حارث بن ابی ہالہ سے لے کر بدر و حنین اور کربلا کے شہیدوں نے اس کا استقبال کیا ہوگا، اور ان گھڑیوں کی قیمت کیا ہوگی، جب سرور عالم ﷺ اپنے ہاتھوں سے حوض کوثر کا پانی اسے پلائیں گے۔ وہ اپنے رب کے حضور سرخرو ہو چکا۔ اس نے ہم سب کی بے حسیوں اور بداعمالیوں کا کفارہ ادا کر دیا۔ اس کی شہادت ہم سب کی طرف سے فرض کفایہ ہے۔ وہ قبر کے اندھیروں میں غروب ہو کر سورج کا روپ دھار گیا، جس کی کرنیں کائنات کی وسعتوں میں پھیل کر ظلمتوں کا سینہ چیر دیتی ہیں۔

مسئلہ اس کی تدفین کا نہیں، نہ ہی سرکاری گماشتوں کی بے حسی کا ماتم کرنا ہے۔ وہ ساروکی میں دفن ہوتا یا راولپنڈی میں، اس کا مزار تو ہر کلمہ گو کے سینے میں ہے۔ اس کی خوشبو کتنے سینوں میں سانس بن کر دوڑے گی۔ اس کی یاد کتنی روحوں میں تلاطم بن کر ابھرے گی۔ اس کا سراپا اسے دیکھنے والوں کی آنکھوں میں روشنی بن کر چمکے گا اور اس کی باتیں سننے والوں

صفحہ ٢١٠

کی رگوں میں لہو بن کر گردش کرتی رہیں گی۔ وہ مرا کب ہے؟ مجھے محسوس ہوتا ہے جیسے وہ صبح صادق کے روشن دھندلکے میں لپٹا بیٹھا ہو۔ ابھی چند لمحے بعد صبح کی پہلی کرن پھوٹے گی، افق کے کناروں تک روشنی ہوگی۔ روشنی ہی روشنی۔

سچ تو یہ ہے کہ مردہ معاشروں کو عامر جیسے لوگ ہی زندہ رکھتے ہیں۔ وہ مرنے کے بعد اللہ اور اس کے حبیب ﷺ کی بارگاہ میں حاضری کو اٹل حقیقت جان گیا تھا۔ وہ بھلا چند سانسوں کے بدلے لاکھوں کروڑوں سال کی شرمندگی کا سودا کیا کر سکتا تھا۔ اس نے اپنی جان کے بدلے اپنے رب سے جنت خرید لی۔ ہم اس ماں کی عظمت کو سلام کرتے ہیں جس نے عامر کو جنم دیا۔ اس باپ کے حوصلے کو داد دیتے ہیں جس نے جوان بیٹے کی موت پہ مبارکبادیں وصول کیں۔ ان بہنوں کی قسمتوں پر رشک کرتے ہیں، جنھیں وہ بے پایاں تقدیس کا مستحق ٹھہرا گیا اور ہم سب کے لبوں پر یہ دعائیں دے گیا کہ حرمت رسول ﷺ کی خاطر جان کی قربانی ہمارا بھی مقدر ٹھہرے۔

صفحہ ٢١١

فیروز الدین احمد فریدی

کی محمد ﷺ سے وفا تو نے

دسمبر 1997ء کے آخری ہفتے کی بات ہے، وقت صبح صادق کا تھا، شہر لاہور تھا جسے کہر نے ملگجی روئی کی طرح ڈھانپ رکھا تھا۔ میں اور میرے ایک ساتھی کراچی سے آئے تھے۔ ہم نے ہوٹل سے ٹیکسی لی اور داتا صاحب کی مسجد میں فجر کی نماز پڑھنے کے بعد قدسی مقال اقبال کے مزار پر پہنچے۔ راستے بھر کہر کا یہ عالم تھا، دو چار گز دور کی چیز نظر نہیں آ رہی تھی۔ شاہراہوں پر بتیاں روشن تھیں اور کبھی کبھار کوئی گاڑی تمام بتیاں پوری طرح روشن کیے چہل قدمی کرتی ہوئی گزر جاتی۔ ہم نے مزار اقبال کی سیڑھیوں پر چڑھنے کے لیے قدم رکھا تو ساڑھے چھ فٹ لمبے چاق و چوبند گارڈ نے ہمیں ٹوکا ”جوتیاں اتار دیں“۔ شاید اسے یہ غلط فہمی ہوئی ہو کہ ہم جوتوں سمیت مزار کے اندر چلے جائیں گے، یا ہو سکتا ہے کہ اس کے نزدیک مزار اقبال کی دو تین سیڑھیوں پر جوتیوں کے ساتھ چڑھنا بے ادبی ہو۔

میں دلی میں ایک سے زیادہ بار غالب کے مزار پر گیا ہوں، انقرہ میں اتاترک کے مزار پر بھی خاموشی سے فاتحہ پڑھی ہے باوجودیکہ ہمارے ترک میزبانوں نے جو ملازمت سرکار میں تھے ہمیں پہلے سے بتا دیا تھا کہ فاتحہ پڑھنا سرکاری پروٹوکول کا حصہ نہیں بلکہ دبی زبان میں یہ بھی کہہ دیا تھا کہ نہ صرف حصہ نہیں ہے بلکہ حصہ ہونا بھی نہیں چاہیے۔ اس سے صدر ضیاء الحق مرحوم کا دورۂ ترکی یاد آ گیا ہے۔ ہم ان کے ساتھ اتاترک کی قبر پر بھی گئے اور خاموش کھڑے ہو گئے۔ میں نے فاتحہ کے لیے ہاتھ اٹھائے اور ان سے کہا ”فاتحہ“۔ مجبوراً انھوں نے بھی اور پورے وفد نے بھی فاتحہ خوانی کی، اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لی ہوگی۔ اقبال ایک عظیم شاعر اور مصلح قوم تھے، غالب ایک عظیم شاعر اور اتاترک مصلح قوم تھے۔ لیکن ان کی قبروں پر کہر کی رضائی اوڑھے روشنی میں کوئی کبھی یہ نہیں کہتا کہ ”یہاں جوتیاں اتار دیں“ اور نہ کسی کو خیال آتا ہے کہ یہاں جوتے اتار کر اندر جانا چاہیے۔

صفحہ ٢١٢

دنیا میں کیسے کیسے انسان آئے اور گئے، کوئی شخص نیوٹن یا آئن سٹائن کی طرح نابغہ روزگار ہو تو صدیوں اس کی غیر معمولی ذکاوت اور قابلیت کا ڈنکا بجتا رہتا ہے۔ لوگوں کو اس کی جائے تدفین دیکھنے کا شوق ہوتا ہے لیکن اس جگہ کو تقدس حاصل نہیں ہوتا۔ اقبال بھی بلاشبہ نابغہ روزگار تھے لیکن ان کے مزار میں وہ کیا چیز ہے کہ ان کے مزار کی پہلی سیڑھی پر بھی جوتوں سمیت چڑھنا قابل اعتراض قرار پایا۔ وہ چیز عشق محمدی ﷺ کا انعام ہے۔ یہ محض عقیدت یا محبت نہ تھی بلکہ عشق تھا جو اقبال کے لافانی اور لاثانی اشعار میں جگہ جگہ جھلکتا اور چھلکتا ہے۔ نمونے کے طور پر ان کے فارسی کے یہ دو اشعار رہتی دنیا تک یاد رہیں گے:

تو غنی از ہر دو عالم من فقیر
روزِ محشر عذر ہائے من پذیر
گر تو مے بینی حسابم ناگزیر
از نگاہِ مصطفیٰ ﷺ پنہاں بگیر

عظیم شعر کا اچھا سے اچھا ترجمہ اس کی پوری ترجمانی نہیں کر سکتا۔ نثر میں وہ لوچ اور نغمگی کہاں سے آ سکتی ہے جو نظم کے خمیر میں ہوتی ہے۔ تاہم ان دو عظیم اشعار کی جزوی ترجمانی شاید یہ الفاظ کر سکیں۔

”مالک دو جہاں! تو دو جہاں سے بے نیاز ہے لیکن تیرا یہ بھکاری تیرے سوا کس کے آگے ہاتھ پھیلائے۔“

”اے غفور الرحیم! تجھے تیرے کرم کا واسطہ، حشر کے روز میرے نا قابلِ معافی گناہ بخش دینا۔ میرے پروردگار! روزِ محشر جب میرے بے حساب گناہوں کا حساب کتاب ناگزیر ہو جائے تو میری اتنی لاج رکھ لینا کہ میرا حساب محمد مصطفیٰ ﷺ کی نظروں کے سامنے نہ لینا، میں اس کی تاب نہ لا سکوں گا۔

مزار اقبال سے ہم نے ٹیکسی والے کو غازی علم الدین شہیدؒ کے مزار پر چلنے کو کہا۔ وہ ہمیں میانی صاحب کے قبرستان لے آیا جو کہر میں اس وقت زیادہ ہی قبرستان لگ رہا تھا۔ ہر طرف ہو کا عالم طاری تھا اور لگتا تھا کہ ابھی صورِ اسرافیل پہلی دفعہ پھونکا گیا ہے۔ کچھ دیر بعد ایک بزرگ صورت نظر آئے۔ انھوں نے ڈرائیور کو پتہ سمجھایا، وہاں پہنچے تو وہاں بھی شہرِ خموشاں آباد تھا ”نہ آدم نہ آدم زاد“۔ خاصی دیر بعد ہمیں کافی دور ایک انسان کا ہیولیٰ نظر آیا۔ کہر کو چیرتے ہوئے قریب پہنچے تو وہ ایک چائے فروش نکلا جس نے بلا کی اس سردی میں ایک

صفحہ ٢١٣

انگیٹھی دہکائی ہوئی تھی اور اس پر ایک میلی کچیلی پچکی ہوئی کیتلی میں دودھ اور چائے کی پتیاں ابل رہی تھیں۔ پاس ہی ایک نوجوان گلاب کی تازہ، مہکتی ہوئی اور کہر میں بھیگی ہوئی پتیوں کی چھابڑی لگائے یوں بیٹھا تھا جیسے کسی سے لو لگائے بیٹھا ہو۔ ان کے ساتھ وہ مزار تھا جس کی جستجو میں ہم سرگرداں تھے۔

میں سوچتا رہا کہ ان کڑکڑاتے ہوئے جاڑوں، سخت کہر اور منہ اندھیرے یہ چائے فروش اور گل فروش یہاں اسی لیے بیٹھے ہیں کہ وہ جانتے ہیں کہ آنے والے کہر، سردی اور اندھیرے کے باوجود یہاں آئیں گے، اور ان آنے والوں کو گرم چائے اور خوشبودار پتیوں کی ضرورت ہوگی۔ اس لمحہ میں جو نوجوان چین کی نیند سو رہا ہے۔ اس کی شان میں بڑے بڑوں نے کیا کچھ نہیں کہا اور کیا کچھ نہیں لکھا، لیکن اتنے قرنوں کی چھلنی سے گزرنے کے بعد جس سیدھے سادے فقرے نے شہرت دوام پائی وہ ایک دانائے راز کا پنجابی زبان میں کہا ہوا یہ برجستہ جملہ ہے، جس کا اردو ترجمہ ہے۔ ”ہم تو باتیں بناتے رہے لیکن بوڑھی کا بیٹا بازی لے گیا۔“ یہ کس کا عشق تھا جس کا فیض یہاں عام تھا؟

دلی میں میرے باپ دادا، پردادا اور لکڑدادا، دفن ہیں۔ تقسیم ہند کے بعد میرا جب بھی دوچار بار دلی جانا ہوا تو میرے جانے کی سب سے بڑی وجہ اور کشش یہ ہوتی تھی کہ برسوں بعد اپنے باپ دادا کی قبروں پر فاتحہ پڑھ سکوں گا۔ میرے والد دلی کے قدیم قبرستان میں دفن ہیں۔ ایک زمانے میں یہ قبرستان دلی کی شہر پناہ سے باہر تھا، اب یہ ہندوستان کے دارالحکومت کے عین مرکز میں ہے اور اس کے عین بالمقابل ہندوستان کے مشہور انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس اور ذرا آگے دوسرے مشہور اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مرکزی دفاتر ہیں اور ایک گز زمین کی قیمت دس لاکھ روپے ہے۔ اکتوبر 2004ء میں جب میں اپنے والد کی قبر کی طرف جا رہا تھا تو چند سوگز پہلے دائیں طرف سرسبز پودوں اور دو مختلف رنگوں کے پھولوں سے لدی ایک چار دیواری نظر آئی۔ میں اندر داخل ہوا سامنے سنگ مرمر کے کتبے پر غازی عبدالرشید شہیدؒ کا نام تھا جن کے ہاتھوں دلی میں وہی کام لینا مقدر کیا گیا تھا جو لاہور میں غازی علم الدین شہیدؒ کے لیے لکھ دیا گیا تھا۔ نصف صدی سے زائد عرصہ بیت چکا ہے لیکن دلی میں غازی عبدالرشید شہیدؒ کے مزار کی کوئی ویسے ہی دیکھ بھال کر رہا ہے جیسے لاہور میں غازی علم الدین شہیدؒ کی تربت کی ہو رہی ہے۔ اس کے برعکس غالب کے مزار کی دلی میں وہ نگہداشت نہیں جو لاہور میں اقبال کے مزار کی ہے۔ یہ کس کا عشق تھا جس کا فیض بھارتی راجدھانی دلی

صفحہ ٢١٤

میں عام تھا۔ نصف صدی گزر جانے کے باوجود دلی میں اس مزار کا تقدس برقرار ہے۔

1977ء اور 2004ء کے بعد اب 2006ء کا ذکر آتا ہے۔ مئی 2006ء میں پاکستان کے دردمند، موقر اور کثیر الاشاعت اخبارات میں کئی روز تک یہ خبریں، تبصرے اور اداریے شائع ہوتے رہے کہ دیار غیر میں اپنے آقاﷺ اور مولاﷺ کے نام نامی پر مر مٹنے والے ایک تعلیم یافتہ نوجوان کی میت جب جرمنی سے پاکستان کے لیے روانہ ہوئی جو اس نوجوان کا مولد اور وطن تھا تو اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اس جسد خاکی کا استقبال اس طرح کیا گیا کہ اس نعش کو پاکستان کے دارالحکومت میں اترنے کی اجازت نہ ملی اور وہاں دفن ہونے کی اجازت نہ ملی۔ اس کی نماز جنازہ بھی ٹھیک سے ادا ہونے کی اجازت نہ ملی اور تدفین اور نماز جنازہ کا وقت، مرحوم کے خاندان کی منظوری کے بغیر، آگے پیچھے کر دیا گیا یہ باتیں سینہ بہ سینہ نہیں چل رہیں بلکہ دردمند قومی اخبارات میں نمایاں طور پر شائع ہو رہی ہیں۔ تادم تحریر سرکار نے ان خبروں، تبصروں، یا اداریوں کی تردید نہیں کی جس کی دوسری توجیہ یہ ہے کہ ان کا سرے سے نوٹس نہیں لیا گیا۔ وہ لوگ جو اپنے باپ دادا کی ہڈیاں چھوڑ کر قائد اعظم کے پاکستان کو اپنا وطن بنانے آئے تھے، آج یہ پوچھ رہے ہیں کہ کیا اسلامیان ہند کے لیے اسلام کے نام پر بنائے جانے والے اس ملک میں جسے اسلامی جمہوریہ کا سرکاری نام بھی دے دیا گیا ہے، اللہ کے آخری رسولﷺ کے نام پر اپنی جان کی قربانی دینے والوں کو اب یہ حق بھی نہیں رہا کہ وہ مرنے کے بعد اپنے وطن کی مٹی میں وہاں دفن ہوں جہاں ان کے ماں باپ اور بہن بھائی انھیں دفن کرنا چاہتے ہیں؟ عامر، اسامہ تو نہیں تھا؟ یا اب ہر مسلمان نام اسامہ بن چکا ہے؟ آج پاکستان کی زمین اس پاک زمین کے قابضین سے پوچھتی ہے کہ وہ اس کا قبضہ اور ملکیت کب اس کے مالکان کو واپس کریں گے تاکہ اس کے فرزند اپنی اس زمین میں وہاں دفن ہوسکیں، جہاں وہ دفن ہونا چاہتے ہیں۔ یہ سوال جو زندگی اور موت کی طرح اہم ہے، آج پاک پتن سے جیوانی اور طورخم کی پہاڑیوں سے منوڑا کے پانیوں تک ایک طوفانی بگولے کی طرح خلا میں چکر لگا رہا ہے۔

یہ خلا ہر طرح کا خلا ہے! اور ہر طرف خلا ہی خلا ہے
صفحہ ٢١٥

حافظ سجاد ستی

شمع رسالت کا پروانہ ...... عامر چیمہ شہید

آرمینیا ایشیائے کوچک کا ایک علاقہ ہے جو روس کے جنوب میں کوہستان قفقاز کے پار واقع ہے۔ اس کی سرحدیں شمال اور مشرق میں جارجیا اور آذربائیجان اور مغرب اور جنوب مشرق میں ترکی اور ایران سے ملتی ہیں۔ بعض روایات کے مطابق کوہ ارارات کوہ جودی ہی ہے جہاں حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی آ کر ٹھہری تھی۔ آرمینیا کی طرف مسلمانوں کے قدم آٹھویں صدی عیسوی میں بڑھے۔ آرمینیا کی جنگ میں مسلمانوں کو فتح ہوئی اور محاذ جنگ سرد ہو گیا تو عبدالرحمن بن غنم رضی اللہ عنہ دیوانہ وار مجاہدین کے ہمراہ اپنے بیٹے کو ڈھونڈنے نکلے۔ دوڑ دھوپ کے بعد زخموں سے چور بیٹا میدان جنگ کے ایک گوشے میں نظر آیا تو چیخ نکل گئی۔ جلدی سے اپنے خوبصورت اور کڑیل جوان بیٹے کو جو خون میں نہا چکا تھا اٹھایا تو صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ عبدالرحمن بن غنم رضی اللہ عنہ رونے لگے۔ بیٹے کا دم لبوں پر تھا اس کے باوجود بیٹے نے باپ سے کہا ”ابا جان! آپ غم نہ کیجئے، اس لیے کہ میری موت بہت مقدس ہے۔ شہادت کی موت قسمت والوں کو ملتی ہے، آپ کا بیٹا دین کے لیے اپنی جان قربان کر کے سرخرو ہو کر دنیا سے جا رہا ہے۔ کل قیامت کے دن رسول خدا ﷺ نہایت خوشی سے آپ کا استقبال کریں گے۔“

یہ باتیں سن کر عبدالرحمن بن غنم رضی اللہ عنہ نے اپنے آنسو پونچھ لیے، مؤذن نے ظہر کی اذان دی اور اللہ اکبر کا کلمہ سنتے ہی بیٹے نے باپ کی آغوش میں دم توڑ دیا۔ ظہر کی نماز کے بعد اسی خون آلود کپڑے میں کفنا کر عبدالرحمن بن غنم رضی اللہ عنہ نے بیٹے کو سپرد خاک کر دیا۔ بیٹے کو دفن کرنے کے بعد باپ نے سرمہ لگایا، کنگھی کی، منہ ہاتھ دھویا اور صرف اتنا کہا ”بیٹے! تجھے تیری شہادت مبارک ہو۔“

صفحہ ٢١٦

سارا اسلامی لشکر اس بہادر جوان کی شہادت پر غمزدہ تھا لیکن باپ مسکراتا ہوا حضرت عیاض رضی اللہ عنہ کے خیمے میں داخل ہوا تو حضرت عیاض رضی اللہ عنہ نے پوچھا ”بیٹے کی موت خوشی کا موقع نہیں مگر تم بہت مسرور نظر آ رہے ہو۔“ حضرت عبدالرحمن بن عَنَم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے حضور اکرم ﷺ سے سنا کہ جس کا لڑکا شہید ہو جائے اور وہ اسے بہت عزیز رکھتا ہو تو ایسی صورت میں اس کا غزوہ سب سے بہتر غزوہ ہوتا ہے۔ اس کا اجر مکمل مغفرت کے سوا کچھ نہیں۔ عیاض! مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ میرا بیٹا اپنے ساتھ میری مغفرت کا بھی انتظام کر گیا۔ یہ جدائی تو عارضی ہے، ان شاء اللہ باپ بیٹا دونوں جنت میں جمع ہوں گے، ہم ہوں گے اور خدا کے رسول ﷺ۔“

آرمینیا کی جنگ میں پیش آنے والے اس واقعے کو پڑھا تو مجھے عبدالرحمن غنم رضی اللہ عنہ کے روحانی فرزند پروفیسر نذیر چیمہ کی قسمت پر رشک آیا، جنہیں بیٹے کی شہادت پر لوگ مبارک باد دے رہے تھے۔ اتفاق سے ان کے بیٹے عامر کا پورا نام عامر عبدالرحمن ہے۔ پروفیسر نذیر چیمہ نے بیٹے کا نام عبدالرحمن رکھا جبکہ ان کی اہلیہ نے اپنے بیٹے کا نام عامر رکھا۔ باپ نے عبدالرحمن نام رکھتے ہوئے حضور اکرم ﷺ کی اس حدیث کو مدنظر رکھا ہو گا جس میں آپ ﷺ نے عبداللہ اور عبدالرحمن نام رکھنے کو پسند فرمایا ہے مگر ان کے وہم و خیال میں بھی نہیں ہو گا کہ ان کے بیٹے کی نسبت ایک ایسے صحابی سے ہو گی جنہوں نے اپنے لخت جگر کو آسودۂ خاک کرنے کے بعد مسرت کا اظہار فرمایا۔ عبدالرحمن بن غنم رضی اللہ عنہ کے ساتھ پروفیسر نذیر چیمہ کے بیٹے کی یہ نسبت انہیں ضرور مسرت کے ان لمحوں سے آشنا کرے گی جن سے عبدالرحمن بن غنم رضی اللہ عنہ لطف اندوز ہوئے۔ عامر کی شہادت حدیث نبویﷺ کے مطابق اپنے والد کی مغفرت کا سامان کر گیا۔

یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا

10 مئی کو جب میں اپنے دیگر ساتھیوں مولانا ولی الرحمن، مفتی محمد عبداللہ اور مولانا جمیل احمد کے ہمراہ ڈھوک کشمیریاں کے مکان Dk-319-245 میں پروفیسر نذیر چیمہ کے ہاں پہنچا تو جن لوگوں کو میڈیا کے پروپیگنڈے نے شکوک و شبہات میں مبتلا کر رکھا تھا کہ عامر نے کہیں خودکشی نہ کی ہو، ان کے شکوک کا ازالہ ہو چکا تھا۔ ڈھوک کشمیریاں چوک جو اب عامر

صفحہ ٢١٧

شہید چوک بن چکا ہے کہ قریب پہنچے تو راستہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے ایک جگہ موٹریں ٹھیک کرنے والے ناصر نامی باریش شخص سے جو کام کے کپڑوں میں بیٹھا ہوا تھا عامر کے گھر کا پتہ پوچھا تو وہ کہنے لگا ”میں آپ کو ان کے گھر لے جاتا ہوں ۔“ ہم نے عامر شہید چوک پار کیا تو ناصر کہنے لگا ”یہ جس راستے پر آپ گاڑی لے جارہے ہیں یہ پندرہ دن پہلے ہی بنا ہے۔ یہاں بہت بڑا نالہ تھا اب اس نالے پر 30 فٹ کی سڑک ہے، ایک شخص نے زمین خریدی اور پلاٹ بنائے تو یہ راستہ بھی بنا دیا۔“ میں سوچنے لگا کہ اللہ نے ایک نالے کو سڑک میں اسی لیے تبدیل کیا کہ ناموس رسالت پر قربان ہونے والے عامر کے ہاں آنے والوں کو تکلیف نہ ہو۔

ناصر نے ہمیں گھر تک پہنچایا تو ہم نے دیکھا کہ عامر کے گھر کے دروازے کے باہر پھولوں کا ڈھیر ہے اور سامنے گھر میں عامر کی تعزیت کے لیے آنے والوں کا تانتا بندھا ہوا ہے، پروفیسر نذیر چیمہ نماز عشاء ادا کرنے گئے تھے اور واپس نہیں آئے تھے۔ ہم نے گھڑی پر نظر ڈالی تو رات کے دس بج رہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد پروفیسر صاحب تشریف لے آئے، دیر سے آنے کی وجہ ایک بتانے والے نے یہ بتائی کہ وہ نماز کے بعد جو اوراد و وظائف کرتے ہیں عامر کی شہادت کی خبر آنے کے بعد بھی ان میں ذرہ برابر فرق نہیں آیا۔ پروفیسر نذیر چیمہ سے تعزیت مبارکباد کی شکل میں ہوئی۔ اللہ نے انہیں جس استقامت سے نواز رکھا تھا اس پر خوشی ہوئی، مگر ان کی خاموشی میں یہ درد پنہاں تھا کہ بیٹے نے ناموس رسالت پر جان دے دی، مگر مغرب اور اس کے حواری ابلاغی پروپیگنڈے کے ذریعے اسے خودکشی باور کرارہے ہیں، ایک شہید کے باپ کے لیے اس سے بڑا صدمہ کیا ہو سکتا ہے؟ مگر پروفیسر چیمہ کے صبر نے رفتہ رفتہ وہ تمام پروپیگنڈہ تار عنکبوت کی طرح بکھیر دیا جو دین دشمن پھیلا رہے تھے۔ حکومت نے اپنی ذمہ داری نبھائی یا نہیں، یہ اب کوئی سربستہ راز نہیں رہا۔ لاکھوں لوگ جو پنڈی اور اسلام آباد میں عاشق رسول کے استقبال کے لیے بے تاب تھے حکومتی پھرتیوں کے نتیجے میں اس سے محروم رہ گئے۔ وزیر آباد سے 14 کلومیٹر دور ایک غیر معروف قصبے ”ساروکی“ کو عامر کی عشق مصطفیٰ کے لیے قربانی نے تاریخ کا حصہ بنادیا۔ اب یہ دھرتی مرجع خلائق ہوگی۔ حکومت نے نماز جنازہ کے لیے آنے والوں کو روکا اور ہجوم کی زیادتی کے خدشے کے پیش نظر مقررہ وقت سے 3 گھنٹے قبل ہی نماز جنازہ پڑھوا دی۔ اس کے باوجود 70 ہزار سے زائد افراد نے جنازے میں شرکت کر کے اپنے جذبہ محبت کو تسکین دی۔

صفحہ ٢١٨

اہل جنوں کا یہ عالم تھا کہ وہ دیدار سے محروم تھے مگر عامر کے تابوت کو ہاتھ لگا کر چوم رہے تھے ”ایں سعادت بزور بازو نیست، تا نہ بخشد خدائے بخشندہ۔“ وہ خوش قسمت ہیں جنہوں نے اس کے دیدار سے آنکھیں معطر کیں مگر محروم وہ بھی نہیں رہے جنہوں نے حرمت رسول پر قربان ہونے والے عامر کے جنازے کو کندھا دیا۔ اس کے تابوت اور چہرے سے چھونے والی پتیوں کو محفوظ کر لیا۔ پروفیسر نذیر چیمہ دیکھ لیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اکلوتے بیٹے کی شہادت کو ہلاکت میں بدلنے والوں کو رسوائی دی۔ شہادت کی تصدیق اس خواب میں ہوئی، عامر کے استاد محمد یحییٰ علوی 4 مئی کی شب کو مسجد سے نکلتے ہوئے یہ خبر سنتے ہیں کہ عامر کو جرمنی میں شہید کر دیا گیا، وہ اپنے معمول کے مطابق 500 مرتبہ درود شریف پڑھ کر شب جمعہ کو سوئے تو انہوں نے خواب دیکھا کہ ایک روشن میدان میں سٹیج ہے جس پر حضور اکرم ﷺ اور خلفائے راشدین تشریف فرما ہیں، اسی اثنا میں میدان کی دوسری طرف سے عامر تیز تیز قدموں سے آقا ﷺ کی طرف بڑھتے ہیں تو حضور ﷺ عامر کا کھڑے ہو کر استقبال کرتے ہیں اور آغوش مبارک وا کر کے عامر کو پکارتے ہوئے فرماتے ہیں ”مرحبا! اے میرے بیٹے“، پھر اسی لمحے قریبی مسجد سے اذان فجر بلند ہوتی ہے اور محمد یحییٰ علوی کی آنکھ کھل جاتی ہے۔

یہ خواب بھی اور آخرت کا سفر بھی عامر کے متعلق یہ واضح کر گیا کہ وہ عشق مصطفیٰ ﷺ کا راہی تھا۔ اس نے اپنی قربانی سے خواجہ بطحا کی حرمت کی لاج رکھ لی اور اپنے کامل مومن ہونے کی گواہی دے دی۔ عشق رسالت ﷺ کی چنگاری ایک بار پھر شعلہ جوالہ بن کر کروڑوں مسلمانوں کو بھولا ہوا سبق یاد دلا گئی ہے۔ سچ ہے:

شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے

۞ ۞ ۞

صفحہ ٢١٩

حافظ سمیع الرحمٰن

غرورِ عشق کا بانکپن

کچھ سجھائی نہیں دے رہا کہ 21ویں صدی کے ”شہید ناموسِ رسالت مآب“ کے جنون و وارفتگی کی داستان کہاں سے شروع کروں؟ شہید ہو کر امر ہو جانے والے ”عامر“ کی داستانِ عشق و محبت کے کس پہلو کو اجاگر کیا جائے؟ اپنی شہادت کے پیچھے چھوڑ جانے والی کہانی کا کس کس زاویے سے جائزہ لیا جائے اور اس کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے الفاظ کہاں سے لائے جائیں؟

عامر، شہید ہو کے امر ہو گیا۔ جب وہ زندہ تھا تو اس سے کوئی واقف نہیں تھا، کوئی نہیں جانتا تھا کہ فسق و فجور سے پُر مغربی دھرتی کے جرمنی نامی ملک میں ایسا عاشقِ رسول بھی رہتا ہے جو اپنی بھرپور جوانی میں کچھ بھی کر سکتا ہے، جو اس ”ڈیجیٹل لائف“ اور ”کمرشلائزڈ سوسائٹی“ کا ایک ایسا فرد ہے جس کے پاس دورِ حاضر کی ہر قسم کی سہولت و آسائش موجود ہے۔ اگر وہ چاہتا تو ہر وہ عیش و عشرت اپنی دسترس میں لا سکتا ہے جس کی وجہ سے آج کا نوجوان چاہے مشرق کا ہو یا مغرب کا اندر سے پریشان و غیر مطمئن ہے۔ عامر جس کا پورا نام عامر عبدالرحمٰن چیمہ تھا، 2004ء میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے جرمنی چلا گیا اور وہاں کی ایک یونیورسٹی میں ٹیکسٹائل اینڈ مینجمنٹ کے شعبے میں زیرِ تعلیم تھا۔ اپنے ماں باپ کا اکلوتا اور تین بہنوں کا واحد سہارا بھائی اپنے آخری سمسٹر میں تھا اور رواں سال جولائی کے مہینے میں عامر نے ڈگری حاصل کر کے اپنے وطن آ جانا تھا، مگر ایسا کچھ نہیں ہو سکا۔ 28 سالہ عامر کے جسم و جان میں اس وقت چنگاریاں سلگنے لگیں جب اسلام دشمن یورپ کے بعض ممالک نے پیغمبرِ انقلاب (ﷺ) کے توہین آمیز خاکے اپنے روزناموں میں شائع کیے۔

مسلمانوں کو اشتعال دلانے، ان کی غیرتِ ایمانی کا امتحان لینے، ان کے دل میں

صفحہ ٢٢٠

موجود ایمانی چنگاری پر ”توہین رسالت“ کے پیٹرول کو چھڑکنے اور ان کی دینی حمیت کو برسر عام للکارنے جیسے اقدامات سے ہر جگہ ہر سطح پر مسلمان بھڑک اٹھا۔ عامر شہید بھی مسلمان تھا، اس کا دل بھی عشق رسالت مآب ﷺ سے معمور تھا۔ اس سے یہ جرأت و جسارت برداشت نہ ہوسکی۔ وہ بھی اس تاریخ سے تعلق رکھتا تھا جس تاریخ کے روشن ماتھے پر خالد بن ولید، طارق بن زیاد، سلطان ٹیپو، محمد بن قاسم اور غازی علم دین شہید جیسی نابغہ روزگار عظیم ہستیوں کے نام کندہ ہیں۔ اس نے بھی تہیہ کرلیا کہ جب تک وہ غازی علم دین شہید کی عملی تفسیر نہ بن جائے چین سے نہ بیٹھے گا، نہ سکون کی نیند سوئے گا۔ چنانچہ اس نے وہ سب کچھ کیا جو وہ کرسکتا تھا۔

جرمن پولیس نے 20 مارچ کو عامر کو گستاخانہ اخبار کے ایڈیٹر پر قاتلانہ حملے کے الزام میں گرفتار کرلیا۔ جب اسے عدالت میں پیش کیا گیا تو اس نے وہاں جو باتیں کیں وہ ہماری درخشاں تاریخ کا روشن استعارہ بن چکی ہیں۔ عامر کے بیان کے بعد عدالت کو فیصلہ کرنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ عامر کو جیل میں ڈال دیا گیا اور پھر ایک ماہ سے زیادہ عرصہ تک اس پر بے پناہ تشدد کیا گیا۔ تشدد کے بارے میں تاحال معلوم نہیں ہوسکا کہ ہٹلر کے جانشینوں نے اسے کس کس انداز سے ظلم و سفاکیت کا نشانہ بنایا، مگر اتنا ثابت ہوچکا ہے کہ اسے شہید کیا گیا ہے۔

تختۂ دار محبت کی سزا ٹھہری ہے
جان لینا میرے قاتل کی ادا ٹھہری ہے

عامر کی شہادت کو جرمن میڈیا نے خودکشی کیوں قرار دیا؟ اس پر جب تشدد کیا جارہا تھا تو جرمنی کے میڈیا نے اس کا مقدمہ کیوں نہیں اٹھایا؟ اسے کوریج کیوں نہیں دی گئی؟ اس کے بعد ہماری حکومت کی کارکردگی کا مرحلہ آتا ہے۔ ایسا کیوں ہوا کہ جب عامر شہید ہو گیا اور پاکستان بھر میں اس کی شہادت کی خبر پھیل گئی تو تب حکومت کو خبر ہوئی کہ جرمنی میں ایک پاکستانی کے ساتھ زیادتی ہوئی؟ ظاہر ہے ہماری حکومت اب بھی عامر کی شہادت کو صرف زیادتی سے تعبیر کرتی ہے۔ جس طرح جرمنی میں حقوق انسانی کی تنظیموں نے عامر کے ساتھ ناانصافی اور ظلم پر خاموشی اختیار کرلی تھی، اسی قسم کا رویہ ہماری حکومت نے بھی اختیار کیا۔ کوئی بھی حکومت سے پوچھ سکتا ہے کہ پچھلے ڈیڑھ ماہ میں ہماری حکومت نے عامر شہید کے مقدمے سے باخبر ہونے، اسے حل کرنے یا اپنے ہاتھ میں لینے کے لیے کیا کیا؟ اگر عامر کی جگہ کوئی

صفحہ ٢٢١

ڈینیئل پرل ہوتا تو یقیناً اس وقت عالمی میڈیا کے پلیٹ فارم سے ایک ہی آواز اور نام بلند ہوتا کہ ڈینیئل پرل کہاں ہے، اسے کس نے غائب یا قتل کیا ہے؟ بات صرف اتنی ہے کہ عامر مسلمان تھا اور پھر خاص کر پاکستانی تھا۔ ناکام ریاستوں کی طویل فہرست اس سال ترقی کر کے نویں نمبر پر آنے والے ملک، امریکہ کے اہم ترین اتحادی اور فرنٹ لائن پر دہشت گردی کی جنگ میں امریکہ کے ساتھ شریک پاکستان (خوش فہمی سے اجتناب کرتے ہوئے) اب بھی وہی کچھ کرے گا جو کچھ گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے کر رہا ہے۔

عامر شہید کا گھر اب عشقِ رسول کا چراغ بن چکا ہے جس کے اردگرد ملک بھر سے آنے والے، دور کی مسافت طے کرنے والے ہزاروں پروانے جمع ہیں۔ ہر ایک اپنے اپنے انداز سے اکیسویں صدی کے شہیدِ ناموسِ رسالت کو خراجِ تحسین پیش کر رہا ہے۔ شہید فرزند کے والد ریٹائرڈ پروفیسر نذیر، ہمہ تن صبر و استقامت کا کوہِ گراں بنے ہوئے ہیں۔ دور دور سے انہیں ملنے کے لیے لوگ رختِ سفر باندھ رہے ہیں، انہیں مبارکباد دی جا رہی ہے اور راولپنڈی کے اس گھر کو ”شہید کا گھر“ کہا اور پکارا جا رہا ہے۔ عامر نے جس مشن کی از سر نو بنیاد رکھی ہے اس مشن میں کام آجانے والوں کا یہی سبق ہے کہ ؎

کرو کج جبیں پہ سرِ کفن، میرے قاتلوں کو گماں نہ ہو
کہ غرورِ عشق کا بانکپن، پسِ مرگ ہم نے بھلا دیا
صفحہ ٢٢٢

اشتیاق بیگ

جرمنوں کے ہاتھوں اپنے قانون کی خلاف ورزی

عشق رسول ﷺ ایمان کی وہ حرارت ہے جو جب بیدار ہوتی ہے تو دلوں میں تلاطم پیدا کر دیتی ہے۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ جس سے محبت ہوتی ہے اس کا احترام بھی دل میں پیوستہ ہوتا ہے اور انسان اس کے خلاف کوئی بات سننے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ حضور اکرم ﷺ کی ذات سے انتہائی عقیدت رکھنے کے باوجود مسلمانوں نے حضور اکرم ﷺ کی ذات پر اہل یورپ کے علمی انداز میں اٹھائے گئے اعتراضات کا نہایت مسکت جواب دیا ہے اور سر ولیم میور کی ”لائف آف محمد ﷺ“ کا جواب سرسید احمد خان اور شبلی نعمانی و سید سلیمان ندوی نے ”سیرت النبی ﷺ“ جیسی معرکۃ الآراء کتاب لکھ کر دیا، لیکن جب گستاخ رسول راج پال نے نہایت سوقیانہ، گھٹیا اور انتہائی غیر علمی انداز میں حضور اکرم ﷺ کی ذات پر رکیک حملے کیے غازی علم الدین شہید نے اسے واصل جہنم کر کے اپنی ذمہ داری پوری کی۔ ایک مسلمان کے لیے حضور اکرم ﷺ کی محبت سارے جہان کی ہر چیز سے بڑھ کر ہے۔ ماں باپ، بہن بھائی حتیٰ کہ اپنی جان سے زیادہ عزیز اس لیے کہ یہ نام نامی اور اسم گرامی وہ ہے جو وجہ تشکیل کائنات ہے۔ امریکہ اور اہل یورپ نے مادی ترقی کی معراج کو پا لیا، انسانی حقوق کے منشور تیار کیے، جانوروں کے تحفظ کے لیے بھی قوانین وضع کیے گئے، ماحولیات کے تحفظ کے لیے بھی قوانین مرتب کیے گئے، لیکن جس طرح خاندانی اقدار کو ترک کر کے انھوں نے بوڑھے والدین کو متروک قرار دیتے ہوئے اولڈ ہاؤسز کی زینت بنا دیا، اسی طرح دنیا کے لیے سب سے زیادہ واجب الاحترام ہستیوں یعنی پیغمبروں کی عصمت، عظمت اور مقام کو یکسر بھلا بیٹھے۔ آج اگر اہل یورپ کسی کو اپنے والدین کی قدم بوسی کرتے ہوئے دیکھیں تو حیرت زدہ رہ

صفحہ ٢٢٣

جاتے ہیں۔ اسی طرح انھیں اس بات پر بھی حیرت ہوتی ہے کہ کوئی شخص اپنے نبی ﷺ کی ناموس کی خاطر ہر خوف کو دل سے مٹا کر اپنی جان اس پر قربان کر دینے، اپنی جوانی، اپنا کیریئر لٹانے پر آمادہ ہو جائے۔

عامر چیمہ شہید نے ایسا ہی کیا۔ اس کے دل میں عشق شمع رسالت کی لو چمک رہی تھی، یقیناً اس نے اپنے لیے ایک بہترین کیریئر کا خواب دیکھا تھا۔ یقیناً اس کے والدین نے اس آس میں اسے جرمنی اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے بھیجا تھا کہ ان کے اکلوتے بیٹے کا مستقبل تابناک ہوگا، لیکن جرمن اخبار ”ڈی ویلٹ“ (Die Welt) کے ایڈیٹر نے اس کے سارے خوابوں کو چکنا چور کر دیا، لیکن اسے ابدیت کا مقام عطا کر دیا۔ موت تو ہر ایک کو آتی ہے، اس سے فرار ممکن نہیں لیکن عامر کی موت ایک ایسی موت تھی کہ جس پر زندگی کو بھی رشک آتا ہے۔ حکومت نے راولپنڈی میں اس کی نماز جنازہ نہ ہونے دی، اسے ہیلی کاپٹر کے ذریعے وزیر آباد میں اس کے آبائی گاؤں لایا گیا جہاں مقررہ وقت سے چار گھنٹے قبل اس کی نماز جنازہ پڑھانے کا حکم صادر کیا گیا، جس کی وجہ سے وہ لاکھوں لوگ جو دیگر شہروں سے جوق در جوق اس عاشق رسول ﷺ کا آخری دیدار کرنے، اس کے والدین کو خراج تحسین پیش کرنے اور اس کے جنازے کو کندھا دینے کے لیے آ رہے تھے وہ اس سعادت سے محروم کر دیے گئے۔ ان تمام حربوں کے باوجود 70 ہزار سے زائد افراد نے عامر شہید کی نماز جنازہ پڑھی۔ نماز جنازہ کا منظر انتہائی رقت آمیز تھا۔ لوگوں کی بڑی تعداد کی آنکھوں سے اشکوں کا سیل رواں تھا۔ ہر کوئی اس نوجوان کی باسعادت شہادت پر رشک کر رہا تھا۔ وہ پاکستانی نوجوانوں کا ہیرو بن چکا تھا۔ اس نے موت کو گلے لگا کر ابدی حیات کا جام پی لیا تھا۔ لوگوں نے منوں پھول کی پتیاں اس کی میت پر نچھاور کیں۔ اس کی راہ میں آنکھیں بچھائیں اور اسے اپنے دلوں میں بسا لیا۔ اس کے والد پروفیسر نذیر چیمہ بڑے پرعزم، بلند حوصلہ اور صبر کا پیکر نظر آئے۔ انھوں نے اپنے بیٹے کی نماز جنازہ خود پڑھانے کی سعادت حاصل کی۔ ہزاروں خواتین نے شہید کی والدہ اور بہنوں کو شہادت کی مبارکباد پیش کی۔

جرمن پولیس نے عامر چیمہ کے ساتھ غیر انسانی اور غیر قانونی سلوک کیا اور اسے 55 دنوں تک بغیر مقدمہ چلائے قید رکھا گیا جو انسانی حقوق کی تضحیک اور جرمن قانون کی شدید

صفحہ ٢٢٤

خلاف ورزی ہے۔ عامر چیمہ نے اپنے جرم کا اقرار کر لیا تھا۔ اس کے خلاف معروف جرمن طریقے سے مقدمہ چلانا چاہیے تھا اور اسے عدالت کے روبرو پیش کر کے اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے تھا، لیکن اس کے برعکس اس کی موت کو خودکشی قرار دے کر اصل جرم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی گئی کیونکہ عامر چیمہ کو غیر قانونی حراست میں رکھا گیا تھا۔ کوئی بھی پاکستانی، جرمن پولیس اور جرمن حکومت کے اس دعوے کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں کہ بے خوف عامر جو تنہا ایڈیٹر کے خلاف احتجاج کرنے اس کے آفس پہنچ جاتا ہے اور وہ یہ جانتا ہے کہ وہ یہ قدم ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ کے لیے اٹھا رہا ہے، لہٰذا وہ خودکشی جیسا بزدلانہ فعل نہیں کر سکتا۔ عامر چیمہ شہید کی اپنے ہاتھوں لکھی ہوئی تحریری وصیت، جو اُن کے والدین کو موصول ہوئی ہے، جس میں اس نے واضح طور پر لکھا ہے کہ میں خودکشی نہیں کروں گا۔ اس نے اپنی تدفین مکہ مکرمہ یا مدینہ منورہ میں کرنے کی وصیت بھی کی۔ اس کی وصیت سے اس کے پاکیزہ جذبات، عزم و حوصلے اور ہمت کا پتہ چلتا ہے۔ اس سارے عمل میں پاکستانی سفارتخانے کی بے حسی اور غفلت نہایت افسوسناک ہے۔ پاکستانی سفارتخانے کا عملہ جو بیرون ملک عوام کے ٹیکسوں کی کمائی پر نہایت پرتعیش انداز میں رہ رہا ہے، وہ پاکستانی افراد کی جانوں کے تحفظ اور انھیں قانونی سپورٹ مہیا کرنے کا وہ کردار ادا نہیں کر رہا، جو اس کے فرائض منصبی میں شامل ہے۔ جرمنی میں متعین پاکستانی سفارتخانہ اگر اس سلسلے میں بروقت متحرک ہوتا، عامر چیمہ کو قانونی امداد فراہم کی جاتی، انسانی حقوق کی انجمنوں کو متحرک کیا جاتا تو شاید یہ سانحہ پیش نہ آتا۔ اس پر 16 کروڑ عوام سراپا احتجاج اور برہم ہیں۔ سفارتخانے کے ذمہ داروں سے اس سلسلے میں باز پرس کی جانی چاہیے اور اس کے نتائج سے پوری قوم کو آگاہ کرنا چاہیے۔ حکومت پاکستان کو بھی اس سلسلے میں جرمن حکومت سے مؤثر احتجاج کرنا چاہیے اور اس کے نتائج سے پوری قوم کو آگاہ کرنا چاہیے تاکہ آئندہ اس طرح کے واقعات رونما نہ ہوں اور پاکستانی نوجوانوں کے لہو کو اس طرح ارزاں نہ سمجھا جائے۔

ناموس رسالت ایسا معاملہ نہیں ہے جسے آسانی سے دبا دیا جائے یا فراموش کر دیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ عامر چیمہ نے لاکھوں نوجوانوں کے دلوں میں عشق رسالت ﷺ کی شمع روشن کر دی ہے۔ مسلمان خواہ کتنا ہی گناہگار کیوں نہ ہو، وہ اس ہستی کی عظمت کو کبھی نہیں

بھلا سکتا جس کی شخصیت کو رحمت قرار دیا۔ چنانچہ اس وا تحسین پیش کرنے کے لیے ہیں، حتیٰ کہ خانہ کعبہ اور مسجد شہادت نے غازی علم دین ہاتھوں سے قبر میں اتارا تھا، کے ذمہ دار افراد کو عامر شہید تعلیم یافتہ اور شریف النفس حکومت کو جرمن حکومت کو کیوں نہ ہو، حضور اکرم ﷺ پیغمبروں کی توہین کے اس اکرم ﷺ کی شان میں گستا کر سکتا اور کچھ کیے بغیر نہیں لے کر ایک ارب 10 کروڑ کی اجازت نہیں دی جاسکتی

میرا آج کا یہ کـ معیشت دان ہوں، بندۂ عا پر جذبات سے ہٹ کر اور رسالت کا ہو تو پھر ایسے آنسوؤں اور میرے قلمی جذ غازی علم دین کی میت کو قبر

ان شہید قدر و قم میں پروفیسر ند

صفحہ ٢٢٥

بھلا سکتا جس کی شخصیت کو خود اللہ تعالیٰ نے سارے عالمین کے لیے تمام جہانوں کے لیے رحمت قرار دیا۔ چنانچہ اس وقت اخبارات، جرائد و رسائل میں لاکھوں سطریں عامر شہید کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے لکھی جا رہی ہیں۔ لاکھوں مساجد میں اس کے لیے دعائیں کی گئی ہیں، حتیٰ کہ خانہ کعبہ اور مسجد نبوی ﷺ میں بھی اس کے لیے دعائیں کی گئی ہیں۔ عامر چیمہ کی شہادت نے غازی علم دین کی شہادت کی یاد تازہ کر دی ہے، جسے علامہ اقبال نے خود اپنے ہاتھوں سے قبر میں اتارا تھا۔ حکومت کو عامر شہید کے والدین سے ہمدردی کا اظہار اور حکومت کے ذمہ دار افراد کو عامر شہید کے گھر جا کر تعزیت کرنی چاہیے تھی کیونکہ عامر ایک سلجھا ہوا، اعلیٰ تعلیم یافتہ اور شریف النفس لڑکا تھا۔ وہ کوئی دہشت گرد اور مذہبی جنونی نہیں تھا۔ پاکستانی حکومت کو جرمن حکومت کو یہ باور کرانا چاہیے کہ کسی بھی مسلمان کے لیے خواہ وہ کتنا ہی لبرل کیوں نہ ہو، حضور اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کر سکتا۔ لہٰذا عالمی برادری کو پیغمبروں کی توہین کے اس گھٹیا سلسلے کو روکنے کے لیے سنجیدہ کوشش کرنی چاہیے۔ حضور اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی اگر میرے سامنے بھی کوئی کرے تو میں بھی اسے برداشت نہیں کر سکتا اور کچھ کہے بغیر نہیں رہ سکتا۔ چنانچہ کسی اخباری ایڈیٹر کو اظہار رائے کی آزادی کا سہارا لے کر ایک ارب 10 کروڑ مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے اور ان کی دل آزاری کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

میرا آج کا یہ کالم میرے معمول سے بالکل ہٹ کر ہے۔ میں بزنس مین ہوں، معیشت دان ہوں، بندہ عاصی ہوں لیکن حضور اکرم ﷺ کا ادنیٰ غلام بھی ہوں۔ میں عام طور پر جذبات سے ہٹ کر اور حقیقت پسندانہ رائے کا اظہار کرتا ہوں، لیکن جب معاملہ ناموس رسالت کا ہو تو پھر ایسے میں جذبات پر قابو پانا بہت مشکل ہے اور میرا قلم میرے بہتے آنسوؤں اور میرے قلمی جذبات کا ترجمان بن گیا ہے۔ علامہ اقبال نے شہید ناموس رسالت غازی علم دین کی میت کو قبر میں اتارتے ہوئے کہا تھا......

ان شہیدوں کی دیت اہل کلیسا سے نہ مانگ
قدر و قیمت میں ہے خوں جن کا حرم سے بڑھ کر

میں پروفیسر نذیر چیمہ کی ہمت، صبر اور استقامت کو سلام کرتا ہوں۔ میں اس ماں

صفحہ ٢٢٦

کو سلام کرتا ہوں جس نے عامر چیمہ کو دودھ پلایا، جس نے عامر چیمہ کی تربیت کی اور اسے عشق رسول ﷺ کی دولت سے مالا مال کیا۔ انھوں نے اپنا ایک بیٹا اللہ کی راہ میں قربان کیا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان کے لاکھوں نوجوان ان کے بیٹے کہلوانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ لاکھوں لوگ اس کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے دور دراز علاقوں سے آئے تھے۔ یہ اتحاد اور یکجہتی کا ایک روح پرور منظر تھا۔ اس میں بیشتر لوگ وہ تھے جنھوں نے عامر کو کبھی نہ دیکھا تھا۔ وہ اس واقعہ سے پہلے عامر چیمہ کے نام سے بھی واقف نہ تھے، لیکن ناموس رسالت ﷺ کے مشترکہ جذبے اور حب رسول ﷺ کے مشترکہ رشتے نے انھیں ایک لڑی میں پرو دیا......

سلام اُس پر کہ جس کے نام کی عظمت پر کٹ مرنا
مسلمان کا یہی ایمان، یہی مقصد، یہی شیوہ
صفحہ ٢٢٧

عبدالہادی احمد

حضور ﷺ کی محبت

پاکستان کو اللہ نے عامر چیمہ شہید کی شکل میں بڑا شرف عطا کیا۔ اس خاکِ پاک میں نمو اور نشوونما پانے والا یہ نہال خوش خصال خود بھی خوش بخت ثابت ہوا اور اپنے ساتھ اس سرزمین کو بھی بخت آور بنا گیا، لیکن یہ کیسا المیہ ہے کہ مملکتِ خداداد پاکستان کے بدنصیب حکمرانوں کو اس دور کے سب سے بڑے ہیرو کے جنازے میں شرکت کی سعادت تک نہ مل سکی۔ یہ حقیقت ایک بار پھر ثابت ہو گئی کہ سعادت نہیں ملتی جب تک خدائے بخشندہ کسی کو سعادت عطا نہ فرمائے۔ ابھی زیادہ دن نہیں گزرے جب دنیائے اسلام میں حضور سرورِ کائنات ﷺ کی توہین پر کہرام مچا تھا مگر پاکستان کی حکومت قومی اسمبلی میں قرآن وسنت پر مبنی حدود قوانین کو منسوخ کرنے کی تیاری کر رہی تھی۔ ڈنمارک کے ایک بدبخت اخبار کا شانِ رسالت پناہ ﷺ میں گستاخی کا ارتکاب کوئی اتفاقی یا حادثاتی واقعہ نہ تھا، باقاعدہ سوچا سمجھا منصوبہ تھا۔ اس سے پہلے بھی ایسے واقعات ہوتے رہے ہیں۔ سارے یورپ میں قرآن پاک کی آیات عریاں عورتوں کے بدن پر کھدوا اور گدوا کر مسلمانوں کی غیرت آزمائی جاتی رہی ہے۔ گوانتانامو بے میں قرآن پاک کی سرعام توہین کی گئی، سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین جیسے شانِ رسالت ﷺ میں گستاخی کرنے والے ملعونوں کو یورپ میں پناہ دے کر حوصلہ افزائی کی گئی۔ ایسے واقعات کے خلاف احتجاج کو ہمیشہ مغربی دنیا نے حقارت سے مسترد کیا ہے۔ ڈنمارک کے اخبار میں شائع ہونے والے شیطانی خاکے ناروے، فرانس، سپین، جرمنی اور اٹلی کے اخبارات نے بھی شائع کیے۔ جرمنی کا ایک اخبار چار روز تک مسلسل یہ دل آزار خاکے شائع کرتا رہا...... امریکہ سمیت مغربی ممالک بڑی دیدہ دلیری سے یہ کہہ رہے ہیں کہ مغربی میڈیا کو اس طرح کی چیزوں کی اشاعت سے روکا نہیں جا سکتا، اس لیے کہ یہ آزادی اظہار کا

صفحہ ٢٢٨

معاملہ ہے۔ عامر چیمہ شہید کا جرمن اخبار کے ایڈیٹر پر حملہ ان کے ایمان کا تقاضا تھا۔ مغرب کے اسلام دشمن ممالک خصوصاً امریکہ یقیناً مطمئن ہیں کہ اس کے حاشیہ نشین ممالک کے لیڈر اسلامی غیرت سے قطعی عاری ہیں۔ اس مرحلے پر کہ جب ساری دنیا کے مسلمان عامر چیمہ شہید کی طرح رسول اللہ ﷺ کی عزت وحرمت پر کٹ مرنے کے جذبے سے سرشار ہیں، ہماری حکومت امریکہ اور مغربی دنیا کو خوش کرنے کے لیے تعلیمی نصاب سے اسلام کی ظاہری علامات کو بھی نکال باہر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ شانِ رسالت ﷺ میں مغرب کی گستاخی پر پاکستان کے حکمرانوں کی طرف سے بدترین بے حسی کا تازہ مظاہرہ عامر شہید کے جنازے کے موقعے پر ہوا۔ اس وقت بھی کہ جب پوری دنیا میں توہینِ رسالت پر احتجاج ہو رہا تھا اور کمزور ترین عرب شیوخ تک اپنے ملک میں مغربی مصنوعات پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کر رہے ہیں ہماری جرنیلی حکومت کو اپنے مغربی آقاؤں کی مجرمانہ جسارت کے خلاف زبان کھولنے کی ہمت نہ ہوئی۔ چھوٹے چھوٹے اسلامی ممالک نے ڈنمارک اور دوسرے گستاخ ممالک سے اپنے سفیر واپس بلا لیے، لیکن عظیم اسلامی ایٹمی طاقت کے لیڈر منقار زیر پر رہے۔ جنرل پرویز مشرف باجوڑ پر امریکہ کے بلا جواز حملے پر ایک بار پھر سرنگوں ہو کر رہ گئے۔ صرف اتنا کہہ سکے کہ امریکہ بہت طاقت ور ہے، ہم اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ سوال یہ ہے کہ کیا چیچنیا سے زیادہ کمزور ڈنمارک اور جرمنی بھی اتنے طاقت ور ہیں کہ آپ ان کے خلاف بھی احتجاج تک نہ کر پائے۔ امریکہ حکم دے تو وانا اور بلوچستان میں اپنے ہی شہریوں پر چڑھائی کرنے میں بھی تاخیر نہیں کی جاتی، لیکن معاملہ توہینِ رسالت کے مجرموں سے نمٹنے کا ہو تو ان کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی جرأت بھی نہیں ہوتی۔ یہ وہ ہیں جنھوں نے مغرب کے سامنے ہمیشہ کے لیے سر ٹیک دیا اور اپنے ایمان اور ضمیر کا سودا کر چکے ہیں۔

رسول اللہ ﷺ کی محبت کسی مسلمان کے لیے اختیاری معاملہ نہیں، یہ عقیدے اور ایمان کا معاملہ ہے۔ گناہگار سے گناہگار مسلمان بھی رسول اللہ ﷺ کی توہین برداشت نہیں کر سکتا۔ جب تک کفر کی طاقتیں مسلمانوں کے دل زخمی کرنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کی توہین کرتی رہیں گی سرفروش مسلمان گستاخانِ رسول کا منہ بند کرنے کے لیے سر بکف نکلتے رہیں گے، اپنے سر کٹاتے اور دشمنانِ اسلام کے سر توڑتے رہیں گے۔ اگر مغرب یہ سمجھتا ہے کہ اس کی جانب سے نام نہاد آزادی اظہار کے دعوے کو مسلمان ٹھنڈے پیٹوں برداشت کر لیں گے تو یہ

صفحہ ٢٢٩

اس کی بھول ہے۔ مسلمان گناہگار ہو سکتے ہیں، بے غیرت اور بے حمیت نہیں ہو سکتے ہیں۔ دنیا بھر میں جاری احتجاج اور عامر چیمہ جیسے شمع رسالت کے پروانوں کی قربانیوں سے گستاخانِ رسول ﷺ کی غلط فہمی ختم ہونی چاہیے۔ ہم مغرب کی خدا دشمن تہذیب اور اس کے پروردہ ایجنٹوں کو خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کو ان کے بے حمیت حکمرانوں پر قیاس نہ کریں۔ انھوں نے سوئے ہوئے شیر کو جگا دیا ہے، تو اب اس کا نتیجہ بھگتنے کے لیے بھی تیار رہیں۔ غازی علم دین شہید نے رسول اللہ ﷺ کی محبت میں سولی کے رسے کو چوما اور جاودانی زندگی پالی۔ آج بھی لاکھوں مسلمان غازی علم دین بننے کے لیے بے قرار ہیں۔ جنرل حمید گل نے اسی جذبے میں ڈوب کر ہزاروں مسلمانوں کے دل کی ترجمانی کی ہے کہ ...... اگر حضور اکرم ﷺ کی توہین کا سلسلہ ختم نہ ہوا، تو آئندہ خود کش حملہ آور میں بنوں گا ...... قرآن پاک کا پیغام واضح ہے:

”آپ کہہ دیجئے، اگر تم حقیقت میں اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو تو اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہاری خطاؤں سے درگزر فرمائے گا۔“

(آل عمران 31)

نبی کریم ﷺ کی محبت امت کے اتحاد کے لیے عظیم اثاثہ ہے۔ مغربی دنیا اگر اسلام کی دشمنی میں متحد ہو سکتی ہے، تو ملتِ اسلامیہ حُبِ رسول کے مشترکہ محاذ میں کیوں بنیان مرصوص نہیں بن سکتی۔ محبت کی لے اور تیز ہو۔ یہی محبت ہمارے ایمان کی کسوٹی بھی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا .... ”تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کی ذات، اس کے والدین اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔“

صفحہ ٢٣٠

محمد ابو بکر احمد

کس پاکیزہ روح کی آمد آمد ہے!!!

اس حسین و جمیل بہشت کے آٹھ پُر شکوہ ابواب کھل چکے ہیں، دریچوں سے روحوں کو گرما دینے والی، دلوں کو مسحور اور دماغ کو معطر کر دینے والی نسیم جنت کے جھونکے کسی برگزیدہ روح کے استقبال کے لیے بے چین ہیں۔ خوبصورت، خوب سیرت، گہری، سیاہ پتلیوں پر مشتمل موٹی موٹی اور گلابی آنکھوں والی، شرمیلی اور بھر پور مسکراہٹوں والی حوریں اور ہیروں کو تراش کر بنائے جانے والے غلمان کسی خوش بخت روح کو سلامی دینے کے لیے سیلوٹ کرنے کے لیے مرحبا اور خوش آمدید کہنے کے لیے جنت کے جواہرات سے آراستہ اور پیراستہ ہو کر قطار در قطار کھڑے ہیں۔ ایک طرف پرندے چہچہا اور طائران نغمہ گوئی کر رہے ہیں، سب کے زیر لب ایک ہی ورد ہے، مرحبا یا مرحبا۔ دوسری طرف سدا بہار گلاب کی نرم و نازک شبنمی پتیاں اپنا آپ نچھاور کرنے کو منتظر ہیں۔ کہیں باغات ہیں جن میں دل کو موہ لینے والی آبشاروں کے نظارے، بہتے چشمے اور پیچ و خم کھاتے راستے ہیں۔ جن کے اطراف میں درخت پھلوں کے بوجھ سے جھکے ہوئے ہیں۔ درخت جن کے تنے سبز زمرد اور ٹہنیاں سرخ سونے کی ہیں، ان کے عین وسط میں یاقوت و مرجان کی اینٹوں، موتیوں کے سنگریزوں، زعفرانی مٹی اور کستوری کے گارے سے پایہ تکمیل کو پہنچنے والے بلند و بالا اور عظیم الشان محلات کے بالا خانے ہیں، جن میں بچھی ہوئی مسندوں پر ساغر رکھے گئے ہیں، شان و شوکت والے بیش قیمت تختوں پر قالین بچھائے اور گاؤ تکیے لگائے گئے ہیں، جن کے استر ملمع کیے گئے دبیز ریشم کے ہیں۔ پھر ان نفیس و نادر غالیچوں، مرصع و منقش تختوں اور سنہری مسہریوں پر سونے چاندی کی طشتریوں میں انواع و اقسام کے کھانے چنے جا چکے ہیں۔ جام مصفا و مطہر مشروبات و ماکولات سے لبریز ہیں۔ انہی عالیشان محلات کے بیچوں بیچ خالص دودھ، پاکیزہ شہد اور شراب

صفحہ ٢٣١

طہور کی بل کھاتی نہریں جوش مار رہی ہیں، جب کہ جنت کی رعنائیاں اور دلکشی پورے جوبن پر ہے۔ آج اس منظر پر فلک بھی حیران ہے، کائنات کا ذرہ ذرہ انگشت بدنداں ہے۔ جی ہاں یہ مناظر کیوں بپا نہ ہوں، آسمان دنیا کیوں نہ رشک کرے، آج تو پاسبانِ حرمتِ رسول غازی عامر عبدالرحمن کی مقدس روح کی تشریف آوری ہے۔ آج وہ پاکیزہ ہستی فردوس بریں میں قدم رنجہ فرما رہی ہے جس نے سرورِ کائنات، آقائے دو جہاں، مولائے کل، ختم الرسل ﷺ کی ناموس کی خاطر اپنی روح کو جسم کی قید سے آزاد کر لینا تو گوارا کر لیا ہے، مگر یہ گوارا نہیں کیا کہ اس کے جیتے جی دنیا کا کوئی ملعون حرمتِ رسول ﷺ کو پامال کرنے کی جسارت بھی کرے اور زندہ بھی رہے۔ آج اس ذات کو جنت کے آٹھوں دروازے کیوں نہ پکاریں، جس نے اپنے لہو کا خراج دے کر روحِ محمد ﷺ کو راحت پہنچائی اور اُمت کو اک ولولۂ تازہ دیا ہے۔ جنت النعیم اس کی قدم بوسی کیوں نہ کرے جس نے اپنی جان کے بدلے اپنے رب سے اس کا سودا کیا ہے۔

غازی عامر عبدالرحمن نے اتنا بڑا فیصلہ یونہی کوئی جذباتی انداز میں نہیں کیا بلکہ انتہائی سوچ بچار کے بعد ٹھنڈے دماغ کے ساتھ کیا ہے۔ ایسے عظیم فیصلے عظیم لوگ ہی کرتے ہیں۔ اسے معلوم تھا کہ یہ کوئی پھولوں کی سیج نہیں، بلکہ کانٹے دار جھاڑیوں سے الجھنے کے مترادف ہے۔ زندگی اگرچہ بڑی پیاری ہوتی ہے۔ انسان اس کے لیے کیا کیا معرکہ آرائیاں سرانجام نہیں دیتا، کس کس انداز میں اپنی توانائیاں بروئے کار لاتا ہے۔ یہاں تک کہ بعض اوقات چند ٹکوں کی خاطر اپنی اخلاقی اقدار کو پامال کرتے ہوئے بھی نہیں ہچکچاتا۔ مگر اللہ کا وہ شیر محبتِ رسول کی معراج پر تھا۔ دنیا کی بڑی سے بڑی کامیابیاں، ڈگریاں اور اعزازات اس کی نظروں میں ہیچ تھیں۔

اگرچہ اس کا تعلق کسی "دہشت گرد" یا "انتہا پسند" مدرسے سے تھا نہ وہ کسی "جنونی" جماعت کا ہم نوالہ و ہم پیالہ تھا، بلکہ وہ تو یورپ کے ایک "امن پسند" اور "روشن خیال" ادارے کا طالب علم تھا۔ پھر مغرب کی رنگینیاں اسے اپنے رنگ میں نہ رنگ سکیں اور ان کا مادر پدر آزاد ماحول اس کے اندر کی ایمانی روح کو نہ نکال سکا۔ اس نے جدید ترین درسگاہ سے تعلیم حاصل کرنے کے باوجود اپنے اسلاف کی قدیم روایات کے نقوش قلب و ذہن سے مندمل نہ ہونے دیے بظاہر وہ نہ تو زہد و تقویٰ میں ممتاز تھا، نہ ہی فقہی و فلسفی علوم سے بہرہ ور تھا۔ وہ عبا

صفحہ ٢٣٢

اور قبا کے تکلف سے تو بے نیاز تھا لیکن اپنے سینے میں محبت رسول کے انمول ہیرے پال رکھے تھے۔ اس کی بنیاد عقیدے سے زیادہ عقیدت پر مبنی تھی۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ آپ ﷺ کی ذات سے محبت پر مسلمان کی روح کو سکون، دل کا سرور اور زندگی کا سرمایہ افتخار ہوتا ہے۔ وہ کسی ماحول یا جگہ کا محتاج نہیں ہوتی البتہ خواص میں آپ ﷺ سے محبت کی حدت اور عوام میں شدت ہوتی ہے اور یہ نہ تو کسی منظم تحریک کی پیداوار ہوتی ہے نہ کسی خاص برین واشنگ کا نتیجہ ہوتی ہے۔ یہ تو صرف ”و رفعنا لک ذکرک“ کی پوشیدہ حقیقت ہے۔

وہ سعادت مند بیٹا باپ کی آنکھوں کا تارا، بہنوں کے دل کا سہارا اور ماں کا راج دلارا تو تھا ہی مگر یہ خوش نصیبی بھی اسی کے حصہ میں آئی کہ وہ پوری امت کے ماتھے کا جھومر اور عالم اسلام کا سرتاج بھی بن گیا۔ امت کا وہ قابل فخر اور مایہ ناز سپوت غازی علم دین کا سچا وارث اور صلاح الدین ایوبی کا روحانی فرزند تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب سے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت شروع ہوئی اس کی رات کی نیند غارت اور دن کا سکون برباد ہو کر رہ گیا تھا۔ اس کے اندر کا انسان نہ جانے کس طرح کراہ رہا تھا۔ اس کے دل و دماغ میں انتقام کے انگارے دہک رہے تھے جس سے اس کے سوا ہر شخص بے خبر تھا۔ پھر کیا ہوا...... اس نے کتابوں کو خیر باد اور یونیورسٹی کو الوداع کہا۔ ادھر تعطیلات ہوئیں ادھر عامر نے برلن میں ڈیرے جما لیے۔ ہنٹر نائف نامی زہر آلود خنجر خرید کر اپنے آپ کو وہ پہلے ہی مومنانہ زیور سے آراستہ کر چکا تھا۔ یہ شیر دل مجاہد مسلسل 15 دن Die Welt اخبار کے بیورو چیف آفس کی نگرانی کرتا رہا۔ ہر روز جب خالی ہاتھ واپس لوٹتا تو اپنے رب کے حضور گناہوں کی معافی کا خواستگار ہوتا، آنسو بہاتا اور نوافل ادا کرتا۔ اگلے دن پھر سے جنت کا وہ راہی ایک نئے جذبے اور امید کو لیے وہاں جا پہنچتا۔ بالآخر 16 ویں دن موقع ملتے ہی آفس میں داخل ہوا، بارود اور دھماکہ خیز مواد اس کے پیٹ بندھا ہوا تھا چاہتا تو خود کش حملہ کر دیتا یا گولیوں کی بوچھاڑ سے اس ملعون کی تکہ بوٹی کر دیتا، مگر وہ چاہتا تھا کہ اپنے ہاتھ سے اس کا سینہ چیر کر وہ دل نکال باہر کرے، جس میں میرے نبی ﷺ کے بارے میں بغض تھا۔ وہ چپکے سے نہیں لپکا بلکہ پہلے گرجا اور پھر برسا، پھر جب اسے تحویل میں لے کر حکام کے سامنے پیش کیا گیا تو اس نے اسی شان سے سینہ تان کر نہ صرف اقبال جرم کیا بلکہ ببانگ دہل کہا کہ اگر میں زندہ بچ نکلنے میں کامیاب ہو گیا تو پھر گستاخ رسول پر حملہ کروں گا۔ اس کا جواب سن کر آفیسر مسکرایا تو اس نے بڑی دیدہ دلیری سے

صفحہ ٢٣٣

اس کے منہ پر تھوک دیا۔ وہ گفتار کا نہیں کردار کا غازی تھا، اس نے آج اس بات کا عملی ثبوت پیش کر دیا کہ اللہ کی اس سرزمین پر اس محبوب کی شان میں ہرزہ سرائی کرنے والے کا سانس لینا بھی حرام ہے۔ عشق کا ایک سچا دعویدار پھانسی کے پھندے کو چوم کر اپنے گلے میں ڈال اور تیغ و سناں کے زخموں کو اپنے سینے پر سجا تو سکتا ہے۔ اپنی گردن کٹا کر اپنا لہو بہا تو سکتا ہے، مگر یہ کسی صورت برداشت نہیں کر سکتا کہ دنیا میں ابولہب کا کوئی چیلا، نبی ذیشان ﷺ کی شان اقدس میں زبان درازی تو کجا ماتھے پر ناپسندیدگی کے تیور بھی چڑھائے۔

اس کے اقدام سے اہلِ کفر بوکھلا اٹھے ہیں۔ ان کے آشیانوں پر قہرِ خداوندی کی بجلیاں برس پڑی ہیں اور وہ ہکے بکے رہ گئے ہیں کہ ان حالات میں بھی جبکہ اس امت کے نام نہاد حکمران ہماری چوکھٹ پر سجدہ ریز ہیں اور اپنی جبینِ نیاز کو ہمارے در پر جھکانا باعثِ افتخار سمجھتے ہیں۔ اہلِ ایمان کی خاکستر میں چنگاریاں ابھی زندہ ہیں اس سے ایک طرف تو ایوان کفر لرزہ براندام ہوئے، ابلیس نے اپنا سر پیٹا، ملعون غلام قادیانی کی قبر پر جوتے برسے۔ دوسری طرف ان اہلِ ایمان کے دل خوشی سے معمور ہو گئے، چہرے دمک پڑے اور مسکراہٹیں کھل اٹھیں جو کچھ کر گزرنا چاہتے تھے، مگر بے بس تھے، اپنی جانوں کو نچھاور تو کرنا چاہتے تھے مگر موقع نہیں پا رہے ہیں۔

4 مئی کی صبح ہم دنیا داروں کے لیے تو صدمے اور جدائی کا غم لے کر آئی مگر عامر چیمہ کے لیے اپنے رب سے ملاقات کی نوید لے کر آئی۔ جرمنوں نے وہی کچھ کر دکھایا جس سے ان کی سیاہ تاریخ کے ابواب بھرے پڑے ہیں۔ ڈھونگ یہ رچایا کہ اس نے خودکشی کی ہے۔ بھلا ایسا شخص جو اپنے نبی ﷺ کی ناموس کی خاطر اپنی جان ہتھیلی پر لیے فدا ہونے نکلا ہو، اس نبی ﷺ کی حکم عدولی کا تصور بھی کیسے کر سکتا ہے۔ خود کشیاں تو یورپ اور مغرب کے جانشین کرتے ہیں۔ وہ مدینے کا روحانی فرزند تھا۔ خودکشی تو ہار جانے والے اور ناکام لوگ کرتے ہیں۔ اس راہ میں ناکامی اور نامرادی کا تو نام نہیں جہاں مرگِ شہادت کا سہرا بندھتا ہو اور بچ جانے پر غازی کا تمغہ سجتا ہو۔ وہ تو کامیاب ہی نہیں ہوا، بلکہ اس کی اعلیٰ منزلوں تک پہنچ چکا تھا۔ یہ خودکشی اور پوسٹ مارٹم رپورٹ اپنے جرم کی پردہ پوشی کی مکروہ اور بھونڈی کوشش ہے، اس سے شہید کے لہو کو چھپایا جا سکتا ہے نہ ہی سزا سے بچا جا سکتا ہے۔

یہ کردار تو ہٹلر کے جانشینوں کا تھا کہ جن کے ماتھے پر جبر و سفاکیت کی چھاپ

صفحہ ٢٣٤

ہے ۔ مگر دوسری طرف ہمارے کاسہ لیس حکمرانوں کا کردار بھی ان انگریز سامراجوں سے مختلف نہیں تھا ۔ انھوں نے غازی علم الدین شہید کے جسدِ خاکی کے ساتھ جو سلوک کیا ، ہمارے صاحبانِ اقتدار نے بھی غازی عامر شہید سے وہی کچھ روا رکھا ۔ انھوں نے اس کے بوڑھے والدین کے اعصاب پر آمریت کی جو ضربیں لگائی ہیں ، اس سے ان کے خوفناک مستقبل کی منظر کشی ہوتی ہے ۔ عامر کو تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑا کہ اس کے تابوت کے ساتھ کیا ہوا ؟ اس کا استقبال کس کے ہاتھوں ہوا ؟ اسے 21 توپوں کی سلامی دی گئی یا نہیں ...... تمغہ جرأت ملا یا نہیں ..... گارڈ آف آنر پیش ہوا یا نہیں ..... اس کے سفرِ جنازہ میں کون کون سی نامور ہستی شریک ہوئی ..... اسے کسی معزز وردی والے ..... شیروانی زیب تن کرنے والے ..... یا چودھراہٹ کی پگ سر پر رکھنے والے نے کندھا دیا ..... اسے کہاں دفن کیا گیا ..... وہ خوش بخت تو اپنا حق ادا کر کے ..... جان جان آفرین کے سپرد کر کے ..... جنت کا دولہا بن کر ...... نورانی فرشتوں کے جلو میں ..... اپنے رب کا مہمان ٹھہر چکا ..... البتہ اربابِ اختیار کی پیشانی پر بدنامی کے جو دھبے لگ چکے ہیں ، جو شاید اس وقت تک قائم رہیں گے ، جب تک عامر شہید کا نام زندہ رہے گا ۔ حکومت کے چند وظیفہ خوار تو اس بات پر شرمندہ ہیں کہ اس کے جذباتی کام سے ہمارا سافٹ امیج خراب ہونے کا خطرہ ہے ۔ دوسری طرف جرمنی میں ہمارے سفارت خانے میں پر ڈیڑھ ماہ تک جمود طاری رہا۔ یہی واقعہ اگر کسی گوری چمڑی والے کے ساتھ پیش آ جاتا، تو ہماری پوری قوم سزا بھگتنے پر مجبور ہو جاتی ۔ کراچی میں ایک ڈینیل پرل قتل ہو گیا ، تو مسلمانوں کے بیسیوں قبرستان اکھاڑ کر رکھ دیے گئے ۔ ایک نہیں بے شمار مثالیں موجود ہیں ۔ فرق صرف یہ ہے کہ عامر کا نام مسلمانوں کی فہرست میں آتا ہے ۔ وہ کسی غیرت مند باپ کا بیٹا ہے اور اس نے مسلم خاتون کی کوکھ سے جنم لیا ہے ۔ آخر خونِ مسلم کیوں اتنا ارزاں ہے ؟ غازی عامر شہید اپنی جان حرمتِ رسول پر قربان کر کے اپنے سرخ خون کی روشنائی سے تاریخِ اسلام میں ہمت اور جواں مردی کا ایک سنہری باب ہمیشہ کے لیے رقم کر کے امر ہو گیا اور حیاتِ جاودانی پا گیا ہے۔

کہتے ہیں ”شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے ۔“ آج عامر شہید کی شہادت نے قوم کی رگوں میں ایک روح پھونک دی ہے ، اس داستانِ جرأت و بہادری اور جان نثاری نے خوابِ غفلت میں سوئی ہوئی اُمت میں بیداری کی ایک لہر دوڑا دی ہے ۔ اس کا سفر

صفحہ ٢٣٥

منظر اس بات کی غمازی کر رہا تھا کہ سرزمین شہداء گوجرانوالہ اس بات کی شاہد ہے کہ اس نے تاریخ کے بڑے بڑے نامور اور مایہ ناز سپوت پیدا کیے ہیں۔ اب بھی یہ اعزاز بلکہ اعزاز کا معراج بھی اسی کے حصہ میں آیا ہے کہ ساروکی کی زمین رشکِ ارم کا نظارہ پیش کر رہی تھی۔ انسانی سروں کا یہ سمندر تاحد نگاہ ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ جو کچھ کسی کے پاس تھا، لے کر چلا آیا۔ کوئی اپنا دامن محبت رسول ﷺ سے بھر کر لایا، کوئی اپنی جھولی میں عقیدت کے پھول لے کر آیا، کوئی حرمتِ رسول ﷺ پر جان قربان کرنے کا عزم لایا، تو کوئی آنکھوں میں آنسوؤں کی جھڑی اور دل میں آہوں اور سسکیوں کی پکار لے آیا۔ من کی اس دنیا میں جذبات کے تلاطم کے ساتھ نبوت ﷺ و رسالت ﷺ کے شیدائیوں نے اسے خاک کی چادر اوڑھا دی، لیکن ساتھ ہی بقعہ نور نے اسے اپنے حصار میں لے لیا۔

اے عامر! اب تمھیں کوئی نہیں مار سکے گا، اب تم ہمیشہ زندہ رہو گے، اب اس امت کی مائیں تمھارے نہج پر اولادوں کی تربیت کریں گی۔ نوجوان تم جیسا عقیدہ بنانے کے لیے اپنے رب کے حضور اشک ندامت بہائیں گے۔ تم تو اپنا قرض چکا اور فرض نبھا چکے ہو، اب نبی ﷺ کی ناموس کی خاطر اور تمھارے خون کا بدلہ لینے کے لیے اہل شباب کی جماعت میدان میں اترے گی۔ تم نے اپنے خون سے ہمارے ایمان کو جو مہمیز دی ہے اور مردہ دلوں کو جو حیات تازہ بخشی ہے، اس سے اب انشاء اللہ اہل کفر کی نیندیں حرام ہوں گی۔ اسلام کا پرچم بلند اور کفر سرنگوں ہوگا۔ ہم نے ناموس رسالت ﷺ کی خاطر بڑے جلسے کیے، جلوس نکالے، نعرے لگائے کچھ نے کاروبار سیاست چمکایا، مگر تم نے اس تحریک کی بنیادوں میں اپنا لہو دیا۔ اب یہ قافلہ نہ رکے گا نہ جھکے گا...... ان شاء اللہ۔

صفحہ ٢٣٦

ہارون اقبال

وہ جیت گیا

ہر طرف چہل پہل ہے۔ فرشتے جنت کو اور اس کے محلات کو سنوار رہے ہیں، بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں والی حوریں اپنے ہاتھوں میں ہار لیے قطار میں کسی کے آنے کا انتظار کر رہی ہیں۔ غلمان دو رویہ صفوں میں بہشت کے پھول اس ”مہمان“ پر نچھاور کرنے کے مشتاق ہیں...... وہ دیکھو سرور کائنات حبیب کبریا محمد عربی ﷺ بھی اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ اس ”مہمان“ کے منتظر ہیں۔ اللہ اللہ کیا شان ہے رب کائنات کا رحمانی نور بہشت سے لے کر زمین تک پھیلا ہوا ہے۔ وہ کون خوش نصیب ہے جس کے استقبال کے لیے خود خالق کائنات اپنے محبوب ﷺ کے ساتھ آیا ہوا ہے۔ امی عائشہ رضی اللہ عنہا اور دوسری امہات رضی اللہ عنہن بھی اپنے اس قابل فخر فرزند کو اعزاز بخشنے کے لیے موجود ہیں...... جی ہاں اس خوش نصیب کا نام عامر چیمہ شہیدؒ ہے جس کے لیے یہ سب اعزازات ہیں۔ وہ نوجوان جس نے آقا مدنی ﷺ کی ذات اقدس پر کیچڑ اچھالنے والے ایک بدبخت کو سبق سکھا کر اپنی قابل قدر ماؤں کے دلوں کو ٹھنڈا کر دیا، وہ مائیں جو اپنے محبوب ﷺ کی گستاخی پر پریشان تھیں کہ ہمارے ایک ارب سے زائد بیٹوں میں سے کوئی اٹھے گا اور اپنے پیارے حبیب ﷺ کی گستاخی کا بدلہ لے گا۔ انھیں انتظار تھا اپنی اولاد کے زیر تسلط چھپن ممالک سے جو ہر قسم کی صلاحیتوں اور نعمتوں سے مالا مال ہیں کہ شاید کوئی ملک ہمارے محبوب ﷺ کی گستاخی کا بدلہ لے، لیکن انھیں مایوس ہونا پڑا۔ کسی ایک حکمران کو اپنی زبان کھولنے کی جرأت نہیں ہوئی کیونکہ وہ مصلحت پسند کہلانا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ انھیں ڈر تھا اپنے خود ساختہ آقاؤں سے کہ اگر اس شرمناک حرکت پر احتجاج کیا تو ان کے آقا انھیں بنیاد پرست شدت پسند کہہ کر ان کا سینڈوچ بنا دیں گے، ان سے ان کا اقتدار چھن جائے گا۔ انھیں ”بنیاد

صفحہ ٢٣٧

پرستوں‘ کی طرح موت دے دی جائے گی۔ اور اسی موت سے بچنے کے لیے تو وہ ہر طرح کے جتن کر رہے ہیں حتی کہ اپنے ایمان کو بھی داؤ پر لگانے کے لیے تیار ہیں لیکن موت پھر بھی آنی ہے۔ اب یہ آدمی کے بس میں ہے ۔ کہ ذلت ناک اور درد بھری موت کو قبول کرتا ہے یا پھر ناموس رسالت کے اس پروانے عامر شہید جیسی سعادت والی موت کو گلے لگاتا ہے۔ امت کی مائیں حیران تھیں کہ اس امت کو کیا ہو گیا ۔ صلاح الدین ایوبیؒ بھی تو اس امت کا فرزند تھا جس نے گستاخ رسول سے بدلہ لینے تک اپنے آپ پر ہر قسم کے آرام کو حرام کر دیا تھا۔ کہاں گئے غازی علم الدینؒ ، مرید حسینؒ اور حاجی مالکؒ جیسے فرزند جنھوں نے گستاخان رسول کی ناپاک زبانوں کو لگام دی اور خود اپنے آپ کو تاجدار نبوت ﷺ کی حرمت پر نثار کر گئے، وہ بھی تو اسی امت کے فرزند تھے۔ روضہ اقدس میں سرور کائنات ﷺ بے تاب تھے کہ میری حرمت پر قربان ہونے والے کہاں گئے؟ انھیں شاید معلوم نہ تھا کہ یہ امت اب موت سے ڈرنے لگی ہے۔ اسے اب اپنی جان سے زیادہ پیار ہے ان پر ان کے برے اعمال کی وجہ سے ایسے حکمران مسلط کر دیے گئے ہیں جو بے حیائی، فحاشی، بزدلی اور بے راہ روی کو ترقی اور روشن خیالی تصور کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک آقائے حقیقی کے حکم سے بڑھ کر اپنے خود ساختہ آقاؤں کے فرمان قابل تعمیل ہیں، جن کے نزدیک اسلامی احکامات پر عمل کرنا گویا کہ پتھر کے زمانے میں دھکیلنے کے مترادف ہے جو اپنی بزدلی اور موت سے خوف کو مصلحت پسندی کا نام دیتے ہیں، جن کے نزدیک آقا مدنی ﷺ کے خلاف گستاخی کرنے والوں کے سامنے احتجاج کرنے سے ملک کا ”امیج“ خراب ہوتا ہے اور کافروں کو ”غلط میسج“ جاتا ہے کہ مسلمان ابھی تک پرانے دور کی ذہنیت رکھتے ہیں۔ اپنے نبی کی گستاخی پر احتجاج ہونا یہ آزاد صحافت پر قدغن لگانا ہے۔

پوری امت کے درد مند اور دینی حلقے اس بات پر غم ناک تھے کہ اپنے پیارے حبیب ﷺ کی گستاخی کا بدلہ نہ لے سکے۔ وہ اپنے نام نہاد منافق حکمرانوں کی وجہ سے مجبور تھے۔ پوری امت اپنے آقا مدنی ﷺ سے شرمسار تھی کہ کل قیامت کے دن اگر ساقی کوثر نے پوچھ لیا کہ میری عزت پر حملہ کرنے والے دندناتے پھرتے رہے اور تم نے کچھ نہ کیا، میری شان میں گستاخی پر تم زندہ کیسے رہ گئے؟ تو امت کیا جواب دے گی سوائے ندامت و شرمندگی سے سر جھکانے کے۔ ساری امت سوچتی رہ گئی لیکن...... سب ہار گئے وہ جیت گیا، بڑی بڑی

صفحہ ٢٣٨

دستاروں والے جبوں والے، عشق رسول ﷺ کے بڑے بڑے دعوے کرنے والے سب ہار گئے، وہ جیت گیا جو نہ تو مولوی تھا نہ ہی کوئی پیر تھا اور نہ ہی وہ کسی ’’دقیانوسی‘‘ مدرسے کا پڑھنے والا تھا۔ ایک سیدھا سادہ شریف النفس نوجوان جس نے اپنی عمر کی ابھی اٹھائیس بہاریں دیکھی تھیں جو پڑھتا تو انگریز کی یونیورسٹی میں تھا لیکن دل میں عشق رسول ﷺ کی شمع روشن کیے ہوئے تھا۔ اس سے اپنے آقا کی گستاخی برداشت نہ ہوئی اور اس نے گستاخ رسول کو اپنے غیض و غضب کا نشانہ بنا ڈالا۔ وہ خبیث تو نہیں مرا لیکن عامر شہید نے سعادتوں کے اعلیٰ مقام کو پا لیا وہ اپنے محبوب کی عزت پر نثار ہو گیا اور انجینئرنگ کی ڈگری کی جگہ شہادت کی ڈگری حاصل کر کے امر ہو گیا۔ جاتے جاتے عشق رسول ﷺ کی شمع روشن کر گیا ۔

شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

عامر شہید جہاں اپنی شہادت سے پاکستان کو اعزاز دے گیا، وہاں کافروں کو یہ بتا گیا کہ اس امت کی مائیں ہر دور میں ایسے جان نثاران رسول ﷺ پیدا کرتی رہیں گی۔ ان کی کوکھ کبھی ایسے جوان پیدا کرنے سے بانجھ نہیں ہوگی۔

’’شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے۔‘‘ لیکن ہماری قوم کی بے حسی کو دیکھئے حکمرانوں کے تو کیا کہنے ہماری قوم کو بھی اپنے اس ہونہار قیمتی نوجوان کی قدر و قیمت کا اندازہ نہیں۔ چند ایک اخباروں نے سرسری طور پر اس کی گرفتاری کا اور بعد میں اس کی شہادت کا تذکرہ کر دیا اور ہمارے روشن خیال کالم نویسوں میں سے کسی کو اس کے بارے میں لکھنے کی توفیق نہ ہوئی سوائے ایک بزرگ کالم نویس کے، ایسی بے حسی قوم کی اپنے ایک فرد کے ساتھ جو اُن کے لیے سرمایہ افتخار ہو کسی قوم میں نہیں ملے گی۔

اللہ تعالیٰ عامر شہید کی شہادت کو قبول فرمائے اور ہمیں اس راستے پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے جو عامر شہید پوری امت کو سمجھا گیا ہے ۔

عزت سے جیئے تو جی لیں گے یا جام شہادت پی لیں گے
صفحہ ٢٣٩

طلحہ السیف

اصلی وارث

”تمھیں شاہی سرپرستی میسر ہے اور میرے اکثر ساتھی خوف اور مصلحت کی وجہ سے حق گوئی پر آمادہ نہیں، اس لیے اگر اس دربار میں ہم دونوں میں سے کسی کے حق و باطل ہونے کا فیصلہ نہ بھی ہوسکا تو یاد رکھنا ہمارے جنازے اس کا فیصلہ سنائیں گے۔“

وقت کے امام اور مجدد حضرت امام احمد بن حنبلؒ کی اس جرأت مندانہ للکار سے خلیفہ کا دربار گونج رہا تھا اور پھر ان کے جنازے نے واقعی ان کا حق ہونا ثابت کر دیا۔ جب شہر کی گلیاں، بازار اور میدان تنگ پڑ گئے (مورخین نے لکھا ہے کہ امام احمد بن حنبلؒ کے جنازے میں 20 لاکھ افراد نے شرکت کی) جبکہ ان کا مخالف ابن ابی داؤد تاریخ کے صفحے میں اتنی جگہ پا سکا کہ وہ امام وقت کا حریف تھا۔

شہید ناموس رسالت عامر چیمہ شہید کے بارے میں بدباطن رُوسیاہ جرمنوں نے یہ بات اڑائی کہ انھوں نے جیل میں خودکشی کی ہے تاکہ انھیں ایک مایوس اور بزدل انسان ثابت کر سکیں اور ان کی عظیم قربانی پر پردہ ڈال سکیں، ہماری حکومت نے بھی غلامی اور پالتو پن کا مکمل ثبوت دیتے ہوئے انہی کی راگنی گائی اور ہر مذموم کوشش کو بروئے کار لائی تاکہ حق نمک ادا کر سکیں لیکن شہید کے جنازے نے بھی ان کا حق ہونا ثابت کر دیا، ایک چھوٹے سے گاؤں میں جنازہ منتقل ہوا، دفنانے کے سلسلے میں بار بار خیانت کی گئی اس کے باوجود قومی اخبارات کے مطابق دو لاکھ افراد نے شرکت کی سعادت حاصل کی، جو حضرات تاخیر سے پہنچے ان کی تعداد بھی ہزاروں میں بتائی گئی، ایسے جنازے صرف شہیدوں اور مجاہدوں کے ہوتے ہیں، اگر خدا نخواستہ عامر نے خودکشی کی ہوتی تو اس کے والدین کو کبھی اس کا جنازہ پڑھنے میں تامل ہوتا،

صفحہ ٢٤٠

اس کے اپنے رشتہ دار بھی متردد ہوتے ، اس کے دوست بھی حاضری میں پس و پیش کرتے ، اگر وہ کسی دنیاوی مقصد کے لیے قتل کیا گیا ہوتا تو یوں لوگوں کے ٹھٹھ نہ لگے ہوتے ، وہ بھی پنجاب کی اتنی سخت گرمی میں جو روزانہ کئی لوگوں کی جان لے رہی ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے آج سے چند سال پہلے کا منظر جب کوہاٹ کے قریب جرما پل کے مقام پر چند مہمان مجاہدین کو پولیس مقابلے میں شہید کیا گیا تھا، شہیدوں کا جنازہ پڑھنے اور تدفین کرنے کے لیے عوام کا ایک بڑا جلوس فوجی چھاؤنی کے باہر جمع تھا جبکہ اس مقابلے میں ہلاک ہونے والے ایک پولیس اہلکار کا والد درہ آدم خیل میں علماء سے فتویٰ لینے پہنچا ہوا تھا کہ اس کے بیٹے کا نماز جنازہ پڑھنا جائز بھی ہے یا نہیں؟

عامر نے خود کشی نہیں کی وہ خود کشی کرتا بھی کیوں؟ جیلوں میں خود کشیاں تو وہ مجرم کرتے ہیں جن کے ضمیر پر گناہوں کا اتنا بوجھ ہوتا ہے جو ان سے برداشت نہیں ہو رہا ہوتا۔ سلوبودان میلا سووچ جیسے درندے اور ہٹلر جیسے سفاک قاتل جب اپنے جرائم کی سزا سامنے دیکھتے ہیں تو وہ اس طرح اپنے آپ کو ختم کر لیتے ہیں، تب نہ ان کے لیے کوئی آنکھ روتی ہے نہ کوئی دل۔ ایک کالم نگار نے کتنی اچھی بات لکھی کہ خود کشی وہ لوگ کرتے ہیں جو خود کش حملہ نہیں کر سکتے ، مجاہد خود کش حملے کرتے ہیں خود کشی جیسا گھٹیا کام نہیں کرتے ، عامر تو فدائی تھا، وہ جب خنجر لے کر گستاخ رسول کا گلہ کاٹنے گھر سے نکلا ہو گا تب اس نے خود کو زندوں میں شمار نہیں رکھا ہو گا، اس نے اس انجام کے لیے تیار ہو کر ہی یہ قدم اٹھایا ہو گا، تب وہ شہید ہوا اور اس کے خون کی خوشبو کھینچ کھینچ کر لوگوں کو اس کے جنازے کی طرف لے آئی، دنیا میں جہاں بھی کوئی خود کش کافروں پر قہر بن کر ٹوٹتا ہے اس کے جنازے کا یہی منظر ہوتا ہے۔

وہ کشمیر کی وادی کا کوئی شہید ہو یا عراق و فلسطین کے ریگزاروں کا، وہ افغانستان میں صلیبی فوجوں کا نشانہ بننے والا کوئی جوان ہو یا وانا اور میران شاہ میں ریاستی جبر کا کوئی شکار، بعد از شہادت ان کا اعزاز ان کی حقانیت کی ایک بہت بڑی دلیل ہے۔ بدقسمت ہیں وہ لوگ جو ان شہیدوں کی نسبت سے محروم ہیں۔ سیہ بخت ہیں وہ نفوس جو ان کی جماعت سے الگ ہیں، جن کے راستے ان سے جدا اور منزلیں ان سے دور ہیں، جن کے دلوں میں ان کی محبت نہیں اور زبانوں پر اُن کے قصیدے نہیں، جن کے گلوں سے ان کے خلاف آوازیں برآمد

صفحہ ٢٤١

ہوتی ہیں اور قلم سے ان مقدس ہستیوں پر کیچڑ اچھالا جاتا ہے، جو ان سے بغض رکھتے ہیں اور ان کے راستے پر ثابت قدم رہنے والوں سے عناد، جو انھیں مٹانے کا عزم رکھنے والوں کے دست و بازو بننے میں فخر محسوس کرتے ہیں، جو ان کے پیچھے رہ جانے والے بھائیوں پر ظلم ڈھا کر اتراتے ہیں۔

جی ہاں! کوئی شک وشبہ نہیں ان کی تیرہ بختی میں، کیونکہ شہید جس طرح اپنے زندہ ہم مشن ہم قدم بھائیوں کے سفارشی بن کر اللہ کے دربار میں جاتے ہیں اور ان کے لیے جہاد کے کام میں ثابت قدمی اور اچھے انجام کی خوشخبری لیتے ہیں، اسی طرح وہ مجاہدین کو ستانے والوں اور ان پر پابندیاں لگانے والوں کی شکایت بھی کرتے ہوں گے۔ وہ اللہ کے بہت پیارے اور مقرب ہیں، جو انھیں اپنی زبان سے تکلیف دے گا، ان کے والدین، بہن بھائیوں اور ہم قدم پیارے دوستوں کو ستانے کا وہ اپنے انجام بد سے ڈرے۔

حکومت شہیدوں کو عزت دینے کی نیکی سے تو محروم ہے ہی ان پر زبان چلا کر اور ان کی قربانیوں کو مشکوک بنا کر اپنی بداعمالیوں میں اضافہ نہ کرے، اور نہ ہی ان کے اہل خانہ کو ستا کر ان کی بدعا کی حقدار بنے، حکومت کو تازہ تکلیف یہ ہے کہ مجاہدین کیوں شہید کے جنازے پر اتنی بڑی تعداد میں آئے؟ انھوں نے اس کی دعوت کیوں چلائی ؟ اپنے مجلات میں اسے خراج عقیدت کیوں پیش کیا؟ بینر اور پوسٹر کیوں لگائے؟ حالانکہ عامر چیمہ شہید کا کسی جماعت سے تعلق نہیں تھا، تو جناب! عرض یہ ہے کہ دنیا بھر میں جہاد کرنے والے اور اسلام کی سربلندی کے لیے اپنی جان لٹانے والے لوگ سب ایک ہی جماعت ہیں، سب آپس میں بھائی ہیں ان کے جسم دور دور لیکن قلب متحد ہیں اور ایک ساتھ دھڑکتے ہیں، وہ سب ایک نظریے کے علمبردار اور ایک مقصود کے طلبگار ہیں۔ یہ سب ایک ہی شمع کے پروانے ہیں، ایک ہی چراغ سے روشنی لیتے ہیں، ان کا راستہ، ان کی منزل سب ایک ہے، ایک ہی دعوت ہے جس پر ان سب نے لبیک کہا ہے، اس لیے دنیا میں جہاں بھی کوئی مسلمان کفر پر ایسی چوٹ لگائے گا ہم اسے سلام پیش کرنا اپنا فرض سمجھیں گے اور اسے نبھائیں گے۔ الحمدللہ القلم کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ عامر چیمہ شہید کے کارنامے پر ان کی زندگی میں سب سے پہلے بذریعہ مضمون انھیں خراج تحسین اسی اخبار کے صفحات پر پیش کیا گیا اور ان کی شہادت کے بعد بھی یہ

صفحہ ٢٤٢

سعادت سب سے پہلے اسے ہی نصیب ہوئی اور ایک پورا خصوصی شمارہ عامر شہید کے لیے نکالا گیا اور بین الاقوامی میڈیا نے اس کی اشاعت دی۔

مبارکباد ہو القلم کے لیے، مبارک باد ہو شہید کے لیے لکھوانے کے لیے، مبارک باد ہو اُن لوگوں کے لیے جنھوں نے اس سخت دور میں بھی دعوتِ جہاد کا علم بلند کر رکھا ہے، یقیناً یہ انہی کی محنت، سچی لگن اور اخلاص کا ثمرہ ہے کہ مٹانے کی تمام کوششوں کے علی الرغم جہاد کا کام بڑھتا ہی جا رہا ہے اور کالجوں، یونیورسٹیوں اور دنیا پرستی کے ماحول سے بھی فدائی نکل رہے ہیں۔

بے شک شہیدوں کے اصل وارث اور ان کی شفاعت وسفارش کے پورے حق دار یہی لوگ ہیں جو ان کے خون کی خوشبو ایک ایک کونے تک پہنچا رہے ہیں اور ان کے پیچھے آنے والوں کے لیے ان کا راستہ روشن کر رہے ہیں۔

۞ ۞ ۞

صفحہ ٢٤٣

خالد بن ولید

عاشق کا جنازہ

”سیاہ دل گوروں“ کے ہاتھوں جام شہادت نوش کرنے والے ملت اسلامیہ کے مایہ ناز سپوت عامر چیمہ شہید کا جسد خاکی ”روشن ضمیر کالوں“ تک پہنچا تو لاکھوں افراد کا بحر بے کراں اپنے ہیرو کے استقبال اور اس کو الوداع کہنے کے لیے موجود تھا۔

12 مئی کی شام خبر ملی کہ سرکاری فرشتوں نے راولپنڈی میں رہائش پذیر عامر کے والد محترم نذیر چیمہ سے ملاقات کی ہے اور بند کمرے میں ایک گھنٹہ تک تفصیلی مذاکرات ہوئے ہیں۔ ایک غمزدہ، دکھی، بے بس اور مجبور باپ کے ساتھ بوٹوں والی سرکار کے زور آور نمائندوں کے ان مذاکرات میں کیا طے پایا، یہ تو آنے والے دنوں میں پروفیسر نذیر چیمہ ہی کچھ بتا سکیں گے، بشرطیکہ انھوں نے دکھ اور درد کی یہ ساری کہانی اپنے پاکیزہ فطرت لخت جگر کے جسد خاکی کے ساتھ ہی زمین کی تہہ میں دفن نہ کر ڈالی ہو۔ تاہم اتنی بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ مذاکرات کا مقصد محض یہ تھا کہ حکومت راولپنڈی یا اسلام آباد میں جنازے کے متوقع اجتماع سے سخت گھبرائی ہوئی تھی اور اہل اقتدار کی بھرپور کوشش تھی کہ عامر چیمہ کا تاریخی جنازہ عوام الناس کی نظروں سے جس قدر دور اور ایوان اقتدار سے جس قدر فاصلے پر ہو، اتنا ہی ان کے لیے کم خطرات کا باعث بنے گا۔ سرکاری نمائندوں نے اس بوڑھے باپ کے ساتھ مذاکرات کے دوران اپنے مطالبات منوانے کے لیے کیسی کیسی زور آزمائیاں کیں، ان کا اندازہ اسی سے کیا جا سکتا ہے کہ پروفیسر صاحب مذاکرات کے بعد مسجد میں جا بیٹھے اور کئی گھنٹے تک وہیں معتکف رہے۔ وہ واضح طور پر اس قدر دلبرداشتہ تھے کہ نہ کسی سے بات کی اور نہ ہی کسی کے سوال کا جواب دیا۔ اسی رات شہید کی ہمشیرہ نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ حکومت نے ہم سے کہا ہے کہ جنازہ آبائی گاؤں ساروکی چیمہ میں پڑھایا جائے اور ہم اس کے لیے

صفحہ ٢٤٤

تیار ہیں، کیونکہ اس وقت ہماری سب سے بڑی ترجیح یہ ہے کہ کسی نہ کسی طرح شہید بھائی کی میت ہم تک پہنچ جائے اور ہم بھائی کا آخری دیدار کرلیں۔ اب اگر حکومت ہماری اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے شرائط عائد کررہی ہے تو ہم یہ سب باتیں ماننے پر مجبور ہیں۔ اہل خانہ کی اسی تڑپ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان سے یہ شرط بھی منوائی گئی کہ عامر کی میت پاکستان آنے کے بعد اسے جلد سے جلد دفن کیا جائے گا اور کسی بھی طور پر اس کے پوسٹ مارٹم کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ ایسا کرنے سے لازمی طور پر عامر کی شہادت کی حقیقی وجوہات سامنے آجاتیں اور جرمن حکومت کا یہ دعویٰ اپنی موت آپ مر جاتا کہ عامر نے جرمن پولیس کی زیر حراست خودکشی کی ہے۔

صورت حال بتا رہی تھی کہ سرکاری بھر پور کوشش ہوگی کہ ساروکی میں بھی جنازہ جلد سے جلد ہو اور کم سے کم لوگ اس میں شرکت کر پائیں۔ ایسے میں ضروری تھا کہ حتی المقدور وقت سے پہلے جنازہ کے لیے پہنچا جائے۔ چنانچہ 4 بجے جنازہ پڑھائے جانے کی عمومی اطلاع کو نظر انداز کرتے ہوئے جب میں صبح نو بجے ساروکی چیمہ پہنچا تو پورے علاقے میں ہر طرف ہجوم عاشقان دکھائی دے رہا تھا۔ میں جب عامر کے آبائی گاؤں میں داخل ہوا تو ہزاروں افراد وہاں موجود تھے، جبکہ سینکڑوں گاڑیاں اور پیدل افراد کی ایک طویل قطار رینگتے رینگتے گاؤں میں داخل ہورہی تھی۔ جنازے کے لیے امڈ آنے والی اس خلق خدا کا جوش و خروش قابل دید بھی تھا اور قابل داد بھی۔ جہاں شہید کی قبر کھودی جا رہی تھی، صرف اسی احاطے میں ہزاروں افراد کا بے قرار مجمع ان لوگوں کے دلوں میں مچلتے جذبات کا بھر پور اظہار کر رہا تھا۔ سینکڑوں آدمی ایک قطار میں کھڑے انتظار کر رہے تھے کہ ان کی باری آئے اور وہ عامر شہید کی آخری آرام گاہ تیار کرنے کے لیے دو کدالیں چلانے کی سعادت حاصل کر سکیں۔

قبرستان سے ذرا فاصلے پر تیار کی گئی جنازگاہ میں ایک بہت بڑا سٹیج تیار کر دیا گیا تھا، سٹیج کے سامنے وسیع و عریض احاطے میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی مختلف تنظیموں کے ایک ساتھ لہراتے ہوئے پرچم اور تہنیتی پیغامات پر مشتمل بینرز اس اتحاد و اشتراک کی غمازی کر رہے تھے، جو شہید ناموس رسالت کے مقدس لہو کی برکت سے قائم ہو چکا ہے۔...... اور کچھ بعید نہیں کہ یہی وہ صورت حال ہے جس نے دشمنان اسلام کو حیران و ترساں کر رکھا ہے۔ بالیقین وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوں گے کہ مسلمانوں کے ایسے اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ ان کے لیے کسی بھی طرح کے خطرناک حالات کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔

صفحہ ٢٤٥

جنازہ گاہ سے کچھ فاصلے پر ہی عامر شہید کے چچا کا گھر واقع ہے۔ میں یہاں پہنچا تو مختلف مسالک کے علماء کرام اور مشائخ عظام تشریف فرما تھے اور گرمی کی شدت کو بھلا کر بھر پور والہانہ انداز میں میت کی راہ میں دیدہ و دل فرش راہ کیے بیٹھے تھے۔

گذشتہ شام کے اعلان کے مطابق لاہور ائیر پورٹ پر وزیر اعلیٰ پنجاب جناب پرویز الٰہی نے آج صبح میت وصول کر کے اس کے ہمراہ اپنے ہیلی کاپٹر میں گوجرانوالہ آنا تھا، تاہم موصوف اپنے دیگر ضروری کاموں کی وجہ سے اس ”غیر ضروری“ کام کے لیے وقت نہیں نکال سکے۔ چنانچہ کچھ دیگر سرکاری عہدیداروں کے ہمراہ میت گوجرانوالہ پہنچی۔ جہاں سے اسے ایک ایمبولینس میں رکھ کر ساروکی چیمہ روانہ کر دیا گیا...... اور اس کے ساتھ ساتھ پولیس کی چار موبائل گاڑیاں اور ایک چمکتی دمکتی کار روانہ ہوئی۔ اس کار میں علاقہ کے ناظم جناب فیاض بھٹہ بالکل یوں تشریف فرما تھے جیسے وہ کسی قریبی عزیز کی شادی میں شرکت کے لیے تشریف لے جا رہے ہوں۔ دیکھنے والوں کے لیے یہ فیصلہ کرنا بھی بہت مشکل ہو پا رہا تھا کہ پولیس کی یہ چار گاڑیاں شہید کے اعزاز میں ساتھ ساتھ چل رہی ہیں یا ناظم علاقہ کے پروٹوکول میں......؟

گاؤں میں داخل ہوتے ہی لاکھوں افراد ایمبولینس کی طرف لپکے، یہاں شہید کے دیدار کا تو سوال ہی نہ پیدا ہوتا تھا تاہم لوگوں کی کوشش تھی کہ وہ کسی نہ کسی طرح اس ایمبولینس کو چھو لیں، جس میں کائنات کی مقدس ترین ہستی ﷺ کا سچا عاشق اپنا سفر آخرت طے کر رہا ہے، لیکن ہجوم اب تک اس قدر بڑھ چکا تھا کہ بہت کم لوگوں کو ہی یہ سعادت حاصل ہوسکی۔ تقریباً پون گھنٹے تک اسی ہجوم میں رینگنے کے بعد ایمبولینس گھر تک پہنچی، جہاں بوڑھی ماں اور جوان بہنیں اپنے اکلوتے بیٹے اور اکلوتے بھائی کو ایک نظر دیکھنے کے لیے تڑپ رہی تھیں۔ آدھ گھنٹے کے لیے تابوت گھر میں رکھا گیا اور اہل خانہ نے شہید کی سرسری زیارت کی۔ اس دوران ہزاروں لوگوں کا مجمع باہر کھڑا زیارت کے لیے مچل رہا تھا، مگر یہ سب کچھ پروگرام میں شامل ہی نہ تھا۔ گھر والوں سے رخصت ہونے کے بعد میت کو جنازہ گاہ میں لایا گیا تو لاکھوں افراد اپنے عظیم بھائی کا جنازہ پڑھنے کے لیے موجود تھے۔ اس موقع پر مجھے ایک فقہی مسئلہ یاد آگیا۔

امام ابو حنیفہؒ کا مسلک ہے کہ شہید کا جنازہ پڑھنا چاہیے اور باقی ائمہ فرماتے ہیں کہ شہید چونکہ بخشا بخشایا ہوتا ہے، لہٰذا اس کی نماز جنازہ پڑھنے کی ضرورت نہیں۔ امام ابو حنیفہ سے کسی نے ان کے موقف کی وجہ پوچھی تو فرمایا کہ ہر آدمی کا جنازہ واقعی اس لیے پڑھایا جاتا

صفحہ ٢٤٦

ہے کہ مرنے والے کی بخشش کا سامان ہو جائے لیکن شہید کا جنازہ ہم اس لیے پڑھتے ہیں کہ ہماری بخشش و مغفرت کا باعث بن جائے۔ واقعی آج جمع ہونے والا لاکھوں مسلمانوں کا یہ اجتماع اس لیے حصول برکت کی خاطر یہاں نظر آ رہا تھا۔

جنازہ گاہ میں شائقین وعشاق کی بے تابی کا اندازہ اسی سے کیا جا سکتا ہے کہ پورے ایک گھنٹے تک منتظمین کی کوششوں کے باوجود لوگ سنبھل نہیں پائے اور بالآخر جنازہ اس عالم میں پڑھایا گیا کہ لوگوں سے کہا گیا کہ وہ جہاں جہاں کھڑے ہیں اپنا رخ قبلے کی طرف کر لیں۔ ایسے میں بھی بہت سے لوگوں کو رش کی وجہ سے قبلے کی سمت ہی نہیں معلوم ہو سکی۔ بہر حال بہ وقت تمام نماز جنازہ ادا کی گئی، اس حال میں کہ سورج سوا نیزے پر کھڑا تھا اور گرمی کے مارے لوگ بے حال ہوئے جا رہے تھے۔ شدید حبس اور ناقابل برداشت بھگدڑ کی وجہ سے پچاس سے زائد افراد بے ہوش ہو گئے۔ خود میں بھی نماز جنازہ پڑھنے کے تقریباً پندرہ منٹ بعد بے ہوش ہوا اور دو گھنٹے تک بے سدھ پڑا رہا۔ قریبی دوستوں کی مسلسل جدوجہد کے بعد ہوش میں آیا تو ہنوز لوگوں کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ جنازہ میں شرکت کی سعادت حاصل کرنے والوں کی واپس جانے والی قطار جتنی طویل تھی، اتنی ہی طویل قطار آنے والوں کی تھی۔ یہ وہ لوگ تھے جو چار بجے کے اعلان شدہ وقت کے مطابق جنازہ میں شرکت کے لیے آ رہے تھے، جبکہ نماز جنازہ وقت سے تین گھنٹہ پہلے ہی ادا کی جا چکی تھی۔ ایسے میں ان متأخرین کے درد و کرب اور افسوس و اندوہ کا کیا عالم ہوگا؟ یہ انھیں سے پوچھا جا سکتا ہے۔

جنازہ گاہ سے شہید کے جسد خاکی کو قبرستان لایا گیا اور وہاں ہزار ہا مسلمانوں کی موجودگی میں جرأت و ہمت کے پیکر، عظمت و شرافت کے مینار، ملت اسلامیہ کے قابل فخر سپوت کو سپرد خاک کر دیا گیا۔ ایسی عظیم ہستی کے نظروں سے اوجھل ہونے پر جب آفتاب و آسمان نے مل کر محرومی کے آنسو بہائے تو اس وقت سہ پہر کے تین بج رہے تھے۔

دو لاکھ سے زائد افراد اپنے محبوب کو الوداع کہہ کر گھروں کو لوٹ گئے، مگر ایک عاشق کے جنازے میں شرکت کی سعادت تادم آخر ان کے قلب و روح کو پاکیزہ اور ان کے مشام جاں کو معطر رکھے گی ...... بشرطیکہ انھوں نے اس ناقابل فراموش داستان عشق کو فراموش نہ کر دیا......!!

صفحہ ٢٤٧

ہے کہ مرنے والے کی بخشش کا سامان ہو جائے لیکن شہید کا جنازہ ہم اس لیے پڑھتے ہیں کہ ہماری بخشش و مغفرت کا باعث بن جائے۔ واقعی آج جمع ہونے والے لاکھوں مسلمانوں کا یہ اجتماع اسی لیے حصول برکت کی خاطر یہاں نظر آ رہا تھا۔

جنازہ گاہ میں شائقین و عشاق کی بے تابی کا اندازہ اسی سے کیا جا سکتا ہے کہ پورے ایک گھنٹے تک منتظمین کی کوششوں کے باوجود لوگ سنبھل نہیں پائے اور بالآخر جنازہ اس عالم میں پڑھایا گیا کہ لوگوں سے کہا گیا کہ وہ جہاں جہاں کھڑے ہیں اپنا رخ قبلے کی طرف کر لیں۔ ایسے میں بھی بہت سے لوگوں کو رش کی وجہ سے قبلے کی سمت ہی نہیں معلوم ہو سکی۔ بہر حال بہ وقت تمام نماز جنازہ ادا کی گئی، اس حال میں کہ سورج سوا نیزے پر کھڑا تھا اور گرمی کے مارے لوگ بے حال ہوئے جا رہے تھے۔ شدید حبس اور ناقابلِ برداشت گھٹن کی وجہ سے پچاس سے زائد افراد بے ہوش ہو گئے۔ خود میں بھی نماز جنازہ پڑھنے کے تقریباً پندرہ منٹ بعد بے ہوش ہوا اور دو گھنٹے تک بے سدھ پڑا رہا۔ قریبی دوستوں کی مسلسل جدوجہد کے بعد ہوش میں آیا تو ہنوز لوگوں کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ جنازہ میں شرکت کی سعادت حاصل کرنے والوں کی دائیں جانے والی قطار جتنی طویل تھی، اتنی ہی طویل قطار آنے والوں کی تھی۔ یہ وہ لوگ تھے جو چار بجے کے اعلان شدہ وقت کے مطابق جنازہ میں شرکت کے لیے آ رہے تھے، جبکہ نماز جنازہ وقت سے تین گھنٹہ پہلے ہی ادا کی جا چکی تھی۔ ایسے میں ان متاخرین کے درد و کرب اور افسوس و اندوہ کا کیا عالم ہوگا؟ یہ انہیں سے پوچھا جا سکتا ہے۔

جنازہ گاہ سے شہید کے جسدِ خاکی کو قبرستان لایا گیا اور وہاں ہزار ہا مسلمانوں کی موجودگی میں جرات و ہمت کے پیکر، عظمت و شرافت کے مینار، ملتِ اسلامیہ کے قابل فخر سپوت کو سپرد خاک کر دیا گیا۔ ایسی عظیم ہستی کے نظروں سے اوجھل ہونے پر جب آفتاب و آسمان نے مل کر محرومی کے آنسو بہائے تو اس وقت سہ پہر کے تین بج رہے تھے۔

دو لاکھ سے زائد افراد اپنے محبوب کو الوداع کہہ کر گھروں کو لوٹ گئے، مگر ایک عاشق کے جنازے میں شرکت کی سعادت تادمِ آخر ان کے قلب و روح کو پاکیزہ اور ان کے مشام جاں کو معطر رکھے گی..... بشرطیکہ انھوں نے اس ناقابلِ فراموش داستانِ عشق کو فراموش نہ کر دیا.....!!

ایم اے ثالث ذوالفقاری

حیات جاوداں کا راہی

ذہن میں ہزاروں الفاظ مچل رہے ہیں لیکن یوں لگ رہا ہے کہ قلم کی زبان کو لگام ڈال دی گئی ہے اور دماغ کی عجیب سی کیفیت ہے۔ کئی الفاظ نوکِ قلم پر آنے کے لیے تڑپ رہے ہیں تا کہ وہ بھی تاریخ کا حصہ بننے کا شرف حاصل کر سکیں مگر دماغ تذبذب میں مبتلا ہے کہ کون سے الفاظ کو زیب قرطاس کیا جائے۔ الفاظ ہزاروں ہونے کے باوجود کم پڑتے دکھائی دے رہے ہیں۔

وہ ہلال کی مانند تھا جو نومبر 1977ء کو طلوع ہوا اور 4 مئی 2006ء کو ہمیشہ کے لیے بدر کامل بن گیا۔ دنیا میں کم و بیش باون اسلامی ممالک تھے لیکن یہ خوش بختی سرزمین پاک کے ماتھے کی زینت بنی۔ گویا سرزمین پاک کو اللہ تعالیٰ کے ہاں پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے اور یہ اس بات کی طرف ایک غیبی اشارہ ہے کہ جو اس پاک دھرتی کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے گا وہ اسی طرح نشانِ عبرت بنا دیا جائے گا۔

تاریخ میں جب کبھی غازی علم الدین شہیدؒ کا تذکرہ آئے گا تو عامر چیمہ شہیدؒ کے بغیر یہ تذکرہ نامکمل اور ادھورا رہے گا۔ یہ آج سے کم و بیش 77 برس پہلے کی بات ہے جب ایک ہندو بنیے نے پیارے آقا ﷺ کی شان اقدس کو پامال کرتے ہوئے آپ ﷺ کے خلاف ایک کتاب لکھی تو لاہور میں موچی دروازے کے قریب پیر طریقت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی تقریر سن کر ایک چرواہے کے دل میں جو ایک سادہ طبیعت شخص تھا اور شبانی کیا کرتا تھا، ایک سلگتی چنگاری نے جنم لیا۔ یہ چنگاری آہستہ آہستہ سلگتی رہی، سلگتی رہی بالآخر یہ چنگاری آتش نمرود کی حدوں کو چھونے لگی تو ایک دن اس مردِ قلندر نے دل میں یہ تہیہ کر لیا کہ ہو نہ ہو

صفحہ ٢٤٨

میں اس ملعون بنیے سے اپنے آقا ﷺ کی گستاخی کا بدلہ ضرور لوں گا۔ پھر ایک دن وہ بھی آیا کہ وہ ہندو بنیے کی دکان پر پہنچا، بنیے کو سامنے تخت پر بیٹھا دیکھ کر اس کے جذبات بھڑک اٹھے، اس نے چھری نکالی غازی شہیدؒ کو بڑھتا دیکھ کر بنیا سمجھ گیا کہ اس نوجوان کے کیا ارادے ہیں۔ تھوڑی دیر کی ہاتھا پائی کے بعد نوجوان نے بنیے پر قابو پا لیا اور پے در پے چھریوں کے وار کر کے اپنے دل کی آگ بجھائی۔

جس کے صلے میں وہ قیامت تک کے لیے امر ہو گیا۔ اسی طرح عامر چیمہ شہیدؒ کو وہ منزل مل گئی جس کے متلاشی صدیوں مارے مارے پھرتے ہیں۔ جس کی جستجو میں عالموں کی عمریں بیت جاتی ہیں جس کو پانے کے لیے زاہد راتوں کے پچھلے پہر میں اٹھ اٹھ کر اپنے رب کے سامنے گڑگڑا کر مانگتے ہیں اور ساری ساری رات مصلے پر کھڑے ہو کر جن کے پاؤں جواب دے جاتے وہ اس وقت بیدار ہوتے ہیں جب زمانہ سو رہا ہوتا ہے اور مرغان سحر اپنے گھونسلوں میں آنکھیں بند کیے بیٹھے ہوتے ہیں۔

اور یہ بھی نہیں کہ ساری ساری عمریں گزارنے اور ساری ساری رات جاگ کر گزارنے سے ان کو ان کی منزل مل جاتی ہے۔ ان کا معمولی سے معمولی عمل بھی ان کی ساری عمر کی محنت اور شب بیداری پر منٹوں میں پانی پھیر سکتا ہے۔ یہ تمام فاصلہ بھائی عامر چیمہ شہیدؒ نے ایک جست لگا کر پار کر لیا۔ بقول شاعر:

بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محوِ تماشا لبِ بام ابھی

سو سو سال کے عالموں اور بزرگوں کو جن کو اپنے علم، اپنی ذہانت اور اپنی بزرگی پر بڑا ناز تھا آج عامر بھائی شہیدؒ کے اس بلند مرتبہ کو دیکھ کر آج ان کی ٹوپی زمین پر گر گئی ہے۔ عامر چیمہ شہیدؒ کی شہادت سے پاکستانی سفارت خانے کی ناکام سفارتی پالیسی بھی سامنے آ گئی ہے۔ بقول پروفیسر محمد نذیر چیمہ والد محترم عامر چیمہ شہیدؒ کے کہ ”اگر پاکستان میں کسی گورے کے کتے کو کانٹا بھی چبھ جاتا تو کمیشن بیٹھ جاتے اور معافیاں شروع ہو جاتیں اور آئندہ ایسا نہ ہونے کی یقین دہانیاں کرائی جاتیں۔“ کیا پاکستانیوں کا لہو گوروں کے کتوں سے زیادہ ارزاں ہو گیا ہے؟ کیا حکومت سے

صفحہ ٢٤٩

اس بہتے خون کے بارے میں پوچھ اور پکڑ نہ ہوگی؟ ایک مضبوط ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود ہم نے گھٹنے ٹیک دیے ہیں اور امریکہ اور یورپ کے اشارے پر دُم ہلا رہے ہیں۔ ہم میں اتنی جرأت نہیں کہ ایک ایٹمی ملک ہوتے ہوئے ان کے سامنے سر اٹھا کر بات کر سکیں لیکن کریں بھی تو کیسے کریں، ہمارا حقہ پانی بند ہو جائے گا اور ہمیں قرض کون دے گا؟ وغیرہ۔

بہر حال بات کہاں سے چلی اور کہاں تک پہنچی۔ بھائی عامر شہیدؒ میں تیری جرأت، تیری دلیری، بہادری اور تیری غیرت کو سلام پیش کرتا ہوں کہ تو نے پوری امت مسلمہ کی خصوصاً پاکستان کی لاج رکھ لی اور گوروں پر واضح کر دیا ہے کہ اگر پھر کوئی ایسی مذموم حرکت کی گئی تو شمع محمدیہ ﷺ کے پروانے کچھ بھی کر گزرنا جانتے ہیں۔

صفحہ ٢٥٠

سعدی

ہمارا شاندار زمانہ

اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ...... عامر عبدالرحمن چیمہ شہیدؒ کے جنازے میں لاکھوں مسلمانوں نے شرکت کی ...... اس بابرکت جنازے میں شریک ہر مسلمان ہماری ”مبارکباد“ قبول فرمائے ...... گرمی کا موسم تھا، جنازہ بھی ایک غیر معروف گاؤں میں تھا ...... لوگوں کو وہاں تک پہنچانے اور لے جانے کا کوئی باقاعدہ انتظام بھی نہیں تھا ...... نماز جنازہ کا حتمی وقت بھی کسی کو معلوم نہیں تھا ...... مگر پھر بھی لاکھوں مسلمان وہاں پروانوں کی طرح جمع تھے ...... یہ سب کچھ اس قابل ہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے کہ ...... اُمتِ مسلمہ میں الحمدللہ ...... ایمان بھی موجود ہے اور جذبہ بھی ...... کیا بوڑھے کیا جوان، بسوں پر لٹکتے اور پیدل گھسٹتے عاشق کی بارات کا حصہ بننے کے لیے بے چین تھے ...... کتنے لوگ روزانہ معلوم کرتے تھے کہ عاشق کب آئے گا؟ ...... عاشق کب پہنچے گا؟ ...... وہ ایک ایک سے پوچھتے تھے عاشق کہاں اُترے گا؟ ...... غیرت مند غریب مسلمان جیب میں کرایہ لیے ایک ایک گھڑی گن کر گزار رہے تھے ...... پہلے اعلان ہوا کہ عاشق پنڈی، اسلام آباد آئے گا ...... مگر ایسا نہ ہو سکا ...... لوگ سارا دن دیوانوں کی طرح اس کے گھر اور جنازہ گاہ کے چکر کاٹتے رہے ...... پھر تاریخ ملتوی ہوتی گئی تاکہ ...... عشق کی آگ ٹھنڈی پڑ جائے ...... اور دھرتی کے فخر کو چپکے سے مٹی میں دبا دیا جائے ...... مگر عاشق کا جنازہ ایسی دھوم سے نکلا کہ بادشاہوں کے جلوس اس کے سامنے شرمندہ ہو گئے ...... امام احمد بن حنبلؒ فرمایا کرتے تھے کہ ہمارا ...... اور ہمارے دشمنوں کا فیصلہ ”جنازے“ کریں گے ...... مسلمانی کا دعویٰ کرنے والے حکمرانوں نے امام احمد بن حنبلؒ کو قید کیا تھا ...... اور ان کی پیٹھ پر کوڑے برسائے تھے ...... امام صاحبؒ کا جب انتقال ہوا تو لاکھوں مسلمانوں نے نماز جنازہ میں شرکت کی ...... وقت کے حکمران ”متوکل باللہ“ نے اپنے

صفحہ ٢٥١

کارندے بھیجے کہ جنازہ گاہ کی پیمائش کر کے اندازہ لگاؤ کہ ...... کتنے لوگوں نے نماز جنازہ ادا کی ہے ...... پیمائش سے اندازہ ہوا کہ کل پچیس لاکھ افراد نے نماز جنازہ ادا کی تھی ...... ورکانی جو امام احمد بن حنبل کے پڑوسی تھے، فرماتے ہیں کہ جس دن امام احمد بن حنبل فوت ہوئے ہیں ...... اس دن بیس ہزار یہودی، نصرانی و مجوسی آپ کے جنازہ کی حالت دیکھ کر مسلمان ہوئے ...... میں عامر شہید کے جنازے پر اس لیے بار بار شکر ادا کر رہا ہوں کہ ...... معلوم نہیں عشقِ مصطفیٰ ﷺ کا یہ عظیم مظاہرہ دیکھ کر کتنے لوگ مسلمان ہوئے ہوں گے ...... کہاں جرمنی کی وہ تاریک جیل اور اس کی قاتل کوٹھڑی ...... کہاں ایک اجنبی، گمنام مسافر ...... اور کہاں مسلمانوں کا یہ ٹھاٹھیں مارتا سمندر ...... ہر شخص عامر کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بے تاب تھا ...... ہاں جس کی محبت کے فیصلے آسمانوں پر ہو چکے ہوں ...... زمین پر اسے ایسی ہی محبت اور مقبولیت ملتی ہے ...... میں نے بار بار معلوم کیا ...... اور جنازے میں شرکت کرنے والوں سے پوچھا ...... کسی نے دولھے کی جھلک بھی دیکھی؟ ...... معلوم ہوا کہ کچھ لوگوں نے قبر میں اتارتے وقت عاشق کو دیکھ لیا ...... اور پھر اس کے چہرے کا نور دیکھ کر بے ہوش ہو کر گر پڑے ...... سبحان اللہ! کیا اعزاز ہے اور کیا اکرام ...... کئی دن پرانی میت چاند کی طرح چمک رہی تھی ...... اور گلاب سے بڑھ کر مہک رہی تھی ...... اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے ہمارے زمانے کو ...... شہداء کے خون اور سچے لوگوں کی سچائی سے مہکا دیا ہے ...... ہم خواہ مخواہ حالات کی خرابی کا شکوہ کر کے ہر وقت ناشکری کرتے رہتے ہیں ...... میں اس زمانے کے کس کس ”صدیق“ کو یاد کروں ...... کس کس ستارے کی بلندی کا ذکر چھیڑوں ...... اور کس کس پھول کی خوشبو کا حال سناؤں؟ ...... اس زمانے کے عاشقوں نے تو قرون اولیٰ کی یادیں تازہ کر دی ہیں ...... مجھے بنگلہ دیش کا ابو عبیدہ یاد آ رہا ہے ...... عالم، مفتی اور مجاہد ...... تہجد کے وقت قرآن پاک تلاوت کرنے والا ...... وہ افغانستان میں شہید ہو گیا ...... میں اس کی یادیں سمیٹنے افغانستان گیا ...... افغان جہاد کا ”روسی توڑ“ زمانہ آخری مرحلے میں تھا ...... افغان مجاہدین نے انگریزوں کا بت توڑا، کمیونسٹوں کی درانتی توڑی اور اب وہ ”صلیب“ کے مد مقابل ہیں ...... خیر اس زمانے کا جہاد ”کمیونسٹوں“ کے خلاف تھا ”ابو عبیدہ“ ایک جنگ میں شہید ہو گیا ...... میں نے وہاں جا کر حالات معلوم کیے تو دل ٹھنڈا ہو گیا ...... کوئی اس کے خون کی خوشبو کو یاد کر رہا تھا ...... تو کوئی اس کے چہرے کی روشنی کے تذکرے کر رہا تھا ...... ایک افغان مجاہد نے بتایا ...... ہم

صفحہ ٢٥٢

نے ابو عبیدہ کو قبر میں لٹا دیا...... اندھیری رات میں اس کا چہرہ چاند کی طرح روشن تھا...... میں مبارکباد کا پیغام لے کر بنگلہ دیش جا پہنچا...... ایک کچے گھر کے غریب مالک کو اس کے سب سے بڑے بیٹے کی شہادت کی خبر ملی تو اٹھ کر دوڑ پڑا...... معلوم ہوا کہ مسجد میں شکرانے کے نوافل ادا کرنے گیا ہے...... ایک چھوٹی سی بچی خوشی خوشی بتاتی پھر رہی تھی کہ میرا بھائی شہید ہو گیا ہے...... وہ پورا خاندان میری اس طرح سے خدمت کر رہا تھا جیسے میں ان کے بیٹے کے لیے کار، کوٹھی، بنگلہ اور بیوی کی خبر لایا ہوں...... کھانے میں کچھ چیزیں بہت اصرار سے کھلائی گئیں...... بتایا گیا کہ شہید کی ماں نے خود پکائی ہیں...... میں عجیب وغریب جذبات لے کر واپس ہوا...... گاؤں میں سائیکل رکشہ کے سوا کوئی سواری نہیں تھی...... میں رکشہ پر بیٹھا سوچوں میں گم اڈے کی طرف جا رہا تھا...... خیال ہوا کہ عاشق کے گھر کا آخری دیدار کرلوں...... پیچھے مڑ کر دیکھا تو شہید کے والد آنکھوں میں آنسو لیے ننگے پاؤں رکشے کے پیچھے دوڑتے آ رہے ہیں...... میں نے رکشہ رکوا لیا اتر کر پوچھا کیا حکم ہے؟...... فرمایا بس محبت اور ثواب میں دوڑ رہا ہوں، آپ سفر جاری رکھیں...... میں نے منت سماجت کر کے ان کو واپس کیا...... اور اپنے زمانے کی ترقی دیکھ کر حیران رہ گیا...... ہاں یہ بہت خوش نصیب زمانہ ہے...... اس میں جہاد اور شہادت کی فراوانی ہے...... اس میں خوشبودار جنازے اور روشن قبریں ہیں...... مجھے ایک افغان مجاہد نے بتایا کہ اس نے خود...... ابو عبیدہ کی قبر سے کئی بار قرآن پاک کی تلاوت کی آواز سنی ہے...... میرا دوست اختر جب شہید ہو گیا تو کراچی میں ایک ساتھی نے مجھے وہ رومال دکھایا جس پر اختر کا خون لگا تھا...... میں نے خود اس میں سے عجیب خوشبو سونگھی حالانکہ ایک ہفتہ گزر چکا تھا...... پشاور والوں کو عبداللہ عزام شہید اور ان کے دو جوان بیٹوں کا جنازہ یاد ہوگا...... اکثر عرب مجاہدین...... کرامات نہیں مانتے تھے مگر...... شہیدوں کے جنازے نے ان کو سب کچھ ماننے پر مجبور کر دیا۔ عبداللہ عزام شہید کے خون سے خوشبو لپک رہی تھی...... تینوں جنازوں پر چادریں تھیں...... مجاہدین بتاتے ہیں کہ ہر جنازے سے الگ خوشبو آ رہی تھی...... اور ہم پہچان رہے تھے کہ...... کون سی چارپائی کس شہید کی ہے...... کمانڈر سجاد شہید کا آخری دیدار میں نے جموں کے ایک ہسپتال میں کیا۔ وہ سرد خانے میں رکھے ہوئے تھے...... چہرے پر گہری مسکراہٹ تھی...... تین دن گزر چکے تھے جسم ریشم کی طرح نرم تھا...... میں نے اپنے یار کو سلام پیش کرنے کے لیے اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھا تو پیشانی ابھی تک گرم تھی...... میرے

صفحہ ٢٥٣

ہاتھوں میں ڈبل ہتھکڑی تھی...... اور میرا دوست بالکل آزاد تھا...... بالکل آزاد...... اسی لیے تو مسکرا رہا تھا...... اس سے دو دن پہلے وہ خواب میں آیا تھا...... میں نیم غنودگی کی حالت میں تھا...... مجھے کہنے لگا ”مجھے معاف کر دو! میں نے اوپر جانا ہے“...... میں چونک کر اٹھ گیا...... اُس وقت تک ہمارے پاس اس کے صرف زخمی ہونے کی خبر تھی...... کچھ دیر بعد شہادت کی خبر آ گئی...... مجھے ہسپتال لے جانے والا پولیس کا ڈی ایس پی...... عاشق کا چہرہ دیکھ کر حیران تھا...... اور ایک ایک کو بتا رہا تھا...... پوسٹ مارٹم کرنے والے بھی عجیب کرامات سنا رہے تھے...... اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں اس زمانے کے صدیقین اور شہداء کا یار بنایا...... ہم ان سے پیار کرتے تھے اور وہ ہم سے پیار کرتے تھے...... حدیث پاک میں آتا ہے...... المرء مع من احب...... آدمی قیامت کے دن انھیں کے ساتھ ہوگا...... جن سے وہ پیار کرتا ہے...... ممکن ہے آپ سوچیں کہ میں 'صدیقین' کا لفظ کیوں استعمال کر رہا ہوں...... یہ تو بہت اونچا لفظ ہے......

آپ یقین کریں اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے...... کئی حضرات کو یہ مقام نصیب فرمایا ہے...... اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ...... اللہ تعالیٰ نے ان کی زبانوں کو سچا فرما دیا...... اور اُنھیں شہادت سے پہلے...... شہادت کی خوشخبری سنا دی...... میں کراچی میں تھا...... اطلاع ملی کہ میرے استاذ محترم حضرت مولانا بدیع الزمان صاحب کا انتقال ہو گیا ہے...... میں جنازے میں شرکت کے لیے حاضر ہوا...... مسجد کے محراب میں حکیم الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ...... تشریف فرما تھے...... انھوں نے مجھے اپنے ساتھ بٹھا لیا...... اور شفقت و محبت کا احسان فرمانے لگے...... وہ اردگرد بیٹھے لوگوں کو بتا رہے تھے: بھائی! ہم نے تو جہاد کی بیعت کر لی ہے......

واپسی پر مسجد ہی میں میرا ہاتھ پکڑ کر جوش سے فرمانے لگے...... بھائی! میں نے جہاد کی رسمی بیعت نہیں کی...... آزما کر دیکھ لو جہاں بھیجنا ہو بھیج دو......

میں شرمندہ شرمندہ ان کے ساتھ چل رہا تھا۔ اچانک رک گئے...... اور فرمایا...... دیکھ لینا میں بستر پر نہیں مروں گا...... بس چند ہی دن گزرے کہ وہ خون میں نہائے اور شہید ہو گئے...... ایمان والی زندگی اور شان والی موت اس صاحب قلم عارف و عالم کو ملی جو رُوئے زمین کے چند بڑے لوگوں میں سے ایک تھے......

صفحہ ٢٥٤

رب کعبہ کی قسم یہ وہ انعام ہے جو بہت خاص لوگوں کو ملتا ہے...... ورنہ کسی کو کیا خبر اس کا انجام کیسا ہوگا؟...... یہاں مجھے ایک سچا نوجوان یاد آ گیا...... اللہ تعالیٰ نے اس کی بات کو بھی اپنی رحمت سے سچا فرما دیا...... پچیس سال کا حسین وجمیل...... اور جانباز کشمیری مجاہد نوید انجم شہید...... اللہ اکبر!...... کتنا متقی، پاکیزہ، بہادر اور باصلاحیت نوجوان تھا...... جیل کے حکام نے ہمیں جیل سے نکال کر دوبارہ ٹارچر سینٹر بھیجنے کا حکمنامہ جاری کیا...... ادھر جیل سے خلاصی کے لیے سرنگ تیار ہو رہی تھی...... نوید انجم سرنگ بھی کھودتا تھا...... ہمارا پہرہ بھی دیتا تھا...... اور مستقبل کے جہادی عزائم کے خاکوں میں رنگ بھی بھرتا تھا...... جیل حکام نے حکمنامہ بھیجا تو وہ شیر کی طرح گرجا کہ میرے بزرگوں کو تم اس وقت لے جاؤ گے جب میری لاش گرے گی...... وہ ٹہلتا تھا اور ڈٹ گیا...... دیوانوں کی طرح تکبیر کے نعرے لگاتا اور اپنے فرن میں خنجر چھپا کر پھرتا...... وہ مجھ سے بہت پیار کرتا تھا...... ایک دن آ کر کہنے لگا میں نے خواب دیکھا ہے تعبیر بتائیں گے...... خواب سن کر میں نے کہا ایسا لگتا ہے کہ آپ کی ساری مشکلات دور ہونے والی ہیں...... وہ ایک دم تڑپ گیا...... کہنے لگا ایسا نہ کہیں، بلکہ یوں کہیں کہ ہم سب کی مشکلات دُور ہونے والی ہیں...... یہ اس کی محبت کا عروج تھا کہ وہ ہمیں چھوڑ کر اپنی مشکلات کا حل بھی نہیں چاہتا تھا...... وہ ایک ایسے ”حسنِ ظن“ میں مبتلا تھا جس کی حقیقت موجود نہیں تھی...... ایک رات وہ میرے پاس آیا، میں کچھ لکھ رہا تھا...... وہ واپس چلا گیا...... میں نے دیکھا بہت بے چین ہے اور بار بار آتا ہے...... اور جاتا ہے...... پھر وہ قریب بیٹھ کر مجھے دیکھنے لگا...... میں نے وجہ پوچھی، کہنے لگا بس آپ کے پاس بیٹھنے پر دل چاہ رہا ہے...... آپ اجازت دیں کہ میں آپ کو دباتا رہوں اور آپ لکھتے رہیں...... میں نے کہا اس طرح تو لکھنے میں حرج ہوگا...... آپ جا کر سو جائیں۔ انشاء اللہ کل تفصیل سے بیٹھیں گے...... یہ سن کر وہ پریشان ہو گیا...... آنکھوں میں آنسو بھر کر چلا گیا...... اگلے دن جیل میں ہمارا پولیس سے مقابلہ ہوا...... سہ پہر کے وقت ہم جیل حکام کی گرفت میں تھے...... ہمیں ڈیوڑھی میں لے جا کر...... خوب زخمی کیا جا رہا تھا...... میری آنکھیں ”نوید دیوانے“ کو ڈھونڈ رہی تھیں...... اچانک خبر آئی کہ وہ تو دوپہر کو ہی شہید ہو گیا تھا...... اور ہمیں اس کی لاش گرنے کے بعد ہی جیل سے باہر لایا گیا...... ہاں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی زبان سے نکلی ہوئی بات...... اللہ تعالیٰ پوری فرما دیتا ہے...... یہ لوگ صدیقین ہوتے ہیں...... اس وقت امتِ مسلمہ خوش نصیبی کے اونچے دور سے گزر رہی

صفحہ ٢٥٥

ہے...... افغانستان میں شہداء، کشمیر میں شہداء...... عراق میں شہداء...... فلسطین میں شہداء اور ہمارے اردگرد ہر طرف صدیقین اور شہداء...... آج روزانہ بہت سی مائیں...... اپنے فدائی بیٹے رخصت کرتی ہیں...... تب آسمان انھیں جھانک جھانک کر دیکھتا ہے...... شہادت کی خبر آنے کے بعد جب شہید کی ماں...... مٹھائی بانٹ رہی ہوتی ہے تو بہت سے زمانے ہمارے زمانے کو رشک کے ساتھ دیکھتے ہیں...... آپ حیران ہوں گے کہ مجھ سے بعض خواتین خطوط میں "شہادت" کے وظیفے پوچھتی ہیں......

میرے ایک بہت محترم استاذ کراچی میں شہید ہو گئے...... میں ان کی شہادت کے وقت دوسرے ملک میں قید تھا...... واپس آیا تو ایک دن ڈاک میں ان کی صاحبزادی کا خط ملا...... فرما رہی تھیں کہ بھائی! میں نے ابو کی طرح شہید ہونا ہے...... میری یہ تمنا پوری ہو جائے اس کے لیے کچھ وظائف بتا دیں...... میں نے ان کو لکھا کہ سورۃ یوسف کثرت سے پڑھا کریں...... اور "یا شہید جل شانہ" کا ورد کیا کریں...... "الشہید" اللہ تعالیٰ کا نام ہے...... میں جب مدرسہ میں پڑھا کرتا تھا تو "مشکوٰۃ شریف" کے سبق کے دوران ہمارے استاذ محترم حضرت مولانا حبیب اللہ مختار شہیدؒ...... نے فرمایا تھا...... جو شخص کثرت سے سورۃ یوسف کا ورد کرے اللہ تعالیٰ اسے شہادت نصیب فرماتے ہیں...... میں نے اپنی بہن کو یہی وظیفہ لکھ دیا...... اور یہ وظیفہ اس لیے مجرب ہے کہ...... وظیفہ بتانے والے کو بھی اللہ تعالیٰ نے شہادت کی نعمت عطا فرمائی...... حضرت مولانا حبیب اللہ مختارؒ ایک حملے میں شہید ہوئے...... انھوں نے مشکوٰۃ شریف کی کتاب الجہاد کا اردو ترجمہ "جہاد" کے نام سے ترتیب دیا اور اسے شائع بھی کروایا تھا...... اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے...... کچھ عرصہ پہلے ہمارا راولپنڈی کا ایک کم عمر ساتھی شہید ہوا۔ مجھے ڈاک میں اس کی ہمشیرہ کا خط ملا...... انھوں نے لکھا تھا کہ...... انھوں نے اپنے گھر میں دورہ ترجمہ کیا ہے اور تمام معمولات کے علاوہ کچھ وظیفے شہادت کی نعمت پانے کے لیے بھی کیے ہیں...... جس زمانے میں مسلمان بچیاں "شہادت" چاہتی ہوں...... جس زمانے کی گود میں عامر چیمہ شہید کی قبر بنی ہو...... جس زمانے کی مٹی نے شہداء کے خون سے حسن پایا ہو جس زمانے کے "اکابر" شہادت کی دعاء مانگتے ہوں...... جس زمانے کے نوجوان فدائی قافلوں کے مسافر ہوں...... اگر میں اس زمانے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کروں تو یہ میرا فرض بنتا ہے...... یہ میرا حق بنتا ہے...... ناشکری کے لیے بہت سی خبریں موجود ہیں......

صفحہ ٢٥٦

تنقیدی کالم لکھنے کے لیے بہت سے بیانات سامنے ہیں...... مگر گوجرانوالہ کے گاؤں ”ساروکی چیمہ“ کے کھیتوں میں لاکھوں مسلمانوں کا اجتماع...... قلم اور دل کے رخ کو شکر کی طرف موڑتا ہے...... سورج قیامت تک نکلتا رہے گا، چاند اپنی روشنی پھیلاتا رہے گا...... لوگ آتے رہیں گے اور مر مر کر قبروں میں اترتے رہیں گے...... موسم کبھی گرم ہوگا کبھی ٹھنڈا...... مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی مسلمان کو...... شہادت کا مل جانا ایک ایسی نعمت ہے...... جس کا کوئی بدل نہیں...... امت مسلمہ کا ایک عاشق کے استقبال میں اس طرح نکلنا...... ایک ایسی علامت ہے...... جس کا کوئی جواب نہیں...... شہید عامر کے چہرے پر نور کا برسنا...... ایک ایسا واقعہ...... جس کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں...... قرآن پاک جہاد کی آیات سے بھرا پڑا ہے...... قرآن و حدیث میں شہادت کی مٹھاس کو کھول کھول کر سمجھایا گیا ہے...... ماضی کے قبرستان شہیدوں کے اونچے مقام کی داستان ہر لمحہ سناتے رہتے ہیں...... میں خوش ہوں ہمارا زمانہ بانجھ نہیں ہے...... میں خوش ہوں ہمارا دور بے آبرو نہیں ہے...... اگر قرآن پاک سنا رہا ہے تو الحمدللہ...... اس زمانے میں بھی سننے والے کان موجود ہیں...... سمجھنے والے دل موجود ہیں...... اگر اللہ تعالیٰ خرید رہا ہے...... تو الحمدللہ اس زمانے میں بھی بکنے والی جوانیاں موجود ہیں...... اگر حسن مصطفیٰ ﷺ چمک رہا ہے تو الحمدللہ...... اس زمانے میں بھی عاشق موجود ہیں...... یا اللہ ہمیں بھی شامل فرما...... یا اللہ ہمیں بھی قبول فرما......

صفحہ ٢٥٧

سعدی

عامر بھائی شادی مبارک!

اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے....... حضرت محمد عربی ﷺ کے سچے عاشق....... شہید ناموس رسالت....... قابل فخر اور قابل رشک اسلامی بھائی محمد عامر چیمہ شہیدؒ کو ہمارا سلام پہنچے....... عقیدت بھرا سلام، محبت بھرا سلام، بہت پیارا بہت میٹھا دل کی گہرائیوں سے نکلا ہوا سلام....... اگر کسی ”پاگل“ کو شک ہے کہ....... عامر کی شہادت سے کوئی ڈر جائے گا....... کوئی گھبرا جائے گا تو وہ اپنے دماغ کا علاج کرائے....... کل میں عامر کے والد محترم کی آواز سن رہا تھا....... یقین کریں ذرہ برابر افسوس کا اظہار نہیں تھا....... بس فخر تھا جو چھلک رہا تھا اور خوشی تھی جو مہک رہی تھی....... ہاں اللہ کے شیروں کے والدین ایسے ہی ہوا کرتے ہیں....... بے شک عامر اللہ تعالیٰ کا شیر تھا جس کی ایک گرج نے ”گوری نجاست“ کو ہلا کر رکھ دیا....... ہاں ایک کمزور سے نوجوان نے پورے یورپ کے گستاخان رسول پر لرزہ طاری کر دیا....... ہم تو عامر کی زیارت کو ترس رہے تھے مگر وہ آرام سے سو گیا....... مجھے اس سوئے ہوئے دُولھے پر وہ شعر یاد آرہا ہے....... جو ہندوستان کے ایک شاعر نے ان بچوں کی لاشیں دیکھ کر کہا تھا....... جو ایک ”مسجد“ کا تحفظ کرتے ہوئے شہید ہو گئے تھے.......

شاعر نے ان معصوم پھولوں میں شہادت کی خوشبو مہکتی دیکھی تو تڑپ کر کہنے لگا ؎

تعجب کیا جو ان بچوں کو یہ شوق شہادت ہے
یہ بچے ہیں انھیں کچھ جلد سو جانے کی عادت ہے

ہاں مجھے عامر کے مقام کو دیکھ کر وہ حدیث شریف یاد آ رہی ہے....... جو امام بخاریؒ نے اپنی مایہ ناز تصنیف ”صحیح بخاری“ کی ”کتاب الجہاد“ میں لائی ہے کہ....... ایک صاحب مسلمان ہوتے ہی میدان جہاد میں کود پڑے....... انھوں نے ابھی تک ایک نماز ادا نہیں کی تھی....... کیونکہ نماز کا وقت ہی ان پر نہیں آیا تھا....... ادھر کلمہ پڑھا، مسلمان ہوئے اور ادھر

صفحہ ٢٥٨

جنگ کے میدان میں اتر پڑے...... اور شہید ہو گئے...... آپ ﷺ نے ان کا اونچا مقام دیکھ کر فرمایا: عمل قلیل و اجر کثیر...... کہ تھوڑی سی دیر کا عمل کیا...... اور بہت بڑا اجر پا لیا...... عامر یار! سچ بتاتا ہوں اس زمانے میں تم مجھے اس حدیث شریف کا مصداق نظر آتے ہو...... اور تمھیں یہ مقام اس لیے ملا کہ تم نے سچا عشق کیا...... اور سچا عشق انجام کی پرواہ نہیں کیا کرتا ؎

جان دے دی ہم نے ان کے نام پر
عشق نے سوچا نہ کچھ انجام پر

تم تو یورپ میں ’ڈگری‘ لینے گئے تھے...... کس کو خبر تھی کہ...... عشق کی پرواز تمھیں وہ ڈگری دلا دے گی...... جس ڈگری کے بعد کسی چیز کی ضرورت ہی نہیں رہتی...... واہ عامر! تم تو عجیب انسان نکلے...... یورپ جانے والے نوجوان واپسی پر اپنی بغل میں کسی ”گوری خباثت“ کو لے کر آتے ہیں...... مگر تم جب منگل کو ہمارے پاس آؤ گے تو تمہاری ماں...... (72) بہتر پاک، حسین اور معطر حوروں کی ساس بنی بیٹھی ہو گی......

ہاں سچے مسلمان جوان اپنی ماں کے لیے ایسی ہی ”بہو“ لاتے ہیں...... عامر! سچ بتاؤ...... عشق رسول ﷺ کا یہ سچا مقام تمھیں کیسے مل گیا؟...... یورپ میں جا کر تو لوگ اندھے ہو جاتے ہیں...... سارا دن بد نظری اور شہوت کی آگ میں جلتے ہیں...... شراب کی پیپ سے اپنا معدہ ناپاک کرتے ہیں...... نائٹ کلبوں میں اپنا دل اور دماغ بیچ آتے ہیں...... اور انھیں تو ”مدینہ منورہ“ کی گلیاں تک بھول جاتی ہیں...... پیارے شہید! اب بتا بھی دو کہ تمھیں عشق رسول ﷺ کا نور کیسے نصیب ہو گیا؟...... کلمہ تو سبھی پڑھتے ہیں...... آقا ﷺ کا حسن اور مقام بھی سب کو معلوم ہے...... آقا ﷺ کے زخموں کا بھی سب کو پتا ہے...... مگر تمھارے دل پر یہ نور کیسے برسا؟...... ہاں مجھے معلوم ہے تم یہ راز نہیں بتاؤ گے...... ہاں! سچا عشق بہت خفیہ ہوتا ہے...... حضرت زیاد بن سکنؓ زخموں سے چور تھے پھر بھی گھسٹ گھسٹ کر آگے بڑھتے رہے...... اور پھر اپنا رخسار آقا ﷺ کے قدم مبارک پر رکھ دیا...... اور روح نے جسم کو سلام کہہ دیا کہ...... اب تو کام پورا ہو چکا ہے...... عامر! ہمیں معلوم نہیں تم نے جاگتے ہوئے کچھ دیکھا یا سوتے ہوئے...... اور پھر تمھارے لیے زندہ رہنا مشکل ہو گیا...... ہاں دیکھنے کے لیے تو بہت کچھ موجود ہے مگر دنیا کی محبت نے آنکھوں کو اندھا...... اور دل کے آئینے کو دھندلا کر دیا ہے...... اس لیے تو شہداء کی تعداد کم نظر آ رہی ہے...... ورنہ...... آخرت اور شہادت کے مزے دیکھنے والوں کے لیے زندہ رہنا بہت مشکل ہو جاتا ہے...... عامر بھائی! تم نے حضرت معاذؓ اور

صفحہ ٢٥٩

حضرت معوذ کی سنت کو زندہ کر دیا...... وہ دونوں غزوہ بدر میں زخمی شیروں کی طرح بے چینی سے ادھر ادھر دوڑتے پھر رہے تھے...... اور ایک ایک سے پوچھتے تھے ابو جہل کہاں ہے؟...... ابو جہل کون ہے؟...... حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ سے بھی انھوں نے یہی پوچھا...... انھوں نے فرمایا اے بچو!...... کیوں پوچھتے ہو؟...... فرمانے لگے ہم نے سنا ہے کہ وہ آقا مدنی ﷺ کی شان میں گستاخی کرتا ہے...... اور آپ ﷺ کو ستاتا رہا ہے...... آج ہم اس کا حساب چکا کر اپنے دل کی اس آگ کو ٹھنڈا کرنا چاہتے ہیں...... جو معلوم نہیں کب سے ہمیں تڑپا رہی ہے...... حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے اشارہ کیا...... اور وہ دونوں بچے یوں ابو جہل کی طرف بڑھے جس طرح کمان سے تیر نکلتا ہے...... عامر بھائی! تم نے بھی جب سنا کہ ظالموں نے گستاخی کی ہے تو تم نے جینے کو حرام کر لیا...... تمھارے پاس کچھ نہیں تھا مگر تم نے اپنے چاقو سے...... وقت کے فرعونوں کو چیلنج کر دیا...... لوگ کہتے ہیں کہ طاقت نہ ہو تو جہاد نہیں ہوتا...... مگر عشق نے کبھی اس بات کو نہیں مانا...... نہ غزوہ بدر میں...... اور نہ صلیبی جنگوں میں...... اور نہ تم نے اے عامر شہیدؒ اس بات کو سعادت کے رستے کی رکاوٹ بننے دیا...... ایک چاقو لے کر تم نے سفر کا آغاز کیا...... اور صرف ایک مہینے میں امت مسلمہ کی آنکھوں کا تارا، جنت کے مہمان، اور زمانے کے غازی اور شہید بن گئے...... ہاں تمھارے ماں باپ کو حق ہے کہ تم پر ناز کریں...... امت مسلمہ کو حق ہے کہ تم پر فخر کرے...... اور نوجوانوں کا حق ہے کہ وہ تمھیں اپنا آئیڈیل بنائیں...... عامر بھائی! میں نے تمھیں نہیں دیکھا...... مگر مجھے یوں لگتا ہے کہ میرے اور تمھارے درمیان صدیوں سے یاری ہے...... اور ہم ایک دوسرے کے پرانے دوست ہیں...... دراصل تم نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے یاری کر کے ہم سب کے دلوں کو جیت لیا ہے...... اب تم زندہ رہو گے...... انشاء اللہ...... اور تمھیں کوئی نہیں مار سکے گا...... حوریں تمہارا استقبال کریں گی...... فرشتے تم پر سلامتی بھیجیں گے، شہداء تم سے ملاقاتیں کریں گے...... اور تم اپنے رب کے مزے دار قرب میں لذت والی روزی کھاؤ گے...... امت مسلمہ کے علماء تمھارے لیے دعائیں مانگیں گے...... اولیاء کرام رات کی آخری گھڑیوں میں تمھارے لیے دامن پھیلائیں گے...... مجاہدین تمھارے نام کے شعلے دشمنوں کی طرف برسائیں گے، مائیں تمھیں پیار کریں گی...... اور بہنیں رو رو کر تمھارے اونچے درجات کے لیے آنسو بہائیں گی...... ہاں عامر! اب تم سب مسلمانوں کے بیٹے اور بھائی بن گئے ہو...... شعراء تمہاری شان میں درد بھرے فخریہ قصیدے لکھیں گے...... اور جوان عورتیں اپنے بچوں کو تمھارے جیسا بنانے

صفحہ ٢٦٠

کے لیے رب کے حضور سجدے والی دعائیں کریں گی..... عامر بھائی! تم نے سنا کہ تمہاری شہادت کو..... خودکشی بنایا جا رہا ہے..... تاکہ..... تمہاری بلند شان پر گرد و غبار ڈالا جا سکے؟..... مگر..... تمہارا خون تو مہک رہا ہے۔ شہیدوں کو کون بدنام کر سکتا ہے؟..... خودکشی یورپ اور واشنگٹن کے پجاری کرتے ہیں..... مدینہ منورہ کے بیٹے تو خودکشی کا نام تک نہیں لیتے..... عامر! تو اللہ تعالیٰ کا شیر اور پاک نبی ﷺ کا عاشق تھا..... اس عشق میں ناکامی ہے ہی نہیں..... پھر خودکشی کیسی.....

ہاں عامر! ہم نہیں بھولیں گے کہ تمھیں بہت ستایا گیا..... ہاں اللہ پاک کی قسم..... ان سسکیوں اور آہوں کو نہیں بھلایا جائے گا جو تمھارے گلے سے بلند ہوئی ہوں گی..... امت مسلمہ اجنبی بھی ہے..... الحمدللہ بے حس نہیں ہے..... ظالم لوگ تمھارے چاقو سے ڈر گئے..... تمھارے بیانات اور عزائم نے ان کو ہلا کر رکھ دیا..... تب..... انھوں نے تمھیں ستایا، تمھیں تڑپایا..... اور تمھیں تکلیف کا نشانہ بنایا..... ہائے عامر! کاش زمین کے ایک چپے پر بھی اسلامی حکومت قائم ہوتی تو..... تمہاری آہوں کا برسر عام حساب مانگا جاتا..... عامر! تمھارے جیسے نوجوان ہر جگہ اسی طرح ستائے جاتے ہیں..... اسی طرح تڑپائے جاتے ہیں..... مکہ کا ریگستان زمانے کے بلال پر ہمیشہ گرم رہتا ہے..... اور زمانے کا امیہ ہمیشہ وقت کے بلال کی گردن پر پاؤں رکھتا رہتا ہے..... مگر انجام بہت اچھا ہوتا ہے..... مکہ میں اذان گونجتی ہے..... امیہ کا گلا ہوا جسم بدر کے اندھے کنویں میں ڈالا جاتا ہے..... اور بلال مسجد نبوی کا مؤذن، بدر کا مجاہد، مکہ کا فاتح..... اور کعبہ کا منادی بن جاتا ہے..... عامر بھائی! جو کچھ تم پر بیتا ہے مجھے اس کا احساس ہے..... کیونکہ..... میں بے شمار بھیانک مناظر کا گواہ ہوں..... اور میرا دل بہت ساری تلخ یادوں کے ساتھ جینے پر مجبور ہے..... میں نے بہت سی چیخیں سنی ہیں..... میں نے تشدد سے شہید ہونے والوں کو دیکھا ہے..... اور میں نے تشدد کرنے والوں کے منحوس تیور خود پڑھے ہیں.....

مگر عامر! ایک بات سچی ہے کہ میں تم سے تعزیت نہیں کروں گا..... ہاں تم اگر کسی گوری کافرہ کے عشق میں مبتلا ہو چکے ہوتے تو میں ضرور تعزیت کرتا..... تم یورپ کی رنگینیوں کا چارہ بن چکے ہوتے تو میں ضرور تعزیت کرتا..... تم کسی نائٹ کلب میں ناچ رہے ہوتے تو میں ضرور تعزیت کرتا..... تم اس گندی دنیا کو ترقی یافتہ سمجھ رہے ہوتے تو میں ضرور تعزیت کرتا..... مگر اب کس بات پر تعزیت کروں؟ تمھیں مارا گیا تو یہ مار تمھارے لیے آخرت کا تمغہ

صفحہ ٢٦١

بن گئی....... ہم کس طرح سے بھولیں کہ آقا مدنی ﷺ کو اس سے زیادہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا....... عامر ! اگر تم پر تھوکا گیا تو یہ بھی تم سے ایک سنت زندہ ہوئی....... عامر ! تمھیں ڈرایا دھمکایا گیا تو تمھارے خوف کے ہر لمحے پر جنت نے تمھارے بوسے لیے....... عامر ! تمھیں تنہائی کی وحشت میں زخمی کیا گیا تو حوریں جنت سے اتر کر پہلے آسمان پر تمہاری زیارت کے لیے آ بیٹھیں....... اور جب تمھیں گرایا گیا....... تو تم نے بلندیوں کی طرف سفر کا مزہ پایا....... عامر ! تم تو جان چکے ہو گے کہ کیسی تعزیت اور کس طرح کی تعزیت؟....... تم تو ناموسِ رسالت کی موجودہ تحریک کے بانی بن گئے....... تمہارا خون اور تمہارا جسم اس عمارت کی بنیاد بن گئے....... جو عمارت ضرور بلند ہوگی....... اے عامر ! تم اللہ پاک کی طرف سے اتنی ہی زندگی لائے تھے مگر....... تم خوش نصیب نکلے کہ تمھیں زندگی کے بعد زندگی مل گئی....... اور تم امتحان میں انشاء اللہ....... کامیاب ہو گئے....... عامر بھائی ! ہم نے ایک صحابی کا قصہ پڑھا ان کی شادی نہیں ہوئی تھی....... شکل و صورت سے بھی غلاموں جیسے تھے....... وہ شہید ہو گئے....... کسی دوست نے آواز دے کر پوچھا ! کتنی شادیاں ہوئیں؟ انھوں نے ہاتھ کی انگلیوں سے اشارہ کر کے بتا دیا....... عامر ! تمھیں بھی شادی مبارک ہو....... اگر میں شاعر ہوتا تو آج تمہارا ایسا ”سہرا“ لکھتا کہ....... جوانیاں تڑپ کر رہ جاتیں....... ہاں اصل دُولھے تو تم ہو اور ”سہرا“ تمھارے ہی لیے لکھا جانا چاہیے....... دنیا کی شادیاں تو تکلفات اور رسومات کی آگ میں جل رہی ہیں....... ان میں تو غفلت اور پریشانیاں زیادہ ہیں....... ان میں تو فضول خرچے اور بے شمار رسوائیاں شامل ہو گئی ہیں....... مگر تمہاری شادی بہت اچھی اور بہت مبارک ہے....... ہاں میں شاعر ہوتا تو تمھارے لیے سو (100) اشعار والا ”سہرا“ لکھتا....... اور پھر اسے خوب مزے لے لے کر پڑھتا....... عامر یار کیا کروں مجھے تو تم پر رشک آ رہا ہے....... اتنی جلدی اور اتنا آسان سفر....... اور اتنی خوبصورت منزل....... اللہ پاک ہمیں شہادت سے محروم نہ فرمائے....... عامر سچ بتاتا ہوں !....... اگر یہ دعا قبول ہو گئی تو پھر میں تم سے ملوں گا....... تمھیں سینے سے لگاؤں گا....... تمہاری پیشانی کا بوسہ لوں گا....... اور تمھیں شادی پر مبارکباد دوں گا....... عامر بھائی ! شادی مبارک ہو !

❁ ❁ ❁

صفحہ ٢٦٢

طلحۃ السیف

اے مرغ سحر

معرکہ اُحد گرم تھا، مسلمان کافروں پر اور کافر مسلمانوں پر بڑھ چڑھ کر حملے کر رہے تھے۔ ایک بدبخت شقی صفوں کو چیرتا ہوا آقائے دو جہاں حضرت محمد ﷺ کی طرف بڑھا اور آستین سے پتھر نکال کر آقا کے چہرۂ اطہر کو نشانہ بنایا، آقا ﷺ جنگی لباس میں تھے، سر مبارک پر خود پہنا ہوا تھا جس کی کڑیاں رخ انور پر لٹک رہی تھیں، سبحان اللہ، کتنا حسین منظر ہوگا، چاند سے بھی زیادہ چمکدار رخ انور کی روشنی خود کی کڑیوں میں سے چھن چھن آتی ہوئی کیسی دلفریب لگ رہی ہوگی، ظالم نے آقا ﷺ کے چہرۂ انور پر پتھر مارا، خود کی کڑیاں چمکتے دمکتے رخساروں میں پیوست ہوگئیں، آقا ﷺ تکلیف کی شدت سے زمین پر گر گئے، پروانے شمع کے گرد جمع تھے۔ سوچ رہے تھے کہ کس طرح آقا مدنی ﷺ سے اس تکلیف کو دور کریں، عاشقوں میں سے ایک خوبصورت عاشق آگے بڑھے، آہنی کڑیوں کو اپنے دانتوں میں دبا کر باہر کی طرف کھینچا، کڑیاں تو رخساروں سے نکل آئیں لیکن عاشق کے اگلے دو دانت بھی ساتھ ہی نکل کر زمین پر آن پڑے، کسی انسان کے منہ میں اگلے دانت نہ ہوں تو چہرے پر کچھ عیب سا آ جاتا ہے، خوبصورتی میں فرق پڑ جاتا ہے اور ساخت میں کچھ ٹیڑھا پن آ جاتا ہے، لیکن یہ دانت تو عشق کی راہ میں قربان ہوئے، سچے لوگوں نے گواہی دی کہ ان دانتوں کی قربانی کے بعد عاشق کے چہرے کا حسن دوبالا ہوگیا۔ وہ پہلے سے زیادہ حسین نظر آتے اور ان کے چہرے سے نور نکلتا ہوا محسوس ہوتا، ان کا نام تھا عامر بن الجراحؓ جو ”امین الامتہ ابو عبیدہ بن الجراحؓ“ سے مشہور ہیں۔

قربانی دے کر لازوال حسن پانے کا نکتہ مخصوص لوگوں کو ہی سمجھ میں آتا ہے، ورنہ تو ہر ظاہر بین انسان سجانے اور سنوارنے کو حسن سمجھتا رہتا ہے، لیکن حقیقت شناس لوگ جان لیتے ہیں کہ جسم پر حسن و نکھار اس وقت آتا ہے جب اسے عشق کی راہ میں قربان کر دیا جائے

صفحہ ٢٦٣

تب اسے ایسا حسن نصیب ہوتا ہے جو دیکھنے والوں کو مبہوت کر دیتا ہے۔

ہاں! پڑھنے والوں میں سے کسی نے اگر قربان ہونے والوں میں سے کسی کا ہنستا مسکراتا چہرہ دیکھا ہو تو وہ ضرور اس بات کی تصدیق کرنے پر مجبور ہوگا جھٹلا نہیں سکے گا، لیکن یہ نکتہ جان لینا ہے بہت مشکل۔ کیونکہ یہ راز فلسفیانہ موشگافیوں یا ادیبانہ بذلہ سنجیوں سے نہیں خون پیش کرنے سے سمجھ میں آتا ہے۔

کس نہ داند جز شہید ایں نکتہ را
کہ او ز خون خود خرید ایں نکتہ را

شاعر مشرق کہتے ہیں کہ فطرت کے اس راز کو شہید کے علاوہ کوئی نہیں جان سکا کیونکہ شہید نے اپنے خون کی قیمت ادا کر کے اس نکتے تک رسائی پائی ہے۔

عامرؓ آقا ﷺ پر اپنے دانتوں کی قربانی دے کر حسن پا گئے، میری خواہش ہے کہ کاش میں پہنچ سکوں اس حقیقت کو جان کر جان وار دینے والے عامر چیمہ شہید کے جنازے پر جس نے آقا ﷺ کے ناموس پر قربانی دے کر حسن پایا ہے، لوگو! دیکھ لینا، عامر بہت حسین ہو گیا ہوگا، یہاں بھی اور وہاں بھی، ماں باپ کا اکلوتا بیٹا، بہنوں کا ایک ہی بھائی، جس کے سہانے مستقبل کے خواب بُنے جاتے ہوں گے واقعی کتنا حسین مستقبل پا گیا۔ اس کے ایک باشرع استاذ محترم نے خواب میں دیکھا، آقا ﷺ اور خلفاء راشدین تشریف فرما ہیں، نور ہی نور پھیلا ہوا ہے اتنے میں شہید عامر چیمہ اس مبارک محفل میں آئے، آقا ﷺ نے اپنے عاشق کو اٹھ کر گلے لگایا اور فرمایا آؤ میرے بیٹے آؤ!

قربان جائیے! اس رحمت کے، اس لطف و عنایت کے، اس بے پایاں کرم کے جس پر ہو جائے، اسے کہاں پہنچا دے، جو منزلیں طے کرنے میں عابدوں کو صدیاں بیت جائیں، زاہدوں کی عمریں تمام ہو جائیں پھر بھی ان کا سراغ نہ ملے عاشق کیسے ایک جست میں اسے پھلانگ کر پار کر جاتے ہیں، بجلی کی تیزی سے ۔

ہے قابل رشک اس محفل میں پروانے کا حال اے اہل نظر
اک رات میں وہ پیدا بھی ہوا عاشق بھی ہوا اور مر بھی گیا

لیکن یہاں تو مرنے والی بات بھی نہیں بلکہ امر ہو گیا، کل تک جس کا نام کسی نے نہیں سنا تھا آج بڑے بڑے لوگ اس پر تبصرے لکھنے میں فخر محسوس کر رہے ہوں گے، ہر کوئی

صفحہ ٢٦٤

چیخ چیخ کر پکار پکار کر کہہ رہا ہے عامر ہمارا ہے عامر ہمارا ہے۔ مضمون لکھے جا رہے ہیں تقریریں ہو رہی ہیں، جنازے میں شرکت کی دعوتیں چل رہی ہیں، کل تک جو انسان بے نام و گمنام تھا اب اسے نوازنے کے لیے القاب کا دامن تنگ نظر آ رہا ہے، صفات پوری نہیں بیٹھ رہیں اور مقامات فٹ نہیں آ رہے، وہ ان سب سے گزر گیا۔ پلک جھپکتے ہی گزر گیا۔ ہنستا مسکراتا نکل گیا اور سب کو پیچھے چھوڑ گیا۔

آقا ﷺ کی توہین کی گئی۔ اربوں مسلمانوں کے عشق رسول کے امتحان کا وقت آیا مسلمان بے چین ہو کر گھروں سے نکل آئے لیکن بات جلسوں، جلوسوں، زبانی احتجاج اور شکووں شکایتوں سے آگے نہ بڑھ سکی۔ اس امتحان میں پہلی پوزیشن اس شخص کے مقدر میں لکھی ہوئی تھی جو اصل میں کوئی اور امتحان پاس کرنے کے لیے اپنا گھر بار چھوڑ کر گیا ہوا تھا۔ عشق کی لا ابالی چوٹ پڑی، راستے کی ہر ظاہری و پوشیدہ رکاوٹ کو ٹھوکر پر رکھ کر نعرے لگاتے لوگوں کو کہا؎

شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

اور پھر اس سے پہلے کہ کوئی اور شمع جلائے

بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
اور عقل محو تماشہ ہے لب بام ابھی

عشق میدان میں اترا اور کامیاب بھی ہو گیا، عقل ابھی تک سوچ میں ہے اور مکڑی کے جالے بننے میں مصروف ہے۔ دُور افق پار سے آقا ﷺ کا سچا عاشق، حوروں کا دولہا نوجوان عامر چیمہ شہید ہم سب عشق کے دعویداروں سے مخاطب ہے۔

اے مرغ سحر عشق ز پروانہ بیاموز
کاں سوختہ را جاں شد و آواز نیامد
صفحہ ٢٦٥

ہا ہے عامر ہمارا ہے عامر ہمارا ہے۔ مضمون لکھے جا رہے ہیں، ے میں شرکت کی دعوتیں چل رہی ہیں، کل تک جو انسان بے نام و کے لیے القاب کا دامن تنگ نظر آ رہا ہے، صفات پوری نہیں بیٹھ آ رہے، وہ ان سب سے گزر گیا۔ پلک جھپکتے ہی گزر گیا۔ ہنستا ے چھوڑ گیا۔

ت کی گئی۔ اربوں مسلمانوں کے عشق رسول کے امتحان کا وقت آیا ں سے نکل آئے لیکن بات جلسوں، جلوسوں، زبانی احتجاج اور بڑھ سکی۔ اس امتحان میں پہلی پوزیشن اس شخص کے مقدر میں لکھی متحان پاس کرنے کے لیے اپنا گھر بار چھوڑ کر گیا ہوا تھا۔ عشق کی ر ظاہری و پوشیدہ رکاوٹ کو ٹھوکر پر رکھ کر نعرے لگاتے لوگوں کو کہا۔

یہ شب سے تو کہیں بہتر تھا
نے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

ں سے پہلے کہ کوئی اور شمع جلائے

کود پڑا آتش نمرود میں عشق
محو تماشہ ہے لب بام ابھی

تر اور کامیاب بھی ہو گیا، عقل ابھی تک سوچ میں ہے اور کھڑی ہے۔ دُور افق پار سے آقا ﷺ کا سچا عاشق، حوروں کا دولہا عشق کے دعویداروں سے مخاطب ہے۔

سحر عشق ز پروانہ بیاموز
ز را جاں شد و آواز نیامد

❂........❂........❂

نوید مسعود ہاشمی

خون رنگ لائے گا

یورپ کے شیطانوں نے آزادی اظہار کے نام پر آقائے مدنی ﷺ کی جو گستاخی کا ارتکاب کیا ہے اس کی وجہ سے پوری ملت اسلامیہ کے دل گھائل اور مجروح ہیں، اس لیے کہ ہر مسلمان نبی کریم ﷺ کی ذات کو والدین، اولاد، عزیز و رشتہ دار، دولت و کاروبار حتیٰ کہ اپنی جان سے بھی زیادہ ”عزیز ترین سمجھتا ہے۔“ اور یہ قانون قرون اولیٰ کے صحابہ کرامؓ سے لے کر قیامت کی صبح تک اسلام قبول کرنے والے ہر مسلمان پر یکساں لاگو ہے۔ یورپ کے شیطانوں نے آقائے نامدار ﷺ کے توہین آمیز خاکے شائع کر کے مسلمانوں کے جذبات میں جو آگ لگائی تھی اس کے شعلے شیطان صفت گستاخوں کی طرف آہستہ آہستہ بڑھنے لگے ہیں جس کا اندازہ عاشق رسول ﷺ عامر چیمہ کے بے مثال کارنامے سے لگایا جا سکتا ہے۔ 8 اپریل کی شام کو جب راقم کے کانوں میں عامر شہیدؒ کے کارنامے کی خبر پہنچی تو راقم اپنے دوست مفتی مجیب الرحمن کے ہمراہ عامرؒ کے گھر پہنچا۔ عامرؒ کے والد محترم پروفیسر نذیر چیمہ صاحب نے بڑی محبت سے استقبال کیا اور بتایا کہ مجھے بعض ذرائع سے یہ بات پہنچائی گئی ہے کہ میرے بیٹے عامرؒ کو گستاخ جرمن اخبار دی ویلٹ کے ایڈیٹر پر حملے کی کوشش کی وجہ سے جرمن پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ ہم نے پروفیسر صاحب کو ان کے ہونہار فرزند کے بے مثال کارنامے پر مبارکباد پیش کی اور ہر قسم کے تعاون کا یقین دلایا۔ انھوں نے بتایا کہ عامرؒ میرا اکلوتا بیٹا اور تین بہنوں کا اکلوتا بھائی ہے۔ والدہ اور بہنیں عامرؒ سے شدید محبت کرتی ہیں اور جرمن پولیس کے ہاتھوں عامرؒ کی گرفتاری کی خبر سن کر وہ مسلسل پروردگار سے اس کی سلامتی کی دعائیں مانگ رہی ہیں۔ عامرؒ بھائی کی گرفتاری 20 مارچ کو جرمنی کے شہر برلن سے ہوئی۔ 8

صفحہ ٢٦٦

اپریل کو راولپنڈی میں ان کے والدین کو عامر کی گرفتاری کی اطلاع ملی۔ عامر کے 60 سالہ بزرگ والد پروفیسر نذیر مسلسل 26 دنوں تک اس کوشش میں لگے رہے کہ کہیں ان کے بیٹے کی خیریت کی اطلاع مل جائے، یا ان کے بیٹے کو کوئی قانونی تحفظ حاصل ہو جائے مگر افسوس حکومتی اداروں نے بے حسی کی انتہا کر دی۔ مسلسل 30 برس تک گورنمنٹ حشمت علی اسلامیہ کالج میں علم کی دولت بانٹنے والے بوڑھے پروفیسر کے ساتھ کسی حکومتی ادارے نے تعاون نہیں کیا۔ 4 مئی کو دفتر خارجہ نے پروفیسر نذیر صاحب کو ان کے بیٹے کی شہادت کی اطلاع پہنچا کر ”سب سے پہلے پاکستان“ والے نعرے کا حق ادا کر دیا۔ 5 مئی کو صبح میں نے عامر کے گھر خبر کی تصدیق کے لیے ٹیلی فون کیا تو دوسری طرف عامر شہید کی والدہ محترمہ تھیں۔ انھوں نے سسکتی ہوئی آواز میں اپنے عظیم بیٹے کی شہادت کی خبر کی تصدیق کر دی اور ساتھ ہی فرمایا میرے بیٹے کے خون کو رائیگاں مت جانے دینا، میرا بیٹا محبت رسول ﷺ پر نچھاور ہو گیا۔ ظالموں نے میرے بیٹے پر مقدمہ چلائے بغیر اسے بے پناہ تشدد کا نشانہ بنا کر شہید کر ڈالا۔ عامر شہید کی والدہ محترمہ سے جیسے ہی بات ختم ہوئی، راقم اپنے دوستوں کے ساتھ عامر شہید کے گھر جا پہنچا۔ پروفیسر نذیر چیمہ کے گلے لگ کر انھیں بیٹے کی شہادت پر مبارک باد پیش کی، پروفیسر نذیر صبر و استقامت کے پہاڑ ثابت ہوئے اور کہنے لگے میرا بیٹا عامر جرمنی میں ٹیکسٹائل انجینئرنگ میں ماسٹرز کر رہا تھا، وہ نومبر 2004ء میں جرمنی گیا تھا۔ میرے بیٹے نے اپنے تعلیمی کیریئر اور زندگی کو محبت رسول ﷺ پر قربان کر دیا۔ وہ ایک مضبوط قوت ارادی کا مالک نوجوان تھا اور اس نے گستاخ رسول ﷺ پر حملے کے بارے میں اقبالی بیان بھی دے دیا تھا۔ 20 مارچ سے 4 مئی تک میرا بیٹا جرمن پولیس کی تحویل میں رہا لیکن اس پر کوئی مقدمہ نہیں چلایا گیا، اس کے کسی دوست، عزیز یا رشتہ دار سے اس کی کوئی بات چیت بھی نہیں کروائی گئی۔ پاکستانی حکومت نے ہم سے کسی قسم کا کوئی تعاون بھی نہیں کیا۔ مگر آج جرمن حکومت کے اشارے پر ہماری حکومت کی یہ کوشش ہے کہ وہ عامر کی شہادت کو خود کشی کا رنگ دے دے۔ انھوں نے سوال کیا کہ کیا کبھی محبت رسول ﷺ کے جذبے سے سرشار ہونے والے خود کشی بھی کیا کرتے ہیں؟ جان نثار رسول ﷺ عامر کی مظلومانہ شہادت کو ”خود کشی“ قرار دینے والے حکومتی اہلکار کیا جانیں کہ اسلام کی پندرہ سو سالہ تاریخ کے حاشیے ایسے ہی جاں نثاروں کے لہو سے گلرنگ ہیں

صفحہ ٢٦٧

جو اشارتاً اور کنایتاً بھی اپنے پاکیزہ نبی ﷺ کی توہین ایک لمحے کے لیے بھی برداشت نہیں کر سکتے، اور ناموس رسالت ﷺ کی طرف بھونکنے والوں کو ہر دور میں عامرؔ چیمہ جیسے سرفروشوں کی غیرت ایمانی کا نشانہ بننا پڑا ہے۔ تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ جب راجپال نے توہین رسالت ﷺ کا ارتکاب کیا تو اسے غازی علم الدین شہیدؒ کے ہاتھوں جہنم واصل ہونا پڑا۔ رام گوپال نے آقائے مدنی ﷺ کی شان میں گستاخی کی تو....... غازی مرید حسینؒ اس پر حملہ آور ہوا اور اسے پیوند خاک بنا دیا۔ نتھو رام نے جب پیغمبر اسلام ﷺ کے خلاف غلاظت کی تو غازی عبدالقیومؒ نے اسے جہنم میں پہنچا دیا۔ سوامی شردھانند نے محسن انسانیت ﷺ کے خلاف دریدہ دہنی کی تو غازی عبدالرشیدؒ نے اس کے متعفن جسم کے ٹکڑے کر ڈالے۔ چنچل سنگھ نے جب امام الانبیاء ﷺ کے خلاف بکواسات بکیں تو غازی عبداللہؒ نے اس کے ناپاک وجود سے زمین کو پاک کر دیا۔ کھیم چند...... پالال، ویدا سنگھ، ملعون بھینٹو، ہردیال سنگھ اور عبدالحق قادیانی جیسے شیطان صفت گستاخوں کو بھی غازی منظور حسینؒ....... غازی احمد دینؒ، غازی عبدالمنانؒ، غازی معراج دینؒ اور حاجی مالکؒ جیسے اسلام کے سچے متوالوں اور آقائے مدنی کے سچے عاشقوں کے ہاتھوں جہنم کا ایندھن بننا پڑا۔ عامرؔ نذیر کے والدین کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا کسی مدرسے کا طالب علم نہیں تھا، کسی مذہبی یا سیاسی تنظیم کا کارکن بھی نہیں تھا، میں تسلیم کرتا ہوں کہ ان کی یہ بات سچ ہے مگر عشق مصطفیٰ اور محبت رسول ﷺ کسی تنظیم، مدرسے یا سکول کی محتاج تو نہیں ہے۔ 28 سالہ عامرؔ بھائی نے کافروں کے سینے پر بیٹھ کے عشق رسول ﷺ کا حق ادا کر دیا۔ شاید اسی موقع کے لیے علامہ اقبالؒ نے فرمایا تھا؎

عشق کی اک جست نے طے کر دیا قصہ تمام
اس زمین و آسمان کو بے کراں سمجھا تھا میں

علامہ اقبالؒ کو جب غازی علم الدینؒ کے بارے میں پتہ چلا کہ ایک اکیس سالہ اَن پڑھ اور مزدور پیشہ نوجوان نے گستاخ رسول ﷺ راجپال کو جہنم واصل کر دیا ہے تو حضرت علامہ اقبالؒ نے گلوگیر لہجے میں فرمایا:

’’اسی گلاں ای کر دے رہ گئے تے ترکھاناں دا مُنڈا بازی لے گیا۔‘‘ (ہم باتیں ہی کرتے رہ گئے اور بڑھئی کا بیٹا بازی لے گیا)

صفحہ ٢٦٨

عامر کی غیرت و حمیت جرأت ایمانی نے گستاخ شیطانوں پر واضح کر دیا ہے کہ تم نے ناموس پیغمبر ﷺ پر جو ڈاکہ ڈالا ہے اس کے سنگین نتائج تمھیں لازماً بھگتنا پڑیں گے۔ کیا ہوا اگر عامر کے ہاتھوں وہ گستاخ قتل ہونے سے بچ گیا مگر عامر کے جرأت مندانہ کردار نے امت مسلمہ کے نوجوانوں کو ولولۂ تازہ عطا کر دیا ہے، عامر کے دکھائے ہوئے راستے پر چلتے ہوئے عشاق رسول ﷺ یقیناً اس کا ادھورا مشن ضرور پورا کریں گے۔

عامر عشق رسول ﷺ کے بڑے بڑے دعوے داروں سے بازی لے گیا۔ جرمن پولیس کے ظالموں نے معصوم عامر پر بے پناہ مظالم ڈھائے ہوں گے، دل کھول کر تشدد کا نشانہ بنایا ہوگا اور جرمنی کے نازیوں کی یہ خواہش ہوگی کہ شاید عامر تشدد و بربریت سے ڈر کر اپنے عمل پر شرمندہ ہوگا مگر میرا وجدان کہتا ہے کہ جرمن پولیس کے بے پناہ تشدد کو سہتے ہوئے عامر مسکرا کر زبان حال سے کہتا ہوگا:

سجدہ اس سر کا ہے جو تن سے جدا ہوتا ہے
یوں کہیں سجدۂ شکرانہ ادا ہوتا ہے

عامر کی مظلومانہ شہادت نے پوری پاکستانی قوم کے سامنے بہت سے دریچے وا کر دیے ہیں۔ جرمنی میں موجود پاکستانی ایمبیسی نے سوا مہینے تک ایک ذہین پاکستانی طالب علم کو بچانے کے لیے کیا کوششیں کیں؟ مان لیا کہ عامر چیمہ نے اخبار کے دفتر میں گھس کر ایڈیٹر پر حملہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن کیا اس کے لیے عدالتی طریقہ کار موجود نہیں تھا؟ عامر کو سوا مہینے تک کسی عدالت میں پیش کیوں نہیں کیا گیا؟ اور اسے ٹارچر سیلوں میں رکھ کر شہید کر دینا کہاں کا انصاف ہے؟ نائن الیون کے بعد موجودہ حکمرانوں کی اختیار کی ہوئی پالیسیوں کی بدولت پاکستانی قوم رسوائیوں کے اندھے کنوؤں میں دھکیل دی گئی ہے۔ جس ظالم، جابر اور بدمعاش کا جس وقت دل چاہتا ہے وہ کہیں پر بھی پاکستانی کو پکڑ کر قتل کر ڈالتا ہے اور اس سے پوچھنے والا کوئی نہیں ہوتا اس لیے کہ پاکستانی قوم کے سروں پر وہ ٹولہ مسلط ہے کہ جن کے دلوں میں اللہ کے خوف سے زیادہ غیر آقاؤں کا خوف سوار رہتا ہے۔ بہرحال پاکستانی حکومت سے پاکستانی قوم کو اگر کچھ اچھائی کی توقعات ہیں بھی تو وہ تقریباً ختم ہو چکی ہیں۔ عامر چیمہ کے المناک واقعے کے بعد دنیا بھر میں موجود ہر پاکستانی عدم تحفظ کا شکار ہو چکا ہے۔ عامر چیمہ

صفحہ ٢٦٩

نے جو کچھ کیا وہ اس کے ایمان کا تقاضہ تھا اور مجھے مرنے کی حد تک یقین ہے کہ عامرؒ چیمہ کی روح پرواز کر رہی ہوگی تو یقیناً آقائے نامدار ﷺ اپنے صحابہؓ کرام کے جلو میں عامرؒ کی روح کا استقبال کرنے پہنچے ہوں گے۔ حور و غلمان کو عامر کے لیے تیار کیا گیا ہوگا، اس لیے کہ حور و غلمان ایسے ہی قدسی صفات جانبازوں کی راہ تکتے ہیں۔ فرشتے جبریل امین کی قیادت میں اپنے ہاتھوں میں تاجِ عظمت لیے ایسے شہداء کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ محسنِ انسانیت ﷺ کی عظمت پر کٹ مرنے والوں کو شجر و حجر، پہاڑ، چٹانیں، جنگل، صحرا، دریا و سمندر، ہوائیں اور فضائیں بھی سلامِ عقیدت پیش کرتی ہیں۔ عامرؒ چیمہ امتِ مسلمہ کے ماتھے کا جھومر ہے۔ یہ وہ مردِ قلندر ہے کہ جس نے دنیاوی جاہ و حشمت اور آسائشوں کو لات مار کر اپنی زندگی رسول اللہ ﷺ پر فدا کر کے 56 اسلامی ممالک کے غلام حکمرانوں کو یہ سبق دیا ہے کہ یورپ اور امریکہ سے زندگی کی بھیک مانگنے والے حکمرانو! ذلت کی سو سالہ زندگی سے عزت کی چند روزہ زندگی بہتر ہے۔ عامر شہید کی والدہ محترمہ اور بہنیں اطمینان رکھیں کہ ان کے بیٹے اور بھائی کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، اس لیے کہ پروردگارِ عالم شہید کے خون کو کبھی رائیگاں نہیں جانے دیتے، دنیا دیکھے گی کہ یہ خون رنگ لا کر رہے گا۔

صفحہ ٢٧٠

عابد تہامی

شہادت یا خودکشی؟

نبی اکرم ﷺ کی عزت و ناموس دنیا کے تمام اموال، اولاد اور ہر چیز سے افضل ترین ہے۔ مجموعی طور پر یہ نتائج اخذ کرنے میں ذرا برابر بھی دیر نہیں لگتی کہ عامر چیمہ نے خود کشی نہیں کی بلکہ کسی خاص سازش کے تحت قتل کیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں شہادت کے درجے سے نوازا۔ آئیے ذرا حقائق اور رپورٹس کی روشنی میں جمع تفریق کر کے باقی حاصل دیکھتے ہوئے لائحہ عمل مرتب کریں۔

عامر چیمہ ایک سمارٹ نوجوان مسلمان تھا۔ دسمبر 2005 تک صرف اور صرف پڑھائی کی طرف توجہ دی۔ اس دوران کبھی کسی سیاسی جماعت یا طلبہ تنظیم یا مذہبی تنظیم سے تعلق نہ تھا۔ البتہ عاشق رسول ﷺ ضرور تھا۔ اپنی جان و مال اور والدین سے بھی بڑھ کر خدا کے محبوب کو چاہنے والا تھا۔ اس لیے رسول ﷺ کی شان میں ذرا سی بھی گستاخی اس کے برداشت میں نہ تھی۔ لیکن اس چیز کا کبھی اس نے کسی کے سامنے برملا اظہار بھی نہ کیا تھا، اور خود ہی پلان کر کے مونچن گلاڈباخ سے برلن پہنچا اور ”ڈی ویلٹ“ کے ایڈیٹر کو قتل کرنا چاہا۔ سیکورٹی گارڈز نے اس کو پکڑ لیا۔ اس وقت اس کی جیب سے جو خط ملا اس میں اس نے اپنے جرم کا اعتراف پہلے سے لکھ رکھا تھا۔ اور پھر 5 اپریل 2006ء کو سرکاری وکیل ڈاکٹر باتھ نے استغاثہ دائر کیا۔ اس میں یہ چیز واضح طور پر لکھی ہوئی ہے کہ وہ حضور ﷺ کی محبت کے اظہار کے لیے آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کو قتل کرنا چاہتا تھا اور رہائی کے بعد موقع ملا تو وہ پھر ایسا ہی کرے گا۔ اس کے علاوہ وہ بیلجیم کے ایک گستاخ رسول باشندے ”بن چکا“ کو بھی قتل کرنا چاہتا تھا۔ اچانک 5 مئی کو یہ خبر شائع ہوئی کہ عامر چیمہ نے جیل میں خودکشی کر لی ہے، یا اسے شہید کر دیا گیا ہے۔ اس پر بہت سخت ردعمل سامنے آیا۔ پاکستان کے 15 کروڑ

صفحہ ٢٧١

عوام اس بات پر متفق ہیں کہ کوئی عاشق رسول ﷺ جس نے خود اعتراف جرم بھی کر لیا ہو وہ خودکشی نہیں کر سکتا۔ جرمن اپنے موقف پر قائم ہیں لیکن اب تک کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کر سکے۔ حکومت پاکستان نے کیس کی نزاکت کے پیش نظر اپنی دو رکنی تحقیقاتی ٹیم برلن بھیجی۔ مختلف رپورٹس، سیاسی، مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں، دفتر خارجہ، وزارت داخلہ اور حکمران جماعت کے سیکرٹری اطلاعات وغیرہ کے بیانات اخبارات کی خبریں، اداریے، کالم اور مضامین بھی بولتے نظر آئے۔ پاکستانی سفارت خانے نے بھی اپنے آپ کو Justify کرنے کی کوشش کی۔ برنی ٹرسٹ نے سب سے پہلے یہ بیان دیا کہ عامر نے خود کشی کی ہے۔ اس لحاظ سے یہ سب لوگ اس کیس سے متعلق اور فریق ہیں۔ اس معصوم جان کی ہلاکت کا کون کتنا ذمہ دار ہے۔ یہ درج ذیل سوالات سے ہی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

سفارتخانہ

عامر چیمہ کو 20 مارچ 2006 کو گرفتار کیا گیا۔ 9 اپریل کو پاکستان کے ایک اخبار میں گرفتاری کی خبر شائع ہوئی۔ 10 اپریل کو ڈاکٹر فرید پراچہ نے اسمبلی میں یہ بات اٹھائی۔ پاکستان کے جرمنی میں نائب سفیر خالد عثمان کا کہنا ہے کہ انہیں جرمن پولیس نے گرفتاری کی اطلاع نہ دی۔ انہیں تو قومی اسمبلی کی رپورٹ سے پتہ چلا کہ پاکستانی طالب علم کی پُر اسرار موت ہوئی ہے۔ خالد عثمان نے نہ تو خود ان کے والدین کو بتایا نہ فون کیا۔ پاکستان کے سفارت خانے سے حسن نامی شخص نے عامر چیمہ کو جیل میں فون کیا اور عامر چیمہ کے والدین نے جب خالد عثمان سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ ”آپ کے بیٹے نے ایسا کر کے پاکستانیوں کے لیے مسائل پیدا کر دیے ہیں“ کیا اس موقع پر ایسا کہنا چاہیے تھا؟

پاس کوئی ثبوت ہے؟ جرمنی میں پولیس تشدد نہیں کرتی اس کا ریکارڈ موجود ہے۔ کیا وہ جرمن پولیس کے وکیل ہیں اور اس کے لیے انہیں فیس دی گئی تھی؟

بات وہ کس ثبوت کے تحت کرتے ہیں۔؟

صفحہ ٢٧٢

اگر چھاپے نہیں مارے تو کیا یہ سرچ وارنٹ اور سرچ وارنٹ کے بعد کی رپورٹ غلط ہے۔

چوہدری شجاعت

سب سے پہلے گرفتاری کی اطلاع کے بعد عامر شہید کے والدین نے چوہدری شجاعت سے کسی ذریعے سے رابطہ کیا جس پر انہوں نے کہا کہ آپ خاموش رہیں، حکومت کے لیے مسائل پیدا ہوں گے۔ میں انصار برنی کو کہہ دیتا ہوں۔ انہوں نے خاموش رہنے کا کیوں کہا؟ پھر اس کے لیے کیوں کچھ نہ کیا۔ کیا انہوں نے ہی انصار برنی کو تحقیقات کے لیے بھیجا تھا؟ انہوں نے جب عامر کے گھر فون کیا تو عامر کی بہن کشور نے کیا کہا؟ انہوں نے اس حوالے سے اخبار کے رپورٹر کو کیا کہا؟ کیا وہ اس کی وضاحت کریں گے؟ کیا اس کے بعد آج تک دوبارہ عامر شہید کے والدین سے رابطہ کیا اور اس کیس کے لیے کچھ کیا؟

انصار برنی

پاکستان میں واحد این جی او ہے جس نے اپنے ردعمل کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ انسانی حقوق کی کسی علمبردار این جی او کو ایک انسان کی موت کی مذمت کرنے کی توفیق نہ ہوئی۔ اس این جی او نے جس طرح اظہار کیا کہ عامر چیمہ کی پراسرار ہلاکت کے بعد جس روز جسد خاکی پاکستان آیا، اسی روز تقریباً سبھی اخبارات میں انصار برنی کے حوالے سے یہ خبر شائع ہوئی کہ عامر چیمہ نے خودکشی کی ہے۔ اس حوالے سے ان کو 31 مئی 2006 کو خط ٹی سی ایس کیا کہ وہ بتائیں کہ کس بنیاد پر فوری طور پر انہوں نے کہہ دیا کہ عامر چیمہ نے خودکشی کی ہے، کیا ان کے پاس اس کا کوئی ثبوت موجود ہے؟ جب اس خط کا جواب موصول نہ ہوا تو 10 جون کو یاد دہانی کا خط لکھا گیا جس پر انہوں نے ای میل کے ذریعے جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ جو الزامات لگائے گئے ہیں وہ بے بنیاد ہیں اور جب کوئی کتاب میں چیز لکھیں تو اس کے ثبوت دیں انہیں 13 مئی کو اس کے جواب میں ای میل کرنے کی بھر پور کوشش کی مگر ای میل نہ ہو سکی تو 15 جون 2006 کو انہیں پھر لیٹر TCS کیا گیا کہ آپ نے سوالات کے جوابات نہیں دیئے اور اخبار میں جو بیان دیا تھا اس کو ثابت کریں کہ آپ کے پاس خودکشی کے کیا ثبوت ہیں؟ تا حال اس کا بھی کوئی جواب موصول نہیں ہوا، جس کا واضح مطلب یہ لیا جا سکتا ہے کہ

صفحہ ٢٧٣

بغیر کسی تحقیق اور ثبوت کے انہوں نے اس قتل کو خودکشی قرار دیا۔ اگر وہ یہ ثبوت سامنے نہیں لاتے تو یہ سوال ہمیشہ رہے گا، اور ان کے بارے میں یہ جو مبینہ طور پر تاثر ہے کہ انہوں نے انٹرنیشنل ڈونر ایجنسی سے لاکھوں ڈالر لیے ہیں؟ وہ کلیر نہیں ہوگا۔

جرمن حکومت

اس کیس میں دوسرا اہم فریق جرمن حکومت اور پاکستان میں جرمن سفیر ہیں۔ جرمن حکومت کے حوالے سے جو سوالات اٹھتے ہیں ان کے حوالے سے جرمن سفیر ڈاکٹر گنٹر مولاک کو 5 جون 2006 کو لیٹر TCS کیا گیا انہوں نے اس کا کوئی جواب نہ دیا تو 10 جون کو یاد دہانی کا خط بھیجا گیا (کاپی لف ہے) جرمن ایمبیسی کے فون نمبر 2279430 پر بھی رابطے کی کوشش کی مگر کوئی جواب موصول نہ ہوا۔ جرمن حکومت کے حوالے سے جو سوال اٹھتے ہیں وہ اپنی جگہ موجود ہیں اور جب تک ان کا کوئی تسلی بخش جواب حاصل نہیں ہوتا تو یہ کہنے میں کوئی حجاب نہیں کہ اس نوجوان شہید کو ہلاک کرنے کی ذمہ دار جرمن حکومت ہے؟

رسالت ﷺ کے تحفظ کے لیے ایڈیٹر کو قتل کرنا چاہتے تھے تو اس صورت میں یہ کوئی معمولی کیس نہ تھا اور نہ ہی یہ ملزم عام ملزم تھا۔ پھر کیوں نہیں اس کی نگرانی کی گئی؟ اس جیل میں کیمرے لگے ہوئے ہیں کیا وہ اس روز سب بند تھے ۔؟

جب وہ سیر کی غرض سے ایک گھنٹہ کے لیے کمرے سے باہر گیا۔ کیا ایک گھنٹہ میں رسہ حاصل کر کے اس کا پھندا بنانے کے بعد خودکشی ممکن ہے؟

2006 تک اس کا کوئی نفسیاتی یا میڈیکل چیک اپ کرایا گیا۔ اگر کرایا گیا تو اس کا ذکر استغاثہ میں کیوں نہ کیا گیا جو 5 اپریل کو سرکاری وکیل نے دائر کیا؟

صفحہ ٢٧٤

زبان باہر کیوں نہ آئی؟

کے مطابق شہ رگ کٹی ہوئی تھی تو یہ بندھے ہاتھوں سے شہ رگ کیسے کٹ گئی؟

خودکشی ہو گئی؟

وہاں پر موجود اخبار کے عملے سے کہا کہ وہ توہین آمیز کارٹون شائع کرنے پر اس معافی نامہ پر دستخط کریں۔ ایک اہلکار نے دستخط بھی کر دیئے۔ اگر وہ صرف معافی نامہ پر دستخط کرانا چاہتا تھا تو پھر اسے گرفتار کیوں کیا گیا؟ اور وہ معافی نامہ میڈیا کو کیوں نہ دکھایا گیا؟

کو ایک خط دیا گیا، دوسرا خط کہاں گیا؟

سے چاقو خریدا ہے، کیا کوئی ثبوت ہے؟ کیا وہ چاقو خریدنے کی رسید ساتھ لایا تھا؟

میں دائر کیا جاتا ہے۔ تو پھر اس کیس کی 5 اپریل سے 3 مئی تک سماعت کیوں شروع نہ ہوئی؟

صفحہ ٢٧٥

پھر عدالت میں کونسی تاریخ سماعت طے کی گئی؟

کہہ دیا کہ کپڑوں سے پھندا بنایا گیا تھا؟

یہ خودکشی تھی تو پھر اسے زبان بند رکھنے کا کیوں کہا گیا؟

لائی جائیں گی۔ پھر آج تک یہ منظر عام پر کیوں نہ آئیں؟

وزارت خارجہ

ہی پاکستان کے سفارت خانوں کی نگرانی اور انہیں ہدایات دینے کا کام کرتی ہے۔ وزیر خارجہ خورشید قصوری ہر کسی ایشو پر ضرور بات کرتے ہیں مگر اس کیس کے حوالے سے انہوں نے آج تک ایک لفظ نہیں کہا۔ ترجمان تسنیم اسلم نے اس سلسلہ میں بریفنگ کے دوران چند ایک بیانات دیے ہیں۔ وزارت خارجہ کے اس کے متعلق بہت سے سوالات کے جوابات باقی ہیں۔ اسی سلسلہ میں 5 جون کو سوالنامہ پر مشتمل ایک خط بذریعہ TCS محترمہ تسنیم اسلم صاحبہ کو بھیجا گیا، جب کوئی جواب موصول نہ ہوا تو 10 جون کو پھر یاد دہانی کا خط لکھا گیا لیکن اس طرف سے بھی خاموشی کیس کو کئی معنی دے سکتی ہے۔ اس لیے وزارت خارجہ کو اپنی حتمی رائے کا اظہار کرنا چاہیے۔ مگر ابھی تک ایسا نہیں ہوا۔

اور کوتاہی کا ثبوت دیا ہے۔ اس سلسلہ میں وزارت خارجہ نے ایکشن کیوں نہیں لیا؟ ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کیوں نہیں کی گئی؟ کیا اس غفلت پر عدالتی کارروائی کی ضرورت نہیں؟

صفحہ ٢٧٦

جوابات دیئے گئے۔ اگر نہیں بھی دیئے گئے تو انہیں منظر عام پر کیوں نہیں لایا گیا؟

ہے تو پھر اسے منظر عام پر کیوں نہیں لایا گیا؟ میڈیا کو اس کی کاپی کیوں نہیں فراہم کی گئی؟

چلتا ہے تو سفارتخانے کا وہاں کیا کام ہے؟ کیا ایسے افراد سے ملک کے مفادات کے تحفظ کی توقع کی جاسکتی ہے؟

جاتی ہے؟

کے پاس کیا ثبوت ہے؟ کیا انھوں نے جان بوجھ کر کیس میں کنفیوژن پیدا نہیں کیا؟

ملے جن سے ملاقات ضروری تھی جبکہ ٹیم نے یہ اعتراف کیا کہ ان کو متعلقہ لوگوں تک رسائی حاصل نہ ہوسکی۔ یہ تضاد کس طرف اشارہ کرتا ہے؟

تحقیقاتی ٹیم

ٹیم اتنے دنوں بعد کیوں بھیجی گئی؟

کے ساتھ پوسٹ مارٹم کے کسی ماہر ڈاکٹر کو کیوں نہ بھیجا گیا؟

کر سکتی ہے؟

صفحہ ٢٧٧

کیا ہے؟

پوسٹ مارٹم کے بعد جرمن حکومت پر واضح الزام عائد نہیں کیا جا سکتا تھا؟

وزارت داخلہ

کے جواب نہیں دیتی، ہم مطمئن نہیں ہوں گے۔ اب وزیر موصوف مطمئن ہو کر کیوں بیٹھ گئے ہیں؟ اس کے بعد آج تک کوئی بیان بھی نہیں دیا۔ کیا وہ عوام کو یہ بتانا پسند کریں گے کہ انہیں 30 سوالوں کے جواب مل گئے ہیں؟ اگر نہیں ملے تو کب تک انتظار کریں گے؟ کیا اس کی کوئی حتمی تاریخ دیں گے؟

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی

کے رپورٹ کمیٹی کو دیں۔ آج تک اب یہ کمیٹی کیوں خاموش ہے؟ کیا اسے رپورٹ مل گئی؟ اگر مل گئی ہے تو منظر عام پر کیوں نہیں لائی گئی؟

سینٹ کی انسانی حقوق کمیٹی

اجلاس ایس ایم ظفر کی زیر صدارت ہوا۔ گو پچھلے اجلاس میں سیکرٹری خارجہ کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کو ہمراہ لائیں مگر انہوں نے اب بھی چپ سادھ لی۔

سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے رکن لطیف کھوسہ نے کہا کہ جرمن ڈاکٹر نے عامر چیمہ پر تشدد کی تصدیق کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرمن حکومت نے اس کیس کی جو رپورٹ بھیجی ہے، اس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے۔ ایس ایم ظفر نے کہا کہ اتنی جلد بازی میں تبصرہ کرنا مناسب نہیں۔ عجلت پسندی سے سمندر پار پاکستانیوں کی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ بہتر ہے کہ ارکان اس رپورٹ کا

صفحہ ٢٧٨

پہلے تفصیلی جائزہ لے لیں۔ اجلاس میں شریک وفاقی سیکریٹری داخلہ سید کمال شاہ نے کہا کہ جرمن حکومت کی رپورٹ مکمل نہیں، اس میں پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی شامل ہونی چاہیے۔ وزیر مملکت برائے خارجہ امور خسرو بختیار نے کہا کہ جرمنی کے سفارتخانے کے ذریعے مکمل رپورٹ حاصل کی جائے۔ لطیف کھوسہ پر مشتمل دو رکنی خصوصی کمیٹی تشکیل دے کر اسے ہدایت کی گئی کہ وہ حقائق معلوم کرنے کے لیے سفارتی اور قانونی طریقہ تجویز کرے۔ اب دیکھتے ہیں کہ یہ دو رکنی ٹیم قانونی کارروائی کے لیے کب سفارشات دیتی ہے؟ اور حکومت ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ میں اپنا کیا کردار ادا کرتی ہے؟

کرنے کی ہامی بھر لی۔ پھر یہ وعدہ پورا کیوں نہ کیا گیا؟

کرنے کے کیا مقاصد تھے؟

حکومت ذمہ دار ہے۔ تو کیا موت کی ذمہ دار جرمن حکومت کے خلاف آپ کوئی کارروائی نہیں کریں گے؟ آپ نے یہ بیان پھر کس مقصد کے لیے دیا تھا؟

ایف آئی اے نے خودکشی قرار دیا ہے جیسا کہ جرمن اتھارٹی نے دعویٰ کیا تھا؟ ایف آئی اے ٹیم نے تو خودکشی قرار نہیں دیا؟

جہاں تک مذہبی ، سیاسی جماعتوں کا تعلق ہے انہوں نے بڑا شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ سخت الفاظ میں مذمت کی گئی۔ مختلف مطالبے کیے گئے۔ مثال کے طور پر جمعیت العلماء پاکستان نے جرمن مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے اور سفارتی تعلقات ختم کرنے کہا۔ انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ نے سپریم کورٹ کے ذریعے جرمن حکومت سے مقدمہ لڑنے کا کہا۔ جمعیت علمائے اسلام نے اس معاملے کو اندرون ملک اور بیرون ملک اعلیٰ سطح پر اٹھانے کا کہا۔ تحریک انصاف نے اپوزیشن سے مل کر لائحہ عمل اختیار کرنے کا کہا تاکہ تحقیقات منظر عام پر لائی جاسکیں۔ مسلم لیگ ن نے اس مسئلہ کو ہر سطح پر اٹھانے کا کہا۔ جماعت اسلامی نے اس

صفحہ ٢٧٩

مسئلہ کو ہر سطح پر اٹھانے کا کہا اور سیمینار منعقد کرنے کا دعویٰ کیا۔ جمعیت اہلحدیث نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر قانون سازی کے لیے حکومت پر زور دیں گے۔ لیکن بہت سے رہنما اور جماعتیں ایسی بھی ہیں جنہوں نے کسی قسم کے ردعمل کا اظہار تک نہ کیا۔ وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے کا کہا۔ میرا ان سب سے ایک ہی سوال ہے کہ اب تک کسی نے عملی طور پر کوئی باقاعدہ قدم اٹھایا؟ اگر اٹھایا تو کیا پیش رفت ہوئی؟ کیا وہ عوام کو اس پیش رفت سے آگاہ کرنا پسند کریں گے؟

آخر میں حکومت پاکستان سے میری گذارش ہے کہ وہ اس کیس کے حوالے سے جو کنفیوژن پیدا ہو گیا، اس کو دور کرنے کے لیے پالیسی بیان جاری کرے۔ اگر وہ ضروری سمجھتی ہے کہ جسد خاکی کا دوبارہ پوسٹ مارٹم کرانے کی ضرورت ہے تو یہ کرانے کے بعد صورت حال کو کلیئر کرنا چاہیے اور کم از کم ویانا کنونشن میں دیا گیا اپنا حق استعمال کرتے ہوئے اپنے شہری کے بارے میں جرمن حکومت سے پوچھنا چاہیے اور قانونی طور پر یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ جرمن حکومت نے پاکستانی شہری کی گرفتاری کی اطلاع نہ دے کر ویانا کنونشن کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی ہے۔ پاکستان کے عوام کو چاہیے کہ وہ اس کیس کو سلجھانے کے لیے حکومت سے تعاون کریں۔ اگر حکومت نیک نیتی سے اس کیس کو سلجھانے کے لیے کوئی عملی اقدام کرتی ہے تو میری رائے میں پاکستان کے تمام شہری اس کے ساتھ ہوں گے۔ اور کوئی بھی مسلمان خواہ وہ حکومت میں ہو یا اپوزیشن میں، وہ کبھی بھی ناموس رسالت ﷺ پر آنچ نہیں آنے دے گا۔ یہی ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔

صفحہ ٢٨٠

مظفر محمد علی

عامر چیمہ کی شہادت کو خودکشی میں بدلنے کی سازش!

بندھے ہاتھوں کے باوجود کٹی ہوئی شہ رگ کے ساتھ عامر چیمہ کی شہادت جرمن جیل میں کس کس کے ہاتھوں اور کس کس کے اشاروں پر ہوئی؟ یہ ہیں وہ بنیادی سوالات جو بہترین فیچر کے لیے اے پی این ایس ایوارڈ کے حامل سینئر صحافی اور متعدد قومی اور عالمی موضوعات پر تحقیقی رپورٹوں اور کتابوں کے مصنف عابد تہامی نے اپنی تازہ ترین تحقیقی رپورٹ میں اٹھائے ہیں۔ عابد تہامی کی اس ریسرچ رپورٹ پر مبنی حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب ”ناموس رسالت کا نیا پروانہ شہید عامر چیمہ“ میں واضح کیا گیا ہے کہ ایک جرمن اخبار کے دفتر میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف اپنے انداز میں احتجاج کے دوران عامر چیمہ کی گرفتاری سے لے کر پاکستان میں تدفین تک اپنے مخصوص مقاصد اور ایک پُراسرار سازش کے تحت اس معاملے کو جرمن حکام ہی نہیں پاکستانی حکام اور چند دیگر شخصیات نے کنفیوژ اور مسخ کرنے کی شعوری اور بھرپور کوششیں کیں جن کے نتیجے میں شہید عامر چیمہ پر خودکشی کا الزام تو قطعی طور پر ثابت نہیں ہوسکا۔ البتہ اس کے قاتلوں اور ان کے حلیفوں کے چہرے بے نقاب ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ عابد تہامی نے اپنی اس ریسرچ رپورٹ کے ذریعے جہاں جرمن پولیس کی تفتیش، خودکشی سے متعلق جیل حکام کے موقف اور اس معاملے میں جرمن حکومت کے غیر متوازن، غیر منصفانہ اور غیر معمولی رویے کے تار و پود بکھیرے ہیں، وہاں پاکستانی حکام، جرمنی میں پاکستانی سفارتکاروں اور بطور خاص معروف سماجی شخصیت انصار برنی سمیت سب کے عاجلانہ، غیر ذمہ دارانہ، غیر منصفانہ، بعض صورتوں میں غیر انسانی اور کسی حد تک بے حد پُراسرار رویوں، موقف اور طرز عمل کو سوالوں کی صورت میں وقت کے آسمان پر رقم کر دیا ہے۔

صفحہ ٢٨١

عابد تہامی نے اپنی اس ریسرچ رپورٹ میں 20 مارچ کو عامر چیمہ کی گرفتاری سے لے کر 13 مئی کو اس کی تدفین تک تمام مراحل کا تنقیدی نکتہ نظر سے بڑا بھر پور جائزہ لیا ہے اور قدم قدم پر مختلف افراد، اداروں اور حکومتوں کے نت نئے تضادات نمایاں کیے ہیں۔ عابد تہامی کا کہنا ہے کہ جرمنی میں پاکستانی سفارت کاروں کے بقول انھیں عامر چیمہ کی گرفتاری کی خبر ایک ماہ کے بعد رکن قومی اسمبلی فرید پراچہ کے حوالے سے ملی جبکہ وہاں کا مقامی میڈیا 20 اور 21 مارچ ہی کو یہ خبر شائع اور نشر کر چکا تھا۔ اس بے خبری کو ان سفارت کاروں کی نااہلی کے علاوہ اور کیا قرار دیا جا سکتا ہے۔ عابد تہامی کے مطابق لاہور کے دو رپورٹروں نے سابق وزیراعظم اور صدر پاکستان مسلم لیگ چوہدری شجاعت حسین کو عامر چیمہ کی گرفتاری کی بروقت خبر دی مگر جواب میں چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ ”اس واقعہ سے تو حکومت کے لیے بڑے مسائل پیدا ہو جائیں گے۔ آپ خاموش رہیں، میں انصار برنی کو کہہ دیتا ہوں وہ کچھ کرتا ہے۔“

شہید عامر چیمہ کے والد پروفیسر نذیر چیمہ نے عابد تہامی سے اپنے خصوصی انٹرویو میں بتایا ”ایم این اے غلام سرور چیمہ کی موجودگی میں چوہدری شجاعت کو کسی نے یہ خبر دی کہ پاکستانی طالب علم عامر چیمہ جرمن جیل میں ہلاک ہو گیا ہے تو فوری طور پر ان کے منہ سے نکلا ”اسے بھی کسی نے جنت کی بشارت دی ہوگی۔“ عابد تہامی کی تحقیق کے مطابق عامر چیمہ کی شہادت کے بعد معروف سماجی راہنما انصار برنی (جنھیں چوہدری شجاعت نے کوئی ذمہ داری سونپنے کی بات کی تھی) نے اخبارات میں اپنے شائع شدہ بیان کے مطابق عامر چیمہ کی شہادت کو خودکشی قرار دیا اور یوں پاکستانی اور جرمن حکومتوں کے ساتھ ساتھ بعض ان دیکھے عناصر کے ان عزائم کو تقویت پہنچائی جن کے تحت وہ ناموس رسالت کے لیے عامر چیمہ کی شہادت کے حوالے سے عالم اسلام کے ردعمل کو خودکشی جیسے حرام عمل کے ساتھ کنفیوز کر کے ڈی فیوز کرنا چاہتے تھے۔ یاد رہے کہ عامر چیمہ نے نہ صرف اپنی زندگی میں متعدد بار خودکشی کو حرام قرار دیا بلکہ شہادت سے پہلے اپنے پیغامات اور خطوط میں بھی کسی بھی صورت میں خودکشی کا راستہ اختیار نہ کرنے کا عندیہ ظاہر کیا تھا۔ اس حوالے سے شہید کے والد پروفیسر نذیر چیمہ نے عابد تہامی سے اپنے خصوصی انٹرویو میں جرمن سفیر کو کھلے عام چیلنج کیا کہ وہ شہید کی قبر کشائی کروانے پر تیار ہیں۔ انھیں یقین ہے کہ شہید عامر چیمہ کی میت خراب ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ اس نے خودکشی جیسی حرام موت

صفحہ ٢٨٢

کا انتخاب ہی نہیں کیا۔

عابد تہامی نے انصار برنی کے نام اپنے خط میں عامر چیمہ کی شہادت کو خودکشی قرار دینے کے حوالے سے انھیں ثبوت پیش کرنے کے لیے کہا مگر بدقت تمام، یاد دہانی کے دوسرے خط کے جواب میں انصار برنی محض آئیں بائیں شائیں ہی کرتے رہ گئے جبکہ انھوں نے اس عمومی تاثر کی بھی کوئی تردید نہیں کی کہ انھیں عامر چیمہ کی شہادت کے مقابلے میں خودکشی کا کنفیوژن پھیلانے کے حوالے سے کسی انٹرنیشنل ڈونر ایجنسی کی طرف سے لاکھوں ڈالر دیے گئے تھے۔ عابد تہامی نے اس حوالے سے ایک مزید سوال یہ بھی اٹھایا ہے کہ عامر چیمہ کی حراست میں شہادت کے حوالے سے حقوق انسانی کی نہ کسی عالمی، نہ کسی غیر ملکی اور نہ ہی کسی پاکستانی تنظیم نے آواز اٹھائی۔ اگر انصار برنی ٹرسٹ کے سربراہ نے بات کی بھی تو نہ صرف شہید پر خودکشی کا بہتان باندھا بلکہ شہید کے لواحقین اور پورے عالم اسلام کے جذبات کو بھی ٹھیس پہنچائی۔ عابد تہامی کے مطابق انصار برنی ہی کو مبینہ طور پر کوئی مشن سونپنے والے چوہدری شجاعت حسین نے ملک بھر میں ہلچل مچانے اور اضطراب پیدا کرنے والے اس معاملے کو محض ایک ٹیلی فون کال کے برابر اہم سمجھا۔ یہ الگ بات کہ شہید کے والد کی عدم موجودگی کے باعث بات ہی نہ ہوسکی جبکہ اول الذکر نے بھی دوبارہ کال کی ضرورت محسوس نہ کی۔ عابد تہامی کے مطابق صدر جنرل پرویز مشرف تو اس دوران مسلمانوں کی مبینہ انتہا پسندی کے خلاف بھاشن دیتے رہے جبکہ وزیراعظم شوکت عزیز کو حرف تسلی کے محض ایک ٹیلی فون ہی کی توفیق ہوسکی۔ بلند آہنگ اور ضرورت سے زیادہ زود گو وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے اس موضوع پر قطعی طور پر چپ سادھے رکھی جبکہ اطلاعات کے وزیر مملکت طارق عظیم جو شروع میں شاید جوش ایمان یا جوش جذبات میں عامر چیمہ کے معاملے میں جرمن حکومت پر تنقید کرتے اور بعد ازاں لواحقین کی پسندیدہ جگہ پر شہید کی تدفین کی حامی بھرتے رہے۔ شہید کا جسد خاکی پہنچنے کے بعد پراسرار خاموشی اختیار کر گئے جبکہ انتظامیہ کے دیدہ اور نادیدہ حکام کی دھمکیوں اور دباؤ کے باعث نہ صرف شہید کے مزار کے لیے راولپنڈی کی بجائے آبائی قصبے ساروکی کا انتخاب کرنا پڑا۔ پھر دباؤ کے اسی ایجنڈے کے تحت جنازے کے اجتماع کو کٹ ٹو سائز کرنے کی خاطر سہ پہر چار بجے کے طے شدہ وقت کی بجائے صبح گیارہ بجے ہی تدفین پر

صفحہ ٢٨٣

مجبور کر دیا گیا۔ عابد تہامی نے عامر چیمہ کی گرفتاری اور شہادت کے حوالے سے پارلیمانی اداروں، سیاسی جماعتوں اور میڈیا کے رویوں کا تجزیہ بھی کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صوبائی، قومی اسمبلیوں اور سینٹ نے بحیثیت مجموعی دینی اور قومی اہمیت کے حامل اس مسئلے کا کماحقہ حق ادا نہیں کیا۔ عابد تہامی کے بقول سرکاری جماعت اور حکومت کے رویوں کی تفہیم تو ممکن ہے مگر حیران کن طور پر حکومت میں شامل اور باہر دینی اور سیاسی جماعتوں نے بھی اس معاملے میں خاصی سرد مہری اور غفلت کا اظہار کیا۔ ایم ایم اے کی ایک بڑی جماعت نے محض ایک سیمینار پر اکتفا کیا جبکہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن پر مشتمل سیاسی اتحاد اے آر ڈی نے روشن خیالی کے مروج ایجنڈے کے پیش نظر یا پیش خطرہ محض اس معاملے کی منصفانہ تحقیقات کی بات کر کے اپنے تئیں گویا اس نان ایشو کو نمٹا دیا۔ عابد تہامی کی ریسرچ سے اس نازک اور حساس معاملے میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی آؤٹ پٹ سے بھی کئی سوالات نے جنم لیا ہے کیونکہ جرم اور تشدد کی انتہائی سطحی خبروں تک کو بڑھا چڑھا کر ایکسپلائٹ اور ایکسپوز کرنے والے بیشتر اخبارات اور چینلز نے ناموس رسالت کے حوالے سے ایک جرمن جیل میں اس پُراسرار شہادت کے بارے میں خاصی سرد مہری کا مظاہرہ کیا جبکہ چند اخبارات نے اپنے مخصوص پس منظر کے باعث خبروں، اداریوں اور کالموں کی صورت میں اس ایشو کا حق ادا کرنے کی حتی المقدور کوشش کی۔ عابد تہامی کی اس ریسرچ رپورٹ میں عامر چیمہ کی شہادت پر متعدد حوالوں سے بحث کی گئی ہے اور ایسے ٹھوس بنیادی سوالات اٹھائے گئے ہیں جن کے جواب ملے بغیر عامر چیمہ کی شہادت کو خودکشی قرار دینے کی ہر شعوری یا غیر شعوری کوشش نہ صرف فوری طور پر مشکوک محسوس ہونے لگتی ہے بلکہ انسانی عقل کی بہت ابتدائی اور بنیادی کسوٹی ہی اسے یکسر مسترد کرنے کے لیے کافی محسوس ہوتی ہے۔ عامر چیمہ کی مبینہ خودکشی کے خلاف عابد تہامی نے جو دلائل دیے ہیں ان کے مطابق عامر چیمہ کے سیل (جس کا پاکستانی ایف آئی اے کی ٹیم کو دورہ کرنے کی اجازت تک نہیں دی گئی) سے ایسے کوئی شواہد دستیاب اور محسوس نہیں ہوتے جو اس کی خودکشی پر دال ہوں۔ جرمن حکام کے مطابق (اور ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے طارق کھوسہ کی موجودگی میں پوسٹ مارٹم کے دوران) عامر چیمہ کی شہ رگ کٹی ہوئی تھی جبکہ اس کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔ اب بندھے ہوئے یا باندھے گئے ہاتھوں کے ساتھ ازخود کوئی

صفحہ ٢٨٤

بھلا کیسے اپنی شہ رگ کاٹ سکتا ہے یا انتہائی ناکافی اونچائی کی حامل سیل کی کھڑکی سے اپنے ہی کپڑوں سے مبینہ طور پر بنائی گئی ”رسی“ سے کوئی بھلا کیسے زبردست زور آزمائی کرتے ہوئے ایسی پھانسی لے سکتا ہے جس کے بعد نہ تو اس کی گردن کا منکہ ٹوٹا ہو، نہ زبان یا آنکھیں ہی باہر نکل آئی ہوں۔ مگر یہ وہ معمہ ہے جو بخوبی سمجھ میں بھی آتا ہے اور اتنی ہی آسانی سے سمجھایا بھی جاسکتا ہے مگر افسوس کہ پاکستانی حکومت اور حکام اپنی آنکھوں پر چڑھائی گئی عینک کے شیشوں سے بس وہی منظر دیکھنا چاہتے ہیں جو انھیں دیکھنے کے لیے پروگرام کیا گیا ہے۔ عابد تہامی کا تجزیہ یہی آشکار کرتا ہے کہ حقائق کو جاننے کے لیے پاکستانی حکومت اور حکام نے انتہائی نیم یا بے دلی سے جو کچھ بھی کیا تو اسے سوائے، گوگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔ پاکستان کی دو رکنی تفتیشی ٹیم کے ساتھ جرمن حکام کے عدم تعاون اور تفتیش اور انصاف کے بنیادی تقاضوں سے بھی انحراف پر پاکستانی حکومت کے ردعمل پر راضی برضا یا صبر شکر کا عنوان جمایا جاسکتا ہے، جبکہ جرمن حکام کے نام وزارت خارجہ کے 30 سوال ہنوز تشنہ جواب ہیں کیونکہ انھیں ہدایت دی گئی ہے کہ جرمن عدالتی اتھارٹی کو یہ سوالات پاکستانی عدلیہ کے ذریعے دوبارہ بھجوائے جائیں۔ خود عابد تہامی کی طرف سے وزارت خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم کے نام گیارہ استفسارات کے جوابات انھیں کتاب کی اشاعت سے بس کچھ ہی دیر پہلے مل تو ضرور گئے مگر یہ جواب بھی اس سانحے کے پاکستانی اور جرمن حکومتوں پر مبنی دونوں فریقوں سے متعلق چند نئے سوالات کو جنم دینے کا باعث بن گئے ہیں۔ عابد تہامی نے اپنی ریسرچ رپورٹ میں مختلف حوالوں سے جرمن حکومت ہی نہیں عالمی ضمیر کے سامنے بھی مندرجہ ذیل تیرہ سوالات رکھے ہیں۔

کرنے کی ضرورت کیوں محسوس نہ کی گئی؟

اپنے دفاع کے لیے تمام مروجہ سہولیات فراہم کی گئیں؟ کون سا سرکاری وکیل فراہم کیا گیا؟ سماعت کے لیے کون سی تاریخ متعین کی گئی؟

صفحہ ٢٨٥

اس نے خودکشی کی۔ کیا وہ اس حوالے سے کوئی ایسی دستاویزات سامنے لاسکتے جن سے یہ ثابت ہو کہ 20 مارچ سے 3 مئی تک اس کا کوئی نفسیاتی چیک اپ کروایا گیا؟

اتنی غفلت کیسے برتی گئی کہ اس نے جرمن حکومت کے مطابق خودکشی کر لی؟

انتہائی اہم اور بے حد حساس اعلان کیوں کیا کہ عامر چیمہ کو زیر حراست ہلاک نہیں کیا گیا بلکہ اس نے خودکشی کی ہے؟

میں پائی گئی سفیدے کی موجودگی کا جواز کیا ہے۔ جیل حکام نے اس کی کیا توجیہ پیش کی؟

کیوں کی؟

حکام کی تفتیشی رپورٹ کی تفصیلات جاری کر دی جائیں گی مگر یہ مرحلہ اب تک کیوں نہیں آیا؟

اپنی عبوری تحقیقاتی رپورٹ پیش کر دی ہے تاہم ہم اس وقت تک مطمئن نہیں ہوں گے جب تک جرمن حکومت ہمارے 30 سوالوں کے تسلی بخش جواب نہیں دیتی۔ کیا آپ بتانا پسند کریں گے کہ ان 30 سوالوں کے جوابات دینے میں کیا چیز حائل اور مانع ہے اور اگر نہیں ہے تو اس عمل میں تاخیر کا سبب کیا ہے؟

ورثا کو ایک خط دیا گیا (اور اس کے بھی دو صفحات حذف کر لیے گئے) آخر کیوں؟

پانچ روز کا ویزا کیوں جاری کیا گیا؟ پوسٹ مارٹم کے دوران بھی محض ایک رکن کی

صفحہ ٢٨٦

موجودگی کو کافی کیوں سمجھا گیا؟ عامر چیمہ کے روم میٹ ، تفتیش کرنے والے حکام اور متعلقہ افسران سے ملاقاتوں کی اجازت کیوں نہ دی گئی؟

کٹی ہوئی تھی، ہاتھ بندھے ہوئے تھے جبکہ اس کی گردن کی ہڈی نہیں ٹوٹی تھی۔ اس تناظر میں بندھے ہاتھوں کے ساتھ کوئی اپنی شہ رگ کاٹ کر خود کشی کیسے کر سکتا ہے؟ اور مزید یہ کہ ناکافی اونچائی کی حامل کھڑکی سے از خود پھانسی کیونکر لی جاسکتی ہے؟

پاکستانی عدالت کے ذریعے جرمن حکومت کی بجائے متعلقہ جرمن عدالت کو بھجوائے؟

تاہم عابد تہامی کی ریسرچ میں اٹھائے گئے سوالات کی اس بہت بڑی گرداب میں کم از کم ایک جواب روز روشن کی طرح عیاں ہو گیا ہے کہ عامر چیمہ نے ہرگز ہرگز خودکشی نہیں کی تھی۔ اسے کسی سازش کے تحت شہید کیا گیا اور اس سے بھی کہیں بڑی سازش کے تحت اس کی شہادت کے چاند کو خود کشی کے گرہن سے گہنانے کی کوششیں ہنوز جاری ہیں۔

٭.....٭.....٭

صفحہ ٢٨٧

حافظ سجاد ستی

عامر شہید...... ہمارے قتل کو کہتے ہیں، خودکشی کی ہے

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے لڑائی کے میدان میں اپنا خیمہ نصب کرایا اور قیدیوں کو سامنے لانے کا حکم دیا۔ عیسائی بادشاہ گائی اور اس کا بھائی رینجی نالڈ دونوں خیمے میں لائے گئے۔ سلطان نے عیسائی بادشاہ کو اپنے پہلو میں بٹھایا، اسے پیاسا دیکھ کر ٹھنڈا پانی پلایا، گائی نے پانی پیا اور بچا ہوا پانی رینجی نالڈ کو دے دیا۔ سلطان یہ دیکھ کر غضب ناک ہو گیا اور ترجمان کے ذریعے گائی کو کہا ”میں اس شخص کو پانی نہیں دینا چاہتا تھا۔ ہم جسے اپنا روٹی نمک دیتے ہیں وہ محفوظ سمجھا جاتا ہے، مگر یہ بدبخت میرے جذبۂ انتقام سے نہیں بچ سکتا۔“

سلطان ایوبی اتنا کہہ کر اٹھ کھڑا ہوا اور رینجی نالڈ سے کہا ”سن! میں نے تجھے قتل کرنے کی دو مرتبہ قسم کھائی تھی۔ ایک مرتبہ اس وقت جب تو نے مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ زادہا اللّٰہ شرفاً (اللّٰہ ان کی عظمت کو زیادہ کرے) جیسے مقدس شہروں پر حملہ کرنا چاہا تھا اور دوسری مرتبہ اس وقت جب تو نے دھوکے سے حجاج کے قافلے پر حملہ کیا تھا اور بیکس و بے بس حاجیوں سے گستاخانہ طور پر کہا تھا کہ اپنے محمد (ﷺ) سے کہو کہ وہ تمہیں مجھ سے بچائیں اور تمہاری مدد کریں۔ یہ بکواس تو نے اس وقت کی جب حاجیوں نے رحم کی درخواست کی تھی۔“ سلطان نے تلوار نکالی اور رینجی نالڈ سے کہا ”دیکھ! میں اب تیری گستاخی اور توہین کا انتقام لیتا ہوں۔“ اتنا کہہ کر اپنے ہاتھوں سے اس کا سر قلم کر دیا اور پھر فرمایا ”لو! یہ رہا حضرت محمد ﷺ کی توہین کا بدلہ۔“

عشقِ نبی مومن کی وہ میراث ہے جو شاہ و گدا، حاکم و محکوم، اطاعت شعار اور گناہگار تمام مسلمانوں کے ایمان کا حصہ ہے۔ جب سے اسلام اور عیسائیت کا آمنا سامنا ہوا، اس وقت سے عیسائیت اور یورپ نے اسلام کے خلاف اپنی جنگ کا مرکز و ہدف ذاتِ محمدی (ﷺ) اور رسالتِ محمدی ﷺ کو بنا رکھا ہے۔ مغرب کا دورِ ظلمت (Dark Ages) ہو یا

صفحہ ٢٨٨

ازمنہ وسطی (Medieval Ages)، روشن خیالی کا زمانہ ہو یا موجودہ غلبے اور تسلط کا عہد، مغرب نے حضور اکرم ﷺ کی سیرت مطہرہ کو داغدار کرنے کے لیے زبان وقلم دونوں کا بے محابا استعمال کیا۔ سائنٹیفک انداز فکر، علمیت اور غیر جانبداری کے تمام تر دعوؤں کے باوجود الزامات اور دشنام طرازی میں کبھی فرق نہیں آیا۔ بقول نارمن ڈینیل (Norman Deniel) ’’ہم انتہائی غیر جانبدار سکالر کی تحریر بھی پڑھیں تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ قدیم عیسائیت نے اسلام اور محمد ﷺ کے بارے میں جو انداز فکر و گفتگو اختیار کیا تھا، وہ انداز ہمیشہ ہر مغربی ذہن کالازمی جزو رہا ہے اور آج بھی ہے۔‘‘ (Islam and the West: The Making of Image) ہفت روزہ اکانومسٹ (لندن) نے 1996ء میں یہ اعتراف کیا ’’آج رسالت محمدی پر ایمان ویقین ہی مغربی تہذیب کے لیے واحد حریف اور سب سے بڑا خطرہ ہے اور یہی ایمان مسلمانوں کے لیے بے پناہ قوت کا سرچشمہ ہے۔‘‘ روح محمد ﷺ کو مسلم قوم کے بدن سے نکالنے کے لیے مغرب وقفے وقفے سے اہانت رسالت کا ارتکاب کرتا رہتا ہے، نائین الیون کے بعد اس مہم میں خاصی تیزی آئی ہے۔ اس سے قبل مسلم قوم کے احتجاج کے بعد کچھ عرصہ کے لیے خاموشی اختیار کر لی جاتی یا اسے زبان و قلم کی پھسلن سے تعبیر کر کے جان چھڑائی جاتی تھی مگر اس بار ایک منصوبہ بندی کے تحت توہین رسالت کا ارتکاب کیا گیا اور پھر اس آگ کو بھڑکانے کے لیے پورا مغرب ’’آزادی اظہار‘‘ کی آڑ میں تسلسل کے ساتھ جلتی پر تیل ڈالتا رہا، جس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ 30 ستمبر 2005ء کو ڈنمارک کے اخبار جیلینڈز پوسٹن نے 12 شیطانی خاکے شائع کیے، اس پر مسلم دنیا کا ردعمل کمزور رہا تو جنوری 2006ء میں 22 ممالک کے 75 اخبارات و رسائل میں انہیں دوبارہ شائع کیا گیا۔ 200 ریڈیو اور ٹی وی چینلوں پر انہیں بار بار نشر کیا گیا۔ ہالینڈ کے اخبارات نے ان توہین آمیز خاکوں کو ہر ہفتے شائع کرنے کا اعلان کیا تاکہ مسلمان اس کے عادی ہو جائیں۔ اٹلی کے ایک وزیر نے ان خاکوں کی ٹی شرٹ استعمال کی اور اسے بطور فیشن فروغ دینے کا اعلان کیا۔ بش اور بلیئر سمیت دوسرے مغربی حکمرانوں نے ڈنمارک کو تعاون کا یقین دلایا تو ڈنمارک کے وزیر اعظم نے کہا ’’اسلامی دنیا کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہم تنہا نہیں ہیں۔‘‘

14 فروری 2006ء کو ڈیلی ٹائمز میں ڈینش وزیر اعظم کا یہ بیان چھپا تو 18 فروری کو کارٹونسٹ کرٹ ویسٹر گارڈ (Kurt Westtergaurd) نے ہیرالڈ میگزین کے اس

صفحہ ٢٨٩

استفسار پر کہ کیا اسے خاکوں کی اشاعت پر افسوس ہے؟ جواب دیا ”نہیں“ اور کہا کہ ”اس کے پیچھے ایک جذبہ (دہشت گردی کی بے نقابی) کارفرما تھا جسے اسلام سے روحانی اسلحہ فراہم ہوتا ہے۔“ امت مسلمہ نے ابتداً محتاط لیکن بعد میں مغرب کی عالمی مہم کو دیکھتے ہوئے سیاسی کمزوری کے باوجود غیرت ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھرپور احتجاج کر کے تاریخ کا ایک نیا باب رقم کیا۔ یہ جنگ طویل اور فیصلہ کن ہے۔ مغرب کو اپنی بقا کا معاملہ درپیش ہے اس لیے اگر وہ حربی، تقریری، تحریری اور میڈیا کی قوتوں کو حضور اکرم ﷺ اور اسلام کے خلاف بے دردی سے استعمال کر رہا ہے تو مسلمانوں میں بھی اپنے دین، ایمان، قرآن اور نبی کی ناموس کی حفاظت کے لیے جان کی بازی لگانے کا شعور بیدار ہو رہا ہے۔ عامر نذیر چیمہ بھی ان خوش نصیب افراد میں سے تھا جسے عشقِ رسول نے غازی علم دین شہید، غازی عبدالرشید اور دوسرے غازیانِ ناموسِ رسول کی صف میں اس وقت شامل کر دیا جب فروری 2006ء میں ایک جرمن اخبار ”ڈی ویلٹ“ نے پیغمبر اسلام کے توہین آمیز خاکوں کو دوبارہ شائع کیا تو عامر نے اس کے ایڈیٹر ہنرک بروڈر (Henryk Broder) پر ایک تیز دھار چاقو سے حملہ کیا۔ اسے 20 مارچ کو گرفتار کیا گیا، تین دن بعد عدالت سے ریمانڈ لیا گیا جس کے بعد مقدمہ چلائے بغیر برلن کے ایک بدنام زمانہ جیل میں رکھا گیا جو ”موآبٹ“ کے علاقے میں واقع ہے۔

یہ جیل اب سے 130 برس قبل تعمیر کی گئی۔ یہ سخت قواعد و ضوابط، قیدیوں اور حوالاتیوں کی اموات اور خودکشی کی تعداد کے حوالے سے اپنی پہچان رکھتی ہے۔ سیاسی انقلاب کے دوران مشہور شخصیات بھی یہاں قید رہیں جن میں مشرقی جرمنی کے آخری حکمران ”ایرش ہونیکر“ مشرقی و مغربی جرمنی کے اتحاد کے بعد یہاں قید رہے۔ برلن کی ریاستی پارلیمنٹ (ایوانِ نمائندگان) نے موآبٹ سمیت برلن کی 5 جیلوں کے اعداد و شمار اکٹھے کیے تو معلوم ہوا کہ پانچوں جیلوں میں 58 اموات ہوئیں جن میں سے 29 خودکشیاں تھیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جیل میں تشدد اور غیر انسانی سلوک روا رکھا جاتا ہوگا۔ گوانتا نامو بے اور ابوغریب کی مثالیں دنیا کے سامنے ہیں۔ ”موآبٹ“ جیل میں 1999ء تا 2000ء 30 خود کشیاں ہوئیں، 2001ء سے 2005ء تک جن 20 افراد کی موت واقع ہوئی ان میں سے 12 حوالاتی تھے جن میں سے 8 نے خودکشی کی۔ عامر پر اس کے دوست سعود قاسم کے بقول کیمرے نصب تھے، ایسے میں خودکشی کو جرمنوں کا ڈرامہ ہی کہا جا سکتا ہے۔

صفحہ ٢٩٠

خودکشی (Suicide) کسی شخص کے خود کو قصداً اور غیر قدرتی طریقے سے ہلاک کرنے کے عمل کو کہتے ہیں۔ دنیا میں 85 فیصد افراد ذہنی خرابی اور 15 فیصد دیگر امراض کے سبب خودکشی کرتے ہیں۔ کالوں کے مقابلے میں سفید فام زیادہ تعداد میں خودکشی کرتے ہیں، جاپان میں خودکشی کو ایک مقدس اور بہادرانہ فعل سمجھا جاتا ہے، جاپانی اسے ہاراکری (Harakiri) (اچھا انجام) کہتے ہیں اور یہ تلوار سے پیٹ پھاڑ کر خودکشی کا روایتی طریقہ ہے۔ پہلے یہ طریقہ عام تھا، اب 51 فیصد جاپانی پھانسی 9.5 فیصد غرقابی 14 فیصد گیس اور بجلی کا استعمال اور 2 فیصد ہاراکری کرتے ہیں۔ 1976ء میں خودکشی کی سب سے زیادہ وارداتیں ایک خوشحال ملک آسٹریا میں ہوئیں جہاں 1818 افراد نے خودکشی کی، سویڈن دوسرے اور امریکہ تیسرے نمبر پر رہا۔

خودکشی اسلام سمیت تمام الہامی مذاہب میں حرام ہے۔ خودکشی کے زیادہ تر واقعات مغرب میں ہوتے ہیں، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ روشن خیالی اور مادیت نے لوگوں کا تعلق خدا سے توڑ دیا ہے، جب انہیں کاروبار، عشق اور دیگر معاملات میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے تو وہ خودکشی کرکے غم زمانہ سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ مسلم معاشروں میں خودکشی کی اموات نہ ہونے کے برابر ہیں، آج اگر ایسی اموات معاشرے میں ہونے لگی ہیں تو اس کی بنیادی وجہ بھی مذہب اور خدا سے بیگانگی ہے۔ غازی عامر عبدالرحمن چیمہ کا اوڑھنا بچھونا عشق مصطفیٰ ﷺ تھا۔ غازی علم دین شہید کے تذکرے سے اپنے دل کو بہلانے والا جو ناموس رسالت پر قربان ہونے کو اپنی زندگی کی معراج سمجھتا ہو، ایوبی کے اس فرزند سے ایسی توقع ممکن ہی نہیں۔

مغرب کا طریقہ واردات یہ ہے کہ وہ اپنے گناہوں کو چھپانے کے لیے دوسروں کو گناہگار ثابت کرتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف مہم اس کی واضح مثال ہے جو جھوٹ کی بنیاد پر شروع کی گئی۔ ظالم مظلوم کا روپ دھارے ہوئے افغانستان و عراق اور فلسطین میں مسلمانوں کا قتل عام کر رہے ہیں۔ عامر کی روح پکار پکار کر ان کے ”بے لاگ انصاف“ کی گواہی دے رہی ہے۔

عجیب لوگ ہیں، کیا خوب منصفی کی ہے
ہمارے قتل کو کہتے ہیں، خودکشی کی ہے
صفحہ ٢٩١

ڈاکٹر قیصر رشید

عامر چیمہ کی شہادت اور پس پردہ محرکات

ہم اس موت کو خودکشی ماننے پر اس لیے مجبور ہیں کہ ہمیں تصویر کے صرف ایک رخ کا علم ہے یعنی کہ اخبار Die Welt کے عملے نے جو کچھ الزام عائد کیا اور جرمن پولیس نے جو کچھ اپنی رپورٹ میں کہا۔ مگر ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے طارق کھوسہ جو کہ عامر کے آخری پوسٹ مارٹم کے وقت برلن میں موجود تھے اور ایک دو رکنی ٹیم کی قیادت کر رہے تھے۔ انھوں نے سینیٹ کی کمیٹی کے سامنے یہ بیان دیا کہ عامر چیمہ کا جسد خاکی جب پھندے میں جھول رہا تھا تو اس کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے اور یہ کہ دوران پوسٹ مارٹم ان کے دل کی نالی کٹی ہوئی پائی گئی۔ یہ بیانات ہمیں تصویر کے دوسرے رخ میں جھانکنے کا موقع اور استطاعت فراہم کرتے ہیں۔

ایک نوجوان جو پوسٹ گریجویشن کرنے کے لیے جرمنی گیا ہو وہ کیونکر خود کشی کا فیصلہ کرے گا؟ اس سوال کو اس تناظر میں بھی دیکھنے کی ضرورت کہ عامر چیمہ نومبر 2004ء میں جرمنی گیا اور مارچ 2006ء میں سمسٹر بریک کے موقع پر برلن گیا تا کہ وہ Technical University میں مزید پڑھ سکے۔ یعنی اپنے مستقبل کے بارے میں پُر امید اور مزید کاوشوں پر تیار ایسا شخص یقیناً ایک مایوس شخص نہیں ہو سکتا اور خود کشی نہیں کر سکتا۔

جتنے لوگوں نے ابھی تک اس معاملے پر اخبارات اور میڈیا پر رائے دی ہے وہ برلن، جرمنی میں نہیں رہے ہیں اگر رہے بھی ہیں تو ان کا واسطہ ایک پاکستانی کی حیثیت سے جرمنی کے اخباروں، عدالتوں، پولیس اور دوسرے اداروں سے اتنا نہیں ہوا ہے جتنا کہ شاید میرا۔ یاد رہے کہ میں یہاں ان پاکستانیوں کا ذکر نہیں کر رہا ہوں جو کہ سیاسی پناہ کے لیے جرمنی میں موجود ہیں کیونکہ ان کا معاملہ مختلف ہے۔

صفحہ ٢٩٢

مندرجہ ذیل باتیں میرے علم اور تجربے کی ہیں جو کہ برلن، جرمنی میں میرے علم میں آئیں اور میرے ساتھ پیش آئیں میں ان کی روشنی میں عامر چیمہ کے کیس کا ایک تنقیدی جائزہ پیش کرتا ہوں۔

جرمنی میں کسی اخبار کے ایڈیٹر کو ملنا تقریباً ناممکن کام ہے اگر یہ ممکن بھی ہو تو مقصد ملاقات اور وقت ملاقات پہلے سے طے کیا جاتا ہے۔

عموماً ایڈیٹر اپنے کسی جونیئر سٹاف یعنی رپورٹر کی ڈیوٹی لگاتے ہیں کہ وہ مہمان یا شکایت کنندہ کی بات سنے اور ان تک پہنچائے۔ اس کے لیے بھی رائج طریقہ E-mail اور ٹیلیفون ہے۔ اگر بالفرض مقصد ملاقات اور وقت ملاقات طے ہو بھی جائے تو ملنے کے لیے آنے والا مہمان استقبالیہ دفتر پر آ کر بتاتا ہے اور انتظار کرتا ہے وہاں موجود نگراں اسے اندر نہیں جانے دیتا۔ طریقہ کار کے مطابق میزبان خود یا اپنے کسی اسٹاف کے ذریعے دفتر استقبالیہ پر آ کر مہمان کو ساتھ بلڈنگ کے اندر لے جاتا ہے اور واپسی پر اسی طرح چھوڑ کر جاتا ہے۔ یہ طریقہ کار برلن کے تمام اداروں میں رائج ہے۔

یہ کہا جا سکتا ہے کہ عامر چیمہ اپنے مذہبی رجحانات کی وجہ سے Die Welt کے دفتر واقع Axil-Springer گیا ہو گا مگر اسے دفتر استقبالیہ پر ہی روک دیا گیا ہوگا۔ جب Die Welt توہین آمیز خاکے شائع کر رہا تھا تو یہ بات اس کے سٹاف کو معلوم ہوگی کہ جرمنی بالعموم اور برلن بالخصوص میں مقیم مسلمان (خاص طور پر ترک اور فلسطینی جو کہ وہاں کافی تعداد میں ہیں) مشتعل ہو سکتے ہیں جیسا کہ اس سے پہلے ڈنمارک اور یورپ کے دوسرے ملکوں میں ہو چکے تھے۔ اس لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ Die Welt کے ایڈیٹر یا اس اخبار کے عملے نے عامر سے اخبار کے دفتر میں ملنے پر آمادگی ظاہر کی ہو اور اس موضوع پہ بات کرنے پر ہامی بھری ہو۔ اس لیے ممکن یہی ہے کہ عامر بغیر کسی پیشگی اطلاع کے Die Welt کے دفتر گیا ہوگا اور ایڈیٹر کو ملنے پر اصرار کیا ہو گا اور جو کوئی بھی تلخی ہوئی ہو گی وہ دفتر استقبالیہ کے نگراں کے ساتھ ہی ہوئی ہو گی۔

باقی بات کہ عامر کے پاس سے ایک چاقو برآمد ہوا تو یہ کیسے ثابت ہو سکتا ہے کہ وہ عامر کے پاس سے ہی برآمد ہوا تھا۔ یہ ایک علیحدہ بات کہ وہ چاقو کس قسم کا ہے۔ پھر پولیس کی تحویل میں ہونے والے ایسے کسی اعتراف کی کیا قانونی حیثیت ہے؟ یہ بات کھل جاتی اگر

صفحہ ٢٩٣

عامر کا کورٹ میں ٹرائل ہوتا اور اسے وکیل مہیا کیا جاتا۔

میں نے جرمن آرتھرائٹس ریسرچ سینٹر (DRFZ)، برلن کو 23 ستمبر 2002ء کو ایک PHD سٹوڈنٹ کی حیثیت سے جوائن کیا۔ مجھے لیوپس کی بیماری کے علاج کے دریافت کا ایک پراجیکٹ الاٹ ہوا۔ جب میں کامیاب تجربات کر چکا اور اپنے سپروائزر کے علم میں لا چکا تو بغیر وجہ بتائے اور بغیر کسی پیشگی اطلاع کے 11 نومبر 2002ء کو مجھے ادارہ سے نکال دیا گیا۔ یہ بات معاہدے کے خلاف تھی جس کے مطابق ادارہ پر لازم تھا کہ وہ مجھے 15 دن پہلے معاہدہ ختم کرنے کا تحریری نوٹس جاری کرے۔ میں نے 12 نومبر 2002ء کو ادارہ سے تحریری گزارش کی کہ جو کام میں نے کیا ہے، اس کا ایک سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے۔ اس کے جواب میں ادارہ نے یکے بعد دیگرے تین سرٹیفکیٹ جاری کیے جو کہ غلطیوں سے پُر تھے اور یہ کہ یہ سرٹیفکیٹ کسی پتھالوجی کے پراجیکٹ کے متعلق تھے جس پر کہ میں نے کام ہی نہیں کیا تھا اس پر میں نے 12 دسمبر 2002ء کو ایک خط کے ذریعے چوتھی دفعہ ادارہ سے صحیح سرٹیفکیٹ مانگا مگر آج تک ادارہ نے اسے جاری نہ کیا باوجود اس کے کہ ان تجربات کی ادارہ ہذا سے ہی تصدیق شدہ رزلٹ کی کاپیاں ابھی تک میرے پاس ہیں۔

7 فروری 2003ء کو یہ واقعہ مختلف جرمن اخباروں کے نوٹس میں تحریری طور پر لے کر آیا اور کہا کہ وہاں کے اخبار پاکستان کے متعلق تو بہت کچھ لکھتے ہیں۔ وہ ذرا اپنے گریبان میں بھی جھانک کر دیکھیں کہ یہاں پر کس قسم کی قانون شکنی اور زیادتی ہوتی ہے۔ اس پر Die Welt کی انگریزی ڈیسک سیکشن کی رپورٹر مس سلویا میکسر (Silvia Meixner)، (mixner@welt.de) نے 24 فروری 2003ء کو مجھے E-mail بھیجی اور فون نمبر 2591-73636 کے ذریعے بات کرنے کا کہا۔ میں نے جب فون کیا تو انھوں نے کہا کہ ’’تمہارا رویہ تو تمھارے لیڈروں سے قطعی مختلف ہے کیونکہ تمھارے لیڈر تو ہمارے سامنے سر اٹھا کر بات نہیں کرتے۔‘‘ یہ بات سننے کے بعد میرے اور ان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا اور پھر گفتگو ختم ہو گئی۔

آج میں سمجھتا ہوں کہ وہ ٹھیک کہہ رہیں تھیں۔ عامر چیمہ کے کیس کو جس طرح پاکستان گورنمنٹ نے ہینڈل کیا ہے اور تقریباً اسی وقت جرمن سفیر Gunter Mullack نے جس طرح سے پاکستان کو مختلف مراعات اور امداد دینے کا اعلان کیا ہے، اس نے ہمارے

صفحہ ٢٩٤

لیڈروں کے سروں کو جھکائے رکھا ہے۔

عامر کو 20 مارچ کو گرفتار کیا گیا اور اس کی موت 3 مئی کو واقع ہوئی۔ سوال یہ ہے کہ اگر اس نے خودکشی ہی کرنی تھی تو 21 مارچ کو کیوں نہ کر لی۔ اس نے 40 دن کیوں انتظار کیا اب تو 4 دن کے بعد اسے عدالت میں پیش کیا جانا تھا تا کہ پبلک میں باقاعدہ کورٹ ٹرائل ہو سکے۔ اب مایوسی کی کیا وجہ رہ جاتی تھی؟

دوسرا یہ کہ اس کی موت کے دن صبح کو اس کو جگایا گیا۔ سب قیدی 7:30 بجے اپنے سیل سے باہر چلے گئے، سوائے عامر کے۔ آدھے گھنٹے بعد جب عامر پیچھے اکیلا رہ گیا تو اس کی لاش تقریباً 8:00 بجے اپنے ہی ایک کپڑے یا ازار بند سے لٹکتی ہوئی ملی اور یہ کہا گیا کہ اس نے خودکشی کر لی ہے۔ سوال یہ ہے کہ عامر نے رات کو خودکشی کیوں نہ کی جب انسان پر مایوسی زیادہ طاری ہوتی ہے؟ کیا وہ جیل اتنی بے ترتیب تھی کہ باقی قیدیوں میں عامر کی غیر موجودگی کا کسی نے نوٹس نہ لیا؟ مزید یہ کہ عین اس کی موت کے وقت سیل کے خفیہ کیمرے بند کیوں ہو گئے تھے؟

یہ کہنا کہ عامر کی موت تشدد کے ذریعے نہیں ہوئی جیسا کہ ایک جرمن ڈاکٹر Volkmar Schneider (Pathologist) نے کہا ہے اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ اس نے خودکشی کی ہوگی۔ مزید یہ کہ اس ڈاکٹر نے یہ ثابت نہیں کیا کہ عامر کی موت خودکشی کا نتیجہ ہے۔ اسے زہر دے کر بھی یا بیہوش کر کے پھانسی کے پھندے میں جھلایا بھی جا سکتا ہے۔ یہ واقعہ نازی کیمپ کی یاد دلاتا ہے جہاں پر قیدیوں کو گیس چیمبرز میں مار دیا جاتا تھا۔ ان کے جسموں پر تشدد کے کوئی نشان نہیں ہوتے تھے۔

اس واقعہ کو ایک خاص پس منظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

پذیر تھے اس لیے امریکہ میں ایک خیال یہ ہے کہ جرمنی نے امریکہ کے خلاف القاعدہ سے چشم پوشی کی ہے۔

مخالفت کی اور اپنی فوجیں نہ بھیجیں۔

صفحہ ٢٩٥

Angela Merchal برسر اقتدار آگئیں اور انھوں نے آتے ہی امریکہ سے دوستی باندھ لی۔

اس لیے یہ ممکن ہے کہ عامر کو القاعدہ کارکن ہونے کے شک میں گرفتار کیا گیا ہو اور اس کی سخت تفتیش کی گئی ہو وگرنہ چالیس دن تک پولیس کی حراست میں اسے رکھنے کی کیا ضرورت تھی۔ یاد رہے کہ جب پاکستان ایمبیسی کا ایک فرد اس سے ملنے 18 اپریل کے بعد پولیس جیل گیا تو عامر کے ہاتھوں کو پیچھے سے بندھا ہوا پایا جیسے کہ وہ بہت ہی خطرناک مجرم ہو۔

جب عامر سے کوئی معلومات نہ برآمد ہوئی ہوں گی اور جرمنی امریکہ کو یہ کہہ کر خوش نہ کر سکا ہوگا کہ ایک اہم القاعدہ کا رکن گرفتار ہو گیا ہے اور فلاں فلاں معلومات حاصل ہوئی ہیں، اسے دنیا سے ہی رخصت کرنا بہتر سمجھا گیا کیونکہ اس کی رہائی کے بعد یہ پنڈورہ باکس کھل جاتا کہ اس سے کس کس نے کیا کیا پوچھا اور ایک جرمن ذہن کس طرح کام کر رہا ہے۔

مجموعی طور پر عامر کی موت کو دو اہم تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔

-Attitude)

جرمن نسل پرست اور انتہا پرست رویہ کے متعلق مندرجہ ذیل حقائق پر روشنی ڈالنا ضروری ہے۔ جرمنی بنیادی طور پر ایک Unicultural Society ہے جس میں رنگ، نسل اور زبان کے اعتبار سے جرمن بستے ہیں۔ یہ لوگ Multiculturalism سے شروع سے ہی نفرت کرتے ہیں۔ یعنی اپنے رنگ، نسل اور زبان میں ملاوٹ کو برداشت نہیں کرتے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ماضی میں ایک جرمن (ہٹلر) اسی رنگ، نسل اور زبان کو پوری دنیا پر حاوی کرنا چاہتا تھا مگر آج کا جرمن اسی رنگ، نسل اور زبان کو اپنے ملک میں ملاوٹ سے بچانے پر تلا ہوا ہے اور سب کچھ کر گزرنے کو تیار ہے۔

آج کے دور میں اس Uniculturalism کو سب سے بڑا چیلنج Schroeder نے کیا۔ ان کا خیال یہ تھا کہ جرمنی یورپ کی سب سے بڑی اکانومی ہونے کے باوجود انگلینڈ سے ٹیکنالوجی اور ترقی میں بہت پیچھے ہے تو کیوں نہ انگلینڈ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہنر مند اور پڑھے لکھے غیر ملکیوں کو جرمنی میں لایا جائے اور ان سے ترقی کا کام لیا جائے۔

صفحہ ٢٩٦

اس لیے بائیں بازو کے Schroeder نے برسراقتدار آنے کے فوراً بعد جولائی 2000ء میں جرمن گرین کارڈ سکیم متعارف کرائی۔ اس کا الٹا اثر یہ ہوا کہ جرمنی میں بے روزگاری بڑھ گئی۔ شروڈر کے برسراقتدار آنے کے وقت 4 ملین بے روزگار تھے اس لیے جب شروڈر نے مارچ 2003ء میں ایجنڈا 2010ء متعارف کرایا تو جرمنوں میں مزید بے چینی پھیل گئی۔ رہی سہی کسر جرمن امیگریشن ایکٹ 2005ء نے نکال دی، جس کے تحت پڑھے لکھے غیر ملکی جرمنی میں آکر رہ سکتے تھے اور کام کر سکتے تھے۔ ستمبر 2005ء میں بے روزگار جرمنوں کی تعداد 5 ملین تک جا پہنچی۔

اس صورت حال سے دو ردعمل ظاہر ہوئے۔

میں الیکشن میں اس کی شکست سے ظاہر ہوا بلکہ وہ غیر ملکیوں کے خلاف بھی ہو گئے خاص طور پر جو کالے بال اور کالی جلد کے تھے۔

لائف میں غیر ملکیوں کو تنگ کرنا، آوازے کسنا، مار پیٹ کرنا وغیرہ زیادہ ہوا۔

شروڈر کو یہ بات سمجھ نہ آسکی تھی کہ کوئی بھی قانون جو کہ ایک سوسائٹی کی سوچ اور اقدار کے خلاف بنایا جائے، وہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اس لیے اپنے ساتھ غیر ملکیوں کا بھی نقصان کر گیا۔

اگر Statistics کو دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ 2005-2001ء کے دوران پاکستان سے مڈل کلاس کے پڑھے لکھے نوجوانوں کا جرمنی میں جانے کے رجحان میں اضافہ ہوا۔ اس وقت جرمنی کا قانون تو ان کے آنے، رہنے، پڑھنے اور کام کرنے کے درمیان رکاوٹ نہیں بن رہا تھا مگر وہاں کی سوسائٹی اس بات کے لیے تیار نہ تھی۔ یاد رہے کہ یہ پالیسی شروڈر کے الیکشن 1998ء جیتنے کے بعد بنائی گئی تھی اس لیے شروڈر کے بہت سے ساتھی اسے چھوڑ کر دائیں بازو کی پارٹیوں میں شامل ہو گئے۔

پاکستانی طالب علموں پر جو ظلم ہے وہ یہ کہ انھیں صحیح حقائق کا علم جرمنی جا کر ہوتا ہے۔ پاکستان میں موجود جرمن ایمبیسی اپنے ملک کی آزادی رائے اور جمہوریت وغیرہ کا جو نقشہ کھینچتی ہے حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے۔

صفحہ ٢٩٧

مجھے یاد ہے کہ ایک جرمن جرنلسٹ Hans B Bremer (hansbbremer@mail.com) روزنامہ The News میں ہر بدھ کو ہفتہ وار کالم (Outsider Insider) لکھا کرتے تھے۔ اس میں وہ جا بجا پاکستانی سوسائٹی، سیاست اور اکانومی پر تنقید اور جرمنی کی تعریفیں کرتے تھے۔ میں نے تحریری طور پر ان کی توجہ جرمنی کے Neo-Nazi حقائق کی طرف دلائی مثلاً میں نے ان سے یہ پوچھا کہ جرمنی میں یہ سلوگن کیوں مشہور ہے کہ غیر ملکی مجرم ہوتے ہیں۔ میں نے انھیں کافی مہینے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ ستمبر 2005ء کے الیکشن میں دائیں بازو کی حکومت آ رہی ہے کیونکہ میں جرمنی کی سوسائٹی اور جرمن ذہن کو اچھے طور پر جانتا ہوں۔ مزید یہ کہ میں نے ان سے یہ بھی کہا وہ پاکستان کے اخباروں میں غلط لکھ رہے ہیں۔ نتیجے کے طور پر شروڈر کے الیکشن ہارنے کے ساتھ ہی بریمر صاحب بھی غائب ہو گئے اور اخبار میں لکھنا بند کر دیا۔ لیکن نقصان تو اصل میں پاکستان کے طالب علموں اور ان کے والدین کا ہوا۔

اہم اور دلچسپ بات یہ ہے کہ نسل پرست جرمنوں کی سب سے زیادہ بھرتی جرمن پولیس میں ایک پالیسی کے مطابق ہوئی ہے۔ جب ایسی نسل پرست جرمن پولیس کے ہاتھ عامر چیمہ آیا ہوگا تو انھوں نے کیا کیا ستم نہ ڈھائے ہوں گے۔ اس پر طرہ یہ کہ عامر چیمہ کی گرفتاری ایک ایسا موقع بھی تھا کہ اسے القاعدہ کا رکن ثابت کر کے امریکہ کے سامنے نمبر بنائے جاسکتے تھے۔ اس لیے یہ عین ممکن ہے کہ مندرجہ بالا دونوں وجوہات نے اکٹھے کام کیا ہو اور عامر کی موت پر منتج ہوئی ہوں۔

سوئی ہوئی ایمبیسی اس وقت جاگی جب پارلیمنٹ نے 18 اپریل کو اس سے عامر کے بارے میں پوچھا۔ اس ایمبیسی کا رویہ انتہائی افسوسناک ہے۔ پاکستان ایمبیسی کے علم میں آنے کے تقریباً 15 دن کے بعد یعنی 3 مئی کو عامر کی موت ایک بہت بڑا سوالیہ نشان پیچھے چھوڑ جاتی ہے۔

ایمبیسی کے کام کی ایک مثال میں آپ کو بیان کرتا ہوں۔

8 جولائی 2003ء کو میں ذاتی طور پر اس وقت کے پاکستانی سفیر مسٹر آصف ایزدی کو ملا اور انھیں اپنے مسائل سے آگاہ کیا اور DRFZ سے ایک صحیح ریسرچ سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے مدد چاہی لیکن انھوں نے مدد کرنے سے انکار کر دیا۔ میں نے 11 جولائی

صفحہ ٢٩٨

2003ء کو ایک خط ایمبیسی میں جمع کروایا کہ مجھے ادارہ ہذا سے کیوں نکالا گیا اور میں نے یہ بھی پوچھا کہ پاکستانی طلباء کے ساتھ کیا ہو رہا ہے اور ایمبیسی خاموش کیوں بیٹھی ہے؟ مگر اس کا ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا ہے۔

پاکستانی پارلیمنٹ نے عامر کے لیے دعائیں مانگ کر اچھا کیا ہے مگر اس سے بڑھ کر اچھا یہ ہوتا کہ ایمبیسی سے اس کی کارگزاری کی رپورٹ طلب کی جاتی۔ پاکستانی سفیر کو طلب کیا جاتا اور حقیقت پوچھی جاتی اور ایمبیسی کو پابند کیا جاتا کہ وہ Vienna Convention کے ذریعے ملنے والی ڈپلومیٹک Immunities and Privileges کے صرف مزے نہ اٹھائیں بلکہ پاکستانیوں کے لیے کام کریں اور ان کا خیال رکھیں۔ اگر ایمبیسی اپنا کردار صحیح ادا کرتی تو یہ واقعہ کبھی بھی رونما نہ ہوتا اور عامر کی جان بچ سکتی تھی۔

مجھے اس بات کا دکھ ہے کہ فارن آفس کی Spokesperson مس تسنیم اسلم نے ایک پریس بریفنگ میں عامر چیمہ کو دہشت گرد قرار دیا ہے۔ عامر چیمہ ایک دہشت گرد نہیں بلکہ سچا مسلمان تھا۔ اس کو اپنے جذبات کے اظہار کا پورا حق حاصل تھا۔ برلن میں موجود ترکش اور فلسطینیوں سے بہتر مسلمان تو وہ نکلا۔ وہ کسی مصلحت کو مدنظر نہ رکھتے ہوئے رسول پاک ﷺ کے توہین آمیز خاکوں کی اخبار میں اشاعت کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے Die Welt کے دفتر پہنچ گیا۔ اس پر عامر تعریف کا مستحق ہے۔ دوسری طرف Die Welt اور اس طرح کے دوسرے اخباروں کو مسلمانوں کے جذبات کا خیال رکھنا چاہیے۔ آج کی دنیا باہمی انحصار کی دنیا ہے نہ تو مسلم دنیا یورپ کے بغیر رہ سکتی ہے اور نہ ہی یورپ مسلم دنیا کے بغیر اچھی زندگی گزار سکتا ہے۔ گلوبل ولیج (Global Village) آج کل دنیا کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ ہم سب کو اسے تسلیم کرنا چاہیے اور ایک دوسرے کی باہمی عزت کے ساتھ زندگی گزارنی چاہیے۔

صفحہ ٢٩٩

زبیر احمد ظہیر

عامر چیمہ شہید پر خودکشی کا جھوٹا الزام.....!

کیا جرمنی کی پولیس کا عامر چیمہ شہید پر خودکشی کا الزام ثابت ہو جائے گا؟ اس سوال کے جواب کی اگر چہ اب زیادہ ضرورت نہیں رہی کیونکہ عامر شہید نے توہین رسالت کے مرتکب ایڈیٹر پر حملے کا ارادہ تسلیم کر لیا تھا۔ اس لیے مسلم دنیا اور بالخصوص پاکستانی عوام نے اسے شہید ناموس رسالت کے اعزاز سے نواز دیا جس کا وہ بجا طور پر حق دار تھا۔ حملے کے ارادے کے اعتراف کے بعد خودکشی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ جان جوکھم میں ڈالنے والے موت سے نہیں ڈرا کرتے۔ خودکشی کا آسان ترجمہ ”بزدلی کی موت“ ہے۔ بھرے ہوئے دفتر اور درجنوں کے مقابلے میں ایک اکیلے شخص کا حملہ آور ہونا بزدلی نہیں، بہادری کہلاتا ہے۔ یہ ساری دلیلیں مل کر اور کڑیاں جڑ کر عامر کو خودکشی کے الزام سے بری کر دیتی ہیں۔ مگر عامر چیمہ نے چونکہ شہید ناموس رسالت کا عظیم رتبہ پایا ہے لہٰذا اب عامر کے دامن سے اس داغ کو دھونا اور اسے اس جھوٹے الزام سے بری کرانا مذہبی، قومی اور ملی فریضے کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ عامر کی 20 مارچ کو گرفتاری سے لے کر 4 مئی کو شہادت تک طویل عرصے میں یہ کیس عدالت میں پیش نہیں ہونے دیا گیا۔ دوسری بات یہ کہ عامر کی موت کو خودکشی ثابت کرنے کے لیے جرمن پولیس نے جو کہانیاں گھڑی ہیں ان میں سے کوئی ایک بھی واقعات کا تسلسل رکھتی ہے نہ وقوعہ اور جائے وقوعہ ان کہانیوں سے مطابقت رکھتا ہے اور نہ ہی انھیں تقویت دیتا ہے۔

جرمن پولیس نے پہلے وارڈ سے چھری برآمد کی جس کے وارڈ تک پہنچنے اور اس کے عامر کی جانب سے استعمال کا کوئی ثبوت نہیں، اس لیے کہ خودکشی کرنے والے عموماً آسان

صفحہ ٣٠٠

ترین ذریعے سے اپنی جان لیتے ہیں اور چھری سے موت کسی طور پر بھی آسان نہیں۔ خودکشی کرنے والا اپنے گلے پر بھی خود چھری نہیں چلا سکتا، ایک طریقہ چھری کو زمین میں گاڑ کر اپنے آپ کو اس پر گرا دینے کا ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ بھی اذیت ناک ہے لیکن عامر کے پیٹ پر ایسا کوئی گہرا گھاؤ نہیں تھا۔ اس کے سینے پر ایک چیر تھا جو پاکستانی ٹیم کی موجودگی میں پوسٹ مارٹم کے لیے لگایا گیا تھا۔ یہ چیر اس لیے لگایا جاتا ہے کہ زہر خوری یا دوسرا کوئی خفیہ سبب موت معلوم کیا جاسکے۔ مثلاً عارضہ قلب وغیرہ۔ ظاہر ہے عامر کے سینے کے چیر کو پیٹ کا چیر نہیں کہا جاسکتا، اور نہ چھری پر گرنے کا۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ چھری وارڈ میں گاڑی بھی نہیں جاسکتی کیونکہ جیل کا فرش کچا نہیں ہوتا، یہ تو چھری کی کہانی تھی جو بذات خود مفروضے پر مبنی ہے۔

جرمن پولیس کی دوسری کہانی کپڑوں کے ذریعے پنکھے سے پھندا لگانے کی ہے جس کا کوئی ثبوت نہیں، پھر وارڈ میں پنکھے کا وجود؟ اگر اس کہانی کی کڑیاں درست سمت جارہی ہوتیں تو پاکستانی ٹیم کو جیل یعنی جائے وقوعہ کا معائنے کرنے سے نہ روکا جاتا اور نہ ہی عامر کے قیدی ساتھی سے ملاقات سے روکا جاتا۔ جرمن پولیس نے خودکشی ثابت کرنے کے لیے جتنی بھی کہانیاں بنائی ہیں اگر ان میں واقعات کا تسلسل ہوتا اور وہ عقل اور وقوعہ کے مطابق ہوتیں تو ان پر پاکستانی تحقیقاتی ٹیم 30 سوالات نہ کرتی۔ یہ 30 سوالات معمولی سوالات نہیں جنھیں پاکستانی ٹیم نے وزارت خارجہ کے توسط سے برلن روانہ کیا۔ یہ بنیادی اور ٹیکنیکل سوالات ہیں جن کے تسلی بخش جوابات کے بغیر خودکشی ثابت کرنے کی کوئی کہانی مکمل نہیں ہوسکتی۔ اس پر مستزاد کہ برلن جانے والی پاکستانی ٹیم کے سربراہ طارق کھوسہ جو ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ہیں، کا یہ کہنا ہے کہ عامر کی موت کا سبب معلوم نہیں ہوسکا لیکن یہ طے ہے کہ عامر کی موت گردن ٹوٹنے سے نہیں بلکہ شہ رگ کٹنے سے ہوئی ہے۔ پھندے سے گردن کا منکا ٹوٹ جاتا ہے جس سے موت واقع ہو جاتی ہے۔ یہ خودکشی ہوتی ہے یا پھانسی ہوتی ہے۔ اگرچہ اس میں بھی یہ ضروری نہیں ہوتا کہ مرنے والے نے ہی پھندا لگایا ہو، پھندا کوئی اور بھی لگا سکتا ہے لیکن شہ رگ کٹنے کی بات نے اتنا ثابت کردیا ہے کہ موت کا سبب کوئی بھی رہا ہو مارنے والے کی مہارت کا اس میں عمل دخل ضرور ہے کیونکہ عامر کی گردن پر جو ہلکی سی خراش تھی، وہ خراش بھی ایسی ہے جسے عامر کے اہل خانہ گہرے مطالعے کے باوجود بھی نوٹ نہیں کر سکے۔

بظاہر نہ دکھائی دینے والے اس زخم کا مطلب یہی لیا جاسکتا ہے کہ اس کام میں ماہر

صفحہ ٣٠١

ہاتھوں نے تربیت کا مکمل مظاہرہ کرتے ہوئے ہاتھوں کی بھرپور صفائی دکھائی ہے۔ عامر کی گردن پر موجود اسی معمولی خراش کو ہم نے کیسے تلاش کیا، اس کا ذکر بعد میں آئے گا، یہاں یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ایک معمولی خراش سے پھندے کی رگڑ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو محض ایک معمولی خراش سے ثابت نہیں ہو سکتی کیونکہ پھندے کی رگڑ گردن پر پورا دائرہ اور حلقہ بناتی ہے جو ایک معمولی خراش سے ثابت نہیں کی جا سکتی۔ دوسری دلیل اس پر یہ ہے کہ دم گھٹنے سے جو موت واقع ہوتی ہے اس میں انسان کی آنکھیں پوپٹوں سے باہر نکل آتی ہیں، خون جم کر چہرے کو کالا کر دیتا ہے لیکن عامر کا جسد خاکی موت کے 8 دنوں بعد پاکستان پہنچا ہے، اس کے چہرے پر کرب اور ملال کے نقوش کی بجائے ہلکی سی مسکان کے نقوش تھے۔ جنھوں نے چہرہ دیکھا وہ دیکھتے ہی رہ گئے۔ ان تمام ٹیکنیکل کمزوریوں کو جرمن حکومت اور پولیس کا پروپیگنڈا بھی بڑی تقویت دیتا ہے جس کا ذکر ہم کرنے جا رہے ہیں۔ یہ پروپیگنڈا چغلی کھا رہا ہے کہ اتنی جلد بازی کے پردے میں کچھ نہ کچھ چھپا رہ گیا ہے۔

4 مئی کو شہادت کے بعد عامر کا 10 مئی کو پوسٹ مارٹم ہوتا ہے۔ اس پوسٹ مارٹم کے وقت پاکستانی ٹیم کو شامل رکھا جاتا ہے۔ پوسٹ مارٹم جس جرمن پیتھالوجسٹ نے کیا ہے اس کا نام رولف مارشمیئرز ہے۔ اس کی رپورٹ کو جرمن نیوز ایجنسی کے ذریعے منظر عام پر لایا گیا اور اس جرمن نیوز ایجنسی نے 12 مئی کو رپورٹ فائل کر دی۔ 13 مئی کو اسی رپورٹ کو گلف ٹائمز نے شائع کیا۔ رپورٹ میں جرمن پیتھالوجسٹ نے کہا ہے کہ عامر کی گردن پر جو خراشیں ہیں وہ خودکشی سے مشابہت رکھتی ہیں۔ گلف ٹائمز نے اس رپورٹ میں پوسٹ مارٹم رپورٹ کے پس منظر کے طور پر جرمن پولیس کے دو متضاد بیانات بھی دیے ہیں۔ ایک میں جرمنی کی پولیس نے عامر کے وارڈ سے چھری برآمد کر لی تھی اور دوسرے بیان کے مطابق اس نے اپنے کپڑوں سے خود کو پھندا لگایا تھا۔ یاد رہے کہ جرمن ڈاکٹر کی پوسٹ مارٹم رپورٹ اس وقت منظر عام پر لائی گئی جس وقت یہ ٹیم ابھی پاکستان بھی نہیں پہنچی تھی۔

جرمن ڈاکٹر کی رپورٹ اس لیے دلیل نہیں بن سکتی کہ جرمن پولیس خود فریق ہے اور اس نے خودکشی کا الزام لگایا ہے۔ یہ رپورٹ تب معتبر سمجھی جاتی جب پاکستانی ٹیم اپنا منہ کھولتی۔ دوسرا جھول یہ ہے کہ پاکستانی ٹیم نے یہ رپورٹ 16 مئی کو وزارت داخلہ میں جمع کرائی ہے اور اس سے ایک دن پہلے جرمن نیوز ایجنسی نے پھر یہ خبر چلا دی کہ پاکستان ٹیم نے خودکشی کی

صفحہ ٣٠٢

تصدیق کر دی ہے، اس خبر کو 16 مئی کو خلیج ٹائمز نے شائع کیا۔ 15 مئی کو جرمن نیوز ایجنسی کی خبر کا کیا مطلب نکالا جائے؟ یہ بھی دھیان رہے کہ پاکستان میں موجود جرمن سفیر بھی ہر روز افسوس کے ساتھ ساتھ خودکشی پر بھی اصرار کرتے رہے۔ ابھی تک ایف آئی اے کا اپنی رپورٹ پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا تھا، اس کے ساتھ ہی جب رپورٹ کا جائزہ لیا گیا تو بے ربط کہانیوں نے 30 سوالات کو جنم دیا اور 30 سوالات کو وزارت داخلہ نے وزارت خارجہ کے توسط سے برلن بھیج دیا۔ ایف آئی اے کی ٹیم اور وزارت خارجہ کو فوری جوابات کا انتظار تھا۔ پھر 25 مئی کو سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی نے پاکستانی ٹیم کے سربراہ طارق کھوسہ کو طلب کر لیا جنھوں نے بھانڈا پھوڑ دیا کہ موت گردن ٹوٹنے سے نہیں بلکہ شہ رگ کٹنے سے ہوئی ہے، تاہم انھوں نے کہا کہ صحیح سبب معلوم نہیں۔ ہم نے سوالات بھیج دیے ہیں، اب تک جواب نہیں آیا۔ ہمارے خیال میں ان 30 سوالات کے جوابات کے لیے جرمن پولیس کو مزید 30 کہانیاں گھڑنی پڑیں گی تب بھی اصل سبب معلوم ہوتا نظر نہیں آتا اور اگر یہ اصل سبب معلوم نہ ہوا تو یہ سمجھا جائے گا کہ عامر پر خودکشی کا الزام ثابت نہیں ہو سکا لہٰذا اس کالم کی پہلی سطر کے سوال کا جواب نفی میں ہوگا۔

صفحہ ٣٠٣

حفصہ صدیقی

توہین رسالت ﷺ اور مغرب کی رواداری

ڈنمارک کے اخبار Jyllad Posten میں نبی کریم ﷺ کے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت پر احتجاج کی لہر میں، ڈنمارک کے معافی نہ مانگنے کے باوجود کمی آئی ہی تھی کہ جرمنی میں عامر چیمہ کی ناموس رسالت ﷺ کے لیے شہادت نے ایک دفعہ پھر عالم اسلام اور پاکستان میں غم و غصے کی لہر بھر دی۔ عامر چیمہ نے ایسا کیوں کیا؟ یقیناً اہل مغرب کے بہت سے حامی عامر چیمہ کے اس اشتعال کو Intolerance قرار دیں گے اور جرمن پولیس کی حرکت ردعمل کہلائے گی۔ کیا ڈنمارک کے اخبار کے مدیر کو یہ معلوم نہیں تھا کہ اس کا کیا ردعمل ہوگا۔ یقیناً انھیں مسلمانوں کے اس ردعمل کا اچھی طرح اندازہ تھا۔ مگر ان کا کہنا ہے کہ وہ ایسی حرکت کو توہین نہیں سمجھتے بلکہ یہ Mockery یا Joke تھا جسے مسلمانوں کو برداشت کرنا چاہیے تھا کیونکہ مغرب آزادی (Freedom) کا حامی ہے۔

مغرب کی اس دلیل کو روشن خیالی اور اعتدال پسندی سے بھی جوڑا گیا، مگر کیا مطلق آزادی یا Absolute Freedom کا کوئی وجود ہے؟ کیا مغرب جو ”آزادی“ یا Freedom کا دعوے دار ہے وہاں موجود ہے؟ Philosophy of desire کے مفکر Lewis کو اس بات کا شدت سے قلق تھا کہ ابھی ہم آزاد کہاں ہوئے ہیں؟ ہم پابندیوں کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ ابھی تک مغرب میں ماں بیٹے، بیٹی باپ، بہن بھائیوں کے رشتوں کی حرمت موجود ہے۔

یہاں آزادی کے تمام دعوے باطل ہو جاتے ہیں اور خاص قسم کی اقدار و روایات کا غلبہ آزاد معاشرے کے تصور کو تہس نہس کر دیتا ہے، یعنی دنیا میں کہیں بھی مطلق آزادی موجود نہیں ہے۔ حال ہی میں برطانیہ نے تمام اخبارات پر پابندی لگائی تھی کہ وہ الجزیرہ کے حوالے

صفحہ ٣٠٤

سے بش بلیئر خط و کتابت سے متعلق کوئی خبر شائع نہ کریں۔ برطانیہ میں Pornographical Websites (فحش تصویروں والی ویب سائٹس) کے خلاف سخت کارروائی کی گئی۔

ہر ملک کی اپنی قابل احترام علامات ہیں جن کے خلاف بات کرنا جرم سمجھا جاتا ہے۔ امریکہ میں یہ مقام امریکی پرچم، دستور اور Founding Fathers کو حاصل ہے۔ ان کی توہین کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جاتی ہے۔ فرانس میں یہ مقام پبلک کو حاصل ہے۔ برطانیہ میں پارلیمنٹ اور جنگی ہیروز کی توہین کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ یہودیوں کے لیے تورات اور ہولوکاسٹ سے انکار سنگین جرائم ہیں۔

توہین رسالت ﷺ کے ردعمل میں ہونے والے واقعات اور عامر چیمہ کی شہادت نے یہ ثابت کر دیا کہ مسلمان Tolerant نہیں ہیں، وہ اپنے آپ کو ’الحق‘ سمجھتے ہیں، باقی تمام دنیا کو باطل سمجھتے ہیں۔ مغربی رواداری کا مطلب یہی ہے کہ سب کو برابر سمجھنا، تمام انداز، روایات، مذاہب، اصولوں، تہذیبوں کو یکساں سطح پر دیکھنا، ان کے مابین تفریق نہ کرنا، کسی ایک نظریے پر دوسرے نظریات کو فوقیت نہ دینا ہے، کیونکہ اگر آپ اپنے مذہب، تصور، قدر اور روایات کو دوسرے سے برتر سمجھیں گے، افضل جانیں گے تو ناقابل تسخیر اختلافات شروع ہو جائیں گے۔

اگرچہ ڈنمارک میں انسداد حرمت مذاہب Blasphemy کا قانون موجود ہے مگر اس پر کئی دہائیوں سے عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے اسے غیر فعال قرار دیا جا رہا تھا۔ اس کے باوجود ڈنمارک کی حکومت نے اس مسئلے پر یہ کہہ کر معذرت کرنے سے انکار کر دیا کہ:

Nothing illegal has been done, because no one has been found guilty by a court. The Government of Denmark can not interfere with the media.

صفحہ ٣٠٥

عابد تہامی

میرے بیٹے کو پاکستانی پولیس طریقے سے قتل کرایا گیا

عامر شہید کے والد پروفیسر نذیر چیمہ سے خصوصی انٹرویو

عامر شہید کی شہادت کے بعد اخبارات میں جو خبریں، آرٹیکل، کالم وغیرہ چھپتے رہے، ان کو پڑھنے کے بعد واقعات اور تاریخوں یا اعداد و شمار میں ایک تشنگی سی دیکھنے کو ملتی ہے۔ میں نے ضروری سمجھا کہ چیزوں کا تسلسل صرف اسی صورت میں قائم رہ سکتا ہے، اگر ایک خصوصی تفصیلی انٹرویو عامر شہید کے والد، والدہ اور بہنوں سے کیا جائے۔ اس سلسلہ میں میں اپنے دوست کے ہمراہ 11 جون 2006ء کو صبح ڈھوک کشمیریاں۔ سیٹلائٹ ٹاؤن راولپنڈی عامر شہید کے گھر جس پر اب شہید منزل لکھا ہوا ہے، پہنچا۔ شہید کے گھر تعزیت کے لیے آنے والوں کا سلسلہ اُسی طرح جاری ہے۔ پروفیسر نذیر احمد، ان کی بیوی، ان کی بیٹیوں کو دیکھ کر مجھے کہیں بھی یہ شائبہ تک نہیں ہوا کہ ان کا بیٹا وفات پا گیا ہے۔ بوڑھے والدین کے اتنے بلند حوصلے کسی نوجوان فرمانبردار، سعادت مند زندہ بیٹے کے ہی ہو سکتے ہیں، اور شہید تو زندہ ہوتا ہے، جس کی گواہی قرآن پاک دیتا ہے۔ آئیے یہ انٹرویو پڑھتے ہیں جو نئے انکشافات بھی سامنے لاتا ہے۔

عابد تہامی: عامر شہید کی پیدائش کب اور کہاں ہوئی؟

پروفیسر نذیر: میرا بیٹا عامر 4 دسمبر 1977 کو محلہ گڑھی اعوان حافظ آباد میں پیدا ہوا۔ اس کے ماموں محمد اسلم نے اس کو گڑھتی دی جو ایک دو روز پہلے حج کر کے واپس آئے تھے۔ انہوں نے ہی پیدائش کا اندراج حافظ آباد میں کرایا۔ چونکہ یہ اندراج 6 دسمبر کو ہوا تھا اس لیے جنم پرچی اور شناختی کارڈ کے ”ب“ فارم پر یہی تاریخ درج ہے۔ اسی تاریخ کے مطابق

صفحہ ٣٠٦

شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بنا۔ عامر ساڑھے چار سال تک حافظ آباد میں ہی رہا۔ میرے والدین گوجرہ میں رہتے تھے۔ میری تعلیم گوجرہ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ہوئی۔ پھر میں نے سرکاری ملازمت اختیار کر لی۔ میری ساری سروس گورنمنٹ حشمت اسلامیہ کالج ہی کی ہے اور گذشتہ برس اس کالج سے ریٹائر ہوا ہوں۔

س: شروع سے لے کر ٹیکسٹائل انجینئرنگ کرنے تک عامر کو آپ نے کیسے دیکھا؟

ج: عامر شروع سے ہی ایک سنجیدہ لڑکا تھا۔ اس کی عام لڑکوں کی طرح دوستیاں نہ تھیں۔ زیادہ تر گھر میں رہتا، پڑھائی میں توجہ دیتا۔ ابھی یہ تیسری کلاس میں تھا تو ایک دن اس نے مجھ سے سوال کیا ”ابا جی عجیب وغریب کیا ہوتا ہے؟“ میں نے اس وقت تو جواب نہ دیا۔ میں نے کہا کہ میں آپ کے اردو کے ٹیچر سے پوچھ کر بتاؤں گا۔ اردو کے ٹیچر نے اس کا مطلب یہ بتایا ”حیران کرنے والا مسافر“ عامر کو مذہب سے شروع سے ہی لگاؤ تھا مگر وہ کبھی بھی کسی مذہبی تنظیم یا طلبہ تنظیم سے کسی طرح بھی منسلک نہ رہا۔ وہ ایف ایس سی میں پڑھتا تھا کہ ایک دن مجھے کہتا ہے کہ میں نے میتھ کی ٹیوشن پریتم کیانی سے پڑھنی ہے۔ میں نے کہا کہ وہ تو سکول ٹیچر ہیں، تم ان سے کیوں پڑھنا چاہتے ہو؟ کہنے لگا دراصل وہ گستاخ رسول ﷺ ہے اور میرے نزدیک وہ واجب القتل ہے۔ میں نے اسے سمجھایا کہ تم ایسی سوچ نہ سوچو اور پڑھائی کی طرف توجہ دو۔ پھر یہ بات ختم ہو گئی۔

س: جرمنی میں داخلہ لینے کے کیا مقاصد تھے؟

ج: عامر کی خواہش تھی کہ پاکستان میں ٹیکسٹائل کی اعلیٰ تعلیم کا کوئی ادارہ نہیں۔ پھر اس نے جاب کے دوران ہی وہاں اپلائی کیا ہوا تھا۔ جب اسے داخلہ مل گیا تو ہم نے روکنے کی بجائے پیسوں کا بندوبست کیا۔ ویسے میں اسے جانتا تھا کہ یہ مغربی معاشرے میں مس فٹ ہے۔ مگر ہم انکار نہ کر سکے۔

س: آخری مرتبہ کب پاکستان آیا؟

ج: گزشتہ برس جولائی، اگست، ستمبر میں ادھر ہی تھا۔ پھر جرمنی جانے کے لیے بذریعہ کراچی گھر سے روانہ ہوا تو کراچی میں اپنے چچا کے ہاں قیام کیا۔ وہاں کوئی مچھلی کھانے کے بعد طبیعت تھوڑی سی خراب ہو گئی۔ جب جرمنی روانہ ہوا تو جہاز میں

صفحہ ٣٠٧

مزید طبیعت خراب ہو گئی۔ ائیر لائن اسے دبئی چھوڑ گئی تاکہ صحت فٹنس کے بعد سفر کرے۔ اس نے مجھے وہاں سے فون کیا تو میں نے کہا تم کچھ دنوں کے لیے واپس آجاؤ اور پھر چلے جانا۔ وہ واپس پنڈی آکر پندرہ بیس دن رہا اور ستمبر اکتوبر میں جرمنی روانہ ہوا۔

س: عامر کی گرفتاری کب ہوئی اور کس کے ذریعے آپ کو خبر ملی؟

ج: عامر کی گرفتاری 20 مارچ 2006ء کو ہوئی مگر ہمیں 7 اپریل کو پتہ چلا۔ عامر دوسرے تیسرے دن گھر فون کرتا رہتا تھا۔ جب کچھ روز فون نہ آیا تو ہمیں تشویش ہوئی۔ ہم نے اس کی کزن کوثر جو برلن میں رہتی تھی اس کو فون کیا مگر انہوں نے خاموشی اختیار کی۔ مزید تشویش پر ہم نے حافظ آباد اپنے داماد رب نواز کو فون کیا کہ وہ اپنی بہن کو فون کر کے عامر کا پتہ کرے۔ پھر جا کر معلوم ہوا کہ وہ ایڈیٹر کو قتل کرنے کے جرم میں گرفتار ہوا ہے۔

س: گرفتاری کی خبر سننے کے بعد کیا آپ نے پاکستانی سفارتخانے سے پتہ کیا، ان سے رابطہ کیا؟ کیا پاکستانی سفارتخانے نے آپ سے رابطہ کیا اور قانونی مدد کے لیے کوئی بات چیت ہوئی؟

ج: سچی بات یہ ہے کہ ہم نے پاکستانی سفارتخانے سے رابطے کی کوشش کی مگر ہمارا رابطہ نہ ہو سکا۔ ہم نے وزارت خارجہ کے دفتر میں بھی متعدد فون کیے مگر کوئی ہماری بات سننے کے لیے تیار نہ تھا۔ ہمیں آج تک حکومت، وزارت خارجہ یا سفارت خانے کی طرف سے بھی کسی کی کوئی قانونی امداد نہ دی گئی اور نہ ہی ایسی امداد دینے کا ذکر ہوا۔ 9 اپریل کو اخبار میں گرفتاری کی خبر شائع ہوئی تو سب سے پہلے فرید احمد پراچہ نے مجھ سے رابطہ کیا۔ وہ میرے پاس تشریف لائے اور کہا ہم اس پر سفارتخانے سے رابطہ کرتے ہیں۔ ان کی کوششوں کے بعد جرمنی میں ہمارا پاکستانی سفارتخانے کے نائب سفیر سے رابطہ ہوا۔ مگر انہیں قطعی طور پر کوئی علم نہ تھا یا انہوں نے جاننے بوجھتے ہمیں لاعلم رکھا۔ اس رابطے کے کئی دنوں بعد خالد عثمان کا فون آیا ”دیکھئے جی آپ کے بیٹے عامر نے اخبار کے ایڈیٹر کو قتل کرنے کے لیے حملہ کیا ہے اور یہاں پاکستانیوں کے لیے مسائل اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ان کی سخت چیکنگ شروع

صفحہ ٣٠٨

ہوگئی ہے۔ میں آپ کے بیٹے سے فون پر بات کی ہے۔ وہ ہشاش بشاش ہے‘ اور بس فون بند ہوگیا۔ ہم نے اپنے عزیز زمان بھون کے ذریعے چوہدری شجاعت سے رابطہ کیا۔ چوہدری شجاعت کے پاس ایک اخبار کے دو رپورٹر رحمن بھٹہ، عارف حبیب گئے، انہوں نے کہا کہ پاکستانی طالب علم وہاں گرفتار ہو گیا ہے، کیا حکومت اس کے لئے کچھ کرے گی؟ اس پر انہوں نے کہا کہ حکومت کے لیے تو بڑے مسائل پیدا ہو جائیں گے۔ آپ خاموش رہیں، میں انصار برنی کو کہہ دیتا ہوں، وہ کچھ کرتا ہے۔ لیکن انہوں نے بھی کچھ نہ کیا۔ پھر اچانک ایک دن 4 مئی کو وزارت خارجہ کے ایک شخص ٹیپو کا ہمارے گھر فون آیا کہ آپ کا بیٹا جو جرمنی میں گرفتار ہوا تھا اس نے خودکشی کر لی ہے۔ انسانیت نام کی بھی کوئی چیز ہے کہ آپ کسی بوڑھے باپ کو اطلاع کر رہے ہیں تو اچانک یہ خبر سنا دیتے ہیں۔ چاہیے تو یہ تھا کہ حکومت کی طرف سے کوئی خط لکھا جاتا، کسی شخص کو گھر بھیجا جاتا۔ کسی انسان کی موت پہ ایسا نہیں کیا جاتا ہے۔ پھر وہ انسان جس نے ناموس رسالت ﷺ کے لیے جان دی ہو، جس نے اپنے جرم کا اعتراف کیا کہ شان رسول ﷺ میں گستاخی کرنے والے کو قتل کرنا ہے اور اگر گرفتاری کے بعد مجھے موقع ملا تو اسے واصل جہنم کروں گا۔

س: شہادت کی خبر کے بعد آج تک کیا حکومت کی طرف سے آپ سے رابطہ کیا گیا؟ آپ کو انکوائری کی کوئی رپورٹ کوئی تحریری رپورٹ دی گئی؟

ج: آج تک حکومت کے کسی فرد/ وزارت خارجہ وغیرہ کی طرف سے بالکل کوئی رابطہ نہ کیا گیا۔ شہادت کی خبر کے بعد ہم نے مطالبہ کیا کہ جسد خاکی کو فوری پاکستان لایا جائے۔ میرے گھر شیخ رشید آئے۔ انہوں نے کہا ہم جلد میت لانے کی کوشش کریں گے۔ سینیٹر طارق عظیم آئے، انہوں نے کہا کہ آپ خاموشی اختیار کریں، ہم 14 مئی تک میت لے آئیں گے۔ میں نے ان سے کہا کہ جب میت آئے تو ہمیں تنگ نہ کیا جائے۔ اور عامر کی وصیت کے مطابق اسے دفنانے دیا جائے۔ انہوں نے ایسا ہی وعدہ کیا۔ وزیر اعظم شوکت عزیز کا فون آیا تو انہوں نے بھی ایسا ہی وعدہ کیا۔ وفات کی خبر شائع ہونے کے تین چار دن بعد چوہدری شجاعت کا

صفحہ ٣٠٩

فون آیا یا کسی نے ان سے کرایا۔ میں گھر میں نہیں تھا، یہ میری بیٹی کشور نے سنا تھا۔

کشور: چوہدری شجاعت کا فون آیا کہ ہم میت کو جلد پاکستان لا رہے ہیں، آپ خاموش رہیں۔ تو میں نے کہا کہ اب جب ہمارا بھائی فوت ہو گیا تو آپ کو فون کرنے کا ہوش آیا ہے۔ ہم سب سے پہلے مدد کے لیے آپ کے پاس گئے تھے۔ آپ نے ٹال دیا۔ آپ کو یاد نہیں کہ آپ کا بھانجا مرا تھا تو آپ کی کیا کیفیت تھی۔ ہمارے بھائی کو تو مارنے والے آپ ہیں۔ اب آپ فون کر کے ہم سے کیا چھیننا چاہتے ہیں؟

پروفیسر: سچی بات تو یہ ہے کہ میرے بیٹے کو پاکستان کی شخصیات نے انصار برنی کے ذریعے پاکستانی پولیس کے طریقہ سے قتل کرایا ہے۔ عامر چیمہ پر جو کیس تھا، اس نے اعتراف کیا کہ وہ گستاخ رسول کو قتل کرنا چاہتا تھا۔ اگر اسے موقع ملا تو پھر بھی ایسا ہی کرے گا۔ جرائم کی جو دفعات اس پر لگائی گئی تھیں اس پر تو زیادہ سے زیادہ ڈی پورٹ کر دیا جاتا۔ اسے عدالت لے جانے سے پہلے ہی مار دیا گیا کہ کہیں عدالت میں بھی وہ اسی طرح کا بیان دے گا تو پوری دنیا کے میڈیا پر شور مچے گا، پاکستانی حکومت کو اس کیس کی پیروی کرنا پڑے گی۔ اس لیے عدالت جانے سے پہلے ہی یہ قصہ تمام کر دیا گیا۔ آپ ذرا سنیے ایک ایم این اے غلام سرور چیمہ کی موجودگی میں جب چوہدری شجاعت کو کسی نے یہ خبر دی کہ پاکستانی طالب علم عامر چیمہ جرمنی جیل میں ہلاک ہو گیا تو فوری طور پر ان کے منہ سے نکلا ”اسے بھی کسی نے جنت کی بشارت دی ہو گی۔“

س: آپ نے میت کا پوسٹ مارٹم کیوں نہیں کرایا؟

ج: میں نے پوسٹ مارٹم اس لیے نہیں کرایا کہ مجھے حکومت پر قطعی طور پر اعتماد نہیں۔ ہمارے ساتھ ہر چیز میں جھوٹ بولا گیا۔ ہمیں کہا گیا کہ وصیت کے مطابق اسے دفن کریں۔ پنڈی میں نماز جنازہ ہو گی۔ اچانک 12 مئی جمعہ کی شام پنڈی کے ڈی سی او اور ڈی پی او میرے گھر آ گئے اور کہا کہ یہ حکم ہے کہ آپ لاہور چلیں، وہاں میت آئی ہو گی اسے وصول کریں پھر ساروکی میں دفن کریں۔ جب میں نے تحریری حکم نامہ مانگا تو انہوں نے کہا کہ ہم ایسا نہیں کر سکتے ہیں کہ آپ کو تحریری حکم نامہ دیں۔ بس ہمیں اوپر سے حکم دیا گیا۔ ان سے میرا یہ طے ہوا کہ جنازہ 4 بجے

صفحہ ٣١٠

سہ پہر کو ہو گا اور یہ بات ٹیلی ویژن پر نشر ہوئی لیکن ہمیں جبراً لے جایا گیا۔ تدفین بھی وقت سے پہلے زبردستی کرائی گئی۔ مجھے بتائیں کہ میں ایسی صورت میں پوسٹ مارٹم کراؤں اور کون مجھے پوسٹ مارٹم کی صحیح رپورٹ دے گا۔ میں تو جرمن حکومت کے پاکستان میں سفیر کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ میرے سر کی قیمت رکھ کر قبر کھدوائیں۔ میرے بیٹے نے ناموس رسالت کے لیے جان دی ہے۔ اگر اس کی میت ذرا سی بھی خراب ہوئی تو میں اپنا سر کٹوا دوں گا، نہیں تو وہ اپنا سر کٹوا دے۔

س: آپ نے رسم قل کے موقع پر فرمایا کہ میں نے امانتاً عامر شہید کو ساروکی دفن کیا ہے کسی مناسب وقت پر اسلام آباد یا جنت البقیع میں دفن کروں گا، اور اب وہاں مزار کی تعمیر شروع کر دی ہے۔

ج: میت تو میں نے امانتاً ہی دفن کی ہے۔ جنت البقیع یا اسلام آباد دفن کرنے کی بات اس طرح ہے کہ لوگوں کا اصرار ہے کہ یہ قوم کا / مسلمانوں کا بیٹا ہے، اور اسے اسلام آباد میں دفن ہونا چاہیے۔ میں قطعی طور پر حکومت سے مطالبہ نہیں کرتا۔ میرے اللہ کو جہاں منظور ہوا تو یہ شہید وہاں دفن ہو جائے گا۔ جہاں تک مزار کا تعلق ہے تو اصل میں وہاں دعا کے لیے بہت لوگ آتے ہیں۔ قرآن پڑھتے ہیں، وہاں دھوپ اور بارش کو روکنے کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ یہ صرف ایک انتظام کیا گیا ہے اور میں نے کسی کو بھی مزار تعمیر کرنے کی اجازت نہیں دی۔ میرا اور میرے بیٹے کا کسی بھی پارٹی سے تعلق نہیں، نہ ہی میں چاہتا ہوں کہ اس ایشو پر سیاست کی جائے۔

س: 27 مئی 2006 کو پاکستانی ایف آئی اے کی ٹیم کی طرف سے جو رپورٹ شائع ہوئی ہے، اس پر آپ کیا کہیں گے؟

ج: اس رپورٹ میں بھی ثابت ہو گیا ہے کہ خودکشی نہ تھی۔ اب حکومت اور تمام مذہبی اور سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ قانونی کارروائی کر کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچائیں۔ ہم نے تو متعدد بار طارق کھوسہ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر ان کی طرف سے یہی پیغام ملا کہ وزارت داخلہ سے رابطہ کریں۔

س: سیاسی یا مذہبی جماعتوں کے سربراہ یا رہنماؤں مثلاً پرویز مشرف، چوہدری شجاعت، چوہدری پرویز الٰہی، الطاف حسین، بے نظیر، امین فہیم، اسفند یار ولی خاں، نواز

صفحہ ٣١١

شریف، شہباز شریف، راجہ ظفر الحق، قاضی حسین احمد، مولانا فضل الرحمن، مولانا سمیع الحق، حافظ سعید، عمران خان، فاروق لغاری یا دیگر کون کون لوگ تعزیت کے لیے آئے یا انھوں نے تعزیت کے لیے فون کیا۔

ج: پرویز مشرف نے نہ تو فون کیا نہ تعزیت کے لیے آئے۔ ان کے یہ بیان آتے رہے کہ انتہا پسندوں کو ختم کر دیں گے۔ چوہدری شجاعت نے میرے گھر فون کیا تھا مگر میرے سے بات نہیں ہوئی اور نہ ہی آج تک انھوں نے رابطہ کیا ہے۔ چوہدری پرویز الٰہی، الطاف حسین، بے نظیر، امین فہیم، اسفند یار، نواز شریف، شہباز شریف، مولانا سمیع الحق، فاروق لغاری وغیرہ نے نہ تو فون کیا نہ ہی تعزیت کے لیے آئے۔ مولانا فضل الرحمن، قاضی حسین احمد، راجہ ظفر الحق، لیاقت بلوچ، فرید پراچہ، حافظ حسین احمد، عمران خان، حافظ سعید، امیر حمزہ، وغیرہ نے فون بھی کیے اور خود تشریف لائے۔ اعجاز الحق بھی آئے مگر اپنی ذاتی حیثیت میں انھوں نے فون کر کے مجھ سے گھر کا راستہ پوچھا، یہاں کے تھانے والوں کو بھی خبر نہ تھی۔

س: حامد ناصر چٹھہ آپ کے علاقے کے ہیں آپ کا گاؤں ان کے حلقہ انتخاب کا حصہ ہے۔ کیا وہ تعزیت کے لیے آئے؟

ج: نہیں وہ تعزیت کے لیے نہیں آئے نہ ہی فون کیا، جنازے کے وقت وہ ملک سے باہر تھے۔ مجھے ان کی والدہ کی وفات کی خبر ملی تھی میں 9 جون بروز جمعہ خود تعزیت کے لیے ان کے گھر گیا۔ وہاں انھوں نے یہ ذکر کیا کہ پاکستانی لڑکے کو مار دیا گیا ہے، یہ بڑا ظلم ہے۔

صفحہ ٣١٢

سلیم شیخ، محمد رحمٰن بھٹہ

عامر کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا

عامر عبدالرحمٰن چیمہ کے والد محترم پروفیسر نذیر احمد کا انکشافاتی انٹرویو

17 جون کی صبح 5 بج کر 25 منٹ پر ہم راولپنڈی میں داخل ہوئے تو جو پہلا شخص نظر آیا، اس سے پوچھا کہ عامر چیمہ شہید کے گھر جانا ہے۔ اس نے ڈھوک کشمیریاں کا راستہ سمجھا دیا۔ وہاں ایک اور شخص ملا اس سے بھی یہی سوال کیا۔ وہ ہمیں عامر چیمہ کی گلی تک لے گیا، وہاں ایک عورت ہمیں عامر کے گھر تک لے گئی۔ آپ سوچئے کہ کسی بڑے شہر میں کسی آدمی کو صرف اس کے نام سے ڈھونڈا جا سکتا ہے؟ ایسے لوگ زندگی میں بہت کم دیکھنے کو ملتے ہیں کہ جن کے نام ان کے شہروں کی شناخت بن جاتے ہیں۔ ہم تو لاہور سے راولپنڈی گئے تھے، میرا خیال ہے کہ اگر کوئی غیر ملکی پاکستان کے کسی بھی شہر کے ائیر پورٹ پر اتر کر کسی سے عامر چیمہ کے بارے میں پوچھے گا تو اسے بالکل ہماری طرح کوئی جا کر اس کے گھر چھوڑ آئے گا۔ ہمیں عامر چیمہ کے ڈرائنگ روم میں بٹھا دیا گیا۔ ہم عامر شہید کے والد کا انتظار کر رہے تھے۔ شہید کا ڈرائنگ روم بڑی نفاست سے سجایا گیا تھا۔ ایک طرف شہید کے والد پروفیسر محمد نذیر چیمہ کو عامر چیمہ کی شہادت کے موقع پر منعقدہ تقریب میں کلمہ طیبہ لکھی ہوئی تلوار اور دوسری طرف کاغذی گلدستہ رکھا تھا جبکہ مین گیٹ میں داخل ہوتے ہی شہید کی تصویر اور اس کے اردگرد تازہ گلدستے رکھے تھے۔ گھر کے باہر شہید کی تصویروں والے پوسٹر چسپاں تھے جبکہ گلی میں شہادت سے متعلقہ بینرز آویزاں تھے۔ ہمارے ساتھ ہمارے دوست ساجد چٹھہ بھی موجود تھے۔ شہید کے والد نے صبح ساڑھے پانچ بجے ہماری لسی سے تواضع کی جبکہ بعد میں چائے بھی پیش کی گئی۔ ہم چھ بجے راولپنڈی سے لاہور کے لیے روانہ ہوئے۔ گاڑی ساجد چٹھہ چلا رہے تھے جبکہ فرنٹ سیٹ پر پروفیسر محمد نذیر چیمہ بیٹھے تھے، ہم پچھلی نشستوں پر تھے۔ لاہور روزنامہ ”جناح“ کے دفتر کی طرف سفر شروع کرنے کے کچھ دیر بعد میں نے گفتگو کا

صفحہ ٣١٣

آغاز کرتے ہوئے کہا کہ جو شخص شہید ہو جاتا ہے اسلام میں اسے مردہ نہیں کہا جاتا بلکہ اسے زندہ کہا جاتا ہے اور آپ اس شہادت کے بارے میں کیسا تصور محسوس کرتے ہیں؟ کے جواب میں شہید کے والد پروفیسر نذیر چیمہ نے کہا کہ یہ باتیں کہ وہ شہید ہو گیا ہے تو کروڑوں بچے آپ کے عامر ہیں۔ اس بات سے مجھے خوشی بھی ہوتی ہے لیکن جو اپنا بچہ ہوتا ہے وہ اپنا ہی ہوتا ہے۔ انھوں نے موت کے حوالے سے حقیقت پر مبنی بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب ہمارے ساتھ نہیں ہے اور ہمیں اس کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ مگر چونکہ وہ شہید ہے اور شہید مرتا نہیں مگر ہم اسے دیکھ نہیں سکتے۔ مگر کبھی کوئی بیمار ہو تو رات کو کوئی دوا لے کر آنی ہو یا ٹیکسی میں کہیں جانا ہو تو کمی محسوس ہوتی ہے کیونکہ اپنا بیٹا تو اپنا ہی ہوتا ہے۔ بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ان سے جب سوال کیا گیا کہ کیا شہید آپ کے یا آپ کے اہل خانہ کے خواب میں آیا ہے یا نہیں؟ تو انھوں نے کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ اس کے چہرے پر پسینہ ہے اور ٹانگیں گرم ہیں اور یہ تمام علامتیں زندہ ہونے کی ہیں۔ ان کی ہمشیرہ نے خواب میں دیکھا کہ اس طرح محسوس ہوتا ہے کہ بھائی عامر چیمہ ہمارے ساتھ ہیں۔ عامر چیمہ کی شہادت کے رتبے پر پہنچنے کے حوالے سے کیے گئے سوال کہ کیا شہید اخبار کے اس ایڈیٹر پر حملہ کرنے سے قبل کس قسم کے مزاج کا تھا؟ کے جواب میں پروفیسر نذیر نے کہا کہ وہ پیدا ہی اس مقصد کے لیے ہوا تھا کیونکہ جب وہ فرسٹ ائیر میں تھا تو اس نے بتایا کہ میں ایک سکول ٹیچر سے فرسٹ ائیر کا میتھمیٹکس کا مضمون پڑھنا چاہتا ہوں جس پر میں نے کہا کہ سکول ٹیچر سے فرسٹ ائیر کا مضمون پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں جس پر عامر نے مجھے کہا کہ پریتم کیانی وہ شخص ہے جو پہلے مسلمان تھا اور اب اس نے مذہب تبدیل کر لیا ہے اور میں اس کو مارنا چاہتا ہوں، جس کے جواب میں میں نے اسے کہا کہ یہ ایک حکومت کا کام ہے اس کے لیے قانون ہے تمھیں ایسا کرنے کی کیا ضرورت ہے جس کے بعد اس نے وہاں داخلہ نہ لیا اور پھر اس قسم کی کوئی بات مجھ سے نہ کی۔ اس کے بعد ایک بار پھر لندن میں شاتم رسول کو مارنے کے لیے اپنے دوست سے بات کی مگر وہ شاتم رسول اپنی موت آپ ہی مر گیا۔ جرمنی کے اخبار کے ایڈیٹر کو حضور ﷺ کی شان میں گستاخانہ خاکے شائع کرنے کے جرم میں مارنے کے لیے حملہ کرنے سے قبل عامر چیمہ نے اس حوالے سے ٹیکسٹائل مل میں اپنے ساتھ ماسٹر ٹیکسٹائل میں کام کرنے والے ہارون سے کئی مرتبہ فون پر بات کی اور اس حوالے سے مفتی سے فتویٰ لے کر دینے کا کہا کہ کیا خاکے شائع کرنے والے کو بھی قتل کیا جاسکتا ہے مگر ہارون اس کو ٹالتا رہا۔ انھوں نے

صفحہ ٣١٤

بتایا کہ عامر کا خالہ زاد بھائی کیپٹن افضال جو کہ اس کا اچھا دوست بھی تھا، جب اس کی قبر پر فاتحہ خوانی کرنے گیا تو اس نے بتایا کہ میں نے محسوس کیا ہے کہ جس طرح عامر کہہ رہا ہو کہ میں نے یہ تمام کام آپ کی شادی کی وجہ سے ملتوی کیے رکھا۔ انھوں نے بتایا کہ کیپٹن افضال، کی شادی 5 مارچ کو ہونی تھی اور عامر نے کیپٹن افضال، اس کی بیوی اور دیگر رشتہ داروں سے شادی کے بعد بھی کئی بار بات کی۔ پروفیسر نذیر نے عامر کے حوالے سے ”جناح“ اسمبلی میں بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ 4 دسمبر 1977ء کو صبح آٹھ نو بجے حافظ آباد میں پیدا ہوا تھا۔ چار سال تک وہیں رہا۔ 1982ء میں میں اسے راولپنڈی لے کر گیا۔ اس کی پرائمری کی ٹیچر امتیاز اسے اپنے بچوں کی طرح رکھتی تھیں اور اس کی شہادت کے موقع پر اپنے بچوں کی طرح غمزدہ تھیں۔ پرائمری کلاس میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے پر عامر کو قرآن پاک کا اردو ترجمہ تحفہ میں ملا۔ اپنی کلاس میں نمایاں پوزیشن حاصل کرتا تھا۔ میٹرک کا امتحان 689 نمبر حاصل کر کے سکول میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔ ایف جی سرسید کالج راولپنڈی سے پری انجینئرنگ 816 نمبر سے پاس کی جس کے بعد نیشنل کالج آف ٹیکسٹائل انجینئرنگ فیصل آباد میں داخلہ لیا اور بعد میں ماسٹر ٹیکسٹائل مل رائے ونڈ میں ملازمت اختیار کر لی، اس کے بعد کراچی کی الکرم ٹیکسٹائل مل میں نوکری حاصل کی جبکہ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی مینجمنٹ میں پڑھاتا بھی رہا اور پھر جرمنی میں ماسٹر آف ٹیکسٹائل میں داخلہ حاصل کر لیا۔ جرمنی میں داخلہ کے حوالے سے انھوں نے بتایا کہ جب داخلہ ہو گیا تو پیسے نہ تھے کیونکہ کچھ ہی عرصہ قبل میں نے اپنی بیٹی کی شادی کی تھی تاہم بعد میں اپنی پنشن کی رقم میں سے پیسے لے کر ایک ماہ کی تاخیر سے داخلہ دلوایا۔ عامر کی عادات کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ اکلوتا بیٹا ہونے کی وجہ سے عامر کی والدہ اسے باہر لڑکوں میں کھیلنے نہیں دیتی تھیں جس کی وجہ سے وہ گھر میں بہنوں کے ساتھ ہی کھیلتا تھا۔ اس لیے اسے چالاکی اور گالی دینا نہیں آتی تھی، اور چالاکی نہ ہونے کی وجہ سے وہ تدریس کے شعبہ کے علاوہ کسی اور شعبہ (انڈسٹری) میں چل بھی نہیں سکتا تھا، اس لیے اسے اپنے خرچ پر جرمنی میں داخلہ دلوایا۔ جرمنی میں مقیم رشتہ داروں کے رویہ پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ 20 مارچ کو عامر جرمنی میں مقیم اپنے رشتہ دار کے گھر سے گیا اور پھر واپس نہیں آیا۔ 23 مارچ کو پولیس نے ان رشتہ داروں کے گھر کی تلاشی لی اور انھیں سرٹیفکیٹ دے دیا کہ ہمیں یہاں کچھ نہیں ملا۔ ہم نے اس دوران عامر بیٹے کو متعدد بار فون پر بات کرنے کی کوشش کی مگر بات نہ ہوئی اور ہمیں نہ پتہ چلا کہ عامر کے ساتھ کوئی سانحہ رونما ہو گیا ہے۔ 7

صفحہ ٣١٥

اور 8 اپریل کی درمیانی شب ان رشتہ داروں کے گھر فون کیا جہاں عامر ٹھہرا ہوا تھا تو انھوں نے ادھر ادھر کی باتیں کیں اور عامر کی جب بات کی تو انھوں نے فون بند کر دیا جبکہ 8 اپریل کی صبح ہمیں حافظ آباد سے اس کی گرفتاری کی خبر آئی جبکہ یہ تمام باتیں جرمنی میں مقیم رشتہ داروں کے علم میں تھیں اور وہ انسانی ہمدردی کے تحت بھی بتا سکتے تھے مگر نہیں بتایا اور جب اس حوالے سے بات کی تو انھوں نے برا منا لیا۔ جرمن سفارت خانہ میں پاکستانی ڈپٹی سفیر خالد عثمان سے جب بات ہوئی تو انھوں نے کہا کہ جب تک ملزم کچھ نہ بتائے اس سے قبل ایمبیسی کو کچھ نہیں بتایا جا سکتا جبکہ 5 اپریل کو جرمن پولیس نے نوٹس دیا کہ عامر چیمہ اپنا وکیل صفائی مقرر کریں مگر ہمیں اس بارے کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔ اگر یہ اطلاع ہوتی تو پھر ہی وکیل صفائی مقرر کیا جا سکتا تھا۔ اب اس حوالے سے جرمن پولیس یا سفارت خانہ ہی صحیح بتا سکتا ہے کہ کیا بات صحیح ہے یا تو ایمبیسی کو پتہ تھا یا پھر جرمن پولیس نے بدمعاشی کی ہے۔ اس دوران ایسٹر کی چھٹیاں آگئیں۔ چھٹیوں کے بعد ڈپٹی سفیر خالد عثمان نے کہا کہ عامر مطمئن ہے اور کہا ہے کہ میرے والدین میری طرف سے مطمئن رہیں اور جب ہم نے بات کروانے کا کہا تو خالد عثمان نے کہا کہ جرمن پولیس کہتی ہے کہ جب تک تفتیش مکمل نہ ہو تو بات نہیں ہو سکتی۔ انھوں نے کہا کہ حکومت اس حوالے سے ابھی تک خاموش ہے۔ عامر چیمہ کے والد نے کہا کہ جرمن پینل کوڈ کے تحت عامر چیمہ پر 240 اور 113 کے تحت مقدمہ درج ہوا تھا۔ اس کے مطابق اسے ڈیپورٹ یا دو چار ماہ کی سزا ہو سکتی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ماورائے عدالت قتل کر دینا انسانیت نہیں ہے۔ عامر چیمہ پر خودکشی کے الزام کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ایک شخص حُب رسول ﷺ میں جان کی قربانی دے رہا ہے وہ خلاف شریعت کیسے کام کر سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر اس نے خودکشی کی ہو تو آنکھیں باہر، گردن کے مہرے ٹوٹے ہوئے، زبان باہر اور منہ کھل جاتا مگر اس میں سے کچھ بھی نہ ہوا اور میں اسی بات سے مطمئن ہوں کہ میں نے اسے خود دفن کیا ہے۔ حکومت کی تفتیشی ٹیم جس کے سربراہ طارق کھوسہ کو ایک نیک اور ایماندار شخص قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم ان کی تفتیش سے مطمئن ہیں۔ انھوں نے کہا کہ طارق کھوسہ نے بیان دیا ہے کہ شہ رگ کٹنے سے موت واقع ہوئی ہے اور یہ سیدھا سادا ماورائے عدالت قتل کیس ہے۔ حکومت ان سے کچھ پوچھ نہیں سکی، اس میں حکومت کی کمزوری یا وہ جواب نہیں دے سکے۔ انھوں نے بتایا کہ جرمن اخبار کے ایڈیٹر کو جہنم واصل کرنے کے لیے اس نے داڑھی اور مونچھیں صاف کروا رکھی تھیں۔ انھوں نے بتایا کہ جرمن پولیس نے عامر

صفحہ ٣١٦

چیمہ کی کتابیں، کپڑے، کرنسی جس میں 85 پاؤنڈ، شناختی کارڈ، پاسپورٹ، 592 یورو اور 70 پاکستانی روپے، جگ، چابیاں اور موبائل ملا ہے اور گھر میں موجود سامان پولیس لے گئی ہے مگر وہ ہمیں نہیں دیا گیا، وہی ہمارا اثاثہ ہیں۔ ان سے اس سوال کہ اگر عامر چیمہ کسی اور ملک کا شہری ہوتا تو پھر بھی کیا پاکستانی حکومت نے اس کے ساتھ یہی سلوک کرنا تھا کے جواب میں انھوں نے کہا کہ برطانیہ میں برازیل کے شخص سے ایسا واقعہ ہوا تو معافی منگوائی گئی۔ انھوں نے کہا کہ کمزور سے کمزور حکمران بھی اپنے شہریوں کا تحفظ کرتے ہیں۔ حکومت نے اس کیس میں بے بسی کا مظاہرہ کیا ہے۔ لوگوں کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ہماری حکومت تو یہاں سے افراد کو گرفتار کر کے دے رہی ہے باہر والوں کو کیا کرے گی۔ انھوں نے کہا کہ جرمنی میں موت کی سزا نہیں ہے اس لیے ماورائے عدالت عامر کو قتل کر دیا گیا۔ اس موقع پر حکومتی موقف سے پرامید ہوتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایس ایم ظفر کسی نہ کسی نتیجے پر پہنچیں گے جبکہ طارق کھوسہ بھی ایک ایماندار آفیسر ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اگر کسی موقع پر ضرورت پڑی تو قبر کشائی کر کے پوسٹمارٹم کروایا جائے گا۔ انھوں نے اس موقع پر جذبات میں آتے ہوئے کہا کہ جرمن حکومت نے کوئی پوسٹمارٹم رپورٹ نہیں دی اور نہ ہی اس سلسلے میں کچھ بتایا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ عامر چیمہ نے خودکشی نہیں کی۔ جرمن ایمبیسڈر یا جرمن وزیر اعظم سر دینے کی شرط لگائیں کہ عامر نے خودکشی کی ہے اگر یہ درست ہوا تو میں اپنا سر قلم کروانے کے لیے تیار ہوں وگرنہ جو بھی جرمن شرط لگائے گا اس کا سر قلم کر دیا جائے گا۔ سیاسی جماعتوں کی طرف سے شہید کو اپنانے کے حوالے سے کیے گئے سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ لوگ شہید سے محبت کرتے ہیں اور ہر پارٹی شہید کو اپنانا چاہتی ہے۔ اس کی قبر پر مزار بنانے کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ پہلے مزار نہیں بنانا چاہتے تھے مگر اب اتنے عقیدت مند ہیں کہ لوگ گرمی اور بارش میں آتے ہیں فاتحہ خوانی کرتے ہیں، ان کے بیٹھنے کے لیے جگہ نہیں ہوتی اب یہ باتیں مدنظر رکھتے ہوئے مزار بنانے کی اجازت دی ہے اور اگر حکومت نے اجازت دی تو فیصل مسجد میں اس کا جسد خاکی دفن کر دیں گے تاکہ عوام بہتر طریقے سے فاتحہ خوانی کر سکیں۔ انھوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی تمام خواہشیں پوری کی ہیں، جہاں کہیں بھی گیا کامیابی ہوئی۔ وہ بڑا آدمی بننا چاہتا تھا اور بن گیا۔ شادی کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ابھی تک ایسی کوئی بات کہیں نہیں چل رہی تھی۔

صفحہ ٣١٦

پاؤنڈ، شناختی کارڈ، پاسپورٹ، 592 یورو اور 70 ڈالر اور گھر میں موجود سامان پولیس لے گئی ہے مگر ان سے اس سوال کہ اگر عامر چیمہ کسی اور ملک کا اس کے ساتھ یہی سلوک کرنا تھا کے جواب میں جس سے ایسا واقعہ ہوا تو معافی منگوائی گئی۔ انھوں شہریوں کا تحفظ کرتے ہیں۔ حکومت نے اس کیس بارے میں کہنا ہے کہ ہماری حکومت تو یہاں سے کو کیا کرے گی۔ انھوں نے کہا کہ جرمنی میں موت عامر کو قتل کر دیا گیا۔ اس موقع پر حکومتی موقف سے سی ایم ظفر کسی نہ کسی نتیجے پر پہنچیں گے جبکہ طارق سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اگر کسی موقع پر یہ ثابت کر دیا جائے گا۔ انھوں نے اس موقع پر جرمنوں نے کی پوسٹمارٹم رپورٹ نہیں دی اور نہ ہی اس سلسلے میں چیمہ نے خود کشی نہیں کی۔ جرمن ایمبیسڈر یا جرمن وزیر خودکشی کی ہے اگر یہ درست ہوا تو میں اپنا سرقلم جو شرط لگائے گا اس کا سرقلم کر دیا جائے گا۔ سیاسی حوالے سے کیے گئے سوال کے جواب میں انھوں نے اور ہر پارٹی شہید کو اپنانا چاہتی ہے۔ اس کی قبر پر کہا کہ پہلے مزار نہیں بنانا چاہتے تھے مگر اب اتنے لوگ آتے ہیں فاتحہ خوانی کرتے ہیں، ان کے بیٹھنے رکھتے ہوئے مزار بنانے کی اجازت دی ہے اور اگر ہم اس کا جسد خاکی دفن کر دیں گے تاکہ عوام بہتر نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی تمام خواہشیں پوری کی بڑا آدمی بننا چاہتا تھا اور بن گیا۔ شادی کے حوالے سے بات کہیں نہیں چل رہی تھی۔

اداریے

PDF 318

پاؤنڈ، شناختی کارڈ، پاسپورٹ، 592 یورو اور 70 ہے اور گھر میں موجود سامان پولیس لے گئی ہے مگر ان سے اس سوال کہ اگر عامر چیمہ کسی اور ملک کا اس کے ساتھ یہی سلوک کرنا تھا کے جواب میں اس سے ایسا واقعہ ہوا تو معافی منگوائی گئی۔ انھوں شہریوں کا تحفظ کرتے ہیں۔ حکومت نے اس کیس بارے میں کہنا ہے کہ ہماری حکومت تو یہاں سے کو کیا کرے گی۔ انھوں نے کہا کہ جرمنی میں موت عامر کو قتل کر دیا گیا۔ اس موقع پر حکومتی موقف سے ی ایم ظفر کسی نہ کسی نتیجے پر پہنچیں گے جبکہ طارق وال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اگر کسی موقع کر دیا جائے گا۔ انھوں نے اس موقع پر جذبات کی پوسٹمارٹم رپورٹ نہیں دی اور نہ ہی اس سلسلے میں مہ نے خودکشی نہیں کی۔ جرمن ایمبیسڈر یا جرمن وزیر خودکشی کی ہے اگر یہ درست ہوا تو میں اپنا سر قلم ن شرط لگائے گا اس کا سر قلم کر دیا جائے گا۔ سیاسی حوالے سے کیے گئے سوال کے جواب میں انھوں اور ہر پارٹی شہید کو اپنانا چاہتی ہے۔ اس کی قبر پر ہا کہ پہلے مزار نہیں بنانا چاہتے تھے مگر اب اتنے ں آتے ہیں فاتحہ خوانی کرتے ہیں، ان کے بیٹھنے رکھتے ہوئے مزار بنانے کی اجازت دی ہے اور اگر ں اس کا جسد خاکی دفن کر دیں گے تاکہ عوام بہتر نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی تمام خواہشیں پوری کی بڑا آدمی بننا چاہتا تھا اور بن گیا۔ شادی کے حوالے ت کہیں نہیں چل رہی تھی۔

اداریے

صفحہ ٣١٩

اداریہ روز نامہ پاکستان

عامر چیمہ شہید: خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

عامر چیمہ شہید کو ہفتے کی دوپہر ان کے آبائی گاؤں ساروکی نزد وزیر آباد سپرد خاک کر دیا گیا۔ عامر چیمہ کے والدین راولپنڈی میں رہائش پذیر تھے اور وہیں ان کی تدفین چاہتے تھے۔ جسد خاکی کو ابتدائی پروگرام کے تحت 10 مئی کو راولپنڈی ہی پہنچائے جانے کا پروگرام طے تھا۔ اس کے پیش نظر شہید کے جنازے میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کا پروگرام بنایا تھا، ملک کی دینی جماعتوں نے بھی شہید کے پر تپاک استقبال کی تیاری کر لی تھی اور جمعہ کے روز جرمن پولیس کی قید میں ان کی ہلاکت کے خلاف ملک بھر میں یوم احتجاج بھی منایا گیا۔

لوگوں کے جذبات کو دیکھتے ہوئے میت کی آمد، جنازے اور تدفین کے مقام اور پروگرام میں تبدیلی کر دی گئی اور یہ سب کام حکومت کی سطح پر ہوا۔ سوال یہ ہے کہ ایک فرد کی لاش کی آمد اور اس کی تدفین کے پورے پروگرام کو حکومت نے اپنے ہاتھ میں کیوں لیا؟ کیا حکومت یہ چاہتی تھی کہ وہ شہید کے استقبال کا سارا ثواب خود کمائے؟ اگر حکومت کے نزدیک شہید نے کوئی قابل قدر کارنامہ انجام دیا تھا جس کی وجہ سے اس کی تدفین کے عمل میں حکومت کی ہر سطح کے لوگ شریک ہو رہے تھے تو پھر ایسا کارنامہ انجام دینے والے شہید کے استقبال کا حق عام آدمی کو بھی دینا چاہیے تھا۔ اگر شہید نے کوئی ”جرم“ کیا تھا تو حکومت کی طرف سے اس کے مکمل اعزاز سے استقبال اور باقی امور کی انجام دہی سمجھ میں آنے والی بات نہیں ہے۔ شواہد کی رُو سے حکومت کے نزدیک شہید نے کسی جرم کا ارتکاب نہیں کیا تھا۔ جہاں قاضی حسین احمد، منور حسن اور دیگر علمائے کرام اور سیاستدان شہید کے والد سے تعزیت کے لیے گئے، وہاں وزیر اعظم شوکت عزیز کی طرف سے بھی کابینہ کے ایک رکن طارق عظیم نے شہید کے والد سے

صفحہ ٣٢٠

اظہار تعزیت کیا۔ اسی طرح تاخیر سے ہی سہی، حکومت پاکستان نے جرمن سفیر متعینہ اسلام آباد کو بھی دفتر خارجہ طلب کر کے اس شہادت کی رپورٹ طلب کی تھی۔ حکومتی ادارے ایف آئی اے کے اہل کار بھی شہید کے پوسٹ مارٹم کی نگرانی کے لیے جرمنی بھیجے گئے تھے۔ ویسے جرمن سفیر نے اپنے طور پر اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ عامر چیمہ شہید کی موت تشدد سے نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پوسٹ مارٹم کیا جا چکا ہے لیکن یہ رپورٹ شہید کی تدفین کے بعد منظر عام پر لائی جائے گی۔

عامر چیمہ شہید کی عمر 28 برس کی تھی، وہ ٹیکسٹائل کی اعلیٰ تعلیم کے لیے فرینکفرٹ گیا تھا۔ اس دوران میں گزشتہ برس ڈنمارک اور دنیا کے کئی اخبارات کی طرف سے حضور پاک ﷺ کے توہین آمیز خاکے شائع ہونے لگے۔ جرمنی کے ایک اخبار دی ویلٹ (Die Welt) نے بھی توہین رسالت ﷺ کا ارتکاب کیا۔ واقعات کے مطابق مارچ میں عامر چیمہ نے اس اخبار کے بیورو چیف کے دفتر میں گھسنے کی کوشش کی۔ اس کے ہاتھ میں مبینہ طور پر ایک چاقو تھا، اس پر اسے گرفتار کر لیا گیا اور اس کی تفتیش شروع ہو گئی۔ 3 مئی کو جیل کی کوٹھڑی میں وہ مردہ پایا گیا تو جرمن حکام نے دعویٰ کیا کہ اس نے خود کشی کر لی ہے۔ جب عالمی سطح پر جیل حکام کے اس دعوے کو چیلنج کیا گیا کہ جیل کی کوٹھڑی میں رسی کس طرح پہنچی تو ایک نیا موقف اختیار کیا گیا کہ شہید نے اپنے کپڑوں کو رسی کے طور پر استعمال کیا۔ جرمن جیل حکام کو جب ایک اور سوال پیش آیا کہ کیا جیل کی کوٹھڑی میں نگرانی کے لیے کیمرے نصب نہیں تھے، تو پھر یہ موقف اختیار کر لیا گیا کہ چونکہ وہ زیر تفتیش تھا، سزا یافتہ نہیں تھا، اس لیے اسے ایسی کوٹھڑی میں بند کیا گیا جس میں کیمرہ نصب نہیں تھا۔ عامر چیمہ شہید کا پوسٹ مارٹم کرنے میں سات دن کی تاخیر کی گئی، وہ 3 مئی کو شہید ہوا اور پوسٹ مارٹم 10 مئی کو ہوا۔ پاکستان کی ایک این جی او کے سربراہ انصار برنی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ پوسٹ مارٹم کے وقت اپنے ادارے کے ایک اور ڈائریکٹر کے ساتھ موجود تھے اور پوسٹ مارٹم سے ثابت ہوا تھا کہ موت کی وجہ تشدد نہیں بلکہ خود کشی ہے۔ انصار برنی ٹرسٹ اچھی شہرت کا حامل ادارہ ہے۔ مختلف ممالک میں پاکستانیوں پر مظالم کا پردہ چاک کرنے میں انصار برنی ٹرسٹ نے قابل قدر خدمات انجام دی ہیں تاہم بہتر ہوتا کہ وہ اس نازک کیس میں سلطانی گواہ نہ بنتے۔ خود کشی کے دعوے کا اصرار کر کے انصار برنی نے اپنی عزت میں اضافہ نہیں کیا۔

صفحہ ٣٢١

عامر چیمہ شہید کی میت 10 مئی کو راولپنڈی کیوں نہ لائی گئی؟ اسے 13 مئی کو لاہور لانے کا پروگرام کیوں بنا؟ پھر اسے سرکاری ہیلی کاپٹر اور پولیس کی تحویل میں وزیرآباد کیوں پہنچایا گیا؟ عامر چیمہ کا تعلق حکومت کے کسی محکمے سے نہیں تھا کہ حکومت اس کی تجہیز و تکفین کی مکلف ہوتی۔ وہ تو ایک عام نوجوان اور طالب علم تھا۔ جرمن جیل میں شہادت سے ہمکنار ہو گیا۔ حکومت نے اس عام سے نوجوان طالب علم کی نعش کو اپنے قبضے میں لینے کا فیصلہ کیوں کیا اور عام مسلمانوں کو اس کی تجہیز وتکفین میں شرکت کے ثواب سے محروم کرنے کی کیوں کوشش کی؟ لاہور میں جسد خاکی کو وزیر اعلیٰ کے ایک نمائندے نے وصول کیا اور گوجرانوالہ میں کور کمانڈر، ڈی سی او اور ڈی پی او نے میت کا استقبال کیا۔ حکومت کا شکریہ کہ اس نے شہید کی اس قدر عزت افزائی کی لیکن اس غیر معمولی عزت افزائی سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ حکومت نے لاش کو ہائی جیک کیا ہے۔ پاکستان میں اس سے پہلے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے کر ان کے جسد خاکی کو سرکاری اہتمام میں لاڑکانہ پہنچایا گیا تھا۔ 1930ء میں انگریز استعمار کے دوران بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں کو ایک انگریز پولیس افسر کے قتل کے الزام میں پھانسی دی گئی تو بھگت سنگھ کی میت کو رات کی تاریکی میں فیروز پور ہیڈ ورکس پر دریائے ستلج کے کنارے انتہائی خاموشی سے جلا دیا گیا تھا۔ 1962ء میں بھارتی حکومت نے بھگت سنگھ کی مڑھی کو یادگار میں تبدیل کیا اور اسے قیصر ہند کے نام سے موسوم کیا۔ غازی علم الدین شہید کی میت کے ساتھ بھی یہی سلوک روا رکھا گیا تھا۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ نہ کسی کو یہ پتہ ہے کہ بھگت سنگھ کی میت کو آگ کس نے لگائی، نہ کسی کو بھٹو کو تختہ دار پر لٹکانے والے اہل کاروں کا نام یاد رہ گیا ہے، نہ غازی علم الدین شہید کے گلے میں پھانسی کا پھندہ ڈالنے والا تاریخ کے صفحات میں کہیں نظر آتا ہے۔ آج زندہ وہ ہستیاں ہیں جن کو گمنامی کے اندھیرے میں دھکیلنے کی کوشش کی گئی۔ غازی علم الدین شہید کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عامر چیمہ نے حرمت رسول ﷺ پر اپنے آپ کو قربان کر دیا...... ”خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را۔“

حکومت پاکستان نے اس سے قبل توہین آمیز خاکے شائع کرنے پر ہونے والے احتجاج کو دبانے کی بھی ہرممکن کوشش کی بلکہ لاہور میں آتش زنی کے جرم میں بغیر کسی عدالتی فیصلے کے ڈاکٹر سرفراز نعیمی کو جیل میں ڈال دیا گیا ہے۔ ایم این اے سعد رفیق کو بھی اس پاداش میں

صفحہ ٣٢٢

گرفتار کیا گیا تھا لیکن ان کے خلاف جرم ثابت نہیں ہو سکا مگر انھیں بدستور جیل میں بند رکھنے کے لیے نئے مقدمے درج کروائے گئے ہیں یا پرانے مقدموں کی فائل جھاڑ پونچھ کر نکال لی گئی ہے۔

ہمیں افسوس ہے کہ توہین رسالت ﷺ کا ارتکاب کرنے والوں کا ایک ہی مقصد تھا کہ مسلم امہ کو اس قدر بے حس بنا دیا جائے کہ وہ اپنے پیغمبر ﷺ کی توہین کو بھی برداشت کر لے۔ دراصل یہ مسلمان کی مسلمانی کو ختم کرنے کی ایک سازش تھی اور افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ مقصد ایک حد تک پورا ہو گیا ہے۔ کم از کم مسلم حکمرانوں نے اجتماعی طور پر اس اہانت آمیز واقعہ پر صدائے احتجاج کا حق ادا نہیں کیا۔ عامر چیمہ کے سلسلے میں حکومت نے پوری کوشش کر لی ہے کہ ائیر پورٹ پر اس کا استقبال کرنے والا کوئی ہجوم نہ ہو، اس کے جنازے میں لاکھوں عوام کا سیلاب نہ امڈ پڑے۔ اسے پاکستان کے ایک دور دراز سے چھوٹے سے گاؤں میں دوپہر کی شدید گرمی میں دفن کر دیا گیا۔ لیکن حکومت یاد رکھے کہ عامر چیمہ شہید کی یاد لوگوں کے دل و دماغ سے محو نہیں کی جاسکے گی۔ وہ امر ہے، شہید زندہ رہتے ہیں۔ عامر چیمہ نے ثابت کر دکھایا ہے کہ:

نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ یثرب ﷺ کی حرمت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا

خدا اس کی قبر کو نور سے بھر دے! اور اس کے ایمان کی حدت سے ہمارے جذبات کو گرما دے۔ آمین! (14 مئی 2006ء)

صفحہ ٣٢٣

اداریہ روزنامہ انصاف

شہید ناموس رسالت کا فقید المثال جنازہ

حکومت کا ناپسندیدہ طرز عمل

”شہید ناموس رسالت عامر چیمہ کو فقید المثال نماز جنازہ کے بعد ان کے آبائی گاؤں ساروکی میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ نماز جنازہ میں ایک محتاط اندازے کے مطابق 2 لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی۔ شہید عامر چیمہ کی میت کو ”خصوصی اہتمام“ کے ساتھ لاہور لایا گیا، جہاں سے سرکاری ہیلی کاپٹر پر میت گوجرانوالہ کینٹ لے جائی گئی، جہاں سے ساروکی پہنچا دی گئی۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ میت کے استقبال کی خاطر ساروکی گاؤں میں جمع تھے۔ شدید گرمی کے باوجود ہزاروں افراد ابھی آ رہے تھے۔ شہید کے والد پروفیسر نذیر چیمہ نے اپنے لخت جگر کی نماز جنازہ پڑھائی۔ اس دوران لوگوں کی مزید بہت بڑی تعداد کے آجانے کے سبب دوبارہ نماز جنازہ پڑھائی گئی۔

عامر چیمہ شہید کو تقریباً 10 روز قبل جرمنی کی ایک جیل میں تشدد کر کے شہید کر دیا گیا تھا۔ وہ توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے اخبار کے چیف ایڈیٹر پر حملہ کے الزام میں گرفتار تھے۔ جرمن حکام نے عامر چیمہ کی موت کو خودکشی قرار دیا تھا، جسے دنیا بھر میں کسی نے تسلیم نہیں کیا۔ جرمنی میں پاکستان کے سفیر نے بھی شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موت کی وجہ واضح نہیں، تاہم ایف آئی اے کی دو رکنی تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کا انتظار ہے، جس کی موجودگی میں لاش کا پوسٹمارٹم کیا گیا ہے۔

شہید عامر چیمہ کے والد اور پوری امت نے خودکشی کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے اسے قتل عمد قرار دیا ہے۔ پاکستان کے طول و عرض میں مسلمانوں نے دن رات شہید کے لیے دعائیں کیں اور فاتحہ خوانی کی۔ 10 روز سے جہاں شہید کے اہل خانہ میت کے منتظر تھے،

صفحہ ٣٢٤

وہیں پوری قوم بھی چشم براہ تھی کہ وہ شہید کی میت کا فقید المثال استقبال کر کے عشق رسول ﷺ کا ثبوت دے سکے۔ شہید کے ورثاء نماز جنازہ راولپنڈی میں اور بعد ازاں تدفین ساروکی میں چاہتے تھے۔ پوری قوم میں اس حوالے سے جوش و جذبہ پایا جاتا تھا۔ مگر بدقسمتی سے حکومت پاکستان جو ایک میت سے خوفزدہ تھی پہلے تو اس نے میت وطن واپس لانے میں تاخیر کا مظاہرہ کیا۔ بعد ازاں جنازہ راولپنڈی میں پڑھانے کی اجازت دینے سے نہ صرف انکار کر دیا بلکہ شرمناک رویہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہید کے ورثاء سے بدتہذیبی کی۔ شائع ہونے والی تفصیلات کے مطابق شہید کی بہن نے ایک نمائندہ کو فون پر بتایا کہ ”ان کے والد کو ڈی ایس پی نے گھر سے باہر حراست میں لے رکھا ہے اور اہل خانہ کو زبردستی پولیس گاڑیوں میں سوار کروانا چاہتی ہے تاکہ انہیں ساروکی منتقل کیا جاسکے۔“ ایک اور رپورٹ کے مطابق شہید کی بہن نے بتایا کہ پولیس افسر سعود عزیز نے انہیں دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت کی بات نہ مانی گئی تو وہ بھائی کا آخری دیدار بھی نہیں کر سکیں گی۔“

ان تفصیلات سے بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ حکومت ایک عاشق رسول کی میت سے کس قدر خوفزدہ تھی اور اسے توہین رسالت کے مجرم ممالک کی خوشنودی کس قدر عزیز تھی۔ حکومت پاکستان کا ناروا اور ناپسندیدہ رویہ اس کے بعد بھی جاری رہا۔ جب میت صبح 10 بجے ساروکی پہنچ گئی تو ملک بھر کے ٹی وی چینلز پر سرکاری ذرائع سے خبر چلوائی گئی کہ نماز جنازہ 4 بجے شام ہوگی۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد 4 بجے کے پیش نظر تاخیر سے پہنچی اور نماز جنازہ سے محروم رہ گئی۔ اطلاعات کے مطابق تدفین کے بعد بھی ہزاروں کی تعداد میں لوگ شہید کے گاؤں کی طرف رواں دواں تھے۔

عامر چیمہ شہید کی میت اپنی آخری آرام گاہ تک پہنچائی جا چکی ہے۔ پوری قوم کی دعائیں اور محبتیں عامر چیمہ کے ساتھ ہیں اور ان کے اہل خانہ کی ڈھارس بندھا رہی ہیں۔ عامر چیمہ کو اب کبھی بھی قوم کے دل سے نکالا نہیں جا سکتا۔ وہ ہمیشہ قوم کی دعاؤں میں زندہ رہے گا لیکن حکومت نے جو رویہ رکھا یہ رویہ نہ صرف شہید کے خاندان بلکہ قوم کو بھی یاد رہے گا اور حکومت کے لیے ناپسندیدگی کی وجہ بنا رہے گا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسلام آباد کے ایوان اقتدار میں جلوہ افروز شخصیات کو خطرہ کیا تھا؟ انہوں نے یہ حرکت کیوں کی؟ جبکہ شہید یا شہید کے والد عام شہری تھے اور ان کا کسی سیاسی جماعت یا سیاسی عزائم سے کوئی واسطہ نہیں تھا، جو خطرہ ہوتا کہ جنازہ کے شرکاء اقتدار پر قبضہ کر لیں گے، جبکہ شہید کے والد پوری صراحت کے ساتھ ایک روز قبل قوم سے یہ اپیل

کر چکے تھے کہ سیاسی ع عزائم رکھتے تھے نہ ان اس کی وجہ میں عدم مقبولیت کے برداشت نہیں تھی جسے ا نے اقتدار کے ایوانوں کے لیے فیصلہ کیا کہ ب حکومت کے خلاف مظا کیونکہ عامر چیمہ جرمنی دنیا کو پتہ چلتا کہ پاکس کہ حکومت کی روشن خیا تمام تر کوشش کی کہ نماز جنازہ کا شیڈول بدلا گ زبردستی گاڑیوں میں ٹھون اور حربوں کے باوجود ب جمع ہو گئے۔ یقینی سی با دیکھ کر ایک آدھ گھنٹے پروگرام کے تحت نماز ج کے تحت نہیں صرف عم ہوتے اور فرقہ وارانہ ر حقیقت یہ ہیں اور عشق رسول ﷺ بھی قابل تعریف ہیں کروڑ عوام کی طرف کرنے والے عامر چیم بلاوجہ بدنامی کا ٹیکہ لگوا

صفحہ ٣٢٥

کر چکے تھے کہ سیاسی عناصر اُن کے حال پر رحم کریں۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ سیاسی عزائم رکھتے تھے نہ ان سے کوئی سیاسی خدشہ تھا۔ پھر صرف حکومت کو مسئلہ کیوں بنا؟

اس کی دو وجوہات سامنے آتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ حکمران اپنے معاملات اور عوام میں عدم مقبولیت کے سبب اس قدر خوف کا شکار ہیں کہ شہید کی میت بھی ان کے لیے قابل برداشت نہیں تھی جسے ان کے اتحادی جرمنی نے اپنے خبطِ باطن کا نشانہ بنایا۔ اس لیے انہوں نے اقتدار کے ایوانوں کو جنازہ کی بھیڑ بھاڑ سے بچانے اور اپنے امن و سکون کو برقرار رکھنے کے لیے فیصلہ کیا کہ جنازہ کو دارالحکومت سے دور رکھا جائے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ نماز جنازہ حکومت کے خلاف مظاہرہ میں بدل جائے۔ لیکن دوسری وجہ اس فیصلہ پر غالب نظر آتی ہے۔ کیونکہ عامر چیمہ جرمنی جیسے مغربی ملک کی پولیس کا نشانہ بنا، اس لیے مغربی ممالک اور پوری دنیا کو پتہ چلتا کہ پاکستانی قوم ایک عاشقِ رسول کو کیا اہمیت دیتی ہے۔ اس سے عین ممکن ہے کہ حکومت کی روشن خیالی کو دھچکا لگتا امریکی ناراض ہو جاتے۔ اس لیے ارباب اختیار نے اپنی تمام تر کوشش کی کہ نماز جنازہ پر بڑا اجتماع ممکن نہ ہو سکے۔ اس کے لیے عین آخری موقع پر جنازہ کا شیڈول بدلا گیا۔ شہید کے والد سے توہین آمیز رویہ روا رکھا گیا۔ شہید کی بہنوں کو زبردستی گاڑیوں میں ٹھونسا گیا اور پھر ٹی وی چینلز پر غلط وقت نشر کیا گیا لیکن ان تمام ہتھکنڈوں اور حربوں کے باوجود ہزاروں افراد تاریخِ اسلامی کے اس عظیم سپوت کو الوداع کہنے کے لیے جمع ہو گئے۔ یقینی سی بات ہے کہ یہ لوگ گرد و نواح سے تعلق رکھتے تھے جو صبح صبح اخبار میں خبر دیکھ کر ایک آدھ گھنٹے میں وہاں پہنچ سکے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اگر مناسب پروگرام کے تحت نماز جنازہ ہوتی تو کتنا بڑا اجتماع ہوتا، اور یہ اجتماع کسی سیاسی غرض یا مقصد کے تحت نہیں صرف عشقِ رسول ﷺ کی بنیاد پر تھا، جس میں تمام مکاتبِ فکر کے لوگ شریک ہوتے اور فرقہ دارانہ رواداری کا عظیم الشان مظاہرہ دیکھنے میں آتا۔

حقیقت یہ ہے کہ حکمران اپنی تمام تر جدوجہد کے بعد بری طرح سے ناکام ہوئے ہیں اور عشقِ رسول ﷺ کامیاب ٹھہرا۔ شہید عامر چیمہ کے ساتھ ساتھ وہ ہزاروں شرکاء جنازہ بھی قابل تعریف ہیں جو محض عشقِ رسول ﷺ کی بنیاد پر وہاں جمع ہوئے اور انہوں نے 14 کروڑ عوام کی طرف سے فرضِ کفایہ ادا کیا۔ سوا ارب مسلمانوں کی طرف سے فرضِ کفایہ ادا کرنے والے عامر چیمہ کا یہ حق بھی تھا کہ قوم اسے سلام پیش کرتی۔ مگر افسوس کہ حکومت نے بلاوجہ بدنامی کا ٹیکہ لگوا لیا۔ (15 مئی 2006ء)

صفحہ ٣٢٦

اداریہ روزنامہ اسلام

شہید ناموس رسالت کی تدفین

عوام و حکام کے لیے چند غور طلب پہلو

شہید ناموس رسالت عامر نذیر چیمہ کو ہفتے کی سہ پہر 3 بجے ان کے آبائی گاؤں ساروکی میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ شہید کا جسد خاکی صبح ساڑھے 9 بجے پی آئی اے کی پرواز پی کے 764 کے ذریعے جرمنی کے شہر برلن سے لاہور پہنچا جسے وزیر اعلیٰ پنجاب کے خصوصی ہیلی کاپٹر میں گوجرانوالہ اور وہاں سے ایمبولینس کے ذریعے ساروکی پہنچایا گیا۔ نماز جنازہ میں شرکت کے لیے ملک بھر کے مختلف شہروں سے بے شمار افراد ساروکی جمع ہو رہے تھے، مجمع کے بے قابو ہو جانے کے خدشے سے وقت مقرر سے 3 گھنٹے قبل ہی نماز جنازہ پڑھا دی گئی جس کے باعث لاتعداد افراد نماز جنازہ میں شرکت سے محروم رہے۔ بعد میں پہنچنے والے لوگ شہید کے لواحقین کو مبارکباد دے کر رخصت ہوتے رہے۔ جنازے کے موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے اور عاشق رسول کی محبت و عقیدت میں عوام کے ناقابل فراموش ولولے کا اظہار ہوا۔

تحفظ ناموس رسالت کی خاطر عامر نذیر چیمہ کی شہادت اہل پاکستان کے لیے ایک ایسا اعزاز ہے جس پر جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔...... تاہم ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکومت شہید کی نماز جنازہ اور تدفین کے حوالے سے کسی نہ کسی دباؤ یا مصلحت کا شکار ضرور رہی ہے ورنہ شہید کے والدین اور ورثاء کی خواہش کے مطابق نماز جنازہ اور تدفین کے لیے راولپنڈی ہی کا انتخاب ہونا چاہیے تھا جہاں شہید کا گھرانہ 30 برس سے آباد ہے۔ شہید کے والد پروفیسر نذیر چیمہ اور دیگر ورثاء کی گفتگو سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس سلسلے میں انہیں حکومت کی جانب سے مجبور کیا گیا اور ملک کے ایک بڑے شہر کو چھوڑ کر دور دراز دیہات میں تدفین کو نہایت عجلت

صفحہ ٣٢٧

کے ساتھ اس طور پر ممکن بنایا گیا کہ کم سے کم افراد جنازے میں شریک ہوں۔ نیز نماز جنازہ میں شرکت کے لیے آنے والے درجنوں قافلوں کو روکا اور وزیر آباد کو عملاً سیل کر دیا گیا۔ بعض مبصرین کے مطابق حکومت کے اس اقدام کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ وہ دارالحکومت سے متصل شہر میں ایک عظیم اور پُر جوش مذہبی اجتماع کی شکل پیدا ہو جانے سے خوفزدہ تھی۔ اگر یہ بات درست ہے تو ہمارا خیال ہے کہ یہ ایک بے بنیاد خدشہ تھا جس کے باعث شہید کے ورثاء اور لاکھوں عوام کے جذبات کو مجروح کرنا حکومت کو کسی طرح زیب نہیں دیتا تھا۔ نماز جنازہ میں اعلیٰ سرکاری افسران کی عدم شرکت بھی یہ ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے کہ حکومتی سطح پر قوم کے اس نامور سپوت کو کسی خاص اعزاز کے قابل سمجھا گیا نہ اس کے کارنامے کو کوئی بلند حیثیت دی گئی ہے۔ ممکن ہے کہ اعلیٰ ایوانوں کے مکین تحفظ ناموس رسالت کی خاطر عامر چیمہ شہید کے کارنامے کو اہل مغرب کی نظر میں ”دہشت گردی“ قرار پانے کے باعث کوئی مقام دینے کو تیار نہ ہوں مگر مسلمانان پاکستان نے اس شہید ناموس رسالت کو جو خراج تحسین پیش کیا ہے وہ اس حقیقت کو واشگاف کرنے کے لیے کافی ہے کہ پاکستان کے عوام کو لاکھ کوششوں کے باوجود اسلام سے برگشتہ نہیں کیا جاسکتا۔ مغربی تہذیب و تمدن میں رنگ کر انہیں دین سے دُور ہٹانے کی وہ تمام تر کوششیں جو سالہا سال سے جاری ہیں اب تک اپنے اہداف کی تکمیل نہیں کر سکیں۔ در حقیقت عشق رسالت کی ایک چنگاری شعلہ جوالا بن کر کروڑوں مسلمانوں کو ایک لمحے میں وہ بھولا ہوا سبق یاد دلا دیتی ہے جسے پڑھ کر قرون اولیٰ کے عرب شہسواروں نے مشرق سے مغرب تک کے تاج داروں سے خراج وصول کیا تھا۔

اب جبکہ شہید عامر نذیر چیمہ کی تدفین ہو چکی ہے اور ساروکی میں اس پروانہ شمع رسالت کا مرقد عشاق نبوت کے لیے رہتی دنیا تک مینارہ نور بن چکا ہے، پاکستان کے عوام و حکام دونوں کے لیے اس واقعے کے چند پہلو نہایت قابل توجہ ہیں۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ جس مقصد کے لیے اس پاکستانی نوجوان نے اپنی جان قربان کی ہے کیا حکومت پاکستان اور عوام نے اس کی تکمیل کے لیے کوئی لائحہ عمل اپنایا ہے؟ یہ تو ظاہر ہے کہ ناموس رسالت کے تحفظ کے ارفع واعلیٰ مقصد میں کسی کو اختلاف نہیں ہو سکتا مگر اس کے لیے جن اقدامات کی توقع مسلم حکومتوں سے کی جا رہی تھی پاکستان نے ان میں کس حد تک پیش رفت کی ہے اور عوام نے عملی طور پر گستاخ عناصر سے اظہار نفرت کے لیے کون سے موثر اقدامات کیے ہیں؟ یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب دیتے ہوئے ہمیں اپنے قدم وہیں گڑے نظر آتے ہیں جہاں ہم تین چار ماہ پہلے تھے۔ یہ مسئلہ اور یہ سوال اگرچہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے سامنے ایک چیلنج بن کر

صفحہ ٣٢٨

کھڑا ہے مگر اہل پاکستان کے لیے اب اس کی اہمیت اس لحاظ سے دو چند ہوگئی ہے کہ اس میں ان کا لہو شامل ہو چکا ہے اور کوئی غیرت مند قوم اپنے بیٹوں کے لہو کو رائیگاں نہیں جانے دیتی۔

دوسرا سوال جو خاص طور پر حکومت کے لیے توجہ طلب ہے یہ ہے کہ بیرون ملک ایک پاکستانی کے بہیمانہ قتل پر اس نے جرمن حکومت سے احتجاج میں اپنی ذمہ داریاں کس حد تک نبھائیں؟ اگر دیکھا جائے تو اب تک حکومت کا کردار اس حوالے سے نہایت مایوس کن رہا ہے۔ اگر اس واقعے کے فوراً بعد کم از کم جرمن سفیر کو اس وقت تک کے لیے ملک بدر کر دیا جاتا جب تک جرمن حکومت معذرت کرتے ہوئے اس سانحے کے مرتکب افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے کا وعدہ نہ کر لیتی، تو اپنی عزت و وقار کا تحفظ کیا جاسکتا تھا، مگر اب یہ محسوس ہورہا ہے کہ پاکستانیوں کی جان و مال بیرون ملک نہایت ارزاں ہے جس پر ہر کسی کو دست درازی کا پورا پورا حق حاصل ہے۔ حکومت پاکستان جتنی جلد اس تاثر کو دُور کرے اس کے لیے بہتر ہوگا۔

سب سے آخری اور اہم ترین بات یہ ہے کہ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اور عامر نذیر چیمہ کی شہادت کے سانحوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ امر بعید معلوم نہیں ہوتا کہ دنیائے اسلام اور صلیبی دنیا میں ایک نئی اور تیز تر جنگ شروع ہو جائے جس کے شعلے پہلے ہی افغانستان وعراق میں بھڑک رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورت حال عالمی امن کو تباہ و برباد کر دینے کا باعث ہوگی جس کی تمام تر ذمہ دار اس فضا کو ہوا دینے والے گستاخ مغربی میڈیا اور اس کی سرپرست حکومتوں پر ہوگی۔ اس خطرے کو سامنے رکھتے ہوئے مسلم ممالک کو ہر عالمی فورم پر توہین رسالت کو بین الاقوامی قوانین میں بدترین دہشت گردی قرار دینے کی تحریک پورے زور و شور سے چلانی چاہیے۔ حال میں ڈھاکہ میں ہونے والی سارک ممالک کانفرنس میں جہاں دہشت گردی کے خلاف جنگ پر اتفاق کیا گیا، وہاں اس کانفرنس میں شریک دنیائے اسلام کے دو اہم ممالک پاکستان اور بنگلہ دیش اس موقع پر توہین رسالت کو دہشت گردی قرار دینے کے قانون کی منظوری کی قرارداد بھی پیش کر سکتے تھے مگر افسوس کہ اس بارے میں اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہ کیا گیا۔

اگر عالم اسلام کی قیادت کی غفلت کا یہی حال رہا تو نہیں کہا جاسکتا کہ باطل قوتیں اسلام کے ساتھ کیا کچھ نہ کر گزریں اور ایسے میں ایک عام مسلمان وہی کچھ کرنے پر مجبور ہوگا جو عامر چیمہ شہید نے کیا اور ماضی میں غازی علم الدین اور غازی عبدالقیوم جیسے مجاہد کر گزرے۔

(15 مئی 2006ء)

صفحہ ٣٢٩

اداریہ روزنامہ نوائے وقت

عامر شہید کی نماز جنازہ اور تدفین میں حکومتی رکاوٹیں

جرمنی میں پولیس کی حراست میں شہید ہونے والے عاشق رسول پاکستانی نوجوان عامر عبدالرحمن چیمہ شہید کو گزشتہ روز وزیرآباد کے قریب آبائی گاؤں ساروکی میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ ان کی نماز جنازہ میں محتاط اندازے کے مطابق دو لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی جبکہ نماز جنازہ کے بعد بھی ہزاروں لوگ پہنچے اور انہوں نے شہید کی تربت پر فاتحہ خوانی کی۔ شہید کا جسد خاکی لحد میں اُترا تو فضا نعرہ تکبیر اور نعرہ رسالت سے گونج اٹھی۔ لوگ فرط عقیدت سے شہید کے والد کو چومتے رہے۔

جرمنی میں عامر عبدالرحمن چیمہ کی پولیس کی زیر حراست شہادت اس امر کا ثبوت ہے کہ انسانی حقوق کے علمبردار یورپ میں بھی پولیس کا انداز تفتیش سراسر غیر انسانی اور ظالمانہ ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق عامر چیمہ پر دباؤ ڈالا جاتا رہا کہ وہ اپنے آپ کو ذہنی مریض تسلیم کرلے تا کہ دنیا کو یہ تاثر دیا جاسکے کہ یہ رسول اللہ ﷺ کی حرمت و ناموس کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک ذہنی مریض کا نجی فعل ہے لیکن عامر چیمہ نے پولیس کا دباؤ قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ اطلاعات بھی منظر عام پر آچکی ہیں کہ عامر چیمہ چاقو لے کر جرمن اخبار ایکسل سپرنگر کے ایڈیٹر پر حملہ کرنے نہیں گیا بلکہ اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ آئندہ ایسے توہین آمیز خاکے شائع کرنے سے باز رہے مگر اس کے احتجاج کو قاتلانہ حملے کا رنگ دے کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

دوران تفتیش جب ایک جرمن پولیس اہلکار نے رسول اللہ ﷺ اور دیگر انبیاء کرام کے بارے میں گستاخانہ انداز گفتگو اختیار کیا تو اخباری رپورٹوں کے مطابق عامر چیمہ شہید نے اس کے منہ پر تھوک دیا جس سے مشتعل ہو کر جرمن اہلکاروں نے شہید کو حیوانی انداز میں تشدد

صفحہ ٣٣٠

کا نشانہ بنا کر بے ہوش کر دیا اور جسم کے کسی نازک حصے پر چوٹ لگنے سے ان کی سانسیں اکھڑ گئیں۔ توقع ہے کہ ان سطور کی اشاعت تک تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر آچکی ہو گی اور اگر یہ رپورٹ دیانتداری سے مرتب کی گئی ہے تو عامتہ الناس کو صحیح صورتحال کا علم ہو جائے گا۔

عامر چیمہ شہید نے اپنی جان دے کر دنیا کو یہ باور تو کرا دیا ہے کہ ہر مسلمان رسول اللہ ﷺ کی حرمت و ناموس کے حوالے سے انتہائی حساس ہے اور مولانا ظفر علی خاں کے بقول یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ

نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ یثرب ﷺ کی عزت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا

وہ رسول خدا ﷺ کو اپنی جان، مال، اولاد اور ماں باپ سے زیادہ عزیز جان کر ہی اپنے ایمان کا تحفظ کر سکتا ہے اور ان میں سے کسی ایک یا سب کی قربانی دے کر خدا تعالیٰ کے حضور سرخرو ہونے کی آرزو رکھتا ہے۔ شہید کے والدین اور بہنوں کی طرح اہل پاکستان بھی اس لحاظ سے خوش نصیب ہیں کہ ماضی کی طرح اب بھی حرمت رسول ﷺ پر کٹ مرنے والے شخص کا تعلق اُن کی دھرتی سے ہے اور یہ ثابت ہو گیا ہے کہ پاکستان کا قیام جس نعرے پر عمل میں آیا تھا اسے عملی شکل دینے کی خواہش آج بھی ہر پاکستانی مسلمان کے رگ و ریشے میں مچل رہی ہے۔

عامر چیمہ شہید کے ساتھ ہٹلر کی اولاد نے تو جو سلوک کیا سو کیا وہ اپنی جگہ افسوسناک اور صرف جرمنی ہی نہیں پورے یورپ کے منہ پر کلنک کا ٹیکہ ہے مگر بدقسمتی کی بات ہے کہ حکومت پاکستان نے بھی اس ضمن میں اپنی آئینی، قانونی، مذہبی اور اخلاقی ذمہ داری ادا کرنے سے گریز کیا ہے۔ عامر شہید کی گرفتاری کے بعد حکومت پاکستان اور جرمنی میں پاکستانی سفارتخانے نے یہ زحمت بھی گوارا نہیں کی کہ وہ اپنے ایک شہری کی گرفتاری کی وجوہات معلوم کرنے کے علاوہ ایک قیدی کے طور پر اس کے حقوق کے تحفظ کا اہتمام کرتی، اصولاً حکومت اسے اپنی تحویل میں لے کر تفتیش کر سکتی تھی۔ شہادت کے بعد بھی حکومت نے جرمن سفیر کو دفتر خارجہ میں اس وقت طلب کیا جب پورے ملک کو احتجاجی لہر نے اپنی لپیٹ میں لے لیا، جب جرمن حکومت نے اسے خود کشی کا رنگ دینے کی کوشش کی تو حکومت پاکستان نے بھی لواحقین کو یہی اطلاع دے کر ان کے زخموں پر نمک پاشی کی۔ میت کی آمد پر والدین اور دیگر لواحقین کا یہ

صفحہ ٣٣١

قانونی اور شرعی حق تھا کہ وہ اپنی مرضی سے تدفین کرتے مگر حکومت پاکستان نے معلوم نہیں کسے خوش کرنے کے لیے میت کو اپنی تحویل میں لے کر ساروکی میں تدفین کا فیصلہ کیا حالانکہ جب شہید کے ورثا راولپنڈی میں نماز جنازہ اور تدفین کا فیصلہ کر چکے تھے تو انہیں روکنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔

اگر ناموس رسالت ﷺ پر اپنی جان قربان کرنے والے ایک نوجوان کا راولپنڈی یا لاہور میں جنازہ ہوتا اور لاکھوں مسلمان اس میں شریک ہو کر خراج عقیدت پیش کرتے تو اس سے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں تھا۔ اس سے پوری دنیا کو پاکستانی قوم کے ناموس رسالت ﷺ کے حوالے سے جذبات کا پتہ چلتا اور او آئی سی جنرل اسمبلی کے ذریعے مقدس شخصیات کی حرمت و ناموس کے حوالے سے جو قرارداد منظور کرانے کی کوشش کر رہی ہے انہیں تقویت ملتی مگر حکومت نے نہ صرف زبردستی ساروکی میں نماز جنازہ اور تدفین کی کوشش کی بلکہ نماز جنازہ کا وقت تبدیل کر کے لاکھوں عاشقان رسول کو نماز جنازہ میں شرکت کے ثواب سے محروم کر دیا، جس کا گناہ اس کی گردن پر ہے۔ یہ بات نا قابل فہم ہے کہ حکومت نے شہید کے تابوت، نماز جنازہ اور تدفین کو ہائی جیک کیوں کیا جبکہ ایک طرف حکومتی عہدیداروں نے شہید کے والد کے پاس جا کر تعزیت بھی کی اور جرمن سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے معلومات بھی حاصل کیں۔

عامر چیمہ تو غازی علم الدین شہید اور غازی عبدالقیوم شہید کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے خدا کے حضور پیش ہو گیا ہے لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حکومت نے اس موقع پر نا قابل فہم انداز کار سے عوام کے دل چھلنی کر دیئے ہیں۔ ایک طرف میت کی وزیر اعلیٰ کے ہیلی کاپٹر میں روانگی اور کور کمانڈر گوجرانوالہ سمیت اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کی طرف سے وصولی اور دوسری طرف لاہور ایئر پورٹ پر میت سے عوام کو دور رکھنے، پنڈی میں نماز جنازہ سے انکار، اور ساروکی میں قبل از وقت نماز جنازہ، اور نماز جنازہ میں کسی بڑی سرکاری شخصیت کی عدم شرکت؟ ناطقہ سر بگریباں ہے اسے کیا کہئے!

یہی وجہ ہے کہ عوام کے ساتھ مرحوم کی بہنوں اور دیگر لواحقین کی طرف سے زبردست احتجاج جاری ہے۔ شہید کے جنازے اور میت کے استقبال سے عوام کی ایک بڑی تعداد کو روکنے کی حکمت عملی سے حکومت کو کیا حاصل ہوا؟ اس کے بارے میں ارباب اقتدار ہی بہتر جانتے ہیں۔ شاید لاکھوں افراد کے اجتماع سے ”روشن خیالی“ کے پروپیگنڈے کو ضعف

صفحہ ٣٣٢

پہنچتا اور مسلمانوں کے دل و دماغ سے دین و ایمان کے علاوہ عشق مصطفیٰ کی آخری رمق ختم کرنے کے کروسیڈی ایجنڈے میں رکاوٹ پڑنے کا اندیشہ تھا۔

عامر شہید کے جنازے میں دو لاکھ سے زائد افراد نے شریک ہو کر پوری پاکستانی قوم اور اُمہ کی طرف سے فرض کفایہ ادا کیا لیکن صرف پاکستان ہی نہیں دیگر مسلم ممالک کے مقتدر طبقے نے پرزور احتجاج نہ کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ امریکہ اور یورپ کے دست نگر ہیں اور انہیں ملک کے عوام کے جذبات و احساسات اور عقائد و نظریات سے کوئی سروکار نہیں لیکن اس طرح نہ تو عامر چیمہ اور اس کے جرأت مندانہ کردار کو اُمہ کے ذہنوں سے محو کیا جا سکتا ہے اور نہ عوام کے جذبات و احساسات کو سرد کرنے میں کامیابی ہو سکتی ہے۔ گزشتہ روز چودھری شجاعت حسین نے دعویٰ کیا کہ ان کی مسلم لیگ سرکاری جماعت نہیں بلکہ انہوں نے حکومت کے کئی فیصلے تبدیل کرائے۔ کاش وہ وفاق اور صوبائی حکومت کا یہ فیصلہ بھی تبدیل کراتے اور اپنے پڑوسی شہید کے لواحقین کے علاوہ پندرہ کروڑ پاکستانی عوام کی خواہشات کا احترام کرنے پر مجبور کرتے۔ اس طرح حکومت اور وہ خود اپنے خدا و رسول کے سامنے روز قیامت اور عوام کے سامنے آج اس وقت سرخرو ہوتے مگر موجودہ روشن خیال حکومت کو شاید اس کی ضرورت نہیں۔ وہ شاید نہیں جانتی کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں اور جزا کے ساتھ سزا بھی ہے۔ (15 مئی 2006ء)

٭ ٭ ٭

صفحہ ٣٣٣

اداریہ ہفت روزہ غزوہ

عامر چیمہ شہید کا عظیم اور حکومت پاکستان کا شرمناک کردار

جرمن پولیس کے تشدد سے شہید ہونے والے عامر عبدالرحمن چیمہ کی نماز جنازہ میں تقریباً دو لاکھ افراد نے شرکت کی اور تقریباً اتنے ہی لوگ حکومت کی کوششوں کے باعث نماز جنازہ میں شرکت سے محروم رہے۔ عامر چیمہ کی نماز جنازہ کے موقع پر عوام کا جوش و خروش بے مثال تھا۔ ایک دنیا اُمنڈی چلی آرہی تھی۔ عامر چیمہ کے والد محترم پروفیسر نذیر چیمہ کو لوگ مبارکباد دے رہے تھے اور ان کے ہاتھ اور ماتھا چوم رہے تھے۔ کہا جاسکتا ہے کہ اس نئی صدی میں یہ پاکستان کا سب سے بڑا جنازہ تھا۔

عامر شہادت پا کر دنیا کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ ہو گیا لیکن اس حوالے سے حکومت پاکستان کا کردار اول تا آخر حوصلہ شکن، منفی اور مشکوک رہا۔ ایک بار پھر حکومت حرمت رسول ﷺ کے مسئلے میں قوم کے ساتھ کھڑا ہونے کی بجائے قوم کے خلاف کھڑی نظر آئی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کو حرمت رسول ﷺ کے ایشو سے خوف آتا ہے، یا کہیں ایسا تو نہیں کہ گستاخان رسول حکومتی صفوں میں بیٹھے ہیں۔ عامر چیمہ کی گرفتاری سے شہادت تک جرمنی میں پاکستانی سفیر خاموش رہے جیسے ان کا عامر چیمہ سے بطور پاکستانی سفیر یا مسئلہ تحفظ حرمت رسالت ﷺ سے بطور ایک مسلمان کوئی تعلق ہی نہیں۔ جرمنی میں تعینات پاکستانی سفیر کی حرمت رسالت ﷺ کے ایشو سے لاتعلقی صرف عامر چیمہ کی گرفتاری اور پولیس تشدد سے شہادت تک محدود نہیں بلکہ جب جرمن اخبارات نے رسول ﷺ کے توہین آمیز خاکے شائع کیے تب بھی یہ سفیر صاحب خاموش رہے۔ اس بات کی تحقیقات کی اشد ضرورت ہے کہ موصوف مسلمان ہیں یا قادیانی۔ میجر جنرل شوکت سلطان کے بقول قادیانی فوج میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں اور ان کی ترقی پر کوئی پابندی نہیں۔ اگر فوج میں ترقی پر کوئی فوج میں ترقی پر کوئی فوج میں ترقی پر کوئی

صفحہ ٣٣٤

پابندی نہیں تو بیوروکریسی خاص طور پر دفتر خارجہ میں قادیانیوں کے اثر ونفوذ پر کیا قدغنیں ہوں گی۔ جرمنی میں سفیر پاکستان کی غفلت، بے حسی، لاپرواہی اور غیر ذمہ داری اپنی جگہ لیکن یہ سب کچھ صرف ایک فرد تک محدود ہوتا تو برداشت کیا جاسکتا تھا لیکن یہاں تو پوری حکومت ہی اس سارے مسئلے میں اسی رویے کا مظاہرہ کرتی رہی جو جرمنی میں تعینات ہمارے سفیر نے کیا۔ عامر چیمہ کی شہادت کے بعد حکومت نے بوکھلاہٹ کا مظاہرہ شروع کر دیا۔ جب عوام کا ردعمل شدید ہوا تو دو رکنی ”تحقیقاتی“ ٹیم جرمنی بھیجی گئی جو تحقیقات سے زیادہ جرمن پولیس کے اس دعوے کی توثیق کے لیے گئی تھی کہ عامر چیمہ نے خودکشی کی ہے۔ جرمنی کے سفیر کو بھی دفتر خارجہ ایک ایسے وقت طلب کیا گیا جب عوامی دباؤ حدوں سے تجاوز کر رہا تھا۔ یہ سب پنجابی محاورے ”گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے“ کے مترادف تھا۔ اس موقع پر پاکستانی حکومت نے یہ بہیمانہ حرکت بھی کی کہ عامر چیمہ کو جرمنی میں ہی دفنا دیا جائے تاکہ اس مسئلے سے اس کی جان ہر لحاظ سے مکمل طور پر چھوٹ جائے۔ اس کے لیے عامر چیمہ کے والدین اور لواحقین پر بھی بے تحاشہ دباؤ ڈالا گیا جن کے کسی صورت میں مفاہمت نہ کرنے اور دینی جماعتوں کے شدید ردعمل کے بعد حکومت بالآخر میت پاکستان لانے پر مجبور ہو گئی۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس سارے معاملے کے دوران کہیں بھی یہ معمولی سی کوشش نظر نہ آئی کہ حکومت کو عامر چیمہ کے مشن یعنی تحفظ حرمت رسالت سے کوئی محبت تو دور کی بات، سروکار تک ہی ہو۔ حکومت نے اپنے آپ کو روشن خیال ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا اور صرف خود کو ہی نہیں پوری قوم کو روشن خیال ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔ اسی مقصد کے لیے عامر چیمہ کی میت کو زبردستی ساروکی لے جایا گیا اور راولپنڈی یا لاہور میں نماز جنازہ ادا نہیں کرنے دی گئی۔ سب سے زیادہ شرمناک حرکت وزیر اعلیٰ پنجاب کے ایک ترجمان چوہدری اقبال نے کی اور عالمی ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ نماز جنازہ میں 20 ہزار افراد نے شرکت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ خود پچاس ہزار کی خبریں دے رہے تھے لیکن وزیر اعلیٰ کے ترجمان نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ نماز جنازہ میں کوئی زیادہ بڑی تعداد شریک نہیں ہوئی۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق نماز جنازہ میں کم از کم دو لاکھ افراد نے شرکت کی جبکہ اتنی ہی تعداد نماز جنازہ میں شرکت سے محروم رہی کیونکہ حکومت نے سارے پروگرام کو درہم برہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ نماز جنازہ کا اعلان چار (4) بجے کا تھا جبکہ جنازہ ظہر سے پہلے ہی پڑھا دیا گیا۔ حکومت کی طرف

صفحہ ٣٣٥

سے دوسری شرمناک حرکت یہ تھی کہ کسی حکمران نے عامر چیمہ کی نماز جنازہ میں شرکت نہیں کی۔ اس لیے کہ اگر وہ ایسا کرتے تو دنیا میں یہ پیغام جاتا تھا کہ انھوں نے ایک ”دہشت گرد“ کی نماز جنازہ میں شرکت کی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے اپنا ہیلی کاپٹر میت کے لیے بھیجا تو اس لیے کہ حکومت یہ نہیں چاہتی تھی کہ لاہور میں کوئی میت کا استقبال کر سکے۔ تمام وقت میت کے لواحقین پر کمانڈوز مسلط رہے جس پر پروفیسر نذیر چیمہ اور ان کے خاندان نے شدید اعتراضات کیے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ان حکمرانوں کو رسول ﷺ سے نسبت اختیار کرتے ہوئے شرم آتی ہے تو انھیں اسی رسول ﷺ کے نظام کے لیے حاصل کیے گئے ملک اور اسی رسول ﷺ کو چاہنے اور ماننے والوں پر حکومت کرتے ہوئے شرم کیوں نہیں آتی۔ آخر کب تک ہمارے حکمران اپنے عوام کی بجائے کفار کے ساتھ کھڑے نظر آئیں گے۔ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے اور وہ پوچھ رہے ہیں کہ ”آخر کب تک؟“ حکمرانوں کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ اپنی قوم اور ملت کی طرف پلٹ آئیں۔ وہ جس ڈگر پر چلے ہیں، وہ انھیں کھائی کی طرف لے جا رہی ہے۔ اس راستے پر تباہی کے سوا کچھ نہیں۔

پاکستانی عوام نے عامر چیمہ شہید سے جس محبت و الفت کا مظاہرہ کیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان جذبات کو ایک تحریک کی شکل دی جائے۔ تحریک حرمت رسول ﷺ کو عامر چیمہ شہید نے اپنے لہو سے ایک نیا موڑ دیا ہے۔ اب اسے مزید قوت سے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ عامر چیمہ نے ثابت کر دیا ہے کہ مسلمان مائیں ابھی بانجھ نہیں ہوئیں اور جے لینڈ پوسٹن کا ایڈیٹر اور 13 کارٹونسٹ بالآخر کسی نہ کسی عامر چیمہ کا شکار ضرور بنیں گے۔ جرمنی نے جس طرح حب رسول ﷺ کی سزا ”موت“ دی ہے، اس کا امت مسلمہ کی طرف سے بھرپور جواب آنا چاہیے۔ جرمنی کی مصنوعات کا بائیکاٹ اس جواب کی پہلی قسط ہونی چاہیے اور عامر چیمہ کے ادھورے مشن کو آگے بڑھانے کے لیے نوجوانوں کو ہر طرح کی قربانیاں پیش کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

(20 تا 26 ربیع الثانی 1427ھ)

٭ ٭ ٭

صفحہ ٣٣٦

اداریہ ہفت روزہ ”ضرب مومن“

تاریخی روایت کا تسلسل

تحفظ ناموس رسالت کی ”پاداش“ میں جرمن پولیس کی حراست میں 55 دن گزارنے والے پاکستانی طالب علم عامر چیمہ کی شہادت کی خبر آنے سے پاکستان میں غم و خوشی کے ملے جلے جذبات دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ عامر چیمہ کے والد جناب پروفیسر نذیر چیمہ نے، جو راولپنڈی میں تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں، کہا: ”میرا بیٹا سچا عاشق رسول تھا، ہماری اس سے دنیاوی امیدیں تھیں لیکن اس نے اس سے بڑھ کر اخروی سامان کر دیا۔“ عامر چیمہ تین بہنوں کا اکلوتا بھائی اور واحد سہارا تھا، اس لحاظ سے اس کے والد اور گھر والوں کا ردعمل جذبۂ ایمانی اور حُب رسول ﷺ کی وہ لاثانی مثال ہے جو فی زمانہ خال خال ہی دستیاب ہے۔ اس سوال پر کہ جرمن پولیس تو اسے خودکشی کا واقعہ قرار دے رہی ہے، انھوں نے کہا: ”مجھے پورا یقین ہے کہ وہ خودکشی نہیں کر سکتا۔ عامر چیمہ ٹیکسٹائل انجینئرنگ کی تعلیم کے لیے میونخ جرمنی میں زیر تعلیم تھے۔ ان کا تعلیمی کیریئر شاندار رہا ہے۔ یونیورسٹی میں ان کا کردار ایک ہنس مکھ اور سلجھے ہوئے طالب علم کا رہا ہے۔ جرمن پولیس کے مطابق وہ اپنی شہادت سے 55 دن پہلے جرمنی کے اخبار ’ڈیویلٹ Die Welt‘ کے بیورو چیف پر حملہ کے دوران گرفتار کیے گئے، جس میں توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے اخبار کا ایڈیٹر زخمی ہو گیا تھا۔ 55 دن تک عامر چیمہ پر کسی قسم کا مقدمہ قائم نہ کیا گیا بلکہ اسے ابتدائی تفتیش کے لیے حراست میں رکھا گیا کہ اتنے میں یہ خبر آئی کہ وہ جیل کی کوٹھڑی میں مردہ پایا گیا ہے۔ جرمن پولیس اور وزارت انصاف کا دعویٰ ہے کہ اس نے اپنی شرٹ سے پھندا بنا کر اس سے خودکشی کی ہے جبکہ اس کے خاندان کو یقین ہے کہ یہ خودکشی نہیں بلکہ پولیس تشدد کا کیس ہے۔ پاکستان میں دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے خبر آتے ہی تحریک التوا جمع کرا دی تھی اور جمعہ کے روز ہونے والی بحث میں حکومت نے حزب اختلاف کے موقف کو بڑی حد تک قبول کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں۔ تازہ خبر یہ ہے کہ پاکستانی تحقیق کاروں کی ایک ٹیم جرمن پولیس کی معاونت کے لیے بھیجی جا چکی ہے اور جرمن پولیس نے تحقیق مکمل ہونے تک جسد

صفحہ ٣٣٧

خاکی حوالے کرنے سے روک دیا ہے۔ عامر چیمہ کے والد نے جرمن پولیس اور پاکستانی تحقیقاتی ٹیم پر عدم اعتماد ظاہر کیا ہے۔ عامر چیمہ کے ایک کزن دانیال نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ تشدد کے نشانات کو مٹانے کے لیے جسد خاکی حوالے کرنے میں تاخیر کی جا رہی ہے۔ ادھر اخبارات و جرائد میں مسلسل اس واقعہ کو کوریج دی جا رہی ہے۔ بعض اخبارات مثلاً روزنامہ اسلام نے اس پر خصوصی ایڈیشن نکالے ہیں۔ مختلف دینی و سیاسی تنظیموں کی جانب سے اس واقعہ پر غم و غصہ کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ختم نبوت اور تحریک احرار نے خاندان والوں سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعہ کو عالمی فورم پر اٹھایا جائے۔ انھوں نے عامر چیمہ کے ناموس رسالت کی پاسداری کے جذبے کو خراج تحسین بھی پیش کیا۔

جرمن پولیس جس طرح عامر چیمہ کی حراست میں شہادت کو خودکشی سے تعبیر کر رہی ہے اور جس طرح انھوں نے پاکستانی اہلکاروں کی معاونت کو طلب کیا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ پروپیگنڈا کے زور پر جلد ہی اسے خودکشی ثابت کر کے اس کے مالہ و ماعلیہ سے جان چھڑانا چاہتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سر دست امریکہ اور یورپ کے تمام اخبارات خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں، حالانکہ یہ وہ ممالک ہیں جہاں بلی یا کتے کے ٹریفک حادثے پر ہلاک ہونے جیسے معمولی واقعات کو بھی بھر پور کوریج حاصل ہوتی ہے اور اس پر بہت سی تنظیمیں سوگ تک مناتی ہیں۔ ایک انسان کا اور وہ بھی جو ظاہری ہیئت کے اعتبار سے آزاد خیال معلوم ہوتا ہے، ہنس مکھ طبیعت کا مالک اور ملنسار تھا، کسی تنظیم، کسی سیاسی جماعت سے غیر متعلق تھا اس کی موت پر ایک کالم، احتجاجی بیان یا ایک خبر کو بھی مغرب کے اخبارات میں جگہ نہ مل سکی۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعہ کے حقائق کو جان بوجھ کر چھپایا بلکہ مٹایا جا رہا ہے۔ کچھ دن بعد جب پاکستانی تحقیق کاروں کو بھی ان کی بولی بولنے پر مجبور کر دیا جائے گا تو میڈیا یکدم ”تحقیقات“ شائع کر کے معاملے کو دبا دے گا۔ آج کل جدید ذرائع کی بدولت جہاں تحقیق کرنا آسان ہو گیا ہے وہیں حقائق کو دبانا بھی چنداں مشکل نہیں رہا۔ نیز میڈیکل سائنس کی ترقی کے موجودہ دور میں اتنے دن گزرنے کے بعد جسم کو سرجری کے ذریعہ دوبارہ اصل حالت میں لانا کوئی مشکل کام نہیں۔ جعلی ویڈیو، جعلی تصویریں، جعلی دستاویزات اور جعلی دستخط آج کے ڈیجیٹل دور میں کمپیوٹر کے ادنیٰ طالب علم کے لیے بھی مشکل نہیں رہے تو جرمن پولیس اگر تحقیقات کا رُخ موڑنے کے درپے ہو جائے تو ہمارے بے اختیار تحقیقات کار کیا کر سکیں گے؟ یہ نرے احتمالات نہیں بلکہ قرائن ان کی کھل کر تائید کرتے ہیں۔ جرمن پولیس کا بلا کسی مقدمے کے 55 دن تک ایک شخص کو بلا جواز حراست میں رکھنا، اہلِ خانہ کی کوششوں کے باوجود رابطہ نہ

صفحہ ٣٣٨

ہونے دینا، کسی قانونی کارروائی کی حوصلہ افزائی نہ کرنا، ایک ہنس مکھ آدمی جو کسی ٹینشن کا شکار نہیں بلکہ ایک بلند مقصد کے لیے اپنا کیریئر داؤ پر لگا کر نکلا ہو اور اس کے مذہب میں خودکشی حرام بھی ہو، اس کی موت کو خود کشی کا رُخ دینا، جسد خاکی کی حوالگی میں تاخیر سے کام لینا وغیرہ بہت سے قرائن ہیں جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ عام حالات میں انصاف کی جلد فراہمی میں معروف جرمن پولیس اس معاملے میں کتنی جانبدار ثابت ہوئی ہے اور تحقیقات کا رُخ موڑنے کے لیے کیا کیا حربے استعمال کر رہی ہے؟ اگر یہ سیدھا سادھا خودکشی کا کیس ہے تو جسد خاکی کی جلد از جلد بلکہ فوری حوالگی کیوں نہ کی گئی؟ جس سے جرمن پولیس کی بات پر یقین کرنا آسان ہوتا۔ ایک پاکستانی سفارتی اہلکار نے جو جرمنی میں متعین ہے، اپنے اخباری بیان میں کہا ہے کہ دورانِ حراست جب وہ عامر چیمہ سے ملے تو وہ بالکل پریشان نہ تھا اور مطمئن تھا۔ مغرب میں نفسیات کی تعلیم کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ کیا کوئی نفسیات کا ماہر بتائے گا کہ ایک خوش و خرم اور ذہنی طور پر آسودہ شخص کیونکر خود کشی کا اقدام کر سکتا ہے؟ پھر عامر چیمہ کے ساتھ ساری زندگی گزارنے والے اس کے خاندان کا وثوق کی حد تک بیان کہ وہ سچا عاشق رسول تھا، کبھی خود کشی نہیں کر سکتا، اس پر مستزاد ہے۔

ہماری رائے میں جرمن پولیس کا اس قابلِ رشک موت کو خودکشی پر محمول کرنا انتہائی سطحی بات ہے، جس کو کسی طرح بھی تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت نے تحقیقاتی ٹیم بھیج کر اچھا اقدام اٹھایا ہے لیکن اگر اس ٹیم نے محض جرمن پولیس کی تائید کا مکروہ کام انجام دیا تو نہ صرف ملک میں اسے مشکوک نظروں سے دیکھا جائے گا بلکہ امن و امان کا مسئلہ پیدا ہونے کا بھی خدشہ ہے۔ اس لیے تحقیق کاروں کو واضح ہدایات دی جائیں کہ وہ جرمن پولیس کی تحقیقات پر تکیہ کرنے کی بجائے اپنے طور پر تحقیقات کریں۔ اس بات پر خصوصی توجہ دیں کہ کہیں پلاسٹک سرجری کے ذریعے تشدد کی علامات کو مٹایا تو نہیں گیا۔ دوسرے 55 روز تک مقدمہ قائم نہ ہونے اور ڈھائی گھنٹے تک لاش کے لٹکے رہنے کے بارے میں بھی جرمن پولیس سے حقائق طلب کیے جائیں۔ یہ کام گو مشکل تو ہوگا لیکن صرف غیر جانبدارانہ تحقیق ہی حقائق منظرِ عام پر لا کر اہلِ خانہ اور اہلِ وطن کی تسلی کا باعث بن سکتا ہے۔

یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ شہید کو ہماری سوچوں سے بڑھ کر نواز چکے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اس کی مثالی قربانی اور مظلومانہ شہادت قبول فرمائے، اسے اپنے قرب میں اعلیٰ علیین میں جگہ عطا فرمائے اور اس کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

(12 تا 18 مئی 2006ء)

٭ ٭ ٭

صفحہ ٣٣٨

حوصلہ افزائی نہ کرنا، ایک ہنس مکھ آدمی جو کسی ٹینشن کا شکار کیرئیر داؤ پر لگا کر نکلا ہو اور اس کے مذہب میں خودکشی رخ دینا، جسد خاکی کی حوالگی میں تاخیر سے کام لینا وغیرہ معلوم ہوتا ہے کہ عام حالات میں انصاف کی جلد فراہمی میں کتنی جانبدار ثابت ہوئی ہے اور تحقیقات کا رُخ کر رہی ہے؟ اگر یہ سیدھا سادا خودکشی کا کیس ہے تو کیوں نہ کی گئی؟ جس سے جرمن پولیس کی بات پر یقین اہلکار نے جو جرمنی میں متعین ہے، اپنے اخباری بیان عامر چیمہ سے ملے تو وہ بالکل پریشان نہ تھا اور مطمئن اہمیت حاصل ہے۔ کیا کوئی نفسیات کا ماہر بتائے گا کہ میں کیونکر خودکشی کا اقدام کر سکتا ہے؟ پھر عامر چیمہ کے کے خاندان کا وثوق کی حد تک بیان کہ وہ سچا عاشق مستزاد ہے۔

س کا اس قابل رشک موت کو خودکشی پر محمول کرنا انتہائی تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت نے تحقیقاتی ٹیم بھیج کر اچھا جرمن پولیس کی تائید کا مکروہ کام انجام دیا تو نہ صرف اٹھا جائے گا بلکہ امن و امان کا مسئلہ پیدا ہونے کا بھی واضح ہدایات دی جائیں کہ وہ جرمن پولیس کی تحقیقات پر ت کریں۔ اس بات پر خصوصی توجہ دیں کہ کہیں پلاسٹک پہنایا تو نہیں گیا۔ دوسرے 55 روز تک مقدمہ قائم نہ لٹکے رہنے کے بارے میں بھی جرمن پولیس سے حقائق گا لیکن صرف غیر جانبدارانہ تحقیق ہی حقائق منظرِ عام پر ہی بن سکتا ہے۔

کو ہماری سوچوں سے بڑھ کر نواز چکے ہوں گے۔ اللہ ہادت قبول فرمائے، اسے اپنے قرب میں اعلیٰ علیین میں صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

(12 تا 18 مئی 2006ء)

منظومات

صفحہ ٣٣٨

صلہ افزائی نہ کرنا، ایک ہنس مکھ آدمی جو کسی ٹینشن کا شکار کیرئیر داؤ پر لگا کر نکلا ہو اور اس کے مذہب میں خودکشی رخ دینا، جسد خاکی کی حوالگی میں تاخیر سے کام لینا وغیرہ معلوم ہوتا ہے کہ عام حالات میں انصاف کی جلد فراہمی میں کتنی جانبدار ثابت ہوئی ہے اور تحقیقات کا رُخ کر رہی ہے؟ اگر یہ سیدھا سادھا خودکشی کا کیس ہے تو کیوں نہ کی گئی؟ جس سے جرمن پولیس کی بات پر یقین ن اہلکار نے جو جرمنی میں متعین ہے، اپنے اخباری بیان عامر چیمہ سے ملے تو وہ بالکل پریشان نہ تھا اور مطمئن اہمیت حاصل ہے۔ کیا کوئی نفسیات کا ماہر بتائے گا کہ س کیونکر خودکشی کا اقدام کر سکتا ہے؟ پھر عامر چیمہ کے ں کے خاندان کا وثوق کی حد تک بیان کہ وہ سچا عاشق مستزاد ہے۔

س کا اس قابلِ رشک موت کو خودکشی پر محمول کرنا انتہائی لیم نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت نے تحقیقاتی ٹیم بھیج کر اچھا ں جرمن پولیس کی تائید کا مکروہ کام انجام دیا تو نہ صرف ضا جائے گا بلکہ امن و امان کا مسئلہ پیدا ہونے کا بھی ضح ہدایات دی جائیں کہ وہ جرمن پولیس کی تحقیقات پر ت کریں۔ اس بات پر خصوصی توجہ دیں کہ کہیں پلاسٹک نایا تو نہیں گیا۔ دوسرے 55 روز تک مقدمہ قائم نہ لٹکے رہنے کے بارے میں بھی جرمن پولیس سے حقائق گا لیکن صرف غیر جانبدارانہ تحقیق ہی حقائق منظر عام پر ی بن سکتا ہے۔

کو ہماری سوچوں سے بڑھ کر نواز چکے ہوں گے۔ اللہ دت قبول فرمائے، اسے اپنے قرب میں اعلیٰ علیین میں بر جمیل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

(12 تا 18 مئی 2006ء)

منظومات

صفحہ ٣٤١

حکیم سرور سہارنپوری

خدا کے سامنے زمین جرمنی گواہ ہو

خدا کے سامنے زمین جرمنی گواہ ہو
کہ عامر شہید جیسا نوجواں
جو پاک سرزمیں کا اک سپوت تھا
جو تیری سرزمیں پہ حرمت رسول ﷺ کا امین تھا
جو عزت نبی ﷺ کا پاسباں تھا، سوز عشق کا نقیب تھا
وہ حرمت رسول ﷺ کا علم لیے
گواہی دے رہا تھا اپنے جذبۂ خلوص کی، محبت رسول ﷺ کی
بتا رہا تھا ساری کائنات کو
ہر ایک ذی وجود، ذی شعور و ذی حیات کو
کہ شرق و غرب، رنگ و نسل، قوم و ملک، جسم و جاں
ہر ایک شے سے ماورا ہے ایک ذات مصطفیٰ ﷺ
کہ جس کے واسطے یہاں
کروڑ در کروڑ نوجوان، ادھیڑ لوگ ناتواں
ضعیف، بوڑھے، بچے، مائیں، بہنیں، رشتے ناتے، سب یہاں وہاں
رگوں میں جن کی خون بن کے عشق مصطفیٰ ﷺ رواں
دلوں کی دھڑکنوں میں جن کی مصطفیٰ ﷺ ہی مصطفیٰ ﷺ
بتاؤ اہل غرب کو !
سناؤ سارے ظالموں کو
صفحہ ٣٤٢
یہ ترانہ خودی، یہ نعرۂ وجود زندگی
یہ سارے لوگ لمحہ لمحہ، لحظہ لحظہ، سانس سانس
زندگی کے ہر قدم پہ اور ہر مقام پر
یہی علم اٹھائے آ رہے ہیں، اس کے عقب میں
یہ بات جان لو، سمجھ سکو تو مان لو
یہ ایک اُس کی موت، موت کب ہے
بلکہ ساری امت نبی ﷺ کے حق میں
اک نئی حیات کی نوید ہے
وہ صبح عشق مصطفیٰ ﷺ طلوع کے قریب ہے
صفحہ ٣٤

پروفیسر رشید احمد انگوی

اے شہید حرمتِ رسول ﷺ

شہیدِ اسلام کہوں
شہیدِ حرمتِ رسول خیر الانام کہوں
محافظِ حرمتِ خاتم النبیین کہوں
ایمان و غیرت کا نشاں کہوں
خود ہی بتا تجھے کیا کہوں
لفظ نہیں کہ تجھ سے کلام کروں
تیرے جنازے کا یہ شریک
چاہتا ہے تجھ سے ایک انٹرویو
ذرا یہ تو بتا اے جوانِ خود آگاہ
کہ جنازہ تیرا پنڈی میں کیوں نہ ہو سکا؟
عجب کیا بات نہیں کہ تابوت تیرا
لاہور سے یوں گزر گیا جیسے اجنبی ہو فضا
اور پھر گوجرانوالہ سے ایسے گیا
جیسے غیروں کا ہو کوئی محلہ
کہتے ہیں کہ میڈیا کا دور ہے آج
کہتے ہیں منٹوں میں بات ہوتی ہے عام
مگر سوال میرا تجھ سے ہے
جنازے تیرے کا کیوں نہ ہو سکا اعلانِ عام؟
صفحہ ٣٤٥
باپ تیرا کہ ”ابوشہید“ ہے خوش نصیب ہے
ہر صاحب ایمان کی نگاہ میں عزیز ہے
اور ماں وہ شہید کی، کیا کہنے
فرشتے قدم بوسی کرتے ہیں اس ”اُم شہید“ کی
مگر اتنا تو بتا اے جاں فدا
تو نے عظمتوں کا سبق پڑھ کہاں سے لیا
ہاں اگر جنازہ تیرا پنڈی میں ہوتا
کیوں نہ یہ تاریخ کا لمحہ یادگار ہوتا
اور اہلِ لاہور کو شرف زیارت جو ملتا
تو اک زمانہ حیران دیدار کرتا
مگر رب کریم کو شاید یہ منظور تھا
کہ عشاق تیرے ہوں ساروکی میں صف آرا
وگرنہ دنیا کیسے یہ منظر دیکھتی
کہ تپتی دوپہر میں انسانوں کا ایک سمندر
اپنے گناہ بخشوانے کے لیے
تیرے جنازے میں یوں اُمڈ کے آیا
یہ ناکارہ بھی جنازے میں تیرے شریک تھا
مگر اس کے نصیب میں یہ تحریر تھا
کہ ہوش و حواس سے آزاد ہو کر
تیری جنازہ گاہ کی خاک پر تڑپتا رہے
صد شکر کہ تابوت تیرے کا دیدار ہو گیا
شہید کے جلوس کا شرکت دار ہو گیا
اے یورپ کی زمین پر غیرت کے نشاں
اے اہلِ حمیت و غیرت کے امام
مدت سے روح علم الدین بے قرار تھی
پھر نہ آئی ایسی کوئی روح حسین و جمیل
غازی شہید کو مبارک ہو آج
کہ تیرے پاس پہنچی ایک اور روح پاک
فرمان نبی ﷺ کے مصداق تم
جنت کے پھلوں سے ہو رہے ہو فیض یاب
موت تو تم کو آئی نہیں
مگر اس زندگی کے حقائق سے ہم بے خبر
اے عامر چیمہ شہید
تُو کہ اکیسویں صدی کا جوہر تاریخ
وقت تیری یاد کو بھلا سکتا نہیں
عظمت تیری تا ابد، کوئی مٹا سکتا نہیں
التجا ہے مالک کی وساطت سے تیرے حضور
ایک روز خواب میں بتا جا کہانی ساری
میں کہ ایک تیرا ہم راز ہوں
راہ شہادت کا ادنیٰ سا طلب گار ہوں

۞ ۞ ۞

صفحہ ٣٤٥
پھر نہ آئی ایسی کوئی روح حسین و جمیل
غازی شہید کو مبارک ہو آج
کہ تیرے پاس پہنچی ایک اور روح پاک
فرمان نبی ﷺ کے مصداق تم
جنت کے پھلوں سے ہو رہے ہو فیض یاب
موت تو تم کو آئی نہیں
مگر اس زندگی کے حقائق سے ہم بے خبر
اے عامر چیمہ شہید
تُو کہ اکیسویں صدی کا جھومر تاریخ
وقت تیری یاد کو بھلا سکتا نہیں
عظمت تیری تا ابد، کوئی مٹا سکتا نہیں
التجا ہے مالک کی وساطت سے تیرے حضور
ایک روز خواب میں بتا جا کہانی ساری
میں کہ ایک تیرا ہم راز ہوں
راہ شہادت کا ادنیٰ سا طلب گار ہوں
صفحہ ٣٤٦

صائمہ اسماء

یہ کیسی موت ہے...........!

یہ کیسی موت ہے، کیسا جنازہ ہے
فرشتوں کے پروں پر ہے
مگر کاندھے کی خواہش لے کر سارا شہر امڈ آیا ہے
دکھی دل، سوگوار آنکھیں
مبارک اور سلامت کے جلو میں اشک بار آنکھیں
بصد غیض و غضب اعلان کرتی ہیں
حقوق آدمیت کا ڈھنڈورا پیٹنے والے
سیہ باطن خداؤ!
یہ بھی قدرت کا تماشا ہے
تمھارے پاؤں کے نیچے زمین کوئی نہیں
لیکن جوانوں سے قوی تر ہے
وہ بوڑھا باپ جس کی کہنہ سالی کا سہارا تم نے چھینا ہے
تمھیں کیا علم اس دھرتی پر دیوانے کچھ ایسے ہیں
کہ جن کو بے حمیت زندگی سے موت پیاری ہے
کہ ناموس محمد مصطفیٰ ﷺ پر جان واری ہے
جسے دہشت گردی کہتے ہو
ایمانوں کی دہشت ہے
یہی تا زندگی تم سب کی قسمت ہے!
صفحہ ٣٤٧

عبداللہ

عامر جو ”امر“ ہو گیا

ساتھیو! عامر چیمہ بھائی جو قرض اپنا چکا گیا ہے
جو بڑھ کے باطل سے لے کے ٹکر عہد اپنا نبھا گیا ہے
کیا تڑپ آئی دل میں اُس کے نبی ﷺ کی حرمت پہ کٹ مرا وہ
فخر ہیں کرتے اسلام والے کہ سر کفر کا جھکا گیا ہے
ساتھیو! عامر چیمہ بھائی جو قرض اپنا چکا گیا ہے
جو بڑھ کے باطل سے لے کے ٹکر عہد اپنا نبھا گیا ہے
نہیں ہے فرصت تم کو اپنے اپنے کاموں سے اے جوانو!
جواں تھا وہ بھی ہمارے جیسا جو جان اپنی لٹا گیا ہے
ساتھیو! عامر چیمہ بھائی جو قرض اپنا چکا گیا ہے
جو بڑھ کے باطل سے لے کے ٹکر عہد اپنا نبھا گیا ہے
ہماری غیرت تھی جاگی جس دن لگائے ہم نے پرجوش نعرے
وہ اپنے نعرے کا حق اے بھائیو! جلد ادا کر گیا ہے
ساتھیو! عامر چیمہ بھائی جو قرض اپنا چکا گیا ہے
جو بڑھ کے باطل سے لے کے ٹکر عہد اپنا نبھا گیا ہے
صفحہ ٣٤٨
نہیں پہنچا ملعون انجام کو اپنے تو کیا ہوا
دین پہ کٹ کے عامر بھائی سبق اس کو سکھا گیا ہے
ساتھیو! عامر چیمہ بھائی جو قرض اپنا چکا گیا ہے
جو بڑھ کے باطل سے لے کے ٹکر عہد اپنا نبھا گیا ہے
کہہ رہے ہیں یہ دُنیا والے جاں کو اپنی گنوایا اس نے
نبی ﷺ کی حرمت پہ قربان ہو کر جنت کو اپنی چلا گیا ہے
ساتھیو! عامر چیمہ بھائی جو قرض اپنا چکا گیا ہے
جو بڑھ کے باطل سے لے کے ٹکر عہد اپنا نبھا گیا ہے
صفحہ ٣٤٩

محمد الیاس

عامر عبدالرحمن چیمہ شہیدؒ

عامر خوش خصال ، فرزانہ
شمع مرسل ﷺ کا تھا وہ پروانہ
حُب میخانہ رسول ﷺ کا تھا
وہ بہت پُر خلوص مستانہ
شاتم مصطفی ﷺ پہ وہ جھپٹا تو
گرچہ تنہا تھا ، ملک بیگانہ
عہد زنداں میں باوقار رہا
وہ حبیب خدا کا دیوانہ
بہر ناموس والی طیبہ ﷺ
کر دیا پیش جاں کا نذرانہ
خوش ہے اس سے خدا، نبی ﷺ راضی
پایا جنت کا اس نے پروانہ
خُلد کے میوے اس کی جھولی میں
آب کوثر کا لب پہ پیمانہ
مومنو! اس کی قبر پر تا حشر
مشک چھڑکانا ، پھول برسانا
صفحہ ٣٥٠
عرض ہے والدین عامر سے
اس کی فرقت پہ صبر فرمانا
وہ ہیں طالع، جنھوں نے پالا تھا
دُرجِ اسلام کا وہ دُردانہ
اس کی عظمت کے سامنے الیاس
ہیچ ہے جاہ و حشم شاہانہ
صفحہ ٣٥١

شیخ حبیب الرحمٰن بٹالوی

جنت کی اک ہوا ہے عامر نذیر چیمہ

یہ چند الفاظ عامر نذیر شہیدؒ کی روح کو خراج تحسین کے طور پر پیش ہیں جو رسول پاک ﷺ کے توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے ایک جرمن اخبار کے گستاخ ایڈیٹر کا شکار کرتا ہوا شاخ طوبیٰ پر جا بیٹھا۔ وہ رسولِ پاک ﷺ کی حرمت پر جان کی بازی لگا کر چراغ وفا جلا گیا۔ شہید کے جنازے پر لاکھوں کا ایک مجمع عشاق تھا اور زمین اس کے استقبال کے لیے شفیق ماں کی طرح خندہ بلب تھی۔ اللہ تعالیٰ اس عاشقِ پاک طینت پر رحم و کرم کی بارش برسائے اور انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کا قرب عطاء فرمائے۔ (آمین)

اسلام کی ضیاء ہے، عامر نذیر چیمہ
خالدؔ کا نقشِ پا ہے، عامر نذیر چیمہ
کیا رتبہ پا لیا ہے، عامر نذیر چیمہ
ہر دل میں تُو بسا ہے، عامر نذیر چیمہ
عقیدت کی انتہا ہے، عامر نذیر چیمہ
جنت کی اک ہوا ہے، عامر نذیر چیمہ
صبحدم رضواں نے آ کے یہ صدا دی
فردوس کو چلا ہے، عامر نذیر چیمہ
عشق و جنون دیکھو، وہ اک حسیں نبی کی
حرمت پہ کٹ مرا ہے، عامر نذیر چیمہ
ہر لحظہ تجھ کو حاصل، امن و سکون و راحت
ہر ایک کی دعا ہے، عامر نذیر چیمہ
کیا خوب ہے شہادت، والد کو ہو مبارک
صفحہ ٣٥٢
جنت میں تیری جا ہے، عامر نذیر چیمہ
دنیا کے ظالموں کو پیغام ہے یہ تیرا
گستاخ کی سزا ہے، عامر نذیر چیمہ
جو بھی ترے نبی کی ناموس پر مٹا ہے
اُن سب سے جا ملا ہے، عامر نذیر چیمہ
تیرا بھی اس سے رشتہ، میرا بھی اُس سے رشتہ
محبوب بن گیا ہے، عامر نذیر چیمہ
عالم، ادیب سارے باتوں میں رہ گئے ہیں
بازی تُو لے گیا ہے، عامر نذیر چیمہ
صفحہ ٣٥٣

ام حماد

عامر جسے شہادت نے امر بنا دیا

حب رسول ہاشمی کا جرعہ پلا دیا
زمانہ رشک کرتا ہے اس کے نصیب پر
نعرۂ حق لگایا جس نے صلیب پر
جان نثار امت نے لرزا دیا کفر کو
جاں دے کے بتا دیا آج کفر کو
شان رسول عربی پہ نقب لگانے والے
رسوائیاں کمائیں گے حق کو چھپانے والے
فدائی میرے محمد کے ہیں پاسباں اس کے
امانت ہے آسمانی یہ قدر دان اس کے
اپنا لہو بہا کے اس کو بچائیں گے ہم
خائب اور خاسر کر عدو کو مٹائیں گے ہم
جس نے نبی کی حرمت کے حق کا شعور پایا
اسی نے لہو بہایا اسی نے ہے سر کٹایا
تو نے نبی کی امت کا قرض یہ گراں چکایا
تیرے لہو کے رنگ نے اسلام کو سجایا
زنداں میں کفر کی تیری یہ حق منادی
خبیب و بلال کی یاد ہے پھر دلا دی
سلام تیری جرأت پہ شہید محبت رسول
عطا ہو سبھی جوانوں کو اطاعت و عقیدت رسول
صفحہ ٣٥٤

عبدالرحمن صدیق

اے فلک بخت مسافر

بے نور سی صبح ہے
ہر شام سلگتی ہے
بے ربط ہیں سانسیں بھی
پے در پے ہچکیوں سے
افسردہ ہوئی فضا
اشجار بھی روکھے سے
اب کے جو بہار آئی
پھر زرد خزاں لائی
جو پہلے بھلے ہو گئے
سب زخم ہرے ہو گئے
لالی سی ہے زردی میں
کمی سی ہے بے دردی میں
وہ کوئل جو گاتی تھی
نغمے ہر گلشن میں
اجڑا ہوا ہر گلشن
اور نوحہ کناں وہ ہے
بلبل بھی خفا بیٹھی
اور سب سے جدا بیٹھی
صفحہ ٣٥٥
سب خوشیاں گنوا بیٹھی
اپنے کو بھلا بیٹھی
ویراں ہے جہاں یا پھر
اُجڑا ہے چمن دل کا
یا حلق سے اُترا ہے
کوئی قطرہ ہلاہل کا
بچھڑا ہے کوئی پنچھی
یا کھل گیا کسی گل کا
تھا ہنس اک بے چارہ
پردیس پھرے مارا
نہ منزل خاص اس کی
نہ رستے کا کچھ یارا
اک بار ہوا یوں پھر
کسی سنگدل ظالم نے
اس پنچھی کو جا تاڑا
جذبات کو بھی پرکھا
غیرت کو بھی للکارا
پھر اُس دل زندہ نے
جذبات کو یوں پلٹا
حالات کو یوں بدلا
نفس نے روکی نہ
خرد نے راہ اس کی
کہیں اور ہی جا پہنچی
پُرنور نگاہ اُس کی
حد سود و زیاں کی ٹو
صفحہ ٣٥٦
بس سنگ میل بنی
یہ رستہ مستی کا
یہ منزل عشق کی تھی
یہ عشق نہ جادو ہے
نہ نشہ کہ ڈھل جائے
یہ جگر ہی ایسا ہے
جی جان مچل جائے
پھر عشق بھی دیکھو نا
یاں خواجہ بطحا کا
کیسا عشق نبھایا ہے
پردیسی پنچھی نے
لاریب کہ عاشق نے
چشم حقیقی سے
دیکھا تھا پیاروں کو
سب دوستوں یاروں کو
بہنوں کی محبت بھی
ممتا کی مؤدت بھی
والد کی شفقت بھی
اور وطن کی فرقت بھی
رکھتا تھا وہ سینے میں
قلب، اور قلب جواں
دھڑکن بھی تو تھی اس میں
کچھ خواہشیں، کچھ ارماں
پر چشم تصور نے
کچھ اور ہی دیکھ لیا
صفحہ ٣٥٧
اس عشق کے سودے میں
سب کچھ بیچ دیا
محبوب کی خاطر وہ
بھول گیا خاطر کو
لے کر اک جان کو وہ
اَن گنت ارمان کو وہ
درگاہ محمد ﷺ پر
قربان کیا سب کو
عشاق ہزاروں، پر
حیران کیا سب کو
نہ اس میں دکھلاوا
کوئی ڈر، نہ پچھتاوا
جاں سے تو مگر گیا
ہو عامر امر گیا
میت پر ماتم تو
ہے روگ خدائی کا
پر یہ جو اداسی ہے
ہے سوگ جدائی کا
صفحہ ٣٥٨

حاصل تمنائی

شہید ناز

یہ مت کہنا کہ عامر مر گئے ہیں
شہید ناز اپنے گھر گئے ہیں
یقیناً پائیں گے وہ سرفرازی
لیے ہاتھوں میں اپنا سر گئے ہیں
وہ خود تو پا گئے رفعت یقیناً
ہمارا قد بھی اونچا کر گئے ہیں
شہادت پائی ہے وہ پُر سعادت
کہ اک عالم کو زندہ کر گئے ہیں
کریں گے قرب سرکار حاصل
کہ ڈگری عشق کی لے کر گئے ہیں
غلاموں نے دکھائی ایسی جرأت
کہ سب گستاخ آقا ﷺ ڈر گئے ہیں
دکھائی دے رہی ہے راہ حق صاف
وہ اک قندیل روشن کر گئے ہیں
ہے کوئی راہ اُن کی چلنے والا
کہ سارے باحمیت مر گئے ہیں؟
خرد مندو وہی ہے مستند راہ
جدھر سے عاشق سرور ﷺ گئے ہیں
صفحہ ٣٥٩

حاصل تمنائی

شہید ناز

کہ عامر مر گئے ہیں
اپنے گھر گئے ہیں
گے وہ سرفرازی
میں اپنا سر کٹا گئے ہیں
پا گئے رفعت یقیناً
اونچا کر گئے ہیں
ہے وہ پُر سعادت
کو زندہ کر گئے ہیں
قربِ سرکار حاصل
کی لے کر گئے ہیں
دکھائی ایسی جرات
باطل ڈر گئے ہیں
رہی ہے راہِ حق صاف
روشن کر گئے ہیں
اُن کی چلنے والا
با حمیت مر گئے ہیں
ہے مستند راہ
عاشقِ سرور ﷺ گئے ہیں
بھرا جائے گا دوزخ کو انہی سے
لہو سے ہاتھ جن کے بھر گئے ہیں
کہاں ہیں داعیانِ حق و انصاف
مجھے لگتا ہے شاید مر گئے ہیں
ستم کی انتہا ہے بے بسوں پر
حدِ اخلاق سے باہر گئے ہیں

۞ ...... ۞ ...... ۞

PDF 360

والد محترم عامر عبدالرحمن چیمہؒ کے تاثرات

زیر نظر کتاب ”شہید ناموس رسالت ﷺ، عامر عبدالرحمن چیمہؒ“ ایک لہو رنگ حقیقی داستان ہے جسے معروف قلم کار اور مجاہد ختم نبوت جناب محمد متین خالد کے بھیگے قلم نے دلی سوز و گداز اور آنسوؤں سے مرتب کیا ہے۔ موصوف کا اپنا مقالہ اس قدر ایمان افروز اور مبنی بر حقیقت ہے کہ اسے پڑھتے ہوئے خون رگوں میں جوش مارتا اور قاری خیالات میں گستاخان رسول کے خلاف غازی علم الدین شہید کا خنجر بن کر خود میدان عمل میں پہنچ جاتا ہے۔ جناب متین خالد کا طرۂ امتیاز یہ ہے کہ وہ اپنی کتابوں میں تحقیق کا رنگ بھرتے ہوئے اسے اس قدر دلچسپ بنا دیتے ہیں کہ پڑھتے ہوئے کتاب ہاتھ سے چھوڑنے کو دل نہیں چاہتا ...... آزمائش شرط ہے۔

مشک آں است کہ خود ببوید نہ کہ عطار بگوید

میں جناب متین خالد کو عشق مصطفیٰ ﷺ کی دولت تقسیم کرتی ہوئی یہ گرانقدر کتاب مرتب کرنے پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ (آمین)

پروفیسر محمد نذیر

ڈھوک کشمیریاں ، راولپنڈی

علم و عرفان پبلشرز

34 ۔ اردو بازار، لاہور، فون: 7232336 فیکس: 7352332 www.ilmoirfanpublishers.com - E-mail: ilmoirfanpublishers@hotmail.com